وحی اور نبوت

مؤلف: شہید ڈاکٹر مرتضی مھطری
نبوت


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب:وحی اور نبوت

مصنّف:شہید ڈاکٹر مرتضی مطہری


عمومی ہدایت

وحی و نبوت پر اعتقاد دنیا اور انسان کے بارے میں ایک طرح کی بصیرت و آگاہی سے پیدا ہوتا ہے یعنی تمام مخلوقات کے لئے ہدایت و رہنمائی کے اصول کی معرفت سے عمومی ہدایت کا اصول اسلامی اور توحیدی تصور کائنات کا لازمہ ہے اسی لئے نبوت پر اعتقاد اس تصور کائنات کا لازمہ ہے۔ خدا تعالیٰ اس اعتبار سے کہ واجب الوجود بالذات ہے اور واجب الوجود بالذات تمام جہتوں سے واجب ہے‘ وہ فیاض علی الاطلاق ہے اور انواع موجودات میں سے ہر نوع کو جس حد تک وہ لیاقت رکھتی ہے اور اس کے لئے ممکن ہے اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے اور تمام موجودات کو ان کی راہ پر ہدایت کرتا ہے۔ یہ ہدایت تمام موجودات پر محیط ہے۔ چاہے کوئی وجود معمولی ترین اور چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہو یا بڑے سے بڑا ستارہ اور ایک نہایت معمولی ترین بے جان وجود سے لے کر اعلیٰ ترین اور ترقی یافتہ جاندار تک جسے ہم پہچانتے ہیں یعنی انسان‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جس طرح انسانوں کی ہدایت کے لئے لفظ وحی استعمال کیا ہے‘ اسی طرح جمادات‘ نباتات اور حیوانات کی ہدایت کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔

اس دنیا میں کوئی بھی وجود ایک جیسا اور ثابت و قائم نہیں ہے بلکہ وہ ہمیشہ اپنی منزل اور مقام کو بدلتا رہتا ہے اور ایک مقصد کی طرف رواں دواں ہے۔

دوسری طرف تمام قرآئن و علامات سے پتہ چلتا ہے کہ ہر وجود میں جس طرف وہ بڑھ رہا ہے اس منزل کی طرف بڑھنے کا رجحان اور میلان اس میں پایا جاتا ہے‘ یعنی تمام موجودات اپنی ذات میں موجود پوشیدہ قوتوں کے ذریعے اپنے مقصد کی طرف کھنچی چلی جا رہی ہیں۔ یہ وہی قوت ہے‘ جسے ”الٰہی ہدایت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ قرآن کریم حضرت موسیٰ کا قول نقل کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے فرعون سے کہا تھا:

( ربنا الذی اعطی کل شئی خلقه ثم هدی ) (طہٰ ۵۰)

”میرا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو ویسا وجود بخشا جو اس کے لائق تھا اور پھر اس وجود کو اس کی راہ پر چلنے کی ہدایت کی۔“

ہماری دنیا ایک بامقصد دنیا ہے یعنی اس کائنات کے تمام موجودات کے اندر اپنے ہدف کمال کی طرف بڑھنے کی کشش موجود ہے اور بامقصد ہونے سے مراد ”ہدایت الٰہی“ ہی ہے۔ قرآن کریم میں لفظ ”وحی“ کا متعدد بار ذکر ہوا ہے۔ اس لفظ کے استعمال کی شکل اور اس کے استعمال کے مختلف مقامات سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن اس لفظ کو صرف انسان کے لئے محدود نہیں کرتا بلکہ تمام اشیاء اور کم از کم زندہ موجودات میں اسے جاری و ساری سمجھتا ہے۔ اسی لئے شہد کی مکھی کے بارے میں بھی وحی کے لفظ کا استعمال کیا ہے البتہ وحی و ہدایت کے درجات مخلوقات کی ترقی و کمال کے اعتبار سے جدا ہیں۔

وحی کا بلند ترین درجہ وہی ہے جو پیغمبروں سے مربوط ہوتا ہے۔ یہ وحی اس ضرورت کی بنیاد پر ہوتی ہے جس کے لئے نوع انسانی ہدایت الٰہی کی محتاج ہوتی ہے جو ایک طرف تو انسان کو ایسے مقصد کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو محسوسات و مادیات کے افق سے ماوراء ہے اور بہرحال انسان کے لئے ایک گزرگاہ ہوتی ہے اور دوسری طرف اجتماعی زندگی میں بشر کی اس ضرورت کو پورا کرتی ہے جس کے تحت وہ ہمیشہ ایسے قانون کا محتاج ہوتا ہے جو الٰہی ضمانت کا حامل ہو‘ اس سے قبل ہم ”مکتب“ اور ”آئیڈیالوجی“ کی بحث میں بیان کر چکے ہیں کہ انسان کو ایک کمال آفرین آئیڈیالوجی کی ضرورت ہے لیکن وہ خود اس کی تدوین و تنظیم کی قوت نہیں رکھتا‘ انبیاء بشریت کے لئے ایک ریسیور کی مانند عالم غیب سے اس قسم کا علم آگہی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت سے خدا کے سوا کوئی واقف نہیں ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

( اللّٰه اعلم حیث یجعل رسالة) ( سورہ انعام‘ آیت ۱۲۴)

ہرچند وحی انسانوں کے حس و تجربہ کی پہنچ سے بالاتر ہے لیکن اس قوت کو دوسری بہت سی قوتوں کی مانند اس کے آثار کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے۔ وحی الٰہی‘ حامل وحی یعنی پیغمبر کی شخصیت میں بہت حیرت انگیز طریقے سے اثرانداز ہوتی ہے۔ وحی حقیقت میں اسے ”بعوث“ کر دیتی ہے یعنی اس کی قوتوں کو ابھارتی ہے اور اس میں نہیات عظیم و عمیق انقلاب وجود میں لے آتی ہے‘ یہ انقلاب بشریت کی بھلائی‘ رشد و ہدایت اور اصلاح و درستی کی سمت میں نمودار ہوتا رہا ہے‘ حقیقت پسندی کے ساتھ عمل کرتا ہے اور پیغمبر میں ایک بے نظیر و بے مثل قاطعیت کا عنصر پیدا کر دیتا ہے۔ تاریخ نے آج تک انبیاء اور ان کے تربیت یافتہ افراد کے اطمینان و یقین جیسا اطمینان و یقین کسی اور میں پیش نہیں کیا۔

انبیاء کی خصوصیات

انبیاء الٰہی جو وحی کے ذریعے مبداء اور سرچشمہ ہستی سے رابطہ برقرار کرتے ہیں ان کے کچھ امتیازات اور اوصاف ہوتے ہیں جن کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جا رہا ہے۔

۱ ۔ اعجاز

جو پیغمبر بھی اللہ کی جانب سے مبعوث ہوتا ہے وہ غیر معمولی قوت کا حامل ہوتا ہے اسی غیر معمولی قوت و طاقت کے ذریعے وہ ایک یا کئی ایسے کام انجام دیتا ہے جو انسانی طاقت سے بالاتر ہوتے ہیں اور اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان امور کو انجام دینے والا غیر معمولی الٰہی طاقت کا حامل ہے یہ بات اس کی دعوت کے برحق ہونے اور اس کی باتوں کے آسمانی ہونے کی دلیل بھی ہے۔

قرآن کریم ان غیر معمولی امور کے آثار کو کہ جنہیں پیغمبروں نے اپنے دعوے کی سچائی پر گواہی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ”آیت“ یعنی نبوت کی علامت اور نشانی کہتا ہے۔ مسلمان متکلمین اس اعتبار سے کہ ایسی علامت دوسرے تمام افراد کی عجز و ناتوانی کو ظاہر کرتی ہے‘ اسے معجزہ کہتے ہیں۔ قرآن مجید نقل کرتا ہے کہ ہر زمانے کے لوگوں نے اپنے دور کے انبیاء سے ”آیت“ اور معجزے کا تقاضا کیا ہے اور ان پیغمبروں نے اس تقاضے اور مطالبے کا جو منطقی اور معقول بھی تھا‘ اس لئے مثبت جواب دیا کہ یہ حقیقت کی تلاش کرنے والے لوگوں کی طرف سے ہوتا تھا اور ان لوگوں کے لئے معجزے کے بغیر پیغمبر کو پہچاننے کا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ لیکن اگر معجزے کا تقاضا حقیقت کی تلاش کے بجائے کسی اور مقصد سے ہوتا مثلاً کسی معاملے کی صورت میں لوگوں کی طرف سے یہ خواہش کی جاتی‘ اگر آپ فلاں کام انجام دیں گے تو ہم اس کے بدلے میں آپ کی دعوت کو قبول کر لیں گے تو انبیائے الٰہی اس کام کو انجام دینے سے انکار کر دیتے۔ قرآن کریم نے انبیاء کے بہت سے معجزات کو بیان کیا ہے مثلاً مردے کو زندہ کرنا‘ لاعلاج بیمار کو شفا دینا‘ گہوارے میں باتیں کرنا‘ عصا کو اژدھے میں تبدیل کرنا اور غیب و آئندہ کی خبر دینا۔

۲ ۔ عصمت

انبیاء کی خصوصیات میں سے ایک عصمت ہے۔ عصمت یعنی گناہ و خطا سے محفوظ یعنی انبیائے کرام نہ تو نفسانی خواہشات کے زیراثر آتے ہیں جس کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہوں اور نہ ہی اپنے کاموں اور فرائض کی ادائیگی میں خطا و غلطی سے دوچار ہوتے ہیں۔ انبیاء کی گناہ و خطا سے دوری انہیں انتہائی اعتماد کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گناہوں سے ان کی معصومیت کس نوعیت کی ہے؟ مثلاً کیا ان کی عصمت کا یہ معنی ہے کہ جب بھی وہ چاہیں کسی گناہ کے مرتکب ہوں تو ایک غیبی طاقت ان کے سامنے آ جاتی ہے انہیں وہ اس شفیق باپ کی مانند جو اپنے فرزند کو خطا و غلطی نہیں کرنے دیتا‘ گناہ کرنے سے روک دیتی ہے؟ یا یہ کہ انبیاء کی طینت و خلقت اس طرح کی ہوتی ہے کہ نہ تو ان میں گناہ کا امکان ہے اور نہ ہی خطا اور غلطی کا‘ بالکل اسی طرح جیسے ایک فرشتہ اس دلیل کی بناء پر غلطی نہیں کرتا کہ وہ ذہن سے عاری ہے یا یہ کہ پیغمبروں کے گناہ نہ کرنے کی وجہ ان میں پائی جانے والی بصیرت اور ایک طرح کا درجہ یقین و ایمان ہے۔ بے شک ان تمام صورتوں میں یہی تیسری صورت صحیح ہے۔ اب ہم ان دونوں قسم کی معصومیت کا علیحدہ علیحدہ ذکر کرتے ہیں:

گناہ سے محفوظ رہنا

انسان ایک باختیار موجود ہے اور اپنے کاموں کو اپنے فائدوں اور نقصانات‘ مصلحتوں اور خرابیوں کی تشخیص کی بنیاد پر انجام دیتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ”تشخیص“ کاموں کے اختیار و انتخاب میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ امر محال ہے کہ انسان کسی ایسے کام کا اپنے لئے انتخاب کرے‘ جس میں اس کی اپنی تشخیص کے مطابق ایک طرف تو کسی قسم کا فائدہ نہیں ہے دوسری طرف اس میں نقصان ہی نقصان ہے مثلاً ایک عقل مند انسان جسے اپنی زندگی سے محبت ہو کبھی جان بوجھ کر اپنے آپ کو پہاڑ کی چوٹی سے نہیں گرائے گا یا مہلک زہر نہیں کھائے گا۔

لوگ اپنے ایمان اور گناہوں کی اجرت و نتائج پر توجہ رکھنے کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کا ایمان جتنا زیادہ قوی ہو گا اور گناہوں کے خطرناک نتائج کی طرف توجہ جتنی شدید ہو گی‘ گناہوں سے وہ اتنا ہی دور رہیں گے اور کم ہی گناہ کا ارتکاب کریں گے۔ پس اگر درجہ ایمان شہود و عیاں کے درجے تک پہنچ جائے یعنی اس حد تک کہ آدمی گناہ کرنے کا ارادہ کرتے وقت اپنے آپ کو اس شخص کی مانند سمجھے جو دیدہ دانستہ اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا رہا ہے یا مہلک زہر پی رہا ہے‘ تو ایسی صورت میں ارتکاب گناہ کا امکان صفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے یعنی وہ ہرگز گناہ کی طرف رخ بھی نہیں کرتا۔ ایسی ہی حالت کو ہم عصمت یعنی گناہوں سے محفوظ رہنا کہتے ہیں۔ پس گناہ سے محفوظ رہنے کا تعلق کمال ایمان اور شدت تقویٰ سے ہے۔ لہٰذا انسان کو درجہ عصمت پر فائز ہونے کے لئے اس چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک خارجی اور غیبی قوت جبراً اسے گناہ سے باز رکھے یا معصوم شخص اپنی سرشت و خلقت کی بنیاد پر ایسا ہو کہ اس سے گناہ کی قوت یا خواہش ہی چھین لی گئی ہو۔ اگر کوئی انسان گناہ پر قادر ہی نہ ہو یا ایک جبری قوت اسے ہمیشہ گناہ کرنے سے باز رکھتی ہو تو اس کے لئے گناہ نہ کرنا کوئی کمال کی بات نہیں ہو گی‘ کیوں کہ ایسی صورت میں وہ ایک ایسے انسان کی مانند ہو گا جو کسی قید خانے میں بند ہو اور خلاف قانون کام کرنے پر قادر ہی نہیں ہے‘ ایسے انسان کا نافرمانی نہ کرنا اس کے نیک کردار اور امین ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔

خطا اور غلطی سے محفوظ رہنا

خطا سے پاک ہونا بھی انبیاء کی ایک طرح کی بصیرت و آگاہی کا نتیجہ ہے۔ خطا ہمیشہ اس صورت میں سرزد ہوتی ہے‘ جب انسان اپنی اندرونی یا بیرونی حس کے ذریعے کسی حقیقی شے سے ارتباط برقرار کرتا ہے اور اپنے ذہن میں اس حقیقت کی مختلف صورتیں بنا لینے کے بعد اپنی عقلی قوت کے ذریعے ان صورتوں کا تجزیہ کرتا ہے یا آپس میں انہیں ترکیب دیتا ہے اور ان میں انواع و اقسام کے تصرفات کرتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنی ذہنی صورتوں کو خارجی حقائق پر منطبق کرتا ہے اور انہیں ترتیب دیتا ہے تو اس وقت کبھی کبھی غلطی یا خطا سرزد ہوتی ہے لیکن جہاں انسان براہ راست عینی حقائق کے ساتھ ایک خاص حس کے ذریعے رابطہ برقرار کر لے اور ادراک حقیقت بعینہ واقعیت و حقیقت سے متصل ہونا ہو نہ کہ ذہنی صورت حقیقت و واقعیت سے متصل ہو تو ایسی صورت میں خطا یا غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انبیائے الٰہی بھی باطنی طور پر حقیقت ہستی سے رابطہ رکھتے ہیں لہٰذا حقیقت و واقعیت کے ادراک میں ان سے غلطی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً اگر ہم تسبیح کے سو دانوں کو کسی برتن میں ڈال دیں اور پھر دوسرے سو دانے بھی اسی برتن میں ڈال دیں اور سو مرتبہ اس عمل کو دہرائیں تو ممکن ہے ہمارا ذہن خطا سے دوچار ہو جائے اور ہم یہ خیال کرنے لگیں کہ ہم نے یہ عمل ۹۹ مرتبہ دہرایا ہے یا ایک سو ایک مرتبہ ایسا کیا ہے لیکن اصل حقیقت میں کمی یا زیادتی کا ہونا محال ہے۔

اگرچہ اس عمل کو ۱۰۰ مرتبہ دہرایا گیا ہے لیکن دانوں کی مجموعی تعداد میں کمی یا بیشی واقع نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جو لوگ اپنی آگاہی و بصیرت کی بناء پر اصل حقیقت کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں یا ہستی و وجود اور اس کے سرچشمے کے ساتھ متحد و متصل ہو جاتے ہیں تو ان کے یہاں اشتباہ و خطا کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور وہ ہرگز گناہ سے معصوم اور محفوظ رہتے ہیں۔

پیغمبروں اور نابغہ افراد کے درمیان فرق

یہیں سے اس فرق کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے جو انبیاء اور نابغہ روزگار شخصیات کے درمیان ہوتا ہے۔ نابغہ شخصیات وہ ہوتی ہیں جن میں قوت عقل و فکر اور حساب کرنے کی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے یعنی وہ اپنے حواس کے ذریعے اشیاء سے رابطہ پیدا کرتے ہیں‘ اپنی تیز عقل کی بناء پر اپنی ذہنی معلومات پر کام کرتے ہیں اور نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں مگر اتفاق سے کبھی غلطی بھی کر جاتے ہیں۔

انبیائے الٰہی عقل و خرد اور ذہنی حساب کتاب کی قوت کے حامل ہونے کے علاوہ ایک اور قوت سے بھی بہرمند ہوتے ہیں جسے وحی کہا جاتا ہے جب کہ نابغہ شخصیات اس قوت سے بہرہ مند نہیں ہوتیں‘ اسی لئے انبیاء سے ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ موازنہ اس وقت صحیح ہو سکتا ہے جب دونوں کے کام ایک ہی نوع اور ایک طرح کے ہوں لیکن جب دونوں کے کام مختلف نوعیت کے ہوں تو ایک کا دوسرے پر قیاس غلط ہو گا۔ مثلاً دو افراد کی قوت بینائی‘ سماعت یا فکر کا آپس میں موازنہ کیا جائے لیکن یہ ہرگز صحیح نہیں ہو گا کہ ایک شخص کی قوت بینائی کا دوسرے شخص کی قوت سماعت سے موازنہ کریں اور یہ کہیں کہ فلاں زیادہ طاقت و قوت کا حامل ہے۔ نابغہ شخصیات کا نبوغ انسانی عقل و فکر کی قوت سے مربوط ہے جب کہ پیغمبروں کی غیر معمولی شخصیت ایک اور قوت کے ساتھ مربوط ہے جسے وحی اور مبدائے ہستی سے اتصال کہا جاتا ہے۔ اس بناء پر دونوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرنا غلط ہو گا۔

۳ ۔ قیادت و رہبری

رسالت و پیغمبری کا آغاز اگرچہ اللہ کی طرف معنویت کے سفر‘ اس کی ذات سے قربت حاصل کرنے اور مخلوق سے قطع تعلق (سیرمن الخلق الی الحق) سے ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ ظاہر سے روگردانی اور اصلاح باطن کی طرف متوجہ ہونا ہے‘ لیکن اس کا انجام انسانی زندگی کی اصلاح کرنے اور اسے منظم رکھنے اور ایک صحیح راستے کی طرف اس کی ہدایت (سیر بالحق فی الخلق) کی غرض سے خلق اور ظاہر کی طرف واپسی ہوتا ہے۔

”نبی“ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ”خبر لانے والا“ فارسی میں لفظ پیغمبر اسی معنی کو ادا کرتا ہے اور ”رسول“ عربی زبان میں ”بھیجا گیا“ کے معنی میں ہوتا ہے اور انہیں بروئے کار لاتا ہے وہ خدا کی طرف اور ان امور کی طرف جو خداوند عالم کی خوشنودی کا باعث ہیں مثلاً صلح و صفا‘ اصلاح پسندی‘ بے ضرری‘ غیر خدا سے آزادی‘ سچائی‘ شائستگی‘ محبت و عدالت اور دیگر اخلاق حسنہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے وہ بشریت کو ہوائے نفس اور طرح طرح کے بتوں اور طاغوتوں سے نجات دلاتا ہے۔

علامہ اقبال نے انبیاء اور ایسے افراد کے درمیان جو اللہ کی طرف معنویت کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں‘ لیکن انہیں پیغمبری کا منصب نہیں دیا گیا اور اقبال انہیں ”باطنی انسان“ کا نام دیتے ہوئے فرق کو یوں بیان کرتے ہیں:

”باطنی انسان اس سکون و اطمینان کے حاصل ہو جانے کے بعد جسے وہ اپنے معنوی اور باطنی سفر میں حاصل کرتا ہے‘ یہ نہیں چاہتا کہ وہ پھر اس دنیوی زندگی کی طرف واپس آئے‘ لیکن ایسے وقت جب کہ وہ شدید ضرورت کی بناء پر اس دنیوی زندگی میں واپس آ بھی جاتا ہے‘ تو اس کی یہ واپسی انسانی معاشرے کے لئے کوئی خاص فائدہ مند نہیں ہوتی‘ لیکن نبی کی دنیوی زندگی کی طرف واپسی خلاقیت کا پہلو رکھتی ہے اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ نبی اس دنیا میں واپس آتا ہے اور زمانے کے دھارے میں اس ارادے سے وارد ہوتا ہے کہ وہ تاریخ کے بہاؤ کو اپنے اختیار میں لے اور اس طریقے سے مطلوبہ کمالات کی ایک نئی دنیا خلق کرے۔ باطنی انسان کے لئے سکون حاصل ہو جانا ہی انتہائی اور آخری منزل ہے‘ لیکن پیغمبر کے لئے اس کی روح شناسی کی قوت کا بیدار ہونا (آخری منزل ہے) جس کے ذریعے وہ دنیا کو ہلا دیتا ہے اور یہ طاقت ایسی ہوتی ہے‘ جو بشری دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیتی ہے۔“(احیاء فکر دینی در اسلام‘ ترجمہ: احمد آرام‘ ص ۱۴۳)

اس بناء پر خلق خدا کی قیادت و رہبری اور رضائے الٰہی اور فلاح بشریت‘ انسانی قوتوں کو حرکت میں لانا اور منظم کرنا پیغمبری کا ایسا جزو لازم ہے جسے اس سے ہرگز جدا نہیں کیا جا سکتا۔

۴ ۔ خلوص نیت

انبیائے الٰہی چونکہ خدا پر مکمل اعتقاد رکھتے ہیں اور ہرگز اس بات کو فراموش نہیں کرتے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ اسی فریضے کو ادا کر رہے ہیں لہٰذا اپنے اس فریضے کی ادائیگی میں نہایت خلوص سے کام لیتے ہیں‘ یعنی ہدایت بشر کے سوا کہ جو تقاضائے الٰہی بھی ہے‘ کوئی اور ہدف و مقصد نہیں رکھتے اور نہ ہی لوگوں سے انجام رسالت کا ”اجر“ مانگتے ہیں۔

قرآن کریم نے سورہ الشعراء میں بہت سے انبیاء کے اقوال کو جو انہوں نے اپنی اپنی قوتوں کے سامنے پیش کئے بطور خلاصہ نقل کیا ہے۔ البتہ ہر نبی نے اپنے راستے میں آنے والی مشکل یا مشکلات کی مناسبت سے اپنی قوم کو ایک طرح کا پیغام دیا ہے‘ لیکن ایک چیز جس کا تمام پیغمبروں کے پیغام میں بار بار تذکرہ کیا گیا ہے‘ وہ یہ کہ میں ”تبلیغ رسالت پر تم سے کسی اجرت اور مزدوری کا طلب گار نہیں ہوں“ لہٰذا خلوص اور خلق سے بے نیازی بھی پیغمبری کے امتیازات میں سے ہے اور اسی لئے انبیاء کا پیغام ہمیشہ ایک بے نظیر یقین و اطمینان کے ہمراہ رہا ہے۔

انبیاء چونکہ اپنے تئیں ”مبعوث“ سمجھتے ہیں اور اپنی رسالت‘ اس کی ضرورت اور اس کے ثمر بخش ہونے پر معمولی سا بھی شک نہیں کرتے‘ لہٰذا اپنے پیغام کی اس یقین و اطمینان کے ساتھ تبلیغ کرتے ہیں‘ ایسا دفاع کرتے ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

حضرت موسیٰ بن عمران اپنے بھائی ہارون کے ہمراہ ادنیٰ لباس زیب تن کئے ہوئے اور ہاتھوں میں عصا لئے ہوئے اپنی اسی ظاہری حالت کے ساتھ فرعون کے پاس جاتے ہیں اور اسے توحید کی طرف دعوت دیتے ہیں اور پورے یقین و اطمینان کے ساتھ فرماتے ہیں:

”ا گر تو نے ہماری دعوت کو قبول نہ کیا تو تیری حکومت کا زوال یقینی ہے اور اگر تو نے دعوت کو قبول کر لیا اور ہمارے راستے پر چلنا شروع کر دیا تو ہم تیری عزت و آبرو کے ضامن بن جائیں گے۔“

فرعون نے بڑے تعجب کے ساتھ کہا:

”ذرا ان لوگوں کو دیکھو‘ یہ اپنی پیروی کی صورت میں میری عزت کی ضمانت دے رہے ہیں وگرنہ میری حکومت کے زوال پذیر ہونے کی بات کرتے ہیں۔“(نہج البلاغہ‘ خطبہ ۱۹۰)

نبی اکرم نے بعثت کے ابتدائی برسوں میں جب کہ مسلمانوں کی کل تعداد شاید دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے برابر بھی نہیں ہو گی‘ ایک نشست میں جسے تاریخ نے ”یوم الانزار“ کے نام سے محفوظ رکھا ہے‘ بزرگان بنی ہاشم کو جمع کیا اور اپنا الٰہی پیغام ان تک پہنچایا اور نہایت صریح و قطعی انداز میں انہیں اس بات کی خبر سنائی کہ میرا دین عالم گیر حیثیت اختیار کر جائے گا اور تمہاری فلاح و سعادت اسی میں ہے کہ میری پیروی کرو اور میری دعوت قبول کر لو‘ انہیں نبی اکرم کی یہ بات اتنی گراں اور ناقابل یقین لگی کہ سب نے تعجب سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور جواب دیئے بغیر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

جب نبی اکرم کے چچا جناب ابوطالب نے قریش کا یہ پیغام سنا کہ ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ انہیں (پیغمبر) اپنا بادشاہ مان لیں‘ قوم کی حسین ترین لڑکی‘ ان کی زوجیت میں دے دیں اور انہیں اپنی قوم کا دولت مند ترین شخص بنا دیں‘ بشرطیکہ وہ جو کام کر رہے ہیں اور جو باتیں کہہ رہے ہیں ان سے باز آ جائیں‘ تو انہوں نے یہ پیغام آنحضرت تک پہنچایا۔ اس پر آنحضرت نے جواب میں فرمایا:

”خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر آفتاب اور دوسرے ہاتھ پر ماہتاب لا کر رکھ دیں‘ میں تب بھی اللہ کی طرف انہیں بلانے سے باز نہیں آؤں گا اور پیغام الٰہی کی تبلیغ سے دست بردار نہیں ہوں گا۔“

جی ہاں! جس طرح انسانوں کی قیادت کے لئے خطا و گناہ سے محفوظ قوت وحی اور اللہ سے اتصال اپنانا ضروری ہے اور خطا و گناہ سے محفوظ رہنے کے لئے وحی کی قوت اور اللہ سے رابطے اور اتصال کی ضرورت ہے‘ اسی طرح خلوص اور یقین و اطمینان پیغمبر کی ذات کا لازمی جزو ہے۔

۵ ۔ اصلاح احوال

انبیائے کرام جو انسانی قوتوں کو حرکت میں لاتے ہیں اور منظم کرتے ہیں‘ ان کا یہ کام صرف فرد اور معاشرے کی اصلاح و تعمیر کی خاطر ہوتا ہے‘ دوسرے الفاظ میں ان کا یہ سارا عمل بشری سعادت کے لئے ہوتا ہے اور محال ہے کہ ان کا یہ سارا عمل فرد کو فاسد اور خراب کرنے اور معاشرے کو تباہ کرنے کے لئے ہو۔ اس بناء پر اگر نبوت کے مدعی کی دعوت کا اثر انسانوں کو فاسد کرنے‘ ان کی قوتوں کو ناکارہ بنانے یا پھر انسانوں کے فحاشی و فساد میں مبتلا ہونے یا انسانی معاشرے کی تباہی اور نوع بشر کے انحطاط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہو تو یہ بجائے خود اس امر کی یقینی اور روشن دلیل ہے کہ یہ مدعی نبوت اپنے دعوے میں سچا نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے اس مقام پر بھی ایک عمدہ بات کہی ہے‘ وہ فرماتے ہیں:

”ایک پیغمبر کے مذہبی مشاہدات کی قدر و قیمت کا فیصلہ (اس کی رسالت اور اللہ کے ساتھ اس کے باطنی رابطے کا حقیقی ہونا)‘ ہم یہ دیکھ کر بھی کر سکتے ہیں کہ اس کے زیراثر کس قسم کے انسان پیدا ہوئے‘ علی ہذا یہ کہ تہذیب و تمدن کی وہ دنیا تھی جس کا ظہور ان کی دعوت سے ہوا۔“ (تشکیل جدیدالہیات اسلامیہ‘ ص ۱۴۴)

۶ ۔ مقابلہ اور جہاد

ہر قسم کے شرک‘ خرافات و لغویات‘ جہالتوں‘ توہمات‘ خود ساختہ خیالات‘ ظلم و ستم‘ زیادتیوں اور ستم رانیوں سے ٹکر لینا اور ان سے مقابلہ کرنا بھی نبوت کے ایک مدعی کی سچائی کی علامتوں میں سے ہے۔ یعنی محال ہے کہ ایک شخص جسے اللہ کی طرف سے واقعی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہو اس کے پیغام میں کوئی ایسی چیز ہو‘ جس سے شرک کی بو آتی ہو یا وہ کسی ظالم و ستم گر کی مدد کو دوڑ پڑے اور بدعنوانی و بے انصافی کی تائید کرے یا شرک‘ جہالت‘ خرافات و لغویات اور ظالموں کے ظلم و جور کے زیر خاموشی اختیار کرے اور ان سے جنگ و جدال اور جہاد کے لئے اٹھ کھڑا نہ ہو۔ توحید‘ عقل اور عدالت تمام انبیاء کے اصولوں میں سے ہے اور صرف ایسے ہی افراد کی دعوت قابل مطالعہ اور دلیل و معجزہ طلب کرنے کے لائق ہے‘ جو اس راستے پر چلتے ہوئے دعوت دیتے ہیں یعنی اگر کوئی شخص اپنے پیغام میں کوئی ایسی چیز پیش کرے جو توحید کے خلاف ہو یا اس حکم کے خلاف ہو جو تمام عقلوں کے نزدیک قطعی اور مسلم ہو یا عدل کے خلاف ظلم کی تائید میں ہو تو ایسے شخص کا پیغام نہ تو مطالعے کے لائق ہے اور نہ ہی دلیل کے مطالبے کے قابل ہے۔ اسی طرح اگر ایک مدعی نبوت گناہ یا خطا کا مرتکب ہوتا ہے یا خلق خدا کی قیادت و رہبری کی طاقت نہ رکھتا ہو‘ اگرچہ اس ناتوانی کا سبب کوئی جسمانی عیب یا جذاب جیسی نفرت انگیز بیماری ہو یا اس کی دعوت حیات انسانی کے راستے پر نہ ہو تو اس کا پیغام دلیل و معجزہ کے مطالبے کے لائق نہیں ہے۔ بہرحال ایسے افراد اگر (بفرض محال) معجزہ گر بھی ہوں اور بہت سے معجزات بھی دکھلا دیں تب بھی عقل ان کی پیروی کو جائز قرار نہیں دیتی۔

۷ ۔بشری پہلو

انبیاء اپنے تمام غیر معمولی پہلوؤں مثلاً معجزہ‘ گناہ و خطا سے محفوظ رہنا‘ بے مثال قیادت و رہبری اور بے مثال تعمیری کردار نیز شرک‘ خرافات اور ظلم و ستم کے خلاف قیام کے باوجود نوع بشر سے تعلق رکھتے ہیں یعنی انبیاء تمام لوازمات بشر کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسروں کی طرح کھاتے ہیں‘ سوتے ہیں‘ چلتے ہیں‘ اولاد پیدا کرتے ہیں اور بالآخر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں‘ وہ تمام ضروریات جو بشریت کا لازمہ ہیں‘ ان میں ہیں۔ انبیاء دوسروں کی مانند مسئول اور شرعی تکلیف کے حامل ہیں اور جن شرعی ذمہ داریوں کو وہ لوگوں تک پہنچاتے ہیں‘ خود ان پر بھی عائد ہوتی ہیں۔ حرام و حلال ان کے لئے بھی ہے بلکہ بعض شرعی ذمہ داریاں ان کے لئے زیادہ شدید نوعیت کی ہیں جیسا کہ رسول اکرم پر نماز شب یعنی آخر شب میں بیدار رہنا اور نافلہ شب واجب تھی۔

انبیاء کبھی اپنے آپ کو تکالیف شرعی اور احکام سے مستثنیٰ نہیں کرتے تھے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح اور دوسروں سے زیادہ اللہ سے ڈرتے تھے‘ دوسروں سے زیادہ خدا کی عبادت کرتے تھے‘ نماز پڑھتے تھے‘ روزہ رکھتے تھے‘ جہاد کرتے تھے‘ زکٰوة دیتے تھے‘ خلق خدا پر احسان کرتے تھے‘ اپنی اور دوسروں کی زندگی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے تھے اور زندگی میں دوسروں پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔

پیغمبروں اور دوسرے لوگوں کے درمیان فرق صرف وحی کے مسئلے اور وحی کے مقدمات و لوازم میں ہوتا ہے وحی انبیاء کو بشر ہونے سے خارج نہیں کر دیتی بلکہ انہیں انسان کامل اور دوسروں کے لئے نمونہ عمل بنا دیتی ہے۔ اسی لئے وہ دوسروں کے پیشرو اور رہبر و قائد ہیں۔

۸ ۔ صاحبان شریعت پیغمبر

انبیائے الٰہی بطور کلی دو گروہوں میں منقسم ہیں۔ ایک گروہ جن کی تعداد کم ہے ان پیغمبروں کا ہے جنہیں خود جداگانہ طور پر کچھ احکام و قوانین وحی کے ذریعے سپرد کئے گئے اور انہیں مامور کیا گیا کہ یہ قوانین و احکام لوگوں تک پہنچائیں اور انہیں قوانین و احکام کی بنیاد پر لوگوں کو ہدایت کریں اور ان کے ہی مطابق لوگوں کو عمل کرنے کی تلقین و تاکید کریں۔ ان انبیاء کو قرآن کی اصطلاح میں ”اولوالعزم“ کہا جاتا ہے۔ ہمیں صحیح اور یقینی طور پر یہ نہیں معلوم کہ اولوالعزم پیغمبروں کی تعداد کیا تھی۔ خصوصاً اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن مجید اس بات کو صاف و صریح الفاظ میں کہتا ہے کہ اس نے فقط بعض انبیاء کا تذکرہ کیا ہے۔ اگر قرآن مجید میں تمام اہم پیغمبروں کا ذکر کیا گیا ہوتا تو ممکن تھا کہ قرآن مجید میں مذکورہ پیغمبروں میں سے اولوالعزم پیغمبروں کی تعداد معلوم کر لی جاتی۔ بہرکیف ہم اتنا جانتے ہیں کہ حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد (صلوات اللہ علیہم) اولوالعزم اور صاحب شریعت پیغمبر تھے اور ان میں سے ہر ایک کو وحی کے ذریعے کچھ احکام و قوانین دیئے گئے تھے تاکہ انہیں لوگوں تک پہنچا سکیں اور ان قوانین کی بنیاد پر ان کی رہنمائی کر سکیں۔

دوسرا گروہ ان انبیاء کا ہے جو بذات خود کوئی شریعت اور قوانین نہیں رکھتے بلکہ محض اس شریعت اور قوانین کی تبلیغ و ترویج پر مامور تھے جو اس زمانے میں موجود تھے۔ پیغمبروں کی اکثریت اسی گروہ میں سے تھی جیسے حضرت ہود حضرت صالح ‘ حضرت لوط حضرت اسحاق حضرت اسماعیل حضرت یعقوب حضرت یوسف حضرت یوشع حضرت شعیب حضرت ہارون حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ یہ سب دوسرے گروہ ہی سے ہیں۔


انبیاء کا تاریخی کردار

کیا پیغمبر تاریخ کی حرکت میں مثبت یا منفی کردار کے حامل رہے ہیں یا یہ کہ بالکل بے اثر رہے ہیں؟ اور اگر ان کا کوئی کردار رہا ہے تو کیا وہ مثبت تھا یا منفی؟

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پیغمبروں کا تاریخ میں ایک موثر کردار رہا ہے اور وہ معاشرے میں بے اثر نہیں رہے اس کا دین و مذہب کے مخالفین نے بھی انکار نہیں کیا ہے۔ انبیاء الٰہی ماضی میں ایک عظیم قومی طاقت کے مظہر رہے ہیں۔ ماضی میں زور و زر کے بل بوتے پر سامنے آنے والی طاقتوں کے مقابلے میں قومی طاقتیں صرف ان طاقتوں پر منحصر ہوتی تھیں جو ان خاندانی قبائلی اور وطنی رجحانات کے نتیجے میں وجود میں آتی تھیں کہ قبیلے اور قوم کے سردار جن کے مظہر تصور کئے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ دوسری طاقتیں وہ تھیں جو مذہبی و ایمانی رجحانات کی بنیاد پر وجود میں آئی تھیں اور جن کے مظہر انبیاء و مرسلین اور صاحبان ادیان اور اہل دین ہوا کرتے تھے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پیغمبران خدا ایسی قوت و طاقت تھے جنہیں مذہبی قوت حاصل تھی لیکن جو چیز قابل بحث ہے وہ یہ کہ قوت کس طرح اثرانداز ہوتی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مختلف نظریات نے جنم لیا ہے:

۱ ۔ ایک گروہ نے عام طور سے اپنی تحریروں اور آثار میں ایک سادہ سا صغریٰ و کبریٰ قائم کر کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انبیاء کا کردار منفی رہا ہے کیوں کہ انہوں نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا وہ معنوی اور دنیا کے برخلاف تھا۔ انبیاء کی تعلیمات کا محور دنیا سے انصراف آخرت کی طرف توجہ دلانا تھا باطن پرزور دینا اور ظاہر سے لاتعلقی ذہنیت کی طرف رجحان اور عینیت سے گریز تھا۔ اسی لئے دین و مذہب کی قوت و طاقت اور انبیاء جو اس طاقت کے مظہر تھے ہمیشہ انسان کو زندگی سے مایوس اور دل سرد کرتے رہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے۔ اس اعتبار سے تاریخ میں انبیاء کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے۔ عام طور پر اس قسم کا اظہار نظر وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں روشن فکر ہونے کا دعویٰ ہے۔

۲ ۔ ایک دوسرا گروہ صاحبان ادیان کے کردار اور اثرات کو ایک اور طریقے سے منفی قرار دیتا ہے۔ یہ گروہ پہلے گروہ کے برعکس صاحبان ادیان کو طالب دنیا جانتا ہے اور ان کے معنوی اور باطنی رخ کو ایک فریب اور ان کے دنیاوی پہلو پر ایک نقاب سے تعبیر کرتا ہے۔ ان لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ دنیا پسندانہ راستہ موجود وضع کی حفاظت باقتدار و طاقت ور طبقے کے مفاد میں اور کمزور طبقے کے ضرر و نقصان کے لئے ہوتا ہے اور ہمیشہ معاشرے کی ترقی و کمال کے مقابل رہا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ تاریخ بھی دوسرے تمام موجودات کی طرح جدلیاتی ( Dialectic ) یعنی اندرونی تضاد سے پیدا ہونے والی حرکت کی حامل ہے۔

مالکیت و اقتدار کے وجود کے سبب معاشرہ دو باہم متنازع طبقوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ایک حاکم اور فائدہ حاصل کرنے والا طبقہ دوسرا محروم اور فائدہ پہنچانے والا طبقہ۔ حاکم طبقہ اپنے امتیازات کی حفاظت کی غرض سے ہمیشہ موجود صورت حال پر باقی رہنے کا طرف دار رہا ہے۔

پیداواری آلات کی جبری پیش رفت کے باوجود یہ طبقہ چاہتا ہے کہ معاشرے کو اسی حالت پر قائم رکھے لیکن محکوم طبقہ پیداواری آلات کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چاہتا ہے کہ اس موجود صورت حال کو بالکل الٹ دے اور اس کی جگہ کامل و مکمل صورت حال کو لے آئے۔ حاکم طبقہ نے تین مختلف شکلوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دین حکومت اور دولت دوسرے الفاظ میں زور و زر اور فریب۔ صاحبان ادیان کا کردار ستم گروں اور استحصالی طاقتوں کے مفاد میں عوام کو دھوکہ و فریب میں رکھنا تھا۔ ارباب ادیان کا آخرت کی طرف توجہ دلانے کا عمل حقیقی نہیں تھا بلکہ ان کی دنیا پرستی کے چہرے پر فریب کی نقاب تھی جو محروم انقلابی اور پیش قدم طبقے کے ضمیر اور وجدان کو مسخر کرنے کے لئے ڈالی گئی تھی پس ارباب ادیان کا تاریخی کردار اس اعتبار سے منفی تھا کہ وہ ہمیشہ قدامت پسند طبقے کا قوت بازو و محافظ اور موجودہ حالت یعنی صاحبان زور و زر کے طرف دار رہے ہیں۔ تاریخ کی توجیہ کے سلسلے میں مارکسزم کا نظریہ یہی ہے۔ مارکسزم کی نظر میں یہ تین عامل یعنی دین حکومت اور ثروت ہمیشہ اصول مالکیت کے ہمراہ اور پوری تاریخ میں انسانوں کے دشمن رہے ہیں۔

