اسلام کے عقائد(تیسری جلد )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : اسلام کے عقائد(تیسری جلد )

مؤلف : علامہ سید مرتضی عسکری

مترجم : اخلاق حسین پکھناروی

تصحیح : سید اطہر عباس رضوی (الٰہ آبادی)

نظر ثانی: ہادی حسن فیضی

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت

کمپوزنگ : وفا

طبع اول : ۱۴۲۸ھ ۔ ۲۰۰۷ئ

تعداد : ۳۰۰۰


قال رسول ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب ﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض''

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( اختلاف عبارت کے ساتھ : صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶، ۵۹. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)

قال الله تعالی:

( اِنّما یُرِ یْدُ ﷲ ُلِیُذْ هِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبِیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْراً )

ارشاد رب العزت ہے:

اللہ کا صرف یہ ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور تمھیں پاک و پاکیز ہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا.

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا.

اگرچہ رسول اسلام صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصرحاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،


یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا.

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے.

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب'' عقائد اسلام در قرآن کریم ''کو فاضل جلیل مولانا اخلاق حسین پکھناروی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے.

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت


بسم الله الرحمن الرحیم

( لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِیدَ فِیهِ بَاْس شَدِید وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ ﷲ مَنْ یَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَیْبِ انَّ ﷲ قَوِیّ عَزِیز٭ )

یقینا ہم نے اپنے پیغمبروں کو روشن اور واضح د لا ئل کے ہمراہ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان بھی ناز ل کی تا کہ لوگ صداقت و عدا لت کے گرویدہ ہوجائیں اور وہ لوہا جس میں زیا دہ سختی اور لوگوں کے لئے منفعتیں ہیں، نا زل کیا، تاکہ معلوم ہو کہ کون ایمان بالغیب رکھتے ہوئے خدا اور اس کے پیغمبروں کی حمایت اور نصرت کرتا ہے کیو نکہ خد اوند عالم قوی اور غالب ہے ( قدرت مند ہے).( ۱ )

( وَالَّذِینَ آمَنُوا بِﷲ وَرُسُلِهِ واَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ َحَدٍ مِنْهُمْ ُوْلَئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیهِمْ ُجُورَهُمْ وَکَانَ ﷲ غَفُورًا رَحِیمًا ٭ )

وہ لوگ جو خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اوران میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی ، خداوند عالم جلدی ہی انھیںجزا دے گا، خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے( ۲ )

( إ ِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا ﷲ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلَائِکَةُ َلاَّ تَخَافُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَاَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ ٭ نَحْنُ َوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الآخِرَةِ وَلَکُمْ فِیهَا مَا تَشْتَهِی اَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیهَا مَا تَدَّعُونَ ٭ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِیمٍ٭ وَمَنْ َاحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا ِالَی ﷲ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ ِنَّنِی مِنْ الْمُسْلِمِینَ )

جن لوگوں نے کہا میرا پروردگار خدا ہے اور ( اس یقین پر) ثابت قد م رہے تو فرشتے ان پر نازل ہو کر

____________________

(۱)( سورۂ حد ید : آیت ۲۵)(۲) ( سورہ ٔ نساء : آیت ۱۵۲ )


مژ دہ دیتے ہیںکہ تم کو کسی قسم کا خوف وحز ن نہیں ہو نا چا ہئے اور تمھیں اس بہشت کی بشارت ہو جس کا تم سے پہلے وعدہ کیاگیا تھا ہم دنیا و آخرت میں تمہارے دوست ہیں اور تمہارے لئے بہشت میں جو چاہو گے یا جس چیز کا ارادہ کرو گے مہیا ہو گا یہ خدا وند غفور و مہر بان کا احسان ہے ان لوگوں سے گفتار کے لحا ظ سے کون بہتر ہو گا جو لوگوں کو خدا کی دعوت دیتے اور نیک عمل انجام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلما نوں میں سے ہیں؟( ۱ )

( وَالَّذِینَ آمَنُوا بِﷲ وَرُسُلِهِ ُوْلَئِکَ هُمْ الصِّدِّیقُونَ وَالشُّهَدَائُ عِنْدَ راَبِهِمْ لَهُمْ َجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا ُوْلَئِکَ َصْحَابُ الْجَحِیم٭ )

وہ لوگ جو خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں، وہی لوگ خدا کے نزدیک صدیقین اور شہداء ہیں. ان کے لئے ان کا نور اور پاداش ہے اور وہ لوگ جو کافر ہوگئے اور ہماری آیا ت کی تکذیب کرتے ہیں، وہ لوگ آتش دوزخ والے ہیں.( ۲ )

( سَابِقُوإ الَی مَغْفِرَةٍ مِنْ راَبِکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا کَعَرْضِ السَّمَائِ وَالَرْضِ ُعِدَّتْ لِلَّذِینَ آمَنُوا بِﷲ وَرُسُلِهِ ذَلِکَ فَضْلُ ﷲ یُؤْتِیهِ مَنْ یَشَائُ وَﷲ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ )

اپنے ربّ کی بخشش و مغفرت کی جانب جلدی کرو (سبقت کرو) اور اس بہشت کی سمت جس کی وسعت زمین و آسمان کی وسعت کے برابر ہے. اور ان لوگوں کے لئے آمادہ کی گئی ہے جو خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں یہ خدا وند عالم کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا وندعالم فضل عظیم کا مالک ہے.( ۳ )

____________________

(۱) ( سورۂ فصلت :آ یات ۳۰ ۔ ۳۳)(۲) ( سور ۂ حدید : آیت ۱۹) (۳) ( سورۂ حدید آیت ۲۱)


مقدمہ

پہلی جلد کے مقد مہ میں ہم نے عرض کیا ہے :

ہم نے اسلا م کے عقائد کو قرآن میں اس طرح سے منسجم اور مربوط پا یاکہ اُ ن میں سے بعض بعض کے لئے مبےّن اور مفسر کی حیثیت رکھتے ہیں. اورسارے کے سارے ایک مجمو عہ کو تشکیل دیتے ہیں اور ان کے تما م اجزاء ایک دوسرے کے لئے مکمّل ( تکمیل کر نے والے) کی حیثیت سے ہیں لیکن چونکہ دا نشو روں نے اپنی تا لیفات میں ان میں سے بعض کو ایک دوسرے سے علیحد ہ ذ کر کیا ہے اور اس کام کے نتیجے میں ان کا انسجام اور عقائد اسلام کی حکمت محققین کی نظر میں پوشیدہ رہ گئی ہے۔

ہم نے اس کتا ب میں اسلا م کے عقائد کو قرآن کر یم میں ایک ہم آہنگ مجمو عہ اور ایک دوسرے کے مکمّل کے عنوان سے پا یا ہے ، لہذا ایک دوسرے سے مربو ط اور سلسلہ وار ہم نے بیان کیا وہ بھی اس طرح سے کہ پہلی بحث ا خری بحث کی راہنما ہے اور ہم اس وسیلہ سے اسلام کے عقائد اور اس کی حکمت کو درک کرتے ہیں۔

ربو بیت کی بحث میں خلا صہ کے طور سے ہم نے ذکر کیاہے:

ربّ ، تدریجاً اور ایک حال سے دوسرے حا ل کی طرف ، اپنے مر بوب ( جس کی تر بیت کی جاتی ہے) کی تربیت میں مشغول ہوتا ہے تا کہ اسے کمال کے در جہ تک پہنچا ئے، خدا وند سبحا ن نے اپنی ربو بیت کے اقتضا ء کے مطابق انسان کے لئے ایک ایسا نظا م بنا یا جو اسکی فطرت کے مطا بق ہے اور اس نظام کے لئے پیغمبروں اور ان کے اوصیاء کو حامل اور محا فظ قرار دیا اور فرمایا:( لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی ﷲ حُجَّة بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ ﷲ عَزِیزًا حَکِیمًا)( ۱ ) تاکہ اللہ پر رسولوں کے آنے کے بعد لو گوں کے لئے حجت نہ رہ جا ئے اور خدا وند عالم صاحب عزت اور صاحب حکمت ہے ۔

حضرت خا تم الا نبیا ءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی امام علی ـنے بھی فرمایا ہے:(لَا تَخْلُوْا لاَرْضُ مِنْ قَائِمٍ لِلّٰهِ بِحُجَّةٍ، اِمَّا ظَاهراً مَشهُورَاً اَو خَائفاً مَعمُورا لِئلَاَّ تَبْطُلَ حُججُه وَ بَیِّنَاتُهُ )( ۲ ) حجت خدا سے زمین کبھی خالی نہیں رہے گی خواہ ظاہر و آشکار ہویا (دشمنوں کے خوف سے ) پنہان اور مخفی ہو، تا کہ اللہ کے دلا ئل و بر ا ہین با طل نہ ہوں۔

____________________

(۱)سورہ ٔ نسائ: آیت ۱۶۵(۲) وصی کی بحث میں معالم المدرستین، نہج البلاغہ، باب حکم، حکمت ۱۳۹ ملاحظہ ہو.


اور'' الٰہی مبلغین ،لو گو کے معلّمین'' کی بحث میں ان کے اخبار سے خلا صہ کے طور پر اس بارے میں عرض کیا کیو نکہ ان کی مبسوط اور مفصل شرح کرنے سے مباحث ایک دوسرے سے جداہو جائیں گے اور ان کا آپسی ارتبا ط اوراتصال و انسجام بے ترتیب ہو جا ئے گا اور ایسی صورت میں مبداء و معاد سے اسلام کے اعتقادی مباحث کا سلسلہ وار ہو نا اور یہ کہ یہ عقائد کس طرح سے ایک دوسرے کے ہا دی اور اس پر ناظر ہیں ، محققین کے لئے مخفی رہ جائیں گے اس لحا ظ سے بنی اسرا ئیل کی استثنا ئی حیثیت کہ جو زمان و مکان کے اعتبار سے ان کے لئے خصوصی احکام کا با عث ہو گئی تھی ہم نے مختصر طور سے بیان کیا ہے۔اسی لئے ہم مجبور ہیں کہ اس کتاب کی تیسری جلد میں گزشتہ مطا لب کی اختصار کے ساتھ تشریح کردیں۔

پہلی جلد میںخدا کی حجتوں کے متعلق اخبار اور ان کاعصر فترت تک یکے بعد دیگرے آنا اور یہ کہ فترت سے مرادپیغمبروںکے آنے میں توقف ہے نہ کہ ان کے اوصیا ء کے حضور میں تا خیر ہے ، اس سلسلے میں مفصل بیان ہو چکا ہے کہ کس طرح سے خدا کی حجتیں بشریت کی تہذ یب و ثقا فت کے ارتقاء اور عروج کاباعث تھیں، ان کی ہدایت و راہنمائی صرف اخروی امور کو شا مل نہیں ہے۔ اسی طرح بنی اسرا ئیل کے خاص حالات، خاص قوانین کا اقتضا ء کرتے تھے اس طرح سے کہ اُن مخصوص احکام میں سے بعض حضرت عیسیٰ کے زمانے تک جاری ر ہے اور بعض وہ تمام چیزیں جو اس سے پہلے ان پر حرام تھیں حلال ہوگئیں، ہم نے ان سب باتوں کے متعلق مکمل طور پر گفتگو کی۔ اور انشاء اللہ (آخری شریعت) کی بحث میں ملا حظہ فرما ئیں گے کہ کس طرح خدا وند عالم نے بنی اسرا ئیل کی خا ص مو قعیت کے لئے احکام معین کئے تھے جنھیں نسخ کردیا ۔ اور کس طرح دین حنیف حضرت ابرا ہیم کہ خدا نے اس سے پہلے حضرت نوح کو اس کی پیروی کا حکم دیا تھا اور جوابد الاباد تک کے لئے آدمی کی فطرت کے مطابق ہے اس کا اعادہ فر مایا۔

اور اس کتاب میں زیا دہ فا ئدے کے لئے کبھی ان اصطلاحات کو جن کو پہلی جلد میں بیان کیا ہے ایک دوسرے طریقے سے ان کی تعبیر کی ہے اور ایساہم نے زیا دہ سے زیادہ وضا حت کر نے اور بطور کامل مطلب کو پہنچا نے کے لئے کیا ہے ہم نے ان تمام مراحل عقائد اسلام کے ذکر کرنے میں م قرآن کریم کے معجزنما طرز بیان کی اقتدا کی ہے یعنی موقع و محل کے اقتضا کے اعتبار سے کبھی اختصا ر کے ساتھ اور کبھی تفصیل کے ساتھ اور کبھی پہلی تعبیر کی دوسری تعبیر سے تبدیلی کے ذریعہ جو ہم نے یہاں پیش کی ہیں گفتگو کی ہے۔اب صرف اس امید کے ساتھ کہ قرآن کر یم میں غور وخوض کرنے والے قارئین کے لئے اس رہگذر سے بھر پور فا ئدہ ہو مذکورہ مبا حث کو آیندہ مرحلوں میں بیان کر یں گے۔


مباحث کی سرخیاں

زمانے کی ترتیب کے اعتبار سے اللہ کے مبلغین کی سیرت

پیش لفظ

اسلامی اصطلا حیں:وحی نبوت، رسالت اور آیت

قرآن کریم کی آیات

آیات کی روایات کے ذریعہ تفسیر

بحث کا خلا صہ

حضرت آدم ـ :

آدم ـ کی تخلیق سے متعلق قرآنی آیات

سیرت کی کتا بوں میں حضرت آدم ـکے بعد اوصیاء کے حالات:

شیث ہبة اللہ ـ

شیث ـکے فرزندانوش

انو ش ـکے فرزند قینان

قینان ـکے فرزند مہلائیل

مہلائیل ـکے فرزند یرد

یرد ـکے فرزند ادریس( اخنوخ)

اخنوخ ـ کے فرزند متوشلح ـ

متوشلح ـ کے فرزند لمک


توریت سے پیغمبر وں کے اوصیاء کی تاریخ

توریت میں نوح ـ اور ان کے بعد اوصیاء کے حالات

نتیجہ

نوح ـ :

قرآن کریم کی آیات میں نوح ـ کی سیرت اور روش

کلمات کی تشریح

آیات کی تفسیر

اخبار نوح ـ کا خلا صہ

حضرت نوح ـکی داستان اسلامی مآخذ اور منابع میں

نوح ـ کے فرزند سام

سام ـکے فرزند ارفخشد ـ

ارفخشد ـ کے فرزند شا لح

ہود ـ:

قرآن کریم کی آیات میں ہو د ـکی سیرت وروش

کلمات کی تشریح

تفسیر آیات کا خلا صہ

نتیجہ


صالح ـ:

۱۔قرآنی آیات میں حضرت صالح ـکی سیرت اور روش

۲۔ کلمات کی تشریح

۳۔ تفسیر آیات کا خلا صہ

۴۔نتیجہ

ابراہیم خلیل اللہ ـ:

قرآن کریم میںحضرت ابرا ہیم ـکی سر گذ شت کے منا ظر

۱۔ ابراہیم ـاور مشر کین

۲۔ابرا ہیم ـاور لو ط ـ

۳۔ ابراہیم ـاسمٰعیل ـاور تعمیر کعبہ اور لوگوں کو منا سک حج کی

ادائیگی کی دعوت دینا

۴ ۔ابراہیم ـ، اسحق ـاور یعقوب ـ

کلمات کی تشریح:

تفسیر آیات میں عبرت انگیز نکات

پہلا منظر : ابرا ہیم ـ اور مشر کین

الف ۔ ابرا ہیم ـاور ستارہ پر ست

ب ۔ ابرا ہیم ـاور بت پر ست

ج ۔ ابرا ہیم ـاور ان کے زمانے کے طا غوت

دوسرا منظر : قوم لوط کی داستان میں ابرا ہیم ـکا موقف


تیسرا منظر :حضرت ابرا ہیم ـاور اسمٰعیل ـکی روداد اور تعمیر کعبہ اور لوگوں کو منا سک حج کی ادائیگی کے لئے دعوت دینا.

چو تھا منظر :ابرا ہیم ـاور ان کی نسل کی دو شا خ

حضرت ابرا ہیم ـکے فر زند اسحق اور اسحق ـکے فر زند یعقوب

(اسرائیل) اور یعقوب ـکے فر زند ( بنی اسرا ئیل ) کی داستان

اسحق ـکے فر زند یعقوب ـ:

قرآن کر یم کی آیات میں یعقوب ـکی سیرت و روش

کلما ت کی تشریح

آیا ت کی تفسیر

ایک خاص مدت اور زمانہ تک قوم یعقوب ـ( بنی اسرائیل ) کے

لئے کچھ استثنائی احکام جعل کر ن

شعیب ـ:

قرآن کریم کی آیات میں شعیب ـکی روش اور سیرت

کلمات کی تشریح

آیات کی تفسیر میں عبرت انگیز نکتے


قرآن کریم میں بنی اسرا ئیل اور ان کے پیغمبروں کے حالات کے

مناظر اور ان کے استثنائی حالا ت کی تشریح

پہلا منظر : حضرت موسیٰ ـکی و لا دت اور یہ کہ فر عون نے انھیں اپنی

فرزندی میں قبو ل کیا

دوسرا منظر :نہ گا نہ معجزات

آیات کی تفسیر میں حیرت انگیز نکتے:

تیسرا منظر : صحرائے سینا ء میں بنی اسرا ئیل

چو تھا منظر : حضرت داؤد ـاور حضرت سلیمان ـ

پا نچو منظر: حضرت زکر یا ـاور حضرت یحیی ٰ ـ

چھٹا منظر : حضرت عیسیٰ بن مریم

فترت کا زمانہ

عصر فترت کا مفہوم:

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء و اجداد کے علاوہ انبیاء واوصیاء فترت کے زمانے میں موجودتھے.

حضرت ابرا ہیم ـ کے وصی حضرت اسمٰعیل ـکے خاندان کے بعض افراد کے

حالات جو کہ دین حنیف پر تھے.

رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض آباء واجداد ( جیسے: عدنان، مضر وغیرہ وغیرہ ) کے حالات.

مضر ـکے فر زند الیاس ـ

خزیمہ کے فر زند کنا نہ

لؤی کے فر زند کعب


مکّہ میںبت پر ستی کا عام رواج اور اس کے مقا بل پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آبا ء واجداد کاموقف

کلاب کے فر زند قُصیّ

قُصیّ کے فرزند عبد منا ف

عبد مناف کے فرزند جناب ہاشم

جناب ہاشم نے کس طرح اعتفاد ( بھوک کے مارے خودکشی ) کی رسم کومٹایا۔

جناب ہاشم کے فر زند جناب عبد المطلب

جناب عبد المطلب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولا دت کے وقت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء و اجداد، جناب ابو طالب، جناب عبد اللہ

اورجناب عبد المطلب کی اولاد:

۱۔ خا تم الا نبیاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد جناب عبد اللہ

۲۔ اسلام کے ناصر و یاور اور رسول اکرم کے سرپرست جناب ابو طالب

اس بحث سے متعلق پیش گفتار

جہاں اسلا م کے احکام و مفا ہیم صا حبان شر یعت پیغمبروں کی سیرت و روش میں حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں وہیں ایک مسلما ن اس امر کی تحقیق کے بعد مبد أ سے معاد تک صحیح نتیجہ نکال کر اسلامی عقائد تک رسائی حاصل کرے گا لیکن یہ بحث وتحقیق ایک عظیم مجمو عہ کی طا لب ہے اور اس کتاب میںاس کی گنجا ئش نہیں ہے اور ہم ان کے اخبار کی تحقیق کے سلسلے میں قرآن کریم( عھدین '' تو ریت اور انجیل'' ) اور دیگر اسلامی مصادر پر تکیہ اور انحصار کریں گے ایسے اخبار جنکی تحقیق ہمارے گزشتہ بیا نات اور اس کتاب میں آنے والے آیندہ مباحث کو درک کرنے اور سمجھنے کے لئے ضروری ہے

قرآ نی آیات کی تفسیر میں بھی صرف انھیں مطا لب کے بیان پر اکتفا ء کر یں گے جن پر کتاب کے مطالب کا درک کرنا اور سمجھنا موقوف ہے. اب خداوند عالم کی تا ئید و تو فیق سے بحث کا عنوان ان آیات کی تحقیق قراردیں گے جن میں بعض اسلامی اصطلا حا ت جیسے! وحی ، نبوت، رسالت،آیت، بشیر اور نذیر کی تعریف کی گی ہے، یعنی وہی مطا لب کہ آئندہ بحثیں جن کے محور پر گردش کریں گی.


( ۱ )

اسلامی اصطلاحیں * صطفاء

* وحی

* کتاب

* نبوت

* رسول

* اولو العزم

* آیت

۱ ۔ خدا وند سبحان سورۂ حج کی ۷۵ ویں آیت میں فرما تا ہے:

( ﷲ یَصْطَفِی مِنَ الْمَلَائِکَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ اِنَّ ﷲ سَمِیع بَصِیر )

خدا وند عالم انسانوں اور فر شتوں میں سے اپنے نمائندے انتخاب کر تا ہے

۲۔ سورہ ٔ آل عمرا ن کی ۳۳ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( إ ِنَّ ﷲ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ اِبْرَاهِیمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِینَ )

خدا وند عالم نے آدم ، نو ح ، خاندان ابراہیم اور خاندان آل عمرا ن کو تمام عالمین پر منتخب کیا.

۳۔ سورہ ٔ نساء کی ۱۶۳ ویں سے ۱۶۵ ویںآیت تک ارشاد ہوتا ہے:

( اِنَّا َوْحَیْنَا الَیکَ کَمَا َوْحَیْنَإ الَی نُوحٍ وَالنّاَبِیِّینَ مِنْ بَعْدِهِ وَاَوْحَیْنَإ الَی بْرَاهِیمَ وَاِسْمَاعِیلَ وَاِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالَسْبَاطِ وَعِیسَی وَاَیُّوبَ وَیُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَیْمَانَ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ٭ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْکَ وَکَلَّمَ ﷲ مُوسَی تَکْلِیمًا ٭ رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی ﷲ حُجَّة بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ ﷲ عَزِیزًا حَکِیمًا )

ہم نے جس طرح نوح اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی نازل کی اسی طرح تم پر بھی وحی نازل کی ہے.اسی طرح ابرا ہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب، اسبا ط، عیسی، ایوب، یو نس، ہارون اور سلیمان پر وحی بھیجی اور داؤد کو زبور عطا کیا. اور ان رسولوں پر بھی جن کی داستان اس سے پہلے تم سے بیان کی ہے اور وہ لوگ بھی جن کی حکایت بیان نہیں کی گئی ہے اور خدا وند عالم نے موسی ٰسے گفتگو کی، بشارت دینے والے اور ڈارانے والے انبیا ء بھیجے تاکہ لوگوں کے لئے ان پیغمبروں کے بعد خدا پر کوئی حجت نہ رہ جائے اور خدا عزیز و حکیم ہے۔


۴۔سورۂ نحل کی ۳۴ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ ُمَّةٍ رَسُولاً َنْ اُعْبُدُوا ﷲ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَی ﷲ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلَا لَةُ فَسِیرُوا فِی الَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ )

یقینا ہم نے ہر امت کے درمیان ایک پیغمبر بھیجا ( تا کہ خلق کو پیغام پہنچا ئے) کہ خدا کی عبادت کرو اور طاغوت سے دوری اختیار کرو. ان میں سے بعض کی خدا نے ہدایت کی اور بعض گمرا ہی و ضلا لت میں پڑے رہے...

( فَهَلْ عَلَی الرُّسُلِ ِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ )

آیا پیغمبروں پر آشکار تبلیغ کے علا وہ بھی کو ئی چیز ہے ؟ سورۂ نحل آیت ۳۵.

۵۔ سورہ ٔ آل عمران کی ۸۱ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذْ َخَذَ ﷲ مِیثَاقَ النّاَبِیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَةٍ ثُمَّ جَائَکُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ََقْرَرْتُمْ وََخَذْتُمْ عَلَی ذَلِکُمْ ِصْرِی قَالُوا َقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وََنَا مَعَکُمْ مِنْ الشَّاهِدِینَ )

جب خدا نے پیغمبروں سے عہد و پیمان لیا کہ ہم نے تم کو کتاب و حکمت عطا کی لھذا اس پیغمبر کی جو تمہارے آیئن کی تصدیق کر نے والا ہے اور تمہا ر ی طرف آرہا ہے اُس پر ایمان لا کر اس کی حمایت کرو، (خدا نے ان سے ) کہا: آیا اسے قبو ل کر تے ہو اور محکم عہد کرتے ہو؟بو لے :ہاںگواہی دیتے ہیں.خدا نے کہا: تم بھی گواہ رہنا کہ میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

۶۔ سورہ ٔ انعام کی ۸۳ سے۸۶ تک اور ۸۹ آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْنَاهَا اِبْرَاهِیمَ عَلَی قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَائُ ِنَّ رَبَّکَ حَکِیم عَلِیم ٭ وَوَهَبْنَا لَهُ ِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلًّا هَدَیْنَا وَنُوحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وََیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ٭ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَِلْیَاسَ کُلّ مِنْ الصَّالِحِینَ ٭ وَِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِینَ ٭ وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّیَّاتِهِمْ وَِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَیْنَاهُمْ وَهَدَیْنَاهُمْ الَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ٭ ذَلِکَ هُدَی اللَّهِ یَهْدِی بِهِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ َشْرَکُوا لَحاَبِطَ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ٭ ُوْلَئِکَ الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَِنْ یَکْفُرْ بِهَا هَؤُلاَئِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَیْسُوا بِهَا بِکَافِرِینَ٭ )


یہ ہماری حجت ہے جسے ہم نے ابرا ہیم کو ان کی قوم پر عطا کی، ہم جس کا مرتبہ چا ہیں بلند کردیں تمہارا خدا حکیم اورعلیم ہے اور ہم نے انھیں اسحاق اور یعقوب کو دیا اور سب کی راہ راست کی طرف ہدایت وراہنمائی کی اور نو ح کی اس سے پہلے ہدایت کی اور ان کے فر زندوں میں داؤد ، سلیمان، ایو ب ،یوسف ، موسیٰ اور ہارون کی ہدایت کی اور اسی طرح ہم نیک عمل کرنے والوں کو نیک جزا دیتے ہیںاور زکریا ،یحییٰ ، عیسیٰ اور الیا س سب کے سب نیک عمل کرنے والے ہیں .اسمٰعیل ، یسع، یونس اور لوط بھی؛ اور ہم نے ان سب کو عالمین پر فوقیت و بر تری عطا کی

یہ وہ انبیا ء ہیں جنھیں ہم نے کتا ب اور فر ما نروائی( یا عقل و دانش اور یا منصب قضاوت) اور نبوت عطا کی ۔

۷۔سورۂ بقرہ کی ۱۳۶ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( قُولُوا آمَنَّا بِﷲ وَمَا ُنزِلَ الَینَا وَمَا ُنزِلَ الَی اِبْرَاهِیمَ وَِسْمَاعِیلَ وَِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالَسْبَاطِ وَمَا ُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا ُوتِیَ النّاَبِیُّونَ مِنْ راَبِهِمْ لاَنُفَرِّقُ بَیْنَ َحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ )

کہو ! ہم خدا اور جو کچھ ہم پر نازل ہوا اورجو کچھ ابرا ہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور اسباط پر نازل ہوا اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا ہے اور ان تمام چیزوں پر جو خد ا کی طرف سے پیغمبروں کو عطا ہوئی ہے ایمان لائے. ان پیغمبروں کے درمیان کسی فرق کے قا ئل نہیں ہیں. اور خدا کے مطیع اور اس کے سامنے سراپا تسلیم ہیں۔

۸۔سورہ ٔ حدید کی ۲۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِیدَ فِیهِ بَْس شَدِید وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ ﷲ مَنْ یَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَیْبِ ِنَّ ﷲ قَوِیّ عَزِیز )

بیشک ہم نے اپنے پیغمبروں کو معجزات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمرا ہ کتاب اور میزان نازل کی تا کہ لوگ سچا ئی اور عدا لت کی طرف رخ کریں اور لوہا جس میں بہت زیادہ سختی اور لوگوں کے لئے منافع ہیں نازل کیا تا کہ معلوم ہو کہ کو ن ایمان با لغیب کے ساتھ خدا اور اس کے پیغمبروں کی نصرت کرتا ہے۔

اور سورہ ٔ نور کی ۵۴ ویں اور عنکبو ت کی ۱۸ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَمَا عَلَی الرَّسُولِ ِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ )

پیغمبر پر آشکارا تبلیغ کے علا وہ کچھ نہیں ہے.


۹۔ سورۂ سباء کی ۳۴ ویںآیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَمَا َرْسَلْنَا فِی قَرْیَةٍ مِنْ نَذِیرٍ ِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَا ِنَّا بِمَا ُرْسِلْتُمْ بِهِ کَافِرُون )

ہم نے کسی پیغمبر کو کسی دیار میں نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس دیار کے عیش پسندوںاور عشرت طلب افراد نے ان سے کہا ہم تمہاری رسا لت کے منکر ہیں اور تم پر ایمان نہیں رکھتے.

۱۰ ۔اور سورۂ اعراف کی ۶۵ ویں اور سورۂ ہود کی ۵۰ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَالیٰ عَاد ٍاَخاهُم هُوداً )

سورہ ٔ اعراف کی ۷۳ ویں اورسورہ ٔ ہود کی ۶۱ ویں اور سورۂ نمل کی ۴۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتاہے:

( وَالیٰ ثَمُوداَخَاهُم صَالحاًً )

اور سورۂ اعراف کی ۸۵ اور سورہ ٔ ہو د کی ۸۴ اور سورہ ٔ عنکبو ت کی ۳۶ ویں آ یت میں ارشادہوتا ہے:

( وَالَیٰ مدین اَخَاهُم شُعیبا ً )

۱۱۔سورۂ زخرف کی ۴۶ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ َرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَإ الَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ ِنِّی رَسُولُ راَبِ الْعَالَمِینَ )

ہم نے مو سیٰ کو اپنے معجزات کے ساتھ فرعون اور ان کے حو الی موا لی کی طرف بھیجا تو مو سیٰ نے ان سے کہا : میں ربّ العا لمین کا فرستا دہ ہوں۔

۱۲ ۔ سورۂ احقا ف کی ۳۵ ویں آیت میں ارشا د ہوتا ہے:

( فَاصبِِرکَماصَبرَاُولَوالعَزم مِن الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ... )

اے پیغمبر تم بھی دیگر اولو العزم پیغمبروں کی طرح صبر کرو اور ان کے ( عذا ب ) کے لئے جلد ی نہ کرو۔

۱۳ ۔سورہ ٔ فاطر کی ۲۴ ویں آیت میں ارشا د ہوتا ہے :

( ِنَّااَرسَلنٰک بِالْحَقِ بَشیراًًوَنَذیراًوَاِنْ مِّن اُمّةٍ اِ لَّا خَلا فِیهانَذیِر )

ہم نے تمھیں حق کے ساتھ ڈرانے والا اور بشارت دینے وا لا بنا کر بھیجا اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس کے درمیا ن کوئی ڈرانے والا نہ ہو۔


۱۴ ۔سورہ ٔشعر ا کی ۲۰۸ ویںآیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَااَهْلَکنامِنْ قَرْ یَةٍٍا اِلَّا لَهامُنذِرُونَ )

ہم نے کسی دیا ر والوں کو ہلا ک نہیں کیا مگر یہ کہ ان کے درمیان ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔

۱۵ ۔سورہ ٔ اسرا ء کی ۱۰۱ آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلََقَد ْاتَینامُوسیٰ تِسعَ آیاتٍٍ بَینّات ٍفَسئل بنی اِسرا ئیلَ اِذجائَ هُمْ فَقَال لَهُ فِرْعُونُ اِنّی لَاَظُنُّکَ یَامُوسیٰ مَسْحُورا ) ً)

ہم نے موسیٰ کو نہ گا نہ آشکار ا معجزے عطا کئے بنی اسرا ئیل سے سوال کروجب ان کی طرف موسیٰ آئے اور فرعون نے ان سے کہا : اے مو سیٰ ! میرے خیال میں تم پر جادو کر دیا گیا ہے.

۱۶ ۔ موسیٰسے خطا ب کرتے ہوئے سور ہ ٔ نمل کی ۱۲ ویںاور ۱۳ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَاَدخِلْ یَدَک فی جَیبِکَ تَخْرُ جْ بَیضائَ مِنْ غَیرِ سوء ٍ فی تِسعِ آیاتٍ الیٰ فِرعَون وَقَومِه انَّهُم کٰانُواْ قَوْماًًفَاسِقینَ٭فَلَمّاجائَ تْهُمْ آیٰا تُنامُبصِرةً قالُواهذاسِحْرُمُبینُ )

اے موسیٰ ! اپنے ہا تھ کو اپنے گر یبان کے اند ر لے جاؤ اور جب باہر لا ؤ گے تو بغیر کسی داغ دھبّے کے سفید ( نورا نی اور نور افشاں) ہو جا ئے گا اس وقت دیگر معجز وں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے فاسق لوگوں کے درمیان بھیجے جا ؤ گے .جب موسیٰ نے ہمارے معجزات دکھلائے تو انھو نے کہا: یہ تو کھلا ہوا سحر ہے۔

۱۷ ۔ سورہ ٔ رعد کی ۳۸ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ اَرْسَلنَا رُسُلاً مِن قبلکَ وَجَعلنَا لَهُم اَزوَاجاً وَذُریةً وَمَا کَانَ لِرسُولٍ ان یَأتی بِٰایة لّابِاذْنِ اللّٰهِ... )

ہم نے تم سے پہلے کچھ پیغمبروں کو بھیجا جو تمہاری ہی طرح سے بیو ی بچے والے تھے اور کسی بھی پیغمبر کے لئے روا نہیں کہ بغیر خدا وند عا لم کی اجازت اور اس کے اذن کے ،معجزہ پیش کرے.


۱۸۔ سورہ ٔ غا فر کی ۷۸ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلََقَدْاَرسَلنَارُسُلاًمِن قَبلکَ مِنهُمِ مَن قَصَصنَاعَلیکَ وَمِنهُمْ مَن لَمْ نَقْصَص عَلیکَ وَمَاکَانَ لِرسُولٍ اَن یَأ تی بِاٰیةاِلّابِاذنِ اللّٰهِ... )

ہم نے تم سے پہلے پیغمبروں کو بھیجا ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی داستان تم سے بیان کی.

اور کچھ ایسے ہیں جن کا قصہ تم سے بیان نہیں کیا،کسی بھی پیغمبر کے لئے روا نہیں ہے کہ خدا کی اجازت اور اس کے اذن کے بغیر معجزہ دکھا ئے:

۱۹ ۔ سورہ ٔ حج کی ۴۲ ویں سے ۴۵ ویں آ یت تک میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَِنْ یُکَذِّ بُوکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَاد وَثَمُودُ٭ وَقَوْمُ اِبْرَاهِیمَ وَقَوْمُ لُوطٍ ٭ وََصْحَابُ مَدْیَنَ وَکُذِّبَ مُوسَی فََمْلَیْتُ لِلْکَافِرِینَ ثُمَّ َخَذْتُهُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیرٍ٭ فَکََیِّنْ مِنْ قَرْیَةٍ َهْلَکْنَاهَا وَهِیَ ظَالِمَة فَهِیَ خَاوِیَة عَلَی عُرُوشِهَا واَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِیدٍ ٭ )

اور اگر انھو نے تمہاری تکذ یب کی ہے تو ان سے پہلے، نو ح، عا داور ثمو د کی قوم نے بھی ( اپنے رسولوں کی) تکذ یب کی ہے۔ اور ابرا ہیم اور لو ط کی قو موں اورمد ین کے رہنے والوں (قوم شعیب) نے بھی اپنے رسولوں کی تکذ یب کی ہے اور مو سیٰ بھی جھٹلا ئے گئے ہیں.ہم نے کافرو کو مہلت دی پھر اس وقت ان کا مو اخذہ کیا (سزا دی) پھر ہماری سزا کیسی تھی؟.بہت ساری آبا دی (جن کے رہنے وا لے ) ظالم اور ستمگر تھے ہم نے ہلاک کر ڈا لیں جن کی چھتیں اور دیوار گر کرمنہدم اور بنیا د سے ہی ویرا ن اور خالی ہوگئیں اور کنو یں کے پا نی بے مصرف اور عا لی شان قصر بغیر مکین کے رہ گئے ہیں.

۲۰ ۔ سورہ ٔ احزاب کی ۴۵ ویں اور ۴۶ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( یاَاَیَّهُااَلنبَّی اِنَّااَرَسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذیرًا ٭وَدَاعِیاًًاِلیٰ اللّٰهِ بِِذنِه وَسِرَاجاً مُنیرًا )

اے پیغمبر! ہم نے تمہیں گواہی دینے والا، بشا رت دینے والا، ڈرا نے والا اور اپنے اذن سے لوگوں کو ﷲ کی طرف بلانے والااور روشن چرا غ بنا کر بھیجا۔

۲۱ ۔سورہ ٔ سبا کی ۲۸ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَااَرَسَلنَاکَ اِلاّ کَافّة ً لِلنََاّسِ بَشِیراًًوّنَذ یراًً... )

ہم نے تمھیں تمام لو گو کے لئے بشا رت دینے وا لا اور ڈا رنے وا لا پیغمبر بنا کر بھیجا۔


۲۲۔سورہ ٔ اسراء کی ۸۸ ۔ ۹۵ آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی َنْ یَْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لاَیَْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیرًا ٭ وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِی هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فََبَی َکْثَرُ النَّاسِ ِلاَّ کُفُورًا ٭ وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی تَفْجُرَ لَنَا مِنْ الَرْضِ یَنْبُوعًا ٭ َوْ تَکُونَ لَکَ جَنَّة مِنْ نَخِیلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الَنهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِیرًا ٭ َوْ تُسْقِطَ السَّمَائَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا َوْ تَْتِیَ بِﷲ وَالْمَلَائِکَةِ قاَبِیلًا ٭ َوْ یَکُونَ لَکَ بَیْت مِنْ زُخْرُفٍ َوْ تَرْقَی فِی السَّمَائِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتَّی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَابًا نَقْرَؤُه قُلْ سُبْحَانَ راَبِی هَلْ کُنتُ ِلاَّ بَشَرًا رَسُولًا ٭ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ َنْ یُؤْمِنُوا إِذْ جَائَهُمُ الْهُدَی ِلاَّ َنْ قَالُوا َبَعَثَ ﷲ بَشَرًا رَسُولًا ٭ قُلْ لَوْ کَانَ فِی الَرْضِ مَلَائِکَة یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِنَ السَّمَائِ مَلَکًا رَسُولًا ٭ )

اے پیغمبر :کہو! اگر جن و انس متفق ہو جائیں تا کہ اس کے مانند قرآن پیش کریں ہرگز ایسا نہیں کر سکتے خواہ ایک دوسرے کے پشت پناہ اور مدد گار بن جائیں. ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال دی ہے، لیکن اکثر لو گوں نے ناشکری کے علا وہ کوئی اور کام نہیں کیا اور کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ زمین سے پانی کا چشمہ جاری کرو.

یا یہ کہ تمہارا انگو ر اورخر ما کا باغ ہو جس کے درمیا ن پا نی کی نہر یں جا ری ہوں یا جیسا کہ کہتے ہو آسمان سے کو ئی ٹکڑا ہمارے سر پر گرا دو یا خدا اور ملائکہ کو ہمارے سا منے حا ضر کر و. یا یہ کہ سونے کا تمہارے کو ئی گھر ہو یا آسمان پر جاؤ اور ہم تمہارے آسمان کی بلندی پر جا نے کا اُس وقت تک یقین نہیں کر یں گے جب تک کہ ہمارے اوپر کوئی ایسی کتا ب نازل نہ کرو کہ جسے ہم پڑ ھیں. کہو! ہمارا خدا پاک اور منزہ ہے.کیا میں انسا ن کے علا وہ کچھ ہوں جو خدا کی طرف سے رسالت کے لئے مبعوث ہوا ہوں؟! لوگوں کو ایمان و ہدایت سے کسی نے نہیں رو کا جب کہ اُن کے لئے قرآن آیا، لیکن انھوں نے انکا ر کرتے ہوئے کہا:کیا خدا نے کسی انسان کو پیغمبری کے لئے مبعوث کیا ہے؟! کہو اگر زمین میں فر شتوں کا رہنا ہوتا اور ان کی سکو نت کی جگہ ہوتی تو یقینا ہم آسمان سے ان کی رسا لت کے لئے کسی فر شتے کو مبعو ث کرتے۔


کلمات کی تشریح

۱۔ یصطفی:

( صفو) کے مادہ سے فعل مضا رع ہے جوکہ خا لص نچوڑ اور ہر چیز سے منتخب شدہ کے معنی میں ہے اور (اصطفا ئ) عصا رہ اور خالص شیء پر دستر سی کے معنی میں ہے .اصطفائ، اسلامی اصطلا ح میں یعنی خدا وند عالم نے اپنے بندے کو شکوک و شبہات اور دوسروں میں پا ئی جانے والی گند گی سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے یا اسے دوسروں پر انتخاب کیا ہے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خلقت کا نچوڑ، اس کاخلا صہ اور خدا کے بر گز یدہ ہیں اور سارے انبیاء خدا کے برگزیدہ ہیں۔

۲۔ اَوْحَےْنَا:

( وحی ) کے مادہ سے متکلم مع الغیر کا صیغہ ہے( جسے اردو میں جمع متکلم کہا جا تا ہے) جو لغت میں پو شیدہ طور پر آگاہ کر نے کے معنی میں استعما ل ہوتا ہے لیکن جب اسلامی اصطلا ح میں یہ کہا جائے: خدا وند عا لم نے فلاں چیز کی اپنے بر گز یدہ بندہ پر وحی کی یعنی: اُ سے اس کے دل میں جگہ دیدی اور خواب یا بیداری کی حالت میں اسے الھام کیا، یا اپنے کسی ایک فر شتے کی زبانی اس تک اُسے پہنچایا۔


۳۔ بعثت:

پیغمبروں سے متعلق، اس معنی میں ہے کہ خدا وند عالم نے انھیں بھیجا اور مبعوث کیا ہے۔

۴۔ کتاب :

لغت میں مکتوب رسالے اور جز وے کے مجمو عہ کے معنی میں ہے.

لیکن اسلا می اصطلا ح میں ایک ایسی وحی ہے جو کتابت اور کتاب ہونے کے لائق ہے،ایسی کتاب جس میں علوم دین، اعتقا دات اور عمل کا ذکر ہو۔

اس طرح کی کتاب پیغمبروں میں سے صرف پانچ پیغمبر اپنے ہمرا ہ لائے ہیں:

نوح ـ ، ابرا ہیم ، مو سیٰ ، عیسیٰ اور محمد صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم، وہ کتاب جو پیغمبروں کے ہمراہ نازل ہوئی ہو وہ اسم جنس ہے اور اس سے مراد آسمانی کتابیں ہیں.

۵۔ حُکْم: حَکَمَ، ےَحْکُمُ ،حُکْماً :

قضا وت کی، قطعی و یقینی حکم صا در فرمایا. اسی طرح دانش اور تفقہ کے معنی میں بھی ہے اورحکمت کے معنی میں بھی استعما ل ہوا ہے ،آدمی کی حکمت، مو جو دات کی شنا خت اور نیک امور کی انجام دہی ہے ، یہ تمام معا نی مقا م استعمال سے منا سبت رکھتے ہیں۔

۶۔ نبّو ت :

نبوت لغت میں بر جستگی اور ظہو ر کے معنی میں ہے اور خبر دینے اور آگاہ کر نے کے معنی میں ہے راغب کا ''( نبا ئ)''اور''نبوّت '' کے بارے میں مختصر بیان اس طرح سے ہے:


۷۔ ( نبأ) :

عظیم فا ئدے کے ساتھ ایک ایسی خبر ہے جس سے علم یا ظن غا لب حا صل ہوتا ہو. خبر کو (نبأ ) اُس وقت تک نہیں کہتے جب تک کہ اُس میں تین چیز نہ پا ئی جا ئے، جس خبر پر نبأ کا اطلا ق ہوتا ہے وہ کذب سے خا لی ہوتی ہے، جیسے توا تر( تسلسل ) یا خدا وند متعال کی خبر یا پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خبر اور فرماتے ہیں '' نبی ''( نبوت ) سے رفعت اور بر جستگی کے معنی میں ہے اور پیغمبر صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے برجستگی اور مقام کی رفعت و بلندی کی وجہ سے ( نبی ) کا لقب پا یاہے.( ۱ )

اسلا می اصطلا ح کے اعتبار سے قرآن و حدیث میں ( نبی ) کے موارد استعما ل کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں:

(نبی ) وہ ہے جسے خدا وند عالم نے اپنے بندوں کے درمیا ن منتخب کر کے حکم عطا کیا ہے اور اسے کتاب کی وحی کی ہے اور اسے مبعوث کیا تا کہ جن و انس کو ایسے امور سے آگاہ کرے جن میں ان کی دنیا و آخرت کی صلا ح پا ئی جا تی ہو وہ خدا کی طرف سے کلا م کرتا ہے اور حضرت باری تعالی کا وہ پیغام جو اسے بذریعہ وحی پہونچاہے لو گوں تک پہنچا تا ہے. نبی کی جمع انبیا ء اور نبیین آتی ہے.( ۲ )

(نبی ) قرآن کریم میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، سوائے سورہ ٔ حج کی ۵۲ ویں آیت کے جس میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَ مَااَرْسَلنَامِنْ قَبلکَ مِنْ رَسول ٍ وَلَا نبیٍّ لاّٰ اذَا تمنّیٰ اَلْقٰی الشَیطانُ فِی اُمْنِیَّته ) ...)

تم سے پہلے ہم نے کبھی کسی نبی یا رسول کو نہیں بھیجا مگر جب اس نے آرزو کی ( دین کو عملی جامہ پہنا نے کی ) تو شیطان اس کی خو اہش کے درمیان حائل ہوگیا۔

جب امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو انھوں نے فرمایا:

نبی وہ ہے جو ( دستور الٰہی کو ) خواب میں دیکھتا ہے حضرت ابرا ہیم کے خواب کے مانند اور آواز بھی سنتا ہے لیکن فر شتہ کو نہیں دیکھتا ؛ لیکن رسول وہ ہے جو خوا ب بھی دیکھتا ہے آواز بھی سنتا ہے اور فر شتۂ وحی کو بھی سامنے دیکھتا ہے اور ممکن ہے مقام نبو ت و رسا لت ایک شخص میں جمع ہو۔( ۳ )

____________________

(۱)۔ مفردات راغب، مادۂ نبائ(۲)۔ لفظ نباء کے بارے میں معجم الفاظ قرآن کریم اور معجم الوسیط ملاحظہ ہو۔(۳)ہم نے اصول کافی کی پہلی جلد کے ۱۷۶صفحہ سے نبی اور رسول کے درمیان اس فرق کا استفادہ کیا ہے.


۸۔ رسول:

رسول لغت میں پیغا م کے حا مل ایک عقلمند انسان کو کہتے ہیںاور اس حا ل میں اسے مر سل کہتے ہیں اور رسو ل کی جمع رُ سل آ تی ہے ۔لیکن اسلامی اصطا ح میں: رسول ایک ایسا انسان ہے جسے خدا وند عالم خا ص پیغا م دے کر کسی قو م کی طرف مبعوث کر تا ہے ، تا کہ ان کی اسلا می شر یعتوں کی طرف ہدایت و راہنما ئی کر ے. وہ اس فر یضہ کے انجام دینے کے سلسلہ میں خدا کی طرف سے معجز ہ یا معجز ات بھی ہمراہ رکھتا ہے. جو اس کی رسالت کی صداقت پر گواہ ہو اس طریقہ سے جن لو گوں کی طرف اسے بھیجا ہے ان پر خدا کی حجت تمام ہوتی ہے۔اور اس پیغمبر کی تکذ یب یا مخا لفت ، بد بختی، عذا ب یا دنیا کی ہلاکت و نا بو دی کا سبب بنتی ہے اور آخرت میں انواع و اقسام عذا ب کا با عث ہوتی ہے، اسی وجہ سے پیغمبرکو نذ یراور منذر (ڈرانے والا ) کہا جا تا ہے۔

دوسری طرف رسول پر ایمان رکھنا اس کی اطا عت وفر نبرداری کر نا دنیا کی شاد مانی، خو شحالی اور سعادت، رحمت وبخشش اور آخرت میں خدا کی خوشنو دی و رضا یت اور بہشت کا با عث ہوتا ہے. ایسی صورت میں یہ پیغمبر بشیر و مبشر یعنی بشا رت دینے والا ہے۔جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کی رو شنی میں ہر رسول ( نبی ) ہے اورہر نبی صفی اور بر گز یدہ ہے لیکن ہر (نبی )لاز می طور پر رسو ل اور پیغمبر نہیں ہو گا ۔

۹ ۔ اولو العزم :

عزم لغت میں کسی کام کے کرنے کے لئے محکم اور پختہ ارادے اور اس راہ میں درپیش مشکلات میں صبر و تحمل کا نام ہے. اسلامی اصطلاح میں اولوالعزم پیغمبر یہ ہیں:

٭ حضرت نوح ٭ حضرت ابرا ہیم٭ حضرت موسیٰ٭حضرت عیسیٰ ٭ حضرت محمد مصطفےٰ صلّیٰ اللہ علیہ وآ لہ و سلم۔

۱۰۔ بشیر و نذ یر :

عر بی میں کہتے ہیں بشّرہ بشیئٍ : اسے نیک خو شخبری اور مژ دہ دیا ایسی صورت میں بشا رت دینے والے کو بشیر و مبشر کہتے ہیں.

و انذ رہ الشیٔ و با لشیٔ

اسے ہو لنا ک چیز کے ذ ریعہ ڈرایامثا ل کے طور پر کہا جاتاہے میں وارننگ دیتا ہوں تمھیں اس کے انجام سے ڈراتا ہوں لہٰذا اس سے بچو، ایسے شخص کو منذ ر یا نذیر کہتے ہیں ۔اسلا می اصطلا ح میں بشیر و نذ یر جیسے نام قرآن میں ان پیغمبروں کے لئے استعما ل ہوئے ہیں جنھیں خداوند عا لم نے کسی قو م کی طرف بھیجا ہے۔


جیسا کہ سورۂ انعام آیت ۴۸، سورہ ٔ کہف،آیت ۶ ۵ میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ مَانُر سِلُ الْمُرْ سَلینَ اِلاَّ مُبَشِّریَن وَمُنْذِ رین )

ہم نے پیغمبروں کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرا نے و الا بنا کر بھیجا ہے۔

اور جیسا کہ سورۂ فاطر، آیت ۲۴میں ارشاد ہوتا ہے:

( اِنّااَرْسَلناکَ بِالحَقِّ بَشیراً وَ نَذ یرًا وَاِنْ مِنْ اُ مَّةٍ اِ لاَّ خَلافِیها نَذِ یِرُ )

ہم نے تمھیں حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرا نے والا بنا کر بھیجا ہے اور کو ئی امت ایسی نہیں ہے جس کے درمیا ن کو ئی ڈرانے والا نہ رہا ہو۔

۱۱ ۔ بےّنات:

بان الشیئ: چیز آشکا ر و واضح ہو گئی، معین ہو گئی ۔آیا ت بینا ت یعنی ایسی واضح و آشکار آیات جن میں کسی قسم کی پیچید گی اور ابہام نہ ہو اور ان میں افراد بشر کے لئے کوئی مبہم بات نہ پا ئی جاتی ہو۔

۱۲۔ و انز لنا :

خدا وند عالم نے میزا ن اور لوہے کا ایک ساتھ ایک ہی ردیف میں تذ کرہ کیا ہے تا کہ لوگ ان دو نوں ہی سے اپنی زند گی میں استفا دہ کر یں اور میزان کو آسمانی کتا بوں میں نازل فر مایا، یعنی ان میں میزان اور معیار قرار دیا تا کہ اس کے ذ ریعہ انسا نی اجتما ع، انسا نی عا دات ، طور طریقے، عقائد ان کے امور تولے جائیں اور ہر ایک کا نفع و نقصان معین و مشخص ہو۔

۱۳۔ میزان:

لغت میں اس وسیلے کو کہتے ہیں جس سے محسوس ہو نے والی ما دی چیز یں تو لی جا تی ہیں.اور اسلامی اصطلا ح میں: میزان وہی دین ہے جو آسمانی کتا ب میں ہے اور اس کے سہا رے عقائد اوردیگر امور کی سنجش ہوتی ہے اور اسی کے مطابق قیا مت کے دن انسا ن کا حسا ب و کتا ب ہو گا اور اس کے نتیجہ میں اسے سزا یا جزا دی جا ئے گی۔


۱۴۔لِیقُومَ النَّاسُ بِالقِسطِ:

قسط ،عدل کے معنی میں ہے. عدل یعنی جو جس چیز کا مستحق ہو اسے وہ چیز دینا اور جس چیز کی ادائیگی اُس پر وا جب ہے وہ چیز اس سے لینا ۔

۱۵۔ بأ س شدید:

یہ پر باس سے مراد جنگ ہے کہ ارشا د ہوتا ہے:

( وَ اَنزَ لنَا الْحَد یدفیهِ بَأس شَدید وَمَنافِعُ لِلنّاسِ )

یعنی خدا وند عا لم نے انسان کی را ہنما ئی کی تا کہ لوہے سے حق کے دفا ع کی خاطر جنگی اسلحے بنائیں. آج بھی انسان لوہے سے جنگی اسلحہ بنا تا ہے اور بنا ئے گا اس کے علاوہ لو ہا انسا ن کے لئے دیگر منفعتوں کا بھی حا مل ہے۔

۱۶ ۔ کسفاً :

کسفةً ، کسی چیز کے ٹکڑ ے کو کہتے ہیں اس کی جمع کِسَف آتی ہے اور ( اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفا) کے معنی یہ ہیں کہ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہم پر گرجائے

۱۷ ۔ زخر ف:

زخرف سو نے کے معنی میں ہے. بعد میں یہ کلمہ زینت کے معنی میں استعما ل ہوا ہے، یا اس کے بر عکس۔

۱۸۔ جیب:

گریبان لباس اور اس کے ما ننداشیاء کے معنی میں ہے، ایسا شگا ف جو لباس یا پیر ھن میں اس لئے کیا جا تاہے کہ سر اس سے پا ر ہو جا ئے۔

۱۹ ۔ مبصرة :

آشکا ر اور واضح۔


۲۰ ۔ اصری :

اصر یعنی ایسا پیمان جس میں تا کید پا ئی جا تی ہو۔

۲۱ ۔ طاغو ت:

طغٰی طغیا ناً:

یعنی سر کشی کی حد سے گذ ر گیا۔ طا غوت ،ہر سر کش اور نا فر مان اور خدا کے علا وہ ہر معبود کے معنی میں ہے، اس کی جمع طو اغیت آتی ہے۔

۲۲ ۔آیت :

آیت لغت میں محسوس چیز کی آشکا ر علا مت و پہچا ن اور معقول چیز میں مقصود پردلیل کے معنی میں ہے ۔

پہلی مثا ل: سورہ ٔ مریم کی دسو یںآیت میں حضرت زکریاکی داستان سے متعلق خدا کا فر مان ہے:

( قالَ راَبِ اْجَعْل لی آیة ًقالَ آ یَتُکَ اَلا ّ تُکَلِّمَ النَاسَ ثَلاثَ لَیال ٍسَو یّاً )

حضرت ز کریا کی مراد کہ کہتے ہیں:(اجعل لی آےة) یہ ہے کہ اس امر کے لئے ہمارے لئے علامت اور نشا نی قرار دے. کہ خدا نے فر مایا تمہاری علا مت یہ ہے کہ تم تین دنو تک مسلسل کسی سے کلام نہیں کروگے۔

دوسری مثا ل: سورہ ٔ یو سف کی ۱۰۵ ویں آیت میں خدا فر ماتا ہے:

( وَ کَاَ یِّن مِنْ آیة فی السمواتِ والارض یَمُرُّ ون علیها وهُمْ عَنْهٰا معرضونَ )

یعنی آسمان و زمین میں کس قدر علا مت و نشا نی پا ئی جا تی ہے جو خدا کی قدرت اور حکمت کی حکایت کرتی ہے یا حضرت باری تعا لی کے دیگر صفات کہ نہا یت سا دگی کے ساتھ ان سے گذ ر جا تے اور ان سے اعرا ض کر تے ہیں۔

دوسری قسم کی مثا ل: وہ آیات اور معجز ات ہیں جنھیں خدا وند عا لم اپنے پیغمبروں کے ہا تھو ظاہر کر تا ہے جیسا کہ سورہ ٔ نحل کی بارھو یں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَأدخل یدکَ فی جَبیکَ تخُرجْ بیضاء مِن غیر سوء فی تِسْعِ آیا ت ٍ الی فِرعَونَ وقومِهِ )

( مراد حضرت مو سیٰ کا ید بیضا والا معجزہ اور ان کے دیگر نہ گا نہ معجزا ت ہیں)

لیکن اصطلاح اسلامی میں آیت کا استعمال دو معنی میں ہوا ہے۔


۱۔ وہ معجزات جنھیں خدا وند عالم نے اپنے اولیا ء اور پیغمبروں کے ہا تھوں پر جا ری کیاہے:

جیسے مو سیٰ کلیم اللہ کا عصا اور ناقہء حضرت صا لح ـ، اسے معجزہ کہتے ہیں، اس لئے جن و انس اس کے جیسا پیش کر نے سے عا جز و بے بس ہیں، اسی طرح کسی بچے کا بغیر باپ کے پیدا ہو جا نا بھی معجزہ ہے.

