خلافت و امامت صحیحین کی روشنی میں

امامت


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


كتاب:خلافت و امامت صحیحین کی روشنی میں

مولف محمد صادق نجمی

مترجم: محمد منیر خان


منصب خلافت و امامت فرمان علی علیہ السلام کے پرتو میں :

”ذَرَعُوا الْفُجورَ،وسَقَوه الغُرورَ،وحَصَدُوْا الثُّبُورَ،لایُقاسُ بِآلِ محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم من هذه اُلامَّةِ اَحَد،ٌ وَ لَایُسوَّی بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعَمَتُهم علیه اَبَداً،هُم اَساسُ الدِّین، وَعِمادُ الیقین، اِلیهم یَفِئیُ الغَالِی،وبهم یُلْحَقُ التاَّلِی ،ولَهُم خَصائِصُ حّقِّ الوِلَایَة،ِ وَ فِیهم الوَصِیَّةُ وَالْوِراثَةُ،اَلْآنَ اِذْرَجَعَ الْحَقُّ اِلیٰ اَهله، ونُقِل اِلیٰ مُنْتَقَلِه!( ۱ )

انہوں نے فسق و فجور کی کاشت کی ،غفلت و فریب کے پانی سے اسے سینچا اور اس سے ہلاکت کی جنس حاصل کی، اس امت میں کسی کو آل محمد(علیھم السلام) پر قیاس نہیں کیا جاسکتا،جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں ،وہ ان کے برابر نہیں ہوسکتے، وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں ، آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کو ان سے آکر ملنا ہے، حق ولایت کی خصوصیات انھیں کے لئے ہیں،انھیں کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت اور انھیں کے لئے نبی کی وراثت ہے، اب یہ وقت وہ ہے کہ حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہوگیا ۔

روش بحث،مقصداورتین سوال

قارئین کرام !جیسا کہ عنوانِ بحث سے ظاہر ہے کہ آئندہ ہم صحیحین کی ان احادیث کو پیش کریں گے جو خلافت سے متعلق ہیں ، لہٰذا ہمارا مقصد یھا ں پر صرف اِن احادیث کا نقل کرنا ہے نہ کہ مسئلہ خلافت کی تحقیق،کیونکہ ہماری کتاب علم کلام کی کتاب نہیں ہے کہ جس میں مسئلہ خلافت کی تحقیق وتحلیل کریں اور فریقین میں سے ایک گروہ کے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے محکم اور ٹھوس دلائل پیش کریں،یا پھر دوسرے گروہ کے عقیدہ کو ہدف تنقید قرار دے کر حق کو بیان کریں ،بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اہل سنت کی اہم ترین اساسی کتابیں ”صحیحین“کے مختلف ابواب میں نقل کردہ وہ حدیثیں جو براہ راست خلافت سے متعلق ہیں،ان کو محترم قارئین کے سامنے پیش کریں،لہٰذا ہمارے اوپریہ لازم نہیں کہ ہم اِن روایات کے تمام تاریخی جزئیات کوجو ان روایتوں کے بارے میں پائے جاتے ہیں نقل کریں،یا ان کی عمیق ودقیق تحقیق و تنقید کریں ،کیونکہ:

ا ولاً: یہ بحث ہمارے موضوع سے خارج ہے۔

ثانیاً :اس بحث کیلئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے اور حسن اتفاق سے اس موضوع سے متعلق ہمارے یھاں بھت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ، چنانچہ اگر ہم نے کھیں پرخلافت سے متعلق بعض مطالب کو بیان کیا ہے تووہ صرف اپنے مطلوب اورمحل بحث احادیث کے مفہوم کی وضاحت کے خاطرہے نہ کہ موضوعِخلافت چھیڑناہے، بہر کیف تمھیدکے طورپر ہم پھلے تین سوال پیش کرتے ہیں اور ان سوالوں کے جوا بات ھر اس شخص سے پوچھنا چاہتے ہیں جو خلافت پر اعتقاد رکھتا ہے۔

مسئلہ خلافت سے متعلق تین سوال

مسئلہ خلافت رسول اسلام کا وہ اساسی ترین مسئلہ ہے جو مسلمانوں کے درمیان ایک،دو،پانچ، دس صدی سے محل ِ اختلاف قرار نہیں پایا بلکہ یہ مسئلہ آفتاب ِ رسالتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غروب ہونے کے بعد ہی اختلاف کی نظرہوگیا تھا،جیسا کہ عالم اہل سنت جناب شھرستانی اپنی کتاب”الملل والنحل“ میں کھتے ہیں :

امت اسلام سب سے زیادہ مسئلہ امامت میں اختلاف کرتی ہے، یعنی مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ امامت اور خلافت کا ہے جو سبب ِ اختلاف قرار پایا ہے، کیونکہ اسی مسئلہ امامت کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں گئی ہیں ، امامت کے علاوہ اور کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں اس قدر اختلاف اور خونریزی ہوئی ہو:

”اعظم خلاف بین الامة خلاف الامامةاذماسل سیف فی الاسلام علی قاعدة دینیة مثل ما سل علی الامامة فی کل زمان…“ ( ۲ )

ہمیں اس ا ختلاف کے وجود میں آنے کی کیفیت اور تاریخ سے کوئی سرو کار نہیں لیکن آیندہ آنے والی احادیث کے لئے تمھید کے طورپر تین مطالب کو بعنوان سوال ذکر کرتے ہیں :

۱ ۔ جب مسئلہ خلافت و امامت اتنا اہم مسئلہ ہے تووہ خدا کہ جس نے اسلام کے ماننے والوں کے لئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بیان کیا ہے ،جیسے سونا ، جاگنا، کھانا، پینا، حمام،غسل کنگھی کرنا ، نامحرم عورتوںپر نگاہ ڈالنا ایک لمحہ بھر ہی کیوں نہ ہو، دوسرے کی غیبت کرنا اگرچہ ایک کلمہ کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو،چنانچہ ان احکام کی تعداد واجبات ،محرمات ،مستحبات اور مکروھات میں بےشمار ہے ،یعنی انسان کی زندگی کا کوئی ایسا پھلو ترک نہیں کیا گیا ہے جس میں شریعت کی طرف سے کوئی حکم نہ ہو ،تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ امامت جیسے اہم مسئلہ کے بارے میں کچھ نہیں کھاگیا ہو؟ !اور امت کو بغیر کسی رھبر اورھادی کے چھوڑ کر خدا نے اپنے حبیب کو اپنے پاس بلالیا؟! اگر کھاجائے کہ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلہ کو خود مسلمانوں کے حوالہ کردیا تھا،تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے جزئیات اور فروعات کو خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود مسلمانوں کے حوالے کیوں نہ کیا؟! اوران کو خود کیوں بیان فرمایا ؟! اور جب جزئی اور فرعی احکام جیسے سر منڈوانا، ناخون کٹوانا، حج و زیارات، پیشاب، پاخانہ کے آداب، ہمبستر ہونے کے آداب وغیرہ میں بھی سکوت اور چشم پوشی کرنا قاعدہ لطف کی بنا پر جائز نھیں،تو پھر یہ کیسے تصور کیا ج ا سکتا ہے کہ خدا وند متعال مسلمانوں کے اہم ترین مسئلہ امامت پر سکوت اختیار کرلے گا؟ !کیا قاعدہ لطف یھاں پر تقاضہ نہیں کرتا ؟! اور اگر اس نے سکوت اختیار نہیں کیا تو ہمیں اس خلیفہ کانام اور وہ کن شرائط کا حا مل ہے اس کاپتہ بتلائیں ؟!!اوراگر کوئی خلیفہ تعین نہیں ہو اتو خدا کی ذات ہدف ِ تنقید قرار پاتی ہے!! ”نعوذ بالله من ذالک“ یہ وہ باتیں ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بحکم خدا ضرور کوئی خلیفہ منتخب کیا تھا اور اگر مان لیا جائے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مقرر نہیں فرمایا تو کم سے کم جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اس منصب الہٰی کا بوجھ اٹھائے اس کے لئے کچھ شرائط تو ضرور بیان فرمائے ہوں گے؟!!

۲ ۔ آیات، احادیث اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فرزندان ِ توحید ہمیشہ قرآن و احادیث کی شرح و تفسیر ، دینی اخلاقی و دنیوی مسائل میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے، یھی نہیں بلکہ حوادثات ، امور دنیوی اور اپنی زندگی کے جزئی معاملات میں بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا ملجا وماوہ سمجھتے اور آپ سے معلومات حا صل کرتے تھے ،یھاں تک کہ اپنی پریشانیوں کے حل اور مریضوں کے معالجہ کے لئے بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہی استشفاء کرتے تھے،جیسا کہ صحیح بخاری ،سنن ترمذی ا ور صحیح مسلم میں آیا ہے :

”ایک شخص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کھا: یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! میرا بھائی پیچش میں مبتلا ہے، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اس سے کھو شھد کا استعما ل کرے ، چند دنوں کے بعد وہ شخص پھر آیا اور کهنے لگا :اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !شھد سے میرے بھائی کی ابھی پیچش ٹھیک نہیں ہوئی ہے، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے کھا: شھد کا استعمال جاری رکھے، تیسری مرتبہ پھر اس نے پیچش کی شکایت کی ،رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پھر شھد کھانے کی تاکید فرماتے ہیں ،یھاں تک کہ اس کی پیچش ٹھیک ہو جاتی ہے۔“( ۳ )

پس یھاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ۲۳ سالہ زندگی میں کسی شخص کے ذهن میں یہ سوال نہ آیا اور کوئی بھی صحا بیرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہو ا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مسئلہ جانشینی کا کیا ہوگا؟!اور نہ ہی کسی مسلمان نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس بات کو پوچھا: ”اے رسول!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ نے اسلام کو خون ِ دل دے کر پروان تو چڑھا یا ہے مگر اس کی حفاظت آپ کے بعد کون کرے گا؟ ! ہم لوگ آپ کی وفات کے بعد اپنے مسائل کے بارے میں کس طرف رجوع کریں گے؟ !!“ آخر تما م مسلمانوں پر غفلت کا پردہ کیوں پڑا رھا ؟! جبکہ سب لوگ یہ جانتے تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی بشر ہیں لہٰذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی موت سے ہمکنار ہونا ہے ،چنانچہ ان آیتوں کو اس

وقت کے سبھی مسلمان سنتے اور پڑھتے ہوں گے:( اِنَّکَ مَیِّتٌ وَ اِنَّهُمْ مَیِّتُوْن ) ۔( ۴ ) اے میرے حبیب آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ لوگ تو مریں گے ہی( اٴَفَاٴِنْ مَّاْ َ اَوْقُتِلَ اِنْقَلَبْتُمْ عَلیٰ اَعْقَاْبِکُم ) ۔( ۵ ) پھر کیا اگر (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اپنی موت سے مرجائیں ،یا مار ڈالے جائیں،تو تم الٹے پاوں (اپنے کفر کی طرف )پلٹ جاو گے

اور دوسری جانب سب لوگ یہ بھی جانتے تھے کہ مسئلہ خلافت انسان کی دنیاوی اوراخروی زندگی سے جڑا ہوا ہے یعنی یہ وہ مسئلہ ہے جو نبوت کی طرح ا نسان کی زندگی میں عمیق اثر رکھتا ہے،اس کے بغیر نہ انسان کی دنیاوی زندگی کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ ہی اخروی، اس کے بغیر نہ روح ا نی کمال تک پهنچا جاسکتا ہے اور نہ مادی اورسب سے زیادہ تعجب تو یہ ہے کہ خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی فکر نہ ہوئی کہ میں نے اتنی محنتوں سے اسلام کو پھیلایا ہے لیکن اس کا محا فظ میرے بعد کون ہوگا؟!اس کا اتاپتہ نہیں ! پس نہ رسول کو فکر ہوئی اور نہ ہی اس بارے میں کسی نے ۲۳ سال کے اندر آپ سے سوا ل کیا !!

۳ ۔ خداوند متعال وصیت کے سلسلے میں ارشاد فرماتا ہے:

( کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَ اْ حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِن تَرَکَ خَیراً نِ الوَصِیَّةُ لِلوَالِدَیْنِ والاَقرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ حَقّاً عَلَی المُتَّقِینَ ) ( ۶ )

مسلمانو!تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت واقع ہو نے والی ہو بشرطیکہ مرنے والا کچھ مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے اچھی وصیت کرے ،جو خد ا سے ڈرتے ہیں ان پر یہ ایک حق ہے۔

اسی طرح خودرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام اس وظیفہ وصیت کے بارے میں ارشادفرماتے ہیں :

”قالصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :ماحق امریمسلم لہ شیء یوصی فیہ یبیت لیلتین،الاووصیتہ مکتوبة عندہ۔“

ایک مسلمان مرد کا اہم ترین وظیفہ یہ ہے کہ وہ دو راتیں نہ گزارے مگر اپنے لئے وصیت نامہ تیار کر کے رکھ لے۔( ۷ )

عبد اللہ ابن عمر کھتے ہیں :

میں نے اس مطلب کو جب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے تب سے کوئی بھی رات ایسی نہیں گزری مگر میرا وصیت نامہ میرے ساتھ تھا۔( ۸ )

محترم قارئین!جب قرآن او راحادیث سے ثابت ہے کہ وصیت کرنا ایک ضروری امر ہے توپھرعقل اس بات کو کیسے تسلیم کرسکتی ہے کہ جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسروں کے حق میں وصیت کے لئے اس قدر تاکید کرے وہ خود وصیت کئے بغیر چلا جائے گا؟! کیایہ کھا جاسکتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کسی کے لئے وصیت نہیں کی تھی ؟!جب کہ آپ کے لئے وصیت کرنا اشد ضروری تھا ؟!کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک اہم ثروت و ترکہ( دین اور قوانین الٰھیہ )کو چھوڑ کر جارہے تھے، اس سے زیادہ قیمتی اور کوئی ترکہ ہوھی نہیں سکتا تھا ، لہٰذا ان کی حفاظت تو بھت ہی ضروری تھی، ان کے لئے ایک ولی اور سرپرست ہو نا بیحد لازمی تھا ،ان شرائط کے باوجود اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بعد ملت ِمسلمہ اوردین اسلام کا کوئی محا فظ نہ چنیں تو گویا کہ آپ نے سارے جھان کو لاوارث چھوڑدیا!کیا ہمارا وجدان آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جیسے دور اندےش اور زیرک ترین شخص کے لئے یہ سوچ سکتا ہے کہ آپ کی عقل ِ کامل اس اہم ترین گوشہ کی طرف کبھی متوجہ ہی نہیں ہوئی ! جس کی وجہ سے آپ نے اپنے بیش قیمت ترکہ( قوانین الٰھیہ) اورملت ِمسلمہ بلکہ سارے جھان کو بغیر ولی اور سرپرست کے یونھی چھوڑ دیااورکسی طرح کا انتظام نہیں کیا ؟!! قطع ِ نظر حکم ِعقل و وجدان کے یہ بات بھی تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی جنگ میں کوئی لشکر بھیجتے تھے تو اس کا ایک رھبر اور سپہ سالا ر معین فرماتے تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی تاکید کر دیتے تھے کہ اگر فلاں شخص شھید ہو جائے تو فلاں کو اپن ا سپہ سالار چن لینا اور اگر وہ بھی شھید ہو جائے تو فلاں کو سردار منتخب کر لینا، وغیر ہ وغیرہ ، اسی طرح یہ بات تاریخ میں مسلم الثبوت ہے کہ آنحضرت نے اپنی تدفین ،غسل اور ادائیگیقرض کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کردی تھی،لہٰذا ان تاکیدات کے باوجودیہ کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خلافت کے لئے کسی کے حق میں وصیت نہیں کی تھی؟!پس جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قرض،دفن اور کفن جیسے جزئی مسئلہ کو نہ بھولے وہ خلافت جیسے اہم مسئلہ کو کیسے بھول جائے گا؟!!العجب ثم العجب ۔

محترم قارئین ! ان سوالوں کا جواب اہل سنت نہیں دے سکتے ہیں ، ان کا جواب صرف مذھب اہل تشیع کے نزدیک واضحا ور روشن ہے، کیو نکہ یہ وہ مذھب ہے جو عقیده رکھتا ہے کہ نہ خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اور نہ ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں مسلمانوں نے اس مسئلہ خلافت کے بارے میں سکوت اختیار کیا اور نہ ہی اسکے اظھارسے امتناع کیااورنہ تساہلی سے کام لیابلکہ جس روز سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مبعوث برسالت ہوئے اسی دن سے آپ کو مامور کیاگیا تھا کہ آپ نبوت کے ساتھ ساتھ منصب خلافت کے حقدار کا بھی لوگوں کے درمیا ن اعلان کردیں، چنانچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس بارے میں کسی طرح کا ابھام نہیں چھوڑا، بلکہ آپ نے ھر جگہ اپنے متعددخطبات و بیانات میں اپنی جانشینی کے مسئلہ کو پیش کیااور جو لوگ آپ کے بعدمنصب ِ خلافت کے حقدارتھے، ان کی پہچان کروائی چنانچہ اوائل ِ بعثت میں جب آیہ وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الاَقْرَبِینَ نازل ہوئی تو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے خاندان والوں کو دعوت پر بلایا اور کھا نے کے بعد آپ نے تقریر کرنا چاہی،لیکن ابو لھب نے یہ کہہ کر مجمع کو بھکا دیا کہ آپ ساحر ا ور جادو گر ہیں ، کوئی ان کی باتیں نہ سنے ،مجمع متفرق ہوگیا ،لہٰذا رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دوسرے دن پھر بلایا اور کھانے کے بعد تقریر کرنا شروع کردی اور اپنی تقریر میں پیغام وحی سنایا اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کیلئے اپنی طرف سے جانشین ا ور خلیفہ ہونے کا اعلان کیا اور بعض لوگوں کے نزدیک حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کا مسئلہ مضحکہ خیز بھی قرار پایاکہ ابھی ان کی نبوت کو کوئی مانتا نہیں اور انھیں دیکھو!جانشینی کا اعلان ابھی سے کررہے ہیں ؟!

فاخذ رقبتی ( علی عليه‌السلام ) ثم قال : ان هٰذا اخی ووصی وخلیفتی فیکم فاسمعوا له و اطیعوا قال: فقام القوم یضحکون…( ۹ )

کیونکہ و ہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ابھی کسی نے ان کی نبوت قبول نہیں کی تو جانشین کو کیسے قبول کریں گے، لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پھلے ہی مرحلے میں ظاہر کر دینا چاہتے تھے کہ جانشینی کا حق علیعليه‌السلام و اولاد علیعليه‌السلام کا ہے، لہٰذا جو بھی میرا دین قبول کرے وہ اس لالچ میں قبول نہ کرے کہ آئندہ آپ اسے رھبری کا عھدہ سپرد کردیں گے! کیونکہ منصب ِ خلافت و ولایت ھر کس و ناکس کو نہیں ملتا بلکہ اس کا وھی حقدار ہے جس کا خدا نے انتخاب کیا ہو۔

اسی طرح آ پصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غدیر کے بے آب وگیاہ چٹیل میدان اوررچلچلاتی دھوپ میں آگے جانے والے اور پیچھے رہ جانے والے حجاج کو بلا کر اپنے آخری حج کے بعد بحکم خدا ” من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ“کہہ کر حضرت علی علیہ السلا م کی خلافت کا اعلان فرمایا۔

اور جب آپ کی عمر کے آخری لمحے گزر رہے تھے ، جب آپ کی پےشانی پر موت کا پسینہ آچکا تھا، اس حساس موقع پر بھی آپ نے اس اہم مسئلہ کو فراموش نہیں کیا، چونکہ آپ کی نظروں میں الله کا دین وآئین گردش کررھا تھا ، لہٰذا آپ کے سامنے اس امت کی سرنوشت مجسم تھی کہ جس کی ہدایت میں آپ نے شدید سے شدید مشقتیں اٹھائیں تھیں ، لہٰذا آپ نے حکم دیا کہ مجھے قلم و دوات دیدو تاکہ میں ایک ایسی چیز ( مسئلہ جانشینی) لکھتا جاؤں، جو میرے بعد تم کوگمراہ ہونے سے بچا لے۔( ۱۰ )

اورکبھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشریف لے جاتے اور فرماتے تھے:

اِنیّ مخلف فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا ابداً

اورکبھی اپنے حقیقی خلفاء کے اسم لیتے اور لوگوں کے سامنے ان کا تعارف کراتے، کبھی ان کی تعداد بیان فرماتے:الخلفاء بعدی اثنی عشر اورکبھی ان آیات کو پڑھتے تھے جو آپ کے خلفاء کی شان میں نازل ہوئیں ،کبھی آپ ارشاد فرماتے تھے :

یا علی انت منی بمنزلةهارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی “۔

کبھی اپنے بعد آئندہ اسلام میں ہونے وا لی بدعتوں کا تذکرہ کرکے اپنے گھرے افسوس کا اظھار کرتے تھے جونا حق خلافت کی وجہ سے وجود میں آئیں گی ۔

چنانچہ چودہ صدیوں سے ظالم اور جابر حکومتیں مسئلہ خلافت کو دھندلااور حقائق کو پوشیدہ کرنے کی سعی لاحا صل کئے جارھی ہیں ، حقائق کو چھپانے میں اپنی تما تر قوّتیں صر ف کردیں ، اپنے تمام وسائل اس مسئلہ میں استعمال کرلئے کہ خلافت کو اس کے حقیقی اور واقعی محور و مرکز سے ہٹا کر دوسری جگہ لیجائیں اور اس کو اصلی لباس سے برهنہ کرکے اس لباس میں پیش کریں جو باطل کا خود بافتہ و ساختہ ہے، لیکن جسے خدا رکھے اسے کون چکھے، آج بھی سنیوں کی اصلی اورمدر ک کی کتاب صحیح بخاری ، صحیح مسلم کے مختلف ابواب اسی طرح مسلمانوں کی دیگرمعتبر کتابوں میں ایسی ایسی روایات موجود ہیں جن سے صحیح واقعیات و حقائق اور حضرت علی اور بقیہ آئمہ علیھم السلام کی خلافت ِ بلا فصل کا اثبات ہوتاہے جو شیعوں کا عیں ہ ہے ،البتہ صحیحین کے مولفین نے کافی کوشش کی ہے کہ ایسی کوئی حدیث نقل نہ کریں جس سے حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام کی خلافت کا اثبات ہوسکے،مگر:

” وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کر ے ‘ ‘

چنانچہ آئندہ فصلوں میں پھلے ہم ان احادیث کو ذکر کر یں گے جو اہل بیتعليه‌السلام کی فضیلت کے سلسلے میں صحیح بخاری ا ور صحیح مسلم میں منقول ہیں ،اس کے بعد صحیحین میں نقل کردہ روایات کے مضمون کے مطابق خلفاء کا تعارف پیش کریں گے۔

۱ ۔ خاندان رسالت کے فضائل صحیحین کی روشنی میں

۱ ۔ آیت تطھیراوراہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

۱ ۔”قالت عائشة:خرج النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غداة وعلیه مرط مرحل من شعراسود، فجاء الحسن ابن علی،فادخله،ثم جاء الحسین،فدخل معه،ثم جااٴت فاطمة سلام الله علیهافادخلها،ثم جاء علی،فادخله،ثم قال: ( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهل الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطَهِیْرًا ) ( ۱۱ )

حضرت عائشہ کھتی ہیں :

ایک مرتبہ حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بوقت صبح گھر سے اس حا لت میں خارج ہوئے کہ آپ کالی چادر اوڑھے ہوئے تھے ، اسی هنگام حضرت امام حسن ابن علیعليه‌السلام آپ کے پاس تشریف لائے، آپ نے شہزادے کو زیرچادر داخل کرلیا ،اس کے بعد حضرت امام حسینعليه‌السلام آئے ، وہ بھی زیر چادر آپ کے ساتھ داخل ہو گئے ،اس کے بعد حضرت فاطمہ زھراعليه‌السلام تشریف لائیں ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو بھی زیر چادر داخل کرلیا، اس کے بعد حضرت علیعليه‌السلام آئے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں بھی زیر چادر بلا لیا، اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهل الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطَهِیْرًا ) ( ۱۲ )

اور اللہ کا ارادہ ہے کہ اے اہل بیت نبی! تم کو پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے اورھر رجس و خباثت سے دور رکھے۔

مذکورہ حدیث مسلم کے علاوہ اہل سنت کی کتب تفاسیر و احادیث میں تواترکے ساتھ نقل کی گئی ہے، جیسا کہ ہم نے بحث”رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداازنظرآیات و احادیث“ میں اس جانب اشارہ کیا تھا ۔

بھر کیف اس آیت کے رسول وآل رسول علیهم السلام کی شان میں نازل ہونے کے بارے کوئی شک وشبہ نہیں چنانچہ جلد اول میں ہم نے اس آیت کے ذیل میں سنیوں کے بعض مدارک کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسی جگھاس نکتہ کو بیان کیا کہ اس آیت کے ذریعہ خدا ومند متعال نے اہل بیتعليه‌السلام کو ھر گناہ سے پاک رکھنے کی ضمانت لی ہے اور آپ کو معصوم قرار دیا ہے اور یہ کہ آ یت ِ تطھیر اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اہلبیتعليه‌السلام کبھی سہواً بھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے کیونکہ سھو و نسیان حکم تکلیفی(عقاب) کو تو برطر ف کر سکتے ہیں لیکن رجس اور حرمت کے ا ثر وضعی اوراس کی ذاتی نجاست کو مرتفع نہیں کر سکتے۔

۲ ۔ اہل بیت علیهم السلام اور آیہ مباہلہ

۲,,…عن عامر بن سعدبن وقاص عن ابیه؛قال:امرمعاویة بن ابی سفیان سعداً:فقال:ما منعک ان تسب ابا تراب؟فقال:اماما ذکرت ثلاثاً قالهن له رسول اللّٰه ،فلن اسبه،لان تکون لی واحده منهن احب الی من حمر النعم ، سمعت رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یقول له خلفه فی بعض مغازیه،فقال علی:یارسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !خلفتنی مع النساء والصبیان؟فقال له رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :” اَمَاْ تَرَضیٰ َانْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ هَاْرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّااَنَّه ُلَانَبُوَّةَ بَعْدِیْ“وسمعته یقول یوم خیبر:” لاعطین الرایة رجلاًیحب اللّٰه ورسوله و یحبه اللّٰه ورسوله“قال فتطاولنا لها،فقال:ادعوا لی علیا،فاتی به ارمد، فبصق فی عینه،ودفع الرایة الیه، ففتح اللّٰه علیه،ولما نزلت هذه الآیه: … ( فَقُلْ تَعَاْلَوْا نَدْعُ اٴَبَنآئَنَاْ واٴَبَنآئَکُم ) ( ۱۳ ) دعیٰ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه عَلِیاًّ،وفاطمة،وحسناوحسینا،ً فقال:اَللّٰهُم َّهٰولآءِ اَهلی“ ( ۱۴ )

ایک روز معاویہ ابن ابی سفیان نے سعد بن ابی وقاص سے کھا: تجھے کس چیز نے روکا ہے کہ ابو تراب (علیعليه‌السلام ) کو گالی نہیں دیتا؟!“ سعد بن ابی وقاص نے کھا : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ایسی تین فضیلتیں بیان کی ہیں جب بھی وہ فضیلتیں مجھے یاد آجاتی ہیں تو میں گالی دینے سے باز رھتا ہوںاور اگر ان میں سے ایک فضیلت بھی میں رکھتا ہوتا تو میرے لئے وہ سرخ اونٹوں سے بھتر ہوتی اور وہ تین فضیلتیں یہ ہیں :

۱ ۔ حضرت علیعليه‌السلام ھارون امت محمدیہ :ایک مرتبہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی ایک جنگ میں جانے کے لئے آمادہ ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام کومدینہ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اس وقت حضرت علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں ؟ اس وقت میں نے اپنے دونوں کانوں سے سنا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:” اے علیعليه‌السلام !کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ تمھاری منزلت میرے نزدیک وھی ہے جو موسیعليه‌السلام کے نزدیک ھارونعليه‌السلام کی تھی ،بس فرق اتنا ہے کہ تم میرے بعد پیغمبرنھیں ہو لیکن ھارونعليه‌السلام ، موسیٰعليه‌السلام کے بعد پیغمبر تھے“۔

۲ ۔ مردِ میدان خیبر:اسی طرح جنگ خیبر کے روز میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

”کل میں یہ َعلم اس شخص کو دوں گا جو مرد ہوگااور اللہ و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتا ہوگا اور اللہ و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کو دوست رکھتے ہوں گے۔“

سعد ابن ابی وقاص معاویہ سے کھتے ہیں :ھم سب لوگ اس دن اس َعلم کی تمنا رکھتے تھے، لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمایا: علیعليه‌السلام کو میرے پاس بلاو !حضرت علی علیہ السلام کو آپ کے پا س اس حال میں لایا گیا کہ آپعليه‌السلام کی آنکھیں درد میں مبتلا تھیں ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا لعاب دهن علیعليه‌السلام کی آنکھوں میں لگایا اور علم دے دیا، چنانچہ خدا نے حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھوں جنگ خیبر میں اسلام کو کامیابی عطا فرمائی ۔

۳ ۔ مصداق آیہ مبا ھلہ: جو میں نے دهن ِرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنی وہ یہ ہے کہ جب آیہ مباہلہ( فَقُلْ تَعَالَوْانَدْعُ اَبنَائَنَاوَاَبنَائَکُمْ ) نازل ہوئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی، فاطمہ ، حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا خدایا!یہ میرے اہل بیت ہیں ۔

۳ ۔ حدیث غد یر اور اہل بیت علیهم السلام

حدثنی یزید بن حیان؛ قال:انطلقت اناوحُصَین بن سَبْرَةَوعمر بن مسلم، الی زید بن ارقم،فلمّا جلسناالیه، قال له حُصَین: یازید !لقد لقیت خیرا کثیرا، راٴیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، وسمعت حدیثه،وغزوت معه،و صلیت خلفه، لقد لقیت یا زیدُ !خیرا کثیرا،ً حدثنا یا زید! م ا سمعت من رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، قال یابن اخی:واللّٰه لقد کَبِرت سنی،وقَدُمَ عهدی،و نسیت بعض الذی اٴعِی من رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، فماحدّثتُکم فاقبلوا،ومالا،فلاتکلفونیهثم قال:قام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه یوما فینا خطیباًبِماءٍ یُدْعیٰ خماًبین مکة و المدینة، فحَمِد اللّٰه َو اَثْنیٰ علیه و وعظ و ذکَّر،ثم قال: اَما بعدُ:الَاَ یا ایها الناس! فانما انا بشر یوشک ان یاٴتِیَ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ربی، فاُجیب،و اَنَا تاَرِکٌ فِیْکُمُ ثَقَلَیْن اَوَّلُهُماَ کتاَبُ اللّٰه ،فِیْهِ الهُدیٰ وَ النُّورِ، فَخُذُوا بکِتاَب اللّٰهِ وَاسْتَمْسِکُوُاْ به، فَحَث بِکِتاَبِ اللّٰه وَ رَغَّبَ فِیْهِ، ثم قاَلَ: وَ اَهل بَیْتیِ اُذَکِّرُکُمُ اللّٰه فی اَهل بَیتْیِ اُذَکِّرُ کُمُ اللّٰه فیِ اَهل بَیْتیِ اُذَکِرُکُمُ اللّٰه فِی اَهل بَیْتی ثلَاَثاٌ،فقال له حصین :و من اهل بیته؟ یازید !اٴَلَیس نسائُه من اهل بیته؟ قال: نسائه من اهل بیته، و لکن اهل بیته من حُرِم الصّدقة بعده ،قال :و من هم؟ قال: هم آلُ عَلی،وآل عقیل، و آل جعفر،وآل عباس، قال: کل هٰولاء حُرِم الصدقةُ،قال: نعم…“

مسلم نے روایت کی ہے کہ یزید بن حیاَّن کھتے ہیں :

ایک مرتبہ میں و حُصَین بن سبرہ اور عامربن مسلم، زید بن ارقم کے پاس گئے اور زید بن ارقم کی مجلس میں بیٹھ گئے، حصین زید سے اس طرح گفتگو کرنے لگے:

”اے زید بن ارقم !تو نے خیر کثیر کو حا صل کیا ہے کیو نکہ تورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیدار سے مشرف ہو چکا ہے اور حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گفتگو سے لطف اندوز ہوچکاہے، تونے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی اور حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی اس طرح تو نے خیر کثیر کو حا صل کیا ہے لہٰذا جو تونے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے اسے ہمارے لئے بھی نقل کر!زید بن ارقم کھتے ہیں : اے برادر زادہ !اب تو میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری عمر گزر چکی ہے، چنانچہ بھت کچھ کلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں فراموش کرچکا ہوں، لہٰذا جو بھی کہہ رھا ہوں اسے قبول کرلینااور جھاں سکوت کرلوں اصرار نہ کرنا،اس کے بعد زید بن ارقم کھتے ہیں : ایک روز رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان میدان غدیر خم میں کھڑے ہوئے اور ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور بعد از حمد و ثنا و موعظہ و نصیحت فرمائی: اے لوگو ! میں بھی تمھاری طرح بشر ہوں لہٰذا ممکن ہے کہ موت کا فرشتہ میرے سراغ میں بھی آئے اور مجھے موت سے ہم کنار ہونا پڑے ،(لیکن یہ یاد رکھو) یہ دو گرانقدر امانتیں میں تمھارے درمیان چھوڑے جا رھا ہوں، ان میں سے پھلی کتاب خدا ہے جو ہدایت کرنے والی اور روشنی دینے والی ہے، لہٰذا کتاب خدا کا دامن نہ چھوٹنے پائے اس سے متمسک رھو اور اس سے بھرہ مند رہو، اس کے بعد آپ نے فرمایا:

اے لوگو!دوسری میری گرانقدر امانت میرے اہل بیتعليه‌السلام ہیں اور میرے اہل بیتعليه‌السلام کے بارے میں خد ا سے خوف کرنااور ان کو فراموش نہ کرنا (یہ جملہ تین مرتبہ تکرار کیا)زید نے جب حدیث تمام کردی، تو حصین نے پوچھا: اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کون ہیں جن کے بارے میں اس قدر سفارش کی گئی ہے؟ کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اہل بیت میں داخل ہیں ؟

زید ابن ارقم نے کھا: ھاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں بھی اہل بیتعليه‌السلام میں ہیں مگر ان اہل بیتعليه‌السلام میں نہیں جن کی سفارش رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرمارہے ہیں ، بلکہ یہ وہ اہل بیتعليه‌السلام ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔

حصین نے پوچھا : وہ کون حضرات ہیں جن پر صدقہ حرام ہے؟زید بن ارقم نے کھا :وہ اولاد علیعليه‌السلام ، فرزندان عقیل و جعفر و عباس ہیں !حصین نے کھا: ان تمام لوگوں پر صدقہ حرام ہے ؟ زید نے کھا ھاں۔( ۱۵ )

عرض مولف

اس حدیث کو مسلم نے متعددسندوں کے ساتھ اپنی صحیح میں نقل کیا ہے لیکن افسوس کہ حدیث کا وہ جملہ جو غدیر خم سے متعلق تھاحذف کردیا ہے، حا لانکہ حدیث غدیر کے سیکڑوں راویوں میں سے ایک راوی زید بن ارقم بھی ہیں جو یہ کھتے تھے :

اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : خدا وند متعال میرا اور تمام مومنین کا مولا ہے، اس کے بعد علیعليه‌السلام کا ھاتھ پکڑا اور فرمایا :جس کا میں مولا ہوں یہ علیعليه‌السلام اس کے مولا و آقا ہیں ، خدایا ! جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس کو دشمن رکھے تو اس کو دشمن رکھ۔( ۱۶ )

البتہ زید بن ارقم نے اپنے عقیده کے لحا ظ سے اہل بیتعليه‌السلام کے مصداق میں بھی فرق کر دیا ہے، حا لانکہ خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اہل بیتعليه‌السلام سے مراد آیہ تطھیر اور آیہ مباہلہ کے ذیل میں بیان فرما دیا ہے،جیساکہ آپ نے آیہ تطھیر کی شان ِ نزول کے ذیل میں گزشتہ صفحات میں ملاحظہ فرمایا ۔

شدیدتعصب کی عینک

واقعہ غدیر خم اور حدیث ثقلین ان موضوعات و واقعات میں سے ہیں جن کو علمائے اہل سنت نے اپنی معتبر اور بنیادی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے،سینکڑوں کتب تاریخ وحدیث اور تفسیر میں علمائے اہل سنت نے ان واقعات اور روا یات کودسیوں سند کے ساتھ قلمنبد فرمایا ہے، لیکن امام بخاری اور مسلم کی کوتاہ نظری یہ ہے کہ (جیسا کہ ہم نے جلد اول میں بیان کیا) آپ حضرات نے اپنی آنکھوں پر ایسی تعصب کی عینک لگائی کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی بنیادی اور روز روشن کی طرح واضح و آشکار فضائل جیسے حدیث ِغدیرخم ، وحدیث ِ ثقلین وغیرہ نظر نہ آئے !! چنانچہ جو حدیث صحیح مسلم میں آئی ہے اس میں مسلم نے تاریخ اسلام کے مشہور واقعہ غدیر کے بعض حصے توڑ مروڑ کر ذکر کئے ہیں ۔

مناسب ہے کہ ہم اس جگہ عالم اہل سنت امام غزالی ابوحا مد کے قول کو نقل کردیں جو ہماری گفتگو سے مربوط ہے ،آپ فرماتے ہیں :

اہل سنت کے اکثر علماء نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس قول کو نقل کیا ہے جسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میدان غدیر میں صحا بہ کے جم غفیر کے درمیان ارشاد فرمایا: ”مَنْ کُنْتُ مَوْلاَهُ فَهٰذَاْ عَلِیٌ مَوْلَاهُ

اس کے بعد تحریر کرتے ہیں :

بنی کے اس جملے کے بعد حضرت عمر اٹھے اور فرمایا:

بخ بخ لک یا امیرالمو منین اصبحت مولای و مولا کل مومن و مو منة

مبارک ہو مبارک ہو اے مومنوں کے امیر( علیعليه‌السلام ) آج آپ میرے اور تمام مومنین مرد وعورت کے مولا بن گئے ۔

امام غزالی فرماتے ہیں :

اس جملہ کا مفہوم حضرت عمر کا علیعليه‌السلام کو حا کم مانتے ہوئے ان کی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے،لیکن بعد میں حب ِ ریاست اور پر چم ِ خلافت کے اٹھا نے کے شوق نے ان کو آلیا اور لشکر کشی اورفتوحا ت کی حرص نے کاسہ ہوا وہوس کو ان کے ھاتھوں میں تھمادیااور اس طرح یہ اسلام سے منحرف ہوکر زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ گئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جو عھد و پیمان (غدیر میں )کیا تھا،اس کو فراموش کر کے قلیل قیمت میں فروخت کردیا یہ کتنا بر ا سودا ہے:

< ( فبئس ما یشترون ) >”ثم بعد هٰذا غلب الهوی لحب الریاسة و حمل الخلافة ، عقود البنود وخفقان الهوی( ۱۷ )

۴ ۔ اہل بیتعليه‌السلام ”صلوات“ میں شریک ِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں

اہل سنت کی متعدد کتابوں میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمام مسلمانوں کو حکم فرمایا ہے: جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجی جائے تو آپ کے اہل بیت علیھم السلا م کو بھی صلوات میں ضرور شریک کیا جائے ،یعنی تنھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجنا صحیح نہ ہوگا ،جب تک کہ آپ کے اہل بیتعليه‌السلام پر صلوات نہ بھیجی جائے گی،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقام نبوت کی تعظیم وتکریم کے ساتھ ساتھ اہل بیتعليه‌السلام ِعصمت و طھارت کی بھی تعظیم وتکریم لازم ہے اوراس معاملہ میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اور آپ کے خاندان کے درمیان کسی بھی طرح کا فاصلہ کرنا صحیح نہیں ہے ، چنانچہ کتب اہل سنت میں ایسی بھت ساری روایات موجود ہیں ،لیکن ہم صرف صحیحین سے چند نمونے پیش کر تے ہیں :

۱ ,,…حدثنا الحکم ؛قال: سمعت عبد الرحمٰن بن ابی لیلی؛ ٰقال: لقینی کعب بن عجرة فقال:الااهدی لک هدیة ً؟ان النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خرج علینا فقلنا، یا رسول الله ! لقد علمنا کیف نسلم علیک،فکیف نصلی علیک ؟ فقالصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : قولوا!”اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ ،کَمَاْصَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاهِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰهُمَّ بَاْرِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّد،کَمَاْ بَاْرَکْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاْهِیْم،َ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ “

حکم نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے نقل کیا ہے :

( ایک دن) کعب ابن عجرہ سے میری( عبد الرحمٰن ابن ابی لیلیٰ) ملاقات ہو ئی، تو اس نے مجھ سے کھا : کیا تو چاہتا ہے کہ تجھے ایک تحفہ پیش کروں؟وہ تحفہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہمارے درمیان تشریف لائے، ہم لوگوں نے سلام کیا اور پوچھا:یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !ھم نے آپ پر سلام کرنا تو سمجھ لیا !مگر صلوات کس طرح بھیجی جائے؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

” اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ،کَمَاْصَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاهِیْمَ،اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰهُمَّ بَاْرِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ،کَمَاْ بَاْرَکْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاْهِیْم،َ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ“

” اے میرے معبود !رحمت نازل کر محمد وآل محمد پر،جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراہیم کی آل پر،بےشک تو بزرگ اور قابل حمد ہے، اے میرے معبود!اپنی برکت نازل فرما محمد وآل محمد پر، جس طرح تونے ابراہیم کی آل پر نازل کی ،بےشک تو صاحب مجد اور لائق تعریف ہے۔“( ۱۸ )

۲ ,,… عن ابی مسعود الانصاری؛قال: اٴَتانارسول الله ،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ونحن فی مجلس سعد بن عبادة ،فقال له بشر بن سعد،امرنا الله عزّوجلّ ان نصلی علیک یارسول الله !صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قال:فسکت رسول الله ،حتی تمنینا انه لم یسئله،ثم قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : قولوا: اَللّٰهمَّ صَلّ علی محمد وعلی آل محمد ،کما صلیت علی آل ابراهیم،وبارک علیٰ محمدوعلیٰ آل محمد،کما بارکت علیٰ آل ابراهیم فی العالمین،انک حمید مجید ،والسلام کما علمتم“

مسلم نے ابومسعود انصاری سے نقل کیا ہیکہ ابومسعود کھتے ہیں :

ھم سعد بن عبادہ کی نشست میں بیٹھے تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشریف لائے ،تو بشر بن سعد نے کھا : یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !ھم کو خدا نے آپ پر صلوات بھیجنے کا دستور دیا ہے، مگر ہم کس طرح صلوات بھیجیں ؟

ابو مسعود کھتے ہیں :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس وقت سکوت فرمایااور اتنی دیر ساکت رہے کہ ہم نے کھا : کا ش بشریہ سوال نہ کرتا،اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: صلوات اس طرح بھیجو :

” اللّٰهم صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ کَمَاْ صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاْهِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَّ عَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ آلِ اِبْرَاهِیْمَ فِیْ العَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ“

اور سلام اسی طرح بھیجو جو تم جانتے ہو۔( ۱۹ )

عرض مولف

اہل سنت کی کتب صحا ح و مسانیداور تواریخ و تفاسیرمیں دسیوں حدیثیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجنے کے طریقہ کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اوران سب میں جامع ترین تفسیر، دُرِّ منثور (سورہ احزاب کی تفسیر میں ) ہے۔

لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھیں بند ہونے کے بعد حکومت اور جاہ طلبی نے اس قدر مسلمانوں کو اندھا کردیا کہ جتنا ہو سکتا تھا اہل بیتعليه‌السلام کے فضائل کو چھپایا جانے لگا !چنانچہ صلوات میں بھی دھیرے دھیرے اہل بیتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام کو حذف کرکے، صرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ناقص اور دم بریدہ صلوات بھیجنے پراکتفاء کرنے لگے ،حا لانکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے ایسی صلوات بھیجنے سے بارھا منع فرمایا تھا، مگر افسو س آج بھی مسلمانوں کی یھی سیرت ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دم بریدہ صلوات بھیج کر دشمنی اہل بیتعليه‌السلام کاکھلم کھلا ثبوت دے رہے ہیں ، جب کہ علمائے اہل سنت کی آنکھوں کے سامنے آج بھی یہ حدیثیں موجود ہیں ، بلکہ خود یہ لوگ ان حدیثوں کو نقل بھی کرتے ہیں ، لیکن عملی میدان میں اپنی گفتگو اور تحریروں کے اندر ان احادیث کے مضمون اور حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صریحا مخالفت کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجنے کے بارے میں اپنے اباواجداد کی سنت پر عمل کرتے ہیں !لہٰذا اس جگہ دقت کرنے سے ہماری سمجہمیں صرف ایک ہی چیز آتی ہے اوروہ ہے اپنے آباو اجداد کی طرحا ھل بیتعليه‌السلام کے بارے میں شدید تعصب میں مبتلا ہونا!

( <وَاِذَاْ قِیْلَ لَهُمُ اْتَّبِعُوْا مَاْ اَنْزَلَ الله قَاْلُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاْ وَجَدْنَاْ عَلَیْهِ آبا ئَنَاْ اَوَ لَوْکَاْنَ الشَّیْطَاْنُ یَدْعُوْهُمْ ِالیٰ عَذَاْبِ السَّعِیْرِ> ) ( ۲۰ )

” اور جب ان سے کھا جاتا ہے :جو کتاب خدا نے نازل کی ہے اس کی پیروی کرو ،تو وہ (چھوٹتے ہی یہ) کھتے ہیں : نہیں ہم تو اسی طریقہ پر چلیں گے جس پر ہم نے باپ داداؤں کو پایا، بھلا اگرچہ شیطان ان کے باپ داداؤں کو جهنم کے عذاب کی طرف بلاتارھا ہو، تو پھر کیا وہ ان کی پیروی کریں گے۔“

۵ ۔ کتب اہل سنت میں بارہ اماموں کا ذکر

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں بارہ اما م خصوصاً امام مھدی ارواحنا لہ الفداء (عج) کے اوصاف کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں،یھاں تک کہ ان احادیث کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت نے اپنی اپنی کتابوں میں آخری امام کیلئے ایک مستقل فصل قرار دی ہے اور بعض نے امام عصرعليه‌السلام کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں،لیکن فی الحال ہم صحیحین سے اس بارے میں نقل شدہ روایات پیش کر نے پر اکتفا ء کرتے ہیں :

۱,,…عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة ؛قال: سمعت النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة، لم اسمعها،فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش( ۲۱ )

عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے:

میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا : آپ نے فرمایا: (میرے بعد میرے) بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کھتے ہیں : دوسرا کلمہ میں نے ٹھیک سے نہیں سنا جس میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان بارہ خلفاء کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہوں گے، لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کھا: وہ جملہ جو تم نے نہیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔

مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:

”…جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْهَا الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش( ۲۲ )

جابر بن سمرہ کھتے ہیں :

ایک مرتبہ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ خدمت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں مشرف ہوا تو میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا :آپ فرما رہے تھے: یہ دین الہٰی بارہ خلفاء تک عزیز اور غالب رہے گا،اس کے بعد دوسرا جملہ میں نہ سن سکا کیو نکہ صدائے مجلس سننے سے حا ئل ہوگئی تھی، لیکن میرے پدر بزرگوار نے کھا :وہ جملہ یہ تھا:یہ تمام بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے۔

عرض مولف

اس حدیث کومختلف مضامین کے ساتھ اہل سنت کی اہم کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے اور یہ حدیث مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے بطلان اور مذھب شیعہ کے حق ہونے پر ایک محکم و مضبوط دلیل ہے، اس لئے کہ اس حدیث کا مضمون مذھب شیعہ کے علاوہ کسی اور فرقہ اسلامی کے رهنماؤں سے منطبق نہیں ہوتا،کیونکہ اہل سنت خلفائے راشدین (جو چار ہیں ) کے قائل ہیں ، یا پھر امام حسن مجتبیعليه‌السلام کی خلافت کو ملا دیں توپانچ ہوتے ہیں ، لیکن حدیث میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بارہ فرمائے ہیں ، لہٰذا ان کے مذھب سے یہ حدیث منطبق نہیں ہوتی اور اگر خلفائے بنی امیہ و بنی عباس کو ملایا جائے توسب سے پھلے یہ کہ ان کی تعداد بارہ سے زیادہ ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ان میں سے اکثرخلفاء اہل فسق و فجور تھے، انھوں نے اپنی ساری عمر گناہوں ،قتل، غارتگری و خونریزی ، شراب نوشی اور زناکاری میں گزاری لہٰذا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو کیسے اپنا جانشین قرار دے سکتے ہیں ؟! پھرجس طرح یہ حدیث اہل سنت حضرات کے خلفاء کی تعداد سے منطبق نہیں ہوتی اسی طرح فرقہ زیدیہ،اسماعیلیہ ، فطحیہ، سے بھی منطبق نہیں ہوتی ،کیونکہ ان کے مذھب کے خلفاء کی تعداد ۱۲ سے کم ہے، لہٰذا صرف شیعہ اثنا عشریہ کے خلفاء کی تعداد سے منطبق ہوتی ہے، ان میں سر فھرست مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور آخر حضرت مھدی حجة ابن الحسن العسکری (عج) ارواحنا لہ الفداء ہیں ۔

۲ … جابر بن عبدالله وابوسعید قالا: قال رسول الله :یکون فی آخر الزمان خلیفة یقسم المال ولا یعده ۔( ۲۳ )

جابر بن عبد اللہ اور ابوسعید نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے :

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانہ میں میرا ایک جانشین و امام ہوگا جو مال و ثروت کو( ناپ و تول کے ساتھ ) تقسیم کرے گا نہ کہ گنے گا۔

۳ … عن ابی سعید؛ قال: قال رسول الله : من خلفاء کم خلیفة یحشو المال حشیاً ولا یعده عداً ۔( ۲۴ )

ابو سعید نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوسری حدیث نقل کی ہے ؛ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: تمھار ے خلفاء اور ائمہ میں سے ایک خلیفہ و امام وہ ہوگا جو مال کو مٹھی سے تقسیم کرے گا نہ کہ عدد و شمار سے۔

امام زمانہ (عج) کے بارے میں فاضل نَوَوی شارح صحیح مسلم؛ مذکور ہ حدیث کی لغت حل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

سونا اور چاندی کی اس قسم کی تقسیم ک ا سبب یہ ہے کہ اس وقت ان حضرتعليه‌السلام کی وجہ سے کثرت سے فتوحا ت ہوں گی جن سے غنائم اورمال وثروت فراوانی سے حا صل ہوگا اور آپ اس وقت اپنی سخاوت اور بے نیاز ی کا اس طرح مظاہرہ فرمائیں گے، اس کے بعد کھتے ہیں : سنن ترمذی و ابی واؤد میں ایک حدیث کے ضمن میں اس خلیفہ کا نام (مھدی) مرقوم ہے، اس کے بعد اس حدیث کو سنن ترمذ ی سے نقل کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :قیامت واقع نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت ( خاندان )سے میرا ہمنام، جانشین ظاہر ہو کر عرب پر مسلط نہ ہو جائے۔

اس کے بعد نووی کھتے ہیں :

ترمذی نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور سنن داود میں اس حدیث کے آخر میں یہ بھی تحریر ہے : ” وہ خلیفہ اس زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔“

۴ ۔ امام بخاری نے ابوھریرہ سے نقل کیا ہیکہ آنحضرت نے فرمایا:

”کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ اِبنُ مَرْیَم فِیکُم وَاِمامُکم مِنْکُمْ( ۲۵ )

تمھارا اس وقت خوشی سے کیا حال ہوگا جب ابن مریم حضرت عیسی تمھارے درمیان نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہوگا؟

ابن حجر نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام شافعی اپنی کتاب ”المناقب“ میں تحریر کرتے ہیں :

اس امت میں امام مھدیعليه‌السلام کا وجود اور آپ کا حضرت عیسیعليه‌السلام کو نماز پڑھانا حد تواتر کے طور پر ثابت ہے۔( ۲۶ )

ابن حجر اس کے بعد کھتے ہیں :

بدر الدین عینی اس حدیث کی مفصل شرح کرنے کے بعد اس طرح نتیجہ گیری کرتے ہیں :

”حضرت عیسیعليه‌السلام کا اس امت مسلمہ کے امام مھدیعليه‌السلام کے پیچھے قیامت سے نزدیک آخری زمانہ میں نماز پڑھنا ،اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ قائل ہیں کہ زمین کبھی حجت خد ا سے خالی نہیں ، وہ درست ہے اور ان کا یہ عقیده حق بجانب ہے۔“( ۲۷ )

اور امام نووی”کتاب تہذیب الاسماء“ میں کلمہ عیسیٰ کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں:

” حضرت عیسیٰعليه‌السلام کا آخری زمانہ میں امام مھدیعليه‌السلام کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے آنا اسلام کی تائید اور تصدیق کی خاطر ہے ،نہ کہ اپنی نبوت اور مسیحت کو بیان کرنے کے لئے اور خدا وند متعال حضرت عیسیٰعليه‌السلام کو امام مھدیعليه‌السلام کے پیچھے نماز پڑھواکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے احترام میں اس امت اسلام کو قابل افتخار بنانا چاہتا ہے۔“( ۲۸ )

قارئین محترم! یہ تھی چند حدیثیں جوصحیحین میں وارد ہوئی ہیں ،جن سے بعض عقیدہ تشیع کی تائیدہوتی ہے،لیکن مذکورہ مطالب کو صحیح بخاری اورصحیح مسلم کے بعض متعصب شا رحین اور عصر حا ضر کے چند نام نھاد سنی مصنفین ہضم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں (اورنہ جانے کیوں ان مطالب کی بنا پر عارضہ شکم ِ درد میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں!)اور بجائے اس کے کہ یہ لوگ ان حدیثوں کے مفہوم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے،انھوں نے ایسی ایسی الٹی،سیدھی،ضد و نقیض اور غیر قابل ِ قبول توجیھات و تاویلات نقل کی ہیں جو صریحا عقل و نقل کے خلاف ہیں ۔

چنانچہ عصرحا ضر کے بعض محققین جب ان توجیھات کے فساد کی طرف متوجہ ہو ئے تو انھوں نے سرے سے مذکورہ حدیثوں کی شرح کرنے سے گریز کرتے ہوئے ایک دوسرا راستہ اپنایا! مثلاً شیخ محمود ابوریہ اپنی کتاب میں اس حدیث کی شرح کرنے سے گریز کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ہیں :

”یہ روایات مشکل ترین حدیثوں میں سے ہیں،جن کا سمجھنا بھت دشوار ہے، بلکہ اس کے واقعی مفہوم کو درک کرنا ہمارے امکان میں ہے ہی نھیں، لہٰذا ان حدیثوں کی تشریح کے بجائے ہمیں اپنا گرانقدروقت اور اپنی قیمتی عمر دوسرے مفیدعلمی مطالب میں صرف کر نی چاہیئے۔‘ ‘( ۲۹ )

عرض مولف

جی ھاں!جو احادیث ان کے عقیده کے خلاف ہوتی ہیں، وہ ان کے نزدیک قابل ِ بحث و تمحیث اور لائق تشریح و تو ضیح نہیں ہوا کرتیں!!ان کا واقعی مفہوم درک(ہضم ) کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا!!حقائق بیان کرنے سے یونھی جان چرائی جاتی ہے ،اللہ بچائے ایسے ناحق شناسوں سے ۔

۲ ۔ فضا ئل علی علیہ السَّلام صحیحین کی روشنی میں

ابھی تک ہم نے اہل بیت علیھم السلام اور بارہ اماموں کے فضائل کے بارے میں بطور عموم صحیحین سے روایات آپ کی خدمت میں نقل کیں ہیں اب ہم فرداً فرداً اہل بیت کے فضائل میں صحیحین سے روایات نقل کرتے ہیں،چنانچہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل سے شروع کرکے حضرت فاطمہ زھر ا سلام الله علیھا پھر حسنین علیھما السلام کے مشترکہ فضائل ذکر کریں گے، اس کے بعد ان میں سے ھرایک کے علیٰحدہ فضائل بیان کریں گے ۔

پھلی فضیلت: د شمنانِ علی دشمنانِ خد ا ہیں

۱ ۔,,عن ابی ذرقال نزلت الآیة:< ( هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِیْ رَبِّهِمْ ) >(۳۰) فی ستة مِن قر یشٍ عَلِی وَحَمزَة وَ عُبَیدَة بنِ الحا رث،و شیبة بن ربیعة وعُتبة بن ربیعة والولید بن عتبة( ۳۱ )

ابوذر کھتے ہیں :

یہ آیت( هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِیْ رَبِّهِ ) دو قریش کے گروہ جو راہ خدا میں آپس میں دشمنی اور عداوت رکھتے تھے یہ آیت تین خالص مومن اور قریش کے تین کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی علیعليه‌السلام ، حمزہعليه‌السلام ، عبیدہ بن حا رث، یہ توحید کے پرچم کو بلند کرنے کے لئے لڑے اور عتبہ ، شیبہ، ولید، یہ توحید کے پرچم کو سرنگوں کرنے کے لئے لڑے۔

۲,,… قیس بن عباد عن علی عليه‌السلام ؛ فینا نزلت هٰذه الآیة:< ( هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِیْ رَبِّهِمْ ) ۔( ۳۲ )

قیس بن عباد حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں :

آیہ( هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّهِمْ ) ہماری شان میں نازل ہوئی ۔

دوسری فضیلت : حضرت علیعليه‌السلام کی محبت ایمان کی پہچان اور آپ کی دشمنی نفاق کی علامت ہے

۳ ,,…عن عدی بن ثابت عن زر؛قال: قال علیعليه‌السلام : والَّذی فلق الحبة و بریٴ النسمةانه لعهد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الا می الی، اَنْ لَایُحِبَّنِی اِلَّا مُومِنٌ وَلاَیَبْغِضُنِی اِلَّا مُنَافِقٌ“

عدی بن ثابت زر سے نقل کرتے ہیں :

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : قسم اس ذات وحدہ لاشریک کی جس نے دانہ کو شگافتہ اور مخلوق کو پیدا کیا کہ یہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مجھ سے عھد و پیمان ہے کہ مجھے دوست نہیں رکھے گ ا سوائے مومن کے اور مجھ سے دشمنی نہیں کرے گ ا سوائے منافق کے۔( ۳۳ )

تیسری فضیلت :علیعليه‌السلام کی نماز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نماز ہے

…”عن مُطَرِّف بن عبدالله عن عمران بن حصین؛قال:صلی مع علی علیه السلام بالبصرة،فقال:ذکرناهذا الرجل صلٰوة نصلیهامع رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، فذکرانه کان یکبرکلمارفع ،وکلماوضع“ ( ۳۴ )

مطرف بن عبد اللہ کھتے ہیں :

ایک مرتبہ عمران بن حُصَین نے بصرہ میں حضرت علی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھی تو کهنے لگے : آج تو میں نے وہ نماز پڑھی ہیجو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے پڑھا کرتا تھا، کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ایسے ہی رکوع و سجود نشست و برخواست میں تکبیر کھا کرتے تھے۔

چوتھی فضیلت:رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاحضرت علیعليه‌السلام کو ابو تراب کالقب دینا

”… عن ابی حا زم؛ ان رجلاً جاء الی سهل بن سعد، فقال: هٰذا فلان (امیرالمدینة) یدعوعلیاً عند المنبر، قال : فیقول: ماذا قال؟یقول له ابو تراب، فضحک، قال:والله ما سماه الا النبی، وما کان له اسم احب الیه منه ۔( ۳۵ )

ابو حا زم کھتے ہیں :

ایک مرد سھل ابن سعد کے پاس آیا اورکهنے لگا: فلاں شخص (ا میر مدینہ)رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منبر کے پاس حضرت علیعليه‌السلام کو برا بھلا کھتا ہے، سھل بن سعد نے اس سے پوچھا : وہ کیا کھتا ہے؟ اس نے کھا : علی کو ابوتراب کھتا ہے، سھل یہ سن کر مسکرائے اور کهنے لگے : قسم بخدا یہ نام اور لقب انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سوا کسی نے نہیں دیا اور حضرت علی علیہ السلام اس لقب کو دیگر تمام لقبوں سے زیادہ پسند کرتے ہیں ۔

عرض مولف جیساکہ متن حدیث میں آیا ہے کہ لقب ِ ابو تراب وہ لقب تھا جس سے امیرالمو منینعليه‌السلام خوش ہوتے اور اس پر افتخار کرتے تھے،لیکن دشمنان علیعليه‌السلام کو یہ لقب بھی گراں گزرا ،لہٰذا چونکہ اس سے انکار نہیں کرسکتے تھے اس لئے انھوں نے اس میں ایسی تحریف کردی کہ حضرت امیر لمومنینعليه‌السلام عليه‌السلام کی اس لقب سے فضیلت ظاہر نہیں ہوتی،چنانچہ اس لقب کے عطا کرنے کے بارے میں انھوں نے ایسی روایات جعل کیں جن سے امام المتقین حضرت امیرعليه‌السلام کی منقصت ظاہر ہو تی ہے، انشاء الله جلد سوم میں ہم اس حدیث کے اور ان دیگر احادیث پر جن سے مولا علیعليه‌السلام کی قدح ظاہر ہوتی ہے، کے اسبابِ جعل پر اگر خدا نے توفیق عنایت کی تو بحث کریں گے ۔

پانچویں فضیلت : علیعليه‌السلام سب سے زیادہ قضاوت سے آشنا تھے

امام بخاری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے:

حضرت عمر نے کھا: حضرت علیعليه‌السلام ہم میں سب سے زیادہ قضاوت سے آشنا ہیں ۔”وَاَقْضَاْنَاْعَلِیٌّ( ۳۶ )

عرض مولف

خلیفہ دوم کا اعتراف خود اپنی طرف سے نہ تھا بلکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے بارھا اس جملہ کو لوگوں کے سامنے فرمایا تھا کہ علیعليه‌السلام اصحا ب میں سب سے زیادہ علم قضاوت رکھتے ہیں اور کبھی آپ فرماتے تھے کہ علیعليه‌السلام اس امت میں سب سے زیادہ علم قضاوت رکھتے ہیں ۔( ۳۷ )

بھر حال قابل توجہ نکتہ یھاں پر یہ ہے کہ مسئلہ قضاوت میں تقواو پرھیزگاری کے علاوہ وسیع معلومات اور کافی آگاہی کاہو نا ضروری ہے اورجب تک ان علو م سے آشنا نہیں ہو سکتا قضاوت کرنا نا ممکن امر ہے ، لہٰذا حضرت علی علیہ السلام کا بقول مرسل اعظم علم قضاوت میں سب سے زیادہ آشنا ہونا اس بات کی دلیل ہے آپعليه‌السلام سب سے زیادہ علم و آگاہی رکھتے تھے، گویا ”اَقْضَاہم “ کا جملہ ” اَعْلَمُھُمْ“ او ر ”اَتَقَاْہُمْ “ وغیرہ کی جگہ استعمال کیا گیا ہے ۔

چھٹی فضیلت : علیعليه‌السلام خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتے تھے اور خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کو

”… عن سهل بن سعد؛ قال: قال النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : یوم خیبر” لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَةَ غَداً رَجُلاً یُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَ یُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ “ فبات الناس لیلتهم ایهم یُعطٰی؟ فغدَوْا کلهم یرجوه فقال صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : این علی عليه‌السلام ؟ فقیل :یشتکی عینیه، فبصق فی عینیه ،ودعی له، فبرء کاٴن لم یکن به وجع،فاعطاه، فقال عليه‌السلام : اٴُقاتلهم حتی یکونوا مثلنا ؟ فقال: انفذ علی رِسْلِکَ حتیٰ تَنْزِلَ بِساحَتِهم، ثم ادعهم علی الاسلام، واخبرهم بما یجب علیهم ،فوالله لِاٴَن یهدی الله بک رجلا،خیرٌ لک من ان یکون لک حمر النعم ۔( ۳۸ )

سھل بن سعد نے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے:

”رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا نیجنگ خیبر کے دن یہ ارشاد فرمایا:

” لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَةَ غَداً رَجُلاً یُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَ یُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ “

کل میں ایسے مرد کو علم دوں گا جو اللہ و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتا ہو اور اللہ و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے دوست رکھتے ہوں۔ سھل کھتے ہیں: اس شب تمام لشکر اسلام کو چین کی نیند نہ آئی، کیونکہ ھر شخص اسی انتظارمیں تھا کہ کل مجھے علم اسلام مل جائے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا : علی( علیہ السلام) کھاں ہیں ؟

لوگوں نے کھا: ان کی آنکھوں میں درد ہے( آپ نے مولا علیعليه‌السلام کو طلب فرما کر) آپ کی آنکھوں میں لعاب دهن لگادیا اور دعا فرمائی:( اے اللہ علیعليه‌السلام کو شفا یاب فرما دے)رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعا کے نتیجہ میں آپعليه‌السلام کی آنکھیں ایسی ٹھیک ہوگئیں جیسے کہ آپ کی آنکھوں میں درد ہی نہ تھا چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علم اسلام کو آپ کے ھاتھوں میں دے دیا، آپعليه‌السلام نے فرمایا: یا رسول اللہ!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کب تک جنگ کروں؟ کیا اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ایمان وعمل میں ہماری جیسے نہ ہو جائیں ؟

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علیعليه‌السلام !اس لشکر کفار کی طرف حرکت کرو ،او رانھیں دعوت اسلام دو، انھیں قوانین اسلام سے آگاہ کرو ،کیونکہ قسم بخدا اگر خدا نے تمھارے ذریعہ سے ایک شخص کو بھی ہدایت فرمادی تو وہ تمھارے لئے سرخ اونٹوں سے بھتر ہوگا۔

مسلم نے اس حدیث کو کچھ اضافہ کے ساتھ بھی نقل کیا ہے :

,,…عن ابی هریرة؛ان رسول الله قال یوم خیبر:” لَاُعْطِیَنَّ هٰذِ هِ الرَّایَةَ رَجُلاً یُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه یَفتح ا للّٰهُ عَلٰیَ یَدَیْه“ قال عمر بن الخطاب:مااحببت الامارة الایومئذٍ،فتساورت لهارجاء ان ادعی لها،فدعی رسول الله علی بن ابی طالب:فاعطاه ایاها،وقال امش ولاتلتفت حتی یفتح ا لله علیک،قال:فسارشیئاًثم وقف ولم یلتفت، فصرخ یارسول الله !علی ماذا اقاتل الناس؟قال:وقاتلهم حتی یشهدواان لاا لٰه الا الله و ان محمداًرسول الله،فاذافعلوا ذالک،فقدمنعوا منک دمائهم و اموالهم، الا بحقها وحسابهم علی الله “ ( ۳۹ )

ابو ھریرہ نقل کرتے ہیں :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بروز جنگ خیبر یہ ارشاد فرمایا:آج میں اسلام کا علم ایسے مرد کو دوں گا جو الله ا ور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتا ہے اور الله اس کے دونوں ھاتھوں پہ فتحیابی بخشے گا،حضرت عمر کھتے ہیں : جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ اعلان کیا تو مجھے بھی علم لینے کا دوبارہ اشتیاق ہوا ،چنانچہ آپ کھاکرتے تھے: روز خیبر سے پھلے مجھے کبھی علم اسلام اٹھا نے کا شوق نہیں ہوا! لہٰذا جب میں نے یہ اعلان سنا تو میں بھی( رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دوڑ کر گیا اور) علم کے ارد گرد گھومنے لگا!اس امید میں کہ (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے دیکھ لیں اور ) علم مل جائے لیکن (افسوس) یہ افتخار علیعليه‌السلام کو حا صل ہوااور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بلایا اور علم آپ کے ھاتھوں میں دینے کے بعد فرمایا : اے علیعليه‌السلام ! دشمن کی طرف حرت کرو تاکہ خدا تمھارے ھاتھوں کے ذریعہ اس قلعہ کو فتح کرے ۔

حضرت عمر کھتے ہیں : علیعليه‌السلام تھوڑی دور آگے بڑھے اور رک گئے، بغیر اس کے کہ اپنا چھرہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف گھماتے ، دریافت فرمایا: اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! ان لوگوں سے کب تک جنگ کروں ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :اے علیعليه‌السلام ! جنگ کرو جب تلک کہ یہ لوگ خدا کی وحدانیت اور میری رسالت کا اقرارنہ کرلیں اور جب ان دوباتوں کو یہ لوگ قبول کرلیں تو ان کا خون ومال محفوظ ہوجائے گا اور ان کا حساب پھر خدا کے اوپر ہے ۔

ساتویں فضیلت : حضرت علیعليه‌السلام کی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک وھی منزلت تھی جو ھارون کی موسیٰ کے نزدیک

,, … عن مصعب بن سعد عن ابیه؛ ان رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خرج الی تبوک واستخلف علیاً ،فقال:اٴ تخلفنی فی الصبیان والنساء؟قال رسول اللّٰه:”اَلاَ ترَضِیْ اَنْ َتکُوْنَ ِمنیِّ بِمَنْزِلَةِ هاَرُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ،اِلاَّ اَنهَّ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ“ ( ۴۰ )

مصعب بن سعد نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے:

جب رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جنگ تبوک کیلئے خارج ہوئے اور آپ نے علیعليه‌السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا ،تو حضرت علی علیہ السلام نے دریافت کیا : یا رسول الله !آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑیجا رہے ہیں ؟ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نیجواب میں ارشاد فرمایا: اے علیعليه‌السلام !تمھاری میرے نزدیک وھی منزلت ہیجو ھارونعليه‌السلام کی موسیعليه‌السلام کے نزدیک تھی بس فرق اتنا ہے کہ وہ موسیٰعليه‌السلام کے بعد نبی تھے اور تم میرے بعد نبی نہیں ہو ۔