۳ ۔ کچھ افراد مذکورہ بالا نظریات کے برخلاف ایک اور اعتبار سے تاریخ کی تفسیر کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود دین و مذہب اور ان کے مظاہر یعنی پیغمبروں کا کردار منفی سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ عالم طبیعت اور تاریخ کا کمال و ارتقاء اس بنیاد پر استوار ہے کہ طاقت وروں کا غلبہ رہے اور کمزوری کا خاتمہ ہو۔ چنانچہ طاقت ور ہی ہمیشہ تاریخ کی ترقی و پیش رفت کا اور کمزور ہمیشہ تاریخ کے جمود اور تندی کا سبب رہے ہیں۔ دین و مذہب طاقت وروں کو روکنے کے لئے کمزور طبقے کی ایجاد ہے۔ ارباب ادیان عدل سچائی انصاف محبت رحم دلی اور تعاون جیسے مفاہیم کو دوسرے الفاظ میں غلامانہ اخلاق کو کمزور یعنی پسماندہ طبقہ اور ارتقاء و کمال کے دشمن طبقے کے حق میں اور طاقت ور طبقے یعنی پیش قدم طبقے کے خلاف ایجاد کرتے ہیں۔ یوں انہوں نے طاقت وروں پر منفی اثر ڈالا ہے اور کمزوری کے خاتمے نسل انسانی کی اصلاح اور غیر معمولی شخصیات کی پیدائش کی راہ میں رکاوٹ بنے لہٰذا مذہب اور انبیاء جو اس قوت مذہب کے مظہر تھے کا کردار اس اعتبار سے منفی تھا کہ وہ غلامانہ اخلاق کے طرف دار اور مالکانہ اخلاق کے جو تاریخ اور معاشرے میں ترقی و کمال کا سبب ہے کے خلاف تھے۔ جرمنی کا مشہور مادہ پرست فلسفی نطشے اسی نظریے کا حامی و طرف دار تھا۔

چونکہ نطشے کی مانند دوسرے مادی جرمن فلسفی بھی اسی روش پر چلتے رہے اور ان کی سوچ و بچار کے دھارے اسی سمت میں بہتے رہے لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لکیر کے فقیر بن کر اپنے فلسفے کو مادی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے اسی نظریے پر گامزن رہے کہ معاصر پیغمبر اور آسمانی تعلیمات غلامانہ اخلاق و کردار کے حامی اور انسانی ترقی و کمال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں اسی سوچ اور مشینی دور کی آمد نے آج مغربی سرزمینوں کو ایسے باسیوں سے آباد کر دیا ہے جن کی اکثریت مذہب سے دوری اور بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے دہریت کی جانب گامزن ہے انوہں نے مذہب کو ایک بوجھ سمجھ کر اتار پھینکا کیوں کہ وہاں کے مفکرین اور فلاسفہ نے وہاں کے باسیوں کے ذہنوں میں وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھایا جس کی بنیادیں مادیت پر استوار کی گئیں اور جنگ افلاس اور بے سر و سامانی کی اصل وجوہات مذہب کو قرار دے دیا گیا اس کے نتیجے میں آج اگر آپ یورپ جائیں تو اس بات کو نہایت آسانی سے درک کر لیں گے کہ وہاں کے شہریوں نے اپنے ادیبوں فلاسفہ اور مفکرین سے اثر لیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج صرف دس فیصد افراد جن میں زیادہ تر بوڑھے شامل ہوتے ہیں مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے اور اتوار کے دن اجتماعی عبادت میں شریک ہوتے ہیں لیکن اس کے برعکس مشرق کے اکثر فلاسفہ نے مذہب کو معاشرے میں خصوصی مقام دلانے کی کوشش کی ہے۔

۴ ۔ مذکورہ بالا تینوں گروہوں کو چھوڑ کر منکرین ادیان تک بھی ماضی میں پیغمبروں کے کردار کو مثبت اور مفید اور تاریخ کی ارتقائی سمت میں جانتے ہیں۔ ان گروہوں نے ایک طرف تو پیغمبروں کی اخلاقی اور اجتماعی تعلیمات اور دوسری طرف تاریخ کے عینی حائق پر توجہ دی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گذشتہ دور میں پیغمبروں کا معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی و پیش رفت میں بنیادی ترین کردار رہا ہے۔ بشری تمدن کے دو پہلو ہیں: ایک مادی اور دوسرا معنوی۔ تہذیب و تمدن کا مادی پہلو صنعت و فن سے متعلق ہے جو آج تک ارتقائی منازل طے کرتا رہا ہے اور معنوی پہلو ایک انسان کے دوسرے انسانوں سے تعلقات سے ہے تہذیب و تمدن کا معنوی و روحانی پہلو انبیاء کی تعلیمات کا مرہون منت ہے اور تہذیب و تمدن کے اسی معنوی پہلو ہی کے پرتو میں اس کے مادی پہلوؤں میں ترقی کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے لہٰذا تہذیب و تمدن کے معنوی پہلو کے ارتقاء و کمال میں پیغمبروں کا کردار براہ راست اور بلاواسطہ رہا ہے جب کہ مادی پہلو کے ارتقاء میں بالواسطہ رہا ہے۔ ان گروہوں کی نظر میں ماضی میں انبیاء کے مثبت کردار میں کوئی کلام نہیں۔ البتہ بعض گروہ ان تعلیمات کے مثبت کردار کو صرف ماضی کی حد تک محدود و منحصر جانتے ہیں اور آج کل کے دور میں ان تعلیمات کے اثر کو غیر مفید سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ علوم کی ترقی و پیش رفت کی وجہ سے دینی تعلیمات اپنی افادیت کھو چکی ہیں اور آئندہ ان کی افادیت میں مزید کمی واقع ہو جائے گی لیکن بعض گروہوں کا یہ دعوٰی ہے کہ ایمان اور مذہبی نظام فکر کا کردار ایسا ہے کہ علمی ترقی کبھی اس کی جگہ نہیں لے سکتی اسی طرح فلسفی مکاتب بھی اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔ ان مختلف کرداروں کے درمیان جو انبیاء نے ماضی میں ادا کئے ہیں کہیں کہیں اور کبھی کبھی ایسے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں جہاں بشر کے اجتماعی شعور کا ارتقاء دینی تعلیمات کی پشت پناہی سے بے نیاز ہوتا ہے لیکن بنیادی کردار وہی ہے جو ماضی میں تھا اور آئندہ بھی اپنی قوت سے باقی رہے گا۔ اب ہم تاریخی ارتقاء و کمال میں پیغمبروں کی تعلیمات کے موثر کردار کے چند نمونے پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ تعلیم و تربیت

زمانہ ماضی میں تعلیم و تربیت کا باعث دینی و مذہبی بیداری رہی ہے۔ ماضی میں مذہبی رجحان معلم اور ماں باپ کا یار و مددگار رہا ہے یہ مورد ان موارد میں سے ہے جہاں اجتماعی شعور کے ارتقاء نے مذہبی محرک کی ضرورت کو دور کر دیا ہے۔

۲ ۔ عہد و پیمان پر زندگی استوار کرنا

انسان کی سماجی زندگی معاہدوں اقرار ناموں قراردادوں اور وعدوں عہد کا احترام کرنے پر قائم ہے۔ عہد و پیمان کا احترام انسانی تمدن کا ایک رکن ہے اور یہ رکن ہمیشہ مذہب کے ذمہ رہا ہے اور ابھی تک اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے مذہب کی جگہ کسی دوسرے نے نہیں لی۔ ویل ڈیورنٹ جو مذہب مخالف ہے اپنی کتاب ”درسہائے تاریخ“ میں لکھتا ہے:

”مذہب نے اپنے آداب و رسوم کی مدد سے انسانی معاہدوں اور میثاقوں کو انسان اور خدا کے درمیان باعظمت رابطوں کی شکل دے دی ہے اور اسی راستے سے استحکام و پائیداری کا باعث بن گیا ہے۔“(درسہائے تاریخ ص ۵۵)

مذہب کلی طور پر اخلاقی اور انسانی اقدار کے لئے زرضمانت کی حیثیت رکھتا ہے اور مذہب سے ہٹ کر اخلاقی اقدار کی حیثیت ان نوٹوں کی سی ہے جن کے عوض حکومت کے خزانے میں زرضمانت موجود نہ ہو جس کی بے اعتباری و بے وقعتی بہت جلد ظاہر ہو جاتی ہے۔

۳ ۔ اجتماعی قید و بند کی آزادی

ہر طرح کے ظلم و ستم و استبداد اور سرکش عناصر سے مقابلہ انبیاء ۱ کا اہم ترین کردار رہا ہے۔ قرآن ان کے کلیدی کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ قرآن کریم اولاً تو عدل و انصاف کے قیام کو بعثت و رسالت کے ہدف کے عنوان سے ذکر کرتا ہے اور ثانیاً اپنے واقعات میں ظالموں جابروں اور استبدادی طاقتوں کے خلاف انبیاء ۱ کی جدوجہد کو بارہا بیان کرتا ہے۔ قرآن نے چند آیتوں میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ جوطبقہ ہمیشہ سے انبیاء ۱ کے ساتھ مصروف پیکار رہا ہے وہ استبدادی اور ظالم طاقتوں کا طبقہ ہے۔

کارل مارکس اور اس کے پیروکاروں کا یہ نظریہ کہ دین حکومت اور دولت و ثروت حاکم طبقے کے تین مختلف چہرے ہیں جو مظلوم و مجبور طبقے کے مخالف رہے ہیں ایک بے قیمت نظریہ ہے اور تاریخ کے مسلمہ حقائق کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر ارانی نظریہ مارکس کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”مذہب ہمیشہ حاکم اور برسراقتدار طبقے کا آلہ کار رہا ہے اور ضعیف و کمزور طبقے کو مغلوب کرنے کے لئے تسبیح و صلیب نے ہمیشہ استبدادی قوتوں کے ساتھ ہی حرکت کی ہے۔“

(یہ قول ڈاکٹر ارانی کتاب ”اصول علم روح“ سے نقل کیا گیا ہے)

تاریخ کی اس قسم کی توجیہات اور اس قسم کے فلسفہ تاریخ کو قبول کرنا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے اور وہ یہ کہ آدمی حقائق سے چشم پوشی کر لے اور تاریخی واقعات کو نظرانداز کر دے۔

علی علیہ السلام تیغ و تسبیح دونوں کے مرد میدان تھے تلوار کے بھی دھنی تھے اور تسبیح کے بھی۔ علی ۱ کا شعار کیا تھا:

کونا للظالم خصما و للمظلوم عونا

”ہمیشہ ظالم کے دشمن اور ستم رسیدہ کے یار و مددگار رہو۔“

( نہج البلاغہ حصہ مکتوبات نمبر ۴۷ ] امام حسن ۱ اور امام حسین ۱ کو خطاب[)

علی ۱ کو پوری زندگی تیغ و تسبیح عزیز رہی اور وہ زور و زر کے دشمن رہے علی ۱ کی تلوار ہمیشہ صاحبان اقتدار اور مالکان سیم و زر کے خلاف برسرپیکار رہی۔ کتاب مھزلة العقل البشری میں ”ڈاکٹر علی الوردی“ کے بقول علی ۱ نے اپنی شخصیت سے مارکس کے فلسفے کو باطل کر دیا ہے۔

مارکس کے نظریے سے زیادہ عبث اور لایعنی نظریہ ”نطشے“ کا ہے جو مارکس کے نظریے کے بالکل برعکس ہے یعنی چونکہ یہ معاشرے کو کمال عطا کرنے والا اور پیش قدم طبقہ صرف طاقت وروں کا ہے اور دین کمزوروں کی حمایت کے لئے اٹھا ہے لہٰذا جمود و انحطاط کا عامل رہا ہے گویا انسانی معاشرہ اس وقت ارتقاء و کمال کے راستے پر بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھے گا جب اس پر لاقانونیت اور جنگل کے قانون کی حکومت ہو گی۔ مارکس کی نظر میں کمال کا سبب محروموں کا طبقہ ہے اور نبی اس طبقے کے مخالف رہے ہیں۔ مارکس کہتا ہے کہ دین طاقت وروں اور دولت مندوں کی اختراع ہے جب کہ ”نطشے“ کہتا ہے کہ دین کمزوروں اور محروموں کی اختراع ہے۔ کارل مارکس کا ایک اشتباہ یہ ہے کہ اس نے صرف طبقاتی مفادات کے تضاد کی بنیاد پر تاریخ کی توجیہ کی ہے اور تاریخ کے انسانی پہلو کو نظرانداز کر دیا ہے۔(ملاحظہ فرمائیں رسالہ قیام انقلاب مہدی از دیدگاہ فلسفہ تاریخ مولف استاد شہید مطہری)

دوسرا اشتباہ یہ ہے کہ اس ارتقاء و کمال کا عامل صرف محروم اور کمزور طبقے کو سمجھا ہے۔

تیسری غلطی یہ ہے کہ انبیاء ۱ کو حاکم طبقے کا بازو اور طرف دار قرار دیا ہے یعنی اس نے دانا تر انسان کو سب سے طاقت ور انسان کے برابر سمجھا ہے اور سب سے طاقت ور انسان ہی کو انسانی معاشرے کو آگے بڑھانے والا عامل مانا ہے۔

مقصد بعثت انبیاء

تاریخ کے ارتقائی سفر میں انبیاء ۱ کا کردار کسی حد تک واضح ہو گیا ہے۔ اب ایک دوسرا مسئلہ زیربحث ہے اور وہ یہ کہ انبیاء ۱ کے مبعوث ہونے کا اصل مقصد کیا تھا؟ دوسرے الفاظ میں رسولوں کے بھیجنے اور کتابوں کے نازل کرنے کی غایت نہائی کیا تھی؟ پیغمبروں کا حرف آخر کیا ہے؟ ممکن ہے یہ کہا جائے کہ اصل ہدف و مقصد لوگوں کو ہدایت لوگوں کی سعادت و خوش بختی لوگوں کی نجات اور لوگوں کی فلاح و بہبود ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء لوگوں کو راہ ر است کی طرف ہدایت کرنے اور لوگوں کے لئے خوش بختی اور نجات کا سامان مہیا کرنے اور لوگوں کی خیر و صلاح اور فلاح و بہبود کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ اس وقت اس مسئلے پر گفتگو کرنا مقصود نہیں بلکہ بحث اس میں ہے کہ یہ راہ راست کس انتہائی منزل مقصود پر ختم ہوتی ہے؟ مکتب انبیاء ۱ کی نظر میں لوگوں کی سعادت و بھلائی کا کیا مطلب ہے؟ یہ مکتب کون سی قیود و مشکلات مشخص کرتا ہے جن سے لوگوں کو نجات دینا چاہتا ہے؟ یہ مکتب خیر و صلاح اور فلاح و بہبود کو کس چیز میں سمجھتا ہے؟

قرآن نے ان تمام مطالب و معانی کی طرف اشارہ یا تصریح کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے دو مفاہیم و معانی کا بھی ذکر کیا ہے جن سے اصلی مقصد کی طرف رسائی ہوتی ہے یعنی پیغمبروں کی ساری تعلیمات انہی دو باتوں کی تمہید ہے۔ وہ ہیں ایک خدا کو پہچاننا اور اس کی قربت حاصل کرنا اور دوسری انسانی معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا اور قائم رکھنا۔

قرآن کریم ایک طرف کہتا ہے:

( یا ایها النبی انا ارسلناک شاهداً و نذیراً و داعیاً للّٰه باذنه و سراجاً منیراً ) (احزاب ۴۵ ۴۶)

”اے پیغمبر! ہم نے تم کو گواہ خوشخبری دینے والا ڈرانے والا اللہ کی طرف سے اس کی اجازت سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔“

اس آیت میں جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف بلانا ہی وہ چیز ہے جسے اصل ہدف قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف تمام پیغمبروں کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے:

ولقد ارسلنا رسلنا بالبینات و انزلنا معهم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط

”ہم نے اپنے پیغمبروں کو روشن دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور معیار و میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم رکھ سکیں۔“

اس آیت میں واضح طور پر عدل و انصاف قائم کرنے کو انبیاء ۱ کی رسالت و بعثت کا ہدف قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کی طرف بلانے اسے پہچاننے اور اس کے قریب ہونے سے مراد توحید نظری اور توحید عملی و فردی کی طرف دعوت دینا ہے جب کہ معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے سے مراد توحید عملی و اجتماعی کی طرف بلانا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیغمبروں کا اصل مقصد خدا کو پہچاننا اور اس کی پرستش کرنا ہے اور دوسری تمام چیزیں یہاں تک کہ اجتماعی عدل و انصاف بھی اس ہدف تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے یا اصل ہدف عدل و انصاف کا قیام ہے جب کہ اللہ کو پہچاننا اور اس کی عبادت کرنا اس اجتماعی مقصد تک پہنچنے کا وسیلہ ہے یا اس مسئلے کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ آیا اصل ہدف توحید نظری اور توحید عملی و فردی ہے یا اصل ہدف توحید عملی و اجتماعی ہے۔ اس سلسلے میں کئی نظریات قائم کئے جا سکتے ہیں:

۱ ۔ پیغمبران خدا ۱ دو مقصد رکھتے ہیں۔ ان دو مقاصد میں سے ایک کا تعلق انسان کی اخروی زندگی سے ہے (یعنی توحید نظری اور توحید عملی و فردی) اور دوسرا مقصد انسان کی دنیاوی سعادت سے متعلق ہے (یعنی توحید اجتماعی)۔ انبیائے کرام ۱ اس اعتبار سے کہ انسان کی دنیوی سعادت کی فکر میں رہے ہیں لہٰذا انہوں نے توحید اجتماعی کو برقرار کیا اور اس لحاظ سے کہ انسان کی اخروی سعادت مدنظر تھی توحید نظری اور توحید عملی و فردی کو بھی جو محض ذہنی و روحانی ہے قائم کیا۔

۲ ۔ اصل مقصد توحید اجتماعی ہے جب کہ توحید نظری اور توحید عملی فردی توحید اجتماعی کا لازمی مقدمہ ہے۔ توحید نظری کا تعلق خدا شناسی سے ہے۔ انسان کے لئے اپنی ذات کی حد تک خدا کو پہچاننے یا نہ پہچاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی روح کو حرکت دینے والا اللہ ہو یا دوسری ہزاروں چیزیں جیسا کہ بطریق اولیٰ اللہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان اس کو پہچانے یا نہ پہچانے۔

اس کی عبادت کرے یا نہ کرے لیکن اس لحاظ سے کہ انسان کا کمال ”ہم“ ہونے اور توحید اجتماعی میں ہے اور یہ چیز توحید نظری اور توحید عملی و فردی کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی سے خدا نے اپنے بندے پر اپنی معرفت اور عبادت فرض کی ہے تاکہ توحید اجتماعی کی عملی شکل سامنے آئے۔

۳ ۔ اصل ہدف اللہ کو پہچاننا اور اس کی قربت حاصل کرنا اور اس تک پہنچنا ہے اور توحید اجتماعی اسی بلند مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ اور مقدمہ ہے کیوں کہ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے توحیدی اور الٰہی تصورات کائنات میں کائنات کی ماہیت ”اسی سے“ اور ”اسی کی طرف“ سے عبارت ہے۔ اس لحاظ سے انسان کا کمال اس کی طرف جانے اور اس کی قربت حاصل کرنے ہی میں ہے۔ انسان کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ آیہ شریفہ و اذا نفخت فیہ من روحی (سورئہ حجر آیت ۲۹) اور جب میں نے اس میں اپنی (عالی و برتر) روح میں سے پھونکا کی رو سے انسان کی حقیقت الٰہی نظر آتی ہے۔ خدا جوئی انسان کی فطرت ہے۔ اس لحاظ سے اس کی نیک بختی اس کا کمال اس کی نجات اس کی بھلائی صداقت اور استغفار اللہ کی معرفت اس کی پرستش اور اس کی قربت کی منزلیں طے کرنے میں ہے لیکن چونکہ انسان طبیعتاً مدنی و اجتماعی ہے یعنی اگر انسان کو معاشرے سے جدا کر لیں تو وہ انسان نہیں رہ سکتا اور اگر معاشرے میں عادلانہ اجتماعی نظام کی حکمرانی نہ ہو تو انسان میں پائی جانے والی خدا جوئی کی فطرت بیدار نہیں ہو سکتی۔ تمام انبیاء ۱ عدل و انصاف قائم کرنے اور ظلم و استحصال کو ختم کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ اس بناء پر عدل آزادی برابری اور جمہوریت جیسی اجتماعی اقدار اور اس طرح اجتماعی اخلاق مثلاً جود و سخا عفو و درگزر محبت و احسان کوئی ذاتی قدر و قیمت نہیں رکھتے اور محض ذاتی طور پر انسان کے لئے ان میں کوئی کمال کا پہلو نہیں ہے۔ ان سب کی تمام تر قدر و قیمت اور اہمیت مقدمے اور وسیلے کی حد تک ہے اور اگر انہیں اصل مقصد سے الگ کر کے دیکھا جائے تو ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔ یہ سب حصول کمال کے ذرائع ہیں نہ کہ خود کمال۔ یہ فلاح و نجات کے لئے مقدمہ ہیں نہ کہ خود فلاح و نجات رستگاری کے وسائل ہیں نہ کہ خود رستگاری۔

۴ ۔ چوتھا نظریہ یہ ہے جیسا کہ تیسرے نظریے میں بیان ہوا انسان کی غرض و غایت اور اس کا کمال بلکہ ہر موجود کا حقیقی کمال اور ہدف خدا کی طرف حرکت کرنے پر تمام ہوتا ہے۔ اس بات کا دعویٰ کرنا کہ انبیاء ۱ و رسل اپنے ہدف کے اعتبار سے ثنوی تھے ایک ایسا شرک ہے جو ناقابل معافی ہے۔ جیسا کہ یہ دعوٰی کرنا بھی کہ پیغمبروں کا اصل مقصد بندگان خدا کی دنیوی فلاح و سعادت ہے اور دنیوی سعادت عدل آزادی برابری و برادری کے سائے میں عالم طبیعت کے عطیات و انعامات سے مستفید ہوئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی محض مادہ پرستی ہے۔

لیکن تیسرے نظریے کے برخلاف اگرچہ اجتماعی و اخلاقی اقدار انسان کی حقیقی قدر و قیمت تک پہنچنے کے لئے یعنی انسان کو خدا پرستی اور خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے وسیلہ ہیں لیکن اپنی ذات میں بے قدر و قیمت نہیں ہیں۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مقدمہ اور ذوالمقدمہ (اصل مقصد) کے درمیان رابطہ و تعلق دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک قسم میں مقدمے کی قدر و قیمت صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ ذوالمقدمہ یعنی مقصد تک پہنچا دے اور اصل مقصد تک پہنچ جانے کے بعد اس مقدمے کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ہے مثلاً ایک انسان نہر سے عبور کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے وہ ایک بڑے پتھر کو وسیلہ قرار دیتا ہے نہر سے عبور کرنے کے بعد اب اس انسان کے لئے اس پتھر کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔ اس لئے کہ اصل مقصد دوسرے کنارے پر پہنچنا تھا۔ اسی طرح مکان کی چھت پر جانے کے لئے سیڑھی کا استعمال اور بڑی کلاس میں داخلے کے لئے چھوٹی کلاس کا نتیجہ ہے۔

دوسری قسم اس رابطے کی ہے جہاں مقدمہ اصل مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ تو ہوتا ہے اور اصل قدر و قیمت بھی اس مقصد کی ہی ہوتی ہے لیکن اصل مقصد تک پہنچنے کے بعد اس کا وجود و عدم مساوی نہیں ہوتا اور مقصد کے حاصل ہونے کے بعد بھی مقدمہ کا وجود اسی طرح ضروری ہوتا ہے جس طرح حصول مقصد سے پہلے تھا مثلاً پہلی اور دوسری کلاس کی معلومات کا ہونا اس سے بالاتر کلاس کی معلومات کے لئے ضروری ہے لیکن ایسا نہیں کہ اوپر کی کلاس تک پہنچنے کے بعد ان معلومات کی ضرورت نہیں رہتی کیوں کہ اگر بالفرض ابتدائی کلاسوں میں جو معلومات حاصل کی تھیں وہ سب فراموش ہو جائیں طالب علم کا ذہن بالکل خالی ہو جائے تو کیا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور کیا وہ بالاتر کلاس میں پڑھ سکے گا؟ نہیں! بلکہ ان سابقہ معلومات کا ہونا بے حد ضروری ہے اور تبھی وہ اوپر کلاس میں تعلیم جاری رکھ سکتا ہے۔

اس دوسری قسم میں جو راز پوشیدہ ہے وہ یہ کہ کبھی مقدمہ ذوالمقدمہ (اصل مقصد) کا کم تر درجہ ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔ سیڑھی مکان کی چھت کے درجات و مراتب میں سے نہیں ہے جیسا کہ نہر کے درمیان رکھا جانے والا بڑا پتھر نہر کے اس پار کے درجات میں سے نہیں ہے لیکن نچلی کلاسوں کی معلومات اور بالائی کلاسوں کی معلومات ایک ہی حقیقت کے دو مختلف رخ ہیں۔

معاشرتی و اخلاقی اقدار اللہ کی معرفت و پرستش کے حوالے سے دوسری قسم میں داخل ہیں یعنی ایسا نہیں ہے کہ اگر انسان کو خود اللہ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے اور وہ اس کی عبادت کرنے لگے تو اس کے نزدیک عدل و انصاف سچائی بھلائی جود و کرم احسان و خیرخواہی عفو و مروت اور محبت وغیرہ سب کا وجود و عدم برابر ہو اس لئے کہ بلند و بالا انسانی اخلاق ایک طرح کے خدائی رنگ کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ روایت میں بھی ہے:

تخلقوا باخلاق اللّٰه

(جامع الاسرار سید حیدر آملی ص ۳۶۳)

”اپنے کو الٰہی اخلاق و اصاف سے آراستہ کرو۔“

اخلاق عالیہ سے آراستہ ہونا اگرچہ غیر شعوری طور پر سہی لیکن درحقیقت خدا شناسی اور خدا پرستی کا ہی ایک درجہ اور مرتبہ ہے یعنی انسان کا ان اقتدار سے تعلق الٰہی اوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ فطری لگاؤ سے پیدا ہوتا ہے اگرچہ انسان ان اوصاف کے فطری رشتہ و تعلق کی طرف بالکل متوجہ نہ ہو بلکہ کبھی کبھی وہ شعوری طور پر اس کا منکر بھی ہو۔

اسی لئے اسلامی تعلیمات کی رو سے عدالت احسان اور جود و سخا جیسے اخلاق فاضلہ کے حامل افراد اگرچہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں لیکن دوسری دنیا میں ان کے اعمال بے اثر نہیں رہیں گے اس قسم کے افراد کا کفر و شرک اگر عناد اور سرکشی کی بناء پر نہ ہو تو ان لوگوں کو دوسری دنیا میں کچھ نہ کچھ اجر ضرور ملے گا۔ درحقیقت اس قسم کے افراد لاشعوری طور پر خدا پرستی کے کسی نہ کسی درجے تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔

(مزید تفصیل کیلئے مولف کی کتاب عدل الٰہی کے آخری باب کی طرف رجوع کریں)

دین یا ادیان؟

علم دین سے تعلق رکھنے والے علماء اور مذاہب کی تاریخ لکھنے والے عام طور سے ادیان کے بارے میں بحث کرتے ہوئے دین ابراہیم ۱ دین یہود دین مسیحی اور دین اسلام کی بات کرتے ہیں گویا ہر ایک صاحب شریعت پیغمبر کو ایک علیحدہ دین لانے والا سمجھتے ہیں عام لوگوں کے درمیان بھی یہی اصطلاح رائج ہے۔

لیکن قرآن مجید اس بارے میں ایک خاص اصطلاح اور طرز بیان رکھتا ہے جس کا سرچشمہ قرآن ہی کا خاص نظریہ ہے قرآن مجید کی نظر میں حضرت آدم ۱ سے لے کر حضرت خاتم الانبیاءٰ تک اللہ کا دین ایک ہی ہے۔ تمام پیغمبر چاہے وہ صاحب شریعت ہوں یا ان کے علاوہ سبھی ایک مکتب کے داعی تھے اور ایک دین کے مبلغ تھے۔ مکتب انبیاء ۱ کے اصول جنہیں دین کہا جاتا ہے ایک ہیں البتہ ایک تو سب کے درمیان فرعی مسائل میں کچھ اختلاف ضروری ہے جو عصری تقاضوں ماحول اور لوگوں کی خصوصیات کے اعتبار سے نظر آتا ہے لیکن ان تمام مختلف شکلوں کی حقیقت ایک ہی ہے سب ایک ہی مقصد و ہدف کی طرف رواں ہیں۔ دوسرا فرق تعلیمات کی علمی سطح پر نظر آتا ہے کیوں کہ جیسے جیسے انبیاء ۱ آتے رہے اور شریعتیں لاتے رہے اور اپنی مقدس تعلیمات سے بندگان خدا کو فائدہ پہنچاتے رہے ویسے ویسے انسانی معاشرہ علوم و معارف میں ترقی و کمال کی منزلیں طے کرتا رہا اور تدریجاً آگے بڑھتا رہا اسی بناء پر ہر بعد میں آنے والے صاحب شریعت پیغمبر نے اپنی تعلیمات کو اس سطح سے بلند رکھا جہاں تک اس سے قبل والے پیغمبر نے پہنچایا تھا۔ مگر حقیقت میں سب کا موضوع ایک تھا لیکن مبداء و معاد اور دنیا کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور گذشتہ پیغمبروں کی تعلیمات کے درمیان علمی سطح کے اعتبار سے زمین سے آسمان تک فرق نظر آئے گا۔ دوسرے الفاظ میں ان انبیاء ۱ کی تعلیمات سے فائدہ حاصل کرنے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے تھا جسے ان الٰہی اساتذہ نے یکے بعد دیگرے آہستہ آہستہ پہلے درجے سے ترقی دیتے ہوئے آخر میں بالائی درجے تک پہنچایا ہے۔ یہ دنیا کا تدریجی ارتقاء ہے نہ کہ ادیان کا اختلاف۔ قرآن مجید نے کہیں بھی لفظ دین کو جمع (ادیان) کی صورت میں استعمال نہیں کیا۔ قرآن مجید میں جس چیز کا وجود تھا وہ دین تھا نہ کہ ادیان۔

ایک واضح فرق پیغمبروں اور بڑے بڑے فلسفیوں اور ماہرین کے درمیان یہ بھی ہے کہ فلاسفہ میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص نظریہ اور مکتب فکر تھا لیکن پیغمبران خدا ہمیشہ ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرنے والے رہے ہیں انہوں نے کبھی ایک دوسرے کی نفی نہیں کی۔ پیغمبروں میں سے اگر کوئی کسی دوسرے پیغمبر کے زمانے اور ماحول میں ہوتا تو اسی کے قوانین اور احکام کی مانند قوانین لاتا۔

قرآن اس بات کو صراحت سے بیان کرتا ہے کہ (از آدم ۱ تا خاتم) تمام انبیاء ۱ کا ایک سلسلہ تھا اور سب ایک آسمانی سلسلے میں منسلک تھے گذشتہ انبیاء ۱ اپنے بعد آنے والے پیغمبروں کی بشارت دیتے رہے اور بعد میں آنے والے انبیاء ۱ گذشتہ انبیاء ۱ کی تصدیق و تائید کرتے رہے نیز قرآن کریم اس امر کی بھی تصریح کرتا ہے کہ تمام انبیاء ۱ سے اس بات کا سخت عہد و پیمان لیا گیا ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے مبشر و مصدق ہوں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (اے میرے رسول) اس وقت کو یاد کرو جب خداوند عالم نے تمام پیغمبروں سے عہد و پیمان لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت دوں گا پھر تمہارے پاس ایک پیغمبر تمہاری رسالت کی تصدیق کرتے ہوئے آئے گا تو تم سب اس کے اوپر ضرور ایمان لانا اور اس کی ضرور مدد کرنا پھر (خدا نے فرمایا) کہ کیا تم نے اقرار کیا اور کیا تم نے میرا عہد اپنے ذمے لے لیا؟ (تو ان سب نے) کہا: ہم نے اقرار کیا (پھر خدا نے) فرمایا: ”تم گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔“(آل عمران آیت ۸۱)

قرآن کریم نے کہ جو دین خدا کو آدم ۱ سے خاتم تک ایک ہی جاری رہنے والے سلسلے کی حیثیت سے پہچنواتا ہے نہ کہ چند کڑیوں کے عنوان سے اس سلسلے کا صرف ایک نام رکھا ہے اور وہ ہے اسلام۔ ہمارے کہنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ دین خدا ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے اس نام سے پکارا جاتا رہا ہے یا یہی نام لوگوں کے درمیان مشہور و معروف رہا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ دین کی حقیقت ایک ایسی ماہیت رکھتی ہے جس کا بہترین معرف اور عنوان لفظ اسلام ہے۔

قرآن کہتا ہے:

( ان الدین عنداللّٰه الاسلام ) (آل عمران آیت ۱۹)

یا دوسری جگہ کہتا ہے:

( ماکان ابراهیم یهودیاً و لانصرانیا و لکن کان حنیفاً مسلماً ) (آل عمران آیت ۶۷)

”ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ حق کی تلاش کرنے والے اور مسلم تھے۔“

ختم نبوت

ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ پیغمبران خدا باوجود جزوی اختلافی مسائل کے سب صرف ایک پیغام کے حامل و مبلغ اور ایک مکتب سے وابستہ تھے یہ مکتب انسانی معاشرے کی فکری صلاحیت کے مطابق درجہ بدرجہ پیش کیا گیا یہاں تک کہ انسانی معاشرہ فکری رشد کے لحاظ سے اس حد تک پہنچ گیا کہ یہ مکتب اور یہ نظریہ مکمل و جامع شکل میں پیش کیا گیا۔ جب مکتب اس درجہ عروج و کمال کو پہنچ گیا تو نبوت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا اور وہ عظیم و مقدس شخصیت جن کے ذریعے سے یہ مکتب کامل شکل میں پیش کیا گیا وہ حضرت محمد مصطفی ۱ کی ذات ہے اور اس مکتب کا آخری مکمل نصاب اور آخری آسمانی کتاب قرآن مجید ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

( وتمت کلمه ربک صدقاً وعدلاً لامبدل لکلماته ) (سورئہ انعام آیت ۱۱۵)

”تمہارے پروردگار کا سچا اور عادلانہ پیغام پورا ہو گیا اس میں کوئی تبدیلی لانے کی کسی میں طاقت نہیں ہے۔“

اب ہمیں غور کرنا ہو گا کہ ماضی میں کیوں نبوتوں کی تجدید ہوتی رہی ہے اور ایک کے بعد دوسرے پیغمبر برابر آتے رہے اگرچہ وہ تمام پیغمبر صاحبان قانون و شریعت نہیں تھے بلکہ ان میں سے اکثر انبیاء ۱ اپنے زمانے میں موجود شریعت و قانون ہی کے مبلغ رہے ہیں اور حضرت محمد کے بعد یہ سلسلہ انبیاء ۱ کیوں ختم کر دیا گیا اور نہ صرف یہ کہ کوئی صاحب شریعت پیغمبر نہیں آیا اور نہ آئے گا بلکہ مبلغ کی حیثیت سے بھی کوئی پیغمبر نہیں آیا اور نہ قیامت تلک آئے گا کیوں؟ اس مقام پر ہم مختصر طور پر نبوتوں کی تجدید کے علل و اسباب پر نگاہ ڈالتے ہیں۔

نبوتوں کی تجدید کے اسباب

اگرچہ نبوت ایک متصل اور جاری رہنے والا اسلام اور پیغام الٰہی ہے یعنی دین صرف ایک حقیقت ہے ایک سے زیادہ نہیں ہے۔ صاحب شریعت اور مبلغ کی حیثیت سے آنے والے پیغمبروں کی تجدید اور متواتر ایک کے بعد دوسرے پیغمبر کے آنے اور حضرت خاتم الانبیاء ۱ کی شریعت محمدی(ص) کے بعد اس سلسلے کے منقطع ہو جانے کے علل و اسباب حسب ذیل ہیں:

۱ ۔ زمانہ قدیم کا انسان اپنی استعداد اور فکر کے اعتبار سے اس قابل نہ تھا کہ اپنی آسمانی کتاب کی حفاظت کر سکے اسی وجہ سے آسمانی کتابیں عموما تحریف کا شکار ہو جایا کرتیں یا بالکل ہی فنا ہو جاتیں اس بناء پر یہ ضروری ہو جاتا تھا کہ پیغام کی تکرار کی جائے۔ نزول قرآن کا زمانہ یعنی آج سے چودہ سو سال قبل کا دور تھا جب انسانی معاشرہ اپنے زمانہ طفلی کو بہت پیچھے چھوڑ کر حد بلوغ کو پہنچ چکا تھا اور اس وقت انسان اپنی علمی و دینی میراث کی حفاظت کرنے پر قادر ہو چکا تھا اسی وجہ سے سب سے آخری مقدس و مکمل کتاب یعنی قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہو سکی مسلمان اس کی ہر آیت کی حفاظت اس کے وقت نزول سے ہی اپنے ذہنوں اور تحریروں کے ذریعے کرتے رہے اور اس طرح سے اس کی حفاظت کرتے رہے کہ اس میں کسی قسم کے تغیر و تبدل تبدیلی و تحریف حذف و اضافہ کا امکان ہی باقی نہ رہے یہی وجہ ہے کہ اس مقدس اور آسمانی کتاب میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہو سکی اور اس طرح نبوتوں کی تجدید کے اسباب میں سے ایک سبب تو بالکل ہی ختم ہو گیا۔

۲ ۔ گذشتہ ادوار میں بشریت اپنی صلاحیت اور فکری قابلیت کے اعتبار سے اس بات پر قادر نہیں تھی کہ اپنی زندگی کے لئے مکمل طور پر کوئی آئین اور لائحہ عمل مرتب کر سکے جس کی راہنمائی میں وہ اپنے سفر کو جاری رکھ سکے اس لئے ضروری تھا کہ مرحلہ بہ مرحلہ اور منزل بہ منزل اس کی رہنمائی کی جاتی رہے اور ایک یا کئی رہبر و رہنما ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں۔

لیکن حضرت خاتم الانبیاء کے مبارک دور میں اور اس کے بعد قوت و توانائی جو کلی اور مکمل لائحہ عمل مرتب کر سکے انسان کو حاصل ہو چکی تھی لہٰذا مرحلہ بہ مرحلہ اور منزل بہ منزل والا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی اور اس کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔ شریعتوں کی تجدید کا سبب مذکورہ بالا اسباب کے علاوہ یہ بھی تھا کہ انسان اس بات پر قادر نہیں تھا کہ اپنے واسطے کوئی مکمل اور جامع پروگرام بنا سکے اور جب یہ قوت و طاقت اور صلاحیت اس میں پیدا ہو گی تو مکمل اور جامع پروگرام تیار کرنے کا کام خود اس کے اختیار میں دے دیا گیا اور نبوتوں اور شریعتوں کی تجدید کا یہ دوسرا سبب بھی ختم ہو گیا۔ امت کے علماء ماہر اور سپیشلسٹ ہونے کی بناء پر اسلام کے پیش کردہ مکمل و جامع لائحہ عمل اور ضابطہ حیات سے استفادہ کرتے ہوئے آئین اور دستورالعمل کی ترتیب و تدوین کر کے بشریت کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

۳ ۔ پیغمبروں کی کثیر تعداد دین کی مبلغ تھی نہ کہ صاحب شریعت بلکہ صاحب شریعت پیغمبروں کی تعداد شاید ایک ہاتھ کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ نہیں ہے۔ مبلغ کی حیثیت سے آنے والے پیغمبروں کا کام اس شریعت کی تبلیغ و ترویج اور تفسیر کرنا اور اسے نافذ کرنا تھا جو ان کے زمانے کے افراد کے درمیان موجود تھی۔ اس خاتمیت کے دور میں کہ جو عصر علم و دانش ہے علمائے اسلام اس بات پر قادر ہیں کہ اسلام کے عمومی اصولوں کی معرفت اور زمان و مکان کی شرائط سے واقفیت اور آگاہی حاصل کر کے ان عمومی اصولوں کو زمان و مکان کے تقاضوں سے احکام الٰہی کا استخراج و استنباط کریں۔ اسی عمل کا نام اجتہاد ہے اور امت اسلامی کے لائق و قابل علماء مبلغ کی حیثیت سے آنے والے انبیاء ۱ کے بہت سے فرائض اور صاحب شریعت انبیاء ۱ کے کچھ فرائض اپنی طرف سے کوئی شریعت لائے بغیر عمل اجتہاد کے ذریعے امت کی رہنمائی کے خاص فریضے کو انجام دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے جہاں دین کی ضرورت ہمیشگی حیثیت کی حامل ہے بلکہ بشریت جس قدر تہذیب و تمدن اور ترقی و کمال کی منزلیں طے کرتی جاتی ہے دین کی احتیاج اور زیادہ ہو جاتی ہے وہاں نبوت و شریعت کی تجدید اور کسی جدید آسمانی کتاب یا نئے پیغمبر کے آنے کی ضرورت بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو گی اور نبوت کا سلسلہ بھی۔

(ختم نبوت کی مفصل بحث کیلئے مولف کی کتاب ”ختم نبوت“ کا مطالعہ کریں)

اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ختم نبوت میں بشر کی اجتماعی اور فکری بلوغت اور پختگی کا نہایت اہم کردار رہا ہے اور اس کردار کے کئی پہلو ہیں:

۱ ۔ فکری اور اجتماعی بلوغت نے آسمانی کتاب کو تحریف سے محفوظ رکھا ہے۔

۲ ۔ یہ فکری رشد اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ انسان نے اپنے ارتقائی پروگرام کو منزل بہ منزل کے بجائے ایک ہی مرحلے میں اپنی تحویل میں لے لیا اور اس سے استفادہ کیا۔

۳ ۔ اجتماعی اور فکری پختگی اور سمجھداری اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ دین کو برقرار کرے اور اس کی ترویج و تبلیغ امربالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض کی ذمہ داری قبول کرے۔ اس سے مبلغ کی حیثیت سے آنے والے پیغمبروں کی ضرورت ختم ہو گئی اور اب اس ضرورت کو امت کے علماء پورا کرتے ہیں۔

۴ ۔ بشریت اپنی فکری پختگی کے لحاظ سے اس منزل پر پہنچ گئی کہ وہ اجتہاد کی روشنی میں کلیات وحی کی توجیہ و تفسیر کر سکے اور زمان و مکان کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہر مسئلے کو اس سے متعلقہ اصول کی طرف موڑ سکے۔ اس اہم کام کو بھی امت کے علماء انجام دے رہے ہیں۔

معلوم ہوا کہ ختم نبوت کے معنی یہ نہیں کہ اب انسان کو وحی کے ذریعے سے پہنچنے والی الٰہی اور تبلیغی تعلیم کی ضرورت نہیں رہی اور چونکہ انسان کو اس فطری بلوغ کی وجہ سے ان تعلیمات کی ضرورت نہیں رہی اس لئے نبوت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ جدید وحی اور جدید نبی و رسول کی ضرورت نہیں نہ کہ الٰہی دین اور اس کی تعلیمات کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔

مشہور و عظیم اسلامی مفکر علامہ اقبال اسلامی مسائل میں اپنی تمام تر نکتہ چینیوں اور دقت نظر (جن سے ہم نے اس کتاب اور دوسری کتابوں میں بہت زیادہ استفادہ کیا ہے) کے باوجود فلسفہ ختم نبوت کی توجیہ و تفسیر میں سخت اشتباہ سے دوچار ہوئے ہیں۔ موصوف نے اس بحث کی بنیاد چند اصولوں پر رکھی ہے:

۱ ۔ وحی:

اس کے لغوی معنی ”آہستہ اور رازدارانہ انداز میں بات کرنا“ ہیں۔ اس لفظ کا قرآن مجید میں وسیع مفہوم ہے جو مرموز اور خفیہ ہدایتوں کی بہت سی قسموں پر محیط ہے اور جو جماد نباتات اور حیوان کی ہدایت سے لے کر انسان تک کی ہدایت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس کے بارے میں علامہ اقبال کہتے ہیں: اصول وجود کے ساتھ یہ اتصال کسی طرح بھی صرف انسان کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ قرآن میں لفظ وحی کا طریقہ استعمال یہ بتاتا ہے کہ یہ کتاب اس ”وحی“ کو زندگی کی ایک خاصیت جانتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی شکل اور خاصیت زندگی کے ارتقاء کے مرحلوں کے مطابق مختلف ہوتی ہے وہ گھاس جو کسی جگہ پر اگتی ہے اور آزادی کے ساتھ نشوونما پاتی ہے وہ جانور جو زندگی کے نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ایک نئے عضو کا حامل ہوتا ہے اور وہ انسان جو زندگی کی اندرونی گہرائیوں میں ایک نئی روشنی کر لیتا ہے۔ یہ سب کے سب وحی کے مختلف حالات کے نمائندے ہیں جو وحی کو قبول کرنے والی ظرفیت و صلاحیت کی ضرورتوں کے مطابق یا ان نوعی ضرورتوں کے مطابق جن سے وہ ظرف تعلق رکھتا ہے مختلف و گوناگوں شکلوں میں نمایاں ہوتی ہے۔

(احیاء فکر دینی در اسلام ص ۱۴۴ ۱۴۵)

۲ ۔ وحی جبلی قوت جیسی ایک چیز ہے اور وحی کی ہدایت جبلی ہدایت جیسی چیز ہے۔

۳ ۔ وحی طبیعت انسان کی ہدایت کا نام ہے یعنی انسانی معاشرہ اس اعتبار سے کہ وہ ایک وحدت ہے اور مخصوص راستہ اور حرکت کے قوانین رکھتا ہے اس لئے اس بات کا محتاج ہے کہ اس کی ہدایت کی جائے نبی وہ وصول کرنے والا آلہ ( Receiver ) ہے جو جبلی طور پر ان پیغامات کو جن کی احتیاج نوع بشر کو ہے حاصل کر لیتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:

”حیات جہانی ایک نور کی صورت میں اپنی حاجتوں کو دیکھتی ہے اور ایک بحری لحظے میں اپنی سمت کو معین کر لیتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہم دین کی زبان میں پیغمبر تک وحی کا پہنچنا“ کہتے ہیں۔“

(احیاء فکر دینی در اسلام ص ۱۶۸)

۴ ۔ تمام جاندار اپنے وجود کی ابتدائی منزلوں میں (جبلی قوت کے ذریعے ہدایت پاتے ہیں اور جیسے جیسے ترقی و تکامل کے درجوں میں بلند ہوتے جاتے ہیں اور احساس تخیل اور سوچنے کی قوت ان کے اندر زیادہ ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے ان کی جبلی قوت ان کی جانشین ہوتی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے حشرات سب سے زیادہ اور سب سے قوی جبلتیں رکھتے ہیں اور انسان سب سے کمتر جبلی قوتوں کے حامل ہوتے ہیں۔

۵ ۔ انسانی معاشرہ اجتماعی لحاظ سے ایک ترقی پذیر معاشرہ ہے اور راہ کمال پر گامزن ہے اور جس طرح ابتدائی مراحل میں حیوانات جبلی شعور کے محتاج ہوتے ہیں اور جوں جوں احساس و تخیل اور کبھی فکر کی قوت ان کے اندر بڑھتی جاتی ہے اسی طرح فکری اور حسی ہدایتیں جبلی شعور کی جانشین ہوتی جاتی ہیں۔ انسانی معاشرہ بھی اپنے تکاملی سفر میں اس منزل پر پہنچ گیا جہاں تعقل اور سوچنے سمجھنے کی قوت کی رشد و پختگی اس کے اندر پائی گئی اور یہی امر جبلی شعور و قوت (وحی) کے ضعف اور کم تری کا سبب بن گیا ہے۔ علامہ موصوف کہتے ہیں: ”بشریت کے دور طفلی میں روحانی طاقت ایک چیز کو ظاہر کرتی ہے جس کو میں ”پیغمبرانہ خود آگاہی“ کا نام دیتا ہوں تیار شدہ احکام بزرگوں کے فیصلوں اور تجربے سے حاصل شدہ منتخبات کی پیروی سے انسان اپنی انفرادی فکر اور راہ زندگی کے انتخاب میں تضیع اوقات سے بچتا ہے لیکن عقل کے کامل ہونے اور اس میں تنقیدی قوت کے پیدا ہو جانے کے بعد زندگی اپنے فائدے کے لئے اس قسم کی خود آگاہی کو نشوونما دینے کے لئے پہلے مرحلے کی روحانی طاقت (وحی) کو روک دیتی ہے۔ انسان پہلے خواہشات اور جبلی قوت کا محکوم و مطیع ہوتا ہے۔ استدلال کرنے والی عقل و جو ماحول پر اس کے مسلط ہونے کا واحد سبب ہے بجائے خود ایک ترقی و پیش رفت ہے اور چونکہ عقل وجود میں آئی تو چاہئے کہ معرفت کی دوسری شکلوں (جبلی شعور اور رہنمائی) کو روک کر اسے تقویت پہنچائیں۔

(احیاء فکر دینی در اسلام ص ۱۴۵)

۶ ۔ دنیائے بشریت دو بنیادی ادوار پر مشتمل ہے: ایک وحی کی رہنمائی کا زمانہ دوسرا عالم طبیعت اور تاریخ میں عقل و فکری رہنمائی کا زمانہ اگرچہ قدیم دنیا میں فلسفے کے چند مکتب (جیسے یونان اور روم) موجود تھے لیکن ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی اور انسانیت ابھی دور طفلیت سے گزر رہی تھی علامہ اقبال کہتے ہیں:

”اس میں کوئی شک نہیں کہ قدیم دنیا جس میں انسان موجودہ حالت کے مقابلے میں ابتدائی دور کی زندگی رکھتا تھا اور کم و بیش و ہم و تخیل کا تابع تھا اگرچہ اس نے چند فلسفی مکتب قائم کر لئے تھے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قدیم دنیا میں فلسفی نظریات کا قائم کرنا محض فکر و نظر کا کام تھا کیوں کہ اس وقت تک انسان مبہم دینی عقائد اور رائج سنتوں اور طریقوں سے آگے نہ بڑھ سکا تھا اور زندگی کے عینی اور حقیقی حالات کے بارے میں کوئی قابل اعتماد نظریہ ہمارے لئے مہیا نہیں کر سکا تھا۔“(احیاء فکر دینی در اسلام ص ۱۴۵)

۷ ۔ پیغمبر اکرم جن پر نبوت کا خاتمہ ہوا کا تعلق دنیائے قدیم سے بھی تھا اور دنیائے جدید سے بھی۔ اپنے سرچشمہ ہدایت یعنی وحی (نہ کہ طبیعت و تاریخ کے تجرباتی مطالعے) کے لحاظ سے قدیم دنیا سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی روحانی تعلیمات کے اعتبار سے یعنی طبیعت و تاریخ کے مطالعے عقل و فکر کی دعوت کے لحاظ سے جس کے پیدا ہونے کے بعد وحی کا کام تمام ہو جاتا ہے جدید دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ علامہ موصوف کہتے ہیں:

”پس جب مسئلہ وحی پر اس نقطہ نگاہ سے غور کیا جائے تو کہنا چاہئے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم قدیم اور جدید دنیا کے درمیان کھڑے ہیں جہاں تک آنحضرت کا رابطہ الہامی سرچشمے سے ہے تو اس لحاظ سے آپ کا تعلق قدیم دنیا سے ہے اور جہاں تک آپ کی روح ہدایت کا تعلق ہے تو اس لحاظ سے آپ جدید دنیا سے متعلق ہیں- زندگی نے آپ کے اندر معرفت کے نئے سرچشمے آشکار کئے۔(طبیعت اور تاریخ کے مطالعے کے ذریعے معرفت) جو آج کی جدید روش زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اسلام اور عقل کا ظہور ایک استقرائی دلیل ہے۔ ظہور اسلام کے ساتھ خود رسالت کے ختم ہو جانے کی ضرورت آشکار ہو جانے کے نتیجے میں رسالت بھی اپنے حد کمال کو پہنچ جاتی ہے اور یہ چیز خود اس امر کا بین ثبوت ہے کہ زندگی ہمیشہ مرحلہ طفلی اور خارج سے رہبری کی سطح پر نہیں رہ سکتی۔ اسلام میں غیب گوئی اور میراثی حکومت کو غلط اور باطل قرار دینا عقل کی طرف مستقل توجہ اور قرآن سے تجربہ حاصل کرنا اور اس کتاب میں عالم طبیعت اور تاریخ کو انسانی معرفت کے سرچشمے کے عنوان سے جو اہمیت دی گئی ہے یہ سب دور رسالت کے خاتمے کی مختلف علامتیں ہیں۔“

یہ ہیں علامہ اقبال کی نظر میں فلسفہ نبوت کے ارکان و اصول ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ فلسفہ قابل اعتراض ہے اور اس کے بہت سے اصول غیر صحیح ہیں۔ پہلا اعتراض جو اس فلسفے پر وارد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر اس فلسفے کو درست مان لیا جائے تو نہ صرف یہ کہ مزید کسی وحی اور نبی کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ وحی کی رہنمائی کی بھی قطعاً ضرورت نہیں رہتی کیوں کہ تجرباتی عقل کی ہدایت وحی کی ہدایت کی جگہ لے چکی ہے۔ اگرچہ یہ فلسفہ صحیح ہو تو پھر یہ فلسفہ دین کے خاتمے کا فلسفہ ہے نہ کہ ختم نبوت کا۔ (اس فلسفے کی رو سے وحی اسلام کا کام صرف یہ اعلان کرنا ہے کہ دین کے دور کا خاتمہ اور عقل و علم کے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ نظریہ نہ صرف اسلام کے ایک ضروری امر کے خلاف ہے بلکہ خود اقبال کے نظریے کا مخالف ہے کیوں کہ اقبال کی تمام تر کوششیں اس امر پر صرف ہوئی ہیں کہ علم و عقل انسانی معاشرے کے لئے لازم ہیں لیکن کافی نہیں ہیں۔ انسان دین اور مذہبی ایمان کا اتنا ہی نیازمند ہے جتنا سائنس کا۔

علامہ اقبال خود صراحتاً کہتے ہیں کہ زندگی ثابت اصولوں اور بدلتے رہنے والے فرد کی محتاج ہے اور اسلام میں اجتہاد کا کام اصول پر فروع کا منطبق کرنا ہے۔

موصوف کہتے ہیں:

”اس نئی تہذیب و ثقافت (اسلامی ثقافت) نے عالمی وحدت کی بنیاد اصول توحید پر رکھی ہے۔ اسلام نظام حکومت کے عنوان سے اس امر کے لئے ایک عملی ذریعہ ہے بلکہ اصول توحید کو نوع بشر کی عقلی اور باہمی زندگی میں ایک زندہ عامل و سبب قرار دیتا ہے۔ اسلام خدا کے ساتھ وفادار رہنے کا مطالبہ کرتا ہے نہ کہ عالم اور استبدادی حکومت کے ساتھ وفادار رہنے کا۔ چونکہ خدا ہی پر زندگی کی آخری روحانی بنیاد ہے لہٰذا خدا سے وفاداری عملاً خود آدمی کی مثالی طبیعت(یعنی خواہش آرزو اور مطلوبہ کمال کی جستجو کی طبیعت) سے وفاداری ہے۔ وہ معاشرہ جو حقیقت کے ایسے تصور پر قائم ہوا ہو اسے چاہئے کہ اپنی زندگی میں ”ابدیت“ اور ”تغیر“ دونوں مقولوں کے درمیان آپس میں ہم آہنگی پیدا کرے۔ اسی طرح اپنی اجتماعی زندگی کو منظم کرنے کے واسطے اپنے لئے ابدی اصول رکھتا ہو کیوں کہ جو چیز بھی ابدی اور دائمی ہے وہ اس دائمی تغیر پذیر دنیا میں ہمارے واسطے مستحکم بنیادیں مہیا کرتی ہے لیکن جب ابدی اصولوں کے معنی یہ سمجھے جائیں کہ وہ ہر تغیر و تبدل کے مخالف ہیں یعنی اس چیز سے معارض ہیں جسے قرآن خدا کی ایک عظیم ترین نشانی قرار دیتا ہے تو اس وقت وہ اس کا سبب بنیں گے کہ جو چیز ذاتاً متحرک ہے اسے حرکت سے روک دیں سیاسی و اجتماعی علوم میں یورپ کی شکست پہلے اصول(یعنی ہر قسم کے ابدی اصول کی نفی اور زندگی کے بنیادی اصول کی ابدیت سے انکار) کو مجسم کر دیتی ہے اور ان آخری پانچ سو ( ۵۰۰) برسوں میں اسلام کی بے حرکتی دوسرے اصول(اصول حرکت و تغیر سے انکار اور ابدیت پر اعتقاد) اسلام میں حرکت کا اصول کیا ہے؟ یہ وہی اصول ہے جسے اصول اجتہاد کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔“

(احیائے فکر دینی در اسلام ص ۱۶۸ ۱۲۹)

مذکورہ بالا بیان کے مطابق وحی کی رہنمائی کی ضرورت ہمیشہ باقی ہے اور تجرباتی عقل کی رہنمائی وحی کی رہنمائی کا بدل نہیں ہو سکتی۔ خود اقبال بھی ہدایت و رہنمائی کی دائمی احتیاج کی بقاء کے سو فی صد حامی ہیں لیکن انہوں نے ختم نبوت کے لئے جو فلسفہ بیان کیا ہے اس کا لازمہ یہ ہے کہ جدید وحی اور جدید رسالت کی احتیاج ہی نہیں بلکہ ہدایت کی بھی احتیاج ختم ہو جائے اور درحقیقت اس فلسفے کی رو سے نہ صرف نبوت کا سلسلہ ختم ہوتا ہے بلکہ دین بھی ختم ہو جاتا ہے۔

ختم نبوت کے بارے میں اقبال کی اشتباہ آمیز توجیہ اس امر کا سبب بنی ہے کہ ان کی بحث و گفتگو سے یہ غلط نتیجہ نکالا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ ختم نبوت کا دور یعنی وحی سے انسان کی بے نیازی کا دور آن پہنچا ہے اور انسان کے لئے پیغمبروں کی تعلیم و تربیت کی ضرورت بچے کے لئے کلاس کے استاد کی مانند ہے۔ جس طرح بچہ ہر سال اوپر والی کلاس میں جاتا ہے تو اس کا استاد بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف زمانوں سے ہوتا ہوا ایک بالاتر مرحلے میں قدم رکھ چکا ہے اور اس کے لئے قانون و شریعت تبدیل ہو چکی ہے جس طرح بچہ آخری کلاس میں پہنچتا ہے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ لیتا ہے اور اس کے بعد اپنے ٹیچر اور استاد کی مدد کے بغیر اپنی تحقیقات کو جاری رکھتا ہے اسی طرح انسان نے بھی ختم نبوت کے اعلان کے ساتھ ہی اپنی تعلیم مکمل کرنے کا سر ۱ ٹیفکیٹ لے لیا اور جدید تعلیم کے حصول سے بے نیاز ہو گیا۔ بغیر کسی مدد کے بذات خود طبیعت و تاریخ کا مطالعہ شروع کر دیا اور اجتہاد کا مطلب بھی یہی ہے۔ پس ختم نبوت سے مراد انسان کا خود کفائی تک پہنچنا ہے بلاشک ختم نبوت کے سلسلے میں اس قسم کی تفسیر غلط ہے۔ ختم نبوت کی اس قسم کی تفاسیر ایسے نتائج کی حامل ہیں جو نہ تو اقبال کے لئے قابل قبول ہیں اور نہ ہی ان کے لئے جنہوں نے اقبال کی تحریر سے اس قسم کے نتائج اخذ کئے ہیں۔

ثانیاً اگر اقبال کا نظریہ درست ہو تو عقل تجربی کے پیدا ہونے کے بعد جس کو اقبال ”درونی تجربے“ کا نام دیتا ہے (اولیاء اللہ کے مکاشفات) کا بھی خاتمہ ہو جائے کیوں کہ فرض یہ ہے کہ یہ امور ایک قسم کے فطری شعور کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور عقل تجربی کے ساتھ فطری شعور کا مرحلہ ختم ہوتا ہے حالانکہ خود اقبال کی تصریح کے مطابق باطنی تجربہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور اسلام کی نظر میں باطنی و اندرونی تجربہ معرفت کے تین سرچشموں میں سے ایک ہے۔(بقیہ دو سرچشمے طبیعت اور تاریخ ہیں)

اقبال ۱ شخصی طور پر شدید عرفانی میلان رکھتے ہیں اور معنوی الہامات کے زبردست حامی ہیں وہ کہتے ہیں:

”یہ فکر اس معنی میں نہیں ہے کہ ”باطنی تجربے“ کی کہ جو کیفیت کے لحاظ سے پیغمبرانہ تجربے سے مختلف نہیں ہے حیاتی واقعیت کا جو سلسلہ تھا وہ منقطع ہو گیا۔ قرآن ”انفس“ یعنی خود اور ”آفاق“ یعنی جہان (دنیا) کو علم و معرفت کا سرچشمہ سمجھتا ہے۔ خداوند عالم اپنی نشانیوں کو اندرونی تجربے میں بھی ظاہر کرتا ہے اور بیرونی تجربے میں بھی اور آدمی کا فرض یہ ہے کہ تجربے کی تمام علامتوں کی معرفت کو عدالت کے حضور میں فیصلہ کے لئے رکھے۔ خاتمیت کو اس معنی میں نہیں لینا چاہئے کہ زندگی کی آخری اور حتمی سرنوشت عواطف کی جگہ پر عقل کا کامل جانشین ہو جانا ہے ایسی چیز نہ تو ممکن ہے اور نہ وہ مطلوب ہے۔ اس فکر و نظر کی عاقلانہ قدر و قیمت اس امر میں ہے کہ یہ باطنی تجربے کے مقابلے میں ایک مستقل پرکھنے والی طاقت پیدا کرتی ہے اور یہ امر اس عقیدے سے حاصل ہوتا ہے کہ اشخاص کے مافوق الطبیعت سے اتصال کے دعوے کا اعتبار انسانی تاریخ میں ختم ہو چکا ہے___ اس بناء پر اب باطنی اور عارفانہ تجربے پر چاہے وہ جتنا بھی غیر معمولی اور غیر معروف ہو ایک مکمل طبیعی اور قدرتی تجربے کے زاویے سے نگاہ ڈالی جائے اور انسانی تجربے کی دوسری نشانیوں کی مانند اس کو تنقیدی نظر سے بحث و نظر کا موضوع قرار دیا جائے۔“(احیاء فکر دینی در اسلام ص ۱۴۶ ۱۴۷)

اقبال کا اپنی گفتگو کے آخری حصے میں مقصود یہ ہے کہ نبوت کے ختم ہو جانے کے ساتھ الہامات اور اولیاء اللہ کے مکاشفات و کرامات ختم نہیں ہو گئے ہیں۔ البتہ ان کا گذشتہ اعتبار ختم ہو گیا ہے۔ ماضی میں جب کہ ابھی تجربی عقل پیدا نہیں ہوئی تھی تو معجزہ و کرامت ایک مکمل طبیعی اور قابل قبول اور شک و شبہ سے خالی و عاری سند ہوا کرتی تھی لیکن پختہ فکر اور عقلی کمال کے حامل انسان کے واسطے (دور خاتمیت کے انسان کے لئے) یہ امور اب کوئی حجت اور سندیت نہیں رکھتے لہٰذا ہر واقعے کی طرح انہیں بھی عقلانی تجربے کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئے۔

خاتمیت سے قبل کا زمانہ معجزہ و کرامات کا زمانہ تھا یعنی معجزہ و کرامات عقل کو اپنے زیراثر رکھتے تھے لیکن خاتمیت کا زمانہ عقل کا زمانہ ہے۔ عقل کرامت کے مشاہدے کو کسی چیز کی دلیل نہیں مانتی مگر یہ کہ وہ اپنے معیاروں کے ساتھ الہام کے ذریعے کسی کشف شدہ حقیقت کی صحت و اعتبار کو ظاہر کرے اقبال کی گفتگو کا یہ حضہ بھی دور خاتمیت سے پہلے کے لحاظ سے بھی اور دور خاتمیت کے بعد کے لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہے ہم بعد میں معجزے اور خاتمیت کے عنوان سے اس پر روشنی ڈالیں گے۔

ثالثاً یہ کہ علامہ اقبال وحی کو فطری قوت کی ایک قسم سمجھتے ہیں جو غلط ہے اور یہی نظریہ ان کے دیگر اشتباہات کا موجب بنا ہے فطری قوت یا فطری شعور جس طرح کہ اقبال خود اس طرف متوجہ ہیں ایک سو فیصد طبیعی (غیر اکتسابی) ناآگہانہ اور حس و عقل کے مقابلہ میں بہت پست اور معمولی ہے جس کو قانون خلقت نے حیوان (حشرات یا ان سے بھی نچلے درجے کے حیوانات) کے وجود کے ابتدائی مرحلوں میں بھی ودیعت کیا ہے جو بالاتر درجے (حس و عقل) کی ہدایتوں کی رشد و نمو کے ساتھ کمزور پڑ جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے لہٰذا انسان جو فکری اعتبار سے حیوانات میں سب سے زیادہ بے نیاز ہے فطری شعور کے اعتبار سے حیوانات میں سب سے زیادہ کمزور ہے لیکن اس کے برعکس وحی حس و عقل کی رہنمائی سے بالاتر اور کسی حد تک اکتسابی ہے اور وحی کی آگاہی اور علم بدرجہ اولی حس و عقل کی آگاہی اور بصیرت سے بالاتر ہے اور وہ معلومات جو وحی کے ذریعے سے کشف و آشکار ہوتی ہیں عقل تجربی کی معلومات سے بے حد وسیع اور بہت ہی عمیق ہیں۔ ہم (مکتب اور آئیڈیالوجی کے حصے میں) یہ ثابت کر چکے ہیں کہ انسان کی تمام انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں اجتماعی رابطوں کی پیچیدگیوں اور ارتقائی رفتار کی انتہا معین نہ ہونے کے باوجود ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ جس چیز کو اجتماعی مفکروں اور فلسفیوں نے آئیڈیالوجی کے نام سے پیش کیا ہے وہ گمراہی اور انسان کی شکست کے سوا کچھ نہیں۔ آئیڈیالوجی کے لحاظ سے انسان کے لئے ایک راستے سے زیادہ نہیں ہے اور وہ وحی سے حاصل شدہ آئیڈیالوجی ہے اور اگر وحی کی آئیڈیالوجی کو قبول نہ کریں تو ہمیں قبول کر لینا چاہئے کہ انسان کے پاس کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہے۔

آج کل کے مفکرین یہ یقین رکھتے ہیں کہ بشر کے آئندہ سفر کی راہ معین کرنا انسانی آئیڈیالوجی کی شکل میں صرف منزل بہ منزل کی شکل میں ممکن ہے یعنی صرف یہی صورت ممکن ہے کہ ہر منزل پر بعد والی منزل کی راہ معین کی جائے لیکن جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ اس منزل کے بعد والی منزلیں کہاں ہیں اور سب سے آخری منزل کیا اور کہاں ہو گی؟ کچھ نہیں معلوم۔ ایسے اجتماعی نظریوں کا نتیجہ اور انجام بھی معلوم ہے۔

اے کاش علامہ اقبال جو عرفا کے آثار کا کم و بیش مطالعہ کر چکے ہیں اور مولانا روم کی مثنوی سے انہیں خاص طور پر انس ہے ان کتابوں کا ذرا غور سے مطالعہ کرتے تو ختم نبوت کے لئے بہتر سرمایہ تحقیق حاصل کر سکتے۔ عرفا اس نکتے تک پہنچ گئے ہیں کہ نبوت کا سلسلہ اس حیثیت سے ختم ہوا کہ انسان کے تمام انفرادی و اجتماعی مراحل و منازل اور وہ راستہ جس پر انسان کو چلنا چاہئے سب ایک جگہ آشکار ہیں اور اب اس کے بعد انسان آئیڈیالوجی کے لحاظ سے جو چیز بھی کشف کرے گا وہ ان مراحل اور راستوں سے زیادہ نہیں ہو گا جو آشکار ہو چکے ہیں اور وہ انہی کی پیروی کرنے پر مجبور ہے۔

الخاتم من ختم المراتب باسرها

خاتم وہ شخص ہوتا ہے جس نے تمام مراتب و درجات کو طے کر لیا ہو اور کسی مرحلے اور منزل کو طے کرنا باقی نہ چھوڑا ہو یہ ہے ختم نبوت کا معیار نہ کہ معاشرے کی عقل تجربی کی پختگی علامہ اقبال اگر ان مردان خدا کے آثار پر غور و فکر کرتے جن کے وہ عقیدت مند ہیں تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ وحی فطری شعور نہیں ہے بلکہ وہ ایک روح اور حیات ہے جو عقلانی روح و حیات سے بالاتر و بلند تر ہے۔

مولانا روم کہتے ہیں:

غیر فہم جان کہ در گاو و خراست

آدمی را عقل و جانی دیگر است

”انسان کی عقل اور روح گائے اور گدھے میں موجود فہم اور روح سے مختلف ہے۔“

باز غیر عقل و جان آدمی

ھست جانی در نبی و در ولی

”پھر انسان کی عقل و روح سے مختلف وہ روح ہے جو نبی اور ولی کو عطا ہوتی ہے۔“

جسم ظاہر روح مخفی آمدہ است

جسم ہم چون آستین جان ہم چون دست

”جسم ظاہر ہوتا ہے اور روح مخفی ہوتی ہے جسم آستین کی طرح ظاہر ہوتا ہے اور روح (آستین کے اندر چھپے ہوئے) ہاتھ کی طرح مخفی ہوتی ہے۔“

باز عقل از روح مخفی تربوز

حس بسوی روح زودتر رہ برد

”پھر عقل ہے جو روح سے بھی زیادہ مخفی ہوتی ہے اور حس (عقل کی بہ نسبت) روح کا ادراک جلدی کر لیتی ہے۔

روح وحی از عقل پنہان تر بود

زانکہ او غیب است و او زان سر بود

”پھر وحی کی روح عقل سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوتی ہے اس لئے کہ وہ غیبی چیز ہے اور عقل تو انسان کے سر میں ہوتی ہے۔“

عقل احمد از کسی پنہان نشد

روح و حیش مدرک ہر جان نشد

”احمد مجتبیٰ کی عقل کسی سے پوشیدہ اور مخفی نہیں تھی لیکن آنحضرت کی وحی کی روح کو ہر شخص نہیں سمجھ سکا۔“

روح وحی را مناسبھا است نیز

درنیابد عقل کان آمد عزیز

”وحی کی روح کے لئے کچھ مناسبات اور بھی ہیں لیکن عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی۔“

لوح محفوظ است و را پیشوا

ازچہ محفوظ است؟ محفوظ از خطا

”لوح محفوظ کے ذریعے اس وحی کی رہنمائی ہوتی ہے لوح محفوظ کس چیز سے محفوظ ہے وہ خطا سے محفوظ ہے۔“

نی نجوم است ونہ رمل است نہ خواب

وحی حق واللہ اعلم بالصواب

”وحی نہ تو علم نجوم سے متعلق ہے نہ علم رمل ہے اور نہ خواب ہے پس وہ حق تعالیٰ کی وحی ہے اور (اس کے بارے میں) اللہ ہی صحیح علم رکھتا ہے۔“

چوتھا اعتراض یہ ہے کہ علامہ اقبال اپنے مذکورہ فلسفے میں اسی طرح اشتباہ سے دوچار ہوئے ہیں جس طرح سے مغربی دنیا ہوئی ہے یعنی سائنس کو ایمان کا جانشین بنانا۔ بلاشک علامہ اقبال سائنس کی جانشینی کے نظریے کے سخت مخالف ہیں لیکن فلسفہ ختم نبوت میں انہوں نے جو راستہ اپنایا ہے وہ اسی نتیجہ تک پہنچتا ہے اقبال وحی کی تعریف فطری قسم کی چیز سے کرتے ہیں اور اس امر کے مدعی ہیں کہ کارخانہ عقل و فکر کے کام شروع کر دینے کے بعد جبلت اور فطری شعور کا فریضہ انجام کو پہنچ جاتا ہے اور خود جبلت خاموش ہو جاتی ہے یہ بات صحیح تھی مگر اس صورت میں جب کہ عقل و فکر اسی کام کو شروع کرتی جس کو طبیعت و جبلت انجام دیتی تھی لیکن اگر ہم یہ فرض کریں کہ جبلت کا فریضہ کچھ اور ہے اور عقل و فکر کا کچھ اور تو پھر اس کی کوئی دلیل نہیں کہ عقل و فکر کے مشغول کار ہو جانے کے ساتھ ہی جبلت اور فطری شعور کا کام ختم ہو جائے۔

پس اگر بالفرض ہم وحی کو ایک قسم کی جبلت اور فطری شعور سمجھیں اور یہ مان لیں کہ اس کا کام ایک قسم کا تصور کائنات اور اجتماعی مسلک کا پیش کرنا ہے جس کا امکان عقل و فکر کے ہاں نہیں ہے تو پھر بھی اس امر کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ بقول (خود اقبال ) عقل برہان استقرائی کی پختگی کے ساتھ ہی جبلت کا کام ختم ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال شہرت و بلندی علمی کمال اور اسلام کا درد رکھنے کے باوجود اس لحاظ سے کہ ان کی تہذیب ایک مغربی تہذیب ہے اور اسلامی تہذیب ان کی ثانوی تہذیب ہے یعنی انہوں نے اپنی تمام تعلیم مغربی مضامین میں حاصل کی ہے اور اسلامی تہذیب میں خاص کر فتنہ و عرفان اور بس تھوڑا بہت فلسفہ کا مطالعہ ہے لہٰذا بعض جگہ زبردست اشتباہ کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم نے ”اصول فلسفہ و روش ریالزم“ کے مقدمہ میں اقبال کی اس کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اسی وجہ سے سید جمال الدین اسد آبادی سے ان کا موازنہ کرنا صحیح نہیں ہے ایک تو سید جمال الدین اپنے ذاتی فضل و کمال کے لحاظ سے بھی ایک قدآور اور مضبوط شخصیت ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اصلی تعلیم اسلامی تھی اور مغربی تعلیم اور ثقافت ثانوی حیثیت رکھتی تھی اس کے علاوہ مرحوم سید جمال الدین نے اسلامی ملکوں کے دورے کئے تھے اور بہت ہی قریب سے ان ملکوں کے سیاسی و اجتماعی حالات کا مطالعہ کیا تھا لیکن اقبال کو یہ سب خصوصیات حاصل نہ تھیں اسی وجہ سے سید جمال الدین اقبال کی طرح بعض اسلامی ممالک (مثلاً ایران اور ترکی) کے واقعات کے سلسلے میں کسی صورت میں بھی اشتباہ کا شکار نہیں ہوئے۔


معجزئہ ختمی مرتبت

قرآن کریم حضرت ختمی مرتبت کا ہمیشہ زندہ رہنے والا معجزہ ہے۔ حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت یحییٰ جیسے گذشتہ انبیاء کی اعجاز نمائی کا موضوع‘ جن کے پاس آسمانی کتاب بھی تھی اور معجزہ بھی‘ ان کتابوں سے مختلف تھا مثلاً شعلہ ور آگ کا ٹھنڈک اور سلامتی میں بدل جانا یا خشک لکڑی کا اژدھا بن جانا یا مردوں کو زندہ کرنا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان معجزات میں سے ہر ایک وقتی و عارضی اور جلد ختم ہو جانے والا تھا‘ مگر حضرت خاتم الانبیاء کے معجزہ کا موضوع خود حضرت کی لائی ہوئی کتاب ”قرآن مجید“ ہے۔ حضرت کی کتاب ایک ہی وقت میں کتاب بھی ہے اور آپ کی رسالت کی دلیل بھی اور اسی دلیل کی بنیاد پر دیگر معجزات کے برخلاف خاتمیت زندہ جاوید ہے نہ کہ عارضی اور جلد ختم ہو جانے والا۔

حضرت خاتم الانبیاء کے معجزے کا نوع کتاب سے ہونا ایک ایسی چیز ہے‘ جو آنحضرت کے عصر و زمانے سے جو علم و دانش‘ تہذیب و تمدن اور علم و معارف کی ترقی اور پیش رفت کا زمانہ ہے‘ مناسب رکھتی ہے اور یہ ترقی اس بات کا امکان فراہم کرتی ہے کہ اس کتاب کے بہت سے اعجازی پہلو تدریجاً روشن ہوں‘ جو پہلے ظاہر نہیں ہوئے تھے‘ جیسا کہ اس کا جاویدانی ہونا‘ آپ کے ہمیشگی پیغام اور رسالت سے مناسبت رکھتا ہے کہ جو ہمیشہ باقی اور ناقابل نسخ ہے۔

قرآن کریم نے اپنے معجزانہ اور فوق بشریت پہلو کی خبر اپنی چند آیتوں میں صریحاً دی ہے۔(مثلاً قرآن کی یہ آیت: ان کنتم فی ریب ممانزلنا علی عبدنما فاتو ابسورة من مثلہ(بقرہ/ ۲۳) اگر تم لوگ اس چیز کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے شک و تردد میں مبتلا ہو‘ تو تم اس جیسی ایک سورہ ہی بنا لاؤ۔) جیسا کہ قرآن نے اپنے علاوہ خاتم الانبیاء کے دوسرے معجزات کے واقع ہونے کی تصریح کی ہے۔

قرآن کریم میں معجزات سے متعلق بہت سے مسائل بیان ہوتے ہیں‘ جیسے پیغمبران الٰہی کی رسالت کا معجزے کے ساتھ ہونے کی ضرورت اور یہ کہ معجزہ ”بینہ“ اور دلیل قاطع ہے اور یہ کہ انبیاء و رسل معجزے کو خدا کے اذن و اجازت سے پیش کرتے ہیں اور یہ کہ پیغمبران خدا اسی حد تک معجزہ پیش کرتے ہیں جو ان کے قول کی صداقت و سچائی کی دلیل و نشانی ہو۔ وہ حضرات اس کے پابند نہیں ہیں کہ لوگوں کی بے سوچی سمجھی خواہشات کی متابعت کریں اور لوگوں کی منشا کے مطابق معجزات دکھاتے رہیں اور جو شخص جس وقت اور جس روز معجزے کا مطالبہ کرے‘ اسے فوراً قبول کر لیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ پیغمبروں نے معجزے کی نمائش گاہ قائم نہیں کی ہے اور معجزہ سازی کا کارخانہ نہیں کھول رکھا ہے اور بھی اسی طرح کے مسائل ہیں‘ جو قرآن میں موجود ہیں۔

قرآن کریم نے جس طرح ان مسائل کو پیش کیا ہے‘ اسی طرح بہت سے پیغمبران ماسبق جیسے حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت لوط حضرت صالح حضرت ہود حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے معجزات کو بھی پوری صداقت کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کی صحت کی گواہی دی ہے‘ جس کی کسی بھی صورت میں تاویل نہیں ہو سکتی۔

بہت سے مستشرقین اور عیسائی علماء نے ایسی چند آیتوں کو جن کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن نے مشرکین کے ان کی خواہش کے مطابق معجزہ کے مطالبے پر منفی جواب دیا ہے‘ انہی آیتوں کو بطور سند پیش کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ پیغمبر اسلام لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میں قرآن کے سوا کوئی دوسرا معجزہ نہیں رکھتا۔ اگر تم قرآن کو بطور معجزہ قبول کرتے ہو‘ تو بہتر ہے ورنہ میرے پاس کوئی دوسرا معجزہ نہیں ہے‘ بعض ”روشن فکر“ اور اہل قلم مسلمان مورخین نے بھی حال ہی میں اسی نظریے کو قبول کر لیا ہے اور اس کی توجیہ اس شکل سے کی ہے کہ معجزہ قانع کنندہ دلیل ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو فکری اور عقلی لحاظ سے بالغ و رشید نہ ہوں اور جو اس قسم کے حیرت انگیز امور کی تلاش میں رہتے ہیں‘ لیکن بالغ و رشید اور پختہ عقل والا انسان اس طرح کے امور کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور اسے تو منطق سے سروکار ہوتا ہے‘ پیغمبر اسلام ۱ کا منطق و عقل کا دور ہے نہ کہ توہمات اور ذہنی تخیلات کا (اسی لئے) پیغمبر اسلام نے بہ اذن خدا قرآن مجید کے علاوہ ہر قسم کے معجزے کی درخواست قبول کرنے سے انکار فرمایا۔ وہ لوگ کہتے ہیں:

”گذشتہ انبیاء کا معجزات اور غیر معمولی امور سے مدد لینا لازم و ضروری اور ناگزیر تھا‘ کیوں کہ اس دور میں ان حضرات کا عقلی دلیلوں کے ذریعے رہنمائی کرنا بے حد دشوار بلکہ محال تھا___ پیغمبر اسلام کے ظہور کے زمانے میں انسانی معاشرہ طفلی دور کو بہت پیچھے چھوڑ کر فکری بلوغ کے دور میں قدم رکھ رہا تھا۔ کل تک جو بچہ اپنی ماں کا محتاج تھا تاکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھ سکے‘ اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی عقل استعمال کر سکتا ہے___

پیغمبر اسلام کا یہ عمل بغیر دلیل و حکمت نہیں تھا کہ مفکرین و معاندین آپ سے معجزات پیش کرنے پر اصرار کرتے‘ لیکن آپ ان کی دعوت کا مثبت جواب نہیں دیتے بلکہ اپنی دعوت کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے عقلی و تجرباتی اور تاریخی شواہد کے ذریعے استدلال کرنے پر زور دیتے ہیں‘ مفکرین کے اس تمام اصرار و ہٹ دھرمی کے باوجود پیغمبر اسلام ایسے معجزات (جیسے انبیائے ماسلف پیش کیا کرتے تھے) پیش کرنے سے بہ اذن خدا اجتناب کرتے تھے اور انکار فرما دیتے تھے اور صرف قرآن پر (ایسے معجزے کی حیثیت سے جس کی نظیر نہیں مل سکتی) اکتفا فرماتے تھے۔ حضرت خاتم الانبیاء کا معجزہ قرآن مجید رسالت کی خاتمیت کی بھی دلیل ہے۔ یہ وہ کتاب ہے‘ جو عالم خلقت کے حقائق اور تمام جہات میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ زندگی کی تعلیمات اور رہنمائیوں پر مشتمل ہے۔ ایک ایسا معجزہ ہے‘ جو بالغ و رشید انسان کے لئے مفید ہے نہ کہ اس بچے کے لئے جو اوہام اور ذہنی تخیلات کا پابند ہو۔“(ڈاکٹر حبیب اللہ پائدار: فلسفہ تاریخ از نظر قرآن‘ ص ۱۵‘ ۱۶)