پیغمبروں کے غیر طبعی حا لا ت اور خا رق العادة اقدا مات اسی قسم کی آیتیں ہیں

جیسے حضرت عیسیٰ کی ولا دت ان کی ماںحضرت مریم کے ذریعہ کہ نہ ان کا کو ئی شو ہر تھا اور نہ ہی حضرت عیسیٰ کا کوئی باپ تھا۔

اورجیسا کہ خدا وند عالم کا سورۂ مومنون آیت۵۰سورۂ انبیائ،آیت ۹۱میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَُمَّهُ آیَةً وَآوَیْنَاهُمَإ الَی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ )

ہم نے عیسیٰ کو اور عیسیٰ کی ماں ( مریم) کو آیت و نشا نی قرار دی ہے۔

اور اسی قسم کی آیت، وہ عذاب ہے جو مشر کین پر نازل ہوتا ہے ۔

جیسا کہ خدا وند سبحان سورہ ٔ عنکبوت کی ۱۵ ویں آیت میں ارشا د فر ما تاہے:

( فَأَنجَینٰاه وَ اَصْحابَ السَّفینةِ وَ جَعَلنَاهاآیة ً لِلعَالمینَ )

حضرت نوح کی کشتی پر سوار ہو نے والوں کو نجا ت دینا اور مشرکین کا غرق ہو جانا خود ہی آیت ہے ۔

جیسے اسی قسم کی آیت سورئہ قمر کی ۱۵ ویں آیت ہے۔

۲۔آیت قرآن کریم کی رو سے

راغب مفردات القرآن نا می کتاب میں تحر یر فر ماتے ہیں:

قرآن کا کو ئی جملہ بھی جو کسی حکم پر د لا لت کر تا ہو ایک آیت ہے ، قرآن کا کو ئی سورہ ہو یا سورہ کا ایک حصّہ یا چند حصّے ہوں؛ اوراس کا ہر کلا م یا جملہ جو لفظی اعتبار سے الگ ہو ( آیت) کہلاتا ہے اسی لحا ظ سے ایک سورہ متعدد آیات میں تقسیم ہوتا ہے۔( ۱ )

____________________

(۱)۔ (آیت) کی لفظ مفردات راغب میں ملاحظ ہو.


رو ایات میںگز شتہ آیات کی تفسیر

الف ۔ ابو ذر کی حد یث میں مذ کور ہے کہ آپ نے فر مایا:

رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا : انبیاء کی تعداد کیا ہے ؟

فرمایا: ایک لا کھ چو بیس ہزار ۔

میں نے سوال کیا : ان میں کتنے لو گ رسو ل تھے ؟

فرمایا : تین سو تیرہ افرا د پر مشتمل ایک مجمو عہ تھا۔

میں نے سو ال کیا : سب سے پہلے نبی کون تھے ؟

فرمایا : آدم۔

میں نے سوال کیا:آ یا حضرت آ دم نبی مر سل تھے؟

فرما یا : ہاں، خدا نے انھیں اپنے دست قدرت سے خلق فرمایا اور ان میں اپنی رو ح پھو نکی پھر اس وقت رسول خدا نے مجھ سے خطا ب کر کے فر مایا:

اے ابو ذر! ابنیا ء کے درمیان چا ر شخص (آدم ،شیث ، اخنو خ جنھیں ادریس کہا جا تا ہے اور یہ وہ پہلے شخص تھے کہ جنھوں نے قلم سے تحریرلکھی اور نوح ) یہ سب کے سب سر یا نی تھے اور چار افراد (ہود ،صالح، شعیب اور تمہارا یہ نبی '' محمد صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم '' )عرب ہیں۔

بنی اسرا ئیل کے سب سے پہلے نبی جناب مو سیٰ اور آخری نبی حضرت عیسیٰ اور چھ سو دیگر انبیاء ہیں۔

میں نے سوال کیا : اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! خدا وند عالم نے کتنی کتابیں نازل کی ہیں ؟


فرمایا : ایک سو چار کتا بیں خدا وند عا لم نے شیث پر پچا س صحیفے اور ادریس پر تیس صحیفے اور ابرا ہیم پر بیس صحیفے ناز ل کئے ، پھر تو ریت ، انجیل ، زبوراور فرقان کو نازل کیا آخر حد یث تک.( ۱ )

اس حدیث کی عبارت احمد بن حنبل کی مسند میں مند ر جہ ذ یل طر یقہ سے ذ کر ہوئی ہے:

پھر میں نے سوال کیا! اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انبیا کتنے ہیں؟

فرما یا ایک لا کھ چو بیس ہزا ر افراد کہ انھیں میں سے تین سو پندرہ افراد رسول ہیں.( ۲ )

ب۔حضرت ابو الحسن علی بن مو سی الرض سے مر وی ہے کہ آپ نے فر ما یا:

او لو العز م کو او لو العزم اس لئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ عز م و کوشش، استقا مت و پا یدا ری کے مالک اور شریعت کے حا مل تھے .حضرت نو ح کے بعد ہر نبی ان کی شریعت اور قوا نین کا پا بند تھا اور حضرت ابرا ہیم خلیل اللہ کے زمانے تک ان کی کتا ب کا پیر و رہا ؛ اور جو بھی نبی ان کے زمانے میں تھا یا ان کے زما نے کے بعد آ یا ابراہیم کی شر یعت وقو انین کا پا بند تھے۔

____________________

(۱) بحار الانوار ،علّامہ مجلسی ،ج۱۱ ،ص ۳۲، معانی الاخبار کے صفحہ ۹۵ سے نقل کے مطابق؛ خصال ج ۲، ص ۱۰۴.مسند احمد ج ۵، ص ۲۶۵۔ ۲۶۶ ؛نھاےة اللغة، لغت حجت ،بحار، ج ۱۱ ،ص ۳۳ خصال کی نقل کے مطابق ، ج۱، ص ۱۴۴. مختصر الحدیث امام باقر سے شاید حدیث میں مذکور سریانی سے مراد لوگوں کی قدیم زبان ہو.(۲)مسند احمد،ج۵،ص۲۶۵، ۲۶۶.


اور حضرت موسیٰ کے ظہو ر تک انھیں کا پیرو رہا ؛اور جو نبی حضرت مو سیٰ کے زمانے میں تھا یا بعد میں آیا ہے مو سیٰ کی شریعت اور قوا نین کا پا بند اور ان کی کتاب توریت کاحضرت عیسیٰ کے زمانے تک پیرو تھا اور جو نبی حضرت عیسیٰ کے زمانے میں یا ان کے بعد ہوا وہ ان کی شریعت و قوا نین اور ان کی کتاب انجیل کا ہمارے نبی حضرت محمد صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے تک پیرو تھا. یہ پا نچ افراد او لو العز م اور تمام انبیا ء اور رسو لوں سے افضل ہیں اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت قیامت تک کے لئے ثا بت ہے جو کبھی نسخ نہیں ہو گی اور آنحضرت کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں ہو گا آخر حدیث تک( ۱ )

سیو طی کی تفسیر میں ابن عبا س سے منقو ل ہے:

او لو العز م سے مراد ہیں :٭ خا تم الا نبیا ءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ٭ نوح ٭ ابرا ہیم ،

٭ موسیٰ ٭ عیسی ،(۲)

اصول کافی میں اپنی سند کے ساتھ امام صادق سے روایت کرتے ہیں:

انبیا ء اور پیغمبر وں کے سردار پا نچ افراد ہیں جو اولو العزم پیغمبر تھے ، شر یعتو کا اہم محور ہیں؛ خاتم الا نبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نوح ،ابرا ہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ۔( ۳ )

ج ۔تا ریخ یعقو بی میں امام جعفر صادق سے رو ایت کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

امام جعفر صادق نے فرمایا:

خدا وند عالم نے کسی پیغمبر کو نبوت نہیں دی مگر اس چیز کے ہمرا ہ جس کے ذریعہ وہ اپنے تمام اہل زمانہ پر فو قیت رکھتا ہو۔

مثا ل کے طور پر حضرت مو سیٰ فر زند عمرا ن کو ایسی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا جس پر سحر وجا دو غا لب تھا اس لئے آپ کو ایسی چیز عطا کی جس کے ذریعہ ان کے سحر کا مقا بلہ کیا اور کا میاب ہوئے اور ان کے سحر کو باطل کیا اور وہ :عصا، ید بیضائ، ٹڈیو کا حملہ ، جوئیں ، مینڈ ھکو کی کثرت، خون، دریا کا شگا فتہ ہو نا، چٹا ن کا اس طرح سے پھٹ جا نا کہ اس سے پا نی نکل آیااور ان کے چہرے کو بدنما بنا دینا اور مسخ کردینا، یہ سب حضرت کے معجزات تھے۔

____________________

( ۱) بحار الانوار، علّامہ مجلسی،ج۱۱،ص ۳۴، ۳۵؛ عیون اخبارالرضا سے نقل کے مطابق ص ۲۳۴،۲۳۵ پر(۲)تفسیر سیوطی،ج۶،ص ۴۵. (۳)اصول کافی،ج۱ص ۱۷۵،باب طبقات الانبیاء والرسل،کتاب خصال،ج۱،ص ۱۴۴ کی نقل کے اعتبار سے.


داؤد ـ کو اس وقت لوگوں کے درمیان مبعوث کیا جس زمانے میں صنعت و ہنر اور لہو و لعب کا غلبہ تھا اس لئے حضرت داؤد کے ہا تھ میں لوہے کو نر م بنا دیااور انھیں خوش الحانی (اچھی آواز ) دی وہ بھی اس درجہ خوش الحانی کہ پرندے آپ کی خوبصورت آواز کی وجہ سے آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے تھے۔

سلیمان ـکو ایسے زمانے میں مبعو ث کیا جب لو گوں کے درمیا ن مکان بنا نے کا شوق اور طلسم وجادو کا دور دورہ تھا اسی سبب سے اس نے ہوا کو ان کا تا بع بنا دیا اور جنا ت کا ان کا مطیع و فرمانبرداربنا دیا ۔

عیسیٰ کو بھی ایسے دور میں مبعوث کیا جس زمانے میں ڈ اکٹری لوگوں کو اپنے آپ میں مشغول کئے ہوئے تھی، لھذا ان کو مر دوں کو زند ہ کر نے اور کو ڑ ھیو اور مبر وص کو شفا دینے کے اسلحے سے آراستہ کیا۔

محمد مصطفےٰ صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس دور میں مبعوث فرمایا جب لو گو میں سب سے زیا دہ اچھی گفتگو کر نے، کہا نت، پیشینگو ئی کر نے،مسجع اور موزون کلام اور فصیح و بلیغ خطبہ دینے کا رواج تھا، لہٰذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قرآن مبین اور قوت خطابت کے ساتھ مبعو ث کیا ۔(۱)

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی،ج ۲ ، ص ۳۴


پروردگا ر عا لم نے آدمیو اور فر شتوں کے درمیان حضرت آدم ، حضرت نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران جیسے پیغمبروں کو عالمین پر اور حضرت مریم کو جہان کی خو اتین پر منتخب فر مایا۔

خدا وند عالم نے حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف ، حضرت موسی، حضرت ہارون، حضرت یسع، حضرت داؤد ، حضرت سلیما ن ، حضرت ایوب، حضرت الیاس ، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ، کو کتاب، حکم اور نبوت عطا کی اور ان کے درمیان حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلّیٰ اللہ علیہ وآ لہ و سلم کو کتاب اور مخصوص شریعت عنا یت فر مائی ہے ؛ یہ لوگ اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں خداوندعالم نے ان کی کتابوں میں ضابطہ حیات اور ایک میزان قرار دیا تا کہ اس کے ذریعہ افراد معاشرہ کے حق و باطل عقائد اور اعمال پہچانے جائیں۔

اور ان میں سے بعض جیسے حضرت مو سیٰ کلیم اللہاور محمد حبیب اللہ صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ان لوگوں کے برخلاف جو راہ انسا نیت سے منحرف ہو چکے ہیں شدید جنگوں میں استفادہ کے لئے اسلحے قرار دئے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو جنگ اور شمشیر کے علا وہ راہ راست پر آنے والے نہیں ہیں، ایسے ہی بعض پیغمبروں کو مبعو ث کیا اور انھیں مبشر ( بشارت دینے والا) اور منذ ر ( ڈ ارنے والا ) بنا یا۔ خو اہ صا حبان شریعت پیغمبرہوں جیسے حضرت نوح اور حضرت موسیٰ یا وہ لوگ ہوں جو مستقل شر یعت کے ما لک نہیں ہیں جیسے حضرت شعیب اور حضرت لوط۔

خدا وند عا لم نے کسی قوم کو اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کیا جب تک کہ رحمت کی نوید دینے وا لے اور عذا ب سے ڈرانے والے کسی پیغمبر کو اپنی طرف سے معجزہ اور نشانیوں کے ہمرا ہ نہیں بھیجا.


خدا وند عالم اس سلسلہ میں فر ما تا ہے:

۱۔سورۂ اسراء کی ۱۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَ ماَ کُنَّا مُعَذِّبینَ حتیّّٰ نَبعَثَ رسولاً )

ہم جب تک کو ئی رسول نہیں بھیجتے اس وقت تک عذا ب نہیں کرتے۔

۲۔ سورہ ٔ یو نس کی ۴۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَ لِکُلِّ اُمَّةٍ رَسُول فَاِذاجَائَ رَسُولُهمُ قُضِیَ بَینَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لایُظْلَمُونَ )

ہر امت کے لئے ایک رسول ہے لہٰذا جب ان کے درمیا ن ان کا رسول آجائے تو عدل و انصاف کے ساتھ قضا وت کی جائے اور اُن پر ستم نہ کیا جائے گا۔

جو امت پیغمبر کی نا فرمانی کر ے وہ دنیا و آخرت میں عذا ب کی سزاوار ہو گی۔جیسا کہ خدا وندعالم نے فرعون اور اس سے پہلے والوں کی حا لت کے بارے میں سورہ ٔالحا قہ کی دسویں آیت میں خبر دیتے ہوئے فر مایا ہے:

( فَعَصَواْ رَسُولَ رَبّهِم فَأَخَذَهُمْ اَخْذَ ةًًرابِیَة )

انھوں نے اپنے اللہ کے رسول کی نا فر مانی کی ،تو خدا وند عا لم نے ان کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا ۔

پیغمبر کی نا فرما نی خدا کی نا فر مانی ہے .جیسا کہ خدا نے سورہ ٔ جن کی ۲۳ ویں آیت میں فرمایا ہے:

( وَ مَنْ یَعص اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَاِ نَّ لَهُ نارَجَهَنّمَ خَالِدینَ فِیهااَبداً )

جو خدا اور اس کے رسول کی نا فر مانی کرے اس کے لئے آتش جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ معذب ہوتا رہے گا۔

خدا وند عا لم رسو لوں کو انبیاء میں سے منتخب کرتا ہے اسی لئے رسولوں کی تعداد جیسا کہ پیغمبر اسلام صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ابو ذر کی گزشتہ روایت میں ہے، انبیا ء کی تعداد سے کم ہے لیکن خدا وند عا لم جسے لوگو کی ہدایت کے لئے مبعو ث کر تا ہے اسے معجزہ دیتا ہے تا کہ وہ اس کے مد عا کی تا ئید کر ے کہ وہ خدا کی طرف سے مبعوث ہوا ہے ۔


معجزہ اور آیت کی حقیقت

خدا وند سبحا ن نے ابنیا ء کو نظا م ہستی پر حکو مت و ولایت عطا کی ہے تا کہ جب خدا کی مر ضی ہو کہ اُس کا نبی نظا م کے کسی بھی جز کو جسے اس نے ہستی کے لئے مقرر کیا ہے تبد یل کر دے، تو وہ اس کے اذن اور اجازت سے انجا م دے سکے ۔

اس لحا ظ سے انبیا ء کے ذریعہ نظا م طبعیت کے ایک حصّہ کے خلا ف معجزہ پیش کر نا پر وردگار عالم کی تکو نیی سنت ہے. اور ایسے سماج میں یہ معجزہ پیش کیاجاتا ہے کہ جہاں پیغمبران الٰہی رسا لت کے لئے مبعوث ہوئے ۔

بنا بر این امتوں نے انبیا ء سے معجزہ دکھانے کی در خواست کی تا کہ ان کے دعویٰ کی صدا قت پر دلیل ہو.خدا وند عا لم نے اس مو ضو ع کو قوم صا لح کی سر گذشت میں سورہ ٔ شعراء میں عنوان کر تے ہوئے فر ماتا ہے( :( مَا أنْتَ لَّابَشَر مِثلُنافأتِ بِآ یة ٍانْ کُنتَ مِن الصّادِ قینَ٭قالَ هذهِ ناقَة لَهاشِرْب وَلُکم شِربُ یومٍ معلومٍ ٭و لا تَمَسّوها بسوئٍ فَیَأ خذَکُم عذابُ یومٍ عظیمٍ ) (حضرت صا لح کی قوم نے ان سے کہا ) تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو. اگر سچے ہو تومعجز ہ پیش کرو۔ تو کہا !یہ اونٹنی ہے کچھ پانی اس سے مخصوص ہے اور پانی کا کچھ حصہ تم لوگوں سے مخصوص ہے اور دیکھو اس کی طرف دست خیانت درازنہ کرنا ورنہ عظیم دن کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے.( ۱ ) عا م طور پر ہوایہی کہ جب کسی پیغمبر نے آیت اور معجزہ دکھا یا توامتیں ضد اور ہٹ دھر می اوران کے

____________________

(۱) سورہ ٔ شعرا،آیت ۱۵۴۔۱۵۶.


ساتھ عناد اور دشمنی پر تل گئیں.اور نہ ہی رب پر ایمان لائیں اور نہ ہی اُس پیغمبر پر جواس کی طرف سے ان کی طرف مبعوث ہوا تھا خدا وند عا لم اس موردمیں گزشتہ آیات کے بعد، قوم ثمود کے بارے میں اس طرح خبر دیتا ہے:

( فَعقروها فَأَ صْبَحُوا نَادِمین )

انھوں نے اس اونٹنی کو مار ڈا لا پھر اس کے بعد اپنے کر توت پر شر مندہ ہوئے۔( ۱ )

اگر کسی قوم کی خو اہش کے مطا بق اس کے پیغمبر سے معجزہ صا در ہوا لیکن اس قوم نے اُس کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی اُس پر ایمان لائی توسر زنش و ملامت اورعذاب کی مستحق ہو گئی اور ان کے خدا نے ان پر عذاب نا زل کر دیا جیسا کہ خدا نے اسی سورہ کے اختتام پر قوم ثمود کی نا فر مانی کی خبر دی ہے:

( َأَخَذَهمُ العَذا ب انَّ فی ذ لِکَ لَأ یةوَ مَاکانَ اَکْثَرُهُم مُؤمِنین )

اُس وقت عذاب موعود میں مبتلا ہوگئے یقینا اس قوم کی ہلا کت میں دوسروں کے لئے عبرت کی نشانی ہے ( لیکن) اس کے باوجود بھی اکثر لوگ خدا پر ایمان نہیں لائے۔( ۲ )

انبیاء کا معجزہ پیش کر نا حکمت الٰہی کے مطا بق ہے اور حکمت کا مقتضی ایک ایسی حد اور اندازہ کے مطا بق معجزہ پیش کر نا ہے کہ جو شخص اپنے رب اور اس کے پیغمبر پر ایمان لا نا چا ہتا ہے تو اسے پتہ چل جائے کہ پیغمبر اپنے ادّعا میں سچّا ہے نہ اُس حد اور مقدار میں کہ سر کش اور با غی قومیں تعیین کر تی اور چا ہتی ہیں. یا کسی محال امر کی امید رکھتے ہیں جیسا کہ دو مقام پر قریش نے خا تم الا نبیا ئصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تقا ضا کیا تھا اور وہ اس امرکے بعد تھا کہ خدا نے قریش سے جو کہ عرب میں فصیح و بلیغ کلام میں ممتاز اور معروف تھے آیت طلب کی اور انھیں مخاطب کر تے ہوئے سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا:

( وَِنْ کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَائَکُمْ مِنْ دُونِ ﷲ ِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ٭ فَِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِی وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ ٭ )

جو کچھ ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیاہے اگر تمھیں اس میں شک و تردید ہے، تو اس کے ما نند ایک سورہ ہی پیش کر دو اور خدا کے علا وہ اپنے نا صروں سے مدد بھی لے لو اگر سچے ہو۔لیکن اگر نہیں کر سکتے اور ہر گز اس پر قادر نہیں ہو تو پھر خدا کی اس آگ سے ڈرو جس کا ایند ھن انسان اور پتھر ہیں اور کافروں کے لئے مہّیا کی گئی ہے.( ۳ )

____________________

(۱)سور ۂ شعرأ،آیت،۱۵۷.(۲) سورۂ شعرأ، آیت، ۱۵۸.(۳) سورۂ بقرہ : آیت ۲۳ اور ۲۴.


اس طرح سے پروردگا ر نے ان پر حجت تمام کی اور فرما یا ہے :

جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے اس میں اگر تمھیں شک و شبہہ ہے تو اس کے مانند ایک سورہ ہی پیش کرو اور سب کو اپنا مدد گار بھی بنالو اور خبر دی ہے کہ اگر جن وانس ایک دوسرے کے مدد گار ہو جائیں تو بھی اس کے مانند نہیں لا سکتے اور تاکیداً نفی ابدفرما ئی اور کہا(لن)یعنی ہر گز اس کے مانند نہیں لا سکتے. حتیٰ کہ ہمارے زمانے میں بھی اسلام دشمن عناصر اپنی تمام تر کثرت اور عظیم و گو نا گوںقدرت کے باوجود قادر نہیں ہیں کہ قرآن کے مانند ایک سورہ پیش کر سکیں۔

اُن لوگوں نے اس سر توڑ مبارزہ جوئی کے بعد( ایک ایسے امر کے پیش کر نے میں جسے جن و انس مل کر پیش نہیں کر سکتے اور اس کے مانند پیش کرنے میں قریش کی ناتوانی کے باعث ) رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مطا لبہ کیا کہ مکّہ کی آب و ہوا تبد یل کر دیں اور سونے کا گھر پیش کریں یا خدا اور فرشتوں کو ان کے سامنے حا ضر کر دیں یا آسمان کی طرف پر واز کر یں پھر بھی ان تمام چیزوں کے با وجود ایمان نہیں لائیں گے مگر جب ان کے لئے آسمان سے کو ئی کتاب نازل ہو جس کی وہ تلا وت کریں!معلوم ہے کہ جو انھوں نے درخواست کی تھی وہ ایک محال امر تھا وہ یہ کہ خدا اور فر شتوں کو ان کے سا منے حا ضر کر دیں ( کہ خدا وند عالم ان ستمگروں کی بات سے بلند و بر ترہے)اور ان کے درمیان انبیاء کے بھیجنے میں اللہ کی سنت کے خلا ف مطالب مو جود ہیں اس معنی میںکہ انھوں نے مطا لبہ کیا تھا کہ ان کے سامنے آسمان کی طرف پرواز کر یں اور ان کے لئے ایک کتاب لے آئیں ایسی چیز جو خدا کے پیغام لانے والے فر شتوں سے مخصوص ہے نہ کہ انسان سے دوسرے یہ کہ وہ لوگ سرے سے قبو ل ہی نہیں کرتے تھے کہ خدا کسی انسان کو رسالت کے لئے مبعوث کرے گا جب کہ حکمت اس کا اقتضا ء کر تی ہے کہ انبیا ء انسا نوں کی جنس سے ہوں، تا کہ ان کے اعمال ورفتار میں ان کی اقتداء ہو اور اپنی قوم کے لئے نمو نہ ہوں، ان کی دوسری درخواستیں بھی حکمت کے مطابق نہیں تھیں جیسے کہ انھوں نے مطا لبہ کیا تھا کہ ان پر عذاب نازل ہو۔

اسی وجہ سے خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس طرح جواب دے:

( سُبْحَانَ رَ بِیّ هَلْ کُنتُ اِلاَّبَشَرا ًرَسُولاًً )

میرا ربّ پاک اور منز ہ ہے کیا میں خدا کی طرف سے مبعوث ایک انسان کے علاو ہ کچھ اور ہوں؟( ۱ )

____________________

(۱)سورۂ اسراء : آیت،۹۳.


خلا صہ کلا م یہ ہے کہ خدا کی حکمت کا تقا ضا تھا کہ اس کا فرستادہ اپنے ربّ کی طرف سے کو ئی معجزہ پیش کرے جو اس کے ادّعا کی صداقت پر دلیل ہو اور اس طرح سے لوگوں پر حجت تمام ہو. اس صورت میں جو ما ئل ہو وہ ایمان لے آئے اور جو سر کشی و عناد کر نا چا ہے وہ کرے جیسا کہ تمام معجزا ت پیش کر نے کے بعد حضرت موسیٰ اور حضرت ہا رون کی قوم کا حال تھا.یعنی جادو گر وںنے ایمان قبول کیا لیکن فر عو نیوں اور اس کے گردو پیش والوں نے کفر و عناد کا راستہ اختیار کیا کہ خداوند عالم نے بھی انھیں غرق کر کے ذلت و خواری کی طرف کھینچ دیا۔

جو کچھ انبیا ء اللہ کی جانب سے پیش کرتے ہیں اسلامی اصطلا ح میں اسے معجزہ کہتے ہیں جو کہ خود ہی ان کی صداقت پر ایک دلیل ہے۔

لہٰذا جو کچھ ہم نے بیان کیا اس کے مطا بق ہر پیغمبراور رسول نبی ہو گا، لیکن ہر نبی پیغمبر نہیں ہو گا جیسے یسع کہ وہ نبی اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے وصی تھے۔

بعض پیغمبر ایسی شریعت لے کر آئے جو بعض ان موارد اور اعمال کی جنھیں گزشتہ شریعتوں نے پیش کیا تھا ،ناسخ قرار پائی جیسے حضرت موسیٰ کی شریعت سابق شریعتوں کی بہ نسبت اور بعض کی شریعت گزشتہ شریعت کو مکمّل کر نے والی یا تجدید کر نے والی تھی جیسے حضرت ختمی مر تبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت حضرت ابراہیم خلیل الرحمن کی شریعت کی بہ نسبت ،کہ خدا فرماتا ہے:

( ثُمَّ اَوْحَیْناَاالَیکَ اَن اتّبع مِلّةابرا هیم حنَیفاً... )

پھر اُس وقت ہم نے تمھیں وحی کی کہ ابراہیم کے پاک وپاکیزہ آئین کا اتباع کرو.( ۱ )

اور سورۂ مائدہ کی تیسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( اَلْیَو م اَکْمَلْتُ لَکُمْ دینکُم وَاَتمَمْتُ عَلیَکُم نِعمتی وَرضیتُ لَکُمُ الاِسلامَ دِیْناً )

آج کے دن ہم نے تمہارے دین کو کا مل کر دیا اور تم پر اپنی نعمتوں کو تمام کیا اور تمہارے لئے اسلام کو پسند کیا ۔

ان چند اصطلا حوں سے آشنا ئی کے بعد کہ جن پر قرآن کریم ، حدیث اور سیرت کی کتابوں میں انبیاء کی خبروں کا سمجھنا موقوف ہے.اب ہم انشا ء اللہ ان کے اخبار کی تحقیق کر یں گے اور اپنی بات کا آغا ز حضرت آدم ابو لبشر سے کریں گے۔

____________________

(۱) سورۂ نحل:آیت ۱۲۳.


( ۲ )

حضرت آدم ـ

* حضرت آدم ـ کی خلقت سے متعلق چند آیات.

* کلمات کی تشریح

* آیات کی تفسیر

آدم ـ کی خلقت

۱۔ خدا وند سبحا ن سورئہ طہٰ ٰکی ۱۱۵ اور ۱۲۲ آیات میں فرماتا ہے.

( وَلَقَدْعَهِدْنَا اِلٰی آدمَ مِن قَبْلُ فَنَسِیَ واَلَمْ نَجدلَهُ عزماً٭...٭ ثم أجْتَباه رَبُّهُ فَتابَ عَلَیْهِ وَهَدیٰ )

اور ہم نے آدم سے عہد وپیمان لیا (کہ شیطا ن کے دھو کے میں نہ آئیں)اور اس عہد میں اُن کو ثابت قدم اور پا ئدار نہیں پا یا ٭ ٭ پھر خدا نے ان کی تو بہ قبو ل کی اور ان کی ہدایت فر مائی اور انھیں مقام نبوت کے لئے انتخاب کیا.

۲۔سورۂ بقرہ کی ۲۷ اور ۳۰ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ ِنِّی جَاعِل فِی الَرْضِ خَلِیفَةً قَالُوا َتَجْعَلُ فِیهَا مَنْ یُفْسِدُ فِیهَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُساَبِحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ ِنِّی َعْلَمُ مَا لاَتَعْلَمُونَ ٭ وَعَلَّمَ آدَمَ الَسْمَائَ کُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَةِ فَقَالَ َنْبِئُونِی بَِسْمَائِ هَؤُلاَء ِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ٭ قَالُوا سُبْحَانَکَ لاَعِلْمَ لَنَا ِلاَّ مَا عاَلَمْتَنَا ِنَّکَ َنْتَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ ٭ قَالَ یَاآدَمُ َنْبِئْهُمْ بَِسْمَائِهِمْ فَلَمَّا َنْبََهُمْ بَِسْمَائِهِمْ قَالَ اَلَمْ َقُلْ لَکُمْ ِنِّی َعْلَمُ غَیْبَ السَّمَاوَاتِ وَالَرْضِ وََعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ ٭ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا ِلاَّ ِبْلِیسَ َبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنْ الْکَافِرِینَ ٭ وَقُلْنَا یَاآدَمُ اسْکُنْ َنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَکُلاَمِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَلاَتَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنْ الظَّالِمِینَ ٭ فََزَلَّهُمَا الشَّیْطَانُ عَنْهَا فََخْرَجَهُمَا مِمَّا کَانَا فِیهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ وَلَکُمْ فِی الَرْضِ مُسْتَقَرّ وَمَتَاع الَی حِینٍ ٭ فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ راَبِهِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ ِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ٭ )


٭ جب تمہارے رب نے فر شتوں سے کہا:میں روئے زمین پرایک جا نشین بنا ؤں گا ان لوگوں نے کہا آیا ایسے کو بنا ئے گا جو اس میں خو نر یزی اور فساد بر پا کر تے ہیں؟ جب کہ ہم تیری تسبیح اور حمد کر تے ہیں اور تیری پا کیز گی بیان کرتے ہیں فرمایا ! جومیں جا نتا ہو تم نہیں جا نتے اور آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی اس کے بعد انھیں فر شتوں کے سا منے پیش کیا اور ان سے سوال کیا اگر سچّے ہو تو ان کے اسماء کے بارے میں مجھے خبر دو ۔٭ بو لے خدا وند! تو منزہ ہے ہم تو وہی جا نتے ہیں جو تو نے ہمیں سکھا یا ہے تو دانا اور حکیم ہے۔ ٭

فرمایا : اے آدم ! تم ان کے اسماء کی انھیں خبر دو جب آدم نے انھیں آگاہ کیا تو فرمایا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ ہم زمین و آسما ن کے غیب کے بارے میں یا جو کچھ ظا ہر اور مخفی رکھتے ہواس سے باخبرہیں٭

جب ہم نے فر شتوں سے کہا آدم کا سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا جز ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر سے کام لیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔ ٭ اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں سکو نت اختیار کرو اور وہ پر جہ سے چا ہو کھا ؤ جو تمھیں پسند آئے ،لیکن اس درخت کے نزدیک نہ جانا ورنہ ستمگروں میں سے ہو جا ؤ گے ٭ شیطا ن نے انھیں فریب دینے کی کوشش کی اور انھیں جنّت سے باہر کر دیا اور میں نے کہا تم سب کے سب نیچے اترو تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہوگا اور تمہارے لئے زمین میں ایک مدت تک کے لئے ٹھہر سکتے ہو اور اس سے بہرہ مند ہوسکتے ہو ٭ پھر آدم نے اپنے خدا سے چند کلمات یا د کئے اور خدا نے ان کی تو بہ قبو ل کی کہ وہ تو بہ قبول کرنے والا اور مہر بان ہے ۔٭

۳۔ سورۂ آل عمران کی ۳۳ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( انَّ اللّٰهَ اِصطَفَیٰ آدَمَ وَ نُوحاً وَآلَ ااِبْرَاهیمَ وَآل عِمرَانَ عَلی العَا لمین )

خدا وند عالم نے آدم ،نوح ،خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو سارے جہان پر انتخا ب کیا۔

سورۂ انعام کی ۸۹ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( اُولئک الَّذِینَ آتَینَاهُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالَنُّبوَّة... )

وہ لوگ ( انبیائ)وہی ہیں جنھیں ہم نے آسمانی کتاب، فر ما نروائی اور نبوت عطا کی ہے...


کلمات کی تشریح

۱۔اجتباہ :

اسے چنااور انتخاب کیا. مفردات راغب میں مذ کور ہے کہ: اجتباہ اللہ العبد یعنی یہ کہ خدا نے بندہ کو الٰہی فیض سے مخصوص کیاوہ بھی اس طرح سے کہ انواع واقسام کی نعمتیں اُس کے اختیار میںدے دیتا ہے بغیر اس کے کہ بندہ نے اس سلسلے میں کوئی کوشش کی ہو. یہ فیض انبیاء اور ان کے ہم مرتبہ صدیقین اور شہداء سے مخصوص ہے۔

۲۔ تابَ :

اُس نے تو بہ کی بندہ کی توبہ اس کی ند امت اور پشیمانی کا پتہ دیتی ہے اس گناہ سے جو انجام دیا ہے لہٰذا اس گناہ کے ترک کرنے کا ارادہ کرنا اور جہاں تک ممکن ہو اس کی تلافی اور تدارک کرنا بندہ کی توبہ ہے۔

لیکن ربّ کی تو بہ کے معنی اپنے بندے کی تو بہ قبول کرنا ، اس کی خطاؤں سے در گذر کر نا ، اس کے ساتھ لطف واحسان کر نا اوراس کی بخشش کر نا ہے۔

۳۔خلیفة :

فرشتوں کی آفر نیش سے متعلق ذکر شدہ بحثوں کے ذیل میں ہم کہیں گے:

خلیفہ کی لفظ قرآن میں مفرد اور جمع دونوں صورتوں میں ذکر ہوئی ہے اور مفرد، جمع کی ضمیر کے ساتھ بھی استعمال ہوئی ہے لیکن جہاں پر مفرد ذکر ہوئی ہے اس سے مراد زمین پر اصفیاء اللہ میں سے برگزیدہ شخص ہے اور جہاں جمع یا جمع کی ضمیر کے ساتھ استعما ل ہوئی ہے وہاں اپنے سے پہلے والی قوموں کی جگہ پر زمین میں لوگوں کی جانشینی مراد ہے۔

پہلی وجہ سے متعلق:

۱۔ خدا کا فرشتوں سے خطاب :( اِنّیِ جَاعِل فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً )

میں روئے زمین پر ایک خلیفہ بنا ؤں گا.


۲۔خدا کا داؤد سے خطاب:

( یَادَائُ وْدُ اِنَّاجَعَلنَاکَ خَلیفَةً فِی الْاَرْضِ )

اے داؤد!ہم نے تمھیں زمین پرمقام خلا فت عطاکیا.اگرپہلے مورد میں مراد یہ ہو کہ خدا نوع انسان کو زمین پراپنا خلیفہ اورجانشین بنا ئے گا ۔

پھر داؤد کے لئے مقام خلا فت سے مخصوص ہو نے کا شرف باقی نہیں رہ جا تا کیونکہ وہ بھی لوگوں میں سے ایک ہیں کہ خدا نے ان سب کو تا قیام قیا مت زمین پر اپنا خلیفہ اور جا نشین بنا یا ہے.اس بنا ء پر مجبورا ً کہنا چا ہئے: اپنے فرشتوں سے خدا کے خطاب( اِنّی جَاعِل فی الاَرضِ خَلیفہ )کا مطلب تنہا حضرت آدم ہیں یا حضرت آدم اور ان کی بر گزیدہ اولا د جو لوگوں کے امام اور راہ راست کے پیشوا اور راہنما ہیں۔

دوسری وجہ سے متعلق:

۱۔جہاں سورہ ٔ اعراف کی ۶۹ ویں آیت میںحضرت ہود کی اپنی قوم سے گفتگو کی حکایت کرتے ہوئے بیان فرما تا ہے.

( ... وَاذْکُرُ وا اإِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفائَ مِنْ بَعدِ قُومِ نُوح ٍ )

یا د رکھو خدا نے تمھیں قوم نوح کے جانشینوں میں قرار دیا ہے...

۲۔ اس کے بعد، صا لح کی گفتگو اپنی قوم سے متعلق اسی سورۂ کی ۷۴ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَاِذکُرُوا اِذجَعَلَکُم خُلَفائَ مِن بَعدِ عاد ٍ )

یاد رکھو کہ تمھیں قوم عاد کے بعد جا نشین بنا یا.

کیسے ممکن ہے خدا کے دشمن جیسے عاد و ثمود کی اقوام اور ان سے پہلے نوح کی قوم نافرمانی اور خدا سے دشمنی کے سبب، خدا نے انھیں ہلاک کیا اور انکو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہے، روئے زمین پر خدا کے خلفا ء اور جانشین ہوں ؟

اس لحا ظ سے جناب ہود علیہ اسلام کی اپنے قوم سے گفتگو کا مطلب جو انھوں نے کی ہے :

( جَعَلَکُم خُلفَاء مِن بَعدِ قُومِ نُوح ٍ ) یہ ہے کہ خدا نے روئے زمین پر تم کو قوم نوح کا جانشین قرار دیا ہے اور حضرت صا لح کی اپنی قوم سے گفتگو کہ جو انھوں نے کی ہے:


( جَعَلَکُم خُلفَاء مِن بَعدِ قُومِ عاد ٍ ) یہ ہے کہ قوم عاد کے بعد تمھیں روئے زمین پر ان کا جا نشین قرار دیا ہے۔

تیسری وجہ جو جمع کی ضمیر کے ساتھ ذکر ہوئی ہے وہ بھی اسی طرح سے ہے مثلاً سورہ ٔ اعراف کی ۱۲۹ ویں آیت میں حضرت یو نس کے اپنی قوم سے خطاب میں اسی طرح ذکر ہوا ہے:

( عََسَیٰ رَبَّکُمْ اَنْ یُهْلِکَ عَدُ وَّکُم وَیَسَتخِلَفکُمْ فِی الْاَرْضِ... )

امید ہے کہ خدا وند عالم تمہارے دشمنوں کو زمین سے نابود کر دے اور تمھیں روئے زمین پر ان کا جا نشین قرار دے... مراد یہ ہے کہ خدا وند عالم انھیں ان کے دشمنوں کی جگہ روئے زمین پر جانشین قرار دے گا۔

۴۔ا لاسماء :

عربی لغت میں اسم کے دو معنی ہیں:

۱۔ ایسا لفظ جو مسمیٰ پر دلالت کرتا ہے اور اسے دیگر تمام لوگوں سے ممتاز کر تا ہے مانند مکّہ جو کہ ایک شہر کا نام ہے جس میںکعبہ مشرفہ اور بیت ﷲ الحرام پایا جاتا ہے اور اشخاص کے نام جیسے یوسف، فیصل، عباس وغیرہ۔

۲۔ ایسا لفظ جو مسّمیٰ کی حقیقت یا اس کی صفت پر دلالت کرتا ہے جیسے اس آیہ شریفہ میں لفظ (اسم) (ساَبِحِ اسْمَ راَبِکَ الْاَ عْلٰی) (اے ہمارے رسول! ) اپنے خدا کے نام کی تسبیح کرو جو کہ تمام مو جودات سے بلند و با لا ہے (سورۂ اعلی آیت۱) کہ یہاں پر مراد اسم خدا کی تسبیح کرنا نہیں ہے بلکہ مراد ربّ کی صفت ہے یعنی اپنے بلند رتبہ ربّ کی ربو بیت کو پاک و منزہ قراردو ان چیزوںسے جو اس کی کبر یا ئی کے لئے زیبا نہیں ہیں۔اور اسی طرح سے یہ آیہ شریفہ ہے کہ فرماتا ہے ( وَعَلّمَ آدَمَ ا لْاَ سْمَاْئَ کُلَّھَا) (آدم کو تما م اسماء کی تعلیم دی ) اس سے یہاں پر یہ مراد نہیں ہے کہ خدا وند عالم نے اپنے خلیفہ آدم کو مراکز کے اسماء جیسے بغداد، تہرا ن اور لندن یا آدمی کے بد ن کے اعضا ء جیسے آنکھ، سر اور گردن ْیاپھلوں کے نام جیسے انجیر، زیتون اور انار، یا پتھروں جیسے یاقوت، دُر، زبرجد، یا معادن جیسے سونا، چاندی، پیتل، لوہا، وغیرہ وغیرہ کہ آدمی نے ان چیزوں کے مختلف عنوان سے نام رکھے ہیں،تعلیم دی ہو بلکہ مقصود یہ ہے کہ خدا نے اپنے خلیفہ کو اشیاء کے صفات اور ان کے حقائق سے آگاہ کیا ہے ہم نے خدا کی مرضی سے دوسری جلد میں '' (اسمائے حسنیٰ الٰہی'' ) کی بحث میںاسی سے متعلق تفصیل سے گفتگو کی ہے۔


۵۔نسبّح بحمدک:

سَبحّ یعنی منزہ خیال کیا اور سبحان اللہ یعنی خدا پاک اور منزہ ہے.

۶۔نقدّس:

قدّس اللّٰہ تقد یسا ً، یعنی خدا کی شا ئستہ ترین انداز سے تقدیس کی.اور اس کی حمد و ثنا کی اور اسے عظیم اور با عظمت جانا اور اسے تمام ان چیزوں سے جو اس کی ذات اور مقام کے لئے مناسب اور شائستہ نہیں ہے اور مسند الوہیت کے لئے زیبا نہیں ہے، پاک و منزہ جانا۔

آیات کی تفسیر

خدا وند عالم نے حضرت آدم علیہ اسلام کی توبہ قبول کی اور اُن کا انتخاب کیا اور اپنی وحی کے لئے چنا ٹھیک اسی طرح جس طرح دیگر پیغمبروں کو لوگوںکی ہدایت کے لئے چنا ہے۔

ابن سعد کی طبقات اور احمد ابن حنبل کی مسند میں اسی طرح ذکر کیا گیاہے اور ہم یہاںپر صرف ابن سعد کی طبقات سے عبارت نقل کرتے ہیں:

لوگوں نے حضرت آدم کے سلسلہ میںحضرت رسول اکرم صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا کہ آیا حضرت آدم نبی تھے یا فرشتہ؟

تو رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواب دیا:

وہ نبی مکلَّم تھے یعنی ایسے شخص تھے جن سے خدا نے وحی کے ذریعہ گفتگو کی ہے۔

حضرت ابوذر سے مروی ہے کہ آپ نے کہا میں نے رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا۔سب سے پہلے نبی کو ن تھے ؟


فرمایا:آدم ۔

میں نے سوال کیا : کیا آدم نبی تھے؟

جواب دیا : ہاں ،نبی مکلّم تھے۔

میں نے پو چھا رسولوں کی تعداد کتنے افراد پر مشتمل تھی؟

جواب دیا: ان کی مجمو عی تعداد تین سو پندرہ (۳۱۵)افراد پر مشتمل( ۱ ) ہے۔

منجملہ وہ امور جو ان کی شریعت میں ذکر ہوئے ہیں، حج ،خانہ کعبہ کے ارد گرد طواف اور جمعہ کی نماز تھی۔

ابن سعد کی طبقات میں مذکور ہے:

رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرما یا: جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور خدا کے نز دیک ان میں

____________________

(۱) طبقات ابن سعد ،طبع بیروت، سال : ۱۳۷۶، ج۱، ص ۳۲و ۳۴، طبع یورپ ، ص ۱۰ و۱۲ اور مسند احمد، ج ۵، ص ۱۷۸، ۱۷۹، ۲۶۵، ۲۶۶ اور تاریخ طبری طبع یورپ، ج۱، ص ۱۵۲ اور دوسری حدیثیں دوسرے مصادر میں مختلف الفاظ کے ساتھ


سب سے عظیم دن ہے، کیو نکہ، خدا نے اُس دن حضرت آدم ـکو پیدا کیا اور اسی دن آدم کو زمین پر بھیجا اور اسی دن آدم ـ کو دنیا سے اٹھا یا ۔( ۱ )

حضرت آدم ایسے پیغمبر تھے کہ خدا وند سبحا ن نے انھیں کتاب اور حکمت عطا کی تھی تاکہ اپنے زمانے کے لوگوں کو کہ ان کے زمانے میں ان کی بیوی اور بچے تھے ہدایت کریں۔ وہ اولوالعزم پیغمبروں میں نہیں تھے یعنی بشیر(بشارت دینے وا لے) اور نذ یر(ڈرانے والے) نہیں تھے۔

پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے کہ حضرت آدم کو عراق کی سر زمین پر جہاں انھوں نے وفات پا ئی ہے دفن کیا گیا ہے۔

حضرت آدم نے اپنی حیات میں اپنے فرزند(شیث) سے وصیت کی اور انھیں اپنی شریعت کی حفا ظت اور اس کی تبلیغ کی تاکید کی.خدا کی توفیق سے انشاء اللہ آیندہ فصل میںاس موضوع کے حالات کی تحقیق کریں گے۔

____________________

(۱)طبقات ابن سعد ،طبع بیروت ، ج۱،ص ۳۰ ، طبع یورپ ، ج۱ ، ص ۸.


( ۳ )

حضرت آدم ـکے بعد اوصیاء سیرت کی کتابوں میں :

* مقدمہ

* شیث ہبة اللہ

* شیث کے فرزند انوش

* انوش کے فرزند قینان

* قینان کے فرزند مہلائیل

* مہلائیل کے فرزند یرد

* یرد کے فرزنداخنوخ(ادریس)

* اخنوخ (ادریس) کے فرزند متوشلح

* متوشلح کے فرزند لمک

مقدمہ

ابن سعد کی طبقات اور تاریخ طبری اور دیگر مآخذ میں اختصار کے ساتھ ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ انھوں نے فر مایا:

حوا سے آدم علیہ اسلام کے بیٹے ہبة اللہ پیدا ہوئے جنھیں عبری زبان میں(شیث)کہا جا تا ہے اور حضرت آدم نے انھیں اپنا وصی قرار دیا .شیث انوش نامی فرزند کے باپ ہوئے اور جب شیث بیمار ہوئے تو انوش کو اپنا وصی اور جا نشین بنایا اور دنیا سے رحلت کر گئے۔

انوش کے فرزند قینان اپنے باپ کے وصی ہوئے۔

قینان کے فرزند مہلائیل اپنے باپ کے وصی ہوئے۔

مہلائیل کے فرزند''یردیا الیارد'' ان کے وصی ہوئے۔


اخنوخ کہ وہی ادریس پیغمبر ہیں یرد کے فرزند اور ان کے وصی ہیں۔( ۱ )

متوشلح کے فرزند لمک ان کے وصی ہوئے۔

یہ سارے مطا لب ابن سعد اور طبری کی اس روایت کا خلا صہ ہیں جو ابن عباس سے حضرت آدم کے اوصیاء کے اخبار سے متعلق مروی ہے۔

ان کے اخبار کا فی بسط وتفصیل سے تاریخ یعقوبی متو فی۲۸۴ھ اور مسعودی متوفی ٰ ۲۴۶ھ اور سبط ابن جوزی متوفی ٰ ۶۵۴ ھ میں مذکور ہیں انشاء اللہ اس کی تفصیل بیان کی جائے گی ۔

____________________

( ۱)۔ مذکورہ اخبار کا پتہ لگا نے کے لئے ملاحظہ فرمائیں ابن سعد کی طبقات،طبع یورپ،ج۱،ص ۱۴۔۱۷؛تاریخ طبری، طبع یورپ، ج۱، ص ۱۵۳، ۱۶۵، ۱۶۶؛ شیث سے جناب آدم کی وصیت کی خبر : تاریخ ابن اثیر میں، ج، ۱،ص ۱۹۔۲۰ اور ج۱، ص ۴۰۔ ۴۸ اور تاریخ ابن کیثر، ج۱، ص ۹۸؛ تاریخ یعقوبی، ج۱، ص ۱۱ ، اُس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اخنوخ وہی ادریس پیغمبر ہیں.


شیث ہبة اللہ سیرت کی کتابوں میں

* شیث ـ کی ولادت

* حضرت شیث ـسے حضرت آدم ـ کی وصیت

* ان کا حکم اور خانہ خدا کا حج

* ان کا اپنے فرزند انوش ـسے وصیت کرنا

حضرت شیث ـکی ولا دت

مسعودی نے مروج الذ ھب میں تحریر فر مایا ہے:

جب جناب حو ّ ا کے بطن میں شیث قرار پا ئے تو ان کی پیشا نی سے نورچمکنے لگا. اور جب شیث پیدا ہوگئے تو وہ نورشیث میں منتقل ہو گیا اور جب شیث بالغ ہوئے اور ایک کا مل اور پختہ جوان ہوگئے تو حضرت آدم نے انھیں اپنا جا نشین قرار دیا اور اپنی وصیت ان کے درمیان رکھی اور انھیں آگاہ کیا کہ وہ آدم کے بعد خدا کی حجت اور روئے زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں.انھیں چاہئے کہ اپنے جا نشینوں تک حق کو پہنچا ئیں اور وہ دوسرے وہ شخص ہیں کہ خاتم ا لا نبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور جن میںمنتقل ہوا ہے ۔( ۱ )

حضرت آدم ـ کی وصیت حضرت شیث سے

اخبار الزمان میں مذکور ہے:

جب خدا وند عالم نے حضرت آدم کی موت کا ارادہ کیا تو انھیں حکم دیا کہ اپنی وصیت اپنے فرزندشیث کے حوالے کر دیں اور تمام وہ علوم و دانش جو انھیں تعلیم دیئے گئے تھے انھیں تعلیم دے دیں، تو آدم نے ایسا ہی کیا۔( ۲ )

تا ریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

جب حضرت آدم کی موت کا وقت قر یب آیا تو حضرت شیث اپنے فرزند اور پوتوں کے ہمراہ ان کی خدمت میں پہو نچے حضرت آدم نے اُن پر درود بھیجا اور ان کے لئے خدا وند عالم سے بر کت کی درخواست

____________________

(۱)مسعودی کی مروج الذھب کی ج۱،ص ۴۷،۴۸ میں شیث کے حالا ت زندگی کا خلاصہ.(۲)مسعودی کی اخبار الزمان کا خلا صہ،طبع دار الاندلس بیروت ۱۹۷۸ ئ، سبط ابن جوزی نے بھی بعض اخبار وصیت کوشیث کے حالات زندگی کے ضمن میں مرآة الزمان نامی کتاب،طبع دار الشروق بیروت ۱۴۰۵ ھ ص ۲۲۳ پر ذکر کیا ہے.


کی ، پھر اُس کے بعد اپنی وصیت شیث کے حوالے کی اور انھیں حکم دیا کہ ان کے جسد کی حفا ظت کریںاور ان کے مر نے کے بعد غار گنج میں رکھد یںاور پھر اس کے بعد اپنی رحلت کے وقت اپنے فرزند او رپو توں کو یکے بعد دیگرے وصیت کریں اور موت کے وقت ہر شخص دوسرے کو اپنا وصی و جا نشین بنائے؛ اور جب اپنی سرزمین سے نیچے آجائیں تو ان کے جسد کو لے کر زمین کے وسط(درمیان) میں رکھ دیں. پھر شیث کو حکم دیا کہ ان کے بعد ان کے فرزندوں میں ان کا قائم مقام رہتے ہوئے، انھیں تقوای الٰہی اور اس کی عبادت وپرستش کا حکم دیں اور انھیں قابیلیوں کے ساتھ مخلوط ہو نے سے روکیں، پھر اس کے بعد حضرت آدم نے ان تمام پر درود بھیجا اور آپ کی آنکھ بند ہوگئی اور جمعہ کے دن دنیا سے رحلت کر گئے۔( ۱ )

ان کا فیصلہ اور خا نۂ خدا کا حج

الف۔ تا ریخ یعقو بی میں مذ کور ہے:

شیثاپنے باپ حضرت آدم کی موت کے بعد ان کے جانشین ہوئے اور لوگوں کو تقوائے الٰہی اور نیک کاموں کا حکم دیا۔( ۲ )

اخبار الزمان میں ذ کر ہے کہ: خدا وند عالم نے حکم دیاکہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں اور حج وعمرہ بجالائیں شیث سب سے پہلے انسان ہیں جنھوں نے عمرہ کیا ہے۔( ۳ )

ب۔مرآة الزمان کتاب میں مذکور ہے :

جب حضرت آدم دنیا سے رخصت ہوگئے، شیث مکّہ تشر یف لائے اور حج و عمرہ انجام دیااور خانہ کعبہ کی فرسودگی اور پرانے ہو نے کے بعد اس کی نئے سر ے سے تعمیر کی اور اسے پتھر اور مٹی سے تعمیر کر کے زمین کی آبادی و عمران کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے باپ کے مانند مفسدوں پر حدود الٰہی کا اجراء کیا ۔( ۴ )

ج۔ مروج الذھب نامی کتاب میں مذکور ہے :

جب حضرت آدم نے شیث سے وصیت کی تو شیث نے اس کے مضمون کو ذہن میں رکھ لیااور لوگوں کے درمیان حکو مت اور فرمانر وائی کر نے لگے اور باپ کے قوا نین کا اجراء کیا پھر اس کے بعد ان کی بیوی

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی، طبع بیروت، ج۱،ص۷.(۲)تاریخ یعقوبی،ج۱، ص۸.(۳)اخبار الزمان ،ص۷۶.(۴)مرآة الزمان، ص ۲۲۳.


حاملہ ہوئیں اور انوش کو جنم دیا یہی وقت تھا کہ شیث کی پیشانی میں موجود درخشاں نور انوش میں منتقل ہوگیا. یہ انتقال ان کی ولادت کے وقت عمل میں آیا. جب انوش بالغ ہوئے اور کمال کی منزل کو پہونچے تو شیث نے حضرت آدم کی امانت ان کے حوالے کی اور انھیں اس وصیت کی کرامت، عظمت، شرافت اور مرتبہ سے آگا ہ کیا اور انھیں وصیت کی کہ( وہ بھی) اپنے فرزند کو اس شرف وکرامت کی حقیقت سے آگا ہ کریں اور وہ اپنے فر زندوں کو بھی اس امر سے آگاہ کریں اور اس وصیت کے امر کو جب تک نسلوں کا سلسلہ قائم ہے یکے بعد دیگرے آپس میں منتقل کرتے رہیں۔( ۱ )

وصیت کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور ایک صدی سے دوسری صدی تک منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ خداوند عالم نے نور تاباں کو جناب عبد المطلب اور اُن سے اُن کے فرزند عبد اللہ رسول اکرم صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد تک پہنچا یا اور ہم انشاء اللہ ان میں سے بعض اخبار کو اجداد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخبار کے ضمن میں ذکر کریں گے۔

شیث کی اپنے فرزند انوش سے وصیت

تاریخ یعقوبی میں مذ کور ہے:

جب شیث کی موت کا زمانہ آیا تو ان کے فرزندوں اور پوتوں نے کہ جن میں انوش، قینان، مہلائیل، یرد،اخنوخ اور ان کی عورتیں اور بچے شامل تھے، ان کے بستر کے پاس سب جمع ہوگئے شیث نے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے خدا سے برکت طلب کی اور تمام چیزوں سے پہلے اس بات کی وصیت کی کہ قا بیل ملعون کی اولاد کے قریب نہ جائیں اور ان سے رفت وآمد نہ رکھیں، پھر اس وقت اپنے بیٹے انوش سے وصیت کی اور انھیں حکم دیا کہ حضرت آدم کے جسدکو اسی طرح محفوظ رکھیں.اور یہ کہ تقوائے الٰہی اختیار کریں اور اپنی قوم کوبھی تقوائے الٰہی اور نیکی کا حکم دیں؛ پھر اس کے بعد آنکھ بند ہو گئی اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔( ۲ )

____________________

(۱) مروج الذھب، مسعودی،۱۔۴۸.(۲) تاریخ یعقوبی، ج ۱، ص ۸۔۹.


حضرت شیث ـ کے فرزند انوش ـ

* انوش ـکی ولادت اور ان سے شیث ـکی وصیتاور خا تم ا لا نبیاء صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نور کا ان میں منتقل ہو نا

* انوش ـ سب سے پہلے شخص جنھوں نے درخت لگا یا اور زراعت کی.

