اسلام کے عقائد(پہلی جلد )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : اسلام کے عقائد(پہلی جلد )

مؤلف : علامہ سید مرتضی عسکری

مترجم : اخلاق حسین پکھناروی

تصحیح : سید اطہر عباس رضوی (الٰہ آبادی)

نظر ثانی: ہادی حسن فیضی

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

کمپوزنگ : وفا


قال رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض''

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( اختلاف عبارت کے ساتھ : صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶، ۵۹. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)

قال الله تعالی:

( اِنّما يُرِ يْدُ اﷲ ُلِيُذْ هِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبِيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيْرا ً )

ارشاد رب العزت ہے:

اللہ کا صرف یہ ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور تمھیں پاک و پاکیز ہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الہی پیغامات، ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیروؤں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے


اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیروؤں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خون خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین ومصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، علامہ طباطبائی کی گرانقدر کتاب ''نام کتاب : اسلام کے عقائد(پہلی جلد )'' کو مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیںاور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


مقدمہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمین و الصلاة و السلام علیٰ محمد و آله الطاهرین و السلام علیٰ اصحابه المنتجبین

خدا وند عالم کی تائید اور توفیق سے درج ذیل ہدف تک رسائی کے لئے میں نے اس کتاب کی تالیف کااقدام کیا:

الف۔ جب میں نے یہ دیکھا کہ مختلف بشری مکاتب فکر قرآن کریم کی مخالفت کررہے ہیں اور نظام اجتماعی کے قانون گز ار سماجی قوانین کے نقطہ نظر سے احکام قرآن سے بر سر پیکار ہیں اور یہ بے اساس بنیاد نسل در نسل آیندہ کے لئے سند اور ایک دستاویز بن جائے گی، یہی چیز باعث بنی کہ بعض علماء اسلامی اٹھ کھڑے ہوئے اور قرآن کریم میں خدا وند عالم کے بیان کی مختلف توجیہیں کرنا شروع کر دیں،خلقت کی پیدائش سے متعلق بیان قرآن کو جو قوانین اسلام کی تشریع میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں مادی مخلوقات کی مادی نگاہ کے ساتھ یکساں حیثیت دے دی .اور ان کوششوں کے نتیجے میں مخلوقات کی پیدائش اور اس کے خدا سے رابطے کے سلسلے میں قرآن نے جو صحیح فکر پیش کی وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ان تمام مذکورہ باتوں کو دیکھتے ہوئے اس کتاب کے مباحث کی تدوین اور تالیف میں مشغول ہو گیااور نہایت ہی متواضع انداز میں خدا وند خالق پروردگار اور قانون گز ار، نیز اس کے اسمائے حسنیٰ سے متعلق قرآن کریم کے بعض ارشادات سے استنباط کرنے کیلئے آگے بڑھامیں جلدی کی اور تخلیق کی کیفیت اور اس کے خالق سے ارتباط کے بارے میں روز پیدایش سے قیامت تک کے متعلق قرآن کریم کے بیان کی جانب رجوع کیا، نیز اس بات کے بغیر کہ اس بیان کی روش سے ہٹ جاؤںاور قرآن کے علاوہ لوگوں کے اقوال کو پیش کروں، اس کی تحقیق اور چھان بین کرنا شروع کر دی .لہٰذااگر ہم نے اپنی اس ناچیز کوشش کے لئے توفیق حاصل کی اس کے لئے خدا وند عالم کے شکر گز ار ہیں۔اس کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہم پر یہ نعمت نازل کی ہے. اور اگر کسی جگہ لغزش کھائی ہو تو اپنا قصور اور کوتاہی خیال کرتا ہوں اور خداوند متعال نیز اس کے فضل و کرم سے امید وارہوں کہ وہ مجھے عفو و در گز ر کرے۔

ب۔ اس کے بعد کہ کتاب کی دوسری جلد (قرآن کریم اور دومکتب کی روایات) میں مکتب خلفاء کی بعض روایات کو مردود سمجھا، یعنی جن روایات کو رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف نسبت دی اور کہا: آنحضرت نے قرآن کریم میں اسمائے الٰہی کے جا بجا کرنے کی اجازت دی ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ یہ بحث خصوصی تحقیق اور تلاش کی طالب ہے


تاکہ اسمائے الٰہی میں سے دو نام جو قرآن کریم میں آئے ہیںشرح و بسط سے ان کے استعمال کے موارد کے درمیان مقائسہ اور تطبیق کا حق ادا ہو جائے ،دو نام ''الہ'' اور ''رب''جو اس کتاب میں آئے ہیں تاکہ ان روایات کی عدم صحت جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اصحاب کی طرف دی گئی ہے اس کی حق اور صواب سے دوری خوب واضح ہو جائے۔

ج۔ حوزۂ علمیہ کی درسی کتابوں کی تنظیم کے بعد مجھے آج کی ضرورت کے مطابق اسلامی عقائد کی تحقیق سے متعلق کوئی مناسب کتاب نہیں ملی لہٰذا خدا وند عالم کی توفیق اور تائید سے اس کتاب کی تالیف میں مشغول ہو گیا اس امید کے ساتھ کہ خدا وند عالم کی اجازت سے اس کمی کی تلافی ہو جائے۔

د۔ اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل اور اس کے استوار ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ تمام نگاہیں اسلام اور اس کی شناخت کی جانب متوجہ ہیں اور دور و نزدیک رہنے والے اس کے درک و فہم کے طالب ہیں، اس سے پہلے بعض اسلامی گروہوں کی غربی ممالک کی جانب ہجرت اور اپنے اسلامی ملک سے قطع رابطہ کوبھی میں نے دیکھا ہے لہٰذا میں نے اپنے لئے واجب سمجھا کہ اسلامی تعلیم کا دورہ مختلف عنوان سے تیار کر کے پیش کروں لہٰذا اس مقصد کے تحت خداوند عالم کی تائید سے خصوصی پروگرام ترتیب دیکر درسوں کا سلسلہ ''نقش ائمہ در احیائے دین'' شروع کر دیا جس کا پہلا حصہ ''اسلامی اصطلاحات'' کے نام سے اس کتاب کا مقدمہ قرار پایا ہے۔

ھ۔اسی کتاب کے سلسلہ میں جب عقائد اسلامی کی تحقیق کے لئے قرآن کریم کے عمیق اور گہرے مطالب سے قریب ہوا تو میں نے دیکھا کہ قرآن نے اسلام کے عظیم عقائد کو اس طرح آسان اور رواں پیش کیا کہ عربی زبان سے آشنا بچہ جو سن بلوغ کو پہونچ چکا ہو اور خدا کے قول( ''یا ایها الناس'' کا مخاطب ہو وہ خدا کے کلام کو اچھی طرح درک کر سکتا ہے۔

لیکن علماء نے تفسیر قرآن میں فلسفیوں کے فلسفہ ،صوفیوں کے عرفان ، متکلمین کے کلام اور اسرائیلی روایات ، نیز دیگر غیر تحقیق شدہ روایات جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف منسوب ہیں ان پراعتماد کیا اور قرآنی آیات کی ان چیزوں کی مدد سے تاویل و تفسیر کر دی اور اپنے اس عمل سے ''اسلامی عقائد'' کو طلسم، معمہ اور پہیلی بنا کر رکھ دیا جسکا درک کرنا علماء کی علمی روش یعنی فنون بلاغت و فصاحت، منطق ،فلسفہ وغیرہ سے آشنا ئی اور جانکاری کے بغیر ممکن نہیں یہی چیز باعث بنی کہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو گیااورمسلمان اشاعرہ، معتزلہ اور مرجئہ وغیرہ کے گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔


انہیں تحقیقات کے درمیان، اسلامی عقائد کے سلسلہ کو ایک دوسرے سے اس قدر مربوط پایا کہ آپس میں ایک دوسرے کے لئے معاون و مددگارہیںیعنی بعض دوسرے بعض کی طرف راہنمائی اور اس کی تفسیر و توضیح کرتا ہو اور مجموعی طور پر ایک منسجم اور مرتب پیکر کے مانند ہیں کہ اس کا ہر حصہ دوسرے حصے کی تکمیل کرتا ہے۔

چونکہ دانشور حضرات اپنی تالیفات میں اس کے بعض حصوں کو الگ الگ بیان کرتے ہیںجس کی وجہ سے اسلامی عقائد کی حکمت پوشیدہ رہ جاتی ہے ۔

مذکورہ بالا بیان پر توجہ دیتے ہوئے بحثوں کے اصول و مبانی اس کتاب میں کچھ یوں ہیں:

الف۔ تحقیق کی روش

اس کتاب میں اسلامی عقائد کے اصول قرآن کریم کی واضح اور روشن آیات سے ماخوذ ہیں، خداوندعالم نے قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا اور فرمایا :

( انا انزلناه قرآناً عربیاً لعلکم تعقلون ) ( ۱ )

ہم نے قرآن کوعربی زبان میں نازل کیاتاکہ تعقل کرو۔

( نزل به الروح الامین٭ علیٰ قلبک لتکون من المنذرین٭لسان عربی مبین ) ( ۲ )

روح الامین نے اسے تمہارے قلب پر اتارا تاکہ تم ڈرانے والوں میں رہو،واضح عربی زبان میں ۔

چونکہ خداوند عالم کی ''واضح عربی زبان ''سے مراد نزول قرآن کے وقت کی زبان ہے اورعصر نزول کی عرب زبان سے ہماری دوری کی وجہ سے تفسیر آیات کے موارد میں لغت عرب کی طرف رجوع کیا گیا ہے ۔

تفسیر آیات کی بہتر شناخت کے لئے سیرت اور حدیث کی ان روایات کی طرف جومیری دوسری

____________________

(۱) سورہ ٔ یوسف ۲.

(۲) شعرائ۱۹۵۔۱۹۳


تالیفات میں تحقیق شدہ ہیںمیں نے مراجعہ کیا اور ان میں چند کی اس کتاب میں تحقیق کی ہے اس لحاظ سے ''مباحث کتاب'' میں قرآن کریم کی تین طرح کی تفسیر پر اعتماد کیا گیا ہے :

۱۔تفسیر روائی:

آیات کی روایات کے ذریعہ تفسیر جیسے سیوطی نے تفسیر ''الدر المنثور''میں اور بحرانی نے ''تفسیر البرھان''میں کیا ہے مگر میں نے انہیں روایتوں پر اعتماد کیا ہے جس کی صحت قابل قبول تھی، جبکہ سیوطی نے ہر وہ روایت جو سے ملی اپنی کتاب میں ذکر کر دی ہے وہ بھی اس طرح سے کہ بعض منقولہ روایات بعض دیگر روایات کی نفی کرتی ہیں اسی لئے ہم نے اس کی بعض روایات پر اس کتاب میں نقد و تحقیق کی ہے ۔حدیث کی کتابوں کی طرف رجوع کر کے مسلمانوں کی تمام معتبر کتابوں، خواہ صحاح ہوں یا مسانید و سنن ان میں سے قابل اعتماد احادیث کا انتخاب کیا نیز کسی خاص مکتب پراخذ حدیث کے سلسلے میں اعتمادنہیں کیا کبھی تحقیق تطبیقی اور ایک حدیث کو دوسری حدیث سے مقایسہ بھی کیا اور ایک نظریہ کاکہ جس نے دو احادیث میں سے کسی ایک پر اعتماد کیا تھادوسرے کی رائے سے موازنہ کیا اور صاحب رای کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے نظریات کو دلیل کے ذریعہ تقویت دی ہے اور ثابت کیاہے۔درایت و فہم حدیث سے متعلق چھٹی صدی ہجری تک کے اکابر محدثین کی روش اپنائی ۔اسی روش کو معالم المدرستین کی تیسری جلد میں (ائمہ اہل بیت نے حدیث شناسی کی میزان قرار دی ہے) کی بحث میں ذکر کیا ہے۔( ۱ )

۲۔ لغوی تفسیر:

آیات کی تفسیر اصطلاحات اور کلمات کے معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ٹھیک اسی طرح جس طرح سیوطی نے اپنی روایات میں ابن عباس وغیرہ سے ذکر کیا ہے اور چونکہ لغوی دانشور لفظ کے حقیقی اور مجازی معنی کے ذکر میں بحث کو طولانی کر دیتے ہیں لہٰذا میں نے اس روش سے کنارہ کشی اختیار کی اور ان معانی کو ذکر کیا جو سیاق آیت سے سازگار ہیں۔

۳۔ موضوعی تفسیر:

ایک موضوع سے متعلق آیات کی تفسیر ایک جگہ جیسے جو کچھ فقہاء نے اپنی تفاسیر میں آیات احکام کو ذکر کیا ہے ۔

تفسیر کے مذکورہ تینوں ہی طریقے صحیح اور درست ہیں اور اس سلسلہ میں ائمہ معصومین سے روایت بھی وارد ہوئی ہے ۔

____________________

(۱)اس کتاب کی پہلی جلد اسلام کے دو ثقافتی مکتب (معالم المدرستین)کے نام سے ، ترجمہ ہو کر چھپ چکی ہے۔


چونکہ اکثر قرآنی آیات میں ایک مطلب سے زیادہ مطالب سموئے ہوئے ہیں، لہٰذا آیات کے انہیں الفاظ کو جو بحث سے مربوط ہیں ذکر کیا اور اس کے علاوہ کو ترک کر دیا تاکہ مطالب کا جمع کرنا طالب علموں کے لئے آسان ہو، اسی لئے ایک آیت مربوط مباحث میں موضوعات سے مناسبت کی بنا پر چند بار تکرارہوئی ہے اسی طرح ایک قرآنی لفظ کے معانی موضوعات سے دوری اور فراموشی کییانئی جگہوں پر معانی کی تبدیلی کے امکان کی وجہ سے مکرر ذکر ہوئے ہیں ۔

روایات سے استفادہ کرنے میں بھی ان روایات کے علاوہ جو آیات کی توضیح اور تفسیر میں آتی ہیں ایسی روایات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جو شرح و تفصیل کے ساتھ بحث کے بعض جنبوں کی وضاحت کرتی ہیں اس لئے کہ بحث کے تمام اطراف کی جمع بندی اوراس پر احاطہ اس بات کا باعث ہوا کہ ایسا کیا جائے۔

بعض مباحث میں جو کچھ توریت اور انجیل میں ہمارے نظریات کی تائید میں ذکر ہوا ہے خصوصاً درج ذیل موارد میں استشہاد کیا گیا ہے۔

الف:۔ انبیاء کے واقعات :

اس لئے کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے کے انبیا ء کی سیرت کے متعلق سب سے زیادہ قدیم تاریخی نص توریت و انجیل میں ہے اور خدا وند متعال نے قرآن کریم میں ، جو کچھ توریت میں اسرائیل کے اپنے اوپر تحریم کے متعلق وارد ہوا ہے اس سے استشہا د کیا ہے اور فرمایا ہے :

( کلّ الطعام کان حلاً لبنی اسرائیل الا ما حرم اسرائیل علیٰ نفسه من قبل ان تنزل التوراة قل فأتوا بالتوراة فاتلوها ان کنتم صادقین ) ( ۱ )

بنی اسرائیل کے لئے ہر طرح کی غذا حلال تھی سوائے ان چیزوں کے جن کو اسرائیل (یعقوب) نے توریت کے نزول سے پہلے خود پر حرام کر لیا تھا، کہو: توریت لے آئو اور اس کی تلاوت کرو اگر سچے ہو۔

واضح ہے کہ ان دونوں کتابوں میں جو کچھ خدا، رسول اور انبیاء کی طرف ناروا نسبت دی گئی ( اور خدا وند متعال اور انبیائے کرام ان سے پاک و منزہ ) اور جوکچھ ہے علم و عقل کے مخالف مطالب ہیں ان سب کو ترک کردیا ہے ۔

ب۔جو کچھ حضرت خاتم الانبیاء کی بعثت کے بارے میں بشارت اور خوشخبری سے متعلق ان دونوں کتابوں میں مذکور ہے چنانچہ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ کی بشارت سے استشہاد کیا اور فرمایاہے :

( و اذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقاً لما بین یدیّ من

____________________

(۱)آل عمران۹۳


التوراة و مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد)

جب حضرت عیسی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری جانب خدا کا رسول ہوں اور اپنے آنے سے توریت میں مذکور اپنے متعلق پیشین گوئی سچ ثابتکینیز ایک ایسے پیغمبر کی آمد کا مژدہ سنا رہا ہوں جس کانام احمد ہے ۔( ۱ )

مطالب کے ذکر میں بصورت امکان علمی اصطلاحات کے ذکر سے دوری اختیار کی ہے اور علمی تعبیرات بھی عام قارئین کی فہم و ادراک کے مطابق آئی ہیں۔

محل بحث موضوع سے متعلق لوگوں کے آراء و نظریات ذکر نہیں کئے ہیں بلکہ صرف اپنے پسندیدہ نظریہ پر اکتفا کیا ہے کبھی اس رایٔ کو مقدم کیا ہے جو گز شتہ دانشوروں کے نقطۂ نظر سے الگ تھی اس انتخاب کی دلیل خدا وند متعال کی اجازت سے پیش کرتا ہوں۔

خلاصہ یہ کہ اس کتاب میں اسلامی عقاید کو قرآن کریم میں موجود ترتیب پر مرتبکیا ہے ۔ مجموعی طور پر سب ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور ہم رنگ ہیں ہر حصہ دوسرے حصہ کو مکمل کرتا ہیاور گز شتہ بحث آئندہ بحث کے لئے را ہ گشاہے ۔ نیز اسی اسلوب سے اسلام کے عقائد اوراسکی حکمت روشن ہو جاتی ہے اسی لئے آخری بحث کی جمع بندی اور پہلی بحث کی جمع بندی سے پہلے امکان پذیر نہیں ہے نیز یہ مطلب آئندہ ''مباحث کی سرخیوںسے سمجھ میں آجائے گا ۔

____________________

(۱)صف۶


مباحث کی سرخیاں

۱۔عہد و میثاق ''الست بربکم''

۲۔ مباحث الوہیت

الف۔ آیامخلوقات کا وجود اتفاقی اور اچانک ہوا ہے ؟

ب۔''الہ'' کے معنی

ج۔ ''لا الہ الا اللہ'' کے معنی

د۔آیاخدا کے لڑکا اور لڑکی ہے ؟

۳۔ قرآن کریم میں اقسام مخلوقات خداوندی

الف ۔فرشتے

ب۔زمین و آسمان و سماء الارض

ج۔ چلنے والے

د۔ جن و شیاطین

ھ۔ انسان

۴۔ مباحث ربوبیت

الف۔ ''رب''

ب۔ ''رب العالمین'' کے معنی

ج۔ رب العالمین کی اقسام ہدایت اصناف مخلوقات کے لئے

اوّل۔فرشتوں کی بلا واسطہ تعلیم

دوسرے۔ بے جان موجودات کی تسخیری ہدایت

تیسرے۔ حیوانات کی فطری ہدایت

چوتھے۔ جن و انس کی وحی کے ذریعہ انبیاء کے توسط سے ہدایت


۵۔دین اور اسلام

۶۔خدا کے رسول، لوگوں کے معلم آدم سے لیکر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد تک نسل اسماعیل سے ۔

۷۔ اللہ کے رسولوں کے صفات

۸۔ انبیاء الٰہی کا اپنی امت سے مبارزہ، رب العالمین کی ربوبیت (خدا کی قانون گز اری) اور اسلام کی تشریع سے متعلق۔

خدا وند قادر و متعال سے در خواست ہے کہ اس کتاب کو ان لوگوں کے لئے جو قرآن کریم سے اسلامی عقائد کے خواہاں ہیں دائمی مددگار اور راہ کشا قرار دے نیز ان لوگوں کے لئے بھی جو تفرقہ اندازی سے دور رہنا چاہتے ہیں اور قرآن مجید کے سایہ میں وحدت کلمہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایک سکون بخش راہنما ووسیلہ قرار دے کہ اس نے خود فرمایا ہے :

اے لوگو! خدا وندعالم کی جانب سے تمہارے لئے برہان اور دلیل آچکی ہے ، نیز واضح اور روشن نور بھی تمہاری طرف بھیج چکے ہیں لہٰذا جو لوگ ایمان لا چکے ہیں اور اس سے توسل کرتے ہیں خدا وند عالم انہیں اپنی رحمت اور عفو و بخشش کے سایہ میں قرار دے کر صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے ۔( ۱ )

میری آخری گفتگو یہ ہے کہ ستائش پروردگار عالم سے مخصوص ہے ۔

''مؤلف''

____________________

(۱)نسائ۱۷۵۔۱۷۴


۱

میثاق

خدا وند عالم کا بنی آدم کے ساتھ عہد و میثاق

الف۔ آیہ کریمہ''الست بربکم''کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟

ب۔ انسانی معدہ اورذہن کو کھانے اور معرفت کی تلاش.

ج۔ آیہ کریمہ ''الست بربکم'' کی تفسیر.

د۔ انسان ماحول اور ما ں باپ کا پابند نہیں ہے.

۱۔۲:آیہ کریمہ''الست بربکم'' اور فکری جستجو

خداوند عالم نے قرآن کریم میں مذکور ہ چیزوں کے مطابق حضرت آدم کی نسل اور ذریت سے عہد و پیمان لیا ہے، جیسا کہ سورۂ اعراف میں فرماتا ہے :

( واذ اخذ ربک من بنی آدم من ظهورهم ذریتهم و أشهدهم علیٰ انفسهم الست بربکم قالوا بلیٰ شهدنا ان تقولوا یوم القیٰمة انا کنا عن هذا غافلین٭ او تقولوا اِنَّما اشرک آبٰاؤنا من قبل و کنا ذریة من بعدهم افتهلکنا بما فعل المبطلون )

جب تمہارے پروردگار نے فرزندان حضرت آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت اور نسل کو لیا نیز ان کو خود انہیں پرگواہ قرار دیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں، ہم گواہی دیتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے تاکہ تم روز قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ ہم آگاہ نہیں تھے یا یہ کہ ہمارے آباء و اجداد مشرک تھے اور ہم تو ان کے بعد والی نسل ہیںلہٰذا کیا تو ہمیں ان کی وجہ سے ہلاک کرے گا؟!( ۱ ) ان دو آیتوں کی شرح اور تفسیر کے لئے درج ذیل دومقدموں کی ضرورت ہے :

جب نو مولود رحم مادر سے الگ ہوتا ہے اوروہ ناف کا سلسلہ کہ جس کے ذریعہ غذا حاصل کرتا تھا وہ سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے ، تو گرسنگی کی خواہش اسے غذا کی تلاش پر مجبور کرتی ہے، وہ روتا اور چیختا ہے اور ہاتھ پاؤں مارتا ہے نیز سکون نہیں لیتا جب تک کہ ماں کا پستان منھ میں نہیں لیتا اور دودھ نہیںپیتااور منھ کے راستہ سے معدہ تک پہنچاتا ہے ، یہ غریزہ( فطرت) انسان میں ہمیشہ پایا جاتا ہے اور اسے پوری زندگی غذا کے حصول پر مجبور اور متحرک رکھتا ہے۔

اس غریزہ میں جسے ہم غذا کے لئے معدہ کی تلاش کانام دیتے ہیں تمام حیوانات انسان کے ساتھ

____________________

(۱)اعراف۱۷۳۔۱۷۲


شریک ہیں اور یہی وہ پہلا غریزہ ہے جو انسان کو فعالیت اور تلاش کی طرف حرکت دیتا ہے ،پھر جب نومولود کچھ بڑا اور چند سال کا ہو جاتا ہے تو دوسرا غریزہ تدریجاً اس میں ابھر تا ہے اور بچپن کے درمیان اور ابتدائے نوجوانی میں ظاہر ہوتا ہے اور اپنی دماغی توانائی کو روحی غذا کے حصول کے لئے مجبور کرتا ہے، ایسی صورت میں جو کچھ اپنے اطراف میں دیکھتا ہے اپنی توجہ اس کی طرف مرکوزکر دیتا ہے اور اسکے ماں باپ اور اطراف سے سوال کرنے کا باعث بنتا ہے کہ ہر موجود کی علت دریافت کرے۔ نمونہ کے طور پر ، جب خورشید کو ڈوبتا ہوا دیکھتا ہے تو ان سے پوچھتا ہے کہ خورشید راتوں کو کہاں جاتا ہے ؟ یا جب کوئی پانی کا چشمہ پہاڑوں سے گرتا ہوا دیکھتا ہے تو سوال کرتا ہے کہ یہ پانی کہاں سے آرہا ہے ؟ یا جب کبھی بادلوں کو آسمان پر اڑتا دیکھتا ہے تو سوال کرتا ہے یہ بادل کہاں جا رہے ہیں؟وغیرہ۔

ا س طرح موجودات سے متعلق آگاہی کو وسعت دیتا ہے اور موجودات کی علت اور حرکت سے متعلق ماں باپ یا اپنے بزرگ سے سوال کر کے دوسرے غریزہ کی ضرورت بر طرف کرتا ہے لہٰذا یہ غریزہ بھی اس طرح کی بھوک مٹانے کے لئے انسان کو کوشش اورجستجو پر مجبور کرتا ہے، یہ در حقیقت وہی انسانی عقل کی تلاش و کوشش ہے جو معرفت اور ادراک کی راہ میں ہوتی ہے اور تحقیق و کاوش سے موجودات کے اسباب و علل کے سمجھنے اور دریافت کرنے کے در پے ہوتی ہے ۔

یہ روش موجودات کے ساتھ انسان کی پوری زندگی میں اس غریزہ کے ذریعہ وسیع ہوتی رہتی ہے،نیز موجودات کی پیدائش کے اسباب و علل کے سلسلے میں جستجو اور تحقیق کی طرف کھینچتی ہے اور معرفت شناسی اور حصول علم و دانش کا یہی ایک واحد راستہ ہے ۔

انسان کی کدو کاوش ،تلاش و جستجو ،تحقیق و بر رسی ،موجودات کی علت سے متعلق اس کے موجدیعنی خالق کائنات خدا کی شناخت کا سبب بنتی ہے نیز موجودات کے حرکت و سکون کی علت کا دریافت کرنا اور اس کے متعلق تحقیق و جستجو اسے مخلوقات کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظم و نظام کے بانی کا پتہ دیتی ہے ۔

مثال کے طور پر چاند کازمین کے اردگرد اور زمین کاخورشید کے اردگرد چکر لگانا یا الکٹرون کی حرکت ایٹم ( Atom )کے اندر اپنے ہی دائرہ میں نیزگلو بل(سرخ و سفید ذرات کی) حرکت خون کے اندر یا اس کے علاوہ نظم و نظام کے آشکار نمونے موجودات کی حرکت و سکون سے متعلق بے حد و شمار ہیں۔


اس طرح کی کوشش و تحقیق میں تمام انسانوں کو ایسے نتیجہ تک پہنچاتی ہیں کہ زمین و آسمان اوران دونوں کے درمیان تمام موجودات ایک قانون ساز اور نظم آفرین پروردگار رکھتے ہیں جس نے ان کی زندگی کو منظم اور با ضابطہ بنایا ہے اور یہ وہی خداوند متعال کی بات ہے جوسورۂ اعراف میں ہے کہ وہ فرماتا ہے:

( و اذ اخذ ربک... )

۳۔آیت کی تفسیر

( و اذاخذ ربک من بنی آدم من ظهورهم ذریتهم )

یعنی جب خداوند عالم نے افراد بنی آدم میں سے ہر ایک سے اس کی ذریت اور نسل کو ظاہر کیااور ہر باپ کی نسل اس کی پشت سے جدا ہو گئی تو اشہدھم علیٰ انفسم تو ان میں سے ہر ایک کو خود انہیں پر گواہ بنایا اور تلاش و تحقیق کرنے والی اس فطرت کی راہ سے، جو اس نے ودیعت کی ہے تاکہ حوادث اور موجودات کی علت اور موجودات کی حرکت و سکون کا سبب دریافت کریں ، اس نے ان سے دریافت کیا: کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ اور چونکہ سبھی نے اپنی فطری عقل سے دریافت کرلیا تھا کہ ہر مخلوق کا ایک خالق ہے اور ہر نظم کا ایک ناظم ہے لہٰذا تو سب نے بیک زبان ہاں کہہ دیا ،یہ وہی فطری غریزہ ہے جس نے انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کیا ہے اور انسان اس کے ذریعہ سے صغریٰ و کبریٰ اور نتیجہ نکالنے پر قادر ہوا ہے اوروہ تمام چیزیں جو دیگر مخلوقات کے بس سے باہر ہیں انہیں درک اور دریافت کرتاہے ،انشاء اللہ اس کی شرح و تفصیل آیہ کریمہ ''وعلم آدم الاسماء کلھا'' کی تفسیر میں آئے گی ۔

۴۔انسان ماحول اور ماں باپ کاپابندنہیں ہے

میں نے کہا: خداوند متعال نے اسی فطری غریزہ سے جو انسان کی سرشت میں پایا جاتا ہے انہیں خود انہیں پر گواہ بنایا اور ان سے سوال کیا: کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تو ان لوگوں نے بھی بزبان فطرت جواب دیا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی


ہمارا پروردگار ہے درج ذیل روایت شدہ حدیث کے یہی معنی ہیں کہ پیغمبر نے فرمایا:''کل مولود یولد علیٰ فطرة الاسلام حتی یکون ابواه یهودانه و ینصرانه ( ۱ ) و یمجسانه ۔''( ۲ )

ہر بچہ فطرت اسلام پرپیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔

یعنی ہر انسان ربوبیت شناسی کی فطرت کے ساتھ عقلی نتیجہ گیری کے ہمراہ پیدا ہوتا ہے ( اس کی شرح آئے گی) یہ تو ماںباپ ہوتے ہیں جو اسے فطرت سلیم سے منحرف کرکے دین یہود، نصرانی اور مجوس (جوکہ دین فطرت سے روگرداں ہو کر خدا وندعزیز کے آئین میں تحریف کے مرتکب ہوئے ) میں لے آتے ہیں،اس کی شرح آئے گی۔

رہا سوال یہ کہ خدا وند عالم نے تنہا اپنی ''ربوبیت'' پر ایمان سے متعلق گواہ بنایا ہے اور الوہیت اور اس پر ایمان سے متعلق گواہی کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا تو وہ اس لئے کہ مخلوقات کے نظام زندگی میں قانون گزاری اور ''ربوبیت'' پر ایمان، خدا کی ''الوہیت'' پر ایمان کا باعث اور لازمہ ہے جب کہ اس کے بر عکس صادق نہیں ہے .اس کی وضاحت آیہ کریمہ ''الذی خلق فسوی'' کی تفسیر میں آئے گی ۔

ہاں خدا وند متعال نے خودانہیںانہیں پر گواہ بنایا تاکہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اس موضوع سے بے خبر اور غافل تھے اور تیری ربوبیت اور پروردگار ہونے کی طرف متوجہ نہیں تھے!اور تونے ہمارے لئے بر ہان و دلیل نہیں بھیجی نیز ہماری عقلوں کو بھی کمال تک نہیں پہنچایا کہ ہم اس ''ربوبیت'' کو درک کرتے ،یا یہ نہ کہہ سکیں کہ انّما اشرک آباؤنا من قبل و کنا ذریةً من بعدھم ہمارے گز شتہ آباء و اجداد مشرک تھے اور ہم تو ان کے بعد کی نسل ہیں،یعنی: ہمارے آباء و اجداد ہم سے پہلے شرک الوہیت اور کفر ربوبیت پرپرورش پائے تھے اور ہم تو ایسے حالات میں دنیا میں آئے کہ کچھ درک نہ کر سکے یہ تو وہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں اپنے مقصد کی سمت رہنمائی کی تھی۔ اور ہم بھی ان کی تربیت کے زیر اثر جیسا انہوں نے چاہا ہو گئے، لہٰذا سارا گناہ اور قصور ان کا ہے نیز اس کے تمام آثار اور نتائج کے ذمہ دار بھی وہی ہیں:''افتهلکنا بما فعل المبطلون'' کیا ہمیں ان گناہوں کی سزا دے گا جس کے مرتکب ہمارے آبا ء و اجداد ہوئے ہیں؟!

یہ وہی چیز ہے جس کو اس دور میں ''جبر محیط'' یعنی ماحول کاجبر اور اس کا اثرانسان خصوصاً بچوں پر کہتے ہیں،

____________________

(۱) سفینة البحار: مادہ فطرت (۲)صحیح مسلم : کتاب قدر،باب معنی کل مولود ،صحیح بخاری ، کتاب جنائز ، کتاب تفسیر ، و کتاب قدر ،سنن ابی داود، کتاب سنت ؛سنن ترمذی ،کتاب قدر ؛موطأ مالک، کتاب جنائز اور مسند احمد ، ج ۲، ص ۲۳۳، ۲۵۳.وغیرہ


خدا وند عالم فرماتا ہے : تمہیںایسی بات نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ ، ہم نے تمہیں تلاش وجستجو کی قوت اورعلت یابی کی صلاحیت سے آراستہ کیا ہے، بعینہ اسی طرح کہ بعد کی نسلوں نے بہت سی ایسی چیزیں کشف کی ہیں اور کرتے رہتے ہیںکہ جن سے گز شتہ لوگ بے خبر تھے، نیز ان کا شدت سے انکار کرتے تھے اور ایسا خیال کرتے تھے کہ اس کا حصول محال ہے ، جیسے بھاپ کی طاقت، الکٹریک اوربجلی کاپاور، نور کی سرعت، ستاروں کاایک دوسرے کے اردگرد چکر لگانا نیز اس کے علاو دیگر انکشافات جن کا شمار اور احصاء نہیں ہے ۔

ان تمام مقامات پر انسان نے اپنی علت جو فطری عقل وشعور کے ذریعہ یہ امکان پایا تاکہ سابقین کی گفتار وعقائد کو باطل اور بے بنیاد ٹھہرائے اور اپنے جدید انکشاف کو ثابت کرے۔ ہاں، خداوند عالم ہمیں اس طرح جواب دیتا ہے :چونکہ ہم نے تمہیںجستجو اور تلاش کی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا، نیز حق و باطل کے درمیان تمیز کے لئے عقل اور صحیح و غلط کے لئے قوت امتیاز عطا کی اور تم پرحجت تمام کر دی ، لہٰذا تمہارے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے :

''ہم اسے نہیں جانتے تھے اور اس سے غافل تھے'' یا یہ کہ: ''ہمارے ماں باپ مشرک تھے اور ہم نے ان کا اتباع کیا اور ماحول نے ہم پر اپنا اثر چھوڑا''۔

خدا وند عالم نے اس خیال کی رد نیز اس بات کے اثبات میں کہ انسان جس ماحول میں تربیت پاتا اور زندگی گز ارتا ہے اس کی مخالفت کر سکتا ہے اس کے لئے قرآن میں مثالیں اورنمونے بیان کئے اور فرماتا ہے :

( ضرب الله مثلا للذین کفروا امرأة نوح ٍو امرأة لوطٍ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا هما فلم یغنیا عنهما من الله شیئا و قیل ادخلا النار مع الداخلین٭ وضرب الله مثلاً للذین آمنوا امرأة فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتاً فی الجنة و نجنی من فرعون و عمله و نجنی من القوم الظالمین٭ و مریم بنت عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فیه من روحنا و صدقت بکلمات ربها و کتبه و کانت من القانتین )

خداوند عالم ان لوگوںکیلئے جو کافر ہو گئے ہیںنوح اور لوط کی بیویوں کی مثال دیتا ہے کہ یہ دونوں حریم نبوت اور ہمارے دو صالح بندوں کی سر پرستی میں تھیں پھر بھی ان کے ساتھ خیانت کی نیز ان دونوں کا دو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ازدواج اور تعلق انہیںعذاب کے سوا کچھ نہ دے سکا اور ان سے کہا گیا: جہنم میں ان لوگوں کے ہمراہ داخل ہو جائو جو جہنمی ہیں۔


اور خداوند عالم، مومنین کے لئے فرعون کی زوجہ (جناب آسیہ) کی مثال دیتا ہے ، جب انہوں نے کہا: خدایا! اپنے نزدیک میرے لئے بہشت میں ایک گھربنا اورمجھے فرعون اور اس کے کردار سے نجات دے اور ستمگر وں سے مجھے چھٹکارا دلا!

نیز عمران کی بیٹی حضرت مریم کی مثال دیتا ہے کہ انہوں نے عفت اور پاکدامنی کا ثبوت دیا اور ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی اور اس نے کلمات خداوندی اور اس کی کتاب کی تصدیق کی وہ خداکی اور فرمانبردار اور تسلیم تھی۔( ۱ )

فرعون کی بیوی آسیہ کافر گھرانے ،کفر آمیز اور کفر پرورماحول میں زندگی گز ار رہی تھیں، وہ ایسے شخص کی بیوی تھیں جو ''الوھیت''اور''ربوبیت'' کا دعویٰ کرتا تھا، اس اعتبار سے طبیعی اور فطری طور پر انہیںبھی خدائے ثانی(خدائن) بن جانا چاہئے تھا تاکہ تعظیم و تکریم اور عبادت و پرستش کا مرکز بنتیں لیکن ان تمام چیزوں کو انہوں نے انکاراور رد کر دیااور اپنے شوہر نیز تمام اہل حکومت کی مخالفت شروع کر دی اور صرف پروردگار عالمین پر ایمان لائیں۔

اور انہوں نے ربوبیت کے دعویدار طاقتور فرعون اور اس کی بد اعمالیوں سے بیزاری کا اظہار کیا اور کہا: خدایا!مجھے فرعون اور اس کے کرتوت سے نجات دے نیز ستمگر گروہ یعنی میری قوم سے چھٹکارا دلا اور ان لوگوں کے مقابل قیام کیا اور برابر مقابلہ کرتی رہیںیہاں تک کہ خاوند عالم کی راہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوئیں۔

دوسری طرف، نوح و لوط کی بیویاں باوجود یکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں تھیں جو لوگوں کوپروردگارعالم کی اطاعت کی دعوت دیتے تھے لیکن اس کے باوجود خدا وند عالم اور اپنے شوہروں کا انکار کر دیااور کافر ہوگئیں ان دونوںسے زیادہ بھی اہم یہ ہے کہ حضرت نوح کا فرزند اپنے باپ کی مخالفت کر گیا، خدا وند عالم نے سورۂ ہود میں کشتی میں سوار ہونے سے متعلق بیٹے کاباپ کی دعوت سے انکار کرنے کا ذکر کیا ہے:

( وهی تجری بهم فی موج کالجبال و نادی نوح ابنه و کان فی معزل یا بنی ارکب معنا ولا تکن مع الکافرین٭ قال سآوی الیٰ جبل یعصمن من الماء قال لا عاصم الیوم من امر الله الا من رحم و حال بینهما الموج فکان من المغرقین )

کشتی انہیں پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان لے جارہی تھی نوح نے اپنے فرزند کو جوکنارے پر تھا آواز دی اور کہا: میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دے! تو اس نے کہا: ابھی میں پہاڑ پر پناہ لے لیتا ہوں تاکہ وہ مجھے پانی سے محفوظ رکھے، نوح نے کہا: آج امر الٰہی کے مقابل کوئی پناہ دینے والا

____________________

(۱)تحریم۱۲۔۱۰


نہیں ہے جز اس کے کہ کوئی مشمول رحمت الٰہی ہو اتنے میں موج دونوں کے درمیان حائل ہوئی اور نوح کا بیٹا ڈوبنے والوں میں قرار پایا۔( ۱ )

پھر، نوح اور لوط کی بیویوں نے اپنے شوہروں کی مخالفت کی اور فرزند نوح نے عذاب الٰہی اور کوہ پیکر موجوں کو دیکھنے کے باوجود باپ کے حکم سے سرپیچی کی اور کشتی پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، ان تمام افراد نے خواہشات نفسانی اور ہوا وہوس کا اتباع کیا او ر ان راستوں کو اپنایا اسمیں ماحول کی مجبوری کا کوئی دخل نہیں ہے ۔

جبکہ فرعون کی بیوی نے ہوائے نفس کی مخالفت کر تے ہوئے شوہراور خاندان سے مبارزہ کیا تاکہ حکم خداوندی کی پیروی کریں اور حضرت عمران کی بیٹی جناب مریم مومن گھرانے میں زندگی بسر کر رہی تھیں، انہوں نے نوح اور لوط کی بیویوں کے برخلاف، خدا اور اس کی کتاب کی تصدیق کی۔ لہٰذا ماحول اور گھرانے کی مجبوری کی رٹ لگانا بے معنی چیز ہے ۔ یہ خاندان اور ماحول کفر و ایمان پر مجبور نہیں کرتے بلکہ صرف اور صرف عادات کی طرف میلان اور ماحول کی پیروی کی طرف تمائل انسان کو راہ حق سے منحرف کر دیتا ہے جیسا کہ خداوند عالم نے قرآن میں سات مقام پر اس کے بارے میں خبر دی ہے، اور فرمایا ہے: گز شتہ امتوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا: ملائکہ اور بتوں کی عبادت اور پرستش کرنے میں اپنے آبائو اجداد کی پیروی کرتے ہیں، جیساکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کی داستان سورۂ انبیا میں مذکور ہے:

( ولقد آتینا ابراهیم رشده من قبل و کنا به عالمین ٭ اذ قال لا بیه وقومه ما هذه التماثیل التی انتم لها عاکفون ٭ قالو وجدنا آبائنا لها عابدین ) ( ۲ )

ہم نے اس سے پہلے ہی ابراہیم کو رشد و کمال کا مالک بنا دیا، نیز ہم ان کی شائستگی اورلیاقت سے واقف تھے جب انہوں نے اپنے مربی باپ اور قوم سے کہا: یہ مجسمے کیا ہیں کہ تم لوگوںنے خود کو ان کا اسیراور غلام بنا ڈالا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم نے ہمیشہ اپنے آباء واجداد کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا ہے۔

سورۂ شعرا ء میں مذکور ہے:

( و اتل علیهم نبأ ابراهیم ٭ اذ قال لابیه و قومه ما تعبدون ٭ قالوا نعبد اصناماً فنظل لها عاکفین ٭قال هل یسمعونکم اذ تدعون ٭ او ینفعونکم او یضرون ٭قالوا وجدنا

____________________

(۱)ھود ۴۲ و۴۳(۲)انبیاء ۵۳۔۵۱


آبائنا کذلک یفعلون ) ( ۱ )

ان کوابراہیم کی داستان سنائو،جب اس نے اپنے مربی باپ اور قوم سے کہا: کیا پوجتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور خود کو ان کے لئے وقف کر دیا ہے ابراہیم نے کہا: کیا جب تم انہیں بلاتے ہو تو یہ تمہاری باتیں سنتے ہیں؟ کیا تمہیں نفع اور نقصان پہنچاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایسا کرتے دیکھا ہے ۔

حضرت موسیٰ اور فرعونیوں کی داستان سورۂ یونس میں خدا فرماتا ہے :

( قال موسیٰ اتقولون للحق لما جائکم اسحر هذا ولا یفلح الساحرون ٭ قالوا جئتنالتلفتناعما وجدنا علیه آبائنا وتکون لکما الکبیر یاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین )

موسیٰ نے کہا: کیا جب تمہارے سامنے حق آتا ہے تو کہتے ہو یہ جادو ہے ، جبکہ جادو گروں کو کبھی

کامیابی نہیں ہے ؟انھوں نے کہا : کیا اس لئے تم آئے ہو تاکہ ہمارے آباء و اجداد کی روش سے ہمیں منحرف کردو اور زمین پر صرف تمہاری بزرگی اور عظمت کا سکہ چلے؟ ہم ہرگز تمہیں قبول نہیں کرتے۔( ۲ )

یا حضرت خاتم الانبیاء کی داستان ان کی قوم کیساتھ کہ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہوتاہے :

( واِذا قیل لهم تعالوا الیٰ ما انزل الله و الیٰ الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیه آبائنا أو لو کان آباؤهم لا یعلمون شیئاً ولا یهتدون )

جب بھی انہیں کہا گیا کہ خداوند عالم اور پیغمبر کی علامتوں کی طرف آئو، تو انہوں نے کہا: جس پر ہم نے اپنے آباو اجدا کو پایا ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے خواہ ان کے آباء و اجداد جاہل اور گمراہ رہے ہوں۔( ۳ )

نیز سورۂ لقمان میں ارشاد ہوتا ہے :

( و من الناس من یجادل فی الله بغیر علمِ ولا هدیً ولا کتابٍ منیر ٭و اذا قیل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما وجدنا علیه آبائنا او لو کان الشیطان یدعوهم الیٰ عذاب السعیر )

بعض لوگ بغیر علم و دانش،ہدایت اور روشن کتاب کے، خدا سے متعلق جدال کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے نازل کردہ کتاب کا اتباع کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے

____________________

(۱) شعرائ۷۴۔۶۹

(۲)یونس۷۷۔۷۸(۳) مائدہ۱۰۴


آباء و اجداد کا اتباع کریں گے کیا ایسا نہیں ہے کہ شیطان انہیں جہنم کے بھڑکتے شعلوں اور عذاب کی دعوت دیتا ہے؟( ۱ )

نیز سورۂ زخرف میں ارشاد ہوتا ہے :

( وجعلوا الملائکة الذین هم عباد الرحمن اناثاً أشهد وا خلقهم ستکتب شهادتهم و یسئلون ٭و قالو لوشاء الرحمن ما عبدنا هم ما لهم بذلک من علم ان هم الایخرصون ٭ ام آتینا هم کتاباً من قبله فهم به مستمسکون بل قالوا انا وجدنا آبائنا علیٰ اُمة و انا علیٰ آثارهم مهتدون ) ( ۲ )

ان لوگوں نے خدا وند رحمن کے خالص بندے ملائکہ کولڑکی خیال کیا آیا یہ لوگ ان کی خلقت کے وقت موجود تھے کہ ایسا دعویٰ کرتے ہیں؟ یقیناً ان کی گواہی مکتوب ہو گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی اور انہوں نے کہا: اگر خدا چاہتا تو ہم ان کی پوجا نہیں کرتے ۔ جہالت کی باتیں کرتے ہیں، اس سلسلہ میں کوئی اطلاع نہیں رکھتے صرف خیالی پلاؤ پکاتے اور دروغ بافی کرتے ہیں۔ کیا جو ہم نے اس سے قبل انہیں کتاب دی تو انہوں نے اس سے تمسک اختیار کیا؟ ہر گز نہیں، بلکہ کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس راہ میں متحد اور یکساں پایا ہے لہٰذا ہم بھی انہیں کی روش پر گامزن ہیں۔

اوراسی سورہ کی دیگر آیات میں گز شتہ امتوں سے متعلق داستان بیان ہوئی ہے :

( و کذلک ما أرسلنا من قبلک فی قریة من نذیر الا قال مترفوها اِنَّا وجدنا آبائنا علیٰ امة و انا علی آثارهم مقتدون ٭ قال اولو جئتکم باهدی مما وجدتم علیه آبائکم قالوا انا بما ارسلتم به کافرون فانتقمنا منهم فانظر کیف کان عاقبة المکذبین )

اوراسی طرح ہم نے ہر شہر و دیار میں ایک ڈرانے والا نہیں بھیجا مگریہ کہ وہاں کے مالدار اور عیش پرستوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اپنے آئین کے مطابق متحد اور یکساں دیکھا لہٰذا ہم انہیں کی پیروی کریں گے، ڈرانے والے پیغمبر نے کہا: اگر اس چیز سے بہتر میں کوئی چیز لایا ہوں جس پر تم نے آباء و اجداد کو دیکھا ہے تو کیا بہتر کا اتباع کروگے؟ انہوں نے جواب دیا: چاہے تم کتنا ہی بہتر پیش کرو ہم ماننے والے نہیں ہیں، پھر ہم نے ان سے انتقام لیا، لہٰذا غور کرو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہے؟( ۳ )

____________________

(۱) سورۂ لقمان۲۰و۲۱

(۲)زخرف ۲۲-۱۹.

(۳)زخرف ۲۵-۲۳.


آیات کی تفسیر

خداوند عالم گز شتہ آیتوں میں خبر دے رہا ہے : اس کے دوست ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے سوال کیا: یہ مجسمے جن کی عباد ت کیلئے تم نے خود کو وقف کر دیا ہے کیا ہیں؟ آیا جب تم انہیں پکارتے ہو تو وہ جواب دیتے ہیں؟ آیا تم کو کوئی نقصان و نفع پہنچاتے ہیں ؟ کہنے لگے: ہمیں ان مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے، ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی راہ کا سالک پایا ہے لہٰذا ہم ان کی اقتدا کرتے ہیں، دوسری جگہ پر موسیٰ کی فرعونیوں سے گفتگو کی حکایت کرتا ہے کہ موسیٰ نے ان سے کہا: آیا خدا کی ان آیات حقہ کو تم لوگ سحر اور جادو سمجھتے ہو؟ فرعونیوں نے کہا: کیاتم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے آباء و اجدادکے راستے سے منحرف کردو؟!

خدا وند عالم خاتم الانبیاء کی قریش کے ساتھ نزاعی صورت کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : جب بھی ان سے کہا گیا خدا کے فرمان کے سامنے سراپاتسلیم ہو جائو تو انہوں نے جواب دیا: ہمارے لئے ہمارے آباء و اجداد کی سیرت و روش کافی ہے ! دوسری جگہ فرماتا ہے : بعض لوگ علم و دانش سے بے بہرہ، ہر طرح کی اطلاع اور راہنمائی سے دور، کتاب روشن سے بے فیض رہ کر خدا کے بارے میں بحث و اختلاف کرتے ہیں۔

کفار قریش ملائکہ کی عبادت کرتے اور انہیں لڑکی خیال کرتے تھے؛ خدا وند عالم ان سے استفہام انکاری کے عنوان سے سوال کرتا ہے : آیا یہ لوگ ملائکہ کی تخلیق اور ان کے لڑکیہونیکے وقت موجود تھے؟ یا یہ کہ خدا وند عالم نے ان کے پاس توریت، انجیل جیسی کتاب بھیجی اور اسمیں اس قضیہ کوذکر کیا اور یہ لوگ اس کو اپنا مستند بنا کر ایسی گفتگو کر رہے ہوں؟ نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ کہا : ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس روش و مسلک پرمتحد پایا ہے لہٰذا ہم ان کا اتباع کرتے ہیں۔


خدا وند متعال بھی اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تسلی اور دلداری کے لئے نیز اس لئے بھی کہ یہ کوئی نئی اور جدید روش نہیں ہے بلکہ تمام امتوں نے ایسی ہی جاہلانہ رفتار اپنے پیغمبروں کے ساتھ روا رکھی ہے ، فرماتا ہے : ہم نے ہر شہر و دیار میں ڈرانے والے پیغمبر بھیجے ہیں مگر وہاں کے ثروتمندوں اور فارغ البال عیش پرستوں نے کہا: جو ہمارا دین ہے اسی پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو متفق اور گامزن پایا ہے لہٰذا ہم اسی کا اتباع کریں گے، اللہ کے فرستادہ نبی نے ان سے کہا: اگر میرے پاس تمہارے آباء و اجداد کی روش سے بہتر کوئی روش ہو تو کیا تم اس کی تقلید کروگے یا اس کا انکار کر کے کافر ہی رہو گے؟انہوں نے جواب دیا :تم چاہے جتنا بہتر کچھ پیش کرو ہم کافر و منکر ہی رہیں گے۔

لہٰذا ہم نتیجہ نکالتے ہیںکہ قومی اور گروہی تعصب کہ جس کا محور جہل و نادانی ہے اس طرح کی خواہشات انسان کے اندر پیدا کرتا ہے اور خطرناک نتیجہ دیتا ہے یہاں تک کہ انسان پاکیزہ و سلیم خدا داد فطرت( جو کہ خالق و مربی پروردگار کی سمت راہنما ہے) سے برسرپیکار ہو جاتا ہے۔

بحث کا خلاصہ

چونکہ انسانی نفس تلاش و تحقیق کا خوگر ہے ، کہ پوری زندگی( اپنے حریص اور سیر نہ ہونے والے معدہ کے مانندپوری زندگی غذا کی تلاش میں رہتا ہے) معرفت اور شناخت کی جستجو و تلاش میں رہتا ہے لہٰذا ، جب متحرک کی حرکت کی علت موجوادات وجودکا سبب تلاش کرتا ہے تو اس کی عقل اس نتیجہ اور فیصلہ پر پہنچتی ہے کہ ہر حرکت کے لئے ایک محرک کی ضرورت ہے نیز ہرمخلوق جو کہ ایک موزوںاورمنظم کی حامل ہے ، یقینا اس کا کوئی موزوں و مناسب خالق ضرور ہے؛ اس خالق کا نام''الہ'' یعنی خدا ہے ۔


لہٰذا کسی کے لئے روز قیامت یہ گنجائش نہیں رہ جاتی کہ کہے:( انا کنا عن هذا غافلین ) ہم ان مسائل سے غافل و بے خبر تھے۔ یا کہے:'' ہمارے آباء و اجداد مشرک تھے اور ہم ان کی نسل سے تھے ( یعنی راستہ کا انتخاب انہیں کی طرف سے تھا )کیا ہمیں ان کے جاہلانا عمل کی وجہ سے ہلاک کروگے؟ '' اس لئے کہ، ان کا حال اس سلسلے میں دنیا میں زندگی گز ارنے والے لوگوں کا سا ہے ، کہ لوگ الکٹرک اور برق کے کشف و ایجاد سے پہلے محض تاریکی میں بسر کر رہے تھے، لیکن ان کی ذات میں ودیعت شدہ تحقیق و تلاش کے غریزہ نے ان کی اولاد کو بجلی کی قوت کے کشف کرنے کا اہل بنا دیا، نیز اس کے علاوہ تمام انکشافات جو ہر دوراور ہر زمانہ میں ہوئے ان تک گز شتہ لوگوں کی رسائی نہیں تھی اسی کے مانند ہیں۔ اس وجہ سے جیسا کہ نسل انسانی نے اپنی مادی دنیا کو تحقیق و تلاش سے تابناک و روشن بنا دیا لہٰذا وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اپنے آباء واجدادکی کفر و ضلالت کی تاریکی کو خیر باد کہہ کر پیغمبروں کے نور سے فیضیاب ہوں، لہٰذا کوئی یہ نہیںکہہ سکتا کہ ہمارے آباء و اجداد چونکہ کفر و شرک اور خالق کے انکار کی تاریکی میں بسر کر رہے تھے تو ہم بھی مجبوراً ان کا اتباع کرتے رہے ۔ مجبوری کا کوئی سوال ہی نہیں ہے ، اس لئے کہ خدا وند رحمان نے غافلوں اور جاہلوں کے تذکر اوریاد آوری کے لئے پیغمبر بھیج کر لوگوں پر حجت تمام کر دی ہے ، جیسا کہ خاتم الانبیاء سے فرمایا :

( فذکر انما انت مذکر لست علیهم بمصیطر ) ( ۱ )

انہیں یاد دلائو کیونکہ تنہا تمہیں یاد دلانے والے ہو تم ان پر مسلط نہیں ہو۔

نیز قرآن کو ذکر کے نام سے یاد کیااور کہا:

( وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیهم ولعلهم یتفکرون )

میں نے اس ذکر (یاد آور) کو تم پرنازل کیا تاکہ جو کچھ لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہے اسے بیان اور واضح کردو شاید غور و فکر کریں۔( ۲ )

آئندہ بحث میں جو کچھ ہم نے یہاں بطور خلاصہ پیش کیا ہے، انشاء اللہ خدا وند عالم کی تائید و توفیق سے اسے شرح و بسط کے ساتھ بیان کریں گے ۔

____________________

(۱) غاشیہ ۲۱ اور ۲۲(۲) نحل ۴۴


۲

الوہیت سے متعلق بحثیں

الف۔ آیا مخلوقات اچانک وجود میں آئی ہیں؟

ب۔الٰہ کے معنی

ج۔لاالہ الا اللہ کے معنی''الہ''وہی خالق ہے اور خدا کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے نیز خالق کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں ہوسکتی یعنی خدا ئے وحد ہ لا شریک کے علاوہ کوئی معبود اور خالق نہیں ہے اس لئے : لا الہ الا اللہ ہے۔

د۔ آیا خدا کے بیٹا اور بیٹی ہے ؟

الف۔آیا مخلوقات اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں؟

ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ تخلیق اور ہستی (عالم) کی تخلیق اور اس کا نظام اچانک وجود میں آگیا ہے ، نہ مخلوقات کا کوئی خالق ہے اور نہ ہی نظام کا کوئی نظم دینے والا! ان کی باتوں کا خلاصہ یہ ہے:

یہ تمام ناقابل احصاء اور بے شمارمخلوق عالم ہستی میں اچانک اور اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہے ، یعنی ذرات اور مختلف عناصر اپنے اندازہ اور مقام کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ارد گرد جمع ہوئے اور اتفاقی طورپر بقدر ضرورت اور مناسب انداز میں ایک دوسرے سے مخلوط ہو کر ایک مناسب ماحول اور فضا میں اپنی ایک شکل اختیار کر لی نیز اتفاقاً عناصر ایک دوسرے سے مرکب ہو گئے اور ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بن گئے ،دور اوراچانک نزدیک کے شائستہ و مناسب مداروںمیں یکجا ہو کر اتفاقی طور پر ایک لا متناہی اور بے شمار منظم اور حیات آفریں مجموعہ میں تبدیل ہو گئے، وہ بھی مناسب اورصحیح حساب و کتاب کے ساتھ یہاں تک کہ زندگی کے اصلی عناصر جیسے آکسیجن وہائیڈروجن پیدا ہو ئے اورزندگی کے وسائل و اسباب وجود میں آ گئے۔


موضوع کی مزید وضاحت کے لئے نیز اس لئے بھی کہ اس مغالطہ اور پردہ پوشی کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے خدا وند عالم کی مدد سے درج ذیل مثال پیش کرتے ہیں:

آپ اگر چھوٹی چھوٹی دس گیندیں ایک اندازہ کی کی برابر سے لیں اور ایک سے دس تک شمارہ گزاری کریں پھر انہیں ایک تھیلی میں رکھیں اور اسے زور سے ہلائیں تاکہ مکمل طور پرخلط ملط ہو کر ترتیب عدد سے خارج ہو جائیں پھر یہ طے کریں کہ اسی ردیف سے ایک سے دس تک نکالیں تو ایک نمبر کی گیند باہر لانے کا احتمال ایک سے دس تک میں باقی رہے گا، یعنی ممکن ہے کہ پہلی بار یا دوسری بار میں یا دسویں مرحلہ میں باہر آئے جو دسواں اور آخری مرحلہ ہے اگر ایک اور دو عددکو ایک دوسرے کے بعد باہر نکالنا چاہیں تو احتمال کی نسبت ایک سے سو تک پہنچ جائے گی یعنی ممکن ہے پہلے ہی مرحلہ میں ساتھ ساتھ باہر آجائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس عمل کو سو بار تکرار کرنے پر مجبور ہوں جب جا کے کامیابی ملے لیکن اگر ۱۔۲۔۳ عدد کو ترتیب سے باہر لانا چاہتے ہیں


یہاں پر احتمال کی نسبت ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے بعد کے مرحلہ میں یعنی ۱۔۲۔۳ ۔۴ عدد کو نکالنے میں نسبت اور بڑھ جائے گی اور ایک سے دس ہزار تک عدد کا اضافہ ہو جائے گایعنی ممکن ہے کہ دس ہزار بار تکرار کرنے پر مجبور ہوں تاکہ آپ کی مراد پوری ہو، اسی طرح آگے بڑھتے جائیں یہاں تک کہ ان دسوں گیندوں کو اگر اسی ترتیب سے ایک سے دس تک نکالنا چاہیںتو احتمال کی نسبت دسوں ملین ہو سکتی ہے!( ۱ ) یہ قابل قبول اور واضح علمی روش ہے !

اگر علمی نقطہ نظر سے ایسا ہے کہ صرف ۱۰، عدد کو اتفاقی طور پر ایک تھیلی سے باہر لانے کے لئے وہ بھی منظم طور پرنیز شماروں کی ترتیب کے ساتھ تو اتنی تکرار کی ضرورت ہے، تو پھر علمی نقطہ نظر آج کے ایسے نظام کے لئے جس کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں،کیا ہوگا ؟ ایسا نظم و انضباط جو نہ صرف بے شمار اور ناقابل احصاء موجودات کا مجموعہ ہے بلکہ خود اس کے ایک موجود کے اندر موجودات بھی آج کے معروف وسائل اور دوربین علمی نقطئہ نظرسے قابل احصاء نہیں ہیں! تو پھر کون ذی شعور ہے جو کہے: یہ سب اتفاقی طور پر وجود میں آگیا ہے اور ہر ایک کے لئے مناسب اجز اء اتفاقی طور پر پیدا ہوگئے ہیں نیز اتفاق سے ایک جز نے دوسرے جز کے پہلو میں پناہ لے لی ہے اسی طرح ایک جزء دوسرے جزء کے پاس اور ایک حصہ دوسر ے حصہ سے ہم ردیف اور متصل ہوگیا ہے اور محیر ا لعقول اور تعجب آور یہ نظم و نسق خود ہی ایجاد ہوگیا ہے ؟

نظم آفرین خدا نے سورۂ حجر میں فرمایا ہے :

( ولقد جعلنا فی السماء بروجاً و زیناها للناظرین )

ہم نے آسمان میں بہت سے برج قرار دئیے اور انہیں دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا۔( ۲ )

( والارض مددناها وألقینا فیها رواسی و أنبتنا فیها من کل شیء موزونٍ )

____________________

(۱) علم بہ ایمان دعوت می کند ، تالیف أ. کریسی موریسون. A .CRESSY. MO RRISO N

(۲)حجر۱۶.


ہم نے زمین بچھائی اور اسمیں مستحکم و مضبوط پہاڑ استوار کئے اوراس میں ہر مناسب اور موزوں چیز پیدا کی۔( ۱ )

سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے :

( اِناّ فی خلق السموات والارض و اختلاف اللیل و النهار و الفلکِ التی تجری فی البحر بما ینفع الناس وما انزل الله من السماء من مائٍ فاحیا به الارض بعد موتها و بث فیها من کل دابةٍ و تصریف الریاحِ والسحاب المسخر بین السماء و الارض لآیات لقوم یعقلون )

یقینا آسمان و زمین کی تخلیق، روز و شب کی گردش اور لوگوں کے فائدہ کے لئے دریا میں سطح آب پر کشتیوں کارواں دواں کرنا نیز خداکا آسمان سے پانی نازل کرنا اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرنا اور چلنے والوں کی کثرت، ہوائوں کی حرکت اور زمین و آسمان کے درمیانمسخر بادل صاحبان عقل و ہوش کے لئے نشانیاں ہیں۔( ۲ )

یقینا، خدا کی قسم زمین و آسمان کی خلقت میں تدبر و تعقل کی بے شمار نشانیاں ہیں اور آسمان کے قلعوں اور اس کے ستاروںکے ہماہنگ نظام میں اور محکم اورنپے تلے میزان میں نباتات کے اگنے میں عقلمندوں کیلئے اس کی عظمت و قدرت نیز نظم و نسق کی بے حساب نشانیاں ہیںبشرطیکہ غور توکریں لیکن افسوس ہے کہ عاقل انسان کو ہوا و ہوس نے تعقل و تدبر سے روک رکھا ہے !!!

____________________

(۱)حجر ۱۹(۲) بقرہ ۱۶۴


ب۔ اِلٰہ اور اس کے معنی

اول: کتاب لغت میں الہ کے معنی

جو کچھ لغت کی کتابوں میں الہ کے معنی سے متعلق ذکر ہوا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے :

الہ کتاب کے وزن پر ہے'' اَلِہَ یَاْلَہُ'' کے مادہ سے جو عبادت کے معنی میں ہے یعنی خضوع و خشوع کے ساتھ اطاعت کے معنی میں ہے ، لفظ الہ کتاب کے مانند مصدر بھی ہے اور مفعول بھی ؛ لہٰذا جس طرح کتاب مکتوب (لکھی ہوئی شیئ) کے معنی میں ہے الہ بھی مالوہ یعنی ''معبود'' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لحاظ سے الہ لغت میں یعنی:

۱۔ خاضع انداز میں عبادت اور اطاعت (مصدری معنی میں )

۲۔ معبود اور مطاع: جس کی عبادت کی جائے( مفعولی معنی میں )

یہ لغت میں الہ کے معنی تھے۔

دوسرے: عربی زبان والوںکی بول چال میں الہٰ کے معنی

الٰہ عربی زبان والوں کے محاوررات اور ان کی بول چال میں دو ۲ معنوں میں استعمال ہوا ہے:

۱۔ جب عرب کسی کو خبر دیتا ہے تو کہتا ہے: اَلَہ؛ اُس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اس نے کوئی عبادت کی ہے یعنی اپنے معبود کے لئے دینی عبادت جیسے نماز و دعا و قربانی بجالایا ہے اور جس وقت کہتا ہے : اِلھاً کتاب کے وزن پر تو اس کا مقصود وہی معبود ہوتا ہے جس کی عبادت و پرستش ہوتی ہے اور دینی مراسم اس کے لئے انجام پاتے ہیں، یعنی یہ شکل و ہیئت ،مفعولی معنی میں استعمال ہوتی ہے جس طرح کتاب مکتوب کے معنی میں استعمال ہوتی ہے یعنی لکھی ہوئی ۔

اور عرب ہر اس چیز کو الہ کہتے ہیں جس کی عبادت و پرستش ہوتی ہے جس کی جمع آلہہ ہے ، خواہ وہ خالق اور پیدا کرنے والا ہو یا مخلوق و پیدا شدہ چیز ہو، ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے جیسے خورشید، بت، چاند اور گائے کہ جو ہندوئوں کی عبادت کا محور ہیں۔

۲۔ ''الہ'' کبھی مطاع اور مقتدا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، جیسا کہ کئی جگہ قرآن میں آیاہے :


۱۔( أرأیت من اتخذ الٰهه هواه أفانت تکون علیه وکیلاً )

کیا دیکھا ایسے شخص کو جس نے خواہشات کو اپنا مطاع بنایا ہو؟! آیا تم اس کی ہدایت و راہنمائی کر سکتے ہو؟!( ۱ )

۲۔( افرأیت من اتخذ الٰهه هواه و أضله الله علیٰ علم )

یعنی جو کوئی اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے در اصل ہواء نفس اور خواہشات کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے اور اللہ نے اسی حالت کو دیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے ۔( ۲ )

جیسا کہ سورۂ قصص میں ارشاد ہوتا ہے :

( ومن أضل ممن اتّبع هواه بغیر هدیً من الله ) آیا اس سے بھی زیادہ کوئی گمراہ ہے جو ہوائے نفس اور خواہشات کی پیروی کرتاہے اور اللہ کی ہدایت کو قبول نہیں کرتا ؟!( ۳ )

۳۔سورہ ٔ شعراء میں حضرت موسی ٰ ـ سے فرعون کی گفتگو کو ذکر کرتا ہے کہ فرعون نے کہا :

( لئن اتخذت الهاً غیری لٔاجعلنک من المسجونین ) ( ۴ )

اگر میرے علاوہ کسی اور خدا کی پیروی کروگے تو تمہیں قید کر دوں گا!

ہم نے اس آیت میں الہ کے معنی مطاع اور مقتدا ذکر کئے ہیں اس لئے کہ فرعون اور اس کے ماتحت افراد پوجنے کے لئے معبود رکھتے تھے جیسا کہ خدا وند عالم انہیں کی زبانی سورۂ اعراف میں ارشاد فرماتا ہے :

( و قال الملأ من قوم فرعون اتذر موسیٰ و قومه لیفسدوا فی الٔارض و یذرک و آلهتک )

قوم فرعون کے بزرگوں نے اس سے کہا: آیا موسیٰ اور ان کی قوم کو چھوڑ دے گا تاکہ وہ زمین میں فساد کریں اور تجھے اور تیرے معبود وںکو نظر انداز کر دیں؟( ۵ )

____________________

(۱)فرقان ۴۳

(۲)جاثیہ ۲۳

(۳)قصص ۵۰

(۴) شعرائ۲۹

(۵)اعراف۱۲۷


جن معبودوں کا یہاں پر ذکر ہے یہ وہ معبود ہیں جن کی پرستش فرعون اور اس کی قوم کیا کرتی تھی، کہ ان کے لئے وہ لوگ قربانی اور اپنے دینی مراسم منعقد کرتے تھے۔

لیکن فرعون خود بھی ''ا لہ'' تھا لیکن الہ مطاع اور مقتدا کے معنی میں اگر چہ یہ بھی احتمال ہے کہ فرعون الوھیت کا بھی دعویدار تھا، یعنی خود کو لائق پرستش معبود تصور کرتا تھا جیسا کہ بہت سی قوموں کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کو ''الھہ'' کی نسل سے سمجھتے تھے چاہے وہ خورشید ہو یا اسکے علاوہ نیز ان کے لئے بعض عبادتی مراسم کا انعقاد بھی کرتے تھے۔

یہ ''اِلہٰ'' کے معنی عرب اور غیر عرب میں موجودہ اور فنا شدہ ملتوں کے درمیان ہیں۔

تیسرے ۔ اسلامی اصطلاح میں اِلٰہ کے معنی

''اِلٰہ'' اسلامی اصطلاح میں خدا وند عالم کے اسمائے حسنیٰ اور معبود نیز مخلوقات کے خالق کے معنی میں ہے اوریہ لفظ قرآن کریم میں کبھی کبھی قرینہ کے ساتھ جو کہ لغوی معنی پر دلالت کرتا ہے استعمال ہوا ہے، جیسے:

( الذین یجعلون مع الله اِلهاً آخر )

وہ لوگ جو خدا کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیتے ہیں۔( ۲ )

اس لئے کہ آیت کے دو کلمے:''آخر ''اور'' مع اللہ'' اس بات پر دلیل ہیں کہ اس الہ سے مراد اس کے لغوی معنی یعنی : مطاع اور معبود ہیں یعنی وہی جس کی خدا کے علاوہ عبادت اور پیروی ہوتی ہے ۔

''الہ'' قرآن کریم کی بہت ساری آیات میں بطور مطلق اور بغیر قرینہ کے اصطلاحی معنی میں استعمال ہوا ہے اور ''الوہیت' کو خدا وندسبحان سے مخصوص کرتا ہے ہم آیندہ بحث میں بسط و تفصیل سے بیان کریں گے۔

''اِ لہٰ'' کے معنی میں جامع ترین گفتگو ابن منظورکی کتاب لسان العرب میں مادۂ ''الہ'' کے ذیل میں ابی الھیثم کی زبانی ہے کہ اس نے کہا ہے :خدا وند عز و جل نے فرمایا: خدا وند متعال کے نہ کوئی فرزند ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی الٰہ ہے اس لئے کہ اگر اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوقات کی دیکھ ریکھ کرتا۔

یعنی کوئی الہ نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ معبود ہواور اپنی عبادت کرنے والوں کیلئے خالق، رازق نیز ان پر، مسلط اورقادرہو؛ اور جو ان صفات کا حامل نہ ہو وہ خدا نہیں ہے وہ مخلوق ہے چاہے ناحق اس کی عبادت کی گئی ہو۔

____________________

(۲)حجر ۹۶


ج۔ لا الہ الا اللہ کے معنی

قرآن کریم میں الہ کے معنی ان آیات میں غور و فکر و دقت کرنے سے روشن ہو جائیں گے جو مشرکین کی باتوں کی رد میں الوہیت سے متعلق بیان کی گئی ہیں ، وہ آیات جو الوھیت کو خداوند سبحان و قادر سے مخصوص اور منحصر بہ فرد جانتی ہیں نیز وہ آیات جو مشرکین سے الہ کے متعلق جدل اوربحث کے بارے میں ہیں جیسا کہ درج ذیل آیات میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں:

( ولقد خلقنا الاِنسان من سلالة من طین ٭ثم جعلناه نطفة فی قرار مکین )

ہم نے انسان کو خالص مٹی سے خلق کیا، پھر اس کو قابل اطمینان جگہ رحم میں نطفہ بنا کر رکھا؛ پھر نطفہ کو علقہ کی صورت اور علقہ کو مضغہ کی صورت اور مضغہ کو ہڈیوں کی شکل میں بنایا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا؛ پھر اسے نئی تخلیق عطا کی؛ اور احسن الخالقین خدا با برکت اور عظیم ہے ۔( ۱ )

کلمات کی شرح

۱۔ سلالة: اس عصارہ(نچوڑ) اور خالص شیء کو کہتے ہیں جو نہایت آسانی اور اطمینان کے ساتھ کسی چیز سے اخذ کی جائے نطفہ کو سلالہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ جو غذا کا نچوڑ اورخلاصہ ہوتا ہے اور غذا ہی سے پیدا ہوتا ہے ۔

۲۔ نطفہ وہی منی یا معمولی رطوبت جو مرد اور عورت سے خارج ہوتی ہے ۔

۳۔ قرار : ہر وہ مقام جس میں اطمینان اور آسانی سے چیزیںمستقر ہوں یعنی جہاںچیزیں آسانی سے ٹھہر جائیں قرار گاہ کہتے ہیں۔

۴۔ مکین: جو چیز اپنی جگہ پر ثابت و استوار ہوا سے مکین کہتے ہیں، یعنی مطمئن و مستقل جگہ ۔

لہٰذا یہاں تک آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ: ہم نے نطفہ کو اس کے محل سکونت میں رکھا یعنی رحم میں قرار دیا ہے ۔

____________________

(۱) مومنون ۱۴۔۱۲


۵۔ علقہ : جمے ہوئے گاڑھے چسپاں خون کو ''عَلَق'' اور اس کے ایک ٹکڑے کو علقہ کہتے ہیں۔

۶۔ مضغہ: جب عرب کہتا ہے : مضغ اللحم اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ گوشت دہن میں چبایا اور دانتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا تاکہ نگل سکے۔

چبانے کے قابل ایک لقمہ گوشت کو بھی مضغہ کہتے ہیں؛ اسی لئے شکم مادر میں مستقر جنین جب ایک لقمہ کے بقدر ہوتا ہے تو مضغہ کہتے ہیں؛ مضغہ علقہ کے بعد وجود میں آتاہے ۔

۷۔ انشائ: ایجاد، پرورش کرنا اور وجود میں لانا،''انشأا لشیٔ ''یعنی اس چیز کووجود بخشا اوراس کی پرورش کی۔ و انشاء اللہ الخلق، یعنی خداوند عالم نے مخلوقات کو پیدا کیا اور اس کی پرورش کی۔

آیات کی تفسیر

ہم نے انسان کو مٹی کے صاف و شفاف خالص عصارہ سے خلق کیا پھر اسے ثابت اور آرام دہ جگہ ، یعنی رحم مادر میں ٹھکانا دیا، پھر اس نطفہ کو خون میں تبدیل کیا، ایسا جامد اور منجمد گاڑھا خون کہ جو چیز وہاں تک پہنچے اس سے پیوستہ ہو جائے پھر اس منجمد گاڑھے خون کو چبانے کے قابل گوشت کی صورت تبدیل کیا پھر اس گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں میں بدل ڈالا پھر ان ہڈیوں پر گوشت کے خول چڑھائے اور آخر میں ایک دوسری تخلیق، جو انسانی روح اور اعضاء پر مشتمل ہے وجود میں لے آئے خداوند عالم بہترین خلق کرنے والا ہے بزرگ و برتر ہے وہ خد جس نے اس پیچیدہ اور حیرت انگیز مخلوق کو اس طرح کے مراحل سے گز ار کر خلق کیا ہے !

پہلی بات کی طرف بازگشت

خداوند عالم سورۂ مومنون میں مذکورہ ۱۲۔۱۳۔۱۴ آیات کے بعد اور ان موجودات کے ذکر کے بعد جو انسان کے مفاد نیز اس کے اختیار و تسخیر میں ہیںنیز انواع مخلوقات کے بیان کے بعد فرماتا ہے :

( ولقد ارسلنا نوحاً الیٰ قومه فقال یا قومِ اعبدوا الله ما لکم من اله غیره افلا تتقون )

ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تو آپ نے ان سے کہا: اے میری قوم والو! خدا کی عبادت کرو اسکے علاوہ کوئی تمہارا خدا نہیں ہے ، آیا ڈرتے نہیں ہو؟!( ۱ )

____________________

(۱)مومنون ۲۳


پھر دیگر امتوں کی خلقت کی طرف اشارہ کیا جو خدا کی مخلوقات میں ہیں اور کافی شرح و بسط کے ساتھ ان کے کفر و انکار کو بیان کیا پھر اسی سورۂ کی ۹۱ آیت میں فرماتا ہے :

( ما اتخذ الله من ولد وما کان معه من اله اذاً لذهب کل الهٍِ بما خلق ولعلا بعضهم علیٰ بعض.... ) ( ۱ )

خدا وند عالم نے کبھی اپنے لئے فرزند انتخاب نہیں کیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دوسراخدا ہے ورنہ ہر ایک خدا اپنے پید اکئے ہوئے کی طرف متوجہ ہوتا اور ان کانظام چلاتا اور بعض بعض پر برتری و تفوق طلبی کا ثبوت دیتا و... ۔

ہم ان آیات میں الوھیت کی سب سے واضح اور روشن ترین صفت اس کی خالقیت کو پاتے ہیں اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا وند عالم مشرکین سیجواب طلب کرتا ہے اور فرماتا ہے ہم نے زمین و آسمان اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ان سب کو بر حق خلق کیا ہے۔( ۲ ) پھراس کے بعد پیغمبر سے فرماتا ہے : ان سے کہو!خدا کے علاوہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو مجھے بتائو کہ انہوں نے زمین سے کونسی چیز خلق کی ہے ، یا آسمان کی خلقت میں ان کی کون سی شرکت رہی ہے؟( ۳ )

نیز سورۂ رعد میں فرماتا ہے :

( أَم جعلوا لله شرکاء خلقوا کخلقه فتشابه الخلق علیهم قل الله خالق کل شء و هو الواحد القهار )

آیا وہ لوگ خدا کے لئے ایسے شریک قرار دئے ہیں کہ جنہوں نے خدا کی مانند خلق کیا اور یہ خلقت ان پر مشتبہ ہو گئی ہے ؟! ان سے کہو: خدا سب چیز کاخالق ہے اور وہ یکتا اور کامیاب (غالب) ہے ۔( ۴ ) نیز سورئہ نحل میں فرماتا ہے :

( ٔفمن یخلق کمن لا یخلق أفلا تذکرون )

آیا وہ جو خالق ہے اس کے مانند ہے جو خالق نہیں ہے ؟! آیا نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے؟!( ۵ )

یہ بات ، یعنی خالقیت پرتاکید الوھیت کی واضح ترین صفت کے عنوان سے ہے جسکی دیگر آیات جیسے سورۂ نحل کی بیسویں آیت، سورئہ فرقان کی تیسری آیت اور سورئہ اعراف کی نویں آیت میں تکرار ہوئی ہے۔

____________________

(۱)مومنون ۹۱

(۲) احقاف ۳

(۳) احقاف۴

(۴) رعد

(۵)نحل ۱۷-۱۶


ان تمام آیات میں توحید کے مسئلہ پر مشرکین سے مبارزہ اور استدلال، خالق کی وحدانیت کے محور پر ہوتا ہے، پہلی آیت میں خداوند عالم، کفار سے سوال کرتاہے : جنہیں تم خدا کہتے ہو اور ان کی پر ستش کرتے ہو مجھے بتائو کہ انہوں نے زمین سے کوئی چیز پیدا کی ہے ؟! اور دوسری آیت میں فرماتا ہے : کیااس وجہ سے خدا کا شریک قرار دیا ہے کہ تم نے خدا کی تخلیق کے مانند ان کی بھی کوئی تخلیق دیکھی ہے اور خدا کی تخلیق ان دوسروں کی تخلیق سے مشتبہ ہو گئی ہے اور تشخیص کے قابل نہیں ہے ؟! تیسری آیت میں سوال کرتا ہے : جس نے گونا گوںموجودات کو خلق کیا ہے اور وہ کہ جنہوں نے نہ خلق کیا ہے اور نہ ہی خلق کرسکتے ہیںکیا دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟!

نیز فرماتا ہے : کوئی معبود خدا کے ہمراہ نہیں ہے اور دیگر آیت میں فرماتا ہے :

کہو: خدا تمام چیزوں کا خالق ہے اور وہی یکتا اورغالب ہے ۔

قرآن کریم مقام استدلال میں مشرکین سے اس طرح دلیل و برہان پیش کرتا ہے اور جو دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کو وہ لوگ خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت میں شریک قرار دیتے ہیں ان لوگوں سے فرماتا ہے: مخلوقات کی تخلیق اللہ سے مخصوص ہے اور دوسرے خداتخلیق پر قادر نہیں ہیں۔

اس اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں کہ الہ کی بارز ترین صفت آفرینش ہے ۔یہ موضوع درج ذیل آیات میں زیادہ واضح اور روشن ہوتا ہوا نظر آتا ہے جہاں فرماتا ہے :

۱۔( ذلکم الله ربکم لا اِله ِالاّ هوخالق کلّ شیء فاعبدوه )

وہی تمہارا پروردگارہے اس کے علاوہ ''کوئی خدا''نہیں ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔( ۱ )

۲۔( یا قوم اعبدوا لله ما لکم من الهٍ غیره هو انشأکم من الارضِ )

صالح پیغمبر نے کہا: اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو کیونکہ اس کے علاوہ کوئی ''خدا'' نہیں ہے، وہی ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے۔( ۲ )

____________________

(۱) انعام ۱۰۲

(۲)ھود ۶۱


۳۔( هل من خالق غیر الله یرزقکم من السماء و الارض لا اله الا هو... )

آیا 'کوئی خالق'' خدا کے سوا ہے جو تمہیں زمین و آسمان سے روزی دیتاہے ؟! کوئی ''خدا '' اس کے علاوہ نہیں ہے ۔( ۱ )

۴۔( واتخذوا من دونه آلهةً لایخلقون شیئاًوهم یخلقون.. ) .)

انہوں نے خدا وند عالم کے علاوہ ایسوں کواپنا خدا بنایا جو کوئی چیز خلق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں۔( ۲ )

۵۔( یا اَیها الناس ضرب مثل فاستمعواله ان الذین تدعون من دون الله لن یخلقوا ذباباً ولو اجتمعوا له و ان یسلبهم الذباب شیئاًلا یستنقذوه منه ضعف الطالب والمطلوب٭ ما قدرو....االله حقّ قدره اِن الله لقوی عزیز ) ( ۳ )

اے لوگو! ایک مثل دی گئی ہے ، لہٰذا اس پر کان لگائو، جو لوگ خد اکے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتے ہیں وہ ہرگز ایک مکھی بھی خلق نہیں کر سکتے، چاہے اس کے لئے ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں! اور اگر مکھی کوئی چیز ان سے لے بھاگے تو اسے واپس نہیں لے سکتے! طالب و مطلوب، عابد و معبود دونوں ہی ناتواں اور عاجز ہیں! یقینا جس طرح خداکو پہنچاننا چاہئے تھا نہیں پہچانا؛ خدا وند عالم قوی ہے اور مغلوب ہونے والوں میں سے نہیں ہے ۔

خدا وند عالم نے اس مقام پر انتمام لوگوں کو جو خدا کے علاوہ دوسرے ''خدائوں'' کی عبادت کرتے اور اسے پکارتے ہیں مخاطب قرار دیا ہے اور ان سے فرماتا ہے :اس مثل پر توجہ کرو: تم لوگ خدا کے علاوہ جنکو پکارتے ہو، خواہ فراعنہ اور بادشاہ ہوں یا طاقتور افراد، گائے ہو یا اصنام یا دوسرے معبود ہوں وہ سب ، ہرگز ایک مکھی بھی خلق نہیں کر سکتے یعنی ان سرکش اور باغی فراعنہ میں سے کوئی بھی ہو اور اسی طرح وہ گائیں جن کی عبادت کی جاتی ہے یا لوگوں کے ہر دوسرے معبود ، آلودہ ترین اور پست ترین حشرات الارض بھی خلق نہیں کر سکتے یعنی جن حشرات کو سب لوگ پہچانتے اوروہ تمام روئے ارض پر پھیلے ہوئے ہیں اور ساری مخلوق ان سے دوری اختیار کرتی ہے ! یہ کیسے معبود ہیں کہ آلودہ ترین مکھی بھی خلق نہیں کر سکتے ہیں اور اگر سب اکٹھا ہو کر ایک دوسرے کی مدد بھی کریں تو بھی معمولی حشرہ کے خلق کرنے پر قادر نہیں ہیں؟!

____________________

(۱)فاطر ۳

(۲)فرقان ۳

(۳)حج۷۴۷۳


اس کے علاوہ، اگر یہی مکھی ان خیالی معبود سے کوئی چیز لے اڑے، چاہے وہ گائے ہو یا فرعون یا کوئی اور ''خدا'' ہوتو ان کے پاس واپس لینے کی قدرت نہیں ہے ، مثال کے طور پر اگر مکھی ہند میں پوجی جانے والی گائے کا خون چوس لے تو بیچاری گائے اپنا حق یعنی چوسا ہوا خون واپس نہیں لے سکتی!

کتنی ناتوان اور عاجز ہے وہ بیچاری گائے جوانسانوں کی معبود ہے اور اس سے زیادہ عاجز اور بے بس وہ شخص ہے جو اس بیچاری مخلوق سے اپنی حاجت طالب کرتاہے ! یقینا خداکو اس کی ذات اقدس کے اعتبار سے نہیں پہچانا، یعنی اس خدا کو جو تمام مخلوقات کا خالق اور سب سے قوی اور قادر و غالب طاقتور ہے ۔

اس لئے خلقت اور تمام آفرینش خدا ہی سے ہے اور بس؛ وہ کہ جس نے مخلوقات کو خلق کیا اور موجودات کو زیور وجود سے آراستہ کیا،وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے وہی تمام چیزوں کا مالک ہے ؛ عالم تخلیق میں اس کے علاوہ کوئی اور موثر نہیں ہے تاکہ اس سے اپنی در خواست کریں لہٰذا واجب ہے کہ صرف اور صرف اسی کی عبادت کریں اور اسی سے حاجت طلب کریں۔

درج ذیل آیات انہیں معانی کی وضاحت کرتی ہیں:

۱۔( قل أرأیتم ان اخذ الله سمعکم وأبصارکم وختم الله علیٰ قلوبکم من اِلٰه غیر الله یأتیکم به )

کہو: مجھے جواب دو! اگر خدا وند عالم تمہاری آنکھ، کان کو سلب کر لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تاکہ کچھ سمجھ نہ سکو،تو اللہ کے علاوہ کون ہے جو اسے واپس لوٹا سکتا ہے ؟!( ۱ )

۲۔( الذی له ملک السموات والارض لا الٰه الا هو یحیی و یمیت )

و ہی خدا جس کے قبضہ قدرت میں زمین اور آسمان ہے اس کے علاوہ کوئی خدااور معبود نہیں ہے وہ مارتا اور زندہ کرتا ہے ۔( ۲ )

۳۔( من اِلٰه غیر الله یاتیکم بضیاء افلا تسمعون )

کون معبود اور خدا ،اللہ کے علاوہ تمہارے لئے روشنی پیدا کر سکتا ہے کیا سنتے نہیں ہو؟!( ۳ )

۴.( ذلکم الله ربکم له الملک لا اله اِلّا هو فانیٰ تصرفون )

یہ ہے تمہارا پروردگارخداکہ جس کی ساری کائنات ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدانہیں ہے تو پھر کیوں

____________________

(۱) انعام ۴۶

(۲)اعراف۱۵۸

(۳) قصص ۷۱


راہ حق سے منحرف ہوتے ہو؟!( ۱ )

۵۔( لا الٰه الا هو یحی و یمیت ربکم و رب آباکم الَاولین )

اس کے علاوہ کوئی خدانہیں ہے ، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے جو تمہارا اور تمہارے گز شتہ آباء و اجداد کا خدا ہے ۔( ۲ )

۶۔( اِنَّما الهکم الله الذی لا اِلٰه اِلّا هو وسع کلّ شیء علماً )

یقینا تمہارا معبود خداہی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے نیز اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔( ۳ )

۷۔( قل لو کان معه آلهة کما یقولون اذاً لا بتغواالیٰ ذی العرش سبیلاً )

کہو! جیسا کہ وہ قائل ہیں اگر اللہ کے ہمراہ دوسرے خدا ہوتے تو ایسی صورت میں صاحب عرش اللہ تک رسائی کی کوشش کرتے ۔( ۴ )

۸۔( و اتخذوا من دون الله آلهة لیکونوا لهم عزاً )

ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسرے خدائوں کا انتخاب کیا، تاکہ ان کے لئے عزت کا سبب ہوں۔( ۵ )

۹۔( اَم لهم آلهة تمنعهم من دوننا )

آیا ان کا کوئی دوسرا خداہے جو میرے مقابل ان کا دفاع کر سکے؟۔( ۶ )

۱۰۔( ااتخذ من دونه آلهة ان یردن الرحمن بضر لا تغن عنی شفاعتم شیئا ولا ینقذون )

آیا میں خداکے علاوہ دوسرے معبودوں کا انتخاب کروں کہ اگر خدا وند رحمان مجھے نقصان پہنچائے تو ان کی شفاعتمیریلئے بے سود ثابت ہو اور وہ مجھے نجات نہ دے سکیں!( ۷ )

۱۱۔( و اتخذوا من دون الله آلهة ً لعلهم ینصرون )

انہوں نے خدا کے علاوہ دوسرے خدائوں کا انتخاب کیا اس امید میں کہ ان کی مدد ہوگی۔( ۸ )

۱۲۔( فما اَغنت عنهم آلهتهم التی یدعون من دون الله من شیء لما جاء امر ربک )

جب خدا وند عالم کی سزا کا فرمان صادر ہوا، تو اللہ کے علاوہ دوسرے خدا کہ جن کو پکاراجاتا تھا انہوں نے ان کی کسی صورت مدد نہیں کی۔( ۹ )

____________________

(۱) زمر ۶(۲)دخان ۸(۳)طہ ۹۸(۴)اسراء ۴۲(۵)مریم۸۱(۶)انبیاء ۴۳

(۷)یس ۲۳(۸)(یس ۷۴(۹)ہود۱۰۱


قرآن کریم اس طرح صاف اور واضح بیان کرتا ہے : ہر طرح کی تخلیق خدا وند یکتا سے مخصوص ہے ، بارش کا نازل کرنا، پودوں کا اگانا، بیماروں کو شفا دینا، دشمنوں پر کامیابی، فقر و پریشانی کا دور کرنا، یہ تمام کی تمام اور اس جیسی دوسری چیزیںنیز عالم ہستی میں ہر حرکت اور سکون صرف اور صرف خدا سے مخصوص ہے اور بس؛ لہٰذا کائنات کا تنہا خدا وہی ہے ، وہ اپنی قدرت، شان و شوکت اور اپنے افعال میں لاشریک اور یگانہ ہے وہ مثل و مانند اور شبیہ نہیں رکھتا: نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کاکوئی والد ، وہ اپنا ہم پلہ اورہمتانہیں رکھتا، وہی غالب ، قدرت مند اور یکتا خداہے، جیسا کہ خود اس نے اپنی توصیف کی ہے اور فرمایا ہے:

۱۔( اِنّما الله الٰه واحد سبحانه اَن یکون له ولد )

یقینا صرف اور صرف اللہ ہی ایک اور واحد خداہے وہ اس بات سے منزہ اور بری ہے کہ اس کا کوئی فرزند ہو ۔( ۱ )

۲.( لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلاثة وما من الٰه الا الٰه واحد ) ۔)

جن لوگوں نے کہا: خداتین میں سے ایک ہے یقینا کافر ہیں کوئی خدا اور معبود خدا وند واحد کے علاوہ نہیں ہے ۔( ۲ )

۳۔( و قال الله لا تتخذوا الهین اِثنین اِنّما هو الٰه واحد )

خدا وند عالم نے فرمایا: اپنے لئے دو خداکا انتخاب نہ کرو خدا صرف اور صرف ایک ہے ۔( ۳ )

یہاں تک یہ روشن ہوا کہ الوہیت خداوند عالم سے مخصوص ہے یہی خصوصیت باعث ہو گی کہ خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ،لہٰذا عبادت بھی صرف خدا کی کی جانی چاہیئے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

۱۔( اِنَّنِی انا الله لا الٰه الا انا فاعبدنی و اَقم الصلاة لذکری ) ۔)

میں خدا ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ! میری عبادت کرو اور میری یاد میں نماز برپا کرو۔( ۴ )

۲۔( وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ الا نوحی الیه انه لا اله الا انا فاعبدون )

ہم نے تم سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اسے وحی کی:میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا صرف اور صرف میری عبادت کرو۔( ۵ )

۳۔( اَمّن خلق السموات والارض و انزل لکم من السماء مائً فانبتنا به حدائق ذات

) ____________________

(۱)نساء ۱۷۱(۲) مائدہ ۷۳(۳)نحل ۵۱(۴)طہ ۱۴(۵)انبیاء ۲۵


بهجة ما کان لکم ان تنبتوا شجرها أاِلٰه مع الله بل هم قوم یعدلون امن جعل الارض قرارًا و جعل خلا لها انهاراً و جعل لها رواسی و جعل بین البحرین حاجزاً أاِلٰه مع الله بل اکثر هم لا یعلمون٭ امن یجیب المضطر اذا دعاه ویکشف السوء و یجعلکم خلفاء الارض أاِلٰه مع الله قلیلا ما تذکرون٭ امن یهد یکم فی ظلمات البر و البحر و من یرسل الریح بشرا بین یدی رحمته ء اله مع الله تعالیٰ الله عما یشرکون٭ امن یبدؤ الخلق ثم یعیده و من یرزقکم من السماء و الارض ء اله مع الله قل هاتوابرهانکم ان کنتم صادقین)

آیا جس نے زمین و آسمان کی تخلیق کی اور آسمان سے تمہارے لئے پانی نازل کیا پس ہم نے اس سے فرحت بخش باغ اگائے ، ایسے باغ کہ تم ہرگز ان درختوں کے اگانے پر قادر نہیں تھے، آیا اس خدا کے ہمراہ کوئی اور خد اہے ؟! نہیں، بلکہ وہ لوگ نادان قوم ہیں جو حق سے منحرف ہو کر مخلوق کو خالق کی ردیف میں رکھتے ہیں!

یا یہ کہ زمین کواستقراربخشا اور اسے استوار کیا اور اسمیں جگہ جگہ نہریں جاری کیں، نیز اس کی خاطر محکم و استوار پہاڑوں کو ایجاد کیا نیز دودریا ئوںکے درمیان مانع قرار دیا آیا ایسے خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟! نہیں ، بلکہ اکثر نادان ہیں!

