زاد راہ (پہلی جلد)

مؤلف: آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
معاد


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : زاد راہ (پہلی جلد)

تالیف : آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی

ترجمہ : سید قلبی حسین رضوی

تصحیح : فیروز حیدر فیضی

نظر ثانی: مرغوب عالم عسکری

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت

طبع اول : ١٤٢٨ھ ۔ ٢٠٠٧ئ

تعداد : ٣٠٠٠

مطبع : اعتماد


قال رسول ﷲ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب ﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( صحیح مسلم: ١٢٢٧، سنن دارمی: ٤٣٢٢، مسند احمد: ج٣، ١٤، ١٧، ٢٦، ٥٩. ٣٦٦٤ و ٣٧١. ١٨٢٥اور ١٨٩، مستدرک حاکم: ١٠٩٣، ١٤٨، ٥٣٣. و غیرہ.)


عرض ناشر

یقیناً اہل بیت علیہم السلام کی وہ میراث، جسے ان کے مکتب نے ذخیرہ کیا اور اس کے ماننے والوں نے برباد ہونے سے بچایا اسے ایک ایسے مکتب سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اسلامی معارف کے تمام اصول و فروع کو حاوی ہے ، لہٰذا اس مکتب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ایسے با استعداد افراد کی تربیت کرے جو اس کے صاف و شفاف چشمہ سے کچھ گھونٹ نوش کرسکیں ،اور امت اسلامیہ کو فیض پہنچانے کیلئے ایسے اکابرعلماء کو پیش کر ے جو اہل بیت علہیم السلام کے نقش قدم پر گامزن رہتے ہوئے تمام اعتراضات نیزمختلف مذاہب کے مسائل اور اسلام کے داخلی اور خارجی گونا گوں مکاتب خیال کابہتر سے بہترجواب دیتے ہوئے ، صدیوں کے اعتراضات کا حل پیش کریں ، چنانچہ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے اہل بیت علیہم السلام اور ان کے ہدایت بخش مکتب کی تاسی میں مجمع جہانی اہل البیت نے بھی اپنی ذمہ داری محسوس کی اور حریم رسالت ، نیز ان کے ایسے حقوق کے دفاع کرنے کیلئے پیش قدمی کی جن پرارباب فرق و مذاہب نیزاسلام دشمن عناصر اعتراضات کی بوچھاڑ کررہے ہیں، یہ سچ ہے کہ مکتب اہل بیت ہمیشہ ہونے والے اعتراض کا جواب دیتا اور اس کی رد کرتا آرہا ہے ، اس کے علاوہ یہ بھی کوشش کرتا ہے کہ دشمن کے سامنے اپنے استقلال اور ثبات قدمی کا مظاہرہ کرے اور ہر دور میں اپنی مراد کو پہنچے ۔

بیشک علمائے اہل بیت علیہم السلام کی کتابوںمیں موجود تجربے اپنی نوعیت میں بے نظیر اور انوکھے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسے علمی ذخیرہ ہیں، جن کی تائید عقل و برہان کرتی ہے،دوسری خصوصیت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات سے دور رہ کر مذموم تعصب سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے فن میں متبحر اور ماہرعلماء ، مفکرین اور دانشور وں کو ایسے جالب انداز اور جاذب خطاب میں فکر و نظر کی دعوت دیتا ہے ، جسے عقل تسلیم اورفطرت سلیم قبول کرتی ہے ، مجمع جہانی اہل البیت علیہم السلام کی بھی یہی کوشش ہے کہ حقیقت کے طالب افراد کے لئے انھیں تالیفات اور بحثوں سے حاصل شدہ بے نیاز تجربوں کے ذریعہ ایک نئے مرحلے کا آغاز کرے ، اور گزشتہ اکابر علمائے شیعہ کی تالیفات ،تصنیفات اور تحقیقات کو شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اس مکتب سے وابستہ دیگر افراد اور مستبصرین کی تالیفات ، تحقیقات، نیز ان کے دیگر آثار کی بھی نشر و اشاعت کرے تاکہ حق کے متلاشی افراد کیلئے یہ تالیفات اور کتابیں ایک شیریں اور خوشگوار چشمہ کے مانند بن جائیں،اور مکتب اہلبیت نے جن حقائق کو بیان کیا ہے ان کا فتح باب ہوسکے،وہ بھی ایک ایسے دور میں جبکہ عقلیں کامل ہورہی ہوں اور انسان کا ایک دوسرے سے رابطہ بڑی تیزی اور آسانی سے ہوجاتا ہو ۔

محترم قارئین سے امید ہے کہ وہ ہمیں اپنے قیمتی خیالات اور گرانقدر مشوروں سے نوازتے ہوئے تعمیری نظریات اور تنقید کا اظہار کریں گے ۔

جس طرح ہم ان تمام اہمیت کی حامل مراکز ، علماء ، مؤلفین اور مترجمین سے اسلام محمدی کی اصل تہذیب اور بنیادی ثقافت کے تحفظ کی درخواست کرتے ہیں ،اسی طرح خداوند عالم کی بارگاہ میں التجاء کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس قلیل عمل کو قبول کرتے ہوئے اپنی خاص عنایت کے زیر سایہ اپنے خلیفہ حضرت مہدی (عجل ﷲ تعالی فرجہ الشریف ) کی رعایت کرنے کی روز افزوں توفیق سے نوازے ۔

ہم اس کتاب کے مؤلف جناب آیة اللہ محمد تقی مصباح یزدی اور اس کے مترجم جناب سید قلبی حسین رضوی نیز اپنے ان تمام ساتھیوں کے شکر گزار ہیں ،جنھوں نے اس اثر کی تکمیل میں حصہ لیا ، بالخصوص ان حضرات کے بھی مشکورہیںجو ادارہ ٔ ترجمہ میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں ۔

ثقافتی ادارہ ،مجمع جہانی اہل البیت علیہم السلام


زاد راہ (پہلی جلد)

پہلا سبق

بندگی کی کیفیت اور کامیابی کا راستہ

*عبادت اور خدائے متعال کے حاضر و ناظر ہونے کا ادراک

*خداوند عالم کی پرستش و بندگی، ترقی اور بلندی کا ذریعہ

*خدا کی بندگی کے مراحل

الف : خداوند عالم کی معرفت

ب۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اعتراف

ج۔ اہل بیت علیہم السلام کی محبت

*حضرت نوح کی کشتی اور بنی اسرائیل کے باب حطہ سے اہل بیت کی تشبیہ

بندگی کی کیفیت اور کامیابی کا راستہ

''عَنْ اَبی الْاَسْوَدِ الدُّ ؤِلی : قَالَ قَدِمْتُ الرَّبَذَةَ فَدَخَلْتُ عَلٰی أبی ذَرٍّ، جُنْدَبِ ِبنْ جُنٰادَةَ رَضِیَ ﷲ عَنْهُ ، فَحَدَثَنی أبُوذَرٍّ قٰالَ : دَخَلْتُ ذَاتَ یَومٍ فی صَدْرِ نَهٰارِهِ عَلٰی رَسُولِ ﷲ ، صَلَی ﷲ عَلَیْهِ وَ آلِهِ ، فی مَسْجِدِهِ فَلَم أ َرَ فِی الْمَسْجِدِ َحَداً مِنَ النَّاسِ ِالاَّ رَسُولُ ﷲ ،صَلَی ﷲ عَلَیْهِ وَ آلِهِ ، و عَلِی عَلَیهِ السَّلام إِلٰی جٰانِبِهِ جٰالِس فَاغْتَنَمتُ خَلْوَةَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ ﷲ بِاَبی إَنْتَ وَ ُامّی ، اَوصِنی بِوَصِیَّةٍ یَنْفَعُنِی ﷲ بِهَا ، فَقَالَ: نَعَمْ وَ أکْرِمْ بِکَ یَا ابَاذَر إنَّکَ مِنَّا َأهْلَ الْبَیْتِ وَ ِانّی مُوصیکَ بِوَصِیَّةٍ فَأحْفظْهَا فَاِنَّهَا( وَصِیَّة) جَامِعَة لِطُرُقِ الْخَیْرِ وَ سُبُلِهِ فَإنَّکَ اِنْ حَفِظْتَهٰا کَانَ لَکَ بِهٰا کِفْلٰانِ.

یٰاأبَاذَرٍّ : اُعْبُدِ ﷲ کَأنَّکَ تَرَاهُ ، فَاِنْ کُنْتَ لاَ تَرٰاهُ فَإنَّهُ یَرٰاکَ وَ اعْلَمْ أَنَّ اَوَّلَ عِبٰادَةِ ﷲ الْمَعْرِفَةُ بِهِ فَهُوَ الْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیئٍ فَلٰا شَیئٍ قَبْلَهُ وَ الْفَرْدُ فَلاَ ثٰانِیَ لَهُ وَ الْبٰاقی لاٰ اِلٰی غَایَةٍ ، فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ مٰا فِیهِمٰا وَ مٰا بَیْنَهُمٰامِنْ شَیئٍ) ۱ ( وَ هُوَّ ﷲ اللَّطیفُ الْخَبیرُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدیر ، ثُمَّ الْاِیْمٰانُ بی وَ الْاِقْرَارُ بِاَنَّ ﷲ تَعٰالٰی اَرْسَلَنی اِلیٰ کَافَّةِ النَّاسِ بَشیراً وَ نَذیراً وَ دَاعِیاً اِلٰی ﷲ بِاِذْنِهِ وَ سِرَاجاً مُنیراً ثُمَّ حُبُّ َأهْلِ بَیْتی الَّذینَ أذْهَبَ ﷲ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهیراً

وَ اعْلَمْ یٰا اَبٰاذَرٍ ؛ اِنَّ ﷲ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ َاهْلَ بَیْتی فی اُمَّتی کَسَفِینَةِ نُوحٍ مَنْ رَکِبَهٰا نَجٰی وَ مَنْ رَغِبَ عَنْهٰا غَرِقَ وَ مِثْلَ بٰابِ حِطَّةٍ ) فی ( بَنی اِسْرَائیلَ مَنْ دَخَلَهُ کٰانَ آمِناً''

جس روایت کو ہم نے اپنی بحث کا محورقرار دیا ہے ، وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان جامع اور انتہائی فائدہ مند موعظوں میں سے ہے جنھیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابو ذر نامی اپنے ایک عالی مقام صحابی سے فرمایا ہے، اس روایت کا متن تھوڑے فرق کے ساتھ درج ذیل گراں قدر کتابوں میں درج ہوا ہے :

'' مکارم الاخلاق '' '' امالی شیخ طوسی '' ''مجموعۂ ورام '' اور '' بحار الانوار' ' جلد ٤ ( طبع بیروت ) و جلد ٧ ( طبع ایران )

خدا کی مدد سے ہم اسے بحار الانوار سے نقل کرکے حتی الامکان اس کی تفسیر و تشریح کریں گے ابو الاسود دوئلی کہتے ہیں : جب ابوذر اپنی جلاوطنی کی جگہ '' ربذہ'' میں تھے۔ میں ان کی خدمت میں پہنچا تو انھوں نے میرے لئے ایک روایت نقل کی ۔ ابوذر نے فرمایا: ایک دن صبح سویرے مسجد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس کوئی اور نہیں تھا، میں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے کے بعد احترام بجالاکر فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کی : میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قربان ہوں ، مجھے ایک ایسی چیز کی سفارش فرمائیے جس کے سبب خدائے تعالی مجھے فائدہ بخشے ۔

آنحضرت نے لطف و عنایت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

نَعَمْ وَ أکْرِمْ بِکَ یَا ابَاذَر ،ِإنَّکَ مِنَّا َأهْلَ الْبَیْتِ

اے ابوذر ! تم کتنے با کرامت انسان ہو کہ ہمارے اہل بیت علیہم السلام میں شمار ہوتے ہو۔(۲)

''أفْعِلْ بِهِ '' عربی می ںصیغۂ تعجب کے عنوان سے استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی اس لفظ کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب انسان کسی چیز کے بارے میں تعجب کرے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے حسن و زیبائی کے بارے میں تعجب کیا جائے تو بولتے ہیں :' ' َجْمِلْ بِکَ'' کتنے خوبصورت ہو ! اس لحاظ سے لفظ ''أکْرِمْ بِک'' کا معنی یہ ہے کہ '' تم کتنے با کرامت انسان ہو !''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ سے لفظ کریم کا ابوذر جیسے انسان کے لئے استعمال کرنا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک اس بزرگ صحابی کی عظمت اور مقام و منزلت کی دلیل ہے اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مذکورہ بیان کی تاکید میں ا بوذر کو اپنے اہل بیت علیہم السلام کے زمرے میں شمار کیا ہے (سلمان فارسی کے بارے میں بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے : ''سلمان منّا اهل البیت ''

حدیث کو بیان فرماتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوذر کو موعظہ فرماتے ہیں:۔

وَ ِانّی مُوصیکَ بِوَصِیَّةٍ فَاحْفَظْهَا فَاِنَّهَا ( وَصِیَّة ) جَامِعَة لِطُرُقِ الْخَیْرِ وَ سُبُلِهِ فَإنَّکَ اِنْ حَفِظْتَهٰا کَانَ لَکَ بِهٰا کِفْلٰانِ ''

میں تجھے ایک موعظہ کی سفارش کرتا ہوں اور امید ہے کہ تم اسے حفظ کرکے اس پر عمل کرو گے ، کیوں کہ اس موعظہ میں خیر و خوش بختی کی تمام راہیں موجود ہیں ،اگر تم میری اس وصیت پر عمل کرو گے تو تجھے دنیا و آخرت کی بھلائی عطا کی جائے گی۔

مذکورہ جملہ میں وصیت کا معنی پند و نصیحت ہے نہ مرتے وقت کی جانے والی وصیت، اس کے علاوہ '' طریق'' و '' سبیل '' دونوں لفظ راستہ کے معنی میں ہیں ، لیکن '' طریق '' اصلی اور وسیع راستہ کے معنی میں ہے اور '' سبیل '' فرعی اور معمولی راستہ کے معنی میں ہے ۔

کفلان سے دو معنی تصور کئے جاسکتے ہیں ، ایک '' دوگنا رحمت '' کے معنی میں ۔

قرآن مجید میں میں بھی '' کفلان '' اس معنی میں استعمال ہوا ہے :

( یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوﷲ وَ آمِنُوا بِرَسُولِهِ یُؤتِکُمْ کِفْلَینِ مِنْ رَحْمَتِهِ ) (حدید ٢٨)

ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر واقعی ایمان لے آؤ تا کہ خدا تمہیں اپنی رحمت کے دہرے حصے عطا کردے

اس لحاظ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فرمائش کا یہ معنی ہوگا : اگر میری نصیحت پر عمل کرو گے تو تجھے دگنا خیر ملے گی ۔ لیکن اس کا دوسرا معنی اور احتمال یہ ہے کہ '' کفلان '' دنیا و آخرت کے معنی میں ہوگا اور اس صورت میں جملہ کا معنی یوں ہوگا : اگر میرے کہنے پر عمل کرو گے تو تجھے دنیا و آخرت کی سعادت ملے گی۔

عبادت اور خدا کا ادراک :

یٰاأبَاذَرٍّ : ُعْبُدِا ﷲَ کَاَنَّکَ تَرَاهُ ، فَاِنْ کُنْتَ لاَ تَرٰاهُ فَاِنَّهُ یَرٰاک

اے ابوذر !خداوند تعالی کی ایسی پرستش کر وکہ جیسے اسے دیکھ رہے ہو، کیونکہ اگر تم اسے نہیںبھی دیکھتے ہو ، وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔

اگر حدیث کا یہ حصہ متواتر نہ ہو تو کم از کم مستفیض ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کئی طریقوں سے غالباً ابوذر کے توسط سے گوناگوں تعبیروں سے نقل ہوا ہے ۔ اس معنی کے بارے میں ایک دوسری حدیث میں آیا ہے :

''اَلْاِحْسَان ُ اَنْ تَعْبُدَ ﷲ کَاَنْکَ تَرَاهُ ''(۳)

نیکی وہ ہے کہ خدا کی ایسی عبادت کی جائے کہ گویا اسے دیکھ رہاہے ۔

شاید ابوذر کیلئے جس نے سالہا سال خدا کی بندگی کی راہ میں قدم اٹھائے ہیں اورسعادت

حاصل کرنے کیلئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدایات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں بہترین نصیحت یہ ہو کہ اسے عبادت کرنے کا طریقہ سکھایا جائے اور اس کے سامنے وہ راستہ پیش کیا جائے جس کے ذریعہ وہ اپنی عبادت سے بہترین استفادہ کر سکے اور عبادت کے دوران حضور قلب پیداہو ۔

حضور قلب حاصل کرنے کا راستہ ، مشق و ممارست اور خداوند عالم کو حاضر و ناظر جاننے کا ادراک ہے ، یعنی انسان ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے حضورمیں تصور کرے اور اس سے مانوس ہو اگر کوئی شخص خدا سے انس پیدا کرلے تو وہ خدا سے گفتگو کرتے اور اس کی بات سنتے ہوئے ہرگز تھکن محسوس نہیں کرے گا ، کیونکہ عاشق جتنا زیادہ اپنے معشوق سے محو گفتگو رہتا ہے اتنا ہی زیادہ تشنہ رہتا ہے ۔

یہ جو ہم عبادت انجام دینے میں جلدی تھکن محسوس کرتے ہیں اور نماز کو عجلت کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اپنے کاروبار کے پیچھے دوڑتے ہیں اور اگر نماز قدرے طولانی ہوجائے تو نہ یہ کہ کسی قسم کی لذت محسوس نہیںکرتے بلکہ اپنے آپ کو قفس میں محبوس پاتے ہیں ۔ یہ سب اس لئے ہے کہ ہم اس بات کو درک نہیں کرتے کہ کس کے حضور میں کھڑے ہیں اور کس سے گفتگو کررہے ہیں ! ممکن ہے ہمیں علم حصولی کے ذریعہ خداوند عالم کی بندگی کے عظیم مرتبہ کی معرفت ہو اور اس کی عظمت سے ہم آگاہ ہوں لیکن ان ذہنی مفاہیم نے ہمارے دل پر کوئی اثر نہ کیا ہو اور خداوند عالم سے حقیقی رابطے کاذریعہ نہ ہو بلکہ جو چیز جو خدائے متعال سے حقیقی اور واقعی رابطے کا سبب ہے ، وہ عبادت کے دوران حضور قلب ہے ۔ جن عبادتوں کو ہم انجام دینے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ صرف ہمارے لئے شرعی تکلیف انجام دینے کا سبب بنتی ہیں اور اس سے جو فائدہ ہمیں اٹھانا چاہیئے وہ نہیں اٹھاتے ہیں،کیونکہ ہماری عبادتیں بے روح ہوتی ہیں اور یہ حضور قلب کے بغیر انجام پاتی ہیں ۔ دنیوی امور میں مشغول

رہنا خدا سے قلبی انس اور حضور قلب پیدا کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے ، اور یہ ایک ایسی مشکل ہے جس کا ہمیں سامنا ہے ۔

مسلسل یہ سوال کیا جاتا ہے کہ نماز میں حضور قلب پیدا کرنے کیلئے کیا کیا جائے ؟ حضور قلب حاصل کرنے کیلئے مشق اور ریاضت کی ضرورت ہے ،سب سے پہلے انسان کو ایک گوشہ میں تنہا بیٹھ کر اس امر پر غور کرنا چاہیئے کہ خداوند متعال اسے دیکھ رہا ہے ۔ بعض معلم اخلاق یہ نصیحت کرتے تھے کہ اس مشق میں تخیلاتی پہلوئوں سے استفادہ کرناچاہیئے ، یعنی ایک کمرے میں یا ایک خلوت جگہ پر بیٹھے ہوئے فرض کریں کہ کوئی شخص چپکے سے تمھاری رفتار و کردار پرنظر رکھے ہوئے ہے تو کیا نظر رکھنے کی صورت میں اور کسی کے نظر نہ رکھنے کی صورت میں تمھاری رفتار ایک جیسی ہوگی ؟ خاص کر اگر وہ شخص کوئی عام شخص نہ ہو بلکہ اسے تم قابل اہمیت سمجھتے ہو اور اپنی قضا و قدرکا مالک جانتے ہو تم چاہتے ہو کہ اس کی نظر میں عزیز رہو اور وہ تجھے دوست رکھے، کیا اس صورت میں تم اس سے بالکل غافل رہ کر کوئی اور کام انجام دے سکتے ہو ؟

اگر انسان یہ کوشش کرے کہ مشق اور ریاضت سے اپنے اندریہ یقین پیدا کرلے کہ وہ خدا کے حضور میں ہے اور خدائے متعال اسے دیکھ رہا ہے اگر چہ وہ خدا کو نہیں دیکھ رہا ہے لیکن خداوند عالم اسے دیکھ رہا ہے ، تووہ اپنی عبادت میں حضور قلب پیدا کرکے اسے با روح عبادت میں تبدیل کرسکتا ہے پھر وہ عبادت صرف تکلیف شرعی سے چھٹکارا پانے والی عبادت نہیں ہوگی بلکہ وہ عبادت معنوی ترقی و بلندی اور قرب الہی کا سبب ہوگی بے شک حضرت علی علیہ السلام کا مندرجہ ذیل بیان اس مطلب کا گواہ ہے :

''اِتَّقُوا مَعَاصِیَ ﷲ فِی الخَلَوَاتِ فَاِنَّ الشَّاهِدَ هُوَ الْحَاکِمُ ''(۴)

خلوت کی جگہوں پر گناہ انجام دینے سے پرہیز کرو ، کیونکہ جو تمہارے اعمال کاشاہد ہے وہی حاکم ہے ۔

لہذا ، جنہوں نے نماز کے دوراں حضور قلب حاصل کرنے کے بارے میں اب تک مشق

نہیں کی ہے انہیں دن اور رات کے دوران ایک وقت کو مقرر کرکے خلوت میں بیٹھ کر اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ خدا انہیں دیکھ رہا ہے البتہ اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ خدائے تعالی ٰ کے حضور میں ہے اور خدا اسے دیکھ رہا ہے قرآن مجید نے بھی کئی مواقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، من جملہ فرماتا ہے :

( یَعْلَمُ خَائِنَةَ الاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُورُ ) ( مومن ١٩)

وہ خدا نگاہوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور دلوں کے چھپے ہوئے بھیدوں سے بھی باخبر ہے

ایک شاگرد سے نقل ہو اہے کہ : میں اپنے استاد کی زندگی کے آخری لمحات میں ان کے سراہنے پہنچا اور ان سے آخری نصیحت کرنے کی درخواست کی استاد نے بڑی مشکل سے اپنی زبان کو حرکت میں لاکر فرمایا:

''اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ ﷲ یَریٰ ''

کیا تم نہیں جانتے ہو کہ خداوند عالم دیکھ رہا ہے ؟ '

حضرت علی علیہ السلام اپنے کلمات قصار میں فرماتے ہیں :

''اَیُّهَا النَّاسُ ، اِتَّقُواﷲ الَّذِی اِنْ قُلْتُمْ سَمِعَ وَ اِنْ اَضْمَرْتُمْ عَلِمَ ''(۵)

اے لوگو ! اس خدا سے ڈرو، جو تمہاری بات کو سنتا ہے اورپوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے ۔

اس حدیث کے پہلے حصہ میں حضرت نے عبادت کو انسان کی سعادت کی کلید کے عنوان سے بیان فرمایا ہے اور اس کے دوسرے حصوں میں خداوندعالم کی عبادت کے مراحل کا ذکر فرمایا ہے ۔ اس کے علاوہ پہلے حصہ میں عبادت کی کیفیت کی سفارش کی گئی ہے یعنی عبادت میں روح ہونی چاہیئے اور اس کی روح حضور قلب ہے حقیقت میں اصل عبادت و بندگی کی طرف براہ راست اشارہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ مسلّم امر کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔

خدا کی پرستش و بندگی ، مومنین کی ترقی و بلندی کا ذریعہ

قابل ذکر بات ہے کہ انسانی جوہر ، خدا کی عبودیت اور بندگی میں پوشیدہ ہے اور انسان عبادت کے بغیر تمام حیوانات پر اختیاری امتیاز نہیں رکھتا ہے بلکہ صرف تکوینی امتیازات رکھتا ہے بغیر اس کے کہ اس نے ان کا حق ادا کیا ہو ، خدائے متعال کی عبادت سے اجتناب کرنے والا حقیقت میں انسانی کمال کی راہ کو اپنے لئے مسدود کرتا ہے کیونکہ انسانی کمال تک پہنچنا صرف اسی راہ سے ممکن ہے۔

اگر ہم عظیم شخصیتوں کی طرز زندگی پر غور کریں تو مشاہدہ کریں گے کہ ان کی زندگی کے ناقابل تفکیک اصول میں ، خدا کی بندگی ہے جن شخصیتوں نے '' کلیم اللہ ' ، '' خلیل اللہ '' اور '' حبیب اللہ '' کے مقام تک پہنچنے کی سعادت و لیاقت حاصل کی ہے ، وہ سب صرف اس راہ کو طے کرنے اور مشکل امتحانات اور آزمائشوں سے گذرنے کے بعد ان بلند مقامات تک پہنچ گئے ہیں ۔ حتی ایک شخص کو بھی پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے ، جو خدائے متعال کی بندگی کے بغیر انسان کے اختیاری کمالات تک پہنچ گیا ہو مذکورہ مطالب کے علاوہ ''رضا'' ، '' یقین '' وغیرہ جیسے مقامات حاصل کرنے کیلئے بھی عبودیت و بندگی میں جستجو کرنی چاہیئے ۔

خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِینُ ) (حجر ٩٩)

اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہیئے جب تک یقین حاصل ہوجائے اور مقام رضا کے سلسلہ میں فرماتا ہے :

( وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِهَا وَ مِنْ ا نَایءِ الَّلْیلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی ) (طہ ١٣٠)

اور آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اور رات کے وقت اور دن کے اطراف میں بھی تسبیح پروردگار کریں تا کہ آپ مقام رضا حاصل کرسکیں ۔

تمام پیغمبر کی رسالت کا مقصد لوگوں کو خداوند متعال کی بندگی کی ہدایت ، خد اکی عبادت کا امر اور طاغوت کی پرستش سے نہی کرناتھا:

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّةٍ رَسُولاً اَنِ اعْبُدُواا ﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ) ( نحل ٣٦)

اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو ...''

یہ امر قرآن مجید کے مورد تاکید مطالب میں ہے کہ تمام مخلوقات خواہ نخواہ ستائش و بندگی خدا میں مشغول ہیں :

( یُسَبِّحُ ﷲِ مَا فیِ السَّمٰواتِ وَ مَا فِی الارضِ ) (جمعہ ١)

زمین و آسمان کا ہر ذرہ خدا کی تسبیح کررہا ہے ''

لیکن یہ بندگی تکوینی ہے اور انسان کے کمال میں کوئی کردار نہیں رکھتی ،بلکہ انسان کے کمال میں کردار ادا کرنے والی بندگی وہ ہے جو اختیار کے ساتھ انجام پاتی ہے ، ورنہ پتھر اور پہاڑ بھی تکوینی بندگی کے نتیجہ میں کمال تک پہنچتے ۔

خداوند عالم کی بندگی و عبادت کی اہمیت و قدر و قیمت اس قدر ہے کہ خالق نے قرآن مجید میں جن و انس کی تخلیق کے انتہائی سبب کو عبادت قرار دیا ہے :

( وَمَا خَلَقْتُ الجِنَّ وَ الاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُون ) (ذاریات ٥٦)

اور میں نے جنات اور انسانو ںکو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے ''

مذکورہ مطالب کے علاوہ ، حسِ پرستش انسان کی فطرت ہے ، یعنی پرستش کی ضرورت کا احساس انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے ، اس حقیقت کو ادیان اور قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرکے پایا جاسکتا ہے لیکن ایسی کوئی قوم یا سماج نہیں پایا جاتا ہے جس میں کسی نہ کسی قسم کی پرستش و عبادت نہ کی جاتی ہو۔

خدا کی بندگی کے مراحل :

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عبادت کے مراحل بیان فرماتے ہیں:

الف : خدا کی معرفت

''وَ اعْلَمْ َنَّ اَوَّلَ عِبٰادَةِ ﷲ الْمَعْرِفَةُ بِهِ فَهُوَ الْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیئٍ فَلٰا شَیئٍ قَبْلَهُ وَ الْفَرْدُ فَلاَ ثٰانِیَ لَهُ وَ الْبٰاقی لاٰ اِلٰی غَایَةٍ ، فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَا لْاَرْضِ وَ مٰا فِیهِمٰا وَ مٰا بَیْنَهُمٰامِنْ شَیئٍ (۶) وَ هُوَ ﷲ اللَّطیفُ الْخَبیرُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدی

اے ابوذر! جان لو کہ خدائے متعال کی عبادت کاسب سے پہلا مرحلہ اس کی شناخت ہے ، بے شک وہ سب سے پہلا ہے اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے ۔ وہ یکتا ہے اس کے مانند کوئی نہیں ہے وہ ابدی اور جاوداں ہے ، وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان اور ان میں موجود ہے خلق کیا ہے اور خداوند عالم دانا و مہربان ہے ، وہ ہر کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے۔

عبادت کے پہلے مرحلہ کے اس حصہ میں ، خدا کی ،معرفت ذکر کی گئی ہے البتہ خود خدا کی معرفت کے گوناگوں مراحل ہیں ، لیکن جو کچھ خدا کی عبادت و بندگی میں ضروری ہے وہ خداوند عالم کی اجمالی شناخت ہے ، یعنی انسان جان لے کہ ایک خدا موجود ہے اور وہ انسان و کائنات کا خالق ہے ۔ اگر انسان کیلئے شناخت کا یہ مرحلہ حاصل نہ ہو تو وہ خدا کی عبادت و پرستش کے مرحلہ تک نہیں پہنچ سکتا ہے ۔ پس شناخت کا یہ مرحلہ عبادت پر مقدم ہے البتہ انسان اپنے ارتقائی سفر کے انتہائی مقام پر شناخت و معرفت کے بلند ترین مرحلہ میں پہنچتا ہے جو اولیائے خدا کیلئے مخصو ص ہے اور ہم ا سکی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ، بلکہ ہم اجمالی طور پر اتنا جانتے ہیں کہ کمال معرفت کی انتہا گراں قیمت او ر بلند ہے جسے اولیائے خدا اپنے ارتقائی سفر کے آخر ی مراحل میں حاصل کرتے ہیں اور وہی خدا کی عبادت کاانتہائی مرحلہ ہے ۔

انسان کیلئے ، عبادت کے پہلے مرحلہ کو حاصل کرنے کے بعد ، یعنی یہ جاننے کے بعدکہ ایک خدا موجود ہے ،ضروری ہے خدا کے صفات او رآثار پر غور کرے تا کہ وہ معرفت اس کے دل میں راسخ ہوجائے اور صرف ایک ذہنی معرفت کی حد تک باقی نہ رہے ، بلکہ وہ معرفت ایک ایسی حاضر و زندہ معرفت میں تبدیل ہوجائے جو انسان کی رفتار پر اثر انداز ہو۔

'' معرفت متوسط'' کے بھی گوناگوں مراتب ہیں اور ا سکا دامن بھی وسیع ہے ۔ انسان آیات الہی میں تفکر اور غور و خوض کرکے اور عملی عبادت کے ذریعہ اس کے مراتب کو حاصل کرسکتا ہے ۔ مذکورہ بیان سے واضح ہوا کہ صفات و آثار الہٰی میں تفکر کرنا اور خدا کو بہتر پہچاننے کیلئے جستجو کرنا ، ایک اختیاری امر وعبادت ہے ، جس کے دوران معرفت حاصل ہوتی ہے جو عبادت کے مقدمات میں سے ہے ۔

(آیات الہی میں غور و خوض معرفت کا مقدمۂ قریبہ '' ہے اور استاد کے درس میں شرکت اور کتاب کا مطالعہ کرنا خدا کی معرفت حاصل کرنے کے منجملہ '' مقدمات ِ بعیدہ '' میں سے ہے )

ب۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اعتراف

'' ثُمَّ الْاِیْمٰانُ بی وَ الْاِقْرَارُ بِاَنَّ ﷲ تَعٰالٰی اَرْسَلَنی اِلیٰ کَافَّةِ النَّاسِ بَشیراً وَ نَذیراً وَ دَاعِیاً اِلٰی ﷲ بِاِذْنِهِ وَ سِرَاجاً مُنیراً''

'' ( دوسرے مرحلہ میں ) مجھ پر ایمان لانا اور اس امر کا اعتراف کرنا کہ خدائے متعال نے مجھے بشارت دینے والا ، ڈرانے والا ، اس کی اجازت سے خدا کی طرف دعوت دینے والا اور تمام انسانوں کیلئے شمعِ ہدایت قرار دیا ہے ''

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث میں ذکر ہوئی ہر صفت قابل تفسیر و توضیح ہے اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے بارے میں ہمارا ایمان قوی اور مکمل ہوجائے تو ہم بہت سے شبہات کے جال میں نہیں پھنسیں گے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں کافی معرفت اور ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے بہت سے ضعیف الایمان مسلمان شبہ میں گرفتارہوجاتے ہیں اور ان شبہات کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ اصلی راستہ سے منحرف ہوجاتے ہیں اور بالآخر خدا نخواستہ کفر میں مبتلا ہوتے ہیں ، کیونکہ اس بات پرا یمان نہیں رکھتے ہیں کہ ' ' جو کچھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فر ماتے ہیں وہ سچ ہے ''

بعض ضعیف الایمان افراد کہتے ہیں : پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے احکام ہمارے زمانہ میں قابل عمل نہیں ہیں ۔ یہ احکام اور دستورات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں '' جزیرة العرب '' کے لوگوں کے نامناسب حالات کی اصلاح کیلئے تھے ، اور اس زمانے میں اسلامی احکام کی ضرورت نہیں ہے ! یہ بات اس لئے کہی جاتی ہے کہ یہ لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اگر وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس فرمائش پر ایمان رکھتے کہ : ''ارسلنی الی کافة الناس' ' تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت اور زمانہ کی محدودیت کے قائل نہ ہوتے ، حقیقت میں کہنا چاہیئے کہ دین میں ایجاد ہونے والے تمام انحرافات کا سرچشمہ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے بارے میں ایمان میں کمزوری ہے ۔

ج : اہل بیت پیغمبر کی محبت :

''ثُمَّ حُبُّ اَهْلَ بَیْتی الَّذینَ اَذْهَبَ ﷲ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهیراً ''

( تیسرے مرحلہ میں تجھے تاکید کرتا ہوں ) میرے اہل بیت کی محبت رکھنا ، یہ وہ ہیں جن سے خدائے متعال نے ہر برائی کو دور رکھا ہے اور انھیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا ہے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔''

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اہل بیت کی شناخت کی عظمت اور ان کی عظمت کی بلندی سے آگاہ ہونا اور ان کی محبت کی اہمیت اس قدر ہے کہ حضرت امام خمینی نے اپنے سیاسی ، عبادی وصیت نامہ کا آغاز اس روایت سے کیا ہے : ' ' انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ و عترتی ....''شاید دنیا والوں کیلئے یہ امر تعجب آور تھا کہ قائد انقلاب اپنے وصیت نامہ میں اس خاندان کے تابع ہونے پر افتخار کرتے ہیں ۔ ہم نہیں جانتے کہ اہل بیت سے محبت اور ان کی معرفت حاصل کرنے کی تاکید میں کون سا راز مضمر ہے ، شاید ہم اسے ایک سادہ امر جان کر یہ تصور کریں کہ چونکہ اہل بیت علیہم السلام ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعزہ واقرباہیں اس لئے ان کی محبت کی جانی چاہیے ! اگر ایسا ہوتا تو وہ قرآن مجید کے ہم پلہ ہونے کا تعارف نہیں کراتے ۔ اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت کی تاکید اس لئے نہیں کی گئی ہے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعزہ واقربا ہیں کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کئی بیویاں تھیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے بارے میں ایسی تاکید نہیں فرمائی ہے بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاکید اس لحاظ سے کہ خدائے متعال نے انہیں ہر قسم کی برائی اور ناپاکی سے پاک فرمایا ہے ۔

حضرت نوح کی کشتی اور بنی اسرائیل کے باب حطہ سے اہل بیت کی تشبیہ :

'' وَ اعْلَمْ یٰا اَبٰاذَرٍ ؛ اِنَّ ﷲ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ اَهْلَ بَیْتی فی اُمَّتی کَسَفِینَةِ نُوحٍ مَنْ رَکِبَهٰا نَجٰی وَ مَنْ رَغِبَ عَنْهٰا غَرِقَ وَ مِثْلُ بٰابِ حِطَّةٍ( فی) بَنی اِسْرَائیلَ مَنْ دَخَلَهُ کٰانَ آمِناً''

اے ابو ذر جان لو ! خداوند عز و جل نے میرے اہل بیت علیہم السلام کو میری امت میں نوح کی کشتی کے مانند قرار دیا ہے کہ جو بھی اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ غرق ہوا ، اسی طرح وہ بنی اسرائیل کے '' باب حطہ '' کے مانند ہیں ، جو اس دروازہ سے داخل ہوا وہ عذاب الہی سے محفوظ رہا ''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں تاکید اور کشتی نجات اور بنی اسرائیل کے '' باب حطہ '' سے ان کی تشبیہ ، ایک جذباتی موضوع نہیں ہے ، کہ کچھ لوگ یہ تصور کریں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنے عزیزوں سے محبت اس امر کا سبب ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلسل ان کی دوستی اور محبت رکھنے کی تاکید اور وصیت فرمائی ہے ،بلکہ یہ وصیت اور تاکید ایک عزیز کی محبت سے بالاتر ہے اور یہ اس لحاظ سے ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کو امت کیلئے نجات کی کشتی جانا ہے اور آپ معتقد ہیں کہ جو بھی گمراہ اور وادی حیرت کا سرگرداں شخص اس کشتی میں سوار ہوجائے گا وہ گمراہی اور انحرافات کے تلاطم سے نجات پائے گا ،کیونکہ نوح کی امت نے ان کی نجات کی کشتی میں سوار ہوکر عذاب الہی سے نجات پائی اور جنہوں نے من جملہ نوح کے فرزند نے روگردانی کی وہ نابود ہوئے ۔

اسلام کی دعوت کے آغاز پر ، جب امت مسلمہ میں کوئی اختلاف و افتراق نہیں تھا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوذر سے تاکید فرماتے ہیں کہ میرے اہل بیت ، نوح کی کشتی کے مانند ہیں ، جو ان سے رابطہ نہیں رکھے گا اور ان کی پیروی نہیں کرے گا ، وہ قوم نوح کی طرح ہلاک ہوجائے گا ۔ حقیقت میں یہ ان مسلمانوں کیلئے ایک تنبیہ و انتباہ ہے ، جنہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رحلت پاتے ہی بغض و نفاق اور انحرافات کے دروازے کھول دیئے اور کچھ منافق جو پہلے سے موقع کی تاک میں تھے دوسروں پر سبقت لے گئے کے ساتھ ہی ایجاد شدہ انحرافات ، تعصب اور نفاق کی بنا پر فرصت سے استفادہ کرکے سبقت کی، تنہا اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علی علیہ السلام کی سرپرستی میں ،ا مت اسلامیہ کو خطرات ، ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں گرجانے سے نجات دلاکر ان کے انحرافات میں رکاوٹ بن سکتے تھے ان کے مقابل میں جو لوگ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی سے روگردانی کرتے ہیں وہ منحرف ہوکر گمراہ ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اپنے اہل بیت کی بنی اسرائیل کے '' باب حطہ '' سے تشبیہ فرماتے ہیں ، ] یہ دوتشبیہ ( کشتی نوح اور باب حطہ کی تشبیہ ) بہت سی شیعہ و سنی روایتوں میں نقل ہوئی ہیں اور تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں [

جب بنی اسرائیل بے شمار ظلم و گناہ کی وجہ سے عذابِ الہی میں مبتلا ہوئے اور چالیس سال تیک '' تیہ '' نامی صحرا میں آوارہ رہے ، استغفار و ندامت کے نتیجہ میں خدائے متعال نے اپنے لطف و کرم سے ان پر توبہ کا دروازہ ( جسے حطہ کہا جاتا تھا ) کھولا۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید فرماتا ہے :

( وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَکُلُوا مِنْهَا حَیْتُ شِئْتُمْ رَغَداً وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّداً وَ قُولُوْا حِطَّة نَغْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِینَ ) ( بقرہ ٥٨)

اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے کہا کہ اس قریہ میں د اخل ہوجاؤ اورجہاں چاہو اطمینان سے کھاؤ اور دروازہ سے سجدہ کرتے ہوئے اور حطہ کہتے ہوئے داخل ہوجائو تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور ہم نیک عمل والوں کی جز امیں اضافہ بھی کرتے ہیں ۔

جو شخص بھی '' حطہ '' کے د روازہ سے داخل ہوتا تھا، عزت و احترام پانے کے علاوہ اس کے گناہ بھی معاف کئے جاتے تھے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ مثال پیش کرنے کا مقصداس امر کی وضاحت فرمانا تھا کہ چونکہ بنی اسرائیل کے مؤمنین باب توبہ و حطہ سے داخل ہوکر اپنے لئے دوجہاں کی سعادت کی ضمانت حاصل کرلی تھی اسی طرح اگر مسلمان بھی اہل بیت علیہم السلام کے علم و معارف اور ان کی اطاعت کے دروازہ سے داخلہوجائیں اور ان کی راہ پر چلیں تو اپنے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کی ضمانت حاصل کرلیں گے ۔

لغت میں لفظ '' حطہ '' کا معنی گرانا اور نابودکرنا ہے ، بنی اسرائیل یہ لفظ کہہ کر خدا سے مغفرت اور اپنے گناہوں کونابود کرنے کی درخواست کرتے تھے ، خداوند عالم نے اسے ان کے گناہوں کی بخشش کیلئے ایک وسیلہ قرار دیا تھا ، لیکن ایک گروہ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتاتھا ، فرمان خدا کا مذاق اڑاتا تھا ، بعض روایتوں کے مطابق ' حنطہ '' ( گندم ) زبان بر جاری کرتا تھا ۔ خداوند عالم نے ان لوگوں کی نافرمانی اور توبہ و مغفرت سے انحراف کی بنا پر ان پر اپنا عذاب نازل کیا:

( فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا قَولاً غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا رِجْزاً مِنَ السَّمَائِ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ ) ( بقرہ ٥٩)

مگر ظالموں نے ، جو بات ان سے کہی گئی تھی اسے بدل دیا ( جو ان سے کہاگیا تھا اس کی جگہ پر ایک دوسرا لفظ رکھ دیا ) تو ہم نے ان ظالموں پر ان کی نافرمانی کی بنا پر آسمان سے عذاب نازل کردیا ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل بیت علیہم السلام کا باب حطہ کے عنوان سے تعارف کرایا ، جن کی پیروی دونوں جہاں کی سعادت اورآخرت کے عذاب سے نجات پانے کا سبب ہے ، لیکن لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات پر یقین نہیں کیا اور اہلبیت کے بجائے دوسروں کا انتخاب کیا اورعلی علیہ السلام اور دوسروں کے درمیان فرق کے قائل نہیں تھے اور تصور کرتے تھے جس طرح علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے داماد تھے عثمان بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے داماد تھے اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی خلیفۂ اول کے داماد تھے !

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس فرمائش کا ایک اور پیغام یہ ہے کہ عبادت کے اصلی مراتب و مراحل ، قلبی امور اور اندرونی اعمال پر مشتمل ہیں ، یعنی کوئی بھی شخص تب تک عبادت سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے جب تک وہ خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی معرفت اور ان پر ایمان نیز اہل بیت علیہم السلام کی محبت نہ رکھتا ہو ، لہذا عبادت ، ظاہری امور اور دکھاوے کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ عبادت کی اصل اور حقیقت قلبی عقیدہ ہے اور تمام بندگیوں کا سرچشمہ قلب ہے ۔

____________________

۱لا من شیٔ (ظ)

۳۔ لفظ '' کرم و کرامت '' کے استعمال کے بارے میں راغب اصفہانی '' مفردات '' میں کہتے ہیں : خدائے متعال کے بارے میں اس کی طرف سے ظاہر ہوئی نیکیوں اور نعمتوں کو کرم کہا جاتا ہے ۔ لیکن انسان کے بارے میں اس سے ظاہر ہوئے نیک اخلاق و کردار کو '' کرم '' کہتے ہیں ۔ بعض علماء نے کہا ہے : '' کرم ' ، '' حریت '' کے معنی میں ہے ۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ '' حریت 'کا چھوٹی اور بڑی نیکیوں پر اطلاق ہوتا ہے اور '' کرم '' صرف بڑی نیکیوں کو کہا جاتا ہے : جیسے کوئی شخص اپنی ساری دولت اسلامی فوج کو مسلح کرنے میں خرچ کرے (المفردات فی غریب القرآن ، دار المعرفة ، ص ٤٢٨) لفظ ' کرامت ' کے بلند معنی کی توصیف میں اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن مجید میں لفظ '' کریم '' انتہائی بلند اور مقدس اشخاص و اشیاء کی خصوصیت کے طور پر ذکر ہوا ہے کہ ہم ذیل میں اس کے چند نمونے پیش کرتے ہیں :

الف : خداوند عالم کی صفت :(و من کفر فان ربی غنی کریم ) نحل ٤٠

ب: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفت: (انه لقول رسول کریم )تکویر ١٩

ج: عرض کی صفت : (.. هو رب العرش کریم ) مومنون ١١٦ ،

د: ملائکہ کی صفت : (کراما کاتبین ) انفطار ١١

ھ : حضرت موسی کی صفت : (و جائهم رسول کریم ) دخان ١٧ ،

و: حضرت یوسف کی صفت: (...ان هذا الا ملک کریم ) یوسف ٣١

ز: بہشت میں مومنوں کے مقام ( جگہ ) کی صفت : (و کنوز و مقام کریم ) شعراء ٥٨

ح: مومنوں کے رزق کی صفت (....و مغفرة و رزق کریم ) انفال ٤ لفظ

۳۔بحار الانوار ، ج ٦٥ ، باب ١، ص ١١٦

۴۔ نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، ص ١٢٤٠ ، حکمت نمبر ٣١٦۔

۵۔ نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ،ص ١١٧٨ ، حکمت نمبر ١٩٤)

۶۔ احتمال یہ ہے کہ نسخہ یوں ہو '' و مابینھما لا من شیء '' یعنی جس نے تمام آسمانوں اور زمین کو کسی دوسری چیز سے مدد لئے بغیر خلق کیا ہے ۔


دوسرا سبق

خدا کی نعمتوں سے صحیح فائدہ اٹھانے کی ضرورت

*تندرستی اور فرصت ، دو ناشناختہ نعمتیں

*جوانی ،سرور اور زندہ دلی کا دور

*تندرستی اور دولتمندی کی قدر جاننے کی ضرورت

* دنیوی زندگی ،ارتقاء و بلندی کے انتخاب کی راہ

خدا کی نعمتوں سے صحیح فائدہ اٹھانے کی ضرورت

'' یَا اَباذر ! اِحْفظ مَا اُوصِیْکَ بِهِ تَکُنْ سَعِیداً فِی الدُّنیَا وَالآخِرَةِ ، یَا اَبَاذر ! نِعمَتَان مَغْبُون فِیهِمَا کَثِیر مِنَ النَاسِ : الصِّحَةُ وَ الفَرَاغُ ، یَا اَبَاذَر !، اِغْتَنِمْ خمساً قَبْلَ خمسٍ، شَباَبَکَ قَبْلَ هَرَمِکَ وَ صِحَتَکَ قَبْلَ سُقمِکَ وَ غِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَ فَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ وَ حَیٰوتَکَ قَبْلَ مَوْتِک''َ

اے ابو ذر! میری نصیحت پر عمل کرو تاکہ دونوں جہاں میں سعید و نیک بخت رہو ۔ اے ابو ذر ! بہت سے لوگ دو نعمتوں کے بارے میں دھوکہ میں ہیں اور انکی قدر نہیں کرتے ، ان میں ایک تندرستی کی نعمت ہے اور دوسری فرصتاور آسائش کی نعمت ہے ۔

اے ابوذر! اس سے پہلے کہ پانچ چیزوں سے تمھیں دو چار ہونا پڑے ، پانچ چیزوں کو غنیمت جانو: جوانی کو بوڑھاپے سے پہلے ، تندرستی کو بیماری سے پہلے ، مالداری کو پریشانی سے پہلے ، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ۔

''یَا اَباذر ! اِحْفظ مَا اُوصِیْکَ بِهِ تَکُنْ سَعِیداً فِی الدُّنیَا وَالآخِرَةِ ''

انسان ہمیشہ اپنی سعادت کے تحفظ کی جستجو میں رہتا ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے ہر قسم کی کوشش کرتا ہے، دوسرے الفاظ میں سعادت انسان کا ذاتی اور بنیادی مقصد ہے لہذا انسان اس کے عوامل و اسباب کو حاصل کرنے اور اس تک پہنچنے کی راہ جاننے کی جستجو میں رہتا ہے اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے تاکید فرماتے ہیں کہ اگر میری نصیحتوں پر عمل کرو گے تو اپنے فطری مقصود ، یعنی دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرلو گے اور اگر اس پر عمل نہ کرو گے تو اس سعادت سے محروم ہوجاؤ گے یہ تاکیداس کے اندر آمادگی پیدا کرنے اور بیشتر قبول کرنے کیلئے ہے جیسے کہ ڈاکٹر بیمار سے نصیحت کرتا ہے : اس نسخہ پر ضرور عمل کرنا تا کہ صحت مند ہوجاؤ ورنہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان اپنی صحت یابی کیلئے ہی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ۔ اس تاکید کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذر ! نِعمَتَان مَغْبُون فِیهِمَا کَثِیر مِنَ النَاسِ : الصِّحَةُ وَ الفَرَاغُ ''

تندرستی اور فراغت ،دو ناشناختہ نعمتیں

تندرستی اور فراغت ایسی دو گراں قیمت نعمتیں ہیںجو خداوند عالم نے انسان کو عطا کی ہیں ، لیکن اکثر لوگ ان دو نعمتوں کی قدر نہیں جانتے اور مفت میں انھیں کھودیتے ہیں اس لحاظ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے تاکید فرماتے ہیں کہ ان دو نعمتوں کی قدر کرو اور مفت میں انہیں ہاتھ سے جانے نہ دو ۔

خداوند متعال نے بے شمار اور گراں قیمت نعمتیں انسان کو عطا کی ہیں اور انسان انھیں مفت میں کھودیتا ہے ، شاید اس لئے کہ انسان نے انھیں حاصل کرنے میں کوئی تکلیف نہیں اٹھائی ہے انسان نہ یہ کہ ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے بلکہ انہیں معصیت اور ایسی راہ میں استعمال کرتا ہے نہ یہ کہ اس کیلئے کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ نقصان کا بھی متحمل ہوتا ہے ۔

تندرستی ایسی گراں قدر نعمتوں میں سے ایک ہے کہ صحت مند انسان اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور وہ اس وقت اس کی قدر جانتا ہے جب کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس کی مثال اس مچھلی کی جیسی ہے کہ جب تک پانی میں تیرتی ہے وہ پانی کی قدر نہیں جانتی ، جوں ہی پانی سے باہر آجاتی ہے ، تو پانی کی اہمیت کا احساس کرتی ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک دوست کو ایک حادثہ پیش آیاتھا ، اس نے نقل کیا: منبر پر تقریر کے دروان اچانک اس کی آواز بیٹھ گئی ، اگر چہ اس نے اپنے بیان اور بحث کو جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوآخرکار منبر سے اتر کر ہسپتال گیا اور خوش قسمتی اور خدا کی مہربانی سے کچھ عرصہ کے بعد اس نے شفا پائی ۔

بہت کم ایسا اتفاق پیش آتا ہے کہ انسان اپنے ارد گرد موجودہ نعمتوں ، جیسے گفتگو کرنے کی صلاحیت جیسی نعمت کے بارے میں غور کرے اور اس نعمت کی وجہ سے خدائے متعال کا شکر بجالائے، بلکہ وہ اس لمحہ میں اس نعمت کے بارے میں متوجہ ہوجاتا ہے جب اس کی آواز اچانک رک جاتی ہے اور بات کرنے کی طاقت اس سے سلب ہوجاتی ہے ایسی حالت میں حتی اس حد تک آمادہ ہوتا ہے کہ اس نعمت کو دوبارہ پانے کیلئے اپنی ساری دولت خرچ کردے ۔

لمحہ بھر کیلئے ہم اپنی تندرستی کے بارے میں فکر کریں اور اس موضوع پر غور کریں کہ اس سے کونسی نعمت بہتر ہے کہ ہم ہزاروں بیماریوں سے محفوظ ہیںجو ممکن ہے ہمارے جسم پر حملہ ور ہوسکتی تھیں۔ تندرستی کے عالم میں زندہ ہیں اور ان بیماریوں میں سے کسی ایک میں بھی مبتلا نہیں ہیں لہذا ہم ہر لمحہ ایک عظیم دولت سے مالامال ہیں ، اگر چہ یہ تندرستی پائدار اور ابدی نہیں ہے اور ہر لمحہ ممکن ہے ہاتھ سے چلی جائے ۔

اسی بیان کے مانند ایک اور جگہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوا ہے ۔

'' نِعْمَتَانِ مَکْفُورَتَانِ اَلْاَمْنُ وَ الْعَافِیة '' (۱)

دو نعمتیں ہیں جن کی ( ہمیشہ ) ناشکری کی جاتی ہے : امن اور سلامتی ''

دوسری نعمت جس کی طرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے وہ فراغت ہے اور یہ آسودگی اور مصروفیت کے نہ ہونے کے معنی میں ہے انسان اپنی زندگی میں مختلف حالات سے دوچار ہوتا ہے بعض اوقات آسودگی اور سکون و اطمینان کی حالت میں ہوتا ہے لہٰذا اس حالت میں اپنے بارے میں تفکر کرسکتا ہے اور اپنے وجود میں پوشیدہ زاویوں کو پاسکتا ہے اور بعید نہیں اپنی اخلاقی اور نفسیاتی گمراہیوں کو دور کرنے کا عزم و ارادہ کرے ۔ اپنے انجام کے بارے میں غور کرے اور ایک خلوت ( کنج تنہائی )کدہ اور گوشہ میں جاکر عبادت میں مشغول ہوجائے یاسکون قلب کے ساتھ مطالعہ کرے، بہر صورت جسمی اور روحی آسودگی اس کے پورے وجود پر حکم فرما ہے اور یہ آسودگی اس کیلئے ایک سنہری موقع عطا کرتی ہے تا کہ ان فرصتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اور ایک ایک لمحہ سے اپنے عروج و کمال کیلئے استفادہ کرے، اس کے بر عکس ممکن ہے کہ اپنی زندگی میں ایسے حالات سے دو چار ہو جس میں مختلف وجوہ کی بنا پر آسائش و فراغت نہ دیکھ سکے اور ایک لمحہ کیلئے دل میں اسکی حسرت رکھتا ہو ، لیکن کیا فائدہ کہ گزرا ہوا زمانہ کبھی واپس نہیں آتا ، فرصتوں سے بہتر استفادہ کرنے کے سلسلہ میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''وَ الفُرصَةُ تَمُرُ مَرَّ السَّحَابِ فانْتَهزُوا فُرَصَ الخَیْرِ'' (۲)

فرصت ( اور عمر ) بادل کے مانند گزر جاتی ہے لہذا نیک فرصتوں کی قدر کرو ''

مشکلات ، بعض اوقات گھریلو مسائل میں مشغولیت اور اہل و عیال کی ذمہ داری قبول کرنے سے پیدا ہوتی ہیں اور بعض اوقات سماجی مصروفیتوں اور ذمہ داریوں کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں ۔ یہ مشکلات انسان کی تمام جسمی اور روحی قوتوں اور صلاحیتوں کو اپنی طرف مشغول کرتی ہیں اور اسے ایک لمحہ کیلئے بھی سوچنے کی فرصت نہیں دیتیں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بہت سے ذمہ دار افراد اسی حالت سے دوچار ہوئے ہیں حتی کہ اپنے ذاتی مسائل کی طرف توجہ کرنے کی فرصت بھی نہیں رکھتے ۔

اس کے برعکس کچھ لوگ ہمیشہ وقت گزاری کی تلاش میں ہوتے ہیں ، اور یہ نہیں جانتے کہ کس طرح اپنی گراں بہا فرصت سے استفادہ کریں ، اخباروں کے معمے حل کریں ؟ یا رات گئے تک ٹی وی کی فلمیں یا ورزشی پروگرام دیکھتے رہیں یا شطرنج کھیلنے میں مشغول رہیں ؟ ان کی مثال اس انسان کی ہے جس نے اپنی ایک بڑی دولت کو ایک جگہ جمع کیا ہے اور ایک ایسی جگہ کی تلاش میں ہے جہاں پر اپنی اس دولت کو تدریجاً آگ لگادے اور اس کا تماشا دیکھتے ہوئے لذت کا احساس کرے۔ اگر ہم ایسے کسی شخص کو دیکھیں گے تو اسے پاگل کہیں گے ہم اس سے غافل ہیں کہ خود ہم میں سے بہت لوگ اسی دیوانگی سے دوچار ہیں اوراپنی عمر کے سرمایہ کو ۔ جو دنیوی دولت سے قابل موازنہ نہیں ہے اپنی ہوس کی آگ میں جلادیتے ہیں ۔

حقیقت میں ایسے ہی انسان کومتضرر اور فریب خوردہ کہنا چاہیئے کیوںکہ فریب خوردہ وہ شخص ہے جو اپنی گراں قیمت اشیا کو بیچتا ہے اور ا سکے عوض میں بے قیمت یا کم قیمت والی چیز حاصل کرتا ہے ۔ کوئی بھی ایسی قیمتی چیز نہیں ہے جس کا عمر کے سرمایہ سے موازنہ کیا جاسکے اور انسان عمر کے سرمایہ کیلئے بہشت سے کم تر چیز پر راضی نہیں ہوسکتا ، لہذاجب تک فرصت ہاتھ سے نہ چلی جائے اس کی قدر کیجئے اور ایسا کام انجام دیجیئے کہ دوسرے تمام کاموں کی بہ نسبت زیادہ سے زیادہ سود مند اور شائستہ ہو

جوانی نشاط اور آغاز زندگی کا دور

''یا ابا ذر !اغنتم خمسا قبل خمس شبابک قبل هرمک''

''اے ابو ذر ! پانچ چیز کو پانچ چیز سے پہلے غنیمت شمار کرو ،جوانی کو بڑھاپے سے پہلے''

جوانی کا مختصر دور جو نشاط اور زندہ دلی کے ہمراہ ہوتا ہے ، انسان کی عمر کا بہترین دور محسوب ہوتا ہے اور وہ دور خصوصیت کا حامل ہوتاہے ، اگر چہ انسان کی پوری زندگی اور عمر ایک بڑی نعمت ہے ، لیکن جوانی کا دور ایک دہری نعمت ہے ، اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے پہلے جوانی کے دور کا ذکر فرماتے ہیں اورپھر آخر میں اصل حیات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں ۔ با وجودیکہ زندگی کا دور مرحلۂ جوانی پر بھی مشتمل ہے ، لیکن چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں جوانی کا دور خاص اہمیت کاحامل ہے ، اس لئے ابتدا میں اس کی طرف اشارہ فرماتے ہیں ۔

امام خمینی مکرر فرماتے تھے : '' اے جوانو! جوانی کی قدر جانو'' کیونکہ جوانی کی نعمت ایک عظیم نعمت ہے ، اس سے صحیح اور مناسب استفادہ کرکے انسان ترقی اور بلند مقام حاصل کرسکتا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو بوڑھاپے میں کم حاصل ہوتی ہے ۔ اسی لئے ائمہ اطہار علیہم السلام کی اقوال میں بھی اس حقیقت کی وضاحت وتشریح کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

''مَنْ قَرَاَ الْقُرآنَ وَهُوَ شابّ مُؤمِن ِاخْتَلَطَ الْقُرآنُ بِلَحْمِهِ وَ دَمِهِ ''(۳)

''جو بھی مومن جوان قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے ، قرآن اس کے گوشت و خون میں ممزوج ہوجاتا ہے ''

جوانی کا دور انعطاف اور حق پذیری کا دور ہوتا ہے اس دور میں انسان اپنے آپ کو بنا سکتا ہے اور اپنے آپ کو بری عادتو سے ادور رکھ سکتا ہے جوانی کے دوران ہی انسان :

۔ دوسرے تمام ادوار سے کہیں زیادہ حق بات سے متاثر ہوتا ہے ۔

۔ صحیح و سالم بدن کا مالک ہوتا ہے اس لئے اپنے اجتماعی فرائض کو انجام دے سکتا ہے ۔

۔ قوی جسم اور روح کا مالک ہونے کی وجہ سے عبادت کے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔

۔ اخلاقی برائیوں کو دور کرنے کیلئے کافی قدرت رکھتا ہے ۔

۔ اپنے جسم و روح سے استفادہ کرکے علم کے بلند مراحل تک پہنچ سکتا ہے ۔

۔ انسان قوی اور مستحکم عزم و اراد ہ کا مالک بن سکتا ہے ۔

۔ تھکن محسوس کئے بغیر بہتر صورت میں سوچ سکتا اور گھنٹوں تفکر کرسکتا ہے ۔

۔ اچھی عادتوں کو اپنے اندر انتہائی حد تک مستحکم کرسکتا ہے ۔

اس کے برعکس بوڑھاپے کا زمانہ ضعف، سستی کسالت انحطاط ،ناقابل تلافی ، کمزوری، پست ہمتی اور خلاصہ کے طور پر جسم و روح پرفرسودگی ضعیفی کے تسلط کا دور ہوتا ہے ۔

قرآن مجید میں تین مواقع پر بڑھاپے کو '' شَیب'' و '' شَیبہ'' سے تعبیر کیا گیا ہے اور چار مواقع پر '' شیخ '' و''شیوخ'' سے تعبیر کیا گیا ہے ا ور اکثر مقامات پرانسانی زندگی کے اس دور میں فطری ضعف کے بارے میں وضاحت یا اشارہ کیا گیا ہے ۔

مثلاً حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے :

( قَالَ رَبِّ اِنِّی وَهَن الْعَظْمُ مِنِّی وَ اشْتَعَلَ الرَّاسُ شَیْباً ) (مریم ٤)

کہا کہ پروردگارا !میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں ۔

اسی طرح انسانی حیات کے مراحل کے بارے میں فرماتا ہے ،

( ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَ شَیْبَةً ) ( روم ٥٤)

اور پھر طاقت اور امنگ کے بعد کمزوری اور ضعیفی قرار دی ہے ۔

(تمام تعبیروں میں بھی قرآن مجید نے بڑھاپے کے دورکو عجز و ناتوانی کے دور کے عنوان سے اشارہ کیا ہے)

لہذا جوانی کاد ور اخلاقی برائیوں کو دور کرنے کیلئے ایک گراںقیمت زمانہ ہے اور یہ کام بڑھاپے کے دوران انجام پانا بہت مشکل ہے ، لیکن افسوس ہے کہ انسان احساس و تجربہ کے بغیر کسی چیز پر یقین نہیں کرتا ہے ، یعنی جب تک بوڑھا نہ ہوجائے بڑھاپے کا درد محسوس نہیںکرتا ہے اگر اس دور کے مشکلات اسے بتائے جائیںتو اس کے بارے میں کما حقہ باور نہیں کرتا ہے ۔

ہم نے ایسے بزرگوں کو دیکھا ہے جو بڑے کمالات کے مالک تھے ، لیکن ا ن میں جوانی کے زمانہ کی بعض اخلاقی کمزوری باقی رہ گئی تھی اس کی وجہ یہ تھی یا اس دور میں انھوں نے اس کی شناخت نہیں کی تھی یا اس کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بہر صورت وہ اخلاقی کمزوری ایک ناسور کی صورت اختیار کر کے لاعلاج بیماری میں تبدیل ہوچکی تھی ۔

تندرستی اور دولتمندی کی قدر جاننے کی ضرورت

''صِحَتَکَ قَبْلَ سُقمِکَ وَ غِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ''

دوسرے یہ کہ : تندرستی کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو ۔

تیسرے یہ کہ : دولتمندی کو فقر و پریشانی سے پہلے غنیمت جانو ۔

اگر زندگی کو چلانے کی اگر چہ سادہ اورپاک و صاف حالت میں طاقت رکھتے ہو اور مالی کمزوری نے تجھے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہیں کیا ہے ، تو خدا نخواستہ فقر و پریشانی میں مبتلا ہونے اور اپنی روز مرہ کی زندگی کو چلانے کیلئے دوسروں کے محتاج ہونے سے پہلے اس نعمت کی قدر کرو اگر اس وقت تمھارے اختیار میں معمولی امکانات ہیں اور تم قناعت سے اپنی روز مرہ کی زندگی چلاسکتے ہو تو اس کے حصول کو جاری رکھو اور اسے غنیمت جانو اور اس دن سے ڈرو جس دن اس معمولی زندگی کو چلانا تیرے لئے دشورا ہوجائے اور اس کام کو چھوڑ کر دوسرے کام میں مشغول ہوجاؤ ، اگر زاہدانہ زندگی گزار سکتے ہو تو اس فرصت سے استفادہ کرو اورغیر موجود اور نادر چیزوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے جو کچھ تمھارے ہاتھ میں ہے ، اسی کی فکر کرو اور اس کی قدر کر و کسی کے محتاج نہ ہونے کے ایام میں تمھارے لئے دوسروں کی مدد کرنے کی اچھی فرصت ہے ، لہذا فرصت کو کھونے اور فقر وناداری سے دوچار ہونے سے پہلے حاجتمندوں کی مدد کرو ۔

اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ شرم آور فقر و تنگدستی انسانی کرامت کے شایان شان نہیں ہے اور ناپسند صفت کے طور پر ا س کی مذمت کی گئی ہے اللہ تعالی اپنے بندہ کیلئے ذلت پسند نہیں کرتا بلکہ وہ اس کی عزت و سربلندی چاہتا ہے لہذا حتی الامکان کوشش کرنی چاہیئے کہ دوسروں کے محتاج نہ رہیں او رمحتاجی سے مقابلہ کرنے کے طریقوں ، جیسے : قناعت اور عالی ظرفی کو اپنا شیوہ بنائے اور عیاشی ، فضول خرچی سے پرہیز کو اچھی طرح سیکھ کر ان پر عمل کرناچاہیئے ۔

'' و فِرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ ''

چوتھے یہ کہ: فراغت و آسودگی کی نعمت کو مصروفیت و گرفتاری سے دوچار ہونے سے پہلے غنیمت جانو۔

اس جملہ کے مفہوم پر اس سے پہلے بحث ہوئی ، لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصود یہ نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے سبکدوش اور سماجی فرائض سے پہلو تہی کرکے بے کاری کو غنیمت سمجھیں ، یہ تصور منفی اور غلط ہے ۔ شاید آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد یہ ہے کہ ناخواستہ ذمہ داریوں کو قبول کرنے پر مجبور ہونے ،تھوپے جانیوالی مصروفیتوں اور انتخاب کا حق سلب ہونے سے پہلے ان فرصتوں کو غنیمت جانوکہ آزادی کے ساتھ انتخاب کیا جائے اور کسی جبرو اکراہ کے بغیر فیصلہ کیا جائے ، لہذا بہتر امر کا انتخاب کرنے میں ان فرصتوں سے استفادہ کرناچا ہیئے۔

دنیوی زندگی رشد و بلندی کے انتخاب کی راہ :

'' وَحیواتک قبل موتک ''

پانچویں : زندگی کی نعمت کو موت آنے سے پہلے غنیمت جانو ۔

زندگی کی نعمت ایک عمومی اور وسیع نعمت ہے ، جس کا تمام نعمتوں کے بعد ذکر کیا گیا ہے ۔ حقیقت میں دوسری نعمتیںزندگی کی نعمت سے وابستہ ہیں اگر زندگی نہ ہو تو دوسری نعمتوں کیلئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے، لہذا تمام نعمتوں کی بنیاد دنیوی زندگی کی نعمت ہے ، جو خداوندمتعال کی طرف سے بندوں کو عطا کی گئی ہے اگرچہ انسان اخروی زندگی کی نعمت سے بھی مستفید ہے لیکن اس سے عمل ، انتخاب اور آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے وہاں پر انسان اپنی پہلی زندگی کی فرصتوں کو کھودینے اور اپنے غلط انتخاب پر حسرت کھائے گا اور گزشتہ غلطیوں کی تلاش کرنے کیلئے پھر سے دنیا میں بھیجے جانے کی درخواست کرے گا لیکن کیا فائدہ کہ اس کی یہ درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔

( حَتٰی اِذَا جَاءَ اَحَدَهُمُ الْمَوتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّی اَعْمَلُ صَالِحاً فِیْمَا تَرَکْتُ کَلاَّ اِنَّهَا کَلِمَة هَوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخ اِلٰی یَومَ یُبْعَثُونَ ) (مومنون ٩٩۔ ١٠٠)

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے تو کہے کہ پروردگارا مجھے پلٹادے شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں ، ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے جو یہ حسرت سے کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے ۔

بعض بزرگ شخصیتیں تاکید کرتی تھیں کہ سوتے وقت تصور کرناکہ شاید اس نیند سے بیدار نہیں ہوگے اور اسی حالت میں ملک الموت آکرتمھاری روح کو قبض کرے گا کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے :

( ﷲ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِینَ مَوتِهَا وَ الَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِهَا ) (زمر ٤٢ )

اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلاتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روح کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے ۔

نیند کی حالت میں ، روح تقریباً بدن سے خارج ہوجاتی ہے اور اگر انسان کی موت آئی ہو تو مکمل طور پر بدن سے اس کا رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اس لحاظ سے خداوند عالم مذکورہ آیۂ شریفہ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے :

( فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضٰی عَلَیْهَا الْمَوتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْریٰ اِلیٰ اَجلٍ مُسَمّیً )

اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے اس کی روح کواپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے اور جس کی موت کا فیصلہ نہیں کیا ہے دوبارہ اس کے جسم میں واپس کر دیتا ہے اس کی موت آنے تک کے لئے۔

حقیقت میں انسان نیند کی حالت میں موت کا نصف سفر طے کرتا ہے لہذا تاکید کی گئی ہے کہ نیند کی حالت میں فرض کریں کہ روح بدن سے جدا ہونے کے بعد واپس بدن میں نہیں لوٹے گی اور جب نیند سے بیدار ہوجاؤ تو خدا کا شکر بجا لائو کیوں کہ خداوند عالم نے تمہارے بدن میں دوبارہ جان ڈال دی ہے اور مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی عطا کی ہے، دوسرے الفاظ میں فرض کریں کہ تم عالم برزخ میں گئے تھے اور وہاں پر تمہارے برے اعمال واضح ہوگئے اور تمہیں مجازات کا سامنا کرنا پڑا اور تو نے ملائکہ مقرب الہی سے پھر سے دنیا میں آنے کی درخواست کی اور انھوں نے تمہاری یہ درخواست منظور کی ہے اورتمہیں پھر سے دنیا میں آنے کی اجازت دے دی اب جبکہ تم دوبارہ دنیا میں آئے اور اعمال انجام دینے کی فرصت مل گئی تو تم کیا کرو گے اور کیسے رہو گے ؟ ہمیں ا س دوبارہ دی گئی فرصت کی قدر جاننی چاہیئے اور ا سکے ایک ایک لمحہ کو غنیمت سمجھنا چاہیئے ، کیونکہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جہاں پر ایک''لاالہ الاﷲ''کہنے کی حسرت رہے گی اور بقول امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام

''مَنْ قَصَّر فِی العَمَلِ اُبْتُلِی بَالَهم وَ لٰاحاجَةَ ﷲِ فِیْمَنْ لَیْسَ اِﷲ فِی مَالِهِ وَ نَفْسِهِ نَصیب ''(۴)

جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں ﷲ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ،ج ٨١ ، ص ١٧٠ ،باب ١

۲۔وسائل الشیعہ ، ج ١٦ ، باب ٩١، ص ٨٤

۳۔ بحار الانوار ،ج٧ص٣٠٥

۴۔نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، کلمات قصار ، نمبر ١٢٢ ، ص ١١٤٦)


تیسرا سبق

زندگی کے حقائق کا صحیح ادراک اور عمر کا بہتر استفادہ

* فرصتوں کے مواقع سے استفادہ اور طولانی آرزوؤں سے کنارہ کشی

* لاپروائی کے مراحل

* ترکِ دنیا اور اس کی بے جاتفسیر

* ترکِ دنیا اور آخرت کو اصل جاننا

* فرائض اور تکالیف کی بروقت انجام دہی ۔

*موت کی یا دطولانی آرزوؤں کا خاتمہ

* دنیا سے وابستگی کے نتائج

زندگی کے حقائق کا صحیح ادراک اور عمر کا بہتر استفادہ

'' یَا اباَذَر ! اِیَّاکَ وَ التَّسْوِیفَ بِاَمَلِکَ فَاِنَّکَ بِیَومِکَ وَ لَسْتَ بِمَا بَعْدَهُ فَاِنْ یَکُنْ غَد فَکُنْ فِی الْغَدِکَمَا کُنْتَ فِی الْیَومِ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ غَد لَکَ لَمْ تنَدَمْ عَلٰی مَافَرَّطْتَ فِی الْیَومِ

یَا اَبَاذَر ! کَمْ مِنْ مُسْتَقبِلٍ یَوْماً لَا یَسْتَکْمِلُهُ وَ مُنْتَظِرٍ غَداًلاَ یَبْلُغُهُ ، یَا اَباذرَ ! لَوْ نَظَرْتَ اِلَی الاَجلِ وَ مَسِیرِهِ لَاَبغَضْتَ الْاَمَلَ وَ غُرُوْرَهُ یَا اَبَاذَر!کُنْ کَاَنَّکَ فِی الدُّنْیَا غَرِیب اَوْ کَعَابِرِ سَبِیلٍ وَ عُدَّ نَفْسَکَ مِنْْ اَصْحَابِ الْقُبُورِ یَا اَبَاذَر ! اِذَا اَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَکَ بِالمَسَائِ وَ اِذَا اَمْسَیْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَکَ بِالصَّبَاحِ وَ خُذْ مِنْ صِحَّتِکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَ مِنْ حَیٰوتِکَ قَبْلَ مَوْتِکَ لِاَنَّکَ لَا تَدْرِی مَااسْمُکَ ''

فرصتوں کے مواقع سے استفادہ اور طولانی آرزوئوں سے کنارہ کشی

'' یَا اباَذَر ! اِیَّاکَ وَ التَّسْوِیفَ بِاَمَلِکَ فَاِنَّکَ بِیَومِکَ وَ لَسْتَ بِمَا بَعْدَهُ ''

اے ابوذر ! ایسانہ ہو کہ طولانی آرزوئوں کی وجہ سے نیک کام انجام دینے میں تاخیر کرو ۔

( یہ بیان آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گزشتہ فرمائشات کو مکمل کرتاہے اور فرصتوں سے استفادہ کرنے اور اپنی عمر کے اوقات کو ہاتھ سے نہ دینے پرایک تاکیدہے )

'' تسویف '' ان آفتوں میں سے ہے جو نیک اور شائستہ کام انجام دینے میں رکاوٹ بنتی ہیں ، اسی لئے روایتوں میں اس کی مذمت کی گئی ہے ۔ تسویف کاموں کو تاخیر میں ڈالنے کے معنی میں ہے ، اس امید کے ساتھ کہ بعد میں انجام دیئے جائیںگے اس حالت کیلئے بہت سے دلائل ہوسکتے ہیں ، لیکن اس کا خاص اور اصلی سبب ( جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہوا ہے ) انسان کی آرزوئیں ہیں یعنی جس کام کو آپ کو انجام دینا چاہیئے انسان اس امید میں کہ کل تک زندہ ہے اوراکل انجام دے ، آج اسے انجام نہیں دیتا جب دوسرا دن ہوتا ہے تو پھر تیسرے دن کی امید میں اور اسی طرح دوسرے مہینے اور آئندہ سال کی امید میں کام کو تاخیر میں ڈالتا رہتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : اگر چاہتے ہو تمہاری یہ حالت اور داخلی خصوصیت تم سے دور ہوجائے تو تصور کرناکہ صرف اسی دن اسی لمحہ اورآج کی فرصت رکھتے ہو اور اس کے بعد زندگی کی کوئی اور فرصت نہیں ملے گی ۔

'' تسویف'' کا مفہوم بہت سے دوسرے اخلاقی مفاہیم خواہ نیک ہوں یا بد کی طرح تشکیکی اور گوناگوں مراتب کا حامل مفہوم ہے یہ تشکیلی مفاہیم مختلف افراد کی نسبت ، مومن سے لے کر غیر مؤمن تک ، حتی مراتب ایمان کی نسبت ، متفاوت ہیں ، ان کے بعض مراتب واجب عمومی ہیں اور بعض واجب موکد ہیں ، ، بعض مستحب عمومی ہیں اور بعض مستحب موکد ہیں ، بعض مراتب اس قدر دقیق ہیں کہ عام لوگوں کیلئے ان کا تصور ممکن نہیں ۔

لاپروائی کے مراحل :

''تسویف '' کا پہلا مرحلہ : دنیوی کاموں کے بارے میں آرام طلبی اور سستی ہے جس کے سبب انسان اپنے کاموں میں تاخیر کرتا ہے اس بری عادت کا اعتقادی مسائل سے کوئی ربط نہیں ہے مؤمن بھی اس میں مبتلا ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کافر بھی مبتلا ہوجائے ،کیونکہ کافر بھی بعض اوقات دنیوی کاموں کے سلسلہ میں سستی اور لاپروائی کرتا ہے یہ عادت جو انسان کو اپنے کام میں تاخیر ڈالنے کا سبب بنتی ہے مومن اور کافر دونوں کیلئے ایک بری صفت شمارہوتی ہے البتہ چونکہ اگر مومن اپنے کام کو بر وقت انجام نہ دینے کی عادت کرے تو رفتہ رفتہ یہ عادت اس میں ملکہ کی حالت پیدا کرتی ہے اور اس کے دینی مسائل میں بھی اثر انداز ہوتی ہے اور اس امر کاسبب بنتی ہے کہ وہ اپنے دینی فرائض کو بھی وقت پر انجام نہ دے ، اس لئے اس عادت کی برائی مومن کیلئے شدید تر ہے اگر ایسے عادات سے مقابلہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ اگر انسان دینی امور میں سستی اور لاپروائی کرے تو رفتہ رفتہ یہ عادت اس میں ملکہ پیدا کرے گی اور وہ اخروی امور میں بھی سستی اور لاپروائی کرنے پر اتر آئے گا۔

'' تسویف '' کا دوسرا مرحلہ : فرائض اور واجبات کی انجام دہی میں لاپروائی ہے کہ یہ لاپروائی واجبات کی تین اقسام کی بنا پر تین قسموں میں تقسیم ہوتی ہے ۔

١۔ واجبات موسع ( جن واجبات کے انجام دینے کا وقت کا فی ہوتا ہے ) میں غفلت اور لاپروائی ، جیسے نماز پنجگانہ کہ ہر ایک نماز کا ایک وسیع وقت ہے ۔ بعض لوگ ان نمازوں کو انجام دینے میں غفلت اور لا پروائی کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کو انجام دینے میں تاخیر کرتے ہیں اور آخری لمحات میں انجام دیتے ہیں ، اگرچہ یہ لاپروائی اور غفلت حرام نہیں ہے لیکن ایک ناپسند کام شمار ہوتا ہے ۔

٢۔ ان واجبات میں لاپروائی ، جنہیں فوراً انجام دینا چاہیئے ، اگر چہ ایسے واجبات اس معنی سے بالکل ہی فوری نہیں ہوتے کہ اگر پہلی فرصت میں ترک ہو تو انہیںدوسری اور اسی طرح بعد والی فرصتوں میں انجام دیا جائے ، جیسے کہ توبہ کا وجوب ، یہ پہلی ہی فرصت میں واجب ہے کہ انجام پائے اور اس میں تاخیر کرنا حرام ہے ، اگر اس میں تاخیر ہوئی تو ایسا نہیں ہے کہ اس کا وجوب اور فوریت ساقط ہوجائے ۔

٣۔ مضیق واجبات ( یعنی ایسے واجبات جن کے بجا لانے کا وقت کم اور محدود ہے ) میں لاپروائی اور غفلت جیسے : روزہ ، کہ اس کا وقت محدود ہے ۔ بعض لوگ اس واجب کو اس کے اداکے وقت میں انجام دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور اپنی جگہ پر کہتے ہیں کہ بعد میں اسے قضا کے طور پرانجام دیں گے ۔ اگرچہ اس قسم کے شخص کا گناہ ایسے واجب کی قضا بجالانے کاارادہ نہ کرنے والے سے کم تر ہے لیکن اس کا یہ عمل حرام ہے ۔

ترک دنیا اور اس کے بے جا تفسیریں :

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سی آیات اور روایات میں ایسے مطالب ذکر ہوئے ہیں کہ ان کی گوناگوں اور بعض اوقات متضاد تفسیریں کی جاسکتی ہیں ،ان کی تفسیر کرنے میں دینی امور میں مہارت اور تفقہ کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے مواقع پر غلطی کے امکانات اور نامناسب نتائج کا احتمال زیادہ ہے ۔ نمونہ کے طورپر دنیا اور اس کی مذمت میں یا گوشہ نشینی اور ترکِ دنیا کے بارے میں بعض آیات و روایات ذکر ہوئی ہیں کہ ان کے بارے میں گوناگوں ، بعض اوقات متضاد تفسیریں کی گئی ہیں ۔ ان تفسیروں میں صوفیانہ تفسیر بھی ہے جو اسلام کے تمام جوانب اور قطعی معارف کو مد نظر رکھے بغیر انجام پائی ہے اس عقیدہ کے مطابق انسان کو ترکِ دنیا کرنا چاہیئے، لوگوں سے دور تنہائی میں عبادت کرنی چاہیئے یا ایسے لوگ حیوانوں سے الفت رکھتے ہیں جبکہ اس قسم کا استنباط قرآن مجید کی آیات ، روایات اور دین کی قطعی بنیادوں سے متضاد ہے ۔

اگر گوشہ نشینی ، تنہائی اور ترکِ دنیا بنیاد ہے تو دین کی اجتماعی تکالیف جیسے :انفاق ، ظلم کا مقابلہ ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اسلامی حکومت برقرار کرنے کی تلاش جو اسلام کے قطعی ضروریات میں سے ہیں کا کیا ہوگا؟

اور انھیں کہاں عملی جامہ پہنایا جائے گا ؟ کیا خلوت اور تنہائی میں ان فرائض کو انجام دیا جاسکتا ہے ؟ لہذا ایک معرفت دینی کے استنباط کیلئے تمام معارف دینی میں تفقہ اور اس کے تمام جوانب پر توجہ کرنالازم اور ضروری ہے ۔

اس غلط فہمی کے جواب میں کہنا چاہیئے :اگر دنیا طلبی زندگی کے مقصد کے طور پر پیش کی جائے تو قابل مذمت ہے لیکن اگر دنیا اخروی کمال تک پہنچنے کا وسیلہ بن جائے تو نہ صرف قابل مذمت نہیں ہے بلکہ قابل تعریف و ستائش بھی ہے ۔ دنیا کو وسیلہ قرار دینے کے چند مراتب ہیں کہ ان میں سے بعض مراتب لازم ہیں اور بعض مراتب کمالات کے جز شمار ہوتے ہیں اس کی ضروری حد بندی یہ ہے کہ دنیا کی لذتوں سے استفادہ کرنا اور مادی امور میں مشغول ہونا ترکِ واجب یا فعل حرام انجام دینے کا سبب نہ بنیں وہ دنیا طلبی حرام ہے جو ارتکاب گناہ یا ترکِ واجب کا سبب بنے اور اگر دنیا طلبی انسان میں ایک نا پسند عادت بن جائے تو اس کے ساتھ مقابلہ کرنا واجب ہے ۔

اسلام کی نظر میں ،مثالی انسان وہ ہے جو کسی بھی صورت میں دنیوی امور کو بنیاد قرار نہ دے اور کسی بھی دنیوی کام کو اگرچہ مباح بھی ہو مادی لذتوں کو حاصل کرنے کیلئے انجام نہ دے ۔ دور اندیش اورہوشیار انسان اس مقام پر جو بلند ترین انسانی مقام ہے فائز ہوئے ہیں یعنی وہ اس طرح عمل کرتے ہیں کہ ان کے تمام کردار و رفتار ، حتی سانس لینا بھی عبادت شمار ہوئے ہیں ان کے تمام جسمانی اعمال و رفتار ، جیسے کھانا پینا، ورزش کرنا حتی حلال جنسی لذتیں بھی اخروی امور کا مقدمہ ہیں اور اس لحاظ سے واجب یا مستحب عبادت شمار ہوتی ہیں ۔

ترک دنیا اور آخرت کو اصل جاننا :

بہر صورت مادی اور دنیوی امو رکو بنیاد قرار دینا یا بنیاد قرار نہ دینا ایک ظریف اور پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کا معیار گفتگو میں معلوم نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس کا انحصار افراد کی نیت پر ہے : مثال کے طورپراگر انسان لذت کی غرض سے کھانا کھائے تو اس نے مادیت کو بنیاد قرار دیا ہے ، اگرچہ زبان سے انکار بھی کرے اور اگر اس کی نیت یہ ہو کہ کھانے کے مزہ سے لذت پاکر خداکا شکر بجالائے تو اس نے آخرت کو بنیاد قرار دیا ہے ، کیونکہ اس کا مقصد اللہ تعالی کا شکر بجالانا ہے اسی لحاظ سے قرآن مجید میں بعض نعمتوں کا ذکرکرنے کے بعد ، بارگاہ الٰہی میں شکر گزاری ، نعمتوں سے استفادہ کرنے کے مقصد کے طور پر بیان ہوئی ہے پس مقصد ، شکر گزاری ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب تمام مادی کام خدائی رنگ پیدا کریں ۔

اکثر لوگ اپنی رفتار کے معنوی پہلو کی طرف توجہ نہیں رکھتے اور اس قدر مادی لذتوں میں غرق ہوتے ہیں کہ مادیات اور مادی لذتوں کے علاوہ کسی اور مقصدکو مدنظر نہیں رکھ سکتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معنوی مقامات تک پہنچنے اور اخروی امو ر کو بنیاد قرارد ینے کیلئے انسان کو مربی کی ضرورت ہے ، کیونکہ ممکن ہے اعتدال کی راہ سے بھٹک کر افراط و تفریط کا شکار ہوجائے ۔

جولوگ نفس کے تکامل وترقی اور اس کی تربیت کے بارے میں قدم اٹھانا چاہیں انھیں اپنے ذہن میں دنیوی پہلوؤں کو ضعیف کرنے ، مادی لذتوں کی چاہت کو کم کرنے اورا خروی لذتوں کے رجحان اور برتری کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،دنیوی لذتوں سے چشم پوشی کرنے کیلئے اپنے آپ کو تلقین کرے کہ مادی لذتیں اخروی لذتوں کے مقابلہ میں حقیر اور ناچیزہیں ۔ اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام اپنی فرمائشات میں لوگوں کو آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کی ترغیب دیتے ہیں ترک دنیا کی حوصلہ افزائی نہیںکرتے کہ مکمل طور پر دنیا کو چھوڑدیں ،کیونکہ اگرانسان دنیا کو اخرت کا مقدمہ قرار دے ، تو نہ صرف یہ کہ وہ دنیا طلب نہیں ہے بلکہ آخرت طلب ہے مباحات سے استفادہ کرنا بذات خود حرام میں مبتلا نہ ہونے کا مقدمہ ہے اس لحاظ سے عبادت میں شمار ہوتا ہے اس کے علاوہ بعض اوقات مباحات سے استفادہ کرنا بلند ترین فرائض انجام دینے میں تقویت اور آمادگی کا سبب بن جاتا ہے ۔

حضرت اما م موسیٰ بن جعفر علیہ السلام روزانہ اوقات کی تقسیم بندی کے بارے میں فرماتے ہیں:

'' ایک گھنٹہ حلال لذتوں سے استفادہ کرنے کیلئے مخصوص رکھنا چاہیئے کیونکہ حلال کے استفادہ سے ہی انسان تمام فرائض کو انجام دینے کی طاقت پیدا کرسکتا ہے ''