* انوش ـ کی اپنے فرزند قینان سے وصیت اور حضرت آدم ـ کے صحیفوں کی انھیں تعلیم

* انوش ـ کی وفات


انوش کی ولادت اور ان سے شیث کی وصیت اورخا تم ا لا نبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور کا ان میں منتقل ہو نا ۔

مرآة الزمان میں مذ کور ہے:

انوش حضرت آدم کی حیات ہی میں پیدا ہو چکے تھے. جب حضرت شیث نے اپنی موت کو قر یب پا یا تو اپنے فر زند انوش کو اپنا وصی قرار دیااور انھیں اس نور سے جو ولادت کے وقت اُن میں منتقل ہوا تھا (یعنی حضرت خاتم الا نبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور کہ ان کی نسل سے دنیا میں آئیں گے) آگاہ کیااور انھیں حکم دیا کہ اپنی اولاد کو اس افتخار و شرف سے کہ ایک بزرگ سے دوسرے بزرگ اور ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو گا آگاہ کریں۔

انوش نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد ان کے فرا مین کی انجام دہی میں س بہترین طریقہ اپنایا اور رعا یا کے امور کی تد بیر اور قوانین الٰہی کے اجراء کے لئے اپنے باپ کے زمانے کی طرح قیام کیا وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے خرمے کا درخت لگا یا اور زمین میں دانہ ڈ الا۔(۱ )

سب سے پہلا شخص جس نے درخت لگا یا اورکھیتی کی

مر وج الذ ھب میں مذکور ہے :

انوش نے زمین کو آباد کرنے اور اُسے قا بل زارعت بنا نے کے لئے اقدام کیا.اس کے بعدان کے فرزند قینان پیدا ہوئے، تا بندہ نور قینان کی پیشانی پر درخشندہ ہوا.انوش نے اس نور کے بارے میں قینان سے عہد وپیمان لیا( ۲ ) ( یعنی ان سے عہد و پیمان لیا کہ پیغمبر ختمی مرتبت صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نور کے حاملین کو جو کہ انھیں کے فرزند وںمیں سے ہو گے اس نور کے وجود اور اس کی بر کت سے آگاہ کریں گے۔

____________________

(۱)مرآة الزمان، ص ۲۲۳.(۲) مروج الذھب، مسعودی،ج۱،ص۴۹.


انوش کی اپنے فرزند قینان کو وصیت اور انھیں حضرت آدم ـکے صحیفوں کی تعلیم دینا

اخبار الزمان میں مذکور ہے:

انوش حضرت شیث کے فرزند تھے جو کہ ان کے سب سے پہلے فرزند شمار کئے جاتے ہیں اور اپنے باپ کے وصی تھے.انوش نے بھی اپنی رحلت کے وقت اپنے بیٹے قینان کو اپنا وصی بنایا اور (حضرت آدم کے) صحیفوں کی تعلیم دی۔( ۱ )

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

شیث کے فرزند انوش نے اپنے باپ اور دادا کی وصیت کی حفا ظت اور نگہد اشت کی اور انھوں نے باحسن الوجوہ خدا کی بند گی اور عبادت کی اور اپنی قوم کو بھی حکم دیا کہ خدا کی احسن طریقہ سے عبادت وپرستش کریں۔( ۲ )

انوش کی وفات

تاریخ طبری میں مذ کور ہے :

انوش اپنے با پ کے بعد ملکی نظام کو چلانے اور رعا یا کے نظم و تد بیر میں مشغول ہوگئے.( ۳ )

جب رحلت کا وقت قریب آیا تو اپنے فر زندوں اور فرزندوں کے فرزندوں ( پو توں ) مہلائیل، یرد، اخنوخ (ادریس)متوشلح اور ان کی عورتوں اور ان کے فرزندوں کو بلا یا.اور جب سب حا ضر ہوگئے توسب پر درود بھیجا اور ان کے لئے خدا سے برکت کی درخواست کی؛اور اس بات سے منع فر مایا کہ ان کے فرزندوں میں سے کو ئی بھی قا بیل ملعون کی اولاد سے معا شرت اور رفت وآمد کرے، پھر اس وقت قینان کو اپنا وصی نامزد کیا اور انھیں حضر ت آدمکے جسد کی حفا ظت کی وصیت کی اور سب کو حکم دیا کہ ان کی خد مت میں خدا کی نما ز پڑھیں اور اس کی بکثرت تقدیس کریں .پھر اس وقت آنکھ بند ہو گئی اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔( ۴ )

____________________

(۱) اخبار الزمان ص۲۲۳۔ ۲۲۴ .(۲)تاریخ یعقوبی ، طبع بیروت، ج ۱ ،ص۸.(۳) تاریخ طبری ، طبع یورپ،ج ۱ ،ص ۱۶۵

(۴) تاریخ یعقوبی ،ج ۱ ، ص۸۔۹.


انوش کے فرزند قینان

* قینان کا عرصہ وجود پر قدم رکھنا اور ان کی پیشا نی میں خا تم الا نبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور کا درخشاں ہو نا

* انوش نے قینان کو حضرت آدم کے صحیفوں کی تعلیم دیتے ہوئے حکم دیا کہ نما ز قا ئم کریں اور تمام احکام کا اجراء کریں

* قینان کی اپنے فرزند مہلائیل سے وصیت

حضرت قینان کا عرصہ وجود پر قدم رکھنا اور ان کی پیشانی میں حضرت خاتم الا نبیا ء کے نو ر کا درخشاں ہو نا.

الف۔ مروج الذھب میں ذ کر کیا گیا ہے:

انوش کے فرزند قینان پیدا ہوئے جب کہ وہ نورِمعہود ( خا تم الا نبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور )ان کی پیشا نی میں ضوبارتھاانوش نے قینان کے پیدا ہو جا نے کے بعد ان کی جا نشینی اور وصا یت کے بارے میںدوسروں سے عہد وپیمان لیا.( ۱ )

ب ۔مرآة الزمان نا می کتاب میں مذ کور ہے:

جب حضرت انوش کی موت کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے فر زندقینان سے وصیت کی اور وہ معہود نور قینان میں منتقل ہو گیا۔

انوش نے قینان کو اس راز کی حقیقت سے جو انھیں سپرد کیا گیا تھا آگاہ کیا پھر انوش کے انتقال کے بعد قینان نے باپ کی روش اپنا ئی۔( ۲ )

مؤ لف فرماتے ہیں: سرسے مراد، وہی حضرت خا تم الا نبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور ہے کہ جو پے در پے ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہااورہم ا نشاء اللہ اس عہد کے معنی کی خدا کی مر ضی سے انھیں مطا لب کے ذیل میں تحقیق کریں گے.

____________________

(۱) مروج الذ ھب، ج ۱، ص ۴۹.(۲)مرآة الز مان، ص ۲۲۴.


انوش نے صحیفوں کی قینان کو تعلیم دی اور انھیں نماز قائم کر نے اور دیگر احکام کا حکم دیا

اخبار الزمان نامی کتاب میں مذکور ہے:

انوش نے اپنے فرزند قینان کو اپنا وصی مقر ر کیا وہ اس سے پہلے حضرت آدم کے صحیفوں کی تعلیم انھیں

دے چکے تھے اور زمین کے ٹکروں اور اس بات کو کہ کون کو ن سی چیز ان کے اندر ہے ان کے لئے بیان کیا۔

انھوں نے قینان کو حکم دیا کہ نما ز قا ئم کریں زکاة دیں، حج بجا لائیں اور قا بیل کی اولاد سے جنگ کریں قینان نے حکم کی تعمیل کی اور باپ کے دستورات کا اجراء کیا۔( ۱ )

قینان کی اپنے فرزند مہلائیل سے وصیت

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے :

قینان ایک خلیق ،ملنسا ر اہل تقویٰ اور پر ہیز گار انسا ن تھے اپنے باپ کے بعد وظا ئف کے انجام دینے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی قوم کو خدا کی اطا عت و فرما نبرداری اور اس کی بنحو احسن عبادت کر نے اور حضرت آدم اور حضرت شیث کی وصیتوں کی پیروی کا حکم دیا.اور جب قینان کی موت کا وقت قریب آیا تو ان کے فر زند اور فر زندوں کے فرزند '' پو تے ''یعنی مہلائیل، یرد ، متوشلح،لمک ان کی عورتیں اور ان کے بچے ان کے پا س جمع ہوگئے. قینان نے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے خدا سے بر کت کی دعا کی پھر اس وقت مہلائیل سے وصیت کی اور انھیں حضرت آدم کے جسد کی حفا ظت اور نگہداشت کا حکم دیا۔( ۲ )

____________________

(۱)اخبار الزمان،ص۷۷.(۲ )تاریخ یعقوبی ۔ج۱،ص ۹.


قینان کے فرزند مہلائیل

* مہلائیل اپنی قوم کو خدا کی اطا عت و فر مانبرداری کا حکم دیتے ہیں.

* مہلائیل وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے درخت کاٹا، شہروںاور مسا جد کی بنا ڈالی اور معدنیات کے نکالنے میں مشغو ل ہوئے.

* مہلائیل اپنے فر زند یر د کو وصیت کرتے ہیں اور حضرت آدم کے صحیفوں کی انھیںتعلیم دیتے ہیں.

* مہلائیل اپنی قوم کو اپنے فرزند یرد کے اندر حضرت خاتم الا نبیا ءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور کے منتقل ہونے کی خبر دیتے ہیں.


تاریخ یعقوبی میں مذ کور ہے:

قینان کے بعد ان کے وصی مہلائیل اپنی قوم کے درمیان آئے اور انھیں خدا وند عالم کی اطاعت اور اپنے باپ کی وصیت کا اتباع کر نے کا حکم دیا۔

جب مہلائیل کی موت کا زمانہ قر یب آیا ، تو انھوں نے اپنے فر زند ( یرد) کو اپنا وصی اعلان کیا اورحضرت آدم کے جسد کی حفاظت کی وصیت کی پھر وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔( ۱ )

مرآة الزمان میں مذ کور ہے:

قینان نے موت کے وقت اپنے فرزندمہلائیل کو اپناوصی قرار دیا اور انھیںاُس نور کے بارے میںجو ان تک منتقل ہوا ہے آگاہ کیا. مہلائیل نے بھی باپ کی سیرت کو لوگوں کے ساتھ قا ئم رکھا۔( ۲ )

مہلائیل وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنھوں نے گھر بنا یا، مسجدیں قائم کیں اور معدن ( کان) کا استخراج کیا:

تاریخ طبری میں مذ کور ہے کہ :

حضرت مہلائیل وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے درخت کاٹ کر(اس کی لکڑی سے فا ئدہ اٹھا یا اور) گھر بنایا اور معدن کے استخراج میں مشغول ہوئے. اور اپنے زمانے کے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ عبادت کے لئے کسی مخصوص جگہ کا انتظام کر یں ،وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے روئے زمین پر شہروں کی بنیاد ڈالی؛ انھوں نے دو شہروں کی بنیا د ڈالی ہے ایک کوفہ کے اطراف میں با بل اور دوسرا شوش نامی شہر ہے۔( ۳ )

تاریخ کامل ابن اثیر میں مذکور ہے کہ :

مہلائیل وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے لوہے کا استخراج کیا اور اس سے صنعت کے آلا ت بنائے انھوں نے لو گوں کوزراعت اور کسانی کی تشو یق دلائی اور حکم دیا کہ درندہ جا نوروں کو مار کر اور ان کی کھال سے جسم چھپائیں. گا ئے، بھیڑ اور دیگر جنگلی حیوا نات کا سر کاٹ کر ان کے گو شت سے استفادہ کریں یعنی کھا ئیں۔( ۴ )

____________________

( ۱)تاریخ یعقوبی ،ج۱،ص۱۰.(۲)مرآة الزمان،ص ۲۲۴ (۳)تاریخ طبری۔ج۱،ص ۱۶۸.(۴)الکا مل فی التاریخ،۱،ص ۲۲.


مہلائیل ـ کی اپنے فرزند یرد سے وصیت

اخبار الز مان میں مذکور ہے کہ :مہلائیل نے اپنے فرزند یو ارد( یرد ) کو اپنا جانشین بنایا اور حضرت آدم کے صحیفوں کی تعلیم دی اور زمین کے حصّوں اور اس بات کی کہ دنیا میں کیا ہو گا انھیں تعلیم دی؛ اور کتاب سر ملکوت کہ جسے مہلائیل فرشتے نے حضرت آدم کو تعلیم دی تھی اور جسے اوصیاء مہر شدہ اور لفافہ بند میراث پا تے تھے ان کے حوا لے کیا۔( ۱ )

____________________

(۱)اخبار الزمان،ص۷۷.


مہلائیل کے فرزند یوارد

* یوارد کا پیدا ہونا اور حضرت خا تم الا نبیا ئصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور کاان میں منتقل ہونا.

* ان کے باپ مہلائیل کی ان سے وصیت.

* یوارد کی اپنے فرزند اخنوخ ( ادریس پیغمبر )سے وصیت.


یرد کا عرصۂ وجود پر قدم رکھنا اور ان میں نور کا منتقل ہو نا

مروج الذھب میں مذکور ہے:

یوارد،( ۱ ) مہلائیل کے فرزنددنیا میں تشریف لائے اور وہ نور جو ( ایک وصی سے دوسرے وصی تک)بعنوان ارث پہنچتا رہا ان تک منتقل ہوا ، عہد و پیمان ہوا اور حق اپنی جگہ ثابت اور بر قرار ہو گیا۔( ۲ )

مہلائیل کی اپنے فرزند یرد سے وصیت

کتاب مرآة الزمان میں مذکور ہے:

مہلائیل نے اپنے فر زند یر دسے وصیت کی اور انھیںسرِّمکنون(پو شیدہ راز ) اور حضرت خاتم محمدمصطفےٰ صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نور کے انتقال کے بارے میں خبر دی. یرد نے صالحین اور نیک افراد کی سیرت اپنائی۔

تاریخ یعقوبی میں مذ کور ہے:

مہلائیل کے بعد یرد ان کے جا نشین ہوئے.وہ ایک با ایمان اور خدا وند عزّوجل کے کامل عبادت گذار انسان تھے اورشب وروز میں بہت زیادہ نما زیں پڑھتے تھے۔

یرد کا زمانہ تھا کہ شیث کے فرزندو نے کئے ہوئے عہدوپیمان کو توڑڈ الا (اور شیث او ر دیگر افراد کی وصیت کے بر خلا ف، کوہ رحمت سے ) نیچے آکر قابیلیوں کی سرزمین پر ق دم رکھ د یا اور ان کے ساتھ گنا ہوں میں شر یک ہوگئے۔( ۳ )

یرد کی اپنے فرزند ادریس سے وصیت

جب یرد کی موت کا زمانہ قر یب آیاتوان کی اولاد اور اولاد کی اولاد یعنی اخنوخ،متوشلح، نوح اور لمک ان کے پاس جمع ہوگئے یرد نے ان پر درو د بھیجا اور ان کے لئے خدا سے بر کت کی دعا کی اس گھڑی اپنے فرزند اخنوخ ( ادریس ) کو حکم دیا کہ ہمیشہ غا ر گنج میں(کہ جس میں حضرت آدم کا جسد ہے ) نماز پڑھیں، پھر آنکھ بند ہوئی او ر دنیا سے رخصت ہوگئے۔( ۴ )

____________________

( ۱)عربی توریت کے نسخوں میں یرد کو '' یوارد '' لکھا گیا ہے اور مرآة الزمان کے ص ۲۲۴ میں ''یرد'' کو توریت میں موجود یوارد کی تقریب کے عنوان سے استعمال کیا گیا ہے.تاریخ یعقوبی کی پہلی جلد کے دسویں(۱۰) صفحہ میں یوارد کو مخفف کر کے یرد لکھا گیا ہے.مروج الذھب،ج۱، ص ۵۰ پر ''لور '' کو تحریف کر کے استعمال کیا گیا ہے لیکن اخبار الزمان ص ۷۷ اور تاریخ ابن اثیر،ج۱،ص ۲۲ اور طبری ،ج ۱،ص ۱۶۸ پر یوارد ہی مرقوم ہے.(۲)مروج الذھب ،مسعودی ،ج۱،ص۵۰.(۳)تاریخ یعقوبی،ج ۱، ص ۱۱ ، اخبار الزمان ،ص۷۷.(۴) تاریخ یعقوبی،ج۱ ، ص ۱۱.


خدا کے پیغمبر ادریس (اخنوخ)

* قرآن کریم میں ادریس کا نام.

* ا دریس سیرت کی کتا بوں میں

* آسمانی صحیفوں کا ادریس پر نازل ہو نا.

* خدا وند عالم نے ادریس کو مہینوں اور ستاروں کے اسماء تعلیم دئیے.

* ادریس وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے سوئی اور دھاگہ کا استعمال کیا اور کپڑا سلا.

* حضرت ادریس کے عہد میں شیث اور قابیل کے فرزندوں کے درمیان اختلاط

* ادریس کی ا پنے بیٹے متوشلح سے وصیت.


۱۔قرآن کریم میں ادریس کا نام

خدا وند عالم سورۂ مریم میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَاذْکُرْ فِیْ الْکِتَابِ اِدْریسَ اِنَّه کَانَ صِدِّیقاًًناَبِیاً٭وَرَفَعْناَهُ مَکَاناًًعلیا ً )

اس کتاب میں ادریس کو یاد کروکہ وہ صدیق پیغمبر تھے.اور ہم نے ان کو بلند مقا م عطا کیا ہے۔( ۱ )

کلمات کی تشریح

الف۔ صدّیق:

اللہ اور اس کے پیغمبر وںکے تمام اوامر کی تصدیق کر نے والا.جیسا کہ سورہ ٔحدید میں فر ماتا ہے۔

( وَالَّذِینَ آمَنُوا بِا للّٰهِ وَرُسُله اُولئکَ هُمْ الصِّدِّ یقون... ) ( ۲ )

جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیںوہ لوگ صدیق ہیں۔

ایسی چیز کا امکان نہیں ہے مگر جب امر الٰہی کے قبول کرنے اور خواہشات نفسانی کے ترک کرنے میں انسان کا قول و فعل ایک ہو. اس لحا ظ سے صد یقین کا مر تبہ انبیا ء کے بعد ہے اور ہر نبی صدیق ہے لیکن بعض صد یقین انبیاء میں سے نہیں ہیں۔

ب۔ علیّاً :

علےّاً یہاں پر بلند و بالا مکان کے معنی میں ہے اور تو ریت میں مذ کورہے کہ اخنوخ خدا کے ہمراہ گئے لیکن دکھا ٰئی نہیں دئیے کیونکہ خدا نے ان کو اٹھا لیا تھا ۔

۲ ۔ ادریس سیرت کی کتابوں میں

ادریس کا عرصۂ وجود پر قدم رکھنا اور خا تم الا نبیا ءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور ان میں منتقل ہو نا.

____________________

(۱) سورۂ مریم: آیت: ۵۶،۵۷.۲۔(۲) سورۂ حدید: آیت: ۱۹.


تاریخ طبری میں مذ کو ر ہے۔

حضرت ادریس کے والد یرد اور ان کی ماں برکنا تھیں وہ اُس وقت پیدا ہوئے جب حضرت آدم کی عمر کے ۶۲۲ سال گذ ر چکے تھے. وہ اس اعتبار سے ادریس کہلا ئے کہ انھوں نے آدم اور شیث کے صحیفوں کا کافی مطالعہ کیا کرتے تھے ۔

حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر حضرت ادریس ہیں. وہ نور محمدی کے حامل تھے اور یہ سب سے پہلے انسان ہیں جنھوں نے لباس سل کر زیب تن کیا تھا ۔

حدیث میں مذ کور ہے کہ انبیاء حضرات کا رزق یا کاشت کاری کے ذریعہ حاصل ہوتا تھا یا جانوروں کی رکھوا لی کے ذ ریعہ سوائے ادریس پیغمبر کے کہ وہ خیاط یعنی درزی تھے۔

حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: کوفہ میں مسجد سہلہ حضرت ادریس کا گھر تھا جہاں آپ سلائی کرتے اور نماز پڑھتے تھے۔

جب ادریس ۶۵ سال کے ہوئے تو (ادانہ) نامی ایک عورت سے شادی کی اور اس سے متوشلح اور دیگر بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں پھر اس وقت شیث کی اولاد سے خدا کی عبادت کی درخواست کی اور یہ خواہش کی کہ شیطان کی پیروی نہ کریں. اور قابیلیوں سے برے اعمال ، زشت افعال اور گمراہی میں اختلاط نہ کریں، لیکن انھوں نے ان کی بات نہیں مانی اور ان میں سے بعض گروہ قابیلیوں سے مخلو ط ہوگئے ، محر مات اور گنا ہوں کا ارتکاب انکے درمیان حد سے زیادہ ہو گیا .جس قدر حضرت ادریس انھیں خیر کی طرف راہنمائی کرتے اور گنا ہوں سے روکتے وہ اتنا ہی سرپیچی کرتے اور برے کاموں سے دست بر دار نہیں ہوتے تھے. لہٰذا انھوں نے راہ خدا میں ان سے جنگ کی،کچھ کو قتل کیا اور قابیلیوں کی اولا د کے کچھ گروہ کو اسیر کر کے غلام بنالیا یہ تمام واقعات حضرت آدم کی زندگی میں رو نما ہو چکے تھے.

جب حضرت ادریس ۳۰۸ سال کے سن کو پہنچے تو حضرت آدم دنیا سے رحلت کر گئے.

ادریس نے ۳۶۵ سال کی عمر میں فر مان خدا وندی کے مطا بق اپنے فرزند متوشلح کو اپنی جانشینی کے لئے انتخاب کیا اور ان کو اور ان کے اہل وعیال کو یاد دہا نی کرائی کہ خدا وندعالم قا بیل کی اولاد اور جو ان کے ساتھ معا شرت رکھے گا اور ان کی طرف ما ئل ہو گا ان کو عذاب کرے گا ،لہٰذا اس اعتبار سے انھیں ان کی معاشرت اور اختلاط سے منع کیا۔( ۱ )

____________________

(۱)تاریخ طبری،ج۱،ص۱۱۵، ۱۱۷


اسی ہنگام میں ان کے وصی ( متوشلح) کا سن جو کہ نور محمدی کے حا مل تھے، ۳۰۰ سال ہو چکا تھااور ان کے آبا ء و اجداد یرد سے لے کر شیث تک سب کے سب زندہ و حیات تھے۔( ۱ )

حضرت ادریس پر آسمانی صحیفوں کا نزول اور ان کا سلا ئی کر نا

مروج الذ ھب میں مذ کور ہے:

یرد کے بعد آپ کے فر زند اخنوخ کہ وہی ادریس پیغمبر ہیں باپ کے جانشین ہوئے. صابئین( ۲ ) کا خیال یہ ہے کہ ادریس وہی ھرمس ہیں اور وہی ہیں جن کے بارے میں خدا وند عزو جل نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ انھیں بلند جگہ تک لے گیا ، ادریس وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے سب سے پہلے خیا طی کی اور سلنے کے لئے سوئی کا استعمال کیا. ادریس پیغمبر پر ۳۰ صحیفے نازل ہوئے اور ان سے قبل حضرت آدم پر ۲۱ صحیفے اور شیث پر ۲۹ صحیفے نازل ہوئے ہیں کہ اس میں تسبیح وتہلیل کا تذ کرہ ہے۔( ۳)

خدا وند عالم نے حضرت ادریس کو بر جو اور ستاروں کے اسماء کی تعلیم دی

ادریس پیغمبر حضرت آدم کے زمانے میں پیدا ہوئے وہ پہلے آدمی ہیں جنھوںنے قا بیل کی اولاد اور پو توںکو اسیر کیااور ان میں سے بعض کو غلام بنا یا .آپ علم نجو م، آسمان کی کیفیت،بارہ برجوں اور کواکب و سےّارات کے بارے میں کا فی اطلا ع رکھتے تھے.خداوند عالم نے انھیں ان تمام چیزوں کی شناخت کے بارے میں الہا م فر مایا تھا ۔( ۴ )

ادریس کے زمانے میں شیث اور قابیل کے پوتوںکے درمیان اختلاط

تاریخ یعقوبی میں مذ کو ر ہے:

یردکے بعد ان کے فرزند اخنوخ اپنے باپ کے جانشین ہوئے اور خدا وند سبحا ن کی عبا دت میں مشغول ہوگئے اخنو خ کے زمانے میں حضرت شیث کی اولاد اور اولاد کی اولاد ان کی عورتیں اور ان کے بچے( کوہ رحمت سے ) نیچے آ گئے اور قابیلیوں کے پاس چلے گئے اور ان سے خلط ملط ہوگئے. شیث کے پوتوں کا یہ کارنامہ حضرت اخنوخ کو گراںگذر ا،لہذا اپنے فرزند متوشلح اور پوتے لمک اور نوح کو بلا یا اور ان سے کہا:

____________________

(۱)تاریخ طبری ج۱ ، صفحہ ۱۱۷ اور ۱۱۸ ملاحظہ ہو.(۲)فرھنگ فارسی معین،ج۵،ص ۹۶۳ ملاحظہ ہو.(۳)مروج الذھب، مسعودی، ج۱،ص۵۰ (۴)۔مرآة الزمان ۔ص ۲۲۹.


''میں جا نتا ہوں کہ خدا وند عالم اس امت کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا اور ان پر رحم نہیں کرے گا ''.

اخنوخ وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے سب سے پہلے قلم ہا تھ میں لیا اور تحریر لکھی. انھوں نے اپنے فرزندوں کو وصیت کی کہ خدا کی خا لصا نہ انداز میں عبادت کریں اور صدق ویقین کا استعمال کریں۔

پھر اُس وقت خدا نے حضرت ادریس کو زمین سے آسمان پر اٹھا لیا( ۱ ) .

جو کچھ ذ کر ہوا اس کی بناء پر حضرت ادریس صدیق اور نبی تھے ، خدا نے انھیں کتاب و حکمت عنایت کی تھی اور انھوں نے اپنے زمانے کے لو گوں کو اللہ کی شریعت کی طرف راہنمائی کی تھی پھر خدا نے انھیں بلند مقام عطا کیا ان تمام چیزوں اور خوبیوں کے باوجود وہ اپنی قوم کی پیغمبری کے لئے خدا کی طرف سے مبعوث نہیں ہوئے اور خدا کی طرف سے کسی آیت اور معجزہ کے ذریعہ ان کے ڈرانے والے اور منذ ر نہیں تھے.

طبقات ابن سعد میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا:

حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے نبی حضرت ادریس تھے کہ وہی اخنوخ یرد کے فرزند ہیں...اخنوخ کے فرزند کا نام متوشلح تھا جو کہ اپنے باپ کے وصی تھے، ان کے علاوہ دیگر اولاد بھی تھی متوشلح کے فرزند لمک ہیں جو اپنے باپ کے وصی تھے اور ان کے علاوہ بھی دیگر اولاد تھی لمک کے فرزند حضرت نوح تھے( ۲ )

____________________

(۱)تاریخ یعقوبی ،ج۱،ص۱۱،طبع بیروت دار صادر؛تاریخ طبری۔ج۱،ص ۱۷۳، ۳۵۰ طبع یورپ؛

طبقات ابن سعد،طبع بیروت، ج۱ ،ص ۳۹ ، طبع یورپ، ج۱ ،ص ۱۶ادریس پیغمبر کے اخبار کے بیان میں؛

اخبار الزمان،ص،۷۷ ؛مروج الذھب،ج۱،ص۵۰، مرآة الزمان،ص ۲۲۹ ؛

ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی خبر تاریخ یعقوبی اور مرآة الزمان میں آئی ہے.

(۲)طبقات ابن سعد،طبع بیروت، ج۱ ،ص ۳۹ ، طبع یورپ، ج۱ ،ص ۱۶ادریس پیغمبر کے اخبار کے بیان میں.یوارد کی وصیت اپنے فرزند اخنوخ سےکتاب اخبار الزمان میں مذ کور ہے:

یوارد نے اخنوخ کو وصیت کی اور ان تمام علوم کی انھیں تعلیم دی جو خود جا نتے تھے اور مصحف سّر انکے سپرد کیا.


اخنوخ یا ادریس پیغمبر کے فرزند متوشلح

* ادریس نے اپنے فرزند متوشلحکو وصیت کی اور انھیں حضرت خا تم الا نبیاء صلّیٰ اللہ علیہ وآ لہ و سلم

کے نور سے جو ان میں منتقل ہوا تھا آپ نے آگاہ کیا.

* شہروں کا ان کے ذریعہ آباد ہو نا.

* سب سے پہلے انسان جو سواری پر سوار ہوئے.


حضرت ادریس کا اپنے فرزند سے وصیت کرنااور خا تم الا نبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کانور

اخبار الز مان نامی کتاب میں مذ کور ہے:

ادریس نے اپنے فرزند متوشلح کو وصیت کی کیو نکہ خدا وند سبحان نے انھیں وحی کی تھی کہ اپنے فرزند متوشلح کو وصیت کرو کہ میں بہت جلد ہی ان کی صلب سے ایک پیغمبر مبعو ث کروں گا جس کے افعال میری رضا یت اور تا ئید کے حا مل ہیں۔( ۱ )

مرآة الزّمان نامی کتاب میں مذ کورہے:

ادریس نے اپنے فرزند متوشلح سے وصیت کی اور چو نکہ ان کے ساتھ عہد وپیمان کیا لہٰذا وہ نور جو ان کی طرف منتقل ہوا تھا ( حضرت ختمی مر تبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور ) اُس سے آگاہ کیا.متوشلح وہ پہلے آدمی ہیں جو اونٹ پر سوار ہوئے ۔( ۲ )

مروج الذھب نامی کتاب میں مذ کور ہے:

متوشلح اخنوخ کے فرزند اپنے باپ کے بعد ان کے جانشین ہوئے اور شہروں کے بسانے میں مشغول ہوگئے اور ان کی پیشانی میں ایک تابندہ نور درخشاں تھا( ۳ ) اور وہ حضرت ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور تھا۔( ۴ )

تاریخ طبری میں مذکور ہے:

اخنوخ نے اس(متوشلح) کو فر مان خدا وندی کے مطا بق اپنی جانشینی کے لئے انتخاب کیا اور دنیا سے رحلت کر نے سے قبل ان سے اور ان کے اہل وعیال سے لازم وصیت فر مائی اور انھیں آگا ہ کیا کہ خداوندعالم بہت جلد ہی قابیلیوں اور جو ان کے ساتھ ہیںیا ان کے دوستدار ہیں ان پر عذا ب نازل کرے گا. اور

____________________

(۱) اخبار الزمان، ص، ۷۹.(۲) مرآة الزمان ص ۲۲۹، میں انھیں '' متوشلح '' یا '' متو شلخ '' کہا گیا ہے.(۳) اخبار الزمان،ص ۷۹ ؛مرآة الزمان،ص ۲۲۹ میں کہا گیا ہے کہ وہ '' متوشلح '' ہیں یا '' متو شلخ '' مروج الذھب،ج۱،ص ۵۰؛ اور تاریخ طبری،ج۱ ،ص ۱۷۳.(۴) مروج الذھب، ج۱، ص ۵۰.


انھیں ان کے ساتھ خلط ملط ہو نے سے منع کیا۔( ۱ )

سب سے پہلے سوار

تاریخ طبری میںمذکور ہے:

وہ (متوشلح) سب سے پہلے آدمی ہیں جو مر کب پر سوار ہوئے وہ جہا د میں اپنے باپ کے پیرو تھے اور اپنے ایام حیا ت میں خدا وند رحمان کی اطا عت وعبادت میں اپنے آباء و اجداد کی راہ اختیا ر کئے تھے ۔( ۲ )

____________________

(۱) تاریخ طبری،ج۱،ص ۱۷۳.( ۲) تاریخ طبری،ج۱،ص۱۷۳.


متوشلح کے فرزند لمک

* لمک سے متوشلح کی وصیت

* شیث اور قا بیل کے فرزندوں کا ازدواج اور ان کی

نسلوں کا اختلا ط اور سر کش وبا غی اور تباہ نسل کا دنیا میں آنا.

* حضرت شیث کی نسل سے ۸ افراد کا تنہا رہ جانا.

* لمک کی نوح سے وصیت.

متوشلح کی اپنے فرزند لمک سے وصیت

تاریخ طبری اور اخبار الزمان میں مذ کور ہے:

جب متوشلح کی موت کا وقت قر یب آ یا ، تو اپنے بیٹے لمک (جا مع کے معنی میں ہے) کوجو نوح کے والد تھے وصیت کی اور ان سے عہد لیا اور حضرت ادریس پیغمبر کی مہر کردہ کتابیں اور صحیفے ان کے حو الے کئے اس طرح سے وصیت ان تک منتقل ہوئی۔( ۱ )

شیث اور قا بیل کے پو توں کاباہمی ازدواج اور اس شادی کے نتیجے میں ظا لم و جا بر، سرکش و باغی نسل کا دنیا میں آنا

مروج الذھب میں مذکور ہے :

لمک کے زمانے میں بہت سے واقعات اور نسلوں کے اختلا ط ظا ہر ہوئے ،( ۲) یعنی حضرت شیث اور قا بیل ملعو ن کی نسل کا اختلاط۔

تاریخ یعقوبی میں اختصا ر کے ساتھ مذ کورہے:

لمک اپنے باپ کے بعد خدا کی اطا عت اور عبادت میں مشغول ہوگئے.ان کے زمانے میں سرکشوں اور ستمگروں کی تعداد میں اضا فہ ہو گیا کیو نکہ شیث کے فرزندوں نے قا بیل کی لڑ کیوں سے ازدواج کر لیا تھا اور سرکش و ظالم لوگ ان سے پیدا ہوئے۔

____________________

(۱) اخبار الزمان،ص،۸۰؛ اور تاریخ طبری،ج۱،ص ۱۷۸، طبع یورپ.(۲) مروج الذھب،مسعودی،ج۱،ص ۵۰.


شیث کی اولاد میں سے صرف ۸ افراد کا باقی رہنا اور لمک کی نوح سے وصیت

جب لمک کی موت کا زمانہ قریب آیا تو نوح ، حام، سام،یافث اور ان کی عو رتوں کو بلا یا یہ لوگ آٹھ

آدمی تھے جو شیث کی اولاد میں بازماند گان میں شمار ہوتے تھے اور شیث کی اولاد میں ان ۸ افراد کے علاوہ کوئی(سچے دین پر) باقی نہیں رہ گیا تھا۔اور باقی لوگ کوہ مقدس سے نیچے اتر آئے اور قابیل کی اولا دکے پاس چلے گئے اور ان سے آمیز ش و اختلاط پیدا کر لیا تھا. لمک نے ان آٹھ افراد پر درود بھیجا اور ان کے لئے خدا سے برکت طلب کی اور ان سے کہا:

اُس خدا وند متعال سے سوال کرتا ہوں جس نے آدم کو پیدا کیا کہ وہ ہمارے باپ آدم کی بر کت کو تم پر باقی رکھے اور سلطنت و قدرت تمہاری اولاد میں قرار دے..

اے نوح! میںمر جا ئوں گا اور اہل عذا ب میں سے تمہارے علاوہ کو ئی نجات نہیں پا ئے گا جب میں مر جا ؤں تو میرا جنا زہ غار گنج میں جہ حضرت آدم کا جنازہ ہے رکھ دینا اور جب خدا کی مرضی ہو کہ کشتی پر سوار ہو تو ہمارے باپ آدم کے جسد کو اٹھا کر اپنے ساتھ اسے لے کر پائینتی کی طرف جا ؤ اور کشتی کے اوپر ی کمرہ میں رکھدو اور تم اور تمہاری اولادکشتی کے مشرقی سمت میں اور تمہاری بیوی اور بہوویں مغر بی سمت میں جگہ لیں.جسد آدم کو تمہارے درمیان میں ہو نا چا ہئے ، نہ تم ان عورتوں تک دستر سی رکھو اور نہ وہ عورتیں تم تک رسائی رکھیں نہ ان کے ساتھ کھا ؤ اور نہ ہی پیو اور ان سے نزدیک نہ ہو یہاں تک کہ کشتی سے باہر آجاؤ... جب طوفان تھمے اور کشتی سے نیچے اترجاؤ تو حضرت آدم کے جسد پر نماز پڑ ھو۔اس کے بعد اپنے فرزندارشد سام سے وصیت کرو کہ جسد حضرت آدم کو اپنے ہمراہ لے جائے اور زمین کے بیچ میں رکھ دے اور کسی ایک فرزند کو مقرر کرو کہ اس کے پاس رہے۔

یہاں تک فرمایا کہ :

خدا وند عالم فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو اس ( سام )کا راہنما قرار دے گا تا کہ اس کا مونس وغمخوار رہے اور زمین کے درمیان میں اس کی راہنما ئی کرے۔( ۱ )

٭٭٭

ہم حضرت نوح سے پہلے کے اوصیاء وانبیاء کے حالات کو قرآن کریم اوراسلامی منابع کی رو سے اتنی ہی مقدار میں نقل کرنے پر اکتفاء کر تے ہیں، اب خدا کی تائید و مرضی سے ان کی سوانح توریت سے بیان کریں گے۔

____________________

(۱)تاریخ یعقوبی،ج،۱،ص۱۲،۱۳،طبع بیروت ۱۳۷۹ ھ.


( ۴ )

پیغمبروں کے اوصیاء کی تاریخ توریت کی روشنی میں

توریت کی نقل کے مطابق حضرت نوح کے زمانے تک اوصیاء کی کچھ سر گذ شت

سفر تکوین اصحا ح پنجم میں مذکور ہے:

یہ کتاب میلاد آدم ہے جس دن خدا وند عالم نے آدم کو اپنے ہاتھ (دست قدرت) سے خلق فر مایا انھیں نر ینہ اور مادینہ پیدا کیا اور انھیں بر کت دی اور اسی روز تخلیق ان کا نام آدم رکھاحضرت آدم ایک سو تیس سال کے تھے کہ ان کی شکل وصورت کا ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام (شیث) رکھاآدم نے شیث کے پیدا ہونے کے بعد دنیا میں آٹھ سو سال زند گی گذاری اور اس مدت میں لڑکوں اور لڑکیوں کے باپ ہوئے (کثیر اولا دہوئی) حضرت آدم کی پوری مدت عمر نو سو تیس سال تھی اور آپ نے اسی عمر میں رحلت کی ہے.

شیث ایک سو پانچ سال کے تھے کہ ان کے فرزند (انوش ) پیدا ہوئے شیث انوش کی پیدا ئش کے بعد آٹھ سو سات سال زندہ رہے. اور اتنی مدت میں لڑ کوں اور لڑ کیوں کے مالک ہوئے شیث کی پوری مدت عمر ۹۱۲ سال تھی تب انتقال ہوا۔

انوش بھی نوّے سال کے تھے کہ ان کے فرزند (قینان) پیدا ہوئے انوش قینان کی پیدائش کے بعد آٹھ سوپندرہ سال زندہ رہے اور صاحب اولاد ہوئے پھر نو سو پانچ سال کی عمر میں رحلت کر گئے.قینان ستّر سال کے تھے کہ ان کے بیٹے ''مَہلَلْئِیْل'' ( مہلائیل) پیدا ہوئے، قینان مہلائیل کی پیدائش کے بعد آٹھ سو چالیس سال زندہ رہے اور ان بہت سے بیٹے اور بیٹیاں تھیں اور نو سو دس (۹۱۰ ) سال کی عمر میں وفات پائی۔

(مہلائیل) ۶۵ سال کے تھے کے ان کے فرزند (یارد) پیدا ہوئے مہلا ئیل یارد کی پیدا ئش کے بعد آٹھ سو تیس سال زندہ رہے ،لڑکوں اور لڑ کیوں وا لے ہوئے پھر انتقال کر گئے مہلا ئیل کی مدت عمر پورے ۸۹۵ سال ہے.

یارد ۱۶۲ سال کے تھے کہ ان کے فرزند (اخنوخ ) پیدا ہوئے اخنوخ کی پیدا ئش کے بعد آٹھ سو سال زندہ رہے ،لڑکوں اور لڑ کیوں والے ہوئے یارد کی پوری عمر ۹سو ۶۲ سال ہے پھر اس کے بعد انتقال کر گئے.


اَخنوخ ۶۵ سال کے تھے کہ ان کے فرزند(مَتُو شَلَح)پیدا ہوئے. اخنوخ متوشلح کے پیدا ہونے سے خدا کے پاس جانے تک ۳۰۰ سال مزید زندہ رہے اور اس مدت میں صاحب اولاد ہوئے لہٰذا اخنوخ کی پو ری مدت حیات ۳۶۵ سال ہے اخنوخ خداکے جوار میں چلے گئے اس کے بعد کبھی دکھائی نہیں دئیے کیو نکہ خداوند عالم نے انھیں اٹھا لیا تھا۔

متوشلح ۱۸۷ سال کے تھے کہ ان کے بہت سے لڑ کے اور لڑ کیاں ہوئیں متوشلح کی پوری مدت حیات ۹۶۹ سال ہے پھر اس کے بعد انتقال کر گئے۔

(لا مک) ۱۸۲ سال کے سن میں صاحب فرزند ہوئے ان کا نام نوح رکھا اور کہا یہ بچہ ، ہمارے کاروبار اور اس زمین کے حا صل سے جس پر خدا نے لعنت کی ہے ہمیں بہرہ مند کرے گا۔

لا مک نوح کی پیدا ئش کے بعد ۵۹۵ سال زندہ رہے لڑکے اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں لا مک کی پوری مدت حیا ت ۷۷۷ سال ہے پھر انتقا ل کر گئے،نوح پانچ سو سال کے تھے کہ ان کے بیٹے سام، حام اور یافث پیدا ہوئے۔

٭٭٭

اسی طرح توریت نے آدم اور نوح کے درمیان اوصیاء کے حالات نقل کرنے میںہر ایک کی مدت عمر کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے مگرا خنوخ کی خبر میں اس جملے (اور اخنوخ خدا کے پاس گئے کیو نکہ خدا وندعالم نے انھیں اُٹھا لیا تھا) کا بھی اضا فہ ہے. قرآن کریم نے بھی اسی امر کی طرف اشارہ کر تے ہوئے فر مایا ہے :

( و َ رَفَعْنٰاه مَکَا ناً علیّاً )

ہم نے اسے بلند جگہ پر اٹھا لیا۔


اس بحث کا نتیجہ

خداوند عالم نے حضرت آدم کوبخش دیا اور انھیں لوگوںکی ہدایت اور اولین انسانوں کوجن چیزوں کی ضرورت تھی یعنی ان کے زمانے کے انسا نوں کو جن اسلامی احکام کی ضرورت تھی اس کی تبلیغ کے لئے انتخاب کیا. پھر اس وقت انھیں اپنے پاس بلالیا اور ان کے بعد اوصیا ء شریعت کی حفا ظت اور پاسداری اور لوگوں کی ہدایت کے لئے اس کی تبلیغ کو اٹھ کھڑے ہوئے .انسان حضرت ادریس کے زمانے تک دھیرے دھیرے تہذ یب وتمدن سے نزدیک ہوتا گیا اور تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ زندگی کی راہ میں اسلامی احکام کی شرح وبیان کی نئے سرے سے ضرورت محسوس ہوئی یہی وجہ ہے کہ خدا وند عالم نے ادریس پیغمبر کو ان چیزوں کے لئے جن کی ان کے ہم عصر لوگوں کوضرورت تھی '' یعنی اسلامی احکام' ' کی وحی کی تو آپ نے بھی احسن طریقہ سے اپنی رسا لت انجام دی، خدا نے جس چیز کی انھیں وحی کی تھی لوگوں کی ہدایت کی خاطرانھیں تبلیغ کی ؛ اس کے بعد حکمت خدا وندی یہ رہی کہ انھیں بلند جگہ پرلے جا ئے ، خدا جانتا ہے کہ انھیں کیسے اور کہاں بلندی پر لے گیا ، اس بحث میں اس کی تحقیق کی گنجا ئش نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اسلا می مصا در میں انبیاء واوصیاء کی خبروں سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے وصی سے حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفےٰ صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نور کے بارے میں جو کہ اس کو منتقل ہوتا تھا، عہد وپیمان لیا اور اس نے بھی اپنے بعد کے وصی کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اسے متعہد و پا بند بنایا۔اس عہد و پیمان پر تاکید قرآن مجید میں نما یاں اور روشن ہے:( وَإِذْ َخَذَ ﷲ مِیثَاقَ النّاَبِیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَةٍ ثُمَّ جَائَکُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ََقْرَرْتُمْ وََخَذْتُمْ عَلَی ذَلِکُمْ ِصْرِی قَالُوا َقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وََنَا مَعَکُمْ مِنْ الشَّاهِدِین َ٭ فَمَنْ تَوَلَّی بَعْدَ ذَلِکَ فَُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ )

جب خدا وند عالم نے پیغمبروں سے پیمان لیا ،کہ چونکہ تمھیں کتاب وحکمت دی ، پھر جس وقت تمہارے پاس وہ پیغمبر جائے جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والاہے تو تمھیں چا ہئے اُس پر ایمان لا کر اُس کی نصرت کرو( خدا وند عالم نے پیغمبروں سے فرمایا) آیا اقرار کر تے ہو اور اپنی امتوں سے اس کے مطابق پیمان لیا ہے؟

سب نے کہا ،ہاں : اقرار کرتے ہیں فر مایا اس پر گواہ رہنا کہ میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوںلہٰذا جو کوئی اس کے بعد( آخری رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آنے کے بعد )حق سے رو گردانی کرے یقینا وہ فاسقوں میں ہو گا۔( ۱ )

طبری نے پہلی آیت کی تفسیر میں حضرت امام علی سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فر مایا:

____________________

(۱)آل عمران،۸۱ اور ۸۲


خداوند عالم نے حضرت آدم اور ان کے بعد کے پیغمبر وں کو پیغمبری کے لئے مبعوث نہیں کیامگر یہ کہ ان سے حضرت محمد مصطفےٰ صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سلسلہ میں عہد وپیمان لیا پھر اس کے بعد اس آیت کی تلا وت فر ما ئی:

( وَاإِذْ اَخَذَاللّٰهُ مِیثَاقَ النَبْیِین... )

دوسری آیت کی تفسیر میں حضرت سے نقل کیا ہے کہ آیہ کر یمہ اس مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ خدا وند فرما تا ہے : اس مطلب پر اپنی امتوں پر گواہ رہنا کہ میں تم پر بھی گواہ ہوں اور اُ ن پر بھی۔

لہٰذا اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! جو بھی اس عہد و پیمان کے بعد ان تمام امتوں میں سے تم سے رو گردانی کرے وہ فاسقوں میں سے ہو گا۔( ۱ )

مذکورہ آیت کی تفسیر میں قرطبی فر ماتے ہیں:

یہاں پر حضرت علی اور ابن عباس کے بقول ''رسول'' سے مراد حضر ت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔

مؤلف فر ماتے ہیں:

یہ دو نوں مذ کورہ آیتیں اُن چند آیات کے مجمو عہ کے ضمن میں ذ کر ہوئی ہیں جو خود ہی ایسی بات پر گواہ ہیں کہ حضرت علی سے روایت کی گئی ہے، کہ جس کے آغا ز ہی میں خدا وند عالم نے اس طرح فر مایا:

( لَمْ تَرَ الَی الَّذِینَ ُوتُوا نَصِیبًا مِنْ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ الَی کِتَابِ ﷲ لِیَحْکُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیق مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ )

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو کتاب سے تھوڑا بہرہ مند ہوئے ہیں جب انھیں کتاب خدا وندی کی دعوت دی گئی تا کہ وہ لوگ اپنے درمیان قضا وت کر یں ، تو ان میں سے بعض گروہ نے پچھلے پاؤں لوٹ کر رو گردانی کی اور وہ لوگ اعرا ض( رو گردانی ) کر نے والوں میں ہیں؟( ۲ ) ( قُلْ اِنْ تُخَفُوا مَا فِی صَدُ وْرِکُم اَوتُبدُوهُ یَعْلَمهُ اللّٰهُ... )

(اے پیغمبر ) کہدو: اگر جو کچھ تم لوگ دل میں رکھتے ہو خواہ چھپا ؤ یا آشکا ر کرو خدا سب جانتا ہے۔( ۳ )

( قُلْ ِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ ﷲ فَاتّاَبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ ﷲ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَﷲ غَفُور رَحِیم )

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج ۳، ص ۲۳۶ اور ۲۳۸؛ زاد المسیر فی علم التفسیر، تالیف، ابن جوزی، ج۱، ص ۴۱۶؛تفسیرابن کثیر، ج۱، ص۳۷۸، الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ؛ اور تفسیر قرطبی، ج۴، ص ۱۲۵. (۲)سورۂ آل عمران، آیت:۲۳.(۳)سورۂ آل عمران، آیت:۲۹.


(اے پیغمبر ) کہو: اگر خدا کو دوست رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو تا کہ خدا تمھیں دوست رکھے اور تمہا رے گنا ہوںکو بخش دے۔( ۱ )

( قُلْ َطِیعُوا ﷲ وَالرَّسُولَ فَِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ ﷲ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِینَ )

(اے پیغمبر ) کہو: خدا اور پیغمبر کی اطا عت کرو اگر ان دو سے رو گردانی کرو گے ، تو بیشک خدا کافروں کو دوست نہیں رکھتا ۔( ۲ )

چونتیسویں آیت ا ور اس کے بعد اسی سورہ میں بیان کر تا ہے کہ خدا نے آدم اور نوح کومنتخب کیا اور یہ کہ اس نے کس طرح عیسیٰ کو پیدا کیا اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا اور یہ کہ حواری ان پر ایمان لائے۔

پھر اس کے بعد فر ماتا ہے:

( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ َبْنَائَنَا وََبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وََنْفُسَنَا وََنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ ﷲ عَلَی الْکَاذِبِینَ )

پھر جو بھی (حضرت عیسیٰ کے بارے میں ) علم آجانے کے بعد تم سے کٹ حجتی کرے، تو اس سے کہو: آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں، پھر مبا ہلہ کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیتے ہیں۔( ۳ )

پھر چند آیات کے بعد فرماتا ہے:

( یَااَهلَ الَکِتاب لِمَ تَلبِسُونَ الَحَقَّ بِِالبَاطِل وَ تَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَ اَنْتُم تَعْلَمُون )

اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کے لباس میں ظاہر کرتے ہو ،جب کہ خود بھی جانتے ہو کہ حق چھپا رہے ہو؟( ۴ )

دوسری جگہ فر ماتا ہے:

( وَاِذَ اَخَذَ اللّٰهُ مِیثَاقَ النَّبیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ... )

جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا ، چو نکہ ہم نے تمھیں کتاب وحکمت بخشی ہے...( ۵ )

اس طرح سیاق آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا وند اعالم کی فرمایش سے مراد سورہ ٔآل عمران کی ۸۱ ویں

____________________

(۱)سورۂ آل عمران، آیت: ۳۱.(۲) سورۂ آل عمران، آیت: ۳۲.(۳) سورۂ آل عمران، آیت:۶۱(۴) سورۂ آل عمران، آیت:۷۱ (۵)سورۂ آل عمران، آیت:۸۱


آیت میںکہ ا س میں فر ماتا ہے: (تمہا ری ہدایت کے لئے اے اہل کتاب! خدا کی طرف سے ایک رسول آیا جس نے تمہاری کتاب اور شریعت کی صداقت کی گو اہی دی، تا کہ ایمان لاؤ.اور اس کی نصرت کرو...)یہ چیز ہے کہ امتوں سے عہد لیا گیا ہے کہ حضرت ختمی مر تبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت پر ایمان لائیں، جس طرح سے اس کی تفسیر ہم نے حضرت امیر المو منین علی سے نقل کی ہے. ان تمام چیزوں کے علا وہ اُن آیات کی طرف آپ کی تو جہ مبذول کریں گے جسے ہم نے کتاب کے آخر میں ''آخرین شریعت'' کے عنوان کے تحت ذ کر کیا ہے جیسے اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( یَعرِ فُونَهُ کَمَایَعِرفُونَ اَبْنَائِ هم )

اہل کتاب، خاتم الا نبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس طرح پہچا نتے ہیں جیسے کہ وہ اپنی اولا دکو پہچا نتے ہیں۔

ان تمام آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا وند متعال نے گزشتہ انبیاء سے عہد وپیمان لیا ہے کہ اپنی امتوں کو حضرت ختمی مرتبت کی رسا لت کے وجوب پر ایمان لا نے سے آگا ہ کریں( ۱ ) اور یہ بھی کہ ہرایک نبی نے اپنے وصی سے اس سلسلہ میں عہد وپیمان لیا ہے .جیساکہ اسلامی منا بع و مصادر سے حضرت نوح کے زمانے تک اس کی شرح وتفصیل گذر چکی ہے۔

یہ سب حضرت آدم سے حضرت نوح کے زمانے تک انبیا ء اور ان کے اوصیاء کی کچھ خبریں تھیں۔

حضرت نوح کے زمانے میں شیث کے پو توں نے قا بیل کے پو توں سے آمیز ش اور اختلاط پیدا کیا اور نتیجہ کے طور پر ایک فاسد،سر کش، گمراہ ، بت پرست اور طاغی نسل کو جنم دیا۔

انشاء اللہ ان کے حالات کوحضرت نوح کے حالات کے ضمن میں بیان کریں گے۔

____________________

(۱)لباب التاویل فی معانی التنزیل معروف بہ تفسیر خازن ، متوفیّٰ ۷۴۱ھ، ج۱، ص۲۵۲.اورتفسیر البحر المحیط، ابوحیان،متوفیّٰ ۷۴۵ھ، ج۲، ص۵۰۸، ۵۰۹.اورتفسیر در منثور، سیوطی، متوفیّٰ ۹۱۱ھ، ج۲، ص۴۷، ۴۸.


( ۵ )

حضرت نوح اور ان کے بعد اوصیاء کے حالات

* نوح

* نوح کے فرزندسام

* سام کے فرزند ارفخشد

* ارفخشد کے فرزند شالح

حضرت نوح

* قرآنی آیات میں نوح کی سیرت

* کلمات کی تشریح

* آیات کی تفسیر

* داستان نوح کا خلا صہ

* اسلا می منا بع و مآ خذ میں نوح کی خبریں


قرآنی آیات میں حضرت نوح کی سیرت وروش

۱۔ خدا وند عالم سورہ ٔ حد ید کی ۲۶ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ اَرْسَلنَانُوْحاًوَااِبْرَاهیم وَ جَعَلْنَافِی ذُرِّ یَّتِهِماَالنُّبُوَّةَ وَالَکِتابَ فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍ وَ کَثِیرمِنْهُمْ فَاسِقُوْنَ )

ہم نے نوح اور ابراہیم کو ( رسالت)کے لئے مبعوث کیا اور ان کے فر زندوں کے درمیان کتاب اور نبوت قرار دی ،پس ان میں سے بعض ہدایت یافتہ ہیں (لیکن ) بہت سارے فسق وفجور میں مبتلا ہوگئے:

۲۔سورہ عنکبوت کی ۱۴ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے.

( وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحاً اِلیٰ قَوْ مِه فَلاَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلاَّ خَمْسِینَ عَاماً )

اور ہم نے نوح کو (رسالت کے ساتھ) ان کی قوم کی طرف بھیجا انھوں نے ان کے درمیا ن ساڑھے نو سو سال زند گی گذاری...

۳۔سورۂ مومنون کی ۲۳ سے ۲۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:ِ

( فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ مَا لَکُمْ مِنْ ِلٰهٍ غَیْرُهُ َفَلاَتَتَّقُونَ ٭ فَقَالَ الْمَلَُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا هَذَا ِلاَّ بَشَر مِثْلُکُمْ یُرِیدُ َنْ یَتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ وَلَوْ شَائَ ﷲ لََنْزَلَ مَلاَئِکَةً مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِی آبَائِنَا الَوَّلِینَ ٭ ِنْ هُوَ ِلاَّ رَجُل بِهِ جِنَّة فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتّٰی حِینٍ )

(نوح ) نے کہا : اے قو م! خدا کی عبادت کرو کہ اس کے علا وہ کو ئی خدا نہیںہے کیا تم لوگ خدا سے ڈرتے نہیں ؟!