عرض مولف

محتر م قارئین !مذکورہ حدیث شیعہ وسنی دونوں کے درمیان متفق علیہ ہے ، یھاں تک کہ آپ کے پکے دشمن معاویہ نے بھی اس حدیث سے انکار کرنے کی جرات نہیں کی ہے! اس حدیث میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے علیعليه‌السلام کو تما م چیزوں میں ھارون سے تشبیہ دی ہے اورصرف نبوت کو خارج کیا ہے یعنی ھارون اور علیعليه‌السلام کے درمیان صرف نبوت کا فرق ہے بقیہ تمام اوصاف،کمالات، منصب اور مقام میں باہم شریک ہیں ، کیو نکہ اگر فرق ہوتا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نیجس طرح نبوت کو جدا کر دیا،اسی طرح دوسری جھت کو بھی جدا کر دیتے، لہٰذا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دیگر مناصب و کمالات سے استثنا ء نہ کرنا بیّن دلیل ہے کہ آپ میں ھارونعليه‌السلام کے تمام اوصاف پائیجانے چاہیئے تب تشبیہ صحیح قرار پائے گی اور جاننا چاہیئے کہ جناب ھارون مندجہ ذیل منصب اور کمال پر فائز تھے لہٰذا مولا علیعليه‌السلام میں یہ اوصاف پائیجانے چاہیئے تاکہ تشبیہ صحیح قرار پائے :

۱ ۔ مقام وزارت :جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نبوت کے علاوہ تمام اوصاف علیعليه‌السلام میں پائیجانے چاہیئے تب مذکورہ تشبیہ صحیح ہوگی، لہٰذا جس طرح حضرت موسیعليه‌السلام کے بھائی ھارونعليه‌السلام آ پ کے وزیر تھیجیساکہ قرآن میں ارشاد ہوا

:( وَاجْعَلْ لِیْ وَزِیْراً مِنْ اَهْلِیْ. هَاْرُوْنَ اَخِیْ ) ( ۴۱ )

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام بھی رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وزیر ہیں ، یھی وجہ ہے کہ ر سولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے متعدد جگہوں پر علیعليه‌السلام کے لئے اپنی وزارت کا اظھار کیا ہے۔

۲ ۔ مقام اخوت و برادری :جس طرح ھارون موسیعليه‌السلام کے بھائی تھے( هَاْرُوْنَ اَخِیْ ) اسی طرح علیعليه‌السلام بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے( رشتہ اور روحا نی اعتبار سے) بھائی ہیں ۔

۳ ۔ مقام خلافت:جس طرح موسیعليه‌السلام نے ھارون کو کوہ طور پر جانے کے وقت اپنا خلیفہ بنایا:( وَقَاْلَ مُوْسیٰ ِلَاخِیْهِ هَاْرُوْنَ اخْلُفنِْیْ فِیْ قَوْمِیْ ) ( ۴۲ )

جناب ھارونعليه‌السلام بنی اسرائیل کے درمیان حضرت موسیعليه‌السلام کے خلیفہ اور جانشین قرار پائے اور حضرت موسیٰعليه‌السلام نے ھارون کی اطاعت کو بنی اسرائیل پر واجب قرار دیااور ھارونعليه‌السلام کو وصیت کی کہ رسالت کی تبلیغ کریں اور میرے دین کو وسعت دیں ، اسی طرح حضرت علی علیہ السلام رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلیفہ اور جانشین ہیں ۔

۴ ۔ مقام وصایت: جب تک موسیعليه‌السلام زندہ تھے ھارون موسیٰ کے خلیفہ اور جانشین تھے، لہٰذا اگر حضرت موسیٰعليه‌السلام

عليه‌السلام وفات پا جاتے تو یقینا حضرت ھارونعليه‌السلام ہی ان کے وصی قرار پاتے، لیکن ھارونعليه‌السلام کا انتقال جناب موسیٰ کی حیات میں ہو گیاتھا،بھرحال جس طرح حضرت موسیعليه‌السلام کے ھارونعليه‌السلام وصی ہوتے اسی طرح حضرت علیعليه‌السلام بھی مذکورہ حدیث کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی ہیں ۔

۵ ۔ مقام معاونت:جس طرح جناب ھارون حضرت موسی علیہ السلام کے قوت بازو اور امر رسالت میں معاون تھے ،جیساکہ قرآن میں جناب موسیعليه‌السلام کی ھارونعليه‌السلام کے بارے میں دعا اور اس کے قبول ہونے کے الفاظ آئے ہیں :

( اُشْدُدْ بِه اَزْرِی.وَاَشْرِکْهُ فِیْ اَمْرِیْ .…قَاْلَ َقْد اُوْتِیت سُولَکَ یٰا مُوْسٰی ) ( ۴۳ )

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام بھی اس صریح حدیث کے مطابق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قوت بازو اور معاونِ رسالت تھے ،البتہ خلافت اور جانشینی کے اعتبار سے نہ نبوت کے لحا ظ سے ۔

بھرحال مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی نظر میں آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے نزدیک سب سے بھترین اور خیر امت حضرت علیعليه‌السلام تھے اور جس طرح بنی اسرائیل پر ھارون کی اطاعت واجب و لازم تھی، اسی طرح امت محمدی پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں احترام علیعليه‌السلام واجب تھا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد آپ کی اطاعت واجب و لازم تھی کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد حضرت امیرعليه‌السلام ،افضل الناس ،ناصر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی جانشین تھے ۔

ایک قا بل توجہ نکتہ

اس جگہ ایک غلط فھمی کا ازالہ کر دینا لازم سمجھتا ہوں وہ یہ کہ بعض اہل سنت یہ سمجھتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حدیث ِمنزلت صرف جنگ تبوک کی طرف روانہ ہوتے وقت ارشاد فرمائی تھی( اس کے بعد کھیں نہیں فرمایا) لہٰذا حضرت علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت ایک زمانہ کے لئے مخصوص اور محصور ہے،برادرم ایسا نہیں ہے بلکہ اہل سنت کی متعدد معتبر کتابوں کے مطابق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقریباًچھ موارد پر یہ حدیث اختلاف زمان و مکان کے ساتھ ارشاد فرمائی ہے ، لہٰذا حدیث ِمنزلت کو ایک خاص زمانہ میں منحصر نہیں کیا جاسکتا ۔( ۴۴ )

۳ ۔ فضائل بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؛صحیحین کی روشنی میں

۱ ۔حضرت فاطمہ زھراسلام الله علیھاجنت کی عورتوں کی سردار ہیں

…,,عن عائشة؛ قالت: اقبلت فاطمة(س) تمشی کَاَنَّ مِشْیَتَها مَشْیُ النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، فقال النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :مرحباً بابنتی، ثم اجلسها عن یمینه اوعن شماله، ثم اسرالیها حدیثا،فبکت فقلتُ لها:لم تبکین؟ ثم اسرالیها حدیثاً ،فضحکت فقلت: ما رایت کالیوم فرحا اقرَب من حزن، فسالتها عما قال، فقالت: ما کنت لِاُفشِیَ سِرَّ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه حتی قُبِض النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، فساٴَلتها: فقالت: اسرَّ اِلَیَّ: ان جبرئیل کان یعارضنی القرآنَ کل سنة مرّة ،و انه عارضنی العام مرتین، و لا اُراه الاحضراجلی،وانک اول بیتی لحا قابی، فبکیت،فقال: اَماَ تَرْضَیْنَ اَنْ تَکُوْنِی سَیَّدةَ نِسآءِ اَهل الجَنَّةِ اَوْ نَسَاْءِ اْلْمَوْمِنِیْن، فَضَحِکْتُ لذالک“

حضرت عائشہ کھتی ہیں :

ایک مرتبہ حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آئیں تو میں نے دیکھا آپ کی رفتار بالکل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رفتار کی طرح تھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا: مرحباً یافاطمہ! اور اپنے داهنے یا بائیں چپ میں بٹھایا اورچپکے کچھ فرمایا، جسے فاطمہ(س) سن کر رونے لگیں ، میں نے پوچھا :گریہ کرنے کی کیا علت ہے؟

اس کے بعد پھررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چپکے کچھ فرمایا جسے فاطمہ( سلام اللہ علیھا )سن کرهنسنے لگیں ، میں نے کھا: آج تک میں نے یوں حزن کے فوراً بعد سرور نہیں دیکھا ،آج ایسا کیوں ؟ میں نے فاطمہ(س) سے پوچھنا چاہا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مخفیانہ کون سی بات بتلائی ہے، لیکن حضرت فاطمہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کھا: میں اپنے باپ کے راز کو فاش نہیں کروں گی، جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رحلت فرما چکے، تو میں نے حضرت فاطمہ زھر ا( سلام اللہ علیھا )سے دو مرتبہ اس بارے میں پوچھا، تو حضرت فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیھا) نے فرمایا:وہ مخفی بات یہ تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے فرمایا : ھر سال جبرئیل میرے اوپر ایک مرتبہ قرآن کو پیش کرتے تھے، لیکن اس سال دو مرتبہ پیش کیا ہے اور اس کی علت اس کے سوا کچھ نہیں کہ میری موت قریب آچکی ہے اور مجھ سے سب سے پھلی جو ملحق ہوگا وہ تم ہوگی، اے میری بیٹی! یہ سن کر میں رونے لگی، لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! کیا تم خوش نہیں کہ تم جنت کی عورتوں کی یا مومنین کی عورتوں کی سردار ہو ،یہ سن کر میں خوش ہوگئی۔( ۴۵ )

۲ ۔ حضرت فاطمہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سب سے پھلے ملاقات کریں گی

”… عن عائشة قالت: دعیٰ النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمة ابنته فی شکواه الذی قبض فیه، فسارها بشیءٍ، فبکت، ثم دعاها فسارها، فضحکت، قالت:فساٴلتها عن ذالک، فقالت سارنی النبی، فاخبرنی انه یقبض فی وجعه الذی توفی فیه، فبکیت، ثم سارنی فاٴخبرنی انی اول اهل بیته اتبعه، فضحکت“ ۔( ۴۶ )

امام بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ سے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ (س) کو مرض الموت میں بلایااور کسی چیز کو مخفی طور پر بتلایا جس کی وجہ سے آپ کی بیٹی رونے لگیں ، اس کے بعد حضرت فاطمہ زھرا (س) کو اپنے پ ا س بلاکر کچھ ایسی بات بتلائی کہ فاطمہ ( س)هنسنے لگیں ۔ عائشہ کھتی ہیں کہ میں نے فاطمہ(س) سے اس طرح هنسنے اور رونے کی علت پو چھی، تو آپ نے کھا : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھلے مجھ سے فرمایا : اس مرض میں میری موت واقع ہو جائے گی ، تو میں رونے لگی ، لیکن اس کے بعد آپ نے فرمایا: میرے خاندان میں سب سے پھلے تم میرے پاس آوگی تو میں هنسنے لگی۔

۳ ۔ حضرت فاطمہ زھرا ءعليه‌السلام جگر گوشہ رسول تھیں

”قال رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه: فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِّنیّ فَمَنْ اَغْضَبَهَا اَغْضَبَنِی“ ( ۴۷ )

امام بخاری نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے:

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا: فاطمہ(س) میریجگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو غضبناک کیا ،اس نے مجھے غضبناک کیا۔

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوسری روایت امام بخاری اس طرح نقل کرتے ہیں :

”فانما هی بضعة منی یریبنی ما ارابها و یوذینی مااذاها “ ۳

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :فاطمہ (س) میریجگر کا ٹکڑا ہیجس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا، جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔

مسلم نے بھی اس روایت کو مختصر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔۴

۴ ۔ تسبیح حضرت فاطمہ زھراء سلام الله علیھا

,,…عن علیعليه‌السلام ؛ان فاطمةعليه‌السلام شکت ما تلقی من اثرالرحیٰ، فاتی النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سبی، فانطلقت، فلم تجده، فوجدت عائشة ، فاخبرتها، فلما جاء النبی اخبرته عائشة بمجیء فاطمة، فجاء النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الینا ،وقد اخذنا مضاجعنا ،فذ هبنا نقوم، فقال:علی مکانکما فقعد بیننا حتی وجدت برد قدمیه علی صدری، وقال: الا اعلمکما خیراً مم ا سئلتمانی؟ اذا اخذ تما مضاجعکما تکبرااربعاً وثلاثین، و تسبحا ه ثلاثا ً وثلاثین ،و تحمدا ثلاثا ً وثلاثین، فهوخیر ٌلکما من خادم “

امام بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی کتابوں میں حضرت علیعليه‌السلام سے نقل کیا ہے:

حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے ھاتھ چکی چلاتے چلاتے زخمی ہو چکے تھے، انھیں دنوں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس کچھ اسیر لائے گئے، تو شہزادی کونین رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں گئیں ،تاکہ خدمت گزاری کے لئے ایک کنیز طلب کریں ،لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خانہ مقدس میں نہ پایا لہٰذا سارا واقعہ عائشہ سے کہہ دیا ،جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے خانہ اقدس میں تشریف لائے تو عائشہ نے سارا واقعہ سنادیا۔

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام فرماتے ہیں : جب یہ قضیہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سنا تو فوراً ہمارے گھر کی طرف روانہ ہوگئے، ہم لوگ استراحت کے لئیجاچکے تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وارد خانہ ہوئے، ہم لوگوں نے چاہا کہ آپ کے احترام میں کھڑے ہوں ،لیکن آپ نے منع کیا اور فرمایا:کیا میں تم کو ایسا عمل بتلادوں جو اس سے بھتر ہو جس کی تم نے خواہش کی ہے؟

دیکھو ! جب تم سونے لگو تو : ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر کھو ، ۳۳ مرتبہ سبح ا ن اللہ اور اتنی ہی مرتبہ الحمدللہ یہ عمل خدمت گزار سے بھتر ہے ۔( ۴۸ )

۵ ۔ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کی محبت

۱,,…عن ابن مسعود؛ قال بینما رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یصلی عند البیت ،وابوجهل واصحا ب له جلوس و قد نحرت جزوربالامس، فقال ابوجهل: ایکم یقوم الی سلا جزور بنی فلان فیاٴخذه فیضعه فی کتفی محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اذ ا سجد؟فا نبعث اشقی القوم فاخذه، فلماسجد النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،وضعه بین کتفیه ،قال: فاستضحکو ا وجعل بعضهم یمیل علی بعض، وانا قائم ،انظر لوکانت لی منعة طرحته عن ظهررسول الله ، صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم والنبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساجد ما یرفع راسه ،حتی انطلق انسان، فاخبر فاطمة (س) فجائت وهی جویریة، فطرحته عنه ،ثم اقبلت علیهم تشمتهم ،فلما قضی النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلاته، رفع صوته، ثم دعا علیهم( ۴۹ )

امام بخاری اور مسلم نے عبد الله ابن مسعود سے نقل کیا ہے:

ایک مرتبہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجھل اور اس کے( نمک خوار) ساتھی بھی وھیں موجود تھے، ابوجھل نے اپنے ساتھیوں سے کھا : کون ہیجو فلاں شخص کے اونٹ کی اجھڑی کو لاکر سجدے کی حا لت میں اس مرد (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کی پشت پر ڈال دے؟ ان میں سے ایک بد بخت شخص کھڑا ہوا اور اس نے غلاظت کو اٹھا کر جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سجدہ میں گئے تو آپ کی پشت پر ڈال دیا،ابو جھل اور اس کے ساتھی یہ منظر دیکھ کر کھل کھلاکر اتنی زور سے هنسنے لگے کہ خوشی کہ وجہ سے ایک دوسرے پر گرے جارہے تھے،ابن مسعود کھتے ہیں : میں اس واقعہ کو دیکھ رھا تھا اور یہ سوچ رھا تھا کہ کاش میں اتناطاقتو ر ہوتا کہ اس غلاظت کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر سے اٹھاکرپھینک دیتا ،تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت نہ ہوتی،ابھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سجدہ ہی میں تھے کہ کسی نے فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کو اس کی اطلاع دے دی ، آپ آئیں اور آپ ابھی بھت چھوٹی تھیں ، بھرحا ل آپ نے اس غلاظت کو صاف کیا اور ان لوگوں کو برا بھلا کھا ،جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو بلند آواز سے ان لوگوں کے لئے بد دعا کی۔

۲ ,,…عن ابن ابی حا زم عن ابیه؛ انه سمع سهل بن سعد ؛یسئل عن جرح رسول لله ،یوم احد: فقال: جرح وجه رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وکسرت رباعیته، وهشمت البیضة علی راسه، فکانت فاطمة ( س) بنت رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تغسل الدم، وکان علی بن ابی طالب یسکب علیها بالمجن، فلما راٴت فاطمة ( س) ان الماء لا یزید الدم الا کثرة، اخذت قطعة حصیر، فاحرقته حتی صاررماداً ،ثم الصقته بالجرح، فاستمسک الدم

امام مسلم نے ابن ابو حا زم سے اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے:

سھل بن سعد سے پوچھا گیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو روز جنگ احد کیسے زخم آئے ؟ تو سھل نے کھا ھاں اس دن آپ اس قدر مجروح ہوگئے تھے کہ آ پ کے دندان مبارک بھی شھید ہوگئے تھے اور آپ کے سر کا خود بھی ٹوٹ گیا تھا (جس کی وجہ سے آپ ک ا سر بھی زخمی ہوگیا تھا )اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تیمار داری علیعليه‌السلام اور فاطمہعليه‌السلام کر رہے تھے، علیعليه‌السلام اپنی سپر کے ذریعہ پانی ڈال رہے تھے اور فاطمہ (بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )آپ کے چھرے کو دھو رھی تھیں،جب فاطمہ ( س) نے دیکھا کہ پانی سے خون نہیں بند ہو تا تو آپ نے چٹائی کا ایک ٹکڑا جلاکر راکھ کیا اور اس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زخم پر رکھ دیا جس سے خون بند ہوگیا ۔( ۵۰ )

۶ ۔ حضرت فاطمہ زھراصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات پربیحد غمناک ہونا

,,…عن انس؛ قال:لمَّاثَقُل النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جعل یَتَغشَّاه،فقالت فاطمة ”علیها السلام“:واکربَ اباه !فقالصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لها:” لیس علی ابیکِ کَرْبٌ بعد الیوم“فلمّا مات،قالت :یا ابتاه !اجاب رباً دعاه ،یا ابتاه مَنْ جنة الفردوس ماواه ،یا ابتاه الی جبرئیل ننعاه؟فلمّا دفن،قالت فاطمة علیها السلام :یا انس! اطابت انفسُکم ان تحْثُوا علی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه التراب“

امام بخاری نے انس سے نقل کیا ہے :

جب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مرض روز بروز بڑھتا گیا تو حضرت فاطمہ زھر ا سلام الله علیھا (بھی روز بروز زیادہ غمگین و ناراحت ہوتی رھیں اور آپ)نے اپنے غم کا اظھار ان جملوں میں کیا :واکربَ اباہ: ھائے میرے بابا کا غم واندوہ ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہزادی کونین حضرت فاطمہ زھرا = سے کھا: اے بیٹی! آج کے دن کے بعد تیرے باپ کا غم ختم ہو جائے گا۔

انس کھتے ہیں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وفات پائی تو فاطمہ (س)نے یوں نوحہ سرائی کی:

اے میرے وہ بابا کہ جس نے دعوت خدا پر لبیک کھی، اے میرے وہ بابا کہ جس کی جائگاہ جنت الفردوس ہے ، اے میرے بابا آپ کی تسلیت کیا جبرئیل کو عرض کروں؟

اورجب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دفن کیا گیا تو فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا نے فرمایا:

اے انس! تم لوگ کیسے راضی ہوئے کہ جسد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خاک پر ڈالو۔( ۵۱ )

۴ ۔ حسنین کے فضائل صحیحین کی روشنی میں

۱ ۔ حسنین پرصد قہ حرام ہے

,,عن ابی هریرة؛ قال:کان رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه یُوتیٰ بالتمر عند صِرام النخل، فیجیء هذا بتمرة ،وهذا من تمره ،حتی یصیرعنده کَوْما من تمر، فجعل الحسن عليه‌السلام والحسین عليه‌السلام یلعبان بذالک التمر، فاخذاحدهما تمرة، فجعله فی فیه، فنظر الیه رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،فاخرجها من فیه، فقال: اَمَاْ عَلِمْتَ اَنّّ آلَ مُحَمَّدٍ لَایَاْکُلُوْنَ الْصَّدَقَةَ؟!( ۵۲ )

امام بخاری نے ابو ھریرہ سے نقل کیا ہے :

جب خرموں کے توڑنے اور چننے کا وقت ہو جاتا تھاتو لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس خرمہ زکات کے طور پر لایا کرتے تھے ، چنانچہ حسب دستور لوگ چاروں طرف سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں خرمہ لے کر آئیجن کا ایک ڈھیر ہوگیا، حسنین علیھما السلام ان خرموں کے اطراف میں کھیل رہے تھے ،ایک روز ان دونوںشہزادوں میں سے کسی ایک نے ایک خرمہ اٹھا کر اپنے دهن مبارک میں رکھ لیا !جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیکھا تو اس کو شہزادے کے دهن سے باہر نکال دیا اور فرمایا: ” اَماَ عَلِمْتَ اَنَّ آل مُحَمَّدٍ لَایَاکُلُوْنَ الصَّدَقَة“؟اے میرے لال! کیا تمھیں نہیں معلوم آل محمد پر صدقہ حرام ہے، وہ صدقہ نہیں کھاتے؟!( ۵۳ )

اسی طرح دوسری روایت امام بخاری نے امام حسنعليه‌السلام سے یوں منسوب کی ہے:

”ان الحسن بن علی اخذ تمرةمن تمر الصدقة،فجعلها فی فیه، فقال النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : کخ کخ لیطرحها،ثم قال: اما شعرت انا لا ناکل الصدقة“ ۔( ۵۴ )

ایک مرتبہ امام حسنعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام نے صدقہ کا خرمہ منہمیں رکھ لیا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:نہ ،نہ ،چنانچہ امام حسنعليه‌السلام نے خرمہ کو منھ سے باہر نکال دیا اس وقت رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اے میرے لال ! کیا تمھیں نہیں معلوم کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صدقہ حرام ہے؟!

۲ ۔ شبیہ ِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یعنی امام حسن و حسینعليه‌السلام

۱,, عن انس قال:لم یکن احد اشبه بالنبی من الحسن بن علی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( ۵۵ )

امام بخاری نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے:

امام حسن علیہ السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے۔

۲ ”راٴیت النبی وکان الحسن یشبه “ ( ۵۶ )

دوسری روایت میں امام بخاری نے ابن جحیفہ سے نقل کیا ہے:

میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھاتھا امام حسن آپ سے بالکل مشابہ ہیں ۔

۳… عن عقبة بن الحا رث؛ قال: راٴیت ابابکر (رضی الله عنه) وحمل الحسن وهو یقول:بابی شبیه بالنبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لیس شبیه بعلی ،وعلی یضحک“ ( ۵۷ )

اما م بخاری نے عقبہ ابن حا رث سے نقل کیا ہے :

عقبہ بن حارث کھتے ہیں : ایک روز میں نے دیکھا کہ ابو بکر امام حسنعليه‌السلام کو کاندھے پر بٹھائے ہوئے جارہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں :

میرا باپ قربان ہو جائے آپ پر (اے حسنعليه‌السلام )آپ شبیہ رسول ہیں نہ کہ شبیہ علی (علیہ السلام) اور علیعليه‌السلام اس (قضیہ) کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

۴… ,,عن انس بن مالک؛ اُتِیَ عبید اللّٰه بن زیاد براس الحسین عليه‌السلام بن علی علیه السلام، فجُعِل فی طشت ،فجعل یَنْکُت،ُ وقال فی حسنه شیئاً ،فقال انس: کا ن اشبههم برسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه وکان مخضوباً بالوسمه“ ( ۵۸ )

امام بخاری نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے :

جب امام حسین علیہ السلام ک ا سر اقدس جو وسمہ سے مخضوب تھا، عبید اللہ بن زیاد علیہ اللعنة الدائمہ کے پاس لایا گیا ،تو آپ کے سر اقدس کو ایک طشت میں رکھا گیا ،ابن زیاد سر کے ساتھ بے احترامی (سر پر لکڑی مار رھا تھا) کررھا تھا اور آپعليه‌السلام کے حسن و زیبائی کے بارے میں کچھ کھتا جاتا تھا ۔ انس بن مالک یہ بات نقل کرنے کے بعد کھتے ہیں : جبکہ امام حسین علیہ السلام سب سے زیادہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شباہت رکھتے تھے۔

۳ ۔ حسنین علیھما السلام کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیحد محبت کرنا

,,… عن ابی هریرة؛قبل رسول الله الحسن بن علی،وعنده الاقرع بن حا بس التمیمی جالساً،فقال الاقرع: ان لی عشرة من الولد،ماقبلت منهم احدا،ً فنظررسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،ثم قال:من لا یرحم لایرحم “ ( ۵۹ )

امام بخاری نے ابوھریرہ سے نقل کیا ہے:

ایک مرتبہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امام حسن علیہ السلام کے بوسے لے رہے تھے، اس وقت آپ کے پاس اقرع بن حا بس بھی تھا، اس نے کھا: یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ! میں دس فرزند رکھتا ہوں لیکن ابھی تک میں نے کسی کا بوسہ نہیں لیا، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں ( فرزند کی) مھر و محبت نہ ہو وہ خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔

عرض مولف

اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے بھی مسند میں نقل کیا ہے لیکن امام حسنعليه‌السلام کی جگہ امام حسین بن علیعليه‌السلام کا نام ذکر کیا ہے۔( ۶۰ )

۴ ۔ حسنین ریحا نہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں

” عن ابن ابی نعیم ؛قال: کنت شاهداً لابن عمر، وساٴله رجل عن دم البعوض، فقال: ممن انت؟ فقال :من اهل العراق، قال:انظروا الی هٰذا یساٴلنی عن دم البعوض وقد قتلوا ابن النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؟وسمعت النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یقول:هما ریحا نتا ی من الدنیا“ ۔( ۶۱ )

امام بخاری نے ابن ابونعیم سے نقل کیا ہے:

میں عبداللہ بن عمر کی مجلس میں تھا کہ کسی نے عبد اللہ ابن عمر سے مچھرکے خون کے بارے میں سوال کیا، عبد اللہ بن عمر نے کھا تو کھاں کا رهنے والا ہے؟اس نے کھا عراق کارهنے والا ہوں،اس وقت عبد اللہ ابن عمر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کهنے لگے: اے لوگو! اس شخص کو ذرا دیکھو ،مجھ سے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کرتا ہے حا لانکہ یہ لوگ فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امام حسینعليه‌السلام کا خون ناحق بھا چکے ہیں ؟! اس کے بعد عبد اللہ ابن عمر نے کھا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا تھا کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا میرے یہ دونوںبیٹے ”حسن و حسین ریح ا نتای من الدنیا“ اس دنیا میں میرے پھول ہیں ۔

۵ ۔ حسنینعليه‌السلام کے لئے دعائے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

” … عن ابن عباس ؛قال:کان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یعوذ الحسن والحسین، ویقول: ان اباکما کان یعوذ بها اسماعیل عليه‌السلام و اسحا ق، اعوذ بکلمات اللّٰه التامّة من کل شیطان وهامّة ومن کل عین لامّة “ ( ۶۲ )

امام بخاری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے:

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسنعليه‌السلام و امام حسینعليه‌السلام کے بارے میں مخصوص دعا کا تعویذ بنایا اور فرمایا: تمھاریجد ابراہیم نے اپنے دونوں فرزند اسمعیل و اسحا ق کے لئے اسی دعا کا تعویذ بنایا تھا :

,,اعوذ بکلمات اللّٰه التا مّة من کل شیطان و هامّة و من کل عین لامّة“

۶ ۔ اے خدا !جو حسنعليه‌السلام کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ

,, …عن ابی هریرة؛ قال:خرج النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فی طائفة النهار،ل ا یکلمنی ولا اکلمه،حتی اتی سوق بنی قینقاع، فجلس بفناء بیت فاطمة(س)، فقال: اثم لکع اثم لکع؟فحبستْه شیئاً ،فظننتُ انهاتلبسه سخاباً اوتغسله، فجاء یشتد حتی عانقه، وقبله ،وقال:اللّٰهم احببه واحبب من یحبه“ ( ۶۳ )

امام بخاری نے ابوھریرہ سے نقل کیا ہے :

ایک روز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنے گھر سے بالکل خاموش باہر نکلے ،یھاں تک کہ بازاربنی قینقاع تشریف لائے اور یھاں سے پلٹ کر شہزادی کونین حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کے خانہ اطھر کے دروازے پر تشریف فرما ہوئے اور اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو ان لفظوں میں بلانے لگے: کیا لکع یھاں ہے؟ کیا لکع یھاں ہے؟( ۶۴ )

ابوھریرہ کھتے ہیں : جب فاطمہ زھراسلام اللہ علیھا نے تاخیر کی تو میں نے سوچا کہ شاید آپ نے بچہ کو نظافت کی وجہ سے روک رکھا ہے ، اس کے بعد جب امام حسن علیہ السلام باہر تشریف لائے تورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہزادے سے معانقہ کیا اور بوسہ لیا اور اس کے بعد دعا کی:

”اے میرے پروردگار! اس کو دوست رکھ اور جو اس کو دوست رکھے اسے دوست رکھ“

قارئین محترم! یہ تھیں چند وہ آیات و احادیث جو صحیحین میں اہل بیت علیھم السلام کی شان میں نقل کی گئیں ہیں ، انھیں چند صفحا ت کادقت سے مطالعہ کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ مسئلہ خلافت ایسا مسئلہ نہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فراموش کردیتے اور مسلمانوں کے درمیان اس منصب کے لائق اور حقیقی خلفاء کی نشان دھی نہ کرتے،بلکہ یہ وہ مسئلہ تھا جسے رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ھر جگہ بیان کرنا ضروری سمجھا اور متعدد موارد پر اپنے حقیقی خلفاء کا اعلان فرمایا۔

یہ بات بھی ذهن میں رہے کہ ہم نیجو صحیحین سے اہل بیتعليه‌السلام کے فضائل نقل کئے ہیں،یہ صحیحین میں ان کے فضائل کے انبار کے مقابلہ میں جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہیں اورجو سنیوں کی دیگرمعتبر کتب ِ احادیث و تواریخ میں موجود ہیں ،ایک تنکے سے بھی کم ہیں ،بھر حال اب ہم ان مطالب اوراحادیث کو نقل کرتے ہیں ،جنھیں خلفائے ثلاثہ سے متعلق ان دو کتابوں میں نقل کیاگیا ہے، لیکن اس سے قبل مولائے متقیان حضرت علیعليه‌السلام کا ایک خطبہ نقل کر دیں جو آپ نے امامت،خلافت ا ور حکومت کے بارے میں بیان کیا ہے اور نشان دھی فرمائی ہے کہ جو امت کا حا کم ہو اس کے لئے کون سے شرائط لازمی ہیں ۔( ۶۵ )

____________________

[۱] شرح نہج البلاغہ ابن الی الحدید جلد۱،صفحہ ۱۳۸،خطبہ نمبر۲۔

[۲] الملل ونحل جلد۱،المقدمة الرابعہ:در بیان شبہ اول ، الخلاف الخامس، صفحہ ۲۴۔

[۳] صحیح بخاری ج ۷، کتاب الطب۔ سنن ترمذی کتاب الطب۔ صحیح مسلم کتاب الطب ، حدیث۲۲۱۷۔

[۴] سورہ زمر،آیت ۳۰َ،پ۲۴۔

[۵] سورہ آل عمران آیت ۱۴۴ پ ۴۔

[۶] سورہ بقرہ ،آیت ۱۸۰،پ۲۔

[۷] صحیح بخاری ج۴ ،کتاب الوصایا ،باب( ۱) ح ۲۵۸۷۔ صحیح مسلم ج ۵، کتاب الوصیة۔ سنن ابی داود ج ۱، باب”ما جاء فی یومر به من الوصیة “ ، ح ۲۸۶۲، ص ۶۵۴۔ سنن نسائی کتاب الوصایا ،باب الکراهیة فی تاخیر الوصیة ، ص ۲۳۹۔ سنن ابن ماجہ ج ۲، کتاب الوصایا، باب”الحث علی الوصیة “ ۔ سنن دارمی کتاب الوصایا باب من استحب الوصیة ص ۴۰۲۔ سنن ترمذی ،کتاب الوصیة ابواب الجنائز باب ما جاء فی الحث علی الوصیة ،ص ۲۲۴۔ مسند ج۲ ،مسند عبد الله ابن عمر، ص ۲ ، ۴ ،۵۷،۸۰۔

[۸] صحیح مسلم جلد ۵، کتاب الوصیہ ۔

[۹] الکامل جلد۱،”ذکر امر الله تعالی بنبیه باظهار دعوته “ص۵۸۶ ، مولفہ ابن اثیر، تاریخ طبری حوادث ۳ ھ ۔

[۱۰] افسوس کہ کچھ ایسے نافرمان صحا بہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، جنہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نوشتہ نہ لکھنے دیا اور عذاب الیم کے مستحق بن گئے۔

صحیح بخاری جلد ۱ کتاب العلم باب کتابة العلم و جلد۷ ،کتاب المرضی باب ”قول المریض قوموا عنی“ دیکھئے :مزید معلومات کے لئے اسی کتاب کی فصل دوم بحث” امامت و خلافت صحیحین کی روشنی میں ،واقعہ قرطاس اور حضرت عمر کا رویہ“ مترجم۔۵۷۳۔

[۱۱] سورہ احزاب، آیت۳۳،پ۲۲۔

[۱۲] صحیح مسلم جلد۷،کتاب فضایل الصحا بة، باب” فضائل اہل بیت النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم“ ح ۲۴۲۴۔

[۱۳] سورہ آل عمران،آیت۶۱، پ۴۔

[۱۴] صحیح مسلم جلد۷ ، کتاب فضائل الصحا بة،باب” فضائل علی علیہ السلام“ حدیث۲۴۰۴۔ ۲۴۰۵۔ ۲۴۰۶۔ ۲۴۰۷۔

مسلم نے مذکورہ روایات کو دیگر متن و طریق کے ساتھ بھی نقل کیا ہے۔

[۱۵] صحیح مسلم ج۷،کتاب فضایل الصحا بة، باب” فضائل علی علیہ السلام“ حدیث۲۴۰۸۔

[۱۶] مستدرک حا کم، جلد۳ ،ذکر زید بن ارقم ،ص۵۳۳۔ مسند احمد ابن حنبل ،جلد۴ ،حدیث زید بن ارقم ،ص۳۷۲ ۔

[۱۷] سرالعالمیَنْ وکشف ما فی الدارین ، باب فی المقالة الرابعة فی ترتیب الخلافة ص۲۱ ، مولفہ امام غزالی ،مطبوعة نعمان پریس ، دوسرا ایڈیشن ، ۱۹۶۵ء ،نجف عراق۔

[۱۸] صحیح بخاری: جلد ۸، کتاب الدعوات، باب(۳۱)”الصلاة علی النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث ۵۹۹۶۔۵۹۹۷۔ جلد ۳ ،کتاب الانبیاء، باب”یزفون النسلان فی المشی “(آیت نمبر۹۴) حدیث۳۱۹۰۔ جلد ۶، کتاب التفسیر تفسیر، سورہ احزاب، باب۱۰”آیة ان الله و ملائکته یصلون علی النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث ۵۴۲۰ ،۴۵۱۹۔ صحیح مسلم جلد۲ ،کتاب الصلوة، باب” الصلٰوة بعد التشھد علی النبی“ حدیث ۴۰۵،۴۰۶،۴۰۷۔

[۱۹] صحیح مسلم ج۱، کتاب الصلوٰة،باب” الصلوٰت النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعد التشھد“ح ۴۰۵، ۴۰۶،۴۰۷۔

[۲۰] سورہ لقمان،آیت ۲۱،پ۲۱۔

[۲۱] صحیح بخاری ج۹، کتاب الاحکام، باب(۵۲)”استخلاف“ حدیث۶۷۹۶۔ صحیح مسلم ج۶، کتاب الامارة، باب(۱۱)” الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش“حدیث ۱۸۲۱۔

[۲۲] صحیح مسلم ج ۶ ،کتاب الامارہ ،باب۱حدیث۱۸۲۱۔(کتاب الامارة کی حدیث نمبر۹) ۔

[۲۳] صحیح مسلم جلد۸ ،کتاب الفتن ،باب” لاتقوم الساعة حتی یمر الرجل“ حدیث۲۹۱۳۔۲۹۱۴۔

[۲۴] صحیح مسلم جلد۸ ،کتاب الفتن، باب ”لاتقوم الساعة حتی یمر الرجل“ حدیث۲۹۱۳،۲۹۱۴۔

[۲۵] صحیح بخاری جلد۴ ،کتاب الانبیاء ،باب ”نزول عیسی ابن مریم “حدیث ۳۲۶۵۔

[۲۶] فتح ا لباری شرحا لبخاری ج۷ ،کتاب الانبیاء باب قولہ تعالی : واذکر فی الکتاب مریم ص ۳۰۵۔

[۲۷] عمدة القاری جلد۱۶ ،کتاب الانبیاء باب قولہ تعالی : واذکر فی الکتاب مریم ۔

[۲۸] الا صابة جلد۴،عیسی المسیح بن مریم الصدیقة بنت عمران ، ص۶۳۸۔

[۲۹] اضواء علی السنة المحمدیہ ، مصنفہ، شیخ محمود ابوریہ۔

[۳۰] سورہ حج آیت ۹،پ ۱۷۔

[۳۱] صحیح بخاری:جلد ۵،کتاب المغازی،باب(۸)” قتل ابی جھل“ حدیث۳۷۴۷ ، ۳۷۵۱ ، ۳۷۵۰ ، ۳۷۴۸ ، ۳۷۴۹۔ جلد۶،کتاب التفسیر،تفسیر سورہ الحج،باب (۳) آیہ < ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ>حدیث۴۴۶۷۔

[۳۲] صحیح بخاری:جلد ۵،کتاب المغازی،باب(۸)” قتل ابی جھل“ حدیث۳۷۴۷ ، ۳۷۵۱ ، ۳۷۵۰ ، ۳۷۴۸ ، ۳۷۴۹۔ جلد۶ ،کتاب التفسیر،تفسیر سورہ الحج،باب (۳) آیہ < ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ>حدیث۴۴۶۷۔

[۳۳] صحیح مسلم جلد ۳ ،کتاب الایمان، باب(۳۳) ”ان حب الانصاروعلیعليه‌السلام من الایمان“ حدیث۷۸۔

[۳۴] صحیح بخاری جلد ۱، کتاب الصلوٰة، باب” اتمام تکبیر فی الرکوع “حدیث۷۵۱، باب” اتمام التکبیر فی السجود“ حدیث۳۵۳۔مترجم:(صحیح بخاری جلد۱،کتاب الصلوٰة،باب ”یکبر وھو ینھض من السجدتین“ حدیث۷۹۲۔) صحیح مسلم جلد۲، کتاب الصلوٰة،باب(۱۰)” اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع“ حدیث ۳۹۳۔

[۳۵] صحیح بخاری جلد۴ ،کتاب فضایل الصحا بة،باب”مناقب علی ابن ابی طالبعليه‌السلام “ حدیث۳۵۰۰۔ جلد ۱،کتاب الصلاة ابواب المسجد،باب”نوم الرجل فی المسجد“حدیث۴۳۰،جلد۴، کتاب الادب، باب” التکنیّ بابی تراب“ حدیث۵۸۵۱۔ جلد۸ ،کتاب الاستئذان، باب” القائلہ فی المسجد“ حدیث۵۹۲۴۔ صحیح مسلم جلد۷،کتاب فضائل الصحا بة، باب” فضائل علی ابن ابی طالب علیہ السلام“حدیث۲۴۰۹۔

[۳۶] صحیح بخاری ،جلد ۶، کتاب التفسیر سورہ بقر ہ ،باب ”تفسیر ماننسخ من آیة“(۱۰۶)حدیث۴۲۱۱۔

[۳۷] سنن ابن ماجہ جلد۱۔(اس کتاب میں حقیر نے اس جملہ کو نہیں دیکھا ہے۔مترجم۔) استیعاب جلد۱ ،حرف العین باب علی صفحہ ۸۔ (اس کتاب میں اقضانا اور اقضاہم آیا ہے ۔مترجم )

[۳۸] صحیح بخاری: جلد۴ ،کتاب الجھاد و السیر ، باب۱۲۱ ”ما قیل فی لواء النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم “حدیث ۲۸۱۲، باب۱۴۳” فضل من اسلم علی یدیہ رجل“ حدیث۲۸۴۷،کتاب فضایل الصحا بہ، باب(۹)” مناقب علی ابن ابی طالب “حدیث۳۴۹۸،۳۴۹۹۔ صحیح مسلم :جلد۷ ،کتاب فضائل الصحا بة ،باب” فضائل علی ابن ابی طالب“ حدیث۰۵ ۲۴، کتاب الجھاد و السیر، باب(۴۵)” عزوہ ذی قرد وغیرھا“ حدیث۱۸۰۷۔

مترجم:(صحیح بخاری: جلد۴ ، کتاب الجھاد و السیر ،با ب” دعاء النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الی الاسلام النبوة“حدیث۲۷۸۳۔کتاب فضائل الصحا بة باب ”عزوہ خیبر“حدیث۳۹۷۲،۳۹۷۳۔

مسلم نے ایک حدیث میں اس شعر کو بھی نقل کیا ہے جسے حضرت علیعليه‌السلام نے مرحب کے مقابل پڑھا تھا:

اناا لذی سمّتنی امی حیدره

کلیث غابات کریه المنظره)

[۳۹] صحیح مسلم جلد۷، کتا ب فضائل الصحا بة ،با ب( ۴)” فضائل علی ابن ابی طالب“حدیث ۲۴۰۵۔

[۴۰] صحیح بخاری :جلد۵،کتاب فضایل الصحا بة ،باب(۹) ”مناقب علی ابن ابی طالب علیہ السلام“حدیث ۳۵۰۳۔

جلد ۵،کتاب المغازی، باب(۷۴) ”عزوہ تبوک “حدیث۴۱۵۴۔

صحیح مسلم جلد ۲ ،کتاب فضائل الصحا بة، باب” فضائل علیعليه‌السلام “حدیث۲۴۰۴

(یہ حدیث دیگر سند کے ساتھ بھی اس کتاب میں مذکور ہے) ۔

[۴۱] سورہ طہ، آیت ۳۰، پ ۱۶۔

[۴۲] سورہ اعراف، آیت۱۴۲،پ۹۔

[۴۳] سورہ طٰہٰ ،آیت نمبر۳۱، ۳۲، ۳۶، پ ۱۶۔

[۴۴] تفصیل دیکھئے: کتاب ”المراجعات “ مصنفہ علامہ سید شرف الدین ، و ”کفایة الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب ص۲۸۱، باب (۶۰)”فی تخصیص علی بقوله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انت بمنزلة هارون من موسی “ مطبوعہ:۱۳۹۰ “(اس کتاب کے ساتھ گنجی شافعی کی دوسری کتاب ”البیان فی اخبار صاحب الزمان“بھی شائع ہوئی ہے۔ مترجم.

آٹھویں فضیلت : علیعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علیعليه‌السلام سے ہیں ۔

اَنْتَ مِنّیِ وَاَنَاْ مِنْکَّّ “حضرت رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔

صحیح بخاری ،جلد ۵، کتاب فضایل الصحا بة، باب”مناقب علی“۔ جلد۴، کتاب المغازی، باب(۴۱)”عمرةالقضاء (صلح حدیبیہ)“حدیث۴۰۰۵ ۔ کتاب الصلح ،باب(۶) ”کیف یُکتَبُ: ھذاماصالح فلان بن فلان“۲۵۵۲ ۔ مترجم.

نویں فضیلت:رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وقتِ وفات علیعليه‌السلام سے راضی رخصت ہوئے

حضرت عمر کا بیان ہے : جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وفات پائی تو آپ حضرت علی علیہ السلام سے راضی تھے۔صحیح بخاری جلد ۵،کتاب فضائل الصحا بة ،باب” مناقب علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (قبل از حد یث نمبر ۳۴۹۸)“ باب ”قصہ البیعة والاتفاق علی عثمان “حدیث ۳۴۹۷۔ مترجم.

محترم قارئین! جیساکہ آپ نے مولا علیعليه‌السلام کے فضائل صحیحین کی روشنی میں ملاحظہ فرمائے اور پھر قول حضر ت عمر بھی ملاحظہ فرمایا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات جب ہوئی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علیعليه‌السلام سے راضی تھے ،لیکن خود قائل کی پوزیشن کیا تھی؟معلوم نہیں ،کیونکہ صحیح بخاری کے بموجب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بوقت وفات جب قلم و دوات مانگی توحضرت عمر نے منع کردیا تھا جس کی وجہ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ناراض ہوگئے اور آپ نے حضرت عمر کو اپنے گھر سے باہر نکال دیا، چنانچہ محترم مولف صاحب نے بحث ”واقعہ قرطاس“ ص۶۲۲پر اس بات کو تفصیل کے ساتھ نقل کیاہے۔

[۴۵] صحیح بخاری :جلد۴، کتاب المناقب، باب(۲۲)” علامات النبوةفی الاسلام“ حدیث۳۴۲۶۔ جلد ۸ ،کتاب الاستیذان، باب ” من ناجی بین یدی الناس“ حدیث۵۹۲۸۔ صحیح مسلم جلد ۷ ،کتاب فضائل الصحا بة ،باب ”فضائل فاطمةالزھراء سلام اللّٰہ علیھا “۔

[۴۶] صحیح بخاری :جلد۴،کتاب المناقب، باب( ۲۵) ”علامات النبوت فی الاسلام “حدیث ۳۴۲۶ ۔ جلد ۵،کتاب فضایل الصحا بة، باب(۱۲)” مناقب قرابة الرسول“صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث۳۵۱۱۔

مترجم:( صحیح بخاری جلد ۴ ،کتاب المغازی ،باب ”مرض النبی“صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث۴۱۷۰۔)

صحیح مسلم جلد۵ ، کتاب فضائل الصحا بة، باب (۱۵)” فضائل فاطمة زھر ا سلام اللہ علیھا“ حدیث ۲۴۵۰۔

[۴۷] .۳.۴.صحیح بخاری :ج۵،کتاب فضایل الصحا بة، باب ”مناقب قرابة الرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم “حدیث۳۵۱۰۔ ج ۷،کتاب النکاح،باب” الذب الرجل عن ابنتہ“حدیث۴۱۳۲۔ج۳ ،کتاب فضایل الصحا بة، باب” مناقب فاطمة الزھرا(س)“حدیث۳۵۵۶۔ مترجم:( صحیح بخاری ج۳ ،کتاب فضایل الصحا بة،باب( ۱۶) ”ذکراصھارالنبی“ حدیث۳۵۲۳۔) صحیح مسلم ج۷، کتاب فضایل الصحا بة، باب ”فضائل فاطمة زھر ا سلام الله علیھا“حدث۲۴۴۹۔

[۴۸] صحیح بخاری:جلد۴، کتاب الخمس، باب(۶) ”الدلیل علی ان الخمس لنوائب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰہ“ حدیث۲۹۴۵۔ جلد۵، کتا ب فضایل الصحا بة، باب ”مناقب علی علیہ السلام“ حدیث ۳۵۰۲۔ جلد۷،کتاب النفقات، باب(۶) ” عمل المرئة فی بیت زوجھا“حدیث۵۰۴۶،

مترجم:(صحیح بخاری جلد۷ ،کتاب النفقات،باب” خادم المرئة“ حدیث۵۰۴۷۔ کتاب الدعوات، باب(۱۱)”التکبیر والتسبیح عند المنام“ حدیث۵۹۵۹۔ )

صحیح مسلم جلد۸، کتاب الذکر و الدعا، باب” التسبیحا ول النھار و عند النوم“حدیث۷۲۷۲۔

[۴۹] صحیح بخاری جلد۱، کتاب الوضوء، باب(۶۹)” اذا اُلقِی علی َظھرِْ المصلی قذر“حدیث۶۹۔ صحیح مسلم جلد۳، کتاب الجھاد و السیر، باب(۳۹)”ما القی النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم من اذیٰ المشرکین“حدیث۱۷۹۴۔

[۵۰] صحیح بخاری: جلد ۱، کتاب الوضوء، باب(۷۲)” غسل المرئة اباہا الدم عن وجہہ“ حدیث۲۴۰۔ جلد ۴، کتاب فضل الجھاد، باب ”لبس البیضة“ حدیث۲۷۵۴، مترجم:(صحیح بخاری جلد ۴، کتاب فضل الجھاد،باب” المجن ومن تیترس بترس الصحا بة“ حدیث ۲۷۴۷،باب(۱۶۰)”دواء الجرح باحراق الحصیر“ حدیث۲۸۷۲،باب” ما اصاب النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم من الجراح یوم احد“ حدیث ۳۸۴۷۔ جلد ۵،کتاب النکاح، باب(۱۲۲)”ولا یبدین زینتھن الا بعولتھن “حدیث ۴۹۵۰۔ کتاب الطب، باب” حرق الحصیر لیسدّ بہ الدم“ حدیث ۵۳۹۰ ۔)صحیح مسلم جلد۵، کتاب الجھاد، باب( ۳۷)” غزوة احد“ حدیث ۱۷۹۰ ۔

[۵۱] صحیح بخاری جلد۶ ،کتاب المغازی ،باب(۷۸ )”مرض النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و وفاتہ “حدیث ۴۱۹۳۔

[۵۲] بخاری ج۲، کتاب الزکاة ،باب ”اخذ صدقہ التمر عند صرام النخل“ حدیث ۱۴۱۴۔

[۵۳] مترجم: مذکورہ حدیث سے یہ واضح طور پر ثابت جاتا ہے کہ آل محمدعليه‌السلام پرصدقہ حرام ہے اس کا مفہوم یہ ہواکہ اصحا ب کے لئے جائز ہے گویا حرمت صدقہ آل محمد اعليه‌السلام ور اصحا ب کرام کے درمیان حد فاصل ہے، اس حدیث میں امام بخاری نے تھوڑ ا سا اضافہ کیا ہے وہ یہ کہ ”حسنینعليه‌السلام نے کھجور کو دہن اقدس میں رکھ لیا تب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منع فرمایا “ایسا نہیں ہے بلکہ حسنین کھانے کے ارادہ سے بظاہر دیکھنے والوں کی نظر میں اٹھا رہے تھے ،مگر حقیقت یہ تھی کہ آپ دنیا والوں کی زبان پر اپنی فضیلت زبانِ رسالت سے سنوانا چاہتے تھے کہ آل محمدعليه‌السلام اور اصحا ب میں زمین و آسما ن کا فرق ہے، یعنی آپعليه‌السلام یہ بتا نا چاہتے تھے کہ اے مسلمانو! کبھی آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقابلہ میں اصحا ب کا قیاس نہ کرنا :

لایُقاسُ بِآلِ محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم من هذه اُلامَّةِ اَحَدٌ وَ لَایُسوَّی بهم مَنْ جَرَتْ نِعَمَتُهم علیه اَبَداً هُم اَساسُ الدِّین وَ عِمادُ الیقین اِلیهم یَفِئیُ الغَالِی و بهم یُلْحَقُ التاَّلِی و لَهُم خَصائِص حّقِّ الوِلَایَةِ وَ فِیهم الوَصِیَّةُ وَ الْوِراثَةُ “ شرح نہج البلاغہ ابن الی الحدید جلد۱صفحہ ۳۸ ( خطبہ نمبر۲)

ترجمہ: اس امت میں کسی کو آل محمد(علیھم السلام) پرقیاس نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں ،وہ ان کے برابر نہیں ہوسکتے، یہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں ، آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آکر ملنا ہے، حقِ ولایت کی خصوصیات انھیں کے لئے ہیں ، انھیں کے بارے میں پیغمبر کی وصیت اور انھیں کے لئے نبی کی وراثت ہے ۔۱۲

[۵۴] صحیح بخاری جلد۲، کتاب الزکاة ،باب ”مایذکر فی الصدقہ للنبی“صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث ۱۴۲۰۔ جلد۴ ،کتاب فضل الجھاد و السیر، باب” من تکلم بالفارسیة“حدیث۲۹۰۷۔

[۵۵] صحیح بخاری جلد۵، کتاب فضایل الصحا بة، باب” مناقب الامام الحسن و الحسینعليه‌السلام “ حدیث ۳۵۴۰،۳۵۴۲

[۵۶] صحیح بخاری جلد۴، کتاب المناقب، باب” صفة النبی“حدیث ۳۳۴۹،۳۵۰ ۳۔

[۵۷] صحیح بخاری جلد۵ ،کتاب فضایل الصحا بة، باب ”مناقب الامام الحسن و الحسینعليه‌السلام “ جلد۴، کتاب المناقب، باب” صفة النبی“۳۵۴۲، ۳۳۵۰۔

[۵۸] صحیح بخاری جلد۵، کتاب الفضایل الصحا بة، باب ”مناقب الحسن و الحسینعليه‌السلام “حدیث۳۵۳۸ ۔

[۵۹] صحیح بخاری جلد۸، کتاب الادب، باب(۱۷)”رحمة الولد و تقبیله و معا نقته “حدیث ۵۶۵۱۔

[۶۰] مسند احمد بن حنبل جلد ۲ ،مسند ابو ھریرة، ص ۲۴۱ ۔

مترجم: ایک جگہ امام بخاری نے اس طرح نقل کیا ہے:عليه‌السلام آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :اللّٰهم انی اُحبّه فاَ حبَّه ، اے خدا !تو حسنعليه‌السلام کو دوست رکھ کیونکہ میں اس کو دوست رکھتا ہو ں۔

صحیح بخاری جلد ۳ ،کتاب الفضایل الصحا بة ،باب ”مناقب حسنعليه‌السلام حسین “حدیث ۳۵۳۹،۳۵۳۷،باب ”ذکراسامة بن زید“ حدیث۳۵۲۸۔

[۶۱] صحیح بخاری جلد۸ ،کتاب الادب ،باب ”رحمة الولد و تقبیلہ“ حدیث۵۶۴۸ ۔

مترجم:(صحیح بخاری ج۳ ،کتاب الفضایل الصحا بة، باب(۲۴)”مناقب الحسن والحسین“ ح۳۵۴۳۔)

[۶۲] صحیح بخاری جلد۲ ،کتاب الانبیاء، باب ”(سورہ صٰفات آیت ۹۴ )یزفون النسلان“ حدیث۳۱۹۱۔

[۶۳] صحیح بخاری جلد۳، کتاب البیوع، باب(۴۹)” ماذکر فی الاسواق“ حدیث۲۰۱۶۔ جلد ۷، کتاب اللباس، باب(۵۸)” السِخّاب للصبیان“ حدیث۵۵۴۵ ،صحیح مسلم جلد ۷ ،کتاب فضایل الصحا بة، باب(۸ )”فضائل الحسن و الحسین علیھما السلا م“ حدیث۲۴۲۱۔ (معانقہ کے جملے صحیح مسلم میں آئے ہیں صحیح بخاری میں نہیں ۔مترجم )

[۶۴] نوٹ:لکع بمعنی چھوٹا بچہ استعمال کیا جاتا ہے ، دیکھئے :نھایہ ابن اثیر ۔

[۶۵] اگر آپ اس خطبہ کی روشنی میں خلفائے ثلاثہ کی زندگی کو دیکھیں تو پھر آپ کو اس بات کے تسلیم کرنے میں کسی طرح کی شرم اورجھجھک محسوس نہ ہو گی کہ منصب خلافت کے واحد حقدار حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام تھے۔مترجم۔


حا کم ؛ حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں

شرائط امامت

۱ اَللّٰهم اِنّی اول من اناب، وسمع و اجاب، لم یسبقنی الارسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه بالصلٰوة، وقد علمتم انَّه لاینبغی ان یکون الوالی علی الفروج،والدماء، والمغانم والاحکام،وامامة المسلمین اَلْبخیلُ، فتکون فی اموالهم نَهْمَتُه، ولاالجاهل فیَُضِلَّهُمْ بجهله، ولاالجافی فیََقْطعُهم بجفائه، ولاالحا ئِفُ للدول،فیتخِذَ قوماً دون قوم، ولا المُرتشِی فی الحکم فیذهب بالحقوق،ویَقِفَ بهادون المَقاطِعَ ولاالمُعَطِّلُ للسنة فیُهلکُ الاُمَّةَ( ۶۶ )

اے اللہ ! میں پھلا شخص ہوں جس نے تیری طرف رجوع کیا اور تیرے حکم کو سن کر لبیک کھی ، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ کسی نے بھی نماز پڑھنے میں مجھ پر سبقت نہیں کی ،اے لوگو! تمھیں یہ معلوم ہے کہ ناموس ، خون ، مال غنیمت ، نفاذِ احکام اور مسلمانوں کی پیشوائی کے لئے کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی بخیل حا کم ہو، کیونکہ اگر ایسا ہوگا تو اس کے دانت مسلمانوں کے مال پر لگے ر ہیں گے اور نہ کوئی جاہل ہو کہ وہ انھیں اپنی جھالت کی وجہ سے گمراہ کردے گا، نہ کوئی کج خلق ہو کہ وہ اپنی تند مزاجی سے چر کے لگاتا رہے گا اور اپنے اور لوگوں کے درمیان فاصلہ کردے گا، نہ کوئی مال ودولت میں بے راہ روی کرنے والا ( ظالم)کہ وہ کچھ لوگوں کو دے گا اور کچھ کو محروم کردے گا، نہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینے والا کہ وہ دوسروں کے حقوق کو رائگاں کردے گااور انھیں انجام تک نہ پهنچائے گا اور نہ کوئی سنت کو بیکار کردینے والا کہ وہ امت کو تباہ و برباداور ضائع کردے گا۔

اس خطبہ میں مولا علی علیہ السلام نے اس شخص کے لئیجو مسلمانوں کی امامت و سرپرستی اور ان کے درمیان قوانین اسلام نافذ کر نا چاہتا ہے ،جنگ وصلح کے احکام صادر کرنا چاہتا ہے اور مسلمانوں کے درمیان احکام خدا کی تبیین وتوضیح کرنا چاہتا ہے چھ بنیادی شرائط بتلائے ہیں :

۱ ۔ امام اور حا کم ،بخیل نہ ہو کہ و ہ لوگوں کے مال و ثروت میں ہمیشہ لالچ کی نظر جمائے رکھے گا،(اورامت اسلام پر مال و دولت خرچ کرنے کے بجائے خود ہی دولت جمع کرنے کی فکر میں مبتلا رہے گا)۔

۲ ۔ اما م اور حا کم ،اسلام کے تمام جزئیا ت اور قوانین کا بحد کافی علم رکھتا ہو۔

۳ ۔ حا کم، اخلاق حسنہ رکھتا ہو اور غصہ و خشونت سے دور ہو۔

۴ ۔ حا کم ،ظالم و ستمگر نہ ہو کہ دوسرے کے حق کو پائمال کردے۔

۵ ۔ حا کم اور امام رشوت خورنہ ہو۔

۶ ۔ امام ،قوانین اسلام اور قرآن کے نافذ کرنے سے گریز نہ کرے، بلکہ وہ ہمیشہ قوانین الہٰی کو نافذ اور ان کی حفاظت کرے ۔

یہ ہیں اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھانے والے حا کم کے چند شرائط، لیکن مسلمانوں کی صحیح، معتبر اورمھم ترین کتابیں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کھتی ہیں کہ خلفائے ثلاثہ مذکورہ شرائط( حسن اخلاق، علم وآگاہی)سے عاری اور خالی ہی نہیں بلکہ وہ ان شرائط کے مقابل متضاد صفات کے حا مل تھے !!( ۶۷ ) چنانچہ اس بات کے ثبوت کے لئے ہم چند نمونے کتب صحیحین سے پیش کرتے ہیں ،جنھیں علمائے اہل سنت اپنے دین کا مدرک و ماخذ سمجھتے ہیں ، (اور ان میں نوشتہ احادیث کو قرآن کی آیت کے مساوی مانتے ہیں ) کیونکہ ہم نے اپنی بحث کا مدرک انھیں دو کتابوں کو بنایا ہے، وگرنہ اس بارے میں کتب تواریخ و حدیث میں بھت زیادہ مطالب موجود ہیں ، جن کا نقل کرنا ہمارے موضوع سے متعلق نہیں ہے ۔

۱ ۔ حا کم کا صاحبِ حسن اخلاق ہوناضروری ہے

ولا الجافی فیقطعهم بجفائه “( قول حضرت علی علیہ السلام)

اور امام کو کج خلق اور تند مزاج نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ اپنی کج خلقی اور تند مزاجی سے لوگوں کو ہمیشہ اپنے پاس سے بھگاتا رہے( کیونکہ اس طرح اسلامی احکام صحیح طریقے سے نافذ نہ ہوسکیں گے ) “

محترم قارئین ! جیساکہ ہم نے گزشتہ فصلوں میں نقل کیا کہ ایک رھبر اور ھادی امت کیلئے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور حسن اخلاق رکھتا ہو، تند خو اور غصہ ور شخص کیلئے منصب امامت سازگار نہیں ،لیکن صحیحین کی بعض احادیث اورسنیوں کی دیگر معتبر کتابوں کے مطابق خلفائے ثلاثہ ان صفات سے بے بھرہ تھے چنانچہ اس کے دو نمونے ذیل میں نقل کرتے ہیں :

۱ …عن ابی ملیکة؛ قال کاد الخیران ان تهلکا ابو بکر وعمر ،لما قدم علی النبی وفد بنی تمیم، اشار احدهما با لاقرع بن حا بس الحنظلی اخی بنی مجاشع، واشارالآخر بغیره ،فقال ابوبکر لعمر: انما اردت خلافی؟فقال عمر:ما اردت خلافک، فارتفعت اصواتهما عند النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، فنزلت الآیه:< ( یٰا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ… ) > ( ۶۸ )

اما م بخاری نے ابن ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے :

نزدیک تھا کہ ایک واقعہ میں وہ دو نیک مرد (ابوبکر و عمر) ھلاک ہوجاتے، جب بنی تمیم کا ایک وفد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت بابرکت میں مشرف ہوا تو ان دونوں (ابوبکر و عمر) میں سے ایک نے اقرع بن حا بس حنظلی برادر بنی مجاشع کو اس قبیلہ کاسرپرست ظاہر کر دیا اور دوسرے نے کسی اور شخص کی سفارش کی ، اس پرابوبکر نے عمر سے کھا : تونے اس کام میں میری مخالفت کی ہے ؟

عمر نے کھا : میں اس امر میں تیری مخالفت کرنے کا قصد نہیں رکھتا تھا، بالآخر جب دونوں کے درمیان تو تو ، میں میں ، ہوئی اور ایک شور و هنگامہ ہونے لگا(اوررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موجودگی کا کسی کو خیال نہ رھا، لہٰذاجب خداوند عالم نے اس بدتمیزی اور بدتہذیبی کو دیکھا ) تو یہ آیت نازل فرمائی:

( یٰا اَیُّهَاْ لَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ ِلبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعماَلکُمُْ وَ اَنْتُمْ لاَتَشْعُرُوْنَ ) ( ۶۹ )

اے ایماندارو !بولنے میں تم اپنی آوازیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آواز پر بلند مت کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زور زور بولا کرتے ہو ان (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کے روبرو زور سے نہ بولا کرو، ایسا نہ ہو کہ تمھارے سارے اعمال حبط (ختم) ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

ابن حجرنے فتح ا لباری( شرحا لبخاری) میں قلمبند کیا ہے : قبیلہ بنی تمیم کے وفد کا آنا اور یہ واقعہ پیش آناہجرت کے نویں سال میں تھا ۔( ۷۰ )

عرض مولف

مذکورہ حدیث مسند احمد ابن حنبل میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔( ۷۱ )

مذکورہ حدیث کے مضمون اور بنی تمیم کے وفد کے مدینہ آمد کی تاریخ میں غور کرنے سے ایک سوال جو ابھر تا ہے وہ یہ ہے کہ جو افراد آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیس سال سے زندگی گزار رہے تھے، وہ نبی کے ساتھ رہ کر تہذیب یا فتہ کیوںنہ ہوئے ؟!آخر ان کو احترام رسالت کا خیال کیوں نہ تھا؟!یہ لوگ کیوں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے اس قدر ھلڑ هنگامہ کرتے تھے کہ خدا کو ان کی تھدید اور تنبیہ کے لئے آیت نازل کرنا پڑی؟!( ۷۲ ) بتایئے ایسے افراد کیا جانشین نبی ، عظیم الشان قائد، اسلامی رھبر اور مقام خلافت کے حقدار ہو سکتے ہیں ؟!ھرگز نہیں ۔

۲ …سعد بن ابی وقاص؛ قال: استاٴذن عمرعلی رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ،وعنده نسآء من قریش،یُکَلِّمْنَهُ و یَسْتَکْثِرْنَهُ عالیة اصواتهن، فلما استاٴذن عمر، قمن یبتدرن الحجاب، فاٴذ ن له رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ،ورسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله یضحک، فقال عمر: اضحک الله سنک یا رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله !قال: عجبت من هٰولاء الّاتی کن عندی، فلم ا سمعن صوتک، ابتدرن الحجاب، قال عمر: فانت یا رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله !کنت احق ان یهبن، ثم قال: ای عد وات انفسهن! اتهبنی ولا تهبن رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ؟قلن انت افظ واغلظ من رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ۔( ۷۳ )

سعد بن ابی وقاص سے بخاری نے نقل کیا ہے:

ایک مرتبہ عمر نے رسول کی خدمت میں شرفیاب ہونے کی درخواست کی اس وقت بعض زنان قریش رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں باتیں کررھی تھیں اور زیادہ تیز آواز میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال و جواب کر رھی تھیں ، لیکن جب عمر نے چاہا کہ خدمت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں حا ضر ہوں توقریش کی یہ سب عورتیں گھر کے ایک گوشے میں پوشیدہ ہوگئیں ۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس ماجرا کو دیکھ کر مسکرانے لگے اور تبسم کی حا لت میں عمر کو گھر میں وارد ہونے کا اذن دیا، عمر نے کھا: یارسول اللہ! اللہ آپ کو ہمیشہ خوشحال رکھے یہ مسکرانے کا کیا مطلب ہے؟!

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس امر نے تعجب میں ڈال دیا ہے کہ جب ان قریش کی عورتوں نے تیری آواز سنی تو سب متفرق ہوگئیں اور گوشہ میں پوشیدہ ہوگئیں !

عمر نے کھا :یا رسول اللہ!ان کو آپ سے ڈرنا چاہیئے نہ کہ مجھ سے، اس وقت ان عورتوں سے مخاطب ہوکر بولے :اے اپنے وجود کی دشمنو !تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نہیں ؟

عورتوں نے اس کیجواب میں کھا: ھاں ہم لوگ آپ سے ڈرتے ہیں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نہیں ، کیونکہ آپ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بنسبت بڑے بدمزاج ،غصہ ور اور تند خو آدمی ہیں ۔”قلن انت افظ واغلظ من رسول الله

عرض مولف

خلیفہ دوم کی سخت مزاجی اور بداخلاقی کے بارے میں کتب احادیث میں بھت سارے واقعات قلمبند کئے گئے ہیں بعض کتابوں میں آیا ہے :جب حضرت عمر غصہ ہوتے تھے تو بعض اوقات ان کا غصہ اس وقت تک ختم نہ ہو تا جب تک کہ اپنے ہی دانتوں سے اپنا ھاتھ چبا کر زخمی نہ کرلیا کرتے تھے!( یہ حالت میرے خیال سے اس وقت ہوتی ہوگی جب انھیں غصہ اتارنے کے لئے کوئی ملتا نہ ہوگا) زبیر بن بکار اس مطلب کو نقل کرنے کے بعد کھتے ہیں:ھاتھ کو دانتوں سے چبا نے والا واقعہ اس وقت بھی پیش آیا جب آپ کے کسی فرزند کی شکایت کوئی کنیز آپ کے پاس لائی ،اس وقت بھی خلیفہ صاحب نے اپنا ھاتھ چبا لیا تھا!!