چنانچہ ہم نے اس سے پہلے ذکر کیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جملۂ ''ِیَاکَ و التسویف''میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ '' تسویف '' کے پیدا ہونے کا سبب انسان کی لذتیں حاصل کرنے کی آرزوئیں ہیں ۔ یعنی انسان ہمیشہ دنیوی لذتوں کو حاصل کرنے کی تلاش میں ہوتا ہے اور یہ امر بذات خود دینی فرائض کو تاخیر اور التوا میں ڈالنے کا سبب ہے دوسرے الفاظ میں انسان اس دوراہے سے دوچار ہوتا ہے کہ فرصت کو فوری اور مادی لذتوں کو حاصل کرنے کیلئے استعمال کرے یا اخروی نتائج حاصل کرنے کیلئے ، چونکہ لذات دنیا کو نقد اور آخرت کو ادھار سمجھتا ہے اس لئے فرضت کو اسی کیلئے صرف کرتا ہے ، حقیقت میں اس کا ایمان آخرت کی نسبت دنیا پرزیادہ ہے اور عارضی اور فوری لذتوں کو آخرت کی پائدارلذتوں پر ترجیح دیتا ہے ۔

حیرت کی بات ہے کہ ہم میں سے اکثر کافی حد تک شرک میں مبتلا ہیں کیونکہ ہم آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کے قائل نہیں ہیں :

( وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُهُمْ بﷲ اِلَّا وَ همُ مُشْرِکُونَ' ) ( یوسف ١٠٢)

'' اور ان میں کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ ''

اگر انسان کسی کام کوغیر خدا کیلئے انجام دے ، حتی اگر وہ کام اخروی ثواب حاصل کرنے کیلئے بھی ہوشرک ہے ۔ خالص توحید میں ، خدا کے سوا کوئی اور مقصد نظر میں نہیں ہوتا ہے ، حتی جہنم کا خوف اور بہشت کا شوق بھی مقصد نہیں ہے ، چنانچہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''اِلٰهی مَا عَبَدْتُکَ خَوفاً مِنْ عِقَابِکَ وَ لَا طَمْعاً فِی ثَوَابِکَ وَ لٰکِنْ وَجَدْتُکَ اَهْلاً لِلْعِبَادةِ فَعَبَدْتُکَ ''(۱)

میرے پروردگار ! تیرے لئے میری عبادت نہ جہنم کے خوف کی وجہ سے ہے اور نہ بہشت کی طمع کے سبب ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ میں تجھے عبادت کے لائق جانتا ہوں ''

طولانی آرزوئیں ، انسان کی سعادت کو خطرہ میں ڈالتی ہیں ، اس لئے حضرت علی علیہ السلام اکثر اس بات سے خائف تھے کہ لوگ اپنی طولانی آرزوؤں میں مبتلا ہوکر فرائض الہی کو اپنی نفسانی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھائیں :

''وَ اِنَّ اَخْوَفَ مَا أَخَافَ عَلَیکُمْ اِثْنَانُ: اِتِّبَاعُ الْهَویٰ وَ طُولُ الْاَمَلِ ، لِاَنَّ اِتِّبَاعَ الْهَویٰ یَصُدُّ عَنِ الْحَقَّ وَ طُولَ الْاَمَلَ یُنْسِی الآخِرَةَ ''(۲)

'' مجھے تم لوگوں کے بارے میں دو چیزوں کا زیادہ خوف ہے ایک نفسانی خواہشات کی

پیروی اور دوسری طولانی آرزوئیں ، کیونکہ نفسانی خواہشات کی پیروی حق کی راہ میں رکاوٹ اور طولانی آرزوئیں آخرت کو فراموش کرنے کا سبب بنتی ہیں ''

فرائض و تکالیف کی بروقت انجام دہی :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم '' تسویف '' سے پرہیز کرنے کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''فانک بِیَومِکَ و لست بما بعده ''

'' کیونکہ تمہیں صرف آج کے دن کی فرصت ہے اور کل کا دن تمھارے اختیار میں نہیں ہے ''

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے نصیحت فرماتے ہیں کہ آج کے فریضہ کو کل پر نہ چھوڑنا ، کیونکہ کل کے آنے کی کوئی ضمانت اور اطمینان نہیں ہے ، اوراگربالفرض کل آبھی جائے تو تمہیں دوسرے فرائض انجام دینے ہیں ، کل کے نہ آنے کا تجھے افسوس نہیں ہے ، لیکن اگر تم نے اپنے فریضہ کو تاخیر میں ڈال دیا اور کل کا دن نہ آیا تو کیسے اسے انجام دو گے تو اس حسرت اور افسوس کو اپنے ساتھ دوسری دنیا میں لے جاؤ گے۔

لہذا اسی لمحہ کے بارے میں سوچنا چاہیئے اور اسی لمحہ کو غنیمت سمجھنا چاہیئے نیز '' تسویف'' اور کاموں کو اس امید سے التوا میں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیئے کہ انہیں کل انجام دیں گے ، مطالعہ اور تحقیق کے دوران اپنے آپ سے یہ نہ کہیں کہ وقت کافی ہے کل مطالعہ کریں گے ، کیونکہ آنے والے کل کے دن بھی ہمیں دوسرے فرائض انجام دینے ہیں:

''فَاِنْ یَکُنْ غَدلک فَکُنْ فِی الْغَدِکَمَا کُنْتَ فِی الْیَومِ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ غَد لَکَ لَمْ تنَدَمْ عَلٰی مَافَرَّطْتَ فِی الْیَومِ ''

اگرتمھارے لئے کوئی آنے والا کل ہے تو اس دن بھی آج کے مانند فریضہ انجام دینے کی فکر میں رہو اور اگر کوئی آنے والا کل تمھارے لئے نہیں ہے تو صرف آج کے دن کو بطور فرصت پانے پر پشیمان نہیں ہوگے ۔

ممکن ہے کوئی شخص اپنے روز مرہ کے فرائض انجام دیتے ہوئے اس بات پر پشیمان ہوجائے کہ وہ زیادہ کامیابی حاصل نہیںکرسکا ہے لیکن اس کی طاقت کی محدودیت کے پیش نظر یہ کہ اس نے اپنی صلاحیت کے مطابق فرائض انجام دئے ہیں ، پشیمان نہیں ہوگا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی گزشتہ نصیحتوں کو مکمل کرتے ہوئے اور اس امر کی تاکید فرماتے ہوئے کہ آنے والے کل کے انتظار میں نہیں بیٹھا جا سکتا ہے ، فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَر ! کَمْ مِنْ مُسْتَقبِلٍ یَوْماً لَا یَسْتَکْمِلُهُ وَ مُنْتَظِرٍ غَداًلاَ یَبْلُغُهُ ''

اے ابو ذر ! کتنے ایسے لوگ ہیں جو صبح سے شام تک نہیں پہنچتے اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو آنے والے کل کے انتظار میں ہوتے ہیں لیکن اس تک نہیں پہنچتے۔

غوروفکر کا مقام ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے تربیتی بیانات میں کس طرح مخاطب کو آمادہ فرمارہے ہیں تاکہ اپنی عمر کے لمحات سے کیسے بہترین فائدہ اٹھائیں ۔ ابتداء میں اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کس قدر مستقبل پر بھروسہ اور امید کرسکتا ہے تاکہ اس آنے والے زمانہ کیلئے کسی کام کو التوا میں رکھے ۔ اگر وہ اپنے آنے والے کل پر بھروسہ نہیں رکھتا ہے تو کیوں اپنے کام کو التوا میں ڈالتا ہے : ظہر کی ابتدا میں ظہر کی نماز کا وقت ہے ، کونسی گارنٹی ہے کہ اسے مزید ایک گھنٹہ زندہ رہنا ہے تا کہ نماز کو التوا میں ڈال دے ؟ واضح ہے کہ اگر اول وقت پر نماز پڑھے ، تو بعد میں پشیمان نہیں ہو گا ، اس کے علاوہ دوسرے کام بھی انجام دے سکتا ہے ۔

موت کی یاد ،طولانی آرزؤں کا خاتمہ:

'' یَا اَباذرَ ! لَوْ نَظَرْتَ اِلَی الاَجلِ وَ مَسِیرِهِ لَاَبغَضْتَ الْاَمَلَ وَ غُرُوْرَه''ُ

اے ابوذر! اگر موت کے بارے میں سوچ لواور یہ کہ کس تیز رفتاری سے تیری طرف آرہی ہے ، تو آرزو اور اس کی فریب کاری سے دشمنی کرو گے ۔

آرزوؤں اور ان کی فریب کاریوں سے مقابلہ اور جنگ کرنے کی بہترین راہ یہ ہے کہ اپنی موت کی فکر میں رہو اور جان لو کہ اجل ، طولانی آرزوئوں کو ناکام بنا دیتی ہے اور انسان کو ناامیدی کے عالم میں دوسری دنیا کی طرف لے جاتی ہے ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

'' وَمَنِ اسْتَشْعَاَرَ الشَّغَفَ بِهَا ، مَلَاَتْ ضَمِیْرَهُ اَشْجاناًلَهُنَّ رَقْص عَلٰی سُوَیْدائِ قَلْبِهِ هَمُّ یَشْغَلُهُ وَ غَمّ یَحْزُنُهُ ، کَذٰلِکَ حَتّٰی یُوْخَذَ بِکَظْمِهِ فَیُلْقیٰ بِالْفَضَائِ '' (۳)

'' اور جس نے دنیا کی محبت کو دل میں جگہ دی ، وہ اندر سے غم و اندوہ سے بھر جائے گا اور یہ غم و آلام اس کے دل میں موجزن ہوں گے ، ایک مسلسل اور حزن سے بھرا غم یہاں تک اس کی سانس رک جائے گی اور ایک گوشہ میں پڑی اس کی زندگی کی رگیں کٹ جائیں گی ۔'''

ایک اور جگہ پر حضر ت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

'' وَ مِنْ عِبَرِهَا اَنَّ الْمَرْئَ یُشْرِفُ عَلَی اَمَلِهِ فَیَقْتَطعِاُهُ حَضُوْرُ اَجَلِهِ ، فَلَا اَمَلاً یُدْرَکُ وَ لَا مُوْمِّل یُترَکَ ...'' (۴)

دنیا کی عبرتوں میں سے یہ بھی ایک عبرت ہے کہ جب تک انسان اپنی آرزوئوں تک پہنچنا چاہتا ہے ، موت پہنچ کر اسے ناامید کردیتی ہے ، پس نہ آرزو اس کے ہاتھ آتی ہے اور نہ موت کے چنگل سے بچ سکتا ہے ۔

دنیا سے وابستگی کے نتائج :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَر!کُنْ کَاَنَّکَ فِی الدُّنْیَا غَرِیب اَوْ کَعَابِرِ سَبِیلٍ وَ عُدَّ نَفْسَکَ مِنْاْ اَصْحَابِ الْقُبُور''

'' ا ے ابوذر ! دنیا میں ایک اجنبی اور مسافر کی صورت میں زندگی گزارنا اور خود کو ایک مردہ شمار کرنا''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نصیحت فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسے اجنبی کی طرح رہنا جو کسی شہر میں داخل ہوتا ہے ، سوچ لو کہ اگر اس کا اس شہر میں کوئی دوست یا آشنا نہ ہو تو وہ کیسے زندگی گزارے گا کیا اس کے باوجود کہ کسی سے الفت پیدا نہیں کرسکتا ہے ، عیش و عشرت میں زندگی بسر کرسکتا ہے ؟ مومن کا وطن آخرت ہے اور دنیا میں مسافر اور راہی کے مانند ہے ، اس لئے وہ اس فکر میں نہیں ہے کہ اپنے لئے عیش و عشرت کی بساط کو پھیلائے ، اسی طرح پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نصیحت فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک راہی کے مانند رہنا کہ جوراستہ پر چلتا ہے لیکن رکنے کی مجال نہیں رکھتا ۔

ممکن ہے اس قسم کے جملوں پر ظاہری توجہ کرنے سے انسان غلط فہمی کا شکار ہوجائے اور یہ فکر کرنے لگے کہ دوسروں سے کنارہ کشی کرنی چاہیئے اور گھر بنانے اور خاندان کو تشکیل دینے کی فکر کو ذہن سے نکال دینا چاہیئے او ر بالآخر دنیا کی نعمتوں سے دوری اختیار کرکے صرف اخروی دنیا کی فکر کرنی چاہیئے ، کیونکہ وہاں پر انسان کی ابدی قیام گاہ ہے ! اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اس قسم کا طرز تفکر اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق نہیں ہے ، کیونکہ ممکن ہے دوست و احباب کا انتخاب ، خاندان کی تشکیل ، مال و دولت اور گھر بنانا و.. سب آخرت کے محور بن جائیں اور دنیا کی محبت انسان کا مقصد قرار نہ پائے بلکہ آخرت کی توجہ اور حکم خدا کی اطاعت انسان کا مقصد قرار پائے ، کیونکہ دنیا کے ذریعہ اور اس کی لذتوں سے فائدہ اٹھا کر اخروی کمالات اور قرب الہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

حقیقت میں جس نے آخرت کو اپنا مقصد قرار دیا ہے اس نے دنیا کو وسیلہ کے طور پرا نتخاب کیا ہے ، اب اگر کوئی انسان دنیا سے چشم پوشی کرکے اسے آخرت کیلئے وسیلہ قرار نہیں دے سکتا ہے ، تو کم از کم اسے ایک راہی کا رول ادا کرنا چاہیئے کہ راستہ سے چلتے ہوئے تھکاوٹ دور کرنے کی غرض سے قدرے رک کر آرام کرے ۔اگرچہ ایسے شخص کی نظر میں دنیوی امور اصلیت کے حامل ہیں اور مکمل طور پر انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، کم از کم ان سے مدد حاصل کرے اور ضرورت کو پورا کرنے کی حد تک دنیوی مباحات سے استفادہ کرنا چاہیئے ۔ چنانچہ حضرت امام موسی بن جعفرعلیہ السلا م نے اس مطلب کے پیش نظر فرمایا ہے :

'' اپنے وقت کے ایک حصہ کو حلال لذتوں سے استفادہ کرنے کیلئے مخصوص کرو ''

جملۂ '' وَعُدَّ نَفْسَک من اصحاب القبور '' بلند ترین تعبیر ہے جسے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے استعمال کیا ہے، لیکن ممکن ہے اس سے بھی غلط مطلب لیا جائے ، جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : '' اپنے آپ کو مردہ قرار دو '' اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ چونکہ مرد ے ضروری ترین نعمتوں ، جیسے کھانے پینے سے محروم ہیں ، اور تم بھی دنیا اور اس کے امکانات سے فائدہ اٹھانے سے اجتناب کرنا۔ جبکہ یہ ایسی صورت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ انسان اپنی مستقل قیام گاہ کی طرف توجہ رکھے ۔ جب دنیوی زندگی آخرت کی گزرگاہ اوردوسری دنیا میں پہنچنے کیلئے ایک پل ہے ، تو انسان کی توجہ اصلی مقصد اور ابدی قیام گاہ کی طر ف رہنا چاہیئے اور ایک د ن کیلئے اپنے آپ کو آمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور کافی زادراہ اپنے ساتھ اٹھانے کی فکر کرے تا کہ وہاں پر پشیمان اور شرمندہ نہ ہوجائے۔پس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ انسان دنیوی امو رکو مکمل طور پر چھوڑدے اور ذریعہ معاش اوراپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کیلئے مستقبل کے وسائل و آسائش کی کوئی فکر نہ کرے ۔

آیات و روایات سے غلط مطلب نکالنے کی عادت ، مسلمانوں میں زمانہ قدیم سے رہی ہے ، چنانچہ جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں عذاب کے بارے میں ایک آیت نازل ہوئی تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض اصحاب ، گھر بار ، ازدواجی زندگی ، کھانا پینا اور لباس وغیرہ کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوگئے تو جب یہ خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں اپنے پاس بلاکر فرمایا: ' ' ایسا کیوں کرتے ہو؟ میں جو تمہارا پیغمبر ہوں ،عبادت و روزہ داری کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی بھی چلا رہا ہوں اور دنیوی لذتوں سے بھی استفادہ کرتا ہوں ،تم لوگ بھی میرے نقش قدم پر چل کر گھر بار اور اپنی زندگی کو نہ چھوڑو ''

مذکورہ مطلب کے پیش نظر اس بات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ ممکن ہے کوئی انسان دنیا میں کثرت سے مالی و مادی امکانات کا مالک ہو، لیکن دنیا پرست نہ ہو، کیونکہ تمام مادی امکانات کو حق کی راہ ڈھونڈنے میں وسیلہ کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب دنیا کی مذمت کا مسئلہ ہو تو اس مذمت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قدرتی وسائل کو حقیر سمجھا جائے ، کیونکہ وہ سب خدا کی پیدا کردہ اور الٰہی آیات ہیں ۔ بلکہ درحقیقت مذمت انسان کی فکراور نیت کے بارے میں کی گئی ہے جو اسے دنیا کی نعمتوں سے وابستہ کردیتی ہے اور انہیں اصلی مقصدکے طورپر انتخاب کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اس کے وسیلہ کے رول سے غافل ہوتا ہے ، پس حقیقت میں انسان کی مادی وسائل سے استفادہ کی نا پسندیدہ طریقہ سے مذمت کی گئی ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توصیف میں فرماتے ہیں:

'' فَاَعْرَضَ عَنِ الدُّنیا بِقَلبِهِ وَ اَمَاتَ ذِکْرَهَا عَنْ نَفْسِهِ '' (۵)

'' پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلب کو دنیا کی طرف کوئی توجہ نہ تھی اور آپ نے اس (دنیا ) کے نام اور یاد کو اپنے نفس میں مار ڈالا تھا''

'' یَا اَبَاذَر ! اِذَا اَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَکَ بِالمَسَائِ وَ اِذَا اَمْسَیْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَکَ بِالصَّبَاحِ''

اے ابوذر ! صبح کے وقت شام کی خوش فہمی میں نہ رہو اور شام کے وقت اپنے آپ کو صبح کی نوید نہ دو ۔

'' یہ بات گزشتہ مطالب کی ایک تاکید ہے کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے مستقبل کے بارے میں مطمئن نہیں ہوسکتا ''

'' وَ خُذْ مِنْ صِحَتِّکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَ مِنْ حَیٰوتِکَ قَبْلَ مَوْتِکَ لِاَنَّکَ لَا تَدْرِی مَااسْمُکَ ''

اس وقت بیمار ہونے سے پہلے اپنی تندرستی سے اور مرنے سے پہلے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھائو کیونکہ تم نہیں جانتے ہو کہ کل تمھارا انجام کیا ہوگا۔

یہاں پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نصیحت فرماتے ہیں : فرصت سے استفادہ کرو اور آج کی زندگی کو غنیمت جانو کیونکہ نہیں معلوم کہ تم کل زندہ رہوگے کہ نہیں ۔ اس طرح بیمار ہونے سے پہلے اپنی تندرستی سے استفادہ کرو۔

____________________

۱۔بحار الانوار ، ج ٤١، ص ١٤

۲۔ بحار الانوار ، ج ٧٧ ، ص ٤١٩

۳۔ نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، حکمت نمبر ٣٥٩، ص ١٢٥٦۔

۴۔ نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ،خ١١٣،٣٥٣

۵۔ نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، خططہ ١٠٨ ، ص ٢٩٤۔


چوتھا سبق

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصیحت ، اپنی موجودہ صلاحیتوں سے صحیح استفادہ کرنا

* موت اورانجام گناہ کے بارے میں غورو خوض کا اثر

* زندگی کی قدر جاننے کی ضرورت

* فرائض کی بر وقت انجام دہی اور اگلے دن کی فکر نہ کرنا۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصیحت موجودہ صلاحیتوں سے مناسب استفادہ کرنا

''یَا َبَاذَرٍ ! اِیَاکَ اَنْ تُدْرِکَکَ الصَّرْعَةُ عِندَ الْعَثرَةِ وَ لَا تَمَکَّن مِنَ الرَّجْعَةِ وَ لَا یَحْمَدُکَ مَنْ خَلَّفْتَ بِمَا تَرَکْتَ وَلَا یَعْذِرُکَ مَنْ تَقْدِمُ عَلَیْهِ بِمَا اشْتَغَلْتَ بِهِ ''

یَا اَبَاذَرٍ ! مَا رَایْتُ کَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا ، یَا اَبَاذَر!کُنْ عَلٰی عُمُرِکَ اَشَحَّ عَلٰی دِرْهَمِکَ وَ دِینَارِکَ ، یَا َبَاذَر !هَلْ یَنْتَظِرُ اَحَدُکُمْ اِلَّا غَنِیَّ مُطْغِیاً اَوْ فَقْراً مُنْسِیاً اَوْ مَرَضاً مُفْسِداً اَوْ هَرَماً مُقْعِداً اَوْ مَوْتاً مُجْهِزاً اَوْ الدَّجَّالَ ، فَاِنَّهُ شَرُّغَایِبٍ اَوْ السَّاعَةَ تُنتَظُرُ وَ السَّاعَة اَدْهیٰ وَ اَمرُّ''

اس سے پہلے ابوذر کی روایت کے کچھ حصوں پر روشنی ڈالی گئی ۔ ان حصوں میں ا یمان کی تقویت ، فرصتوں کو غنیمت جاننے نیز عمراورخدا کی نعمتوں کی قدر جاننے کی تاکید ہوئی ہے اور پھر سے وہی مطالب دوسری عبارتوں میں بیان ہورہے ہیں ، تاکہ مومنین کے دلوں پر بیشتر اثر ڈالا جائے ۔ جب انسان نے خداوند متعال ، قیامت اور خد کی قدر ومنزلت کا اعتقاد پیدا کیا ہے تو وہ اس بات کی بھی کوشش کرتا ہے کہ بارہ گاہ الٰہی میں سرخرو حاضر ہو اور قیامت کے دن اس پر خد اکی عنایت ہو ، لیکن اس کام کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنی عمر کی قدر جان لے اور یہ بھی جان لے کہ اسے کس طرح استعمال کرے ، تا کہ اپنے مقصد تک جو کہ ابدی سعادت ہے پہنچ جائے ۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاکید فرماتے ہیں : انسان غفلت ، گناہ اور انحراف میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرے ، کیونکہ ممکن ہے اسی حالت میں اس کی موت آجائے اور بدبختی اور شرم و پشیمانی کے عالم میں اپنی ابدی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوجائے ۔

موت اورانجام گناہ کے بارے میں غور و خوض کا اثر

''یَا اباذر ! اِیَاکَ اَنْ تُدْرِکَکَ الصِّرْعَةُ عِندَ الْعَثرة فلا تقال العثرة وَ لَا تَمَکَّنُ مِنَ الرَّجْعَةِ وَ لَا یَحْمَدُکَ مَنْ خَلَّفْتَ بِمَا تَرَکْتَ وَلَا یَعْذِرُکَ مَنْ تَقْدِمُ عَلَیْهِ بِمَا اشْتَغَلْتَ بِهِ ''

اے ابو ذر! اس سے ڈرو کہ کہیں گناہ کی حالت میں تمہیں موت آجائے ، اس صورت میں تمھیں نہ گناہوں کی تلافی کرنے کا موقع فراہم ہوگا اور نہ پھر سے دنیا میں آنے کی قدرت کے مالک ہوسکوگے ، نہ تیرے وارث تمھاری چھوڑی گئی وراثت پر تمھاری ستائش کریں گے اور نہ خداوند متعال ، اس کے دربار میں تیرے بھیجے ہوئے اعمال کی عذر خواہی قبول کرے گا۔

اس سے پہلے بتایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض اخلاقی مفاہیم کو مختلف عبارتوں میں بیان فرمایا ہے ان اخلاقی مفاہیم کی تکرار کا مقصد مومنوں کے دلوں میں بیشتر اثر ڈالنا ہے قرآن مجید کی آیات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ مختلف مواقع پر بہت سی آیات تکرار ہوئی ہیں ، حتی بعض مواقع پر من و عن الفاظ بھی تکرار ہوئے ہیں جیسے : آیۂ مبارکہ'' فَبَِیِّ آلَائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ '' جو سورۂ الرحمن میں اس کی اکتیس بار تکرار ہوئی ہے اگر چہ تکرار کے نتیجہ میں ہر آیت ایک خاص معنی رکھتی ہے ، لیکن تکرار کے دل پر زیادہ اثر ڈالنے کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے،بعد والی سطر میں روز مرہ کے کاموں میں بھی تکرار کی رفتار ، عادات اور خوب و بد ملکہ کے تغیر میں اہم رول ہوتا ہے ۔

روایت ہے کہ جب آیۂ شریفہ( وَاْمُرْ اَهْلَکَ بِالصَّلوٰةِ ) ( طہ ١٣٢)

نازل ہوئی ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل آٹھ مہینے تک حضرت علی علیہ السلام کے گھر پر تشریف لے جا کر فرماتے تھے : نماز ! خدا کی رحمت آپ پر نازل ہو '' بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ''(۱)

( اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر روز صرف ایک بار علی علیہ السلام کے گھر پر تشریف لے جاتے تو یہ عمل دو سو چالیس بار تکرار ہوا ہے ، جبکہ ظاہراً روزانہ پانچ بار تشریف لے جاتے تھے )

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر انسان یہ نہیں جانتا ہو کہ کونسا عمل اسے سعادت تک پہنچاتا ہے اور کون عمل اسے بدبختی سے دوچار کرتا ہے تو نتیجہ کے طور پر وہ گناہ اور گمراہیوں میں مبتلاہوتا ہے اور گناہ کو انجام دینے کے دوران ہی اسے موت آجائے ، تو اس نے اپنے لئے بدترین نقصان مول لیا ہے ، کیونکہ اس نے اپنی عمر و حیات کے گوہر (جوانی اور خداوند عالم کی نعمتوں) کو گناہ انجام دے کر کھودیا ہے اور اس کے مقابلہ میں تباہی و بردباری کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا ہے ، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : اس امر سے ڈرنا کہ کہیں گناہ کی حالت میں تجھے موت آجائے اور اسی حالت میں تیر ی روح قبض ہوجائے ، اس صورت میں گناہ کی تلافی کیلئے تیرے پاس کوئی فرصت باقی نہیں رہے گی اور تیرے ریکاڑد میں ہمیشہ کیلئے گناہ باقی رہے گا کیونکہ دنیا میں واپس آنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔

اس سلسلہ میں قرآن مجید فرماتا ہے :

( حَتّٰی اِذَا جَاء اَحَدَهُمُ الْمَوتُ قَالَ رَبِّ ارْجْعُون لَعَلِّی َعْمَلُ صَٰلِحاً فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّا اِنَّهَا کَلِمَة هُوَ قَائِلُهَا ) (مومنون ٩٩۔ ١٠٠)

''یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگارا ! مجھے پلٹا دے شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں اور گزشتہ برے اعمال کی تلافی کرلوں ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ایک ایسی بات ہے جو یہ کہتا رہے گا ...''

اگر انسان گناہ انجام دیتے ہوئے یہ سوچ لے کہ ممکن ہے اسی حالت میں اسے موت آجائے تو وہ گناہ سے ہاتھ کھینچ لے گا ۔ بالفرض ایک غیر شرعی معاملہ کی تجارت میں انسان ایک بڑا نفع کماتا ہے اور اسے اپنے وارثوں کیلئے چھوڑتا ہے ، کیا اس کا خود اس کیلئے بھی کوئی فائدہ ہوگا؟ کیا اس کے وارث جو اس وراثت کا فائدہ اٹھائیں گے اس مشقت کیلئے اس کی ستائش کریں گے اور خدا سے اس کیلئے مغفرت کی دعا کریں گے ؟ یا وہ اس مال سے اپنی لذت کیلئے استفادہ کریں گے اور اس کا نام تک نہیں لیں گے ؟ اگر اس کی ستائش بھی کریں گے تو اس کاا سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ دوسری طرف سے وہ تمام خطاؤں اور کوتاہیوں کے ساتھ خدا کے حضور میں پہنچتا ہے کیا اب اس کے پاس خداکے سامنے کوئی بہانہ موجود ہے اور کیا خداوند عالم اسے معاف کردے گا ؟ وہ تو جانتا تھا کہ وہ کام حرام اور خد اکے حکم کے خلاف تھا اور اس پر حجت تمام ہوچکی تھی ، اس لئے خدا کے حضور کیا بہانہ پیش کرسکتا ہے وہ اپنے آپ پر و بال جانبنی ہوئی آگ کا کیا جواب دے گا ؟

''یَا اَبَاذَرٍ ! مَا رَایْتُ کَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا''

'' اے ابو ذر ! میں نے جہنم کی آگ کے مانند نہیں دیکھا کہ اس سے بھاگنے والا خواب میں ہو اور نہ ایسی بہشت دیکھی کہ جس کا چاہنے والا خواب میں ہو''

زندگی کی قدر کرنے کی ضرورت :

'' یَا اَبَاذَر!کُنْ عَلٰی عُمُرِکَ اَشَحَّ عَلٰی دِرْهَمِکَ وَ دِینَارِک''

اے ابوذر !اپنی عمر کے بارے میں درہم و دینار سے بھی بخیل تر ہو جائو۔

اگر کسی نے بڑی محنت او رمشقت کے بعد ایک رقم فراہم کی ہے تو کیا وہ آسانی کے ساتھ اسے کسی کو بخش دے گا ؟ چونکہ اس نے اسے حاصل کرنے کیلئے بڑی مشقت اٹھائی ہے ، اس لئے اسے مفت میں ہاتھ سے نہیں دیتا اور اس کی قدر جانتا ہے ۔ اس کے بر عکس یہ ممکن ہے کہ کسی قسم کے نقصان کا احساس کئے بغیر اپنی زندگی کے گھنٹوں کے گھنٹے غلط راستے پر ضائع کر ڈالے دوسرے الفاظ میں ، ممکن ہے ہم اپنے مال کو خرچ کرنے میں بخیل ہوں لیکن اپنی عمر کو خرچ کرنے میں بخیل نہ ہوں ، با وجود اس کے کہ مال و دولت کی قدر و قیمت کو عمر سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔

اگر کسی کی زندگی خطرہ میں پڑجائے تو وہ حاضر ہوتا ہے اپنی دولت کا کئی گنا خرچ کرے تا کہ زندہ رہے ۔ فرض کیجیے تمام دنیا کے سونے ، چاندی اور الماس کی کانیں اور پٹرول کے تمام معادن ایک شخص کے اختیار میں ہوں اور اسے کہا جائے : اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو یہ ساری دولت دینا پڑے گی ، کیا وہ اس ساری دولت کو نہیں دے گا ؟

انسان ، دنیا کے وسائل کو اپنے استفادہ کیلئے چاہتا ہے ، اب اگر وہ خود زندہ نہ رہے تو اس کیلئے کیا فائدہ ہے ؟ اس لحاظ سے اس کی عمر تمام دنیا کی دولت سے زیادہ قیمتی ہے ، وہ کیوں اس گراں قیمت دولت کو مفت ہاتھ سے گنواتا ہے ؟ نہ صرف وہ اسے مفت میں کھو دیتا ہے بلکہ بعض اوقات اس کی جگہ پر اپنے لئے ابدی عذاب بھی خرید لیتا ہے ہو ؟ اگر درہم و دینار کو برباد کرنا عاقلانہ کام نہیں ہے تو کیا اپنی عمر کو ناپائدار نفسانی خواہشات کیلئے برباد کرنا عقلمندی ہے ؟!

اس گراں قیمت سرمایہ کو مفت اور ارزاں قیمت پر اپنے دوست ، رفیق، بیوی اور بچوں کے ہاتھ میں نہ دینا ، دوسروں کی خوش آمد کیلئے اسے بیہودہ اور فضول کاموں میں خرچ نہ کرنا ، اسے معصیت و گناہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بات ہی نہیں ، جی ہاں ، اگر انسان خداوند متعال کی رضامندی کیلئے اپنی عمر کو دوسروں کی خوشحالی ، بیوی بچے اور مؤمن بھائی کی بھلائی یا مؤمنین کی حاجت روائی کی راہ میں خرچ کرے ، تو اس نے اس صورت میں نہ یہ کہ اپنی عمر کو مفت میں ضائع نہیں کیا ہے بلکہ اس کے بدلے میں خدا کی مرضی بھی مول لی ہے جس کی قدرو قیمت تمام کائنات سے زیادہ ہے لیکن یہ عقلمندی نہیں ہے انسان ایک ایسی عمر کو جس کا ہر لمحہ تمام کائنات کی قیمت کے برابر ہے دوسروں کی سرگرمی اور چاہت کے مطابق خرچ کرے ، کیونکہ اس صورت میں اس نے اسے مفت میں ضائع کیا ہے ۔

فرائض کی بر وقت انجام دہی اور اگلے دن کی فکر نہ کرنا:

'' یَا َبَاذَر !هَلْ یَنْتَظِرُ اَحَدُکُمْ اِلَّا غَنِیَّ مُطْغِیاً اَوْ فَقْراً مُنْسِیاً اَوْ مَرَضاً مُفْسِداً اَوْ هِرَماً مُقْعِداً اَوْ مَوْتاً مُجْهِزاً اَوْ الدَّجَّالَ ، فَاِنَّهُ شَرُّغَائِبٍ اَوْ السَّاعَةَ تُنتَظَرُ وَ السَّاعَة اَدْهیٰ وَ اَمرُّ''

'' ا ے ابوذر ! کیا تم لوگوں میں سے کسی ایک کا ان چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز کا انتظار ہے مال و دولت جو تباہ و برباد ہوتی ہے یا فقر و پریشانی جو خدا کو فراموش کرنے کا سبب بنتی ہے یا بیماری جو زندگی کو برباد کرکے ر کھی دیتی ہے یا بڑھاپا جو اسے کام کا ج سے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے یا موت جو تیزی کے ساتھ اس کی طرف آتی ہے یا فتنہ انگیز دجال یا قیامت واقع ہونے کاانتظار ، جو خوفناک ترین اور تلخ ترین ہے ''

یہ بیانات فرائض کی انجام دہی کے سلسلہ میں فرصتوں کو غنیمت سمجھنے کی ایک اور تاکید ہے اگر انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں اور ان فرصتوں کو فرائض کی انجام دہی پر خرچ نہ کرے تو وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے کسی فرصت کے انتظار میں ہے ؟ یہ انتباہ ان لوگوں کیلئے ہے جن سے جب کہا جاتا ہے کہ اپنے فرائض کو انجام دو ، تو وہ جواب میں کہتے ہیں : ابھی کافی وقت ہے بعد میں انجام دیں گے ۔ یہ جو تم سستی کررہے ہو اور کام کو التوا میں ڈالتے ہو ، یا فضول کاموں میں مشغول رہتے ہو یا خدا نخواستہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہو تم کسی دن کے انتظار میں ہو کہ ان کی تلافی کروگے اور اپنے فریضہ پر عمل کرو گے ؟ مثلاً فقر و تنگدستی کے د وران کہتے ہو کہ جب فقر کی گرفتاریاں ختم ہو ں گی اور تم مالدار بن جاؤ گے تو اس وقت اپنے فریضہ پر عمل کرو گے ، شاید دولتمند اور مستغنی ہونا فقر و تنگدستی کی نسبت بد تر صورت میں تجھے نافرمانی اور سرکشی کی طرف کھینچ لے ، کیونکہ جب انسان مستغنی ہوتا ہے تو زیادہ بغاوت و سرکشی کرتا ہے :

( کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی ، اَنْ رَاهُ اسْتَغْنیٰ ) (علق ٦و ٧ )

یقینا جب انسان اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے تو سر کشی کرتا ہے ۔

کیا تم مستغنی اور دولتمند ہونے کی حالت میں اس چیز کا انتظار کررہے ہو کہ مال و دولت نے جو گرفتاری تیرے لئے ایجاد کی ہے ، وہ دورہوجائے اور فقر و تنگدستی کا زمانہ ، آ جائے تو اس وقت اپنے فریضہ پر عمل کر وگے؟ اس خیال سے کہ مال و دولت کے ہاتھ سے چلے جانے کے بعد مصروفیت اور امور زندگی میں کمی آجاے گی اور تم فراغت کے ساتھ فریضہ کو انجام دے سکو گے ؟ جبکہ فقر و تنگدستی بھی مقاصد و کمالات کو فراموش کرنے کا سبب بن جائے گی اور تجھے اس طرح مشغول کرے گی کہ معنویت کے کمال کو بھی بھول جاؤ گے ۔

جب تم تندرست اور صحت مند ہو تو تصور کرتے ہو کہ انسان بیماری کی حالت میں خدا کو زیادہ یاد کرسکتا ہے جبکہ اس کی کوئی عمومیت نہیں ہے ، ایسا نہیں ہے کہ ہر انسان بیماری کی حالت میں زیادہ تر ذکر ، دعا اور توسل میں مشغول ہوتا ہے ، بلکہ بعض اوقات بیماری اس طرح انسان پر غلبہ کرتی ہے کہ عبادت اس کی طرف اور توجہ کو بھی اس سے چھین لیتی ہے ۔

جو انی کے عالم میں تم اپنے آپ سے کہتے ہو : ذرا جوانی کی شہوت ، غرور اور شرارتوں کو ختم ہونے دو اس کے بعد بڑھاپے میں عبادتیں انجام دوں گا ، جبکہ تم اس سے غافل ہو کہ بڑھاپے میں مفلوج ہو کر تیرے بدن کی طاقت ختم ہوجائے گی اور تم فریضہ انجام دینے کے قابل نہ رہو گے ، پس تم کب اپنے فرائض انجام دو گے ؟ کیا اس وقت انجام دو گے جب موت تمھارے سر پر کھڑی ہوگی ؟ یا جب فتنہ گرد جال آجا ئے گا؟

لفظ دجال لغت میں زرگر کے سنہرے پانی کو کہتے ہیں اور بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے انسان کو بھی دجال کہتے ہیں جس طرح سنہرا پانی حقیقت میں سونا نہیں ہوتا بلکہ سونا جیسا ہوتا ہے ، جھوٹا انسان بھی ظاہر میں فریب کار اور پر کشش ہوتا ہے اور دوسروں کو دھوکہ اور فریب سے اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ۔

دجال روایت میں شر پسند اور فتنہ انگیز کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، بہر صورت لفظ دجال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد درج ذیل دو معنی میں سے ایک ہے :

١۔ اس شخص کا نام ہے جو آخر ی زمانہ میں ظاہر ہوگا فتنہ انگیزی ا ور شر پسندی کا سبب بنے گا ۔

٢۔ یا اس سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے بلکہ دجال ہر فریب کا ر اور دھوکہ باز کے معنی میں ہے : جو ظاہری سجاوٹ اور آراستگی سے دوسروں کو اپنے شیشہ میں اتارتا اور دھوکہ و فریب کاری سے اپنی طرف جذب کرتا ہے ، ایسے لوگ دجال کے مصداق ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ لوگ جو باطل پر حق کا پردہ ڈال کر یا حق پر باطل کا پردہ ڈال کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنتے ہیں دجال کہلاتے ہیں ۔

دجال حق و باطل کو آپس میں ایسا خلط ملط کرتا ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا ناممکن جاتا ہے لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاکید فرماتے ہیں کہ جب تک تیرے لئے حق و باطل واضح ہے اور حق کو پہچانتے ہو ، فرصت کو غنیمت جان کر حق پر عمل کرنا اور اس کی ضروریات کی پابندی کرنا ، ایسا نہ ہو کہ ایک ایسا دن آئے کہ تم گمراہ ہوجاؤ اور تم پر ہدایت کا راستہ بند ہوجائے ، یہ بدترین حادثہ ہے جس کے انتظار میں انسان ہوتا ہے ، سب سے بدترین اور تلخ ترین انتظار قیامت کا ہے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ان اقوال میں انسان کو آئندہ کے خطروں کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور انہیں اس کے ذہن میں مجسم کرتے ہیں اور یہ احتمال بیان فرماتے ہیں کہ ممکن ہے آنے والی مشکلات موجودہ سے زیادہ ہوں ، پس بہتر ہے انسان آج کی فرصت کو غنیمت جان کر ٹال مٹول نہ کرے ۔

____________________

١ عن ابی سعید الخدری قال : لمّا نزلت( وامُرْ اَهْلَکَ بِالصَّلوٰةِ ) کان النبی صلی ﷲ علیه و آله وسلم یجیء الی باب علی علیه السلام ثمانیة اَشهُرٍ یقول : الصلاة رحمکم ﷲ ،( اِنَّمَا یُرِیدُ ﷲ لِیُذْهِبَ عَنْکُم الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیتَ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً ) احزاب ٣٣ ، المیزان ، ج ١٤، ص ٢٤٢


پانچواں سبق

دنیوی مقاصد کے لئے تعلیم حاصل کرنے کی مذمت

*علم پر عمل نہ کرنے اور اس سے سماجی مقام وحیثیت حاصل کرنے کا انجام ۔

* لوگوں کوفریب اور دھوکہ دینے کیلئے علم حاصل کرنے کا انجام۔

*اپنے جہل کا اعتراف کرنا ، علمائے الٰہی کی خصوصیت۔

*قیامت میں عالم کی سب سے بڑی حسرت۔

* حضرت علی علیہ السلام کے بیانات میں علماء کی تقسیم بندی۔

دنیوی مقاصد کیلئے علم حاصل کرنے کی مذمت

''یَا اَبَاذر! اِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ ﷲ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَالِم لَا یَنْتَفِعُ بِعِلْمِهِ، وَمَنْ طَلَبَ عِلْماً لِیَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ اِلَیْهِ لَمْ یَجِدْ رِیْحَ الْجَنَّةِ.

یَا اَبَاذَر ! اِذَا سُئِلْتَ عَنْ عِلمٍ لَا تَعْلَمُهُ فَقُلْ لَا اَعْلَمُهُ تَنْجُ مِنْ تَبِعَتِهِ وَ لَا تُفْتِ النَّاسَ بِمَا لَا عِلْمَ لَکَ تَنجُ مِنْ عَذَابِ ﷲ یَومَ القِیَامَةِ

یَا اَبَاذَر ! یُطْلِعُ قَوم مِنْ اَهْلِ الجَنّةِ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ اَهْلِ النَّارِ ، فَیَقُولُونَ : مَا اَدْخَلَکُمُ النَّارَ وَ قَدْ دَخَلْنَا الجَنَّةَ بِفَضْلِ تَادِیبِکُمْ وَ تَعْلِیْمِکُمْ ؟فَیَقُولُونَ: اِنَّا کُنَّا نَاْمُرُ باِلخَیْرِ وَ لَا نَفْعَلُهُ''

علم پر عمل نہ کرنے اور اس سے سماجی مقام و منصب حاصل کرنے کا انجام:

اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دانشوروں سے مخاطب ہیں ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علماء کی حوصلہ افزائی فرماتے ہیں کہ وہ اپنے علم پر عمل کریں اور علم پر عمل نہ کرنے کے نتائج کی طرف ان کی توجہ مبذول فرماتے ہیں ۔

اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیانات واضح و روشن ہیں اور مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے لیکن مطلب کو دل میں بٹھانے کی غرص سے وضاحت کرتے ہوئے بعض ایسی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا مضمون یہاں پر ذکر شدہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیانات سے مشابہ ہے، البتہ ہم اسے پہلے یاد دہانی کرتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں ایک عاقل انسان ذمہ داریوں کے بغیر نہیں رہ سکتاہے لیکن مسئولیت کی مقدار اور حد میں فرق ہے پس ذمہ داری کے لحاظ سے جاہل اور عالم مشترک ہیں ، اگرچہ عالم کی ذمہ داریاں جاہل سے زیادہ ہیں ۔

لہذا چونکہ جاہل بھی ذمہ داری رکھتا ہے اس پر واجب ہے کہ تکالیف الہی اور دینی مسائل کو ضرورت کی حد تک سیکھ لے اور دینی مسائل نہ جاننے سے وہ تکلیف سے مستثنی قرار نہیں پاسکتا ، اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آیۂ مبارکہ :( قُلْ فللّٰهِ الْحُجَّةِ الْبَالِغَةِ ) کے ضمن میں فرماتے ہیں:

''اَنَّ ﷲ تَعَالیٰ یَقُولُ لِلْعَبْدِ یَومَ القِیَامَةِ : عَبْدِی ! َکُنْتَ عَالِماً؟ فَاِنْ قال نَعَمْ قَالَ له : اَفَلَا عَمِلْتَ بِمَا عَلِمْتَ وَ اِنْ قَالَ : کُنْتُ جَاهِلاً قَالَ لَهُ : اَفَلَا تَعَلَّمْتَ حَتّٰی تَعْمَلَ .''(۱)

(قیامت کے دن جب بندہ سے فرائض اور تکالیف انجام نہ دینے کی وجہ سے سوال کیا جائیگا)

خداوند عالم اس بندہ سے پوچھے گا : کیا تم اپنے فرائض اور تکالیف سے آگاہ تھے ؟ اگر اس نے جواب میں یہ کہا کہ ہاں میں اس سے آگاہ تھا ، خداوند عالم پوچھے گا: کیوں اس پر عمل نہیں کیا جس سے تم آگاہ تھے ؟ اور اگر بندہ نے جواب دیا:

میں جاہل تھا، تو خداوند متعال اس سے فرمائے گا : کیوں عالم کے پاس جاکر فرائض نہیں سیکھے تاکہ ان پر عمل کرتے؟

عالم اور جاہل کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ عالم پر حجت الٰہی تمام ہوئی ہے اور فریضہ کے ترک کرنے پر اس سے کوئی بہانہ قبول نہیں کیا جائے گا اس کے بارے میں اس سے سختی سے نپٹا جائے گا اس سلسلہ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

''یُغْفَرُ لِلْجَاهِلِ سَبْعُونَ ذَنْباً قَبْلَ اَنْ یُغْفَرَ لِلْعَالِمِ ذَنْب وَاحِد... ''(۲)

'' عالم کا ایک گناہ معاف کئے جانے سے پہلے جاہل کے ستر گناہ بخش دیئے جائیںگے ''

یہ گمان نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم علم کو نظر انداز کردیں ، تا کہ ہماری ذمہ داریاں سخت تر نہ ہوں اور ہماری حالت جاہلوں سے بد تر نہ ہو جائے ، کیونکہ جس نے علم و آگہی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ، اس سے بھی سوال کیا جائے گا اور علم وآگاہی کو حاصل کرنے سے اجتناب کرنا انسان سے ذمہ داری اور مسئولیت سلب ہونے کا سبب نہیں بن سکتا حقیقت میں ہم کیوں ان علماء میں سے نہ ہوں جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اور جس طرح دنیا میں دوسرے لوگ ان کی حیثیت پر حسرت کا اظہار کرتے ہیں قیامت کے دن بھی ان کے مقام ومنصب پر رشک کریں گے ۔

ہماری روایتوں کے مجموعہ میں ، علم حاصل کرنے کے سلسلہ میں ، مختلف عناوین سے متعدد باب بیان ہوئے ، حتی بعض روایتوں میں آیا ہے کہ علوم الٰہی حاصل کرنے والے طالب علموں کیلئے پرندے وحشی حیوانات اور سمندر کی مچھلیاں بھی استغفار کرتی ہیں ۔

بہر صورت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بیان میں فرماتے ہیں : جو عالم اپنے علم پر عمل نہ کرے ، قیامت کے دن اس کا مقام دوسروں سے پست ہوگا اور بہشت کی خوشبو اس تک نہیں پہنچے گی ممکن ہے جو انسان علم حاصل کرنے کیلے قدم اٹھائے ، ابتداء میں اس کی نیت دین کی خدمت اور فرائض انجام دینا ہو اور بیچ میں اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوجائے اور اسے اپنے مقصد تک پہنچنے سے روک لے ، لیکن بعض افراد علم حاصل کرتے وقت الٰہی نیت نہیں رکھتے ہیں ، نہ صرف تعلیم حاصل کرنے میں مخلص نہیں ہیں ، بلکہ اپنے ذہن میں بری نیتیں رکھتے ہیں ، مثال کے طور پر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کیلئے ، لوگوں میں محبوبیت پیدا کرنے کیلئے اور شہرت و مقام حاصل کرنے کیلئے تعلیم حاصل کرتے ہیں ، فطری بات ہے کہ ایسا شخص ابتدا سے ہی منحرف راہ پر چلتا ہے اور نتیجہ کے طور پر ذلت، خواری اور بدبختی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے اور قیامت کے دن بہشت کی خوشبو سے استفادہ کرنے کا مستحق نہیں رہ جاتا ۔

دنیوی علوم کو مقام و منزلت اور ذریعہ معاش کیلئے وسیلہ قرار دینے والا ، شاید مورد سرزنش و مذمت قرار نہ پائے ، لیکن جو شخص علوم الہی کو جو سعادت اخروی کیلئے وضع کئے گئے ہیں دنیوی امور کیلئے استعمال کرے تو وہ قابل مذمت ہے ۔در حقیقت ایسا شخص دنیا کے مقام و منزلت کودینی امور سے بالا تر جانتا ہے اور دوسرے الفاظ میں دنیا کو اصل اور بنیاد قراردیتا ہے نہ دین کو ، یہ طرز تفکر ، دینی اقدار کی نسبت بے اعتقادی کی پیداوار ہے اور اس کا انجام خدا سے دوری کے سوا کچھ نہیں ہے ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :

''مَنِ ازْدَادَ فِی الْعِلْمِ رُشْداً فَلَمْ یَزْدِد فِی الدُّنْیَا زُهْداً لَمْ یَزْدد مِنَ ﷲ اِلَّا بُعْداً ''(۳)

جس شخص نے اپنے علم و آگہی میں اضافہ ہونے کے باوجود دنیا سے دوری اختیار نہ کرے تو ، وہ خداوند عالم سے بہت دور ہوگیاہے ''

لوگوں کوفریب دینے کیلئے علم حاصل کرنے کاانجام:

''یَا اَبَاذَر ! مَنِ ابْتَغٰی العلم لیخدع به الناس لم یَجد ریح الجنَّة ''

' ' جو لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے علم حاصل کرے ، وہ بہشت کی خوشبو سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ''

کچھ لوگ نہ صرف شہرت و مقام کیلئے علم حاصل کرتے ہیںبلکہ اس سے بالاتر لوگوں کو فریب دینے غلط فائدہ اٹھانے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کیلئے علم حاصل کرتے ہیں

روایت کے اس حصہ میں یہاں تک علم پر عمل کرنے اور صحیح نیت کے بارے میں بحث ہوئی ہے کہ انسان اپنی جگہ پر سوچ لے کس نیت سے علم حاصل کرنے کیلئے جارہا ہے ، ایسا نہ ہو کہ اس کے دل میں شیطانی ارادے پیدا ہوجائیں ! وہ '' حجة الاسلام '' '' آیت اللہ '' '' فلاسفر'' اور '' مفسر'' جیسے عنوان حاصل کرنے اور لوگوں کا احترام اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے علم حاصل نہ کرے ۔

جو لوگ شہرت حاصل کرنے کی غرض سے علم حاصل کرنے کی مشقت اٹھاتے ہیں شاید تصور کرتے ہیں کہ جو لوگوں کے درمیان زیادہ مشہور ہے ، خدا کے پاس بھی عزیز تر ہے ، یہ ایک غلط تصور ہے جو لوگوں میں شہرت کا حامل ہو گیا اس نے اپنے فرائض انجام دیئے ہیں تا کہ خدا کے پاس عزیز ہو کرسعادت پائے ؟ اگرچہ وہ لوگوں کے درمیان مشہور ہے ، لیکن خداوند عالم کے یہاں دوسروں سے پست اور زیادہ شرمندہ ہے ، کیونکہ انسان کی قدر و قیمت کا معیارعقل ،عمل اور تقویٰ ہے ، معیار یہ ہے کہ انسان خدا کے نزدیک عزیز ہو نہ لوگوں کے نزدیک۔

اپنے جہل کا اعتراف کرنا ، الٰہی علماء کی خصوصیت:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں:

''مَنْ تَعَلَّم عِلْماً مِمَّا یُبْتَغٰی بِهِ وَجُهُ ﷲ عَزَّ وَ جَلَّ لَا یَتعَلَّمَهُ اِلَّا لِیُصِیبَ بِهِ عَرْضاً مِنَ الدُّنُیَا ، لَمْ یَجِدْ عُرْفَ الْجَنَّة یَومَ القِیَامَةِ ''(۴)

جو علم الہی کو کہ صرف خدا کیلئے حاصل کرنا چاہیئے ۔۔ دنیوی مقام حاصل کرنے کیلئے حاصل کرے تووہ بہشت کی خوشبو کو نہیںسونگھ سکے گا ۔

یَا اَبَاذَر ! اِذَا سُئِلْتَ عَنْ عِلمٍ لَا تَعْلَمُهُ فَقُلْ لَا اَعْلَمُهُ تَنْجُ مِنْ تَبِعَتِهِ وَ لَا تُفْتِ النَّاسَ بِمَا لَا عِلمَ لَکَ تَنجُ مِنْ عَذَابِ ﷲ یَومَ القِیَامَةِ''

اے ابوذر ! اگر تم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے تم نہیں جانتے ہو ، تو کہدو میں نہیں جانتا ہوں تا کہ اس کے انجام سے محفوظ رہو اور جسے تم نہیں جانتے ہو اس کے بارے میں فتویٰ نہ دو تا کہ قیامت کے دن خداوند عالم کے عذاب سے بچ سکو ( جائز نہیں ہے انسان ایک ایسی چیز کہے جس کا اسے علم نہ ہو ، ممکن ہے وہ بات دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے )

عالم کیلئے سب سے بڑی آفت کہ جس میں وہ گرفتار ہوتا ہے یہ ہے کہ اگر اسے کوئی چیز معلوم نہیں ہے تو ، شرمندگی کی وجہ سے اپنے جہل کا اعتراف نہیں کرتا ، یہ اعتراف ، جاہل کیلئے آسان ہے ، لیکن کسی ایسے عالم کے لئے جو مشہور و معروف ہے یہ کہنا مشکل ہے اس لئے وہ یہ کہنے سے کہ میں نہیں جانتا ہوںپہلو تہی کرتا ہے ،جب اس سے کوئی سوال کیا جاتا ہے اور وہ اس کے جواب سے ناواقف ہوتا ہے تو اس کیلئے بہت مشکل ہے کہ وہ اس سوال کا جواب نہ دے ، چونکہ وہ فکر مند رہتا ہے کہ لوگ اسے یہ نہ کہیں کہ تم کیسے عالم ہو کہ ایک مسئلہ بھی نہیں جانتے ''

کیا فرق پڑتا ہے کہ انسان جواب میں کہے کہ : ' ' میں نہیں جانتا '' مگر کیاہر ایک کیلئے واجب ہے کہ سب کچھ جانے ؟ صرف خداوند عالم ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور دوسروں کوا پنے علم سے ایک قطرہ کے برابر عطا کیا ہے ، جیسا کہ قرآن مجید میں فرماتا ہے :

( ... وَمَا اُوْتِیتمُ مِنَ العِلْمِ اِلَّا قَلِیلاً ) ( اسراء ٨٥)

اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ۔

مرحوم علامہ طباطبائی شب پنجشنبہ اور شب جمعہ کو جلسے منعقد کرتے تھے جس میں ان کے کچھ شاگرد ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور فلسفی اور غیر فلسفی موضوعات پر بحث ہوتی تھی ، اگر ہمیں کوئی سوال کرنا ہوتا تھا تو جلسہ شروع ہونے سے پہلے یا راستہ میں ان سے پوچھتے تھے ، ایک شب میں نے درمیان راہ ان سے ایک فلسفی سوال کیا ، انہوں نے فرمایا:' 'میں نہیں جانتا '' اس کے بعد چند لمحہ فکر کرنے کے بعد فرمایا: دیکھو اس کا جواب اس صورت میں دیا جاسکتا ہے اسکے بعد ایک دلچسپ اور اطمینان بخش مطلب بیان فرمایا، اس رات انہوں نے فرمایا : ہمیں اپنے مجہولات کا خداوند عالم کی معلومات سے موازنہ کرنا چاہیئے ، اس صورت میں ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم کچھ نہیں جانتے اور ہمارے مجہولات خدائے تعالی کی معلومات کے مانند بے انتہا ہیں ۔

یہ روش مکتب انبیاء و اولیائے الٰہی کے تربیت یافتہ افراد کی روش ہے کہ اگر کسی چیز کے بارے میں یقین نہیں رکھتے تھے توتردید کے عنوان سے جواب دیتے تھے ، اگر وہ جواب دیتے تو وہ ہمارے اطمینان سے زیادہ قابل اطمینان جواب ہوتا ، لیکن اگر وہ اس پر علم و یقین نہیں رکھتے تھے تو وہ قطعاً ابتدا میں ہی کہتے تھے کہ ''میں نہیں جانتا '' حقیقت میں یہ شیوہ انہیں نفس سے جہاد اور اس پر غلبہ پاکر ہی حاصل ہوا تھا ۔

یہ شیوہ ایسے افراد کا ہے جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی کے ساٹھ یا ستر سال تزکیہ ، تعلیم و تعلم میں گزارے ہیں ہم جب چار جملے اور کچھ اصطلاحیں سیکھ کر اپنے وطن جاتے ہیں اور ہم سے جب کوئی سوال کیا جاتا ہے تو ہمارے لئے یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ '' ہم نہیں جانتے '' ! ہمیں تمرین کے ذریعہ عادت ڈالنا چاہیئے تاکہ اگر کسی چیز کو نہیں جانتے ہیں آسانی کے ساتھکہہ سکیں کہ '' نہیں جانتے '' اور کسی چیز کے بارے میں ظن رکھتے ہوں تو کہیں :'' احتمال ہے اس طرح ہوگا ، اس صورت میں ہم نے اپنے آپ کو آخرت کی مصیبتوں سے آزاد کیا ہے ۔

قیامت میں عالم کی سب سے بڑی حسرت :

'' یَا اَبَاذَر ! یُطْلِعُ قَوم مِنْ اَهْلِ الجَنّةِ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ اَهْلِ النَّارِ،فَیَقُولُون:مَا اَدْخَلَکُمْ النَّارَ وَ قَدْ دَخَلْنَا الجَنَّةَ بِفَضْلِ تَادِیبِکُمْ وَ تَعْلِیْمِکُمْ ؟فَیَقُولُونَ: اِنَّا کُنَّا نَاْمُرُ باِلخَیْرِ وَ لَا نَفْعَلُهُ''

اے ابوذر ! قیامت کے دن بہشتیوں کی ایک جماعت جہنمیوں کی ایک جماعت پر بالادستی رکھتی ہو گی ، اس کے بعد ان سے سوال کریں گے ، تم لوگ کیسے جہنم میں داخل ہوئے ؟ جبکہ ہم آپ لوگوں کی تعلیم و تربیت کی برکت سے بہشت میں داخل ہوئے ہیں ، وہ جواب میں کہیں گے ؛ ہم دوسروں کو نیک کاموں کا حکم دیتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے ۔

قرآن مجید میں جہنم کے بارے میں منظر کشی کی گئی ان مناظر میں سے ایک منظر یہ ہے کہ بہشتی جہنمیوں پر بالا دستی رکھتے ہیں ، انہیں دیکھتے ہیں ، ان سے گفتگو کرتے ہیں ، جیسا کہ بہشت ایک بلند مقام پر واقع ہو اور جہنم ایک پست مقام پر ، اورا سی لحاظ سے بہشتی ان پر بالادستی رکھتے ہیں ۔

قرآن مجید کی تعبیر یہ ہے کہ کبھی بہشتی ، جہنمیوں سے مخاطب ہوتے ہیں اور کبھی بر عکس جہنمی بہشتیوں سے مخاطب ہوتے ہیں :

( وَنَادیٰ اَصْحَابُ الْجَنَّةِ اَصْحَابَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقّاً فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَّا وَعَدَرَبُّکُم حَقّاً قَالُوا نَعَمْ فَاَذَّنَ مُؤَذِّن بَیْنَهمْ لَّعْنَةُ ﷲ عَلَی الظَّالِمِینَ ) (اعراف ٤٤)

اہل بہشت اہل جہنم سے پکار کر کہیں گے کہ جو کچھ ہمارے پروردگار نے ہم سے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے تو پالیا ، کیا تم نے بھی حسب وعدہ حاصل کرلیا؟ وہ کہیں گے بے شک پھر ایک منادی آواز دے گا کہ ظالمین پر خدا کی لعنت ہے ''

جی ہاں ، اس روایت میں آیا ہے کہ اہل بہشت اہل جہنم کی ایک جماعت سے کہیں گے ہم تو آپ لوگوں کی رہنمائی ، ہدایت اور تعلیم و تربیت کی برکت سے بہشت میں پہنچے ، یہ کیا ہو اکہ آپ لو گ جہنم اور عذاب الہی سے دوچار ہوئے ؟ وہ حسرت و ندامت کی حالت میں جواب دیں گے : ہم نے جو کچھ کہا، خود اس پرعمل نہیں کیا تم لوگوں کو نیک کام انجام دینے کی دعوت دی لیکن خود اس سے پہلو تہی کی ، تم لوگوں کو مستحبات انجام دینے کی دعوت دی ،لیکن خود ہم نے اس پر عمل نہیں کیاتم لوگوں کو گناہ اور غیبت سے دوری اختیار کرنے کی نصیحت کی لیکن ہم خود گناہ و غیبت میں مبتلا ہوئے ،تم لوگوں نے ہمارے کہنے پر توجہ کرکے اس پر عمل کیا اور بہشت میں داخل ہوئے ، لیکن ہم نے اپنے علم پر عمل نہیں کیااور اس بدبختی اور درد ناک انجام سے دوچار ہوئے ۔

یہ رسوائی اور حسرت ان لوگوں کا انجام ہے جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتے ۔ یقینا ان کیلئے یہ حسرت عذاب الٰہی میں جلنے سے درد ناک تر ہے ، کیونکہ روحانی عذاب ، جسمانی عذاب سے شدید تر ہوتا ہے، دشمن کی طعنہ زنی کا درد ، جسمانی عذاب اور جلنے سے شدید تر ہوتا ہے ۔

کتنا درد ناک ہے کہ انسان احساس کرے کہ اس کی رہنمائیوں کے نتیجہ میں دوسرے لوگ بہشت میں پہنچ گئے ہیں اور وہ باوجود اس کے کہ اپنے علم سے استفادہ کرکے بلند تر درجات حاصل کرسکتا تھا ، جہنم میں جاگرے اور اسکے مرید تماشائی بن کر اسے دیکھتے ہیں ! وہ بہشت میں نعمتوں سے مالامال ہیں اور یہ جہنم کے عذاب سے دوچار ہے اگر اسے اپنے شاگردوں کو تربیت کے نتیجہ میں حاصل شدہ نعمتوں سے محرومیت کے علاوہ کوئی اور عذاب نہ ہوتا ، تو اتنا ہی کافی تھا !

اس حدیث شریف میں ذکر ہوئے نکات کے پیش نظر ہمیں اول سے اپنی نیتوں کو صحیح کرناچاہیئے اور خدا وند عالم کے فرائض کی انجام دہی کیلئے علم حاصل کریں اور ابتدا سے ہی جو کچھ کہیں اس پر عمل بھی کریں تا کہ یہ خصوصیت ہم میں ملکہ کی صورت اختیار کرے اور اگر اس صورت میں بیشتر علم حاصل کرسکے تو اس پر عمل کرسکتے ہیں، اگر ہم نے ابتدا سے ہی کوتا ہی اور لا پروائی پر تکیہ کیا تو ابتدا میں ایک فریضہ کو ترک کریں گے اور پھر دوسرے کو اور اس طرح ہم میں عصیان کا ملکہ تقویت پائے گا اور نفس سے جہاد کرنا مشکل بن جائے گا

حضرت علی علیہ السلام کے بیانات میں علما کی تقسیم بندی

علمااور دانشوروں کی طبقہ بندی اور تقسیم بندی کے بارے میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''اَلْعُلَمائُ رَجُلَانِ ، رَجُل عَالِم آخِذ بِعِلْمِهِ فَهَذا ناجٍ وَ رَ جُل تَارِک لِعِلْمِهِ فَهَذَا هَالِک وَ اِنَّ اَهْلَ النَّار لَیَتََذّونَ مِنْ رِیْحِ الْعَالِمِ التَّارِکِ لِعِلْمِهِ وَ اِنَّ اَشَّدَ اَهْلَ النَّارِ نَدَامَةً وَ حَسْرَةً رَجُل دَعَا عَبْداً اِلَی ﷲ سُبْحَانَهُ فَاسْتَجَابَ لَهُ وَ قَبِلَ مِنهُ فََطَاعَ ﷲ فَاَدْخلَهُ ﷲ الْجَنَّةَ وَ َدْخَلَ الدَّاعِیَ النَّارَ بِتَرْکِهِ عِلْمَهُ ''(۵)

دانشور دو قسم کے ہیں : پہلا وہ دانشور جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے ۔

دوسرا وہ دانشور جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے اور ہلاک ہوتا ہے ، بے شک جہنمی لوگ بے عمل عالم کی بدبو سے تکلیف اٹھاتے ہیں بے شک پشیمان ترین اور سب سے زیادہ افسوس کرنے والا اہل جہنم وہ ہے جو دوسرے کو خدا کی طرف دعوت دے اور وہ اس کی دعوت قبول کرکے خدا کی اطاعت کرے اور اس کے بعد خدائے متعال اسے بہشت میں داخل کرے ، لیکن دعوت دینے والے کو اپنے علم پر عمل نہ کرنے کے سبب جہنم میں ڈال دے ۔

ایک حدیث قدسی میں خداوند متعال حضرت داؤد علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے :

''اِنَّ اَهْوَنَ مَا َنَا صَانِع بِعَالِمٍ غَیْرِ عَامِلٍ بِعِلْمِهِ َشَّدُ مِنْ سَبْعِینَ عُقُوبَةً اَنْ اُخْرِجَ مِن قَلبهِ حَلاَوَة ذِکْرِی ''(۶)

عالم بے عمل کو میں جس کم ترین عذاب میں مبتلا کروں گا ستّر عذاب سے سخت تر ہے اور وہ یہ ہے کہ میں اپنی مناجات کی حلاوت( میٹھاس) کو اس کے دل سے دور کردوںگا ( اور اسکے بعد میری یاد سے وہ لذت نہیں محسوس کرے گا۔

____________________

۱۔ بحار الانوار ، ج ٧ ، ص ٢٨٥

۲۔ بحار الانوار ، ج٢، ص ٢٧۔

۳۔ بحار الانوار ج٢ص٣٧

۴۔ بحار الانوار ج٢ص٣٨

۵۔ بحار الانوار ، ج ٢، ص ٣٤

۶۔ بحار الانوار ، ج ٢،. ص ٣٢


چھٹا سبق

خداوند عالم کے حقوق اور اس کی نعمتوں کی عظمت و وسعت اور فرائض کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت

*خداوند عالم کے حقوق کی عظمت اور اس کی بے شمار نعمتیں

* چند روزہ زندگی اور انسان کے اچھے اور برے اعمال کی بقا

الف : انسان کے دنیوی اعمال کا قیامت کے دن مجسم ہونا

ب۔ موت کا ناگہانی ہونا ، تنبیہ و بیداری کا سبب

*انسان کے رزق کامعین ہونا اور ا س کا دوسرو ںکی دست رس سے محفوظ رہنا۔

* توحید افعالی اور خدائے متعال کا سرچشمہ خیر ہونا۔

خداوند عالم کے حقوق اور اس کے نعمتوں کی عظمت و وسعت اور فرائض کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت

'' یَا اَبَاذَر ! اِنَّ حُقُوقَ ﷲ جَلَّ ثَنَاؤُهُ اَعْظَمُ مِنْ اَنْ یَقُومَ بِهَا الْعِبَادُ ، وَ اِنَّ نِعَمَ ﷲ اَکْثَرُ مِنْ اَنْ یُحْصِیَهَا الْعِبَادُ وَ لَاکِنْ اَمْسُوا وَ اصْبَحُو تَائِبِینَ

یَا اَبَاذَر ! اِنَّکُمْ فِی مَمَرِّ اللَّیْلِ وَ النَّهَارِ فِی آجَالٍ مَنْقُوصَةٍ وَ اَعْمَالٍ مَحْفُوظَةٍ وَ الْمَوتُ یَتِیْ بَغْتَةً وَ مَنْ یَزْرَعْ خَیْراً یُوْشِکُ اَنْ یَحْصُدَ خَیْراً وَ مَنْ یَزْرَعُ شَرّاً یَوْشِکُ اَنْ یَحْصُدَ نَدَامَةً وَلِکلُّاِ زَارِعٍ مِثْلُ مَا زَرَعَ

'' یَا اَبَاذَرٍ! لَا یُسْبَقُ بَطِیئُ بِحَظِّهِ وَ لَاَا یُدْرِکُ حَرِیص مَالَمْ یُقَدَّر لَهُ وَ مَنْ اُعْطِیَ خَیْراً فِانَِّ ﷲ اَعْطَاهُ وَ مَنْ وُقِیَ شَرّاً فﷲ وَقَاهُ''

خدا وند عالم کے حقوق کی عظمت اور اس کی بے شمار نعمتیں

'' یَا اَبَاذَر ! اِنَّ حُقُوقَ ﷲ جَلَّ ثَنَاؤُهُ اَعْظَمُ مِنْ اَنْ یَقُومَ بِهَا الْعِبَادُ ، وَ اِنَّ نِعَمَ ﷲ اَکْثَرُ مِنْ اَنْ یُحْصِیَهَا الْعِبَادُ وَ لَاکِنْ اَمْسُوا وَ اصْبَحُو تَائِبِینَ''

اے ابو ذر ! خداوند عالم کے حقوق اس سے بڑے ہیں کہ بندے اس کے سامنے کھڑے ہوسکیں اور اس کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ بندے انکا شمار کرسکیں ، لیکن تم ہر صبح و شام توبہ کرتے ہوئے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرنا ''

حدیث کے اس حصہ میں بحث کا محور ذمہ داریوں کا احساس اور فرائض کو انجام دینے کی اہمیت ہے

انسان کو یہ سمجھنے کے بعد کہ اسے اپنی عمرسے بخوبی استفاد ہ کرنا چاہیے اور یہ جاننے کے بعد کہ وقت اور فراغت سے بہتر استفاد کرنے کیلئے علم و آگاہی سے آراستہ ہونا ضروری ہے ، اس کی تلاش و سرگرمی کیلئے محرک ایجاد کرنے کی ضرورت کی نوبت آتی ہے، اور یہ محرک کیسے وجود میں آتا ہے محرک ایجادکرنے کیلئے اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم اپنے بندوں پر کچھ حقوق رکھتا ہے اور اس لحاظ سے انسان کے اپنے پروردگار کیلئے کچھ فرائض ہیں انسان اپنی عقل و فطرت سے جانتا ہے کہ اگر کسی کا اس پر کوئی حق ہے تو اسے ادا کرنا چاہیئے اور ہر عاقل انسان جانتا ہے کہ خداوند عالم کے سب سے زیادہ حقوق اس پر ہیں

جب انسان یہ توجہ رکھے کہ تمام وہ نعمتیں جو اسے حاصل ہیں حیات و زندگی کی اصل سے لے کر دیگر تمام مادی اور معنوی نعمتوں تک خداوند عالم کی طرف سے ہیں ، تو ممکن نہیں ہے وہ بندگی کے فریضہ کو بھول جائے ، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اپنے ولی نعمت کی شکر گزاری اور قدر دانی کرنی چاہئے اوریہ بذات خود سب سے بڑا محرک ہے جو مؤمن کو فرائض انجام دینے پر مجبور کرتا ہے ۔

لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روایت کے اس حصہ کے پہلے جملہ میں انسانو ںپر خداوند عالم کے حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کسی بھی صورت میں اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر بجالانے کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔

جب انسان یہ جان لے کہ اپنی پوری عمر صرف کرنے کے باوجود حقوق الٰہی ، فرائض ، اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا ہے تو اسے اپنے آپ کو ہمیشہ مقروض جاننا چاہیئے حتی اگر اس نے گناہ بھی نہ کیا ہو تب بھی خد اکا حق اس کی گردن پر باقی ہے اور اسے ادا کرنا چاہیئے ،ایسا نہ ہو کہ شیطان اسے دھوکہ دے اور وہ تصور کرے کہ وہ خدا سے طلبگار ہے ،اگر کوئی خدا کے لطف و کرم سے گناہوں سے اجتناب کرنے میں کامیاب ہوجائے اور اپنے اوپر فخر کرتے ہوئے کہے کہ الحمد للہ میں کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہوں! تو ایسا شخص خود پسند ی اور غفلت سے دوچار ہے لہذا اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ انسان ہرگز خداوند عالم کے حقوق اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا ہے جیساکہ خداوند عالم نے فرمایا :

( وَ اِنْ تَعُدُوا نِعْمَة َ ﷲ لَا تُحصُوها ) (نحل ١٨)

اگر خدا کی نعمتوں کا شمار کرناچاہو گے تو ہر گز ایسا نہیں کرسکو گے ''

بالفرض ، اگر انسان خدا کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہے ، ان میں سے ایک کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا ہے حتی اگر اس نعمت کا شکر ادا کرنے کیلئے ایک '' الحمد لللّہ'' کہنے پر بھی اکتفا کرے ، پھربھی اس کے شکر کا حق ادا نہ کرسکا ہے ، کیونکہ الحمد ﷲ کہنا بھی ایک نعمت اور توفیق ہے جو اللہ تعالی نے اسے عنایت کی ہے اور بذات خود اس کی بھی شکر گزاری ہونی چاہئے یعنی اگر ہم قیامت تک الحمد ﷲ کہتے رہیں تو ایک الحمدللہ کا حق ادا نہیں کرسکتے ہیںپس ، کیسے ان ساری نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حق ادا کیا جاسکتا ہے ، جن کا شمار کرنے سے انسان عاجز ہے؟

اس امر کو مدنظر رکھنا کہ خداوند عالم کی نعمتیں بے شمار ہیں اور وہ انسان پربہت سے حقوق رکھتا ہے ، انسان میں حقارت اور فروتنی کا احساس پیدا کرنے کا سبب ہے حتیٰ اگر کسی گناہ کا مرتکب نہیں بھی تب بھی ، احساس کرتا ہے وہ مقروض ہے ۔

پس ، اگر انسان خدا کی نعمتوں کا شکر نہیں بجا لاسکتا ہے اور اسکے حقوق کو انجام نہیں دے سکتا ہے ، تو سب سے بڑا کا م جو وہ انجام دے سکتا ہے وہ توبہ ، استغفار ، گناہ اور وظائف کی انجام دہی میں کوتاہی کا اعتراف ہے یہ چیز بذات خود انسان کو غرورتکبر اور فریفتگی سے بچاتی ہے کیونکہ انسان صحیح راستہ سے بھٹکنے کی وجہ سے دنیا طلبی ، راحت طلبی اور تن پروری میں مبتلا ہوتا ہے ، اب جبکہ صحیح راستہ پر ہدایتپاکر وظائف کو انجام دینے کیلئے آمادہ ہے ، تو غرور و خودخواہی میں مبتلا ہوجاتا ہے ، اپنے کو دوسروں سے موازنہ کرتا ہے اور اپنی جگہ پر کہتا ہے لوگ خدا کی نعمتوں کی قدر نہیں جانتے ہیں اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن میں وظائف کو انجام دینے اور خدا کی نعمتوں کی قدر جانے میں کامیاب ہوا ہوں!

پس ہمیں اہل کار اور فرائض پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ غرور و تکبر میں مبتلا ہونے سے بچنا چاہیئے ، یہ تربیت کا سب سے بڑا درس ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے فرمودات سے حاصل ہوتا ہے ۔

اسی حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم انسان کو عمل ، تلاش ، فرائض کی انجام دہی اور حقوق الٰہی کی اہمیت کو درک کرنے کی نصیحت کے ساتھ اسے غرور و تکبر اور خود پسندی میں مبتلا ہوئے سے بچنے کی بھی نصیحت کرتے ہیں ۔

چند روزہ زندگی اور انسان کے اچھے اور برے اعمال کی بقا :

'' یَا اَبَاذَر ! اِنَّکُمْ فِی مَمَرِّ اللَّیْلِ وَ النَّهَارِ فِی آجَالٍ مَنْقُوصَةٍ وَ اَعْمَالٍ مَحْفُوظَةٍ وَ الْمَوتُ یَتِیْ بَغْتَةً وَ مَنْ یَزْرَعْ خَیْراً یُوْشِکُ اَنْ یَحْصُدَ خَیْراً وَ مَنْ یَزْرَعُ شَرّاً یَوْشِکُ اَنْ یَحْصُدَ نَدَامَةً وَلِکلُّاِ زَارِعٍ مِثْلُ مَا زَرَعَ''

اے ابوذر! تم شب و روز کی گزرگاہ میں ایک ایسی عمر کے مالک ہو جو مسلسل کم ہوتی جارہی ہے اور تیرے اعمال محفوظ رہتے ہیں اور اچانک موت آجاتی ہے اس وقت جس نے اچھے اعمال انجام دیئے ہیں اچھا نتیجہ پائے گا اور جس نے برے کام انجام دیئے ہیں اسے پشیمانی کی فصل کاٹنا پڑے گی اور ہر کاشتکار کو وہی کا ٹتاہے جو اس نے بویا ہے ۔

انسان کو خود کام اور تلاش پر مجبور کرنے نیز اسکی سرگرمیوں اور فرائض کی انجام دہی میں تحریک پیدا کرنے والے امور میں اس نکتہ کی طرف توجہ اور غور کرنا ہے کہ انسان کی عمر گزرنے والی ہے ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ ہماری عمر میں کمی واقع ہوتی ہے گردش زمانہ کو روکا نہیں جاسکتا اور سیکنڈوں کو واپس لوٹا یا نہیں جاسکتا ہے ، حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''نَفَسُ المرِٔ خُطاهُ الی اجلهِ ''(۱)

'' انسان کی ہر سانس اس کا ایک قدم ہے جو وہ موت کی طرف اٹھاتا ہے''

ہوشیار رہنا چاہیئے کہ یہ سرمایہ مفت میں ضائع نہ ہوجائے یہ وہ دولت ہے جو مسلسل کم اوربوسیدہ ہوتی جارہی ہے یہاں تک کہ انسان کو موت آجاتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں حضرت علی فرماتے ہیں :

''فَمَا یَنْجو مِنَ المَوتِ مَنْ خَافَهُ وَ لَا یُعْطَی الْبَقَائُ مَنْ اَحَبَّهُ ''(۲)

جو موت سے خائف ہے وہ اس سے نجات نہیں پاتا اور جو زندگی سے محبت رکھتا ہے وہ ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا۔

سرمایۂ عمر کو ضائع ہونے سے بچانے کا تنہا راستہ ،سود مند تجارت ہے اور اسے بہتر تجارت کیا ہوسکتی ہے کہ انسان اپنی عمر کے بدلے میں بہشت کو خرید لے ، کیونکہ وہ تنہا مال ہے جو انسان کی عمر کی قیمت قرار پاسکتا ہے مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :

'' اَلاَحُرّ یَّدعُ هٰذِهِ اللُّمٰاظَةَ لِاَهْلِهَا؟ اِنَّهُ لَیْسَ لِاَنْفُسِکمُ ثَمَن اِلَّا الْجَنَّةَ ، فَلَاتَبِیْعُوهَا اِلَّا بِهَا '' (۳)

کیا کوئی ایسا آزاد خیال نہیں ہے جو منہ میں باقی بچے کھانے(حقیر دنیا ) کو اہل دنیا کے حوالے کردے ؟ تمہاری زندگی کی قیمت بہشت کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بدلے میں نہ بیچو۔

پس کتنے گھاٹے میں ہیں وہ انسان جو اپنی عمر کی عظیم دولت کو قہر الٰہی کی آگ سے سودا کرتے ہیں ، شاید باطل راہ میں اپنی عمر کو خرچ کرنے والے اس خیال میں ہیں کہ عمر کے گزرنے کے ساتھ ان کے اعمال بھی نابود ہوجائیں گے ، یہ ایک باطل خیال ہے ! جبکہ یہ نشہ، ایک وقتی نشہ ہے ا ور قیامت کا خمار (نشہ) پائدا ر اور ابدی خمار ہے لیکن انسان کے اعمال باقی رہتے ہیں کیوںکہ اعمال کا رابطہ انسان کی روح اور ﷲ تعالی سے ہے اگر چہ ہم ایک ایسی مستی میں زندگی بسر کرتے ہیں جو فانی ہے لیکن ہم عالم بقا اور جہان آخرت سے بھی رابطہ رکھتے ہیں اور ہمارے اعمال وہیں باقی رہیں گے ۔

الف ۔ انسان کے دنیوی اعمال کا قیامت کے دن مجسم ہونا:

قیامت کے بارے میں مسلمہ اصولوں میں سے ایک ، اعمال کا محفوظ رہنا اور ان کا مجسم ہونا ہے خداوند متعال نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، من جملہ ارشادفرماتا ہے :

( وَ وُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مشفقین مِمَّا فِیهِ وَ یُقُولُونَ یَا وَیْلَنَاویلتنا مالِ هٰذَا الْکِتَابِ لاَ یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَ لَا کَبِیرَةً الاَّ اَحْصَاهَا وَ وَجَدُواْ مَا عَمِلُوا حَاضِراً وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَداً ) (کہف ٤٩)

اور جب نامۂ اعمال سامنے رکھا جائے گا تو دیکھو کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس ! اس کتاب نے تو چھوٹا بڑا کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرے گا ''

ایک دوسری جگہارشاد فرماتا ہے :

( فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرََّةٍ خَیْراً یَرَهُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَراً یَرَه ُ ) (زلزال ٧۔٨)

پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا ''

ب ۔ ناگہانی موت تنبیہ و بیداری کا سبب:

کوئی نہیں جانتا ہے کہ کب تک زندہ ہے اور کب اسکی موت آئے گی ۔ قرآن مجید فرماتا ہے :

( وَمَا تَدْرِی نفسمَّا ذَا تَکْسِبُ غَداً وَ مَا تَدْرِی نَفْس بَاَیّ ا رْضِ تَمُوتُ ) ( لقمان ٣٤)

اور کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ وہ کیا کمائے گا اور کسی کو نہیں معلوم ہے کہ اسے کس زمین پر موت آئے گی ۔

خدا کے من جملہ الطاف ( کرم و نوازش) میں سے یہ ہے کہ انسان اپنی موت کے وقت سے آگاہ نہیں ہے ، اگر ہم اپنی موت سے باخبراور آگاہ ہوتے تو غفلت و غرور میں زیادہ مبتلا ہوتے ، البتہ جو لوگ بلند روحانی ظرفیت کے مالک ہیں ان کیلئے موت کے وقت سے آگاہ ہونا یا نا آگاہ ہونا کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ وہ ہمیشہ فرائض کی انجام دہی کی فکر میں رہتے ہیں ۔ ممکن ہے خداوند عالم اعلان فرمائے کہ ان کی موت کب آنے والی ہے ، لیکن ہمارے لئے موت کے وقت سے آگاہ ہونا بیشتر لاپروائی اور اعمال کو التوا میں ڈالنے کا سبب ہوگا ، حکمت الٰہی یہ نہیں ہے کہ خداوند متعال ہماری موت کے وقت کا اعلان فرمائے بلکہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہمیشہ فکر مند رہیں کہ شاید ہر آنے والے لمحہ میں موت آجائے، اس صورت میں اپنی عمر کا بہتر فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

حدیث مبارک کے اس جملہ '' وَ مَنْ یزرع خیراً'' میں دنیا کو کھیتیسے تشبیہ دی ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں ہر بیج کو ثمر بخش بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو اس میں بو یا جائے خواہ وہ بیج انسان کے نیک اعمال ہوں یا برے اعمال، اس سلسلہ میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

از مکافات عمل غافل مشو

گندم از گندم بروید جو ز جو

ہر چہ کشتی در جہاں از نیک و بد

حاصلش بینی بہ ہنگام درو

اپنے اعمال کے نتائج سے غافل نہ رہو ، گندم سے گندم اور جو سے جو اگتا ہے جو کچھ تم نے دنیا میں نیک و بدکی صورت میں بویا ہوگا فصل کاٹتے وقت ( قیامت کے دن ) اس کا ما حصل پاؤ گے۔

انسان کے رزق کا معین ہونا اور اس کا دوسروں کی دست رس سے محفوظ رہنا :

''یَا اَبَاذَر ؛ لَا یَسبِقُ بطیء بِحظّه ولاَ یَدرَک حریص ما لم یُقَدّر له ''

اے ابوذر ! عجلت نہ کرنے والے کی کمائی کو دوسرا نہیں لے سکتا ہے اور لالچ و طمع رکھنے والا شخص وہ چیز حاصل نہیں کرسکتا جو اس کی قسمت میں نہیں ہے ''

انسان کو زندگی میں دو اہم آفتوں کا سامنا ہوتا ہے : ایک یہ کہ اس کی زندگی کی ضروریات اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان کو پورا کرنے کی تلاش و جستجو کرے ، اس کے نتیجہ میں فرائض کو انجام دینے سے رہ جاتا ہے، دوسری یہ کہ جب فرائض انجام دینے لگتا ہے تو غرور تکبر و خود پسندی سے دوچار ہوتا ہے جو اس کے اعمال کو نابود کر دیتی ہیں اسے ان آفتوں سے بچنے کیلئے غور وفکر کرنا چاہیئے ۔

بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ الٰہی اور اجتماعی فرائض کو انجام دینا ان کی زندگی کو ابتر کرنے کا باعث ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیوی امو رکو انجام دینا ایک ایسی ضرورت ہے جس سے اجتناب نہیں کیا جاسکتا ہے ان کا یہ تصور بذات خود الٰہی فرائض کے انجام دینے میں رکاوٹ کا سببہے یہ عذر اور بہانے شیطانی وسوسے ہیں ان وسوسوں سے نجات پانے کی راہ یہ ہے کہ انسان اس امر کی طرف توجہ کرے کہ خدائے متعال نے ہر شخص کیلئے اس کا رزق معین اور مقدر فرمایا ہے ۔

قرآن و سنت کی بیان شدہ تعلیمات میں جن کی طرف انسان کو توجہ کرنا ضروری ہے ، رزق کے مقدر ہونے کا مسئلہ ہے ہم اس وقت روزی کے مقدر ہونے کے مفہوم کے بارے میں اور اس سلسلہ میں کیا انسان کو رزق حاصل کرنے کیلئے تلاش و کوشش کرنا چاہیئے یا نہیں ، وضاحت کرنا نہیں چاہتے بلکہ اجمالی طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ دینی معارف میں اس مسئلہ کوکافی اہمیت دی گئی ہے ۔

نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر رزق کے مقدر ہونے کے بارے میں اشارہ کیا گیا ہے اسی مذکورہ روایت میں بھی یہ ذکر ہوا ہے کہ اگر کوئی اپنا رزق حاصل کرنے میں سستی دکھائے تو کوئی دوسرا ہرگز اس کا رزق نہیں کھا سکتا ہے اگر کوئی مال جمع کرنے سے زیادہ لالچ دکھائے اور تلاش کرے کہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ مال ذخیرہ کرلے لیکن جو اس کی قسمت میں نہیں ہے وہ اسے حاصل نہیں کرسکے گا پس اس امر کی طرف توجہ رکھنا شیطانی وسوسوں کیلئے رکاوٹ بن سکتا ہے ۔

جب شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان کوالٰہی فرائض انجام دینے سے روکے تو فرائض انجام دینے کے دوران اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالٹا ہے کہ اس وقت تجھیاپنی روزی روٹی کی تلاش میں ہوناچاہیے تھاایسے وقت میں چاہئے شیطان کے منہ پرلات مار کر یہ کہے کہ ہٹ جا ؤ !میرا رزق میری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اسے کوئی اورنہیںلے سکتا ہے ۔

لیکن یہ اعتقاد اس وقت حاصل ہوتاہے جب انسان خدا کی طرف سے رزق کے مقدر ہونے کے سلسلہ میں اطمینان پیدا کرلے ۔

یہ جو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کے رزق کو مقدر بنایا ہے اس معنی میں نہیں ہے کہ انسان رزق حاصل کرنے کیلئے تلاش و کوشش سے ہاتھ کھینچ لے اور کہے : اللہ تعالی میرے رزق کو خود مجھ تک پہنچا دے گا اس موضوع پر اپنی جگہ پر بحث ہوئی ہے کہ انسان کو اپنی ضروریات پورا کرنے کیلئے جستجو اور تلاش کرنی چاہیئے اور اللہ تعالی کا ہل اور آرام طلب انسان سے بیزار ہے ۔

رزق کے مقدر ہونے کی بحث ان لوگوں کیلئے ہے جو شیطانی وسوسوں سے دھوکہ کھاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر الٰہی فرائض انجام دینے میں لگ گئے تو وہ اور ان کے اہل و عیال بھوک سے مرجائیں گے، جو انساں خد اکی بندگی کرے گا بعید ہے اللہ تعالی اسے بھوکا چھوڑدے گا ۔

توحید افعالی اور اللہ تعالی کا سرچشمہ خیر ہونا :

''وَ مَنْ اُعطِیَ خیراً َعطَاهُ و مَنْ وَقٰی شراً فﷲ وقاه ''

جس شخص کو کوئی خیر پہنچے خدا نے اسے عطاکیا ہے اور جو شخص کسی شر سے محفوظ رہا ہے تو خدا نے اس کی حفاظت کی ہے ''

ایک اور مطلب جسے بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم الٰہی فرائض کو انجام دینے اور گناہوں سے بچ کر عبادات انجام دیتے ہیں تو ہمیں یہ تصور نہیں کرناچاہیئے کہ ہم شائستہ انسان بن گئے ہر وہ نیک کام جو ہم سے انجام پاتا ہے بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ وہی ہے جس نے نیک کام انجام دینے اور گناہ سے اجتناب کی توفیق بخشی ہے جو کچھ ہمیں تکوینی طور پر دنیا کی نیکیوں سے تلاش یا تلاش کے بغیر ملتا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور یہ خداوند عالم ہی ہے جو بلاؤں کو ہم سے دور کرتا ہے اس اعتقاد کایقین اور اس فکر کا سرچشمہ توحید افعالی میں جلوہ گر ہوتا ہے کہ انسان کو تمام خوبیوں اور نیک اعمال کو اللہ تعالی کی طرف سے جاننا چاہیئے اور اسے بلاؤں اور برائیوں کو دور کرنے والا جانناچاہیئے ۔

توحید افعالی کی بحث انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو بھی مطالب '' قضا وقدر '' وغیرہ کے بارے میں کہے گئے وہ بذات خود '' توحید افعالی '' کے بارے میں انسان کے اعتقاد کا ایک مقدمہ ہے ۔

'' توحید افعالی '' پر توجہ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر سے غرور و تکبر دور ہوتا ہے اور حقیقت میں '' توحیدا فعالی '' پر توجہ کرنا، سستی ،کاہلی ، حسادت اور حقارت جیسی اکثر اخلاقی برائیوں کا علاج ہے '' توحید افعالی '' پر توجہ کرنے سے انسان میں نہ حسد کیلئے کوئی مقام ، اور نہ تکبر وحقارت کیلئے کوئی گنجائش باقی رہتی ہے جب انسان خود کو خداوند عالم سے مربوط دیکھتا ہے تو پھر وہ احساس حقارت نہیں کرتا ہے ۔ اس طرح جو خد کی عظمت پر نظر رکھتا ہے تو پھر اپنی بزرگی کا ہر گزسودا نہیںکرتا ہے ، کیونکہ وہ ہر چیز کواللہ تعالی کی طرف سے جانتا ہے اس طرح اگر کسی کا یہ ایمان ہو کہ تمام طاقتیں خدا کی طرف سے ہیں اور کوئی اس کی اجازت کے بغیر کسی کام کو انجام نہیں دے سکتا ہے تو وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ خداوند عالم تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی نیکی نہیں پہنچ سکتی ہے تو وہ خدا کے سوا کسی اور سے دلچسپی نہیں رکھتا ہے بلکہ صرف اللہ تعالی سے امید وار ہوتاہے۔

____________________

۱۔ نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،حکمت نمبر ٧١ ، ص ١١١٧۔

۲۔ نہج البلاغہ فیض الاسلام ، خطبہ ٣٨ ، ص ١٢٢۔

۳۔ نہج البلاغہ فیض ، حکمت ٤٤٨ ،ص١٢٩٥


ساتواں سبق

مومن کی بیداری اور ہوشیاری

* پرہیز گاروں اور فقہا کے ساتھ ہم نشینی اور مومن و کافر کی نظر میں گنا ہ کا فرق

*لائق اورشائستہ دوست کا انتخاب اور گناہ کو بڑا تصور کرنا

*لاپروا علما اور بیوقوف جاہلوں کا خطرہ

*گناہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اسے سنگینتصور کرنا ، خدا کے لطف و

عنایات کا نتیجہ ہے

*گناہ کو حقیر سمجھتے کے بجائے اس کی عظمت کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت

کہ جس کی نافرمانی کی جا رہی ہے

مومن کی بیداری اور ہوشیاری

'' یَا َبَاذَرٍ!اَلْمُتَّقُونَ سَادَة وَ الْفُقَهَائُ قَادة وَ مُجَالَسَتَهُمْ زِیَادَة اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیَریٰ ذَنْبَهُ کَاَنَّهُ تَحْتَ صَخْرَةٍ یَخَافُ اَنْ تَقَعَ عَلَیْهِ وَ اِنَّ الْکَافِرَ لَیَریٰ ذَنْبَهُ کَاَنَّهُ ذُبَاب مَرَّ عَلٰی اَنْفِهِ.

یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ ﷲتَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ اِذَا اَرَادَ بِعَبْدٍ خَیْراً جَعَلَ الذُّنُوبَ بَیْنَ عَیْنَیهِ مُمَثَّلَة وَ الْاِثْمَ عَلَیْهِ ثَقِیلاً وَبِیلاً، وَ اِذاَ اَرَادَ بِعَبْدٍ شَرّاً اَنْسَاهُ ذُنوبَهُ

یَا اَبَاذَر ! لَاتنْظُرْ اِلٰی صِغَرِ الْخَطِیْئَةِ وَ لٰکِنْ انْظُر اِلٰی مَنْ عَصَیْتَ یَا اَبَاذَر ! اِنَّ نَفْسَ الْمُوْمِنُ اَشَّدُ ارْتِکَاضاً مِنَ الخطِیَٔةِ مِنَ الْعُصْفُور،حِیْنَ یُقْذَفُ بِهِ فِی شَرَکِهِ''

پرہیز گاروںاور فقہا کے ساتھ ہم نشینی اور

مومن وکافر کی نظر میں گناہ کا فرق :

'' یَا َبَاذَر ! اَلْمُتَّقُونَ سَادَة وَ الْفُقَهَائُ قَادة وَ مُجَالَسَتَهُمْ زِیَادَة اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیَریٰ ذَنْبَهُ کَاَنَّهُ تَحْتَ صَخْرَةٍ یَخَافُ َنْ تَقَعَ عَلَیْهِ وَ اِنَّ الْکَافِرَ لَیَریٰ ذَنْبَهُ کَاَنَّهُ ذُبَاب مَرَّ عَلٰی اَنْفِهِ.

اے ابوذر!جو پرہیزگار ، بزرگوار ، فقیہ ، پیشوا اور قائد ہیں ، ان کی مصاحبت ،علم وفضیلت میں اضافہ کا سبب ہے مؤمن ، گناہ کو ایک بڑے پتھر کے مانند دیکھتا ہے جس کا اسے ڈر رہتا ہے کہ اس کے سر پر نہ گرے اور کافر اپنے گناہ کو اس مکھی کے مانند دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر سے گزرتی ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی ﷲعلیہ و آلہ وسلم نے اپنی گزشتہ نصیحتوں میں انسان کو اس کی نازک حالت ، زندگی کی اہمیت اور اس کی عمر کے قیمتی لمحات سے آگاہ فرمایا اور اسے اس بات سے متنبہ کیا کہ سستی کاہلی اور لا پروائی سے اجتناب کرکے ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنی زندگی کے مسائل پر غور کرے ۔ تاکید کی گئی ہے کہ انسان فرصت کو غنیمت جانے اور آ ج کے کام کو کل پر نہ چھوڑے ۔ اب بحث یہ ہے کہ عمر سے بہتر استفادہ کرنے کا راستہ اور '' سیر الی اللہ '' میں آگے بڑھنے کا پہلا قدم کیا ہے ؟

بے شک عمر کی قدر جاننے کے سلسلے میں ا ور '' سیر الی اللہ '' میں پہلا قدم گنا ہ سے اجتناب ہے کیونکہ گناہوں کا مرتکب انسان کسی مقام تک نہیں پہنچتا ہے اور انسان کی عمر کی قدرو منزلت اسی صورت میں ہے کہ وہ گناہ میں آلودہ نہ ہوجا۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام دعائے ''مکارم الاخلاق '' میں ارشاد فرماتے ہیں :

اَلّٰلهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَمِّرنی مَاکَانَ عُمْرِیْ بِذْلَةً فِی طَاعَتِکَ فَاِذَا کَان عُمْرِی مَرْتعاً لِّشَیْطَانِ فاقبِضْنِی اِلَیْکَ قَبْلَ اَنْ یَسْبِقَ مَقْتُکَ اِلیَّ اَ و یَسْتحکِمَ غَضَبُکَ عِلَیَّ (۱)

پروردگارا ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمدعلیہم السلام پر درود بھیج.. میری عمر کو تب تک طولانی فرما جب تک میں تیری بندگی میں مصروف رہوں پس جب میری عمر شیطان کی چراگاہ بن جائے ، تو مجھ پر ناراض ہوکر غضب کرنے سے پہلے میری روح کو قبض کرلے''

اس لحاظ سے گناہ چاہے جتنا بھی چھوٹا ہو تباہی کا سبب ہے ، اگرچہبعض انسان اس کے ساتھ بہت سی عبادتیں بھی انجام دیتے ہیں جو اپنی عبادتوں کے ساتھ گناہ بھی انجام دیتے ہیں ، ان کی مثال اس شخص کے جیسی ہے کہ جس کے پاس ایک سوراخ والا تھیلا ہے ،جتنابھی اس میں ایک طرف سے پیسے اور جواہرات ڈالتے ہیں دوسرے طرف سے گرجاتے ہیں ، یا اس کی مثال اس شخص کے جیسی ہے کہ ایک انبار کو جمع کرنے کے بعد اس میں آگ لگادیتا ہے کیونکہ گناہوںکی مثال اس آگ کی مانند ہے جو ہمارے اعمال کے خرمن کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

لہٰذا پہلے مرحلے پر ہمیں گناہوں کو پہچاننا چاہیئے اور پھر اس سے آلودہ ہونے سے اپنے آپ کو بچانا چاہیئے اور اگر ہم کسی گناہ کے مرتکب ہوجائیں تو فوراً ہمیں توبہ کرنی چاہیئے اور خدا کی مدد اور اولیائے الٰہی کے توسل سے اس صدد میں رہیں کہ کبھی گناہ کے مرتکب نہ ہوں ۔

لائق اور شائستہ دوست کا انتخاب اور گناہ کو بڑا تصور کرنا:

پیغمبر اسلام صلی ﷲعلیہ و آولہ وسلم کی نظر میں انسان ، کمال اور عروج کی راہ میں قدم بڑھاتے وقت دوچیزوں کا سخت محتاج ہوتا ہے : ان میں سے ایک لائق دوست اور دوسری چیز گناہ کو بڑا جان کر اس سے اجتناب کرنا ۔ شاید ان دو چیزوں کا ایک ساتھ بیان کرنا ، اس معنی میں ہے کہ اچھے دوست کا انتخاب گناہ کو بڑا جاننے اور سر انجام گناہ سے اجتناب کرنے کا ایک مقدمہ ہے اور برے دوست کا انتخاب گناہوں سے بیشتر آلودہ ہونے کا ایک مقدمہ ہے ،کیونکہ اچھا دوست بہت سی نیکیوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہوسکتا ہے ،اور برا دوست بہت سی گمراہیوں اور برائیوں کا عامل ہوتا ہے ۔

اچھا دوست اس امر کا سبب بن جاتا ہے کہ انسان کی آنکھوں کے سامنے گناہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے تا کہ اگر وہ مرتکب گناہ ہوتو مسلسل خد اکی ذات کے سامنے شرمندہ ہوکر اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرائے اس کے برعکس برا دوست اس امر کا سبب بن جاتا ہے کہ انسان کی نظر میں گناہ کو معمولی دکھلائے اور اسے چھوٹا شمار کرے تا کہ کسی بھی گنا ہ کے مقابلے میں شرمندگی کا احساس نہہو ۔

حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دوست کے انتخاب کیلئے دو معیار بیان فرماتے ہیں :

١۔ صاحب تقویٰ ہونا ۔

٢۔ حلال و حرام الٰہی سے واقفیت ، دوسرے الفاظ میں دین کی شناخت ۔

بے تقوی دوست سے مصاحبت اور اس کے بے تقوائی کا مشاہدہ کرنا ، انسان کی نظر میں گناہ کو کم اہمیت بنا دیتا ہے اور نتیجہ کے طور پر وہ ابدی نقصان سے دوچار ہوتا ہے ، چنانچہ قرآن مجید بعض جہنمیوں کی زبانی نقل کرتے ہوئے فرماتاہے :

( یَا وَیْلَتَی لَیْتَنِی لَمْ اَتَّخِذْ فُلَاناً خَلِیلاً ، لَقَدْ اَضَلَّنِی عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَاء َنِی وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْاِنْسَانِ خَذُولاً ) (فرقان ٢٨۔٢٩)

ہائے افسوس ! کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا اس نے تو ذکر کے آنے کے بعد بھی مجھے گمراہ کردیا اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہے ۔

جس طرح بے تقویٰ انسان لائق دوستی نہیں ہے ، جاہل اور نادان انسان سے بھی دوستی نہیں کرنی چاہیئے وہ اگر نیک کام بھی انجام دینا چاہے تو جہالت کے سبب خطا اور انحراف سے دوچار ہوتا ہے ، پس ، چونکہ آگاہی اور تقویٰ حق کی راہ میں رشد اور ارتقا کیلئے دو پرکے مانند ہیں ، اس لئے یہ دوست کے انتخاب کیلئے بھی دو قیمتی معیار شمار ہوتے ہیں اس لحاظ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر کیلئے اپنی سفارش میں تقویٰ اور فقاہت کو دوست کے انتخاب کیلئے دو معیار قرار دیتے ہیں ، البتہ یہ دونوں خصوصیتیں انسان میں اکٹھا ہونی چاہیے ، کیونکہ اگر فرائض کی انجام دہی کیلئے تلاش کرنے والا انسان ،د ین شناس نہ ہو تو کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو لوگوں کے دھوکہ میں آسکتا ہے ۔

لاپروا علما اور نادان جاہلوں کا خطرہ :

ایک معروف روایت میں پیغمبر اکرم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

''قَصَمَ ظَهْرِی رَجُلانِ: عَالِم مُتَهَتِّک وَ جَاهِل مُتَنَسِّک ''

دو گروہوں نے میری کمر توڑ دی ہے ، لا پروا عالم اور نادان و جاہل عابد نے(۲) ۔

امام خمینیفرماتے تھے نام نہاد مقدس افراد اپنے عبادی فرائض پر عمل کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے اصلی فریضہ کہ علم حاصل کرنا اور صحیح معرفت حاصل کرنا ہے کو فراموش کئے ہوئے ہیں ، اسی طرح اپنے منحرف اصول اور جہالت کے راستہ پر گامزن ہیں، اسی پر تعصب کے ساتھ اصرار کرتے ہیں اسلام کیلئے اس گروہ کا نقصان فاسقوں سے زیادہ ہے اس گروہ کے افراد نہ خو دکہیں پہنچتے ہیں اور نہ دوسروں کو آگے بڑھنے دیتے ہیں ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

''مَنْ عَمِلَ عَلٰی غَیْرِ عِلْمٍ یُفْسِدُ اَکْثَرُ مِمَّا یُصْلِح ''(۳)

جو علم و معرفت کے بغیر عمل کرتا ہے وہ اصلاح انجام دینے کے بجائے تباہی مچاتا ہے ۔

اسی طرح لاپروا عالم جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا ہے لوگ اسکے دھوکہ میں آتے ہیں وہ علم کی وجہ سے اس کا احترام کرتے ہیں اور وہ اپنے بے تقوی ہونے کی وجہ سے اسلام پر ایسی کاری ضرب لگاتا ہے کہ جاہل ہرگز ایسا نہیں کرسکتا ہے، اس لحاظ سے جہاں بھی '' تقویٰ'' کی تعریف و ستائش کی گئی ہے اس سے وہ تقویٰ مراد ہے جو علم کے ساتھ ہو ، ورنہ اگر یہ دو ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں نہ صرف فائدہ مند نہیں ہوںگے بلکہ نقصان دہ بھی ہیں، اس کے مقابلے میں اگر کہیں فقاہت اور علم کی تعریف ہوئی ہے تو اس سے وہ فقاہت و علم مرادہے جو عمل کے ہمراہ ہو جو دین شناس علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا، وہ راہزن کے مانند ہے۔

خداوند عالم حضرت داؤدعلیہ السلام سے خطاب فرماتا ہے :

'' لَا تجْعَلْ بَیْنِی وَ بَیْنَک عَالِماً مَفْتُوناً بالدُّنیَا فَیَصُدُّکَ عَنْ طَرِیقٍ مَحَبَّتِی ، فَاِنَّ اُولٰئِکَ قُطَّاعُ طَرِیقِ عِبَادِی الْمُرِیدینَ ، اِنَّ اَدْنیٰ ماَ انا صَانِع بِهِمْ اَنْ اَنْزَعَ حَلَاوَةَ مُنَاجَاتِی عَن قُلُوبِهِمْ '' (۴)

'' اے داؤد ، میرے اور اپنے درمیان ایسے عالم کو واسطہ قرار نہ دینا جو دنیا پر فریفتہ ہوچکا ہووہ تجھے میری محبت کی راہ سے ہٹا دے گا بے شک ایسے لوگ خدا کی تلاش میں نکلنے والوں پر ڈاکا ڈالنے والے ہیں ایسے لوگوں کیلئے میری سب سے کم سزا یہ ہے کہ ان کے دل سے میں اپنے مناجات کی شیرینی چھین لیتا ہوں ''

بے عمل اور دنیا پرست عالم ایک ایسا چور ہے ، جو دن دہاڑے کاروان پر ڈاکا ڈالتا ہے وہ چونکہ علم رکھتا ہے اس لئے بہتر جانتا کہ لوگوں کو کیسے دھوکہ دے ایسا عالم، دین کے کام کا نہیں ہے لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ ان کے فریب میں نہ آئیں اس لئے تقوی اور فقاہت ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کی صورت میں مؤثر ہیں اور اسی صورت میں سماج اور فرد کیلئے سعادت کا سبب بن سکتے ہیں، ان لوگوں کے ساتھ مصاحبت جائز ہے جنھوں نے تقویٰ ، عبادت ، بندگی اور اطاعت کے ذریعہ حکم خدا کو اپنے اندرمحکم کیا ہے اور دوسری طرف سے دین کی شناخت رکھتے ہیں اور معارف دینی کے ماہر ہیں اس قسم کے علما کے ساتھ مصاحبت سے انسان کی فضیلت اور عروج کو تقویت ملتی ہے ۔

اگرچہ اصطلاح میں '' فقیہ ' ان علما کو کہا جاتا ہے جو احکام شرعی کے استنباط کی صلاحیت اور فروع کو اصول کی جانب پلٹانے کی لیاقت رکھتے ہیں لیکن قرآن مجید اور روایات کی اصطلاح میں '' فقیہ '' دین کی پہچان رکھنے والے کو کہتے ہیں خواہ وہ فرعی مسائل کی معرفت رکھتا ہو یا اعتقادی اور اخلاقی مسائل کی بلکہ اعتقاد ی اور اخلاقی مسائل کے عالم سے مصاحبت بہتر ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

'' اب جب کہ تم نے عزم سفر کیا ہے اور لائق دوست کو اپنے لئے انتخاب کیا ہے ، ہوشیار رہو کہ گناہ میں مبتلا نہ ہو ، اگر گناہ سے آلودہ ہوئے تو تمھارا یہ سفر بے نتیجہ ہوگا اور تمھاری جستجو اور عبادتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا''

انسان بلا سبب گناہ کے پیچھے نہیں جاتا ہے اس میں شک نہیں ہے کہ گناہ میں ایک قسم کی لذت شیرینی اور کشش ہوتی ہے کہ انسان اس سے آلودہ ہوتا ہے اگر چہ یہ لذتیں اور کشش تصوراتی اور خیالی ہیں اور شیطانی وسوسے سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ہے لیکن بہر حال انسان گناہ میں ایک جاذبہ اور شیرینی دیکھتا ہے جس کے پیچھے وہ دوڑتا ہے ۔ اصلی بات یہ ہے کہ انسان کو کیا کرنا چاہیئے تا کہ اسے یہ توفیق حاصل ہوجائے کہ گناہ سے اجتناب کرسکے اور اس کا مقابلہ کرسکے ۔

گناہ سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان گناہ کے خطرہ اور اس کے بڑے ہونے کا تصور کرے اس ناپائدار لذت کے نقصانات اور خطرات اور دنیوی و اخروی زندگی پرگناہ کے پڑنے والے مسلسل برے اثرات کو پہچانے ۔

مؤمن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گناہ کے بارے میں ایک خاص نظریہ رکھتا ہے اور یہی نظریہ اس کیلئے گناہ سے بچنے کا سبب ہے مؤمن کیلئے گناہ اس پتھر کے مانند ہے جو اس کے سر پر گرنے والا ہوتا ہے اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ اس کے انجام سے خوف زدہ ہوتا ہے ،اس کا نظریہ اس کی فکر پر اتنا اثر ڈالتا ہے کہ ہمیشہ اس کے ضمیر کو گنا ہ کے خلاف تحریک کرتا ہے اور جب بھی کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے فوراً معذرت چاہتے ہوئے توبہ کرتا ہے اسکی حالت بالکل اس انسان کے مانند ہوتی ہے جس کے سرپر ایک بڑا پتھر آویزاں ہو اور ہمیشہ اس کے گرنے سے خائف رہتا ہے یعنی اس انسان کی روح اس قدر پاک و پاکیزہ ہے کہ ہر گناہ کے بارے میں رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے نفس کی ملامت کرتا رہتا ہے حتی اس پر سکون اورنیند حرام ہوجاتی ہے ۔

اس کے برعکس کافر اور وہ انسان جس نے اپنی فطرت کو معصیت کے زنگار سے آلودہ کیا ہو ، گناہ انجام دیتے ہوئے کسی قسم کی اظہار ناراضگی اور تکلیف محسوس نہیں کرتا ہے اور اسکی نظر میں گناہ اس مکھی کے مانند ہے جو اس کی ناک پر سے گزرتی ہے ( کافر سے مراد صرف وہ شخص نہیں ہے جو خداو ومعاد کا منکر ہو بلکہ جو ضروریات دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو وہ بھی کافر ہے )

آیات و روایات کے علاوہ یہ موضوع ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ برے عمل کی تکرار اس کی قباحت کو زائل کرتی ہے اور نتیجہ کے طور پر ، عملی صورت میں یہ برا کام لذت بخش لگتا ہے اور انسان اس کو انجام دینے میں شرمندگی کا احساس نہیں کرتا ہے ،گناہ کی بھی یہی حالت ہے اگر گناہ مسلسل اور مکرر انجام پاتا رہا ، اس کی قباحت زائل ہوجاتی ہے اس کی قباحت زائل ہونے کے نتیجہ میں انسان اس کے مرتکب ہونے میں شرمندگی کا احساس نہیں کرتا ہے ۔

یہاں پر ایک معیار کو پیش کیا جاسکتا ہے کہ اگر انسان یہ جاننا چاہے کہ وہ ایمان کی سرحد کے نزدیک ہے یا کفر کی سرحد کے نزدیک ہے تو اسے دیکھنا چاہیئے کہ گناہ کے مقابلے میں اس کا رد عمل کیسا ہے اگر وہ دیکھ لے کہ گناہ اس کیلئے اہم نہیں ہے اور اس کی طرف اعتنا نہیں کرتا ہے تو اسے جانناچاہیئے کہ کفر کی راہ پر گامزن ہے کیوںکہ گناہ سے پشیمانی، روح ایمان کی دلیل ہے اور اس سے بے اعتنائی روح کفر کی دلیل ہے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر غضب یا کوئی شہوت انسان پر غالب آئے اور وہ گناہ کا مرتکب ہوجائے فوراً پشیمان ہوتا ہے اور اپنے کئے ہوئے پر خوف و وحشت کااحساس کرتا ہے اگر ہم میں ایسی حالت نہیں ہے تو ہمیں اپنے انجام سے ڈرنا چاہیئے کہ ہم خطرناک راستے پر گامزن ہیں ۔

گناہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اسے سنگین

سمجھنا ، خدا کے لطف و عنایات کا نتیجہ ہے

''یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ ﷲتَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ اِذَا اَرَادَ بِعَبْدٍ خَیْراً جَعَلَ الذُّنُوبَ بَیْنَ عَیْنَیهِ مُمثَّلَة وَ الْاِثْمَ عَلَیْهِ ثَقِیلاً ، وَ اِذاَ اَرَادَ بِعَبْدٍ شَرّاً اَنْسَاهُ ذُنوبَهُ''

اے ابوذر ! اگر خدائے تبارک و تعالی کسی بندے کی خیر چاہتا ہے تو اس کے اعمال کو اس کے سامنے مجسم کرتا ہے اور گناہ کو اس پر سنگین اور دشوار بنادیتا ہے اگر کسی بندہ کی بدی و بدبختی چاہتا ہے تو اس کے گناہوں کو اس کے ذہن سے فراموش کردیتا ہے ''

خداوند عالم اپنے تمام بندوں کے ساتھ مہربانی اور محبت کرتا ہے اگر کسی کی محبت نہ کرتا تو اسے خلق نہیں کرتا لیکن خدا وند اپنے اولیا کے بارے میں خصوصی محبت و مہربانی کرتا ہے اگر یہ لوگ غفلت کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوجائیں ان کی تنبیہ اور بیداری کیلئے گناہ کو ان کی نظروں کے سامنے مجسم کرتا ہے کیونکہ آلودگی میں پھنسنے اور گناہوں میں غرق ہونے کا پہلا مرحلہ گنا ہ اور اس کے انجام کو فراموش کرنا ہے اس کے پیش نظر کہ خداوند عالم اپنے بعض بندوں کی نسبت عنایت کی نظر رکھتا ہے اس لئے انہیں اپنے حال پر نہیں چھوڑتا ہے اس کے برخلاف بعض افراد خدا کی اس عنایت سے بے بہرہ ہیں اور خدا نے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے ہر ایک انسان اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ کیا وہ خدا کے لطف و عنایت کا مستحق قرار پایا ہے کہ نہیں ، اگر اس نے اپنے پچھلے گناہوں کو فراموش نہیں کیا ہے اور گنا ہ اس کیلئے سنگین و سخت ہے تو اسیجاننا چاہیئے کہ و ہ خدائے تعالی کے لطف و عنایت کا مستحققرار پایا ہے لیکن اگر اپنے گناہوں کو فراموش کر دیا ہے اور انہیں ہلکا سمجھتا ہے تو جاننا چاہیئے کہ خدا کی مہربانی و عنایت اس کے ساتھ نہیں ہے ۔

واضح ہے کہ گناہوں کو یاد رکھنا اس وقت فائدہ مند ہے جب یہ گناہ کو جاری رکھنے میں رکاوٹ بنے ورنہ اگر کوئی اپنے گناہوںکا تصور کرتے ہوئے انہیں اپنے کندھوں پر سنگین بوجھ نہ سمجھے تو اسے گناہ کے مرتکب ہونے کا کوئی خوف نہیں ہے ۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام دعائے ابو حمزہ ثمالی میں فرماتے ہیں :

''وَ اَنَا الَّذِی اَمْهَلْتَنِی فَمَا اَرْعَوَیْتُ و سترت عَلَیَّ فَمَا اَسْتَحْیَیْتُ وَ عَمِلْتُ بِالْمَعَاصِی فَتَعَدَّیْتُ و َ اَسْقَطتنِی مِنْ عَیْنِکَ فَمَا بٰالَیْتُ ....''

''میں وہ ہوں کہ جسے تو نے گناہ کو ترک کرنے اور توبہ کرنے کی مہلت د ی لیکن میں نے گناہ سے اجتناب نہیں کیا تو نے میرے گناہوں کی پردہ پوشی کی ، میں نے شرم و حیا نہ کرتے ہوئے پھر سے گناہ انجام دئے اور حدسے گزر گیا یہاں تک تو نے مجھے نظر انداز کیا ''

پس ، اگراللہ تعالیٰ کسی کی نیکی چاہتا ہے تو ہر وقت اس کے گناہوں کو اس کے سامنے مجسم کرتا ہے یہاں تک وہ اپنے گناہوں کو اپنے اوپر ایک سنگین بوجھ محسوس کرے، اس کے بر عکس اگر اللہ تعالی کسی پر عنایت نہیں کرتا ہے اور اس کی بدی کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور اسکے بعد اس کیلئے گناہ ہلکے ہوجاتے ہیں اور وہ انہیں اہمیت نہیں دیتا ہے ۔

البتہ شروع میں اللہ تعالی کسی کو اپنی عنایت سے محروم نہیں کرتا ہے اور اس کی بدی نہیں چاہتا ہے لیکن جب انسان برے کام انجام دینے لگتا ہے اور ان پر اصرار کرتا ہے تو اس وقت خدا وند عالم اسے اس قسم کے انجام سے دوچار کرتا ہے

وہ انسان خدا کے نزدیک عزیز ہوتا ہے جو اس کی بندگی اور اس کے تقرب کوحاصل کرناچاہتا ہے اور خد اکے نزدیک وہ انسان پست و منفور ہے جو خداوند عالم سے دور ہوچکا ہے اور اسے فراموش کردیا ہے تو خداوند عالم بھی اسے اس کے حال پر چھوڑتا ہے :

( وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُواﷲ فَاَنْسٰهُم اَنْفُسَهُمْ ) (حشر ١٩)

اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا ، جنہوں نے خدا کو بھلادیا ہے تو خدا نے بھی خود ان کو بھی بھلادیا ''

گناہ کو حقیر سمجھنے کے بجائے اس کی عظمت کی طرف توجہ

کرنے کی ضرورت کہ جس کی نافرمانی کی جارہی ہے

'' یَا اَبَاذَر ! لَاتنْظُرُ اِلٰی صِغْرِ الْخَطِیْئَةِ وَ لٰکِنْ انْظُر اِلٰی مَنْ عَصَیْتَ''

اے ابوذر !گناہ کے چھوٹے ہونے پر نگاہ نہ کرو بلکہ نافرمانی کی جانے والے کی عظمت پر توجہ کرو۔

گناہوں کو تین زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے :

١۔ چھوٹے ا ور بڑے ہونے کے زاویہ سے گناہ کودیکھنا ۔

٢۔ فاعل اور گناہ کو انجام دینے والے کے رخ سے دیکھنا ۔

٣۔ نافرمانی ہونے والے کے لحاظ سے گناہ کی طرف نگاہ کرنا ۔

کتاب و سنت میں گناہوں کو دو حصوں ''کبیرہ و صغیرہ '' میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کیلئے الگ الگ حکم اور عذاب مخصوص ہیں قرآن مجید فرماتا ہے ؛

جب بعض لوگوں کے ہاتھ میں ا ن کے اعمال نامے دیئے جائیں گے وہ کہیں گے :

( . یَا وَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَ لَا کَبِیرَةً اِلَّا اَحْصٰهَا ) (کہف ٤٩)

ہائے افسوس اس کتاب نے تو چھوٹابڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کیا ہے ۔

شاید ان دو قسموں میں بنیادی فرق یہ ہو کہ گناہان کبیرہ کے بارے میں عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے اور گناہان صغیرہ کے بارے میں عذاب کا وعدہ نہیں دیا گیا ہے اسی طرح چھوٹے گناہوں کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے اس کے بر عکس بڑے گناہوں میں ایک خاص تعداد کے بارے میں ا یک مشخص حد بیان کی گئی ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ممکن ہے کوئی شخص کسی ایسیگناہ کو انجام دے جو اس کی نظر میں گناہ صغیرہ اور قابل بخشش ہے لیکن اس امر سے وہ غفلت کرتا ہے کہگناہ صغیرہ کی تکرار اور اسے چھوٹا سمجھنا ہی بذات خود گناہ کبیرہ ہے اور اس کا پیہم اصرار انسا ن کو گناہ کرنے میں گستاخ بنادیتا ہے د وسرے یہ کہ : وہ بھول جاتا ہے کسی کے حق میں گستاخی کی ہے اور کسی کی نہی کی نافرمانی کی گئی ہے ۔

روایت کا یہ حصہ دوسرے مطلب کو مد نظر رکھتا ہے کہ صرف گناہ کے چھوٹے ہونے کو ملحوظ نہ رکھو بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ کرو کہ کسی کی بارگاہ میں اور کسی کی نافرمانی کے مرتکب ہور ہے ہو کبھی کوئی امر ، بذات خود چھوٹا ہو لیکن اس لحاظ سے بڑا ہے کہ ایک بڑی شخصیت سے مربوط ہے ۔

فرض کیجئے آپ امام معصوم کے حضور میں ہیں اور امام معصوم آپ کو ایک حکم دے اگر چہ وہ حکم چھوٹا ہی کیوں نہ ہو مثلا ً حکم دے کہ آپ ان کے لئے پانی کا ایک گلاس لائیں لیکن آپ تصور کیجئے کہ یہ امر بہت چھوٹا ہے اور اس وجہ سے اس کی نافرمانی کریں ۔ کیا اس نافرمانی کو اچھا کہا جائے گا ؟ کیا یہ تصور عاقلانہ ہے ؟ کیا ادب کا تقاضا یہی ہے ؟ کیا اس امر کو چھوٹا سمجھنا صحیح ہے ؟ ہرگز ایسا نہیں ہے کیونکہ اس امر کے چھوٹے ہونے کے باوجود امر کرنے والا بہت بڑا ہے ،اور چھوٹا حکم ،حکم کرنے والے کے لحاظ سے بڑا ہوجاتا ہے، اب اسی حال کو اللہ تعالی کے بارے میں تصور کیجئے جبکہ خدا کی نافرمانی امام معصوم کی نافرمانی سے قابل موازنہ نہیں ہے لہذا نافرمانی کی قباحت کا امر و نہی کرنے والے کی عظمت سے موازنہ کرنا چاہیئے

گناہ کے بارے میں اس قسم کا تصور ، انسان کیلئے شیطان کی مخالفت کرنے میں قوی محرک بن سکتا ہے اور نفس امارہ کے ہر بہانہ کو سلب کرسکتا ہے ممکن ہے ایک وقت کسی سے اس کا ایک دوست درخواست کرے اور وہ اسے قبول نہ کرتے ہوئے کہے کہ تجھے میرے لئے حکم دینے کا حق نہیں ہے لیکن کبھی باپ ، ماں یا استاد انسان کوحکم دیتے ہیں ان کی مخالفت اور نافرمانی انتہائی بری بات ہے اسی طرح بعض اوقات کوئی حکم ایک مرجع تقلید کی طرف سے ، کبھی امام معصوم اور کبھی خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس صورت میں امر و نہی کرنے والے کا مقام جتنا بلند اور عظیم ہو اس کے فرمان کی نافرمانی بر تری اور اور اس کی سزا شدید تر ہوتی ہے ۔

جب شیطان وسوسہ ڈالتا ہے : نامحرم پر ایک نظر ڈالناکوئی خاص مسئلہ نہیں ہے ، حرام موسیقی پر ایک منٹ کیلئے کان لگانا کوئی چیز نہیں ہے ایسے موقع پر اس امر کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ تم کس کی نافرمانی کررہے ہو ! یہاں پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوذر سے فرماتے ہیں : گناہ کے چھوٹے ہونے پر نگاہ نہ کرو، بلکہ یہ دیکھو کہ تم کس کی نافرمانی کررہے ہو ۔

'' یَا اَبَاذَر ! اِنَّ نَفْسَ الْمُؤمِنُ اَشَّدُ ارْتِکَاضاً مِنَ الخطِیَٔةِ مِنَ الْعُصْفُورِ ،حِیْنَ یُقْذَفُ بِهِ فِی شَرَکِهِ''

اے ابوذر! ایک با ایمان انسان کی اپنے گناہ کے بارے میں بے چینی اور اضطراب اس چڑیا کی بے چینی اور خوف سے زیادہ ہے جو پھندے میں پھنس جاتی ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہاں پر گناہ کے بارے میں مومن کے رد عمل کے بارے میں ا یک اور واضح مثال بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک پرندے کو پھنسا نے کیلئے پھندے کو پھیلایا جائے اور یہ اڑنے والا پرندہ اس میں پھنس جائے تو یہ پرندہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انتہائی بیقراری اور اضطراب کی حالت میں اس پھندے سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کیلئے جستجو اور کوشش کرتا ہے اور کبھی اس کی یہی سخت جستجو اسکے موت کا سبب بنتی ہے اس کا یہ انجام اس کے پھندے میں پھنسنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی اورپریشانی کی وجہ سے ہوتا ہے گناہ کے مقابلے میں مومن کا رد عمل بھی ایساہی ہوتا ہے جب وہ احساس کرتا ہے کہ وہ شیطان کے جال میں پھنس گیا ہے تو اس کے تمام وجود پر بے چینی اور اضطراب کا عالم چھا جاتا ہے حتی اسکی یہ بے قراری اور بے چینی اس کے کھانے پینے اور نیند کو بھی حرام کردیتی ہے اور وہ شیطان کے اس پھندے سے آزاد ہونے کیلئے مسلسل جستجو و تلاش کرتا ہے ۔

ہم معصوم نہیں ہیں اور ہمیشہ سہو وخطا سے دوچار ہوسکتے ہیں یہ بھی توقع نہیں کہ ہم سے خطا سرزد نہ ہو ممکن ہے کبھی شیطان کے جال میں پھنس جائیں ( لیکن معصوم نہ ہونے کا معنی یہ نہیں ہے گناہ انجام دیا جانا چاہیئے کیونکہ ممکن ہے غیر معصوم انسان بھی گناہ نہ کرے اور ان کا معصوم سے یہی فرق ہے معصوم میں ایک ایسا ملکہ ہوتاہے جو اسے گناہ انجام دینے سے روکتا ہے عام انسان بھی عصمت کا ملکہ نہ رکھنے کے باوجود گناہ سے آلودہ نہیں ہوسکتا ( بہر صورت اگر ہم کسی گناہ میں مبتلا ہوجائیں تو ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں مسلسل فکر مندرہنا چاہیئے اور جستجو کرنی چاہئے کہ توبہ ، استغفار ، گریہ وزاری سے اس کے برے نتائج سے اپنے آپ کو نجات دلائیں )۔

____________________

١۔ مفاتیح الجنان ، طبع چہارم دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ص ١١٠٦۔

۲۔بحار الانوار ،ج٢ص١١١،روایت ٢٥

۳۔بحار الانوار ،ج١ص٢٠٨

۴۔کافی ،ج١،ص٤٦


آٹھواں سبق

قول و فعل میں یکسانیت اورزبان پر کنٹرول

* قول و فعل میں ہم آہنگی اور عدم ہم آہنگی کا نتیجہ

* رزق سے محروم ہونے کے سلسلہ میں گناہ کا رول

*گناہ علت و عوامل کی ایک کڑی

* زبان پر کنٹرول اور بیہودہ کاموں سے اجتناب

قول و فعل میں یکسانیت اور زبان پر کنٹرول

'' یَا اَبَاذَر ! مَنْ وَافَقَ قَولَهُ فِعْلَه فَذٰلِکَ الَّذی َصَابَ حَظَّه وَمَنْ خَالَفَ قَوْلَهُ فِعْلَهُ فَاِنَّمَا یُوَبِّخْ نَفْسَهُ یا اباذر ان الرجل لیحرم رزقه بالذنب یصیبه''

'' یَا َبَاذَرٍ ! دَعْ مَالَسْتَ مِنْهُ فِیْ شیٍٔ وَلَا تَنْطِقْ فِیْمَا لَا یَعْنِیْکَ وَ اخْزَنْ لِسَانَکَ کَمَا تَخْزَنُ وَ رِقَکَ ''

قول و فعل میں ہم آہنگی اور عدم ہم آہنگی کا نتیجہ :

یَا اَبَاذَر ! مَنْ وَافَقَ قَولَهُ فِعْلَه فَذٰلِکَ الَّذی َصَابَ حَظَّه وَمَنْ خَالَفَ قَوْلَهُ فِعْلَهُ فَاِنَّمَا یُوَبِخْ نَفْسَهُ''

اے ابو ذر ! جس کا قول اس کے فعل کے مطابق ہو ، اس نے سعادت کی شکل میں اس کا پھل پالیا ہے اور جس کے قول و فعل میں ہم آہنگی نہ ہو وہ جزا پاتے وقت اپنی سرزنش کرے گا ''

اکثر لوگ بات کرتے وقت اچھے اور نیک کام کا حوالہ دیتے ہیں، اس کی انجام دہی پر تاکید کرتے ہیں اس کی اہمیت ، قدرومنزلت اور انسانی کمال میں مومن ہونے کا ذکر کرتے ہیں لیکن عمل کے موقع پر ، ان کے قول و فعل میں ہم آہنگی نہیں ہوتی ہے ایسے بہت کم لوگ ہیں جن کے قول و فعل میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔

اگر قول و فعل کی ہم آہنگی کو ایمان کے درجات سے وابستہ جان لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو ایمان کے لحاظ سے جتنا کامل ہے وہ گفتار میں اتنا ہی صادق ہے اور ان کے قول و فعل میں زیادہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے حقیقت میں ان کی رفتار ان کے گفتار کی تصدیق کرتی ہے ۔

آیۂ مبارکہ( اُولٰئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَ اُولٰئِکَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ) (بقرہ ١٧٧) کی تفسیر میں مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں : '' صداقت '' ایک ایسی صفت ہے جس میں علم و عمل میں موجود تمام فضیلتیں پائی جاتی ہیں کیونکہ صدق اخلاق کی وہ صفت ہے جس میں تمام اخلاقی فضائل ، جیسے : عفت ، شجاعت ، حکمت ، عدالتکی شمولیت ہے ، انسان کو اس کے اعتقاد اورقول و فعل سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے انسان کے صادق ہونے کا مفہوم و معنی یہ ہے کہ اس کا عقیدہ ، قول و فعل ایک دوسرے کے مطابق ہوں ، یعنی جس چیز کا عقیدہ رکھتا ہے اور کہتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے ۔

انسان کی فطرت کا ، حق کو قبول کرنے اور اسکے سامنے باطنی طور پر تسلیم ہونے کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے خواہ وہ اس کے برخلاف بھی اظہار کرے پس اگر انسان نے حق کا اعتراف کرلیا اور اس اعتراف میں وہ سچا تھااور جو کچھ وہ اس کے بارے میں اعتقاد رکھتا تھا وہی کہتا تھا اور جو کچھ کہتا تھا اسی پر عمل کرتا تھا تو ایسی صورت میں اس کا ایمان خالص ہو گیا ہے اور اس کا اخلاق و عمل صالح آخری مرحلہ پر پہنچتے ہیں۔

وہ فرماتے تھے : یہ جو اللہ تعالی بعض لوگوں کو '' صدیق '' جو صیغۂ مبالغہ کہتا ہے اس لحاظ سے ہے کہ صدیقین کی رفتار ، ان کی گفتار کی تصدیق کرنے والی ہے جس کی گفتار اس کے اعتقاد کے ساتھ ہم آہنگ ہو وہ بھی صادق ہے لیکن صدیق کا مقام بلند تر ہے کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہ صرف اس کا قول اس کے اعتقاد کے مطابق ہے بلکہ اس کے عمل کے موافق بھی ہے وہ بھی تمام مواقع پر ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم فرماتے ہیں: جس کا قول اس کے فعل کے ساتھ ہم آہنگ ہو ، وہ سعادت حاصل کرتا ہے اس قسم کا انسان اگر کوشش کرے کہ اس کا قول و فعل اور اعتقاد ہمیشہ ہم آہنگ ہوں تو وہ صدیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اس کے بر عکس جو انسان اپنے قول پر عمل نہیں کرتا ہے وہ منافق اور جھوٹا ہے جیساکہ قرآن مجیدمنافقین کے بارے میں کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی زبانی گواہی دیتے اور دل میں اس کا اعتقاد نہیں رکھتے ہیں کو کاذب اور جھوٹاقرار دیتا ہے فرماتا ہے:

( اِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ اِنَّکَ لَرَسُولُ ﷲ وَ ﷲ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُولُهُ وَﷲ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَکَاذِبُونَ ) ( منافقون ١)

پیغمبر ! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں توکہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷲ کے رسول ہیں اور ﷲ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن ﷲ گواہی دیتا ہے یہ منافقین اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں ''

منافقین کی باتوں کے جھوٹ ہونے کی دلیل یہ ہے :

( یَقُولُونَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوبِهِمْ وَ ﷲ َعْلَمُ بِمَا یَکتُمُونَ ) (آل عمران ١٦٧)

زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتا اور اللہ ان کے پوشیدہ امور سے باخبر ہے ''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: جو اپنے کہنے پر عمل نہیں کرتا اسے اپنے آپ کی ملامت کرنی چاہیئے کیونکہ اس کی بات اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے حق اور اپنے فریضہ کو پہچانا ہے نتیجہ کے طورپر اس پر حجت تمام ہوئی ہے، فطری بات ہے کہ ایسا شخص جس نے حقیقت کو پہچانا ہے حتی دوسرو ںکو بھی اسکی سفارش کرتا ہے لیکن خود اس پر عمل کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اسے صرف اپنے آپ کی ملامت کرنی چاہیئے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث دوسروں سے زیادہ مقررین اور واعظین سے مخاطب ہے کہ انہیں اپنی باتوں پر پابند رہنا چاہیئے اور ان کا عمل ان کے قول اور اعتقاد کا انعکاس ہونا چاہیئے۔

خداوند عالم قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی ملامت و سرزنش کرتا ہے اور فرماتا ہے:

( تَامُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَونَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ اَفَلَا تَعقِلُونَ ) (بقرہ ٤٤)

کیا تم ، لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کوبھولے ہوئے ہو جب کہ کتاب خدا کی تلاوت بھی کرتے ہو ، کیا تمہارے پاس عقل نہیں ہے ؟

( '' بھول جانا '' یاد نہ آنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس معنی میں ہے کہ اپنے قول پر عمل نہیں کرتے ہیں کیونکہ ممکن ہے اپنی بات انسان کو یاد ہو لیکن اس پر عمل نہ کرے )

جب انسان ہمدردی کے ساتھ دوسروں کو نصیحت کرتا ہے کہ یہ کام انجام دو اور وہ کام انجام نہ دے تو خود کو کیسے بھول جاتا ہے ! کیا وہ اپنی نسبت دوسروں کیلئے زیادہ ہمدرد ہے ؟ کیا وہ اپنی نسبت دوسروں کو زیادہ دوست رکھتا ہے ؟ ایسی چیز نا قابل یقین ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''ﷲ ﷲ فِیْ َعَزَّ الْاَنْفُسِ عَلَیْکُمْ وَ اَجَبَّهَا اِلَیکُمْ ''(۱)

خدا سے ڈرو ، خدا سے خوف کھاؤ! اپنے عزیز ترین اور محبوب ترین اشخاص کے بارے میں ''

حضرت کی مراد یہاں پر یہ ہے کہ تم لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ دوست رکھتے ہو اوراگر دوسروں سے محبت کرتے ہو ، تو وہ اس لئے ہے کہ وہ تمہاری کوئی خدمت کرتے ہیں تمہارے لئے لذت ، رفاہ اور سعادت کا وسیلہ فراہم کرتے ہیں اور تم ان کے ساتھ مصاحبت ، گفتگو اورنشست و برخاست میں لذت کا احساس کرتے ہو ، لہذا اصل خود تمہاتی ذات ہت اور تم اپنے لئے دوسروں کو چاہتے ہو اب کس طرح ہمدردی کے ساتھ دوسروں کی نصیحت کرتے ہو ،لیکن خود کو بھول جاتے ہو اور اپنے حال پر ہمدردری نہیں دکھاتے اور جو کچھ کہتے ہو اس پر عمل نہیں کرتے ؟!

خداوند تعالی کا ارشاد ہے :

( یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفعَلُونَ کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ ﷲ اَنْ تَقُولُو مَا لَا تَفْعَلُونَ ) ( صف ٣۔٢)

ایمان والو ! آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ؟ ﷲ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ''

رزق سے محروم ہونے کے سلسلہ میں گناہ کا اثر :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رزق سے محروم ہونے میں گناہ کے رول کے بارے میں حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذر ! ان الرجل لیحرم رزقه بالذنب یصیبه ''

اے ابوذر ! انسان گناہ انجام دینے کی وجہ سے اس کے مقدر میں لکھی گئی روزی سے محروم ہوجاتا ہے ۔

یہ اس دنیا میں انسان کیلئے گناہ کے برے اثرات اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی محرومیتوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کا ایک اور بیان ہے ۔

روایتوں اور موعظوں سے مربوط معرفتوں کے فرق کے مطابق ہر انسان ایک خاص بیان میں گفتگو کرتا ہے اگر کوئی محبت کے مقام پر پہنچتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے تم کیسے عاشق ہو کہ اپنے معشوق کی مخالفت کرتے ہو ؟ عاشق ہمیشہ اس فکر و تلاش میں ہوتا ہے کہ اس کا معشوق اس سے کیا چاہتا ہے تاکہ اسے انجام دے او رکونسی چیز اسے بری لگتی ہے تا کہ اسے ترک کرے، یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کا معشوق اسے کھلم کھلا کہے کہ اس کام کو انجام دو اور اس کام کو ترک کرو ، اور وہ نافرمانی کرے ! جو لوگ خداوند عالم اور اولیائے خدا کی محبت سے مستفیض ہورہے ہیں ان کو گناہ سے روکنے کا یہ بہترین طریقہ ہے ۔

اہل بیت اطہار علیہم السلام سے محبت رکھنے والوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ گناہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کی ناراضگی کا سبب ہے نیز ان کے نزدیک قابل نفرت اور نا پسندیدہ امر ہے ،گناہ بدبودار مردار کے مانند ہے اور چشم بصیرت اور قوی باطنی حس رکھنے والا انسان اس کی بدبو کو دور سے محسوس کرتا ہے اب جبکہ ایک محب اہل بیت کہ جو ان کے تقرب کا خواہاں ہیں وہ کیسے اپنے آپ کو ایک ایسی چیز سے آلودہ کرے گا جس سے اہل بیت اطہار علیہم السلام کو نفرت ہو ؟

اگر کوئی شخص اپنے دوست کی ملاقات کیلئے جاناچاہتا ہو تو وہ پہلے اپنے منہ اور بدن سے بدبو دور کرتا ہے خود کو صاف وپاک او رمعطرکرتا ہے تا کہ اس کا دوست اس سے ناراض نہ ہو گناہ ہمارے وجود میں بدبو اور آلودگی پیدا کرنے کا سبب ہے اگر ہم اہل بیت اطہار علیہم السلام کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، تو ہمیں اپنی روح کو آلودگیوں سے پاک کرنا چاہیئے تا کہ وہ ہمارے ساتھ رابطہ برقرار کرنے پر رضامندی کا اظہار کریں پس خداوند عالم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام سے محبت رکھنے والوں کو گناہ سے پرہیز کرنے کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے بہترین راستہ یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام ان کی محبت کے جذبات کو بر انگیختہ کیا جائے ۔

بے شک واضح ہے کہ واجبات کو انجام دینے والے اور محرمات کو ترک کرنے والے اللہ تعالی کی اساسی محبت رکھتے ہیں لیکن معرفت کے درجات کے لحاظ سے ان کی محبتوں میں فرق ہے : بعض افراد میں یہ محبت شدید ہے بعض میں متوسط اور بعض میں ضعیف کبھی یہ محبت اس حد تک پہنچتی ہے کہ انسان معشوق سے وصال کی راہ میں تمام چیزوں حتی بہشت سے بھی چشم پوشی کرتا ہے یہاں تک کہ کہتا ہے :

''فَهَبْنِیْ یَا اِلٰهی وَ سَیِّدِی وَ مَولایَ وَرَبِّی صَبَرْتُ عَلٰی عَذَابِکَ فَکَیْفَ اَصْبِرُ عَلٰی فِرَاقِکَ '' ( دعای کمیل )

تجھے معلوم ہے اے میرے معبود اے میرے سردار ، اے میرے مولا اے میرے پروردگار میں عذاب پر تو صبر کرلوں گا لیکن تیری جدائی پر کیونکر صبر کروں گا

''مناجات خمسة عشر'' کی نویں مناجات میں ہم پڑھتے ہیں :

'' اِلٰهِی مَنْ ذَا الَّذِی ذَاقَ حَلاَوَةَ مَحَبَّتکَ فَرَامَ مِنْکَ بَدَلا''

اے میرے پروردگار ! کون ہے جو تیر ی محبت کا مزہ چکھ لے پھر کسی اور کا انتخاب کرے ؟

اگر کوئی محبت میں اس حد تک نہ پہنچا ہو کہ خداوند عالم اور معصومین علیہم السلام کا عشق اسے گناہوں سے روکے تو اسے گناہ کے عواقب اور انجام سے ڈرانا چاہیے اس کے سامنے عذاب جہنم سے دوچار ہونے ، سعادت و بہشت سے محروم ہونے اور گناہ کے دیگر دنیوی و اخروی برے اثرات کو پیش کرے ۔ جو چیز انسان کو کسی کام کو انجام دینے یا کسی کام کو ترک کرنے پر مجبور کرتی ہے وہ '' خوف و رجاء '' ہے یعنی یہ امید کہ اسے کوئی فائدہ پہونچے یا کسی نقصان سے نجات ملے ،پس انسان کی ہدایت کیلئے بہترین اور نزدیک ترین راستہ ، دنیا و آخرت میں گناہ کے برے اثرات کی طرف اس کی توجہ مبذول کرانا ہے ۔

اب اگر کسی کا ایمان آخرت کے بارے میں ضعیف ہو ، تو اسے گناہ سے بچانے کیلئے بہترین راہ یہ ہے کہ اسے گناہ کے دنیوی انجام سے آگاہ کیا جائے یہ وہی روش ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث کے اس حصہ میں اختیار کیا ہے ۔

چونکہ بعض لوگ آخرت کو دور دیکھتے ہیں جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے آخرت نزدیک اور دست رس میں ہے ،چنانچہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :

( اِنَّهُمْ یَرَونَهُ بَعِیداً و نَراهُ قَرِیباً ) ( معارج ٦۔ ٧)

''یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں ''

گناہ کے دنیوی نقصانات میں سے ایک رزق سے محروم ہونا ہے رزق کے مصادیق میں خوراک اور پوشاک بھی شامل ہے ۔

بہت سی روایتوں میں آیا ہے کہ خداوند عالم نے ہر جاندار کیلئے ایک رزق مقدر فرمایا ہے اور یہ تقدیر کبھی قطعی اور کبھی معلق ہے ،یعنی بعض اعمال کے اثر سے اس میں کمی و زیادتی واقع ہوتی ہے بعض نیک اعمال روزق کے زیادہ ہونے اور بعض برے اعمال ، رزق میں کمی ہونا کا سبب بنتے ہیں ۔

اگر ہم یہ جان لیں کہ جورزق ہمارے لئے مقررہوا ہے۔ کبھی سعی و کوشش کے ذریعہ ہاتھ آتا ہے اور کبھی بغیر زحمت و کوشش کے ملتا ہے ۔ گناہ کے سبب ہم سے چھین لیا جاتا ہے ، تو ہم گناہ کے پیچھے بہت کم جائیں گے۔

گناہ علت و عوامل کی ایک کڑی :

گناہ ضابطوں کو بدلتا ہے اور ظاہری اسباب کو بے اثر کرکے رکھتا ہے قرآن مجید ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ظاہری اسباب کے علاوہ اور بھی کچھ اسباب جن کا ان کے مسببات سے رابطہ ہمارے لئے محسوس نہیں ہے ۔ قرآن مجید فرماتا ہے :

( وَ مَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ ) ( شوریٰ ٣٠)

''اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہوئی ہے''

حقیقت میں جس کائنات میں '' علت و معلول '' کا نظام حاکم ہے اس میں کسی بھی مظہر کو بدون علت شمار نہیں کیا جاسکتا ہے اور دوسری طرف سے مصیبتوںکو خداوند عالم سے نسبت نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ محض خیر ہے پس یہ انسان ہے جو مصیبتوں کو خود مول لیتا ہے

خداوند عالم ایک اور جگہ فرماتا ہے :

( ... فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ اَمْرِهِ اَنْ تُصِیبَهُم فِتْنَة اَوْ یُصِیبَهُم عَذَاب اَلِیم ) ( نور ٦٣)

لہذا جو لوگ حکم خد کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس امر سے ڈریں کہ ان تک کوئی فتنہ پہنچے یا ان کے لئے کوئی درد ناک عذاب نازل ہو ،پس قرآن مجید کی آیتیں اس حقیقت کی دلیل ہیں کہ بہت سی مصیبت اور محرومیت گناہ کی پیدا وار ہیں ، چنانچہ نیک اعمال او ر تقویٰ برکتوں اور نعمتوں کے نازل ہونے کا سبب ہیں :

( وَ لَو اَنَّ اَهْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَ اتَّقَو لَفَتَحْنَا عَلَیهِمْ بَرَکاتٍ مِنَ السَّمَائِ وَ الاَرْضِ ) ( اعراف ٩٦)

اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان کیلئے زمین اور آسمان کے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ''

بعض مواقع پر گناہ اور اس سے وجود میں آئی ہوئی مصیبت کے درمیان رابطہ کم و پیش قابل درک ہوتا ہے ۔

جیسے بعض گناہوں کا انجام کچھ بیماریاں ہوتی ہیں ، لیکن یہ رابطہ تمام مواقع پر محسوس نہیںکیا جاتا ہے : کبھی گناہ کے ایسے اثرات بھی ہوتے ہیں جو انسان کیلئے قابل ادراک نہیں ہیں ؛ مثال کے طورپر ایک غذا تیار تھی او رکھانے کے موقع پر ایک ناپاک چیز اس میں گرگئی اور اسے ناقابل استعمال بنادیا ، ایک غذا آمادہ ہوتی ہے اچانک انسان اسکو کھانے سے محروم ہوجاتا ہے اس رزق کو کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ بھی وسعت دی جا سکتی ہے کیونکہ تمام نعمتیں رزق ہیں،گھر رزق ہے ، گاڑی رزق ہے ، اس کے علاوہ ہر وہ چیز جس سے انسان استفادہ کرتا ہے ، رزق ہے ، ان سے محروم ہونا، بہت سے مواقع پر گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے ہے ۔

رزق کو معنوی ارزاق تک وسعت دینی چاہیے کیونکہ جس قدر ہماری روح عروج کے منازل طے کرے ، وہ بھی رزق ہے ، علم و ایمان بھی رزق ہیں ، عبادت کی توفیق بھی رزق ہے ۔

بعض اوقات گناہ میں مبتلا ہونا اس امر کا سبب بنتا ہے کہ انسان عبادت کی انجام دہی سے محروم ہوجائے ایک روایت میں آیا ہے کہ ممکن ہے انسان گناہ کے سبب نمازشب پڑھنے سے محروم ہوجائے اگر چہ وہ سعی بھی کرتا ہے اور اپنے آپ کوآمادہ کرتا ہو کہ بروقت نیند سے اٹھ جائے لیکن یا نیند سے بیدار ہوتا ہے مگر سستی اور کاہلی اس کیلئے مانع ہو جا تی ہے یا بالکل نیند سے بیدار ہی نہیں ہوتا ہے پس عبادت سے سلب توفیق ہونا بھی گناہ کے انجام میں سے ایک ہے ۔

بہر حال گناہ کے برے نتائج کی طرف توجہ کرنا انسان کو گناہ سے روکنے کا سبب بن سکتا ہے یعنی انسان غور کرے کہ گناہ اس کی اقتصادی سعی و جستجو کو ناکام بناکر اسے اس کے رزق سے محروم کردیتا ہے ۔

محرومیوں اور مصیبتوں کا گناہ کے ساتھ ارتباط کے پیش نظر جب کبھی بعض بزرگوں کو کسی مصیبت کا سامنا ہوتا تھا تووہ غورو فکر کرتے تھے کہ کونسی خطا کے مرتکب ہوئے ہیں جو اس مصیبت کا سبب بنی ہے ،نقل کیا گیا ہے کہ ایک دن ایک معلم اخلاق ،تہران میں ایک سڑک کو عبور کررہے تھے ایک حیوان نے انھیں لات ماری ، وہ اسی جگہ پر بیٹھ گئے اور فکر کرنے لگے کہ میں نے کیا کیا ہے جس کی وجہ سے اس حیوان کی طرف سے اذیت و آزار کا سزاوار ہوا !

زبان پر کنٹرول اور بیہودہ کاموں سے اجتناب

''یَا َبَاذَرٍ ! دَعْ مَالَسْتَ مِنْهُ فِیْ شیٍٔ وَلَا تَنْطِقْ فِیْمَا لَا یَعْنِیْکَ وَ اخْزَنْ لِسَانَکَ کَمَا تَخْزَنُ وَ رِقَکَ ''(۲)

اے ابو ذر ! جس کام میں تمھارافائد نہ ہو اسے چھوڑ دو اور جس کلام میں تمھاراکوئی فائدہ نہ ہو اس کیلئے لب کشائی نہ کرو اور اپنی زبان کو زر و جواہر کے مانند کہ جس کی حفاظت کی تم کوشش کرتے ہو محفوظ رکھو ۔

حدیث کے اس حصہ میں جو مطلب بیان ہوا ہے وہ انسان کو گناہ سے دور رکھنے کیلئے گزشتہ بیانات کا تکملہ ہے جو اپنے آپ کوگناہوں سے بچانا چاہتا ہے اسے اپنے لئے ایک حد مقرر کرنی ہوگی چنانچہ کہا گیا ہے : '' وَ من حام حول الحمی اوشک ان یقی فیہ '' جو کسی چٹان کی چوٹی پر چل رہا ہو اسے ڈرنا چاہیے کہ کہیں نیچے نہ گرجائے ، جو گناہ سے بچنا چاہے اسے اس کے مقدمات سے دوری اختیار کرنی چاہیے اور بعض مباح کاموں کو ترک کرنا چاہیے تاکہ گناہ میں گرفتار نہ ہوجائے ۔

مثال کے طور پر اگر حرام نظر اور نا محرم پر نگاہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے بعض محارم پر نگاہ نہیں ڈالنی چاہیے ،اگر حرام موسیقی کو سننا نہیں چاہتا ہے تو اسے بعض جائز موسیقیوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے، اگر چاہتا ہو کہ جھوٹ اور غیبت کا مرتکب نہ ہو تو اسے ایسی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں جھوٹ اور غیبت کا احتمال ہے لیکن انسان کیلئے یہ مشکل ہے کہ ان تمام مباحات سے پرہیز کرے جو اسے گناہ میں مبتلا کرنے کا امکان فراہم کرتے ہیںخاص کر اس کیلئے زیادہ مشکل ہے جوابتدائی مرحلہ میں ہے ، لیکن جو لوگ تکامل نفس کے مراحل میں ہیں ، انہیں خواہ نخواہ اس مرحلہ کو طے کرنا چاہیے۔

پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے نصیحت کرتے ہیں کہ لغو اور بیہودہ کاموں سے اجتناب کرو، چنانچہ قرآن مجید فلاح و کامیابی کو لغو سے دوری اختیار کرنے میں مضمر جانتا ہے:

( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ هُمْ فِی صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ وَ الَّذِین هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ) (مومنون ١۔٣)

یقینا صاحبان ایمان کامیاب ہوگئے ، جو اپنی نمازوں میں گڑ گڑا نے والے ہیں اور لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں ''

جو انسان فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتا ہے ، اسے ایسے کام سے اجتناب کرنا چاہیے جو اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے جس بات میں فائدہ نہ ہو اسے زبان سے نہ کہے حتیٰ ، اگر چہ وہ مباح بھی ہو اور اپنی طاقت کو مفید اور ثمر بخش امور میں صرف کرے ۔

جناب ابوذر کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری سفارش یہ ہے کہ اس گفتگو سے اجتناب کرے جس میں اس کیلئے کوئی فائدہ نہ ہو ۔

انسان کو اپنی زبان کے بارے میں ہوشیا رہنا چاہیے ، حتیٰ مباح گفتگو کرنے سے بھی دوری اختیار کرے کیونکہ کبھی زبان سے ایک ایسا لفظ بھی نکل جاتا ہے جس کے دنیا اور آخرت میں برے نتائج نکلتے ہیں ۔ یہ جو روایتوں میں زیادہ سے زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ اپنی زبان کو کنٹرول کرے جو بات ضروری نہیں ہے یا تم سے مربوط نہیں ہے اسے زبان پر جاری نہ کرے ، یہ اس لئے ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی زبان پر کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے جھوٹ ، غیبت ،دوسروں کا مذاق اڑانے اور اسی طرح کی دوسری آفتوں میں مبتلا ہوجاتاہے اسی لئے بعض بزرگان حتی الامکان کوشش کرتے تھے کہ خاموش رہیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : جس طرح تم پیسوںا ور سونے کے سکوں کی حفاظت کرتے ہو، اسی طرح اپنی زبان کے تحفظ کی بھی کوشش کرو ، اپنے پیسوں کو تم کیسے محافظت کرتے ہو، انہیں صندوق میں تالا لگاکر بند کرتے ہو اورا سے ایک محفوظ جگہ پر رکھتے ہو ، اسی طرح اپنی زبان جو پیسے سے زیادہ قیمتی ہے کی بھی حفاظت کرو ، خداوند عالم نے تمھاری زبان کیلئے حفاظتی دیوار عطا کی ہے ، اس کیلئے دانت اور اس کے سامنے ہونٹ قرار دیئے تا کہ تم اپنی زبان کو ان دیواروں کے درمیان محفوظ رکھو ،پس انسان کو سعی و کوشش کرنی چاہیے تا کہ یہ زبان آزادنہ رہے حتی ایسی مباح گفتگو کرنے سے بھی پرہیز کرے کہ جس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو اگر تم نے اپنی طاقت کو بیہودہ طورپر خرچ کیا ہے تو ممکن ہے رفتہ رفتہ مشتبہ اور مکروہ اور آخر کا ر محرمات اور گناہان کبیر ہ میں مبتلاہوجاؤ : دوسروں کے بارے میں گفتگو کرنے اور اس کی غیبت کرنے میں کتنا فاصلہ ہے ؟ مباح گفتگو اور غیبت کے درمیان کہ جو ایسا گناہ کبیرہ ہے کہ اپنے محارم سے خانہ کعبہ میں ستر بار زنا کرنے سے بد تر ہے کوئی فاصلہ نہیںہے اور ہم اس فاصلہ کو رفتہ رفتہ ختم کررہے ہیں اور اس خطرنا ک گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، خطبہ ، ١٥٦ ، ص ٤٩٤۔

۲۔جو روپیہ یا پیسہ گزشتہ زمانے میں رائج تھا وہ سونے اور چاندی کا بنا ہوتا تھا ۔


نواں سبق

نما زکی و اہمیت اور اہل بہشت کے درجات میں فرق

* پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعض نصیحتوں کی تقسیم بندی

* عبادت گزاروں اور شب زندہ داروں کا مرتبہ

* بہشتی مقامات سے استفادہ کرنے کے لحاظ سے اہل بہشت کے درمیان فرق

* پیغمبر اسلام صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے ساتھشدید لگائو

* نماز، سعادت و خوش بختی کی کنجی

* عبادت کی شیرینی کا ادراک ، اس کے دوام کا راز

نماز کی منزلت و اہمیت اوراہل بہشت کے درجات میں فرق

'' یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ ﷲ جَلَّ ثنَاؤُهُ لَیُدْخِلُ قَوْماً الْجَنَّةَ فَیُعْطِیهِمْ حَتّٰی یَمِلُّوا وَ فَوْقَهُمْ قَوْمفِی الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی ، فَاِذَا نَظَرُوا اِلَیهِمْ عَرَفُوهُمْ فَیَقُولُونَ : رَبَّنَا اِخْوَانُنَا کُنَّا مَعَهُمْ فِی الدُّنْیَا فَبِمَ فَضَّلْتَهُُمْ عَلَیْنَا فَیُقَالُ: هَیْهَاتَ، هَیْهَاتَ اِنَّهُمْ کاَنُوا یَجُوعُونَ حِینَ تَشبَعُونَ وَ یَظْمَئُونَ حِینَ تَرْوُونَ وَ یَقُومُونَ حِینَ تَنَامُونَ وَ یَشْخَصُونَ حِینَ تَحْفَظُونَ''

''یَا َبَاذَرٍ! جَعَلَ ﷲ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قُرّةَ عَیْنِی فِی الصّلٰوةِ وَحَبَّبَ اِلَیَّ الصَّلٰوةَ کَمَا حَبَّبَ اِلَی الجَائِعِ الطَّعَامَ وَ اِلَی الظَّمانِ اَلْمَائَ وَ اِنَّ الْجَائِعَ اِذَا اَکَلَ شَبَعَ وَ اِنَّ الظَّمَانَ اِذَا شَرِبَ رَوِیَ وَ اَنَا لَا اَشْبَعُ مِنَ الصَّلٰوةِ''

''یَا اَبَاذرٍ! اَیُّمَا رَجُلٍ تَطَوَّعَ فِی یَومٍ وَ لَیْلَةٍ اثْنَتَیْ عَشَرَ رَکْعَةً سِوَی الْمَکْتُوبَةِ کَان لَهُ حَقّاً وَاجِباً بَیْت فِی الْجَنَّةِ''

''یَا َبَاذَرٍ ! مَا دُمْتُ فِی الصَّلٰوةِ فَاِنَّکَ تَقْرَعُ بَابَ المَلِکِ الْجَبَّارِ وَ مَنْ یَکْثِرْ قَرْعَ بَابَ الْمَلِکِ یُفْتَح لَهُ ''

''یَا َبَاذَرٍ! مَا مِنْ مَُؤْمِنٍِ یَقُومُ مُصَلِّیاً اِلَّا تَنَاثَرَ عَلَیهِ الْبِرُّ مَا بَیْنَهُ وَبَیْنَ الْعَرْشِ وَ وُکِّلَ بِهِ مَلَک یُنَادِی : یَابنَ آدَمَ لَوْ تَعْلَمُ مَالَکَ فِی الصَّلٰوةِ وَ مَنْ تُنَاجِی مٰا اَنْفَتلْتَ ''

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعض نصیحتوں کی تقسیم بندی:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جونصیحتیں اس سے پہلے بیان کی گئیں چند حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں :

پہلا حصہ:

انسان کو بیدار کرنے اور اس سے غفلت کو دور کرنے سے مربوط ہے ، کیونکہ وہ حیوانی طبیعت کے پیش نظر دنیوی سرگرمیوں کیلئے ، حیوانی غرائز و تمایلات سے سیر ہونے کیلئے بہت سے انگیزہ رکھتا ہے ، اس لئے مبدا و معاد کو فراموش کر دیتا ہے ۔

اگرچہ بعض انسان ابتدا ہی سے اپنی پیدائش کے ہدف و مقصد سے آگاہ ہیں ، لیکن عام لوگ اپنی پیدائش کے مقصد سے غافل ہیں ؛ وہ نہیں جانتے کہ کس لئے پیدا کئے گئے ہیں ، کہاں جارہے ہیں اور انھیں کیا کرنا چاہیے ، ا سلئے انہیں بیدار کرنے اور ان میں ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصیحتوں کا پہلا حصہ غفلت کو دور کرنے اور انسان کی توجہ اس کی ذمہ داریوں کی طرف مبذول کرانے سے مربوط ہے تا کہ وہ جان لے کہ اس کے پاس کون سا گراں قیمت سرمایہ ہے جس سے اسے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔

دوسرا حصہ :

انسان کا ہدف و مقصد اورایسے راستہ کے انتخاب کی ضرورت کے بعدکہ جو اس تک رہنمائی کرنے والا ہے علم و آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت کو بیان کیا جاتا ہے اس لحاظ سے دوسرے حصہ میں علم حاصل کرنے اور علما کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ اس حصہ میں بیان ہوا ہے کہ سب سے ضروری علم وہ علم ہے مقصد خلقت اور اس مقصد تک پہنچنے کے راستہ کی رہنمائی کرے اور اس علم سے مراد معارف الٰہی ہے

تیسرا حصہ :

اس حصہ میں علم ، فرائض اور تکالیف پر عمل کرنے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے اور اشارہ ہوا کہ عمل دو صورتوں میں محقق ہوتا ہے پہلی صورت مثبت سرگرمیاں ہیں، یعنی وہ امور جو ہمیں انجام دینا چاہیے ۔ دوسری صورت سلبی سرگرمیاںہیں ، یعنی وہ کام جو ہمیں انجام نہیں دینا چاہیے ، یعنی ( محرمات ) وہ کام جن سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ اس حصہ کا بنیادی نقطہ، گناہ کی اہمیت کو درک کرنے اور اس میں آلودہ ہونے کے اثرات سے مربوط ہے ، ان تین حصوں کے بعد چوتھا حصہ ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فرمودات اور مواعظ بیان کئے گئے ہیں۔

چوتھا حصہ :

انسان کو صرف واجبات انجام دینے اور گناہ کو ترک کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ تصور کرے کہ اس کے علاوہ اس کیلئے کوئی اور فریضہ نہیں ہے۔

اگرچہ اس مرحلہ تک پہنچنا انتہائی اہم ہے ، لیکن اس مقصد تک پہنچنے کیلئے ابتدائی اقدام ہیں ۔ واضح رہے کہ گناہ سے اجتناب کرنے اور واجبات کو انجام دینے یعنی پہلا قدم اٹھائے بغیر انسان بعد والا قدم نہیں اٹھا سکتا ہے لیکن یہ مرحلہ بقیہ مراحل کے مقابلہ میں درمیانی راستہ ہے جو طے ہو ا ہے اور ابھی انسان کیلئے در پیش طولانی راستہ ہے پس انسان کی بیشتر کوشش و جستجو کرنے کی حوصلہ افزائی کر نی چاہیے اور اس میں یہ محرک ایجاد کرنا چاہیے کہ صرف واجبات کوانجام دینے اور گناہوں کو ترک کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے ۔

عبادت گزاروں اور شب زندہ داروں کا مرتبہ

'' یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ ﷲ جَلَّ ثنَاؤُهُ لَیُدْخِلَ قَوْماً الْجَنَّةَ فَیُعْطِیهِمْ حَتّٰی یَمِلُّوا وَ فَوْقَهُمْ قَوْمفِی الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی ، فَاِذَا نَظَرُوا اِلَیهِمْ عَرَفُوهُمْ، فَیَقُولُونَ : رَبَّنَا اِخْوَانُنَا کُنَّا مَعَهُمْ فِی الدُّنْیَا فَبِمَ فَضَّلْتَهُُمْ عَلَیْنَا، فَیُقَال:هَیْهَاتَ ، هَیْهَاتَ اِنَّهُمْ کاَنُوا یَجُوعُونَ حِینَ تَشْبَعُونَ وَ یَظْمَئُونَ حِینَ تَرْ وُونَ وَ یَقُومُونَ حِینَ تَنَامُونَ وَ یَشْخَصُونَ حِینَ تَحْفَظُونَ''

اے ابوذر! خداوند متعال ایک جماعت کو بہشت میں داخل کرتا ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں عطا کرتا ہے کہ وہ تھک جاتے ہیں لیکن جب وہ بہشت کے بلند ترین درجات میں موجودہ دوسرے اہل بہشت کو دیکھتے ہیں تو انہیں پہچان کر کہتے ہیں : پروردگارا ! یہ تو ہمارے بھائی ہیں ہم دنیا میں ایک ساتھ زندگی گزاتے تھے ، ان کو کیوں ہم پر فضیلت عطا فرمائی ہے ؟

جواب میں کہا جاتا ہے : افسوس ! افسوس ! تم لوگ جب سیر تھے ، وہ فاقہ کشی کرتے تھے ، جب تم سیراب تھے وہ پیاسے ( روزہ سے ) تھے ، جب تم سورہے تھے وہ کھڑے ( نماز میں مشغول) تھے اور جب تم اپنے گھروں میں آرام کررہے تھے وہ خد اکیلئے باہر مصروف جہاد تھے ''

ان چند جملات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کا منظرپیش کر رہے ہیں ، یہ وہ مقام ہے جو انسان کو واجبات پر عمل اور محرمات کو ترک کرنے کی وجہ سے بہشت کی شکل میں حاصل ہوا ہے ۔ اس کیلئے مناسب نہیں ہے کہ اسے جہنم اور اس کے درجات کے بارے میں بتایاجائے ، کیونکہ وہ جہنم سے آزاد ہوا ہے اور بہشتی بن گیا ہے لیکن کم ہمت بہشتی جس نے بہشت کے ادنی درجات پر اکتفا کر لیا ہے اور یہ ہمت نہیں رکھتا تھاکہ ا س سے آگے بڑھ کر اس سے بالا تر مرتبہ پر فائز ہو جائے اب اس کیلئے یہ منظر پیش کیا جارہا ہے کہ اگرچہ تم نے واجبات کو انجام دے کر بہشت میں داخلہ لے لیا ہے لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو بہشت میں تجھ سے بلند تر مقام پر فائز ہیں لہذا تمہیں مزید کوشش کرنی چاہیے تا کہ ان کے مقام تک پہنچ جاؤ ۔

خداوند متعال بہت سے لوگوں کو بہشت میں داخل کرتا ہے اور انہیں بے شمار نعمتیں عطا کرتا ہے تا کہ ایک مدت تک ان نعمتوں سیلطف اندوز ہوتے ہیں ( آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعبیر ہے کہ اس قدر نعمتیں انہیں عطا کی جاتی ہیں کہ وہ تھک جاتے ہیں البتہ یہ تعبیر عرفی ہے ورنہ بہشت میں تھکنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا جیسے کہ خدائے متعال فرماتا ہے :

( لاَ یَمَسُّنَا فِیهَا نَصَب وَ لَا یَمَسُّنَا فِیهَا لُغُوب ) ( فاطر ٣٥)

بہشت میں نہہی تکان کا احساس ہوگا اور نہ ہی کوئی تکلیف ہم تک پہنچ سکے گی ''

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جس قدر وہ چاہیں نعمتیں انہیں دی جائیں گی ۔

یہ بہشتی اچانک مشاہد کرتے ہیں کہ ان کے دوست بلند تر ین مقامات پر فائز ہوئے ہیں اور تعجب سے عرض کرتے ہیں پروردگارا ! یہ ہمارے دوست تھے ، ہم دنیامیں ان کے ساتھ رہتے تھے ، ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر نما ز پڑھتے تھے اور ایک ہی مورچا میں رہ کر جہادکرتے تھے کیسے کیا ہوا کہ انہیں ہم پر فضیلت عطا کی اور انہیں عالی ترین مرتبہ سے سر فراز کیا ؟

انہیں جواب دیا جائے گا تم میں اور ان میں بہت فرق ہے ، جب تم سیر تھے ، وہ فاقہ کشی کرتے تھے ، جب تم سیراب تھے وہ پیاسے تھے اور مستحب روزے رکھتے تھے، جب تم نعمتوں اور حلال غذا سے استفاد کرنے میں مشغول تھے وہ روزہ رکھتے تھے اگرچہ تم گناہوں کے مرتکب نہیں ہوئے ہو لیکن وہ شدید گرمیوں میں نہ پیٹ بھر کر کھاناکھاتے تھے ،اور نہ ہی جی بھر کے پانی پیتے تھے ، تم لوگ اپنے واجبات پر اکتفا کرتے تھے اور اس کے بعد آرام کرتے تھے ، لیکن وہ نہیں سوتے تھے بلکہ عبادت الٰہی اور خدا سے راز و نیاز میں مشغول رہتے تھے ، قرآن مجید ان کے بارے میں فرماتا ہے :

( کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَهْجَعُونَ وَ بِالْاَسْحَارِهُمْ یَسْتَغْفِرُونَ )

( ذاریات ١٧ ۔ ١٨)

یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے اور سحر کے وقت ﷲ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے.

بہشتی مقامات سے استفادہ کرنے کے لحاظ سے

اہل بہشت کے درمیان فرق:

ان جملات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہشت کے مقامات کا ذکر فرمایا ہے ۔ بہت سی آیات و روایات میں وضاحت ہوئی ہے کہ چونکہ جہنم کے مختلف درجے ہیں ، لہذا بہشت کے بھی مختلف درجات اور مقامات ہیں اس کا سب سے ادنی درجہ ان لوگوں کیلئے مخصوص ہے جنہوں نے واجبات پر عمل کیا ہواور بہشت کا بلند ترین درجہ ' ' مقام رضوان '' ہے جو خداوند عالم کے خاص اولیا اور مخلصین کیلئے مخصوص ہے ۔

خداوند متعال فرماتا ہے :

( وَعَدَ ﷲ الْمُؤمِنِینَ وَ الْمُؤْ مِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا وَ مَسَٰکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ وَ رِضْوَان مِنَ ﷲ اَکْبَرُ ذٰلِکَ هُوَ الْفَوزُ الْعَظِیمُ ) ( توبہ ٧٢)

اللہ نے مؤمن مرد او رمؤمن عورتوں سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیںبہشت بریں میں پاکیزہ مکانات ہیں اور اللہ کی مرضی تو سب سے بڑی چیز ہے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے ''

جملۂ '' رضوان من اللّٰہ '' کے بارے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں :

'' رضایت و رضوان الٰہی بہشت کی تمام نعمتوں سے برتر ہیں ، اس لحاظ سے '' رضوان '' کو اسم نکرہ کے طور پر لایا گیا ہے کہ اس کیلئے کوئی حد قابل تصور نہیں ہے ، یا یہ کہ اگر خداکی رضایت کم بھی ہو تمام نعمتوں سے عظیم تر ہے ، نہ اس لئے کہ وہ نعمتیں خداوند متعال کی طرف سے عنایت ہوتی ہیں اگرچہ حقیقت یہی ہے بلکہ اس لئے کہ خدا کی بندگی اور عبودیت کی حقیقت ، جیسا کہ قرآن اس کی طرف دعوت دیتاہے کہ بندگی در حقیقت وہی ہے جو خدا کی محبت کی وجہ سے ہو نہ بہشت کی لالچ یا جہنم کے خوف سے، عاشق کی نظر میں بڑی سعادت و کامیابی معشوق کی رضایت حاصل کرنا ہے نہ یہ کہ اپنے آپ کو راضی کرنے کیلئے کوشش کرے۔(۱)

خدا کی محبت اور عشق کی بنا پر بندگی کرنا جیساکہ بعض روایتوں میں آیا ہے ،، بلند ترین بندگیوں میں سے ہے اور یہ بندگی آزاد اور صالح لوگوں کیلئے مخصوص ہے اس لحاظ سے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے بہشت کا بلند ترین مقام '' رضوان '' ہے جو آزادلوگ اور صالحین جو خد اکی مخلصانہ عبادت کرتے ہیں سے مخصوص ہے ۔

آخرت کے درجات اور مراتب کے بارے میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے :

( اُنْظُر کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُاُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَ لَلْآخِرَةُ اَکْبَرُ دَرَجَاتٍ وَ اَکْبَرُ تَفْضِیلاً ) ( اسراء ٢١)

''تم دیکھو کہ ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور آخرت کے درجاتنیز وہاں کی فضیلتیں تو اور زیادہ بزرگ و برتر ہیں''

یہ آیۂمبارکہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لوگوں کے مراتب و درجات میں فرق ان کی سعی و کوشش سے وابستہ ہے ایسا نہیں ہے کہ کسی کے اعمال کم ہیں اور کسی کے زیادہ تو دونوں کی حیئت یکساں ہو ، آخرت کے مدارج و مراتب کے اختلاف کے علاوہ اس کا موازنہ دنیا کے مراتب سے کسب فیض اور بہرہ مندی کے لحاظ سے ممکن نہیں ہے کیونکہ آخرت دنیا کی نسبت کئی گنا وسیع تر ہے ، اس حد تک کہ اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

دنیا میں فضیلت و برتری کی دلیل ، مال و دولت اور مقام و منزلت کے ذریعہ استفادہ کے سلسلہ میں تفاوت پر مبتنی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ محدود ہیں لیکن آخرت کی برتری اور ا س کے درجات میں اختلاف انسان کے اخلاص و ایمان پر مبنی ہے کہ یہ انسان کے قلبی حالات سے مربوط ہے اور کسی شک و شبہ کے بغیر یہ دنیوی اختلاف سے قابل موازنہ نہیں ہے ۔(۲)

جیسا کہ اشارہ کیا گیا ہے کہ حدیث کے اس حصہ میں انسان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ انسان کو فقط واجبات انجام دینے اور محرمات کو ترک کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے البتہ جو بہشت کے ادنی درجات پر ہی راضی ہو جانا ہے وہ اس مقدار پر اکتفا کرسکتا ہے لیکن جب وہ ایک دن اس چیز کا مشاہدہ کرے گاکہ اس کے دوست و احباب عالی ترین مراتب پر فائز ہیں تو وہ اس دن حسرت کرے گا اگر ہم بھی ان عالی تر ین مقامات تک پہنچنا چاہیں تو ہمیں اپنے آرام و آسائش کو چھوڑ کر بیشتر عبادت میں مشغول ہونا چاہیے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ضرورت کی حد تک آرام کرنا ایک مطلوب فعل ہے اوریہ کبھی واجب بھی ہوجاتا ہے ، ممکن ہے یہ آرام بذات خود واجب کیلئے مقدمہ قرار پائے ، مثال کے طور پر اگر انسان آرام نہ کرے ، تو نماز کی حالت میں تساہلی اور سستی پیدا ہوگی اور اس میں نشاط و تازگی نہیں رہے گی یا اگر استراحت نہ کرے ، تو درس کے وقت اچھی طرح اسے سمجھ نہیں سکے گا اصل بات یہ ہے کہ بے موقع اور حد سے زیادہ آرام اگر انسان کو جہنم لے جانے کا سبب بھی نہ بنے ، تب بھی یہ آرام انسان کو دوسروں سے پیچھے کر دیتا ہے ۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نماز کے ساتھ شدید لگاؤ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روایت کو جاری رکھتے ہوئے نماز کو بہترین اور شائستہ ترین عمل کے طور پر پہچنواتے ہیں اور انسان کو چاہئے کہ فراغت کے وقت اسے انجام دے :

'' یَا َبَاذَرٍ! جَعَلَ ﷲ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قُرّةَ عَیْنیِ فِی الصّلٰوةِ وَحَبَّبَ اِلَیَّ الصَّلوةَکَمَا حَبَّبَ اِلَی الجَائِعِ الطَّعَامَ وَ اِلَی الظَّمانِ اَلْمَائَ وَ اِنَّ الْجَائِعَ اِذَا اَکَلَ شَبَعَ وَ اِنَّ الظَّمٰانَ اِذَا شَرِبَ رَوِیَ وَ اَنَا لَا اَشْبَعُ مِنَ الصَّلٰوةِ ''

اے ابوذر ! خداوند متعال نے نما ز کو میری آنکھوں کی روشنی قرار دیا ہے اور اسے میرے لئے اس قدر عزیزقرار دیا ہے جیسے بھوکا کھانے کو اور پیاسا پانی کو دوست رکھتا ہے ، بھوکا جب کھانا کھاتا ہے تو سیر ہوتا ہے اور پیاسا پانی پی کر سیراب ہوتا ہے ، لیکن میں نماز سے ہرگز سیر نہیں ہوتا ہوں ''

جو انسان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا اسوہ قرار دیتا ہے اس کیلئے بہتر ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سیرو سلوک اور رفتار کے بارے میں غور کرے ، لہذا یہاں پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آپ کونمونۂعملکے طور پر تعارف کراتے ہیں اوریہ ان لوگوں کیلئے تربیت کا بہترین طریقہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق و دوست ہیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی راہ پر قدم رکھنا چاہتے ہیں ۔

ایک روایت میں آیا ہے:

'' اُحِبُّ مِنْ دُنْیَاکُمْ الطِّیبَ وَ النساء و قُرّة عَینِی فِی الصَّلٰوةِ ''

میں تمہاری دنیا میں خوشبو اور خواتین کو پسند کرتا ہوں لیکن میری آنکھوں کی روشنی نماز میں ہے''

یہ جو آنحضرت صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: '' نماز میری آنکھوں کی روشنی ہے '' ایک بہترین تعبیر ہے جو انسان کسی کو بہت زیادہ عزیزاور دوست رکھتااس کیلئے یہ تعبیراستعمال کرتا ہے اور کہتا ہے :'' فلاں میر ا نور چشم ہے ''

خداوند متعال قرآن مجید میں حضرت موسی کو ان کی والدہ ماجدہ کے لئے نور چشم قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے:

'' اے موسیٰ ! ہم نے تمھاری ماں کو وحی بھیجی کہ اپنے بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیں اس کے بعد دریا کی لہریں بچہ کو ساحل تک پہنچائیں تا کہ میرا اور اس کا دشمن بچہ کو دریا سے نکالے اور میں نے اپنے لطف و کرم سے تجھ میں ایک ایسی محبت ڈال دی ہے ( تا کہ تجھے دوست رکھیں ) تا کہ تمہیں ہماری نگرانی میں پالا جائے '' یہاں تک فرماتا ہے:

( اِذْ تَمْشِی اُخْتُکَ فَتَقُولُ هَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَکْفُلُهُ فَرََجَعنَاکَ اِلٰی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَلَا تَحْزَن ) ...) ( طہ ٣٨ ۔ ٤٠)

''اس وقت کو یاد کرو جب تمہاری بہن جارہی تھی کہ فرعون سے کہے کیا میں تجھے کسی ایسے کا پتہ بتاؤں جو اس کی کفالت کرسکے ، اس طرح ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف پلٹا دیا تا کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں ....''