کافر قوم کے بز رگوں نے کہا ، یہ (نوح) تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہے اور تم پر سرداری کرنا چا ہتا ہے اگر خدا کسی پیغمبر کو بھیجنا ہی چا ہتا تو کسی فر شتہ کو بھیجتا. ہم نے ( اس کے ادّعا کو ) اپنے گزشتہ آباء واجداد سے نہیں سنا ہے یہ شخص ایک دیوا نہ کے سوا کچھ نہیں ہے. لہٰذا ایک مدت تک اُس کے حالات کا انتظار کرو۔

۴۔سورۂ شعراء کی۱۰۶ اور ۱۰۸ آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

)( إِذْ قَالَ لَهُمْ َخُوهُمْ نُوح َلَا تَتَّقُونَ ٭ِنِّی لَکُمْ رَسُول َمِین ٭ فَاتَّقُوا ﷲ وََطِیعُونِ )

ان کے بھا ئی نوح نے ان سے کہا : تم لوگ خدا سے خوف کیوں نہیں کرتے اور پرہیزگار کیوں نہیں ہوتے؟! میں تمہارے لئے ایک امین پیغمبر ہو لہٰذا خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔


۵۔سورہ ٔیو نس کی ۷۲ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَاِنْ تَوَ لَّیتُمْ فََمَا سَأَ لْتکُمْ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجِریَ اِلَّا عَلٰی اللّٰهِ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَکُونَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ )

(نوح نے اپنی امت سے کہا :) پس اگر تم لوگ حق سے رو گرداں ہو تو میں تم سے کسی جزاء کا طالب نہیں ہوں(کیو نکہ )اجر وپا داش خدا ہی کے ذ مہّ ہے اور میں مامور ہوں کہ مسلما ن رہ کر اس کے حکم کے سامنے سراپا تسلیم ہو جاؤں۔

۶۔سورہ ٔشعراء کی ۱۱۱ویں تا۱۱۶ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( قَالُوا َنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الَرْذَلُونَ ٭ قَالَ وَمَا عِلْمِی بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ٭ ِنْ حِسَابُهُمْ ِلاَّ عَلَی راَبِی لَوْ تَشْعُرُونَ ٭ وَمَا َنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِینَ ٭ ِنْ َنَا ِلاَّ نَذِیر مُبِین ٭ قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ یَانُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنْ الْمَرْجُومِینَ )

(نوح کی قوم نے ان حضرت سے ) کہا : کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں جب کہ تمہارا اتباع پست لوگ کر تے ہیں ؟! فر مایا : مجھے اس سے کیا سرو کار کہ ہم دو سروں کے اعمال واحوال کوجانیں ،ان کا حسا ب میرے پر وردگا ر کے ذمّہ ہے اگر شعور رکھتے ہو،میر ے لئے منا سب نہیں ہے کہ مومنین کو اپنے پا س سے بھگا دوںمیں تو آشکار طور پر ڈرانے والا ہوںانھوں نے کہا :اے نوح ! اگر تم اپنی بات سے باز نہیں آئے تو ہم تمھیں بری طرح سنگسار کر دیں گے.

۷ ۔ سورہ ٔہود کی ۲۸ویں تا ۳۳ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ یَاقَوْمِ َرََیْتُمْ ِنْ کُنتُ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ راَبِی وَآتَانِی رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ َنُلْزِمُکُمُوهَا وََنْتُمْ لَهَا کَارِهُونَ ٭ وَیَاقَوْمِ لٰاَسَْلُکُمْ عَلَیْهِ مَالاً ِنْ َجْرِی ِلاَّ عَلَی ﷲ وَمَا َنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا ِنَّهُمْ مُلَاقُو راَبِهِمْ وَلَکِنِّی َرَاکُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ٭ وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنَ ﷲ ِنْ طَرَدْتُهُمْ َفَلاَتَذَکَّرُونَ ٭ وَلٰا َقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ ﷲ وَلاََعْلَمُ الْغَیْبَ وَلاََقُولُ ِنِّی مَلَک وَلاََقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی َعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَهُمُ ﷲ خَیْرًا ﷲ َعْلَمُ بِمَا فِی َنفُسِهِمْ ِنِّی ِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ٭ قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فََکْثَرْتَ جِدَالَنَا فَْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا ِنْ کُنتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ٭ قَالَ ِنَّمَا یَاْتِیکُمْ بِهِ ﷲ ِنْ شَائَ وَمَا َنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ )

(نوح) نے کہا: اے قوم تم لوگ! کیا کہہ رہے ہو جب دیکھو کہ میرے پاس خدا کی جانب سے ایک روشن دلیل ہے اور اس کی رحمت میرے شا مل حا ل ہے پھر بھی حقیقت تم سے پو شیدہ ہی رہے گی؟! کیا میں تمھیں تمہاری خواہش کے خلا ف مجبور کروں؟! اے قوم ! میں تم سے کوئی مال تونہیں چاہتا ہوں ، میرا اجر تو ﷲ کے ذمہ ہے اور میں صاحبان ایمان کو نکال بھی نہیں سکتا ہوںکہ وہ لوگ اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے والے ہیں


البتہ میں تم کو ایک جاہل قوم تصوّر کررہا ہوں. اے قوم ! اگر میں ان خدا رسیدہ مومنین کو اپنے پاس سے بھگا دوں،تو کون ہے جو مجھے غضب الٰہی سے بچائے گا ؟! آیا نصیحت حا صل نہیں کر تے ؟! میں یہ نہیں کہہ رہا ہو کہ خدا کے خزا نے میرے پا س ہیں اور(اس بات کا) مد عی بھی نہیں ہو کہ میں علم غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوںکہ میں فر شتہ ہوں اور یہ بھی نہیں کہتاکہ جو لوگ تمہاری نگا ہوں میںبے قیمت ہیں انھیں خدا کوئی خیر نہیں دے گا خدا ان کے حال سے زیادہ واقف ہے اگر میں ایسی بات کروںگا تو ظالموں میں شمار ہوں گاانھوں نے کہا اے نوح ! تم نے ہم سے جنگ وجدا ل کی اور ہم سے جدا ل کو طول دے دیا اگر سچے ہو تو جو کچھ ہم سے وعدہ کیا ہے پیش کر و، نوح نے کہا : اگر خدا چا ہے گا تو اسے تم پرنازل کردے گا اور تم اس کے مقا بل کوئی قدرت اور راہ فرار نہیں رکھتے۔

۸۔سورۂ نوح کی ۵ویں تا ۲۸ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ راَبِ ِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلاً وَنَهَارًا ٭ فاَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَائِی ِلاَّ فِرَارًا ٭ وَِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا َصَابِعَهُمْ فِی آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وََصَرُّوا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا ٭ ثُمَّ ِنِّی دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ٭ ثُمَّ ِنِّی َعْلَنتُ لَهُمْ وََسْرَرْتُ لَهُمْ ِسْرَارًا ٭ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ِنَّهُ کَانَ غَفَّارًا ٭ یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا ٭ وَیُمْدِدْکُمْ بَِمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ َنْهَارًا ٭ مَا لَکُمْ لاَتَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ٭ وَقَدْ خَلَقَکُمْ َطْوَارًا ٭ اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ ﷲ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ٭ وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ٭ وَﷲ َنْبَتَکُمْ مِنَ الَرْضِ نَبَاتًا ٭ ثُمَّ یُعِیدُکُمْ فِیهَا وَیُخْرِجُکُمْ ِخْرَاجًا ٭ وَﷲ جَعَلَ لَکُمُ الَرْضَ بِسَاطًا ٭ لِتَسْلُکُوا مِنْهَا سُبُلاً فِجَاجًا٭ قَالَ نُوح راَبِ ِنَّهُمْ عَصَوْنِی وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ یَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ ِلاَّ خَسَارًا ٭ وَمَکَرُوا مَکْرًا کُبَّارًا ٭ وَقَالُوا لاَتَذَرُنَّ آلِهَتَکُمْ وَلاَتَذَرُنَّ وَدًّا وَلاَسُوَاعًا وَلاَیَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا ٭ وَقَدْ َضَلُّوا کَثِیرًا وَلاَتَزِدِ الظَّالِمِینَ ِلاَّ ضَلاَلاً ٭ مِمَّا خَطِیئَاتِهِمْ ُغْرِقُوا فَُدْخِلُوا نَارًا فاَلَمْ یَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ ﷲ َنْصَارًا٭ وَقَالَ نُوح راَبِ لاَتَذَرْ عَلَی الَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا ٭ ِنَّکَ ِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوا عِبَادَکَ وَلاَیَلِدُوا ِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا ٭ راَبِ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلاَتَزِدِ الظَّالِمِینَ ِلاَّ تَبَارًا )


نوح نے کہا : خدا یا! میں نے شب وروز اپنی قوم کو دعوت دی .لیکن میری دعوت نے ان کے فرار میں اضا فہ کے سوا کچھ نہیں کیا. اور میں نے انھیں جب بھی دعوت دی تا کہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے اپنی انگلیاں کا نوں میں رکھ لیں اور اپنے کپڑے سر وں پر ڈ ال لئے اور عظیم تکبر کیا ۔پھر میں نے انھیں بلند آواز سے دعوت دی .پھر آشکار اور پوشیدہ طور پر میں نے اپنی دعوت کا اظہار کیا. اور میں نے کہا: خدا سے طلب مغفرت کرو ( کیو نکہ )وہ بہت بخشنے والا ہے، تا کہ تم پر کثرت سے بارش نازل کر ے اور تمہارے اموال اور اولاد کے ذریعے تمہاری نصرت کرے اور تمہارے لئے باغا ت اور نہریں قرار دے تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ خدا کی عظمت کے سامنے سر نہیں جھکا تے. جب کہ اس نے تمھیں مختلف اقسام میں خلق فرمایا ہے؟! کیا تم نے نہیں دیکھا کی خدا وند عالم نے کس طرح ایک پر ایک سات آسمانوں کو خلق کیا ہے .اور ان کے درمیان چا ند کو نور اور آفتاب کو ایک بڑا چراغ قرار دیا ہے.

اور خدا نے تمھیں زمین سے خا ص طرز سے پیدا کیا ہے اور پھر تمھیں اس کی طرف واپس کر دے گا اور مخصوص طریقے سے خارج کرے گا؟! خدا وند عالم نے تمھارے لئے زمین کا فرش بچھایا. تاکہ اس کی وسیع اور دور دراز راہوں میں چلو.نوح نے کہا: خدا یا! ان لوگوںنے میری مخا لفت کی ہے اور ایسے شخص کی بات مانی ہے کہ جس کے مال اور فرزند جز گمرا ہی وضلا لت کے کچھ اور نہیں بڑھا سکتے. اور ان لوگوں نے فریب دیا ،عظیم فریب اور کہا: اپنے خداؤں سے دور نہ ہونا اور انھیں نہ چھوڑنا. ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نامی بتوں کو. انھوں نے بہت سارے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے اب تو ظالموں پر ضلا لت وگمراہی کے سوا کچھ اضا فہ نہ کرنا وہ لوگ اپنے گناہوں کے سبب غرق ہوگئے اور عظیم آگ میں دا خل ہوگئے اور خدا کے علا وہ کسی کو اپنا ناصر نہیں پا یا۔

نوح نے کہا: خدا یا! روئے زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ رکھ کہ اگر تو انھیںزندہ چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور بد کار کافر کے علا وہ کسی اور کو جنم نہیں دیں گے خدا یا! مجھے اور میرے ماں باپ کو بخش دے اور اس کو جو میرے گھر میں با ایمان داخل ہو اور تمام مومنین و مومنات کو بھی اور ستمگروں کو ہلا کت اور نا بودی کے سوا کچھ اور نہ دے۔


۹۔ سورہ ٔ ہود کی ۳۷ ویں تا ۴۸ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بَِعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا ِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ ٭ وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ قَالَ ِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ ٭ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاْتِیهِ عَذَاب یُخْزِیهِ وَیَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَاب مُقِیم٭ حَتَّی ِذَا جَائَ َمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِیهَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وََهْلَکَ ِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ ِلاَّ قَلِیل ٭ وَقَالَ ارْکَبُوا فِیهَا بِاِسْمِ ﷲ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ِنَّ راَبِی لَغَفُور رَحِیم ٭ وَهِیَ تَجْرِی بِهِمْ فِی مَوْجٍ کَالْجِبَالِ وَنَادَی نُوح ابْنَهُ وَکَانَ فِی مَعْزِلٍ یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا وَلاَتَکُنْ مَعَ الْکَافِرِینَ ٭ قَالَ سَآوِی الَی جَبَلٍ یَعْصِمُنِی مِنْ الْمَائِ قَالَ لاَعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ َمْرِ ﷲ ِلاَّ مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنْ الْمُغْرَقِینَ ٭ وَقِیلَ یَاَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ وَیَاسَمَائُ َقْلِعِی وَغِیضَ الْمَائُ وَقُضِیَ الَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ٭ وَنَادَی نُوح رَبَّهُ فَقَالَ راَبِ ِنَّ ابْنِی مِنْ َهْلِی وَِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وََنْتَ َحْکَمُ الْحَاکِمِینَ ٭ قَالَ یَانُوحُ ِنَّهُ لَیْسَ مِنْ َهْلِکَ ِنَّهُ عَمَل غَیْرُ صَالِحٍ فَلا َتَسَْلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْم ِنِّی َعِظُکَ َنْ تَکُونَ مِنْ الْجَاهِلِینَ ٭ قَالَ راَبِ ِنِّی َعُوذُ بِکَ َنْ َسَْلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِهِ عِلْم وَِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی َکُنْ مِنْ الْخَاسِرِینَ ٭ قِیلَ یَانُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلَی ُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ وَُمَم سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَاب َلِیم )

ہماری نگرانی اور راہنمائی میں کشتی بنا ؤ اور ظا لموں کے بارے میں ہم سے بات نہ کرنا کہ وہ غرق ہو جائیں گے .نوح کشتی بنانے لگے اور جب بھی ان کی قوم کا کوئی گروہ ان کی طرف سے (ان کے پاس سے) گذرتا تو وہ مذاق اڑا تے تھے.نوح نے کہا : اگر تم لوگ ہمارا مذا ق اڑا ؤ گے تو ہم بھی اسی طرح تمہارا مسخرہ کریں گے اور مذ اق اڑا ئیں گے .بہت جلد ہی تمھیں معلو م ہو جا ئے گا کہ وہ کون ہے جس تک ذلیل اور رسوا کر نے وا لا عذا ب پہنچے گا اور دائمی عذا ب اس پر نازل ہو گا. یہاں تک کہ ہمارا فرمان پہنچا اور تنور سے پانی ابلنے لگا تو ہم نے کہا:ہر حیوان کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرو. اپنے اہل وعیال کو بھی سوار کرو،سوائے اس کے جس پر عذا ب کا وعدہ گذر چکا ہے اور مومنین کو بھی سوار کرو اوراس ( نوح ) پر بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے نوح نے ان سے کہا : کشتی میں سوار ہو جاؤ، اس کی نقل وحرکت خدا کے نام سے ہے ، بیشک میرا خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے.کشتی انھیں پہاڑ جیسی موج کے درمیان لے جا رہی تھی،نوح نے اپنے بیٹے کو جو کنارہ کھڑ اتھا آواز دی اور کہا : میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور کافروں کی ہمراہی اختیار نہ کرو. اس نے کہا : ابھی میں ایک ایسے پہاڑ پر پنا ہ لوںگاجو مجھ کو سیلاب سے محفوظ ر کھے گا نوح نے کہا:


. آج خدا کے عذا ب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کوخدا نے اپنی رحمت میں شامل کر رکھا ہے ؛ (اتنے میں) ان دونوںکے درمیان ایک موج حا ئل ہو گئی اور وہ غرق ہو گیا خدا کافرمان پہو نچا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان !( برسنے سے ) رک جا اپنی بارش بند کر دے اور پانی زمین کی تہہ میں پہنچ گیا اور جس کا حکم دیا گیا تھا وہ انجام پا گیا اور کشتی کوہ جو دی پر جا کر رکی اور کہا گیا: ظا لمین رحمت خدا سے دور ہیں اور نوح نے اپنے رب کو آواز دی کہ: خدا یا ! میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ بھی حق ہے اور تو تمام انصاف کر نے والوں میں سب سے زیادہ عادل اور منصف ہے خدا نے کہا: اے نوح وہ تمہارے اہل سے نہیں ہے وہ ایک غیر صا لح عمل ہے ،جو تم نہیں جا نتے اس کی مجھ سے درخواست نہ کرو میں تمھیں نصیحت کر تا ہوں کہ کہیں جاہلوں میں نہ ہو جانا. نوح نے کہا: خدا یا ! تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز طلب کروں جسے نہیں جانتا ہوں. اگر تو مجھے معاف نہ کرے گااور مجھ پر رحم نہ کر ے گا تو میں نقصا ن اٹھا نے والوں میں ہو جاؤں گا.کہا گیا ! اے نوح! ہماری طرف سے سلا متی اور برکتوں کے ساتھ نیچے اترآؤ اور یہ سلامتی اور برکتیں تم پر اور ان لوگوں پر ہیں جو تمہارے ہمرا ہ ہیں اور کچھ قومیں ایسی ہیںجنھیں ہم پہلے راحت دیں گے پھر اس کے بعد ہماری طرف سے ان پر عذا ب نازل ہوگا۔

۱۰۔سورۂ صا فات کی ۷۷ویں تا ۸۱ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ جَعَلْنَاذُرِّیّتَهَ هُمُ البَا قِینَ٭ وَتَرَ کْنَا عَلیهِ فِی الاخِرِین٭ سَلَامُ عَلیٰ نُو حٍ فِی العَالَمِینَ٭ اِنَّا کَذ لکَ نَجْزِ ی المُحْسِنِینَ٭ اِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا المُؤ مِنینَ )

اور ہم نے صرف ان کی ذ ریت کو با قی رکھا اور آیندہ والوں کے درمیان ان کا نیک نام باقی رکھا.ساری خدائی میں نوح پر سلام ہو .ہم نیکو کاروںکو اسی طرح جزا دیتے ہیں ہی، وہ ہمارے مو من بندوں میں سے ہیں۔

۱۱۔سورہ ٔہود کی ۴۹ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( تِلکَ مِنْ أنْبائِ الغَیْبِ نُو حِیهاا لیکَ مَا کُنْتَ تَعْلَمُهَااَنْتَ وَ لاَ قُومُکَ مِنْ قَبلِ هٰذَا فَاصْبِرْ اِنَّ العَا قِبَةَ لِلمُتَّقِینَ )

یہ سب کچھ غیب کی باتیں ہیں جن کی ہم نے تم پر وحی کی ہے،نہ تم انھیں اس سے پہلے جا نتے تھے اور نہ ہی تمہاری قوم.صبرو تحمل سے کام لو کہ انجام پرہیز گا روں کے نفع میں ہے.


کلمات کی تشریح

۱۔فعمّیت علیکم:

عمیت الا خبار والا مور عنہ و علیہ: اخبار اور واقعات اُس سے پنہاں اور پو شیدہ رہ گئے، عمّی علیہ طریقہ یعنی راہ اُس پر پوشیدہ ہو گئی۔

۲۔بمعجزین:

اعجز فلان اُس وقت کہا جا تا ہے جب کوئی فرار کرے اور گر فتار نہ ہو ، کہ یہی معنی موقع اور مقام کے اعتبار سے منا سب ہے۔

۳۔استغشوا ثیا بھم:

خود کو لباس سے ڈھا نپ لیا (سر پر لباس ڈال لیا) تا کہ وہ لوگ اسے سنیں لیکن دیکھ نہ سکیں۔

۴۔مدرارا ً:

لگا تار اورموسلا دھار بر سنا۔

۵۔وقارا ً:

حلم و برد باری، ایسا سکون واطمینان جو عظمت کے ساتھ ہو یہاں پر عظمت کے معنی منا سب ہیں۔

۶۔ اطوارا ً :

اس کا مفرد طور ہے جو حا لت اور شکل کے معنی میں آتا ہے۔

۷۔ طبا قا ً:

تہہ بہ تہہ اور ایک دوسرے کے اوپر قرار پا نا،خواہ فا صلہ کے ساتھ ہو یا بغیر فا صلہ کے۔

۸۔ فجا جا ً:

کشادہ را ستے اس کا مفرد فجّ آتا ہے.

۹۔ تبا را ً :

ہلا کت اور نا بودی۔


۱۰ ۔ با عیننا:

ہماری راہنما ئی اور نگرا نی میں اور ہماری پناہ میں۔

۱۱۔تنور:

منجملہ اس کے معنی چشمہ اور فوارہ کے ہیں.حضرت نوح کی شر ح حا ل سے متعلق تاریخ ابن عساکر( ۱ )

میں اس طرح ذ کر ہوا :یہ تنور مسجد کوفہ کے ایک کونے میں واقع تھا ۔

۱۲۔غیض :

پا نی زمین کے اندر چلا گیا ۔

۱۳ ۔جودی:

اس سلسلہ میں اختلا ف ہے کہ یہ'' جودی'' جزیرہ ابن عمر میں واقع تھا یا مو صل کے ارد گرد، یا غری میں نہر فرات سے قر یب نجف کی بلند یوں پر یا دوسری جگہ ۔

کتاب مقدس کی قا موس میں مذ کور ہے : حضرت نوح کی کشتی آرارات نامی پہاڑ پر ٹھہری جو کہ نہر ارس اوردریا ئے وان کے درمیان واقع ہے ۔ (جودی) کی لغت کے بارے میںحموی کی معجم البلدان میں مذ کور ہے : جودی دجلہ کے شرق اور موصل کے اطراف میں ابن عمر نامی جزیرہ پر واقع ایک پہا ڑ ہے. جس پر حضرت نوح کی کشتی رکی تھی۔

(استوت علی الجودی) کی تفسیر میں تفسیر طبری ، ابن کثیر اور سیوطی میں چند روایات کے ضمن میں مذ کور ہے :

جودی جزیرۂ ابن عمر میں ہے،ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ موصل میں واقع ہے.( ۲ ) . اور

____________________

(۱)۔ تاریخ ابن عساکر، خطی شمارہ ۳۲۹، الف.( ۲)۔ تفسیر طبری، ج ۱۲، ص ۲۹۔۳۰ ؛ تفسیر ابن کثیر،ص ۴۴۶، ۴۴۷؛ الدار المنشور ،ج ۳،ص ۳۳۱ ،۳۳۴ ،۳۳۵


روضہ کا فی میں مذ کور ہے کہ: کوہ جودی وہی فرات کوفہ ہے .روضہ کا فی کے اس مطلب کی تشریح میں مجلسیمرآة العقول میں تحر یر فرما تے ہیں : احتمال ہے کہ یہ مطلب در حقیقت '' قر یب الکوفہ '' یعنی کوفہ سے قریب تھا کہ بعد میں نسخہ برداری میں '' فرات الکوفہ '' سے تصحیف اور تبد یل ہو گیا ہے۔( ۱ )

''جو دی '' سے متعلق استاد محقق آقا سید سا می البدری حقیر کے خط کے جواب میں اس طرح تحریر فرماتے ہیںکہ:

اُ س تو ریت میں جو عر بی زبا ن میں تر جمہ ہوئی ہے مذ کور ہے کہ نوح کی کشتی ''آراراط'' کے پہاڑ پر ٹھہری تھی .اور کتاب مقد س کی قا موس میں مذ کو ر ہے : یہ ایک عبر ی زبان کا لفظ ہے کہ جو آکا دی کے لفظ ''اورارطو'' سے لیا گیا ہے جو کہ عراق کے شمال میں واقع شمال آشو ر کی پہاڑی نہر وں کے لئے استعما ل ہوتا ہے نوح کی کشتی انہیں پہاڑوں میں سے کسی ایک پر ٹھہری تھی۔

لیکن میری نظر میں کلمۂ آکا دی''اورارطو'' دو جز سے تشکیل پا یا ہے۔

۱۔ '' اور '' جو شہر کے معنی میں ہے جیسے '' اورشلیم '' شہر سلام کے معنی میں ''اور کلدانیین'' کلدنیوں کے شہر کے معنی میں اور '' اوربیل'' شہر بت بعل۔

۲۔''ارطو '' یا ''اردو'' کہ یہ لفظ بھی متعدد معا نی میں استعما ل ہوا ہے منجملہ نہر فرات کا ایک نام ہے اور شہر با بل کا قدیم نام ہے۔

جو کہا گیا اس بنیا د پر کلمہ ''اورارطو''آکادی زبان میں شہر فرات اور شہر با بل تھا۔

جو چیز میرے نظر یہ کی تا ئید کر تی ہے وہ حضرت عیسیٰ مسیح کے عہد میں عبری تو ریت کا آرامی ترجمہ ہے کہ آج یہو دیوں کے نز دیک ''اونقلیوس کے تر جمہ'' کے نام سے مشہور ہے وہ پر ''کلمہ '' آراراط کا ترجمہ'' قردو '' اور '' قردون'' سے کیا ہے اور سریانی زبان کی تورات نے بھی اسی معنی کو اخذ کیا اور لیا ہے ۔

عہد آشور کے سلسلہ میں تحقیق کرنے والے دانشو ر کہتے ہیں: ''قردو'' ایک نام ہے جو حضرت مسیح کی ولا دت سے۰۰ ۱۵ سال پہلے کشینوں کی طرف سے ( کہ جنھوں نے تقر یبا چار سو سال با بل پر حکمر انی کی ہے ) سر زمین بابل کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس لحا ظ سے ارارات کے پہا ڑ وہی بابل یا فرات کے پہاڑ ہیں جو بلند چٹا نوں اور پر اگندہ طور پر کم

____________________

(۱) روضة الکافی، حدیث ۴۲۱؛اسی طرح بحار الانوار ،ج، ۱۱،ص ۳۰۳، ۳۱۳، ۳۳۳ ، ۳۳۸ ملاحظہ ہو.


بلندی والے پہاڑوں کا ایک مجموعہ ہیں جو کہ نجف کی سہ گا نہ بلندیوں سے شروع ہوکر دریائے نجف اور حبّانیہ کے شمال غر بی تک چلے گئے ہیں جو ''الطارات'' سے معر وف ہیں. ان سب میں سب سے زیادہ اونچائی نجف کی اونچائی ہے جو زمانہ قدیم میں''کو فان '' نامی پہاڑ سے مشہور تھی۔

لیکن روضہ کا فی کے بیان کے مطا بق یہ ہے کہ: ''جو دی پر جا کر ٹھہری اور وہ فرات کوفہ ہے'' یہ اس بات کا موید ہے کہ لفظ (جو دی ) یا ( جودا) فرات کوفہ کاایک نام ہے کہ پتھر پر مکتوب ابھی جلد ہی حاصل ہوا ہے۔ ہم نے اس کی مفصل داستان اور شر ح طوفان نوح کے بارے میں جو مطالب تحریر کئے ہیں اس میں ذ کر کی ہے۔( ۱ )

مؤ لف فرما تے ہیں:

مذ کورہ بالا مطا لب کی تائید میں ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بین النھرین(دجلہ و فرات) کی زمینیں کہ جو قدیم زما نے سے کھیتوں کی سر سبزی اور نخلستا نوں کی ہر یا لی کی بناء پر ایک دوسرے سے متصل آراضی سواد(وہ زمینیں جو ہر یالی کی شدت سے سیا ہی ما ئل دکھائی دیتی ہیں) سے معروف تھیں .اور حیرہ (موجودہ نجف ) اور مدائن (آج کے بغداد) سے دجلہ وفرات دو دریاؤں کے سمندر میں گرنے کی جگہ تک پھیلی ہوئی ہیں وہ حضرت آدم کے زمانے سے بنی عباس کے دور حکو مت تک انسانی حیات کے لئے سب سے بہتر زمینیں شمار کی جا تی تھیں. بر خلا ف عراق کے شمال میں واقع پہا ڑ بر فیلے اور طو لا نی ٹھنڈک والے علا قے ہیں حکمت الٰہی کا یہ تقاضہ تھا کہ نوح کی کشتی پر سوار افراد جو زند گی کے اسباب ووسائل سے محروم تھے انھیں ایسی جگہ اتا را جا ئے جو زند گی گذ ارنے اور سلسلہ حیات کی بقا کے لئے بہترین جگہ ہو۔

گزشتہ آیات کی تفسیر(۱)

حضرت آدم کی نسل میں چند سال گذر نے کے بعد اضافہ ہوتا رہا اور واضح ہے کہ وہ لوگ سر سبز و شاداب سر زمین اور فرات اور دجلہ دو دریا اور ان سے نکلی ہوئی ،چھو ٹی چھوٹی نہروں کے کنا رے آباد ہوئے جو انھیں سے متصل تھیں،حضرت نوح کے دور میں آبادی اور تہذ یب وتمدن ارتقائی منزل پر گا مزن تھے وہ اس طرح کہ جو اسلامی احکام اولین انسا نوں کیلئے حضرت آدم کے زمانے میں وضع کئے گئے تھے اور

____________________

(۱) ان آیات کی تفسیر کے بارے میں جو اللہ کے پیغمبروں کی سر گذشت سے مربوط ہے انشاء اللہ جو کچھ ہماری آیندہ بحثوں سے متعلق ہو گا ہم اس کی تحقیق اور چھان بین کریں گے۔


اس کے بعد حضرت ادریس پر جو کچھ اس کی تکمیل کے لئے نازل ہوا تھا اس سے عصر نوح کے لو گوں کی ضرورت بر طرف نہیں ہو رہی تھی کیو نکہ اس پیغمبر کے دور کے لوگ دھیرے دھیرے'' ود ، سواع ، یغو ث ، یعوق'' اور نسر نامی بتوں کی پر ستش کی طرف ما ئل ہوگئے تھے یہ بت در اصل مجسمہ تھے ان پا نچ نیک اور شائستہ افراد کی یاد گار کے جو حضرت آدم اور حضرت نوح کے زمانے کے درمیان زند گی گذ ار چکے تھے جنھیں اس زمانے کے لوگوں نے تراشا تھا.اور ان کے ذریعہ ان بزرگوں کی یاد مناتے تھے. شیطان نے اسی راہ سے فا ئدہ اٹھا یا اور انھیں آمادہ کیا کہ ان ہیکلوں سے تبرک حا صل کریں اور آہستہ آہستہ ان کی عبادت اور پرستش کریں اور انھیں چھو ٹے خداؤں کے عنوان سے ''اللہ'' کے مقابلے ایک خدا قبول کریں''۔

حضرت نوح ۹۵۰ سال ان کے درمیان رہے اور انھیں خدا وند عالم کی عبادت وپرستش اور احکام اسلام پر عمل کر نے اور بت پرستی کے ترک کرنے کی دعوت دیتے رہے.لیکن ان کی طغیا نی اور سر کشی میں اضا فہ ہوتا گیا، ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو شدید تکلیف پہنچا ئی اور اذیت دی اور ان پر ایمان نہیں لائے اس وجہ سے خدا نے ان پر بارش کو روک دیا کیو نکہ خدا کی حکمت اس بات کی تھی کہ جو امتیں اپنے پیغمبر وں کی تکذیب کرتی تھیںوہ بے چارگی، فقر وفا قہ،مشقت، جان اور مال کے نقصا ن میں مبتلا ہوں.تا کہ شایدان کی سمجھ میںآجائے اور خدا کے حضور معافی تلا فی کریں نوح نے ان سے مطا لبہ کیا کہ وہ توبہ کریںاور خدا کی سمت آجائیں اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ایسا کر تے ہیں تو خدا وند عالم ان کے کھیتوںمیں موسلا دھار بارش نازل کرے گا.لیکن انھوں نے اس کے برعکس اپنے عناد اورانحراف میں اضا فہ کیا اور انھیں ذ لیل وخوار سمجھا اور ان کو ایذا دینے اور تکلیف پہنچانے کے لئے آمادہ ہوگئے، منجملہ یہ ہے کہ انھیں میں سے ایک اپنے بیٹے کو حضرت نوح کے پاس لا یا اور اپنے بیٹے کو بتایا کہ یہ نوح ہیں اور کہا: اے فرزند! اگر تو میرے بعد زندہ رہے تو ہر گز اس دیوانے پر ایمان نہ لا نا!!

اس عناد ا و ر دشمنی،ضد او ر ہٹ دھر می کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ خدا کے مہلک عذا ب کے مستحق ہوئے سب سے پہلے یہ عذا ب نازل ہوا کہ ان کی عورتیں بانجھ ہوگئیںاُس وقت خدا نے نوح کو کشتی بنا نے کا حکم دیا .نوح نے حکم کی تعمیل کی اور خدا کی تعلیم وراہنمائی کے ساتھ اور اس کے تحت نظر اس کی تعمیر میں مشغول ہوگئے۔

پھر تنور سے پانی ابلنے کے ساتھ جو کہ طوفان کے شروع ہو نے کی علامت تھی طوفان کا آغاز ہوا،ابن عساکر کے بقول وہ مذکورہ تنور مسجد کوفہ کے ایک گو شہ میں واقع تھا۔( ۱ )

____________________

(۱) تاریخ ابن عساکر شرح حال نوح ،خطی نسخہ مجمع علمی اسلامی میں ،ص۳۲۹ الف.


نوح نے اپنے اوپر ایمان لا نے والوں اور کچھ جانوروں کو کشتی پر سوار کیا پھر زمین نے ہر گو شے سے اپنا منھ کھو ل دیا اور سیل رواں جوش کھا نے لگا اور شدید بارش ہو نے لگی، پا نی نے زمین کو چھپا لیا یہاں تک کہ نوح کی کشتی کو اٹھا کر اسے موجوں کے درمیان پہا ڑوں کی بلندی پر لے گیا۔

نوح کا بیٹا کشتی پر سوار ہو نے سے انکار کر گیا.نوح کی پدرانہ شفقت نے دل میں درد پیدا کیا ایسی شفقت جو تمام انسا نوں کو ہوتی ہے.لہذا بیٹے کو خطاب کر کے آواز دی :

( یَا بُنیَّ ارْکبْ مَعنا وَ لاَ تَکُن مَعَ الکَا فِرِینَ٭قَالَ سَآوی اِلیٰ جَبلٍ یَعصِمُنی مِنَ المَائِ قَالَ لَا عَاصِمَ الیَومَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَیْنَهُمَا المُوجُ فَکاَنَ مِنَ المُغْرَ قِینَ٭فَناَدی نُوحُ رَبّه فَقَالَ راَبِ انَّ ابنِی مِنْ أهلِی وَانَّ وَعَدکَ الحَقُّ وَ اَنتَ أحکمُ الحَا کِمِینَ٭ قَالَ یَا نُوحُ اِنَهُ لَیْسَ مِن أهلکَ اِنّهُ عَمَل غَیرُصَا لِح ٍفَلَا تَسألْنِی مَا لَیْسَ لکَ بِهِ علم )

اے میرے بیٹے! ہمارے ہمراہ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کا فروں کے ساتھ نہ رہو.نوح کے بیٹے نے کہا : میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو میری اس پانی سے حفا ظت کرے گا.نوح نے کہا : آج کے دن امر خدا سے کوئی چیز بچانے والی نہیں ہے، مگر وہ شخص کہ جس پر خدا نے رحم کیا ہو،(اس اثناء میں ) ان کے درمیان موج حا ئل ہو گی اور وہ غرق ہو گیا .نوح نے اپنے رب کو آواز دی کہ:خدا یا! میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ بھی حق ہے اور تو تمام حا کموں میں بہتر حکم کر نے والا ہے ۔

خدا نے کہا :اے نوح :وہ تمہارے اہل سے نہیں ہے اس نے نا زیبا حر کتیں کی ہیں لہذا تم جو نہیں جانتے ہو اس کا مجھ سے مطا لبہ نہ کرو۔

نوح اللہ کے خطاب کے ذریعہ اس حقیقت سے واقف ہوگئے جس کا انھیں علم نہیں تھا اور سمجھ گئے کہ ان کا بیٹا اپنے نا روا اور نا زیبا افعال کے باعث خدا کے عذا ب کا مستحق ہو گیا ہے اور عرض کیا۔

( رَبّ اِنِّی أَعُوذ بِکَ اَنْ اَسَأَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِه علم... )

خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا مطا لبہ کروں جو نہیں جانتا۔


خدا وند عالم ان تمام لوگوں کو جو نوح کی کشتی پر سوار نہیں ہوئے تھے ہلا ک کردیا، اس کے بعد سیل آسا بارش بند ہوئی اور سارا پانی زمین کے اندر چلا گیا اور جو لوگ کشتی پر سوارتھے با بل کی سر زمین پر اترے۔( ۱ ) اور جن حیوا نات کو نوح نے اس پر سوار کیاتھا باہر آئے اور زمین پر پھیل گئے۔

جو لوگ حضرت نوح کے بعد آج تک وسیع وعر یض زمین پر پیدا ہوئے ہیںان کے تین فر زندوں سام، حا م اور یافت کی نسل سے ہیں۔

قریش کو حضرت نوح کے واقعہ سے آگا ہی نہیں تھی اور غیبی اخبار کے ذریعہ کہ جنھیں حضرت ختمی مرتبت صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وحی کے ذریعہ دریا فت کیا تھا اُس واقعہ سے مطلع ہوئے۔

جو کچھ بیان ہو چکا وہ آیات کی تفسیر میں اخبار نوح کا خلاصہ تھا، بعض اخبار ہیں جو اسلامی منابع و مآخذ میں مذ کور ہوئے ہیں۔

اب ہم اسلامی مآخذ میں: اب ہم حضرت نوح کے اخبار کے دوسرے حصّہ سے بحث کرتے ہیں۔

اسلامی مصا در میں حضرت نوح کی داستان

ہم تاریخ یعقوبی سے ( اختصارکے ساتھ) اس طرح نقل کر تے ہیں:

خدا وند عالم اخنوخ کے زمانے میں کہ اخنوخ نوح کے جد ا ور ادریس پیغمبر ہیں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نوح کو وحی کی اور حکم دیا کہ اپنی قوم کو ڈرائیں اور گناہوں کے ارتکاب سے جن کے وہ لوگ مر تکب ہوتے ہیں دور رکھیں .اور اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، نوح نے حکم کی تعمیل کی اور خود اللہ کی عبادت اور قوم کواس کی طرف دعوت دینے میں مشغول ہوگئے ۔

پھر یعقوبی (اوردوسرے مورخین) مفصل شرح وبسط کے ساتھ جو ہم نے اختصار سے اس سے پہلے گزشتہ آیات کی تفسیر میں ذکر کیا ہے ذکر کرتے اور تحریر فرماتے ہیں:

نوح نے کشتی سے نکلنے کے بعد ۳۶۰ سال زند گی گذا ری اور جب موت قریب آگئی تو اپنے تینوں فرزندوں ( سام، حام، یافث. ) اور ان کے فرزندوں کو بلا یا اور ان سے وصیت کی اور حکم دیا کہ خدا وند عالم کی عبادت کریں۔

_____________________

(۱)۔حمومی معجم البلدان میں مادہ بابل کے ذیل میں اختصار کے ساتھ تحریر فر ماتے ہیں:بابل اس علاقہ کانام ہے کہ انھیں میں سے((حلہ اور کوفہ بھی ہے))جہاں نوح اور ان کے ساتھی کشتی سے نیچے آئے اور ایک پناہ گاہ بنائی،یہ پہلی جگہ ہے کہ وہ لوگ اس جگہ آبادی کر کے رہنے لگے اور یہاں پر تولید ونسل کا سلسلہ بڑھایا یہاں تک کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور ان میں سے بادشاہت کے مالک ہوئے اور شہروں کی بنا کی ان کی زندگی حدود دجلہ اور فرات اور دجلہ کی طرف سے نیچے((کسکر)) اور کوفہ کی طرف سے ماروائ''کوفہ'' تک پھیل گئی کہ اسے سواد کہتے ہیں اوران کے بادشاہوں نے بابل میں اپنی پناہ گاہ بنائی اور اسی کو پایۂ تخت بنا یا.


پھر اس گھڑی سام سے کہا جب میں دنیا سے رحلت کر جاؤں ،قبل اس کے کہ کوئی آگاہ ہو تم ہی کشتی میں سوار ہو نا اور جسد آدم کو مقدس جگہ جو کہ زمین کے درمیان واقع ہے لے جانا اور اس کے بعد فرمایا:

اے سام : جب تم اپنے بیٹے '' ملکیزدق '' کی نصرت سے حضرت آدم کے جسد کو اٹھاؤگے تو خداوندعالم فر شتوں میں ایک فر شتہ کو تمہارے ہمراہ کر ے گا تاکہ وہ تمہاری راہنمائی کرے اور تمھیں زمین کے وسط کا پتہ بتا ئے.اس ما موریت کے سلسلہ میں تمہارے کام سے کوئی آگاہ نہ ہونے پا ئے؛ کیو نکہ یہ آدم کی اپنے بیٹے سے وصیت ہے کہ ہر ایک نے دوسرے سے وصیت کی ہے یہاں تک کہ تم تک پہنچی ہے، جب تم اس جگہ پر جہاں فر شتہ تمہاری راہنمائی کرے پہنچ جانا تو وہاں پر حضرت آدم کے جسد کو سپرد خاک کر دینااور ''ملکیزدق'' کو حکم دینا کہ اسی جگہ ہمیشہ کے لئے سکو نت اختیا ر کرے اور اس سے جدا نہ ہو اور اللہ کی عبادت اور پر ستش کے علا وہ کوئی کام نہ کرے۔( ۱ )

جب نوح کا انتقال ہو گیا تو عراق میں اسی جگہ دفن کر دیئے گئے جہاں انتقال ہوا تھا کیونکہ پیغمبر خدا نے فرما یاہے :

(وَ مَا قُبِضَ ناَبِیّ اِلَّا دُ فِنَ حَیْثُ یُقْبَضُ )( ۲ )

ہر پیغمبر جہاں انتقال کر تا ہے وہیں دفن کیا جا تا ہے۔

اس لحا ظ سے ،حضرت آدم کا مد فن (دفن کی جگہ) وہیں ہو نا چاہئے جہاں ان کا انتقال ہوا ہے۔

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی، ج۱، ص۱۳ اور ص ۱۶ ، طبع بیروت ۱۳۷۹ ھجہ.(۲) سیرۂ ابن ہشام، ج۴، ص ۲۴۳ سنن ابن ماجہ، حدیث ۱۶۲۸. فتح الباری، ج۱، ص ۵۲۹.کنز العمال، ۱۸۷۶۳.


نوح کے فرزند سام *

* نوح کی اپنے بیٹے سام سے وصیت.

* سام کا حضرت آدم کے جسدکو سفینہ سے باہرنکالنااوراس جگہ دفن کرنا جہاں انھیں حکم دیا گیا تھا.

* سام کی اپنے بیٹے ارفخشد سے وصیت.


نوح کی اپنے بیٹے سام سے وصیت

تاریخ ابن اثیر میں مذ کور ہے :

حضرت نوح نے اپنے سب سے بڑے بیٹے سا م سے وصیت کی( ۱ )

مسعودی کی اخبار الزمان میں مذکور ہے :

خدا وند عالم نے حضرت نوح کے بعد ریا ست ان کے فرزند سام کے حوالے کی اور انھیں گزشتہ پیغمبروں کی کتا بوں کا وارث قرار دیا اور حضرت نوح کی وصیت کو دیگر بھائیوں کے علا وہ خود ان سے اور ان کے فرزندوں سے مخصوص قرار دیا ۔( ۲ )

سام حضرت آدم کے جسد کو کشتی سے اٹھا تے ہیں

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

سام اپنے والد کے بعد خدا وند عالم کی عبادت اور اس کی اطا عت و فر ما نبرداری میں مشغو ل ہوگئے اور کشتی کادروازہ کھولا اور خفیہ طور پر اپنے دونوں بھا ئیوں کو اطلا ع دی اور ان کے حا ضر ہوئے بغیر اپنے بیٹے کی مدد سے حضرت آدم کے جسد کو وہاں سے اٹھا کر با ہر نکا ل لائے اور نگہبان فر شتے نے انھیں راستہ کی راہنمائی کی اور وہ لوگ اسی طرح حضرت آدم کے جسد کو اپنے ہمراہ لے گئے یہاں تک کہ ایسی جگہ پہنچے جہاں طے تھا کہ حضرت آد م کا جسد سپرد خاک ہو پھر حضرت آدم کے جسد کو خا ک کے حوالے کر دیا( دفن کر دیا )۔

سام کی اپنے فرزند ارفخشد سے وصیت

جب سام کی موت کا زمانہ قر یب آیا تو انھوں نے اپنے فرزند ارفخشد کو بلا یا اور ان سے وصیت کی۔( ۳ )

____________________

(۱ )تاریخ ابن اثیر ، طبع اول مصر،ج ۱، ص ۲۶. ( ۲)ا خبار الزمان، مسعودی ، ص ۷۵ ۔۱۰۲سال طبا عت ۱۳۸۶ ھ بیروت.

(۳)تاریخ یعقو بی ، ص ۱ ۔ ۱۷، طبع بیروت، ۱۳۷۹ ھ.


سام کے فرزند ارفخشد *

* باپ کے بعد ان کی جانشینی.

* ارفخشد کی اپنے فرزند سے وصیت.

ارفخشد اپنے والد سام کے بعد

مسعودی کی مروج الذ ھب میں مذ کور ہے :

سام کے بعد ان کے فر زند ارفخشدنے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی ۔( ۱)

تاریخ یعقو بی میں مذ کور ہے:

ارفخشد اپنے والد سام کے بعد خدا وند عالم کے اوا مر کی اطا عت اور عبادت میں مشغول ہوگئے اور ۱۸۵ سال کے بعد ان کے فر زند شا لح پیدا ہوئے ان کے عہد میں نوح کی اولا د متفرق ہو کر مختلف جگہوں پر سکو نت اختیا ر کر چکی تھی ،ظالموں اور سرکشوں کی رو زافزوں زیادتی ہونے لگی اور انھوں نے ہر سو تعدی اور تجاوز کا ہاتھ بڑھایا اور کنعان بن حام کے فر زندوں کو تباہی اور فساد میں مبتلا کردیا ؛اور وہ لوگ گستا خانہ اور کھلم کھلا گنا ہوں کے مر تکب ہونے لگے ۔( ۲ )

ارفخشد کی اپنے بیٹے سے وصیت

تاریخ یعقوبی میں مذ کو ر ہے :جب ارفخشدکی موت کا زمانہ قریب آیا تو ان کے بیٹے اور رشتہ دار سب ان کے پا س جمع ہوگئے ارفخشد نے ان سے خدا کی عبادت اور گنا ہوں سے دوری کی وصیت کی، پھر اس وقت اپنے فرزند شا لح سے کہا :میری وصیت کی حفا ظت کر تے ہوئے اپنے اہل وعیا ل کے درمیان میرے بعد خدا کی عباد ت میں مشغول رہنا ،پھر آنکھ بند ہو گئی اور دنیا سے رخصت ہوگئے.( ۳ )

____________________

(۱)۔ مروج الذھب، مسعودی، ج۱، ص۵۴.(۲)۔ تاریخ یعقوبی، ج۱، ص ۱۸.(۳)۔ تاریخ یعقوبی، ج۱، ص ۱۸.


ارفخشد کے فر زند شالح *

* خدا کی اطا عت و عبادت میں شا لح کا مشغول ہونا

* ان کی وصیت اپنے فر زند عابر سے

خدا کی اطا عت و عبادت میں شا لح کا مشغول ہونا

تاریخ یعقو بی میں مذ کور ہے:

پھر ارفخشد کے فرزند شالح ( اپنے باپ کی وصیت کے مطا بق) اپنی قوم کے درمیان خد ا کی عبادت میں مشغول ہوگئے اور انھیں خدا کی اطاعت و فرمانبر داری کا حکم دیا اور گناہوں کے ارتکاب سے منع فر ما یا اور عذاب الٰہی سے جو کہ گناہ گاروں کے لئے آئے گا ڈرا یا .شا لح ۱۳۰ سا ل کے تھے کہ ان کے فرزند عابر پیدا ہوئے اور جب ان کی وفا ت کا زمانہ قر یب ہوا تو اپنے فرزند عا بر کو بلایا اور ان سے وصیت کی اور انھیں حکم دیاکہ قا بیل کی اولا د کے گناہ آلود کاموں سے دوری اختیار کریں، پھر اس وقت آنکھ بند ہوگئی اور دنیا سے رحلت کر گئے.( ۱ )

٭٭٭

ہم نے گزشتہ مبا حث میں نوح کے وہ اوصیاء جو کہ انبیا ء نہیں تھے ان میں سے صرف سام ،ارفخشد اور شالح کی سر گذ شت پر اکتفا ء کی ہے ۔

اب انشاء اللہ ہم انبیاء کے حالات اور حضرت نوح کے اوصیاء میں سے پیغمبروں کے بعض حالات کو قرآن کی تشریح کے اعتبار سے بیان کر یں گے۔

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی ،ج۱، ص ۱۸.


( ۶ )

قرآ ن کریم میں اوصیاء حضرت نوح میں سے انبیاء کے حالات

* حضرت ہود پیغمبر

* حضرت صالح

حضرت ہود

* قرآن کی آیا ت کر یمہ میں حضرت ہود کی سیرت

* کلمات کی تشریح

* آیات کر یمہ کی تفسیر.


آیات کر یمہ میں حضرت ہود پیغمبر کی سیرت

۱۔ خدا وند عالم سورۂ احقا ف کی ۲۱ ویں تا ۲۵ ویں آیات میں اپنے رسول کو مخاطب کر کے حضرت ہود کے بارے میں ان سے فر ما تا ہے :

( وَ اذْ کُرْ اَخاعَاد ٍ اإِذْ اَنْذَ رَ قَوْ مَهُ بِا لاَ حقا فِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُ رُمِنْ بَینِ یَدَ یْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ اَ لّا تَعْبُدُوا اِ لاّ اللّٰهَ اِنّی اَخَافُ عَلَیْکُم عَذ ابَ یَوْ مٍ عَظیمٍ٭ قَا لُوا اَجِئتَناَ لِتأفِکَنَا عَنْ آلِهَتِنَافَأ تِنَابِمَاتَعِدُ نَااِنْ کُنْتَ مِنَ الصّادِقِینَ ٭ قَالَ اِنّمَاالعِلمُ عِنَداللّٰهِ وَاُبَلّغُکُمْ مَااُرْسِلْتُ بِه وَ لِکنِیّ اَر یٰکُم قَوْ ماًً تَجْهَلُونَ٭ فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضاً مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ قَالُواهَذَا عَارِض مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِه رِیْح فِیهَا عَذا ب اَلیم٭ تُدَمِّرُ کُلَّ شَیئٍٍ بِاَ مْرِ راَبِهَا فَاَصْبَحُوا لَایُریٰ اِلَّاّمَسا کِنُهُمْ کَذ لِکَ نَجْزیِ القَومَ الْمُجْرِمِینَ )

قوم عاد کے بھا ئی (ہود) کو یا د کرو جب اس نے احقا ف نامی سر زمین پر اپنی قوم کو انذار کیا (ڈرایا) جب کہ ان کے زما نے میں اور ان سے پہلے پیغمبر آچکے تھے (اس بات پر کہ) خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو کیوںکہ میں تمہارے سلسلہ میں عظیم دن کے عذ اب کے بارے میں خو فز دہ ہو. انھوں نے کہا : کیا تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے خداؤں سے منحر ف کر دو؟ اگر سچے ہو تو جس عذاب کا ہم سے وعدہ کیا ہے نازل کر دو ۔

( حضرت ہود نے) کہا : علم (عذاب) خدا کے پا س ہے جس چیز کے لئے مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اس کی میں تمھیں تبلیغ کروں گا،لیکن میں تمھیں ایک ایسی قوم دیکھ رہا ہوں جو جہالت کی راہ پر گا مزن ہے. اور جب عذاب کو دیکھا کہ بادل کی صورت ان کی سر زمین کی طر ف آرہا ہے تو سب نے کہا : یہ بادل ہے جو ہمیں بارش نصیب کرے گا،( حضرت ہودنے) کہا: ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے آنے کے لئے تم نے جلد بازی کی ہے ، ایک ہوا ہے جس میں درد ناک عذا ب ہے .اور ہر زندہ چیز کو اپنے خدا کے حکم سے تباہ و برباد کردے گا جیسے ہی ان کی صبح ہوئی، ان کے گھر وں کے علا وہ( کوئی چیز ) دکھا ئی نہ دی، ہم گنا ہگا ر قوم کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔


۲۔ سورہ ٔ ہود کی ۵۰ویںتا۵۵ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَالیٰ عَاد ٍ اَخَاهُمْ هُودا ً قَالَ یَا قُومِ اعْبُدوا اللّٰهَ مَا لَکُم مِنْ اِلٰهٍ غَیرُهُ اِنْ اَنتُم اِلَّامُفْتَرُونَ٭یَا قَومِ لَا أسْأ لُکُم عَلیهِ أَجْرًا اِ نْ أجْرِیَ لَّاعَلٰی الَّذِی فَطَرَ نِی أفَلاَ تَعْقِلُونَ٭وَ یَاقَومِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُم ثُمَّ تُوبُوا الیهِ یُرْ سِلِ السَّمائَ عَلَیْکُم مِدْرَارا ً وَ یَزِدْ کُمْ قُوَّةً اِ لیٰ قُوَّ تِکُم وَ لَا تتو لَّوا مُجْرِمینَ٭ قَالُوا یَاهُودُ مَاجِئتنَا بِبیِّنةٍ وَ مَا نَحنُ بِتٰارکی آلهَتنَاعَن قَو لِکَ وَ مَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤمِنِینَ٭ اِنْ نَقُولُ الاّ اعترَاک بَعضُ آلهتِنَا بِسُو ء ٍ قَالَ اِ نیّ أُشْهِدُ اللّٰه وَ اشْهَدُوا أ نّی بِریئ مِمّا تُشرِ کُون٭ مِن دُونهِ فَکیدُونِی جَمیعاًً ثُمَّ لَاتُنْظِرُونِ )

قوم عاد کی طرف ان کے بھا ئی ہود کو ہم نے بھیجا،اس نے کہا : اے میری قوم والو! خدا کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تم لوگ بتوں کی پو جا کر کے ( خدا وند سبحان پر) تہمت لگا نے کے علا وہ کوئی کام نہیں کر تے : اے قوم ! میں تم سے رسا لت کی اجرت نہیں چا ہتا ،میری اجرت میرے خا لق کے ذمّہ ہے کیا تم غور کر نا نہیں چا ہتے؟ ! اے میری قوم ! اپنے خدا سے بخشش طلب کرو اور اس کی بار گاہ میں تو بہ کرو تا کہ تم پروہ کثرت سے بارش نازل کرے اور تمہاری قوت میں اضا فہ کرے اور گنا ہ گا ر حا لت میں مجھ سے رو گردانی نہ کرو. سب نے کہا: اے ہود ! تم نے ہمارے سامنے کو ئی (معجزہ) دلیل پیش نہیں کی ہے اور ہم اپنے خداؤں کو صرف تمہارے کہنے سے نہیں چھوڑیں گے اور تم پر ایمان نہیں لائیں گے. صرف یہ کہیں گے کہ ہمارے بعض خداؤں نے تمھیں دیوانہ بنا دیا ہے حضرت ہود نے کہا: میں خدا کو گواہ بنا تا ہوں اور تمھیں بھی گواہ بنا تا ہوں کہ میں اس چیز سے بیزار ہو جس چیز کو تم لوگ خدا کا شریک قرار دیتے ہو پس تم سب کے سب مجھ سے فریب کرو اور مجھے مہلت نہ دو۔

۳۔ سورہ ٔ مو منو ن کی ۳۳ ویں تا ۴۱ ویں آیات میں ارشا د ہوتا ہے :

( وَقَالَ الْمَلَا ُٔمِنْ قَوْمِهِ الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِلِقَائِ الآخِرَةِ وََتْرَفْنَاهُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا مَا هَذَا ِلاَّ بَشَر مِثْلُکُمْ یَْکُلُ مِمَّا تَْکُلُونَ مِنْهُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ ٭ وَلَئِنْ َطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَکُمْ ِنَّکُمْ ِذًا لَخَاسِرُونَ ٭ َیَعِدُکُمْ َنَّکُمْ ِذَا مِتُّمْ وَکُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا َنَّکُمْ مُخْرَجُونَ ٭ هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ ٭ ِنْ هِیَ ِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِینَ ٭ ِنْ هُوَ ِلاَّ رَجُل افْتَرَی عَلَی ﷲ کَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِینَ ٭ قَالَ راَبِ انصُرْنِی بِمَا کَذَّبُونِ ٭ قَالَ عَمَّا قَلِیلٍ لَیُصْبِحُنَّ نَادِمِینَ ٭ فََخَذَتْهُمْ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَائً فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) َ)


اُن ( حضرت ہود)کی قوم کے بزر گوں نے جو کہ کا فر ہوگئے تھے اور عا لم آخرت کی تکذ یب کی اور دنیا میں انھیں عیش وعشرت کی ہم نے زند گی دی تھی انھوں نے کہا: یہ( ہود ) بھی تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہے جو تم کھا تے ہو وہ بھی کھا تا ہے جو تم پیتے ہو وہ بھی پیتا ہے. اور اگر اپنے ہی جیسے انسا ن کا کہنا مانوگے تو اس صورت میں تم لوگ نقصا ن اُٹھا نے والوں میں ہو گے کیا وہ تمھیں وعدہ دیتا ہے کہ جب مر جاؤگے اور بوسیدہ ہو کر (سڑ گل کر ) خاک ہو جا ؤ گے تو پھر تمھیں قبر سے باہر نکا لا جائے گا؟! کتنا دور ہے وہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے .زند گی یہی دنیا ہے، کہ مر یں گے اور زندہ جئیں گے اور پھر کبھی اٹھا ئے نہیں جائیںگے اس شخص نے خدا پر جھو ٹا الزا م لگا یا ہے ہم اس پر ایمان نہیں لائیں گے.( حضرت ہود) نے کہا : خدا یا ! میر ی مدد کر کہ انھوں نے میری تکذیب کی ہے ۔

خدا نے کہا : کچھ دن بعد وہ پشیمان ہوں گے ، ایک بر حق آسمانی صیحہ( چنگھاڑ ) نے انھیں اپنی گر فت میں لے لیا اور ہم نے انھیں کوڑا کرکٹ بنا دیا. خدا کی اس ستمگر قوم پر لعنت ہو۔

۴۔ سورہ ٔ اعراف کی ۶۵ ویں تا ۷۲ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَالَی عَادٍ َخَاهُمْ هُودًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ مَا لَکُمْ مِنْ ِلٰهٍ غَیْرُهُ َفَلاَتَتَّقُونَ ٭ قَالَ الْمَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ ِنَّا لَنَرَاکَ فِی سَفَاهَةٍ وَِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ٭ قَالَ یَاقَوْمِ لَیْسَ بِی سَفَاهَة وَلَکِنِّی رَسُول مِنْ راَبِ الْعَالَمِینَ ٭ ُبَلِّغُکُمْ رِسَالَاتِ راَبِی وََنَا لَکُمْ نَاصِح َمِین ٭ َوَعَجِبْتُمْ َنْ جَائَکُمْ ذِکْر مِنْ راَبِکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِنْکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَاذْکُرُوا إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَائَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَةً فَاذْکُرُوا آلَائَ ﷲ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ٭ قَالُوا َجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ﷲ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا ِنْ کُنتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ٭ قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِنْ راَبِکُمْ رِجْس وَغَضَب َتُجَادِلُونَنِی فِی َسْمَائٍ سَمَّیْتُمُوهَا َنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا نَزَّلَ ﷲ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ فَانتَظِرُوا ِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنتَظِرِینَ ٭ فََنجَیْنَاهُ وَالَّذِینَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَمَا کَانُوا مُؤْمِنِینَ )


ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھا ئی ''ہود'' کو بھیجا .اُس (ہود) نے کہا : اے قوم:واحد اور یکتا خدا کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کو ئی معبود نہیں ہے آیا ( اس کے عذا ب سے ) ڈ رتے نہیں؟ کافر قوم کے بز رگوں نے کہا:ہم تمھیں نادانی اور سفا ہت کا پیکر جا نتے ہیں اور ہمارا خیا ل ہے کہ تم جھوٹوںمیں سے ہو ہو د نے کہا :اے میری قوم!مجھ میں کوئی سفا ھت نہیں ہے بلکہ پروردگا ر عا لم کی طرف سے ایک پیغمبر ہوں اپنے رب کے پیغام تم تک پہنچا تا ہوں اور تمہارے لئے ایک خیر خواہ اور امین ہوں.کیا تم نے تعجب کیا کہ تمہارے لئے پروردگا ر کی جا نب سے تم ہی میں سے ایک مرد کے ذریعہ نصیحت آئی ہے تا کہ تمھیں ڈرائے؟!اُس وقت کو یاد کرو جب خدا وند عالم نے تمھیں قوم نوح کے بعد جا نشین قرار دیا اور تمہاری قوت میں اضا فہ فر مایا خدا کی انواع واقسام کی نعمتوں کو یا د کرو شا ید کامیاب ہو جاؤ. قوم ہود نے کہا ! تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم صرف خدا کی عبادت کریں اور جو کچھ ہمارے آبا ء واجداد پو جتے تھے اسے چھو ڑ دیں؟ جس عذاب کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے اگر سچے ہو تو لے آؤ۔

ہود نے کہا: یقینا خدا کا عذا ب اور اس کا غضب تم پرنازل ہو گا،آیا تم ان اسماء کے بارے میں جو تم نے اور تمہارے آباء واجداد نے اُن بتوں کو دیا ہے اور خدا نے اس سلسلے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے ہم سے جنگ و جدا ل کرتے ہو ؟! لہذا منتظر رہو کہ ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں. ہم نے ہود اور ان کے ہمراہ افراد کو اپنی رحمت سے نجا ت دی ہے اور ان لوگوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلا یا اور ہم پر ایمان نہیں لائے۔

۵۔ سورۂ قمر کی ۱۸ ویں تا ۲۰ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

(کَذَّبَتْ عَاد فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِی وَنُذُرِ ٭ ِنَّا َرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیحًا صَرْصَرًا فِی یَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ ٭ تَنزِعُ النَّاسَ کََنَّہُمْ َعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ )

قوم عاد نے ( اپنے پیغمبر کی ) تکذ یب کی لہٰذ ا(دیکھو کہ) میرا عذاب اور انذار کیسا تھا؟.ہم نے تیزوتند، وحشتناک اور سرد ہوا ایک منحوس دن میں پے در پے بھیجی. کہ وہ ہوا لوگوں کو کجھو ر کے جڑ سے اکھڑ ے ہوئے درختوں کے تنے کے مانند اکھا ڑ پھینکتی تھی ۔


کلما ت کی تشریح

۱ احقاف :

حقف: ریت کے طو لا نی پر پیچ ا و ر خم دار ٹیلے کو کہتے ہیں، اس کی جمع احقاف ہے. یہاں پر احقاف سے مراد عمان سے حضر موت تک ایک ریتیلا علا قہ ہے جس کی تفصیل کو حمو ی کی معجم البلدان میں لفظ احقا ف کے باب میں مطا لعہ کیجئے۔

۲ لتا فکنا : افک:

عظیم افتراء اور جھوٹ ہے اور مشر کین کا مقصد یہ تھا کہ : تم آئے ہوتا کہ ہمیں اپنے عظیم افتراء اور جھوٹ سے ہمارے خداؤں سے رو گرداں اور منحرف کر دو؟!