اس کے بعد ابن بکار کھتے ہیں:خلیفہ کی اسی تند مزاجی کی وجہ سے ابن عباس” مسئلہ عول “کی مخالفت میں حق بات کے اظھار سے خاموش رہے اور جب خلیفہ دوم کی موت واقع ہوگئی تب آپ نے اس حقیقت کا اظھار کیا، لوگوں نے ابن عباس سے کھا: آپ نے اس حقیقت کو خلیفہ دوم کے سامنے کیوں نہ ظاہر کیا ؟ آپ نے فرمایا : میں اس سے ڈرتا تھا ،کیونکہ وہ ایک خوف ناک اورغصہ ور حا کم تھا۔( ۷۴ )

۲ ۔ حا کم کو احکام الہٰیّہ سے آگاہ ہوناچاہیئے

,,وَلَا اْلجَاهل فَیُضِلُّهُمْ بِجَهله “(فرمان امام علی علیہ السلام)

حا کم اور امام کو جاہل نہیں ہونا چاہیئے ،کیونکہ اگر جاہل ہوگا تو وہ اپنیجھل کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کردے گا۔

حا کم اوراما م کے لئیجھاں اوردیگر شرائط ضروری ہیں ، ان میں سے ایک شرط یہ بھی لازم ہے کہ وہ احکام اور قوانین الٰھیہ سے آگاہ اور آشنا ہو،چنانچہ اگر حا کم اسلامی قوانین اور احکام کے تمام جزئیات و جوانب سے واقف نہ ہو اور ضرورت کے وقت ا یرے غیرے سے دریافت کرنے کا محتاج ہو اور اسلامی احکام کو فلاں ڈھکاں سے معلو م کرے گا، توایسا شخص منصب ِ خلافت کے لائق نہیں ہو سکتاکیونکہ وہ غلط اورخلاف واقع احکام کو صادر کرکے لوگوں کو گمراہی و ضلالت میں مبتلا کردے گا یا پھر لوگوں کو شک وتردید میں ڈال دے گا ۔

لیکن کتب تواریخ و احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے : خلفائے ثلاثہ جو اسلامی حا کم تھے، یہ لوگ اسلامی احکام کی کچھ اطلاع نہیں رکھتے تھے! اور اسلامی احکام اور دینی مسائل دریافت کرنے کی غرض سے دوسروں کے دروازوں پر دستک دیتے تھے،اسی وجہ سے بسااوقات یہ حضرات متضاد اور عجیب و غریب،خلاف ِ واقع فتاویٰ صادر کردیتے تھے۔

(یھاں تک کہ مدینہ کی عورتیں تک ان پر اعتراض کردیتی تھیں !)چنانچہ حضرت امیرالمو منین علی علیہ السلام نیجب یہ دیکھاتو ایک خطبہ ارشادفرمایا ،جس میں آپ نے ان حکام کی تصویر کشی کی جو بغیر علم کے حکومت کرتے ہیں ۔

,,ترد علی احدهم القضیةُ فی حکم من الاحکام فیحکم فیها برایه، ثم ترد تلک القضیةبعینها علی غیره فیحکم فیها بخلاف قوله، ثم یجتمع القضاة بذالک عند الامام الذی استقضاهم، فیصُوّب آرائهم جمیعاً، و اِلٰهُهُمْ واحدٌ !و نبیهم واحد !وکتابهم واحد ٌ!افامر هم اللّٰه تعالی بالاختلاف فاطاعوه! ام نهاهم عنه فعَصَوْه! ام انزل اللّٰه تعالی دیناً ناقصاً فاستعان بهم علی اتمامه !ام کانوا شرکاء له ،فلهم ان یقولوا ،و علیه ان یرضیٰ؟ ام انزل اللّٰه تعالی دیناً تاماً فقصَّر الرسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عن تبلیغه وادائه!؟ واللّٰه سبح ا نه یقول:< مَا فَرَّطْنَا فی الْکِتَابِ مِنْ شَیءٍ…> (۷۵) وفیه تبیان کل شیء“ ( ۷۶ )

جب ان میں کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلہ کے لئے پیش ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم لگا دیتا ہے، پھر وھی مسئلہ بعینہ دوسرے کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ اس پھلے حکم کے خلاف حکم دیتا ہے، پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ(حا کم) کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انھیں قاضی بنا رکھا ہے، تو وہ سب کی رائے کو صحیح قرار دید یتا ہے! حا لانکہ ان کا اللہ ایک، نبی ایک اور کتاب ایک ہے ،انھیں غور تو کرنا چاہیئے!کیا اللہ نے انھیں اختلاف کا حکم دیا تھااور یہ اختلاف کر کے اس کا حکم بجا لاتے ہیں ؟یا اس نے تو حقیقتاً اختلاف سے منع کیا ہے اور وہ اختلاف کر کے عمداً اس کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیں ؟یا یہ کہ الله نے دین کو ادھورا چھوڑا تھا اور ان سے تکمیل کے لئے ھاتھ بٹانے کا خواہش مند ہوا ؟یا یہ اللہ کے شریک تھے کہ انھیں اس کے احکام میں دخل دینے کا حق ہو اور اس پر لازم ہو کہ وہ اس پر رضامند رہے؟ یا یہ کہ اللہ نے تو دین کو مکمل اتارا تھا،مگر اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے پهنچانے اور ادا کرنے میں کوتاہی کی تھی،حا لا نکہ اللہ نے قرآن میں یہ فرمایا ہے:ھم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کی اور اس میں ھر چیز کا واضح بیان ہے۔( ۷۷ )

قارئین محترم !ا ب ہم خلفائے ثلاثہ کے چند شواہد پیش کرتے ہیں ، جنہوں نے متعدد مقامات پر الٹے سیدھے اور خلافِ واقع حکم اور فتوے صادر فرمائے، جو قرآن و حدیث کے صریحا مخالف تھے، جس کی وجہ سے حضرت امیر المومنینعليه‌السلام نے اس رویہ کو اپنی محکم اورمضبوط دلیل و برھان کے ذریعہ ہدف تنقید قرار دیا ، چنانچہ اسبارے میں اہل سنت کی معتبر کتابوں میں کثرت کے ساتھ شواہد پائیجاتے ہیں،ھم صرف اس جگہ گیارہ عددمقامات صحیحین سے نقل کرنے پراکتفاکرتے ہیں۔

۱ ۔ حضرت عمر نے حکم تیمم کی صریحا خلاف ورزی کی!!

قرآن مجید کی صریحا یت اور رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا واضح دستور اس بارے میں موجود ہے کہ جب انسان( مثلاً) مجنب ہو جائے اور پانی کا حا صل کرنا ممکن نہ ہو، یا پانی کا استعمال ضرر رساں ہو،توانمقامات پر انسان کے اوپر واجب ہے کہ وہ تیمم کرکے اپنی عبادت بجا لائیجب تک کہ عذر زائل نہ ہو جائے،لیکن جب یہ قضیہ عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو بجائے اس کے کہ آپ اس صورت میں حکمِ تیمم بیان کرتیجو قرآن و حدیث شریف میں صراحت کے ساتھ وارد ہوا ہے، آپ نے فوراً ”لَاتُصَلِّ“ کا علی الاعلان حکم صادر فرمادیا یعنی نماز نہ پڑھے !!اتفاقاً عمار یاسر اس وقت موجود تھے لہٰذاآپ نے خلیفہ وقت پر اعتراض کیا اور فرمایا : ایسی صورت میں تیمم کر کے انسان اپنی عبادت بجالائے گا اور یہ بات روایات ِ نبوی سے ثابت ہے، لیکن خلیفہ صاحب کو عمار یاسر کی بات پر اطمینان نہ ہوااور الٹے عمار یاسر کو تھدید کرنے لگے!( الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے) جس کی وجہ سے عماریاسر کو یہ کهنا پڑا کہ اگر خلیفہ صاحب مصلحت نہیں سمجھتے تو میں اپنی بات واپس لیتا ہوں !! ہم اس جگہ اس بارے میں دو عدد روایتیں معہ ترجمہ و متن نقل کرتے ہیں :

۱ سعید بن عبدالرحمان عن ابیه؛ان رجلااتی عمر،فقال: انی اجنبت فلم اجد ماءً ،فقال:لا تصل، فقال عمار:اما تذکر یا امیرالمومنین! اذاانا وانت فی سریة فاجنبنا فلم نجد ماءً فاما انت فلم تصل،واما انا فتمعکت فی التراب وصلیت،فقال النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انم ا یکفیک ان تضرب بیدیک الارض ثم تنفخ،ثم تمسح بهماوجهک وکفیک؟فقال عمر:اتق الله یا عمار! فقال ان شئت لم احدث به!!

سعید بن عبدالرحمن اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں :

ایک مرد عمر کے پاس آیا اور سوال کیا : میں مجنب ہو گیا ہوں اور پانی دستیاب نہیں ہے بتائیے اس حا لت میں کیا کروں ؟عمر نے کھا: نماز مت پڑھو! (اتفاقاً)عمار یاسر اس وقت موجود تھے، انھوں نے کھا: اے امیرالمومنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم اور آپ کسی جنگ میں تھے اور مجنب ہو گئے اور کسی جگہ پانی نہ ملا ،تو آپ نے نماز نہیں پڑھی ،لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کرنمازکو انجام دیا، جب رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو فرمایا : اسی اندازہ بھر کا فی ہے کہ تیمم کی غرض سے (نماز کیلئے)دونوں ھاتھوں کو زمین پرمارواور خاک کے ذرات کو بر طرف کر کے (ھاتھوں کو جھاڑکے)دونوں ھاتھوں کو چھرے پر پھیر لو اور پھر اپنے ھا تھوں کے اوپر مسح کرلو؟ عمر نے کھا :اے عمار! خد ا سے ڈرو! عمار نے کھا:آپ اگر چاہیں تو میں اس واقعہ کو نقل نہ کروں؟!!( ۷۸ )

عرض مولف

مذکورہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں منقول ہے، لیکن امام بخاری نے اپنے شدید تعصب کی بنا پر اس روایت میں کاٹ چھانٹ فرمادی ہیجیساکہ ہم نیجلد اول میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اس روایت میں حضرت عمر کا جواب (لا تصل )کو حذف کردیا ہے :

۲,,… عن شقیق ابن سلمة؛ قال:کنت عند عبدالله بن مسعود وابی موسی الاشعری، فقال له ابو موسی: یا اباعبد الرحمان! اذا اجنب المکلف فلم یجد ماءً کیف یصنع ؟قال عبد الله : لا یُصَلِّی حتی یجد الماء، فقال ابو موسیٰ: فکیف تصنع بقول عمارحین قال له النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ” کان یکفیک …؟قال: الم ترعمرلم یقنع بذالک؟ فقال ابو موسی: دعنا من قول عمار، فما تصنع بهٰذه الآیة ؟:و تلی علیه آیة الما ئدة: قال: فمادری عبد الله ما یقول ۔

امام بخاری نے شقیق ابن سلمہ سے نقل کیا ہے:

میں عبد اللہ ابن مسعود اور ابو موسی اشعری کے پاس تھا ابوموسی اشعری نے ابن مسعود سے پوچھا: اگر کوئی مجنب ہو اور پانی حا صل نہ کرسکتا ہو تو کیا کرے گا؟ ابن مسعود نے کھا: اگر پانی نہ ہو تو نماز نہ پڑھو، ابو موسی ٰنے اس پر اعتراض کیا اور کھا :عمار ی ا سر کا وہ قول کھا ں جائے گا جو تیمم کے بارے میں انھوںنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے:”ان تضرب بیدیک الارض ثم تنفخ،ثم تمسح بهما وجهک وکفیک“ ؟

ابن مسعود نے کھا :مگر عمار یاسر کے قول کو حضرت عمر نے تو قبول نہیں کیا تھا؟ ابو موسی اشعری نے کھا: چلو عمار یاسر کے قول کو نہ مانو، لیکن یہ آیہ قرآن کھاں جائے گی ؟ جو حکم تیمم کو صراحت کے ساتھ بیان فرما رھی ہے؟فَلَمْ تَجِدُوامَاءً فَتَیَمَّمُوْاصَعِیْداً طِیِّباً ( ۷۹ ) اور جب تم کو پانی نہ ملے تو پاک خاک سے تیمم کرلو۔ابن مسعود اس وقت خاموش ہوگئے اور کچھ نہ کہہ سکے ۔( ۸۰ )

متذکرہ حدیث بھی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آئی ہے لیکن بعض علمائے اہل سنت نے اس واقعہ کو دوسرے انداز میں پیش کرنے کی بیجا کوشش کی ہے، تاکہ اپنے ہیرو کی کچھ خدمت اور ان کے علمی مقام کا دفاع کر سکیں کھتے ہیں :حضرت عمر کا یہ اعتراض ان کے اجتھاد کی بنا پر تھا اوریہ ان کا اپنا ذاتی نظریہ اور اجتھادتھا کبھی کھا جاتا ہے: خلیفہ صاحب کو اس بارے میں اس وجہ سے ہدف تنقید نہیں بنایا ج ا سکتا کیونکہ آپ حدیث ِ رسول فراموش کر گئے تھے، ان کے اوپر نسیان غالب آگیا تھا، جس کی وجہ سے وہ عمار کو اس طرح تھدید کر رہے تھے۔

چنانچہ ابن حجر فتح ا لباری میں لکھتے ہیں :

جب غسل جنابت کرنے کے لئے پانی نہ ہو تونماز ترک کرنا یہ صرف حضرت عمر کا ان کے اجتھادکی بناپرذاتی نظریہ تھا ، چنانچہ مشہور ہے کہ عمر اس مسئلہ میں یہ نظریہ رکھتے تھے۔

اس کے بعد ابن حجر کھتے ہیں :

ان واقعات سے استفادہ ہو تا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ سے ہی صحا بہ نے اجتھاد کرنا شروع کردیا تھا !!( ۸۱ )

ابن رشد جو سنیوں کے مشہور دانشور ،فلسفی اور فقیہ ہیں ، آپ اپنی استدلالی کتاب” بدایةالمجتھد“ میں تحریر کرتے ہیں :

” حضرت عمر نے عمار سے یہ بحث ومباحثہ اس لئے کیا تھاکہ وہ حکم تیمم فراموش کر گئے تھے، ان پر نسیان طاری ہوگیا تھا، آپ نے اس طرح خلیفہ صاحب کو معذور قرار دیا ،البتہ علمائے اسلام کی اکثریت کا عقیده یھی ہے کہ نماز کو تیمم کرکے پڑھے گااور شخص ِ مجنب پر نماز کا واجب ہوناآیت کے علاوہ حضرت عمار اور عمران بن حصین کی حدیث سے بھی ثابت اوریقینی ہے ، عمران ابن حصین کی حدیث کو امام بخاری نے بھی نقل فرمایا ہے، لہٰذا حضرت عمر کا نسیان و فراموشی کی بنا پر حضرت عمار کی حدیث پر عمل نہ کرنا جناب عمار کی حدیث کے مضمون پر کوئی اثر نہیں کرتا “

لٰکن الجمهور راو ا ان ذالک قد ثبت من حدیث عمار و عمران بن حصین……( ۸۲ )

۲ ۔ شراب خورکی حداورحضرت عمرکی خلاف ورزی!!

”…قتادة یحدث عن انس بن مالک؛ان النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اتی برجل قد شربالخمرفَجَلَدَه بجرید تین نحواربعین،قال:ففعله ابوبکرفلما کان عمر،استشارالناس،فقال عبد الرحمان:اخف الحدود ثمانین، فامربه عمر“

قتادہ نے انس بن مالک سے روایت کی ہے:

ایک ایسے شخص کو خدمت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں لایا گیا جس نے شراب پی تھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم صادر فرمایا : اس کو خرمہ کی چوب سے چالیس ضرب لگائی جائیں ،حضرت ابوبکر نے بھی اپنے دور خلافت میں شراب پینے والے کو چالیس ضرب لگوائیں ، لیکن جب عمر کا دور خلافت آیا تو آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا: آیا چالیس ضرب شراب خور کی حد کمتر نہیں ہے؟! توعبد الرحمان بن عوف نے کھا: اسی ( ۸۰) کوڑے (قرآن مجید میں ) کمترین حد (سزا) بیان کی گئی ہے ،عمر نے بھی اس رائے کو پسند کیا اور اسی وقت سے اسی ( ۸۰) کوڑے لگائیجانے لگے۔( ۸۳ )

عرض مولف

اس حدیث کو مسلم نے کئی طریق سے نقل کیا ہے اور بخاری نے اسے دو جگہ پر نقل کیا ہے، لیکن حدیث کاآخری حصہ حذف کر دیا ہیجس میں یہ ہے کہ حضرت عمر نے لوگوں سے مشورہ کر کے اسی ( ۸۰) کوڑے مارنے کا حکم اجراء کیا۔( ۸۴ )

محترم قارئین !حقیقت حال یہ ہے کہ شارب ُالخمر کی حد صدر اسلام سے ہی اسی ( ۸۰) کوڑے تھی ،ایسا نہیں تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں چالیس کوڑے تھی اور خلیفہ صاحب نے مشورہ کرکے اسی کوڑے کردی ،کیو نکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں اکثر لوگ جنگ و جدال میں مبتلا رھتے تھے،شراب پینے کا موقع ہی نہ ملتا تھا ، یا پھر اسلامی قوانین پر زیادہ عمل پیرا تھے، لہٰذا حد ِخمر جاری کرنے کابھت ہی شاذ ونادراتفاق ہوتا تھا ، اس وجہ سے خلیفہ صاحب( اپنی بھترین ذھانت کی بنا پر) یہ حکم فراموش کر گئے ،لیکن جب وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد عمر کے زمانہ تک مسلمان معنویت اور روح ا نیت سے رفتہ رفتہ دور ہو نے لگے اور کچھ آسائش ، عیش و عشرت کا زمانہ ملا اور شراب نوشی عام ہونے لگی تو شراب پینے کی حدجاری کرنا پڑی، لیکن اس طرف چونکہ حضرت عمراس مسئلہ کا حکم بھول چکے تھے، لہٰذا موصوف کو یہ سزا کم معلوم ہوئی چنانچہ آپ نے اسی ( ۸۰) کوڑے کر دی ، جبکہ پھلے سے ہی اسی ( ۸۰) کوڑے سزا تھی۔( ۸۵ )

اور اسی کوڑے کے بارے میں حضرت عمر کا رهنما عبدالرحمان بن عوف نہ تھا بلکہ اس بارے میں در اصل حضرت امیرعليه‌السلام نے رهنمائی فرمائی تھی،جیسا کہ ا ھل سنت کی معتبر اور اصلی کتابوں سے ثابت ہے ،چنانچہ ابن رشد اندلسی شراب خوری کی حد کے بارے میں علما ئے اہل سنت کے درمیان اختلاف نقل کرنے کے بعد کھتے ہیں :

”اکثر فقھا ء بلکہ تمام فقھا ء کا نظریہ شراب خور کی حد کے بارے میں اسی کوڑے ہے ، اس کے بعدآپ مزید تحریر کرتے ہیں : شراب خوری کے بارے میں اسی تازیانے کی حد کی دلیل ان اکثر فقھاء کے نزدیک حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کا یھی نظریہ ہیجسے آپ نے اس وقت جب عمر کے زمانہ میں زیادہ شراب پی جانے لگی اور اس کی حدپر ایک شور و هنگامہ ہوا کہ شراب خور کی حد کمتر ہے، عمر اور دیگر صحا بہ اس بارے میں مشورہ کرنے کیلئے بیٹھے تو بیان فرمایا : شراب خور کی حد وھی ہیجو قذف کی ہے یعنی اسی ( ۸۰) کوڑے“( ۸۶ )

بھر کیف ان مطالب سے یہ استفادہ ہوتاہے کہ خلیفہ صا حب نے اسی کوڑے مارنے کاحکم دوسروں کے مشورے اور راهنمائی سے حا صل کرنے کے بعدجاری فرمایا ، راهنما کوئی بھی ہو حضرت امیر المومنینعليه‌السلام یا عبد الرحمن بن عوف ۔

۳ ۔ جنین کی دیت اور حضرت عمر کا رویہ!!

,,…عن المِسْوَربن مخرمة؛قال:استشارعمربن الخطاب الناس فی املاص المراٴة،فقال المغیرة بن شعبةشهدتُ النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قضی فیه بغرة عبدٍ اوامةٍ،قال: فقال عمر:ائتنی بمن یشهد معک؟قال:فتشهد محمدُ بن مسلمة“ ( ۸۷ )

مسور بن مخرمہ کھتے ہیں :

حضرت عمر نے ایک مرتبہ اس بچہ کی دیت کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا جو شکم مادر سے ساقط کر دیا جائے ، اس وقت مغیرہ بن شعبہ نے کھا: میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت بابرکت میں ایک مرتبہ حا ضر تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سقط جنین کے بارے میں ایک غلام کی قیمت یا ایک کنیز کی قیمت ادا کرنے کا حکم دیا، عمر نے کھا :اے مغیرہ اپنی رائے پر شاہد پیش کرو، اس وقت مغیرہ کی بات کی گواہی محمد بن مسلمہ نے دی۔

عرض مولف

قارئین ِ محترم !صحیحین کی روایت کے اعتبار سے مذکورہ حکم ان احکام میں سے ایک ہیجن کو خلیفہ صاحب نے مشورہ سے حا صل کیا اور حضرت عمر نے صرف مغیرہ بن شعبہ کی گواہی پر بات کو تسلیم کر لیا ،لیکن مایہ افسوس یہ ہے کہ وہ مغیرہ جو ظالم ترین اور زناکار ترین لوگوں میں سے شمار کیا جاتا تھا ، اس کی بات کو آپ نے تسلیم کر کے ایک اسلامی حکم کوجاری فرمایا!! اس سے زیادہ خلیفہ صاحب کی نا اہلی اور کیا ہو سکتی ہے ؟!

۴ ۔حضرت عمر اور حکم استیذان!!

…” سمعت عن ابی سعیدالخدری؛یقول:کنت جالساًبا لمدینة فی مجلس الانصار، فاتانا ابو موسیٰ فزعاًاو مذعوراً،قلنا ما شاٴ نک ؟قال ان عمرارسل اليَّ ان آتیه،فاتیت با به فسلمت ثلاثاً فلم یرد عليَّ،فرجعت،فقال:ما منعک ان تاتینا؟ فقلت انی اتیتک فسلمت علی بابک ثلاثاًفلم یردوا علی، فرجعت، و قد قال رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله :اذا استاٴذن احدکم فلم یوذن له فلیرجع ،فقال عمر: اقم علیه البینة والا اوجعتک ،فقال ابی بن کعب: لا یقوم معه الا اصغر القوم، قال ابو سعید: قلت: انا اصغرالقوم، قال: فاذهب به“ ( ۸۸ )

ابو سعید کھتے ہیں :

ایک مرتبہ میں مدینہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ابوموسی اشعری اضطراب و پریشانی کی حا لت میں وارد مجلس ہوئے ، میں نے اضطراب ک ا سبب پوچھا :تو ابوموسی نے کھا : مجھے عمر نے بلایا تھا ،لیکن جب میں ان کے گھر گیا ان کے دروازے پر میں نے تین مرتبہ سلام کر کے وارد ہونے کی اجازت چاہی، مگرجب کسی نیجواب نہیں دیا تو میں پلٹ آیا ،لیکن بعد میں جب عمر نے مجھے دیکھا تو کھا: میں نے تجھے بلایا تھا کیوں نہ آیا؟ میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا اور کھا: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چوں کہ فرمایا ہے :

اگرتین مرتبہ تک کوئی جواب نہ دے تو پلٹ جانا چاہیئے ، عمر نے اس بات کو جب سنا تو کھا :قسم خدا کی اگر تونے اس بات پر کسی کو گواہ پیش نہ کیا تو سخت سزادوں گا۔ ابوسعید کھتے ہیں : میں اس مجلس میں سب سے چھوٹا تھا اور ابی بن کعب نے کھا : اس مجلس ک ا سب سے چھوٹا اس بات کی گواہی دے گا ، میں نے کھا : میں سب سے چھوٹا ہوں ،چنانچہ میں نے ابی بن کعب کی رائے سے ابو موسیٰ کی گواہی دی۔

عرض مولف

مسلم نے اس مطلب کو ”باب الاستیذان“ میں مختلف اسناد و مضامین کے ساتھ نو ( ۹) حدیثیوں کے ضمن میں نقل کیا ہے،چنانچہ جب حضرت عمر پر یہ بات واضح و ثابت ہوگئی کہ وہ اس سادہ حکم کے بارے میں نابلد ہیں ،تو وہ اپنی بوریت ختم کرنے کیلئے ایک حدیث کے مطابق اس طرح توجیہہ کرتے ہوئے بولے:

ممکن ہے کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ حکم میرے اوپر اس لئے پوشیدہ رھا ہو کہ میں اکثر بازار میں خرید و فروخت کرتا رھتا تھا ، لہٰذاخرید و فروخت نے مجھے اس حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیجاننے سے قاصر رکھا:

”خفی علی هٰذا من امررسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله الهانی عنه الصفق بالاسواق“ !!( ۸۹ )

صحیح مسلم کی ایک اور حدیث میں اس طرح آ یا ہے:

ابی ابن کعب نے اس موضوع کی گواہی خود دی تھی اور حضرت عمر پر اعتراض کرتے ہوئے کھا: اے خطاب کے بیٹے! اصحا ب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عذاب مت بن:

,,فلا تکن یا ابن الخطاب عذاباًعلی اصحا ب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ۔“( ۹۰ )

عرض مولف

محترم قارئین ! صحیحین کی نقل کے مطابق مسئلہ استیذان خلیفہ صاحب کے لئے اس قدر مشکل مرحلہ تھا کہ گواہی اور سختی وغیرہ کی نوبت آگئی، جبکہ یہ مسئلہ ایک اخلاقی اورا نسانی اقدار کی عکاسی کرتا ہے ،جو لوگ صاحب اخلاق اور غیرت مند ہوتے ہیں وہ اپنے وجدان وفطرت میں ان احکام کو اچھی طرح درک کرتے ہیں ، چنانچہ مسئلہ اذن ایک ڈھکا چھپا مسئلہ نہ تھا بلکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسئلہ کو بارھا بیان فرما دیا تھا،اس کے علاوہ قرآن مجید میں بھی خدا وند متعال نے اس مسئلہ کو ببانگ دھل بیان کر دیا تھا:

( یَاْ اَیُّهَاْ اْلَّذِیْنَ آمَنُوْاْ لَاْ تَدْخُلُوْاْبُیُوْتاً غیر بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْاْ وَتُسَلِّمُوْاْ عَلیٰ اَهلهَاْذَاْلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ فَاِٴنْ لَمْ تَجِدُوْاْ فِیْهَاْ اَحَداً فَلَاْ تَدْخُلُوْهَاْ حَتّٰی یُوذَنَ لَکَمْ وَاِنْ قِیل لَکُمْ اِرْجِعُوْ اْ فَاْرْجِعُوْ اْ هُوَ اَزْکٰی ٰلَکُمْ وَالله بِمَاْ تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ )

اے ایماندارو !اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں ( درّانہ )نہ چلیجاو، یھاں تک کہ ان سے اجازت لے لو اور ان گھروں کے رهنے والوں سے صاحب سلامت کرلو یھی تمھارے حق میں بھتر ہے ( یہ نصیحت اس لئے ہے) تا کہ یا د رکھو ۔ پس اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاو تو تا وقتیکہ تم کو ( خا ص طور پر)اجازت نہ حا صل ہو جائے ان میں نہ جاو اور اگر تم سے کھا جائے کہ پھر جاو تو تم (بے تامل ) پھر جاو یھی تمھارے واسطے زیادہ صفائی کی بات ہے اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا اس سے خوب واقف ہے ۔( ۹۱ )

ابی بن کعب کا یہ کهنا کہ ا س چیز کی گواہی کے لئے سب سے چھوٹا شخص جا ئے، یہ بعنوان اعتراض اور تنقید تھا ،بتلانا یہ چاہتے تھے کہ یہ حکم اس قدر عام ہے کہ بوڑھوں کی کیا با ت بچے بھی جانتے ہیں ، لیکن خلیفہ صاحب بچارے ھر وقت بازاروں میں مصروف رھتے تھے،جس کی بناپر اتنے سادہ مسئلہ سے واقف نہ ہو سکے ،اس جگہ سے ہمیں اس بات کا بھی پتہ چل جا تا ہے کہ خلیفہ صاحب مشکل مسائل کا کتنا علم رکھتے ہوں گے !!( ۹۲ )

۵ ۔ مسئلہ کلالہ سے حضرت عمر کی نادانی!!

”…عن سالم، عن معدان بن ابی طلحة؛ان عمر بن الخطاب خطب یوم الجمعة، فذکر نبی الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وذکرابابکر،ثم قال:انی لاادع بعدی شیٴاًهم عندی من الکلالة، ماراجعت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله فی شیءٍ ما راجعته فی الکلالة،ومااغلظ لی فی شیءٍ ما اغلظ فیه حتی ٰطعن باصبعه فی صدری وقال صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :یا عمرالا تکفیک آیة الصیف َالّتَیِ فی آخرسورةالنساء؟وانی ان اعش اقض فیها بقضیةیقضی بهامن یقرئالقرآن ومن لا یقرء القرآن“ ( ۹۳ )

سالم نے معدان بن ابی طلحہ سے نقل کیا ہے:

ایک روز عمر ابن خطاب نے نماز جمعہ کے خطبہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابوبکر کو یاد کیا اور کھا کہ کلالہ سے زیادہ مشکل ترین مسئلہ اپنے بعد کوئی نہیں چھوڑ رھا ہوں، کیونکہ کلالہ کے علاوہ میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اور کسی مسئلہ کو نہیں پوچھا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی مجھ سے کلالہ کے علاوہ اور کسی مسئلہ کے پوچھنے پر ناراض نہیں ہوئے ہیں اور اس مسئلہ کے دریافت کرنے پررسول اس قدرناراض ہوئے کہ ایک مرتبہ آپ نے میرے سینے پر انگلی مار کر فرمایا: اے عمر! آیہ صیف جو سورہ نساء کے آخر میں ہے کیا وہ تیرے لئے کافی نہیں ہے؟!بھر حال حضرت عمر نے اپنے خطبہ کو ان جملوں پرختم کیا کہ اگر میں زندہ رہ گیا تو کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ جو قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے کرتے ہیں ۔

وضاحت

آیہ صیف( ۹۴ ) میں کلالہ کی میراث بیان کی گئی ہے اور اس آیت کو آیہ صیف کھتے ہیں کیونکہ یہ آیت گرمی کے موسم میں نازل ہوئی تھی (صیف کے معنی گرمی کے ہیں )۔

مرحوم علامہ امینی (رہ)اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں :

شریعت اسلامیہ کے قوانین کو خداوند عالم نے آسان و سھل بنایا ہے اسی وجہ سے اس کو شریعت ِ سھلہ کھا جاتا ہے مگر عمر کے لئے یہ شریعت، شریعت ِ مشکلہ تھی کیونکہ آپ منبر کے اوپر جاکر فرماتے تھے:

” میرے نزدیک سب سے زیادہ مشکل مسئلہ کلالہ ہے اس سے زیادہ میں کوئی مشکل مسئلہ اپنے بعد نہیں چھوڑیجا رھا ہوں۔“

اس کے بعدعلامہ امینی(رہ)کھتے ہیں :

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عمر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے باربار کلالہ ک ا سوال کرتے تھے تو حضرت رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کا جواب دیتے تھے یا نہیں ؟اگر آپ جواب دیتے تھے تو پھر عمر یاد کیوں نہیں کرتے تھے ؟یا پھر یا د کرتے تھے ، مگر بھول جاتے تھے کیونکہ آپ کی عقل اس کو درک کرنے سے عاجز تھی! اور اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جواب نہیں دیتے تھے بلکہ مسئلہ کو لا ینحل اور مبھم بیان فرماتے تھے، تو یہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بعید ہے کیونکہ جو مسئلہ روز مرہ کا مبتلا بہ ہو اس کا امت کے لئے واضح کر دینا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدا کی جانب سے ذمہ داری ہے ۔اور پھریہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جس شخص کے سامنے قر آن کی اس سے مربوط آیات موجود ہوں،وہ کلالہ کے معنی نہ جانتا ہو جبکہ اسی آیت کے ذیل میں خدا ارشاد فرماتا ہے:یُبَیِّنُ الله لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْاوَالله بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ :خدا واضحا ور روشن بیان کرتاہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاوآخر خدا نے اس حکم کو کیسے بیان کیا تھا کہ خلیفہ صاحب کی سمجہمیں نہیں آ یا اور اپنے نز دیک اس سے مشکل ترین مسئلہ کوئی نہیں جانا ؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کلالہ کی تو ضیح میں آیت کو کا فی سمجھیں لیکن کلالہ پھر بھی ایک غیر قابل حل مشکل کے طورپر باقی رہے ؟!!( ۹۵ )

عرض مولف

ان تما م باتوں کے باوجود خلیفہ صاحب فرماتے ہیں :

”اگر میں زندہ رھا توایسافیصلہ کروں گاجوقرآن پڑھنے اورنہ پڑھنے والے کرتے ہیں۔“

اس سے ان کی کیا مرادھے؟آیا حکم قرآن کے مقابلہ میں کوئی جدید فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟!یاپھرحکم قرآن سے صحیح تر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جو قرآن کے مطابق ہو مگر صراحت اور تسھیل میں قرآن سے زیادہ روشن اور واضح ہو جسے ھرشخص کا ذوق سلیم تسلیم کرلے ؟!جبکہ خدا فرماتا ہے کہ میں نے اس مسئلہ کو روشن بیان کیا ہے ،یا پھر اور کوئی مطلب تھا؟!ھمارے نزدیک موصوف کی مراد مجہول ہے!!

۶ ۔ حضرت عمرکاپاگل عورت کو سنگسارکرنا!!

امام بخاری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے :

ایک مرتبہ عمر کے پاس ایک پاگل عورت کو لایا گیا جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ،حضرت عمر نے چند لوگوں سے مشورہ کر کے حکم دیا کہ اس عورت کو سنگسار کر دیا جائے لہٰذا اس عورت کو سنگسار کرنے کے لئے لیجا رہے تھے، ابن عباس کھتے ہیں : جب حضرت علی علیہ السلام نے اس عورت کو دیکھا تو دریافت کیا : لوگوں نے بتایا: یہ عورت دیوانی ہے اور فلاں قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے اوراس نے زنا کاارتکاب کیا ہے، اس لئے اس کو حضرت عمر کے حکم کی بنا پر سنگسار کرنے کے لئے لیجایا جارھا ہے۔

ابن عباس کھتے ہیں : حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :اس کو واپس لے چلو اور خود عمر کے پاس آئے اور فرمایا: اے عمر! کیا تمھیں نہیں معلو م کہ خدا نے تین لوگوں سے تکلیف اٹھالی ہے؟!

۱ ۔ ایک وہ شخص جو دیوانہ ہو یھاں تک کہ عقل مند ہو جائے ۔

۲ ۔ وہ شخص جو محو خواب ہو یھاں تک بیدار ہو جائے۔

۳ ۔ بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے۔

عمر نے کھا :کیوں نہیں امیرالمومنین! حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:تو پھر کیوں اس کی سنگساری کا حکم دیا؟اس کی آزادی کا حکم دو ! ابن عباس کھتے ہیں : عمر نے اس حال میں کہ زبان پر کلمہ اللہ اکبر تھا حکم د یا کہ اس عورت کو آزاد کردیا جائے۔

امام بخاری نے اس حدیث کو دو جگہ تحریر کیا ہے لیکن حضرت عمر کی عزت بچانے کے لئے حدیث کے آخر اور اول کیجملے حذف کر دئے ہیں،صرف خلیفہ صاحب کے وسط والیجملہ قسمیہ کے الفاظ نقل کئے ہیں جو یہ ہیں :

”قال علی لعمر:اماعلمت ان القلم رفع عن المجنون حتی یفیق، وعن الصبی حتی یدرک، و عن النائم حتی یستیقظ؟!“ ( ۹۶ )

علیعليه‌السلام نے عمر سے کھا:کیا تمھیں نہیں معلوم کہ مجنون سے قلم ِتکلیف اٹھا لیا گیا ہے یھاں تک کہ وہ ہوش میں آجائے ، اسی طرح بچے سے تکلیف ساقط ہیجب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے، اسی طرح سونے والے سے تکلیف ساقط ہیجب تلک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے؟!

اس حدیث کا کامل متن علم حدیث و تراجم کی مختلف کتب میں نقل کیا گیا ہے۔( ۹۷ )

ابن عبد البر نے تو اس حدیث کے آخر میں یہ جملہ بھی تحریر کیا ہے:

جب عمر نے یہ سنا توحضرت علیعليه‌السلام سے فرمانے لگے:”لَوْلَا عَلِیٌّ لَهلکَ عُمَرُ“اگر آج حضرت علیعليه‌السلام میری مدد نہ کرتے تو عمر ھلاک ہو جاتا۔( ۹۸ )

۷ ۔ حضرت عمر نماز عید میں سورہ بھول جایا کرتے تھے!!

”عن عبید اللّٰه بن عبد اللّٰه ان عمرابن الخطاب؛ ساٴل اباواقد اللیثی ما کان یقراٴ به رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه فی الاضحیٰ والفطر؟فقال:کان یقراٴ فیهما بقٓ والقرآن المجید واقتربت الساعة وانشق القمر“

مسلم نے عبید الله ابن عبد الله سے نقل کیا ہے :

ایک مرتبہ حضرت عمر نے ابو واقد لیثی سے پوچھا : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نماز عیدین میں کون سے سورے پڑھتے تھے؟ابو واقد لیثی نے کھا :رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان دونوں نمازوں میں سورہ ق ٓوالقرآن المجید اور سورہ( اِقتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ القَمَرُ ) پڑھتے تھے۔( ۹۹ )

یہ حدیث صحیح مسلم کے علاوہ موطا امام مالک ، سنن ترمذی اور سنن داؤد میں بھی نقل کی گئی ہے، لیکن ابن ماجہ میں یوں منقول ہوئی ہے:

”خرج عمر یوم عید فارسل الی ابی واقد لیثی…“

جب حضرت عمر نماز عید پڑھانے کے لئے باہر نکلے تو کسی کو ابو واقد لیثی کے پاس بھیج کر معلوم کروایا کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز عیدین میں کون سے سورے پڑھتے تھے؟( ۱۰۰ )

قارئین محترم! یھاں پر علامہ امینی(رہ) کتاب” الغدیر“ میں فرماتے ہیں :

اس جگہ خلیفہ صاحب سے سوال کرنا چاہئے کہ کیا وجہ تھی کہ وہ ان سوروں کو بھول گئیجنھیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز عیدین میں پڑھتے تھے؟!کیا واقعاً (کند ذهنی کا نتیجہ تھا کہ)یادنہ رکھ پائے اور فراموش کردیا جیسا کہ علامہ جلال لدین سیوطی نے کتاب” تنویر الحوالک“ میں یہ عذر تحریر کیا ہے؟! یا حضرت عمر کو بازاروں میں خرید و فروخت سے فرصت نہ ملتی تھی کہ نماز عیدین ادا کرتے؟ چنانچہ حضرت عمر خود بھی کبھی کبھی اس عذر کو بعض مواقع پرپیش کرتے تھے!! لیکن جھاں تک فراموشی کا مسئلہ ہے تو یہ بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ نماز عید ین ھر سال دو دفعہ پڑھی جاتی تھی لہٰذاا یسے بڑے لوگ (رووس الاشھاد)کیسے بھول سکتے ہیں یاپھر اس کا کچھ اور ہی مقصدتھا؟( ۱۰۱ )

عرض مولف

اس واقعہ میں دقت کرنے سے ایک بات ظاہر ہوتی ہے کہ خلیفہ صاحب اس بارے میں بھت ہی تذبذب اور پریشانی میں مبتلا تھے لہٰذا ایسے حساس موقع پر چلتے وقت بحالت مجبوری ابوواقدلیثی سے نماز عیدین کی صورت حال کومعلوم کیا!!

۸ ۔ زیوراتِ کعبہ اورحضرت عمرکی بدنیتی!!

…”عن ابی وائل ؛قال: جلست الی شیبة فی هٰذاالمسجد، قال: جلس الی عمر فی مجلسک هٰذا،فقال:هممت ان لاادع فیها صفراء ولابیضاء الاقسمتهابین المسلمین،قلت:ماانت بفاعل،قال لم؟ قلت:لم یفعله صاحباک، قال هما المرء ان یقتدی بهما“ ( ۱۰۲ )

امام بخاری نے ابو وائل سے نقل کیا ہے:

ایک روز میں مسجد الحرام میں شیبہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، تو مجھ سے شیبہ نے کھا: ایک روز میں اور عمر اسی جگہ بیٹھے تھے توعمر نے کھا : میرا ارادہ ہے کہ خانہ کعبہ پرجتنابھی سونا چاندی ہے سب کو اترواکر مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دوں؟ میں نے عمر سے کھا : آپ اس کام کو نہیں کرسکتے، حضرت عمر نے کھا کیوں نہیں کرسکتا؟ میں نے کھا: چوں کہ حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام و حضرت ابوبکر نے ایسا کام نہیں کیا، عمر نے کھا: صحیح ہے وہ لوگ کامل مرد تھے لہٰذا ان کی پیروی کرنا بھتر ہے۔

عرض مولف

بخاری نے اس روایت کو صحیح بخاری میں کچھ الفاظ کے ردوبدل کے ساتھ دو جگہ نقل کیا ہے،لیکن کتب تواریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمر نے یہ ارادہ ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ کیا ،مگر مسلمانوںاور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معزز صحابہ کی مخالفت کی وجہ سے اس کام کے انجام دینے سے باز رہے ،ایک دفعہ شیبہ نے باز رکھااوردوسری دفعہ مولا علیعليه‌السلام سے مشورہ کیا تو حضرتعليه‌السلام نے محکم دلائل کے ساتھ ان کو قانع کیا اور انھیں اس کام کے انجام دینے سے منصرف کردیاْ۔

چنانچہ اس واقعہ کو خود مولا علیعليه‌السلام نے نہج البلاغہ میں بیان فرمایا ہے:

” جب کعبہ کے سونے چاندی کی کثرت کولوگوں نے عمر سے بیان کیا اور ان کو مشورہ دیا کہ اگر یہ سونا چاندی مسلمانوں کے اوپر جنگ کے وسائل فراہم کرنے پر خرچ کردیا جائے تواس کا زیادہ فائدہ حا صل ہو سکتا ہے، کیونکہ خانہ کعبہ کو سونے چاندی کی کیا ضرورت ؟! لہٰذا عمر نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اس بارے میں اقدام کیا جائے، لیکن جب حضرت امیر المو منینعليه‌السلام سے دریافت کیاتو آپ نے فرمایا:

”ان هٰذاالقرآن انزل علی النَّبِی صلَّی الله علیه وآله وسلم والاموال اربعة: اموال المسلمین فقسمها بین الورثة فی الفرائض،والفیٴ فقسمه علی مستحقیه، والخمس فوضعه الله حیث جعلها،والصدقات فجعلها الله حیث جعلها…“

جس وقت قرآن مجید رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوا تو مال و ثروت کی چار قس میں تھیں اوررسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان چار قسموں میں سے ھر ایک کا حکم بیان فرما دیا تھا۔

۱ ۔ مسلمانوں کا وہ مال جو ارث میں رہ جائے: اس کو ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔

۲ ۔ مال غنیمت:ان لوگوں میں تقسیم کیا جائیجو استحقاق رکھتے ہیں ۔

۳ ۔ مال خمس: یہ معین افراد کا حق ہے۔

۴ ۔ زکاة: یہ بھی ان لوگوں پر صرف کیا جائیجو مستحقین زکاة ہیں ۔

اس کے بعد امامعليه‌السلام نے فرمایا:

یہ سونا و چاندی جو خانہ کعبہ پر موجود ہے یہ نزول قرآن کے وقت موجود تھا لیکن خدا نے اس کو اسی طرح اپنے حال پرچھوڑدیا اور اس سلسلے میں کچھ نہیں بیان فرمایا کہ کھاں صرف کیا جائے اور اس کا حکم بیان نہ کرنا فراموشی یا خوف کی وجہ سے نہیں تھا،بلکہ قصداًاور عمداً تھا ،لہٰذا اے عمر! تو بھی اس سونے و چاندی کو اسی حال پر چھوڑ دیجس طرح خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چھوڑ ا ہے، اس وقت عمر نے کھا:اے علی!عليه‌السلام اگر آپ نہ ہوتے تو میں ذلیل ہو جاتا چنانچہ عمر نے کعبہ کے سونے چاندی کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ۔

ابن ابی الحدید اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں :

جو کچھ حضرت علی علیہ السلام نے استدلال فرمایا تھا وہ درست ہے اوراس کو ہم دو طرح سے بیان کر سکتے ہیں یعنی حضرت کے بیان کیتصدیق پر ہم دو طریقہ سے استدلال پیش کرسکتے ہیں :

۱ ۔ کسی بھی مال و منفعت میں (جب تک اس کے مالک کی اجازت نہ ہو) اصل، حرمت اور منع ہے، لہٰذا بغیرِاذنِ شرعی اپنے سے غیر متعلق اموال کا استعمال کرنا درست نہیں ہے ،چنانچہ کعبہ ک ا سوناچاندی (کہ جس کے ہم مالک نہیں ہیں)استعمال کرنا اس اصلِ حرمت اور عدمِ تصرف کے تحت باقی ہے،کیونکہ اس کے تصرف کیلئے شریعت کی طرف سے کوئی اجازت موجود نہیں ہے ۔

۲ ۔ امام علی علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ تمام وہ اموال جو خانہ کعبہ سے متعلق ہیں وہ خانہ کعبہ پر وقف ہیں جیسے خانہ کعبہ کے دروازے اورپردے وغیرہ، لہٰذاجب یہ چیزیں بغیر شارع کی اجازت کے استعمال کرنا جائز نہیں ہیں تواسی طرح خانہ کعبہ کے سونے چاندی کا استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہے،بھرحال جامع وجہ یھی ہے کہ چونکہ یہ اموال خانہ کعبہ سے مخصوص اوراس پر وقف ہیں لہٰذا ان کا شمار بھی کعبہ کیجزئیات سے ہو گا،جس کی بنا پر ان میں تصرف نہیں ہو سکتا ۔

” وروی انہ ذکر عند عمر بن الخطاب فی ایامہ حلی الکعبة و کثر تہ ، فقال قوم: فجہزت بہ جیوش المسلمین ان ہٰذا القرآن نزل علی محمد والاموال اربعة “( ۱۰۳ )

عرض مولف

اس واقعہ کو زمخشری نے بھی اپنی کتاب” ربیع الابرار“ میں تحریر کیا ہے۔( ۱۰۴ )

۹ ۔ واہ! یہ بھی ایک تفسیرِ قرآن ہے !!

”ان رجلاًساٴل عمر بن الخطاب عن قوله < ( وَفَاکِهَةً وَاَبّاً ) >:ما الاب؟ قال: نهینا عن التعمق والتکلف!“ ( ۱۰۵ )

ایک شخص نے عمر بن خطاب سے آیہ وَفَاْکِہَةً وَاَبّاً میں اب کے معنی دریافت کئے تو کهنے لگے: خدا نے ہمیں قرآن مجید کے اندرغور وفکر اور زحمت کرنے سے روکا ہے!

اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے، لیکن انھوں نے حسب عادت خلیفہ صاحب کی عزت بچانے کی خاطر جملہ اُولیٰ کو حذف کر کے صرف حدیث کا آخری یہ جملہ تحریر کر دیا:نهیٰنا عن التعمق ۔۔۔۔لیکن اس بات سے غافل رہے کہ حق چھپانے سے چھپتانھیں ،چنانچہ شارحین صحیح بخاری،مورخین اور مفسرین نے کتب احادیث، تواریخ و تفاسیر میں مکمل حدیث کو نقل کیا ہے، جیسا کہ ہم نے ابتداء میں من و عن آپ کی خدمت میں پیش کیا،بلکہ بعض شارحین ِ صحیح بخاری نے اس بات کی تصریح بھی کی ہے کہ امام بخاری کی نقل شدہ حدیث مقطوع ہے اور اس کی تکمیل ا سطرح ہوتی ہے ۔( ۱۰۶ )

____________________

[۶۶] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ،جلد ۸ ،صفحہ ۲۶۳، خطبہ نمبر ۱۳۱۔

[۶۷] اے فرزندانِ توحید ! اے سواد اعظم !کیا یہ ا فسوس کا مقام نہیں کہ مذکورہ تما م اوصاف وشرائط خلفائے ثلاثہ میں نہ ہونے کے باوجود آپ حضرا ت آج تلک انھیں ان کی کار کردگی پر داد تحسین دے رہے ہیں ؟! مترجم۔

[۶۸] صحیح بخاری: جلد۹،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب(۴) ”ما یکره من التعمق والتنازع والغلو فی الدین والبدع “حدیث ۶۸۷۲۔ جلد۵، کتاب ا لمغازی، باب وفد بنی تمیم حدیث ۴۱۰۹۔ جلد ۴، کتاب التفسیر سورہ حجرات ،باب” تفسیر آیہ ”لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “(آیت ۶) حدیث ۴۵۶۵ ، ۴۵۶۶۔

[۶۹] حجرات، آیت۲ ، پ ۲۶۔

[۷۰] فتح ا لباری ج۱۰، کتاب الطب ، باب ان البیان سحرا، ص ۲۱۲۔

[۷۱] مسند ج ۴ ،حدیث عبد الله ابن زبیر ، ص۶۔

[۷۲] نوٹ:یہ تمام باتیں اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ حقیقتاً یہ ان افراد میں سے تھے جن کے لئے قرآن نے سورہ منافقون میں ارشادفرمایا:<قَاْلَتِ الْاِعْرَابُ آمَنَّاقُوْلُوْالَمْ تُومِنُوْا وَلَاکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَاْ وَلَمَّاْ یَدْ خُلِ الْاِیْمَاْنُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ > (سورہ حجرات آیت ۱۴)یعنی ظاہری طور پر ان کے چھروں پر اسلامی نقاب تھی ورنہ اسلام تو ان کے دلوں میں داخل بھی نہ ہوا تھا۔مترجم۔

[۷۳] صحیح بخاری: جلد۴، کتاب بدء الخلق، باب(۱۱)”صفة ابلیس وجنودہ“ حدیث۳۱۲۰۔ جلد ۵، کتاب فضایل الصحا بة، باب ”مناقب عمربن الخطاب“ حدیث۳۴۳۸۔ جلد۸،کتاب الادب،باب” التبسم والضحک“حدیث۵۷۳۵۔

[۷۴] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد۶،خطبة ۸۳ کے ذیل میں صفحہ ۲۸۰۔

[۷۵] انعام،آیت ۳۸، پ ۷ ۔

[۷۶] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱،ص۲۸۸،خطبہ ۱۸۔

[۷۷] یہ جملہ قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتا ہے:و نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شی ۔سورہ نحل، آیت۸۹، پ ۱۴۔مترجم۔

[۷۸] صحیح مسلم جلد۱،کتا ب الحیض، باب”التیمم“حدیث۳۶۸،طریق دوم۔

عرض مترجم : محترم مولف صاحب نے جلد اول میں صحیح بخاری سے امام بخاری کی تقطیع شدہ روایت اس طرح قلمبند کی ہے: ”

عن سعید بن عبد الرحمان بن ابزیٰ عن ابیه قال:جاء رجل الی عمر بن الخطاب فقال انی اجنبت فلم اُصبِ الماء َ؟ (اس جگہ راوی یا نے حضرت عمر کے جواب کو حذف کر کے صرف حضرت عمار یاسر کے قو ل کو نقل کیا ہے جو یہ ہے)فقال عماربن یاسرلعمر بن الخطاب:اما تذکراَناّ کناّ فی سفراناوانت ، فاماانت فلم تصلِّ، واماانا فَتَمَعَّکْتُ فصلیتُ فذکرتُ للنبی، صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فقال النبی: اِنَّمَ ا یکفِیْکَ هٰذَاْ فضرب النبی بکفیه الارض،ونفخ فیهما،ثم مسح ، بهما وجهه وکفیه؟“ صحیح بخاری جلد۱،کتاب التیمم،ب(۴) ” المتیمم هل ینفخ فیهما“ حدیث۳۳۱ ۔

[۷۹] سورہ مائدة، آیت نمبر ۶ ،پ۶۔

[۸۰] صحیح بخاری: ج۱ ،کتاب التیمم ،باب ”اذا خاف الجنب علی نفسه المرض اوالموت “ حدیث۳۳۸۔۳۳۹، مترجم:(صحیح بخاری ج۱ ،کتاب التیمم ، باب ”التیمم للوجہ والکفن“ حدیث ۳۳۲ سے ۳۳۶۰ تک میں اسی طرف اشارہ ہے) صحیح مسلم ج۱،کتا ب الحیض، باب” تیمم“حدیث۳۶۸۔

[۸۱] فتح ا لباری شرحا لبخاری جلد۱،کتاب التیمم ،باب ”ھل المتیمم ھل ینفخ فیھما “ ص۳۷۶۔

[۸۲] بدایة المجتھد،جلد۱،کتاب التیمم باب فی معرفة الطھارة ص۵۶۔

[۸۳] صحیح مسلم جلد۵،کتاب الحدود،باب(۸)”حد الخمر“حدیث۱۷۰۶۔

[۸۴] صحیح بخاری:جلد۸،کتاب الحدود،باب”ماَجاَء فی ضرب شارب الخمر“حدیث۶۳۹۱، باب”الضرب بالجریدوالنعال“حدیث۶۳۹۳۔

[۸۵] یہ واقعہ صرف خلیفہ دوم کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے گڑھا گیا ہے ،تاکہ مسلمانوں کو یہ باور کرایا جائے کہ حضرت عمر نے جو حد مقرر کردی تھی وھی قانون اسلام بن گئی اس قدر خدا کو عمر کا فعل پسند تھا!مترجم۔

[۸۶] بدایة المجتھد جلد۲ ،کتاب القذف باب ” فی شرب الخمر “صفحہ ۴۴۴۔

[۸۷] صحیح مسلم جلد ۵،کتاب القسامة والمحا ربین، باب(۱۱) ” دیة الجنین“ حدیث۱۶۸۳۔صحیح بخاری جلد ۹،کتاب الدیات، باب”جنین المرئة“ حدیث ۶۵۰۹۔۶۵۱۰۔۶۵۱۱،۶۵۱۲،۶۵۱۳۔مترجم( صحیح بخاری جلد۹، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب(۱۳)”ماجاء فی اجتھاد القضاء بما انزل اللہ تعالی “ حدیث ۶۸۸۷۔)

[۸۸] صحیح مسلم جلد ۴،کتاب الآداب ،باب(۷) ” الاستیذان“ حدیث۲۱۵۳ ۔

صحیح بخاری جلد ۸،کتاب الاستیذان، باب۱۳” التسلیم و الاستیذان ثلاثاً“حدیث۵۸۹۱۔

[۸۹] مسلم ج ۴،کتاب الآداب ،باب(۷) ” الاستیذان“ حدیث۲۱۵۳ ، کتاب الآداب کی حدیث نمبر۳۶۔ (مترجم:اس حدیث کے مضمون کی طرف صحیح بخار ی میں بھی ایک جگہ اشارہ پایا جاتا ہے۔ دیکھئے ج۲، کتاب البیوع، باب”الخروج الیٰ التجارة“حدیث نمبر ۱۹۵۶۔)

[۹۰] صحیح مسلم ج۴،کتاب الآداب،باب(۷) ”الاستیذان“حدیث۲۱۵۴۔ سنن ابی داؤد جلد۲،ابواب النوم ، باب (۱۳۸)”کم مرة یسلم الرجل “ص۶۳۷۔

[۹۱] سورہ نور، آیت ۲۷۔۲۸ پ ۱۸ ،رکوع ۸۔

[۹۲] عرض مترجم : قارئین کرام ! مسئلہ اذن کے اس قدرواضح ہونے کے باوجود خلیفہ صاحب کا اس سے آگاہ نہ ہونا ان کی لاپرواہی اورجھالت کو ثابت کرتا ہے، چنانچہ اسی وجہ سے موصوف بیحد شرمندہ تھے کہ اس قدر واضحا ور روشن مسئلہ جس کا حکم قرآن اور حدیث میں ہے ،مجھے کیسے نہیں معلوم ! اپنی شرمندگی ختم کرنے کے لئے گواہی طلب کرتے ہیں ،لیکن اس مسئلہ میں ان کو مزید شرمندہ ہونا پڑتا ہے،کیا ایک خلیفہ وقت کے لئے یہ زیب دیتا ہے کہ احکام و قوانین الہٰی سے اس قدر لاپروا ہ ہو ؟! اب آپ ہی بتلایئے کہ جو خلیفہ اس قدر اسلامی احکام کے بارے میں نا بلد ہو وہ جب اہل علم سے کسی معاملہ میں مشورہ کریگا تو حتماً اس کی فطرت اور وجدان یھی کھے گا کہ فلاں صاحب جو علم ودانش میں بلند ہیں انھوں نے جو حکم اس مسئلے میں بتایا ہے وھی صحیح ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ خلیفہ صاحب چونکہ کورے ہیں لہٰذا جو بھی ان سے بیس ہوگا اس کے بتائے ہوئے حکم کو اسلامی حکم سمجھ کر اسلام میں داخل کردیں گے یا پھراپنی ہٹ دھر می کی بنا پردین میں من مانی کریں گے اب آپ فیصلہ کریں کہ بیساکھی پر چلنے والے خلفاء امت کی ہدایت کیسے کر سکتے ہیں ؟! ۱۲۔

[۹۳] صحیح مسلم جلد۵ ،کتاب الفرائض، باب(۲) ” میراث الکلالة“ حدیث۱۶۱۷۔

[۹۴] <یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ الله یُفْتیکُمْ فیِ الْکلاٰلَةِاِنِِِِ امْرُوا هَلَکَ لَیْسَ لَهُ وَلَدٌ وَ لَهُ اُخْتٌ فَلَهٰا نِصْفُ مٰا تَرَکَ وَهُوَ یَرِثُهٰٓا اِنْ لَمْ یَکُنْ لَهٰا وَلَدٌ فَاِنْ کٰانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمٰا الُّثلُثٰان مِمّٰا تَرَکَ وَاِنْ کٰا نُوٓا اِخْوَةً رِجٰالاًوَ نِسٰآءً فَلِذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ اْلُا نْثَیَیْنِ یُبَیِِّنُ الله لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا وَالله بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ > ( سورہ نساء، آیت ۱۷۶، پ ۶)

( اے رسول )تم سے لوگ فتوے طلب کرتے ہیں تم کھدو کہ کلالہ ( بھائی بہن ) کے بارے میں خدا تو تمھیں خود فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے نہ کوئی لڑکا بالا ہو ( نہ ماں باپ ) اور اس کی (صرف) ایک بہن ہو تو اس کا حصہ ،ترکہ سے آدھا ہو گا ( اور اگر یہ بہن مرجائے ) اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو ( نہ ماں نہ باپ ) تو اس کا وارث بس یھی بھائی ہو گا اور اگر دو بہنیں ( یا زیادہ )ہوں تو ان کو بھائی کے ترکہ سے دو تھائی ملے گا اور اگر( کسی کے ورثہ )بھائی بہن دونوں (ملے جلے ہوں) تو مرد کو عورت کے حصہ کا دو گنا ملے گا تم لوگوں کے بھٹکنے کے خیال سے خدا اپنے احکام بھت واضح کرکے بیان فرماتا ہے اور خدا تو ھر چیز سے واقف ہے ۔

[۹۵] الغدیر جلد ۶ ، ص ۱۳۰۔

[۹۶] صحیح بخاری:ج۷ ،کتاب الطلاق، باب ”الطلاق فی الاغلاق والکرہ و“ ج۸، کتاب المحا ربین باب(۷)”لا یرجم المجنون و المجنونة“اول باب۔

[۹۷] سنن ابن ابی داؤد ج۲ ”ابواب کتاب الحدود،باب (۱۶)”فی المجنون “حدیث ۴۳۹۹،ص ۴۰۲۔سنن ابن ماجہ جلد۱،”کتاب النکاح ،طلاق المعتوہ “صفحہ ۲۲۷۔

[۹۸] کتاب الاستیعاب جلد۳ ،باب علی بن ابی طالب،صفحہ ۳۹۔ (یہ کتاب” الاصابہ“ کے حا شیہ پر چھپی ہے )

[۹۹] صحیح مسلم جلد سوم،کتاب صلوٰة العیدین، باب(۳) ” ما یقرا بہ فی صلاة العیدین“ حدیث۸۹۱۔

[۱۰۰] سنن ابن ماجہ جلد ۱، باب” ما جاء فی القرا ةفی صلاة العیدین“ حدیث ۱۲۸۲۔

[۱۰۱] کتاب الغدیر جلد۶ ،صفحہ ۳۲۰۔

[۱۰۲] صحیح بخاری جلد۲، کتاب الحج،باب” کسوة الکعبة“حدیث۱۵۱۷۔ جلد۹،کتاب الاعتصام بالکتاب و السنة، باب” الاقتداء بسنن رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم “حدیث۶۸۴۷۔

[۱۰۳] شرح نہج البلاغہ جلد۱۹ ، خطبة ۲۷۶،صفحہ ۱۵۹۔ ۱۵۸، کلمات قصار نمبر ۲۷۰ ۔

[۱۰۴] ربیع الابرارو نصوص الاخبار، مخطوطہ،باب(۷۵)۔اس کتاب کا مطالعہ میں نے کتابخانہ مرعشی نجفی ،قم مقدس میں کیا ۔(یہ کتاب تحقیق و تصحیح کے بعد پانچ جلدوں میں شائع ہوچکی ہے اور مذکورہ بحث جلدچھارم ،باب(۷۵)” اللباس والحلی من القلائد والاسورة“ میں مرقوم ہے۔ مترجم۔)

[۱۰۵] صحیح بخاری ج ۹،کتاب الاعتصام، باب”مایکره من کثرة السوال وتکُّلفِ ما لایعنیه “ ح۶۸۶۳۔

[۱۰۶] شرح البخاری فتح ا لباری جلد۱۳ ،کتاب الاعتصام، باب”مایکره من کثرة السوال وتکُّلفِ ما لایعنیه “ص ۲۲۹۔ عمدة القاری جلد۲۵،کتاب الاعتصام، باب” مایکرہ من کثرة السوال وتکُّلفِ ما لایعنیہ“ ۔ ارشاد الساری جلد۱۵،کتاب الاعتصام، باب” مایکرہ من کثرة السوال وتکُّلفِ ما لایعنیہ“۔ نھایہ ابن اثیر، لغت اب۔ تفسیر در منثور۔ تفسیر ابن کثیر۔ تفسیر کشاف و تفسیر خازن۔ تفسیر بغوی۔ تفسیر مستدرک حا کم سورہ عبس۔


۱۰ ۔ حضرت عثمان کا ایک انوکھا فتوی!!

غسل جنابت آیہ قرآن کی نص اور متعدد احادیث کے مطابق (جو خود صحا ح ستہ میں نقل کی گئی ہیں ) مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر واجب ہو جاتا ہے:

۱ ۔ منی کا خارج ہونا ۔

۲ ۔ التقاء ختانین (یعنی مرد و عورت کی ختنے کی جگہ مل جائے اور جماع صادق آئے) چاہے منی خارج ہو یا نہ ہو،چنانچہ حدزنا اور لزوم مھروغیرہ میں جنابت سے مراد یھی ہے۔

امام شافعی کھتے ہیں :

خدا نے غسل کو جنابت کی وجہ سے واجب قرار دیا ہے اور جنابت کے معنی عرب کے نزدیک عام فھم ہیں،اہل عرب جانتے ہیں : جنابت سے مراد جماع ہوتا ہے چاہے منی خارج نہ ہوئی ہو،چنانچہ جماع ہی مھر اور حد زنا کا موجب ہو تاہے اوران موارد میں بھی منی کانکلنا لازمی نھیں، لہٰذا جو شخص عربی زبان سے واقفیت رکھتا ہے اس کے سامنے یہ کھا جائے کہ فلاں مرد فلاں عورت سے مجنب ہوگیا تو اس کے نزدیک یھی معنی تبادر کر یں گے کہ اس مرد نے فلاں عورت سیجماع کیا ،چاہے منی خارج نہ ہوئی ہو۔

اس کے بعد امام شافعی کھتے ہیں :

قطعی سنت اس بات پر قائم ہے کہ جنابت دو طریقے سے حا صل ہوتا ہے، مرد عورت سیجماع کرے چاہے منی خارج نہ ہو ،یا منی خارج ہو جائے چاہے اسی جماع نہ کھیں ۔( ۱ )

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں منجملہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں اس موضوع سے متعلق کثرت کے ساتھ روایات منقول ہیں :

اگر مرد و عورت کی ختنے کی جگہ مل جائے(جماع کریں ) تو غسل جنابت واجب ہو جاتا ہے چاہے منی نہ نکلی ہو ۔

چنانچہ مسلم نے تو اس بارے میں ایک مخصوص باب اس:”نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانین “عنوان سے تحریر کیا ہے۔( ۲ )

لیکن صحیحین کی ایک دوسری روایت کے مطابق عثمان سیجب کسی نے سوال کیاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سیجماع کرے اور منی نہ نکلے تووظیفہ کیاہے؟

حضرت عثمان نے کھا : وہ شخص عضوئے تناسل کو دھوکر وضو کرلے اور میں نے یہ مسئلہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں ہی سنا ہے اورجب میں نے حضرت علیعليه‌السلام ، زبیر بن العوام،طلحہ بن عبید الله اور ابی بن کعب وغیرہ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ لوگوں نے بھی یھی جواب دیا جس کو میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سن رکھا تھا:

… ”خالد الجهنی اخبره؛ انه ساٴل عثمان بن عفان؛ فقال: اٴرایت اذا جامع الرجل امراٴته فلم یمن؟ قال عثمان: یتوضاٴ کما یتوضاٴ للصلٰوة، ویغسل ذکره، قال عثمان :سمعته من رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، فساٴلت عن ذالک علی بن ابی طالب، عليه‌السلام والزبیر بن العوام ،وطلحة بن عبید الله ، و ابیٴ بن کعب، فامروه بذالک “ ( ۳ )

عرض مولف قارئین محترم ! یہ تھا صحیحین میں حضرت عثمان کا انوکھا فتویٰ کہ اگر انسان جماع کرے تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں ، لیکن روایت کا دوسرا حصہ جس میں اس فتوی کی تائید کرتے ہوئے راوی نے رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا، حضرت امیر المومنین ،طلحہ ،زبیر اور ابی بن کعب وغیرہ کے قول کو نقل کیا ہے آیا یہ حقیقت ہے ؟! ھرگز نہیں ،بلکہ یہ ( بالکل کھلا وا کذب اور برهنہ الزام ہے ) عثمان کی عزت بچانے کی خاطر اسے ان کے فتوے کے ساتھ اضافہ کر دیا گیا ہے اوریہ کوئی تعجب خیز بات نہیں بلکہ ایسے شواہد کثرت کے ساتھ پائیجاتے ہیں ((وکم لہ من نظیر)) یا پھر یہ کہئے کہ جو فتویٰ عثمان نے دیا یہ صدر اسلام سے مربوط ہے،کیو نکہ نقل کیا گیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صدراسلام میں فرمایا تھا (الماء من الماء) لیکن ابن عباس فرماتے ہیں : یہ جملہ احتلام سے مربوط ہے نہ کہ جماع سے۔( ۴ )

بھر صورت جو مسئلہ روز مرّہ کا مبتلا بہ ہو اس میں خلیفہ صاحب کا نا بلد ہونا تعجبخیز ہیجبکہ اس سلسلے میں اصحا ب کے درمیان حدیثیں کثرت کے ساتھ پائی جاتی تھیں !(اذا جاوز الختان وجب الغسل ) ممکن ہے کہ عثمان نے صدر اسلام میں کھیں سے سن لیا تھا کہ خالی دھونا کافی ہے، چنانچہ صدر اسلام کا یہ جملہ یا د کرلیا اور انھیں ا س حکم کے نسخ کی اطلاع نہ ملی، لہٰذا اپنی سابقہ ذهنی معلومات کی بناپر فتوی صادر کردیابھر کیف مسئلہ ھر حال میں محل تعجب ہے!!

۱۱ ۔ احراق قرآن بدست حضرت عثمان !!

اما م بخاری نقل کرتے ہیں :

جب حذیفہ یمانی اہل شام وعراق کے ہمراہ آرمینیہ اور آذربائیجان کی جنگ میں مصروف تھے تو قرآن کی قراتوں میں مسلمانوں(اہل شام و عراق) کے درمیان اختلاف دیکھ کر گھبرا گئے اور حضرت عثمان سیجاکر کھا کہ قبل اس کے کہ یہود و نصاری کی طرح مسلمان بھی اپنی آسمانی کتاب کے بارے میں اختلاف کا شکار بن جائیں کتاب خدا کی خبر لیجئے، حضرت عثمان نے ایک گروہ کو حکم دیا کہ جتنے قرآن دسترس میں ہیں انھیں جمع کرلیا جائے اور پھرجو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں قرات تھی اسی کے اعتبار سے نسخہ بر داری کریں اور اگر اختلاف نظر ہوجائے تو قریش کے لہجے اور قرات میں قرآن لکھنا کیونکہ قرآن قریش کے لہجے میں نازل ہوا ہے، المختصر یہ کہ اس قرآن سے متعدد نسخے بناکر اطراف و نواح کے شھروں میں بھیج دئے گئے اور یہ حکم دیا گیا کہ اس قرآن کے علاوہ جھاں بھی دوسراقرآن ہے اسے فوراً جلا دیا جائے:

”وارسل الیٰ کل افق بمصحف ممانسخواوامربماسواه من القرآن فی کل صحیفةاومصحف ان یحرق“ ( ۵ )

چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کہ تمام دیگر قرآنوں کو جمع کرکیجلا دیا گیا،اگر کوئی قرآن ہڈی وغیرہ پر لکھا تھا تو اسے سرکہ سے دھو دیا گیا!!