یا جو لاچاروں کی دعائیں مستجاب کرتا اور مشکلات کو بر طرف کرتا ہے نیز تمہیں زمین پر خلیفہ بناتا ہے آیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟! بہت کم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں!۔

یاجو خدا صحرا و ٔوں،بیابانوں نیز دریاؤں کی تاریکی میں بھی تمہاری راہنمائی کرتا ہے ، نیز جو نزول رحمت سے پہلے بطورمژدہ ہوائوں کو بھیجتا ہے : کیاایسے خدا کے ہمراہ کوئی اور خدا و معبود ہے ؟!ان لوگوں کے شریک قرار دینے سے کہیں زیادہ خدا وند عالم کا مرتبہ بلند و بالا ہے !

یا یہ کہ اس نے خلقت کا آغاز کیا پھر اس کی تجدید کرتا ہے اور وہی ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی عطا کرتا ہے ؛ کیا ایسے خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہو سکتاہے ؟! ان سے کہو! اگرتم سچے ہوتے تو اپنی دلیل و برہان پیش کرو ۔( ۱ )

لہٰذا اس یکتا ویگانہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، شریک، مثل اور مانند نہیں رکھتا جس طرح (بعض لوگوں کے خیال کے بر خلاف) بیٹے اور بیٹیاںبھی ، نہیں رکھتا،ان لوگوں کے بارے میں گفتگو آئندہ بحث میں کی جائے گی۔

____________________

(۱)سورۂ نمل ۶۴،۶۰


د۔کیا خدا وند عالم صاحب اولادہے ؟

متعدد خدائوں کے ماننے والوں کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو خدا کے لئے اولادکے قائل ہیں۔ خدا وند عالم سورۂ صآفات میں ان کی زبانی حکایت کرتاہے :

( فاستفتهم ألربک البنات و لهم البنون٭ ام خلقنا الملائکة اناثاً و هم شاٰهدون٭اَلا اَنهم من اِفکهم لیقولون٭ ولد الله وانهم لکذبون٭ اصطفی البنات علیٰ البنین٭ مالکم کیف تحکمون )

ان سے سوال کرو: آیا تمہارے پروردگار کی لڑکیاں اور ان کے لڑکے ہیں؟! آیا ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا اور وہ دیکھ رہے تھے؟! جان لو کہ یہ لوگ اپنے بڑے جھوٹ کے سہارے کہتے ہیں: ''خدا وند عالم صاحب اولادہے'' در حقیقت یہ لوگ جھوٹے ہیں! آیا خدا وند عالم نے لڑکیوں کو لڑکوں پر ترجیح دی ہے ؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ خدا کے بارے میں ایسا فیصلہ کرتے ہو۔( ۱ )

نیز سورۂ زخرف میں ارشاد ہوتا ہے :

( وجعلوا الملائکة الذین هم عباد الرحمن اناثاً! اشهدوا خلقهم ستکتب شهادتهم و یسئلون٭و قالوا لو شاء الرحمن ما عبدنا هم... )

وہ لوگ خدا وندرحمن کے بندے فرشتوں کو مونث خیال کرتے ہیں؛آیا ان کی خلقت پر وہ گواہ تھے؟! ان کی گواہی مکتوب اور قابل باز پرس ہوگی اور انہوں نے کہا: اگر خدا چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہیں کرتے...۔( ۲ )

( ام اتخذ مما یخلق بنات و اصفاٰکم بالبنین )

____________________

(۱)صافات۱۵۴۔۱۴۹

(۲)زخرف۲۰۔۱۹


کیا خدا وند عالم نے اپنی مخلوقات کے درمیان اپنے لئے لڑکیوں کو منتخب کیا ہے اور لڑکوں کو تمہارے لئے؟!( ۱ )

( و اِذا بشر احدهم بما ضرب للرحمن مثلا ظل وجهه مسودا و هو کظیم )

جب ان میں سے کسی ایک کو اس چیز کی جسکوانہوں نے خدا وند رحمن کے لئے اپنے خیال میں تراش لیا ہے اور مثال دی ہے بشارت دی جائے تو ان کے چہرے سیاہ ہو جاتے ہیں اور غصہ کے گھونٹ پینے لگتے ہیں ۔( ۲ )

یہ مشرکین فرشتوں کی عبادت، لات ،عزی اور منات کے بتوں کے قالب میں کرتے تھے؛ نیز ان تینوں کو ملائکہ کا پیکر اور مجسمہ خیال کرتے تھے ۔

خدا وند عالم سورۂ نجم میں ارشاد فرماتا ہے :

( افرایتم اللات و العزی٭ومناة الثالثة الاخریٰ الکم الذکروله الانثی٭ تلک اذاًقسمة ضیزیٰ ان هی الااسماء سمیتموهاانتم وآبائکم ماانزل الله بها من سلطانٍ ان یتبعون اِلّا الظن وما تهویٰ الانفس ولقد جائهم من ربهم الهدیٰ )

مجھے بتاؤ! آیا لات و عزی اور تیسرا منات (خدا وند عالم کی لڑکیاں ہیں)؟! آیا تمہارا حصہ لڑکا ہے اور خدا کا حصہ لڑکی ہے ؟! ( باوجودیکہ تمہارے نزدیک تو لڑکیاں بے قیمت شیء ہیں!) ایسی صورت میں یہ تقسیم غیر منصفانہ ہے ! ( ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ایسے اسماء ہیںجو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھے ہیں خدا وند عالم نے اس خیال کی تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے ؛ وہ لوگ صرف گمان و حدس اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں، جبکہ پروردگار کی ہدایت ان تک پہنچی ہے ۔( ۳ )

( ان الذین لا یؤمنون بالاخرة لیسمون الملائکة تسمیة الُانثیٰ٭ وما لهم به من علمٍ ان یتبعون اِلّاالظن و ان الظن لا یغنی من الحق شیئاً )

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں، یہ لوگ اپنے اس قول پر دلیل بھی نہیں رکھتے صرف اور صرف حدس اور گمان کا اتباع کرتے ہیں، جبکہ حدس و گمان کبھی آدمی کو حق سے بے نیاز نہیں کرتے۔( ۴ )

بعض دیگر مشرکین جنات کی عبادت کرتے تھے، خدا وند عالم ان کے بارے میں سورۂ انعام میں فرماتا ہے :

____________________

(۱)زخرف۱۶(۲)زخرف ۱۷(۳)نجم ۲۳۔۱۹(۴)نجم۲۷،۲۸


( و جعلو لله شرکاء الجن و خلقهم و خرقوا له بنین و بنات بغیر علم سبحانه و تعالیٰ عما یصفون٭ بدیع السموات والارض اَنِّی یکون له ولد و لم تکن له صاحبة و خلق کل شیء و هو بکل شیء علیم )

خدا کے لئے انہوں نے جنات کو شریک اور ہم پلہ قرار دیا، جبکہ وہ خدا کی مخلوق ہیں نیز اس کے لئے بغیر کسی دلیل کے لڑکے اور لڑکیاں منسوب کر دیں خدا وند عالم ان کی اس توصیف سے بلند اور منزہ ہے ، وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کا کوئی فرزند ہو جبکہ اسکی کوئی بیوی بھی نہیں ہے ؟! اس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا اور تمام چیزوں سے آگاہ ہے ۔( ۱ )

سورۂ سبا میں فرمایا:

( و یوم یحشرهم جمیعاً ثم یقول للملائکة أ هولاء ایاکم کانوا یعبدون ٭ قالوا سبحانک َانت ولینا من دونهم بل کانوا یعبدون الجن اَکثرهم بهم مو٭منون )

جس دن خداا ن تمام لوگوں کو مبعوث کرے گا اور فرشتوں سے کہے گا: کیا ان لوگوںنے تمہاری پرستش کی ہے ؟!'' وہ کہیں گے تو منزہ اور بلند ہے صرف تو ہمارا ولی ہے نہ وہ لوگ؛ بلکہ انہوں نے تو جنوں کی پوجا کی ہے اور اکثر نے انہیں پر ایمان رکھا ہے ۔( ۲ )

یہ مشرکین کا گروہ جو ملائکہ کی پرستش کرتا تھا، اس وقت پایا نہیں جاتا، یہ لوگ نابود ہو چکے ہیں صرف ان کے کردار کا تذکرہ باقی ہے، لیکن جو لوگ ابھی ہمارے دور میں پائے جا رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا صاحب فرزند ہے وہ عیسائی ہیں، ان کے بارے میں سورۂ تو بہ میں ارشاد ہوتا ہے :

( و قالت الیهود عزیر ابن الله و قالت النصاریٰ المسیح ابن الله ذلک قولهم بِأَفواههم یضاهئون قول الذین کفروا من قبل قاتلهم الله انیٰ یؤفکون )

یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یہ سب باتیں ہیں جو زبان سے بکا کرتے ہیں اور گز شتہ کافروں کے ہمنوا ہیں خدا انہیں قتل کرے راہ حق سے منحرف ہو کر کہاں جارہے ہیں ؟!( ۳ )

نیز سورۂ نساء میں ارشاد ہوتا ہے :

____________________

(۱)انعام ۱۰۱۔۱۰۰

(۲)سبا۴۱۔۴۰

(۳)توبہ۳۰


( یا اهل الکتاب لا تغلوا فی دینکم ولا تقولو ا علیٰ الله الا الحق انما المسیح عیسیٰ بن مریم رسول الله و کلمته القٰیها الیٰ مریم و روح منه فامنوا بالله و رسله ولا تقولوا ثلاثة انتهو خیراً لکم انما الله اله واحد سبحانه ان یکون له ولد له ما فی السموات وما فی الارض و کفیٰ بالله وکیلاً٭ لن یستنکف المسیح ان یکون عبداً لله ولا الملٰائکة المقربون و من یستنکف عن عبادته و یستکبر فسیحشرهم الیه جمیعاً )

اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو اور خدا کے بارے میں حق کے علاوہ کچھ نہ کہو! حضرت مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح صرف خدا کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے خدا نے مریم کو القا کیا ہے نیز ایک روح بھی اس کی جانب سے ہیں پس خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور یہ نہ کہو ''خدا تین ہیں'' ایسی باتوں سے باز آجائو کہ تمہارے لئے بہتر ہوگا! یقینا خدا یگانہ معبود ہے وہ صاحب فرزند ہونے سے منزہ ہے جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اسی کاہے اتنا ہی کافی ہے کہ خدا وند عالم مدبر اور وکیل ہے ۔حضرت مریم کے فرزند عیسیٰ مسیح کبھی خدا کے بندہ ہونے سے انکار نہیں کرتے اور اس کے مقرب فرشتے بھی ایسے ہی ہیں جو خداوند عالم کی عبادت و بندگی سے روگردانی اور تکبر کرے گا عنقریب وہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔( ۱ )

سورۂ مائدہ میں فرماتا ہے :

( لقد کفر الذین قالوا ان الله هو المسیح ا بن مریم وقال المسیح یا بنی اسرائیل اعبدوا الله ربی و ربکم انه من یشرک بالله فقد حرم الله علیه الجنة ومأ واه النار و ما للظالمین من انصار٭ لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلاثةٍ وما من الهٍ الا اله واحد و ان لم ینتهوا عما یقولون لیمسّنّ الذین کفروا منهم عذاب الیم٭ أَفلا یتوبون الیٰ الله و یستغفرونه و الله غفوررحیم٭ ماا لمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبله الرسل و امه صدّیقة کانا یأ کلان الطعام انظرکیف نبین لهم الآیات ثم انظر انی یؤفکون ٭ قل اتعبدون من دون الله ما لا یملک لکم ضراً ولا نفعاً و الله هو السمیع العلیم )

وہ لوگ جنہوں نے کہا: ''خدا وہی مریم کا فرزند مسیح ہے '' مسلم ہے کہ وہ کافر ہو گئے ہیں ، جبکہ خود حضرت مسیح کہتے ہیں : اے بنی اسرائیل جو ہمارا اور تمہارا خدا ہے اس کی عبادت کرو، اس لئے کہ ، جو کوئی اسکا شریک قراردے،

____________________

(۱)نسائ۱۷۱۔۱۷۲


خدا وند عالم اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، ظالموں کا کوئی ناصر و مدد گار نہیں ہے ۔

جن لوگوں نے کہا : اللہ تین میں کا تیسراہے یقینا وہ کافر ہو گئے ہیں حالانکہ خدا وند یکتا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور اگر جو وہ لوگ کہتے ہیں اپنے قول سے باز نہیں آئے تو ان کافروں کو دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا وہ خدا کی سمت نہیں لوٹیں گے اور اس سے بخشش طلب نہیں کریں گے جبکہ خدا بخشنے والا مہربان ہے ؛حضرت مسیح مریم کے فرزند صرف خدا کے رسول ہیں نیز ان سے قبل بھی رسول آئے تھے ان کی ماں صدیقہ تھیں دونوں ہی کھاناکھاتے تھے خیال کرو کہ کس طرح ہم ان لوگوںکے لئے علامتیں ظاہر کرتے ہیں اور غور کرو کہ لوگ وہ کس طرح حق سے منھ موڑ تے ہیں ان سے کہو کیا خدا کے علاوہ بھی اس کی عبادت کرتے ہو جوتمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے ؟! خدا وند عالم سننے والا اور جاننے وا لا ہے ۔( ۱ )

پھر اسی سورہ میں فرمایا:

( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا ِنَّ اﷲَ هُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ مِنْ اﷲِ شَیْئًا ِنْ َرَادَ َنْ یُهْلِکَ الْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَُمَّهُ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا یخْلُقُ مَا یَشَائُ وَاﷲُ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر )

کافروں نے کہا: خدا وہی عیسیٰ بن مریم ہیںیقینا وہ کافر ہو گئے ہیں ان سے کہو: اگر خدا چاہے کہ مسیح بن مریم اور ان کی ماں اور تمام روئے زمین پر بسنے والوں کو نابود کر دے تو کون روک سکتا ہے ؟

زمین و آسمان اور ان کے درمیان سب کا سب خدا کا ہے وہ جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔( ۲ )

اور سورۂ آلِ عمران میں فرمایا:

( ان مثل عیسیٰ عند الله کمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له کن فیکون )

خدا وند عالم کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اس نے ان کو مٹی سے پیدا کر کے کہا ہو جاتو فوراً وہ وجود میں آ گئے۔( ۳ )

نیزسورۂ مریم میں فرمایا:

( و قالوا اتخذا الرحمن ولداً٭ لقد جئتم شیئا ادّا٭ تکاد السموات یتفطرن منه و

____________________

(۱)مائدہ ۷۲۔۷۶

(۲)مائدہ۱۷

(۳)آلِ عمران۵۹


تنشق الارض و تخر الجبال هداً٭ ان دعوا للرحمن ولداً وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً٭ان کل من فی السموات والارض الا آتی الرحمن عبداً)

ان لوگوں نے کہا: خدا نے اپنے لئے فرزند بنا لیاہے یقینا یہ بات زشت اور ناپسند ہے جو تم نے کہی ہے ! قریب ہے اس طرح کی بیہودہ گویوں سے آسمان پھٹ جائے اور زمین شگافتہ ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کیونکہ خدا وند عالم کے لئے فرزند کے قائل ہوئے ہیں۔ جبکہ خدا وند عالم کے لئے ہر گز مناسب نہیں ہے کہ کسی کو فرزند بنائے ،زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی باقی نہیں ہے مگر یہ کہ خضوع اور بندگی کے ساتھ خدا کے پاس آئے۔( ۱ )

خدا وند عالم نے سورۂ اخلاْص کی آیتوں میں اس طرح کے لوگوں کے تمام خیالات و افکارپر خط بطلان کھینچا ہے اور فرمایا ہے:

( بسم الله الرحمن الرحیم٭قل هو الله احد٭ الله الصمد٭ لم یلد ولم یولد٭ و لم یکن له کفواً احد )

کہو: خدا وند یکتا اور یگانہ ہے ؛ خدا وند بے نیاز مطلق ہے ؛ ہر گز اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ والد ہے ؛ اور اس کے مانند کوئی نہیں ہے ۔

کلمات کی شرح

گز شتہ بحث سے بہتر نتیجہ اخذ کرنے کے لئے بعض الفاظ آیات کی تشریح کرتے ہیں:

۱۔ افک: دروغ وافتراء اور حق سے باطل کی طرف منھ موڑ نے کو کہتے ہیں

۲۔ کظیم :جسے شدیدغم و اندوہ ہو۔

۳۔ سلطان: یہاں پر دلیل و برہان کے معنی میں ہے ۔

۴۔ ضیزیٰ: ظالمانہ، غیر عادلانہ ''قسمة ضیزیٰ'' غیر منصفانہ تقسیم ۔

۵۔ خرق : جھوٹے ،من گھڑت اور جعلی دعوے۔

____________________

(۱)مریم۹۳،۸۸


۶۔بدیع: بے سابقہ ایجاد کرنے والے اور مبتکر کو کہتے ہیں: بدیع السموات والارض۔

زمین و آسمان کو بغیر کسی اوزاراور آلہ نیز کسی سابقہ نقشہ کے بغیر خلق کرنے والا جو بغیر کسی مادہ اور زمان و مکان کے ہے لہٰذا بدیع کہنا (حقیقی مخترع) خدا کے علاوہ کسی کے لئے جائز و روا نہیں ہے ۔

۷۔ یضاھئون:یعنی شبہہ اور ایک جیسا قرار دیتے ہیں۔

۸۔ اداً :امرعظیم ،نہایت زشت و ناپسند چیز کے معنی میں ہے ۔

۹۔ ھداً :شدید تباہی ، نابودی بنیاد کو خراب کرنے اور کوٹنے کے معنی میں ہے ۔

۱۰۔ مسیح: حضرت عیسیٰ بن مریم کا لقب ہے جو عبرانی زبان میں مشیح ہے ، کیونکہ حضرت اپنے ہاتھوں کو کوڑھی اور نا بنیا افراد پر مسح کر کے خدا کی اجازت سے شفا بخشتے تھے۔

۱۱۔ کلمہ: یعنی ایسی مخلوق جس کو خدا وند عالم نے لفظ کن (ہو جا) اور اس کے مانندسے پیدا کیا ہو۔

اورجو معروف اور عام روش یعنی اسباب کے ذریعہ آفرینش سے جدا ہو۔

عیسیٰ کو اسی لحاظ سے کلمہ خد اکہا گیا ہے کہ خدا وند عالم نے انہیں لفظ کن (موجود ہو جا) سے پیدا کیا ہے جس طرح زکریا پیغمبر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:( ان الله یبشرک بیحیٰ مصدقاً بکلمة من الله ) خدا وند عالم تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے ، جو کلمہ خد ا(مسیح) کی تصدیق کرنے والا ہوگا ۔( ۱ )

اور مریم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

( ان الله یبشرک بکلمة منه اسمه المسیح عیسیٰ بن مریم ) ( ۲ )

خدا وند عالم تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے.

اور گز شتہ ایک آیت میں ذکر ہو اہے :یقنا مسیح عیسیٰ بن مریم صرف اور صرف رسول اور اس کا کلمہ (مخلوق) ہیں۔

عیسیٰ کو کلمہ کہنا مسبب کوسبب کانام دیناہے یعنی چونکہ کلمہ خدا (کن) حضرت عیسیٰ کی پیدائش(مسبب) کا سبب ہے، سبب کا نام مسبب کو دے دیا گیا ہے ۔

۱۲۔صدیقہ:صدیق اسے کہتے ہیں جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور اپنے گفتا رکی درستگی کو اچھے کردار کے ذریعہ ثابت کرتا ہے ۔ صدیقین فضل و شرف، مقام اور منزلت کے اعتبار سے انبیاء کے بعد آتے ہیں اور

____________________

(۱)سورہ ٔ آل عمران ۳۹. (۲) سورہ ٔ آل عمران ۴۵.


صدیقہ، صدیق کا مونث ہے ۔

۱۳۔ عبد: عبد یہاں پر اس بندہ کے معنی میں ہے جواپنے نفع و نقصان ، موت و زندگی کا اختیار نہیں رکھتا۔

۱۴۔ صمد: صمد اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ کسی کو جنے اور نہ ہی جنا گیا ہو.اور نظیرو مثیل نہ رکھتاہو۔ یعنی کوئی چیز اس سے باہر نہیں آئی خواہ وہ چیز مادی و جسمانی ہویا وزنی ہو جیسے فرزنداور اس جیسی چیز کہ جو مخلوق سے پیدا ہوتی ہے۔ خواہ نرم و نازک غیر مادی چیزیں جیسے انسانی و حیوانی نفس اور روح وغیرہ ۔

خدا وند سبحان کو اونگھ اور نیند نہیں آتی ہے اور نہ ہی وہ غم و اندوہ سے دوچار ہوتاہے اور نہ ہی خوف و امیدسے، بے رغبتی اور خوشی، ہنسنا، رونا، بھوک اور شکم سیری، تھکاوٹ اور نشاط اسے عارض نہیں ہوتے ۔

وہ کسی چیز سے پیدانہیں ہوا جس طرح حجم دار، جسمانی، مادی اور پر وزن موٹی تازی چیزیں، اپنے جیسے سے وجود میں آتی ہیں۔ جیسے زمین پر رینگنے والے حشرات، اگنے والی چیزیں، ابلنے والے چشمے اور درخت کے پھل ، اسی طرح سے کسی لطیف اور نازک اور غیر مادی چیزوں سے بھی وجود میں نہیں آیا ہے ۔ جس طرح آگ پتھر سے نکلتی ہے یا جس طرح بات زبان سے نکلتی ہے اور شناخت و تشخیص، قلب سے، روشنی خورشیدسے اور نور ماہ سے۔ کوئی چیز اس کے جیسی نہیں ہے وہ یکتا اور واحد و بے نیاز مطلق ہے جو نہ کسی چیز سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی کسی چیز میں سمایا ہوا ہے ۔ اور نہ ہی کسی چیز پر تکیہ کرتا ہے تمام چیزوں کو وجود بخشنے والا اور ان کا مخترع اورموجدوہی ہے اور اسی نے سب کو اپنے دست قدرت سے خلق کیا ہے ۔

وہ جسے چاہتا ہے اپنی مرضی سے نابود کر دیتاہے اور جسے اپنے علم کے اعتبار سے بہتر اور مصلحت سمجھتا ہے اسے باقی رکھتا ہے وہ خدا وند بے نیاز جو نہ کسی سے پیدا ہواہے اور نہ ہی کوئی اس کے جیسا ہے اور نہ ہی وہ کفو و ہمتا رکھتا ہے۔


آیتوں کی تفسیر

خدا وند عالم گز شتہ آیتوں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں بعض یہود کی نشاندہی کرتا ہے اور فرماتا ہے :

وہ لوگ کہتے ہیں: ''عزیر خدا کے فرزند ہیں'' یہ گروہ نابود ہو چکا ہے جس طرح بعض مشرکین جو کہتے تھے ''فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں'' نابود ہو گئے ہیں، لیکن نصاریٰ آج بھی پائے جا رہے ہیںجیسا کہ خد اوند عالم نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں : مسیح خدا کے بیٹے ہیں. اور کہتے ہیں: خدا وند عالم تین میں سے ایک ہے: باپ ، بیٹا اور روح القدس؛ سچ ہے کہ قابل فہم نہیں ہے ۔ کس طرح خدا وند واحد،سہ گانہ ہو جائے گا اور وہی سہ گانہ، واحد ! نصاریٰ اپنی ان باتوں سے کفار کے مشابہ اور مانند ظاہر ہوتے ہیں؛ نیز اپنی اس گفتار سے مسیح کی خدائی کے قائل ہو گئے جبکہ مسیح خدا کے رسول کے سوا کچھ نہیںہیں اور ان سے پہلے بھی رسول آئے ہیں۔ ان کی ماں بھی ایک راستگو اور نیک کردار خاتون تھیں، دونوں ہی دوسروں کی طرح غذا کھاتے تھے لہٰذا واضح ہے کہ جو غذا استعمال کرتا ہے وہ بیت الخلا کی ضرورت محسوس کرتا ہے، لہٰذا ایسا شخص معبود اور الہ نہیں ہو سکتا ہے ، بلکہ عیسیٰ بن مریم خدا کا'' کلمہ '' ہیں جسے خداوند عالم نے مریم کو عطاکیا تھا اگر نصاریٰ انہیں اس وجہ سے کہ بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں خدا کا بیٹا کہتے ہیں تو ان کی خلقت آدم کی طرح ہے کہ خدا وند عالم نے انہیں خاک سے پیدا کر کے کہا ہو جا تو ''ہو گئے'' سچ تو یہ ہے کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ خدا صاحب فرزند ہے( جبکہ وہ اس سے منزہ اور پاک ہے کہ کوئی فرزند رکھتا ہو) تو اس بات کے آدم زیادہ حقدار ہیں کہ خدا کے فرزند بن سکیں ؛ اس باطل گفتگو سے خدا کی پناہ، یہ سارے کے سارے ''آدم و عیسیٰ'' ، ملائکہ، جن و انس، آسمان اور زمین خدا کی مخلوق ہیں اور کیا خوب کہا ہے خدا وند سبحان نے:

( قل هو الله احد٭ الله الصمد٭ لم یلد ولم یولد٭ ولم یکن له کفواً احد )

امام حسین سے جب بصرہ والوں نے سوال کیا تو ان کے جواب میں انہوں نے صمد کے معنی بیان فرماتے ہوئے لکھا ہے : خدا وند رحمان و رحیم کے نام سے اما بعد!

قرآن میں بغیر علم و دانش کے غوطہ نہ لگائو اور اس میں جدال نہ کرو اور اس کے بارے میں نادانستہ طور پر گفتگو نہ کرو، میں نے اپنے جد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو بھی قرآن کے بارے میں نادانستہ طور پر گفتگو کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ؛ خدا وند سبحان نے قرآن میں صمد کی تفسیرکرتے ہوئے فرمایا ہے:


خداایک ہے صمد ہے پھر اس کی تشریح کی کہ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اورنہ ہی وہ جنا گیا ہے؛ کفو، ہمتا اور مانند نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ فرزند اور اس کی مانند مخلوقات کی طرح ثقیل اور سنگین چیزوں سے وجود میں آیا ہے اور نہ ہی لطیف اور خفیف چیزوں جیسے روح اور نفس سے وجود میں آیا ہے ۔وہ اونگھ اور نیند،وہم غم و اندوہ، خوشی ، غم ،ہنسی ، گریہ ، خوف، امید، میلان، بیزاری، گرسنگی، شکم سیری سے منزہ اور مبرہ ہے وہ اس سے مافوق ہے کہ لطیف اور سنگین چیزوں سے وجود میں آئے نہ وہ پیدا ہوا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے وجود میں آیا ہے ؛اور نہ ہی وہ ایساہے کہ جس طرح جسمانی چیزیں اپنے عناصر سے وجود میں آتی ہیں یا نباتات زمین سے پیدا ہوتے ہیںیا پانی کہ بہتے چشمے سے اور پھل درختوں سے وجود میں آتے ہیں۔

جس طرح کہ وہ لطیف اشیاء کی سنخ سے بھی نہیں ہے ان اشیاء سے بھی نہیں ہے ،ایسی چیزیں جو اپنے مراکز سے وابستہ رہتی ہیں جیسے دیکھنا جس کا تعلق آنکھ سے ہے ،سننا جس کا تعلق کان سے، سونگھنا جس کا تعلق ناک سے ،چکھنا جس کا تعلق دہن سے، بات کرنا جس کا تعلق زبان سے، معرفت و شناخت جس کا تعلق دل سیاورآگ پتھر سے خدا ان میں سے کسی ایک کے مانند بھی نہیں ہے بلکہ وہ یکتا اور یگانہ وبے نظیر ہے وہ صمد ہے یعنی اس سے کوئی چیز پید انہیں ہوئی اور نہ وہ کسی چیز سے پیدا ہوا ہے نہ وہ کسی چیز سے ہے اور نہ ہی کسی چیز میں اور نہ ہی کسی چیز پر ہے وہ اشیاء کا خالق اور ایجاد کرنے والا ہے اور ان کو اپنے دست قدرت سے وجود میں لانے والا ہے جس چیز کو اپنی مشیت سے نابود ی اور فنا کیلئے پیدا کیا ہے اسے نابود کر دیتا ہے اور جسے اپنے علم میں بقا کے لئے پیدا کیا ہے اسے تحفظ اور بقا بخش دیتا ہے ۔

یہ ہے وہ واحد و یکتا خدا جو صمد ہے یعنی نہ کسی کو جنا ہے اور جنا گیا ہے وہ اپنا مثل و نظیر نہیں رکھتا ۔


بحث کا نتیجہ

متعدد خدائوں کے ماننے والوں کے درمیان مشرکین قریش کے مانند افراد تھے جو یہ کہتے تھے:

''فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں'' (اب) یہ گروہ ختم ہو چکا ہے ۔

کچھ دوسرے افراد جو کہتے تھے ''عزیر خدا کے فرزند ہیں'' جیسے عصر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض یہود ی ، یہ گروہ بھی ختم ہو چکا ہے ۔

ان میں سے بعض کہتے تھے: ''عیسیٰ بن مریم خدا کے فرزند ہیں'' خدا سہ گانہ خدائوں میں سے ایک ہے: باپ، بیٹا اور روح القدس، تمام نصاریٰ آج تک اپنے اس عقیدہ پر باقی ہیں۔

بعض دیگرافراد جن ّ کی پرستش کرتے تھے، یہ فرقہ مختلف زمانوں میں جن سے متعلق نت نئے نظریات اور مکاتب خیال کا حامل رہا ہے ۔

خدا وند عالم نے قرآن مجید میں ان تمام اقوال اور نظریات کو باطل قرار دیا ہے ؛ جہاں پر فرشتوںکی پرستش کرنے والوں کے عقیدے کو بیان کیا کہ کہتے ہیں: فرشتے، خدا کی بیٹیاں اور مونث ہیں، فرمایا: آیا یہ لوگ فرشتوں کی تخلیق کے وقت موجود تھے اور انہوں نے دیکھا ہے کہ یہ مونث ہیں؟! اور جہاں پر مسیح اور ان کی ماں کی گفتگوکی ہے فرماتا ہے : یہ دونوں ہی غذا کھاتے تھے اور ہم جانتے ہیں کہ جو غذا کھاتے ہیں انہیں قضائے حاجت کی ضرورت پڑتی ہے نیز کھانا، پینا، قضائے حاجت؛ انسانی صفات میں سے ہے نیز فرمایا کہ عیسیٰ کی طرح بے باپ کے پیدا ہونے میں آدم ہیں کہ انہیں خاک سے بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا گیا ہے۔

لہٰذا قطعی طور پر عیسیٰ ، فرشتے اور جن ّ نیزآسمان و زمین میں تمام موجودات سارے کے سارے خدا کی مخلوق ہیں خدا وند عالم نے نہ کسی کو جنم دیا ہے اور نہ ہی کسی سے جنم لیا ہے نیز اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔

قرآن کریم اس طرح کی الوہیت یعنی تخلیق و آفرینش کو خدا وند وحدہ لا شریک سے مخصوص جانتا ہے اور اس پر استدلال کرتا ہے اور خالق یکتا کے علاوہ تمام چیزوں کو اس کی مخلوق تصور کرتا ہے ۔

آئندہ بحث میں اصناف مخلوقات خداوندی کے متعلق ان کے مراتب وجود کے اعتبار سے سلسلہ وارجستجواور تحقیق کریں گے۔


۳

قرآن میں مخلوقات الٰہی کی قسمیں

۱ ۔ملائکہ

۲۔ آسمان، زمین اور ستارے

۳۔ دوّاب ( زمین پر متحرک چیزیں)

۴۔ جن اور شیطان

۵۔ انسان

۶۔ آیات کی تشریح اور ان کی روایات میں تفسیر

۱۔ ملائکہ

اس کا واحد ملک یعنی فرشتہ ، خدا وند عالم کی پردار مخلوقات کی ایک صنف ہے جس کیلئے موت و زندگی کا تصور بھی ہے یہ خدا کے مطیع اور فرمانبردار بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے دستورات کی اطاعت کرتے اور کبھی اس کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں۔ کبھی خدا وند عالم کے دستورات کی انجام دہی اور فرمانبرداری کے لئے انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ خدا وند عالم نے اپنے پیغام پہنچانے والوں کو انہیں میں سے انتخاب کیا ہے اور سورۂ فاطر میں فرمایاہے :

( الحمد لله فاطر السمٰوات و الارض جاعل الملائکة رسلاًاولی اجنحة مثنیٰ و ثلاث و رباع یزید فی الخلق ما یشاء ان الله علیٰ کل شیئٍ قدیر )

زمین و آسمان کے خالق خدا سے حمد و ستائش مخصوص ہے ایسا خدا جس نے فرشتوں کو پیغام پہنچانے والابنایا جو دو دو، تین تین ، چار چار، پر( ۱ ) رکھتے ہیں وہ اپنی آفرینش میں جس قدر چاہے اضافہ کر سکتا ہے ،خداوند عالم ہر چیز پر قادر ہے ۔( ۲ )

سورۂ زخرف میں فرماتاہے:( وجعلوا الملائکة الذین هم عباد الرحمن اِناثاً اشهد وا خلقهم )

یہ لوگ فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیںلڑکی خیال کرتے ہیں کیا یہ لوگ تخلیق کے وقت موجود تھے؟!( ۳ )

سورۂ شوریٰ میں فرماتا ہے :

____________________

(۱) پردار قرآن کریم کی تاسی میں کہتے ہیں ورنہ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔

(۲) فاطر ۱۔(۳) زخرف ۱۹


( و الملائکة یسبحون بحمد ربهم و یستغفرون لمن فی الاَرض )

فرشتے، ہمیشہ اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں اور زمین پر موجود افراد کے لئے خدا سے بخشش کے طالب رہتے ہیں۔( ۱ )

سورۂ نحل میں ارشاد ہوتا ہے :

( یخافون ربهم من فوقهم و یفعلون ما یؤمرون )

یہ لوگ صرف خدا وند متعال (جو کہ ان کا حاکم ہے)کی مخالفت اور نافرمانی سے ڈرتے ہیں؛ اور جس پر وہ مامور ہیں اسے انجام دیتے ہیں۔( ۲ )

سورۂ مریم میں اس سلسلہ میں کہ یہ کبھی انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں فرماتا ہے :

( فارسلنا الیها روحنا فتمثل لها بشراً سویا٭ قالت انی اعوذبالرحمن منک ان کنت تقیاً٭ قال انما انا رسول ربک لأ هب لک غلاماً زکیاً )

ہم نے اپنی روح اس کی طرف بھیجی وہ ایک انسانی شکل میں متعادل انداز سے ظاہر ہوا! مریم بہت ڈریں اور بولیں میں تیرے شر سے خدا وند رحمن کی پناہ چاہتی ہوں اگر پرہیزگار ہے! فرشتہ نے کہا: میں تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں، میں تمہیں ایک پاک و پاکیزہ فرزند عطا کرنے آیا ہوں!( ۳ )

سورۂ ہود میں قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے بارے میں فرشتوں کی انسانی شکل میں آمد کی خبر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے :

( ولقد جاء ت رسلنا ابراهیم بالبشریٰ قالوا سلاماً قال سلام فما لبث ان جاء بعجلٍ حنیذ٭ فلما رأی ایدیهم لا تصل الیه نکرهم و اَوجس منهم خیفة قالوا لا تخف انا ارسلنا الیٰ قوم لوط٭... ولما جاء ت رسلنا لوطاً سیئَ بهم وضاق بهم ذرعا و قال هذا یوم عصیب٭... قالوا یا لوط انا رسول ربک لن یصلوا الیک... )

ہمارے نمائندوں نے ابراہیم کو بشارت دیتے ہوئے کہا: سلام! انہوںنے بھی جواب سلام دیا اور ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ بھنا ہوا گوسالہ لیکر حاضر ہوئے لیکن جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچ رہے ہیں اوروہ اسے کھا نہیں رہے ہیںتو انہیں اچھا نہیں لگا اور ان سے دل میں خوف کا احساس پیدا ہوا تو

____________________

(۱)شوریٰ۵

(۲)نحل۵۰

(۳)مریم۱۷۔۱۹


انہوںنے کہا: نہ ڈرو! ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ...،جب ہمارے فرستادہ عذاب کے فرشتے قوم لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی آمد سے ناخوش ہوئے اور دل مرجھا گیا اور بولے: آج کا دن بہت سخت دن ہے...، فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے فرستادہ ہیں! وہ لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے...۔( ۱ )

اور سورۂ انفال میں فرشتوں کے متعلق اور اس سلسلے میں کہ کس طرح وہ جنگ بدر میں سپاہیوں کی صورت میں مسلمانوںکی مدد کے لئے آئے، فرماتا ہے :

( اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم اِنِّی ممدکم بالف من الملائکة مردفین )

اس وقت کو یاد کرو جب جنگ بدرمیں شدید تھکان کی وجہ سے خدا وند عالم سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری بات رکھ لی اور فرمایا: میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ جو یکے بعد دیگر اتریں گے مددکروں گا۔( ۲ )

اس کے بعد فرماتا ہے :

( اذ یوحی ربک الیٰ الملائکة انی معکم فثبتوا الذین آمنوا سا لقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فَاضْربوا فوق الاَعْناق و اضربوا منهم کل بنانٍ )

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوںکو وحی کی: ''میں تمہارے ساتھ ہوں'' جو لوگ ایمان لا چکے ہیں انہیں ثابت قدم رکھو! بہت جلدی ہم کافروںکے دلوں میں خوف و وحشت ڈال دیں گے؛ ان کی گردن کے اوپری حصہ پر وار کرو اور ان کی تمام انگلیاںکاٹ ڈالو۔( ۳ )

سورۂ آل عمران میں فرماتا ہے:

( اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلاثة آلاف من الملائکة منزلین، بلیٰ ان تصبروا و تتقوا و یا توکم من فورهم هذا یمدد کم ربکم بخمسة آلافٍ من الملائکة مسومین )

جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے: کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ خدا وند عالم تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے؟ یقینا اگر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو. اور فی الفور دشمن تمہارے سراغ میں آ جائیں تو تمہارا خدا پانچ ہزار با علامت فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔( ۴ )

____________________

(۱)ہود:۸۱۔۶۹(۲) انفال، ۹(۳) انفال ۱۲(۴)آل عمران۱۲۴۔۱۲۵


پیغام رسانی کے سلسلے میں فرشتوں کے انتخاب کے بارے میں فرماتا ہے :

( الله یصطفی من الملائکة رسلاً و من الناس )

خد اوند عالم فرشتوں میں سے نمائندوںکا انتخاب کرتا ہے اور انسانوںمیں سے بھی ۔( ۱ )

پھر ان کے توسط سے وحی بھیجنے کے متعلق فرماتا ہے :

( انه لقول رسول کریم٭ ذی قوة عند ذِی العرش مکین٭ مطاع ثم امین )

یہ بات عظیم المرتبتنمائندہ ( جبرئیل) کی ہے جو صاحب قدرت اور خدا وند کے نزدیک عظیم منصب کا حامل ہے ؛ آسمان میں مطاع و امین ہے ۔( ۲ )

سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے:

( قل من کان عدواً لجبریل فانه نزَّله علیٰ قلبک ِبأِذن الله )

کہو! جو بھی جبرئیل کا دشمن ہے ( در حقیقت وہ خد ا کا دشمن ہے ) اس لئے کہ اس نے خدا کے حکمسے تم پر قرآن نازل کیا ہے ۔( ۳ )

سورۂ شعراء میں فرماتا ہے :

( و انه لتنزیل رب العالمین، نزل به الروح الَٔامین٭ علیٰ قلبک لتکون من المنذرین )

یقیناً یہ قرآن پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے جسے روح الامین لے کر آئے ہیں اور تمہارے قلب پر نازل کیاہے تاکہ ڈرانے والوں میں رہو۔( ۴ )

سورۂ نحل میں فرماتا ہے:

( قل نزله روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین آمنوا و هدیً و بشریٰ للمسلمین )

کہو: اس قرآن کو روح القدس نے خدا وند عالم کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ باایمان افراد کو ثابت قدم رکھے اور مسلمانوںکیلئے ہدایت اور بشارت کا سبب بنے۔( ۵ )

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:( و آتینا عیسیٰ ا بن مریم البینات و ایدناه بروح القدس )

اورہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح دلائل عطا کئے اور ان کی روح القدس کے ذریعہ نصرت فرمائی۔( ۶ )

____________________

(۱)حج۷۵(۲)تکویر۱۹۔۲۱سورۂ (۳)بقرہ۹۷(۴)شعراء ۱۹۲۔۹۴(۵)نحل۱۰۲(۶)بقرہ۸۷و ۲۵۳


فرشتہ شب قدر میں تقدیر امور کے لئے نازل ہوتے ہیں خدا وند عالم سورۂ قدر میں فرماتا ہے :

( تنزل الملائکة والروح فیها بِأِذن ربهم من کل أَمر )

فرشتے اور روح شب قدر میں اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کی تقدیر کے لئے نازل ہوتے ہیں۔( ۱ )

ان میں سے بعض انسانوںکے محافظ اور نگہبان ہیں جیسا کہ سورۂ ''ق ''میں فرماتاہے :

( ولقد خلقنا الانسان ونعلم ماتوسوس به نفسه ونحن اقرب الیه من حبل الورید٭اذ یتلقی المتلقیان عن الیمین وعن الشمال قعید٭ ما یلفظ من قولٍ الا لدیه رقیب عتید )

ہم نے انسان کو پیدا کیا اورہم اس کے نفسانی و اندرونی وسوسے کو جانتے ہیں اور ہم اس کی شہ رگ گردن سے بھی نزدیک ہیں ،اس وقت جبکہ دو فرشتے اس کے دائیں اور بائیں محافظت کرتے ہوئے اس کے اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں۔کوئی بات بھی زبان سے نہیں نکالتا ہے مگر یہ کہ وہی محافظ و نگہبان فرشتے اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔( ۲ )

فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ''ملک الموت'' ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :

( قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الیٰ ربکم ترجعون )

کہو: موت کا فرشتہ جو تم پر مامور ہے وہ تمہاری روح قبض کر لے گا؛ پھر اپنے پروردگا رکی طرف لوٹائے جائو گے۔( ۳ )

ان میں سے بعض ملک الموت کے معاون ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( حتّی اذاجائَ احدکم الموت توفته رسلناوهم لایفّرطون )

جب تم میں سے کسی کی موت آجائے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں وہ لوگ انجام وظیفہ میں کوتاہی نہیں کرتے ہیں۔( ۴ )

( الذین تتوفاهم الملائکة ظالمی انفسهم فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوئٍ بلیٰ ان الله علیم بما کنتم تعملون، فادخلوا ابواب جهنم خالدین فیها....٭ الذین تتوفاهم الملائکة طیبین یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنة بما کنتم تعملون )

____________________

(۱)قدر۴

(۲)ق۱۶۔۱۸

(۳)سجدہ۱۱

(۴)انعام۶۱سورۂ نحل میں بھی ذکر ہوا ہے۔


جن لوگوں کی روح موت کے فرشتے قبض کرتے ہیںجبکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر چکے ہیں! ایسے موقع پر سراپا تسلیم ہوتے ہوئے کہتے ہیں:

ہم نے تو کوئی بر اکام نہیں کیا ہے ! ہاں جوکچھ تم نے کیا ہے خدا وند عالم آگاہ ہے! اب جہنم کے دروازوں سے داخل ہو جائو کہ اس میں ہمیشہ رہوگے...جن لوگوں کی روح موت کے فرشتے قبض کرتے ہیں جبکہ پاک و پاکیزہ ہوں،ان سے کہتے ہیں تم پر سلام ہو جنت میں داخل ہو جائو ان اعمال کی جزا میں جو تم نے انجام دئے ہیں۔( ۱ )

خدا وند سبحان قیامت کے دن فرشتوں کے کام اور ان کی منزلت کے بارے میں فرماتا ہے:

( تعرج الملاکة و الروح الیه فی یوم کان مقداره خمسین الف سنة )

فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزارسال ہے ۔( ۲ )

سورۂ نبا میں ارشاد ہوتا ہے :

( یوم یقوم الروح و الملائکة صفاً لا یتکلمون الا من اذن له الرحمن و قال صواباً )

جس دن فرشتے اور روح ایک صف میں کھڑے ہوں گے اور کوئی شخص بھی بغیر خدا وند عالم کی اجازت کے گویا نہیں ہوگا اس وقت ٹھیک ٹھیک کہیں گے۔( ۳ )

خد اوند عالم نے ہم فرشتوںپر ایمان کو واجب کیا اور سورئہ بقرہ میں فرمایا:

( لیس البر ان تولوا وجوهکم قبل المشرق و المغرب ولکن البر من آمن بالله و الیوم الآخر و الملائکة و الکتاب و النبیین )

نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ ( نماز کے وقت)اپنا رخ مغرب یا مشرق کی طرف کرلو، بلکہ نیکی اور نیکو کار وہ شخص ہے جو خدا، روز قیامت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور نبیوں پر ایمان رکھتا ہے ۔( ۴ )

نیز اسی سورہ میں ارشاد فرماتا ہے :

( من کان عدواً لله و ملائکته و رسله و جبریل و میکال فاِن الله عدو للکافرین )

____________________

(۱) نحل۲۸۔۳۲ (۲) معارج۴(۳) نبأ۳۸(۴)بقرہ ۱۷۷


جو بھی خدااور اس کے ملائکہ، رسول نیز جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہوگا تو خدا وند عالم کا فروںکا دشمن ہے۔( ۱ )

کلمات کی تشریح

۱۔ فاطر : خالق اور ایجاد کرنے والا.

۲۔حنیذ : کباب اور بریاں.

۳۔نکرھم : ان سے ڈرے اور انھیں برا معلوم ہوا

۴۔مردفین: پے در پے، ملائکہ مردفین یعنی جھنڈ کے جھنڈ مسلسل، پے در پے آنے والے فرشتے ۔

۵۔ ثبتوا : ان سے سستی کو دور کرو اور انہیں ثابت قدم رکھو.

۶۔مسومین: علامت والے، ''ملائکہ مسومین'' یعنی وہ ملائکہ جو اپنے یا اپنے گھوڑوں پر علامت بنائے ہوتے تھے۔

۷۔مکین: عظیم و برزگوار لیکن یہاں پر خدا وند عالم سے قریب اور اس کے نزدیک باعظمت ہونے کے معنی میں ہے۔

۸۔مطاع :جسکی اطاعت کی جائے ملائکہ میں سے مطاع یعنی فرشتوں کا سردار جس کی اس کے ما تحت فرشتے اطاعت کرتے ہیں۔

۹۔ بینات: واضح و روشن ''آیات بینات'' یعنی واضح و روشن نشانیاں

۱۰۔حبل الورید: شہ رگ، یہاں پر رسی سے تشبیہ دی گئی ہے

۱۱۔ متلقیان: انسان کے محافظ اور نگہبان دو فرشتے یعنی جو کچھ بھی ان کی رفتار و گفتار کو دیکھتے ہیں، نامہ اعمال میں ثبت کر دیتے ہیں۔

۱۲۔ رقیب:حافظ ونگہبان

۱۳۔عتید: آمادہ و مہیا

____________________

(۱)بقرہ۹۸


۱۴۔ توفّیٰ:قبض کرنا اور مکمل دریافت کرنا ،خدا وند عالم یا فرشتے کہ انسان کووفات دیتے ہیں یعنی ان کی روح کو موت کے وقت بطور کامل قبض کر لیتے ہیں۔

۱۵۔روح: جس سے انسان کی حیات و زندگی وابستہ رہتی ہے اگر وہ انسان یا حیوان سے نکل جائے تو وہ مر جاتا ہے؛ روح کی اصل کنہ و حقیقت کی شناخت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے جیسا کہ خداوند عالم نے سورۂ اسراء میں اس کی طرف اشارہ کیاہے اور فرمایاہے: تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو ان سے کہو روح امر پروردگار سے ہے اور تمہیں تھوڑے علم کے علاوہ کچھ دیا بھی نہیں گیا ہے ۔

روح کی نسبت اور اضافت خد اوند عالم کی طرف یا تشریفی ہے ( کسب عظمت کی خاطر ہے) یعنی اس عظمت و شرافت کی وجہ سے ہے جواسکو خد اوند عالم کے نزدیک حاصل ہے، یا اضافت ملکی ہے یعنی چونکہ خداکی ملکیت ہے لہٰذا اس نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، جس طرح حضرت آدم کی خلقت سے متعلق سورۂ حجر میں ذکر ہوا ہے اور خدا وند عالم نے ملائکہ سے فرمایا:

( فاِذا سویته و نفخت فیه من روحی فقعوا له ساجدین ) ( ۱ )

جب میں تخلیق آدم کاکام تمام کر دوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم سب کے سب سجدہ میں گر پڑنا

اور حضرت عیسیٰ کی تخلیقی داستان میں سورۂ تحریم میں ارشاد ہوتا ہے:

( ومریم ابنة عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فیه من روحنا )

مریم بنت عمران نے اپنی پاکدامنی کا مظاہرہ کیا اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔( ۲ )

اس طرح کے موارد میں روح کی خدا کی طرف نسبت دینا ویسے ہی ہے جیسے بیت کی نسبت اس کی طرف جیسا کہ سورۂ حج میں فرماتا ہے :

( و طهر بیتی للطائفین... )

یعنی ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھو، یہاں پر بیت اللہ الحرام کی نسبت خد اکی طرف تشریفی ہے ؛جو شرف اور خصوصیت دیگر جگہوں کی بہ نسبت بیت کو حاصل ہے خدا وند عالم نے اسی خصوصیت اور اہمیت خاص کے پیش نظر اسے مکرم جانتے ہوئے اپنی طرف نسبت دی اور فرمایا: میر اگھر! اسی طرح گز شتہ دو آیتوں میں روح کی نسبت خدا کی طرف ہے۔

____________________

(۱) حجر ۲۹(۲) تحریم۱۲


روح کے دوسرے معنی بھی ہیں کہ وہ نفوس کی ہدایت اور حیات کا سبب ہے جیسے: وحی، نبوت، شرائع الٰہی بالخصوص قرآن ، خد اوند عالم نے سورۂ نحل میں فرمایا:

( ینزل الملائکة بالروح من امره علیٰ من یشاء من عباده )

فرشتوں کو روح کے ہمراہ اپنے حکم سے اپنے جس بندہ کے پاس چاہتا ہے نازل کرتا ہے ۔( ۱ )

اور سورۂ شوری ٰ میں فرمایا ہے :

( وکذلک اَوحینا الیک روحاً من اَمرنا )

اسی طرح ( جس طرح ہم نے گز شتہ رسولوں پر وحی کی ہے) تم پر بھی روح کی اپنے حکم سے وحی کی ۔( ۲ )

ان آیات میں مذکورہ روح کہ خد اوند عالم نے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جس کی وحی کی ہے قرآن کریم ہے، یہ روح فرشتوں کے علاوہ ہے ، جیسا کہ خدا وند عالم نے سورۂ قدر میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :

( تنزل الملاکة و الروح فیها باِذن ربهم من کل أمر )

فرشتہ، روح اس شب میں پروردگارکی اجازت سے تمام امور کی تقدیر کے لئے نازل ہوتے ہیں۔( ۳ )

سورۂ معارج میں ارشاد ہوتا ہے :

( تعرج الملائکة و الروح الیه فی یوم کان مقداره خمسین الف سنة ) ( ۴ )

فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں اس دن جسکی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

اس کی توضیح و تشریح حضرت امام علی کی گفتگو سے آئندہ صفحو ں میں پیش کی جائے گی۔

۱۶۔ امین: ثقہ اور امانت دار کو کہتے ہیں جو وحی پہنچانے میں امانت داری کرے، خدا وند عالم نے روح نامی فرشتہ کو امین کہا ہے اور سورۂ شعرا ء میں ارشاد فرماتا ہے :

( نزل به الروح الاَمین علیٰ قلبک لتکون من المنذرین ) ( ۵ )

روح الامین نے اسے تمہارے قلب پر اُتارا تاکہ ڈرانے والوں میں سے ہو جائو۔

۱۷۔ قدس:پاکیزگی، روح القدس یعنی: پاک و پاکیزہ روح ،خدا وند عالم نے فرشتۂ روح کو صفت قدس اور پاکیزگی سے بھی یاد کیا ہے اور سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا:

____________________

(۱) نحل۲(۲) شوری۵۲(۳)قدر۴.(۴)سورۂ معارج ۴.(۵) سورۂ شعرا ء ۱۹۴ ۱۹۳.


( و آتینا عیسیٰ ابن مریم البینات و اَیدناه بروح القدس ) ( ۱ )

ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح و روشن نشانیاں دیں اور ان کی روح القدس کے ذریعہ مدد کی ہے ۔

سورۂ نحل میں خاتم الانبیاء سے خطاب کر کے فرماتا ہے :

( قل نزله روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین آمنوا و هدی و بشریٰ للمسلمین )

کہو!اس قرآن کو تمہارے پروردگار کی جانب سے حق کے ہمراہ روح القدس لیکر آیا ہے تاکہ با ایمان افراد کو ثابت قدم رکھے ؛ نیز یہ مسلمانوںکیلئے ہدایت اور بشارت ہے ۔( ۲ )

۱۸۔تعرج:بلندی کی طرف جاتا ہے : مادہ ٔعروج سے جو بلندی کی طرف تدریجاًجانے کے معنی میں ہے۔

عالم غیب کے خیالی تصورات

ان مباحث کے مانند اور بحثوں میں کہ جن میں عالم غیب کے بارے میں گفتگو ہو تی ہے عام طور سے ایسے افراد کی طرف سے بحثیں ہوتی ہیں جو مختلف سطح کی قوت درک و فہم رکھتے ہیں،وہ ان مسائل سے آشنائی کے لئے گونا گوں کو ششیں کرتے ہیں ،ان لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ قرآن کریم اور احادیث شریف میں نا محسوس عوالم کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اسے جس طرح عالم مادہ میں پاتے ہیں اسی طرح درک اور شناخت کریں ، اسی وجہ سے عالم خیال کی سیر کرنے لگتے ہیںاور اپنے خیالات اور گمان کوعلم و معرفت سمجھ بیٹھتے ہیںاس کی توضیح و تشریح یہ ہے :

شناخت و معرفت کے وسائل

اشیاء کی شناخت اور معرفت کے لئے ہمارہے پاس گز شتہ میثاق کی بحث میں بیان کردہ عقلی نتائج کے علاوہ دو وسیلے ہیں:

۱۔ حسی ۲۔ نقلی

____________________

(۱)بقرہ ۸۷اور ۲۵۳.

(۲)نحل۱۰۲.


(اول۔ حسی)ہمارے حواس اس لئے خلق کئے گئے ہیں کہ عالم مادہ کی موجودات کو تشخیص دیں لہٰذا واضح ہے کہ عوالم غیر محسوس کے درک پر قادر نہیں ہو سکتے ہیں۔

(دوسرے نقلی )یعنی جو کچھ نقل و حکایت کی راہ سے پہنچانتے اور جانتے ہیں ، جیسے جو کچھ ہم ان دیکھے شہروں اور ملکوں کے حالات ،خبروں اور نقلوںکے ذریعہ جانتے ہیں ہماری اس طرح کی معلومات منقولات کے دائرے میں ہے اور اس سے حاصل شدہ شناخت خبر اور خبر دینے والے کی صداقت اور درستگی سے مربوط ہے ۔

جو کچھ انبیاء اور پیغمبر ان الٰہی ؛ عالم غیب کی خبر دیتے ہیں،وہ دوسری قسم کی معرفت ہے ، یعنی ستاروں اور سیاروں کے مافوق آسمانوں کی شناخت، نیز جنوں اور فرشتوں کی دنیا کے بارے میں معلومات اور روز قیامت کا مشاہدہ وغیرہ ان سب کو ہم ان حضرات کے اخبار اور احادیث سے حاصل کرتے ہیں ، اس سے بھی بڑھ کر ان کی باتیں اور احادیث خدا وند سبحان کی صفات کے بارے میں ہیںکہ ہمارا علم (اس بات کے بعد کہ ان کی رسالت و نبوت کا صادق ہونا ہمارے لئے ثابت ہو چکا ہے)ان حضرات کے بیانات کے دائرے میں محدود ہے اور ہم اس کی قدرت نہیں رکھتے ہیںکہ ان کی باتوں کو جوان عوالم سے مربوط ہیںحس کے ذریعہ تشخیص دے کر عقل کے حوالے کریں تاکہ اس کی صحت و عدم صحت کا اندازہ ہو سکے۔

بحث کا خلاصہ

فرشتے خدا کی ایک طرح کی مخلوق ہیں اس کے سپاہی اور بندے ہیں،وہ ان کے پاس ''پر'' ہیں،وہ زندگی گزارتے اور مرتے ہیں یہ ارادہ اور عقل کے مالک ہیں اور جب انجام فرمان خداوندی کے لئے ضرورت ہوتی ہے تو وہ انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں؛ یہ لوگ مقام و منصب، فضل و شرف کے اعتبار سے مختلف درجوں کے حامل ہیں جیسے روح الامین، روح القدس وغیرہ؛ خدا وند عالم نے انہیں میں سے کچھ نمائندوںکو وحی پہنچانے اور مقدرات انسان کو شب قدر میں نازل کرنے کے لئے منتخب کیا ہے، انہیں میں سے دو فرشتے انسانوں پر مامور ہیں کہ ان کے اعمال کولکھیں اور ملک الموت اور ان کے ما تحت فرشتے یہ سب کے سب روز قیامت مبعوث کئے جائیں گے اور اطاعت خداوندی کے لئے آگے بڑھیں گے اور کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کریں گے۔


ہماری شناخت اور معرفت کے دو ہی ذریعے ہیں:

۱۔ حس اور حسی شناخت، یعنی جس سے اشیاء کی تشخیص اور شناخت کر سکیں۔

۲۔ نقل اور نقلی شناخت، یعنی جو کچھ مطمئن اور قابل اعتماد راوی کی خبر سے حاصل کرتے ہیں۔

چونکہ ملائکہ جن ، روح ، قیامت اور آغاز خلقت کے عالم ہمارے لئے نا محسوس اور غیر مرئی ہیں اور ہمارے پاس سوائے نقل کے کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے یعنی انبیاء الٰہی کی نقل کے علاوہ ان کی شناخت کاہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے ایسے انبیاء جنکی صداقت اور درستگی رسالت خدا کی طرف سے ہم پر ثابت ہو چکی ہے ،لہٰذا جن لوگوں نے اپنے آپ کو صاحب نظر خیال کر کے ان عوالم کے متعلق زبان و قلم سے بات کی ہے اس کی وقعت و اہمیت، وہم و خیال سے زیادہ نہیں ہے اور وہم و گمان کبھی ہمیں حق سے بے نیاز نہیںکر سکتے۔

جو کچھ ''وکان عرشہ علیٰ المائ''(اس کا عرش پانی پر ہے) یا ''ثم استویٰ الیٰ السماء و ھی دخان''( پھر اس نے آسمان کی تخلیق شروع کی جبکہ وہ دھواں تھا )جیسی آیتوں میں آیا ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ پانی اسی پانی کی طرح ہے جسے ہم اس وقت زمین پر دیکھ رہے ہیں اور '' ہائیڈروجن اور آکسیجن'' کی ترکیب سے مناسب اندازے کے ساتھ وجود میں آیاہے یا دھواں وہی دھواں ہے کہ جو آگ سے نکلتا ہے! ہم عنقریب ربوبیت کی بحث میں عرش کے معنی بیان کریںگے نیز آئندہ بحث میں قرآن کریم میں مذکور سماء اور سماوات کے معنی تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے۔


۲۔ السمٰوات و الارض و سماء الارض

پہلے۔ السماء والسمٰوات

الف: ۔سمائ

سماء اور اس کے معنی زبان عرب میں ارتفاع اور بلندی کے ہیں اورآسمان ہر چیز کا اوپری حصہ ہے یعنی جو چیز اوپر سے تم پر سایہ فگن ہواور ڈھانپ لے وہ سماء کہلاتی ہے:

۲۔ سماء اور اس کے معنی قرآن کریم میں : سماء قرآن کریم میں جہاں پر مفرد (واحد)استعمال ہوتا ہے کبھی زمین پر محیط اور اس سے متعلق فضا کے معنی میں ہے جیسے یہ آیتیں:

۱۔( اَلم یروا الیٰ الطّیر مسخرات فی جو السمائ )

آیا وہ لوگ آسمانی فضا میں مسخر پرندوں کی طرف نہیں دیکھتے؟( ۱ )

۲۔( و اَنزل من السماء مائً فاَخرج به من الثمرات رزقاً لکم )

اور اس نےآسمان سے پانی برسایا اور اس سے میوے نکالے تاکہ تمہاری روزی مہیا ہو سکے۔( ۲ )

اس لئے کہ انسان غیر مسلح آنکھوں سے بھی پرندوں کو فضا کے اطراف میں اور زمین کے او پر پروازکرتے دیکھتا ہے نیز پانی کابرسنا بھی مسخر بادلوں سے آسمان پر مشاہدہ کرتا ہے ۔

انسان کبھی پہاڑ سے اوپر جاتا ہے جبکہ خورشیدکو اس سے اوپر آسمان میں نور افشانی کرتے دیکھتا ہے اور بادلوں کو پائوں کے نیچے اور اسی زمین و آسمان کے ما بین فضا میں یااس آسمان کے درمیان جو زمین کے اوپر محیط ہے دیکھتا ہے۔

____________________

(۱)نحل ۷۹

(۲)بقرہ۲۲


اور کبھی آسمان ان سب چیزوں کے معنی میں ہے جو زمین کے اوپر پائی جاتی ہیں جیسے ساتوں آسمان اور ستارے وغیرہ ،جیسا کہ فرماتا ہے :

۱۔( ثم استویٰ الیٰ السماء فسواهن سبع سمٰوات )

پھر آسمان کی طرف توجہ کی پھر سات آسمان مرتب خلق کئے۔( ۱ )

۲۔( وما من غائبةٍ فی السماء و الارض الا فی کتابٍ مبین )

زمین و آسمان کے درمیان کوئی پوشیدہ چیزنہیںمگر یہ کہ وہ کتاب مبین میں ثبت ہے ۔( ۲ )

۳۔( یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب )

جس دن ہم آسمان کو خطوں کے ایک طومار کی شکل میں لپیٹیں گے...۔( ۳ )

یہاں پر آسمان سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جو زمین سے اوپر ہیں اور زمین اس کے نیچے اور زیر قدم واقع ہوتی ہے۔ یعنی ساتوں آسمانوں اور ان کے علاوہ چیزیںجو زمین کے اوپر ہیں۔

ب: السمٰوات

قرآن کریم میں سمٰوات سے مراد ساتوں آسمان ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:

( هو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ثم استویٰ الیٰ السماء فسواٰهن سبع سمٰوات و هو بکل شیئٍ علیم )

وہ خداوہ ہے جس نے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے پیدا کیا ہے پھر آسمان کی طرف توجہ کی تو انہیں سات آسمان کی شکل میں مرتب کیا وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔( ۴ )

دوسرے ۔ الارض

ارض: زمین ،قرآن کریم میں (۴۵۱) مرتبہ مفرد اور ایک مرتبہ کلمہ سمٰوات کے ساتھ اور اس پر عطف کی صورت میں استعمال اس طرح سے ہوا ہے :

( الله خلق سبع سمٰوات و من الارض مثلهن... )

خدا وند عالم وہ ہے جس نے سات آسمانوں کو خلق کیا نیز انہیں کے مثل زمینوں کو بھی۔( ۵ )

____________________

(۱)بقرہ ۲۹(۲)نمل۷۵(۳)انبیاء ۱۰۴(۴)بقرہ۲۹(۵)طلاق۱۲.


ہم اس آیت میں جو زمین و آسمان کے درمیان مشابہت دیکھتے ہیں اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ خلقت کے اعتبار سے یہ دونوں ایک جیسے ہیں نہ یہ کہ تعداد میں اب اگر یہ کشف ہو جائے کہ زمین کے بھی سات طبقے ہیں تو اس سے زمین و آسمان کے طبقات کی تعداد میں مشابہت مراد ہوگی۔

تیسرے۔ سمٰوات و ارض کی خلقت

قرآن کریم کی بہت ساری آیات میں زمین و آسمان کی خلقت اور اس کے آغاز کی طرف اشارہ ہواہے ایسی آیتوں کی تفسیر کے لئے جن کا موضوع ہمارے حس وتجربہ کی دسترس سے باہر ہے لہٰذاصرف ہم اس کی طرف رجوع کریں جس کا خدا کی طرف سے قرآن کے مفسر اور مبین کی حیثیت سے تعارف ہواہے جس کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے:

( و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیهم )

ہم نے اس قرآن کو تم پر نازل کیا تاکہ لوگوں کو جو ان پر نازل ہواہے بیان کرو۔( ۱ )

اس سلسلے میں اور ابتدائے خلقت کے بارے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت ساری روایتیں موجود ہیں لیکن یہ احادیث چونکہ احادیث احکام جیسی نہیں ہیں کہ جن میں علماء فن کے ذریعہ سند و متن کی تحقیق کی گئی ہو نیز یہاں پر بھی ایسی تحقیق و بررسی کا موقع نہیں ہے لہٰذاناچار ایسے حالات میں ہم ابتدائے خلقت کے متعلق اپنی تحقیق میں جو کچھ ظواہر آیات سے سمجھ میں آتا ہے اسی پر اکتفا کرتے ہیں، نیزان روایات کا بھی سہارا لیں گے جو صحت کے اعتبار سے اطمینان بخش اور ظن قوی کی مالک ہیں ،خدا وند عالم سے توفیق کی درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں:

آغاز خلقت

خداوند عالم نے آغاز خلقت و آفرینش نیز اس کے بعدکی کیفیت قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمائی ہے:

۱۔( هو الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام و کان عرشه علیٰ المائ )

وہ خداوہ ہے جس نے زمین و آسمان کوچھ دنوں یا چھ مراحل میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر قرار پایا۔( ۲ )

۲۔( ان ربکم الله الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام ثم استویٰ علیٰ العرش یدبر الامر )

____________________

(۱)نحل۴۴

(۲)ہود۷.


یقینا تمہار ا رب اللہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوںمیں خلق کیا پھر وہ عرش قدرت پر مسلط ہو گیا اور وہی امور کی تدبیر کرتا ہے ۔( ۱ )

۳۔( الذی خلق السمٰوات و الارض وما بینهما فی ستة ایام ثم استویٰ علیٰ العرش الرحمن فاسئل به خبیراً )

خدا وند عالم نے زمین و آسمان نیز اس کے ما بین چیزوں کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش قدرت پر مسلط ہو گیا جو چاہئیے اس سے مانگو کہ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے۔( ۲ )

۴۔( اولم یر الذین کفروا ان السمٰوات و الارض کا نتا رتقا ففتقناهما و جعلنا من الماء کل شیء حی افلا یؤمنون ) ( ۳ )

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان ایک دوسرے سے متصل اور جڑے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا اور ہر زندہ شیء کو پانی سے بنایا؟! کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟!

۵۔( هو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ثم استویٰ الیٰ السماء فسواهن سبع سمٰوات و هوبکل شیء علیم )

وہ خدا وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین میں موجود تمام چیزوں کو پیدا کیا؛ پھر آسمان کی تخلیق شروع کی اور انہیں سات آسمان کی صورت میں ترتیب دیا؛ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے ۔( ۴ )

۶۔( قل ء أنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون له انداداً ذلک رب العالمین٭ و جعل فیها رواسی من فوقها و بارک فیها و قدر فیها اقواتها فی اربعة ایام سواء للسائلین٭ ثم استوی الیٰ السماء و هی دخان فقال لها و للارض ائتیا طوعاً و کرهاً قالتا اتینا طائعین٭ فقضاهن سبع سمٰوات فی یومین و اوحیٰ فی کل سماء امرها و زینا السماء الدنیا بمصابیح و حفظاً ذلک تقدیر العزیز العلیم )

کہو: کیا تم لوگ اس ذات کا کہ جس نے زمین کو دو دن میں خلق کیا ہے انکار کرتے ہو اور اس کے لئے مثل و نظیرقرار دیتے ہو؟وہ ہر عالم کا پروردگار ہے ۔

اس نے زمین کے سینے پر استوار اور محکم پہاڑوں کو جگہ دی اور اس میں برکت اور زیادتی عطا کی اور

____________________

(۱)یونس۳.

(۲)فرقان۵۹.

(۳)انبیائ۳۰.

(۴)انبیائ۳۰۔


چار دن کی مدت میں خواہشمندوں کی ضرورت کے مطابق غذا کا انتظام کیا پھر آسمان کی تخلیق شروع کی جبکہ وہ دھویں کی شکل میں تھا؛ پھر اس کو اور زمین کو حکم دیا موجود ہو جائو چاہے بہ شوق و رغبت چاہے بہ جبر و اکراہ۔

انہوں نے کہا: ہم برضا و رغبت آتے ہیں اور شکل اختیار کرتے ہیں، پھر انہیں سات آسمان کی شکل میں دو دن کے اندر خلق کیا اور ہر آسمان سے متعلق اس کا کام وحی اورمعین کیا اور دنیاوی آسمان کو چراغوں سے زینت بخشی اور شیاطین کی رخنہ اندازی سے حفاظت کی یہ ہے خداوند دانا و توانا کی تقدیر!( ۱ )

۷۔( الله الذی خلق سبع سمٰوات و من الارض مثلهن... )

خدا وہی ہے جس نے سات آسمان اور انہیں کے مانند زمین کو خلق کیا...۔( ۲ )

۸۔( ء انتم اشد خلقاً ام السماء بناها٭ رفع سمکها فسوها٭ و اغطش لیلها و اخرج ضحاٰها٭ و الارض بعد ذلک دحاٰها٭ و اخرج منها مائها و مرعاها٭ و الجبال ارسٰاها٭ متاعاً لکم و لانعامکم )

آیا تمہاری خلقت زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی کہ جس کی خدا وند عالم نے بنیاد ڈالی؟! اس کا شامیانہ تانا اور اسے منظم کیا اور راتوں کو تاریک اور دن کو روشن بنایا اس کے بعد زمین کا فرش بچھایا اور اس سے پانی نکالااور چراگاہیں پیدا کیں اور پہاڑوں کو ثابت و استوار کیا یہ تمام چیزیں تمہارے اور چوپایوں کے استفادہ کے لئے ہیں۔( ۳ )

۹۔( و السماء وما بنٰاها، والارض وما طحاها )

آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم، زمین اور اس کے بچھانے والے کی قسم۔( ۴ )

۱۰۔( والارض مددناها والقینا فیها رواسی وانبتنا فیها من کل شیء موزون٭ و جعلنا لکم فیها معایش ومن لستم له برازقین )

ہم نے زمین کوپھیلا دیا اور اس میں استوار و محکم پہاڑ قرار دئے اور اس میں معینہ مقدار کے مطابق اور مناسب نباتات اگائیں اور تمہارے لئے نیز ان لوگوں کے لئے جن کے تم رازق نہیں ہو انواع و اقسام کے سامان زندگی فراہم کیا۔( ۵ )

۱۱۔( الذی جعل لکم الارض مهداً وسلک لکم فیها سبلًا وانزل من السماء مائً

____________________

(۱)فصلت۹۔۱۲(۲)طلاق۱۲(۳)نازعات۳۲۔۲۷(۴)شمس۵۔۶(۵)حجر۱۹۔۲۰


فاخرجنا به ازواجاً من نبات شتیٰ،کلواوارعواانعامکم ان ذلک لآیات لاولی النهیٰ٭ منها خلقناکم وفیها نعیدکم ومنها نخرجکم تارة اخریٰ)

جس خدا نے زمین کو تمہاری آسائش کی جگہ قرار دیا اور اس میں راستے پیدا کئے اور آسمان سے پانی برسایا اس سے گوناگوں نباتات اگائیں، کھائو اور اپنے چوپایوں کو کھلائو بیشک یہ صاحبان عقل کے لئے نشانیاں ہیں اور ہم نے تم کو زمین سے خلق کیا اور دوبارہ اس میں لوٹائیں گے پھر اس سے دوبارہ نکالیں گے۔( ۱ )

۱۲۔( الذی جعل لکم الارض فراشاً والسماء بنائً و انزل من السماء مائً فاخرج به من الثمرات رزقاً لکم فلا تجعلوا لله انداداً وانتم تعلمون )

جس خدا نے زمین کو تمہارا بستر اور آسمان کو چھت قرار دیا اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے پھل نکالے تمہارے رزق کے لئے لہٰذا خدا کا کسی کو شریک قرار نہ دو جبکہ (ان شریکوںکے خود ساختہ ہونے کے بارے میں )تم آگاہ ہو۔( ۲ )

۱۳۔( الم تروا کیف خلق الله سبع سمٰوات طباقاً٭و الله جعل لکم الارض بساطاً٭ لتسلکوامنها سبلاً فجاجاً )

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا وند عالم نے ایک پر ایک سات آسمانوں کو خلق کیا اور خدا نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا تاکہ اس کے راستوں اور دروں سے رفت و آمد کرو۔( ۳ )

۱۴۔( افلا ینظرون الیٰ الابل کیف خلقت و الیٰ السماء کیف رفعت و الیٰ الجبال کیف نصبت و الیٰ الارض کیف سطحت )

آیا وہ لوگ اونٹ کی طرف نظر نہیں کرتے کہ کس طرح خلق ہوا ہے آسمان کی خلقت کی طرف نگاہ نہیں کرتے کہ اسے کیسے رفعت دی گئی ہے ؟ اور پہاڑ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے نصب کیا گیا ہے اور زمین کی طرف مشاہدہ نہیں کرتے کہ اسے کیسے بچھائی گئی ہے؟( ۴ )

۱۵۔( امن خلق السمٰوات و الارض و انزل لکم من السماء مائً فانبتنا به حدائق ذت بهجة ما کان لکم ان تنبتوا شجرها ء الٰه مع الله بل هم قوم یعدلون٭ امن جعل الارض قراراً وجعل خلالها انهاراً و جعل لها رواسی و جعل بین النهرین حاجزاً ء اِلٰٰه مع الله بل

____________________

(۱)طہ۵۳۔۵۵(۲)بقرہ۲۲(۳)نوح۱۵،۱۹و۲۰(۴)غاشیہ۱۷۔۲۰


اَکثرهم لا یعلمون)

کیا جس نے زمین و آسمان کو خلق کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا کہ اس سے مسرت بخش اور خوشنما باغ اگائے، ایسے باغ کہ اس کے اگانے پر تم لوگ ہرگز قادر نہیں تھے، آیا خدا کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے؟! نہیں بلکہ یہ حق پذیری سے روگردانی والی قوم ہے۔ یا جس نے زمین کو تمہاری رہائش اور آرام کی جگہ قرار دیا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے درمیان استوارو محکم پہاڑ قرار دئیے نیز دو دریا کے درمیان مانع قرار دیا آیا خدا کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے؟! نہیں ، بلکہ اکثر نہیں جانتے۔( ۱ )

۱۶۔( وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبهم و جعلنا فیها فجاجاً سبلاً لعلهم یهتدون٭ وجعلنا السماء سقفاًمحفوظاً و هم عن آیاتها معرضون )

اور ہم نے زمین پر ثابت اور محکم پہاڑ بنائے تاکہ اسے زلزلہ اور لرزش سے محفوظ رکھیں نیز اس میں درّے اور راستے بنائے تاکہ ہدایت پائیں اور آسمان کو محفوظ چھت قرار دیا لیکن وہ لوگ اس کی نشانیوں سے رو گرداں ہیں۔( ۲ )

۱۷۔( الم نجعل الارض کفاتاً٭ احیائً و امواتاً٭ وجعلنا فیها رواسی شامخات )

کیا ہم نے زمین کو انسانوں کا مرکز نہیں بنایا؟ ان کی حیات اور موت دونوں حالتوںمیں ؛اور اس میں مستحکم اور استوار و بلندپہاڑوں کو جگہ دی۔( ۳ )

۱۸۔( هو الذی جعل الشمس ضیائً و القمر نوراً و قدّره منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب ما خلق الله ذالک الا بالحق یفصل الآیات لقوم یعلمون٭ ان فی اختلاف اللیل والنهاروما خلق الله فی السمٰوات والارض لآیات لقوم یتقون )

ترجمہ: وہ خداوہ ہے جس نے خورشید کوضیا ،قمر کو نور،عطا کیا اور اس کے لئے منزلیں قرار دیں تاکہ اس سے سالوں کی تعداد اور حساب معلوم ہو؛ خدا وند عالم نے انہیں حق کے سوا خلق نہیں کیا؛ اور وہ اہل دانش گروہ کے لئے نشانیوں کی تشریح کرتا ہے ، یقینا روز و شب کی آمد اور جو کچھ خد اوند عالم نے زمین و آسمان میں خلق کیا ہے وہ سب پرہیزگار وں کے لئے نشانیاں ہیں۔( ۴ )

____________________

(۱)نمل۶۰۔۶۱

(۲)انبیائ۳۱۔۳۲

(۳)مرسلات۲۵۔۲۷

(۴) یونس۴۔۵


کلموں کی تشریح

۱۔ یوم:دن ،طلوع فجر یا طلوع خورشید اورغروب آفتاب کے درمیان کے فاصلہ کو یوم کہتے ہیں؛ اسی طرح تاریخی حوادث، یادگار واقعات اور جنگ کے ایام کو بھی یوم کہتے ہیں اگر چہ مدت جنگ طولانی ہوجائے جیسے یوم خندق، یوم صفین کہ مراد جنگ خندق اورجنگ صفین ہے ۔

۲۔ثم: پھر، یہ کلمہ اپنے ما قبل کے مابعدکے زمانی، مکانی اور رتبہ ای کے تاخر پر دلالت کرتا ہے ۔

ا لف: زمانی تاخر، جیسے:

( ولقد ارسلنا نوحاً و ابراهیم ...ثم قفینا علیٰ آثارهم برسلنا و قفینا بعیسیٰ بن مریم )

یعنی ہم نے نوح و ابراہیم کو مبعوث کیا...، پھر اس کے بعد اپنے دیگر رسولوں کو بھیجا اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔( ۱ )

ب: مکانی تاخر،جیسے: قم سے تہران اس کے بعد مشہد گئے۔

ج: رتبی تاخر، جیسے جو کچھ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جواب میں آیا ہے، ایک شخص نے سوال کیا کس کے ساتھ نیکی کروں؟ پیغمبر نے کہا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر پوچھا اس کے بعد؟ کہا: اپنی ماں کے ساتھ ، پھر پوچھا: اس کے بعد؟کہا: اپنے باپ کے ساتھ۔

۳۔ دخان:دھواں ، یا وہ چیز جو آگ سے نکل کر اوپر جاتی ہے کبھی بھاپ اور اس کے مانند کو بھی ''دخان'' کہتے ہیں۔

۴۔استویٰ، استوی علیہ، استولیٰ علیہ:یعنی اس پر مسلط ہو گیا، اس کی مزید وضاحت رحمن،عرش،

''سواہ''کے معنی کے ہمراہ صفات رب کی بحث میں آئے گی۔

۵۔رتق: باندھنے اور ضمیمہ کرنے کو کہتے ہیں اور فتق کھولنے کے معنی میں آیا ہے ۔

۶۔ جعل: جعل قرآن کریم میں درج ذیل معانی میں استعمال ہو اہے ۔

الف : خلق و ایجاد کے معنی میں جیسے:

( اذکروا نعمة الله علیکم اذ جعل فیکم انبیائ ) ( ۲ )

____________________

(۱) سورۂ حدید ۲۷، ۲۶

(۲)سورۂ مائدہ ۲۰


اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تمہارے درمیان انبیاء پیدا کئے۔

( وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر ) ( ۱ )

اور تمہارے لئے لباس پیدا کئے تاکہ گرمی سے تمہاری حفاظت کرے۔

ب : گرداننیکے معنی میں جیسے :

( الذی جعل لکم الارض فراشاً ) ( ۲ )

خدا نے زمین کو تمہارے لئے بستر قرار دیا۔

ج : حکم اوردستور اور قرار دینے کے معنی میں جیسے:

( لکل جعلنا منکم شرعةً ومنهاجاً ) ( ۳ )

تم میں سے ہر ایک کے لئے واضح آئین اور دستور قرار دیا۔

د : مسخر کرنے یعنی تسخیری ہدایت کے معنی میں جیسے:

( وجعلنا الانهار تجری من تحتهم ) ( ۴ )

ہم نے نہروں کو ان کے نیچے جاری کیا؛ یعنی ہم نے ہدایت تسخیری کے ذریعہ نہروں کو اس طرح قرار دیاکہ ان کے نیچے سے بہنے لگیں۔( ۵ )

۷۔ رواسی:ثابت و استوار پہاڑاور اس کا مفرد( واحد) راسی ہے ۔

۸۔ قضاھن: قضا یہاں پر تقدیر و اتمام خلقت کے معنی میں ہے یعنی آسمان کی خلقت دو دن میں طے ہوئی اور وہ مکمل ہو گیا۔

۹۔( اوحیٰ فی کل سمائٍ امرها ) :

یعنی ہر آسمان کے فرشتوں کا فریضہ انہیں بتا دیا اور سکھا دیا کہ وہ کیا کریں اور کس لئے پیدا کئے گئے ہیں اسی طرح تمام آسمانی مخلوقات کو بھی اس طرح رام و مسخر کیا تاکہ نظام تخلیقی کے تحت کام کریں۔

۱۰۔سمک:چھت، نیچے سے اوپر کی جانب ہر چیز کے فاصلہ کو کہتے ہیں جس طرح عمق(گہرائی) اوپر سے نیچے کی طرف کے فاصلہ کو کہتے ہیں۔

____________________

(۱)سورۂ نحل ۱ ۸(۲)بقرہ ۲۲(۳)مائدہ ۴۸(۴)انعام ۶ ۔(۵) تسخیری ہدایت کے متعلق ہدایت کی چاروں اقسام کی بحث میں آئندہ بیان کریں گے ۔


۱۱۔ بناھا:بنا یعنی بنانا اور قائم کرنا ،آیت میں یعنی :آسمان کو میزان کے مطابق دقیق و محکم بنایا۔

۱۲۔ سوی : سواہ، یعنی اسے راہ کمال و استعداد میں مورد توجہ قرار دیا ہے ۔

۱۳۔ اغطش:اظلم، اسے تاریک بنایا۔

۱۴۔ضحی:خورشید اور اس کی روشنی اور دن کا نکلنا؛ اخرج ضحٰھا یعنی، دن کو ظاہر کیا۔

۱۵۔دحاھا:بچھانااور ہموار کرنا؛ و الارض دحاھا، یعنی زمین کو بچھایا اور انسان کے استفادہ اور سکونت کے لئے اسے آمادہ کیا ۔

۱۶۔طحاھا:بسطھا، یعنی اسے وسعت عطا کی ، اسے پھیلایا۔

۱۷۔ مددناھا:مد، مسلسل و طویل ، و سعت اور پھیلاؤاور آیت میں یعنی: زمین کو زندگی کے لئے پھیلایا اور ہموار کیا۔

۱۸۔ موزون: وزن یعنی : اجسام کااسی کے مساوی کسی چیز سے اندازہ لگانا یعنی وزنی اور ہلکے ہونے کے لحاظ سے یا لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے یا گرمی وسردی کے لحاظ سے....۔

( و انبتنا فیها من کل شیء موزون )

یعنی ہر چیز کو زمین میں اسی کے خاص حالات کے مطابق، اس کے مقصد اور ہدف کے پیش نظر اس کی ضرورت بھر نیز اس کی حکمت مقتضی کے تحت خلق کیا۔

آیتوں کی تفسیر

جو کچھ آیتوں کے معنی ہم بیان کرتے ہیں الفاظ کے ظاہری معنی کے اعتبار سے ہے اور خدا زیادہ جانتا ہے ۔ خدا وند متعال نے زمین و آسمان کی خلقت سے پہلے ایک پانی جس کی حقیقت صرف خدا ہی جانتا ہے اور ہمارے لئے واضح نہیں ہے، خلق کیا،عرش خدا یعنی وہ فرشتے جو خدا کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں اسی پانی پر تھے؛ اور جب حکمت اور مشیتالٰہی کا تقاضا ہوا کہ دوسری چیز کو خلق کرے تو آسمان سے پہلے زمین کو خلق کیا پھر زمین کی گرمی اور بھاپ سے آسمان کی تخلیق کی ؛یہ بھاپ یا دھواں زمین سے اوپرجاتے تھے اسی طرح خدا وند عالم نے آسمان و زمین کو جو ایک دوسرے سے متصل تھے الگ کیا (اور خدا زیادہ جانتاہے) اور وہی زمین کا دھواں یا اس کی بھاپ آسمان بن گیا اس آسمان کو خدا نے کشادہ اور وسیع کیا اور اس کے سات طبقہ ایک پر ایک قرار دئے یہ تفسیر ،کلام حضرت علی میں اس طرح ملتی ہے ۔


خدا وند عالم نے موجزن اور متلاطم دریاکے پانی سے جامد خشکی( ٹھوس زمین )پیدا کی پھر اسی پانی یا خشکی سے بہت سے طبقے پیدا کئے اور ایک دوسرے سے اتصال کے بعد انہیں الگ الگ کردیااورسات آسمانوںمیں تبدیل کر دیا۔( ۱ )

خدا وند عالم نے زمین و آسمان کی خلقت ۶، دن یا عملی طور پر ۶ مراحل میں انجام دی جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

پہلے۔ زمین کی خلقت

خدا وند عالم نے زمین کو دو دن میں خلق کیا اور اس میں محکم اور استوار پہاڑوں کو جگہ دی اور چار دن میں آسمان کی فضا میں خورشید کو قرار دیا اور زمین پر پانی جاری کیا پھرروزی کو معین کیاخواہ وہ اگنے والی ہو یا نہ ہو یعنی پانی اور ہر زندہ موجود کی طبیعت کو اس طرح قرار دیا کہ پانی سے وجود میں آئے۔

پھر آسمان کی تخلیق کی یعنی زمین کی خلقت کے بعد آسمان کی خلقت کی جبکہ آسمان اس وقت دھواںاور اس حالت میں پانی بھاپ تھا ،یہ بھاپ اور گرمی زمین کے دریائوں یا تالابوں سے اٹھی تھی، خدا وند عالم نے زمین و آسمان کی اتصالی کیفیت کو جدا کیا اور آسمان کی بلندی کو زمین کے لئے چھت قرار دیا( خدا وند زیادہ جاننے والا ہے) پھر ان آسمان و زمین سے کہا: وجود میں آئو اور اپنی شکل اختیار کرو؛ خواہ برضا و رغبت خواہ بہ جبر و اکراہ، انہوں نے کہا: ہم برضا ور غبت شکل اختیار کرتے ہیں ،پھر آسمان تمام کہکشائوں، ستاروں اور اس کی دیگر موجودات کے ساتھ کہ جسکی تعداد اور مقدار صرف خدا ہی جانتا ہے وجود میں آ گیا: پھر زمین کافرش، آسمان سے دور ایک معین فاصلے پر بچھایا اور درختوں نیز تمام اگنے والی چیزوں کو اس میں قرار دیا اس کے بعد حیوانوں کو خلق کیا۔

پھر زمین سے جدا شدہ اس آسمان کو جو اس پر محیط تھاسات آسمانوںمیں تبدیل کر دیا اور ہر آسمان میں اسکی سیر و حرکت نیز تحفظ و بقا کے لئے ایک مناسب نظام قرار دیا اور آسمان کی دنیا کو فروزاں چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں ستاروں میں سے شہاب ثاقب کوخلق کیاکہ شیطان چوری چھپے آسمانی خبروںکو نہ سن سکے۔ کہ اس کی بحث آئندہ آئے گی خورشیدکو نور دینے والا اور چاند کوضوفشاں بنایا اور چاند کے راستے

____________________

(۱) نہج البلاغہ : خطبہ ۲۱۱ ؛ تفسیر در منثور : ج ، ۱ ، ص ۴۴؛ بحار : ج ۵۸ ، ص ۱۰۴.


میں منزلیں قرار دیں تاکہ ہر شب ایک منزل کو طے کرے اور خورشید سے کچھ دور قرار دیا تاکہ ایک مہینہ میں ایک چکر مکمل کر لے اور اس گردش سے سال اور مہینے ظاہر ہوں اور لوگ سال کا شمار اور حساب جان لیں اور زمین میں ہر چیز سے ضرورت کے مطابق خلق کی اور زمین کو انسانوں کی رہائش اور آرام کی جگہ قرا ر دی، تاکہ اسمیں زندہ اورمردہ جمع ہوں اور روز قیامت اس سے محشور ہوں۔

ہمارے مذکورہ بیان کی بنا پر گز شتہ آیتوں سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ زمین زمانہ کے اعتبار سے آسمان سے اور رتبہ کے اعتبار سے اس پر پائی جانے والی تمام مخلوقات سے مقدم ہے اور خدا وند عالم نے آسمان و زمین کے درمیان تمام چیزوں کوزمین پر بسنے والے تمام انسانوں اوران کے درمیان پائے جانے والے اولیاء کے لئے خلق کیا ہے ارشاد ہو رہا ہے:

۱۔( الم ترو ا ان الله سخرلکم ما فی السمٰوات وما فی الارض ) ( ۱ )

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان کے درمیان موجود تمام چیزوں کو تمہارا تابع اور مسخر بنایا ہے ۔

اس کے علاوہ گزشتہ آیتوں سے یہ بھی استنباط کر سکتے ہیں کہ انسانی غذائیں جیسے پانی ، گوشت اور تمام نباتات خلقت انسان سے پہلے تھیں جیساکہ جن کی خلقت گرم اور جھلسا دینے والی آگ سے انسان کی خلقت سے پہلے ہوئی یہ بعض آیات کی صراحت سے واضح ہوتا ہے ، جس طرح فرشتے بھی انسانوں سے پہلے خلق ہوئے ہیں، خدا فرماتا ہے :

( ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حمأٍ مسنون٭ و الجان خلقناه من قبل من نارالسموم٭ و اذ قال ربک للملائکة انی خالق بشرا من صلصال... )

میں نے انسان کو کھنکھناتی اور سیاہ رنگ نرم مٹی سے خلق کیا اور اس سے پہلے جنات کو گرم اور جھلسا دینے والی آگ سے پیدا کیا اور جب تمہارے پروردگار نے فرشوں سے کہا: میں کھنکھناتی اور سیاہی مائل نرم مٹی سے انسان پیدا کروں گا۔( ۲ )

دوسرے: ستاروں اور کہکشاؤںکی خلقت

خداوند عالم نے قرآن مجید میں برج، ستارے اور شہاب کی خبر دی ہے اور فرمایا:

____________________

(۱)لقمان۲۰

(۲) حجر۲۶۔۲۸


۱۔( ولقد جعلنا فی السماء بروجاً و زینا ھا للناظرین٭ و حفظناھا من کل شیطان رجیم٭ الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین)

ہم نے آسمان میں برج قرار دئے اور اس کو ناظرین کے لئے آراستہ کیا اور اس کوہر راندہ درگاہ شیطان سے محفوظ رکھا؛ مگر یہ کہ کوئی استراق سمع کرے (چپکے سے سنے) کہ شہاب مبین اس کی تعقیب کرتا ہے۔( ۱ )

۲۔( انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب٭ و حفظاً من کل شیطا ن مارد، لا یسمعون الیٰ الملاء الاعلیٰ و یقذفون من کل جانب٭ دحوراً و لهم عذاب وا صب الا من خطف الخطفة فاتبعه شهاب ثاقب )

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے آراستہ کیااور اسے ہر سرکش اور ملعون شیطان سے محفوظ رکھاوہ لوگ آسمان بالا کی باتوں کو نہیں سن سکتے ہیں اوران پر ہر طرف سے حملہ ہوتا ہے : اور شدت سے بھگائے جاتے ہیں؛ ان کے لئے دائمی سزا ہے ؛ اس کے علاوہ ان میں سے جو معمولی لحظہ کے لئے سر گوشی کی خاطر آسمان سے نزدیک ہو تو شہاب ثاقب ان کا پیچھا کرتا ہے ۔( ۲ )

۳۔( تبارک الذی جعل فی السماء بروجاً و جعل فیها سراجاً و قمراً منیراً )

مبارک ہے وہ خدا جس نے آسمان میں ستاروں کے لئے منزلیں قرار دیں اور آسمان کے درمیان آفتاب اور ماہ تاباں کی قندیلیں لگائیں۔( ۳ )

۴۔( هو الذی جعل الشمس ضیائً و القمر نوراً و قدره منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب )

وہ خدا وہ ہے جس نے سورج کو روشنی ، قمر کو نور عطا کیا اور اس کی منزلیں قرار دیں تاکہ سالوںکا حساب اور تعداد معلوم ہو سکے۔( ۴ )

۵۔( وجعل القمر فیهن نوراً و جعل الشمس سراجاً )

آسمانوں کے درمیان چاند کو روشنی کا ذریعہ اور سورج کو فروزاں چراغ بنایا۔( ۵ )

۶۔( ان عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهراً فی کتاب الله یوم خلق السمٰوات و الارض منها اربعة حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیهن انفسکم و قاتلوا المشرکین کافة

____________________

(۱) حجر۱۶۔۱۸(۲)صافات۶۔۱۰(۳)فرقان۶۱(۴)یونس۵(۵)نوح۱۶


کما یقاتلونکم کافةً و اعلموا ان اﷲ مع المتقین)

خدا کے نزدیککتاب خدا وندی میں جس دن زمین وآسمان کی تخلیق ہوئی اسی دن سے، مہینوں کی تعداد بارہ ہے جس میں سے چارمہینہ حرمت والے ہیں یہ ایک ثابت اور اٹل قانون ہے ! اس بنا پران مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو؛ اور ایک ساتھ مل کر مشرکین سے جنگ کرو، جس طرح وہ لوگ تم سے متحد ہو کر جنگ کرتے ہیں اور یہ بھی جان لو کہ خد اوند عالم پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔( ۱ )

۷۔( و علامات وبالنجم هم یهتدون )

اس نے علامتیں قرار دیں اور لوگ ستاروں کے ذریعہ راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔( ۲ )

۸۔( و هو الذی جعل لکم النجوم لتهتدوا بها فی ظلمات البر و البحر )

وہ خدا وہ ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کر سکو۔( ۳ )

کلموں کی تشریح

۱۔بروج: اس کامفرد برج ہے ، زمین میں قلعہ اورقصر کو کہتے ہیں لیکن آسمان میں ستاروںکے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس کے سامنے سے سورج ، چاند اور دیگر سیارے عبور کرتے ہیں؛ یہ بعض آسمانی برج کچھ اس طرح ہیں کہ اگر ان کی شکل کاغذ پر بنائی جائے اور ستاروں کے درمیان کے فاصلوں کو خط کھینچ کر ایک دوسرے سے متصل کریں توکیکڑے، مرغ،بچھو وغیرہ کی شکل بنے گی ،عقرب(بچھو) چاند کی ایک منزل ہے اسی لئے اصطلاح قمر در عقرب مشہور ہے، جب کہ یہ چاند برج عقرب سے متصل ہوتا ہے ۔

ستارہ شناس افراد چاند کی حرکت کے راستوں کیلئے بارہ ]۱۲[ برج کے قائل ہیں اور ہم اسی بحث کے اختتام پر قرآن کے مخاطبین سے جو کچھ چاند کے سلسلے میں ظاہر ہوتاہے، اس کے بارے میں گفتگو کریں گے ۔

۲۔رجیم: راندۂ درگاہ، یعنی جو عرش والوں کی نیکیوں یا منزلت اوررحمت خداوندی سے محروم ہو گیا ہو۔

۳۔شہاب: شعلہ، ایسا شعلہ جو آسمان سے نیچے کی طرف آرہا ہو اس کی جمع شُہُب آتی ہے اس کی مزید تشریح آئندہ جنات کی بحث میں آئے گی۔

۴۔ مارد: مارد اور مرید یعنی وہ شیاطین جنات و انس جو نیکیوں اور بھلائیوں سے عاری ہیں اور گناہوں

____________________

(۱)توبہ۳۶(۲)نحل۱۶.(۳)انعام۹۷.