۳ عارض : عارض :

جو کچھ افق میں منجملہ بادل کا ٹکڑا ہو یا ٹڈی اور شہد کی مکھی نمودار ہوتی ہے۔

۴ اترفنا ہمُ:

ترف :لغت میں تنعم کے معنی میں ہے. یعنی ہم نے انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں، مال ، اولاد اور عا لی شان محلوں سے نوزا۔

۵ ھیھا ت:

ھیھا ت ھذا ا لا مر، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا انجام بہت بعید ہے یعنی نہ ہونے وا لا ہے۔

۶۔ بصطة:

بصطہ لغت میں وہی وسعت اور فرا خی ہے، بصطة فی العلم، علم میں وسعت، فضیلت اور زیادتی کے معنی میں ہے. بصطہ فی الجسم، قوت اور طاقت میںزیادتی کے معنی میں ہے کہ یہاںپریہی آخری معنی مراد ہے۔


۷ رجس:

یہاں پر اس عذا ب کے معنی میں ہے جو نا پسندیدہ اعمال اور نا زیبا افعال کی بناء پر نازل ہوتا ۔

۸قطعنا دا بر ھم:

قطع الدابرعجز اور بے چا ر گی مراد ہے ، قطع اللہ دا بر ھم یعنی خدا نے ان کی بیخ کنی کی اور ان کو درمیان سے اٹھا لیا۔

گز شتہ آیات کی تفسیر کا خلا صہ

عاد قبیلہ حضرت نوح کے اعقاب میں سے تھا وہ لوگ تہذ یب و ثقا فت میں اس در جہ ترقی کر چکے تھے کہ حضرت نوح کی وسیع وعر یض شریعت کے لا ئق اور منا سب ہوگئے، لیکن شیطان انھیں آہستہ آہستہ بتوں کی عبا دت کی طرف کھینچ لے گیا یہی وجہ تھی کہ خدا نے ان کی ہدایت کے لئے ہود کو جو کہ اسی قبیلہ سے تھے پیغمبری کے لئے مبعوث کیا تو ہود نے انھیں خدا وند یکتا کی عبادت و بندگی اور دین اسلام پر عمل کرنے کی دعوت دی جو خدا کی شریعت سے متعلق تھا اور حضرت نوح اسے لائے تھے انھوں نے انھیں پند ونصیحت اور انذار کیا ، لیکن قوم عاد نے عناد اور گمرا ہی کا را ستہ اختیار کیا تو خدا نے بھی ان پر سختی کی اور ان سے بارش کو روک دیا ، شاید کہ وہ خود کو سنبھال لیں اور خدا کی اطا عت و عبادت کا راستہ اختیار کر لیں ،پھر ہود نے انھیں بشارت دی کہ اگر ایمان لا کر، ناشا ئستہ اور ناروا اعمال سے تو بہ کر یں تو خدا وند عا لم انھیںفراوان با رش سے نواز ے گا اور عذا ب خداوندی سے انھیںڈرایا لیکن وہ لوگ اس کے بر عکس اپنی سر کشی اور عناد میں اضا فہ ہی کرتے رہے اسی وجہ سے خدا نے ان کی طرف سیاہ اور کا لی آندھی بھیج دی جب قوم عاد نے اس آندھی کو دور سے افق کے کنارے دیکھا تو سمجھی کہ وہ بر سنے والا با دل ہے،اس بات سے غا فل کہ وہ ایک تیز و تند آندھی ہے جو انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی اور ان کے گھروں کو اپنی جگہ پر چھوڑ دے گی.قوم ثمود کا بھی یہی انجام ہوا اب انشاء اللہ ان کے حالات کی تفصیل بیان کریں گے۔


حضرت صالح پیغمبر

* قرآن کریم میں حضرت صا لح کی سیرت اور روش

* کلما ت کی تشریح

* آیات کی تفسیر

قرآن کریم میں حضرت صا لح کی سیرت اور روش

۱۔ خدا وند سبحا ن سورۂ نمل کی ۴۵ ویں تا ۴۷ ویں آیات میں ارشاد فر ماتا ہے:

( وَلَقَدْ َرْسَلْنَإ الَی ثَمُودَ َخَاهُمْ صَالِحًا َنِ اعْبُدُوا ﷲ فَِذَا هُمْ فَرِیقَانِ یَخْتَصِمُونَ ٭ قَالَ یَاقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلاَتَسْتَغْفِرُونَ ﷲ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ٭ قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ واَبِمَنْ مَعَکَ قَالَ طَائِرُکُمْ عِنْدَ ﷲ بَلْ َنْتُمْ قَوْم تُفْتَنُون )

اور ہم نے قوم ثمود کی جانب ان کے بھائی صالح کو بھیجا تا کہ وہ کہیں کہ خدا وند واحد ویکتا کی عباد ت کرو،ان کی قوم دو گروہ میں تقسیم ہو گئی( ایک مومن گروہ اور دوسرا کا فر گروہ) اور آپس میں دونوںجنگ وجدال کر نے لگے.صا لح نے کہا: اے قوم والو! کیوں قبل اس کے کہ کوئی نیک کا م کرو بر ے کا موں کی طرف جلد بازی کر رہے ہو تم ﷲ سے استغفار کیوں نہیں کرتے کہ شاید تم پر رحم کر دیا جائے ؟انھوں نے کہا: ہم تجھے اور تیرے ما ننے والوں کو فال بد جا نتے ہیں. صا لح نے کہا:تمہا ری سر نوشت( برا انجام) خدا کے پاس ہے بلکہ تم لوگ آزمائے گئے ہو۔

۲۔سورۂ شعراء کی ۱۴۱تا ۱۵۵ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( کَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِینَ ٭ إِذْ قَالَ لَهُمْ َخُوهُمْ صَالِح َلاَتَتَّقُونَ ٭ ِنِّی لَکُمْ رَسُول َمِین ٭ فَاتَّقُوا ﷲ وََطِیعُونِ ٭ وَمَا َسَْلُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ َجْرٍ ِنْ َجْرِی ِلاَّ عَلَی راَبِ الْعَالَمِینَ ٭ َتُتْرَکُونَ فِی مَا هَاهُنَا آمِنِینَ ٭ فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ٭ وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیم ٭ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا فَارِهِینَ ٭ فَاتَّقُوا ﷲ وََطِیعُونِ ٭ وَلاَتُطِیعُوا َمْرَ الْمُسْرِفِینَ٭ الَّذِینَ یُفْسِدُونَ فِی الَرْضِ وَلاَیُصْلِحُونَ ٭ قَالُوا ِنَّمَا َنْتَ مِنْ الْمُسَحَّرِینَ ٭ مَا َنْتَ ِلاَّ بَشَر مِثْلُنَا فَْتِ بِآیَةٍ ِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ٭ قَالَ هَذِهِ نَاقَة لَهَا شِرْب وَلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَعْلُومٍ )


قوم ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کی تکذ یب کی .جب ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا : کیوں تم لوگ خدا سے نہیں ڈرتے؟! میں تمہارے لئے ایک امانتدار پیغمبر ہوں، لھٰذا ﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو میں تم سے اپنی رسالت کا اجر نہیں چاہتا میرا اجر ربّ العا لمین کے ذمّہ ہے .کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ اس دنیا وی ناز ونعمت میں رہو گے؟! انھیں باغات، بہتے چشموں،کھیتیوں اور نخلستان میں جو کہ لطیف اور نازک پھول والے ہیں اور جو پہاڑوں میں ہنرمندی اور مہارت کے ساتھ گھروں کو تعمیر کرتے ہو؟! خدا سے ڈرو اور میری بات مانو اور فضول خرچی اور اسراف کرنے والوں کا کہنا نہ مانو. وہی لوگ جو اس سرزمین پر فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے انھوں نے کہا: یقینا تم پر جادو کر دیا گیا ہے ،تم ہمارے جیسے انسان کے علا وہ کچھ نہیں ہو،اگر سچے ہو تو معجزہ دکھاؤ. (صالح) نے کہا: یہ اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیئے گی اور ایک دن پینا تم لوگوں کے لئے معین اور مخصوص ہے.

۳۔اور سورۂ ہود کی ۶۱تا ۶۸ویںآیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَِلٰی ثَمُودَ َخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ مَا لَکُمْ مِنْ ِلٰهٍ غَیْرُهُ هُوَ َنشََکُمْ مِنْ الَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا الَیهِ ِنَّ راَبِی قَرِیب مُجِیب ٭ قَالُوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا َتَنْهَانَا َنْ نَعْبُدَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَِنَّنَا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَا الَیهِ مُرِیبٍ ٭ قَالَ یَاقَوْمِ َرََیْتُمْ ِنْ کُنتُ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ راَبِی وَآتَانِی مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَنصُرُنِی مِنَ ﷲ ِنْ عَصَیْتُهُ فَمَا تَزِیدُونَنِی غَیْرَ تَخْسِیرٍ ٭ وَیَاقَوْمِ هَذِهِ نَاقَةُ ﷲ لَکُمْ آیَةً فَذَرُوهَا تَْکُلْ فِی َرْضِ ﷲ وَلاَتَمَسُّوهَا بِسُوئٍ فَیَْخُذَکُمْ عَذَاب قَرِیب ٭ فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ َیَّامٍ ذَلِکَ وَعْد غَیْرُ مَکْذُوبٍ ٭ فَلَمَّا جَائَ َمْرُنَا نَجَّیْنَا صَالِحًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ ِنَّ رَبَّکَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیزُ٭ وََخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فََصْبَحُوا فِی دِیَارِهِمْ جَاثِمِینَ ٭ کََنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا َ لَاِنَّ ثَمُودَ کَفَرُوا رَبَّهُمْ َلَابُعْدًا لِثَمُودَ )

قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو پیغمبری کے لئے مبعوث کیا .صالح نے کہا: اے میری قوم! اس خدا کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے .اس نے تمھیں خاک سے پیدا کیا اور تمھیں اس میں آباد کیا لہٰذ ا اس سے مغفرت طلب کرو اور گناہوں سے توبہ کرو یقینا میرا ربّ ( تم سے) نزدیک ہے اور توبہ قبول کر نے والا ہے۔


انھوں نے کہا :اے صالح !اس سے قبل تم ہم لو گوں کے نزدیک ایک پناہ گاہ (امید کی جگہ) تھے کیا تم ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کے خداؤں کی عبادت کرنے سے روک کر رہے ہو ؟ جس چیز کے لئے تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اس کی بہ نسبت ہم بد گمان اور مشکوک ہیں۔

صالح نے کہا!اے قوم والو! اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے کوئی معجزہ دکھاؤں جوکہ اس نے مجھ کو اپنی رحمت سے منتخب کیا ہے تو اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟.اور اگر اس کا کہنا نہ مانوں تو پھر کون ہے جو ہمیں اللہ( کے غضب) سے امان دے گا؟ کہ تم لوگ مجھ پر ضرر ونقصان کے اضا فے کے سواء کچھ نہیں کرسکتے .اور اے میری قوم! یہ اونٹنی خدا کی ہے جو تمہارے لئے معجزہ ہے،اسے چھوڑ دو تا کہ اللہ کی سرزمین میں چرے اور اسے ایذا نہ پہنچاؤ ورنہ بہت جلد ہی خدا کا عذا ب تمھیں اپنی گرفت میں لے لے گا.صالح کی قوم نے اونٹنی کو مار ڈالا .صالح نے ان سے کہا:تین دن مزید اپنے گھروں میں زند گی کا لطف اٹھاؤ،یہ وعدہ جھوٹا نہیںہے. جب ہمارا عذاب آیا توصالح اور ان کے ہمراہ با ایمان افراد کو اپنی رحمت کے ذریعہ اس دن کی رسوائی سے نجات دی، بے شک تمہاراپروردگار تو قوی اور عزیز ہے. اور ستمگروںکو آسمانی صیحہ(چنگھاڑ) نے اپنی گرفت میں لے لیا اور ہنگا م صبح اپنے گھروں میں موت کی نیند سورہے تھے گویا وہ لوگ کبھی اس دیار میں زندہ ہی نہیں تھے. جان لو کہ ثمود کی قوم اپنے رب کی منکر ہوئی اور خدا کی رحمت سے دور ہو گئی ۔

۴۔سورۂ اعراف کی ۷۳۔۷۹ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَالَی ثَمُودَ َخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ مَا لَکُمْ مِنْ ِلَهٍ غَیْرُهُ قَدْ جَائَتْکُمْ بَیِّنَة مِنْ راَبِکُمْ هَذِهِ نَاقَةُ ﷲ لَکُمْ آیَةً فَذَرُوهَا تَْکُلْ فِی َرْضِ ﷲ وَلاَتَمَسُّوهَا بِسُوئٍ فَیَْخُذَکُمْ عَذَاب َلِیم ٭ وَاذْکُرُوا إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَائَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوََّکُمْ فِی الَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتًا فَاذْکُرُوا آلَائَ ﷲ وَلاَتَعْثَوْا فِی الَْرْضِ مُفْسِدِینَ ٭ قَالَ الْمَلُ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لِلَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ َتَعْلَمُونَ َنَّ صَالِحًا مُرْسَل مِنْ راَبِهِ قَالُوا ِنَّا بِمَا ُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ٭ قَالَ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا ِنَّا بِالَّذِی آمَنتُمْ بِهِ کَافِرُونَ ٭ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ َمْرِ راَبِهِمْ وَقَالُوا یَاصَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا ِنْ کُنتَ مِنْ الْمُرْسَلِینَ ٭ فََخَذَتْهُمْ الرَّجْفَةُ فََصْبَحُوا فِی دَارِهِمْ جَاثِمِینَ ٭ فَتَوَلَّی عَنْهُمْ وَقَالَ یَاقَوْمِ لَقَدْ َبْلَغْتُکُمْ رِسَالَةَ راَبِی وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لاَتُحِبُّونَ النَّاصِحِینَ )


اورقوم ثمود پر ان کے بھائی صالح کو پیغمبری کے لئے مبعوث کیا .صالح نے کہا : اے میری قوم والو !خدا کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے .بتحقیق تمہارے رب کی طرف سے آشکار معجزہ آیا ہے یہ خدا کی اونٹنی ہے جو کہ تمہارے لئے ایک معجزہ ہے اُسے چھوڑ دو تاکہ خدا کی سر زمین میں چرے اور اسے ایذا نہ پہنچانا ورنہ دردناک عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے.

اُ س وقت کو یاد کرو جب خدا نے تمھیں قوم عاد کی ہلا کت کے بعد گزشتہ افراد کا جانشین بنا یا اور زمین میں ٹھکانہ دیا کہ اس کی ہموار زمینوں میں محلوں کی تعمیر کرو اور پہاڑوں میں گھروں کی بنا ڈالو.لہٰذا خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین پر فساد برپا نہ کرو ، تو اس قوم کے بڑے لوگوں نے کمزور بنادیئے جانے والے لوگوں میں سے جو ایمان لائے تھے ان سے کہا: کہ تم کو کیا معلوم کہ صالح اپنے ربّ کافرستادہ ہے ؟ وہ لوگ بولے : جو آئین(قانون) وہ لائے ہیں ہم اس پر ایمان لائے ہیں، تو جن بڑے لوگوں نے ہٹ دھرمی اور ضد سے کام لیا تھا بو لے:جن باتوں پر تم ایمان لائے ہو ہم ان کے منکر اور کافر ہیں.لہذا اونٹنی کو مارڈالا اور خدا کے حکم کی نا فرمانی کی اور کہا: اے صالح! اگر تم پیغمبر ہو تو جس عذاب کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے وہ لے آؤ .پھر وہ زلزلہ میں گرفتار ہوگئے اور اپنے گھروں میں بے جان پڑے رہ گئے. پھر اس وقت صالح نے ان سے منھ پھیر کر کہا: اے میری قوم ! میں نے اپنے ربّ کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور تمھیں پند ونصیحت بھی کر دی لیکن تم لوگ خیر خواہوں اور نصیحت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے۔

۵۔ سورہ ٔ نمل کی۴۸ ویں تا۵۳ویںآیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَکَانَ فِی الْمَدِینَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُفْسِدُونَ فِی الَرْضِ وَلاَیُصْلِحُونَ ٭ قَالُوا تَقَاسَمُوا بِﷲ لَنُبَیِّتَنَّهُ وََهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِیِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِکَ َهْلِهِ وَِنَّا لَصَادِقُونَ ٭ وَمَکَرُوا مَکْرًا وَمَکَرْنَا مَکْرًا وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ٭ فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ مَکْرِهِمْ َنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ َجْمَعِینَ ٭ فَتِلْکَ بُیُوتُهُمْ خَاوِیَةً بِمَا ظَلَمُوا ِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ٭ وََنجَیْنَا الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ )

اُس شہر میں نو افراد قبیلہ(رؤسائے میں سے ) تھے جو فساد کر تے تھے اور اصلاح نہیں کر تے تھے ان لوگوں نے کہا : تم سب آپس میں خدا کی قسم کھا ؤ کہ شب میں اس (صالح ) کو اور جو اس کے ساتھ ہیں ان سب کو ہم قتل کر ڈالیں گے،پھر اس وقت انکے ورثہ سے کہیں گے کہ ہم لوگ ان کے ساتھیوں کی ہلا کت کے وقت حاضر نہیں تھے اور سچ کہتے ہیں.انھوں نے زبردست دھو کا دیا اور ہم نے ان کی بے خبری میں تد بیر کی غور کرو کہ ان کے فریب کا نتیجہ کیا ہوا ؟ ہم نے ان سب کو اور ان کی قوم کو ایک ساتھ ہلاک کر ڈالا اور یہ خالی گھر انھیں کے ہیں جن کی دیواریں اور چھتیں نیچے گر گئی ہیں ان کے ان مظا لم کے سبب سے جو انھوں نے کئے ہیں ؛ اس میں، ان لوگوں کے لئے جوجا نتے ہیں ایک عبرت ہے. اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیااور پرہیز گاری کا ثبوت دیا ہم نے انھیں نجات دی۔


کلمات کی تشریح

۱۔اطّیرنا وطا ئر کم: تطےّر و اطّیر:

اس نے بد فالی کی،بد شگو نی کی اور طائر کم یہاں پر تمہاری بد شگو نی اور نحوست کے معنی میں ہے۔

۲۔ ھضیم:

ھضیم پختہ اور قابل استفادہ اور لطیف یعنی خوشگوار اور نر م میوہ ۔

۳۔فارھین:

فارہ، مد ہوش اور ماھر کہ دونوں ہی معنی بحث سے منا سبت رکھتے ہیں۔

۴۔جاثمین:

جثم جثو ما ً، زمین سے چپکا ہوا، افتاد ہ اور ہلاک شدہ۔

۵۔بؤاکم:

بوّاہ منزلا ً، وہاں اسے نیچے لا یا۔

۶۔و لا تعثوا:

عاث و عثا،زبردست فساد کیا۔


۷۔عتوّا :

عتا عتوّا،تکبر کیا سرکشی اور طغیانی کی حد کر دی۔

۸۔رجفةً:

رجف،اُسے زبردست حرکت اور جنبشں پر مجبور کیا، الرّجفہ:یکبارگی لرزنا( زلزلہ)۔

۹۔ رھط:

رھط یہاں پر دس آدمی سے کم کا ایک گروہ ہے جس میں کو ئی عورت نہ ہو۔

آیات کی تفسیر کا خلا صہ

ثمود کا قبیلہ حضرت نوح کے اعقا ب میں تھا جو قوم عاد کے بعد زند گی گذار رتے تھے وہ لوگ مد ینہ اور شام کے درمیان عالی شان محلوں میں زندگی گذار تے تھے.

یہ قوم خود پسندی اور سر کشی میں مبتلا ہو گئی اور خدا کو ترک کر دیا اور بتوں کی پرستش میں مشغول ہوگئی خداوند عالم نے بھی صالح پیغمبر کو جو کہ اسی ثمود قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے بشارت وانذار کی ذمہ داری دے کر ان کی طرف بھیجا گزشتہ آیات میں آپ نے ملا حظہ کیا کہ ان کے اور ان کے افراد قبیلہ کے درمیان کیا گزری۔

آخر کار قوم ثمود نے اپنے پیغمبر سے معجزہ طلب کیا اس شرط کے ساتھ کہ پہاڑ سے ایک حاملہ اونٹنی اپنے مدعا کی صداقت کے عنوان سے ظاہر کریں. خداوند سبحا ن نے ان کی یہ خواہش پوری کی، پہاڑ کے اندر زبردست پیچ وتاب کی کیفیت پیدا ہوئی پھر اس سے ایک حاملہ موٹی اونٹنی بر آمد ہوئی اور اس نے قوم ثمود کے سامنے بچہ جنا۔


حضرت صالح نے اپنی قوم سے طے کیا کہ ایک دن ناغہ کر کے نہر کا پانی اُس اونٹنی سے مخصوص رہے اور کوئی دوسرا اس پانی سے استفادہ نہ کرے اور اونٹنی کا دودھ پانی کی جگہ ان کا ہو گا.اور دوسرے دن نہر کا پا نی ان کے اور ان کے چوپایوں کے لئے ہو گا.ایک مدت تک وہ لوگ اس عہد پر باقی رہے،یہاں تک کہ ۹ اوباش اور ظالم افراد نے اس اونٹنی کے قتل کا مصمم عزم کر لیا اور آخر کار اسے قتل کر ڈالا۔نتیجہ کے طور پر خوفناک آسمانی آواز ( چنگھاڑ) آئی اور زمین کو شدید جنبش ہوئی(زلزلہ آیا) اور اپنی جگہ پر ہلاک ہوگئے۔

بحث کا نتیجہ

خدا وند عالم نے ہود اور صالح علیھما السلام کو (رحمت خدا وندی کا )بشارت دینے والا اور (اس کے عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر ان کی قوم کی طرف بھیجا.انھون نے بھی شریعت نوح اور ان کے قوانین و آئین پر عمل کرنے کی دعوت دی۔

اس طرح سے جو بھی حضرت نوح کے بعد آیا ان کے آئین اور شریعت کی تبلیغ کرتا تھا وہ نوح پیغمبر کا ان کی شریعت پر وصی تھا خواہ خدا کی طرف سے رسول ہو جیسے ہود اور صالح علیہما السلام یا نہ ہو جیسے نوح کے فرزند سام یا دیگر اوصیاء جو ان کے بعد تشریف لائے ہیں؛یہاں تک کہ خدا نے حضرت ابراہیم کو شریعت حنفیہ کے ساتھ رسالت کے لئے مبعوث کیا کہ انشاء اللہ اس موضوع سے متعلق مطا لب آیندہ بحث میں آئیں گے۔


(۷)

ابراہیم ( خلیل الرحمن)

* قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کی سر گذ شت کے مناظر.

* حضرت ابراہیم اور مشرکین.

* حضرت ابراہیم اور حضرت لوط

* حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل کعبہ کی تعمیر اور مناسک حج کی ادائیگی کے لئے دعوت دینا.

* حضرت ابراہیم ، حضرت اسحق اور حضرت یعقوب


قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کی سر گذشت کے مناظر

پہلا منظر، حضرت ابراہیم اور مشر کین.

۱۔خدا وند سبحان سورۂ شعراء کی ۶۹ویں سے ۸۲ ویں آیات میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبََ اِبْرَاهِیمَ ٭ إِذْ قَالَ لِاَبِیهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ َصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاکِفِینَ ٭ قَالَ هَلْ یَسْمَعُونَکُمْ إِذْ تَدْعُونَ ٭ َوْ یَنْفَعُونَکُمْ َوْ یَضُرُّونَ٭ قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَائَنَا کَذَلِکَ یَفْعَلُونَ ٭ قَالَ َفَرََیْتُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ٭ َنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ الَقْدَمُونَ ٭ فَإِنَّهُمْ عَدُوّ لِی ِلاَّ رَبَّ الْعَالَمِینَ ٭ الَّذِی خَلَقَنِی فَهُوَ یَهْدِینِ ٭ وَالَّذِی هُوَ یُطْعِمُنِی وَیَسْقِینِ ٭ وَِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِینِ ٭ وَالَّذِی یُمِیتُنِی ثُمَّ یُحْیِینِ ٭ وَالَّذِی َطْمَعُ َنْ یَغْفِرَ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ )

(اے پیغمبر!)ابراہیم کی خبر امت کے لئے بیان کرو .جب انھوں نے اپنے مربیّ باپ( چچا) اور اپنی قوم سے کہا:تم لوگ کس معبود کی عبادت کر تے ہو.انھوں نے جواب دیا:اُن بتوں کی جو مسلسل ہماری پرستش کا محل و محور ہیں اُنھوں نے کہا تم لوگ انھیں پکا رتے ہو تو کیا وہ تمہاری باتیں سنتے ہیں؟!.یا تمہارے حال کے لئے کوئی نفع ونقصان کے مالک ہیں؟ انھوں نے کہا :ہم نے اپنے آبا ء واجداد کو دیکھا ہے کہ ایسا کرتے تھے حضرت ابراہیم نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم جن کی پر ستش کرتے ہو، تم اور تمہارے گزشتہ آباء واجداد .میں ان سب کو دشمن رکھتا ہوں جز ربّ العا لمین کے کہ اُس نے ہمیں پیدا کیا اور راہ راست کی ہمیں راہنمائی کی وہ ہے جس نے ہمیں سیر کیا ہے اور ہماری تشنگی دور کی ہے اور جب بیمار ہوتے ہیں تو ہمیں شفا دیتا ہے. اور وہ کہ جو ہمیں مارتا اور اُس کے بعد زندہ کر تا ہے وہ خدا جس سے لو لگائے رہتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمارے گناہوں کو بخش دے۔

۲۔ سورہ ٔ انعام کی ۷۴ویں سے ۸۱ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَإِذْ قَالَ اِبْرَاهِیمُ لِاَبِیهِ آزَرَ َتَتَّخِذُ َصْنَامًا آلِهَةً ِنِّی َرَاکَ وَقَوْمَکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ ٭ وَکَذَلِکَ نُرِی اِبْرَاهِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنْ الْمُوقِنِینَ ٭ فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ اللَّیْلُ رََی کَوْکَبًا قَالَ هَذَا راَبِی فَلَمَّا َفَلَ قَالَ لاَُحِبُّ الآْفِلِینَ ٭ فَلَمَّارََی الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا راَبِی فَلَمَّا َفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ یَهْدِنِی راَبِی لََکُونَنَّ مِنْ الْقَوْمِ الضَّالِّینَ ٭ فَلَمَّا رََی الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا راَبِی هَذَا َکْبَرُ فَلَمَّا َفَلَتْ قَالَ یَاقَوْمِ ِنِّی بَرِیئ مِمَّا تُشْرِکُونَ ٭ ِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالَرْضَ حَنِیفًا وَمَا َنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ ٭ وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ َتُحَاجُّونِّی فِی اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلاََخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِهِ ِلاَّ َنْ یَشَائَ راَبِی شَیْئًا وَسِعَ راَبِی کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا َفَلاَ تَتَذَکَّرُونَ ٭ وَکَیْفَ َخَافُ مَا َشْرَکْتُمْ وَلاَتَخَافُونَ َنَّکُمْ َشْرَکْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهِ عَلَیْکُمْ سُلْطَانًا فََیُّ الْفَرِیقَیْنِ َحَقُّ بِالَمْنِ ِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ )


(اے پیغمبر)اُس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے مربیّ باپ آزر سے کہا :آیا تم نے بتوں کو خدا بنا یا ہے ؟! میں تمھیں اور تمہاری قوم کو آشکار گمراہی میں دیکھتا ہوں.اور اس طرح سے ابراہیم کو زمین وآسمان کے ملکوت کا نظا رہ کرایا تا کہ مقام یقین تک پہنچ جائیں. لہٰذا جب شب کی تاریکی چھائی، تو ایک ستارے کو دیکھا اور کہا یہ میرا رب ّ ہے.لیکن جب وہ ستارہ ڈوب گیا تو کہا:میں ڈوبنے والوں کو دوست نہیں رکھتاہوں پھر جب چاند کو درخشاں دیکھا،تو کہا : یہ میرا ربّ ہے،لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا : اگر خدا میری راہنمائی نہ کرے تو یقینا میں گمرا ہوں میں ہو جا ؤں گا.اور جب ضوفشاں خو رشید(تابناک سورج) کو دیکھا تو کہا: یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا: اے میری قوم ! میں ان چیز وں سے جن کو تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو بیزار ہوں.میں نے خا لص ایمان کے ساتھ اس خدا کی طرف رُخ کیا ہے جو زمین اور آسمانوں کا خا لق ہے اور میں کبھی مشرکین کا موافق نہیں ہوںگا. ابراہیم کی قوم ان کے ساتھ دشمنی اور کٹ حجتی پر آمادہ ہو گئی.تو آپ نے کہا: آیا ہم سے خدا کے بارے میں بحث کرتے ہو جبکہ خدا نے درحقیقت ہماری ہدایت کی ہے؟!تم جن چیزوں کو خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں ان سے خوفزدہ نہیں ہوں مگر یہ کہ خدا کی مرضی ہو کہ ہمارے ربّ کا علم تمام مو جودات کو محیط ہے،کیوں تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟! اور میں کیسے ان چیزوں سے خوف کھا ؤں جنھیں تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو جبکہ تم خدا کا شریک قرار دینے سے نہیں ڈرتے جب کہ اس سلسلے میںکوئی حجت اور بر ہان نہیں ہے؟! ہم دونوں میں سے کون سلامتی ( اور کون خوف)کا سزاوار ہے،اگر تم لوگ فہم رکھتے ہو( یا جا نتے ہو تو بتاؤ)۔

۳۔سورۂ عنکبوت کی ۱۶ سے ۱۸اور۲۴اور ۲۵ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَاِبْرَاهِیمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا ﷲ وَاتَّقُوهُ ذَلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ٭ ِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ َوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ ِفْکًا ِنَّ الَّذِینَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ لاَیَمْلِکُونَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ ﷲ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْکُرُوا لَهُ الَیهِ تُرْجَعُونَ ٭ وَِنْ تُکَذِّبُوا فَقَدْ کَذَّبَ ُمَم مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَا عَلَی الرَّسُولِ ِلاَّ الْبَلَاغُ الْمُبِینُ ٭...٭فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ ِلاَّ َنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ َوْ حَرِّقُوهُ فََنجَاهُ ﷲ مِنْ النَّارِ ِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ٭ وَقَالَ ِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ ﷲ َوْثَانًا مَوَدَّةَ بَیْنِکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَمَْوَاکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ نَاصِرِینَ )


ابراہیم کی داستان کو یاد کرو جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا: خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو. اگر سمجھو تو تمہارے لئے یہ بہتر ہے. تم خدا کے علاوہ صرف بتوں کی عبادت کرتے ہو اور اپنے پاس سے جھوٹ گڑھتے ہو اور جن لوگوں کو خدا کے علا وہ پو جتے ہو وہ تمھیں روزی دینے پر قادر نہیں ہیں لہٰذا خدا وند سبحان سے روزی طلب کرو اور اس کی عباد ت کرو اور اس کا شکر بجالا ؤکہ تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہے.اور تم لوگ جو مجھے جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کی ہے ، لیکن رسول پر رسا لت کی آشکار تبلیغ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ...( ان تمام نصیحتوں کے بعد جو ابراہیم نے کی ہے ) ان کی قوم کا جواب اس کے علا وہ کچھ بھی نہ تھا کہ انھوں نے کہا : اسے قتل کر ڈالو یا جلا ڈالو؛ اور خدا نے اسے آتش سے نجا ت دی بیشک اس حکا یت میں صاحبان قوم کے لئے نشا نیاں ہیں. پھر ابراہیم نے کہا:اے لو گو!جن کو تم لوگ خدا کے سوا خدا بنائے ہوئے ہو وہ ایسے بت ہیں جو تم نے صرف اپنے درمیان دنیاوی زندگی میں دوستی کے لئے اپنا یا ہے (اور) پھر قیامت کے دن تم لوگ ایک دوسرے کی تکفیر کروگے اور ایک دوسرے پر لعن و نفرین کروگے اور تمہارا ابدی ٹھکا نہ آتش جہنم ہو گا اور کوئی یاور و مددگار بھی نہیںہو گا۔

۴۔ سورہ صافا ت کی ۷۹اور۸۳سے۹۸ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( سَلاَم عَلَی نُوحٍ فِی الْعَالَمِین٭...٭وَِنَّ مِنْ شِیعَتِهِ لَاِبْرَاهِیمَ ٭ إِذْ جَائَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ ٭ إِذْ قَالَ لَِبیهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ ٭ َئِفْکًا آلِهَةً دُونَ ﷲ تُرِیدُونَ ٭ فَمَا ظَنُّکُمْ بِراَبِ الْعَالَمِینَ ٭ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُومِ ٭ فَقَالَ ِنِّی سَقِیم ٭ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِینَ ٭ فَرَاغَ الَی آلِهَتِهِمْ فَقَالَ َلاَتَْکُلُونَ ٭ مَا لَکُمْ لاَتَنطِقُونَ ٭ فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًا بِالْیَمِینِ ٭ فََقْبَلُوا الَیهِ یَزِفُّونَ ٭ قَالَ َتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ٭ وَﷲ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ٭ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْیَانًا فََلْقُوهُ فِی الْجَحِیمِ ٭ فََرَادُوا بِهِ کَیْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الَسْفَلِینَ )

تمام عا لم میں نوح پر سلام...اور ان کے شیعوں میں ایک ابراہیم ہیں وہ پاکیزہ دل اور سالم قلب کے ساتھ اپنے ربّ کی بارگاہ میں آئے اُس وقت جب انھوں نے اپنے مربیّ باپ اور اپنی قوم سے کہا:یہ کیا ہے جس کی تم لوگ پرستش کرتے ہو؟!آیا جھو ٹے خداؤں کو(سچے ) خدا کی جگہ چاہتے ہو؟! عالمین کے رب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟!اُس وقت ستاروں کی طرف نگا ہ ڈالی اور کہا: میں بیمر ہوں. (لوگ ) ان سے منھ موڑ کر با ہر نکل گئے. انھوں نے ان کے بتوں کی طرف رخ کیا اور کہا: آیا اُ ن غذاؤں کو (جو مشر کین عید کے دن تمہارے لئے لا تے ہیں) کیو نہیں کھا تے؟! تمھیں کیا ہو گیا ہے ،کیو نہیں بولتے؟! ( یہ کہا )اور کلہاڑی سے بتوں پر حملہ کر دیا اور بڑے بت کے علا وہ سب کو توڑ پھو ڑ ڈا لا .(شہر کے لوگ) ہراساں اور سراسیمگی کے عالم میں ان کی طرف دوڑے۔


ابرا ہیم نے پوچھا: آیا اپنے ہا تھوں کے بنائے ہوئے بتوں کی پو جا کر تے ہو.جبکہ خدا نے تمھیں اور تمہارے بنائے ہوئے بتوں ( پتھروں) کو پید اکیاہے؟!

انھوں نے کہا:اس کے لئے کوئی عمارت بنا ؤ اور اسے آگ میں ڈال دو.انھوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنا چاہی لیکن ہم نے انھیں پست اور ذلیل کر دیا ہے۔

۵۔سورۂ انبیاء کی ۵۱ ویں تا ۷۰ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ آتَیْنَا اِبْرَاهِیمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِهِ عَالِمِینَ ٭ إِذْ قَالَ لاَبِیهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِیلُ الَّتِی َنْتُمْ لَهَا عَاکِفُونَ٭ قَالُوا وَجَدْنَا آبَائَنَا لَهَا عَابِدِینَ ٭ قَالَ لَقَدْ کُنتُمْ َنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ٭ قَالُوا َجِئْتَنَا بِالْحَقِّ َمْ َنْتَ مِنَ اللاَّعِبِینَ ٭ قَالَ بَل رَبُّکُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالَرْضِ الَّذِی فَطَرَهُنَّ وََنَا عَلَی ذَلِکُمْ مِنَ الشَّاهِدِینَ ٭ وَتَﷲ لَکِیدَنَّ َصْنَامَکُمْ بَعْدَ َنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِینَ ٭ فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا ِلاَّ کاَبِیرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ الَیهِ یَرْجِعُونَ ٭ قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا ِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِینَ ٭ قَالُوا سَمِعْنَا فَتًی یَذْکُرُهُمْ یُقَالُ لَهُ اِبْرَاهِیمُ ٭ قَالُوا فَْتُوا بِهِ عَلَی َعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُونَ ٭ قَالُوا ََنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا یَااِبْرَاهِیمُ ٭ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ کاَبِیرُهُمْ هَذَا فَاسَْلُوهُمْ ِنْ کَانُوا یَنطِقُونَ ٭ فَرَجَعُوإ الَی نفُسِهِمْ فَقَالُوا ِنَّکُمْ َنْتُمْ الظَّالِمُونَ ٭ ثُمَّ نُکِسُوا عَلَی رُئُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَائِ یَنطِقُونَ ٭ قَالَ َفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ مَا لاَیَنفَعُکُمْ شَیْئًا وَلاَیَضُرُّکُمْ ٭ ُفٍّ لَکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ َفَلاَتَعْقِلُونَ ٭ قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَکُمْ ِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ ٭ قُلْنَا یَانَارُ کُونِی بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَی اِبْرَاهِیمَ ٭ وََرَادُوا بِهِ کَیْدًا فَجَعَلْنَاهُمْ الَخْسَرِینَ )

بیشک ہم نے ابراہیم کو وہ رشد عطا کیا جو ان میں ہو نا چا ہئے تھا اور ہم اس سے آگا ہ تھے جب انھوں نے اپنے مربیّ باپ اور اپنی قوم سے کہا : یہ مورتیاں کیا ہیں کہ جن کی عبادت میں مشغول ہوگئے ہو؟! انھوں نے کہا.ہم نے اپنے آباء و اجدادکو ان کا پجا ری پا یا ہے ابراہیم نے کہا: بیشک تم اور تمہارے آباء واجداد کھلی ہوئی گمرا ہی میں ہو. انھوں نے پو چھا: آیا تم حق کی طرف سے ہماری جانب آئے ہو یا تم بھی ایک بازی گرہو؟! ابراہیم نے کہا : بلکہ تمہارا ربّ زمین اور آسمانوں کا ربّ ہے ، جس نے ان سب کو خلق کیا ہے اور میں اس امر پر گواہی دیتا ہوں .خدا کی قسم تمہارے باہر جا نے کے بعد تمہارے بتوں کے بارے میں کوئی تدبیر میں ضرور کروں گا پھر بتوں کو ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیا جز بڑے بُت کے کہ شاید اس کی جانب رجو ع کر یں (لوگوں نے) کہا: جس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے وہ ستمگر وں میں سے ہے.انھوں نے کہا:ہم نے سنا ہے کہ ابرا ہیم نامی جوان ہمارے بتوں کو بُرے لفظوں سے یاد کرتا ہے.انھوں نے کہا: اسے لوگوں کے سامنے حا ضر کرو تا کہ سب گو اہی دیں. انھوں نے پو چھا!اے ابراہیم !کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا ہے؟


.ابراہیم نے جواب دیا:بلکہ ان میں جو سب سے بزرگ ہے اس نے ایسا کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے پو چھ لو!.(قوم) نے اپنے نفوس کی طرف رجو ع کر کے کہا: تم خود ہی ظا لم و ستمگر ہو.پھر سر جھکا کر بو لے ، ( اے ابراہیم ) تم تو جا نتے ہو کہ یہ کلام نہیں کر سکتے. ابراہیم نے کہا : پھر خدا کے سوا کیوں کسی ایسی چیز کی عبادت کر تے ہو جو نہ تم کو نفع پہنچا سکے اور نہ نقصا ن؟!. تم پر اور ان بتوں پر وائے ہو جن کی خدا کے بجائے پرستش کر تے ہو، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟ ! (لوگوں نے کہا ) اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی نصرت کرو اگر تم لوگ کچھ کر سکتے ہو تو. اور ہم نے خطا ب کیا کہ: اے آگ! ابراہیم پر سلا متی کے ساتھ ٹھنڈی ہوجا. انھوں نے ان (ابراہیم ) کے ساتھ مکر و فر یب کا ارادہ کیا تو ہم نے بھی انھیں نقصان اٹھانے والوں میں قرار دیا۔

۶۔ سورۂ بقرہ ۲۵۸ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( لَمْ تَرَ الَی الَّذِی حَاجَّ اِبْرَاهِیمَ فِی راَبِهِ َنْ آتَاهُ ﷲ الْمُلْکَ إِذْ قَالَ اِبْرَاهِیمُ راَبِی الَّذِی یُحْیِی وَیُمِیتُ قَالَ َنَا ُحْیِی وَُمِیتُ قَالَ اِبْرَاهِیمُ فَإِنَّ ﷲ یَاْتِی بِالشَّمْسِ مِنْ الْمَشْرِقِ فَْتِ بِهَا مِنْ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِی کَفَرَ وَﷲ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِین )

کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص ( بادشاہ وقت ) کو جس نے ابرا ہیم سے ان کے ربّ کے بارے میں بحث کی صرف اس لئے کہ خدا نے اس کو ملک عطا کیا تھا جس وقت ابراہیم نے کہا: میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، (بادشاہ) نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ابراہیم نے کہا: میرا خدا وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکا لتا ہے ( اے بادشاہ) تو اسے مغرب سے نکال دے وہ کافر (بادشاہ) مبہو ت وششدر ہو گیا اور جواب سے عا جز اور بے بس ہو گیا خدا ستمگروں کی راہنمائی نہیں کر تا۔

دوسرا منظر۔ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط

۱۔سورہ عنکبوت کی ۲۶۔۲۷۔ ۳۱۔ ۳۲۔ آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَآمَنَ لَهُ لُوط وَقَالَ ِنِّی مُهَاجِر الَی راَبِی ِنَّهُ هُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ٭ وَوَهَبْنَا لَهُ ِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْکِتَابَ وَآتَیْنَاهُ َجْرَهُ فِی الدُّنْیَا وَِنَّهُ فِی الآخِرَةِ لَمِنْ الصَّالِحِینَ ٭...٭وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا اِبْرَاهِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا ِنَّا مُهْلِکُو َهْلِ هَذِهِ الْقَرْیَةِ ِنَّ َهْلَهَا کَانُوا ظَالِمِینَ ٭ قَالَ ِنَّ فِیهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ َعْلَمُ بِمَنْ فِیهَا لَنُنَجِّیَنَّهُ وََهْلَهُ ِلاَّ امْرََتَهُ کَانَتْ مِنْ الْغَابِرِین )


پس لوط ان ( ابراہیم) پر ایمان لائے اور کہا :میں (اس دیار شرک سے ) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں،میرا ربّ عزیز اور حکیم ہے اور ہم نے اسے اسحق اور یعقوب عطا کیا اور اس کے خاندان میں نبوت اور آسمانی کتاب قرار دی اور دنیا میں اسے اس کا اجر مرحمت کیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین کے زمرہ میں ہے .اور جب ہمارے نمائندہ فرشتوں نے ابرا ہیم کے لئے (فرزند کی ولادت کی )خوشخبری دی اور انھوں نے کہا : ہم ( اپنے ربّ کے حکم سے) اس دیار کے لوگوں کو جو ظالموں کے زمرہ میں ہیں ہلاک کر دیں گے. ابراہیم نے کہا :لوط بھی وہیں ہیں، انھوں نے کہا: ہم وہاں کے رہنے والوں سے زیادہ واقف ہیں،ہم لوط اور ان کے خا ندان کونجات دے دیں گے ان کی بیوی کے علاوہ جو کہ ہلا ک ہو نے والی ہے ۔

۲۔ سورہ ٔہود کی ۶۹۔۷۶ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا اِبْرَاهِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَام فَمَا لاَبِثَ َنْ جَائَ بِعِجْلٍ حَنِیذٍ٭فَلَمَّا رََی َیْدِیَهُمْ لاَتَصِلُ الَیهِ نَکِرَهُمْ وََوْجَسَ مِنْهُمْ خِیفَةً قَالُوا لاَتَخَفْ ِنَّا ُرْسِلْنَإ الَی قَوْمِ لُوطٍ ٭ وَامْرََتُهُ قَائِمَة فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَائِ ِسْحَاقَ یَعْقُوبَ ٭ قَالَتْ یَاوَیْلَتَا ََلِدُ وََنَا عَجُوز وَهَذَا بَعْلِی شَیْخًا ِنَّ هَذَا لَشَیْئ عَجِیب٭ قَالُوا َتَعْجاَبِینَ مِنْ َمْرِ ﷲ رَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ عَلَیْکُمْ َهْلَ الْبَیْتِ ِنَّهُ حَمِید مَجِید ٭ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرَاهِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْهُ الْبُشْرَی یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ ٭ ِنَّ اِبْرَاهِیمَ لَحَلِیم َوَّاه مُنِیب ٭ یَااِبْرَاهِیمُ َعْرِضْ عَنْ هَذَا ِنَّهُ قَدْ جَائَ َمْرُ راَبِکَ وَِنَّهُمْ آتِیهِمْ عَذَاب غَیْرُ مَرْدُودٍ )

ہمارے فرشتوں نے ابراہیم کو بشارت دی (مژدہ سنایا)اور انھیں سلام کیا،ابرا ہیم نے بھی جواب سلام دیا اور (چونکہ انھیں آدمی کی شکل میں دیکھا تھا اس لئے) ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک بھنا ہوا گائے کا بچھڑا حا ضر کر دیا اور جب دیکھا کہ وہ لوگ غذا کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا تے تو انھیں نا راض سمجھا اور دل میں ان سے خو فزدہ ہوئے(فرشتوں نے ) کہا : نہ ڈرو ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں انکی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی (خو شی سے) ہنسنے لگی. پھر ہم نے اس کو اسحق کی بشا رت دی اور اسحق کے بعد یعقوب کی، اس نے کہا: اے وائے! میں ایک بو ڑھی عورت ہوں اور میرا شوہر بھی ضعیف ہے ( کیا میں بچہ پیدا کر سکتی ہوں) یہ تو بالکل عجیب سی بات ہے .فرشتوں نے کہا : کیا تمہیں حکم الٰہی میں تعجب ہورہا ؟! خدا کی رحمت اور بر کت تم گھر والوں پر ہووہ بیشک حمد و مجد اور بزرگی کا سزوار ہے اور جب حضرت ابرا ہیم کا ڈر ختم ہوگیا اور فرزند کی بشا رت مل گئی ،تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں اصرار کرنا شروع کردیا ،یقینا ابراہیم حلیم وبردوبار، دلسوزاور ہمدرد،توبہ وانا بت کر نے والے تھے ۔

اے ابرا ہیم!اس بات سے اعراض کرو کہ تمہارے ربّ کا حکم آچکا ہے ان کی طرف قطعی اور اٹل عذاب آنے وا لا ہے۔


۳۔ سورۂ ذاریات کی ۲۴تا ۳۷ ویں آیات میںارشاد ہوتا ہے:

( هَلْ َتَاکَ حَدِیثُ ضَیْفِ اِبْرَاهِیمَ الْمُکْرَمِینَ ٭ إِذْ دَخَلُوا عَلَیْهِ فَقَالُوا سَلاَمًا قَالَ سَلاَم قَوْم مُنکَرُونَ ٭ فَرَاغَ الَی َهْلِهِ فَجَائَ بِعِجْلٍ سَمِینٍ ٭ فَقَرَّبَهُ الَیهِمْ قَالَ َلٰا تَْکُلُونَ ٭ فََوْجَسَ مِنْهُمْ خِیفَةً قَالُوا لاَتَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلاَمٍ عَلِیمٍ ٭ فََقْبَلَتِ امْرََتُهُ فِی صَرَّةٍ فَصَکَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوز عَقِیم ٭ قَالُوا کَذَلِکِ قَالَ رَبُّکِ ِنَّهُ هُوَ الْحَکِیمُ الْعَلِیمُ ٭ قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ َیُّهَا الْمُرْسَلُونَ ٭ قَالُوا ِنَّا ُرْسِلْنَإ الَی قَوْمٍ مُجْرِمِینَ ٭ لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِنْ طِینٍ ٭ مُسَوَّمَةً عِنْدَ راَبِکَ لِلْمُسْرِفِینَ ٭ فََخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیهَا مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ٭ فَمَا وَجَدْنَا فِیهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ ٭ وَتَرَکْنَا فِیهَا آیَةً لِلَّذِینَ یَخَافُونَ الْعَذَابَ الَلِیمَ )

آیا ابراہیم کے معزز مہما نوںکی حکا یت تم تک پہنچی ہے ؟!جب وہ لوگ ان کے پاس آئے اور انھیں سلام کیا(اور ابراہیم نے بھی )سلام کیا اور ان سے فرمایا کہ تم لوگ ناآشنا انسان ہو.پھر اس گھڑی اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور موٹے تازے گو سا لہ کا کباب لے آئے.اور اسے ان کے پاس رکھ کر ان سے کہا: کیا تم لوگ نہیں کھاؤ گے؟.اُس وقت انھیں ان لوگوں سے خوف پیدا ہوا تو ان لوگوں نے کہا: نہ ڈرو اور انھیں ایک دانا اور عقلمند بچے (اسحق) کا مژدہ دیا.پھر ان کی بیوی شور مچاتی ہوئی آئی اپنے چہرے پر طمانچہ مارا اور بولی: میں ایک بوڑھی بانجھ عورت ہوں (کیسے بچہ پیداکر سکتی ہوں) ؟

تو انھوں نے جواب دیا!تمہا رے ربّ نے ایسا ہی فرمایا ہے.وہ حکیم اور دانا ہے.ابراہیم نے ان سے سوال کیا:اے خدا کے نمائندو! تمہارا کیا کام ہے؟جواب دیا :ہم لوگ بد کار قوم کی جانب بھیجے گئے ہیں. تاکہ ان کے سر پر مٹی اور پتھر کی بارش کریں .ایسے پتھروں سے کہ جن پر تمہارے ربّ کے نزدیک ستمگروں کے لئے نشانی لگی ہوئی ہے.اور ہم مو منین میں سے جو بھی وہاں تھا اسے باہر لے آئے. اور اس پورے علاقے میں ایک مسلم،خدا پرست گھرا نے کے ہم نے کوئی گھرانہ نہیں پا یا.اور وہاں ان لوگوں کے لئے جو خدا کے درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں نشانی اور عبرت قرار دی۔

۴۔سورۂ شعراء کی ۱۶۰تا ۱۷۳ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِینَ ٭ إِذْ قَالَ لَهُمْ َخُوهُمْ لُوط َلاَتَتَّقُونَ ٭ ِنِّی لَکُمْ رَسُول َمِین ٭ فَاتَّقُوا ﷲ وََطِیعُونِ ٭ وَمَا َسَْلُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ َجْرٍ ِنْ َجْرِی ِلاَّ عَلَی راَبِ الْعَالَمِینَ ٭ َتَْتُونَ الذُّکْرَانَ مِنْ الْعَالَمِینَ ٭ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ َزْوَاجِکُمْ بَلْ َنْتُمْ قَوْم عَادُونَ ٭ قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ یَالُوطُ لَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُخْرَجِینَ ٭ قَالَ ِنِّی لِعَمَلِکُمْ مِنْ الْقَالِینَ ٭ راَبِ نَجِّنِی وََهْلِی مِمَّا یَعْمَلُونَ ٭ فَنَجَّیْنَاهُ وََهْلَهُ َجْمَعِینَ ٭ ِلاَّ عَجُوزًا فِی الْغَابِرِینَ ٭ ثُمَّ دَمَّرْنَا الآخَرِینَ ٭ وََمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَطَرًا فَسَائَ مَطَرُ الْمُنذَرِینَ )