اور بعض کہتے ہیں:

”وہ فضا جس میں گذشتہ انسان سانس لیتا رہا ہے‘ ہمیشہ خرافات اور موہومات اور خوارق عادات سے بھری رہی ہے اور سوائے اس چیز کے جو عقل و ادراک کے خلاف ہو‘ اس کے ذہن میں اثر ہی نہیں کرتی‘ یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ میں بشریت کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ”اعجاز“ کی تلاش و جستجو میں مصروف اور ”غیب“ کی شیفتہ اور دلک دادہ رہی ہے۔ یہ حساسیت ہر چیز کے بارے میں جو عقل و شعور میں نہ آنے والی ہو‘ ان انسانوں میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے‘ جو تمدن سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ”طبیعت“ سے جتنے زیادہ نزدیک ہیں‘ اتنے ہی زیادہ ”ماورائے طبیعت“ کے مشتاق رہتے ہیں اور بے ہودگی اسی حقیقت کی معیوب اولاد ہے‘ صحرائی انسان ہمیشہ ”معجزہ“ کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس کی دنیا حیرت انگیز ارواح و اسرار سے بھری ہوئی ہے___ گذشتہ انسان کی روح فقط اس وقت متاثر ہوتی تھی‘ جب اس کی نگاہوں کے سامنے کوئی تعجب خیز امر واقع ہو رہا ہو‘ جس کو وہ رمز و راز سے پر‘ سحر انگیز اور مبہم چیز سمجھتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف تمام پیغمبر بلکہ تمام بادشاہ‘ تمام طاقت ور اور ہر قوم کے حکماء اپنے افکار و اعمال کی توجیہ عجیب و غریب اور غیر معمولی امور سے کرتے رہے ہیں اور اس میں پیغمبروں کا گروہ جن کی رسالت کی بنیاد ہی ”غیب“ پر رکھی گئی ہے‘ انہیں دوسروں سے زیادہ ضرورت تھی کہ معجزے سے کام لیں کیوں کہ ان کے زمانے کے لوگوں کے ایمان میں ”اعجاز“، منطق و علم اور محسوس و مسلم اور عینی حقیقت سے زیادہ کارآمد تھا‘ لیکن حضرت محمد کی بات اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہے‘ وہ معاشرہ جس کے ترقی یافتہ اور سب سے بڑے تجارتی شہر میں صرف سات آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور ”خاندانی فخر‘ شمشیرزنی‘ سرمایہ‘ دولت‘ اونٹ اور اولاد (وہ بھی لڑکے)“ کے سوا کچھ سوچتے ہی نہیں تھے‘ ایسے معاشرہ میں آپ کتاب کو اپنے معجزے کے طور پیش کرتے ہیں۔ یہ بات خود ایک معجزہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں ایسی کتاب جہاں تاریخ کتاب کے کسی ایک نسخہ کا بھی سراغ نہیں دیتی‘ اس کا خدا ”روشنائی‘ قلم“ اور ”تحریر“ کی قسم کھاتا ہے‘ ایسی قوم جو قلم کو چند بدحال‘ عاجز اور بے افتخار افراد کا وسیلہ سمجھتی ہے۔ یہ خود ایک معجزہ ہے‘ جس کو ہمیشہ دیکھا جا سکتا ہے اور ہر روز اس اعجاز آمیز پہلو کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور یہ وہ تنہا معجزہ ہے‘ جس کو دوسرے معجزات کے برخلاف عقلمند اور دانشمند انسان اور ہر وہ معاشرہ جو زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ متمدن ہو‘ وہ سب اس کے اعجاز کو زیادہ درست‘ زیادہ صحیح اور زیادہ عمیق پائیں گے۔“ یہ کتاب وہ اکیلا معجزہ ہے‘ جس پر اعتقاد رکھنا صرف امور غیبی ہی کے معتقدین پر منحصر نہیں ہے بلکہ ہر مفکر اس کے اعجاز کا معترف ہے۔ یہ وہ تنہا معجزہ ہے‘ جو نہ صرف عوام کے لئے بلکہ روشن فکروں کے لئے بھی ہے___ وہ تنہا معجزہ ہے‘ جو دوسرے معجزات کے برخلاف اپنے دیکھنے والوں میں پائی جانے والی تعجب اور اعجاز کی حس کو بیدار نہیں کرتی‘ ایک رسالت کو قبول کرنے کے واسطے صرف ایک مقدمہ اور وسیلہ نہیں ہے بلکہ اس پر یقین کرنے اور ایمان لانے والوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہے۔ یہ خود قبول کرنے کا مقصد ہے‘ خود رسالت ہے اور بالآخر حضرت محمد کا یہ معجزہ غیر بشری امور سے نہیں ہے اگرچہ ایک غیر بشری عمل ہے اور اس لحاظ سے گذشتہ انبیاء کے معجزات کے برخلاف جو لوگوں کے یقین کرنے کے واسطے صرف ایک عامل و سبب کے طور پر کام میں لائے جاتے رہے (وہ بھی چند گنے چنے افراد کے لئے جو انہیں دیکھتے تھے) اور اس کے علاوہ ان معجزات کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

محمد کا معجزہ بلند ترین انسانی استعداد و صلاحیت کی نوع سے ہے اور انسان کے لئے بلند ترین نمونہ کار اور دستورالعمل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ ایسا دستورالعمل جو ہمیشہ اس کے قبضہ اختیار میں ہے۔ محمد ۱ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی تلاش و جستجو کا رخ غیر عادی امور‘ کرامات اور خوارق عادات سے موڑ کر عقلی و منطقی علمی و طبیعی اور اجتماعی و اخلاقی مسائل کی طرف موڑ دیں اور ”عجائب و غرائب“ کے سلسلے میں ان کی حساسیت کو ہٹا کر ”واقعات و حقائق“ کی طرف موڑ دیں اور یہ کوشش کوئی معمولی چیز نہیں ہے‘ وہ بھی ایسے لوگوں کے ساتھ جو غیر طبیعی چیزوں کے سوا کسی چیز کے سامنے جھکنا اور کسی کو ماننا جانتے ہی نہیں‘ پھر مزید برآں ایسے شخص کے ذریعے جو اپنے آپ کو ان کے درمیان پیغمبر کہتا ہے۔ اپنے کو پیغمبر بتانا اور لوگوں کو اپنی خدائی رسالت کی طرف دعوت دینا اور عین اسی حالت میں باقاعدہ طور پر یہ اعتراف کرنا کہ میں ”غیب کی خبر نہیں رکھتا“ تعجب میں ڈال دینے والا کام ہے اور آپ کی انسانی قدر و منزلت کے علاوہ جو چیز بہت زیادہ جذبات کو ابھارتی ہے‘ وہ آپ کی غیر معمولی سچائی ہے‘ جس کا احساس آپ کے کام میں ہوتا ہے اور جو ہر دل کو تقدیس کے لئے اور ہر فکر کو تعظیم اور تحسین و تعریف پر آمادہ کرتا ہے۔

آپ سے پوچھتے ہیں‘ اگر آپ پیغمبر ہیں تو مال تجارت کا نرخ (بازار کے بھاؤ) ہمیں بتا دیں تاکہ ہم اپنی تجارت میں نفع حاصل کر سکیں‘ قرآن آپ کو حکم دیتا ہے کہ تم کہہ دوِ کہ میں اپنی ذات کے لئے نہ نفع کا مالک ہوں اور نہ نقصان کا‘ سوائے اس کے کہ جو اللہ کو منظور ہو۔ اگر میں غیب کی خبر رکھتا‘ تو بہت زیادہ نیکیاں کرتا اور کوئی شر مجھے چھو بھی نہ سکتا‘ میں تو ان لوگوں کے لئے جو اایمان رکھتے ہیں‘ فقط ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

( سورہ اعراف‘ ۱۸۸)

لیکن جو پیغمبر غیب دان و غیب گو نہ ہو اور جو روحوں‘ پریوں اور جنات سے گفتگو نہ کرے اور روزانہ جس سے کوئی کرامت ظاہر نہ ہو‘ وہ صحرائی لوگوں کی نظر میں کیا حقیقت و اہمیت رکھ سکتا ہے۔ محمد انہیں کائنات کے بارے میں غور و فکر‘ طہارت‘ دوستی‘ علم‘ وفا اور آدمی کے وجود اور زندگی اور قسمت و انجام کے معنی سمجھنے کی طرف بلاتے ہیں اور وہ لوگ آپ سے پے در پے معجزہ طلب کرتے ہیں اور غیب گوئی اور کرامت کی خواہش کرتے ہیں اور خدا آپ ہی کی زبان سے ایسے لہجہ میں کہ گویا ایسے کام کی آپ سے ہرگز ہرگز توقع اور امید نہیں رکھی جا سکتی‘ فرماتا ہے:

( سبحان ربی هل کنت الابشرا رسولا

) (ڈاکٹر علی شریعتی‘ اسلام شناسی‘ ص ۵۰۲ ۔ ۵۰۶)

سبحان اللہِ کیا میں ایک بھیجے ہوئے بشر کے سوا (کچھ اور) ہوں۔ اس گروہ نے جن زیادہ تر آیات کو بطور سند اختیار ہے۔ وہ سورہ اسرا ء کی آیات ۹۰ ۔ ۹۳ ہیں‘ جن میں ارشاد خداوندی ہے:

وقالو الن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا او تکون لک جنة من نخیل و عنب فتفجر الانهار خلا لها تفجیرا او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا او تآتی باللّٰه و الملائکة قبیلا اویکون لک بیت من زخرف اوتآتی فی السماء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتابا نقرؤه قل سبحان ربی هل کنت الابشرا رسولا

”وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کی تصدیق نہیں کریں گے‘ جب تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دیں یا آپ کے پاس خرما اور انگور کا کوئی باغ نہ ہو‘ جس میں آپ نہریں جاری کر دیں یا جیسا کہ آپ گمان کرتے ہیں‘ ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نہ گرا دیں یا خدا اور ملائکہ کو ہمارے روبرو حاضر نہ کر دیں یا آپ کے پاس سونے کا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر نہ چڑھ جائیں اور آپ کے آسمان پر پہنچ جانے پر ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک کہ آپ ہم پر آسمان سے کوئی خط نہ نازل کر دیں‘ جس کو ہم پڑھیں۔ اے رسول آپ ان کو کہہ دیجئے کہ پاک و منزل ہے میرا پروردگار‘ کیا میں ایک بھیجے ہوئے بشر کے علاوہ (کچھ اور) ہوں۔“

یہ لوگ (بعض روشن فکر مسلمان مورخین) کہتے ہیں کہ یہ آیتیں ظاہر کرتی ہیں کہ مشرکین پیغمبر سے قرآن کے علاوہ کوئی اور معجزہ چاہتے تھے اور پیغمبر ایسا معجزہ پیش کرنے سے اجتناب اور انکار کرتے تھے۔ اوپر جن مطالب کا ہم نے تذکرہ کیا ہے ان میں سے بعض کی خاص کر جو مطالب دوسرے معجزات کی بہ نسبت قرآن کے معجزہ ہونے کی خصوصیت کو اجاگر کرتے ہیں‘ تائید کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان تمام نظریات کی تائید نہیں کر سکتے۔ ہماری نظر میں جو مسائل قابل بحث ہیں‘ وہ حسب ذیل ہیں:

۱ ۔ پیغمبر اسلام کے پاس قرآن مجید کے علاوہ کوئی دوسرا معجزہ نہیں تھا اور قرآن کے علاوہ کوئی دوسرا معجزہ طلب کرنے والوں کے اصرار کے باوجود ان کی بات کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اسراء کی آیات اس امر کی دلیل ہیں۔

۲ ۔ معجزہ ہونے کی قدر و قیمت اور افادیت کتنی ہے؟ آیا معجزہ اور خارق عادت کا تعلق ایسی چیز سے تھا‘ جو انسان کے عہد طفلی کے دور سے جب کہ عقل و منطق کارآمد نہیں تھی‘ مناسبت رکھتی تھی اور ہر شخص یہاں تک کہ کئی بادشاہ ان امور کے ذریعے اپنے اعمال و کردار کی توجیہ کرتے رہے ہیں۔ پیغمبران خدا بھی مجبور تھے کہ انہیں امور کے ذریعے اپنی تعلیمات حقہ کی توجیہ کریں اور لوگوں کو مطمئن کریں۔ پیغمبر اسلام جن کا معجزہ کتاب ہے‘ اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں۔ آنحضرت نے کتاب اور درحقیقت عمل و منطق کے ذریعے اپنے کو پہچنوایا۔

غیر قرآنی معجزہ

کیا پیغمبر اسلام قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں رکھتے تھے؟ یہ مسئلہ جہاں تاریخ و سنت حدیث متواتر کے لحاظ سے ناقابل قبول ہے‘ وہاں نص قرآن کے بھی خلاف ہے۔ معجزہ شق القمر کا ذکر ہے خود قرآن میں آیا ہے۔ بالفرض اگر کوئی چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی توجیہ و تاویل کرے (اگرچہ اس واقعہ کی تاویل نہیں کی جا سکتی) تو معراج کے واقعہ اور سورہ اسراء کی توجیہ و تفسیر کیوں کر کی جا سکتی ہے۔ قرآن صاف صاف لفظوں میں کہتا ہے:

سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حوله لنریه من آیاتنا

”پاک و بے نیاز ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجدالاقصیٰ (بیت المقدس) تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔“

کیا یہ واقعہ ایک امر خارق عادت اور معجزہ نہیں ہے۔ سورہ مبارکہ تحریم میں پیغمبر خدا کا ایک راز کی بات اپنی بیوی سے کہنا اور پھر اس بیوی کا اس راز کو حضرت کی ایک دوسری بیوی سے کہہ دینےکے قصے میں آیا ہے کہ پیغمبر نے اس بیوی سے کہا کہ تو نے وہ راز دوسری بیوی سے کیوں کہا؟ پھر ان دونوں بیویوں کے درمیان جو باتیں ہوئی تھیں‘ ان کو حضرت نے دہرا دیا‘ تو اس بیوی نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ رسول اکرم نے فرمایا‘ مجھے میرے خدا نے آگاہ کر دیا۔ کیا یہ غیب کی خبر نہیں ہے؟ معجزہ نہیں ہے؟ سورہ اسراء کی آیات نمبر ۹۰ ۔ ۹۳ اور بعض دوسری اس قسم کی آیتیں جو بطور سند پیش کی جاتی ہین‘ ان کا قصہ دوسری نوعیت کا ہے‘ وہاں ”آیت“، ”نشانی“ اور ”بینہ“ (دلیل) کے معنی میں معجزہ طلب کرنے کا مسئلہ ان لوگوں کی طرف سے نہیں ہے‘ جو واقعتا تردد کی حالت میں ہوں اور ثبوت کے لئے دلیل و برہان کے خواہش مند ہوں۔ یہ آیتیں اور سورة عنکبوت کی آیت نمبر ۵۰( اس آیت پر بعد میں گفتگو کی جائے گی) مشرکوں کی خاص منطق کو معجزہ خواہی میں اور قرآن کی خاص منطق کو پیغمبروں کے معجزے کے فلسفے میں ظاہر و روشن کرتی ہیں۔

سورہ اسراء کی آیات ۹۰ ۔ ۹۳ میں مشرکوں کی بات اس طرح شروع ہوتی ہے:

( لن نومن لک___ حتی تفجر لنا___ ) یعنی ہم آپ کے فائدے کے لئے آپ پر ایمان نہیں لائیں گے اور آپ کے گروہ میں شامل نہیں ہوں گے‘ مگر یہ کہ آپ ہمارے فائدے کے لئے ہمارے سامنے اس خشک و سنگلاخ زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں (یعنی ایک طرح کا لین دین) یا درختوں سے بھرا ہوا گھنا باغ جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں یا آپ سونے سے بھرا ہوا گھر رکھتے ہوں‘ جس سے ہم بھی فائدہ حاصل کر سکیں یا آپ آسمان کا ایک ٹکڑا (جیسا کہ آپ گمان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ایسا ہو گا) ہمارے اوپر گرا دیں (یعنی عذاب اور قوت اور انجام کار نہ کہ معجزہ) یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضر کریں یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہمارے واسطے اور ہمارے نام اور فخر کے واسطے خصوصی خط بھیجیں (یہاں بھی ایک طرح کا لین دین کیا جا رہا ہے البتہ روپے پیسے کے ذریعے نہیں بلکہ فخر و مباہات کے عنوان سے‘ وہ بھی موضوع کے محال ہونے کی طرف توجہ کئے بغیر)۔

مشرکین نے یہ نہیں کہا کہ( لن نومن لک___ ) جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ جب تک فلاں معجزہ پیش نہیں کریں گے‘ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے‘ بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ لن نومن لک جس کے معنی یہ ہیں‘ ہم آپ کے فائدے کے لئے ایمان نہیں لائیں گے اور آپ کے گروہ میں شامل نہیں ہوں گے‘ یعنی ایک مصلحت آمیز تصدیق‘ عقیدے کی خرید و فروخت۔ آمن بہ اور آمن لہ میں فرق ہے‘ علمائے اصول فقہ نے سورہ توبہ کی آیت کی آیت نمبر ۶۱ جس میں رسول خدا کے بارے میں ہے کہ( یومن باللّٰه ویومن للمو ) منین سے اسی لطیف و باریک نکتے کو اخذ کیا ہے۔ مشرکین نے اس تصدیق اور مصلحت آمیز تائید کے مقابلہ میں جن چیزوں کو طلب کیا تھا‘ ان کے علاوہ ایک مطالبہ( تفجر لنا من الارض ینبوعاً ) کا تھا یعنی آپ ہمارے فائدے کے لئے ایک چشمہ جاری کر دیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ اجرت طلب کرنا ہے نہ کہ دلیل اور معجزہ طلب کرنا۔

پیغمبر ۱ کی غرض بعثت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حقیقی معنی میں مومن بنائیں نہ یہ کہ معجزے کی قیمت کے عوض لوگوں کا عقیدہ خریدیں‘ خود مولف محترم(ڈاکٹر علی شریعی مرحوم) یہ لکھتے ہیں کہ وہ لوگ پیغمبر سے کہتے تھے‘ اگر آپ پیغمبر ہیں تو منڈی کا بھاؤ ہمیں پہلے سے بتا دیا کریں تاکہ ہم اپنی تجارت میں نفع حاصل کر سکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معجزہ اور دلیل طلب کرنا کشف حقیقت کے لئے نہیں تھا بلکہ پیغمبر کو روپیہ حاصل کرنے کا وسیلہ بنانا تھا۔ ظاہر سی بات ہے پیغمبر کا جواب یہی ہو گا کہ اگر مجھے ایسی باتوں کے لئے غیب سے آگاہ کیا ہوتا‘ تو میں اس غیب دانی کو خود اپنے دنیوی کاموں کے لئے وسیلہ بناتا‘ لیکن معجزہ اور غیب دانی ان کاموں کا وسیلہ نہیں ہے۔ میں پیغمبر ہوں‘ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ مشرکین یہ گمان کرتے تھے کہ معجزہ ایسی چیز ہے‘ جو پیغمبر کے اختیار میں ہے‘ وہ جس وقت چاہیں‘ جہاں چاہیں اور جس مقصد کے لئے چاہیں‘ معجزہ دکھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ آپ سے چشمہ جاری کرنے سونے کا گھر رکھنے‘ پہلے سے قیمتوں کی خبر دینے کا مطالبہ کرتے تھے‘ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ معجزہ خود وحی کی مانند ہے‘ اس طرف سے وابستہ ہے نہ کہ اس طرف سے۔ جس طرح وحی پیغمبر ۱ کی خواہش کے تابع نہیں ہے‘ بلکہ اس طرف سے ایک فیضان ہوتا ہے‘ جو پیغمبر ۱ کو اپنے زیراثر کر لیتا ہے‘ اسی طرح معجزہ بھی اس طرف سے ایک فیضان ہے‘ جو پیغمبر کے ارادے کو اپنے زیراثر کر لیتا ہے اور پیغمبر کے ذریعے سے جاری ہوتا ہے۔

اور وحی باذن اللہ ہونے کا مطلب بھی یہی ہے اور معجزہ بھی اذن خدا سے ظاہر ہوتا ہے اور سورة عنکبوت کی آیت نمبر ۵۰ کا بھی یہی مطلب ہے‘ جس سے راہب اور علمائے مسیحی غلط فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

انما الایات عنداللّٰه و انما انا نذیر مبین

”نشانیاں اور معجزات تو خدا کے پاس ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔“

معجزے کے عنوان سے غیب کی خبر دینا بھی ایسا ہی ہے‘ یہ امر جہاں تک پیغمبر ۱ کی ذات و شخصیت سے متعلق ہے‘ آپ ۱ غیب سے بے خبر ہیں۔( قل لا اقول لکم انی ملک ولا اعلم الغیب ) ( سورہ انعام‘ آیت ۵۰) ( اے رسول ۱۱ کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں اور مجھے غیب کا علم بھی نہیں)‘ لیکن جہاں پر پیغمبر غیب اور ماورائے طبیعت کے زیراثر ہوتے ہیں‘ وہاں پوشیدہ رازوں کی خبر دیتے ہیں اور جب آپ سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے کہاں سے اور کیسے جانا تو فرماتے ہیں کہ خدائے علیم و خبیر نے مجھے خبر دی ہے۔ اگر پیغمبر یہ فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا اور اگر میں غیب دان ہوتا‘ تو بہت سی دولت اس کے ذریعے سے حاصل کر لیتا۔

( لوکنت اعلم الغیب لا استکثرت من الخیر ) ( سورہ اعراف‘ آیت ۱۸۸) اس بات سے حضرت رسول خدا مشرکوں کی بات کا منہ توڑ جواب دینا چاہتے تھے کہ میرا غیب جاننا معجزے کی حد میں ہے اور ایک خاص مقصد اور وحی الٰہی کے وسیلے سے ہے۔ اگر میری غیب دانی میرے اپنے اختیار میں ہوتی اور اسے ہر مقصد کے واسطے کام میں لایا جا سکتا اور اس کے وسیلے سے جیبیں بھرنا ممکن ہوتا‘ تو بجائے اس کے کہ تمہیں منڈی کے بھاؤ کے متعلق پیشگی خبر دیتا‘ خود میں اپنی جیب بھرتا۔ قرآن مجید میں ایک اور جگہ پر ارشاد ہوتا ہے:

عالم الغیب لا یظهر علی غیبه احدا الامن ارتضیٰ من رسول

( سورہ جن‘ آیات ۲۶‘ ۲۷)

”خداوند عالم عالم غیب کا جاننے والا ہے‘ وہ کسی کو اپنے غیب سے آگاہ نہیں کرتا‘ سوائے اس رسول کے جس کو اس کی رضا اور خوشنودی حاصل ہو۔“

یقینا رسول اکرم ان رسولوں میں سے ایک ہیں‘ جنہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر قرآن نے اپنی بہت سی آیات میں پیغمبروں کے معجزا ت کو بیان کیا ہے۔ حضرت ابراہیم کے معجزات‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے معجزات‘ اس صورت میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ جس وقت پیغمبر اسلام سے لوگ معجزہ کے طالب ہوں‘ جیسا کہ گذشتہ پیغمبروں سے لوگ معجزہ دکھانے پر اصرار کرتے تھے اور وہ پیغمبر ان کی بات قبول بھی کرتے اور معجزہ دکھا دیا کرتے تھے‘ تو پیغمبر فرمائیں سبحان اللہ! میں ایک بھیجے ہوئے بشر سے زیادہ کچھ نہیں ہوں‘ کیا وہ لوگ (مشرکین) یہ بات کہنے کا حق نہیں رکھتے تھے کہ آیا وہ سب گذشتہ انبیاء جن کے معجزات خود آپ نہایت آب و تاب کے ساتھ نقل کرتے ہیں‘ بشر نہیں تھے؟ یا پیغمبر نہ تھے؟ آیا ممکن ہے‘ کہ ایسا صریح تناقض قرآن مجید میں پایا جائے؟ آیا ممکن ہے‘ کہ مشرکین ایسے تناقض کی طرف متوجہ نہ ہوئے ہوں؟

اگر روشن فکری کی یہ منطق صحیح ہو‘ تو پیغمبر کو بجائے اس کے کہ فرمائیں‘ سبحان اللہ میں ایک بشر سے زیادہ نہیں ہوں یہ فرمانا چاہئے تھا کہ سبحان اللہ میں خاتم الرسل ہوں‘ میں دوسرے پیغمبروں کے قاعدے سے مستثنیٰ ہوں‘ مجھ سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کرو‘ جن کا مطالبہ گذشتہ پیغمبروں سے ان کی امت والے کیا کرتے تھے‘ نہ یہ کہ یہ فرمائیں کہ میں بھی ایک رسول ہوں‘ تمام رسولوں کی طرح۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین جو چیز پیغمبر سے طلب کرتے تھے‘ وہ معجزہ یعنی حقیقت کو معلوم اور یقین حاصل کرنے کی غرض سے ”آیت“ و ”بینہ“، ”نشانی و دلیل“، حقیقت کی تلاش کرنے والوں کو جس کا حق حاصل تھا کہ اس کو پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے سے طلب کرنا نہیں تھا‘ بلکہ وہ ایسی چیز تھی‘ جو عام طور سے پیغمبروں کی شان کے خلاف تھی کہ ایسی درخواستوں کو قبول کریں‘ یہی وجہ ہے جس کی بناء پر پیغمبر نے فرمایا کہ سبحان اللہ میری حیثیت ایک بشر اور رسول سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

یعنی جو چیز تم مجھ سے چاہتے ہو‘ وہ ایسی چیز نہیں ہے‘ جسے ایک حقیقت کی جستجو کرنے والا رسولوں اور پیغمبروں سے طلب کرے اور رسولوں پر اس کا مثبت جواب دینا لازم ہو‘ یہ تو ایک دوسری چیز ہے‘ یہ ایک قرارداد اور معاملہ ہے‘ یہ صرف مجھے دیکھنا اور خدا کو نہ دیکھنا ہے اور (خدا سے غافل اور بے نیاز ہو کر) مستقلاً مجھ سے کچھ مانگنا ہے‘ یہ اظہار تکبر اور خودخواہی اور دوسروں کے مقابلے میں اپنے واسطے امتیاز ثابت کرنا ہے‘ یہ امور محال کے ایک سلسلہ کا تقاضا ہے اور مجھے اس امر کا اعتراف ہے کہ عوام کی خواہش اور ان کا میلان ہمیشہ معجزہ سازی کی طرف ہوتا ہے‘ نہ صرف پیغمبروں اور اماموں کے واسطے بلکہ ہر قبر‘ ہر پتھر اور ہر درخت کے واسطے‘ لیکن کیا یہ وجہ اس امر کا سبب ہو جائے گی‘ کہ ہم پیغمبر کے لئے (سوائے قرآن کے) ہر معجزہ و کرامت کو غیر ممکن سمجھ لیں؟ اس کے علاوہ معجزات اور کرامات کے درمیان فرق ہے‘ معجزہ یعنی الٰہی دلیل و نشانی جو خدا کی طرف سے مامور ہونے کو ثابت کرنے کے لئے وجود میں آتا ہے اور دوسرے الفاظ میں اس چیلنج کے ساتھ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس کی مثل لا سکتا ہو‘ تو لائے اس کے لئے کوئی الٰہی مقصد ضروری ہے‘ اس لئے وہ چند شرطوں کے ساتھ مخصوص ہے اور کرامت بھی ایک غیر معمولی امر ہے‘ جو صرف اثر و نتیجہ ہوتا ہے‘ اس روحانی قوت اور نفس کی پاکیزگی کا جو کسی انسان کامل یا نیم کامل میں پیدا ہو جاتی ہے اور یہ کسی الٰہی مقصد کے اثبات کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ ایسے امور (جنہیں کرامت کہا جاتا ہے اور کرامت کی تعریف میں آتے ہیں) بہت زیادہ وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں‘ یہاں تک کہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک معمول کے مطابق فعل ہے اور کسی شرط سے مشروط نہیں ہے۔ معجزہ خدا کی زبان ہے‘ جو کسی شخص کی تائید کرتی ہے‘ لیکن کرامت ایسی زبان نہیں ہے۔

معجزہ کی قدر و قیمت اور افادیت

معجزے کی قدر و قیمت اور افادیت کتنی ہے؟ علمائے منطق و فلسفے نے ان مطالب کو جو کسی استدلال کے موقع پر کام میں لائے جاتے ہیں‘ ان کی قدر و قیمت کے لحاظ سے چند قسموں میں تقسیم کیا ہے‘ ان عناصر میں سے بعض برہانی اور استدلالی اہمیت رکھتے ہیں اور علمی و عقلی تردید کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتے‘ جیسے وہ عناصر جنہیں ایک ریاضی دان اپنے استدلال کے لئے استعمال کرتا ہے اور بعض کا تعلق صرف قانع کر دینے کی حد تک ہوتا ہے‘ جیسے وہ عناصر اور مواد جنہیں مقررین و خطبا اپنی تقاریر میں استعمال کرتے ہیں اور جن کی اگر موشگافی کی جائے تو بسا اوقات وہ استدلال صحیح نہیں ہوتا لیکن اگر ان میں دقت نہ کی جائے تو عملاً ایک حرکت و بیداری پیدا کرتے ہیں‘ بعض اجزاء و عناصر میں صرف جذباتی کیفیت ہوتی ہے‘ اور وہ صرف جذبات کو ابھارنے کا کام دیتے ہیں اور بعض عناصر دوسری کیفیتوں اور اہمیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔

معجزوں کی اہمیت و افادیت قرآن کی نظر میں

قرآن مجید جس طرح آثار خلقت کو ”خدا کی نشانیاں“ اور خدا کے وجود کی ناقابل تردید قطعی دلیل سمجھتا ہے‘ اسی طرح انبیاء کے معجزات کو بھی کھلی ہوئی نشانیوں کے عنوان سے بیان کرتا ہے اور انہیں ان کے پیش کرنے والوں (انبیاء ) کے دعوؤں کی سچائی پر دلیل قاطع اور عقلی و منطقی جہت شمار کرتا ہے۔

قرآن نے معجزے کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے اور پیغمبروں سے ان لوگوں کی طرف سے معجزہ طلب کرنے کو جو بغیر دلیل و شہادت کے (دعوائے نبوت) کی تصدیق کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے‘ معقول و منطقی قرار دیا ہے اور پیغمبروں کی طرف سے نشانی اور دلیل طلب کرنے کی حد میں (یعنی ایسی معقول اور منطقی حد میں جو ان کی سچائی کی دلیل ہو‘ نہ کہ ان لوگوں کی خواہشات کی حد میں کہ جو پیغمبروں سے نفع کمانے یا خود کو مصروف رکھنے یا تماشا دیکھنے کی غرض سے معجزہ طلب کرتے تھے)‘ مثبت اور عملی جواب کو بڑے خوبصورت انداز میں نقل کیا ہے اور بہت سی آیتوں کو اس کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ قرآن مجید نے اس امر کی طرف معمولی سا اشارہ بھی نہیں کیا ہے کہ معجزہ صرف ان سادہ لوح‘ معمولی اور عامیانہ ذہنوں کے لئے (جو بشر کے دور طفلی سے مناسبت رکھتے ہیں) قانع اور مطمئن کرنے والی دلیل ہے بلکہ معجزے کو برہان کا نام دیا ہے۔

(ملاحظہ فرمائیں تفسیرالمیزان‘ سورہ بقرہ کی آیت ۲۳ کے ذیل میں اور کتاب وحی نبوت از آقائے تقی شریعتی‘ ص ۲۱۴)

پیغمبر کی ہدایت کا رخ

معجزہ خاتمیت اس لحاظ سے کہ کتاب ہے اور قول و بیان و علم و زبان کی صنف سے ہے‘ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ اس کتاب اعجاز کے گوشے تدریجاً اور آہستہ آہستہ زیادہ روشن ہوتے جاتے ہیں‘ آج قرآن مجید کے بہت سے تعجب خیز امور ہمارے زمانے کے لوگوں پر ظاہر اور واضح ہوئے ہیں‘ جو اس سے پہلے ظاہر نہیں تھے اور یہ بات کل تک ممکن بھی نہیں تھی‘ قرآن مجید کو دانش ور طبقہ عام لوگوں سے بہتر سمجھتا ہے۔ اسی لحاظ سے حضرت رسول خدا کا معجزہ کتاب کی نوع سے قرار دیا گیا ہے تاکہ یہ دور خاتمیت سے مناسب رکھتا ہو‘ لیکن___

کیا یہ معجزہ اس لحاظ سے کتاب کی نوع سے قرار دیا ہے کہ ضمناً انسان کو غیب و شہود کی طرف‘ نامعقول سے عقلی و منطقی امور کی طرف اور ماورائے طبیعت سے طبیعت کی طرف رہنمائی کرے؟ کیا حضرت محمد ۱ کی یہ کوشش تھی کہ لوگوں کی تلاش و جستجو کا رخ غیر عادی امور اور کرامات و خوارق عادات کی طرف سے عقلی و منطقی‘ علمی و طبیعی‘ اجتماعی و اخلاقی امور کی طرف موڑ دیں اور عجیب و غریب امور کے سلسلے میں ان کی دلچسپی کو واقعات و حقائق کی طرف موڑ دیں۔

ظاہراً معلوم نہیں ہوتا کہ یہ نظریہ صحیح ہو اور اگر یہ نظریہ صحیح ہو‘ تو ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ تمام انبیاء غیب کی طرف دعوت دیتے تھے اور محمد ۱ محسوس اور ظاہری چیزوں کی طرف دعوت دیتے تھے لیکن پھر قرآن کریم کی سینکڑوں آیتیں انہیں ”عجیب و غریب امور“ کے ساتھ کیوں مخضوص کی گئی ہیں‘ بے شک قرآن کا ایک بنیادی امتیاز آیات الٰہی ہونے کے اعتبار سے عالم شہادت و طبیعت کے مطالعے کی دعوت دینا بھی ہے‘ لیکن طبیعت کے مطالعے کی دعوت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ذہنوں کو ہر غیر طبیعی امر کی طرف سے موڑ دیا جائے‘ بلکہ اس کے برعکس آیات اور نشانیوں کی حیثیت سے طبیعت کے مطالعے کی دعوت دینا طبیعت سے ماورائے طبیعت کی طرف عبور کرنے کے معنی میں ہے۔ قرآن کی نظر میں غیب کا راستہ عالم شہود سے‘ ماورائے طبیعت کار استہ طبیعت سے اور معقولات کا راستہ محسوسات سے ہو کر گذرتا ہے۔

حضرت محمد کے کام کی اہمیت اس میں ہے کہ جس طرح آپ طبیعت‘ تاریخ اور معاشرے میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اور ان لوگوں کو جو غیر طبیعی امور کے سوا کسی بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے‘ عقل و منطق اور علم کے ذریعے دین کا تابع و مطیع بناتے ہیں۔ اسی طرح آپ کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی قوت فکر کو بھی جو عقل و منطق کا دم بھرتے ہیں اور عقلی و طبیعی و محسوس چیزوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں مانتے ایک برتر و بلند تر منطق سے آشنا کریں۔ اس دنیا و مافیا کے متعلق جو نظریہ عمومی طور پر مذہب اور بالخصوص اسلام پیش کرتا ہے‘ اس کو ان نظریات کے مقابلے میں جس کو انسانی علوم اور خالص فلسفے پیش کرتے ہیں‘ جو بنیادی امتیاز حاصل ہے‘ وہ یہ ہے کہ بقول ولیم جیمز مذہبی نظریات میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں‘ جو مادی عناصر کے علاوہ ہیں اور ان میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں‘ جو انسانی معاشرے کے جانے پہچانے قوانین سے مختلف ہیں‘ قرآن نہیں چاہتا کہ طبیعت و محسوسات کی طرف توجہ کو ماورائے طبیعت اور غیر محسوس امور کا جانشین بنا دے۔ قرآن کی اہمیت اسی میں ہے کہ کائناتی مطالعے کی طرف خاص توجہ کے باوجود (جسے قرآن میں ”شہادت“ سے تعبیر کیا گیا ہے) غیب پر ایمان لانے کو اپنی دعوت میں سرفہرست قرار دیا ہے۔

الم‘ ذالک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین الذین یومنون بالغیب

( سورہ بقرہ‘ آیت ۱ ۔ ۳)

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قرآن ان امور سے لوگوں کو منحرف کرنے کی فکر میں ہو‘ جب کہ وہ خود بھی ”عجیب و غریب امور“ سے ہے یعنی معجزہ ہے‘ اس کے علاوہ اس نے ایک سو سے زیادہ آیات ”انہی عجیب و غریب امور“ سے متعلق پیش کی ہیں‘ میری سمجھ میں اس جملے کے معنی نہیں آتے کہ کتاب خدا وہ واحد و تنہا معجزہ ہے‘ جس کا اعتقاد محض امور غیبی کے معتقدین پر منحصر نہیں ہے‘ کیا اور کیسا اعتقاد؟ کیا یہ اعتقاد کہ یہ ایک کتاب ہے؟ اور بہترین مطالب پر مشتمل ہے؟ یا یہ عقیدہ کہ یہ معجزہ ہے؟ کسی چیز کے الٰہی دلیل ہونے کے معنی میں معجزہ ہونے پر ایمان غیب پر ایمان کے مساوی ہے‘ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص بیک وقت غیب پر ایمان بھی رکھتا ہو اور اس سے عاری بھی ہو؟

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”محمد کا معجزہ غیر بشری امور کی صنف سے نہیں ہے‘ اگرچہ ایک غیر بشری فعل ہے۔“ اس جملے کے معنی بھی میرے لئے مبہم ہی ہیں اور اس کی تفسیر دو طرح سے کی جا سکتی ہے‘ ایک یہ کہ محمد کا معجزہ (قرآن) اس بناء پر کہ وحی ہے نہ کہ خود آنحضرت کا قول پس ایک غیر بشری عمل ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں وہ قول بشری نہیں ہے بلکہ قول خدا ہے‘ وہاں امور بشری سے بھی ہے اور ایک ایسا عادی کام ہے‘ جو بشری کاموں کے مترادف ہے‘ میرے خیال میں یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ جملہ کا مطلب یہ ہو (جو بیان کیا گیا) کیوں کہ اس صورت میں قرآن کو دوسری آسمانی کتابوں کے مقابلے میں کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے‘ اس وجہ سے کہ وہ تمام کتابیں مبدائے وحی سے صادر ہوئی ہیں‘ لہٰذا غیر بشری فعل ہے‘ لیکن اس لحاظ سے کہ کوئی غیر معمولی پہلو نہیں رکھتیں غیر بشری امور سے نہیں ہیں‘ جیسا کہ ہمارے پاس کچھ ایسے کلمات ہیں‘ جو احادیث قدسیہ کے نام سے مشہور ہیں اور عین وہ بھی کلام خدا ہیں‘ جو وحی و الہام کئے گئے ہیں‘ لیکن ان کا تعلق غیر بشری امور سے نہیں ہے۔

قرآن مجید کو تمام آسمانی کتابوں اور احادیث قدسیہ پر جو امتیاز حاصل ہے‘ وہ اسی وجہ سے ہے کہ یہ ایک غیر بشری امر بھی ہے‘ یعنی وحی ہے اور غیر بشری امور سے بھی ہے‘ یعنی اعجاز اور قدرت مافوق البشر کی حد میں ہے‘ اسی لئے قرآن کہتا ہے:

( قل لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان یا تو ابمثل هذا القرآن لا یاتون بمثله ولو کان بعضهم لبعض ظهیرا ) ( سورہ اسراء‘ آیت ۸۸)

”اے رسول کہہ دو اگر تمام جن و انس اس بات کے لئے جمع ہو جائیں کہ اس قرآن کی مثل بنا لائیں‘ تو وہ اس کی مثل نہ لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار اور پشت پناہ بھی ہوں۔“

اس جملے کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت محمد کا معجزہ‘ سابقہ تمام انبیاء کے معجزات جیسے عصا کو اژدھا بنا دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا کہ جن کا تعلق بشری فعل کی نوعیت سے نہیں ہے‘ کے برخلاف بشری کاموں کی نوع سے ہے کیوں کہ اس کا تعلق کلام و بیان و علم اور کلچر سے ہے‘ لیکن اس کے باوجود ایک غیر بشری عمل اور فعل ہے‘ یعنی بشری طاقت سے باہر ہے‘ اس کا سرچشمہ ایک غیبی اور ماورائے طبیعی طاقت ہے‘ اگر مقصود یہ ہو‘ اور یہی ہونا بھی چاہئے تو یہ خود غیب کا‘ ماورائے طبیعت کا‘ خارق العادت کا اور بالآخر ان تمام چیزوں کا اقرار و اعتراف ہے‘ جنہیں عجیب و غریب امور کہا جاتا ہے‘ پھر کیوں شروع سے ہم معجزے اور خارق عادت امور کو خرافات و نامعقول امور کی مانند سمجھیں۔ کیا ہمیں شروع سے ہی معجزے اور غیر معمولی فعل کے حساب کو خرافات و اوہام کے حساب سے جدا رکھنا نہیں چاہئے تھا تاکہ ناواقف اور کم علم افراد ان تعبیرات سے کچھ اور نہ سمجھیں‘ جو ہمارا مقصد بھی نہیں ہے اور بنیادی طور پر ”پیغمبر اسلام کی کتاب معجزہ ہے“ جیسی مشہور تعبیر کو بدل کر ہم یہ کیوں کہیں کہ ”پیغمبر کا معجزہ کتاب ہے“ تاکہ نامناسب تعبیر و تفسیر کرنے کی گنجائش پیدا ہو۔