اور برائیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

۵۔ دحور: دور کرنا، بھگانا،ہنکانا.

۶۔ نجوم: ان فروزاں ستاروں کو کہتے ہیں جو خورشید کی طرح نور افشانی کرتے ہیں۔

۷۔کواکب:ان اجسام کو کہتے ہیں جو نجوم اور ستاروں سے کسب نور کرتے ہیں ، آسمان کے تمام نورانی اجسام کو کواکب کہتے ہیں ، جیسا کہ خداوند متعال فرماتاہے :

( انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب )

ہم نے آسمان ِدنیا کو کواکب سے زینت بخشی۔

۸۔واصب:ہمیشہ اور لازم

۹۔خطف،خطفة:تیزی سے اچک لیا اور بھاگ گیا یعنی یک بارگی اچک لیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ شیاطین فرشتوں سے کوئی چیز سنتے ہیں اور اچک کرتیزی سے فرار کر جاتے ہیں۔

۱۰۔ ثاقب:نفوذ کرنے والا، شگاف کرنے والا اور روشن، شہاب کو اس لئے ثاقب کہتے ہیں کہ تاریکیوں میں نفوذ کرتا ہے اورایسامعلوم ہوتا ہے کہ اپنے نور سے اسمیں شگاف پیدا کررہا ہے ۔

آیات کی تفسیر

آسمانوں اور ستاروں کی بحث میں مذکور آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ آسمان دنیا کی منزلت تمام کواکب اور ستاروں اور فروزاں کہکشانوں سے بالاتر ہے اور آسمان دوم اس سے بلند تر ہے ،آسمان سوم، آسمان دوم سے بلند تر اور اسی طرح ساتویں آسمان تک کہ اس کی رفعت سب سے زیادہ ہے۔ نیز ہر ایک کا ارتفاع دوسرے کی بہ نسبت ارتفاع مکانی ہے ، بر خلاف عرش کے کہ اس کی رفعت و بلندی معنوی ہے اس کی وضاحت اپنی جگہ آئے گی اس توضیح سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں :

۱۔ کیوں خدا وند عالم ستاروں کے فوائد اور خاصیتوں کو صرف انہیں امور میں بیان کرتا ہے جس سے تمام لوگ واقف ہیں جیسے:( جعل لکم النجوم لتهتدوا ) ستاروںکو تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لئے بنایا۔( ۱ )

کیوں ان آثار اور صفات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جسے نزول قرآن کے بعد دانشوروں نے کشف کیاہے ؟

____________________

(۱)انعام۹۷


۲۔ خداوند عالم نے سورۂ صافات میں فرمایا ہے :( انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب ) ہم نے دنیاوی آسمان کو ستاروں سے زینت بخشی۔( ۱ )

سوال یہ ہے کہ اگر ستارے آسمان دنیا کی زینت ہیں تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ تمام ستاروں کی منزل آسمان دنیا کے نیچے ہو جبکہ ماضی کے ستارہ شناس اور دانشوروں(نجومیوں) کا کہنا ہے : اکثر ستاروںکی منزل دنیاوی آسمان کے اوپر ہے ؛ ہمارے زمانے کے علمی نظریات اس سلسلہ میں کیاہیں؟ ان دونوں سوالوں کے جواب میں ہم بہ فضل الٰہی یہ کہتے ہیں:

۱۔ پہلے سوال کا جواب

خدا وند عالم نے خاتم الانبیاء کو قرآن کریم کے ساتھ اس لئے بھیجا تاکہ تمام لوگوں کو مقرر کردہ آئین کے مطابق ہدایت کریں، جیسا کہ خود ہی فرماتا ہے :

الف:( قل یا ایها الناس انی رسول الله الیکم جمیعاً... )

کہو : اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا کا (بھیجا ہوا )رسول ہوں ...۔( ۲ )

ب:( واوحی الی هذا القرآن لانذر کم به و من بلغ... )

یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ تم کو اور ان تمام افراد کو جن تک یہ پیغام پہونچے ڈرائوں۔

اسی لئے قرآن کریم اپنے کلام میں تمام لوگوں کو (یا ایھا الناس) کا مخاطبقرار دیتا ہے اور چونکہ ہر صنف اور گروہ کے تمام لوگ مخاطب ہیں لہٰذا کلام تمام انسانوں کی فہم اور تقاضائے حال کے مطابق ہونا چاہئے تاکہ ہر زمان و مکان کے اعتبار سے تمام لوگ سمجھیں، جیسا کہ مقام استدلال و اقامہ برہان میں خالق کی وحدانیت اور معبود کی یکتائی ( توحید الوہیت) کے موضوع پر فرماتا ہے :

کیا وہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسے خلق ہوا ہے ؟

آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھاتے کہ کیسے بلند کیا گیا ہے ؟

پہاڑوں کی طر ف نہیں دیکھتے کہ کیسے استوار اور اپنی جگہ پر محکم اور قائم ہے ؟

زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہموار اور بچھائی گئی ہے ؟

____________________

(۱)صافات۶

(۲)اعراف۱۵۸


لہٰذا یاد دلائو اس لئے کہ تم فقط یاد دلانے والے ہو، تم ان پر مسلط اور ان کومجبور کرنے والے نہیں ہو۔( ۱ )

توحید ربوبیت کے سلسلہ میں مقام استدلال واقامہ ٔبرہان میں فرماتا ہے :

جو پانی پیتے ہو کیا اس کی طرف غور و خوض کرتے ہو؟! کیا اسے تم نے بادل سے نازل کیا ہے یا ہم اسے نیچے بھیجتے ہیں؟! ہم جب چاہیں ہر خوشگوار پانی کو تلخ اور کڑوا بنا دیںلہٰذا کیوں شکر نہیں کرتے؟( ۲ ) ...اب اگر ایسا ہے تو اپنے عظیم پروردگار کی تسبیح کرو اور اسے منزہ جانو۔

اب اگر خدا وند عالم اس کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرتا اور مقام استدلال میں اربوں ستاروں اور کروڑوں آسمانی کہکشاؤں کے نظام حرکت و سکون کا تذکرہ کرتا، یا انسانون کی صرف آنکھ کو محور استدلال بناتا اور اس میں پوشیدہ لاکھوں باریک خطوط کا ذکر کرتا اور اس میں موجود خون کے سفید و سرخ ذرّات کے بارے میں کہتا،یا انسان کے مغزسراور اس کے لاکھوں پیچیدہ زاویوں سے پردہ اٹھاتا، یا اسباب قوت ہاضمہ یا انواع و اقسام کی بیماریوں اور اس کے علاج کا ذکر کرتا جیسا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں:

کیوں خدا وند عالم نے جسم انسانی کہ جس کواس نے پیدا کیا ہے اس سے مربوط ہے علم و دانش کو قرآن میں کچھ نہیںبیان کیا؟آیااس طرح کے موارد قرآن میں نقص اور کمی کے مترادف نہیں ہیں؟

خدا کی پناہ ! آپ کیا فکر کرتے ہیں؟ اگر خصوصیات خلقت جن کا ذکر کیا گیا ،قرآن کریم میں بیان کی جائیں تو کون شخص ان کے کشف سے پہلے انہیں درک کر سکتا تھا؟ اور اگر انبیاء لوگوں سے مثلاً کہتے: جس زمین پر ہم لوگ زندگی گزار رہے ہیں وہ خورشیدکے ارد گرد چکر لگاتی ہے اور خورشید زمین سے ۲۳ ملین میل کے فاصلہ پر واقع ہے؛ یہ منظومہ شمسی راہ شیر نامی کہکشاں کے پہلو میں واقع ہے کہ اس کہکشاںمیں ۳۰ کروڑ ستارے ہیں اور ان ستاروں کی پشت پر سینکڑوں نامعلوم عوالم ہیں اور پیچیدہ گڑھے پائے جاتے ہیں وغیرہ۔

آپ کا کیا خیال ہے ؟ اگر امتیںاس طرح کی باتیں پیغمبروں سے سنتیں تو انبیاء کوکیا کہتیں؟ جبکہ وہ لوگ پیغمبروںکو صرف اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کو خدا کی توحید اور یکتا پرستی کی دعوت دیتے تھے، دیوانہ کہتے تھے جیساکہ خدا وند عالم ان کے بارے میں فرماتا ہے:

( کذبت قبلهم قوم نوح فکذبوا عبدنا و قالوا مجنون )

____________________

(۱)غاشیہ۱۷۔۲۲

(۲)واقعہ۷۰۔۶۸و۷۴


۱۔اس سے پہلے قوم نوح نے ان کی تکذیب کی؛یہاں تک کہ ہمارے بندے نوح کو دروغگو سمجھااور دیوانہ کہا۔( ۱ )

۲۔( کذلک ماا تی الذین من قبلهم من رسولٍ اِلاقالوا ساحراومجنون )

اس طرح سے ان سے قبل کوئی پیغمبر کسی قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوا مگر یہ کہ انہوں نے اسے ساحر اور مجنون کہا۔( ۲ )

۳۔( ویقولون انه لمجنون )

وہ (کفار و مشرکین)کہتے ہیں وہ (خاتم الانبیائ) دیوانہ ہے۔( ۳ )

اب ان خیالات اور حالات کے باوجود جو گز شتہ امتوں کے تھے اگر اس طرح کی باتیں بھی پیغمبروں سے سنتے تو کیا کہتے ؟اصولی طور رپر لوگوںکی قرآن کے مخاطب لوگوںکی کتنی تعداد تھی کہ ان علمی حقائق کو سمجھ سکتی ، ایسے حقائق جن کو دانشوروں نے اب تک کشف کیا ہے اور اس کے بعد بھی کشف کریں گے کس طرح ان کے لئے قابل فہم اور درک ہوتے؟

اس کے علاوہ جن مسائل کو آج تک دانشوروں نے کشف کیا ہے کس حد تک علمی مجموعہ میں جگہ پاتے ہیں؟ جبکہ خدا وند عالم نے خاتم الانبیاء پر قرآن اس لئے نازل کیا تاکہ یہ کتاب لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہو۔ اور لوگوںکو اس بات کی تعلیم دے کہ وہ کس طرح اپنے خدا کی بندگی کریں؛ اوراس کے اوامر اور نواہی کے پابند ہوں اور کس طرح دیگر لوگوں سے معاملہ کریں، نیز جن چیزوں کو خدا نے ان کے لئے خلق کیا ہے اور ان کا تابع بنا یا ہے کس طرح راہ سعادت اور کمال میں ان سے استفادہ کریں۔

خدا وند عالم نے قرآن کریم اس لئے نازل نہیں کیاکہ آب و ہوا، زمین ، حیوان اور نبات کی خصوصیات سے لوگوں کو آگاہ کرے بلکہ یہ موضوع انسانی عقل کے فرائض میں قرار دیا یعنی ایسی عقل جسے خدا وند عالم نے عطا کی ہے۔ تاکہ ان تمام چیزوں کی طرف بوقت ضرورت، مختلف حالات اور مسائل میں انسانوں کی ہدایت کرے۔

ایسی عقل کے باوجود جو انسان کو خدا نے بخشی ہے انسان اس بات کا محتاج نہیں تھا کہ خدا وند عالم قرآن کریم میں مثلاً ''ایٹم'' کے بارے میں تعلیم دے، بلکہ انسان کی واقعی ضرورت یہ ہے کہ خدا وند عالم اس طرح کی قوت سے استفادہ کرنے کے طور طریقے کی طرف متوجہ کرے تاکہ اسے کشف اور اس پر قابو پانے کے

____________________

(۱)قمر۹

(۲)ذاریات۵۲(۳)قلم۵۱


بعداس کو انسانی فوائد کے لئے روبہ کار لائے ، نہ یہ کہ نوع بشر اور حیوانات کی ہلاکت اور نباتات کی نابودی کے لئے استعمال کرے۔

لہٰذا واقعی حکمت وہی ہے جو قرآن کریم نے ذکر کی ہے اور استدلال اور برہان کے موقع پر مخلوقات کی اقسام بیان کی ہے۔

البتہ یہ بات علمی حقائق کی جانب قرآن کریم کے اشارہ کرنے سے منافات نہیں رکھتی ہے ،وہ حقائق جو نزول قرآن کے بعد کشف ہوئے ہیں اور قرآن نے کشف سے پہلے ہی ان کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس بات کی واضح اور بین دلیل ہیں کہ قرآن کریم خالق ہستی اور پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اور جس طرح خاتم الاوصیاء حضرت علی نے بیان کیا ہے کہ عجائب قرآن کی انتہا نہیں ہے ۔

یہ قرآ ن کے عجائب میں سے ہے کہ اس میں جہاں بھی مخلوقات کی خصوصیتیں بیان ہوئی ہیں وہ ان علمی حقائق سے کہ جو دانشوروں کے ذریعہ پوری تاریخ اور ہر زمانے میں کشف ہوئے ہیں، مخالف نہیں ہیں ۔

۲۔ د وسرے سوال کا جواب

بعض دانشور گروہ نے بعض ادوار میں قرآن کریم میں مذکور کچھ چیزوں کے بارے میں تاویل و توجیہ کی ہے اوران غلط و بے بنیاد نظریات سے جو ان کے زمانے میں علمی حقائق سمجھے جاتے تھے تطبیق دی ہے؛جیسے ہفت گانہ آسمانوں کی توجیہ ہفت گانہ افلاک سے کی ہے جو گز شتہ دانشوروں کے نزدیک مشہور نظر یہ تھا ، اور یہ ، بطلیموس جو تقریباً ۹۰ ء سے ۱۶۰ ء کے زمانے میں گز را ہے اس کے نظریہ کے مطابق ہے :

بطلیموس کا نظریہ

آسمان اور زمین گیند کی شکل کے ہیں کہ بعض ان میں سے پیازکے تہہ بہ تہہ چھلکوں کے مانندہیں ان کرّات کا مرکز زمین ہے کہ جس کا ۳۴ حصہ پانی سے تشکیل پایا ہے ، زمین کا بالائی حصہ ہو ا ہے اور اس کے اوپر آگ ہے ان چار عنصر پانی ، مٹی، ہوا اور آگ کو عناصر اربعہ کہتے ہیں، ان کے اوپر فلک قمر ہے، جو فلک اول ہے ۔ اس کے بعد فلک عطارد، پھر فلک زہرہ، پھر خورشید پھر مر یخ اس کے بعد مشتری اور اس کے بعد زحل ہے ان افلاک کے ستاروںکو سیارات سبعہ کہتے ہیں،فلک ثوابت کہ جن کو بروج کہتے ہیں وہ ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے بعد اطلس نامی فلک ہے جس میں کوئی ستارہ نہیں ہے ؛ ان دانشوروںنے ان ساتوں آسمانوںکی ہفت گانہ سیارات کے افلاک سے ،کرسی کی فلک بروج سے نیز عرش کی نویں فلک سے توجیہ و تاویل کی ہے ۔


ان لوگوں نے اسی طرح قرآن و حدیث میں مذکور بعض اسلامی اصطلاحات کی بے بنیادفلسفیانہ نظریوں اور اپنے زمانے کے نجومی خیالوں سے توجیہ اور تاویل کی ہے اور چونکہ ان بعض نظریات میں ایسے مطالب پائے جاتے ہیں کہ جو قرآن کریم کی تصریح کے مخالف ہیں؛ انہوںنے کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کے نظریات کو ان نظریوں کے ساتھ جمع کر دیں، مرحوم مجلسی نے اس روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

جان لو! کہ یہاں پر ایک مشہور اعتراض ہے اور وہ یہ ہے کہ: علم ہیئت کے تمام ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آسمان اول پر چاند کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور تمام گردش کرنے والے ستارے ایک فلک میں گردش کر رہے ہیں اور ثابت ستارے آٹھویں فلک پر ہیں، جبکہ قرآن کریم کی آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سارے کے سارے یا اکثر ،آسمان دنیا پر پائے جاتے ہیں( ۱ ) ، اس کے بعد وہ دئے گئے جواب کو ذکر کرتے ہیں۔

اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ آیت اور اس کی تفسیر یکے بعد دیگرے ذکر کی جائے گی لہٰذا مرحوم مجلسی کی نقل کردہ دلیلوں سے یہاں پر صرف نظر کرتے ہیں۔ اور صرف اس زمانے کے عظیم فلسفی میرباقر داماد کی بات کو حدیث کی تاویل کے ضمن میں ذکر کررہے ہیں۔

ایک غیر صحیح تاویل اور بیان

سید داماد(میر باقر داماد) ''من لا یحضرہ الفقیہ'' کے بعض تعلیقات میں لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: عرش وہی فلک الافلاک ہے اور جو امام نے اسے مربع (چوکور) جانا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فلک کی دورانی حرکت کی وجہ سے اس میں ایک کمر بند اور دو قطب پید اہوتے ہیں؛ اور ہر بڑا دائرہ جو کرہ کے اردگرد کھینچا جاتا ہے اس کرہ کو نصف کر دیتا ہے اور فلک بھی کمر بندی اور دائرہ ای حرکت کی وجہ سے جوا ن دو قطب سے گزرتا ہے چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے ۔ اور عرش جو کہ دور ترین فلک ہے اور کرسی جو کہ ثابت ستاروں کا فلک ہے یہ دونوں بھی نصف النہار ،منطقة البروج اور قطبوں سے گزرتا ہے ، چار حصوں میں تقسیم ہوجاتے

ہیں اور دائرہ افق جو فلک اعلی کی سطح پر ہے نصف النہار اور مشرق و مغرب کے دائرہ کی وجہ سے چار حصوں میں

____________________

(۱) ولقد زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب ، صافات ۶.


تقسیم ہوتا ہے اور اس کا ہر حصہ اس مجموعہ میں اس طرح واقع ہوتا ہے کہ چہار گانہ جہتوں( جنوب و شمال ، مشرق و مغرب) کو معین کر دیتا ہے ۔ فلسفیوں نے فلک کو انسان کے مانند فرض کیا ہے جو اپنی پشت کے بل سویا ہوا ہے اس کا سر شمال کی طرف، پائوں جنوب کی طرف داہنا ہاتھ مغرب اور بایاں ہاتھ مشرق کی طرف نیز تربیع اور تسدیس دائرہ کی ابتدائی شکلیں ہیںجو اپنی جگہ پر بیان کی گئی ہیںکہ تربیع ان دو قطروں سے جو خود ایک دوسرے پرقائم ہیں اور ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیںحاصل ہوتی ہے اور تسدیس نصف قطر سے، اس لئے کہ۶۱ ،کا نصف قطرکے برابر ہے اور ۴۱ دور ایک مکمل قوس ہے اور جتنا ۴۱سے کم ہوگا تو باقی بچا ہوا ۴۱ کی حد تک پہنچنے تک اس کا کامل اور پورے ہونے کا باعث بنے گا۔

اور فلک اقصیٰ( آخری فلک) مادہ ، صورت اور عقل کا حامل ہے کہ وہی عقل اول ہے اور اسے عقل کل بھی کہاجاتا ہے اور نفس کا حامل ہے کہ وہی نفس اول ہے اور اسے نفس کل بھی کہتے ہیں او ریہ نفس،مربع ہے جو نظام ہستی کے مربعات میں سب سے پہلا مربع ہے ۔

یہاں پر دوسری جہتیںبھی پائی جاتی ہے جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے اور جو چاہتا ہے کہ اسے سمجھے وہ مزید کوشش کرے؛ مرحوم مجلسی کہتے ہیں کہ ان توجیہات کا قوانین شرع اور اہل اسلام کی اصطلاحوں سے موافق نہ ہونا پوشیدہ نہیں ہے ۔( ۱ )

اس کے علاوہ بعض دانشوروںنے قرآن کریم کی تفسیر اسرائیلیات سے کی ہے، بعض لوگوں نے

ان جھوٹی روایات سے جن کی نسبت پیغمبر کی طرف دی گئی ہے بغیر تحقیق و بررسی کے قرآن کی تفسیر کی ہے ؛اور یہی چیز باعث بنی کہ قرآن اور اسلامی اصطلاحات و الفاظ کا سمجھناقرآن و حدیث کی تلاوت کرنے والوں پر پوشیدہ اور مشتبہ ہو گیا ہے ہم نے بعض ان غلط فہمیوں کو کتاب ''قرآن کریم اوردو مکتب کی روایات '' میں ''قرآن رسول کے زمانے میں اور اس کے بعد '' کے حصہ میں ذکر کیا ہے ۔

بحث کا خلاصہ

اول: سماء : آسمان ، لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جو تمہیںاوپر سے ڈھانپ لے اور ہر چیز کا آسمان اس

کا اوپری حصہ اوراس کی چھت ہے اور قرآن کریم میں جہاں یہ لفظ مفرد استعمال ہوا ہے تو کبھی تو اس کے معنی

____________________

(۱) بحار : ۵۸ ۵۔ ۶.


اس زمین کے ارد گرد فضا کے ہیں جیسے :

۱۔( الم یروا الیٰ الطیر مسخرات فی جو السمائ )

کیا انہوں نے فضا میں مسخر پرندوں کو نہیں دیکھا؟!( ۱ )

۲۔( و انزل من السماء مائً ) اس نے آسمان (فضا)سے پانی نازل کیا۔( ۲ )

اور کبھی اس سے مراد ستارے اور بالائی سات آسمان ہیں ، جیسے:

( ثم استویٰ الیٰ السماء فسواهن سبع سمٰوات )

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اورترتیب سے سات آسمان بنا ئے۔( ۳ )

اور جہاں پر لفظ سماء جمع استعمال ہوا ہے اس سے مراد ساتوں آسمان ہیں جیسا کہ گز شتہ آیت میں ذکر ہوا ہے ۔

دوسرے: آغاز خلقت: خدا وند عالم خود خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین کی خلقت سے پہلے پانی کی تخلیق کی اور گز شتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا وند عالم نے زمین کو اسی پانی سے خلق کیا ہے اور آسمان کو اس زمین کے پانی اور اس کی بھاپ سے خلق کیا ہے ۔ اور زمین و آسمان کے تخلیقی مراحل اور اس میں موجود بعض موجودات جس کے ضمن میں انسان کی ضروریات زندگی بھی شامل ہیںچھ دور میں کامل ہوئے ہیں؛ اور خداوند عالم نے تمام نورانی ستاروں کو آسمان دنیا کے نیچے قرار دیا ہے اور جو اخبار خلقت سے متعلق خدا وند عالم نے ہمیں دئے ہیں اتنے ہیں کہ لوگوں کی ہدایت کی لئے ضروری ہیں اور عقل انسانی اس سے زیادہ ابتدائے خلقت سے متعلق مسائل اور کہکشائوں اور سیاروں کی حقیقت کو درک نہیں کر سکتی ہے۔

بعض دانشوروںنے خود کو زحمت میں مبتلا کیا ہے اور قرآن میں آسمان اور ستاروں کی توصیف کے سلسلہ میں اپنے زمانے میں معلوم مسائل سے ان کو علمی تصور کرتے ہوئے توجیہ و تاویل کی ہے ؛ جیسے آسمانوںکے معنی کی تاویل ہفت گانہ آسمان سے کہ اسے قطعی اور یقینی مسائل خیال کرتے تھے، لیکن آج اس کا باطل ہونا واضح اور آشکار ہے ۔

اسی طرح بعض آیتوں کی اسرائیلی روایتوں سے تفسیر کی ہے ایسی رو ش اس وقت بھی مسلمانوں میں رائج ہے اور اس سے اسلامی معاشرے میں غلط نظریئے ظاہر ہوئے کہ ان میں سے بعض کی آئندہ بحثوں میں خدا وند عالم کی تائید سے تحقیق و بررسی کریں گے۔

____________________

(۱)نحل۷۹(۲)بقرہ۲۲(۳)بقرہ۲۹


۳۔ چوپائے اور چلنے والی مخلوق

خدا وند عالم ان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے :

۱۔( والله خلق کل دابة من ماء فمنهم من یمشی علیٰ بطنه و منهم من یمشی علیٰ رجلین و منهم من یمشی علیٰ اربع یخلق الله ما یشاء ان الله علیٰ کل شیء قدیر )

خدا وند عالم نے چلنے والی ہرمخلوق کو پانی سے خلق کیاہے ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتی ہیں اور کچھ دو پیر وںسے چلتی ہیں اورکچھ چار پیروں پر چلتی ہے ، خدا جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے ، کیونکہ خدا وند عالم ہر چیز پر قادر اور توانا ہے ۔( ۱ )

۲۔( وما من دابةٍ فی الارض ولا طائرٍ یطیر بجناحیه الا امم امثالکم ما فرطنا فی الکتاب من شیء ثم الیٰ ربهم یحشرون )

زمین پر چلنے والی ہر مخلوق اور پرندہ جو اپنے دو پروں کے سہارے اڑتا ہے سبھی تمہاری جیسی امت ہیںہم نے اس کتاب میں کچھ بھی فروگز اشت نہیں کیا ہے، پھر سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے۔( ۲ )

۳۔( ولِلّٰه یسجد ما فی السمٰوات وما فی الارض من دابة )

زمین و آسمان میں جتنے بھی چلنے والے ہیں خدا وند عالم کا سجدہ کرتے ہیں۔( ۳ )

کلمہ کی تشریح:

دابة: جنبندہ، صنف حیوانات میں ہر اس حیوان کو کہتے ہیں جو سکون و اطمینان کے ساتھ راہ چلتا ہے

____________________

(۱)نور۴۵

(۲)انعام۳۸

(۳)نحل۴۹


اور قرآن کریم میں دابة سے مراد روئے زمین پر موجود تمام جاندار(ذی حیات)ہیں۔

آیات کی تفسیر

خدا وند عالم نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے خلق کیا ہے، زمین میں کوئی زندہ موجود اور ہوا میں کوئیپرندہ ایسا نہیں ہے جس کا گروہ اور جرگہ آدمیوںکے مانند نہ ہو، چیونٹی خود ایک امت ہے اپنے نظام زندگی کے ساتھ، جس طرح انسان ایک نظام حیات اور پروگرام کے تحت زندگی گز ارتا ہے ، اسی طرح پانی میں مچھلی اور زمین پر رینگنے والے اور اس کے اندر موجود حشرات ،کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانورہیں انسانوں ہی کی طرح سب، امتیں ہیں کہ ہر ایک اپنے لئے ایک مخصوص نظام حیات کی مالک ہے ہم خداوندعالم کی تائید اور توفیق کے سہارے ''ہدایت رب العالمین'' کی بحث میں اس طرح کی ہدایت کی کیفیت کو کہ اس نے تمام چلنے والی ( ذی روح )امتوں کے لئے ایک خاص نظام حیات معین فرمایا ہے؛ پیش کریں گے۔


۴۔ جن اور شیاطین

الف۔ جن ّو جانّ

جِنّ:. مستور اور پوشیدہ''جَنَّ الشیء یا جَنَّ عَلیَ الشیئِ'' ، یعنی اسے ڈھانپ دیا، چھپا دیا، پوشیدہ کر دیا، جیسا کہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :

( فلما جن علیه اللیل ) جب اسے شب کے پردے نے ڈھانپ لیا۔( ۱ )

لہٰذا جن ّو جانّ دونوں ہی درج ذیل تشریح کے لحاظ سے ناقابل دید اور پوشیدہ مخلوق ہیں۔

۱۔( وخلق الجان من مارج من نار )

جن کو آگ کے مخلوط اور متحرک شعلوں سے خلق کیا۔( ۲ )

۲۔( والجان خلقناه من قبل من نارالسموم )

اور ہم نے جن کو انسان سے پہلے گرم اور جھلسا دینے والی آگ سے خلق کیا۔( ۳ )

ب۔ اس سلسلے میں کہ یہ لوگ انسانوں کی طرح امتیں ہیں خدا وند عالم فرماتا ہے :

( فی اممٍ قد خلت من قبلهم من الجن والأِنس )

وہ لوگ ( جنات) اپنے سے پہلے جن و انس کی گمراہ امتوں کی سر نوشت اور ان کے انجام سے دوچار ہوگئے۔( ۴ )

ج۔ سلیمان نبی نے انہیں اپنی خدمت گزاری کے لئے مامور کیا ہے، اس سلسلے میں فرماتا ہے :

( و من الجن من یعمل بین یدیه باِذن ربه و من یزغ منهم عن امرنا نذقه من

____________________

(۱)انعام ۷۶

(۲) الرحمن ۱۵

(۳) حجر ۲۷

(۴)فصلت۲۵


عذاب السعیر یعملون له ما یشاء من محاریب و تماثیل و جفان کالجواب و قدور راسیاتٍ )

جنوں کا بعض گروہ سلیمان کے سامنے ان کے پروردگار کی اجازت سے کام کرتا تھا؛ اور ان میں سے جوبھیہمارے حکم کے برخلاف کرے گا ، اسے جھلسا دینے والی آگ کا مزہ چکھا ئیں گے؛ وہ لوگ سلیمان کے تابع فرمان تھے اور وہ جو چاہتے تھے وہ بناتے تھے جیسے ، عبادت خانے ، مجسمے ، کھانے کے بڑے بڑے ظروف جیسیحوض اور غیر منقول( اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو نے والی) دیگیں وغیرہ۔( ۱ )

د۔ سلیمان کے لشکر میں جن بھی شامل تھے اس سلسلے میں فرماتا ہے کہ وہ ایسے تھے کہ فلسطین اور یمن کے درمیان کے فاصلہ کوسلیمان نبی کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے ہی طے کر کے واپس آجایا کرتے تھے۔

خدا واند عالم ان میں سے ایک کی سلیمان سے گفتگو کی یوں حکایت کرتا ہے :

( قال عفریت من الجن انا آتیک به قبل ان تقوم من مقامک و انی علیه لقوی امین )

جنوں میں سے ایک عفریت (دیو)نے کہا: میں اس تخت کوآپ کے پاس،آپ کے اٹھنے سے پہلے حاضر کر دوں گا اور میں اس کام کے لئے قوی اورامینہوں۔( ۲ )

ھ ۔ جن غیب سے بے خبر اور ناآگاہ ہیں اس بابت فرماتا ہے۔

( فلما قضینا علیه الموت مادلهم علیٰ موته الا دابة الارض تاکلمنسأته فلما خرَّ تبینت الجن ان لوکانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المهین )

جب ہم نے سلیمان کو موت دی تو کسی نے ان کو مرنے کی خبر نہیں دی سوائے دیمک کے اس نے سلیمان نبی کے عصا کو کھا لیااور وہ ٹوٹ کر زمین پر گرگیا۔ لہٰذا جب زمین پر گر گئے تو جنوں نے سمجھا کہ اگر غیب کی خبر رکھتے تو ذلت و خواری کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔( ۳ )

و ۔ اورحضرت خاتم الانبیاء کی بعثت سے پہلے ان کے عقائد اور کردار کو انہیں کی زبانی بیان فرماتا ہے :

۱۔( و انه کان یقول سفیهنا علٰی الله شططاً )

اور ہمارا احمق ( ابلیس) خدا وند عالم کے بارے میں ناروا باتیں کہتاتھا۔( ۴ )

۲۔( و انهم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث الله احداً )

____________________

(۱)سبا۱۲۔۱۳(۲)سورہ ٔ نمل : ۳۹.(۳)سبا۱۴(۴)جن۴


بیشک ان لوگوں نے ویسے ہی خیال کیاجیسے تم خیال کرتے ہوکہ خدا وند عالم کسی کو مبعوث نہیں کرے گا۔( ۱ )

۳۔( وانه کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقاً )

یقینا بعض انسانوںنے بعض جنوں کی پناہ چاہی اور وہ لوگ ان کی گمراہی اور طغیانی میں اضافہ کا باعث بنے۔( ۲ )

ز۔ خاتم الانبیا کی بعثت کے بعد ان کی سرقت سماعت( چوری چھپے بات اچکنے ) کے بارے میں خود انہیں کی زبانی فرماتا ہے :

۱۔( وانا لمسنا السماء فوجدنا ها ملئت حرساً شدیداً و شهباً )

اور ہم نے آسمان کی جستجو کی؛ تو سبھی کو قوی الجثہ محافظوں اور شہاب کے تیروں سے لبریز پایا۔( ۳ )

۲۔( واِنا کنا نقعد منها مقاعد للسمع فمن یستمع الان یجد له شهاباً رصداً )

اور ہم اس سے پہلے خبریں چرانے کے لئے آسمانوں پربیٹھ جاتے تھے، لیکن اس وقت اگر کوئی بات چرانے کی کوشش کرتاہے تو وہ ایک شہاب کو اپنے کمین میں پاتاہے۔( ۴ )

ح۔ جنوںکے اسلام لانے کے بارے میں فرماتا ہے : ان لوگوںنے کہا:

۱۔( و انا منا الصالحون و منا دون ذلک کنا طرائق قدداً )

اور ہمارے درمیان صالح اور غیر صالح افراد ہیں؛ اور ہم مختلف گروہ ہیں۔( ۵ )

۲۔( و انا منا المسلمون و منا القاسطون فمن اسلم فاُولائک تحروا رشداً )

ہم میں سے بعض گروہ مسلمان ہے اوربعض ظالم ؛ جو اسلام قبول کرے وہ راہ راست کا سالک ہے۔( ۶ )

ب۔ شیطان

شیطان، انسان جنات اور حیوانات میں سے ہر سرکش، طاغی اور متکبر کو کہتے ہیں۔

خدا وند عالم نے فرمایا ہے:

۱۔( ولقد جعلنا فی السماء بروجاً و زیناها للناظرین٭ و حفظناها من کل شیطان

____________________

(۱)جن۳(۲)جن۶(۳)جن ۸(۴)جن۹(۵)جن۱۱(۶)جن۱۴


رجیم٭ الا من استرق السمع فاتبعه شهاب مبین)

اور ہم نے آسمان میں برج قرار دئیے اور اسے دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا اور اسے ہر شیطان رجیم اور راندہ درگاہ سے محفوظ کیا؛ سوائے ان کے جواستراق سمع کرتے ہیں او رچوری چھپے باتوں کو سنتے ہیں تو شہاب مبین ان کا پیچھا کرتا ہے اور بھگاتا ہے ۔( ۱ )

۲۔( انا زیّنا السماء الدنیا بزینة الکواکب٭ و حفظاً من کل شیطانٍ مارد ٭لا یسمعون الیٰ الملاء الأَعلیٰ و یقذفون من کل جانبٍ٭ دحوراً ولهم عذاب واصب٭ الا من خطف الخطفة فاتبعه شهاب ثاقب )

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت بخشی تاکہ اسے ہرطرح کے شیطان رجیم سے محفوظ رکھیں وہ لوگ ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے حملہ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ وہ لوگ شدت کے ساتھ الٹے پائوں بھگا دئے جاتے ہیں اور ان کیلئے ایک دائمی عذاب ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایک لحظہ اور آن کے لئے استراق سمع کے لئے آسمان سے نزدیک ہو تے ہیں تو شہاب ثاقب ان کا پیچھا کرتا ہے۔( ۲ )

۳۔( ولقد زیّنا السماء الدنیا بمصابیح و جعلنا ها رجوماً للشیاطین واعتدنا لهم عذاب السعیر ) ( ۳ )

ہم نے آسمان دنیا کو روشن چراغوں سے زینت بخشی اور انہیں شیاطین کو دور کرنے کا تیر قرار دیا اور ان کے لئے ڈھیروں عذاب فراہم کئے۔

۴۔( وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً شیاطین الانس و الجن یوحی بعضهم الیٰ بعض زحزف القول غروراً ولو شاء ربک ما فعلوه فذرهم وما یفترون٭و لتصغیٰ الیه افئدة الذین لا یؤمنون بالآخرة و لیرضوه ولیقترفوا ما هم مقترفون )

اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے شیاطین جن و انس میں سے دشمن قرار دیا، وہ لوگ خفیہ طور پر فریب آمیز اور بے بنیاد باتیں ایک دوسرے سے کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو فریب دیں اور اگر پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہیں کرتے؛لہٰذا انہیں ان کی تہمتوں کے ساتھ ان کے حال پر چھوڑ دو! نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت سے انکار کرنے والوں کے دل ان کی طرف مائل ہو جائیں گے اور ان سے راضی ہو جائیں گے؛اور جو چاہیںگے گناہ انجام دیں گے۔( ۴ )

____________________

(۱)حجر۱۶۔۸(۲)صافات۶۔۱۰(۳)ملک۵(۴)انعام۱۱۲۔۱۱۳


۵۔( انا جعلنا الشیاطین اَولیاء للذین لا یؤمنون )

ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست قرار دیا ہے جو بے ایمان ہیں۔( ۱ )

۶۔( ان المبذرین کانوا اِخوان الشیاطین و کان الشیطان لربه کفوراً )

اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان خدا وند عالم کابہت ناشکرا ہے۔( ۲ )

۷۔( ولا تتبعوا خطوات الشیطان انه لکم عدو مبین، انما یامرکم بالسوء و الفحشاء و ان تقولوا علٰی الله ما لا تعلمون )

شیطان کا اتباع نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ، وہ تمہیںصرف فحشا ء اور منکرات کا حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ جس کو تم نہیں جانتے ہو خدا کے بارے میں کہو۔( ۳ )

۸۔( الشیطان یعدکم الفقر و یامرکم بالفحشاء والله یعدکم مغفرة منه و فضلاً و الله واسع علیم )

شیطان تمہیں فقر اور تنگدستی کا وعدہ دیتا ہے اور فحشاء کا حکم دیتا ہے لیکن خدا تمہیں بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے، یقینا خدا صاحب وسعت و علم ہے ۔( ۴ )

۹۔( و من یتخذ الشیطان ولیاً من دون الله فقد خسر خسراناً مبینا٭ یعدهم و یمنیهم وما یعدهم الشیطان الا غروراً )

جو بھی خد اکے بجائے شیطان کو اپنا ولی قرار دیتا ہے ، تووہ کھلے ہوئے (سراسر) گھاٹے میں ہے، وہ انہیںوعدہ دلاتا اور آرزو مندبناتاہے جبکہ اس کا وعدہ فریب اور دھوکہ دھڑی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔( ۵ )

۱۰۔( انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوة و البغضاء فی الخمر و المیسر و یصدکم عن ذکر الله وعن الصلوة فهل انتم منتهون )

شیطان تمہارے درمیان شراب، قمار بازی کے ذریعہ صرفبغض و عداوت ایجاد کرنا چاہتا ہے اور ذکر خدا اور نماز سے روکنا چاہتا ہے ، آیا تم لورک جاؤ گے؟( ۶ )

۱۱۔( یا بنی آدم لایفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنهما لبا سهما

____________________

(۱)اعراف۲۷(۲)اسرائ۲۷(۳)بقرہ۱۶۸۔۱۶۹(۴)بقرہ ۲۶۸.(۵)نسائ۱۱۹۔۱۲۰(۶)مائدہ۹۱


لیریهما سوء اتهما انه یراکم هو وقبیله من حیث لا ترونهم) ( ۱ )

اے آدم کے فرزندو! شیطان تمہیں دھوکہ نہ دے ، جس طرح تمہارے والدین کو جنت سے باہر نکالا اور ان کے جسم سے لباس اتروا دیا تاکہ ان کی شرمگاہ کوانہیں دکھلائے ، کیونکہ وہ اور اس کے ہمنوا ایسی جگہ سے تمہیں دیکھتے ہیں اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔

ج۔ ابلیس

الف۔ ابلیس لغت میں اس شخص کے معنی میں ہے جو حزن و ملال، غم و اندوہ، حیرت اور ناامیدی کی وجہ سے خاموشی پر مجبور؛ اور دلیل و برہان سے عاجز ہو۔

خدا وند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے :

( ویوم تقوم الساعة یبلس المجرمون )

جب قیامت آئے گی تو گناہگار اور مجرم افراد غم و اندوہ ، یاس اور نامیدی کے دریا میں ڈوب جائیں گے۔( ۲ )

ب۔ قرآن کریم میں ابلیس اس بڑے شیطان کا'' اسم علم'' ہے جس نے تکبر کیا اور سجدہ آدم سے سرپیچی کی؛ قرآن کریم میں لفظ شیطان جہاں بھی مفرد اور الف و لام کے ساتھ استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہی ابلیس ہے ۔

ابلیس کی داستان اسی نام سے قرآن کریم کی درج ذیل آیات میں ذکر ہوئی ہے:

۱۔( اِذ قلنا للملائکة اسجدو لآدم فسجدوا الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربه افتتخذونه و ذریته اولیاء من دونی و هم لکم عدوبئس للظالمین بدلاً )

جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کا سجدہ کرو! تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جوقوم جن سے تھا اور حکم الٰہی سے خارج ہو گیا ! آیا اسے اور اس کی اولاد کو میری جگہ پر اپنے اولیاء منتخب کرتے ہو جب کہ وہ لوگ تمہارے دشمن ہیں؟ ستمگروں کے لئے کتنا برابدل ہے ۔( ۳ )

۲۔( ولقد صدق علیهم ابلیس ظنه فأتبعوه الا فریقاً من المؤمنین وما کان له علیهم من

____________________

(۱)اعراف۲۷(۲)روم۱۲(۳)کہف۵۰


سلطانٍ...)

یقینا ابلیس نے اپنے گمان کو ان کے لئے سچ کر دکھایا اور سب نے اس کی پیروی کی سواء کچھ مومنین کے کیونکہ وہ ان پر ذرہ برابر بھی تسلط نہیں رکھتا۔( ۱ )

اس کی داستان دوسری آیات میں شیطان کے نام سے اس طرح ہے :

۱۔( فوسوس لهما الشیطان لیبدی لهما ما ووری عنهما من سوأتهما...و ناداهما ربهما الم انهکما عن تلکما الشجرة واقل لکما ان الشیطان لکما عدو مبین )

پھر شیطان نے ان دونوں کو ورغلایا تاکہ ان کے جسم سے جو کچھ پوشیدہ تھا ظاہر کرے اور ان کے رب نے انہیں آواز دی کہ کیا تمہیں میں نے اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟! اور میں نے نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ؟!( ۲ )

۲۔( الم اعهد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان انه لکم عدو مبین )

اے آدم کے فرزندو! کیا میں نے تم سے عہد نہیںلیا کہ تم لوگ شیطان کی پیروی نہ کروکیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے؟!( ۳ )

۳۔( ان الشیطان لکم عدو فاتخذوه عدواً انما یدعوا حزبه لیکونوا من اصحاب السعیر ) ( ۴ )

یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے لہٰذا اسے دشمن سمجھو وہ صرف اپنے گروہ کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اہل نار ہوں!

کلموںکی تشریح

۱۔ مارج: مرج مخلو ط ہونے کے معنی میں ہے اور مارج اس شعلہ کو کہتے ہیں جو سیاہی آتش سے مخلوط ہو۔

۲۔ سموم: دو پہر کی نہایت گرم ہوا کو کہتے ہیں، اس وجہ سے کہ زہر کے مانند جسم کے سوراخوں کے اندر اثر کرتی ہے ۔

۳۔ یزغ : منحرف ہوتا ہے ،و من یزغ منهم عن امرنا ، یعنی تمام ایسے لوگ جو راہ خدا سے

____________________

(۱)سبا۲۰۔۲۱

(۲)اعراف۲۰۔۲۲

(۳)یس۶۰

(۴)فاطر ۶.


منحرف ہوتے ہیں۔

۴۔ محاریب: جمع محراب، صدر مجلس یا اس کی بہترین جگہ کے میں ہے یعنی ایسی جگہ جو بادشاہ کو دوسرے افراد سے ممتاز کرتی ہے وہ حجرہ جو عبادت گاہ کے سامنے ہوتا ہے ، یاوہ مسجدیںجہاں عبادت ہوتی ہے ۔

۵۔ جفان : جفنہ کی جمع ہے ،کھانا کھانے کا ظرف اور برتن۔

۶۔ جواب:کھانا کھانے کے بڑے بڑے ظروف کو کہتے ہیں جو وسعت اور بزرگی کے لحاظ سے حوض کے مانند ہوں۔

۷۔ راسیات:راسیہ کی جمع ہے ثابت اور پایدار چیز کو کہتے ہیں۔

۸۔ عفریت: (دیو)جنوںمیں سب سے مضبوط اور خبیث جن کو کہتے ہیں۔

۹۔ رصد : گھات میں بیٹھنا، مراقبت کرنا، راصد و رصد یعنی پاسدار و نگہبان ''رصدا'' آیت میں کمین کے عنوان سے محافظ کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

۱۰۔ طرائق: طریقہ کی جمع ہے یعنی راہ، روش اور حالت خواہ اچھی ہو یا بری۔

قدداً: قدة کی جمع ہے جو ایسے گروہ اور جماعت کے معنی میں ہے جس کے خیالات جدا جدا ہوں اور طرائق قدداً یعنی ایسی پارٹی اور گروہ جس کے نظریات الگ الگ ہوں اور سلیقے فرق کرتے ہوں۔

۱۱۔ قاسطون:قاسط کی جمع ہے اور ظالم کے معنی میں ہے ، قاسطان جن ،ان ستمگروں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے ۔

۱۲۔ رشد: درستگی اورپائداری ؛ضلالت و گمراہی سے دوری۔

۱۳۔سفیہ: جو دین کے اعتبار سے جاہل ہو؛ یابے وقوف اوربے عقل ہو۔

۱۴۔ شطط: افراط اور زیادہ روی؛ حق سے دوررہ کر افراط اور زیادہ روی کو کہتے ہیں۔( وقلنا علیٰ الله شططاً ) یعنی حق سے دور باتوں کے کہنے اور خدا کی طرف ظالمانہ نسبت کے دینے میں ہم نے افراط سے کام لیا۔

۱۵۔ یعو ذون:پناہ مانگتے ہیں، یعوذبہ ، اس کی پناہ چاہتے ہیں اور خود کو اس سے منسلک کرتے ہیں۔

۱۶۔ رھقاً:طغیاناً و سفھاً ''زادوھم رھقا''یعنی ان کی سرکشی ، بیوقوفی اورذلت و خواری میں اضافہ ہوا۔

۱۷۔ دابةالارض:زمین پر چلنے والی شۓ ، دابة تمام ذی روح کا نام ہے خواہ نر ہوں یا مادہ، عاقل ہوں یا غیر عاقل لیکن زیادہ تر غیر عاقل ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہاں پر ''دابة الارض'' سے مراددیمک ہے جو لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔


۱۸۔ منساتہ:اس کا عصا، عرب جس لکڑی سے جانوروںکو ہنکاتے ہیں اس کو منساة کہتے ہیں۔

۱۹۔ غیب:غیر محسوس، یعنی ایسی چیز جو حواس کے ذریعہ قابل درک نہ ہو اور حس کی دسترس سے باہر ہو یا پوشیدہ ہو؛ جیسے : خدا وند خالق اور پروردگار کہ جس تک انسان اپنی عقل اور تدبیرکے سہارے اسباب و مسببات میں غور و فکر کر کے پہنچتا ہے اور اسے پہچانتا ہے نہ کہ حواس کے ذریعہ اس لئے کہ نگاہیں اسے دیکھ نہیں سکتیں اس کی بے مثال ذات حس کی دسترس سے باہر اور حواس اس کے درک سے عاجز اور بے بس ہیں، نیز جو چیزیں پوشیدہ اور مستور ہیں جیسے وہ حوادث جو آئندہ وجود میں آئیں گے یا ابھی بھی ہیں لیکن ہم سے پوشیدہ ہیں اور ہمارے حواس سے دور ہیں، یا جو کچھ انبیاء کی خبروں سے ہم تک پہنچا ہے ،یہ دونوں قسمیں یعنی : وہ غیب جس تک رسائی ممکن نہیں ہے اور حواس کے دائرہ سے باہر ہیں،یاوہ غیب جوزمان اور مکان کے اعتبار سے پوشیدہ ہے یا وہ خبریں جو دورو دراز کے لوگوں سے ہم تک پہنچتی ہیں ساری کی ساری ہم سے غائب اور پوشیدہ ہیں۔

۲۰۔ رجوم: رجم اور رُجْم کی جمع ہے یعنی بھگانے اور دور کرنے کا ذریعہ

۲۱۔زخرف:زینت، زخرف القول: باتوںکو جھوٹ سے سجانا اور آراستہ کرنا۔

۲۲۔ یوحی : یوسوس، ایحاء یہاں پر وسوسہ کرنے کے معنی میں استعمال ہواہے ۔

۲۳۔ غرور: باطل راستہ سے دھوکہ میں ڈالنا اور غلط خواہش پیدا کرنا۔

۲۴۔ یقترف ومقترفون: یقترف الحسنة او السیئة، یعنی حاصل کرتا ہے نیکی یا برائی، مقترف ، یعنی : کسب کرنے اور عمل کرنے والا۔

۲۵۔مبذرین : برباد کرنے والے ، یعنی جو لوگ اپنے مال کو اسراف کے ساتھ عیش و عشرت میں صرف کرتے ہیں۔ اور اسے اس کے مصرف کے علاوہ میں خرچ کرتے ہیں۔

۲۶۔ خطوات الشیطان: شیطان کے قدم، خطوہ یعنی ایک قدم،( ولا تتبعوا خطوات الشیطان ) یعنی شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور اس کے وسوسوں کی جانب توجہ نہ کرو۔

۲۷۔ فحشائ:زشت اور بری رفتار و گفتار اور اسلامی اصطلاح میں نہایت برے گناہوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

۲۸۔ مَیْسِر:قمار ( جوا) زمانہ جاہلیت میں عربوں کا قمار''ازلام'' اور ''قداح''کے ذریعہ تھا۔


ازلام : زَلَم کی جمع، تیر کے مانند لکڑی کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک پر لکھتے تھے: میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے اور دوسرے پر لکھتے تھے کہ میرے پروردگار نے نہی کی ہے اور تیسرے کو بدون کتابت چھوڑ دیتے تھے اور ایک ظرف میں ڈال دیتے تھے اگر امر و نہی میں سے کوئی ایک باہرآتا تھا تو اس پر عمل کرتے تھے۔ اوراگر غیر مکتوب نکلتا تھا تو دوبارہ تیروں کو ظرف میں ڈال کر تکرار کرتے تھے، ازلام کو قریش ایام جاہلیت میں کعبہ میں قرار دیتے تھے تاکہ خدام اور مجاورین قرعہ کشی کا فریضہ انجام دیں۔

قِداح: قدح کی جمع ہے لکڑی کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو طول میں دس سے ۱۵ سینٹی میٹر اور عرض میں کم، وہ صاف اور سیدھا ہوتا ہے کہ ایک پر ''ہاں'' اور دوسرے پر ''نہیں'' اور تیسرے کو بدون کتابت چھوڑ دیتے تھے اور اس کے ذریعہ جوا اور قرعہ انجام دیتے تھے۔

۲۹۔ سوأئتھما: عوراتھما، ان دونوں کی شرمگاہیں۔

۳۰۔قبیل:ایک جیسا گروہ اور صنف، ماننے والوں کی جماعت کہ آیہ میں : انہ یراکم ھو و قبیلہ اس سے مراد شیطان کے ہم خیال اور ماننے والے ہیں۔

۳۱۔ فَسَقَ فسق، لغت میں حد سے تجاوز کرنے اور خارج ہونے کو کہتے ہیں۔ اور اسلامی اصطلاح میں حدود شرع اور اطاعت خداوندی سے فاحش اور واضح دوری کو کہتے ہیںیعنی بدرفتاری اور زشت کرداری کے گندے گڑھے میں گر جانے کو کہتے ہیں؛ فسق کفر، نفاق اورگمراہی سے اعم چیز ہے ۔ جیسا کہ خداوند سبحان فرماتا ہے :

۱۔( وما یکفر بها الا الفاسقون )

فاسقوں کے علاوہ کوئی بھی میری آیتوں کا انکار نہیں کرتا۔( ۱ )

۲۔( ان المنافقین هم الفاسقون ) یقینا منافقین ہی فاسق ہیں۔( ۲ )

____________________

(۱)بقرہ۹۱

(۲)توبہ۶۷


۳۔( فمنهم مهتدٍ و کثیر منهم فاسقون )

ان میں سے بعض ہدایت یافتہ ہیں اور بہت سارے فاسقہیں۔( ۱ )

فسق ایمان کے مقابل ہے جیسا کہ ارشادہوتاہے:

( منهم المؤمنون واکثرهم الفاسقون )

ان میں سے بعض مومن ہیں اور زیادہ تر فاسق ہیں۔( ۲ )

د۔ روائی تفسیر میں جن کی حقیقت

سیوطی نے سورۂ جن کی تفسیر میں ذکر کیا ہے :

جنات حضرت عیسیٰ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان فاصلہ کے دوران آزاد تھے اور آسمانوں پر جاتے تھے،جب خداوند عالم نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مبعوث کیا تو آسمان دنیا میں ان کا جانا ممنوع ہو گیا اور ان کاشہاب ثاقب کے ذریعہ پیچھا کیا جاتا تھا اور بھگا دیا جاتا تھا۔ جنات نے ابلیس کے پاس اجتماع کیا تو اس نے ان سے کہا: زمین میں کوئی حادثہ رونما ہوا ہے جائو گردش کرو اور اس کا پتہ لگائو اور مجھے اس واقعہ سے باخبر کرو کہ وہ حادثہ کیا ہے ؟ پھر اکابر جنوں کے ایک گروہ کو یمن اور تہامہ کی طرف روانہ کیا ۔ تو ان لوگوں نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نمازصبح کی ادائیگی میں مشغول پایا جو ایک خرمہ کے درخت کے کنارے قرآن پڑھ رہے تھے؛ جب ان کے قریب گئے تو آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: خاموش رہو،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ سب کے سب اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے اور انذار میں مشغول ہو گئے کیونکہ ایمان لا چکے تھے پیغمبر بھی ان کی طرف اس آیت کے نزول سے پہلے متوجہ نہیں ہوئے تھے ۔

( قل اوحی الی انه استمع نفر من الجن )

کہو!مجھے وحی کی گئی ہے کہ کچھ جنوںنے میری بات پر کان دھرا.

کہاجاتا ہے کہ یہ گروہ اہل نصیبین کے سات لوگوں کا تھا۔( ۳ )

جو کچھ بیان ہوا ہے جن، شیاطین اور ابلیس کے مختصر حالات تھے جو قرآن کریم میں ذکر ہوئے ہیں لیکن جو کچھ روایات میں ذکر ہوا ہے وہ در ج ذیل ہے :

____________________

(۱)حدید۲۶(۲)آل عمران۱۱۰

(۳) تفسیر الدر المنثور ج۶ ص ۲۷۰.


۱۔ امام باقر نے سلیمان کے سلسلے میں فرمایا: سلیمان بن داؤد نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہا: خداوند عالم نے مجھے ایسی بادشاہی عطا کی ہے کہ اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئی ہے ، ہوا کو میرے قبضہ میں قرار دیا اور انسان و جن،وحوش و طیور کو میر امطیع اور فرمانبردار بنایا مجھے پرندوں سے بات کرنے کا سلیقہ دیا حتیٰ سب کچھ مجھے دیا ہے ، لیکن ان تمام نعمتوں اور بادشاہی کے باوجود ایک دن بھی خوشی نصیب نہیں ہوئی لیکن کل اپنے قصرمیں داخل ہونا چاہتا ہوںتاکہ اس کی بلندی پر جا کر اپنے تحت فرمان ز مینوں کا نظارہ کروں گا لہٰذا کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہ دینا تاکہ میں آسودہ خاطر رہوں اور کوئی ایسی چیز سننا نہیں چاہتا جو آج کے دن کو بد مزہ اور مکدر بنا دے ان لوگو ں نے کہا: جی ہاں ، ایسا ہی ہوگا۔

آنے والے کل کو اپنا عصا ہاتھ میں لیا اور اپنے قصر کی بلند ترین جگہ پر گئے اور اپنے عصا پر ٹیک لگا کر خوش و خرم اپنی سر زمین کا تماشہ کرنے لگے اور جو کچھ انہیں عطا ہوا تھا اس پرخوش حال ہوئے۔

اچانک ایک خوبرو، خوش پوشاک جوان پر نظر پڑ گئی، جوقصر کے ایک زاوئیے سے ان کی طرف آرہا تھا۔سلیمان نے اس سے پوچھا : کس نے تم کو اس قصر میں داخل کیا ہے جب کہمیں نے طے کیا تھا کہ آج قصر میں تنہا رہوں ؟ بتائو تاکہ میں بھی جانوں کہ کس کی اجازت سے داخل ہوئے ہو؟ اس جوان نے کہا: اس قصر کا پروردگار مجھے یہاں لایا ہے اور میں اس کی اجازت سے داخل ہوا ہوں؟ سلیمان نے کہا: قصر کا پروردگار اس کے لئے مجھ سے زیادہ سزاوار ہے ، تم کون ہو؟ کہا: میں موت کا فرشتہ ہوں، سلیمان نے کہا: کس لئے آئے ہو؟ کہا : آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں؛ کہا: جس بات کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ انجام دو اس لئے کہ آج کا دن میری خوشی کا دن ہے خدا وند عالم اپنی ملاقات کے علاوہ کوئی اور خوشی میرے لئے نہیں چاہتا! پھر ملک الموت نے سلیمان کی روح اسی حال میں کہ اپنے عصا پرتکیہ کئے ہوئے تھے قبض کر لی۔

سلیمان مدتوں اپنے عصا پر تکیہ دئے کھڑے رہے لوگ انہیں دیکھ کر زندہ خیال کر رہے تھے، پھر اختلاف اور فتنہ میں مبتلا ہوگئے ان میں سے بعض نے کہا: سلیمان اتنی مدت تک بغیر سوئے ، تھکے ، کھائے، پئے اپنے عصا کے سہارے کھڑے رہے لہٰذا یہی ہمارے پروردگار ہیں لہٰذ ا ان ہی کی عبادت کرنی چاہئے، دوسرے گروہ نے کہا: سلیمان نے جادو کیا ہے وہ جادو کے ذریعے ایسا دکھار ہے ہیں کہ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے عصا پر ٹیک لگائے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ مومنوں نے کہا: سلیمان نبی ہیں اور خدا کے بندے ہیں ، خدا جس طرح چاہے انہیں نمایاںکرے۔

اس اختلاف کے بعد، خدا وند عالم نے دیمکوںکو بھیجا تاکہ سلیمان کے عصا کو چاٹ جائیں، عصا ٹوٹا اور سلیمان اپنے قصر سے گر پڑے، یہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :


( فلما خرَّ تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المهین )

جب زمین پر گرے تو جنوں نے سمجھا کہ اگر غیب سے آگاہ ہوتے تو خوار کنندہ عذاب میں مبتلا نہیںہوتے۔( ۱ )

۲۔ امام صادق سے سوال ہوا :خدا وند عالم نے کس لئے آدم کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور عیسیٰ کو بغیر باپ کے خلق کیا اور باقی لوگوں کو ماں باپ دونوں سے؟ تو امام نے جواب دیا: اس لئے کہ لوگ خدا وند عالم کی قدرت کی تمامیت اور کمال کو جانیں اور سمجھیں کہ جس طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ کسی موجود کوفقط مادہ سے بغیر نر کے خلق کرے اسی طرح وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ موجود کو بغیر نر و مادہ کے خلق کرے۔ خداوندعالم نے ایسا کیا تاکہ اندازہ ہو کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔( ۲ )

قصص الانبیاء میں ذکر ہوا ہے :

خدا وند عالم نے ابلیس کو حکم دیا تاکہ آدم کا سجدہ کرے، ابلیس نے کہا: پروردگارا تیری عزت کی قسم! اگر مجھے آدم کے سجدہ سے معاف کر دے تو میں تیری ایسی عبادت کروں گا کہ کسی نے ویسی تیری عبادت نہیں کی ہوگی، خدا وند عالم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میری خواہش کے مطابق میری اطاعت ہو..۔( ۳ )

آپ سے ابلیس کے بارے میں پوچھا گیا: آیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا یا جنوں میں سے ؟ فرمایا: فرشتے اسے اپنوں میں شمار کرتے تھے اور صرف خدا جانتا تھاکہ ابلیس ان میں سے نہیں ہے ۔ پھر جب سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے اپنی حقیقت ظاہر کر دی۔

آپ سے بہشت آدم کے بارے میں سوال کیا گیا: آپ نے فرمایا: دنیاوی باغوں میں سے ایک باغ تھا جس پر ماہ وخورشید کی روشنی پڑتی تھی ، کیونکہ اگر وہ جاویدانی باغوں میں سے ایک باغ ہوتا تو ہرگز وہاں سے باہر نہیں کئے جاتے۔( ۴ )

خدا وند عالم کے کلام( فبدت لهما سؤائتهما ) برائیاں ان پر واضح ہوگئیں ۔( ۵ ) کے بارے میں

____________________

(۱)سورہ ٔ سبا ء ۱۴.اور بحار الانوار : ج ۱۴، ص ۱۳۶ ، ۱۳۷، بحوالہ ٔ علل الشرائع و عیون اخبار الرضا ـ.

(۲) بحار الانوار :ج ۱۱، ص ۱۰۸.

(۳) بحار الانوار : ج۱۱، ص۴۴ا.

(۴) بحار الانوار : ج۱۱، ص۱۴۳.

(۵)سورہ ٔ طہ:آیت ۱۲۱.


سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ان دونوں کی شرمگاہیں ناقابل دید تھیں پھر اس کے بعد آشکار ہو گئیں۔( ۱ )

ایک کافر اور زندیق نے امام صادق سے سوال کیا:

کہانت: (ستارہ شناسی، غیب گوئی )کس طرح اور کس راہ سے وجود میں آئی؟ اور کاہن کہاں سے لوگوں کو حوادث کی خبر دیتے تھے؟ امام نے فرمایا: کہانت زمانہ جاہلیت اور انبیاء کی فترت کے دور میں وجود میں آئی ہے ، کاہن قاضی اور فیصلہ کرنے والوں کی طرح ہوتا تھا اور لوگ جن مسائل میں مشکوک ہوتے تھے انکی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ لوگوںکو حوادث اور واقعات کی خبر دیتے تھے یہ خبر دینا بھی مختلف راہوں سے تھا جیسے ذکاوت،ہوشیاری، وسوسہ نفس اور روح کی زیر کی اسی ساتھ شیطان بہت سی باتیں کاہن کے دل میں القاء کردیتا تھا، اس لئے کہ شیطان ان مطالب کو جانتا تھا اور انہیں کاہن تک پہنچاتا تھا اور اسے اطراف و جوانب کے حوادث اور روداد سے با خبر کرتا تھا۔

رہا سوال آسمانی خبروں کا: جب تک شیاطین شہاب کے ذریعہ آسمان سے بھگائے نہیںجاتے تھے اور آسمانی اخبار کے سننے، کے لئے کوئی حجاب اور مانع نہیں تھا وہ مختلف جگہوں پر چوری چھپے بات سننے کے لئے گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے اور ان اخبار کو سنتے تھے، ان لوگوں کی چوری چھپے سننے سے ممانعت کی وجہ بھی یہ تھی کہ زمین پر وحی آسمانی کے مانندکوئی ایسی چیز وجود میں نہ آئے جو لوگوں کو شک و تردید میں مبتلا کردے اور وحی خداوندی کی حقیقت ان سے مخفی رکھے وحی جسے خدا وند عالم حجت ثابت کرنے اور شبہوں کو بر طرف کرنے کے لئے بھیجتا ہے اسی جیسی کوئی دوسری چیز نہیں ہونی چاہئے۔

ایک شیطان استراق سمع کے ذریعہ اخبار آسمانی سے ایک کلمہ حوادث زمین کے بارے میں سن کر اچک لیتا تھا اور اسے زمین پر لاکر کاہن کو القا کر دیتا تھا کاہن بھی اپنی طرف سے چند اس پرکلموں کااضافہ کر تا اور حق و باطل کو ملا دیتاتھا۔

لہٰذا جو کچھ کاہن کی پیشین گوئی درست ہوتی تھی وہ وہی چیز تھی جسے شیطان نے سن کر اس تک پہونچائی تھی اور جو غلط اور نادرست ہو جاتی تھی وہ اس کی اپنی طرف سے اضافی اور باطل باتیں ہوتی تھیں اور جب شیاطین استراق سمع سے روک دیئے گئے تو کہا نت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

آج کل شیاطین صرف لوگوں کی خبریں کا ہنوں تک پہنچاتے ہیں،لوگ جن چیزوں سے متعلق بات کرتے

____________________

(۱) بحار الانوار : ج۱۱، ص۱۴۵.


ہیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں شیاطین حوادث و روداد خواہ قریب کے ہوں یا دور کے جیسے چوری، قتل اور لوگوں کا گم ہو جانا ،دوسرے شیاطین تک پہنچادیتے ہیں،یہ لوگ بھی انسانوں کی طرح جھوٹے اور سچے ہیں۔اس زندیق نے امام سے کہا: شیاطین کس طرح آسمان پر جاتے تھے جبکہ وہ بھی دیگرانسانوںکی طرح غلیظ پُر اوربھاری بدن رکھتے ہیں اور سلیمان بن داؤد کے لئے ایسی عمارتیں بنائی کہ بنی آدم کے بس کی بات نہیں تھی؟امام نے فرمایا: جس وقت وہ جناب سلیمان نبی کے لئے مسخر ہوئے اسی وقت وہ سنگین، غلیظ اورپُر وزن ہو گئے ورنہ وہ تو نرم و نازک مخلوق ہیں ان کی غذا سونگھنا ہے اس کی دلیل ان کا آسمان پر استراق سمع کے لئے جانا ہے ، بھاری بھرکم اور وزنی جسم اوپر جانے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر یہ کہ زینہ ہو یا کوئی اور ذریعہ۔( ۱ )

ابلیس کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں کہ: کیا ابلیس فرشتوں میں سے ہے ؟ اورکیا وہ آسمانی امور میں دخالت رکھتا ہے ؟ فرمایا:ابلیس نہ تو فرشتوں میں سے تھا اور نہ ہی اس کا آسمانی امور میں کوئی دخل تھا وہ فرشتوں کے ساتھ تھا اور ملائکہ اسے اپنوں ہی میں خیال کرتے تھے یہ تو صرف خدا جانتا تھا کہ وہ ان میں سے نہیں ہے ، جب اسے آدم کے سجدہ کا حکم دیا گیا تو وہ چیز اس سے ظاہر ہو گئی جو اس کے اندر تھی ۔( ۲ )

جن ، شیاطین اور ابلیس کے بارے میں بحث کا خلاصہ

۱۔ جن:

ایک پوشیدہ مخلوق ہے جو قابل دید نہیں ہے خدا وند عالم نے قرآن کریم میں جنوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جنوںکو آگ کے سیاہی مائل شعلوں سے خلق کیا ہے ۔

۲۔ شیطان :

انسان ، جنات اور حیوان میں سے ہر سر کش اور متکبر شخص کو کہتے ہیں ، اس بحث میں شیطان سے مراد شیاطین جن ہیں ۔

۳۔ ابلیس:

محزون، حیرت زدہ اور دلیل و برہان سے ناامید اورخاموش، محل بحث ابلیس وہی جنی مخلوق ہے جو آدم کے سجدے کا منکر ہوا۔خدا وند عالم نے جناتوں کی داستان اور ان کا سلیمان نبی کے تابع فرمان ہونا اور ان کے لئے مجسمے ، محراب بڑے بڑے ظروف بنانے اور یہ کہ ان کے درمیان کوئی ایسا تھا جو سلیمان کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے ہی تخت بلقیس یمن سے شام لے آئے ان تمام چیزوں کی خبر دی ہے، اسی طرح جناب سلیمان کا ان پر تسلط جب کہ عصا

____________________

(۱) خصال شیخ صدوق : ج ۱، ص ۱۵۲. (۲)بحار : ج ۱۱، ص ۱۱۹.


کے سہارے کھڑے تھے اور خدا وند عالم ان کی روح قبض کر چکا تھا؛ نیز یہ بھی کہ مدتوں بعد تک اپنی جگہ پر باقی رہے یہاں تک کہ دیمکوں نے عصا کے اندر داخل ہو کر پورے عصا کو چاٹ ڈالا اور سلیمان گر پڑے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر جنوںکو اس کی خبر ہوتی اور غیب جانتے ہوتے تو اتنی مدت تک اپنے کاموں میں ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتے اور سختی برداشت نہ کرتے۔

خدا وند عالم نے ان تمام چیزوں کو قرآن کریم میں ہمارے لئے بیان کیا ہے ۔

خدا وند عالم نے فرمایا: شیاطین جنوں میں سے ہے، وہ لوگ مختلف جگہوں پر استراق سمع کے لئے کمین کرتے تھے تاکہ فرشتوں کی باتیں چرالائیں لہٰذا خاتم الانبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے بعد خدا وند عالم نے انہیں اس کام سے روک دیا اور فرشتوں سے کہا کہ انہیں آتشی شہاب کے ذریعہ بھگا کر جلا ڈالو، اسی طرح ابلیس کی داستان اور آدم و حوا کے بہکانے اور بہشت سے خارج کرنے تک کا واقعہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ، اس کی تفصیل آئندہ بحث میں آئے گی۔


۵۔ انسان

خدا وند عالم نے انسان کی خلقت اور اس کے آغاز کو قرآن کریم میں بیان کر تے ہوئے فرمایا ہے :

۱۔( انا خلقناهم من طین لازبٍ )

ہم نے انسانوں کو لس دار(چپکنے والی) مٹی سے پیدا کیا ہے۔( ۱ )

۲۔( خلق الانسان من صلصال کالفخار )

ہم نے انسانوں کو ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے ۔( ۲ )

۳۔( ولقد خلقنا الاِنسان من صلصالٍ من حمأٍ مسنون )

ہم نے انسان کو ایک ایسی خشک مٹی سے خلق کیا جو بدبودار اور گاڑھے رنگ کی مٹی سے ماخوذ تھی۔( ۳ )

۴۔( الذی احسن کل شیء خلقه و بدأ خلق الانسان من طین٭ ثم جعل نسله من سلالة من مائٍ مهین٭ ثم سواه و نفخ فیه من روحه و جعل لکم السمع و الابصار و الافئدة قلیلاً ما تشکرون )

خدا ند عالم نے جو چیز بھی خلق کی ہے بہترین خلق کی ہے اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ہے، پھر اس کی نسل کو ناچیز اور بے حیثیت پانی کے نچوڑسے خلق کیا پھر اس کو مناسب اور استواربنایا اور اس میں اپنی روح ڈال دی ؛ اور تمہارے لئے کان ، آنکھ اور دل بنائے مگر بہت کم ہیں جو اس کی نعمتوںکا شکر ادا کرتے ہیں۔( ۴ )

۵۔( یا اَیها الناس ان کنتم فی ریبٍ من البعث فانا خلقنا کم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة مخلقة و غیر مخلقة لنبین لکم و نقر فی الارحام ما نشاء الیٰ اجل

____________________

(۱)صافات۱۱.

(۲)رحمن۱۴.

(۳)حجر۲۶.

(۴) سجدہ : ۹۔ ۷.


مسمی ثم نخرجکم طفلا ثم لتبلغوا اشدکم و منکم من یتوفی و منکم من یرد الیٰ ارذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیئا )

اے لوگو! اگر تم لوگ روز قیامت کے بارے میں مشکوک ہو تو (غور کرو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے اور اس کے بعد جمے ہوئے خون سے ، پھر ''مضغہ '' ( گوشت کے لوتھڑے) سے کہ جس میں سے بعض شکل و صورت اور خلقت کے اعتبار سے مکمل ہوجا تا ہے اور بعض ناقص ہی رہ جاتا ہے ، تا کہ تمہیں بتائیں کہ ہم ہر چیز پر قادر ہیں؛ اور جنین کو جب تک چاہتے ہیں مدت معین کیلئے رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تم کو بصورت طفل رحم مادر سے باہر لاتے ہیں تاکہ حد بلوغ و رشد تک پہونچو اس کے بعد ان میں سے بعض مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ اتنی عمر پاتے ہیں کہ زندگی کے بدترین مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں اس درجہ کہ وہ علم و آگہی کے باوجود بھی کچھ نہیں جانتے۔( ۱ )

۶۔( ولقد خلقنا الانسان من سلالة من طین٭ ثم جعلناه نطفة فی قرار مکین٭ ثم خلقنا النطفة علقة فخلقنا العلقة مضغة فخلقنا المضغة عظاماً فکسونا العظام لحما ثم انشاناه خلقاً آخر فتبارک الله احسن الخالقین٭ثم انکم بعد ذلک لمیتون٭ ثم انکم یوم القیامة تبعثون )

ہم نے انسان کو مٹی کے عصارہ سے خلق کیا، پھر اسے ایک نطفہ کے عنوان سے پر امن جگہ میں قرار دیا، پھر نطفہ کو علقہ کی صورت میں اور علقہ کو مضغہ کی صورت میں اور مضغہ کو ہڈیوں کی شکل میں بنایا اور ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا؛ پھر اسے ایک نئی خلقت عطا کی ؛تو بابرکت ہے وہ خدا جوسب سے بہترین خلق کرنے والاہے ، پھر تم لوگ اس کے بعد مر جائو گے اور پھرروز قیامت اٹھائے جائوگے۔( ۲ )

۷۔( هو الذی خلقکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم یخرجکم طفلاً ثم لتبلغوا اشدکم ثم لتکونوا شیوخاًمنکم من یتوفی من قبل و لتبلغوا اجلا مسمیٰ و لعلکم تعقلون )

وہ ذات وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے خلق کیا پھر نطفہ سے پھر علقہ سے پھر تمہیں ایک بچہ کی شکل میں (رحم مادرسے) باہر لاتا ہے اس کے بعدتم کمال قوت کو پہنچتے ہو اور پھر بوڑھے ہوجاتے ہو، تم میں سے بعض لوگ اس مرحلہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور آخر کار تم اپنی عمر کی انتہاء کو پہنچتے ہو شاید غور و فکر کرو۔( ۳ )

۸۔( فلینظر الانسان مم خلق٭ خلق من ماء دافق٭ یخرج من بین الصلب و الترائب )

____________________

(۱) حج ۵

(۲)مومنون۱۲۔۱۶

(۳)مومن۶۸


انسان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے خلق ہواہے؛ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے خلق ہو اہے جوپیٹھ اورسینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے خارج ہوتا ہے ۔( ۱ )

۹۔( خلقکم من نفس واحدةٍ ثم جعل منها زوجها )

اس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑ ا خلق کیا۔( ۲ )

۱۰۔( هو الذی انشاء کم من نفس واحدة فمستقر و مستودع )

وہ ایسی ذات ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے خلق کیا لہٰذا تم میں سے بعض پائدار ہیں اور بعض ناپائدار ۔

۱۱۔( ولقد عهدنا الیٰ آدم من قبل فنسی ولم نجد له عزما٭و اذ قلنا للملائکةاسجدوا لآدم فسجدو ا الا ابلیس اَبیٰ٭ فقلنا یا آدم ان هذا عدولک و لزوجک فلا یخرجنکما من الجنة فتشقیٰ٭ ان لک الا تجوع فیها ولا تعریٰ، و انک لا تظمؤا فیها ولا تضحیٰ٭ فوسوس الیه الشیطان قال یا آدم هل ادلک علیٰ شجرة الخلد، و ملک لا یبلیٰ٭ فاکلا منها فبدت لهما سو أ تهما و طفقا یخصفان علیهما من ورق الجنة و عصی آدم ربه فغویٰ٭ ثم اجتبٰه ربه فتاب علیه و هدی قال اهبطا منها جمیعا بعضکم لبعض عدو فاِمَّا یا تینکم منی هدی فمن اتبع هدای فلا یضل و لا یشقیٰ، و من اعرض عن ذکری فان له معشیة ضنکا و نحشره یوم القیامة اعمیٰ )

ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد و پیمان لیا تھا لیکن انہوں نے بھلا دیا اورہم نے ان میں عزم محکم کی کمی پائی اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: ''آدم کا سجدہ کرو'' تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا! پھر ہم نے کہا اے آدم! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے! کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بہشت سے باہر کر دے جس کی بنا پر زحمت و رنج میں مبتلا ہو جائو؛ تم جنت میں کبھی بھوکے اور ننگے نہیں رہوگے؛ اور ہرگز پیاس اور شدید گرمی سے دوچار نہیں ہوگے لیکن شیطان نے انہیں ورغلایا اور کہا: اے آدم! کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں دائمی زندگی کے درخت اور لا زوال ملک کی راہنمائی کروں؟ پھر تو ان دونوں نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا اور ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں تو اپنی پوشش کے لئے جنتی پتوں کا سہارا لیاہاں آدم نے اپنے

____________________

(۱)طارق۵۔۷

(۲)انعام۹۸


پروردگار کی نافرمانی کی اور اس کی جزا سے محروم ہو گئے۔

پھر ان کے رب نے ان کاانتخاب کیا اور ان کی توبہ قبول کی اور راہنمائی کی اور فرمایا: تم دونوں ہی نیچے اثرجائو تم میں بعض ، بعض کادشمن ہے، لیکن جب تمہاری سمت میری ہدایت آئے گی اور اس ہدایت کی پیروی کروگے تو نہ گمراہ ہوگے اور نہ ہی کسی رنج و مصیبت میں گرفتار ! اور جو بھی میری یاد سے غافل ہو جائے گا وہ سخت اور دشوار زندگی سے دوچار ہوگا اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا محشور کریں گے۔( ۱ )

۱۲۔( ولقد خلقنا کم ثم صورناکم ثم قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس لم یکن من الساجدین٭ قال ما منعک الا تسجد اذ اَمرتک قال انا خیر منه خلقتنی من نار و خلقته من طین٭ قال فاهبط منها فما یکون لک ان تتکبر فیها فاخرج انک من الصاغرین٭ قال انظرنی الیٰ یوم یبعثون٭ قال انک من المنظرین٭قال فبمااغویتنی لاقعدن لهم صراطک المستقیم٭ ثم لا تینهم من بین ایدیهم و من خلفهم و عن ایمانهم و عن شمائلهم و لا تجد اکثر هم شاکرین٭قال اخرج منها مذئوما مدحورا لمن تبعک منهم لا ملئن جهنم منکم اجمعین ٭ و یا آدم اسکن انت و زوجک الجنة فکلا من حیث شئتما و لا تقربا هذه الشجرة فتکونا من الظالمین٭ فوسوس لهما الشیطان لیبدی لهما ما ووری عنهما من سوء اْ تهما و قال ما نهاکما ربکما عن هذه الشجرة الاا ن تکونا ملکین او تکونا من الخالدین٭وقاسمهما انی لکما لمن الناصحین٭ فدلهما بغرور فلما ذاقا الشجرة بدت لهما سوئاتهما و طفقا یخصفانِ علیهما من ورق الجنة ونادهما ربهما الم انهکما عن تلکما الشجرة و اقل لکما ان الشیطان لکما عدو مبین٭ قالا ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین٭ قال اهبطوا بعضکم لبعض عدو و لکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین٭ قال فیها تحیون و فیها تموتون و منها تخرجون )

ہم نے تمہیں خلق کیا پھر شکل و صورت دی؛ اس کے بعد فرشتوں سے کہا: ''آدم کا سجدہ کرو'' وہ سب کے سب سجدہ میں گر پڑے ؛ سوا ابلیس کے کہ وہ سجدہ گزاروں میں سے نہیں تھا خدا وندعالم نے اس سے کہا: ''جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے بازرکھا؟'' کہا: ''میں اس سے بہتر ہوں؛

____________________

(۱)طہ۱۱۵۔۱۲۴


مجھے تونے آگ سے خلق کیا ہے اور اسے مٹی سے !'' فرمایا: اس منزل سے نیچے اترجائو تجھے حق نہیں ہے کہ اس جگہ تکبر سے کام لے! بھاگ جا اس لئے کہ تو پست اور ذلیل ہے کہا: مجھے روز قیامت تک کی مہلت دے دے فرمایا :تو مہلت والوں میں سے ہے۔

بولا: اس وقت تونے بے راہ کر دیا ہے ؛ تو میں تیری راہ مستقیم پر ان لوگوں کے لئے گھات لگا کر بیٹھوں گا پھر انہیں سامنے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں سے بہکائوں گا؛ اور ان میں سے اکثر کو شکر گز ار نہیں پائے گا! فرمایا: اس مقام سے ذلت و خواری اور ننگ و عارکے ساتھ نکل جا یقینا جو بھی تیری پیروی کرے گامیں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا! اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھائو لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے ہو جائوگے! پھر شیطان نے ان دونوںکو وسوسہ میں ڈالاتاکہ جو کچھ ان کے اندرپوشیدہ تھا آشکار کر دے اور کہا: تمہارے رب نے اس درخت سے اس لئے منع کیا ہے کہ کھا کے فرشتہ نہ بن جائو گے، یا ہمیشہ رہنے والے بن جائو گے؛ اور ان کے اطمینان کے لئے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔

اس طرح سے انہیں فریب دیا اور جیسے اس درخت کو چکھا تو ان کی شرمگاہیں ان پر آشکار ہو گئیں: اور جنتی پتے اپنے آپ کو چھپانے کے لئے سینے لگے؛ ان کے پروردگار نے آواز دی کہ: کیا میں نے تم لوگوںکو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اورنہیں کہاتھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ؟!

ان لوگوں نے کہا: خدایا !ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا! اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کھائے گا تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں قرار پا ئیں گے! فرمایا: اپنی منزل سے نیچے اتر جا ، جبکہ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوںگے! اور تمہارے لئے زمین میں معین مدت تک کے لئے استفادہ کا موقع اور ٹھکانہ ہے؛ فرمایا: اس میں زندہ ہو گے، مرو گے : اور اسی سے نکالے جائو گے ۔( ۱ )

۱۳۔( قال أ اسجد لمن خلقت طینا٭ قال ارئیتک هذا الذی کرمت علی لئن أخرتن الیٰ یوم القیٰمة لاحتنکن ذریته الا قلیلا٭قال اذهب فمن تبعک منهم فان جهنم جزاؤکم جزا ئً موفورا٭واستفزز من استطعت منهم بصوتک و اجلب علیهم بخیلک و رجلک و شارکهم فی الاموال و الاولاد و عد هم و ما یعد هم الشیطان الا غروراً٭ ان عبادی لیس لک علیهم سلطان و کفیٰ بربک وکیلاً )

____________________

(۱)اعراف۱۱۔۲۵


ابلیس نے کہا: آیا میں اس کا سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے خلق کیاہے ؟ پھر کہا: بتاجس کو تونے مجھ پر فوقیت دی ہے (کس دلیل سے ایسا کیا ہے ؟) اگر مجھے قیامت تک زندہ رہنے دے تو اس کی تمام اولاد جز معدودے چند کے سب کوگمراہ اور تباہ کر دوں گا۔ فرمایا: جا! ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو تم سب کے لئیجہنم زبردست عذاب ہے ۔

ان میں سے جسے چاہے اپنی آواز سے گمراہ کر! پیادہ اور سوار(گمراہ کرنے والی) فوج کوان کی طرف روانہ کرنیز ان کی ثروت اور اولاد میں شریک ہو جا؛اور انہیں وعدوں میں مشغول رکھ! لیکن شیطان دھوکہ، فریب کے علاوہ کوئی وعدہ نہیں دیتا، تجھے کبھی میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں ہوگا؛ اوران کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا محافظ اور نگہبان تیرا رب ہے ۔( ۱ )

۱۴۔( قال رب بما اغویتنی لا زینن لهم فی الارض ولا غوینهم اجمعین٭ الا عبادک منهم المخلصین ٭ قال هذا صراط علیّ مستقیم٭ ان عبادی لیس لک علیهم سلطان الا من اتبعک من الغآوین٭ و ان جهنم لموعدهم اجمعین )

ابلیس نے کہا: خدایا! اب جب کہ تونے مجھے گمراہ کر دیا، میں بھی زمین میں ان کی زینت کا سامان فراہم کروں گا؛ اور سب کو گمراہ کردوں گا سوائے تیرے مخلص بندوں کے، فرمایا: یہ مستقیم راہ ہے جس کا ذمہ دار میں ہوں تو میرے بندوں پرمسلط نہیں ہو پائے گا مگر ایسے گمراہ جو کہ تیری پیروی کریں گے یقینا جہنم ان سب کا وعدہ گا ہ ہے ۔( ۲ )

کلمات کی تشریح

۱۔ لازب: سخت اور آپس میں چپکنے والی مٹی کو کہتے ہیں۔

۲۔ صلصال: حرارت کے بغیر خشک شدہ مٹی کو کہتے ہیں۔

۳۔ حمائ: سیاہ بدبودار مٹی

۴۔ مسنون: صاف اور شکل دار مٹی کو کہتے ہیں۔

۵۔ مخلقة : مکمل صورت کے حامل جنین کو کہتے ہیں۔

____________________

(۱)اسرائ۶۱۔۶۵

(۲)حجر۳۹۔۴۳


۶۔ صلب و الترائب: صلب مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں اور اس کے نطفہ کی نالیوں کو کہتے ہیں، و ترائب زن (لغت دانوںکی نظر کے مطابق ) عورت کے سینہ کی اوپری ہڈیوں کو کہتے ہیں۔

۷۔ وسوسہ :کسی کام کے لئے بغیر آواز کے کان میں کہنا، حدیث نفس، یعنی جو کچھ ضمیر اور دل کے اندر گزرتا ہے انسان کا فریب کھانا اور اس کا برائی کی طرف مائل ہونا شیطان کی طرف سے، اس کلمہ کی تفسیر خدا کے کلام میں بھی آئی ہے ؛ جیساکہ فرمایا ہے :

( و زین لهم الشیطان ما کانوا یعملون ) ( ۱ )

جو کام بھی وہ انجام دیتے تھے شیطان نے اسے ان کی نگاہ میں زینت دی ہے ۔

اور فرمایا:( زین لهم الشیطان اعمالهم ) شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوںمیں مزین کر دیا۔( ۲ )

۸۔ سوأة: ایسی چیزجس کا ظاہر کرنا قبیح اور چھپانا لازم ہے ۔

۹۔ عزماً: صبر اور شکیبائی کے معنی میں ہے ، کوشاں ہونا، نیز کسی کام کے لئے قطعی فیصلہ کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔

۱۰۔ جنة: درخت سے بھرے ہر ا س باغ کو کہتے ہیں جس میں درختوںکی کثرت کی وجہ سے زمین چھپ جائے، خدا وند عالم کے کلام میں بھی جنت اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ جیساکہ فرمایا ہے :

الف۔( قالوا لن نؤمن لک حتیٰ تفجرلنا من الارض ینبوعاً٭ او تکون لک جنة من نخیل و عنب ) ( ۳ )

ا ن لوگوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ تم ہمارے لئے اس زمین سے جوش مارتا چشمہ جاری کرو؛ یا کھجور اور انگور کا کوئی باغ تمہارے پاس ہو۔

ب۔( لقد کان لسبأ فی مسکنهم آیة جنتان عن یمین و شمالٍ کلوا من رزق ربکم و اشکرو ا له... فاعرضوا فأَرسلنا علیهم سیل العرم و بدلنا هم بجنتیهم جنتین ذواتی اکل خمط وَ أَ ثْلٍ وشیء من سدر قلیل )

قوم سبا کے لئے ان کی جائے سکونت میں خدا کی قدرت کی نشانیاں تھیں: دو ''باغ'' (عظیم اور وسیع)

____________________

(۱)انعام ۴۳.

(۲)انفال ۴۸۔ نحل ۶۳. نمل ۲۴. اور عنکبوت ۳۸.

(۳)اسراء آیت ۹۲ ۹۰.


دائیں اور بائیں ( ان سے ہم نے کہا) اپنے پروردگار کا رزق کھائو اور اس کا شکر ادا کرو ...لیکن وہ لوگ روگرداں ہوگئے، تو ہم نے ان کی طرف تباہ کن سیلاب روانہ کر دیا اور بابرکت دو باغ کو (بے قیمت اور معمولی) تلخ میوئوں اورکڑوے درختوں میں تبدیل کر دیا اور کچھ کو بیرکے درختوں میں تبدیل کر دیا۔( ۱ )

۱۱۔ خمط: ایسی اگنے والی چیزیں جنکا مزہ تلخ اور کڑوا یا کھٹاس مائل ہو۔

۱۲۔ ا ثل:سیدھے ، بلند، اچھی لکڑی والے درخت، جس میں شاخیں کثرت سے ہوں اور اگرہیں زیادہ، پتے لمبے اور نازک اور اس کے میوے سرخ دانہ کے مانند ہوں اور کھانے کے قابل نہ ہوں۔

اس کی وضاحت : بہشت آخرت کو جنت اور باغ سے موسوم کیاجانازمین کے باغوں سے مشابہت کی وجہ سے ہے اگر چہ ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے اور بہشت جاوداں کے نام سے یاد کی گئی ہے ، اس لئے کہ اس میں داخل ہونے والا جاوید ہے ۔ اسی لئے خدا وند عالم نے جنتیوںکی توصیف لفظ ''خالدون''سے کی ہے ۔

اور فرمایا ہے :

الف۔( قل اذٰلک خیر أَم جنة الخلد التی وعد المتقون...٭ لهم فیها ما یشاء ون خالدین )

کہو!آیا یہ (جہنم) بہتر ہے یا بہشت جاوید جس کامتقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ؟ جو کچھ چاہیں گے وہاں ان کے لئے فراہم ہے اورہمیشہ اس میں زندگی گز اریں گے۔( ۲ )

ب۔( والذین آمنوا وعملوا الصالحات اولائک اصحاب الجنة هم فیها خالدون )

جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا وہ لوگ اہل بہشت ہیں اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

لہٰذا قرآن کریم میں جنت کادونوں معنوںمیں استعمال ہوا ہے ۔

رہی وہ جنت اور باغ کہ جس میں خدا وند عالم نے آدم کو جگہ دی تھی پھر ان کو درخت ممنوعہ سے کھانے کے بعد وہاں سے زمین پر بھیج دیا وہ دنیاوی باغوں میں سے ایک باغ تھا، ہم اس کے بعد، ''حضرت آدم کی بہشت کہاں ہے'' ؟ کی بحث میں اسے بیان کریں گے۔

____________________

(۱)سبا ء ۱۶ ۱۵.

(۲)فرقان ۱۶ ۱۵.


۱۳۔تضحی: ضحی الرجل ، یعنی خورشید کی حرارت نے اسے نقصان پہنچایا؛ ولا تضحی یعنی : تم خورشید کی حرارت اور سوزش آمیز گرمی کا احساس نہیں کروگے ۔

۱۴۔ غویٰ: غوی کے ایک معنی زندگی کو تباہ کرنا بھی ہے اور آیت کی مراد یہی ہے ، یعنی آدم نے درخت ممنوعہ سے کھاکراپنی رفاہی زندگی تباہ کر لی ۔

۱۵۔ طفقا: کسی کام میں مشغول ہو جانا۔

۱۶۔ یخصفان: خصف چپکانے اور رکھنے کے معنی میں ہے یعنی پتوں کو اپنے جسموں پر چپکانا شروع کر دیا۔

۱۷۔ ضنکا: یعنی سخت اوردشوار زندگی اور تنگی میں واقع ہونا۔

۱۸۔ ووری: پوشیدہ اور پنہاں ہو گیا۔

۱۹۔ دلاھما: ان دونوں کو اپنی مرضی کے مطابق دھوکہ دیا اور راستہ سے کنویں میں ڈھکیل دیا یعنی بہشت سے نکال دیا ۔

۲۰۔ لاحتنکن: میں اس پر لگام لگائوں گا، یعنی تمام اولاد آدم پرو سوسہ کی لگام لگائوں گا اور زینت دیکر اپنے پیچھے کھینچتا رہوں گا۔

۲۱۔ اھبطوا: نیچے اتر جائو۔ ھبوط انسان کے لئے استخفاف کے طور پر استعمال ہوا ہے ، بر خلاف انزال کے کہ خدا وند عالم نے اس کوشرف اور منزلت کی بلندی کی جگہ استعمال کیا ہے جیسے زمین پر فرشتوںاور بارش اور قرآن کریم کا نزول ۔

جب کہا جائے: ھبط فی الشر، یعنی برائی میں مبتلا ہو گیا، و ھبط فلاں ، یعنی ذلیل اور پست ہو گیا و ھبط من منزلہ ، یعنی اپنی منزل سے گر گیا ۔

۲۲۔ استفززبصوتک: اپنے وسوسہ سے ابھار اور برانگیختہ کر، یعنی جس طرح اولاد آدم کو گناہ پر مجبور کر سکتا ہو کر!

۲۳۔ ''و اجلب علیہم '': بلند آواز سے انہیں ہنکاؤ ۔


۲۴۔ بخیلک و رجلک: یعنی اپنے سواروں اور پیادوں سے ، یعنی جتنا حیلہ، بہانہ، مکر و فریب دے سکتا ہو استعمال کر۔

۲۵۔( و شارکهم فی الاموال و الاولاد ) : بذریعہ حرام حاصل شدہ اموال اور زنا زادہ بچوں میں ان کے شریک ہو جا۔

۲۶ عدھم: انہیں باطل وعدے دے اور انہیں روز قیامت کے واقع نہونے اور اس کے عدم سے مطمئن کر دے

۲۷۔ سلطان: حاکمانہ اور قدرت مندانہ تسلط اور قابو کو کہتے ہیں ،سلطان دلیل و برہان کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ؛ جیسا کہ خدا وند عالم نے فرمایا ہے ۔( اتجادلوننی فی أسماء سمیتموها انتم و آباء کم ، ما انزل الله بها من سلطانٍ )

کیا ان اسماء کے بارے میں مجھ سے مجادلہ کرتے ہو جنہیں تم اور تمہارے آبائو اجداد نے (بتوںپر) رکھا ہے ؛جبکہ خدا وندعالم نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے ؟!