عصر حا ضر کے ایک مشہور محقق کھتے ہیں :

حضرت عثمان نے اپنے دورخلافت میں جس قرات پر قرآن جمع کروایا تھا وہ وھی قرات تھی جو اُس وقت مسلمانوں کے درمیان رائج ، متواتر اور قطعی الصدور تھی جس کا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہونا یقینی تھا،لہٰذا حضرت عثمان نے اس کام کو انجام دیکر امت مسلمہ کو ایک قرات پر جمع کر دیا اور دیگر بے اساس ، ناشائستہ ا و رغلط قراتوں سے بچا لیا جو مسلمانوں میں اختلاف ک ا سبب بنتیں چنانچہ حضرت عثمان کا یہ عمل بجا اور شائستہ تھا، اسی وجہ سے آپ اس عمل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان لعن طعن کا نشانہ نہیں قرار پائے ،کیونکہ اگر حضرت عثمان یہ کام نہ کرتے تو اسی قرات کے اختلاف کی وجہ سے مسلمان ایک دوسرے کو کفر کا فتویٰ دیکر قتل و خونریزی کرتے!البتہ جو چیز اعتراض کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دیگر قرآنوں کو جلوادیا ! اور یھی نہیں بلکہ یہ کام آپ نے خود کیا اور لوگوں کو اس بات کا حکم بھی دیا!حضرت عثمان کی یہ بات قابل تنقید ومذمت ہے یھاں تک کہ کچھ مسلمانوں نے آپ پر اعتراض بھی کیا اور آپ کو”حرّاق المصاحف“ قرآن جلانے والاکهنے لگے۔( ۶ )

عرض مولف

آپ جانتے ہیں کہ قرآن مجید اسلام کی نظر میں ایک خاص احترام کا حا مل ہے اور اس کے احترام ، عظمت اور حفاظت کے بارے میں اسلام میں باقاعدہ قوانین اور شرائط پائیجاتے ہیں ۔ مثلاًاس قرآن کو بغیر وضو مس کرنا حرام ہے ، مجنب و حا ئض کے لئے سورہ عزائم کا پڑھنا شیعوں کے نزدیک اور تمام سورتوں کاپڑھنا اکثرعلمائے اہل سنت کے نزدیک حرام ہے، اسی طرح قرآن کا نجس کرنا بھی حرام ہے۔ کلی طور پر علمائے اہل تشیع و تسنن کا اتفاق ہے کہ قرآن کے ساتھ ھر وہ عمل انجام دینا حرام ہیجو قرآن محید کی بے احترامی ک ا سبب بنے،چنانچہ احترام قرآن سے متعلق اسلامی کتابوں میں متعدد احادیث کو نقل کیا گیا ہے، ترمذی اپنی سنن میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ حدیث( مجنب اور حا ئض قرآن نہیں پڑھ سکتے )نقل کرنے کے بعد کھتے ہیں :

یھی فتوی صحا بہ کرام ،تابعین عظام اور موجودہ ومتقدمین علمائے اسلام کا ہیجیسے سفیان ثوری،ابن مبارک،شافعی،احمدبن حنبل،اسحاق، وغیرہ ان تمام علماء نے فتوی صادر فرما یا ہے کہ مجنب اورحائض قرآن نہیں پڑھ سکتے البتہ کسی آیت کے ایک کلمہ کواور اسی طرح تسبیح وتھلیل کرنا ان کے لئیجائز ہے ۔( ۷ )

عرض مولف

جی ھاں! یہ تمام تاکیدیں قرآن مجید کی عظمت ،اہمیت ا ور احترام کی حفاظت کی خاطر دین اسلام میں بیان کی گئی ہیں ، لیکن اس کے باوجود خلیفہ وقت کا مدینہ اور دیگر تمام اسلامی ممالک میں موجودہ قرآن جلانے کا حکم دینا کس مدرک کی بنا پر تھا ؟! آخر ایسا فتوی کیسے صادر کیا؟ قرآن کی اس قدر عظمت اوراس کے صریحا حکام کے ہوتے ہوئے خلیفہ صاحب کی کیسے ہمت ہوئی کہ قرآن کیجلانے میں حکم صادر فرمائیں؟!ان مطالب کو ہم قارئین کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں ۔( ۸ )

اوراگر دیگر قرآن جلانے کا مقصد یہ تھا کہ دوسری قرائتوں کو ختم کیا جائے تاکہ مسلمانوں میں اختلاف نہ ہونے پائے ،تو یہ کام دوسرے طریقے سے بھی کیا جاسکتا تھا ، جس سے احترام قرآن باقی رہ جاتا، مثلاً دوسرے قرآنوں کو کسی پاک جگہ دفن کردیاجاتا ،یا کسی محفوظ جگہ حفاظت سے رکھ دیا جاتا، یادریا برد کردیاجاتا وغیرہ وغیرہ ۔

۳ ۔ خلفاء اوراسلامی احکام

امام ؛احکام الہٰیَّہ کامحا فظ اور قرآنی قوانین کاجاری کرنے والاہے

قال علی علیہ السلام:”وَلَا الْمُعَطِّلُ لِلسُّنَّةِ فَیُهلِکُ اْلاُمَّةَ “”قدعملت الولاة قبلی اعمالا خالفوا فیها رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه

,,اورامام کو احکام خدا معطل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ امام کااحکام خدا ترک کرنا امت مسلمہ کے ھلاک ہونے ک ا سبب ہوتا ہے،بالتحقیق مجھ سے پھلی جو خلفاء گزرے انہوں نے کچھ ایسے اعمال انجام دئیجن میں رسول اللہ کی صریحا مخالفت کی گئی تھی“

ا س میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ امام اور اسلامی حا کم کے لئے سب سے اہم شرط بلکہ خلافت الٰھیہ کا اصل فلسفہ اور مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ احکام خداوندی کا پاسبان اور قرآن کے قوانین کا اجرا ء کرنے والا ہو، مولائے متقیانعليه‌السلام خلیفہ کے لئے اس شرط کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”امام کو احکام خدا معطل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ امام کااحکام خدا ترک کرنا امت مسلمہ کے ھلاک ہونے ک ا سبب ہوتا ہے“۔

لیکن تاریخ اسلام اور صحیحین کی مختلف احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ خلفائے ثلاثہ کے دور میں احکام خدا کوا علانیہ اور ظاہر بظاہر ترک کیا گیا، احکام خداوندی میں تغییر و تحریف کی گئی ،اسلامی احکام کو ذاتی نظریات ، مقاصد اور مصالح میں رنگ دیا گیا ،ھر شخص جیسے چاہتا اسلامی حکم کو اپنی رائے کے مطابق تبدیل کردیتا !جیسے چاہتا اسلامی قوانین میں اظھار نظر فرماتا ! چنانچہ خلفائے ثلاثہ نے بھی حکم ِ خدا میں خوب من مانی کی اور جب محل لعن و طعن قرار دیا گیا تو کچھ نام نھاد اور زر خرید علمائے اہل سنت نے اس تحریف وتغےیر کو علمی رنگ میں پیش کرنے کے لئے اسے اجتھاد کا نام دیکر ان عیوب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور انھوںنیجھاں اس قسم کی مخالفت اور تحریف دیکھی اسے اجتھاد کے خوش نما لفافہ میں رکھ کر اسلامی امت کے سامنے پیش کردیا، تاکہ اسلامی معاشرہ کے نزدیک قابل قبول قرار پائے، حا لانکہ اجتھاد ایک جدا بحث ہے اورصریحا قرآن و سنت کی مخالفت ایک جدا بحث ہے، دونوں میں کوئی ربط نہیں ہے۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :

”قد عملت الولاة قبلی اعمالاخالفوا فیهارسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله معتمدین بخلافه، ناقضین لعهده، مغیرین لسنته، ولوحملت الناس علی ترکها وحولتها الی مواضعهاوالی ما کانت فی عهد رسول الله لتفترق عنی جندی، حتی ابقی وحدی اومع قلیل من شیعتی الذین عرفوا فضلی وفرض اما متی من کتاب الله و سنةرسوله“ ( ۹ )

مجھ سے پھلے خلفاء ایسے اعمال انجام دے چکے ہیں کہ جن میں عمداًرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله کی صریحا مخالفت اور پیمان شکنی کی گئی،آپ کی سنت کو بدلا گیا، چنانچہ اگر میں لوگوں کو ان بدعتوں کے ترک کرنے پر مجبور کروںاور اسلامی قوانین کواصلی صورت پر پلٹاوں جس روش پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله کے زمانہ میں تھے،تو میرے لشکر والے ہی سب سے پھلے مجھ سے دور ہو جائیں گے اور میں اپنے شیعوں کے چند افراد کے ساتھ تنھا رہ جاوں گا، جنھوں نے میری فضیلت اور امامت کو قرآن وسنت سے پہچانا ہے ۔

دوسری جگہ امام فرماتے ہیں :

جس روز میں نے اپنے داخلی اختلاف سے نجات پائی اسی دن بھت سے ان بدعتی احکام کو ا ن کی اصلی صورت پر پلٹاوں گا:

”لوقد استوت قدما ی من هٰذه المداحض لغیرت اشیاء“

ابن ابی الحدید امام کے اس قول کے ذیل میں کھتے ہیں :

اس میں کوئی شک نہیں کہ امیر المومنینعليه‌السلام احکام شرعی اور قضاوت میں گزشتہ خلفاء کے فتاوی اور ان کے نظریات کے خلاف عمل کرتے تھیجیسے چور کی حد ، ام ولد کا حکم، امام نے گزشتہ خلفاء کے بر خلاف چور کی حد میں انگلیوں کو کاٹا اور ام ولد کو فروخت کیا( ۱۰ )

ابن ابی الحدید آخر میں تحریر کرتے ہیں :

جو چیز امیر المومنین علی علیہ السلام کو بطور کلی بدعتی احکام بدلنے سے مانع تھی وہ آپ کا باغی اور خوارج کے ساتھ مصروف جنگ رهنا ہے،امام کو اس اختلاف نے فرصت نہیں بخشی کہ خلفاء کے زمانہ والے بھت سے بدعتی احکام تبدیل کرتے۔( ۱۱ )

عرض مولف

جو اسلامی احکام خلفاء کے زمانہ میں تبدیل کئے گئے وہ کثرت کے ساتھ کتب تواریخ ، تفاسیر ا ور احادیث میں موجود ہیں لیکن ہم اپنی روش کے مطابق صرف صحیحین سے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔

۱ ۔ خلیفہ کے حکم سے مسلمانوں کا قتل عام اور اسلامی احکام میں تبدیلی

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ جس نے کلمہ شھادتین زبان پر جاری کر دیا اور خدا کی وحدانیت اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اعتراف کر لیا ،اس کی جان و مال اسلام کی رو سے محفوظ و محترم ہوجاتی ہے اور کسی کو اسیجانی اور مالی نقصان پهنچانے کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی ذاتی حق رکھتا ہو ، چنانچہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :

”امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا: لا الٰه الا اللّٰه ،فمن قال: لا الٰه الا اللّٰه، فقد عَصَمَ منّی مالَه و نفسَه الا بحقّه وحسابُه علی اللّٰه“

مجھے خدا کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک منکرین خد ا سیجنگ کروں جب تک کہ کلمہ لاالہ الا اللہ کوزبان پر جاری نہ کریں ، لہٰذا اگر کوئی کلمہ توحید پڑھنے لگے تواب اس کی جان و مال محفوظ ہوجاتی ہے، البتہ اگر کوئی شخصی حق رکھتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اس کا حساب یوم آخرت اللہ کے اوپر ہے۔( ۱۲ )

لیکن افسوس کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد خلفائے وقت نے کچھ ایسے مسلمانوں کا خون مباح کر دیا تھا جوتمام اسلامی احکام اور زکاة کے پابند تھے صرف خلفائے وقت کو زکاة دینے سے انکارکر رہے تھے در حقیقت ان لوگوں نے خلیفہ کی بیعت کرنے سے انکارکر دیا تھا اس لئے ان کے مردوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا اور ان کی عورتوں ، بچوں کو اسیر کر کے کنیز ا ور لونڈی بنا لیا گیا(جو اسلام کی رو سے قطعاً جائز نہ تھا)۔( ۱۳ )

البتہ اس قتل وغارت کی توجیہہ اور خلیفہ صاحب کے دامن کو تنقید سے بچانے کی خاطر کچھ زرخرید راویوں نے روایتیں گڑھنا شروع کردیں! جن کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ جن لوگوں کو خلیفہ وقت نے قتل کرنے کا حکم دیا تھا وہ مرتد ہوگئے تھے!! اس طرح ان لوگوں کو مانند مسیلمہ اور طلیحہ، کفار کی صف میں کھڑا کردیا! زمان رسالت سے مسلمانوں سے نبرد آزما ں تھے ، حا لانکہ کتب تواریخ وروایات اس اتھام کو صراحت کے ساتھ رد کرتی ہیں ، چنانچہ صحیحین میں بھی اس واقعہ کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، لہٰذا پھلے ہم اس بارے میں صحیحین سے نقل کرتے ہیں ، اس کے بعد تاریخ کے لحا ظ سے اس واقعہ کا خلاصہ نقل کریں گے:

…,,عن ابن شهاب؛اخبرنی عبید اللّٰه بن عبدا للّٰه بن عتبة؛ان ابا هریرة قال:لما توفّٰی النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واستخلف ابوبکر وکفر من کفر من العرب،قال عمر:یا ابابکر کیف تقاتل الناس وقد قال رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه: امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا:لا اله الا اللّٰه، فمن قال لا اله الا اللّٰه عَصَمَ منی مَاْ لَهُ ونفسه الا بحقه وبحسابه علی اللّٰه؟قال ابوبکر؛واللّٰه َلاٴ قاتِلَنَّ من فرّق بین الصلٰوة والزکٰوة،فان الزکاة حق المال واللّٰه لو منعونی عَناقا کانوایودونها الی رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، لقاتلَتْهُمْ علی منعها، قال عمر:فواللّٰه ما هو الّا ان رَاٴیتُ ان قد شرّحا للّٰه صدرَابی بکر للقتال، فعرفتُ انه الحق“ ( ۱۴ )

امام بخاری اور مسلم نے تمام اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے:

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر تخت خلافت پر جا نشین ہوئے تو عرب کے بعض قبیلے اپنے کفر کی طرف پلٹ گئے، عمر نے ابوبکر سے کھا: اے ابوبکر! تم ان لوگوں سے کیسیجنگ کرو گے حا لانکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان تھا: میں اس لئے مبعوث کیا گیا ہوں کہ اس وقت تک لوگوں سیجنگ کروں جب تک یہ خدا کی وحدانیت کے قائل نہ ہو جائیں اور جو شخص خدا کی وحدانیت کو قبول کر لے اس کی جان و مال محفوظ ہے، البتہ اگر کوئی شخصی حق رکھتا ہو تو اس کی جان مباح ہوسکتی ہے؟ (بطورخون بھا وغیرہ) ،ابوبکر نیجوا ب میں کھا: خدا کی قسم میں ان لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا جنہوں نے نماز و زکاة میں فرق کیا کیونکہ زکاة مالی حق ہے (اسلامی حکومت کا حق ہے) قسم خدا کی جو زکاة یہ لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیتے تھے وھی مجھے نہ دی اور اس میں سے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیا تو میں ان سیجنگ کروں گا۔

عمر نے کھا :قسم خدا کی یہ جواب ابوبکر کو اس شرح ِ صدر کی وجہ سے عطا ہوا تھا جو خدا نے کیا یعنی یہ جواب خدا کی طرف سے القاء ہوا تھا لہٰذا میں سمجھ گیا کہ ابوبکر کی بات کاملاً ٹھیک ہے۔( ۱۵ )

عرض مولف

اس حدیث کے پھلے ٹکڑے میں یہ کھا گیا ہے: عرب کے بعض قبیلے کافر ہوگئے ،یہ سراسر غلط اور جھوٹا الزام ہے اور در حقیقت خلیفہ صاحب کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ جملہ اضافہ کیا گیا ہے، چنانچہ مزے کی بات یہ ہے کہ اسی روایت کے بعد والی جملوں سے اس کا جعلی ہونا ثابت ہے کیونکہ :

۱ ۔ اس روایت میں آیا ہے کہ جب عمر نے ابو بکر سے پوچھا کہ آپ ان سے کیسیجنگ کریں گے؟ تو ابوبکر نے کھا میں ان لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز و زکاة میں فرق کر رہے ہیں ، اس جملہ سے ظاہر ہورھا ہے کہ وہ نہ صرف کافر نہیں ہو ئے تھے بلکہ خدا کے حکم کے مطابق نماز و روزہ و اصول دین وغیرہ پر یقین رکھتے تھے اور ان کی بجا آوری بھی کرتے تھے۔

۲ ۔ اگر مان لیا جائے کہ وہ لوگ کافر ہوگئے تھے تو حضرت عمر نے ابو بکر پر کیوں اعتراض کیا تھا کہ ان سے کیسیجنگ کی جائے گی حا لانکہ وہ لاالہ الا اللہ اور محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله کھتے ہیں اور رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حکم بھی یھی دیا گیا تھا کہ جب تک لا الہ الا اللہ نہ کھے اس وقت تک جنگ کرو؟

مشہور فقیہہ اور فلسفی جناب ابن رشید کھتے ہیں :

زکاة کے احکام میں سے ایک حکم اس کا یہ بھی ہے کہ کوئی شخص زکاة کے وجوب کا انکار نہ کرے لیکن زکاة دینے سے انکار کرے اورابوبکر کا عقیده یہ تھا کہ جو شخص زکاة کے وجوب کا قائل ہو مگر دینے سے انکار کرے وہ مرتد کے حکم میں ہے، چنانچہ جب عرب کے قبائل نے ابوبکر کو زکاة دینے سے انکار کر دیا توحضرت ابو بکر نے ان سیجنگ کی اور ان کے بال بچوں کو اسیر کر لیا،لیکن عمر کا یہ نظریہ نہیں تھا لہٰذا انھوں نے اس حکم میں ابو بکر کی مخالفت کی اور جن لوگوں کو ابوبکر نے اسیر کر رکھا تھا آزاد کر دیا اور اکثر علمائے اہل سنت بلکہ تمام علماء اس مسئلہ میں عمر کے ہم عقیده ہیں ۔

”وخالفه فی ذالک عمر واطلق من کان استرق منهم و بقول عمر قال الجمهور…“ ( ۱۶ )

یہ سارا قتل وغارت کا قضیہ عکرمہ ابن ابی جھل کی سرپرستی میں ” حضر موت“ کے مقام پر مختلف قبائل (کندہ، مآرب) کے ساتھ اور اطرافِ مدینہ میں ” عبس و ذبیان، بنی کنانہ “سے خالد بن ولید کی سرپرستی میں وقوع پذیر ہوا، یہ تمام افراد جن کو مسلمانوں نے خالد بن ولید و عکرمہ کی سرپرستی میں قتل کیا مرتد نہیں ہوئے تھے،بلکہ سب یھی کہہ رہے تھے کہ جب تلک ہمارے درمیان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے ہم نے ان کی پیروی کی لیکن ابوبکر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے”اطعنا رسول الله مادام وسطنا فیا قوم ما شا نی و شان ابی بکر “ اورکبھی گورنر کے سامنے یہ کھتے کہ تو ہمیں ایسے مرد کی اطاعت کو کیوں کہہ رھا ہیجس کے بارے میں ہم سے اور تجھ سے کوئی عھد نہیں لیا گیا ہے؟”انک تدعوا الی طاعة رجل لم یعھد الینا ولا الیکم فیہعھد “ اور کبھی یہ کھتے کہ تم نے خاندان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس معاملہ سے کیوں دور کر دیا؟منصب خلافت کے اصلی حقدار وہ ہیں جن کے بارے میں ارشاد الہٰی ہے:

( وَاُوْلُواْالاَرْحا مِ بَعْضُهُم اَوْلَی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰه ) ( ۱۷ )

ابن کثیر کھتے ہیں :

عرب کے مختلف قبائل، گروہ در گروہ مدینہ آتے اور نماز کے سلسلے میں اقرار و اعتراف کرتے تھے، لیکن زکاة کے ادا کرنے سے گریز کرتے تھے اور کچھ ان میں سے ایسے تھیجو خلیفہ وقت کو زکاة دینے سے انکار کرتے تھے۔( ۱۸ )

سنیوں کے مشہور مصنف عقاد مصری کھتے ہیں :

وہ عرب کے قبیلیجو مدینہ کے نزدیک رھتے تھے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بھت مخلص اورھمدرد تھے، لیکن جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر نے زمام حکومت سنبھالی تو ان لوگوں نے اس کی نافرمانی اور مخالفت کی اور کهنے لگے :ھم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کرتے ہیں ہم کو ابوبکر سے کیا مطلب؟ !

اس کے بعد عقاد کھتے ہیں :

کچھ افراد ایسے تھیجو اصل زکاة کا عقیده رکھتے تھے لیکن جو زکوٰةوصول کرنے والے تھے ان کو دینے سے انکار کرتے تھے۔( ۱۹ )

مشہور مصنف محمد حسین ہیکل مصری کھتے ہیں :

”ابوبکر نے صحا بہ کو جمع کیا اور ان لوگوں کے بارے میں مشورہ کیا جنہوں نے ابوبکر کو زکاة دینے سے انکار کر دیا تھا کہ آیا ان سیجنگ کی جائے یا نہیں ؟کچھ لوگوں کا کهنا تھا کہ ان سیجنگ کرنا جائز ہے اور کچھ لوگوں کا کهنا تھا کہ جنگ نہ کی جائے اور ان منع کرنے والوں میں حضرت عمر بھی تھے، آپ کا کهنا تھا : ان سیجنگ نہ کریں کیونکہ یہ لوگ خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان رکھتے ہیں ،بلکہ ان سے دشمنان اسلام کے مقابلہ میں فائدہ اٹھایا جائے۔ “

اس کے بعد محمد حسین ہیکل کھتے ہیں :

شاید مجلس مشاورت میں شرکت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ یھی عقیده رکھتے تھے کہ ان سیجنگ نہ کی جائے اور اس نظریہ کے مخالفین اقلیت میں تھے ،بلکہ ظن قوی یہ ہے کہ جب حا ضرین مجلس میں اس اہم اور خطرناک معاملہ پر بحث ومباحثہ بھت بڑھ گیا تو ابوبکر نے مجبور اً ذاتی طور پر اس میں مداخلت کرکے اقلیت کے نظریہ کی تصدیق و تائید کردی اور پرُ زور طور پر اپنی بات منوانے کیلئے کهنے لگے : ”قسم بخدا وہ چیز جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دی جاتی تھی اس میں سے انہوں نے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیا تو میں ان سیجنگ کروں گا“( ۲۰ )

عرض مولف

اس تمام واقعہ کو سیوطی نے تاریخ الخلفاء، بلاذری نے انساب الاشراف اور اعثم کوفی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے، اعثم کوفی کھتے ہیں :

ابوبکر نیجملہ قسمیہ ”والله لومنعونی عقالاً“ عمر کیجواب میں کھا تھا، کیونکہ عمران مسلمانوں سے قتل و کشتار کرنے کے مخالف تھے۔( ۲۱ )

بھر کیف جو تفصیلات اور مطالب ہم نے تاریخ ابن کثیر اور دیگر کتابوں سے نقل کئے ہیں ان سے اور خود حضرت ابو بکر کی بات سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ جن کو ابوبکر کے حکم سے قتل کیا گیاوہ مرتد نہیں بلکہ مسلمان تھے اوریہ لوگ باقاعدہ اصل زکاة پر ایمان رکھتے تھے ،البتہ ابوبکر کوزکاة دینے سے انکار کر رہے تھے، بس اسی بات پر ان کو ابو بکر نے تہہ تیغ کروادیا !!

مالک بن نویرہ (نمائندہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کے قتل کاواقعہ

قارئین کرام! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں عرب کے مختلف قبائل سے اس لئیجنگ لڑی گئی اور ان کے بچوں اور عورتوں کو اس لئے اسیر کر لیا گیا کیونکہ ان لوگوں نے زکاة دینے سے

انکار کیاتھا ،مگر مشہور یہ کیا گیا کہ یہ لوگ مرتد ہوگئے تھے، اگر ان تمام واقعات اور جزئیات کی تفصیل لکھی جائے تو ایک مستقل کتاب مرتب ہو جائے لیکن ہم یھاں پر صرف مالک بن نویرہ اور ان کے خاندان (جنھیں بے دردی سے قتل کیا گیا)کے واقعہ کو نمونہ کے طور پرنقل کرتے ہیں :

ابن حجر اپنی کتاب” الاصابہ“ میں تحریر کرتے ہیں :

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مالک بن نویرہ کو ان کے خاندان سے صدقات وصول کرنے کیلئے اور قبیلہ بنی تمیم سے زکاة حا صل کرنے پر اپنا نمایندہ مقرر فرمایا تھا۔( ۲۲ )

اعثم کوفی کھتے ہیں :

خالدبن ولید نے اپنے لشکر کو اس جگہ روک دیا جھاں قبیلہ بنی تمیم رھتا تھا اور گروہ گروہ کر کے تمام اطراف میں لشکر کو بھیجا،چنانچہ ایک گروہ اس باغ میں بھیجا جھاں مالک بن نویرہ اپنے خاندان کے ساتھ رھتے تھے، اس گروہ نے ا چانک حملہ کر کے تمام لوگوں کو گرفتار کرلیا اورمالک اور ان کی بیوی جو بیحد خوبصورت تھی اور ان کے خاندان کو اسیر کر کے خالد بن ولید کے پاس لایاگیا،خالدبن ولیدنے حکم دیاکہ مالک کے تمام خاندان کو قتل کردیا جائے!!

مالک اور ان کے ساتھیوں نے کھا: اے خالد! تو ہم کو کیوں قتل کر رھا ہے حا لانکہ ہم سب مسلمان ہیں ؟ اس وقت خالد نے کھا : خدا کی قسم میں تم سب کو قتل کردوں گا!! یہ بات سن کر ایک بوڑھے شخص نے کھا: اے خالد! کیا ابوبکر نے تجھے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ جو کعبہ کی طرف نماز پڑھتے ہوں ان کو قتل نہ کیا جائے؟ خالدنے کھا: کیوں نہیں ، لیکن تم لوگ اصلاً نماز ہی نہیں پڑھتے ہو!

اعثم کھتے ہیں :

اس وقت ابو قتادہ جو خالد کے لشکریوں میں سے تھے اٹھ کھڑے ہوئے اور خالد سے کھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ان کو قتل کرنے کا حق نہیں رکھتا، کیونکہ جب ہم ان کو گرفتار کرنے گئے تو ان لوگوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟تو ہم نے کھا: مسلمان ہیں ،اس وقت انہوں نے بھی کھا : ہم بھی مسلمان ہیں اور اذان دی گئی اور ان سب نے ہمارے پیچھے نماز ادا کی۔

اس وقت خالد نے کھا: اے ابو قتادہ !اگرچہ یہ لوگ نماز پڑھتے ہیں مگر چوں کہ زکاة دینے سے انہوں نے انکار کیا ہے لہٰذا ان کو قتل کیا جائے گا، یہ سنکر وہ بوڑھا مرد زورز ور سے چیخنے لگا ،لیکن خالد نے ان کی ایک فریاداورآہ وبکا کو نہ سنا اور ان سب کو یکے بعد دیگرے بے رحمی ا ور بے دردی سے قتل کردیا!

اعثم کوفی کھتے ہیں :

اس وقت سے ابو قتادہ نے یہ عھد کر لیا تھا کہ جس لشکر ک ا سردار خالد ہوگا اس میں شرکت نہ کرے گا۔

پھر خالد نے مالک کو پکڑ کر آگے کھینچا، مالک نے کھا: اے خالد! تو ایسے شخص کو قتل کر رھا ہیجو کعبہ کی طرف نماز پڑھتا ہے؟! خالد نے کھا: اے مالک! تم مسلمان ہوتے تو زکاة دینے سے انکار نہ کرتے اور نہ اپنے قبیلے کو زکاة دینے سے منع کرتے ، اے مالک ! خدا کی قسم میں تم کو ضرور قتل کروں گا،قبل اس کے کہ تیرے لبوں تک ایک قطرہ آب پهنچے ،اس وقت مالک نے اپنی بیوی کی طرف چھرہ کیا اور فرمایا : اے خالد! تو مجھے اس (بیوی) کی وجہ سے قتل کر رھا ہے؟

خالد نے کھا: میں تجھے ضرور قتل کروں گا کیونکہ تو اسلام سے خارج ہوگیا ہے، تونے زکاة کے اپنے سارے اونٹ متفرق کردئے ہیں اور اپنے قبیلے کو زکاة دینے سے منع کردیا ہے، لہٰذا خدا نے تیرے قتل کا حکم دیا ہے ، اس وقت خالد نے مالک بن نویرہ کو تمام لوگوں کے سامنے قتل کر دیا۔

اعثم کوفی کھتے ہیں :

تمام مو رخین نے بالاتفاق نقل کیا ہے کہ خالد نے مالک کو قتل کرکے ان کی بیوی سے شادی کر لی تھی۔( ۲۳ )

مشہور مو رخ ِاسلام یعقوبی کھتے ہیں :

مالک کے بھائی متمم بن نویرہ نے اپنے بھائی کے سوگ میں اشعار و مراثی بھت کھے چنانچہ ایک روز متمم شھر مدینہ میں ابوبکر کے پاس گئے اورجب نماز صبحا بو بکر کے ساتھ بجالا چکے تو اپنی کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور مندرجہ ذیل اشعار پڑھنا شروع کر دئے:

نعم القتیل اذاالریاح تناوحت

خلف البیوت قتلت یابن الازور

ادعوته باللّٰه ثم غد رته

لوهودعاک بذ مة لم یغد ر

کیا خوب مقتول ہے کہ جب سے قتل ہوا توفضائیں نوحہ کر رھی تھیں ،اے ازور (جھوٹے) کے بیٹے تو نے اس کو پشت خانہ کعبہ میں قتل کیا ہے، آیا پھلے تو نے خدا کی طرف اسے دعوت دی اس کے بعد اس کے ساتھ حیلہ و فریب کیا؟ اگر وہ (مالک) تجھے دعوت دیتا اور تیرے ساتھ عھد و پیمان باندھتا تو ایسا ذلیل فعل انجام نہ دیتا۔( ۲۴ )

ابوبکر نے کھا: نہ میں نے اس کو دعوت دی تھی اور نہ اس کے ساتھ غدر و فریب کیا۔

یعقوبی کھتے ہیں :

عمرنے تخت خلافت پر آنے کے بعد واقعہ جو کام انجام دیا وہ یہ تھا کہ جن لوگوں کو ابو بکر نے اسیر بنا رکھا تھا ان کو آزاد کر دیا۔( ۲۵ )

اعثم کوفی کھتے ہیں :

جب مرتدین کے اسیروں کو لایا گیا تو عمر نے قتل کرنے سے منع کردیا تھا چنانچہ ان لوگوں کو ابوبکر نے یں خانہ میں ڈلوا دیا تھا ، لیکن عمر نے ان لوگوں کو آزاد کر دیا۔( ۲۶ )

جی ھاں! صرف ایک زکاة نہ دینے پر خلفاء نے کس طرح حکم خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کا خون مباح کر دیا تھا ؟!ظلم کی انتھا یہ کہ ان کے بچوں اور عورتوں کو بھی تہہ تیغ کر دیا گیا !اورجو عورتیں بچے زندہ رہے،ان کے ھاتھ، پیروں میں زنجیرو ھتھکڑی ڈال کر اسلامی دارالحکومت کی طرف خلیفہ کے حکم سے کشاں کشاں لیجایا گیا !(اور کچھ عورتوں سے زبردستی خود عقد کر لیا ! چنانچہ) ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ کو اس فعل کو خطا ء کهنے پر مجبور ہونا پڑا اور پھلی فرصت میں ان قیدیوں کو آزاد کیا ، یہ ہیں مسلمانوں کے چھیتے خلفاء کے سیاہ کارنامے کہ شریعت اسلامیہ کو بالکل بالائے طاق رکھ کر جو دل چاہا حکم صادر کیا!کسی کو کوئی پاس خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ تھا!

صحیح مسلم میں آیا ہے :

مولائے متقیان حضرت علیعليه‌السلام کو جب جنگ خیبر میں علم دیا گیا تورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اے علی !”امش ولا تلتفت “جاو اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا تو اب علیعليه‌السلام کی اطاعت دیکھئے !کچھ دور چلے اور بغیر اس کے کہ چھرہ کو پیچھے کریں اسی طرح کھا :یا رسول اللہ!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس قوم سے کب تک جنگ کروں؟رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جب تک یہ قوم خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان نہ لائے، بس اسی صورت میں ان کی جان و مال محفوظ ہے اس کے بعدفوراً چل دئے اور جنگ کی( ۲۷ )

یہ ہے اسلامی خلیفہ کی اطاعت ِ فرمانِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! یہ ہے اسلام کا نظام! ایسے ہی افراد پر خلافت الٰھیہ زیب دیتی اور نازکرتی ہے۔( اور وہ ہے مسلمانوں کے خلیفہ وقت اور نام نھادجانشین ِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کردار !وہ ہے اسلام اور فرمان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کھلواڑ !! ) بھرحال یہ تھا اس واقعہ کا خلاصہ جو آپ نے ان چند سطروں میں ملاحظہ فرمایا ، صحیحین میں بھی اس کی طرف قدرے اشارہ کیا گیا ہے۔

۲ ۔ جاگیرفدک اور میراث پیغمبر کی سرگزشت

جھاں اور بھت سی حکم خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفتیں دور خلافت ابوبکر میں کی گئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ساری میراث اورباغ فدک جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کو ھبہ کر دیا تھا واپس لے کر بیت المال میں ملا دیا گیا،اس طرح صدیقہ طاہرہ کے دل کو رنجیدہ کیا، اس ماجرا کو صحیحین میں دوجگہ عائشہ سے اشارةً نقل کیا گیا ہے ، لہٰذا پھلے ان دو مورد کو ذیل میں ہم معہ متن و ترجمہ پیش کرتے ہیں اس کے بعد ان کی اجمالی توضیح و تحقیق کریں گے:

۱…”عُرْوة بن اٴلزُبیر؛ان عائشة ام المومنین؛اخبرته ان فاطمة الزهراء علیهاالسلام ابنةَ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساٴ لت ابا بکر الصد یق بعد وفاة رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه ان یقسم لها میراثها مما ترک رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه مما افاء اللّٰه علیه، فقال لها ابوبکر:ان رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه قال”لا نورث ما ترکنا صدقة“ فغضبت فاطمة(س) بنت ُرسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه ، فهجرت ابابکر فلم تزل مهاجرتَه حتی توفِّیَتْ، وعاشت بعد رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه ستَة اشهر،قالت وکانت فاطمة(س) تساٴلُ ابابکرنصیبها مما ترک رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه من خیبروفدکٍ وصَدَقَتَهُ بالمدینة ،فابی ابوبکرعلیها ذالک…!! ( ۲۸ )

عروہ بن زبیر نے عائشہ سے نقل کیا ہے:

وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا نے ابوبکر سے مطالبہ کیا کہ آپ کو میراث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حصہ اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ثروت جو خداوند متعال نے آپ کو بطور خاص عطا فرمائی تھی دی جائے،ابوبکر نے کھا : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے: ”لانورث ما ترکنا صدقة “ھم کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے بلکہ جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتاہے۔

شہزادی کونین( س) اس جواب کو سن کرناراض ہوگئیں اور اسی ناراضگی کی حالت آپ نے د نی ا سے وفات پائی۔

عائشہ کھتی ہیں : فاطمہ(س) وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد چھ مھینے زندہ رھیں اور اس مدت میں آپ اس میراث کو طلب فرما تی رھیں جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خیبر ،فدک اور صدقاتِ مدینہ سے ارث کے طورپرچھوڑا تھا لیکن ابوبکر نے دینے سے انکار کردیا۔

۲ … عن عروة عن عائشة؛ ان فاطمه بنت النبی ارسلت الی ابی بکر تسئله میراثها من رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مما افاء الله علیها بالمدینه وفدک ومابقی من خمس خیبر،فقال ابو بکر:ان رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قال:” لا نورث ما ترکناصدقة“انما یاٴکل آل محمد فی هٰذا المال، وانی والله لا اغیر شیئاً من صدقة رسول الله عن حا لها التی کان علیها فی عهد رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،ولا اعملن فیها بما عمل به رسول الله ، فابی ابوبکران یدفع الی فاطمة منها شیئاً ،فوجدت فاطمة علی ابی بکر فی ذالک، فهجرته فلم تکلمه حتی توفیت، وعاشت بعد النبی ستة اشهر، فلما توفیت دفنها زوجها علی لیلاً ،ولم یوذن بها ابا بکر، وصلی علیها،وکان لعلی من الناس وجه حیاةفاطمة(سلام الله علیها)،فلماتوفیت،استنکرعلی وجوه الناس،فالتمس مصالحة ابی بکر،ومبایعته،ولم یکن یبایع تلک الاشهر،فارسل الی ابی بکران ائتنا ولا یاٴتنا معک احد …!! ( ۲۹ )

عروہ نے عائشہ سے نقل کیا ہے :

ایک مرتبہ بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا نے ابوبکر کے پاس کسی کو بھیجا کہ جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باغ فدک و دیگر اموال ِمدینہ میراث کے طورپر چھوڑے ہیں وہ شہزادی کو دے دئیجائیں اور خمس خیبر بھی دیا جائے ۔

ابوبکر نیجواب میں کھلایا : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے: ”لانورث ما ترکنا صدقة“ ہم کسی کو اپنا وارث نہیں بناتیجو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے بس وہ( آل رسول) اس مال وثروت سے استفادہ نہیں کرسکتے ہیں ،قسم بخدا میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ترک کردہ صدقہ اسی طرح ا ستعمال کروں گا جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں استعمال ہوتا تھااور ھرگز تغیر نہیں کرسکتا جس طرح رسوصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ل عمل کرتے تھے اسی طرح میں عمل کروں گا۔ پس جب ابوبکر نے میراث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کو نہیں دی تو حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا ابوبکر پر ناراض ہوگئیں اوراپنی وفات تک ابوبکر سے کلام تک نہ کیا۔ حضرت عائشہ کھتی ہیں : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد شہزادی کونین( س) صرف چھ ماہ زندہ رھیں اور جب آپ نے وفات پائی تو حضرت علی علیہ السلام نے شب کی تاریکی میں انھیں دفن کر دیا اور خود ہی نماز وغیرہ پڑھی، ابوبکر کو خبر تک نہ دی اور جب تک فاطمہعليه‌السلام زندہ تھیں علی علیہ السلام لوگوں کے درمیان وقعت و اہمیت رکھتے تھے، لیکن جب حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کی وفات ہوگئی تو لوگوں کے اخلاق و کردار علی علیہ السلام کے بارے میں بدل گئے اور وہ حضرت علیعليه‌السلام کو نفرت کی نظروں سے دیکھنے لگے ،”چنانچہ علیعليه‌السلام نے ابو بکر سے مصالحت کرنا چاہی تاکہ بیعت کریں جبکہ حضرت فاطمہ زھر اعليه‌السلام کے ہوتے ہوئے چھ مھینے تک آپ نے بیعت کرنا قبول نہیں کیا تھا، لہٰذا کسی کو ابوبکر کے پاس بھیجا کہ وہ ہمارے پاس تنھا آئیں اور کسی کو ساتہمیں نہ لائیں “۔( ۳۰ )

عرض مولف

یہ دونوں حدیثیں صحیحین میں مفصل مذ کو رھیں ہم نے یھاں پر صرف اپنے استشھاد کے لئے اختصار کے طور پر نقل کیا ہے،بھر حال عائشہ نے اپنے زعم ناقص میں ان دونوں حدیثوں کے ذریعہ معاملہ کو لیپنے پوتنے کا کام کیا ہے، لیکن موصوفہ کی گفتگو سے در حقیقت چند قابل ِ توجہ نکا ت کا ایک ناقابل ِ انکا ر حقیقت سے پردہ فاش کرتے ہیں ، چنانچہ اختصار کے طور پر ذیل میں ہم ان نکات کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کراتے ہیں :

۱ ۔ مذکورہ روایت سے ثابت ہو تا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صرف میراث میں باغ فدک ہی نہیں چھوڑا تھا جیسا کہ مشہور ہے بلکہ فدک کے علاوہ دیگر اموال، آراضی اور قریہ و دےھات بھی چھوڑے تھیجو اطراف مدینہ میں واقع تھے،( ۳۱ ) اور حضرت عائشہ کی گفتگو سے اسی نکتہ کا استفادہ ہوتا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ زھرا (س) ابو بکر کے ساتھ متعدد چیزوں مانند باغ فدک ، خمس ،غنائم ِخیبر، صفایا اور صدقات ِاطراف مدینہ میں اختلاف رکھتی تھیں ۔

ممکن ہے فدک کے مشہور ہونے کی وجہ یہ ہو کہ اس کی مالیت سب سے زیادہ تھی جیسا کہ سنن ابی داؤد (متوفی ۲۷۵ ھ) میں آیا ہے :خلافت عمر بن عبد العزیز ( ۹۹ ۔ ۱۰۱ ھ )کے زمانہ میں فدک کی سالانہ آمدنی چالیس ہزار دینار تھی۔( ۳۲ )

۲ ۔ ابوبکر نے میراث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کو نہ دینے کے لئے ایک جعلی دلیل کاسھارا لیا اور اس دلیل (حدیث) کورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف منسوب کر دیا !!

۳ ۔ فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا نے اس جعلی قانون کو رد کرتے ہوئے تمام لوگوں کے سامنے واضح کر دیا کہ ابوبکر کا یہ کهنا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ فرمایا ہے بالکل غلط اور بھتان ہے کیونکہ اگر میرے بابا کا یہ فرمان ہوتا تو مجھ سے وہ یہ بیان کر کیجاتے لہٰذا یہ ابوبکر کی من گڑھت حدیث ہے، اسے میں مردود جانتی ہوں،یھی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا نے ابوبکر سے تا وفات بات نہ کی اور یھی نہیں بلکہ آپ جنازے میں شرکت کے لئے بھی منع فرما گئیں تھیں ، چنانچہ حضرت علیعليه‌السلام نے ابوبکر کو شہزادی کی وفات کی خبر تک نہ دی تھی اور آپ نے خلیفہ وقت کوبغیر اطلاع کئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اکلوتی بیٹی کو راتوں رات نماز جنازہ پڑھ کر دفنا دیا ۔

۴ ۔حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھااپنی چھ ماہ کی زندگی میں مولائے کائناتعليه‌السلام کے لئے مخالفین کے مقابلہ میں سب سے بڑی قوت تھیں ،یھی وجہ تھی کہ جب تلک فاطمہ (س) زندہ رھیں آپ نے(بقول عائشہ ) خلیفہ وقت کی بیعت نہ کی اور شہزادی کے ہو تے ہوئے کسی میں ہمت نہ تھی جوعلیعليه‌السلام سے اعلانیہ نفر ت کرتا، لیکن جیسے ہی حضرت فاطمہ زھرا(س)کی وفات ہوئی تو حضرت علی سے لوگوں کے چھرے بدل گئے یھاں تک کہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ابو بکر سے مصالحت کی خواہش فرمائی!!

” استنکرعلی وجوه الناس فالتمس مصالحة ابی بکر“!! ( ۳۳ )

حد یث” نَحْنُ مَعَا شِرَالَْا نْبِیَاءِ لَانَرِثُ وَلَانُو ْرِثُ“کی حقیقت

قارئین ہماری بحث سے مربوط مذکورہ چار مطالب میں سے صرف پھلے دو مطلب ہیں :

۱ ۔ میراث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا غصب کرنا۔

۲ ۔ جھوٹا قانون جعل کرکے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف منسوب کردینا۔

ان دو مطلب میں سے بھی ہم میراث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غصب کرنے کے بارے میں بحث نہیں کریں گے،کیونکہ یہ بات توتمام مورخین کے نزدیک مسلم الثبوت اور مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ ہیکہ یہ حق حضرت فاطمہ زھرا ( س) کا تھا جس سے انھیں محروم کردیا گیا،چنانچہ اس وقت ہماری بحث صرف دوسرے مطلب (جھوٹا قانون )سے ہے، لہٰذا ذیل میں قدرے اس بارے میں تحقیق کرتے ہیں :

چونکہ خلیفہ اول اس حساس موقع پر اپنی بات کو عملی جامہ پهنانا چاہتے تھے اورجو اموالِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ زھرا کے پاس تھے انھیں بیت الما ل کا جزء بنانا چاہتے تھے اور اہل بیت نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقابلہ میں پبلک کے سامنے ہزیمت نہیں اٹھانا چاہتے تھے لہٰذا آپ نے حدیث کی صورت میں ایک نیاقانون گڑھا اور اس کی نسبت رسول کی طرفدے دی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:” ہم (گروہ انبیاء) جوترک کرتے ہیں وہ صدقہ ہوتاہے اور ہمارا کوئی وارث نہیں ہو تا !“( ۳۴ )

لیکن مذکورہ فرسودہ روایت کی قرآن صراحت کے ساتھ تکذیب کرتا ہے، اس کے علاوہ ذیل میں اس کیجعلی ہو نے پر چند دیگر شواہدو قرائن پیش کرتے ہیں تاکہ اہل انصاف کے لئے تحقیق کا راستہ باز ہوجائے :

اگر اس حدیث کا وجود تھا تو کیوں نہیں ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اعزا ، اقرباء اور اصحا ب میں بیان فرمایا یھاں تک کہ اپنی بیویوں ، داماد اوربیٹی کے سامنے بھی کبھی اس کا ذکر تک نہ کیا اور حضرت ابو بکر کے علاوہ کسی کو اس کا علم نہ تھا ایسا کیوں؟!

کیا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لازم نہ تھا کہ آیہ( وَانْذ ِرْعَشِیْرَتَکَ اَلٴاقْرَبِیْنَ ) اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! سب سے پھلے تم اپنے قرابت دارو ں کو ڈراؤ اور ان کو احکام الٰھی سے آگاہ کروکے مطابق سب سے پھلے اس قانون کو اپنی بیٹی ، داماد اور دیگر خاندان کے افراد سے بیان فرماتے ،تاکہ اصحا ب ا ور اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان ارث کے بارے میں اختلاف نہ ہوتا؟! کیارسول نہیں جانتے تھے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی میراث میں ایک شدید اختلاف ہو جائے گا ؟!

اور اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بیان فرمادیا ہو تا تو پھر حضرت فاطمہ زھرا (س)جو کہ ھر خطا و نسیان سے پاک و پاکیزہ تھیں ،جن کی شان میں آیہ تطھیر نازل ہوئی ،کیوں میراث طلب فرمانے کے لئے بنی ھاشم کی عورتوں کے ساتھ اس حا لت میں جاتیں کہ غصہ سے چھرہ زرد ہورھا تھااور چادر زمین پر خط دے رھی تھی اور آپ کی رفتار ہو بھو رسول کی مانند رفتار تھی؟ چنانچہ آپ اس حا لت میں مسجد نبوی میں ابو بکر کے پاس پهنچیں کہ جب ابو بکر مھاجرین ، انصار او ر صحا بہ کے درمیان بیٹھے محو گفتگو تھے، آپ کے پردہ کیلئے مسجد میں ایک چادر تان دی گئی ، اس پردہ کے پیچھے سے شہزادی کی درد ناک آوازآہ وبکا بلند ہوئی ، جس کی وجہ سے اہل مسجد پر ایک سکوت سا طاری ہوگیا اور ایک آہ ونالہ کی فریاد بلند ہوئی، حضرت فاطمہ زھرا (س) نے تھوڑا صبر کیا، یھاں تک آوازیں خاموش ہوئیں اور گریہ رک گیا،پھر آپ نے خطبہ شروع کیا، جس میں سب سے پھلے حمد وثنائے الہٰی بیان فرمائی اور زحمات ِ پیغمبر اور مسئلہ خلافت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محکم دلیلوں کے ساتھ مسئلہ توارث کو بیان فرمایا ، جس کا یہ جملہ آج بھی تمام تواریخ نے قلم بند کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

یابن ابی قحا فةاٴفی کتاب الله ان ترث اباک ولاارث من ابی “؟!

اے قحا فہ کے بیٹے !کیا یھی کتاب خدا میں ہے کہ تو اپنے باپ کا وارث بنے،لیکن میں اپنے بابا کی وارث نہ بنوں ؟!

اس کے بعد آپ نے رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کی طرف رخ کیا اور ان اشعار کو پڑھا:

اے بابا!جان آپ کے بعد مصیبتوںاور بلاؤں کے پھاڑ ٹوٹ گئے۔

اے بابا!اگر آپ زندہ ہوتے تواس قدر مصائب نہ ڈھائیجاتے ۔

اے بابا!کچھ لوگوں نے اپنے سینوں میں جوکینے چھپارکھے تھے، ان کو ظاہر کردیا، جب آپ چلے گئے اور ہمارے اور آپ کے درمیان مٹی کے ڈھیر حا ئل ہوگئے۔

اے بابا!آپ کیجانے کے بعد کچھ لوگ ایسے ہوگئیجوھم کو بھرے دربار میں ذلیل کرتے ہیں اور نفرت کا اظھار کرتے ہیں ، اے بابا!لیجئے اب ہمارے مال کو صریحا غصب کیا جا رھاہے؟!

”لمااجمع ابو بکر علی منع فاطمة فدک،بلغها ذالک،لاثت خمارها، واشتملت بجلبابها،واقبلت فی لمة من حفدتها،ونساء قومها،تطاٴ ذیولهاما تخرم مشیتها مشیة رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،حتی دخلت علی ابی بکر،وهو فی حشد من المهاجرین والانصاروغیرهم،فنیطت دونها ملاٴة،فحنت ثم انت انة،اجهش القوم لهابالبکاء، فارتج المجلس ثم امهلت هنیةً،حتی اذا اسکن نشیج القوم،وهدئت فورتهم، افتتحت الکلام … الی ان قالت:

۱ قد کان بعدک انباء وهنبثه

لوکُنْتَ شاهِدَ ها لَم تکثر الخطبُ

۲ اَبد ت لنارجالٌ نجوی صدورِهم

لَمَّاقضیتَ وحا لَتْ دونک الکثبُ

۳ تَجْهمتنارجالٌ واستخف بنا

اذغِبْتَ عنا فنحن الیوم مغتصبُ(۳۵)

اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حدیث بیان فرمائی ہوتی تو ھر گز فاطمہ زھرا.کہ جس کی شان میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بارھا فرمایا تھا: ”جس نے فاطمہعليه‌السلام کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی“( ۳۶ ) ابو بکر سے تاوفات ناراض نہ ہوتیں ، جبکہ آپ خلیفہ سے اس قدر ناراض تھیں کہ حضرت علی علیہ السلام سے وصیت بھی کردی تھی کہ ابو بکر ان کے کفن و دفن میں شریک نہ ہوں اور اگر یہ حدیث صحیح ہوتی توحضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالبعليه‌السلام و حسنین علیھم السلام ،جن کی شان میں آیہ مباہلہ و آیت تطھیر نازل ہوئیں ھر گز حضرت فاطمہ زھرا (س)کے دعویٰ کی موافقت نہ کرتے ۔

اور اگر یہ حدیث سچی ہوتی تو اہل بیتعليه‌السلام کیسے اس بات سے راضی ہو ئے کہ جو صدقہ اور فقراء کا مال ہے اس کو خود ضبط کرلیں ؟!! جبکہ خود صحیحین میں وارد ہوا ہے کہ اہل بیتعليه‌السلام پر صدقہ حرام ہے۔

پس مذکورہ باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ حضرات( حضرت فاطمہ زھرا ، حضرت علی ، حسنین علیھم السلام)ابو بکر کو اس حدیث کے بارے میں جھوٹ ا سمجھتے تھے۔( ۳۷ )

کیا صحا بہ کرام ”حد یث لا نورث “سے مطلع تھے ؟!

جیسا کہ ہم نے ضمناً اشارہ کیا کہ حدیث میراث( ہم گروہ انبیاء نہ کسی کو وارث بناتے ہیں اور نہ کسی کے وارث بنتے ہیں )ابو بکر کے علاوہ کوئی بھی صحا بی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ جانتا تھا ، چنانچہ اس بات پر تمام علماء ،محققین اور مورخین اہل سنت کااتفاق ہے ، ہم بطورنمونہ چند شواہد ذیل میں نقل کرتے ہیں :

۱ ۔ ابن ابی الحدیدمعتزلی اپنی شرح نہج البلاغہ میں تحریر کرتے ہیں :

اس حدیث کو صرف ابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے اور اس پر تما م بزرگ محدثین اتفاق رائے رکھتے ہیں ، یھا ں تک علم اصول ِ فقہ میں اس واقعہ سے استنباط کرتے ہیں کہ انسان صرف ایک صحا بی کے قول کو دلیل بنا کر دینی موضوعات میں حکم صا در کر سکتاہے،ایک جگہ تحریر کرتے ہیں : یہ بات سید مرتضیٰ(رہ)کی صحیح ہے کہ اس حدیث کو تنھاابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیاہے ۔( ۳۸ )

۲ ۔علامہ جلال الدین سیوطی اپنی کتاب” تاریخ الخلفاء“ میں تحریرکرتے ہیں :

رحلت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اصحا ب کے درمیان آپ کی میراث کے سلسلے میں اختلاف ہوگیاتھااور اس بارے میں کسی کو کوئی اطلاع نہ تھی ، تنھا ابوبکر تھیجنھوں نے فرمایا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:”اِنَّامَعٰشِرَ اْلاَنٴبِْیَاء لانورِْثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَة ً“ ھم گروہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے ،بلکہ جو کچھ ترک کرتے ہیں وہ صدقہ ہوتاہے ۔( ۳۹ )

۳ ۔ علامہ ابن حجر تحریر فرماتے ہیں :

جب میراث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اختلاف ہوگیااور اس بارے میں کسی کے پاس کوئی اطلاع نہ ملی ،تب ابوبکر نے کھا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے:”اِنَّا مَعٰشِرَ اَلانْبِیَاءِ لَانُوْرِثُ مَاتَرَکْنَا صَدْقَةً( ۴۰ )

کیاازواج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث”لانورث“سے واقف تھیں؟

جس طرحا صحا ب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مذکورہ حدیث سے مطلع نہ تھے، اسی طرحا زواج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی اس حدیث کی مطلقاً خبر نہ تھی ، لہٰذا اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو کم سے کم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسرے لوگوں سے پھلے اپنی ازواج کو تو ضرور بتلاکر جاتے ؟( یھاں تک کہ آپ نے اپنی چھیتی بیوی حضرت عائشہ سے بھی اس بات کو نہ بتلایا !!) کیونکہ آپ کی ازواج بھی میراث میں حصہ دار تھیں ۔

چنانچہ صحیح بخاری میں عائشہ سے منقول ہے:

خود ازواج پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد میراث میں سے اپنے حصہ کا مطالبہ عثمان کے ذریعہ ابوبکر تک پهنچایا،پس اس مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی عملاً ابوبکر کو مذکورہ حدیث نقل کرنے میں منفرد اور کاذب سمجھتی تھیں ، ان کا بھی یھی عقیدہ تھا کہ میراث کا یہ نیا قانون خود ابو بکر کا گڑھا ہوا ہے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسی کوئی حدیث بیان نہیں فرمائی ہے نہ اسلام میں ایسا کوئی قانون پایا جاتا ہے( اوربالخصوص حضرت عائشہ کا مطالبہ میراث کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ بھی اپنے بابا کو اس معاملہ میں جھوٹا جانتی تھیں ) چنانچہ امام بخاری نے اس بارے میں ایک مفصل حدیث نقل کی ہے ملاحظہ ہو :

”…عن عروة ابن الزبیر:سمعت عایشة زوج النبی: تقول؛ ارسل ازواج النَّبِی صلَّی الله علیه وآله وسلم، عثمان الیٰ ابی بکریسئلنه ثمنهن مماافاء الله علیٰ رسوله، فکنت انااَرُدُهن فقلت لهن: الا تتقین الله الم تَعْلَمْنَ ان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کان یقول:”لانورث ماترکنا صدقة“؟یریدبذالک نفسه انمایاکل آلُ محمد عليه‌السلام فی هذاالمال؟!…“ ( ۴۱ )

عروہ بن زبیر نے عائشہ سے نقل کیا ہے:

ازواج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عثمان کو ابوبکر کے پاس بھیجاکہ ان کے حصہ ( ۸۱) کی میراث ان کو دی جائے،جواللہ نے رسوصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ل کو عطاکی تھی عائشہ کھتی ہیں : میں نے ان کو جواب دیاکہ کیا تم کو خوف خدا نہیں ، کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :”لَانُوْرِثُ مَاتَرَکْنَا صَدَقَةً “ھم کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے، بلکہ جو ترک کرتے ہیں ، وہ صدقہ ہو تاہے ، لہٰذارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیتعليه‌السلام اس مال سے دیگر مسلمین کی طرح بقدر حا جت اخذکرسکتے ہیں ؟!

عرض مولف

جیساکہ ہم نے پھلے اشارہ کیاکہ اس حدیث کو سوائے ابوبکر کے کسی نے نقل نہیں کیا ہے، چنانچہ متذکرہ روایت

میں بھی عائشہ نے دیگر ازواج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے اپنے باباجان کے قول کو ہی دھرایا ہے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کھی ۔ اور یہ بات بھی مخفی نہ رہے کہ دوران خلفائے ثلاثہ تمام ازواج کو بیت المال سے وظیفہ ملتا تھا اور یہ وظیفہ اس میراث کی خانہ پری کرتا تھا،جس کو ابوبکر نے حدیث کے سھارے سے دبالیا تھا اور حضرت عائشہ کوبنسبت دیگر ازواج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمیشہ زیادہ ملتارھاہے، بھر حال حقیقت وھی ہیجسے ابن ابی الحدید کے ہم عصر جناب علی ابن الفارقی استاد مدرسہ غر بیہ بغداد نے ابن ابی الحدید سے کھا تھاکہ جب ابن ابی الحدید نے آپ سے پو چھا :

آیا حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کا دعویٰ فدک کے بارے میں صحیح تھا؟

ابن الفارقی نے کھا :جی ھاں !بالکل حق بجانب تھا ،اس وقت ابن ابی الحدید نے کھا: پھر استاد ابو بکر نے فدک واپس دینے سے گریز کیوں کیاجبکہ خود ابو بکر اس بات کو درست سمجھتے تھے ؟ابن الفارقی جوکہ ایک باوقار اور هنسی مذاق سے دور رهنے والے شخص تھے مسکرائے اور اس لطیف جملہ کو بیان کیا : اگر اس روز ابوبکر اس کو مان جاتے اور صرف حضرت فاطمہ(س) کے دعویٰ کرنے پر باغ فدک واپس کردیتے تو آگے چل کر اگر حضرت فاطمہ زھرا (س) اپنے شوھر نامدار کے لئے خلافت کے سلسلے میں دعویٰ کرتیں تب ابوبکر کو ماننا پڑتا اور ابوبکر کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے تھے،کیونکہ جب آپ حضرت فاطمہ زھرا (س) کو مسئلہ فدک میں سچا اور صادق تسلیم کرچکے ہوتے تو پھر مطالبہ خلافت پر کسی دوسری دلیل کی ضرورت نہ ہوتی۔پھرابن ابی الحدید کھتے ہیں : اگر چہ استاد نے مجھ سے یہ بات مزاح و شوخی کے طورپر کھی تھی مگر حقیقت میں یہ مطلب صحیح تھا!! یعنی حضرت فاطمہ زھر ا سلا م الله علیھا اپنے قول میں بالکل صادق تھیں :

هٰذا الکلام صحیح و ان کان اخرجه مخرج الدعابة والهزل( ۴۲ )

۳ ۔ صلح حدیبیہ اورحضرت عمرکی کٹ حجتی!!

ابو وائل کھتے ہیں کہمیں جنگ صفین میں تھا، جب لشکر علیعليه‌السلام و معاویہ میں جنگ بندی پراتفاق ہو نے کے بعداس کا اعلان کر دیا گیاتوحضرت علی علیہ السلام کے لشکر سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے مخالفت کردی، اس وقت سھیل بن حنیف ، لشکر کے در میا ن کھڑے ہو کر یوں کهنے لگے :

یاایهاالناس اتّهموا انفسکم فانا کنّا مع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله یوم الحدیبیة،ولونری قتالا لٰقتلنا،فجاء عمربن الخطاب،فقال یارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله !اٴلسنا علی الحق وهم علی الباطل؟فقال:بلی فقال:اٴلیس قتلا نا فی الجنة وقتلا هم فی النار؟قال: بلی،قال:فعلیٰ مانعطی الد نّیه فی دیننا اٴَ نرجع ولما یحکم الله بینناوبینهم؟فقال:یا بن الخطاب! انی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ولن یُضَیِّعَنیِ الله ابدا،فرجع متغیظا فلم یصبرحتی جا ء ابوبکر، فقال: یا ابابکر! اٴلسنا علی الحق وهم علی الباطل؟ قال:یا بن الخطاب اِنه رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ولن یضیّعه الله ابدا، فنزلت سورة الفتح:<اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحا مُّبِیْناً…

اے لوگو ! امیر المومنینعليه‌السلام کے سامنے اپنا نظریہ بیان نہ کرو اور خود خواہی سے دور رھو ،کیو نکہ میں صلح حدیبیہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھا اور ہم تیار تھے کہ اگرجنگ ہو گی توجنگ کریں گے (لیکن جب صلح پر معاہدہ طے پایا) توعمرا بن خطاب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آ ئے اور معاہدہ صلح پر اپنی ناراضگی کا اظھار کیا اور کهنے لگے: یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ! کیا ہم حق پر اور مشرکین باطل پر نہیں ہیں ؟! رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:کیوں نہیں ،ھم حق پر ہیں اور مشرکین باطل پر ہیں ،اس پر عمر نے کھا :کیا ہم میں سیجو قتل ہوں گے وہ جنت اور مشرکین کے مقتولین جهنم میں نہیں جائیں گے ؟ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :کیوں نہیں ، عمر نے کھا: پھر کیوں ہم اپنے موقف میں ذلت اختیار کریں اور بغیر جنگ و فتحیابی کے اپنے وطن واپس چلیجائیں ؟! رسول نے فرمایا:اے خطاب کے بیٹے ! میں الله کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں ، میں جو بھی اقدام کروں گا،خدا اس کو بے نتیجہ اور ضائع نہیں کر یگا ، عمر پھر بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کلام سے مطمئن نہ ہوئے اور حا لت غیظ میں واپس آگئے، یھاں تک کہ جب ابوبکر آئے تو ان سے کھا : اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور مشرکین باطل پر نہیں ہیں ؟ ابوبکر نے کھا: اے عمر! وہ خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ،خدا ان کے اقدام کو ھر گز ضائع نہیں کرتا ،چنانچہ اسی وقت خدا نے سورہ فتح نازل کرکے مسلمانوں کو فتحیابی کا مژدہ سنایا۔( ۴۳ )

مذکورہ حدیث صحیحین میں کئی سند کے ساتھ وارد ہوئی ہے ،ان میں سے ایک حدیث میں یہ جملہ بھی ملتاہے کہ جب سورہ فتح نازل ہواتو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ سورہ عمر کے پاس بھجوایا، عمر نے کھا: کیا یہ مژدہ فتح ہے ؟رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:ھاں عمر فتح کی خوشخبری ہے، تب عمر خاموش ہو کر چلے گئے ۔( ۴۴ )

عرض مولف

قارئین کرام ! آپ حضرات مذکورہ حدیث اور آئندہ آنے والے واقعہ قرطاس سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے خلیفہ دوم کی جسارت اور جرات کااچھی طرح ا ندازہ لگ ا سکتے ہیں اور ان واقعات سے اس بات کا بھی علم ہو جاتا ہے کہ آپ کا رسول اسلامعليه‌السلام کے قول و فعل پر کس قدر ایمان ، اعتقادا وراعتماد تھا ؟ اسی طرح صاحبِ( <وَماَیَنْطِقُ عَنِ الْهَویٰ. اِنْ هُوْاِلاَّوَحْیٌ یُوْحیٰ> ) کے فرمان کے سامنے خلیفہ صاحب کا رد عمل بھی ہمارے لے واضحا ور روشن ہو جاتا ہے ۔

اے ایماندارو ! بولنے میں تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیاکرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زو ر زور سے بولا کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو ،ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرای ا سب اکارت ہو جائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو .بے شک جو لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرلیا کرتے ہیں یھی لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پرھیزگاری کیلئیجانچ لیا ہے ان کیلئے آخرت میں بخشش اور بڑا اجر ہے ۔( ۴۵ )

۴ ۔ واقعہ قرطاس اور حضرت عمرکارویہ!!

۱…”عبیدالله بن عبد الله بن عتبةعن ابن عباس؛ قال:لماحُضِررسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله وفی البیت رجال فیهم عمر بن الخطاب،فقال النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :هَلُمَّ اکتب لکم کتابالاتضلون بعده ،فقال عمر:ان رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قد غلب علیه الوجع،و عندکم القرآن حسبنا کتاب الله ،فاختلف اهل البیت،فاختصموا،فمنهم من یقول قرّبوا یکتب لکم رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لن تضلّوابعده،ومنهم یقول ماقال عمر،فلما اکثرواللغووالاختلاف عند رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ،قال رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله :قومواقال عبید الله :فکان ابن عباس یقول:ان الرزیة کل الرزیة ماحال بینَ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله وبین ان یکتب لهم ذالک الکتاب من اختلافهم ولغطهم “ ( ۴۶ )

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ ،ابن عباس سے نقل کرتے ہیں :

جب رحلت پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نزدیک ہوئی اس وقت آپ کے اصحا ب کا ایک گروہ آپ کے خانہ اقدس میں موجود تھا ،جن میں حضرت عمر بھی تھے ، رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: مجھے (قلم و دوات ) دیدوتاکہ تمھارے لئے ایک نوشتہ لکھتاجاوں کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو ،عمر نے کھا:ان کے اوپر وجع(شدیدبخار) کا غلبہ ہے ( اس لئے یہ اَوْل فول بک رہے ہیں )ھمارے درمیان کتاب خدا ہے، جو ہمارے لئے کافی ہے ، پس تمام حا ضرین کے درمیان اختلاف ہو گیا اور ایک دوسرے کی آوازیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے بلند ہونے لگیں ،بعض لوگ کهنے لگے : رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کاغذو قلم دیدیا جائے تاکہ وہ کچھ لکھ دیں جو ہم کو گمراہ ہو نے سے بچالے اوربعض لوگ عمر کی پیروی میں انکار کررہے تھے، جب بھت زیادہ ھلڑ هنگامہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے بلندھو گیا ،تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:یھاں سے چلیجاو! عبید الله کھتے ہیں : ابن عباس کھا کرتے تھے: سب سے بڑی مصیبت اسلام میں یھی تھی کہ اس قدر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے اختلاف اور هنگامہ برپاہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وصیت نامہ نہ لکھ سکے!!

۲…”عن سعید بن جبیر عن ا بن عباس؛انه قال:یوم الخمیس ومایوم الخمیس؟ثم بکیٰ حتیٰ خَضَبَ دمعهُ الحصباءَ،فقال اشتد برسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله وجعُه یوم الخمیس،فقال ایتونی بکتاب اکتب لکم کتابالن تضلوابعده ابدا،فتنازعواولا ینبغی عند نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تنازُعٌ ،فقالوا:هجررسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله!وقال صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :دعونی فاالذی انافیه خیر مماتدعوننی الیه،واوصٰی عند موته بثلاث:اخرجواالمشرکین من جزیرة العرب، واجیزواالوفَد بنحوماکنتُ اجیزُهم،ونسیت الثالثة!!! ( ۴۷ )

سعید بن جبیر نے ابن عباس سے نقل کیا ہے:

آپ فرماتے تھے: جمعرات کا دن کس قدر عظیم مصیبت کا دن تھا ،اس کے بعد آپ گر یہ کر نے لگے اور اس قدر گریہ کیا کہ آپ کے آنسووں سے پوری ڈاڑھی تر ہو گئی اور کهنے لگے : روز جمعرات جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیاتوآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم صادر فرمایا : مجھے قلم ودوات دیدو تاکہ تمھارے لئے نوشتہ لکھدوں اور تم گمراہی سے میرے بعد محفوظ رہو۔ لیکن اس حکم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لوگ آپس میں جھگڑا کرنے لگے، حا لانکہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنیجھگڑانھیں کر نا چاہیئے تھا،چنانچہ بعض افراد (جیسے عمر)کهنے لگے: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہذیان بک رہے ہیں ، (ان کی بات مت مانو)اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے (ناراضگی کی حا لت میں ) ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے گھر سے نکل جاؤ، کیونکہ میرے لئے مرض کی تکلیف تمھار ی نافرمانی اور حکم عدولی کی تکلیف سے بھتر ہے۔

ابن عباس کھتے ہیں : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی وفات کے وقت تین باتوں کی وصیت کی تھی :

۱ ۔ حکم دیا کہ مشرکین کو جزیرةالعرب سے باہر نکال دو۔

۲ ۔ جو لوگ شھرمدینہ آئیں ان کو انعام وعطای ا سے نوازا جائے، جس طرح میں اپنی زندگی میں ان کو نوازتا تھا۔

۳ ۔ تیسری چیز میں ( راوی) فراموش کر گیا!!

عرض مولف

یہ حدیث صحیح مسلم میں ابن عباس سے دو طریق (سند) سے نقل کی گئی ہے : پھلاطریق؛ سعید بن جبیر تک پهنچتا ہے

اوردوسرا طریق ؛عبیداللہ بن عتبہ تک پهنچتا ہے۔( ۴۸ )

صحیح بخاری میں سات ( ۷) موارد پر مختلف اسناد کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا گیا ہے ۔

چونکہ یہ حدیث متن و الفاظ کے اعتبار سے صحیح بخاری میں ھر جگہ کچھ نہ کچھ مختلف نقل کی گئی ہے ،لہٰذا ان میں قابل ِ توجہ نکات اوراختلاف کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں :

پھلانکتہ:۔ صحیح بخار ی کے سات موارد میں سے تین ایسے مورد ہیں جھاں پر صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ حضرت عمر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے حکم کی مخالفت کی اور آپ کو وصیت لکھنے سے روک دیا اور ان میں یوں آ یا ہے کہ عمر نے کھا :”فقال عمر:ان رسول الله قد غلب علیه الوجع…“ ( ۴۹ ) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پربخار کا غلبہ ہے، اس لئے آپ الٹی سیدھی باتیں بک رہے ہیں !!