اسی محترم دانش ور کا ایک مقالہ تہران یونیورسٹی کے شعبہ ادبیات کے رسالہ ”فلق“ میں قرآن اور کمپیوٹر کے زیرعنوان شائع ہوا تھا‘ جس کو مسئلہ اعجاز کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کی تصحیح اور ان کے غور و فکر کی تدریجی ترقی و ارتقاء کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔

اس مقالے میں قرآن مجید کے الفاظ کو کمپیوٹر کی علامتوں سے بدلنے اور قرآن کی حقیقتوں کے کشف و اظہار کے لئے انسانی ترقی و تمدن کے اس عظیم مظہر (کمپیوٹر) سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے‘ جو درحقیقت بہت بہرمحل پیشکش ہے‘ پھر اس مقالے میں ان بعض مصری دانش وروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے‘ جنہوں نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے‘ اور اس کے ساتھ بعض ایرانی مسلمان انجینئروں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے‘ جو اس سلسلے میں کام کرنے کا ارادہ کر سکتے ہیں یا کر چکے ہیں‘ اس کے بعد ”قرآن کا اعجاز کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے“ کے عنوان سے اسی مقالے میں ایک دلچسپ بحث کی ہے اور اسی کے ضمن میں ایک نہایت اہم اور قیمتی کتاب ”سیرتحویل قرآن“ کی طرف اشارہ کیا ہے‘ جو حال ہی میں شائع ہو کر منظرعام پر آئی ہے اور اس کتاب کے بلند پایہ مولف کی گراں قدر کشف و تحقیق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ثابت کیا ہے کہ آیتوں کے چھوٹے بڑے ہونے اور رسول اکرم پر وحی شدہ کلمات میں روز بروز اضافے نے ۲۳ سال کی مدت میں ایک دقیق منظم اور خارق عادت منحنی قائم کی ہے۔

پھر خود اس طرح اضافہ کرتے ہیں:

”دنیا میں کون مقرر اور سخن ور ایسا ہے‘ جس کی عبادت کی لمبائی سے ہر جملہ کی ادائیگی کا سال معین کیا جا سکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ یہ عبارت کسی ایسی کتاب کا متن نہ ہو‘ جو ایک ادیب یا علمی شخصیت کا شاہکار ہو‘ اور جو اس کی طرف سے ایک معین وقت میں رشتہ تحریر میں لایا گیا ہو بلکہ یہ وہ کلام ہے جو ایک انسان کی پرتلاطم زندگی کے ۲۳ برسوں میں اس کی زبان پر جاری ہوا‘ خاص کر جب ایسی کتاب بھی نہ ہو‘ جو کسی خاص موضوع یا معین شدہ عنوان کے تحت تالیف کی گئی ہو بلکہ جس میں طرح طرح کے ایسے مسائل ہوں‘ جو معاشرے کی ضرورتوں کے پیش نظر اور مختلف سوالات کے جوابات کے طور پر عنوان کئے گئے ہوں‘ ایسے حوادث و واقعات یا مسائل جو ایک طویل جدوجہد کے دوران پیش آتے ہیں اور ایک رہبر و رہنما کے ذریعے سے بیان ہوتے ہیں اور پھر انہیں منظم شکل میں جمع کر لیا جاتا ہے۔

(رسالہ فلق‘ کتاب اول‘ ص ۲۵)


قرآن

قرآن کریم ہماری آسمانی کتاب اور ہمارے پیغمبر کا جاویدانی معجزہ ہے۔ یہ کتاب ۲۳ سال کی مدت میں تدریجاً ہمارے پیغمبر پر نازل ہوئی‘ قرآن کریم جو پیغمبر اکرم کی کتاب بھی ہے اور آپ کے اعجاز کا مظہر بھی‘ یہ کتاب عصائے موسیٰ اور دم عیسیٰ کے اثر سے صدہا گنا بزرگ و عظیم اثرات کی حامل ہے‘ پیغمبر اکرم لوگوں کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوت فرماتے تھے اور ان آیات کی کشش و جاذبیت لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچ لیتی تھی‘ تاریخ اسلام میں اس موضوع سے متعلق واقعات کی تعداد شمار کی حد سے باہر ہے۔ قرآن مجید ۱۱۴ سورتوں کا مجموعہ ہے اور یہ تمام سورتیں تقریباً ۲۶۰۵ آیتوں پر مشتمل ہیں اور ان تمام آیتوں میں ۷۸ ہزار کلمے ہیں۔

مسلمانوں نے صدر اسلام سے لے کر عصر حاضر تک قرآن پر بے انتہا توجہ دی ہے اور اس کے اہتمام کے سلسلے میں بے مثال دلچسپی کا ثبوت دیا ہے‘ جو قرآن کے ساتھ ان کی عقیدت کی دلیل ہے۔

قرآن کریم رسول اکرم کے مبارک زمانے ہی میں ایک جماعت کے ذریعے جسے خود حضرت رسول خدا نے ہی معین فرمایا تھا اور جو کاتبان وحی کے نام سے مشہور ہوئی‘ لکھا جاتا رہا اس کے علاوہ اکثر مسلمان مرد اور عورتیں‘ چھوٹے اور بڑے پورا قرآن یا اس کی اکثر آیتوں کے زبانی یاد کرنے سے ایک عجیب عشق رکھتے تھے‘ قرآن کو نمازوں میں بھی پڑھتے تھے اور نمازوں کے علاوہ بھی دوسرے اوقات و حالات میں اس کی تلاوت کو ثواب سمجھتے تھے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید کی تلاوت سے (روحانی) لذت حاصل کرتے تھے اور تلاوت قرآن ان کی روح کے آرام و سکون کا سرمایہ تھی۔

قرآن کیلئے مسلمانوں کی عظیم کوشش

مسلمانوں نے ہر زمانے میں اپنی آسمانی کتاب سے شوق و عشق کی بناء پر اپنے علمی و فکری وسائل کے مطابق قرآن مجید کے سلسلے میں کام کئے ہیں‘ جیسے اسے حفظ کرنا اور اپنے سینوں کے سپرد کر دینا‘ قرات و تجوید کے اساتذہ اور ماہرین کی قرات‘ معانی کی تفسیر‘ لغات کی تشریح و توضیح کے لئے مخصوص لغت کی کتابوں کی تصنیف و تالیف‘ تمام آیتوں کلموں یہاں تک کہ پورے قرآن میں جتنے حروف ہیں‘ ان کو بھی شمار کر لینا‘ یہ سب کام بڑی محنت سے کئے گئے ہیں۔ قرآن کے معانی و مطالب پر باریک بینی کے ساتھ تحقیق اور قانونی‘ اخلاقی‘ اجتماعی‘ فلسفی‘ عرفانی اور سائنسی مسائل میں قرآن مجید سے استفادہ کرنا‘ اپنے اقوال اور تحریروں کو قرآنی آیات سے زینت دینا‘ قرآنی آیات کے نفیس کتبے تیار کرنا یا چونے کے اوپر آیتوں کا لکھنا‘ ٹائلوں یا دوسری چیزوں پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو خوش خط و خوش نما خطوط اور طرز تحریر سے لکھنا‘ سنہرے حروف میں قرآن نویسی‘ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کو ہر علم سکھانے سے پہلے قرآن کی تعلیم دینا‘ قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے علم صرف و نحو کے قواعد کی ترتیب و تدوین اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے کے لئے‘ علم معانی و بیان و بدیع کی اختراع و ایجاد‘ عربی زبان کی تمام لغات کو جمع کرنا وغیرہ وغیرہ۔

اس کے علاوہ قرآن سے مسلمانوں کے عشق و محبت ہی کا نتیجہ تھا‘ جو عقلی و ادبی علوم کا ایک سلسلہ وجود میں آیا ورنہ اگر قرآن نہ ہوتا‘ تو یہ علوم بھی وجود میں نہ آتے۔

اعجاز قرآن

قرآن مجید حضرت رسول خدا کا ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے‘ مکہ میں نازل ہونے کی ابتداء ہی سے جب کہ چھوٹی چھوٹی سورتوں سے آغاز نزول ہوا‘ تو رسول اکرم نے باقاعدہ طور پر اس کا مثل و مانند لانے کے لئے کفار مکہ کو چیلنج کیا‘ یعنی آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ قرآن میرا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے یا کسی اور بشر کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس کی نظیر پیش کر سکے اور اگر تمہیں یقین نہ ہو تو اس کی آزمائش کر لو‘ لیکن یہ جان لو‘ اگر تمام جن و انس بھی ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیں‘ تاکہ اس قرآن کا مثل لے آئیں‘ تو بھی وہ اس پر قادر نہ ہوں گے۔

پیغمبر کے مخالفین نہ تو اس زمانے میں اور نہ اس کے بعد سے آج تک جس کو چودہ صدیاں گذر گئیں (بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ گذر گیا) اس چیلنج کا جواب دے سکے ہیں۔ اس زمانے کے مخالفین کا آخری جواب یہ تھا کہ یہ تو جادو ہے۔ مخالفین کا یہ الزام خود قرآن مجید کے غیر معمولی ہونے کا اعتراف اور قرآن کے مقابلے میں ان کا ایک طرح کا اظہار عاجزی ہے۔ پیغمبر اکرم کے دشمنوں نے جہاں تک ممکن تھا‘ ان کو کمزور و مغلوب کرنے کے لئے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ البتہ صرف ایک کام تھا‘ جس پر انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا‘ کیوں کہ وہ اس کام میں سو فیصد ناامید تھے‘ یعنی یہ کام وہی تھا‘ جس کا بار بار پیغمبر اسلام نے اعلانیہ طور پر چیلنج کیا تھا‘ مگر ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہیں تھا۔

خود قرآن مجید نے بھی اس امر کی تصریح کی ہے‘ یعنی قرآن کی مانند کم از کم ایک سورہ لانے کا چیلنج (اگرچہ ایک سطر کی صورت ہی ہو‘ جیسے سورہ انااعطیناک الکوثر)۔

قرآن کے معجزانہ پہلو

قرآن کریم مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے معجزہ‘ یعنی طاقت بشری سے بالاتر ہے‘ یہاں پر ہم اس کے بارے میں مختصر طور پر گفتگو کریں گے۔ قرآن کریم کا معجزہ ہونا کلی اعتبار سے دو جہات سے ہے۔ ایک لفظی دوسری معنوی‘ قرآن کا لفظی اعجاز حسن و زیبائی کی صنف سے ہے اور اس کا معنوی اعجاز علمی دنیا سے متعلق ہے‘ پس قرآن کا اعجاز ایک تو زیبائی اور ہنر کے پہلو سے ہے اور دوسرے فکری و علمی پہلو سے۔ ان دونوں پہلوؤں میں سے ہر ایک خصوصاً علمی پہلو کئی گوشوں کا حامل ہے۔

الفاظ قرآن

قرآن مجید کا اسلوب نہ شعری ہے اور نہ نثری۔ شعری اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس میں وزن اور قافیہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ شعر عام طور سے ایک شاعرانہ تخیل کے تحت وجود میں آتا ہے۔ شعر کی بنیاد یا صحت و درستی مبالغہ و افراط پر ہوتی ہے‘ جو ایک طرح کا جھوٹ ہے۔ قرآن میں نہ تو شعری تخیلات کا وجود ہے اور نہ خیالی تشبیہات کا۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن نثر بھی نہیں ہے کیوں کہ اسے جو نظم‘ آہنگ اور ایک (مخصوص انداز) موسیقی حاصل ہے‘ وہ کسی نثری کلام میں آج تک دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔ مسلمانوں نے ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت اس کے مخصوص انداز میں خوش لحنی کے ساتھ کی ہے اور کرتے ہیں‘ دینی احکام میں یہ موجود ہے کہ قرآن کریم کو اچھے انداز سے پڑھا کرو۔ آئمہ اطہار علیہم اسلام کبھی کبھی اپنے گھروں میں ایسی دلربا و دلکش آواز میں تلاوت کرتے تھے کہ اس گلی میں راستہ چلنے والے ٹھہر جاتے تھے۔ کوئی بھی نثری کلام قرآن کی طرح آہنگ نہیں رکھتا‘ وہ بھی ایسا انداز و آہنگ جو روحانی عوامل سے مناسبت رکھتا ہو نہ کہ ایسا آہنگ جو لہو و لعب کی محافل سے مناسبت رکھتا ہو۔ ریڈیو کی ایجاد کے بعد کوئی بھی روحانی کلام روحانی آوازوں کے متحمل ہونے اور دلکشی و دلربائی کے لحاظ سے قرآن کی برابری نہیں کر سکا۔ اسلامی ملکوں کے علاوہ دوسرے غیر اسلامی ملکوں نے بھی اس کے دلکش آہنگ کی وجہ سے ہی اپنے ریڈیو کے پروگراموں میں اسے جگہ دی ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا حسن صورت اور اس کی زیبائی و دلکشی نے زمان و مکان کے پردوں کو لپیٹ کر پیچھے پھینک دیا ہے۔ بہت سی باتیں اور بہت سے کلاموں کی دلکشی کسی خاص وقت اور زمانے سے مربوط ہوتی ہے‘ جو دوسرے زمانے کے ذوق سے قطعاً میل نہیں کھاتی یا وہ کلام کم از کم کسی ایک قوم و ملت کے مذاق کے مطابق ہوتا ہے‘ جو مثلاً کسی مخصوص زبان سے بہرہ مند ہوتے ہیں‘ لیکن قرآن کی زیبائی اور دلکشی نہ تو کسی زمانے سے مخصوص ہے اور نہ کسی جگہ‘ قوم و نسل اور زبان والوں سے۔ وہ تمام لوگ جو قرآن کے مفاہیم اور زبان سے آشنا ہو گئے ہیں‘ انہوں نے اس کو اپنے ذوق کے مطابق پایا ہے‘ جتنا بھی زمانہ گزرتا جاتا ہے اور جس قدر مختلف قومیں قرآن سے آشنائی حاصل کرتی جاتی ہیں‘ اتنی ہی قرآن کی خوبیوں سے متاثر اور اس کی زیبائی و دلکشی پر فریفتہ ہوتی جاتی ہیں۔

متعصب یہودیوں اور عیسائیوں اور چند دوسرے مذاہب کے ماننے والوں نے ان اسلامی چودہ صدیوں کی طویل مدت کے دوران قرآن کی عظمت و منزلت کو گھٹانے اور کمزور کرنے کے لئے طرح طرح سے مقابلے کئے ہیں اور قسم قسم کے ہتھکنڈے آزمائے ہیں۔ کبھی قرآن میں تحریف ہونے کا پروپیگنڈہ کیا‘ کبھی قرآن میں بیان شدہ بہت سے قصوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی اور کبھی دوسرے مختلف طریقوں سے قرآن کے خلاف سرگرم عمل رہے‘ لیکن کبھی انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اپنے ماہر اور تجربہ کار مقرروں اور ادیبوں سے مدد حاصل کر کے قرآن کے چیلنج کا جواب دیں اور قرآن کی مانند کم از کم چھوٹا سا ہی سورہ بنا لائیں اور دنیا والوں کے سامنے پیش کر دیں۔ اسی طرح تاریخ اسلام میں بھی بہت سے ایسے افراد پیدا ہوئے ہیں‘ جو اصطلاح میں ”زنادقہ“ یا ”ملاحدة“ کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور ان میں سے چند افراد تو غیر معمولی شہرت کے مالک تھے‘ اس گروہ نے بھی مختلف طریقوں سے دین کے خلاف عام طور پر اور قرآن کے خلاف خاص طور پر بہت سی باتیں کہیں ہیں‘ ان میں سے کئی افراد تو عربی زبان میں فن خطابت کے بادشاہ شمار کئے جاتے ہیں‘ کبھی کبھی یہ لوگ بھی قرآن کے ساتھ نزاع اور مخاصمت پر اتر آتے ہیں‘ لیکن ان سب طریقوں کا جو تنہا نتیجہ نکلا ہے‘ وہ یہ کہ انہوں نے قرآن کی عظمت کو روشن تر اور اس کے مقابلے میں اپنے کو حقیر تر ظاہر کر دیا ہے۔

تاریخ نے اس موقع پر ابن راوندی‘ ابوالعلا معری اور عرب کے نامور شاعر ابولطیب متنبی کے متعلق بہت سی کہانیاں اس بارے میں ثبت کی ہیں- یہ وہ لوگ تھے‘ جنہوں نے قرآن کو ایک بشری فعل ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

بہت سے افراد نبوت کا دعویٰ کر کے اٹھے اور انہوں نے کچھ کلام پیش کئے‘ جو ان کے خیال میں قرآن کے مشابہ تھے اور ان لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے یہ کلام بھی قرآن کی مانند ہیں اور خدا کی طرف سے ہیں ”طلیحہ“ اور ”مسیلمہ“ اور ”سجاح“ کا تعلق اسی گروہ سے ہے۔ اس گروہ نے بھی بالآخر ایک دوسری طرح سے اپنی عاجزی اور قرآن مجید کی عظمت کو واضح و روشن کیا۔

عجیب بات یہ ہے کہ خود پیغمبر کا کلام جن کی زبان مقدس پر کلام الٰہی جاری ہوا‘ قرآن سے مختلف ہے۔ پیغمبر خدا کے بہت سے کلمات‘ خطبوں‘ دعاؤں‘ مختصر جملوں اور حدیثوں کی شکل میں موجود ہیں اور فصاحت کی انتہائی بلندی پر ہیں‘ مگر کسی طرح سے بھی قرآن کا رنگ و بو اس کے اندر موجود نہیں ہے۔ یہ خود اس امر کی واضح دلیل ہے کہ قرآن اور پیغمبر کے کلام کے سرچشمے الگ الگ ہیں۔ قرآن کا منبع اور ہے اور احادیث کا منبع دوسرا ہے۔ حضرت علی تقریباً ۱۰ سال کی عمر سے قرآن سے آشنا ہیں‘ یعنی علی کا سن مبارک مذکورہ حدود میں تھا کہ قرآن کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں اور علی اس پیاسے کی طرح جو صاف و شفاف پانی تک پہنچ جائے‘ ان آیتوں کو حفظ فرما لیا کرتے تھے اور پیغمبر اکرم ۱ کی آخری عمر مبارک تک علی کا نام کاتبان وحی میں سرفہرست تھا۔ علی حافظ قرآن تھے اور ہمیشہ قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ راتوں کو جب عبادت کے لئے کھڑے ہوتے تھے‘ تو آیات قرآنی کی تلاوت سے خوش رہتے تھے۔ ان تمام چیزوں کے باوجود اگر قرآن کی بناوٹ اور ترتیب اور اس کا اندازہ تقلید کے قابل ہوتا‘ تو علی کو اس بے نظیر صلاحیت کی بناء پر جو آپ کو فصاحت و بلاغت کے میدان میں حاصل تھی اور قرآن کے بعد آپ کے کلام کی کوئی نظیر اور مثال نہیں مل سکتی‘ قرآن کے انداز بیان کے زیراثر ہونے کی بناء پر قرآن ہی کے طرز و انداز کی پیروی کرنا چاہئے تھی اور آپ کے تمام خطبے اور تمام تحریریں خود بخود آیات قرآنی کی شکل میں ڈھل جاتیں‘ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کا انداز علی کے کلام کے انداز سے مکمل طور پر مختلف اور جدا ہے۔ حضرت علی اپنے روشن اور فصیح و بلیغ خطبوں کے ضمن میں جب کبھی کوئی قرآنی آیت پیش کرتے تو وہ آپ کے کلام سے بالکل علیحدہ محسوس ہوتی‘ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بڑا ستارہ چھوٹے ستاروں کے درمیان اپنی غیر معمولی چمک دمک اور امتیازی شان کا حامل ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے ایسے موضوعات کو پیش نہیں کیا ہے‘ جو عام طور سے تقریر و خطابت میں انسان کی ہنرنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور اگر لوگ اپنی خطابت کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں تو فخر‘ مدح‘ ہجو (کسی کی مذمت کرنا)‘ مرتبہ‘ غزال اور قدرتی حسن و جمال کی تعریف و توصیف کے ذریعے اپنی تقریروں اور اپنے کلام میں خوبصورتی اور جاذبیت پیدا کرتے ہیں۔

قرآن نے نہ تو ان موضوعات کو پیش کیا ہے اور نہ ان موضوعات کے بارے میں داد سخن دی ہے۔ قرآن نے جن موضوعات کو پیش کیا ہے‘ وہ سب کے سب معنوی ہیں اور توحید‘ معاد‘ نبوت‘ اخلاق‘ احکام‘ مواعظ و نصائح اور قصوں سے عبارت ہیں اور ان سب حالات میں دلکشی و زیبائی کی اعلیٰ منزل پر پہنچا ہوا ہے۔

قرآن کریم میں کلمات کی ترتیب و تنظیم بے نظیر و بے عدیل ہے‘ آج تک کوئی شخص بھی قرآن مجید کی حسن و زیبائی پر دھبہ ڈالے بغیر قرآن کے ایک کلمے کو بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکا ہے اور نہ آج تک کوئی شخص قرآن کی نظیر لا سکا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن ایک حسین و خوش نما عمارت کی مانند ہے کہ نہ تو کوئی شخص اس میں تبدیلی اور اس کے اجزاء کو ادھر سے ادھر کر کے اس کی زیبائی و خوشنمائی میں کوئی اضافہ کر سکتا ہے اور نہ اس سے بہتر یا اس کی مانند بنا سکتا ہے۔ قرآن مجید کی بناوٹ اور اس کا اسلوب بیاں بالکل نرالہ ہے نہ تو اس سے پہلے کوئی اس کی مثال ملتی ہے اور نہ (قرآن کے تمام تر چیلنج کے باوجود) اس کے بعد ملتی ہے اور نہ ملے گی‘ یعنی نہ تو اس سے پہلے کسی نے اس اسلوب میں کوئی بات کہی اور نہ اس کے بعد کوئی شخص اس کا مثل لا سکا یا اس اسلوب کی تقلید کر سکا۔

قرآن کا چیلنج آج بھی اسی طرح پہاڑ کی مانند قائم اور اٹل ہے اور ہمیشہ اٹل رہے گا۔ آج بھی تمام اہل ایمان دنیا کے تمام لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ اس مقابلے میں شرکت کریں اور اگر آج بھی قرآن کا مثل و مانند پیدا ہو جائے‘ تو مسلمان اپنے دعوے اور ایمان سے دستبردار ہو جائیں گے لیکن انہیں اس بات پر مکمل یقین ہے کہ اس قسم کی چیز کبھی ممکن نہیں ہے۔

معانی قرآن

معانی و مطالب کے لحاظ سے قرآن کا اعجاز تفصیلی بحث کا متقاضی ہے اور کم از کم ایک الگ کتاب کا محتاج ہے۔ البتہ مختصراً قرآن کے اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی جا سکتی ہے‘ تمہید کے طور پر یہ جان لینا چاہئے کہ قرآن کس نوعیت کی کتاب ہے؟ کیا فلسفہ کی کتاب ہے؟ کیا یہ کتاب سائنسی‘ ادبی یا تاریخ کی کتاب ہے؟ یا یہ کہ صرف فن و ہنر کا ایک شاہکار ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآن ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم بلکہ تمام انبیاء بالکل ایک جداگانہ حیثیت کے حامل ہیں‘ نہ تو فلسفی ہیں‘ نہ منطقی اور نہ ادیب اور مورخ ہیں اور نہ ہی ہنرمند اور صنعت گر ہیں‘ لیکن اس کے باوجود کہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہیں‘ پھر بھی ان تمام خصوصیات کے علاوہ بعض زائد خصوصیات کے حامل ہیں۔ اسی طرح قرآن بھی جو آسمانی کتاب ہے‘ نہ فلسفہ ہے نہ منطق‘ نہ تاریخ ہے نہ ادب ہے اور نہ کسی فن و ہنر کا شاہکار‘ لیکن سب کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ان سب خصوصیات کے علاوہ مزید خصوصیات کا حامل بھی ہے۔ قرآن انسانوں کی رہنمائی کی کتاب ہے اور حقیقت میں وہ ”انسان“ کی کتاب ہے‘ لیکن انسان بھی کون سا؟ ایسا انسان جس کو انسان کے خدا نے پیدا کیا ہے اور انبیائے الٰہی کے آنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ انسان کو اس کی حقیقت سے آگاہ کریں اور اس کی سعادت و نیک بختی کا راستہ اس کے لئے کھول دیں اور قرآن چونکہ انسان کی کتاب ہے‘ پس اللہ کی کتاب بھی ہے‘ کیوں کہ انسان ہی وہ موجود ہے‘ جس کی خلقت اس دنیا سے قبل ہوئی ہے اور جس کا وجود اس دنیا کے بعد باقی رہے گا‘ یعنی انسان بنظر قرآن روح الٰہی کا ایک نسخہ ہے اور بہرحال اسے اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی معرفت اور انسان کی خود شناسی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔

انسان جب تک اپنے کو نہیں پہچانے گا‘ اپنے اللہ کو بھی صحیح طریقے سے نہیں پہچان سکتا‘ دوسری طرف انسان صرف خدا شناسی کے ذریعے ہی اپنی حقیقت کو پہچان سکتا ہے۔ پیغمبروں کے مکتب فکر میں کہ قرآن جس کا مکمل ترین نمونہ ہے‘ انسان‘ اس انسان کے مقابلے میں جس کو بشر علم و منطق کے ذریعے پہچانتا ہے‘ بہت مختلف ہے یعنی وہ پہلا انسان بہت وسیع معنی رکھتا ہے‘ جب کہ علوم کے ذریعے سے پہچانا جانے والا انسان پیدائش اور موت کے درمیان قائم ہے‘ ان حدود سے قبل اور بعد بالکل تاریکی چھائی ہوئی ہے اور بشری علوم کے لئے یہ چیزیں بالکل نامعلوم ہیں۔

لیکن قرآن کا انسان ان دو حدوں کے درمیان محدود نہیں ہے بلکہ وہ دوسری دنیا سے آیا ہے اور اسے اپنے آپ کو دنیا کے مدرسے میں مکمل کرنا ہو گا اور اس کا مستقبل اس دنیا میں الٰہی امر سے وابستہ ہے کہ اس دنیا کے مدرسے میں اس نے کس قسم کی کارکردگی‘ تلاش و کشش یا کاہلی و سستی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کے علاوہ پیدائش اور موت کے درمیان انسان جس کو بشر پہچانتا ہے‘ بہت سطحی اور معمولی ہے بہ نسبت اس انسان کے جسے پیغمبروں نے پہچنوایا ہے۔ قرآن کے انسان کو چاہئے کہ ان باتوں کا علم حاصل کرے کہ وہ کہاں سے آیا ہے‘ کہاں جائے گا‘ کہاں پر ہے اور اسے کیا ہونا چاہئے اور کیا کرنا چاہئے؟

اگر قرآن کا انسان ان پانچ سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دے لے گا‘ تو اس دنیا میں جس میں وہ ہے اور اس دنیا میں جہاں وہ جائے گا اس کی سعادت و خوش بختی کی ضمانت فراہم ہو جائے گی‘ اس انسان کو یہ جاننے کے لئے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس سرچشمے سے اس کا آغاز ہوا ہے‘ چاہئے کہ اپنے اللہ کو پہچانے اور اپنے اللہ کو پہچاننے کی غرض سے دنیا اور انسانوں کے بارے میں آفاقی اور نفسی نشانیوں کی حیثیت سے مطالعہ اور غور و فکر کرے اور وجود و ہستی کی گہرائیوں کا بنظر غائر مطالعہ کرے اور ان چیزوں کے بارے میں جنہیں قرآن خدا کی طرف واپسی کہتا ہے‘ یعنی قیامت‘ حشر و نشر‘ قیامت کے خطرات ہمیشہ قائم رہنے والی نعمتیں اور سخت عذاب اور اس کا کچھ لوگوں کے لئے ابدی ہونا مختصر یہ کہ بعدازموت جو جو مراحل پیش آنے والے ہیں‘ ان پر تامل و فکر کرے اور ان سے آگاہی حاصل کرے اور سب پر عقیدہ رکھے اور ان پر ایمان لائے اور خدا کو جس طرح اول اور موجودات کا نکتہ آغاز جانتا ہے‘ اسی طرح آخر اور تمام موجودات کی بازگشت و واپسی کا نکتہ آغاز بھی جانے اور یہ جاننے کے لئے کہ وہ کہاں ہے؟ دنیا کے نظاموں اور طور طریقوں کو پہچاننے اور تمام موجودات کے درمیان انسان کے مقام و منزلت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور موجودات کے درمیان اپنی حقیقت کو پھر سے پا لے اور یہ جاننے کے لئے کہ اسے کیسا ہونا چاہئے؟ انسانی خصلتوں اور عادتوں کو پہچانے اور اپنے آپ کو انہیں اخلاق و خصائل کی بنیاد پر استوار کرے اور انہی کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرے یہ جاننے کے لئے کہ اسے کیا کرنا چاہئے انفرادی و اجتماعی مقررہ امور و احکام کی پیروی کرے۔ ان مذکورہ تمام باتوں کے علاوہ قرآن کے انسان کو چاہئے کہ غیر محسوس اور دکھائی نہ دینے والے موجودات اور خود قرآن کے الفاظ میں ”غیب“ پر ان کے ارادہ الٰہی کے مظہر اور واسطہ ہونے کی حیثیت سے ایمان لائے اور نیز یہ جاننا چاہئے کہ خداوند متعال نے کسی زمانے اور کسی وقت میں بھی بشر کو جو آسمانی ہدایت کا ہمیشہ محتاج رہا ہے‘ مہمل اور بغیر ہادی کے نہیں چھوڑا ہے اور ہمیشہ اللہ کے برگزیدہ اقرار‘ جو اللہ کے پیغمبر اور خلق خدا کے رہنما رہے ہیں‘ خداوند عالم کی طرف سے مبعوث ہوتے اور الٰہی پیغام کو بندوں تک پہنچاتے رہے ہیں۔

قرآن کا انسان کائنات پر ایک آیت و نشانی کی حیثیت سے اور دنیا کی تاریخ پر ایک تجربہ گاہ کے عنوان سے جو پیغمبروں کی تعلیمات کے صحیح ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے‘ نگاہ ڈالتا ہے! ہاں قرآن کا انسان ایسا ہی ہے اور قرآن میں انسان کے واسطے جو مسائل پیش کئے گئے ہیں‘ وہ دوسرے چند مسائل کے علاوہ ہیں۔

قرآنی موضوعات

قرآن کریم میں جو موضوعات پیش کئے گئے ہیں‘ وہ بہت زیادہ ہیں اور انہیں الگ الگ شمار نہیں کیا جا سکتا‘ پھربھی مندرجہ ذیل مسائل پر اجمالاً نظر ڈالی جا رہی ہے:

۱ ۔ اللہ اور اس کی ذات‘ صفات اور یکتائی اور وہ چیزیں جن سے ہمیں اللہ کو منزہ سمجھنا چاہئے اور وہ چیزیں جن سے ہمیں خدا کو متصف سمجھنا چاہئے۔(صفات سلبیہ اور صفات ثبوتیہ)

۲ ۔ قیامت‘ محشر‘ تمام اموات کو زندہ کر کے اٹھانا اور موت سے لے کر قیامت تک کے مراحل۔ (برزخ)

۳ ۔ ملائکہ: فیض رسانی کے ذرائع‘ وہ غیر مرئی قوتیں جو خود آگاہ بھی ہیں اور خدا آگاہ بھی اور خدا کے احکام جاری کرنے والے ہیں۔

۴ ۔ انبیاء و مرسلین یا وہ انسان جو وحی الٰہی کو اپنے ضمیر میں دریافت کرتے ہیں اور اسے دوسرے انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔

۵ ۔ اللہ پر ایمان لانے اور قیامت‘ ملائکہ‘ پیغمبروں اور آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کے لئے رغبت اور شوق دلانا۔

۶ ۔ آسمانی‘ زمینوں‘ پہاڑوں‘ سمندروں‘ درختوں‘ حیوانات‘ بادل‘ ہوا‘ بارش‘ برف اور اولے اور ٹوٹنے والے ستاروں وغیرہ کی خلقت (اور ان پر غور و فکر)۔

۷ ۔ خدائے واحد و یکتا کی عبادت اور اس میں خلوص نیت پیدا کرنے‘ کسی شخص یا کسی چیز کو عبادت میں خدا کا شریک قرار نہ دینے کی طرف دعوت اور غیر خدا چاہے وہ کوئی انسان ہو یا فرشتہ‘ سورج ہو یا ستارہ‘ درخت ہو یا بت‘ کی عبادت و پرستش کی سخت ممانعت۔

۸ ۔ اس دنیا میں خداوند عالم کی نعمتوں کو یاد دلانا۔

۹ ۔ نیک کاروں اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کے لئے اس دنیا کی ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتیں اور بدکاروں اور سرکشوں کے لئے اس دنیا کا سخت عذاب اور کچھ لوگوں کے لئے ابدی عذاب۔

۱۰ ۔ اللہ کے وجود اور وحدانیت اور قیامت اور پیغمبروں کے بارے میں دلیلوں اور حجتوں کا بیان اور ان بیانات کے ضمن میں کچھ غیبی خبروں کا ذکر۔

۱۱ ۔ ایک انسانی تجربہ گاہ اور لیبارٹری کے عنوان سے تاریخ اور قصے جو پیغمبروں کی دعوت کی حقانیت کو روشن کرتے ہیں اور انبیاء کی سیرت پر عمل کرنے والوں کا انجام بخیر ہونا اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا برا انجام۔

۱۲ ۔ تقویٰ و پرہیزگاری اور تزکیہ نفس۔

۱۳ ۔ نفس امارہ اور نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کے خطرات کی طرف متوجہ رہنا۔

۱۴ ۔ اچھے انفرادی اخلاقیات‘ جیسے شجاعت‘ استقلال و پائیداری‘ صبر‘ عدالت‘ احسان‘ محبت‘ ذکر خدا‘ خدا سے محبت‘ شکر خدا‘ خدا سے ڈرتے رہنا‘ خدا پر بھروسہ‘ خدا کی خوشی پر راضی رہنا اور فرمان خدا کے سامنے سر جھکا دینا‘ عقل سے کام لینا‘ سوچنا اور غور و فکر کرنا‘ علم و معرفت کا حصول اور تقویٰ‘ سچائی اور امانت کے ذریعے دل میں نورانیت پیدا کرنا۔

۱۵ ۔ اجتماعی اخلاق جیسے اتحاد و یکجہتی اور ہم آہنگی‘ آپس میں ایک دوسرے کو حق و صبر کی وصیت کرتے رہنا‘ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا‘ بغض و حسد کو دل سے نکال پھینکنا‘ اچھے کاموں کا حکم دینا اور برائیوں سے منع کرنا‘ راہ خدا میں جان و مال کے ذریعے جہاد کرنا وغیرہ۔

۱۶ ۔ احکام جیسے نماز‘ روزہ‘ زکٰوة‘ خمس‘ حج‘ جہاد‘ نذر‘ قسم‘ تجارت‘ رہن‘ اجارہ‘ ہبہ‘ بیوی و شوہر کے حقوق‘ والدین اور اولاد کے حقوق‘ طلاق‘ لعان‘ ظہار‘ وصیت‘ میراث‘ قصاص‘ حدود و تعزیرات‘ قرض‘ قضا‘ گواہی‘ حلف (قسم)‘ ثروت‘ مالکیت حکومت‘ شوریٰ‘ فقراء کا حق‘ معاشرے کا حق وغیرہ وغیرہ۔

۱۷ ۔ رسول اکرم کے ۲۳ سالہ دور بعثت کے حادثات و واقعات۔

۱۸ ۔ رسول اکرم کے احوال و خصوصیات‘ آپ کی صفات حمیدہ اور جن مصائب سے آپ دوچار ہوئے۔

۱۹ ۔ ہر زمانے کے تین گروہوں‘ مومنوں‘ کافروں اور منافقوں کی عام صفات کا بیان۔

۲۰ ۔ دور بعثت کے مومنین‘ کافرین اور منافقین کے اوصاف کا ذکر۔

۲۱ ۔ فرشتوں کے علاوہ دوسری دکھائی نہ دینے والی مخلوقات‘ جنات اور شیطان وغیرہ۔

۲۲ ۔ تمام موجودات عالم کا حمد و تسبیح کرنا اور تمام موجودات کے اندر اپنے خالق و پروردگار کے بارے میں ایک قسم کی آگاہی کا ہونا۔

۲۳ ۔ خود قرآن کی توصیف (تقریباً پچاس اوصاف کا ذکر)۔

۲۴ ۔ دنیا اور دنیا کی سنتیں‘ دنیوی زندگی کی ناپائیداری اور اس کا اس قابل نہ ہونا کہ انسان کا آئیڈیل اور اس کی کامل آرزو قرار پائے اور یہ کہ خدا اور آخرت یعنی ہمیشہ باقی رہنے والی دنیا ہی اس قابل ہے کہ انسان کا انتہائی مقصود و مطلوب قرار پائے۔

۲۵ ۔ انبیائے کرام کے معجزات اور غیر معمولی افعال۔

۲۶ ۔ گذشتہ آسمانی کتابوں کی تائید و تصدیق خصوصاً تورات و انجیل کی اور ان دونوں کتابوں میں کی جانے والی تحریفوں اور غلطیوں کی تصحیح۔

معانی قرآن کی وسعت

اوپر جو باتیں بیان کی گئی ہیں‘ وہ قرآن مجید میں بیان شدہ موضوعات کی ایک اجمالی فہرست ہے‘ پھر بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اختصار کے لحاظ سے بھی یہ کافی ہے‘ اگر انسان‘ خدا اور دنیا کے بارے میں انہی مختلف موضوعات کو نظر میں رکھیں اور ان کا انسان کے بارے میں لکھی گئی کسی بھی کتاب سے موازنہ کریں‘ تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ کوئی کتاب بھی قرآن سے موازنے کی منزل پر نہیں آ سکتی‘ بالخصوص اس نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن ایک ایسے شخص کے ذریعے سے نازل ہوا ہے‘ جو اُمّی اور ان پڑھ تھے اور کسی عالم و دانش کے افکار سے واقف و آشنا نہیں تھے اور مزید برآں بطور خاص اگر ہم اس امر پر غور کریں کہ ایسے شخص کا ظہور ایسے ماحول میں ہوا تھا‘ جو ہمارے بشری ماحول سے زیادہ جاہل ماحول تھا اور اس ماحول کے لوگ عموماً علم و تمدن سے بیگانہ محض تھے‘ قرآن نے ان سے بہت وسیع معانی و مطالب بیان کئے ہیں اور انہیں اس طرح پیش کیا ہے کہ بعد میں خود قرآن ہر قسم کے استفادے کا منبع و سرچشمہ بن گیا‘ فلاسفہ کے لئے بھی اور علمائے فقہ و اخلاق و تاریخ وغیرہ کے لئے بھی۔ یہ امر ناممکن بلکہ محال ہے کہ کوئی فرد بشر خواہ وہ کتنا ہی بڑا فلسفی و دانش ور ہو‘ اپنی طرف سے ان سب معانی و مطالب کو ایسی معیاری سطح پر بیان کر سکے‘ جو دنیا کے بڑے بڑے علماء اور دانش وروں کے افکار کو اپنی طرف کھینچ لے۔ یہ تو اس صورت میں ہے‘ جب ہم قرآنی مطالب کو علماء کے بیان کردہ مطالب کی سطح کے برابر فرض کریں‘ لیکن اہم اور لطیف بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے ان اکثر مسائل میں نئے نئے افق پیدا کر دیئے ہیں۔

اللہ اور قرآن

یہاں ہم مذکورہ بالا موضوعات میں سے صرف ایک موضوع کی طرف اشارہ کریں گے اور وہ موضوع خدا اور جہان اور انسان سے اس کا رابطہ اور تعلق ہے‘ ہم اگر اسی ایک موضوع کے بیان کرنے پر اکتفا کریں اور اس کا موازنہ انسانی افکار و نظریات سے کریں‘ تو قرآن کا غیر معمولی نوعیت کا ہونا اور معجزہ ہونا ثابت ہو جائے گا۔

قرآن نے خدا کی صفات بیان کی ہیں اور اس توصیف میں ایک طرف تو اسے پاک اور منزہ قرار دیا ہے اور اس کی ایسی صفات کی نفی کی ہے‘ جو اس کے شایان شان نہیں ہیں اور اس کو ان صفات سے پاک و منزہ جانا ہے اور دوسری طرف صفات کمال اور اسماء حسنیٰ کو ذات خدا کے لئے ثابت کیا ہے۔ تقریباً ۱۵ آیتیں خداوند عالم کی تنزیہہ میں نازل ہوئی ہیں اور تقریباً پچاس ( ۵۰) آیتوں سے زیادہ ایسی ہیں‘ جو صفات کمال اور اسمائے حسنیٰ سے خداوند عالم کے متصف ہونے کے بارے میں ہیں‘ قرآن مجید اپنی ان توصیفات میں ایسا باریک بین نظر آتا ہے‘ جس نے زیادہ سے زیادہ عمیق فکر و نظر رکھنے والے علماء الٰہی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور یہ خود ایک اُمّی اور ان پڑھ شخص کا روشن ترین معجزہ ہے۔ قرآن نے معرفت اور خداشناسی کی راہیں دکھانے کے لئے تمام موجود راہوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ آفاقی اور نفسی نشانیوں کے مطالعہ کا راستہ‘ نفس کے تزکیہ اور اس کی صفائی کا راستہ‘ بطور کلی وجود ہستی کے بارے میں گہرائی کے ساتھ غور و فکر کا راستہ قابل ترین مسلمان فلاسفہ نے اپنی محکم اور مضبوط ترین دلیلوں کو اپنے اقرار اور اعتراف کے مطابق قرآن مجید ہی سے اخذ کیا ہے۔