قوم لوط نے پیغمبروں کی تکذیب کی. جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا:کیوں تم لوگ خدا سے نہیں ڈرتے اور تقویٰ اختیار نہیں کر تے؟.میں تمہارے لئے ایک امین اور خیر خواہ پیغمبر ہوں. خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.میں تم سے اس رسالت کی اجرت نہیں چا ہتا ہوں میری اجرت صرف رب ّالعالمین کے پا س ہے.آیا تم لوگ زمانہ کے مردوں کی طرف رخ کر تے ہو اور اپنی اُن ازواج کو جنھیں خدا نے تمہارے لئے خلق کیا ہے انھیں چھوڑ دیتے ہو ؟! یقینا تم لوگ ظالم اور تجا وز پیشہ انسان ہو. انھوں نے جواب دیا:اے لوط! اگر اس کے بعد تم ممانعت کرنے سے باز نہیں آئے تو تمھیں شہر سے با ہر کر دیں گے.لوط نے کہا:میں تمہارے کام سے بیزار ہوں خدا یا! ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو ان (بُرے) کاموں سے جن کے یہ مرتکب ہوتے ہیں نجات دے.ہم نے اُسے اور اس کے تمام گھرانے کو نجات دی سوائے اُس بوڑھی عورت کہ جو پیچھے رہنے والوں میں تھی( اور اسے ہلاک ہو نا چا ہئے تھا )۔

پھر دوسروں کو ہلاک کردیااُن پر پتھروںکی بارش نازل کردی جو ڈرائے جانے والوںکے حق میں بدترین بارش ہے۔

تیسرا منظر۔ ابراہیم او ر اسمٰعیل اور تعمیر خانہ کعبہ:

۱۔ خدا وند سبحان سورۂ ابراہیم کی ۳۵۔ ۳۷ اور ۳۹۔۴۱ ویں آیات میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَإِذْ قَالَ اِبْرَاهِیمُ راَبِ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِی وَبَنِیَّ َنْ نَعْبُدَ الَْصْنَامَ ٭ راَبِ ِنَّهُنَّ َضْلَلْنَ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تاَبِعَنِی فَإِنَّهُ مِنِّی وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُور رَحِیم ٭ رَبَّنَا ِنِّی َسْکَنتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ َفْئِدَةً مِنْ النَّاسِ تَهْوِی الَیهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنْ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُونَ ٭ ٭ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ ِسْمَاعِیلَ وَِسْحَاقَ ِنَّ راَبِی لَسَمِیعُ الدُّعَائِ ٭ راَبِ اجْعَلْنِی مُقِیمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَائِ ٭ رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَاب )

اس وقت کو یاد کرو جب ابرا ہیم نے عرض کیا:خدا یا! اس شہر (مکّہ) کو جا ئے امن قرار دے اور مجھے اور میرے فرزندوں کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ، خدایا !ان لوگوں نے بہت سارے افراد کو گمراہ کیا ہے، لہٰذا جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے، تو بخشنے والا مہربان ہے، خدا یا ! میں نے اپنے بعض اہل وعیال کو بے آب وگیا ہ صحرا میں سا کن کر دیا ہے جو تیرے اس محترم گھر کے نزدیک ہے۔


خدا یا تا کہ وہ لوگ نما ز پڑ ھیں لہٰذا لوگوں کے قلوب کو اُن کی طرف مائل کر دے اور انواع واقسام کے پھلوں سے انھیں روزی عطا کر شاید صبرو شکر ادا کریں.اس خدا کی ستائش ہے جس نے ہمیں بڑھا پے میں اسمٰعیل اور اسحق سے نوازا، میرا ربّ دعا کا سننے والا ہے، خدا یا! مجھے نماز قائم کرنے والوں میں قرار دے اور میرے فرزندوں میں بھی،خدایا! میری دعا کو قبول کر، خدا یا! جس دن عدل کی میزان قائم ہو گی( جس دن حساب و کتاب ہو گا)تو مجھے اور میرے والدین اور تمام مو منین کو بخش دے۔

۲۔ سورۂ حج کی ۲۶،۲۷،۷۸ویں آیات میں ارشا د ہوتا ہے:

( وَإِذْ بَوَّْنَا لاِبْرَاهِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ َنْ لاَتُشْرِکْ بِی شَیْئًا وَطَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ ٭ وََذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَاْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ ٭...٭وَجَاهِدُوا فِی ﷲ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِیکُمْ اِبْرَاهِیمَ هُوَ سَمَّاکُمْ الْمُسْلِمینَ مِنْ قَبْلُ )

جب ہم نے ابراہیم کے لئے بیت ﷲ کی جگہ آمادہ کی اور (میں نے فرمایا)کسی چیز کو میرا شریک اور ہمتا قرار نہ دو اور ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع کرنے والوں اور سجدہ گذاروں کے لئے پاک و پاکیزہ رکھو.اور لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کروتا کہ پیادہ اور لا غر سواریوں پر سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے تمہاری طرف آئیں.اور خدا کی راہ میں جہاد کرو،ایسا جہاد جواُس کے سزاوار اور مناسب ہو.اُس نے تمھیں منتخب فرمایا ہے اور تمہارے لئے دین میں کوئی زحمت و دشواری قرار نہیں دی ہے، یہی تمہارے باپ ابراہیم کا آئین ہے کہ اس نے تمھارا پہلے ہی سے مسلمان نام رکھا ہے۔

۳۔سورۂ بقرہ کی ۲۴ تا ۱۲۹ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذِ ابْتَلَی اِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فََتَمَّهُنَّ قَالَ ِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ ٭ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وََمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ اِبْرَاهِیمَ مُصَلًّی وَعَهِدْنَإ الَی بْرَاهِیمَ وَِسْمَاعِیلَ َنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّائِفِینَ وَالْعَاکِفِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ ٭ وَإِذْ قَالَ اِبْرَاهِیمُ راَبِ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ َهْلَهُ مِنْ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِﷲ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ کَفَرَ فَُمَتِّعُهُ قَلِیلًا ثُمَّ َضْطَرُّهُ الَی عَذَابِ النَّارِ واَبِئْسَ الْمَصِیرُ ٭ وَإِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاهِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَیْتِ وَِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ِنَّکَ َنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ٭ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا ُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وََرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا ِنَّکَ َنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ٭ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیهِمْ ِنَّکَ َنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ )


جب خدا وندمنّان نے (حضرت )ابراہیم کا چند کلمات کے ذریعہ امتحان لیا اور جب وہ کامیاب ہوگئے تو خدا وند عالم نے کہا:میں نے تمھیں لو گوں کا پیشوا اور امام قرار دیا.ابراہیم نے کہا:میرے فرزندوں کو بھی؟ خدا نے کہا:میرا عہدہ ظالموں کو نہیں ملے گا .اور جب ہم نے کعبہ کو جائے امن اور لوگوں کا مرجع بنا یا اور یہ مقرر کیا کہ مقام ابراہیم کو مصلّیٰ قرار دو اور ابراہیم واسمٰعیل سے عہد وپیمان لیاکہ ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں،

اعتکاف کرنے والوں رکوع کرنے والوں اور سجدہ گزاروں کے لئے پاک وپاکیزہ رکھیں. اور جب ابراہیم نے عرض کیا:خدا یا :اس شہر کو جا ئے امن قرار دے اور وہاں کے لوگوں کو جوخدا ورسول اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں پھلوں سے رزق عطا کر خدا وند عالم نے فرمایا:جو کفر اختیار کرے گا اسے بھی دنیا میںتھوڑا بہرہ مند کروں گا،لیکن آخرت میں آتش جہنم میں جو کہ بہت برا ٹھکا نہ ہے اُسے ضرور عذاب دوں گا.اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل خانہ کعبہ کی دیواریں بلند کررہے تھے،تو انھوں نے کہا: خد ایا! ہماری خد مت کو قبول فرما کہ تو ہی سننے والا اور دانا ہے.خدایا! ہمیں اپنے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم قرار دے اور ہماری ذرّیت کو بھی اپنے سامنے سراپا تسلیم ہونے والی امت قرار دے اور ہمیں عبادت کا طریقہ سکھا اور ہم پر بخشش کر کہ تو بخشنے والا اور مہر بان ہے.خد ایا!ان کے درمیان انھیں میں سے پیغمبر بھیج تا کہ تیری آیات کی ان پر تلا وت کرے اور انھیںکتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرے بیشک تو عزیز اور حکیم ہے۔

۴۔سورۂ صافات کی ۹۹تا ۱۰۷ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَقَالَ ِنِّی ذَاهِب الَی راَبِی سَیَهْدِینِ ٭ راَبِ هَبْ لِی مِنَ الصَّالِحِینَ ٭ فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلاَمٍ حَلِیمٍ ٭ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَابُنَیَّ ِنِّی َرَی فِی الْمَنَامِ َنِّی َذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی ِنْ شَائَ ﷲ مِنْ الصَّابِرِینَ ٭ فَلَمَّا َسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجاَبِینِ ٭ وَنَادَیْنَاهُ َنْ یَااِبْرَاهِیمُ ٭ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا ِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ٭ ِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلاَئُ الْمُبِینُ ٭ وَفَدَیْنَاهُ بإِذِبْحٍ عَظِیمٍ )

ابراہیم نے کہا: میں خدا کی طرف جا رہا ہوں یقینا وہ میری ہدایت کرے گا.خدا یا! مجھے نیک اور صا لح فرزند عطا کر لہٰذا ہم نے اسے ایک حلیم و بردباراور صا بر فرزند کی بشارت دی.اور جب وہ بچہ سن رشد کو پہنچا اور ان کے ہمراہ کو شش و عمل میں لگ گیا تو ابراہیم نے کہا:اے میرے فرزند! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہاری قربانی کر رہا ہوں .تمہا را کیا خیال ہے( تمہاری رائے کیا ہے ) بیٹے نہ کہا !اے بابا:جو کچھ آپ کو حکم دیا گیا ہے اُسے انجام دیجئے انشاء اللہ مجھے صابروں میں پا ئیں گے.


اور جب دونوں ہی امر حق کے سامنے سراپا تسلیم ہوگئے اور ابرا ہیم نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے پیشانی کے بل لٹا یا.تو ہم نے اُسے آواز دی اے ابرا ہیم!تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا ؛ اور ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.یہ رو شن و آشکار امتحا ن وآزما ئش ہے.اور ہم نے اسے ذبح عظیم کا فد یہ قرار دیا ہے ۔

۵۔ سورۂ آل عمران کی ۶۵۔۶۷۔ ۶۸۔اور ۹۵ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( یا اهل الکتاب ِ لم تُحا جُّون فی ابراهیم َ و ما أُنزلتِ التَّوراة ُوالانجیلُ الّا من بعده أ فلا تعقلونَ٭...٭ ما کانَ ابراهیم ُ یهو دیّا ً و لا نصرا نیّاً و لکن کان حنیفا ً مُسلما ً و ماکان منَ المشر کینَ٭ انّ أو لی النّاس بابراهیم لَلَّذینَ اتَّبَعُوهُ وَ هٰذَا النّاَبِیُّ والَّذین آمنوا واللّٰهُ وَلِیّ المُؤمنین٭...٭قُل صَدَقَ اللّٰهُ فَا تّاَبِعوا ملّة ابراهیم َ حنیفاً وَ ماَ کَانَ مِنَ المُشْرِکینِ )

اے اہل کتاب! کیوں ابرا ہیم کے دین کے سلسلہ میں آپس میں نزاع کر رہے ہو جب کہ توریت اور انجیل اس کے بعد نازل ہوئی ہے، آیا فکر نہیں کرتے ؟!.....ابرا ہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی لیکن دین حنیف،توحید اور اسلام سے وابستہ تھے اور مشرکوں میں نہیں تھے.ابرا ہیم سے لوگوں میں سب سے زیا دہ نزدیک وہ لوگ ہیں جو ان کے پیرو ہیں اور یہ پیغمبر اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور خدا وند عالم مومنین کا سرپرست ہے .....کہو (اے پیغمبر)خدا کی بات سچی ہے( نہ کہ تمہارا دعویٰ) لھٰذا حضرت ابرا ہیم کے دین و آئین کا اتباع کرو کہ ایک پاک و پاکیزہ اور صاف ستھرا دین ہے۔ اور وہ (ابراہیم ) کبھی مشرکوں میں نہیں تھے۔

۶۔ سورۂ نحل کی ۱۲۳ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( ثُمَّ اَوحَینا اَنِ اتَّبعِ مِلَّة اِبرا هیمَ حَنیفا ً و َ ما کانَ من َ المُشر ِکین )

پھر ہم نے تم کو وحی کی کہ ابرا ہیم کے پاکیزہ آئین کا اتباع کرو کہ اُس نے کبھی خدا ئے یکتاکے ساتھ کسی کو شر یک قرار نہیں دیا:

۷۔سورۂ نساء کی ۱۲۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَمن اَحْسَنُ دِینا ً مِمَّن اَسلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِن وَ اتَّبَع مِلَّةَ اِبرا هیمَ حَنیفا ً وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ ابراهیم خَلیلاً )

اُس شخص سے بہتر کس کا دین ہے جو خدا کی طرف ما یل اور نیکو کا ر ہے اور ابرا ہیم کے پاکیزہ دین کا اتباع کرتا ہے؟ کہ خدا وند عالم نے ابرا ہیم کو اپنا خلیل اور دوست بنا یا ہے۔


چوتھا منظر، ابرا ہیم و اسحق اور یعقوب

۱۔ خدا وند سبحان سورۂ مر یم کی ۴۹ویںاور .۵ ویں آیات میں رشاد فرما تا ہے:

( فَلَمّا اعتَزَ لَهُم وَ ما یَعبدونَ مِن دُون اللّٰهِ وَهَبنا لَهُ اِسحا قَ وَ یَعقُوبَ وَ کُلّا ً جَعَلنا نَبیّاً٭...وَجَعَلنا لهُم لَسَان صِدقِِ علیّاً )

جب ابرا ہیم نے اُن سے اور جن کو وہ خدا کی جگہ پوجتے تھے، ان سب سے کنارہ کشی اختیا ر کی اور ہم نے اسے اسحق اور یعقوب سے نوازا اور سب کو نبی بنا یا. اور ایک شہرہ آفاق ذکر خیر انھیں عطا کیا۔

۲۔سورہ ٔانبیا ء کی ۷۲ویں اور ۷۳ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَوَهبنا لهُ اسحاقَ وَ یَعقُوبَ نا فلةً وَ کُلّاً جَعَلنَاصَالِحین٭وَجَعَلنَا هُم ائمةً یَهدونَ بِامرِناَ وَاوَحَینَا اِلیهَمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَاِقَامَ الصَّلاةِ وّاِیتائَ الزَّکَاة وَکَانُوا لَنا عَابِدینَ )

اور ہم نے اُس (ابرا ہیم ) کو اسحق اور یعقوب عطا کیا اور سب کو صا لح قرار دیا اور اُن سب کو پیشوا بنایا تا کہ( لوگوں کو ) ہمار ے امر کی طرف ہدایت کریں اور امور خیر، نما ز قائم کرنے اور زکو ة دینے کی انھیں وحی کی؛ اور وہ سب کے سب ہمارے عبادت گز ار تھے ۔

۳، سورۂ مر یم کی ۵۸ ویں آیت میں ارشا د ہوتا ہے:

( أُوْلٰئِکَ الّذ ین اَنعمَ اللّٰه عَلیهِم منَ النَّبیِّنَ من ذُرِّ یَّةِ آدَمَ وَمِمَّن حَمَلنَامع نُوح ٍ وَمِن ذُ رِّ یَّةِ اِبرا هِیم وَاِسرٰا ئیل... )

یہ وہ لوگ ہیںجن پر خدا وند عالم نے انعام کیا ہے وہ اولا د آدم ہیں اور ان کی اولا د سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ہمرا ہ کشتی میں بٹھا یا اور ابرا ہیم و یعقوب ( اسرا ئیل) کی اولا د ہیں۔


کلمات کی تشریح

۱۔ حنیفا ً:

حنیف!ایسے مخلص انسان کو کہتے ہیں جو خدا کے اوامر کے سامنے سراپا تسلیم ہواور کسی مورد میں بھی اس سے رو گرداں نہ ہو،وہ شخص جو گمرا ہی کے مقابل راہ راست کو اہمیت دیتا ہو۔

حنف:

گمرا ہی سے راہ راست کی طرف ما ئل ہو نا۔

جنف:راہ ِ راست سے گمرا ہی کی طرف ما ئل ہو نا۔

۲۔راغ :

راغ ؛ رخ کیا، متو جہ ہوا ۔

۳۔ یز فّون:

زفّ؛جلدی کی، یزفّون جلد ی کر تے ہیں۔

۴۔ اُفّ :

نفرت اور بیزاری کا تر جما ن ایک کلمہ ہے۔

۵۔ جذاذا ً: جذَّہ ؛اُسے توڑ ا اور ٹکڑ ے ٹکڑ ے کر دیا۔


۶۔ بُھِت:

بھت الرجل؛ حیرت زدہ ہو گیا،ششدر ہو گیا،دلیل وبرہان کے سامنے متحیر وپر یشان ہو گیا۔

۷۔ بوّانا:

بوّاہ منز لا ً؛اُ سے نیچے لا یا. بوّأ المنزل :اس کے لئے ایک جگہ فراہم کی۔

۸۔ ضا مر:

ضمر الجمل لا غرو کمزور اور کم گو شت اور کم ہڈ ی والا ہو گیا. ضا مر یعنی لا غڑ اونٹ۔

۹۔ فجّ عمیق

الفجّ؛وسیع اور کشادہ راستہ۔

۱۰۔ مثا بہ :

المثا ب والمثا بة: گھر،پناہ گاہ۔

۱۱۔ تلّہ:

اُسے منھ کے بل لٹا یا۔

۱۲۔ قا نتا ً :

قنت للّٰہِ ؛ اُس نے فرما نبرداری کی اور خدا وند عالم کی طولا نی مدّت تک عبادت کی۔


۱۳۔ اوّاہ :

الاوّاہ:ثرت سے دعا کر نے والا،رحیم ، مہر بان اور دل کا نازک اور کمزور۔

۱۴۔ منیب :

بہت زیادہ توبہ کر نے والا۔

ناب الیہ :

بارھا اس کی با رگاہ کی طرف رخ کیا ناب الی اللہ: تو بہ کیااور خدا کی طرف متو جہ ہوا۔

۱۵۔ صرّة: الصّرة:

چیخ پکار۔

۱۶۔ فصّکت:

صکّت، یہ پر یعنی تعجب اور حیرت سے اپنے چہرے پر طما نچہ ما را۔

۱۷ ۔ نافلة:

زیادہ، اضافہ۔

منجملہ وہ معانی جو اس بحث کے لئے منا سب ہیں وہ یہ ہیں: حد سے زیادہ نیکی ،جس کو پسند کیا ہو ، فرزند اور فرزند کی اولا د چو نکہ فرزند پر اضا فہ ہے۔

۱۸۔ اسرا ئیل:

اسرائیل حضرت یعقو ب پیغمبر کا لقب تھا اسی لئے حضرت یعقو ب کی اولا د کو بنی اسرا ئیل کہتے ہیں( ۱ )

____________________

(۱) ۔ قاموس کتاب مقدّس: لفظ اسرائیل۔


گزشتہ آیات کی تفسیر میں قا بل تو جہ مقا مات ( موارد) اور حضرت ابرا ہیم خلیل اللہ کی سرگذشت کا ایک منظراور عقا ئد اسلام پیش کرنے میں انبیا ء علیہم السلام کا طریقہ

پہلا منظر، ابرا ہیم اور مشر کین:

حضرت ابرا ہیم کی جائے پیدائش با بل میں خدا وند وحدہ لا شریک کی عبادت کے بجائے تین قسم کی درج ذیل پرستش ہوتی تھی:

( ۱ ) ستاروں کی پرستش( ۲ ) بتوں کی پرستش( ۳ ) زمانے کے طاغوت (نمرود) کی پرستش۔

حضرت ابرا ہیم نے مشر کین سے احتجاج میں صرف عقلی د لا ئل پر اکتفا ء نہیں کیا (ایسا کام جسے علم کلام کے دانشوروں نے فلسفہ یونانی کی کتابوں کے تراجم نشر ہونے کے بعد، دوسری صدی ہجری سے آج تک انجام دیا ہے اور دیتے ہیں) اور آپ نے اپنے د لائل میں ممکن الوجود، واجب الوجود اور ممتنع الوجود جیسی بحثوں پر تا کید نہیں کی بلکہ صرف حسی د لا ئل جو ملموس اور معقول ہیں ان پر اعتماد کیا ہے جن کو ہم ذیل میں بیان کر رہے ہیں،تو جہ کیجئے:

۱ ۔ ابرا ہیم اور ستارہ پر ست افراد :

ابرا ہیم خلیل اللہ نے ستارہ پر ستوں سے اپنے احتجاج میں آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھایا.سب سے پہلے اُن سے فرما یا: تم لو گ تو پُر نور اشیاء کو اپنا رب تصور کر تے ہو، چا ند تو ان سے بھی زیادہ روشن اور نورا نی ہے لہٰذا یہ میرا پروردگا ر ہو گا ؟!

یہ تدریجی اور طبیعی و محسوس اور معقول بات ہے اور یہی امر زینہ بہ زینہ یہاں تک منتہی ہوتا ہے کہ ان کے اذہان چاند سے سورج کی طرف متو جہ ہوجا تے ہیں.اور ابرا ہیم فر ما تے ہیں: یہ میرا ربّ ہے یہ تو سب سے بز رگ اور سب سے زیا دہ نو را نی ہے ؟! خورشید( سورج ) کی بزرگی اور نورانیت سورج کے ڈوبنے اور اس کے نور کے ز ائل ہو نے کے بعد ستا رہ پرستوں کے اذ ھا ن کو اس بات کی طرف متو جہ کر تی ہے کہ ز ائل و فنا ہو نے وا لی چیز لا ئق عبادت نہیں ہے. یہاں پر ابرا ہیم فرماتے ہیں:

( اِنّی بَرِیٔ مِمّٰا تُشرِ کُون٭اِ نّی وَجّهْتُ وَ جْهِیَ لِلََّذی فَطرَ السِّمٰواتِ وَ الْاَرْضِ... )

اے گروہ مشر کین! میں اُس چیز سے جسے تم خدا کا شر یک قرار دیتے ہو بیزار ہوں .میں نے تو خالص ایمان کے ساتھ اس خدا کی طرف رخ کیا ہے جو زمین وآسما ن کا خالق ہے ۔


۲۔ابرا ہیم بت پر ستوں کے ساتھ:

بُت پرست بتوں کو پکا ر تے تھے اور اُن سے بارش کی درخواست کرتے تھے اور خود سے دشمنوں کو دور کرنے کے بارے میں اُن سے شفا عت اور نصرت طلب کرتے تھے اور ان کی جانب رخ کر کے پوشیدہ اور خفیہ دونوں طر یقوں سے اپنی حا جتوں کو طلب کر تے تھے !

یہاں اُن بتوں کی بے چا رگی اور ناتوانی ظاہر کر نے کے لئے وہ بھی بت پرستوں کے یقین و اعتقادات میں، ان بتوں کو توڑنے سے بہتر کو ئی دلیل نہیں تھی اور ان کے اعتقادات کا مذا ق اڑ انے کے سوا کوئی چا رہ نہیں تھا۔

تو حید کا علمبردار اسی را ستہ کو اپنا ئے ہوئے آگے بڑ ھا اور نہا یت غور وخوض کے سا تھ بتوں کو توڑ ڈا لا اور انھیں ٹکڑ ے ٹکڑے کر ڈ الا اور آخر میںاپنی کلہاڑی کو بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا!

جب بت پر ست اپنے عید کے مرا سم سے لو ٹے اور بتو کو ٹو ٹا پھو ٹا اوربکھرا ہوا پایا تو ایک دوسرے سے سوال کیا کہ:کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے؟ سب بو لے ! ہم نے ایک نو جو ان کے بارے میں سنا ہے کہ وہ ان کا مذا ق اڑا تا ہے. اور اُسے ابرا ہیم کہتے ہیں!

سب نے کہا :

( فَأتُوا بِه عَلیٰ اَعیُن النَّاسِ لَعلّهمْ یَشْهَدُون )

لوگو کے سا منے اور جما عت کے حضور اُ سے حا ضر کیا جا ئے تا کہ سب اس کا م سے متعلق گوا ہی دیں.اور جب ا براہیم کو حا ضر کیا گیا اور اُن سے پو چھا گیا۔

( أ أنْتَ فعَلتَ ھَذا بآ لِھَتنا ےَااِبرا ھیم٭ قا لَ بَلْ فَعَلَہُ کبیرُ ھُمْ ھذا فاسئلوھُم اِنْ کَانُوا ےَنطِقُون)

اے ابراہیم آیا تم نے ہمارے خدا ؤں کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے؟ ابرا ہیم نے مقام احتجاج میں کہا: بلکہ ایسا ان کے بڑے نے کیا ہے.تم لو گ ان بتوں سے سوال کر و، اگر بو لتے ہیں تو۔


ابرا ہیم کی دلیل نہایت قا طع اور روشن دلیل تھی کامیاب ہوگئی .مشر کین اپنے آپ میں ڈوب گئے (دم بخود ہوگئے ) اور اپنے آپ سے کہنے لگے:

( انکم انتم الظالمون )

تم لو گ خود ظالم ہو نہ ابرا ہیم کہ جس نے بتوں کو توڑا ہے.

پھر انھوں نے سر جھکا لیا اور لا جواب ہوگئے، وہ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ بت جواب نہیں دیں گے۔وہ لوگ حضرت ابرا ہیم کی دلیل کے مقا بلے میں عا جز ہوگئے اس لحا ظ سے کہ بت اپنے دفاع کرنے سے عا جز اور بے بس ہیں، چہ جائیکہ لو گوں کو نفع پہنچا ئیں؟

( فَمَاکَانَ جَوابَ قَومِه اِلَّا أنْ قَالوا اقتلُوهُ أَ وْ حَرِّ قوه)...(وَ قَا لُو ا ابنوُا لهُ بنُیا نا ً فَأَ لْقُو هُ فِی الجَحِیم )

لہٰذا (ابرا ہیم کی ان تمام نصیحتوں اور مواعظ کے بعد ) ان کی قوم نے صرف یہ کہا:اسے قتل کر ڈ الو یا آگ میں جلا ڈ الو، اس کے علاوہ انھوں نے کوئی جواب نہیںدیا...قوم نے (ان کی حجت اور برہان کو سنی ان سنی کردیا ...) اور کہا : اس کے لئے کوئی آتش خا نہ بنانا چاہئیے اور اسے آگ میں جلا دینا چاہئے اور سب نے کہا:

( حَرِّ قُو هُ و اْنْصُر واْ آلِهتکم اِن کُنتُم فَاعِلین ٭قُلنَا یَا نَارُ کُونِی بَرداً وَ سَلاماً عَلٰی اِبرٰاهیم٭ وَ اردوا بِه کیدا ً فجَعلنَاهُمُ الْا َٔخَسِرین )

اسے جلا ڈالو اور اپنے خداؤں کی نصرت کرو اگر( خداؤں کی رضا یت میں ) کچھ کر نا چا ہتے ہو،اس قوم نے عظیم اور زبردست آگ روشن کی اور اس میں ابرا ہیم کو ڈا ل دیا.ہم نے خطا ب کیا کہ : اے آگ! ابراہیم کے لئے سرد وسلا مت ہو جا۔ وہ لوگ ان سے مکر وحیلہ اور کینہ وکدورت کر نے لگے تو ہم نے ان کے مکرو حیلے کو با طل کر دیا اور انھیں نقصان میں ڈال دیا ۔

۳۔ ابرا ہیم اور ان کے زمانے کے طا غوت.

ابرا ہیم نے اپنے زمانے کے طا غوت نمرود ( جس کی حکو مت کا دائرہ نہایت وسیع تھا)اور ربوبیت کا ادّعا کر تے ہوئے احتجا ج کیا. خدا وند عالم نے فر ما یا:


( َٔ لَمْ تَرَ اِلیَٰ اَلّذی حَا جَّ ا برا هیمَ فِی راَبِه أنْ آتاهُ اَللّٰه ُاَلمُلکَ )

کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جسے خدا وند عالم نے ملک دیا تھا ، اُس نے ابرا ہیم سے پروردگار کے بارے میں احتجا ج کیا۔

جیسا کہ قرآن کا شیوۂ بیان ، اس احتجاج سے عبرت حاصل کرنا ہے، لہٰذا خدا اس کے بعد فرماتا ہے :

( اإِذْ قَالَ ااِبْرَاهِیم راَبِیَ الّذِی یُحیِیْی وَیُمِیْت )

جب ابراہیم نے (نمرود سے) کہا :میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور ما رتا ہے(موت دیتا ہے )۔

یہ با ت نمرود کے ادعائے ربو بیت کے مقابلہ میں بیان کی گئی ہے، اس کے بعد قرآن نے نمرود کی ابراہیم کے مقابل گفتگو کو بیان کیا ہے :

( ٔنَا اُحیِی وَاُمیتُ )

میں بھی زندہ کرتا ہو اور ما رتا ہوں۔

فوراً ہی حکم دیتا ہے کہ ایک آزاد انسان پکڑ کر اسے قتل کردیا جائے اور قتل کے مجر م کو آزاد کر دیں! اس نے اپنے خیا ل میں جو دعویٰ کیا اسے ثا بت کردیا. یہاں پر حضرت ابراہیم نے نمرود سے عقلی احتجاج نہیں کیا کہ ایک بے گنا ہ کا قتل کرنا اور اسی طرح موت کی سزا کے مستحق کو زندہ چھوڑ نا حقیقی طور پر ما رنا اور زندہ کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرا محسوس اور معقول احتجاج پیش کیاکہ :

(..( .فَإِنَّ ﷲ یَاْتِی بِالشَّمْسِ مِنْ الْمَشْرِقِ فَْتِ بِهَا مِنْ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِی کَفَرَ ) ..)

''خدا وند عالم مشرق سے آفتاب نکا لتا ہے ، تم اسے مغرب سے نکا ل دوتو وہ کافر ششدر ومبہوت ہو کر رہ گیا!''( سورۂ بقرہ،آیت ،۲۵۸ )۔

حضرت ابرا ہیم خلیل الرحمن مشرکین سے اپنے احتجاج میں اسی طرح محسوس اور معقول دلا ئل کا استعمال کرتے ہیں جس طرح دیگر پیغمبروں نے بھی اپنے زمانے کے مشر کین سے بحث و احتجاج کے موقع پر اسی روش سے استفادہ کیا ہے۔


قرآن کر یم بھی جب تمام لو گوںسے گفتگو کرتا ہے یا مشرکین کے مختلف طبقے کو مخا طب قرار دیتا ہے تو یہی را ستہ اپنا تا ہے اور استدلال کرنے میں صرف فلا سفہ اور دانشو روں پر اکتفا ء نہیں کر تا مثال کے طور پر سورۂ حج کی ۷۳ ویں آیت میں تمام انسانوں کے لئے محسوس اور معقول مثال دیتا ہے:

( یاَ اَیُّهَاالنَّاس ضُرِبَ مَثل فا سْتَمِعوُالهُ اِنَّ الّذینَ تَدعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لَنْ یخْلُقو اْ ذباباً )

''اے لوگو! ایک مثا ل دی گئی ہے، اس کی طرف تو جہ دو:جن بتوں کو تم لوگ خدا کے بد لے پوجتے ہو،وہ کبھی ایک مکھی بھی خلق نہیں کر سکتے۔

خداوندعالم نے جو مثال پیش کی ہے اُس میں ایک کثیف اور گندے حشرہ (مکھی) کی بات ہے کہ سب ہی اُس سے نفرت کر تے ہیںاور وہ ہر جگہ پا ئی جا تی ہے. وہ فر ماتا ہے:

جن بتوں کی خدا کی جگہ عبادت کر تے ہو'' تا کہ تمہاری ضرورتوں کو پو ری کریں، وہ مکھی کے مانند کثیف اور پست حشرہ کے پیدا کرنے سے بھی عا جز ہیں اور اس کو لفظ(لن) یعنی ہر گز سے تعبیر کیا ہے تاکہ ایسی توانائی کوان سے ہمیشہ کے لئے نفی کر دے .پھر عبادت کئے جا نے وا لے جعلی اور خود ساختہ خداؤں کی عاجزی اور نا توانی کی زیادہ سے زیادہ تشریح کر تے ہوئے فرماتا ہے:

( وَ اِِنْ یَسْلُبْهُم الذُّ بابُ شَیْئاً لٰا یَسْتَنقذ وُه مِنه )

''اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے لے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے ''

اگر یہ مکھی اپنے چھوٹے اور معمولی ہو نے کے با وجود ( زمانے کے طا غوت)فرعون کا خون یا وہ گائیں کہ جن کی ہندو پو جا کر تے ہیں(اور انسانوں کے ایسے دیگر خدا ) اگر اپنی حد میں ان کا تھوڑاسا خون چوس لے تو وہ خود ساختہ خدا ا س بات پر قادر نہیں ہے کہ اس معمولی اور کثیف حشرہ سے اپنا حق واپس لے لیں! اس وقت مطلب کو مزید شد ومد کے ساتھ بیان کر تے ہوئے فر مایا :

( مَا قَدَرُوا اللهَ حقَّ قَدره )

ان ضیعف اور ناتواں بندوں نے خدا کو جیسا کہ حق ہے اُس طرح نہیں پہچانا ہے. کیونکہ انھوں نے اُس خدا کا جو زمین اور آسما نوں کا خا لق ہے ذلیل و خوار ، ضیعف و ناتواں مخلوق کو شریک قرار دیاہے!


خدا وند عالم اور اس کے پیغمبروں کا احتجاج اسی طرح کا ہے ان کے احتجاج میں علماء علم کلام کی روش جو ان کے تا لیفا ت میں ذکر ہوئی ہے دکھا ئی نہیں دیتی یقینا کو نسی روش اور طریقہ بہتر ہے جس کا مناظرہ اور احتجاج کے موقع پر استعمال کیا جائے؟!

حضرت ابرا ہیم نے اپنی جا ئے پیدائش بابل میں،ستارہ پرستوں،بُت پرستوں اور زمانے کے طاغوت

( نمرود) سے مقابلہ کیا ،شام میں کنعا نیوں کی سرزمین کی طرف ہجرت کر نے کے بعد وہاں پر بھی درجہ ذیل داستان پیش آئی ہے:

دوسرا منظر۔ قوم لوط کی داستان میں ابرا ہیم کا موقف.

خدا وند عالم سورۂ عنکبوت کی ۲۶ ویں آیت میں ارشاد فر ما تا ہے:

( فآ مَن له لوط... )

لوط ان (ابرا ہیم ) پر ایمان لائے''

اس آیۂ کریمہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت لوط نے حضرت ابرا ہیم خلیل اللہ کی شریعت پر عمل کیا اور خدا وند عا لم نے انھیں ایسے دیار میں مبعوث کیا جہاںبُرے افعا ل انجام دئیے جاتے تھے تا کہ وہاں جا کر حضرت ابر اہیم کی شریعت کی تبلیغ کریں۔

کیو نکہ خدا وند عالم سورۂ صافات کی ۱۳۳ ویں آیت میں ارشاد فرما تا ہے:

( واِنَّ لُوطَاًًلِمَن المُرسَلِین )

''لوط پیغمبروں میں سے تھے '' منجملہ ابرا ہیم کی لوط سے خبر کے متعلق ایک بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے قوم لو ط پر عذاب الٰہی کے نزول کے مسئلہ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے. جو قرآن کریم میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

الف: سورئہ عنکبوت کی ۳۲ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَ قَالَ ِنَّ فِیهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ َعْلَمُ بِمَنْ فِیهَا لَنُنَجِّیَنَّهُ وََهْلَهُ ِلاَّ امْرََتَهُ کَانَتْ مِنْ الْغَابِرِینَ َ )

(ابرا ہیم نے قوم لوط پر عذاب کے ما مور فرشتوں سے) کہا :


لوط اس علا قہ میں ہیں.انھوںنے جواب دیا کہ ہم وہاں کے رہنے والوں کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ لوط اور ان کے خاندان کو ہم نجات دیںگے سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ ہلا ک ہونے والوں میں سے ہے۔

ب۔ سورۂ ہود کی ۷۴ ۔ ۷۶ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرَاهِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْهُ الْبُشْرَی یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ ٭ ِنَّ اِبْرَاهِیمَ لَحَلِیم َوَّاه مُنِیب ٭ یَااِبْرَاهِیمُ َعْرِضْ عَنْ هَذَا ِنَّهُ قَدْ جَائَ َمْرُ راَبِکَ وَِنَّهُمْ آتِیهِمْ عَذَاب غَیْرُ مَرْدُودٍ )

جب حضرت ابرا ہیم سے خوف دور ہو گیا اور ان کے لئے بشارت آگئی،تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔

ابراہیم بہت زیادہ صا بر، گریہ وزا ری کر نے والے اور تو بہ کر نے والے تھے اے ابراہیم!اس سے درگذر کرو کہ تمہارے ربّ کا حکم آچکا ہے اور ان کے لئے نا قابل بر گشت عذاب آچکا ہے.جس بحث کے بارے میں خدا وند عالم نے خبر دی ہے وہ بحث ابراہیم اور عذا ب پر ما مور فرشتوں سے تھی اور ایسا اس وقت ہوا جب فرشتوں نے حضرت کو آگا ہ کر دیا تھا تا کہ خدا وند عالم نے انھیں قوم لوط کو ہلا ک کر نے کے لئے ما مور کیا ہے.ابرا ہیم نے ان سے سوال کیا :اگر اس شہر کے درمیان مسلما نوں کا کو ئی گروہ ہو گا، پھر بھی وہاں کے لوگوں کو ہلاک کر دو گے؟

ایک روایت میں مذ کور ہے کہ!

حضرت ابرا ہیم نے سوال کیا:

اگر وہاں پچاس آدمی مسلمان ہو گے تب بھی ہلا ک کر دو گے؟

فرشتوں نے جواب دیا:اگر پچاس آدمی ہوں گے تو نہیں ۔

پو چھا:اگر چا لیس آدمی ہوں تو؟

جواب دیا : ا گر چا لیس آدمی ہو تو بھی نہیں۔

سوال کیا : اگر تیس آدمی ہو تو؟

فرشتوں نے کہا: اگر تیس آدمی ہو تو بھی نہیں۔


اسی طرح سلسلہ جا ری رکھا یہاں تک کہ پو چھا اگر ان کے درمیان دس آدمی مسلما ن ہو تو کیا کرو گے ؟ ۔

فرشتوں نے جو اب دیا:حتیٰ اگر ان کے درمیان دس آدمی بھی مسلما ن ہو گے تو بھی ہم انھیں ہلاک نہیں کریں گے۔

قرآن کے اسی جملہ سے کہ قرآن فرما تا ہے!

( قاَلَ اِنّ فِیهَالُوطاًً )

معلوم ہوتا ہے کہ صرف حضرت لوط تھے اور فرشتوں نے کہا تھا کہ اگر ایک مسلما ن بھی ہو گا تو اسے عذاب نہیں کر یں گے ،اسی وجہ سے ابرا ہیم نے ان سے فرمایا: لوط ان کے درمیان ہیں اور فرشتوں نے بلافاصلہ جواب دیا اسے ہم نجا ت دیں گے. جس ہمدردی اور مہر بانی کا اظہار حضرت ابراہیم نے حضرت لوط کی قوم سے متعلق کیا ہے اور جو کو شش آپ نے ان سے عذا ب دور کر نے کے لئے کی اس کے نتیجے میں وہ خدا وند متعال کی تمجید اور تعریف کے مستحق قرار پائے ۔

خدا وند متعال نے فرما یا کہ :

( انَّ اِبراهیم لَحَلیم اَوَّاه مُنیب )

تیسرا منظر۔ ابرا ہیم اور اسمٰعیل کی خبر خانہ کعبہ کی تعمیر اور حج کا اعلا ن کر نا

سارہ، ابرا ہیم کی زوجہ اور ان کی خا لہ زا د بہن تھیں.(چونکہ حضرت ابر اہیم سے ان کی کو ئی اولا د نہیں تھی) انھوںنے اپنی کنیز ہاجرہ کوا براہیم کو بخش دیا تا کہ ان سے سکون حاصل کریںپھر،ہا جر ہ حاملہ ہوئیں اور اسمٰعیل پیدا ہوئے۔

ہا جرہ اور اسمٰعیل کے دیدار سے رشک اور حسد سارہ کے دل میں پیدا ہو گیا لھٰذا انھوں نے اپنے شو ہر ابراہیم سے خواہش کی کہ ہاجرہ اور اپنے فرزند اسمعٰیل کو ان کی نگا ہ سے دور کر دیں اور ان دونوں کو ناقابل زراعت سر زمین پر ساکن کر دیں. خدا وندعالم نے بھی ابراہیم کو حکم دیا تا کہ اپنی بیوی سارہ کی خواہش کو پو ری کریں۔


ابراہیم نے ہاجرہ اور اسمعٰیل کو اپنے ہمراہ لیا اور صحرا کی طرف چل پڑے.وہ جب بھی قابل زراعت سر زمین سے گذرتے اور وہاں اترنے کا قصد کرتے تووحی خدا کے امین جبرئیل مانع ہو جا تے یہاں تک کہ ''فاران '' کی سرزمین مکّہ میں جو کہ پہاڑوں کے درمیان واقع ہے ،سیاہ پتھر وں سے گھری ہوئی،ناقابل زراعت اور بے آب و گیاہ زمین پر بیت اللہ الحرام سے نزدیک اور ایک ایسی جگہ جو حضرت آدم اور دیگر انبیاء کا محل طواف ہے پہنچے ، ایسی جگہ پر جبرائیل نے اُن سے خواہش کی کہ اسی جگہ رک جائیں(پڑاؤ ڈا ل دیں) اور ساز وسامان اتا ر دیں ابرا ہیم نے حکم کی تعمیل کی اور بیوی بچے کو وہاں پر اتار دیا ا ور کہا :

( رَبّنَااِنّیِ اَسْکَنْتُ ذُرّ یّتی بِوادٍٍغِیرذِی زرعٍ عِندَ بَیتِکَ المُحرّم رَبّنَا لِیُقِیمُوا الصَّلَا ةَ فَاجعَل أفئدَة ًمِن النَّاسِ تَهوِیٰ اِلیهِم )

خدایا! میں نے اپنی بعض ذرّیت کو نا قابل زراعت وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس ٹھہرایا ہے ،خدا یا ! تا کہ نما ز قا ئم کریں،لہٰذا بعض لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف ما ئل کر دے۔

ابرا ہیم نے ان دونوں کو ایک جگہ چھوڑا اور اپنے گھر شام واپس ہوگئے۔

ہاجرہ جتنا پا نی اپنے ہمراہ لا ئی تھیں سب تمام ہو گیا اور دودھ بھی خشک ہو گیا اور حجاز کی مہلک گرمی سے بے گنا ہ بچے کے چہرے پر موت کے آثار نمایاں ہو نے لگے بچہ پیا س کی شدت سے زمین پر ایڑی رگڑ رہا تھا اور ہاجرہ گھبرائی ہوئی ہر طرف چکر لگا تی تھیں اور دیوانہ وار صفا نامی پہاڑ کی طرف دوڑ نے لگیں اور وہاں سے اوپر بلندی پر گئیں تا کہ پہاڑ کے اس طرف درّہ میں کسی کو دیکھیں،لیکن جب کسی کو نہیں دیکھا اور ان کے کا نوں میںکوئی آواز نہیں آئی تو صفا سے نیچے آئیں اور مروہ (پہاڑ) کی طرف رخ کیا اور اس کے بھی اوپر گئیں انھوں نے ان دونوںصفا و مروہ نامی پہاڑوں کے درمیان سات بار رفت وآمد کی اور ہر نوبت میں جب اپنے بچے کے روبرو پہنچتیں تو اپنے قدموں کو تیزی کے ساتھ اٹھا تیں،پھر سا تویںبار دو پہاڑوں کے درمیان سعی وتلا ش کے بعد اپنے بچے کے پاس لوٹ آئیں تا کہ اس کے حال اور کیفیت سے آگاہ ہوں، انہوں نے انتہائی تعجب کے ساتھ دیکھا کہ بچے کے پاؤں کے نیچے پا نی جاری ہے.پھر انھوں نے تیزی کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے پانی کے چاروں طرف مٹی سے گھیر دیا اور اسے بہنے سے روک دیا پھر اس پانی کو خود بھی نوش کیا اور بچے کو بھی سیراب کیا اور اسے دودھ پلا یا۔


ابھی زیادہ دن نہیں گذرے تھے کہ '' جرھم'' نامی قبیلہ کا ایک قافلہ اس طرف سے عبور کر رہا تھا وہ لوگ مکّہ کی فضا میں پرندوں کے وجود کی علت کی تلاش میں لگ گئے کہ جس سے نتیجہ نکالا کہ اس تپتی سر زمین پر پانی ضرورموجود ہے ، لھٰذا ہاجرہ اور آپ کے فرزند( اسمٰعیل ) کے دیدار کے لئے آئے اور اس خاتون سے اجازت طلب کی کہ ان کے نزدیک پڑاؤ ڈالیں اور سکونت اختیار کریں، ہاجرہ نے ان کی درخواست قبول کر لی۔

ایک مدت گذر گئی اور اسمٰعیل بڑئے ہوگئے اور جر ہم قبیلہ کی ایک لڑ کی سے ازدواج کیا، ان کے والد ابرا ہیم ان کے دیدار کے لئے آئے.خدا وند عالم نے بھی حکم دیا کہ کعبہ کی تعمیر کریں۔

ابراہیم نے اپنے بیٹے اسمٰعیل کی مدد سے کعبہ کی تعمیرکی اور خدا وند عالم نے بھی انھیںمنا سک حج کی تعلیم دی. ابراہیم نے اسی حال میں یعنی کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے اپنے ربّ سے درخواست کی ۔

( رَبّناَوَاجَعلنَا مُسلِمینِ لَکَ وَمِنْ ذُرّیَّتِنَا أُمَّةًمُسلِمَة ً لَکَ )

پروردگا ر!ہمیں اپنے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم قرار دے اور ہمارے فرزندوں کو بھی اپنے سامنے سراپا تسیلم قرار دے۔

اور کہا:

( راَبِ اجعَلنِی مُقیم الصَّلاة وَمِنْ ذُ رِّ یَّتی )

خدایا ! ہمیں اور ہماری ذریت کو نماز گذار قرار دے۔

پھر اس وقت اپنے فرزندوں سے اس انداز میں وصیت کی:

( اِنَّ اللّٰهَ اِصطَفیٰ لَکُمُُ الدِّ ین فَلا تَمُو تُنَّ اِ لاَّ وََ أَنتُمْ مُسلِمُون )

خدا وند عالم نے اس دین کو تمہارے لئے منتخب کیا ہے لہٰذا نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو. (یعنی موت آئے تو حالت اسلام میں آئے)


کعبہ کی تعمیر تمام ہو نے کے بعد ،حضرت ابراہیم اپنے فرزند اسمٰعیل کے ہمراہ مناسک حج کی ادائیگی کے قصد سے روانہ ہوگئے ؛جب یہ دونوں حضرات عرفات سے منٰی کی طرف واپس ہوئے ،حضرت ابراہیم نے اپنے فرزند اسمٰعیل کو اطلا ع دی کہ میں نے خواب میںدیکھا ہے کہ تمھیں ذبح کر رہا ہوں (اور چونکہ پیغمبروں کاخواب ایک قسم کی وحی ہے ) لہٰذا اپنے فرزند سے ان کا نظریہ جاننا چا ہا ۔

اسمٰعیل نے کہا:

( یاَاَبَتِ اِفْعَل مَا تُؤمَرُ سَتَجِدُ نِی اِنشَاء اللّٰه مِنَ الصَّابِرین )

بابا! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اُس کی تعمیل کیجئے انشاء اللہ مجھے صابروں میں پا ئیں گے۔

ابرا ہیم نے بیٹے کوزمین پر لٹا یا اور ذبح کرنے کے قصدسے ان کے حلقوم پر چھری چلادی،لیکن حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ چھری سے حضرت اسمٰعیل کا سر نہیں کٹا اس حال میں خدا وند عالم نے انھیں آواز دی :

( یَااِبراهیمُُ قَد صَدَّقْتَ الرُّؤیا )

اے ابرا ہیم!تم نے عالم رویا کی ذمّہ داری نبھا دی۔

کیو نکہ حضرت ابرا ہیم نے خواب میں دیکھا تھا کہ بیٹے کا سر کا ٹ رہے ہیں نہ یہ کہ اسمٰعیل کا سر کاٹ چکے ہیں ،اس لحاظ سے انھوں نے خواب میں جو کچھ دیکھا تھا انجام دیا تھا.خدا وند عالم نے بھی ایک گوسفند جبرائیل کے ہمراہ اس کی قربانی کے لئے روانہ کیا اور ابراہیم نے اُس گوسفند کا سر کا ٹا اور منا سک حج کو اختتام تک پہنچایا۔

حضرت ابراہیم کے گزشتہ امور کی انجام دہی کے بعد خدا نے انھیںحکم دیا کہ اعلان کریں اور لوگوں کو حج کی دعوت دیں تا کہ وہ لو گ دور داراز سے لا غر اور کمزور اونٹ پر سوارہو کر خانہ خدا کی زیارت کو آئیں.اس طرح سے بیت اللہ الحرام کا حج ابراہیم کی حنیفیہ شریعت کی اساس قرار پا یا اور ایک ملت کا ستون بن گیا .کہ جس کے بارے میں خدا وند متعال نے ارشاد فرمایا ہے:

( فَا تّاَبِعُوا مِلَّة اِبرا هیمَ حَنیفاً )

ابرا ہیم کے پاکیزہ اور صاف ستھرے آئین کا ا تباع کرو۔


جب حضرت ابراہیم خلیل ﷲ مذکورہ مرا حل سے گذر چکے تو خدا وند سبحان نے انھیں لو گوں کا امام اور پیشوا بنا دیا اور فرمایا:

( وَ اذِابتلیَ اِبرَاهیمَ رَبُّهُ بِکلمٰا ت ٍ فَأَ تَمَّهُنَّ قال ِنّی جاَ عِلُک لِلنَّا س اِماَماً قَال وَمِن ذُرِّیَّتی قَالَ لَا یَنالُ عهدِی الظَّالِمیِن )

جب خدا وند عالم نے ابرا ہیم کا چند کلمات(امور ) کے ذریعہ امتحان لیا اور آپ نے سب کو(بطور احسن) انجام دے دیا .تو خدا نے ان سے کہا :میں تمھیں لوگوں کی پیشوائی اور امامت کے لئے انتخاب کر تا ہوں۔ابرا ہیم نے عرض کیا. یہ اما مت ہمارے فرزندوں کو بھی عطا کر ے گا ؟ فرمایا کہ میرا عہدہ ظالموں کو نصیب نہیں ہو گا۔

ہم حضرت ابرا ہیم خلیل اللہ کی سیرت اور روش میں آپ سے مخصوص دو واضح خصوصیت مشا ہدہ کر تے ہیں. جو تمام انبیاء اور پیغمبروں کے درمیان امتیازی شان رکھتی ہے۔

۱۔ مہما ن نوزی اور لوگوں کو کھا نا کھلا نے والی خصو صیت کہ اس کے بارے میں خدا نے بھی خبر دیتے ہوئے فرما یاہے:( فَمَالاَبِثَ اِنْ جَائَ بِعَجَلٍ حِنَیذٍ ) پھر بلا توقف بھنا ہوا گا ئے کا بچہ حاضر کر دیا۔

حضرت ابرا ہیم کا یہ عمل نا آشنا اور اجنبی افراد کے لئے بھی غذا کی فراہمی میں پیش قدم رہنے کو بیان کرتا ہے ۔

اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مہما ن نوازی کی صفت حضرت ابرا ہیمکی ایک خاص صفت تھی اور صرف انھیں مہما نوں سے مخصوص یہ مہمان نوازی نہیں تھی۔

۲۔ کعبہ اور بیت اللہ الحرام کا اہتمام کر نا اور لوگوں کو منا سک حج کی ادائیگی کے لئے دعوت دینا :

خدا وند سبحان نے فرمایا ہے:

( وَ طَهِر بَیتِیَ لِلطَّائِفیِنَ وَالقَائِمِینَ وَالرُّ کَّعِ السُّجوُد٭ وَاذِّن فِی النَّا سِ بِالحَجِّ یَا تُوکَ رِجَالا ً وَعَلیٰ کُلِّ ضَامر ٍ یَأتین مِن کُلِّ فَجٍّ عَمیق )

(اور ہم نے اسے وحی کی کہ ) میرے گھر کو طواف کرنے والوں،نما ز گذاروں ،رکوع کرنے والوں اور سجدہ کر نے والوں کے لئے پاک رکھو. اور لوگوں میں منا سک حج کی ادائیگی کا اعلان کردو تاکہ لو گ پیادہ اور لاغر اونٹوں پر سوار تما م دور داراز علاقوں سے تمہاری طرف آئیں۔

ہم عنقریب انشا ء اللہ ان دو صفتوں کو جو حضرت ابرا ہیم کی زندگی کا لا زمہ شما ر کی جاتی تھیں ان کے اوصیاء میں بھی تھیں جنھوں نے اُن سے میراث پا ئی تھی تحقیق اور بر رسی کریں گے۔


چوتھا منظر: ابرا ہیم اپنے خا ندان کی دو شاخ کے ہمرا ہ:

حضرت ابرا ہیم ہا جرہ اور اسمٰعیل کو مکّہ منتقل کرنے اور اپنے فرزند اسمٰعیل کے ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر اور منا سک حج بجا لا نے کے بعد اپنے وطن شام واپس آگئے. وہی وقت تھا جب خدا وند عالم نے لو ط کی قوم پر عذا ب نازل کیا اور حضرت ابرا ہیم کو اسحق اور ان کے فرزند یعقوب جیسے بیٹے بھی عطا فرمائے خدا وند عالم نے انھیں ایسا پیشوا قرار دیا جوخدا کے حکم سے لوگوں کو حق کی جا نب را ہنما ئی کرتے ہیں؛ اور انھیں نیک کام کر نے ،نما ز قائم کر نے اور زکوة دینے کی وحی کی۔

یہاں سے حضرت ابرہیم خلیل کے بعد نبوت اور وصا یت دو شاخ میں منتقل ہوئی:

پہلی شاخ:

حضرت اسمٰعیل اور ان کی اولا د جو مکّہ میں سا کن تھی، یہ لوگ حضرت ابرا ہیم کی حنیفیہ شریعت پر ان کے اوصیاء ہیں۔

دوسری شاخ:

حضرت اسحق اور ان کے فرزند یعقوب اور ان کی اولا د جو فلسطین میں ساکن تھی اور خداوند عالم نے ان کے لئے مخصوص شر یعت قرار دی جو حضرت مو سیٰ کی شریعت کے ذریعہ پایۂ تکمیل کو پہنچی۔

انشاء اللہ ہم دونوں شاخوں کی جدا جدا تحقیق کریں گے ۔

سب سے پہلے ان کے چھو ٹے فرزند یعنی حضرت اسحق اور ان کے فرزند یعقوب (اسرا ئیل ) اور ان کی اولا د( بنی اسرا ئیل) کے سلسلے میں تحقیقی گفتگو کریں گے۔

حضرت اسحق فرزندحضرت ابرہیم اور حضرت اسحق کے فرزند حضرت یعقوب(اسرائیل )اور فرزند یعقوب ( بنی اسرا ئیل )

مجھے حضرت اسحق کے حالات میں کو ئی ایسی خبر نہیں ملی جو اس بات پر دلا لت کرے کہ ان کے والد حضرت ابرہیم کے علا وہ کو ئی مخصوص ان کی شریعت تھی ہم نے اس مطلب کو وہاں جہاں خدا نے ان کے بیٹے یعقوب (جو اسرا ئیل کے لقب سے یاد کئے جا تے ہیں) کے بارے میں خبر دی ہے، حا صل کیا ہے کہ انشاء اللہ آیندہ بحث میں اس کی تحقیق و بر رسی کریں گے۔


( ۸ )

حضرت اسحق کے فرزند یعقوب (اسرا ئیل )

* یعقوب کا لقب اسرا ئیل ہے اور ان کی اولا دبنی اسرا ئیل.

*خدا وند عالم نے بنی اسرا ئیل کے لئے مخصوص احکام وضع کئے ہیں.

*اس سلسلہ میں قرآن کر یم کی آیات.

*مذکو رہ آیات میں کلمات کی تشریح.

*مورد بحث آیات کی تفسیر.