اور چار جگہ پرراوی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کرنے والے کے نا م کو ذکر نہ کرکے لفظ ”بعض“ اور”قالوا“وغیرہ کہہ کر نام چھپانے کی کو شش کی ہے،ان میں سے ایک جگہ” بعض“ اور” قد غلب علیہ الوجع“کے ساتھ یوں استعمال ہوا ہے:”فقال بعضهم: ان رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ، قد غلب علیه الوجع ((پس بعض لوگوں نے کھاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بخار کا غلبہ ہے))( ۵۰ ) اور تین ” قد غلب“ کی جگہ ہجر اور بعض کی جگہ”فقالوا “کے ساتھ اس طرح آ یا ہے:”فقالوا:هجر رسول الله “((پس لوگوں نے کھا : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہذیان بک رہے ہیں ))۔( ۵۱ )

بھر کیف مذکورہ احادیث کے مضمون اوران میں موجود تمام قرائن کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وصیت لکھنے سے باز رکھا ، جس نے اس معاملہ میں سب سے پھلے شبہ کا القاء کیا، وہ حضرت عمرھی تھے،لہٰذاان حدیثوں میں مذکورہ اختلافِ الفاظ:”فقال بعضھم“اور”فقالوا

ہجررسول الله “حقیقت کو نہیں چھپ ا سکتا ،کیونکہ ا گر چہ کچھ روایتوں میں لفظ ِ”بعض“ آیا ہے لیکن بعض روایتوں میں صراحت کے ساتھ خلیفہ صاحب کے نام کا ذکر ہیجو لفظ ”بعض“ کے پیچھے چھپے ہوئے شخص کی نشان دھی کرتا ہے اور جو لوگ حا ضرین میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت قبول ا و ررد کرنے کے بارے میں مخالفت کررہے تھے، وہ حضرت عمر ہی کی وجہ سے وجود میں آئی، کیونکہ ان کے قول کے بعد کچھ لوگوں نے آپ( عمر ) کی موا فقت کی اور کچھ لوگوں نے مخالفت کی ،پس جس جگہ لفظ ِ”بعض“ کا استعمال ہوا ہے، وہ بھی حضرت عمر کے اشارہ او ر ایماء سے ہی وجود میں آیا:

”فقال عمر:ان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله قد غلب علیه الوجع وعند کم القرآن حسبنا کتاب الله ،فاختلف اهل البیت، فاختصموا،فمنهم من یقول قربو ا یکتب لکم رسول الله کتاباً لن تضلوا بعده ،ومنهم من یقول ما قال عمر “

ابن ابی الحدیدنے ابن عباس اورعمر میں ایک مرتبہ ملا قا ت کے درمیان جو گفتگوہوئی اس کو بالتفصیل نقل کیا ہے، جس میں حضرت عمر نے صریحا اس بات کو قبول کیا ہے کہ میں ہی نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وصیت لکھنے سے باز رکھا :

”و لقد اراد ان یصرح باسمہ، فمنعت من ذالک “

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حا لت مرض میں چاہتے تھے کہ خلافت کے بارے میں علیعليه‌السلام کے نام کی تصریح کردیں ، لیکن میں نے ان کو اس بات سے باز رکھا ۔“

ابن ابی الحدید اس کے بعدکھتے ہیں :

ذکر هٰذاالخبر احمد بن ابی طاهرصاحب کتاب تاریخ بغداد فی کتابه مسندا ۔“( ۵۲ )

اس واقعہ کو احمد بن ابی طاہر تاریخ بغداد کے مولف نے اپنی کتاب میں باقاعدہ تما م اسناد کے ساتھ تحریر کیا ہے ۔

دوسرانکتہ:۔ دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جب رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وصیت لکھنے کے لئے قلم دوات طلب فرمایا تو جواب میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ”ھجررسول الله “ اور”قد غلب علیہ الوجع “ جیسے کلمات استعمال کئے گئے!جو مفہوم اور معنی کے لحا ظ سے ایک ہیں ، یعنی جس طرح ”ھجررسول الله “سے توھین رسالت ہو تی ہے، اسی طرح ”قد غلب علیہ الوجع“سے توھین رسالت ظاہر ہوتی ہے اور ”ہجر رسول الله “کہہ کر ہذیان اور بیہودہ گوئی کی نسبت خاتم الانبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں دینا تونھایت ہی بدتمیزی اور گستاخی ہے!! یھی وجہ ہے کہ جب رُواة ِاحادیث اور مورخین ِ اہل سنت و الجماعت نے اس چیز کو دیکھا کہ اس روایت میں ہجر و ہذیان کی نسبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف خلیفہ صاحب کی جانب سے صراحت کے ساتھ دی گئی ہیجو قابل ِ تنقید واعتراض ہے اور اس طرح کی نسبت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف دینا صریحا قرآن کے مخالف ہے :مَاْ ضَلَّ صَاْحِبُکُمْ وَمَاْ غَوٰی(نہ تمھارادوست گمراہ ہو ااور نہ بھکا) لہٰذا اپنی پرانی خصلت کے مطابق روایت کے الفاظ میں اس طرح ردو بدل کردی کہ جھاں ہجر (ہذیان ) کا لفظ تھا وھا ں لفظ ِ عمرکو چاٹ گئے اور ہذیان کی نسبت حا ضرین ِ مجلس(فقالوا ہجر رسول الله ) کی طرف دے دی!!

ا ورجھاں خلیفہ صاحب کا نام صراحتاً یا کنایةً جیسے لفظ بعض کی آڑ میں مذکور تھا وھاں جملہ ”قدغلب علیہ الوجع“(ان کے اوپر بخار کا غلبہ ہے ) جوکنایہ کی صورت میں ہے اضافہ کردیا ،تا کہ اپنے محبوب کو تنقید سے کچھ حد تک بچایا ج ا سکے!!لیکن اگر غور کیا جائے تو جیسا کہ پھلے ہم نے اشارہ کیا کہ حا ضرین کے درمیان اختلاف کرنے کا شوشہ حضرت عمر ہی کی جانب سے چھوڑا گیا تھا یعنی حضرت عمرسے پھلے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات قبول کرنے میں کوئی بھی آنا کانا نہیں کر رھا تھا، یہ تو صرف آپ کی ہی دین تھی جس کی وجہ سے لوگوں میں حکم ِ رسول کی بابت چہ می گوئیاں ہونے لگیں،لہٰذا حا ضرین کی جانب سے اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہذیان کی نسبت دی گئی تھی تووہ حضرت عمر ہی کے الفاظ دھرا رہے تھے اوراس سلیقہ سے پےش آنے کا طریقہ حضرت عمر نے ہی بتلایا تھا!!( ۵۳ )

تیسرا نکتہ :۔تیسرا نکتہ جو اس حدیث کے ذیل سے مربوط ہیجسے اہل سنت کے بعض محدثین ومولفین نے نقل کیاہے اور بعض نے نھیں، یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تحریری وصیت نامہ نہ لکھ سکے تواس وقت آپ نے تین چیزوں کی وصیت کی ،لیکن ان تینوں وصیتوں میں سے( بعض ناقلین ِ حدیث نے) صرف دو کو تو قلمبند کیا ہے مگر تیسری چیز کے بارے میں کھا گیا کہ راوی فراموش کر گیا!!

سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ وہ تیسری کون سی شے تھی جسے راوی فراموش کر گیا ؟!آخر تیسری وصیت کے یاد رکھنے کے موقع پر ہی کیوں راوی کے ذهن پرمکڑی نے فراموشی کا جالا تنا ؟! یقینا کوئی ایسی شیتھی جس کے فراموش کرنے میں راوی کو مصلحت نظر آئی اور بقیہ یا د رہ گئیں ؟!

بھر حال اتنی بات تومسلم ہے کہ تیسری کوئی ایسی خاص شےتھی جس کے اہتمام کے لئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حساس موقع پر لکھنے کی ضرورت محسوس کی اور زبانی بتانے پر اکتفاء نہ کی اور ارشاد فرمایا : قلم و دوات دے دو تاکہ میں لکھدوںاور تم گمراہی سے محفوظ رہو۔

پس اتنا تو ماننا ہی پڑے گاکہ جس تیسری شےکی رسول وصیت کر رہے تھے وہ گمراہی سے بچانے والی تھی ،لہٰذا اب ہمیں جستجو اس بات کی کرنا ہے کہ آخر وہ شےجو گمراہی سے امت ِ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بچانے والی ہے وہ کیا ہے ؟کیا دیگر مورخین ومحدثین نے کوئی ایسی شے بتلائی ہیجو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت کو گمراہی سے بچالے ؟تواس کے لئے اکثر علمائے اہل سنت کا اتفاق ہے اور اس کو مسلم نے بھی اپنی صحیح میں نقل کیاہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

”انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا ابداً کتاب الله و عترتی …“

اے لوگو! میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ یجارھا ہو ں ایک کتاب خدا ہے اور ایک میری عترت جو میرے اہل بیتعليه‌السلام ہیں ،اگر تم نے ان سے تمسک کیا توگمراہی سے محفوظ رھو گے اور یہ دونوں چیزیں کبھی ایک دوسرے سیجدا نہیں ہوں گی یھاں تک کہ یہ دونوں ساتھ ساتھ ہمارے پاس حوض کوثر پر واردہوں گی ۔

چنانچہ اسی بات کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بار بار قلم مانگ رہے تھے:

”فقال اٴِیتونی بکتاب اکتب لکم کتابالن تضلوا بعده ابدا“

اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ جو چیز نجات ِ مسلمین کا باعث ہووھی راوی بھول جا ئے(اورجو قابل اہمیت نہ ہو ں وہ یاد رہ جائے )تعجب خیزنھیں تو کیاہے ؟!!

پس ثابت ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بوقت وفات ایک بھت ہی اہم امر کی وصیت کرنا چاہتے تھے کہ جس کی وجہ سے بعض صحا بہ کی طرف سے ایسا ر د عمل ہو ا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جیسی بلند شخصیت کے مقابلہ میں بھی مخالفت کرنے کھڑے ہو گئے!!( ۵۴ ) اوریھی نہیں کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی ان لوگوں نے نافرمانی کی، بلکہ یہ لوگ باقاعدہ آپ کی اہانت کرنے پر تل گئے !اور کهنے لگے:

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دماغ خراب ہو گیا ہے ! معاذالله یہ دیوانے ہو گئے ہیں!ان کی باتیں کوئی نہ سنے !یہ پاگل پن اور ہذیان کی باتیں کرتے ہیں !!!

بھر حال ان تما م باتوں سے ثابت ہو تا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بوقت آخرایک ایسی اہم شے لکھنا چاہتے تھیجو بعض لوگوں کو ہضم نہ ہو سکی اور مخالفت کر بیٹھے! اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ سلسلہ رواة میں سے ابن عباس اور سعید بن جبیر نے تیسری وصیت کو نقل کیا تھا لیکن جب یہ سلسلہ تیسرے راوی جناب سلیمان تک پهنچا تو وہ تیسری شے بھول گئے:(ونسیت الثالثھاور میں تیسری وصیت فراموش کر گیا!)کیونکہ بخاری تصریح کرتے ہیں :

”سفیان بن عینیہ اس حدیث کے سلسلہ رواة میں سے چوتھے فردکھتے تھے :یہ قول (نسیت الثالثہ“ میں تیسری وصیت بھول گیا) سعید بن جبیر یا ابن عباس کا نہیں بلکہ سلیمان کا ہے ”قال سفیان بن عینیہ: ھذامن قول سلیمان“سفیان کھتے ہیں :” مجھ سے سلیمان نے کھا: میں تیسری وصیت فراموش کر گیا“ ۔( ۵۵ )

پس نتیجہ یھی نکلتا ہے کہ جس چیز کو فراموشی کا نام دیا گیاوہ صرف اہل بیتعليه‌السلام کی حا کمیت اور بالاخص علیعليه‌السلام کی خلافت کامسئلہ تھا جس کو دیگر مقامات پر مثلاًابن عباس اور عمر کے درمیان کی گفتگو میں وضاحت کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے ۔

عرض مولف

مردہ باد ایسی سیاست جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو واضحا ور روشن حقائق کے بیان سے باز رکھا ،زائل ہو جائیں وہ ذهن جو عالی اور لازمی مطالب کو سیاست میں فراموش کر جائیں !! لعنت ہو ایسی سیاست پر جس کی وجہ سے حقائق میں تحریف کردی جائے!!!

ایک اعتراض

بعض علمائے اہل سنت اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اس قدر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت اہمیت رکھتی تھی تو پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعض لوگوں کی مخالفت کی بنا پر لکھنے سے باز کیوں رہے ؟کیوں نہیں آپ نے اپنی وصیت کو تحریر کیا جو امت کے نفع کے لئے تھی ؟

مذکورہ اعتراض کاجواب

اس سوال کیجواب میں ہم علامہ سید شرف الدین مرحوم کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں جو معترضین کا منھ توڑ جواب ہے :

”وھی نظریہ جو (ہذیان یا غلب علیہ الوجع) حا ضرین مجلس کی طرف سے پیش کیا گیا، اسی کو مد نظر رکھتے ہو ئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وصیت لکھنے سے باز رہے ،کیونکہ جب رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے ہی اس قدر اختلاف و تند مزاجی بڑھ گئی اور ایک هنگامہ اٹھ کھڑا ہواتھا؟ تو اب اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کچھ لکھتے بھی تو اس کا اثرکیا مر تب ہو تا؟سوائے فتنہ وفساد بڑھ جا نے کے اور وھیں پرجنگ و جدال کی نوبت آجاتی، لہٰذ ارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے بھتر یھی تھا کہ آپ کہہ دیں:” یھاں سے نکل جاو!“(قوموا عنی)اور اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے حکم کے صادر کرنے میں اصرار کرتے تو وہ افراد اس سے بھی زیادہ سرکشی اور سختی کرتے ،جس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر یں دیکھ رھی تھیں اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہذیان پر زیادہ سے زیادہ دلائل پیش کرتے اوران کی اندھی تقلید کرنے والوں کی طرف سے آج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہذیان پر سینکڑوں کتابیں لکھ دی جاتیں ! ہزاروں صفحا ت پر کئیجاتے ! چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بغیر کسی اصرار کے اپنی بات کو دبا لیا اور خاموش ہو گئے ، دوسری جانب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے تھے کہ چاہے وصیت لکھی جائے ،یا نہ لکھی جائے ، حضرت علی علیہ السلام اور ان کے صحیح چاهنے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات کے سامنے مطیع اور خاضع ہیں اورمخالفین کو امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام کو خلیفہ تسلیم ہی نہیں کرنا ہے ،لہٰذاوصیت لکھنے سے کچھ فائدہ نہیں تھا۔( ۵۶ )

خلاصہ یہ کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ احساس کرلیا کہ یہ لوگ میرے سامنے ہی مجھے پاگل اور دیوانے کی نسبت دے رہے ہیں تو اگر میں اس وقت حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں وصیت لکھ دو ں گاتو یہ لوگ میری جانے کے بعد میرے ہذیان اور دیوانے پن کوثابت کرنے میں اور کوشاں ہو جائیں گے اور یہ وصیت نامہ میری نبوت کو درجہ اعتبار سے ساقط کر دے گا اور نتیجہ وھی ہو گا جو اس وقت میں ملاحظہ کر رھا ہوں،بلکہ اس سے بھی بدتر حال ہو جائے گا، لہٰذا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حکمت ِ بالغہ اور دور اندیشی کا تقاضہ یہ تھا کہ وصیت لکھنے سے اجتناب فرمائیں تاکہ اصل نبوت پر اعتراض اور انتقاد کرنے کا دروازہ بند رہے۔

۵ ۔ حج تمتع اورخلفا ئے اسلام!

تاریخ اسلام کی روشنی میں یہ بات پا یہ ثبوت تک پهنچ چکی ہے کہ حضرت عمر کے دور حکومت میں بھت سے اسلامی احکام کی مخالفت کی گئی اور بغیر کسی جھجھک کے حضرت عمر نے دستور ِ خداو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تغیرو تبدل کیا، ان میں سے ایک حکم حج تمتع ہیجسے حضرت عمر نے اپنے زمانے میں حرام قرار دے دیا تھا، لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے خلفاء کے اس بدعتی رویہ کی دور عثمان اور موصوف کے زمانہ خلافت کے بعد شدید مخالفت کی، یھاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے سچے چاهنے والے اصحا ب کو اس حکم کے اصلی صورت پر لانے کے لئے بھت ہی زیادہ زحمت اور کوشش کرنا پڑ ی تب کھیں امام کواس حکم ِخدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اصلی صورت پر لانے میں کامیابی ہوئی، اس طرح عمر کے دستور کے مطابق جو ابھی تک عمل ہوتا آیا تھاوہ ختم کیا گیا اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ آج تمام علمائے اہل سنت بھی عمر ابن الخطاب کے نظریہ کے خلاف حج تمتع کیجواز کا فتویٰ دیتے اور عمل کرتے ہیں ۔( ۵۷ )

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم یھاں پر اس حکم کی کیفیت کے بارے میں کتب احادیث بالخصوص صحیحین سے جواستفادہ ہو تا ہے اس کو قارئین کی خدمت میں نقل کریں:

حج تمتع کسے کھتے ہیں ؟

حج تمتع یہ ہے کہ انسان شوال،ذیقعدہ یا ذی الحجہ کے مھینوں میں سے کسی ایک میں اپنے میقات سے عمرہ کی نیت سے احرام باندھے ،اس کے بعد مکہ میں داخل ہواور طوافِ کعبہ ،سعی بین ِ صفاو مروہ اور تقصیر (سر کے تھوڑے سے بال کٹوانا )کرکے احرام سے خارج ہوجائے یعنی وہ چیزیں جو حا لت ِ احرام میں حرام ہوتی ہیں وہ تقصیر کے بعد حلال ہوجاتی ہیں ،پھر تقصیر کے بعد اسی سال مکہ سے حج کے لئے احرام باندھے اور عرفات کے لئے روانہ ہوجائے ،عرفات کے بعد مشعر کی طرف کوچ کرے ،اس کے بعد منیٰ آئے اور بقیہ اعمال”رمیجمرہ،قربانی وطواف وغیرہ“ انجام دے، اسے حج تمتع کھتے ہیں اوراس حج کو حج تمتع اس لئے کھتے ہیں کہ اس حج میں لذت (متعہ) حا صل کرنے کو جومحرماتِ احرام میں سے ہیجائزقرار دیاگیا ہے ،کیونکہ دو احرام (احرام عمرہ واحرام حج )کے درمیان فاصلہ ہے اس فاصلہ میں وہ کام جو حا لت ِ احرام ِ عمرہ میں حرام تھے اور جو آئندہ احرام ِ حج میں حرام ہو جائیں گے وہ حلال کر دئیجاتے ہیں ، اس طرح یہ شخص احرامِ حج کے باندھنے تک ان لذات سے استفادہ کر سکتاہے ، مگریہ ان لوگو ں کے لئے ہیجو مکہ معظمہ سے تقریباً ۷۸ کلو میٹر دور رھتے ہیں اوریہ حکم نص ِقرآن اورقول و فعل ِرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ پایہ ثبوت تک پهنچ چکا ہے، چنانچہ اس بارے میں ارشاد الہٰی ہو تا ہے:

( <…فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِاِلیَ الْحَجِّ فَماَاسْتَیْسَرَمِنْ الْهَدْیِ فَمَنْ لَمْ َیجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثةِاَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَةٍاِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَةُکاَمِلَةٌ ذَالِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ اَهْلُهُ حا ضِرِیِْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوْااْللّٰهَ وَاعَْلَمُوْااَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُالْعِقَابِ> ) ( ۵۸ )

پس جو شخص اعمال ِ عمرہ انجام دے چکا اور اعمال حج انجام دینا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جو قربانی میسر آوے کرنی ہوگی اورجس سے قربانی ناممکن ہو تو تین روزے زمانہ حج میں (رکھنے ہوں گے )اور سات روزیجب تم واپس آو یہ پوری دھائی ہے،یہ حکم اس شخص کے لئے ہیجس کے لڑکے بچے مسجدالحرام(مکہ )کے باشندے نہ ہوں اورخداسے ڈرواور سمجھ لو کہ خدابڑ ا سخت عذاب والاہے ۔“

اس بارے میں احادیث بھی تواتر کے ساتھ پائی جاتی ہیں چنانچہ چند احادیث ہم آئندہ نقل کریں گے ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کادورجاہلیت کی بیہودہ رسوم کے خلاف جدوجھدکرنا

دورجاہلیت میں اعمال عمرہ ”ماہ شوال،ذیقعدہ اورذی الحجہ “ میں بجالانا ایک بھت بڑاگناہ سمجھاجاتا تھا ،لیکن آنحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان ِبعثت کے بعد حکم صادر فرمایا: اعمال عمرہ انھیں میں سے کسی ایک ماہ میں انجام دئےجائیں گے،اس طرح آ پ نے حج ِ تمتع کو ان مھینوں میں تشریع کر کے دور جاہلیت کے خود ساختہ قانون کو بدل دیا،مگر چونکہ یہ قانون ایک نیا قانون تھا، لہٰذابعض مسلمانوں کے لئے گراں اور ناقابل قبول گزرا اوروہ حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت پر اتر آئے۔

امام بخاری اور مسلم نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اس ماجرا کو ابن عباس سے اس طرح نقل کیا ہے :

۱ …”عن ابن عباس؛قال:کانوایرون ان اٴلعمرةَ فی اشهرالحج من افجرالفجورفی الارض،ویجعلون المحرَّمَ صفراً،ویقولون اذابَرَءَ َالدَبَرُوعَفَاالاثَرَُوانْسلَخَ صَفَرحَلَّتِ العُمرَةُ لمن اعتمر،قدم النبُی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واصحابُه صبیحةَرابعة مُهلِیّن بالحج،فامرهم ان یجعلوهاعمرة،فتعاظم ذالک عند هم، فقالوا:یارسول الله ! اَیُّ الحِلِ؟ قال:حِلٌّکله “ ( ۵۹ )

امام بخاری اور مسلم نے ابن عباس سے نقل کیا ہے:

اسلام سے پھلے حج عرب کے مھینوں (شواّل،ذیقعدہ ،ذی الحجہ ) میں اعمال عمرہ بجالاناروئے زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے اور کھتے تھے: جب ماہ صفر ختم ہو جائے تو اعمال عمرہ بجالانا حلال ہے (یعنی صفر کا مھینہ تمام ہونے کے بعد اعمالِ عمرہ بجالا نا جائز سمجھتے تھے )ابن عباس کھتے ہیں : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحا ب کے ساتھ ماہ ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح میں اس حالت میں مکہ وارد ہوئے کہ آپ احرام ِحج زیب تن فرمائے ہوئے تھے، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اس احرام کو عمرہ میں تبدیل کرد و(یعنی ابھی جواحرام باندھے ہوئے تھے ،اس کو احرامِ عمرہ سمجھو)اور احرام ِ حج سے خارج ہو جاواور اب تم محل ہوگئے ،لیکن یہ دستور کچھ اصحا ب پر گراں گزرا،لہٰذا قبول کرنے سے آنا کانی کرنے لگے اور کهنے لگے:یا رسول اللہ!احرام سے خارج ہو نے کی وجہ سے کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی ؟!آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:تمام وہ چیزیں جواب تک حرام تھیں۔

۲…”عن جابرابن عبداللّٰه؛ قال:اَهْلَلْنَا مع رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه بالحج خالصاًلانخلطه بعمرة،فقَدِ مْنَامکةلاربع لیال خلون من ذی الحجة،فلمّا طفنا بالبیت وسعینا بین الصفاء والمروة امرنا رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه ان نجعلها عمرة وان نحل الی النساء،فقلنا:ما بیننا، لیس بیننا و بین العرفة الاخمس، فنخرج الیها ومذاکیر نا تقطرمنیا،فقال رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه: انی لابرکم واصدقکم ولولاالهدی لاحللت، فقال سراقة ابن مالک: امتعتنا هٰذه لعامنا هٰذاام للابد؟فقال:لالابد الاباد“ ( ۶۰ )

جابر بن عبداللہ سے منقول ہے :

ھم لوگوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تنھا احرام حج باندھا ، بغیر اس کے کہ عمرہ کو اس میں دخل ہو اور چار راتیں ماہ ذی الحجہ کی گزر چکی تھیں کہ وارد مکہ ہوئے ،جب طواف و سعی بین صفا ومروہ سے فارغ ہوئے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم فرمایاکہ ان تمام اعمال کو اعمال عمرہ سمجھواوراب ہماری عورتیں ہمارے لئے حلال ہو جائیں گی ،جابر کھتے ہیں : اس حکم کو سن کر ہم لوگ آپس میں چہ می گوئیاں کرنے لگے اور کهنے لگے : اب سے عرفہ تک صرف پانچ دن کافاصلہ ہے ،کیا ہم عرفہ کے لئے اس حا لت میں حرکت کریں گے کہ ہمارے اعضائے تناسل سے منی ٹپکتی ہو!(اس اعتراض کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سن کر ) فرمایا: میں تم سب سے زیادہ احکام خداوندی کا پاسباں، وفادار اور سب سے نیک ہوں ،اگر میں قربانی کا جانورنہ لایا ہوتاتو تمھاری طرح میں بھی احرام سے خارج ہو جاتا، سراقہ بن مالک نے کھا :

آیا یہ حج تمتع صرف اسی سال کے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: نہیں ،یہ ہمیشہ کے لئے ہے ۔

____________________

[۱] الام جلد۱،کتاب تالطھارة ، باب ”ما یوجب الغسل ولا یوجبہ “صفحہ ۳۱ ۔

[۲] صحیح مسلم جلد۱،کتاب الحیض، باب(۲۲)”نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانتین“ حدیث ۳۴۸، ۳۴۹۔

[۳] صحیح بخا ری: جلد۱، کتاب الغسل، باب ”غسل ما یصیب من فرج المراة“ حدیث ۲۸۷۔ ۲۸۸۔۲۸۹۔ کتاب الوضوء، باب ”من لم یر الوضوء الا من المخرجین من القبل والدبر“ حدیث نمبر۱۷۷ صحیح مسلم جلد۱، کتاب الحیض، باب(۲۱)” انما الماء من الماء“ حدیث۳۴۷۔

[۴] فتح الباری جلد ۱،کتاب الغسل ، باب” غسل ما یصیب من رطوبة فرج المرائة“ ص ۳۳۹۔

[۵] صحیح بخاری ج۶ ،کتاب فضائل القرآن، باب” جمع القرآن“ ح۴۷۰۲۔( تاریخ یعقوبی ج۲ ،ص۱۷۰۔ مترجم)

[۶] بیان در علوم ومسائل کلی قرآن ، جلد ۱ ،ص۴۴۹ ، ترجمہ مولف و آقائی ھریسی۔

[۷] سنن ترمذی جلد۱، باب(۹۸) ابواب طھارت حدیث ۱۳۱،ص۸۸۔

[۸] ہمیں سب سے زیادہ تعجب ان لوگوں پر ہے جو خلیفہ صاحب کی اس بارے میں اندھی حمایت کرکے نار جحیم کے مصداق بن رہے ہیں !! مسلمانو ! ذرا انصاف سے بتاو کیا قرآن جلانے کا حکم عظمت ِ قرآن کے مخالف نہیں ؟ مترجم۔

[۹] الکافی ،((الروضة )جلد ۸، ”تاسف علیعليه‌السلام حدیث بعض ما حدث بعد رسول لله “ص ۵۱۔کتاب سلیس بن قیس ، ”کلام علی عن بدع ابی بکر و عمر و عثمان “ص۱۶۲۔ بحا رالانوار جلد ۸،ص ۷۰۴۔ احقاق الحق جلد ۱،ص۶۱۔

[۱۰] شیعہ مذھب کے مطابق ام ولد کوفروخت نہیں کیا جاسکتا۔ دیکھئے : فقھی کتابیں ۔مترجم۔

[۱۱] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۹،خطبہ ۱۷۸، ص۱۶۱۔

[۱۲] صحیح بخاری :جلد۹ ،کتاب استتابة المرتدین ،باب (۳) حدیث۶۵۲۶۔

مترجم:(صحیح بخاری جلد ۲ ،کتاب الزکاة ،باب(۱) حدیث۱۳۳۵ ۔ جلد۳،کتاب الجھاد، باب” دعاء النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الیٰ الاسلام والنبوة“حدیث۲۷۸۶۔ جلد ۶،کتاب الاعتصام بالکتاب السنة، باب” اقتداء سنن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله “ حدیث۶۸۵۵۔) صحیح مسلم جلد۲ ،کتاب الایمان، باب (۸) ”الامر بقتال الناس“حدیث۲۰،۲۱۔ مسلم نے تقریباسات عدد اسناد کے ساتھ مذکورہ روایت کو نقل کیاہے۔

[۱۳] ریاض النضرہ ، جلد ۱ ص ۱۰۰ ،تالیف محب الدین طبری۔

[۱۴] صحیح بخاری جلد۹، کتاب استتابة المرتدین باب(۳) حدیث۶۵۲۶۔

مترجم:( بخاری ج ۲ ،کتاب الزکاة ،باب(۱) حدیث۱۳۳۵۔ ج۳،کتاب الجھاد، باب” دعاء النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الیٰ الاسلام والنبوة“حدیث۲۷۸۶۔ ج۶،کتاب الاعتصام بالکتاب السنة، باب” اقتداء سنن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله “حدیث۶۸۵۵۔)<

>مسلم ج۲ ،کتاب الایمان،باب(۸)”الامر بقتال الناس حتی یقولوا“ حدیث۲۰۔۲۱۔

مسلم نے تقریب ا سات عدد اسناد کے ساتھ مذکورہ روایت کو نقل کیاہے۔

[۱۵] صحیح مسلم جلد۱،کتاب الایمان، باب” الامر بقتال الناس حتیٰ یقولوا“حدیث۲۰۔

صحیح بخاری: جلد۹،کتاب استتابةالمرتدین، باب( ۳)حدیث۶۵۲۶۔

مترجم:(صحیح بخاری ،جلد۱،کتاب الزکٰوة،باب (۱) ”وجوب الزکاة“حدیث۱۳۳۵،باب(۳۹)”اخذ العناق فی الصدقة“ حدیث۱۳۸۸۔جلد ۳،کتاب الجھاد، باب” دعاء النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الیٰ الاسلام “حدیث۲۷۸۶۔

جلد۶،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة،باب” الاقتداء بسنن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لله“ حدیث۶۸۵۵۔جلد۱،کتاب الایمان، باب(۱۴)”فان تابوا واقامواالصلوة والزکاة۔“(سورہ توبہ۵)حدیث۲۵)۔

[۱۶] بدایة المجتھد ج۱،کتاب الزکاة ، المسئلة الثالثة ،”اذا مات بعد وجوب الزکاة علیہ “ ص ۲۰۰۔

[۱۷] سورہ احزاب،آیت۶، پ ۲۱۔

نوٹ:مذکورہ واقعہ کو ” معجم البلدان حموی مادہ حضرت موت اور انساب الاشراف بلاذری” مالک ومتمم ابنا نویرة “اور تاریخ اعثم کوفی“ ذکر خلافت ابوبکر ،میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔

[۱۸] البدایہ و النھایہ؛ابن کثیر، جلد۶،فصل : ”تنفیذ جیش اسامة بن یزید “ صفحہ ۳۳۵۔

[۱۹] عبقریة الصدیق،بحث:”الصدیق والدولة الاسلامیة“ صفحہ ۱۲۴۔ ۱۲۵ ،مطبوعہ: بیرو ت لبنان۔

[۲۰] الصدیق ابوبکر ،الفصل الخامس : ”قتال من منعواالزکاة “ صفحہ ۹۶۔

[۲۱] ترجمہ اعثم کوفی ج ۱،”ذکرخلافت ابو بکر “ ص ۶،مطبوعہ: ایران ۔

[۲۲] الاصابہ جلد ۵ ، نمبر ۷۷۱۲، ( در بیان حا لات مالک بن نویرہ بن جمرة )ص۵۶۰۔

[۲۳] ترجمہ تاریخ اعثم کوفی جلد۱ ،ذکر خلافت ابو بکر ،صفحہ۷ ۔

[۲۴] تاریخ یعقوبی جلد۲ ،ایام ابو بکر صفحہ ۱۳۲ ۔

[۲۵] تاریخ یعقوبی جلد۲ ،ایام عمر بن الخطاب ، صفحہ ۱۳۹۔

[۲۶] تاریخ اعثم کوفی ج۱ ،ذکر خلافت ابو بکر ، ص ۱۸۔ ۱۹۔

[۲۷] صحیح مسلم ج۷، کتاب فضایل الصحا بة، باب” فضائل علی علیہ السلام“

[۲۸] صحیح بخاری: جلد۴، کتاب الجھاد ابواب الخمس، باب” فرض الخمس“ حدیث ۲۹۹۶۔ مترجم:( صحیح بخاری جلد۴،کتاب المغازی، باب ”حدیث بنی نضیر“حدیث ۳۸۱۰،باب” غزوةخیبر“، حدیث۳۹۹۸۔ جلد ۳ ،کتاب فضایل الصحا بة، باب” مناقب قرابةالرسول“ حدیث۳۵۰۸۔ جلد ۵،کتاب الفرائض، باب ”قول النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لال نورث ماترکنا صدقة“ حدیث۶۳۴۶،۶۳۴۹۔) صحیح مسلم جلد۵، کتاب الجھاد والسیر، باب” قول النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لانورث“ حدیث۱۷۵۹۔

[۲۹] صحیح بخاری جلد۵،کتاب المغازی ،باب ”غزوة خیبر“حدیث۳۹۸۹۔ صحیح مسلم جلد۵، کتاب الجھاد و السیر ،باب (۱۶)”قول النبی :لا نورَث ما ترکنا فھو صدقة“حدیث۱۷۵۹۔

[۳۰] ہمارے پاس قرآ ن مجید او رکتب تواریخ سے مسلم الثبوت دلائل موجود ہیں کہ معصوم غیر معصوم کی بیعت نہیں کرتا لہٰذا مذکورہ حدیث میں جو بات حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کھی گئی ہے کہ آپ نے وفات بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ابو بکر کی بیعت کرنے کی خواہش ظاہر فرمائی یہ کھلا ہوا بھتان اور برہنہ کذب ہے، چونکہ اس کتاب کا موضوع اس بحث سے جدا گانہ ہے لہٰذا اس بارے میں آپ ہماری علم کلام کی کتابیں دیکھئے۔مترجم ۔

[۳۱] سنن ابی داؤد، جلد۲ ، کتاب الخراج والامارة ، باب(۱۹)” فی صفایا رسول الله من الاموال“حدیث۲۹۶۸۔

[۳۲] سنن ابی داؤد جلد۲ ، کتاب الخراج والامارة ، باب(۱۹)” فی صفایا رسول الله من الاموال “ح ۲۹۷۲،ص ۲۴۔

[۳۳] شیعہ مذھب کے نزدیک یہ بات محکم اورمتقن دلائل کے ساتھ ثابت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے بجز رسول کسی کی بھی بیعت نہیں کی ہے۔مترجم

[۳۴] اس حدیث کے جعل کرنے سے ایک مقصد ابو بکر کا یہ بھی تھا کہ اس ھتھکنڈے کے ذریعہ اہل بیتعليه‌السلام عصمت و طھار ت کو مالی ا ور اقتصادی اعتبار سے کمزور کیا جائے تاکہ وہ ہمیشہ ہمارے( خلفاء کے) محکوم رھیں اور کبھی اپنی خلافت کا حق نہ جتا پائیں اوردوسرے خلیفہ صاحب کی حا کمیت کے پر چار کے لئے دولت کی فراوانی رہے۔مترجم۔

[۳۵] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد ۱۶،مکتوب نمبر ۴۵، ص۲۱۱۔ بلا غات النساء بحث فدک،ص۱۳۔ کتاب الشافی ،مولفہ سید مرتضی۔

[۳۶] صحیح بخاری جلد۵،کتاب فضائل اصحا ب النبی،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم باب مناقب قرابة الرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،جلد۷،کتاب النکاح، باب ”ذب الرجل عن ابنتہ “صحیح بخاری کے بقیہ حوالے جات ص۵۴۵ پر نقل کر چکے ہیں ، صحیح مسلم جلد۷،باب فضائل فاطمہ بنت النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث۴۴۹۔

[۳۷] مزہ کی بات تو یہ ہے کہ جس مال کو صدقہ کہہ کر مسلمان فقر اء کا مال قرار دیا گیا اسی کو خود اپنے ذاتی تصرف میں ان حضرات نے لے لیا !یہ کھاں سے جائز ہوگیاتھا ؟!! مترجم۔

[۳۸] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۱۶،مکتوب ۴۵، ص۲۲۷۔۲۴۵۔

[۳۹] تاریخ الخلفاء جلد۱،فصل ”فیماوقع فی خلافةابی بکر“ص۷۳۔

[۴۰] صواعق محرقہ ،ص۱۹۔

[۴۱] صحیح بخاری:ج۵،کتاب المغازی، باب”حدیث بنی نضیر“حدیث نمبر۳۸۰۹ ، ۳۸۱۰۔ مترجم:( صحیح بخاری جلد۴ ،کتاب الجھاد ابواب الخمس، باب”فرض الخمس“حدیث ۲۹۹۶۔ جلد ۳،کتاب فضایل الصحا بة، باب ”مناقب قرابةالرسول“حدیث۳۵۰۸،باب” غزوة خیبر“ حدیث ۳۹۹۸ ۔ جلد ۵،کتاب الفرائض، باب”قول النبی لانورث ما ترکناہ صدقة“ حدیث۶۳۴۶ ، ۶۳۴۹۔) صحیح مسلم ج۵،کتاب الجھادوالسیر،باب”قول النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لانورث“ حدیث ۱۷۵۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۶،مکتوب ۴۵، ص۲۲۰، ۲۲۳۔

[۴۲] شرح نہج البلاغہ،ابن ابی الحدید ،ج ۱۶،مکتوب ۴۵، صفحہ ۲۸۴۔

[۴۳] صحیح بخاری: ج۴،کتاب الخمس،ابواب الجزیة والموادعة،باب( ۱۷)”اثم من عاہد ثم غدر“ح۳۰۱۱۔ ج ۶، کتاب التفسیر،تفسیر سورہ فتح ،باب(۵) ”اذ یبایعونک تحت الشجرة “ ح۴۵۵۳۔ مترجم:( صحیح بخاری، ج۶،کتاب المغازی،باب(۳۳)”غزوة حدیبیہ“ح ۳۹۴۳۔) صحیح مسلم ج ۵،کتاب الجھاد، باب”صلحا لحدیبیة“ح ۱۷۸۵۔

[۴۴]صحیح بخاری: ج۴،کتاب الخمس،ابواب الجزیة والموادعة،باب( ۱۷)”اثم من عاہد ثم غدر“ح۳۰۱۱۔ ج ۶، کتاب التفسیر،تفسیر سورہ فتح ،باب(۵) ”اذ یبایعونک تحت الشجرة “ ح۴۵۵۳۔ مترجم:( صحیح بخاری، ج۶،کتاب المغازی،باب(۳۳)”غزوة حدیبیہ“ح ۳۹۴۳۔) صحیح مسلم ج ۵،کتاب الجھاد، باب”صلحا لحدیبیة“ح ۱۷۸۵۔

[۴۵] عرض مترجم: بھتر ہے کہ یھاں پر قرآن کی ان آیات کو پیش کردیا جائے جن میں رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے کلام کرنے کے طریقے اورآپ پر حقیقی ایمان لانے کی شناخت کو بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہو تا ہے: <يَٰاْ اَیُّهَا الذِیْنَ آمَنُوْاْ لَاْ تَرْفَعُوْاْ اَصْوَاْتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ اْلْنَّبِیِّ وَلَاْ تَجْهَرُوْاْ لَه بِاْلْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَاْلُکُمْ وَاَنْتُمْ لَاْ تَشْعُرُوْنَ اِنَّ اْلَّذِیْنَ یغضُّوْنَ اَصْوَاْتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ الله اُوْلَاْئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ الله قُلُوْبَهُمْ لِلتِّقْویٰ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ >(سورہ حجرات،آیت۲۔۳، پ۲۶)<اِنَّمَاْ اْلْمُومِنُوْنَ اْلَّذِیْنَ آمَنُوْاْ بِالله وَرَسُوْلِه ثُمَّ لَمْ یَرْتَاْبُوْاْ وَجَاْهَدُوْاْ بِاٴَمْوَاْلِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ الله اٴُوْلَائِکَ هُمُ الْصَّاْدِقُوْنَ >(سورہ حجرات،آیت۱۵،پ۲۶)

سچے مومن تو بس وھی ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر انھوں نے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جھاد کیا یھی لوگ دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ ۱۲

[۴۶] اس کے تفصیلی حوالے آگے نکتہ اولی۔میں ملاحظہ فرمائیں ۔

[۴۷] تفصیلی حوالے آگے نکتہ اولی ۔میں ملاحظہ کریں ۔

[۴۸] صحیح مسلم جلد ۵ ،کتاب الوصیة، باب(۵) ” ترک لمن لیس لہ شیء یوصی فیہ“حدیث۱۶۳۷۔

[۴۹] صحیح بخاری: جلد۱،کتاب العلم ،باب(۴۰)”کتابة العلم“حدیث۱۱۴۔جلد ۷ ،کتاب المرضی، باب(۱۷)” قول المریض قومواعنی“حدیث۵۶۶۹۔ جلد۹،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة،باب(۲۶)” کراہیة الخلاف“ حدیث۶۹۳۲۔

[۵۰] صحیح بخاری ج۶،کتاب المغازی،باب”مرض النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ووفاتہ“حدیث ۴۱۶۹۔

[۵۱] صحیح بخاری جلد ۴،کتاب الجھاد، باب” ھل یستشفع الی اہل الذمة“ حدیث ۲۸۸۸۔ کتاب الخمس ابواب الجزیة والموادعة،باب”اخراج الیہود من جزیرة العرب“حدیث ۲۹۹۷۔ جلد ۶،کتاب المغاز ی، باب ”مرض النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ووفاتہ “حدیث ۴۱۶۸۔

[۵۲] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،جلد۱۲، خطبة ۲۲۳،ص۲۱،۷۸ ۔

[۵۳] عرض مترجم :”ھجررسول الله “اور”قد غلب علیہ الوجع “ان دونوں جملوں کا مفاد ایک ہی ہے اورو ہ ہے شان رسالتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں گستاخی اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرنا،حا لانکہ قرآن صراحت کے ساتھ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان اس طرح بیان کرتا ہے:

۱۔ <یا اَیُّهَا ْالَّذِیْنَ آمَنُوْاْ لَاْ تَرْفَعُوْاْ اَصْوَاْتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ اْلْنَّبِیِّ وَلَاْ تَجْهَرُوْاْ لَه بِاْلْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَاْلُکُمْ وَاَنْتُمْ لَاْ تَشْعُرُوْنَ .سورہ حجرات، آیت۲ ،پ۲۶>

اے ایماندارو ! بولنے میں تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیاکرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زو رزور سے بولا کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو ،ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرای ا سب اکارت ہو جائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔

۲۔<اِنَّ اْلَّذِیْنَ یغضُّوْنَ اَصْوَاْتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ الله اُوْلَاْئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ الله قُلُوْبَهُمْ لِلتِّقْویٰ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْم ٌ. سورہ حجرات،آیت ۳، پ ۲۶ >

بیشک جو لوگ رسول خدا کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرلیا کرتے ہیں یھی لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پرھیزگاری کیلئے جانچ لیا ہے ان کیلئے آخرت میں بخشش اور بڑا اجر ہے ۔

۳۔<اِنَّمَاْ اْلْمُومِنُوْنَ اْلَّذِیْنَ آمَنُوْاْ بِالله وَرَسُوْلِه ثُمَّ لَمْ یَرْتَاْبُوْاْ وَجَاْهَدُوْاْ بِاٴَمْوَاْلِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ الله اٴُوْلَائِکَ هُمُ الْصَّاْدِقُوْنَ. سورہ حجرات، آیت۱۵،پ ۲۶>

ترجمہ :۔ سچے مومن تو بس وھی ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر انھوں نے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جھاد کیا یھی لوگ دعوائے ایمان میں سچے ہیں ۔

[۵۴] جبکہ قرآن صراحت کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہو نظر آتا ہے : <یا اَیُّهَا ْالَّذِیْنَ آمَنُوْاْ لَاْ تَرْفَعُوْاْ اَصْوَاْتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ اْلْنَّبِیِّ وَلَاْ تَجْهَرُوْاْ لَه بِاْلْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَاْلُکُمْ وَاَنْتُمْ لَاْ تَشْعُرُوْنَ اے ایماندارو ! بولنے میں تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیاکرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زو ر زور سے بولا کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو ،ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرای ا سب اکارت ہو جائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو >؟! سورہ حجرات، آیت۲)

[۵۵] صحیح بخاری کتاب الخمس ابواب الجزیة والموادعة، باب” اخراج الیہود من جزیرة العرب“ حدیث ۲۹۹۷۔

[۵۶] المراجعات ص۸۶ ۔مولف علامہ شرف الدین ۔

[۵۷] تفصیل ملاحظہ کریں : بدایةالمجتھد جلد ۱، کتاب الحج،القول فی التمتع ، ص ۲۶۵۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحج۔

[۵۸] سورہ بقرہ ،آیت نمبر۱۹۶، پ ۲۔

[۵۹] صحیح بخاری :ج۲،کتاب الحج، باب(۳۴) ” التمتع و الاقران والافراد“ حدیث۱۴۸۹۔ مترجم:( صحیح بخاری جلد ۳،کتاب فضائل الصحا بة ، باب(۲۶) ” ایام الجاہلیة“ حدیث ۳۶۲۰۔)

صحیح مسلم ج۴،کتاب الحج، باب(۳۱) ” جواز العمرة فی ا شھرالحج“ حدیث۱۲۴۰۔

سنن نسائی کتاب مناسک الحج، باب ”اشعار الھدی “ حدیث نمبر ۲۷۳۶،ص ۱۸۰۔

[۶۰] سنن ابن ماجہ جلد ۲، کتاب المناسک، باب (۴۱) فسخ الحج ، حدیث۲۹۸۰۔ صحیح مسلم جلد۴،کتاب الحج، باب (۱۷) بیان وجوہ الااحرام وانہحدیث۱۲۱۶۔ صحیح بخاری:جلد۲،کتاب الحج، باب تقضی الحا ئض المناسک کلھاحدیث ۱۵۶۸۔ جلد۳،کتاب الحج ابواب عمرہ ، باب”عمرةالتنعیم“ حدیث۱۶۹۳۔ جلد ۳، کتاب الشرکة،باب(۱۵)” الاشتراک فی الھدی والبدن“حدیث۲۳۷۱۔

نوٹ: امام بخاری نے اس مضمون کی متعدد روایا ت ذکر کی ہیں ۔ دیکھئے: حدیث ۱۶۹۳ ، ۱۴۹۵ ، ۱۴۹۳ ، ۴۰۹۵، ۶۸۰۳ ، ۶۹۳۳ ، ۱۰۳۵ ، ۱۶۸۹ ۔مترجم۔

[۶۱] نوٹ:ضاقت بہ صدورن ا سے کثر ِت ناراضگی و نا پسندید گی کی طرف اشارہ ہو تا ہے۔


عرض مولف

ھم نے اس حدیث کو ابن ماجہ سے نقل کیا ہے البتہ مختصر سے فرق کے ساتھ صحیح بخاری اور مسلم میں بھی ہے ۔ صحیح مسلم میں اس طرح آ یا ہے :

…”عن جابر بن عبداللّٰه؛ قال: اهللنا مع رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بالحج، فلماقدمنامکةامرناان نَحِلّ ونجعلهاعمرة، فَکَبُر ذالک َعلینا وضاقت(۶۱) به صدورُنا، فبلغ ذالک النبی، صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فماندری اٴَشَیٴ ٌبلغه من السماء ام شیٴٌ من قِبَل الناس! فقال: ایهاالناس! اَحِلُّوافلولاالهدی الذی معی فعلت کمافعلتم، قال: فاحللناحتیٰ وطِئَناَالنساء، وفعلنامایفعل الحلال، حتیٰ اذاکان یوم الترویةِ ،وجعلنامکّة بظهرٍ،اهللنا بالحج “ ( ۶۲ )

جابر بن عبداللہ سے منقول ہے :

ھم نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حج کے لئیاحرام باندھا اور جب مکہ وارد ہوئے تو رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیا : اس احرام کو احرام عمرہ قرار دے دیں اور اس طرحا حرام سے محل (خارج)ھو جائیں ۔

جابر کھتے ہیں : یہ حکم ہم لوگوں پر گراں گزرا اور ہم لوگوں کے سینے اس کی وجہ سے تنگ ہوگئے۔”وضاقت بہ صدورُنا“

ادھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو اس کی اطلاع مل گئی ،پتہ نہیں اس بات کی اطلاع آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آسمان سے پهنچی یا ہم لوگوں میں سے کسی نے بتلادیا،بھر حال اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :اے لوگو ! احرام سے خارج ہوجاو!اگر میرے ساتھ یہ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی تمھاری طرحا حرام سے خارج ہوجاتا۔جابر کھتے ہیں :ھم تمام لوگ احرام سے خارج ہوگئے، یھاں تک کہ ہم لوگ اپنی اپنی بیویوں سے بھی ہم بستر ہوئے اور وہ تمام کام انجام دئے ،جو غیر محرم افراد انجام دیتے ہیں ،یھاں تک کہ روز ترویہ آگیااورھم نے مکہ کو عرفات جانے کے قصد سے ترک کیا اور حج کے لئے احرام باندھا ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ چونکہ افراد کی زمانہ جاہلیت کی ذهنیت بن چکی تھی کہ جس نے شوّال، ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں احرام باندھ لیا وہ حق نہیں رکھتا کہ محرمات ِ احرام کو انجام دے، خصوصاًعورتوں سے ہمبستر ہون ا سخت ممنوع ہے ،جب تک کہ وہ اعمال حج کو تمام کر کے احرام حج سے خارج نہ ہو جائے ، اس لئے انھوں نے یہ اعتراض کیا : ”اننطلق ومذاکیرنا تقطر“ آیا ہم اس حا لت میں خارج ہوں کہ ہمارے اعضائے تناسل سے منی ٹپکتی ہو ؟! ! اور کچھ افراد نئے حکم کو قبول کرنے سے ہی کترارہے تھے ،یھاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی اس روش سے ناراض و آزردہ خاطر ہوئے چنانچہ عائشہ اس بارے میں ناقل ہیں :

…”عن عائشة؛انها قالت :قدم رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لاربع مضین من ذی الحجة اوخمس،فدخل علی وهوغضبان، فقلت: من اغضبک یارسول اللّٰه !ادخله الله النار، قال: اوما شعر ت انی امرت الناس بامرٍفاذاهم یترددون…!! ؟( ۶۳ )

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذی الحجہ کی چوتھی یاپانچویں تاریخ میں وارد مکہ ہوئے تو میں (عائشہ )نے ناگاہ دیکھا کہ رسو ل غضبناک اور آزردہ خاطر میرے پاس آ ئے، میں نے کھا :یارسول اللہ! خدا واصل جهنم کرے اس شخص کو جس نے آپ کو ناراض کیا،آخرآپ کو غضبناک کیوں دیکھ رھی ہوں؟ “ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! کیا تم نہیں دیکھ رھی ہو کہ میں ان لوگوں کو حکم دے رھاہوںاور یہ لوگ اس حکم کے قبول کرنے میں آنا کانی کررہے ہیں؟!!( ۶۴ )

حج تمتع کی تحریم کا فتویٰ

جیسا کہ مذکورہ مباحث میں ہم نے اشارہ کیاکہ جب حج تمتع کا حکم آیا تو بعض مسلمانوں پر یہ حکم گراں گزرا،لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی بے پایان جد و جھد کے بعد اس حکم کو نافذاور عملی جامہ پهنادیا، تااینکہ یہ حکم خلیفہ اوّل ابوبکر کے دور خلافت میں نافذالعمل رھا ،مگر خلیفہ دوم حضرت عمر کے دور خلافت میں اس کو ممنوع قرار دے دیا گیا اور مخالفت کر نے والوں کو سخت سزا کی دھمکی دی گئی ، اس بارے میں کتب صحا ح و سنن کے علاوہ تاریخی اور رجال کی کتابو ں میں بھی بھت زیادہ روایات پائی جاتی ہیں ، چنانچہ چند روایات بطور نمونہ صحیحین سے نقل کرتے ہیں :

۱…”قال عمران بن حصین:نزلت آیة المتعة فی کتاب اللّٰه(یعنی متعة الحج) وامرنا بها رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، ثم لم تنزل آیة تنسخ آیةمتعةالحج،ولم ینهَ عنها رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله حتیٰ مات، قال:رجل برایه بعدُماشاء“ ( ۶۵ )

عمران بن حصین سے منقول ہے :

جب آیہ حج تمتع قرآن مجید میں نازل ہو ئی توآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہم کو اس حج کے انجام دینے کا طریقہ بتلایا،اس کے بعد نہ اس حکم کے نسخ کے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی اور نہ ہم کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منع فرمایا ،یھاں تک کہ رسول کی وفات ِ حسرت آیات واقع ہوگئی،اس کے بعد ایک مرد نے اپنی خواہشات نفسانی سے اس میں جو چاہا کیا(یعنی ا س حکم کو انجام دینا حرام قرار دے دیا )!

۲…”عن ابی نضرة ؛قال:کنت عند جابر بن عبدالله ،فاتاهآ ت،فقال:ابن عباس وابن الزبیراختلفا فی المتعتین(متعة الحج ومتعةالنساء)،فقال جابر:فعلنا هما مع رسول ا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لله،ثم نها ناعنهماعمرفلم نَعُدْلَهُما“ ( ۶۶ )

امام مسلم نے ابی نضرہ سے نقل کیاہے :

میں جابر بن عبداللہ کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور کهنے لگا :ابن عباس اور ابن زبیر متعة الحج اور متعةالنساء کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں ، (حقیقت کیا ہے؟) جابر نے کھا :ھم لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں دونوں کو انجام دیتے تھے،لیکن عمر نے اپنے دور حکومت میں اس سے منع کردیا،لہٰذا ہم نے بھی اس کے بعد اعادہ نہیں کیا۔

۳…”عن مُطَرَّف؛قال:بعث اِلیٰ عمران بن حُصَین فی مرضه الذی تُوُفِّی فیه، فقال:انی کنت مُحدِّثُک باحادیث لعل اللّٰه ان ینفعک بهابعدی،فان عشتُ فاکتم عنی،وان ُمتُّ فحدِّ ثْ بها ان شئت،انه قد سُلِّم عَلَی،َّواعلم ان نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه قدجَمَعَ بین حج وعمرة،ثم لم ینزل فیها کتابُ اللّٰه ولم ینهَ عنها النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه، قال رجل فیها برایه ماشاء“ ( ۶۷ )

مطرف سے منقول ہے:

جب عمران بن حصین مریض تھے اور انہوں نے اسی مرض میں وفات پائی تو انھوں نے مجھے اپنے پاس بلا بھیجا اور کھا : اے مطرف! میری موت اب حتمی اور :یقینی ہو چکی ہے ،لہٰذا چاہتا ہوں کہ چند موضوعات کی طرف تمھیں متوجہ کر دوں ،شاید میرے مرنے کے بعد تمھارے لئے مفید ثابت ہوں ، اگر میں زندہ رہ گیاتو اس کو مخفی و پنھاںرکھنا اوراگر میں اسی مرض میں دنی ا سے چلا گیا تو ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں ، اے مطرف! آگاہ ہو جا وکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حج وعمرہ کو ایک سال میں جمع کیا ، اس کے بعد اس کی ممنوعیت میں نہ کوئی آیت نازل ہوئی اور نہ خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منع فرمایا ، لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ایک مرد نیجو چاہا،اس میں اپنی طرف سے تبدیلی کردی!( ۶۸ )

عرض مولف

مذکورہ روایت سے عمر کی زبانی تحریم تمتع کے علاوہ دو باتوں کا مزید استفادہ ہوتا ہے:

اول یہ کہ عمران نے بھت سے حساس موضوعات مطرف کے حوالے کئے تھے ،لیکن دیگر موضوعات فرامو ش کردئے گئے!! اور روایت میں صرف حج تمتع کا ذکر آیا ہے ۔

دوم یہ کہ زمانہ اس قدر پر آشوب اور پر خطر تھا کہ کسی کو حق بیان کرنے کی آزادی نہیں تھی اور مجبورتھے کہ خلفائے وقت کے سامنے خاموش رھیں ، جو وہ کھیں اسے بغیر چون چرا تسلیم کرلیں اور ان کی حا کمیت کے سامنے کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں،حقائق کو خلفا ء کے فائدہ میں پنھا ں رکھا جائے، لہٰذا عمران نے کھا: ” اگر میں زندہ رھا توان باتوں کو کسی سے مت کهنااور اگر مر گیا تو دوسروں کو بتانے میں کوئی حرج نہیں “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خلفا ء کے زمانہ میں ظلم اس قدر بڑھ گیا تھاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معزز صحا بہ بھی زبان کشائی سے ڈرتے تھے!!

بھر حال اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ،حضرت عمر نے اپنے دور حکومت میں اعلانیہ طور پر کہہ دیاتھاکہ عھد رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں دو متعہ (متعةالحج و متعة النساء)تھے ،لیکن میں ان کو حرام قرار دیتا ہوں ،آئندہ اگر کسی نے ان کو انجام دیا تو میں اس کو سخت سزا دوں گا:

متعتان کانتا علی عهد رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ،وانا انهی عنهما واعاقب علیهما متعة الحج ومتعة النساء ( ۶۹ )

یہ مطلب متعددکتب تاریخ ، حدیث،تفسیرو رجال میں موجود ہے، چنانچہ مسند احمد ابن حنبل جلد ۱ ،ص ۵۲ میں بھی موجود ہے لیکن حسب معمول یہ جملہ ”وانا انهی عنها “ حذف کردیا گیا ہے ۔

حج تمتع کی تحریم کا فتویٰ کیو ں د یا گیا ؟!

ممکن ہے کہ کسی کے ذهن میں یہ سوال اُبھر آئے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حج تمتع کو انجام دینے سے آخر کیوں خلیفہ صاحب نے روکا ؟کیوں حرمت کا فتویٰ صادر کیا ؟آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟ خلیفہ صاحب کا اس سے کیا مقصدھو سکتا تھا ؟

اس سوال کا جواب خود متن روایات سے ہی مل جاتاہے اور وہ یہ کہ یہ مخالفت و ممانعت اسی سابقہ ذهنیت کی وجہ سے وجود میں آئی جو دوران جاہلیت میں رکھتے تھے:” شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں احرام باندھنابھت بڑا گناہھے“ جی ھاں !اس حکم پر پابندی لگانے کی علت وھی سابقہ ذهنی خرافات تھی جو کھتے تھے: ”اننطلق ومذاکیرنا تقطرالمنی؟! “”آیا ہم اس حا لت میں خارج ہوں کہ ہمارے اعضائے تناسل سے منی ٹپکتی ہو“ ؟! وھی دوران جاہلیت کا موہومی فلسفہ جس کی وجہ سے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ناراض ہوئے اور جو لوگ اس حکم کی نافرمانی کررہے تھے ان کی مذمت فرمائی ۔

پس یھی علل و اسباب تھے کہ جن کی بنا پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حج تمتع سے منع کیا جانے لگا ، انھیں علل واسباب کی وجہ سے قرآن ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صریح فرمان کے سامنے بعض لوگوں نے اظھار نظر فرمایا ، چنانچہ اس بارے میں صحیح مسلم اور اہل سنت کی دیگر معتبر کتابوں میں بالتفصیل روایات موجود ہیں جیسے ذیل کی روایت :

…”عن ابی موسی؛انه کان یُفِتی بالمتعة، فقال له رجل:رُویدک ببعض فتیاک فانک لا تدری ما احدث امیرالمومنین فی النُّسُک بعد؟حتی لقیه بعدُ:فساٴله، فقال عمر: قد علمت ان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قد فعله واصحابُه، و لکن کرهتُ ان یَظَلُّوا معرسین بهن فی الاراک، ثم یَرُوحُون فی الحج تقطرُروسُهم“ ( ۷۰ )

ابو موسیٰ حج تمتع کیجواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کھا: فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرو ، کیا تمھیں نہیں معلوم کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد امیرالمومنین عمر نے اعما ل حج میں کتنا ردوبدل کر دیا ہے؟یھاں تک حضرت عمر کی خود ابوموسیٰ سے ایک دن ملاقات ہو گئی، ابوموسیٰ کھتے ہیں کہ میں نے ان سے سوال کیا تو وہ کهنے لگے:اے ابو موسیٰ!ھم جانتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اور آپ کے اصحا ب نے حج تمتع کیا ،مگر ہم کو اچھا نہیں لگتاکہ مسلمان درخت ”اراک“کے نیچے اپنی عورتوں کے ساتھ ہمبستر ہوں اور اس حال میں وہ اعمال حج کے لئے کوچ کریں کہ ان کے سروصورت سے آبِ غسل ٹپک رھا ہو !!

ایک نا معقول علت کا تجزیہ

صحیح مسلم کے بعض حاشیہ نویسوں نے حضرت عمر کے مذکورہ جملہ”تقطررووسهم “ (ان کے سرو صورت سے آب غسل ٹپک رھا ہو)کی تو جیہہ کرتے ہوئے کھا ہے :

عمر کایہ جملہ مناسب اور شائستہ ترہے اس جملہ سےجسے بعض مسلمان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں حج تمتع کی تشریع کے وقت استعمال کرتے تھے :آیا ہم اس حا لت میں اعمال حج کے لئے عرفات میں سفر کریں کہ ہمارے اعضائے تناسل سے منی ٹپک رھی ہو؟! (فناٴتی عرفةتقطرمذ اکیرنا المنی )

بھر حال خلیفہ صاحب نے”تقطررووسھم“سے حج تمتع کے حرام قرار دینے کی علت بیان کی ہے ، کیونکہ شارح ِصحیح مسلم علامہ زرقانی تحریر کرتے ہیں :

حضرت عمر کا عقیده یہ تھا کہ حا جی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ ایسے امور انجام دیجو خوشی،راحت اور تلذذ کے سبب ہوں،لہٰذا چونکہ حا جی کے لئے احرام کھولنے کے بعد عورتو ں سے ہمبستر ہونا خوشی اور تلذذ ک ا سبب ہے ،بنا براین حج تمتع کو حرام قرار دیاگیا ہے۔( ۷۱ )

امام سندی ”سنن نسائی“ کے حا شیہ میں تحریرفرماتے ہیں :

حضرت عمر کا مقصد یہ تھاکہ حا جی کو چاہئے کہ اس کا چھرہ پژمردہ اور حال پریشاں ہو ،لیکن حج تمتع سے چوں کہ اس کا برعکس ہو جاتا ہے، یعنی بجائے پژمردگی اورپریشاں حا لی کے انبساط و تلذذحا صل ہوتاہے لہٰذا حضرت عمر نے اس کو حرام قرار دے دیا۔( ۷۲ )

عرض مولف

اگر چہ حضرت عمر کے قول کی بیجااور نامعقول تو جیہہ علمائے اہل سنت بڑی شد ومد کے ساتھ بیان کرتے ہیں مگر حقیقت یھی ہے کہ حضرت عمر نے حج تمتع کو دورجاہلیت کی رسم کو مد نظر رکھتے ہوئے حرام قراردیا ہے، لہٰذاعلمائے اہل سنت کی متذکرہ توجیھیں فقط الفاظ کی بازیگری ہے اورحقیقت وھی ہیجسے ہم نے بیان کیا، مزید یہ کہ مذکورہ علل قو لِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مخالف بھی ہیں،کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد گرامی ہے”انّا اتقاکم اللّٰه واصدقکم وابرکم “ میں قوانین الہٰیہ کے سلسلے میں تم سب سے زیادہ متقی،پرھیز گار ، نیک اور صادق ہوں ، اسی طرح یہ آیت متذکرہ تو جیھات کی تکذیب کرتی ہے:

( وَمٰاْ کَاْنَ لِمُومِنٍ وَلاٰمُومِنَةٍ اِذٰا قَضَی اللّٰهُ وَرَسُولُهُ اٴَمْراً اٴَنْ یَکُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُمِنْ اٴَمْرِهِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاٰلاًمُّبیناً ) ( ۷۳ )

او ر نہ کسی ایماندار مرد کو یہ حق حا صل ہے اور نہ ہی کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدااور اس کا رسوصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ل کسی کام کاحکم دیں توان کو اپنے اس کام (کے کرنے یا نہ کرنے ) کا اختیار ہو اور یاد رہے کہ جس نے خدا اور اس کے رسوصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ل کی نافرمانی کی وہ یقیناًکھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہو چکاہے۔

دور عثمان میں حج تمتع کی مخالفت!!

خلافت عثمان میں حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالبعليه‌السلام کی بے پایا ن سعی و کو شش اور دوران معاویہ میں بعض مسلمانوں کی جد و جھد کا نتیجہ تھا کہ حج تمتع کا حکم ِ خدا و رسولعليه‌السلام دوبارہ اپنی اصلی ہیئت پر پلٹ آیا اور بالتدریج عمر کا حکم کالعدم ہوگیا، چنانچہ عمرکی مخالفت اور حضرت علی علیہ السلام کی موافقت میں علمائے اہل سنت نے فتاوے صادرفرمائے ہیں،یھاں تک کہ یھی حکم مسلمانوں میں عملی قرار پایا لہٰذا ذیل میں صحیحین اور دیگر اہل سنت کی معتبر کتابوں سے چند روایات نقل کرتے ہیں جن میں عمر کے حکم کے خلاف حضرت امیرعليه‌السلام اور بعض مسلمانوں کی جد و جھد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،تاکہ بات بالکل واضح اور آشکار ہوجائے :

۱ …”عن مروان بن الحکم؛ قال شَهِدتُ عثمان وعلیاً:وعثمان ینهی عن المتعة،وان یُجْمَع بینهما فلمّا راٴی علیٌ اهلّ بهما لبیک بعمرة وحجة، قال:ماَکنتُ لِادَع َ سنَّة النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لقول احد“ ( ۷۴ )

مروان بن حکم کھتا ہے:

میں نے عثما ن بن عفان کو دیکھا کہ وہ حج تمتع سے لوگوں کو روک رہے تھے، جب حضرت علی علیہ السلام نے انھیں منع کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اعمال عمرہ اورحج کیلئے احرام باندھااور کهنے لگے: میں کبھی بھی حکم خداوسنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت نہیں کروں گا اور نہ کسی ایک کی مخالفت پرحکم الہٰی کو ترک کروں گا ۔

۲…”عن سعید بن المسیب؛ قال:اجتمع علی عليه‌السلام وعثمان بِعُسفان:فکان عثمان ینهی عن المتعة اوالعمرة ،فقال علی:ٌ ماترید الی امرفعله رسول الله تنهی عنه؟فقال عثمان: دعنا منک ،فقال:انی لا استطیع ان اَدَعَک، فلمّاان رای علی ذالک، اهل بهما جمیعا“ ( ۷۵ )

سعید بن مسیب کھتے ہیں :

جب حضرت علی علیہ السلام اورعثمان بن عفان ”عسفان“ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک دیھات کا نام ) میں اکٹھے ہوئے تو عثمان عمرہ یا متعہ سے لوگوں کو منع کر رہے تھے، لیکن حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :اے عثمان! کیا تم فرمان ِخدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کے علاوہ کوئی اور بھی مقصد رکھتے ہو؟ عثمان نے کھا! اے علیعليه‌السلام !ھم کو اپنے حال پر رهنے دو!حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:اے عثمان ! میں ھر گز تم کو اس حال پر نہیں چھوڑوں گا کہ حکم خدا ورسول کی مخالفت کرو ،لیکن حضرت علی علیہ السلام نیجب فضا ء دگرگون دیکھی توخود آپعليه‌السلام نے اعمال عمر ہ وحج کے لئے احرام باندھا۔

(یہ روایت مسلم سے ماخوذ ہے البتہ بخاری میں بھی اس کے مانند روایت موجود ہے)

مسلم نے اس روایت کوعبدالله بن شقیق سے بھی نقل کیا ہے اوراس روایت میں یہ جملہ بھی موجودھے:

عثمان نے حضرت علی علیہ السلام کو نازیباکلمات کھے:(فقال عثمان لعلی کلمة ) !!