قرآن نے دنیا اور مخلوقات کے ساتھ خدا کے رابطے کو توحید محض پر قرار دیا ہے‘ یعنی خداوند متعال اپنی فعالیت اور اپنے ارادہ و مشیت کو نافذ کرنے میں اپنا کوئی مدمقابل اور رقیب نہیں رکھتا‘ اس کے تمام افعال اور ارادے اور سارے اختیارات اسی کے حکم اور اسی کی قضا و قدر کے تحت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔


انسان کا خدا سے رشتہ و تعلق

قرآن کریم نے خدا کے ساتھ انسان کے رشتہ اور تعلق کو دلکش ترین انداز میں بیان کیا ہے‘ قرآن کا خدا‘ فلسفیوں کے خدا کے برخلاف ایک خشک و بے روح اور بشر سے یکسر بیگانہ وجود نہیں ہے۔ قرآن کا خدا انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہے‘ انسان کے ساتھ لین دین رکھتا ہے اور اس کے مقابل میں انسان کو اپنی رضا و خوشنودی عطا کرتا ہے‘ اس کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور اس کے دل کے آرام و سکون اور اطمینان کا سرمایہ ہے:

الابذکر اللّٰه تطمئن القلوب

( سورہ رعد‘ آیت ۲۸)

انسان خدا سے انسیت اور الفت رکھتا ہے‘ بلکہ تمام موجودات اس کو چاہتے ہیں اور اسی کو پکارتے ہیں۔ تمام موجودات عالم اپنے اپنے وجود کی گہرائی سے اس کے ساتھ رازدارانہ رابطہ اور تعلق رکھتے ہیں‘ اس کی حمد بجا لاتے ہیں اور اس کی تسبیح کرتے ہیں:

( ان من شئی الا یسبح بحمده و لکن لا تفقهون تسبیحهم ) ( سورہ اسراء‘ آیت ۴۴)

فلسفیوں کا خدا جس کو وہ لوگ صرف محرک اول اور واجب الوجود کے نام سے پہچانتے ہیں اور بس ایک ایسا موجود ہے‘ جو بشر سے بالکل بیگانہ ہے‘ جس نے انسان کو صرف پیدا کر دیا ہے اور اسے دنیا میں بھیج دیا ہے‘ لیکن قرآن کا خدا ایک ”مطلوب“ ہے‘ انسان کی دلبستگی کا سرمایہ ہے‘ وہ انسان کو پرجوش بناتا اور ایثار و قربانی پر آمادہ کرتا ہے‘ کبھی کبھی تو اس کی رات کی نیند اور دن کے سکون کو بھی چھین لیتا ہے کیوں کہ وہ ایک غیر معمولی مقدس خیال و تصور کی صورت میں مجسم ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔

مسلمان فلاسفہ نے قرآن سے آشنا ہونے اور قرآنی مفاہیم و مطالب کو پیش کرنے کے نتیجے میں الٰہیات کی بحث کو اس عروج پر پہنچا دیا ہے۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ ایک اُمّی اور ناخواندہ شخص جس نے نہ تو کسی استاد کے پاس تعلیم حاصل کی اور نہ کسی مکتب میں گیا ہو‘ اس حد تک الٰہیات میں ترقی کر جائے کہ افلاطون اور ارسطو جیسے فلاسفہ سے ہزاروں سال آگے بڑھ جائے؟

قرآن‘ تورات اور انجیل

قرآن نے تورات و انجیل کی تصدیق کی ہے‘ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ان کتابوں میں تحریف کی گئی ہے اور خائنوں کے ہاتھ ان کتابوں کی تحریف میں ملوث ہیں‘ قرآن نے الٰہیات‘ پیغمبروں کے واقعات اور چند دوسرے قواعد و ضوابط اور معینہ امور کے بارے میں ان دونوں کتابوں کی غلطیوں کی اصلاح اور تصحیح کی ہے‘ جس کا ایک نمونہ تو وہی تھا کہ جس کا تذکرہ شجرہ ممنوعہ اور خطائے آدم کے بارے میں ہم پہلے کر چکے ہیں۔ قرآن نے خدا کو ایسی چیزوں سے جیسے کشتی لڑنا اور پیغمبروں کو نامناسب باتوں کی طرف منسوب ہونے سے جو گذشتہ کتابوں میں ذکر کی گئی ہیں‘ پاک و منزہ قرار دیا ہے اور یہ خود اس کتاب کی حقانیت کی ایک دلیل ہے۔

تاریخی واقعات اور قصے

قرآن مجید نے ایسے تاریخی واقعات اور قصے بیان کئے ہیں کہ اس زمانے کے لوگ ان کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے تھے‘ خود پیغمبر بھی ان سے لاعلم تھے:

ماکنت تعلمها انت ولاقومک

( سورہ ہود‘ آیت ۴۹)

”انہیں نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم ہی جانتی تھی۔“

اور عرب کے تمام لوگوں میں سے کوئی ایک شخص بھی اس کا مدعی نہیں ہوا کہ ہم ان قصوں کو جانتے ہیں۔

قرآن نے ان قصوں کو بیان کرنے میں توریت و انجیل کی پیروی نہیں کی ہے‘ البتہ ان کی اصلاح ضرور کر دی ہے‘ قوم سبا‘ قوم ثمود وغیرہ کے بارے میں عصر جدید کے مورخین کی تحقیقات بھی قرآنی نظریے کی تائید کرتی ہیں۔

قرآن اور اس کی پیشین گوئیاں

قرآن مجید نے جس وقت ۶۱۵ میں ایران نے روم کو شکست دی اور یہ امر قریش کی مسرت و خوشی کا باعث ہوا‘ تو پورے یقین و اعتماد کے ساتھ کہا کہ دس سال کے نہایت قلیل عرصے میں روم ایران کو شکست دے دے گا‘ اس واقعہ کے بارے میں بعض مسلمانوں اور بعض کافروں کے درمیان مشروط بندی ہو گئی۔ بعد میں ویسا ہی ہوا جیسا کہ قرآن نے خبر دی تھی‘ اسی طرح قرآن نے پورے قطع و یقین کے ساتھ خبر دی کہ جو شخص پیغمبر اکرم کو ابتر (مقطوع النسل) کہتا ہے‘ وہ خود ہی مقطوع النسل ہے۔ اس وقت وہ شخص جس کے کئی بیٹے تھے‘ صرف دو تین نسلوں کے اندر تدریجاً بالکل ختم ہو گئے۔ یہ ساری باتیں اس کتاب میں معجزہ ہونے کا پتہ دیتی ہیں‘ قرآن میں اور بھی علمی و معنوی معجزات موجود ہیں‘ جو فلسفی‘ طبیعی اور تاریخی علوم سے مربوط ہیں۔

اسلام کی امتیازی خصوصیات

اسلام دین خدا کا نام ہے جو یکتا ہے تمام پیغمبر اسی کی تبلیغ کے لئے بھیجے گئے ہیں اور سب نے اسی دین کی طرف دعوت دی ہے اس دین خدا کی جامع و کامل صورت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے لوگوں کے سامنے پیش کی گئی اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور آج یہ دین اسی نام (اسلام) سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات جن کی تبلیغ پیغمبر اسلام کے ذریعے سے ہوئی دین خدا کی کامل و جامع صورت ہونے ہمیشہ کے لئے انسان کی رہنما ہونے کی وجہ سے خاص امتیازی خصوصیات کی حامل ہیں دورہ خاتمیت سے مناسبت رکھتی ہیں۔ یہ تمام کی تمام خصوصیات اپنی مجموعی حیثیت میں گذشتہ ادوار میں جوبشر کے بچپنے کے دور تھے وجود میں نہیں آ سکتی تھیں اور ان مشخصات و خصوصیات میں سے ہر ایک اسلامی تعلیمات کو پرکھنے کا معیار ہے اور ان میں سے ہر خصوصیت کے ذریعے کہ جو خود اسلامی تعلیمات کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔ اگرچہ مبہم ہی سہی لیکن بہرحال اسلام کے مجموعی خدوخال سے آشنائی حاصل کی جا سکتی ہے نیز ان معیارات کے پیش نظر یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فلاں تعلیم اسلامی ہے یا نہیں اگرچہ ہم اس بات کا دعویٰ تو نہیں کرتے کہ یہاں پر ان تمام معیارات کو جمع کر سکتے ہیں لیکن ہم یہ کوشش ضرور کریں گے کہ حتی الامکان ان سب کی ایک جامع صورت پیش کریں ہم جانتے ہیں کہ ہر مکتب ہر مسلک اور ہر نظریہ بشر کی نجات اور کمال سعادت کے لئے ایک قسم کے احکام و معیار پیش کرتا ہے جو ”یہ کرنا چاہئے“، ”یہ نہیں کرنا چاہئے“، ”یہ نہیں ہونا چاہئے“، ”یہ ہونا چاہئے“، جیسے جامع عناوین کے تحت فرد اور معاشرے کے لئے ہوتے ہیں فلاں راستے کو انتخاب کرنا چاہئے یا فلاں تک پہنچنا چاہئے مثلاً آزادی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے شجاع اور دلیر ہونا چاہئے مستقل اور مسلسل اپنے مقصد کی طرف گامزن رہنا چاہئے خود کو کامل کرنا چاہئے معاشرے کو عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم ہونا چاہئے ایسے راستے پر چلنا چاہئے جس سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہو۔

لیکن یہ تمام عناوین ایک خاص فلسفہ رکھتے ہیں جو ان کی توجیہ کرتا ہے یعنی اگر کوئی مکتب ایک قسم کے احکامات و قوانین پیش کرتا ہے تو اس کے لئے لازم و ضروری ہے کہ بہرحال ہستی کائنات معاشرے اور انسان کے بارے میں ایک طرح کے فلسفے اور تصور کائنات پر انحصار کرے اور اس کا سہارا لے مثلاً چونکہ ہستی ایسی ہے اور انسان یا اس کا معاشرہ اسی طرح کا ہے لہٰذا ایسا ہونا چاہئے اور ویسا نہیں ہونا چاہئے۔

تصور کائنات یعنی دنیا انسان اور معاشرے کے بارے میں بہت سے افکار اور تفسیروں اور تجزیوں کا مجموعہ کہ دنیا اس طرح کی ہے یا ایسا قاعدہ رکھتی ہے اسی طرح ترقی کرتی ہے فلاں مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں کرتی اس کا کوئی مبداء ہے یا نہیں ہے اس کی کوئی انتہا ہے یا نہیں ہے مثلاً انسان ایسی فطرت اور طبیعت رکھتا ہے کسی خاص فطرت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے یا نہیں مختار اور آزاد ہے یا مجبور ہے؟ طبیعت میں ایک منتخب واقعیت موجود ہے جس کو قرآن کے الفاظ میں ”اصطفٰی کیا ہوا“ کہتے ہیں یا ایک اتفاقی واقعہ ہے یا تاریخ اور معاشرہ پر جن قوانین کی حکومت ہے وہ کون سے قوانین ہیں؟ آئیڈیالوجی تصور کائنات پر قائم ہیں اور یہ کہ کیوں اس طرح یا اس طرح ہونا چاہئے یا کیوں اس طرح جینا یا جانا یا ہونا یا بنانا چاہئے؟ اس عقیدہ کے تحت ہے کہ دنیا یا سماج یا انسان کے بارے میں اس کا عقیدہ اور نظریہ ایسا ہے۔ ہر مسلک اور ہر آئیڈیالوجی (عقیدے) کی علت اس کے تصور کائنات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اور دوسرے الفاظ میں آئیڈیالوجی ”حکمت عملی“ کا نام ہے اور تصور کائنات ”حکمت نظری“ کی قسم سے ہے حکمت عملی کی خاص نوع حکمت نظری کی خاص نوع پر مبنی ہے مثلاً سقراط کی حکمت عملی اس خاص نظریہ کی بنیاد پر ہے جو سقراط دنیا کے بارے میں رکھتا ہے اور یہی خاص نظریہ سقراط کی حکمت نظری ہے اسی طرح ایپکور ( Epicure ) (مشہور یونانی فلسفی) کی حکمت عملی کا رابطہ ہی اس کی حکمت نظری سے ہے اور اسی طرح دوسروں کا بھی پس آئیڈیالوجیز (نظریات) کیوں آپس میں مختلف ہیں؟ کیونکہ تصورات کائنات مختلف ہیں یعنی آئیڈیالوجی تصور کائنات کے تابع ہوتی ہے۔

دوسری طرف جہان بینی جسے جہان شناسی بھی کہا جا سکتا ہے کیوں مختلف ہوتی ہے؟ کیوں ایک مکتب دنیا کو اس طرح دیکھتا ہے اور دوسرا دوسری طرح؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں ہے بہت سے مفکرین جب اس منزل تک پہنچتے ہیں تو فوراً منزل اجتماعی اور طبقاتی حالت کا شاخصانہ درمیان میں لاکھڑا کرتے ہیں اور اس امر کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ طبقاتی موقع و محل اور صورت حال کے لحاظ سے ہر شخص کا علیحدہ علیحدہ ایک خاص زاویہ نگاہ ہوتا ہے اور وہی طبقاتی نظام ہر شخص کو ایک خاص قسم کی عینک کائنات کے مطالعہ کے لئے پہنا دیتا ہے۔ انسان کا اپنے معاشرہ سے رابطہ ان چیزوں سے رابطہ جو معاشرے میں پیداوار اور تقسیم ہوتی ہیں ان کی پیدائش اور تقسیم کی کیفیت سے رابطہ اور اس کے نتیجے میں خود اس انسان کی محرومی و نامحرومی سے اس کے اعصاب اور اس کی روح و رواں میں عکس العمل پیدا ہو جاتا ہے اور اس کی اندرونی حالت ایک خاص شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس کی اندرونی اور ذہنی خاص حالت اس کی فکر و نظر نتیجہ گیری اور چیزوں کے بارے میں اس کی قوت فیصلہ کو متاثر کرتی ہے۔

مولانا رومی کے بقول:

چون تو برگردی و برگردد سرت

خانہ را گردندہ بیند منظرت

”اگر تو پلٹ آئے اور تیرا رخ مڑ جائے تو تیری آنکھیں دیکھیں گی کہ گھر کا نظام تو چل رہا ہے۔“ ور تو درکشتی روی بریم روان

ساحل یم را چو خود بینی دوان

”اگر تو بحری جہاز میں سوار سمندر میں رواں ہو تو تجھے یوں لگے گا جیسے ساحل بھی تیرے ساتھ چل رہا ہے۔“

گر تو باشی تنگ دل از ملحمہ

تنگ بینی چو دنیا را ہمہ

”اگر سخت جنگوں کے باعث تو پریشان ہو گیا ہو تو تجھے پوری دنیا پریشان دکھائی دے گی۔“

ور تو خوش باشی بہ کام دوستان

این جہان بنمایدت چون بوستان

”اگر دوستوں کی محبتوں کے باعث تو خوش ہو تو یہ دنیا تجھے گلشن نظر آئے گی۔“

چون تو عالمی پس ای مھین

کل آن را ہمچو خود بینی یقین

”چونکہ تو اسی عالم کا ایک حصہ ہے پس اے مہین یقیناً تو تمام دنیا کو اپنی طرح دیکھتا ہے۔“

ہر کہ را افعال دام و دو بود

بر کریمانش گمان بد بود

”جو بھی شخص حیوانوں اور درندوں کی سی عادتیں رکھتا ہو وہ کریم انسانوں کو بھی اپنے جیسا سمجھے گا۔“

اس نقطہ نظر سے کوئی بھی شخص اپنے نظریے کو صحیح اور دوسروں کے نظریے کو غلط نہیں کہہ سکتا کیونکہ نظریہ ایک نسبی امر ہے اور ہر شخص کا نظریہ اس کے قدرتی اور اجتماعی ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے اور ہر شخص کے لئے وہی صحیح ہوتا ہے جسے وہ دیکھتا ہے لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انسان کی فکر و نظر کافی حد تک اس کے ماحول کے زیراثر ہوتی ہے اس میں کوئی کلام نہیں لیکن اس چیز سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسان کے لئے ایسا آزاد فکری مرکز موجود ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی اثرپذیری سے آزاد اور محفوظ رکھ سکتا ہے (اور جسے اسلام کی نظر میں ”فطرت“ کہا جاتا ہے)۔ البتہ کسی اور جگہ اس کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔

بالفرض اگر ہم انسان کی اصالت اور اس کے استقلال کو یعنی اس کی حقیقت پسند نگاہ کو اس سے سلب کرنا چاہیں تو بھی جہان بینی اور جہان شناسی کے مرحلے میں انسان کی سرزنش کرنا قبل از وقت ہو گا۔ ان فلاسفہ اور دانش وروں کے نزدیک جو ان مسئلوں کا نزدیک سے مطالعہ کرتے ہیں آج یہ بات مسلم ہے کہ جہان بینی اور علم کائنات یا جہان شناسی سے متعلق نظریات کے رنگا رنگ ہونے کی اصل اور جڑ کو علم معرفت میں یعنی آج کل جسے نظریہ معرفت یا نظریہ شناخت کہا جاتا ہے اس میں تلاش کرنا چاہئے۔

اکثر فلاسفہ ”علم معرفت“ کی طرف متوجہ ہوئے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ”فلسفہ“ علم کائنات کا نام نہیں ہے بلکہ علم معرفت کا نام فلسفہ ہے۔ یہ جو ہر ایک کا علم کائنات یا تصور کائنات مختلف ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تحصیل معرفت و شناخت سے متعلق نظریات مختلف ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ دنیا کو عقل کے ذریعے پہچاننا چاہئے تو دوسرا کہتا ہے کہ دنیا کو حواس خمسہ کے ذریعے پہچاننا چاہئے تیسرا کہتا ہے کہ نفس کی صفائی و پاکیزگی نورانیت قلب اور الہام کے ذریعے دنیا کو پہچاننا چاہئے کسی کی نظر میں معرفت اور پہچان کے مرحلے ایک طرح کے ہیں تو دوسرے کی نظر میں دوسری طرح کے عقل کا استعمال بعض کی نظر میں محدود ہے اور بعض کی نظر میں لامحدود معرفت کے سرچشمے کیا ہیں؟ اس کا کیا معیار ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ پس معلوم ہوا کہ ہر مکتب کا نظریہ اس کے تصور کائنات پر مبنی ہے اور اس کا تصور کائنات معرفت و پہچان کے بارے میں اس کے نظریے پر مبنی ہے ہر آئیڈیالوجی کا ترقی پانا اس کے تصور کائنات کے ترقی پانے سے وابستہ ہے اور اس کے تصور کائنات کا ترقی پانا اس کے علم و معرفت کے ترقی پانے پر منحصر ہے۔ درحقیقت ہر مکتب کی حکمت عملی اس کی حکمت نظری سے وابستہ ہے اور اس کی حکمت نظری اس کی منطق سے وابستہ ہے پس ہر مکتب کو چاہئے کہ پہلے مرحلے میں اپنی منطق کو معین و مشخص کرے اسلام اگرچہ ایک فلسفی مکتب نہیں ہے اور اس نے فلسفے اور فلاسفہ کی زبان و اصطلاح میں لوگوں سے گفتگو نہیں کی ہے بلکہ اسلام اپنی ایک مخصوص زبان رکھتا ہے جس سے عام طور سے تمام طبقے اپنے فہم و ادراک صلاحیت و استعداد کے مطابق بہرہ مند ہوتے ہیں لیکن اس نے اپنے مطالب کی گہرائیوں میں ان تمام مسائل کے بارے میں اپنا مدعا پیش کیا ہے (اور یہ بڑی حیرت میں ڈالنے والی بات ہے)۔ اس طرح سے کہ اس کو فکر عملی کے ”پلانٹ“ کی صورت میں اور اس کی جہان بینی کو حکمت نظری کی شکل میں اور اس کے نظریات کو علم معرفت کے باب میں ایک منطقی اصول کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ہمیں اس مقام پر ایک اشارہ پر اکتفا کر کے آگے بڑھنا چاہئے (کیونکہ) اسلامی آئیڈیالوجی جہان بینی اور علم معرفت کی تدوین کے لئے خصوصاً اس بارے میں علماء اسلام خواہ وہ فقہا ہوں یا حکماء و عرفا اور دوسرے تمام صاحبان نظر کے گراں قدر اور گراں بہا نظریات کے مدنظر کئی بڑی بڑی جلدوں کی ضرورت ہو گی یہاں ہم فقط ایک فہرست (اگرچہ ناقص ہی سہی) پیش کرتے ہیں ممکن ہے آئندہ کسی موقع پر اس کی تکمیل ہو جائے۔ اس مقام پر جب کہ ہم اسلام کے مشخصات کے زیرعنوان اسلامی نظریات کے اصل خدوخال نمایاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں معرفت شناسی کے مشخصات جہان بینی اور جہا ن شناسی کے مشخصات اور آئیڈیالوجی سے متعلق مشخصات:

(الف) معرفت اور شناخت کا مسئلہ ۱ ۔

کیا شناخت ممکن ہے؟ اس مسئلے سے متعلق یہ پہلا سوال ہے جو ہمیشہ درپیش رہا ہے اور رہے گا بہت سے دانش ور حقیقی معرفت و شناخت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور انسان کو ان چیزوں کی واقفیت و حقیقت پہچاننے سے جو دنیا میں ہیں اور دنیا میں رونما ہوتی رہتی ہیں قاصر سمجھتے ہیں اور یقین (یعنی قطعی و ناقابل تردید اور واقع کے مطابق علم) کو ایک اور محال شمار کرتے ہیں لیکن قرآن اس بناء پر کہ اس نے خدا دنیا انسان اور تاریخ کو پہچاننے کی دعوت دی ہے اور اس بناء پر کہ اس نے آدم ۱ کے قصے میں جو ایک انسان کا قصہ ہے اور اس کو تمام اسمائے الٰہی (کائنات کے حقائق) کی تعلیم کے لائق جانا ہے اور اس بناء پر کہ اس نے بعض موقعوں پر علم پروردگار (جو عین حقیقت ہے) کے کسی جزوی حصے پر محیط اور حاوی ہونے کی نوع سے سمجھا ہے۔

( ولا یحیطون بشئیی من علمه الا بماشاء ) ( سورہ بقرہ آیت ۵۵)

”یعنی معرفت و شناخت کو ممکن جانتا ہے۔“

۲ ۔ معرفت کے سرچشمے کیا ہیں؟ قرآن کریم کی نظر میں معرفت و شناخت کے سرچشموں سے مراد طبیعت یا آفاقی نشانیاں انسان یا نفسی نشانیاں تاریخ یا مختلف قوموں کے واقعات عقل و فطرت کے بنیادی اصول قلب یعنی دل صفائی و پاکیزگی کے لحاظ سے گذرے ہوئے لوگوں کے علمی اور تاریخی آثار ہیں۔ قرآن نے اپنی بہت سے آیتوں میں زمین و آسمان کی ماہیت و طبیعت کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔

( قل انظروا ماذا فی السموات والارض ) ( سورہ یونس آیت ۱۰۱)

”(اے حبیب) کہہ دو! تم لوگ دیکھو اور غور و فکر کرو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا چیزیں ہیں اسی طرح گذشتہ قوموں کی تاریخ میں تعقل و تدبر کی طرف سبق حاصل کرنے کے لئے دعوت دی ہے۔“

( افلم یسیرو افی الارض فتکون لهم قلوب یعقلون بها او آذان یسمعون بها ) ( سورہ حج آیت ۴۶)

”کیا وہ لوگ زمین میں سفر نہیں کرتے (زمین پر گذرے ہوئے لوگوں کے آثار نہیں دیکھتے) تاکہ ان کے دل ایسے ہو جائیں۔ جن سے وہ سمجھنے لگیں اور کان ایسے ہو جائیں جن سے وہ سننے لگیں۔“

اسی طرح قرآن عقل اور عقل کی فطری بنیادوں کو بھی معتبر جانتا ہے اور اپنے استدلالوں میں ان پر اعتماد کرتا ہے۔

( قل لو کان فیهما الهة الا اللّٰه لفسدتا ) ( سورہ انبیاء آیت ۲۲)

”کہہ دو کہ اگر ان دونوں (آسمانوں و زمین تمام موجودات) میں ایک خدا کے سوا کئی خدا ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے۔“

اور ان کا نظام درہم برہم ہو جاتا (برہان تمانع) یا پھر ارشاد ہوتا ہے:

( ما اتخذ الله من ولد وما کان معه من اله اذا الذهب کل اله بما خلق ولعلی بعضهم علی بعض سبحان الله عما یصفون ) ( سورہ مومنون آیت ۹۱)

”خدا نے کوئی بیٹا اختیار نہیں کیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرے خدا ہیں (کیونکہ اگر ایسا ہوتا) تو ہر خدا اپنی اپنی مخلوقات کو اپنے ساتھ مختلف سمتوں میں لے جاتا اور ان خداؤں میں سے بعض پر اپنی برتری جتاتا۔ خدا پاک و منزہ ہے ان چیزوں سے جن سے لوگ اس کو متصف کرتے ہیں۔“

(نظام کائنات میں ہم آہنگی اور جہت و سمت کی وحدت پر مبنی برہان) اور اسی طرح قرآن قلب اور دل کو بعض الٰہی الہامات اور القائات کا مرکز سمجھتا ہے۔ جو شخص جس قدر بھی اسے پاک و صاف کرنے اور پاکیزہ رکھنے اور خدا کی طرف متوجہ اور اخلاص و عبودیت میں خاص توجہ کے ذریعے اس کو معنوی و روحانی غذا پہنچانے کی کوشش کرتا رہے گا اتنا ہی الہامات و القائات کے ایک سلسلے سے بہرہ مند ہوتا رہے گا۔ انبیاء ۱ کی وحی اسی طرح کی معرفت کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔

جس طرح سے قرآن نے قلم و کتاب اور تحریر کی قدر و قیمت کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے اور کئی موقعوں پر ان چیزوں کی قسم کھائی ہے۔

( والقلم وما یسطرون ) ( سورہ قلم آیت ۲)

۳ ۔ شناخت و معرفت کے وسائل کیا ہیں؟ معرفت و شناخت کے وسائل سے مراد قوت تفکر و استدلال نفس کی پاکیزگی اور دوسرے لوگوں کے علمی آثار ہیں۔ سورہ مبارکہ نحل میں ارشاد خداوندی ہے:

( والله اخرجکم من بطون امهاتکم لاتعلمون شیئاً و جعل لکم السمع والابصار و الافئدة لعلکم تشکرون ) ( سورہ نحل آیت ۷۸)

”خدا نے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکموں سے باہر نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور تمہیں کان آنکھ و دل عطا کئے تاکہ تم ان نعمتوں کا شکر ادا کرو اور ان سے کماحقہ نفع حاصل کرو۔“

اس آیہ کریمہ میں صاف طور پر بیان ہوا ہے کہ انسان افلاطون کے نظریے کے برعکس اپنے پیدا ہونے کے وقت ہر قسم کے علم و معرفت سے بے گانہ ہوتا ہے اور خدا نے انسان کو حواس عطا کئے ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعے سے دنیا کا مطالعہ کرے اور اس کو ضمیر اور تجزیہ و تحلیل کی قوت عنایت فرمائی ہے تاکہ جن چیزوں کو وہ حواس کے ذریعے حاصل کرتا ہے اب دوسرے مرحلے میں ان پر غور و فکر کرے ان کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھے اور ان کی حقیقت کو اور ان قوانین کو جو ان اشیاء پر حاکم ہیں معلوم کرے۔ اس آیت میں صاف صاف لفظوں میں حواس کو (جن میں کان اور آنکھ کا سب سے زیادہ اہم ہونے کی وجہ سے بطور نمونہ تذکرہ کیا گیا ہے) معرفت و شناخت کے وسائل (یعنی سطحی شناخت اور شناخت کا پہلا مرحلہ) اسی طرح ضمیر (دل) کو بھی معرفت و شناخت اور علم پیدا کرنے کے وسائل (یعنی منطقی اور عمیق معرفت کا مرحلہ) کے عنوان سے متعارف کروایا گیا ہے۔ اس آیت میں ضمناً شناخت کے بارے میں ایک دوسرے مسئلے کی طرف بھی اشارہ ہے اور وہ مراحل شناخت کا مسئلہ ہے۔

قرآن جس طرح حواس اور قوت فکر کو معرفت کے وسائل سمجھتا ہے اسی طرح تزکیہ نفس اور تقویٰ و پرہیزگاری کو بھی معرفت کا ایک وسیلہ سمجھتا ہے۔ بہت سی آیتوں میں انہی مطالب کی طرف اشارہ یا تصریح کی گئی ہے۔

ان تتقوالله یجعل لکم فرقانا

( سورہ انفال آیت ۲۹)

”اگر تم اپنے آپ کو ان باتوں سے جو خدا کو پسند نہیں ہیں بچاؤ گے تو اپنے دل کو پاک و صاف اور محفوظ رکھو گے تو خداوند عالم تمہارے واسطے حق و باطل کے درمیان فرق پیدا کرنے کا ایک ذریعہ معین فرمائے گا۔“

( ونفس وما سوا ها فالهمها فجورها و تقوا ها قد افلح من زکیها و قد خاب من دسیها ) ( سورہ شمس آیت ۷ ۔ ۱۰)

”قسم ہے انسان کی جان کی اور اس کی آراستگی اور اعتدال کی کہ خدا نے اسے اس کی ناپاکی اور پاکی کے بارے میں الہام کیا ہے اور اس کو سمجھا یاہے جس شخص نے اس کا تزکیہ کیا اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو آلودہ کیا وہ ناکام ہوا۔“

علم حاصل کرنا یاد کرنا کتاب کو پڑھنا بھی ان وسیلوں میں سے ہے کہ اسلامی تعلیمات نے اس کی طرف توجہ کی ہے اور اس کو باقاعدہ طور پر ایک خاص اہمیت دی ہے اس کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ پیغمبر پر وحی کا آغاز لفظ ”اقراء“ یعنی پڑھو سے ہوتا ہے۔ قرات یعنی (کتاب سے) کسی عبارت کا پڑھنا ہے۔

( اقراء باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقرا و ربک الاکرام الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم ) ( سورہ علق آیت ۱ ۔ ۵)

”اے رسول پڑھو اپنے پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو بستہ خون سے پیدا کیا (یا اس حیوان سے جو جونک سے مشابہ ہوتا ہے) پڑھو اور تمہارا سب سے زیادہ کریم (و بزرگ) پروردگار ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا انسان کو وہ باتیں پڑھا دیں جنہیں وہ نہیں جانتا تھا۔“

۴ ۔ شناخت کے موضوعات:

کون سی چیزیں پہچاننے کے لائق ہیں جنہیں پہچاننا چاہئے؟ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو قابل معرفت ہیں اور ان کی معرفت حاصل کرنا چاہئے۔

(ب) تصور کائنات کے لحاظ سے

یہ کتاب جو اسلامی و الٰہی تصور کائنات کا ایک مقدمہ ہے اس کا اصل مقصد اسی مطلب کی توضیح کرنا ہے اور اس کتاب کے مطالب کے ضمن میں ان نکات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس لحاظ سے کہ مضمون کا سلسلہ منقطع نہ ہونے پائے۔ ان مشخصات کو بہت مختصر اور خلاصہ کے طور پر ہم یہاں بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ کائنات ”اسی کی طرف سے“ ہونے کی اہمیت رکھتی ہے یعنی دنیا کی حقیقت و موجودگی اسی کی طرف سے دی گئی حقیقت و موجودگی ہے کسی چیز کے کسی چیز سے ہونے میں اس لحاظ سے کہ اس کا تمام وجود اسی کی طرف سے عطا کردہ حقیقت اور واقعیت نہیں ہے فرق ہے جیسے فرزند کا وجود ماں باپ کی نسبت کہ فرزند کا وجود ان کے وجود سے ہے لیکن اس کی وجودی حقیقت ماں باپ کی طرف نسبت اور اضافی حقیقت سے اختلاف رکھتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام حقیقت خدا سے منسوب ہے۔ اس کی حقیقت اور اللہ سے اس کی اضافت و نسبت سب ایک ہے مخلوق ہونے کے یہی معنی ہیں اگر اس معنی کے علاوہ ہو گا تو وہ تولید ہو گی نہ کہ تخلیق اور اس کی ذات ”لم یلد ولم یولد“ہے اور اس صورت میں دنیا زمانی آغاز و انجام رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر دنیا زمانی آغاز رکھتی ہو تو ”اس سے ہونے“ کی حقیقت محدود ہے اور اگر نہیں رکھتی تو ”اس سے ہونے“ کی حقیقت لامحدود ہے۔ زمانی طور پر محدود ہونا اور لامحدود ہونا کسی مخلوق کی واقعیت و موجودگی اور اس کی تخلیق میں کسی طرح بھی اثرانداز نہیں ہوتا۔

۲ ۔ دنیا جس کی واقعیت و حقیقت ”اس سے ہے“ سے عبارت ہے اور اصطلاح میں حادث ذاتی کہلاتی ہے۔ ایک حدوث زمانی بھی رکھتی ہے یعنی ایک بدلتی رہنے والی اور متحرک واقعیت بلکہ عین حرکت ہے اور جب دنیا عین حرکت اور خود حرکت ہے تو ایک حدوث مسلسل ہے یعنی دنیا ہمیشہ اور دائمی طور پر خلق ہونے اور حدوث و فنا کی حالت میں ہے۔ ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں دنیا پیدا اور فنا نہ ہوتی رہتی ہو۔

۳ ۔ اس دنیا کے حقائق دوسری دنیا جسے عالم ڈیب کہا جاتا ہے کہ واقعیات کی تنزل یافتہ صورت ہے اور دوسرے درجہ اور مرتبے کی واقعیات ہیں جو چیزیں اس دنیا میں خاص تعداد میں اور محدود ہیں وہ پہلے سے موجود عالم (غیب) میں خاص تعداد کے بغیر اور غیر محدود شکل میں ہیں اور قرآن کے الفاظ میں خزائن کی شکل میں موجود ہیں۔(ملاحظہ فرمائیں تفسیرالمیزان میں آیہ کریمہ: ”( وعنده مفاتح الغیب لا یعلمها الاهو ) “ کی تفسیر انعام ۶۰)

( وان من شئی الا عندنا خزائنه وماننزله الا بقدر معلوم ) ( سورہ الحجر آیت ۲)

”کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ اس کے خزانے اور معاون ہمارے پاس موجود ہیں اور ہم ان کو نازل نہیں کرتے مگر بقدر معین۔“

۴ ۔ یہ دنیا ”بہ سوئے اوئی“ یعنی اسی کی طرف لوٹ کر جانے کی ماہیت رکھتی ہے یعنی جس طرح ”اس سے ہے“ اسی طرح ”اسی کی طرف“ بھی ہے پس پوری دنیا اپنے تمام موجودات کے ہمراہ ایک (اسی کی طرف سے) نزولی سفر طے کر چکی ہے اور اب ”اسی کی طرف“ صعودی سفر طے کرنے کی حالت میں ہے۔ سب کے سب خدا کی طرف سے آئے ہیں اور سب کو اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

( انالله وانا الیه راجعون ) ( سورہ بقرہ آیت ۱۵۶)

( الا الی الله تصیرالامور ) ( سورہ شوریٰ آیت ۵۳)

”آگاہ ہو جاؤ کہ تمام امور کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہو گی۔“

( وان الی ربک منتهاها ) ( سورہ النازعات آیت ۴۴)

”بے شک ان چیزوں کی انتہا تمہارے پروردگار کی طرف ہو گی۔“

۵ ۔ دنیا ایک علت و معلول اور سبب و مسبب کے نظام میں بندھی ہوئی ہے اور ہر موجود پر الٰہی فیض اور اس کی قضا و قدر صرف اسی کے خاص علل و اسباب کی راہ سے جاری ہوتی ہے۔“(ملاحظہ فرمائیں مولف کی کتاب ”عدل الٰہی انسان اور سرنوشت“)

۶ ۔ علت و معلول اسباب و مسببات کا یہ نظام مادی و جسمانی اسباب و مسببات پر منحصر نہیں ہے۔ دنیا میں علل و اسباب کا نظام اپنی مادی جہت کے اعتبار سے ماورا حیثیت کا حامل ہے اپنی ملکوتی و معنوی جہت سے غیر مادی علل و اسباب کا نظام رکھتی ہے اور ان دونوں نظاموں کے درمیان کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنا وجودی مرتبہ اور درجہ حاصل کر لیا ہے۔ فرشتے لوح لوح و قلم آسمانی و ملکوتی کتابیں ایسے واسطے اور وسیلے ہیں جن کے ذریعے باذن پروردگار الٰہی فیض جاری ہوتا ہے۔

۷ ۔ دنیا پر ایسے مستقل اور ناقابل تبدیل قوانین کی حکمرانی ہے جو دنیا کے سببی و مسببی نظام کا لازمہ ہے۔

۸ ۔ دنیا ایک ہدایت یافتہ حقیقت ہے۔ دنیا کی ترقی اور تکامل ہدایت یافتہ تکامل ہے۔ دنیا کے تمام ذرات جس درجہ و مرتبہ کے بھی ہیں نور ہدایت سے فیض یاب ہیں جبلت (فطری شعور) حس عقل الہام اور وحی یہ سب دنیا کے ہدایت عامہ کے مراتب و مدارج ہیں۔

( قال ربنا الذی اعطی کل شئی خلقه ثم هدی ) ( سورہ طہ آیت ۵۰)

”(موسیٰ اور ہارون ۱) نے فرعون سے کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق خلقت عطا کی ہے پھر اس کی ہدایت بھی کی۔ “

دنیا میں خیر میں خیر بھی ہے اور شر بھی مطابقت و ہم آہنگی بھی ہے اور مخالفت بھی جو دوسخا بھی ہے اور بخل و کنجوسی بھی نور بھی ہے اور تاریکی بھی دنیا حرکت و ترقی کی حالت میں بھی ہے اور سکون و جمود کی حالت میں بھی لیکن جو چیز حقیقی معنی میں وجود رکھتی ہے وہ خیر ہے مطابقت و موافقت ہے جو دوسخا ہے نور ہے حرکت ہے۔

۹ ۔ شر تضاد بدی تاریکی اور جمود طفیلی موجودات ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ طفیلی امور عموماً نیکیوں کا دروازہ کھولنے کامیابیوں بخششوں روشنیوں حرکتوں اور ترقیوں میں ایک بنیادی کردار کے حامل بھی ہیں۔

۱۰ ۔ کائنات چونکہ ایک زندہ اکائی ہے یعنی ذی شعور قوتیں دنیا کی تدبیر کرتی ہیں۔

فالمد برات امرا( سورہ النازعات آیت ۵)” اپنے اور انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے لحاظ سے عمل اور ردعمل کی دنیا ہے یعنی انسان کے نیک و بد ہونے کے بارے میں لاپرواہ نہیں ہے۔ آخرت میں جزا و سزا کے علاوہ دنیا میں بھی جزا و سزا مداوا و مکافاة کا نظام جاری ہے۔ شکر و کفر دونوں یکساں نہیں ہیں۔“

( لئن شکر تم لا زید نکم ولئن کفر تم ان عذابی لشدید ) ( سورہ ابراہیم آیت ۷)

”اگر تم لوگ الٰہی نعمتوں کی قدردانی اور حق شناسی کرو گے اور مطلوبہ طریقے سے ان سے فائدہ اٹھاؤ گے تو ہم ان نعمتوں کو تم پر اور زیادہ کر دیں گے اور ناشکری کرو گے اور ان نعمتوں کو بے ہودہ طریقے سے اور مخالف راہ میں صرف کرو گے تو میرا عذاب بے شک بہت سخت ہے۔“

حضرت علی ۱ فرماتے ہیں:

لا یزهد نک فی المعروف من لایشکرک علیه فقد یشکرک من لا یستتمع بشئی منه و قد تدرک من شکر الشاکر اکثر مما اضاع الکافر والله یحب المحسنین

(نہج البلاغہ حکمت نمبر ۲۰۴)

”اگر تم نے کسی کے ساتھ بھلائی کی اور اس نے تمہاری حق شناسی نہ کی تو کہیں اس کی یہ حرکت تمہیں بھلائی کرنے سے بددل نہ کر دے کیونکہ اس کی بجائے تمہاری حق شناسی وہ کرے گا جو تمہاری بھلائی سے قطعاً کبھی بہر مند نہیں ہوتا اور تم اس غیر شکرگزار کی طرف سے اس مقدار سے کہیں زیادہ پا جاؤ گے جتنا اس کفران نعمت کرنے والے نے تمہارے حق نعمت کو ضائع کیا ہے اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے یعنی دنیا اپنی مجموعی حیثیت میں ایک باہم وابستہ کارخانہ اور ایک عضویاتی رابطے کی حامل ہے تم اس انتظار میں نہ رہو اور یہ امید نہ رکھو کہ تم نے جس جگہ بھلائی کی ہے وہیں سے تم کو نیکی کا بدلہ بھی ملے گا کبھی کبھی بلکہ زیادہ تر تم جس جگہ پر نیکی کرتے ہو اس کا بدلہ کسی دوسری جگہ سے ملتا ہے جہاں سے تمہیں کوئی امید نہیں ہوتی کیوں؟ کیونکہ اس دنیا کا ایک خدا ہے اور خدا نیک کاروں کو دوست رکھتا ہے۔“