ایران کی ایک مشہور شاعرہ محترمہ پروین اعتصامی نے اس داستان کو اشعار کی صورت میں بیان کیا ہے ، یہاں پر ہم چند اشعار درج کرتے ہیں:

مادر موسی چو موسی را بہ نیل

درفکند از گفتۂ ربِّ جلیل

خود زساحل کرد با حسرت نگاہ

گفت کہ ای فرزند خرد بے گناہ

گر فراموشت کند لطف خدای

چون رہی زین کشتی بی ناخدای

گر نیارد ایزد پاکت بیاد

آب، خاکت را دہد ناگہ بیاد

وحی آمد کہ این چہ فکر باطل است

رہرو، اینک اندر منزل است

پردۂ شک را بر انداز از میان

تاببینی سود کردی یا زیان

ما گرفتیم آنچہ را انداختی

دست حق را دیدی و نشناختی

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: نماز میری آنکھوں کی روشنائی کا سبب ہے چونکہ ہم اس مطلب کو در ک نہیں کرسکتے ا س لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس مطلب کے دلچسپ بیان میں وضاحت فرماتے ہیں تا کہ ہمارے لئے قابل فہم ہو ،ہمیں کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کچھ مدت تک کھانا کھانا ترک کردیں تو سخت بھوک کی وجہ سے ہماری حالات متغیر ہو جائے گیء اور ایسی حالت میں سب سے سب سے مطلوب ترین چیز ہمارے لئے غذا ہوتی ہے اسی طرح جب ہمیں پیاس لگتی ہے تو ہمیں پانی کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے اور کسی چیز کو بھی سرد پانی کا بدل قرار نہیں دے سکتے ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : '' نماز کے ساتھ میرے عشق کی مثال اس بھوکے اور پیاسے انسان کے جیسی ہے جسے غذا اور پانی کی تڑپ ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ بھوکا انسان کھانا کھانے کے بعد سیر ہوتا ہے اور پیاسا انسان پانی پینے کے بعد سیراب ہوجاتا ہے لیکن میں کبھی نماز سے سیر نہیں ہوتا ہوں ''

ان بیانات کی روشنی میں نماز کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے اگر انسان کو واجبات کے انجام دینے کے بعد فرصت مل جائے تو امور مستحبی میں سے سب سے زیادہ شائستہ و سزاوار یہ ہے نماز مستحب بجا لائے ، کیونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت بھی یہی تھی ہم اس کی وضاحت میں چند روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

حضرت علی علیہ السلام کو اگر کبھی کوئی مشکل پیش آتی تھی تو آپ نما ز کیلئے اٹھتے تھے اور فرماتے تھے :

( وَ اسْتَعِینوا بالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوة ) ( بقرہ ٤٥)

''صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو ''(۳)

حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' مَا اُصِیبَ اَمیرَ المُؤْمِنِینَ بِمُصِیبَةٍ اِلَّا صَلّٰی فِی ذَالِکَ الْیَومِ اَلْفَ رَکْعَةٍ وَ تَصَدَّقَ عَلٰی سِتِینَ مِسْکِیناًوَ صَامَ ثَلَاثَةَ اَیَّامٍ '' (۴)

امیر المؤمنین علیہ السلام جب کبھی کسی مصیبت سے دوچار ہوتے تھے تو آپ اس دن ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے ، ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور تین دن روزہ رکھتے تھے ''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو بجالانے کے بارے میں توجہ او راستمرار کے سلسلہ میں بحار الانوار میں آیا ہے :

''وَلَقَدْ قَامَ عَلَیهِ وَ آلِهِ السَّلَامُ عَشْرَسِنِینَ عَلٰی َطْرَافِ اَصَابِعِهِ حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ وَ اصْفَرَ وَجهُهُ.... ''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس سال تک نماز کیلئے اتنا قیام کرتے رہے کہ آپ کے پائے مبارک سوج گئے اور چہرۂ مبارک زرد ہوگیا ۔(۵)

''یَا اَبَاذرٍ! اَیُّمَا رَجُلٍ تَطَوَّعَ فِی یَومٍ وَ لَیْلَةٍ اثْنَتَیْ عَشَرَ رَکْعَةً سِوَی الْمَکْتُوبَةِ کَان لَهُ حَقّاً وَاجِباً بَیْت فِی الْجَنَّةِ''

'' اے ابوذر ! جو بھی شخص ایک دن و رات کے دوران اپنی واجب نمازوں کے علاوہ بارہ رکعت نماز بجالائے ، تو خدائے متعال پر یہ حق ہے کہ اس کیلئے بہشت میں ایک گھرعطا کرے ''۔

نماز ، سعادت اور خوش بختی کی کنجی:

''یَا َبَاذَرٍ ! مَا دُمْتَ فِی الصَّلٰوةِ فَاِنَّکَ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ وَ مَنْ یَکْثِرْ قَرْعَ بَابَ الْمَلِکِ یُفْتَح لَهُ ''

اے ابوذر ! جب تک نماز کے لئے تم خدائے متعال کے دروازے پر دستک دو گے اور جو زیادہ سے زیادہ خداکے گھر پر دستک دے گا ، اس کیلئے اس کا دروازہ کھل جاتا ہے ''

یہ انسان کو نماز کیلئے تشویق اور حوصلہ افزائی کرنے کا ایک اور تذکرہ ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: جو نماز پڑھتا ہے ، حقیقت میں وہ خداکے گھر کے دروازے پر دستک دیتا ہے ، اور جسے خداسے کام ہے، اسے اس کے گھر پر جانا چاہیے اور نماز اسی لئے ہے کہ انسان خدا کے گھر پر جائییہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بار بار دستک دے اور اپنی درخواست پر اصرار کرے تواس کے لئے دروازہ نہ کھلے وہ بھی خداکے گھر کا دروازہ ۔

پس اگر چاتے ہو کہ خدا آپکی طرف متوجہ ہواور اس کی رحمت اور قبولیت کا دروازہ آپ پر کھل جائے تو اس کے در پربار بار دستک دو اور نماز پڑھنے میں استمرار کرو، ممکن ہے پہلے اور دوسرے مرحلہ میں انسان کی آلودگیوں یا خدا کی مصلحت کی بنا پر خدا کی رحمتوں کا دروازہ نہ کھلے ، لیکن آخر کار کھل جائے گا ۔

بے شک خدا کی رحمت کے دروازے انسان کیلئے ہر وقت کھلے رہتے ہیں ، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ خداوند متعال ایک طرف سے اپنے بندے کو دعوت دے اور دوسری طرف سے اپنی رحمت کے دروازے اس پر بند رکھے ۔ خدا کی رحمت کے دروازے صرف آیات الٰہی جھٹلانے والوں اور مستکبرینکے لئے بند ہیں البتہ انہوں نے خدا کی رحمت کے دروازے خود اپنے اوپر بند کئے ہیں:

( اِنَّ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَ اسْتَکبَرُوا عَنْهَا لا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَائِ ) (اعراف ٤٠)

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور غرور سے کام لیا ان کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے ...''

جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ بعض آیات و روایات میں آیا ہے کہ آسمان کے لئے دروازے ہیں یا یہ کہ مذکورہ روایت میں آیا ہے کہ جب تک انسان نماز کی حالت میں ہے وہ خدا کے دروازہ پر دستک دیتا ہے ، حقیقت میں یہ معقول کی محسوس سے تشبیہ ہے ، تا کہ معنوی اور ما ورای طبیعی مسائل ہمارے لئے قابل ادراک و فہم بن جائیں ، حقیقت یہ ہے کہ بندہ اور خداوند متعال کے درمیان کسی قسم کا پردہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے برے اعمال ہیں جو انسان کیلئے خدا کی طرف توجہ کرنے میں مانع بن جاتے ہیں اور حقیقت میں انسان گناہوں کے سبب فیوض الٰہی سے محروم ہوجاتا ہے خد اکی رحمتوں کے دروازے کو کھولنے کی کنجی اور جو چیز ان پردوں کو ہٹا سکتی ہے خد اکی عبادت و بندگی ہے اور عبادت کا بہترین مظہر ہے ۔

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، نماز گزار کو عنایت ہونے والی نعمتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :

'' یَا َبَاذَرٍ! مَا مِنْ مَُؤْمِنٍِ یَقُومُ مُصَلِّیاً اِلَّا تَنَاثَرَ عَلَیهِ الْبِرُّ مَا بَیْنَهُ وَبَیْنَ الْعَرْشِ وَ وُکِّلَ بِهِ مَلَک یُنَادِی : یَابنَ آدَمَ لَوْ تَعْلَمُ مَالَکَ فِی الصَّلٰوةِ وَ مَنْ تُنَاجِی مٰا اَنْفَتَلْتَ''

اے ابوذر! جب با ایمان انسان نماز کیلئے اٹھتا ہے ،اللہ تعالیٰ کی رحمت، عرش تک اس پر احاطہ کئے رہتی ہے ، ایک فرشتہ اس پر ممور کیا جاتا ہے جو آواز دیتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! اگر تم جانتے کہ نماز میں تجھے کیا ملتا ہے اور کس سے بات کرتے ہو !تو ہرگز اس سے کنارہ کشی نہیں ہوئے ۔

( بڑی تعداد میں درخت کے پتوں کے گرنے کو '' تناثر '' کہتے ہیں یا ایسی چیز کو '' تناثر'' کہتے ہیں جو بڑی تعداد میں اوپر سے نیچے گرتی ہے )

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

نماز پڑھنے والا سر سے پیر تک رحمت الٰہی میں غرق ہوتا ہے فطری بات ہے جو اس مقام و منزلت کا شیدائی ہو گا ، وہ نما ز طول دے گا اس سے بالا تر یہ کہ خدائے متعال نے ایک فرشتہ کو ممور فرمایا ہے جو نماز گزار کو مسلسل آواز دیتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! اگر تم جانتے کہ کس کے ساتھ راز و نیاز کر رہے ہو اور کس سے محو گفتگو ہو ، تو ہرگز نمازسے ہاتھ نہیں کھینچتے اور تھکنکا تمھیں احساس نہیں ہوتا یہ خیال رکھو کہ تم کس کے سامنے کھڑے ہو اور کس سے رابطہ قائم کئے ہو تا کہ اس چیز کو سمجھنے کے بعداپنی نماز کو بھی اہمیت دو، اگر تم جانتے کہ نماز کے سبب کن فائدوں ، فضیلتوں اورکن کن اجر و ثواب سے فیضیاب ہونے والے ہو تو ، اس کو ہرگز نہ چھوڑتے ۔

عبادت کی شیرینی کا ادراک اور اس کے دوام کا راز:

عبادت کو جاری رکھنے اور اس کے دوام کے سلسلہ میں اہم یہ ہے کہ انسان عبادت سے لذت محسوس اور احساس کرکے کہ اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے ، جو کام انسان کیلئے لذت بخش نہ ہو اس سے جلدی تھک جاتا ہے عبادت کی حلاوت انسان کیلئے اس امر کا سبب بن جاتی ہے کہ انسان اس سے زیادہ دلچسپی پیدا کرے اور یہ لذت اورحلاوت گناہ کو ترک کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ہے گناہ انسان کے لئے عبادت کی لذت کے چھن جانے کا سبب بنتاہے اس لحاظ سے بعض معصومین کی یہ دعا ہوتی تھی کہ خدایا ! ہمیں اپنی عبادت کی لذت و حلاوت عطا فرما!

ممکن ہے ایک بیمار کیلئے بہترین غذاآمادہ کی جائے لیکن بیماری کی وجہ سے اس کیلئے اس میں کوئی مزہ اورلذت نہ ہو لیکن صحت مند اور بھوکے انسان کیلئے خشک روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لذت بخش ہوتا ہے ،پس اہم یہ ہے کہ انسان میں عبادت کی لذت کی ضرورت کا احساس زندہ ہوجائے ۔

گزشتہ جملات میں اشارہ ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

'' نما ز کے بارے میں میری دلچسپی بھوکے انسان کی غذا سے دلچسپی اورمیلان سے زیادہ ہے ، کیونکہ وہ کھانے پینے سے سیر ہوتے ہیں لیکن میں نماز سے سیر نہیں ہوتا ہوں ''

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام بندگی خد امیں غرق ہونے کے سلسلے میں عبادت کے رابطے کے بارے میں فرماتے ہیں:

''َلَا وَ اِنَّکَ لَوْ وَجَدْتَ حَلَاوَةَ عِبَادَةِ ﷲ وَ رَایتَ بَرْکَاتِهَا وَ اسْتَضَْتَ بِنُورِهَا ، لَمْ تَصْبِرْ عَنْهَا سَاعَةً ، وَ لَو قُطِعْتَ ِرْباً ''(۶)

اگر خدا کی بندگی کی حلاوت کو درک کرو ، اور اس کے برکات پر غور کرو گے اور اس کے نور سے اپنے دل کو روشن کرو گے تو ایک لمحہ کیلئے بھی اس کو ترک نہیں کرگے ، حتی اگر ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوجاؤ ۔

ایک دوسری روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''.. وَ طَلَبْتُ حَلَاوَةَ الْعِبَادَةِ ، فَوَجَدْتُهَا فِی تَرْکِ الْمَعْصِیَةِ ''(۷)

''میں نے عبادت کی حلاوت کی درخواست کی اور سرانجام اسے گناہ کو ترک کرنے میں پایا ''

____________________

١۔ المیزان ، ج ٩ ص ٢٥٤

۲۔ المیزان ، ج ١٣ ، ص ٧٣

۳۔ مستدرک الوسائل ، ج ٢، ص ٤٨١

۴۔ بحار الانوار ، ج ٤١ ، ص ١٣٢

۵۔ بحار الانوار ،ج ١٠، ص٤٠

۶۔ مستدرک الوسائل ، ج ١١، باب ١٧ ، ص٢٥٣

۷۔ مستدرک الوسائل، ج ١٣، باب ١٠١ ، ص ١٧٣


دسواں سبق

بہشت کی جانب پیش قدمی کرنے والے افراداور بعض احکام و فرائض کی اہمیت نیز بہشت کے درجات

* بہشت کے پیش رو افراد

*فطرت اور کمال طلبی

بعض احکام کی عظمت و منزلت

* نما زکی عظمت اور اس کا مرتبہ

*روزہ کی عظمت ا ور اس کا مرتبہ

*جہاد کی عظمت اور اس کا مرتبہ

*مومنیں کے بہشتی درجات میں فرق

بہشت کی جانب پیش قدمی کرنے والے افراداور بعض احکام و فرائض کی اہمیت نیز بہشت کے درجات

'' یَا اَبَاذَر ! طُوبیٰ لِاَصْحَابِ الْاَلْوِیَةِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یَحْمِلُونَهَا فَیَسْبِقُونَ النَّاسَ اِلٰی الْجَنَّةِ الَاَ وَهُمْ السَّابِقُونَ اِلٰی المَسَاجِدِ بِالْاَسْحَارِ وَ غَیْرِ الْاَسْحَارِ.

یَا اَبَاذَر! َلصَّلاةُ عِمٰادُ الدّینِ وَاللِّسٰانُ َکْبَرُ،وَ الصََّدَقَةُ تَمْحُو الخَطِیئَةَ وَ اللِّسٰانُ َکْبَرُ.

یٰا َبٰاذَر،َلدَّرَجَةُ فِی الْجَنَّةِ کَمٰا بَیْنَ السَّمٰائِ وَ الْاَرْضِ وَ ِنْ الْعَبْدَ لَیَرْفَعَ بَصَرَهُ فَیَلْمَعُ لَهُ نور یَکٰادُ یَخْطَفُ بَصَرَهُ فَیَفْزَعُ لِذٰلِکَ فَیَقُولُ: مٰا هٰذٰا فَیُقَالُ : هٰذٰا نُورُ َخِیکَ ، فَیَقُولُ: َخِی فُلانُ ؟ کُنَّا نَعْمَلُ جَمِیعاً فِی الدُّنْیٰا وَقَدْ فُضِّلَ عَلَیَّ هٰکَذَا فَیُقٰالُ لَهُ : ِنَّهُ کَانَ َفْضَلَ مِنْکَ عَمَلاً ، ثُمَّ یُجْعَلُ فِی قَلْبِهِ الرَّضٰا حَتّٰی یَرْضٰی ''

بہشت کے پیش روافراد:

پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم نے بہشت کے پیش رو اور سعاد ت کے بارے میں فرماتے ہیں :

'' یَا اَبَاذَر ! طُوبیٰ لِاَصْحَابِ الْاَلْوِیَةِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یَحْمِلُونَهَا فَیَسْبِقُونَ النَّاسَ اِلٰی الْجَنَّةِ الَاَ وَهُمْ السَّابِقُونَ اِلٰی المَسَاجِدِ بِالْاَسْحَارِ وَ غَیْرِ الْاَسْحَارِ''

اے ابوذر! مبارک ہو ان لوگوں پر جو قیامت کے دن پرچمدار ہوں گے اور پرچم کو لوگوں کے آگے اٹھا ئے ہوئے بہشت میں داخل ہونے کے لئے سبقت حاصل کریں گے یہ وہی لوگ ہیں جو صبح کے وقت اور دیگر اوقات میں مسجد جانے میں سبقت حاصل کرتے تھے ''

ہر انسان عمر کے ہر حصہ میں یہ سعی کرتا ہے کہ دوسروں پر سبقت لے جائے اگر یہ سبقت حاصل کرنا دنیوی امور سے مربوط ہو تو قابل مذمت ہے لیکن اگر یہ مسابقہ آخرت کے بارے میں ہے تو نہ صرف قابل مذمت نہیں ہے بلکہ انسان کے رشد اور سعادت طلبی کی علامت ہے ،کیونکہ انسان کی سعادت خداکے تقرب اور آخروی نیک بختی میں مضمر ہے اور اگرمؤمنین اس سلسلہ میں دوسروں پر سبقت کرتے ہیں تو خود نمائی کیلئے نہیں ہے بلکہ سعادت کو حاصل کرنے کیلئے ہے۔

قرآن مجید میں جگہ جگہ اس مطلب کے بارے میں تاکید ہوئی ہے من جملہ خداوند متعال فرماتا ہے :

( وَ سَارِعُوا الی مَغْفِرةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السٰمٰوَاتُ وَ الْاَرْضُ اُعِدَّت لِلْمُتَّقِینَ ) ( آل عمران ١٣٣)

اوراپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان کے اوپر محیط ہے اور اسے صاحبان تقویٰ کیلئے تیار کیا گیا ہے ''

حقیقت میں یہ آیۂ مبارکہ انسا ن کی فطرت کی طرف اشارہ کرتی ہے کیوںکہ اس کی فطرت یکمال طلب ہے اور اس کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ دوسروں کی نسبت کامل تر ہو ۔

فطرت اور کمال طلبی:

بیشک انسان کمال کے انتہائی درجہ تک پہچنے کا طالب ہے اور وہ آخری درجہ خدا کا تقرب ہے وہ اس مقام تک پہنچنے کیلئے ہر ممکن وسائل اورامکانات سے استفادہ کرتا ہے محدود کمالات کا حاصل کرنا انسان کا ہدف و مقصد نہیں ہے کیونکہ بلند ترین کمالات کے مقابلہ میں تمام رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں دوسرے یہ کہ انسان اپنے مقصدکو پانے کے بعد سیر ہوجاتا ہے اسی چیز کے پیش نظر کہا گیا ہے ''منزل وصال عشق کا مدفن ہے '' یعنی انسان محدود حسن و کمال کا عاشق نہیں بن سکتا ہے بلکہ وہ فطرتاً کمال مطلق کا عاشق اور خدا کا طالب ہے ۔

انسان کا درد ، خدائی درد ہے اگر اس کی غلطیوں کے پردے اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جائیں تو وہ اپنے معشوق کو پاکر علی علیہ السلام کے مانند عاشقانہ عبادت کرے گا اس لئے خداوند متعال قرآن مجید میں ارشادفرماتا ہے :

(اَلَا بِذِکْرِ ﷲ تَطْمَئنُ القُلوب ) ( رعد ٢٨)

صرف خدا کی یاد دلوں کو سکون بخشتی ہے ۔

'' بذکر ﷲ'' کومقدم قرار دینا انحصار کی دلیل و علامت ہے ، یعنی صرف خدا ہی کی یاد دلوں کو سکون بخشتی ہے اور اسے اضطراب و پریشانی سے نجات دلاسکتی ہے اگر کوئی یہ خیال کرے کہ مال و دولت اور مقام و منزلت اسے سکون دلا سکتے ہیں تویہ بہت بڑی غلط فہمی ہے ،البتہ قرآن مجید ان چیزوں کو حاصل کرنے سے منع نہیں کرتا ہے ، لیکن کہتا ہے : '' یہ چیزیں انسان کے لئے خود آرام و سکون نہیں کا باعث ہیں ''(۱) کہا گیاہے کہ انسان '' کمال مطلق '' کا طالب ہے اور اس راہ میں تمام امکانات اور عوامل سے استفادہ کرتا ہے ، کمالِ مطلق تک پہنچنے کے عوامل میں خدائے تعالیٰ کی مناجات اور مسجدوں کو زندہ کرنابھی شامل ہے ۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : مبارک ہو ان لوگوں پر جو قیامت کے دن پیش رو اور علمدار ہیں وہ لوگوں کو بہشت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور دوسرے لوگ بہشت تک پہنچنے کیلئے ان کے پیچھے چلتے ہیں ؛ یہ وہ لوگ ہیں جو سحر گاہ اور اس کے علاوہ دوسرے اوقات میں دوسروں کی نسبت زیادہ مسجد میں جاتے ہیں ''بالاسحار' کو مقدم کرنا اسی لحاظ سے ہے کہ عبادت کا بہترین وقت شب اور سحرگاہ ہے ۔

ذہن کے اندازہ کیلئے اس مطلب کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ انسان کی روح کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر وہ یہ دیکھ لے کہ دوسرے لوگ خیر و نیکی کی راہ میں قدم اٹھارہے ہیں تو بھی شوق ہوتا ہے حقیقت میں '' اسوہ قبول کرنا '' اور ''آئیڈیل کو اپنانا'' علم نفسیات میں تربیت کا بہترین وسیلہ قرار دیا گیا ہے حقیقت میں نمونہ اور اسوہ انسان کی رفتار میں زیادہ اثر رکھتے ہیں

اگر کوئی شخص کسی نیک کام کے سلسلہ میں پیش قدمی کرے تو وہ دوسروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتا ہے ، نتیجہ کے طورپر دوسرے بھی وہ کام انجام دیتے ہیں کسی کے نقش قدم پر چلنے کا یہ امر جوانوں میں توجہ کا سبب بن جاتا ہے ۔

فطری بات ہے کہ جب لوگوں کی ایک جماعت میں کوئی شخص کسی کام کو انجام دیتا ہے تو دوسرے لوگ آسانی کے ساتھ اس کی تقلید کرتے ہیں : مثال کے طور پر ، جب ایک مدرسہ میں ، ظہر کی نماز کے وقت کچھ افراد تیزی کے ساتھ مسجد کی طرف جائیں گے ، تو انکا یہ عمل دوسروں کو مسجد میں جانے کیلئے تشویق کا سبب بنتا ہے لیکن اگر کچھ افراد پیش قدمی نہ کریں ،تو دوسرے لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ وقتِ نماز ہے اور انہیں مسجد میں حاضر ہونا چاہیے ، اگر توجہ بھی رکھتے ہیںتو انھیں ، ہمت نہیںہوتی ، یہ اسی نفسیاتی اور روحی حقیقت کی دلیل ہے جو '' کسی کے نقش قدم پر چلنے '' کے نام سے معروف ہے۔

اگر کوئی شخص ریا کاری سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے کسی نیک کام کو پوشیدہ طور پر انجام دے ، تو اس کا یہ عمل لائق تحسین اور اچھا ہے ، لیکن اگر کوئی شخص کسی نیک کام کو اس طرح انجام دے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کا شوق پیداہو تو نہ صرف یہ کہ اس کا یہ کام برانہیں ہے بلکہ بہت مناسب اور قابل قدر ہے کیونکہ وہ بالفرض خود نمائی کا اردہ نہیں رکھتا ہے بلکہ صرف دوسروں کی توجہ مبذول کرانے کیلئے وہ کام کھلم کھلا انجام دیتا ہے ۔

اس سلسلہ میں خداوند متعال ارشادفرماتا ہے :

( وَ اَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرّاً وَ عَلَانِیةً ) ( رعد ٢٢)

''اور ہمارے رزق میں سے سے خفیہ و اعلانیہ انفاق کیا ...''

بعض نے کہاہے : پوشیدہ اور مخفی انفاق اس لئے ہے کہ ریا سے محفوظ رہیں اور آشکار ا طور پرانفاق دوسروں کو تشویق کرنے کیلئے ہے لہذا دونوں صورتوں میں نیکی ہی نیکی ہے ، جو ریا کاری سے بچنے کیلئے پوشیدہ طور پر نماز پڑھتا ہے نیزجو دوسروں کی تشویق کیلئے آشکار صورت میں نماز پڑھتا ہے ، دونوں نیک کام انجام دیتے ہیں لیکن جو ریا سے اجتناب کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ مسجد میں جانے میں دوسروں پر سبقت لیتا ہے اور ان کیلئے تشویق کا سبب بنتاہے ، اس کے دہرے ثواب ہیں وہ قیامت کے دن دوسروں کا پرچمدار ہوگا کیونکہ اس کا عمل دوسروں کو مسجد میں لے جانے کا سبب واقع ہوا ہے ۔

مرحوم آیة اللہ العظمی مرعشی نجفی صبح کی اذان سے پہلے حرم میں پہنچنے کے پابند تھے ، ہم جب اپنی طلبگی کے اوائل میں حوزۂ علمیہ میں مدرسہ کے ہوسٹل میں زندگی گزاررہے تھے ، کبھی سحر کے وقت حرم جانے کی توفیق ہوتی تھی کبھی برف باری بھی ہوتی تھی اور ہم حیرت کے عالم میں دیکھتے تھے کہ مرحوم آیة اللہ العظمی مرعشی نجفی ، حرم کا دروازہ کھلنے سے پہلے اپنی عبا سر پر اوڑھے ہوئے حرم کے دروازہ پرمنتظر ہوتے تھے یہ ان کی برجستہ اورنمایاں خصوصیات میں سے ایک خصوصیت تھی اور ان کی یہ رفتار کس قدر دوسروں کے لئے تشویق کا سبب تھی ؟ جب طلاب یہ دیکھتے تھے کہ ایک مرجع تقلید حرم کا دروازہ کھلنے سے پہلے وہاں منتظر رہتا ہے تو ان میں بھی سحر کے وقت حرم میں حاضری دینے کا شوق پیدا ہوتا تھا۔

مسجد میں جانے کیلئے پیش قدمی کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہے یہاں پر ہم مسجد میں جانے کی اہمیت کے بارے میں دو حدیثیں بیان کریں ۔

پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

''اِنَّ للْمَسَاجِدَ اَوْتَاداً ، اَلْمَلَائِکَةُ جُلَسَاؤُهُمْ ، اِذَا غَابُوا اِفْتَقَدُوهُمْ وَ اِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ وَ اِنْ کَانُوا فِی حَاجَةٍ اَعَانُوهُمْ .''(۲)

بیشک مسجد کے کچھ خدمت گارہیں جن کی مصاحبت میں فرشتے ہیں ، جب وہ کسی عذر کی وجہ سے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے ہیں تو وہ ( فرشتے )ان کی دل جوئی کرتے ہیں اور اگرو ہ بیمار ہوں تو ان کی

عیادت کیلئے آتے ہیںا وراگروہ محتاج ہوں تو ان کی مدد کرتے ہیں ۔

ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں :

''اَلْجُلُوسُ فِی الْمَسْجِدِ لِاِنْتِظَارِ الصَّلاةِ عِبَادة ، وَ قَالَ مَنْ کَانَ الْقُرآنُ حَدِیثُهُ وَ الْمَسْجِدُ بَیتُهُ بَنَی ﷲ له بَیْتَینِ فِی الْجَنَّةِ ''(۳)

مسجد میں بیٹھ کے نماز کے وقت کا انتظار کرناعبادت ہے ، نیز فرمایا: جس کی گفتگو قرآن مجید ہو اور اس کا گھر مسجد ہو ، خداوند متعال اس کیلئے بہشت میں دو گھر بناتا ہے

بعض احکام کی عظمت و منزلت:

ابوذر کی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' یَا اَبَاذَر!َلصَّلاةُ عِمٰادُالدّینِ وَاللِّسٰانُ َکْبَر،والصَّدَقَةُ تَمْحُو الخَطِیئَةَ وَ اللِّسٰانُ َکْبَرُ''

اے ابوذر! نماز دین کا ستون ہے جو کچھ خدا کی یاد کے لئے زبان پرجاری ہوتا ہے وہ بڑی بات ہے ، صدقہ گناہوں کو پاک کرتا ہے اورجوبات لوگوں کو فائدہ پہنچائے وہ صدقہ سے بالاتر ہے ، روزہ آگ کے مقابلے میں ڈھال ہے زبان کو کنٹرول کرنا عظیم ہے اور جہاد، شرافت و عزت ہے اور زبان سے جہاد کرنا شرافت کی نگاہ میں بزرگ ہے ۔

١۔ نما زکی عظمت اور اس کا و مرتبہ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : نماز دین کا ستون ہے اور اس کے بغیر دین منہدم ہو سکتا ہے ، لیکن اس کے اذکار اورنصیحتیں تمام اعمال سے بزرگ و اہم ہیں کیونکہ نماز کے اذکارخدا کے حضورمیں بندگی اور بندۂ مومن کے خضوع کا مظہر ہیں اوراذکار سے خدائے متعال کے مقام اور اس کی بے انتہاررحمت کی معرفت ہوتی ہے ۔

یہ جو نماز دین کی بنیاد اور ستون کی حیثت سیبیان ہوئی ہے حقیقت میں انسان کی معنوی اور دینی شخصیت کو تشکیل دینے میں ا س کا بنیادی نقش ہے ۔

بیشک نماز انسان کے ایمان کو تجسم اور اس کی معنوی شخصیت کو کمال بخشتی ہے اسی وجہ سے دینی معارف میں ،آیات قرآن اور معصومین علیہم السلام کی روایتوں نے نماز کو شایان شان اہمت دی ہے

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک روایت میں فرماتے ہیں:

''اِنَّ اَفْضَلَ الْفَرَائِض بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ الصَّلاةُ وَ اَوَّلَ مَا یُحَاسِبُ الْعَبْدُ عَلَیهَا الصَّلٰوةُ ، فَاِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا وَ ِنْ رُدَّت رُدَّ مَا سِوَاهَا ''(۴)

خداوند متعال کی معرفت کے بعد سب سے افضل و اہم فریضہ نما زہے نماز پہلی چیز ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن بندہ سے پوچھا جائے گا اگر نماز قبول ہوگئی تو دیگر اعمال قبول کئے جائیں گے اور اگر نماز قبول نہیں ہوئی تو تمام اعمال بھی قبول نہیں ہوںگے۔

سجدہ کرنے والے کے مقام کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لَو یَعْلَمَ المُصَّلِی مَا یَغْشٰاهُ مِنَ الرَّحْمَةٍ لَمَا رَفَعَ رَسَهُ مِنَ السُّجُود'' (۵)

اگر نماز گزار کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ کس قدر رحمت الٰہی میں غرق ہوا ہے تو وہ سجدہ سے سر نہیں اٹھائے گا۔

نفس کی پاکیزگی اور دل و روح کی آلودگیوں سے صفائی کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:

''لَو کَانَ علی بابِ دارِ احدکم نهر و َ اغْتَسَل فی کل یومٍ منهُ خمس مرّاتٍ َکان یبقی فی جَسَدِه من الدَّرُنِ شیئٍ؟ قلتُ : لا ، قالَ فانَّ مثل الصلوةکمثل النهر الجاری کلَّما صلّی صلوة کفَّرَتْ ما بینهُما من الذنوب ''(۶)

اگر آپ کے گھر میں ایک نہر بہتی ہو اور ہر دن پانچ مرتبہ آپ اس میں نہائیں گے ، تو کیا آپ کے بد ن میں کسی قسم کی گندگی باقی رہ سکتی ہے ؟( صحابی ) کہتا ہے : نہیں ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

بیشک نماز نہر کے مانند جاری ہے اگر کوئی نماز پڑھے ، تو اس کی دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں ''

٢۔ روزہ کی عظمت اور اس کا مرتبہ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کو آتش جہنم کی ڈھال کے مانند بیان فرماتے ہیں ، کیونکہ روزہ انسان کی بلندی اور نشو و نما کا ایک وسیلہ اور شیطان کے مقابلہ میں ایک رکاوٹ ہے ۔

انسان میں نفس امارہ ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ اسے گرانے اور اس کی روحانی و معنوی شخصیت کو نابود

کرنے کی تلاش میں رہتا ہے ، اس لئے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''اِنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ علیکم اثنان ، اتباع الهویٰ و طول الامل ، لانَّ اتباع الهویٰ یَصُدُ عن الحق و طول الامل ینسِی الآخِرَة ''(۷)

مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف دو چیزوں کا ہے ان میں سے ایک نفسانی خواہشات کی اطاعت اور دوسری چیز طولانی آرزوئیں ہیں کیونکہ ہوا و ہوس کی پیروی حق کے درمیان رکاوٹ اور طولانی آرزوئیں آخرت کو فراموش کرنے کا سبب ہیں ۔

چونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے مہربانی اور محبت رکھتا ہے اس لئے اس نے ایسے وسائل اور امکانات فراہم کئے ہے تا کہ انہیں بروئے کار لاکر ، انسان ایسے ظلم سے کہ جس کو اس نے اپنے اوپر خود کیا ہے اور جس کی وجہ سے وہ ساحت مقدس سے دور ہو گیا ہے اس کی تلافی کرسکے ، ان وسائل میں سے ایک روزہ ہے جو برے اعمال کے اثرات سے نفس کو پاک کرنے نیز مشکلات اور گناہوں کے مقابلہ میں صبر کرنے کا ذریعہ ہے۔

روزہ کی اہمیت اورتہذیب نفس کے سلسلہ میں اس کے نقش کے علاوہ ، کئی روایتوں میں بعض ایام او رمہینوں میں روزہ رکھنے کے خصوصی ثواب ہیں من جملہ ماہ شعبان اور ماہ رجب کے روزے ، اولیائے دین اور بزرگ علما ان دو مہینوں میں مسلسل روزہ رکھتے تھے ۔

٣۔ جہاد کی عظمت اور اس کا مرتبہ :

خدا کی راہ میں جہاد و مبارذہ کرناعزت و سربلندی کا سبب ہے دین او رلوگوں کی حفاظت سلسلہ میں اس کا نمایاں کردار ہے اگر جہاد اور مبارزہ نہ ہوتا تو دین اور مذہبی عقائد نابود ہوجاتے ، کیونکہ دنیا پرست اور ناجائز منافع خور اپنے ناپاک عزائم تک پہنچنے کیلئے دین سے جنگ کرنے میں پیچھے نہیں ہٹتے ۔ اولیائے دین کا جہاد اس امر کا سبب بناکہ دین تحریف کے خطرات سے محفوظ رہو گیا اور آج ہم ان کی ان مجاہدت کیثمرے سے مہرہ مند ہو رہے ہیں اسی لئے راہ حق کے مجاہدوں کے چہرے نورانی ہیں اور وہ اپنے جا نثاریوں اور قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں اور الطاف سے مالا مال ہوئے ہیں ۔

اللہ تعالی ان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

( لَا یَسْتَوِی القَٰعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِینَ غَیْرُاُولِی الضَّرَرِوالمُجَٰهِدون، فِی سَبِیلِ ﷲ بِاَمْوَٰلِهِم وَاَنْفُسِهِمْ فَضَّل ﷲالْمُجَٰهِدِینَ بِاَمْوَٰلِهِم وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَی الْقَاعِدِینَ دَرَجَةً ) ( نسائ ٩٥)

اندھے ، بیمار اور معذور افراد کے علاوہ گھر بیٹھے رہنے والے صاحبان ایمان ہرگز ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جو راہ خدا میں اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والے ہیں، ﷲ نے اپنے جان و مال سے جہاد کرنیو الوں کو بیٹھے رہنے و الوں پرفضیلت و برتری دی ہے ....۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نکتہ پر تکیہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جو کچھ زبان سے انجام دیا جاتا ہے وہ دوسرے اعضا سے انجام نہیںدیا جاسکتا ہے اور جو کام زبان سے انجام دیاجاتا ہے وہ نماز ، روزہ اور جہاد سے افضل ہے ،کیونکہ جو زبان سے بیان ہوتا ہے وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مانند ہوتا ہے چنانچہ روایتوں میں آیا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر جہاد سے بلند تر ہے ۔ خواہ وہ تعلیم و تربیت کی صورت میں ہو ، کیونکہ جاہل کی حق کی طرف رہنمائی کرنا جہاد سے افضل ہے ،اسی طرح فرماتے ہیں کہ مستحب کام ، صرف طولانی عبادتیں ہی نہیں ہیں ، بلکہ خفیف مستحب کام بھی زبان سے انجام دینا ممکن ہے ، جو کسی بڑے خرچ اور زیادہ زحمتبرداشت کئے بغیر انجام دیاجا سکتا ہے لہٰذا زبان کی قدر کرنی چاہئے اور اسے آفتوں اور آلودگیوں سے بچانا چاہیے تا کہ انسان کے اعمال ضائع نہ ہونے پائیں ۔

مومنین کے بہشتی درجات میں فرق:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہشت کے درجات میں فرق کے بارے میں فرماتے ہیں:

''یٰا َبٰاذَر،َلدَّرَجَةُ فِی الْجَنَّةِ کَمٰا بَیْنَ السَّمٰائِ وَ الْاَرْض''

اے ابو ذر! بہشت کے درجات اور مراتب کے درمیان فاصلہ زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ کے مانند ہے۔

وَ ِنْ الْعَبْدَ لَیَرْفَعَ بَصَرَهُ فَیَلْمَعُ لَهُ نور یَکٰادُ یَخْطَفُ بَصَرَهُ فَیَفْزَعُ لِذٰلِکَ فَیَقُولُ: مٰا هٰذٰا''

بہشتی شخص آسمان کی طرف نظر ڈالتا ہے اس کے بعد اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا نور چمکتا ہے قریب ہوتا کہ اس کی آنکھوںکی بینائی چلی جائے وہ سوال کرتا ہے یہ کیسا نور ہے ؟

اسے کہا جاتا ہے : '' ھذٰا نور َخِیک '' یہ نور تیرے فلاں بھائی کا ہے ، پھر وہ کہتا ہے :

'' اَخِی فلان ؟ کنا نعمل فی الدنیا و قد فُضِّل علیّ هَکَذٰا''

ہم سب دنیا میں خدا پسند کام انجام دیتے تھے ، یہ کیا ہوا کہ اس کو مجھ پر فضیلت مل گئی ؟

''فیقال له : انه کان افضل منک عملا ثم یُجعَلُ فی قلبه الرضا حتی یرضی''

اس سے کہا جاتا ہے :وہ عمل و کردار کے اعتبار سے افضل تھا ، اس کے بعدا س کے دل میں رضا ڈالی جاتی ہے تا کہ وہ خوشنود ہوجائے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بہشتی شخص کو یہ نہیں کہا جاتا ہے : اس کا عمل زیادہ تھا بلکہ کہا جاتا ہے اس کا عمل بہتر تھا ، یعنی اس کے عمل کی کیفیت بہتر تھی اور وہ عبادت و نماز میں خدا کی طرف بیشتر توجہ اور اخلاص رکھتا تھا ۔

فطری بات ہے کہ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھی اور دوست اس کے آگے بڑھ چکے ہیں تو افسوس کرتاہے اگر انسان دنیا میں دوستوں سے پیچھے رہ جائے تو اس کی تلافی کی جاسکتی ہے ، لیکن آخرت میں تلافی اورتدارک کی فرصت نہیں ہے ، اس لئے آخرت میں عذاب و حسرت ہر چیز سے زیادہ مہلک اور جان لیواہے ، لیکن اہل بہشت کے درمیان اس طرح کا محرک ہونے کے باوجود خداوند متعال انہیں حسرت سے دوچار ہونے نہیں دیتا یہ ایک ایسا پوشیدہ راز ہے جس کا بیان ہمارے لئے مشکل ہے

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہشتی کس طرح یہ دیکھتے ہوئے کہ ان کے دوست ان سے آگے نکل گئے ہیں ، پھر بھی وہ حسرت میں مبتلا نہیں ہوتے ؟ اس سلسلہ میں حضرت عیسی کی طرف سے '' انجیل برنابا'' میں ایک تمثیلی جواب دیا گیا ہے اور آپ فرماتے ہیں :

'' اس دنیا میں چھوٹے قد کا انسان کبھی لمبا لباس پہننے کی تمنا نہیں کرتا ، اسی طرح لمبے قد کا انسان ہرگز چھوٹا لباس پہننے کی آرزو نہیں کرتا ''

اس مثال سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ بہشت میں ہر انسان اپنی حد میں راضی ہوگا اور اپنے مقام و منزلت سے زیادہ توقع نہیں رکھے گا ، حقیقت میں جس مقام کو اس نے پالیا ہے اسے اپنے لائق سزا وار سمجھتا ہے جب دیکھتا ہے کہ انبیاء کے مانند بعض لوگوں کا مقام اس سے بلندتر ہے تو ا س مقام کو ان کے لئے سزا وار تصور کرتا ہے اوراس مقام کو اپنے لئے لمبے لباس کے مانند پاتا ہے ۔

بہشتی شخص، موت سے پہلے او رعالم برزخ میں اپنی برائیوں اور ناپاکیوں سے پاک ہو جائے ہیں اور اپنے لائق اور مناسب مقام تک پہنچ جائے ہیں ، اس لحاظ سے ہر شخص اپنے خلعت کو زیب تن کرتا ہے اور خدا کی عنایت کی ہوئی اس خلعت پر راضی اور مطمئن ہوتا ہے اور اس کے بعداس کے دل کو آرام ملتا ہے

____________________

١۔شہید مطہری کی کتاب '' انسان کامل '' ص ٩٤ ۔ ٩٦

۲۔ مستدرک الوسائل ، ج١ ص ٣٥٨

۳۔ مستدرک الوسائل ج ١، ص ٣٥٨)

۴۔ تفسیر ابو الفتوح ،ج١ص١٠٣

۵۔ غرر الحکم ، ص ٦٠٥

۶۔ وسائل الشیعہ، ج ٣. ص ٧

۷۔ بحار الانوار ج٧٧،ص٤١٩


گیارہواں سبق

خوف و حزن کی اہمیت اور اس کا اثر (١)

*خوف و حزن اور گناہ سے اجتناب

* خوف و حزن اور انسان کی معنوی بلندی

*خوف و حزن میں فرق

* دنیا ، مومن کے لئے زندان اور کافر کے لئے بہشت

* جہنم کی فکر ، مومن کے خوف و حزن کا سبب ہے ۔

خوف و حزن کی اہمیت اور اس کا اثر (١)

'' یا اَبَاذرٍ! َلدُّنْیٰا سِجنُ الْمُؤْمِنِ و َ جَنَّةُ الْکَافِرِ وَ مٰا َصْبَحَ فِیها مُؤمِن ِلَّا حَزِیناً ، فَکَیْفَ لٰا یَحْزُن وَ قَدْ َوْعَدَهُ ﷲ جَلَّ ثَنَاؤُهُ َنَّهُ وٰارِدُ جَهَنَّمَ وَ لَمْ یَعِدْهُ َنَّهُ صٰادِر عَنهَا وَ لَیَلْقَیَنَ َمْرٰاضاً وَ مُصیبٰاتٍ وَ ُمُوراً تَغیظُهُ وَ لَیُظْلَمَنَّ فَلٰا یَنْتصَرُ ، یَبَتغِی ثَوَاباً مِنَ ﷲ تَعَالیٰ فَمَا یَزَالُ فیها حَزِیناًحتٰی یفارقها فاذا فارقهاافضی الیٰ الراحه و الکرامة یا اباذر مٰا عُبِدَ ﷲ عَلٰی مِثْلِ طُولِ الْحَزْنِ''

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحتوں کا یہ حصہ خوف و حزن کے بارے میں ہے حدیث کے اس حصہ کا گزشتہ حصہ سے ربط اس لحاظ سے ہے کہ جب انسان اپنی عمر کو خدائے متعال کی عبادت و بندگی حقیقی تکامل و ترقی تک پہنچنے میں صرف کرنا چاہتا ہوتو اسے اس کیلئے وسائل و امکانات کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ان کے ذریعہ اس تکاملی وارتقائی حرکت کیلئے اپنے آپ کو بہتر صورت میں آمادہ کرسکے ۔

انسان کے اندر فیصلہ کرنے کا ارادہ پیدا ہونے کیلئے کچھ خاص مقدمات اور ابتدائی مراحل کا وجود میں آنا ضروری ہے ( انسان کے نفس میں تصورات و تصدیقات اور حالات نفسانی ،احساسات و جذبات کی طرح، ارادہ کے مواقع کو پیدا کرتے ہیں ) لہٰذاا گر وہ مقدمات فراہم ہوئے ، یا ان کے فراہم ہونے کے بعدا ن سے صحیح استفادہ کیا جاسکا تو انسان کی تکاملی و ارتقائی حرکت کیلئے ایک مناسب مواقع فراہم ہوتا ہے ۔

ممکن ہے انسان کے اندر کسی چیز کو پانے کیلئے تمنا پیدا ہولیکن صرف یہ تمنا اس کے ارادہ کی وجہ نہیں بن سکتا ہے لیکن کبھی ایسے حالا ت پیدا ہوتے ہیں جو اسے فیصلہ لینے اور حرکت میں آنے پر مجبور کرتے ہیں ،حقیقت میں وہ حالات اس کیلئے قابل قدر فرصتیں پیدا کرتے ہیں ۔

خوف و حزن اور گناہ سے اجتناب :

من جملہ نفسانی حالات جو انسان کو متحرک ہونے اور گناہ سے اجتناب کا سبب بنتے ہیں ان میں خوف و حزن بھی ہے یہ دو چیزیں انسان کی اچھی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ ہوش میں آئے اور وقت کو غنیمت سمجھ کر اسے بیہودہ اور لغو کاموں میں صرف نہ کرے ،لیکن ہر خوف و حزن قابل ستائش نہیں ہے اور انسان کے دوڑ دھوپ اور کام کرنے کا سبب نہیں بنتے بلکہ وہ حزن جو انسان کو سست اور کاہل بنائے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ دے وہ سر دور ہے ، اس میں اسی طرح وہ حزن بھی قابل مذمت ہے جو انسان کیلئے ناامیدی کا سبب بنے حتی انسان اپنے آپ سے بھی ناامید ہوجائے ۔

بعض خوف و حزن نہ صرف یہ کہ انسان کو حرکت اور سیر الی اللہ کی طر ف ترغیب نہیں دیتے بلکہ اس کیلئے رکاوٹ بھی بنتے ہیں ، جیسے وہ خوف و حزن جو دنیوی امور کے لئے پیدا ہو،مثلاً کسی کے تھوڑے اسا پیسا کھو گیا ، حتی نماز میں بھی اس فکر میں رہتا ہے ، یا وہ خو ف جو مال اور سماجی مقام و منزلت کو کھونے کے سبب وجود میں آتا ہے : مثلاً ڈرتا ہے کہ اسے کسی خاص عہدہ سے معزول کردیں گے ۔

اس قسم کے خوف و حزن انسان کیلئے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔

البتہ کبھی یہ بھی ممکن ہے کہ دنیوی امور کیلئے حزن خدا سے مربوط ہو ،مثال کے طور پر دنیا میں انسان پر نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں ڈرتا ہو کہ کہیں یہ عذاب الٰہی نہ ہو، قدرتی بات ہے کہ اس قسم کا خوف اسے متحرک و سرگرم کرنے کا سبب بنتا ہے، یا کھوئی ہوئی دولت کے بارے میں سوچ لے کہ یہ خداکا امتحان ہوگا تو یہ حزن اسے بیدار ہونے کا سبب بنتا ہے اور دنیا سے وابستہ نہیں رہتا لہذا ممکن ہے کہ دنیوی نعمت کو کھو جانے یا مصیبت نازل ہونے کا بلاواسطہ سبب انسان کو اخروی اور معنوی تکاملی وترقی کی طرف حرکت کرنے پر مجبور کرے ۔

خدائے متعال مندرجہ ذیل دو آیتوں میں اشاد فرماتا ہے : '' جب ہم پیغمبرو ںکو لوگوں کی طرف بھیجتے ہیں انہیں مشکلات اور سختیوںسے دوچار کرتے ہیں ''

( وَ مَا اَرْسَلْنَا فِی قَرْیةٍ مِنْ نبِیٍ اِلَّا اَخَذْنَا اَهْلَهَا بِالْبَاسائِ وَ الضَّرَائِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُونَ ) ( اعراف ٩٤ )

اور ہم نے جب بھی کسی قریہ میں کو ئی نبی بھیجا تو اہل قریہ کو نافرمانی پر سختی اور پریشانی میں ضرور مبتلا کیا کہ شاید وہ لوگ ہماری بارگاہ میں تضرع و زاری کریں ''

ایک دوسری آیت میں ارشادفرماتا ہے :

( وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلیٰ اُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنَاهُمْ بِالْبَاسَآئِ وَ الضَّرَّآئِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُونَ ) ( انعام ٤٢)

ہم نے تم سے پہلی والی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں اس کے بعد انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑگڑائیں ''

یہ جو خداوند متعال اپنے بندوں کو مشکلات اور سختیوں میں مبتلا کرتا ہے ، یہ ان پر اس کے لطف و کرم کی وجہ سے ہے تا کہ ان کی بیداری اور تنبیہ کا سبب بنے اور خواب غفلت سے بیدار ہو جائے اوراس کے اندر حق کو قبول کرنے کیلئے بیشتر آمادگی پیدا ہوکیونکہ جب تک انسان لذت ، مسرت اور کامیابی میں غرق رہتا ہے ، آخرت سے مربوط حق کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہوتا ۔

خوف و حزن اور انسا ن کی معنوی بلندی :

کہا گیا کہ آخرت کے بارے میں خوف و حزن اس کی معنوی بلندی کا سبب بنتے ہیں ۔

اس سلسلہ میں خداوند متعال فرماتا ہے ۔

( وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّه وَ نَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَویٰ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ المَویٰ ) (نازعات ٤٠ ۔ ٤١)

اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اس کا ٹھکانا اور مرکز جنت ہے ۔

گناہ سے پرہیز اور خداوند متعال کے خوف کے بارے میں تقویٰ کینقش کو بیان کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''عِبادَﷲ اِنَّ تَقْویٰ ﷲ حَمَتْ اَوْلِیَائَ ﷲ مَحَارِمَهُ وَ اَلْزَمَتْ قُلُوبَهُمْ مَخَافَتَهُ حَتّیٰ اَسْهَرَتْ لَیالِیَهُمْ وَ اَظْمَاَتْ هَوَاجِرَهمْ ''(۱)

اے بندگان خدااللہ کا تقویٰ اور اس کا خوف، خداکے دوستوں کو حرام کام میں مرتکب ہونے سے بچاتا ہے اور ان کے دلوں میں ( عذاب کا) خوف وہراس ڈالتا ہے کیونکہ انہیں نمازا ور راز و نیاز کیلئے راتوں کو بیدارنیز شدت کی گرمیوں میں روزہ کیلئے پیاسے رکھتا ہے ۔

دوسری جگہ پر خداکے خوف کو حسن ظن کی علامت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

''وَ اِنَّ اَحْسَنَ النَّاسِ ظَنّاً بِﷲ اَشَدُّهُمْ خَوْفاً ﷲِ ''(۲)

خدائے متعال کے بارے میں زیادہ حسن ظن رکھنے والے لوگ اس سے زیادہ ڈرنے والے ہوتے ہیں '''

خوف و حزن میں فرق :

انسان پر اس وقت رنج و غم طاری ہوتا ہے ، جب اس سے کوئی نعمت چھین لی جاتی ہے یا اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے، فطری بات ہے کہ انسان کی یہ حالت اس کے ایک ایسے کام سے مربوط ہے جو ماضی میں انجام پایا ہے مثال کے طور پر انسان نے کوئی ایسا برا کامکہ جس کا نتیجہ برا تھا ،کوئی برا کلام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ رسوا اور بے عزت ہوا جس کے نتیجہ میں ر نج و غم میں مبتلا ہوا ہے، یا اس کے پاس ایک دولت تھی جس سے وہ کافی استفادہ کرسکتا تھا لیکن اسے کھو چکا ہے بہر صورت انسان پر حزن و غم اسی وقت طاری ہوتا ہے جب وہ کچھ فرصتوں کو ہاتھ سے کھو د یا ہے یا کوئی نعمت اس سے چھن جاتی ہے یا کوئی مصیبت اس پر نازل ہوتی ہے ۔

البتہ خوف اس امر اور روئداد سے مربوط ہے جو آئندہ پیش آنے والی ہو انسان ڈرتا ہے کہ کوئی پریشانی اس کیلئے پیش آئے ، کوئی مصیبت یا عذاب اس پر نازل ہو یا کوئی نعمت اس سے چھین لی جائے حقیقت میں حزن اور خوف دو مشابہ نفسیاتی خصوصیات ہیں ان میں صرف اتنا فرق ہے کہ ا س میں ایک کا تعلق ماضی سے ہے اور دوسری کا تعلق مستقبل سے ہے ۔

چونکہ اس دنیا میں ہمیشہ خطرہ کے بادل اس کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں لہذا انسان میں خوف کاہونا ایک قدرتی بات ہے کیونکہ انسان نقصان اٹھانے والی ایک مخلوق ہے اس لئے ممکن ہے اس کی زندگی کی صحت و سلامتی اور اس کا عیش و آرام خطرہ سے دوچار ہو ۔

مومن اور غیر مومن میں یہ فرق ہے کہ مؤمن عمومی اسباب و علل کے بارے میں مستقل نظر نہیں رکھتا ہے اور تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے جانتا ہے اس لئے خدائے متعال سے ڈرتا ہے کیونکہ عوامل کو اس کے ہاتھ میں دیکھتا ہے صرف اسی پر امید رکھتا ہے چونکہ وہ غیر خدا کیلئے صرف واسطہ کی حیثیت کا قائل ہے ۔

ایک حدیث میں آیا ہے :

''مَن خاف ﷲاخاف ﷲ منه کلَّ شیئٍ وَ مَن لم یخف ﷲ اخافه ﷲ من کل شیئٍ ''(۳)

جو خدا سے ڈرتا ہے خداوند متعال اس کے ذریعہ سے دوسروں کو ڈراتا ہے اور جو خدا سے نہیں ڈرتا ہے خداوند متعال اس کو ہر چیز سے ڈراتا ہے ۔

جب مؤمن کو معلوم ہوتا ہے کہ تمام عوامل و اسباب خدا کے ہاتھ میں ہیں اور کائنات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے تو وہ دوسروں کے متعلق کسی قسم کے استقلا ل اور اختیار کا قائل نہیں ہو تا کہ اس سے ڈرے بلکہ وہ صرف خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ خداوند متعال پر ہی تکیہ اور بھروسہ کرتا ہے اور صرف اسی سے ڈرتا ہے ، ہر روز اس کا ایمان تقویت پاتا ہے اس کے نتیجہ میں خداوند متعال اسے ایک ایسی قدرت عطا کرتا ہے کہ وہ خداکے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتا اور دوسرے اس سے مغلوب ہوکر ڈرتے ہیں وہ باطل کے سامنے جھکتا نہیں ہے اور جس چیز کو فرض سمجھتا ہے اسے انجام دیتا ہے لیکن جو خدا سے نہیں ڈرتا ، لوگ اس سے بھی نہیں ڈرتے اور وہ اپنی حیثیت کے تحفظ کیلئے ان سے ساز باز کرتا ہے اور جستجو کرتا ہے کہ دوسروں کو اپنے بارے میں راضی رکھے ۔

انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب دنیوی امور میں مست و مدہوش ہوتا ہے تو خدا اور معنویات کی طرف توجہ نہیں کرتا ہے اس لئے قرآن مجید میں اس قسم کی مستی اور شادمانی و مسرت کی مذمت کی گئی ہے

( وَ لَئِنْ اَذَقْنَاهُ نَعْمَائَ بَعْدَ ضَرَّائَ مَسَّتْهُ لَیَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّیِّئاتُ عَنِّی اِنَّهُ لَفَرِح فَخُور ) ( ہود ١٠)

اور اگرہم نے پریشانی و تکلیف کے بعد نعمت اور آرام کا مزہ چکھایا تو کہتا ہے کہ اب تو میری ساری برائیاں چلی گئیں اوروہ خوش ہوکر اکڑنے لگتا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام دنیا کی نعمتوں کے بارے میں مسرت اور شادمانی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

(مَا بالکم تَفْرَحُون بالیَسِیر من الدُّنیٰا تُدرکونه و لَا یَحزُنکم الکَثِیر مِنَ الآخِرَة تُحرمونه ...)(۴)

تمھیں کیا ہوا ہے ،جب تھوڑی سی دنیا ملتی ہے تو خوشحال ہوتے ہو اور آخرت کے ایک بڑے حصہ سے محروم ہو کر غمگین نہیں ہوتے؟

اس شادمانی اور مستی کے مقابلہ میں ماضی کا حزن و غم اور مستقبل کا خوف قرار پایا ہے جو انسان کو خداوند متعال کی اطاعت عبادت و بندگی کیلئے آمادہ کرتا ہے اسی لئے ان دو ذہنیتوں اور نفسانی احساس کی ستائش کی گئی ہے، جیسا کہ بعض روایتوں کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی جماعت میں حزن و غم ہو ، خداوند متعال اس جماعت پر اس حزن کی وجہ سے رحمت نازل فرماتا ہے بنیادی طور پر ہدایت اور انبیاء و اولیاء کی دعوت سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، جن کے دل میں خوفِ خدا ہو:

( اِنَّمَا تُنْذِرُالَّذِینَ یَخْشَونَ رَبَّهُم بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ) ( فاطر ١٨)

آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جواز غیب خدا سے ڈرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں ۔

جو لوگ خداوند متعال سے نہیں ڈرتے ، ان پر انبیاء کی دعوت بے اثررہتی ہے اور ان کی تربیت نہیں ہوتی ہے ، چنانچہ خداوند متعال فرماتا ہے :

( سَوَائ عَلَیهِمْ ئَ اَنْذَرتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرهُم لَا یُؤْمِنُونَ ) ( بقرہ ٦)

ان کیلئے سب برابر ہے ، آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ''

خدا سے خوف کا مفہوم : انسان اس چیز سے ڈرتا ہے جو اس کیلئے خطرہ ہو اور اسے نقصان پہنچاتی ہوپس خداوند متعال کے خوف کا کیامعنی ہے جبکہ وہ اپنے بندوں میں سے کسی کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا ہے ؟ مختصر طورپر کہا جاسکتا ہے : حقیقت میں انسان کو پہنچنے والے خطرہ اور نقصان سے خوف ہوتا ہے اور خطرہ و نقصان پہنچانے وا لے سے غیر ارادی اور عارضی خوف ہوتا ہے جب انسان کسی دشمن سے ڈرتا ہے حقیقت میں وہ اس کی طرف سے پہنچنے والی جسمانی اذیت سے ڈرتا ہے اور خود دشمن سے جو خوف ہے وہ عارضی ہے ۔

مادی لحاظ سے جب انسان کو یقین حاصل ہوتا ہے کہ کائنات کے اختیارات اور اسباب خداوند متعال کے ہاتھ میں ہیں ، تو اس کا خدا سے ڈرنا در اصلقہر طبعی اور دنیوی مصیبتوں سے ڈرنے کے معنی میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب خداوند متعال اس پر غضب کرتا ہے تو طبعی اور مادی عوامل اس پر غضب کرتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر زلزلہ ، سیلاب اور دوسری زمینی اور آسمانی بلاؤں سے دوچار ہوتا ہے قہر طبعی( زلزلہ طوفان) خداوند متعال کے غضب کا سرچشمہ ہوتا ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے اس حصہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ وہ حزن و خوف قابل قبول ہے جو شعوری طورپر یا غور و خوض کے بعد انسان کے اندرپیدا ہو اور اس کے بعد انسان خدا اور اپنے کمال کی راہ میں قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے ہر حزن و خوف قابل قبول نہیں ہے۔

جو ناراضگی و غصہ انسان کو غرق کرکے اسے کاروبار زندگی سے روک دے وہ مطلوب نہیں ہے ، مثلا انسان جاہتا ہے کہ مطالعہ کرے لیکن وہ غصہ اسے اپنی طرف مصروف لر لیتا ہے ، انسان چاہتا ہے کہ نماز پڑھے لیکن دنیوی پریشانیاں اسے خدا کی طرف متوجہ ہونے نہیں دیتیں ، اس طرح کا غم اور حزن نہ صرف مطلوب نہیں ہے بلکہ راہزن ہے.

بعض لوگ بزدل ہوتے ہیں اگر انہیںیہ احتمال ہوتا کہ انہیں کسی خطرہ کا سامنے ہے اپنے عیش و آرام کو کھودیتے ہیں حتی اگر انھیں احتمال ضعیف بھی ہو ،اس طرح کے خوف کی کوئی وقعت نہیں ہے بلکہ اس خوف و حزن کی قدر و قیمت ہے جو انسان کی معنوی ترقی سے مربوط ہے اس طرح اطاعت و بندگی سے خوف و حز ن کا رابطہ واضح ہوگیا اوربسا اوقات ایسا ہوتا ہے انسان کمال و سعادت کے مقام تک پہنچنے میں مذکورہ ان دو حالتوں سے بنحواحسن استفادہ کرتا ہے ۔

دنیا ، مومن کے لئے زندان اور کافر کے لئے بہشت :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، خوف و حزن کی کیفیت و حالت اور ان دو نفسیاتی احساس کی طرف توجہ مبذول کرانے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

''یا اَبَاذرٍ! َلدُّنْیٰا سِجنُ الْمُؤْمِنِ و َ جَنَّةُ الْکَافِرِ وَ مٰا َصْبَحَ فِیها مُوْمِن ِلَّا حَزِیناً ''

اے ابوذر! دنیا مؤمن کیلئے زندان اور کافر کیلئے بہشت ہے ، کوئی بھی مومن غم و اندوہ کے بغیر صبح نہیں کرتا ہے یعنی رات نہیں گزارتا ہے ۔

جب مؤمن میں یہ احساس اجاگر ہوجائے کہ وہ زندان میں ہے ، وہ توقع نہیں رکھ سکتا ہے کہ خوشی و مسرت میں زندگی بسر کرے اور اس فکر میں نہیں ہوتا ہے کہ دنیوی لذتوں میں سرگرم رہے ، وہ دنیوی نعمتوں سے اس حد تک استفادہ کرتا ہے کہ '' سیر الی اللہ '' کیلئے تقویت پیدا کرے ، وہ ہر نعمت سے استفادہ کرنے اور ہر لذت کو پانے کے بعد خدا کا شکر بجالاتا ہے ۔

اس کے بر عکس ، دنیا کافر کی بہشت ہے ، کیونکہ وہ جب تک دنیا میں ہے اپنے لئے آسائش اور لذت کیلئے جستجو کرسکتا ہے اور اگر اس کیلئے کوئی آرام و آسائش ہے بھی تو وہ دنیا ہی تک محدود ہے ، کیونکہ وہ اپنے برے اعمال کی وجہ سے قیامت میں عذاب الٰہی میں مبتلا ہوگا ۔ خدا کا عذاب اور غضب اس قدر شدیدیا سخت ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود دنیا اس کیلئے بہشت ہے ۔

ایک مشہور داستان ہے کہ ایک یہودی شخص کہ فقیر اور مریض تھا حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی خدمت میں ایسے وقت میں آیا کہ امام علیہ السلام ایک لباسِ فاخرہ زیب تن کئے ہوئے گھوڑے پر سوار تھے اس یہودی نے امام علیہ السلام سے کہا: آپ کے جد نے فرمایا ہے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے بہشت ہے کیا اس حالت میں جب کہ آپ اس شان و شوکت سے گھوڑے پر سوا رہیں یہ دنیا آپ کیلئے بہشت ہے یا مجھ فقیر اور مریض کیلئے ؟ اس فقر و تنگدستی کے ساتھ یہ دنیا میرے لئے جہنم ہے نہ بہشت یا آپ کے لئے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم جانتے کہ خدائے متعال نے تمھارے لئے کتنا سخت عذاب مقرر فرمایا ہے ، تو تمہیں معلوم ہوتا کہ اسی ناگفتہ بہ حالت میں بھی دنیا تمھارے لئے بہشت ہے اس کے مقابلہ میں اگر تم دیکھتے کہ خداوند تعالیٰ نے ہمارے لئے بہشت میں کتنا عظیم مقام مقرر فرمایاہے ، پھر تم کو پتہ چلتا کہ اگر پوری دنیا بھی ہمیں بخش دی جاتی تو بھی بہشت کے مقام کے مقابلہ میں ایک قید خانہ سے زیادہ نہیں ہے۔

جب دنیا مؤمن کا زندان ہو ، تو فطری بات ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ غم و اندوہ میں رہے گا کیونکہ زندان خوشیاں منانے کی جگہ نہیں ہے ۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ اس روایت میں حزن کی ستائش اس معنی میں نہیں ہے کہ ہر حزن قابل ستائش ہے اور انسان کوسعی کرنا چاہیے تاکہ ہمیشہ حزن و غم میں رہے، اس روایت سے اس طرح عمومی معنی کا قصد نہیں کرنا چاہیے ۔ بیشک ، اس قسم کے موعظوں میں ذکر کئے گئے مطالب مقید ہوتے ہیں اور ان کا دائرہ محدود ہوتا ہے، لیکن خداوند متعال اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلمات میں تحقیق اور ان سے مانوس ہونے کے بعد معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کن مواقع پر وسیع اور عام حکم کا دائرہ محدود ہوتا ہے ۔

جہنم کی فکر مومن کے خوف و حزن کا سبب ہے :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مومن کے غمگین ہونے کی علت کے بارے میں فرماتے ہیں :

''فَکیف لا یحزن و قد اوعده ﷲ جل ثناؤه انه وارد جهنم و لم یعده انه صادر عنها ''

اس کے پیش نظر کہ خداوند متعال نے خبر دیدی ہے کہ انسان جہنم میں داخل ہوگا اور وعدہ نہیں دیا ہے کہ قطعاً وہ جہنم سے نکلے گا، تو مومن کیوں کرغمگین نہ رہے ۔

انسان ، خاص کر مؤمن کے حزن و اندوہ کا سبب یہ ہے کہ وہ خدائے متعال کے اس قطعی وعدہ کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے کہ تمام انسان جہنم میں داخل ہوں گے اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس نکتہ کو بیان فرماکر حزن پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔

خداوند متعال اس سلسلہ میں فرماتا ہے :

( وَ اِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُها کَان َ عَلٰی رَبِّکَ حَتْماً مَقْضِیاً ) ( مریم ٧١)

اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جوجہنم میں داخل نہیں ہوگا ، یہ تمہارے رب کا حتمی فیصلہ ہے قرآن مجید کی فرمائش اور خداوند متعال کے قطعی حکم پر مؤمن کو یقین ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوگا اور کسی نے یہ ضمانت نہیں دی ہے کہ وہ جہنم سے نکلے گا بیشک جن پر خداوند متعال کا لطف و کرم ہو اور حکم خدا پر عمل کرنے کی توفیق حاصل کرچکے ہوں وہ جہنم سے نکلیں گے ، لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ ان میں سے ہوگا یا نہیں ۔ یہی فکر ا س کے غم واندوہ کیلئے کافی ہے وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہے، اس لحاظ سے خوشحالی اس کیلئے مفہوم نہیں رکھتی ہے اور یہ فکر او رغم اسے غفلت سے روکتی ہے ۔

یہ شک و اضطراب انسان کو مجبور کرتا ہے تا کہ وہ ہوش میں آئے اور مستی اور شادمانی کی کیفیت سے اجتناب کرے اور اپنے انجام کے بارے میں سوچے ، لیکن دنیا میں اور بھی اسباب و عوامل ہیں جو انسان کیلئے حزن و غم کا باعث بنتے ہیں ، جیسے بیماریوں میں مبتلا ہونا اور مصیبتیں یا یہ کہ کسی انسان کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور وہ اپنے حق کو حاصل نہیں کرسکتا ، اس بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

'' و لیلقین امراضاً و مصیباتٍ و اموراً تغیظه و لَیُظْلمَّن فلا ینتصر، یبتغی ثواباً من ﷲ تعالیٰ''

با ایمان انسان بیماریوں ، مصیبتوں ، حوادث اور مشکلات سے دوچار ہوتا ہے ، ظلم برداشت کرتا ہے ، لیکن کوئی اس کی مدد نہیں کرتا ہے ( اس لحاظ سے ) وہ خدائے متعال سے اجر کی درخواست کرتا ہے

اگر چہ غم و اندوہ کے اسباب و علل اور بھی بہت سے ہیں ، لیکن جو حزن ان میں سے بعض کی وجہ سے وجود میں آتا ہے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ہے اور انسان کی اصلاح میں کوئی رول ادا نہیں کرتا ہے ، کیونکہ یہ غم و اندوہ تمام لوگوں کو پیش آتا ہے لیکن وہ حزن و اندوہ کافی مطلوب اور مؤمن کی اصلاح میں مؤثر ہے ، جو اس میں یہ جان کر پیدا ہوتا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوگا اور ممکن ہے وہاں سے باہر نہ آسکے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں :

'' فَمَا یَزَالُ فیها حَزِیناً حتٰی یفارقها ، فاذا فارقها افضی الیٰ الراحه و الکرامة''

مؤمن دنیا سے غمگین حالت میں جاتا ہے ، لیکن جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو آرام و آسائش اور خدا کے لطف وکرم کی طرف گامزن ہوتا ہے ''

جیسا کہ بیان ہوا ، مؤمن جب تک دنیا میں ہے مشکلات اور ناگواریوں سے دوچار ہوتا ہے اور نتیجہ میں غمگین رہتا ہے یا جب اپنے انجام کے بارے میں فکر کرتاہے اور اپنے ماضی کی غلطیوں پر غور کرتا ہے ، تو غمگین ہوتا ہے پس جب وہ مشکلات او رمصیبتوں سے بھری اس دنیا سے ابدی دنیا اور حق کی طر ف چلا جاتا ہے تو اس کا غم و اندوہ ختم ہوجاتاہے اور وہ مسرت و شادمانی کا دور شروع ہوتا ہے ۔

'' یا اَباذر ! ما عبدﷲ علی مثل طول الحزن''

اے ابوذر ! خداوند متعال کی کبھی ، طولانی حزن و اندوہ کے مانند عبادت نہیں کی گئی ہے ۔

جو بندہ ہمیشہ خدا سے ڈرتا تھا ، اس نے تمام مشکلات کے مقابلہ میں صبر کیا ہے ، اور دوسروں سے زیادہ خدا کی بندگی کی ہے ۔

فطری بات ہے جب انسان اپنے انجام اور کرتوت کے بارے میں خائف اور محزون ہوگا ، تووہ بیشتر گریہ و زاری کی حالت میں بارگاہ الٰہی کی طرف رجوع کرے گا اور نتیجہ کے طورپر اپنے آپ کو گناہ کی آلودگی سے پاک و طاہر رکھے گا اسی طرح وہ بیداری اور ہوشیار ی سے بنحو احسن خدا کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے اور عبادت کی قبولیت کیلئے جس اخلاص کی شرط ہے وہ اسے بہتپوری طرح سے فراہم ہے اس لحاظ سے کہ حزن و اندوہ بذاتِ خود عبادت ہے ، کیونکہ یہ حزن و اندوہ بندہ کو مقام بندگی اور خداوند متعال کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسے خداوند متعال کی مخلصانہ عبادت کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔

جب بات یہاں تک پہنچی تو مناسب ہے یہاں پر مؤمن کی موت اور خدا سے ملاقات کے وقت حالت و مقام کے بارے میں چند احادیث بیان کریں ۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ موت کے وقت مؤمن سے دو فرشتے کہتے ہیں ؛

''یَاوَلِی ﷲ لاتَحزَنْ ولاتَخشِ واَبْشِرواستبشرلیس هٰذالک ولاانت له،انَّما اراد ﷲ تعالیٰ ان یریک من ایّ شیئٍ نجاک و یذیقک بردَ عفوه ، قد اغلق هذا البابُ عنک و لا تدخل النار ابداً ''(۵)

اے ولی خدا ! غمگین نہ ہونا اور نہ ڈرنا تمہیں ( بہشت بریں کی ) بشارت ہو اور خوش و شادمان ہوجاؤ نہ تم خوف اندوہ کے سزاوار ہو اور نہ اس کے مستحق ہو ، بیشک خدائے متعال نے ارادہ کیا ہے کہ تجھے ہر رنج و عذاب سے نجات دے ۔

عفو و بخشش کا گوارا پانی تجھے پلائے ، بیشک جہنم ( کا دروازہ ) تمھارے لئے بند ہوگیا ہے اور تم ہر گز جہنم میں داخل نہیں ہو گے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''حدثنی اخی و حبیبی رسول ﷲ، قال:من سرّه ان یلقی ﷲ عز و جل

وهو مقبل علیه غیر معرض فلیتولک یا علی و من سره ان یلقی

ﷲو هو راض و لا خوف علیه فلیتول ابنک الحسن علیه السلام

و من احب ان یلقی ﷲ و لا خوف علیه فلیتول ابنک الحسین علیه السلام ''(۶)

میرے دوست اور بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

جو اس بات پر خوشنود ہوناچاہئے کہ خدا اس سے ملاقات کرے اور اسے قبول کرے اور اسے رد نہ کرے ، اسے چاہیے کہ تجھے اپنا ولی اور محبوب قرار دے اور جو اس بات سے مسرور ہونا چاہے کہ خدا سے ملاقات کرے اور خدا اس سے راضی ہوجائے ، اسے تمہارے بیٹے حسن علیہ السلام کو اپنا ولی اور محبوب قرار دینا چاہیے ، اور جو خدا سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہو اور کسی قسم کے خوف و ہراس سے دوچار نہیں ہونا چاہئے اسے چاہئے کہ تمہارے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو اپنا ولی اور محبوب قرار دے''

____________________

١۔ نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ،خطبہ ١١٣ ، ص ٣٥٣

٢۔ نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ، ص ٨٨٧

۳۔بحار الانوار ،ج٧٩ص٤٠٦

۴۔ نہج البلاغہ ( ترجمہ فیض الاسلام) خ ١١١ص ٣٥٠

۵۔ بحار الانوار ، ج ٨ ص ٢١ ، ح ٢٠٥)

۶۔بحار الانوار ج٢٧، ص ١٠٧ ، ح ٨١


بارہواں سبق

خوف و حزن کی اہمیت اور اس کا اثر (٢)

* مفید اور نفع بخش علم

* بہشت میں سکون و اطمینان، دنیا میں خوفخدا کا نتیجہ

*گناہوں کی بخشش خوف خداکا نتیجہ اپنے نیک اعمال پر اعتماد کرنے والے کی سر زنش

*گناہ کی طرف متوجہ ہونے کا اثر شیطان سے دوری ہے

* حزن و خوف کی حقیقت کے بارے ایک تحقیق اور خداسے خوف کا معنی

* متضاد حالات کا ایک ہی وقت میں محقق ہونا۔

حزن و خوف کی اہمیت اور اس کا اثر(٢)

''یَا اَبَاذرٍّ؛ مَنْ ُوتِیَ مِنَ الْعِلْمِ مٰا لٰا یُبْکیهِ لَحَقیق َنْ یَکُونَ قَدْ ُوتِیَ عِلْماً لٰا یَنْفَعُهُ ، لِاَنَّ ﷲ عَزَّ وجَلَّ نَعَتَ الْعُلَمَائَ فَقٰالَ :( اِنَّ الَّذِینَ اُوتُو الْعلْمَ مِنْ قَبْلِهِ ِذَا یُتْلٰی عَلَیْهِمْ یَخِرُّونَ لِلْاَذْقٰانِ سُجَّداً وَ یَقُولُونَ سُبْحٰانَ رَبِّنٰا ِنْ کٰانَ وَعْدُ رَبِّنٰا لَمَفْعُولاً وَ یَخِرُّونَ لِلْاَذْقٰانِ یَبْکُونَ وَ یَزیدُهمُ خُشُوعاً )

یَا َبٰاذرٍ؛ مَنِ اسْتَطَاعَ َنْ یَبْکی فَلْیَبْکِ وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فِلْیُشْعِرْ قَلْبَهُ الْحُزْنَ وَلْیَتَبٰاکَ ، ِنَّ الْقَلْبَ الْقٰاسی بَعید مِنَّ ﷲتَعٰالٰی وَلٰکِنْ لٰا تَشْعُرُونَ

یٰا َبَاذَرٍ؛ یَقُولُ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ : لَا َجْمَعَ عَلٰی عَبْدٍ خَوفَینِ وَ لاٰ َجْمَعُ لَهُ َمْنَینِ فَاِذَا اَمِنَنی فِی الدُّنْیٰا اَخَفْتُهُ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ وَ ِذَا خٰافَنی فِی الدُّنْیٰا اَمَنْتُهُ یَوْمَ القِیٰامَةِ یَا َبَاذَرِ : ِنَّ الْعَبْدَ لَیُعْرَضُ عَلَیهِ ذُنُوبُهُ یَومَ القِیٰامَةِ فَیَقُولُ : َمٰا ِنِّی کُنْتُ مُشفِقاً فَیُغْفَرُ لَه،

یٰا َبَاذَرٍ؛ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلْ الْحَسَنَةَ فَیَتَّکِلُ عَلَیْهٰا وَ یَعْمَلُ الْمُحَّقَّرَاتِ حَتّٰی یَتِیَ ﷲ وَ هُوَ عَلَیْهِ غَضْبٰان وَ اَنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ السَّیئَةَ فَیَفْرُقَ مِنْهٰا فَیَاَتِی ﷲ عَزَّ وَ جَلَّ آمِناً یَومَ الْقِیٰامَةِ

یٰا َبَاذَرٍ؛ ِنَّ الْعَبْدَ لَیُذْنِبُ الذَّنْبَ فَیَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، فَقُلْتُ: وَکَیْفَ ذٰلِکَ بَِبی َنْتَ وَ ُمِّی یٰا رَسُولَ ﷲ؟ قٰالَ ، یَکُونُ ذٰلِکَ الذَّنْبَ نَصْبَ عَیْنَیهِ تٰائِباً مِنْهُ فٰاراً اِلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی یَدخُلَ الْجَنَّةَ''

سب سے بڑی نعمت جو خدائے متعال نے ہمیں عنایت فرمائی ہے وہ اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کی نعمت ہے اس پاک خاندان کی ہدایت و رہنمائی کی نور افشانی کے نتیجہ میں ، گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران علمائے بزرگ کی انتھک زحمتوں کے سبب موعظوں اور علوم کے عظیم خزانے ہم تک پہنچے ہیں ۔ کم ترین شکر جو ہمیں اس عظیم نعمت کا ادا کرنا چاہیے ، وہ ان قیمتی ذخائر کا مطالعہ ، تحقیق ، ان سے استفادہ کرنا اور ان کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہے ، ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کے سایہ میں اور ان کی وضاحت سے ہی ہمیں جہل و بے خبری کی تاریکی سے نکل کر نور، معرفت اور آگاہی کی طرف راہنمائی ہوتی ہے ، جیسا کہ ہم زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں:

''بمٰولاتکم ، علّمنا ﷲ معالم دیننا و اصلح ما کان فسد من دنیانا ''(۱)

آپ کی ولایت و پیشوائی کی برکت سے خدائے متعال نے دین کے علوم اور حقائق سے ہمیں آشنا کیا اور ہمارے فاسد دنیوی امور کی اصلاح فرمائی ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ابوذرسے کی گئی نورانی نصیحتیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہدایتوں کی ایک واضح مثال ہے ، مناسب ہے کہ ہم ان پند و نصائح سے استفادہ کریں تا کہ دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کریں ، کیونکہ اسلام اور اسی کے احکام انسان کی دنیوی و اخروی سعادت اور اس کی تمام معنوی و مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا بہترین نسخہ ہے ۔

مفید و نفع بخش علم :

''یَا اَبَاذرٍّ؛ مَنْ ُوتِیَ مِنَ الْعِلْمِ مٰا لٰا یُبْکیهِ لَحَقیق َنْ یَکُونَ قَدْ ُوتِیَ عِلْمً مٰا لٰا یَنْفَعَهُ ، لِاَنَّ ﷲ عَزَّ وجَلَّ نَعَتَ الْعُلَمَائَ فَقٰالَ :( اِنَّ الَّذِینَ اُوتُو الْعلْمَ مِنْ قَبْلِهِ ِذَا یُتْلٰی عَلَیْهِمْ یَخِرُّونَ لِلْاَذْقٰانِ سُجَّداً وَ یَقُولُونَ سُبْحٰانَ رَبِّنٰا ِنْ کٰانَ وَعْدُ رَبِّنٰا لَمَفْعُولاً وَ یَخِرُّونَ لِلْاَذْقٰانِ یَبْکُونَ وَ یَزیدُهمُ خُشُوعاً )

اے ابوذر!جس کوایسا علم دیا جائے کہ اسے نہ رلائے ، تو بیشک اسے ایسا علم دیا گیا ہیجس نے اس شخص کو کوئی فائدہ نہیں بخشا ہے ۔ کیونکہ خداوند متعال نے قرآن مجید میں علما کی یوں توصیف فرمائی ہے ۔ '' وہ لوگ کہ جن کو اس کے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان پر قرآن کی تلاوت ہوتی ہے تو منھ کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک و پاکیزہ ہے اور اس کاعہد یقینا پورا ہونے والا ہے اور منھ کے بھل گرپڑتے ہیں روتے ہیں اورقرآن ان کے خشوع میں اضافہ کردیتا ہے ''

اسلام ایک جامع و کامل مکتب ہے جو انسان کو کمال کی طرف دعوت دے کر اسے سماجی ، اخلاقی اور دیگر پہلوئوں سے تربیت کرنا چاہتا ہے ، انسان اس وقت کمال تک پہنچتا ہے جب وہ علمی ، اخلاقی نیز بلند اقدار کے حوالے سے تمام شعبوں میں ترقی کرتاہے ۔ اسلام جس قدر علم ،و آگہی ، فقہ و اجتہاد کو اہمیت دیتا ہے اسی قدر اخلاقی اور معنوی مسائل کو بھی اہمیت دیتا ہے ۔ انسان کامل علمی و فقہی و ...پہلوئوں سے نشو و نما پانے کے علاوہ اخلاقی پہلوئوں سیبھی ترقی کرتا ہے ۔

افسوس ہے کہ بعض اوقات علمی مسائل کی طرف توجہ دینے کی وجہ سے ہم اخلاقی مسائل جن کی اہمیت علمی مسائل سے کم نہیں ہے کی طرف توجہ نہیں دیتے ، اسی طرح کبھی انسان کو سماجی مسائل پر توجہ دینا معنوی و اخلاقی مسائل کے بارے میں غفلت سے دوچار کردیتا ہے انسان اجتماعی اور سماجی مسائل میں اس قدر غرق ہوجاتا ہے کہ اسے اپنے اخلاقی مسائل اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ہمیں غرور اور غفلت سے بچنے کیلئے کبھی کبھی اخلاقی و معنوی مسائل کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

روایت کے اس حصہ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگراللہ تعالی نے ہمیں ایک علم عنایت کیا ہے تو وہ چاہتا ہے اس کے ساتھ اخلاقی اقدار کی بھی رعایت ہو ، کیونکہ اگر ہم صرف علمی مسائل کی طرف توجہ دیں گے اور خود سے غافل رہیں گے تو ، اخلاقی انحرافات جیسے غفلت اور غرور میں مبتلا ہوجائیں گے ۔

قرآن مجید میں بعض اقدار بیان ہوئے ہیں افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان کو فراموش کردیا گیا ہے اگرچہ بعض افراد ان میں سے کچھ اقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ اقدار معاشرے میں روز بروز رواج پائیں ،یہ اس صورت میں ہے کہ جب قرآن مجید ان خصوصیات اورا قدار کو نیک بندوں اور علماء کی صفات میں جانتا ہے من جملہ ان صفات و خصوصیات میں خداوند عالم سے ڈرنا ، توبہ اور گڑگڑانا ہے ۔

شاید حزن ، غم اور فروتنی پر تکیہ کرنا مومن، خاص کر عالم کی شخصیت کو متوازن بنانے کیلئے ہے ، کیونکہ علم و دانش کی ایک خاص عظمت و منزلت ہے اور یہ تقویٰ کے بعد سب سے بڑی انسانی فضیلت ہے فطری بات ہے کہ علم حاصل کرنیو الا اجتماعی عزت و احترام کا مالک ہوتا ہے اور یہ بذات خود غرور و تکبر کا موجبہے اورفطری طور پر عالم کو اس سے آلودہ ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔

شرع مقدس اسلام نے عالم کو غرور سے بچانے اور ا س کی شخصیت کو متوازن بنانے کیلئے اسے خضوع و خشوع ، گریہ و توبہ کی نصیحت کی ہے تا کہ وہ جس قدر سماج میں بلند مقام پائے اپنے کو چھوٹا اور حقیر سمجھے ، یہ وہی چیز ہے جس کی حضرت امام سجاد علیہ السلام خداوند متعال سے درخواست کرتے ہیں :

'' َللّٰهُمَّ صُلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِهِ وَ لاَ ترفعنی فی الناس درجة الا حططتنی عند نفسی مثلها و لا تحدث لی عزاً ظاهرا الا احدثت لی ذلة باطنة عند نفسی بقدرها (۲) ''

پروردگارا ، درود بھیج محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر ، جس قدر تو مجھے لوگوں کے سامنے عظمت و سر بلندی عطا کر اسی اعتبار سے تو مجھے اپنی نگاہ میں ذلیل و حقیر قرار دے اور جس قدر ظاہر میں تو مجھے عزت عطا کراسی اعتبار سے تو مجھیباطن میں ذلت و رسوائیعطا کر ۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے فرماتے ہیں اگر تمہیں ایک ایسا علم عطا کیا گیا جوتمھارے خضوع و خشوع میں اضافہ نہ کرے اور تمھارے اندر خضوع و خشوع اور گڑگڑانے کی حالت پیدا نہ کرے ، تو جان لینا کہ وہ علم تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا ۔ صرف وہ علم فائدہ بخش ہے جو خدا کے سامنے انسان کے خضوع و خشوع میں اضافہ کرے ۔ چنانچہ خداوند متعال قرآن مجید میں علما کی ایسی تعریف کرتا ہے کہ ، جب ان پر آیات الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ فوراً زمین پر گر پڑتے ہیں اور گڑگڑاتے ہوئے گریہ و زاری کرتے ہیں ، یہ خدا کے حضور میں انسان کے خضوع کی علامت ہے ۔

اگر چہ رونا ایک ظاہری عمل شمار ہوتا ہے لیکن یہ قلب اورباطنی تبدیلی کا مظہر ہے ، جب تک انسان کا دل محزون نہ ہوجائے اور انسان خدا کے سامنے خاشع نہ ہو جائے ، گریہ کی حالت اس میں پیدا نہیں ہوسکتی ہے ۔

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

'' یَا َبٰاذرٍ؛ مَنِ اسْتَطَاعَ َنْ یَبْکی فَلْیَبْکِ وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فِلْیُشْعِرْ قَلْبَهُ الْحُزْنَ وَلْیَتَبٰاکَ ، ِنَّ الْقَلْبَ الْقٰاسی بَعید مِنَّ ﷲتَعٰالٰی وَلٰکِنْ لٰا تَشْعُرُونَ''