حضرت اسحق کے فرزند حضرت یعقوب (اسرائیل) اور ان کی اولا د''بنی اسرا ئیل'' اور وہ احکام جو خدا وند عالم نے ان کے لئے وضع کئے ہیں

۱۔ خدا وند عالم سورہ ٔآل عمران کی ۹۳ ویں آیت میں ارشاد فرما تا ہے:

( کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِی ِسْرَائِیلَ ِلاَّ مَا حَرَّمَ ِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ َنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا ِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ )

ساری غذائیں بنی اسرا ئیل کیلئے حلال تھیں بجز ان کے جنھیں اسرا ئیل(یعقوب )نے توریت کے نزول سے پہلے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں.(اگر اس کے علا وہ ہے) تو کہو: توریت لے آؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر سچے ہو۔

۲۔ سورۂ اسراء کی دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًی لِبَنِی ِسْرَائِیلَ )

اور ہم نے موسیٰ کو توریت نامی کتاب عطا کی اور اسے بنی اسرا ئیل کی ہدا یت کا ذریعہ قرار دیا۔

۳۔ سورۂ سجدہ کی ۲۳ ویں آیت میںارشاد ہوتا ہے

( ( ِٔ وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَلاَتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْ لِقَائِهِ وَجَعَلْنَاهُ هُدًی لِبَنِی ِسْرَائِیلَ )

اور ہم نے موسیٰ کو توریت نامی کتاب عطا کی اور (تم اے پیغمبر ) ان سے ملا قات ہو نے پر اظہا ر تر دد نہ کر نا اور ہم نے توریت کو بنی اسرا ئیل کی ہد ایت کا وسیلہ قرار دیا ہے۔

۴۔ سورۂ ما ئدہ کی ۴۴ ویں آیت میں ارشا د ہوتا ہے:

( ِنَّا َنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُور یَحْکُمُ بِهَا النّاَبِیُّونَ الَّذِینَ َسْلَمُوا لِلَّذِینَ هَادُوا وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ ﷲ وَکَانُوا عَلَیْهِ شُهَدَائَ فَلاَ تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِی وَلاَتَشْتَرُوا بِآیَاتِی ثَمَنًا قَلِیلًا وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا َنزَلَ ﷲ فَُوْلَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ )

ہم نے توریت جس میں ہدایت و نور ہے نازل کی تا کہ وہ انبیاء جو (امر خدا وندی کے سامنے ) سراپا تسلیم ہیں اس کے ذریعہ سے یہودیوں، خدا کی معرفت رکھنے والوں اور ان عالموں پر جو کہ کتاب خدا کے احکام کی حفاظت اور نگہداری پر ما مور ہیں اور اس کی صحت و درستگی پر گواہی دیتے ہیں،حکم کریں لہٰذا (احکام خدا وندی کے اجراء میں ) لوگوں سے نہ دڑو اور مجھ سے ڈرو ہماری آیات کو معمولی قیمت پر نہ بیچو،کہ جو بھی حکم خدا وندی کے خلا ف حکم کرے گا وہ کافروں میں سے ہو گا۔


۵۔ سورۂ صف کی ۵ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ اذ قَال مُوسیٰ لِقَومه یَا قَومِ لِمَ تُؤ ذُوننی وَ قَد تَعْلمونَ اَنّی رَسُوْلُ اللّٰه اِلیکُم... )

جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم لوگ مجھے کیوں ستاتے ہو جبکہ تم لوگ یقین کے ساتھ جا نتے ہو کہ میں تمہا ری طرف خدا کا فرستادہ ہو ۔

۶۔ سورۂ آل عمران کی ۴۵ ویں اور ۴۹ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ ِنَّ ﷲ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیهًا فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ وَمِنْ الْمُقَرّاَبِینَ ٭ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَکَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِینَ ٭ قَالَتْ راَبِ َنَّی یَکُونُ لِی وَلَد واَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَر قَالَ کَذَلِکِ ﷲ یَخْلُقُ مَا یَشَائُ ِذَا قَضَی َمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ٭ وَیُعَلِّمُهُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالِنْجیلَ ٭ وَرَسُولًإ الَی بَنِی ِسْرَائِیلَ َنِّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِآیَةٍ مِنْ راَبِکُمْ َنِّی َخْلُقُ لَکُمْ مِنْ الطِّینِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فََنفُخُ فِیهِ فَیَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِ ﷲ وَُبْرِئُ الَکْمَهَ وَالَْبْرَصَ وَُحْیِ الْمَوْتَی بِإِذْنِ ﷲ وَُناَبِئُکُمْ بِمَا تَْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِی بُیُوتِکُمْ ِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ )

فرشتوں نے مریم سے کہا:اے مریم! خدا وند عالم تمہیں اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے اور وہ دنیا وآخرت میں آبرو مند اور خدا کا مقرب ہے وہ ایک پیغمبر ہے بنی اسرا ئیل کی طرف۔

۷۔ سورہ ٔ صف کی چھٹی آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ اِذ ْ قَالَ عیسیٰ ابن مَریمَ یَابَنی اِسرائیل اِنیّ رَسُول ِاللّٰه اِلیکمْ.. ) .)

اور(اے پیغمبر! یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا: اے بنی اسرا ئیل! میں تمہاری طرف خدا کا پیغمبر ہوں۔


کلما ت کی تشریح

۱۔ ھا دوا:

دین یہود پر پا بند افراد کے معنی میں ہے ۔

۲۔ ربّا نیون:

ربّانی علوم دین میںما ہر دانشور اور عالموں کے معنی میں ہے۔

۳۔ احبار:

'' حبر'' ح پر زیر اور زبر کے ساتھ دانشور کے معنی میں ہے اور قرآن کریم میں علماء اہل کتاب پر اطلا ق ہوا ہے۔

۴۔ کلمة :

کلمہ یہاں پر اس مخلوق کے معنی میں ہے کہ جیسے خدا وند عالم نے لفظ ِکن(ہو جا ) اور اس کے مانند کے ذریعہ اور معروف اسباب و وسائل کے بغیر خلق کیا ہے۔

۵۔ مسیح:

مسیح،حضرت عیسیٰ کا لقب ہے کیو نکہ آپ جب کسی بیمار کو(مسح) چھو دیتے تھے تو وہ بیمار صحت مند ہو جاتا تھا ۔

اس کے علاوہ بھی لوگوں نے کہا ہے لیکن ہم نے اس معنی کو حضرت مسیح کے بارے میں دیگر معانی پر ترجیح دی ہے۔


گزشتہ آیات کی تفسیر

ایک خاص مدت زمانہ میں ،قوم یہود کے لئے اشتنائی احکام:

بنی اسرا ئیل (حضرت یعقوب کی اولاد، پو تے اور ان کی اولا د ) سرزمین مصر اور دیار غر بت میں ذلت و خواری کی زندگی گذار رہے تھے. کیو نکہ قبطیوں نے انھیں غلام بنالیا تھا اور ان کی اولاد نرینہ کو قتل کر ڈالتے تھے اور لڑ کیوں کو زندہ رکھتے تھے۔

جب خدا وند عالم نے انھیں مصر میں ہو نے والی ذلت و رسوائی سے نجات دی اور اس کے بعد کہ ان کے اندرحریت و آزاد ی کی روح مر چکی تھی اور اس روح کی جگہ مصر میں نسل در نسل ان کی غلامی کی طولانی مدّت ہونے کی وجہ سے حقارت اور ذلت، خوف و اضطراب اورگھبراہٹ نے لے لی تھی اور ان کے لئے شام میں موجود ظالم و سر کش اقوام سے جنگ کر نا نا گزیر ہوگیا تھا ایسے موقع پر حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ ان کی زندگی کے لئے ایسے دستورات اور قوانین بنا ئے جائیں کہ ان کے زیر سا یہ ، اپنے آپ پر اعتماد کر نے والی اور اپنے آباء واجداد (جو کہ انبیا ء اور پیغمبروں کے زمرہ میں تھے) پر افتخار اور ناز کرنے والی روح اُن میں زندہ ہو جائے اور یہ جان لیں کہ یہ لوگ کافر اور سر کش اقوام جن سے جنگ و جدا ل ہے ان سے جدا اور ممتاز ہیں۔

اس راہ میں سب سے پہلے جوچیز ان کے لئے مقرر کی گئی ہے، ان اشیاء کی تحریم ہے جو کہ ان کے باپ خدا کے پیغمبر اسرا ئیل ( یعقوب ) نے اپنے آپ پر حرام کی تھیں تا کہ اس کے ذریعہ خدا کے پیغمبر اسرا ئیل کی نبوت کا امتیاز درک کریں۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ پر توریت اور حضرت عیسیٰ پر انجیل کے نزول کے بعد ان سے مخصوص تشریع کی تکمیل ہوئی۔

ہم حضرت شعیب پیغمبر سے مربوط حالات کی تحقیق اور مطا لعہ کے بعد پیغمبروں کے حالات کے زمانی تسلسل کی رعا یت کی خاطر ) اُن میں سے کچھ کا ذکر کر یں گے۔


( ۹)

حضرت شعیب پیغمبر

* قرآن کریم کی آیات میں حضرت شعیب کی اپنی قوم سے سیرت اور روش

*کلما ت آیات کی تشریح

*مذکورہ آیات کی تشریح

۱۔ خدا وند عالم سورۂ ہود کی ۸۴ تا ۹۵ آیات میںارشاد فرما تا ہے:

( وَالَی مَدْیَنَ َخَاهُمْ شُعَیْبًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ مَا لَکُمْ مِنْ ِلَهٍ غَیْرُهُ وَ لاَ تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ ِنِّی َرَاکُمْ بِخَیْرٍ وَِنِّی َخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیطٍ ٭ وَیَاقَوْمِ َوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَتَبْخَسُوا النَّاسَ َشْیَائَهُمْ وَلاَتَعْثَوْا فِی الَرْضِ مُفْسِدِینَ ٭ بَقِیَّةُ ﷲ خَیْر لَکُمْ ِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ وَمَا َنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیظٍ ٭ قَالُوا یَاشُعَیْبُ َصَلَاتُکَ تَْمُرُکَ َنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا َوْ َنْ نَفْعَلَ فِی َمْوَالِنَا مَا نَشَائُ ِنَّکَ لََنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِیدُ ٭ قَالَ یَاقَوْمِ َرََیْتُمْ ِنْ کُنتُ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ راَبِی وَرَزَقَنِی مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا ُرِیدُ َنْ ُخَالِفَکُمْ الَی مَا َنْهَاکُمْ عَنْهُ ِنْ ُرِیدُ ِلاَّ الِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیقِی ِلاَّ بِﷲ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَالَیهِ ُنِیبُ ٭ وَیَاقَوْمِ لاَیَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی َنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلَ مَا َصَابَ قَوْمَ نُوحٍ َوْ قَوْمَ هُودٍ َوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ ٭ وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا الَیهِ ِنَّ راَبِی رَحِیم وَدُود ٭ قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ وَِنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا وَلَوْلاَرَهْطُکَ لَرَجَمْنَاکَ وَمَا َنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ ٭ قَالَ یَاقَوْمِ َرَهْطِی َعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنَ ﷲ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَائَکُمْ ظِهْرِیًّا ِنَّ راَبِی بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیط ٭ وَیَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَی مَکَانَتِکُمْ ِنِّی عَامِل سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاْتِیهِ عَذَاب یُخْزِیهِ وَمَنْ هُوَ کَاذِب وَارْتَقِبُوا ِنِّی مَعَکُمْ رَقِیب ٭ وَلَمَّا جَائَ َمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وََخَذَتِ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فََصْبَحُوا فِی دِیَارِهِمْ جَاثِمِینَ ٭ کََنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا َلاَبُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ )

ہم نے مدین کے لئے ان کے بھا ئی شعیب کو بھیجا۔

اس نے کہا: اے میری قوم! خدا کی عبادت کروکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔

اور پیمانہ اور ترازو سے (تو لتے وقت) کمی نہ کرو، میں تمھیں نعمت میں دیکھ رہا ہوں اور میں تمہارے لئے اُس دن کے عذا ب سے جس دن سب کو اپنے احا طہ میں لے لے گا خوفزدہ ہوں اور اے میری قوم!پیمانہ اور ترازو کو عدل وانصا ف کے ساتھ کا مل کرو اور لوگوں کی اجنا س کونا چیز اور معمولی شمار نہ کرو اور اسے برائی سے یاد نہ کرو اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو. خدا کا ذخیرہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر مومن ہو اور میں(عذاب الٰہی کے سامنے) تمہارا محافظ ونگہبا ن نہیں ہوں۔


( شعیب کا اُن کی قوم نے مذاق اڑا یا اور کہا) اے شعیب! آیا تمہاری نما ز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے جس کی عبادت کی ہے ہم اسے تر ک کر دیں یا جو کچھ اپنے اموال میں سے ہم چاہتے ہیں اُس سے دستبردار ہو جائیں؟ تم تو برد بار اور عاقل ہو۔

شعیب نے کہا:اے میری قوم! مجھے بتاؤ اگر خدا کی جانب سے کوئی آشکار دلیل رکھتا ہوں اور مجھے بہتر روزی دیتا ہو، (کیا ہو سکتا ہے اس کے خلا ف رفتار کروں؟)میں نہیں چا ہتا کہ جس سے تمھیں منع کر رہا ہوں اسی کا خود مرتکب ہوں اور جب تک کرسکتا ہوں اصلاح کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا؛ میری تو فیق خدا کے ساتھ ہے،اس پر اعتماد کر تا ہوں اور اُسی کی طرف لوٹ جا ؤں گا۔

اے میری قوم : تمہاری مجھ سے عداوت ودشمنی تمہیں یہاں تک نہ لے جا ئے کہ قوم نو ح، قوم ہود، قوم صالح کے عذاب کے مانند عذاب کا شکار ہو جائو. اور قوم لوط کا زمانہ تم سے دور نہیں ہے اپنے ربّ سے مغفرت طلب کرو اور اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ کہ میرا ربّ شفیق اور مہر بان ہے۔

انھوں نے کہا :اے شعیب! جو کچھ تم کہتے ہوان میں سے بہت ساری باتوں کو ہم نہیں سمجھتے اور ہم تمہیں اپنے درمیان کمزورہی پارہے ہیں کہ اگر تمہار ا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمھیں سنگسار کر دیتے، تم ہم پر قدرت نہیں رکھتے شعیب نے کہا : اے میری قوم ! کیا میرا قبیلہ تم کو خدا سے زیادہ عزیز ہے اور تم نے ﷲ کو بالکل پس پشت ڈال رکھا ہے؟ میرا ربّ تم جو کچھ کرتے ہو اس پر احاطہ رکھتا ہے. اے میری قوم! جو کچھ تم کر سکتے ہو کرو،میں بھی اپنے کام کوجاری رکھوں گا عنقریب جان لو گے کہ رسواکن عذاب کس کو اپنے دائرہ میں لے لے گا.اور کون جھوٹا ہے؟ منتظر رہو،میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں. اور جب ہمارا قہر آمیز حکم آیا تو ہم نے شعیب اور جو با ایمان افراد ان کے ہمراہ تھے اپنی مخصوص رحمت سے انھیں نجا ت دی اور ظالموں کو آسمانی صیحہ ( چنگھاڑ) نے اپنے دائرہ میں لے لیا اور اپنے علاقے میں نابود ہوگئے. گویا کہ وہ کبھی اس شہر میں موجود ہی نہ تھے اور آگاہ ہوجاؤ کہ قومِ مدین خدا کی رحمت سے دور ہے ، جس طرح ثمود کی قوم خدا کی رحمت سے دور رہی۔


۲۔ سورۂ اعراف کی ۸۸ویں اور ۸۹ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے :

( قاَل المَلأُ الَّذِینَ اِسْتکبرُ واْ مِن قَوْ مِه لَنُخرِجنَّکَ یَا شُعیب وَ الَّذِین آمنُواْ مَعَکَ مِنْ قَریتنَا اَوْ لَتعُودُنَّ فِی مِلَّتنَا قَال اَوَلَو کُنَّا کَا رهین قَدِ افتَرِینَاعَلیٰ اللّٰهِ کَذِباً اِن عدنَافِی مِلَّتِکُم بَعد اذ نَجّانَااللّٰه مِنهَا... )

ان کی قوم کے چند سرکش اور متکبربزرگوں نے کہا :اے شعیب! بے شک ہم تمھیں اور تم پر ایمان لانے والوں کو اپنے شہر سے نکا ل با ہر کریں گے، مگر یہ کہ تم لوگ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ.(شعیب ) نے کہا: آیا اگر چہ ہم ما ئل بھی نہ ہوں ؟ اگر ہم تمہارے آئین کی طرف لوٹ آئیںگے تو جس خدا نے تمہارے دین سے ہمیں نجا ت دی ہے گو یا ہم اس خدا کی طرف جھوٹی نسبت دیں گے ۔

کلمات کی تشریح

۱۔ مَدْےَن :

مدین حضرت شعیب کی قوم کا نام تھا،کہ ان کے شہر کا نام بھی انھیںکے نام پر رکھا گیا ہے.معجم البلدان میں مذکور ہے کہ مدین شہر دریائے سرخ کے نزدیک شہر تبوک کے سامنے ۶ منزل کے فاصلہ پر واقع ہے.اسی طرح کہا گیا ہے: مدین وادی القریٰ اور شام کے درمیان ایک علا قہ ہے اور وادی القریٰ مدینہ سے نزدیک تمام بستیوں کوکہتے ہیں۔

۲۔ لا یجر منّکم:

جرم الشیٔ ناپسند چیز حا صل کی،جرمہ الشیٔ یعنی نا پسند کام پر مجبور کیا، جرمہ یعنی اسے اس پر مجبور کیا ''ولا یجر منّکم'' یعنی تمھیں مجبور نہ کرے۔


۳۔ شقاقی:

شا قَّہ شقا قا ً :اس کے ساتھ مخا لفت اور دشمنی کی ، شقا قی یعنی مجھ سے دشمنی۔

۴۔ لا تعثوا:

فساد نہ کرو۔

۵۔عثا:

یعنی فساد کیا ،شدید فساد۔

۶۔ بقےة اللہ:

بقےة ،ہر چیز کا باقی حصّہ اور یہاں پر خدا کی اطا عت اور فرما نبرداری کے معنی میں ہے،نیک کام کا ثواب اور اجر جو اس کے پا س ذخیرہ ہوتا ہے۔

گزشتہ آیات کی تفسیر میں اہم نکات

خدا وند عالم نے حضرت شعیب کو بشارت اور انذار کے ساتھ مدین کی طرف بھیجا تاکہ اس علا قہ کے لوگوں کو حضرت ابرا ہیم کی حنیفیہ شریعت پر عمل کر نے کی دعوت دیں.شعیب کی قوم دیگر مشرک امتوں کی طرح جو کہ بُرے اخلا ق سے متّصف، یہ بھی بُری طرح سے بد کاریوں اور اخلاقی فساد اور کردار کی گراوٹ کے شکار تھے. یہ لوگ اُن غلط کا ریوں کے علا وہ جس کے وہ مرتکب ہوتے تھے،دوسروں کی چیزوں کو برا کہتے تھے اور انھیں مشتری(خریدار) کی نظر سے گرادیتے تھے.اور ناپ تول میں خیا نت اور کمی کر تے تھے اور وہ ایسا خیال کرتے تھے کہ چونکہ وہ اپنے اموال میں تصرف کر نے کے سلسلہ میں آزاد ہیں،لہٰذا اس طرح کے ناروا افعال اور نا زیبا اعمال بھی ان کا حق ہیں. حضرت شعیب کا دعوت دینا ان کی نصیحتیں اور مواعظ اور انھیں اس بات کے لئے بیدار کر نا کہ مشر ک اقوام جو ان سے پہلے تھیں اُن پر کس طرح عذاب الٰہی نازل ہوا، ان سب باتوںنے کو ئی فا ئدہ نہیں پہونچایا اور اس جا ہل قوم نے اُن کے جواب میں کہا:


( لَنُخْرِجَنَّکَ وَمَنِ اتَّبعکَ مِنْ قر یتنا،أولَتعودُنَّ فِی مِلَّتنَا )

بیشک ہم تمھیں اور تمہارے تا بعین اور پیروکاروں کو اپنے شہر اور علا قے سے نکال باہر کریں گے، مگر یہ کہ ہمارے دین اور ملت کے پا بند ہو جا ؤ ۔

اس بنا ء پر حضرت شعیب کی قوم اپنے لئے اس حق کی قائل تھی کہ دوسروں پر ظلم ڈھانااوران کے حقوق کو کھانا اپنی آزادی اور خود مختاری خیال کریں،لیکن یہی حق شعیب اور مومنین کو بُرے اخلا ق اور نا پسندیدہ افعال کے ترک کر نے اور خدائے یکتا کی عبادت سے متعلق نہیں دیتے تھے!!

کبھی حضرت شعیب کا مذاق اڑا تے اور کہتے! کیا تمہاری نما ز نے تمھیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور اپنے اموال میں خاطر خواہ اپنی مرضی سے دخل وتصرف نہ کریں؟

اور کبھی عناد ودشمنی،طغیانی اور سر کشی کی حد کر دیتے اور کہتے تھے:اگر تمہارے اعزاء واقارب نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمھیں سنگسار کر دیتے۔

اس آیت سے اور حضرت خا تم الانبیاء محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نسب کے بارے میں جو معلومات رکھتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا وند عالم پیغمبروں کو مضبوط اور قوی اور سب سے زیادہ اثر ورسوخ رکھنے والے خا ندان سے منتخب کرتا ہے، تا کہ ان کے رشتہ دار رسالت کی تبلیغ میں ناصر ومدد گار ثابت ہوں۔

ہاں ، جب شعیب کی قوم نے شعیب کی تکذیب کی اور ان کے ہمراہ دیگر مو منین کو ذلیل وخوار سمجھا،تو عذاب خدا وندی کے سزاوار ہوگئے اور خدا وند عالم نے انھیں آسمانی صیحہ کے ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا اور اانھیں کے شہر وعلا قہ میں انھیں ہلاک کر ڈ الا۔

خداوند عالم نے ،حضرت شعیب کے بعد حضرت موسیٰ اور دیگر نبی اسرائیل کے پیغمبروں کو رسالت کے لئے مبعوث کیا. انشاء اللہ آیندہ فصلوں میں ان کے اخبار کی تحقیق کریں گے۔


(۱۰)

بنی اسرا ئیل اور ان کے پیغمبروں کی روداد اور قرآن کریم میں ان کے مخصوص حالات کی تشریح

*حضرت موسیٰ کی ولا دت اور ان کا فرعون کے ذریعہ اس کی فرزندی میں آنا.

* نہ گا نہ معجزات.

* بنی اسرائیل صحرائے سینا میں.

* داؤد اور سلیمان

* حضرت زکری اور یحییٰ

* عیسیٰ بن مریم

سب سے پہلا منظر۔ حضرت موسیٰ ـکی ولادت اور ان کا فرعون کے فرزند کے عنوان سے قبول ہو نا:

خدا وند عالم سورۂ قصص کی ۷ویں تا ۱۳ ویں آیات میں ارشاد فرما تا ہے:

( وََوْحَیْنَإ الَی مِّ مُوسَی َنْ َرْضِعِیهِ فَِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فََلْقِیهِ فِی الْیَمِّ وَلاَتَخَافِی وَلاَتَحْزَنِی ِنَّا رَادُّوهُ الَیکِ وَجَاعِلُوهُ مِنْ الْمُرْسَلِینَ ٭ فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا ِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا کَانُوا خَاطِئِینَ ٭ وَقَالَتِ امْرََةُ فِرْعَوْنَ قُرَّةُ عَیْنٍ لِی وَلَکَ لاَتَقْتُلُوهُ عَسَی َنْ یَنفَعَنَا َوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ٭ وََصْبَحَ فُؤَادُ ُمِّ مُوسَی فَارِغًا ِنْ کَادَتْ لَتُبْدِی بِهِ لَوْلاََنْ رَبَطْنَا عَلَی قَلْبِهَا لِتَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ٭ وَقَالَتْ لُِخْتِهِ قُصِّیهِ فَبَصُرَتْ بِهِ عَنْ جُنُبٍ وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ٭ وَحَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ َدُلُّکُمْ عَلَی َهْلِ بَیْتٍ یَکْفُلُونَهُ لَکُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ٭ فَرَدَدْنَاهُ الَی ُمِّهِ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَلاَتَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ َنَّ وَعْدَ ﷲ حَقّ وَلَکِنَّ َکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُونَ )

ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ: اسے دودھ پلا ؤ اور جب تمھیں اس کے لئے خوف لا حق ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور خوف نہ کرو اور نہ غمزدہ اور محزون ہو کہ ہم یقینا اُسے تم تک لوٹا دیں گے اور اسے پیغمبروں میں سے قرار دیں گے آل فرعون نے اسے پا لیا،تا کہ ان کے لئے دشمن اور اندوہ کا سامان ہو. کہ فرعون،ھا مان اور ان کے سپا ہی گنا ھگار میں تھے.فرعون کی بیوی (سفارش کے لئے اٹھی اور ) بو لی یہ بچہ ہمارے اور تمہارے سرور کا باعث اور آنکھوں کا نور ہو گا ،اُسے قتل نہ کرو شاید ہمیں فائدہ پہنچا ئے یا اسے اپنی فرزندی میں لے لیں؛ اوروہ لوگ درک نہیں کر سکے.حضرت موسیٰ کی ماں کا دل(تمام چیزوں سے زیادہ بچہ کی یاد میں ) اس درجہ بیقرار تھا کہ اگر ہم اُس کے دل کو سکون وقرار نہ دیتے تا کہ مو منوں میں ہو تو یقینا اس راز کو فاش کر دیتی۔


اُس نے موسیٰ کی بہن سے کہا:موسیٰ کا پیچھا کرو موسیٰ کی بہن اپنے بھائی کو دور سے دیکھ رہی تھی (لیکن )وہ لوگ جان نہیںسکے اور دودھ پلا نے والی عورتوں کو پہلے ہی ہم نے اُن پر حرام کر دیا تھا موسیٰ کی بہن نے کہا:کیا میں تمھیں ایک ایسے گھرا نے کی راہنمائی کروں کہ وہ اسے تمہارے لئے محفوظ رکھیں اور اس کے خیرخواہ ہوں ؟ پھر ہم نے اسے اس کی ماں کے پا س لوٹا دیا تاکہ ان کے دیدار سے ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں اور وہ غمگین اور اداس نہ ہوں اور یہ جان لیں کہ خدا کا وعدہ حق ہے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے( ۱ ) ۔

کلمات کی تشریح

۱۔ فارغاً :

اپنی جگہ سے اکھڑ گیا،غم واندوہ کی شدت سے خالی ہو گیا۔

۲۔قُصِّیہ:

اس کا پیچھا کرو،تلاش کرو۔

۳۔فبصُرت بہ عن جُنبٍ:

دور سے اس کی نگاہ ان پر پڑی.اُسے دور سے دیکھا اور زیر نظر قرار دیا۔

دوسرا منظر ،نہ گانہ معجزات

سورۂ نمل کی ۷ویں تا ۱۲ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

)( إِذْ قَالَ مُوسَی لِأَهْلِهِ ِنِّی آنَسْتُ نَارًا سَآتِیکُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ َوْ آتِیکُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُونَ ٭ فَلَمَّا جَائَهَا نُودِیَ َنْ بُورِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ ﷲ راَبِ الْعَالَمِینَ ٭ یَامُوسَی ِنَّهُ َنَا ﷲ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ٭ وََلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ کََنَّهَا جَانّ وَلَّی مُدْبِرًا واَلَمْ یُعَقِّبْ یَامُوسَی لاَتَخَفْ ِنِّی لاَیَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُونَ ٭ ِلاَّ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوئٍ فَِنِّی غَفُور رَحِیم ٭ وََدْخِلْ یَدَکَ فِی جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَائَ مِنْ غَیْرِ سُوئٍ فِی تِسْعِ آیَاتٍ الَی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ِنَّهُمْ کَانُوا قَوْمًا فَاسِقِینَ )

جب موسی ٰنے اپنے اہل و عیال سے کہا: میں نے ایک آگ دیکھی ہے، عنقریب اس کے بارے میں تمھیں ایک خبر دو گا یا ایسی آگ لاؤں گا کہ اس سے گرم ہو جاؤ۔

____________________

(۱) نیز سورئہ طہ کی ۳۸ ویں آیت سے ۴۷ ویں آیت تک ملاحظہ ہو.


جب اُس آگ کے قریب آئے توآواز آئی،مبارک ہے وہ خدا جو آگ میں جلوہ نما اور وہ شخص بھی جو اس کے اطراف میں ہے اور پاک وپاکیزہ ہے ربّ العالمین. اے موسیٰ!میں ہوں توانا اورحکیم خدا،اپنے عصا کو ڈال دو موسیٰ نے جب عصا ڈال دیا تو اسے دیکھا کہ ایک عظیم ا لجثہ سانپ کی صورت میں حر کت کرنے لگا،موسیٰ الٹے پاؤںپلٹ پڑے پھر کبھی مڑکر نہیں دیکھا (کہ انھیں خطاب ہوا)اے موسیٰ! نہ ڈرو کہ انبیاء میرے نزدیک نہیں ڈرتے. جز ان کے جنھوں نے ظلم کیا ہے،پھر اسے نیکی میں تبدیل کر ڈالا ہے کہ میں بخشنے والااور مہربان ہوں. اوراپنے ہاتھ کو اپنے گریبان کے اندر لے جاؤ کہ سفید ( چمکدار) اور بغیر نقصان کے باہر نکلے گا(یہ معجزہ) نہ گانہ آیات ( معجزہ )کے ضمن میں ہے(کہ تم ان کے ہمراہ) فرعون اور اس کی قوم کی طرف(بھیجے جاؤ گے)، بے شک وہ لوگ ایک فاسق قوم ہیں۔سورۂ اعراف کی ۱۰۳تا ۱۳۵ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَی بِآیَاتِنَإ الَی فِرْعَوْنَ وَمَلَاْئِهِ فَظَلَمُوا بِهَا فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِینَ ٭ وَقَالَ مُوسَی یَافِرْعَوْنُ ِنِّی رَسُول مِنْ راَبِ الْعَالَمِینَ ٭ حَقِیق عَلَی َنْ لاََقُولَ عَلَی ﷲ ِلاَّ الْحَقَّ قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَةٍ مِنْ راَبِکُمْ فََرْسِلْ مَعِیَ بَنی اِسْرَائِیلَ ٭ قَالَ ِنْ کُنتَ جِئْتَ بِآیَةٍ فَْتِ بِهَا ِنْ کُنتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ٭ فََلْقَی عَصَاهُ فَِذَا هِیَ ثُعْبَان مُبِین ٭ وَنَزَعَ یَدَهُ فَِذَا هِیَ بَیْضَاء لِلنّٰاظِرینَ ٭ قَالَ الْمَلَُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ ِنَّ هَذَا لَسَاحِر عَلِیم ٭ یُرِیدُ َنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ َرْضِکُمْ فَمَاذَا تَْمُرُونَ ٭ قَالُوا َرْجِهِ وََخَاهُ وََرْسِلْ فِی الْمَدَائِنِ حَاشِرِینَ ٭ یَْتُوکَ بِکُلِّ سَاحِرٍ عَلِیمٍ ٭ وَجَائَالسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا ِنَّ لَنَا لَجْرًا ِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ ٭ قَالَ نَعَمْ وَِنَّکُمْ لَمِنْ الْمُقَرّاَبِینَ ٭ قَالُوا یَامُوسَی ِمَّا َنْ تُلْقِیَ وَِمَّا َنْ نَکُونَ نَحْنُ الْمُلْقِینَ ٭ قَالَ َلْقُوا فَلَمَّا َلْقَوْا سَحَرُوا َعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ ٭ وََوْحَیْنَإ الَی مُوسَی َنْ َلْقِ عَصَاکَ فَِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَْفِکُونَ ٭ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ٭ فَغُلِبُوا هُنَالِکَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِینَ ٭ وَُلْقِیَ السَّحَرَةُ سَاجِدِینَ٭ قَالُوا آمَنَّا بِراَبِ الْعَالَمِینَ ٭ راَبِ مُوسَی وَهَارُونَ ٭ قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُمْ بِهِ قَبْلَ َنْ آذَنَ لَکُمْ ِنَّ هَذَا لَمَکْر مَکَرْتُمُوهُ فِی الْمَدِینَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا َهْلَهَا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ٭ لُقَطِّعَنَّ َیْدِیَکُمْ وََرْجُلَکُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لُصَلِّبَنَّکُمْ َجْمَعِینَ ٭ قَالُوا ِنَّإ الَی راَبِنَا مُنقَلِبُونَ ٭ وَمَا تَنقِمُ مِنَّا ِلاَّ َنْ آمَنَّا بِآیَاتِ راَبِنَا لَمَّا جَائَتْنَا رَبَّنَا َفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ ٭ وَقَالَ الْمَلُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ َتَذَرُ مُوسَی وَقَوْمَهُ لِیُفْسِدُوا فِی الَرْضِ وَیَذَرَکَ وَآلِهَتَکَ قَالَ سَنُقَتِّلُ َبْنَائَهُمْ وَنَسْتَحْیِ نِسَائَهُمْ وَِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ ٭ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ اسْتَعِینُوا بِﷲ وَاصْبِرُوا ِنَّ الَرْضَ لِلَّهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ٭ قَالُوا ُوذِینَا مِنْ قَبْلِ َنْ تَْتِیَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَی رَبُّکُمْ َنْ یُهْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الَرْضِ فَیَنظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ ٭ وَلَقَدْ َخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ وَنَقْصٍ مِنْ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّکَّرُونَ٭ فَِذَا جَائَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هٰذِهِ وَِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَة یَطَّیَّرُوا بِمُوسَی وَمَنْ مَعَهُ َلاَِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ ﷲ وَلَکِنَّ َکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ٭ وَقَالُوا مَهْمَا تَْتِنَا بِهِ مِنْ آیَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ٭ )


( فََرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِین٭ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا یَامُوسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَکَ لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِی ِسْرَائِیلَ ٭ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْهُمْ الرِّجْزَ الَی َجَلٍ هُمْ بَالِغُوهُ ِذَا هُمْ یَنکُثُونَ )

پھرجب اُن کے بعد موسیٰ کو اپنی آیات کے ساتھ فرعون اور اس کے اشراف کی طرف بھیجاتو،انھوں نے آیات کا انکار کیا.غور کرو کہ تباہ کاروں کا کیا انجام ہوا .موسیٰ نے کہا : اے فرعون!میں اپنے رب العالمن کا فرستادہ ہوں.سزاوار یہ ہے کہ خدا سے متعلق حق کے سوا کچھ نہ کہوں،تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سے ایک معجزہ لا یا ہوں،لہٰذا بنی اسرائیل کو ہمارے ہمراہ روانہ کر دو.فرعون نے کہا اگر سچے ہو اور اگر کوئی معجزہ لائے ہو تو ہمیں دکھاؤ.پھر موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا پس وہ اژدہا دکھائی دینے لگا. اور ہاتھ اپنے گریبان سے باہر نکا لا ناگاہ دیکھنے والوں کے لئے سفید اور چمکدار تھا. قوم فرعون کے بزرگوں نے فرعون سے کہا: یہ ایک ماہر جادو گر ہے کہ وہ تمھیں تمہاری سرزمینوں سے باہر نکا لنا چاہتا ہے.تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟.(موسیٰ کے معاملے میں) فرعون نے قوم سے مشورہ کے بعد، کہا:اُسے اور اُس کے بھائی کو روک لو اور شہروں میں افراد کو روانہ کرو تاکہ ماہر جادو گروں کو تمہارے پا س لے آئیں. جادو گر فرعون کے پاس آئے اور بو لے: اگر ہم غالب ہوگئے تو یقینا کوئی اجرت لیں گے. فرعون نے کہا: بالکل تم لوگ ہمارے مقر بین میں ہو گے، جادوگروں نے کہا: اے موسیٰ!یاتم پہلے اپنا عصا ڈالو یا ہم اپنی رسّیاں ڈ التے ہیں. موسیٰ نے کہا:تم ہی پہل کرواور جب انھوں نے اپنی رسّیاںڈال دیں تو لوگوں کی نگاہوں پر جادو کر دیا اور انھیں دہشت زدہ بنا دیا. اور عظیم جادو پیش کیا. ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم بھی اپنا عصا ڈال دو اور (وہ اژدہا) جو کچھ انھوں نے پیش کیا تھا ایک سانس میںنگل گیا.حق آشکار ہوا اور جو کچھ انھوںنے انجام دیا وہ باطل اور بے کار ہو گیا۔

اس میدان میں شکست کھائی اور رسوا ہو کر واپس ہوگئے. سارے جادو گر سجدہ میں گر پڑے. اور انھوں نے کہا: ہم رب العالمین پر ایمان لا تے ہیں. موسیٰ اور ہارون کے رب پر.فرعون نے کہا:قبل اس کے کہ ہم تمھیں اجازت دیں تم لوگ اُس پر ایمان لے آئے؟! یہ ایک فریب اور دھوکہ ہے جو تم نے شہر میں کیا ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو.عنقریب جان لو گے.تمہاے ہاتھ اور پاؤں ایک دوسرے کے بر عکس انداز میں قطع کروں گا اور اُس وقت سب کو ایک ساتھ دار پر لٹکا دوں گا. انھوں نے کہا: اُس وقت ہم اپنے خدا کی طرف لوٹ جائیں گے. تمہارا غیض و غضب ہم پر اس لئے ہے کہ ہم صرف اپنے ربّ کی نشا نیوں پر ایمان لے آئے ہیں


جو ہماری طرف آئی ہے؛خدا یا! ہمیں صبر عطا کر اور ہمیں مسلمان ہو نے کی صورت میں موت دینا.قوم فرعون کے بزرگوں نے کہا:کیا موسیٰ اور ان کے ماننے والوں کوآزاد چھوڑ دو گے تا کہ وہ اس سرزمین پر تباہی مچائیں اور تمھیں اور تمہارے خدا کو ترک کر دیں؟ فرعون نے کہا! عنقریب ان کے سارے فرزندوں(بیٹوں) کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیں گے،ہم اُن پر مسلط ہیں.موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: خدا سے مددمانگو اور صبر کا مظاہرہ کرو کیو نکہ زمین خدا کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں جسے چاہے گا اس کے حوالے کر دے گا اور نیک انجام پر ہیز گاروں کے لئے ہے۔

انھوں نے کہا: ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اورتمہارے آنے کے بعد بھی ستائے گئے؛ کہا! امید ہے کہ تمہارا ربّ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے.اور تمھیں اس سرزمین پر (ان کا )جانشین قرار دے گا اور پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کر تے ہو؟ ہم نے فرعون کو قحط سالی اور پھلوں کی کمی (دنوں) سے دوچار کیا شاید نصیحت حاصل کریں. جب رفاہ وآسائش نے ان کا رخ کیا تو وہ کہتے تھے! یہ ہماری خاطر ہے اور جب انھیں ناگوار حالات پیش آتے تو کہتے تھے یہ موسیٰ اور ان کے ماننے والوںکی بد شگونی ہے ۔

جان لو کہ ان کا فال بد خدا کے پاس ہے(یعنی جو اُن پر مشکلات اور غم و اندوہ پڑتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں)لیکن اُن میں اکثر لوگ نہیں جانتے. (فرعونیوں نے موسیٰ سے) کہا: تم جتنا بھی ہمارے لئے معجزہ یا آیت پیش کرکے ہم پر جادو کر دو کبھی ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے. پھر طوفان، ٹڈی،جوں، مینڈک اور خون (پانی کا خون ہو نا) جو کہ ایک دوسرے سے الگ اور روشن و آشکار معجزے تھے ہم نے ان پر نازل کیا ،لیکن انھوں نے اکڑ اور انکار سے کام لیا اور وہ نابکار قوم تھے۔


جب اُ ن پر عذاب نازل ہوا ، بولے:اے موسیٰ! اپنے ربّ کو اُس پیمان کے ساتھ آواز دو جو تم سے کیا ہے اگر اس عذاب کو ہم سے اٹھا لے تو یقینا ہم تم پر ایمان لے آئیںگے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے. پھر جب ہم نے عذاب کو ایک مدت تک اٹھالیا تو پھر عہد شکنی کے مرتکب ہوگئے۔( ۱ )

سورۂ شعراء کی ۵۷ویںتا ۶۶ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( فََخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ٭ وَکُنُوزٍ وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ٭ کَذَلِکَ وََوْرَثْنَاهَا بَنِی ِسْرَائِیلَ ٭ فََتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِینَ ٭ فَلَمَّا تَرَائَ الْجَمْعَانِ قَالَ َصْحَابُ مُوسَی ِنَّا لَمُدْرَکُونَ ٭ قَالَ کَلاَّ ِنَّ مَعِیَ راَبِی سَیَهْدِینِ ٭ فََوْحَیْنَإ الَی مُوسَی َنْ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیمِ ٭ وََزْلَفْنَا ثَمَّ الآخَرِینَ ٭ وََنْجَیْنَا مُوسَی وَمَنْ مَعَهُ َجْمَعِینَ ٭ ثُمَّ َغْرَقْنَا الآخَرِینَ ٭ )

ہم نے انھیں (فرعونیوں) کو باغوں اور بہتے چشموں سے باہر نکال د یا.اور عالیشان محلوں اور خزانوں سے انھیں محروم کر دیا. واقعہ ایسا ہی تھا اور سب کچھ بنی اسرائیل کے حوالے کر دیا. فرعونیوں نے طلوع آفتاب کے وقت بنی اسرائیل کا پیچھا کیا. جب دونوں گروہ نے ایک دوسرے کو دیکھا،تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا! ہم گرفتار ہو جائیں گے.موسیٰ نے کہا: کبھی نہیں ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے وہ ہماری ہدایت کر ے گا. موسیٰ کو وحی ہوئی کہ اپنا عصا دریا پر مارو؛دریا شگافتہ ہوا اور اس کا ہر ایک حصّہ ایک بڑے پہاڑ کے مانند ہو گیا. دوسروں کو(فرعونیوں کو بنی اسرائیل کے پیچھے) دریا میں لائے. اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو نجات دی.اس وقت دوسروں کو غرق کر ڈالا۔

اور سورۂ یونس کی ۹۰ تا ۹۲ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے۔

( وَجَاوَزْنَا بِبَنِی ِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ فََتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْیًا وَعَدْوًا حَتَّی ِذَا َدْرَکَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ َنَّهُ لاَِلَهَ ِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِهِ بَنُو ِسْرَائِیلَ وََنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ٭ آلآنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنْ الْمُفْسِدِینَ ٭ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً وَِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ عَنْ آیَاتِنَا لَغَافِلُونَ ٭ )

____________________

۱۔اور سورۂ انبیاء کی ۱۰۰سے ۱۰۴ آیات تک اور سورہ ٔ شعرأ کی آیت ۱۰سے ۵۵ آیات تک اور سورۂ طہ ۹سے ۲۴ آیات تک ملاحظہ کریں.


بنی اسرائیل کو ہم نے دریا سے پار کیا، فرعون اور اس کے سپاہیوں نے اُن سے دشمنی اور ستم کی خاطر ان کا پیچھا کیا،یہاں تک کہ جب اس کے غرق ہونے کا وقت آیا تو کہا: ہم اُس خدا پر ایمان لائے جو بنی اسرائیل کے خدا کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں. اور میں سراپا تسلیم ہونے والوں میںہوں.(اُس سے ڈوبنے کی حالت میں خطاب ہوا) اب ایمان لا تے ہو جبکہ اُس سے پہلے نافرمانی کر کے مفسدوں میں تھے؟. آج تمہارے بد ن کوبدن کو بچا لیتے ہیں،تا کہ اُن کے لئے جو تمہارے بعد آئیں گے عبرت اور ایک نشانی ہو،جبکہ بہت سارے لوگ ہماری آیات اور نشانیوں سے سخت غافل و بے خبر ہیں۔

تیسرا منظر؛ بنی اسرائیل سینا نامی صحرا میں اور حضرت موسیٰ ا ور ان کے بعد کے زمانے میں ان کی طغیانی و سرکشی.

خدا وند متعال سورۂ اعراف کی ۱۳۸تا ۱۴۰ اور ۱۶۰تا ۱۶۴ اور ۱۶۶ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَجَاوَزْنَا بِبَنِی ِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ فََتَوْا عَلَی قَوْمٍ یَعْکُفُونَ عَلَی َصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا یَامُوسَی اجْعَل لَنَا ِلٰهاً کَمَا لَهُمْ آلِهَة قَالَ ِنَّکُمْ قَوْم تَجْهَلُونَ ٭ ِنَّ هَؤُلَائِ مُتَبَّر مَا هُمْ فِیهِ وَبَاطِل مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ٭ قَالَ َغَیْرَ ﷲ َبْغِیکُمْ ِلٰهاَ وَهُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ ٭... ٭َوَقَطَّعْنَاهُمْ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ َسْبَاطًا ُمَمًا وََوْحَیْنَإ الَی مُوسَی إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ َنِ اضْرِب بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا قَدْ عَلِمَ کُلُّ ُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَیْهِمْ الْغَمَامَ وََنزَلْنَا عَلَیْهِمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَکِنْ کَانُوا َنفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ٭ وَإِذْ قِیلَ لَهُمْ اسْکُنُوا هَذِهِ الْقَرْیَةَ وَکُلُوا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّة وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَکُمْ خَطِیئَاتِکُمْ سَنَزِیدُ الْمُحْسِنِینَ ٭ فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَهُمْ فََرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِنْ السَّمَائِ بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ ٭ وَاسَْلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِی کَانَتْ حَاضِرةَ الْبَحْرِ إِذْ یَعْدُونَ فِی السَّبْتِ إِذْ تَْتِیهِمْ حِیتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَیَوْمَ لاَیَسْبِتُونَ لاَتَْتِیهِمْ کَذَلِکَ نَبْلُوهُمْ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ ٭ وَإِذْ قَالَتْ ُمَّة مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ﷲ مُهْلِکُهُمْ َوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیدًا قَالُوا مَعْذِرَةً الَی راَبِکُمْ وَلَعَلَّهُمْ یَتَّقُونَ ٭ فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِهِ َنْجَیْنَا الَّذِینَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوئِ وََخَذْنَا الَّذِینَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِیسٍ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ٭ فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ کُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِین )


ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کرایا تو وہ لوگ ایک ایسی قوم کے پاس سے گذرے جو اپنے بتوں کی پرستش اور عبادت کر تی تھی بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی ایک خدا قرار دو جس طرح سے ان کا خدا ہے موسیٰ نے کہا! یقینا تم لو گ نادان اور جاہل قوم ہو ان بت پرستوں کے خدا نابود ہونے والے ہیںاور ان کے اعمال باطل ہیں، (موسیٰ نے) کہا! آیا خداوند یکتا کے علاوہ تمہارے لئے کسی دوسرے خدا کی تلاش کر وں جب کہ خدا وند عالم نے تمھیں سارے عالم پر فوقیت اور بر تری عطا کی ہے؟!...(اور) ان کو ان کے بارہ قبیلے اور امت میں تقسیم کیا اور جب ان کی قوم نے موسیٰ سے پانی کا تقاضا کیا، تو ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنے عصا کو اس پتھر پر مارو، (جب انھوں نے مارا) تو بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور ہرقبیلے نے اپنے پانی کی جگہ جان لی اور بادل کو ان پر سائبان قرار دیاا ور ان پر من وسلویٰ نازل کیا ، پاکیزہ اشیاء سے جو ہم نے تمہارے لئے رزق قرار دیا ہے کھاؤ ،انھوں نے ہم پر نہیں بلکہ اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور جس وقت ان سے کہا گیا کہ اس گاؤں میں سکونت اختیا ر کرو اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ اور کہو حطّہ یعنی ہمارے گنا ہوں کو ختم کر دے اور سجدہ اور خضوع کی حالت میں دروازہ سے داخل ہوتا کہ ہم تمہارے گنا ہوں کو معاف کر دیں،عنقریب ہم نیکوکاروں کے اجر میں اضا فہ کردیں گے، ان ظا لموں نے اس بتائے گئے سخن کو اس کے علا وہ باتوں میں تبدیل کر ڈالا اور (نتیجہ کے طور پر) اس ظلم وستم کی بناء پر جو انھوں نے روا رکھا تھا ان پر آسمان سے ہم نے عذاب نازل کیا. یہودیوں سے سوال کرو اُ س شہر کے بارے میں جو دریا کے کنارے واقع تھا کہ وہاں کے لوگوں نے سنیچر کے دن تجاوز کیا اور اس کی حرمت کی حفاظت نہیں کی ان کی مچھلیاں سنیچر کے دن آشکار طور پر آتی تھیں لیکن سنیچر کے علا وہ دنوں میں نہیں آتی تھیں، اس طرح سے ان کی بربادی اور تباہی کی سزا کے ذریعہ ہم نے انھیں آزما یا...

جب ان لو گوں نے جس چیز سے منع کیا گیا تھا سر پیچی اور مخالفت کی تو ہم نے ان سے کہا بندر کی شکل میں ہو جاؤ اور ہماری رحمت سے دور اور محرو م ہو جاؤ۔

سورۂ طہ کی۸۰ تا ۹۸ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:


( یَابَنِی ِسْرَائِیلَ قَدْ َنجَیْنَاکُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَوَاعَدْنَاکُمْ جَانِبَ الطُّورِالَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی ٭ کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَلاَتَطْغَوْا فِیهِ فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضاَبِی وَمَنْ یَحْلِلْ عَلَیْهِ غَضاَبِی فَقَدْ هَوَی ٭ وَِنِّی لَغَفَّار لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَی ٭ وَمَا َعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یَامُوسَی ٭ قَالَ هُمْ ُولاَئِ عَلَی َثَرِی وَعَجِلْتُ الَیکَ راَبِ لِتَرْضَی ٭ قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْ بَعْدِکَ وََضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ ٭ فَرَجَعَ مُوسَی الَی قَوْمِهِ غَضْبَانَ َسِفًا قَالَ یَاقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا َفَطَالَ عَلَیْکُمُ الْعَهْدُ َمْ َرَدْتُمْ َنْ یَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَب مِنْ راَبِکُمْ فََخْلَفْتُمْ مَوْعِدِی ٭ قَالُوا مَا َخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا وَلَکِنَّا حُمِّلْنَا َوْزَارًا مِنْ زِینَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَکَذَلِکَ َلْقَی السَّامِرِیُّ٭ فََخْرَجَ لَهُمْ عِجْلاً جَسَدًا لَهُ خُوَار فَقَالُوا هَذَا ِلٰهُکُمْ وَِلٰهُ مُوسَی فَنَسِیَ ٭ َفَلاَیَرَوْنَ َلاَّ یَرْجِعُ الَیهِمْ قَوْلاً وَلاَیَمْلِکُ لَهُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا ٭ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ یَاقَوْمِ ِنَّمَا فُتِنتُمْ بِهِ وَِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰانُ فَاتّاَبِعُونِی وََطِیعُوا َمْرِی ٭ قَالُوا لَنْ نَبْرَحَ عَلَیْهِ عَاکِفِینَ حَتَّی یَرْجِعَ الَینَا مُوسَی ٭ قَالَ یَاهَارُونُ مَا مَنَعَکَ إِذْ رََیْتَهُمْ ضَلُّوا ٭ َلاَّ تَتّاَبِعَنِ َفَعَصَیْتَ َمْرِی ٭ قَالَ یَبْنَؤُمَّ لاَتَْخُذْ بِلِحْیَتِی وَلااَبِرَْسِی ِنِّی خَشِیتُ َنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِی ِسْرَائِیلَ واَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِی ٭ قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یَاسَامِرِیُّ ٭ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ َثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَکَذَلِکَ سَوَّلَتْ لِی نَفْسِی ٭ قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَکَ فِی الْحَیَاةِ َنْ تَقُولَ لاَمِسَاسَ وَِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَتُخْلَفَهُ وَانظُرْ الَی ِلٰهِکَ الَّذِی ظَلَلْتَ عَلَیْهِ عَاکِفًا لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِی الْیَمِّ نَسْفًا ٭ ِنَّمَا ِلٰهُکُمُ ﷲ الَّذِی لاَِلٰهَ ِلاَّ هُوَ وَسِعَ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا )

اے بنی اسرائیل! ہم نے تمھیں تمہارے دشمن فرعون سے نجات دی اور طُور کے داہنے جانب کا تم سے وعدہ کیا اور تم پر من وسلویٰ نازل کیا پاکیزہ چیزوں میں جو ہم نے تمہارے لئے بعنوان رزق معین کیا ہے کھاؤ اور اس میں طغیانی اور سر کشی نہ کرو ورنہ تم پر ہمارا غضب ٹوٹ پڑے گااور جو میرے غیض و غضب کا مستحق ہو گا یقینا ذلیل و خوار اور ہلاک ہو جا ئے گا. بیشک میں بخشنے والا ہوں ہر اُس شخص کو جو توبہ کر ے اور ایمان لائے اور پسندیدہ کام انجام دے اور ہدا یت پا ئے۔

اے موسیٰ ! کس چیز نے تم کو اس بات پر آمادہ کیا کہ تم اپنی قوم پر سبقت لے جاؤ؟. جواب دیا ! وہ لوگ ہمارے پیچھے ہی ہیں، میں نے تیری سمت جلدی کی تاکہ تو راضی اور خوشنود ہو جائے. کہا: میں نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمایا لیکن سامری نے انھیں گمراہ کردیا. موسیٰ غضب ناک اور افسوسناک حالت میں اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور کہا: اے میری قوم! کیا تمہارے ربّ نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا آیا ہماری غیبت تمہارے لئے طو لا نی ہو گئی تھی، یا تم لو گ اس بات کے خواہشمند تھے کہ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر غضب نازل ہو لہٰذا تم نے ہمارے وعدہ کی خلا ف ورزی کی؟


انھوں نے جواب دیا ہم نے اپنے اختیا ر سے تمہارے وعدہ کے خلا ف نہیں کیا ہے ہمارے پا س فرعونیوں کے آرائش کے وزنی آلات موجود تھے جس کو ہم نے آگ میں ڈال دیا اور ( فتنہ انگیز) سامری نے بھی اسی طرح اپنے زیورات ڈال دیئے.پھر اس نے ان کے لئے ایک گوسالہ کا مجسمہ بنایا، جو گوسالہ کی آواز رکھتا تھا ؛ انھوں نے کہا:تمہارااور موسیٰ کا خدا یہ ہے جس کو (موسیٰ) نے فراموش کر دیا ہے. آیا( یہ گوسالہ پو جنے والے) غور نہیں کر تے کہ (گوسالہ ) ان کا جواب نہیں دیتا ہے اور ان کے لئے کوئی نفع و نقصان نہیں رکھتا ہے؟!. ہارون نے پہلے ہی ان سے کہا تھا کہ اے میری قوم! تم لوگ اس گوسالہ کے سلسلہ میں فتنہ میں مبتلا ہو چکے ہو، تمہارا ربّ خدا وند رحمن ہے. میری پیروی کرو اورمیرے اطاعت گزار رہو.انھوںنے کہا ! ہم اس کی اسی طرح عبادت کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس نہیں آجا تے. موسیٰ نے (جب واپس آئے تو عتاب آمیز انداز میں ہا رون سے ) کہا: ہارون ! جب تم نے دیکھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں، تو کون سی چیز مانع ہوئی کہ تم میرے پا س نہیں آئے؟. کیوں میرے حکم کی مخالفت کی ؟. کہا: اے میری ماں کے بیٹے! میری ڈارھی اور بال نہ پکڑو، میں ڈرا تھا کہ تم کہو گے کہ بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا ہے اور میرے دستور کی رعایت نہیں کی ہے۔

موسیٰ نے کہا: اے سامری! یہ کون سا عمل ہے( جو تم نے انجام دیا ہے ) ؟. اُس نے کہا: میں نے وہ کچھ دیکھا جو انھوںنے نہیںدیکھاہے، پھر میں نے نمائندۂ حق (جبرئیل )کے نشان قد م کی ایک مشت خاک لی.اور اسے میں نے ( گوسالہ کے اندر ) ڈال دی، میری دلی آرزو نے مجھے اس کام پر آمادہ کیا.موسیٰ نے کہا! جاؤ! تم کو زندگی میں ہر ایک سے یہی کہنا ہے کہ مجھے چھونا نہیں اور تم سے (آخرت میں) ایک وعدہ ہے جو کبھی بر خلا ف نہیں ہوگا اور اپنے خدا کے بارے میں غور کرو جس کی عبادت کو جاری رکھا ہے اسے جلا ڈالوں گا اور( اس کی خاک) دریا میں چھڑک دوں گا. یقینا تمہارا خدا وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔


سورۂ بقرہ کی ۵۱ اور ۵۴ تا ۵۷ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَی َرْبَعِینَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وََنْتُمْ ظَالِمُونَ ٭ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ٭ وَإِذْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ٭ وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ ِنَّکُمْ ظاَلَمْتُمْ َنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمْ الْعِجْلَ فَتُوبُوإ الَی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوا َنفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْر لَکُمْ عِنْدَ بَارِئِکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ ِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ٭ وَإِذْ قُلْتُمْ یَامُوسَی لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی نَرَی ﷲجَهْرَةً فََخَذَتْکُمُ الصَّاعِقَةُ وََنْتُمْ تَنظُرُونَ ٭ ثُمَّ بَعَثْنَاکُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ٭ وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ وََنزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَکِنْ کَانُوا َنفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ٭ )

اور اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چا لیس شب کا وعدہ کیا،پھر( تم لو گ اس کی غیبت میں) گو سالہ کی پو جا کر نے لگے اور تم ظالم و ستمگر ہو پھر اس کے بعدہم نے تم کو بخش دیا ؛ شاید کہ تم لوگ(اس نعمت کا شکریہ ) بجا لاؤ. نیز اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور ( حق و باطل کے )درمیان تشخیص کا وسیلہ دیا .اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم لوگوں نے گوسالہ پرستی کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے، لہٰذا اپنے خدا کی طرف لوٹ آؤ اور اپنی جہالت کی سزا کے عنوان سے ایک دوسرے کو قتل کر نے کیلئے تیغ کھینچو کہ اسی میں تمہارے خد ا کے نزدیک تمہاری بھلائی ہے. اس خدا نے تمہاری توبہ قبول کی کہ وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے.اور اس وقت کو یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا : اے موسیٰ! ہم تم پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے مگر اس وقت جب تک خدا کو اپنی نگا ہوں سے آشکار طور سے نہ دیکھ لیں ، پھر تم صاعقہ کی زد میں آگئے جب کہ تم لوگ دیکھ رہے تھے. اور ہم نے بادل کو تمہارے سر پر سائبا ن قرار دیا اور تم پر من وسلویٰ نازل کیا؛ جو ہم نے تمھیں پاک وپاکیزہ رزق دیا ہے (اُسے) کھاؤ. انھوں نے (اس نعمت کا شکر ادا نہیں کیا) انھوں نے ہم پر نہیں بلکہ اپنے آپ پرستم کیاہے۔

سورۂ اعراف کی ۱۵۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے.