تو نیکی بکن و در دجلہ انداز

کہ ایزد در بیابانت دھد باز

”تم نیکی کرتے رہو اور ان سب کو دجلہ میں ڈال دو تاکہ خداوند عالم تمہیں صحرا میں اس کا بدلہ دے۔“

۱۱ ۔ اس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا ہے جو ابدی اور جزا و سزا کی دنیا ہے۔

۱۲ ۔ انسان کی روح ایک جاودانی حقیقت ہے۔ انسان قیامت میں صرف ایک زندہ صورت میں ہی محشور نہیں کیا جائے گا بلکہ دنیاوی موت اور قیامت کے درمیان بھی ایک منزل کا فاصلہ ہے جس میں انسان ایک قسم کی زندگی سے جس کو برزخی زندگی کہا جاتا ہے اور جو دنیوی زندگی سے زیادہ قوی اور زیادہ کامل ہے بہرہ مند ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی تقریباً ۲۰ آیتیں انسان کی موت اور قیامت کے درمیان کی مدت اور جسم انسانی کے بوسیدہ ہو کر خاک ہو جانے کی حالت میں بھی انسان کی زندگی پر دلالت کرتی ہیں۔

۱۳ ۔ زندگی اور اس کے بنیادی اصول یعنی انسانیت اور اخلاق کے اصول ابدی اور ناقابل تغیر اصول ہیں اور جو قواعد متغیر اور نسبی ہیں وہ فروعی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انسانیت کسی زمانے میں کوئی چیز ہو اور دوسرے زمانے میں کوئی دوسری چیز بن جائے جو پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہو مثلاً کسی زمانے میں انسانیت ابوذر ہونے میں ہو اور کسی زمانے میں انسانیت معاویہ بن جانے میں ہو بلکہ جن اصولوں کی بناء پر ابوذر ابوذر ہیں اور معاویہ معاویہ موسیٰ موسیٰ ہیں اور فرعون فرعون ہے وہ ہمیشہ رہنے والے اور غیر متغیر اصول ہیں۔

۱۴ ۔ حقیقت بھی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ایک علمی حقیقت اگر پورے طور پر حقیقت ہے تو وہ ہمیشہ کے لئے حقیقت ہے اور اگر وہ حقیقت بطور کلی خطا ہے تو ہمیشہ کے لئے خطا ہے اگر کسی کا ایک جزو حقیقت ہے اور دوسرا جزو خطا ہے تو جو جزو حقیقت ہے وہ ہمیشہ کے لئے حقیقت ہے اور جو جزو خطا ہے وہ ہمیشہ کے لئے خطا ہے اور ہو گا اور جو چیز متغیر و متبدل ہوتی ہے وہ واقعیت ہے اور وہ مادی واقعیت ہے لیکن حقیقت یعنی انسان کے فکری تصورات اور ذہنی افکار واقعیت سے منطبق ہونے اور منطبق نہ ہونے کے لحاظ سے ایک ثابت و قائم اور یکساں حالت رکھتے ہیں۔

۱۵ ۔ دنیا اور زمین و آسمان حق و عدالت کے ساتھ قائم ہیں۔

( ما خلقنا السموات والارض وما بینهما الا بالحق ) ( سورہ احقاف آیت ۳)

”ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان دونوں کے درمیان ہیں نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔“

۱۶ ۔ اس دنیا میں الٰہی منت باطل کے خلاف حق کی آخری فتح و کامیابی پر منحصر ہے حق اور اہل حق غالب اور ظفرمند ہیں۔

ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انهم لهم المنصورون وان جندنا لهم الغالبون

( سورہ الصافات آیت ۱۷۳)

”ہماری قضا اور ہمارا فیصلہ اس امر پر ہو چکا ہے کہ ہمارے پیغمبر بے شک منصور و ظفرمند ہیں اور بے شک ہماری فوج (لشکر حق) غالب و فاتح ہے۔“

۱۷ ۔ تمام انسان خلقت کے اعتبار سے برابر پیدا کئے گئے ہیں۔ کوئی انسان پیدائش کے اعتبار سے دوسرے انسان پر فوقیت نہیں رکھتا۔ بزرگی اور فضیلت تین چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے:

قلم: ”( هل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ) ( سورہ زمر آیت ۹)

راہ خدا میں جہاد: ”( فضل الله المجاهدین علی القاعدین اجرا عظیما ) ( سورہ النساء آیت ۹۵)

تقویٰ و پاکیزگی: ”( ان اکر مکم عندالله اتقٰکم ) ( سورہ حجرات آیت ۱۳۰)

۱۸ ۔ اصل خلقت کے اعتبار سے انسان بہت سی فطری صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے ان میں دینی اور اخلاقی فطرت بھی ہے انسان کے ضمیر و وجدان کا اصلی سرمایہ اس کی خداداد فطرت ہے نہ کہ طبقاتی محل و مقام یا اجتماعی زندگی یا طبیعت کے ساتھ زورآزمائی کیونکہ یہ سب انسان کے اکتسابی وجدان (ضمیر) میں موثر ہوتے ہیں انسان اپنی انسانی فطرت کے لحاظ سے منفرد ثقافت اور آئیڈیالوجی کا مالک بن سکتا ہے اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ قدرتی ماحول اجتماعی ماحول تاریخی اسباب و عوامل اور اپنے وراثتی عوامل کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہو اور اپنے کو ان سب کی قید سے آزاد کر لے۔

۱۹ ۔ چونکہ ہر فرد بشر فطری طور پر انسان پیدا ہوتا ہے ہر انسان میں (اگرچہ وہ بدترین انسان ہی کیوں نہ ہو) توبہ اور راہ راست کی طرف اس کی واپسی اور نصیحت قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی لئے انبیائے الٰہی اس بات پر مامور ہیں کہ حتیٰ بدترین افراد اور اپنے دشمنوں میں سے سخت ترین دشمن کو بھی ابتدائی مرحلے میں وعظ و نصیحت کریں اور اس کی انسانی فطرت کو بیدار کریں پس اگر یہ چیز فائدہ مند نہ ہو تو پھر ان سے مقابلہ و جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔

حضرت موسیٰ کو فرعون کے پاس پہلی مرتبہ جاتے وقت یہ وصیت کی گئی کہ

( فقل هل لک الی ان تزکی و اهد یک الی ربک فتخشیٰ ) ( سورہ النازعات آیت ۱۹)

”کہہ دو کہ کیا تو اپنے کو نجاست کفر سے پاک کرنے پر آمادہ ہے؟ اور کیا میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ بتا دوں تاکہ تو اس سے ڈرے؟“

۲۰ ۔ انسان ایک حقیقی مرکب اور حقیقی اکائی ہونے کے باوجود قدرتی جمادی اور نباتاتی مرکبات کے برخلاف (کہ ترکیب کی حالت میں) جس کے ترکیب دینے والے عناصر جو اپنی ہویت اور مستقل حیثیت کھو دیتے ہیں اور ان کا باہمی تضاد اور ٹکراؤ مکمل طور پر ملائمت اور ہم آہنگی میں تبدیل ہو جاتا ہے انسان کی خلقت میں جو متضاد عناصر استعمال ہوئے ہیں اپنی ہویت کو اور ذاتی حیثیت کو مکمل طور پر نہیں کھو دیتے اور ہمیشہ ایک اندرونی کشمکش انہیں ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہے یہ اندرونی تضاد وہی ہے جسے دین کی زبان میں عقل و جہل یا عقل و نفس یا روح و بدن کا تضاد کہا جاتا ہے۔

۲۱ ۔ چونکہ انسان مستقل روحانی جوہر کا مالک ہے اور اس کا ارادہ اس کی روحانی حقیقت کے سرچشمے سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا مختار و آزاد ہے کوئی جبر یا کوئی ذاتی احتیاج اس کی آزادی اور اس کے اختیار کو اس سے چھین نہیں سکتی اس لئے وہ اپنا بھی جواب دہ ہے اور اپنے معاشرے کا بھی ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔

۲۲ ۔ انسانی معاشرہ بھی فرد بشر ہی کی طرح ایک حقیقی مرکب ہے اور اپنے قوانین روایات اور نظام رکھتا ہے اور اپنی مجموعی حیثیت میں پوری تاریخ میں کبھی کسی خاص انسان کے ارادے کا تابع نہیں رہا ہے اور اپنے وجود میں (فکری نوعی سیاسی اور اقتصادی گروہوں پر مشتمل متضاد عناصر کے باوجود مکمل طور پر اپنی ہویت کو نہیں کھویا ہے) سیاسی اقتصادی فکری اور اعتقادی جنگ کی صورت میں مقابلہ آرائی اور بالآخر رشد و ہدایت پانے والے انسانی کمال پر پہنچنے والے انسانوں کی بلند و برتر خواہشات اور میلانات اور حیوان صفت انسانوں کی پست خواہشات کے درمیان جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک معاشرہ انسانیت کے بام و عروج تک نہیں پہنچ جاتا۔

۲۳ ۔ خداوند عالم کسی انسان یا کسی قوم کی سرنوشت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ آدمی یا وہ قوم خود اپنے حالات کو نہ بدلے۔

( ان الله لا یغیر مابقوم حتی یغیروا ما با نفسهم ) ( سورہ رعد آیت ۱۱)

۲۴ ۔ خداوند عالم جو انسان اور سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے غنی بالذات ہے تمام جہات سے بسیط ہے کامل مطلق ہے کسی چیز کا منتظر نہیں ہے اس میں حرکت و ارتقاء محال ہے اس کی صفات اس کی عین ذات ہیں ساری دنیا اسی کی بنائی ہوئی ہے۔ ساری سطح زمین اسی کے ارادے و مشیت کی مظہر ہے اس کے ارادے کا کوئی مقابل نہیں ہے۔ ہر ارادہ اور مشیت اس کے ارادے کے تابع ہے اس کے برابر نہیں ہے۔

۲۵ ۔ چونکہ دنیا کا صدور ایک مبداء سے ہوا ہے اور اسے ایک متناسب اور ہم آہنگ رفتار میں اسی کی طرف واپس جانا ہو گا اور چونکہ مدبر اور باشعور قوت کی تدبیر کے تحت اپنی حرکت اور رفتار کو جاری رکھے ہوئے ہے لہٰذا ایک قسم کی وحدت کی حامل ہے ایسی وحدت جو زندہ موجود کی عضوی وحدت سے مشابہ ہے۔

(ج) آئیڈیالوجی کے لحاظ سے اسلام کی خصوصیات

اسلام کی امتیازی خصوصیات کا بیان آئیڈیالوجی کے لحاظ سے خاص کر آئیڈیالوجی کی وسعت کے لحاظ سے خواہ کلی مشخصات کے اعتبار سے ہو یا آئیڈیالوجی کی ہر شاخ کی خصوصیات کے لحاظ سے بہت مشکل ہے پھر بھی ہم اس اصول کی بناء پر کہ اگر کسی چیز کو مکمل طور پر حاصل نہ کیا جا سکے تو جتنا حاصل کیا جا سکے اسی کو لے لینا چاہئے جو کچھ اس موقع پر فی الحال ہمارے لئے ممکن ہے اس کی ایک فہرست پر نظر ڈال رہے ہیں:

۱ ۔ ہمہ گیر حیثیت اور کمال و ارتقاء

دوسرے ادیان کے مقابلے میں اسلام کے من جملہ امتیازات میں سے ہے اور زیادہ بہتر الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ دین خدا کی ابتدائی صورتوں کی نسبت اس کی مکمل اور جامع صورت کی خصوصیات میں سے اس کی ایک جامعیت اور ہمہ گیر حیثیت ہے۔ اسلام کے چار مآخذ یعنی قرآن سنت اجماع اور عقل اس امر کے لئے کافی ہیں کہ علمائے امت ہر موضوع کے بارے میں اسلامی نظریہ معلوم کر سکیں۔ علمائے اسلام کسی موضوع کو بلا حکم نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک اسلام میں ہر چیز کے لئے ایک حکم موجود ہے۔

۲ ۔ اجتہاد قبول کرنے کی صلاحیت:

اسلامی کلیات کو اس طرح سے منظم کیا گیا ہے کہ ان میں اجتہاد قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔ اجتہاد یعنی کلی و ثابت اصول کو جزوی اور بدلتے رہنے والے مسائل و امور پر منطبق کرنا اسلامی کلیات کو اس طرح منظم شکل دینے کے علاوہ کہ جس کی وجہ سے ان میں اجتہاد کو قبول کرنے کی خاصیت پیدا ہو گئی ہے اسلامی سرچشمہ اور مآخذوں کی فہرست میں عقل کی موجودگی نے حقیقی اجتہاد کے کام کو آسان کر دیا ہے۔

۳ ۔ سہولت اور آسانی:

رسول اکرم کے الفاظ میں اسلام ”شریعت سمحہ سہلہ“ہے۔ ہاتھ پاؤں باندھ دینے والی مشقت میں ڈالنے والی بے حد پریشان کرنے والی تکالیف شرعیہ عائد نہیں کی گئی ہیں۔

ماجعل علیکم فی الدین من حرج

( سورہ حج آیت ۸۷)

”خدا نے تمہارے لئے دین میں تنگی اور دشواری قرار نہیں دی ہے۔“

اور اس بناء پر کہ ”سمحہ“ (درگذر کے ہمراہ ہے) جہاں بھی اس حکم شرع کا انجام دینا تنگی و دشواری اور شدید زحمت کا باعث ہو وہاں وہ ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔

۴ ۔ زندگی کی طرف میلان و رغبت:

اسلام زندگی کی طرف مائل اور راغب کرنے والا دین ہے نہ کہ زندگی سے دور کرنے کا باعث اور اسی لئے اس نے رہبانیت یعنی ترک دنیا سے سختی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں:

لا رهبانیة فی الاسلام

”اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔“

پرانے معاشرے میں دو چیزوں میں سے ایک چیز ہمیشہ موجود رہی ہے یا صرف آخرت کی طرف رغبت اور دنیا سے فرار یا صرف دنیا کی طرف رغبت اور آخرت سے گریز (تمدن اور ترقی و توسیع) اسلام نے انسان میں زندگی کی طرف رغبت کے ساتھ ساتھ آخرت کا شوق بھی رکھا ہے۔ اسلام کی نظر میں آخرت کا راستہ زندگی اور اس کی ذمہ داریوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔

۵ ۔ اجتماعی ہونا:

اسلامی قوانین اور احکام اجتماعی ماہیت کے حامل ہیں یہاں تک کہ وہ احکام جو زیادہ سے زیادہ انفرادی ہیں جیسے نماز روزہ وغیرہ اس میں بھی ایک اجتماعی اور سماجی حسن پیدا کر دیا گیا ہے۔ اسلام کے بہت سے اجتماعی سیاسی اقتصادی اور عدالتی قوانین و احکام اسی خاصیت کے حامل ہیں جیسا کہ جہاد اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کا تعلق اسلام اور اجتماعی ذمہ داری سے ہے۔

۶ ۔ انفرادی حقوق اور آزادی:

اسلام جہاں ایک اجتماعی دین ہے اور پورے معاشرے پر اس کی نظر رہتی ہے اور فرد کو معاشرہ کا ذمہ دار سمجھتا ہے وہاں فرد کی آزادی اور اس کے حقوق سے چشم پوشی بھی نہیں کرتا اور فرد کو فرعی حیثیت نہیں دیتا بلکہ اسلام نے فرد کے لئے سیاسی اقتصادی قانونی اور اجتماعی حقوق رکھے ہیں۔

سیاسی لحاظ سے مشورے اور انتخاب کا حق فرد کو حاصل ہے اقتصادی لحاظ سے اپنے کام کے ماحاصل اور حق محنت پر مالکیت کا حق معاوضہ اور مبادلہ صدقہ وقف ہبہ اجارہ مزارعہ اور مضاربہ وغیرہ کا حق اپنی جائز ملکیت میں رکھتا ہے قانونی لحاظ سے اسے دعویٰ دائر کرنے اپنا حق ثابت کرنے اور گواہی دینے کے حقوق دیئے گئے ہیں اور اجتماعی لحاظ سے اسے کام اور جائے سکونت کے انتخاب کا حق تحصیل علم میں مضمون کے انتخاب وغیرہ کا حق اور گھریلو زندگی میں اپنی شریک حیات کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔

۷ ۔ معاشرتی اور اجتماعی حق کی انفرادی حق پر فوقیت:

جس جگہ اجتماعی اور انفرادی حق کے درمیان تزاحم اور تضاد پیدا ہوتا ہے وہاں اجتماعی اور معاشرے کا حق انفرادی حق پر مقدم ہوتا ہے اسی طرح عام حق خاص حق پر فوقیت رکھتا ہے۔ البتہ ان موارد کی تشخیص خود حاکم شرع کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

۸ ۔ شوریٰ کا حصول:

اجتماعی نظام میں اسلامی نقطہ نظر سے شوریٰ کی حقیقت اپنی جگہ پر مسلم ہے۔ جن مقامات پر اسلام کی طرف سے کوئی صریح حکم نہیں آیا ہے وہاں مسلمانوں کو چاہئے کہ اجتماعی غور و فکر اور باہمی مشورے سے عمل کریں۔

۹ ۔ مضر حکم کا نہ ہونا:

اسلامی قوانین اور احکام جو مطلق اور عام ہیں اس حد تک ان پر عمل جائز ہے جہاں تک کسی ضرر و نقصان کا باعث نہ ہو قاعدہ ضرر ایک کلی قاعدہ ہے جو ہر اس قانون کے اجراء کے موقع پر ”ویٹو“ یعنی ”تنسیخ“ کا حق رکھتا ہے جب وہ ضرر و نقصان کا باعث ہو۔

۱۰ ۔ مفید نتیجے اور فائدے کی امتیازی حیثیت:

اسلام کی نظر میں ہر کام خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی سب سے پہلے اس کے فائدے اور مفید نتیجے کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ جس کام سے کوئی فائدہ برآمد نہ ہو اسلام کی نظر میں اسے بے ہودہ فضول اور ممنوع سمجھا جاتا ہے۔( والذین هم عن اللغو معرضون ) ( سورہ مومنون آیت ۳)

۱۱ ۔ لین دین میں خیر و صلاح کا لحاظ:

مال و دولت کی گردش اس کے نقل و انتقال کو ہر قسم کی بے ہودگی اور بدعنوانی سے پاک و صاف ہونا چاہئے۔ ہر نقل و انتقال کے مقابل میں کوئی مادی یا معنوی خیر و بھلائی ملحوظ خاطر ہونی چاہئے ورنہ مال کی یہ گردش باطل اور ممنوع ہو گی۔

( ولاتا کلوا اموالکم بینکم بالباطل ) ( سورہ بقرہ آیت ۱۸۸)

”جوئے وغیرہ کے ذریعے مال کا نقل و انتقال باطل طریقے سے مال کمانے کا مصداق ہے اور حرام ہے۔“

۱۲ ۔ سرمایہ جونہی گردش یا نقصان یا تباہی کی صورت سے خارج ہو کر ضمانت و غرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو عقیم (فائدے سے خالی) اور بے سود ہو جاتا ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے اس کا کوئی جائز فائدہ نہیں رہتا اور جو اضافی مقدار بھی اصل سرمائے پر لی جائے گی وہ سود اور حرام کے زمرے میں آئے گی۔

۱۳ ۔ ہر مالی تبادلہ اور سرمائے کی گردش طرفین کی پوری واقفیت و آگاہی ہی سے ہونی چاہئے اور ضروری سمجھا جائے گا۔

نهی النبی عن الغرر (صحیح مسلم ج ۳ ص ۱۱۵۳)

”اپنے کو معرض ہلاکت میں ڈالنا خدعہ دھوکہ و فریب ہے۔“

۱۴ ۔ خلاف عقل امور سے مقابلہ:

اسلام عقل کو قابل احترام چیز اور خدا کا باطنی رسول سمجھتا ہے اصول دین عقلی و منطقی دلیل کے بغیر قابل قبول نہیں ہیں۔ فروع دین میں بھی عقل اجتہاد کے سرچشموں میں سے ایک ہے۔ اسلام عقل کو ایک قسم کی طہارت اور عقل کے زائل ہونے کو ایک طرح کا محدث ہونا سمجھتا ہے لہٰذا جنون یا مستی کا طاری ہونا بھی پیشاب کرنے یا سو جانے کی مانند وضو کو باطل کر دیتا ہے۔ اسلام ہر طرح کی مستی اور نشے کا مخالف ہے اور مطلقاً تمام نشہ آور چیزوں کے استعمال کو حرام قرار دیتا ہے کیوں کہ وہ ہر اس چیز کا مخالف ہے جو عقل کی مخالف ہو اور یہ مخالفت دین کا جزولاینفک ہے۔(جو چیز نہی نبوی کی عبارت میں ہے وہ ”بیع غرری“ ہے لیکن اجتہادی معیارات مطلقہ طور پر غرر و فریب کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔مولف)

۱۵ ۔ خلاف ارادہ امور سے مقابلہ:

جس طرح عقل قابل احترام اور اسلامی تعلیمات میں بہت سے احکام عقل کی حفاظت و نگہبانی کے لئے ہیں اسی طرح ارادہ بھی جو عقل کی قوت مجریہ ہے قابل احترام ہے اس لحاظ سے ارادے (خیر) سے روکنے والی چیزیں جو زبان اسلام میں لہو و لعب کہلاتی ہیں بھی حرام و ممنوع ہیں۔

۱۶ ۔ کام اور مشغلہ:

اسلام بیکاری اور کاہلی کا دشمن ہے اس لحاظ سے کہ انسان معاشرے سے استفادہ کرتا ہے کام فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا بہترین عامل اور سبب ہے اور بیکاری تباہی و فساد کا سب سے بڑا عامل ہے۔ اس لئے انسان کو مفید کام انجام دینے چاہیں۔ اسلام طفیلی ہونے اور معاشرے پر بوجھ بننے کی سخت مذمت کرتا ہے اور معاشرے پر بوجھ بننے والے پر لعنت کرتا ہے:

ملعون من القی کله علی الناس

”وہ شخص جو اپنا بوجھ لوگوں پر ڈالتا ہے۔“(وسائل ج ۱۲ ص ۱۸)

۱۷ ۔ پیشے اور فن و ہنر کا مقدس ہونا:

پیشہ اور فن و ہنر جہاں ایک خدائی حکم ہے وہاں ایک مقدس اور پاکیزہ عمل اور اللہ کا محبوب و پسندیدہ امر بھی ہے اور جہاد کی مانند ہے۔

ان الله یحب المومن المحترف

(وسائل ج ۱۲ ص ۱۳ ان الفاظ کے ساتھ:ان الله یحب المحترف الامین )

”خداوند عالم اس مومن کو دوست رکھتا ہے جو صاحب فن و حرفت ہو۔“

الکاد لعیاله کالمجاهد فی سبیل الله (وسائل ج ۱۲ ص ۴۳ وہاں پر لعیالہ کی جگہ علی عیالہ آیا ہے)

”جو شخص اپنے عیال کے لئے اپنے کو رنج و تکلیف میں ڈالتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں جہاد کرتا ہے۔“

۱۸ ۔ استحصال کی ممانعت:

اسلام استحصال و استثمار یعنی دوسروں کے کام سے بلاعوض یا غیر مناسب معاوضہ حاصل کرنے کو خواہ وہ کسی شکل اور کسی تدبیر سے ہونا جائز اور ممنوع قرار دیتا ہے۔ کسی کام کے ناجائز ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ استحصالی ماہیت رکھتا ہے۔

۱۹ ۔ اسراف و فضول خرچی:

لوگ اپنے اموال کے مالک ہیں اور ان پر اپنا پورا تسلط رکھتے ہیں(الناس مسلطون علی اموالهم ) لیکن یہ تسلط اس معنی میں ہے کہ اسلام نے جو حدود معین کی ہیں وہ ان کے دائرے میں ہو نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ مال کا ضائع کرنا ہر شکل میں اور ہر صورت سے خواہ وہ پھینک دینے کی صورت میں ہو یا تباہ کن تجملات اور زیب و زینت کی چیزوں پر تصرف کی شکل میں ہو اور جسے اسلام کی زبان میں ”اسراف و تبذیر“ سے تعبیر کیا گیا ہے ممنوع اور حرام ہے۔

۲۰ ۔ زندگی میں ترقی و توسیع:

اہل و عیال کے آرام و آسائش کے لئے ضروریات زندگی کی چیزوں میں اضافہ کرنا اگر کسی کی حق تلفی یا اسراف اور فضول خرچی کی حد میں داخل نہ ہو جائے نہ صرف جائز بلکہ قابل تعریف فعل ہے اور اس کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔

۲۱ ۔ رشوت:

اسلام میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں کی سخت مذمت کی گئی ہے اور دونوں کو آتش جہنم کا مستحق قرار دیا گیا ہے اور جو پیسے اس طرح سے حاصل ہوتے ہیں وہ ناجائز اور حرام ہیں۔

۲۲ ۔ ذخیرہ اندوزی:

اگر عام طور پر اشیائے ضرورت (خاص کر اشیائے خوردنی) کو ذخیرہ کر لیا جائے تاکہ ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے تو یہ عمل ان اشیاء کا مہنگا بیچنا حرام اور ممنوع ہے حاکم شرعی مالک کی خواہش اور مرضی کے خلاف ان جمع شدہ اشیاء کو بازار میں لائے گا اور انہیں عادلانہ نرخ پر فروخت کرائے گا۔

۲۳ ۔ آمدنی کا مصلحت کی بنیاد پر ہونا نہ کہ طلب و تقاضے کی بنیاد پر:

عام طور پر چیزوں کی قدر و قیمت اور مالیت کا تعین صارفین کی طلب اور مانگ سے ہوتا ہے اور کسی کام کے جائز ہونے کے لئے اس کام کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے کو کافی سمجھا جاتا ہے لیکن اسلام کسی چیز کی مالی قدر و قیمت کے تعین اور لوگوں کے کام کو جائز قرار دینے کے لئے لوگوں کی طلب اور مانگ کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ کام کے معاشرے کی مصلحت کے مطابق ہونے کو عرف شریعت میں مالیت کے تعین اور کام کے جائز ہونے کے لئے لازمی شرط قرار دیتا ہے یعنی اسلام صرف لوگوں کی خواہشوں اور رغبتوں کو جائز آمدنی کا منبع نہیں سمجھتا بلکہ خواہشات اور رغبتوں کے علاوہ معاشرے کی مصلحت کے ساتھ آمدنی کو بھی شرط قرار دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسلام لوگوں کی طلب کو رسد کے جواز کے لئے کافی نہیں جانتا اس لئے اسلام میں بعض کاموں اور کسب کے طریقوں کو ”مکاسب محرمہ“ کہا گیا ہے۔ مکاسب محرمہ (کمانے کے حرام طریقے) چند قسم کے ہیں:

(الف) چیزوں کا ایسا لین دین جو جہالت میں ڈالنے کا موجب ہو۔ ایسی چیزیں جو لوگوں کو عملاً جہالت اور فکری و اعتقادی روگردانی کی طرف راغب کرنے اور شوق دلانے کا سبب ہوتی ہیں حرام ہیں اگرچہ ان کی مانگ کافی مقدار میں ہو اس لحاظ سے بت فروشی صلیب کا بیچنا تدلیس ماشطہ (عورت کی آرائش کرنا اور اس آرائش کے ذریعے عورت کے عیوب کو چھپانا تاکہ اس کا رشتہ لینے کے لئے آنے والے فریب کھا جائیں) کسی ایسے شخص کی مدح کرنا جو اس مدح کا مستحق نہ ہو کہانت اور غیب گوئی یہ سب امور حرام ہیں اور ان طریقوں سے مال وصول کرنا بھی ممنوع اور حرام ہے۔

(ب) ان چیزوں کا باہمی تبادلہ جو گمراہ کرنے اور غفلت میں مبتلا کرنے کا باعث ہیں- گمراہ کن کتابوں اور فلموں کی خرید و فروخت اور ہر وہ کام جو کسی طرح سے بھی معاشرے کی گمراہی کا موجب ہو ناجائز اور حرام ہے۔

(ج) وہ کام جو دشمن کی تقویت کا موجب ہو کسی بھی ایسے طریقے سے روپیہ پیسہ کمانا حرام ہے جو دشمن کی بنیاد مضبوط کرنے کا باعث ہو خواہ وہ فوجی اعتبار سے ہو یا اقتصادی ثقافتی یا جاسوسی کے اعتبار سے اسلامی محاذ کو کمزور بناتا ہو چاہئے اسلحہ فروشی کی صورت میں ہو یا ایسی دوسری چیزوں کی فروخت کی شکل میں جن کی احتیاج ہو اور جو عملاً مذکورہ امور کا سبب ہوں اور نایاب قلمی نسخوں کا بیچنا بھی انہی چیزوں میں شامل ہے۔

(د) ایسے امور کے ذریعے مال حاصل کرنا جو فرد یا معاشرے کے لئے تباہ کن اور نقصان پہنچانے والے ہوں مثلاً شراب فروشی آلات قمار کا بیچنا اسی طرح نجس العین چیزوں کا بیچنا اور ناقص اور ملاوٹ کی ہوئی چیزیں بھی اسی زمرے میں شامل ہیں (ان سب طریقوں سے) مال حاصل کرنا جوا کھیلنا امر حرام کی طرف دوسروں کو مائل کرنا اور لے جانا کسی مومن کی ہجو ظالموں کی مدد کرنا اور ان کی نوکری اور ملازمت وغیرہ (ممنوع اور حرام ہے) البتہ کسب حرام کی دوسری قسم بھی ہے جو کام کے خلاف مصلحت ہونے کی بناء پر نہیں بلکہ اس کے لین دین سے بالاتر ہونے کی وجہ سے حرام ہے بہت سے کام بزرگی و پاکیزگی کی ایسی حد میں ہیں کہ ان کے عوض قرار دینا ان کی حیثیت و عظمت و حرمت کے خلاف ہے جیسے فتویٰ دینے شرعی فیصلہ کرنے اصول و فروع دین کی تعلیم دینے وعظ و نصیحت کرنے اور اس جیسی دوسری چیزیں اور ممکن ہے طبابت بھی اسی میں شامل ہو۔

مذکورہ کام اور پیشے اپنے مقدس ہونے کی بناء پر لین دین اور مبادلہ سے بالاتر ہیں اور اس چیز سے کہیں بلند ہیں کہ آمدنی اور دولت کی جمع آوری کا ذریعہ بنیں یہ سب کام واجبات کا ایک سلسلہ ہیں جنہیں بلاعوض انجام پانا چاہئے البتہ مسلمانوں کا بیت المال ان مقدس کاموں کے انجام دینے والوں کی ضروریات زندگی کے اخراجات کا ذمہ دار ہو گا۔

۲۴ ۔ حقوق کا دفاع کرنا (خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی) اور زیادی و زبردستی کرنے والے کے خلاف جہاد کرنا واجب اور مقدس کام ہے۔

( لا یحب الله الجهر باالسوء من القول الا من ظلم ) ( سورہ نساء آیت ۱۴۸)

”خداوند عالم اعلانیہ طور پر بدگوئی کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے جس پر ظلم کیا گیا ہو۔“

رسول اکرم کا ارشاد گرامی ہے:

افضل الجهاد کلمة عدل عند امام جائر (کافی ج ۵ ص ۶۰)

”بہترین جہاد ظالم و جابر پیشوا کے سامنے عدل و انصاف کی بات کہنا ہے۔“

حضرت علی حضرت رسول خدا سے نقل فرماتے ہیں:

لن تقدس امة حتی یوخذ للضعیف حقه من القوی غیر متمتع

(نہج البلاغہ عہد نامہ مالک اشتر)

”کوئی قوم و ملت بزرگی و پاکیزگی (تعریف و تمجید کی قابلیت) حاصل نہیں کرتی یہاں تک کہ اس مرحلے پر پہنچ جائے کہ کمزور اپنا حق بلاخوف اور بلاجھجک طاقتور سے لے لے۔“

۲۵ ۔ اصلاح کی کوشش اور فساد و خرابی کے مقابلے میں مسلسل جدوجہد اسلام میں اچھائیوں کا حکم دینا اور اس طرف متوجہ رکھنا اور برائیوں سے روکنا وہ فریضہ ہے جو امام باقر کے مبارک الفاظ میں تمام اسلامی فرائض کا پایہ اور ستون ہے۔ یہ اصول مسلمان کو دائمی اور فکری انقلاب کے ذریعے اصلاح معاشرے کے لئے مسلسل کوشش اور تمام برائیوں اور تباہ کاریوں سے جنگ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

( کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنهون عن المنکر ) ( سورہ آل عمران آیت ۱۱۰)

”تم بہترین گروہ ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کئے گئے ہو تم نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے منع کرتے ہو۔“

جناب رسالت مآب فرماتے ہیں:

لتا مرون بالمعروف و تنهون عن المنکر او یسلطن الله (علیکم) شرار کم فید عو اخیار کم فلا یستجاب لهم (کافی ج ۵ ص ۵۶ کچھ کمی بیشی کے ساتھ)

”تم لوگوں کو امربالمعروف کرنا چاہئے برائیوں سے روکنا چاہئے ورنہ خداوند عالم تمہارے بروں کو تم پر مسلط کر دے گا پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے تو مستجاب نہیں ہو گی۔“

۲۶ ۔ توحید:

اسلام ہر چیز سے زیادہ دین توحید ہے توحید کے بارے میں کسی خدشے کو چاہے وہ توحید نظری میں ہو یا توحید عملی میں قبول نہیں کرتا اسلامی افکار رفتار اور کردار سب خدا سے شروع ہوتے ہیں اور خدا ہی پر ختم ہوتے ہیں اس لحاظ سے اسلام ہر قسم کی ثنویت تثلیت یا کسی بھی قسم کی زیادتی کو جو اس اصول کو مخدوش کرتی ہو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے جیسے (معاذ اللہ) خدا اور شیطان کی ثنویت یا خدا اور انسان کی دوئیت یا خدا اور مخلوق خدا کی دوئیت۔

ہر کام کو اللہ کے نام سے خدائی فکر کے ساتھ اور اللہ سے تقرب و نزدیکی حاصل کرنے کے لئے شروع ہونا چاہئے اور انجام کو پہنچنا چاہئے اور جو کام اس کے علاوہ ہو گا وہ اسلامی کام نہیں ہے اسلام میں تمام راہیں توحید پر ختم ہوتی ہیں۔ اخلاق اسلامی کا سرچشمہ توحید ہے اور یہ توحید ہی پر ختم ہوتا ہے۔ اسلامی تربیت بھی اسی طرح ہے سیاست اسلامی اقتصاد اسلامی اور اجتماع اسلامی سب اسی طرح اسلام سے وابستہ ہیں۔ اسلام میں ہر کام خدا کے نام سے اور اسی کی استعانت سے شروع ہوتا ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم

”اور خدا کے نام اور اس کی حمد پر ختم ہوتا ہے۔“

الحمدلله رب العالمین

”اور خدا کے نام سے اور اسی پر اعتماد سے ہر کام جاری ہوتا ہے۔“

توکلت علی الله وعلی الله فلیتو کل المومنون

( سورہ ہود آیت ۵۶ اور سورہ آل عمران آیت ۱۲۲)

ایک حقیقی مسلمان کی توحید ایک خیال اور خشک عقیدہ نہیں ہے جس طرح ذات خدا پنی مخلوقات سے جدا نہیں ہے بلکہ سب کے ساتھ ہے اور سب پر محیط ہے۔ ساری چیزیں اسی سے شروع ہوتی ہیں اور اسی پر ختم ہوتی ہیں۔

اسی طرح توحید کا تصور بھی ایک حقیقی موحد کے پورے وجود پر محیط ہوتا ہے اس کے تمام افکار و خیالات اس کی تمام قوتوں اور اس کے طور طریقوں پر سایہ فگن ہو جاتا ہے اور ان سب کی ایک خاص سمت کی طرف رہنمائی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک حقیقی مسلمان کے کام کی ابتداء انتہا اور وسط اللہ کی ذات ہوتی ہے اور وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیتا۔

۲۷ ۔ واسطوں کی نفی:

اسلام اگرچہ نزول فیض میں واسطوں اور ذریعوں کو قبول کرتا ہے اور علت و معلول کے نظام کو خواہ وہ امور مادی ہوں اور خواہ امور معنوی میں حقیقی اور واقعی شمار کرتا ہے مگر پرستش اور عبادت کی منزل میں تمام وسائل اور ذرائع کو مسترد کر دیتا ہے جیسا کہ ہم سب اس چیز سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تحریف شدہ مذاہب میں فرد (یعنی انسان انفرادی حیثیت سے) خدا سے براہ راست رابطہ اور تعلق کی قدر و قیمت اپنے ہاتھ سے کھو چکا ہے خدا اور بندے کے درمیان جدائی فرض کر لی گئی ہے صرف کاہن یا روحانی پیشوا براہ راست خدا کے ساتھ راز و نیاز کر سکتا ہے اور پس اسی کو حق ہے کہ دوسرے تمام لوگوں کے پیغامات کو خدا تک پہنچائے۔ اسلام میں یہ کام ایک طرح کا شرک گنا جاتا ہے قرآن کریم صراحت کے ساتھ کہتا ہے:

”(اے حبیب) اگر میرے بندے میرے بارے میں تم سے سوال کریں تو کہہ دو! میں نزدیک ہوں میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔“

۲۸ ۔ اہل توحید کے ساتھ باہمی زندگی کا امکان:

اسلام کی نظر میں تمام مسلمان اپنے ملک میں دوسرے ادیان کے ماننے والوں اور پیروکاروں کے ساتھ جو اصول توحید کو قبول کرتے ہیں جیسے یہودی عیسائی اور مجوسی اگرچہ فی الحال وہ توحید سے منحرف ہی ہوں پھر بھی چند مخصوص شرائط کے ساتھ ان کے ہمراہ زندگی گزار سکتے ہیں۔

لیکن اسلامی ملک کے اندر مشرک کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے مسلمان اسلام کی اعلیٰ مصلحتوں کی بنیاد پر مشرکین کے ساتھ صلح و صفائی اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے معاہدہ کر سکتے ہیں یا کسی خاص مسئلے پر بھی معاہدہ کر سکتے ہیں۔

۲۹ ۔ مساوات:

اسلامی آئیڈیالوجی کے اصول و ارکان مساوات اور غیر امتیازی سلوک ہے۔ اسلام کی نظر میں سب انسان اپنی ذات کے لحاظ سے برابر ہیں اور لوگ اس اعتبار سے دو یا کئی قسموں میں پیدا نہیں کئے گئے ہیں رنگ خون نسل و قومیت بلندی و برتری کے معیار نہیں ہیں۔ سید قریشی اور سیاہ حبشی دونوں برابر ہیں۔ اسلام میں آزادی جمہوریت اور عدل و انصاف انسانوں کی برابری اور مساوات کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔

اسلامی نظریے کے مطابق صرف چند محدود و معین حالات میں افراد کے بعض حقوق خود انہی افراد اور معاشرے کی چند مصلحتوں کے پیش نظر وقتی طور پر سلب ہوتے ہیں لیکن یہ چیز افراد کے جوہر ذات خون نسل اور مقام سے کوئی تعلق نہیں رکھتی غلاموں کی غلامی کا وقتی اور عارضی دور جو اسلام کی نظر میں ثقافتی تعلیمی اور تربیتی پہلو رکھتا تھا نہ کہ اقتصادی اور حصول نفع کا پہلو اور وہ دور اسلامی تربیت کے لئے ایک پرورش گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔

۳۰ ۔ اسلام میں حقوق شرعی ذمہ داریاں اور سزائیں دو جنسوں کے لحاظ سے ہیں یعنی جس طرح انسانیت میں مرد و زن مشترک ہیں اور نوعی مشترکات رکھتے ہیں لیکن ان کی جنسیت (یا صنفیت) ان کو خاص فرعی امتیاز عطا کر دیتی ہے اسی طرح حقوق شرعی ذمہ داریاں اور سزائیں بھی جہاں تک دو جنسوں کی مشترکات کے ساتھ مربوط ہیں مشترک اور مساوی ہیں مثلاً تحصیل علم کا حق عبادت و پرستش کا حق شریک حیات کے انتخاب کا حق ملکیت کا حق اپنی مملوکہ چیزوں میں تصرف کا حق وغیرہ اور جہاں تک یہ فرعی مختصات اور جنسیت سے مربوط ہیں تو وہاں بھی برابر اور مساوی حالت تو ہوتی ہے لیکن ایک دوسرے سے مشابہت اور یکسانیت کی صورت نہیں ہوتی اور دو جنسیت ہوتی ہے۔(ملاحظہ فرمائیں مولف کی کتاب ”اسلام میں خواتین کے حقوق“)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی ابن عبداللہ جن پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ۵۷۰ ء میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ چالیس سال کی عمر مبارک میں آپ نے اعلان رسالت فرمایا۔ آپ نے تیرہ سال تک مکہ میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور طرح طرح کی زحمتیں تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کیں اور اس عرصے میں ایک خالص اسلامی گروہ کی تربیت فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور اسی کو اسلام کی تبلیغ کا مرکز قرار دیا۔ دس سال تک مدینہ میں آزادانہ دعوت تبلیغ دین فرمائی اور عرب سرکشوں سے مقابلہ کیا اور سب کو مغلوب کر دیا۔ ان دس برسوں میں تمام جزیرة العرب مسلمان ہو چکا تھا۔