اے ابوذر ! جس کیلئے ممکن ہو ( خدائے قادر سے ڈر کر ) گریہ کرے ، اگر ممکن نہ ہو تو ( کم از کم) اپنے دل کو غم و اندوہ سے آشنا کرے اور رونے کی حالت پیدا کرے ، کیونکہ قساوت رکھنے والا دل خدائے متعال سے دور ہوتا ہے، لیکن وہ اس معنی کو درک نہیں کرتے ہیں۔

چنانچہ اس سے پہلے بیان ہوا ، جس گریہ کی روایتوں ، من جملہ مذکورہ روایت میں تاکید کی گئی ہے ، وہ اخروی سعادت سے محروم ہونے اور گناہوں میں آلودہ ہونے کے خوف سے گریہ ہے یا معنویمدارج اور امام عصر ( عج) کے دیدار سے محروم ہونے کی وجہ سے جو گریہ کیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر وہ گریہ ہے جو لقاء اللہ کی محرومیت کی وجہ سے واقع ہوتا ہے۔

جو لوگ خدا کی محبت رکھتے ہیں اور ولایت الٰہی کو پہچانتے ہیں وہ لقاء اللہ سے محروم ہونے کے خوف میں گریہ و زاری کرتے ہیں ، جیسے حضرت علی علیہ السلام دعائے کمیل میں فرماتے ہیں :

'' فهبنی یا الهی و سیدی و مولای و ربی ، صبرت علی عذابک فکیف اصبر علی فراقک ''

مجھے معلوم ہے اے میرے معبود اے میرے سردار ! اے میرے مولا! اے میرے پروردگار! میں عذاب پر تو صبر کرلوں گا لیکن تیری جدائی پر کیوںکر صبر کروں گا ؟

اگر کسی کیلئے گریہ و زاری کرنا ممکن نہ ہو تو اسے حزن آفریں موضوعات کو یاد کرکے یا معنوی اقدار سے محروم ہونے کی وجہ سے اور گناہ پر غور کرکے کم از کم اپنے دل کو محزون بناناچاہیے اگر اس کا دل محزون نہ ہو تو کم از کم رونے کی حالت بنائے ، اگر کسی شخص کے لئیحزن کی حالت پیدا نہیں ہوتی اور ہمیشہ مست ومغرور رہتا ہو تو وہ خدا کی رحمت سے محروم رہتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہرکوئی جو گریہ و بکاء کی حالت رکھتا ہے وہ خدا کے نزدیک ہے ، کیونکہ ممکن ہے بعض حالات کے پیش نظر منافقین میں بھی ایس حالت رونما ہوجائے اور وہ محزون ہوکر گریہ کرنے لگیں اس کے برعکس جو بھی محزون نہ ہواور اس میں گریہ کی کیفیت پیدا نہ ہوتو ہے اسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ سنگ دل اور خدا سے دور ہے ۔

بہشت میں سکون و اطمینان ، دنیا میں خوف خدا کا نتیجہ:

یٰا َبَاذَرٍ؛ یَقُولُ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ : لَا َجْمَعَ عَلٰی عَبْدٍ خَوفَینِ وَ لاٰ َجْمَعُ لَهُ َمْنَینِ فَاِذَا اَمِنَنی فِی الدُّنْیٰا اَخَفْتُهُ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ وَ ِذَا خٰافَنی فِی الدُّنْیٰا اَمَنْتُهُ یَوْمَ القِیٰامَةِ

اے ابوذر ! خداوند متعال فرماتا ہے : '' میں اپنے بندہ پر دو خوف اور دو امن ایک ساتھ جمع نہیں کرتا ہوں گروہ اس دنیا میں مجھ سے خائف نہیں تھا یعنی امان میں تھا تو دوسری دنیا میں ،میں اسے ڈراؤں گا اور اگر اس دنیا میں مجھ سے خائف تھا تو دوسری دنیا میں اسے امن و امان میں قرار دوں گا '''

اگر بندہ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈرتا تھا تو وہ قیامت کے دن خوف و ترس اور عذاب جہنم سے بچ جائے گا ( خدا سے خوف، عذاب الٰہی سے ڈرنے کے معنی میں ہے کہ بندہ احکام الٰہی کو انجام دینے میں کوتاہی کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوتا ہے ) پس ، جو دنیا میں خداوند متعال سے ڈرتا ہے اسے قیامت میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور وہ امن و امان میں ہوگا ، جیسا کہ خداوند متعال فرماتا ہے :

( وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَ نَهَیَ النَّفْسَ عَنِ الْهَویٰ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَآویٰ ) (نازعات ٤٠و٤١)

اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیاہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ، تو جنت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے

چونکہ بہشت خداوند متعال کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے اور بہشتی لوگ امن و امان میں ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی مشکل ، پریشانی اور غم و اندوہ سے دوچار نہیں ہوتے ، اس لئے خداوند متعال فرماتا ہے :

( مَنْ جَائَ بِالْحَسَنةِ فَلَهُ خَیْر مِنهَا وَ هُمْ مِنْ فَزَعٍ یَومِئِذٍ آمِنُونَ ) ( نمل ٨٩)

جو کوئی نیکی کرے گا اسے اس سے بہتر اجر ملے گا اور وہ لوگ روز قیامت کے خوف سے محفوظ بھی رہیں گے ۔

ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے :

( بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهُ ﷲِ وَ هُوَ مُحْسِن فَلَهُ اَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَ لَا خَوْف عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحزَنُونَ ) ( بقرہ ١١٢)

ہاں ، جو شخص اپنا رخ خدا کی طرف کرے گا اور نیک عمل کرے گا اس کیلئے پروردگار کے یہاں اجر ہے اوراس پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ حزن ''

خدا سے ڈرنے والے انسان کے مقابلے میں جو دنیا میں ا من کا احساس کرتا ہے اور کسی قسم کی پریشانی اور اضطراب کا احساس نہیں کرتا ہے اوراللہ تعالی سے نہیں ڈرتا ہے ، وہ قیامت کے دن خدا کے خوف اور اس کے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ عذاب الٰہی میں ہوگا ۔

خدا کے مکر سے محفوظ رہنا گناہ میں آلودہ ہونے کا سبب ہے کیونکہ جب انسان کام کو انجام دینے میں اپنے آپ کو آزاد ردیکھتا ہے اور کسی بھی قسم کا خوف و ہراس محسوس نہیں کرتا ہے تو وہ گناہ سے لا پرواہی کرتا ہے ، فطری بات ہے کہ دنیا میں امن و امان کا احساس جو گناہ انجام دینے اور انحراف کا موجب ہے آخرت میں ناا منی اور عذاب کا سبب واقع ہو تا ہے اس سلسلہ میں خداوند متعال فرماتا ہے

( فَاَمَا مَنْ طَغیٰ وَآثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیٰا،فَاِنَّ الْجَحِیمَ هِیَ الْمَویٰ ) (نازعات ٣٧و ٣٨و ٣٩)

جس نے سرکشی کی ہے اور زندگانی دنیا کو اختیار کیا ہے ، جہنم اس کا ٹھکانا ہے ۔

حدیث کے اس حصہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان ایک ایسا کام انجام دے سکتا ہے جو اس کیلئے خدا سے ڈرنے کا سبب بنے جب انسان یہ سمجھ لے کہ خدا کا خوف ایک امر مطلوب اور سعادت تک پہنچنے کا وسیلہہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان اپنے اندر کس طرح خدا کا خوف پید اکرے ؟ اس کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں ، بعض مقدمات فراہم کر کے بعض مسائل انسان میں اس حالت میں رونما ہوتے ہیں۔

کبھی انسان بعض چیزوں کو جانتا ہے لیکن وہ ان معلومات کی طرف توجہ نہیں دیتاہے لہٰذا، اس کے متعلق اس کا اعتقاد اور علم کمزور اور پھیکا ہوتا ہے اور انسان غافل ہوتا ہے، نتیجہ کے طور پر وہ علم اور اعتقاد اپنا اثر نہیں دکھاتاہے ،لیکن اگر انسان خوف کو پیدا کرنے والے اسباب کی طرف توجہ کرے اور اس خوف کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھنے کی کوشش کرے، تو اس کا خوف و ہراس بڑھ کر اس کے رفتار و کردار پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ کہ انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں پر وہ ایک ہی وقت میں غم اورخوشی کو دونوں کو یکجا کر سکتا ہے۔ کمزور انسان ایک ہی وقت میں حزن واند وہ اور خوشی کو برداشت نہیں کرسکتے ، وہ ایک لمحہ یا حزن رکھتے ہیں یا شادمانی و سرور۔ جب نفس ہر جہت سے قوی اورمکمل ہوتا ہے، تو ممکن ہے ایک ہی وقت میں بعض جہات سے انسان مسرور ہو اور بعض جہات سے غمگین، انسان نفس و روح کے تکامل ترقی کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ ایک ایسے مرحلہ پر پہنچتا ہے کہ مسرتوں اور غموں کی اقسام کو اپنے میں جمع کرتا ہے، چنانچہ اولیائے الہٰی اپنے اندر مختلف قسم کے خوف واند وہ مسرتوں اور امیدوں کو جمع کرتے تھے۔ جو لوگ اس مقام پر پہنچے ہیں وہ ایک ہی وقت میں مختلف حالات پر مشمل خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں اور وہ اپنے اندر ان مختلف حالات کے آثار و نتائج کو پیدا کر سکتے ہیں۔

گناہوں کی بخشش، خوف خدا کا نتیجہ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے ڈرنے کے نتیجہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

''یَا َبَاذَرِ : ِنَّ الْعَبْدَ لَیُعْرَضُ عَلَیهِ ذُنُوبُهُ یَومَ القِیٰامَةِ فَیَقُولُ : َمٰا ِنِّی کُنْتُ مُشفِقاً فَیُغْفَرُ لَه ''

اے ابوذر! قیامت کے دن مومن کے گناہ اس کے سامنے پیش کئے جا ئیںگے تو وہ کہے گا کہ میں تو اپنے کام کے انجام سے بہت زیادہ خوفزدہ تھا تو اس کے نتیجہ میں اس کے گناہ بخش دئے جائیں گے۔

یہاں تک ہم خدا سے ڈرنے کی اہمیت سے آگاہ ہوئے اور سیرالی اللہ کی جانب رہنمائی کے سلسلہ میں اس کے عظیم نقش سے بھی واقف ہوئے۔ حدیث کے اس حصہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے خوف کے بعض فوائد کے بارے میں اشارہ فرماتے ہیں تاکہ ہم میں خوف خدا کا محرک پیدا ہوجائے یا اس کو تقویت ملے۔ آپ فرماتے ہیں: خدا کے خوف کا ایک فائدہ گناہوں کی بخشش و مغفرت ہے۔

کلی طور پر گناہ کے وقت انسان کی دوحالتیں ہوسکتی ہیں:

١ ۔انسان گناہ کے وقت اس کے انجام کا خوف نہیں رکھتا ہے اور اطمینان و آرام اور کسی قسم کی پریشانی اور اضطراب کے بغیر اس گناہ کی لذتوں سے فائدہ اٹھانے میں مشغول ہے۔

٢۔گناہ انجام دیتے وقت انسان اس کے انجام کے بارے میں خوف زدہ اور وحشت میں ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں مرنہ جائے اور توبہ کرنے کی توفیق نہ ہو۔ گناہ کے وقت یہ ڈر انسان کیلئے گناہ کی لذتوں کو کم کرنے کا سبب واقع ہوتا ہے اورآخر کار یہی خوف اسے توبہ کرنے اور گناہوں کے بخشے جانے کا باعث ہوتا ہے۔

فطری بات ہے کہ قیامت کے دن انسان کے گناہوں کی تحقیقات ہوگی اور اگر اس نے ان گناہوں کی تلافی نہیںکی کیونکہ اگر توبہ کرتا تو اسے نجش دیا جاتا تو اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ لیکن چونکہ خدا کا بندہ دنیا میں خوف و وحشت میں تھا، لہٰذا وہ کہتا ہے: خداوندا! میں گناہ کو انجام دیتے ہوئے اس کی عاقبت سے ڈرتا تھاجس کے ، نتیجہ میں اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔ پس، اگر انسان اپنے گناہوں کے بارے میں خدا سے ڈرے تو اُمید ہے اسے قیامت کے دن بخش دیا جائے گا۔

خوف خدا انسان کے گناہوں میں کمی اور اس کی بیداری و ہوشیاری کا سبب واقع ہوتا ہے، اور یہ بذات خود متنبہ کرنے والا ہے اور انسان کو انحراف اور لغزش کے وقت غفلت سے روکنے کا سبب ہے۔ اسی لحاظ سے قرآن مجید میں خدا سے ڈرنے والوں کی ستائش کی گئی ہے اور خوف خدا کی پاداش کا وعدہ کیا گیا ہے۔

قرآن مجید کی آیات پر ایک اجمالی نظر ڈالنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں خوف خدا کے مراتب کے فرق کا دارومدار انسان کی شناخت کے مراحل میں اختلاف کی وجہ سے ہے یعنی، فاضل افراد، جیسے ائمہ معصومین علیہم السلام خدا وند متعال کے خوف کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور دوسرے افراد ادنی مرتبہ پر۔

قرآن مجید خوف ووحشتسے متعلق دو چیزوں کا ذکر کرتا ہے:

١۔ خدائے متعال کیعظمت و کبریائی سے خوف۔

٢۔عذاب الہٰی کا خوف

سورہ ابراہیم میں فرماتا ہے:

( لَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ ِهمْ ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِی وَخَافَ وَعِیدِ ) (ابراہیم١٤)

''اور تمہیں ان کے بعد زمین میں آباد کریں گے اور یہ سب ان لوگوں کیلئے ہے جو ہمارے مقام اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں اور ہمارے عذاب کا خوف رکھتے ہیں۔''

اس آیہ مبارکہ میں خدائے متعال کے خوف کا بھی ذکر ہوا ہے اور عذاب الہٰی کے خوف کا بھی ذکر ہوا ہے۔ سب سے بلند ترین خوف خدا ئے متعال کی عظمت کا خوف ہے۔

علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:

''خدا کا خوف کبھی عذاب الہٰی سے خوف کے معنیٰ میں ہوتا ہے جو کفر و معصیت کی وجہ سے ہوتا ہے اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان کی عبادت عذاب سے نجات دلانے کیلئے ہے نہ وہ عبادت جو صرف خدا کے لئے انجام دی گئی ہو۔ یہ عبادت ایسے بندوں کی ہے جو اپنے مولا کی سزا کے ڈر سے اس کی بندگی کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ ثواب کی لالچ میں عبادت کرتے ہیں، کہ عبادت کی یہ قسم ''تاجروں کی عبادت'' ہے، لیکن ''مقام ربوبیت'' سے خوف، عذاب الہٰی کے خوف کے علاوہ ہے اور یہ عزت و جبروت الہٰی کے مقابلہ میں بندے کی ذلت و حقارت کا اثر ہے۔

حقیقت میں عظمت الہٰی کے خوف سے عبادت و بندگی، خدائے متعال کے حضور میں سرتسلیم خم کرنے اور خضوع کرنے کے معنی میں ہے نہ عذاب کے خوف سے یا ثواب کی لالچ میں اور یہ عبادت مخلصانہ طور پر خدائے متعال کیلئے انجام دی جاتی ہے۔ پس جو مقام الہٰی سے ڈرتے ہیں وہ خدائے متعال کے جلال کے سامنے مخلصین اور خاضعین ہیں۔''(۳)

اپنے نیک اعمال پر اعتماد کرنے والے کی سرزنش:

گناہ کے مرتکب ہونے والوں کی سرزنش کرتے ہوئے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

'' یٰا َبَاذَرٍ؛ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَیَتَّکِلُ عَلَیْهٰا وَ یَعْمَلُ الْمُحَّقَّرَاتِ حَتّٰی یَتِیَ ﷲ وَ هُوَ عَلَیْهِ غَضْبٰان وَ اَنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ السَّیئَةَ فَیَفْرُقَ مِنْهٰا فَیَتِی ﷲ عَزَّ وَ جَلَّ آمِناً یَومَ الْقِیٰامَةِ''

''اے ابوذر! ایک انسان نیک کام انجام دیتا ہے، اس پر اعتماد کر کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اپنے نیک کردار کے مقابلہ میں گناہ کے انجام میں سہل انگاری کرتا ہے، ایسا انسان جب خدا کے حضورمیں حاضر ہوتا ہے تو خدا اس پر خشمگین ہوتا ہے، اس کے برعکس ایک انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے لیکن اس کے انجام سے خائف ہوتا ہے، اس قسم کاانسان قیامت کے دن آسودہ خاطر ہوگا۔''

اعمال کے قبول ہونے اور نہ ہونے کے معیار کو ظاہری معیاروں پر تولہ نہیں جاسکتا بلکہ اعمال کا قبول ہونا اور قبول نہ ہونا بعض شرائط سے مربوط ہے اور بہت ممکن ہے کہ انسان ان سب کااحصا نہ کرسکے۔ اس بنا پر کوئی بھی شخص اپنے اعمال کے قبول ہونے پر مطمئن نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اعمال کے قبول ہونے پر اعتماد انسان کے مغرور ہونے کا سبب ہے، یہاں تک خود کو گناہ صغیرہ میں اس بہانہ سے آلودہ کرتا ہے کہ اس کے انجام دیئے گئے نیک کام کے مقابلہ میں گناہ صغیرہ حقیر ہے۔ وہ اس سے غافل ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اس کے نیک اعمال کے قبول ہونے کے متعلق اس کا اعتماد بے جا تھا، کیا معلوم اس کے اعمال قبول ہوئے ہوں گے یا نہیں، دوسرے یہ کہ گنا ہان صغیرہ کے بارے میں بے توجہی اور ان کی تکرار بذات خود گناہ کبیرہ ہے۔ یہی کہ انسان نیک اعمال انجام دینے کے پیش نظر، اطمینان کے ساتھ آسودہ خاطر ہوجائے اور اپنی عباد توں پر اعتماد کرتے ہوئے، کسی گناہ کو چھوٹا اور معمولی سمجھ کر اس کے مرتکب ہونے کو اہمیت نہ دے، اس پر خدا کا غضب ہوگا۔

اس گروہ کے مقابلہ میں بعض لوگ ایسے ہیں، جب وہ کسی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، تو ڈر کے مارے اضطراب کا احساس کرتے ہیں اور ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ بعض عبادتوں کی انجام دہی کے بارے میں زیادہ ہمت کا مظاہرہ بھی نہ کرتے ہوں لیکن گناہ کے بارے میں ان کے خوف و وحشت کی وجہ سے وہ قیامت کے دن عذاب الٰہی سے نجات پائیں گے اور وہ وہاں آرام و آسائش میں ہوں گے۔ (حدیث کے اس حصہ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تفسیر مختلف ہے، من جملہ''لا اجمع علی عبد خوفین'' جس کے بارے میں پہلے اشارہ کیا گیاہے۔)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد جناب ابوذر کو قلبی حالات کی طرف متوجہ کرانا ہے کہ گناہ سے ڈرنا کس قدر موثر ہے، یہاں تک اگر انسان گناہ میں مبتلا ہوجائے، اس کا قلبی ہواس نیز اضطراب و پریشانی اس کی مغفرت و بخشش کا سبب ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی نے کافی عبادت انجام ہو لیکن گناہ کو حقیر اور چھوٹا سمجھ کر مطمئن ہو جائے تو اس کا مطمئن ہونا گناہ کو اہمیت نہ دینے کی دلیل ہے اور وہ متوجہ نہیں ہے کہ کس کی مخالفت کرتا ہے، اورغضب الٰہی سے دو چار ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں کسی بھی گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ خدا کے خوف کو اپنے اندر محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ مغرور نہ ہوں اور ہمیں شیطان فریب نہ دے۔

گناہ کی طرف متوجہ ہونے کا اثر شیطان سے دوری ہے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد والے جملہ میں مذکورہ بیان سے بالاتر فرماتے ہیں:

'' یٰا َبَاذَرٍ؛ ِنَّ الْعَبْدُ لَیُذْنِبُ الذَّنْب فَیَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، فَقُلْتُ: وَکَیْفَ ذٰلِکَ بِاَبی َنْتَ وَ ُمِّی یٰا رَسُولَ ﷲ؟ قٰالَ ، یَکُونُ ذٰلِکَ الذَّنْبُ نَصْبَ عَیْنَیهِ تٰائِباً مِنْهُ فٰارّاً اِلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی یَدخُلَ الْجَنَّةَ''

اے ابوذر! خدا کا بندہ گناہ کرتا ہے اور اس کے سبب بہشت میں داخل ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر فدا ہو جائیں یہ کیسے ممکن ہے؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: وہ گناہ کو ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے قرار دیتا ہے اور اس سے توبہ کرتے ہوئے خدا کی پناہ چاہتا ہے، یہاں تک کہ بہشت میں داخل ہوجاتا ہے۔

کبھی بندہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پریشان اور مضطرب ہوتا ہے۔ اور یہی خوف و وحشت اس کے لئے توبہ، خدا کی پناہ میں قرار پانے اور شیطان کے پھندے سے آزاد ہونے کا سبب واقع ہوتا ہے۔ آخر کار وہ نفسانی خواہشات کی غفلت سے نجات پا کر پھرسے گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ بہشت میں داخل ہوتا ہے۔ شاید اگر وہ گناہ اس سے سرزدنہ ہوتا تو یہ حالت اس کے لئے پیش نہیں آتی۔ البتہ خدائے متعال کی طرف توجہ اور شیطان سے دوری اختیار کرنے کا قریب سبب وہی توبہ اور خدائے متعال سے خوف و وحشتہے اور گناہ اس کا ''سبب بعید'' ہے لیکن بہر حال گناہ بھی سبب بن گیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ بیان انسان کو اس امر کی طرف ترغیب دینے کے لئے ہے کہ وہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا نفسانی احساس پیدا کرے۔ وہ خوف جو گناہوں کے ارتکاب کے بعد اس کی تلافی کرنے کا سبب واقع ہو اور جس کی وجہ سے وہ انسان بہشت میں داخل ہو جائے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، پس اس حالت کو پانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے؟

حزن و خوف کی حقیقت کے بارے میں ایک تحقیق:

یہاں تک اس حصہ میں روایت میں بیان شدہ حزن و خوف کے بارے میں بحث تھی۔ اب چند سوالات پیش کر کے ان کا جواب دینا مناسب ہے، اگر چہ ان سوالات کا براہ راست واسطہ اس اخلاقی بحث سے نہیں ہے:

منجملہ سوالات یہ ہیں کہ کیا خوف وحزن کی حالت اچھی ہے یا بری؟ اگر یہ کیفیت اچھی ہے تو خدائے متعال اپنے اولیا کی توصیف میں یہ کیوں فرماتا ہے:( لاَ خَوْف عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ ) (۴) اور اگریہ کیفیت بری ہے تو کیوں پیغمبر اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کو اس کی ترغیب دیتے ہیں کہ ان دو خصلتوں کو اپنی ذات میں پیدا کرو؟ نیز فرمایا ہے: یہ دو چیزیں مغفرت اور گناہوں کی بخشش کا سبب ہیں۔

جواب میں کہنا چاہیے: خوف و حزن بہ ذات خود اپنے متعلق کو مدنظر رکھے بغیر نہ مطلوب ہے نہ مذموم، کلی طور پرنہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کیفیت اچھی ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے یہ کیفیت بری ہے ، بلکہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خوف ووحشت کس سے ہے نیز حزن و اندوہ کس لئے ہے؟ خدائے متعال اور اس کے عذاب سے خوف ایک مستحسن اور مطلوب امر ہے، کیونکہ یہ خوف انسان کے لئے بیشتر خدا کی عبادت و اطاعت اور گناہ سے پرہیز کرنے کا سبب بنتا ہے اور نتیجہ کے طور پر انسان کی اس امر میں مدد کرتا ہے کہ اپنے فرائض پر عمل کرے اور سعادت و خوشبختی کو حاصل کر کے بہشت میں داخل ہوجائے۔ اس کے برعکس دنیا کے لئے خوف ناپسند یدہ ہے، کیونکہ بنیادی طور پر دنیا کی طرف تمایل اور توجہ مطلوب نہیں ہیچہ جائے کہ اس کے بارے میں خوف کرنا ۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ خدا سے ڈرنے کا کیا معنی ہے؟

اس کے جواب میں کہنا چاہیے: خدا سے ڈرنادر حقیقت اپنے اور اپنے اعمال سے ڈرنا ہے جس کا انسان مرتکب ہوتا ہے ورنہ خدائے متعال رفعت و رحمت کا سرچشمہ ہے۔ خدا سے خوف اس لحاظ سے ہے کہ وہ سخت عذاب کرنے والا ہے وہ انسان کے کر توتوں کو معاف نہیں کرتا ہے اور ہر عمل کا حساب لیتا ہے۔

جس دوسرے نکتہ کابیان ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ایک کلی تقسیم بندی کے لحاظ سیخدا کے خوف کو تین مراتب میں بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔ جہنم میں عذاب الہٰی کا خوف:

یہ عام انسانوں کا مرتبہ ہے۔ اکثر لوگوں میں جہنم اور عذاب الٰہی سے خوف کرنا اپنے فرائض پر عمل کرنے اور گناہ سے پرہیز کرنے کا سبب ہے۔ البتہ قابل ذکر بات ہے کہ یہ مرتبہ ان افراد کے لئے بہت مفید ہے جو بندگی کے ابتدائی مراحل میں رشد و ترقی کے مرحلہ میں ہوتے ہیں اور یہ خوف تاثیر کی صورت میں گناہ سے اجتناب کرنے، سعادت حاصل کرنے اور عذاب الہٰی سے نجات پانے کا سبب بنتا ہے۔

٢۔ بہشتی نعمتوں کو کھو جانے کا خوف:

بعض لوگ بہشتی نعمتوں سے محروم ہونے کے ڈر سے گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے اور اپنے فرائض پر عمل کرتے ہیں، حقیقت میں بہشت کی لالچ انھیں خدا کی عبادت کرنے اور شیطان سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے، یہ مرتبہ گزشتہ مرتبہ سے بلند تر ہے۔

٣۔ لقائے الٰہی اور خدا کے تقرب سے محروم ہونے کا خوف:

انسان کا خدا کی بے لطفی اور بے اعتنائی سے دو چار ہونے کا خوف۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مرتبہ مذکورہ دو مراتب سے بالا تر ہے اور یہ خدا کے خاص بندوں اور انتہائی بلند درجہ رکھنے والے افراد سے مربوط ہے جو اخروی ثواب اورالٰہی عذا ب کو مد نظر نہیں رکھتے ہیں بلکہ یہ لوگ ایک ایسی چیز کا ادر اک کرکے اس کے پیچھے دوڑتے ہیں جو بہت بلند ہے۔

اس مرتبہ کی و ضاحت کرنے اور ذہن کو قریب ڈف سے دعوت دی جائے اور وہ ہماری مہمان نوازی کریں ۔ ممکن ہے کچھ مہمان فکر مند ہوں کہ اگر تاخیر کریں تو کھانا کھانے سے محروم ہوجائیں گے۔ بعض اپنیدل میں سوچتے ہیں کہ آج عید ہے اورآج قائد انقلاب انعامات عطا کریں گے۔ ان کا خوف اس لئے ہے کہ تا خیر کی صورت میں انعامات سے محروم ہوجائیں گے۔ اس گر وہ کا عزم پہلے گر وہ سے زیادہ ہے۔ ان کے لئے اہم یہ نہیں ہے کہ بھوکے رہیں بلکہ ان کے لئے اہم یہ ہے مقام معظم رہبری (قائد انقلاب)کے ہاتھوں انعام حاصل کریں۔

تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کے لئے صرف ان کی زیارت کی اہمیت اور قدر و منزلتہے نہ کسی اور چیزکی ان کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ مقام معظم رہبری ان پر ایک نظر ڈالیں اور اپنے چہرے پر ایک رضایت نجش مسکراہٹ ظاہر کریں، یہی چیز اس گر وہ کے لئے باعث اہمیت اور فضیلت ہے، اس کے علاوہ ان کے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ انھیں کوئی سکہ یاہدیہ دیا جائے یا نہ۔

یہ مراتب جو مختلف افراد میں دوستی اورالفت کی بنا پر ان کے عزم و معرفت کے تفاوت کی بناء پر پائے جاتے ہیں، انھیں بلا تشبیہ خدائے متعال کے خوف سے منطبق کیا جاسکتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام ایک روایت میں ان تین مراتب کو خدا کی بندگی و عبادت کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:

''قَوم عَبَدُواﷲ عَزَّوَجَلَّ خَوفاً فَتِلْک عِبَاٰدَةُ الْعَبِیدِ وَ قَوم عَبَدُوا ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ طَلَباً لِلثَّوابِ' فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْاُ جَرَائِ وَقَوْم عَبَدُوا ﷲ حُبَّا لَهُ فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْاَحْرَارِ وَهِیَ َفْضَلُ الْعِبَادَةِ'' (۵)

ایک گر وہ ہے جو خوف اور ڈرکے مارے خدا کی عبادت کرتا ہے، اس کی عبادت غلاموں کی عبادت ہے۔ ایک گروہ ہے جوپاداش اور ثواب کی لالچ میں خدا کی عبادت کرتا ہے، اس کی عبادت مزدوروں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا سے محبت و عشق کی بنا پر عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور تمام عبادتوں میں افضل ہے۔''

جو شخص خدائے متعال سے ڈرتا ہے، کبھی اس کا یہ خوف جہنم کی وجہ سے ہے، اس طرح کہ اگر عذاب جہنم اس سے اٹھا لیا جائے تو اسے اور کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ لیکن یہ مرتبہ کفر و بے ایمانی کے مقابلہ میں بہت قیمتی ہے۔ خدا اور قیامت پر ایمان کا نتیجہ اس بات کا ایمان ہے کہ خدائے متعالیٰ قیامت کے دن گنہگار بندوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔ جن کا عزم اسی مرحلہ تک ہے وہ پست ہے اور ان غلاموں کے مانند ہے کہ اپنے مالک کے ڈر سے کام کرتے ہیں۔

بعض لوگوں کا خدا سے ڈرنا اس بنا پر ہے کہ انھیں خوف ہے کہ وہ بہشت کی نعمتوں سے محروم نہ جائیں۔ اگر کوئی عذاب بھی نہ ہو، تب بھی ڈرتے ہیں کہ خدا کی نعمتوں سے محروم نہ ہوں۔

ان دو گرو ہوں کے مقابلہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر بہشت و جہنم بھی نہ ہوتے تب بھی وہ خدا سے ڈرتے تاکہ اس کی بے لطفی اور بے توجہی سے دو چار نہ ہو جائیں۔ قرآن مجید کفار سے خدا وند متعال کی بے اعتنائی کو سب سے بڑے عذاب الہٰی کے طور پر ذکرکرتا ہے۔

( وَ لَا یُکَلِّمُهُمُ ﷲ وَ لَا یَنظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ القِیٰامَةِ ) (آل عمران ٧٧)

''نہ خدا ان سے بات کرے گا اور نہ روز قیامت ان کی طرف نظر کرے گا''

درک کرنے والے کے لئے بے اعتنائی ہر عذاب سے بدتر ہے۔ اگر انسان ایک مدت کے بعد اپنے دوست، باپ یا استاد کے پاس جائے اور ان کی طرف سے بے اعتنائی کا مظاہرہ ہو تو یہ اس کے لئے عذاب سے سخت ہے۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ائمہ ا ور معصومین علیہم السلام کیوں خدا سے ڈرتے تھے؟ وہ تو معصوم تھے اور بہشت، جہنم نیز امت کی شفاعت کا اختیار ان کے ہاتھ میں تھا، وہ کیوں خدا سے ڈرتے تھے اور یہ خوف مقام عصمت کے ساتھ کیسے سازگار ہے؟

اس کا اجمالی جواب یہ ہے کہ عصمت کے معنی گناہوں سے پرہیز اور حرام کام سے کنارہ کشی ہے ، اور اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ رضوان الہٰی بھی معصوم کے ہمراہ اور نصیب میں ہو۔ جو گناہ نہیں کرتا ہے وہ جہنم میں نہیں جائے گا لیکن کہاںسے یہ معلوم کہ خدا کی توجہ اور اس کی محبت بھی اس کے ساتھ ہے۔ عنایت اور رضو ان الہٰی کی محرومیت کا خوف عذاب الہٰی کے خوف سے بالا تر ہے۔

اس سوال کا حقیقی اور مفصل جواب ہماری سمجھ کی حد سے باہر ہے، کیونکہ ہم اہل بیت کی منزلت کو درک نہیں کرسکتے ہیںاس چیز کو نہیں سمجھ سکتے کہ ان کی روحانی کیفیت کیسی تھی، کیا کرتے تھے، اور ان کے حالات کیسے تھے۔ حقیقت میں ہم موجودہ شواہد اور اپنے حالات سے موازنہ کرتے ہیں، مختصر اور اپنے فہم کی حدتک ان کے حالات سے شمہ برابر درک کرتے ہیں لیکن حقیقت امر ہم پر غیر واضح اور ناقابل بیان ہے۔

متضاداور متفاوت حالات کا ایک ہی وقت میں محقق ہونا:

مذکورہ مطالب کے پیش نظر نتیجہ اخذکیا جاسکتا ہے کہ جب انسان کی روح کامل ہو جائے تو وہ مختلف حالات جیسے لذت و الم ، خوشی و غم کا ایک ساتھ حامل ہوسکتا ہے۔ ہماری ظرفیت محدود ہے اور ہم اپنے کمال کے مراحل میں مختلف حالتوں کو اپنے اندر جمع نہیں کرسکتے ہیں۔ لہذا غم و سرور کا مجموعہ ہمارے اندر ایک متوسط اور درمیانی کیفیت کو پیدا کرتا ہے۔ لیکن جب انسان کمال کو پہنچتاہے تو وہ مختلف عوامل و اسباب کے تحت اپنے اندر دو یا چند حالتیں نیز مختلف و تضاد کیفیتیں کمال کی حد تک پید کر سکتا ہے

خوف و رجاء کی کیفیت، اپنے خاص عامل کے تحت انسان کے نفس میں پیدا ہوتی ہے اور اگر مجموعی عوامل کو ایک ساتھ مد نظر رکھا جائے' تو ان عوامل کے فعل وانفعالات(اثر پذیری) کے نتیجہ میں ممکن ہے ایک نئی حالت رونما ہو۔ لیکن اگر ہر عامل پر' اس جہت سے کہ ایک خاص حالت کا سر چشمہ ہے' نگاہ کی جائے' تو اس کا نتیجہ وہی خاص حالت ہوگی، مثال کے طور پر اگر خوف کے منشا پر توجہ کی جائے' تو خوف نفس میں پیدا ہوتا ہے اور اگر امن و سلامتی کے سر چشمہ پر توجہ کی جائے تو نفس کے لئے صرف امن و سلامتی کی حالت پیدا ہوتی ہے جن لوگوں کا نفس قوی اور مضبوط ہے نیز اپنے حالات اور جذبات پر قابو پا سکتے ہیں۔ وہ جب عذاب الہٰی یا رضوان الہٰی سے محروم ہونے کے امکان کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگتے ہیں اورعین اسی لمحہ میں جب وہ فضل خدا وندی اور مغفرت الہٰی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ان میں سرور و شادمانی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یعنی ان کے لئے ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں خوف و امن کے عوامل کے پیش نظر ان دو حالتوں کو اپنے اندر پیدا کر سکیں۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے وجود مقدس کے بارے میں ایک ضعیف اور محدود معرفت حاصل ہو سکتی ہے اور ان کے اندر تضاد کیفیتوں کے حوالے سے ان کے فضائل پر ایک ہلکی سی روشنی ڈالی جا سکتی ہے وہ اپنے قوی نفوس کی وجہ سے ایک ہی لمحہ میں تمام اسماء صفات الہٰی کے مظہر ہو سکتے ہیں' وہ رحمت الہٰی پر توجہ رکھتے ہیں' ان میں سرور و شادمانی کی امید پیدا ہوتی ہے۔ دوسری طرف سے خدائے متعال کے سنگین عذاب و سزا پر توجہ رکھتے ہیں اور ان میں خوف ووحشت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ انسان کی جسمانی حالت مثلا اس کا بدن ظہور کے لحاظ سے ان دو حالتوں کو متجلی کرنے کی مکمل طور پر قدرت نہیں رکھتا ہے' لہذا ان دونوںحالتوں میں سے جو بھی دوسری حالت پر برتری رکھتی ہے وہ بیشتر تجلی و ظہور پیدا کرتی ہے۔ اگر خوف کو برتری حاصل ہے تو آنسو جاری ہوتے ہیں اور اگر خوشی و نشاط کی کیفیت کو فوقیت حاصل ہے تو مسکراہٹ کی صورت میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔ البتہ ان حالات کو متجلی کرنا خود ان کے اختیار میں ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں کہ معصومین علیہ السلام عذاب الہٰی کی طرف اس لئے توجہ کرتے تھے تاکہ ان پر خوف طاری ہو جبکہ معصوم جانتے تھے کہ انہوں نے ہر گز گناہ نہیں کیا ہے اور نہ کبھی گناہ کریں گے' اس کے علاوہ خدائے متعال نے بہشت و جہنم کی ذمہ داری انہی کو سونپی ہے' تو وہ کس محرک کے تحت خوف کے عوامل کے بارے میں توجہ کرتے ہیں؟ہم نے اس سے پہلے اس کا ایک جواب دیا ہے اب ہم یہاں پر ایک دوسرا جواب پیش کرتے ہیں:

انسان میں موجودہ مجموعی توانائیاں اور حالات خدا کی بندگی کا مظہر ہونا چاہیے اور وہ اسی کی راہ میں صرف ہونا چاہیے۔ انسان کا وجودمختلف عناصر کا مجموعہ ہے اور وہ مادی و معنوی کیفیتوں سے مرکب ہے۔ اس کی طینت میں جہاں خوف و الم ہے' وہاں امن و سلامتی امید' سرور اور لذت بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ عناصر و قویٰ عطا کئے ہیں تاکہ وہ انہیں اس کی راہ میں صرف کرے یعنی خدا کیلئے ہنسے اور مسرور ہو یعنی اس کی خوشی کا کسی نہ کسی طرح خدا سے ربط ہونا چاہئے یعنی اس لئے شاد و مسرور ہو کہ خدا نے اس تفضل و احسان کیا ہے نہ اس لئے کہ وہ خود لذت محسوس کررہا ہے۔

بعض روایتوں میں آیا ہے کہ شیعیان بہشت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت کے مہمان ہوں گے اور ان کے دستر خوان پر کھانا کھائیں گے۔ کیا جس لذت کا احساس معصومین بہشت کی نعمتوں سے کرتے ہیں وہ اس لذت کے مساوی ہے جو ہمیں ملے گی؟ آیہ مبارکہ میں آیا ہے:

( وَلَحْمِ طَیْرٍ مِمَّا یَشْتَهُونَ ) (واقعہ٢١)

(ان کے لئے) ان پرندوں کا گوشت (مہیا ہوگا) جس کی انہیں خواہش ہوگی۔

کیا جو لذت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہشتی پرندوں کے گوشت سے محسوس کرتے ہیں' ہماری لذت کے مساوی ہے؟

ان دو نوں لذتوں میں بے حد فرق ہے حتیٰ کہ لذتوں کی جہت میں بھی فرق ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جہت سے لذت محسوس کر تے ہیں کہ وہ مورد انعام الہٰی واقع ہوئے ہیں۔ بہر صورت احساسِ لذت کے مرتبہ کا انحصار انسان کے خدا کی نزدیک معرفت اور اس کی محبت کے معیار پر ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کے خوف اور دیگر لوگوں کے خوف کے بارے میں بھی یہی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ وہ جہنم کی آگ سے ڈرتے ہیں لیکن ان کا ڈر نااس جہت سے ہے کہ وہ اسے خدا کے غضب کی علامت جانتے ہیں۔ اسے یہ علامت جانتے ہیں کہ ان کا معشوق ان سے محبت نہیں کرتا ہے۔ خدا کا غضب اور اس سے مفارقت و دوری ان کیلئے ناقابل برداشت ہے' اسی لحاظ سے سخت پریشان و فکر مند ہوتے ہیں۔

____________________

١۔ مفاتیح الجنان ( دفتر نشر فرہنگ اسلامی ) ص ١٠٩

۲۔ مفاتیح الجنان ، دعائے مکارم الاخلاق

۳-المیزان ،ج ١٩،ص١٢٢

۴۔ بقرہ ١١٢

۵۔ بحار الانوار ،ج٧٠،ص٢٣٦


تیرھواں سبق

دنیا کو حقیر جاننا اور آخرت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا

* ہوشیار اور عاجز انسان کی نظر اور رفتار میں فرق

* امانت داری اور خشوع:

الف: امانت داری کا اثر

ب:خشوع کا اثر

* خدا کی نظر میں دنیا کا حقیر ہونا۔

دنیا کو حقیر جاننا اور آخرت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا

''یَا َبَاذَرٍ! اَلْکَیِّسُ مَنْ اَدَّبَ نَفْسَهُ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوتِ' وَالْعَاجِزُمَنِ اتَّبَعَ نَفْسَهُ وَ هَوٰاهَا وَ تَمَنّٰی عَلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ الْاَمَانِیَّ یَا اَبَاذَرٍّ! اِنَّ اَوَّلَ شَیْئٍ یُرْفَعُ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ الْاَمَانَةُ وَالْخَشُوعُ حَتّٰی لاَ یَکٰادُ یُریٰ خَاشِع.

یَا اَبَاذَّرٍ؛ وَالَّذی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ لَوْ اَنَّ الدُّنْیٰا کٰانَتْ تَعْدِلُ عِنْدَ ﷲ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اَوْ ذُبَابٍ مَا سَقَی الْکَافِرَ مِنْهَا شَرْبَةً مِنْ مَائٍ''

ہوشیار اور عاجز انسان کی نظر اور رفتار میں فرق:

اس سے پہلے بحث ہوئی کہ اگر انسان کسی گناہ کا مرتکب ہونے کے بعد اس کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہو تو' خداوند تعالیٰ اسے اس خوف و پریشانی کی وجہ سے نجش دیتا ہے۔ ممکن ہے غلط فہمی سے یہ گمان کیا جائے کہ جو بھی گناہ کا مرتکب ہو جائے اس کے بعد تو بہ کرے تو اسے بخش دیا جائے گا' اور یہ گمان بذات خود بیشتر لغزش و آلودگی کا سبب ہے' کیونکہ گنہگار ہر گناہ کے بعد اس امید میں رہے گا کہ خدا اسے بخش دے گا۔اس غلط گمان کو رفع کرنے کیلئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: ہوشیار اور عقلمند انسان وہ ہے جو ہمیشہ اپنی عمر سے بہتر استفادہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے کی فکر میں رہتا ہے' نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتا ہے اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق عمل نہیں کرتا ہے تاکہ سر انجام غفلت میں مبتلا نہ ہو جائے:

''یَا َبَاذَرٍ! اَلْکَیِّسُ مَنْ اَدَّبَ نَفْسَهُ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوتِ' وَالْعَاجِزُمَنِ اتَّبَعَ نَفْسَهُ وَ هَوٰاهَا وَ تَمَنّٰی عَلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ الْاَمَانِیَّ ''

''اے ابو ذر! ہوشیار اور عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کی تربیت کرے اور مرنے کے بعد والی زندگی کے بارے میں سعی و کوشش کرے اور کمزور و ناتواںوہ ہے جو اپنے نفسانی خواہشات کی اطاعت کرے اور اسی حالت میں خدائے متعال سے اپنی آرزؤں کی درخواست کرے۔''

انسان عقل و ہوش کا مالک ہے' کبھی نفسانی خواہشات پر عقل غلبہ آتی ہے اور کبھی عقل پر نفسانی خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے۔ حدیث کے اس حصہ میں ان دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

بعض اوقات انسان کا نفس ضعیف ہوتا ہے اور اس کی خواہشات اس کی عقل پر غالب نہیں ہوتی ہے۔ یہ اس عقلمند انسان کے بارے میں ہے کہ جو تہذیب نفس اور اصلاح کی راہ میں گامزن اور مسلسل موت کے بعد والی ابدی زندگی کے بارے میں سوچتا رہتاہے۔ اس کے برعکس کبھی نفس اور اس کی خواہشات عقل پر غالب آتی ہیں اور انسان اپنے نفسانی خواہشات کے مقابلہ میں ناتواں ہوتا ہے اور ان کی مدافعت نہیں کر سکتا ہے۔ یہ تفسیربحار الانوار کے اس نسخہ کی بنیاد پر ہے کہ جس میں آیا ہے ''من دانہ نفسہ'' یعنی عقلمند وہ ہے جس کا نفس کمزور ہو۔ لیکن دوسرے نسخوں میں ''من ادّب نفسہ'' آیا ہے،شاید دوسری تعبیر بہتر ہو' اس صورت میں جملہ کا معنی یوں ہوتا ہے: ہوشیار وہ ہے جس نے اپنے نفس کی اصلاح کی ہو' دوسری تعبیر میں وہ اصلاح کرے اور ہوائے نفس اور نفسانی خواہشات کے لئے موقع فراہم نہ کرے۔ ایسا انسان عقلمندی کے ساتھ سوچ سکتا ہے اور محدود مادی دنیا سے اپنی نظر اٹھا کر بیکراں' لامتناہی اور ابدی افق پر نظر ڈال کر تنگ نظری سے بچ سکتا ہے ،وہ اپنے اعمال کو قیامت کے جاویدانی دور کیلئے انجام دیتا ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے ایسی فکر عاقلانہ اور یہ انسان زیرک ہے' کیونکہ وہ ایک مقصد کے بارے میں سوچتا ہے اور دنیا کے محدود عالم کے بجائے آخرت کے ابدی اور لا محدود عالم پر نظر رکھتا ہے، دنیا کی عارضی لذتوں کو آخرت کی ابدی نعمتوں سے موزانہ کر کے عقلمندی کے ساتھ دوسرے مورد کو ترجیح دیتا ہے۔

تنگ نظر لوگ عارضی اور ناپائدار لذتوں کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں نہیں سوچتے اور انہیں آخرت کی ابدی لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں' ایسے لوگ اپنے عقل کی باگ ڈور کو ہوائے نفس کے حوالے کر کے زبوںحالی کے عالم میں اپنے آپ کو شکم و شہوت کا تابع قرار دیتے ہیں' ایسے افرادکے بارے میں مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''کم من عقل اسیر عند هویٰ امیر'' (۱)

''کتنے ہی لوگوں کی عقل ہوائے نفسانی کی اسیر ہوتی ہے اور ان کے نفسانی خواہشات عقل پر حکمرانی کرتی ہیں۔

ایسا انسان نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور آرزو رکھتا ہے کہ بہشت میں اولیائے الہٰی کی مصاحبت میں ہو!

امانت داری اور خشوع:

اس سے پہلے خوف و حزن نامی دو خصوصیات کے بارے میں بحث ہوئی' ان دو خصوصیات کے ضمن میں خشوع کی دو حالتیں انسان کیلئے پیدا ہوتی ہیں جوپسندیدہ و مطلوب ہیں' لیکن چونکہ ممکن ہے بعض معنوی کمالات کو انسان سے چھین لیا جاتا ہے' پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

'' یَا اَبَاذَرٍّ! اِنَّ اَوَّلَ شَیْئٍ یُرْفَعُ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ الْاَمَانَةُ وَالْخَشُوعُ حَتّٰی لاَ یَکٰادُ یُریٰ خَاشِع.''

اے ابوذر! پہلی صفت جواس امت سے اٹھالی جائے گی' وہ امانتداری و خشوع ہے' یہاں تک ایک شخص بھی اہل خشوع نہیں ملے گا۔

اس بیان میں ' آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو اخلاقی خصوصیات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں ان دو میں سے ایک امانتداری ہے جو ایک اخلاقی اور سماجی خصوصیت ہے اور سالم و محفوظ اور سماجی روابط کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتی ہے اور اس کے بغیر ایک سالم معاشرہ کو تشکیل نہیں دیا جا سکتا ہے' کیونکہ اجتماعی روابط کی بنیاد متقابل اور طرفین اعتماد پر ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیث کے اس حصہ میں جناب ابوذر کو گوش گزار فرماتے ہیں کہ میرے بعد اس امت سے جو نیک اور پسندیدہ صفات اٹھالئے جائیں گے کہ ان میں سے برجستہ ترین صفت امانتداری اور خشوع ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کو ایک تربیت یافتہ معاشرے کے عنوان سے دوسری ملتوں پر دو امتیاز ی برتری حاصل تھی: پہلا امتیاز آپسی روابط اور دوسری ملتوں کے ساتھ اجتماعی روابط کے حوالے سے تھا اور دوسرا امتیاز امت کی انفرادی شخصیت کے حوالے سے اخلاقیات و حالات کی تعمیر سے متعلق تھا، یہ امت انفرادی' روحی اور معنوی شخصیت کے لحاظ سے بھی ممتاز تھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی، یہ صفات اسی طولانی تربیت کے نتیجہ میں حاصل ہوئے تھے جو خدا وند متعال کی طرف سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے توسط سے انجام پائی تھی۔

امت اسلامیہ ایک باغ کی مانند تھی جس میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی عظیم شخصیت نے سر سبز میوہ دار درخت لگائے تھے۔ اب اگر اس باغ میں آفت آپڑے تو اس میں آفت پڑنے کے آثار ظاہر ہوں گے اور رفتہ رفتہ یہ باغ نابودی اور خرابی کی طرف بڑھ جائے گا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت جو انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کے لحاظ سے بے مثال تھی' پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اس میں آفت آپڑی اور اس کی سر سبز و شادابی خزاں میں تبدیل ہوئی ،پہلی آفت جو امت مسلمہ پر پڑی وہ یہ تھی یہ قوم سنگ دل ہو گئی اور خضوع و خشوع اور نرم دلی کی صفت ان سے چلی گئی یہاں تک حق کے سامنے تسلیم نہیں ہوتے تھے اور مثبت اور قابل قدر خصوصیات کا اثر قبول نہیں کرتے تھے۔ ان میں فرد فرد ایسا سنگ دل تھا کہ حق بات ان میں اثر نہیں کرتی تھی جہاں میں نرم خو ہو کر آنسو بہانا چاہیے تھا' وہ ایسا نہیں کرتے تھے۔

دوسری آفت ان کے اجتماعی روابط میں ظاہر ہوئی۔ ان میں امانتداری اور ایمانداری کا جنبہ ضعیف ہوگیا' ایک دوسرے کے لئے امین اور وفا دار نہیں رہے وہ امانت میں خیانت کرنے لگے یہ سماج کیلئے ایک خطرہ کی گھنٹی تھی۔اگر یہ انفرادی اور اجتماعی دو آفتیں معاشرے میں رسوخ پیدا کرجائیں تو وہ معاشرے کے زوال کا موجب بنتی ہیں۔

یہ اقدار صرف اسلام اور مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہیں۔ اسلام کے ظہور سے پہلے اور لوگوں کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے سے پہلے بھی سب لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ایمانداری اور امانت داری اچھی چیز ہے اور لوگوں کے اموال میں خیانت کرنا بری بات ہے۔

الف: امانت داری کا اثر:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عربوں کے درمیان بلکہ ساری دنیا میں کامیاب ہونے کا سب سے بڑ ا سبب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا امین ہونا تھا۔ رسالت سے پہلے تمام لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امین جانتے تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ''محمد امین'' کے نام سے پکارتے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف لوگوں کے میلان کا سبب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہی خصوصیت تھی' کیونکہ امین ہونے کا لازمہ سچ کہنا بھی ہے۔ اگر انسان دوسروں کے مال میں خیانت کرے تو وہ راست گو نہیں ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیغمبری کے دعویٰ کو اس بنا پر قبول کیا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔

چنانچہ اس سے پہلے بیان ہوا کہ' امانت داری اہمیت و عظمت کو عقل کے ذریعہ بھی درک کیا جاسکتا ہے' لہذا اگر بعثت و دعوت پیامبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی نہ ہوتی پھر بھی لوگ اسے درک کرتے' لیکن اسلام نے اس عقلی حکم کی تائید کرتے ہوئے فرمایا:

( اِنَّ ﷲ یَا مُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ ِلیٰ اَهْلِهَا ) (نسائ٥٨)

''بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو...''

امانتداری زندگی کی ضروریات میں سے ہے اور اگر لوگ اپنی زندگی میں اس کی رعایت نہ کریں اور ایماندار ی سے کام نہ لیں تو نظام درہم برہم ہوجا ئے گا اور کوئی کسی پر اعتماد نہیں کرے گا' کیونکہ اجتماعی زندگی کی بنیاد اور پائداری متقابل اور طرفین اعتماد پر ہے۔

(بیان میں امانت سچ کہنے کا لازمہ ہے اور کردار میں امانت ایمانداری کا لازمہ ہے اور ان کی قدرو قیمت بدیہیات عقلی میں سے ہے اور ان میں استدلال و تعبدکی ضرورت نہیں ہے اس موقع پر اسلام کی تعلیمات ارشادی ہیں' یعنی وہ چیز جسے عقل درک کرتی ہے شرع اس کی تائید و تاکید کرتی ہے)۔

امانت داری صرف دوسروں کے شخصی اموال اور ملکیت کے تحفظ سے مربوط نہیں ہے بلکہ عمومی اموال اور بیت المال کا تحفظ بھی امانتداری کے مصادیق میں ہے۔ سڑکیںِ زمین' پانی ، درخت اور تمام وہ چیزیں جو اسلامی معاشرہ سے تعلق رکھتی ہیں امانت شمار ہوتی ہیں۔ بلکہ عمومی اموال کا تحفظ زیادہ ضروری ہے' کیونکہ اگر کوئی کسی ایک شخص کے مال میں خیانت کرلے وہ تو صرف ایک صاحب مال کا مقروض ہے' لیکن اگر عمومی اموال اور بیت المال میں خیانت کرے تواس نے تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہے۔ وہ ڈرائیور جو سرکاری گاڑی چلارہا ہے' اگر ایماندار نہ ہواور احتیاط سے کام نہ لے اور گاڑی کو کوئی نقصان پہنچادے' تو اس نے تمام لوگوں کے ساتھ خیانت کی ہے۔ اگر سرکاری گاڑی کو ذاتی کام میں استعمال کیا جائے' تو وہ بیت المال کی خیانت ہوگی۔

قرآن مجید اسلامی معاشرے کو عہد و پیمان کے ساتھ وفادار اور امانت داری کرنے والے کی حیثیت سے تعارف کراتا ہے:

( وَالَّذِینَ هُمْ لِاَ مَانَاتِهِمْ وَ عَهْدِ هِمْ رَاعُون ) (مومنون٨)

''اور مومنین اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں''

دوسری جگہ پر حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو۔

''( اِنَّ ﷲ یَامُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَ مَانَاتِ اِلٰی اَهْلِهَا... ) ''(نسائ٥٨)

''بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو...''

امانتداری کی اس قدر تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ اگر امانتداری کی اہمیت کو معاشرے سے اٹھا لیا جائے' تو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خیانت کریں گے اور ایک دوسرے کے حقوق کو ضائع کریں گے' نتیجہ کے طور پر متقابل اعتماد پر استوار معاشرے کے پیوند اور بنیادیں متزلزل ہوکر گرجائیں گی اور یہ بذات خود انسانی اقدار اور خصوصی قابل اہم صفات کو پس پشت ڈالنے کا آغاز ہوگا۔

ب۔خشوع کا اثر:

اگر لوگ خاشع و متواضع ہوں اور حق کے سامنے جھکنے والے ہوں' معاشرے میں رونما ہونے والے حوادث کے بارے میں لاپروانہ ہوں اور ان کے مقابلے میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوں' تو ایسے لوگ پیغمبروں کی دعوت اور رہنمائی کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔

اس کے برعکس' سنگ دل انسان، ان کو پیش کئے جانیوالے حقائق اور رونما ہونے والے حوادث کے مقابلہ میں لا پروا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا دل حقائق کو قبول کرنے کی آمادگی نہیں رکھتا ہے، فطری طور پروہ پیغمبروں کی دعوت کو بھی قبول نہیں کرتے ہیں اور حق کے مقابلے میں تواضع نہیں رکھتے۔ وہ صرف اپنی ذاتی فکر میں ہوتے ہیں اور اپنے نفسانی خواہشات کے بارے میں سوچتے ہیں۔

قرآن مجید اہل کتاب کے دوگروہوں کا تعارف کراتا ہے: پہلا گر وہ قوم یہود ہے جو اسلام و مومنین کے سب سے بڑے دشمن تھے:

...( ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَهِیَ کَالْحِجَارَةِ َوْ َشَدُّ قَسْوَةً وَ اِنَّ مِنَّ الْحِجَارَةِ لَمٰا یَتَفَجَرُّ مِنْهُ الْاَنْهَٰرُ وَ ِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَائُ ) (بقرہ۔ ٧٤)

''پھر تمہارے دل سخت ہوگئے جیسے پتھر یا اس سے بھی کچھ زیادہ سخت اس لئے کہ پتھروں سے تو نہر یں بھی جاری ہو جاتی ہیں اور بعض شگافتہ ہو جاتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے۔

پتھر سے پانی جاری ہوجاتا ہے لیکن یہود اُتنے سنگ دل ہیں کہ ہر گز ان کا دل نہیں ٹوٹتا تاکہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو اور یہ افراد قوم مومنین کے جانی دشمن ہیں۔

اس کے برعکس، قرآن مجید اہل کتاب کے دوسرے گروہ کا تعارف کراتا ہے، جو مومنین کے دوست اور ان کے ساتھ مہربان ہیں، فرماتا ہے:

( وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ قَالُوا اِنَّا نَصَٰریٰ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْهُمْ ِقسِّیسِینَ وَرُهْبَانًا وَاِنَّهُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ ) (مائدہ٨٢)

''اور ان کی محبت سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ ان میں بہت سے قسیس اور راہب پائے جاتے ہیں اور یہ تکبر اور برائی کرنے والے نہیں ہیں۔''

اس آیت کے ضمن میں خدا وند کریم فرماتا ہے:

( وَاِذَاسَمِعُوامَا اُنْزِلَ اِلٰی الرَّسوُلِ ترَیٰ اَعْیُنَهُمْ تَفیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقّ ) ..... (مائدہ٨٢)

''اور جب اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہو جاتے ہیںیہ اس لئے ہے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے۔''

حق کے مقابلے میں ان کی نرمی اور جھکاؤ کی حالت ان کے ایمان لانے کا سبب بنی' کیونکہ ان کے دل حقائق کیلئے کھلے تھے۔ اس کے برعکس سنگ دل یہود ایمان نہیں لاتے تھے، اس لحاظ سے ہم تاریخ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ بہت سے عیسائیوں نے اسلام قبول کیا ہے اور پاک و مخلص مومن بن گئے ہیں' ان کے مقابلہ میں یہودیوں میں سے بہت کم لوگوں نے ایمان قبول کیا ہے۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں: ایک دن ایسا آئے گا کہ جب کوئی متواضع انسان نہیں پایا جائے گا، فروتنی اور انکساری کی حالت بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ اپنے آپ کو اسلام شنا س کہنے والے بعض لوگ کہتے تھے، اسلام انسان کے لئے ذلت و خواری کو پسند نہیں کرتا ہے، حتی انسان کو خدا کے حضورمیں بھی ذلت کا احساس نہیں کرنا چاہیے۔ دل شکستہ ہونا گریہ وتواضع جیسی کیفیت ان لوگوں کی نظروں میں انسانی اقدار کی خلاف ہے! یہ اس حالت میں ہے جب قرآن مجید مومنین کا متواضع ہونے کی حیثیت سے تعارف کراتا ہے۔

ایک عالم دین پر حق سے منحرف ہونے کا الزام لگایاگیا صرف اس لئے کہ جب ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت ہوتی تھی تو وہ روتے تھے۔ وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ صرف عزاداری اور مصیبت میں رونا چاہیے اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران رونے کو بدعت جانتے تھے۔ یعنی یہ کام اس قدر متروک و غیر مأنوس ہو چکا تھا کہ اگر کوئی ایسا کام کرتا تھا۔ اس پر انحراف اور بدعت کی تہمت لگاتے تھے۔

خشوع، احساس حقارت، ذلت و فروتنی ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اس کا ردعمل انسان کے جسم کے اعضا و جواح میں ظاہر ہوتا ۔ مرحوم راغب اصفہانی کہتے ہیں: خشوع، احساس ضعف و ذلت کے معنی میں ہے اور اس کا بیشتر استعمال اس جگہ پر ہے جہاں اعضا و جوارح سے یہ کیفیت ظاہر ہو۔

مثال کے طور پر قرآن مجید کے مندرجہ ذیل مواقع پر خشوع استعمال ہوا ہے:

١۔گفتگو کرتے وقت:

..( وَخَشعَتْ الْاَصْوَاتِ لِلرَّحْمٰن ) (طہ ٠٨ا)

(قیامت کے دن) خداوند رحمان کے نزدیک آوازیں خاشع ہوجائیں گی۔

٢۔ آنکھوں میں :

( خُشِّعاً اَبْصَارَهُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْاَجْدَاثِ ) (قمر ٧)

(قیامت کے دن کافرین خوف سے) نظریں جھکائے ہوئے قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوں۔

٣۔ چہرہ میں :

( وُجُوه یَومَئِذٍ خَاشِعَةٍ'' ) (غاشیہ ٢)

''اس دن بہت سے چہرے ذلیل اور رسوا ہوں گے۔''

٤۔ سجدے میں :

( وَیَخِرُّونَ لِلْاَ ذْقَانِ یَبْکُونَ وَیَزِیدُهُمْ خُشُوعاً ) (اسرائ ١٠٩)

اور وہ منہ کے بھل گر پڑتے ہیں روتے ہیں اور قرآن ان کے خشوع میں اضافہ کر دیتا ہے۔

٥۔ عبادت و نماز میں :

( قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذینَ هُمْ فِی صَلٰوتِهِمْ خَاشِعُونَ ) (مومنون١و٢)

''یقینا صاحبان ایمان کا میاب ہوگئے۔ جو اپنی نمازوں میں گڑ گڑا نے والے ہیں''

٦۔ دل میں :

( اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِینَ آمَنُوا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِکْرِ ﷲ ) (حدید١٦)

''کیا صاحبان ایمان کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل ذکر خدا اور اس کی طرف نازل ہونے والے حق کے لئے نرم ہو جائیں۔

مذکورہ مواقع کے ہر ایک مطلب پر جداگانہ بحث کرنے کے لئے کافی فرصت کی ضرورت ہے، جس کی فی الحال گنجائش نہیں ہے۔ اجمالی طور پر واضح ہوگیا کہ خاشع وہ شخص ہے جس کی رفتار میں غرور و تکبر کے احساس کے بغیر بندگی، حقارت اور شرمندگی کے آثار پیدا ہوجائیں اور ایک ذلیل بندے کے مانند اس میں خود خواہی اور تکبر کا عنصر نابود ہوجائے۔ کیونکہ خود خواہی اور تکبر انسان کو خدا کے سامنے فروتنی، تواضع اور خشوع کے ساتھ پیش آنے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور بیشک متکبروں اور باغیوں کی واضح مثال شیطان ہے۔ قرآن مجید اس کے بارے میں فرماتا ہے:

( فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّهُمْ اَجْمَعُونَ اِلاَّ اِبْلِیسَ اَبٰی اَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) (حجر٣٠و ٣١)

تمام ملا ئکہ نے اجتماعی طور پر(آدم کے سامنے ) سجدہ کرلیا تھا، علاوہ ابلیس کے کہ( اس نے انکار کیا اور) وہ سجدہ گزاروں کے ساتھ نہ ہو ہو سکا۔

اس آیۂ کریمہ کی تفسیر میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''تکبر اور خود خواہی میں مبتلا ہو کر اس نے اپنی خلقت پر آدم پر فخر کرتے ہوئے اپنی اصلیت (کہ آگ سے پیدا کیا گیا تھا) کے بارے میں تعصب سے کام لیا اور کھلم کھلا خدا وند متعال کی نافرمانی کی۔ لہٰذا یہ دشمن خدا، متعصبوں اور باغیوں کا پیشوا ہے جس نے تعصب کی بنیاد ڈالی ہے اور خدائے متعال سے عظمت و بزرگی کا مقام حاصل کرنے کے لئے (جو خدا سے مخصوص ہے) لڑ پڑا اور عظمت و سربلندی ( جو اس کا حق نہیں تھا) زیب تن کر کے تواضع وانکساری کے لباس کو تن سے جدا کیا۔(۲)

مزید اس کے ضمن میں فرماتے ہیں:

''شیطان کے ساتھ خدا وند عالم کا یہ رویہ ( سخت مواخذہ) لوگوں کے لئے باعث عبرت ہے کہ اتنی زیادہ عبادت و بندگی اور اس قدر سعی و کوشش سب کو خدا وند عالم نے برباد کر دیا۔ اس کے باوجود کہ اس نے چھ ہزار سال تک خدائے متعال کی عبادت کی، معلوم نہیں یہ سال دنیوی سال ہیں یا آخرت کے۔ یہ سب کچھ اس کے ایک لمحہ کے تکبر کے نتیجہ میں ہوا۔ لہٰذا شیطان کے بعد کون تکبر و سرکشی کے نتیجہ میں خدا کے عذاب سے بچ سکتا ہے؟ خداوندعالم ہر گز اپنے کسی بندہ کو بہشت میں داخل نہیں کرے گا جو اس گناہ میں مرتکب ہو گا جس کے جرم میں اس نے اپنے فرشتہ کو بہشت سے نکالاہے۔ بیشک خدا کا حکم و فرمان اہل آسمان اور اہل زمین کے لئے یکساں ہے۔''

اس نکتہ کا ذکر ضروری ہے کہ خشوع کے ختم ہونے کی علت اور قساوت قلب نیز امانت میں خیانت کا سبب دنیا سے وابستگی ہے۔ دنیا سے وابستگی خضوع، خشوع اور گریہ و زاری کو انسان سے سلب کرتی ہے، یہ دنیا سے وابستگی کا نتیجہ ہے کہ انسان شروع میں مشکوک کا موں میں ملوث ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ سر انجام محرمات میں آلودہ ہو کر گناہان کبیرہ کا اصرار کرنے لگا ہے۔ لہذا حالت خشوع کے تحفظ کے لئے دنیا سے وابستگی اور اسے ہدف و مقصد قرار دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور مبہم کاموں اور محرمات سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔

اگر ہم مشاہدہ کریں کہ معاشرے سے اقدار اور کمالات رفتہ رفتہ ختم ہو کر ان کی جگہ اجتماعی مفاسدلے رہے ہیں، تو ہمیں اس کا سبب مادیات کی طرف مائل ہونے میں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ وابستگی اورمیلان ہر گناہ کو انجام دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انسان گناہ کا مرتکب ہونے پر غمگین نہیں ہوتا لیکن اگر اسے کوئی دنیوی نقصان پہنچے، تھوڑے سے پیسے اس کے گم ہو جائیں تو غمگین ہوتا ہے۔ وہ ٹیکس دینے سے گھبراتا ہے یہ دنیا سے وابستگی اور محبت کی وجہ سے ہے۔ اگر کوئی آخرت سے وابستگی رکھتا ہے اور اسے اپنا مقصد قرار دیتا ہے، تو وہ ہر چیز سے اپنی آخرت کے لئے استفادہ کرتا ہے۔ اگر پیسے والا ہے تو وہ پیسے سے اپنی آخرت درست کرتا ہے۔ اگر مال دار نہیں ہے تو صبرو تحمل کے ذریعہ اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ اکٹھاکرتا ہے۔ اگر مال دار ہے تو وہ راہ خدا میں اسے انفاق کرتا ہے۔ اگر مال دار نہیں ہے تو دوسری صورت میں محتاجوں کی مدد کرتا ہے۔

جب انسان کی وابستگی دنیا سے بڑھ جاتی ہے تو پہلے حتی الا مکان مباحات سے استفادہ کرتا ہے اور اگر اس سے نہیں ہو سکا تو پھر مشکوک چیزوں کی طرف رخ کرتا ہیا اور کوشش کرتا ہے کہ مراجع کے فتوئوں کا سہارا لے کر ان کی توجیہ کرے، آج سود کو جائز قرار دیتا ہے کل قطعی و یقینی حرام تک ہاتھ بڑھاجائے گا اور اس کا کام یہاں تک پہنچتا ہے کہ چاہے جتنا بڑا، گناہ ہو اس کے انجام دینے سے خوف نہیں کھاتا۔ فطری بات ہے کہ ایسا انسان سنگ دل بن جاتا ہے اور وہ خشوع کی حالت سے محروم ہوجاتا ہے۔ جب دنیا سے وابستگی پیدا ہوئی، تو لوگوں کے مال میں خیانت کرتا ہے اور اس سے ذاتی استفادہ کرتا ہے۔ پس، قساوت قلب کے گناہ کا سبب مادیات اور حیوانی لذتوں کی طرف مائل اور متوجہ ہونا ہے۔ اب اس بیماری کے علاج کے لئے پہلے اس کی جڑ کو پکڑنا چاہیے دیکھنا چاہیے کہ یہ درخت کیوں خشک ہوگیا ہے، اسے کونسی زہریلی غدا کھلائی گئی ہے جن کے نتیجہ میں یہ خشک ہوا ہے۔ وجود انسان کے درخت کو آفت سے محفوظ رکھنے کے لئے صحیح وسالم غذا دینی چاہیے اور اسے شہوانی اور حیوانی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکنا چاہیے کیونکہ اس کا نتیجہ بے رحمی اور سنگدلی ہے۔

قساوت قلب اور گناہ کی بیخ کنی کرنے کے لئے انسان کو آفتوں سے آگاہ کرنا چاہیے، چونکہ تمام آفتوں کا سرچشمہ۔ جو انسان کو خدااور معنویت سے دور کرتا ہے۔ دنیا ہے، اس لئے قرآن مجید گونا گوں بیانات سے انسان کو دنیا سے ڈراتا ہے اور اس کے اندر خوف پیدا کرتا ہے۔

نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں کئی بار دنیا کی مذمت کی گئی ہے اور مسلسل علی علیہ السلام اپنے اصحاب کو دنیا سے ڈراتے ہیں، کیونکہ حضرت جانتے ہیں کہ تمام بیماریوں کی جڑحب دنیا ہے۔ جب تک حبِ دنیا باقی ہے کوئی بھی فضیلت و کمال انسان کے لئے پائدار نہیں ہو سکتا ہے۔

ممکن ہے انسان برسوں کی سختیوں کے نتیجہ میں کسی کمال تک پہنچے لیکن ایک مہلک زہر کے اسے نابود کردے ، اسی لئے قرآن مجید، پیغمبر واہل بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین مختلف مواقع پر لوگوں کو دنیا سے دوری اختیار کرنے کے سلسلہ میں نصیحت فرماتے تھے لیکن دنیا سے ڈرنے کا معنی کام سے ہاتھ کھینچنا اور علم و صنعت سے اجتناب کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کا معنی و مفہوم دنیاوی چمک دمک اور اس کی رعنائیوں سے عدم وابستگی اور شہوت پرستی سے پرہیز کے معنی میں ہے۔ مختصر یہ کہ دنیا سے ڈرنا اور اصل دنیا کو بنیاد نہ بنانے اور اسے آخرت کا وسیلہ قرار دینے کے معنی میں ہے۔ اس صورت میں انسان کی تمام کوششیں حتی مال و دولت جمع کرنا بھی آخرت کے لئے قرار پائے گا، کیونکہ آخرت طلبی و دنیا طلبی کا دارومدار انسان کے محرک اور مقصد پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر از دواج کرنے میں مرد کا مقصد صرف شہوت رانی ہو، تویہ دنیا طلبی ہے۔ وہ صرف شہوت رانی کے بارے میں سوچتا ہے، ممکن ہے اس کے لئے اس میں کوئی فرق نہ ہو کہ یہ مقصد اسے حلال راہ سے دستیاب ہو یا حرام طریقے سے۔ لیکن کبھی ازدواج میں اس کا منشا حکم خدا کی اطاعت ہے۔ چونکہ خدائے متعال چاہتا ہے کہ وہ خانوادے کو تشکیل دے ورنہ ایسا نہیں کرتا، اگر چہ اس کے لئے اس میں کافی لذت بھی ہوتی۔ لیکن وہ خدا کے لئے اس کام کو انجام دیتا ہے حتی اگر اسے ہزاروں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے۔

آج کل جو دنیائے غرب میں خانوادگی کا شیرازہ بکھر تا جا رہا ہے اور ان کی نسلی بنیاد سست پڑ تی جا رہی ہے، اس کی یہ وجہ ہے کہ وہ صرف شہوت رانی اور لذت حاصل کرنے کے پیچھے پڑے ہیں، لہذا اپنے آپ کو خاندانی زندگی کے بندھنوں میں نہیں باند ھتے۔ جب دیکھتے ہیں کہ ازدواجی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے تو وہ اس قید سے آزاد ہونے کے لئے اسے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن اسلامی معاشرہ ایسا نہیں ہے۔ جب تک اسلامی اقدار حاکم ہیں ایک انسان خانوادگی زندگی کے مشکلات کو برداشت کرتا ہے کیونکہ خدا کی مرضی اسی میں ہے۔ البتہ خدائے متعال نے بھی اپنی مہر بانیوں سے اس کام میں لذتوں کو قرار دیا ہے (خانوادگی زندگی اور اولاد کو پالنے میں فطری اور طبیعی لذتیں قرار دی ہیں) لیکن بہر صورت کچھ مشکلات ضرور ہیں۔ پس اگر کسی نے دنیوی لذتوں کو خدا کے لئے انجام دیا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کا یہ کام ناپسندیدہ نہیں ہے بلکہ اس کا کام آخرت طلبی ہے نہ دنیا طلبی، دنیا طلبی اس وقت ہے جب ان لذتوں کو بنیاد اور مقصد قرار دے۔

خدا کی نظر میں دنیا کا حقیر اور ناچیز ہونا:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اس حدیث کے دوسرے جملہ میں دنیا کے ناچیز ہونے اور اس کی مذمت میں فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَّرٍ؛ وَالَّذی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ لَوْ اَنَّ الدُّنْیٰا کٰانَتْ تَعْدِلُ عِنْدَ ﷲ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اَوْ ذُبَابٍ مَا سَقَی الْکَافِرَ مِنْهَا شَرْبَةً مِنْ مَائٍ''

''اے ابوذر! اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر خدا کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت ایک مچھر یا مکھی کے پر کے برابر ہوتی تو کافر کو ایک بار بھی پانی نہ پلاتا۔''

دنیا پرستی ایک مصیبت ہے جس میں ہم سب کم و بیش مبتلا ہیں، اگر ہم اس وقت اس میں مبتلا نہ ہوں تو احتمال ہے آیندہ مبتلا ہوں گے۔ پس مناسب ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس بیان کی طرف بیشتر توجہ دیں اور کوشش کریں اپنے نفس کی تربیت کے لئے اس سے استفادہ کریں۔

ہمارے لئے قدر و قیمت کا معیار، حیوانی لذتیں ہیں، لہٰذا جو چیز ہمیں زیادہ پسند آئے ہم اس کی قدرو منزلت کے قائل ہیں اور وہی ہمارے لئے پسندید ہ اور مطلوب ہے۔ لیکن اسلام قدرو منزلت کا ایک دوسرا معیار پیش کرتا ہے اور وہ معیار خدا کی مرضی کی مطابق ہونا ہے، یعنی ایک ایسی چیز کی قیمت ہے جس کی خدا کے نزدیک اہمیت ہو۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قسم کھاتے ہیں کہ اگر یہ دنیا، تمام وسعتوں اور لذتوں کے باوجود' جن کو حاصل کرنے کے لئے جانیں نچھاور کی جاتی ہیں اور عمریں ضائع ہوتی ہیں۔ خدا کے نزدیک قدر ومنزلت رکھتیں تو خدائے متعال کا فر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پلاتا۔ اگر سمندروں اور دریائوں کی خدا کے نزدیک قدر ہوتی، تو کافروں کو اس سیبہر مند نہ کرتا بلکہ صرف اولیائے الہٰی کو ان سے مستفید فرماتا (البتہ یہاں پر وہ کافر مراد ہیں جو دین کے دشمن ہیں اور حق کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ورنہ مستضعف کافرکا حساب جدا گانہ ہے) یہ جومشاہدہ کیا جاتا ہے کہ مسلمان اور کافر یکساں طور پر دنیا کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں، اس امرکی علامت ہے کہ دنیا کی ذاتی قدر نہیں ہے بلکہ یہ ایک آزمائش کا وسیلہ ہے۔

خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( اِنَّمَا اَمْوَٰلُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَة ) (تغابن ١٥)

تمہارے اموال اور تمھاری اولادیں تمھارے لئے صرف امتحان کا ذریعہ ہیں ۔

دوسری جگہ پر فرماتا ہے:

( اَلْمَالُ وَالْبُنُونَ زِینَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَالْبَٰاقِیَاتُ الصَّٰلِحَاتُ خَیْر عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَاباً وَخَیْر اَمَلاً ) (کہف٤٦)

''مال اور اولاد زندگانی دنیا کی زینت ہیں اور باقی رہ جانے والی نیکیاں پرور دگار کے نزدیک ثواب اور اُمید دونوں کے اعتبار سے بہتر ہیں۔''

ایک دوسری آیۂ مبارکہ میں دنیا کے فانی ہو جانے اور خدا کے نزدیک موجود ہ چیزوں کے لافانی ہونے کے بارے میں فرماتا ہے:

( مَاعِندَکُمْ یَنْفَدُوَمَا عِندَ ﷲ بَاقٍ ) (نحل ٩٦)

جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ سب خرچ ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔

انسان تصور کرتا ہے کہ دنیا کی نعمتیں قیمتی ہیں اورجو ان سے بیشتر استفادہ کرتاہے وہ زیادہ قدر و منزلت رکھتا ہے۔ قرآن مجید اس غلط تصور کے بارے میں فرماتا ہے:

( فَاَمَّا الْاِانْسَانُ اِذَامَاا بْتَلَٰهُ رَبُّهُ فَاَکْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَیَقُولُ رَبِّی اَکْرَمَنِ وَاَمَّا اِذَامَا ابْتَلَٰهُ فَقَدَرَعَلَیْهِ رِزْقَهُ فَیَقُولُ رَبِّی اَهَٰنَنِ ) (فجر ١٥و١٦)

''لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب خدا نے اس کو اس طرح آزمایا کہ اسے عزت اور نعمت دی تو کہنے لگا میرے رب نے مجھے باعزت بنایا ہے،اور جب آزمائش کے لئے روزی کو تنگ کر دیا تو کہنے لگا میرے پرور دگار نے میری توہین کی ہے۔''

حقیقت میں دنیا امتحان کا وسیلہ ہے اور انسان، خواہ نعمت اور مال دنیا سے سرفراز ہو یا محروم ہو، خدا کی طرف سے آزمائش ہے نہ دنیا سے بہر مند ہونا کرامت وسر بلندی کی علامت ہے نہ ہی فقرو تنگدستی ذلت وخواری کی نشانی ہے پس چونکہ دنیا خدا کے نزدیک ناچیز ہے، اس لئے کافر کو اس سے محروم نہیں کرتا، اس کے برعکس بہشت اور اس کی نعمتیں خدا کے نزدیک قدر و قیمت رکھتیں ہیں، اس لئے ان سے کافر کو محروم کرتا ہے:

( وَنَادیٰ َصْحَابُ النَّارِ اَصْحَابَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیضُوا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآئِ اَوْمِمَّا رَزَقَکُمُ ﷲ قَالُوا اِنَّ ﷲ حَرَّمَهُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ ) (اعراف ٥٠)

اور جہنم والے جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ذرا ٹھنڈا پانی یا خدا نے جو رزق تمہیں دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی پہنچائو تو وہ لوگ جواب دیں گے کہ ان چیزوں کو اللہ نے کافروں پر حرام کر دیا ہے۔

بہشت اور اس کی نعتوں کی ایسی قدرو منزلت ہے کہ کافر ان کی لیاقت نہیں رکھتے اور حقیقت میں یہ بنیادی قدرو منزلت اولیائے الہٰی سے مخصوص ہے۔ اس کے برعکس دنیا کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ہے، اسی لئے کافر بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں اور ممکن ہے وہ دوسروں سے زیادہ اس سے استفادہ کریں اور دنیوی وسائل سے بہرہ مند ہوجائیں، البتہ جتنا وہ اس سے زیادہ استفادہ کریتے ہیں اتنا ہی زیادہ ان کے عذاب میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ کفار اسے راہ حق سے انحراف اور بغاوت کے لئے استفادہ کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دنیا کے حقیر اور ناچیز ہونے کے بارے میں قسم کھاتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مطلب کے بارے میں باور کرنا عام انسانوں کے لئے مشکل ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے یہ دنیا اتنی وسعت، منابع و امکانات اور انسان کے استفادہ کے لئے فراوان لذتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود خدا کے نزدیک ایک مکھی کے پر کے برابر قیمت اور اہمیت نہیں رکھتی ہے! اس سلسلہ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ حقائق کے بارے میں ہماری معلومات محدود اور ہماری بصیرت کم ہے۔ ہم نے ماد یات کی طرف توجہ کو اپنی زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے اورد نیا کو اصلی ہدف سمجھتے ہیں۔ ہم اس سے غافل ہیں کہ خدا کے نزدیک اور قرآن کے نظریہ کے مطابق دنیا ناچیز ہے اور صرف ایک وسیلہ کی حد تک اعتبار رکھتی ہے۔ حقیقی قدر و قیمت ان نیکیوں اور خوبیوں کی ہے جو انسان کے لئے سعاد تمندی اور رضوان الہٰی کا سبب بنتی ہیں۔ حقیقی قدر و قیمت اس چیز میں ہے جو انسان کے لئے قرب الہٰی حاصل کرنے کا سبب بنتی ہے اور یہ وہی مقصد ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اور اس سے کہا گیا ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے تمام امکانات اور وسائل سے استفادہ کرے۔

____________________

١۔نہج البلاغہ (ترجمہ فیض الاسلام) حکمت ٢٠٢' ص ١١٨٢

۲- نہج بلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،خطبہ ٢٣٤، ص ٧٧٦


چودھواں سبق

آخرت پسندی اور دین میں زہدوبصیرت کی ستائش اوردنیا طلبی کی مذمت

*دنیا طلبی کی مذمت اور ایمان کی بلندی کا ذکر

* آخرت درستی کی ضرورت

* خدائے متعال کی خیر خواہی اور دنیا میں دین و زہد کی آگاہی۔

آخرت پسندی اور دین میں زہد و بصیرت کی ستائش اور دنیا طلبی کی مذمت

''یَا اَبَاذَرٍ! اَلدُّنْیَا مَلعُونَة وَ مَلْعُون مَافِیهَا اِلّٰا مَا اُبتُغِیّ بِهِ وَجْهُ ﷲ وَ مَامِنْ شَیْئٍ اَبْغَضُ اِلیَ ﷲ تَعَالیٰ مِنَ الدُّنْیَا، خَلَقَهَا ثُمَّ عَرَضَهَا فَلَمْ یَنْظُرْ اِلَیْهَاوَلَا یَنْظُرْ اِلَیْهَا حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَةُ وَ مَامِنْ شَیئٍ اَحَبُّ اِلیَ ﷲ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الِایمَانِ بِهِ وَ تَرْکِ مَا َمَرَ بِتَرْکِهِ

یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ اَوحٰی اِلیٰ اَخِی عِیسٰی: یَا عِیسٰی لَا تُحِبِّ الدُّنیَا فَاِنِی لَسْتُ اُحِبَُّهَا وَأَحِبَّ الْآخِرَةَ فَاِنَّمَا هِیَ دَارُالْمَعَادِ.

یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ جَبرَئِیلَ َتَانِی بِخَزَائِنِ الدُّنْیٰا عَلٰی بَغْلَةٍ شَهْبَائَ فَقَالَ لِی یَا مُحَمَّدَُ هٰذِهِ خَزَائِنُ الدُّنْیَا وَلاَ یَنْقُصُکَ مِنْ حَظِّکَ عِنْدَ رَبِّکَ فَقُلْتُ حَبیبِی جَبْرَئِیلَ لاٰ حَاجَةَ لِی فِیهَا ِذَاشَبِعْتُ شَکَرْتُ رَبِّی وَاِذَا جُعْتُ سََلْتُهُ.