سنن نسائی میں اس واقعہ کو سعیدبن مسیب سے یوں نقل کیا گیا ہے:

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:”اذاراٴیتموه قدارتحل فارتحلوا،فلبیٰ علی عليه‌السلام واصحا به بالعمرة “جب تم لوگ دیکھو کہ عثمان نے حرکت شروع کردی توتم لوگ بھی ان کے ساتھ حرکت شروع کردو،اس وقت علیعليه‌السلام اورآپ کے چاهنے والوں نے عمرہ کے لئے احرام باندھا ۔( ۷۶ )

امام سندی جملہ”اذاراٴیتموه…“ کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت علی علیہ السلام کا مقصدیہ تھا کہ تم لوگ بھی عثمان کے ساتھ حرکت کرو لیکن عمرہ کااحرام باندھ کرتاکہ عثمان اوران کے چاهنے والے دیکھیں کہ ہم لوگوں نے ان کے قول پر سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مقدم کیا ہے اور انھیں اس بات کا علم ہو جائے کہ خدا و رسول کے قانون کے سامنے عثمان کی اطاعت نہیں ہوسکتی ۔( ۷۷ )

ایک قا بل توجہ نکتہ

یھاں پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بیشتر حقائق کو کتب تاریخ وحدیث میں تغیر وتبدل کر کے پیش کیاگیا ہے، یعنی یاسیاست ِزمانہ کی وجہ سے(حذف ہی کردیا گیا ہے،یا پھر)پردہ ابھام ان کے چھرے پرڈال کراصل حقیقت کو تحریف اورتوڑ مروڑ کے پیش کیاگیا ہے اور ہم تک صرف اشارہ پهنچا ہے۔

چنانچہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام اور عثمان کے درمیان حج تمتع کے بارے میں جو اختلاف ہوا، جسے صحیحین نے نقل کیا ہے یہ بھی انھیں حقائق میں سے ہیجنھیں تاریخ نے اشارة ً و کنایةً نقل کیا ہے، ورنہ یہ بات مسلم ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام اور عثمان کے درمیان اختلاف اسی سادگی سے نہ ہواہوگا ! چنانچہ بعض کتابوں میں شدت اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،جیساکہ ابو عمرابن عبدالبرنے عبدالله ابن زبیر سے نقل کیا ہے:

عثمان اور حضرت علیعليه‌السلام کے درمیان اختلاف اس قدر شدید تھا کہ قریب تھا حضرت علیعليه‌السلام کو اس وجہ سے قتل کر دیا جاتا، چنانچہ ابن زبیر سے منقول ہے : خداکی قسم میں جحفہ میں تھا کہ ایک گروہ شام سے آیا، جس میں حبیب بن مسلمہ فھری بھی تھا اور یہ عثمان کے ہمراہ تھے ،عثمان نے اس وقت خطبہ دینا شروع کردیا اور حج تمتع کا جب ذکر آیا تو کهنے لگے: حج تمتع سے مراد یہ ہے کہ اعمال حج کو ما ہ ھائے حرام میں تمام کرو اور اعمال عمرہ کو اس سیجدا قرار دو ، بھتر تو یہ ہے کہ اعمال عمرہ(حج تمتع ) کو تاخیر میں ڈال دو ،تاکہ دوبارہ تمھیں زیارت ِخانہ خدا نصیب ہو ،کیونکہ خدا نے خیر میں وسعت دی ہے ۔

ابن زبیر کھتے ہیں:حضرت علیعليه‌السلام نے عثمان کے جواب میں فرمایا :اے عثمان!تمھارا مقصد یہ ہے کہ خدا نے جو اپنے بندوں کو وسعت اور ترخیص عنایت کی ہے اس کو تنگی میں بدل دو؟! اور دور دراز سے آنے والے افراد کیلئیجس قانون کو خدا کے حکم سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تشریع کیا ہے تم انھیں اس سے روکنا چاہتے ہو ؟! اس وقت حضرت علیعليه‌السلام نے خود احرام حج وعمرہ باندھا اس کے بعد عثمان نے لوگوں کی طرف چھرہ کیا اور کهنے لگے:کیا میں نے تم کو عمرہ سے منع نہیں کیا ہے؟ البتہ یہ میری رائے ہے اب اگرکوئی اس کو انجام دیتا ہے تو میں اس کا ذمہ دار نھیں،جو چاہے اس پر عمل کرے اور جوچاہے اس کو ترک کرے، ابن زبیر کھتے ہیں : اسی اثناء میں ایک شامی مرد آیا اور حبیب ابن مسلمہ سے کهنے لگا:اس شخص کو دیکھو !جو امیر المومنین (عثمان )کے مقابلہ میں مخالفت کررھا ہے ،قسم خدا کی اگر مجھے عثمان کی طرف سے اجازت مل جائے تو میں اس کو قتل کردوں،ابن زبیر کھتے ہیں:اس وقت حبیب بن مسلمہ فھری نے اس کے سینہ پر ھاتھ مارکر کھا :اوخاموش رہ !اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپس کا اختلاف غیروں کی بہ نسبت زیادہ جانتے ہیں ۔”فان اصحا ب رسول الله اعلم بما یختلفون( ۷۸ )

حج تمتع دور معاویہ میں

محترم ناظرین ! ”متعتین“کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ابن عباس اور ابن زبیرکی جد وجھد اور مخالفت ابن عباس کی جابر کی جانب سے طرفداری کو ہم نے نقل کیا اور متعة الحج و متعة النکاح کے بارے میں جناب جابر کی طرفداری اسی مورد میں منحصر نہیں بلکہ اس بارے میں کافی مواردنقل کئے گئے ہیں ،حا لانکہ خلفاء کے زمانے میں حدیث نقل کرنے پر سخت پابندی لگی ہوئی تھی لیکن جناب جابر اس موضوع کے بارے میں حقیقت واضح کرنے سے باز نہ آئے اور آپ نے اس بات کو سب پر روشن کردیا کہ یہ دونوں متعہ جزء اسلام ہیں ۔( ۷۹ )

اسی طرح ا حادیث کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جس طرح عثمان چاہتے تھے کہ حضرت عمر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حج تمتع کو حرام قرار دیں ، اسی طرح معاویہ بھی چاہتا تھاکہ عمر اور عثمان کے حکم پر لوگوں کو گامزن رکھا جائے ، مگر کچھ افراد کی شدید مخالفت کی بنا ء پروہ کمزور پڑگیااور یہ مسلمان اس کا حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے ۔

چنانچہ سنن نسائی میں آیا ہے:

عن ابن شهاب عن محمد …؛انه حدثه انه سمع سعد بن ابی وقاص والضحا ک بن قیس عام حج معاویة بن ابی سفیان وهما یذکران التمتع بالعمرة الی الحج،فقال الضحا ک:لایصنع ذالک الّا من جهل امر الله تعالی ،فقال سعد: بئسما ،قلت یابن اخی، قال الضحا ک: فَاٴِنَّ عمر بن الخطاب نهی عن ذالک، قال سعد: قد صنعها رسول الله وصنعنا معه( ۸۰ )

جس سال معاویہ حج کے لئے گیا توسعد بن ابی وقاص اور ضحا ک بن قیس(یہ دونوں مشہور صحا بی اور بڑے لوگوں میں تھے ) کے درمیان اختلاف ہو گیا ، ضحا ک کا کهنا تھا کہ حج تمتع انجام نہیں دے گاسوائے اس شخص کیجو حکم الٰھی کو جانتا ہی نہ ہو ، سعد نے کھا : اے برادر زادہ تم کیابیہودہ باتیں بک رہے ہو؟!ضحا ک نے کھا : اے سعد! کیا عمر ابن خطاب نے حج تمتع کو حرام قرار نہیں دے دیا تھا؟سعد نے کھا: صحیح ہے مگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کو انجام دیا ہے اور ہم نے بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے انجام دیا ہے ۔

صحیح مسلم اور مسند امام احمد بن حنبل میں اس طرح مرقوم ہے:

عن سلیمان حدثنی غنیم؛قال سئلت سعد بن ابی وقاص عن المتعة، قال فعلنا هاوهٰذاکافر بالعرش یعنی معاویه( ۸۱ )

سلیمان سے منقول ہے کہ غنیم کھتے ہیں :

جب میں نے سعد بن ابی وقاص سے متعہ کے بارے میں دریافت کیا توآپ نے کھا :” ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے حج تمتع اس وقت کیا جب معاویہ خدائے عرش کے بارے میں کافر تھا۔ “

ان دونوں باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ معاویہ کے زمانے میں بھی حج تمتع کے بارے میں اختلاف پایا جاتاتھا، ورنہ اس کا کوئی مطلب نہیں کہ دو مسلمان افراد میں ایک مسئلہ کے بارے میں اختلاف کو کسی ایک سال سے مقید کردیا جائے، یا حج تمتع انجام دینے کے بارے میں یہ کھا جائے کہ میں نے اس کو اس وقت انجام دیا جب معاویہ کافر تھا، وغیرہ وغیرہ

۶ ۔ متعہ یامعینہ مدت کانکاح

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیثیں مطالعہ کرنے سیجھاں بھت سی باتوں کا انکشاف ہوتاہے ، ان میں سے اس بات کا بھی روزروشن کی طرح ا ستفادہ ہوتاہے کہ جواز ِمتعہ کو حرمت میں تبدیل کرنے والے بھی حضرت عمر تھے!اور یہ ایک ایسا حکم ِ خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کی ممنوعیت پر اہل سنت حضرات آج تک قائم ہیں اور بڑی شدومد کے ساتھ بغلیں بجا کر مذھب شیعہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس مذھب میں متعہ جائزھے!( ۸۲ ) یھاں تک کہ فی الوقت یہ موضوع شیعوں اورسنیوں کے درمیان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ گاہے بہ گاہے اس کی وجہ سے دست وگریبان ہو نے کی نوبت آجاتی ہے ، لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس موضوع کو درج ذیل پانچ عنوان بحث میں محل تحقیق قرار دیں ۔

۱ ۔ متعہ یعنی چہ؟

اسلامی فقہ میں جو متعہ محل ِبحث قرار دیا جاتا ہے اور جسے شیعہ حضرات دائمی نکاح کی طرح ا سلام کا ایک ثابت قانون سمجھتے ہیں اس سے مرادیہ ہے : ”مردایک ایسی عورت سے معینہ مدت کے لئے مھر معین کے ساتھ نکاح کریجو عورت اس کے لئے شرعی ممانعت نہ رکھتی ہو ، یعنی عورت ان عورتوں میں سے ہو جس سے دائمی نکاح جائز ہو اورمتعہ میں جب مدت معینہ تمام ہو جاتی ہے تو مرد و عورت بغیر طلاق کے ایک دوسرے سیجداہوجاتے ہیں ، البتہ ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ مرد اپنی مدت عورت کو بخش کر مدت تمام ہونے سے پھلی جدا ہو جائے ۔“

عقد دائمی اور متعہ کے مشترک و مختلف احکام

قارئین کرام ! متعہ او ر دائمی نکاح کے زیادہ تر احکام ایسے ہیں جومشترک ہیں اور بعض احکام مختلف ہیں جن کی تفصیل ذیل میں ہم نقل کرتے ہیں :

مشترک احکام

۱ ۔متعہ میں بھی عقد دائم کی طرح زوجین کو بالغ اور رشید ہونا چاہیئے۔

۲ ۔ دائمی نکاح کی طرح ا س میں بھی رضایت ِطرفین کے ساتھ ساتھ صیغہ ایجاب و قبول پڑھنا ضروری ہے ، لہٰذا طرفین کی طرف سے صرف رضایت اور معاطات ہو تو متعہ درست نہیں ہیجب تک کہ صیغہ ایجاب و قبول نہ ہو اور صیغہ ایجاب و قبول میں مخصوص الفاظ کا پڑھنا لازمی ہے ، لہٰذا لفظ آجرت ، یا وھبت،ابحت وغیرہ سے متعہ واقع نہیں ہو سکتا ہے۔

۳ ۔ عقد دائم کی طرح ا س میں بھی مھرِ معین اور اجرت قرار دینا ضروری ہے ۔

۴ ۔ جس طرح دائمی نکاح میں عورت پر لازمی ہے کہ وہ شوھر سیجدائی کی صورت میں عدہ رکھیجبکہ مرد وعورت ہمبستر ہوئے ہوں اور عورت یائسہ نہ ہو اسی طرح متعہ میں بھی عورت پر جدائی کی صورت میں عدہ رکھنا ضروری ہے، البتہ متعہ میں عدہ کی مدت دو حیض کا آنا یا ۴۵ روز ہے اورنکاح میں تین ماہ(یاتین حیض ) ہوتی ہے ۔

۵ ۔دائمی نکاح کی طرح متعہ میں بھی عدہ وفات چار مھینے دس دن ہے۔

۶ ۔ دائمی نکاح کی طرح متعہ میں بھی ح ا ملہ عورت کا عدہ ،طلاق کی صورت میں وضع ِ حمل ہے اوراگر شوھر مر جائے تو عدہ ”ابعدالاجلین“ ہوگا ۔

۷ ۔ متعہ سے پیدا ہو نے والی اولاد بھی میراث و دیگر احکام میں اپنے ان بھائی و بهنوں کے ساتھ برابر کی شریک ہوتی ہیجو دائمی نکاح والی عورت سے متولد ہوئی ہو ۔

۸ ۔متعہ میں بھی عقد دائم کی طرح بیوی کی ماں اور اس کی لڑکی شوھر پر حرام ابدی ہوجاتی ہیں ( البتہ اس وقت تک حرام ہیجب تک کہ عورت زوجیت میں ہے) اسی طرح متعہ والی بیوی کی موجودگی میں شوھر اس کی بهن سے عقدمتعہ نہیں کر سکتا۔

۹ ۔متعہ میں بھی دائمی نکاح کے مانند ایام خاص میں جماع کرنا حرام ہو تا ہیجیسے ایام عادت (حیض و نفاس )یا ماہ رمضان کے روزے کی حا لت میں ۔

اختلافی موارد

۱ ۔دائمی نکاح کی طرح متعہ میں مدت غیرمعین نہیں بلکہ معین ہوتی ہے

۲ ۔ دائمی نکاح کی طرح مرد وعورت متعہ کی صورت میں ایک دوسرے کے وارث نہیں قرار پاتے مگر یہ کہ صیغہ عقد متعہ میں شرط ِتوارث قرار دے دی جائے ۔

۳ ۔ صیغہ متعہ میں مھر کا ذکراور اس کی تعیین ضروری ہے لیکن عقد دائمی میں ذکر ِمھر اور اس کی تعیین لازمی نہیں ۔

۴ ۔متعہ میں عورت حق نہیں رکھتی کہ مرد سے نان و نفقہ کا مطالبہ کرے البتہ اگر عورت ضمن ِعقد میں نان و نفقہ کی شرط کردے تو مرد پر اس کا نان ونفقہ واجب ہے۔

۵ ۔عقد متعہ میں بیک وقت چار عورتوں سے زیادہ رکھ سکتا ہے ، لیکن دائمی نکا ح میں چار سے زیادہ نہیں رکھ سکتا۔( ۸۳ )

۲ ۔ ا سلام میں عقد متعہ کا جواز

مذھب اسلام میں اصل ِ متعہ کا جائز ہونا مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ کے علاوہ قرآن مجید اور سنت پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ بھی قطعی الثبوت ہے ،جھاں تک اتفاق مسلمین کا مسئلہ ہے تو تمام مسلمان اپنے مختلف نظریات،آراء و عقائد کے باوجود اس بارے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ متعہ کو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا کے حکم سے تشریع فرمایا ہے اور اس کا جائز ہو نا اتنا واضح و آشکا ر ہے کہ ہم یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ علمائے اسلام میں سے کسی نے بھی متعہ کیجواز کا انکار نہیں کیا ہے ،گویا علمائے اسلام کے نزدیک حکم ِ ِمتعہ ضروریا ت ِدین میں سے ہے، چنانچہ اہلسنت والجماعت کے مشہور محقق وفلسفی علامہ فخرالدین رازی تحریر فرماتے ہیں :

” تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ متعہ اسلام میں مباح تھا ،لیکن اس میں اختلاف ہے کہ آیا یہ نکاحِ متعہ بعد میں نسخ ہوایا نہیں ؟

ایک گروہ قائل ہے کہ یہ حکم نسخ ہوگیا تھااور دوسراگروہ عدم ِنسخ کاقائل ہے“( ۸۴ )

ثبوت جواز متعہ ؛قرآن کی روشنی میں

جواز متعہ کے بارے میں سورہ نساء میں ارشاد ہوتاہے:

( فَمَااسْتَمْتَعْتُمْ بِه مِنْهُنَّ فَاٴتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ) ( ۸۵ )

پس جو لوگ عورتوں سے لذت اٹھانا چاہتے ہیں ان کو چاہیئے کہ جو اجرت تعین ہوتی ہے اس کو اداکریں ۔

اہل سنت کے اکثرمفسرین اور اہل تشیع کے تمام مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ مذکورہ آیت متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور استمتاع کی اجرت دینے کامطلب متعہ میں مھر اداکرنا ہے ،یھاں تک کہ قراّ ء ِقرآن کے ایک گروہ مانندابی ابن کعب، ابن عباس،سعید بن جبیر،سدی وغیرھم نے اس آیت کو یوں پڑھا ہے:( فَمَااسْتَمْتَعْتُمْ بِه مِنْهُنَّ ( اِلیٰ اَجَلٍ ) فَاٴتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُن… ) یعنی ان حضرات نے مدت کا ذکر آیت کا جزء جانا ہیجو متعہ میں لازم ہو تا ہے۔

اس نظریہ کو طبری اورزمخشری نے اپنی اپنی تفسیر میں ابن عباس سے اور فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں ابی ابن کعب سے نقل کیا ہے ۔( ۸۶ )

تفسیر طبری میں صدر اسلام کے مشہور مفسر جناب مجاہد سے منقول ہے : مذکورہ آیت متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ خود اس سورے کی آیات کاسیاق وسباق اور مذکورہ آیت میں موجودہ قرائن اس بات کی شھادت دیتے ہیں کہ یہ آیت متعہ سے متعلق ہے ،کیونکہ خدانے اس سورہ کے شروع میں پھلے عقد دائمی کا حکم بیان فرمایا ہے:

( فَانْکِحُوْاماَ طَابَ لَکُمْ مِنْ اَلنِّسَآءِ مَثنْیٰ وَثُلٰاثَ وَرُبٰعَ…. وَاٰتُواالِّنسَآءَ صَدُ قاَتِهِنَّ نِحْلَةً ) ( ۸۷ )

تو عورتوں سے تم اپنی مرضی کے موافق دودواور تین تین اور چارچار سے نکاح کرو ، پھر اگر تمھیں اس کا اندیشہ ہو کہ تم(متعدد بیویوں میں )انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو ،یا جو (لونڈی) تمھاری زر خرید ہو (اسی پر قناعت کرو )یہ تدبیر بے انصافی نہ کرنے کی بھت قرین قیاس ہے اورعورتوں کو ان کے مھر خوشی خوشی دے ڈالو ۔

اگر آیہ( فَمَاْاسْتَعْتُمْ ) سے مراد بھی عقد دائم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا نے بغیر کسی فائدہ اورنئے نکتہ کے ایک ہی سورہ میں ایک حکم کو دوبار بیان فرمایا ہے اور یہ رویہ قرآن کی بلاغت اور روش کے خلاف ہے ،لیکن اگریہ آیت متعہ سے مربوط ہو توآیت سے ایک نیا اور مستقل حکم کا پتہ چلتا ہے اوراس صورت میں کوئی اشکال وارد نہ ہوگا ، بالفاظ دیگر مذکورہ سورہ میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس سورہ میں خدا نے تمام ان عورتوں کا ذکر فرمایا ہیجن سے نکاح کر نا حرام ہے اور پھر عورتوں کے حلال ہونے کے طریقہ کو اس ترتیب سے بیان کیا ہے:

۱ ۔ آزاد عورتوں کے ساتھ عقد دائم۔

۲ ۔کنیزوں کے ساتھ عقد دائم کرنا ۔

۳ ۔ملک یمین ۔( یعنی کنیزوں کو بغیر عقد اپنی زوجیت میں رکھنا)

۴ ۔ازدواج موقت (متعہ)۔

۱ ۔ ۲ ۔ازدواج دائم اور مِلک یمین کا حکم اس سورہ کی آیت نمبر ۳ میں آیاہے :

( فاَنْکِحُوْامَاطَابَ لَکُمْ مِنْ اَلنِّسَاءِ مَثْنیٰ وَ ثُلاٰ ثَ وَرُبٰعَ فَاٴِنْ خِفْتُمْ اٴَلَّا تَعْدِلُوْاْفَوَاْحِدَةًاٴَوْمَاْ مَلَکَتْ اٴَیْمَاْنُکُمْ ذَاْلِکَ ادنیٰ اٴَلَّا تَعُوْلُوْاْ .وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقا تِهِنَّ نِحْلَةً فَاٴِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِنْهُ نَفَساً فَکُلُوْهُ هنیْئاً مَرِیْئاً )

پس تم عورتوں سے اپنی مرضی کے موافق دودواور تین تین اور چارچار سے نکاح کرو ، پھر اگر تمھیں اس کا اندیشہ ہو کہ تم(اپنی متعدد بیویوں میں )انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو ،یا جو (لونڈی) تمھاری زر خرید ہو (اسی پر قناعت کرو )یہ تدبیر بے انصافی نہ کرنے کی بھت قرین قیاس ہے ۔اورعورتوں کو ان کے مھر خوشی خوشی دے ڈالو !پھر اگر تمھیں خوشی خوشی کچھ چھوڑ دیں تو شوق سے نوش جان کھاوپیو۔

۳ ۔کنیزوں ( غیر آزاد عورتوں) سے شادی کرنے کا حکم اسی سورہ کی آیت نمبر ۲۵ میں بیان کیا گیا ہے:

( وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ َطوْلاًاَنْ یَّنْکِح ا لْمُحْصَنَاتِ اْلمُومِنَٰتِ فَمِنْ ماَّ مَلَکَتْ اٴَیْمٰنُکُمْ ِّمنْ فَتَیٰتِکُمْ اُلْمُومِنَٰتِ ) ( ۸۸ )

اورتم میں سیجو شخص آزاد مومنہ عفت دار عورتوں سے نکاح کرنے کی مالی حیثیت نہیں رکھتا ہو تووہ تمھاری ان مومنہ لونڈیوں سیجو تمھارے قبضے میں ہیں نکاح کرسکتا ہے اور خدا تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے ۔

۴ ۔ اس آیت میں خدا وند متعال نے ازدواج کی چوتھی قسم( متعہ )کا حکم بیان فرمایا ہے:

( فَمَاْاسْتَمْتَعْتُمْ بِه مِنْهُنَّ فَاٴتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ ) ( ۸۹ )

پس جو لوگ عورتوں سے لذت اٹھانا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ جو اجرت تعین ہوتی ہے اس کو اداکریں ۔

حدیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ثبوت جواز متعہ

محترم قارئین!ثبوت متعہ سے متعلق شیعہ و سنی کتب میں کثرت کے ساتھ روایتیں پائی جاتی ہیں ، چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں سلمہ بن اکوع، جابر بن عبد الله ، عبد الله بن مسعود، ابن عباس، سبرہ بن معبد ، ابو ذر غفاری ،

عمران بن حصین اوراکوع بن عبد الله اسلمی سے متعدد روایات منقول ہیں ، چونکہ یھاں سب روایات کا نقل کرنا حجم کتاب کے منافی ہے، لہٰذا چند روایات ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں :

۱…”عن جابر بن عبدالله وسلمة بن اکوع ؛قالا: خرج علینامنادی رسولِ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ،فقال: ان رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله قد اذن لکم ان تستمتعوا یعنی متعةالنساء( ۹۰ )

جابر بن عبداللہ وسلمہ بن اکوع سے منقول ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ایک ندا آئی اور اعلان ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ تم عورتوں سے متعہ کرو۔

مسلم نے مذکورہ حدیث کو اس طرح بھی نقل کیا ہے :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے درمیان خود تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ تم لوگ متعہ کرو:

”ان رسول الله اتانا فاذن لنا فی المتعة “ ( ۹۱ )

اور بخاری نے اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے:

”…کنا فی جیش فا تا نا رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،فقال: انه قد اذن لکم ان تستمتعوا فا ستمتعوا“ ( ۹۲ )

ھم لشکر کے درمیان تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے اور فرمانے لگے:تمھیں عورتوں سے استمتاع ( متعہ )کر نے کی اجازت دی گئی ہے پس ان سے کرو۔

۲”جابر بن عبداللّٰه یقول:کنا نستمتع بالقبضة من التمروالد قیق الا یام علی عهدرسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وابی بکر،حتی نهی عنه عمر فی شاٴن عمروبن حریث ۔( ۹۳ )

جابر بن عبداللہ سے منقول ہے:

ھم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر کے دور میں ایک مشت خرمہ اور کچھ آٹے کے بدلے چند ایام کے لئے عورتوں سے متعہ کرتے تھے،یھاں تک عمروبن حریث کا واقعہ جب پیش آیا تو عمر نے متعہ کر نے سے منع کردیا !!

مسلم نے متعدد طرق واسناد کے ساتھ متذکرہ حدیث کو نقل کیا ہے۔

عرض مو لف

ابن حجر نے واقعہ عمرو بن حریث کو اس طرح نقل کیا ہے:

”عمروبن حریث ایک روز کوفہ آیااور اس نے ایک کنیز سے متعہ کیا اور جب وہ کنیز ا س سے حاملہ ہو گئی تو ایک روز جب وہ حاملہ تھی اسے عمر کے پاس لایا، چنانچہ عمر نیجب اس واقعہ کو عمروبن حریث سے دریافت کیاتواس نے بھی اعتراف کرلیا، یھی وہ موقع تھا جب عمر نے اعلان کیاکہ آج سے میں متعہ حرام قرار دیتاہوں!! “( ۹۴ )

۳…”عن قیس؛قال:سمعت عبدالله ؛ یقول:کنانغزْومع رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله لیس لنانساء، فقلنا:الانستخصِی؟ فنهاناعن ذالک، ثم رخّص لناان ننکحا لمراٴةبالثوب الی اجل، ثم قَرَءَ عبدالله :< ( یَا اَیُّهَاالذَّیِْن آَمَنُوْالَا تُحِرِّمُوْاطَیِّبَاْتِ مَاْ اَحَلَّ الله لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْااِنَّ الله لَا یُحِبُّ اْلْمُعْتَدِ یْنَ ) > ( ۹۵ )

امام بخاری اور مسلم تمام اسناد کے ساتھ قیس عبد الله بن مسعود سے روایت نقل کرتے ہیں :

ھم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں تھے اور ہماری عورتیں ہمارے ساتھ نہ تھیں ، لہٰذاہم نے عرض کیا:یا رسول الله !کیا ہم اپنے آپ کو خصی نہ کرلیں؟ پھلے تورسول نے ہمیں اس فعل کے انجام دینے سے منع فرمایا،لیکن پھر اس بات کی اجازت فرمائی کہ ہم لباس کے ایک قطعہ کے مقابلہ میں کچھ ایام کے لئے عورتوں سے نکاح کرلیں ۔

عبدالله بن مسعود نے اس وقت اس آیت کی تلاوت فرمائی :( یَا اَیْهَاَالْذِیْن آمَنُوْا ) اے ایماندارو! خدانیجن پاکیزہ چیزوں کو تمھارے لئے حلال قرار دیا ہے اس کو اپنے لئے حرام قرار نہ دو،حدودو قوانین خد ا سے تجاوز نہ کرو،کیونکہ خداوند متعال تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا( ۹۶ )

عرض مولف

مسلم نے اس حدیث کو تین طریق سے عبد الله بن مسعود سے نقل کیا ہے اورابن مسعود کامذکورہ آیت کے اس موقعہ پرتلاوت کرنے کا مقصدان لوگوں پر تنقید اور اعتراض کرنا تھا جو اس ازدواج(متعہ)کو حرام سمجھتے تھے، یعنی ابن مسعود اس آیت کے ذریعہ اس مطلب کی طرف اشارہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ شادی طیبات اور اسلامی قوانین کاجز ہے،لہٰذااس کو ہمیشہ جائز رهنا چاہئے اوراس کی حرمت کا فتویٰ صادر کرنا، قانون اسلام اورحدود الٰھی سے تجاوزکرنے کے مترادف ہے ۔

نووی نے اس حدیث کی شرح میں اس طرح لکھا ہے:

ابن مسعودکا اعتراض یہ بتلاتاہے کہ وہ بھی ابن عباس کی طرح متعہ کو حلال سمجھتے تھے اور حکم (متعہ)کے نسخ ہونے کی انھیں اطلاع نہ تھی !!

۴…”عن ابی نضرة؛قال کنت عند جابر بن عبد الله فاٴتاه آت، فقال: ابن عباس وابن الزبیراختلفا فی المتعتین، فقال جابر: فعلنا هما مع رسول الله ،ثم نهانا عنهما عمرفلم نعد لهما( ۹۷ )

ابو نضرہ کھتے ہیں :

میں جابر ابن عبدالله کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص وارد ہوااور کهنے لگا : ابن عباس و ابن زبیر جو (متعة النکاح ومتعة الحج)کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں !جابر نے کھا:ھم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں دونوں متعہ انجام دے چکے ہیں ،لیکن جب سے عمر نے ہمیں متعہ کرنے سے منع کیا ہے تب سے ہم نے انجام نہیں دیاہے۔

۵ ۔مسلم اپنے تمام اسناد کے ساتھ حصین بن عمران سے نقل کرتے ہیں :

آیہ متعہ تو کتاب خدا میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے نسخ کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ہے اور یھی نہیں بلکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے بھی خود اس کے انجام دینے کا امر فرمایا ہے، چنانچہ ہم حیات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اس بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کرتے رہے اور آپ نے اپنے آخری لمح ا ت تک ہم کو متعہ کرنے سے نہیں روکا، لیکن بعد میں ایک مرد آیااس نے اپنی رائے سے اس میں تغیر و تبدل کردیا!!( ۹۸ )

۳ ۔ تحریم متعہ خلیفہ ثانی کی زبانی !!

محترم قارئین ! مذکورہ مباحث سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ حکم ِمتعہ قرآن، سنت اوراجماع کی رو سیجائز ہے اور اس کی تشریع رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں ہوچکی تھی اور مذکورہ پانچ میں سے تین حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکم ابوبکر کے زمانے (اور چند سال عمر کے زمانے) میں بھی جاری رھا ،لیکن عمر نے چند سال کے بعد اس کو اپنے دور خلافت میں حرام قراردے دیا ،چنانچہ ذیل میں ہم چند سنی مورخین و محدثین کے اقوال اس بارے میں کہ عمر نے متعہ کو حرام کردیا تھا نقل کرتے ہیں :

۱ ۔احمد ابن حنبل نے اپنی کتاب” المسند“ میں ابی نضرہ سے نقل کیا ہے :

میں نیجابر بن عبد الله سے کھا کہ ابی زبیر متعہ کرنے سے منع کرتے ہیں اور ابن عباس متعہ کرنے کا امر کرتے ہیں ،جابرنے کھا: کیا خوب توباخبر شخص کے پاس آیاہے،ھم توخود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں متعہ کرتے تھے اور ابوبکر کے زمانے میں بھی ہم نے اس پر عمل کیاہے، البتہ جب عمر تخت خلافت پر بیٹھے تو ایک روز خطبہ میں کهنے لگے: قرآن وھی قرآن ہے اوررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے ،لیکن دو متعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں جائز تھے” متعةالحج اورمتعةالنساء“ان کو میں حرام قرار دیتاہوں:)(وانھماکانتا متعتان علی عھد رسول الله .ص()( ۹۹ )

عرض مولف

مسند احمد بن حنبل میں حدیث کا آخری حصہ عمداً حذف کردیاگیا ہیجو یہ تھا:

” آج سے میں ان پرپابندی لگارھا ہوں اورجو ان کو انجام دے گا اس کو سخت سزادوں گا۔“

۲ ۔جلال الدین سیوطی کھتے ہیں :

عمر سب سے پھلے فردھیں جنھوں نے متعہ کرنے سے لوگوں کو منع کیا!!

اول من حرم المتعة ۔ “( ۱۰۰ )

۳ ۔ابن رشداندلسی مشہور فقیہ و فلسفی( متوفی ۵۹۵ ھ )کھتے ہیں :

یہ بات مشہورہے کہ ابن عباس متعہ کو حلال سمجھتے تھے اور اس عقیده میں آپ کے ہم خیال کچھ اہل یمن و اہل مکہ حضرات بھی تھے اورآپ جواز متعہ پر آیہ( مَاْاْسْتَمْتَعْتُمْ ) سے استدلال کرتے تھے اور آپ کی قرات میں( اِلیٰ اَجَلٍ مُسَمّٰی ) بھی تھا۔

پھر ابن رشد اندلسی نقل کرتے ہیں :

ابن عباس کھتے تھے: متعہ پروردگار عالم کی طرف سے ایک رحمت تھی جسے خدا وند عالم نے امت محمدی کو بالخصوص عطا کی تھی ، چنانچہ اگر عمر اس سے منع نہ کرتے تو بھت ہی کم افراد زناانجام دیتے ۔

اس کے بعدابن رشد کھتے ہیں :

”وهذاالذی روی عن ابن عباس ابن رواه عنه ابن جریج وعمروبن دینار و عن عطاء؛قال:سمعت جابر بن عبد الله بقول : تمتعنا علی عهد رسول الله و ابی بکرونصفا من خلافة عمر ثم نهی عنها الناس “ ( ۱۰۱ )

ابن جریج اور عمرو بن دینار نے بھی ابن عباس سے وھی نقل کیا ہیجو ہم نے اوپر نقل کیا، اسی طرح عطاء سے نقل کیا گیاہے کہ میں نیجابر بن عبد الله سے سنا کہ آپ کھتے تھے :ھم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور پھر ابوبکر کے زمانے میں اور نصف دور خلافت عمر تک متعہ ( وقتی نکاح)کرتے تھے ،لیکن بعد میں عمر نے اس کو انجام دینے سے روک دیا۔

عرض مولف

ابن رشدکے نقل کے مطابق ابن جریج جواز ِمتعہ کے قائل تھے اورابن جریج (متوفی ۱۵۰ ھ) اپنے زمانہ کے بھت بڑے فقیہ اور اہل مکہ کے ممتاز علمائے دین میں سے تھے ، چنانچہ عبداللہ بن احمد بن حنبل کھتے ہیں :

” میں نے اپنے والد سے سوال کیا: سب سے پھلے کس نے تالیف کا کام کیا ؟ میرے والد نے کھا :ابن جریح نے“۔

اسی طرح ا مام شافعی کھتے ہیں :

ابن جریج نے اپنی زندگی میں سترعورتوں سے متعہ کیا تھا۔

”قال الشافعی : استمتع ابن جریج سبعین امرائة نکاح ا لمتعة“ ( ۱۰۲ )

اسی طرح عالم علم رجال امام ذھبی؛ ابن جریج کے بارے میں کھتے ہیں :

آپ اپنے زمانہ میں فقیہ اہل مکہ تھے اورآپ نے سترّ( ۷۰) عورتوں سے متعہ کیا تھااور آپ تمام علمائے رجال کے نزدیک قابل وثوق ہیں ۔( ۱۰۳ )

۴ ۔فاضل قوشچی کھتے ہیں :

عمر نے بالائے منبر کھا : تین چیزوں پہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں عمل ہوتا تھا،آج سے میں ان کو انجام دینے سے منع کرتاہوں،جو ان کو انجام دے گااس کو میں سخت سزادوں گا،وہ تین چیزیں یہ ہیں:متعةالنساء،متعةالحج،حی علی ٰخیرالعمل ۔( ۱۰۴ )

۵ ۔جب مامون نے اپنے دو رحکو مت میں چاہاکہ متعہ النساء کو جائز کرے توعلمائے اہل سنت میں سیجناب محمدبن منصوراورابوالعیناء مامون کے پاس پهنچے،مامون اس وقت مسواک کر رھا تھا اور غصہ کی ح ا لت میں عمر کے ان جملوں((متعتان کانتاعلی عھد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰہ و ابی بکر وانَّاانھی عنھما۔عھد رسول اور عھد ابوبکر میں دو متعہ تھے لیکن آج سے میں ان کو انجا م دینے سے منع کر رھا ہوں)) کی تکرار کر رھا تھا اور یہ کہہ رھا تھا:”ومن انت یاجعل حتیٰ تنهی عما قال له رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه وابوبکر “اے عمر تواس چیز سے منع کرنے والا کون ہوتاجسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابوبکرنیجائز قراردیاہو ؟!

محمد بن منصور نے چاہا کہ مامون سے گفتگو کرے لیکن ابوالعینا ء نے کھا: خاموش رہ جوشخص عمر کو ہدف تنقید قرار دے سکتاہے ہم اس کو کیسے قائل کر سکتے ہیں کہ حکم متعہ جاری نہ کرے!! اتنے میں یحی بن اکثم وارد ہو ا اور مامون رشید کو اس حکم کیجاری کر نے کی صورت میں شورش، فتنہ و فسادبرپا ہونے کے خطرہ سے آگاہ کیا ،چنانچہ مامو ن رشید حکم متعہ جاری کرنے سے منصرف ہو گیا۔( ۱۰۵ )

۴ ۔نسخ حکمِ متعہ کی حقیقت

جب بھی خلفاء کواسلامی احکام کے تحریف و تبدیل کرنے کی وجہ سے ہدف تنقید قرار دیا جاتا ہے توکچھ خوش عقیده حضرات دو چیزوں (جھوٹی احادیث اوراجتھاد)ک ا سھارالے کرخلفاء کے ھر قسم کے سیاہ کارناموں کو درست کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں !! یعنی جب ہم خلفاء کو اسلامی احکام تبدیل کرنے پر ہدف تنقید قرار دیتے ہیں تو علمائے اہل سنت جب خلفاء کو اجتھاد کے سھارے سے نہیں بچا پاتے تو آپ حضرات کی رائے کی موافقت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف بلا واسطہ جھوٹی حدیثیں منسوب کردیتے ہیں !! خلاصہ یہ کہ جب ان لوگوں نیجھوٹی حدیثوں کے ذریعہ اپنا مقصد پورا ہوتا ہوانھیں دیکھا تو اجتھاد ک ا سھارا لیا ہے اور ھر خلیفہ کے حکم کو اس کے خاص اجتھاد کی طرف مستند کیاہے اور بعض مواقع پر تو ان لوگوں نے دونوں( اجتھاداور جعلی حدیثوں) چیزوں ک ا سھارا لیاہے ،چنانچہ حکم متعہ کے سلسلے میں بھی انھیں دونوں پھلووں کو اختیار کیا گیاہے!!

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ کتب احادیث و تواریخ سے ثابت ہے کہ حکم متعہ پررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے زمانے میں قرآن اور حکم رسول اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے مطابق عمل ہوتا رھااور یھی نہیں بلکہ عمر کے زمانہ خلافت میں بھی مسلمانوں نے اس حکم پرچند سال تک عمل کیا ،لیکن عمر نے بعد میں یہ اعلان کردیا کہ جو اس حکم پر عمل کرے گا اس کو سخت سزا دی جائے گی !!

قارئین کرام!اگرچہ گزشتہ صفحا ت میں اس سے متعلق ہم مورخین کے اقوال اور احادیث نقل کر چکے ہیں لیکن قابل توجہ بات یھاں پریہ ہے کہ جب عمر نے اس حکم کو ممنوع قرار دیا توبھی کچھ صحا بہ کرام نیجن کا شمار محدثین اور مفسرین ِ قرآن میں ہو تا ہے، اسی زمانہ میں اس بارے میں عمرکے حکم کی آشکارا مخالفت کی اور آپ حضرات نے اسی زمانہ میں اس بات کی تصریح فرمادی تھی کہ جواز متعہ اسلام کا قابل تبدیل حکم نہیں ہے ، لیکن بعد میں خلیفہ صاحب کے عیب پر پردہ ڈالنے کیلئے اور ان کے حکم کو ثابت کرنے کیلئے ایک چال چلی گئی کہ حکم ِ متعہ قرآن کی دیگر آیا ت سے منسوخ قرار دے دیا گیا ہے، لہٰذا حکم متعہ اسلام کے منسوخہ احکام میں سے ہے ، اسی طرح نسخ ِحکم ِ متعہ کے بارے میں احادیث بھی جعل کی گئیں ، چنانچہ کبھی یہ بھانہ کیا گیا کہ خلیفہ صاحب نے اپنے اجتھاد سے حکم متعہ کو ممنوع قرار دیا ہے !!فاضل قوشچی نے اسی نظریہ کو اپنایا ہے،چونکہ نسخ ان کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے، بھر حال آیہ متعہ کے منسوخ ہونے اور اس کے احکام اور ان کیجوابات کے بارے میں اگر بحث کی جائے تو اس سلسلے میں ایک کتاب درکار ہے ،لہٰذا آپ اس کی تفصیلی معلومات کے لئے کتاب الغدیر،تفسیرمیزان اورتفسیربیان دیکھئے۔( ۱۰۶ )

البتہ ہم چند امور کی طرف یھاں پرآپ کی توجہ کو مبذول کرانا چاہتے ہیں :

حکم ِمتعہ قرآن کے ذریعہ نسخ ہوا ی ا سنت کے ذریعہ ؟!

جو حضرات رسول اسلام کے زمانے میں حکم متعہ کے منسوخ ہو نے کے قائل ہیں وہ خود ایک غیر قابل جمع شدیداختلاف میں مبتلا ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ آیہ متعہ کی منسوخیت کا صرف ایک بھانہ ہے،کیونکہ کچھ حضرات ان میں سے ایسے ہیں جو آیہ متعہ کو قرآن کی دیگر آیات سے منسوخ ہوناسمجھتے ہیں اور بعض احادیث سے آیہ متعہ کو نسخ قرار دیدیتے ہیں اور پھر ان دونوں کے درمیان بھی آپس میں ایسا اختلاف ہیجس کا جمع ہونا نا ممکن امر ہے ۔

حکمِ متعہ کا قرآن سے نسخ ہو نے کادعوی اور اس کا جواب

جو لوگ قرآن سے حکم متعہ کے نسخ ہو نے کے قائل ہیں ان کے درمیان پانچ قول ہیں :

۱ ۔بعض لوگ آیہ :

( وَالَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حا فِظُوْنَ. اِلَّاعَلیٰ ٰاَزْوَاْجِهِمْ ) ( ۱۰۷ ) اور جو(اپنی ) شرمگاہوں کوحرام سے بچاتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے

سے حکم متعہ کو منسوخ سمجھتے ہیں ۔

۲ ۔بعض اس آیت سے :

( وَالْمُطَلَّقَاْتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنْفُسِهن َثلَاْثَةَ قُرُوْءٍ وَلَایَحِلُ لَهن اَنْ یَکْتُمْنَ مَاْخَلَقَ الله ِفیْ اٴَرْحا مِهن… ) ( ۱۰۸ )

۳ ۔بعض لوگ اس آیت سے:

( وَلَکُمْ نِصْفُ مَاْ َتَرَک اَزْوَاْجُکُمْ اِنْ لَمْ یَکُنْ لَهن وَلَدٌ… ) ( ۱۰۹ )

۴ ۔بعض لوگ اس آیت سے :

( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَهَاْتُکُمْ وَبَنَاْتُکُمْ وَاٴَخْوَاْتُکُمْ وَعَمَّاْتُکُمْ… ) ( ۱۱۰ )

۵ ۔اور بعض لوگ اُس آیت سے منسوخ سمجھتے ہیں جس میں ازواج کی تعداد بیان کی گئی ہے:

( وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمیٰ فَاْنْکِحُوْامَْاطَاْبَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنیٰ وَثُلاثُ وَرُبٰعُ…… ) ( ۱۱۱ )

ح ا لانکہ مذکورہ آیات میں سے کسی بھی آیت کا مفہوم آیہ متعہ سے متضاد نظر نہیں آتا جس کی بنا پر حکم ِمتعہ کو منسوخ قرار دیا جاسکے یعنی اگر ان آیات کا مفہوم آیہ متعہ سے متضاد ہوتا تب یہ آیات حکم ِ متعہ کی ناسخ قرار پاسکتی تھیں اور چونکہ ان آیات کا مفہوم آیہ متعہ سے متضاد نہیں ہے لہٰذا آیہ متعہ منسوخ نہیں ہوسکتی اور پھر یہ کہ ان میں سے بعض آیات مکی ہیں اور آیہ متعہ مدنی ہے،لہٰذا اس صورت میں مکی آیا ت جوپھلے نازل ہوئیں ،مدنی آیت کی جو بعد میں نازل ہو ئیں ناسخ کیسے قرار پ ا سکتی ہیں ؟! کیونکہ منسوخہ آیات کے لئے ضروری ہے کہ ناسخ آیات ان سے قبل نازل نہ ہوئیں ہوں بلکہ بعد میں نازل ہوئی ہوں ۔

____________________

[۶۲] صحیح مسلم ج ۴،کتاب الحج ،باب(۱۷)”بیان وجوه الاحرام وانه یجوزافراد الحج والتمتع “حدیث۱۲۱۶۔

[۶۳] صحیح مسلم جلد۴،کتاب الحج، باب”بیان وجوه الاحرام“ حدیث۱۲۱۱،

یہ حدیث کتاب الحج کی۱۳۰ / ایک سو تیسویں حدیث ہے۔

[۶۴] جس طرح امام بخاری نے مذکورہ مضمون سے متعلق متعدد احادیث نقل کی ہیں اسی طرح مسلم نے بھی متعدد طرق و اسناد کے ساتھ مختلف روایات نقل کی ہیں ۔ متر جم۔

[۶۵] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب الحج ، باب(۲۳)” جواز التمتع“حدیث ۱۲۲۳۔۱۲۲۶۔( ان دونوں روایتوں کو مسلم نے متعدد اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔مترجم)۔ صحیح بخاری :جلد ۲ ،کتاب الحج، باب” تمتع“ حدیث۱۴۹۶۔ جلد ۵، کتاب المغازی، باب” بعث ابی موسی الی الیمن“ حدیث۴۰۸۹۔

[۶۶] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب النکاح ،باب ”نکاحا لمتعة“ حدیث۱۴۰۵ (کتاب النکاح کی حدیث نمبر ۷ ۱ )۔

[۶۷] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب الحج ،باب ”جواز التمتع “حدیث۱۲۲۶۔(کتاب الحج کی حدیث نمبر ۱۶۸)

[۶۸] مسلم نے باب نکاح المتعہ اور باب التمتع میں متعہ النساء اور جواز تمتع سے متعلق متعدد احادیث مختلف طرق و اسناد کے ساتھ اپنی صحیح میں نقل کی ہیں جن سے یقینی طور پر ان کا جواز ثابت ہوتا ہے ، مذکورہ حوالے ملاحظہ فرمائیں ۔مترجم۔

[۶۹] احکام القرآن جصاص جلد۱، تفسیر سورة البقرة ،ص ۳۴۵،۳۴۲۔جلد ۲، تفسیر سورہ النساء ،ص ۱۹۱۔ تفسیر قرطبی جلد ۲ ،تفسیر سورة البقرة ،قولہ تعالی : ”فان احصرتم فما استیسر من الھدی “ص۳۶۵۔

کنزالعمال جلد ۱۶،النکاح_الافعال،حدیث ۴۵۷۱۵، ص۳۵۲،۳۵۳،(مطبوعہ: ہندوستان)۔ شرح تجرید قوشچی، فصل امامت۔

[۷۰] صحیح مسلم جلد۴ ،کتاب الحج، باب” فی نسخ التحلل“حدیث۱۲۲۲(کتاب الحج کی حدیث نمبر ۱۵۷)

سنن نسائی جلد۵، کتاب مناسک الحج ،باب” التمتع“ ص ۱۵۳۔ سنن ابن ماجہ جلد ۲،کتاب المناسک ،باب ” التمتع بالعمرة الی الحج “حدیث۲۹۷۹۔ مسند احمد بن حنبل جلد۱،مسند عمر بن الخطاب ،ص۴۹۔۵۰۔

[۷۱] شرح صحیح مسلم جلد ۴ ، کتاب الحج ،ص ۴۶ ، مطبوعہ: بیروت لبنان ۱۳۳۴ھ ۔

[۷۲] حا شیة السندی علی سنن النسائی جلد ۵ ،کتاب مناسک الحج ،باب(۱۵۲)” التمتع“۔

[۷۳] سورہ احزاب،آیت۳۶، پ۲۲۔

[۷۴] صحیح بخاری جلد ۲ ،کتاب الحج،باب (۳۴)”التمتع والا قران“حدیث۱۴۸۸ ۔

[۷۵] صحیح بخاری جلد۱،کتاب الحج ،باب(۳۴) ”التمتع والاقران“ حدیث۱۴۹۴ ۔

صحیح مسلم جلد ۴،کتاب الحج ،باب(۲۳)” جوازالتمتع“ حدیث۱۲۲۳۔

[۷۶] سنن النسائی جلد۵،کتاب مناسک الحج ،باب(۱۵۲) التمتع۔

[۷۷] حا شیة السندی علی سنن النسائی جلد۵،کتاب مناسک الحج ،باب(۱۵۲) التمتع۔

[۷۸] جامع بیان العلم و فضلہ جلد ۲،باب ”معرفة اصول العلم و حقیقتہ “ص۳۷۔

[۷۹] صحیح مسلم جلد۱،کتاب الحج، باب” حج تمتع“و باب” متعةالنکاح“

[۸۰] سنن نسائی جلد ۴ ،کتاب مناسک الحج ، باب” التمتع“ ص ۱۵۲۔

[۸۱] صحیح مسلم جلد۴،کتاب الحج، باب”جواز التمتع“حدیث۱۲۲۵۔ مسند احمد بن حنبل جلد۱،مسند سعید ین زید بن عمرو ص۱۸۱۔

[۸۲] اگر اہل سنت حضرات سے الٹ کر کوئی سوال کرے کہ جس حکم کو خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نیجائز قرار دیا ہو کیاوہ ایک عام آدمی کے حرام قراردینے سے حرام ہوجائے گا؟!لہٰذاقابل ِ ا عتراض تو وہ مذھب ہیجو حرمت متعہ پر آج تک قائم رہ کر الٹی گنگا بھا رھا ہے نہ کہ وہ مذھب جو حکم خداورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عمل پیراہے۔مترجم۔

[۸۳] متعہ کے بقیہ جزئی احکام، فقھی کتابوں میں دیکھئے۔

[۸۴] تفسیر کبیر فخر رازی ،سورہ نساء، آیت نمبر ۲۹۔

[۸۵] سورہ نساء،آیت۲۴،پ۵۔

[۸۶] تفسیر طبری جلد ۵،سورہ نساء آیت ۲۴ ۔ تفسیر کشاف جلد ۱،سورہ نساء،آیت۲۴، ص۵۱۹۔ تفسیر کبیر جلد ۳،سورہ نساء،آیت۲۴،ص۲۰۱۔

[۸۷] سورہ نساء ،آیت ۳۔۴،پ۴۔

[۸۸] سورہ نساء، آیت۲۵،پ۵۔

[۸۹] سورہ نساء، آیت ۲۴ ، پ۵۔

[۹۰] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب النکاح ،باب ”النکاح ا لمتعة“حدیث۱۴۰۵

[۹۱] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب النکاح ،باب ”النکاح ا لمتعة“حدیث۱۴۰۵

[۹۲] صحیح بخاری جلد ۷ ،کتاب ا لنکاح، باب ”نھی رسول الله عن نکاح ا لمتعة آخراً“حدیث۴۸۲۷ ۔

[۹۳] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب النکاح ،باب ”نکاح ا لمتعہ“حدیث۱۴۰۵۔

[۹۴] فتح ا لباری جلد ۹،ص۱۴۹۔

[۹۵] سورہ مائدہ ،آیت نمبر۸۷ ،پ ۷۔

[۹۶] صحیح بخاری :جلد۶،کتاب التفسیر تفسیر سورہ مائدة، باب(۹)<لَا تُحِرِّمُوْاطَیَّبَاْتِ مَاْ اَحَلَّ الله لَکُم>حدیث۴۳۳۹ ۔ جلد ۷،کتاب النکاح، باب” مایکرہ من التبتل والخِصاء “حدیث۴۷۸۷۔

صحیح مسلم جلد ۴،کتاب النکاح ،باب ”نکاح ا لمتعة “حدیث۱۴۰۴۔

[۹۷] صحیح مسلم جلد ۴ ،کتاب النکاح ،باب”نکاح ا لمتعہ “حدیث ۱۴۰۵۔

[۹۸] صحیح مسلم جلد۱،کتاب الحج کی حدیث نمبر۱۷۲۔

[۹۹] مسند احمد جلد۱،مسند عمر بن الخطاب ، ص۵۲۔

[۱۰۰] تاریخ الخلفاء ،فصل : اولیات عمر ص۱۳۷۔

[۱۰۱] بدایةالمجتھد جلد ۲، کتاب النکاح ،”الاول: منھا نکاح ا لشغار “ص۴۷۔

[۱۰۲] تہذیب التہذیب جلد ۶،( ۷۵۸_ ۴) السة ، ص۳۶۰۔

[۱۰۳] میزان الاعتدا ل، ( نمبر ۵۲۲۷،عبد الملک __عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج ابوخالد المکی حرف العین ،تحقیق علی محمد البجاوی جلد۲،۶۵۹۔

[۱۰۴]شرح تجرید ا لاعتقادقوشچی فصل امامت۔ ابن ابی الحدیدنے بھی شرح نہج البلاغہ جلد ۱،خطبة شقشقیة ص۱۸۲میں نقل کیا ہے مگر آخری جملہ( حی علی خیر العمل ) کو حذف کر دیا ہے۔

[۱۰۵] تاریخ ابن خلکان جلد۲،ص۳۵۹( مطبوعہ: ایران)۔ وفیات الاعیان در بیان حا لات یحی بن اکثم۔ ان دو کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔

[۱۰۶] الغدیرجلد۶۔ تفسیرالمیزان جلد۴۔ البیان، مصنفہ آیة اللّٰہ العظمیٰ خوئی۔

[۱۰۷] سورہ مومنون،آیت۶،۵پ۱۸۔

[۱۰۸] سورہ بقرہ ،آیت نمبر۲۲۸، پ۲۔

[۱۰۹] سورہ نساء، آیت نمبر آیت۱۲،پ۴۔

[۱۱۰] سورہ نساء، آیت نمبر ۲۳،پ۴ ۔

[۱۱۱] سورہ نساء ،آیت نمبر۳۔


حد یث کے ذریعہ منسوخ ہو نے کادعویٰ!

جو حضرات احادیث شریفہ سے آیہ متعہ کو منسوخ سمجھتے ہیں ان کے درمیان بھی مختلف اقوال نظر آتے ہیں ، یھاں تک کہ ان میں پندرہ قول پائیجاتے ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل متضاد و متناقض ہیں ان میں سے پانچ یہ ہیں :

۱ ۔بعض روایات میں وارد ہواہے کہ حکم متعہ جنگ خیبر میں منسوخ ہوا۔

۲ ۔بعض روایات میں آیاہے کہ یہ حکم فتح مکہ میں نسخ ہوا ۔

۳ ۔بعض میں جنگ تبوک کا تذکرہ ہے ۔

۴ ۔بعض روایات میں حجةالوداع کے موقع پر نسخ ہونے کو بتلایا گیاہے ۔

۵ ۔بعض میں جنگ حنین کا ذکر ہے ۔وغیرہ وغیرہ

قارئین کرام! عدم ِطوالت کی بنا پرتمام اقوال نقل کرنے سے ہم معذرت خواہ ہیں صرف حوا لہ کتاب پر اختصارکرتے ہیں ۔( ۱۱۲ )

الغرض جیسا کہ ہم پھلے بتا چکے ہیں کہ صحیح روایات بالخصوص صحیحین کی روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ حکم ِمتعہ کا نسخ ہونا نہ قرآن کے ذریعہ ثابت ہے اور نہ ہی سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ ، بلکہ یہ حکم رسول سلام ،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکرا ورعمر کے تھوڑے زمانہ خلافت تک جاری رھا اور عمر نے چند سال کے بعد اپنے دور خلافت میں اس کو حرام قراردیدیااورقابل توجہ بات یہ ہے کہ جن روایات میں حکم ِمتعہ کے منسوخ ہونے کا تذکرہ ہے وہ قرآن اور صحیح روایات سے متعارض و متضاد ہو نے کے ساتھ ساتھ خبرآح ا د بھی ہیں اور یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہو چکی ہے کہ نسخ ِحکم قرآن کریم خبر واحد سے نہیں ہوسکتا۔

۵ ۔ تھمتیں اورافتراپردازیاں !

جیساکہ ذکر ہو چکا کہ حکم ِ متعہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور اس حکم کے حدود اور شرائط شیعہ فقھی کتب میں واضح طور پر موجودھیں ، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود کئی علمائے اہل سنت جیسے غریقی نیجب حکم متعہ کی( غلط سلط) نسخ ہو نے کی توجیھات کو غیر مناسب دیکھا تو اپنے کو ھر طرح سے مجبور پا کر اس شخص کی طرح جو دریا میں غرق ہوتا جارھا ہو لیکن ھاتھ پیر مار کرسھارے کے لئے ایک تنکا تلاش کر رھا ہو ، اپنے خبث باطنی اوربر بنائے تعصب بے بنیاد اور واہیات چیزیں خود حکم متعہ میں پیدا کرنے کی کو شش کی ہے، چنانچہ ذیل میں ہم ان علمائے اہل سنت میں سے صرف چار علمائے اہل سنت کے اسمائے گرامی تحریر کرتے ہیں ، جنھوں نے کھوکھلے فکری اور وھمی نتائج متعہ میں پیدا کرنے کی سعی لاحا صل فرمائی ہے :

۱ ۔ شیخ محمد عبدہ: آپ حکم ِ متعہ کی مخالفت میں تحریر فرماتے ہیں :

” متعہ عورت کی عفت اور اس کے کلی قانون ِازدواج کے خلاف ہے ،کیونکہ اس طرح کے نکاح میں مرد اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے علاوہ کوئی دوسرامقصد نہیں رکھتا اور اس طرح کی شادی در حقیقت اس عورت کی عفت ریزی اور آبرو برباد کرنے کے مترادف ہے ،کیونکہ جو عورت ھر روز اپنے آپ کو کرائے پرایک دوسرے مرد کے اختیار میں دیدے اس کی شخصیت اور عزت کیا ر ہے گی؟اور ایسی عورت کے حق میں یہ شعر پڑھنا مناسب ہوگا :

کرةحذفت بصوالجة -- -- فتلقّفهارِجْلٌ من رجل

وہ ( عورت ) اس گیند کے مانند ہیجس کو ایک طرف سے دوسری طرف پیروں سے ٹھکیل دیتے ہیں اور وہ اِدھر سے اُدھر اچھلتی پھرتی ہے“( ۱۱۳ )

عرض مولف

ازدواج موقت( متعہ ) عورت کی عفت کے بر خلاف اور قانون ِازدواج کے منافی اس وقت ہو سکتا ہیجب ہم متعہ کو(مثل صاحب المنار ) شرعی حیثیت نہ دیں اور اس کو زنا و سفاح سے تعبیر کریں ،یعنی شیخ محمدعبدہ نیجو وجوھات بیان کی ہیں کہ متعہ سے عورت کی عفت اورشخصیت مجروح ہوتی ہے ،وغیرہ و غیرہ یہ ساری وجوھات اس وقت تسلیم کی جاسکتی ہیں جب حکم ِ متعہ (عقد موقت)کو غیر شرعی مانیں اور اس کے لئے کوئی حد بندی نہ ہو ، حا لانکہ ہم گزشتہ صفحا ت میں ثابت کرچکے ہیں کہ اس کے لئے بھی دائمی نکاح کی مانند ا حکام اور شرائط پائیجاتے ہیں ۔( ۱۱۴ )

اور صاحب تفسیر المنار (شیخ عبدہ )کا یہ کهنا کہ متعہ والی عورت ایسی ہیجیسے ایک عورت روزانہ اپنے کو کرایہ پر دیدے اور ایک گیند کی طرح ا یک ھاتھ سے دوسرے ھاتہمیں ناچتی پھرے۔

ا ولاً: یہ اعتراض اگرصحیح ہوتوڈائریکٹ شریعت محمدی پر ہوگا کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں بھی تو یہ حکم نافذالعمل تھا اور جو چیز قبیح ہے وہ ہمیشہ قبیح ہو گی لہٰذاایسا ھرگز نہیں ہو سکتا کہ مذکورہ تشبیہ صرف ایک زمانہ سے مخصوص ہو یعنی متعہ کا قبیح ہونا صرف ہمارے زمانے کے لحا ظ سے ہو اور جو مسلمان صدر اسلام میں متعہ کرتے تھے ان کو شامل نہ ہو !!

ثانیا: یہ اعتراض اس عورت پر بھی جاری ہو سکتا ہیجو دائمی عقد میں ہو ،کیو نکہ اس کے لئے بھی مناسب نہ ہوگا کہ اگر اس کی طلاق ہو جائے تو وہ دوسرا شوھر کرے ،یادوسرا شوھر مرنے کے بعد کوئی تیسرا شوھر کرے،اس لئے کہ اس صورت میں یہ بھی شیخ محمد عبدہ کے معیار کے مطابق ایک مرد کے ھاتھ سے دوسرے مرد کے ھاتہمیں مثل گیند کیجائے گی ، پس عقد دائمی والی عورت کے لئے دوسرا شوھر کرنا بھی بقول صاحب المنار عزت و آبرو کے خلاف ہے!!

اس سے بھی تعجب خیز بات صاحب المنار کی وہ ہیجسے وہ آگے اس طرح بیان کرتے ہیں :

”جو بحث میں نے متعہ کے سلسلے میں کی ہے وہ صرف حقیقت پر مبنی ہے اور مذھبی تعصب سے باکل دور ہوکر بیان کی ہے، یہ ایک درد دل تھا جو میں نے بیان کردیا“!!

الله اکبر! کیا درد دل اور حقیقت بیانی سے کام لیا ہے؟ ! قارئین آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا یھی انصاف ، حقیقت بیانی اور درد دل ہے کہ ایک شرعی حکم جو قرآن مجید، سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اجماع مسلمین سے ثابت ہو ،اس کی غلط توجیھات بیان کرکے کالعدم قراردیاجائے ؟!

کیا یہ مذھبی تعصب اور شریعت اسلامیہ کے ساتھ مسخرہ پن نہیں تو کیا ہے ؟!!

۲ ۔ موسی ٰجارالله :اپنی کتاب ”الوشیعہ“ میں تحریر کرتے ہیں :

اسلام میں متعہ یعنی معینہ مدت کا نکاح نام کا کوئی حکم وجود نہیں رکھتا اورنہ اس کیجواز کے سلسلہ میں کوئی آیہ قرآنی نازل ہوئی اورنہ صدر اسلام میں اس کیجواز کے بارے میں کوئی دلیل پائی جاتی ہیجو اس حکم کی تصدیق کرے ،البتہ اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ دور جاہلیت کی ایک رسم تھی جو مسلمانوں میں باقی رہ گئی تھی اوراس کے بارے میں شارع کی جانب سے کوئی اباحت اوراجازت نہیں ہے، لہٰذا متعہ کے لئے حکم ِنسخ آنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ یہ ایک اسلامی قانون منسوخ ہورھا ہے، بلکہ یہ ایک دوران جاہلیت کی قبیح رسم کا ممنوع وحرام قرار دینا تھا جو نسخ کی صورت میں آیا ۔( ۱۱۵ )

عرض مولف

موسیٰ جاراللہ کا جواب قارئین پر گزشتہ صفحا ت کا مطالعہ کرنے کے بعد خود ہی ظاہر ہوگیاہوگا،کیونکہ حکم متعہ قرآن و سنت سے ثابت ہوچکاہے اور تمام محدثین و مفسرین اس بارے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں ،لہٰذا موسیٰ جاراللہ کا یہ دعوی کرنا کہ یہ حکم اسلام میں نہیں پایاجاتا تھا ،یا دوران جاہلیت کی رسم ہے ،یہ صریح کذب ،بے بنیاد دعوی اور کتب تفسیراور تاریخ اسلام کا مذاق اڑانا ہے (یا پھر یہ کہئے کہ موصوف اس قدر جھالت کے شکار ہیں کہ کتابیں پڑھنے کی ضرورت نھیں)

( فَوَیْلٌ ِللَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ ْالْکِتَاْبَ بِاَیْدِیْهِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَاْمِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِه ثَمَنًاقَلِیْلاً فَوَیل لَّهُمْ مِمَّاْکَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَوَیْلٌ لَّهُمْ مِمَّاْیَکْسِبُوْنَ ) ( ۱۱۶ )

ویل ہو ان کے لئیجو لوگ اپنی طرف سے کتابیں لکھتے ہیں اور کھتے ہیں :یہ اللہ کی طرف سے ہیں تاکہ کچھ آمدنی ہو جائے ،ویل ہے اس کے لئیجس نے کتاب لکھی۔ الخ۔۔۔۔

۳ ۔ محمود شکری آلوسی کھتے ہیں :

شیعہ حضرات کے یھاں متعارف متعہ کے علاوہ ایک متعہ اور ہوتا ہے جسے دوری متعہ کھتے ہیں اور اس متعہ کی فضیلت میں روایات بھی نقل کرتے ہیں ، اس کی صورت اس طرح ہے کہ کچھ لوگ ایک عورت سے متعہ کرتے ہیں اور عورت ان سے کھتی ہے کہ طلوع آفتاب سے لے کر کچھ دن چڑھنے تک تیرے متعہ میں ہوں اور اس کے بعدوقت ظھر تک دوسرے مرد کے اختیار میں اور ظھر سے عصر تک تیسرے مرد کے حوالے اور عصر سے مغرب تک کسی اور مرد کے متعہ میں اور مغرب سے عشاء تک ایک دوسرے مرد کے اختیار میں ، اس کے بعد نصف شب تک اور نصف شب سے لے کر صبح تک،کسی دوسرے مرد کے متعہ میں ہوں۔( ۱۱۷ )

عرض مولف

چونکہ گزشتہ مباحث میں ہم متعہ کی اصل حقیقت، ماہیت ا ور صورت بیان کرچکے ہیں لہٰذاآلوسی نیجس بات کو شیعوں کی طرف نسبت دی ہے وہ تھمت ،بھتان اورصریحا فتراء پردازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔( ۱۱۸ )

کیا کوئی نہیں جو اس ( نا هنجار ) شخص سے دریافت کرے کہ کون شیعہ ہیجو اس متعہ کے طریقہ کو جانتا ہے ؟!

. وہ کونسا راوی ہیجس نے اس متعہ کی فضیلت میں روایات نقل کی ہیں ؟!اور وہ کون سی روایات ہیں جن میں اس متعہ کا نام آیا ہے؟!

. جوروایات اس شخص کے ذهن کی اختراع ہیں وہ کو نسی کتاب میں ہیں ؟!اوران روایات کو کس محدث نے نقل کیا ہے ؟!

. آخر وہ کون سا مجتھد اور عالم ہیجس نے اس متعہ کیجواز کا فتویٰ دیا ہے ؟!

. وہ کون سی کتاب حدیث ، فقہ و تفسیر ہیجس میں اس متعہ کے بارے میں بحث کی گئی ہے ؟!

( وَلَایَحْزُنْکَ قَوْلُهُمْ اِنَّ الْعِزَّةَلِلّٰهِ جَمِیْعاً وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) ( ۱۱۹ )

۴ ۔ محمود شلتوت : مشہوراعتدال پسند عالم اہل سنت جناب شیخ محمود شلتوت سابق وائس چانسلر آف ازھر یونیور سٹی مصر، اپنی وجاہت علمی اور وافر معلومات کے باوجود متعہ کے بارے میں تعصب کے شکار نظر آتے ہیں ،چنانچہ متعہ کے بارے میں اپنے تعصب کا اظھار اس طرح کرتے ہیں :

نکاح ِمتعہ کہ جس کی ایک قسم معینہ مدت کی شادی ہے، یہ ہے : مرد اس عورت سے توافق کریجس سے شرعی طورپر شادی کرسکتاہو کہ وہ عورت اس کے پاس معینہ مدت ،یاغیر معینہ مدت تک کے لئے معین مھر کے عوض رہے گی !! اس کے بعد کھتے ہیں :لیکن قرآن مجید میں جو ازدواج کے سلسلہ میں احکام بیان کئے گئے ہیں،مثل توارث ،ثبوت نسب ، طلاق وعدّہ وغیرہ یہ سب ا حکام اس متعارف متعہ کے بارے میں نہیں ہیں جو ہم جانتے ہیں (یعنی شیعوں کا متعہ)( ۱۲۰ )

عرض مولف

جیساکہ ہم پھلے بیان کر چکے ہیں کہ متعہ میں اساسی شرط یہ ہے کہ مدت معین ہواور اس ازدواج کے سلسلہ میں تمام اقسام عدہ ،نسب وتوارث کے تمام احکام پائیجاتے ہیں ،لہٰذا موقت ازدواج کو اقسام متعہ میں

شمار کرنا بے معنی ہے!!

( اٴَفَرَاٴَیْتَ مَنِ اْتَّخَذَاِٴلَٰهَهُ هَواَهُ وَاٴَضَلَّهُ الله عَلَیٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَیٰ بَصَرِهِ غِشَٰاوَةً فَمَنْ یَهْدِیْهِ مِن بَعْدِ الله اٴَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ) ( ۱۲۱ )

۷ ۔ نمازتراویح کی حقیقت !!

نماز تراویح سے مراد وہ مستحبی نمازیں ہیں جنھیں ماہ رمضان کی راتوں میں جماعت کے ساتھ پڑھا جاتاہے ،البتہ ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرن ا سنت رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہیں ہے ،بلکہ یہ نمازیں رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اورابو بکرکے زمانہ میں اور چند سال دور خلافت عمر میں فرادیٰ پڑھی جاتی تھیں ۔

دین اسلام میں کوئی بھی مستحب نماز سوائے نماز استسقاء کیجماعت سے نہیں پڑھی جاتی، کیونکہ جماعت کا اختصاص صرف واجبی نمازوں کے لئے ہے ۔

لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر نے ۱۴ ہمیں مسلمانوں کو مجبور کیاکہ ماہ رمضان کی راتوں میں پڑھی جانے والی مستحب نمازیں جماعت سے ادا کی جائیں اور یہ حکم نامہ تمام اسلامی شھروں اورممالک میں ارسال کردیااورمدینہ میں ابی بن کعب کو مردوں کا امام جماعت مقرر کیا اور عورتوں کے لئے تمیم داری کو امام جماعت بنایا ، چنانچہ کتب تواریخ و احادیث و بالاخص صحیحین میں نماز تراویح کے بارے میں اس طرح آ یا ہے:

۱…”عن عبدالرحمن بن عبدالقاری؛ انه قال:خرجت مع عمر بن الخطاب لیلة فی رمضان الیٰ المسجد ،فاذاالناس اوزاع متفرقون، یصلی الرجل لنفسه، ویصلی الرجل،فیصلی بصلوته ا لرهط، فقال عمر:اٴِنِّی اٴَریٰ لو جمعت هٰولاء علی قاریٴ واحد لکان امثل، ثم عزم فجمعهم علیٰ ابی بن کعب، ثم خرجت معه لیلةاخریٰ، والناس یُصلُّون بصلاة قارئهم ،قال عمر:نعم البدعةهذه…“ ( ۱۲۲ )

عبدالرحمن بن عبد القاری سے منقول ہے :

ایک روز میں رمضان المبارک کی شب میں عمر بن خطاب کے ساتھ مسجد کی طرف گیا ،تو دیکھا کہ لوگ متفرق متفرق اپنی نمازیں ادا کررہے ہیں ،کچھ حضرات ایک جگہ اجتما ع کرکے نماز ادا کررہے ہیں ،تو کوئی مسجد کے ایک گوشہ میں نماز پڑھ رھا ہے ، جب عمر ابن خطاب نے اس حا لت کو دیکھا توکهنے لگے :اگر یھی حضرات کسی ایک فرد کے پیچھے نماز پڑھتے تو کتنا اچھا ہوتا ،اس کے بعد اس بارے میں فکر کرکے دستور دیاکہ تمام لوگ ابی بن کعب کے پیچھے یہ نماز با جماعت ادا کریں ،کچھ دنوں کے بعد ہم لوگ جب ایک شب مسجد میں آئے تو دیکھا کہ تمام نمازی ایک پیش نماز کے پیچھے نمازیں پڑھ رہے ہیں ، اس وقت عمر ابن خطاب نے مجھ سے کھا:کتنی اچھی یہ بدعت ہے:”نعم البدعة “ جس کو میں نے رائج کیا ہے!!

۲… ’ ’عن ابن شهاب عن حمید بن عبد الرحمان عن ابی هریرة؛ ان رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قال:من قام رمضان ایماناً واحتساباً غفرله ما تقدم من ذنبه، قال ابن شهاب: فتوفی رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم والا مرعلی ذالک، ثم کان الامر علی ذالک فی خلافة ابی بکر، وصدراً من خلافة عمر“ ۔( ۱۲۳ )

بخاری اور مسلم نے ابو ھریرہ سے نقل کیا ہے :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :جو بھی آخرت پرایمان و اعتقاد رکھتے ہوئے ، ماہ رمضان کی شبوں میں عبادت کرے ،اس کے تما م گزشتہ گناہ بخش د یں گے، اس کے بعد ابو ھریرہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں :

آنحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تا آخر ِ وفات، شب ماہ رمضان کی تمام مستحبی نمازیں فرادی ٰ پڑھتے تھے اوراسی طریقہ سے حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں نماز پڑھی جاتی رھی اور خلافتِ عمر کے زمانہ اوائل میں بھی اسی طریقہ سے نماز پڑھی جاتی رھی!!