لہٰذا( ان عبادی لیس لک علیهم سلطان ) کے معنی یہ ہوں گے :تو میرے بندوں پر تسلط نہیں پائے گا یعنی تجھ کو ان پر کسی طرح قابو نہیں ہوگا اور توان پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔

آیات کی تفسیر

خدا وند عالم نے گز شتہ آیتوں میں انسان اول کی خلقت کے آغاز کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: اسے بدبودار، سیاہ ،لس دار ، کھنکھناتی ہوئی مٹی سے جو سختی اور صلابت کے اعتبار سے کنکر کے مانند ہے خلق کیا ہے پھر اس کی نسل کو معمولی اور پست پانی سے جو صلب اور ترائب کے درمیان سے باہر آتا ہے خلق کیا ؛پھر اسے علقہ اور علقہ کو مضغہ اور مضغہ کو ہڈیوں میں تبدیل کر دیا پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اس کے بعد ایک دوسری تخلیق سے نوازا اور اس میں اپنی روح ڈال دی اور اسے آنکھ، کان اور دل عطا کئے۔ اس لئے بلند وبالا ہے وہ خدا جو بہترین خالق ہے ؛پھر اسے ایک بچے کی شکل میں رحم مادر سے باہر نکالا تاکہ بلوغ و رشد کے مرحلہ کو پہنچے اور خلقت کے وقت اسی پانی کے نچوڑ اور ایک انسانی نفس سے نرومادہ کی تخلیق کی؛ تاکہ ہر ایک اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے اپنے وظیفہ کے پابند ہوںیہاں تک کہ بڑھاپے اور ضعیفی کے سن کو پہنچیں پھر انہیں موت دیکر زمین میں جگہ دی، اس کے بعد قیامت کے دن زمین سے باہر نکالے گا اور میدان محشر میں لائے گا تاکہ اپنے کرتوت اور اعمال کی جزا اور سزاعزیز اور عالم خدا کی حکمت کے مطابق پائیں۔


با شعور مخلوقات سے خدا کا امتحان

اول؛ فرشتے اور ابلیس: خدا وند عالم نے فرشتوں کو کہ ابلیس بھی انہیں میں شامل تھا زمین پر اپنے خلیفہ آدم کے سجدہ کے ذریعہ آزمایا، فرشتوں کی باتوں سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انہوںنے سمجھ لیا تھا کہ زمینی مخلوق خونریز اور سفا ک ہے ، اس لئے کہ زمین کی گز شتہ مخلوقات سے ایسا مشاہدہ کیا تھا اور خداوند عالم نے بھی جیسا کہ روایات( ۱ ) میں مذکور ہے ان کی نابودی کا فرشتوںکو حکم دیا تھا۔

جب خدا وند عالم نے فرشتوں کو آدم کے علم و دانش سے آگاہ کیا اور انہیں آدم کے سجدہ کا حکم دیا تو فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ سے انکار کرتے ہوئے دلیل پیش کی کہ تونے اسے مٹی سے خلق کیا ہے اور مجھے آگ سے وہ اس امتحان میں ناکام ہوگیا۔

دوسرے ؛ آدم اور حوا : خد اوند عالم نے آدم کے لئے ان کی زوجہ حوا کی تخلیق کی اور ان دونوں کو غیر جاوید بہشت میں جگہ دی اور ان سے فرمایا: جو چاہو اس بہشت سے کھائو لیکن اس درخت کے قریب نہ جاناورنہ ستمگروں میں ہو جائو گے ، آدم کو آگاہ کیا کہ اس بہشت میں نہ گرسنہ ہوں گے اور نہ برہنہ؛ نیز انہیں ابلیس سے محتاط رہنے کو کہا: یہ شخص تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، ہوشیار رہنا کہیں تمہیں بہشت سے باہر نہ کر دے کہ جس کی وجہ سے زحمت میں پڑ جائو؛ شیطان نے درخت ممنوعہ سے کھانے کوخوبصورت انداز میں بیان کیا تاکہ ان کی پوشیدہ شرمگاہیں آشکار ہو جائیں، اس نے آدم و حوا کو فریب دیا اور اس بات کا ان کے اندر خیال پیدا کر دیا کہ اگر اس درخت ممنوعہ سے کھالیں تو فرشتوں کی طرح جاوداں ہو جائیں گے اور ان دونوں کے اطمینان کی خاطر خدا وند سبحان کی قسم کھائی، آدم و حوا نے خیال کیا کہ کوئی بھی خدا کی قسم جھوٹی نہیں کھائے گا اس کے فریب میں آ گئے اور اس کے دام باطل میں پھنس گئے اور اس ممنوعہ درخت سے کھا لیاجس کے نتیجہ میں ان کی شرمگاہیں نمایاںہو گئیں تو ان لوگوں نے بہشتی درختوں کے پتوں سے چھپانا شروع کر دیا تو ان کے رب نے آواز دی، کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت کے قریب جا نے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور تم سے نہیں کہا تھا کہ شیطان نرا کھلا ہوا دشمن ہے ؟ ان لوگوں نے کہا: خدایا! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اورہم کو اپنی رحمت کے سایہ میں نہیں لے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوںمیں سے ہو جائیں گے۔

____________________

(۱)ان کی طرف '' اوصیاء کی خلقت کے آغاز'' کے متعلق روایات میں اشارہ کیا جائے گا ۔


آدم کی جنت کہاں تھی

خداوند عالم نے فرمایا: اس زمین میں ایک خلیفہ بنایا اور جس مٹی سے آدم کو خلق کیاتھا وہ اسی سرزمین کی مخلوط مٹی تھی ، اسی طرح اس زمین پر فرشتوں کو آدم کے سجدہ کا حکم دیا تو ابلیس نے آدم کے سجدہ سے انکار کیااور اسی طرح آدم کو زمین پر موجود بہشت میں داخل کر دیا اور انہیں خلقت کے بعد اس زمین سے کسی اور جگہ منجملہ بہشت جاوید میں منتقل نہیں کیا، تاکہ بہشت جاوید سے زمین کی طرف اخراج لازم آئے۔

اس مدعی پر ظہور آیات کے علاوہ ہماری دلیل یہ ہے کہ :جو بھی بہشت جاوید میں داخل ہو جائے وہ دائمی اور ابدی ہوگا اور کبھی اس سے باہر نہیں آئے گا، جیسا کہ اس کی تصریح روایات بھی کرتی ہیں۔( ۱ )

ہم ا س طرح خیال کرتے ہیں کہ یہ بہشت عراق اورکسی عربی جزیرہ میں تھی اور جو کچھ ''قاموس کتاب مقدس'' کے مولف نے بہت سارے دانشوروں سے نقل کیا ہے کہ یہ بہشت فرات کی سر زمین پر تھی، صحیح ہے ۔( ۲ )

اس بات کی تائید صراحت کے ساتھ توریت کی عبارت سے بھی ہوتی ہے:دریائے بہشت حضرت آدم علیہ السلام چار حصوںمیں تقسیم ہوتا ہے جن سے مراد فرات، دجلہ، جیحون اور فیشون ہیں ۔( ۳ )

کتاب قاموس مقدس میں مذکور ہے کہ بعض محققین نے احتمال دیا ہے کہ جیحون اور فیشون بابل شہر (عراق) میں ہیں۔( ۴ )

اس لئے جیحون سے مراد معروف دریائے جیحون نہیں ہے ، یعنی وہ ندی جو خوارزم (آرال ) سے نزدیک ایک دریامیں گرتی ہے ، یاقوت حموی نے اسے اپنی معجم البلدان میں ذکر کیا ہے ۔

____________________

(۱) میخی اور ہیرو گلیفی کی پیروی کرتے ہیں اس کے علاوہ جغرافیائی حقیقی تحقیق اور نہر فرات کی فرعی ندیوں ان کے اسماء کی اسلامی سرزمینوں میں بھی تاکید کرتے ہیں ۔

(۲) قاموس کتاب مقدس، مادہ عدن۔

(۳)کتاب عہدعتیق ( توریت ) : طبع ریچرڈ واٹس ،لندن ، ۱۸۳۹ ء ، سفر تکوین ، باب دوم ، شمارہ : ۱۴۔ ۱۰.

(۴) قاموس کتاب مقدس ،مادہ : جیحون اور فیشون عظیم دانشور محقق استاد سامی البدری حضرت آدم کی بہشت کے بارے میں غیر مطبوعہ ایک بحث ہمارے تحریر فرمایا ہے : وہ چہار گانہ ندیاں فرات کی شاخ ہیں اور انہوں نے اس بات کاذکرکیا ہے کہ وہ اس لئے ترجمہ میں آرامی عبری توریت اور سامری سے استناد کرتے ہیں اور فرات کی شاخوں اور ان کے راستوں میں واقع شہروں سے متعلق اپنے خطی آثارمیں میخی اور ہیرو گلیفی کی پیروی کرتے ہیں ۔


جب حضرت آدم بہشت سے نیچے آئے تو بابل فرات کے علاقے میں ساکن ہوئے اور جب فوت کر گئے تو آپ کے فرزند شیث نے کوہ ابو قبیس مکہ کے ایک غار میں انہیں دفن کر دیا پھر اس کے بعد حضرت نوح نے ان کی ہڈیوں کو اپنی کشتی میں رکھا اور کشتی سے نیچے اتر نے کے بعد نجف میں دفن کر دیا۔

لہٰذا جیسا کہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں حضرت آدم کا اس بہشت سے نکلنا تھا جو عراق میں تھی اور جب وہاں سے باہر آئے تو عراق میں اسی سے نزدیک سر زمین کی طرف گئے۔

انہوں نے اس باغ کے درختوں اورپھلوںسے پودوں اور بیجوںکولیا ، تاکہ خدا وند عالم کی ہدایت کے مطابق اسے لگائیں اور دانہ اگائیں جیسا کہ روایات صریحاً اس بات کی وضاحت کرتی ہیں۔

ان کے عراق میں سکونت کے بارے میں ''بابلیون'' کے مادہ میں معجم البلدان میں ذکر ہوا ہے کہ اہل توریت نے کہا ہے : آدم کی منزل بابل میں تھی اور بابل فرات اور دجلہ کے درمیان ایک سر زمین ہے۔ نیز مادہ بابل میں قاموس کتاب مقدس میں جو ذکر ہے اس کا خلاصہ یوںہے :

فرات اور دجلہ کے پانی ان تمام علاقوں میں جاری ہوتے تھے، اسی لئے وہاں کی زمینیں زر خیز اور بابرکت مشہور تھیں اور انواع و اقسام کے میوے اور دانے وہاں فراہم تھے؛ اس کا قدیم نام شنعار تھا۔

معجم البلدان میں مادہ بابل کے ذیل میں ذکر ہوا ہے کہ، بعض اہل توریت نے کہا ہے : بابل وہی کوفہ ہے اور نوح کشتی سے نیچے اترنے کے بعد اپنی جائے سکونت اور جائے پناہ کی تلاش کی تو بابل میں رہائش اختیار کی اور نوح کے بعداس میں وسعت ہو گئی۔

مکتب خلفاء کی روایات میں حضرت آدم کے دفن سے متعلق ذکر ہوا ہے کہ، نوح نے انہیں بیت المقدس میں دفن کیا ہے اور مکتب اہل بیت کی روایتوں میں مذکور ہے کہ نوح نے حضرت آدم کو نجف میں اسی مقام پر جہاں حضرت علی دفن ہوئے ہیں دفن کیا ہے اور نوح بھی اسی جگہ دفن ہوئے ہیں، حضرت آدم کی عراق میں رہائش کی تائید جو کچھ روایات میں ذکر ہو ا ہے اس سے ہوتی ہے ۔

پہلے : آدم مکہ گئے اور عرفات ، مشعر اور منیٰ میں قیام کیا، ان کی توبہ عرفات میں قبول ہوئی ، پھر اس کے بعد مکہ میں حضرت حوا سے ملاقات کی، خدا وند عالم نے انہیں بیت اللہ کی تعمیر پرمامور کیا، بعید ہے کہ آدم دور دراز ملک جیسے ہند سے حج کے لئے مامور ہوئے ہوں، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے جن کا میرے نزدیک صحیح ہونا ثابت نہیں ہے ۔


دوسرے: دیگر روایات میں مذکور ہے کہ ، حضرت آدم نجف کے علاقہ غری میں دفن ہوئے ہیں۔ اور خاتم الانبیاء کے دفن سے متعلق روایت میں ہے : ہر پیغمبر جہاں اس کی روح قبض ہوتی ہے وہیں دفن ہوتاہے ۔

مذکورہ بالا بیان سے نتیجہ نکلتا ہے : حضرت آدم کی بہشت فرات کی زمینوں میں تھی اور جب حضرت آدم اس سے باہر آئے تو اس کے نزدیک ہی اترے، خد اوند عالم نے اس باغ کو خشک کر دیا اور روئے زمین سے اٹھا لیا، تو حضرت آدم نے دوسری جگہ کو درختوں سمیت کشت و کار کے ذریعہ زندہ اور آباد کیا، خدا وند عالم بہتر جانتا ہے ۔

الٰہی امتحان اور حالات کی تبدیلی

اول ؛ فرشتے اور ابلیس: تمام فرشتے اور ابلیس جوکہ ان کے ساتھ تھا، خدا کی عبادت کرتے تھے اور جو بھی خدا انہیں حکم دیتا تھاآسمانوں اور زمینوں میں وہ اس کی اطاعت کرتے تھے اورمعمولی نافرمانی اور خلاف ورزی کے بھی مرتکب نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ خدا وند عالم نے انہیں خبر دی کہ میں زمیں پر خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، تو ان لوگوںنے اس خلقت کی حکمتجاننا چاہی اور جب خدا نے اس کی حکمت سے انہیں باخبر کیا اور فرمایا کہ اس کوسجدہ کریں( جس طرح کہ وہ تمام مواقع پر مطیع اور فرمانبردار تھے) سوائے ابلیس کے سب نے اطاعت کی، اس ( ابلیس) نے ان تمام خداوندی احکام اور دستورات کی مخالفت نہیںکی جو اس کی نفسانی خواہشات اور تکبر سے ٹکراتے نہیں تھے لیکن آدم کے سجدہ سے متعلق حکم میں اس نے اپنی خواہشات کا اتباع کیا اور حکم خداوندی کی مخالفت کی اسی لئے جو اس نے راہ اختیار کی تھی فرشتوں کے مقام و منزلت نیز ان لوگوں کے درجہ سے (جنہوں نے خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کی تھی اور ہمیشہ اس کے حکم کے پابند تھے) نیچے آگیا اور عصیان و نافرمانی اور خواہشات کی پیروی کا مرتکب ہو گیااور خداوندعالم نے اس سے کہا: اس منزل سے نیچے اتر جا، تجھے کوئی حق نہیں ہے کہ اس جگہ تکبر اور کبریائی کا اظہار کرے۔

ابلیس ایسی حالت کے باوجود بھی خدا وند عالم کے سامنے نادم اور پشیمان نہ ہوا اور خدا سے توبہ نہ کی اور اس سے معذرت اور بخشش کی درخواست نہیں کی؛ بلکہ اپنی بدبختی کے لئے مزید خدا سے درخواست کی؛ اور بولا: مجھے قیامت تک کی مہلت دیدے! خداوند عالم نے کہا: تجھے مہلت دی گئی۔


اس ملعون نے وعدہ الٰہی دریافت کرنے اور اپنی مراد کو پہنچنے کے بعد بے جھجھک خدا کے مقابل اپنے موقف کا اظہار کر دیا اور کہا: جس کوتونے مجھ پر فوقیت اور برتری دی ہے میں اس سے انتقام لوں گا۔ اور اس کی نسل و ذریت کولگام لگاکر اپنے پیچھے گھمائوں گا اور سامنے ، پیچھے، دائیں اور بائیںسے داخل ہوں گا اور ان کے برے اعمال اور رفتار کو ان کی نظرمیں خوبصورت بنائوں گا؛یہاں تک کہ تو ان میں اکثریت کو ناشکر گزار پائے گا۔ خداوند عالم نے فرمایا:

( اذهب فمن تبعک منهم فان جهنم جزاؤکم جزاء موفوراً ) ( ۱ )

جا! ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے، جہنم تم لوگوں کی سزا ہے جو بہت سنگین سزا ہے۔

ہاں ابلیس صرف اس راہ کے انتخاب سے معصوم فرشتوں کے منصب سے گرکر خدا کے نافرمان بندوں کی صف میں شامل ہو گیا ۔ اور اس منزل پر آنے کے باوجودنادم اورپشیمان ہوکر خدا کی بارگاہ میں توبہ اور انابت بھی نہیں کی، بلکہ اپنے اختیار سے ذلت، خواری کے پست درجہ میں پڑا رہا، یعنی ان لوگوں کی منزل میں جو گمراہ ہیںاور ہمیشہ گمراہی پر اصرار کرتے ہیں۔

دوسرے : آدم و حوا

خدا وند عالم نے آدم کی تخلیق کے بعد فرشتوں کو ان کے سجدہ کا حکم دیا اور حوا کی تخلیق کی اور دونوں کو اس بہشت میں جگہ دی یعنی وہ بہشت جسے اس روئے زمین پر ہونا چاہئے، اس لئے کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم کو اسی زمین کی مٹی سے خلق کیا ہے اور انہیں اسی زمین پر زندگی کرنے کے لئے آمادہ کیا ( اور کتاب و سنت میں اس بات کی تصریح نہیں ملتی کہ خداوند عالم نے آدم کو خلقت کے بعد اس زمین سے اُس بہشت میں کو جو کسی دوسرے ستارے میں تھی منتقل کیا اور دوبارہ انہیں اس زمین کی طرف لوٹایا) لہٰذا ناچار اس بہشت کو جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اسی زمین پرہونا چاہئے سوائے یہ کہ یہ بہشت جیسا کہ معلوم ہوتا ہے اپنی آپ مثا ل اور بے نظیر تھی ہو اور آدم و حوا کی خلقت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ تھی اور ا س کا وجود خلقت کے اس مرحلہ کے تمام ہونے پر ختم ہوگیاہے اور خدا بہتر جانتا ہے ۔

اس بہشت کی خصوصیات اور امتیازات میں خداوند عالم نے بعض کی طرف اشارہ کیا ہے منجملہ حضرت آدم سے فرمایا: تم اس بہشت میں نہ بھوکے رہوگے نہ پیاسے اور نہ برہنہ اور نہ ہی آفتاب کی گرمی سے کوئی تکلیف ہوگی نیز ان سے اور حوا سے فرمایا:

____________________

(۱)اسراء ۶۳


اس باغ سے جو چاہو کھائو، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ستمگروں میں سے ہو جائوگے۔

اور آدم کے گوش گز ار کیا کہ شیطان تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ہوشیار رہنا کہیں تمہیں وہ اس بہشت سے باہر نہ کر دے۔

حضرت آدم شیطان کے باربار خدا کی قسم کھانے اور اس کے یہ کہنے سے کہ میں تمہارا خیر خواہ اور ہمدرد ہوں اپنے اختیار سے حو اکے ساتھ شیطان کے وسوسے کا شکار ہو گئے اور خدا وند عالم کے فرمان کے مطابق اپنی اطمیان بخش اور مضبوط حالت سے نیچے آگئے اور وسوسہسے متاثرہوگئے؛ اس کی سزا بھی اطمینان بخش بہشت رحمت سے دنیائے زحمت میں قدم رکھنا تھا، ایسی دنیا جو کہ رنج و مشقت ، درد و تکلیف اور اس عالم جاوید کا پیش خیمہ ہے ،کہ جس میں بہشتی نعمتیں ہیں یا جہنمی عذاب۔

اس طرح سے انسان نے امانت کا با ر قبول کیا ایسی امانت جس کے بارے میں خدا وند عالم نے خبر دیتے ہوئے فرمایا:

( انا عرضنا الامانة علیٰ السمٰوات و الارض و الجبال فأَبین ان یحملنها و وأشفقن منها و حملها الانسان انه کان ظلوما جهولاً، لیعذب الله المنافقین و المنافقات و المشرکین و المشرکات و یتوب الله علیٰ المؤمنین و المؤمنات و کان الله غفوراً رحیماً ) ( ۱ )

ہم نے بارامانت (تعہد و تکلیف) کوآسمان، زمین اور پہاڑوںکے سامنے پیش کیاانہوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے خوفزدہ ہوئے ، لیکن انسان نے اسے اپنے دوش پر اٹھا لیا، وہ بہت جاہل اور ظالم تھا، ہدف یہ تھا کہ خد اوند عالم منافق اور مشرک مردوں اور عورتوں کو عذاب دے اور با ایمان مردوں و عورتوں پر اپنی رحمت نازل کرے، خدا وند عالم ہمیشہ بخشنے والا اور رحیم ہے ۔

امانت سے اس آیت میں مراد(خداوند عالم بہتر جانتا ہے) الٰہی تکالیف اور وہ چیزیں ہیںجو انسان کو انسانیت کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں۔

آسمان و زمین پر پیش کرنے سے مراد مخلوقات میں غیر مکلف افراد پر پیش کرنا ہے ، یہ پیشکش اور قبولیت انتخاب الٰہی کامقدمہ تھی تاکہ مخلص اور خالص افراد کو جدا کر دے ۔

اس لحاظ سے آدم کا گناہ بار امانت اٹھانے میں تھا، ایسی امانت جس کے آثار میں سے وسوسۂ شیطانی

____________________

(۱)احزاب ۷۲۔۷۳


سے متاثر ہونا ہے ۔ یہ تمام پروگرام حضرت آدم کی آفرینش سے متعلق ایک مرحلہ میں تھے جو کہ ان کی آخری خاکی زندگی سے کسی طرح مشابہ نہیں ہیں نیز عالم تکوین و ایجاد میں تھے قبل اس کے کہ اس خاص بہشت سے ان کا معنوی ہبوط ہوا اور اس سے خارج ہو کر اس زمین مین تشریف لائے ۔

کیونکہ انبیاء اس عالم میں معصوم اور گناہ سے مبرا ہیںاور حضرت آدم اپنے اختیار اورانتخاب سے جس عالم کے لئے خلق کئے گے تھے اس میں تشریف لائے،اس اعتبار سے حضرت آدم کا عصیان اس معنوی امر سے تنزل ہے (خدا وند عالم بہتر جانتا ہے) ۔


آیات کی شرح اور روایات میں ان کی تفسیر

پہلے۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول روایات:

۱۔ احمد بن حنبل، ابن سعد، ابو دائوداور ترمذی نے اپنی سندوں سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے: آپ نے فرمایا: خدا وند عالم نے آدم کو ایک مشت مٹی جوزمین کے تمام اطراف سے لی تھی خلق کیا؛ اسی وجہ سے بنی آدم زمین کے ہم رنگ ہیں بعض سرخ، بعض سفید، بعض سیاہ اور کچھ لوگ انہیں گروہوںمیں میانہ رنگ کے مالک ہیں...۔( ۱ )

۲۔ ابن سعد نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

جب حضرت آدم سے یہ خطا سرزد ہوئی تو ان کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی جبکہ اس سے پہلے ان کے لئے نمایاںنہیں تھی۔( ۲ )

۳۔ شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ خصال میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ذکر کیا ہے :

آدم و حوا کا قیام اس بہشت میں ان کے خارج ہونے تک دنیاوی دنوں کے لحاظ سے صرف سات گھنٹہ تھا یہاں تک کہ خدا وند عالم نے اسی دن بہشت سے نیچے بھیج دیا۔( ۳ )

____________________

(۱)سنن ترمذی ، ج ۱۱، ص ۱۶، سنن ابی داؤد ج ، ۴، ص ۲۲۲، حدیث ۴۶۹۳،مسند احمد ج ، ۴، ص ۴۰۰، طبقات ابن سعد ، طبع یورپ ، ج ۱، حصہ اول ص۵۔ ۶

(۲) طبقات ابن سعد ، ج ، ۱حصہ اول ، طبع یورپ ، ص ۱۰.

(۳)نقل از بحار الا نوار ج ۱۱، ص ۱۴۲.


دوسرے۔ حضرت امام علی سے مروی روایات

الف:۔ فرشتوںکی خلقت کے بارے میں

کتاب بحار الانوار میں مذکور ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی ـ خدا وند عالم سے عرض کرتے ہیں:

....جن فرشتوں کو تونے خلق کیا اور انہیں اپنے آسمان میں جگہ دی ان میں کسی طرح کی کوتاہی اور سستی نہیں ہے؛ نیز ان کے یہاں نسیان وفراموشی کا گز ر نہیں ہے اور عصیان و نافرمانی ان کے اندر نہیں ہے وہ لوگ تیری مخلوقات کے با شعور اور دانا ترین افراد ہیں؛ وہ تجھ سے سب سے زیادہ خوف رکھتے اورتجھ سے نزدیک ترین اور تیری مخلوقات میں سب سے زیادہ اطاعت گزاراورفرمانبردارہیں؛ انہیں نیند نہیں آتی ، عقلی غلط فہمیاں ان کے یہاں نہیں پائی جاتی، جسموں میں سستی نہیں آتی، وہ لوگ باپ کے صلب اور ماں کے رحم سے وجود میں نہیں آئے ہیں نیز بے حیثیت پانی (منی) سے پیدا نہیںہوئے ہیں؛ تونے ان لوگوںکو جیسا ہونا چاہئے تھا خلق کیا ہے اور اپنے آسمانوں میں انہیں جگہ دی ہے اور اپنے نزدیک انہیں عزیز و مکرم بنایا ہے اور اپنی وحی پر امین قرار دیا آفات و بلیات سے دور اور محفوظ رکھ کر گناہوں سے پاک کیا اگرتونے انہیں قوت نہ دی ہوتی تو وہ قوی نہ ہوتے؛ اگر تونے انہیںثبات و استقلال نہ دیا ہوتا تو وہ ثابت و پائدار نہ ہوتے۔

اگر تیری رحمت ان کے شامل حال نہ ہوتی تو وہ اطاعت نہیں کرتے اورا گر تو نہ ہوتا تو وہ بھی نہوتے، وہ لوگ جو تجھ سے قرابت رکھتے ہیں اور تیری اطاعت کرتے اور تیرے نزدیک جو اپنا مخصوص مقام رکھتے ہیں اور ذرہ برابر بھی تیرے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ان سب کے باوجود اگر نگاہوں سے تیرا پوشیدہ مرتبہ مشاہدہ کرتے ہیں تو اپنے اعمال کو معمولی سمجھ کراپنی ملامت و سرزنش کرتے ہیں اور راہ صداقت اپناتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیری عبادت کا جو حق تھا ویسی ہم نے عبادت نہیں کی ؛اے خالق و معبود! تو پاک و منزہ ہے تیرا امتحان و انتخاب مخلوقات کے نزدیک کس قدر حسین وخوبصورت اور باعظمت ہے ۔( ۱ )

ب:۔آغاز آفرینش

خلقت کی پیدائش کے بارے میں حضرت امام علی ـ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے:

____________________

(۱) بحار الانوار ج ۵۹ ، ص ۱۷۵، ۱۷۶.


خدا وند عالم نے فضائوں کو خلق کیا، اس کی بلندی پر موجزن اور متلاطم پانی کی تخلیق کی، سرکش اور تھپیڑے کھاتا ہوا پانی؛ بلند موجوں کے ساتھ کہ جس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے پھر اسے تیز و تند اور سخت ہلا دینے والی ہوا کی پشت پر قرار دیاجس نے اپنے شدید جھونکوںسے (جس طرح دہی اور دودھ کو متھا جاتا ہے اس کو متھتے اور حرکت دیتے ہیں؛اور اس سے مکھن اور بالائی نکالتے ہیں اور اس کا جھاگ اوپر آجاتا ہے) ان جھاگوں کو پراکندہ کر دیا پھر وہ جھاگ کھلی فضا اور وسیع ہوا میں بلندی کی طرف چلے گئے تو خدا وند عالم نے ان سے سات آسمان خلق کئے اور اس کی نچلی سطح کو سیلاب سے عاری موج اور اس کے اوپری حصہ کو ایک محفوظ چھت قرار دیا، بغیر اس کے کہ کوئی ستون ہو اور وسائل و آلات سے مل کر ایک دوسرے سے متصل و مرتبط ہوں؛ آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت بخشی پھر فوقانی آسمانوں کے درمیان جو کہ آسمان دنیا کے اوپر واقع ہے ،شگاف کیا پھر انہیں انواع و اقسام کے فرشتوں سے بھر دیا، ان میں سے بعض دائمی سجدہ کی حالت میں ہیںجو کبھی سجدے سے سر نہیںاٹھاتے تو بعض رکوع دائم کی حالت میں ہیں جو کبھی قیام نہیں کرتے، بعض بالکل سیدھے منظم صفوف کی صورت میں مستقیم اورثابت قدم ہیں اور حرکت نہیں کرتے؛ خدا کی تسبیح کرتے ہوئے کبھی تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے، انہیںخواب آنکھوں میں عقلوں کی غفلت ، جسموں میں سستی، فراموشی، بے توجہی اور بے اعتنائی لاحق نہیں ہوتی، بعض وحی خداوندی کے امین ہیں اور رسولوں تک پیغام رسانی کے لئے اس کی زبان اور حکم خداوندی پہنچانے کے لئے ہمیشہ رفت و آمد رکھتے ہیں، بعض اس کے بندوں کے محافظ اور بہشت کے دروازوں کے نگہبان ہیں، ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کے قدم پست سر زمینوں پر ہیں اور سر آسمان سے بھی اوپر ہیں... وہ لوگ اپنے پروردگار؛ کی توہم و خیال کے ذریعہ تصویر کشی نہیں کرتے، خدا کی خلق کردہ مخلوقات کے اوصاف کو خدا کی طرف نسبت نہیں دیتے اسے مکان کے دائرہ میں محدود نہیں کرتے اور امثال و نظائر کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔

ج:۔ انسان کی خلقت

امام نے فرمایا: خدا نے پھر زمین کے سخت و نرم ، نمکین اور شیرین مختلف حصوں سے کچھ مٹی لی؛ پھر اسے پانی میں مخلوط کیا تاکہ خالص ہو جائے، پھر اسے دوبارہ گیلا کر کے جلادی اور صیقل کیا ، پھر اس سے شکل و صورت جس میں اعضا ء وجوارح والی خلق کی اور اسے خشک کیا پھر اسے استحکام بخشا تاکہ محکم و مضبوط ہو جائے روز معین و معلوم کے لئے۔


پھر اس میں اپنی روح پھونکی، تو ایک ہوشیار انسان کی شکل میں ظاہر ہوا؛ اور حرکت کرتے ہوئے اپنے ،دل و دماغ؛ عقل و شعور اور دیگر اعضاء کا استعمال کرتاہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ قابل انتقال آلات سے استفادہ کرتاہے حق و باطل میں فرق قائم کرتاہے نیز چکھنے، سونگھنے اور دیکھنے والے حواس کا مالک ہے وہ رنگا رنگ سرشت اور طبیعت اور مختلف عناصر کاایک ایسا معجون ہے جن میں سے بعض ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ان میں سے بعض متبائن اور ایک دوسرے سے علٰحدہ ہیں جیسے گرمی، سردی، خشکی، رطوبت، بدحالی اور خوش حالی۔( ۱ )

د:۔جن، شیطان اورابلیس کی خلقت

حضرت امام علی فرماتے ہیں: خدا وند عالم نے جن اور نسناس کے سات ہزار سال روئے زمین پر زندگی بسر کرنے کے بعد جب چاہا کہ اپنے دست قدرت سے ایک مخلوق پیداکرے اور وہ مخلوق آدمی ہونا چاہے کہ جن کے لئے آسمان و زمین کی تقدیر و تدبیر کی گئی ہے تو آسمانوںکے طبقوں کا پردہ اٹھا کر فرشتوں سے فرمایا: میری (جن اور نسناس )مخلوقات کا زمین میں مشاہدہ کرو۔

جب ان لوگوں نے اہل زمین کی غیر عادلانہ رفتار اورظالمانہ اور سفاکانہ انداز دیکھے تو ان پرگراں گز را اور خدا کے لئے ناراض ہوئے اور اہل زمین پر افسوس کیا اور اپنے غیظ و غضب پر قابو نہ پا کر بول پڑے: پروردگارا! تو عزیز، قادر، جبار، عظیم و قہار عظیم الشان ہے اور یہ تیری ناتواں اور حقیر مخلوق ہے کہ جو تیرے قبضہ قدرت میں جابجا ہوکر،تیر ا ہی رزق کھاتی ہے اور تیری عفو و بخشش کے سہارے زندہ ہے اور اپنے سنگین گناہوں کے ذریعہ تیری نافرمانی کرتی ہے جبکہ تو نہ ان پر ناراض ہوتاہے اور نہ ہی ان پر اپنا غضب ڈھاتا ہے اور نہ ہی جو کچھ ان سے سنتا اور دیکھتاہے اس کاانتقام لیتا ہے ، یہ بات ہم پر بہت ہی گراں ہے اور ان تمام باتوںکو تیرے سلسلہ میں ہم عظیم شمار کرتے ہیں۔ جب خدا وند عالم نے فرشتوں کی یہ باتیں سنیں تو فرمایا: ''میں روئے زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں'' تاکہ میری مخلوق پر حجت اور میرا جانشین ہو، فرشتوںنے کہا: تو منزہ اور پاک ہے ''آیا زمین پر ایسے کوخلیفہ بنائے گا جو فساد و خونریزی کرے جبکہ ہم تیر ی تسبیح اور حمد بجالاتے ہیں اور تیری تقدیس کرتے اور پاکیزگی کا گن گاتے ہیں۔'' اور کہا: اس جانشینی کو ہمارے درمیان

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید : ج ۱، ص ۳۲.


قرار دے کہ نہ تو ہم فساد کرتے ہیں اور نہ ہی خونریزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

خداوند عالم نے فرمایا: میرے فرشتو! میں جن حقائق کو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ، میرا ارادہ ہے کہ ایک مخلوق اپنے دستِ قدرت سے بنائوں اور اس کی نسل و ذریت کو مرسل ،پیغمبراور صالح بندے اورہدایت یافتہ امام قرار دوں نیز ان کو اپنی مخلوقات کے درمیان اپنا زمینی جانشین بنائوں، تاکہ لوگوں کو گناہوں سے روکیں اور میرے عذاب سے ڈرائیں، میری اطاعت و بندگی کی ہدایت کریں اور میری راہ کو اپنائیں نیز انہیں آگہی بخش برہان اور اپنے عذر کی دلیل قرار دوں، نسناس( ۱ ) کو اپنی زمین سے دور کرکے ان کے ناپاک وجود سے اسے پاک کر دوں.اور طاغی و سرکش جنوںکو اپنی مخلوقات کے درمیان سے نکال کر انہیں ہوااور دور دراز جگہوں پر منتقل کر دوں تاکہ نسل آدم کے جوار سے دوررہیں اور ان سے انس و الفت حاصل نہ کریں اور ان کی معاشرت اختیار نہ کریں، لہٰذا جو شخص ہماری اس مخلوق کی نسل سے جس کو میں نے خود ہی انتخاب کیا ہے میری نافرمانی کرے گا اسے سر کشوں اور طاغیوں کے ٹھکانوں پر پہنچا دوں گااور کوئی اہمیت نہیں دوںگا۔ فرشتوں نے کہا: خدایا! جو مرضی ہو وہ انجام دے: ہم تیری تعلیم کردہ چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ، تو دانا اور حکیم ہے( ۲ )

ھ۔ روح: حضرت امام علی نے روح کے بارے میں جو بیان کیا ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے :

جبریل روح نہیں ہیں، جبرئیل فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے اور روح جبریل کے علاوہ ایک دوسری مخلوق ہے، اس لئے کہ خدا وند عالم نے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرمایا:

( تنزل الملائکة بالروح من امره علیٰ من یشاء من عباده )

فرشتوں کو اپنے فرمان سے روح کے ساتھ اپنے جس بندہ پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے ۔ لہٰذا روح فرشتوں کے علاوہ چیز ہے۔( ۳ )

نیز فرمایا:

( لیلة القدر خیر من الف شهر٭ تنزل الملائکة و الروح فیها بِأِذن ربهم ) ( ۴ )

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے فرشتے اور روح اس شب میں اپنے پروردگار کے اذن سے نازل ہوتے ہیں۔ نیز فرماتا ہے :

____________________

(۱) نسناس کی حقیقت ہم پرواضح نہیں ہے ، بحار الانوار میں ایسا ہی مذکور ہے ۔

(۲)بحار الانوار ج۶۳ص۸۲۔۸۳، علل الشرائع سے منقول.

(۳)نحل۲(۴)قدر۳۔۴


( یوم یقوم الروح و الملائکة صفاً ) ( ۱ )

جس دن روح اور فرشتے ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔

اور حضرت آدم کے بارے میں جبرائیل سمیت تمام فرشتوں سے فرمایا:

( انی خالق بشراً من الطین فأِذا سوّیته و نفخت فیه من روحی فقعوا له ساجدین )

میں مٹی سے ایک انسان بنائوں گا اور جب اسے منظم کر دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو اس کے سجدہ کے لئے سر جھکا دینا! تو جبریل نے تمام فرشتوں کے ہمراہ اس روح کا سجدہ( ۲ ) کیا۔

اور مریم کے بارے میں ارشاد ہوا:

( فأَرسلنا الیها روحنا فتمثّل لها بشراً سویاً ) ( ۳ )

ہم نے اپنی روح اس کی طرف بھیجی اور وہ ایک مکمل انسان کی شکل میں مریم پر ظاہر ہوا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرمایا:

( نزل به الروح الامین٭ علیٰ قلبک )

تمہارے قلب پر اسے روح الامین نے نازل کیا ہے ۔

پھر فرمایا:

( لتکون من المنذرین، بلسانٍ عربیٍ مبین ) ( ۴ )

تاکہ واضح عربی زبان میں ڈرانے والے رہو۔

لہٰذا روح گوناگوں اور مختلف شکل و صورت میں ایک حقیقت ہے۔( ۵ )

امام کی گفتگو کا خاتمہ۔

اس بنا پر روح (خد ابہتر جانتا ہے) وہ چیز ہے جو آدم میں پھونکی گئی ، نیز وہ چیز ہے کہ جو مریم کی طرف بھیجی گئی نیز وہ چیز ہے جو حامل وحی فرشتہ اپنے ہمراہ پیغمبر کے پاس لاتا تھا ؛ اور کبھی اس فرشتہ کو جو وحی پیغمبر کا حامل ہوتا تھا اسے بھی روح الامین کہتے ہیں، اس طرح روح وہی روح القدس ہے جس کے ذریعہ خدا وند عالم نے حضرت عیسیٰ کی تائید کی تھی اور قیامت کے دن خود روح فرشتوں کے ہمراہ ایک صف میں کھڑی ہوگی۔

____________________

(۱)نبأ۳۸(۲)ص۷۱۔۷۲(۳)مریم۱۷(۴)شعرائ۱۹۴۔۱۹۵(۵)الغارات ثقفی تحقیق اسناد جلال الدین حسینی ارموی '' محدث ''جلد اول ص ۱۸۴۔۱۸۵


یہ وہی روح ہے جس کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے :

( و یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی ) ( ۱ )

تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں توتم ان سے کہہ دو روح امر پروردگار ہے ۔

خدا وندا! ہم کو سمجھنے میں خطا سے اور گفتار میں لغز ش سے محفوظ رکھ۔

و۔ فرشتوں کے حضرت آدم کا سجدہ کرنے کے معنی

امام علی کی اس سلسلے میں گفتگو کا خلاصہ یہ ہے :

فرشتوں کا آدم کے لئے سجدہ؛ اطاعت اور بندگی کا سجدہ نہیں تھا فرشتوں نے اس سجدہ سے ، غیر اللہ، یعنی آدم کی عبادت اور بندگی نہیں کی ہے ، بلکہ حضرت آدم کی فضیلت اور ان کیلئے خداداد فضل و رحمت کا اعتراف کیا ہے ۔

امام علی کے کلام کی تشریح:

امام نے گز شتہ بیان میں فرشتوں کو چار گروہ میں تقسیم کیا ہے :

پہلا گروہ: عبادت کرنے والے ، بعض رکوع کی حالت میں ہیں، بعض سجدہ کی حالت میں ہیں تو بعض قیام کی حالت میں ہیں تو بعض تسبیح میں مشغول ہیں۔

دوسرا گروہ: پیغمبروں تک وحی پہنچانے میں وحی خداوندی کے امین ہیں اور رسولوں کے دہن میں گویا زبان؛ نیز بندوں کے امور سے متعلق کہ خداوند عالم ان کے ذریعہ خلق کا انتظام کرتا ہے رفت و آمد کرنے والے ہیں۔

تیسرا گروہ: بندوں کے محافظ و نگہبان، انسان کے جسم و جان میں ایک امانت اور ذخیرہ کی قوتوں کے مانند کہ جن کے ذریعہ خدا وند عالم بندوں کو ، ہلاکت اور مفاسد سے محفوظ رکھتا ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہلاکت اور مفسدہ ؛امن و امان اور حفاظت و سلامتی سے زیادہ انسان کو پہنچے، ان میں سے بعض جنت کے خدام یعنی نگہبان اور خدمت گز ار بھی ہیں۔

چوتھا گروہ: حاملان عرش کا ہے : شاید یہی لوگ ہیںجو امور عالم کی تدبیر پر مامور کئے گئے ہیں جیسے بارش نازل کرنا ،نباتات اور اس جیسی چیزوںکا اگانا اور اس کے مانند ایسے امور جو پروردگار عالم کی ربوبیت

سے متعلق ہیں اور مخلوقات عالم کے لئے ان کی تدبیر کی گئی ہے ۔

____________________

(۱)اسرائ۸۵


تیسرے۔ امام محمد باقرسے مروی روایات

امام باقر نے (ونفخت فیہ من روحی ) کے معنی میں ارشاد فرمایا:

یہ روح وہ روح ہے جسے خدا وند عالم نے خودہی انتخاب کیا، خود ہی اسے خلق کیا اور اسے اپنی طرف نسبت دی اور تمام ارواح پر فوقیت و برتری عطا کی ہے ۔( ۱ )

اور دوسری روایت میں آپ نے فرمایا ہے :

خدا وند عالم نے اس روح کو صرف اس لئے اپنی طرف نسبت دی ہے کہ اسے تمام ارواح پر برتری عطا کی ہے ،جس طرح اس نے گھروں میں سے ایک گھر کو اپنے لئے اختیار فرمایا:

میرا گھر! اور پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر سے کہا:میرا خلیل ( میرے دوست) یہ سب ،مخلوق ، مصنوع، محدَّث ، مربوب اور مدبَّر ہیں۔( ۲ )

یعنی ان کی خد اکی طرف اضافت اور نسبت تشریفی ہے ۔

دوسری روایت میں راوی کہتا ہے :

امام باقر سے میں نے سوال کیا: جو روح حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ میں ہے وہ کیا ہے ؟

فرمایا: دو خلق شدہ روحیں ہیں خد اوند عالم نے انہیں اختیار کیاا ور منتخب کیا: حضرت آدم اور حضرت عیسی ـ کی روح کو۔( ۳ )

چوتھے۔ امام صادق سے مروی روایات

حضرت امام صادق نے خدا وند عالم کے حضرت آدمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و حوا سے متعلق کلام( فبدت لھما سو ء اتھما) ''ان کی شرمگاہیں ہویدا ہو گئیں'' کے بارے میں فرمایا:

ان کی شرمگاہیں ناپیدا تھیں ظاہر ہو گئیں یعنی اس سے قبل اندر مخفی تھیں۔( ۴ )

امام نے حضرت آدم سے حضرت جبریل کی گفتگو کے بارے میں فرمایا:

____________________

(۱)بحار الانوار ، ج۴ ص ۱۲، بنا بر نقل معانی الاخبار اورتوحید صدوق(۲) بحار الانوار ج۴ ،ص۱۲، بحوالہ ٔ نقل از معانی الاخبارو توحید صدوق.(۳) بحار الانوار ج۴ ،ص ۱۳(۴) بحار الانوار ج۱۱ ص ۱۶۰، نقل از تفسیر قمی ص ۲۳۱


جب حضرت آدم جنت سے باہر ہوئے تو ان کے پاس جبرئیل نے آکر کہا: اے آدم! کیا ایسا نہیں ہے کہ آ پ کو خدا وند عالم نے خود اپنے دست قدرت سے خلق کیا اورآپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو آپ کے سجدہ کا حکم دیا اور اپنی کنیز حوا کوآ پ کی زوجیت کے لئے منتخب کیا، بہشت میں جگہ دی اور اسے تمہارے لئے حلا ل اور جائز بنایا اور بالمشافہہ آپ کونہی کی : اس درخت سے نہ کھانا! لیکن آپ نے اس سے کھایا اور خدا کی نافرمانی کی، آدم نے کہا: اے جبرئیل! ابلیس نے میرے اطمینان کے لئے خدا کی قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خدا وند عالم کی کوئی مخلوق خدا کی جھوٹی قسم کھا سکتی ہے۔( ۱ )

امام نے حضرت آدم کی توبہ کے بارے میں فرمایا:

جب خدا وند عالم نے آدم کو معاف کرنا چاہا تو جبرئیل کو ان کی طرف بھیجا، جبرئیل نے ان سے کہا: آپپر سلام ہو اے اپنی مصیبت پر صابر آدم اور اپنی خطا سے توبہ کرنے والے !خدا وند عالم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ ایسے مناسک آپ کو تعلیم دوں جن کے ذریعہآ پ کی توبہ قبول کرلے! جبرئیل نے ان کا ہاتھ پکڑا اور بیت کی طرف روانہ ہو گئے اسی اثناء میں آسمان پر ایک بادل نمودار ہوا، جبرئیل نے ان سے کہا جہاں پر یہ بادل آپ پر سایہ فگن ہو جائے اپنے قدم سے خط کھیچ دیجئے ، پھر انہیںلیکر منیٰ چلے گئے اور مسجد منیٰ کی جگہ انہیں بتائی اور اس کے حدود پر خط کھینچا، محل بیت کو معین کرنے اور حدود حرم کی نشاندہی کرنے کے بعد عرفات لے گئے اور اس کی بلندی پر کھڑے ہوئے اور ان سے کہا: جب خورشید غروب ہو جائے تو سات بار اپنے گناہ کا اعتراف کیجئے آدم نے ایسا ہی کیا۔( ۲ )

پانچویں۔ امام رضا سے مروی روایات

امام رضا نے خدا وند عالم کے کلام ''خلقت بیدی'' کے معنی کے بارے میں فرمایا : یعنی اسے میں نے اپنی قوت اور قدرت سے خلق فرمایا:( ۳ )

آپ سے عصمت انبیاء سے متعلق مامون نے سوال کیا:

اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند! کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ کہتے ہیں انبیاء معصوم ہیں؟

____________________

(۱ ) بحار الانوار ج۱۱ ص ۱۶۷. (۲) تفسیر نور الثقلین ج۴ ص ۴۷۲ بہ نقل عیون اخبار الرضا (۳)بحار الانوار ج۱۱ص ۱۶۷


امام نے فرمایا: ہاں، بولا! پھر جو خدا وند عالم نے فرمایا( فعصی آدم ربه فغویٰ ) اس کے معنی کیا ہیں؟

فرمایا: خدا وند عالم نے آدم سے فرمایا: ''تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکونت اختیار کرو اور اس میں جو دل چاہے کھائو لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ستمگروں میں سے ہو جائو گے'' اور گندم کے درخت کا انہیں تعارف کرایا۔ خدا وند عالم نے ان سے یہ نہیں فرمایاکہ: اس درخت اور جو بھی اس درخت کی جنس سے ہونہ کھانا لہٰذاآدم و حوا اس درخت سے نزدیک نہیں ہوئے یہ دونوں شیطان کے ورغلانے اور اس کے یہ کہنے پر کہ خداوندعالم نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا ہے بلکہ اس کے علاوہ کے قریب جانے سے منع کیا ہے ،تمہیں اسکے کھانے سے ا س لئے نہی کی ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جائو اوران لوگوں میں سے ہو جائو جو حیات جاودانی کے مالک ہیں اس کے بعد ان دونوں کے اطمینان کے لئے قسم کھائی کہ ''میں تمہارا خیر خوا ہ ہوں'' آدم و حوا نے اس سے پہلے کبھی یہ نہیں دیکھا تھا کہ کوئی خدا وند عالم کی جھوٹی قسم کھائے گا، فریب کھا گئے اور خدا کی کھائی ہوئی قسم پر اعتماد کرتے ہوئے اس درخت سے کھا لیا؛ لیکن یہ کام حضرت آدم کی نبوت سے پہلے کاتھا( ۱ ) ، آغاز خلقت سے مربوط باقی روایتوں کو انشاء اللہ کتاب کے خاتمہ پر ملحقات کے ضمن میں عرض کریں گا۔

بحث کا خلاصہ

اس بحث کی پہلی فصل میں مذکورہ مخلوقات درج ذیل چار قسموں میں تقسیم ہوتی ہیں۔

۱۔ جو لوگ موت، زندگی، ارادہ اور کامل ادراک کے مالک ہیں اور ان کے پاس نفس امارہ بالسوء نہیں ہوتا وہ لوگ خدا کے سپاہی اورفرشتے ہیں۔

۲۔ جولوگ، موت ، زندگی، ارادہ؛ درک کرنے والا نفس اور نفس امارہ کے مالک ہیں یہ گروہ دو قسم کا ہے:

الف۔ جن کی خلقت مٹی سے ہوئی ہے وہ حضرت آدم کی اولاد ؛تمام انسان ہیں.

ب۔ جن کی خلقت جھلسا دینے والی آگ سے ہوئی ہے وہ جنات ہیں.

۳۔ جو موت، زندگی اور ارادہ رکھتے ہیں لیکن درک کرنے والا نفس نہیں رکھتے اور غور و خوض کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ حیوانات ہیں۔

____________________

(۱)بحار الانوار ج۱۱، ص ۱۶۴، بہ نقل عیون اخبار الرضا


۴۔جو حیوانی زندگی نیز ادراک و ارادہ بھی نہیں رکھتے ، جیسے: نباتات ، پانی کی اقسام ، ماہ و خورشید اور ستارے۔

ہم ان تمام مخلوقات کی انواع و اصناف میں غور و فکر کرتے ہیں تو ہر ایک کی زندگی میں ایک دقیق اور متقن نظام حیات پوشیدہ و مضمر پاتے ہیں جو ہر ایک کو اس کے کمال و جودی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچاتا ہے ؛اب ہم سوال کرتے ہیں: جس نے ان انواع و اقسام اور رنگا رنگ مخلوقات کے لئے منظم نظام حیات بنایاوہ کون ہے ؟ اور اس کا نام کیا ہے ؟

یہ وہ بات ہے جس کے متعلق ہم خدا کی توفیق سے ربوبیت کی بحث میں تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے ۔


۴

ربوبیت کی بحثیں

۱۔ رب اور پروردگار

۲۔ رب العالمین کون ہے ؟

۳۔ مخلوقات کے بارے میں رب العالمین کی اقسام ہدایت

۱۔رب

اسلامی اصطلاحوں میں سب سے اہم ''رب'' کی اصطلاح ہے کہ اس کے روشن و واضح معنی کا ادراک ہمارے ئے آئندہ مباحث میں ضروری و لازم ہے ؛ جس طرح قرآن کریم کی بہت ساری آیات کا کلی طور پر سمجھنا نیز خدا وند عزیز کی خصوصی طور پر معرفت و شناخت اس لفظ کے صحیح سمجھنے اور واضح کرنے سے وابستہ ہے نیز پیغمبر، وحی ، امام، روز قیامت کی شناخت اور موحد کی مشرک سے پہچان اسی کے سمجھنے ہی پر موقوف ہیلہٰذا ہم ابتد ا میں اس کے لغوی معنی اس کے بعد اصطلاحی معنی کی تحقیق کریں گے :

الف۔ لغت عرب میں رب کے معنی

''رب'' زبان عربی میں مربی اور تدبیر کرنے والے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ، نیز مالک اور صاحب اختیار کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔''رب البیت'' یعنی گھر کا مالک اور ''رب الضیعة؛ یعنی مدبر اموال ،پراپرٹی کا مالک اور ''رب الفرس'' یعنی گھوڑے کو تربیت کرنے والا یا اس کامالک۔

ب۔ اسلامی اصطلاح میں رب کے معنی

''رب'' اسلامی اصطلاح میں خدا وند عالم کے اسمائے حسنی میں شمار ہوتا ہے ، نیز رب نام ہے مخلوقات کے خالق اور مالک ، نظام حیات کے بانی اور اس کے مربی کا ،حیات کے ہر مرحلہ میں ، تاکہ ہر ایک اپنے کمال وجودی تک پہنچ سکے ۔( ۱ )

''رب'' قرآن کریم میں کہیں کہیں لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے اور ہم اس معنی کو قرینہ کی مدد سے جو دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد رب کے لغوی معنی ہیں سمجھتے ہیں، جیسے حضرت یوسف کی گفتگو اپنے قیدی

____________________

(۱)راغب اصفہانی نے کلمہ ''رب'' کے لغوی اور اصطلاحی معنی کو خلط و ملط کردیا ہے اور ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا ہے ،کیونکہ مربی شۓ تمام مراحل کے طے کرنے میں درجہ ٔ کمال تک پہنچنے تک یہ معنی خاص طور پر اسلامی اصطلاح میں ہیں جبکہ راغب نے اس کو تمام معنی میں ذکر کیا ہے ۔


ساتھیوں سے کہ ان سے فرمایا:

۱۔( أ أرباب متفرقون خیرأَم الله الواحد القهار ) ( ۱ )

آیا چند گانہ مالک بہتر ہیں یا خدا وند عالم واحد و قہار؟

۲۔( وقال للذی ظن انه ناجٍ منهما اذکرنی عند ربک ) ( ۲ )

جسکی رہائی اور آزاد ہونے کا گمان تھا اس سے کہا: میرا ذکر اپنے مالک کے پاس کرنا۔

جہاں پر''رب'' مطلق استعمال ہوا ہے اور کسی چیز کی طرف منسوب نہیں ہوا ہے وہاں مراد خداوندمتعال ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے :

( بلدة طیبة ورب غفور ) ( ۳ )

''پاک و پاکیزہ سر زمین اور غفور پروردگار''

جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کی بنا پر ''رب'' لغت عرب اور اسلامی اصطلاح میں مالک اور مربی کے معنی میں استعمال ہوا ہے اس کے علاوہ اسلامی اصطلاح میں نظام حیات کے مؤسس اور بانی کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جو زندگی کے تمام مراحل میں درجہ کمال( ۴ ) تک پہنچے کے لئے پرورش کرتا ہے اور اسی کے ساتھ مربی کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ، اس اضافہ کی صورت میں کامل مربی کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اصطلاحی ''رب' ' کے دو معنی ہوئے یا اس کے معنی دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

راغب اصفہانی مادۂ ''قرئ'' کے ذیل میں فرماتے ہیں:

کوئی اسم بھی اگر ایک ساتھ دو معنی کے لئے وضع کیا جائے تو جب بھی تنہا استعمال ہوگا دونوں ہی معنی مراد ہوں گے ، جیسے ''مائدہ'' جو کہ کھانے اور دستر خوان دونوں ہی کے لئے ایک ساتھ وضع ہوا ہے لیکن تنہا تنہا بھی ہر ایک کو ''مائدہ'' کہتے ہیں۔

''رب'' کے معنی لغت عرب میں بھی اسی قسم کے ہیں، کبھی مالک تو کبھی مربی کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اسلامی اصطلاح میں کبھی تربیت کرنے والے مالک اور کبھی ا س کے بعض حصہ کے معنی میں استعمال

____________________

(۱)یوسف ۳۹(۲) یوسف ۴۲.(۳)سبا۱۵

(۴) کلمۂ '' رب '' کلمہ ٔ '' صلاة '' کے مانند ہے کہ جو لغت عرب میں ہر طرح کے دعا کے معنی میں ہے اور شریعت اسلام میں مشہور اور رائج '' نماز '' کے معنی میں ہے


ہوا ہے یعنی نظام زندگی کے بانی اور اس کا قانون بنانے والے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، جیسے خداوندعالم کا کلام کہ فرمایا:

( اتخذوا احبارهم و رهبانهم ارباباً من دون الله ) ( ۱ )

(یہود و نصاریٰ نے) اپنے دانشوروں اور راہبوںکو خدا کے مقابل قانون گز ار بنا لیا ۔

____________________

(۱)توبہ ۳۱


۲۔ رب العالمین اور اقسام ہدایت

مقدمہ:

''رب العالمین'' کی بحث درج ذیل اقسام میں تقسیم ہوتی ہے۔

الف۔ ''رب العالمین'' کے معنی اور اس کی توضیح و تشریح۔

ب۔ اس کا خدا وند جلیل میں منحصر ہونا۔

ج۔ رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی چہار گانہ انواع کا بیان درج ذیل ہے :

۱۔ فرشتوں کی ہدایت جو موت ، زندگی، عقل اور ارادہ رکھتے ہیں، لیکن نفس امارہ بالسوء نہیں رکھتے ان کی ہدایت بلا واسطہ خدا وند عالم کی تعلیم سے ہوتی ہے ۔

۲۔ انسان و جن کی ہدایت جو موت، زندگی، عقل و ارادہ کے ساتھ ساتھ نفس امارہ بالسوء بھی رکھتے ہیں ان کی ہدایت پیغمبروں کی تعلیم اور انذار کے ذریعہ ہوتی ہے ۔

۳۔موت و زندگی کے حامل حیوانات جو عقل اور نفس امارہ بالسوء نہیں رکھتے ان کی ہدایت الہام غریزی کے تحت ہوتی ہے ۔

۴۔ بے جان اور بے ارادہ، موجودات کی ہدایت، تسخیر ی ہے ۔

الف:۔قرآن کریم میں رب العالمین کے معنی

خدا وند متعال نے فرمایا:

بسم الله الرحمن الرحیم

۱۔( سبح اسم ربک الاعلیٰ٭الذی خلق فسوی٭ و الذی قدر فهدی٭ و الذی اخرج المرعیٰ٭فجعله غثاء اَحوی )

خدا وند مہربان و رحیم کے نام سے


اپنے بلند مرتبہ خدا کے نام کو منزہ شمار کرو جس خدا نے منظم طریقہ سے خلق کیا وہی جس نے اندازہ گیری کی اور ہدایت کی وہ جس نے چراگاہ کو وجود بخشا پھر اسے خشک اور سیاہ کردیا۔( ۱ )

۲۔( ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقه ثم هدی )

ہمارا خدا وہی ہے جس نے ہر چیز کو زیور تخلیق سے آراستہ کیا اور اس کے بعد ہدایت فرمائی۔( ۲ )

۳۔( خلق کل شیء فقدره تقدیرا )

اس نے ساری چیزوں کو خلق کیا اور نہایت دقت و خوض کیساتھ اندازہ گیری کی۔( ۳ )

۴۔( وعلّم آدم الاسماء کلها ثم عرضهم علیٰ الملائکة فقال انبئونی باسماء هٰؤلاء ان کنتم صادقین٭ قالوا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم )

اسرار آفرینش کے تمام اسما ء کا علم آدم کو سکھایا پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر سچے ہو تو ان کے اسماء مجھے بتائو!

فرشتوں نے کہا: تو پاک و پاکیزہ ہے! ہم تیری تعلیم کے علاوہ کچھ نہیں جانتے؛ تو دانا اور حکیم ہے۔( ۴ )

۵۔( شرع لکم من الدین ما وصیٰ به نوحاً و الذی اوحینا الیک و ما وصینا به ابراهیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیه... )

اس نے تمہارے لئے ایک آئین اور نظام کی تشریع کی جس کی نوح کو وصیت کی تھی اور جو کچھ تم پر وحی کی ہے اور ابراہیم موسیٰ، عیسیٰ کو جس کی سفارش کی ہے وہ یہ ہے کہ دین قائم کرو اور اس میں تفرقہ اندازی نہ کرو۔( ۵ )

۶۔( انا اوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوحٍ و النبیین من بعده و اوحینا الیٰ ابراهیم و اسماعیل و اسحق و یعقوب و الاسباط و عیسیٰ و اَیوب و یونس و هارون و سلیمان و آتینا داود زبوراً و رسلاً قد قصصنا هم علیک من قبل و رسلاً لم نقصصهم علیک وکلم الله موسیٰ

____________________

(۱)اعلیٰ ۱۔۵(۲)طہ۵۰(۳) فرقان ۲(۴)بقرہ۳۱۔۳۲(۵)شوریٰ۱۳


تکلیماً ٭ رسلاً مبشرین و منذرین... )

ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی کی جس طرح نوح اور ان کے بعدکے انبیاء کی طرف وحی کی تھی اور ابراہیم ، اسماعیل، اسحق، یعقوب، اسباط، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی کی ہے اور داؤد کو ہم نے زبور دی ،کچھ رسول ہیں جن کی سر گز شت اس سے قبل ہم نے تمھارے لئے بیان کی ہے ؛ نیزکچھ رسول ایسے بھی جن کی داستان ہم نے بیان نہیں کی ہے ؛ خدا وند عالم نے موسیٰ سے بات کی ، یہ تمام رسول ڈرانے والے اور بشارت دینے والے تھے...( ۱ )

۷۔( نزل علیک الکتاب بالحق مصدقاً لما بین یدیه و انزل التوراة والأِنجیل من قبل هدیً للناس... )

اس نے تم پر کتاب ،حق کے ساتھ نازل کی، جو گز شتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ا س سے پہلے توریت اور انجیل لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل کی۔( ۲ )

۸۔( وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون )

میں نے جن و انس کوصرف اپنی بندگی اور عبادت کے لئے خلق کیا۔( ۳ )

۹۔( یا معشر الجن و الانس اَلم یأتکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی و ینذرونکم لقاء یومکم هذا قالوا شهدنا علیٰ انفسنا و غرتهم الحیوٰة الدنیا و شهدوا علیٰ انفسهم انهم کانوا کافرین )

اے گروہ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آئے کہ ہماری آیتوں کو تمہارے لئے بیان کرتے اور تمہیں ایسے دن کی ملاقات سے ڈراتے؟!

ان لوگوں نے کہا : (ہاں) ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں؛ اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ دیا: اور اپنے نقصان میں گواہی دیتے ہیں اسلئے کہ وہ کافر تھے!( ۴ )

۱۰۔( و اذ صرفنا الیک نفراً من الجن یستمعون القرآن فلما حضروه قالوا انصتوا فلما قضی ولوا الیٰ قومهم منذرین٭قالوا یاقومنا انا سمعنا کتاباً انزل من بعد موسیٰ مصدقاً لما بین یدیه یهدی الیٰ الحق و الیٰ طریق مستقیم ٭یا قومنا اجیبوا داعی الله و آمنوا به یغفرلکم

____________________

(۱)نسائ۱۶۳۔۱۶۵(۲)آل عمران۳۔۴(۳)ذاریات ۵۶(۲)انعام۱۳۰


من ذنوبکم و یجرکم من عذاب الیم٭و من لا یجب داعی الله فلیس بمعجزٍ فی الارض و لیس له من دونه أَولیاء اولئک فی ضلالٍ مبین ) ۔

اور جب ہم نے جن کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا تاکہ قرآن مبین کو سنیں؛ جب سب ایک جگہ ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے: خاموش ر ہو! اور جب تلاوت تمام ہوگئی تو اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے اور انہیں ڈرایا! اور کہا: اے میری قوم! ہم نے ایک ایسی کتاب کی تلاوت سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے اور گز شتہ کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے اور راہ راست اور حق کی ہدایت کرتی ہے ؛ اے میری قوم !اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی آواز پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو تاکہ وہ تمہارے گناہوںکو بخش دے اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے!اورجو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا جواب نہیں دے گا، وہ کبھی زمین میں عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکتا اور اس کیلئے خدا کے علاوہ کوئی یا رو مددگاربھی نہیں ہے ، یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔( ۱ )

۱۱۔( قل اوحی الی انه استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرآنا عجباً، یهدی الیٰ الرشد فامنا به ولن نشرک بربنا احدا٭ و انه تعالیٰ جد ربنا ما اتخذ صاحبةً و ولا ولداً٭ و انه کان یقول سفیهنا علیٰ الله شططاً٭ وانا ظننا ان لن تقول الانس و الجن علیٰ الله کذبا٭و انه کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقا٭ و انهم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث الله احدا٭ و انا لمسنا السماء فوجدنا ها ملئت حرساً شدیداً و شهباً٭و انا کنا نقعد منها مقاعد للسمع فمن یستمع الآن یجد له شهاباً رصدا و انا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض ام ارادبهم ربهم رشداً٭ وانا منا الصالحون و منا دون ذلک کنا طرائق قددا٭ و انا ظننا ان لن نعجز الله فی الارض و لن نعجزه هرباً٭ و انا لما سمعنا الهدی آمنا به فمن یومن بربه فلا یخاف بخساً ولا رهقا٭ وانا منا المسلمون ومنا القاسطون فمن اسلم فاُولٰئک تحروا رشداً٭ و اما القاسطون فکانوا لجهنم حطباً٭ و ان لو استقاموا علیٰ الطریقة لاسقیناهم مائً غدقاً٭ لنفتنهم فیه و من یعرض عن ذکر ربه یسلکه عذاباً صعداً )

کہو!میری طرف وحی کی گئی ہے کہ کچھ جنوں نے میری باتوں پر توجہ دی اور بولے : ہم نے ایک عجیب

____________________

(۱)احقاف ۲۹۔۳۲


قرآن سناہے جو راہ راست کی ہدایت کرتا ہے ، تو ہم اس پر ایمان لائے اور کبھی کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیں گے یقینا ہمارے پروردگار کی شان بہت بلند ہے اور اس نے کبھی کوئی فرزند اور بیوی منتخب نہیں کیا ہے اور یہ ہمارا سفیہ ( ابلیس) تھا جس نے خدا کے بارے میں ناروا اور غیر مناسب باتیں کی ہیں! اور ہم گمان کرتے تھے کہ جن و انس کبھی خدا کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دیتے! اور اب یہ حال ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگتے ہیں ؛لیکن ان لوگوں نے اپنی گمراہی اور ضلالت میں اضافہ ہی کیا! اور ان لوگوں نے تمہاری طرح یہ گمان کیا ہے کہ خدا کبھی کسی کودوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔

ہم نے آسمانوں کی تلاشی لی، تو سب کو قوی ہیکل محافظوں اور نگہبانوں سے پر اور شہابی تیروں سے چھلکتا ہوا پایا! ہم اس سے پہلے چوری چھپے باتیں سننے کے لئے آسمانوں پر کمین کر کے بیٹھ جاتے تھے: لیکن اب یہ ہے کہ اگر کوئی چوری چھپے سننا چاہے تو ایک شہاب اس کے گھات میں لگا رہتا ہے ۔

ہم نہیںجانتے کہ آیا اہل زمین کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ ہوا ہے یا ان کے پروردگار کا ارادہ ہے کہ ان کی ہدایت کرے؟!

ہمارے درمیان صالح اور غیر صالح دونوں طرح کے لوگ موجودہیں اور ہم مختلف گروہ ہیں! نیز ہمیں یقین ہے کہ ہم زمین پر کبھی ارادہ الٰہی پر غالب نہیں آسکتے اور کبھی اس کے قبضہ قدرت سے فرار نہیں کر سکتے!

جب ہم نے قرآن کی ہدایت سنی تو ہم اس پر ایمان لائے؛ اور جو بھی اپنے پروردگار پر ایمان لائے وہ ظلم و نقصان سے خوفزدہ نہیں ہوگا!

اور یہ بھی ہے کہ ہم میں سے بعض گروہ مسلمان ہیں تو بعض ظالم، لہٰذاجو بھی اسلام قبول کرے گویا راہِ رشد وہدایت کا مالک ہوگیا لیکن ظالمین دوزخ کا ایندھن ہیں!

اور اگر وہ لوگ( جن و انس) اسلام کی راہ میں اپنی ثبات قدمی اور پائداری کا ثبوت دیں تو کثیر پانی سے ہم انہیں سیراب کریں گے اس غرض سے کہ انہیں ہم آزمائیں اور جو یاد الٰہی سے غافل ہو جائے اسے وہ شدید اور وحشتناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔( ۱ )

۱۲۔( اوحیٰ ربک الیٰ النحل ان اتخذی من الجبال بیوتاً و من الشجر ومما

____________________

(۱) جن ۱۔۱۷


یعرشون٭ ثم کلی من کل الثمراتِ فاسلکی سبل ربک ذللاً یخرج من بطونها شراب مختلف الوانه فیه شفاء للناس ان فی ذالک لآیة لقوم یتفکرون )

تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو وحی کی (بعنوان الہام غریزی) کہ پہاڑوں، درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر کو بنائے پھر تمام پھلوں کو کھائے اور جن راستوںکو تمہارے پروردگار نے معین کیا ہے نہایت متانت اور نرمی سے طے کرے اس کے اندرسے مختلف قسم کے شربت نکلتے ہیںجس میں لوگوںکیلئے شفاء ہے ؛ یقینا اس چیز میں صاحبان عقل و ہوش کے لئے کھلی ہوئی نشانی ہے ۔( ۱ )

۱۳۔( ان ربکم الله الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام ثم استویٰ علیٰ العرش یغشی اللیل النهار یطلبه حثیثاً و الشمس و القمر و النجوم مسخراتٍ بِاَمره الا له الخلق و الأَمر تبارک الله رب العالمین ) ( ۲ )

تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش کی تدبیر کی جانب متوجہ ہوا، شب کو جو تیزی کے ساتھ دن کا پیچھا کر رہی ہے دن پر ڈھانپ دیتا ہے اور سورج، چاند اور ستاروں کو خلق کیا کہ سب اس کے فرمان کے سامنے مسخر ہیں آگاہ رہو کہ تخلیق اور امرتدبیر اسی کا کام ہے خدا رب العالمین اور نہایت بابرکت اور بلند و بالا ہے ۔

ب:۔ خدا وند ذو الجلال میں ربوبیت کا منحصر ہونا

خدا وند عالم اس سلسلے میں فرماتا ہے :

۱۔( ان ربکم الله الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام ثم استوی علی العرش یدبر الامر ما من شفیع الا من بعد اذنه ذٰلکم الله ربکم فاعبدوه افلا تذکرون٭ الیه مرجعکم جمیعا وعد الله حقا انه یبدؤ الخلق ثم یعیده لیجزی الذین ء آمنو و عملوا الصاٰلحاٰت بالقسط و الذین کفروا لهم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون٭ هو الذی جعل الشمس ضیاء و القمر نورا و قدره منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب ما خلق الله ذلک الا بالحق یفصل الآیات لقوم یعلمون ) ( ۳ )

____________________

(۱) نحل۶۸۔۶۹

(۲)سورہ ٔ اعراف ۵۴.

(۳)یونس۳۔۵


بیشک تمہارا پروردگار ایسا خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں خلق کیا پھر عرش پر غالب آیا اور تمام امور کی تدبیرمیں مشغول ہو گیا کوئی اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے والا نہیں ہے؛تمہارا پروردگاراللہ ہے ، لہٰذا اسی کی عبادت کرو اور پھر تم کیوںعبرت حاصل نہیں کرتے؟!تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے ، خدا کا وعدہ سچا ہے وہی یقینا مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے ، پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ جزائے خیر عطا فرمائے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے ان کی کفر کی سزا میں پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہوگا ، وہی ہے جس نے سورج کو روشنی دی اور چاند کوتا بندہ بنایااور ان کے لئے منزلیں قرار دیں تاکہ سال کی تعداداوردوسرے حساب لگا سکو یہ سب خدا نے صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ وہ صاحبان علم کیلئے اپنی آیتوں کو تفصیل سے بیان کرتاہے ۔

۲۔( قل ئَ اِنّکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون له انداداً ذلک رب العالمین٭ و جعل فیها رواسی من فوقها و بارک فیها و قدر فیها اقواتها فی اربعة ایام سواء للسائلین ٭ ثم استویٰ الیٰ السماء و هی دخان فقال لها وللارض ائتیا طوعاً او کرهاً قالتا اتینا طائعین ٭ فقضاهن سبع سمٰواتٍ فی یومین و اوحیٰ فی کل سماء امرها و زینا السماء الدنیا بمصابیح و حفظا ذلک تقدیر العزیز العلیم )

کہو: آیا تم لوگ اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں خلق کیا اور اس کے لئے مثل و نظیر قرار دیتے ہو؟! جبکہ عالمین کا رب ہے وہی ہے جس نے زمین کے سینہ پر استوار و محکم پہاڑوںکو جگہ دی اور اس میں برکت اور زیادتی بخشی اور خواہشمندوں کی ضرورت کے مطابق اس میں غذا کا انتظام کیا؛پھر اس کے بعد آسمان کی خلقت شروع کی جبکہ وہ دھوئیں کی شکل میں تھا؛ اس کو اور زمین کو حکم دیا: موجود ہو جائو، خواہ برضا و رغبت خواہ بہ جبر و اکراہ: انہوں نے کہا: ہم بعنوان اطاعت آتے ہیں! پھر انہیں سات آسمان کی صورت میں دو دن میں خلق کر دیااور ہر آسمان کواس سے متعلق امور کی وحی کر دی اور نچلے آسمان کو چراغوں سے زینت دی اور شیاطین کے رخنہ سے محفوظ رکھا؛ یہ ہے خدا وند قادر و عالم کی تقدیر۔( ۱ )

____________________

(۱) فصلت۹۔۱۲


کلمات کی تشریح

۱۔ سبح: نزّہ، یعنی خدا کو پاکیزہ ترین و جہوں سے یاد کیا، یا ''سبحان اللہ'' کہا، یعنی خدا کو ہر طرح کے نقص و عیب سے پاکیزہ اور مبرا خیال کیا۔ تسبیح مطلق عبادت و پر ستش کے معنی میں بھی ہوا ہے خواہ رفتار میں ہو یا کردار میں یا نیت میں ۔

۲۔ اسم: اسم کے ، جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکے ہیں دو معنی ہیں۔

الف۔ وہ لفظ جو اشیا کی نامگز اری کے لئے رکھتے ہیں جیسے : ''مکہ'' اس شہر کا نام ہے جہاں مسلمانوں کا قبلہ، کعبہ ہے اور ''قرآن '' اس کتاب کا نام ہے جسے خدا وند عالم نے خاتم الانبیاء پر نازل کیا ہے ۔

ب۔ اسم الشیء ، ہر چیز کی مخصوص صفت جو اس کی حقیقت کو روشن و آشکار کر دیتی ہے، آیت میں اسم سے مراد یہی معنی ہے ۔

۳۔ ربک: تمہارا پروردگار ، نظام بخشنے والا اور تمہارے لئے قانون گز ار جیسا کہ گز ر چکا۔

۴۔ اعلیٰ: برتر،آیت میں اس کے معنی یہ ہیںکہ خدا وند عالم اس بات سے کہیں بلند و بالا ہے کہ کسی چیزسے اس کا مقایسہ کیا جائے۔

۵۔ خلق: پیدا کیا ،خلق کی تفسیر اس کلام میں ملتی ہے جو خدا وند عالم موسیٰ کی زبانی فرعون سے بیان کرتا ہے : ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر موجود کو اس کی آفرینش کے مطابق ہر ضروری شۓ عطا کی پھر اس کے بعد ہدایت کی ۔( ۱ ) یعنی ہمارے پروردگار نے سب چیز کو کامل، مناسب اور دقیق پیدا کیا ہے ۔

۶۔ سوّیٰ: اندازہ لگایا اور منظم کیا یعنی کمی و زیادتی سے محفوظ کرتے ہوئے متعادل اور مناسب خلق کیا۔( ۱ ) ہر چیز کا تسویہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اس چیز کو راہِ کمال اور اس سمت میں جس کے لئے ایجاد ہوئی ہے جہت دی جائے۔

خدا وند عالم سورۂ انفطار میں فرماتا ہے : ''اے انسان کس چیز نے تمہیں تمہارے کریم پروردگار کے مقابل مغروربنادیا؟!وہی خدا جس نے تمہیں پیدا کیا، منظم بنایا اور ہر جہت سے درست کیا ؟( ۲ ) اس آیت میں دونوں معنی: منظم کرنا اور راہ کمال و سعادت کی طرف لے جانا پیش نظر ہے ،خلق کا تسویہ یا اس کو ہرجہت

____________________

(۱)طہ۵۰

(۲)انفطار ۶۔۷


سے منظم کرنا چارطرح سے ہے:

۱۔ انسان کا تسویہ

انسان پہلے نطفہ سے خلق ہوتا ہے اور خلقت کے معین مراحل، میں اس کی خلقت اولیہ ،جنین ہونے کے دوران تمام ہوتی ہے ، خدا وند عالم اسے وہ بھی عطا کرتا ہے جن سے وہ تمام اعضاء و جوارح ہدایت پاتا ہے جیسے: کان ، آنکھ اور دیگر حواس بھی عطا کرتا ہے جن سے وہ علم و دانش کو کسب کرتاہے اور قوائے فکری اورمغز جو اس کی معلومات کا خزانہ ہوتی ہیں اور عقل و خرد جس کے ذریعہ وہ صحیح اور غلط کو جد اکرتا ہے یہ سب اس کی سرشت میں جاگزین کرتا ہے ۔ اورتعلیم و تعلم (افادہ و استفادہ) کی صلاحیت اپنے جیسوں سے زبان و قلم کے ذریعہ اس کے اندرپیداکرتا ہے ، جیسا کہ خدا فرماتا ہے :

۱۔( خلق الانسان ، علمه البیان )

اس ( خدا ) نے انسان کی تخلیق کی اور اسے بیان کا طریقہ سکھایا۔( ۱ )

۲۔( اقرأ باسم ربک الذی خلق٭ خلق الانسان من علق٭ اقرأ و ربک الاکرم٭ الذی علم بالقلم٭ علم الانسان ما لم یعلم )

اپنے خالق رب کے نام سے پڑھو، اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھو کہ تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی اور جو انسان نہیں جانتا تھا اس کی تعلیم دی۔( ۲ )

قلم اور بیان کے ذریعہ سیکھنا اور سکھانا عطیۂ خدا وندی ہے کہ اس نے صرف اور صرف انسان کو یہ دو خصوصیتیں عطا کی ہیں۔

۲۔حیوان کا تسویہ

حیوان کا تسویہ خلقت میں اس کے اندر ایجاد غریزہ کے ذریعہ کامل ہوتا ہے، ایسا غریزہ جس کے ذریعہ زندگی کا وہ طریقہ جو اس کی اپنی حیوانی سرشت سے مناسبت رکھتا ہو، تنظیم پاتاہے ۔

____________________

(۱)الرحمن ۳۔۴

(۲)علق۱۔۵


۳۔ مسخرات خلقت کا تسویہ

خدا فرماتا ہے :۱۔( وسخر الشمس و القمرکل یجری لاجلٍ مسمیً ذلکم الله ربکم ) ( ۱ )

اوراس نے سورج، چاند کو مسخر کیا، ہر ایک معین مدت تک متحرک رہتے ہیں یہ ہے خداوندعالم جو تمہارا رب ہے۔

۲۔( والشمس و القمر و النجوم مسخرات بامره الا له الخلق٭ و الأمر تبارک الله رب العالمین ) ( ۲ )

سورج چاند اور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیں آگاہ رہو کہ تخلیق و تدبیر اسی کیلئے ہے بابرکت اور بلند ہے خدا جو عالمین کا رب ہے ۔

۴۔ فرشتوں کا تسویہ

فرشتوں کا تسویہ یہ ہے کہ خدا وند عالم نے انہیں ایسی سرشت و طبیعت کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ:

( لا یعصون الله ما امرهم و یفعلون ما یؤمرون ) ( ۳ )

وہ کبھی اوامر الٰہی کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو انہیں حکم دیا جاتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔

مادی تسویہ اور سامان دہی کے کامل معنی: قدر فھدی کی تفسیر کے ذیل میں آئندہ بیان ہوگا۔

۷۔ قدر: اندازہ کیا، خدا وند متعال کا اندازہ اور تقدیر کرنا ایسے موارد میں جن کی تفسیر و توضیح ہم چاہتے ہیں۔ یعنی:خداوندعالم نے ہر چیز کی حیات کا نظام کچھ اس طرح تنظیم کیا ہے جو اس کی سرشت اور خلقت سے مناسبت اور موزونیت رکھتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا:

( وخلق کل شیء فقدَّره تقدیراً ) ( ۴ )

اس نے تمام چیزوںکو خلق کیا اور اس کو بالکل درست اور صحیح اندازے (کہ جس میں سر مو بھی فرق نہیں ہے) کے مطابق بنایا ہے ۔

۸۔ ھدی:اس نے ہدایت کی، مخلوقات کی خالق کی طرف سے ہدایت چار قسم کی ہے:

____________________

(۱)فاطر۱۳ ا(۲)اعراف ۵۴.(۳)سورۂ تحریم ۶.(۴)سورہ ٔ فرقان ۲.


الف۔ سکھانا( تعلیم)

ب۔ الہام غریزی

ج۔ مسخر کرنا

د۔ پیغمبروں کے ذریعہ وحی پہنچانا

قدر و ھدی: ان دو کلموںکی مکمل توضیح تفسیرِ آیات کے ذیل میں آئے گی۔

۹۔ غثائً: ایک دوسرے سے الگ اور جدا خشک گھاس

۱۰۔ احویٰ: ایسی گھاس جو سبزہ کی زیادتی کی وجہ سے سیاہی مائل ہو۔

۱۱۔ وحی:

الف۔ وحی لغت میں : وحی لغت میں اشارہ ، ایما ء ،آہستہ بات کرنے اورکوئی بات کان میں کہنے، الہام، حکم دینے اور بات القاء کرنے کو کہتے ہیں۔

ب۔ وحی اسلامی اصطلاح میں ؛ کلام الٰہی ہے جسے خدا اپنے پیغمبروںپر القاء کرتا ہے خواہ پیغمبر فرشتۂ وحی کو دیکھے اور اس کی بات سنے ، جیسے جبرئیل کا خاتم الانبیاء تک پیغام پہنچانا یا صرف اللہ کی بات سنے اور کچھ نہ دیکھے جس طرح موسیٰ نے اللہ کی بات سنی یا یہ کہ نیند میں خواب کے ذریعہ ہو جیسا کہ خدا وند عالم نے ابراہیم کے قول کی خبر دی ہے جو انہوں نے اپنے فرزند اسمٰعیل سے کہا ہے : (انی اری فی المنام انی اذبحک)میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں یا اس کے علاوہ وحی جو صرف خدا جانتا ہے اور صرف اس کے پیغمبر صلوات اللہ علیہم اجمعین اسے درک کرتے ہیں۔

اسلامی اصطلاح میں مذکور وحی کے استعمال کے بعض مواقع جو قرآن کریم میں آئے ہیں تقریباً ''خد ا کی پیغمبروں کو وحی ''کے باب میں ہم نے ذکر کیا ہے لیکن وحی لغوی کا قرآن کریم میں استعمال اس طرح ہوا ہے :

۱۔( فخرج علیٰ قومه من المحراب فاوحیٰ الیهم ان سبحوا بکرة و عشیاً )

(زکریا) محراب عبادت سے نکل کر اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور ان کی طرف اشارہ کیا صبح و شام خدا کی تسبیح کرو!( ۱ )

____________________

(۱)مریم۱۱


۲۔( ان الشیاطین لیوحون الیٰ اولیائهم )

شیاطین اپنے دوستوں کو کچھ مطالب القاء کرتے ہیں، یعنی ان کے دلوں میں برے خیالات اور زشت نظریات ڈالتے ہیں۔( ۱ )

۳۔( و اوحینا الیٰ ام موسیٰ ان ارضعیه )

موسیٰ کی ماں کو ہم نے الہام کیا کہ اسے دودھ پلائو۔( ۲ )

۴۔( و اوحی ربک الیٰ النحل )

تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو وحی کی۔( ۳ ) یعنی شہد کی مکھی کو الہام غریزی کے ذریعہ اس طرح زندگی کا طریقہ الہام کیا، اس لئے کہ خدا وند عالم نے اپنی ربوبیت کے اقتضا کے مطابق حیوانات کی ہر صنف میں ایک غریزہ ودیعت کیا ہے جو اس کی سرشت اور فطرت سے مناسبت رکھتا ہے۔

۱۲۔ استوی: غالب آیا، کلمہ استوی جب ''علیٰ'' کے ساتھ متعدی ہو تو غلبہ اور تسلط کے معنی میں ہوتا ہے جیسا کہ صفات رب کی بحث میں آئندہ ذکر ہوگا۔

۱۳۔ عرش:لغت میں سقف داربلند جگہ کو کہتے ہیں،بادشاہوں کے تخت کو بھی اس کی بلندی کے اعتبار سے عرش کہتے ہیں اور اسے اس کی قدرت، سلطنت اور حکومت سے کنایہ کرتے ہیں لسان العرب میں ذکر ہوا ہے:ثل عرشھم ، یعنی خد اوند عالم نے ان کی حکومت اور سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا۔( ۴ )

۱۴۔ ضیائ: نورانی اجسام سے جو چیز پھیلتی ہے اور نور سے قوی اور وسیع ہوتی ہے ، ضوء ، روشنی بخش ہے، جیسے سورج کا نور اور آگ کا نور اور نور اپنے علاوہ سے کسب نور کرتا ہے جیسے چاند کی روشنی۔

۱۵۔ امر:امر کے دو معنی ہیں:

الف۔ کسی کام کا طلب کرنا جو کہ نہی کی ضد ہے اس کی جمع اوامر آتی ہے ۔

ب۔ شان، کام اور حال جس کی جمع امور آتی ہے ۔

۱۶۔ سخّر: رام کیا، سدھارا، خاضع اور ذلیل کیا؛ اسے معین ہدف کی راہ میں روانہ کیا؛ مسخر جو چیز قہر و غلبہ کے ذریعہ رام ہوتی ہو۔

۱۷۔ رواسی: راسی کی جمع ہے ثابت اور استوار پہاڑ۔

____________________

(۱)انعام۱۲۱(۲)قصص۷(۳)نحل۶۸(۴) مادہ'' عرش '' کے لئے مفردات راغب ، معجم الوسیط اور قاموس قرآن ملاحظہ ہو


آیات کی تفسیر

آیات کی مفصل تفسیر'' قدر'' اور''فہدی'' کلموں کی توضیح کے لئے ہم ذکر کررہے ہیں:

الف۔ ''قدر'' کی تفسیر: خدا وند عزیز نے سورۂ فصلت کی آیتوں میں تخلیق و آفرینش کو اپنی ذات اقدس ''رب العالمین'' سے مخصوص اور منحصر کیا ہے پھر اس کے بعد اس کو منظم کرنا اورکیفیت تقدیرنظام اور اس کے باقی رہنے کا ذکر کیا ہے :

( وجعل فیها رواسی من فوقها و بارک فیها و قدّر فیها اقواتها فی أربعة أیامٍ )

اس نے چار دن میں زمین کے سینے پر محکم اور استوار پہاڑوں کو جگہ دی اور اس میں برکت اور زیادتی بخشی اور خواہشمندوں اور اہل ضرورت کی ضرورت کے بقدر غذا کا انتظام کیا۔( ۱ )

آسمان کے سلسلے میں فرمایا: اس کی سات آسمان کی صورت میں تخلیق دو روزمیں تمام ہوئی ہے اور ہر آسمان میں اس سے متعلق امور کی وحی فرما دی ہے اور آسمان دنیا کو ستاروںسے زینت دی یہ ساری کی ساری عزیز اور دانا پروردگار کی تقدیر شمار کی جاتی ہے ۔

اس سلسلے میں کہ کس طرح فرمان الٰہی نظام خلقت کے مطابق باقی رہنے کے لئے مخلوقات کو صادر ہوا، فرماتا ہے:

( ان ربکم الله الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام ثم استویٰ علیٰ العرش یدبر الأمر )

تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش پر غالب آیا اور تدبیر امور میں مشغول ہو گیا۔( ۲ )

ان کے امر کی تدبیر، یعنی خلقت کے بعد ان کی تربیت اور پرورش ہے اور یہ کہ تمام انسانوں کا رب تنہا وہ ہے لہٰذا صرف اس کی عبادت کرو، خد اوند عالم نے اس کے بعد کچھ تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ پروردگار وہی ہے جس نے خورشید کو روشنی بخشی اور چاند کو تابندگی اور اس کے لئے منزلیں قرار دیں ۔

____________________

(۱)فصلت ۱۰

(۲)یونس ۳


ان آیات کے بعد یہ استفادہ ہوتا ہے کہ : قدرہ تقدیرا،یعنی اس کے لئے معین و منظم مدبرانہ نظام قرار دیا ۔

ب۔ ہدی ؛سورۂ فصلت اور یونس میں جہاں آسمانوں اور زمین، ماہ و خورشید کے لئے خد اکی ربوبیت کا تذکرہ ہے ''تربیت رب'' کا ذکر صرف انہیں کے بارے میں استعمال ہوا ہے لیکن سورۂ ''اعلیٰ'' میں تمام مخلوقات سے متعلق تربیت کی بات کرتے ہوئے فرمایا: (الذی خلق فسوی و الذی قدر فھدیٰ) اس سے مراد یہ ہے کہ جس پروردگار نے ان مخلوقات کو زیورتخلیق سے آراستہ کیا ہے خود اسی نے انہیں منظم بھی کیا ہے اور ہر نوع اور صنف کے لئے جو تقدیرمعین کی ہے اس کے ذریعہ انہیں ہدایت پذیری کے لئے آمادہ بھی کیا ہے بعنوان مثال حیوان کی چراگاہ کی مثال دی ہے اور اسی سے ملتا جلتا مضمون بیان کیا ہے :تمام حیوانات کا پروردگار وہی ہے جس نے زمین کا سینہ چاک کر کے حیوانوں کی چراگاہ بنائی ہے ۔ اور اسے کمال وجودی کے مرتبہ پر فائز ہونے تک پرورش کی ہے یہاں تک کہ شدید سیاہی مائل سبزہ ہو جائے اس کے بعداسے شدیدہریالی کے ساتھ خشک بنا دیا! خدا وند عالم نے چہار گانہ صنفوں کی ہدایت کی کیفیت بہت ساری دیگر آیتوں میں بھی بیان کی ہے کہ جس کوہم آئندہ بحث میں بیان کریں گے ۔


۳۔اصناف خلق کے لئے رب العالمین کی اقسام ہدایت

اس حصہ میں ہم اصناف موجود ات کے لئے ہدایت الٰہی کے اقسام کی تحقیق کریں گے، ان کے تخلیقی زمانہ کی ترتیب کے اعتبار سے بحث کریں گے، خدا نے پہلے فرشتوں کو خلق کیا کیونکہ وہ لوگ خلقت میں خدا کی سپاہ اور عرش ربوبی کے حامل ہیں، اس کے بعد زمان و مکان ، آسمان و زمین کی تخلیق کا تذکرہ کیا اور جو کچھ جانداروں کی ضرورت جیسے پانی، نباتات بلکہ تمام ضروریات زندگی کو ان کے اختیار میں قرار دیا پھر جن اور حیوانات کی تخلیق کی اور انسان کو اس کی تمام ضروریات کی تخلیق کے بعد پیدا کیا۔

مذکورہ اصناف کے لئے ''رب العالمین'' کی انواع ہدایت کی تشریح درج ذیل ترتیب سے بیان کرتے ہیں:

پہلی۔ فرشتوں کی بلاواسطہ تعلیم

خدا وند عالم نے فرشتوں سے متعلق فرمایا :

( اذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة قالوا اتجعل فیها من یفسد فیها و یسفک الدماء و نحن نسبح بحمدک و نقدس لک قال انی اعلم ما لا تعلمون٭و علم آدم الاسماء کلها ثم عرضهم علیٰ الملائکة فقال انبئونی بأَسماء هؤلاء ان کنتم صادقین٭ قالوا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم، قال یا آدم انبئهم باسمائهم فلما انباهم باسمائهم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السمٰوات و الارض و اعلم ما تبدون و ما کنتم تکتمون٭ و اذ قلنا للملاٰئکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس ابیٰ و استکبر و کان من الکافرین )

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا: میں روئے زمین پر ایک خلیفہ اور جانشین بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو ایسے کو بنائے گا جو فساد و خونریزی کرتا ہے ؟جبکہ ہم تیری تسبیح اور حمد بجالاتے ہیں اور تیری تقدیس اور پاکیز گی کا گن گاتے ہیں؛ فرمایا: میں ان حقائق کا عالم ہوں جو تم نہیںجانتے۔

پھراسماء ( اسرار خلقت )کا تمام علم آدم کو سکھایا؛ اس کے بعد انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا: اگر تم لوگ سچے ہو تو ان کے اسماء کے بارے میں مجھے خبر دو! سب نے کہا: تو پاک و پاکیزہ ہے! ہم تیری تعلیم کے سوا کچھ اور نہیں جانتے؛ تو دانا اور حکیم ہے ، فرمایا: اے آدم! انہیں ان اسماء موجودات کے حقائق سے آگاہ کرو اور جب انہیں آگاہ کر دیا تو فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں زمین و آسمان کا غیب جانتا ہوں؟! نیز وہ بھی جانتا ہوں جو تم آشکار کرتے ہو اورجو چھپاتے ہو۔اورجب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کے لئے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سواابلیس کے کہ اس نے انکار کیا اور تکبر سے کام لیتے ہوئے کافروںمیں شامل ہو گیا۔


کلمات کی تشریح

۱۔ ''خلیفة اورخلیفة اﷲفی الارض''

الف۔ خلف: خلف زید عمرواً یعنی زید عمرو کے بعد آیا ،یا زید عمر کے بعد کاموں میں مشغول ہوا( ۱ ) پہلا معنی جیسے یہ آیت :( فخلف من بعد هم خلف ) یعنی ان کے بعد اولاد آئی۔( ۲ )

دوسرے معنی جیسے:( و قال موسیٰ لاخیه هارون اخلفنی فی قومی ) یعنی موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میرے بعد ( یعنی میری عدم موجودگی میں ) قوم کی اصلاح اور ان کے امور کی رسیدگی کرنا۔( ۳ )

ب۔ خلافت: غیبت و عدم موجودگی موت یا ناتوانی کی وجہ سے یا جانشین کے رتبہ میں اضافہ کرنے کیلئے غیر کی جانشینی ۔

ج۔ خلیفہ: یعنی وہ شخص جو کسی کی غیبت، موت ، ضعف و ناتوانی ، یا رفعت مقام کی وجہ سے کسی دوسرے کا جانشین ہوتا ہے ۔ پہلے معنی جیسے:( و اذکروا اذ جعلکم خلفاء من بعد قوم نوح ) اس وقت کو یاد کرو جب خد اوند عالم نے تمہیں قوم نوح کا جانشین بنایا۔( ۴ )

دوسرے معنی جیسے:( یا داؤد انا جعلناک خلیفةً فی الارض )

اے دائود! ہم نے تم کو زمین پر خلیفہ قرار دیا( ۵ ) نیز جیسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کلام:

____________________

(۱)معجم الفاظ القرآن کریم ''مادہ'' خلف

(۲)اعراف۱۶۹

(۳) اعراف۱۴۲

(۴)اعراف۱۶۹، مادہ خلف ماخوذ از مفردات.