یَا اَبَاذَرٍ! اِذَا اَرَادَﷲ عَزَّوَجَّلَ بِعَبْدٍ خَیْراً فَقَّهَه فِی الدِّینِ وَ زَهَّدَهُ فِی الدُّنْیَا وَ بَصَّرَهُ بِعُیُوبِ نَفْسِهِ''

اس حدیث کے بعض حصے دنیا کی مذمت کے بارے میں ہیں کہ اس کا ایک حصہ بیان ہوا اور اب ہم اس کے دوسرے حصہ کو پڑھتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے ذکر کیا گیا کہ دنیا کی مذمت اس معنی میں نہیں ہے کہ انسان اپنی اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوئوں میں انجام دینے والے کاروبار اور تلاش و کوشش سے ہاتھ کھینچ لے اور مال و دولت کو حاصل کرنے کے پیچھے نہ جائے، بلکہ مذمت، دنیا کی زینتوں سے وابستگی اور انہیں مقصد قرار دینے کی ہے۔ حقیقت میں یہ نیت اور محرک ہے جو انسان کے عمل کو جہت بخشتا ہے اور اس بات کا باعث بنتا ہے کہ وہ عمل شائستہ و پاک محسوب ہو یا ناشائستہ وغیر طاہر۔

قرآن مجید کی آیات و روایات کے مطابق، انسان دنیا کے ہی راستہ سے آخرت تک پہنچتا ہے اور دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ پس انسان کو دنیا میں جستجو اور سعی و کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اس کی سعی و کوشش اور دنیوی سرگرمیاں خدا کے لئے ہیں تو وہ سعادت تک پہنچتا ہے اور اگر اس کی سر گرمیاں دنیاوی فعالیت اس کی لذتوں کے لئے ہیں تو خواہ مخواہ معصیت و گناہ کی طرف کھینچتا جارہا ہے اور وہ آتش جہنم اور عذاب ابدی کا راستہ ہے۔

دنیا طلبی کی مذمت اور ایمان کی بلندی کا ذکر:

اولیائے الہٰی مومنوں کو دنیا پرستی اور اس کی لذتوں سے بچانے کے لئے ایک نرس کے مانند جو مختلف طریقے سے بیمار کو ان چیز وں سے منع کرتی ہے جو اس کے لئے مضر ہوتی ہیں مختلف بیانات سے کوشش کرتے ہیں کہ دنیا کو مومن کی نظر میں قابل نفرت قرار دیں، من جملہ ان بیانات میں سے ایک بیان یہ ہے جس کی طرف یہاں پر اشارہ کرتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ! اَلدُّنْیَا مَلعُونَة وَ مَلْعُون مَافِیهَاالَّا مَا اُبتُغِیّ به وجه الله''

اے ابوذر! دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس پرلعنت ہو مگر یہ کہ ان کے وسیلہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کی جائے۔

حدیث کے مضمون سے واضح ہے کہ دنیا کی نعمتوں جیسے زمین، درخت اور آسمان پر لعنت نہیں کی گئی ہے، کیونکہ جو چیز خدا کی خوشنودی تک پہنچنے کا وسیلہ بن سکتی ہے، نہ صرف قابل لعنت نہیں ہے بلکہ وہ مطلوب و پسندیدہ بھی ہے، لہذا دنیا کو مقصد اور اصل قرار دینا قابل لعنت ہے۔ کیونکہ دنیا کی تخلیق اور اس کی نعمتوں کی تخلیق اس لئے کی گئی ہے کہ انسان خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے انھیں اپنا وسیلہ قراردے ۔ دنیا کو انسان کے اختیار میں قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کی مدد سے خدا تک پہنچے۔ اب اگر انسان نے دنیا کو خدا تک پہنچنے کے لئے اپنے لئے وسیلہ قرار دیا تو رحمت الہٰی ہمیشہ اس کے ہمراہ ہوگی۔ چونکہ وہ مقصد کو معین کر کے اسی راہ پر گامزن ہے۔ عقلمند انسان کبھی اپنے مقصد سے غافل نہیں رہتا ہے بلکہ ہمیشہ اپنے مقصدا ور اس راہ پر نظر رکھتا ہے جو اسے منزل تک پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقصد ہے خدا کی نظر رحمت انسان سے منھ پھیر لیتی ہے، کیونکہ اس صورت میں اس نے اپنے مقصد اور دنیا کی پیدائش کے مقصد سے منہ موڑا ہے اور اس نے سعادت کی راہ کے بجائے شقاوت و بدبختی کے راستہ کا انتخاب کیا ہے۔

اصحاب ائمہ علیہم السلام میں سے ایک شخص اپنے کارو بار کے وسیع ہو جانے کی وجہ سے ناراض تھا۔ امام اس سے ملے اور فرمایا: تم کیوں غمگین ہو؟ اس نے کہا: مولا، میری دولت بڑھ گئی ہے، دنیا کے جال میں پھنس گیا ہوں۔ فرمایا: تم کیوں مال دنیا کے پیچھے پڑے ہو؟ اس نے کہا: تاکہ میں اور میرے فرزند دوسروں کے محتاج نہ رہیں اور اپنے مومن بھائیوں کی مدد کرسکوں۔ حضرت نے فرمایا: یہ تو وہی آخرت طلبی ہے یہ دنیا طلبی نہیں ہے، پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ تم جب دنیوی لذتوں پر فریفتہ ہوجائو گے اور دنیا کو دنیا کے لئے چاہو گے، تو اس وقت فکر مند ہو نا۔

''مَامِنْ شَیْئٍ اَبْغَضُ اِلیَ ﷲ تَعَالیٰ مِنَ الدُّنْیَا خَلَقَهَا ثُمَّ عَرَضَهَا فَلَمْ یَنْظُرْ اِلَیْهَاوَلَا یَنْظُرُ اِلَیْهَا حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَةُ''

خدا کے نزدیک دنیا کے برابر کوئی چیز قابل نفرت نہیں ہے۔ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس سے منہ موڑلیا اوراس سے اپنی نظر رحمت کو ہٹا لیا اور قیامت تک اس کی طرف نظر نہیں کرے گا۔

اس کلام کے مضمون کو بزرگوں' خاص کر امام خمینی اپنی اخلاق کی کتابوں میں زیادہ بیان فرماتے تھے اور اس پر اصرار فرماتے تھے۔ (یہ ایک عجیب تعبیر ہے۔ اہل معرفت کیلئے یہی تعبیر کافی ہے کہ عمر بھر دنیا کی طرف رغبت نہ کریں)۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کو دوست رکھتا ہے۔ وہ اسماا ور صفات الہٰی کے آثار ہیں۔ اس لحاظ سے کہ دنیا اور اس کی نعمتیں اس کی صفات و اسماء کے مظہر ہیں' قیامت تک ان پر توجہ و عنایت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا پر اس جہت سے توجہ اور عنایت نہیں کرتا جکہ اسے مستقل اور اصالت کا درجہ دیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں محبت و عنایت الہٰی کا تعلق کس چیز سے ہے؟ اس نکتہ کے بیان میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''وَ مَامِنْ شَیئٍ اَحَبُّ اِلیَ ﷲ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الِایمَانِ بِهِ وَ تَرْکِ مَا َمَرَ بِتَرْکِهِ''

''خدا کے نزدیک ایمان اور محرمات سے پرہیز کرنے کے برابر کوئی چیز محبوب تر نہیں ہے۔''

خدا کے نزدیک پہلے مرحلہ میں ایمان اور دوسرے مرحلہ پر تقویٰ نیز گناہ و محرمات کو ترک کرنا عزیز ترین شیٔ ہیں۔ اس روایت سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ترک گناہ، واجبات کو انجام دینے سے مطلوب تر ہے۔ اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ انجام واجبات کاایمان کے مراتب میں ہے۔کیونکہ ایمان اعمال قلبی کو بھی شامل ہے اور اس اعمال ظاہری کو بھی جو اعضا و جوارح کے توسط سے انجام دیئے جاتے ہیں۔ اب جو کچھ دنیا میں ہے اگر وہ ایمان تک پہنچنے اور گناہ سے دوری کے سلسلہ میں وسیلہ بن جائے تو وہ خدا کے نزدیک محبوب ہے۔ لہذا خدائے متعال نے بہت سے دنیوی امور کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ انسان ان کے ذریعہ تقویٰ' نیک اعمال اور خدا کا تقرب حاصل کر سکتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نقل فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

''تِسْعَةُ اعْشٰارِ الْعِبَادَةِ فِی التِّجَارَةِ'' (۲)

عبادت کے دس حصوں میں سے نو حصے تجارت اور کسب معاش سے مربوط ہیں۔

ایک دوسری روایت میں امام جعفر صادق ںفرماتے ہیں:

''مَامِنْ بنٰائٍ فِی الْاِسْلاٰمِ اَحَبُّ اِلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ وَ اَعَزُّمِنْ التَّزْوِیجِ'' (۳)

اسلام میں ، خدا کے نزدیک ازدواج سے زیادہ عزیز ترین کوئی عمارت نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ امور دنیوی ہیں، لیکن چونکہ یہ خدا کی بندگی اور ترک گناہ کے لئے وسیلہ ہیں، اس لئے خدا کے نزدیک عزیز ہیں۔

آخرت درستی کی ضرورت:

''یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ اَوحٰی اِلیٰ اَخِی عِیسیٰ: یَا عِیسٰیٰ لَا تُحِبِّ الدُّنیَا فَاِنِی لَسْتُ اُحِبَُّهَا وَاُحِبِّ الْآخِرَةَ فَاِنَّمَا هِیَ دَارُالْمَعَادِ''

اے ابوذر! خدائے متعال نے میرے بھائی عیسٰی پر وحی نازل فرمائی: اے عیسٰی دنیا کو دوست نہ رکھو کیونکہ میں اسے پسند نہیں کرتا ہوں، آخرت کو دوست رکھو کیونکہ وہ واپس لوٹنے کی جگہ ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عیسٰی کی زبانی نقل فرماتے ہیں کہ خدائے متعال نے انھیں وحی بھیجی کہ میں دنیا کو پسند نہیں کرتا ہوں تم بھی اسے دوست نہ رکھو۔ فطری بات ہے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی دنیا کے دشمن ہیں، چونکہ معصومین کے لئے کسی چیز یا کسی شخص سے دوستی اور دشمنی کا معیار خدا کی دوستی و دشمنی ہے۔ فطری بات ہے کہ مومنین اور حق کے پیروی کرنے والوں کے لئے دنیا سے برتائو کرنے میں انبیاء اور معصومین علیہم السلام اور ان کی عملی سیرت نمونہ ہے۔

حضرت علی علیہ السلام، دنیا کی نسبت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نظریہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

''قَدْ حَقَّرَ الدُّنْیَا وَ صَغَّرَ هَا... فَاَعْرَضَ عَنِ الدُّنْیَا بِقَلْبِهِ وَ اَمَاتَ ذِکْرَهَاعَن نَفْسِهِ وَاَحَبَّ اَنْ تَغیبَ زِینَتُهَا عَن عَیْنِهِ لِکَیْلاَ یَتَّخِذَ مِنْهَا رِیَاشاً اَوْ یَرْجُو فِیهَا مُقَاماً ...''(۴)

''رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کو حقیر جانتے تھے اور اسے نا چیز کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ آپ نے دل سے دنیا کو ترک کیا تھا اور اس کی یاد کو اپنے نفس سے نکال باہر کیا تھا اور اس کی زینت کو دیکھنا پسند نہیں فرماتے تھے تاکہ اس کی زینت سے اپنے لباس آراستہ نہ کریں اور اس کی تمنانہ کریں۔''

یہ ایسی حالت میں تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تمام مادی نعمتوں سے استفادہ کرنے کے امکانات موجود تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اپنے قول کے مطابق دنیا کے تمام خزانے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیش کئے گئے تھے، لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں قبول نہیں فرمایا تھا:

''یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ جَبرَئِیلَ َتَانِی بِخَزَائِنِ الدُّنْیٰا عَلٰی بَغْلَةٍ شَهْبَائَ فَقَالَ لِی یَا مُحَمَّدَُ هٰذِهِ خَزَائِنُ الدُّنْیَا وَلاَ یَنْقُصُکَ مِنْ حَظِّکَ عِنْدَ رَبِّکَ ''

''اے ابوذر! جبرئیل امین عام دنیا کے خزانوں کو ایک سیاہ و سفید رنگ کے خچر پر رکھ کر میرے پاس لائے اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دنیا کے خزانے ہیں اور ان کو خرچ کرنا آپ کے نصیب میں ہے، اس سے خدا کے نزدیک کو ئی کمی واقع نہیں ہوگی۔

یہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :جبرئیل ایک سیاہ سفید رنگ کے گھوڑے پر سوار دنیا کے خزانے لے کر میرے پاس آئے، شاید اس کا کہنا یہ ہوگا کہ دنیا لذت و رنج اور خیر و شرکا سنگم ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص پایا نہیں جاسکتا جس نے کہ زندگی میں صرف رنج و پریشانی دیکھی ہو اور کسی طرح کی لذت و خوشی کا سامنا نہ کیا ہوااس کے برعکس ایسا بھی کوئی نہیں ہے کہ جس نے زندگی میں صرف لذت ہی لذت دیکھی ہو اور کسی بھی رنج و مصیبت سے دو چار نہ ہوا ہو۔ حقیقت میں ہر رنج و غم کے ساتھ ایک لذت و خوشی ہے اور ہر لذت و خوشی کے ساتھ ایک رنج و الم ہے اور یہ دونوں انسان کے لئے امتحان کا وسیلہ ہیں:

(...( وَنَبْلُوْ کُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتنَهً ) (انبیائ ٣٥)

''ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے۔

اور ایک نکتہ یہ ہے کہ جبرئیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے ہیں: اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دنیا کے تمام خزانوں سے استفادہ کریں گے تو آپ کے آخرت سے استفادہ کرنے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ مادی لذتوں کی آفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جس قدر ان سے استفادہ کیا جائے گا احتمال ہے اخروی فائدوں سے محروم ہو جائے۔ لیکن اولیائے الہٰی اور انبیاء اس طرح نہیں ہیں، اس لحاظ سے جبرئیل کہتے ہیں:

تمام دنیوی خزانوں سے استفادہ کرنے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخروی حصہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے جبرئیل کے جواب میں فرمایا:

''حبیبی جبرئیل لا حاجة لی فیها اذاشبعت شکرت ربی واذاجعت سالته''

میرے دوست جبرئیل مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب بھی میں سیر ہوں گا اس کا شکر کروں گا۔ اگر مجھے بھوک لگے گی تو اس سے مانگ لوں گا۔

مومن کے لئے بہترین حاجت یہ ہے کہ ایک طرف سے خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے اور ان کے لئے خدا کا شکر بجالائے اور دوسری طرف سے خدا کی نسبت احساس فقرو محتاجی کرے اور ہمیشہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے۔ کیونکہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ جس کے دو پہلو ہیں ، اسے چاہئے کہ خد اکی نعمتوں سے استفادہ کرے اور اس کا شکر بجالائے۔ بس اس کی نعمتوں سے استفادہ اور اس کا شکربجا لانا اس کی سعادت کا سبب ہے۔ اور دوسری طرف سے ہمیشہ احساس فقر و محتاجی کرے تاکہ مغرور اور غافل نہ ہو اور خود کو دوسروں سے برتر تصور نہ کرے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اگر دنیا کی ساری دولت میرے اختیار میں ہو جب بھی مجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ مجھے ہمیشہ خدا پر نظر رکھنی چاہیے اور اس سے نعمت مانگوں اور اس کی نعمت کا شکر بجالائوں۔

خداوند عالم کی خیر خواہی اور دنیا میں دین و زہد کی آگاہی:

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

'یَا اَبَاذَرٍ! اِذَا اَرَادَﷲ عَزَّوَجَّلَ بِعَبْدٍ خَیْراً فَقَّهَه فِی الدِّینِ وَ زَهَّدَهُ فِی الدُّنْیَا وَ بَصَّرَهُ بِعُیُوبِ نَفْسِهِ.''

اے ابوذر! جب خدائے متعال کسی بندہ کے لئے خیر چاہتا ہے اسے دین میں فقیہ اور دانا بنا دیتا ہے اور دنیا میں زاہد قرار دیتا ہے اور اسے اپنے عیوب کی طرف دیکھنے کی بینائی و بصیرت عطا کرتا ہے ۔

جب خدائے متعال کسی بندے کو خیر پہنچانا چاہتا ہے تو اسے تین چیزیں عطا کرتا ہے:

١۔ دین کی معرفت

٢۔دنیا میں زہد اور دنیوی لذتوں سے بے رغبتی

٣۔ اپنے عیوب کے بارے میں آگا ہی

(مذکورہ تین خصوصیتوں کے مقابلہ میں ، انسان کے لئے بدترین چیز دین کے بارے میں جہل، دنیا پرستی، اپنے آپ سے راضی ہونا اور دوسروں کی عیب جوئی کرنا ہے)

گزشتہ مطالب اور آنے والے مطالب کے پیش نظر قابل تو جہ جملہ ''وزھّدہ فی الدّنیا'' ہے۔ کیونکہ بحث دنیا کی اہمیت و منزلت کے بارے میں ہے پس اگر کوئی شخص اپنے دل میں یہ احساس کرتا ہے کہ اسے دنیا سے کوئی رغبت نہیں ہے اور اس سے صرف اپنی ضرورتوں کو پورے کرنے کی حدتک استفادہ کرتا ہے اور فقط فرائض کے انجام دینے کے لئے دنیوی امور کی طرف توجہ کرتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے خدائے متعال اس کی خیر چاہتا ہے۔ البتہ ایک معنی میں خدائے متعال سبھی کے لئے خیر چاہتا ہے لیکن وہ اپنے تشریعی ارادے کی بنیاد پر سبھی کے لئے بعض و ظائف معین کئے ہیں اور انہیں محرمات سے روکا ہے۔ اب اگر انتخاب کرنے والا انسان صحیح انتخاب کرے اگر چہ صحیح راستہ کو انتخاب کرنے کے مقدمات خدائے متعال کی توفیق سے حاصل ہوتے ہیںاگر یہ طیہو جائے کہ بندگی کے راستہ کو اختیار کرے گا اور ایسی چیز کو پسند کرے گا کہ جسے خدا پسند کرتا ہے اور خدا کے دوستوں کے ساتھ دوست اور خدا کی راہ میں قدم بڑھائے گا تو خدا کا خاص تکوینی ارادہ اس سے متعلق ہو جاتا ہے کہ وہ اسے کامیابی اور سر بلندی سے سرفراز کرے:

( وَمَنْ اَرَادَ الْآخِرَة َوَسَعیٰ لَهَا سَعْیَهَا وَهُوَ مُؤْمِن فَاُولٰئِکَ کَانَ سَعْیَهُمْ مَشْکُوراً ) (اسرائ۔ ١٩)

''اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور اس کے لئے ویسی ہی سعی بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اس کی سعی یقینا مقبول قرار دی جائے گی۔''

اس کے مقابلہ میں خدائے متعال کسی سے دشمنی نہیں رکھتا ہے اور بلا وجہ کسی کو جہنم میں نہیں ڈالتا ہے۔ پس اگر کسی نے اپنے غلط انتخاب کی بناپر کفر و عصیان کا راستہ اختیار کیا تو پرور دگار عالم ارادہ تکوینی کے ذریعہ اسے ذلیل و رسوا کرتا ہے اور اسے خیر کی توفیق نہیں ہوتی ہے:

( مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِیهَا مَا نَشَائُ لِمَنْ نُرِیدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ یَصْلٰهٰا مَذْمُوماً مَدْحُوراً ) (اسرائ۔ ١٨)

جو شخص بھی دنیا کا طلب گا رہے ہم اس کے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دے دیتے ہیں پھر اس کے بعد اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ داخل ہوگا۔

پس خدائے متعال جس کی خیر چاہتا ہے اسے تین چیزوں میں کامیاب قرار دیتا ہے:

اسے علم حاصل کرنے کی توفیق بخشتا ہے اس کے بر عکس اگر خدا کسی کے لئے خیر نہیں چاہتا تو اسے علم حاصل کرنے سے محروم کردیتا ہے، چنانچہ روایت میں آیا ہے:

''اِذَا اَرْذَلَ ﷲ عَبْداً حَظَّرَ عَلَیْهِ الْعِلمَ''

اگر خدا وند متعال اپنے کسی بندے کو اپنے سے دور کرتا ہے تو اسے علم حاصل کرنے سے محروم کردیتا ہے۔(۵)

ہم خدا کا شکر بجالا تے ہیں کہ اس نے اپنے بے شمار بندوں میں سے ہمیں علم دین حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرمائی ہے۔ ہمیں اس بڑے افتخار کی قدر کرنی چاہیے جو ہمارے نصیب میں ہے، کیونکہ اسی بڑی الہٰی توفیق کے نتیجہ میں ہمارے لئے کمال تک پہنچنے کی راہ ہموار ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے:

''اَلْکَمَالُ کُلُّ الْکَمَالِ' اَلتَّفَقُهُ فِی الدِّینِ وَتَقْدِیرِالْمَعیشَةِ وَالصَّبْرُ عَلٰی النَّائِبَةِ''

تمام کمالات تین چیزوں میں خلاصہ ہوتے ہیں:

١۔ دین میں تفقہ

٢۔ امور زندگی کی منظم منصوبہ بندی

٣۔ مشکلات پر صبر(۶)

دوسری توفیق الہٰی: دنیا کی نسبت سے بے رغبت ہونا ہے انسان کو چاہئے کہ اس کا دل دنیا کی زرق وبرق چیزوں پر فریفتہ نہ ہو افسوس کہ ہم میں بہت سے لوگوں میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی بلکہ ہم تقریباً دنیا کی لذتوں سے وابستگی رکھتے ہیں۔ اگر انسان مناسب اور اپنی شان کے مطابق زندگی بسر کرنے کے باوجود، بہتر گاڑی، بہتر سواری اور بہتر لباس کی تلاش میں سر گرداں ہے تو وہ دنیا طلبی کے پیچھے پڑا ہے اوروہ بہشت کی نعمتوں سے محروم ہوگا، جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے:

( تِلْکَ الدَّارُالآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَ یُرِیدُونَ عُلُوّاًفِی الْاَرْضِ وَلاَ فَسَاداً ) ....) (قصص/ ٨٣)

یہ دار آخرت وہ ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فساد کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں۔

اس آیت کے ذیل میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ حتی اگر انسان اپنے جوتے کے تسمہ کو بدل کر بہتر تسمہ کی فکر میں ہو تو یہ زیادہ خواہی اور برتر طلبی کا نمونہ ہے(۷) ۔ پس، انسان کو کوشش کرنا چاہیے کہ اس حد تک بھی دنیا کے پیچھے نہ پڑے۔ اس کا دل خدا اور آخرت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے نہ جوتے کے تسمہ، گھر اور سواری کی فکر میں ، کیونکہ دل نو رِخدا کے نازل ہونے کی جگہ ہے:

''قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ''

مومن کا دل خدا کی جگہ ہے۔(۸)

جس قدر انسان کادل خدائے متعال سے منحرف ہوگا اورامور دنیا میں مشغول ہوگا اسی قدر وہ معنوی اور اخروی معاملات سے محروم ر ہے گا۔

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں دنیا کی نسبت انبیاء کے نقطہ نظر کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرناتمھارے لئے کافی ہے اور دنیا کی مذمت اور اسے عیب جاننے کے لئے اس کی بیشمار رسوائیاں اور برائیاں تمھارے لئے دلیل اور رہنما ہے۔ کیونکہ دنیا کی وابستگی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لے لی گئی تھی اور دوسروں کااس کی طرف مائل ہونافراہم کیا گیا اس کی لذتوں سے استفادہ کرنے سے پرہیز کیا اور اس کی سجاوٹوں سے اجتناب کیا۔ اگر کسی دوسرے پیغمبر کی اطاعت کرنا چاہتے ہو تو موسیٰ کلیم اللہ کی پیروی کرو کہ جو فرماتے تھے: ''پرور دگارا! مجھے جو خیر و نیکی تونے عنایت کی ہے میں اس کا محتاج ہوں''

خداکی !قسم موسیٰ نے خدا سے کھانے کیلئے روٹی کے علاوہ کچھ نہیں مانگاتھا۔ کیونکہ وہ زمین کی گھاس کھاتے تھے۔ اور دبلا پتلا ہونے کی وجہ سے ان کے پیٹ کی کھال اتنی نازک ہوگئی تھی کہ پیٹ میں موجودہ سبز گھاس دکھائی دیتی تھی۔ اگر تیسرے پیغمبر کی پیروی کرنا چاہتے ہو تو داؤد پیغمبر کی پیروی کرو جو صاحب ''مزامیروزبور'' تھے۔ وہ بہشت کے نغمہ خوان ہوں گے۔ وہ اپنے ہاتھ سے کھجور کے پتوں کی زنبیل بناتے تھے اور اپنے دوستوں سے کہتے تھے: ''تم میں سے کون ان کو فروخت کرنے میں میری مدد کرے گا؟ اور وہ اس کی قیمت سے اپنے لئے جو کی ایک روٹی تیار کرتے تھے۔

عیسٰی کو بتاؤ جو سوتے وقت تکیہ کے بجائے اپنے سرہانے پتھر رکھتے تھے اور کھدر کپڑے پہنتے تھے اور سخت غذا کھاتے تھے۔ رات میں ان کا چراغ چاند ہوتا تھا۔ سردیوں میں ان کا مکان وہ جگہ ہوتی تھی۔ جہاں سورج چمکتا تھا یا وہ جگہ دھنس جاتی تھی (ان کا گھر نہیں تھا) ان کا میوہ اور خوشبو دار سبزی وہ گھاس تھی جو مویشیوں کیلئے زمین پر اگتی ہے۔ نہ ان کی بیوی تھی جو اسے فتنہ و تباہی کی طرف کھینچتی اور نہ ان کا کوئی فرزند تھا جو انھیں غمگین کرتا نہ ان کے پاس پراپرٹی اور دولت تھی جو انھیں خدا کی یاد سے روکتی اور نہ کوئی طمع و لالچ تھی جو انھیں خوار کرتی۔ خداند متعال اپنے اولیا سے دشمنی رکھتا ہے کہ انہیں دنیا کی لذتوں سے محروم کرے؟ یا یہ کہ دنیا کی سختی اور مشکلات ان کے تکامل وترقی کا وسیلہ اور خدا کی محبت کی علامت ہے۔ اس نکتہ کی تاکید کرنا ضروری ہے کہ ان بیانات سے ایسا تصور نہیں کرنا چاہیے ہم بیکاری اور بے عملی کا مظاہرہ کریں اور گوشہ نشینی اختیار کر کے فرائض سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسب حلال کیلئے کوشش نہ کریں یا اسلام و مسلمین کے تحفظ کیلئے کوشش نہ کریں! دراصل بات یہ ہے کہ دنیوی امور کا فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر تمام دنیا کے خزانے اور دولت بھی کسی کے اختیار میں دے دی جائے اور وہ تمام لذتوں سے استفادہ کرے لیکن اس پر فریفتہ نہ ہو تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جیسے سلیمان بن داؤد کہ اتنی دولت' عظیم سلطنت مقام نبوت و ولایت کے ہوتے ہوئے بھی انھیں کوئی نقصان نہ پہنچاکیونکہ وہ دنیا کے فریفتہ نہیں ہوئے تھے۔ خود جو کی روٹی کھاتے تھے اور دولت و قدرت کو دین خدا کو عزت بخشنے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ اگر ملکہ سبا سے جنگ کی یا' جنگ کی دھمکی دی تو' وہ صرف حکومت الہٰی کی وسعت کیلئے تھی اور اس لئے تھی کہ زمین سے شرک کا خاتمہ ہو جائے نہ اس لئے کہ خود دنیا کی لذتوں سے استفادہ کریں۔

معصومین علیہم السلام کی زاہدانہ زندگی کے بارے میں نقل کی گئی تمام روایتوں سے اس طرح کا شک و شبہ بر طرف ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا میں سختی سے زندگی بسر کرتے تھے اور دنیا میں عیش و آرام کے خواہاں نہیں نہیں تھے۔ ان کا طریقۂ کار یہ تھا کہ لوگوں کو دنیا پرستی سے روکتے تھے' جس طرح ائمہ اطہارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصل وجود میں کوئی شک نہیں ہے' اسی طرح ان کی زندگی کے شیوہ میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔ ان کی واضح خصوصیات میں خدا کی عبادت سحر خیزی' مناجات' دعا اور گڑ گڑانا تھا۔ دوست و دشمن اور شیعہ و سنی اس کااعتراف کرتے ہیں اور اس بارے میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔

ان کی تربیت کی روش لوگوں کو دنیا پرستی سے روکنا اور مادی لذتوں سے وابستگی کے بارے میں ان کی طبیعت میں نفرت پیدا کرنی تھی۔ اس کے باوجود دوسروں کو مسلسل کام' فعالیت اور کسب حلال کی تلقین کرتے تھے تاکہ دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔ حقیقت میں یہ دنیا اور خدا کی مرضی کو جمع کرنے کے معنی میں ہے'

جو عام لوگوں کیلئے ممکن نہیں ہے۔

جو روایتیں دنیا کی مذمت یا کسب معاش کی ستائش میں نقل کی گئی ہیں۔ ان کے بارے میں صدر اسلام سے ہی غلط مطالب نکالے جاتے رہے ہیں، جب دنیا کی مذمت کی جاتی تھی تو وہ تصور کرتے تھے کہ دنیا سے استفادہ نہیں کرنا چاہیے اور غاروں میں زندگی بسر کرنی چاہیے اور درختوں کے پتوں سے لباس بنایا جانا چاہیے: دوسری طرف سے جب دیکھتے تھے بعض روایتوں میں تلاش معاش کی ستائش ہوئی ہے' تو خیال کرتے تھے کہ تمام چیزوں کو پیٹ کیلئے قربان کرنا چاہیے!

مکتب اہل بیت کے تربیت یافتہ بخوبی جانتے ہیں کہ تلاش معاش اور دنیا کی نعمتوں سے استفادہ کرنے اور آخرت طلبی کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے لیکن دنیا کی محبت اور آخرت کی محبت میں منافات ہے اور ان دوکا جمع ہونا ممکن نہیں ہے۔ ممکن نہیں ہے انسان خدا سے بھی محبت رکھے اور اس چیز سے بھی جس پر اس نے غضب کیا ہے۔ جو دنیا آخرت تک پہنچنے کا وسیلہ اور کسب معاش خدا کی مرضی کے مطابق ہو ممنوع اور مبغوض نہیں ہے۔

دنیا سے محبت اور اس سے دوری کا اندازہ لگانے کیلئے انسان کا ظاہری عمل معیار نہیں ہے بلکہ اس کا معیار انسان کی نیت اور اندرونی محرک ہے۔ لیکن بعض اوقات نیت عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا سے اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن عملاً دنیا کیلئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور حرام سے بھی پرہیز نہیں کرتا ہے۔ بے شک ایسے شخص کی نیت دنیا پرستی ہے۔ لہذا کام دعویٰ سے حل نہیں ہوتا'اصل میں نیت اور دل پر نظر ڈالنی چاہیے۔ کچھ ایسے درویش اور صوفی بھی پائے جاتے ہیں جو دنیا سے بے اعتنائی اور بے رغبیی کیلئے زبان پر اشعار جاری کرتے ہیں لیکن عملاً ایک پیسہ بھی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

____________________

١۔بحار الانوار ، ج ٨٥، ص ٣١٩ ، ح ٢

٢۔ بحار الانوار ، ج ١٠٣ ، ص ٢١٩ ، ح ١٤

٣۔ بحار الانوار ، ج ١٠٣ ، ص ٢٢٢ ، ح ٤٠

۴۔ نہج البلاغہ ، ( ترجمہ فیض الاسلام ) خطبہ ١٠٨ ، ص ٣٣٦

۵۔ بحار الانوار: ج ١ ، ص ١٩٦

۶۔ بحار الانوار ، ج ٧٨ ، ص ١٧٢ ، ح ٥۔

۷ ۔المیزان ج١٦،ص٨٥

۸۔ بحار الانوار ، ج ٨٥ ، ص ٣٩

۹۔ نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،خ ١٥٩، ص ٥٠٨


پندرہواں سبق:

حکمت' بصیرت اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت کی ایک جھلک

*حکمت و بصیرت زہد کا عطیہ

*زاہد ترین لوگوں کی نشانیاں

*طولانی آرزو اور فرائض سے غفلت' تقویٰ و توکل کے ضعیف

ہونے کی علامت ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عملی سیرت کی ایک جھلک

حکمت، بصیرت اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت کی ایک جھلک

''یَا َبَاذَرٍ! مَازَهَدَ عَبْد فِی الدُّنْیَا اِلاَّ اَثْبَتَ ﷲ الْحِکْمَةَ فی قَلْبِهِ وَ اَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهُ وَ یُبَصِّرُهُ عَیُوبَ الدَُّنْیَا وَ دَائَهَا وَ دَوَائَهَا وَ َخْرَجَهُ مِنْهَا سٰالِماً ِلٰی دٰارِ السَّلامِ.

یَا َبَاذَرٍ!اِذَا رََیْتَ اَخٰاکَ قَدْ زَهَدَ فِی الدُّنْیَا فَاسْتَمِعْ مِنْهُ فَاِنَّهُ یُلقَّی الْحِکْمَةَ' فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ ﷲ مَنْ اَزْهَدُ النَّاسِ؟ قَالَ: مَنْ لَمْ یَنْسَ الْمَقَابِرَ وَالْبَلٰی وَ تَرَکَ فَضْلَ زِیْنَةِ الدُّنْیَا وَ اٰثَرَ مٰایَبْقٰی عَلٰی مٰا یَفْنٰی وَلَمْ یَعُدَّ غَداً مِنْ اَیّٰامِهِ وَعَدَّ نَفْسَهُ فی الْمَوْتٰی

یَا اَبَاذَرٍ!اِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ لَمْ یُوحِ اِلَیَّ اَنْ اَجْمَعَ الْمَالَ وَلٰکِنْ اَوْحٰی اِلَیَّ اَنْ سَبَّحَ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنَّ السَّاجِدِینَ و اعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَا تِیَکَ الْیَقِینُ

یَا اَبَاذَرٍ!اِنِّی اَلْبِسُ الغَلیظَ وََجْلِسُ عَلَی الْاَرْضِ وَاَلْعَقُ َصَابِعِی وَاَرْکَبُ الْحِمَارَ بِغَیرِ سَرْجٍ وََرْدِفُ خَلْفی فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتی فَلَیْسَ مِنِّی''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم' دنیا کے عیوب اور دنیا پرستی کے بارے میں مختلف طریقوں سے تذکّر دیتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی نصیحت کو گوش گزار فرماتے ہیں۔ یہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مختلف طریقوں سے تربیتی مطالب کو ایک خاص پس منظر میں پیش کیا ہے تاکہ ہر کوئی اپنے فہم و استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کرے' ایک معجزانہ کام ہے۔ مطالب اس قدر گوناگوں اور مختلف تربیتی و اخلاقی سانچوں میں بیان ہوئے ہیں کہ ہر ایک فرد ان سے اپنے خاص ذوق کے مطابق استفادہ کرتا ہے اور اس کی روح پر اثر ڈالنے والے مناسب ترین تربیتی زادراہ کا انتخاب کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک شیوہ' زہد کی ستائش اور اس کی تشویش اور اس کے قابل قدر آثار کا ذکر ہے جو دنیا کی بے رغبتی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

حکمت و بصیرت زہد کا عطیہ:

''یَا َبَاذَرٍ! مَازَهَدَ عَبْد فِی الدُّنْیَا اِلاَّ اَثْبَتَ ﷲ الْحِکْمَةَ فی قَلْبِهِ وَ اَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهُ وَ یُبَصِّرُهُ عَیُوبَ الدُّنْیَا وَ دَائَهَا وَ دَوَائَهَا وَ َخْرَجَهُ مِنْهَا سٰالِماً ِلٰی دٰارِ السَّلامِ''

''اے ابو ذر! ایک بندہ نے دنیا میں زہدکو اختیار نہیںکیا'مگر یہ کہ خدائے متعال نے اس کے دل میں حکمت ڈال دی اور اسے زبان پر جاری کیا اور اسے دنیا کی برائیوں نیز اس کے امراض وعلاج سے اسے آشنا و مطلع کیا اور اسے صحیح و سالم بہشت کی طرف اسے لے گیا۔''

حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاکید اس امر پر ہے کہ زہد اور دنیا کی نسبت بے رغبتی انسان کے دل کو حکمت قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے بعد وہ حقائق کو سمجھتاہے' کیونکہ ''حب الشیء یُعْمی ویصم'' دنیا کی محبت انسان کیلئے غفلت کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ دنیا کی طرف رجحان نہیں رکھتے ہیں وہ حقائق کو درک کرتے ہیں' کیونکہ وہ دنیا پر کامل تسلط رکھتے ہیں اور اس کا آخرت کے ساتھ موازنہ کر کے بہترکا انتخاب کرتے ہیں۔

زہد' بے رغبت ہونے کے معنی میں ہے' چنانچہ یوسف کے بھائیوں کے بارے میں آیا ہے:

( وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَکَانُوافیهِ مِنَ الزَّاهِدِینَ ) (یوسف٢٠)

''اور ان لوگوں نے یوسف کو معمولی قیمت پر بیچ ڈالا چند درہم کے عوض اور وہ لوگ تو ان سے بیزار تھے ہی۔''

دنیا میں زہد' یعنی انسان کو چاہئے کہ دنیا سے رغبت نہ رکھے ۔ اب اگر اس کے پاس مال و دولت ہے اور اس کے ہاتھ میں کچھ امکانات ہیں' تواسے اس فکر میں ہونا چاہئے کہ انہیں کس طرح خدا کی مرضی کی راہ میں خرچ کرے اور مال و دولت کو ذخیرہ کرنے سے الفت نہ رکھے۔ (حضرت سلیمان نبی ایسے ہی صفات کے حامل تھے کہ اس عظیم سلطنت اور فراوان ثروت کے مالک ہونے کے باوجود حضرت سلیمان جو کی روٹی پر قناعت کرتے تھے۔)

جملہ''اثبت اللّٰه الحکمة فی قلبه'' کی وضاحت کے سلسلہ میں چند نکات کی یادد ہانی کرانا ضروری ہے:

١۔دنیا سے بیزاری اور معارف الٰہی کو درک کرنے کے درمیان ایک عمیق رابطہ ہے یعنی' ایک ایسے انسان کا پایا جانا محال ہے جو دنیا سے قلبی رابطہ رکھنے کے باوجود اس کی روح معارف الہٰی سے سرشار ہو۔

٢۔ حکمت، جو دنیا سے بیزاری کا تحفہ ہے۔ انسان کی معرفت و آگہی کو استحکام بخشتی ہے اور اعتقاد میں تزلزل اور بے ثباتی کو روکتی ہے۔ ممکن ہے ایک انسان معرفت کے مرحلے سے آگاہ ہو اور کسی حقیقت کو درک کرے لیکن اس کی معرفت متزلزل اور بے ثبات ہو' چونکہ اس میں یقین کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی ہے تاکہ وہ معرفت اس کے دل میں مستحکم اور استوار ہو سکے۔

عقائد کے مرحلہ میں ' اصل عقیدہ کے علاوہ معارف کا استحکام و ثبات بھی خاص اہمیت کا حامل ہے اور اس لئے عارضی اور وقتی ایمان نہ صرف اہمیت نہیں رکھتا بلکہ منفی اثرات کا بھی حامل ہوتا ہے' جس کی سر زنش قرآن مجید میں جگہ جگہ پر بیان ہوئی ہے۔

( فَاِذَارَکِبُوافِی الْفُلْکِ دَعَوُا ﷲ مُخْلِصینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَاهُمْ یُشْرِکُونَ ) (عنکبوت٦٥)

''پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو فوراً شرک کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔''

٣۔ جب حکمت مستحکم ہوتی ہے تو دل میں محدود ہوکر نہیں رہتی بلکہ اس کے آثار زبان' کے ساتھ ساتھ عمل اور رفتار میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ جس کے دل میں حکمت مستحکم ہوجاتی ہے' اس کا بیان حکیمانہ ہوتاہے اور جس گوہر کا سرچشمہ دل میں ہو وہ زبان پر جاری ہوتا ہے ،بیہودہ و لغو گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے لقمان کے مانند ایسا عالمانہ موعظہ کرتا ہے کہ اس کا بیان قابل ستائش ہوتا ہے۔

جی ہاں' زبان انسان کے دل کی گزرگاہ ہے اور دوسرے الفاظ میں انسان کے دل کے تأثرات اس کی زبان سے ظاہر ہوتے ہیں' اس لئے کہ صراحی اور کوزے سے وہی رستا ہے جو اس میں ہوتا ہے البتہ یہ ترشح نہ صرف زبان سے بلکہ انسان کی تمام رفتار سے ظاہر ہوتا ہے۔

دنیا سے بیزاری کا دوسرا اثر یہ ہے کہ وہ دنیا کے عیوب کو انسان کے لئے آشکار کرتا ہے۔ یعنی انسان' اسی صورت میں دنیا کے نقائص اور پست ہونے کا مشاہدہ کر سکتا ہے جب خود کو اس سے علیحدہ رکھے اور کسی جہت سے اس سے وابستہ نہ ہو ورنہ دنیا پر ستوں سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے محبوب اور معشوق (دنیا) کے عیوب کو ظاہر کریں گے' کیونکہ دنیا پرستی انسان کو اس کے نکالنے کے سلسلہ میں اندھا اور اس کے نقائص سننے کے سلسلہ میں بہرا بنا دیتی ہے' اس کے برعکس وہ دنیا کی برائیوں کو حسین دیکھتا ہے اور اپنی ناپسندیدہ رفتارکو۔ جو دنیا کی طرف اس کے افراطی رجحانات کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں ان کو اچھا جلوہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ معنی مختلف تعبیرات سے قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں' جیسے:

( زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ) (نمل٤)

ہم نے ان کے اعمال کو ان کیلئے آراستہ کیا ہے۔

( بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفَسَکُمْ اَمْراً ) (یوسف١٨)

بلکہ اس کے نفس نے ان کی نظروں میں اس برے عمل کو حسین بنا دیا ہے۔

''وزین لهم الشیطان اعمالهما''

''ان کے برے اعمال کو ان کی نگاہوں میں اچھے روپ میں پیش کیا ''

یہ مختلف تعبیریں اس حقیقت کی حکایت کرتی ہیں کہ دنیا کی طرفمیلان اور دلچسپی انسان کے لئے دنیا اور دنیوی رفتارکو جلوہ دینے کا باعث ہے جس قدر یہ محبت زیادہ ہو گی' دنیا اور اس کے نقائص انسان کو حسین و خوبصورت نظر آئیں گے کیونکہ عاشق اپنے معشوق کی برائیاں اور نقائص نہیں دیکھتا ہے۔ یقیناً ایسا شخص دنیا کی ظاہری دل فریب خوبصورتی دیکھتا ہے اور اس کے باطن کو درک کرنے اور اس کا پس منظر دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے:

( یَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الْاَخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ) (روم ٧)

''یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے بالکل غافل ہیں۔''

اس کے مقابلہ میں حقیقت پسند اور دنیا سے بیزار انسان، دنیا کی خوبیوں اور برائیوں دونوںپر نگاہ رکھتے ہیں۔ یہ گروہ پہلے گروہ کے برخلاف زہریلے سانپ کے حسین اورخوبصورت ملائم کھل کو بھی دیکھتا ہے اور اس سانپ کے زہر قاتل کو بھی دیکھتا ہے:

''مَثَلُ الدَُّنْیَا کَمَثَلِ الْحَیَّةِ لَیِّن مَسُّهَا وَالسُّمُّ النَّاقِعُ فِی جَوفِهَا یَهْویَ اِلَیْهَا الْغِرُّ الْجَاهِلُ وَ یَحْذَرُهَا ذُواللُّبِّ الْعَاقِلُ'' (۱)

دنیا کی داستان' ایک سانپ کی داستان کے مانند ہے۔ اگر اس پر ہاتھ پھیر ا جائے تو نرم ہے' لیکن اس کے اندر زہر قاتل ہے۔ فریب خوردہ بیوقوف اس کی طرف بڑھتا ہے' لیکن عاقل اور دوراندیش شخص اس سے دوری اختیار کرتا ہے۔

یقیناً مردان خدا کی بصیرت اوردور رس نگاہیں ظاہری چمک دمک کے فریب میں آنے سے انہیں بچاتی ہیں اور ان کا مادی افق کے پس منظر پرگہری نظر رکھنا ظاہر بین افراد کے ساتھ ان کے بنیادی فرق کا مظہر ہے' حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ اَولِیَائَ ﷲ هُمُ الَّذِینَ نَظَرُ وا اِلیٰ بَاطِنِ الدُّنْیَا اِذَا نَظَرَ النَّاسُ اِلٰی ظَاهِرِهَا وَاشْتَغَلُوا بِاٰجِلِهَا فَمٰاتُوا مِنْهَا مٰا خَشُوا َنْ یُمیتَهُمْ وَتَرَکُوا مِنْهَا مَاعَلِمُوا َنَّهُ سَیَتْرُکَهُمْ'' (۲)

اولیا ء خدا وہ لوگ ہیں جو دنیا کی حقیقت پر نگاہ رکھتے ہیں جب لوگ صرف اس کے ظاہر کو دیکھتے ہیںتو یہ آخرت کے امور میں مشغول رہتے ہیں، جب لوگ دنیا کی فکر میں لگے رہتے ہیں تویہ آخرت کے بارے سوچتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان خواہشات کو مردہ بنا دیتے ہیں جن سے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ انھیں مار ڈالیں گے اور اس دولت کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے بارے میں یقین ہوتا ہے کہ ایک دن ان کا ساتھ چھوڑ دے گی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا َبَاذَرٍ!اِذَا رََیْتَ اَخٰاکَ قَدْ زَهَدَ فِی الدُّنْیَا فَاسْتَمِعْ مِنْهُ فَاِنَّهُ یُلْقَّی الْحِکْمَةَ'

اے ابو ذر!اگر تم اپنے بھائی کو دنیا میں زہد کی حالت میں دیکھو تو اس کی باتوں پر کان دھرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے۔

یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گزشتہ بیان کے ضمن میں گزرچکی ہے کہ جو شخص زہد کو اپنا پیشہ قرار دے خدائے متعال اس کے دل میں حکمت ڈالتا ہے۔ پس اگر کوئی دنیا سے بیزار ہے تو سمجھو کہ اسے حکمت مل چکی ہے' اور گفتگو کے دوران اس کی بات حکمت آمیز ہوگی' کیونکہ جو دنیا سے قطع تعلق کر لیتا ہے تو اس کی بات' اس کے دل سے نکلتی ہے اوریقینی طور پر دل میں بیٹھتی ہے۔ زاہد انسان اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنی بات پر یقین رکھتا ہے' پس ایسے شخص سے حکیمانہ بات کی توقع رکھنی چاہیے۔ اس کے مقابلہ میں جو دنیا کا فریفتہ اور د نیوی لذتوں میں غرق ہو' وہ حکمت و معرفت سے محروم ہے اور دنیا کی آلودگیوں نے حقائقسے بے بہرہ کرنے کیلئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے' نتیجہ کے طور پر اس کی بات بے فائدہ اور حکمت سے عاری ہوتی ہے۔

زاہد ترین لوگوں کی نشانیاں:

بات جب یہاں تک پہنچی تو جناب ابوذر زاہدوں کے شیدائی ہو جاتے ہیں' اس لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں زاہد ترین افراد کی نشانیاں بیان فرمائیں تاکہ وہ انہیں پہچاننے کے بعد ان سے دوستی برقرار کریں اور ان سے حکمت سیکھیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب میں زاہد ترین لوگوں کی پانچ خصوصیا ت بیان فرماتے ہیں:

''مَنْ لَمْ یَنْسَ الْمَقَابِرَ وَالْبَلٰی''

زاہد ترین لوگوں کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قبروں اور مردوں کی بوسیدہ لاشوں کو فراموش نہیں کرتے ۔

دنیا پرست لوگ ہمیشہ دنیا کی ظاہری حالت اور اس کی آبادی کی طرف توجہ رکھتے ہیں اور جن چیزوں سے وہ خود محروم ہیں ان پر حسرت کھاتے ہیں' لیکن جو دنیا کی طرف توجہ نہیں رکھتا وہ مسلسل قبروں اور دنیا کی ویران جگہوں کو مد نظر رکھتا ہے' کیونکہ وہ دنیا کی ناپائدار اور فانی ہونے کی نشانیاں ہیں۔ زاہد وہ ہے جو قبروں' ویرانوں' پرانی اور فرسودہ عمارتوں کو نہ بھولے۔ البتہ نہ اس معنی میں انسان صبح سے شام تک قبرستانوں میں بسر کرے بلکہ کبھی کبھی اہل قبور کی زیارت کیلئے جائے اور عبرت حاصل کرے۔

دنیا پرست جب قبرستان سے گزرتے ہیں تومنہ موڑلیتے ہیں موت اور قبر کا نام سن کر بھاگتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی عیش آرام درہم برہم ہوجائے۔ اگر کہیں موت کا نام ذکر ہوتا ہے تو ناراض ہوتے ہیں اور اسے عیب اور برا تصور کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو آخرت کو دیکھتے ہیں' وہ ہمیشہ آخرت کی یاد کو مد نظر رکھتے ہیں اور کبھی موت کو فراموش نہیں کرتے ہیں۔

٢۔''وَ تَرَکَ فَضْلَ زِیْنَةِ الدُّنْیَا''

زاہد ترین لوگوں کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ دنیا کی اضافی آرائشوں کو ترک کرتے ہیں۔ بیشک انسان زندگی کو جاری رکھنے کیلئے دنیا کے امکانات اور وسائل' جیسے لباس' گھر' غذا اور آرائش سے استفادہ کرنے کا محتاج ہے اور ممکن ہے یہ چیزیں انسان کے تکامل و ترقی میں موثر ہوں' اس لحاظ سے شرع مقدس نے انسان کو ان سے صرف روکا ہی نہیں ہے بلکہ اس کی طرف ترغیب بھی دلائی ہے:

( قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةُ ﷲ الِّتی اَخْرَجَ لِعِبٰادِهِ وَ الطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ) (اعراف٣٢)

''اے پیغمبر پوچھئو! کہ کس نے اس زینت کوکہ جس کو خدا نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کیا ہے حرام کیا ہے اور کس نے پاکیزہ رزق سے منع کیا ہے۔''

حقیقت میں دنیا کے امکانات اور اس کی آرائشوں سے ضرورت کے مطابق استفادہ کرنا چاہیے اوربیجا انسانی آرائشوں جن کی عاقلانہ طور پر ضرورت نہیں ہے۔ کو نظر انداز کرنا چاہیے اوراسے چاہئے کہ دوسروں کیلئے چھوڑدے' کیونکہ اگر ضرورت کی حد تک قناعت نہ کی گئی اور حدود کی رعایت نہ کی گئی اور دنیوی لذتوں سے بے حساب استفادہ کیا گیا' تو جس قدر انسان ڈیکوریشن' شیشے کے جھاڑفانوس،کلر' پینٹنگ اور اپنی زندگی کے تجملات میں اضافہ کرے گا اور مسلسل پردے بدل کر ان کی جگہ نئے اور خوبصورت اور قیمتی پردے لگائے گا اور اپنے لئے جدید ماڈل کی گاڑی خریدیگا ' تو وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوگا' کیونکہ انسان کی فطرت اس قدر تنوع طلب اور سیر ہونے والی نہیں ہے کیونکہ انسان اپنے لئے کسی محدودیت کا قائل نہیں ہوتا ہے۔ یقیناً اس قسم کا انسان زاہد نہیں ہے' زاہد وہ ہے جو ضرورت کے مطابق دنیا سے استفادہ کرے۔ وہ اپنی زندگی کیلئے ایک معمولی گھر پر اکتفا کرے اور اس فکر میں نہ رہیکہاس کے رہنے لئے ایک عالیشان عمارت ہو۔ یا اگر اسے گاڑی کی ضرورت ہو تو ایک ایسی گاڑی خرید لے کہ جو اسے رفت و آمد کی حد تک لازم ہو' نہ یہ کہ ایک جدید اور گراں قیمت گاڑی کی فکر میں رہے۔

اس جملہ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاکید زائداور اضافی آرائشوں کو ترک کرنا ہے' ورنہ انسان کو زندگی گزارنے کیلئے ضروری آرائشوں یاا پنی انفرادی یا خاندانی زندگی کیلئے ضروری آرائشوں سے استفادہ کرنا نہ صرف مذموم نہیں ہے بلکہ ان کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ جیسے مرد کا اپنی بیوی کیلئے زینت کرنا' اسی طرح بیوی کا مرد کیلئے زینت کرنا'صاف لباس پہننا' سرو صورت کی اصلاح کرنا بالوں میں کنگھی کرنا اور بدن پر عطر لگانا۔ بنیادی طور پر مومن انسان کی شخصیت اس امر کی متقاضی ہے کہ ظاہری اور باطنی آلودگیوں' اور بدبو جن کی وجہ سے دوسرے نفرت کرتے ہیں سے پرہیز کرے۔

اس لحاظ سے اسلام انسان کو لباس اور بدن پاک و صاف رکھنے اور سرو صورت کی اصلاح کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ اور بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ جب انسان مسجد میں جائے یا کسی محفل میں جائے تو اسے عطر لگانا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ اور اس کے دوست خوشبو سے لذت کا احساس کریں نہ یہ کہ بد بو ان کیلئے اذیت و آزار کا سبب بنے۔ یا یہ تاکید کی گئی ہے کہ نماز کے وقت عطر لگایا جائے اور عطر لگا کر دو رکعت نماز پڑھنے میں ستر رکعت کا ثواب ہے۔ حقیقت میں اضافی زینتوں سے پرہیز کرنا چاہیے' اس لئے کہ اس میں عقلائی حکمت نہیں ہے اور یہ انسان کے تکامل کیلئے درکار نہیں ہے بلکہ اضافی زینتیں تجمل پرستی' دنیا پرستی اور لذت پرستی کی نشانیاں ہیں۔

مکارم الاخلاق میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توصیف میں آیا ہے:

''اِنَّهُ کَانَ یَنْظُرُ فِی الْمِرْاٰةِ وَیُرَجَّلُ جَمَّتَهُ وَیَتَمَشَّطُ وَ رُبَّمَا نَظَرَفِی الْمَائِ وَسَوَّی جَمَّتَهُ فیهِ وَلَقَدْ کَانَ یَتَجَمَّلُ لِاَصْحَابه فَضْلاً عَلیٰ تَجَمُّلِهِ لِاَهْلِهِ وَقَالَ صَلَی ﷲ عَلیَهِ وَ آلِهِ وَسَلَّم اِنَّ ﷲ یُحِبُّ مِنْ عَبْدِهِ اِذَاخَرَجَ ِلٰی اِخْوَانِهِ اَنْ یَتَهَیَِّ لَهُمْ وَیَتَجَمَّلَ'' (۳)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ آئینہ دیکھتے تھے' سراور ریش مبارک کی کنگھی کرتے تھے' یہ کام پانی پر بھی انجام دیتے تھے۔ اپنے اہل و عیال کے علاوہ اپنے اصحاب کیلئے بھی آرائش کرتے تھے اور فرماتے تھے: خدائے متعال چاہتا ہے کہ جب اس کا بندہ اپنے بھائیوں کو دیکھنے کیلئے گھر سے باہر نکلے تو خود کو آمادہ و آراستہ کرے۔

٣۔'' واٰثَرَ مٰایَبْقٰی عَلٰی مٰا یَفْنٰی''

زاہد ترین لوگوں کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ باقی رہنے والی چیزوں کو نابود ہونے والی چیز وںپر ترجیح دیتے ہیں۔

اگر دنیا کی عارضی اور فنا ہونے والی لذتوں اور آخرت کی دائمی اور ابدی لذتوں میں سے انتخاب کرنا ہوتو وہ عقلمندانہ طور پر فنا ہونے والی لذتوں سے چشم پوشی کرتے ہیں اور بہشت کی ابدی لذتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ تکالیف اور فرائض کی مشکلات اور سختیوں کو دنیا کی آسائشوں پر ترجیح دیتے ہیں' کیونکہ ان کی دوربین آنکھیں آخرت پر لگی ہوئی ہوتی ہیں' وہ حرکت کے وقت صرف مقصد کو مد نظر رکھتے ہیں اور دنیا کو عبورکرنے کیلئے ایک پل کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔

( وَالْاَ خِرَةُ خَیْر وَاَبْقیٰ ) (اعلیٰ١٧)

''جبکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔''

٤۔''وَلَمْ یَعُدَّ غَداً مِنْ اَیّٰامِهِ''

٥۔َ''عَدَّ نَفْسَهُ فی الْمَوْتٰی''

زاہد ترین لوگوں کی چوتھی اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ وہ آنے والے کل کو اپنی عمر میں شمار نہیں کرتے ہیں اور خود کو مردوں میں شما رکرتے ہیں۔

انسان کو فریضہ انجام دینے کی فکر میں ہونا چاہیے اور کبھی تلاش' کوشش اور سرگرمی سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہیے۔ یقیناً جو فریضہ انجام دینے کی فکر میں ہے وہ آرام طلب اور آسودہ نہیں رہ سکتا ہے' کیونکہ تلاش اور فعالیت آرام طلبی ،کاہلی کے درمیان مناسب نہیں ہے۔ جو اہل دنیا ہے' وہ آرام و آ سائش کے مسائل کی فکر میں ہوتا ہے' ایسے لوگوں کیلئے جب کسی فعالیت جستجو و تلاش بحث و مطالعہ نیز فرائض کی انجام دہی وقت آتا ہے' تو اس کی آرام طلب طبیعت اسے ان امور سے باز رکھتی ہے اور آج کے کام کو کل پرٹالنا ہے اور وہ تیار نہیں ہے اس کے آرام و آسائش میں کسی قسم کا خلل واقع ہو۔ حقیقت میں فرائض کو دوسرے دن تک تاخیر میں ڈالنا اس لئے ہوتا ہے کہ انسان اپنے لئے طولانی آرزوؤں کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اپنی عمر کے آنے والے کل کے لئے انہیں انجام دے اسی لئے آج کے فرائض کو کل کی امید میں تاخیر میں کرتا ہے۔فطری بات ہے کہ ان طولانی دنوں تک پہنچنے کیلئے ایک طولانی عمر کی ضرورت ہے' اس لحاظ سے دنیا پرست طولانی عمر کے متمنی ہوتے ہیں اور یہ امر آرزو یا فریضہ کے تاخیر میں ہو جانے کا سبب ہے یا ناکامی کے ڈر سے سستی اور اضطراب سے دوچار ہوتا ہے.

زاہد اور دنیا سے بیزار شخص آج کے فریضہ کو آج ہی انجام دیتا ہے اور دنیا پرست کے برخلاف' آنے والے کل کو اپنی عمر کا حصہ نہیں جانتا تاکہ فرائض کو کل پر چھوڑ دے' کیونکہ اسے کل تک زندہ رہنے کا اطمینان نہیں ہے۔ اس کا یہ اعتقاد ہے کہ اگر کل تک زندہ بھی رہا تو' اس دن دوسرا فریضہ ہے جسے انجام دینا ہے۔

طولانی آرزو اور فرائض سے غفلت' تقویٰ و توکل کے ضعیف ہونے کی علامت:

جیسا کہ اشارہ کیا گیاہے کہ' بہت سے ایسے دل لوگ بہت ساری آرزورکھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ اس دنیا میں سالہا سال زندہ رہیں' اس لئے اپنی فعالیت و سرگرمیوں کو مستقبل کی زندگی کے لئے انجام دیتے ہیں اور ہمیشہ آنے والے حوادثکے حوالے سے فکر مند ہیں۔ پریشان ہیں کہ اگر یونیورسٹی نہ جا سکے تو مناسب شغل اور آمدنی کے مالک بن سکیں گے یا نہیں۔ پریشان ہیں کہ مستقبل میں انپی زندگی کو منظم کر سکیں گے یا نہیں' البتہ ان کی یہ پریشانیاں تقویٰ و توکل کے فقدان کی وجہ سے ہے' ورنہ جو خدائے متعال پر توکل کرتا ہے اور اس کی نظر اللہ کی مہربانیوں اور عنایتوں پر ہوتی ہے وہ مستقبل کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتا' چونکہ وہ خدا کو تمام چیزوں کا مالک جانتا ہے۔اس کے علاوہ وہ جو اپنے آئندہ کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے اسے کیا معلوم کہ اس کیلئے کوئی آئندہ ہے بھی کہ نہیں!

اسلام اور معارف دینی اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ انسان آج کے فرائض انجام دینے کی کوشش میں رہے اور کل کی فکر میں نہ کرے۔ کیونکہ کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ایک گھنٹہ کے بعد زندہ رہے گا یا نہیں۔ البتہ مستقبل میں دنیا اور دنیوی لذتوں سے محروم ہونے کی فکر و پریشانی قابل مذمت ہے' ورنہ اگر انسان آج کے فریضہ کو انجام دینے کے بعد آئندہ کے احتمالی وظائف کے بارے میں منصوبہ بندی اور پروگرام مرتب کرے تو یہ نہ صرف یہ کہ ناپسندیدہ نہیں ہے بلکہ خود وظائف میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ہر تکلیف اور فریضہ مخصوص دن کیلئے ہوتا ہے اور اپنے وقت پر واجب ہوتا ہے' جیسے آج میرے لئے نماز واجب ہے کل کی نماز کے بارے میں میرا کوئی فریضہ نہیں ہے' اگر کل تک زندہ رہا تو کل کی نماز بھی میرے لئے واجب ہے کہ اسے بھی پڑھ لوں' اسی طرح دیگر تمام فرائض و تکالیف میں سے ہر ایک اپنے خاص زمانہ میں ہمارے لئے واجب قرار دی گئی ہے' اس سے پہلے ہم پر کوئی چیز فرض نہیں ہے۔

لہذازاہد کے لئے آئندہ کے بارے میں فکر مند رہنا یعنی یہ سوچنا کہ اس کی دنیا کاانجام کیا ہوگا' بے جا اور غیر معقول ہے' لیکن حتمی اور یقینی مستقبل اور قیامت کے سلسلہ میں پریشان و فکر مند رہنا معقول اور بجا ہے' کیونکہ قیامت سے کسی کو راہ فرار نہیں ہے' اگر آخرت کے انجام سے فرارکرنا ممکن ہوتا تو بعض لوگوں کے لئے خوشی کی بات تھی۔

خدائے متعال فرماتا ہے:

( یَا َیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُو ﷲ وَلْتَنْظُرْ نَفْس مَاقَدَّمَتْ لِغَدٍ ) (حشر١٨)

''ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کیلئے کیا بھیجا ہے۔''

خدائے متعال کی طرف سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کرنے کی سفارش کی گئی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ!اِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ لَمْ یُوحِ اِلَیَّ اَنْ اَجْمَعَ الْمَالَ وَلٰکِنْ اَوْحٰی اِلَیَّ اَنْ سَبَّحَ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنَّ السَّاجِدِینَ و اعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَا تِیَکَ الْیَقِینُ''

''اے ابوذر! اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے وحی نہیں کی ہے کہ میں مال جمع کروں، لیکن وحی کی ہے کہ تم اپنے پرور دگار کی حمدو تسبیح کرنے والوں اور سجدہ گزاروں میں شامل ہوجائو اور اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہنا جب تک موت نہ آجائے۔''

اگر مال اور ثروت اکٹھا کرنا مطلوب ہوتا تو یہ انسان کے لئے کمال و سعادت کا سبب ہوتا، نیز اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مال جمع کرنے کی تاکید کرتا لیکن خدائے متعال نے ہر گز ایسی سفارش نہیں کی ہے بلکہ انہیں تاکید کی ہے کہ موت کے لمحہ تک تسبیح اور خدا کی عبادت و بندگی میں مشغول رہیں۔

البتہ خدا کی عبادت و بندگی کے گونا گوں مظہر ہیں، کبھی عبادت انفرادی شکل میں مثلا، سحرخیزی اور واجبات و مستحبات کی انجام دہی کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی خدمات کی انجام دہی، علم حاصل کرنے، تعلیم، تبلیغ، اسلامی ثقافت کی نشرواشاعت غرض ہر اس چیز کی صورت میں ہوتی ہے جو انسان کے لئے فریضہ کے طور پر واجب ہے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت کی ایک جھلک:

جنھوں نے پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لئے بہترین نمونہ اور اسوہ قرار دیا ہے، انہیں حتی الامکان سعی و کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی رفتار کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفتار کے مانند اور مشابہ قراردیں۔ اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کے بعد والے جملہ میں اپنی عملی سیرت کی ایک جھلک بیان فرماتے ہیں:

'' یَا اَبَاذَرٍ!اِنِّی اَلْبِسُ الغَلیظَ وَاَجْلِسُ عَلَی الْاَرْضِ وَاَلْعَقُ َصَابِعِی وَاَرْکَبُ الْحِمَارَ بِغَیرِ سَرْجٍ وَاَرْدِفُ خَلْفی فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتی فَلَیْسَ مِنِّی''

''اے ابوذر! میں کھردرا لباس پہنتا ہوں، زمین پر بیٹھتا ہوں، (کھانا کھانے کے بعد) اپنی انگلیوں کو چاٹتا ہوں اور بغیر زین کے گدھے پر سوار ہوتا ہوں اور کسی دوسرے شخص کو اپنے پیچھے سوار کرتا ہوں، جو بھی میری سنت سے منھ موڑ لے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔''

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو قدرت تکوینیکے ذریعہ تمام دنیا کو اپنی اختیار میں رکھ سکتے ہیں وہ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مادی دنیا کے امکانات سے بقدر ضرورت استفادہ کرتے ہیں۔ اس سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ''جبرئیل نے زمین کے خزانوں کو میرے اختیار میں قرار دیا، لیکن میں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا۔'' حدیث کے اس حصہ میں قناعت، سادہ زندگی اور اپنے اجتماعی برتائو کے بارے میں واضح طور پر بیان فرماتے ہیں۔

چونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طرز زندگی برجستہ ترین مخلوق اور روحانی پیشوا کی حیثیت سے مسلمانوں حتی غیر مسلمانوں کے لئے بھی توجہ کا مرکز تھا، اسلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام حالات، رفتار، حتی زندگی کی جزئیات اور اجتماعی برتائو آس پاس کے لوگوں کے لئے باعث توجہ تھا۔ اس وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رفتار کے بارے میں بہت سے جزئیات زندگی ،اہل بیت، اصحاب، تابعین اور دیگر لوگوں نے نقل کئے ہیں۔ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی اپنی زندگی کے بعض طور طریقوں کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ حدیث کے اس حصہ میں بھی اپنی زندگی کے شیوہ کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیرو آپ کی روش اور رفتار کو اپنے لئے نمونہ قرار دیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں کھردرے لباس پہنتا ہوں نرم و ملائم لباس نہیں پہنتا ہوں تاکہ آرام و آسود گی کا احساس کر وں۔ زمین پر بیٹھتا ہوں نہ فاخرہ اور قیمتی فرش پر نہیں کھانا کھانے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہاتھ سے کھانے کے پابند تھے اور کھانے کے بعد اپنی انگلیوں کو چاٹتے تھے۔ بغیر زین کے گدھے پر سوار ہوتے تھے اور ایک دوسرے شخص کو بھی اپنے پیچھے گدھے پر سوار کرتے تھے۔ اس بیان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تواضع اور کمال بندگی کا اندازہ ہوتاہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے ماحول میں جہاں عیش پر ستی، استکبار اور غرور جیسی عادات رائج تھیں، اس طرح متواضع اور منکسر مزاج تھے کہ بغیر زین کے گدھے پر سوار ہوتے تھے اور انتہائی انکساری کے ساتھ دوسرے کو بھی اس پر سوار کرتے تھے!

اس کے مقابلہ میں ، ہم ان کی محبت اور پیروی کا دعویٰ کرنے والے اس فکر میں ہیں کہ اچھے لباس پہنیں، لذیذ کھانے کھائیں اور سر انجام اپنے لئے ایک آرام و آسودہ زندگی فراہم کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے لئے جدید ماڈل کی گراں قیمت گاڑیاں خریدیں اور زیادہ سے زیادہ دنیوی زینت و تجملات سے استفادہ کریں۔

قابل ذکر ہے کہ عصر حاضر میں اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ لوگوں کی معاشی زندگی کا طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے مانند ہو، کیونکہ ہر زمانے کی سطح زندگی اور اقتصادی حالات دوسرے زمانے سے متفاوت ہوتے ہیں اور سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کے شرائط میں اہم ترقی کی ہے۔ دراصل اسلام کے ناقابل انکار قوانین اور اصولوں کی رعایت ضروری ہے اور ہر زمانے میں افرادکی حیثیت اور شان کے اعتبار سے معاشی زندگی کی سطح اور معیار کی رعایت کی جانی چاہیے اور تجمل پرستی،ا فزوں طلبی اور اسراف سے پرہیز کرنا چاہیے۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ ( ترجمہ فیض الاسلام) کلام ١١٥،ص١١٤١

٢۔ نہج البلاغہ ( ترجمہ فیض الاسلام) کلام ٤٣٢،ص١٢٨٧۔

۳۔ المیزان ج ، ص ٣٣٠


سولھواں سبق

مال ومنصب سے لگائو کا خطرہ اور

قناعت وسادہ زندگی کی ستائش

*دنیا، مقصدہے یا وسیلہ

*ملامت کی گئی دنیا

*فقیر مومنینآسانی سے وارد بہشت ہوں گے

*قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع ولالچ کی سرزنش

*دنیا سے دوری اور اس کی بے اعتنائی کی ستائش

مال و منصب سے لگاؤ کا خطرہ اورقناعت و سادہ زندگی کی ستائش

''یَا اَبَاذَرٍ: حُبُ الْمَاِل وَ الشَّرَفِ اَذْهَبُ لِدینِ الرَّجُلِ مِنْ ذِئْبَینِ ضٰارِیَیْنِ فِی زَرْیبهِ الْغَنَمِ فَاَغَارٰا فیهَا حَتّٰی َصْبَحٰا فَمَاذٰا اَبْقَیٰا مِنْهٰا قٰالَ؛ قُلْتُ: یَا رَسُولَ ﷲ؛ اَلْخَائِفُونَ الْخَاضِعُونَ الْمُتَواضِعُونَ الذّٰکِرُونَ ﷲ کَثٰیراً اَهُمْ یَسْبِقُونَ النَّاسَ اِلَی الْجَنَّة؟

فَقَالَ: لاٰ وَلٰاٰکِنْ فُقَرَائُ الْمُسْلِمینَ فَاِنَّهُمْ یَتَخَطَّوْنَ رِقٰابَ النَّاسِ' فَیَقُولُ لَهُمْ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ کَمٰا اَنْتُمْ حَتیّٰ تُحَاسَبُوا' فَیَقُولُونَ بِمَ نُحَاسَبُ فَوَﷲ مٰا مَلَکَنٰا فَنَجُورَ وَ نَعْدِلَ وَلاٰ اَفیضَ عَلَیْنٰا فَنَقْبِضَ وَنَبْسُطَ وَلٰکِنَّا عَبَدْنَا رَبَّنَا حَتّٰی دَعٰانٰا فَاَجَبْنَا

یَا اَبَاذَرٍ؛ اِنَّ الدُّنْیٰا مَشْغِلَة لِلْقُلُوبِ وَالْاَبْدَانِ وَاِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ سٰائِلُنَا عَمَّا نَعَّمَنَا فی حَلاَلِهِ فَکَیْفَ بِمٰا نَعَّمَنٰا فی حَرٰامِه

یَا اَبَاذَرٍّ؛ اِنِّی قَدْ دَعَوْتُ ﷲ جَلَّ ثَنَاوُهُ اَنْ یَجْعَلَ رِزْقَ مَنْ یُحِبُّنی الْکَفٰافَ وَ َنْ یُعْطِیَ مَنْ یُبْغِضُنی کَثْرَةَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ

یَا اَبَاذَرٍّ؛ طُوبٰی لِلزَّاهِدٰینَ فِی الدُّنْیٰا الرَّاغِبینَ فی الْآخِرَةِ الَّذینَ اتَّخَذُوا اَرْضَ ﷲ بِسٰاطاً وَتُرَابَهٰا فِرَاشاً وَ مَائَهَا طیباً وَاتَّخَذُواکِتَابَ ﷲ شِعَاراً وَ دُعَائَ هُ دِثاراً یَقْرِضُونَ الدُّنْیٰا قَرضاً

یَا اَبَاذَرٍ؛ حَرثُ الْآخِرةِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ وَ حَرْثُ الدُّنْیٰا الْمَالُ وَالْبَنُونَ''

دنیا مقصد ہے یا وسیلہ:

قرآن مجید کے نقطہ نظر کے مطابق اگر دنیا نہ ہوتی تو آخرت بھی نہ ہوتی۔ ہم اپنی آخرت کی زندگی کو اپنے اختیاری اعمال و رفتار کے ذریعہ دنیا میں بناتے ہیں، چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ پس اگر دنیا نہ ہوتی تو کوئی بہشت میں داخل نہیں ہوتا، کیونکہ بہشت کی نعمتیں دنیا کے اعمال کی جزا و پاداش ہیں۔ کرامات، فضائل اور اخروی مقامات انہی اعمال اور تلاش و کوششوں کا نتیجہ ہیں جنہیں انسان دنیا میں انجام دیتا ہے، پس دنیا داری کی کافی قدر و منزلت ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ، جب دنیا اس قدر اہمیت اور قدر و منزلت کی حامل ہے تو، کیوں روایتوں میں اس کی اتنی مذمت اور سرزنش کی گئی ہے؟

اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیے: دنیا کی زندگی، اس لحاظ سے کہ خدائے حکیم کی مخلوق ہے، کوئی عیب نہیں رکھتی ہے۔ بنیادی طور پر دنیوی زندگی کا نظام بہترین نظام اور انتہائی استحکام و جمال کا حامل ہے۔ اس بنا پر اصلی و اساسی مشکل کا سراغ لگانے کے لئے کہیں اور جستجو کرنا چاہیے۔ آیات و روایات میں تھوڑے سے غور وخوض کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اساسی مشکل اور عیب انسان کے دنیا سے رابطہ کی کیفیت اور برتاؤ کے طریقہ میں ہے۔ کیونکہ یہ انسان کا دنیا سے برتائو اور رابطہ کی کیفیت ہے جو اس کے مستقبل کے لئے اسے مفید یا مضر، بااہمیت یا بے اہمیت، اچھا یا برا بنا سکتی ہے۔ انسان کے برتائو، رفتار، زندگی اور انسان کے آئندہ کے سلسلہ میں سواء چند موارد کے کہ جو جبری تزاحم کے نتیجہ میں بعض نقائص و برائیوں کے وجود میں آنے کا سبب ہے دنیا پر کو نسا اعتراض کیا جاسکتا ہے؟ باوجود اس کے کہ ان نقائص و برائیوں کا دنیا کی خیر و برکات اور فراواں کمالات کا مواز نہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

لہذا، واضح ہوگیا کہ سرزنش اور اعتراض دنیا کے بارے میں انسان کا عقیدہ اوراس سے رابطہ کے طریقہ میں ہے۔ وہ رابطہ جو دنیا کواصالت کا درجہ دیتے ہیں اور دنیا کی نسبت مادی نقطہ نظر کے پیش نظر پیدا ہوتا ہے، ان لوگوں کا اعتقاد ہے جو گمان کرتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کے علاوہ کسی دوسری زندگی کا وجود نہیں ہے، لیکن حقیقت میں یہ گمان باطل ہے اور اس نقطہ نگاہ سے دنیا کو دیکھنا ایک ایسی خطا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کے اعمال و رفتار میں بیشمار خطائیں اور غلطیاںوجود میں آسکتی ہیں۔

لہذا دنیا کے بارے میں ہمیں اپنے عقیدہ و نظریہ کی تصحیح کرنا چاہیے اور جاننا چاہیے کہ انسان کی زندگی دنیا کی زندگی تک محدود اور منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے ماورا اس کی ایک ابدی زندگی بھی موجود ہے۔ جب انسان دنیا کو ایک گزر گاہ قراردے گا، نہ اصلی اور آخری مقصد، تو فطری بات ہے کہ اسے زندگی کے وسائل اور مال و ثروت جو کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیںانھیں اپنے لئے فراہم کرنا چاہیے۔ اس صورت میں غذا، لباس، گھر، گاڑی، پیسے، مال اور ریاست یہ ساری چیزیں مقدمہ اور وسیلہ شمار ہوں گی، نہ اصلی مقصد لیکن اگر انہیں اصلی ہدف و مقصد قرار دیا جائے نہ وسیلہ و مقدمہ تو وہ انسان کے لئے کمال اور آخری مقصد تک پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے، اسی لئے ان کی مذمت اور سرزنش کی گئی ہے۔

ملامت کی گئی دنیا

مذکورہ بیانات کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال وثروت، مقام و منصب سے دلچسپی اور لگائو کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ: حُبُّ الْمَاِل وَ الشَّرَفِ اَذْهَبُ لِدینِ الرَّجُلِ مِنْ ذِئْبَینِ ضٰارِیَیْنِ فِی زَرْیبةِ الْغَنَمِ فَاَغَارٰا فیهَا حَتّٰی َصْبَحٰا فَمَاذٰا اَبْقَیٰا مِنْهٰا''

اے ابوذر! مال وثروت ،جاہ و منصب کی محبت، انسان کے دین پر، بھیڑوں کے ایک ریوڑ پر دو خونخوار بھیڑیوں کے حملہ سے زیادہ صدمہ پہنچاتے ہیں، جو رات کے وقت حملہ کرتے ہیں معلوم نہیں کل تک کتنے بھیڑ زندہ بچیں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے اور امت کو دنیا پرستی اور جاہ و مقام کی وابستگی کے خطرہ سے ڈرانے کے لئے، دنیا پرستی جاہ طلبی کو دو ایسے خونخوار بھیڑیئے سے تشبیہ دیتے ہیں جو ایک محدود جگہ پر موجودہ بھیڑوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور رات بھر صبح ہونے تک چیر پھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ فطری بات ہے جب ایک بھیڑیا ایک ریوڑ پر حملہ کر تا ہے تو ایک بھیڑ پرقناعت نہیں کرتا ہے بلکہ سبھی کو ٹکڑے ٹکڑیکر دیتا ہے اور اس کے بعد ان کے کھانے میں مشغول ہوجاتا ہے، اب اگر دو خونخوار بھیڑیے ایک ریوڑ پر حملہ کریں توکیا کسی بھیڑ کو زندہ باقی رکھیں گے؟

دنیا پرستی اور جب ریاست کا انسان کے دین اور اخلاقی اقدار پر خطرہ دو خونخوار بھیڑیوں کے بھیڑوں پر حملہ کرنے سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ دنیا اور ریاست کی محبت انسان کی انسانی اور معنوی ہویت اور اس کے دین کو نابود کر کے رکھ دیتے ہیں، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے انسان کی حقیقی شخصیت اور حیات وابستہ ہے۔

(حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیانات کا مضمون مستفیض بلکہ متواتر ہے اور مختلف عبارتوں میں نقل ہوا ہے۔ حتی اصول کافی میں مال و ریاست کی محبت کی مذمت میں ایک الگ باب مخصوص کیا گیا)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انتباہ کی صورت میں مسلمانوں کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے لئے تاریخی تجربہ بھی تائید کرتا ہے۔ صدر اسلام سے آج تک جتنے بھی ظلم اسلام کے خلاف ہوئے ہیں ان کی جڑ مال و ریاست پرستی تھی، کیونکہ جو انسان مال دنیاا ور ریاست کا شیدا ئی ہو دین کے لئے اس کا ضرر ہر دشمن سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت کو اس کے مرکز سے ہٹانا اور اسے غضب کرنا، جابر اور باطل حکومتوں کا استمرار اور تمام وحشیانہ حملہ جو اسلام کے پیکر پر واردہوئے ہیں ان کا سرچشمہ مال دنیا اور اقتدار کی محبت تھی، لہذا دین کے لئے مال وا قتدار کی محبت کے خطرات کے پیش نظر ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور جب تک ہم جو ان ہیں اور ابھی دنیا پرستی اور اقتدار پرستی نے ہم میں اثر پیدا نہیں کیا ہے، ان دونوں کے ساتھ مبارزہ کریں اور اجازت نہ دیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں ۔ اگر ہم کسی مال کو حاصل کریں ، تو ضرورت کی حد تک اس سے استفادہ کریں اور باقی مال کو حاجتمندوں اور محتاج رشتہ داروں و دوستوں میں تقسیم کردیں۔ کوشش کریں کہ جس مال سے محبت رکھتے ہیں اسے دوسروں کو بخش دیں،کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے:

( لَنْ تَنَالُو الْبِرَّحَتیّٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) (آل عمران٩٢)

''تم ہرگز نیکیوں کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ہو جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کروگے۔''

(بیشک انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے وہ محبت اور قلبی لگائو ( راہ خدا میں ) انفاق کرنے سے مانع ہوتا ہے )

جو کچھ ہم نے بیان کیا، اس کا مشابہ اقتدار اور ریاست پرستی کے ساتھ مبارزہ میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی انسان کسی اقتدار پر فائز ہو تو اسے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس میں دوسروں پر برتری، فرمانروائی اور حکمرانی کا جذبہ پیدا نہ ہو بلکہ اسے گمنا م صورت میں خدمت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور شہرت، لوگوں میں محبوبیت اور مقام کا متمنی نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اقتدار پرستی کا خطرہ ان کے لئے نہیں ہے جو کسی مقام پر نہیں پہنچے ہیں یہ ان لوگوں سے مربوط ہے جن کے لئے جاہ و مقام کے مواقع فراہم ہوئے ہیں اور اپنے دین کو زبردست خطرہ میں قرار دے چکے ہیں۔

فقیر مومنین، آسانی سے وارد بہشت ہوں گے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مال و اقتدار پر ستی کے خطرہ کو گوش گزار فرمایا تو جناب ابوذر نے سوال کیا:

''یا رسول ﷲ الخائفون الخاضعون المتواضعون الذاکرون ﷲ کثیراً أهم یسبقون الناس الی الجنة؟''

اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کیا خداترس، فروتن، خاضع اور ذکر خدا بجالا نے والے لوگ بہشت میں جانے کے سلسلہ میں دوسروں پر سبقت حاصل کریں گے؟

جناب ابوذر، یہ سمجھنے کے بعد کہ، مال و اقتدار سے محبت رکھنے والے ہلاک ہوجائیں گے، سوچتے ہیں کہ خدا سے ڈرنے والے اور متواضع لوگ بہشت میں پہلے داخل ہونے والے ہوں گے، اس لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کرتے ہیں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''ولکن فقراء المسلمین فانهم یتخطّون رقاب الناس فیقول لهم خزنة الجنة کماأنتم حتی تحاسبوا' فیقولون بم نحاسب فوﷲ ماملکنا فنجورُدونعدل ولاافیض علینا فنقبض ونبسط ولکنّا عبدناربّنا حتی دعانا فاجبنا''

''مفلس اور نادار مسلمان لوگوں کے شانوں پر قدم رکھتے ہوئے بہشت کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اس وقت بہشت کے خزانہ دار کہیں گے: اپنی جگہ پر ٹھہرو تاکہ تمہارا حساب لیا جائے۔ وہ جواب دیں گے: ہم سے کیوں حساب لیا جائے گا، خدا کی قسم ہمارے ہاتھ میں کوئی حکومت نہیں تھی تاکہ بخشش کر کے انصاف کو جاری کرتے۔ ہمیں اپنی ضرورت سے زیادہ مال و ثروت نہیں دی گئی تھی کہ کسی کو بخشتے یا بخل کرتے۔ بلکہ ہم نے خدائے متعال کی عبادت کی ہے اور آخر میں حق کی دعوت کو لبیک کہا ہے۔''

تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجود کہ معارف دینی میں خضوع، خشوع اور ذکر خدا بجالا نے والے اقدار کی تعریف کی گئی ہے، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاضع، متواضع اور ذکر خدا بجالا نے والے افراد کو سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونے والوں کی حیثیت سے تعارف نہیں فرماتے بلکہ فرماتے ہیں: بہشت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے مفلس و ناداری کے عالم میں اپنے دین کی حفاظت کی ہو اور کوشش، جہاد، مبارزہ یا علم حاصل کرنے سے پشیمان نہ ہوئے ہوں۔ وہ لوگوں کے شانوں پر قدم رکھ کر بہشت کی طرف روانہ ہوجائیں گے، گویا وہ پرواز کرنا چاہتے ہیں۔ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ: ٹھہرو تاکہتمھارا حساب لیا جائے، تو جواب میں کہتے ہیں: ہمارے ہاتھ میں نہ کوئی حکومت تھی اور نہ مشغلولیت تھی تاکہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرتے یا انصاف اور عدالت کو قائم کرتے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کہ انفاق کرتے یا بخل کرتے۔ جوکام ہم نے انجام دیا وہ خدا کی بندگی اور عبادت تھی جس میں ہم نے کو تا ہی نہیں کی۔

جی ہاں !ان کے پاس دولت نہ تھی کہ اسراف، فضول خرچی اور دوسروں کی مدد کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے۔ اس لحاظ سے ان کے اعمال کے محاسبہ میں طولانی وقت صرف نہیں ہوگا، چونکہ اگر ان کے پاس دولت ہوتی اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے تو بھی ان کے محاسبہ میں طولانی وقت صرف ہوتا۔

انسان کے دین کو درپیش دنیا اور مال و اقتدار پرستی کے خطرہ کی مذمت کے پیش نظر، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیان ان لوگوں کے لئے تسلّی بخش ہے جن کے پاس مال دولت نہیں ہے یا تعلیم حاصل کرنے یا دشمن سے جہاد اور مبارزہ جیسے فرائض انجام دینے کی وجہ سے دنیا سے بہرہ مند نہیں کر سکتے ہیں۔ سچ ہے کہ اگر انسان کے پاس مال و دولت ہو تو وہ اسے راہ خدا میں انفاق کر ے نیز دوسروں کی مدد اور اسلام کی خدمت انجام دے، لیکن جو علم حاصل کرنے یا محاذ جنگ پر حاضر ہونے کی وجہ سے مال و دولت جمع کرنے اور اسے راہ خدا میں خرچ کرنے سے محروم ہے، وہ ایک ایسے مقام و منزلت پر فائز ہوتا ہے کہ جو مقام مال و دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں سے بلند تر ہے، چونکہ مالدار اپنے مال کو خرچ کرتا ہے لیکن طالب علم اور محاذ جنگ پر جانے والا مجاہد، اپنی ہستی اور آرام و آسائش کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور جن اقدار کو ایسا شخص حاصل کرتا ہے وہ دوسروں کی حاصل کر دہ چیزوں سے بلند تر ہے۔

جب انسان جنگ کے خاتمہ پر خالی ہاتھ محاذ جنگ سے واپس آتا ہے اور دیکھتا ہے جنہوں نے جنگ و جہاد میں شرکت نہیں کی تھی انھوں نے اپنے لئے بہت ساری دولت جمع کرلی ہے، بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کروالی ہیں،ا خرکار ان کے لئے عیش و آرام کے تمام وسائل فراہم ہو گئے ہیں۔ ممکن ہے اسے شیطان اس طرح کے وسوسہ میں ڈالے کہ تم محاذجنگ پر گئے اور مال دنیا سے محروم ہوگئے، دیکھو دوسرے کہاں سے پہنچ گئے؟ تم محاذ جنگ پر گئے اور دشمن سے جنگ کی مجروح یا معلول ہو گئے، اب تمھاری طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تمھاری کوئی اہمیت نہیں رہی اور دوسرے بڑی بڑی پوسٹوں اور عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں! ممکن ہے یہ شیطانی وسوسے ایسے افراد کے دل پراثر کریں جن کا ایمان کمزور ہے اور ان کے لئے پشیمانی کا سبب بنے۔

اسی طرح ممکن ہے جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حوزہ علمیہ سے وابستہ ہوئے ہیں وہ وسوسہ کریں کہ کیا غلطی کی! دوسروںنے یونیورسٹیوںمیں جا کر فلاں ڈگری حاصل کر لی اور، فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک مناسب نوکری میں بھی لگ گئے اس کی برکت سے ثروتمند و مالدار بھی ہو گئے، لیکن میں بیچارہ دینی طالب علم تیس سال حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دال روٹی کے لئے ترس رہا ہوں! یہ وسوسہ ہمیشہ ان مومنوں کے لئے پیش آتا ہے جو مال دنیا سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے کلام سے انہیںتسکین دے رہے ہیں کہ اگر چہ تم لوگ مال جمع کرنے والے قافلہ سے پیچھے رہ گئے ہو لیکن تم ایسے مقام و منزلت پر پہنچے ہو کہ دوسرے اس سے محروم ہیں اور وہ قیامت کے دن تمہارے مقام و منزلت کو دیکھ کر حسرت و افسوس کریں گے۔

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ اِنَّ الدُّنْیٰا مَشْغَلَة لِلْقُلُوبِ وَالْاَبْدَانِ وَاِنَّ ﷲ تَبَارَکَ وَ تَعٰالیٰ سٰائِلُنَا عَمَّا نَعَّمَنَا فی حَلاَلِهِ فَکَیْفَ بِمٰا نَعَّمَنٰا فی حَرٰامِه''

اے ابوذر! دنیا، لوگوں کی جان و تن کو اپنی طرف مشغول کرتی ہے۔ خدائے متعال ہم سے ان نعمتوں کا حساب وکتاب لے گا جو ہمیں حلال راہ سے عنایت کی گئی ہیں چہ جائے کہ حرام طریقے سے وہ نعمتیں ہمیں ملی ہوں!

بیشک مال دنیا حاصل کرنے کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ جو لوگ کسب معاش میں مشغول ہیں اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ بعض اوقات انسان کی مشکلات اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ اس کے لئے راتوں کی نیند بھی حرام ہوجاتی ہے، ہمیشہ چک، ضمانت، خرید و فروش، ارزانی، گرانی، قرض، ٹیکس اور اس قسم کے دوسرے مسائل کی فکر میں الجھتا رہتا ہے۔ بہر حال جو بھی مال جمع کرنے کے پیچھے ہے اسے چاہئے زحمت و مشقت برداشت کرے، خواہ مال دنیا کو حلال راہ سے حاصل کرنا چاہتا ہے یا حرام راہ سے، کیونکہ مال و دولت آسانی کے ساتھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ فطری بات ہے کہ ایسا شخص عبادت اور فکر کرنے کے لئے ایک لمحہ کی بھی فرصت پیدا نہیں کرتا۔اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ قیامت اور خدا سے مناجات کرنے کے لئیوقت نکالے۔

جو دل سے دنیا پر ست ہو، وہ عبادت کو بھی دنیا کے لئے انجام دیتا ہے، صبح سے شام تک مال و دولت جمع کرنے کے لئے آرام نہیں کرتا۔ اگر رات کو نمازِ شب کے لئے بھی بیدار ہوتا ہے تو اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو اور اس کی دولت زیادہ ہوجائے۔ اس سے بدتر رسوائی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان ذکر و عبادت خدا کو بھی اپنے شکم اور مال دنیا کے لئے قربان کرے، جس عبادت کو اسے بہشت، اس سے بالاتر رضوان الہٰی کے لئے وسیلہ قرار دینا چاہئے تھا اسے روٹی اچھے گھر اور اعلیٰ قسم کی گاڑی کے لئے وسیلہ قرار دیتا ہے!!