ابن سعد اپنی کتاب” الطبقات“ میں لکھتے ہیں :

عمر وہ پھلے شخص ہیں جنھوں نے ماہ مبارک رمضان کی رات کی مستحبی نمازوں کو جماعت سے پڑھنے کا قانون نافذکیا اور تمام دیگر شھروں میں اس حکم کا ابلاغ فرمایااور یہ واقعہ ۱۴ ہمیں وقوع پذیر ہوا ، چنانچہ مدینہ والوں کے لئے دو پیش نماز معین فرمائے ،ایک مردوں کے لئے اور ایک عورتوں کے لئے ۔

”وهو ( عمر ) اول من سن قیام شهر رمضان و جمع علی ذالک و کتب به الی لبلدان و ذالک فی شهر رمضان سنة اربع عشرة( ۱۲۴ )

اس واقعہ کی طرف اجمالی طورپر کتاب” ارشادالساری “میں بھی اشارہ ملتاہے۔( ۱۲۵ )

اسی طرح تاریخ اسلام کے مشہور مورخ یعقوبی، ۱۴ ھکے واقعات وحوادثات کو تحریر کرتے ہوئے قلمبند فرماتے ہیں :

اسی سال حضرت عمر نے شب ِماہِ رمضان کی مستحب نمازوں کو با جماعت پڑھنے کا حکم جاری کیا اور تمام اسلامی ممالک میں اپنے اس حکم کو نافذ کروادیا، چنانچہ اہل مدینہ کے لئے ابیابن کعب اور تمیم داری کو پیش نماز معین کیا ۔

اس کے بعدیعقوبی کھتے ہیں :

کچھ لوگوں نے خلیفہ پراعتراض کیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں تو ایسا نہیں ہوا؟! عمر نیجواب دیا : اگر یہ بدعت بھی ہے تو اچھی (حسنہ) بدعت ہے: ”ان تکن بدعة فما احسنھا من بدعة“!!( ۱۲۶ )

علامہ جلال الدین سیوطی بھی اپنی کتاب” تاریخ الخلفاء“ میں یھی تحریر فرماتے ہیں :

۱۴ ہمیں حضرت عمر نے لوگوں کو نماز تراویح کے پڑھنے پر مجبور کیا !!

”وفیھا( ۱۴ ہجری) جمع عمر بالناس علی صلاة التراویح “( ۱۲۷ )

حضرت علیعليه‌السلام کی زبانی نماز تراویح کی رد

کتب روایات و تواریخ سے استفادہ ہوتاہے کہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی اپنے دور حکومت میں متواتر کوشش یھی رھی کہ اس نماز کو اسی صورت پر پلٹا دیں جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں تھی ،لیکن مختلف وجوھات بشمول کچھ نادان سلمانوں کی بدبختی اور جھالت، درمیان میں آڑے رھیں جن کی وجہ سے امامعليه‌السلام کی کوشش کسی نتیجہ تک نہ پهنچ سکی ، چنانچہ حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام نے اس بارے میں اپنی بے پایان کوشش اور مسلمانوں کی جھالت کی طرف( اپنے خطبات کے اندر)جا بجااشارہ فرمایا ہے:

…”امرت الناس ان لایجمعوافی شهررمضان الا فی فریضة، لنادی بعض الناس من اهل العسکر ممن یقاتل معی: یا اهل الاسلام !وقالوا غیرت سنةعمر،نهینا ان نصلی فی شهررمضان تطوعاً،حتیٰ خفت ان یثوروافی ناحیة عسکری بوسی، لما لقیت من هذه الامة بعد نبیها من الفرقةوطاعةائمةالضلال والدعات الیٰ النار!!“ ( ۱۲۸ )

میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ ماہ رمضان میں نماز واجب کے علاوہ دوسری نمازوں کو جماعت سے نہ پڑھو ،تو میرے لشکر میں سے ایک گروہ کی صدائے احتجاج بلند ہوئی کہ اے مسلمانو! سنت عمر کو بدلاجارھاہے !اورھم کوماہ رمضان کی نمازوں سے روکاجارھا ہے !اور ان لوگوں نے اس قدر شور و غوغا مچایاکہ میں ڈرا کہ کھیں فتنہ برپانہ ہوجائے اور لشکر میں انقلاب نہ آجائے!تف ہو ایسے لوگوں پر، بعد پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کس قدر میں نے ان لوگوں سے سختیوں کو جھیلا ہے۔

ابن ابی الحدید کتاب”الشافی“ سے نقل کرتے ہیں :

”کچھ لو گوں نے حضرت امیرالمو منینعليه‌السلام سے کو فہ میں عرض کیا کہ کسی کو بعنوان امام جماعت کوفہ میں معین کریں تا کہ وہ ماہ رمضان کے شبوں کی مستحب نمازوں کو جماعت سے پڑ ھائے ، امامعليه‌السلام نے اس عمل سے لوگوں کو منع کیا اور بتایا کہ یہ عمل سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بر خلاف ہے،چنانچہ بظاہر ان لوگوں نے بھی اپنی در خواست کو واپس لے لیا ، لیکن بعد میں ان لوگوں نے مسجد کے اندر ایک اجتماع کیا اور اپنے میں سے ہی ایک صاحب کو منتخب کر کے امام جماعت بنا لیا، جب امیر المو منینعليه‌السلام کو اس کی اطلاع ہو ئی تو امام حسن علیہ السلام کو بھیجا کہ اس بدعت کو روک دیں ، جب لوگوں نے امام حسن علیہ السلام کو تازیانہ لاتے ہوئے دیکھا تو ”واعمراہ،واعمراہ“ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے مسجد کے مختلف دروازوں سے بھاگ نکلے “!!( ۱۲۹ )

بدرالدین عینی کی ناقص توجیہہ !!

شارح صحیح بخاری جناب بدرالدین عینی قول عمر”نعم البدعة ھٰذہ “ کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں :

عمر نے اس نماز کو بدعت سے اس لئے تعبیر کیاہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وابوبکر کے زمانے میں اس صورت میں کوئی نماز نہ تھی، بلکہ یہ نماز خود ان کی ایجاد کردہ تھی اور یہ بدعت چوں کہ ایک نیک عمل میں تھی لہٰذا اس بدعت کو غیر مشروع (ناجائز) شمار نہیں کریں گے!!( ۱۳۰ )

عرض مولف بدرالدین سے ہمار ا سوال یہ ہے کہ جب آپ نماز تراویح کو بدعت( غیر مشروع) تسلیم کرتے ہیں توپھر اس کو نیک اور بھتر سمجھنے کا کیامطلب ؟! اور اگر آپ کے کهنے کا مطلب یہ ہے کہ عمر کی بدعت سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قانون خد ا سے بھتر ہے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا عقیدہ اور خیال کفر اور ضلالت ہے!!(کیونکہ یہ حق شارع کو ہوتا ہے کہ وہ شریعت کے احکام کو بتلائے اور جعل کرے نہ کہ مکلفین کو جو مصالحا ور مفاسد سے بے خبر ہوں)اور اگر آپ یہ کھیں کہ سنت خداو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، سنت عمر سے بھتر اور ارجح ہے تو پھر آپ اِس کی پیروی نہ کرکے بدعت عمریہ کی پیروی میں جو ایک مرجوح عمل ہے نماز تراویحا ج تلک کیوں پڑھتے آ رہے ہیں ؟!!

۸ ۔ تین طلاقیں اورحضرت عمر!!

تین طلاقوں سے کیا مراد ہے ؟

مذھب شیعہ کے نزدیک تین طلاقوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرد تین دفعہ عورت کو طلاق دے اورھر طلاق کے بعد عدّہ تمام ہونے سے قبل رجوع کرلے ،یا پھر انقضائے مدت ِ عدہ کے بعد دوبارہ اس سے شادی کرلے، اس طرح سے اگر مرد تیسری مرتبہ طلاق دیدے تو وہ بیوی اس مرد پر حرام ہو جائے گی لہٰذا اگر کوئی مرد ایسی عورت کو اپنے عقد میں لانا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ پھلے وہ عورت کسی دوسرے مرد سے عقد کرے ،او ر جب وہ (دوسرا مرد )طلاق (معہ شرائط ) دیدے یا مرجائے تب اس سے اس کا پھلا شوھر دوبارہ شادی کر سکتاہے ۔

چنانچہ قرآن مجید میں یہ حکم صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے :

( اَلطَّلاٰقُ مَرَّتٰانِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعرُوفٍ اَوْ تَسْریحٌ بِاِحْسٰانٍ …فَاِنْ طَلَّقَهٰافَلاٰ تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَهُ … ) ( ۱۳۱ )

طلاق (رجعی جس کے بعد رجوع ہوسکتاہے )دوھی مرتبہ ہے، پھر اس کے بعد یا تو شریعت کے موافق روک لینا چاہئے، یا حسن ِ سلوک سے (تیسری دفعہ طلاقِ بائن دے کر)بالکل رخصت کر دے اور تم کو یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہواس میں سے پھر کچھ واپس لے لو۔پھر اگر (تیسری)بار طلاق (بائن) دی تو اس کے بعد جب تلک وہ دوسرے مرد سے نکاح نہ کر ے، اس کے لئے حلال نہیں ۔

جملہ( اَلطَّلاقُ َمرَّتاَنِِ ) دلالت کرتا ہے کہ خود طلاق کے اندر تعد ّد ضروری ہے، یعنی طلاق دو دفعہ دی جائے، لہٰذا اگر طلاق ایک مرتبہ دے اوراس کے ساتھ لفظ تین کا اضافہ کردے،مثلاً اس طرح کھے :” میں تجھے تین مرتبہ طلاق دیتا ہوں(یاطلاق، طلاق ،طلاق کھے)“ تو یہ تین طلاقیں شمار نہیں ہو گی ، بلکہ صرف ایک ہی طلا ق شمار کی جائیں گی چنانچہ ایسی صورت میں مرد عورت کی طرف عدہ طلاق کے دوران رجوع یا عدہ تمام ہونے پر اس سے دوسری شادی کر نے کا حق رکھتا ہے اور مرد کیلئے یہ طلاق اس بات کی موجب نہیں قرار پاتی کہ اس عورت کی طرف مرد کارجوع کرنا حرام ہو جائے اور نہ ہی اس طلاق کی بنا پر مرد کا اس سے دوبارہ شادی کرناحرام ہوگا ۔

زمخشری جملہ( الطلاق مرتان ) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وہ طلاق جس کے بعد شرعاً عورت مرد پر حرام ہو جا تی ہے اوردوبارہ اس عورت کا مرد ،اس سے ازدواج نہیں کر سکتا یہ ہے کہ ”مرد(دونوں طلاقوں میں سے )ھر ایک طلاق بطور مستقل اور جدا دے، پس اگر کوئی مرددفعة ً واحدہ یکبارگی دونوں طلاقیں دیدے تو اس کی ایک طلاق شمار ہوگی “۔

اس کے بعد زمخشری کھتے ہیں :

آیت میں دوبار طلاق دینے سے مراد ،عمل ِ طلاق کا تعدد ہے، نہ کہ تعددلفظ، یعنی (طَلَّقْتُکَ طَلَاقَیْنِ ) میں نے تجھے دو مرتبہ طلاق دی،یہ کهنا کافی نہیں ہے اور یہ طلاق دو مرتبہ شمار نہیں کی جاسکتی ، بلکہ ھر طلاق کو علیٰحدہ علیٰحدہ دینا ہو گا ،گویا یہ آیت بھی آ یہ شریفہ( فَاْرْجِعِِ الْبَصَرَکَرَّتَیْنِ ) کی طرح ہیجس میں پھلی نگاہ کے بعددوسری نگاہ ،مراد ہے۔ “( ۱۳۲ )

بھر کیف تین طلاقوں کا مسئلہ قرآن اورسنت کی رو سے بھت ہی واضحا ور روشن ہے ، لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر نے تین طلاقوں کے لئے تعددِ لفظ کو کافی جاناہے ، یعنی اگر کوئی اپنی بیوی کو اس طرح کھے کہ میں نے تجھے تین طلاقیں دیں ،تو وہ عورت اس مرد پر حرام ہو جائے گی یھاں تک کہ دوسرا مرد اس عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لائے، اس کے بعد وہ مرجائے یا اپنی مرضی سے طلاق دیدے ،تب وہ عورت اپنے پھلے شوھر کیلئے عدّہ تمام ہو نے کے بعد حلال ہوگی۔

اگرچہ اس مضمون کی روایات صحیح مسلم کے علاوہ دیگر کتب اہل سنت میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن ہم صحیح مسلم سے یھاں نقل کرتے ہیں ، کیونکہ صحیحین کی روایا ت ہی ہماری موضوع ِ بحث ہیں :

۱ …”عن ابن عباس؛ قال: کان الطلاق علیٰ عهد رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وابی بکروسَنَتَین من خلافةعمرطلاق الثلاث واحدةً ،فقال عمربن الخطاب:ان الناس قد استعجلوا فی امرکانت لهم فیه اَناة، فلوامضَیْناه علیهم فامضاه علیهم ۔( ۱۳۳ )

ابن عباس سے منقول ہے :

عھد آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم وعھد ابوبکر اور دوسال حضرت عمر کے دورانِ خلافت میں ، اگر کوئی تین مرتبہ لفظاًطلاق دیتا تو اس کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا ،یعنی اگر کوئی اپنی بیوی سے یہ کھتا: میں تجھے تین مرتبہ طلاق دیتا ہوں( یا طلاق ، طلاق،طلاق کھتا)تو اس کی ایک طلاق محسوب ہوتی تھی،لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر نے کھا: لوگوں کو جس میں مھلت دی گئی تھی اورجو حکم ان کے نفع میں تھا ،اس میں انھوں نے عجلت سے کام لیا، کیا بھتر ہوتا کہ ان کے ضرر میں حکم کو جاری کر دیا جائے!

چنانچہ عمر نے (ایک طلاق کو ) تین طلاق شمار کرنے کا حکم نافذ کردیا ،جو حقیقت میں ایک طلاق تھی،یعنی اگر ایک دفعہ کوئی شخص کھے: میں تین طلاقیں دیتا ہوں (یاطلاق،طلاق،طلاق کھے) تو اس کی تین مرتبہ طلاق شمار ہو جائے گی یہ حکم حضرت عمر نے نافذ کردیا!۔

۲…ان ابا الصحبا ء قال لابن عباس: هاتِ مِن هناتک؟ الم یکن الطلاق الثلاث علیٰ عهد رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وابی بکر واحدة؟فقال:قد کان ذالک، فلمّا کان فی عهد عمر تتا بع الناس فی ا لطلاق، فاجازه علیهم ۔( ۱۳۴ )

طاووس کھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابو صحباء نے ابن عباس سے کھا : کوئی نئی تازی خبر ہم کو سنائیں ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ عھد پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و ابوبکر اور تین سال عھد عمر میں تین طلاق ”یعنی ایک طلاق بلفظ ِثلاث“ایک طلاق محسوب ہوتی تھی ؟

ابن عباس نے کھا: ھاں ایساہی تھالیکن لوگوں نے دورا نِ خلافت ِعمر میں طلاق کے بارے میں زیادہ روی اختیار کی، لہٰذا اس (عمر)نے ان کے ہی ضرر میں یھی حکم نافذکردیایعنی ایک طلاق کو تین طلاق شمار کرنے کاحکم نافذکردیا !!

محترم قارئین !یہ تھاتین طلاقوں کا مسئلہ جودیگر معتبر کتب اہل سنت میں بھی مندرج ہے ،اسی روش کو اکثر علمائے اہل سنت اور ائمہ اربعہ نے اختیار کیا ہے اور حضرت عمر کی رائے کے مخالف فتوی ٰدینے سے حتی الامکان پر ہیز کیا ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لوگ آج بھی عمر کے اس فتوی ٰپرعمل پیر اہیں !! مگرچوں کہ یہ حکم نص ِقرآن کریم اورسنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بر خلاف ہے لہٰذا بعض جید علمائے اہل سنت نے عمر کے اس فتویٰ کے برخلاف اشارةًوکنایةًمخالفت کا اظھار کیا ہے اوربعض نے تو تصریح کے ساتھ اس کی مخالفت کی ہے ،یھاں تک یہ مسئلہ اتنا طولانی ہوا کہ مصر کی عدالت عالیہ میں جید اہل سنت کے مفتیوںنے اس بدعت کو ختم کرنے کا حکم صادر فرمادیا ۔

بھر کیف ذیل میں مذکورہ مسئلہ کی سیر تاریخی ہم نقل کرتے ہیں ملاحظہ ہو:

ابن رشد کھتے ہیں :

اکثریت فقھائے اہل سنت کے نزدیک وہ طلاق جو میں بہ لفظ ثلاث (تین)ہووہ واقعی تین طلاق کے حکم میں ہے اوراس کے بعد شوھراپنی مطلقہ عورت کی طرف رجوع کرنے کاحق نہیں رکھتا ۔( ۱۳۵ )

کتاب”الفقہ علی المذاہب الاربعة“کے مولف کھتے ہیں :

اگر مرد عورت سے کھے : میں نے تجھے تین طلاقیں دیں ،تومذاہب اربعہ اور جمہور فقھائے ا ھل سنت کے نزدیک تین واقعی طلاق شمار کی جائیں گی اور مرد اس کی طرف اب رجوع نہیں کر سکتا ۔

”بان قال لها : انت طالق ثلاثا لزمه ما نطق به من العدد فی المذاهب الاربعة …“ ( ۱۳۶ )

لیکن خود ابن رشد صاحب کتاب (الفقہ علی المذاہب الاربعة )نے اس نظریہ کی مخالفت کی ہے اور اس حکم کو اپنے اور حکم ِ واقع کے خلاف جانا ہے ۔

ابن رشد نے ایک لطیف اشارہ سے دوسرے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے لفظ تین کے ساتھ طلاق دینے کو ردکیا ہے ، فرماتے ہیں :

یھی وجہ ہے کہ اگر کوئی لوگوں پر یہ حکم ضروری قرار دے کہ وہ ایک طلاق کو تین طلاقیں سمجھیں توگویا اس نے اس حکمت اور مصلحت ِ واقعیہ کوختم کر دیاجو اس حکم کی تشریع میں — تھی !!( ۱۳۷ )

صاحب کتاب ”الفقہ علی المذاہب الاربعة “ طرفین( مخالف وموافق )کی دلیل کی طرف اشارہ کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں :

یہ مسئلہ اجتھادی مسائل میں سے ہے۔

اس کے بعدآپ ابن عباس اورعمر کے اس مسئلہ میں اختلاف ذکر کرتے ہوئے اس طرح نتیجہ گیری کر تے ہیں :

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ابن عباس بھی اپنی جگہ ایک مجتھد کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی تقلید بھی مذھبی مسائل میں ہوسکتی ہے اور ان کے قول پر عمل کر نا جائز ہے، ضروری نہیں کہ ہم عمر کی آراء وفتاویٰ پر عمل کریں،کیونکہ وہ بھی ایک مجتھد کی حیثیت رکھتے ہیں ، حتی کہ اکثر علماء و فقھاء کے فتاویٰ جو حضرت عمرکی موافقت میں ہیں موجب نہیں بن سکتے کہ ہمارے اوپر ان کی ( عمر ) پیروی یا تقلید لازم ہو ۔( ۱۳۸ )

شیخ محمد عبدہ (متوفی ۱۳۲۳ ھ) آیہ طلاق میں مفصل بحث کرنے کے بعدثابت کرتے ہیں :

آیہ کریمہ میں تعددِ ِطلاق مراد ہے اور خلیفہ دوم اور جو لوگ آپ کے ہم خیال ہیں ان کی رائے کی مخالفت میں حدیث ِ ذیل کو سنن نسائی سے بعنوان تنقید اس طرح تحریر کرتے ہیں :

” آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی زوجہ کو لفظ ثلاث کی یں سے ایک طلاق دی(مثلاً میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں) تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کے درمیان غیض و غضب کی حا لت میں کھڑے ہوئے اور فرما یا: ابھی سیجبکہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں کتاب خداکامضحکہ اڑایا جارھاہے؟!! شیخ محمد عبدہ اپنی گفتگو کو یوں ختم کرتے ہیں :

”میرا مقصود مقلدین سے مجادلہ کرنا نہیں اور نہ ہی قضاة اور مفتیوں کو ان کی رائے سے منحرف کرنا ہے، کیونکہ ان لوگوں میں اکثر اُن دلیلوں اورحدیثوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ،جن کو میں نے پیش کیا ہے، لیکن پھر بھی ان دلائل واحادیث شریفہ( جو کتب صحا ح ،مدارک و ماخذ میں موجود ہیں ) پر عمل نہیں کرتے ، کیونکہ ان لوگوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ خود ساختہ اپنی کتابوں پر اعتماد کریں گے، نہ کہ کتاب خدا اورسنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر“( ۱۳۹ )

بھر حال مصر کی شرعی عدالت نے ۱۹۲۹ ء میں ۷۳ سال قبل ا س حکم(طلاق بلفظ سہ) کو منفی قرار دے دیا، پھرچند سال کے بعد سابق وائس چانسلر آف ازھریونیورسٹی اور عظیم مذھبی راهنماجناب شیخ محمود شلتوت نے فتویٰ دیا:

” جو طلاق قید ِثلاث کے ساتھ دی جائے گی یعنی اگر کوئی کھے کہ میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں، تو وہ ایک طلاق شمار ہوگی اور شوھر کو حق رجوع ہے کیونکہ ایسی طلاق حقیقت میں طلاق رجعی ہوتی ہے۔“( ۱۴۰ )

قارئین کرام! جو فتاوے اور نظریے ہم نے خلیفہ دوم کی مخالفت میں تحریر کئے، یہ کس حد تک خلیفہ دوم اور ائمہ اربعہ کے فتاوی کے مقابل میں موثر ہیں ، اس کا اندازہ مرورِ زمان کے ساتھ ہو گا، جب ہمارا اسلامی معاشرہ جملہ یں وبند، بیجا تقلید ا ور اندھے تعصب سے آزاد ہو کر سو چے گا۔

۹ ۔ کیا رونا بدعت ہے ؟!

اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں اورچاهنے والوں کی موت پر غم منانا اورگریہ وزاری کرنا، بشر کی عطوفت ومحبت کا لازمہ اور رقت ِ انسانیت کے مقتضیات میں سے ہے ،چنانچہ دین اسلام نے بھی اپنے گزشتگان پر گریہ کرنے کو منع نہیں فرمایا ہے ، بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گریہ کیا ہے ،خصوصاً اُن افراد پر جو راہ خدا میں شھید ہوگئے تھے ، لیکن اہل سنت کے بعض منابع و مدارک سے پتہ چلتا ہے کہ خلیفہ دوم مردوں پر گریہ کرنے سے متفق نہ تھے اور اگر ان کے سامنے اپنے گزشتگان پر کوئی روتا تھا تو اس کو منع کرتے تھے، بلکہ تازیانہ ، ڈنڈااورپتھر وغیرہ سے سخت سزادیتے تھے!لہٰذا مناسب ہے کہ ہم ذیل میں صحیحین سے اُ ن روایات کو نقل کر دیں جن میں رسول اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے گریہ کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بعد پھر آپ خلیفہ دوم کا بھی ردعمل اس گریہ کرنے پر معتبر منابع کی رو شنی میں ملاحظہ فرمائیں ۔

۱…”عن انس بن مالک؛ ان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نَعیٰ جعفرا وزیدا قبل ان یجیٴ خبرهم وعیناهُ تذر فان “ ( ۱۴۱ )

انس بن مالک سے منقول ہے :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیجعفر و زید کی شھادت کی خبر لوگوں کے درمیان اس حا لت میں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے بیان کی، قبل اس کے کہ اُن کی خبر ِشھادت میدان جنگ سے مدینہ پهنچتی ۔

۲ …”عن انس بن مالک…؛ ثم دخلنا علیه بعد ذالک وابراهیم یجود بنفسه ،فجعلت عینارسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله تَذْرِفان ،فقال له عبد الرحمن بن عوف:وانت یا رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله ؟ فقال:یا بن عوف! انها رحمةثم اتبعها بِاُ خریٰ فقال:ان العین تد مع، والقلب یحزن، ولا نقول الاّما یرضی ربُّناوانَّا بفراقک یا ابراهیم لمحزونون( ۱۴۲ )

انس بن مالک سے منقول ہے :

جس وقت فرزند پیمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جناب ابراہیم احتضار و جانکنی کے عالم میں تھے ،اس وقت میں آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں گیا تو دیکھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ،عبدالرحمن بن عوف نے کھا: یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !آپ بھی اپنے بیٹے کی موت پر گریہ فرمارہے ہیں ؟! رسول نے کھا: اے عوف کے بیٹے !یہ گریہ رحمت،عطوفت اور محبت کی نشانی ہے ، ابن عباس کھتے ہیں : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پھر بھی گریہ کرتے رہے اور فرمایا: اشک جاری ہیں اوردل غم زدہ ہے ،لیکن جس چیز سے خدا راضی نہیں وہ زبان پر نہیں لاتا،اے میرے بیٹے ابراہیم ! میں تیری جدائی میں غم زدہ ہوں ۔

۳…”زار النبی قبر امه فبکی وابکی من حوله“ ( ۱۴۳ )

امام مسلم نقل کرتے ہیں :

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی مادر گرامی کی قبرکی زیارت فرمائی تواس قدر روئے کہ تمام صحا بہ کرام جوآپ کے ہمراہ تھے گریہ کرنے لگے۔

بھر کیف حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اورحضرت معصومہ عالم فاطمہ زھرا = کے گریہ سے متعلق صحیحین میں متعدد حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور ہم نے بعنوان نمونہ صرف مذکورہ تین حدیثوں کو نقل کیاہے البتہ آپ کی آسانی کیلئے بقیہ حدیثوں کا حوالہ نقل کردیتے ہیں ۔( ۱۴۴ )

محترم قارئین !یہ تھے چند مقامات جو صحیحین میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے گریہ کے بارے میں مذکور ہوئے ہیں جس کو آپ نے ملاحظہ فرمایا ،اب آپ ذرا خلیفہ دوم کاکردار بھی ملاحظہ فرمائیں جو کتاب صحیحین میں ہی منقول ہے اور ا س کے راوی حضرت عمر کے بیٹے عبدالله ابن عمر ہیں :

۱ ۔ وہ کھتے ہیں : جب سعد بن عبادہ شدت سے مریض ہوگئے توآنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے ،آپ کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف ،عبدالله بن مسعود،سعد بن ابی وقاص بھی تھے ،سعد بن عبادہ کی بد حا لی کو دیکھ کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دریافت فرمایا :آیا روح جسد خاکی سیجدا ہوگئی یا نہیں ؟لوگوں نے کھا :نھیں یا رسول الله !صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گریہ فرمانے لگے ،جو آپ کے ساتہمیں تھے ،وہ بھی گریہ کرنے لگے ،پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ خداوند متعال اشک ریزی اور دل کی غمگینی کی وجہ سے کسی کو عذاب نہیں کرتا ؟!اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:خدا اس زبان کی وجہ سے انسان پر عذاب یا ترحم کرتاہے،لیکن بعض پسماندگان کے گریہ کی وجہ سے مردہ پریشان ہوتا ہے۔

عبدالله ابن عمر اس حدیث کو بیان کرنے کے بعداپنے باپ کی مخالفت ان لفظوں میں بیان فرماتے ہیں :

”وکان عمر یضرب فیه بالعصا یرمی بالحجارة ویحثی بالتراب!“ ( ۱۴۵ )

میرے والدلوگوں کوڈنڈے،پتھراورڈھیلوں سے مارتے تھیجب وہ اپنے مردہ عزیزوںپر روتے تھے۔

مسلم نے حدیث کاآخری حصہ حذف کردیا ہے ۔

صحیح بخاری میں آیاہے کہ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کی بهن کو اپنے بھائی ابوبکر پر رونے کی وجہ سے گھر سے نکال دیاتھا ۔( ۱۴۶ )

امام احمد بن حنبل اپنی کتاب”المسند “ میں ایک حدیث کے ضمن میں عثمان بن مظعون کی موت کے بارے میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں :

جب دختررسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جناب رقیہ نے بھی وفات پائی توآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے میری دختر نیک اخترجاتو بھی ہمارے نیک سلف عثمان بن مظعون سے ملحق ہوجا!

ابن عباس کھتے ہیں:جب عورتیں جناب رقیہ کی موت پر گریہ کرنے لگیں توحضرت عمر ان کو تازیانے سے مارنے لگے: جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیکھا تو فرمایا: اے عمر! اس کام کو چھوڑ دے ،ان کو گریہ کرنے دے، اس کے بعد عورتوں سے مخاطب ہوکر فرمایا :اے عورتو ! اپنے کو شیطان کی آواز سے محفوظ رکھو،پھر فرمایا:جو کچھ دل اور آنکھوں میں ہے( تاثیر اور گریہ)وہ خدا کی جانب سے اور رقت ِ قلب کی وجہ سے ہے اور جو کچھ زبان اور ھاتہمیں ہے (یعنی وہ فعل جو انسان کے مرنے پر زبان اورھاتھ سے ظاہر ہوتاہے )وہ شیطان کی جانب ہے۔

اس کے بعد جناب رقیہ کی قبر مطھر پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیٹھ گئے آپ کے ساتھ شہزادی کونین حضرت فاطمہ زھر ا(س)بھی بیٹھی رورھی تھیں اور رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیارو محبت کے ساتھ اپنے لباس کے دامن سے آپ کے آنسو پونچھ رہے تھے۔( ۱۴۷ )

عرض مولف

اس واقعہ کو ابن سعد نے بھی اپنی کتاب ”الطبقات“ میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ تحریر کیاہے اور اس میں یہ جملہ بھی آیا ہے :

جب عمر نے عورتوں پر تازیانے سے حملہ کیا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمر کا ھاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: رک جا اے عمر!

”فاخذرسول الله بیده وقال مهلایا عمر“ !!( ۱۴۸ )

امام احمد بن حنبل پھر نقل کرتے ہیں :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک دفعہ کسی جنازے کے پاس سے گزرے تودیکھا کہ عورتیں گریہ کررھی ہیں ،عمرنے ان کو منع کیاتو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :عمر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے، کیو نکہ ان کے دل اپنے عزیز کی موت پر تازہ غمگین اور آنکھیں اشک آلودھیں :

”دعهن فان النفس مصابة والعین دامعة والعهد حدیث“ ( ۱۴۹ )

ابن ابی الحدید معتزلی کھتے ہیں :

عمر نے اپنے دورخلافت میں سب سے پھلی جس کو تازیانے سے ماراوہ ابوبکر کی بهن ام فروہ ہیں ، جوکہ ابوبکر کی موت پر گریہ کررھی تھیں اورجب ابوبکر کی بهن ام فروہ کو دیگر عورتوں نے مار کھاتے ہوئے دیکھا، تو سب بھاگ گئیں اور خود ام فروہ کو عمر نے مار کر نکال دیا :

”و اول من ضرب بالدرة ام فروة بنت ابی قحا فة ، مات ابو بکر فناحا لنساء علیه“ ( ۱۵۰ )

۱۰ ۔ حکمِ نمازِمسافراورحضرت عثمان!!

سفر میں نماز پنجگانہ میں سے چار رکعتی نمازیں (جب شرائط پائیجائیں تو) قصر ہوجاتی ہیں ، یعنی چار رکعت نمازکے بجائے دو رکعت نماز پڑھی جا ئے گی اورسفر کے درمیان کوئی فرق نہیں کہ وہ تجارت کے لئے انجام دے، یا زیارت ، حج اور جنگ و غیرہ کے لئے اوریہ حکم قرآن مجید( ۱۵۱ ) اورسنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ثابت ہے،( ۱۵۲ ) چنانچہ یھی طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ نبوت اور دور خلافت ابوبکر وعمر میں باقی رھا ،لیکن عثمان نے اپنے دورخلافت کے اواسط میں مقام منیٰ میں بجائے اس کے کہ وہ چار رکعتی نماز کو دورکعت نماز قصرپڑ ھتے چاررکعت ہی پڑھی ،حا لانکہ وہ مسافر تھے اور شرائط قصر بھی موجود تھے، کچھ مسلمانوں نے بھی ان کی پیروی کی ،لیکن ایک گروہ نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے ان پر اعتراض کیا، طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عثمان کے طریقہ کار پر مسلمانوں کا یہ سب سے پھلااعتراض تھا ، یھیں سے عثمان کے خلاف بغاوت کا بیج پڑا!خلاصہ یہ کہ عثما ن نے اپنے دور خلافت میں نماز مسافر کا حکم تبدیل کردیا !اور اس بارے میں کتب حدیث ،تاریخ وتفسیر میں صراحت کے ساتھ متعدد روایات پائی جاتی ہیں لیکن ہم نمونے کے طور پر صحیح بخاری اورصحیح مسلم سے صرف تین روایتیں ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں :

۱…”عن عبداللّٰه؛ قال: صلیت مع النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بمنی رکعتین وابی بکر وعمرومع عثمان صدراًمن خلافته، ثم اتمها“ ( ۱۵۳ )

عبد اللہ ابن عمر سے منقول ہے :

میں نے خودآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر،عمر اور عثمان کے ساتھ مقام منیٰ میں چار رکعتی نماز کو دورکعت بعنوان قصر پڑھا،لیکن عثمان نے اپنے دور خلافت کے کچھ دن گزر جانے کے بعد منی میں چارکعتی نماز کو بجائے اس کے کہ دو رکعت قصر کر کے پڑھتے چارکعت ہی پڑھا ۔

۲…”عن ابراهیم ؛قال: سمعت عبدالرحمٰن بن یزید؛ یقول:صلی بناعثمان بن عفان بمنی اربع رکعات، فقیل ذالک لعبداللّٰه بن مسعود: فاسترجع، ثم قال:صلیتُ مع رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بمنی رکعتین، وصلیت مع ابی بکر بمنی رکعتین، وصلیت مع عمر بن الخطاب بمنی رکعتین، فلیت حظی من اربع رکعات رکعتان متقبّلَتانِِ “ ( ۱۵۴ )

عبد الرحمٰن بن یزید سے منقول ہے :

عثمان نے مقام منی میں دورکعت کے بجائے چار رکعت نماز پڑھی (اورقصر کے حکم پر عمل نہ کیا ) اورجب اس واقعہ کو عبداللہ بن مسعود سے بیان کیا گیا توابن مسعود نے کلمہ استر جاع(( انا لله واناالیه راجعون ) ) پڑھا اور کھا: میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھا،جب میں نے مقام منیٰ میں چاررکعتی نماز کو دو رکعت پڑھا ،اسی طرح میں نے ابوبکر وعمر کے ساتھ بجائے چاررکعت کے دورکعت اداکی، کاش کہ آج بھی ہم دو رکعت نماز ہی ادا کرتے ۔

۳ ۔ صحیح بخاری کی ایک دوسری حدیث میں اس طرح آیا ہے :

عبد الله ابن مسعود اس بات کو نقل کر نے کے بعد” کہ ہم نے رسول ،ابو بکر و عمرکے زمانے میں دورکعت نماز پڑھی“ یہ جملہ بھی بیان کرتے ہیں:بعدمیں مسلمانوں کے سامنے اس سلسلے میں مختلف راستے پیش کردئے گئے، کاش کہ ان چار رکعتوں میں سے ہمیں وھی دورکعت نماز نصیب ہوتی تو کتنا بھتر تھا!!

((… ثم تفرقت بکم الطرق فیالیت حظی من اربع رکعات متقبلتان ))

تاریخ طبری کے مولف کھتے ہیں :

جب ۲۹ ہمیں عثمان نے حج بیت اللہ کیلئے لوگوں کے ساتھ شرکت کی تو منیٰ میں خیمہ نصب کیا یہ پھلا موقع تھا کہ عثمان کے ذریعہ منیٰ میں خیمے لگائے گئے۔

اس کے بعد صاحب تاریخ طبری کھتے ہیں :

واقدی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے: جب عثمان نے اپنی خلافت کے چھٹے سال میں بجائے قصر کے پوری نماز پڑھی جبکہ اپنی خلافت کے چار پانچ سال تک آپ بھی منیٰ میں چار رکعت نماز کو دو رکعت قصر پڑھتے تھے، تویھی پھلا موقع تھا کہ جب مسلمانوں نے اعلانیہ طور پر ان پرتنقید اور اعتراض کرنا شروع کیا اور بعض لوگوں نے خود حضرت عثمان سے اس بارے میں بات بھی کی،یھاں تک حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: ” اے عثمان! ابھی عھد رسالت کو گزرے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں ،تم خود منیٰ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ موجود تھے ،چنانچہ تم نے خود دیکھا کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منیٰ میں قصر نمازپڑھتے تھے اور یھی حال ابوبکر وعمر کے زمانے میں رھا ، حتی کہ تم خود منیٰ میں ابھی تک چار رکعتی نمازوں کو دو رکعت قصر پڑھتے رہے، لیکن اب تمھیں ایسا کیاہوگیا کہ تم نے اس حکم میں تبدیلی کردی ؟!!آخر تمھیں کیا ہو گیا کہ اپنی روش کو تبدیل کردیا؟!!عثمان نے کھا : میں نے مصلحت اس میں پائی اور یہ میری ذاتی رائے تھی جس پر میں نے عمل کیا۔“”فقال : راٴی راٴ یته“ (قال الواقدی )( ۱۵۵ )

ایک موازنہ اور نتیجہ گیری

یہ تھے دس عدد وہ مقامات جھاں خلفائے ثلاثہ نے نص صریح کے مقابل میں اپنی رائے کا اظھار کیا اور حکم خدا و رسول کی اعلانیہ مخالفت کی !!المختصر یہ کہ حصول خلافت اور اس کی پشت پناہی کے یھی علل و اسباب اور حقائق تھے کہ جو صحیحین میں نقل ہوئے ہیں ۔

قارئین کرام !یہ اتنے واضحا ورروشن حقائق تھے کہ علامہ ابن ابی الحدید معتزلی بھی تسلیم کر نے پر مجبور ہوئے،چنانچہ ایک جگہ آپ حضرت علیعليه‌السلام اور دیگر خلفاء کے درمیان ایک موازنہ کرنے کے بعد اس طرح فرماتے ہیں :

” حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام رائے ،تدبیراور اجتماعی معاشرہ کو چلانے کے اعتبار سے تمام لوگوں کی نسبت بلند مقام کے حا مل تھے اور خلفائے ثلاثہ اس اعتبار سے آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتے، کیونکہ حضرت علیعليه‌السلام ہی تھی نھوں نے خلیفہ دوم کی تمام مشکل -----امور میں مدد کی اور خصوصاً لشکر کشی کے بارے میں راهنمائی فرمائی،یہ علیعليه‌السلام ہی تھے جنھوں نے عثمان کو اپنی زرین نصیحتوں سے آگاہ کیا، اگر عثمان آپ کی نصیحتوں پر عمل کرتے تو کبھی بھی ان کے ساتھ قتل کا حا دثہ پیش نہ آتا۔“

اس کے بعد ابن ابی الحدید فرماتے ہیں :

”اگر چہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس بات کا قائل ہے کہ علیعليه‌السلام ثاقب الرائے اور صحیح تدبیر نہ رکھتے تھے!!لیکن ان کے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ علیعليه‌السلام تمام احکام کو نافذکرنے میں قانون الہٰی کو مد نظر رکھتے تھے اور چھوٹے سے چھوٹے کا م کو بھی حکم خدا کے خلاف نہیں کرسکتے تھے اور آپ کے لئے تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں ،چنانچہ خو د حضرت علیعليه‌السلام کا فرمان ہے :

”اگر دین اور خوف ِخدا میرے پیش نظر نہ ہوتا تو میں دنیا ئے عرب کا زیرک ترین مرد ہوتا“

لیکن دیگر خلفاء اس محدودیت کے قائل نہیں تھے، بلکہ وہ آزاد انہ مصالحا لناس کو دیکھتے ہوئے اور اپنی مصلحت کو مد نظر رکھ کراقدام کرتے تھے اوروہ جس کام میں اپنی ترقی دیکھتے اس کو کرتے تھے چاہے یہ کام شرع کے مخالف ہو یا موافق انھیں احکام الہٰی کا کوئی پاس نہ تھا۔“

”وغیره من الخلفاء کان یعمل بمقتضی مایستصلحه ویستوقفه سواء کان موافقا للشرع ام لم یکن“

اس کے بعد ابن ابی الحدید اس طرح نتیجہ گیری کرتے ہیں :

”اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جو شخص زمانہ کی مصلحتوں کو دیکھ کر اپنی رائے اور اجتھاد کے مطابق عمل کرے اور اسلامی قوانین و حدود کا خیال نہ کرتا ہو، جو کہ اس کی دنیاوی ترقی سے مانع ہو،تو اس کی دنیا وی حا لت منظم ،پیشرفت اور ترقی یافتہ ہوگی اور وہ اپنے دنیاوی اہداف ومقاصد تک بہ آسانی پهنچ جائے گا،کیوکہ وہ آزاد ہو کر عمل کررھا ہے، اس کے سامنے کوئی موانع نہیں ہیں ، لیکن جو شخص چند ضوابط ا ورحدود میں میں ہویعنی جس کی نظر میں احکام الہٰی کا احترام ملحوظ ہو، ا س کی دنیاوی حا لت ظاہراً ترقی نہیں کر سکتی، یھی حال امیرالمومنین علی علیہ السلام کا ہے ۔( ۱۵۶ )

خاتمہ

صحیحین کی روشنی میں حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی پیشگوئیاں

وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مسلمانوں کا حال

آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں ان تمام حوادث وواقعات کی پیش گوئی فرمادی تھی جو آپ کے بعد مسلمانوں کے درمیان رونما ہونے والے تھے۔

منجملہ: بنی امیہ کی ظالمانہ حکومت و سلطنت( ۱۵۷ ) خارجیوں کا وجود میں آنا اورپھر ان کا حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے ھاتھوں قتل ہونا( ۱۵۸ ) نیزجناب عمار یاسر کا ایک باغی گروہ کے ذریعہ قتل ہونا وغیرہ۔( ۱۵۹ )

خلاصہ یہ کہ وہ تمام مختلف قسم کی تحریفات اور بدعتیں جو دین اسلام میں آئندہ وجود میں آ نے والی تھیں ان کی خبر اور مسلمانوں کے ایک گروہ کے اسلام سے مرتد اور منحرف ہونے کی آگاہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں کو پھلے سے دیدی تھی اور اس بات پر اپنے عمیق تاسف اور شدید تاثرکا اظھار بھی فرمایاتھا، ان تمام واقعات کے شواہد صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں ۔

چنانچہ گزشتہ مباحث کی مناسبت سے بعض مسلمانوں کے ارتداد اور ان کی طرف سے دین اسلا م میں تحریف اور بدعت گزاری سے متعلق ذیل میں چند روا یات صحیحین سے نقل کرتے ہیں :

بعض صحا بہ کا وفا ت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مرتد ہوجا نا!!

۱ ”سعید بن جبیر عن ابن عباس عن النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؛ قال:وان اناساً من اصحا بی یوخذ بهم ذات الشمال، فاقول:اٴصحا بی! اٴصحا بی! فیقول:انهم لم یزالوا مرتدین علی اعقابهم منذ فارقتهم ،فاقول:کما قال العبد الصالح: وکنت علیهم شهیداً ما دمت فيهم… “

سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے:

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ایک گروہ میرے صحا بہ میں سے سمت شمال میں ہوگا( ۱۶۰ ) ان کی حمایت کی خاطر بارگاہ الہٰی میں عرض کروں گا ،میرے معبود یہ میرے صحا بہ ہیں یہ میرے صحا بہ ہیں ؟!خدا میریجواب میں کھے گا:اے میرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !تیری وفات کے بعد یہ لوگ الٹے پیر اپنے پرانے دین ِجاہلیت کی طرف پلٹ گئے تھے ،اس وقت میں نبدہ صالح عیسیعليه‌السلام کے قول کو دھراوں گا : میرے معبود! جب تک میں ان کے درمیان تھاان کے اعمال کا شاہد وناظر تھا ،لیکن جب مجھے تونے اپنی بارگاہ میں بلالیا ،تواب تو خود ہی ان کے اعمال کا مراقب وناظر ہے ،لہٰذا اگر ان پر عذاب نازل کرے گا تو میرا کچھ نہیں کیونکہ یہ تیرے بندے ہیں اگر تو ان کو معاف کر دے گا تو توُخدا ئے قوی و حکیم ہے ۔( ۱۶۱ )

صحیح مسلم میں جوحدیث مندرج ہے اس میں بجائے:

”انهم لم یزالوامرتدین “جملہ ”انک لاتدری ما احدثوابعدک “ آیا ہے:

خدا کھے گا:اے میرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !تجھے کیا معلوم انھوں نے تیری وفات کے بعد کیا کیا کرتوت کئے ؟!

صحیح بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں اَصحا بی کے بجائے ” اُصَیحا بی“کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو عربی گرامر کے لحا ظ سے کمالِ محبت والفت یا شدیدتحقیر وتوھین پردلالت کرتا ہے،کیونکہ صیغہ تصغیر دونوں (محبت و توھین )کے لئے استعمال ہو تا ہے ،یعنی جن کے لئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سفارش کریں گے ،وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں بیحد محبوب تھے ،یا پھر وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک بھت زیادہ حقیر تھیجن کے اخلاق وکردار سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم راضی نہ تھے اوررضایت کے بغیر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وفات پائی۔

۲ …”ابن ابی ملیکة؛قال:عن اسماء بنت ابی بکر؛قالت:قال النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :انیّ علیٰ الحوض حتی انظر من یرد علَّی منکم،وسیوخذ الناس دونی،فاقول:یارب منّی ومن امتی! فیقال:هل شعرت ماعملوابعدک؟والله ما برحوا یرجعون علیٰ اعقابهم،فکان ابن ابی ملیکة یقول:اللّٰهم انا نعوذبک ان نرجع علیٰ اعقابنا اونفتن فی دیننا “

ابن ابی ملیکہ اسماء بنت ابوبکر سے نقل کرتے ہیں :

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمایا: میں روزمحشر حوض کوثر پر کھڑا ہو جاوں گاتاکہ ان لوگوں کو دیکھوںجو میرے پاس وارد ہوں گے ،لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گیجن کو میرے پاس سے پکڑلیا جائے گا،پس میں خد ا سے عرض کروں گا ،اے میرے پروردگار !یہ میرے خاص ا صحا ب اور میری امت سے ہیں ” فاقول یا رب منّی ومن امتی“ تو خدا کھے گا:(اے میرے حبیب)تمھیں نہیں معلوم تیرے بعد انھوں نے کیا کیا کرتوت کئے؟! قسم بخدا یہ اپنے آبائی دین جاہلیت کی طرف پلٹ گئے تھے!!

اورابن ملیکہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کھا کرتے تھے : پروردگار ا! میں تیری پناہ چاہتا ہوںاس سے کہ میں اپنے پرانے دین کی طرف پلٹ جاوں ،یا اپنے دین میں محل آزمائش قرار پاوں ۔( ۱۶۲ )

جیساکہ ہم نے عرض کیا: اس حدیث کو بخاری نیجلد ۸ ۔ ۹ میں بھی تھوڑے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے چنانچہ ہم دونوں موارد کو ذیل میں نقل کرتے ہیں ملاحظہ ہو:

۳…”عن ابی هریرة؛عن النبی؛ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قال:بینا اناقائم اذازُمرةٌ،حتّی،ٰاذا عرفتهم خرج رجل من بینی وبینهم، فقال: هلم، فقلت:این ؟قال: الیٰ الناروالله ،قلت وما شانٴهم؟ قال:انهم ارتدُّوابعدک علیٰ ادبارهم القهقرَیثم اذا زمرةحتیٰ ٰاذا عرفتهم،خرج رجل من بینی وبینهم فقال:هَلُمَّ ،قلت: این؟ قال: الیٰ النار والله ،قلت وماشاٴنُهم؟ قال انهم ارتدوا بعدک علیٰ ادبارهم القهقری… ۔.( ۱۶۳ )

ابو ھریرہ سے منقول ہے:

آنحضرت نے فرمایا :ایک روز میں نے خواب میں ایک گروہ کو دیکھا،جو میرے پاس لایا گیا ،جیسے ہی میں نے ان کو پہچانا تو ایک شخص ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ظاہر ہوااور ان لوگو ں سے کهنے لگا: جلدی آو میں نے کھا:انھیں کھاں لیجارھا ہے ؟کهنے لگا :قسم بخد اان کو جهنم (آتش)کی طرف لیجارھا ہوں، میں نے کھا:آخر انھوں نے کیا گناہ انجام دیا ہے ؟!کهنے لگا :یہ آپ کے بعد الٹے پاوں پیچھے پلٹ گئے تھے !!اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:پھر دوسرا گروہ دیکھا جب میں نے ان کو پہچاناتو ایک شخص ہمارے اور ان کے درمیان سے نکلااوراس گروہ کو مخاطب قراردے کر کهنے لگا:جلدی آو ،جلدی آو، میں نے اس سے کھا :کھاں لیجارھاہے؟ وہ کھتا ہے : ان کو میں آگ (جهنم )کی طرف لیجارھاہوں ،تو میں نے کھا :آخر انھوںنے کیا گناہ انجام دیا ہے ؟ تو کهنے لگا: وہ آپ کے بعد الٹے پاوں پلٹ گئے تھے اور مذھب اسلام سے بالکل پھرگئے تھے۔

۴…” عن ابن شهاب عن ابن المسیب؛انه کان یحدِّث عن اصحا ب النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؛ ان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قال: یرد علی الحوض رجال من اصحا بی، فَیُحَلَّوونَ عنه، فاقول: یا رب اصحا بی؟ فیقول: انک لاعلم لک بما احدثوا بعدک، انهم ارتدوا علیٰ ٰادبارهم القهقری؟!!“ ( ۱۶۴ )

ابن مسیب سے مروی ہے:

صحا بہ کے ایک گروہ نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے : آپ نے فرمایا: میرے صحا بہ میں سے کچھ ایسے ہوں گیجو بروز محشر حوض کوثر پر وارد ہونا چاہیں گے،لیکن ان کوروک لیا جائے گا ، میں کہوں گا:میریمعبود! یہ میرے اصحا ب ہیں ان کو کیوں روکا جارھا ہے ؟! توخدا جواب دے گا :اے میرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! تم نہیں جانتے انھوں نے تمھارے بعد کیاکیاانجام دیا ؟!اے رسول !یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دین اسلام کو تمھارے بعد ترک کردیا اور اپنے آباء واجداد کے مذھب پر پلٹ گئے تھے ۔

____________________

[۱۱۲] فتح ا لباری جلد۹،کتاب النکاح ، باب ”نھی النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عن النکاح ا لمتعة اخیراً “ ص۱۴۵،۱۴۸۔مصنف ابن حجر عسقلانی ۔

[۱۱۳] تفسیر المنار جلد۵، سورہ نساء آیت ۲۳_ ۲۸۔

[۱۱۴] گزشتہ مباحث کی روشنی میں یہ بات کہنا بیجا نہ ہوگا کہ کتب تواریخ واحادیث سے قطعی اور یقینی طورپر ثابت ہے کہ حضرت رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور خلفاء کے زمانہ میں حکم متعہ پر مسلسل عمل ہوتا رھا ،تواب حکم متعہ پر اعتراض کرنا گویا شریعت محمدی پر اعتراض کرنا ہے ،جس سے خود معترض کی شخصیت مجروح ہوتی ہے ،دوسرے کا کچھ نہیں بگڑتا ! کیا مزے کی بات ہے کہ موصوف عورت کی عزت بچانے کے لئے کوشاں ہیں ! لیکن اس سے غافل ہیں کہ اس اعتراض سے خود ان کی عزت داوں پر لگی ہوئی نظر آتی ہے !!مترجم۔

[۱۱۵] الوشیعہ ،مولفہ موسی جارالله ، ص۱۲۱۔۱۳۲۔

[۱۱۶] سورہ بقرہ ،آیت ۷۹ ،پ ۱۔

[۱۱۷] الفصول المھمة فی تالیف الامة ، ”فی تحریر محل النزاع فی متعة النساء “ ص ۵۰۔

[۱۱۸] محترم قارئین! گزشتہ مباحث کی روشنی میں آلوسی صاحب کا مذکورہ نظریہ ہوا میں تیر مارنے کے مترادف ہے ،نہ جانے کیا موصوف کو دورہ آیا تھا کہ متعہ دوری شیعہ کتب میں نظر آگیا؟!بتایئے کتب تاریخ وحدیث کو جانتے ہوئے موصوف کا قول کتنا تعصب آمیز اورحقیقت سے دور ہے ، آلوسی کو اپنے بے بنیاد الزام، برھنہ کذب، فحا ش تھمت اور صریحا فترا پردازی پر ذرہ برابر شرم بھی نہ آئی؟ ! (حیرتم بر این عقل ودانش!!)ذراہم بھی اس شیعہ مورخ کا نام و پتہ جاننا چاہتے ہیں جس نے متعہ کی یہ صورت بیان کی ہے ؟!! اگر اس طرح کی بے سرو پا افتراپردازی کا دروازہ اپنے گھنونے تعصب کی بنا پر بدون ِتحقیق و تفحص ، مذھب حقہ شیعہ اثنا عشری کے لئے باز کیا تو پھر سمجھ لیجئے ہم وہ سارے حقائق کھول کر رکھ دیں گیجن کو آپ کے مورخین نے تاریخ کے اوراق میں چھپا رکھا ہے!کیا آپ ان آباوو اجداد اور امھات کو بھول گئیجن کے دروازے پر فحا شیت کے لال

جھنڈے لھرایاکرتے تھے ؟قارئین کرام میرا خطاب جناب آلوسی اور ان کی اندھی تقلید کرنے والوں سے ہے غیر سے نہیں !!مترجم۔

[۱۱۹] سورہ یونس، آیت ۶۵، پ ۱۱۔

[۱۲۰] الفتاوی،زواج المتعة ”اساس الزواج فی القرآن “ص۲۷۳ ۔

[۱۲۱] سورہ جاثیہ ،نمبرآیت ۲۳،پ۲۵۔ ترجمہ :۔ بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا کر رکھا ہے اوراس کی حا لت سمجھ بوجھ کر خدا نے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر علامت مقدر کر دی ہے ، نہ یہ ایمان لائے گااور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے ،پھر خدا کے بعد اس کی ہدایت کون کر سکتا ہے ؟تو کیا تم اتنا بھی غور نہیں رکھتے ۔

[۱۲۲] صحیح بخاری ج ۳،کتاب الصوم ،کتاب الصلٰوةالتراویح ،باب(۱) ”فضل من قام رمضان “ح ۱۹۰۶۔

[۱۲۳] صحیح بخاری ج۳،کتاب الصوم (کتاب الصلواةالتراویح ) باب ”فضل من قام رمضان“ ح۳۷۔ مسلم ج۲،کتاب الصلٰوةالمسافرین ، باب” ا لتر غیب فی قیام رمضان“حدیث۷۵۹۔

[۱۲۴] الطبقات؛ ابن سعد ج ۳، ذکر استخلاف عمر،ص۱۸۱۔ مطبوعہ: لندن۔

[۱۲۵] ارشاد الساری ج۳،کتاب الصوم باب ” فضل من قام رمضان “ ص۴۱۵۔

[۱۲۶] تاریخ یعقوبی جلد۲، ص۱۴۰، ایام عمر بن الخطاب ، مطبوعہ: بیروت لبنان۔

[۱۲۷] تاریخ الخلفا ء، ص۱۳۱،فصل فی خلافة عمر ، مولفہ علامہ جلال الدین سیوطی۔

[۱۲۸] کتاب سلیم بن قیس ،ص۱۶۳۔

[۱۲۹] شرح نہج البلاغہ جلد ۱۲،خطبة ۲۲۳،صفحہ ۲۸۳۔

[۱۳۰] عمدة القاری جلد ۱۱،کتاب الصوم ، باب ”فضل من قام رمضان“ ۔

[۱۳۱] سورہ بقرہ، آیت ۲۲۹،۲۳۰۔

[۱۳۲] تفسیر کشاف جلد۱،تفسیر سورہ بقرہ، آیت ۲۲۹ص۳۶۶۔

[۱۳۳] صحیح مسلم جلد ۴،کتاب الطلاق ،باب(۲) ”الطلاق الثلاث“حدیث۱۴۷۲ ۔

[۱۳۴] صحیح مسلم جلد ۴،کتاب الطلاق ،باب(۲) ”الطلاق الثلاث“حدیث۱۴۷۲ ۔

[۱۳۵] بد ا یةالمجتھد کتاب الطلاق، مسئلہ۱۔

[۱۳۶] الفقہ علی المذاہب الاربعة جلد ۴،مبحث تعدد الطلاق۔

[۱۳۷] بدایہ المجتھد، کتاب الطلاق ،مسئلہ ۳۔

[۱۳۸] الفقہ علی المذاہب الاربعة جلد ۴، مبحث تعدد الطلاق۔

[۱۳۹] تفسیر المنار جلد ۲،سورہ بقرة آیت ۲۲۹۔

[۱۴۰] الفتاویٰ،”الحلف بالطلاق“صفحہ ۳۰۵۔

[۱۴۱] صحیح بخاری جلد ۴،کتاب المناقب، باب” علامات النبوة فی الاسلام “حدیث۳۴۳۱۔

[۱۴۲] صحیح بخاری جلد ۲،کتاب الجنایز، باب”قول النبی:اِ ناَّ بِکَ لَمَحْزُوْنوُن “ ۔حدیث۱۲۴۱۔۱۱۸۹، مترجم:(صحیح بخاری جلد ۲،کتاب الجنایز،باب(۴) ”الرجل ینعیٰ الیٰ اهل ا لمیت بنفسه “حدیث۱۲۴۵۔جلد۳،کتاب الجھاد، باب”تمنی الشهادة “ حدیث ۲۶۴۵،باب ”من تامر فی العرب من غیر امرة اذاخاف العدو “حدیث ۲۸۹۸۔ کتاب فضایل الصحا بة، باب ”مناقب خالد بن الولید رضی الله عنہ“ حدیث ۳۵۴۷۔ جلد ۴ ،کتاب المغازی، باب ”غزوةالموة من ارض الشام“ حدیث ۴۰۱۴۔)

[۱۴۳] مسلم ج۳،کتاب الجنایز، باب” استیندان النبی ربہّ فی زیارت قبر امہ“حدیث ۹۷۶۔

[۱۴۴] صحیح بخاری :جلد۲،کتاب الجنایز، باب”قول النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یعذب ا لمیت ببعض بکاء ا هله علیه “حدیث ۱۲۲۴،باب ”البکاء عند المریض “حدیث ۱۲۲۵۔مترجم:( صحیح بخاری ،جلد۲، کتاب المرضیٰ ، باب( ۹)”عیادة الصبیان “ حدیث ۵۳۳۱۔ جلد ۶ ،کتاب الایمان و النذور، باب( ۹)”قول الله تعالی:ٰ واقسمو اباالله جهدا ایمانهم “(سورہ انعام ،آیت ۱۰۹)حدیث ۶۲۷۹۔ کتاب التوحید، باب( ۲)”قول الله تعالیٰ: قل ادعوا الله “(سورہ اسراء ،آیت۰ ۱۱)حدیث ۶۹۴۲، باب( ۲۵)”ما جاء فی قول الله : ان رحمة الله قریب من المحسنین “( سورہ اعراف،آیت ۵۶) حدیث ۷۰۱۰۔ جلد ۳ ،کتاب المناقب، باب” علامات النبوة فی الاسلام “حدیث ۳۴۲۷، ۳۵۱۱۔۵۹۲۸۔۴۱۷۰۔۳۰۴۸۔)

[۱۴۵] صحیح بخاری جلد ۲،کتاب الجنایز ،باب ”البکاء عند المریض“ حدیث۱۲۲۴۔

صحیح مسلم جلد ۳،کتاب الجنایز ،باب” البکا ء علی ا لمیت“ حدیث۹۲۳۔۹۲۴۔

[۱۴۶] صحیح بخاری جلد۳،کتاب الخصومات، باب(۱)”اخراج اهل المعاصی والخصوم من البیوت بعد المعرفة “(اول باب ،حدیث نمبر نہیں ہے)۔

[۱۴۷] مسند احمد بن حنبل جلد ۱،مسند عبد الله ابن عباس ، ص۳۳۵۔

[۱۴۸] الطبقا ت؛ ابن سعد ج ۳ ، ، خنیس بن حذافة ص۲۹۹۔

[۱۴۹] مسند احمد بن حنبل جلد۲،مسند ابی ھریرة ص۳۳۳۔

[۱۵۰] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد۱،خطبة شقشقیة ، (حتی مضی الاول لسبیلہ ، کے بعد )ص۱۸۱۔

[۱۵۱]وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحا ٴَنْ تَقْصُرُوْا مِنْ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ اٴَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِینَ کَفَرُوْا إِنَّ الْکَافِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُبِیْنًا (سورہ نساء آیت ۱۰۱)

[۱۵۲] صحیح مسلم جلد۲،کتاب صلوٰةالمسافرین، باب(۱)”صلوٰة المسافرین و قصرھا“حدیث۶۸۷۔

[۱۵۳]صحیح بخاری: جلد۲،کتاب الصلٰوة ابواب التقصیر،باب(۲) ”الصلوٰة بمنیٰ“حدیث ۱۰۳۲،باب (۱۱)حدیث۱۰۵۱۔ جلد۲،کتاب الحج، باب” الصلوٰة بمنی“ حدیث۵۷۲۔

صحیح مسلم جلد۲،کتاب صلوٰة المسافر ین، باب” قصرالصلوٰة بمنی“حدیث۶۹۴۔۶۹۵۔ ۶ ۹ ۶ ،(معہ متعد د اسنادوطرق) ۔

[۱۵۴] صحیح بخاری: جلد۲،کتاب الصلٰوة ابواب التقصیر،باب(۲) ”الصلوٰة بمنیٰ“حدیث ۱۰۳۲،باب (۱۱)حدیث۱۰۵۱۔ جلد۲،کتاب الحج، باب” الصلوٰة بمنی“ حدیث۵۷۲۔

صحیح مسلم جلد۲،کتاب صلوٰة المسافر ین، باب”قصرالصلوٰة بمنی “حدیث۶۹۴۔۶۹۵۔ ۶ ۹ ۶ ،(معہ متعد د اسنادوطرق) ۔

[۱۵۵] تاریخ الطبری جلد ۳،”ذکر الخبر عن سبب عزل عثمان “ حوادث ۲۹ھ ،ص ۳۲۲ ۔

[۱۵۶] شرح نہج البلاغہ، جلد۱،صفحہ ۲۸،خطبة (۱)مصنفہ ابن ابی الحدید معتزلی۔

[۱۵۷] صحیح بخاری ،جلد۴،کتاب المناقب،باب(۲۵)” علامات النبوة فی الاسلام“حدیث ۳۴۰۹،۳۴۱۰۔ جلد۹،کتاب ا لفتن، باب(۳)”قول النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :هلاک امتی علیٰ یدی اغیلمة سفهاء “ح ۷۰۵۸۔

[۱۵۸] صحیح بخاری ،جلد۴،کتاب المناقب،باب(۲۵)”علامات النبوة فی الاسلام “حدیث۳۶۱۰،۳۶۱۱۔

صحیح مسلم جلد۳،کتاب الزکٰاة،باب(۴۸)”التحریض علیٰ قتل الخوارج“حدیث۱۰۶۶۔

مترجم: (صحیح بخاری ج۴،کتاب الادب، باب(۹۵)” ماجاء فی قول ا لرجل !ویلک“ ح۵۸۱۱۔صحیح بخاری ج۴،کتاب التفسیر(فضائل القرآن)،باب(۳۶)”اثم من رای بقرآئةالقرآن اوتاکل به اوفخر به “ ح ۴۷۷۰،۴۷۷۱۔ ج ۶،کتاب استتابة المرتدین والمعاندین، با ب(۶)” قتل

[۱۵۹]ا لخوارج والملحد ین بعد اقامةالحجةعلیهم “ حدیث ۶۵۳۱،۶۵۳۲،۶۵۳۳،باب(۷) ”من ترک قتال الخوارج للتا لّف “ حدیث۶۵۳۴،۶۵۳۵۔

(۳)صحیح بخاری،ج۱،کتابالصلاةابواب المسجد، باب(۶۳)”التعاون فی بناء المسجد “ح۴۴۷۔صحیح مسلم ج۸،کتاب الفتن ،باب(۱۸)”لاتقوم الساعة حتیٰ یمرالرجل بقبرالرجل “ح ۲۹۱۶،۲۹۱۵۔

مترجم : صحیح بخاری جلد ۳،کتاب الجھاد، باب(۱۷) ”مسحا لغبارعن الناس فی السبیل “حدیث ۲۶۵۷۔

[۱۶۰] اصحا ب شمال کا ذکر سورہ واقعہ میں بھی ہوا ہے:

<وَاَصْحا بُ الشِّمَاْلِ مَا اَصْحا بُ الْشِّمَاْ لِ.فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْ. وَّظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ. لابَارِدٌ وَّلاکَرِیْمٌ >

تر جمہ : اور بائیں ھاتہمیں نامہ اعمال لینے وا لے ھائے افسوس بائیں ھاتھ والے کیامصیبت میں ہیں دوزخ کی لو اور کھولتے ہوئے پانی اور سیاہ کالے دھوئیں کے سایہ میں ہوں گیجو نہ ٹھنڈا رہے اور نہ خوش آئند۔سورہ واقعہ،پ۲۷۔

[۱۶۱] صحیح بخاری جلد۴،کتاب الانبیاء،باب(۱۱) ”واتخذالله ابراهیم خلیلا “(آیت۱۲۵) حدیث۳۱۷۱، باب ”واذکر فی الکتاب مریم“(آیت ۱۶)حدیث۳۲۶۳ ۔ جلد۶،کتاب التفسیر،تفسیرسورة مائدة ،باب”وکنت علیهم شهداء “( آیت ۱۱۷)حدیث۴۳۴۹۔۴۳۵۰، تفسیرسورہ الانبیاء(آیت۱۰۴)حدیث۴۴۶۳ ۔ جلد ۸،کتاب الرقاق، باب” کیف الحشر“ حدیث۶۱۶۱۔ صحیح مسلم جلد۸،کتاب الجنةوصفة نعیمھا، باب(۱۴)”فناء الدنیا وبیان الحشر “ حدیث۲۸۶۰۔

[۱۶۲] صحیح بخاری جلد۸،کتاب الرقاق،باب(۵۳)” فی الحوض“حدیث ۶۲۲۰۔ جلد۹،کتاب الفتن ،(۱) ”ماجاء فی قول الله :<واتقوافتنةلا تصیبن الذین ظلموامنکم خاصة > حدیث۶۶۴۱۔

صحیح مسلم جلد۷،کتاب الفضایل، باب(۹)” اثبات حوض نبینا“ حدیث۲۲۹۳،۲۲۹۴،۲۲۹۵وغیرھم۔

[۱۶۳] صحیح بخاری جلد۸،کتاب الرقاق، باب(۵۳) ”فی الحوض “حدیث۶۲۱۵۔

[۱۶۴] صحیح بخاری جلد۸،کتاب الرقاق باب(۵۳)” فی الحوض“حدیث۶۲۱۳،۶۲۱۴۔


روزمحشراہل ِبدعت کاحشر !!

۱ …”عن سهل بن سعد؛قال النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :(( انی فَرَطُکم علی الحوض مَن مَرَّعَلَیَّ شَرِبَ ومن شرب لم یظماٴ ابدا لَیَرِدَنَّ عَلیَّ اقوام اعرفهم ویعرفوننی ثم یُحال بنیي وبینهم))قال ابوحا زم: فسمعنی النعمان بن ابی عیاش: فقال:هٰکذاسمعتَ من سهل؟ فقلت: نعم فقال:اشهد علیٰ ابی سعیدالخدری لسمعته وهویزیدفیها: فاقولُ:انهم منی؟فیقال: انک لا تدری ما احدثوا بعدک؟ فاقول سحقاً سحقاًلمن غیَّربعدی!! “

ابوحا زم سھل بن سعد سے نقل کرتے ہیں :

رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے فرمایا : میں تم سب سے پھلے حوض کوثر پر وارد ہوں گا اور جو بھی اس دن (روز قیامت) میرے پاس آئے گاوہ آب حوض کوثر سے سیراب ہو گااور جو حوض کوثر سے سیراب ہو جائے گا ،پھر اس کو کبھی تشنگی نہیں محسوس ہو گی ۔

اور بالتحقیق ایک گروہ ایسا واردھو گا جنھیں میں بھی پہچانتا ہو ں گااور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے،اس کے بعد میرے اور ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی( یعنی وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیداراورحوضِ کوثر کی سیرابی سے محروم ہو جائیں گے) ابو حا زم( ناقل حدیث )کھتے ہیں : جب نعمان بن عیاش نے اس حدیث کو مجھ سے سنا تو پوچھنے لگا: کیا تونے خود سھل ابن سعد سے اس حدیث کو سناہے ؟

نعمان کھتے ہیں : میں نے کھا :ھاں میں نے خود اس حدیث کو سن کر تجھ سے نقل کیا ہے،تو ابن عیاش اس وقت کهنے لگے : میں خدا کو شاہد قرار دے کر کھتا ہوں: میں نے خود اس حدیث کو ابوسعید خدری سے سنا ہے اور وہ اس حدیث کے آخر میں یہ جملہ بھی نقل کرتے تھے:”رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس وقت کهنے لگے:دور ہوجائیں رحمت خد ا سے،دور ہوجائیں رحمت خد ا سے وہ لوگ جنھوں نے میرے بعد دین اسلام میں تحریف وتبدیلی کی!!“( ۱۶۵ )

اس حدیث کو امام بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے، (لیکن مسلم نے متعدد طرق و اسناد کے ساتھ اور ”لمن غیربعدی“کی جگہ”لمن بدل بعدی“ نقل کیا ہے۔)قسطلانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

حدیث میں تغییر و تبدیلی سے مراد دین اورآئین اسلام کی تغییر وتبدیلی ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نفرین ، لعنت اورپھٹکار اسی کے لئے مناسب ہیجو دین خدا میں تبدیلی کرے اور مرتد ہو جائے ،لیکن معصیت اور تغییر ِعمل کرنے والوں کے لئے لعنت اورپھٹکا ر کا استعمال درست نہیں ہے، کیونکہ جو لوگ گنہ گار ہوں گے ،ان کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شفاعت کے ذریعہ خدا وند عالم کی رحمت ِ واسعہ اور اس کا لطفِ عمیم شامل حال ہوگا ،لہٰذاحدیث میں جن لوگوں کی طرف اشارہ ہے ،وہ وھی افراد ہوسکتے ہیں جومرتدہوگئے ہوں،یھی لوگ رحمت پروردگار سے دورہوں گے ۔( ۱۶۶ )

۲ ۔امام مسلم نقل کرتے ہیں :

ایک روز رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک قبرستان سے گزر ہوا توآپ نے اہل قبرستان کو سلام کیا” السلام علیکم دارقوم مومنین “اور فرمایا: انشاء اللہ میں بھی تم سے ملحق ہوں گا ،اس کے بعد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھو ں ،اصحا ب نے عرض کیا: یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ فرمایا :نھیں تم میرے صحا بہ ہو، میرے بھائی ابھی تو پیدا بھی نہیں ہوئے ہیں ،اصحا ب نیکھا: یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ! وہ افراد جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے آپ ان کو کیسے پہچانتے ہیں ؟رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جو شخص سفید پیشانی کا ایک اونٹ رکھتا ہوکیا، وہ سیا ہ پیشانی والے اونٹوں کے درمیان اپنے اُس اونٹ کو نہیں پہچان سکتا ؟!صحا بہ نے عرض کی: کیوں نہیں یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ! رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:میرے بھائی میدان محشر میں اس حا لت میں میرے پاس واردہوں گے کہ ان کی پیشانیاں وضوء کے اثر سے سفید اور نورانی ہوں گی اور ان سے پھلے میں حوض کوثر پر وارد ہوں گا ،پھر آپ نے فرمایا: آگاہ ہوجاو کہ ایک گروہ میرے پاس سے حوض کوثر پر روک دیا جائے گا، جیسے کہ ایک گم شدہ اونٹ کودوسرے گلہ میں وارد ہونے نہیں دیتے ، میں ان کو آواز دوں گا، میرے پاس آجاو،تو جواب دیا جائے گا: اے میرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !تیرے بعد انھوں نے کیا کیا دین میں تغیرو تبدل کر دیا تھا تم نہیں جانتے؟!! میں ا س وقت کہوں گا: یہ رحمت خدا سے دور ہوں! رحمت خد ا سے دور ہوں!