(۵)سورۂ ص ۲۶.


''اللهم ارحم خلفائی اللهم ارحم خلفائی اللهم ارحم خلفائی قیل له: یا رسول الله من خلفاؤک؟ قال : الذین یأتون من بعدی یروون حدیثی و سنتی''

خدا وندا میرے جانشینوں پرر حم کر اوور اس جملہ کی تین بار تکرار کی آپ سے سوال کیا گیا یارسول اللہ آپ کے جانشین کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو لوگ میرے بعد میری حدیث اور سنت کی روایت کریں گے ۔( ۱ )

روایات کی طرف رجوع کرنے سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ کا خلیفہ پیغمبر ہے یا اس کا وصی جسے خدا وند عالم نے انسان کی ہدایت کے لئے آسمانی شریعتوں کے ساتھ معین کیا ہے اس کی تشریح خدا کی مدد سے ''الٰہی رسول'' کی بحث میں آئے گی۔

۲۔سجد: خضوع و خشوع کیا ، سجدہ یعنی خضوع اور فروتنی لیکن انسان کے بارے میں اس کے علاوہ زمین پر پیشانی رکھنے کو کہتے ہیں۔ پہلے معنی خضوع و فروتنی کے جیسے :

( و لله یسجد من فی السمٰوات و الارض طوعاً وکرهاً وظلالهم با لغدو و الآصال )

یعنی تمام وہ لوگ جو زمین و آسمان میں رہتے ہیں اور ان کے سایہ از روئے طاعت یا جبر و اکراہ ۔ ہر صبح و عصر خدا کاسجدہ (خضوع و فروتنی) کرتے ہیں۔( ۲ )

اور دوسرے معنی جیسے :( سیما هم فی وجوههم من أَثر السجود )

ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں میں نمایاں ہیں۔( ۳ )

تفسیر آیات کا خلاصہ

خدا وند عالم نے فرشتوں پر ایمان لانے کو خدا، روز قیامت، آسمانی کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لانے کی ردیف میں قرار دیا ہے۔ اور اُن سے دشمنی کو اِن کی دشمنی کے مترادف قرار دیا ہے، انہیں اپنے خاص بندوں میں شمار کیا ہے ایسے بندے جو اپنے پروردگار کی تسبیح خوانی میں مشغول ہیں، اہل زمین کے لئے بخشش و مغفرت طلب کرتے ہیں اور خدا جو کچھ انہیں حکم دیتا ہے اسے وہ انجام دیتے ہیں۔

لیکن خداوندعالم نے اس بات کا ذکر نہیں کیا ہے کہ فرشتوں کو کس چیز سے خلق کیا ہے ،( بعض روایات

____________________

(۱)معانی الاخبار، صدوق، ص ۳۷۴،۳۷۵.

(۲)رعد۱۵

(۳)فتح۲۹


میں مذکور ہے کہ انہیں نور سے خلق کیاہے)۔( ۱ )

صرف یہ خبر دی ہے کہ ان کودو یا تین یا چار پرعطا کئے ہیں اور یہ کہ خلقت میں جو چاہے اضافہ کر دے اور وہ لوگ انسانی شکل میں ظاہر ہو تے ہیں اور اپنی ماموریت (فریضہ) انجام دیتے ہیں اور فرشتوں کے پروں کی کیفیت کا پرندوں کے پروں سے مقایسہ کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے کہ فرشتے پرندوں کی طرح مادی اجسام کے مالک نہیں ہیں اور معرفت و شناخت کے وسائل جو ہماری دسترس میں ہیں یعنی اجسام کی حسی شناخت کے ذریعہ ان کی حقیقت کو درک نہیں کر سکتے ،لہٰذا ان کے درک کرنے کا ذریعہ سوائے نقل کے اور کوئی چیزنہیں ہے جس طرح ان دیکھے شہر اور سر زمینوں کی شناخت صرف سماعت پر موقوف ہے اس فرق کے ساتھ کہ ہم محسوسات کو ان جیسی چیز وں سے مقایسہ کر سکتے ہیں اور عقلی استنتاج کے ذریعہ سنی ہوئی بات کی صحت اور عدم صحت کافیصلہ کر سکتے ہیںیہاں پر اس کی تشریح کی گنجائش نہیں لیکن ان دیکھے عالم کا مادی دنیا سے مقایسہ ممکن نہیں ہے ۔

خدا وند عالم فرشتوںکے حالات کے ضمن میں فرماتا ہے : خدا وند عالم نے تمام وہ چیزیں جن کوفرشتوں کو جاننا چاہئے انہیں سکھا دی ہیں ایسی تعلیم جولابدی طور پر انکی ماموریت اوران کے وظائف کے حدود میں شامل ہو۔

نیز ان لوگوںکو اس بات سے کہ وہ روئے زمین پر خلیفہ بنائے گا آگاہ کیا اور اس کے لئے آدم ابوالبشر کا تعارف کرایا اور فرمایا کہ فرشتوں نے کہا:

( اتجعل فیها من یفسد فیها و یسفک الدماء ونحن نسبح بحمد ک و نقدس لک )

کیا زمین پرکسی ایسے کو (خلیفہ)بنائے گا جو فساد برپا کرے اور خونریزی کرے؟ ! جبکہ ہم تیری تسبیح و حمد بجالاتے اور تقدیس کرتے ہیں۔( ۱ )

روایات میں مذکور ہے کہ فرشتوں نے اس لئے ایسا کہا کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم سے پہلے کچھ مخلوقات کی تخلیق کی تھی جو فساد اور خونریزی کی خوگر تھیں لہٰذا انہیں کرتوت کی بنا پر خدا وند عالم نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا، فرشتوں نے نئی مخلوق کا گز شتہ مخلوقات سے قیاس کیا۔جسکا خد اوند عالم نے یہ جواب دیا: میں ان حقائق کو جانتا ہوں جسے تم نہیں جانتے! پھر آدم کی تخلیق کی اور تمام اسماء یعنی تمام اشیاء کے حقائق سے انہیں آگاہ کیا؛ اس لئے کہ یہاں پر اسماء اسم کی جمع کسی شیء کے خصوصی صفات اور اس کے بیان کرنے والے کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ زمین و

____________________

(۱)صحیح مسلم، کتاب زہد، باب احادیث متفرقہ، ص ۲۲۹۴ و مسند احمد ج ۶ ص ۱۵۳ اور ۱۶۸

(۲)بقرہ۳۰


آسمان کے درمیان جو کچھ ہے انسان کے نفع کے لئے مسخر اور تابع کر دیا ہے ، لہٰذا ان کے صفات اور خواص کی بھی انہیں تعلیم دی اس کی تشریح اس کتاب کے خاتمہ میں بیان ہوگی۔

خدا وند عالم نے حضرت آدم ـ کوتمام مسخرات کے خواص سکھا دئے تاکہ وہ ان پراپنے فائدہ کے تحت عمل کریں اور ہر ایک فرشتہ کو صرف اس ان سے متعلق وظیفہ کی تعلیم دی مثال کے طور پر : جو فرشتے عبادت کے لئے خلق کئے گئے تھے انہیں تہلیل، تسبیح اور تکبیر خدا وند ی کا طریقہ بتایا اور جو فرشتے انسانوں کے اعمال ثبت کرنے کے لئے خلق کئے گئے ہیںانہیں انسانی خیر و شرکے ثبت کرنے کا طریقہ اور کیفیت بتائی ، قبض روح پر مامور فرشتوں کو قبض روح کا دستور اور طریقہ سکھایانیز دوسروںکو بھی تمام وہ چیزیںجس کے لئے خلق کئے گئے تھے سکھادیں۔

اسی وجہ سے کیونکہ فرشتوں میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ خدا وند عالم نے جو کچھ آدم کو تعلیم دیا ہے درک کریں اور جب خدا نے فرشتوں سے ان اسماء کے حقائق کے بارے میں سوال کیا جس کی حضرت آدم کو تعلیم دی تھی تو، انہوں نے جواب دیا : تو پاک و پاکیزہ ہے جو تونے ہمیں تعلیم دی ہے اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے ! خد ا نے حضرت آدم کو حکم دیا کہ جو کچھ خد انے تمہیں تعلیم دی ہے انہیںبتادو،پھر ملائکہ سے فرمایا آدم کا سجدہ کرو، ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا کیونکہ وہ منکر اور متکبر تھا....

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مخلوقات کی یہ صنف، یعنی وہ فرشتے جن کو خداوند عالم نے آسمانوں اور زمین پر سکونت دی ہے اور موت، زندگی اور عقل و ادراک کے مالک اور ہوا ئے نفس سے خالی ہیں مقام ہدایت میں ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے ، جس کے لئے و ہ خلق کئے گئے ہیں یا د کریں تاکہ اپنی پوری حیات میں اس پر عمل کریں اور اسے عملی طور پرپیش کریں لیکن اخبار سجدہ میں ان کے سوال کی داستان صر ف اتنی ہی ہے کہ وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ آدم کس لئے خلق کئے گئے ہیں اور جب اس بات کو آدم کے ذریعہ جان لیا اور انہوں نے اسماء اور حقائق اشیاء کی تعلیم دے دی تو دستورات خدا وندی کی اطاعت کی اور آدم کا سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے آدم کے سجدہ سے انکار کیا اور تکبر کا مظاہرہ کیا اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔

اس بنا پر فرشتوں کی ہدایت خدا کی تعلیم کی وجہ سے ہے ، ایسی چیز کی تعلیم جو ان سے مطلوب ہے ۔

دوسرے ۔مسخرات کی تسخیر

ہدایت تسخیری کی بحث میں ہم یہاں پر صرف ان چند آیات کا ذکر کریں گے جو صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیںکہ خدا وند عالم نے ان مسخرات کو انسان کی خاطر اور اس کے فائدہ کے لئے تسخیر کیا ہے ، جیسا کہ فرمایا:


۱۔( و سخر لکم ما فی السمٰوات وما فی الأرض جمیعاًً منه ان فی ذلک لآیاتٍ لقومٍ یتفکرون )

خداوند عالم نے جو کچھ زمین وآسمان میں ہے اپنی طرف سے تمہارے نفع اور فائدہ کے لئے مسخر کیا ہے یقیناً اس کام میں غور و خوض کرنے والوںکیلئے نشانیاں ہیں۔( ۱ )

۲۔( الله الذی جعل لکم الأرض قراراً و السماء بنائً )

وہ خدا جس نے زمین کو تمہارے لئے سکون و امن کی جگہ اور آسمان کو چھت قرار دیا۔( ۲ )

۳۔( الذی جعل لکم الأرض مهداً و جعل لکم فیها سبلاً لعلکم تهتدون )

وہ ذات جس نے زمین کو تمہارا گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ ہدایت پاسکو۔( ۳ )

۴۔( و الارض وضعها للانام٭ فیها فاکهة و النخل ذات الاکمام٭ و الحب ذو العصف و الریحان٭ فبای آلاء ربکما تکذبان )

زمین کو خلائق کے لئے خلق کیا، اس میں میوہ اور پر ثمر کھجور کے درخت ہیںجن کے خوشوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور دانے ہیں جو تنوںاور پتوں کے ہمراہ سبزے کی شکل میں نکلتے ہیں اور پھول بھی ہیںپھر تم خدا کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔( ۴ )

۵۔( هو الذی جعل لکم الارض ذلولاً فامشو فی مناکبها و کلوا من رزقه و الیه النشور )

وہ خدا وند جس نے زمین کو تمہارے لئے رام کیا لہٰذا دوش ِزمین پر سوار ہو کرراستہ طے کرواور خداوندعالم کا رزق کھائو اور یہ جان لو کہ سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے ۔( ۵ )

۶۔( الم تر ان الله سخر لکم ما فی الأرض )

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے خد انے تمہارے لئے رام اور مسخر کر دیا ہے۔( ۶ )

۷۔( ولقد کرمنا بنی آدم و حملنا هم فی البر و البحر و رزقناهم من الطیبات و فضلنا )

____________________

(۱) جاثیة ۱۳

(۲)مومن۶۴

(۳)زخرف۱۰

(۴)رحمن۱۰۔۱۳

(۵)ملک۱۵(۶)حج۶۵


( هم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلاً )

یقینا ہم نے بنی آدم کو مکرم بنایا اور انہیں خشکی اور دریا کی سیر کرائیاورپاکیزہ چیزوںسے انہیں رزق دیا اور انہیں بہت ساری مخلوقات پر فوقیت اور برتری دی۔( ۱ )

۸۔( الله الذی خلق السمٰوات الارض و انزل من السماء مائً فأَخرج به من الثمرات رزقاً لکم و سخر لکم الفلک لتجری فی البحر بأمره و سخر لکم الانهار٭ و سخر لکم الشمس و القمر دائبین و سخر لکم اللیل و النهار٭ و آتاکم من کل ما سألتموه و ان تعدوا نعمت الله لا تحصوها ان الانسان لظلوم کفار )

وہ خدا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو خلق کیا اورآسمان سے پانی برسایا اور اس سے تمہارے لئے میوے پیدا کئے ، نیز کشتیوںکو تمہارے لئے رام اور مسخرفرمایا: تاکہ دریائوں میں اس کے حکم سے حرکت کریں نہروں کو تمہارے اختیار میں دیا، سورج، چاند جو منظم نظام کے تحت رواں دواںہیں اور شب و روز کو تمہارے نفع میں تمہارا تابع بنایا نیز اس سے تم نے جو بھی سوال کیا تمہیں دیا؛ اگر نعمت خدا وندی کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے: یقیناً انسان، ستمگراور ناشکرا ہے ۔( ۲ )

۹۔( و علیٰ الله قصد السبیل و منها جائر ولو شاء لهدٰاکم اجمعین ، هو الذی انزل من السماء مائً لکم منه شراب و منه شجر فیه تسیمون٭ ینبت لکم به الزرع و الزیتون و النخیل و الاعناب و من کل الثمرات ان فی ذلک لآیة لقومٍ یتفکرون٭ و سخر لکم اللیل و النهار و الشمس و القمر و النجوم مسخرات بِأَمره ان فی ذلک لآیاتٍ لقومٍ یعقلون٭ و ما ذَرَاَ لکم فی الارض مختلفاً الوانه انا فی ذلک لآیة لقوم یذکرون٭و هو الذی سخر البحر لتأکلوا منه لحما طریّاً و تستخرجوا منه حلیة تلبسونها و تری الفلک مواخر فیه و لتبتغوا من فضله و لعلکم تشکرون٭ و القی ٰ فی الارض رواسی ان تمید بکم و انهاراً و سبلاً لعلکم تهتدون٭ و علاماتٍ و بالنجم هم یهتدون )

اور خدا کی ذمہ داری ہے کہ تہیں راہ راست دکھائے، لیکن بعض راستے کج بھی ہوتے ہیں! اگر خدا چاہے تو تم سب کی ہدایت کر دے ؛وہ ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا کہ جس کے ایک حصہ کو تم نوش

____________________

(۱)اسرائ۷۰

(۲)ابراہیم ۳۲تا ۳۴


کرتے ہو، نیز ایک حصہ سے نباتات اور درختوںکو اگایا تاکہ اس کے ذریعہ اپنے حیوانات کے چارہ کا انتظام کرو؛ خداوند عالم نے اس پانی سے تمہاری لئے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور نیز تمام میوہ جات اُگائے یقینا اس کام میں صاحبان عقل کے لئے روشن نشانی ہے ،اس نے روز و شب، ماہ و خورشید کو تمہارے لئے مسخر کیا، نیز ستارے بھی اس کے حکم سے تمہارے لئے مسخر ہیں یقینا اس تدبیر میں اس گروہ کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقل کا استعمال کرتے ہیں اور گوناگوں ، رنگا رنگ مخلوقات کو زمین میں تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا، اس خلقت میں روشن نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عبرت حاصل کرتے ہیں، وہ ایسی ذات ہے جس نے دریا کو تمہارے لئے رام کیا تاکہ اس سے تازہ گوشت کھائو اور پہننے کے لئے زیورات نکالو، کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ دریا کے سینہ کو چاک کرتی ہے تاکہ خدا کے فضل و کرم سے استفادہ کرو اور شاید اس کا شکرا دا کرو، نیز زمین میں ثابت اور محکم پہاڑ قرار دئیے تاکہ تمہیں زلزلہ سے محفوظ رکھے، نہریں اور راستے پیدا کئے تاکہ ہدایت حاصل کرو اور علامتیں قرار دیں اور لوگ ستاروں کے ذریعہ راستہ تلاش کرتے ہیں۔( ۱ )

۱۰۔( و من ثمرات النخیل و الاعناب تتخذون منه سکراً و رزقاً حسناً ان فی ذلک لآیة لقوم یعقلون )

کھجور اور انگور کے درختوں کے میووں سے، مسکرات( نشہ آور)عمدہ رزق اور پاکیزہ روزی حاصل کرتے ہو۔ اس میں صاحبان عقل کے لئے روشن نشانی ہے۔( ۲ )

کلمات کی تشریح

۱۔ سخّر: رام اور خاضع بنایا تاکہ معین ہدف کے لئے استعمال کرے، مسخر، یعنی وہ چیز جو طاقت کے ذریعہ خاضع اور رام ہوئی ہو۔

۲۔ اکمام: ''کِمّ ''کی جمع ہے : درخت کے میوہ اور زراعت کے دانہ کا غلاف اور چھلکا۔

۳۔ حب: دانہ، لیکن ا س سے مراد ، جو ، گیہوں اور چاول ہے ۔

۴۔ عصف: سوکھا پتا، دانوں کا چھلکا اور گھاس.

۵۔ ریحان: خوشبو دار گھاس

____________________

(۱)نحل۱۶۔ ۹(۲)نحل : ۶۷.


۶۔ آلائ: نعمتیں

۷۔ ذلول: سدھاہوا اور رام، سواری کا جانور جو سرکش ہونے کے بعد رام ہوا ہو۔

۸۔ مناکب: منکب کی جمع ہے ، انسان اور غیر انسان کے شانے اور بازو کا جوڑ ، مناکب زمین :

۱۔ پہاڑوں کو کہا گیاہے ، اس لئے کہ وہ اونٹ کے شانوںکے مانند زیادہ نمایاں اور ابھرے ہوئے ہوتے ہیں۔

۲۔ نیز زمین کے اطراف و جوانب کو بھی کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ اونٹ کے دو طرفہ پہلوئوں کی مانند ہوتے ہیں ۔

۹۔ دائبین: دائب کاتثنیہ، کام میں زیادہ اور ہمیشہ کوشش کرنے والے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، یعنی سورج، چاند ہمیشہ حرکت میں ہیں اور دنیا کی انتہا تک اسی طرح حرکت کرتے رہیں گے کبھی متوقف نہیں ہوں گے۔

۱۰۔ تسیمون: چراتے ہو یا چرانے کے لئے چراگاہ لے جاتے ہو۔

۱۱۔ذرأ: ایجاد کیا،( یعنی جو پہلی بار ایجاد ہو) وسعت عطا کی۔

۱۲۔ مواخر:ماخرة کی جمع ہے: دریا کے پانی کو چیرنے والی کشتی۔

۱۳۔ تمیدبکم:تمہیں لرزا دیا، مید: شدید جھٹکے اور لرزش کو کہتے ہیں جیسے زمین کا زلزلہ ، یعنی پہاڑوں کو زمین میں ( بعنوان ستون) قرار دیا تاکہ اسے زلزلہ اور جھٹکے سے محفوظ رکھے۔

بحث کا نتیجہ

خدا وند عالم نے زمین اور اس کے داخل اور خارج پائی جانے والی موجودات جیسے دریائوں، جھیلوں ، درختوں، نباتات اور معادن ( کانیں) آسمان ،کہکشاں، چاند، سورج، ستارے غرض ساری چیزیں انسان کے لئے تخلیق کی ہیں، جیسا کہ خود فرماتا ہے :یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب کو اپنی طرف سے تمہارے لئے مسخر اورتمہارا تابع بنا دیا ہے ۔( ۱ )

خدا وند عالم نے اس طرح کی مخلوقات کو ، ہدایت تسخیری کے ذریعہ اس طرح بنایا کہ اس نے اپنی ربوبیت کے اقتضا کے مطابق جو نظام معین فرمایا ہے اس کے اعتبار سے حرکت کریں، اس طرح کی ہدایت کو

____________________

(۱)جاثیہ : ۱۳.


قرآن میں زیادہ تر لفظ ''سخر'' اور کبھی''جعل'' جیسے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ، جیسے :

( جعل الشمس ضیائً و القمر نوراً )

یعنی سورج کوضیا بخش اور چاند کو تابندہ بنایا۔

تیسرے۔ الہام غریزی کے ذریعہ حیوانات کی ہدایت

خدا وند عالم سورۂ نحل میں فرماتا ہے :

۱۔( والانعام خلقها لکم فیها دفء و منافع و منها تأکلون٭ ولکم فیها جمال حین تریحون و حین تسرحون٭ و تحمل اثقالکم الیٰ بلد لم تکونوا بالغیه الا بشق الأنفس ان ربکم لرؤ وف رحیم٭و الخیل و البغال و الحمیر لترکبوها و زینة و یخلق ما لا تعلمون )

اوراس نے چوپایوں کو خلق کیا، اسمیں تمہارے لئے پوشش کا سامان اور دیگر منافع ہیں؛ نیزتم ان کا دودھ اور گوشت کھاتے ہو ، وہ تمہارے لئے زینت اور جمال کا باعث ہیں جب انہیں واپس لاتے ہو اورجب جنگل اور بیابانوں میں روانہ کرتے ہو : تو وہ سنگین اور وزنی بوجھ تمہارے لئے ان جگہوں تک لے جاتے اور اٹھاتے ہیں جہاں تک تم جان جونکھوں میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک تمہارا خدا مہربان اور بخشنے والا ہے ۔ اوراس نے گھوڑے، خچر اور گدھے خلق کئے تاکہ ان پر سواری کرو اور تمہاری زینت کا سبب ہوں نیز کچھ چیزیںایسی پیدا کرتا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔( ۱ )

۲۔( و ان لکم فی الانعام لعبرة نسقیکم مما فی بطونه من بین فرث و دم لبناً خالصاً سائغاً للشاربین )

یقیناچوپایوں میں تمہارے لئے عبرت ہے :جو کچھ ان کے شکم میں ہے چبائی ہوئی غذا( گوبر) اور خون کے درمیان خوشگواراور خالص دودھ ہے ہم اسے تمہیں پلاتے ہیں۔( ۲ )

۳۔( و أَوحیٰ ربک الیٰ النحل ان اتخذی من الجبال بیوتاً و من الشجر و مما یعرشون٭ ثم کلی من کل الثمرات فاسلکی سبل ربک ذللاً یخرج من بطونها شراب مختلف الوانه فیه شفائً للناس ان فی ذلک لآیة لقوم یتفکرون )

____________________

(۱)نحل ۵۔۸

(۲)نحل۶۶


تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی : پہاڑوں، درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں کہ جن پر لوگ چڑھتے ہیں، گھر بنائے، پھر اس کے تمام ثمرات کو کھائے اور نرمی کے ساتھ اپنے پروردگار کی سیدھی راہ کو طے کرلے۔ اس کے شکم سے رنگا رنگ قسم کا شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے یقینا اس چیز میں روشن علامت اور نشانی ہے اس گروہ کے لئے جو غور و فکر کرتا ہے۔( ۱ )

۴۔( و الله خلق کل دابة من ماء فمنهم من یمشی علیٰ بطنه و منهم من یمشی علیٰ رجلین و منهم من یمشی علیٰ أَربع یخلق الله ما یشاء ان الله علیٰ کل شیئٍ قدیر )

خدا وند عالم نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے خلق فرمایا: ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض اپنے دو پیروںپراور کچھ چار پیروں سے چلتے ہیں۔ خدا جو چاہے پیدا کرسکتا ہے اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔( ۲ )

۵۔( وما من دابة فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیه الا اُمَم امثالکم ما فرطنا فی الکتاب من شیئٍ ثم الیٰ ربهم یحشرون )

اورکوئی زمین پر چلنے والا ایسا نہیں اور کوئی اپنے دو پروں کے سہارے اڑنے والا پرندہ ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ وہ بھی تمہاری جیسی ایک امت ہے۔ اس کتاب میں کوئی چیز فروگز اشت نہیںہوئی ہے ۔ پھر سارے کے سارے اپنے پروردگار کی طرف محشور کئے جائیں گے۔( ۳ )

کلمات کی تشریح

۱۔ فرث :جو چیز معدہ کے اندر ہوتی ہے ۔

۲۔ حیوانات کو خدا کا وحی کرنا: جس سے ان کی زندگی اور امور کی درستگی وابستہ ہے اس کے انجام کے لئے الہام اور ہدایت غریزی کرنا اور کبھی زیادہ دقت اور ہوشمندی کے ساتھ ہوتی ہے، حیوانات کا فعل تقریبا ویسا ہی ہے جیسے کہ ایک تسخیر شدہ صنف انجام دیتی ہے ۔

۳۔ یعرشون:عرش کے ''مادہ'' سے ہے جس کے معنی چھت اور چھپر کے ہیںیعنی چھتوں کی بلندی کے اوپر بھی جہاں لوگ جاتے ہیں نیزگھر بنائو۔

۴۔ ذللاً: استوار اور ہموار

____________________

(۱)نحل۶۸۔۶۹(۲)نور۴۵(۳)انعام۳۸.


بحث کا نتیجہ

خدا وند عالم نے ان موجودات کے لئے جنہیں آسمان کے نیچے محدود فضا میں زیور تخلیق سے آراستہ کیا ہے ایسی موجودات جو موت، زندگی اور حیوانی نفس کی مالک ہیں لیکن عقل سے بے بہرہ ہیں فضا میں ہوںیا زمین میں ؛ اس کے اندر ہوںیا دریائوں کی تہوںمیں ؛ خدا وند عالم نے ان کی ہر ایک صنف اور نوع کے لئے ایک نظام بنایا ہے جو ان کی فطری تخلیق اور حیوانی زندگی سے تناسب رکھتا ہے؛ اور ہر نوع کو ایک ایسے غریزہ کے ذریعہ جو اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے الہام فرمایا ہے کہ زندگی میں اس نظام کے تحت حرکت کریں؛ وہ خود ہی اس طرح کی مخلوقات کی ہدایت کا طریقہ اور کیفیت جیسے شہد کی مکھی کی زندگی کے متعلق حکایت کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے : تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی کہ: پہاڑوں، درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں جہاں لوگ بلندی پر جاتے ہیں، گھربنائے، پھرہر طرح کے پھلوںسے کھائیاور اپنے پروردگار کی سیدھی راہ کو طے کرے اس کے شکم سے رنگ برنگ کا شربت نکلتاہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے یقینا اس میں روشن نشانیاں ہیں صاحبان عقل و ہوش کیلئے۔

معلو م ہو اکہ شہد کی مکھی اپنی مہارت اور چالاکی سے جو کام انجام دیتی ہے اور اسے حکیمانہ انداز اورصحیح طور سے بجالاتی ہے وہ ہمارے رب کے الہام کی وجہ سے ہے، یہ بیان اس طرح کے جانداروں کی ہدایت کا ایک نمونہ ہے جو اسی سورہ کی : ۸۔۵ آیات میں چوپایوں کی صنف ، ان کی حکمت آفرینش اور نظام زندگی اور وہ نفع جو ان میں پایا جاتا ہے ان سب کے بارے میں آیا ہے ؛ اور اوحیٰ ربک کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جس پروردگار نے شہد کی مکھی کو ہدایت کی کہ معین شدہ نظام کے تحت جو اس کی فطرت کے موافق ہے زندگی گز ارے وہی ہمارا خدا ہے جس نے ہمارے لئے بھی ہماری فطرت سے ہم آہنگ نظام بنایا ہے ایسی فطرت کہ ہمیں حکیمانہ اور متقن انداز میں جس پر پیدا کیا۔

چوتھے۔ پیغمبروں کے ذریعہ انسان اور جن کی تعلیم.

سورہ ٔ اعلی کی آیات( خلق فسوی و قدر فهدی ) میں انسان اور جن خدا وند عالم کے کلام کے مصداق ہیں۔

پہلے ۔ انسان: خدا وند عالم نے انسان کو خلق کیا اور اس کے لئے نظام حیات معین فرمایا: نیز اس کی ذات میں نفسانی خواہشات ودیعت فرمائیں کہ دل کی خواہشکے اعتبار سے رفتار کرے نیز اسے امتیاز اور تمیز دینے والی عقل عطا کی تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنا نفع اور نقصان پہچانے اور اسے ہدایت پذیری کے لئے دو طرح سے آمادہ کرے ۔


۱۔ زبان سے گفتگو کے ذریعہ، اس لئے کہ بات کرنے اور ایک دوسرے سے تفاہم کا طریقہ خود خدا نے انسان کو الہام فرمایا ہے :( خلق الانسان، علمه البیان ) انسان کو خلق کیا اور اسے بات کرنے کا طریقہ سکھایا۔( ۱ )

۲۔ پڑھنے ، لکھنے اور افکار منتقل کرنے کے ذریعہ ایک انسان سے دوسرے انسان تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک جیسا کہ ارشاد ہوا:

( اقرأ و ربّک الأکرم٭ الذی علّم بالقلم٭ علم الانسان ما لم یعلم )

پڑھو کہ تمہار ارب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم دیا، جو کچھ انسان نہیں جانتا تھا اسے سکھایا۔( ۲ )

خداوند متعال نے اسی کے بعد انسان کے لئے اس کی انسانی فطرت کے مطابق نظام زندگی اور قانون حیات معین فرمایا ہے :

جیسا کہ ارشاد ہوا:

( فَأَقِم وجهک للدین حنیفاً فطرة َالله التی فطر الناس علیها )

اپنے رخ کو پروردگار کے محکم اور ثابت آئین(دین اسلام ) کی طرف رکھو اور باطل سے کنارہ کش رہو کہ یہ دین خدا کی وہ فطرت جس پر خدا نے لوگوں کو خلق کیاہے ۔( ۳ )

خدا وند عالم نے پیغمبروں پر وحی نازل کر کے انسانوںکو اس دین کی طرف جو اس کی فطرت سے سازگار اور تناسب رکھتا ہے ہدایت کی؛ جیسا کہ فرمایا:

۱۔( انا اوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوحٍ و النبین من بعده... )

ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی کی جس طرح نوح اور ان کے بعد دیگر انبیاء کی طرف وحی کی ہے( ۴ )

۲۔( شرع لکم من الدین ما وصی به نوحاً والذی اوحینا الیک وما وصینا به ابراهیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین )

____________________

(۱)رحمن۳۔۴

(۲)علق۳۔۴

(۳)روم۳۰

(۴)نسائ۱۶۳


تمہارے لئے اس دین کی تشریع کی کہ جس کی نوح کو وصیت کی تھی اور جو تم پر وحی نازل کی اورہم نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو جس کی وصیت کی یہ ہے کہ دین قائم کرو...۔( ۱ )

خدا وند عالم نے اس دین کو جسے پیغمبروں پر نازل کیا ہے اس کا اسلام نام رکھا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( ان الدین عند الله الاسلام ) خدا کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔( ۲ )

دوسرے ۔ جن: خدا نے جن کو پیدا کیا اور انسان ہی کی طرح ان کی زندگی بھی بنائی کیونکہ ان کی سرشت میں بھی نفسانی خواہشات کا وجود ہے کہ نفسانی خواہشات کے مطابق رفتار کرتے ہیںاور عقل کے ذریعہ اپنے نفع اور نقصان کو درک کرتے ہیں ، مانندابلیس جو کہ جنوں میں سے تھا، اس کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا ہے اور فرمایاہے:

( و اِذ قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربه... )

جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کا سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ،وہ جنوں میں سے تھا اورحکم پروردگار سے خارج ہو گیا؛ خدا وند عالم نے سورۂ اعراف میں ابلیس کی داستان بسط و تفصیل سے بیان کی ہے ۔( ۳ )

( ولقد خلقناکم ثم صورناکم ثم قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس لم یکن من الساجدین٭ قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک قال انا خیر منه خلقتنی من نار و خلقته من طین٭ قال فاهبط منها فما یکون لک ان تتکبر فیها فاخرج انک من الصاغرین٭ قال انظرنی الیٰ یوم یبعثون٭ قال انک من المنظرین٭ قال فبما أغویتنی لأقعدن لهم صراطک المستقیم٭ ثم لآتینهم من بین ایدیهم و من خلفهم و عن أیمانهم و عن شمائلهم و لا تجد اکثرهم شاکرین٭ قال اخرج منها مذئوما مدحورا لمن تبعک منهم لأملئن جهنم منکم اجمعین )

اورہم نے تمہیں پیدا کیا، پھر شکل و صورت بنائی، اس کے بعد فرشتوں سے کہا: ''آدم کا سجدہ کرو'' تو ان سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوںمیں سے نہیں تھا؛ خدا وند عالم نے اس سے فرمایا: جب میں نے حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روک دیا؟ کہا: میں اس سے بہتر ہوں ؛ تونے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے خلق کیا ہے فرمایا: تو اس جگہ سے نیچے اتر جاتجھے حق نہیں ہے کہ اس جگہ تکبر سے کام لے نکل جا ؛اس لئے کہ تو پست اور فرومایہ شخص ہے ! ابلیس نے کہا: مجھے روز قیامت تک کی مہلت

____________________

(۱)شوری۱۳(۲)ال عمران۱۹(۳)کہف۵۰


دیدے، فرمایا مہلت دی گئی! تو بولا:اب جو تونے مجھے گمراہ کر دیا ہے میں تیرے راستہ میں ان کے لئے گھات لگا کر بیٹھوں گا پھر آگے سے ، پیچھے سے ،دائیں سے، بائیں سے، ان کا پیچھا کروں گااور تو ان میں سے اکثر کوشکر گز ار نہیں پائے گا۔

فرمایا:اس منزل سے ننگ و خواری کے ساتھ نکل جا، قسم ہے کہ جو بھی ان میں سے تیری پیروی کرے گا جہنم کو تم لوگوں سے بھردوں گا۔( ۱ )

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا وند عزیز و جبار کی سرکش اور طاغی جنیمخلوق میں دیگر موجودات سے کہیں زیادہ قوی ہوائے نفس پائی جاتی ہے۔

خدا وند عالم نے سورۂ جن میں تمام جنات میں ہوای نفس کے وجود کی خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے : کہ جنات ہوائے نفس کی پیروی میں اس درجہ آگے بڑھ گئے کہ فرشتوں کی باتیں چرانے کے لئے گھات میں لگ گئے۔ اور اس رویہ سے باز نہیں آئے یہاں تک کہ خاتم الانبیاء مبعوث ہوئے اور خدا وند عالم نے جلادینے والے شہاب کا انہیں نشانہ بنایا، روایت ہے کہ وہ لوگ فرشتوں کی باتیں سنکر کاہنوں کے پاس آکر بتاتے تھے اور بربنائے ظلم و ستم اور انحراف و گمراہی آدمیوں کی اذیت اور آزار کے لئے جھوٹ کا بھی اضافہ کردیتے تھے۔

خدا وند عالم نے سورۂ جن میں اس رفتار کی بھی خبر دی ہے اور فرمایا ہے:( فزادوهم رهقاً ) یعنی جناتوں نے آدمیوں کی گمراہی میں اضافہ کر دیا. اور یہ کہ جنات خواہشات نفس کی پیروی کرنے میں آدمیوںکی طرح ہیں اور ان کے درمیان مسلمان اور غیر مسلمان سبھی پائے جاتے ہیں اس کی بھی خبر دی ہے ۔

سورۂ احقاف میں مذکور ہے : جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قرآن کی تلاوت کررہے تھے توجنات کے ایک گروہ نے حاضر ہوکراسے سنا اور اپنی قوم کی طرف واپس آکر انہیں ڈرایا اور کہا: خدا وند عالم نے موسیٰ کے بعد قرآن نامی کتاب بھیجی ہے اور ان سے ایمان لانے کی درخواست کی ،اسی طرح سورۂ جن میں معاد کے سلسلے میں بعض جنات کا بعض آدمیوں سے نظریہ یکساںملتا ہے کہ ان کا خدا کے بارے میں یہ خیا ل ہے کہ : خدا کبھی کسی کو قیامت کے دن مبعوث نہیں کرے گا۔

گز شتہ مطالب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جنوں میں بھی انسانوں کی طرح عقلی سوجھ بوجھ اور کامل ادراک پایا جاتا ہے اور وہ لوگ انسانوں کی باتیں سمجھتے ہیں اور اسے سیکھنے میں گفتگو کرنے میں بھی انسان کے ساتھ

____________________

(۱)اعراف۱۱۔۱۸


شریک ہیں، یہ موضوع سورۂ نمل کی ۱۷ میں اور ۳۹ویں آیت میں سلیمان کی ان سے گفتگو کے سلسلہ میں محسوس کرتے ہیں۔

اسی طرح یہ دونوں صنف نفسانی حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہیںجس طرح رفتار وعمل کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں؛ خدا وند عالم نے سورۂ سبا میں فرمایا:

( یعملون له ما یشاء من محاریب و تماثیل و جفان کالجواب و قدور راسیات )

جنات جناب سلیمان کے لئے جو چاہتے تھے انجام دیتے تھے اور محراب، مجسمے، بڑے بڑے کھانے کے برتن اور دیگیںبناتے تھے۔( ۱ )

اور سورہ ٔ انبیاء میں فرماتا ہے :

( ومن الشیاطین من یغوصون له و یعملون عملا دون ذلک )

بعض شیاطین ( جنات )جناب سلیمان کے لئے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ بھی کام کرتے تھے۔( ۲ )

خدا وند عالم نے ان دو گروہ جن و انس کی اسلام کی طرف ہدایت اوررہنمائی کے لئے انبیاء بھیجے بشارت، انذار اور تعلیم دینے میں دونوں کومساوی رکھاتاکہ خدائے واحد و یکتا پر ایمان لائیں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں اس کے اور پیغمبروں، فرشتوں، قیامت، مشاہد اور مواقف پر ایمان لائیں۔

اسلامی احکام ، جو کچھ اجتماعی آداب سے متعلق ہیں جیسے : ناتواںکی مدد کرنا ، ضرورتمندوں اور مومنین کی نصرت کرنا اور دوسروں کو اذیت دینا اور ان کے مانند دوسری باتیں ،ان میں دونوں گروہ مشترک ہیں ،لیکن عبادات جیسے : نماز،روزہ، حج اور ان کے مانند جنوں سے مربوط دیگر احکام ضروری ہے کہ وہ جنوں کے حالات سے موافقت اور تناسب رکھتے ہوںجس طرح آدمی ایک دوسرے کی نسبت احکام میں اختلاف رکھتے ہیں جیسے مرد و عورت کے مخصوص احکام یا مریض و سالم ، مسافر اور غیر مسافر وغیرہ کے احکام۔

مباحث کا نتیجہ

خدا وند عالم نے فرشتوںکو خلق کیا تاکہ اس کی ''ربوبیت'' اور ''الوہیت'' کے محافظ و پاسدارہوں جیسا کہ

____________________

(۱)سبا۱۳

(۲)انبیائ۸۲


خود ہی گز شتہ آیات میں نیز ان آیات میں جس میں فرشتوں( ۱ ) کا ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں خبر دی ہے اسی غرض کے پیش نظر انہیں تمام لوگوں سے پہلے زیور تخلیق سے آراستہ کیا؛ وہ اس وقت حاملان عرش( ۲ ) تھے جب عرش الٰہی پانی پرتھا، جیسا کہ سورۂ ہود میں فرمایا ہے:

( وهوالذی خلق السمٰوات والارض فی ستة ایام وکان عرشه علٰی المائ... ) ( ۳ )

اوروہ خدا وہ ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں خلق کیاجب کہ اس کاعرش پانی پر ٹھہرا ہوا تھا۔

اور نیز خدا وند عالم نے آسمان کو اس کے داخلی اور خارجی اشیاء سمیت خلق کیا: جن فرشتوں کو ہم جانتے ہیں اورجن کو ہم نہیں جانتے اور جو کچھ آسمانوںکے نیچے ہے جیسے کہکشائیں ،ستارے ، چاند اور سورج وغیرہ کہ جن کو ہم جانتے ہیں اور ان میں سے بہت سی چیزوں کو ہم نہیں جانتے اور زمین جو کچھ اس کے اوپر اور جو کچھ اس کے اندر ہے جیسے پانی ، نباتات ، جمادات ، ( معادن ) وغیرہ جو کہ زندگی کیلئے مفید ہیں اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے جیسے گیس وغیرہ جو ہم پہچانتے ہیں اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو نہیں پہچانتے یہ تمام چیزیںوہی ہیںجوان تینوں انسان، حیوان اور جن کی ضروریات زندگی میں شامل ہیں حیوانوں کو جن و انس سے پہلے اس لئے پیداکیا کہ انسان اور جن اس کی احتیاج رکھتے ہیں اور جنات کو انسان سے پہلے پیدا کیا جیسا کہ خود ہی حضرت آدم کی خلقت سے متعلق داستان میں ارشاد فرماتا ہے :

حضرت آدم کی خلقت کے بعدتمام ملائکہ کو ''کہ ابلیس بھی انہیں میں سے تھا ''حکم دیا کہ آدم کا سجدہ کریں پھر انسان کو تمام اصناف مخلوقات کے بعد پیدا کیا۔

یہ خدا وند عالم کی چہار گانہ اصناف مخلوقات کی داستان تھی کہ جس کا قرآن کریم کی آیات اور روایات سے بمقتضائے ترتیب ہم نے استنباط کیا، لیکن ان کی ہدایت کی قسمیں اس ترتیب سے ہیں:

جب خدا ''رب العالمین'' نے فرشتوں، جن و انس کو عقل و ادراک بخشا تو ان کی ہدایت بھی دو

طرح سے قرار دی، تعلیم بالواسطہ، تعلیم بلا واسطہ جیسا کہ فرشتوں کی زبانی حضرت آدم کی تخلیق کے بارے میں حکایت کرتا ہے( سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا ) تو پاک و پاکیزہ ہے ہم تو تیرے دئے ہوئے علم کے علاوہ کچھ جانتے ہی نہیں ہیں؛ اور صنف انسان کے بارے میں فرمایا: ( علم آدم الاسمائ

____________________

(۱)معجم المفہرس قرآن، میں مادہ''ملک''ملاحظہ ہو۔(۲)عرش سے مراد وہ جگہ و مقام ہے جہاں پر الوہیت اور ربوبیت سے مربوط امور پر مامور خدا کے فرشتہ رہا کرتے تھے کہ جو، پانی کے اوپر زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے رہتے تھے ۔(۳)ھود۷


کلہا).خدا نے تمام اسماء ( اسرارخلقت ) آدم کو تعلیم دئے اور فرمایا:( علم الانسان ما لم یعلم ) جو انسان نہیں جانتا تھا اسے تعلیم دی۔ اور جنوںکی داستان میں جو کہ خود انہیں کی بیان کردہ ہے اس طرح ہے کہ ان لوگوں نے قرآن سیکھا اور اس سے ہدایت یافتہ ہو گئے ایسااس وقت ہوا جب رسول خدا سے قرآن کریم کی تلاوت سنی ۔

چونکہ خدا وند سبحان نے صنف حیوان اور زمین پر چلنے والوں کو تھوڑا سا شعور و ادراک بخشا ہے لہٰذا ان میں سے ہر ایک کی ہدایت الہام غریزی کے تحت ہے اور چونکہ ان کے علاوہ تمام مخلوقات جیسے ستارے، سیارے، جمادات، حتی کہ ایٹم ( e Atom ) وغیرہ کہ ان کوشمہ بھربھی حیات اور ادراک نہیں دیا ہے لہٰذاان کی ہدایت ، ہدایت تسخیری ہے، جیسا کہ تفصیل سے قرآن کریم میں بیان کیا ہے ۔

انسان کی ہدایت کے لئے جو نظام خدا نے بنایا ہے اس کا نام اسلام رکھا ہے اور ہم انشاء اللہ آئندہ بحثوں میں اس کی تحقیق کریں گے۔


۵

دین اور اسلام

الف۔ دین کے معنی

ب۔ اسلام اور مسلمان

ج۔ مومن اور منافق

د۔ اسلام تمام آسمانی شریعتوں کا نام ہے

ھ۔ شرائع میں تحریف اور تبدیلی اور ان کے اسماء میں تغیر:

۱۔یہود و نصاریٰ نے کتاب خدا اور اس کے دین میں تحریف کی

۲۔ یہود و نصاریٰ نے دین کانام بھی بدل ڈالا

۳۔ تحریف کا سر چشمہ

و۔ انسان کی فطرت سے احکام اسلامی کا سازگار ہونا

ز۔ انسان اور نفس امارہ بالسوء ( برائی پر ابھارنے والا نفس)

ح۔ شریعت اسلام میں جن و انس شریک ہیں

الف۔ دین

لفظ''دین'' اسلامی شریعت میں دو معنی میں استعمال ہوا ہے :

۱ ۔جزا، کیونکہ ، یوم الدین قرآن میں جو استعمال ہوا ہے اس سے مراد روز جزا ہے ، اسی طرح سورۂ فاتحہ( الحمد) میں مالک یوم الدین( ۱ ) آیا ہے یعنی روز جزا کا مالک۔

۲۔ شریعت جس میں اطاعت و تسلیم پائی جاتی ہو، شریعت اسلامی میں زیادہ تر دین کا استعمال اسی معنی میں ہوتا ہے ، جیسے خدا وند عالم کا یوسف اور ان کے بھائیوں کے بارے میں قول:( ماکان لیأخذ أخاه فی دین الملک ) ( یوسف) بادشاہی قانون و شریعت کے مطابق اپنے بھائی کو گرفتار نہیں کر سکتے تھے۔( ۲ ) اور سورۂ بقرہ میں فرمایا:( ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین)

خدا وند سبحان نے اطاعت اور تسلیم کے ساتھ تمہارے لئے شریعت کا انتخاب کیا ہے ۔( ۳ )

____________________

(۱) فاتحہ۴(۲)یوسف۷۶(۳)بقرہ۱۳۲


ب۔ اسلام اور مسلمان

اسلام ؛ خدا کے سامنے سراپا تسلیم ہونا اور اس کے احکام ا و رشریعتوں کے سامنے سر جھکانا۔

خدا وند سبحان نے فرمایا:

( ان الدین عند الله الاسلام ) ( ۱ )

یعنی خدا کے نزدیک دین اسلام ہے ۔ اور مسلمان وہ شخص ہے جو خد اور اس کے دین کے سامنے سراپاسر تسلیم خم کر دے۔

اس اعتبارسے حضرت آدم کے زمانے میں اسلام خدا کے سامنے سراپا تسلیم ہونا اور اس کی شریعت کے مطابق رفتار کرنا ہے اور اس زمانے میں مسلمان وہ تھا جو خدا اور آدم پر نازل شدہ شریعت کے سامنیسراپا تسلیم تھا؛ یہ سراپا تسلیم ہونا حضرت آدم کے سامنے تسلیم ہونے کو بھی شامل ہے جو کہ خدا کے برگزیدہ اور اپنے زمانے کی شریعت کے بھی حامل تھے۔

اسلام؛ نوح کے زمانے میں بھی خد ا کے سامنے تسلیم ہونا ، ان کی شریعت کا پاس رکھنا ، حضرت نوح کی خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی کے عنوان سے پیروی کرنا اور گز شتہ شریعت آدم پر ایمان لانا تھا۔ اور مسلمان وہ تھا جو تمام بتائی گئی باتوں پر ایمان رکھتا تھا، حضرت ابراہیم کے زمانے میں بھی اسلام خدا کے سامنے سراپا تسلیم ہونے ہی کے معنی میں تھا اور حضرت نوح کی شریعت پر عمل کرنے اور حضرت ابراہیم کی بعنوان بنی مرسل پیروی کرنے نیز آدم تک گز شتہ انبیاء و مرسلین پر ایمان لانا ہی تھا۔

اور حضرت موسی اور حضرت عیسیٰ کے زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔

نیز حضرت محمد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی وہی اسلام کا گزشتہ مفہوم ہے اور

____________________

(۱)آل عمران۱۹


اس کی حد زبان سے اقرار شہادتین ''اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمداً رسول اللہ'' تھا۔

اس زبانی اقرار کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ضروریات دین خواہ عقائد ہوںیا احکام یا گز شتہ انبیاء کی نبوتیں کہ جن کا ذکرقرآن کریم میں ہوا ہے ان میں سے کسی کاا نکار نہ ہو، یعنی جو چیز تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہے اور اسے اسلام میں شمار کرتے ہیںاس کا انکارنہیں کرنا چاہئے جیسے نماز، روزہ اور حج کا وجوب یا شراب نوشی، سود کھانا،محرموں سے شادی بیاہ کرنا وغیرہ کی حرمت یا اس جیسی اور چیزیں کہ جن کے حکم سے تمام مسلمان واقف ہیں،ان کا کبھی انکار نہیں کرنا چاہئے۔

ج۔ مومن اور منافق

اول : مومن

مومن وہ ہے جو شہادتین زبان پر جاری کرے نیز اسلام کے عقائد پر قلبی ایمان بھی رکھتا ہو۔

اور اس کے احکام پر عمل کرے اور اگر اسلام کے خلاف کوئی عمل اس سے سرزد ہو جائے تو اسے گناہ سمجھے اور خدا کی بارگاہ میں توبہ و انابت اور تضرع و زاری کرتے ہوئے اپنے اوپر طلب بخشش و مغفرت کو واجب سمجھے۔

مومن اور مسلم کے درمیان فرق قیامت کے دن واضح ہوگا لیکن دنیا میں دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے احکام میں شامل ہیں یہی وجہ ہے کہ خدا وند منان نے سورۂ حجرات میں ارشاد فرمایا:

( قالت الأعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا و لما یدخل الاِیْمان فی قلوبکم... )

صحرا نشینوں نے کہا: ہم ایمان لائے ہیں ، تو ان سے کہو: تم لوگ ایمان نہیں لائے ہو بلکہ کہو اسلام لائے ہیں اور ابھی تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے( ۱ )

دوسرے ۔ منافق

الف۔ نفاق لغت میں : نفاق لغت میں باہر جانے کو کہتے ہیں، نافق الیربوع، یعنی چوہا

اپنے ٹھکانے یعنی بل کے مخفی دروازہ پر سرمار کر سوراخ سے باہر نکل گیا، یہ اس لئے ہے کہ ایک قسم کاچوہا جس کے دونوں ہاتھ چھوٹے اور پائوں لمبے ہوتے ہیں وہ اپنے بل میں ہمیشہ دودروازے رکھتا ہے ایک داخل ہونے کا آشکار دروازہ جو کسی پر پوشیدہ نہیں ہوتا؛ایک نکلنے کا مخفی اور پوشیدہ دروازہ ،وہ باہر نکلنے والے دروازہ کو اس طرح مہارت اور چالاکی سے پوشیدہ رکھتا ہے کہ جیسے ہی داخل ہونے والے دروازہ سے دشمن آئے؛

____________________

(۱)حجرات۱۴


آہٹ ملتے ہی مخفی دروازے پر سرمار کر اس سے نکل کر فرار کر جائے تواس وقت کہتے ہیں: ''نافق الیربوع''۔

ب۔ اسلامی اصطلاح میں نفاق: اسلامی اصطلاح میں نفاق، ظاہر ی عمل اور باطنی کفر ہے ۔ نافق الرجل نفاقاًیعنی اسلام کا اظہار کرکے اس پر عمل کیا اور اپنے کفر کو پنہاں اور پوشیدہ رکھا، لہٰذا وہ منافق ہے خدا وند عالم سورۂ منافقون میں فرماتا ہے :

( اذا جاء ک المنافقون قالوا نشهد انک لرسول الله و الله یعلم انک لرسوله و الله یشهد ان المنافقین لکاٰذبون٭ اتخذوا أَیمانهم جنة... )

جب منافقین تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم شہادت و گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں،خدا وند عالم جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ منافقین ( اپنے دعوے میں ) جھوٹے ہیں، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے۔

یعنی ان لوگوں نے اپنی قسموں کو اس طرح اپنے چھپانے کا پردہ بنا رکھا ہے اور اپنے نفاق کو اپنی جھوٹی قسموں سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور خدا وند عالم ان کے گفتار کی نادرستگی (جھوٹے دعوے )کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ظاہر کرتا ہے ۔( ۱ )

سورۂ نساء میں ارشاد ہوا:

( ان المنافقین یخادعون الله و هو خادعهم و اذا قاموا الیٰ الصلٰوة قاموا کسالیٰ یرآء ون الناس... )

منافقین خدا سے دھوکہ بازی کرتے ہیں، جبکہ وہ خود ہی ان کو دھوکہ میں ڈالے ہوئے ہے اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی اور کسالت سے اٹھتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ریا کرتے ہیں۔( ۲ )

____________________

(۱)منافقون۱۔۲

(۲)نسائ۱۴۲


د۔ اسلام تمام شریعتوںکا نام ہے

اسلام کا نام قرآن کریم میں گز شتہ امتوں کے بارے میں بھی ذکر ہوا ہے ، خدا وند عالم سورۂ یونس میں فرماتا ہے:

نوح نے اپنی قوم سے کہا:

( فأِن تولیتم فما سئلتکم من اجر ان اجری اِ لَّاعلیٰ الله و أمرت ان اکون من المسلمین )

اگر میری دعوت سے روگردانی کروگے تومیں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا؛ میرا اجر تو خدا پر ہے ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان رہوں۔( ۱ )

ابراہیم کے بارے میں فرمایا:

( ماکان ابراهیم یهودیاً ولا نصرانیاً ولکن کان حنیفاً مسلماً و ما کان من المشرکین )

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی بلکہ خالص موحد ( توحید پرست) اور مسلمان تھے وہ کبھی مشرکوں میں سے نہیں تھے۔( ۲ )

۲۔( ووصیٰ بها ابراهیم بنیه و یعقوب یا بنیَّ ان الله اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا و انتم مسلمون )

ابرہیم و یعقوب نے اپنے فرزندوںکو اسلام کی وصیت کی اور کہا: اے میرے بیٹو! خدا وند عالم نے تمہارے لئے دین کا انتخاب کیا ہے اور تم دنیا سے جائو تو اسلام کے آئین کے ساتھ۔( ۳ )

۳۔( ما جعل علیکم فی الدین من حرجٍ ملة ابیکم ابراهیم هو سما کم المسلمین من قبل )

____________________

(۱) بقرہ۱۳۲

(۲) حج۷۸

(۳) ذاریات۳۵۔۳۶


خدا وند عالم نے اس دین میں جو کہ تمہارے باپ کا دین ہے کسی قسم کی سختی اور حرج نہیں قرار دیا ہے اس نے تمہیں پہلے بھی مسلمان کے نام سے یاد کیا ہے۔( ۱ )

سورۂ ذاریات میں قوم لوط کے بارے میں فرمایا:

( فأَخرجنا من کان فیها من المؤمنین ٭ فما وجدنا فیها غیر بیت من المسلمین )

ہم نے اس شہر میں موجود مومنین کو باہر کیا،لیکن اس میں ایک مسلمان گھرانے کے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں پایا۔( ۲ )

جناب موسیٰ کے بارے میں فرماتا ہے : انہوں نے اپنی قوم سے کہا:

( یا قوم ان کنتم آمنتم بالله فعلیه توکلوا ان کنتم مسلمین ) ( ۳ )

اے میری قوم! اگر تم لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر توکل اور بھرو سہ کرو اگر مسلمان ہو۔

اورسورۂ اعراف میں فرعونی ساحروں کی حکایت کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( ربنا افرغ علینا صبراً و توفنا مسلمین )

خدا وندا! ہمیں صبرو استقامت عطا کر اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت دینا۔( ۴ )

فرعون کی داستان سے متعلق سورۂ یونس میں فرماتا ہے :

( حتی اذا ادرکه الغرق قال آمنت انه لا الٰه الا الذی آمنت به بنو اسرائیل ٭ و انا من المسلمین )

جب ڈوبنے لگا توکہا: میں ایمان لایا کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔( ۵ )

سلیمان نبی کا ملکہ ٔسبا کے نام خطلکھنے کے بارے میں سورۂ نمل میں ذکر ہوا ۔

( انه من سلیمان و انه بسم الله الرحمن الرحیم٭ الا تعلو علی و أْتونی مسلمین )

یہ سلیمان کا خط ہے جو اس طرح ہے : خدا وند رحمان و رحیم کے نام سے، میری یہ نسبت فوقیت اور برتری کا تصور نہ کرو اور میری طرف مسلمان ہو کر آجائو۔( ۶ )

نیز اس سورہ میں فرماتا ہے :

____________________

(۱) حج۷۸(۲) ذاریات۳۵۔۳۶(۳) یونس۸۴(۴) اعراف۱۲۶(۵)یونس۹۰.(۶)نمل۳۰۔۳۱.


( یا ایها الملاء ایکم یأ تینی بعرشها قبل ان یأتونی مسلمین )

اے گروہ!(اشراف سلطنت) تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس حاضرکرے گا ان کے میرے پاس مسلمان ہو کر آنے سے پہلے۔( ۱ )

سورۂ مائدہ میں عیسیٰ کے حواریوں کے بارے میں فرماتا ہے :

( واذا اوحیت الیٰ الحواریین ان آمنوا بی و برسولی قالوا آمنا و اشهد بأَِنا مسلمون )

جب میں نے حواریوں کو وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائو تو انہوں نے کہا: ہم ایمان لائے لہٰذا تو گواہی دے کہ ہم مسلمان ہیں۔( ۲ )

سورۂ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے :

( فلمّا احس عیسیٰ منهم الکفرقال من انصاری الیٰ الله قال الحواریون نحن انصار الله آمنا بالله واشهد بأِنا مسلمون )

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان میں کفر محسوس کیا تو کہا: خدا کے واسطے میرے انصار کون لوگ ہیں؟

حواریوں نے کہا: ہم خدا کے انصار ہیں؛ ہم خدا پر ایمان لائے، آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں۔( ۳ )

یہ اصطلاح گز شتہ امتوں سے متعلق قرآن کریم میں منحصر نہیں ہے بلکہ دوسرے اسلامی مدارک میں بھی ان کے واقعات کے ذکر کے وقت آئی ہے مثال کے طور پر ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نوح کے کشتی سے باہر آنے کاذکر کرنے کے بعد کہا : '' نوح کے آباء و اجداد حضرت آدم تک سب کے سب دین اسلام کے پابند تھے اس کے بعد روایت میں اس طرح وارد ہوا ہے کہ جناب آدم ونوح کے درمیان دس قرن کا فاصلہ تھا اس طولانی فاصلے میں سب کے سب اسلام پر تھے؛ اور اس نے ابن عباس کی روایت کے ذیل میں ذکرکیاہے کہ آپ نے ان لوگوں کے بارے میں جو کشتی سے باہر آئے اور ایک شہر میں سکونت اختیار کی کہا ہے: ان کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ افراد تک پہنچ گئی تھی اور سارے کے سارے دین اسلام کے پابند تھے۔( ۴ )

____________________

(۱)نمل۳۸.(۲)مائدہ۱۱۱.(۳)ال عمران۵۲.(۴)طبقات ابن سعد طبع یورپ، ج۱،ص۱۸، ابن کثیر نے اپنی تاریخ ج۱، ص ۱۰۱ پر یہ روایت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ عشرہ قرون کلھم علیٰ الاسلام.


ھ۔ گز شتہ شریعتوں اور ان کے اسماء میں تحریف

گز شتہ امتوں نے جس طرح رب العالمین کی اصل شریعت میں تحریف کر دی اسی طرح ان کے اسماء بھی تبدیل کر دئے ہیں ، اس لئے کہ بعض ادیان کا اسلام کے علاوہ نام پر نام رکھنا جیسے یہودیت و نصرانیت و غیرہ بھی ایک تحریف ہے جو دین کے نام میں ایک تحریف شمار کی جاتی ہے جس کی وضاحت اس طرح ہے:

الف۔ یہود کی نام گز اری

یہود یروشلم کے مغربی جنوب میں واقع صہیون نامی پہاڑ کے دامن میں شہر یہوداسے منسوب نام ہے کہ جو جناب داؤد کی حکومت کا پایۂ تخت تھا، انہوں نے اس تابوت کیلئے ایک خاص عمارت تعمیر کی، جس میں توریت اور بنی اسرائیل کی تمام میراث تھی بنی اسرائیل کے بادشاہ وہیں دفن ہوئے ہیں۔( ۱ )

ب۔ نصاریٰ کی وجہ تسمیہ

جلیل نامی علاقے میں جہاں حضرت عیسیٰ نے اپنا عہد طفولیت گز ارا ہے ایک ناصرہ نامی شہر ہے اسی سے نصرانی منسوب ہیں، حضرت عیسی اپنے زمانے میں ''عیسائے ناصری'' سے مشہور تھے ان کے شاگرد بھی اسی وجہ سے ناصری مشہور ہوگئے۔( ۲ )

مسیحیت بھی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے منسوب ہے حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو ۱ ۴ ء سے مسیحی کہا جانے لگا اور اس لقب سے ان کی اہانت اور مذمت کا ارادہ کرتے تھے۔

____________________

(۱)قاموس کتاب مقدس مادہ ''یہود'' یہودا'' صیہون۔

(۲)قاموس کتاب مقدس، مادہ ناصرہ و ناصری


ج۔ شریعت کی تحریف

ہم اس وجہ سے کہ ''الوہیت'' اور ''ربوبیت'' کی معرفت اور شناخت؛ دین کے احکام اور عقائد کی شناخت اور معرفت کی بنیادواساس ہے لہٰذایہود و نصاریٰ کے ذریعہ شریعت حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ کی تحریف کی کیفیت کے بیان میں ہوا ہے یہاں پرہم صرف ان کے ذریعہ عقیدۂ ''الوہیت''اور ''ربوبیت''میں تحریف کے ذکرپر اکتفا کر تے ہیں۔

الف۔ شریعت موسیٰ میں یہود کے ذریعہ تحریف

جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ توریت کے رسالہ ٔ پیدائش ( سفر تکوین ) سے دوسرے باب کا خلاصہ ہے اور تیسرا باب پورا جوکہ اصل عبرانی ، کلدانی اور یونانی زبان سے فارسی زبان میں ۱۹۳۲ئ میں ترجمہ ہو کر دار السلطنت لندن میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی ہے۔

پروردگار خالق نے عدن میں ایک باغ خلق کیا اور اس کے اندر چار نہریں جاری کیں فرات اور جیحون بھی انہیں میں سے ہیں اور اس باغ میں درخت لگائے؛ اور ان کے درمیان زندگی کا درخت اور اچھے برے میں تمیز کرنے والا درخت لگایا اور آدم کو وہان جگہ دی، پروردگار خالق نے آدم سے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ان درختوں میں سے جو چاہو کھائو، لیکن خوب و بد کے درمیان فرق کرنے والے درخت سے کچھ نہیں کھانا، ا س لئے کہ جس دن اس سے کھا لوگے سختی کے ساتھ مر جا ؤ گے اس کے بعد آدم پرنیندکا غلبہ ہوااور ان کی ایک پسلی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا،آدم و حوا دونوں ہی عریان و برہنہ تھے اس سے شرمسار نہیں ہوئے ۔

تیسرا باب

سانپ تمام جنگلی جانوروںمیں جسے خدا نے بنایا تھا سب سے زیادہ ہوشیار اور چالاک تھااس نے عورت سے کہا: کیا حقیقت میں خدا نے کہا ہے کہ باغ کے سارے درختوں سے نہ کھائو ، عورت نے سانپ سے کہا: ہم باغ کے درختوں کے میوے کھاتے ہیں لیکن اس درخت کے میوہ سے استفادہ نہیں کرتے جو باغ کے وسط میں واقع ہے خدا نے کہا ہے اس سے نہ کھانا اور اسے لمس نہ کرنا کہیں مر نہ جائو، سانپ نے عورت سے کہا یقینا نہیں مروگے بلکہ خدا یہ جانتا ہے کہ جس دن اس سے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی؛ اور خدا کی طرح نیک و بد کے عارف بن جائو گے جب اس عورت نے دیکھا کہ یہ درخت کھانے کے اعتبار سے بہت اچھا اور دیکھنے کے لحاظ سے دلچسپ؛ اور جاذب نظر اور دانش افزا ہے تواس نے اس کا پھل توڑ کر خود بھی کھایا اور اپنے شوہر کو بھی کھلا دیا اس وقت ان دونوں کی نگاہیںکھل گئیں تو خود کو برہنہ دیکھا تو انجیر کے پتوں کو سل کراپنے لئے لباس بنایا اس وقت خدا کی آواز سنی جو اس وقت باغ میں نسیم نہار کے جھونکے کے وقت ٹہل رہا تھا آدم اور ان کی بیوی نے اپنے آپ کوباغ کے درمیان خداسے پوشیدہ کر لیا،خدا نے آدم کو آواز دی اور کہا کہاں ہو؟


بولے جب تیری آواز باغ میں سنی توڈر گئے چونکہ ہم عریاں ہیں اس لئے خود کو پوشیدہ کر لیا، اس نے کہا : کس نے تمہیں آگاہ کیا کہ عریاں ہو؟ کیا میں نے جس درخت سے منع کیا تھا تم نے کھا لیا؟آدم نے کہا اس عورت نے جس کو تونے میرا ساتھی بنایا ہے مجھے کھانے کو دیا تو خدا نے اس عورت سے کہا کیا یہ کام تو نے کیا ہے ؟عورت نے جواب دیا سانپ نے مجھے دھوکہ دیا اور میں نے کھا لیا پھر خدا نے سانپ سے کہا چونکہ تونے ایسا کام کیاہے لہٰذا تو تمام چوپایوں اور تمام جنگلی جانوروں سے زیادہ ملعون ہے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی پوری زندگی مٹی کھاتا رہے گا، تیرے اور عورت کے درمیان عداوت و دشمنی نیز تیر ی ذریت اور اس کی ذریت کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عداوت پیدا کر دوں گا وہ تیرا سر کچلے گی اور تو اس کی ایڑی میں ڈسے گااور اس عورت سے کہا تیرے حمل کے در دو الم کو زیادہ بڑھادوں گا کہ درد و الم کے ساتھ بچے جنے گی اور اپنے شوہر کے اشتیاق میں رہے گی اور وہ تجھ پر حکمرانی کرے گا اور آدم سے کہا چونکہ تونے اپنی بیوی کی بات مانی ہے اور اس درخت سے کھایا جس سے کہ منع کیا گیا تھالہٰذا تیری وجہ سے زمین ملعون گئی، لہٰذا اپنی پوری عمراس سے رنج و الم اٹھائے گا ،یہ زمین کانٹے ، خس و خاشاک بھی تیرے لئے اگائے گی اور جنگل و بیانوں کی سبزیاں کھائے گا اور گاڑھی کمائی کی روٹی نصیب ہوگی ۔ یہاں تک کہ اس مٹی کی طرف لوٹ آئو جس سے بنائے گئے ہوچونکہ تم خاک ہو لہٰذا خاک کی طرف بازگشت کروگے ،آدم نے اپنی بیوی کا نام حوارکھا اس لئے کہ وہ تمام زندوںکی ماں ہیں خدا نے آدم اوران کی بیوی کا لباس کھال سے بنایا اور انہیں پہنایا،خدا نے کہایہ انسان تو ہم میں سے کسی ایک کی طرح نیک و بد کا عارف ہو گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ دست درازی کرے اور درخت حیات سے بھی لیکر کھالے اور ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے لہٰذا خدا نے اسے باغ عدن سے باہر کر دیا تاکہ زمین کا کام انجام دے کہ جس سے اس کی تخلیق ہوئی تھی ،پھر آدم کو باہر کر کے باغ عدن کے مشرقی سمت میں مقرب فرشتوں کو جگہ دی اورآتش بارتلوار رکھ دی جو ہر طرف گردش کرتی تھی تاکہ درخت حیات کے راستے محفوظ رہیں ۔


ان دو باب کے مطالب کا تجزیہ

مذکورہ بیان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ : پروردگار خالق نے اپنی مخلوق آدم سے جھوٹ کہا، اس لئے کہ ان سے فرمایا: خیر و شر میں فرق کرنے والے درخت سے کھائو گے تو مر جائو گے؛ اور سانپ نے حوا کو حقیقت امر اور خالق کے جھوٹ سے آگاہ کیا، ان دونوں نے کھایا اور آنکھیں کھل گئیں اور اپنی عریانیت دیکھ لی اور جب باغ میں سیر کرتے ہوئے اپنے خالق پروردگار کی آواز سنی تو چھپ گئے،چونکہ خدا ان کی جگہ سے واقف نہیں تھا اس لئے آدم کو آوا زدی کہ کہاں ہو؟ آدم نے بھی عریانیت کے سبب اپنے چھپنے کو خدا سے بتایا اور خدا نے اس معنی کو درک کرنے کے متعلق آدم سے دریافت کرتے ہوئے کہا: کیا تم نے اس درخت سے کھا لیا ہے ؟ آدم نے حقیقت واقعہ سے با خبر کر دیا تو خداوند خالق نے آدم و حوا اور سانپ پر غیظ و غضب کا اظہار کیا اور انہیں زمین پر بھیج دیا اور ان کے کرتوت کی بنا پر انہیں سزا دی اور پروردگار خالق نے جب یہ دیکھا کہ یہ مخلوق اس کی طرح خیر و شر سے آشنا ہو گئی ہے اوراسے خوف محسوس ہوا کہ کہیں حیات کے درخت سے کچھ کھانہ لے کہ ہمیشہ زندہ رہے ، تو اس نے باغِ عدن سے نکال دیا اور زندگی کے درخت کے راستے میں محافظ اور نگہبان قرار دیا وہ بھی کر ّوبیوں(مقرب فرشتے) کو تاکہ انسان کو اس درخت سے نزدیک نہ ہونے دیں۔

سچ ہے کہ یہ خالق پروردگار کس درجہ ضعیف و ناتواں ہے ؟!( خدا اس بات سے پاک و پاکیزہ ہے کہ جس کی اس کی طرف نسبت دیتے ہیں)۔ یعنی اس خدا کا تصور پیش کرتے ہیں جو یہ خوف رکھتاہے کہ کہیں اس کی مخلوق اس کے جیسی نہ ہو جائے اسی لئے وہ تمام اسباب و ذرائع کہ جو مخلوقات کو اس کے مرتبہ تک پہونچنے سے باز رکھے بروئے کار لاتا ہے اور کتنا جھوٹااور دھوکہ باز ہے کہ اپنی مخلوق کے خلاف کام کرتا ہے اور اس سے جھوٹ بولتا ہے ، وہ بھی ایسا جھوٹ جو بعد میں فاش ہو جاتا ہے !

اور کتنا ظالم ہے کہ سانپ کو صرف اس لئے کہ اس نے حوا سے حقیقت بیان کر دی ہے سزا دیتاہے اور ہم نہیں سمجھ سکے کہ اس بات سے اس کی کیا مراد تھی کہ اس نے کہا :'' یہ انسان ہم ہی میں سے ایک کی طرح ہو گیا ہے '' آیا اس سے مرا دیہ ہے کہ یکتا اور واحد خالق پروردگار کے علاوہ بھی دوسرے خدائوںکا وجود تھا کہ''مِنَّا'' جمع کی ضمیر استعمال کی ہے ؟!

آخر کلام میں ہم کہیں گے ، اس شناخت او ر معرفت کا اثر اس شخص پر جو توریت کی صحت و درستگی کا قائل ہے کیا ہوگا؟! جب وہ توریت میں پڑھے گا: خدا وند خالق ہستی جھوٹ بولتا ہے اور دھوکہ دھڑی کرتا ہے اور اس انسان کے خوف سے ، اسے کمال تک پہنچنے سے روکتا ہے تووہ کیا سوچے گا؟!


یقینا خدا وند عالم اس بات سے بہت ہی منزہ؛ پاک و پاکیزہ نیز بلند و بالا ہے جو ظالمین اس کی طرف نسبت دیتے ہیں ۔

ب۔ نصاریٰ کی تحریف

جو کچھ ہم نے اب تک بیان کیا ہے یہود و نصاریٰ کے درمیان مشترک چیزیں تھیں لیکن نصاریٰ دوسری خصوصیات بھی رکھتے ہیں اور وہ: عقیدۂ الوہیت اور ''ربوبیت'' میں تحریف ہے جس کا بیان یہ ہے :

نصاریٰ کے نزدیک تثلیث( تین خدا کا نظریہ)

نصاریٰ کہتے ہیں: مسیح خدا کے فرزند ہیں اور خدا ان کا باپ ہے اور یہ دونوں روح القدس کے ساتھ ایک شۓ ہیں کہ وہی خدا ہے ، لہٰذا خدا وند یکتا تین عدد ہے : باپ ، بیٹااور روح القدس اور یہ تینوں، خدا،عیسیٰ اور روح القدس ایک ہی ہیں کہ وہی خد اہے تین افراد ایک ہیں اور ایک، تین عدد ہے۔

خدا وند عالم سورۂ مائدہ میں فرماتا ہے :

( لقد کفر الذین قالوا ان الله هو المسیح بن مریم و قال المسیح یا بنی اسرائیل اعبدوا الله ربی و ربکم انه من یشرک بالله فقد حرم الله علیه الجنة و مأواه النار و ما للظالمین من انصار٭ لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلاثة وما من الٰه الا الٰه واحد٭ ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبله الرسل و اُمه صدیقة کانا یأکلان الطعام انظر کیف نبین لهم الآیات ثم انظر أنی یؤفکون )

جن لوگوںنے یہ کہا: خدا وہی مریم کے فرزند مسیح ہیں، یقینا وہ کافر ہوگئے، ( جبکہ خود) مسیح نے کہا: اے بنی اسرائیل !واحد اور ایک خدا کی عبادت اور پرستش کرو جو ہمارا اور تمہارا پروردگارہے اس لئے کہ جو کسی کو خدا کا شریک قرار دے گاتو خدا وند عالم نے اس پربہشت حرام کی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ؛ اور ستمگروں کا کوئی نا صر و مدد گار نہیں ہے، جن لوگوں نے کہا: خدا وند تین خدائوں میں سے ایک ہے یقینا وہ بھی کافر ہیں خدائے واحد کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے...، حضرت مسیح جناب مریم کے فرزند صرف اس کے رسول ہیں کہ ان سے پہلے بھی دیگر رسول آ چکے ہیں؛


ان کی ماں ( مریم ) بہت سچی اور نیک کردار خاتون تھیں، دونوں غذا کھاتے تھے؛ غور کرو کہ کس طرح ہم ان کیلئے صراحت کے ساتھ نشانیوں کو بیان کرتے ہیں، پھر غور کرو کہ کس طرح وہ حق سے منحرف ہو رہے ہیں۔( ۱ )

نیز سورۂ نساء میں فرماتا ہے :

( یا اهل الکتاب لا تغلوا فی دینکم و لا تقولوا علیٰ الله الا الحق انما المسیح عیسیٰ بن مریم رسول الله و کلمته القاٰها الیٰ مریم و روح منه فآمنوا بالله و رسوله و لا تقولوا ثلاثة انتهوا خیراً لکم انما الله الٰهواحد سبحانه ان یکون له ولد له ما فی السمٰوات وما فی الارض و کفیٰ بالله وکیلا ً )

اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں غلو اور افراط سے کام نہ لو اور خدا کے بارے میں جو حق ہے وہی کہو! مسیح عیسیٰ بن مریم صرف اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں کہ اسے مریم کو القاء کیا؛ نیز اس کی طرف سے روح بھی ہیں لہٰذا خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائو اور یہ نہ کہو: خدا وندسہ گانہ ہے اس بات سے باز آ جائو اسی میں تمہاری بھلائی ہے اللہ فقط خدائے واحد ہے ؛وہ صاحب فرزند ہونے سے منزہ اور پاک ہے، زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے یہی کافی ہے کہ خدا مدبر ہے ۔( ۲ )

سچ ہے کہ خدا وند سبحان نے صحیح فرمایا ہے اور تحریف کرنے والوں نے جھوٹ کہا ہے ، اللہ کی پاک و پاکیزہ ذات ستمگروں کے قول سے بلند و بالاہے۔

اب اگر مسئلہ ایسے ہی ہے جیسے کہ ہم نے بیان کیا (اور واقع میں بھی ایسا ہی ہے) اور خدا کا مطلوب اور پسندیدہ دین صرف اور صرف اسلام ہے اور دین کی اسلام کے علاوہ نام گز اری تحریف ہے اور یہودیت و نصرانیت دونوں ہی اسم و صفت کے اعتبار سے تحریف ہو چکے ہیں، لہٰذا صحیح اسلام کیا ہے ؟ اور اسلامی شریعت کون ہے ؟

____________________

(۱)مائدہ۷۲،۷۳،۷۵(۲)نسائ۱۷۱


و۔ اسلام انسانی فطرت سے سازگار ہے

خدا وندسبحان سورۂ روم میں فرماتا ہے :

( فاقم وجهک للدین حنیفا فطرة الله التی فطر الناس علیها لا تبدیل لخلق الله ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون )

پھر اپنے چہرہ کو پروردگار کے خالص آئین کی جانب موڑلو یہ وہ فطرت ہے جس پر خدا وند عالم نے انسانوں کو خلق کیا ، تخلیق پروردگار میں کوئی تبدیلی نہیں ہے ، یہ ہے ثابت اور پائدار دین ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔( ۱ )

کلمات کی تشریح

۱۔حنیفاً: حنف کجروی سے راہ راست پر آنا اور حنف درستگی اور راستی سے کجی کی طرف جانا ہے،حنیف: مخلص، وہ شخص جو خدا کے سامنے سراپا تسلیم ہواور کبھی دین خدا وندی سے منحرف نہ ہوا ہو۔

۲۔ فطر: اختراع و ایجاد کیا، فطر اللہ العالم ، یعنی خدا نے دنیا کی ایجاد کی ،(پیدا کیا)۔

خدا وند عالم نے گز شتہ آیات میں راہ اسلام سے گمراہ ہونے والوں کے انحراف کے چند نمونے بیان کرنے اور نیک اعمال کی طرف اشارہ کرنے کے بعد:اس موضوع کو اس پر فروعی عنوان سے اضافہ کرتے ہوئے فرمایا:

پھر اپنے چہرے کو دین کی جانب موڑ لو۔( ایسے دین کی طرف جو خدا کے نزدیک اسلام ہے) اور بے راہ روی سے راستی اور درستگی و اعتدال یعنی حق کی طرفرخ کرلو کہ دین اسلام کی طر ف رخ کرنا انسانی فطرت کا اقتضا ہے ایسی فطرت جس کے مطابق خدا وند عالم نے اسے خلق کیاہے اور فطرت خدا وندی میں کسی قسم کی تبدیلی اور دگرگونی کی گنجائش نہیں ہے ، اس لئے، اس کے دین میں جو کہ آدمی کی فطرت کے موافق اور سازگار ہے ، تبدیلی نہیں ہوگی اور اس کا فطرت سے ہم آہنگ اور موافق ہونا اس دین کے محکم اور استوار

____________________

(۱)روم۳۰.


ہونے کی روشن اور واضح دلیل ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔

اس سلسلہ میں تمام جاندار انسان کی طرح ہیں اور اپنی فطرت کے مطابق ہدایت پاتے ہیں، مثال کے طور پر شہد کی مکھی اس غریزی فطرت اور ہدایت کے مطابق جو خدا نے اس کی ذات میں ودیعت کی ہے ، پھولوں کے شگوفوں سے وہی حصے کو جو عسل بننے کے کام آتے ہیں، چوستی ہے اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنی فطرت اور غریزی ہدایت کے بر خلاف نامناسب اور نقصان دہ چیزیںکھالیتی ہے جو شہد بننے کے کام نہیں آتیں تو داخل ہوتے وقت دربان جو محافظت کے لئے ہوتا ہے اسے ر وک دیتا ہے اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتا ہے ۔

مرغ بھی خد اداد فطرت اور غریزی ہدایت کے مطابق پاک و پاکیزہ دانوں اور سبزیوں کو چنتا ہے اور جب بھی خدا داد صلاحیت اور غریزی ہدایت کے بر خلاف عمل کرتے ہوئے غلاظت کھا لیتا ہے تو شریعت اسلامیہ میں اسے ''جلاَّلہ'' (نجاست خور )کہا جاتا ہے اور اس کا گوشت کھانا ممنوع ہو جاتا ہے جب تک کہ تین دن پاکیزہ دانے کھا کر پاک نہ ہو جائے۔

ہاں، خدا وند عالم کا حکم تمام مخلوقات کے لئے یکساں ہے انہیں ہدایت کرتا ہے تاکہ اپنے لئے کارآمد اور مفید کاموں کا انتخاب کریں اور ان نقصان دہ امور سے پرہیز کریں جو ان کے وجود کے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ انسان کی بہ نسبت خدا وند عالم نے سورۂ مائدہ میں ارشاد فرمایا ہے:

( یسئلونک ما ذا احل لهم قل احل لکم الطیبات... ) ( ۱ )

تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لئے کون سی چیز حلال ہے ؟ تو ان سے کہو: ہر پاکیزہ چیز تمہارے لئے حلا ل ہے ۔

سورۂ اعراف میں ارشاد فرمایا:

( الذین یتبعون الرسول النبی الاُمی الذی یجدونه مکتوباًً عندهم فی التوراة و الأِنجیل یأمرهم بالمعروف و ینهاهم عن المنکر و یحل لهم الطیبات و یحرم علیهم الخبائث... )

جو لوگ خدا کے رسول پیغمبر امی کا اتباع کرتے ہیں؛ ایساپیغمبر جس کے صفات اپنے پاس موجود توریت اور انجیل میں لکھے ہوئے دیکھتے ہیں کہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور منکر و برائی سے روکتا ہے ، پاکیزہ چیزوںکو ان کے لئے حلال کرتا ہے اور نجاسات اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے ۔( ۱ )

____________________

(۱)اعراف۱۵۷۔


لہٰذا اسلامی احکام میں معیار؛ انسان کے لئے نفع و نقصان ہے ، خدا وند عالم نے نجاستوں کو حرام کیا ہے ، چونکہ انسان کے لئے نقصان دہ ہیں اور پاکیزہ چیزوںکو حلال کیا ہے کیونکہ اس کے لئے مفید و کارآمد ہیں۔ اس بات کی تائید سورۂ رعد میں خدا وند عالم کے قول سے ہوتی ہے کہ فرماتا ہے :

( فاما الزبد فیذهب جفاء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض.. )

لیکن جھاگ، کنارے جاکر نابود ہو جاتا ہے ، لیکن جو چیزیں انسان کے لئے مفید اور سود مند ہے زمین میں رہ جاتی ہیں۔( ۱ )

سورۂ حج میں فرمایا:

( وأذّن فی الناس بالحج یأتوک رجالاً و علیٰ کل ضامر یأتین من کل فجٍ عمیق لیشهدوا منافع لهم )

لوگوں کو حج کی دعوت دو، تاکہ پیادہ اور کمزور و لاغر سواری پر سوار ہو کر دور و دراز مقامات سے تمہاری طرف آئیں اور اپنے منافع کا مشاہدہ کریں۔( ۲ )

نیز اسی سورہ کی گز شتہ آیات میں فرمایا:

( یدعوا من دون الله ما لا یضره ولا ینفعه ذلک هو الضلال البعید یدعوا لمن ضره اقرب من نفعه ) ...)

بعض لوگ خدا کے علاوہ کسی اور کو پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی فائدہ پہونچاسکتے ہیں یہ وہی زبردست گمراہی ہے وہ ایسے کو پکارتے ہیں جس کا نقصان نفع سے زیادہ نزدیک ہے۔( ۳ )

پروردگار عالم نے جو چیزیں نفع و نقصان دونوں رکھتی ہیں لیکن ان کا نقصان زیادہ ہوان کو بھی حرام قرار دیاہے جیسا کہ سورۂ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے :

( یسئلونک عن الخمر و المیسر قل فیما اثم کبیر و منافع للناس واثمهما اکبر من نفعهما )

یہتم سے شراب اور جو ئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو ان سے کہو: اس میں گناہ عظیم اور زبردست نقصان ہے اور لوگوں کے لئے منفعت بھی ہے لیکن اس کا گناہ نفع سے کہیں زیادہ سنگین و عظیم ہے ۔

____________________

(۱)رعد۱۷

(۲)حج۲۷۔۲۸

(۱)حج۱۲۔۱۳


جتنا نفع و نقصان کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا اس کے ضمن میں حلال و حرام کا دائرہ بھی ، مخلوقات کے لئے ہر ایک اس کے ابعاد وجودی( وجودی پہلوؤں)کے اعتبار سے بڑھتا جائے گا؛ لیکن انسان کے ابعاد وجود وسیع ترین ہیں لہٰذا نفع و نقصان کی رعایت بھی حکمت کے تقاضے کے مطابق اس کے وجودی ابعاد کے مناسب ہونی چاہئے، مثال کے طور پر چونکہ انسان جسم مادی رکھتا ہے تو طبعی طور پر کچھ چیزیں اس کے لئے نقصان دہ ہیں اور کچھ چیزیں مفید اور سود مند ہیں؛ خدا وند عالم نے اسی لئے جوچیزیں اس کے جسم کے لئے مفید ہیں جیسے پاکیزہ خوراکیں انسان کے لئے حلال کیں اور جو چیزیں اس کے جسم کے لئے نقصان دہ تھیں جیسے نجاستوں کا کھاناانہیں حرام کر دیا۔

اس طرح کے احکام انسان کے لئے انفرادی ہوں گے چاہے جہاںبھی ہوغارمیں ہویاپہاڑیوں پر، جنگلوںمیں ہو یا کچھار میں ،انسانی سماج میں ہو، یا ستاروںپر یا کسی دوسرے کرۂ وجودمیں ہو۔

لیکن چونکہ خدا وند عالم نے انسانی زندگی کا کمال اور اس کا ارتقاء اجتماعی زندگی میں رکھا ہے لہٰذا دوسری چیزیں جیسے بہت سے معاملات جیسے لین دین اور، تجارت کوجو کہ اجتماعی فائدہ رکھتی ہے انسان کے لئے حلال کیا ہے اور جو امور سماج کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں جیسے: سود ، جوااسے حرام کیا ہے ۔

اور چونکہ انسان ''نفس انسانی'' کا مالک ہے اور تہذیب نفس ضروریات زندگی میں ہے لہٰذا حج کہ اسمیں تہذیب نفس کے ساتھ ساتھ دیگر منافع کا بھی وجودہے اس پر واجب کیا ہے اور جو چیز سماج اور اجتماع کو نقصان پہنچاتی ہے اسے حرام فرمایااور انسان کے سماج کے لٔے جن چیزوںمیں منفعت ہے ان کی طرف راہنمائی کی ہے اور سورۂ حجرات میں ارشاد فرمایاہے:

( انما المؤمنون اخوةفصلحوا بین اخویکم...، یا ایها الذین آمنوا لا یسخر قوم من قوم عسیٰ ان یکونوا خیرًا منهم ولا نساء من نسائً عسیٰ ان یکن خیراً منهن ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالألقا ب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان و من لم یتب فأولٰئک هم الظالمون٭ یا ایها الذین آمنوا اجتنبوا کثیرًا من الظن ان بعض الظن اثم و لا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضأایحب احدکم ان یاکل لحم اخیه میتاً فکرهتموه و اتقواا لله ان الله تواب رحیم )

مومنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو...اے صاحبان ایمان! ایسا نہ ہو کہ تمہارا ایک گروہ دوسرے گروہ کا مذاق اڑائے اور اس کاتمسخرکرے شاید وہ لوگ ان سے بہتر ہوں ؛ اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں؛ شاید وہ ان سے بہتر ہوں اور ایک دوسرے کی مذمت اور عیب جویٔ نہ کرو اور ایک دوسرے کو ناپسند اور برے القاب سے یاد نہ کرو؛ ایمان کے بعد یہ بہت بری بات ہے کہ کسی کو برے القاب سے یاد کرو اور کفر آمیز باتیں کرواور جو لوگ توبہ نہیں کرتے وہ ظالم اور ستمگرہیں۔


اے مومنو! بہت سارے گمان سے پرہیز کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں اور کبھی ٹوہ اور تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟! یقینا ناپسند کروگے؛ خدا کا خوف کرو خدا توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے۔( ۱ )

یہ اسلامی شریعت کی شان ہے کہ ہر زمانے اورہر جگہ انسان کی فطرت کے مطابق ہے اسی لئے قرآن کریم میں ذکرہوا ہے کہ جس طرح خدا وند متعال نے نماز ،روزہ اور زکوةکو ہم پر واجب کیا اسی طرح گزشتہ امتوں پر بھی واجب کیا تھا، جیسا کہ یہ بات ابرہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب کے بارے میں سورۂ انبیاء میں بیان فرماتا ہے :

( وجعلنا هم ائمة یهدون بأمرنا و اَوحینا الیهم فعل الخیرات واِقام الصلوة و اِیتاء الزکوة... ) ( ۲ )

انہیں ہم نے ایسا پیشوا بنایا جو ہمارے فرمان کی ہدایت کرتے ہیں نیز انہیں نیک اعمال کی بجاآوری، اقامۂ نماز اور زکواة دینے کی وحی کی۔

سورۂ مریم میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( واوصانی بالصلٰوة والزکوٰة ما دمت حیا )

جب تک کہ میں زندہ ہوں خدا وند عالم نے مجھے نماز اور زکوة کی وصیت کی ہے ۔( ۳ )

اسی طرح وعدے کے پکے حضرت اسماعیل کے حال کی حکایت کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( وکان یأمر اهله بالصلوة و الزکوٰة و کان عند ربه مرضیاً )

وہ مسلسل اپنے اہل و عیال کو نماز پڑھنے اور زکوة دینے کا حکم دیتے تھے اور ہمیشہ اپنے رب کے نزدیک موردرضایت اور پسندیدہ تھے۔( ۴ )

خدا وند عالم نے ہمیں روزہ کی تاکید کرتے ہوئے سورۂ بقرہ میں فرمایا:

( یا ایها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون )

____________________

(۱)حجرات۱۰۔۱۲(۲) انبیاء ۷۳(۳)مریم ۳۱(۴) مریم ۵۵.