اس کے برعکس، جو دل دنیا کے بندھنوں سے آزاد ہوتا ہے، اس کے لئے دنیا کی چیزوں کا ہونا یا نہ ہونا یکساں ہے، اس کے لئے خاکستر اور سونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگرچہ ہم ایسے افراد کو نہیں جانتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد موجود ہیں۔ ایسے تاجربھی ہیں جن کے لئے کوڑے کرکٹ سے بھری بالٹی اور نوٹوں کے انبار کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، اور ان کے پاس صرف اس چیز کی قیمت ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کی جائے شاید اگر انسان نہ دیکھے تو یقین نہیں کرے گا، لیکن چونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسلئے یقین کرتا ہوں۔

میں تقریباً چالیس سال قبل تہر ان کے بازار میں ایک سماور خرید نے کے لئے ایک تاجر کے پاس گیا تاکہ سماور خرید نے کے بعد فورا قم واپس ہوجائوں۔ لیکن اس شخص کی معنوی کشش نے مجھے اتنا فریفتہ کیا کہ غروب تک میں اس کے پاس رہا اور وہ مجھے نصیحتیں کرتا رہا۔ نصیحتوں کے دوران اس کی سفید داڑھی پر آنسوجاری تھے، اس نے مجھ سے پوچھا: پہلی کتاب جو حوزہ میں پڑھتے ہو اس کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: ''شرح امثلہ'' اس نے کہا: اس کی ابتداء میں کیا لکھا ہے؟ میں نے کہا:''اول العلم معرفة الجبار'' اس نے کہا: کیا تم نے یاد کیا کہ علم کا آغاز خدا کی معرفت سے ہوتا ہے؟ وہ باتیں کر رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسؤں کا سیلاب رواں تھا، اس دوران اس کاشاگرد بیچنے میں مصروف تھا اور وہ بے اعتنائی کے عالم میں نوٹوں کو لے کر صندوق میں پھینکے جا رہا تھا۔

ظہر کی نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی اشکبار آنکھوں کے ساتھ اٹھ کر مسجد کی طرف روانہ ہو گیا نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں پھر سے اس کی دوکان پر حاضر ہوا اور مغرب تک اس کے پاس رہ کر اس کی نصیحتوں کو سنتا رہا۔

جی ہاں! اگر انسان میں حب دنیا نہ ہو تو پیسوں کے انبار میں رہنے کے باوجود بھی اس کے نزدیک پیسوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور اس کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن اگر انسان میں حب دنیا ہو تو، نماز پڑھتے ہوئے بھی اس کے حواس کہیں اور ہوتے ہیں اور نماز میں بھی دنیوی مقاصد پیش نظر رکھتا ہے۔ جب انسان کے دل میں مقام و منزلت کی محبت ہوتی ہے تو ایسی حالت میں اگر وہ عرفان بھی پڑھ لے اور عرفانی سیروسلوک سے بھی آشنا ہوجائے، تب وہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ ایسی جگہ پر پہنچائے کہ جہاں کوئی اور نہیں پہنچا ہے، ہر صورت میں دوسروں سے برتری چاہتا ہے۔ حقیقت میں وہ خدا کی بندگی کی فکرمیں نہیں ہوتا ہے۔ وہ ہندوستانی جو گیوں کی طرح ریاضت و کوشش و جستجو سے بعض کاموں پر قدرت حاصل کرلیتا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

اسلام کا تربیت یا فتہ صرف خدا کی بندگی کے علاوہ کسی اور فکر میں نہیں ہوتا ہے۔ اسلام ایسے افراد کا خواں ہے جو خدا کے لئے جد وجہد کرتے رہیں حتیٰ خدا کے لئے مال جمع کریں۔ جس طرح حضرت علی علیہ السلام محنتمزدوری کر کے خرما کے درخت اگاتے تھے بنجر زمین اور کنویں کھود کر خدا کی راہ میں وقف فرماتے تھے۔

پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا کی محبت کو اپنے آپ میں کم کریں۔ البتہ عام انسان جس قدر مادی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے فطری طور پر دنیا سے زیادہ لگائو پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ جب دنیوی نعمتیں افزائش پاتی ہیں، تو آہستہ آہستہ اس کا مزہ انسان کی طبیعت میں اثر کرنے لگتا ہے اور دنیا کی طرف اس کے تما یلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے جو لوگ مال و دولت کے پیچھے پڑتے ہیں، وہ سنگین ذمہ داری رکھتے ہیں اور قیامت کے دن ان کے مال کے ذرہ ذرہ کی پوچھ تا چھ ہوگی، خواہ اسے حلال طریقے سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقے سے۔

عام انسانوں کے مقابلہ میں ، اگر اولیائے الہٰیخدا کی بیشمار نعمتوں سے بھی بہرہ مند ہوجائیں تب بھی وہ ذرہ برا بر دنیا سے محبت نہیں کرتے کیونکہ ان کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن اس قسم کے افراد بہت کم ہیں۔ پوری تاریخ میں حضرت سلیمان جیسے افراد بہت کم گزرے ہیں کہ جو اتنی ساری نعمتوں اور عظیم سلطنت کے باوجود جو کی روٹی کھائیں۔

پس، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گراں قیمتی فرمودات کے پیش نظر کیا بہتر ہے کہ انسان مال و دولت کی فکر میں نہ ہو بلکہ خد اکی عبادت و بندگی سے دنیا کی آلود گیوں کو پاک کرے، جیسے جناب ابوذر، جن کی توصیف میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''کان لی فیما مضیٰ أخ فی ﷲ وکان یُعظّمه فی عینی صغر الدنیا فی عینه..... ''(۱)

''ماضی میں راہ خدا میں میرا ایک بھائی تھا، کہ اس کی نظر میں دنیا حقیر اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ خود میری نظر میں بزرگ تھا۔

قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع و لالچ کی سرزنش:

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ اِنِّی قَدْ دَعَوْتَ ﷲ جَلَّ ثَنَاوُهُ اَنْ یَجْعَلَ رِزْقَ مَنْ یُحِبُّنی الْکِفٰافَ وَا َنْ یُعْطِیَ مَنْ یُبْغِضُنی کَثْرَةَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ''

اے ابوذر! میں نے خدائے متعال سے درخواست کی ہے کہ میرے دوستوں کا رزق ان کی ضرورت کے مطابق قرار دے اور ہمارے دشمنوں کے لئے مال و اولاد میں اضافہ کرے۔

جیسا کہ اشارہ ہوا، اکثر لوگوں کے لئے نعمتوں کی فراوانی دنیا سے زیادہ وابستگی کا سبب بنتی ہے۔ پس ان کو دنیا کی آلودگیوں سے بچانے کے لئے، بہتر ہے ان کے اختیار میں زیادہ وسائل و امکانات نہ ہوں اور صرف ضرورت کی حدتک دنیوی امکانات اور وسائل سے بہرہ مند ہوں۔ لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمدردی کی بناپر اپنے دوستوں کے بارے میں خدا سے مانگتے ہیں کہ ان کو ضرورت اور احتیاج کی حدتک رزق عطا کر نہ اس حدتک کہ اسراف اور فضول خرچی کا شکار ہو جائیں۔ اس کے برعکس اپنے دشمنوں کے لئے خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں اضافہ کر۔ درحقیقت خدا کے دشمنوں کے سرمایہ میں اضافہ ہونا ایک الہٰی سنت ہے جو ''قانون استدراج'' سے ماخوذ ہے ہے، یعنی خدائے متعال کفار کو اس قدر دنیوی و مادی نعمتوں سے بہرہ مند کرتا ہے کہ وہ دنیا کے شیدائی اور مغرور بنیں اور دنیا میں غرق ہو کر ان کے کفر و گناہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہوکہ جس کے نتیجہ میں ان کا اخروی عذاب زیادہ اوردردناک ہوجائے۔ اس کے علا وہ اس کی وجہ سے ان کی دنیوی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

خدا اور اولیائے خدا کے دشمنوں کے لئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں ہے کہ دنیا کی سرمستیوں میں غرق ہونے کی وجہ ان کی توفیق سلب ہوجائے اور روز بہ روز ان کے کفر و انحراف میں اضافہ ہو۔ اس کے بارے میں خدائے متعال فرماتا ہے:

( وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا أَنَّمٰا نُمْلی لَهُمْ خَیْر لِاَنْفُسِهِمْ اِنَّمٰا نُمْلی لَهُمْ لِیَزْدَادُوا اِثْماً وَلَهُمْ عَذَاب مُهین ) (آل عمران ١٧٨)

''اور خبر دار یہ کفار نہ سمجھیں کہ ہم جس قدر انھیں راحت و آرام دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں کوئی بھلائی ہے۔ ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ جتنا گناہ کر سکیں کر لیں ورنہ ان کے لئے رسواکن عذاب ہے۔''

دوسری جگہ پر فرماتا ہے:

( فَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُهُمْ وَلاَ اَوْلاَدُهُمْ اِنَّمٰا یُریدُ ﷲ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهٰا فِی الْحَیَٰوةِ الدُّنْیٰا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) (توبہ٥٥)

''تمھیں ان کے اموال اور ان کی اولادیں حیرت میں نہ ڈالیں بس اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں کے ذریعہ ان پر زندگانی دنیا میں عذاب کرے اور حالت کفر ہی میں ان کی جان نکلے۔

اس لئے کہ مومنین دنیا کی دولت و ثروت کو دیکھ کرحسرت نہ کریں دنیا پرستوں اور دولتمندوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے:

( لاٰ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِهِ اَزْوَاجاً مِنْهُمْ وَلاٰ تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَا حَکَ لِلْمُؤْمِنِینَ ) (حجر٨٨)

''لہٰذا تم ان کفار میں سے بعض افراد کو ہم نے جو کچھ دنیا کی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور اس کے بارے میں ہر گز رنجیدہ بھی نہ ہو بس تم اپنے شانوں کو صاحبان ایمان کے لئے جھکادو۔''

کسی نے حضرت علی علیہ السلام سے خیر کا معنی پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا:

''لَیْسَ الْخَیْرُاَنْ یَکْثُرَ مٰالُکَ وَ وَلَدُکَ وَلٰکِنَ الْخَیْرَاَنْ یَکْثُرَ عِلْمُکَ وَاَنْ یَعْظُمَ حِلْمَکَ وَاَنْ تُبٰاهِیَ النَّاسَ لِعِبَادَةِ رَبِّکَ' فَاِنْ اَحْسَنْتَ حَمِدْتَ ﷲ وَاِنْ اَسَأْتَ اسْتَغْفَرْتَ ﷲ وَلاَ خَیْرَ فِی الدُّنْیٰا اِلَّا لِرَجُلَینِ: رَجْل اَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَیَتَدارَکَهٰا باِلتَّوبَةِ' وَرَجُل یُسَارِعُ فی الْخَیْرَاتِ... ''(۲)

خیر و نیکی یہ نہیں ہے کہ تمہارے مال و اولاد میں اضافہ ہوجائے، لیکن نیکی یہ ہے تمھارا علم زیادہ ہوجائے اور تمہارے صبر و تحمل میں اضافہ ہو جائے۔ اور پرور دگار کی عبادت کر کے لوگوں پر ناز کرو (نہ دوسری چیزوں پر) پس اگر تم نے نیک برتائو کیا تو خدا کا شکر بجالائو اور بُرا برتائو کیا تو خدا سے توبہ کرو دنیا میں نیکی دواشخاص کی خصوصیت ہے:

١۔ وہ شخص جو گناہ کی توبہ سے تلافی کرتا ہے۔

٢۔ وہ شخص جو نیکی میں پیش قدمی کرتا ہے۔

دنیا سے دوری اور بے اعتنائی کی ستائش:

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ طُوبٰی لِلزَّاهِدٰینَ فِی الدُّنْیٰا الرَّاغِبینَ فی الْاَخِرَةِ الَّذینَ اتَّخَذُوا اَرْضَ ﷲ بِسٰاطاً وَتُرَابَهٰا فِرَاشاً وَ مَائَهَا طیباً وَاتَّخَذُواکِتَابَ ﷲ شِعَاراً وَ دُعَائَ هُ دِثاراً یَقْرِضُونَ الدُّنْیٰا قَرضاً''

اے ابوذر! مبارک ہو دنیا میں زاہدوں کے لئے اور ان لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے آخرت سے دل لگایا ہے، خدا کی زمین کو اپنے لئے بساط اور اس کی خاک کو فرش، اس کے پانی کو اپنے لئے عطر قرار دیا ہے۔ خدا کی کتاب کو اپنے اندرونی لباس کے مانند اپنے دل سے لگا یا ہے اور دعائوں کو اپنا اوپر والا لباس قرار دیا ہے اور اپنے آپ کو دنیا سے منقطع اور جدا کر لیا ہے ۔

مبارک ہو ان کو جو دنیا سے دل کو وابستہ نہیں رکھتے ہیں اور صرف آخرت کی فکر میں ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور جانتے ہیں حقیقی قدر و منزلت کہاں ہے۔ وہ زمین پر بیٹھنے کے لئے آمادہ ہیں اور خاک کو اپنا بستر بنانے کے لئے آمادہ ہیں ان کے لئے خاک اور گراں قیمت فرش میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہم دنیا کے شیدائی کبھی آمادہ نہیں ہیں کہ مٹی پر بیٹھیں چونکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہم خاک پر بیٹھے ہیں اسلئے ہم شرماتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ میں یہ جذبہ و حوصلہ پیدا کرنا چاہئے کہ ہمارے لئے مٹی اورقیمتی فرش میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ اگر کسی دن فریضہ کا تقاضا یہ ہوجائے کہ انکساری کے ساتھ ایک فقیر کے پہلو میں زمین پر بیٹھیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں تو ہمیں شرم محسوس نہ ہو۔

زاہد لوگ اس فکر میں نہیں ہوتے کہ خوشبو کے لئے حتماً گراں قیمت عطر استعمال کریں، بلکہ زمین پر جاری پانی سے اپنے آپ کو پاک و صاف کر کے معطر کرتے ہیں۔ خد اکے ساتھ ان کا رابطہ اتنا مضبوط ہے کہ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو احساس کرتے ہیں کہ خدائے متعال ان کے ساتھ گفتگو کرتا ہے یا جب دعا پڑھتے ہیں تو جیسے وہ خدائے متعال سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں ان کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن ان کا دل کہیں اور ہوتا ہے، ان کا دنیا سیبہرہ مند ہونے کا طریقہیہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور دنیا کو بالائے طاق رکھ دیاہے۔ چونکہ دنیا عارضی اور فنا ہونے والی ہے اس لئے خدا وند متعال اور ان چیزوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ابدی ہیں۔

مکرر طور پر کہا گیا ہے کہ یہ تربیتی بیانات اسلئے نہیں ہیں کہ خدا کی نعمتوں کو بالکل ہی چھوڑ دیں یا اس معنی میں نہیں ہے کہ جو خدا کی نعمتوں کے مالک ہیں وہ بُرے انسان ہیں بلکہ یہ بیانات اسلئے ہیں کہ دنیا سے ہمارے روابط و تعلقات کم ہوجائیں اور دیکھ لیں کہ ہمارا فریضہ کیا ہے۔ اگر فریضہ کا تقاضا یہ ہو کہ ہم اچھا لباس پہنیں، اچھے گھوڑے پر سوار ہوں وغیرہ، تو چونکہ فریضہ ہے اور خداکو پسند ہے، اسلئے ہمیں یہ کام انجام دینا چاہئے۔ لیکن اگر ہم من پسندی کی بناپر نعمتوں کے پیچھے پڑے رہے تو ہم نے ایک خطر ناک راہ میں قدم رکھا ہے اور خواہ مخواہ ایسے کاموں میں پھنس جائیں گے جن میں خدا کی مرضی نہیں ہوگی، کیونکہ دل کی خواہش خدا کی مرضی سے نہیں ملتی ہے۔ دل اور ہوائے نفس کا راستہ خدا کے راستہ سے جدا ہے اور یہ کبھی ایک دوسرے سے نزدیک نہیں ہوتے ہیں:

( اَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهُ هَوٰهُ وَاَضَّلَهُ ﷲ عَلٰی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجْعَلَ عَلٰی بَصَرِهِ غِشٰاوَة ) (جاثیہ٢٣)

''کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنا لیا ہے اور خدانے اس حالت کو دیکھ کراسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دے پڑے ہوئے ہیں''

پس، یہ بیانات دنیا سے دل لگی میں کمی واقع کرنے کے لئے ہیں۔ ہمیں خاک نشیں ہونے اور قیمتی فرش، ڈیکوریشن اور عیاشانہ زندگی سے پرہیز کی جو تشویق کی گئی ہے، اس معنی و مفہوم میں نہیں ہے کہ ہم خود کو مشکل اور زحمت سے دوچار کریں اور خدا کی نعمتوں سے بہرہ مندنہ ہوں۔ ایک صوفی مسلک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیوں قیمتی لباس پہنا ہے، کیا آپ حضرت علی علیہ السلام کے فرزند نہیں ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: حضرت علی کے زمانے میں لوگ فقر و تنگدستی میں زندگی بسر کرتے تھے، اس لحاظ سے شائستہ تھا امام عام مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کریں، تاکہ لوگ اپنے فقر و ناداری سے دل تنگ نہ ہو جائیں۔ لیکن جب لوگ نعمتوں کی فراوانی میں قرار پائیں گے، تو صالح لوگ نعمتوں سے استفادہ کرنے میں دوسروں سے زیادہ سزاوار ہیں۔ جب شرائط اقتضا کریں، تو مسلمانوں کو صنعتی ترقی اور زندگی کے طریقۂ کار کو تبدیل کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے تاکہ کافروں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی آبرو کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ اگر مسلمان اور ترقی یافتہ معاشرے کی صورت کے پیش نظر آرٹ اور صنعت (ٹکنالوجی) کے شعبہ میں ترقی کرنے کی سعی و کوشش کرنا چاہئے تاکہکفار کے سامنے ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت پیش نہ آئے اور مسلمانوں کی ذلت و خواری کا سبب نہ بنے ۔

اجتماعی پہلو سے اگر اسلامی معاشرہ حداقل پر قناعت کرے، صرف دستکاری کی صنعت سے استفادہ کرے، حمل و نقل کے قدیمی وسائل ہی پر اکتفا کرے، اپنے آپ کو صرف قدیمی اور ابتدائی اسلحوں کا پابند رکھے ، اس تفکر سے کہ اسلامی معاشرہ کو ایک سادہ اور قناعت پسند معاشرہ ہونا چاہئے، ایجاد و تخلیق کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے، تو یقینا اسلامی معاشرہ کفار کے زیرتسلط آجائے گا اور ایک کمزور و ذلیل اور محتاج معاشرے میں تبدیل ہوجائے گا، اور خدائے متعال ہر گز پسند نہیں کرتا ہے کہ الہٰی معاشرہ کفار کا اسیر و محتاج ہو، کیونکہ:

( وَلَنْ یَجْعَلَ ﷲ لِلْکَافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً ) (نسائ ١٤١)

خدائے متعال نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر کوئی تسلط قرار نہیں دیا ہے۔

اور یہ خدا ہے جو عزت کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین سے مخصوص جانتا ہے:

( ( ...وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوْمِنِینَ ) (منافقون٨)

''عزت، خدا، اس کے رسول اور مومنین سے مخصوص ہے۔''

اس کے پیش نظر کہ صنعتی پسماند گی کا لازمہ استعمار اور ثقافتی یورش ہے، اس لئے امت اسلامیہ کی ترقی کے لئے ایجادات و تخلیق کے میدانوں میں جستجو اور کوشش کرنا فریضہ الہٰی ہے اس سے کسی بھی بہانہ سے اجتناب نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علوم و فنون کو سیکھنے کے سلسلے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس فرمان کی حقیقی گواہ ہے:

''اطلبوا العلم ولو بالصین '' ۳

علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین جانا پڑے۔

یعنی ہر وہ علم کہ جس کی معاشرے کو ضرورت ہے اسے حاصل کرو۔

اس حدیث کے آخر پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ حَرثُ الْآخِرةِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ وَ حَرْثُ الدَُّنْیٰا الْمَالُ وَالْبَنُونَ''

''اے ابوذر! آخرت کی کھیتی شائستہ کردار ہے اور دنیا کی کھیتی مال و فرزند ہیں۔''

(آخرت طلب کو عمل صالح کے پیچھے جانا چاہئے اور دنیا طلب کو مال ذخیرہ کرنے کے پیچھے جانا چاہئے)

____________________

١۔نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام کلام ٢٨١،ص١٢٢٥

۲۔نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،حکمت ٩٢،ص١٠٥٨

۳۔ بحار الانوار ،ج١ص١٧٧


سترہواں سبق

آخرت کے لئے گریہ کرنامومن کی وسعت قلبی اور اس کی تقوی مداری کی دلیل ہے

*آخرت کے لئے رونے کے نتائج

* مومن کی وسعت قلبی اور اس کی علامتیں

* تقویٰ محوری اور ریاکاری و نفاق سے پرہیز

* عمل کی قدر و منزلت میں نیت اور اس کااثر

آخرت کے لئے گریہ کرنامومن کی وسعت قلبی اور اس کی تقویٰ مداری کی محور ہے

'' یَاا َبَاذَرٍ؛ اِنَّ رَبِّی اَخْبَرَنی' فَقَالَ: وَ عِزتی وَ جَلالی مَا اَدْرَکَ الْعَابِدُونَ دَرْک الْبُکَائِ عِنْدی وَاِنِّی لَاَبْنی لَهُمْ فِی الرَّفیقِ الَاعْلٰی قَصْراً لاَ یُشَارِکَهُمْ فِیهِ اَحَد قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ ﷲ اَیُّ الْمُؤْمِنَینَ اَکْیَسْ؟ قَالَ اَکْثَرُهُمْ لِلْمَوتِ ذِکْراً وَاَحْسَنُهُمْ لَهُ اِسْتَعْدَاداً

یا اَبَاذَرٍ: اِذَا دَخَلَ النُّورُ الْقَلْبَ انْفَسَحَ الْقَلْبُ وَ اسْتَوسَعَ، قُلْتُ: فَمَا عَلَامَةُ ذٰلِکَ؟ بِاَبِی اَنْتَ وَاُمِّی یَا رَسُولَ ﷲ' قٰالَ؛ الِْانَابَةُ اِلَی دَارِ الْخُلُودِ وَ التَّجٰافی عَنْ دَارِالْغُرُورِ' وَالْاِسْتَعْدَادُ لِلْمَوتِ قَبْلَ نَزُولِهِ یَا اَبَاذَر؛ اِتَّقِ ﷲ وَلاَتُرِ النَّاسَ اِنَّکَ تَخْشٰی ﷲ فَیُکْرِمُوکَ وَقَلْبُکَ فٰاجِر یَا اَبَاذَرٍ؛ لِیَکُنْ لَکَ فی کُلِّ شَیئٍ نِیَّة حَتّٰی فِی النَّومِ وَالْاَکْلِ''

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکثر نصیحتیں جن پر اس سے پہلے بحث کی گئی، تین محوروں پر مشتمل تھیں:

١۔ دنیا پرستی اور اس سے وابستہ ہونے سے پر ہیز۔

٢۔ ذکر خدا کی تشویق۔

٣۔ خدا کے خوف سے خضوع و خشوع اور گریہ وزاری۔

حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوف خدا میں رونے کی اہمیتدو بارہ بیان فرماتے ہیں، اس کے علاوہ آخرت پر توجہ، دنیا سے بیزاری اور ریاکاری سے پرہیز کے بارے میں تا کید فرماتے ہیں۔

آخرت کے لئے رونے کے نتائج:

'' یَا َبَاذَرٍ؛ اِنَّ رَبِّی اَخْبَرَنی' فَقَالَ: وَ عِزتی وَ جَلالی مَا اَدْرَکَ الْعَابِدُونَ دَرَکَ الْبُکَائِ عِنْدی وَاِنِّی لَاَبْنی لَهُمْ فِی الرَّفیقِ الَاعْلٰی قَصْراً لاَ یُشَارِکَهُمْ فِیهِ اَحَد''

''اے ابوذر! پرور دگار نے مجھے خبر دیدی اور کہا: مجھے میری عزت و جلال کی قسم ! عابدوں کو ان کے رونے کی پاداش کے بارے میں معلوم نہیں ہوگا کہ میں نے رونے والوں کے لئے بہشت کے بلند ترین مدارج میں ایک محل تعمیر کیا ہے جس میں ان کے علاوہ کوئی اور شریک نہیں ہوگا۔''

جیسا کہ اشارہ ہوا، جس رونے کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نینصیحت کی ہے وہ خوف خدایا لقاء اللہ کو حاصل کرنے کے شوق میں رونا ہے۔ اگر چہ گریہ کی یہ دونوں قسمیں مطلوب ہیں اور خدا کی طرف توجہ اور انسان کے بیدار ہونے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں لیکن لقاء اللہ حاصل کرنے کے شوق میں کیا جانے والا گریہ برتر ہے اور یہ عمیق معرفت کی نشانی ہے جو سبھی کو حاصل نہیں ہوتی اور معرفت کے اس مدارج تک چند گنے چنے افراد من جملہ معصومین علیم السلام کو رسائی حاصل ہے۔

چونکہ اولیائے الہٰی اور معصومین علیہم السلام خدائے متعال کے شیدائی اور عاشق ہیں اورعاشق کے لئے اپنے معشوق کا فراق اوراس کی دوری سے زیادہ شدید کوئی درد نہیں ہے۔ ائمہ اطہار سے روایت کی گئی دعائوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح فراق کے درد میں نالہ وزاری کرتے تھے اور معشوق کے و صال کے شوق میں جلتے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام سجاد سے نقل ہوئی دعائیں اہل بیت علیہم السلام کے خدائے متعال سے بے انتہا عشق کے نمو نے ہیں۔ ان دعائوں سے ہی اہل بیت علیہم اسلام کی بے انتہا معرفت و شناخت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔ اسی معرفت ہی کا نتیجہ تھا جس کے سبب یہ پاک ذاتیں، پاک سیرتیں اور بشریت کے اسوہ اور نمونے ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے پرور دگار کے حضور سے غافل نہیں رہتے تھے اور چونکہ وہ خدا کی ذات کو ہر چیز سے برتر اور ہر چیز کو اس کی قدرت کا جلوہ تصور کرتے تھے، اس لئے اس کے عاشق تھے اور یہ محبت انہیں اندرونی طور پر ایک لمحہ کے لئے آرام و قرار سے رہنے نہیں دیتی تھی۔ ان کی مناجاتیں اور دعائیں بذات خود ان کے اس کمال عشق کی گواہی دیتی ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام، دعائے کمیل میں شوق دیدار محبوب کی کیفیت سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس کے فراق میں صبر کرنے کو اس کے عذاب پر صبر کرنے سے زیادہ سخت اور دشوار جانتے ہیں اور اپنے پرور دگار سے مخاطب ہو کر عرض کرتے ہیں:

'' فَهَبْنی یَا اِلٰهیٰ وَسَیِّدی وَمَولاَیَ وَرَبِّی صَبَرْتُ عَلٰی عَذَابِکَ فَکَیْفَ اَصْبِرُ عَلٰی فَرَاقِکَ...''

''اے میرے خدا، میرے مولا اور میرے پرور دگار! میں نے تیرے عذاب پرتو صبرکر لوں گا، مگر تیرے فراق پر کیسے صبر کروں؟''

اور اپنے معبود سے جدائی کی صورت میں اپنے کرب کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''تیری عزت کی قسم اے میرے مالک اور اے میرے مولا! اگر مجھے گویائی زبان کے ساتھ (جہنم میں ) ڈالا گیا، تو اہل جہنم کے درمیان واویلا کرنے والوں کی طرح فریاد بلند کروں گا اور اس شخص کی طرح کہ جس نے اپنے محبوب کو کھودیا ہو، تیرے فراق میں زار زار گریہ کروں گا۔''(۱)

حضرت امام سجاد علیہ السلام دعائے ابوحمزئہ ثمالی میں فرماتے ہیں:

''میں نے آج کل کرتے ہوئے اور اپنی طولانی آرزوئوں سے اپنی عمر کو تباہ و برباد کر لیا ہے اب ایک ایسی منزل پر پہنچ ہو کہ اپنے نفس کی اصلاح سے نا اُمید ہوچکا ہوں۔ پس مجھ سے زیادہ بدحال اس زمانہ میں کون ہے؟ وائے ہو مجھ پر! اگر اس حالت میں ایک ایسی قبر کی طرف روانہ ہوگیا جسے میں نے اپنے لئے خوابگاہ نہیں بنایا ہے اور اپنے عمل سے اس میں بچھونانہیں بچھا یا ہیتو میں کیوں گریہ نہ کروں! جبکہ نہیں جانتا ہوں کہ میرا انجام کیا ہو گا۔ اس وقت میرا نفس مجھے دھوکہ دے رہا ہے اور زمانے مجھے فریب دے رہے ہیں، جبکہ موت میرے سرپر سایہ فگن ہے۔''(۲)

انسان کے داخلی رذائل اور اخلاقی کو تاہیوںکو برطرف اور پاکیزہ بنانے سے متعلق گریہ کے عظیم نقش کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: رونے کے لئے ایک ایسی فضیلت و پاداش معین ہے کہ دوسری چیزوں میں نہیں ہے۔ رونے والا ایک ایسے مقام پر فائز ہوجاتا ہے کہ دوسرے چاہے جتنی بھی عبادت کریں وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔

جناب ابوذر سب سے زیادہ عقلمند اور زیرک افراد کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب میں فرماتے ہیں:

'' اَکْثَرُهُمْ لِلْمَوتِ ذِکْراً وَاَحْسَنُهُمْ لَهُ اِسْتَعْدَاداً''

لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند و زیرک وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ موت کی یاد میں ہو اور خودکو دوسر وں سے زیادہ موت کے لئے آمادہ کرے۔

جس نے کسی راہ کا انتخاب کیا ہے، اگر وہ زیرک و ہوشیار ہے، تو ہمیشہ مقصد کو مد نظر رکھے گا اور کوشش کرے گا کہ جلد سے جلد مقصد تک پہنچ جائے۔ اوراگر کوئی راستے میں مقصد سے غافل ہوگیا تو وہ صحیح وسالم مقصد تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو اصلی ہدف و مقصد کو پہچانتا ہے اور جانتا ہے کہ دنیا صرف آخرت تک پہنچنے کے لئے ایک وسیلہ ہے، تو اسے دنیا کی چمک دمک اور مادی جاذبیت دھوکہ نہیں دے سکتی اور وہ ہمیشہ موت کی یاد میں رہتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے لئے آمادہ کرتا ہے۔ اسی حالت میں اگر اس کے لئے موت کا پیغام آجائے تو وہ اپنے توشہ آخرت کے ساتھ خدا کی طرف روانہ ہوجاتا ہے، لیکن جنہوں نے اپنے مقصد کو کھو دیا ہے، آخرت کے لئے کوئی زادراہ آمادہ نہیں کیا ہے، تو ان کے لئے زادراہ کے بغیر طولانی راستہ میں قدم رکھنا ایک خطرناک کام ہے۔

مومن کی وسعت قلبی اور اس کی علامتیں:

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

'' یا اَبَاذَرٍ: اِذَا دَخَلَ النُّورُ الْقَلْبَ انْفَسَحَ الْقَلْبُ وَ اسْتَوسَعَ''

اے ابوذر! اگر دل میں نور روشن ہوجائے تو قلب کشادہ ہو جاتا ہے اور اس میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔

ابتدا میں دل تاریک ہوتے ہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان میں اپنے نور کا افاضہ کرتا ہے جن دلوں میں صلاحیت ہوتی ہے وہ اس نور کو کسب کرتے ہیں۔ جب وہ نور دل میں جگہ پاجاتا ہے، اس دل کی ظرفیت بڑھ جاتی ہے۔ تشبیہ معقول بہ محسوس کے طور پر مثلاً جب خالی اور سوکھی مشک میں پانی بھر دیا جاتا ہے، وہ پھیل جاتی ہے یا غبارہ کے مانند، کہ جس قدر اس میں ہوا بھری جائے گی وہ پھیلتا جائے گا ہے۔اسی طرح دل نور الہٰی کی وجہ سے وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کی ظرفیت میں اضافہ ہوتا ہے (قلب سے مراد د سینہ میں موجود صنوبر نمادل کی صورت نہیں ہے، بلکہ یہاں پر قلب سے مراد معنوی ماہیت، یعنی ایمان درک کرنے کی جگہ ہے)

شائد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ موت کو زیادہ یا دکرنا اور اس کے لئے آمادہ رہنا، انسان کی زندگی کے چراغ کو روشن رکھنے کا ذریعہ ہے اور موت کی یاد کے نتیجہ میں انسان کی روح میں ایک نور پیدا ہوتا ہے جو اس کی پاک فطرت کو گناہ کی تاریکی میں آلودہ ہونے سے بچاتا ہے، اور اسی نور کے اثر میں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعبیر یہ کہ، انسان کی روح میں اضافہ اس کی ظرفیت بڑھ جاتی ہے۔ اس معنی میں کہ دنیا کی محدود اور تنگ جگہ سے بالا تر جاکر بے انتہا اور ابدی عالم کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

چونکہ جناب ابوذر کے لئے یہ حالت قابل محسوس و درک نہیں ہے۔ کیونکہ یہ امرحسی نہیں ہے کہ حواس کے ذریعہ انہیں درک کیاجائے۔ اس لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قلب کے وسیع ہونے کی نشانیاں کیا ہیں اس کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب میں اس حالت کے بارے میں تین نشانیاں بیان فرماتے ہیں:

١۔''الا نابة الی دار الخلود'' وسعت قلب کی پہلی نشانی آخرت کی طرف میلان ہے۔

اس معنی میں کہ انسان، فانی اور ناپائدار دنیا سے چشم پوشی کر کے آخرت پر نظر رکھتا ہے۔ مرحوم راغب اصفہانی ''انابہ'' کے معنی کی وضاحت میں فرماتے ہیں: خدا کی طرف '' انابہ''کے معنی پلٹنا، اس کی طرف ، توبہ اور عمل صالح کے ذریعہ''(۳)

٢۔''والتجافی عن دار الغرور'' وسعت قلب کی دوسری نشانی دھو کہ باز دنیا سے دوری اختیار کرنا ہے۔

جب مومن آخرت کے ابدی عالم کو مدنظر رکھتا ہے تو اس محدوداور مادی دنیا میں اس کا دل تنگ ہونے لگتا ہے، اس لئے اس دنیا سے رابطہ توڑ کر اس سے رخصت ہونے کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔

(دنیا سے ''تجافی''، اپنے آپ کو دنیا پرستی سے آزاد کرنے کے معنی میں ہے، چنانچہ زمین سے اٹھنے والا نماز گزار صرف ہاتھوں اور پائوں کی انگلیوں سے زمین پر تکیہ دیتا ہے، اس حالت کو تجافی، کہتے ہیں)

''دار الغرور'' من جملہ ان ناموں میں سے ہے جو قرآن مجید اور روایتوں میں دنیا کے لئے ذکر ہوا ہے۔ غرور، فریب اور دھوکہ دہی کے معنی میں ہے۔ چونکہ دنیا کے زرو جواہر انسان کو فریب دیتے ہیں اور اسے اپنا شیدائی بناتے ہیں، اس لئے دنیا کو ''دارلغرور'' یعنی فریب کاری اوردھوکہ دھڑی کی جگہ کہتے ہیں۔

دنیا کی فریب کاری کی وضاحت میں بزرگوں، جیسے علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے:

''ہرانسان کا ایک فطری مطلوب ہوتا ہے، یعنی اس کی فطرت ایک گمشدہ شیٔ کی تلاش میں ہے اور وہ ہمیشہ اس کی جستجو میں رہتی ہے۔ اس کا اصلی مقصد قرب الہٰی تک پہنچنا ہے، دوسرے الفاظ میں کمال مطلق تک پہنچنا ہے۔ اگر چہ وہ خود متوجہ نہیں ہے لیکن وہ غیرشعوری طور پر بھی کمال مطلق کی طرف گامزن ہے۔ لیکن کبھی اصلی مقصد کو گم کر دیتا ہے، غلطی سے، دنیا کو اپنا مقصد قرار دیتا ہے، حقیقت میں وہ زروجواہر اور دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے، اسے اپنی گم شدہ چیز تصور کرتا ہے، یعنی دنیا خود کو انسان کے سامنے اس کا حقیقی مطلوب اور مقصد کے عنوان سے پیش کرتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ ایک عمر جستجو و کوشش کر کے اس دنیا تک پہنچتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ اس کا فطری مطلوب نہیں تھا اور یہ دنیا اس کی معنوی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتی۔ اس اعتبار سے دنیا کو ایک چوسنی سے تشبیہ دیتے ہیں، جب بچے کو بھوک لگتی ہے اور وہ دودھ چاہتا ہے، تو چوسنی کو اس کے منہ میں لگا دیتے ہیں اور وہ غفلت کے عالم میں ماں کے پستان کی جگہ اس بھٹنی کو چوستا ہے اور آخرمیں سمجھ جاتا ہے کہ دودھ سے خالی چوسنی نے اسے سیر نہیں کیا ہے۔

جی ہاں، دنیا سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہے، انسان کا حقیقی مطلوب وہ آب حیات ہے جس کا شرچشمہ قرب الہٰی ہے اور وہی اس کی فطرت کو سیراب کرتا ہے۔ اگرچہ دنیا خود کو حقیقی مطلوب کی جگہ پر قرار دیتی ہے۔ خواہ دنیا کی یہ خود نمائی گھر اور گاڑی کی صورت میں ہویا دنیا کی لذتوں کی صورت میں ۔ لیکن جاننا چاہئے کہ دنیا اپنی تمام وسعتوں' مختلف لذتوں اور نعمتوں کے ساتھ کمال مطلق اور رضائے الہٰی تک پہنچنے کے لئے ایک وسیلہ ہے نہ مقصد اور مطلوب۔

اس سے ہم نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جس کا دل سیاہ ہے اور ایمان کے نورسے نورانی نہیں ہوا ہے، وہ دنیا کے دھو کے میں پھنسا ہے اور اس کی ظاہری حالت کو مطلوب ذاتی کی جگہ پر تصور کرتا ہے۔ لیکن جس کا دل خدا کے نور سے منور ہوتا ہے، غفلت اور تاریکی اس سے دور ہوتی ہے اور وہ حقیقت کو واضح طور پر مشاہدہ کرتا ہے اور غلطی سے دوچار نہیں ہوتا ہے۔ وہ صرف آخرت سے دلچسپی رکھتا ہے اور ممکن نہیں ہے، حتی ایک لمحہ کے لئے بھی دنیا سے وابستہ رہنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ جانتاہے کہ دنیا دل لگی کی جگہ نہیں ہے۔

٣۔''والاستعداد للموت قبل نزوله'' وسعت قلب کی تیسری نشانی مرنے سے پہلے مرنے کے لئے آمادہ ہونا ہے۔

جب انسان دنیا سے دلی وابستگی نہ رکھتا ہو اور آخرت کی فکر میں ہو تو اسے ہمیشہ دیار ابدی، اور اپنے مطلوب حقیقی تک پہنچنے کے لئے آمادہ رہنا چاہئے۔ جو یہ جانتا ہو۔ کہ وہ دنیا کے لئے پیدا نہیں ہوا ہے، اور دنیا جہان ابدی میں جانے کے لئے صرف ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے تو وہ قرب الہٰی تک پہنچنے کے لمحہ لمحہ انتظار میں رہتا ہے۔ وہ بے صبری کے ساتھ دنیا کے پل کو عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے آخری مقصد تک پہنچ جائے۔

انسان کو دنیا میں مقصد تک پہنچنے کے لئے بے صبری اور جلد بازی کی حالت بھی پیش آتی ہے۔ جب انسان ایک شہر میں جانے کے لئے گاڑی پرسوار ہوتا ہے تو راستہ میں آرزو کرتا ہے کہ مقصد تک جلدی پہنچ جائے۔ جب اس کی گاڑی دوسری گاڑیوں سے آگے بڑھتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کہ دوسروں سے پہلے مقصد تک پہنچ جائے گا۔ اگر چہ یہ ایک طفلا نہ ہوس ہے لیکن اس کا سرا فطرت سے وابستہ ہے جب وہ جانتا ہے کہ اس کا مقصد دوسری جگہ پر ہے اور اس کا راستہ میں کوئی کام نہیں ہے، تو وہ سعی و کوشش کرتا ہے کہ راہ کو جلدی طے کرے، البتہ مقصد تک پہنچنے کی تلاش ایک عاقلانہ امر ہے۔

پس، جس بندہ کا دل نورالہٰی سے منور ہے اور جس کی آنکھوں سے حقائق کے لئے پردہ ہٹ چکے ہیں، وہ جانتا ہے کہ اس کا مقصد جو ارحق اور قرب الہٰی ہے اور دنیا کی حقیقت صرف ایک وسیلہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اس لحاظ سے مقصد تک پہنچنے کے لئے وہ اس وسیلہ سے استفادہ کرتا ہے، اور معشوق کے لمحہ دیدار کے پہنچنے کے شوق میں پھولے نہیں سماتا ہے، یہاں تک دنیا کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔

تقویٰ محوری اور ریا کاری و نفاق سے پرہیز:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوذر کو ریاکاری اور خونمائی سے پرہیز کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' یَا اَبَاذَر؛ اِتَّقِ ﷲ وَلاَتُرِ النَّاسَ اَنَّکَ تَخْشٰی ﷲ فَیُکْرِمُوکَ وَقَلْبُکَ فٰاجِر''

اے ابوذر! خدا سے ڈرو اور لوگوں کے سامنے ایسا ظاہر نہ کروکہ خدا سے ڈرتے ہوتاکہ تمھارا احترام کریں' جبکہ تمھارا دل گناہ کی فکر میں ہے۔

ریاکاری کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہر کو باطن کی نسبت بہتر ظاہر کرے اور جو کچھ ظاہر کرتا ہے باطن کے برعکس ہو، یعنی:

ظاہرش چُون بوذرو سلمان بود باطنش ہمچون ابوسفیان بود

روایات کی اصطلاح میں ریا کاری کا شمار شرک خفی میں ہوتا ہے اور ریاکار کومشرک کہتے ہیں۔

خدا کی من جملہ بڑی مہر بانیوں میں سے ایک مہر بانی انسان کے گناہوں اور عیبوں کی پردہ پوشی ہے، یہاں تک خدائے متعال کا ایک نام ''ستار العیوب'' ہے۔ حقیقتاً اگر لوگوں کی برائیاں بر ملاہو جاتیں اور وہ ایک دوسرے کے عیوب و نقائص سے آگاہ ہوجاتے، تو ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ۔ اس لحاظ سے خدا کی پردہ پوشی ایک بڑی نعمت ہے جس کا شکر بجالا نا واجب ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لوتکاشفتم ماتدا فنتم'' (۴)

''اگر ایک دوسرے کے اسرار سے واقف ہوتے تو ایک دوسرے کو دفن نہیں کرتے''

جس طرح خدائے متعال خود مومنین کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور، دوسروں کو بھی اجازت نہیں دیتا کہ ایک دوسرے کے گناہوں کو فاش کریں۔ اللہ تعالیٰ نہ خود مومن کو ذلیل و رسوا کرتا ہے اورنہ ہی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مومن اپنی آبروکا سودا کریں۔ اس بنا پر انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے گناہ دوسروں کے سامنے بیان کرے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ خدائے متعال مومن کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود کو ذلیل و رسوا کرے۔ گناہ اور فسق انجام دینے سے بڑی کوئی ذلت نہیں ہے، اس لئے جب بھی مومن گناہ کرتا ہے خدائے متعال اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اور اسے بھی اجازت نہیں دیتا کہ اس سے پردہ اٹھائے بلکہ اسے توبہ کرنے کی فرصت دیتا ہے۔

البتہ یہ ایک کلی قانون نہیں ہے، کیونکہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے پیش نظر افراد کی تنبیہ کے لئے، ان کے بعض گناہوں کو فاش کرتا ہے اور ان کے اسرار سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسرار کو فاش کرنا، بذات خود تربیت کا ایک وسیلہ ہے۔ یعنی اگر انسان کو متنبہ کیا جائے ،اسے اس کے برے اور غلط عمل کے نتیجہ میں ڈرایا دھمکایا جائے لیکن اس کے بعد بھی وہ متوجہ نہیں ہوتا تو اس صورت میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی تربیت اور بیداری کے لئے اس کی آبروریزی کی جائے تاکہ اس کے مفاسد کو روکا جاسکے۔ البتہ یہ ایک تکوینی امر ہے اور یہ خدا اور اس کی تدبیرسے مربوط ہے دوسرا کوئی حق نہیں رکھتا کہ وہ تربیت کے بہانہ سے دوسروں کی آبرو ریزی کرے۔

اس بنا پر اسلام کے نظر یہ کے مطابق کسی کو اپنی یا دوسروں کی آبرو ریزی کرنے کا حق نہیں ہے۔ اپنے اور دوسروں کے عیبوں کی حفاظت اور انہیں چھپا نا تمام مومنوں کے فرائض ہیں۔ بعض اوقات گناہ کو فاش کرنے کا انجام خود گناہ کے انجام سے بدتر ہوتا ہے اور گناہ کو فاش کرنا فساد پھیلا نے کے واضح مصادیق میں شمار ہوتا ہے:

( اِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَاب اَلِیم فِی الدُّنْیَا وَالْاَخِرَةِ وَﷲ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ) (نور ١٩)

''جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ صاحبان ایمان کے درمیان بدکو پھیلائیں ان کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ سب کچھ جانتا ہے صرف تم نہیں جانتے ہو۔''

گناہوں کو فاش کرنے کے مقابلہ میں ریاکاری اور ظاہر داری بھی ایک برا اور ناپسندیدہ امر ہے:

یعنی انسان سعی کرے خود کو واقعیت کے خلاف جلوہ دے اور اپنے کو اچھاظاہر کرے، یعنی گنہگار ہونے کے باوجود اپنے آپکو اہل تقویٰ ایماندار، خداترس اور راز و نیاز کرنے والوں کی صورت میں پیش کرے تاکہ لوگ اسے احترام کی نگاہ سے دیکھیں۔

شدادبن اوس اور عبادہ بن صامت نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آیہ شریفہ:

( فِمَنْ کَانَ یَرْجُوا لِقَائَ رَبِّه فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلاَ یُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَداً ) (۵) کی وضاحت میں فرمایا:

''مَن صَلَّی صَلوٰةً یُرٰائِی بِهَا فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ صَوماً یُرَائی بِهِ فَقَدْااَشْرَکَ'' (۶)

''جو خود نمائی اور ریاکاری کے لئے نماز پڑھے اور روزہ رکھے اس نے شرک کیا ہے۔''

عمل کی قدر و منزلت میں نیت اور اس کااثر:

'' یَا اَبَاذَرٍ؛ لِیَکُنْ لَکَ فی کُلِّ شَیئٍ نِیَّة حَتّٰی فِی النَّومِ وَالْاَکْلِ''

اے ابوذر! ہر عمل کو انجام دینے کے لئے تمھیں، نیت کرنی چاہئے حتیٰ کھانے اور سونے کے لئے بھی ۔

تربیتی نقطہ نظر سے اس مطلب کا ذکر کرنا بہت اہم اور تعمیری ہے، اس کے علاوہ یہ مطلب اہم علمی و فلسفی اصول پر منحصر ہے جس کے لئے ایک وسیع بحث کی ضرورت ہے۔ انسان جو بھی کام انجام دیتا ہے، حتیٰ خدا کی عبادت و بندگی، وہ نیت پر منحصر ہے۔ ایک عمل کی اہمیت کا اندازہ دو مختلف نیتوں سے یکساں نہیں ہے۔ جو شخص اپنے دوست کی طرف سے مدعو ہوتا ہے، اگر اس کی دعوت کو قبول کرے، تو یہ ایک شائستہ کام ہے، اگر دوست کی دعوت کوقبول کرنے میں قصد قربت کو ملحوظ رکھتا ہے یعنی، مومن کی دعوت کو قبول کرنا چوں کہ خدا کو پسند ہے اس لئے دعوت قبول کرتا ہے تو اس کا یہ عمل عبادت شمار ہوگا جس کے لئے اسے جزا و ثواب بھی ملے گا۔یا اگر کسی نے مستحب روزے رکھے ہیں اور اس کا دوست اسے کھانا کھانے کی دعوت دے، اگر وہ خدا کے لئے افطار کرے، تو اس کا یہ عمل عبادت ہے اور اس کے لئے ثواب و پاداش ہے لیکن اگر اس لئے کہ کھانا اچھا ہے اور وہ اسے کھانا چاہتا ہے اور اس نیت سے افطار کر ے تو، اس کے لئے اسے کوئی ثواب نہیں ملیگا، کیونکہ اس کا یہ عمل خدا کے لئے انجام نہیں پایا ہے۔ پس یہی کھانا اگر خدا کے لئے ہو تو، اس کے لئے ثواب وپاداش ہے اور انسان کے کمال اور اس کی معنوی بلندی میں ایک اہم نقش رکھتا ہے۔ اس بنا پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ انسان اپنے روزمرہ کے تمام کاموں، سونے سے لے کر کھانے پینے، حتی مزاح کرنے جیسے امور کو نیک کام مثلا نماز و روزہ کی طرح عبادت کا رنگ و روپ بخش سکتا ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ یہ امور خدا کی مرضی اور اس کی بندگی و اطاعت کی نیت سے انجام دیئے جائیں۔

بعض بزرگ حضرات جب کوئی کام انجام دینا چاہتے تھے، پہلے چند لمحہ تامل کراتے تھے تاکہ نیت اور قصد قربت کا تصور کرلیںاور وہ کام خدا کے لئے انجام دیتے تھے۔ یا اگر ان سے کوئی سوال ہوتا تھا، فوری جواب نہیں دیتے تھے بلکہ اس سے پہلے چند لمحہ تامل کرتے تھے تاکہ اس میں بھی نیت اور قلبی توجہ پیدا ہو سکے، پھر خدا کے لئے جواب دیتے تھے۔

یہ نکتہ اس امر کی نشاند ہی کرتا ہے کہ مومن اتنا ہوشیار اور چالاک ہوسکتا ہے کہ اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں خدا اور اس کی مرضی کے مطابق استفادہ کرے۔ اس بناپربہت معمولی اور پست ترین امور میں بھی قصد قربت اور صحیح نیت کی جاسکتی ہے تاکہ انسان ان سے لذت بھی حاصل کرے اور عبادت کا فائدہ بھی اٹھائے، دنیوی و اخروی دونوں لذتوںکا احساس کرے۔ ایسے مواقع پر دنیا و آخرت کو یکجا کرنا ممکن ہے، دنیا و آخرت وہاں پر جمع نہیں ہوتے ہیں جہاں دو حکم کے درمیان آپس میں تضاد ہو، جیسے واجب و حرام کہ یہ دونوں آپس میں جمع نہیں ہوتے ہیں اگر انسان مباح کام انجام دینے میں قصد قربت کی نیت کرے، تو دنیوی لذت کو بھی درک کر سکتا ہے اور اپنی جسمانی قوت کو بھی بٹرھا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے ثواب بھی ملتا ہے۔ البتہ قصد قربت اور صحیح نیت کے مختلف درجے ہیں، منجملہ ان درجات میں سے گناہ سے پر ہیز کا ارادہ اور خدا کی مرضی کی مخالفت سے اجتناب کرنا ہے۔مرحوم علامہ طباطبائی نقل فرماتے تھے کہ جب امیر المو منین علیہ السلام نافلہ شب پڑھنے کے لئے اٹھتے تھے، بدن کو تاز گی اور نشاط بخشنے کے لئے پہلے سرد پانی سے نہاتے تھے۔فطری بات ہے کہ حضرت علی علیہ السلام جیسی شخصیت، جو صبح سے شام تک یا میدان جنگ میں جہاد کرتے تھے یا کھیت میں کام کرتے تھے، اس کے علاوہ پانچ سو یاایک ہزار رکعت نماز پڑھنے کے بعد تکان کا احساس اور نصف شب کو اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے کے لئے ان کے پاس طاقت اور نشاط نہیں رہ جاتی تھی ، اس لئے سرد پانی سے نہانا ان کی طاقت اور نشاط میں اضافہ کا باعث تھا۔

____________________

١ فَبِعِزَّتِکَ یَا سَیِّدی وَ مَولاَیَ اُقْسِمُ صَادِقاً لَئِنْ تَرَکْتَنی نَاطِقاً لَاَضِجَنَّ اِلَیْکَ بَیْنَ اَهْلِهَا ضَجِیجَ الآمِلِینَ وَ لَاَصْرُخَنَّ اِلَیْکَ صُرَاخَ الْمُسْتَصْرِخِینَولا بکین علیک بکاء الفاقدین''

۲''فقد افنیت بالتسویف ولامال عمری وقدنزلت منزلة الآیسین من خیری فمن یکون اسوء حالامنی ان انا نقلت علٰی مثل حالی الی قبرٍ لم امهده لرقدتی ولم افرشه بالعمل الصالح لضجعتی ومالی لا ابکی ولاادری الی مایکون مصیری واریٰ نفسی تخادعنی وأیامی تخاتلنی وقد خفقت عند رأسی اجنحة الموت''

۳۔ مفردات ،مادہ '' نوب''

۴۔ بحار الانوار ،ج٧٧ص٣٨٥

۵۔ جو خدا وند عالم سے ملاقات کا امید وار ہے اسے چاہئے کہ وہ عمل صالح انجام دے اور ہر گز خدا کی عبادت میں کسی کو شریک قرار نہ دے ۔ سورہ کہف ١١٠

۶۔ بحار الانوار ،ج٨٤ ،ص٢٤٨


اٹھار ہواں سبق

پرور دگار کی عظمت و جلالت کا احترام

*قرآن مجید اور احادیث میں ذکر الٰہی کی اہمیت

*ذکر کی کمیت و کیفیت

*لفظی و قلبی ذکر کے درمیان رابطہ

*لفظی ذکر کے دو فائدے

پروردگار کی عظمت و جلالت کا احترام

''یَا اَبَاذَرٍ! لِیَعْظُمْ جَلاَلَ ﷲ فِی صَدْرِکَ فَلا تَذْکُرُهُ کَمٰایَذْکُرُهُ الْجَاهِلُ عِنْدَ الْکَلْبِ َاللَّهُمَّ اخْزِهِ وَعِنْدَ الْخَنْزِیرِ اَللَّهُمَّ اخْزِهِ''

''اے ابوذر! پرور دگار کی عظمت و جلالت تمھارے دل میں بڑھ جائے اسے ہلکا نہ سمجھنا، جیسے جاہل اور نادان لوگ جب کتے اور سور کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں: خدا وندا! ان کا گلا گھونٹ دے۔''

قرآن مجید اور احادیث میں ذکر الٰہی کی اہمیت:

حدیث کے اس حصہ میں موضوع سخن خدا کی یاد اور اس کی عظمت کی تجلیل و احترام ہے۔ قرآن مجید اور روایتوں میں خدا کی یاد کو فراوان اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک بعض موضوع جیسے ذکر الہٰی کی تشویق، ذکر کے دنیوی و اخروی فائدے، ذکرکی کمیت و کیفیت، ذکر کے لئے زمان ومکان جیسے عناوین سے روایات میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح زبانی اور قلبی ذکر کے بارے میں ، یہ کہ ان میں سے کون اہم و برتر ہے یا یہ کہ ذکر خلوت و تنہائی میں بہتر ہے یا ملائ(مجمع) عام میں ، ان سب کے بارے میں بھی اہل بیت علیہم السلام اور علمائے دین کی طرف سے بیان ہوا ہے۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے ایک روایت میں فرمایا ہے:

''ما اجتمع قوم فی مجلس لم یذکروااللّٰه ولم یذکرونا الاکان ذٰلک المجلس حسرة علیهم یوم القیامة''

''کوئی قوم یا افراد کسی مجلس میں جمع نہیں ہوںگے کہ جس میں خدا کی یاد اور ہمارا تذکرہ زبانوں پر جاری نہ ہو، مگر یہ کہ وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لئے حسرت و اندوہ کا باعث ہوگی۔''

نیز فرمایا:

''اِنَّ ذکر نامن ذکر ﷲ'' (۱)

ہماری یاد بھی خدا کی یاد ہے۔

ذکر اور خد کی طرف توجہ کی اہمیت کے پیش نظر امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جب کسی مجلس سے اٹھو تو ان آیات کی تلاوت کرنا:

( سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلاَم عَلَی الْمُرسَلِینَ وَالْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) (صافات ١٨٠، ١٨٢)

آپ کا پرور دگار جو مالک عزت بھی ہے ان کے بیانات (توصیف) سے پاک و پاکیزہ ہے۔

اور ہمارا سلام تمام مرسلین پر ہے۔ اور ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے۔(۲)

اس بنا پر انسان کو ہمیشہ دل و زبان پر ذکر خدا کو جاری رکھنا چاہئے اور اس ذکر کے لئے زمان و مکان یا کوئی خاص مجلس مخصوص نہیں ہے۔ حدیث قدسی میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:

خدا وندا! بعضمواقع اور حالات میں شرماتا ہوں کہ تیرے ذکر کو زبان پر جاری کروں اور تجھے یاد کروں۔ خدائے متعال نے فرمایا: میرا ذکر ہر حالت میں اچھا ہے۔

یاد اور ذکر الہٰی کے لئے یہ سب نصیحت اور تاکید انسان کو رذائل اور اخلاقی کو تاہیوں سے بچانے اور اسے سعادت و خوشبختی کی منزل تک پہنچانے کے پیش نظر کی گئی ہے، کیونکہ اگر انسان ہمیشہ خدا کی یاد میں ڈوبا ہوا اور ہمہ وقت خود کو خدا کے حضورمیں تصورت کرے، تو ایسے امور سے پرہیز کرے گا جو خداکو پسند نہیں ہیں اور اپنے نفس کو سرکشی سے روکے گا۔

تمام مشکلات اور خطائیں جو نفس امارہ اور شیطان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں' خدا کی یاد اور اس کے عذاب سے غفلت کی وجہ سے ہیں۔ اس کے علاوہ خدا سے غفلت اور بے توجہی دل کو تاریک بنا دیتی ہے' جس کے نتیجہ میں نفسانی خواہشات کا انسان پر غلبہ ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خدا کی یاد اور اس کا ذکر دل کو پاکیزگی بخشتا ہے اور روح کی پاطہارت اور رزائل سے دور ہونے کا ذریعہ ہے اور انسان کو نفس کی قید سے آزاد کرتاہے۔ اس صورت میں انسان کا دل پروردگار کی جلوہ گاہ بن جاتا ہے اور دنیا پرستی۔ جو تمام خطاؤں اور انحرافات کا سرچشمہ ہے۔ دل سے رخصت ہو جاتی ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک روایت میں فرماتے ہیں:

''وَ اعْلَمُو اَنَّ خَیْرَ اَعْمَالِکُمْ (عِندَ مَلِیکِکُمْ) وَاَزْکَاهَا وَ اَرْفَعَهَا فِی دَرَجَاتِکُمْ وَ خَیْرَمَا طَلَعَتْ عَلَیْهِ الشَّمْسُ ذِکْرُ ﷲ سُبحٰانَه وَ تَعٰالیٰ فَاِنَّه اَخْبَرَ عَنْ نَفْسِهِ فَقَالَ: اَنَا جَلیسُ مَنْ ذَکَرَ نِی'' (۳)

جان لو خدا کے نزدیک تمہارے بہترین اعمال' ان میں سے پاکیزہ ترین اور بلند ترین تمھارے درجات اور بہترین چیز جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے خدا وند سبحان کا ذکر ہے۔ کیونکہ خدائے متعال اپنے بارے میں خبر رکھتا ہے۔ اور فرماتا ہے: میں اس کا ہمنشیں ہوں جو مجھے یاد کرتا ہے۔

ایک دوسرے روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ ﷲ عَزَّوَجَلَّ یَقُولُ: مَنْ شُغِلَ بِذِکْرِی عَنْ مَسْاَلَتِی اَعْطَیتُهُ اَفْضَلَ مَا اُعْطِیَ مَنْ سَاَلَنی'' (۴)

خدائے متعال فرماتا ہے: جو میری یاد اور میرے ذکر میں مصروف رہنے کی وجہ سے مجھ سے سوال نہ کر سکے'میں اسے اس سے بہتر عطا کروں گا جس کو میں سوال کے ذریعہ عطاکرتا ہوں۔

خدائے عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:

''یا عیسیٰ اذکرنی فی نفسک اذکرک فی نفسی واذکرنی فی ملاک اذکرک فی ملا خیر من ملا الادمیین. یا عیسیٰ الِنْ لیقلبک و اکثر ذکری فی الخلواٰت واعلم ان سروری ان تبصبص الیَّ وکن فی ذٰلک حیا ولا تکن میتا'' (۵)

اے عیسیٰ! تم مجھے اپنے پاس یاد کرو تاکہ میں تمھیں اپنے نزدیک یاد کروں اورتم مجھے لوگوں کے درمیان یاد کرو' تاکہ میں بھی تجھے انسانوں سے بہتر جماعت (فرشتوں) میں یاد کروں ۔ اے عیسیٰ: اپنے دل کو میرے لئے نرم کرو اور تنہائیوں میں مجھے زیادہ یاد کرو اور جان لو کہ میری خوشی اس میں ہے کہ میرے لئے تواضع کرو اس کام کیلئے اپنے دل کو زندہ رکھو اور مردہ (افسردہ) نہ رہو''

خدا کی یاد کے بارے میں قرآن مجید کی تاکید اور توجہ اس حد تک ہے کہ اس میں نماز کے مقصد کو خدا کی یاد کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ اسلام میں نماز کی منزلت بلند ہے اور اسے دین کے ستون کی حیثیت سے پہچانا گیا ہے۔

(...( وَاَقِمْ الصَّلوٰةَ لِذِکرِی ) (طہ١٤)

''اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو''۔

چونکہ مقصدوہدف وسیلہ سے زیادہ اہم ہوتا ہے' اس آیہ شریفہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ خدا کی یاداور اس کا ذکر نماز سے زیادہ اہم ہے اور حقیقت میں نماز' خدا کی یاد کا ایک وسیلہ ہے۔ (بیشک قرآن کی نظر میں ذکر کا ایک مفہوم اور اس کی ایک حقیقت ہے نماز تمام اہمیتوں کے باوجود اس کے لئے ایک وسیلہ سے زیادہ نہیں ہے)۔ قابل غور بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ نماز کے بعض اذکار قرآن کی آیات سے اخذ کئے گئے ہیں اور اس کی ایک خاص ہیئت و شکل ہے پھر کس طرح یہ خدا کی یاد کے لئے وسیلہ ہے؟

اس مطلب کی وضاحت میں کہنا چاہئے: نماز ایک خاص شکل و صورت'حرکات و سکنات اور اس میں پڑھے جانے والے اذکار کے باوجود ذکر شمار نہیں ہوتی بلکہ ذکر ایک قلبی کیفیت اور خاص توجہ کی حالت اور انسان کے دل کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ کا نام ہے۔ لہذا نسان نماز پڑھتا ہے تاکہ اس کے اور خدا کے درمیان وہ خاص توجہ ا ور رابطۂ قلبی پیدا ہو جائے۔ اس بنا پر' نماز خود ایک وسیلہ ہے اور مقصد وہی توجہ اور قلبی ارتباط ہے جو بے شک نماز سے زیادہ محترم ہے۔

ذکر کی کمیت و کیفیت:

قرآن میں بیان کئے گئے منجملہ مسائل میں ذکر کی مقدار و کیفیت ہے۔قرآن مجید میں بعض آیات ذکر کی کمیت اور اس کی فراوانی پر تاکید کرتی ہیں' جیسے آیۂ:

( یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُ وا ﷲ ذِکْراًکَثیراً ) (احزاب٤١)

اے ایمان والو! اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ کیا کرو۔

(اس آیت میں ذکر کی زیادتی پر تاکید کی گئی ہے)

بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک حد معین کی گئی ہے' حتی نماز کے لئے بھی ایک حد معین ہے، ہر مکلف بالغ کے لئے دن رات میں پانچ مرتبہ سترہ رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اور واجب نمازوں کے دو برابر نماز نافلہ پڑھنا مستحب ہے' یا یہ کہ ہر بالغ مسلمان کیلئے طاقت اور مالی استطاعت کی صورت میں عمر بھر میں ایک بار حج واجب کیا گیا ہے۔ اس بنا پر ہر چیز کے لئے ایک حد مقرر ہوئی ہے' صرف خدائے متعال کی یاد اور اس کے ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ انسان جس قدر ذکر الٰہی کرے اور خدا کی یاد میں بسر کرے پھر بھی کم ہے۔

آیات و روایات کی پہلی قسم کے مقابلہ میں ' ذکر کی کیفیت کے بارے میں بہت سی آیات و روایات بیان ہوئی ہیں' من جملہ آیۂ:

( فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فاذْکُرُوا ﷲ کَذِکْرِکُمْ آبَائَکُمْ اَوْ اَشَدُّ ذِکْراً ) (بقرہ٢٠٠)

''پھر جب سارے مناسک تمام کر لو تو خدا کو اسی طرح یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی شدید تر...''

اس آیت میں ذکر خدا کے بارے میں نہیں فرماتا: ''واکثرذکراً' یعنی خدائے متعال کو زیادہ یاد کرو' بلکہ فرماتا ہے: خدائے متعال کوزیادہ شدت سے یاد کرو۔ پس یہاں پر ذکر کے کم و زیاد کے بارے میں بیان نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے ضعف و شدت کوبیان کیا گیا ہے۔ اور یہ لفظی اور زبانی ذکر سے مربوط نہیں ہے۔ مقصود یہ نہیں ہے کہ مثلاً ''لا الہ الا اللّٰہ ''کو غلیظ صورت میں تلفظ کیا جائے بلکہ یہ شدت اور ضعف' یاد اور توجہ قلبی سے مربوط ہے۔

علامہ طباطبائی اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:

''جاہلیت کے زمانہ میں عربوں کی یہ رسم تھی کہ اعمال حج بجالانے کے بعد منیٰ میں شعر و نثر کے ذریعہ اپنے آباء و اجداد کی ستائش کرتے تھے۔ لیکن اسلام کے بعد خدائے متعال نے حکم دیا کہ اس رسم کو ختم کر کے اس کی جگہ پر ذکرا ور یاد خدا بجا لائیں۔

اس آیت میں ذکر کی ''شدت'' کے طور پر توصیف ہو رہی ہے' اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ذکر مقدار کے لحاظ سے قابل افزائش ہے' کیفیت کے لحاظ سے بھی قابل شدت ہے۔ اس کے علاوہ حقیقت میں ذکر لفظ میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک قلبی امر ہے جو حضور قلب سے انجام پاتا ہے اور لفظ اس کو بیان کرتا ہے۔''(۶)

بعض اوقات ہم ذکر کو لفظی ذکر میں منحصر جان کر' جب ذکر کی تاکید کی جاتی ہے تو ہم خیال کرتے ہیں ذکر ''الحمد للہ'' یا ''تسبیحات اربعہ'' وغیرہ کہنا ہے۔ جبکہ یہ سب کلمات ذکر کی حکایت کرتے ہیں اور حقیقت میں جس ذکر کی تاکید کی گئی ہے' وہ خدا کی یاد اور خدا کے بارے میں قلبی توجہ ہے۔ یعنی انسان فریضہ اور تکلیف انجام دیتے وقت خدا کی یاد میں غرق ہو جائے تا کہ خدا کے حضور کو درک کرتے ہوئے اپنا فریضہ انجام دے اور اسی طرح گناہ کو ترک کرتے وقت بھی خدا کی یاد میں ہو ' تاکہ اس کے حضور کا ادراک گناہ سے پرہیز کرنے کا سبب واقع ہو۔ ذکر لفظی کا ذکر قلبی سے اور لفظ کا معنی سے رابطہ' میوہ کے چھلکے کا اس کے مغز کے ساتھ رابطہ کے مانند ہے۔ حقیقت میں لفظی ذکر قلبی ذکر کا ایک لباس ہے اور قلبی ذکر اس کا مغز ہے۔ لہذا لفظی اذکار' قلبی اور داخلی یاد اور ذکر کا مقدمہ ہے اور یقیناً ان کی طرف توجہ کی جانی چاہئے۔ اس لحاظ سے روایتوں میں اذکار کی مقدار اور مواقع مشخص ہوئے ہیں' مثال کے طور پر نماز کے بعد بعض اذکار تعقیبات کے عنوان سے متعین ہوئے ہیں۔

لفظی و قلبی ذکر کے درمیان رابطہ:

یہاں پر مناسب ہے لفظی ذکر کا قلبی توجہ کے ساتھ رابطہ کے بارے میں بیشتر وضاحت کی جائے نیز بیان کیا جائے کہ کیوں ذکر کے بارے میں اتنی تاکید کی گئی ہے یہاں تک اسے نماز کے مقصد کے طورپر بیان کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی سعادت اور تکامل میں ذکر کا کیانقش ہے؟ کیا جو ذکر نہیں کرتے اور خدا کی طرف قلبی توجہ نہیں رکھتے ہیں اپنی زندگی میں نقصان اٹھاتے اور شکست کھاتے ہیں؟

جب ہم بات کرتے ہیں اور کوئی چیز زبان پر لاتے ہیں تواس سے پہلے اپنے دل میں اس کے معنی کا تصور کرتے ہیں اور ہماریے بات کرنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اپنا مطلب دوسروںکو سمجھا دیں۔ عام طور پر بات کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک مقصود اور منظور کو دوسروں تک پہنچا دیا جائے' اگرچہ بعض اوقات گفتگو اور بات کرنے کا مقصد معنی کو منتقل کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ خاص نفسانی مسائل یا تلقین مد نظر ہوتی ہے۔

ماہرین نفسیات اور نفسیاتی طبیبوں کے کام کے بارے میں ان کی ایک نصیحت یہ ہے کہ جس پر وہ بہت زیادہ تاکید کرتے ہیں تلقین ہے' البتہ اس کے لئے خاص الفاظ و آداب کو مد نظر رکھا گیا ہے' تاکہ تلقین موثر واقع ہو۔ مثال کے طور پر کہا گیا ہے: ایک خلوت میں بیٹھ کر ایک معین حد تک آواز بلند کر کے چند مرتبہ ایک جملہ کی تکرار کیجئے' تاکہ تمہاری روح میں یہ جملہ اثر کرے۔ یہ استثنائی مواقع ہیں' غالباً انسان بات کرتے وقت ایک معنی کو تصور کرتا ہے' اس کے بعد لفظ کے ذریعہ اسے دوسروں تک منتقل کرتا ہے۔ ایک عاقل انسان کبھی معنی کو مد نظر رکھے بغیر بات نہیں کرتا ' کیونکہ کلمہ یا لفظ معنی کو بیان کرنے والا ہوتا ہے۔

لفظی ذکر کہتے وقت' مثلاً ''تسبیحات اربعہ'' کہتے وقت ہم ایک معنی کو تصور کرتے ہیں اور اس کلمہ کو تصور کئے گئے معنی کو بیان کرنے والا قرار دیتے ہیں' ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا ہے کہ اس معنی کو ہم خدائے متعال یا ملائکہ اور دوسروں کو سمجھادیں' کیونکہ یہاں پر ہم مکالمہ اور گفتگو کا قصد نہیں رکھتے ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ معنی ہماری روح میں اثر کرے۔ لہذا اثر معنی میں ہے اور کلمہ وسیلہ کے علاوہ کچھ نہیںہے۔

جب ہم ''اللہ اکبر'' کہتے ہیں اور اس ذکر کو ایک مقدس عمل کے طور پر قبول کرتے ہیں' ہمارا مقصد اس ذکر کے معنی کا انسان کی روح اور سعادت پر اثر ڈالنا ہے ورنہ کلمات اور حروف (الف 'لام'کاف) معنی کو نظر انداز کرنے کی صورت میں خود سے نکلنے والی ایک آواز ہے جس میں کوئی اثر نہیں' اس لحاظ سے ذکر کے وقت با معنی کلام بیان کرنا چاہئے۔

نتیجہ کے طور پر لفظی ذکر بیان کرنے سے پہلے انسان میں خدا کی یاد کا ایک ادنی مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے بعد خدا کی یاد کا ایک عالی مرتبہ پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان ذکر کرتا ہے تو ابتداء میں خدا کو یاد کرتا ہے (ورنہ اگر خدا سے بالکل غافل ہو تو ذکر کرنے کا مرحلہ ہی نہیں آتا ہے) انسان کی توجہ جتنی بھی کمزور ہو' ذکر سے قبل خدا کی طرف توجہ کرتا ہے اس کے بعد ذکرکرتا ہے جو خدا کی یاد کی دلیل ہے۔ پس لازمی طور پر ذکر سے پہلے خدا کی یاد کا ایک مرتبہ ہم میں موجود ہوتا ہے۔

لفظی ذکر کے دو فائدے:

لفظی ذکر کا پہلا فائدہ اور مقصد یہ ہے کہ خدا کی یاد کا ضعیف مرتبہ قوی ہو جاتا ہے تاکہ انسان کی توجہ خدا کی طرف متمرکز ہو جائے۔ انسان کے اندر ابتدا میں خدا کے لئے ایک مبہم توجہ ہوتی ہے یا اس کی توجہ منتشر ہوتی ہے لیکن لفظی ذکر خاص کر نماز کے ذریعہ' وہ توجہ قوی اور متمرکز ہو کر خدا کی سمت میں معین ہو جاتی ہے۔ یہ ایک مقصد اور فائدہ ہے جسے لفظی ذکر کے بارے میں تصور کیاجا سکتا ہے۔

لفظی ذکر کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اگر لفظی ذکرسے وہ ضعیف توجہ قوی نہیں ہوتی تو کم از کم اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور وہ ختم نہیں ہوتا۔ انسان کے حالات اور اس کی توجہات' منجملہ خدا کی یاد ہمیشہ متغیر اور زوال پذیری کے خطرہ سے دو چار ہے۔ اس لحاظ سے اس کی قلبی توجہ کے استمرار کیلئے لفظی ذکر سے مدد حاصل کرنی چاہئے' تاکہ خدا کی یاد ہم سے فراموش نہ ہو جائے۔ اس بنا پر ذکر کیلئے مذکورہ دو فائدے اور مقصد شمار کئے جا سکتے ہیں' لیکن پہلا فائدہ اور مقصد بہتر اور عالی تر ہے۔

بعض اوقات ممکن ہے لفظی ذکر کا کوئی فائدہ نہ ہو' اور وہ اس صورت میں ہے جب ذکر کو بہ عنوان عادت ورد کیا جائے اور صرف زبان کی حرکت ہو اور انسان اس کے معنی کی طرف توجہ نہ رکھے۔ تمام زبانی عادات اور اعمال کی طرح کہ انسان کسی قسم کی توجہ کے بغیر زبان سے اس کا ورد کرتا ہے۔ بعض لوگ ہمیشہ تسبیح گھماتے رہتے ہیں ، تسبیح ا ور اس کے فائدہ کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے۔ یا بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی انگلیوں یا داڑھی سے کھیلتے رہتے ہیں اور اس کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ زبانی عادت کے بارے میں بعض بچوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ بعض کلمات کو زبان پر جاری کرتے ہیں' بغیر اس کے کہ اس کی طرف ان کا قلبی میلان ہو۔

ہم میں سے بہت سے لوگ بعض دعاؤں اور اذکار کو ایک خشک عادت کے طور پر پڑھتے رہتے ہیں اور ان کے معنی و مفہوم کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے' اس لحاظ سے ان دعاؤ ںکے ذریعہ ہمارے اندر کسی بھی قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے۔ ممکن ہے ہم ابتداء میں توجہ کے ساتھ کسی کام کو شروع کریں اور کسی ذکر کو زبان پرجاری کریں' مثال کے طور پر ہم سنتے ہیں کہ ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ تسبیحات فاطمہ زہر اسلام اللہ علیہا یا فلاں ذکر کابہت زیادہ ثواب ہے' اس لحاظ سے اس تسبیح کو توجہ کے ساتھ پڑھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ ہماری توجہ کم ہوتی جاتی ہے یہاں تک ان کلمات کو بہطور عادت کسی قسم کی توجہ کے بغیر زبان پر جاری کرتے ہیں۔ البتہ ''اللہ اکبر' ''لا الہ الا اللہ'' جیسے اذکار کو توجہ کے بغیر بھی کہنا مہمل اور بیکار کی باتوں سے بہتر ہے لیکن یہ انسان میں مطلوب روحانی اثر پیدا نہیں کرتے۔

ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جو خدا پر کسی قسم کا اعتقاد نہیں رکھتے لیکن عادت کے طور پر خدا کا نام زبان پر جاری کرتے ہیں اور یہ کام ان کیلئے ایک ثقافت اور تہذیب کا حصہ بن گیا ہے، اس سے پہلے بعض کمیونسٹ جو دین' معنویات اور خدا پر بالکل اعتقاد نہیں رکھتے تھے' لیکن رسم اور عادت کے مطابق جب ایک دوسرے سے جدا ہونا چاہتے تھے' ایک دوسرے کے احترام میں ''خدا حافظ'' کہتے تھے لیکن وہ اس کے معنی پر کوئی توجہ نہیں کرتے تھے' چنانچہ بعض اوقات ہم مسلمانوں میں بھی خدا کا نام زبان پر جاری کرنا رسم و عادت بن گئی ہے اور اس کے معنی و مفہوم کی طرف توجہ نہیں کرتے۔

عصر جاہلیت کے عربوں اور اس طرح صدر اسلام کے عربوں میں جو تازہ اسلام لائے تھے۔ اللہ کا نام زبان پر جاری کرنا مرسوم تھا۔ جب وہ کسی کتے یا سور کو دیکھتے تھے تو نفرت کے طور پر کہتے تھے ''اللھم اخزہ'' خدایا اسے نابود کر۔ بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ یا اس کی یاد کی طرف کوئی قلبی توجہ کرتے۔ بیشک یہ کلمات انسان میں کسی قسم کا اثر نہیں ڈالتے اور یہ خدا کی یاد شمار نہیں ہوتے ہیں۔

اس حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے تاکید کرتے ہیں کہ جب خدائے متعال کو یاد کرنا چاہو تو پہلے اس کی عظمت و جلال کا تصور کرو۔ یاد رکھو کہ جو خدا وند تمام کائنات کا خالق ہے اور تمام چیزیں اس کی قدرت میں ہیں' جس طرح بے انتھا عظمت و جلال کا مالک ہے اس کا نام بھی بے انتہا عظمت و جلال کا مالک ہے' اس جہت سے اس کی عظمت و کبریائی کا تصور کرو۔ یہ اس صورت میں ممکن ہے جب تمھاری روح اور دل میں خدائے تعالیٰ کی عظمت پیدا ہوجا ئے' تاکہ خشوع و خضوع کے ساتھ اس کا نام زبان پر جاری کرو۔ ایسا نہ ہو کہ جاہل لوگوں کی طرح جو کسی توجہ کے بغیر خدا کا نام زبان پر لیتے ہیں عادت کے طور پر خدا کا نام زبان پر جاری کرو۔

وہ ذکر انسان کی روح ونفس پر اثر کرتا ہے'جو ذکر نماز قائم کرنے میں اطمینان قلب اور مقصد شمار ہوتا ہے' وہ ذکر انسان کی روحی و معنوی بلندی کا سبب اور دنیوی و مادی افکار کو چھوڑنے کا باعث نیز ابدی آخرت اور خدا کی نعمتوں کے وسیع ہونے کا ذریعہ ہوتا ہے جو انسان کا خدا کے ساتھ رابطہ مستحکم اور مضبوط کرے ' جو اس کے معنی و مفہوم کو ملحوظ رکھ کرنیز خدائے متعال کو حاضر و ناظر سمجھ کر زبان پر جاری ہوتا ہے۔ یہ وہی ذکر ہے جس کی توصیف میں خدائے متعال فرماتا ہے:

( اِنَّمَا الْمُومِنُونَ الَّذِینَ اِذَاذُکِرِ ﷲ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ) (انفال٢)

بیشک مومنین وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل لرز نے لگتے ہیں

آخرمیں مناسب ہے کہ بعض اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذکرا ور یاد خدا کی مقدار کی توصیف کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کے کلام کا ملا حظہ کریں:

''...لقدرأیت اصحاب محمد صلی ﷲ علیه و آله وسلم فما اَریٰ احداً منکم یشبههم' لقد کانوا یصبحون شُعثاً غُبَراً وقد باتوا سُجداً و قِیَاماً یُراوحُونَ بین جِبٰاهِهِم وخُدودِهِم و یَقِفون علی مثل الْجمر من ذکر مَعٰادهم کأَنَّ بین اعیُنِهم رکب المِعزیٰ من طول سجودهم ...''(۷)

میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا ہے میں نہیں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ان کے مانند ہوگا۔ وہ صبح سویرے بکھرے ہوئے بال اور غبار آلود ہوتے تھے کیونکہ وہ رات بھر قیام و سجود کی حالت میں بیدار رہتے تھے، گاہے اپنی پیشانی کو اور گاہے اپنے رخسار کو خاک پررکھتے تھے۔ قیامت کی یاد میں چنگاری اور آگ کے شعلے کی طرح جلتے ہوئے کھڑے رہتے تھے (اضطراب و پریشانی کی شدت سے) گویا ان کی پیشانیوں پر طولانی سجدوں کے سبب بکریوں کے زانوؤں کے مانند گھٹے پڑجاتے تھے۔

____________________

١۔ بحار الانوار ، ج٧٢طبع بیروت ص٤٦٨

٢۔ اصول کافی (ترجمہ) ج٤،ص ٢٥٤،ح٣

۳۔عدہ الداعی،ص٢٣٨

۴۔اصول کافی ( با ترجمہ) ج٤ص٢٦١،ح١

۵۔اصول کافی ( با ترجمہ) ج٤ص٢٦٤،ح٣

۶۔المیزان ،ج٢ص٨١

۷۔ نہج البلاغہ ( ترجمہ فیض الاسلام ) خطبہ ٦٩ص٢٨٦


انیسواںسبق

فرشتوں کی نظر میں خدا کی عظمت کا مقام

*امید و خوف کیپیدا ہونے کے اسباب

* خوف و حشت کی حقیقت و ماہیت

*خوف الہٰی کا فائدہ اور اس کا مرتبہ

*بزرگان دین اور اولیاء الٰہی کے خوف کا مرتبہ

*انسان کا کمال اور حق کے مقابلے میں اس کا احساس حقارت

*خوف الہٰی اور گناہ' شہرت اور جاہ طلبی سے پرہیز

*خدا کے دوستوں اور فرشتوں کے خوف کے مرتبہ پر توجہ کرنے کا اثر

فرشتوں کی نظر میں خدا کی عظمت کا مقام

''یَا اَبَاذَرٍ: اِنَّ ِﷲِ مَلائِکَةً قِیٰاماً مِنْ خیفَتِهِ مَا رَفَعُوا رَؤُسَهُمْ حَتّٰی یُنْفَخُ فِی الصُّورِ النَّفْخَةُ الاٰخِرَةُ فَیَقُولُونَ جَمِیعاً: سُبْحَانَکَ وَ بِحَمْدِکَ مَا عَبَدْنَاکَ کَمَا یَنْبَغِی لَکَ اَنْ تُعْبَدَ''

''اے ابوذر: خدائے متعال کے کچھ فرشتے ہیں جو اسکے خوف سے کھڑے اپنے سروں کو جھکائے ہوئے ہیں اور قیامت تک اسی حالت میں رہیں گے' یہ سب کہتے ہیں: تو پاک و پاکیزہ ہے اور حمد ثنا کا مستحق ہے' ہم نے تیری اس طرح بندگی نہیں کی جس کا تو سزاوار اور اہل ہے۔''

اس سے پہلے ہم نے خدا کی یاد اور اس کے ذکر پر بحث کی۔ کہا گیا کہ ذکر اوریاد خدا خشوع و خضوع اور قلبی توجہ کے ساتھ انجام دیا جاناچاہئے' نہ کہ عادت کے طور پر فقط زبان سے۔ اب بحث یہ ہے کہ کونسی چیز انسان کے لئے ذکر کے وقت توجہ اور حضور قلب پیدا کرنے کا باعث ہے۔ اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ذکر کے وقت خدا کی توجہ پیدا کرنے اور اس کے حضور کو درک کرنے میں حیرت انگیز حد تک مؤثرہے۔

امید و خوف کے پیدا ہونے کے اسباب:

طبیعی طور پر اختیاری کاموں میں انسان کا انگیزہ نفع کی امید اور نقصان کا خوف ہوتا ہے،لیکن نفع و نقصان کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ بعض افرادکے لئے انہی دنیوی منافع و امکانات میں نفع ہے اور بعض افراد کے لئے آخرت کیجزا اوروہاں کی نعمتوں میں نفع ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کیلئے مادی اور دنیوی نقصانات مدنظر ہیں اور بعض لوگوں کے لئے اخروی نقصانات اور وہاں کے عذاب کو اہمیت حاصل ہے۔ ان دونوں گروہوں سے بالاتر اولیا الہٰی ہیں جن کا نفع حضور الہٰی کا ادراک اور رضوان الہٰی سے لذت کا احساس ہے اور ان کا نقصان اس سعادت و کمال سے محروم ہوجانا ہے۔ ان کو لقاء اللہ سے محروم ہونے کا خوف ہوتا ہے اور بیشک یہ خوف دوسروں کے دنیوی یا اخروی نقصانات کے خوف سے زیادہ ہے۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مطلب ہمارے لئے نا معلوم اور ہمارے فہم و ادراک سے دور ہے' آیات و روایات سے اجمالی طور پر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس قسم کا خوف بھی موجود ہے۔ (امید ہے خدائے متعال اہل بیت علیہم السلام کے نورانی کلمات سے استفادہ کرنے کی برکت سے اس معنی کو درک کرنے کی توفیق و لیاقت عنایت فرمائے)

بہرحال خوف الہٰی یا وہ خوف جو خود انسان کے توسط سے پیدا ہوتا ہے، جسے خدا دور کر سکتا ہے۔ اس امر کا باعث ہوتا ہے کہ انسان خدا کی طرف عمیق توجہ پیدا کرے اور اسی طرح ثواب و پاداش کی امید اور وہ چیز جو خدا اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے' یا لقاء اللہ کا شوق بھی خدا کی طرف زیادہ متوجہ ہونے کا سببہے' اگرچہ اکثر لوگوں کے لئے خوف انسان کو برانگیختہ کرنے اور وادار کرنے میں نمایاں رول ادا کرتا ہے تاکہ انہیں فعالیت کے لئے مجبور کرے اور غفلت سے باہر نکال کر نفع و نقصان کے خطرے سے آگاہ کرے۔ ہر ایک انسان اپنا امتحان لے سکتا ہے جب وہ ایک خطرناک خبر سنتا ہے اور اسے معلوم ہوتا کہ وہ غیر معمولی اور زبردست نقصان سے دو چار ہونے والا ہے' تو وہ زیادہ سے زیادہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح وہ اس خطرے کو اپنے سے ٹال دے نہ کہ نفع و ثواب کی توقع کرتا ہے؟

ہمارے لئے ضرر اور نقصان کو دور کرنا نفع حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ شاید اسی نکتہ کے پیش نظر قرآن مجید میں انذار (ڈرانے) کو تبشیر و بشارت سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے' انبیاء کو ''نذیر'' کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے' بعض آیتوں میں پیغمبرکو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا دونوں ہی صفات سے یاد کیا گیا ہے ۔ جیسے اس آیت میں :

(...( فَبَعْثَ ﷲ النَّبِیِینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ ) ...'' (بقرہ٢١٣)

''پھر اللہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے...''