((…الا لیذادن رجال عن حوضی کما یذادالبعیر الضال، انا دیهم الا هلم فیقال: انهم قد بدلوا بعد ک، فاقول سحق ا سحقا)) ( ۱۶۷ )

۳ …”عن ام سلمة زوجةالنبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انها قالت: کنت اسمع الناس یذکرون الحوض ولم اسمع ذالک من رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللّٰه،… فقال رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله :انی لکم فَرَطٌ علی الحوض فایا ی لایا ِتیَنَّ احد کم فیُذَبُّ عنی کما یُذَبُّ البعیرُ الضالُّ فاقول: فیم هذا؟ فیقال: انک لا تدری مااحد ثوابعدک؟! فا قول: سُحْقاً!!“

زوجہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ام سلمہ سے منقول ہے:

میں نے حوض کوثر کے سلسلے میں لوگوں سے بھت کچھ سن رکھا تھا، مگر کبھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کچھ نہ سناتھا، اتفا قاً ایک روز رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :اے لوگو ! میں تم سب سے پھلے حوض کوثر پر وارد ہوں گا، لہٰذا خبر دار !تم میں سے کوئی شخص ایسا ہوجو میرے پاس آئے تو وہ میرے پاس سے بحکم خدا دور کردیا جا ئے ،جس طرح گمشدہ اونٹ کو گلہ سے دور کردیتے ہیں اور پھر میں وھاں کہوں: آخر ان لوگوں کو میرے پاس سے کیوں دور کر دیا گیا ؟اور اس کیجواب میں مجھ سے کھا جائے: اے میرے رسول!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم نہیں جانتے انھوں نے تمھارے بعد کیا کیا بدعتیں اسلام میں بھر دیں تھیں ! اور پھر مجھے کهنا پڑے کہ تم رحمت خد ا سے دور ہوجا و کیونکہ تم مستحق لعنت ہو !!( ۱۶۸ )

بعض صحا بہ کا اعترافِ حقیقت

یہ تھیں چند روایتیں جو بعد وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں کے ایک گروہ کے مرتد ہونے پر صحیحین میں منقول ہیں ، ان روایا ت میں بعض کلمات ایسے ہیں ، جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ افراد دنیا میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھت زیا دہ قریب اور خاص تھے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان سے بیحد الفت ومحبت کرتے تھے،مثلاً کلمہ ”اَصْحا بِیْ،اُصَیْحا بِیْ ،مِنِّی “ وغیرہ سے ان معانی کااستفادہ ہوتا ہے ۔

چنانچہ جن اصحا ب کی طرف روایت میں ارتداد کی نسبت دی گئی ہے، اُن کا بعض روایتوں میں اشارہ بھی ملتا ہے اور بعض کتابوں میں اس راز سے پردہ اٹھا یا گیا ہے،حتیٰ کہ خود اپنی زبان سے اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بطورنمونہ ہم ذیل میں دو حدیثیں نقل کرتے ہیں جو صحیح بخاری میں مندرج ہیں :

۱ ۔ امام بخاری نے علاء بن مسیب اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے:

جب میں نے براء بن عازب کو دیکھا تو اس کو جلیل القدر صحا بی ہونے کی مبارک باد پیش کی اور اس بات پر فخراور رشک کیا کہ اس نے درخت کے نیچے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ھاتھوں پر بیعت کی تھی اور برا ء کی اس بیعت اوررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اس کی قربت کواس کے لئے مایہ افتخار و مباہات جانا، تو براء بن عازب میرا افتخاریہ جملہ سن کر کهنے لگا:اے بھتیجے یہ جو کچھ تونے کھا وہ یقینا ًلائق ِصد افتخار ومباہات ہے،لیکن کیاکروں یہ ساری میری فضیلتیں رائیگاںھیں ،کیونکہ تو نہیں جانتا ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد کیاکیابدعتیں اسلام میں داخل کردیں !!

فقال: یابن اخی انک لاتدری ما احدثنا بعده؟ !“( ۱۶۹ )

۲ ۔ امام بخاری نے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے :

جب عمر ابولو لو فیروزکے ھاتھوں زخمی ہوئے اوران کو اپنی موت کا یقین ہوگیا، تو وہ بھت زیادہ رونے پیٹنے لگے۔

ابن عباس نے تسلی وتشفی دیتے ہوئے فرمایا:

اگر یہ زخم تیری موت کا سبب بن جائے تو کوئی گھبرانے کی بات نہیں ،کیونکہ تیری زندگی مصاحبت رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وجہ سے لائق صد افتخار ہے اوررسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی تجھ سے راضی تھے، ابوبکر بھی تم سے راضی تھے اور مسلمانوں کے ساتھ آپ نے ایسا برتاوکیا کہ بظاہر مسلمان بھی آپ کے کردار واخلاق کی وجہ سے راضی وخوش ہیں،تو پھر آپ اس قدر کیوں رو رہے ہیں ؟!! عمر نے جواباً کھا :

اماماتراه من جزعی فهو من اجلک واجل اصحا بک، واللّٰه لوان لی طلاع الارض ذهباً لافتدیت به من عذاب اللّٰه عز وجل قبل ان اراه “۔( ۱۷۰ )

اے ابن عباس! جو کچھ تم نے کھا وہ اپنی جگہ واقعاً صحیح ودرست ہے ،مگر جس وجہ سے تم مجھے حیران و پریشان دیکھ رہے ہو، وہ تمھاری او رتمھارے خاندان کی وجہ سے ہے،قسم بخدا میں آرزو کرتا ہوں کہ یہ سارا کرہ ارض سونا بن جاتا اور میں وہ سب راہ خدا میں سخاوت کر دیتا، قبل اس کے کہ عذاب خدا میرے اوپر نازل ہوتا!!

والحمد للّٰه رب العالمین وصلی اللّٰه علی محمد واهل بیته الذین بهم تمت الکلمة وعظمت النعمة، اللّٰهم احشرنا فی زمرة المتمسکین بهم واللّائذین بفنائهم (آمین رب العالمین )

مولف :۔ محمد صادق نجمی: ۴ جمادی الثانی ۱۳۹۶ ھ، بروز سہ شنبہ سہ پھر

مترجم: ۔ محمد منیر خان ابن شہزاد علی خان مرحوم

۱۵ مارچ ۱۹۹۷ ء ،گرام و پو سٹ بڑھیاّ ،ضلع کھیری لکھیم پور ، یوپی ،هندوستان،مقیم حال قم ۔ایران۔


کتاب ہذا کے منابعِ تحقیق کی فھرست

ایک یاد دھانی

کتاب ھٰذا میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی جن نسخوں سے حوالے پیش کئے گئے ہیں ان کے سلسلہ میں ایک اہم وضاحت:

۱ ۔ صحیح بخاری کا پھلا ایڈیشن : اس کو بولاق پریس مصر سے سلطان عبد الحمید ثانی کے حکم سے ۱۳۱۲ ہمیں مصر کے ۱۶ جیّد علماء کی نگرانی میں چھاپاگیا اور اس نسخہ کے شائع ہونے کے بعد مصر کے سات علماء اور قاضیوںنے اس کی تصحیح فرمائی ۔

دوسرا ایڈیشن: یہ ۱۲۷۲ ہمیں هندوستان سے شائع ہوا ،یہ بھت ہی صحیحا ور قابل اعتماد نسخہ مانا جاتا ہے،اس کی بڑی توجہ کے ساتھ غلط گیری کی گئی ہے اور اس ایڈیشن کی اہمیت کا لحا ظ رکھتے ہوئے اس کے آخر میں ۲۸ صفحا ت پر مشتمل غلط نامہ ملحق ہے، حا لانکہ اس زمانہ کی کتابوں کے آخر میں غلط نامہ وغیرہ تحریر کرنا مرسوم نہیں تھا ،یہ چیز تو آجکل رواج پائی ہے ۔

تیسرا ایڈیشن :یہ ایڈیشن شعب پریس مصر، سے شائع ہوا ، افسو س کہ اس میں تاریخ اشاعت درج نہیں ہے۔

۲ ۔ صحیح مسلم کاپھلا ایڈیشن: یہ ایڈیشن ۱۳۳۴ ہمیں مصر سے شائع ہوا، یہ دو جلدوں پرمشتمل ہے اور علامہ محمد شکری نے اس پر نوٹ لگایا ہے۔

دوسراایڈیشن: یہ ایڈیشن محمد فو اد عبد ا لباقی کی تحقیق اور شرح نووی کے حا شیہ کے ساتھ ۱۳۷۴ ہمیں شائع ہوا، جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔

مترجم

اس کتاب میں قرآنی آیات کا ترجمہ ؛مفسر ومترجم قرآن مجید، حا فظ فرمان علی صاحب کے ترجمہ قرآن سے اور خطبات نہج البلاغہ کا ترجمہ ؛ مفتی جعفر حسین صاحب طاب ثراہ کے ترجمہ نہج البلاغہ سے اخذ کیا گیا ہے، نیز صحیح بخاری اور صحیح مسلم کیجن جدید نسخوں کی تحقیق کرکے اس ترجمہ میں ابواب و احادیث نمبراور حوالے نقل کرنے میں استفادہ کیا گیا ہے ان کے مشخصات یہ ہیں :

۳ ۔ صحیحا لبخاری : تحقیق ، تصحیح وتعلیق ڈاکٹر مصطفی دیب البغاء، مدرس جامع ازھر مصر۔

مجلدات : ۶ ،ناشر: دار ابن کثیر، دمشق،شام ، بیروت لبنان۔ ایڈیشن : ۱۹۸۷ ء ، ۱۴۰ ھ

۴ ۔ صحیح مسلم : مجلدات : ۴ ،پھلا ایڈیشن : ۱۹۵۶ ء ،مطابق، ۱۳۷۵ ھ،ناشر: دار احیاء التراث العربی، بیروت ،لبنان ۔ ۱۲

منابعِ تحقیق کی دیگر فھرست

۵ ۔ الام

مولف: محمد بن ادریس امام شافعی، ۲۰۴ ھ۔مجلد ۸ ،دوسرا ایڈیشن ، ۱۹۸۳ ء ، ۱۴۰۳ ھ ،ناشر : دار الفکر ، بیروت، لبنان ۔

۶ ۔ ا بوھریرة

مولف: مرحوم علامہ فیں سیدشرف الدین ، ۱۳۷۷ ھ۔مجلد : ۱ ،ناشر : انتشارات انصاریان، قم ، مطبوعہ بھمن ۔

۷ ۔ الاتقا ن فی علوم القرآن

مولف: جلال الدین عبد الرحمن سیوطی شافعی، ۹۱۰ ھ۔تحقیق : محمد ابو الفضل ابراہیم ۔مجلدات : ۲ ،سن اشاعت : ۱۳۸۰ ھ ش۔ مطبع نو ر ، ناشر : فخر ، قم ایران ۔

۸ ۔ ادب ا لمفرد

مولف : محمد بن اسمٰعیل بخاری ، ۲۵۶ ھ۔تحقیق : محمد فواد عبد الباقی ۔مجلد : ۱ ، سن اشاعت : ۸۶۱۹ ھ ، ۱۴۰۶ ھ، پھلا ایڈیشن ،ناشر : موسسة الکتب الثقافیة، بیروت، لبنان ۔

۹ ۔ الاجتھاد

مولف: ڈاکٹر موسی توانا افغانی(دور حا ضر کے عالم اہل سنت)۔ مجلد ۱ ، مطبوعہ: قاہرہ ، مصر ۔

۱۰ ۔ اجوبةمسائل جاراللّٰہ

مولف: علامہ فیں سعیدشرف الدین، ۱۳۷۷ ھ۔مجلد : ۱ ، سن اشاعت : ۱۳۷۳ ھ ، ۱۹۵۳ ء ، دوسرا ایڈیشن،مطبوعہ : العرفان ، صیدا ،بیروت ۔

۱۱ ۔ الاحکام فی اصول الاحکام (المعروف بہ الاحکام آمدی )

مولف : سیف الدین ابی الحسن علی ابن ابی علی ابن محمد آمدی ، ۶۳۱ ھ ۔مجلدات : ۲ ، ناشر : دار الکتب العلمیہ، بیروت ، لبنان ۔

۱۲ ۔ احقاق الحق

مولف : شھید ثالث ،قاضی نوراللہ شوستری هندی ، متوفی ، ۱۰۱۹ ھ۔تحقیق و حا شیہ: آقای نجفی مر عشی ، ۱۰۱۹ ھ۔

۱۳ ۔ ارشاد الساری،شرح صحیحا لبخاری

مولف: شھاب الدین احمد ابن حجر قسطلانی، ۸۵۵ ھ۔مجلدات : ۱۵ ،سن اشاعت : ۱۴۲۱ ھ ۔ ۲۰۰۰ ء ۔ ناشر : دار الفکر ، بیروت ۔

۱۴ ۔ الاستیعاب فی اسماء الاصحا ب (یہ اصابہ کے حا شیہ پر شائع ہوئی ہے )

مولف: الحا فظ ا بن عبدالبر النمیری اندلسی، ۴۶۳ ھ۔مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۲۲۸ ھ، پھلا ایڈیشن۔ ناشر : مکتبة التجاریة کبری، قاہرہ ،مصر۔

۱۵ ۔ استقصاء الافحا م

۱۶ ۔ ا سد الغابہ فی معرفة الصحا بہ

مولف: ابن اثیرعز الدین ابوالحسن محمد بن محمد، ۶۳۰ ھ۔مجلدات : ۵ ،ناشر : انتشارات اسماعیلیان ، طھران

۱۷ ۔ الاصابة فی تمییز الصحا بة

مولف: ابن حجر احمد بن علی العسقلانی، ۸۵۲ ھ۔تحقیق : عادل احمد عبد الموجود ۔مجلدات : ۸ ،سن اشاعت : ۱۴۱۵ ھ ، ناشر : دار الکتب العلمیہ ، بیروت، لبنان ۔

۱۸ ۔ اضواء علی السنة المحمدیة

مولف: شیخ محمود ابور یہ ،مصری، ۱۹۷۰ ء ۔مجلد ۱ ، پانچواں ایڈیشن،مطبوعہ : دار الکتاب الاسلامی ۔

۱۹ ۔ اعیان الشیعہ

مولف: محسن امین ۔ سن اشاعت: ۱۳۵۴ ھ ، ۱۹۳۵ ء ،مطبوعہ : ابن زیدون، دمشق ۔

۲۰ ۔ الاغانی

مولف: ابو الفرج علی بن الحسین الاصفھانی ا لبغدادی، ۳۵۶ ھ ۔مجلدات : ۲۱ ،سن اشاعت: ۱۹۵۵ ء ۔ ناشر : دارالفکر ، بیروت ۔

۲۱ ۔ ا لغد یر

مولف: علامہ فیں شیخ عبد الحسین امینی (رہ) متوفی ۱۳۹۲ ھ ۔مجلدات : ۱۲ ،سن اشاعت : ۱۳۷۹ ھ ۔ مطبوعہ : دار الکتاب العربی ،بیروت ۔

۲۲ ۔ اقرب الموارد فی فصحا لعربیہ والشوارد

مولف : سعید الخوری شرتونی لبنانی عفی عنہ ۔مجلدات : ۳ ،سن اشاعت : ۱۴۰۳ ھ ۔ ناشر : مکتبہ آیة امرعشی (رہ)،قم ایران ۔

۲۳ ۔ الامامة وا لسیاسہ(ا لمعروف بہ تاریخ الخلفاء )

مولف: عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری، ۲۷۶ ھ۔تحقیق : علی شیری ۔ مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۴۱۳ ھ ، مطبع : امیر قم ، ناشر : انتشارات شریف رضی ، قم ،ایران۔

۲۴ ۔ الامام المالک

مولف: ابوزھرہ (دورحا ضر کے عالم اہل سنت )۔متوفی ۱۹۵۲ ء ۔مجلد ۱ ۔ سن اشاعت: ۱۳۶۷ ھ، ناشر: دار الفکر العربی، ۱۳۶۷ ھ،مصر۔

۲۵ ۔ الامام الشافعی

مولف: محمد ابوزھرہ (دورحا ضر کے عالم اہل سنت )۔متوفی ۱۹۵۲ ء ۔مجلد ۱ ۔ سن اشاعت: ۱۳۶۷ ھ، ناشر: دار الفکر العربی، ۱۳۶۷ ھ،مصر۔

۲۶ ۔ انجیل متی

۲۷ ۔ انجیل یوحنا

۲۸ ۔ انجیل لوقا

۲۹ ۔ ا نساب الاشراف

مولف: احمد بن یحی بن جابر البلاذری (متوفی تیسری صدی ہجری )۔ تحقیق : محمد باقر محمودی ۔مجلدات : ۱ ،سن اشاعت : ۱۳۹۴ ھ، پھلا ایڈیشن، ناشر: موسسہ اعلمی، بیروت ۔

۳۰ ۔ النص والاجتھاد

مولف: علامہ فیں سعید شرف الدین، ۱۳۷۷ ھ ۔تحقیق : ابو مجتبی ۔ مجلدات : ۱ ، سن اشاعت : ۱۴۰۴ ھ، پھلا ایڈیشن ، ۔ ناشر ابو مجتبی۔ مطبع :سید الشھداء -، قم ،ایران ۔

۳۱ ۔ اوا ئل المقالات

مولف: محمد بن محمد بن نعمان ابن المعلم( المعروف بہ شیخ مفید) ۴۱۳ ھ۔تحقیق : ابراہیم انصاری ۔ زنجانی خوئینی ۔ سن اشاعت : ۱۴۱۴ ھ، ۱۹۹۳ ء ۔ مجلد ۱ ، ناشر : دار المفید، بیروت ،لبنان ۔

(ب)

۳۲ ۔ بحا رالانوار لدر راخبار الائمة الاطھار (علیھم السلام)

مولف : علامہ محمد باقر مجلسی، ۱۱۱۱ ھ۔مجلدات: ۱۱۰ ،سن اشاعت : ۱۴۰۳ ھ ، ۱۹۸۳ ء،دوسرا ایڈشن۔مطبوعہ : موسسة الوفاء ،بیروت، لبنان ۔

۳۳ ۔ ا لبدا یة وا لنھایة

مولف: ابن کثیر اسماعیل بن عمر دمشقی شافعی، ۷۷۴ ھ۔تحقیق : علی شیری ۔ مجلدات : ۱۴ ، سن اشاعت : ۱۴۰۸ ھ ،دوسرا ایڈیشن ۔ناشر : دار احیاء التراث العربی ، بیروت، لبنان ۔

۳۴ ۔ بدایة المجتھد و نھایة المقتصد

مولف: ابن رشدابوالولید محمد بن احمداندلسی مالکی، ۵۹۵ ھ۔تحقیق : خالد العطار ۔مجلدات : ۲ ، سن اشاعت : ۱۴۱۵ ھ ، ناشر : دار الفکر، بیروت، لبنان ۔

۳۵ ۔ بلاغات النساء

مولف: ابوالفضل احمد بن ابی طاہر معروف بہ ابن طیفور ، ۳۸۰ ھ۔مجلدات : ۱ ،ناشر : بصیرتی ، قم، ایران ۔

۳۶ ۔ بیان درعلوم ومسائل کلی قرآن

مترجم : محمد صادق نجمی مد ظلہ۔ مجلد ۱ ، مطبوعہ : قم، ایران ۔

(ت)

۳۷ ۔ تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلامی

مولف: حسن صدر متوفی، ۱۹۳۵ ء ۔ مجلد : ۲ ۔ ناشر: مرکز نشر عراقی، نجف۔

۳۸ ۔ تا ر یخ الخلفا

مولف:حا فظ جلال الدین عبد الرحمان ابن ابی بکر سیوطی شافعی، ۹۱۰ ھ ۔تحقیق : محمد محی الدین عبد الحمید۔مجلدات : ۱ ،سن اشاعت : ۱۳۷۱ ھ ۔ ۱۹۵۲ ء پھلا ایڈیشن ۔ ناشر : مطبعة السعادة ، مصر ۔

۳۹ ۔ تاریخ ا بن خلکان

مولف :احمد بن محمد ابن خلکان شافعی ۶۸۱ ھ

۴۰ ۔ تاریخ الخمیس فی احوال ا نفس نفیس

مولف: حسین بن محمد بن حسن دیار بکری مالکی قاضی مکہ، ۹۸۲ ھ۔مجلدات : ۲ ،ناشر: موسسة الشعبان ، بیروت، لبنان ۔

۴۱ ۔ تاریخ الیعقوبی

مولف: احمد بن ابی یعقوب بن جعفر بن وھب ابن واضح(المعروف بہ یعقوبی ) ، ۲۸۴ ھ۔مجلدات : ۲ ، ناشر : دار صادر، بیروت ۔

۴۲ ۔ تاریخ بغداد

مولف: خطیب بغدادی ، ۴۶۳ ھ ۔تحقیق : مصطفی عبد القادر ۔ مجلدات : ۸ ،سن اشاعت : ۱۸۷۹ ء ناشر : موسسہ اعلمی، بیروت ۔

۴۳ ۔ تاریخ الطبری(تاریخ الامم والملوک

مولف: ابو جعفرمحمد بن جریر طبری ، ۳۱۰ ھ۔تحقیق : نخبة من العلماء والاجلاء ۔مجلدات : ۸ ،سن اشاعت : ۱۸۷۹ ء ناشر : موسسہ اعلمی، بیروت ۔

۴۴ ۔ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی

مولف:حا فظ جلال الدین عبد الرحمان ابن ابی بکر سیوطی شافعی، ۹۱۰ ھ ۔تحقیق : محمد محی الدین عبد الحمید۔تحقیق : عبد الوھاب اللطیف ۔مجلد : ۱ ، کل صفحا ت : ۳۵۷ ، سن اشاعت : ۱۳۸۵ ھ ، ۱۹۶۶ ء ، دوسرا ایڈیشن ، ناشر : دار الکتب الحدیثہ ، مصر ۔

۴۵ ۔ تذکرةالحفاظ

مولف: ابوعبد الله شمس الدین محمدبن احمد ذھبی دمشقی شافعی، ۷۴۸ ھ ۔مجلدات : ۴ ،ناشر : مکتبة الحرم المکی ( بتوسط وزارت معارف الحکومة العالیة الهندیة ) مکہ ۔

۴۶ ۔ ترجمہ تاریخ اعثم کوفی

مولف : ابو محمدبن اعثم کوفی۔مطبوعہ ایران ( زیراکس وزارت اوقاف جمہوریہ عر اق )۔

۴۷ ۔ تزیین الممالک فی مناقب الامام المالک

مولف: حا فظ جلال الدین عبد الرحمان ابن ابی بکر سیوطی شافعی، ۹۱۰ ھ ۔

۴۸ ۔ تطھیر الجنان

مولف: شھاب الدین احمدبن محمدبن علی ابن حجر الھیثمی المکی، ۹۷۳ ھ۔

۴۹ ۔ تفسیرابن کثیر

مولف : ابن کثیر دمشقی ، ۷۷۴ ھ مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۴۱۲ ھ ، مطبوعہ : دار المعرفة ، بیروت ۔

۵۰ ۔ تفسیراحکام القرآن

مولف : ابو بکر احمد بن علی رازی ، جصاص ،بغدادی حنفی، ۳۷۰ ھ۔مجلدات : ۳ ، سن اشاعت : ۱۴۱۵ ھ ، پھلا ایڈیشن ، مطبوعہ : دار العلمیہ بیروت، لبنان ۔

۵۱ ۔ تفسیر برھان (البر ھان فی تفسیرالقرآن )

مولف: سیدھاشم حسینی بحرانی، ۱۱۰ ھ۔تحقیق : قسم الدراسات الاسلامیہ ، موسسة البعثة ۔مجلدات : ۱۰ ، سن اشاعت: ۱۴۱۹ ھ ، ۱۹۹۹ ء ، پھلا ایڈیشن ، ناشر : موسسة البعثة ، بیروت ، لبنان ۔

۵۲ ۔ تفسیربغوی(معالم التنزیل فی التفسیر والتاویل)

مولف:حسن بن مسعود الفراء البغوی الشافعی ، ۵۱۰ ھ۔مجلدات ۵ ،سن اشاعت : ۱۹۸۵ ھ، ناشر : دار الفکر ، بیروت ، لبنان ۔

۵۳ ۔ تفسیر تبیان(التبیان فی تفسیر القرآن)

مولف: شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی، ۴۶۰ ھ۔تحقیق : احمد حبیب ، قیصر عاملی۔مجلدات : ۱۰ ، سن اشاعت : ۱۴۰۹ ھ ، ناشر : مکتب الاعلام الاسلامی ۔

۵۴ ۔ تفسیر الخازن (المسمی لباب التاویل فی معانی التنزیل )

مولف : علاء الدین علی بن محمد بغدادی مشہور بہ خازن، ۷۴۱ ھ۔ناشر: مکتبہ تجاریہ کبری ،قاہرہ، مصر ۔

۵۵ ۔ تفسیر الدر المنشور ( بھامشہ القرآن المجید مع تفسیرا بن عباس

مولف : جلال الدین عبد الرحمان سیوطی، ۹۱۰ ھ،مجلدات : ۶ ،سن اشاعت: ۱۳۶۵ ھ ،پھلا ایڈیشن ، مطبوعہ : الفتح جدہ ، ناشر : دار الفکر،بیروت۔

۵۶ ۔ تفسیر روحا لمعانی فی تفسیر قرآن العظیم والسبع المثانی

مولف:محمودبن عبد اللہ بغدادی آلوسی شافعی، ۱۲۷۰ ھ۔مجلدات : ۱۵ ، سن اشاعت : ۱۴۰۵ ھ ، ۱۹۸۵ ھ ، ناشر : دار احیاء التراث العربی ، بیروت ،لبنان ۔

۵۷ ۔ تفسیر الطبری(الجامع البیان عن تاویل آيالقرآن)

مولف :ابو جعفر محمد بن جریرطبری ، ۳۱۰ ھ ۔تحقیق : صدقی جمیل العطار ۔مجلدات : ۳۰ جزء،سن اشاعت : ۱۴۱۵ ھ ، ناشر : دار الفکر ، بیروت ،لبنان ۔

۵۸ ۔ تفسیر قرطبی(الجامع لاحکام القرآن)

مولف :ابو عبد الله محمد بن احمد انصاری (یحیی بن سعدون اندلسی) قرطبی، ۵۶۷ ھ۔مجلدات : ۲۰ ،سن اشاعت : ۱۴۰۵ ھ ، مطبوعہ : دار احیاء التراث العربی ، بیروت لبنان ۔

۵۹ ۔ ا لتفسیرالکبیر

مولف : محمد بن عمر امام فخر الدین رازی شافعی ، ۶۰۶ ھ۔مجلدات : ۱۷ ،سن اشاعت : ۱۴۱۱ ھ ، ۱۹۹۰ ء،پھلا ایڈیشن۔

۶۰ ۔ تفسیرالکشاف

مولف: جار اللہ محمود بن عمر زمخشری، ۵۳۸ ھ۔مجلدات : ۴ ، سن اشاعت : ۱۴۱۴ ھ ، ناشر : مکتب الاعلام الاسلامی ۔

۶۱ ۔ تفسیر مجمع البیان

مولف:ابی علی الفضل بن حق الطبرسی (امین الاسلام)، ۵۴۸ ھ ۔تحقیق : لجنة من العلماء والمحققین۔مجلدات ۱۰ ،سن اشاعت : ۱۴۱۵ ھ ، پھلا ایڈیشن ،ناشر : موسسةالاعلمی مطبوعات ،بیروت ۔

۶۲ ۔ تفسیر مح ا سن التاویل (المشہوربہ تفسیرالقاسمی)

مولف: محمد جمال الدین قاسمی،متوفی، ۱۳۳۲ ھ۔مجلدات: ۱۷ ،سن اشاعت: ۱۳۹۸ ھ، ۱۹۷۸ ء،ناشر: دارالفکر،بیروت ،لبنان۔

۶۳ ۔ تفسیر المراغی

مولف: احمد مصطفی المراغی ۔مجلدات : ۱۰ ،( ۳۰ جزء) سن اشاعت : ۱۹۸۵ ھ، ناشر : دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، لبنان ۔

۶۴ ۔ تفسیرالمنار

شیخ محمدعبدہ مصری ۱۳۲۳ ھ، وترتیب کردہ : رشید رضا مصری ۔مجلدات : ۱۲ ،دوسرا ایڈشن ، دارالمعرفة، بیروت، لبنان ۔

۶۵ ۔ تفسیرالمیزان

مولف : علامہ محمد حسین طباطبائی(متوفی ۱۴۰۲ ھ)۔مجلدات : ۱۰ ،ناشر : جامعة المدرسین ، حوزہ علمیہ ، قم ایران

۶۶ ۔ تفسیرنورالثقلین

مولف:المحدث النحریر الشیخ عبد علی بن جمعة العروسی الحویزی، ۱۱۱۲ ھ۔تحقیق : ھاشم رسول محلاتی ۔مجلدات : ۵ ۔ سن اشاعت : ۱۴۱۲ ھ ،چوتھا ایڈیشن ،اشر : موسسہ اسماعیلیان ، قم ایران ۔

۶۷ ۔ التقریب

مولف: فاضل نووی دمشقی ، ۶۷۶ ھ۔مجلد ۱ ،سن اشاعت : ۱۹۸۷ ء پھلا ایڈیشن، ناشر : دار الکتب العلمیہ ، بیروت ۔

۶۸ ۔ تہذ یب التہذ یب

مولف: شھاب الدین احمدبن علی ابن حجر عسقلانی ، ۸۵۲ ھ ۔ مجلدات : ۱۲ ، سن اشاعت : ۱۴۰۴ ھ ، پھلا ایڈیشن ۔ناشر : دار الفکر، بیروت، لبنان ۔

۶۹ ۔ تہذیب الاسماء واللغات

مولف: فاضل نووی متوفی، ۶۷۶ ھ ۔مجلدات : ۱ ، کل صفحا ت : ۲۰۲ ، ناشر : ادارة الطباعة المنیریة ، مصر ۔

۷۰ ۔ توریت

.............

(ج)

۷۱ ۔ جامع بیان العلم وفضلہ

مولف: الحا فظ ابن عبدالبر اندلسی، ۴۶۳ ھ،مجلدات : ۲ ، سن اشاعت : ۱۹۶۸ ء، دوسرا ایڈیشن، ناشر : مکتبہ سلفیہ ، مکہ۔

۷۲ ۔ جامع احادیث الشیعة

مولف: آقا حسین طباطبائی بروجردی ۔مجلدات : ۳۱ ،سن اشاعت : ۱۴۱۷ ھ ، مطبع مھر ، قم ، ایران ۔

.................

(د)

۷۳ ۔ در ا سات فی الکافی والصحیحا لبخاری

مولف : ھاشم معروف ا لحسینی( دور حا ضر کے مشہور مولف )۔ مجلد ۱ ، سن اشاعت : ۱۳۸۸ ھ ، ۱۹۶۸ ء ، پھلا ایڈیشن ،مطبع : صور الحدیثة ، لبنان الجنوبی ۔

۷۴ ۔ در ثمین فی مبشرات نبی الامین

۷۵ ۔ دائرة المعارف القرن العشرین

مولف: محمد فرید وجدی ۔مجلدات : ۱۰ ، سن اشاعت : ۱۹۷۱ ء ۔ تیسرا ایڈیشن ۔ ناشر : دار المعارف ۔ بیروت، لبنان ۔

۷۶ ۔ ذخائرا لعقبی فی مناقب ذوی القربی۔

مولف :احمدبن عبداللہ(المعروف بہ ) محب الدین طبری، ۶۹۴ ھ۔مجلد : ۱ ، سن اشاعت : ۱۳۵۶ ھ ،مطبوعہ : مکتبة القدسی ، لحسام الدین ، قاہرہ ،مصر ۔

۷۷ ۔ الذریعة الی تصانیف الشیعة

مولف: علامہ شیخ ، آقا بزرگ الطھرانی، ۱۳۸۹ ھ ۔مجلدات : ۱۶ ،سن اشاعت : ۱۴۰۳ ھ، تیسرا ایڈیشن ، ناشر : دار الاضواء ، بیروت ،لبنان ۔

۷۸ ۔ ربیع الابرارو نصوص الاخبار( زیراکس رسالہ دیوان والاوقاف احیاء التراث العربی ، عراق )

مولف: جار اللہ زمخشری، ۵۳۸ ھ۔تحقیق : ڈاکٹر سلیم نعیمی ۔مجلدات: ۵ ،ناشر : انتشارات شریف رضی ، قم ایران ۔

۷۹ ۔ رجال نجاشی

مولف : شیخ ابو العباس ، احمد بن علی ، النجاشی الاسدی الکوفی متوفی، ۴۵۰ ھ ،تحقیق : موسوی شبیری زنجانی ۔ مجلد ۱ ،پانچواں ایڈیشن ، ناشر : موسسہ نشر الاسلامی ،التابعہ لجامعة المدرسین، قم ،ایران ۔

۸۰ ۔ روضة ا لکافی( الکافی )

مولف:ثقةالاسلام شیخابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحا ق کلینی رازی ، ۳۲۹ ھ۔ تحقیق : علی اکبر غفاری ۔مجلدات: ۸ ، سن اشاعت : ۱۳۸۸ ھ،ش، تیسرا ایڈیشن ،مطبع : حیدری ۔ ناشر : دار الکتب الاسلامیہ، آخوندی ، طھران ۔

۸۱ ۔ الر یا ض النضرة فی مناقب العشرة

مولف :احمدبن عبداللہ(المعروف بہ ) محب الدین طبری، ۶۹۴ ھ۔تحقیق : عیسی عبد الله محمد مانع الحمیری۔مجلدات : ۲ ،سن اشاعت : ۱۹۹۶ ء ، پھلا ایڈیشن ، ناشر : دار الغرب الاسلامی،بیروت۔

۸۲ ۔ ریح ا نةالادب فی تراجم المعروفین بالکنیة واللقب

مولف: استادو متتبع فیں مدرس تبریزی، ۱۳۷۳ ھ۔مجلدات : ۶ ،شفق پریس ، تبریز ، ایران ۔

.................

(س)

۸۳ سرالعالمَین و کشف ما فی الدارَین

مولف: ابو حا مد محمد بن محمد بن محمد امام غزالی متوفی، ۵۰۵ ھ۔مجلد : ۱ ، سن اشاعت : ۱۹۶۵ ء،دوسرا ایڈیشن،مطبوعہ : نعمان پریس ،النجف الاشرف، عراق۔

۸۴ ۔ السنة قبل التدوین

مولف: ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب ۔مجلدات : ۱ ، پانچواں ایڈیشن،ناشر : دار الفکر، بیروت، لبنان ، ۔

۸۵ ۔ سنن ا بن ماجہ

مولف :محمدبن یزید بن ما جہ قزوینی ، ۳ ۲۷ ھ۔تحقیق : محمد فواد عبدالباقی ۔ مجلدات ۲ ، ناشر : دار الفکر ،بیروت ، لبنان ۔

۸۶ ۔ سنن ا بی داود

مولف:سلیمان بن اشعث ابی داودسجستانی ، ۲۷۵ ھ۔تحقیق : سعید محمد لحا م ۔مجلدات : ۲ ،سن اشاعت : ۱۹۹۰ ء، ۱۴۱ ھ،پھلا ایڈیشن ،مطبوعہ: دار الفکر ،بیروت ۔

۸۷ ۔ سنن الترمذ ی

مولف :محمدبن عیسی ترمذی ، ۲۷۹ ھ۔تحقیق : عبد الوھاب عبد اللطیف ۔ مجلدات: ۵ ،سن اشاعت: ۱۴۰۳ ۔مطبوعہ: دار الفکر، بیروت

۸۸ ۔ سنن دارمی

مولف : ابو محمدعبداللہ بن بھرام دارمی، ۲۵۵ ھ۔مجلدات : ۲ ، مطبوعہ :مطبعة الاعتدال ،دمشق، شام ۔

۸۹ ۔ سنن نسائی

مولف: احمدبن شعیب نسائی ، ۲۷۹ ھ۔مجلدات : ۸ ،سن اشاعت : ۱۹۳۰ ء، ۱۳۴۸ ھ ، مطبوعہ : دار الفکر، بیروت ، لبنان ۔

۹۰ ۔ السیرة النبویة

مولف:ابو محمد عبد الملک بن ھشام بن ایوب الحمیری ، ۱۸ ۲ ھ۔تحقیق : محمد محی الدین ، عبد المجید ۔ مجلدات: ۴ ،سن اشاعت : ۱۳۸۳ ھ ۔ ناشر : مکتبہ محمد علی صبیح و اولادہ ۔

۹۱ ۔ السیرة الحلبیة

مولف: علی بن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ محشی : احمد زینی دحلان ۔مجلدات : ۴ ،ناشر : مکتبہ اسلامی، بیروت ۔

..............

(ش)

۹۲ ۔ ا لشافی فی الامامة

مولف: ذو المجد ین ابوالقاسم علی بن الحسین سید مرتضی علم الھدی ، ۴۳۶ ھ۔مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۴۱۰ ھ، دوسرا ایڈیشن ، ناشر : موسسہ اسماعیلیان ،قم۔

۹۳ ۔ شرحا لسنة

مولف: حسین بن مسعود شافعی بغوی، ۵۱۶ ھ۔مجلدات: ۸ ، سن اشاعت: ۱۴۱۴ ھ، ۱۹۹۴ ء۔ناشر: دار الفکر،بیروت ،لبنان۔

۹۴ ۔ شرح تجرید قوشچی

مولف: مو لاعلاء الدین علی بن محمدقوشچی، ۸۷۹ ھ۔مجلد ۱ ،سال اشاعت: ۱۲۸۵ ھ ۔

۹۵ ۔ شرح مشکاة شریف

مولف: نور الدین ھروی ۔

۹۶ ۔ شر ح صحیح مسلم

مولف : یحیی بن شرف الدین( المعروف بہ فاضل نووی )، ۶۷۶ ھ،مجلدات: ۱۸ ، سن اشاعت : ۱۴۰۷ ھ ، ۱۹۸۷ ء ۔ دوسرا ایڈیشن ۔ مطبوعہ : دار الکتاب العربی ، بیروت، لبنان ۔

۹۷ ۔ شر ح نہج ا لبلاغہ

مولف: عز الدین عبدالحمیدمعروف بہ ابن ابی الحدید معتزلی، ۵۸۶ ھ ۔تحقیق : محمد ابو الفضل ابراہیم۔مجلدات : ۲۰ ، سن اشاعت : ۱۳۷۸ ھ ، ۱۹۵۹ ء ،ناشر : دار احیاء الکتب العربیة ، بیروت ۔

۹۸ ۔ شیخ المضیرة

مولف: شیخ محمود ابوریہ ، مصری، ۱۹۷۰ ء ۔مجلد : ۱ ، مطبوعہ : دار المعارف ، بیروت ،لبنان، تیسرا ایڈیشن ۔

................

صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

۹۹ ۔ الصدیق ابوبکر

مولف : محمد حسین ہیکل ،ناشر : دار المعارف مصر ، چھٹا ایڈیشن

۱۰۰ ۔ الصواعق المحرقة علی اہل الرفض والضلال الزند قة

مولف: شھاب الدین احمد بن محمد بن علی ابن حجر الھیثمی المکی، ۹۷۳ ھ۔تحقیق : عبد الرحمن بن عبدالله الترکی و کامل محمد الخراط ۔مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۹۹۷ ء، پھلا ایڈیشن ۔

..........

(ض)

۱۰۱ ۔ ضحی الاسلام

مولف : احمد امین متوفی، ۱۹۵۴ ء ۔مجلدات : ۴ ، سن اشاعت : ۱۳۵۷ ھ، ۱۹۳۸ ء، ناشر: لجنة التالیف والترجمة والنشر،قاہرہ ،مصر۔

.........

(ط)

۱۰۲ ۔ طبقات ا بن سعد(الطبقات الکبری)

مولف: ابن سعد محمد بصری کاتب واقدی، ۲۳۰ ھ ۔مجلدات : ۸ ، ناشر : دار صادر ،بیروت، لبنان ۔

۱۰۳ ۔ الطبقات شعرا نی(الطبقات الکبری)

مولف: عبد الوھاب بن احمد بن علی انصاری شافعی مصری ۔ناشر : دار العلم للجمیع ،سعودیہ ۔

..........

عليه‌السلام

۱۰۴ ۔ عارضة الاحوذی شرح سنن الترمذی

مولف: حا فظ ابن عربی ، ۵۴۳ ھ ۔ مجلدات : ۸ ،سن اشاعت : ۱۴۲۰ ھ، ۲۰۰۰ ء، چھٹا ایڈیشن ، ناشر: دار الفکر، بیروت ، لبنان ۔

۱۰۵ ۔ عبد ا للہ بن سبا و اساطیر اخری

مولف: علامہ مجاہدسید مرتضی عسکری دام ظلہ ۔مجلدات : ۲ ،سن اشاعت : ۱۴۱۳ ھ ، ۱۹۹۲ ء ، ناشر : نشر التوحید ، قم ، ایران ۔

۱۰۶ ۔ عبقریةالصدیق

مولف : عبّاس محمود العقاد ۔مجلدات : ۱ ،ناشر دار الکتب العربی ،کل صفحا ت: ۲۱۲ ، مطبوعہ : بیروت۔

۱۰۷ ۔ عقدالفرید

مولف: احمدبن عبد (عبد ربہ ) اندلسی مالکی، ۳۳۸ ھ۔مجلدات : ۷ ۔ ناشر : دار الکتاب الکتب العربی ،بیروت ،لبنان۔ سن اشاعت: ۱۴۰۳ ھ، ۱۹۸۳ ء۔

۱۰۸ ۔ العلو لعلی الغفار

مولف: محمد بن احمد بن عثمان بن قائماز ( المعروف بہ شمس الدین الذھبی ) متوفی ۷۴۸ ھ ۔مجلد ۱ ،سن اشاعت : ۱۳۸۸ ھ، دوسرا ایڈیشن ۔ناشر سلفیہ کتابفروشی ،مدینہ منورہ ۔

۱۰۹ ۔ عمدة القاری شرح صحیحا لبخاری

مولف: بدر الدین عینی ، ۸۵۵ ھ ۔ مجلدات : ۱۲ ،مطبوعہ : دار الفکر، بیروت ،لبنان ۔

۱۱۰ ۔ عون المعبود شرح سنن ابی داود

مولف : عبد الرحمن شرف الحق محمد اشرف صدیقی عظیم آبادی، ۱۲۲۲ ھ ۔تحقیق : عبد الرحمن محمد عثمان۔ مجلدات: ۱۴ ،سن اشاعت : ۱۴۲۱ ھ ، ناشر : دار احیاء التراث العربی ، بیروت ۔

............

(ف)

۱۱۱ ۔ الفتاوی الحدیثہ( معہ حا شیہ کتاب ”الدررالمنتثرة فی الاحادیث المشتھرة“مولفہ جلال الدین سیوطی)

مولف: شھاب الدین احمد بن محمد بن علی حجرمکی ہیثمی ، ۹۷۳ ھ۔مجلد ۱ ، کل صفحا ت ، ۲۴۱ ،ناشر:دار الفکر ، بیروت ،لبنان۔

۱۱۲ ۔ الفتاوی

مولف: شیخ محمودشلتوت مصری (دور حا ضر کے عالم اہل سنت) مجلدات: ۱ ، سولھواں ایڈیشن ، ۱۹۹۱ ء،ناشر: دارالشروق ،مصر ۔

۱۱۳ ۔ فتحا لباری ،شرح صحیح بخاری

مولف : ابن حجر عسقلانی شافعی، ۸۵۲ ھ۔مجلدات : ۱۳ ، دوسرا ایڈیشن ، مطبوعہ : دار المعرفة، بیروت، لبنان ۔

۱۱۴ ۔ فتح ا لمجید شرح کتاب التوحید

مولف: شیخ عبد الرحمن ۔مجلدات : ۱ ،سن اشاعت : ۱۲۵۸ ھ ، مطبوعہ: قاہرہ ،مصر ۔

۱۱۵ ۔ فتح ا لمنعم شرح زاد المسلم فیما ا تفق علیہ البخاری و مسلم

مولف : محمد حبیب اللہ المشہوربہ ما یابی، ۱۳۶۳ ھ۔

۱۱۶ ۔ الفرق بین الفرق و بیان الفرقة الناجیة

مولف: عبد القاہر بن طاہر بن عبد البغدادی اسفرائینی متوفی، ۴۲۹ ھ۔تحقیق : محمد محی الدین ۔مجلد ۱ ،ناشر: دار المعرفة ،بیروت، لبنان ۔

۱۱۷ ۔ الفصول المھمة فی تالیف الامة

مولف: علامہ فیں سعید شرف الدین۔ چھٹا ایڈیشن،مطبوعہ طھران ۔

۱۱۸ ۔ الفقہ علی المذاہب الاربعة(اس کتاب کے ساتھ” مذھب اہل البیت “نامی کتاب بھی شائع ہوئی ہیجس کے مولف ؛ سید محمد غروی ہیں )۔

مولف: الشیخ عبد الرحمن الجزیری(دور حا ضرکے عالم اہل سنت )مجلدات : ۵ ،سن اشاعت : ۱۴۱۹ ھ، ۔ ۱۹۹۸ ء ، ناشر : دار الثقلین ، بیروت ، لبنان ۔

۱۱۹ ۔ الفھرست

مولف : ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی، ۴۶۰ ھ ۔ تحقیق : مو سسة نشر الفقاہة ، شیخ جواد القیومی ۔ مجلدات : ۱ ،سن اشاعت : ۱۴۱۷ ھ ، پھلا ایڈیشن ، ناشر : موسسة نشر الفقاہة ، قم ایران ۔

................

(ک)

۱۲۰ ۔ الکامل فی ا لتاریخ (مشہوربہ تاریخ کامل )

مولف : ابن اثیر عزالدین ابو الحسن علی بن محمد ، ۶۳۰ ھ ۔تحقیق : ابو الفداء عبد الله قاضی ۔ مجلدات : ۱۰ ،سن اشاعت : ۱۴۱۵ ھ ، ۱۹۹۵ ء ،دوسرا ایڈیشن، ناشر : دار الکتب العلمیہ، بیروت۔

۱۲۱ ۔ کتاب سلیم بن قیس

مولف: سلیم بن قیس ھلالی، ۹۰ ھ ۔ تحقیق : شیخ محمد باقرا نصاری، زنجانی خوئینی۔ مجلد ۱ ، مطبوعہ:قم ،ایران۔

۱۲۲ ۔ کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون

مولف: مصطفی بن عبد الله قسطنطینی رومی حنفی ( المشہور بہ حا جی خلیفہ و کاتب چلبی ) متوفی ۱۰۶۷ ھ۔تحقیق : ابراہیم الزیبق ۔مجلدات : ۲ ، سن اشاعت: ۱۴۱۳ ھ ، ۱۹۹۲ ء ، پھلا ایڈیشن ۔

۱۲۳ ۔ کفایة الطالب

مولف:محمد بن یوسف گنجی شافعی، ۶۵۸ ھ۔تحقیق : محمد ھادی امینی ۔مجلدات : ۱ ، سن اشاعت : ۱۹۹۳ ء، ناشر : شرکة الکتبی، بیروت ،لبنان۔

۱۲۴ ۔ کنزالعمال

مولف: علاء الدین علی متقی هندی ،متوفی، ۹۷۵ ھ،تحقیق : شیخ بکری حیانی ۔مجلدات : ۱۴ ،مطبوعہ : موسسة الرسالہ،بیروت ،لبنان۔

۱۲۵ ۔ الکنی والالقاب

مولف: مورخ ومحقق کبیر مرحوم شیخ عبّاس قمی، ۵۹ ۱۳ ھ۔مجلدات : ۳ ۔

.............

(ق)

۱۲۶ ۔ قبول الاخبارومعرفة الرجال

مولف: ابی القاسم عبد الله احمد بن احمد بن محمود الکعبی البلخی ، ۳۱۹ ھ۔ تحقیق:ابی عمرو الحسینی بن عمر بن عبد الرحیم ۔مجلدات : ۲ ، سن اشاعت: ۱۴۲۱ ھ، ۲۰۰۰ ء، ناشر: دار الکتب العلمیہ،بیروت ، لبنان ۔

۱۲۷ ۔ قواعد التحدیث من فنون مصطلحا لحدیث

مولف : محمد جمال قاسمی ۔تحقیق :محمد بہجة البیطار ۔مجلدات : ۱ ،کل صفحا ت : ۴۱۵ ، سن اشاعت : ۱۳۸۰ ھ ، ۱۹۶۱ ء دوسرا ایڈیشن ، ناشر : دار الاحیاء الکتب العربیہ (عیسی البابی الحلبی وشرکائہ، قاہرہ ، مصر ۔

۱۲۸ ۔ القول الصراح

مولف: شیخ الشریعة اصفھانی،تحقیق: جعفر سبح ا نی ۔مطبوعہ: قم ۔

................

(ل)

۱۲۹ ۔ لسان المیزان

مولف: شھاب الدین احمدبن علی ابن حجر عسقلانی، ۸۵۲ ھ ۔مجلدات : ۷ ،سن اشاعت : ۱۳۹۰ ھ ، ۱۹۷۱ ء،دوسرا یڈیشن ،ناشر: موسسہ اعلمی،بیروت ،لبنان۔

۱۳۰ ۔ اللیالی المصنوعة فی احادیث الموضوعة

مولف: علامہ جلال الدین سیوطی۔

...............

(م)

۱۳۱ ا لمتعة ”واثرھا فی الاصلاحا لاجتماعی“

مولف: استاد توفیق الفکیکی عراقی ۔ تحقیق: ھشام شریف ہمدر ۔مجلد ۱ ۔سن اشاعت : تیسرا ایڈیشن ، ۱۴۰۹ ھ ، ۱۹۸۹ ء ، ناشر : دار الاضواء ، بیروت ، لبنان ۔

۱۳۲ ۔ المحبرورقة الاصل الخطیة

مولف: محمد بن حبیب بغدادی ، ۲۴۵ ھ۔مجلد ۱ ۔

۱۳۳ ۔ مروج الذھب

مولف: ابوالحسن علی بن الحسین المسعودی، ۳۳۳ ھ۔تحقیق : محمد محی الدین عبد الحمید ۔مجلدات : ۲ ،سن اشاعت : ۱۳۸۴ ھ ۔ ۱۹۶۴ ء ،چوتھا ایڈیشن ، ناشر : موسسہ سعادہ ،مصر ۔

۱۳۴ ۔ المراجعات

مولف: علا مہ فیں سعید شرف الدین، ۱۳۷۷ ھ۔تحقیق : حسین رازی ۔ مجلد : ۱ ،سن اشاعت : دوسرا ایڈیشن ، ۱۴۰۲ ھ ، ۱۹۸۲ ء ، ناشر : الجمعیة الاسلامیة ، بیروت ۔

۱۳۵ ۔ مصابیحا لسنة

مولف:حسین بن مسعود شافعی بغوی، ۵۱۶ ھ۔مجلدات: ۴ ،ناشر: دارالقلم، بیروت، لبنان۔

۱۳۶ ۔ ا لمسندلاحمد

مولف: ابو عبداللہ احمدبن حنبل شیبانی ، ۲۴۱ ھ ۔مجلدات : ۴ ،مطبوعہ : دار صادر ، بیروت ،لبنان ۔

۱۳۷ ۔ مسندطیالسی

مولف: ابو داود سلیمان طیالسی ، ۲۰۴ ھ۔مجلد : ۱ ،مطبوعہ : دار الحدیث ، بیرت ۔

۱۳۸ ۔ المستدرک علی الصحیحین(مستدرک حا کم)

مولف: محمد بن محمد الحا کم نیشاپوری ، ۴۰۵ ھ،تحقیق : ڈاکٹر یوسف مرعشلی ۔مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۴۰۴ ھ ، مطبوعہ : دار المعرفة ،بیروت ،لبنان ۔

۱۳۹ ۔ المفردات فی غریب القرآن (المعروف بہ مفردات راغب )

مولف : ابوالقاسم حسین بن محمد راغب اصفھانی، ۵۶۵ ھ۔سن اشاعت : ۱۴۰۴ ھ ، پھلا ایڈیشن ۔ مجلد ۱ ، ناشر: دفتر نشر الکتاب ، قم ایران ۔

۱۴۰ ۔ مقدمہ ا بن خلدون

مولف : عبدالرحمن بن محمد خلدون مالکی، ۸۰۸ ھ۔مجلد ات : ۲ ،چوتھا ایڈیشن ۔ مطبع : دار احیاء التراث العربی ، بیروت ۔

۱۴۱ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ

مولف: ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ صدوق ، ۳۸۱ ھ۔تحقیق : علی اکبر غفاری ۔مجلدات : ۴ ،سن اشاعت : ۱۴۰۴ ھ ، دوسرا ایڈیشن ،ناشر:جامعة المدرسین ، قم ایران۔

۱۴۲ ۔الملل والنحل

مولف: محمد بن عبدالکریم بن ابی بکر شھرستانی، ۵۴۸ ھ۔مجلدات : ۲ ، سن اشاعت : ۱۴۰۴ ھ ،پھلا ایڈیشن، ناشر : دار المعرفة، بیروت،لبنان ۔

۱۴۳ ۔ منہج الصادقین فی الزام المخالفین

مولف : ملا فتح ا لله کاشانی ،۔ ۹۷۷ ھ ۔مجلدات: ۱۰ ،سن اشاعت : ۱۳۴۴ ھ،ش، دوسرا ایڈیشن ،ناشر : کتابفروشی اسلامیہ ، طھران ۔

۱۴۴ ۔ منھاج السنةالنبویة

مولف:احمد بن عبد الحلیم بن تیمیة الحرانی، ۷۲۸ ھ۔تحقیق : محمد رشاد سالم ۔ مجلدات : ۱۰ ،سن اشاعت: ۱۴۰۴ ھ ۔ پھلا ایڈیشن ، ناشر : موسسہ قرطبہ ریاض،سعودیہ عربیہ ۔

۱۴۵ ۔ الموضوعات

مولف : علی ابن جوزی، ۵۹۷ ھ ۔تحقیق : عبد الرحمن محمد عثمان ۔مجلد ات : ۳ ،سن اشاعت : ۱۳۸۶ ھ ۔ ناشر : محمد عبد المحسن صاحب مکتبہ سلفیہ ( مدینہ منورہ )

۱۴۶ ۔ الموطاء

مولف : ابو عبداللہ مالک بن انس ، ۱۶۹ ھ۔تحقیق : محمد فواد عبد الباقی۔مجلدات : ۲ ، سن اشاعت : ۱۴۰۶ ھ ، پھلا ایڈشن ،مطبوعہ : دار احیاء التراث العربی ، بیروت، لبنان ۔

۱۴۷ ۔ میزان الاعتدال فی نقد الرجال

مولف: ابو عبد الله شمس الدین محمدبن احمد ذھبی دمشقی شافعی، ۷۴۸ ھ۔تحقیق : علی بجاوی ۔مجلدات : ۴ ، سن اشاعت : ۱۳۸۲ ھ ، پھلا ایڈیشن، ناشر : دار المعرفة ، بیروت ۔

................

(ن)

۱۴۸ ۔ النھایہ فی غریب الحدیث

مولف : مجد الدین محمد بن محمد مشہور بہ ابن اثیر ، ۶۰۶ ھ۔تحقیق : طاہر احمد زاوی ومحمود محمد الطناحی۔ مجلدات : ۵ ، سن اشاعت : ۱۳۶۴ ھ ، مطبوعہ : موسسہ اسماعیلیان ، قم ( زیراکس دار الکتب العلمیہ ، بیروت )

..............

(و)

۱۴۹ ۔ الوشیعہ فی نقد عقائد الشیعة

مولف:موسی جارالله

۱۵۰ ۔ وفیات الاعیان وابناء ا بناء الزمان

مولف:شمس الدین احمد بن محمدابن ابی بکر ابن خلکان شافعی، ۳۱۴ ھ۔تحقیق : احسان عباس ۔ مجلدات : ۸ ،سن اشاعت : پھلا ایڈیشن ، ۶۸ ۱۹ ء، ناشر: دار الثقافة ، بیروت۔

۱۵۱ ۔ ہدی الساری (مقدمہ فتح ا لباری )

مولف : ابن حجر عسقلانی شافعی، ۸۵۲ ھ،مجلد : ۱ ، دوسرا ایڈیشن ، مطبوعہ : دار المعرفة ،بیروت ،لبنان ۔

____________________

[۱۶۵] صحیح بخاری جلد ۸کتاب الرقاق ،باب” فی الحوض “حدیث۲ ۶۲۱ ۔ جلد ۹ ،کتاب الفتن، باب(۱)حدیث ۶۶۴۳۔ صحیح مسلم جلد ۷ ،کتاب الفضایل ،باب” اثبات حوض نبیناصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم “حدیث۲۲۹۰۔

[۱۶۶] ارشادالسّاری جلد ۹،کتاب الفتن، باب( ۱)حدیث ۶۶۴۳۔ صفحہ ۳۴۰ ۔

[۱۶۷] صحیح مسلم جلد۱،کتاب الطھارة، باب” استحباب اطالة الغرَّةوالتحجیل فی الوضوء“ حدیث۲۴۶۔۲۴۷۔۲۴۸۔۲۴۹،و دیگر طریق متعددہ۔

[۱۶۸] صحیح مسلم جلد ۷ ،کتاب الفضایل، باب(۹)”اثبا ت حوض نبینا“حدیث۲۲۹۵۔

( یہ حدیث متعدد طرق و اسناد کے ساتھ نقل کی گئی ہے)

[۱۶۹] صحیح بخاری جلد ۵،کتاب المغازی،باب” غزوة الحد یبیة“ حدیث۳۹۳۷،اسدالغابة جلد۱باب الباء والراء ،ب - د - ع : البراء بن عازب بن الحا رث ۔ تہذیب التہذیب جلد۱، ۴۷۸۵(البراء)(السة)ص۴۲۵۔

نوٹ: براء بن عازب ان صحا بہ میں سے ہیں جو جنگ احد اوردیگر ۱۳/یا۱۴/ جنگوں میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، چنانچہ جب آپ جنگ بدر میں شریک ہونا چاہے توآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو کم سن ہونے کی وجہ سے منع کردیا تھا،آپ کی وفات ۷۲ہمیں ہوئی)۔

[۱۷۰] صحیح بخاری،ج۵،کتاب فضائل الصحا بة،باب” مناقب عمربن الخطاب“حدیث۳۴۸۹۔


فہرست

منصب خلافت و امامت فرمان علی علیہ السلام کے پرتو میں : ۴

روش بحث،مقصداورتین سوال ۴

مسئلہ خلافت سے متعلق تین سوال ۵

۱ ۔ خاندان رسالت کے فضائل صحیحین کی روشنی میں ۱۰

۱ ۔ آیت تطھیراوراہل بیت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۰

۲ ۔ اہل بیت علیهم السلام اور آیہ مباہلہ ۱۰

۳ ۔ حدیث غد یر اور اہل بیت علیهم السلام ۱۲

عرض مولف ۱۳

شدیدتعصب کی عینک ۱۳

۴ ۔ اہل بیت عليه‌السلام ”صلوات“ میں شریک ِ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ۱۴

عرض مولف ۱۶

۵ ۔ کتب اہل سنت میں بارہ اماموں کا ذکر ۱۶

عرض مولف ۱۷

عرض مولف ۲۰

۲ ۔ فضا ئل علی علیہ السَّلام صحیحین کی روشنی میں ۲۰

پھلی فضیلت: د شمنانِ علی دشمنانِ خد ا ہیں ۲۰

تیسری فضیلت :علی عليه‌السلام کی نماز رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نماز ہے ۲۱

پانچویں فضیلت : علی عليه‌السلام سب سے زیادہ قضاوت سے آشنا تھے ۲۲

عرض مولف ۲۲


چھٹی فضیلت : علی عليه‌السلام خدا و رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتے تھے اور خدا و رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کو ۲۲

ساتویں فضیلت : حضرت علی عليه‌السلام کی رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک وھی منزلت تھی جو ھارون کی موسیٰ کے نزدیک ۲۴

عرض مولف ۲۴

ایک قا بل توجہ نکتہ ۲۶

۳ ۔ فضائل بنت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؛صحیحین کی روشنی میں ۲۶

۱ ۔حضرت فاطمہ زھراسلام الله علیھاجنت کی عورتوں کی سردار ہیں ۲۶

۲ ۔ حضرت فاطمہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سب سے پھلے ملاقات کریں گی ۲۷

۳ ۔ حضرت فاطمہ زھرا ء عليه‌السلام جگر گوشہ رسول تھیں ۲۷

۴ ۔ تسبیح حضرت فاطمہ زھراء سلام الله علیھا ۲۸

۵ ۔ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حضرت فاطمہ زھر ا سلام اللہ علیھا کی محبت ۲۹

۶ ۔ حضرت فاطمہ زھرا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کارسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات پربیحد غمناک ہونا ۳۰

۴ ۔ حسنین کے فضائل صحیحین کی روشنی میں ۳۰

۱ ۔ حسنین پرصد قہ حرام ہے ۳۰

۲ ۔ شبیہ ِ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یعنی امام حسن و حسین عليه‌السلام ۳۱

۳ ۔ حسنین علیھما السلام کے ساتھ آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیحد محبت کرنا ۳۲

عرض مولف ۳۲

۴ ۔ حسنین ریحا نہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ۳۲

۵ ۔ حسنین عليه‌السلام کے لئے دعائے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۳۳

۶ ۔ اے خدا !جو حسن عليه‌السلام کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ ۳۳


۱ ۔ حا کم کا صاحبِ حسن اخلاق ہوناضروری ہے ۴۲

عرض مولف ۴۳

عرض مولف ۴۴

۲ ۔ حا کم کو احکام الہٰیّہ سے آگاہ ہوناچاہیئے ۴۴

۱ ۔ حضرت عمر نے حکم تیمم کی صریحا خلاف ورزی کی!! ۴۶

عرض مولف ۴۷

۲ ۔ شراب خورکی حداورحضرت عمرکی خلاف ورزی!! ۴۸

عرض مولف ۴۹

۳ ۔ جنین کی دیت اور حضرت عمر کا رویہ!! ۴۹

عرض مولف ۵۰

۴ ۔حضرت عمر اور حکم استیذان!! ۵۰

عرض مولف ۵۱

عرض مولف ۵۱

۵ ۔ مسئلہ کلالہ سے حضرت عمر کی نادانی!! ۵۲

وضاحت ۵۲

عرض مولف ۵۳

۶ ۔ حضرت عمرکاپاگل عورت کو سنگسارکرنا!! ۵۴

۷ ۔ حضرت عمر نماز عید میں سورہ بھول جایا کرتے تھے!! ۵۵

عرض مولف ۵۵

۸ ۔ زیوراتِ کعبہ اورحضرت عمرکی بدنیتی!! ۵۶


عرض مولف ۵۶

عرض مولف ۵۸

۹ ۔ واہ! یہ بھی ایک تفسیرِ قرآن ہے !! ۵۸

۱۰ ۔ حضرت عثمان کا ایک انوکھا فتوی!! ۶۲

۱۱ ۔ احراق قرآن بدست حضرت عثمان !! ۶۳

عرض مولف ۶۴

عرض مولف ۶۴

۳ ۔ خلفاء اوراسلامی احکام ۶۵

عرض مولف ۶۶

۱ ۔ خلیفہ کے حکم سے مسلمانوں کا قتل عام اور اسلامی احکام میں تبدیلی ۶۶

عرض مولف ۶۸

عرض مولف ۷۰

مالک بن نویرہ (نمائندہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کے قتل کاواقعہ ۷۰

۲ ۔ جاگیرفدک اور میراث پیغمبر کی سرگزشت ۷۳

عرض مولف ۷۵

حد یث” نَحْنُ مَعَا شِرَالَْا نْبِیَاءِ لَانَرِثُ وَلَانُو ْرِثُ“کی حقیقت ۷۶

کیا صحا بہ کرام ”حد یث لا نورث “سے مطلع تھے ؟! ۷۸

کیاازواج رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث”لانورث“سے واقف تھیں؟ ۷۹

عرض مولف ۸۰

۳ ۔ صلح حدیبیہ اورحضرت عمرکی کٹ حجتی!! ۸۱


عرض مولف ۸۲

۴ ۔ واقعہ قرطاس اور حضرت عمرکارویہ!! ۸۲

عرض مولف ۸۳

عرض مولف ۸۷

ایک اعتراض ۸۷

مذکورہ اعتراض کاجواب ۸۷

۵ ۔ حج تمتع اورخلفا ئے اسلام! ۸۸

حج تمتع کسے کھتے ہیں ؟ ۸۹

آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کادورجاہلیت کی بیہودہ رسوم کے خلاف جدوجھدکرنا ۸۹

حج تمتع کی تحریم کا فتویٰ ۹۸

عرض مولف ۹۹

حج تمتع کی تحریم کا فتویٰ کیو ں د یا گیا ؟! ۹۹

ایک نا معقول علت کا تجزیہ ۱۰۰

عرض مولف ۱۰۱

دور عثمان میں حج تمتع کی مخالفت!! ۱۰۲

ایک قا بل توجہ نکتہ ۱۰۳

حج تمتع دور معاویہ میں ۱۰۴

۶ ۔ متعہ یامعینہ مدت کانکاح ۱۰۵

۱ ۔ متعہ یعنی چہ؟ ۱۰۵

عقد دائمی اور متعہ کے مشترک و مختلف احکام ۱۰۶


مشترک احکام ۱۰۶

اختلافی موارد ۱۰۶

۲ ۔ ا سلام میں عقد متعہ کا جواز ۱۰۷

ثبوت جواز متعہ ؛قرآن کی روشنی میں ۱۰۷

حدیث رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ثبوت جواز متعہ ۱۰۹

عرض مو لف ۱۱۰

عرض مولف ۱۱۱

۳ ۔ تحریم متعہ خلیفہ ثانی کی زبانی !! ۱۱۱

عرض مولف ۱۱۲

عرض مولف ۱۱۳

۴ ۔نسخ حکمِ متعہ کی حقیقت ۱۱۴

حکم ِمتعہ قرآن کے ذریعہ نسخ ہوا ی ا سنت کے ذریعہ ؟! ۱۱۵

حکمِ متعہ کا قرآن سے نسخ ہو نے کادعوی اور اس کا جواب ۱۱۵

حد یث کے ذریعہ منسوخ ہو نے کادعویٰ! ۱۲۰

۵ ۔ تھمتیں اورافتراپردازیاں ! ۱۲۰

عرض مولف ۱۲۱

عرض مولف ۱۲۲

عرض مولف ۱۲۳

عرض مولف ۱۲۴

۷ ۔ نمازتراویح کی حقیقت !! ۱۲۴


حضرت علی عليه‌السلام کی زبانی نماز تراویح کی رد ۱۲۶

بدرالدین عینی کی ناقص توجیہہ !! ۱۲۷

۸ ۔ تین طلاقیں اورحضرت عمر!! ۱۲۷

تین طلاقوں سے کیا مراد ہے ؟ ۱۲۷

۹ ۔ کیا رونا بدعت ہے ؟! ۱۳۱

عرض مولف ۱۳۴

۱۰ ۔ حکمِ نمازِمسافراورحضرت عثمان!! ۱۳۴

ایک موازنہ اور نتیجہ گیری ۱۳۶

خاتمہ ۱۳۷

صحیحین کی روشنی میں حضرت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی پیشگوئیاں ۱۳۷

وفات رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مسلمانوں کا حال ۱۳۷

بعض صحا بہ کا وفا ت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مرتد ہوجا نا!! ۱۳۸

روزمحشراہل ِبدعت کاحشر !! ۱۴۵

بعض صحا بہ کا اعترافِ حقیقت ۱۴۷

کتاب ہذا کے منابعِ تحقیق کی فھرست ۱۴۹

ایک یاد دھانی ۱۴۹

مترجم ۱۴۹

منابعِ تحقیق کی دیگر فھرست ۱۴۹

خلافت و امامت صحیحین کی روشنی میں

خلافت و امامت صحیحین کی روشنی میں

زمرہ جات: امامت
صفحے: 17