اے صاحبان ایمان! روزہ تم پر اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کیا گیا تھا شاید کہ تم لوگ اہل تقوی بن جائو۔( ۱ )

نیز ہمیں ربا( سودخوری) سے منع کیا جس طرح گز شتہ امتوں کو منع کیا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں سورۂ نساء میں فرماتا ہے :(واخذھم الربا و قد نھوا عنہ...) اور ربا (سود) لینے کی وجہ سے جبکہ اس سے ممانعت کی گئی تھی( ۲ )

نیز ہم پر قصاص واجب کیا ہے ، جس طرح ہم سے پہلے والوں پر واجب کیا تھا، جیسا کہ سورۂ مائدہ میں توریت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( انا انزلنا التوراة فیها هدی و نور یحکم بها النبیون الذین اسلموا للذین هادوا...، و کتبنا علیهم فیها ان النفس بالنفس و العین با لعین و الانف بالانف و الاذن بالاذن و السن بالسن و الجروح قصاص... )

ہم نے توریت نازل کی اس میں ہدایت اور نور تھا نیز خدا کے حکم کے سامنے سراپا تسلیم انبیاء اس کے ذریعہ یہود کو حکم دیتے تھے... اور ان پر توریت میں مقررکیا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت نیز ہر زخم قصاص رکھتا ہے( ۳ )

جب خدا وند عالم نے سورۂ بقرہ میں فرمایا:( والو الدات یرضعن اولادهن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعة... ) مائیں اپنی اولاد کو پورے دوسال تک دودھ پلائیں ۔یہ اس کے لئے ہے جو ایام رضاعت کی تکمیل کرنا چاہتاہے... اس نظام کو انسان کے بچپن کے لئے ایک نظام قرار دیا ہے ۔ حضرت آدم و حوا کے پہلے بچے سے آخری بچے تک کے لئے یہی نظام ہے خواہ کسی جگہ پیدا ہوں، کسی مخصوص شریعت سے اختصاص بھی نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ یہ نظام آدمی کی فطرت سے جس پر اسکو پیدا کیاگیاہے مناسبت رکھتا ہے اور سازگار ہے اور خدا کی تخلیق میں کوئی تغیر اورتبدل نہیں ہے ، اسی لئے دین الٰہی میں بھی کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، یہ محکم اور استوار، ثابت و پائددار دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں انسان احکام الٰہی کے فطرت کے مطابق ہونے کے باوجود اس کی مخالفت کرتا ہے ؟ اس کو خدا وند عالم کی تائید و توفیق سے انشا ء اللہ آئندہ بحث میں ذکر کریں گے ۔

____________________

(۱) بقرہ۱۸۳(۲)نسائ۱۶۱(۳)مائدہ۴۴۔۴۵


ز۔ انسان اور نفس امارہ بالسوئ( برائی پر ابھارنے والا نفس)

گز شتہ مطالب سے یہ معلوم ہوا کہ وہ موجودات جو ہدایت تسخری کی مالک ہیں ان کے علاوہ، جاندار موجودات، کبھی کبھی اپنے پروردگار کی ہدایت غریزی کی مخالفت کرتے ہیں جیسے مرغ سبزہ اور دانہ چننے کے بجائے غلاظت کھاتا ہے اور اس کی وجہ سے اسے تین روز تک پاک غذا کھاناپڑتا ہے تاکہ استبرا ہو سکے۔

شہد کی مکھی بھی جو کہ پھولوںکا رس چوستی ہے، کبھی کبھی ایسی چیزوں کا استعمال کرتی ہے جو اس کے چھتہ میں شہد کے لئے ضرر رساںہوتاہے، اس لئے اس چھتہ کا نگہبان اس کے داخل ہوتے ہی اسے پکڑ کر نسل کی حفاظت اور بقاء کے لئے اور سب کی زندگی کے استمرار و دوام کی خاطر اسے نابود کر دیتا ہے۔

انسان بھی ، اسی طرح ہے ، کیونکہ انسانوں کے درمیان بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو انسانی فطرت اور خدائی ہدایت کے موافق اور مطابق نظام کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی نفسانی خواہشات کا اتباع کرتے ہیں۔

اس کی توضیح یہ ہے کہ خدا وند متعال نے انسان کو تمام جانداروں پر فوقیت اور برتری عطا کی ہے ۔ اور اسے انسانی نفس عطا فرمایا ہے: ایسا نفس جس کے ابعاد وجود ی کو اس کے خالق کے علاوہ کوئی نہیںجانتا، اور اسی نفس انسانی کی خصوصیتوں میں ایک عقل بھی ہے کہ انسان اس کے ذریعہ تمام چیزوں کو استعمال کرتا اور اپنے کام میں لاتا ہے ،ایٹم سے لیکر ان تمام دیگر اشیا ء تک جو ابھی کشف نہیں ہوئی ہیں۔ خداوند سبحان اس نفس کی توصیف میں سورۂ شمس میں ارشاد فرماتا ہے:(و نفس وما سواھا٭ فأَلھمھا فجورھا و تقواٰھا)قسم ہے نفس انسان کی اور قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے اسے منظم کیا ہے اور پھرفسق وفجور اور تقویٰ کو اس کی طرف الہام کیا۔( ۱ )

کلمات کی تشریح

۱۔نفس ، نفس عربی زبان میں متعدد معنی میں استعمال ہوا ہے انہیں میں سے چند یہ ہیں:

____________________

(۱) شمس۷۔۸


الف۔ ایسی روح جو زندگی کا سرچشمہ ہے اور اگر جسم سے وہ مفارقت کر جائے تو موت آجائے گی،کہتے ہیں محتضر یعنی وہ شخص جو حالت احتضار میں ہے اس کا نفس خارج ہو گیا۔

ب۔ کسی شۓ کی حقیقت اور ذات کو کہتے ہیں، اگر نفس انسان اورنفس جن کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان کی حقیقت اور جن کی حقیقت ۔

ج۔ عین ہر چیز، جیسا کہ تاکید کے وقت استعمال ہوتا ہے جاء نی محمد نفسہ، محمد بنفس نفیس میرے پاس آیا ....۔

د۔جو چیز قلب کی جگہ استعمال ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے ادراک کیا جاتا ہے اور تمیز دی جاتی ہے۔ نیز انسان اسی کے ذریعہ اپنے گرد و پیش کی اشیاء کا احساس کرتا ہے ، اور نیند اور بیہوشی کے وقت اس سے جدا ہوجاتا ہے نیز وہی شعور جو اسے خیر و شر کی جانب متوجہ کرتا ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے : میرے نفس نے مجھے حکم دیا ہے ، میرے نفس نے مجھے اس برے کام پر آمادہ کیا، آیت کریمہ میں نفس سے مراد یہی معنی ہے ۔

۲۔ سواھا: اس کی آفرینش کی تکمیل کی یہاں تک کہ کمال کی حد تک پہنچ جائے اور ہدایت پذیری کے لئے آمادہ ہو جائے۔

۳۔ فالھمھا فجورھا و تقواھا:یعنی اس کے نفس میں ایسا احساس پیدا کیا ،جس کے ذریعہ ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے ۔ ہمارے دور میں ایسے شعور کو ضمیر اور وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔

خیر و شر کے درمیان فرق کرنے والی، نیز خبیث اور طیب کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی عقل کے علاوہ نفس کے کچھ خصوصیات اور بھی ہیں جن میں انسان اور حیوان دونوں شریک ہیں، جیسے محبت و رضا،رغبت و کراہت، دشمنی ونفرت۔

اگر انسان عقل کی راہنمائی کے مطابق رفتار رکھے اور برائیوں اور گندگیوں سے کنارہ کشی اختیار کرے تو جزا پائے گا۔ اور جب حکم عقلی کی مخالفت کرے اور نفسانی خواہشات کا اتباع کرے گا تو سزا اور عذاب پائے گا ۔ جیسا کہ خدا وند عالم سورۂ نازعات میں ارشادفرماتا ہے :

( وأَما من خاف مقام ربه و نهی النفس عن الهوی٭ فاِنَّ الجنة هی الماویٰ )


جو مقام خدا سے خوف کھائے اور نفس کو نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس سے باز رکھے تو یقینا اس کی منزل اور ٹھکانہ بہشت ہے ۔( ۱ )

( فأَما من طغی، و آثر الدنیا٭ فاِنِّ الجحیم هی الماویٰ )

لیکن جو سرکشی اور طغیانی کرے اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دے تو یقینا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔( ۲ ) خداوندعالم نے سورۂ مریم میں ایک قوم کی اس طرح توصیف فرمائی ہے:

( اضاعوا الصلوة واتبعوا الشهوات )

انہوںنے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔( ۳ )

جس طرح نفس انسانی کے اندر متفاوت دو قوتیںہیں: خیر خواہی اور شر پسندی، یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے کشمکش اور ٹکرائو رکھتی ہیں، خدا وند عالم نے انسان کے لئے اس کے نفس کے باہر بھی اس طرح کی دو طاقتوںکو ایجاد کیا ہے ،ایک گروہ اسے ہوای نفس کی مخالفت کی دعوت دیتا ہے ، یہ لوگ انبیاء اور ان کے ماننے والے ہیں۔ اور ایک گروہ اسے گمراہی و ضلالت نیز اتباع نفس کی دعوت دیتا ہے وہ لوگ شیاطین جن و انس ہیں، یہ دونوں گروہ انسان پر کسی طرح کا تسلط نہیں رکھتے ، بلکہ ان میں سے ہر ایک صرف اپنی دعوت یعنی ہدایت و گمراہی کی باتوں کو زینت بخشتا اور اس کی تشریح کرتا ہے ، جیسا کہ خدا وند متعال سورۂ حجر میں شیطان کے راندۂ درگاہ ہونے کے بعد اس کی گفتار کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( رب بما اغویتی لازیّنن لهم فی الارض ) ( ۴ )

خداوندا! جبکہ تونے مجھے گمراہ کر دیا ہے تو میں زمین کی چیزوں کو ان کی نگاہوں میں زینت بخشوںگا۔ خدا وند عالم قرآن میں قیامت کے دن شیطان کے اپنے ماننے والوں سے خطاب کی حکایت کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( وقال الشیطان لما قضی الأمر ان الله وعدکم وعد الحق ووعد تکم فأخلفتکم وما کان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم... ) جب شیطان کا کام تمام ہو جاتا ہے تو کہتا ہے : خدا وند متعال نے تم سے وعدۂ بر حق کیااور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا اور مخالفت کی! میں تم پر مسلط نہیں تھا، سوائے اس کے کہ تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہی: لہٰذا مجھے ملامت اور سرزنش نہ کرو اور اگر کرنا ہی چاہتے ہو تو اپنے آپ کوملامت کرو!( ۵ ) لوگوں کے ساتھ پیغمبروں کا حال بھی اسی طرح ہے ، جیسا کہ خدا وند عالم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو

____________________

(۱)نازعات۴۰۔۴۱(۲)نازعات۳۷،۲۹(۳)مریم۵۹(۴) حجر ۲۹.(۵)ابراہیم۲۲۔


خطاب کرتے ہوئے سورۂ غاشیہ میں فرماتا ہے :

( فذکر انما انت مذکر٭ لست علیهم بمصیطر ) ( ۱ )

بس تم انہیں یاد دلائو کیونکہ تم یاد دلانے والے ہو! تم انہیں مجبور کرنے والے اور ان کے حاکم نہیں ہو اور سورۂ بلد میں ارشاد فرمایا:( وهدیناه النجدین ) ( ۲ ) یعنی خیر و شر کے راستوں کو اسے (انسان کو) دکھادیا اور سورۂ انسان میں ارشاد ہوا:

( اِنَّا هدیناه السبیل اِمَّا شاکرا ًو اِمَّاکفورا )

ہم نے اسے راہِ راست دکھائی خواہ شکر گز ار رہے یا نا شکرا۔( ۳ )

سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا:

( لا اِکراه فی الدین قد تبیَّن الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن بالله فقد استمسک بالعروة الوثقیٰ لاانفصام لها و الله سمیع علیم٭ الله ولی الذین آمنوا یخرجهم من الظلمات الیٰ النور و الذین کفروا اولیائهم الطاغوت یخرجونهم من النور الیٰ الظلمات اولئک اصحاب النار هم فیها خالدون )

دین قبول کرنے میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے ، راہ راست گمراہی سے جدا ہو چکی ہے، لہٰذا جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے خدا پر ایمان لائے،اس نے اٹوٹ مضبوط رسی کو پکڑ لیا ہے جس میں جدائی نہیں ہے خداوند سمیع و علیم ہے ۔

خدا وند عالم ان لوگوں کا ولی اور سر پرست ہے جو ایمان لائے ہیں، انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کافروں کے سرپرست طاغوت ہیں جو انہیں نور سے ظلمت کی طرف لے جاتے ہیں،وہ لوگ اہل جہنم ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔( ۴ )

اس لئے انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے ۔ جیسا کہ سورۂ زلزال میں ارشاد ہوتا ہے :

( فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یره٭ و من یعمل مثقال ذرة شرا ًیره )

لہٰذا جو ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اسے بھی دیکھے گا( ۵ )

یہ سب کچھ ایسے امور ہیں جن کے بارے میں خدا وند متعال نے انسان کو آگاہ کیا ہے اور جنات بھی اس میں اس کے شریک ہیں ، جیسا کہ اصناف خلق کی بحث میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے اور تفصیل انشاء اللہ آئندہ بحث میں آئے گی۔

____________________

(۱)غاشیہ ۲۱۔۲۲(۲)بلد۱۰(۳)انسان۳(۴)بقرہ۲۵۶۔۲۵۷(۵)زلزال۷۔۸


ح۔شریعت اسلام میں جن و انس کی مشارکت

خدا وند عالم سورۂ احقاف میں فرماتا ہے :

( و اذصرفنا الیک نفراً من الجن یستمعون القرآن فلما حضروه قالوا انصتوا فلما قضی ولّوا الیٰ قومهم منذرین٭قالوا یا قومنا انا سمعنا کتاباً انزل من بعد موسیٰ مصدقاًلما بین یدیه یهدی الیٰ الحق و الیٰ طریق مستقیم٭ یا قومنا اجیبوا داعی الله و آمنوا به... )

جب ہم نے جن کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا تاکہ قرآن سنیںپس جب حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے خاموشی سے سنو! اور جب ( تلاوت) تمام ہوگئی تو اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہیں ڈرایا اور کہا: اے ہماری قوم! ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے اس سے پہلے جو کتابیں آئیں ان سے ہم آہنگ ہے حق اور راہ راست کی طرف ہدایت کرتی ہے ، اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی بات سنو اور لبیک کہہ کر اس پر ایمان لائو۔( ۱ )

اور سورۂ جن میں ارشاد ہوتا ہے :

( قل اوحی اِلَیَّ انه استمع نفر من الجن فقالوا اِنّا سمعنا قرآنا عجباً٭ یهدی الیٰ الرشد فآمنا به ولن نشرک بربنا احدا٭و انه تعالیٰ جد ربنا ما اتخذ صاحبة و لا ولدا، و انه کان یقول سفیهنا علی الله شططا٭ و اناظننا ان لن تقول الأِنس و الجن علٰی الله کذبا٭ و انه کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقا٭ و انهم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث الله احدا٭ و انا لمسنا السماء فوجدنا ها ملئت حرساً شدیداً و شهبا٭و انا کنا نقعد منها مقاعد للسمع فمن یستمع الآن یجد له شهاباً رصدا٭ و انا لا ندری اشر اُرید بمن فی الارض ام اراد بهم ربهم

____________________

(۱)احقاف۲۹،۳۱


رشدا٭ و انا منا الصالحون ومنا دون ذلک کنا طرائق قددا٭ و انا ظننا ان لن نعجز الله فی الارض و لن نعجزه هربا٭و انا لما سمعنا الهدی آمنا به فمن یؤمن بربه فلا یخاف بخساً ولا رهقا٭ و انا منا المسلمون و منا القاسطون فمن اسلم فأُولٰئک تحروا رشدا٭و اما القاسطون فکانوا لجهنم حطبا٭و ان واستقاموا علیٰ الطریقة لاسقیناهم مائً غدقا )

کہو: مجھے وحی کی گئی ہے کہ کچھ جنوں نے میری باتوںکو سنا ، پھر انہوں نے کہا:ہم نے ایک ایسا عجیب قرآن سنا جو راہ راست کی ہدایت کرتا ہے ، پھر اس پر ہم ایمان لائے اور کبھی کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نہیں دیں گے اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بلند و بالا ہے ، اس نے کبھی اپنے لئے بیوی اور فرزند کا انتخاب نہیں کیا۔ لیکن ہمارے سفیہ (ابلیس) نے اس کے بارے میں نازیبا اور ناروا کلمات استعمال کئے اور ہمارا خیال تھا کہ جن و انس کبھی خدا کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دیں گے ۔

اور یہ بھی ہے کہ کچھ انسانوں نے کچھ جنوں کی پناہ مانگی ، تو وہ لوگ ان کی گمراہی اور طغیانی میں اضافہ کا باعث بن گئے اور ان لوگوں نے اسی طرح گمان کیا جیسا کہ تم گمان رکھتے ہو کہ خدا وند عالم کسی کو مبعوث نہیں کرے گا اور بیشک ہم نے آسمان کیجستجو کی تو سب کو قوی محافظوں اور شہاب کے تیروں سے پُر پایا اور اس سے قبل ہم بات چرانے کے لئے آسمان پر گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے؛ لیکن اس وقت کوئی بات سننا چاہے تو ایک شہاب کو اپنے کمین میں پائے گا ۔

اور یقینا ہم نہیں جانتے کہ آیا اہل زمین کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ ہے یا ان کے رب نے انہیں ہدایت کرنے کی ٹھانی ہے ؟! بیشک ہمارے درمیان صالح اور غیر صالح افراد پائے جاتے ہیں؛ اور ہم مختلف گروہ ہیں! بیشک ہمیں یقین ہے کہ ہم کبھی ارادۂ الٰہی پر غالب نہیں آ سکتے اور اس کے قبضۂ قدرت سے فرار نہیں کر سکتے! اور جب ہم نے ہدایت قرآن سنی تو اس پر ایمان لائے؛ اور جو بھی اپنے پروردگار پر ایمان لائے وہ نہ تو نقصان سے خوف کھاتا ہے اور نہ ہی ظلم سے ڈرتا ہے ،یقینا ہم میں سے بعض گروہ مسلمان ہیں تو بعض ظالم ہیں جو اسلام لایا گویا اس نے راہ راست اختیار کی ہے ، لیکن ظالمین جہنم کا ایندھن ہیں۔

اگر وہ لوگ ( جن و انس) راہ راست میں ثابت قدم رہے ، تو انہیں ہم بے حساب پانی سے سیراب کریں گے۔( ۱ )

____________________

(۱)سورۂ جن۱تا ۱۶


سورۂ انعام میں ارشاد ہوتا ہے :

( و یوم یحشرهم جمیعاً یا معشر الجن قد استکثرتم من الانس و قال اولیاؤهم من الانس ربنا استمتع بعضنا ببعض و بلغنا اجلنا الذی اجلت لنا قال النار مثواکم خالدین فیها الا ما شاء الله ان ربک حکیم علیمیا معشر الجن و الانس الم یأتکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی و ینذرونکم لقاء یومکم هذا قالوا شهدنا علیٰ انفسنا و غرتهم الحیاة الدنیا و شهدوا علیٰ انفسهم انهم کانوا کافرین )

جس دن سب کومحشورکرے گا، تو کہے گا: اے گروہ جن! تم نے بہت سارے انسانوں کو گمراہ کیا ہے : تو انسانوں میں سے ان کے ساتھی کہیں گے : خدا وندا! ہم میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا ہے اور ہم اس مدت کوپہنچے جو تونے ہمارے لئے معین کی تھی ، خد اوند فرمائے گا: جہنم تمہارا ٹھکانہ ہے ، ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہو گے ، مگر یہ کہ خدا کی جو مرضی ہو تمہارا رب حکیم اور دانا ہے... ۔

اے گروہ انس و جن ! کیا تمہاری طرف ہمارے رسول نہیں آئے ہیں جو ہماری آیتوں کو تمہارے لئے بیان کرتے تھے اور تمہیں ایسے (ہولناک) دن(قیامت) سے ڈراتے تھے ؟!

کہیں گے : ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیںاور دنیاوی زندگی نے انہیں فریب دیا وہ اور اپنے خلاف خودگواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔( ۱ )

____________________

(۱)انعام۱۲۸۔۱۳۰


کلمات کی تشریح

۱۔جدّ: جد ّیہاں پر عظمت و جلال کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

۲۔غدقاً: زیادتی اور کثرت کے معنی میں ہے :(و ھم فی غدق من العیش) یعنی وہ لوگ نعمت کی فراوانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

آیات کی تفسیر

خد ا وند عالم نے حضرت خاتم الانبیاء کی بعثت کے بعد جنوں کے کچھ گروہ کو ایک ایسی راہ میں قرار دیا کہ حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کی تلاوت سنیں، وہ لوگ سنتے وقت ایک دوسرے سے بولے: خاموش رہو! جب رسول اللہ کی تلاوت تمام ہوئی ، اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے اور انہیں انذار کرتے ہوئے بولے: اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب (قرآن) سنی ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے اور گز شتہ کتابوں کی تصدیق کرتی اور راہ راست کی ہدایت کرتی ہے، اے قوم! اللہ کے داعی کی آوازپر ہم لبیک کہیں اور اس پر ایمان لائیں اور کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہ دیں، یقینا ہمارا رب اس سے بلند اور برتر ہے کہ کسی کوبیوی یا فرزند بنائے۔ بعض انسان بھی تمہارے ہی جیسا خیال رکھتے ہیں کہ خدا کسی کو رسالت کے لئے مبعوث نہیں کرے گا، ہم جناتوں کے درمیان صالح اور غیر صالح دونوںہی طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اور ہماری روش اور رفتار مختلف ہے، ہم میں سے بعض مسلمان ہیں تو بعض ظالم وستمگر اور حق سے روگرداں، یقینا اپنے پروردگار پر ایمان رکھنے والے مومنین اپنے حق میں کمی اور نقصان،نیز اپنے اوپر ظلم و ستم کی پرواہ نہیں کرتے اور خائف نہیں ہوتے۔

لیکن ستمگر حق سے فرار کرتے ہیں، یقینا وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے اور عذاب میں گرفتار ہوں گے، یہ دن وہی دن ہے کہ اس دن خدا وند عالم سب کو جمع کرے گا اور گنہگاروں کے اپنے گناہ کا اعتراف کرنے کے بعد ان سے کہے گا: یہ آگ تمہاری منزل ہے ، اس میں ہمیشہ رہو ، سوائے اس کے کہ خدا کی مرضی ہو اور اس کی مشیت بدل جائے اور اپنی رحمت ان کے شامل حال کر دے۔

خدا وند عالم اس دن فرمائے گا: اے گروہ جن! کیا تم میں سے کوئی رسول تمہارے درمیان مبعوث نہیں ہوئے جو تم پر میری آیتوں کی تلاوت کرتے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے؟ تو وہ لوگ اپنے خلاف اپنے کفر کی گواہی دیں گے۔


جنات کی گفتگو کہ انہوں نے کہا: حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہونے والی کتاب سنی ہے ...اور اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی آواز پر لبیک کہیں، ان باتوں سے استنباط ہوتا ہے اور نتیجہ نکلتا ہے کہ جنات صاحب شریعت پیغمبروں کی کتابوں کے ذریعہ ہدایت یافتہ ہونے میں انسانوںکے شریک ہیں اور شاید جویہ خد انے فرمایا:

( الم یأتکم رسل منکم یقصون٭علیکم آیاتی و ینذرونکم لقا یومکم هٰذا )

اس سے مراد وہی اولو العزم پیغمبر ہیں۔

روایات میں آیات کی تفسیر

صحیح مسلم وغیرہ میں ابن عباس سے منقول ہے ۔ اور ہم مسلم کی عبارت ذکر کرہے ہیں کہ انہوں نے کہا: پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ عکاظ نامی بازار کی طرف روانہ ہوئے اور یہ اس وقت ہوا جب شیاطین اور آسمانی خبروں کے درمیان فاصلہ ایجاد ہو چکا تھا اور انہیں تیر شہاب کے ذریعہ مارا جاتاتھا، شیاطین اپنی قوم کے درمیان واپس گئے تو قوم نے ان سے کہا:تمہیں کیا ہوگیاہے ؟انہوں نے جواب دیا : ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان فاصلہ ہو گیا ہے اور شہابی تیر ہماری طرف روانہ کئے جاتے ہیں ،ان لوگوں نے ان سے کہا: یقینا کوئی اہم حادثہ رونما ہوا ہے کہ تمہیں آسمانی اخبار سے روک دیا گیا ہے، شرق و غرب عالم کا چکر لگائو اور اس کی تحقیق کرو کہ کونسی چیز تمہارے اور آسمانی اخبار کے درمیان حائل ہو گئی ہے ، ان میں سے ایک گروہ جو تہامہ کی طرف روانہ ہوا تھا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف متوجہ ہوا آنحضرت نخلہ کے علاقہ میں بازار عکاظ کے راستے میں اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز صبح ادا کر رہے تھے اور جب قرآن سنا تو توجہ سے سننے لگے اور بولے: خد اکی قسم یہی بات ہے جو تمہارے اور آسمانی اخبار کے درمیان حائل ہے ، پھر اپنی قوم کے درمیان آئے اور بولے: اے ہماری قوم! ہم نے عجیب قرآن سنا جو راہ راست کی ہدایت کرتا ہے،


ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور کسی کو رب کا شریک نہیں قرار دیتے ہیں اس کے بعد خدا نے اس آیت کو اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل کیا :( قل اوحی الی انه استمع نفر من الجن ) کہو: مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے توجہ سے سنا اور جو کچھ حضرت پر وحی ہوئی وہی جنوں کی باتیں تھیں۔( ۱ )

بحار الانوار میں علی بن ابراہیم قمی کی تفسیر سے سورہ ٔ احقاف کی آیۂ کریمہ:(یا قومنا انا سمعنا)کے ذیل میں ذکر ہوا ہے وہ کہتے ہیں : اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ مکہ سے بازار عکاظ کی طرف روانہ ہوئے زید بن حارثہ بھی ان کے ساتھ تھے لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور جب کسی نے ان کی دعوت پر لبیک نہیں کہی اور کسی نے ان کی دعوت قبول نہیں کی، تو مکہ واپس آ گئے اور جب ''وادی مجنة''نامی مقام پر پہنچے،تو آدھی رات کو تہجدکے لئے اٹھے اور قرآن کی تلاوت کرنے لگے اس اثنا میں جنات کے ایک گروہ کا گز ر ہوا وہ ٹھہرکر اسے سننے لگے اور ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تاکید کی اور جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلاوت تمام کی تو اپنی قوم کے پاس آئے انہیں ڈرایا اور کہا: اے ہماری قوم! ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے اور گز شتہ کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور حق و راہِ راست کی طرف ہدایت کرتی ہے، اے ہماری قوم!اللہ کی طر ف دعوت دینے والے کی بات سنو اور اس پر ایمان لائو...، خدا کے اس قول : ''یہ گروہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہے''تک اس کے بعد اسلام کے احکام اور اصول سے آشنا ہونے کے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کا اظہار کیا اور ایمان لائے، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی انہیں اسلامی احکام کی تعلیم دی ۔

اس کے بعد خدا وند عالم نے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر یہ سورہ نازل کیا کہ کہو: مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری بات سنی..سورہ کے آخرتک خدا وند عالم نے ان کی باتوں کو بیان کیا ہے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں میں سے ایک کو ان کاسر پرست بنا یا و...( ۲ )

____________________

(۱) مسلم ، کتاب صلاة باب الجہر بالقرائة حدیث، ۱۴۹و بخاری کتاب التفسیر، سورۂ جن، ج۳ ص ۱۳۹۔

(۲)بحار الانوار ج۶۳،ص۸۱ ماخوذ از تفسیر قمی ۶۲۴۔ ۶۲۳


بحث کا نتیجہ

جنات بھی الٰہی کتابوںجیسے توریت اور قرآن دریافت کرنے کے اعتبار سے انسان کی طرح ہیں، نیز جنات میں بھی ایسے لوگ پائے گئے ہیں جو اپنی قوم کے درمیان ڈرانے والوں کی منزل پر فائز تھے اور ایسے تھے جنہوں نے اپنی قوم کو قرآن کے وجود اور اس بات سے کہ قرآن گز شتہ کتابوںکی تصدیق کرنے والی

کتاب ہے (وہ بھی کلمۂ مصدِّق کے پورے معنی کے ساتھ جو قرآن کی صحت کی دلیل ہے) باخبر کیا دوسرے یہ کہ جنات بھی انسانوں کی طرح مشرکین موجود ہیں، نیز سیاق عبارت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنات معتقد ہیں کہ خدا وند صاحب فرزند ہے جیسا کہ بعض انسان ایسا عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح خدا کے فرزند ہیں۔ اور جنات کے کچھ لوگ انسان کے بعض افراد کی طرح گمان کرتے ہیں کہ خدا وند عالم نے کوئی پیغمبر مبعوث نہیں کیا ہے اور دنیاوی حیات کے تمام ہونے کے بعد حشر و نشر نہیں ہے ۔

خلاصہ یہ کہ: جنات انسان کے مانند ہیں ان کے درمیان خدا پر ایمان رکھنے والے مسلمان اور ظالم و نابکار کافر دونوں ہی پائے جاتے ہیں لیکن اپنے معبود پر ایمان رکھنے والے نیز جو ہم نے بیان کیا ہے اس پر اعتقاد رکھنے والے قیامت کے دن کامیاب ہیں، لیکن کفار عنقریب آتش دوزخ کا عذاب دیکھیں گے اور جہنم کا ایندھن ہوںگے۔

نیز جن و انس کو عقائد میں ہم مشترک دیکھتے ہیں کہ بعض مشرک ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ خدا صاحب فرزند ہے اور بعض ان میں سے انبیاء کے دشمن ہیں اور بعض دوسروں کوورغلانے او ربہکانے والے ہیں۔اور کچھ مسلمان ،خدا ،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس کی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں یہ دونوں ہی گروہ قیامت کے دن محشور ہوں گے اور محاسبہ کئے جائیں گے یا انہیں عذاب ہوگا یا ثواب اور جزا ملے گی ،یہ دونوں صنف تمام موارد میں مشترک ہے لیکن صنف جن کے اسلامی احکام پر عمل کی کیفیت لا محالہ کچھ ایسی ہونی چاہئے جو ان کی خدا داد فطرت سے تناسب رکھتی ہو اور ان کے وجودی قالب سے میل کھاتی ہو اور سازگار ہو،اس لحاظ سے ، اسلام وہی خدا کا دین اور اس کی شریعت ہے جوجن و انس دونوںکے لئے ہے جو پیغمبروں کے ذریعہ اور ان کے بعد ان کے جانشینوں کے ذریعہ جن و انس تک پہونچی ہے، خدا وند عالم کی توفیق و تائید سے انشاء اللہ اس کی کیفیت آئندہ بحث میں بیان کریں گے ۔


۶

اللہ کے مبلغ اور لوگوں کے معلم

۱۔ نبی،رسول اور وصی کے معنی

۲۔ آسمانی کتابوں ، سیرت اور تاریخ میں پیغمبروںاور اوصیاء کی خبریں

۳۔ آیت ، معجزہ کی تعریف اور ا س کی کیفیت

۱۔نبی ،رسول اور وصی

الف:۔ نبی و نبوت

نبوت لغت میں مرتبہ کی بلندی اور رفعت کو کہتے ہیں، خدا وندعالم سورۂ آل عمران میں فرماتا ہے:

( ماکان لبشر ان یؤتیه الله الکتاب والحکم و النبوة ثم یقول للناس کونوا عباداً لی من دون الله... ) ( ۱ )

کسی انسان کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ خدا وند عالم اسے کتاب ، حکم اور نبوت دے پھر وہ لوگوں سے کہے : خد اکے علاوہ میری عبادت کرو...لہٰذا نبوت ایک مخصوص مرتبہہے اور نبی خدا داد علم اور مقام قرب کے ذریعہ دیگر افراد پر فوقیت اور برتری رکھتا ہے ۔ اس لحاظ سے ، نبی وہ ہے جو ایسیمنزلت و مرتبہ کا مالک ہو ، یہی معنی خد اوند عالم کے کلام میں ہیں جب کہ وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہوکر سورۂ احزاب میں فرماتا ہے :

( یا ایها النبی انا ارسلناک شاهداً و مبشراً و نذیراً٭ و داعیاً الیٰ الله بأِذنه و سراجاً منیرا )

اے نبی ! ہم نے تم کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اورڈرانے والا بنا کر بھیجا ، خدا کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والااور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔

لہٰذا ''یا ایہا النبی'' کے معنی ہیں اے بلند مرتبہ عالی مقام میں نے تمہیں بھیجا...۔( ۲ )

اسی طرح سورۂ احزاب کی دیگر آیت میں ارشاد فرماتا ہے :

( النبی اولی ٰ بالمومنیمن انفسهم )

بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیادہ اولی ٰ ہیں۔( ۳ )

____________________

(۱)آل عمران۷۹(۲)احزاب۴۵۔۴۶( ۳) سورہ ٔ احزاب


نبی وہ ہے جس پر وحی ہوتی ہے ، جیسا کہ خدائے سبحان نے سورہ ٔ نساء میں فرمایا ہے :

( انا اوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوح و النبیین من بعده )

ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جس طرح نوح اور ان کے بعد دیگر انبیا کی طرف بھیجی تھی۔( ۱ )

اس اعتبار سے نبی ایک اسلامی اصطلاح ہے اس معنی میں کہ نبی: خد اکے نزدیک بلند مرتبہ اور عالی رتبہ ہوتا ہے اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے ، پروردگار خالق عالی مقام انبیاء کو مبعوث کرتا ہے تاکہ وہ بشارت دینے والے ، ڈرانے والے رسول بنیں اور لوگوں کی ہدایت کریں ، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( کان الناس امة واحدة فبعث الله النبیین مبشرین و منذرین و انزل معهم الکتاب ) ...)

سارے لوگ ایک امت تھے، خدا وند عالم نے انبیاء کو مبعوث کیا تاکہ بشارت دینے والے اورڈرانے والے ہوں اور ان کے ساتھ کتاب بھیجی...۔( ۲ )

( و انزل معهم الکتاب ) یعنی پروردگارخالق نے مبعوث ہونے والے بعض انبیاء کے ساتھ کتاب بھیجی نہ یہ کہ خدا وند عالم نے ہر ایک نبی کو کتاب دی ہے ، دوسرے یہ کہ خدا وند عالم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت و برتری دی ہے ۔

جیسا کہ سورۂ اسراء میں ارشاد فرماتا ہے :( ولقد فضلنا بعضهم علیٰ بعض )

ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت و برتری عطا کی ہے۔( ۳ )

اسی طرح خدا وند عالم نے انبیاء کے درمیان اپنے رسولوں کو منتخب کیا اور لوگوں کی طرف بھیجا، جیسا کہ بیان کیا جا رہا ہے ۔

ب۔ رسول

رسالت کا حامل، وہ لوگوں کی ہدایت کا خدا وند عالم کی طرف سے ذریعہ ہے۔ اور وہ خالق و مخلوق کے درمیا ن نوع بشر میں وساطت کا و شرف اسکی خاص صفت ہے اور مخصوص رسالت کے ہمراہ ان کے درمیان مبعوث ہوتا ہے ، خدا وندعالم اسے انہیں میں سے کہ جن کی طرف بھیجا گیا ہے یا جن کی زبان میں گفتگو کرتا ہے منتخب کرتا ہے جیسا کہ سورۂ ابراہیم میں ارشاد ہوتا ہے :

____________________

(۱)نسائ۱۶۳(۲)بقرہ۲۱۳(۳)اسرائ۵۵


( وماأَرسلنا من رسول الابلسان قومه لیبیّن لهم ) ...)( ۱ )

ہم نے ہر پیغمبر کو اسی کی زبان میں مبعوث کیا تاکہ انہیں سمجھا سکے اور وضاحت کرسکے۔

نیز سورۂ اعراف اور ہود میں فرماتا ہے:( و الیٰ عاد اخاه هودا ) اور قوم عاد کی طرف '' نوح کے بھائی ہود'' کو بھیجا نیز سورۂ اعراف ، ہود اور نمل میں فرماتا ہے : و الیٰ ثمود اخاہ صالحاً میں نے قوم ہود کی طرف '' ان کے بھائی صالح'' کو بھیجا اور سورۂ اعراف، ہود اور عنکبوت میں فرماتا ہے :( والیٰ مدین اخاه شعیبا ) ؛ مدین کی طرف ''ان کے بھائی شعیب'' کو مبعوث کیا ۔

اس انتخاب کی حکمت بھی واضح ہے، کیونکہ خد اکا رسول اپنی قوم کے درمیان اپنے خاندان اور رشتہ داروں کی وجہ سے قوی اور مضبوط ہوتا ہے اور تبلیغی وظائف کی انجام دہی میں مدد ملتی ہے ، جیساکہ خد اوند عالم نے سورۂ ہود میں قوم شعیب کی داستان بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا:( ولو لا رهطک لرجمناک ) اگر تمہارے عزیز و اقارب نہ ہوتے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے۔خد اپیغمبروں کو لوگوںکی ہدایت اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے بھیجتا ہے جیسا کہ سورۂ نساء میں فرمایا:

( ورسلاً مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علٰی الله حجة بعد الرسل )

ایسے رسول جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ ان پیغمبروںکے بعد لوگوں کے لئے خدا پر کوئی حجت نہ رہ جائے اور سورۂ اسراء میں فرماتا ہے:( ۲ )

( وما کنا معذبین حتیٰ نبعث رسولاً )

ہم اس وقت تک عذاب نہیںکرتے ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں۔( ۳ )

اورسورۂ یونس میں فرماتا ہے :

( ولکل امة رسول فاذا جاء رسولهم قضی بینهم بالقسط وهم لا یظلمون ) ( ۴ )

ہر امت کے لئے ایک پیغمبر ہوگا، جب ان کے درمیان پیغمبر آجائے گا تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

جو امتیں پیغمبر کی نافرمانی کرتی ہیں وہ دنیاوی اور اخروی عذاب کی مستحق ہوجاتی ہیں جیسا کہ خداوند عالم فرعون اور اس سے پہلے والی امت کی خبر دیتے ہوئے سورۂ حاقہ میں فرماتا ہے :

____________________

(۱)ابراہیم۵(۲)نسائ۱۶۵(۳)اسرائ۱۵(۴)یونس۴۷


( فعصوا رسول ربهم فأخذهم أخذةرابیة )

انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو خدا وند عالم نے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کیا۔( ۱ )

پیغمبر کی نافرمانی بعینہ خدا کی نافرمانی ہے ، جیسا کہ سورۂ جن میں ارشاد فرماتا ہے:

( ومن یعص الله و رسوله فان له نار جهنم خالدین فیها ابداً )

جو بھی خد ااور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔( ۲ )

خدا وند عالم نے رسولوں کو انبیاء کے درمیان سے منتخب کیا اور ہمیشہ رسولوں کی تعداد انبیاء سے کم ہے جیسا کہ ابوذر کی روایت میں ہے کہ انہوںنے کہا:

و قلت یا رسول الله :''کم هو عدد الانبیائ، قال : ماة الف و اربعة و عشرون الفاً الرسل من ذلک ثلاثمأة و خمسة عشر جما غفیراً ۔''

ابوذر نے کہا: یا رسول اللہ: انبیائ(ع) کی تعداد کتنی ہے ؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار ، اس میں سے تین سو پندرہ رسول ہیں ان کی مجموعی تعداد یہی ہے ۔( ۳ )

جو میں نے بیان کیا اس اعتبار سے ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے ، جیسا کہ ''یسع'' رسول نہیں تھے لیکن نبی اور موسیٰ کلیم اللہ کے وصی تھے۔

بعض پیغمبر جو شریعت لیکر آئے، انہوں نے بعض گز شتہ شریعت کے مناسک کو نسخ کر دیا جیساکہ حضرت موسیٰ کی شریعت اپنے ما قبل شریعتوں کے لئے ایسی ہی تھی، بعض پیغمبر کچھ ایسی شریعت لیکر آئے جو سابق شریعت کی تجدید کرنے اور کامل کرنے والی تھی، جس طرح حضرت خاتم الانبیاء کی شریعت ابراہیم خلیل کے آئین حنیف کی نسبت، خدا وند سورۂ نحل میں فرماتا ہے :

( ثم اوحینا الیک ان اتبع ملة ابراهیم حنیفاً )

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ حضرت ابراہیم کے خالص آئین کا اتباع کرو...( ۴ )

اور سورۂ مائدہ میں ارشاد ہوتا ہے :

____________________

(۱)حاقہ۱۰(۲)جن۲۳

(۳)مسند احمد، ج۵، ص ۲۶۵۔۲۶۶، معانی الاخبار، صدوق ص ۳۴۲، خصال، طبع مکتبہ صدوق، ج۲ ص ۵۳۳، بحار الانوار، ج۱۱، ص ۳۲، حدیث ۲۴، مذکورہ روایت کی عبارت مسند احمد سے اخذ کی گئی ہے ۔ (۴) نحل۱۲۳


( الیوم اکملت لکم دینکم و أتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً ) ( ۱ )

آج تمہارے لئے دین کو کامل کیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور اسلام کو تمہارے لئے آئین کے عنوان سے پسند کیا۔

آئندہ بحث میں انبیاء کے وصیوں کی خبروں کی تحقیق کریں گے۔

ج۔ وصی و وصیت

وصی کتاب اور سنت میں ، ایک ایسا انسان ہے جس سے دوسرے لوگ وصیت کرتے ہیں تاکہ اس کے مرنے کے بعد ان کی نظر میں قابل توجہ امور پر اقدام کرے خواہ، اس لفظ اور عبارت میں ہو کہ '' میں تمہیں وصیت کر رہا ہوں کہ میرے بعد تم ایسا کرو گے ، یاان الفاظ میں ہو: میں تم سے عہد لیتا ہوں اور تمہارے حوالے کرتا ہوں کہ میرے بعد ایسا ایسا کرو گے اس میں ، کوئی فرق نہیں ہے ، جس طرح سے وصیت کے بارے میں دوسروں کو خبر دینے میں بھی لفظ وصی اور وصیت وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے اور اگر یہ کہے : فلاں میرے بعد میر اوصی ہے ، یا کہے : فلاں میرے بعد ایسا ایسا کرے گا یا جو بھی عبارت وصیت کا مفہوم ادا کرے اور اس پر دلالت کرے کافی ہے۔

نبی کا وصی بھی ،وہ انسان ہے جس سے پیغمبر نے عہد و پیمان لیا ہو تاکہ اس کے مرنے کے بعد امور شریعت اور امت کی ذمہ داری اپنے ذمے لے اور اسے انجام دے۔( ۲ )

انبیاء کے وصیوں کے بارے میں جملہ اخبار میں سے ایک یہ ہے جسے طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہہے : جناب حوا نے حضرت آدم کی صلب سے ''ھبة اللہ'' کوجو کہ عبرانی زبان میں ''شیث'' ہے جنم دیا تو حضرت آدم نے انہیں اپنا وصی قرار دیا، حضرت شیث سے بھی ''انوش'' نامی فرزند پیدا ہوا اور انہوں نے اسے بیماری کے وقت اپنا وصی بنایا اور دنیا سے رحلت کر گئے ، پھر اس کے بعد'' انوش'' کی اولاد ''قینان'' اور دیگر افراد دنیا میں آئے کہ اپنے باپ کے وصی ' 'قینان'' بنے، قینان سے بھی ''مھلائیل الیرد'' اور دیگر گروہ وجود میں آئے کہ جس میں وصیت ''یرد'' کے ذمہ قرار پائی، یرد سے بھی ''خنوخ'' کہ جن کو ادریس کہا جاتا ہے، دیگر فرزندوں کے ساتھ پیدا ہوئے اور جناب ادریس اپنے باپ کے وصی بنے اور ادریس سے ''متوشلخ'' اور کچھ دیگر افراد پیدا ہوئے اور وصیت ان کے ذمہ قرار پائی۔

____________________

(۱) سورۂ مائدہ ۳(۲)مزید تفصیل کیلئے،''فرہنگ دو مکتب در اسلام''، ج۱ ص بحث وصی کی طرف رجوع کریں۔


ابن سعد نے اپنی کتاب '' طبقات'' میں جناب ادریس کے بارے میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: سب سے پہلے پیغمبر جو آدم کے بعد مبعوث ہوئے ادریس تھے اور وہ ''خنوخ بن یرد'' ہیں۔

اور خنوخ سے بھی 'متوشلخ'' اور کچھ دیگر اولاد پیدا ہوئی اور وصیت ان کے ذمہ قرار پائی اور متوشلخ سے ''لمک'' اور کچھ دیگر اولاد پیدا ہوئی اور وہ اپنے باپ کے وصی ہو گئے اور لمک سے حضرت ''نوح'' پیداہوئے۔( ۱ )

مسعودی نے ''اخبار الزمان'' میں ایک روایت ذکر کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

خد اوند عالم نے جب حضرت آدم کی روح قبض کرنی چاہی ، تو انہیں حکم دیا کہ اپنے فرزند شیث کو اپنا ''وصی'' قرار دیں اور ان علوم کی انہیں تعلیم دیں جو اللہ نے انہیں دیا ہے تو انہوںنے ایسا ہی کیا اور نقل کیا ہے : شیث نے اپنے بیٹے قینان کو صحف کی تعلیم دی زمین کے محاسن اچھائیوں اور ذخائر کو بیان کیااس کے بعد انہیں اپنا وصی بنایا اور نماز قائم کرنے،زکوٰة دینے ، حج کرنے اور قابیل کی اولاد سے جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ انہوںنے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور سات سو بیس سال کے سن میں دنیا سے رخصت ہوئے۔

قینان نے اپنے فرزند ''مہلائیل'' کو وصی بنایا اور انہیں جس کی خود انہیں وصیت کی گئی تھی وصیت کی مہلائیل کی عمر۸۷۵ سال تھی، انہوںنے بھی اپنے فرزند ''بوادر'' کو وصی بنایاانہیں صحف کی تعلیم دی اور زمین کے ذخیروں او رآئندہ رونما ہونے والے حوادث سے آگاہ کیا او ''سرِّ ملکوت'' نامی کتاب انہیں سپرد کی، یعنی وہ کتاب جسے مہلائیل فرشتے نے حضرت آدم کو تعلیم دی تھی اور اسے سربستہ اور دیکھے بغیر ،ایک دوسرے سے وراثت میں پاتے تھے، بوارد سے ''خنوخ'' نامی فرزند پیدا ہو ایہ وہی ادریس نبی ہیں کہ خد اوند عالم نے انہیں عالی مقام بنایا انہیں ادریس اس لئے کہتے ہیں کہ انہوںنے خدا وند عز و جل کی کتابوں اور دین کی سنتوں کو بہت پڑھا اور اس پر عمل کیا ہے ، خدا وند عالم نے ان پر تیس عدد صحیفے نازل کئے کہ ان کو ملاکر اس زمانے میں نازل ہونے والے صحیفے کامل ہوئے۔''یوارد'' نے اپنے فرزند ''خنوخ'' (ادریس) کو اپنا وصی بنایا اور اپنے باپ کی وصیت ان کے حوالے کی اور جو علوم ان کے پاس تھے ان کی تعلیم دی اور'' مصحف سر'' اُن کے حوالے کیا...۔

یعقوبی نے اخبار اوصیاء کو سلسلہ وار اور طبری و ابن اثیر سے زیادہ بسط و تفصیل سے نقل کیا ہے اس کے علاوہ دوسرے کی اخبار بھی وصیت کے سلسلہ میں ذکر کئے ہیں ، مثال کے طور پر کہتا ہے : حضرت آدم کی

____________________

(۱)تاریخ طبری، طبع یورپ، ج۱ ص ۱۵۳۔۱۶۵، ۱۶۶، تاریخ ابن اثیر، ج۱ ص ۱۹، ۲۰، شیث بن آدم کے بارے میں ، طبقات ابن سعد، ج۱ ص ۱۶، ابن کثیر نے بھی اپنی تاریخ میں حضرت آدم کی وصیت کا ،جو انہوں نے اپنے شیث کو کی تھی، ذکر کیا ہے ۔


وفات کے وقت ان کے فرزند شیث اوردوسرے بیٹے،پوتے ان کے پاس آئے تو انہوںنے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے خداسے برکت اور کثرت طلب کی اور اپنے بیٹے شیث کو اپنا وصی بنایا اور ذکر کیا ہے :

حضرت آدم کی موت کے بعد آپ کے فرزند شیث آ گے بڑھے اور اپنی قوم کو تقوای الٰہی اور عمل صالح کا حکم دیا...یہاں تک کہ شیث کی وفات کے وقت ان کے فرزند اور پوتے کہ اس دن انوش، قینان، مہلائیل یرد اور خنوخ تھے اور ان کے بچے اور بیویاں ان کے قریب آئیں اور شیث نے ان پر درود بھیجا اور خدا وند عالم سے ان کے لئے برکت ، ترقی اور زیادتی کی درخواست کی اور ان کی طرف مخاطب ہو کر انہیں قسم دی کہ.... قابیل ملعون کی اولاد سے معاشرت نہیں کریں گے اور فرزند انوش کو وصی بنایا۔

یعقوبی اس طرح سے سلسلہ وار اوصیاء کی خبروں کو ان کے زمانہ کے وقایع کے ذکر کے ساتھ حضرت نوح کی خبر وصیت تک پہنچ کر کہتاہے : حضرت نوح کی وفات کے وقت آپ کے تینوں بیٹے سام، حام اور یافث اور ان کی اولاد ان کے پاس جمع ہوگئی پھر حضرت نوح کی وصیت کی تشریح کرتا ہے اور اسی طرح انبیاء کے اوصیاء کے تسلسل کوبنی اسرائیل اور ان کے اوصیاء تک ذکر کیا ہے کہ ہم یہاں تک اسی خلاصہ پر اکتفا کرتے ہیں۔

حضرت نوح کے زمانے میں قابیل کے فرزندوں کے درمیان بتوں کی عبادت رائج تھی۔

ادریس نے اپنے فرزند متوشلخ کو اپنا وصی بنایا، کیونکہ خدا وند متعال نے انہیں وحی کی کہ وصیت کو اپنے فرزند متوشلخ میں قرار دو کیونکہ ہم عنقریب ان کی صلب سے پسندیدہ کردار نبی پید اکریں گے۔ خد اوند عالم نے حضرت ادریس کو اپنی طرف آسمان پر بلا لیا اور ان کے بعد وحی کا سلسلہ رک گیا اور شدید اختلاف اور زبردست تنازعہ کھڑا ہو گیا اور ابلیس نے مشہور کر دیا کہ وہ مر گئے ہیں، اس لئے کہ وہ کاہن تھے وہ چاہتے تھے کہ فلک کی بلندی تک جائیںکہ وہ آگ میں جل گئے ہیں حضرت آدم کی اولاد چونکہ اس دین کی پابند تھی لہٰذا سخت غمگین ہوئی، ابلیس نے کہا ان کے بڑے بُت نے انہیں ہلاک کر دیا ہے ، پھر تو بت پرستوں نے بتوںکی عبادت میں زیادتی کر دی اور ان پر زیورات نثار کرنا شروع کر دئیے اور قربانی کی اور ایسی عید کا جشن منایا کہ سب اس میں شریک تھے وہ لوگ اس زمانے میں یغوث، یعوق، نسر، ودّ اور سواع نامی بت رکھتے تھے۔


جب متوشلخ کی موت کا وقت قریب آیا ، تو اپنے فرزند'' لمک'' کو وصی بنایا( لمک جامع کے معنی میں ہے) اور ان سے عہد و پیمان لیا اور جناب ادریس کے صحیفے اور ان کی مہر کردہ کتابیں ان کے حوالے کیں اس وقت متوشلخ کی عمر ۹۰۰ سال تھی، وصیت لمک تک منقل ہوئی ( وہ جناب نوح کے والد تھے) انہوں نے ایک بار اچانک دیکھا کہ ان کے دہن سے ایک آگ نکلی اور تمام عالم کو جلا گئی۔ اوردوبارہ دیکھا کہ گویا وہ دریا کے درمیان ایک درخت پر ہیں اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے ، حضرت نوح بڑے ہوئے خدا وند عالم نے انہیں ۵۰ سال کے سن میں بلند مقام اور نبوت بخشی اور انہیں ان کی قوم کی طرف کہ جوبت کی پوجا کرتی تھی بھیجا، وہ اولوالعزم رسولوں میں سے ایک تھے۔

بعض اخبار میں آپ کی عمر ۱۲۵۰ سال ذکر کی گئی ہے،وہ جیسا کہ خدا وند متعال نے فرمایا ہے: اپنی قوم کے درمیان ۹۵۰ سال رہے اور انہیں ایمان کی دعوت دی،ان کی شریعت: توحید ، نماز، روزہ، حج اور دشمنان خد اقابیل کے فرزندوں سے جہاد تھی، وہ حلال کے لئے مامور اور حرام سے ممنوع کئے گئے تھے اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں کو خدا وند متعال کی طرف دعوت دیں اور اس کے عذاب سے ڈرائیں اور خدا کی نعمتوں کو یاد دلائیں۔

مسعودی کا کہنا ہے: خدا وند عالم نے ریاست اور انبیاء کی کتابیں سام بن نوح کے لئے قرار دیں اور نوح کی وصیت بھی ان کے فرزندوں سے مخصوص ہوئی نہ کہ ان کے بھائیوں سے ۔( ۱ )

یہاں تک جو کچھ مسعودی کی کتاب اخبار الزمان سے ہمارے پاس تھا تمام ہوا، مسعودی نے اسی طرح کتاب ''اثبات الوصیة''( ۲ ) میں اوصیاء کے سلسلہ کو حضرت آدم سے حضرت خاتمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک بیان کیا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو اسلامی مدارک کی بحثوں میں رسولوں اور ان کے جانشینوں کے بارے میں بیان ہوا ہے، آئندہ بحث میں ، رسولوںاور ان کے اوصیاء کی خبروں کوکتاب عہدین (توریت اور انجیل) سے بیان کریں گے۔

____________________

(۱) اخبار الزمان ، مسعودی، طبع بیروت، ۱۳۸۶ ھ،ص ۷۵، ۱۰۲(۲)ہم نے اس کتاب کی دوسری جلد میں ،مسعودی کی طرف اثبات الوصیة کی نسبت کے متعلق فصل : عصر فترت ،باب : پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء و اجداد میں وضاحت کر دی ہے۔


۲۔ کتب عہدین میں ا وصیاء کی بعض خبریں

کتب عہدین سے اخبار اوصیاء کے نقل کے بارے میں ہم صرف تین وصیت پر اکتفا کریں گے:

الف۔ حضرت موسی کلیم کی خدا کے نبی یوشع کو وصیت

''قاموس کتاب مقدس '' نامی کتاب میں مادہ ''یوشع'' کے ذیل میں توریت کے حوالے سے ذکر ہوا ہے :

یوشع بن نون حضرت موسیٰ کے ساتھ کو ہ سینا پر تھے اور ہارون کے زمانے میں گوسالہ پرستی میں ملوث نہیں ہوئے۔( ۱ )

اورسفر اعداد کے ستائیسویں باب کے آخر میں خد اکی جانب سے موسیٰ کی تعیین وصیت کے بارے میں ذکر ہوا ہے:

موسیٰ نے خدا وند عالم کی بارگاہ میں عرض کی کہ یہوہ تمام ارواح بشر کا خدا کسی کو اس گروہ پرمقرر کرے جو کہ ان کے آگے نکلے اور ان کے آگے داخل ہو اور انہیںباہر لے جائے اور ان کو داخل کرے تاکہ خد اکی جماعت بے چرواہے کے گوسفندوں کی طرح نہ رہے، خداوند عالم نے موسیٰ سے کہا: یوشع بن نون کہ جو صاحب روح انسان ہیںان پر اپنا ہاتھ رکھو اور ''العازار کاہن''اور تمام لوگوں کے سامنے کھڑاکرکے وصیت کرو اور انہیں عزت اور احترام دو،تاکہ تمام بنی اسرائیل ان کی اطاعت کریں اوروہ ''العاذار کاہن'' کے سامنے کھڑے ہوں تاکہ ان کے لئے ''اوریم'' کے حکم کے مطابق خدا سے سوال کرے اور اس

کے حکم سے وہ اور تمام بنی اسرائیل ان کے اور پوری جماعت کے ساتھ باہر جائیں اور ان کے حکم سے داخل ہوں لہٰذا موسی ٰنے خد اکے حکم کے مطابق عمل کیا اور یوشع بن نون کو پکڑکر

____________________

(۱)''قاموس کتاب مقدس'' ترجمہ و تالیف مسٹر ھاکس امریکی، مطبع امریکی، بیروت، ۱۹۲۸ء ص ۹۷۰


'' العازار کاہن ''اور تمام جماعت کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا اپنے ہاتھوں کو ان کے اوپر رکھا اور انہوں نے خدا کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق وصیت کی ۔( ۱ )

نیز اموربنی اسرائیل کو چلانے اور ان کی جنگوںکی داستان تیئیسویں باب سفر یوشع بن نون میں مذکورہے ۔( ۲ )

ب۔ حضرت داؤد نبی کی حضرت سلیمان کو وصیت

بادشاہوں کی کتاب اول کے باب دوم میں مذکور ہے ۔( ۳ )

اور جب حضرت داؤد کا یوم وفات قریب آیا اپنے بیٹے سلیمان کو وصیت کی اور کہا :میں تمام اہل زمین کے راستہ (موت ) کی طرف جا رہا ہوں لہٰذا تم دلیرانہ طور پراپنے خدا یہوہ کی وصیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کے طریقہ پر گامزن رہنا اور اس کے فرائض ، اوامر، احکام و شہادات جس طرح موسیٰ کی کتاب توریت میں مکتوب ہیں اسے محفوظ رکھنا تاکہ جو کام بھی کرو اور جہاں بھی رہو کامیاب رہو ۔( ۴ )

ج۔حضرت عیسی کی حواری شمعون بطرس کو وصیت

انجیل متی کے دسویں باب میں سمعون کے بارے میں کہ ان کانام توریت میں شمعون ہے، ذکر ہوا ہے :

انہوں نے پھر اپنے بارہ شاگردوں کو بلا کر خبیث ارواح پر تسلط عطا کیا کہ انہیں باہر کرا دیں

اورہر مرض اور رنج کا مداوا کریں بارہ رسولوں ( نمائندوں)کے یہ اسماء ہیں: اول شمعون جو پطرس کے نام سے مشہور ہیں تھے۔

انجیل یوحنا کے اکیسویں، باب ۱۸۔۱۵ شمارہ میں ذکر ہے :

عیسیٰ نے انہیں ( شمعون کو) اپنا وصی بنایا اور ان سے کہا: میری گوسفندوں کو چرائو ''یعنی مجھ

پر ایمان لانے والوں کی حفاظت کرو''۔

____________________

(۱) کتاب مقدس ، عہد عتیق ( توریت )ص ۲۵۴، کلدانی اور عبرانی یونانی زبان سے فارسی ترجمہ ، طبع ۳. دار السلطنت لندن ۱۹۳۲ ء

(۲)کتاب مقدس ، عہد عتیق ( توریت کلدانی اور عبرانی یونانی زبان سے فارسی ترجمہ ، طبع دار السلطنت لندن ۱۹۳۲ ء ص ۳۷۰، ۳۳۳.

(۳) وہی ماخذ.

(۴) وہی ماخذ.


''قاموس کتاب مقدس'' میں بھی ذکر ہو اہے : مسیح نے انہیں (شمعون کو) کلیسا(عبادت خانہ) کی ہدایت کے لئے معین فرمایا۔( ۱ )

پہلی خبر میں ہم نے ملاحظہ کیا کہ بنی خدا، موسیٰ بن عمران نے اپنے بعد خدا کے نبی یوشع(جوقرآن کریم میں الیسع کے نام سے مشہورہیں)کو وصی بنایا۔

اور دوسری خبر میں خدا کے نبی دائود نے حضرت سلیمان کو وصیت کی کہ وہ خدا کے نبی اور رسول موسیٰ بن عمران کی شریعت پر عمل کریں۔

تیسری خبر میں عیسی روح اللہ نے اپنے حواری کواس بات کی وصیت کی کہ لوگوں کی ہدایت کریں۔

قرآن کریم میں رسولوں اور اوصیاء کی خبریں

خدا وند سبحان نے قرآن کریم میں جن ۲۶ انبیاء کی ان کے اسماء کے ذکر کے ساتھ داستان بیان کی ہے وہ یہ ہیں:

آدم، نوح، ادریس، ہود، صالح، ابراہیم ، لوط، ایوب، الیسع، ذو الکفل، الیاس، یونس، اسمعیل، اسحق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، دائود، سلیمان، زکریا، یحییٰ، اسماعیل صادق الوعد، عیسیٰ اور محمد مصطفی ۔

ان میں سے بعض ایسے صاحب شریعت تھے کہ جو گز شتہ شریعت کے متمم اور مکمل تھے ، جیسے حضرت نوح کی شریعت جوکہ حضر ت آدم کی شریعت کو کامل کرنے والی تھی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت کہ جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی شریعت کو کامل اور تمام کرنے والی تھی،ان میں سے بعض ایسی شریعتوں کے مالک تھے کہ جو گزشتہ شریعت کے لئے ناسخ تھے جیسے حضرت موسیٰ اورحضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۔

ان میں سے بعض بنی بھی تھے اور وصی بھی اور اپنے ما قبل رسول کی شریعت کے محافظ و نگہبان بھی جیسے یوشع بن نون کہ جو موسیٰ بن عمران کے وصی تھے۔

چونکہ جو شخص پروردگار عالم کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتا ہے پیغمبر ہو یا اس کا وصی، اس کے لئے خداداد نشانی ضروری ہے تاکہ اس کے مدعا کی صداقت پر شاہد و گواہ رہے نیز اس کے خدا کی جانب سے بھیجے جانے پر دلیل ہو ، آئندہ بحث میں اس موضوع یعنی ''معجزہ'' کی تحقیق کریں گے۔

____________________

(۱)قاموس کتاب مقدس ، مادہ : پطرس حواری


۳۔ آیت اور معجزہ

آیت، لغت میں اس نشانی کو کہتے ہیں جو کسی چیز پر دلالت کرتی ہے ، وہ بھی اس طرح سے کہ جب کبھی وہ نشانی ظاہر ہو تو اس چیز کا وجود نمایاں ہو جائے۔

لیکن ہم اسلامی اصطلاح میں دو طرح کی آیت اور نشانی رکھتے ہیں، ایک وہ جو خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے اور دوسری وہ جو اس کی کسی ایک صفت (یعنی اسما ئے حسنی الٰہی میں سے کسی ایک کی طرف) اشارہ کرتی ہے وہ دونوں نشانیاں درج ذیل ہیں:

الف۔ وہ نشانیاں جو اپنے متقن اور سنجیدہ وجود کے ساتھ اپنے خالق حکیم کے محکم اور استوارنظام پر دلالت کرتی ہیں اور اس طرح ظاہر کرتی ہیں کہ اس پوری کائنات کا کوئی پروردگار حکیم ہے کہ جو خلق کے امور کو ایک محکم اور استوار نظام کے ساتھ چلا رہا ہے اورہم اسے ''کائنات میں خد اکی سنتیں'' کہتے ہیں۔

پہلی مثال، جیسے خدا سورۂ غاشیہ میں فرماتا ہے :

( أفلا ینظرون الیٰ الأبل کیف خلقت٭و الیٰ السماء کیف رفعت٭ و الیٰ الجبال کیف نصبت )

کیا وہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسے خلق کیا گیا ہے اور آسمان کو کہ کس طرح رفعت دی گئی ہے اور پہاڑوں کو کہ کیسے نصب کیا گیاہے ؟!( ۱ )

اورسورۂ عنکبوت میں فرماتا ہے:

( خلق الله السمٰوات و الارض بالحق ان فی ذلک لآیة للمومنین )

خدا وند عالم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ خلق کیا یقینا اس میں مومنین کے لئے نشانی ہے۔( ۲ )

خدا وند عالم نے اس طرح کی قرآنی آیات میں کچھ مخلوقات کا تذکرہ کیا ہے جو اپنے وجود سے اپنے خالق کے وجود کا پتہ دیتی ہیں، اسی لئے انہیں آیات اور نشانیاںکہا گیا ہے ۔

____________________

(۱) غاشیہ ۱۷۔۲۰

(۲)عنکبوت۴۴


دوسری مثال: خدا وند عالم سورۂ نحل میں فرماتا ہے:

( هو الذی انزل من السماء ما ئً لکم منه شراب ومنه شجر فیه تسیمون٭ ینبت لکم به الزرع و الزیتون و النخیل و الاعناب ومن کل الثمرات ان فی ذلک لآیة لقوم یتفکرون٭ وسخر لکم اللیل و النهار و الشمس و القمر و النجوم مسخرات بأمره ان فی ذلک لآیات لقوم یعقلون٭وما ذرأ لکم فی الارض مختلفا الوانه ان فی ذلک لآیة لقوم یذکرون )

وہ خداجس نے تمہارے پینے کے لئے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس سے سر سبز درختوں کو پیدا کیا جس سے تم اپنے حیوانات کے چارہ کا انتظام کرتے ہوخدا وند عالم اس ''پانی'' سے تمہارے لئے کھیتی، زیتون کھجور، انگور اور تمام انواع و اقسام کے میوے اگاتا ہے یقینا اس میں دانشوروںکیلئے واضح نشانی ہے اس نے شب و روز ،ماہ و خورشید کو تمہار اتابع بنایا نیز ستارے بھی اس کے حکم سے تمہارے تابع ہیں، یقینا اس میں صاحبان عقل کے لئے نشانیاں ہیں اور گونا گوں اور رنگا رنگ مخلوقات کو تمہارا تابع بنا کر خلق کیا، بیشک اس میں واضح نشانی ہے ان کے لئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔( ۱ )

خدا وند عالم ان جیسی قرآنی آیات میں ان انواع نظام ہستی کو بیان کرتا ہے جو مدبر اور حکیم پروردگار کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اور کبھی کبھی ان آیات اور نشانیوں کو جو ''عزیز خالق'' اور'' حکیم، مدبراور رب'' کے وجودپر دلالت کرتی ہیں یکجا بیان کیا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے :

( ان فی خلق السمٰوات و الارض و اختلاف اللیل و النهار و الفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس وما انزل الله من السماء من مائٍ فأحیا به الارض بعد موتها و بث فیها من کل دابة و تصریف الریاح و السحاب المسخر بین السماء و الارض لآیات لقوم یعقلون)

یقینا زمین و آسمان کا تخلیق کرنا اور روز و شب کو گردش دینا اور لوگوں کے فائدہ کے لئے دریا میں کشتیوں کو رواں دواں کرنا اور خدا کا آسمان سے پانی برسانانیز زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرنا اور ہر قسم کے متحرک جانوروں کو اس میں پھیلانا نیز زمین و آسمان کے درمیان ہوائوں اور بادلوں کو مسخر کرنا اسلئے ہے کہ ان سب میں صاحبان عقل کے لئے نشانیاں ہیں۔( ۲ )

خدا نے اس آیت کی ابتدا میں آسمانوں اور زمین کی خلقت کو بیان کیا ہے اس کے بعد نظام کائنات کی

____________________

(۱)نحل۱۰۔۱۳

(۲)بقرہ۱۶۴


نشانیوں کا ذکر کیاہے ، ایسا نظام جس کو پروردگار نے منظم کیا ہے اور ہم اسے '' کائنات کی سنتیں '' کہتے ہیں ۔

ب۔ وہ آیات جنہیں پروردگار عالم انبیاء کے حوالے کرتا ہے ، جیسے نظام ہستی پر ولایت وہ بھی اس طرح سے کہ جب مشیت الٰہی کا اقتضا ہو تو پیغمبر، خدا کی اجازت سے اس نظام کو جس کو خدا نے عالم ہستی پر حاکم بنایا ہے بدل سکتا ہے ،جیساکہ خد اوند متعال حضرت عیسیٰ کی توصیف میں فرماتا ہے۔

( ورسولاً الیٰ بنی اسرائیل انی قد جئتکم بآیة من ربکم انی اخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فانفخ فیه فیکون طیراً بأِذن الله )

حضرت عیسیٰ کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا ( انہوں نے ان سے کہا:)میں تمہارے پروردگار کی ایک نشانی لیکر آیا ہوں، میں مٹی سے تمہارے لئے پرندے کے مانند ایک شیء بنائوں گا اور پھر اس میں پھونک ماروں گا تو وہ خد اکے حکم سے پرندہ بن جائے گا۔( ۱ )

اس طرح کی آیات الٰہی کو اسلامی عرف میں ''معجزہ'' کہتے ہیں، اس لئے کہ دیگر افراد بشر اس طرح کی چیزوں کے پیش کرنے سے عاجز ہیں اور وہ خارق عادت ہے نیز تخلیقی نظام طبیعی کے برعکس ہے ، جیسے حضرت عیسیٰ کا معجزہ کہ مٹی سے خد اکے اذن سے ایک پرندہ خلق کر دیا تاکہ اس بات پر دلیل ہو :

۱۔ یہ دنیا کا پروردگار ہے کہ جس نے اشیاء کو خاصیت اور طبیعی نظام عطا کیاہے اور جب اس کی حکمت کا اقتضا ہو کہ کسی چیز کی خاصیت کو اس سے سلب کر لے ، تو ایسی قدرت کا مالک ہے جس طرح کہ آگ کی گرمی سلب کر کے حضرت ابراہیم کو جلنے سے بچا لیا اور جب اس کی حکمت تقاضاکرے کہ اس نظام طبیعی کو جو اپنی بعض مخلوقات کے لئے قرار دیا ہے بدل دے تو وہ اس پر قادر اور توانا ہے ، جیسے مٹی سے حضرت عیسیٰ کے ہاتھ پرندہ بن جانا بجائے اس کے کہ اپنے نر جنس کی آمیزش سے پرندہ کی ماں اسے جنے جو کہ طبیعی نظام خلقت کے مطابق ہے اور اسے جانداروں کی خلقت کے لئے معین کیاہے ۔

انبیاء کے معجزات جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے خارق العادة اور طبیعی نظام کے برخلاف ہیںاور انتقال مادہ کے مراحل طے کرنے، یعنی ایک حال سے دوسرے حال اور ایک صورت سے دوسری صورت میں آخری شکل تک تبدیل ہونے کی پیروی نہیں کرتے اس لئے کہ پرندہ کا مٹی سے تخلیق کے مراحل کا طے کرنا( جیساکہ بعض فلاسفہ کے کلام سے سمجھ میں آتا ہے) نور کی سرعت رفتار کے مانندتھا کہ جن کو خدا وند عالم نے

____________________

(۱)آل عمران۴۹


طبیعی مدت اور دورہ انتقال سے بہت تیزپیغمبر کے لئے طے کیا ہے۔

معجزہ سحر نہیں ہے ، اس لئے کہ سحر ایک قسم کی باطل اور غیر واقعی خیال آفرینی کے سوا کچھ نہیں ہے، مثال کے طور پر ایک ساحر و جادو گرایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرغ کونگل جاتا ہے ، یاا ونٹ کے منھ سے داخل ہو کر اس کے مخرج سے نکل آتا ہے یا شیشہ کے برتنوں کو چکنا چور کر کے دوبارہ اسے پہلی حالت میں پلٹادیتاہے در حقیقت اس نے ان امور میں سے کسی ایک کوبھی انجام نہیں دیا ہے بلکہ صرف اورصرف دیکھنے والوں اور تماشائیوں کی نگاہوں پر سحر کر دیا ہے (جسے نظر بندی کہتے ہیں) اور ان لوگوں نے مذکورہ امور کو اپنے خیال میں دیکھا ہے اسی لئے جب سحر کا کام تما م ہو جاتا ہے تو حاضرین تمام چیزوں کو اس کی اصلی حالت اور ہیئت میں بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے دیکھتے ہیں، لیکن معجزہ نظام طبیعت کو در حقیقت بدل دیتا ہے جیسے وہ کام جو حضرت موسیٰ کے عصا نے انجام دیا: ایک زبردست سانپ بن کر جو کچھ ساحروں نے اس عظیم میدان میں پیش کیا تھا سب کویکبار گی نگل گیا اور جب حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں آکر دوبارہ عصا بنا، تو جوکچھ ساحروں نے اس میدان میں مہیا کیا تھا اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہا ،یہی وجہ تھی کہ جادوگر سجدہ میں گر پڑے اور بولے : ہم پروردگار عالم پر ایمان لائے ، جوموسیٰ اور ہارون کا پروردگار کیونکہ وہ لوگ جادو گری میں تبحر رکھتے تھے اور ایک عجیب مہارت کے مالک تھے۔ انہوں نے درک کیا کہ یہ سحر کا کام نہیں ہے بلکہ خدا وند متعال کی آیات اور نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔

معجزہ کا محال امر سے تعلق نہیں ہوتا جس بات کو علم منطق میں اجتماع نقیضین سے تعبیر کرتے ہیں جیسے یہ کہ کوئی چیز ایک وقت میں ایک جگہ ہے اور نہیں بھی ہے یہ بھی اثر معجزہ کی شمولیت سے خارج ہے ۔

پیغمبروں کے معجزوں کی حقیقت ، وہ آیتیں ہیں جن کوپروردگاران کے ہاتھوں سے ظاہر کرتا ہے ، وہ نشانیاںکہ جن و انس جن کو پیش کرنے سے عاجز اور ناتواں ہیں خواہ بعض بعض کی مدد ہی کیوں نہ کریں جبکہ جنات میں بعنوان مثال ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو اس بات پر قادر ہیں کہ ملک یمن سے تخت بلقیس حضرت سلیمان کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے ہی بیت المقدس حاضر کر دیں کیونکہ فضا میں جن کی سرعت رفتار نور سے ملتی جلتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جن کبھی دور دراز کی خبر بھی اپنے سے مربوط کاہن کو لا کر دے سکتا ہے ، لیکن یہی جن و انس مٹی سے پرندہ نہیں بنا سکتے کہ بغیر اللہ کی اجازت کے حقیقی پرندہ بن جائے۔


ہندوستان میں ریاضت کرنے والے ''مرتاض''کبھی ٹرین کو حرکت کرنے سے روک سکتے ہیں، لیکن وہ اور ان کے علاوہ افراد کہ جن کو خدا نے اجازت نہیں دی ہے یہ نہیں کر سکتے کہ پتھر پر عصا ماریں تو بارہ چشمے پھوٹ پڑیں۔

کیونکہ پروردگارعالم آیات ومعجزات اس لئے ا پنے انبیاء و مرسلین کو عطا کرتا ہے تاکہ امتیں ان کے دعوے کی صداقت پر یقین کریں اور سمجھیں کہ یہ لوگ خدا کے فرستادہ ہیں، حکمت کا مقتضا یہ ہے کہ یہ معجزات ایسے امور سے متعلق ہوں کہ جس امت کے لئے پیغمبر مبعوث ہوا ہے اسے پہچانیں ، جیساکہ حضر ت امام علی بن موسیٰ الرضانے ایک سائل کے جواب میں کہاجب اس نے سوال کیا: کیوں خدا نے حضرت موسیٰ بن عمران کو ید بیضا اور عصا کے ساتھ مبعوث کیااور حضرت عیسیٰ کو طب اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کلام و سخن کے ساتھ؟

امام نے جواب دیا:

جس وقت خدا وند عالم نے حضرت موسیٰ کو مبعوث کیا تھا اس زمانے میں سحر و جادو نما یاں فن شمار ہوتا تھا لہٰذا وہ بھی خدا وند عز و جل کی طرف سے ایسی چیز کے ساتھ ان کے پاس گئے کہ اس کی مثال ان کے بس میں نہیں تھی، ایسی چیز کہ جس نے ان کے جادو کو باطل کر دیا اور اس طرح سے ان پر حجت تمام کی۔

خدا وند عالم نے حضرت عیسیٰ کوایسے زمانے میں مبعوث کیا جب مزمن اور دائمی بیماریوں کا دور دورہ تھااور لوگوں کوطب کی ضرورت تھی تو وہ خدا کی طرف سے ان کے لئے ایسی چیز لیکر آئے کہ اس جیسی چیز ان کے درمیان نا پید تھی، یعنی جو چیز ان کے لئے مردوں کو زندہ کر دیتی تھی، اندھے اور سفید داغ والے کو شفا دیتی تھی لہٰذا اس کے ذریعہ ان پر حجت تمام کی۔

خدا وند متعال نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اس وقت مبعوث کیا جب غالب فن خطابت اور سخنوری تھا، راوی کہتا ہے میرے خیال میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا: اور شعر تھا، آنحضرت نے خدا وند عز و جل کی کتاب اور اس کے موعظوں اور احکام سے ان کے لئے ایسی چیز پیش کی کہ ان کی تمام باتوں کو باطل کر دیا اور ان پر حجت تمام کر دی۔

سائل نے کہا: خدا کی قسم، آج جیسا دن کبھی میں نے نہیں دیکھا ہے : پھر بولا: ہمارے زمانے کے لوگوں پر حجت کیا ہے ؟ امام نے کہا: عقل ؛ اس کے ذریعہ خدا پر سچ بولنے والے کی صداقت پہچا نوگے اوراس کی تصدیق کروگے اور خدا کی طرف جھوٹی نسبت دینے والے کوتشخیص دوگے اور اسے جھٹلا ئو گے ۔

سائل نے کہا: خدا کی قسم، صحیح، جواب یہی ہے اور بس۔( ۱ )

____________________

(۱)بحار، ج۱۱ ، ص ۷۰۔۷۱ بحوالہ ٔ علل الشرائع ، ص ۵۲. اور عیون الاخبار، ص ۲۳۴


پیغمبروں کے خارق العادة معجزے کہ جو اشیاء کے بعض طبیعی نظام کے مخالف ہیں ،وہ خود انسانی معاشرے میں پروردگار عالم کی تکوینی سنتوں میں سے ایک سنت ہیں ایسا سماج اور معاشرہ جس میں خدا وند عالم نے انبیاء بھیجے، اسی وجہ سے امتوں نے اپنے پیغمبروں سے معجزے طلب کئے تاکہ ان کے دعویٰ کی صحت پر دلیل ہو، جیساکہ خدا وند عالم نے سورۂ شعراء میں قوم ثمود کی گفتگو پیش کی کہ انہوں نے اپنے پیغمبر صالح سے کہا:

( ما أنت الا بشر مثلنا فات بآیة ان کنت من الصادقین٭ قال هذه ناقة لها شرب و لکم شرب یوم معلوم٭ولا تمسوها بسوء فیأخذ کم عذاب یوم عظیم )

تم صرف ہمارے جیسے ایک انسان ہو ، اگر سچ کہتے ہو تو کوئی آیت اور نشانی پیش کرو! کہا: یہ ناقہ ہے ( اللہ کی آیت )پانی کا ایک حصہ اس کااور ایک حصہ تمہاراہے معین دن میں ،ہر گز اسے کوئی گزندنہ پہنچانا کہ عظیم دن کے عذاب میں گرفتار ہو جائو۔( ۱ )

بہت سی امتوں کااپنے پیغمبر سے معجزہ دیکھنے کے بعدعناد شدید تر ہوجاتا تھااور ان سے دشمنی کرنے لگتے تھے ۔ اور ایمان لانے سے انکار کر دیتے ،جیسا کہ خدا وند عالم نے قوم ثمود کے بارے میں ناقہ دیکھنے کے بعد فرمایا :

( فعقروها فأصبحوا نادمین )

آخر کار اس ناقہ کو پے کر دیااس کے بعد اپنے کرتوت پر نادم ہوئے۔( ۲ )

خدا کی سنت یہ رہی ہے کہ اگر امتوں نے اپنے پیغمبر وںسے معجزہ کی درخواست کی اور معجزہ آیا لیکن وہ اس پر ایمان نہیں لائے تو وہ زجر و توبیخ اور عذاب کے مستحق بنے اور خدا وند عالم نے انہیں عذاب سے دوچار کیا۔

جیسا کہ اسی سورۂ میں قوم ثمود کے انجام کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( فأخذهم العذاب ان فی ذلک لآیة وما کان اکثرهم مؤمنین )

پس ان کو اللہ کے عذاب نے گھیر لیا یقینا اس میں آیت اور نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر مومن نہیں تھے۔( ۳ )

انبیاء کا معجزہ پیش کرنا حکمت کے مقتضیٰ کے مطابق ہے ، حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ معجزہ اس حد میں ہونا چاہئے کہ پیغمبر کے دعوے کی حقانیت کا، اس شخص کے لئے جو اس پر ایمان لانا چاہتا ہے اثبات کرسکے ، آیت

____________________

(۱) سورۂ شعرا ۱۵۶، ۱۵۴(۲) سورۂ شعرا ۱۵۷(۳) سورۂ شعرا ۱۵۸


الٰہی ان سرکشوں کی مرضی اور مردم آزاروں کی طبیعت کے مطابق نہیں ہے جو خدا اور رسول پر ایمان لانے سے بہر صورت انکار کرتے ہیں کہ جو چاہیں ہو جائے، نیز جیسا کہ گز ر چکاہے کہ معجزہ امرمحال سے بھی تعلق نہیں رکھتاہے ، چنانچہ یہ دونوںباتیں ،رسول سے قریش کی خواہش میں موجود تھیں جبکہ خدا نے عرب کے مخصوص معجزے ''فصیح وبلیغ گفتگو'' کو انہیں عطا کیا خدا نے سورۂ بقرہ میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فأتو بسورة من مثله و ادعوا شهدائکم من دون الله ان کنتم صادقین٭فأِن لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوا النار التی و قودها الناس و الحجارة اُعدت للکافرین )

ہم نے جو اپنے بندہ پر نازل کیا ہے اگر اس کے بارے میں شک و تردید میں مبتلا ہو تو اس کے مانند ایک ہی سورہ لے آئو اورخدا کے علاوہ اس کام کے لئے اپنے گواہ پیش کر و ،اگر سچے ہوپھر اگر ایسا نہیں کر سکتے اور ہر گز نہیں کر سکتے تو اس آگ سے ڈرو! جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جو کافروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے۔( ۱ )

قریش کے سر برآوردہ افراد جو ایمان لانے کو کا قصد ہی نہیں رکھتے تھے اپنی شدت اور ایذا رسانی میں اضافہ کرتے گئے اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو زحمت میں ڈالنے اور انہیں عاجز اور بے بس بنانے کے لئے گونا گوں درخواستیں کرتے حتی کہ امر محال کا بھیمطالبہ کرتے تھے ، خداوند عالم سورۂ اسراء میں ان کی ہر طرح کی سرکشی اورمزاحمت کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( قل لئن اِجتمعت الانس و الجن علیٰ ان یأتو بمثل هذا القرآن لا یأتون بمثله ولو کان بعضهم لبعض ظهیراً٭ ولقد صرفنا للناس فی هذا القرآن من کل مثل فأبیٰ اکثر الناس الاکفورا٭ و قالوا لن نؤمن لک حتیٰ تفجر من الارض ینبوعا٭ او تکون لک جنة من نخیل و عنب فتفجر الانهار خلالها تفجیرا٭ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفاً او تأتی بالله و الملائکة قبیلا٭ او یکون لک بیت من زخرف او ترقیٰ فی السماء و لن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتاباً نقرؤه قل سبحان ربی هل کنت الا بشراً رسولا٭ و ما منع الناس ان یومنوا اذ جائهم الهدی الا ان قالوا ابعث الله بشراً رسولا، قل لو کان فی الارض ملائکة یمشون مطمئنین لنزلنا علیهم من السماء ملکاً رسولاً قل کفیٰ بالله شهیداً بینی و بینکم انه کان بعباده خبیراً بصیرا )

____________________

(۱)سورۂ بقرہ۲۳۔۲۴


کہو: اگر تمام جن و انس یکجا ہو کر اس قرآن کے مانند لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے ہر چند ایک دوسرے کی اس امر میں مدد کریں، ہم نے اس قرآن میں ہر چیز کا نمونہ پیش کیا ہے لیکن اکثرلوگوں نے ناشکری کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا اور کہا: ہم اس وقت تک تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس سرزمین سے ہمارے لئے چشمہ جاری نہ کرو، یا کھجور اور انگور کا تمہارے لئے باغ ہو اور ان کے درمیان جا بجا نہریں جاری ہوں، یا آسمان کے ٹکڑوںکو جس طرح تم خیال کرتے ہو ہمارے سر پر گرا دو؛ یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضر کر دو؛یا کوئی زرین نقش و نگار کا تمہارے لئے گھر ہو، یا آسمان کی بلندی پر جائو اور اس وقت تک تمہارے اوپر جانے کی تصدیق نہیں کریں گے جب تک کہ وہاں سے کوئی نوشتہ ہمارے لئے نہ لائو جسے ہم پڑھیں!

کہو: میرا پروردگار منزہ اور پاک ہے ، کیا میں ایک فرستادہ ( رسول)انسان کے علاوہ بھی کچھ ہوں؟! صرف اور صرف جو چیز ہدایت آنے کے بعد بھی لوگوں کے ایمان لانے سے مانع ہوئی یہ تھی کہ وہ کہتے تھے: آیا خدا نے کسی انسان کو بعنوان رسول بھیجا ہے ؟!

ان سے کہو: اگر روئے زمین پر فرشتے آہستہ آہستہ قدم اٹھائے سکون و وقار سے راستہ طے کرتے، تو ہم بھی ایک فرشتہ کو بعنوان رسول ان کے درمیان بھیجتے ! کہو! اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان خدا گواہ ہے ؛ کیونکہ وہ بندوں کی بہ نسبت خبیرو بصیر ہے ۔( ۱ )

پروردگار خالق نے اہل قریش پر اپنی حجت تمام کر دی اور فرمایا: اگر جو کچھ میں نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے اس کے بارے میں شک و تردید رکھتے ہو، تو اس کے جیسا ایک سورہ ہی لے آئو اور خدا کے علاوہ کوئی گواہ پیش کرونیز خبر دی کہ اگر تمام جن و انس مل کر اس کے مانند لانا چاہیں تو قرآن کے مانند نہیں لا سکتے،خواہ ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کریں اور اس کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: کبھی اس کے جیسا نہیں لا سکتے اور آج تک اسلام دشمن عناصر اپنی کثرت، بے پناہ طاقت اور رنگا رنگ قدرت کے باوجود ایک سورہ بھی اس کے مانند پیش نہیں کر سکے قرآن کی اس اعلانیہ تحدی اور چیلنج کے بعد کہ یہ ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس کے مقابل جن و انس عاجز اور ناتواںہیں، جب مشرکین قریش نے خود کوذلیل اور بے بس پایا تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خواہش کی کہ مکہ کی طبیعت اور اس کی ہوا کو بدل دیں او رسونے کا ایک گھر ہو، یاخدا اور ملائکہ کو ایک صف میں ان کے سامنے حاضر کر دیں، یا آسمان کی بلندی پر جائیں اور ہم ان کے جانے کی اس وقت تصدیق کریں گے جب وہاں

____________________

(۱)اسرائ۹۶۔۸۸


سے ہمارے لئے کوئی نوشتہ لائیں جسے ہم پڑھیں، جیسا کہ واضح ہے کہ ان کی در خواستیںامر محال سے بھی متعلق تھیں اور وہ خدا اور ملائکہ کو ان کے سامنے حاضر کرنا ہے ، یقینا خدا کا مقام اس سے کہیں بلند و بالا ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی بعض خواہشیں پیغمبرں کے بھیجنے کے بارے میں سنت الٰہی کے مخالف تھیں ، جیسے ان کے سامنے آسمان کی بلندی پر جانا اور کتاب لانا کہ یہ سب خدا وند عالم نے اپنے نمائندے فرشتوں سے مخصوص کیا ہے اوریہ انسان کا کام نہیں ہے ۔

وہ لوگ اس بات کے منکر تھے کہ خدا کسی انسان کو پیغمبری کے لئے مبعوث کرے گا جبکہ حکمت کا مقتضا یہ ہے کہ انسان کی طرف بھیجا ہواپیغمبر خود اسی کی جنس سے ہو، تاکہ رفتار و گفتار، سیرت وکردار میں ان کیلئے نمونہ ہو، ان کی بقیہ تمام خواہشیں بھی حکمت کے مطابق نہیں تھیں ، جیسے یہ کہ عذاب کی درخواست کی، اسی لئے خداوندنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرمایا کہ ان کے جواب میں کہو: میرا خدا منزہ ہے آیا میں خدا کی طرف سے فرستادہ (رسول )انسان کے علاوہ بھی کچھ ہوں؟!

گزشتہ بیان کا خلاصہ: حکمت خدا وندی کا تقاضاہے کہ اس کا فرستادہ اپنے پروردگار کی طرف سے اپنے دعویٰ کی درستگی اور صداقت کیلئے معجزہ پیش کرے اور اس کے ذریعہ لوگوں پر اپنی حجت تمام کرے، ایسے حال میں جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کر دے ،جیسا کہ حضرت موسیٰ اور ہارون کی قوم کا حال ایسا ہی تھا کہ معجزہ دیکھنے کے بعد جادو گروں نے ایمان قبول کیا اور فرعون اور اس کے درباریوں نے انکار کیا، تو خدا وند عالم نے انہیں غرق کر کے ذلیل و خوار کر دیا اور خدا کی طرف سے اس کے پیغمبر جو بھی آیت پیش کریں اسے معجزہ کہتے ہیں۔

مذکورہ باتوں کے علاوہ جن لوگوں کو خدا نے زمین کا پیشوا اور لوگوں کا ہادی بنایا ہے وہ صاحب شریعت پیغمبر ہوںیا ان کے وصی، ان کے مخصوص صفات ہیںجو انھیں دوسروںسے ممتا ز کرتے ہیں اور ہم آئندہ بحث میں خدا کی توفیق اور تائید سے اس کا ذکر کریں گے ۔


۷

الٰہی مبلغین کے صفات ،گناہوں سے عصمت

۱۔ ابلیس زمین پر خدا کے جانشینوںپر غالب نہیں آسکتا ۔

۲۔ عمل کا اثر اور اس کا دائمی ہونا اور برکت کا سرایت کرنا اور زمان اور مکان پر اعمال کی نحوست۔

۳۔ الٰہی جانشینوںکا گناہ سے محفوظ ہونا ( عصمت)اس کے مشاہد ہ کی وجہ سے ہے ۔

۴۔وہ جھوٹی روایتیں جو خدا کے نبی داؤد پر اور یا کی بیوہ سے ازدواج کے بارے میں گڑھی گئیں اور حضرت خاتم الانبیاء سے متعلق آنحضرت کے منھ بولے فرزند زید، کی مطلقہ بیوی زینب سے ازدواج کی نسبت دی اور ان دونوں ازدواج کی حکمت۔

۵۔ جن آیات کی تاویل میں لوگ غلط فہمی کا شکار ہوئے۔

۱۔ ابلیس روئے زمین پر خدا کے جانشینوں پر غالب نہیں آ سکتا

خدا وند سبحان نے سورۂ حجر میں اپنے اور ابلیس کے درمیان گفتگو کی خبر دی کہ ، ابلیس اس کے مخلص بندوں پر تسلط نہیں رکھتا ، وہ گفتگو اس طرح ہے :( قال رب بما اغویتنی لأزینّن لهم فی الارض ولأغوینهم اجمعین الا عبادک منهم المخلصین٭قال...ان عبادی لیس لک علیهم سلطان الا من اتبعک من الغاوین )

ابلیس نے کہا: خدایا ؛ جو تونے مجھے گمراہ کیا ہے اس کی وجہ سے زمین میں ان کے لئے زینت اور جلوے بخشوں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گاسواتیرے مخلص بندوں کے ۔فرمایا: تو میرے بندوںپر قابو اور تسلط نہیں رکھتا، جز ان لوگوں کے جو تیرا اتباع کرتے ہیں۔( ۱ ) اور یوسف اور زلیخا کی داستان کے بیان میں ،مخلَصین کی خدا نے کس طرح شیطانی وسوسوں سے محافظت کی اس طرح بیان کرتا ہے :( ولقد همت به و هم بها لو لا أن رء أ برهان ربه کذلک لنصرف عنه السوء و الفحشاء أنّه من عبادنا المخلصین )

اس عورت نے ان کا قصدکیا اوروہ بھی اس کا قصد کر بیٹھتے اگر اپنے رب کی دلیل و برہان نہیں دیکھتے!ہم نے ایسا کیا تاکہ اس سے برائی اور فحشاء کو دور کریں ،کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے۔( ۲ ) ہم مذکورہ وصف یعنی: عصمت اور ابلیس کے غالب نہ ہونے کو ، سورۂ بقرہ میں خدا وند سبحان اور ابراہیم خلیل کے درمیان ہونے والی گفتگو میں ، امامت کے شرائط کے عنوان سے ملاحظہ کرتے ہیں، جیساکہ فرمایا:

____________________

(۱) سورۂ حجر ۴۲۔۳۹(۲)یوسف ۲۴


( و اذابتلیٰ ابراهیم ربه بکلمات فأتمهن قال انی جاعلک للناس أِماما قال و من ذریتی قال لا ینال عهدی الظالمین )

جب خدا وند عالم نے ابراہیم کا گونا گوں طریقوں سے امتحان لے لیا اور وہ خیر و خوبی کے ساتھ کامیاب ہوگئے، تو خدا وند سبحان نے کہا: میں نے تمہیں لوگوں کا پیشوا اور امام بنایا، ابراہیم نے کہا:اور میری ذریت میں سے بھی ! فرمایا: میرا عہدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔( ۱ )

سورۂ انبیاء میں ذکر ہوا ہے : جن کو خدا نے لوگوں کا پیشوا بنایا وہ خدا کے حکم سے ہدایت کرتے ہیں:( وجعلنا هم أئمة یهدون بأمرنا ) اورہم نے ان لوگوں کو پیشوا بنایا جوہمارے فرمان سے ہدایت کرتے ہیں۔( ۲ )

اسی سورہ میں بعض کا نام کے ساتھ ذکر فرمایا ہے ، جیسے نوح، ابراہیم ، لوط، اسماعیل، ایوب، ذوالکفل، یونس، موسیٰ ، ہارون، دائود، سلیمان ، زکریا، یحیٰی اور عیسیٰ علیہم السلام۔

جن لوگوں کو خدا وند عالم نے اس سورہ میں منصب امامت کے ساتھ یاد کیا ہے ان کے درمیان بنی، رسول، وزیر اور وصی سبھی پائے جاتے ہیں، اس بنا پر ہم پر واضح ہوتا ہے کہ خدا وند عالم نے ایسی شرط ذکر کی ہے کہ جسے امام بنائے گا وہ ظالم نہ ہو.

خدا وند عالم نے امام کو روئے زمین پر اپنا خلیفہ شمار کیا ہے ، چنانچہ سورۂ ص میں داؤد سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے :( یا داود اَنَّا جعلناک خلیفة فی الارض )

اے دائود! ہم نے تم کو زمین پر خلیفہ بنایا۔( ۳ )

اور حضرت آدم ـکے متعلق فرشتوں سے سورہ ٔ بقرہ میں فرمایاہے :

( و أِذ قال ربک للملائکة أِنی جاعل فی الارض خلیفة )

اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا: میں روئے زمین پر خلیفہ بنائوں گا۔( ۴ )

کلمات کی تشریح

۱۔اغویتنی، ولأغوینهم، و الغاوین ۔

____________________

(۱)بقرہ ۱۲۴(۲)انبیائ ۷۳(۳) ص ۲۶(۴) بقرہ ۳۹۔


غویٰ: گمراہ ہو گیا، غاوی: اس شخص کو کہتے ہیں جو گمراہی اور ضلالت میں ڈوبا ہوا ہو، شیطان ملعون اسی اعتبار سے خدا سے کہتا ہے : اغویتنی : مجھے تونے گمراہ کر دیا کہ خدا وند عالم نے اس سے پہلے اس پر لعنت بھیج کر فرمایا تھا:( ان علیک اللعنة الیٰ یوم الدین ) رحمت حق سے تیری دوری قیامت کے دن تک رہے یعنی تجھ پر اس وقت تک کے لئے لعنت ہے ، یہ رحمت خدا سے دوری اس نافرمانی اور سجدہ آدم سے انکار کی سزا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ میں فرمایا:

( یضل به کثیراً و یهدی به کثیراً وما یضل به الا الفاسقین )

خدا وند عالم کثیر جماعت کو اس کے ذریعہ گمراہ اور اسی طرح بہت سارے لوگوں کو ہدایت کرتا ہے: لیکن اس کے ذریعہ صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے ۔( ۱ )

۲۔ لأ زیّنن لھم: ان کی بری رفتار کو زینت دوں گا، چنانچہ خدا وند سبحان نے فرمایا:( زین لهم الشیطان اعمالهم ) شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظر میں زینت دیدی ہے۔( ۲ )

اور فرمایا:( زیّن لهم سوء اعمالهم ) ان کے برے اعمال ان کی نظروں میں خوبصورت ہو گئے۔( ۳ )

۳۔مخلصین : خالص اور پا ک وپاکیزہ لوگ ، جن لوگوں کو خدا نے اپنے لئے خاص کیا اور خالص کرلیا ہے بعد اس کے کہ انہوں نے اپنے کو خدا پر وقف کردیا ہو اور ان کے دلوں میں خدا کے علاوہ کسی اور کی کوئی جگہ نہ ہو ۔

۴۔ ابتلیٰ: امتحان کیا، آزمایا، یعنی خیر وشر، خوشحالی اور بدحالی سے آزمایا۔

۵۔ بکلمات:یہاں پر کلمات سے مراد ایسے حوادث ہیں کہ خدا وند عالم نے حضرت ابراہیم کا اس کے ذریعہ امتحان لیا، جیسے : ان کا ستارہ پر ستوں اور بت پرستوں سے مورد آزمائش قرار پانا،آگ میں ڈالاجانا،اپنے ہاتھ سے اپنے فرزند ( اسماعیل ) کے گلے پر چھری پھیرناوغیرہ۔

۶۔ فأتمھن : انہیں احسن طریقے سے انجام دیا۔

۷۔ جاعلک: جعل عربی زبان میں ، ایجاد، خلق، حکم ، قانون گز اری، جاگزین کرنا اور قرار دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ یہاں پر یہی آخری معنی مراد ہے ، یعنی میں نے تم کو امام قرار دیا۔

۸۔ اماماً: امام یعنی لوگوں کا رفتار و گفتار ( اقوال و افعال )میں مقتدا اور پیشوا۔

____________________

(۱)بقرہ ۲۶(۲) انفال ۴۸، نحل ۲۴، عنکبوت ۳۷(۳) توبہ ۳۷


۹۔ ظالمین: ظلم، کسی چیز کا اس کے مقام کے علاوہ قرار دینا اورحق سے تجاوز کرنا بھی ہے ۔ ظلم تین طرح کا ہے : پہلے ۔ انسان اور اس کے رب کے درمیان ظلم کہ اس کا سب سے عظیم مصداق کفر اور شرک ہے ، جیسا کہ سورۂ لقمان میں فرمایا ہے:( ان الشرک لظلم عظیم ) یقینا شرک عظیم ظلم ہے۔( ۱ )

او ر سورۂ انعام میں فرمایا: (...( فمن اظلم ممن کذب بآیات الله ) آیات خداوندی کی تکذیب کرنے والے سے زیادہ کون ظالم ہوگا۔( ۲ )

دوسرے : انسان وغیرہ کے درمیان ظلم ، جیساکہ سورۂ شوریٰ میں فرمایا:( انما السبیل علیٰ الذین یظلمون الناس ) غلبہ اور سزا ان لوگوں کیلئے ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔( ۳ )

تیسرے: انسان کا اپنے آپ پر ظلم کرنا، جیساکہ سورۂ بقرہ میں فرمایا:( ومن یفعل ذلک فقد ظلم نفسه ) اور جو ایسا کرے گااس نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ۔( ۴ )

سورۂ طلاق میں ارشاد ہوا:( ومن یتعدّ حدود الله فقد ظلم نفسه ) جو حدود الٰہی سے تجاوز کرے اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔( ۵ )

ظلم خواہ ( ان تینوں قسموں میں سے )کسی نوعیت کا ہو، آخر کار اپنے اوپر ظلم ہے اور جو ظلم سے متصف ہو ، خواہ کسی بھی زمانے میں ظلم کیا ہو، گز شتہ یا حال میں اسے ظالم کہتے ہیں۔

۱۰۔ ہمّت بہ و ھمّ بھا یعنی اقدام کا اراد ہ کیا لیکن انجام نہیں دیا۔

۱۱۔ رای : دیکھا ، دیکھنا بھی دو طرح سے ہے :آنکھ سے دیکھنا ، یعنی نظر کرنا اور دل سے دیکھنا، یعنی بصیرت و ادراک ۔

۱۲۔ برہان: ایسی محکم دلیل اور آشکار حجت جو حق کو باطل سے جدا کر دے اور جو یوسف نے دیکھا ہے وہ ان تعریفوں سے مافوق ہے ۔

آیات کی تاویل

ابلیس نے پروردگار عالم سے کہا: اب جو تونے مجھ پر لعنت کی ہے اور اپنی رحمت سے مجھے دور کر دیا ہے ، تو میں بھی دنیا میں لوگوں کی بری رفتار اور بد اعمالیوں کو ان کی نگاہوں میں زینت دوں گا ، جیساکہ سورۂ نحل

____________________

(۱) لقمان ۱۳(۲) شوریٰ ۴۲(۳)انعام ۱۵۷(۴) طلاق ۱(۵) بقرہ ۲۳۱


میں ارشاد ہوتا ہے :

( تالله لقد ارسلناالیٰ اُمم من قبلک فزیّن لهم الشیطان اعمالهم )

خدا کی قسم ! ہم نے تم سے پہلے والی امتوں کی طرف رسولوں کو بھیجا ؛ لیکن شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں نیک جلوہ دیا۔( ۱ )

اور سورۂ انفال میں فرمایا:( واذ زین لهم الشیطان اعمالهم و قال لا غالب لکم الیوم ) ...)