قرآن مجید کی آیات کریمہ تقریباً ۲۳ سال کے عرصے میں آنحضرت پر نازل ہوئیں۔ تمام مسلمان قرآن مجید اور حضرت رسول خدا کی مقدس شخصیت کے بارے میں تعجب خیز اور حیرت انگیز عشق و محبت و الفت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ رسول اکرم نے گیارہویں صدی ہجری میں یعنی مکہ سے مدینہ ہجرت فرمانے کے گیارہویں سال میں جب کہ آپ کی تبلیغ رسالت کا تئیسواں اور آپ کی عمر مبارک کا تریسٹھواں ( ۶۳) سال تھا دنیا سے رحلت فرمائی۔ اس حالت میں کہ ایک نوبنیاد اور روحانی نشاط سے سرشار معاشرے اور ایک تعمیری نظریہ کائنات پر ایمان رکھنے والے معاشرے کی جو دنیا بھر میں اپنی ذمہ داری کا احساس رکھتا تھا مستحکم و مضبوط بنیاد قائم کر دی تھی اور اسے قائم و دائم چھوڑ گئے تھے۔

جس چیز نے اس نوبنیاد معاشرے کو روحانیت اتحاد اور نشاط عطا کیا تھا وہ دو چیزیں تھیں ایک قرآن کریم جس کی ہمیشہ تلاوت ہوتی تھی اور دوسروں کو فیض پہنچاتا تھا دوسری چیز رسول اکرم کی عظیم اور ہر دل عزیز شخصیت تھی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتی اور نگاہوں کو شوق دیدار عطا کرتی تھی۔ یہاں پر ہم حضور اکرم کی مقدس و باعظمت شخصیت کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں:

حضور اکرم کے بچپن کا دور

ابھی رسول اکرم رحم مادر میں ہی تھے کہ آپ کے پدر بزرگوار کا شام کے ایک تجارتی سفر کے دوران مدینہ کے قریب انتقال ہو گیا۔ آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ کی تربیت و کفالت کی ذمہ داری لی۔ بچپن ہی سے بزرگ اور عام لوگوں سے بلند و بالاتر ہونے کے آثار آپ کے چہرہ مبارک اور رفتار و گفتار سے ظاہر ہوتے تھے۔ جناب عبدالمطلب نے اپنی فراست سے اس بات کو سمجھ لیا تھا کہ آپ کا یہ پوتا ایک روشن و تابندہ مستقبل کا حامل ہے۔

آپ ابھی آٹھ سال کے تھے کہ آپ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا اور ان کی وصیت کے مطابق آپ کے محترم چچا جناب ابوطالب نے آپ ۱ کی کفالت کی ذمہ داری قبول کی۔ جناب ابوطالب بھی اس بچے کے عجیب چال چلن جو عام بچوں سے بالکل مشابہت نہیں رکھتا سے تعجب و حیرت میں رہتے تھے۔ کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ آپ نے اپنے ہم سن اور ہم عمر بچوں کی طرح غذا کے سلسلے میں حرص سے کام لیا ہو۔ آپ ۱ تھوڑے سے کھانے پر اکتفا فرماتے اور زیادہ روی سے پرہیز کرتے(رسول اکرم ۱ کی سیرت خلق اور خصلت کا جو خلاصہ ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں وہ خاص کر علامہ بزرگ معاصر آقائے حاج سید ابوالفضل مجتہد زنجانی کے مقالہ ”محمد خاتم پیغمبران“ جلد اول سے استفادہ کیا گیا ہے۔مولف) اپنے ہم عمر بچوں کے برخلاف اور اس زمانے کی عادت و تربیت کے برخلاف آپ اپنے بالوں کو درست اور اپنے سر اور چہرہ مبارک کو صاف و شفاف رکھتے تھے۔ جناب ابوطالب سے ایک روز حضرت نے خواہش کی کہ آپ ان کے سامنے اپنا لباس اتار کر بستر پر (آرام کرنے کے لئے) جائیں تو آپ ۱ کو یہ خواہش ناگوار گزری لیکن چونکہ آپ اپنے چچا کے حکم سے سرتابی نہیں کرنا چاہتے تھے لہٰذا اپنے چچا سے کہا کہ آپ اپنا منہ پھیر لیں تاکہ میں اپنا لباس اتار سکوں۔ ابوطالب بچے کی اس بات سے بہت حیرت زدہ ہوئے کیوں کہ عرب میں اس وقت بچے تو بچے بڑی عمر والے مرد بھی اپنے جسم کو (لوگوں کے سامنے) برہنہ کرنے سے پرہیز نہیں کرتے تھے۔ جناب ابوطالب کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا بے ہودہ کام کرتے اور بے جا ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا بچوں کے کھیل کود کی طرف کبھی رغبت نہیں فرماتے تھے۔ خلوت نشینی اور تنہائی کو پسند فرماتے تھے اور ہر حالت میں منکسرالمزاج اور متواضع رہتے تھے۔

کاہلی اور بے کاری سے نفرت

آنحضرت ۱ کاہلی اور بے کاری سے سخت نفرت کرتے تھے اور فرماتے تھے:

”خدایا سستی کاہلی بے کاری عاجزی اور بدحالی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“(الجامع الصغیر ج ۱ ص ۵۸)

مسلمانوں کو کام کرنے کا شوق دلاتے تھے اور فرماتے تھے:

”عبادت کے ستر ( ۷۰) حصے ہیں اور اس کا بہترین حصہ حلال روزی کمانا ہے۔“(کافی ج ۵ ص ۷۸)

امانت

بعثت سے پہلے جناب خدیجہ کی طرف سے جو بعد میں آپ کی زوجیت میں آئیں شام کے ایک تجارتی سفر پر گئے۔ اس سفر میں آپ کی لیاقت و صلاحیت اور ایمان داری کھل کر ظاہر ہوئی۔ آپ نے اپنی دیانت و ایمان داری میں اس قدر زیادہ شہرت حاصل کر لی تھی کہ لوگوں نے آپ کا لقب ہی ”محمد امین“ قرار دے دیا تھا اور اپنی امانتیں حضرت کے سپرد کیا کرتے تھے یہاں تک کہ بعثت کے بعد بھی قریش کے لوگ آپ سے عداوت و دشمنی رکھنے کے باوجود اپنی امانتیں آپ کے سپرد کر دیا کرتے تھے اسی وجہ سے مدینہ سے ہجرت کرتے وقت حضرت علی کو اپنے بعد چند روز کے لئے مکہ میں چھوڑا تھا تاکہ ساری امانتوں کو ان کے اصل مالکوں کے حوالے کر دیں۔

ظلم سے مقابلہ

زمانہ جاہلیت میں ایک ایسے گروہ کے ساتھ جو خود بھی طاقتور ظالموں کے ظلم و ستم کا شکار تھا مظلوموں اور کمزوروں کی حمایت اور ظالموں سے مقابلہ کا معاہدہ فرمایا تھا۔ یہ معاہدہ مکہ کی ایک اہم شخصیت عبداللہ بن جرعان کے گھر منعقد ہوا تھا اور ”حلف فضول“ کے نام سے مشہور ہے۔ آپ اپنے دور رسالت میں بھی اس معاہدے کو یاد فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں اس معاہدے کے ٹوٹنے پر راضی نہیں ہوں اور میں اب بھی ایسے معاہدوں میں شریک ہونے کے لئے تیار ہوں۔

گھریلو اخلاق

آپ ۱ گھر میں بہت مہربان تھے۔ اپنی ازدواج کے ساتھ کسی قسم کی سختی نہیں کرتے تھے اور یہ بات مکہ والوں کے اخلاق و عادات کے خلاف تھی۔ اپنی بعض ازدواج کی بدزبانی کو برداشت کرتے تھے یہاں تکہ کہ دوسرے آپ کے اس تحمل و برداشت سے رنجیدہ ہوتے تھے۔ آپ لوگوں کو عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کی تاکید فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمام لوگ اچھی و بری عادات کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا مرد کو یہ نہیں چاہئے کہ اپنی بیوی کے صرف ناپسندیدہ پہلوؤں پر ہی نظر رکھے اور اپنی بیوی کو چھوڑ دے کیوں کہ اگر اس کی ایک خصلت سے اسے رنج پہنچتا ہے تو اس کی دوسری خصلت مرد کی خوشنودی کا باعث بھی ہوتی ہے اور ان دونوں خصلتوں کو ساتھ ساتھ نظر میں رکھنا چاہئے۔ آپ اپنے فرزندوں اور نواسوں پر حد سے زیادہ شفیق اور مہربان تھے ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اپنی آغوش میں انہیں بٹھاتے تھے انہیں اپنے کاندھوں پر سوار کرتے تھے ان کا بوسہ لیتے تھے۔ یہ سب باتیں اس زمانے کی رائج عادات و خصوصیات کے برخلاف تھیں ایک روز مدینہ کے شرفاء میں سے ایک شخص کی موجودگی میں آپ اپنے ایک نواسے (حضرت امام حسن ) کا بوسہ لے رہے تھے اس شخص نے کہا میرے دو بیٹے ہیں میں نے آج تک ان میں سے کسی ایک کا بھی بوسہ نہیں لیا ہے۔ آپ نے فرمایا:

من لا یرحم و لا یرحم (الفقیہ ج ۴ ص ۲۷۴)

”جو شخص مہربانی نہیں کرتا خدا کی رحمت و مہربانی اس کے شامل حال نہیں ہوتی۔“

مسلمانوں کے بچوں کے ساتھ بھی آپ مہربانی فرماتے تھے۔ ان کو اپنے زانو مبارک پر بٹھا کر ان کے سروں پر دست شفقت پھیرتے تھے کبھی کبھی مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو حضرت کو دیتی تھیں کہ آنحضرت ان کے واسطے دعا فرمائیں۔ کبھی ایسا بھی اتفاق ہو جاتا تھا کہ وہ بچے آپ کے لباس پر پیشاب کر دیتے تھے اور اس وجہ سے مائیں پریشان اور شرمندہ ہو جایا کرتی تھیں کہ بچے کے پیشاب جاری رہنے کو روک دیں تو آنحضرت انہیں اس کام سے سختی کے ساتھ منع فرماتے کہ بچے کے پیشاب کو مت روکو اور جہاں تک میرے کپڑوں کے نجس ہونے کا تعلق ہے تو میں انہیں پاک کر لوں گا۔

غلاموں کے ساتھ آپ کا سلوک

آنحضرت غلاموں پر حد سے زیادہ مہربان تھے۔ آپ لوگوں سے فرماتے تھے کہ یہ سب تمہارے بھائی ہیں۔ جو غذا تم کھاتے ہو وہی غذا انہیں بھی کھلاؤ اور جو کپڑا تم پہنتے ہو وہی کپڑا انہیں بھی پہناؤ طاقت فرسا اور مشکل کام کا بوجھ ان پر مت ڈالو۔ خود تم بھی کاموں میں ان کی مدد کیا کرو۔ حضرت فرماتے تھے ان کو غلام اور کنیز کہہ کر نہ پکارا کرو کیوں کہ ہم سب خدا کے مملوک اور بندے ہیں اور مالک حقیقی خدا ہے بلکہ انہیں لفظ فتیٰ (جوان مرد) یافتاہ (جوان عورت) کے لفظ سے پکارا کرو۔ اسلامی شریعت میں غلاموں اور کنیزوں کی آزادی کے لئے وہ تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں انہیں مکمل آزادی نصیب ہو آپ بردہ فروشی کو تمام پیشوں سے برا ترین پیشہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”خدا کے نزدیک بدترین انسان آدمیوں کو بیچنے والے ہیں۔“(وسائل ج ۱۲ ص ۹۷)

صفائی پاکیزگی اور خوشبو

صفائی اور خوشبو سے آنحضرت کو بہت شغف تھا خود حضرت ہمیشہ اس کا لحاظ فرماتے تھے اور دوسروں کو بھی حکم دیتے تھے اور تاکید فرماتے تھے کہ وہ اپنے جسموں اور گھروں کو پاک و صاف اور خوشبودار رکھیں خصوصاً جمعہ کے دنوں میں انہیں غسل کرنے اور اپنے کو معطر و خوشبودار رکھنے کی ترغیب دیتے تھے تاکہ ان سے بدبو محسوس نہ ہو اور اس کے بعد لوگ نماز جمعہ کے لئے مسجد میں حاضر ہوں۔

ملاقات اور معاشرت

رسول اکرم لوگوں کے ساتھ معاشرت رکھنے اور ملنے جلنے میں بہت مہربان تھے۔ سلام کرنے میں سب پر یہاں تک کہ بچوں پر بھی سبقت فرماتے تھے۔ کسی کے سامنے اپنے پاؤں نہیں پھیلاتے تھے اور کسی کی موجودگی میں ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتے تھے۔ زیادہ تر دو زانو بیٹھتے تھے۔ مجلسوں میں دائروں کی شکل میں نشست رکھتے تھے تاکہ مجلس میں بلند و پست جگہ کا وجود ہی نہ ہو اور تمام جگہوں کا درجہ برابر ہو اپنے احباب کے بارے میں دریافت فرماتے رہتے۔ اگر اپنے اصحاب میں سے کسی شخص کو تین روز تک نہ دیکھتے تو اس کے متعلق خاص طور سے معلومات حاصل فرماتے۔ اگر وہ مریض ہوتا تو اس کی عبادت کے لئے تشریف لے جاتے اور اگر وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا تو آپ اس کی مدد فرماتے مجالس و محافل میں صرف ایک شخص کی طرف نہیں دیکھتے تھے اور خاص طور سے کسی ایک شخص کو خطاب نہیں فرماتے تھے بلکہ اپنی مقدس نگاہوں کو پورے مجمع پر رکھتے تھے اور اس امر سے آپ ۱ کو سخت نفرت تھی کہ خود آپ بیٹھے رہیں اور دوسرے خدمت کریں (جب کبھی ایسا موقع آتا تو) آپ اپنی جگہ سے فوراً اٹھتے اور دوسروں کے ساتھ کاموں میں شریک ہو جاتے۔ آپ فرماتے تھے کہ

”خداوند عالم کو یہ بات ناپسند ہے کہ وہ بندہ کو اس حالت میں پائے کہ وہ دوسروں کی نسبت اپنے لئے کسی امتیاز کا قائل ہو جائے۔“

(کحل البصر ص ۶۸)

مزاج میں نرمی بھی سختی بھی

آپ اپنے انفرادی اور شخصی مسائل میں اور ان امور میں جو خاص آپ ۱ کی ذات اقدس سے مربوط و متعلق ہوتے تھے بے حد نرم مزاج ملائم اور درگذر کرنے والے تھے اور آپ کی اپنے مشن میں اتنی جلد کامیابی اور ترقی کے اسباب میں سے ایک یہی عظیم اور تاریخی (رحم دلی و نرم مزاجی کا) برتاؤ ہے۔

لیکن اصولی اور اجتماعی امور میں جہاں قانون کی حد شروع ہو جاتی وہاں آپ سختی سے پیش آتے اور پھر اس موقع پر درگذر کی کوئی گنجائش نہیں رہتی تھی۔ فتح مکہ اور قریش پر کامیابی حاصل ہو جانے کے بعد آپ نے قریش کی تمام عداوتوں اور ان کی تمام بدسلوکیوں کو جو انہوں نے پورے بیس سال کے عرصے میں حضرت کے خلاف روا رکھی تھیں ان سب سے آپ نے چشم پوشی فرمائی اور سب کو ایک ساتھ معاف کر دیا۔ اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ کے قاتل کی توبہ قبول کر لی لیکن اسی فتح مکہ کے موقع پر چوری کے جرم میں ایک عورت پکڑی گئی اور اس کا جرم بھی ثابت ہو گیا اس عورت کا خاندان قریش کے شرفاء میں سے تھا اور وہ لوگ حد جاری ہونے کو اپنے لئے توہین سمجھے تھے چنانچہ ان لوگوں نے رسول خدا کی خدمت میں بہت دوڑ دھوپ کی اور بہت کوششیں کیں کہ اس عورت پر حد نہ جاری کی جائے اور حضرت اس سے صرف نظر اور درگذر فرمائیں۔ بعض بزرگ صحابہ کو بھی سفارش کے لئے لائے اور ان لوگوں نے سفارش بھی کی لیکن رسول خدا کا رنگ غصے کی وجہ سے سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا:

”کیا یہ سفارش کا موقع ہے؟ کیا چند افراد کی خاطر خدائی قانون کو معطل کیا جا سکتا ہے؟“

اسی روز آپ نے عصر کے وقت اصحاب کے مجمع میں خطبہ ارشاد فرمایا جس میں کہا:

”پہلی قومیں اور ملتیں اس وجہ سے تباہ ہو گئیں کہ انہوں نے خدا کے قوانین نافذ کرنے میں امتیازی سلوک سے کام لیا تھا۔ جب کبھی طاقت وروں اور مال داروں میں سے کوئی شخص جرم کا مرتکب ہوتا تو اسے معاف کر دیتے تھے اور اگر کوئی ضعیف الحال اور کمزور طبقے کا شخص مرتکب جرم ہوتا تو اسے سزا دیتے تھے۔ اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے عدل و انصاف کے نافذ کرنے میں کسی کے بارے میں سستی و کاہلی اور کوتاہی نہیں کروں گا خواہ شخص خود میرے نزدیک ترین رشتہ داروں میں سے کیوں نہ ہو۔“

(صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۱۴)

عبادت

رات کے کچھ حصہ میں کبھی نصف شب کبھی ایک تہائی اور کبھی دو تہائی رات آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ اگرچہ آپ کا پورا دن خصوصاً مدینہ میں قیام کے زمانے میں تبلیغی جدوجہد اور دوسرے دینی کاموں میں گزر جاتا تھا پھر بھی آپ کے عبادت کے وقت میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی آپ اپنا کامل آرام و سکون عبادت الٰہی اور اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز میں پاتے تھے۔ آپ کی عبادت بہشت کے طمع یا جہنم کے خوف کی بناء پر نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ کی عبادت عاشقانہ اور شکر گذاروں جیسی ہوتی تھی۔ ایک روز آپ کی ازدواج میں سے کسی ایک نے کہا کہ آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں۔ آپ تو بخشے ہوئے ہیں آپ نے جواب دیا کہ ”کیا میں ایک شکرگذار بندہ نہیں ہوں؟“، آپ روزے بھی بہت رکھتے تھے ماہ شعبان اور رمضان کے علاوہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے تھے اور ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں بالکل آرام چھوڑ دیتے اور مسجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھ جاتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے لیکن دوسروں سے فرماتے تھے کہ تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ لیا کرو فرماتے تھے: اپنی قوت و طاقت کے مطابق عبادت کیا کرو۔ اپنی استعداد سے زیادہ بوجھ اپنے اوپر مت لا دو ورنہ اس کا نتیجہ برعکس ہو گا آپ رہبانیت گوشہ نشینی اور خلوت میں بیٹھ جانے اور اہل و عیال کو ترک کر دینے کے مخالف تھے۔ اصحاب میں بعض نے اسی کام کا مصمم ارادہ کر لیا تھا تو وہ ملامت و سرزنش کے مستحق قرار پائے۔ آپ فرماتے تھے تمہارا بدن تمہارا اہل و عیال تمہارے دوست و احباب سب کے حقوق تمہارے اوپر واجب ہیں تمہیں ان حقوق کا لحاظ رکھنا چاہئے۔

تنہائی کی حالت میں عبادت کو طول دیتے تھے کبھی کبھی تہجد کی حالت میں گھنٹوں مشغول رہتے تھے لیکن جماعت میں اختصار کی کوشش فرماتے مامومین میں سے کمزور شخص کا لحاظ ضروری سمجھتے تھے اور اس کی وصیت فرماتے تھے۔

زہد اور سادہ زندگی

زہد اور سادہ زندگی آپ کا اصول تھا سادہ غذا نوش فرماتے سادہ لباس زیب تن فرماتے سادہ روش رکھتے آپ کا فرش اکثر چٹائی ہوتی زمین پر بیٹھ جاتے آپ بذات خود بکری کا دودھ دوہ لیا کرتے زین و پالان کے بغیر بھی سواری پر سوار ہوتے تھے اور اس امر سے سختی کے ساتھ منع فرماتے کہ کوئی آپ کی سواری کے ساتھ پیادہ چلے۔ آپ کی غذا اکثر جو کی روٹی اور خرما ہوا کرتی۔ آپ اپنے لباس اور نعلین پر خود ہی اپنے ہاتھ سے پیوند لگا لیتے تھے اس سادگی کے باوجود فلسفہ فقر (محتاجگی) کے طرف دار نہیں تھے مال و دولت کو معاشرے کی ترقی اور جائز کاموں میں خرچ کرنے کو لازم سمجھتے تھے آپ فرماتے تھے:

نعم المال الصالح للرجل الصالح (حجتہ البیضا ج ۶ ص ۴۴)

”کتنی اچھی ہے وہ دولت جو جائز طریقوں سے حاصل ہو اس آدمی کے لئے جو اس دولت کو رکھنے کے لائق ہو اور یہ جانتا ہو کہ اسے کیسے خرچ کرے۔“

نیز حضرت فرماتے تھے:

نعم العون علی تقوی الله الغنیٰ (وسائل ج ۱۲ ص ۱۶)

”مال و دولت تقویٰ کے لئے اچھی مدد ہے۔“

ارادہ اور پامردی

آپ ۱ کا ارادہ عزم مصمم اور آپ ۱ کی استقامت و پامردی بے نظیر تھی اور یہ چیز آپ کے اصحاب میں بھی سرایت کر گئی تھی آپ ۱ کا ۲۳ سالہ دور بعثت و رسالت مکمل عزم و استقامت کا درس ہے آپ اپنی مقدس حیات کی تاریخ میں بارہا ایسے سخت حالات سے دوچار ہوئے کہ تمام امیدیں ہر طرف سے منقطع ہو چکی تھیں لیکن آپ نے ایک لحظہ کے لئے بھی ہمت ہارنے کا تصور بھی ذہن میں نہیں آنے دیا۔ آپ ۱ کا ایمان کامل و محکم ایک لمحہ کے لئے بھی نصرت و توفیق الٰہی کی نااُمیدی سے متزلزل نہیں ہوا۔

قیادت

اگرچہ آپ ۱ کا حکم اصحاب کے درمیان فوری طور پر نافذالعمل ہوتا تھا اور وہ لوگ بار بار کہتے تھے کہ جب ہم آپ پر پختہ اور یقینی ایمان رکھتے ہیں تو اگر آپ ۱ ہمیں حکم دیں کہ ہم سمندر میں ڈوب جائیں یا اپنے آپ ۱ کو آگ میں جلا دیں تو ہم ایسا ہی کریں گے پھر بھی آپ کا طریقہ کار اور آپ کی روش حاکمانہ نہیں تھی۔ جن کاموں میں خدا کی طرف سے کوئی حکم نہیں پہنچا تھا ان کے بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے تھے اور ان کے خیالات و افکار کا لحاظ فرماتے تھے اور اس طریقے سے ان کی شخصیتوں کو ابھارتے تھے۔ جنگ بدر کے موقع پر جنگ کے لئے اقدام کا مسئلہ اسی طرح لشکرگاہ کے تعین کا مسئلہ جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک و برتاؤ کا مسئلہ۔ ان سب مسائل کو آپ نے باہمی مشاورت پر چھوڑ دیا۔ احد میں بھی اس مسئلے کے متعلق کہ لشکرگاہ شہر مدینہ ہی کو بنایا جائے یا اس کے لئے شہر سے باہر کوئی جگہ منتخب کی جائے یہ مسئلہ بھی مشاورت سے ہی طے ہوا جنگ احزاب اور جنگ تبوک میں بھی اصحاب سے مشورہ کیا۔

پیغمبر اکرم کی نرمی و مہربانی عفو و درگذر اپنے اصحاب کے واسطے طلب و مغفرت اور امت کے گناہوں کی بخشش کے لئے آپ ۱ کی بے چینی و بے تابی اسی طرح اپنے اصحاب کو سمجھنا اور انہیں وقعت و اہمیت دینا ان کو شیر قرار دینا اور شخصیت عطا فرمانا یہ سب چیزیں اپنے اصحاب کے درمیان آپ ۱ کی عظیم و بے نظیر تاثیر کے اسباب میں سے تھیں۔ قرآن کریم ایک مقام پر اس مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے:

فبما رحمة من الله لنت لهم ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضو امن حولک فاعف عنهم و استغفرلهم و شاورهم فی الامر واذاعزمت فتوکل علی الله

(سورئہ آل عمران آیت ۱۵۹)

”اے حبیب! اس شفقت کی وجہ سے جو خدا نے آپ کے دل میں پیدا کی ہے آپ اپنے اصحاب کے ساتھ نرمی کا برتاؤ رکھتے ہیں اگر آپ سخت مزاج اور تندخو ہوتے تو یہ لوگ آپ سے دور ہی رہتے اور منتشر ہو جاتے پس آپ ان کے ساتھ عفو و درگذر ہی سے کام لیں اور ان کے لئے طلب مغفرت کرتے رہیں اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کر لیا کریں اور جب کسی کام کا پختہ عزم و ارادہ کر لیں تو پھر بس خدا پر بھروسہ کریں۔“

نظم و ضبط

نظم و ضبط اور باقاعدگی آپ کے تمام کاموں پر حاوی اور حاکم تھی آپ اپنے اوقات کو کاموں کے لحاظ سے تقسیم فرما دیا کرتے تھے ہر کام کے لئے ایک معین وقت اور ہر وقت کے لئے ایک کام اور اسی عمل کی لوگوں کو وصیت بھی فرمایا کرتے۔ آپ کے اصحاب بھی آپ سے متاثر ہو کر نظم وضبط کا خاص خیال رکھتے تھے بہت سے منصوبوں کو جنہیں ضروری و اہم سمجھتے تھے کہ وہ ظاہر نہ ہوں تو انہیں ہرگز ظاہر نہیں فرماتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اس سے آگاہ ہو جائے۔ آپ کے اصحاب آپ کے منصوبوں پر بے چون و چرا عمل کرتے تھے مثلاً آپ حکم دیتے کہ تیار ہو جاؤ کل ہم چلیں گے تو سب کے سب جس طرف آپ جانے کا حکم دیتے روانہ ہو جاتے تھے اور یہ معلوم نہیں کرتے تھے کہ کہاں جانا ہے اور کس غرض سے جانا ہے؟ سفر کے آخری لمحات اور منزلوں میں انہیں معلوم ہوتا کہ آخری منزل کون سی ہے اور مقصد کیا ہے؟ کبھی چند افراد کو کوچ کا حکم دیتے اور اس گروہ کے سردار کو ایک مہربند خط عنایت فرماتے اور حکم دیتے کہ جب تم اتنے دن کے بعد فلاں منزل و مقام پر پہنچنا تو خط کو کھولنا اور اس کے مطابق حکم کو نافذ کرنا۔

وہ لوگ ایسا ہی کرتے تھے اور اس معینہ منزل و مقام پر پہنچنے سے پہلے انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ان کی آخری منزل کہاں ہے اور وہ کس ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے جا رہے ہیں اس حکمت عملی سے دشمن کے جاسوس آخری وقت تک بے خبری میں رہتے اور کبھی کبھی غفلت کی حالت میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔

تنقید سننے کی طاقت اور مداحی و چاپلوسی سے نفرت

کبھی کبھی رسول اکرم اپنے بعض اصحاب کے اعتراضات کا بھی سامنا کرتے تھے لیکن آپ اظہار ناراضگی اور برہمی کے بغیر ان کی رائے کو اپنے منصوبے کے ساتھ ملا کر انہیں اپنا ہم خیال بنا لیا کرتے تھے آپ خوشامد تعریف اور چاپلوسی سے بے راز تھے اور فرماتے تھے:

”خوشامدی اور چاپلوسوں کے منہ پر خاک ڈالو۔“

(بحارالانوار ج ۷۳ ص ۲۹۴)

ہر کام میں احتیاط کرنے اور کاموں میں استحکام و پائیداری کا خیال رکھنے کو پسند فرماتے تھے آپ کی خواہش ہوتی تھی کہ جو کام بھی انجام پائے وہ محکم و مضبوط ہو یہاں تک کہ جب آپ کے مخلص صحابی سعد بن معاذ ۱  کا انتقال ہوا اور لوگوں نے ان کو قبر میں رکھا تو آپ نے اپنے دست مبارک سے قبر کی اینٹوں اور پتھروں کو مضبوطی سے لگایا اور اس وقت فرمایا:

”میں جانتا ہوں کہ زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا کہ یہ خراب اور بوسیدہ ہو جائیں گی لیکن خداوند عالم اس بات کو دوست رکھتا اور پسند کرتا ہے کہ بندہ جو کام بھی انجام دے اسے مضبوطی کے ساتھ انجام دے۔“(بحارالانوار ج ۲۲ ص ۱۰۷)

لوگوں کی کمزوری و ناواقفیت سے غلط فائدہ نہ اٹھانا

آپ لوگوں کے ضعف و کمزوری کے موقعوں اور ان کی نادانیوں سے ہرگز کوئی استفادہ نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے برعکس ان کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور لوگوں کو ان کی لاعلمی اور ناواقفیت سے آگاہ کرتے تھے۔ جس روز آپ کے ۱۵ مہینے کے فرزند جناب ابراہیم کا انتقال ہوا اسی دن اتفاق سے سورج کو گرہن لگا لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس گروہ کا سبب وہ مصیبت ہے جو رسول اکرم پر پڑی ہے۔ لوگوں کے اس جاہلانہ خیال کے ردعمل میں آپ خاموش نہیں رہے بلکہ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:

ایها الناس

”اے لوگو! چاند اور سورج خدا کی نشآنیوں میں سے دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے سے غمناک نہیں ہوتیں۔“

رسول اکرم کی شخصیت قیادت و رہبری کی شرائط کی بہترین مصداق

قیادت و رہبری کی شرائط کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے تشخیص و تمیز کی حس دلیری اور ہوشیاری کامل یقین پیش قدمی کرنا محتمل و ممکن عواقب سے بے خوف رہنا مستقبل بینی اور دوراندیشی تنقید برداشت کرنے کی قوت افراد شناسی افراد کی قوتوں کا اندازہ کرنا اور ان کے مطابق انہیں اختیارات سونپنا۔ نجی اور انفرادی امور میں نرمی اصولی مسائل میں سختی اپنے پیروکاروں کی شخصیت کو اجاگر کرنا اور ان کی طرف برابر متوجہ رہنا ان کی عقلی جذباتی اور عملی صلاحیتوں کی تربیت کرنا اور انہیں ابھارنا استبداد و حاکمیت اور اندھی تقلید کے میلان و رجحان سے پرہیز تواضح و انکساری سادگی و درویشی وقار و متانت و سنجیدگی تنظیم اور نظام کو دوست رکھنا تاکہ انسانی قوتوں کو استعمال میں لایا جا سکے اور انہیں منظم کیا جا سکے۔ یہ تمام شرائط و صفات رسول اکرم کی ذات اقدس میں کمال کی حد تک اور مکمل طور پر موجود تھیں۔

آنحضرت فرماتے تھے:

”اگر تم تین آدمی ایک ساتھ سفر کرتے ہو تو اپنے میں ایک آدمی کو رئیس و حاکم منتخب کر لیا کرو۔“

آپ نے مدینہ کے اندر خود اپنے معاشرے میں خاص شعبے قائم کئے تھے مثلاً منشیوں کی تربیت فرمائی تھی ہر گروہ کو الگ الگ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ چند کاتبان وحی کی حیثیت سے تھے جو قرآن کو لکھ لیا کرتے تھے۔ ایک گروہ خصوصی خط و کتابت کے لئے مخصوص تھا۔ کچھ لوگوں کے معاہدوں اور معاملات کو لکھا کرتے تھے۔ ایک جماعت صدقات و ٹیکسوں کا حساب کتاب لکھتی تھی کچھ لوگ عہد ناموں اور اقرار ناموں کے ذمہ دار تھے: ”تاریخ یعقوبی“، ”التنبیہ والاشراف“ مسعودی ”معجم البلدان“ بلازری اور ”طبقات“ ابن سعد وغیرہ جیسی تاریخ کی کتابوں میں یہ ساری باتیں موجود ہیں۔

تبلیغ کا طریقہ کار

اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں آپ آسانی اور نرمی کا راستہ اختیار کرنے والے تھے نہ کہ سخت گیر خوف دلانے والے۔ آپ ڈرانے دھمکانے کی بجائے زیادہ تر بشارت و خوشخبری کے ذریعے دعوت دیتے تھے۔ اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو تبلیغ اسلام کی غرض سے یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ

یسرو لا تعسرو بشرولا تنفر

(دلائل النبوہ ج ۵ ص ۴۰۱)

”یعنی آسانی اور نرمی کا راستہ اختیار کرو سختی کا نہیں اور لوگوں کو خوشخبری دو اور ان کی خواہش و رغبت و شوق کو ابھارو انہیں متنفر نہ کرو۔“

خود آپ ۱ تبلیغ کے کام میں اکثر مشغول رہتے چنانچہ طائف کا سفر کیا حج کے زمانے میں (باہر سے آئے ہوئے) قبائل کے درمیان تشریف لے جاتے اور تبلیغ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت علی کو اور پھر دوبارہ معاذ بن جبل  ۱ کو لوگوں کی تبلیغ کے واسطے یمن بھیجا مدینہ ہجرت فرمانے سے پہلے مصعب بن عمیر کو مدینہ والوں میں تبلیغ کرنے کے لئے بھیجا۔ اپنے بہت سے اصحاب کو حبشہ بھیجا جنہوں نے مکہ والوں کے ظلم و ستم اور ان کی ایذا رسانیوں سے نجات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حبشہ میں دین کی تبلیغ بھی کی اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی سمیت وہاں کی تقریباً آدھی آبادی کے لئے اسلام لانے کا موقع فراہم کیا۔ چھٹی ہجری میں دنیا کے بادشاہوں کو خطوط روانہ فرمائے جن میں انہیں اپنی نبوت و رسالت کی خبر دی ان میں سے تقریباً ایک سو خطوط کی نقلیں ابھی بھی موجود ہیں جو آپ نے مختلف اشخاص کو تحریر فرمائے تھے۔

علم کی تشویق و ترغیب

آپ لوگوں کو تحصیل علم کا شوق دلاتے تھے آپ نے اپنے اصحاب کے بچوں کو آمادہ کیا کہ وہ علم حاصل کریں۔ اپنے کئی اصحاب کو حکم دیا کہ وہ سریانی زبان سیکھیں۔

آپ فرماتے تھے کہ

”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔“

(بحارالانوار ج ۱ ص ۱۷۷)

ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں:

”حکمت کو جہاں اور جس شخص کے پاس پاؤ اگروہ مشرک اور منافق ہی کیوں نہ ہو اس کو حاصل کرو۔“(بحارالانوار ج ۲ ص ۹۹)

نیز آپ فرمایا کرتے تھے:

”علم کو تلاش کرو اگرچہ تم کو اس کے لئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔“(بحارالانوار ج ۱ ص ۱۷۷)

طلب و تحصیل علم کے لئے آنحصرت کی یہ تاکید و ترغیب اس بات کا باعث بنی کہ مسلمان ہمت و حوصلے اور بے مثال تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں علم کی جستجو اور اس کی تحصیل میں مشغول ہو گئے۔ جہاں جہاں علمی آثار پائے انہیں حاصل کیا۔ ان کے ترجمے کئے اور خود تحقیق میں مصروف ہو گئے اور اس طریقے سے یونانی رومی ایرانی مصری اور ہندی جیسے قدیم تمدنوں اور جدید یورپی تمدنوں کے درمیان باہمی رابطے کا حلقہ بننے کے ساتھ ساتھ خود تاریخ بشریت میں شاندار اور باوقار تمدن کی بنیاد رکھ دی جس کو ”اسلامی تمدن و ثقافت“ کے نام سے پہچانا گیا اور اب بھی پہچانا جاتا ہے۔ آپ ۱ کا اخلاق اور آپ کے خصائل آپ کے کلام اور آپ کے دین کی مانند جامعیت اور ہمہ گیر حیثیت کے حامل تھے۔ تاریخ آپ کی مانند کسی ایسی شخصیت کو پیش کرنے سے قاصر رہی ہے اور نہ ہرگز کسی ایسی شخصیت کو پیش کر سکتی ہے کہ جو تمام انسانی پہلوؤں کے اعتبار سے حد کمال کو پہنچی ہو آنحضرت واقعاً انسان کامل تھے۔


فہرست

عمومی ہدایت ۴

انبیاء کی خصوصیات ۵

۱ ۔ اعجاز ۵

۲ ۔ عصمت ۶

گناہ سے محفوظ رہنا ۶

خطا اور غلطی سے محفوظ رہنا ۷

پیغمبروں اور نابغہ افراد کے درمیان فرق ۸

۳ ۔ قیادت و رہبری ۸

۴ ۔ خلوص نیت ۹

۵ ۔ اصلاح احوال ۱۱

۶ ۔ مقابلہ اور جہاد ۱۱

۷ ۔بشری پہلو ۱۲

۸ ۔ صاحبان شریعت پیغمبر ۱۳

انبیاء کا تاریخی کردار ۱۴

۱ ۔ تعلیم و تربیت ۱۷

۲ ۔ عہد و پیمان پر زندگی استوار کرنا ۱۷

۳ ۔ اجتماعی قید و بند کی آزادی ۱۷

مقصد بعثت انبیاء ۱۹

دین یا ادیان؟ ۲۳


ختم نبوت ۲۴

نبوتوں کی تجدید کے اسباب ۲۵

۱ ۔ وحی: ۲۷

معجزئہ ختمی مرتبت ۳۷

غیر قرآنی معجزہ ۴۲

معجزہ کی قدر و قیمت اور افادیت ۴۵

معجزوں کی اہمیت و افادیت قرآن کی نظر میں ۴۶

پیغمبر کی ہدایت کا رخ ۴۶

قرآن ۵۱

قرآن کیلئے مسلمانوں کی عظیم کوشش ۵۱

اعجاز قرآن ۵۲

قرآن کے معجزانہ پہلو ۵۲

الفاظ قرآن ۵۳

معانی قرآن ۵۵

قرآنی موضوعات ۵۷

معانی قرآن کی وسعت ۶۰

اللہ اور قرآن ۶۱

انسان کا خدا سے رشتہ و تعلق ۶۳

قرآن‘ تورات اور انجیل ۶۳

تاریخی واقعات اور قصے ۶۴


قرآن اور اس کی پیشین گوئیاں ۶۴

اسلام کی امتیازی خصوصیات ۶۵

(الف) معرفت اور شناخت کا مسئلہ ۱ ۔ ۶۹

۴ ۔ شناخت کے موضوعات: ۷۱

(ب) تصور کائنات کے لحاظ سے ۷۲

(ج) آئیڈیالوجی کے لحاظ سے اسلام کی خصوصیات ۷۸

۱ ۔ ہمہ گیر حیثیت اور کمال و ارتقاء ۷۸

۲ ۔ اجتہاد قبول کرنے کی صلاحیت: ۷۸

۳ ۔ سہولت اور آسانی: ۷۹

۴ ۔ زندگی کی طرف میلان و رغبت: ۷۹

۵ ۔ اجتماعی ہونا: ۷۹

۶ ۔ انفرادی حقوق اور آزادی: ۸۰

۷ ۔ معاشرتی اور اجتماعی حق کی انفرادی حق پر فوقیت: ۸۰

۸ ۔ شوریٰ کا حصول: ۸۰

۹ ۔ مضر حکم کا نہ ہونا: ۸۰

۱۰ ۔ مفید نتیجے اور فائدے کی امتیازی حیثیت: ۸۱

۱۱ ۔ لین دین میں خیر و صلاح کا لحاظ: ۸۱

۱۴ ۔ خلاف عقل امور سے مقابلہ: ۸۱

۱۵ ۔ خلاف ارادہ امور سے مقابلہ: ۸۲

۱۶ ۔ کام اور مشغلہ: ۸۲


۱۷ ۔ پیشے اور فن و ہنر کا مقدس ہونا: ۸۲

۱۸ ۔ استحصال کی ممانعت: ۸۳

۱۹ ۔ اسراف و فضول خرچی: ۸۳

۲۰ ۔ زندگی میں ترقی و توسیع: ۸۳

۲۱ ۔ رشوت: ۸۳

۲۲ ۔ ذخیرہ اندوزی: ۸۳

۲۳ ۔ آمدنی کا مصلحت کی بنیاد پر ہونا نہ کہ طلب و تقاضے کی بنیاد پر: ۸۴

۲۶ ۔ توحید: ۸۶

۲۷ ۔ واسطوں کی نفی: ۸۷

۲۸ ۔ اہل توحید کے ساتھ باہمی زندگی کا امکان: ۸۷

۲۹ ۔ مساوات: ۸۷

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۸۸

حضور اکرم کے بچپن کا دور ۸۹

کاہلی اور بے کاری سے نفرت ۹۰

امانت ۹۰

ظلم سے مقابلہ ۹۰

گھریلو اخلاق ۹۱

غلاموں کے ساتھ آپ کا سلوک ۹۱

صفائی پاکیزگی اور خوشبو ۹۲

ملاقات اور معاشرت ۹۲


مزاج میں نرمی بھی سختی بھی ۹۳

عبادت ۹۳

زہد اور سادہ زندگی ۹۴

ارادہ اور پامردی ۹۵

قیادت ۹۵

نظم و ضبط ۹۶

تنقید سننے کی طاقت اور مداحی و چاپلوسی سے نفرت ۹۶

لوگوں کی کمزوری و ناواقفیت سے غلط فائدہ نہ اٹھانا ۹۷

رسول اکرم کی شخصیت قیادت و رہبری کی شرائط کی بہترین مصداق ۹۷

تبلیغ کا طریقہ کار ۹۸

علم کی تشویق و ترغیب ۹۹

وحی اور نبوت

وحی اور نبوت

مؤلف: شہید ڈاکٹر مرتضی مھطری
زمرہ جات: نبوت
صفحے: 13