ایسی جگہیں کم ہیں جہاں پر انبیاء صرف ''بشیر و مبشر'' کے عنوان سے ذکر ہوئے ہیں لیکن ان کو ''نذیر'' کے عنوان سے زیادہ یاد کیا گیا ہے' جیسے آیہ شریفہ:

( تَکَادُ تَمَیِّزُ مِنَ الْغَیظِ کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیهَا فَوج سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَا اَلَمْ یَا تِکُمْ نَذِیر ) .(ملک٨)

قریب ہے کہ جہنم غیظ و غضب کی شدت سے پھٹ پڑے جب بھی اس میں کسی گروہ کو ڈالا جائے گا تو داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟

(پیغمبروں کو ڈرانے والوں کی حیثیت سے تعارف کرانے میں تاکید اس لئے ہے کہ ان لوگوں کے لئے ڈرانا زیادہ مؤثر ہے بہ نسبت نیک اعمال کو انجام دینے کی بشارت دینے سے )

خوف خدا ' منجملہ ان حالات میں سے ہے جس سے انسان کے لئے بہت سے فوائدے ہیں' خاص کر اگر یہ ملکہ کی صورت میں حاصل ہو جائے' جیسا کہ بیان کیا گیا' اس کے من جملہ آثار و فوائد میں خدا کی یاد اور اس کی طرف عمیق توجہ ہے۔ اگرچہ یہاں پر علمی مسائل پر بحث کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن بہتر سمجھنے کے لئے خدا کے خوف کے بارے میں نقل کی گئی روایتوں اور خوف الہٰی کا انسان کے قلب و روح پر پڑنے والے گہرے اثرات سے مربوط بعض مسائل پر روشنی ڈالیں گے:

خوف وخشیت کی حقیقت و ماہیت:

من جملہ بحثوں میں ایک بحث یہ ہے کہ خوف کی حقیقت کیا ہے اور کونسے عوامل اس کے پیدا ہونے میں موثر ہیں اور اس کے کونسے آثار ہیں؟ کیا خوف و خشیت میں کوئی فرق ہے؟ ایسی بحثیں بیشتر لغوی پہلو رکھتی ہیں اور مناسب ہے خوف و خشیت کی حقیقت اور ان کے فرق کو سمجھنے کے لئے آیات و روایات پر بحث کی جائے۔ آیات و روایات میں خوف و خشیت کے عملی مواقع کے پیش نظر ان دونوں میں کوئی نمایاں فرق کا مشاہدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ بعض مواقع پر ایک دوسرے کی جگہ پر بھی استعمال ہوئے ہیں۔

جب انسان عظمت الہٰی ا دراک و احساس کرتا ہے تو اس میں اپنی ناکامی و حقارت کا احساس اورخضوع و خشوع پیدا ہوتا ہے۔ اس نفسیاتی حالت اور رد عمل کو خدائے متعال نے انسان کی سرشت میں قرار دیا ہے۔ (البتہ یہ حالت اور رد عمل خود انسان سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ دوسری زندہ مخلوقات بھی اپنے سے قوی ترکے مقابلے میں یہ احساس رکھتی ہیں)۔ عام طور پر اس حالت کی ''خشیت'' سے بھی تعبیر کی جاتی ہے اور خوف بھی خشیت کی جکہ پر استعمال ہوتا ہے۔ جب انسان دوسرے کی عظمت کو درک کرتا ہے، حتی اگر خطرے اور نقصان کا بھی احساس نہ ہو،تب بھی وہ اپنے اندر پستی اور ناکامی کی کیفیت محسوس کرتاہے، گویا اس نے اپنا وجود کھو دیا ہے۔

بعض اوقات خوف، ترس کے معنی میں ایک ایسے نقصان کے بارے میں ہوتا ہے جس سے انسان کو سامنا ہوتا ہے، غالباً خوف اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ فطری طور پر خدائے متعال کے بارے میں خوف کا استعمال عذاب و مجازات الہٰی سے ترس کے معنی میں ہے کہ جو انسان کے بُرے اعمال کے مقابلہ میں ممکن ہے حاصل ہو۔

اولیاء الہٰی اور عبودیت و بندگی کے بلند مقامات پر فائز افراد کے بارے میں ، خوف، بعض اوقات عظمت الہٰی پر توجہ کرنے سے وجود میں آتا ہے اور بعض اوقات حضورا ور لقاء الہٰی سے محروم ہونے کے احتمال کے نتیجہ میں ، کیونکہ لقاء الہٰی اور اس کے حضور میں حاضر ہونا ایک قطعی و حتمی امر نہیں ہے اور ممکن ہے یہ زائل ہوجائے یا اصلاً محقق نہ ہو۔ اس بنا پر اس معنی پر توجہ کرنا اولیاء الہٰی کے خوف کا سبب ہے، کیونکہ معرفت الہٰی کی منزل پر پہنچے ہوئے انسان کے لئے خدا سے ملاقات اور اس کے حضور میں پہنچنے کا افتخار سب سے بڑی سعادت و منزلت ہے اور ایسے افراد کے لئے سب سے بڑی لذت بارگاہ الہٰی میں حاضری کا احساس ہے۔ اس مرحلہ سے بڑھ کر یہ کہ ہم بخوبی درک کرتے ہیں کہ خدائے متعال کی خوشنودی کسی قدر ہمارے لئے لذّت بخش ہے۔

جو عاشق احساس کرتا ہے کہ اس کا معشوق اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے راضی ہے، وہ اس امر سے ڈرتا ہے کہ کہیں اپنے معشوق کی خوشنودی، رضایت اور محبت سے محروم نہ ہو جائے، محبت کی منزل تک پہنچنے ہوئے انسان کے لئے یہ سب سے بڑا خوف ہے۔ اس سے کم درجہ کا خوف، وہ خوف ہے جو خدا کے اخروی مجازات وعذاب کے بارے میں ہوتا ہے۔ خوف کی اس قسم کے بارے میں بہت سی قرآنی آیات موجود ہیں۔ یہ مرحلہ ہمارے لئے اس سے بالا تر مراحل تک پہنچنے کے لئے وسیلہ کا کام کرتا ہے، چونکہ ہمارے لئے خوف الہٰی کی یہ متوسط حالت ہے اس لئے کہ ہم معرفت کے بلند مقامات تک نہیں پہنچے ہیں۔ یہ حالت ہمارے لئے سبب ہے کہ ہم دنیا اور اس کی لذتوں سے بے اعتنا ہوجائیں اور یہ بذات خود گناہ اور دنیوی آلودگیوں سے پرہیز کا ایک عامل ہے۔ البتہ یہ کوئی کم چیز نہیں ہے کہ انسان میں دنیا پرستی سے بچنے اور گناہ سے پرہیزکرنے کے لئے ایک داخلی عامل پیدا ہوجائے۔

پست ہمت لوگوں کے لئے' خدا سے خوف دنیوی مشکلات اور پریشانیوں سے خوف کے معنی میں ہے۔ اس امر سے خوف ہے کہ ایسا نہ ہو کہ خدا انہیں بیمار کر دے' ایسا نہ ہو کہ ان کی عزت چلی جائے اور وہ ذلیل و خوار ہو جائیں اور لوگوں کی نظروں میں گر جائیں یا ڈر اورخوف اس چیز سے کہ کہیں اپنے کسی عزیز کو کھو دیں۔ (خدا پر ایمان رکھنے والوں کے لئے گرفتاریوں' مصیبتوں اور پریشانیوں سے خوف ایک قسم کا خوف الہٰی ہے اور یہ خوف اجمالی طور پر مطلوب ہے اور انبیاء کا ڈرانا اکثر اسی قسم کے خوف الہٰی سے مربوط ہے۔)

خوف الہٰی کا فائدہ اور اس کا مرتبہ:

گفتگو خوف الہٰی کے فائدے اور اس کے مطلوب ہونے کے بارے میں ہے۔ خوف الہٰی کی کیا اہمیت و منزلت ہے کہ اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ انسان کو چاہئے کہ کوشش کرے تاکہ خوف کے مقام اور اس کی عظمت کو درک کرلے اور اس کی راہ کو پہچان لے؟حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو خوف الہٰی کے فوائد اور خوبیوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں خوف الہٰی کے بارے میں بہت سی آیات نازل ہوئی ہیں اور خدا سے ڈرنے والوں کی ستائش کی گئی ہے' لیکن یہ نہیں جانتے ہیں کہ خوف خدا کے اندر ان کے لئے کیا فائدہ پوشیدہ ہے۔ جب انبیاء الہٰی بزرگان دین کے متعلق خوف الٰہی کا ذکر آتا ہے اور تو یہ لوگ تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں' کہ انسان کیوں اس قدر خوف زدہ اور گریہ کناں ہو کہ آشوب چشم میں مبتلا ہو جائے اور ان کے چہرے مضمحل ہو جائیں۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں (انبیاء کے درمیان ان کا درجہ خوف الہٰی کے حوالے سے زیادہ نمایاں تھا)روایت ہے کہ خدائے متعال کے خوف میں اس قدر روتے تھے کہ ان کی آنکھیں اور چہرہ زخمی ہوجاتے تھے' یہاں تک ان کی والدہ نمدکے ٹکڑے ان کے چہرے پر رکھتی تھی تاکہ اس کے آنسوچہرہ کے زخموں کو کم اذیت پہنچائیں۔ جب انسان ان رودادوں کو سنتا ہے تو تعجب کرتا ہے اور اسک ے دل میں آتا ہے کہ کیا ایک پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کواس قدر ڈرنا چاہئے: اگر ہم میں سے کسی کی یہ حالت ہو جائے اور اس طرح خداسے ڈر نے لگیں کم ازکم یہ کہیں گے کہ اس کی حالت غیر طبیعی اور غیر معمولی ہے!

اگر ہم قرآن مجید کی آیات پر پندو عبرت کی نگاہ سے نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہوگا کہ راہ سعادت میں انبیا کی ہدایت و رہنمائی سے بہرہ مند ہونے کیلئے خوف کو شرط کے عنوان سے ذکرکیاگیا ہے:

( اِنَّمَا تُنْذِرُمَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَاَجرٍ کَرِیمٍ ) ( یٰش١١)

''آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو آیات قرآن کی اتباع کریں اور بغیر دیکھے غیب کی حالت میں خدا سے ڈرتے رہیں انہیں لوگوں کو آپ مغفرت اور باعزت اجر کی بشارت دیں''۔

اس آیت میں خدائے متعال پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گوش گزار کرتا ہے کہ اپنی دعوت اور ہدایت کا رخ ان لوگوں کی طرف موڑو جو دل میں خدا کا خوف رکھتے ہیں اور ابھی ان کی فطرت گناہ و معصیت کی تاریکی سے مکمل طور پر آلودہ نہیں ہوئی ہے۔ یہی لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت و تربیت سے بہرمند ہو سکتے ہیں' نہ کہ وہ لوگ جو خدا سے کسی قسم کا خوف اور ڈر نہیں رکھتے اور لاپروائی کے عالم میں بے خوف و خطر گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بیشک ان لوگوں کے دل تاریک ہیں اور پتھر سے سخت تر ہیں اور ان میں روشنی اور نور کے لئے کوئی دریچہ باقی نہیں رہا ہے۔

ایک دوسری آیت میں پروردگار عالم فرماتا ہے:

( وَاَمَّامَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَویٰ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاویٰ ) (نازعات٤٠-٤١)

''اور جس نے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا انھیں لوگوں کا ٹھکانہ بہشت و جنت ہے۔''

یقیناً خوف' رجا و امید کے مقابلہ میں ہے اور خدائے متعال فرماتا ہے: ''من خاف مقام ربہ'' یہ نہیں فرماتا ہے: ''من رجا مقام ربہ''۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خوف خدا ہوائے نفس کی سرکشی سے پرہیز اور ہدایت کی راہ میں قدم بڑھانے کا سبب ہے اور رحمت خدا کی توقع اور امید اس قدر اثر نہیں رکھتی۔

ایک دوسری آیت میں ' خدائے متعال اہل ایمان اور عمل صالح انجام دینے والوں کی عظمت و منزلت بیان کرنے کے بعد بہشت اور اس کی نعمتوں کو ان لوگوں سے مخصوص جانتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں:

( جَزَاؤُهُمْ عِنْدَرَبِّهِمْ جَنَّاتُ َعدنٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا اَبَداً رَضِیَ ﷲ عَنْهُمْ وَ رَضُواعَنْهُ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهُ ) (بینہ٨)

پروردگار کے یہاں ان کی جزا وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ' خدا ان سے راضی ہے اور وہ لوگ خدا سے راضی ہیں اور یہ سب اس کے لئے ہے جس کے دل میں خوف خدا ہے۔

ایک دوسری آیت میں مقام ربوبیت کے سامنے خوف' خشیت' فروتنی' خضوع و خشوع کو علمائے الہٰی کی نمایاں خصوصیات کے طور پر بیان کرتا ہے:

( اِنَّمَا یَخْشَی ﷲمِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَائُ ) (فاطر٢٨)

لیکن اللہ سے ڈرنے والے اس کے بندوں میں صرف صاحبان معرفت ہیں۔

ایک دوسری جگہ پروردگار عالم مسلمانوں کو ظالموں اور ستمگروں کے خوف سے نکال کر اپنے خوف کا حکم دیتا ہے:

(...( .فَلاَ تَخْشَوهُمْ وَاخْشَونِی وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ ) (بقرہ١٥٠)

''ان(ظالموں) کا خوف نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈرو کہ ہم تم پر اپنی نعمت تمام کرنا چاہتے ہیں کہ شاید تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ۔

نیز ایک دوسری جگہ پر فرماتا ہے:

( اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیطَانُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَائَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) (آل عمران١٧٥)

یہ شیطان صرف اپنے چاہنے والوں کو ڈراتا ہے' لہذا تم ان سے نہ ڈرو اور اگر مومن ہو تو مجھ سے ڈرو۔

بزرگان دین اور اولیاء اللہ کے خوف کا مرتبہ:

خوف الٰہی کی قدر و منزلت اور اس کے بارے میں کی گئی ستائش کے پیش نظر ' ہم دیکھتے ہیں کہ اولیائے خدا اس حالت اور کیفیت کو اپنے اندر زندہ کرتے تھے۔ ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ ااطہار علیہم السلام کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کر تے ہیں تو عجیب و غریب حالات سے دو چار ہوتے ہیں کہ اگر ان کے بارے میں ایک دو روایتیں نقل ہوئی ہوتیں' تو انسان کو ان حالات کے بارے میں شک کرنے کا حق تھا' لیکن ان کے بارے میں ایک دو روایتیں نقل نہیں ہوئی ہیں بلکہ ان حالات کے بارے میں بہت ساری روایتیں بصورت تواتر نقل ہوئی ہیں۔ یہاں تک جب ہم حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کابہ غور مطالعہ کرتے ہیں' تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گریہ و زاری اور مناجات کا ایک ایسا لا متناہی سلسلہ ہمارے ذہن میں ابھرتا ہے کہ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کو خوف خدا کے بغیر تصور نہیں کیا جا سکتا ہے' اور اسی طرح حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی شخصیت کو بھی خوف و خشیت الہٰی کے بغیر تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دعائے ابو حمزہ ثمالی اور آپ کی دوسری تمام مناجات آپ کے غیر معمولی خوف خدا کے وجود کی واضح نشانیاں ہیں' جو ہمارے لئے قابل تصور نہیں ہیں۔

روایت میں نقل ہوا ہے کہ وضو کرتے وقت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی حالت متغیر جاتی تھی اور آپکا پورا وجود کانپ اٹھتا تھا۔ اسی طرح حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کے بارے میں نقل ہوا ہے جب آپ مسجد کے نزدیک پہنچ جاتے تھے' تو آپ کے چہرے کا رنگ متغیرجاتا تھا اور تکبیر کہتے وقت آپ کا بدن کانپ اٹھتا تھا۔ اسی طرح دوسرے معصومین علیہم السلام اور حضرت فاطمہ زہرا کی بھی خدا کے حضور میں یہی حالت ہوا کرتی تھی۔

خوف الہٰی کو اپنے اندر زندہ رکھنے کی اس قدر تاکیدنیز' بزرگان دین کی رفتار میں اس حالت کا ظہور' انسان سازی' تکامل و ترقی ہدایت و بندگی کی راہ کو حاصل کرنے کے لئے خوف الٰہی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ بیشک خوف سے مخصوص مراتب کے آثار و فوائد متفاوت ہیں۔ جب ہم اپنے حالات کی تحقیق کر تے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر خوف الہٰی کی ایک معین حد موجود ہے اور اس کے اپنے خاص فوائد ہیں۔ لیکن جب ہم ایسے افراد کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں جو معرفت کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں اور خدا کی معرفت میں ہم سے آگے بڑھ چکے ہیںاور کمال کی آخری منزل تک پہنچے ہیں' تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدائے متعال سے ان کا خوف و ہراس کی کوئی اور ہی صورت ہے اور اس کے آثار و نتائج بھی مختلف ہیں۔

البتہ خوف الہٰی کی منزلت اور اس کے آثار و فوائد کوبیان کرنا مشکل ہے۔ اس مطلب کو کسی حد تک واضح کرنے کے لئے اس مثال کو بیان کرنا ضروری ہے: جب انسان اپنے مقابلہ میں کسی کی عظمت کو دیکھتا ہے تو اس کے یہاں ایک ایسی حالت پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ احساس کرتا ہے کہ اپنی ہستی کھو بیٹھا ہے، خود کو گم کر دیا ہے یہاں تک کہ اسے اپنے وجود کا احساس نہیں رہتا۔ دوسرے الفاظ میں جب انسان کسی عظمت کا احساس کرتا ہے تو اس کے آگے وہ پگھل جاتا ہے' اسی طرح جیسے برف آفتاب کی روشن شعاعوں سے پگھل جاتی ہے اور پانی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ پگھل جانا اور اپنے آپ کو بھول جانا خود ایک خاص قسم کی کیفیت حالت ہے جو خدا کی عظمت کو درک کرنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔

گزشتہ بحثوں اور اس موضوع پر اخلاق و عرفان کی کتابوں میں لکھے گئے مطالب کے پیش نظر' جب انسان کمال تک پہنچتا ہے تو وہ خدائے متعال اور اس کی بے انتہا عظمت کے سامنے خود کو حقیر' حد درجہ ذلیل اور پست تصور کرتا ہے۔ عرفا نے اس مرحلہ کو مقام ''فنا'' سے تعبیر کیا ہے اس صورت میں انسان اپنے آپ کو کھو دیتا ہے اور خود کو احساس نہیں کرتا وہ صرف خدا اور اس کی عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے' اور نتیجہ کے طور پر خدا کا قرب حاصل کرتا ہے اور خدا سے اپنے رابطہ کو صحیح طریقہ سے درک کرتا ہے۔ اہل فن کے بقول وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ خدا سے تعلق کے علاوہ کو ئی چیز نہیں ہے۔

اگر چہ یہ بیان دلکش ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس مرحلہ اور منزل تک پہنچے ہیں اور ہم اس مرحلہ سے بہت دور ہیں۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ چند اصطلاحات کو یاد کرلینے سے ہماری مشکل حل ہوجائے گی' ہماری مشکل صرف حقائق تک پہنچ کر ہی حل ہو سکتی ہے اور وہ خدا کی بندگی و اطاعت اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی سیرت کی پیروی میں ممکن ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے تاکہ ان کی راہ پر گامزن ہو کر خوف و خشیت الٰہی کی ایک کرن اپنے دل میں پید کر لیں تاکہ اپنی استطاعت اور لیاقت کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ سے قریب اور نزدیک ہو جائیں۔ان بلند مدارج پر توجہ اور ان کے وجود کا اعتراف ہمارے لئے مفید ہے' اس شرط کے ساتھ ہم مغرور نہ ہو ں اور خیال نہ کریں کہ ہم بھی ان مقامات تک پہنچ گئے ہیں۔

انسان کا کمال اور حق کے مقابلے میں ذلت و حقارت کا احساس:

بیشک، انسان کا کمال اس میں ہے کہ وہ خدا کے سامنے پانی پانی ہو جائے اور اپنے لئے کسی آزادی کا قائل نہ ہو اور خود کو وابستہ ا ور خدا وند متعال کا محتاج جانے، جس قدر وہ اپنے آپ کو محتاج اور خدا کے سامنے حقیر تصور کرے گا، خدا سے زیادہ نزدیک ہو تاجائے گا۔ اس کمال تک پہنچنے کا راستہ یہ ہے کہ جب انسان عظمت الہٰی کو درک کرتا ہے، تو اس کے اندر اپنی کوتاہی اور ذلت کا احساس پیدا ہوتا ہے جو شخص۔ کمال و معرفت بندگی و اطاعت کے بلند درجات کا طلب گار ہے اس کے لئے یہ بہترین راستہ ہے۔

ہم، جو خوف کوغیر مطلوب و ناپسندیدہ حالت تصورکرتیہیں، یہ سنتے ہوئے تعجب کرتے ہیں کہ اولیاء الہٰی حالت خوف سے لذت محسوس کرتے تھے، اور اگر اس حالت کو کھو جانے کی صورت میں دوبارہ کوشش کرتے تھے تاکہ اسے پھر سے حاصل کریں۔ یہ خوف وہراس ان کے لئے اس قدر پسندیدہ و لذت بخش ہے کہ کبھی اسے اپنے سے جدا ہونا پسند نہیں کرتے! چونکہ ہم اس مرحلہ تک نہیں پہنچنے ہیں، لہذا اس کے بارے میں صحیح ادراک نہیں کرتے ہیں اور حقیقت میں اسے بیان نہیں کرسکتے۔ لیکن جو کچھ ہمیں اولیاء الہٰی کی زندگی کی داستان سے حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ جو انتہائی محبت رکھتے تھے، محبوب کی راہ میں درد و کرب سے لذتمحسوس کرتے تھے۔ اس کے فراق میں رونے سے انھیں سکون کا احساس ہوتا تھا۔ باوجو داس کے کہ رونا غم واند وہ کی علامت ہے لیکن چونکہ یہ معشوق کے لئے ہے اسلئے ان کے لئے لذت بخش ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ خدا کا خوف اولیاء خدا کے لئے پسندیدہ اور اصلاحی ہے اور عظمت الہٰی کے آگے آب آب ہونے اورخوف و خشیت کی حالت پیدا کرنے سے ناراض نہیں ہوتے، وہ کم از کم اتناجانتے تھے کہ یہ بذات خود ایک ایسی بے نہایت اور ابدی لذت تک پہنچنے کا مقدمہ ہے، جس کے بعد کسی اور لذت کا وجود نہیں ہے۔

لہٰذا، اولیاء الہٰی اور بزرگانِ دین خوف الہٰی کو اہمیت دیتے تھے، کیونکہ اسے نفس کی سرکشی اور اس کے بے مہار ہونے نیز استغنا اور خود پسندی جیسی بیماریوں سے نجات پانے کا بہترین عامل سمجھتے تھے۔ اسی طرح یہ حالت ان کے لئے مقام ''فنا'' تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ تھی۔

اس سلسلہ میں جس مطلب کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ بعض افراد جب چند عرفانی اصطلاحات، جیسے ''مقامِ محو و فنافی اللہ'' کو یاد کرتے ہیں تو خیال کرتے ہیں عارف بن گئے ہیں اور کسی مقام پر پہنچ گئے ہیں! بہتر ہے یہ لوگ اپنے کو کسوٹی پر قرار دیں اور امتحان کریں کہ کیا ان کے دل میں خوف خدا جیسی حالتیں پیدا ہوئی یا نہیں، کیا ان کی زندگی میں کبھی کوئی ایسی رات گزری ہے جب انہوں نے خدا کے خوف میں صبح تک شب بیداری کی ہو؟ کیا کبھی ان کی آنکھیں رونے سے مجروح ہوئی ہیں؟ انسان کے لئے یہ دعویٰ کرنا آسان ہے کہ وہ لقا ء اللہ کی منزل تک پہنچاہے اب ان حالات و مقامات سے کوئی سروکار نہیں ہے، لیکن ہمیں توجہ کرنی چاہئے کہ کیا حضرت یحییٰ کے وصال کی حالت کا جیسا ایک ذرہ ہم میں پایا جاتا ہے؟ کیا ان حالات کا ہم میں کوئی اثر نمایاں ہے؟ چند اصطلاح کو یاد کرنے اور دعویٰ کرنے سے کوئی عارف نہیں بنتا ہے۔ یہ ایک طولانی اور پُر خطر راستہ ہے، اس مرد بزرگ الہٰی، مرحرم آیت اللہ شیخ محمدتقی آملی کے بقول: اس راستہ کو طے کرنا، پلکوں سے پہاڑ کھود نے کے مترادف ہے!

اگر کوئی معرفت الہٰی کے راستہ کو طے کرنا چاہے، تو اسے مشکلات، ریاضت اور شب بیداری کی سختیوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے، چاہئے کہ خدا رسیدہ افراد کے مانند راستہ کو طے کرے دیکھنا چاہئے کہ اولیاء الہٰی جیسے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت سجاد علیہ السلام نے کس طرح اس راستہ کو طے کیا ہے۔

خوف الہٰی اور گناہ، شہرت و جاہ طلبی سے پرہیز:

گزشتہ بحث کے مطابق، منجملہ خوف الہٰی کے آثار میں سے۔ بلند معنوی درجات پر فائز ہونے والوں کے لئے۔ فنافی اللہ ہے، لیکن عام لوگوں کے لئے خوف الہٰی کا بلند ترین اثر گناہ سے پرہیز کرنا ہے۔ جب انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ اس کے ساتھ نفع حاصل کر نے یا نعمت یالذت کو پانے کے درپے ہوتا ہے، خواہ وہ لذت حقیقی ہویا خیالی، خواہ وہ لذت شہوانی ہویا بہ عنوان شہرت و مقام کوئی لذت ہو۔ جو چیز انسان کواس طرح کے گناہ و انحراف سے دو چار ہونے اور باطل عوامل سے نجات دیکر شیطان کے پھندے سے آزاد کر سکتی ہے، وہ خداء متعال کا خوف ہے۔ گناہ کے بُرے آثار انسان کو ابدی اور پائدار اخروی نعمتوں سے محروم کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ (یقینا جس قدر خدا کا خوف زیادہ ہوگا اس کا اثر بھی زیادہ ہوگا)

ایک روایت میں آیا ہے کہ اگر کسی دل میں خوف خدا ہو تو اس میں مقام وجاہ طلبی کی محبت نہیں ہوگی۔ یعنی جو خدا سے ڈرتا ہے وہ جاہ طلب نہیں ہے وہ لوگوں میں محبوبیت پیدا کرنے اور شہرت کے پیچھے نہیں دوڑتا ہے۔ جاہ طلبی انسان کے لئے سب سے بڑی آفت ہے۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مومنین کے لئے سب سے بڑی آفت حبِ مال وحب جاہ ہے۔ یعنی جاہ طلبی اور ریاست طلبی آخری ناپسندیدہ صفت جو صد یقین کے دلوں سے خارج ہوتی ہے کاجوشی علاج کرسکتی ہے وہ خدا کا خوف ہے۔

یقینا جس نے عظمت الہٰی کو درک کر لیا اور خدا کے مقابل میں اپنی حقارت اور پستی کو اچھی طرح سے سمجھ گیا اور اس بات سے آگاہ ہوگیا کہ گناہ و عصیان کا دنیا و آخرت میں کتنا خطرناک انجام ہے ، تو وہ شہرت طلبی و جاہ طلبی کی ہوس کو اپنے دماغ سے نکال باہر کرتا ہے۔ لہٰذا، خوف الہٰی کا سب سے بڑا اثر اپنے آپ کو گناہ میں آلودہ کرنے سے پرہیز کرنا ہے۔البتہ جن کی معرفت مکمل ہوتی ہے ان کے دل میں خدا کی محبت جاگزین ہوتی ہے۔ اور وہ خدا سے ملاقات کا شوق رکھتے ہیں اور ان کی یہی محبت الہٰی اور خدا سے ملاقات کا شوق اس امرکا سبب بنتا ہے کہ اپنے معشوق کے علاوہ دوسروں سے چشم پوشی کرے، لیکن یہ مرتبہ انھیں سے مخصوص ہے جو اس کے اہل ہیں اور ہم حب الہٰی کے اس مرتبہ تک نہیں پہنچے ہیں۔ تنہا جو چیز ہم سے ممکن ہے وہ اپنے دلوں میں خوف الہٰی کو تقویت بخشنا ہے تاکہ اس کے اثر سے ہم گناہوں سے بچ سکیں اور رفتہ رفتہ یہ لیاقت پیدا کریں کہ محبت الہٰی کو اپنے دل میں جگہ دیں اس طرح محبت و معرفت الہٰی کے بلند تر ین مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔

خدا کے دوستوں اور فرشتوں کے خوف کے مرتبہ پرتوجہ کرنے کا اثر:

اب جبکہ خوف الہٰی اس کی اہمیت و فوائد کی بات درمیان آگئی تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے تاکہ ہم میں خوف خدا پیدا ہو؟ اس مرحلہ تک پہنچنے کے لئے منجملہ بہترین راستوں میں سے ایک راستہ، خدا کے یہاں عزیز افراد کے مقام خوف پر نظر ڈالنا ہے۔ بیشک ان کے حالات اور خدا سے ان کے بے حد خوف پر توجہ کرنا ہمارے لئے خوف الہٰی کا مقام حاصل کرنے کے لئے بہترین تشویق کنندہ ہے۔ یہ وہی روش ہے جسے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے۔

خدا کے عزیز ترین بندوں میں اس کے ملائکہ ہیں۔ قرآن مجید ان شائستہ بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:

( وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلاَ ئِکَةُ مِنْ خِیفَتِهِ ) (رعد١٣)

''گرج اس کی حمد کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔''

جیسا کہ بیان ہوا کہ عظمت الہٰی کی شناخت اور اس کی طرف توجہ کرنا خدا سے ڈرنے کا سبب ہے، اس کی واضح مثال ہم خدا کے مقرب فرشتوں میں پاتے ہیں۔ چنانچہ پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس روایت میں فرشتوں کے ایک گروہ کی حالت یوں بیان فرماتے ہیں وہ بارگاہ الہٰی میں اپنے آپ کو ایسا حقیر اور پست محسوس کرتے ہیں اور خوف و خشیت میں ڈوبے ہوئے ہیں اپنی پیدائش سے قیامت تک۔ شاید ہزاروں یا لاکھوں سال طولانی مدت سے اس کے آگے۔ کھڑے، سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ شاید قہر الہٰی کے خوف اور شدید اضطراب کی وجہ سے اور بے انتہا خدا کی عظمت کے پیش نظر سر بلند کرنے کی جرأت نہیں کرتے ہیں۔(۱)

جب خدا کے فرشتے جو ہر آلود گی اور گناہ سے پاک ہیں، اس طرح خداکے قہر سے خائف ہو کر بارگاہ الہٰی میں سرتسلیم خم کئے ہوئے اور اپنی ذلت کے احساس کے ساتھ خدا کی بندگی میں کانپ رہے ہیں اور قیامت تک سربلند نہیں کرتے، تو کیا یہ شائستہ نہیں ہے کہ ہم گنہگار ہوا نفس میں گرفتار اور شیطان کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے شرم و حیا کے مارے اپنا سر بلندنہ کریں؟

ملائکہ کی جو حالت خدا کے حضور میں ہوتی ہے اس کے ادنی نمونہ کو ہم اپنے اندر محسوس کرتے ہیں جب ہم اپنے کو کسی بزرگ ترین شخصیت کے سامنے پیش کرتے ہیں، تو خود باختگی کے عالم میں ہم میں بولنے کی سکت نہیں رہتی اور بے اختیار سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ جن لوگوں نے امام خمینی کی شخصیت کو درک کیا تھا اور جن کو ان کے بارے میں مکمل معرفت حاصل تھی، جب ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو امام خمینی کی پرکشش جذاب شخصیت ان کو پگھلا کر رکھ دیتی تھی اور امام خمینی کی عظمت اور ان کی شان و شوکت کے سامنے برف کے مانند پگھل جاتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو قدرت و معرفت کے ایک عظیم پہاڑ کے سامنے محسوس تھے اور خود کو ان کے سامنے ایک معمولی ذرہ تصور کرتے تھے۔ پھر یہ مقام و منزلت ایک بندہ خدا کی ہے!

اسی طرح خدا کے بعض ایسے فرشتے ہیں کہ بزرگ انبیاء بھی مشکل سے ان کی عظمت کو درک کرتے تھے، روایتوں میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام صرف چند بار اپنی اصلی شکل میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں نازل ہوئے ہیں جبرئیل کے تجلی اور ظہور کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشاہدہ فرمایا کہ ان کا نور مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوا ہے:

''عن ابی جعفر علیه السلام قال بینارسول ﷲ صلی ﷲ علیه و آله وسلم جالساً و عنده جبرئیل اذحَانَتْ من جبرئیل نظرة قبِل السماء فانتقع لونه حتیٰ صار کانه کُرکُم ثم لاذَبرسول ﷲ صلی ﷲ علیه و آله وسلم فنظر رسول ﷲ الیٰ حیث نظر جبرئیل علیه السلام فاذا شیً قد ملأ بین الخافِقَینِ مقبلا حتی دنامن الارض'' (۲)

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماتھے اور جبرئیل امین بھی آپ کے پاس موجود تھے۔ اچانک جبرئیل نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور اس سے ایک نور آسمان پر چمکا اور مسلسل اس کا رنگ تیز ہوتا چلا گیا یہاں تک یہ نور زعفرانی رنگ میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد جبرئیل نے اپنے آپ کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور مشاہدہ فرمایا کہ جبرئیل کا نورتمام عالم میں مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوا ہے اور زمین تک محیط ہے۔

البتہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نورانیت جبرئیل کے مقام اور نورانیت سے بالا تر ہے، لیکن یہاں پر چونکہ جبرئیل کا واقعی مقام، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بشری اور انسانی مقام پر جلوہ افروز تھا اس لئے ایسی عظمت کا مشاہدہ گیا۔

____________________

١۔ چنانچہ معارف دین میں آیا ہے کہ صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا: پہلی بار اس وقت جب تمام ذی حیات مر جائیں گے۔ دوسراصور اس وقت پھونکا جائے گا جب قیامت کبریٰ برپاہو گی اور سب زندہ ہوں گے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ پہلے صور پر ملائکہ نہیں مریں گے اور شاید وہ کبھی نہیں مریں گے اور اگر ان کے لئے موت کی نسبت دی گئی ہے تو اس کے لئے کوئی دوسرا معنی تصور کرنا چاہئے۔

۲۔ بحار الانوار ،ج١٦ص٢٩٢


بیسواں سبق:

بہشت و جہنم کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف

*مخلوقات کی عظمت کے بارے میں غور و خوض۔

* قیامت کی ناقابل توصیف عظمت۔

* عذاب جہنم کی تو صیف کی ایک جھلک۔

* جہنم کے جوش و خروش کے مقابلے میں انسانوں اور فرشتوں کا رد عمل۔

*بہشت مومنین اور صالحین کی ابدی قیام گاہ۔

بہشت و جہنم کے بارے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف

''یَا اَبَاذَرٍ؛ وَلَو کَانَ لِرَجُلٍ عَمَلُ سَبعِینَ نَبِیّاً لاَسْتَقَلَّ عَمَلَهُ مِنْ شِدَّةِ مَا یَریٰ یَومَئِذٍ وَلَواَنَّ دَلواً صُبَّ مِنْ غِسْلِینِ فِی مَطْلَعِ الشَّمْسِ لَغَلَتْ مِنْهُ جَمٰاجِمُ مِنْ مَغْرِبِهٰا وَلَوْ زَفَرَتْ جَهَنَّمُ زَفْرَةً لَمْ یَبْقَ مَلَک مُقَرَّب وَلاَ نَبِی مُرْسَل اِلَّا خَرَّجَاثیاً علٰی رُکْبَتَیهِ، یَقُولُ: رَبِّ نَفْسِی نَفْسِی' حَتّٰی یَنْسٰی اِبْرَاهیمُ اِسْحٰقَ، یَقُولُ: یَا رَبِّ اَنَا خَلیلِکَ اِبْرَاهیمُ فَلاٰ تَنْسَنی

یَا اَبَاذَرٍّ؛ لَو اَنَّ اِمْرَأَةً مِنْ نِسَائِ اَهْلِ الْجَنَّةِ اَطْلَعَتْ مِنْ سَمٰائِ الدُّنیٰا فِی لَیْلَةٍ ظَلْمٰائٍ لَاَ ضٰائَتْ لَهَا الَارْضُ اَفْضَلَ مِمَّا یُضیئُهٰا الْقَمَرُ لَیْلَةَ الْبَدْرِ وَلَوَجَدَ رِیحَ نَشْرِهَا جَمیعُ اَهْلَ الْاَرْضِ وَلَوْ اَنَّ ثَوْباً مِنْ ثِیَابِ اَهْلَ الْجَنَّةِ نُشِرَ الْیَوم فِی الدُّنْیَا لَصَعِقَ مَنْ یَنْظُرُ اِلَیهِ وَمَا حَمَلَتْهُ اَبْصٰارُهُمْ''

خوف الہٰی کے مرتبہ و مقام تک پہنچنے کے لئے مختلف راستے موجود ہیں،منجملہ ان میں سے خاصان خدا اور اولیا ء الٰہی کے حالات اور ان کی زندگی کا مطالعہ ہے ، اس لئے کہ انسان ان کی معرفت کے ذریعہ مقام خوف ا ور خشیت الٰہی کی کیفیت کو بہترین نمونہ کے طورپر انتخاب کر سکتا ہے۔ اس لحاظ سے اس روایت میں خدا کے بہترین بندوں اور فرشتوں کا اور ہم نے گزشتہ درس میں اس کے بارے میں بحث کی۔

مخلوقات کی عظمت کے بارے میں غور و خوض

خوف الہٰی کے مقام تک پہنچنے کا دوسرا راستہ خدا کی مخلوق کی عظمت پر تفکر کرنا ہے۔ بیشک انسان مخلوقات کی عظمت کو درک کرنے کی وجہ سے خدا کی بے انتہا عظمت و حکمت نیز صلابت سے استوار آفرینش کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خدائے متعال کے مقابلہ میں اپنی کمزوری، عاجزی اور محتاجی کو بہتر درک کرتا ہے اور اس صورت میں کمال اور بلندیوں تک پہنچنے کے لئے شیطان کی اطاعت اور نفسانی خواہشات کی پیروی سے پرہیز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خدا کی عظمت اور اس کی بے انتہا قدرت کے بارے میں معرفت حاصل کر کے اس کی مخالفت اور سرپیچی سے سخت خائف ہوتا ہے۔

مخلوقات کی عظمت و معرفت کا ادراک پروردگار عالم کی عظمت و معرفت کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس بارے میں ہم دینی متون یعنی روایات اور قرآن مجید کی آیات میں ملاحظہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اولیاء دین نے مخلوقات خدا کی عظمت بیان کرنے کے لئے کافی اہتمام کیا ہے۔ اپنے نورانی بیانات سے مخلوقات پروردگار کی آفرینشی ظرافتیں صلابت و استحکام اوراس کے انواع و اقسام کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس طرح انسانوں کو وادار کیا ہے کہ وہ اپنے گرد و نواح کی چیزوں کا مطالعہ کرے اور چھوٹی سے چھوٹی مخلوقات سے لے کر عظیم مخلوقات الہٰی کے بارے میں غور و خوض کرے۔

حضرت علی علیہ اسلام اپنے نورانی بیان میں ، خدا کی بے انتہا قدرت اور اس کی نعمتوں کی فراوانی پر غور و خوض کرنے کو براہ راست خدا تک پہنچنے کا وسیلہ اور اس کے خوف کا ذریعہ قرار دیتے ہیں آپ بیان فرماتے ہیں:

''ولو فکروا فی عظیم القدرة وجسیم النعمة لرجعواالی الطریق وخافوا عذاب الحریق ولٰکن القلوب علیلة والبصائر مدخولة اَلاٰ ینظرون الی صغیر ما خلق کیف اَحْکَمَ خلقه وتقن ترکیبه وفلق له السمع والبصرو سوّی له العظم والبشر... ''

''اور اگر لوگ خدائے متعال کی عظمت وبزرگی اور اس کی بیشمار نعمتوں کے بارے میں غور وخوض کرتے، تو وہ راہ راست کی طرف پلٹتے اور جہنم کی دہکتی آگ کے عذاب سے ڈرتے، لیکن ان کے دل بیمارہیں اور ان کی فکرو بصیرت میں عیب ہے۔ کیا وہ سب سے چھوٹی مخلوق کے بارے میں غور نہیں کرتے کہ کس طرح اس کی پیدائش کو منظم و مستحکم بنایا گیا ہے اور اس کی ترکیب کو کامل صورت دی گئی ہے؟! اس کے لئے کان اور آنکھیں پیدا کی گئی ہیں اور اسے ہڈی اور کھال سے آراستہ کیا گیا ہے۔''(۱)

اس کے ضمن میں مزید فرماتے ہیں:

''غور کیجئے چیونٹی اور اس کے چھوٹے اور نازک اندام پر کہ جسے آنکھ سے دیکھا نہیں جاسکتا اور غور و فکر سے اس کی خلقت کی کیفیت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، کس طرح یہ اپنے راستہ کو طے کرتی ہے اور رزق کو حاصل کرنے کے لئے تلاش کرتی ہے۔ دانہ کو اپنے سوراخ کے ذریعہ لے جاکر انبار کرتی ہے۔ گرمیوںکے دنوں میں اپنے لئے سردیوں کا اہتمام کرتی ہے، سوراخ کے اندر جاتے وقت باہر آنے کا خیال بھی رکھتی ہے، اس کا رزق منظور شدہ ہے، اسے اپنی ضرورت کے مطابق روزی ملتی رہتی ہے۔ نعمت دینے والے نے اسے فراموش نہیں کیا ہے اور پاداش دینے والے نے اسے محروم نہیں کیا ہے، اگر چہ ایک خشک اور سخت پتھر پر رہائش کرتی ''

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ایک مفصل روایت نقل فرماتے ہیں : زینب نامی ایک عطر فروش پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر آیا اور خدائے متعال کی عظمت کے بارے میں سوال کیا۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں ساتوں آسمانوں اور کہکشانوں کا موازنہ کرتے ہوئے ان میں ایک دوسرے کی بہ نسبت حقیر اور پست ہونے کو بیان کیا، من جملہ فرمایا:

''یہ زمین، اپنے اندر اوراپنے اوپر موجود تمام چیزوں کے ساتھ، اس پر احاطہ کرنے والے آسمان کے مقابلہ میں اس انگوٹھی کے مانند ہے جوایک وسیع بیابان میں پڑی ہو، اسی طرح ہمارا آسمان دوسرے آسمانوں کے مقابلہ میں ایک انگوٹھی کے مانند ہے جو بیابان میں پڑی ہو''(۲)

یہی نسبت تمام عوالم کی اپنے سے بالا تر عالم کے مقابلہ میں ہے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک اور ساتواں آسمان بھی عرش و کرسی کے ساتھ موازنہ کی صورت بہت حقیر و معمولی ہے!

کائنات کی وسعت اور اس کی عظمت کے بارے میں غور و خوض کرنے کا حیرت انگیز اثر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خالق کی عظمت کے سامنے ب ہت ہی حقیر و ذلیل تصور کرتا ہے کائنات کی وسعت اور عظمت کے بارے میں بہتر غور و خوض کرنے کے سلسلہ میں علمائے اخلاق اور مربیان الہٰی نے تاکید کی ہے کہ، جب نماز پڑھ کر ذات باری تعالیٰ کے بارے میں توجہ پیدا کرنا چاہو توکوشش کرو، ایک وسیع بیابان میں جا کر کھلے دل سے غور و فکر کرو، کیونکہ اس صورت میں بارگاہ رب العزت کے مقابل میں اپنی پستی اور حقارت کا اچھی طرح اندازہ کر سکو گے۔ فطری بات ہے کہ جب انسان ایک تنگ اور بند ماحول میں مستقر ہوتا ہے تو اس کا تصور بھی اسی عالم کے حدود تک محدود ہوتا ہے، لیکن جب یہ انسان وسیع بیابانوں میں جائے اور پہاڑوں اور دریائوں کا مشاہدہ کرے، تو عالم کے بارے میں اس کے ذہن میں ایک نیا اور وسیع تصور پیدا ہوگا یہ موازنہ زمین کی وسعت اور عظمت کے بارے میں ہے، زمین کا آسمان کے ساتھ اور آسمانِ اول کا دوسرے آسمانوں کے ساتھ مواز نہ کی بات ہی نہیں!

آج کل جوٹیلسکوپوں، سیٹرلائٹوں اورراکٹوں کے ذریعہ کہکشاؤں، ستاروں، اور سیاروں کے بارے میں جو انکشافات ہوئے ہیں، ان سے انسانوں کو بہت ساری مدد ملی ہے تاکہ وہ کائنات کو اچھی طرح درک کر سکے۔فطری بات ہے کہ اگر انسان عبادت کرنے سے پہلے پرور دگار کی عظمت کے بارے میں تھوڑا سا غور کرے، تو وہ آسانی کے ساتھ اس کے مقابلہ میں اپنی ذلت اور حقارت کودرک کرسکتا ہے اور اس صورت میں خدا کے زیادہ نزدیک ہو سکتا ہے، کیونکہ خدا کے نزدیک ہونے کا راستہ اس کے مقابلہ میں اپنے کو ذلیل و حقیر تصور کرناہے۔

قیامت کی ناقابل توصیف عظمت:

بیشک عالم آخرت' من جملہ بہشت و جہنم' خدا کی عظیم ترین مخلوقات میں سے ہے' ان کا تصور اور درک ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ آیات و روایات سے استفادہ کئے جانے کی بنیاد پر' جس طرح ہم خدائے متعال کی عظمت کو درک کرنے سے عاجز ہیں' اسی طرح قیامت کی عظمت اور اس کے خوف و وحشت کو بھی درک کرنے سے عاجز ہیں اور اس کے بارے میں تصور نہیں کرسکتے۔ لیکن قرآن مجید اور روایتوں میں قیامت کے بارے میں کی گئی توصیف ہمیں قیامت' بہشت و جہنم جو پروردگار کی عظمت کی نشانیاں ہیں کی عظمت کے مقابلہ میں اپنی ذلت و حقارت کو درک کرنے کے لئے بہ طور احسن آمادہ کرتی ہے۔

عرصہ قیامت کے خوف و وحشت کے ماحول کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے:

( یَوَمَ تَرَونَهَا تَذْهَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمَلَهَا وَ تَریٰ النَّاسَ سُکَٰریٰ وَمَا هُمْ بَسُکاریٰ وَ لَٰکِنَّ عَذَابَ ﷲ شَدِید'' ) (حج٢)

''جس دن تم دیکھوگے کہ دودھ پلانے والی عورتیں اپنے دودھ پیتے بچوں سے غافل ہو جائیں گی اور حاملہ عورتیں اپنے حمل کو گرادیں گی اور لوگ نشہ کی حالت میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ بدمست نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا''

عرصہ قیامت اتنا بھیانک اور وحشتناک ہوگا کہ انسان اپنے آپ سے بے خبری کے عالم میں ادھر اُدھر پھر رہا ہوگا' جیسے وہ طاقت نہیں رکھتا ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول کر سکے۔ ماں' جس کا عزیز ترین فرد' اس کا بچہ ہوتا ہے وہ بھی شیر خوار بچہ جسے ماںکی عطوفت اور محبت کی اشد ضرورت ہوتی ہے خوف و ہراس کے عالم میں اسے بھول جاتی ہے۔ اگر انسان ان آیات کے مفہوم اور معنی پر غور کرے' تو سمجھ لے گا کہ یہ کس قدر متزلزل کرنے والی آیتیں ہیں اور اسے اپنے باطل رفتار کے بارے میں تجدید نظر کرنے پر مجبور کرتی ہیں' اس میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اورراہ ہدایت و سعادت کے رہزنوں سے دوری اختیار کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم ان آیات کے معنی و مفہوم کی طرف کم توجہ دیتے ہیں اور صرف ان کی قرائت' تجوید اور خوش لحن آواز میں پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں اور ان کے معنی و مفہوم مین غورو خوض کرنے پر اتنی توجہ نہیں دیتے ۔ مذکورہ بیانات کے پیش نظر ہم آخرت' بہشت و جہنم کی کیفیت اور عظمت کو سمجھنے سے عاجز ہیں اور قیامت' بہشت اور جہنم کے بارے میں ہمارا تصور و احساس' دنیا میں پیش آنے والے مسائل کے مشابہ ہے۔ اگر ہمیں جہنم کی آگ اور اس کی جلد کے بارے میں کہا جائے تو' ہمارا تصور اس حد تک ہوتاہے کہ ہم دنیوی آگ پر ہاتھ رکھ کر جلتے ہیں' حد اکثر بجلی کا کرنٹ لگ جانے سے زیادہ سوچ نہیں سکتے، یا اگر بہشت کی نعمتوں اور لذتوں کی بات ہوتی ہے تو' ہمارا تصور ان نعمتوں اور لذتوں کی حدمیں ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں ان کو پہچانا ہے اور احساس کیا ہے' ہم اس سے زیادہ احساس و تصور نہیں رکھتے۔

انسان کے ذہن کے سوچنے کا دائرہ اس قدرمحدود ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو اس نے دیکھا ہے یا ان کے چند نمونوں کا مشاہدہ کیا ہے' ان کا موازنہ کرنے کے بعد' تصور کر سکتا ہے اور جس چیز کو نہیں دیکھا ہے اس کے بارے میں نہ تصور کرسکتا ہے اور نہ اس کی تصویر اس کے ذہن میں آسکتی ہے۔ اس فہم و ادراک اور ذہنی فعالیت کی محدودیت کے پیش نظر انسان' آخرت کے اوصاف اور خصوصیات بیان کرنے کیلئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رکھتا کہ انہیں ایسے تناظر میں پیش کرے جو دنیا میں دیکھی گئی چیزوں کے مشابہ ہوں ورنہ ان خصوصیتوں کو بالکل درک نہیں کرسکے گا۔ اس لحاظ سے ممکن ہے یہ خصوصیتیں لاکھوں درجہ تنزل کر چکی ہوں گی تاکہ ہمارے دنیوی درک و فہم کے افق پر منعکس ہو جائیں اور اثر پیدا کریں ورنہ اگر ہمارے درک و فہم کے دائرہ سے بالاتر ہوں تو ہم میں اثر پیدا نہیں کریں گی' کیونکہ وہ درک و فہم کے قابل نہیں ہیں۔

بیان شدہ مطالب کے پیش نظر' قرآن مجید اور روایتوں میں کوشش کی گئی ہے کہ بہشت' جہنم نیز' ان کی نعمتیں اور عذاب کو ان مثالوں اور نمونوں میں پیش کر کے توصیف کی جائے جن سے لوگ آشنا ہیں۔ اس روایت میں بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ وآلہ وسلم نے بہشت و جہنم کی عظمت کو بیان کرنے کیلئے اسی شیوہ کو اختیار کیا ہے۔

عذاب جہنم کی توصیف کی ایک جھلک:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر سے عذاب جہنم کے ایک نمونہ کی توصیف بیان فرماتے ہیں کہ اگر اس کا تھوڑا سا حصہ بھی دنیا میں پیدا ہو جائے تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ اس کے علاوہ بہشت کی نعمتوں کا بھی ایک نمونہ ذکر فرماتے ہیں کہ انسان خاکی کے لئے اس کا برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ بیان ہم دنیا پرستوں کیلئے ہے تاکہ دنیا کا آخرت سے موازنہ کر کے دنیا کی محدودیت اور اس کی حقارت کو درک کر سکیں۔ اگرچہ عالم آخرت اپنی تمام ناقابل وصف نعمتوں اور وسعتوں کے ساتھ آیات الہٰی میں سے ایک آیت ہے اور سبھی نے پروردگار جہان آفرین کے ایک ارادہ سے لباس وجود زیب تن کیا ہے' لیکن یہ بذات خود پروردگار عالم کی عظمت اور بے انتہا قدرت کو بیان کرنے والا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍ؛ وَلَو کَانَ لِرَجُلٍ عَمَلُ سَبعِینَ نَبِیّاً لاَسْتَقَلَ عَمَلَهُ مِنْ شِدَّةِ مَا یَریٰ یَومَئِذٍ ''

اے ابوذر: اگر اس روز کوئی انسان ستر پیغمبروں کے برابر اعمال کا حامل ہو' اس دن مشاہدہ کی گئی سختی کے پیش نظر' اسے کم حساب کرے گا۔

ہماری عبادت و عمل ایک عام مومن کے برابر بھی نہیں ہے' انبیاء کی عبادتوں اور اعمال کی بات ہی نہیں اور پھر ستر پیغمبروں کی عبادت و اعمال کے برابر نیک کام انجام دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! اب اگر بفرض محال ہم میں ایسی قابلیت و لیاقت پیدا ہو جائے کہ ہمارا عمل ستر پیغمبروں کے عمل کے برابر ہو۔ تو قیامت کے دن جب ہم اس دن کی شان و شوکت اور عظمت کو دیکھیں گے' تو اسے ذرہ برابر حساب میں نہیں لائیں گے۔ قیامت کا دن ایسا ہولناک اور بھیانک ہے کہ خدائے متعال کی بے انتہا عنایت و فضل و کرم کے بغیر حتی ستر پیغمبروں کے اعمال بھی کچھ نہیں کر سکیں گے! اس بنا پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی مسلسل امید رکھنی چاہئے اور خدا سے راز و نیاز اور قلبی توجہ سے اس کی وسیع رحمت کے کھلے ہوئے دروازوں کا تحفظ کریں۔ ہمیں اپنے عمل پرتکیہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ ہمیں کہیں نہیں پہنچائے گا۔

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

''وَلَواَنَّ دَلواً صُبَّ مِنْ غَسْلِینِ فِی مَطْلَعِ الشَّمْسِ لَغَلَتْ مِنْهُ جَمٰاجِمُ مِنْ مَغْرِبِهٰا''

''اور اگر جہنم کے پیپ کا ایک بالٹی زمین کی مشرق میں ڈالدیا جائے تو مغرب میں رہنے والوں کی کھوپڑیوں کا مغرابل جائے گا۔''

قرآن مجید میں جہنمیوں کی غذاؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ من جملہ ان کے ''غسلین'' یعنی دوزخیوں کا پیپ ہے:

( فَلَیْسَ لَهُ الْیَومَ هٰهُنٰا حَمِیم وَلاَ طَعَام اِلاَّمِنْ غِسْلِینِ ) (الحاقہ٣٥-٣٦)

''نہ تو آج ان کا کوئی مونس و غمخوارہے۔ اور نہ پیپ کے علاوہ کوئی غذا ہے۔''

''غسلین'' جہنمیوں کے پینے کی ایک چیز ہے اور یہ وہ میل والا گندا پانی ہے جو لباس یا برتن دھونے کے بعد باقی رہتا ہے۔ یہ پینے کی چیز اتنی بدبودار اور کثیف ہے کہ اس کو دھوئی ہوئی چیزوں کے کثیف اور گنداپانی کا نام دیا ہے۔ حقیقت میں ''غسلین'' وہ کثافت و گندگی ہے جو انسان کے بڑے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور یہ اس قدر بدبو دار اور جلانے والی ہے کہ اگر اس کا ایک بالٹی دنیا کے مشرق میں ڈال دیا جائے تو مغرب میں رہنے والوں کی کھوپڑیاں ابل پڑیں گی۔

انسان کی کھوپڑی کے ابلنے کا ہمارا تصور اسی صورت میں ہے کہ جب شعلہ ور اور دہکتی آگ کو انسان کے سامنے روشن کیاجائے تو اس کا سرابل کر پاش پاش ہو جائے گا، لیکن اگر وہ آگ چاہے جس قدر بھی شعلہ ور اور جلانے والی ہو' تو دس میٹر یا اس سے زیادہ کے فاصلہ سے کارآمد نہیں ہے لیکن قیامت میں ' جہنمیوں پر ایسی پیاس کا غلبہ ہوگا کہ وہ ایسا ابلتا ہوا اور گرم پانی پینے پر مجبور ہوں گے اگر اس کا ایک بالٹی دنیا کے مشرق میں ڈال دیں' تو مغرب میں رہنے والوں کی کھوپڑیاں منتشر ہو جائیں گی!

جہنم کی آگ اور اس کا عذاب' قبر و قیامت نیز دنیا کی آگ اور عذاب سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ دنیا کی آگ سرد اور افسردہ ہے اور صرف سطح کو جلاتی ہے اور جہنم کی آگ کے مقابلہ میں اس کو برداشت کرنا آسان ہے' لیکن جہنم کی آگ خالص حتی باشعور ہے اس لحاظ سے دنیا کی کوئی آگ روح کو نہیں جلاتی ہے لیکن جہنم کی آگ جسم کے علاوہ روح و قلب کو بھی جلاتی ہے اور انہیں پگھلادیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جہنم کی آگ اور اس کا عذاب دنیا میں انسان کے برے اعمال کا نتیجہ اور اس کا ردعمل ہے۔

جہنم کے جوش و خروش کے مقابلے میں انسانوں اور فرشتوں کا ردعمل

حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہنم کے خوف و شدت اور گرجنے کے بارے میں فرماتے ہیں:

''ولو زفرت جهنم زفرةً لم یبق ملک مقرب ولا نبی مرسل الا خدّ جاثیاً علی رکبتیه' یقول: رب نفسی نفسی' حتی ینسی ابراهیم اسحٰق' یقول: یا رب انا خلیلک ابراهیم فلا تنسی''

''اور اگر جہنم گر جنے لگے تو کوئی فرشتہ مقرب اور پیغمبر مرسل باقی نہیں رہے گا جو گھٹنے کے بل گر کر یہ نہ کہے کہ پروردگارا: مجھے نجات دے! حتیٰ ابراہیم اپنے بیٹے اسحاق کو بھول کر کہیں گے پروردگارا: میں تیرا خلیل ابراہیم ہوں' مجھے فراموش نہ کر''

خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( فَاَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِلَهُمْ فِیهَا زَفِیر وَشَهِیق ) (ہود١٠٦)

''پس جو لوگ بدبخت ہوں گے وہ جہنم میں رہیں گے جہاں ان کے لئے ہائے وائے اور چیخ و پکار ہوگی۔''

علامہ طباطبائی اس آیہ ٔ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

''کشاف میں ''زفیر'' سانس کو باہر نکالنا اور ''شہیق'' سانس کو اندر کھیچنابتایا گیاہے۔خدائے متعال کی مراد یہ ہے کہ جہنمی نفس کو سینہ کے اندر کھینچتے ہیں اور پھر اسے باہر نکالتے ہیں اور جہنم کی آگ کی حرارت کی شدت اور عذاب کی وسعت کی وجہ سے روتے ہوئے آہ و نالہ اور چیخ و پکار کی صورت میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔''(۳)

مذکورہ تفسیر کی بنا پرجس طرح انسان کے لئے نفس کی آمد و رفت ہے اسی طرح جہنم کے لئے بھی نفس کی آمد و شد ہے۔ جہنم زفیر یعنی پھونک کے ساتھ شعلہ ور آگ اور حرارت کو باہر نکالتا ہے جو تمام جہنمیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور ''شہیق'' یعنی سانس کو اندر کھینچتے ہوئے اہل جہنم کو نگل جاتا ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اگر جہنم ''زفیر'' یعنی گرج کی صورت اختیار کرلے تو تمام انسان' حتیٰ بڑے بڑے انبیا اور مقرب ملائکہ بھی خوف و وحشت سے دوچار ہو کر زمین پر گرجائیں گے اور ہر ایک ہر چیز کو بھول کر صرف اپنی نجات کی فکر میں ہوں گے۔ نہ ان میں حرکت کرنے کی طاقت ہوگی اور نہ ہی آرام کرنے کی فرصت۔

اسی لئے وہ ذلت و بے چارگی کے عالم میں گھٹنے زمین پرٹیک کر ہاتھوں کو خدا کی بے انتہا رحمت کی طرف بلند کئے ہوں گے اور اس سے نجات کی درخواست کریں گے۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند دلبند' اسحاق کو بھول کر یہ عرض کریں گے: خدا وندا! میں تیرا خلیل ہوں' مجھے فراموش نہ کر اور اس مرگبار عظیم حادثہ سے مجھے نجات دے۔ یہ قیامت کے دن عذاب الہٰی کا ایک نمونہ ہے اگر یہ دنیا میں رونما ہو جائے تو تمام مخلوقات پر بھیانک خوف و وحشت طاری ہو جائے۔

جہنم اور جہنم کے دردناک عذاب کے بارے میں مزید اور بیشتر آگاہی کیلئے مناسب ہے یہاں پر امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ایک مفصل حدیث بیان کریں۔

''بینا رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وآله وسلم ذات یوم قاعداً اذ اتاه جبرئیل علیه السلام و هوکئیب حزین متغیر اللون فقال رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وآله وسلم یا جبرئیل' مالی اراک کئیبا حزینا!؟ فقال یا محمد ؛ فکیف لا اکون کذٰلک وانما وضعت منافخ جهنم الیوم فقال رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وآله وسلم وما منافیخ جهنم یا جبرئیل؟ فقال:

ان ﷲ تعالیٰ امر بالنار فاوقد علیها الف عام حتی احمرّت' ثم امربها فاوقد علیها الف عام حتی ابیضّت ثمً امربها فاوقد علیها الف عام حتی اسودّت وهی سوداء مظلمة فلو ان حلقةً من السلسلة التی طولها سبعون ذراعا وضعت علی الدنیا لذابت الدنیا من حرها ولوان قطرة من الزقوم و الضریع(۴) قطرت فی شراب اهل الدنیا مات اهل الدنیا من نَتْنِهَا

لفظ زقوم'' قرآن مجید کی تین آیتوں میں ذکر ہوا ہے اور ایک درخت کے معنی میں ہے کہ جہنم کے عمقمیں اگتا ہے۔اس کا میوہ شیطانوں کے سر کے مانند ہے(اس درخت کے میوہ کی شیطان کے سر سے تشبیہ اس لئے دی ہے کہ لوگوں کے تصورمیں شیاطین کی شکل و صورت انتہائی بد ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے تصور میں فرشتہ بہترین اور خوبصورت ترین اندام کے مالک ہوتے ہیں' اس لحاظ سے اس کا میوہ انتہائی بدبودار اور نفرت انگیز ہوتا ہے۔

''ضریع'' جہنمیوں کی ایک غذا ہے کہ نہ اس کے کھانے سے وہ سیر ہوتے ہیں اور نہ اس کا کھانا دبلے پتلے کو چاق کرتا ہے۔

ابن عباس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے: ''ضریع'' ایک چیز ہے جو جہنم کی آگ میں ہوتی ہے اور کانٹے کے مانند ہے اور ''صبر'' سے زیادہ تلخ اور مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے تیز جلانے والی ہے۔

(قریشی' سید علی اکبر' قاموس قرآن' ج ٤-٣ مادہ رأس' زقوم ضریع)

قال: فبکی رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وآله وسلم وبکی جبرئیل فبعث ﷲ الیهمٰا ملکا' فقال: ان ربکما یقراکمٰا السلام ویقول: انی امنتکمٰا من انتذنبا ذنباً اعذبکمٰا علیه'' (۵)

ہم ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے تھے' جبرئیل ان کی خدمت میں تشریف لائے وہ افسردہ و غمگین تھے' ان کا رنگ متغیر تھا' پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرئیل! میں کیوں تمھیں افسردہ و غمگین دیکھ رہا ہوں؟ جبرئیل نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں کیوںنہ ایسی کیفیت ہو اس لئے کہ آج ہی جہنم کو دم ( بھڑکایا) کیا گیا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کو دم کرنا کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے عرض کی: بیشک خدائے متعال نے آگ کو حکم دیا' پھر ایک ہزار سال تکبھڑکتی رہی یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی' اس کے بعد پھر حکم دیا اور پھر ایک ہزار سال تک شعلہ ور رہی یہاں تک کہ سفید ہوگئی۔ اس کے بعد پھر اسے حکم دیا آگ مزید ایک ہزار سال تک شعلہ فشاں رہی یہاں تک سیاہ ہوگئی اور یہ آگ سیاہ اور تاریک ہے۔ پس اگر جہنم کی آگ کی زنجیر کی ایک کڑی جو ستر ذراع بلند ہے دنیا میں ڈال دی جائے' تو دنیا اس کی گرمی سے پگھل کر پانی ہو جائے گی اور اگر ''زقوم'' اور ''ضریع'' کا ایک قطرہ دنیا کے پانی میں گرا دیا جائے' تو اس کی بدبو سے تمام لوگ مر جائیں گے۔

اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گریہ و زاری کی اور جبرئیل نے بھی گریہ کیا۔

خدائے متعال نے ان دونوں کی طرف ایک فرشتہ کو روانہ کیا اس فرشتہ نے آکر عرض کیا: خداوند متعال نے تم دونوں کے لئے سلام بھیجا ہے اور فرماتاہے: میں نے تم دونوں کو اس سے محفوظ رکھا ہے اگر گناہ کروگے اس کی وجہ سے عذاب کروں۔

بہشت مومنین اور صالحین کی ابدی قیام گاہ:

بیشک بہشت اور اس کی نعمتیں بزرگ ترین مخلوقات خدا میں سے ہیں' اور ایسے لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں جنہوں نے خدا کی بندگی و اطاعت کی راہ کو طے کیا ہے اور ایمان و عمل صالح کے ذریعہ بلند ترین مراحل انسانی پر فائز ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں خلاصہ یہ کہ ملکوت الٰہی تک پہنچنے کی لیاقت سے برخور دار ہیں ۔

( وَبَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصّٰالِحَاتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ... وَلَهُمْ فِیهَا اَزْوَاج مُطَّهَرَة وَهُمْ فِیهٰا خَالِدُونَ ) (بقرہ٢٥)

''پیغمبر آپ ایمان اور رعمل صالح والوں کو بشارت دے دیں کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں... اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں بھی ہیں اور انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے۔''

ایک دوسری آیت میں خدائے متعال فرماتا ہے:

( وَعَدَ ﷲ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ وَ رِضْوَان مِنَ ﷲ اَکْبَرُ ذٰلِکَ هُوَ الْفَوزُالْعَظِیمُ'' ) (توبہ٧٢)

''اللہ نے مومن مرد اور مومن عورتوں سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ان جنات عدن میں پاکیزہ مکانات ہیں اور اللہ کی مرضی تو سب سے بڑی چیز ہے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے۔''

حقیقت یہ ہے کہ انسان عمل صالح اور نیک اعمال سے بہشت و الوں کی نعمتوں کو اپنے لئے فراہم کرتا ہے۔ اس بنا پر جس قدر پروردگار کی بندگی و اطاعت کی کوشش کرے اور ریاضت و ہواء نفس سے مبارزہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ کی نعمتوں کو حاصل کرے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم آیات و روایات میں واضح طور پر ملاحظہ کرتے ہیں، امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

''لما اسری بی الی السماء دخلت الجنه فرایت فیها ملائکة یبنون لبنة من ذهب ولبنةً من فضة و ربما امسکوا فقلت لهم: مالکم ربما بنیتم وربما امسکتم قالوا: قول المؤمن فی الدنیا سبحان ﷲ والحمد ﷲ ولا اله الاﷲ وﷲ اکبر' فاذا قال بنینا واذا امسک امسکنا'' (۶)

جب مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی اورمیں بہشت میں داخل ہوا۔ میں نے وہاں پر دیکھا کہ ملائکہ محل بنانے میں مشغول ہیں اور سونے اور چاندی کی اینٹیں ایک دوسرے پر رکھنے میں مصروف ہیں اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کام سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کیوں ایسا ہوتا ہے کہ تم کبھی کام میں مشغول رہتے ہو اور کبھی کام سے ہاتھ کھینچ لیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اسباب و وسائل ساز و سامان کے منتظر رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا: تمہارا سامان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ذکر''سبحان اللّٰه'' و ''الحمد للّٰه'' ''لا اله الا اللّٰه'' و ''اللّٰه اکبر'' جو مومن کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔ جب وہ ان اذکار کا زبان سے ورد کرتا ہے ہم کام میں مشغول ہوجاتے ہیں اور جب اذکار کہنا چھوڑدیتا ہے تو ہم کام سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہشت کی توصیف میں فرماتے ہیں:

''یَا اَبَاذَرٍّ؛ لَو اَنَّ اِمْرََةً مِنْ نِسَائِ اَهْلِ الْجَنَّةِ اَطْلَعَتْ مِنْ سَمٰائِ الدُّنیٰا فِی لَیْلَةٍ ظَلْمٰائٍ لَاَ ضٰائَتْ لَهَا الَارْضُ اَفْضَلَ مِمَّا یُضیئُهٰا الْقَمَرُ لَیْلَةَ الْبَدْرِ وَلَوَجَدَ رِیحَ نَشْرِهَا جَمیعُ اَهْلَ الْاَرْضِ وَلَوْ اَنَّ ثَوْباً مِنْ ثِیَابِ اَهْلَ الْجَنَّةِ نُشِرَ الْیَوم فِی الدُّنْیَا لَصَعِقَ مَنْ یَنْظُرُ اِلَیهِ وَمَا حَمَلَتْهُ اَبْصٰارُهُمْ''

اے اباذر: اگر بہشتی عورتوں میں سے ایک عورت بھی گھٹا ٹوپ تاریک رات میں اس دنیا کے آسمان پر ظاہر ہوجائے' تو چودھویں کے چاند سے زیادہ زمین کو منور کردے گی اور اس کے زلف کے پریشان ہونے سے جو عطر پھیلے گا اس کی خوشبو تمام اہل زمین تک پہنچے گی ہے اور اگر اہل بہشت میں سے ایک شخص کا لباس آج دنیا میں پھیلادیا جائے' جو بھی اس کی طرف دیکھے گا' وہ بیہوش ہو جائے گا اور لوگوں کی آنکھوں میں اسے دیکھنے کی تاب نہیں ہوگی۔

حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیانات سے استفادہ ہوتا ہے کہ قیامت اور بہشت میں انسان کی طاقت اور اس کی آنکھوں کی بصارت اس دنیا کی طاقت اور آنکھوں کی توانائی سے بہت زیادہ قوی ہے۔ انسان اس دنیا میں اس قدر ضعیف ہے اس کی قوت ادراک اور برداشت کی طاقت اتنی کم ہے کہ اگر بہشت کے لباسوں میں سے ایک لباس دنیا میں ظاہر ہو جائے' تو کوئی آنکھ اسے دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اس کے دیکھنے سے سب بے ہوش ہو جائیں گے۔ جبکہ بہشتیوں کے لئے اس لباس کو پہننا اور اسے دیکھنا ایک عادی امر ہے،حقیقت میں بہشت میں توانائیاں من جملہ دیکھنے اور درک کرنے کی توانائی بہت زیادہ ہوگی، بعض مخلوقات جیسے انسان جو دنیا میں عقل و شعور رکھتے ہیں' آخرت میں انکے عقل و شعورفہم و فراست کی طاقت اتنی زیادہ ہوگی کہ شائد یہاں کی بہ نسبت لاکھوں گنا سے بھی زیادہہو، وہاں پر ہر ایک چیز زندہ ہے اور در حقیقت زندگی وہیں پر ہے اور اس کی وجہ سے ہر ایک چیز علمی اور شعوری وجود رکھتی ہے اور بات کرتی ہے' اس لحاظ سے حتی درخت اور کنکریاں بھی گفتگو کرتے ہیں:

( وَمَا هٰذِه الْحَیَوٰاة الدُّنْیٰا اِلاَّ لَهَو وَلَعِب وَ اِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَٰانُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) ۔'' (عنکبوت٦٤)

''اور یہ زندگانی دنیا کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے اور آخرت کا گھر ہمیشہ کی زندگی کا مرکز ہے اگر یہ لوگ کچھ جانتے اور سمجھتے ہوں۔''

فطری بات ہے جب ہر چیز میں زندگی ہو اور حتی گھاس اور کنکریاں بھی گفتگو کرتی ہوں' تو یقیناً وہ انسان جو پہلے ہی سے زندگی و شعور کا مالک تھا اس کے بھی تمام اعضا گفتگو کریںگے۔ اس لحاظ سے جہنم میں انسان کے کان آنکھ اس کے اعضا و جوارح جب اس کے جرم و گناہ کی شہادت دیں گے' تو وہ کہیں گے: تم نے کیسے ہمارے اعمال پر شہادت دی؟ وہ اعضاء جواب میں کہیں گے:

( اَنْطَقَنَا ﷲ الَّذِی اَنْطَقَ کُلَّ شَیئٍ ) (فصلت٢١)

ہمیں اس خدا نے گویا بنایا ہے جس نے ہر شیٔ کو قوت گویائی عطا کی ہے۔

جو کچھ اس حدیث کے اس حصہ میں جہنم کے عذابوں اور بہشت کی نعمتوں کے بارے میں بیان ہوا' دنیا کے پیمانوں سے قابل پیمائش نہیں ہیں۔ کس طرح بنام'' غسلیں'' ایک سیال مادہ اس قدر بدبودار' خطرناک اور جلانے والا ہو کہ اگر مشرق میں زمین پر ڈالدیا جائے تو مغرب میں رہنے والوں کا مغز ابلنے لگے گا اور جل جائے گا! البتہ اس لئے ہم خیال نہ کریں۔ ایسی چیز ہونے والی نہیں ہے اور تصور سے دور ہے' خدائے متعال نے بعض عناصر جیسے ''یورانیم'' میں پوشیدہ اور فشردہ انررجی (توانائیاں) جیسے' اٹم کی انرجی ( Atomic Energy ) رکھی ہے کہ اگر اس عنصر سے تھوڑی سی مقدار میں انرجی آزاد ہو جائے تو اس کا دھماکہ اس قدر بھیانک خطرناک اور تباہ کن ہوگا کہ پورے ایک شہر کو ویران اور تہ و بالا کر کے رکھ دے گا! پھر یہ قدرت و انرجی اس دنیا میں موجودہ عناصر میں ہے۔ اب ذرا اس عالم کے بارے میں سوچئے جہاں پر عناصر کی انرجی اور اس کی طاقت دنیا کی انرجی اور طاقت کے لاکھوں برابر ہے یقیناً اس کے آثار بھی اتنی ہی برابر زیادہ ہوں گی جو ہمارے لئے قابل فہم و درک نہیں ہیں۔

جو کچھ بیان ہوا' وہ اس لئے تھا کہ ہم اپنی حیثیت و منزلت کو سمجھ لیں۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ ہم اس محدود دنیا (جس میں درک و شعور بھی محدود ہے)میں پیدا کئے گئے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے جس کی لذتیں محدود ہیں' ہمارا درک و شعور بھی اس میں محدود ہے۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ جو کچھ اس دنیا میں ہے وہ آخرت کا ایک مقدمہ ہے اور آخرت کی خوشیوں سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ جن بلاؤں اور مصیبتوں سے ہم دنیا میں روبرو ہوتے ہیں وہ اخروی عذابوں کے مقابلہ میں ناچیز ہیں۔

یقینا دنیا کے عذابوں کا آخرت کے عذابوں سے موازنہ اور دنیا کی نعمتوں اور خوشیوں کا آخرت کی خوشیوں اور نعمتوں سے موازنہ اور ان کے درمیان زیادہ فاصلہ اور تفاوت کا بیان اس بات کا سبب ہے کہ ہر شخص اپنی ظرفیت اور ذہنی توانائی کے مطابق عالم آخرت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو حقیر اور اپنی دنیا کے ناچیز ہونے کے بارے میں سوچے اور اندازہ لگائے اور نظام آفرینش میں اپنی حقارت کا اپنے پروردگارکی عظمت و کبریائی سے موازنہ کر کے درک کرے۔ اس موازنہ اور ناپ تول کا ایک اور نتیجہ خدا کے مقابلے میں تکبر اور خود بینی سے پرہیز اور انکساری و فروتنی کو اپنا شیوہ قرار دینا ہے۔ انسافن اگر دنیا میں کسی نعمت سے بہرہ مند ہے تو اسے اس پر ناز نہیں کرنا چاہئے اور اگر کسی نعمت سے محروم ہے تو اس پر افسوس نہ کرے کیونکہ دنیا کی تمام نعمتیں بہشت کے ایک سیب کے برابر قدر و منزلت نہیں رکھتی ہیں۔ اس بنا پر یہ عالم دل کو وابستہ کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ ہمیں انبیاء اور اولیاء خدا کی راہنمائی کی برکت سے قیامت اور پروردگار کی عظمت کا اندازہ لگانا چاہئے اور اپنی حیثیت کو جانتے ہوئے کوشش کرنی چاہئے تا کہ غرور' تکبر' خود بینی اور خود پسندی سے آلودہ نہ ہو ں۔

٭٭٭٭٭

____________________

١۔نہج البلاغہ ، فیض الاسلام ، خ ٢٢٧. ص ٧٣٦۔

٢۔ بحار الانوارطبع ایران ج٦٠ص٨٣و٨٥

۳۔ المیزان ج١١ص٢١

۴۔ ''زقوم'' ایک گھاس کا نام ہے' اس کے پتے چھوٹے اور ان کا مزہ کڑوا ہے اور انتہائی بدبو دارہے۔ انسان کے بدن پر اس گھاس کے رس کو ملنے سے ورم ہوتا ہے۔ یہ گھاس بیابان کے اطراف میں اگتی ہے اور اس کانام جہنم کے ''زقوم'' سے لیا گیا ہے۔ (بحارالانوار' ج ١٧' ص ١٤٦)''

۵۔ امام خمینی' چہل حدیث(مؤسسۂ تنظیم و نشر آثار امام خمینی' ١٣٧٣ طبع چہارم) ص ٢٣

۶۔ بحار الانوار ج٨،ص١٢٣


فہرست

عرض ناشر ۵

زاد راہ (پہلی جلد) ۷

پہلا سبق ۷

بندگی کی کیفیت اور کامیابی کا راستہ ۷

عبادت اور خدا کا ادراک : ۹

خدا کی پرستش و بندگی ، مومنین کی ترقی و بلندی کا ذریعہ ۱۲

خدا کی بندگی کے مراحل : ۱۳

الف : خدا کی معرفت ۱۳

ب۔ پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اعتراف ۱۴

ج : اہل بیت پیغمبر کی محبت : ۱۵

حضرت نوح کی کشتی اور بنی اسرائیل کے باب حطہ سے اہل بیت کی تشبیہ : ۱۶

دوسرا سبق ۲۰

خدا کی نعمتوں سے صحیح فائدہ اٹھانے کی ضرورت ۲۰

تندرستی اور فراغت ،دو ناشناختہ نعمتیں ۲۱

جوانی نشاط اور آغاز زندگی کا دور ۲۳

تندرستی اور دولتمندی کی قدر جاننے کی ضرورت ۲۵

دنیوی زندگی رشد و بلندی کے انتخاب کی راہ : ۲۶

تیسرا سبق ۲۸

زندگی کے حقائق کا صحیح ادراک اور عمر کا بہتر استفادہ ۲۸


فرصتوں کے مواقع سے استفادہ اور طولانی آرزوئوں سے کنارہ کشی ۲۸

لاپروائی کے مراحل : ۲۹

ترک دنیا اور اس کے بے جا تفسیریں : ۳۰

ترک دنیا اور آخرت کو اصل جاننا : ۳۱

فرائض و تکالیف کی بروقت انجام دہی : ۳۳

موت کی یاد ،طولانی آرزؤں کا خاتمہ: ۳۴

دنیا سے وابستگی کے نتائج : ۳۵

چوتھا سبق ۳۹

پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نصیحت موجودہ صلاحیتوں سے مناسب استفادہ کرنا ۳۹

موت اورانجام گناہ کے بارے میں غور و خوض کا اثر ۴۰

زندگی کی قدر کرنے کی ضرورت : ۴۱

فرائض کی بر وقت انجام دہی اور اگلے دن کی فکر نہ کرنا: ۴۲

پانچواں سبق ۴۵

دنیوی مقاصد کیلئے علم حاصل کرنے کی مذمت ۴۵

علم پر عمل نہ کرنے اور اس سے سماجی مقام و منصب حاصل کرنے کا انجام: ۴۵

لوگوں کوفریب دینے کیلئے علم حاصل کرنے کاانجام: ۴۷

اپنے جہل کا اعتراف کرنا ، الٰہی علماء کی خصوصیت: ۴۸

قیامت میں عالم کی سب سے بڑی حسرت : ۵۰

حضرت علی علیہ السلام کے بیانات میں علما کی تقسیم بندی ۵۱


چھٹا سبق ۵۳

خداوند عالم کے حقوق اور اس کے نعمتوں کی عظمت و وسعت اور فرائض کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ۵۳

خدا وند عالم کے حقوق کی عظمت اور اس کی بے شمار نعمتیں ۵۳

چند روزہ زندگی اور انسان کے اچھے اور برے اعمال کی بقا : ۵۵

الف ۔ انسان کے دنیوی اعمال کا قیامت کے دن مجسم ہونا: ۵۶

ب ۔ ناگہانی موت تنبیہ و بیداری کا سبب: ۵۷

انسان کے رزق کا معین ہونا اور اس کا دوسروں کی دست رس سے محفوظ رہنا : ۵۸

توحید افعالی اور اللہ تعالی کا سرچشمہ خیر ہونا : ۵۹

ساتواں سبق ۶۱

مومن کی بیداری اور ہوشیاری ۶۱

پرہیز گاروںاور فقہا کے ساتھ ہم نشینی اور ۶۱

مومن وکافر کی نظر میں گناہ کا فرق : ۶۱

لائق اور شائستہ دوست کا انتخاب اور گناہ کو بڑا تصور کرنا: ۶۳

لاپروا علما اور نادان جاہلوں کا خطرہ : ۶۴

گناہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اسے سنگین ۶۶

سمجھنا ، خدا کے لطف و عنایات کا نتیجہ ہے ۶۶

گناہ کو حقیر سمجھنے کے بجائے اس کی عظمت کی طرف توجہ ۶۸

کرنے کی ضرورت کہ جس کی نافرمانی کی جارہی ہے ۶۸

آٹھواں سبق ۷۱

قول و فعل میں یکسانیت اور زبان پر کنٹرول ۷۱


قول و فعل میں ہم آہنگی اور عدم ہم آہنگی کا نتیجہ : ۷۱

رزق سے محروم ہونے کے سلسلہ میں گناہ کا اثر : ۷۴

گناہ علت و عوامل کی ایک کڑی : ۷۶

زبان پر کنٹرول اور بیہودہ کاموں سے اجتناب ۷۷

نواں سبق ۸۰

نماز کی منزلت و اہمیت اوراہل بہشت کے درجات میں فرق ۸۰

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعض نصیحتوں کی تقسیم بندی: ۸۱

پہلا حصہ: ۸۱

دوسرا حصہ : ۸۱

تیسرا حصہ : ۸۱

چوتھا حصہ : ۸۲

عبادت گزاروں اور شب زندہ داروں کا مرتبہ ۸۲

بہشتی مقامات سے استفادہ کرنے کے لحاظ سے ۸۳

اہل بہشت کے درمیان فرق: ۸۳

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نماز کے ساتھ شدید لگاؤ: ۸۵

نماز ، سعادت اور خوش بختی کی کنجی: ۸۸

عبادت کی شیرینی کا ادراک اور اس کے دوام کا راز: ۹۰

دسواں سبق ۹۲

بہشت کی جانب پیش قدمی کرنے والے افراداور بعض احکام و فرائض کی اہمیت نیز بہشت کے درجات ۹۲

بہشت کے پیش روافراد: ۹۲


فطرت اور کمال طلبی: ۹۳

بعض احکام کی عظمت و منزلت: ۹۶

١۔ نما زکی عظمت اور اس کا و مرتبہ: ۹۶

٢۔ روزہ کی عظمت اور اس کا مرتبہ: ۹۷

٣۔ جہاد کی عظمت اور اس کا مرتبہ : ۹۸

مومنین کے بہشتی درجات میں فرق: ۹۹

گیارہواں سبق ۱۰۱

خوف و حزن کی اہمیت اور اس کا اثر (١) ۱۰۱

خوف و حزن اور گناہ سے اجتناب : ۱۰۲

خوف و حزن اور انسا ن کی معنوی بلندی : ۱۰۳

خوف و حزن میں فرق : ۱۰۴

دنیا ، مومن کے لئے زندان اور کافر کے لئے بہشت : ۱۰۶

جہنم کی فکر مومن کے خوف و حزن کا سبب ہے : ۱۰۸

بارہواں سبق ۱۱۱

حزن و خوف کی اہمیت اور اس کا اثر(٢) ۱۱۱

مفید و نفع بخش علم : ۱۱۲

بہشت میں سکون و اطمینان ، دنیا میں خوف خدا کا نتیجہ: ۱۱۵

گناہوں کی بخشش، خوف خدا کا نتیجہ: ۱۱۷

اپنے نیک اعمال پر اعتماد کرنے والے کی سرزنش: ۱۱۹

گناہ کی طرف متوجہ ہونے کا اثر شیطان سے دوری ہے: ۱۲۰


حزن و خوف کی حقیقت کے بارے میں ایک تحقیق: ۱۲۰

دوسرا سوال یہ ہے کہ خدا سے ڈرنے کا کیا معنی ہے؟ ۱۲۱

١۔ جہنم میں عذاب الہٰی کا خوف: ۱۲۱

٢۔ بہشتی نعمتوں کو کھو جانے کا خوف: ۱۲۲

٣۔ لقائے الٰہی اور خدا کے تقرب سے محروم ہونے کا خوف: ۱۲۲

متضاداور متفاوت حالات کا ایک ہی وقت میں محقق ہونا: ۱۲۴

تیرھواں سبق ۱۲۷

دنیا کو حقیر جاننا اور آخرت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا ۱۲۷

ہوشیار اور عاجز انسان کی نظر اور رفتار میں فرق: ۱۲۷

امانت داری اور خشوع: ۱۲۹

الف: امانت داری کا اثر: ۱۳۰

ب۔خشوع کا اثر: ۱۳۱

١۔گفتگو کرتے وقت: ۱۳۳

٢۔ آنکھوں میں : ۱۳۳

٣۔ چہرہ میں : ۱۳۴

٤۔ سجدے میں : ۱۳۴

٥۔ عبادت و نماز میں : ۱۳۴

٦۔ دل میں : ۱۳۴

خدا کی نظر میں دنیا کا حقیر اور ناچیز ہونا: ۱۳۷

چودھواں سبق ۱۴۰


آخرت پسندی اور دین میں زہد و بصیرت کی ستائش اور دنیا طلبی کی مذمت ۱۴۰

دنیا طلبی کی مذمت اور ایمان کی بلندی کا ذکر: ۱۴۱

آخرت درستی کی ضرورت: ۱۴۳

خداوند عالم کی خیر خواہی اور دنیا میں دین و زہد کی آگاہی: ۱۴۵

پندرہواں سبق: ۱۵۰

حکمت، بصیرت اور پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت کی ایک جھلک ۱۵۰

حکمت و بصیرت زہد کا عطیہ: ۱۵۱

زاہد ترین لوگوں کی نشانیاں: ۱۵۴

'' مَنْ لَمْ یَنْسَ الْمَقَابِرَ وَالْبَلٰی'' ۱۵۴

٢۔ ''وَ تَرَکَ فَضْلَ زِیْنَةِ الدُّنْیَا'' ۱۵۴

٣۔ '' واٰثَرَ مٰایَبْقٰی عَلٰی مٰا یَفْنٰی'' ۱۵۶

٤۔ ''وَلَمْ یَعُدَّ غَداً مِنْ اَیّٰامِهِ'' ۱۵۶

٥۔َ ''عَدَّ نَفْسَهُ فی الْمَوْتٰی'' ۱۵۶

طولانی آرزو اور فرائض سے غفلت' تقویٰ و توکل کے ضعیف ہونے کی علامت: ۱۵۷

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت کی ایک جھلک: ۱۵۸

سولھواں سبق ۱۶۱

مال و منصب سے لگاؤ کا خطرہ اورقناعت و سادہ زندگی کی ستائش ۱۶۱

دنیا مقصد ہے یا وسیلہ: ۱۶۲

ملامت کی گئی دنیا ۱۶۳

فقیر مومنین، آسانی سے وارد بہشت ہوں گے: ۱۶۴


قناعت اور سادہ زندگی کی ستائش اور طمع و لالچ کی سرزنش: ۱۶۸

دنیا سے دوری اور بے اعتنائی کی ستائش: ۱۷۰

سترہواں سبق ۱۷۴

آخرت کے لئے گریہ کرنامومن کی وسعت قلبی اور اس کی تقویٰ مداری کی محور ہے ۱۷۴

آخرت کے لئے رونے کے نتائج: ۱۷۵

مومن کی وسعت قلبی اور اس کی علامتیں: ۱۷۷

تقویٰ محوری اور ریا کاری و نفاق سے پرہیز: ۱۷۹

عمل کی قدر و منزلت میں نیت اور اس کااثر: ۱۸۱

اٹھار ہواں سبق ۱۸۳

پروردگار کی عظمت و جلالت کا احترام ۱۸۳

قرآن مجید اور احادیث میں ذکر الٰہی کی اہمیت: ۱۸۳

ذکر کی کمیت و کیفیت: ۱۸۶

لفظی و قلبی ذکر کے درمیان رابطہ: ۱۸۷

لفظی ذکر کے دو فائدے: ۱۸۸

انیسواںسبق ۱۹۲

فرشتوں کی نظر میں خدا کی عظمت کا مقام ۱۹۲

امید و خوف کے پیدا ہونے کے اسباب: ۱۹۳

خوف وخشیت کی حقیقت و ماہیت: ۱۹۴

خوف الہٰی کا فائدہ اور اس کا مرتبہ: ۱۹۶

بزرگان دین اور اولیاء اللہ کے خوف کا مرتبہ: ۱۹۸


انسان کا کمال اور حق کے مقابلے میں ذلت و حقارت کا احساس: ۱۹۹

خوف الہٰی اور گناہ، شہرت و جاہ طلبی سے پرہیز: ۲۰۱

خدا کے دوستوں اور فرشتوں کے خوف کے مرتبہ پرتوجہ کرنے کا اثر: ۲۰۱

بیسواں سبق: ۲۰۴

بہشت و جہنم کے بارے میں پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توصیف ۲۰۴

مخلوقات کی عظمت کے بارے میں غور و خوض ۲۰۵

قیامت کی ناقابل توصیف عظمت: ۲۰۷

عذاب جہنم کی توصیف کی ایک جھلک: ۲۰۸

جہنم کے جوش و خروش کے مقابلے میں انسانوں اور فرشتوں کا ردعمل ۲۱۰

بہشت مومنین اور صالحین کی ابدی قیام گاہ: ۲۱۲

زاد راہ (پہلی جلد)

زاد راہ (پہلی جلد)

مؤلف: آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
زمرہ جات: معاد
صفحے: 34