جب شیطان نے ان ے اعمال کو نیک اور خوشنما جلوہ دیا اور کہا: آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔( ۲ )

اور سورۂ نحل میں فرمایا:

( یسجدون للشمس من دون الله و زیّن لهم الشیطان اعمالهم فصدهم عن السبیل ) ...)

وہ لوگ خدا کے بجائے سورج کا سجدہ کرتے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروںمیں نیک جلوہ دیا اور انہیں راہِ راست سے روک دیا...( ۳ )

ہاں، شیطان نے کہا: میں تمام لوگوں کے کاموں کو ان کی نظروں میں خوشنما بنا کر پیش کروںگا، سوائے تیرے ان خاص بندوں کے جن کوتونے اپنے لئے منتخب کیا ہے ۔

خدا وند عالم نے اس کا جواب دیا: تو اپنے ان ماننے والوں کے علاوہ جوکہ ضلالت اور گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیںکسی پر تسلط نہیں رکھتا۔

خدا وند عالم اپنے مخلص بندوں کے حال کے بارے میں یوسف اور زلیخا کی داستان میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :( ولقد همّت به و همّ بها لولا أن رأیٔ برهان ربه )

اس عورت نے یوسف کا ارادہ کیااور یوسف بھی اس کا ارادہ کر لیتے اگر اپنے رب کا برہان نہیں دیکھتے۔ اور یہ ماجراایک ایسے گھر میں پیش آیا کہ یوسف اور زلیخا کے علاوہ اس میں کوئی بھی نہیں تھا۔

زلیخا مصر کی ملکہ او ر یوسف کی مالک تھی، اس نے اس بات کو طے کر لیا کہ یوسف کو اپنے مقصد میں استعمال کرے، اگریوسف اپنے رب کی طرف سے برہان کا مشاہدہ نہ کرتے،تو یا اس کو قتل کر دیتے کہ یہ برا کام ہوتایا فحشاء اور برائی کا ارادہ کرتے جو کہ ان کے کنوارے پن اور جوان طبیعت کا تقاضا تھا اور اپنی جوان

____________________

(۱) نحل ۶۳(۲) انفال ۴۸(۳) نمل ۲۴


مالکہ کے ساتھ جو خود بھی اسی طرح کے حالات سے دو چار تھی اور عیش و عشرت میں گز ار رہی تھی ایک ایسے گھر میں جس میں دوسرا کوئی نہ تھا اس سے لپٹ جاتے لیکن چونکہ اپنے رب کے برہان کو دیکھا ، لہٰذا عفت و پاکدامنی کا ثبوت دیا اور گناہ و برائی سے دور رہے یقینا وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیںخد انے اپنے لئے منتخب کیا تھا اور انہیں پاکیزہ بنایا تھا، لیکن جو برہان یوسف نے دیکھااور اس کے دیکھنے کی کیفیت اس کااجمالی خاکہ اس طرح ہے کہ انہوں نے دونوںکام کے آثار اپنے لئے بعینہ مشاہدہ کئے، اس کی تشریح آئندہ آئے گی۔


۲۔ ۳: عمل کے آثار اور ان کا دائمی ہونا

عمل کے آثار اور ان کا دائمی اور جاوید ہونا اور بعض اعمال کی برکت ونحوست کا زمان و مکان پر اثر ڈالنا اور خدا کے جانشینوں کا گناہ سے محفوظ ہونا اس لئے ہے کہ وہ ہمیشہ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

عصمت انبیا سے آشنائی کے لئے بہتر یہ ہے کہ پہلے دنیا وآخرت میں زمان ومکان پر انسانی افعال کی برکت و نحوستکے سرایت کرنے کی کیفیت سے بحث کریں، لہٰذا خدا سے توفیق مانگ کر کہہ رہے ہیں : خداوند سبحان سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے :

( شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن هدی للناس و بینات من الهدی و الفرقان فمن شهد منکم الشهر فلیصمه )

رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا اوراس میں ہدایت کی نشانیاںہیں اور وہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے لہٰذا جو اس ماہ میں مسافر نہ ہو اسے روزہ رکھنا چاہئے۔( ۱ )

اور سورۂ قدر میں ارشاد ہوتا ہے:

( انا انزلناه فی لیلة القدر٭وما ادرٰاک ما لیلة القدر٭ لیلة القدر خیر من الف شهر٭ تنزل الملائکة والروح فیها بأِذن ربهم من کل امر٭ سلام هی حتیٰ مطلع الفجر ) ( ۲ )

ہم نے شب قدر میں قرآن نازل کیا ، تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیاہے ؟ شب قدر ہزار ماہ سے بہتر

____________________

(۱) بقرہ ۱۸۵

(۲) سورہ قدر


ہے ، فرشتے اور روح، خدا کی اجازت سے اس شب میں تمام امور کولے کر اترتے ہیں صبح تک یہ شب سلامتی سے بھری ہے۔

خدا وند عالم نے ماہ مبارک رمضان کی ایک شب میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قرآن نازل کیا یہ شب اس وجہ سے شب قدر ہے کہ فرشتے اور روح ہمیشہ اسی رات ہمیشہ ہر سال خدا کی اجازت اور حکم سے نازل ہوتے ہیں، اس شب کی برکت ہر ماہِ رمضان کی تمام شبوں پر ہمیشہ کے لئے سرایت کر گئی۔

ہم انشاء اللہ نسخ کی بحث میں اس پر روشنی ڈالیں گے کہ جمعہ کا دن حضرت آدم کے وقت سے ہی بابرکت رہا ہے، اس وجہ سے کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم پر اپنی برکتیں اس دن نازل کی ہیں اور نویں ذی الحجة مبارک ہے اور خدا کے بندوں کے لئے منیٰ میں گناہوں کی بخشش کا دن ہے ، اس لئے کہ خدا وند عالم نے اسی دن آدم کی بخشش و مغفرت فرمائی ہے اور عرفات، منیٰ اور مشعر کی زمینیں نویں اور دسویں ذی الحجة کو تمام اولاد آدم کے لئے مبارک سر زمین قرار پائیں اور اس کے آثار ہر عصر و زمانہ میں باقی رہیں گے۔

اسی طرح خدا کے گھر میں حضرت ابراہیم کے قدموں کا نشان ،اس مٹی کے ٹیلہ پرجسے اپنے قدموں تلے رکھا تھا یعنی اس پر چڑھ کر خانہ کعبہ کی دیواریں بلند کی تھیں، با برکت ہو گیااور خدا وند عالم نے ہمیں حکم دیا کہ ہمیشہ کے لئے اسے عبادت گاہ بنائیں( اس پر نماز پڑھیں) اور فرمایا:( اتخذوا من مقام ابراهیم مصلیٰ ) مقام ابراہیم کو اپنا مصلی(نماز کی جگہ ) بناؤ ۔

شومی اور نحوست کا دوسروں تک سرایت کرنابھی اسی طرح ہے جیسے حجر کے علاقہ میں قوم عاد کے گھروںکی حالت عذاب آنے کے بعدایسی ہی تھی اوررسول خدا نے غزوہ تبوک کے موقع پر وہان سے گزرتے ہوئے ہمیں اس امر کی اطلاع دی ہے، اس کا حدیث و سیرت کی کتابوں میں خلاصہ یوں ہے ۔

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۹ھ میں غزوہ تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو وادی القریٰ میں واقع حجر نامی سر زمین( جو کہ قوم ثمود کا شہر تھی اورمدینہ سے شام کے راستے میں تھی ) پر پہنچے تو اسے عبور کرنے سے پہلے پیادہ ہو گئے اور سپاہیوں نے وہاں کے کنویں سے پانی کھینچا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منادی نے آواز دی کہ اس کنویں کا پانی نہ پینا اور نماز کے لئے اس سے وضو نہ کرنا، لوگ جو کچھ اپنے پاس پانی جمع کئے ہوئے تھے سب کو زمین پر ڈال دیا اور کہا: اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !اس سے تو ہم نے خمیر کیا ہے( آٹا گوندھا ہے)فرمایا: اسے اپنے اونٹوں کو کھلا دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جس سے وہ دوچار ہوئے تمہیں بھی ہونا پڑے۔

اور جب سامان لا ددیا اور حِجْرسے گز ر ے تو اپنا لباس چہرہ پر ڈال لیا اور اپنی سواری کو تیزی سے آگے بڑھا دیا سپاہیوں نے بھی ایسا ہی کیا، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:


(لا تدخلوابیوت الذین ظلمواالاوانتم باکون )

ستمگروں کے گھروں میں داخل نہو مگر گریہ کی حالت میں ۔

ایک شخص اس انگوٹھی کو لے کر جو معذب لوگوں کے گھروں میں مقام حجر میں پا ئے تھا، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آ یا، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے منھ موڑ لیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ اسے نہ دیکھیں اور فرمایا: اسے پھینک دے، تو اس نے اسے دور پھینک دیا۔( ۱ )

اسی کے مانند واقعہ حضرت علی علیہ السلام کوبھی پیش آیا، نصر بن مزاحم وغیر ہ نے ذکر کیا ہے :

مخنف بن حضرت علی کے ہمراہ بابل سے گز ر رہے تھے تو حضرت علی نے فرمایا: بابل( ۲ ) میں ایک جگہ ہے جہاں پر عذاب نازل ہوا ہے اور زمین میں دھنس گئی ہے، اپنی سواری کو تیزی سے آگے بڑھائو تاکہ نماز عصر اس کے باہر انجام دیں۔

وہ کہتا ہے : امام علیہ السلام نے اپنی سواری کو تیزی سے آگے بڑھایا تو لوگوں نے بھی ان کی تاسی کرتے ہوئے اپنی سواریوں کو تیزی سے آگے بڑھایا اور جب آپ پل صراةسے گز ر گئے تو سواری سے اترے اور لوگوں کے ساتھ نماز عصر پڑھی ۔( ۳ )

ایک روایت میں مذکور ہے :

امیر المومین کے ہمراہ عصر کے وقت ہم پل صراة سے گز رے تو آپ نے فرمایا: یہ سر زمین وہ ہے جس پر عذاب نازل ہوا ہے اور کسی پیغمبر یا اس کے وصی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اس جگہ نماز پڑھے۔( ۴ )

ہاں! اس زمان و مکان کی برکت جسے خدا وند عالم نے اپنے مخلص بندوں میں سے کسی بندہ کے لئے مبارک قرار دیا ہے دیگر زمان و مکان تک بھی سرایت کرتی ہے جس طرح کہ نحوست اور بدبختی بھی سرایت کرتی ہے اور جس زمانے میں خدا اپنے بد بخت یا شقی بندہ پر غضب نازل کرتا ہے تو اس کی نحوست دوسرے زمان و مکان تک بھی سرایت کرتی ہے ۔

____________________

(۱) مغازی واقدی، ص ۱۰۰۶۔ ۱۰۰۸، اتک امتاع الاسماع ، ص ۴۵۴ تا ۴۵۶

(۲) بابل عراق میں کوفہ اور بغداد کے درمیان ایک جگہ (شہر )ہے اور صراة نامی ندی پر بغداد سے قریب پل صراة ہے

(۳) وقعة صفین ، نصر بن مزاحم ص ۱۳۵(۴)بحار، ج۴۱ص ۱۶۸، علل الشرائع اور بصائر الدرجات کی نقل کے مطابق


ہم عنقریب ''آثار عمل'' کی بحث میں کہ جس کا آئندہ ذکر ہوگا ،ملاحظہ کریں گے کہ انسان کی رفتار کے دنیا و آخرت میں دائمی آثار ہیں، یا ایندھن کی شکل میں کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ، یادائمی نعمت کی شکل میں جو بہشت عدن میں ہے ،تمام ان آثار اوران کے سرایت کرنے کو اللہ کے مخلص بندے مشاہدہ اورادراک کرتے ہیں۔ اوریہ مشاہدہ انہیں نیک امور کی انجام دہی اور برائی سے بچنے میں زیادہ معاون ثابت ہوتی ہے یہ سوجھ بوجھ وہی برہان الٰہی ہے کہ خدا وند عالم اپنے ان بندوںکو عطا کرتا ہے جنہیں پاک و پاکیزہ بنایا ہے اورانہوں نے رضائے الٰہی کو اپنی نفسانی خواہشات پر مقدم رکھا ہے، اسی لئے خداکے نزدیک اسکے خالص بندے ہلاکت بار گناہ کا تصور نہیں کرتے، اس کی مثال بینا ( آنکھ والے) اور اندھے انسان کی سی ہے کہ دونوںایک ساتھ ناہموار زمین پر چلتے ہیں، واضح ہے کہ بینا انسان ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہے گا اور اپنے نابینا ساتھی کو بھی اس سے آگاہ کرتا رہے گا تاکہ اس میں گرنے سے محفوظ رہے ۔

یا اس کی مثال اس پیاسے انسان کی ہے جس کے سامنے صاف و شفاف پانی چھلک رہا ہو اور اس کی جان اس پانی سے ایک گھونٹ پینے کے لئے لحظہ شماری کررہی ہوتا کہ پیاس کی شدت اوردل کی حرارت کو بجھا سکے۔ لیکن ایک ڈاکٹر ہے جو آلات کے ذریعہ پانی کی جانچ کرتا ہے اور اس میں مختلف قسم کے مہلک جراثیم کی خبر دیتا ہے اور اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: اس پانی کو استعمال کرنے سے پہلے اس کا تصفیہ کرلو۔

خدا کے مخلص بندوں کی مثال اسی طرح ہے ۔ وہ لوگ برہان الٰہی کو دیکھتے ہیں نیز اعمال کی حقیقتوں اور ان کے نیک و بدکے انجام کو درک کرتے ہیں، یہ لوگ اپنی بصیرت سے گناہ کی سنگینی اور اس کی پلیدگی کو درک کرتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ آخرت میں یہ گناہ مجسم آگ اور دائمی عذاب کی شکل میں ظاہرگا، ممکن نہیں ہے کہ اختیاری صورت میں ایسے بھیانک عمل کا اقدام کریں۔

اور جو شبہات عصمت انبیاء سے متعلق ذکر کئے گئے ہیں اور اسکے لئے متشابہ آیات سے استنادکرتے ہیں۔ وہ اس لئے ہے کہ بعض کی تاویل میں غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں اور بعض کی نادرست روایات سے تفسیر کی ہے ، ہم بحث کو طوالت سے بچانے کی خاطر دونوں طرح کے چند نمونوں پر اکتفا کرتے ہیں۔


۴۔جھوٹی روایات جو اوریا کی بیوہ سے حضرت داؤد کے ازدواج کے بارے میں

جھوٹی روایات جو اور یا کی بیوہ سے حضرت داؤد کے ازدواج کے بارے میں گڑھی گئیںاور خاتم الانبیاء کی طرف آپ کے منھ بولے بیٹے زید کی مطلقہ بیوی زینب سے ازدواج کے بارے میں جھوٹی روایات کی نسبت اور ان دونوںازدواج کی حکمت:

ہم پہلے'' اور یا ''کی بیوہ سے حضرت داؤد کی شادی اور زید کی مطلقہ سے حضرت خاتم الانبیا ئصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی ہوئی،کے بارے میں تحلیل و تجزیہ کریں گے۔

الف۔ حضرت داؤد کا ازدواج قرآن کریم میں خدا وند سبحان.سورۂ ص میں فرماتاہے:

( اصبر علیٰ ما یقولون و اذکر عبدنا داود ذا الأید انه اوّاب٭ انا سخرنا الجبال معه یسبحن بالعشی و الاشراق٭ و الطیر محشورة کل له أواب٭ و شددنا ملکه و آتینا ه الحکمة و فصل الخطاب٭ و هل أتٰاک نبؤ الخصم اذ تسوروا المحراب٭ اذ دخلوا علیٰ داود ففزع منهم قالوا لا تخف خصمان بغی بعضنا علیٰ بعض فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط و اهدنا الیٰ سواء الصراط٭ ان هذا اخی له تسع و تسعون نعجة ولی نعجة واحدة فقال اکفلنیها و عزنی فی الخطاب٭ قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الیٰ نعاجه و ان کثیراً من الخلطاء لیبغی بعضهم علیٰ بعض الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و قلیل ما هم و ظن داود انما فتناه فاستغفر ربه و خرّ راکعاً و اناب٭ فغفرنا له ذلک و ان له عندنا لزلفیٰ و حسن مآب٭ یا داود انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق و لا تتبع الهویٰ فیضلک عن سبیل الله ان الذین یضلون عن سبیل الله لهم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب )

آپ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کریںاور ہمارے بندہ داؤد کو جو صاحب قدرت اور بہت توبہ کرنے والے تھے ،یاد کریں، ہم نے پہاڑوں کو ان کاتابع بنایا کہ صبح و شام ان کے ہمراہ تسبیح کرتے تھے پرندوں کو بھی ان کا تابع بنایا کہ سب کے سب ان کے پاس آتے تھے اور ان کی حکومت کو ثابت و پائدار بنایا اور انہیں حکمت عطا کی اور عادلانہ قضاوت بخشی، آیا شکوہ کرنے والوں کی داستان کہ جب محراب کی دیوار پھاند کر آگئے آپ تک پہنچی ہے؟ اس وقت جب داؤد کے پاس آئے اور وہ ان کے دیدار سے خوفزدہ ہوئے؛ انہوں نے کہا: نہ ڈرو ہم دو آدمی شاکی ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے اب تم ہمارے در میان عادلانہ فیصلہ کرو اور حق سے دور نہ ہوجائو اور ہمیں راہِ راست کی ہدایت کرو یہ میرا بھائی ہے ،


اس کے پاس ۹۹ بھیڑیں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی ہے وہ اصرار کرتا ہے کہ وہ ایک بھی میں اسے دیدوںاور بات کرنے میں مجھ پر غالب آ گیا ہے داؤد نے کہا: یقینا اس نے اپنے گوسفندوں (بھیڑوں)میں اضافہ کے لئے جو تم سے درخواست کی ہے اس نے تم پر ظلم کیا ہے اور بہت سارے شرکاء ایک دوسرے پرظلم کرتے ہیں مگروہ لوگ کہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور عمل صالح انجام دیا لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے داؤد نے یہ سمجھا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا تو انہوں نے خدا سے طلب مغفرت کی اور سجدہ میں گر پڑے اور توبہ و انابت شروع کر دی، تو ہم نے اس کی انہیں معافی دی، وہ میرے نزدیک بلند مرتبہ اور نیک انجام بندہ ہے اے دائود! ہم نے تم کو زمین پراپناجانشین بنایا؛ لہٰذا لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کردیں ، بیشک جو لوگ راہ خدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روز حساب کو یکسر بھلا دیا ہے ۔( ۱ )

خلفاء کے مکتب کی روایات میں ان آیات کی تاویل

خلفاء مکتب کی روایات ان آیات کی تاویل میں جو حضرت دائودکے فیصلہ اور قضاوت کو بیان کرتی ہیں، بہت زیادہ ہیں، ذیل میں ہم صرف اس کے تین نمونے ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

۱۔ وہب بن منبہّ کی روایت

طبری نے آیات کی تاویل میں وہب بن منبہ کی روایت ذکر کی ہے:

____________________

(۱) ص ۱۷۔ ۲۶


جب بنی اسرائیل حضرت دائود کے پاس جمع ہوئے تو خدا وند عالم نے ان پر زبور نازل کی اور انہیں آہنگری کافن سکھایا اور لو ہے کو ان کے لئے نرم و ملائم بنا دیا، نیز پہاڑوں اور پرندوںکو حکم دیا کہ جب وہ تسبیح کریں تو تم بھی ان کے ساتھ تسبیح کرو ( منجملہ ان کے ذکر کیا ہے )کہ خدا وند عالم نے اپنی کسی مخلوق کو حضرت دائود کی طرح آواز نہیں دی ہے ( جو لحن داؤد کے نام سے مشہور ہے) وہ جب بھی زبور کی تلاوت کرتے تھے اس وقت کی یوں منظر کشی کی ہے کہ پرندے ان سے اس درجہ قریب ہو جاتے تھے کہ آپ ان کی گردن پکڑ لیتے تھے اور وہ ان کی آواز پر خاموشی اور اطمینان سے کان لگائے رہتے تھے وہ ( دائود) بہت بڑے مجاہد اور اور عبادت گز ار تھے اور بنی اسرائیل کے درمیان حا کم تھے اور خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ اور نبی تھے جو خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کرتے تھے، انبیاء میں زیادہ زحمت کش اور کثرت سے گریہ کرنے والے تھے. اس کے بعد اس عورت کے فتنہ میں مبتلا ہو گئے، ان کی ایک مخصوص محراب تھی جس میں تنہا زبور کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھتے تھے اور اس کے نیچے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا چھوٹا سا باغ تھا او روہ عورت کہ داؤد جس کے چکر میں آ گئے اسی شخص کے پاس تھی۔

وہ جب اس دن اپنی محراب میں تشریف لے گئے ، کہا : آج رات تک میرے پاس کوئی نہیں آئے گا، کوئی چیز میری تنہائی میں خلل انداز نہ ہو ،پھر محراب میں داخل ہو ئے اور زبور کھول کر اس کی تلاوت میں مشغول ہو گئے محراب میں ایک کھڑکی یا روشن دان تھا جس سے مذکورہ باغیچہ دکھائی دیتا تھا جب حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کی سامنے ایک زریں کبوتر کھڑکی پر آکربیٹھ گیاآپ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور حیرت کی، پھر انہیں اپنی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ کوئی چیز ان کی عبادت میں رکاوٹ اور مانع نہ بنے'' پھر اپنا سر نیچے جھکایا اور زبور پڑھنے لگے اور جو کبوتر حضرت داؤد کے امتحان اور آزمائش کے لئے آیا تھا ، کھڑکی سے اٹھ کر حضرت داؤد کے سامنے بیٹھ گیا، انہوں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تووہ کچھ پیچھے ہٹ

گیا، اس کا پیچھا کیا تو کبوتر کھڑکی کی طرف اڑ گیاآپ اسے پکڑ نے کے لئے کھڑکی کی طرف گئے تو کبوتر باغیچہ کی طرف پرواز کر گیا آپ نے اس کا نگاہ سے پیچھا کیا کہ وہ کہاں بیٹھتا ہے تو اس عورت کو نہانے دھونے میں مشغول پایا ایسی عورت جو حسن و جمال ، خوبصورتی اور نازک اندامی میں بے مثال تھی، خدا اس کے حال سے زیادہ واقف ہے کہتے ہیں : جب اس عورت نے حضرت داؤد کو دیکھا تو اپنے بال پریشان کر دئے اور اس سے اپنا جسم چھپایا، پھر ان کا دل بے قابو ہو گیاتو اپنی زبور اور قیام گاہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ایساہوا کہ اس عورت کی یاد دل سے محو نہیں ہوئی ،اس فتنہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس عورت کے شوہر کو جنگ پربھیج دیا اور لشکر کے کمانڈر کو (اہل کتاب کے خیال کے مطابق )حکم دیا کہ اسے مہلکوں میں آگے رکھ کر اس کا کام تمام کر دے تاکہ اپنی مراد پا سکیں،


ان کے پاس ۹۹ بیویاں تھیں اس عورت کے شوہر کے مرنے کے بعد اس سے خواستگاری کی اور شادی کرلی ، خدا وند عالم نے جبکہ وہ محراب عبادت میں تھے، دو فرشتوں کو آپس میں لڑتے جھگڑتے ان کے پاس بھیجا تاکہ ہمسایہ کے ساتھ ان کے اس کرتوت کا ایک نمونہ دکھائے دائود نے جب ان دونوں کو محراب میں اپنے سر پر کھڑا دیکھا تو خوفزدہ ہوئے اور کہا: کس چیز نے تم کو میرے سر پر سوار کیا ہے ؟ بولے، گھبرائو نہیں، ہم جھگڑنے اور تمہارے ساتھ بد سلوکی کرنے نہیں آئے ہیں ''ہم دو آدمی اس بات پر شاکی ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے '' '' ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ ہمارے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ قضاوت کرو اور حق سے دو رنہ ہوجائو اور ہمیں راہِ راست کی ہدایت کرو یعنی ہمیں راہ حق پر چلائو اور غیر حق سے بچائو، جو فرشتہ اس عورت کے شوہر ' 'اور یا بن حنانیا'' کی طرف سے گفتگو کر رہا تھااس نے کہا: ''یہ میرا بھائی ہے '' یعنی میرا برادر دینی ہے '' اس کے پاس ۹۹ بھیڑ ہیں اور میرے پاس صرف ایک بھیڑ ہے ، لیکن یہ چاہتا ہے کہ اس ایک کوبھی میں اسے دیدوںیعنی اس کے حوالے کر دوں اور بات میں مجھ پر غالب آ گیا ہے اور مجھ سے بزور کہتا ہے کیونکہ مجھ سے قوی اور توانا ہے ، اس نے میری بھیڑ اپنی بھیڑوں کے ساتھ رکھ لی ہے اور مجھے خالی ہاتھ چھوڑ دیا ہے ، داؤد ناراض ہوئے اور خاموش شاکی( مدعی علیہ ) سے بولے: اگر یہ جو کچھ کہہ رہا ہے سچ ہے ، تو کلہاڑی سے تمہاری ناک توڑ دوںگا، پھر اپنے آپ میں آئے اور خاموش ہو گئے اور سمجھے کہ اس سے مراد اس کام کا اظہار ہے جو ''اوریا'' کی بیوی کے سلسلے میں انجام دیا ہے پھر گریہ و زاری کے ساتھ سجدہ میں گر پڑے اور توبہ و انابت میں مشغول ہو گئے وہ اسی طرح سے چالیس روز روزہ کی حالت میں بھوکے ، پیاسے سجدہ میں پڑے رہے یہاں تک کہ ان کے آنسوئوں سے چہرے کے پاس سبزہ اُگ گیا اور چہرے اور گوشت پر سجدے کا نشان پڑ گیا خدا وند عالم نے انہیں معاف کیااور ان کی توبہ قبول کی۔

وہ لوگ ایسا خیال کرتے ہیں کہ ا نہوں نے کہا: خدایا جو میں نے اس عورت کے حق میں جنایت انجام دی ہے تونے معاف کر دیا، لیکن اس مظلوم کے خون کا کیا ہوگا؟( اہل کتاب کے گمان کے مطابق) ان سے کہا گیا: اے دائود! جان لو کہ تمہارے رب نے اس کے خون کے بارے میں ظلم نہیں کیا ہے ، لیکن بہت جلد ہی اس کے بارے میں تم سے سوال کرے گا اور اس کی دیت دے گا اور اس کا بار تمہارے کاندھے سے اٹھا دے گا یعنی تمہیں سبکدوش کر دے گا، مصیبت ٹلنے کے بعد آپ نے اپنے گناہ کو داہنے ہاتھ کی ہتھیلی پرظاہر کر لیااور جب بھی کھانا کھاتے یا پانی پیتے تھے اسے دیکھتے اور گریہ کرتے تھے


اور جب لوگوں سے گفتگو کرنے کے لئے آمادہ ہوتے تھے، اپنا ہاتھ کھول کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے تاکہ ان کے گناہ کی علامت لوگ دیکھیں۔( ۱ )

۲۔ حسن بصری کی روایت

طبری اور سیوطی نے آیات کی تفسیرمیں حسن بصری سے نقل کیاہے کہ انہوں نے کہا :

داؤد نے اپنی زندگی کے ایام چار حصوں میں تقسیم کئے : ایک دن اپنی عورتوں سے مخصوص رکھا، ایک دن عبادت، ایک دن کو بنی اسرائیل کے درمیان قضاوت اورفیصلہ کے لئے اور ایک دن خودبنی اسرائیل کے لئے تاکہ وہ لوگ انہیں اور یہ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں، وہ ان کو اور وہ لوگ انہیں رلائیں، ایک مرتبہ جب بنی اسرائیل کا دن آیا تو کہا : موعظہ کرو ، کہا: آیا کوئی دن انسان کے لئے ایسا گز رتا ہے جس میں وہ گناہ نہیں کرتا ہے ؟ داؤد نے اپنے اندر محسوس کیا کہ وہ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں جب عبادت کا دن آیا دروازوں کو بند کر لیا اور یہ حکم دیا کہ کوئی میرے پاس نہ آئے ، پھر توریت پڑھنے میں مشغول ہو گئے ابھی قرائت کر ہی رہے تھے کہ ایک سنہرا کبوتر خوبصورت اوردیدہ زیب رنگوں کے ساتھ ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے پکڑنا چاہا وہ اڑ کر کچھ دو رچلا گیا اور اتنا دور کہ ان کی دسترس سے باہر ہوگیا اور کچھ دور زمین پر بیٹھ گیاوہ اس درجہ کبوتر کے پیچھے پڑے کہ اوپر سے ان کی نظر ایک عورت پر پڑی جو غسل کرنے میں مشغول تھی اسکے جسم کی ساخت اور خوبصورتی نے انہیں حیرت میں ڈال دیا ، جب اس عورت نے کوئی سایہ محسوس کیا تو اپنے جسم کو بالوں سے چھپا لیا تو ان کی حیرت اور استعجاب میں مزید اضافہ ہو گیا. اور انہوں نے اس کے شوہر کو اس سے پہلے ایک کمانڈربناکر اپنے بعض سپاہیوں کے ہمراہ محاذ جنگ پر بھیجا تھا اس کو خط لکھا کہ وہ ایسی ویسی جگہ روانہ ہو جائے اور وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی، اس نے حکم کی تعمیل کی اور وہ قتل ہو گیا تو انہوں نے ( داؤد ) اس سے شادی رچا لی۔( ۲ )

____________________

(۱) تفسیری طبری، ج۲۳، ص ۹۵۔ ۹۶، طبع دار المعرفة ، بیروت.

(۲) تفسیر طبری ، ج ۲۳ ص ۹۶، طبع دار المعرفة ، بیروت ؛ سیوطی ، ج۵ ص ۱۴۸ ، یہ طبری کی عبارت ہے ۔


۳۔یزید رقاشی کی انس بن مالک سے روایت

طبری اور سیوطی نے آیات کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ یزید رقاشی سے انہوں نے انس بن مالک سے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے : یزید رقاشی کہتا ہے : میں نے انس بن مالک سے سنا کہ انہوں نے کہا:

میں نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب داؤد نے اس عورت کو دیکھا تو بنی اسرائیل کو جنگ کے لئے روانہ کیا اور لشکر کے کمانڈر کو تاکید کر دی کہ: جب دشمن کے قریب پہنچ جانا تو فلاں ( اوریا) کو تابوت کے سامنے تلوار سے ما ر ڈالو، اس زمانے میں تابوت کو کامیابی کے لئے لیجایا جاتا تھا اور جو تابوت کے سامنے جاتا تھا واپس نہیں آتا تھا یا تو قتل ہو جاتا تھا یا دشمن اس سے فرار کر جاتا تھا آخر کار وہ مارا گیا اور حضرت دائود نے ا س عورت سے شادی کر لی۔

پھر دو فرشتے حضرت داؤد کے پاس آئے اور وہ چالیس دن تک سجدہ میں پڑے رہے حتی کہ ان کے آنسوئوںسے سبزہ اگ آیا اور زمین پرا ن کے چہرے کے نشان پڑ گئے، انہوںنے سجدہ میں کہا: میرے خدا! داؤد نے ایسی لغزش کی ہے کہ مشرق و مغرب کے فاصلہ سے بھی زیادہ دو ر ہے ،خدایا!اگر ضعیف و ناتوان داؤد پر رحم نہیں کرے گا اور اس کی خطا معاف نہیں کرے گا تو اسکے بعد لوگوں کی زبانوں پر اسکے گناہوں کا چرچا ہوگا جبرئیل چالیس د ن کے بعد آئے اورکہا : اے دائود! خد ا نے تمہیںمعاف کر دیا، داؤد نے کہا: میں جانتا ہو ں کہ خدا عادل ہے اور ذرہ برابر عدل سے منحرف نہیں ہوتا اگر فلاں ( اوریا) قیامت کے دن آکر کہے: اے میرے خدا! میرا خون داودکی گردن پر ہے، تو میں کیا کروں گا؟ جبرئیل نے کہا: میں نے تمہارے رب سے اس سلسلے میں سوال نہیں کیا ہے ، اگر چاہتے ہو تو ایسا کروں، کہا: ہاں ، سوال کرو، جبرئیل اوپر گئے اور داؤد سجدہ میں چلے گئے کچھ دیربعد نیچے آکر کہنے لگے: اے دائود! جس کے لئے تم نے مجھے بھیجا تھا میں نے خد اسے سوال کیا تو اس نے فرمایاداؤد سے کہو: خدا تم دو آدمیوں کو قیامت کے دن حاضر کرے گااور اس ( مظلوم) سے کہے گا جو تمہارا خون داؤد کی گردن پر ہے اسے میرے لئے معاف کر دو، وہ کہے گا: خدایا! میں نے معاف کیا ، پھر خدافرمائے گا: اس کے بدلے میں بہشت میں جو چاہتے ہو انتخاب کر لو اورجس چیز کی خواہش ہو وہ تمہارے لئے حاضرہے...۔( ۱ )

____________________

(۱)تفسیر طبری ج۲۳، ص ۹۶ طبع دار المعفة ، بیروت؛ سیوطی ، ج۵ ص ۳۰۰۔ ۳۰۱


اللہ کے نبی دائود کے بارے میں تفاسیر میں منقول روایات اس طرح سے تھیںکہ جن کو ہم نے ملاحظہ کیا اب ہم اس کے اسناد کی چھان بین کریں گے۔

روایات کے اسناد کی چھان بین

۱۔وہب بن منبہ: اس کا باپ ایرانی تھا شاہ کسریٰ نے اسے یمن بھیجا تھا۔ اس کے بارے میں ابن سعد کی طبقات میں خلاصہ اس طرح ہے :

وہب نے کہا ہے میں نے آسمان سے نازل شدہ بانوے ۹۲ کتابیںپڑھی ہیں ؛ ان میں سے ۷۲ عدد کلیساؤں اور لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور بیس عدد ایسی ہیںکہ بہت کم لوگ جانتے ہیںو ہ ۱۱۰ھ میں فوت کر گیا ہے ۔

ڈاکٹرجواد علی فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وہب کی اصل و اساس یہودی ہے ، وہ اپنے خیال خام میں یونانی ، سریانی ، حمیری اور پرانی کتابوں کو پڑھنا خوب جانتا تھااور کشف الظنون میں ''قصص الانبیائ'' نامی کتاب کواسی کی تالیف میں شمار کیا ہے ۔( ۱ )

۲۔ حسن بصری : ابو سعید، اس کا باپ زید بن ثابت کا غلام تھا وہ حضرت عمر کی خلافت کے آخری دو سال میں پیدا ہوا، بصرہ میں زندگی گز اری اور ۱۱۰ھ میں وفات کر گیا، فصاحت و بلاغت میں بلند مقام رکھتا تھا لوگوں اورخلافت کے نزدیک اس کی ایک حیثیت اور شان تھی اور بصرہ میں مکتب خلفاء کا پیشوا شمار ہوتا تھا۔( ۲ )

اس کے نظریات اور عقائد:

طبقات ابن سعد میں جو روایات اس کی سوانح حیات کے ذیل میں وارد ہوئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قدریہ مذہب کا ماننے والا تھا اور اس کے بارے میں مناظرہ کیاکرتا تھا اس کے بعد اس عقیدہ سے پھر گیا تھا، وہ حجاج بن یوسف جیسے ظالموں کے خلاف قیام کو جائز نہیں سمجھتا تھا۔اس کی روایات کی اہمیت : میزان الاعتدال( ۳ ) میں اس کے بعض حالات زندگی کی شرح کچھ اس طرح ہے :

____________________

(۱) طبقات ابن سعد، طبع یورپ ، ج ۵ ص ۳۹۵ اور کشف الظنون، ص ۱۳۲۸؛ تاریخ العرب قبل الاسلام ( اسلام سے پہلے)، ڈاکٹر جواد علی، ج۱ ص ۴۴.

(۲) میں اس کی سوانح کی طرف مراجعہ کیا جائے وفیات الاعیان، ابن خلکان طبع اول، ج۱ ص ۳۵۴، طبقات ابن سعد، طبع یورپ ج ۷، ق۱، ص ۱۲۰ ملاحظہ ہو۔

(۳) ج۱ ص ۵۲۷، شمارۂ ترجمہ ۱۹۶۸


حسن بصری بہت دھوکہ باز تھا، اس نے جو بھی حدیث دوسروںسے روایت کی ہے بے اعتبار اور ضعیف ہے ، کیونکہ ضرورت کے مطابق سند بنا لیتا تھا، بالخصوص ایسے لوگوں سے احادیث جیسے ابو ہریرہ اور اس جیسے لوگوں سے کہ یقینا اس نے ان سے کچھ نہیں سنا ہے محدثین نے ابوہریرہ سے اس کی روایات کو بے سند روایات کے زمرہ میں قرار دیاہے ،اورخد ابہتر جانتا ہے۔

یعنی :حسن نے جب بھی ( عن فلاں) کے ذریعہ کوئی روایت کی ہے وہ ضعیف ہے اس لئے کہ وہ یہ کہنے پر کہ '' میں نے فلاں سے سنا'' مجبور تھا، بالخصوص ایسے راوی جن سے اس نے کچھ نہیں سنا ہے جیسے اس کا ابو ہریرہ سے اور اس جیسے لوگوں سیبلا واسطہ روایت کرنا جبکہ حسن نے ان کو دیکھا نہیں ہے لیکن بلا واسطہ ان سے روایت کر تاہے ۔

ابن سعد کی طبقات میں اس کے بعض حالات زندگی علی بن زید کے توسط مذکور ہیں:

میں نے حسن بصری سے حدیث نقل کی اور اس نے اسی حدیث کودوسروں سے نقل کرتا تھا ، میں نے اس سے کہا اے ابو سعید کس نے تم سے یہ حدیث روایت کی ہے ؟ کہا: میں نہیں جانتا ، میں نے کہا: میں نے ہی اسے تم سے روایت کی ہے۔

اسی طرح ذکر کیا گیا ہے : اس سے کہا گیا: یہ جو تم لوگوں کو فتوے دیتے ہو اسکا مستند احادیث ہیں، یا پھرتمہارے ذاتی نظریات و خیالات کا نتیجہ ہیں؟ کہا: نہیں خدا کی قسم ایسا نہیں ہے کہ جو فتوی بھی دوں اسے میں نے سنا ہی ہو بلکہ میری رائے اور نظر ( لوگوں کیلئے) خود ان کی رائے اور نظر سے ان کیلئے بہتر ہے ۔( ۱ )

مکتب اعتزال کا بانی واصل بن عطا (متوفی ۱۳۱ھ )اور ابن ابی العوجاء ایک مشہور زندیق حسن بصری کے مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں۔

ابن ابی العوجاء سے لوگوں نے کہا: اپنے استاد کامذہب چھوڑ کر ایسا راستہ اپنایا جو نہ کوئی اصل رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی حقیقت ! اس نے کہا: میرے استاد فریب خوردہ اور غیر معتدل تھے، کبھی قدر یہ کے طرفدار تھے تو کبھی جبریہ مسلک کے ، مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ کسی ثابت اور پائیدار عقیدہ پر باقی رہے ہوں گے۔

کوفہ کے والی نے ۱۵۵ھ میں ابن ابی العوجاء کو قتل کیا اور قتل ہونے سے پہلے اس نے کہا: مجھے قتل توکر رہے ہو، لیکن یہ بات جان لو کہ میں نے چار ہزار حدیثیں جعل کی ہیں حلال خدا کوحرام اور حرام خداکو

____________________

(۱) دونوں ہی روایت ابن سعد کی طبقات میں ہیں ، ج۸، ص ۱۲۰، طبع یورپ اور ج ۷ ، ص ۱۲۰ پر بھی مذکور ہے ۔


حلال کرکے ایک دوسرے میں مشتبہ کر دیاہے،روزہ کو افطار اور افطارکو روزہ میں بدل ڈالا ہے ۔( ۱ )

۳۔ یزید بن ابان رقاشی:یہ بصرہ کا رہنے والا ایک قصہ گو اور زاہد ِ گریاں بیوقوف تھا ۔

مزّی کی تہذیب الکمال اور ابن حجر کی تہذیب التہذیب میں اس کے حالات زندگی کا خلاصہ اس طرح ہے :

الف۔ اس کے زہد کے بارے میں : وہ اپنے آپ کو بھوکا اور پیاسا رکھتا تھا، اس کا جسم ضعیف بدن نحیف اور رنگ نیلاہو گیا تھا روتا تھا اور اپنے اطراف و جوانب والوںکو رلاتا تھامثال کے طور پر کہتا تھا: آئو تشنگی کے دن ٹھنڈے پانی پر گریہ کریں وہ کہتا تھا: ٹھنڈے پانی پر ظہر کے وقت سلام ، راوی کہتا ہے : وہ ایسے کام کرتا تھا جنہیں نہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا ہے اور نہ ہی انجام دیا ہے ۔خدا وند سبحان فرماتا ہے :

( قل من حرم زینة الله التی اخرج لعباده و الطیبات من الرزق قل هی للذینآمنوا فی الحیاة الدنیا )

کہو: کس نے اللہ کی زینتوںاور پاکیزہ رزق کو جسے خدا نے اپنے بندوںکے لے خلق کیا ہے حرام کیا ہے ؟!

کہو: یہ سب دنیاوی زندگی میں مومنین کے لئے ہے( ۲ )

ب۔ اس کے نظریات: اس کا اعتقاد ضعیف اور مذہب قدری تھا۔( ۳ )

ج۔ اس کی روایات کی قیمت: ''شعبہ'' نامی ایک راوی کے بقول کہ اس نے کہا: چوری کرنا میرے نزدیک اس سے روایت کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔

اس کی روایات کے بارے میں کہاگیا ہے : اس کی روایات منکر اور مجہول ہیں، اس کی روایتیں متروک ہیںاور تحریر نہیں کی جاتیں ۔

ابو حاتم نے کہا: وہ ایک گریہ کرنے والا واعظ تھا، انس سے اس نے زیادہ روایت کی ہے ،اوریہ محل تامل و اشکال ہے، اس کی حدیث ضعیف ہے۔

تہذیب التہذیب میں مذکور ہے: ابن حبان کہتے ہیں: وہ خدا کے بندوں میں شب میں رونے والوں میں ایک اچھا بندہ تھا لیکن صحیح حدیث ضبط کرنے میں عبادت خدا کی وجہ سے غافل رہ گیا، وہ بھی اس طرح سے کہ حسن کی بات کو بر عکس کردیتا تھا اور اسے انس کے قول کی جگہ پر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام سے قرار دے دیتا تھا،

____________________

(۱) وفیات الاعیان میں واصل بن عطا کے حالت زندگی اور ابن ابی العوجاء کے حالات کتاب ''ایک سو پچاس جعلی صحابی'' کی ج ۱،زندقہ و زنادقہ کی بحث میں اور ''الکنی و الالقاب'' میں ملاحظہ ہو۔(۲)اعراف۳۲(۳)طبقات ابن سعد چاپ یورپ ج۷ق۲ ص ۱۳


اس کے قول سے روایت کرنا روا نہیں ہے مگر یہ کہ حیرت کا اظہار کرنا مقصود ہو، یزید بن ابان ۱۲۰ھ سے پہلے فوت ہواہے۔( ۱ )

روایات کے متن کی چھان بین

۱۔ وہب کی روایت: روایت کا خلاصہ: اللہ کے نبی داؤد نے کچھ ایام عبادت سے مخصوص کئے اورخلوت نشینی اختیار کی اورتوریت کی تلاوت میں مشغول ہو گئے ،اچانک ان کے سامنے ایک سنہرا کبوتر نمودار ہوا انہوں نے پکڑنا چاہا،لیکن اڑ کر کچھ پیچھے بیٹھ گیا داؤد اس کے چکر میں پڑ گئے اوریہاں تک کہ اس کا پیچھا کیا اسی اثنا میں اوریا ہمسایہ کی بیوی پر اچانک نگاہ پڑ گئی تو دیکھا کہ وہ نہا رہی ہے اس کے حسن و جمال سے حیرت زدہ ہو گئے ، جب عورت نے ان کے وجود کا احساس کیا تو خودکو اپنے بالوں کے اندر چھپا لیا اور یہ داؤد کی حیرت میں مزید اضافہ کا باعث ہوا،اس کے شوہر کو میدان جنگ میں بھیج کر قتل کرانے کا پلان بنایا اور اس سے شادی رچا لی پھر دو فرشتے ان کے پاس آئے اور اس کے بعد قرآن کریم کی بیان کردہ داستان ملاحظہ ہو۔

یہ راوی ایک بار کہتا ہے : ( وہب نے کہا) ، دوسری بار کہتا ہے :( اہل کتاب کے خیال کے مطابق) ان باتوں سے اس کی ذمہ داری سے خود کو دور کرتا ہے جب ہم توریت کے سموئیل کی دوسری کتاب گیارہویں اور بارہویں باب کی طرف رجوع کرتے ہیں تو یہ داستان اس طرح ہے کہ : داؤد ''تشجیع''اوریا کی بیوی ''یتشبع''کو چھت سے دیکھتے ہیں اور اس کے حسن کو دیکھ کر لہلوٹ ہوجاتے ہیں اسے اپنے گھر بلاتے ہیں اور اس سے ہمبستری (مجامعت) کرتے ہیں اور یہ عورت ان سے زنا کے ذریعہ حاملہ ہو جاتی ہے وغیرہ...ملاحظہ کیجئے:

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عصر کے وقت حضرت دائود اپنے بستر سے اٹھ کر بادشاہ کے گھر کی چھت پر ٹہل رہے تھے چھت کی پشت سے ایک عورت کو حمام میں دیکھا ، وہ عورت نہایت حسین و جمیل اور بلا کی خوبصورت تھی، پھر دائود نے فرستادہ کے ذریعہ اس عورت کے بارے میں سوال کیا لوگوں نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ الیعام کی بیٹی اور یا کی بیوی ہے ، دائود نے اس کے پاس افراد بھیجے وہ اس کو پکڑ کر ان کے پاس لے آئے اور دائود اس سے ہمبستر ہوئے اور وہ اپنی نجاست سے پاک ہوئی اور اپنے گھر لوٹ گئی اور دائود کے

____________________

(۱)تہذیب التہذیب ج۱۱ ص ۳۰۹۔۳۱۱


فرستادہ کو مخبر بنایااور کہامیں حاملہ ہوںلہٰذادائودنے''یوآب''کے پاس کہدیا کہ ''اوریاحتی'' کو میرے پاس بھیج دو تو''یوآب'' نے اوریا کو دائود کے پاس بھیج دیا اور جب اوریا ان کے پاس پہنچا تو دائود نے ''یوآب''سے قوم اور جنگ کی سلامتی کے بارے میں سوال کیا، پھر دائود نے اوریا سے کہا: گھر جاکر پیر دھو ؤپھر ''اوریا'' بادشاہ کے گھر سے باہر گیا اس کے پیچھے بادشاہ کا دسترخوان روانہ کیا گیا لیکن اوریا اپنے گھر جانے کے بجائے بادشاہ کی دہلیز پر تمام بندوں کے ہمراہ سو رہا ،دائود کو خبر دی گئی کہ اوریا اپنے گھر نہیں گیا ہے تو دائود نے اوریا سے سوال کیا کہ کیا تم سفر سے واپس نہیں آئے ہو پھر اپنے گھر کیوں نہیں گئے ؟اوریا نے دائود سے عرض کی کہ تابوت، اسرائیل اور یہودا اپنے خیموں میں موجود ہیں اور میرے آقا ''یوآب'' اور میرے آقا کے غلام بیابانوں میں خیمہ نشین ہیں کیا میں ایسے میں اپنے گھر لوٹ جاتا اور کھانے پینے اور بیوی کے ساتھ سونے میں مشغول ہو جاتا! آپ کی حیات نیز آپ کی جان کی قسم ہے کہ یہ کام ہرگز نہیں کروں گا، دائود نے''اوریا'' سے کہا آج بھی تم یہیں رہو کل تمہیں بھیج دوں گا لہٰذا اوریا اس دن اور اسکے بعد ایک دن یروشلم میں رہا اور حضرت دائود نے اسکو دعوت دی، ان کے سامنے کھایا پیا اور مست ہوگیا پھر شام کے وقت باہر نکل گیا اور اپنے آقا کے غلاموں کے ساتھ سو گیا اور اپنے گھر نہیں گیا اور صبح تڑکے دائود نے ''یوآب'' کے نام خط لکھ کر اور یاکے ہاتھ روانہ کیا اس مکتوب میں یہ مضمون لکھا تھا کہ اوریا کو سخت جنگ کے محاذ پر آگے آگے رکھنا اور تم اس کے پیچھے پیچھے چلنا تاکہ وہ مارا جائے اور وہیں پر ہلاک ہو جائے اور جب یوآب شہر کو اپنے محاصرہ میں لیتا تھا تو اوریا کو ایسی جگہ پر رکھتا تھا جہاں اسے علم ہوتاتھا کہ یہاں پر بہادر اور شجاع لوگوںسے سامنا ہوگا، شہر کے لوگ باہر نکلے اور ''یوآب'' سے جنگ کی، جناب دائود کی قوم سے بعض سپاہی اس جگہ کام آ گئے اور یا حتی بھی مارا گیا پھر ''یوآب'' نے حضرت دائود کے فرستادہ کو جنگ کے تمام حالات سے باخبر کیا اور قاصد کو حکم دیا کہ بادشاہ کوجاکر جنگ کی تمام روداد نقل کرنا اور اگر وہ غصہ سے لال پیلے ہو کر تم سے کہیں کہ کیوں جنگ کے لئے شہر سے قریب گئے ہو؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ محاصرہ کے کنارہ سے تیر چلا دیں گے؟ کون ہے جس نے ابی ملک بن یربوشت کو قتل کر ڈالا؟ کیا کسی عورت نے چکی کے اوپری پاٹ کو حصار کے کنارے سے تو نہیں پھینک دیا کہ تاباص میں مر گیا پھر کیوں حصار سے قریب ہو گئے؟ اس وقت کہنا کہ تیرا غلام ''اوریا حتی'' بھی مر گیا ہے قاصد روانہ ہو ااور دائود کے پاس آ کر ''یوآب'' کے کہنے کے مطابق انہیں آگاہ کیا اور قاصد نے دائود سے کہا لوگ ہم پر غالبہوکرہمارے پیچھے صحرا کی طرف آ گئے، ہم نے ان پر دروازہ کے منھ تک حملہ کیا اور تیر اندازوں نے تیرے بندوں پر حصار پر سے تیر چلائے اور بادشاہ کے بعض بندے مر گئے اور تمہارا بندہ''اوریا حِتِّی'' بھی مر گیا ہے، دائود نے قاصد سے کہا: ''یوآب'' سے کہو کہ اس واقعہ سے پریشان نہ ہو اس لئے کہ تلوار بلا تفریق ان کو ، ان کو ہلاک کرتی ہے لہٰذا شہر کاڈٹ کر مقابلہ کرو اور اسے ویران کر دو پھر اسے تسلی دو ،جب اوریا کی بیوی نے سنا کہ اس کا شوہر مر چکا ہے تو اپنے شوہر کے لئے سوگ منایا جب سوگ کے دن گز ر گئے تو دائود نے قاصد بھیج کر اسے اپنے گھر بلا لیااور وہ ان کی بیوی ہو گئی اور ان سے ایک بچہ ہوا لیکن جو کام دائود نے کیا وہ خدا کے نزدیک ناپسند قرار پایا۔


بارہواں باب

خدا وند عالم نے ناتان کو دائود کے پاس بھیجا اس نے ان کے پاس آ کر کہا: کہ ایک شہر میں دو مرد تھے ایک امیر و دولتمند اور دوسرا فقیر و نادار ، دولتمند کے پاس بہت زیادہ بھیڑ اور گائیں تھیں اور فقیر کے پاس ایک مادہ بکری کے علاوہ کچھ نہیں تھا جس کو اس نے خرید کر پالا تھا وہ ان کے پاس اس کی اولاد کے ہمراہ بڑی ہوئی ان کی غذا سے کھاتی اور ان کے پیالے سے پیتی اور اس کی آغوش میں سوتی تھی وہ اس کے لئے لڑکی کی طرح تھی، ایک مسافر اس دولت مند کے پاس آیا اسے افسوس ہوا کہ اپنی گا یوں اور گوسفندوں میں سے ایک کو مسافر کے لئے ذبح کرے لہٰذا اس نے اس فقیر انسان کی بکری کو لے لیا اور مسافر کے لئے غذا کا انتظام کیا، پھر تو دائود کا غصہ اس پربھڑک چکا تھا ،ناتان سے کہا: حیات خدا وند کی قسم جس کسی نے ایسا کیا ہے وہ قتل کا حقدار ہے اور چونکہ اس نے ایسا کام کیا ہے اور کوئی رحم نہیں کیاہے لہٰذا اسے ایک کے عوض چار گنا و اپس کرنا چاہئے۔ ناتان نے دائود سے کہا وہ تم ہو اور اسرائیل کا خدا یہوہ یہ کہتا ہے کہ میں نے تجھے اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور شائول کے ہاتھوں سے نجات دی اور تمہارے آقا کا گھر تمہیں دیا اور آقا کی عورتوں کو تمہاری آغوش کے حوالے کیا اور اسرایل و یہودا کے خاندان کو تمہیں بخشا اگر یہ کم ہوتا تو مزید اضافہ کرتا، پھر کیوںکلام خدا کو ذلیل کیا اور اس کی نظر میں برا کام انجام دیا اور ''اوریاحتی'' تلوار مار ی اور اس کی بیوی کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور اسے بنی عمون کی شمشیر سے قتل کر ڈالا، لہٰذا اب شمشیر تمہارے گھر سے دورنہیں ہوگی کیونکہ تم نے میری توہین کی ہے اور ''اوریا حتی'' کی بیوی کو اپنی بیوی بنا لیا ہے ۔

خدا وند عالم نے اس طرح کہا ہے: اب میں تم پر تمہارے گھر سے برائی عارض کروں گا اور تمہارے سامنے تمہاری عورتوں کو لے کر تمہارے پڑوسیوں کو دیدوں گا اور وہ آفتاب کی روشنی میں تمہاری عورتوں کے ساتھ سوئیںگے کیونکہ تم نے یہ کام خفیہ طور پر انجام دیا لیکن میں یہ کام تمام اسرائیل کے سامنے اورروز روشن میں انجام دوں گا ،دائود نے ناتان سے کہا: میں خداوند عالم کی قسم میں گناہ کا مرتکب ہوا ہوں ،ناتان نے دائود سے کہا :خداوند عالم نے تمہاراگناہ معاف کیا ، تم نہیں مروگے لیکن چونکہ یہ امر دشمنان خدا کے کفر بولنے کا باعث ہوا ہے لہٰذا تمہاراجو بچہ پیدا ہوگا وہ مر جائے گا، پھر ناتان اپنے گھر گیا اور خداوند نے دائود کے ذریعہ اور یاکی بیوی سے پیدا ہونے والے بچہ کو بیماری میں مبتلا کر دیا پھر دائود نے بچہ کے لئے خدا سے دعا کی اور روزہ رکھا اور پوری رات زمین پر سوئے رہے، ان کے گھر کے بزرگ اٹھے تاکہ زمین سے انہیں اٹھائیں لیکن قبول نہیں کیا اور ان کے ساتھ روٹی بھی نہ کھائی، ساتویں دن بچہ مر گیا اور دائود کے خدام خوفزدہ ہو گئے کہ کیسے دائود کو اس بچہ کے مرنے کی اطلاع دیں، اس لئے کہاکہ ابھی بچہ زندہ تھا اور ہم نے اس سے باتیں کی ہیں کیونکہ اگر یہ خبر دیں کہ بچہ مر گیا ہے تو کس درجہ رنجیدہ ہوں گے


اور جب دائود نے دیکھا کہ ان کے بندے آپس میں سرگوشی کر رہے ہیں تو سمجھ لیا کہ بچہ مر گیا ہے دائود نے اپنے خدام سے پوچھا بچہ مر چکا ہے ؟ کہا ہاں مر چکا ہے پھر اس وقت دائود نے زمین سے اٹھ کر غسل کیا اور نہا دھو کر تیل لگایا اور اپنا لباس بدلا اور خداوند کے گھر کی طرف گئے اور عبادت کی پھر اپنے گھر واپس آئے غذا طلب کی لوگوں نے حاضر کی تو آپ نے کھایا اور ان کے خادموں نے ان سے کہا کہ یہ کون سا کام تھاجو آپ نے انجام دیا جب بچہ زندہ تھا تو روزہ رکھا اور گریہ کیا اور جب مر گیا تو اٹھ کر کھانا کھایا انہوں نے کہا: جب بچہ زندہ تھا تو روزہ رکھا اور گریہ کیا اس لئے کہ میں نے سوچا کسے معلوم کہ شاید خداوند مجھ پر رحم کرے اور میرا بچہ زندہ بچ جائے لیکن اب جبکہ میرا بچہ مر چکا ہے کیوں روزہ رکھوں کیا میں اس کو دوبارہ واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں؟ میں اس کے پاس جائوں گا لیکن وہ میرے پاس نہیں آئے گا۔

وہب کی روایت کا توریت میں سموئیل کی دوسری کتاب کی مذکور ہ باتوں سے مقایسہ کرنے سے نتیجہ نکلتا ہے کہ وہب نے بعض داستان توریت سے اور بعض داستان اسرائیل کی دیگر کتابوں سے ( کہ جن کو پڑھا تھا) لیاہے اور جیسا کہ خود بھی ان کتابوں کے پڑھنے کی خبر دی ہے اس طرح کی روایات علم حدیث میں روایات اسرائیلی یا اسرائیلیات سے موسوم ہیں۔

دوسرے۔ حسن بصری کی روایت: اس روایت کا خلاصہ وہی وہب کی روایت کا خلاصہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ حسن بصری نے ابتداء میں اضافہ کیاکہ داؤد نے اپنے اوقات چار حصوں میں بانٹ دئے تھے، ہمیں نہیں معلوم کہ آیا یہ خود اس کا خیال اور ابتکار تھا جو اس نے اضافہ کیا ہے یا دیگر اسرائیلی روایوں سے لیا ہے ۔

جو بھی صورت ہو حسن بصری نے اس روایت کی سند ذکر نہیں کی ہے اور اسے بغیر سند اور اصطلاحی اعتبار سے مرسل ذکر کیا ہے، اگر وہ روایت کے وقت اس کا ماخذ بھی بیان کردیتا اور کہتا کہ وہب بن منبہ سے یا اس کے علاوہ دیگر اسرائیلی راویوں سے روایت کرتا ہے تو مسئلہ آسان ہو جاتا اور محققین روایت کے ماخذ تک رسائی رکھتے اور آسانی سے سمجھ لیتے کہ یہ اسرائیلی روایات میں سے ہے، اس نے سند ذکر نہ کر کے محققین کے لئے مشکل کھڑی کردی ہے لیکن اس کے با وجود چونکہ اس کا شمارمکتب خلفاء میں عقائد کے حوالے سے رہنما اور پیشرو لوگوں میں ہوتا ہے ، اس کی روایت اسلامی عقائد کے سمجھنے میں دوگنا اثر رکھتی ہے۔

اسرائیلی روایات کے زیادہ تر راوی وہی کام کرتے ہیں جو حسن بصری نے کیا ہے ، یعنی اسرائیلی روایات کو بغیر سند اور ماخذ کے ذکر کرتے ہیں اور اس طرح سے ایسی روایتیں ان افراد کے لئے جو حدیث شناس نہیں ہین بہت سخت اور پیچیدہ ہو جاتی ہیں ۔

تیسرے۔ یزید رقاشی کی روایت: یزید بن ابان نے کہا ہے : یہ روایت اس نے انس صحابی سے دریافت کی ہے جسے اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنی ہے یہ بات کہہ کر اس نے انس اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے جبکہ اس کا سماج میں ظاہری حلیہ یہ ہے کہ وہ زاہد، عابد اور گریہ کرنے والا ہے۔


یقینا ایسی روایت کا اثر جسے یزید کی طرح عابد، زاہد ، گریہ کرنے والے افراد اپنے مواعظ اور داستانوں میں روایت کرتے ہیں کس قدر ہوگا؟ آیا علم حدیث میں مہارت نہ رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ یزید رقاشی ، نے جو کچھ حسن بصری سے سنا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی انس اور خود رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے؟ بالخصوص اس کے بعدکہ بہت سے مفسرین جیسے طبری سے (جس کی وفات ۳۱۰ھ ہوئی .اورسیوطی تک جس کی وفات ۹۱۱ھمیں ہوئی) پے در پے آتے ہیں اور اس افسانہ کو اپنی تفاسیر میں شامل کر دیتے ہیں، اس سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ اپنی نقل میں جو کچھ اسرائیلی روایات کو یہاں ذکر کیا ہے اسی پر اکتفا نہیں کی ہے ، بلکہ اس کے نقل کے حدودکو ایسے راویوں سے دیگر صحابہ اور تابعین تک وسیع کر دیا ہے، ہم نے ان میں سے بعض کو ''نقش ائمہ در احیائے دین ''( ۱ ) کے پانچویں اور بارہویں حصہ میں بیان کیا ہے جیسے:

۱۔ صحابی عبد اللہ بن عمروبن عاص، جس نے اہل کتاب کے نوشتہ جات کے عظیم خزانہ کو بعض جنگوں میں حاصل کیا اور وہ اس کتاب سے بغیر ذکرماخذ کے روایت کرتا تھا ۔

۲۔ صحابی تمیم داری، یہ راہب نصاری ہونے کے بعد اسلام لایا اورجمعہ کے ایام میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر خلیفہ دوم عمرا بن خطاب کے خطبہ سے پہلے تقریر کرتا تھا اور یہ کام عثمان کے دور میں ہفتہ میں دو مرتبہ انجام پاتا تھا۔

۳۔کعب الاحبار(تابعی) یہ عمر کی خلافت کے دوران اسلام لایا اور اس دور کے مسلمان علماء کی ردیف میں شمار ہونے لگا۔

اس گروہ کے بعد دوسرے افراد نے مذکورہ افسانوں کو ان سے لیا اور قرآن کی تفسیر کا نام دیدیا جیسے:

____________________

(۱)یہ کتاب فارسی میں جزء اول سے چودہویں جزء تک اسی عنوان سے چھپی اور نشر ہوئی ہے ۔


۴۔ مقاتل بن سلیمان مروزی ازدی (متوفی ۱۵۰ھ )جو کتاب خدا کے مفسر کے نام سے مشہورہے ۔ شافعی نے اس کے بارے میں کہا ہے :

تمام لوگ تین آدمیوں کے مرہون منت ہیں :تفسیر میں مقاتل بن سلیمان کے، شعر میں زہیر بن ابی سلمیٰ کے اور کلام میں ابو حنیفہ کے!

اب دیکھنایہ ہے کہ جناب مقاتل نے مکتب خلفاء کی قابل اعتماد روایتوں میں کتنی اسرائیلی روایات کو جگہ دی ہے اور کتنی خود جعل کی ہے اور دوسروں کی طرف نسبت دی ہے، یہ توخدا جانتا ہے اور بس۔( ۱ )

تحقیق کا نتیجہ

وہب بن منبہ نے اس کی جھوٹی روایت کو جوخد اکے نبی دائود پر تہمت ، افترا اور کذب بیانی پر مشتمل ہے، اہل کتاب کی کتابوں سے نقل کر کے اس کا ماخذ بھی بتایا ہے ، لیکن مکتب خلفاء کے اماموں کے پیشوا حسن بصری نے اسے کسی ماخذ اور مدرک کے طرف اشارہ کئے بغیر روایت کیا ہے ، حدیث گو، قصہ پرداز، زاہد، عابد اور گریہ کناں یزید بن ابان نے فریب کاری سے اسے انس کی طرف نسبت دی ہے اور کہا ہے: انس نے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے ۔

اس طرح کی تدلیس، فریب کاری، دھوکہ بازی اور اسرائیلی روایتوں کو صحابہ کی طرف نسبت دینا صرف اسی مورد میں منحصر نہیں ہے اورانہیں صحابہ سے مختص نہیں ہے اس جیسی اور اس سے بہت زیادہ روایات کی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچازاد بھائی عبد اللہ بن عباس کی طرف نسبت دی ہے ، یہ ایسی روایتیں ہیں جن کی تحقیق اور تجزیہ تطبیقی بحثوں کا محتاج ہے اور تفسیر سیوطی ، (الدر المنثور)کے آخری صفحہ کی طرف مراجعہ کرنے سے ان میں سے بعض موضوع ہمارے لئے واضح ہو جاتے ہیں۔

اس طرح جھوٹی خبروں کا سر چشمہ جس کی نسبت دائود کی طرف دی گئی توریت کے قصوں میں ملتا ہے اس طرح کی اسرائیلی روایات تدریجا ًاور زمانے کے ساتھ ساتھ تفسیر قرآن سے مخلوط ہو گئیں۔اورانہوں نے مسلمانوں کے اندر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انبیاء کرام کی سیرت کے حوالہ سے غلط نظریات ایجاد کر دئے یہ حضرت داؤد کے اوریا کی بیوہ سے شادی کرنے کی جھوٹی داستان تھی جس کی نسبت اللہ کے نبی دائود کی طر ف دی گئی ہے ۔

____________________

(۱)تاریخ بغداد ، ج ۱۲، ص ۱۶۰، ۱۶۹، شمارہ ۷۱۴۲؛ وفیات الاعیان ، ج ۴، ص ۲۴۰، اور ص ۲۴۲؛ تہذیب التہذیب ج ۱۰، ص ۲۷۹، اور ص ۲۸۵؛ میزان الاعتدال ج ۴، ص ۱۷۲، شمارہ ۷۸۴۱.


آئندہ بحث میں زینب بنت جحش کے زید سے ازدواج اوراس کے بعد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ازدواج کی صحیح داستان ذکر کریں گے۔

روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زینب سے شادی کرنا

آیہ'' و تخفی فی نفسک''( تم دل میں کچھ چھپاتے ہو )کی تفسیرمیں خازن کہتے ہیں: اس سلسلے میں صحیح ترین بات ایک روایت ہے جو سفیان بن عیینہ اور انہوں نے علی بن جدعان سے نقل کی ہے راوی علی بن حد عان نے کہا: زین العابدین علی بن الحسین نے مجھ سے سوال کیا : حسن بصری اللہ کے اس کلام:

(و تخفی فی نفسک ما الله مبدیه و تخشی النا س والله احق ان تخشاه )

(دل میں کچھ پوشیدہ رکھتے ہو کہ جس کو خداآشکار کر دیتا ہے ؛ اور لوگوں سے ڈر تے ہوجبکہ خدا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے)۔

کے بارے میں کیا کہتاہے ؟ میں نے کہا: جب زید رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں زینب کو طلاق دینے کا مصمم ارادہ رکھتا ہوں، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حیرت زدہ ہو ئے اور فرمایا: اپنی بیوی کو طلاق نہ دو اور خدا سے ڈرو، علی بن الحسین نے فرمایا: ایسا نہیں ہے بلکہ خدا وند عالم نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آگاہ کر دیا تھا کہ زینب عنقریب پیغمبر کی بیویوں کے زمرہ میں شامل ہوںگی اور زید انہیں طلاق دے دیںگے، جب زید حضرت کی خدمت میں آکر کہنے لگے کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں تو حضرت نے فرمایا اسے اپنے پاس رکھوتب خدا وند متعال نے پیغمبر کوسرزنش کی کہ کیوں تم نے کہا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو!میں نے تو تمہیں آگاہ کر دیاتھا کہ عنقریب وہ تمہاری بیویوں کی صف میں شامل ہو جائیگی؟!

خازن کہتا ہے:

یہ تفسیر پیغمبروں کی شان و منزلت کے اعتبار سے زیادہ مناسب اور سزاوار ہے اور قرآن کی صریحی آیات سے ہم آہنگ ہے۔

زینب کی شادی کی مفصل داستان پہلے زید سے ، پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آیات و روایات میں اس طرح ہے :


الف۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زینب کی شادی کے متعلق آیات:

( وما کان لمؤمن و لا مؤمنة اذا قضی الله ورسوله امراً ان یکون لهم الخیرة من أمرهم و من یعص الله و رسوله فقد ضل ضلالًا مبینا٭ و اذ تقول للذی انعم الله علیه و انعمت علیه امسک علیک زوجک و اتق الله و تخفی فی نفسک ما الله مبدیه و تخشی الناس و الله احق ان تخشاه فلما قضیٰ زید منها وطراً زوجناکها لکی لا یکون علیٰ المؤمنین حرج فی ازواج ادعیائهم اذا قضوا منهن وطرا و کان امر الله مفعولا٭ما کان علیٰ النبی من حرج فیما فرض الله له سنة الله فی الذین خلوا من قبل و کان امر الله قدرا مقدورا٭ الذین یبلغون رسالات الله و یخشونه ولا یخشون احداً الا الله و کفیٰ بالله حسیبا٭ما کان محمد أبا أحد من رجالکم و لٰکن رسول الله و خاتم النبیین و کان الله بکل شیء علیماً )

کسی مرد اور عورت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی امر کو لازم سمجھیں تو وہ اپنا اختیار دکھلائے اور جو کوئی خدا و رسول کی نافرمانی کرے تو وہ کھلی ضلالت و گمراہی میں ہے ۔

اور جب وہ شخص جس کو خد انے بھی نعمت سے نوازا اور تم نے بھی اس پر احسان کیا اس سے تم کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھواور خدا سے ڈرو اور د ل میں ایسی بات چھپائے رہے جس کوخدانے آشکار کر دیا اور لوگوں سے خوفزدہ ہوئے جبکہ اس بات کا زیادہ حقدار خدا ہے کہ اس سے ڈراجائے اور جب زید نے اس عورت سے اپنی بے نیازی کا اظہار کیا تو ہم نے اسے تمہارے حبالہ عقد میں دیدیا تاکہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے جب وہ اپنی ضرورت پوری کر چکے ( طلاق دیدے) تو شادی کرنے میں مومنین کو کسی دشواری اور مشکل کا سامنا نہ ہو؛ اور امر الٰہی بہرحال نافذہو کے رہتا ہے جوخدا نے معین کر دیا ہے اس میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کسی قسم کی کوئی دقت اور مشکل نہیں ہے ، یہ اللہ کی سنت گز شتہ لوگوں سے متعلق بھی ثابت تھی اور حکم الٰہی حساب و کتاب کے مطابق ہے، وہ گز شتہ افراد پیغامات الٰہی کی تبلیغ کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اور خدا کے علاوہ کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے، اتنا ہی کافی ہے کہ خدا حساب لینے والا ہے ۔( ۱ ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور خدا ہر چیز سے آگاہ ہے۔

مکتب خلفاء کی روایات میں مذکورہ آیات کی تاویل

طبری نے اس آیت کی تاویل میں وہب بن منبہ سے روایت کی ہے : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی پھوپھی زاد

____________________

(۱)احزاب۳۶۔۴۰


بہن زینب بنت حجش کی شادی زید بن حارثہ سے کر دی ، ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زید کے سراغ میں جب ان کے گھرکے دروازہ پر پہنچے تو اچانک ہو اچلی اور گھر کا پردہ اٹھ گیا،زینب جو اپنے کمرے میں کافی حجاب میں نہ تھیں نظر آگئیں تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دل میں ان کے حسن و جمال نے جگہ بنا لی، یہ واقعہ جب پیش آیا ...تو(یہاں تک کہ ) زید رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ !میں زینب سے الگ ہونا چاہتا ہوں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: تمہیںکیا ہو گیا ہے ؟ آیا اس کے بارے میں تمہیں کوئی شک و شبہ ہو گیا ہے ؟ کہا: نہیں خدا کی قسم میں اس سے متعلق مشکوک نہیںہوں اور اس سے خوبی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے ..........آخرحدیث تک( ۱ )

اس مضمون کی، حسن بصری سے بھی ایک روایت بیان ہوئی ہے کہ عنقریب( آیات کی تاویل کے میں اہل بیت کی روایات کے ضمن میں ) اسے بیان کریںگے۔

دونوں روایات کی چھان بین

الف۔ دونوں روایت کی سند: یہ دونوں ہی روایتیں وھب بن منبہ اور حسن بصری سے منقول ہیں، ہم ان دونوں کی شرح حال بیان کر چکے ہیں، اسکے علاوہ کہیں گے: دونوں ہی''راوی'' رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سالوں بعد پیدا ہوئے ہیں پھر کس طرح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے کے واقعات اور حوادث بیان کرتے ہیںاور بغیر کسی مدرک اور ماخذ کے قطعی مسلمات کی طرح بیان کرتے ہیں؟!

ب۔ دونوں روایتوںکا:اصل نچوڑ یہ ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اچانک زینب کے بے حجاب حسن و جمال کے دیدار سے حیرت زدہ ہوگئے اور دل میں زید کے طلاق دینے کے خواہشمند ہوئے لیکن اسے اپنے اندر مخفی رکھا۔

روایت کے بطلان کا بیان: زینب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھی، حجاب کا حکم بھی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ازدواج کے بعد آیا ہے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے زید کے ساتھ ازدواج سے پہلے بارہا دیکھا تھا، لہٰذا جو ایسی بات کہتا ہے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بہتان اور افترا پر دازی کرتا ہے، صحیح خبروہ ہے جسے ہم سیرت کی کتابوں سے ذکر کریں گے۔

____________________

(۱)تفسیر المیزان، طبع دار المعرفة بیروت، ج۲۲ ص ۱۰۔۱۱


زید بن حارثہ کون ہیں؟

زید بن حارثہ کلبی کی بعض سر گز شت اس طرح ہے : زید زمانۂ جاہلیت میں اسیر ہوئے اور عرب کے بعض بازاروں میں انہیں بیچا گیا تو اسے خدیجہ کے لئے خریدلیا گیا۔

خدیجہ نے بعثت سے پہلے جبکہ وہ ۸ سال کے تھے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بخش دیا، وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پروان چڑھے اس کی خبر ان کے گھر والوںکو ملی تو ان کے باپ اور چچا انہیں آزاد کرانے کیلئے مکہ آئے اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگے: اے عبد المطلب کے فرزند اور اے ہاشم کے فرزند! اے اپنی قوم کے آقا کے فرزند !ہم آپ کے پا س اپنے فرزند کو لینے کے لئے آئے ہیں ہم پر احسان کیجئے اور اس کا عوض لینے سے در گز ر کیجئے! پیغمبر نے کہا کس کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ بولے : زید بن حارثہ کے متعلق، فرمایا: کیوں نہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں؟ بولے کیا کریں؟ فرمایا: اسے آواز دو اور اسے اپنے اختیار پر چھوڑ دو، اگر تمہیں اختیار کر لے تو تمہارا ہے اور اگر مجھے اختیار کر لے تو خدا کی قسم میں ایسا نہیںہوں کہ اگر کوئی مجھے منتخب کرے تومیں کسی اور کو ترجیح دوں، بولے : یقینا آپ تو حد انصاف سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں، آپ نے ہم پر مہربانی کی،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زید کو آواز دی اور فرمایا: ان لوگوں کو پہچانتے ہو کہا: ہاں ، یہ میرے والد اور وہ میرے چچا ہیں، فرمایا : میں بھی وہی ہوں جس کو پہچانتے ہواور میری مصاحبت کو دیکھاہے، ہم میں سے جس کا چاہو انتخاب کر لو، زید نے کہا: میں انہیں اختیار نہیں کرتا، میں ایسا نہیں ہوں کہ کسی اور کو آپ پر ترجیح دوںآپ میرے لئے باپ بھی ہیں اور چچا بھی،وہ سب بولے : تجھ پروائے ہو اے زید! کیا تم غلامی کو آزادی اور اپنے باپ اور گھر والوں پر ترجیح دیتے ہو؟ کہا: ہاں، میں نے ان میں ایسی چیز دیکھی ہے کہ کبھی کسی کو ان پر ترجیح نہیں دے سکتا، جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا دیکھا تو اسے بیت اللہ میں حجر کی طرف لے گئے اور فرمایا: اے حاضرین ! گواہ رہنا کہ زید میرا بیٹا ہے وہ میری میراث پائے گا اور میں اس کی ! جب زید کے باپ اور چچا نے یہ دیکھا تو مطمئن اور خوشحال واپس چلے گئے۔( ۱ )

اس واقعہ کے بعد زید پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منسوب ہو گئے اورلوگ انہیں زید بن محمد کہنے لگے۔ پیغمبر نے اپنی مربیہ کنیز'' ام ایمن'' کو ان کی زوجیت میں دیدیا اس سے مکہ میں اسامہ بن زید پیدا ہوئے ۔( ۲ )

____________________

(۱) اسد الغابة، ج۲ ص ۲۲۷۔۲۲۴

(۲) اسد الغابة ج۷ص ۳۰۳


یہ رسول خدا کے منھ بولے بیٹے زیدکی داستان تھی ،زینب سے پیغمبر کی شادی کا قصہ درج ذیل ہے ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب کا زید سے شادی کرنا

مدینہ ہجرت کرنے کے بعد کچھ صحابہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب سے شادی کا پیغام دیا اس نے اپنے بھائی کو اس سلسلے میں مشورہ کرنے کے لئے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں بھیجا ، پیغمبر نے فرمایا: جو اسے کتاب خدا اور اس کے پیغمبرکی سنت کی تعلیم دے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

زینب نے پوچھا: وہ شخص کون ہے؟ جواب ملا: زید! زینب ناراض ہوئیں اور بولیں: آیا اپنی پھوپھی زاد بہن کو اپنے غلام کی زوجیت میں دیں گے؟ میں اس کے ساتھ شادی نہیں کروں گی! میں خاندانی لحاظ سے اس سے بہتر ہوں میں کنواری اور اپنی قوم میں بے شوہر ہوں۔ پھر خدا وند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی:

( وما کان لمومن و لامومنة اذا قضی الله و رسوله امرا ان یکون لهم الخیرة من امرهم و من یعص الله و رسوله فقد ضل ضلالاً مبیناً )

کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو حق نہیں ہے کہ اللہ اور رسول جب کسی چیز کا فیصلہ کر دیں تو وہ اپنے اختیار کا مظاہرہ کرے اور جو خدا اور رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔

زینب نے جیسے ہی یہ آیت سنی راضی ہو گئیں، پیغمبر نے ان کو حبش کی رہنے والی سیاہ فام ام ایمن ( مادر اسامہ بن زید )کے بعد زید کی زوجیت میں دید یا، زینب زید پر اپنی فوقیت اور برتری جتاتیںاس پر سختی کرتیںاور اس سے بدسلوکی کرتی تھیں اور زبان سے اذیت دیتی تھیں، زید نے پیغمبر سے شکوہ کیا اور اس کوشش میں تھے کہ اسے طلاق دیدیں۔ خدا کی مرضی بھی یہی تھی کہ زید کے بعد زینب پیغمبر کی زوجیت میں آجائیں، تاکہ اس کے ذریعہ منھ بولے بیٹے کی رسم کو مسلمانوں کے درمیان سے ختم کر دے اور وحی کے ذریعہ پیغمبر کو اطلاع بھی دے دی تھی ، پیغمبر بھی اس بات سے ڈرتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی ہے بنا بر ایںوحی کے راز کو اپنے دل میں چھپائے رکھا اور زید سے فرمایا ،خدا سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو! آخر کار زید اپنی بیوی زینب سے تنگ آ گئے اور اسے طلاق دیدی اور جب عدۂ طلاق پورا ہو گیا تو یہ پوری آ یتیں یکبارگی پیغمبر پر نازل ہوئیںاور واقعہ سے آگاہ کیا اور منھ بولے فرزند کے حکم کوشریعت اسلامیہ میں اس طرح بیان کیا:


( فلما قضیٰ زید منها وطراً زوجنا کها لکی لا یکون علیٰ المؤمنین حرج فی ازواج ادعیائهم...٭ ما کان محمد أبا أحد من رجالکم و لکن رسول الله و خاتم النبیین... )

جب زید نے اس عورت سے کنارہ کشی کی اور اپنی بے نیازی کا اظہار کیا تو ہم نے اسے تمہارے حبالۂ زوجیت میں دیدیا تاکہ مومنین کے درمیان منھ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنے پر کوئی مشکل نہ پیدا ہو، محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔( ۱ )

خدا وند سبحان دیگر مومنین کے بارے میں بھی فرماتا ہے :

( وما جعل ادعیائکم ابنائکم ذلکم قولکم بأفوا هکم والله یقول الحق و هو یهدی السبیل٭ ادعوهم لآبائهم هو اقسط عند الله فأِن لم تعلموا آبائهم فأِخوانکم فی الدین و موالیکم )

خدا وند عالم نے تمہارے منھ بولے بیٹے کو تمہارا حقیقی فرزند قرار نہیں دیاہے ؛ یہ تمہاری اپنی گفتگو ہے جو منہ سے نکالتے ہو، لیکن خدا حق کہتا ہے اور وہی تمہیں راہِ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے، انہیں ان کے آباء کے نام سے پکار و کہ یہ خدا کے نزدیک انصاف سے زیادہ قریب ہے اور اگر ان کے آباء کو نہیںپہچانتے تو یہ لوگ تمہارے برادران دینی اور دوست ہیں۔( ۲ )

ہم نے گز شتہ بحثوں میں ان آیات کے دو نمونے پیش کئے ہیں جن کی تاویل میں علماء نے غلط فہمی کی ہے ، اس غلط فہمی کا باعث بھی یہ تھا کہ انہوں نے انبیاء پر افترا پردازی کرنے والی روایات پر اعتماد کیا،آئندہ بحث میں ہم ان آیات کو ذکر کریں گے جن کی تاویل میں بعض لوگوں نے( کسی روایت سے استناد کئے بغیر) غلط فہمی کی ہے ۔

____________________

(۱) احزاب ۴۰۔۳۷

(۲) احزاب ۵۔۴


ھ۔ جن آیات کی تاویل کے بارے میں غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں

۱۔ سورۂ طہ میں جہاں حضرت آدم کے عصیان کے بارے میں فرماتا ہے : (وعصیٰ آدم ربہ فغویٰ)آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ ہلاکت طے کی۔( ۱ )

۲۔سورۂ انبیاء میں جہاں حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑنے کے بارے میں فرمایا:(بل فعلہ کبیرھم) بلکہ ان کے بڑے (بت) نے یہ کام انجام دیا ہے جبکہ توڑنے والے آپ ہی تھے، جیسا کہ خداوند سبحان فرماتا ہے:

( فجعلهم جذاذاً الا کبیراً لهم لعلهم الیه یرجعون٭قالوا من فعل هذا بآلهتنا انه لمن الظالمین٭ قالوا سمعنا فتیً یذکرهم یقال له ابراهیم٭ قالوا فأتوا به علیٰ أعین الناس لعلهم یشهدون٭ قالوا أ أنت فعلت هذا بآلهتنا یا ابراهیم٭ قال بل فعله کبیرهم هذا فسئلوهم ان کانوا ینطقون٭ فرجعوا الیٰ انفسهم فقالوا انکم انتم الظالمون٭ ثم نکسوا علیٰ رؤوسهم لقد علمت ما هٰؤلاء ینطقون )

سر انجام سوائے بڑے بت کے تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ شاید اس کی طرف لوٹ کرآئیں، ان لوگوں نے کہا: جس نے ہمارے خدائوں کے اتھ ایسا سلوک کیا ہے، یقینا ستمگروں میں سے ہے، کہنے لگے: ا یک نوجوان جسے ابراہیم کہتے ہیں سنا ہے کہ وہ بتوںکاتذکرہ کر رہا تھا، لوگوں نے کہا: اسے لوگوں کے سامنے لائو تاکہ وہ لوگ گواہی دیں، انہوں نے کہا: اے ابراہیم !آیا تم نے ہمارے خدائوں کے ساتھ ایسا کیا ہے؟

جواب دیا: بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے: ان سے سوال کرو !اگر وہ جواب دیں، وہ لوگ اپنے وجدان سے کام لیتے ہوئے بولے: یقینا تم سب ستمگر ہوپھر سروں کو جھکا کر کہا کہ: تم خوب جانتے ہو کہ یہ بات نہیں کر سکتے۔

____________________

(۱) طہ ۱۲۱.


۳۔خدا وند عالم نے سورۂ یوسف میں خبر دی ہے کہ یوسف کے کار گزار نے ان کے بھائیوں سے کہا: (انکم لسارقون) یقینا تم لوگ چور ہو،جبکہ انہوں نے بادشاہ کا برتن نہیں چرایا تھا، کیونکہ خداوند عالم فرماتا ہے:

( فلما جهزهم بجهازهم جعل السقایة فی رحل أخیه ثم أذّن موذن ایتها العیر انکم لسارقون٭ قالوا و اقبلوا علیهم ماذا تفقدون٭ قالوانفقد صواع الملک و لمن جاء به حمل بعیر و انا به زعیم٭ قالوا تالله لقد علمتم ما جئنا لنفسد فی الارض وما کنا سارقین، قالوا فما جزا ؤه ان کنتم کاذبین٭ قالوا جزاؤه من وجد فی رحله فهو جزاؤ ه کذلک نجزی الظالمین٭ فبدأ بأوعیتهم قبل وعاء اخیه ثم استخرجها من وعاء أخیه کذلک کدنا لیوسف ما کان لیأخذ اخاه فی دین الملک الا ان یشاء الله نرفع درجات من نشاء و فوق کل ذی علم علیم٭ قالوا ان یسرق فقد سرق أخ له من قبل فأسرها یوسف فی نفسه و لم یبدها لهم قال انتم شر مکاناً و الله اعلم بما تصفون٭ قالوا یا ایها العزیز ان له اباً شیخاً کبیراً فخذ احدنا مکانه انا نراک من المحسنین )

اور جب ان کا سامان باندھ دیا، تو بادشاہ کا ایک( پانی پینے والا) ظرف ان کے بھائی کے سامان میں رکھ دیا ؛ پھر آواز دینے والے نے آواز لگائی: اے قافلے والو تم لوگ چور ہو وہ لوگ اس کی طرف مڑے اور بولے: آخر تمھاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ، ملازمین نے کہا:بادشاہ کاپیمانہ نہیں مل رہا ہے اور جو اسے لے کر آئے گا اسے ایک اونٹ کا بار غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، ان لوگوں نے کہا: خداکی قسم تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس شہر میں فساد کر نے کے لئے نہیں آئے ہیں؛ اور ہم چور نہیں ہیںانہوں نے کہا: اگر جھوٹے ثابت ہوئے تو سزا کیا ہے ؟ کہا: جس کے سامان میں پیمانہ ملے خود وہی اس چوری کی سزا ہے ہم ستمگروں کو ایسے ہی سزا دیتے ہیں، اس نے ان کے بھائی کے سامان کی تلاشی لینے سے پہلے ان کے دوسرے بھائیوں کے سامانوں کی تلاشی لی ، پھر اسے ( پیمانہ کو) ان کے بھائی کے سامان سے باہر نکالا؛ اس طرح سے ہم نے یوسف کے لئے چارہ جوئی کی!

وہ اپنے بھائی کو بادشاہی آئین کے مطابق پکڑ نہیں سکتے تھے، مگر یہ کہ خدا چاہے ! جس کے مرتبہ کو ہم چاہیں بلند کر دیں اور ہرصاحب علم سے برتر ایک عالم ہے ۔


بولے: اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ یوسف نے اس چیز کو اپنی اندر مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا،فرمایا تم لوگ سب سے بدترین جگہ اور مقام کے حامل ہو اور جو تم بیان کر رہے ہو خدااسے بہتر جانتا ہے : بولے: اے عزیز! اس کا ضعیف باپ ہے ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ رکھ لیجئے، ہم تمہیں احسان کرنے والا گمان کرتے ہیں۔( ۱ )

۴۔ خدا وند عالم نے سورۂ انبیا میں بھی خبر دی ہے کہ ''ذا النون'' پیغمبر ( یونس) نے اس طرح گمان کیا کہ خد اکبھی انہیں مشکل میں نہیں رکھے گا جیسا کہ وہاں فرمایا ہے:

( وذاالنون اذ ذهب مغاضباً فظن ان لن نقدر علیه فنادیٰ فی الظلمات ان لا الٰه الا انت سبحانک أِنی کنت من الظالمین٭ فاستجبنا له و نجیناه من الغم وکذلک ننجی المومنین )

اور ذالنون ( یونس) جب غصہ سے گئے اور ایساخیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے تو تاریکیوں میں آواز دی: تیرا سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو منزہ ہے : میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں تھا ہم نے ان کی دعا قبول کی؛ اور غم و اندوہ سے انہیں نجات دی اور ہم مومنین کو اس طرح نجات دیتے ہیں۔( ۲ )

۵۔ خدا وند عالم نے سورۂ فتح میں بھی خبر دی ہے کہ فتح مکہ کے بعد خاتم الانبیاء کے گز شتہ اور آئندہ گناہ بخش دئے گئے ہیں جہاں پر فرماتا ہے:

( انا فتحنا لک فتحاً مبینا٭ لیغفر لک ما تقدم من ذنبک وما تأخر و یتم نعمته علیک و یهدیک صراطاً مستقیماً٭ و ینصرک الله نصراً عزیزاً )

ہم نے تمہیں کھلی ہوئی کامیابی دی تاکہ خدا وند عالم تمہارے گز شتہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دے اور اپنی نعمت تم پر تمام کرے اور راہِ راست کی ہدایت کرے اور تمہیں شکست ناپذیر فتح و کامیابی عنایت کرے۔( ۳ )

یہ اور اس کے مانند آیات جن کی صحیح تاویل نہیں کر سکے اور ہم کلمات کی تفسیر اور بعض اصطلاحوں کی توضیح کے بعد ان کی چھان بین اور تحقیق کریں گے۔

____________________

(۱)یوسف ۷۸۔۸۰

(۲)انبیاء ۸۸۔۸۶

(۳) اعراف ۳۱


بعض کلموں اور اصطلاحوںکی تفسیر

اول۔بحث کی اصطلاحوں کی تعریف

الف۔ خدا کے اوامر اور نواہی: بعض خدا کے اوامر اور نواہی ذاتی امور سے متعلق ہیں اور ان کی مخالفت کے آثار صرف اورصرف دنیاوی زندگی میں آشکار ہوتے ہیں اور اخروی زندگی سے متعلق نہیں ہوتے ، جیسے:

( کلوا واشربواولا تسرفوا ) کھائو، پیو اور اسراف نہ کرو۔( ۱ )

اسراف: کسی بھی کام میں حد سے تجاوز اور زیادہ روی کو کہتے ہیں جسے انسان انجام دیتا ہے ، جیسے : پاکیزہ چیزوں کو زیادہ سے زیادہ کھاناپینا، انسان اس طرح کے اوامر و نواہی کی مخالفت کا اثر اپنی دنیاوی زندگی ہی میں دیکھ لیتا ہے اور اس کا ربط اس کی آخرت سے نہیں ہے اس طرح کے امر ونہی کو فقہی اصطلاح میں امر و نہی ارشادی کہتے ہیں۔

دوسرے اوامر و نواہی ایسے ہیں جن کا بجالاناواجب اور ترک حرام اور جس فعل سے روکا گیا ہے اس کے بجالانے کو ممنوع کہتے ہیں۔

اس طرح کے اوامر و نواہی کی مخالفت کے آثار روز آخرت سے مربوط اور عذاب کا باعث ہیں، انہیں فقہی اصطلاح میں امر ونہی مولوی کہتے ہیں، جیسے : نماز ،روزہ اور حج کا وجوب یا جوا، شراب اور ربا وغیرہ کی حرمت۔

ب۔ ترک اولیٰ: انسان کے افعال کے درمیان جو وہ انجام دیتا ہے کچھ اس طرح کے ہیں کہ اگر ان کی ضد بجالاتا تو بہتر ہوتا ، ایسے بہتر کے ترک کو ''ترک اولیٰ'' کہتے ہیں، جیسے اللہ کے نبیوں کے بعض افعال، جیسے آدم و موسیٰ علیہما السلام جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے انشاء اللہ آئندہ بحث میں آئے گا۔

ج۔ معصیت: معصیت اور عصیان، دونوںہی اطاعت سے خارج ہونے اور فرمان کے انجام نہ دینے کوکہتے ہیں، عاصی یعنی نافرمان۔

____________________

(۱)فتح ۳۔۱


جملوں میں لفظ( امر) کبھی معصیت کے مشتقات کے ذکر کے بعد آتا ہے ، جیسییہ بات سورۂ کہف میں حضرت موسیٰ اور خضر کی داستان میں آئی ہے اور بہ زبان موسیٰ فرماتاہے:

( ستجدنی ان شاء الله صابراً و لا اعصی لک ''امرا'' )

عنقریب مجھے خدا کی مرضی اور خواہش سے صابر پائو گے اور کسی امر میں تیرا مخالف اور نافرمان نہیں ہوں گا۔( ۱ )

اور جہنم کے کارندے، فرشتوں کی توصیف میں سورۂ تحریم میں ارشاد ہوتا ہے :

( علیها ملائکة غلاظ شداد لا یعصون الله ماأمرهم و یفعلون ما یؤمرون )

جہنم پر سخت مزاج اور بے رحم فرشتے مقرر کئے گئے ہیں جو کبھی خدا کے ''امر'' کی مخالفت نہیں کرتے اور جس پر وہ مامور ہیں عمل کرتے ہیں۔( ۲ )

کلمہ اور لفظ امر بیشتر اوقات جملہ میں معنی واضح ہونے کی وجہ سے استعمال نہیں کیا جاتا ہے جیسے خدا کا کلام سورۂ طہ میں :( و عصیٰ آدم ربه ) آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی یعنی آدم نے ''امر'' پروردگار کی نافرمانی کی۔( ۳ )

کبھی کبھی نافرمان شخص کا نام بھی جملہ میں نہیں لایا جاتا جیسے فرعون کے بارے میں سورہ ٔ نازعات میں آیا ہے :( فکذب و عصی ) پس اس (فرعون )نے تکذیب کی اور نافرمانی کی ۔

د۔ذنب: ذنب کی حقیقت ہر اس کام کا اثر اور نتیجہ ہے کہ جو آئندہ انسان کو نقصان دیتا ہے۔ یہ اثر کبھی بعض دنیاوی امور سے مخصوص ہوتا ہے اور طاقتوروں کی طرف سے ہوتا ہے جو انسانوں کو نقصان پہنچانے کی قدرت اور توانائی رکھتے ہیں، جیسا کہ موسیٰ کی گفتگو میں خدا سے مناجات کے موقع پر سورۂ شعراء میں ذکر ہوا ہے۔

( و اذ نادیٰ ربک موسیٰ ان ائت القوم الظالمین٭ قوم فرعون الا یتقون٭ قال رب انی اخاف ان یکذبون٭ و یضیق صدری و لا ینطلق لسانی فأرسل الیٰ هٰرون٭ و لهم علیِّ''ذنب'' فاخاف ان یقتلون٭ قال کلا فاذهبا بآیاتنا انا معکم مستمعون )

جب تمہارے رب نے موسیٰ کو آواز دی کہ ظالم اور ستمگر قوم فرعون کی طرف جائو، آیا وہ لوگ پرہیز نہیں کرتے؟!موسیٰ نے عرض کی: پروردگار ا! میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے جھوٹا نہ کہیں اور میرا دل

____________________

(۱)کہف ۶۹(۲) تحریم ۶(۳) نازعات ۲۱


تنگ ہو جائے اور زبان گویائی سے عاجزہو جائے لہٰذا یہ پیغام ہارون کے پاس بھیج دے ان کا میرے ذمہ ''ایک گناہ'' ہے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے مار نہ ڈالیں، فرمایا: ایسا نہیں ہے ، تم دونوں ہی ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں۔( ۱ )

موسیٰ کا کام ( گناہ) وہی قبطی شخص کو قتل کر ناتھا کہ جس کا ذکر سورۂ قصص کی آیات میں اس طرح آیا ہے:

( ودخل المدینة علیٰ حین غفلة من اهلها فوجد فیها رجلین یقتتلان هذا من شیعته و هذا من عدوه فاستغاثه الذی من شیعته علیٰ الذی من عدوه فوکزه موسیٰ فقضیٰ علیه قال هذا من عمل الشیطان انه عدو مضل مبین٭ قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفر له انه هوالغفور الرحیم٭ قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظهیراً للمجرمین٭ فأصبح فی المدینة خائفاً یترقب فاذا الذی استنصره بالامس یستصرخه قال له موسیٰ انک لغوی مبین٭ فلما ان اراد ان یبطش بالذی هو عدو لهما قال یا موسیٰ اترید ان تقتلنی کما قتلت نفساً بالامس ان ترید الا ان تکون جباراً فی الارض وما ترید ان تکون من المصلحین٭ و جاء رجل من اقصیٰ المدینة یسعیٰ قال یا موسیٰ ان الملأ یأتمرون بک لیقتلوک فاخرج انی لک من الناصحین٭ فخرج منها خائفاً یترقب قال رب نجنی من القوم الظالمین ) ( ۲ )

وہ جب اہل شہر غافل تھے شہر میں داخل ہو گئے، ناگہاں دو شخص کو آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھا؛ ایک ان کا پیرو تھا اور دوسرا دشمن، جوان کا پیر و تھا اس نے دشمن کے مقابل ان سے نصرت طلب کی؛ موسیٰ نے ایک زبردست گھونسا اس کے سینہ پر مارا اور کام تمام کر دیا۔ اور کہا: یہ شیطان کے کام سے تھا جو کھلم کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے پھر کہا: خدایا!میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے مجھے معاف کر دے! خدا نے اسے معاف کر دیا کہ وہ بخشنے والا ہے عرض کیا: خدایا جو تونے ہمیں نعمت دی ہے اس کے شکرانہ کے طور ر میں کبھی مجرموں کی حمایت نہیں کروں گا! موسیٰ شہر میں خوفزدہ اور چوکنا تھے کہ اچانک دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل نصرت کی درخواست کی تھی آواز دے رہا ہے اور ان سے مدد مانگ رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا: یقینا تم کھلم کھلا گمراہ انسان ہواور جب چاہا کہ اس پر سختی کریںجو دونوں کا مشترکہ دشمن تھا تواس نے کہا: اے موسیٰ! کیا مجھے مار ڈالنا چاہتے ہو جس طرح سے کل ایک انسان کو قتل کر ڈالا ہے؟!کیا چاہتے ہو کہ تم زمین پر صرف جبار بن کر

____________________

(۱)شعرائ۱۰۔۱۵

(۲)قصص۱۵.


رہو اور مصلح بن کر رہنانہیں چاہتے! اس اثناء میں شہر کے دور دراز علاقہ سے ایک مرد تیزی کے ساتھ آیا اور بولا اے موسیٰ قوم کے سردار تمہارے قتل کا پروگرام بنا رہے ہیں؛ باہر نکل جائو میں تمہارا خیر خواہ ہوں! موسیٰ خوفزدہ اورمحتاط انداز میں شہر سے باہر نکل گئے اور کہا: خدایا! مجھے اس ظالم قوم سے نجات دے۔

حضرت موسیٰ کا کام جو کہ قبطی کا قتل تھا اس کا اثر او ر نتیجہ یہی تھا کہ فرعونیوںنے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا۔

خدا کے مولوی اوامر اور نواہی کی نافرمانی کے زیادہ تر آثار اور نتائج آخرت میں انسان کے دامن گیر ہوں گے کبھی دنیا و آخرت دونوں میں دامن گیر ہوتے ہیںاور وہ خدا کے مقابل گستاخانہ گناہ ہیں۔

دوسرے۔ بعض کلمات کی تشریح

۱۔ ذالأ ید: قدرت مند

۲۔ اوّاب: جیسیتواب،خدا کی طرف توجہ کرنے اور لوٹنے والا وہ بھی گناہوں کے ترک اور فرمان کی انجام د ہی کے ساتھ۔

۳۔ لا تشطط: ظلم نہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو، شطط کے مادہ سے ،قضاوت میں ظلم و جور اور حد سے تجاوز کے معنی میں ہے ۔

۴۔اکفلنیھا:مجھے اس کا ولی اور سر پرست قرا دے اس کی نگہبانی اور حفاظت میرے حوالے کر دے۔

۵۔ عزّنی فی الخطاب: وہ گفتگو میں مجھ پر سختی سے پیش آیا ہے۔

۶۔ الخلطائ: دوستوں، پڑوسیوں اور شریکوں کے معنی میں ہے۔

۷۔ ظن: ظن وہ چیز ہے جو شواہد اور علامتوں سے حاصل ہوتا ہے ،کبھی یقین کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے ، جیسے ''وظن داؤد انما فتناہ'' داؤد نے یقین کیا کہ ہم نے اس کا امتحان لیا ہے اور کبھی ظن ، یقین سے دور حدس اور وہم کی حد میں استعمال ہوتا ہے ، جیسے( وما لهم بذلک من علم ان هم الا یظنون ) وہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں انہیں اسکا کوئی علم نہیں ہے بلکہ صرف حدس اور وہم کرتے ہیں۔

۸۔فتنّاہ: ہم نے اسے مبتلا کیا، آزمایا

۹۔خرّ : گر پڑا، خرّ راکعا یعنی رکوع میں گیا

۱۰۔ اناب: توبہ و انابت کی اور خدا کی پناہ مانگی، ابراہیم علیہ السلام کواس لحاظ سے منیب کہتے تھے کہ وہ اپنے امور میں خدا پر تکیہ کرتے اور اسی کی طرف رجوع کرتے تھے۔


۱۱۔ فغفرنا لہ: اس کی پوشش کی غافر اور غفور ،چھپانے والااور غفار مبالغہ کے لئے ہے، زرہ کا بعض حصہ جو ٹوپی کے نیچے رکھتے ہیں مغفر کہتے ہیں، اس لئے کہ سر اور گردن کو ڈھانک لیتا ہے، غفر اللہ ذنوبہ ، یعنی: خدا وند عالم نے اس کے گناہوں کو پوشیدہ کر دیا، یہ ڈھانکنا یا پوشیدہ کرنا، دینا اور آخرت میں گناہوں کے آثار کا مٹانا ہے ۔

۱۲۔ زلفیٰ: قرب و منزلت

۱۳۔ مآب: سر انجام ، اوب کا اسم زمان و مکان ہے ( اوب یعنی بازگشت)

۱۴۔ خلیفة: خلیفہ کے معنی کی تشریح گز ر چکی ہے اس کا خلاصہ اس طرح ہے۔

خلیفة اللہ قرآن میں اس معنی میں جیسا کہ بعض نے کہا ہے، نوع انسان کی خلافت زمین پر نہیں ہے بلکہ مراد: یہ ہے کہ لوگوں کی ہدایت اور ان کے درمیان قضاوت کرنے کے لئے خدا کی طرف سے برگزیدہ امام اور پیشوا؛ جیسا خدا وند متعال کی دائود سے گفتگو سے واضح ہے :

( یا داود انا جعلنا ک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق )

اے داؤد! ہم نے تم کو روئے زمین پر جانشین اور خلیفہ بنایا لہٰذا لوگوں کے درمیان حق (انصاف) کے ساتھ قضاوت کرو۔

۱۵۔ خیرة: اختیار اورانتخاب کا حق۔

۱۶۔ وطر: اس اہم ضرورت اور احتیاج کو کہتے ہیں کہ جب اسے پورا کردیتے ہیں تو کہتے ہیں: قضیٰ وطرہ اس کی ضرورت کو پورا کیا۔

۱۷۔ادعیائھم: ان سے منسوب لوگ، دعی: وہ شخص جس کو کسی قوم سے نسبت دیں اور وہ ان میں سے نہ ہو، اس کا بارز مصداق منھ بولا فرزند ہے۔

۱۸۔سنة اللہ: خدا کے اس نظام کو کہتے جو اس نے مخلوقات کے لئے معین و مقدر فرمایا ہے ، ''سنة اللہ فی الذین خلوا ''اس خدائی فرمان اور شریعت کو کہتے ہیں جو اس نے گز شتہ انبیاء پر نازل کی ۔

۱۹۔ قدراًمقدوراً: جس کو تدبیر کے ذریعہمعین کیا جائے، قدر اللہ الرزق اللہ نے محدود اور کم مقدار میں روزی قرار دی۔

۲۰۔ جذاذ: ٹکڑے ٹکڑے اور ٹوٹاہوا۔


۲۱۔ فتیٰ: شادا ب جوان، جو ابھی تازہ جوا ن ہوا ہوغلام اور کنیز کو بھی عطوفت، مہربانی اور دلجوئی کے عنوان سے فتیٰ کہا جاتا ہے نیز ہر جہت سے کامل مردوں کو بھی فتی کہا جاتا ہے، لیکن یہاں مراد نوجوان ہے۔

۲۲۔ نکسوا: ذلت و خواری کے ساتھ ان کے سر جھکا دئے گئے ۔

۲۳۔ سقایة: پانی پینے والے کے ظرف کو کہتے ہیںکہ کبھی پیمانہ کے کام بھی آتا ہے ۔

۲۴۔ عیر: بوجھ اٹھانے والے قافلے کو کہتے ہیں خواہ وہ مرد وں کا ہویا اونٹوں کا ۔

۲۵۔ صواع: پیمانہ، وہی پانی پینے کا ظرف جو ابھی گز ر چکا ہے ۔

۲۶۔ زعیم: ضامن اور کفیل کو کہتے ہیں۔

سوم ۔آیات کی تاویل

آیات کی تاویل بیان کرنے میں پہلے بعض موارد کی تاویل، اس کے لغوی معنیکی مناسبت سے کریں گے، اس کے بعد ائمہ اہل بیت کی روایات کو ذکر کریں گے۔

زبان عرب میں الفاظ کے معنی کی مناسبت سے آیات کی تاویل

الف۔ بتوں کے توڑنے کے بارے میں حضرت ابراہیم کے کلام کی تاویل: حضرت ابراہیم نے مشرکین سے فرمایا:( بل فعله کبیرهم هذا فاسئلوهم ان کانوا ینطقون ) بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے انجام دیا ہے اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔( ۱ )

حضرت ابراہیم نے اس بیان سے تو ریہ کیا ، کیونکہ ان کی بات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر بات کر سکتے ہیں تو ان کے بزرگ نے یہ کام کیا ہے ، یہ معنی بعد کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کہا:( لقد علمت ما هؤلاء ینطقون ) تم خوب جانتے ہو کہ یہ بات نہیں کرسکتے۔( ۲ )

ب۔ اس بات کی تاویل جو حضرت یوسف کے بھائیوں سے کہی گئی : اس بات سے مراد کہ یوسف کے

____________________

(۱)انبیائ۶۳

(۲)انبیاء ۶۵


بھائیوں کو چور کہا اور ان سے کہا:( ایها العیر انکم لسارقون ) اے قافلہ والو! تم لوگ چور ہو،یہ تھاکہ انہوں نے پہلے یوسف کو ان کے باپ سے چرایا تھا۔

بادشاہ کے پیمانہ کے بارے میں بھی کہا:( نفقد صواع الملک ) بادشاہ کا پیمانہ ہم نے گم کر دیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ بادشاہ کا پیمانہ چوری ہو گیا ہے ، اس بات میں بھی جیسا کہ ملاحظہ کر رہے ہیں تور یہ ہوا ہے.( ۱ )

ج۔ فتح کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی داستان: خدا وند سورۂ فتح میں فرماتا ہے :

( انا فتحنا لک فتحاً مبینا٭ لیغفر لک الله ما تقدم من ذنبک وما تاخر و یتم نعمته علیک و یهدیک صراطا مستقیما٭ و ینصرک الله نصراً عزیزاً٭ هو الذی انزل السکینة فی قلوب المؤمنین. ) ..)

ہم نے تمہیں کھلی فتح دی، تاکہ خدا وند عالم تمہارے اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخش دے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے اور راہ راست کی ہدایت کرے اور تمہیں کامیاب بنائے شکست ناپذیر کا میابی کے ساتھ وہی ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا کیا ہے ۔( ۲ )

کلمات کی تفسیر

۱۔ فتحنا: ہم نے کشادگی دی، فتح سے مراد یہاں پر صلح حدیبیہ ہے ، خدا وند عالم نے اس اعتبار سے فتح نام رکھا ہے کہ قریش کا اقتدار ختم ہو گیا وہ بھی اس طرح کہ اب پیغمبر سے دشمنی نہیں کر سکتے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ کرنے کے لئے لشکر آمادہ نہیں کرسکتے ، اس صلح کے بعد ہی پیغمبرنے مکہ پر فتح حاصل کی۔

۲۔ لیغفر: تاکہ پوشیدہ کرے، غفران لغت میں ڈھانکنے کے معنی میں ۔

۳۔ ذنبک: تمہارے کام کا خمیازہ اوربھگتان، نتیجہ، راغب مفردات میں فرماتے ہیں: ذنب در حقیقت کسی چیز کے آخری حصہ کا پکڑنا ہے ،''اذنبتہ''یعنی میں نے اس کا آخری حصہ پکڑ لیا، ''ذنب'' اس معنی میں ہر اس کام میں استعمال ہوتاہے جس کا نتیجہ بھیانک اور انجام خطرناک ہوتا ہے، ذنب کی جمع ذنوب آتی ہے ۔

آیت کی تاویل لغوی معنی کے مطابق

صلح حدیبیہ سے متعلق واقدی نے جو ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے :

____________________

(۱)یوسف ۷۰۔۷۲. مجمع البیان ج۳، ص ۲۵۲.

(۲) فتح ۴۔۱


حضرت عمر؛ حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں۔کہا: تو پھر کیوں ہم اپنے دین میں ذلت و رسوائی کا سامنا کررہے ہیں؟ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں لہٰذا کبھی اس کے فرمان کی مخالفت نہیں کروں گا اور وہ بھی کبھی ہمیں تباہ و برباد نہیں کرے گا، عمر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات نہیں مانی اور ابوبکر و ابو عبیدہ سے گفتگو کرنے لگے ان دونوں نے بھی اس کا جواب دیا،انہوں نے اس واقعہ کے بعد کہا: جس دن میں شک و تردید میں تھا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس طرح گفتگو کی کہ اس انداز میں کبھی ان سے ہمکلام نہیں ہوا تھا...( ۱ )

صلح حدیبیہ کے بعد سورۂ فتح نازل ہوا اور اعلان کیا کہ یہ صلح پیغمبر اور مسلمانوں کے لئے عین کامیابی ہے ، جسے مشرکین نے پیغمبر کا گناہ شمار کیا ہے وہ عین صواب اور درستگی ہے ،یعنی مشرکین کوسفیہ کہنا اورمکہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ان کے خدائوں پر اعتراض کرنا اور اس کے بعد جنگ بدر وغیرہ میں جو جنگ و جدال ہوئی سب کچھ حق اور خدا کی مرضی کے مطابق تھا۔ خدا وند عالم نے مشرکین کے تمام خیالات کواس صلح سے جو اتنی بڑی فتح و کامرانی ہے نابود اور فنا کر دیااور اس سورہ میں خدا کی گفتگو کہ جس میں فرماتا ہے :(ما تقدم من ذنبک وما تاخر) آپ کے گز شتہ اور آئندہ گناہ، یہ ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت موسیٰ کے قول کی حکایت سورہ شعراء میں کی ہے کہ فرمایا:( ولهم علی ذنب فأخاف ان یقتلون ) ان کامیرے ذمہ گناہ ہے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے قتل نہ کردیں، یعنی میں ان کے خیال میں گناہ گارہوں۔

____________________

(۱) مغازی واقدی ج۲ ص ۶۰۶۔۶۰۷، ج۳ ص ۱۹۰ سورۂ فتح کی تفسیر میں ۔


ائمہ اہل بیت کی روایات میں آیات کی تاویل

صدوق نے ذکر کیا ہے :عباسی خلیفہ مامون نے مذاہب اسلام کے صاحبان فکرو نظر نیز دیگر ادیان کے ماننے والے یہود ، نصاریٰ ، مجوس اور صابئین کو آٹھویں امام حضرت علی بن موسیٰ الرضا سے بحث کرنے کے لئے جمع کیا ،ان کے درمیان علی بن جہم جواسلامی مذہب کا صاحب نظر شمار ہوتا تھا اس نے امام سے سوال کیا اور کہا: اے فرزند رسول! کیاآپ لوگ انبیاء کو معصوم جانتے ہیں؟ فرمایا: ہاں، کہا: پھر خد اوند عالم کے اس کلام

کے بارے ،میں کیاکہتے ہیںکہ فرماتاہے :(و عصی آدم ربہ فغوی) آدم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور جزاسے محروم ہو گئے؟( ۱ ) اور یہ کلام جس میں فرماتا ہے:( وذا النون اذ ذهبمغاضبا فظن ان لن نقدر علیه ) ؛ اور ذا النون( یونس کہ ) غضبناک چلے گئے اور اس طرح گمان کیا کہ ہم ان پر سختی نہیں کریں گے۔( ۲ ) اور یہ کلام کہ یوسف کے بارے میں فرماتا ہے :(ولقد ھمت بہ وھم بھا) اس عورت نے یوسف کا اور یوسف نے اس عورت کا ارادہ کیا؟( ۳ ) اور جو داؤد کے بارے میں فرمایا ہے:( و ظن داود انما فتناه ) اور داؤد نے خیال کیا کہ ہم نے اسے مبتلا کیا ؟( ۴ ) اور اپنے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں کہ فرمایا:( و تخفی فی نفسک ما الله مبدیه و تخشی الناس و الله احق ان تخشاه ) آپ دل میں ایک چیز پوشید رکھتے تھے جبکہ خد انے اسے آشکار کر دیااور لوگوں سے خوفزدہ ہو رہے تھے جبکہ خدا اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے؟( ۵ )

آپ ان آیات کے بارے میں کیا فرماتے ہیں اور ا س کاکیا جواب دیتے ہیں:

امام علی بن موسیٰ الرضا نے فرمایا: تم پر وائے ہو اے علی! خدا سے ڈرو اور برائی کی نسبت اللہ کے انبیاء کی طرف مت دو اور کتاب خدا کی اپنی ذاتی رائے سے تاویل نہ کرو۔ خدا وند عز و جل فرماتا ہے :( وما یعلم تأویله الا الله و الراسخون فی العلم ) خدا اور راسخون فی العلم کے علاوہ کوئی آیات کی تاویل کا علم نہیں رکھتا ہے ۔( ۶ )

لیکن جو خدا نے حضرت آدم کے بارے میں فرمایا ہے :( وعصی ٰآدم ربه فغوی ) ایسا ہے کہ خدا نے آدم کی تخلیق کی تاکہ زمین پر اس کی طرف سے جانشین اور خلیفہ ہوں، انہیں اس بہشت کے لئے خلق نہیں کیا تھا، آدم کی نافرمانی اس بہشت میں تھی نہ کہ اس زمین پر اور وہ اس لئے تھی کہ تقدیر الٰہی انجام پائے، وہ جب زمین پر آئے اور خد اکے جانشین اور اس کی حجت بن گئے تو عصمت کے مالک ہو گئے، کیونکہ خدا وند عالم نے فرمایا ہے :( ان الله اصطفی آدم و نوحاً و آل ابراهیم و آل عمران علٰی العالمین ) خدا نے آدم، نوح،آل ابراہیم اور آل عمران کو عالمین پر فوقیت دی ۔( ۷ ) لیکن جو اس نے حضرت یونس کے بارے میں فرمایا ہے :

____________________

(۱)طہ۲۱۱(۲)انبیائ۸۷(۳)یوسف۲۴(۴)ص۲۴(۵)احزاب۳۷(۶)آل عمران۷(۷)آل عمران۳۳


( و ذا النون اذذهب مغاضبا فظن ان لن نقدرعلیه )

اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا کہ انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ خدا ان کے رزق کو تنگ نہیں کر سکتا، کیا تم نے خد کا یہ کلام نہیں سنا ہے کہ فرمایا:( واما اذا ما ابتلاه فقدر علیه رزقه ) لیکن جب انسان کا امتحان لیتا ہے تو اس کے رزق کو کم کر دیتا ہے ؟( ۱ ) یعنی اسے تنگی معیشت میں مبتلا کر دیتا ہے، اگر یونس واقعی طور پر ایسا خیال کرتے کہ وہ اس پر قدرت اور قابو نہیں رکھتا ہے تو وہ کافر ہو گئے ہوتے۔

رہی خدا کی گفتگو حضر ت یوسف کے بارے میں کہ فرمایا ہے : (ولقد ھمت وھم بھا) اس عورت نے یوسف کا اور یوسف نے اس عورت کا قصد کیا یعنی اس عورت نے گناہ کا قصد کیا اور یوسف نے اس کے قتل کا اگر مجبور کرتی تو ،چونکہ عظیم مخمصہ میں پڑ گئے تھے تو خدا نے اس عورت کے قتل اور فحشاء سے دور کر دیا۔

جیسا کہ فرمایا:( کذلک لنصرف عنه السوء و الفحشائ ) ہم نے ایسا کیا تاکہ بدی یعنی قتل اور فحشاء یعنی زنا کوان ( یوسف) سے دور کر یں۔

لیکن داؤد کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟ علی بن جہم نے کہا: کہتے ہیں: داؤد محراب عبادت میں نمازپڑھ رہے تھے کہ ابلیس خوبصورت ترین اور خوشنما پرندہ کی شکل میں ظاہر ہوا انہوں نے نماز توڑ دی اور پرندے کو پکڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے پرندہ گھر میں داخل ہو گیا انہوں نے پیچھا کیا اڑ کر چھت پر بیٹھ گیا اس کے چکر میں اوپر گئے، پرندہ اور یا بن حنان کے گھر میں داخل ہو گیا نظروں سے تعاقب کیااچانک ''اوریا'' کی بیوی پر غسل کی حالت میں نظر پڑ گئی جب اس پر نظر پڑی دلباختہ اور فریفتہ ہو گئے ایسااس وقت ہوا جب کہ اوریا کو اس سے پہلے کسی جنگ میں بھیج چکے تھے پھر لشکر کے کمانڈر کو لکھا کہ اوریا کو لشکر کی پہلی صف اور محاذ کے مدمقابل رکھنا اوریا پہلی صف میں جنگ کرنے کے لئے روانہ ہو گیا اور مشرکوں پر فتح حاصل کی تو یہ فتح داؤد پر بہت گراں گز ری، دوبارہ خط لکھا کہ اوریا کو تابوت کے آگے آگے جنگ کے لئے روانہ کرو ''اوریا''( خدا اس پر رحمت نازل کرے) مار دیا گیا اور داؤد نے اس کی بیوی سے شادی رچا لی، امام نے یہ باتیں سن کر اپنا منھ پیٹ لیااور کہا:انا للہ و انا الیہ راجعون یقینا تم نے خدا کے نبی پر یہاں تک کہ تہمت لگائی اور افترا پر دازی سے کام لیا ،کہ انہوں نے نماز میں لاپرواہی برتی اورپرندہ کے چکر میں پڑ گئے اور برائی

____________________

(۱)فجر۱۶


میں ملوث ہو گئے اور بے گناہ کے قتل کا اقدام کیا!! علی بن جہم نے پوچھا: اے فرزند رسول! پھر حضرت داؤد کی خطا کیا تھی؟ امام نے فرمایا: تم پروائے ہو! داؤد کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے خیال کر لیا تھا خدا نے ان سے زیادہ عاقل و دانا مخلوق پیدا نہیں کی ہے ، خداوندعالم نے دو فرشتوں کو بھیجا وہ دونوں تاکہ ان کی محراب عبادت میں داخل ہوئے اور کہا:

( خصمان بغی بعضنا علیٰ بعض فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط و اهدنا الیٰ سواء الصراط٭ ان هذا اخی له تسع و تسعون نعجة و لی نعجة واحدة فقال اکفلنیها و عزنی فی الخطاب )

ہم دو آدمی شاکی ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے ؛ اس وقت ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں اور ظلم و ستم روانہ رکھیںاور ہمیں راہ راست کی ہدایت کریں! یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس۹۹ بھیڑیں ہیں اورمیرے پاس ایک ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس ایک کو بھی میں اسے دیدوں اوریہ گفتگو میں مجھ پر غالب آ گیا ہے ۔( ۱ )

داؤدنے (ع) مدعی علیہ کے بر خلاف قضاوت کرنے میں عجلت سے کام لیااور کہا: (لقد ظلمک بسوال نعجتک الیٰ نعاجہ)یقینا اس نے تم سے بھیڑ کا سوال کر کے تم پر ظلم کیا ہے اور مدعی سے اس کے دعویٰ پر دلیل اور بینہ طلب نہیں کیا ا ور مدعی علیہ کی طرف توجہ نہیں کی کہ اس سے بھی پوچھتے: تم کیا کہتے ہو؟ یہ داود کی خطا قضاوت میں تھی نہ کہ وہ چیز جس کے تم لوگ قائل ہوئے ہو۔

کیا خدا وند عالم کا کلام تم نے نہیں سنا کہ فرماتا ہے:( انا جعلناک خلیفة فی الارضفاحکم بین الناس بالحق ) اے داؤد! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ قرار دیا لہٰذا لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ قضاوت کرو۔( ۲ )

علی بن جہم کہتا ہے: میں نے کہا: اے فرزند رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پھر'' اوریا'' کی داستان کیا ہے ؟ امام رضا نے فرمایا: داؤد کے زمانہ میں عورتوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا شوہر مر جاتا تھا یا قتل کر دیا جاتا تھا تو وہ کبھی شوہر نہیں کرتی تھیں، یہ سب سے پہلے آدمی ہیں جن کے لئے خدا وند عالم نے روا رکھا کہ اس عورت سے شادی کریں جس کا شوہر مارا گیا تھا یہ وہ چیز ہے جو لوگوں کو'' اوریا'' کے بارے میں گراں گزری۔( ۳ )

____________________

(۱)ص۲۲۔۲۳

(۲) ص ۲۶

(۳)بحارج۱۱ص۷۳۔۷۴ نقل از امالی صدوق و عیون اخبار الرضا.


داستان جناب دائود کے سلسلہ میں حضرت امیر المومنین سے مروی ایک مخصوص روایت کہ آپ نے فرمایا: اگر کسی کو میرے پاس لایا جائے اور وہ یہ کہے کہ دائود نے'' اوریا'' کی بیوی سے شادی کی ہے تو میں اس کو دو ہری حد لگائوں گا ایک حد نبوت کی خاطر اور ایک حد مقام اسلام کی خاطر یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ اوریا کی شہادت سے پہلے دائود نے اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۔( ۱ )

اوردوسری روایت میں فرماتے ہیں: جو بھی قصہ گو لوگوں کی طرح داؤد کی داستان روایت کرے گا تو میں اس کو ایک سو ساٹھ تازیانے لگائوں گا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ حد انبیاء پر افترا پر دازی کی ہے( ۲ )

صدوق نے اسی طرح کی روایت امام جعفر صادق سے بھی ذکر کی ہے :

آٹھویں امام علی بن موسیٰ الرضا سے ایک دوسری روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: حضرت داؤد کے زمانے میں عورتوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا شوہر مر جاتا یا قتل ہو جاتا تھا ؛ تو اس کے بعد شادی نہیں کرتی تھیں اور کسی کی زوجیت قبول نہیں کرتی تھیں اور سب سے پہلا شخص جس کے لئے خدا نے یہ روا رکھا اور جائز کیا وہ داؤد تھے کہ ایک ایسی عورت سے شادی کریں جس کا شوہر مر گیا تھا، انہوں نے ''اوریا'' کے انتقال اور عدۂ وفات تمام ہونے کے بعداس کی بیوی سے شادی کی، یہ چیز ہے جو اوریا کے مرنے کے بعد لوگوں پر گراں گز ری۔( ۳ )

مولف کہتے ہیں: اگر کہا جائے کہ جو آپ نے روایت ذکر کی ہے اور جو علی بن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے دونوں میں منافات ہے، اس روایت کا خلاصہ یہ ہے :

حضرت داؤد محراب عبادت میں نماز پڑ ھ رہے تھے کہ اچانک ایک پرندہ آپ کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور اس نے انہیں اس درجہ حیرت میں ڈال دیا کہ انہوں نے نماز ترک کر دی اور اس کو پکڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، پرندہ اڑ کر وہاں سے داؤد اور'' اوریا'' کے گھر کے درمیان واقع دیوارپر بیٹھ گیا، داؤد اوریا کو محاذ جنگ پر بھیج چکے تھے، داؤد دیوار کے اوپر چڑھے تاکہ اسے پکڑ لیں اچانک ایک عورت کو غسل کرتے دیکھا جب اس عورت نے ان کا سایہ دیکھا اپنے بالوں کو پریشان کر کے اپنے جسم کو چھپا لیا داؤد اس کے گرویدہ ہو گئے اور اس کے بعد اپنی محراب عبادت میں لوٹ آئے اور لشکر کے کمانڈر کو لکھا کہ فلاں جگہ اور فلاں مقام کی طرف جائے اور تابوت کو اپنے اور دشمن کے درمیان قرار دے اور اور یا کو تابوت کے آگے

____________________

(۱)تفسیر آیہ :مجمع البیان ، نورالثقلین ، تنزیہ الانبیاء .(۲)تفسیر خازن۳۵۴، تفسیر رازی ۱۹۲۲۲، نور الثقلین۶۴

(۳)بحار ۲۴۱۴، نور الثقلین۴۴۶۴،نقل از عیون اخبار الرضا


بھیجے، اس نے ایسا ہی کیا اور اوریا قتل کر دیا گیا وغیرہ۔( ۱ )

توہم جواب دیں گے: اس روایت کو راوی نے مکتب خلفاء میں وارد متعدد روایتوں سے جمع اور تلفیق کی ہے اور اپنے خیال سے اس پر اضافہ کیاہے، پھر اما م صادق کے بقول روایت کیا ہے، ابھی ہم اس روایت کے متن کی تحقیق اور بررسی سند کی جانب اشارہ کئے بغیر کرتے ہیں۔

۱۔امام صادق نے خود ہم سے فرمایا: دو ایسی حدیثیں جو آپس میں معارض ہوں ان میں سے جو عامہ (سنی) کے موافق ہو اسے چھوڑ دو اور اس پر اعتماد نہ کرو۔( ۲ )

۲۔ اوریا کی داستان سے متعلق امام جعفر صادق سے ہم تک ایک روایت پہنچی ہے کہ جب حضرت سے سوال کیا گیا :

لو گ جو کچھ حضرت داؤد اور اوریا کی بیوی کے متعلق کہتے ہیں اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: یہ وہی چیز ہے جو عامہ( مکتب خلفاء کے ماننے والے) کہتے ہیں۔

امام جعفر صادق اس حدیث کی تصریح کرتے ہیں کہ لوگوں کی داؤداور'' اوریا'' کی بیوی سے متعلق باتوںکا سر چشمہ عامہ ہیں، یعنی مکتب خلفاء کے پیرو ہیں لہٰذا یہ بات یقینی طور پر ان کے مکتب سے مکتب اہل بیت کی کتابوں میں داخل ہو گئی ہے اور ہم ان روایات کو اپنی جگہ پر''روایات منتقلہ '' یعنی مکتب خلفاء سے نقل ہو کر مکتب اہل بیت میں آنے والی روا یات کانام دیتے ہیں۔( ۳ )

اگر اس روایت کا ماخذ و مدرک کتب تفاسیر اور تاریخ میں تلاش کر یں( ۴ ) تو سمجھ لیں گے کہ اس روایت کو روایوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل نہیں کیا ہے او ر یہ نہیں کہا ہے کہ اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے ،جز ایک روایت کے کہ سیوطی نے مورد بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں یزید رقاشی سے اور اس نے انس سے روایت کی ہے اور ہم نے اس کے باطل ہونے کو اس بحث کے آغاز میں واضح کر دیا ہے ۔

رہی زید اور زینب کی داستان، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زینب کی زید سے شادی کر کے دور جاہلیت کے نسبی برابری کے قانون اور خاندانی و قبائلی تفریق کو توڑ دیا اوراس کو اسلامی مساوات کے قانون میں تبدیل کر دیا،

____________________

(۱)بحار۲۳۱۴،از تفسیر قمی (۵۶۲۔۵۶۵)اس کا تتمہ اسرائلیات نامی کتاب اور اس کا اثر تفسیر کی کتابوں میں طبع اول ، بیروت ، ص ۲۳۳، میں ملاحظہ کریں .(۲)کتاب معالم المدرستین،ج ۳، ص ۳۳۶.(۳) بحث '' روایات منتقلہ '' جلد دوم،''القرآن الکریم و روایات المدرستین '' ملاحظہ ہو۔(۴)آیت کی تفسیر کے بارے میں تفسیر طبری، قرطبی ،ابن کثیر اور سیوطی ملاحظہ ہو


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس عظیم توفیق کے بعد خدا کی طرف سے مامور ہوئے کہ زید کی مطلقہ سے شادی کرکے منھ بولے بیٹے کے قانون کو بھی توڑیں جو کہ زمانۂ جاہلیت کا مشہور اصول تصور کیا جاتاتھا اورپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ کام جناب داؤد کے کام سے بہت مشابہ ہے کہ انہوں نے اوریا کی بیوی سے شادی کرکے جاہلیت کے قانون کو توڑکر اسلامی قوانین میں تبدیلکر دیا تمام انبیاء کرام احکام اسلامی کے اجراء کرنے میں ایسے ہی ہیں۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قانون ربا (سود) کو باطل کرنے اور ''اعراب جاہلی کے خون بہا'' کے قانون کو توڑ نے میں بھی ایسا ہی کیا اور اپنے چچا عباس کے ربا کے عنوان سے حاصل شدہ منافع کو مردود شمار کیااور اپنے چچا زاد بھائی ربیعہ کے خون کے ضائع (عدم قصاص) ہونے کا اعلان حجة الوداع کے موقعہ پر کیا۔( ۱ )

یہ داؤد نبی کی'' اوریا ''کی بیوہ سے شادی اور حضرت خاتم الانبیاء کی منھ بولے بیٹے زید کی مطلقہ بیوی زینب سے شادی کا نچوڑ اور خلاصہ تھا، لیکن افسوس یہ ہے کہ اسرائیلی روایتیں انبیاء کی داستانوں کی تاویل میں اور جعلی روایات اس کے علاوہ دوسری چیزوں کی تاویل میں بعض کتب تفسیر اسلام اورتحقیقی مآخذ میں محققین کی صحیح رائے اور درست نظر کے لئے مانع بن گئی ہیں اور حق کوباطل اور باطل کو حق بنا دیا ہے۔ یہ روایات خاص کر اس وجہ سے مشہور ہو گئیں اور اسلامی سماج کے متوسط طبقہ میں رائج ہو گئیں تاکہ بعض حاکم گروہ کے جنایات کی توجیہ ہو سکے جو کہ شہوت پرستی اور ہوس رانی میں اپنی مثال آپ تھے جس طرح کہ بڑے بڑے گناہوںکا معاویہ اور یزید بن معاویہ اور اس جیسے مروانی خلفاء سے صدوراس بات کا باعث بناکہ عامہ انبیاء اور اللہ کے رسولوں کی طرف بھی گناہوں کی نسبت دینے لگے اور ان سے عصمت کو سلب کر لیا اور قرآنی آیات کی ان کے حق میں اس طرح تاویل کی کہ بعض خلفاء پر کوئی اشکال اور اعتراض نہ ہو۔

الٰہی مبلغین کے صفات کی تحقیق اور اس بحث کے خاتمہ کے بعد مناسب ہے کہ آئندہ بحث میں اپنے زمانہ کے ان کی طاغوتوں اور سرکش دولت مندوں سے ان کی جنگ اور مبارزہ کی روش کے متعلق تحقیق کریں۔

____________________

(۱) سیرہ ابن ہشام طبع مصر ۱۳۶۵ھ ،۲۷۵۴ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے حجة الوداع کے خطبہ میں فرمایا: (...ہر قسم کا ربا اور سود اٹھا لیا گیا ہے لیکن اصل سرمایہ تمہاری ملکیت ہے نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی کسی کے ظلم کا شکار ہو خدا کا حکم یہ ہے کہ کوئی ربا نہ ہو، نیز عباس بن عبد المطلب کا ربا سارے کا سارا اٹھا لیا گیا ہے اور تمام جاہلیت کا خون بھی، سب سے پہلا خون جو تمہاری گردن سے اٹھاتا ہوں وہ ہمارے چچا زاد بھائی ربیعہ بن حرث بن عبد المطلب کے بیٹے کا ہے ( ربیعہ کا بیٹا رضاعت کے زمانہ میں قبیلۂ بنی لیث میں تھا جسے قبیلۂ ہذیل نے مار ڈالا تھا)۔


۸

انبیاء کے مبارزے

ربوبیت کے سلسلے میں انبیا ء علیہم السلام کے مبارزے

ادیان آسمانی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اکثر جباروں اور ستمگروں کی نزاع اور کشمکش کا محور جو انبیاء کے مقابلے میں آتے تھے''خدا کی ربوبیت'' اور اس کی پروردگار ی تھی نہ کہ ''خالقیت'' کیونکہ بیشتر قومیں اس بات کا عقیدہ رکھتی تھیں کہ ''اللہ'' تمام موجودات کا خالق ہے اگر چہ کبھی اس کا دوسرانام رکھ دیتے تھے، جیسے یہود کہ ''اللہ'' کو ''یہوہ'' کہتے تھے جیسا کہ خداوند عالم نے ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے:

۱۔( ولئن سألتهم من خلق السمٰوات و الارض لیقولن الله )

اور اگر ان سے سوال کروگے کہ زمین و آسمان کو کس نے خلق کیا ہے تو وہ کہیں گے: اللہ نے!( ۱ )

۲۔( ولئن سألتهم من خلق السمٰوات و الارض لیقولن خلقهن العزیز العلیم )

اور اگر ان سے سوال کروگے کہ زمین و آسمان کو کس نے خلق کیا ہے تو وہ کہیں گے: قادر اور دانا خدا نے اسے خلق کیا ہے ۔( ۲ )

۳۔( ولئن سألتهم من خلقهم لیقولن الله فأنیٰ یؤفکون )

اگر ان سے سوال کروگے کہ ان کو کس نے خلق کیا ہے تو وہ کہیں گے: اللہ نے! پھر کس طرح اس سے منحرف ہو جاتے ہیں؟( ۳ )

ہم اس بحث کو فرعون سے موسیٰ کلیم کے مبارزہ سے شروع کرتے ہیں کیونکہ اسمیں تصاد م اورمبارزہ کے تمام پہلو مکمل طور پر واضح ہیں۔

موسیٰ کلیم اللہ اور فرعون

حضرت موسیٰ علیہ السلام اوران کے زمانے کے طاغوت فرعون کی داستان قرآن کریم میں باربار ذکر

____________________

(۱) لقمان ۲۵(۲)زخرف ۹(۳)زخر ف ۸۷


ہوئی ہے ، منجملہ ان کے سورۂ نازعات میں ہے: فرعون نے آیات الٰہی کو دیکھنے اور حضرت موسیٰ کے اس پر حجت تمام کرنے کے بعد مصر کے ایک عظیم گروہ کو اکٹھا کیا اور ان کے درمیان آواز لگائی :

( انا ربکم الاعلیٰ ) میں تمہارا سب سے بڑارب ہوں ۔( ۱ )

فرعون اپنے اس نعرہ سے درحقیقت یہ کہنا چاہتاہے : مثال کے طور پر اگر پالتو پرندہ ایک پالنے والا رکھتا ہے جو اس کا مالک ہوتا ہے، جو اسے کھانا، پانی دیتا ہے، نیز اس کی زندگی کے لئے نظام حیات مرتب کرتا ہے تو میں فرعون بھی تمہاری نسبت اسی طرح ہوں وہ کہتا ہے :( الیس لی ملک مصر و هذه الانهار تجری من تحتی ) کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اورکیایہ نہریں میرے حکم کے تحت جاری نہیں ہوئی ہیں؟( ۲ )

فرعون اس وقت پورے مصر اور اس کے اطراف اور متعلقات کا مالک تھا، اس لحاظ سے اس نے خیال کیا کہ مصریوں کو غذاوہ دیتا ہے ، وہ ہے جو سب کی ضرورتوں کو برطرف کرتا ہے اور ان کی امداد کرتا ہے،لہٰذا ، وہ ان کا مربی اور پرورش کرنے والا ہے ان کا نظام حیات اس کی طرف سے معین ہونا چاہئے اور جو قانون بنائے-مثال کے طور پر-کہ تمام بنی اسرائیل، اہل مصر کے خادم رہیں گے، یہ وہی دین اور شریعت ہے کہ جس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ فرعون کے قول کا مطلب اس فقرے سے :(انا ربکم الاعلیٰ) یہی ہے اس نے اپنے کلام میں زمین و آسمان نیز تمام موجودات کو خلق کرنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے ۔

لیکن موسیٰ کلیم اللہ اس سے کیا کہتے ہیں؟ اوران کی اور ان کے بھائی ہارون کی رسالت، فرعون کو ا للہ کاپیغام پہنچانے میں کیا تھی؟ خدا وند عالم نے ان دونوں موضوع سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوتے فرمایا:

( اذهبا الیٰ فرعون انه طغیٰ...فأتیاه فقولا انا رسولا ربک فأرسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبهم قد جئناک بآیة من ربک )

فرعون کی طرف جائو اس لئے کہ وہ سرکش ہو گیا ہے ...اس کے پا س جائو اور کہو: ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں، لہٰذا بنی اسرئیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں عذاب نہ دے، ہم تیرے پروردگار کی طرف سے روشن علامت کے ساتھ آئے ہیں۔( ۳ )

____________________

(۱)نازعات ۲۴

(۲) زخرف ۵۱

(۳) طہ ۴۷۔۴۳


خدا وند عالم اس آیت میں فرماتا ہے : اے موسیٰ اور اے ہارون! فرعون کے پاس جائو اور کہو ہم دونوں تیرے رب کے فرستادہ ہیں جس نے تجھے خلق کیا اور تیری پرورش کی ہے اور کمال تک پہنچایا ہے ، اس سے کہو: اے فرعون تو '' اپنے ادعاء ربوبیت'' میں خطا کا شکار ہے! ہم اپنی بات کی صداقت اور حقانیت پر تیرے رب کی طرف سے اپنے ہمراہ روشن دلیل لیکر آئے ہیں۔

لیکن فرعون حضرت موسیٰ سے خدا کی آیات اور نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد جنگ و جدال اور بحث و مباحثہ پر اتر آیا اور بولا: اگر تم میری ربوبیت کے قائل نہیں ہو اور کہتے ہو''ربوبیت'' میرے علاوہ کسی اور کا حق ہے اور ہمیں چاہئے کہ نظام حیات اسی سے حاصل کریں تو، یہ ''رب'' جس کے بارے میں تمہارا دعویٰ ہے وہ کون ہے؟

( فمن ربکما یا موسیٰ ) ( ۱ ) اے موسیٰ تم دونوںکا رب کون ہے ؟

قرآن کریم نے یہاں پر موسیٰ کے ذریعہ جوفرعون کا جواب نقل کیا نہایت ہی ایجاز اور اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا:( ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقه ثم هدی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر موجود کو اس کے تمام لوازمات سمیت خلق کیا، پھر اس کے بعد ہدایت کی۔( ۲ )

یعنی تمام چیز کی تخلیق بکمالہ و تمامہ انجام دی ہے، خدا وند عالم سورہ''اعلیٰ'' میں اس تمامیت کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتاہے : ''فسوّی '' اس نے مرتب اور منظم کیا۔ یعنی اسے ہدایت پذیری کے لئے آمادہ کیا پھر''( قدر فهدی'' اس نے اندازہ گیری کی اور ہدایت کی ۔( ۳ )

یعنی ہر مخلوق کو اس کی فطرت اور ذات کے تناسب اور مناسب اندازہ کے ساتھ پیدا کیا اور ہدایت کی اور تمامخلق میں آدمیوں کی پیغمبروں کے ذریعہ ہدایت کی۔

فرعون اس بات پر آمادہ ہوا کہ موسیٰ کے اس استدلال میں شک و شبہہ ڈال دے اس نے کہا:( فما بال القرون الاولیٰ ) پھر گز شتہ نسلوں کی تکلیف کیا ہوگی؟( ۴ ) یعنی اگر تمہارا رب لوگوں کو پیغمبروں کے ذریعہ اس نظام کی طرف ہدایت کرتا ہے جو اس نے ان کے لئے مقرر کیا ہے تو اس پروردگار نے گز شتہ نسلوں کو کس طرح ہدایت کی ہے؟ جو رسول ان کی طرف مبعوث ہوئے ہیں وہ کون ہیں؟ ان کے دستورات اور شرائع کیا تھے؟

____________________

(۱) طہ ۴۹(۲)طہ ۵۰(۳) سورۂ اعلیٰ ۲ اور ۳(۴) طہ ۵۱


موسیٰ نے کہا:

( علمها عند ربی فی کتاب لا یضل ربی ولا ینسیٰ )

اس کا علم میرے رب کے پاس ، ایک محفوظ کتاب میں ہے میرا رب کبھی گمراہ نہیں ہوتا اور نہ ہی فراموش کرتا ہے۔( ۱ )

یعنی ان زمانوں کا علم پروردگار کے نزدیک ایک کتاب میں مکتوب ہے وہ کبھی گمراہی اور فراموشی کا شکار نہیں ہوتا۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ نے پروردگار کے صفات اور خصوصیات بیان کرنا شروع کئے اور کہا:

( الذی جعل لکم الارض مهداً و سلک لکم فیها سبلاً وانزل من السماء مائً فأخرجنا به ازواجاً من نباتٍ شتی٭ کلوا وارعوا انعامکم ان فی ذٰلک لآیاتٍ لأولی النهی )

وہی خدا جس نے زمین کو تمہارے آسائش کی جگہ قرار دی اور اس میں تمہارے لئے راستے ایجاد کئے اور آسمان سے پانی نازل کیا ، پس ہم نے اس سے انواع و اقسام کی سبزیاںاگائیں، کھائو اور اپنے چوپایوں کو اس میں چرائو، یقینا اس میں اہل عقل کے لئے روشن نشانیاں ہیں ۔( ۲ )

قرآن کریم نے اس سلسلے میں موسیٰ اور فرعون کے سوال و جواب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : اے فرعون! توجو کہتاہے:

( الیس لی ملک مصر و هذه الأنهار تجری من تحتی ) ( ۳ )

تو اور تیرے دربار کے تمام حاشیہ نشین اور درباری لوگ یہ جان لیں: تیرا پروردگار وہی خالق ہے جس نے زمین کو خلق کیا اور اپنی ''ربوبیت'' کے تقاضاکے مطابق اسے انسان کی آسا ئش کے لئے گہوارہ قرار دیا اور اس میں راستے پیدا کئے وہ زمین جس کا ایک جز ملک مصر بھی ہے اور آسمان سے بارش نازل کی کہ اس سے نہریں وجود میں آئیں اور نیل بھی انہیں میں سے ایک ہے نیز اسی پانی کے ذریعہ انواع و اقسام کے نباتات پیدا کئے تاکہ انسان اور حیوانات کے لئے خوراک ہو۔

جب فرعون حضرت موسیٰ کی اس منطق کے سامنے عاجز اور بے بس ہو گیا تو ا س نے دوبارہ شبہ ایجاد کرنے کی ٹھان لی کہ حضرت موسیٰ کے ادلہ و براہین کو تحت الشعاع میں قرار دیدے، خدا وند عالم اس کے اور

____________________

(۱) طہ ۵۲

(۲)طہ۵۳۔۵۴

(۳)زخرف۵۱


اس کے موقف کے بارے میں فرماتا ہے :( ولقد اریناه آیاتنا کلها ) یقینا ہم نے اسے اپنی تمام نشانیاں دکھادیں۔( ۱ )

یعنی جب ہماری عام نشانیوں اور ان خاص الخاص نشانیوںکوجو موسیٰ نے اسے دکھایا فکذّب و ابیٰ تواس نے تکذیب کی اور انکار کرتے ہوئے بولا:

(اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یا موسیٰ٭ فلنأتینک بسحر مثلہ فاجعل بیننا و بینک موعداً لا نخلفہ نحن و لا انت مکاناً سویٰ)

اے موسیٰ تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہماری سرزمینوں سے اپنے سحر کے ذریعہ نکال باہر کرو؟ یقینا ہم بھی اسی طرح کے سحر کا مظاہرہ کریں گے ، تو اب ہمارے اور اپنے درمیان کوئی تاریخ معین کردو کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کے خلاف نہ کرے وہ بھی ایسی جگہ جو سب کے لحاظ سے مساوی ہو۔( ۲ )

موسیٰ قوم بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے، وہ لوگ سرزمین مصر میں عالم غربت میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے اور فرعون اپنی اس بات سے کہ: تم آئے ہو کہ ہمیں ہماری سر زمینوں سے نکال باہر کردو؟ اپنے گردو پیش ، سر کش حوالی و موالی کو ان کے خلاف بھڑکا نا چاہ رہا تھا اور خدا کی آیات اور نشانیوں (عصا اور ید بیضا) میں اپنی اس بات سے کہ یہ سب کچھ سحر وجادد ہے شبہ ایجاد کرناچاہ رہا تھا، کیونکہ سرزمین مصر میں سحر کا رواج تھا اور بہت سارے جادو گر فرعون کے پیرو کار تھے۔

سحر، ایک خیالی اور وہمی ایک بے حقیقت شی ٔ ہے جو انسان کے حواس اور نگاہوں کو دھوکہ دیتا ہے جس طرح کبھی انسان کا احساس دھوکہ کھا جاتا ہے اور اپنے خیال میں غیر واقعی چیز کو واقعی سمجھ لیتا ہے جبکہ اس کا وجود حقیقی نہیں ہوتا لیکن جناب موسیٰ کے ہمراہ قدرت خدا کی نشانیاں تھیں وہ بھی ایسی قدرت کے ہمراہ جس نے آگ کو حضرت ابراہیم پر گلزار بنادیااور انہیںسلامتی عطا کی ، عام لوگ حق و باطل، نیک و بد اور خیال وواقع (حقیقت) کے درمیان تمیز کرنے کی قوت و صلاحیت نہیں رکھتے، اس کے علاوہ کبھی کبھی کثرت اور زیادتی غالب آجاتی ہے لہٰذا فرعون نے بھی لوگوں کے حالات دیکھتے ہوئے اور اپنے پر فریب جادو گروں کی قوت کے بل پر موسیٰ کا مقابلہ کیااور کہا: یقینا ہم بھی تمہاری طرح سحر کا مظاہرہ کریں گے اور ابھی ہم دونوں کے درمیان اس کی تاریخ معین ہو جائے کہ اس تاریخ سے کوئی پیچھے نہ ہٹے وہ بھی ایک مساوی اور برابر جگہ پر (کھلے میدان میں )۔

____________________

(۱) طہ ۵۶

(۲)طٰہ ۵۸ ۵۷.


فرعون اپنی قدرت اور برتری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موسیٰ کے مقابلے میں آ گیا اور تاریخ کا تعین موسیٰ کے ذمہ چھوڑ دیا، موسیٰ نے قبول کیا اور وقت معینہ کو ایسے دن رکھا جس دن سارے لوگ عید مناتے ہیں اور کھلے میدان میں اجتماع کرتے ہیں اور کہا: موعد کم یوم الزینة و ان یحشر الناس ضحیٰ ہمارے اور تمہارے مقابلہ کا وقت زینت اور عید کا دن ہے اس شرط کے ساتھ کہ سارے لوگ دن کی روشنی میں جمع ہو جائیں۔ ضحی اس وقت کو کہتے ہیں جب آفتاب اوپر چلا جاتا ہے۔ اور اس کی شعاع پھیل جاتی ہے (فتولی فرعون فجمع کیدہ )فرعون مجلس ترک کرکے واپس چلا گیا اور مکرو حیلہ کی جمع آوری میں لگ گیا۔( ۱ )

موسیٰ کلیم اللہ اور فرعون کا دوسرا مقابلہ سورۂ شعرا ء میں بیان ہوا ہے خدا وند سبحان فرعون کی طرف موسیٰ اور ہارون کوبھیجنے اور ان کے مقابلہ کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( فأتیا فرعون فقولا انا رسول رب العالمین٭ قال فرعون وما رب العالمین٭ قال رب السموات والارض وما بینهما ان کنتم موقنین٭ قال لمن حوله الا تستمعون٭ قال ربکم و رب آبائکم الاولین٭ قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون٭ قال رب المشرق و المغرب وما بینهما ان کنتم تعلقون )

فرعون کی طرف جائو اور کہو ! ہم پروردگار عالم کے فرستادہ ہیں... فرعون نے کہا: پروردگار عالم کون ہے ؟ موسیٰ نے کہا: زمین اور آسمان اور ان کے ما بین موجود ہرچیز کا پروردگار ،اگر اہل یقین ہو تو ، فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا: کیا تم لوگ نہیں سن رہے ہو؟ موسیٰ نے کہا: وہ تمہارا اور تمھارے گزشتہ آبا ء و اجداد کا پروردگار ہے، فرعون نے کہا: جو پیغمبر تمہاری طرف مبعوث ہوا ہے وہ یقینا دیوانہ ہے ۔ موسیٰ نے کہا: وہ مشرق و مغرب نیز ان کے ما بین کا پروردگار ہے اگر اپنی عقل و فکر کا استعمال کرو۔( ۲ )

جب فرعون نے موسی ٰ سے دلیل اور نشانی کا مطالبہ کیا اور حضرت موسی ٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھا تو اپنے اطراف والوں سے کہا :

( ان هذا لساحر علیم٭ یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحره فماذا تأمرون، قالوا ارجه و اخاه و ابعث فی المدائن حاشرین٭ یأتوک بکل سحار علیم٭ فجمع السحرة لمیقات یوم معلوم٭ و قیل للناس هل أنتم مجتمعون٭ لعلنا نتبع السحرة ان کانوا هم

____________________

(۱)طہ۵۹۔۶۰

(۲)شعرائ۱۶۔۲۸


الغالبین٭ فلما جاء السحرة قالوا لفرعون ائن لنا لأجراً ان کنا نحن الغالبین٭ قال نعم و انک اذا لمن المقربین٭ قال لهم موسیٰ ألقوا ما انتم ملقون٭ فالقوا حبالهم و عصیهم و قالوا بعزة فرعون انا لنحن الغالبون )

یہ آگاہ اور ماہر ساحر ہے وہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمینوں سے نکال باہر کرنا چاہتاہے۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ بولے: اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور مامورین ہرشہر کی طرف روانہ کئے جائیںتاکہ ہر ماہر اور آگاہ ساحر کو لا سکیں آخر کار روز موعود پر تمام جادو گر اکٹھا ہو گئے اور لوگوں سے کہا گیا: کیا تم لوگ بھی اکٹھاہو گے تاکہ اگر جادو گر کامیاب ہو جائیں تو ہم ان کی پیروی کریں؟! جب جادو گر آئے تو فرعون سے بولے: اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہمیں اجر ملے گا؟ کہا: ہاں اور ایسی صورت میں تم لوگ مقرب بارگاہ بن جائو گے۔ موسیٰ نے ساحروں سے کہا: جو ڈالنا چاہتے وہ زمین پرڈال دو، ان لوگوں نے اپنی رسیاں اورلاٹھیاںڈال کر کہا: فرعون کی عزت کی قسم یقینا ہم لوگ کامیاب ہیں۔( ۱ )

سورۂ اعراف سحر کی کیفیت اور اس کی لوگوں پر تاثیرکے بارے میں فرماتا ہے :

( فلما ألقوا سحروا أعین الناس و استرهبوهم و جاء وا بسحر عظیم٭ و أوحینا الیٰ موسیٰ ان القِ عصآک فاذا هی تلقف ما یأفکون ٭ فوقع الحق و بطل ما کانوا یعملون٭ فغلبوا هنالک وانقلبوا صاغرین٭ و القی السحرة ساجدین٭ قالوا آمنا برب العالمین٭ رب موسیٰ و هارون٭ قال فرعون آمنتم به قبل ان آذن لکم ان هذا لمکر مکرتموه فی المدینة لتخرجوا منها اهلها فسوف تعلمون٭ لأقطعن أیدیکم و أرجلکم من خلاف ثم لأصلبنکم اجمعین٭ قالوا انا الیٰ ربنا منقلبون٭ وما تنقم منا الا ان آمنا بآیات ربنا لما جائتنا ربنا افرغ علینا صبراً و توفنا مسلمین )

جب ان لوگوں نے اپنے سحر کے اسباب و وسائل زمین پر ڈال دیئے، لوگوں کی نگاہیں باندھ دیں اور ڈرایا اور بہت بڑا جادو ظاہر کیا تو ہم نے موسیٰ کو وحی کی :

اپنا عصا ڈال دو اچانک اس عصا نے ان کے وسائل کو نگل لیا! نتیجہ یہ ہوا کہ حق ثابت ہوگیا اور ان کا کاروبار باطل ہوگیا وہ سب مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر واپس ہوگئے،اورجادو گر سجدے میں گر پڑے اور

____________________

(۱)شعرائ۳۴۔


بولے : ہم پروردگار عالم پر ایمان لائے؛ یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب، پر فرعون نے کہا: کیا تم میری اجازت سے پہلے اس پر ایمان لے آئو گے؟ یقینا یہ ایک سازش ہے جو تم نے شہر میں کی ہے تاکہ یہاں کے رہنے والوںکو باہر کر دو لیکن عنقریب جان لو گے کہ تمہارے ہاتھ پائوں خلاف سمتوں سے قطع کروںگا( کسی کا داہنا ہاتھ تو بایاں پیراور کسی کا بایاں پیرتو داہنا ہاتھ) ؛ پھر تم سب کو سولی پرلٹکا دوں گا، جادو گروں نے کہا: ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جائیں گے تمہارا انتقام لینا ہم سے صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے رب کی آیتوں پر کہ جو ہمارے پاس آئیں ایمان لے آئے، خدایا! ہمیں صبر اور استقامت عطا کر اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت دینا۔

سورۂ شعرا ء میں فرماتا ہے :( انه لکبیرکم الذی علمکم السحر ) یقنا وہ تمہارا بزرگ اور استاد ہے جس نے تمہیں سحر کی تعلیم دی ہے ۔

گز شتہ آیات میں ذکر ہو اہے کہ: فرعون نے اہل مصر سے کہا:( انا ربکم الاعلیٰ ) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں، موسیٰ کو وحی ہوئی کہ فرعون سے کہو:( انا رسولا ربک..و جئنا بآیة من ربک ) ہم تمہارے رب کے فرستادہ ہیں...ہم اس کے پاس سے تمہارے لئے نشانی لیکر آئے ہیں۔

فرعون نے کہا:( فمن ربکما یا موسیٰ ) تمہارا رب کون ہے اے موسیٰ!

موسیٰ نے کہا:( ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقه ثم هدی ) ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہرموجود کو اس کی خلقت کی ہر لازمی چیز کے ساتھ وجود بخشا اور اس کے بعد ہدایت کی۔

اس کے اس سوال کے جوا ب میں کہ گز شتہ نسلوں کی تکلیف پھر کیا ہوگی؟ کہا: اس کا علم ہمارے پروردگار کے پاس ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے آرام و آسا ئش کی جگہ قرار دی...، خدا وند عالم ایک دوسرے موقع پر موسیٰ و ہارون سے فرماتا ہے : فرعون سے کہو: ہم رب العالمین کے فرستادہ ہیں۔

فرعون نے کہا: رب العالمین کون ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا: زمین ، آسمان اور ان کے ما بین موجود چیزوں کا رب۔

تمہارااور تمہارے گز شتہ آباء اجداد کا رب ،مشرق و مغرب اور ان کے درمیان کا رب ہے ۔

لیکن ان کے جادو گروں نے جب عصا کا معجزہ دیکھا اور یہ دیکھا کہ جو کچھ انھوں نے غیر واقعی اور جھوٹ دکھا یا تھا سب کو نگل گیا، تو بے ساختہ کہنے لگے:( آمنا برب العالمین، رب موسیٰ و هارون ) ہم رب العالمین پر ایمان لائے رب موسیٰ وہارون پر۔


اورفرعون کے جواب میں کہ جب اس نے کہا:تمہارے ہاتھ پائوں خلاف سمتوں سے قطع کروں گا تو ان لوگوں نے کہا:

( لاضیر أِنا الیٰ ربنا منقلبون٭وما تنقم منا الا ان آمنا بآیات ربنا لما جائتنا ربنا افرغ علینا صبراً و توفنا مسلمین )

کوئی بات نہیں ہے ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے ، تم ہم سے صرف اس وجہ سے انتقام لے رہے ہو کہ ہم اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان لائے ہیں جب وہ ہمارے پاس آئیں، خدایا! ہمیں صبر و استقامت عطا کر اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت دے۔

قرآن کریم میں مذکور ہ بیان سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے : موسی و ہارون کی بحث اور معرکہ آرائی فرعون اوراس کے سرکش و باغی طرفداروں کیساتھبارہا تکرار ہوئی ،جیسا کہ خداکی آیتیں اور نشانیاں بھی متعدد تھیں: طوفان، ٹڈیوں کی کثرت،پیڑ پودوںکی آفت، مینڈک اور خون اور یہ بھی ہے کہ تمام نزاع ربوبیت کے بارے میں تھی لہٰذ اموسی و ہارون نے اس سے کہا: ہمارا اور تمہارا رب وہی عالمین کا پالنے والا ہے ، جوزمین و آسمان اور اس کے ما بین کا رب ہے نیز گز شتہ نسلوں کا رب ہے ، مشرق و مغرب اور ان کے ما بین کا رب ہے نیز تمہارے گز شتہ آباء و اجداد کا رب ہے ۔

اورکہا: سب کا رب ایک ہی ہے اوروہ وہ ہے جس نے ہر موجود کو اس کے تمام لوازم خلقت کے ساتھ خلق کیا پھر اس نے ہدایت کی، او ریہ کہ: اس کے جادو گروں نے سمجھا کہ ان کا سحر خیالی اور موہوم شی ٔ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس کے آثار وقتی ہیں۔ لکڑیاں اور رسیاں جو کہ میدان میں سانپ کی طرح لہرا رہی ہیںاور بل کھا رہی ہیں وہ اپنی پرانی حالت پر واپس آکر لکڑی اور رسی ہی رہ جائیں گی لیکن عصا کے معجزہ نے سب کو نگل لیا او ر کوئی اصل اور فرع باقی نہیں رہ گئی، یہ عصا کے خالق رب العالمین کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے ، لہٰذا کہا: ہم رب العالمین یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے ،اس پروردگار پر جس نے دونوں کو لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجاہے ۔

ابراہیم کی جنگ توحید ''الوہیت اور ربوبیت ''سے متعلق

حضرت موسیٰ کلیم کے زمانے سے صدیوں پہلے حضرت ابراہیم خلیل نے اپنے زمانے کے انواع و اقسام شرک سے مقابلہ کیاکہ منجملہ یہ ہیں :


الف۔ توحید الوہیت کے بارے میں مبارزہ

خدا وند عالم نے سورۂ انبیائ، شعراء اور صافات میں توحید الوہیت کے بارے میں ابراہیم کی اپنی قوم سے نزاع کا تذکرہ کیاہے ا ور ہر ایک میں اس کی کچھ کچھ داستان بیان کی ہے۔

ابراہیم نے محکم دلائل سے ان کے اعتقادات کو باطل کیا اور ان کے بتوں کو توڑ ڈالا جس کے نتیجہ میں انہیں آگ میں ڈال دیاگیا، پھر خد اوند عالم نے آگ کو ان پر سرد کر کے انہیں سلامتی عطا کیہم اس کے متعلق تفصیلی بیان سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف'توحید الوہیت'' کے بارے میں جو کچھ تحقیق ہے بیان کریں گے۔

جب مشرکوں نے اپنے بتوں کو ٹوٹا پھوٹا اور بکھرا ہوا دیکھا توابراہیم کو حاضر کرکے ان سے کہا:

( ء أنت فعلت هذا بآلهتنا یا ابراهیم٭ قال بل فعله کبیرهم هذا فاسألوهم ان کانوا ینطقون )

آیا تم نے ہمارے خدا ئوں کے ساتھ ایسا سلوک کیاہے اے ابراہیم ! ابراہیم نے کہا: بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے ، ان سے پوچھو اگر بول سکیں۔( ۱ )

یعنی اگر ان میں نطق کی صلاحیت ہے تو خود ان سے دریافت کر لو: ان کے بڑے نے کیا ہے یا کسی اور نے؟اور چونکہ بت بات نہیں کر سکتے یقینا ان کے بڑے نے نہیں توڑا ہے ۔

اسی طرح خدا وند عالم خبر دیتا ہے : ابراہیم نے ان لوگوںکے ساتھ بھی مبارزہ کیا جنہوں نے ستاروں کو اپنا رب سمجھ لیا تھالیکن ان کے نزدیک معنی و مفہوم کیا تھا اس سے ہمیں آگاہ نہیں کرتا ہم مشرکوں کے اخبار میں صرف اس بات کو درک کرتے ہیںکہ، ان میں سے بعض''رب'' اور ''الہ'' کو الگ الگ نہیں جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ انبیاء اور پیغمبروں نے ہمیشہ اپنی امت کے مشرکین سے ''توحید

____________________

(۱) انبیائ۶۳۔۶۲


ربوبیت'' کے بارے میں مبارزہ کیا ہے ۔

خد اوند عالم سورۂ انعام میں حضرت ابراہیم کے، ستارہ پرستوں سے مبارزہ کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( و کذلک نری ابراهیم ملکوت السموات و الارض و لیکون من الموقنین٭ فلما جن علیه الیل رای کوکباً قال هذا ربی فلما افل قال لا احب الآفلین٭ فلما رأ ی القمر بازغاً قال هذا ربی فلما افل قال لئن لم یهدنی ربی لأکونن من القوم الضالین٭ فلما رای الشمس بازغة قال هذا ربی هٰذا اکبر فلما افلت قال یا قوم انی بریٔ مما تشرکون٭ انی وجهت وجهی للذی فطر السموات و الارض حنیفاً و ما أنا من المشرکین٭ و حاجه قومه قال اتحاجونی فی الله و قد هدانِ و لا اخاف ما تشرکون به الا ان یشاء ربی شیئاً وسع ربی کل شیء علماً افلا تتذکرون )

اور اس طرح ابراہیم کو زمین و آسمان کے ملکوت کی نشاندہی کرائی تاکہ اہل یقین میں سے ہو جائیں جب شب کی تاریکی آئی تو ایک ستارہ دیکھا، کہا: یہ میرا رب ہے ؟ اور جب ڈوب گیا تو کہا: میں ڈوبنے والے کو دوست نہیں رکھتا اور جب افق پر درخشاں چاند کو دیکھا تو کہا: ''یہ میرا رب ہے ''؟ اور جب ڈوب گیا، کہا: اگر میرا رب میری ہدایت نہ کرتا تو یقینی طور پر میں گمراہ لوگوں میں سے ہو جاتا۔ اور جب سورج کو دیکھا کہ افق پر تاباں ہے ، کہا: یہ میرا خدا ہے. یہ سب سے بڑا ہے اور جب ڈوب گیا، کہا: اے میری قوم! جس کو تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں اس سے بیزار ہوں۔

میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے زمین و آسمان کو خلق کیا ہے میں اپنے ایمان میں خالص ہوں نیز مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

حضرت ابراہیم کی قوم ان سے جھگڑنے کے لئے آمادہ ہو گئی، کہا: کیا تم مجھ سے خدا کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو؟ جبکہ خدا نے میری ہدایت کی اور جس کو تم لوگوں نے اس کا شریک قرار دیا ہے میں اس سے نہیں ڈرتا، مگر یہ کہ ہمارا رب ہم سے کوئی مطالبہ کرے کہ ہمارے رب کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے تم لوگ نصیحت کیوںنہیںحاصل کرتے؟!( ۱ )

حضرت ابراہیم خلیل اپنی قوم کے ستارہ پرستوں کی زبان میں ان سے بات کرتے ہیں اوروہ لوگ رب

____________________

(۱) انعام۸۰۔۸۵


کے جومعنی سمجھتے ہیں اسی معنی میں استعمال کرتے ہیں آپ کا یہ کہنا : یہ میرا رب ہے : یہ توریہ اور استفہام انکاری کے عنوان سے ہے یعنی کیا یہ میرا خد اہے ؟ ( یعنی میر اخدا یہ نہیں ہے) جس طرح انہوں نے بتوں کوتوڑا تو توریہ کیا تھا اور بت پرستوں کے جواب میں کہا تھا: بلکہ ان کے بزرگ نے یہ کام کیا ہے !

ب۔حضرت ابراہیم کا جہاد توحید ربوبیت کے بارے میں تربیت اجسام کے معنی میں :گز شتہ زمانے میں بہت سارے انسانوں کا عقیدہ تھا کہ، ستارے ہماری دنیا میں اور جو کچھ اس میں ہے انسان، حیوانات اور نباتات پر اثر چھوڑتے ہیں۔

بارش ان کی مرضی کے مطابق ہے برسے یا نہ برسے، سعادت، شقاوت، تنگدستی اور آسائش، سلامت اور مرض انسانی سماج میں انہیں کی بدولت ہے موت کاکم و بیش ہونا انسان و حیوانات اور نباتات میں ان کی وجہ سے ہے ، محبت اور نفرت کا وجود آدمیوں کے درمیان یا آدمی کی محبت کا دوسروں کے دل میں ڈالنا اور جو کچھ ان امور کے مانند ہے ستاروں کی بدولت ہے اس لئے بعض عبادی مراسم ان کے لئے انجام دیتے تھے اور مراسم کی فضا کو عود و عنبر ، خوشبواور عطر اور گلاب سے بساتے اور معطر کرتے تھے نیز دعائیں پڑھتے تھے اور ان سے دفع شر اور جلب خیر کی امیدیں لگاتے تھے ان میں سے بعض کو سکاکی سے منسوب ایک نوشتہ پر میں نے دیکھا ہے کہ جس میں اقسام و انواع کے طلسم ،دعائیںاورمناجات بعض ستاروں کے لئے جیسے: زہرہ، مریخ وغیرہ کیلئے تھے کہ کبھی انہیں''رب'' کے نام سے مخاطب قرار دیا ہے ، لیکن یہ تالیف سکاکی کی ہے ، یہ ہم پر ثابت نہیں ہے ، ندیم نے بھی صائبین سے متعلق بعض خبروں میں اپنی فہرست میں ، نویں مقالہ کے ذیل میں بعض صابئی قوموں کے بارے میں فرمایا ہے : ' وہ لوگ بعض ستاروں کی پوجا کرتے تھے اور ان کے لئے بعض مخصوص مراسم انجا م دیتے تھے۔

ابراہیم نے اس گروہ کی کہ جن سے ستارے، چاند اور خورشید کے بارے میں گفتگو کی ہے راہنمائی کی اور ''ھذا ربی'' کہہ کر ان کے طلوع کے وقت اور ''( لا اُحب الآفلین'' بوقت غروب کہہ کر ان کی فکری بنیاد کو ڈھا دیا اور آخر میں( أِنی وجهت وجهی للذی فطر السمٰوات والأرض ) کہہ کر انہیں راہِ راست دکھائی ہے ۔

ج۔ حضرت ابراہیم کا جہاد ''توحید رب'' کے سلسلے میں نظام کائنات کے مدبر کے معنی میں خدا وند عالم اس جہاد کی سورۂ بقرہ میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :


( الم تر الیٰ الذی حاج ابراهیم فی ربه ان آتاه الله الملک اذ قال ابراهیم ربی الذی یحیی و یمیت قال انا احیی و امیت قال ابراهیم فأِن الله یأتی بالشمس من المشرق فات بها من المغرب فبهت الذی کفر )

کیا تم نے اسے نہیں دیکھا جس نے اپنے پروردگار کے بارے میں حضرت ابراہیم سے کٹ حجتی کی کہ اسے خدا نے ملک عطا کیا تھا، جب ابراہیم نے کہا: میرا رب وہ شخص ہے جو زندہ کرتا اورموت دیتا ہے۔ اس نے کہا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور ما رتا ہوں! ابراہیم نے کہا: خد اوند عالم مشرق سے سورج نکالتا ہے تواسے مغرب سے نکال دے! وہ کافر مبہوت اور بے بس ہو گیا۔( ۱ )

حضرت خلیل کی اس آیت میں وہی منطق ہے جو قرآن کی منطق سورۂ اعلیٰ میں ہے کہ فرماتا ہے : پروردگار وہی خدا ہے جس نے خلعت وجود بخشااور منظم کیا اور اندازے کے ساتھ ساتھ ہدایت کی، نیز اس سلسلے میں موجودات کی مثال وہ چراگاہ ہے جسے خدا وند عالم نے اُگایا پھر اسے خشک کردیااور سیاہ رنگ بنا دیا، یعنی موجودات کو حیات کے بعد موت دی ۔

حضرت ابراہیم کا استدلال قوی اور واضح تھا۔ لیکن ان کے زمانے کے طاغوت کی خواہش تھی کہ اس پر گمراہ کن پردہ ڈال دے، لہٰذا اس نے کہا: اگر ربوبیت کا مالک وہ شخص ہے جو زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے تو میں بھی زندہ کرتا اور مار تا ہوں، اس نے حکم دیا کہ پھانسی کی سزا کے مجرم کو حاضر کرو اور اسے آزاد کردیا اور ایک گز رتے ہوئے بے گناہ انسان کو پکڑ کر قتل کر دیا۔

اس طرح سے اس نے اپنے اطرافیوں اور ہمنوائوں کو شبہہ میں ڈال دیا۔

حضرت ابراہیم نے موت اور حیات کے معنی کے بارے میں بحث و تکرار کرنے کے بجائے محسوس موضوع اور آشکار دلیل سے احتجاج کرناشروع کیا، تاکہ اس طاغوت کے دعوی کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں اورفرمایا: میرا خد امشرق سے سورج نکالتا ہے تواسے مغرب سے نکال کر دکھا تو وہ کافر انسان مبہوت و ششدر رہ گیا۔

حضرت ابراہیم کے زمانے کے طاغوتوں کا شرک حضرت موسیٰ کے زمانے کے طاغوت کی طرح تھا ، دونوں ہی ربویت کے دعویدار تھے، یعنی دونوں ہی کہتے تھے، ہم انسانی زندگی کے نظام میں قانون

____________________

(۱)بقرہ۲۵۸


گز اری(تشریع) کا حق رکھتے ہیں اور چونکہ دونوں کا دعویٰ ایک جیسا تھا تو ان دونون پیغمبروں نے بھی ایک ہی جیسا جواب دیا اور فرمایا:

انسان کا رب وہ ہے جس نے نظامِ حیات معین کیا ہے وہی تمام موجودات کا رب ہے ،جس نے موجودات کو حیات عطا کی اور اس سلسلۂ وجود کی بقا اور دوام کے لئے مخصوص فطری نظام مقرر فرمایا اور اسی نظام کے مطابق انہیں جینے کا طریقہ سکھایا اور ان کی، ہدایت کی وہ وہی ہے جو تمام زندوںکوموت دیتا ہے ۔

حضرت ابراہیم کی یہ منطق مشرکوں کو دعوت توحید دینے میں تھی جیسا کہ خدا وند عالم سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے :

( فانهم عدو لی أِلا رب العالمین٭ الذی خلقنی فهو یهدین )

جن چیزوں کی تم لوگ عبادت کرتے ہو ہمارے دشمن ہیں ، سوائے رب العالمین کے ، وہی جس نے ہمیں پید کیا اور ہمیشہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔( ۱ )

یہی بات حضرت موسیٰ نے دوسرے قالب میں فرعون کی بات کاجواب دیتے ہوئے کہی:

( ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقه ثم هدیٰ )

ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر موجود کو اس کیل لوازم خلقت و حیات کے ساتھ خلق کیاپھر اس کی ہدایت کی۔( ۲ )

اس کے بعد حضرت ابراہیم ربوبیت الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

( و الذی هو یطعمنی و یسقینِ، و اذا مرضت فهو یشفینِ و الذی یمیتنی ثم یحیینِ ، والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین )

وہی پروردگار جو ہمیں کھانا کھلاتا اور سیراب کرتا ہے اور جب مریض ہو جاتے ہیں شفا دیتاہے اور وہ جو کہ ہمیں حیات اور ممات دیتا ہے (موت و حیات دیتاہے) اور وہ ذات جس سے امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے۔( ۳ )

قرآن کریم جب پیغمبروں کے ان کی قوم سے بحث و مباحثہ اور استدلال کے اخبار کی تکرار کرتا ہے توہر بار اس کے بعض حصے کو ایک دوسرے سورہ میں مناسبت کے ساتھ بیان کردیتا ہے یعنی فکر کو صحیح جہت دینے اور

____________________

(۱)شعرائ ۷۷۔ ۷۸

(۲) طہ ۵۰

(۳) شعرائ ۸۲۔ ۷۹


لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے خواہ وہ لوگ مسلمان ہوں یا مشرک، یہود ہوں یا نصاریٰ، جو بات ان کی ہدایت کے لئے ضروری ہے اس کی تکرار کرتا ہے کیونکہ قرآن کوئی تاریخی کتاب نہیں ہے جوگزشتہ لوگوں کے واقعات کو وقوع کے اعتبار سے سلسلہ وار بیان کرے۔

پیغمبروں کے مبارزے اور اس بات کے جاننے کے بعدکہ انکاجہاد زیادہ تر ''رب العالمین کی ربوبیت'' سے متعلق تھا اور ''رب العالمین'' یعنی وہ جو انسانوں کا رب ہے، جس نے ان کی زندگی کو تامین اور مقدر کیا ہے ، نیز انسان کی فطرت کے مطابق ا س کے لئے نظام مقرر کیا ہے ، ایسا نظام کہ جس کا نام ''دین اسلام ہے '' وہ دین کہ جس کی پیغام رسانی کے لئے تمام پیغمبروں کو وحی کی اور ان حضرات نے اس کا پیغام پہنچانے کے لئیقیام کیا، لیکن اب سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اگر خدا کا دین صرف اور صرف اسلام ہے تو بعض پیغمبروں کی شریعت کے ذریعہ دوسرے پیغمبروں کی ''نسخ شریعت'' کے کیا معنی ہیں؟

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی تحقیق انشاء اللہ آئندہ بحث''نسخ؛ انبیاء کی راہ میں '' کے عنوان سے اس کتاب کی دوسری جلد میں تحقیق کریں گے۔

و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین


فہرست

حرف اول ۵

مقدمہ ۷

مقدمہ ۷

الف۔ تحقیق کی روش ۹

۱۔تفسیر روائی: ۱۰

۲۔ لغوی تفسیر: ۱۰

۳۔ موضوعی تفسیر: ۱۰

الف:۔ انبیاء کے واقعات : ۱۱

مباحث کی سرخیاں ۱۳

۱ ۱۵

۱ ۱۵

میثاق ۱۵

خدا وند عالم کا بنی آدم کے ساتھ عہد و میثاق ۱۵

۱۔۲:آیہ کریمہ''الست بربکم'' اور فکری جستجو ۱۵

۳۔آیت کی تفسیر ۱۷

۴۔انسان ماحول اور ماں باپ کاپابندنہیں ہے ۱۷

آیات کی تفسیر ۲۴

بحث کا خلاصہ ۲۵


۲ ۲۷

۲ ۲۷

الوہیت سے متعلق بحثیں ۲۷

الف۔آیا مخلوقات اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں؟ ۲۷

ب۔ اِلٰہ اور اس کے معنی ۳۱

اول: کتاب لغت میں الہ کے معنی ۳۱

دوسرے: عربی زبان والوںکی بول چال میں الہٰ کے معنی ۳۱

تیسرے ۔ اسلامی اصطلاح میں اِلٰہ کے معنی ۳۳

ج۔ لا الہ الا اللہ کے معنی ۳۴

کلمات کی شرح ۳۴

آیات کی تفسیر ۳۵

پہلی بات کی طرف بازگشت ۳۵

د۔کیا خدا وند عالم صاحب اولادہے ؟ ۴۳

کلمات کی شرح ۴۸

آیتوں کی تفسیر ۵۱

بحث کا نتیجہ ۵۳

۳ ۵۴

قرآن میں مخلوقات الٰہی کی قسمیں ۵۴

۱۔ ملائکہ ۵۴

کلمات کی تشریح ۶۰


عالم غیب کے خیالی تصورات ۶۳

شناخت و معرفت کے وسائل ۶۳

بحث کا خلاصہ ۶۴

۲۔ السمٰوات و الارض و سماء الارض ۶۶

۲۔ السمٰوات و الارض و سماء الارض ۶۶

پہلے۔ السماء والسمٰوات ۶۶

الف: ۔سمائ ۶۶

ب: السمٰوات ۶۷

دوسرے ۔ الارض ۶۷

تیسرے۔ سمٰوات و ارض کی خلقت ۶۸

آغاز خلقت ۶۸

کلموں کی تشریح ۷۳

آیتوں کی تفسیر ۷۵

پہلے۔ زمین کی خلقت ۷۶

دوسرے: ستاروں اور کہکشاؤںکی خلقت ۷۷

کلموں کی تشریح ۷۹

آیات کی تفسیر ۸۰

۱۔ پہلے سوال کا جواب ۸۱

۲۔ د وسرے سوال کا جواب ۸۴

بطلیموس کا نظریہ ۸۴


ایک غیر صحیح تاویل اور بیان ۸۵

بحث کا خلاصہ ۸۶

۳۔ چوپائے اور چلنے والی مخلوق ۸۸

۳۔ چوپائے اور چلنے والی مخلوق ۸۸

کلمہ کی تشریح: ۸۸

آیات کی تفسیر ۸۹

۴۔ جن اور شیاطین ۹۰

۴۔ جن اور شیاطین ۹۰

الف۔ جن ّو جانّ ۹۰

ب۔ شیطان ۹۲

ج۔ ابلیس ۹۵

کلموںکی تشریح ۹۶

جن ، شیاطین اور ابلیس کے بارے میں بحث کا خلاصہ ۱۰۴

۱۔ جن: ۱۰۴

۲۔ شیطان : ۱۰۴

۳۔ ابلیس: ۱۰۴

۵۔ انسان ۱۰۶

۵۔ انسان ۱۰۶

کلمات کی تشریح ۱۱۱

آیات کی تفسیر ۱۱۵


با شعور مخلوقات سے خدا کا امتحان ۱۱۶

آدم کی جنت کہاں تھی ۱۱۷

الٰہی امتحان اور حالات کی تبدیلی ۱۱۹

دوسرے : آدم و حوا ۱۲۰

آیات کی شرح اور روایات میں ان کی تفسیر ۱۲۳

آیات کی شرح اور روایات میں ان کی تفسیر ۱۲۳

پہلے۔ پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول روایات: ۱۲۳

دوسرے۔ حضرت امام علی سے مروی روایات ۱۲۴

الف:۔ فرشتوںکی خلقت کے بارے میں ۱۲۴

ب:۔آغاز آفرینش ۱۲۴

ج:۔ انسان کی خلقت ۱۲۵

د:۔جن، شیطان اورابلیس کی خلقت ۱۲۶

امام کی گفتگو کا خاتمہ۔ ۱۲۸

امام علی کے کلام کی تشریح: ۱۲۹

تیسرے۔ امام محمد باقرسے مروی روایات ۱۳۰

چوتھے۔ امام صادق سے مروی روایات ۱۳۰

پانچویں۔ امام رضا سے مروی روایات ۱۳۱

بحث کا خلاصہ ۱۳۲

۴ ۱۳۴

۴ ۱۳۴


ربوبیت کی بحثیں ۱۳۴

۱۔رب ۱۳۴

الف۔ لغت عرب میں رب کے معنی ۱۳۴

ب۔ اسلامی اصطلاح میں رب کے معنی ۱۳۴

۲۔ رب العالمین اور اقسام ہدایت ۱۳۷

مقدمہ: ۱۳۷

الف:۔قرآن کریم میں رب العالمین کے معنی ۱۳۷

ب:۔ خدا وند ذو الجلال میں ربوبیت کا منحصر ہونا ۱۴۲

کلمات کی تشریح ۱۴۴

۱۔ انسان کا تسویہ ۱۴۵

۲۔حیوان کا تسویہ ۱۴۵

۳۔ مسخرات خلقت کا تسویہ ۱۴۶

۴۔ فرشتوں کا تسویہ ۱۴۶

آیات کی تفسیر ۱۴۹

۳۔اصناف خلق کے لئے رب العالمین کی اقسام ہدایت ۱۵۱

۳۔اصناف خلق کے لئے رب العالمین کی اقسام ہدایت ۱۵۱

پہلی۔ فرشتوں کی بلاواسطہ تعلیم ۱۵۱

کلمات کی تشریح ۱۵۲

تفسیر آیات کا خلاصہ ۱۵۳

دوسرے ۔مسخرات کی تسخیر ۱۵۵


کلمات کی تشریح ۱۵۸

بحث کا نتیجہ ۱۵۹

تیسرے۔ الہام غریزی کے ذریعہ حیوانات کی ہدایت ۱۶۰

کلمات کی تشریح ۱۶۱

بحث کا نتیجہ ۱۶۲

چوتھے۔ پیغمبروں کے ذریعہ انسان اور جن کی تعلیم ۱۶۲

مباحث کا نتیجہ ۱۶۶

۵ ۱۶۹

۵ ۱۶۹

دین اور اسلام ۱۶۹

الف۔ دین ۱۶۹

ب۔ اسلام اور مسلمان ۱۷۰

ج۔ مومن اور منافق ۱۷۱

اول : مومن ۱۷۱

دوسرے ۔ منافق ۱۷۱

د۔ اسلام تمام شریعتوںکا نام ہے ۱۷۳

ھ۔ گز شتہ شریعتوں اور ان کے اسماء میں تحریف ۱۷۶

الف۔ یہود کی نام گز اری ۱۷۶

ب۔ نصاریٰ کی وجہ تسمیہ ۱۷۶

ج۔ شریعت کی تحریف ۱۷۷


الف۔ شریعت موسیٰ میں یہود کے ذریعہ تحریف ۱۷۷

تیسرا باب ۱۷۷

ان دو باب کے مطالب کا تجزیہ ۱۷۹

ب۔ نصاریٰ کی تحریف ۱۸۰

نصاریٰ کے نزدیک تثلیث( تین خدا کا نظریہ) ۱۸۰

و۔ اسلام انسانی فطرت سے سازگار ہے ۱۸۲

کلمات کی تشریح ۱۸۲

ز۔ انسان اور نفس امارہ بالسوئ( برائی پر ابھارنے والا نفس) ۱۸۸

کلمات کی تشریح ۱۸۸

ح۔شریعت اسلام میں جن و انس کی مشارکت ۱۹۲

کلمات کی تشریح ۱۹۵

آیات کی تفسیر ۱۹۵

روایات میں آیات کی تفسیر ۱۹۶

بحث کا نتیجہ ۱۹۸

۶ ۱۹۹


۶ ۱۹۹

اللہ کے مبلغ اور لوگوں کے معلم ۱۹۹

۱۔نبی ،رسول اور وصی ۱۹۹

الف:۔ نبی و نبوت ۱۹۹

ب۔ رسول ۲۰۰

ج۔ وصی و وصیت ۲۰۳

۲۔ کتب عہدین میں ا وصیاء کی بعض خبریں ۲۰۷

۲۔ کتب عہدین میں ا وصیاء کی بعض خبریں ۲۰۷

الف۔ حضرت موسی کلیم کی خدا کے نبی یوشع کو وصیت ۲۰۷

ب۔ حضرت داؤد نبی کی حضرت سلیمان کو وصیت ۲۰۸

ج۔حضرت عیسی کی حواری شمعون بطرس کو وصیت ۲۰۸

قرآن کریم میں رسولوں اور اوصیاء کی خبریں ۲۰۹

۳۔ آیت اور معجزہ ۲۱۰

۷ ۲۱۹

الٰہی مبلغین کے صفات ،گناہوں سے عصمت ۲۱۹

۱۔ ابلیس روئے زمین پر خدا کے جانشینوں پر غالب نہیں آ سکتا ۲۱۹

کلمات کی تشریح ۲۲۰

آیات کی تاویل ۲۲۲

۲۔ ۳: عمل کے آثار اور ان کا دائمی ہونا ۲۲۵

۲۔ ۳: عمل کے آثار اور ان کا دائمی ہونا ۲۲۵


خلفاء کے مکتب کی روایات میں ان آیات کی تاویل ۲۳۰

۱۔ وہب بن منبہّ کی روایت ۲۳۰

۲۔ حسن بصری کی روایت ۲۳۳

۳۔یزید رقاشی کی انس بن مالک سے روایت ۲۳۴

روایات کے اسناد کی چھان بین ۲۳۵

اس کے نظریات اور عقائد: ۲۳۵

روایات کے متن کی چھان بین ۲۳۸

بارہواں باب ۲۴۰

تحقیق کا نتیجہ ۲۴۳

روایت میں پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زینب سے شادی کرنا ۲۴۴

الف۔ رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زینب کی شادی کے متعلق آیات: ۲۴۵

مکتب خلفاء کی روایات میں مذکورہ آیات کی تاویل ۲۴۵

دونوں روایات کی چھان بین ۲۴۶

زید بن حارثہ کون ہیں؟ ۲۴۷

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب کا زید سے شادی کرنا ۲۴۸

بعض کلموں اور اصطلاحوںکی تفسیر ۲۵۳

اول۔بحث کی اصطلاحوں کی تعریف ۲۵۳

دوسرے۔ بعض کلمات کی تشریح ۲۵۶

سوم ۔آیات کی تاویل ۲۵۸

زبان عرب میں الفاظ کے معنی کی مناسبت سے آیات کی تاویل ۲۵۸


کلمات کی تفسیر ۲۵۹

آیت کی تاویل لغوی معنی کے مطابق ۲۵۹

ائمہ اہل بیت کی روایات میں آیات کی تاویل ۲۶۱

ائمہ اہل بیت کی روایات میں آیات کی تاویل ۲۶۱

۸ ۲۶۷

۸ ۲۶۷

انبیاء کے مبارزے ۲۶۷

ربوبیت کے سلسلے میں انبیا ء علیہم السلام کے مبارزے ۲۶۷

موسیٰ کلیم اللہ اور فرعون ۲۶۷

ابراہیم کی جنگ توحید ''الوہیت اور ربوبیت ''سے متعلق ۲۷۵

الف۔ توحید الوہیت کے بارے میں مبارزہ ۲۷۶


اسلام کے عقائد(پہلی جلد )

اسلام کے عقائد(پہلی جلد )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 292