( واختار موسیٰ قومهُ سبعینَ رجُلاً لمیقاتنا فلمّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجفةُ قال ربِّ لو شئت أ هلَکتَهُم مِنْ قَبْلُ وَایّا أتُهلِکُنا بما فَعَلَ السُّفهائُ منّا ان هَیَ ا لّا فتنتُک... )

موسیٰ نے اپنی قوم سے ستّر آدمیوں کو ہماری وعدہ گاہ کے لئے انتخاب کیا اور جب( دیدار خدا کے تقاضے کے جرم میں) ایک جھٹکے اور زلزلے نے انھیں اپنی لپیٹ میں لے لیا تو( موسیٰ نے اس حال میں)کہا! خدا یا ! اگر تو چاہتا تو، مجھے اور انھیں پہلے ہی موت دے دیتا، کیا ان احمقوں کے کرتوت کی بناء پر ہمیں بھی نابود کر دئے گا؟! یہ صرف تیرا امتحان اور آزمایش ہے۔


سورۂ بقرہ کی ۶۱ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذْ قُلْتُمْ یَامُوسَی لَنْ نَصْبِرَ عَلَی طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الَرْضُ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الَْرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ َتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِی هُوَ َدْنَی بِالَّذِی هُوَ خَیْر اِهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَکُمْ مَا سََلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَیْهِمْ الذِّلَّةُ وَالْمَسْکَنَةُ وَبَائُوا بِغَضَبٍ مِنَ ﷲ ذَلِکَ بَِنَّهُمْ کَانُوا یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ ﷲ وَیَقْتُلُونَ النّاَبِیِّینَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ذَلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوا یَعْتَدُون )

اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم کبھی ایک قسم کی غذا پر اکتفاء نہیں کریں گے، لہٰذا اپنے ربّ سے ہمارے لئے مطالبہ کرو کہ جو کچھ زمین سے پیدا ہوتی ہے جیسے سبزی، کھیرا ،لہسن، مسور کی دال اور پیاز ہمارے لئے پیدا کرے. موسیٰ نے کہا: آیا تم چاہتے ہو کہ جو چیز گھٹیا اور معمولی ہے اس کو بہترا ور گراں قیمت شئی سے معاوضہ کرو؟تو کسی شہر میں آجاؤ کہ وہاں تمہاری خواہش کے مطابق سب کچھ موجو د ہے. ان کے لئے ذلت ورسوائی یقینی ہوگئی اور اللہ کے غیظ و غضب کا نشانہ بن گئے، کیو نکہ انھوں نے مخالفت و نافرمانی کی اور ظلم و تعدی کی بناء پر آیات خدا وندی کے منکر ہوئے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔

سورۂ مائدہ کی ۲۰ تا۲۶ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ ﷲ عَلَیْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیکُمْ َنْبِیَائَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوکًا وَآتَاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ َحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ ٭ یَاقَوْمِ ادْخُلُوا الَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِی کَتَبَ ﷲ لَکُمْ وَلاَتَرْتَدُّوا عَلَی َدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِینَ ٭ قَالُوا یَامُوسَی ِنَّ فِیهَا قَوْمًا جَبَّارِینَ وَِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّی یَخْرُجُوا مِنْهَا فَِنْ یَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ٭ قَالَ رَجُلاَنِ مِنَ الَّذِینَ یَخَافُونَ َنْعَمَ ﷲ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوا عَلَیْهِمْ الْبَابَ فَِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی ﷲ فَتَوَکَّلُوا ِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ٭ قَالُوا یَامُوسَی ِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا َبَدًا مَا دَامُوا فِیهَا فَاذْهَبْ َنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ٭ قَالَ راَبِ ِنِّی لاََمْلِکُ ِلاَّ نَفْسِی وََخِی فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ٭ قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَة عَلَیْهِمْ َرْبَعِینَ سَنَةً یَتِیهُونَ فِی الَرْضِ فَلاَتَْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ٭ )


جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم :اپنے اوپر نازل ہو نے والی خدا کی نعمت کو یاد کرو،کیو نکہ اُس نے تمہارے درمیان پیغمبروں کو قرار دیا اور تمھیں آزاد ( اور بادشاہ بنایا) اور تمھیں ایسی چیزیں عطا کیں جو کسی کو نہیں دی ہیں. اے میری قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤجسے خدا نے تمہارے لئے معین اور مقرر فر مائی ہے اور پیچھے واپس نہ آنا( خدا کے حکم کی خلا ف ورزی نہ کرنا) ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگے. انھوں نے کہا اے موسیٰ! وہاں پر ظالم و ستمگر قوم ہے لہٰذا وہاں ہم کبھی داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں، پھر اگر وہ نکل جائیںتو ہم یقیناً ہو جائیں گے دو خدا ترس مرد جو کہ مشمول ِ نعمت ِخداوندی تھے، انھوں نے ان سے کہا تم لوگ ان پر دروازے سے وارد ہو اگر ایسا کرو گے توکامیابی تمہارے قدم چومے گی خدا پر بھروسہ رکھو اگر صاحب ایمان ہو.کہنے لگے: اے موسیٰ وہاں ہم کبھی داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں،تم اور تمہارا رب وہاں جا ئے اور ان سے جنگ کرے، ہم یہیں پر بیٹھے ہوئے ہیں، موسیٰ نے کہا، پروردگارا! میں فقط اپنا اور اپنے بھائی کا ذمہ دار ہوں، تو ہمارے اور اس فاسق قوم( جو حکم نہیں مانتی) کے درمیان جدائی کر دے. خدا نے فرمایا!( اس شہر میں ان کا داخل ہو نا) چالیس سال تک کے لئے حرام ہے اور بیابان میں سر گرداں پھرتے رہیں گے تم اس فاسق قوم پر افسوس نہ کرو۔

سورۂ قصص کی ۷۶ویں تا ۸۱ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

(إ ِنَّ قَارُونَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیْهِمْ وَآتَیْنَاهُ مِنْ الْکُنُوزِ مَا ِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوئُ بِالْعُصْبَةِ ُولِی الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لاَتَفْرَحْ ِنَّ ﷲ لاَیُحِبُّ الْفَرِحِینَ ٭ وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ ﷲ الدَّارَ الآخِرَةَ وَلاَتَنسَ نَصِیبَکَ مِنْ الدُّنْیَا وََحْسِنْ کَمَا َحْسَنَ ﷲ الَیکَ وَلاَتَبْغِ الْفَسَادَ فِی الَرْضِ ِنَّ ﷲ لاَیُحِبُّ الْمُفْسِدِینَ ٭ قَالَ ِنَّمَا ُوتِیتُهُ عَلَی عِلْمٍ عِندِی َواَلَمْ یَعْلَمْ َنَّ ﷲ قَدْ َهْلَکَ مِنْ قَبْلِهِ مِنْ القُرُونِ مَنْ هُوَ َشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وََکْثَرُ جَمْعًا وَلاَیُسَْلُ عَنْ ذُنُوبِهِمْ الْمُجْرِمُونَ ٭ فَخَرَجَ عَلَی قَوْمِهِ فِی زِینَتِهِ قَالَ الَّذِینَ یُرِیدُونَ الْحَیَاةَ الدُّنیَا یَالَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَا ُوتِیَ قَارُونُ ِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِیمٍ ٭ وَقَالَ الَّذِینَ ُوتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ ﷲ خَیْر لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلاَیُلَقَّاهَا ِلاَّ الصَّابِرُونَ ٭ فَخَسَفْنَا بِهِ واَبِدَارِهِ الَرْضَ فَمَا کَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ یَنصُرُونَهُ مِنْ دُونِ ﷲ وَمَا کَانَ مِنَ المُنْتَصِرِینَ ٭ )


قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا کہ اس نے ان پر تجاوز کیا. ہم نے اُسے اس درجہ خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیوں کا قوی ہیکل اور مضبوط جماعت کے لئے بھی اٹھا نا زحمت کا باعث تھا۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا:تکبر نہ کرو کیو نکہ خدا تکبر کر نے والوں کو دوست نہیں رکھتا. جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے اس سے دار آخرت کا انتظام کر اور دنیا سے جو تیرا حصّہ ہے اس کو بھول نہ جا اور جس طرح خداوند سبحان نے تجھ پر نیکی کی ہے تو بھی دوسروں کے ساتھ نیکی کر اور حسن سلوک سے پیش آ اور فساد اور تبا ہی مچا نے والوں میں سے نہ ہوجا کیو نکہ خدا فساد کر نے والوں کو دوست نہیں رکھتا. قارون نے کہا: یہ مال و دولت میری دانش کی وجہ سے ہے کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ خدا وند عالم نے اس سے صدیوں پہلے ان لوگوں کو جو اس سے قوی اور مالدار ترین لوگ تھے ہلاک کردیا ہے اور گنا ہگار لوگ اپنے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کئے جائیں گے؟ (قارون) اپنی آرایش اور زیبائش کے ساتھ اپنی قوم کے پاس باہر نکلا۔

جو لوگ دنیا طلب تھے انھوں نے کہا:! اے کاش ہم بھی قارون کی طرح دولت کے مالک ہوتے یہ تو بڑے عظیم حصّہ کا مالک ہے. جو لوگ اہل علم اور دانش تھے انھوں نے کہا! تم پر وائے ہو ! خدا وند سبحان کا ثواب ان لوگوں کے لئے ہے بہتر ہے جو ایمان لا کر نیکو کار بنے ہیںاور ایسا ثواب صابروں کے علاوہ کسی کو نہیں ملتا. پھر ہم نے اسے(قارون )اور اس کے گھر بار کو زمین میں دھنسا دیا اور اُس کا کوئی ناصر و مدد گار نہیں تھا جو خدا کے مقابلے میں اس کی نصرت کر تا اور خود بھی اپنی مدد نہیں کرسکا۔

کلمات کی تشریح

۱۔ جیبک، جیب:

گریبان، چاک پیراہن۔

۲۔ مَلائہ ، الملائُ :

قوم کے بزرگ اور اکا بر لوگ،کبھی جماعت پر بھی اطلاق ہوتا ہے اور اشراف سے اختصاص نہیں رکھتا۔


۳۔ ارجہ ، اَرْج الامر:

اُسے تاخیر میں ڈال دیا۔

ارجہ واخاہُ ،اُ س کا اور اُس کے بھائی کا کام تاخیر میں ڈال دو۔

۴۔ حاشرین:

حشر؛اکٹھا ہو نا،جمع ہو نا۔

حاشرین :

جمع ہوئے تاکہ جا دو گروں کو اکٹھا کریں۔

۵۔ تلقف، لقف الطعام:

غذا نگل گیا ،غذا حلق کے نیچے لے گیا۔

۶۔یأ فکون، اَفک یافکُ:

بہتان اور افتراء پر دازی کی. یا فکون،بر خلاف حقیقت پیش کرنا۔

۷۔صَا غرین، صاغر:

ذلیل وخوار۔

۸۔ مِن خلا فٍ، قطع الایدی و الارجلَ من خلافٍ :

یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں قطع کرنا اوریا اُس کے بر عکس۔


۹۔افرغ ،

افرغ الله الصبر علی القلوب :

خدا نے دلوں میں صبر ڈال دیا، ان پر صبر نازل کیا.ان میں صبر کی قوت دی۔

۱۰۔ سنین :

سنہ کی جمع سنین ہے جو خشک اور بے آب و گیاہ اور سخت سالوں کے معنی میں ہے۔

۱۱۔ یطےّروا، تطّیر:

بد شگونی کی،بد فالی کی،طائر یہاں پر ان کی شومی(نحوست) اور ان کے خیر و شر کے معنی میں ہے .یعنی یہ سارے امور خود ان سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔

۱۲۔طوفان:

اتنی شدید بارش کہ لوگوں کو اپنے دائرہ میں لے لے۔

۱۳۔ جراد :

ٹڈی ،مراد یہ ہے کہ ٹڈی نے جتنی گھاس اور اُگنے والی چیز تھی سب کو کھا کر نابود کر دیا۔

۱۴۔ القَمّل:

اس کے معنی کے بارے میں کہا ہے : ایک موذی اور نہایت چھوٹا حشرہ یعنی کیڑا ہے جیسے گیہوں کا گھن اور اونٹ کی کیڑی اور حیوان کی جوں یا کلنی وغیرہ ۔

۱۵۔رجز: عذاب

۱۶- ینکثون:

اپنے عہد وپیمان کو توڑ ڈالتے ہیں۔

۱۷۔ طود:

آسمان کو چھوتے ہوئے عظیم پہاڑ ۔


۱۸۔ ازلفنا:

ہم نے قریب کر دیا، یعنی : فرعون اور فرعونیوں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے زیا دہ سے زیادہ نزدیک کر دیا تا کہ انھیں دیکھیں اور ان کا تعاقب (پیچھا) کریں اور یکبار گی سب غرق ہو جائیں۔

۱۹۔ متبّر، تبَّرہ :

اسے قتل کر دیا ، ہلاک کر ڈالا. متبّر: ہلاک شدہ مقتول۔

۲۰۔ اسباطاً :

اسباط: قبائل اورہروہ قبیلہ جس کے افراد کی تشکیل ایک مرد کی نسل سے ہوئی ہو۔

۲۱۔ اِنْبََجَستْ :

منفجر ہو گئی، پھٹ گئی، ایک دوسرے سے جدا ہو گئی۔

۲۲۔ من و سلویٰ:

من کی تفسیر کی ہے کہ وہ صمغیٰ (ترنجبین ) تھا جامد شہد کے مانند جو آسما ن سے نازل ہوتا تھا اور جب وہ درخت یا پتھرپر بیٹھتا ہے تو ٹکیہ کے مانند ہو جا تا ہے. سلویٰ بھی ایک مہا جر اور دریائی پرندہ کا نام ہے جسے سمان، کہتے ہیں( بٹیر ) ۔

۲۳۔حطّة :

حَطَّ اللہ وزرہ ، خدا نے اس کے گناہ معاف کردئیے۔

قولوا حِطّة:

یعنی کہو خدا یا! ہمارے گناہوںاور ہمارے بُرے ا عمال کو نیست ونابود کر دے۔


۲۴۔ یعدون:

ستم کرتے ہیں۔

۲۵۔ بقلھا وقثاّئھا وفو مِھا :

بقلھا: وہ اچھی اور پاکیزہ سبزیاں جو بغیر کسی تبدیلی کے کھائی جا تی ہیں، القثّائ! کھیر ا یا ککڑی، فُومھا: گہیوں یا روٹی یا لہسن۔

۲۶۔ لا تأس علیٰ القوم:

ان کے لئے غمگین اور محزون نہ ہو۔

۲۷۔عتوا:

تکبر کیا،حد سے آگے بڑھ گئے ۔

۲۸۔شُرّعاً :

پا نی پر ظا ہر اور رواں۔

۲۹ ۔خاسئین:

ذلیل وخوار اور مردود افراد۔

.۳ ۔خُوار، خار الثور والعجل خواراً:

یعنی گائے اور گو سالہ نے آواز نکالی۔

۳۱۔ لا مَساسَ :مسّہ و ماسّہ:

لمس کیا،کسی چیزپربغیر کسی مانع اور رکاوٹ کے ہا تھ پھیرا۔

آیت شریفہ میں لا مساس یعنی مجھے لمس نہ کرو.(مجھے نہ چھوؤ)

۳۲۔ یعکفون اور عاکفین:

عکف فی المکان :کسی جگہ پر ٹھہرا ، و عکف فی المسجد:یعنی مسجد میں معتکف ہوا(اعتکاف کے لئے قیام کیا)۔

یعنی مسجد میں ایک مدت تک عبادت کے قصد سے قیام کیا۔


۳۳۔ نبذتُھا :

اُسے پھینک دیا.ڈال دیا۔

۳۴۔ سوّلت لی نفسی:

میرے نفس نے مجھے دھو کہ دیا اور اس کام کو میرے لئے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔

۳۵۔ ننسفنَّہ:

نسفت الریح التراب: یعنی ہوا نے خاک کو اڑا ڈالا اور پرا گندہ کردیا،بکھر گیا اور یہاں پر اس معنی میں ہے کہ اس کے ذرّات کودریا میں ڈا ل دوں گا۔

۳۶۔ فتنُک:

تیرا امتحان۔

۳۷ ۔ مسکنة :

فقر، بے چا ر گی،ضعف اور نا توانی۔

۳۸ ۔ لَن نبرح:

گو سالہ کی پر ستش سے ہم کنارہ کشی نہیں کر یں گے(باز نہیں آئیں گے) اور ہا تھ نہیں کھینچے گے۔

۳۹۔ لم ترقب:

محفوظ نہیں رکھا، اس کی نگہدا شت نہیں کی۔

.۴۔ خطبُک: تمہارا حال،تمہاری موقعیت۔

آیات کی تفسیر میں قابل توجہ اور اہم مقامات

فرعون بنی اسرا ئیل میں پیدا ہو نے والے نوزاد بچوں کا سر کاٹ دیتا تھا،اس لئے کہ اس سے کہا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے درمیان ایک بچہ پیداہو گا اس کی اور اس کے قوم کی ہلا کت اس کے ہاتھوں سے ہو گی.خداوندا عالم کی حکمت با لغہ اس بات کی مقتضی ہوئی کہ اُس بچہ کی پرورش کی ذمّہ داری خود فرعون نے لے لی.اورخدا کی مرضی یہی تھی کہ وہ بچہ فرعون کے گھر میں نشو و نما پا ئے یہاں تک کہ بالغ وعا قل ہو کر قوی ہو جا ئے۔


ایک دن موسیٰ نے فرعون کے محل سے قد م باہر نکا لا اور بغیر اس کے کہ کوئی ان کی طرف متو جہ ہو شہر میں داخل ہوگئے.وہاں دیکھا کہ ایک قبطی شخص بنی اسرا ئیل کے ایک شخص سے دست و گریباں ہے اور ایک دوسرے کو مار رہے ہیں. اور چو نکہ وہ قبطی شخص اپنے حریف پر غالب ہو گیا تھا ، لہٰذا اس اسرائیلی نے موسیٰ سے عا جزی کے ساتھ نصرت طلب کی موسیٰ نے ایک قدم آگے بڑھا یا اور ایک گھونسا اس قطبی کو مار دیا وہ اس مارکے اثر سے زمین پر گر پڑا اور تھوڑی دیر میں دم توڑ دیا۔

فرعونی موسیٰ سے انتقام لینے اور انھیں قتل کرنے پر متحد ہوگئے،اس وجہ سے وہ مجبورا ً ترساں اور گریزاں جبکہ اپنے اطراف سے بہت ہی چو کنا تھے مصر سے قدم با ہر نکا لا اس طرح چلتے رہے یہاں تک کہ مدین آگئے وہاں حضرت شعیب پیغمبر کے اجیر ہوگئے اور ان کے بھیڑ وں کی ۸ سال یا دس سال چرواہی کو اس بات پر قبول کیا کہ حضرت شیعب کی کسی ایک لڑکی سے ازدواج کریں گے.موسیٰ نے دس سال خدمت کی اور اختتام پر حضرت شیعب نے وفاء عہد کے علا وہ وہ عصا بھی انھیں دیا جو پیغمبروں سے انھیں میرا ث کے عنوان سے ملا تھا اور گوسفندوں کی چرواہی کے کام آتا تھا۔( ۱ )

موسیٰ ملازمت اور نوکری کے تمام ہو نے پر اپنی بیوی اور گوسفندوں کے سا تھ سینا نامی صحرا کی طرف متو جہ ہوئے تو تاریک اور سرد رات میں ایک آگ مشا ہدہ کی۔

آپ نے اس آگ کی طرف رخ کیا تا کہ اس سے کچھ آگ حاصل کریں (اور اپنے اہل وعیال کو گرمی پہنچائیں)یا اس آگ کی روشنی میں کوئی ایسا شخص مل جائے جو راستے کی راہنمائی کرے.لیکن جیسے ہی موسیٰ وہاں پہنچے،ایک آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا تھا!

اے موسیٰ! میں ربّ العالمین ہوں( ۲ ) اپنے عصا کو ڈال دو.جب موسیٰ کی نگاہ عصا پر پڑی تو کیا دیکھا کہ جاندار کی طرح حرکت کر رہا ہے توپشت کر کے بھا گے اورمڑ کر اپنے پیچھے نگا ہ بھی نہیں کی۔

خدا نے آواز دی:اے موسیٰ! خوف نہ کرو کہ میں اُسے اس کی پہلی حا لت میں لو ٹا دوں گا.پھر موسیٰ نے اپنا ہا تھ عصا کی طرف بڑ ھا یا نا گاہ دیکھا کہ وہی لکڑی کا عصا ہو گیا ہے جو پہلے تھا.اس کے بعد خدا وندرحمن نے ان سے فرمایا! اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان کے اندر لے جا ؤ اور نکالو. تمہارا ہاتھ سفید ی سے چمکنے لگے گا.بغیر اس کے کہ اس میں کوئی داغ دھبّہ ہو.پھر اس وقت خداوند سبحان نے اُن سے فرما یا؛یہ دو معجزے نو

____________________

(۱)یہ بات روایات میں بھی ذکر ہوئی ہے.

(۲) ہم نے اپنے مطالب کو قصص، نمل، اعراف، طہٰ اور شعراء کے سوروں سے جمع کر کے بیان کیا ہے.


آیات اور نشانیوں میں سے ہیں اور ان کے ہمراہ (میری رسالت لے کر) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ.موسیٰ نے کہا ! خدا یا! ہمارے بھا ئی ہارون کو جو کہ ہم سے زیادہ گویا زبان کا مالک ہے ہمارے ہمراہ کر دے.اور خدا نے فرمایا: ہم نے تمہارے بازؤوں کو تمہارے بھائی سے محکم اور مضبوط کر دیا.اب فرعون کی طرف جا ؤ کہ اُس نے سرکشی اور طغیانی کر رکھی ہے.اور اس کے ساتھ نرمی اور ملا طفت سے گفتگو کرنا شا ید وہ نصیحت حا صل کر کے (خدا سے ) ڈرے.اس کے پاس جا کے کہو میں تمہارے ربّ کا پیغمبر ہوں،بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دے اور انھیںاس سے زیا دہ آزار اور اذیت نہ پہنچا ئے۔

موسیٰ کلیم اللہ نے پیغام خدا وندی کو فرعون اور اس کی با رگا ہ میں مقر ب افراد تک پہنچایا. اور خدا وند عالم نے بھی موسیٰ کے ہاتھوں اپنی نو آیات کی نشا ندہی کی.لیکن فرعون نے سب کو جھٹلا یا اور خدا وند سبحان کی اطاعت اور پیروی سے انکار کر تے ہوئے بولا:اے موسیٰ! کیا تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں اپنے سحر اور جا دو سے ہماری سر زمینوں سے با ہر کر دو! ہم بھی تمہارے جیسا سحر اور جادو پیش کرسکتے ہیں.پھر اس نے حکم دیا کہ تمام جا دو گروں کو ان کی عید کے دن حاضر کرو۔

جا دو گروں نے حضرت موسیٰ سے کہا : اے موسیٰ ! پہلے تم اپنا عصا پھینکو گے یا ہم پھینکیں؟ موسیٰ نے جواب دیا:تم لوگ ہی پہل کرو.جب جا دو گروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں زمین پر ڈال دیں،تو ان کا جادو لوگوں کی نگاہوں پر چھا گیا اور انھیںسخت ڈرایا.فرعونی جادو گروں نے ایک عظیم جادو دکھایا. میدان نمائش میں لوگوں کی نظر میں غضبناک اور حملہ آور بل کھا رہے تھے ایسے موقع پر خدا وند عالم نے موسیٰ کو حکم دیا:اپنا عصا زمین پر ڈال دو کہ وہ تن تنہا ہی جو کچھ جا دو گروں نے لوگوں کی نگاہ میں جھوٹ اور خلا ف واقع نما ئش کی ہے سب کو نگل جائے گا۔

موسیٰ نے تعمیل حکم کی اور زمین پر اپنا عصا ڈ ال دیا آپ کا عصا خوفنا ک اور مہیب اژدھے کی شکل میں تبدیل ہو گیا کہ ا س کے ایک ہی حملے میں جادوں گروں کے تما م نقلی اور بناوٹی شعبدے وسیع و عریض میدان میں ایک دم سے نابود ہوگئے.پھر موسیٰ نے اس عظیم اور بھاری بھرکم اژدھے کی طرف اپنا ہا تھ بڑھا یا جس نے تمام رسیوں اور لاٹھیوںکو نگل لیا تھا کہ وہ اژدھا ان کے ہاتھ میں آتے ہی وہی عصا ہو گیا جو پہلے تھا۔


جادو گروں نے درک کرلیا کہ موسیٰ کے عصا کے ذریعہ اتنی ساری لا ٹھیوں اور رسیوں کا ہمیشہ کے لئے نابود ہو نا سحر وجادونہیں ہو سکتا.بلکہ اللہ کے عظیم معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے.اسی وجہ سے سب کے سب سجدہ میں گر پڑے اور بو لے : ہم ربّ العالمین موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے.جب فرعون نے انھیں ایمان لا تے ہوئے دیکھا تو بولا:قبل اس کے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم لوگ ایمان لے آئے؟ (اس کام کی سزا میں ) تمہارے ہا تھ پیر مخالف سمت سے کاٹ کر دار پر لٹکا دوں گا.ساحروں نے جواب دیا: کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہم اپنے ربّ کی طرف چلے جائیں گے۔

اس کے بعد فرعون اور فرعونیوں نے مسلسل عذاب خدا وندی جیسے طو فان ،ٹڈیوں کے حملہ، جؤوں ، مینڈکوں اور خون(پانی کے خون ہونے) سے دو چار رہے اور ان میں سے جب کبھی کو ئی عذاب نازل ہوتا تو کہتے : اے موسیٰ! اپنے ربّ سے دعا کرو کہ اگر وہ ہم سے عذاب ہٹا لے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرا ئیل کو بھی یقینا تمہارے ہمراہ کر دیں گے.خدا وند عالم حضرت موسیٰ کی دعا کے ذریعہ(لازمہ تنبیہ کے بعد)بلا کو اُن سے برطرف کر دیتا لیکن فرعونی اپنے عہد وپیمان کو توڑ دیتے.(اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر باقی رہتے)۔

ان واقعات کے بعد خدا نے موسیٰ کو وحی کی کہ ہمارے بندوں کو کوچ کا حکم دو. موسیٰ بنی اسرا ئیل کو لے کر راتوں رات کوچ کر گئے یہاں تک کہ دریائے سرخ تک پہنچے. فرعون اور اس سپاہیوں نے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ صبح سویرے ان تک پہنچ گئے بنی اسرا ئیل کی فریاد وفغاں بلند ہونے لگی کہ: ہم گرفتار ہوگئے۔

اس وقت خدا نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنا عصا دریا پر ما رو.موسیٰ نے حکم کی تعمیل کی اور دریا پر اپنا عصا مارا.دریا شگافتہ ہوگیا اور بنی اسرا ئیل کے قبیلوں کی تعداد کے برابر بارہ خشک راستے نمودار ہوگئے اور ہر قبیلہ اپنی مخصوص سمت کی طرف روانہ ہو گیا اور آگے بڑھ گیا.فرعون اور اس کے سپا ہیوں نے دریا میں پیدا ہوئے خشک راستوں میں ان کا پیچھا کیا.جب بنی اسرا ئیل کی آخری فرد دریا کے اُس سمت سے پار ہوگئی اور فرعون کے سپا ہیوں کی آخری فرد دریائی راستوں میں داخل ہوگئی تو اچا نک پا نی آپس میںمل گیا اور فرعون اور اس کے لشکر کے تمام افراد کو اپنے اندر ڈبو لیا۔


اس حا لت میں کہ فرعون نے کہا :ہم اُس خدا پر ایمان لائے جو بنی اسرا ئیل کے معبود کے علا وہ کوئی معبود نہیں ہے. اور میں اس کے سامنے سراپا تسلیم ہوں. اُ س سے کہا گیا: ابھی ! چند گھڑی پہلے مخالفت اور نافرمانی کر رہے تھے؟! آج تمہارے( مردہ) جسم کو ساحل تک پہنچا کر باقی رکھیں گے؛تا کہ آیندہ والوں کے لئے عبرت ہو. خدا وند عظیم نے سچ فر مایا ہے،کیو نکہ اس فرعون کا مصا لحہ لگا جسم مصر کے قدیمی تاریخ میو زیم میں دیکھنے والوں کے لئے محل نما ئش بناہوا ہے. میں (مؤلف) نے بھی اُسے نز دیک سے دیکھا ہے۔

جب خدا وند عالم نے بنی اسرا ئیل کو دریا سے عبور کر ایا اور ان کے دشمنوں کو دریا میں غرق کر ڈالا اور سینا نامی صحرا کی طرف آگے بڑھے، تو ایسے لو گوں سے ملا قات ہوئی جو اپنے بتوں کی پو جا کرتے تھے.بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا: اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی کوئی خدا بناؤ،جس طرح ان لوگوں کے خدا ہیں.موسیٰ نے فرمایا:تم لوگ بہت جا ہل انسان ہو،ان کا کام باطل اور لغو ہے؛آیا میں تمہارے لئے خدا وند یکتا کے علا وہ جس نے تم کو(تمہارے زمانے میں)عالمین پر منتخب کیا ہے کسی دوسرے خدا کی تلا ش کروں؟! یہ انتخاب جس کی جانب حضرت موسیٰ نے اشارہ کیا ہے اس لحاظ سے تھا کہ خدا وند عالم نے انھیں میں سے ان کے درمیان پیغمبروں کو مبعوث کیا اور انواع واقسام کی نعمتوں جیسے ان کے سر پر بادلوںکا سا یہ فگن ہونے اور آفتاب کی حدت سے بچا ؤ اور من وسلویٰ جیسی غذا سے نوازا تھا۔

ان تمام چیزوں کے با وجود جب خدا نے حکم دیا کہ سجدہ کی حا لت میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازہ سے داخل ہوں اور کہیں:'' حطّہ ''ہمارے سارے گناہوں کو معاف کر دئے تو اس کے برعکس اپنی نشیمن گاہ کو زمین پر گھسیٹتے ''حنطہ '' ( سرخ گیہوں) کہتے ہوئے دا خل ہوئے ۔


اور دریا کے ساحل پر رہنے والوں نے ،کہ ان کے خدا نے سنیچر کے دن مچھلی کا شکار کر نے سے ممانعت کی تھی.اس وقت جب کہ اُس دن جھنڈ کی جھنڈ مچھلیاں پا نی کی سطح پر ظاہر ہوتی تھیںخدا کی نافرما نی کر تے ہوئے سنیچر کے دن ان کا شکا ر کیا تو خدا نے اُن سے نا راض ہو کر بندروں کی شکل میں انھیںتبدیل کر دیا۔

بنی اسر ائیل کے سینا نامی صحرا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد اس جگہ عظیم انسانی اجتماع کی تشکیل ہوئی،انھیں اپنے اس اجتما ع کے لئے نظا م اور قوانین کی ضرورت محسوس ہوئی یہی موقع تھا کہ خدا وند عالم نے کوہِ طور کی دا ہنی جا نب اپنے پیغمبر موسیٰ سے وقت مقرر کیا تا کہ تیس شب وروز کے بعد انھیں تو ریت عطا کرے،موسیٰ نے حکم کی تعمیل کی اور اپنے ربّ سے مناجات کرنے کے لئے اپنی وعدہ گاہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنے بھائی ہا رون کو اپنی قوم کے درمیان جانشینی دی۔

ربُّ العا لمین نے موسیٰ کے ساتھ اپنے وعدہ کی تکمیل مزید دس شبوں کے اضا فہ سے کی اور یہ وعدہ چالیس شب میں تمام ہوا۔

حضرت موسیٰ کی غیبت سے فا ئدہ اُٹھا تے ہوئے سامری نے بنی اسرا ئیل کو فریب دینے اور گمراہ کرنے کی سعی کی.اور اس راہ میںطلائی یعنی سونے کے آ رائشی اسباب سے جوکہ فرعونیوں سے ادھار لی تھیں اُنھیں پگھلا کر اس سے گو سالہ کی شکل کا ایک مجسمہ بنایا.اور اُس مجسمہ کے منھ میں جبرئیل کے گھوڑے کی نعل کی جگہ والی تھوڑی سی خاک رکھ دی جب وہ حضرت موسیٰ پر نازل ہو نے کے وقت انسانی شکل میں گھوڑے پر سوار آئے تھے، اس کے اثر سے مجسمۂ گو سالہ کے منھ سے گوسا لہ کی آواز کی طرح ایک آواز آتی تھی.اس طلائی (سنہرے)گو سالہ کا تنہاامتیاز یہی بانگ اور آوازتھی. سامری کے نفس نے اس کام کو خوبصورت ، جا لب اور جا ذب نظر انداز میں اس کے سامنے پیش کیا اورا سے اس کے انجام دینے کی تشویق دلا ئی .حضرت موسیٰ نے (چالیس شب کے اختتام اور اپنی قوم کی جانب واپس آنے کے بعد) سامری سے کہا: تم تن تنہا بیا با نوں اور جنگلوں کا رخ کرو اگر کسی نے بھی تم سے رابطہ رکھا تو دونوں ہی بخا ر میں مبتلا ہو جاؤ گے؛اور ہمیشہ کہتے رہو گے کہ مجھ کو نہ چھؤو؛ اس کے بعد بھی میں تمھیں قیامت کے دن عذاب خدا وندی کی خبر دے رہا ہوں.اب اپنے اس جعلی اور بناوٹی خدا کو دیکھو جس کی عبادت کرتے تھے کہ اسے ہم آگ میں جلا کر دریا میں ڈ ال دیں گے؛یقینا تمہارا خدا صاحب جلال اور بلند و با لا ہے۔


گوسالہ کے نابود ہو نے اور سامری کے بیابانوں میں فرار کر نے کے بعد بنی اسرا ئیل کا وہ گروہ جو اس کے گو سالہ کی پو جا کر نے لگا تھا،اپنے گناہ پر نادم ہوا وہ لوگ فرمان خدا وندی کے سامنے سراپا تسلیم ہوئے تاکہ وہ مومنین جنھوں نے گو سا لہ پر ستی نہیں کی تھی،ان گوسالہ پرستوں کو قتل کریں اور یہی( قتل کرنا) ان کے اس گناہ کی توبہ تھی جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے اور چونکہ انھوں نے یہ سزا قبول کی اور اسے سراپا تسلیم کیا تو خدا وند عالم نے حضرت موسیٰ کی شفا عت کی بنا ء پر ان کی تو بہ قبول کر لی۔

ان تمام چیزوں کے با وجود،بنی اسرا ئیل نے قبول نہیں کیاکہ موسیٰ کلیم اللہ ہیں اور جو توریت وہ لے کر آئیں ہیں خد اوند عالم نے انھیں عطا کی ہے.اس وجہ سے ان سے خواہش کی کہ خود گواہ رہیں اور خدا کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں.لہٰذا ان میں سے ستّر افراد کو موسیٰ نے چنا اور ان کے ہمراہ کوہِ طور کی جانب گئے: اس گروہ نے جب خدا کا کلام سنا تو کہا:خدا کو واضح اور آشکار طور سے ہمیں دکھاؤ؛کہ انھیں زلزلہ نے اپنے احاطہ میں لے لیا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے۔

موسیٰ اس بات سے خو فزدہ ہوئے کہ اگر اس واقعہ کی خبر بنی اسرا ئیل کو ہو گئی تو یقین نہیں کریں گے۔

یہ وجہ تھی کہ خدا وند سبحان کے حضور تضرع وزاری کی یہاں تک کہ خدا نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں دوبارہ زندہ کیا۔

اور حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا: اے میری قوم!اُس مقدس اور پاکیزہ سر زمین میں داخل ہو جاؤ جسے خدا وند عالم نے تمہارے لئے معین کی ہے.انھوں نے ان کے جواب میں کہا! اے موسیٰ! وہاں ظلم اور سختی کرنے والے لوگ پا ئے جا تے ہیں اور ہم وہاں کبھی نہیں جائیں گے.مگر اُس وقت جب وہ لوگ وہاں سے باہر نکل جائیں.تم اپنے خدا کے ہمراہ جاؤ اور ان سے جنگ کرو:ہم یہیں بیٹھے منتظر رہیں گے!ان کے نیک افراد میں صرف دولوگ کالب اور یوشع نے ان سے کہا:تم لوگ جیسے ہی شہر کے دروازہ سے اُن کے پاس جاؤ گے کامیاب ہو جاؤ گے.اور موسیٰ نے کہا:خد یا ! میں اپنے اور اپنے بھائی کے علا وہ کسی پر طا قت اور تسلط نہیں رکھتا .تو ہمارے اور اس فا سق قوم کے درمیان جدائی ڈال دے.خدا وند عالم نے بھی فرمایا:ایسی جگہ پر چا لیس سال تک کے لئے ان کا تسلط حرام کر دیا گیا ہے. یہ لوگ اتنی مدت تک جنگلوں اور بیابانوں میں حیران وسرگرداں رہیں گے.تم اس تباہ و برباد قوم کے لئے اپنا دل نہ دکھاؤ اور غمگین نہ ہو۔


نتیجہ کے طور پر بنی اسرا ئیل چا لیس سال تک سردی کے ایام میں رات کے وقت ایک گو شہ سے کو چ کرتے تھے اور صبح تک حر کت کر تے رہتے تھے.لیکن صبح کے وقت خود کو وہیں پا تے تھے جہاں سے کوچ کرتے تھے۔

اس حیرانی اور سر گردانی کے زمانے میں سب سے پہلے ہا رون اور اس کے بعد موسیٰ نے دار فانی کو وداع کہا اور موسیٰ کے وصی یوشع نے بنی اسرا ئیل کی رہبری فرمائی، یوشع نے ظالموں اور جابروں سے جو کہ شام کی سر زمینوں میں سا کن تھے جنگ کی اور بنی اسرا ئیل کے ہمراہ وہاں داخل ہوگئے۔

خدا وند عالم نے حضرت موسیٰ کی شریعت کے اوصیا ء میں سے بہت سے پیغمبروںکو بنی اسرا ئیل کی طرف بھیجا یہاں تک کہ حضرت داؤد اور ان کے بعد حضرت سلیمان کا زمانہ آیا اور ہم انشاء اللہ ان دو پیغمبروں کے حالات بیان کر رہے ہیں۔

چو تھا منظر۔ داؤد اور سلیمان

خدا وند عالم سورہ ٔص کی ۱۷ تا ۲۰ اور ۲۶ویں آیات میں ارشاد فرما تا ہے:

( وَاذْ کُرْعَبَدْنَادَا ؤدَ ذَا الأیْدِ نّه أَوّاب٭ اَنّا سَخَّرْ نَا الْجِبَالَ مَعَه یُساَبِحْنَ با لْعَشِیِّ وَ ا لْاِ شْرَاقِ٭ وَالطَّیْرِ مَحْشُوْرةً کُلّ لَه أَوَّاب٭ وَ شَدَدْنٰا مُلْکَه وَآتَیْنٰاهُ الْحِکْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابَ٭ ...٭ یَا دَاؤدَ اِنَّا جَعَلنَاکَ خَلیفةً فِی الأَرضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ... )

ہمارے بندئہ قوی داؤد کو یاد کرو کہ جو خدا کی طرف بہت زیادہ تو جہ رکھتاتھا.ہم نے ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کیا کہ وہ اس کے ساتھ صبح وشام خدا کی تسبیح کرتے تھے. پرندے بھی ان کے پا س جمع ہو کر ان کے ہم آواز تھے.ہم نے ان کی حکومت اور ان کی فرما نروائی کو مضبوط اور محکم بنا دیا اور انھیں حکمت اور قطعی حکومت عطا کی...اے داؤد! ہم نے تمھیں رو ئے زمین پر اپنا جانشین قرار دیا،لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔

سورہ ٔسبا کی۱۰ویں اور ۱۱ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلاً یَاجِبَالُ َوِّبِی مَعَهُ وَالطَّیْرَ وََلَنَّا لَهُ الْحَدِیدَ ٭ َنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ِنِّی بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر )


ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے فضل عطا کر کے کہا:اے پہاڑوں!اور اے پرندوں! اس کے ساتھ ہم آواز ہو جاؤ؛اور لوہے کو ان کے لئے نر م کر دیا .اور یہ کہ(تم اے داؤد)کشادہ زرھیں بنا ؤ اور اُن کے حلقوں میں ناپ کی رعا یت کرو اور تم سب لوگ نیک عمل کرو کہ میں تم سب کے اعمال کا دیکھنے والا ہوں۔

سورہ ٔ انبیاء کی ۷۹ اور ۸۰ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَسَخَّرْناَ مَع دَاؤُدَ الجِبالَ یُسبّحن وَالطَّیرَ وَ کُنَّا فَاعِلینَ٭وَعَلَّمناهُ صَنعةَ لَبُوسٍ لَّکُمْ لِتُحصِنکُم مّن بأ سکُمْ فَهل أَنتُم شَاکِرونَ )

ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کیا تاکہ دائود کے ساتھ ہماری تسبیح کریں اورہم ایسا کام کرتے رہتے ہیں.اور داؤد کو زرہ بنانا سکھایا، تا کہ تمھیں جنگ کی شدت سے محفوظ رکھے، آیا تم ان تمام کا شکر یہ ادا کروگے ؟

سورہ ٔ ص کی ۳۰،۳۵ تا ۳۸ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ وَهَبنَا لِد اوُدَسُلِیمانَ نِعمَ الِعبدُ اِنَّهُ أوّاب٭ ...٭ قَالَ راَبِ اِغفِرلِی وَهَبَ لِی ملکاً لّا یَنبغِی لأحدٍ مِّنْ بَعدیِ اِنَّکَ أنتَ الوَهّابُ٭ فَسَخَّرَ ) ( نَالَهُ الرّیحَ تَجرِی بِأمرِه رُخائً حیثُ أَصاب٭ وَالشَّیَاطِینَ کُلَّ بَنّاء ٍ وَ غُوّاصٍ٭ وَ آخرِ ینَ مُقَرَّنین فِی الأصْفادِ )

ہم نے داؤد کو سلیمان نامی فرزند عطا کیا ،وہ ایک اچھا بندہ تھا اور ہماری طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا تھا.سلیمان نے کہا:خد ایا! مجھے بخش دے اور مجھے ایک ایسی با دشاہی اور سلطنت عطا کر کہ کوئی میرے بعد اس کا سزاوار نہ ہو،تو بہت بخشنے والا ہے.

پھر ہوا کو اس کا تابع بنایا کہ آپ کے حکم سے جہاں کا ارادہ کرتے اطمینان کے ساتھ چلتی تھی.اور شیاطین کو بھی تابع بنادیا جو کہ(ان کے لئے ) معمار اور غوّاص تھے. اور دیگر شیا طین کو بھی جو ایک دوسرے کے بغل میں زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے ۔


سورۂ نمل کہ ۱۵ تا ۲۴ اور ۲۷ تا ۴۴ویں آیات میںارشادہوتا ہے:

( وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ عِلْمًا وَقَالاَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی فَضَّلَنَا عَلَی کَثِیرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِینَ ٭ وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ یَاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّیْرِ وَُوتِینَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِینُ ٭ وَحُشِرَ لِسُلَیْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالِْنْسِ وَالطَّیْرِ فَهُمْ یُوزَعُونَ ٭ حَتَّی ِذَا َتَوْا عَلَی وَادِی النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَة یَاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لاَیَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ٭ فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ راَبِ َوْزِعْنِی َنْ َشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِی َنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وََنْ َعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَ َدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِی عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ ٭ وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لاََرَی الْهُدْهُدَ َمْ کَانَ مِنْ الْغَائِبِینَ ٭ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِیدًا َوْ لَأَذْبَحَنَّهُ َوْ لَیَاْتِینِیّ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ٭ فَمَکَثَ غَیْرَ بَعِیدٍ فَقَالَ َحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُکَ مِنْ سَبٍَ بِنَبٍَ یَقِینٍ ٭ ِنِّی وَجَدتُّ امْرََةً تَمْلِکُهُمْ وَُوتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلَهَا عَرْش عَظِیم ٭ وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا یَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ ﷲ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطَانُ َعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السّاَبِیلِ فَهُمْ لاَیَهْتَدُونَ ٭ َلاَّ یَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِی یُخْرِجُ الْخَبْئَ فِی السَّمَاوَاتِ وَالَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ٭ ﷲ لاَِلَهَ ِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ٭ قَالَ سَنَنظُرُ َصَدَقْتَ َمْ کُنتَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ٭ اإِذْهَب بِکِتَابِی هَذَا فََلْقِهِ الَیهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانظُرْ مَاذَا یَرْجِعُونَ ٭ قَالَتْ یَاَیُّهَا المَلَُ ِنِّی ُلْقِیَ الَی کِتَاب کَرِیم ٭ ِنَّهُ مِنْ سُلَیْمَانَ وَِنَّهُ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمَانِ الرَّحِیمِ ٭ َلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَْتُونِی مُسْلِمِینَ ٭ قَالَتْ یَاَیُّهَا المَلَُ َفْتُونِی فِی َمْرِی مَا کُنتُ قَاطِعَةً َمْرًا حَتَّی تَشْهَدُونِ ٭ قَالُوا نَحْنُ ُوْلُوا قُوَّةٍ وَُولُوا بَْسٍ شَدِیدٍ وَالَْمْرُ الَیکِ فَانظُرِی مَاذَا تَْمُرِینَ ٭ قَالَتْ ِنَّ الْمُلُوکَ ِذَا دَخَلُوا قَرْیَةً َفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا َعِزَّةَ َهْلِهَا َذِلَّةً وَکَذَلِکَ یَفْعَلُونَ ٭ وَِنِّی مُرْسِلَة الَیهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنَاظِرَة بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ٭ فَلَمَّا جَائَ سُلَیْمَانَ قَالَ َتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِیَ ﷲ خَیْر مِمَّا آتَاکُمْ بَلْ َنْتُمْ بِهَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُونَ ٭ ارْجِعْ الَیهِمْ فَلَنَْتِیَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لاَقِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَا َذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ٭ قَالَ یَاَیُّهَا المَلَُ َیُّکُمْ یَاْتِینِی بِعَرْشِهَا قَبْلَ َنْ یَْتُونِی مُسْلِمِینَ ٭ قَالَ عِفْریت مِنَ الْجِنِّ َنَا آتِیکَ بِهِ قَبْلَ َنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِکَ وَِنِّی عَلَیْهِ لَقَوِیّ َمِین ٭ قَالَ الَّذِی عِنْدَهُ عِلْم مِنْ الْکِتَابِ َنَا آتِیکَ بِهِ قَبْلَ َنْ یَرْتَدَّ الَیکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَذَا مِنْ فَضْلِ راَبِی لِیَبْلُوَنِی ََشْکُرُ َمْ َکْفُرُ وَمَنْ شَکَرَ فَإِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ راَبِی غَنِیّ کَرِیم ٭ قَالَ نَکِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ َتَهْتَدِی َمْ تَکُونُ مِنَ الَّذِینَ لاَیَهْتَدُونَ ٭ فَلَمَّا جَائَتْ قِیلَ َهَکَذَا عَرْشُکِ قَالَتْ کََنَّهُ هُوَ وَُوتِینَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَکُنَّا مُسْلِمِینَ ٭ وَصَدَّهَا مَا کَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ ﷲ ِنَّهَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کَافِرِینَ ٭ قِیلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رََتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا قَالَ ِنَّهُ صَرْح مُمَرَّد مِنْ قَوَارِیرَ قَالَتْ راَبِ ِنِّی ظاَلَمْتُ نَفْسِی وََسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَانَ لِلَّهِ راَبِ الْعَالَمِین )


ہم نے داؤد اور سلیمان کو مخصوص دانش عطا کی.اور ان دونوں نے کہا:اس خدا کی تعریف ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سارے مومن بندوں پر فوقیت اور بر تری دی.سلیمان نے داؤد کی میراث پائی اور کہا:اے لوگو!ہمیں پرندوں کی زبان سکھا ئی گئی ہے اور ہر چیز سے ہمیں عطا کیا گیا ہے، یقینا یہ برتری آشکار ہے ، سلیمان کے لئے ان کا تمام لشکر جن وانس اور پرندے کو جمع کر دیا اور ان کو پرا گندہ ہونے سے روکاجاتا تھا یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کی وادی سے گذر ے! تو ایک چیو نٹی نے کہا:اے چیونٹیوں !اپنے اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ تا کہ سلیمان اور ان کے سپا ہی نا دانستہ طور پر تمھیں کچل نہ ڈ الیں سلیمان چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور ہنس کر کہا:خدا یا ! مجھ پر لطف کر تا کہ تیری ان نعمتوں کا شکریہ ادا کروں جوتو نے مجھے اور میرے ماںباپ کو عطا کی ہیں. اور وہ عمل صالح انجام دوں جو تیری رضا اور خوشنودی کا باعث ہو اور مجھے اپنی رحمت کے ساتھ ساتھ اپنے نیک بندوں کے زمرہ میں قرار دے.سلیمان نے ایک پرندوے کو غیر حاضر دیکھا،تو کہا:کیا بات ہے کہ ھُدھُد کو نہیں دیکھ رہاہوں؟ کیا وہ غا ئبین میں سے ہے(بغیر عذر کے غا ئب ہو گیا ہے)؟ قسم ہے اسے سخت سزا دوں گا یا اس کا سر کاٹ دوں گا، مگر یہ کہ کوئی واضح اور قابل قبول عذر پیش کرے۔

زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی (کہ ھد ھدآگیا اور )بولا: ایک ایسی خبر لا یا ہوں جس سے آپ بے خبر ہیں اور قوم سبأ کی یقینی خبر آپ کے لئے لایا ہوں. میں نے ( سبائیوں ) پر ایک عورت کو حکومت کرتے دیکھا ہے اور اُسے سب کچھ دیا گیا ہے،اس کے پاس ایک عظیم تخت ہے.میں نے دیکھا کہ وہ اور ا س کی قوم خدا کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی ہیں.اور شیطان نے ان کے امور کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے اور انھیں راہ حق سے روک دیاہے وہ ہدایت نہیں پا ئیںگے.....


سلیمان نے کہا: عنقریب دیکھوں گا کہ تم نے سچ کہا ہے یا جھوٹ.یہ میرا خط لے جاؤ اور ان کے پاس ڈال دو،پھر واپس آؤ اور دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں.(بلقیس نے خط کا دقت سے مطالعہ کیا اور اپنے دربار کے مردوں سے خطاب کر کے) کہا:اے بزرگو ! ایک محترم خط ہماری طرف بھیجا گیا ہے. وہ خط سلیمان کا ہے.اور (اس کا مضمون)اس طرح ہے:بخشش کرنے والے اور مہربان خدا کے نام سے میرے خلاف طغیانی اور سرکشی نہ کرو اور سراپا تسلیم ہو کر میرے پا س آجاؤ۔

ملکہ نے کہا:اے بزرگو ! میرے معا ملہ میں رائے دو کہ میں تمہارے ہوتے ہوئے کوئی فیصلہ نہیں کروں گی۔

(اشراف نے ) کہا:ہم طاقتور اور دلاور ہیں(اس کے باوجود) فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کیا سونچتی ہیں اور کیا حکم دیتی ہیں ۔

ملکہ نے کہا:بادشاہ لوگ جب کسی شہر میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس جگہ کو ویران کر دیتے ہیں اور وہاں کے آبرومندوں کو ذلیل ورسواکر دیتے ہیں کیو نکہ ان کی سیاست کی رسم اسی طرح ہے میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوںاور (اس بات ) کی منتظر رہوں گی کہ ہمارے بھیجے ہوئے قاصد کس جواب کے ساتھ واپس آتے ہیں۔

جب(ہدیہ)سلیمان کے پاس پہنچا تو کہا: تم لوگ مال کے ذریعہ ہماری نصرت کرو گے؟!جو کچھ خدا نے ہمیں دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمھیں دیا ہے،جاؤ تم لوگ خود ہی اپنے ھدیہ سے شاد وخرم رہو۔

انکی طرف لوٹ جائو کہ ان کے سر پرایسے سپا ہی لاؤں گا کہ اُن سے مقابلہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں گے اور ذلت وخواری کے ساتھ انھیں ان کے شہر اور علا قے سے نکال باہر کر دیں گے

(پھر اس وقت سلیمان اپنے اصحاب سے مخاطب ہوئے) اور کہا: اے لوگو! تم میں سے کون ہے جو ان کے سراپا تسلیم ہو نے سے پہلے ہی اس (بلقیس) کا تخت میرے پا س حاضر کردے؟ .(اس اثناء میں)جنوں میں سے ایک دیو نے کہا:میں اسے قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں حاضر کردوں گا(یعنی آدھے دن سے بھی کم میں) اور میںاس کے لانے پر قادر اور امین ہوں ۔

وہ شخص جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا اس نے کہا:میں اُسے پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دوں گا. اور جب (سلیمان نے) اُسے اپنے پاس حاضر پا یا تو کہا:یہ میرے ربّ کا ایک فضل ہے تا کہ ہمیں آزمائے کہ ہم شکر گذار ہوتے ہیں یا نا شکرے.جو شکر گذا ر ہو گا وہ اپنے فائدہ کے لئے شکرکرے گا اور جو نا شکر ی کرے گا اس کی طرف سے میرا ربّ بے نیاز اور کریم ہے ۔


سلیمان نے کہا:اُس کے تخت کو(شکل بدل کر) نا قابل شناخت بنا دو تا کہ دیکھیں کہ اسے پہچانتی ہے یا اس کو پہچا ننے کے لئے کو ئی راہ نہیں ملتی .جب بلقیس آئی(اس سے) کہا گیا کیا تمہارا تخت یہی ہے؟ملکہ نے کہا: گویا وہی ہے ہم اس سے پہلے ہی(سلیمان کی قدرت و شوکت ) سے آگاہ اور سراپا تسلیم تھے.غیر اللہ کی عبادت(آفتاب پرستی) اسے (اسلام قبول کرنے سے)مانع تھی کہ وہ کافر قوموں میں تھی.اس سے کہا گیا:محل میں داخل ہو جاؤ!جب اُس نے دیکھا تو گمان کیا کہ صرف گہرا پا نی ہے لہٰذا اپنی دونوں پنڈلیوں کو کھول دیا۔

سلیمان نے کہا:یہ محل(قصر) صاف وشفاف شیشہ سے بنا یا گیا ہے۔

ملکہ نے کہا: خدا یا!میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا.(اب ) سلیمان کے ساتھ عالمین کے خدا پر ایمان لا تی ہوں۔

سورہ ٔسبأ کی ۱۲ویں تا ۱۴ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلِسُلَیْمَانَ الرِّیحَ غُدُوُّهَا شَهْر وَرَوَاحُهَا شَهْر وََسَلْنَا لَهُ عَیْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِإِذْنِ راَبِهِ وَمَنْ یَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ َمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیرِ ٭ یَعْمَلُونَ لَهُ مَا یَشَائُ مِنْ مَحَارِیبَ وَتَمَاثِیلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِیَاتٍ اِعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُکْرًا وَقَلِیل مِنْ عِبَادِی الشَّکُورُ ٭ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَی مَوْتِهِ ِلاَّ دَابَّةُ الَرْضِ تَْکُلُ مِنسََتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ َنْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ الْغَیْبَ مَا لاَبِثُوا فِی الْعَذَابِ الْمُهِین )

ہم نے ہواکو سلیمان کا تا بع بنایا تا کہ (ان کی بساط کو)صبح سے ظہر تک ایک ماہ کی مسافت کے بقدر اور ظہر سے عصر تک ایک ماہ کی مسا فت کے بقدرجا بجا کردے اور پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اُن کے لئے ہم نے جاری کیا اور ایسے جنات تھے جو اپنے ربّ کے حکم سے ان کے حضور خدمت میں مشغول رہتے اور ان میں جو بھی ہمارے حکم کے خلا ف کرتا تو ہم اسے گرم آگ سے عذاب کرتے ۔

وہ جنات اور دیو سلیمان کے لئے وہ جو چا ہتے بنادیتے تھے جیسے محراب، عبادت گا ہیں،مجسمے، حوض آب جیسے بڑے بڑے پیا لے اور بڑے بڑے دیگ ۔


اب اے آل داؤد! اللہ کاشکر ادا کرو اور میرے بندوں میں کم لوگ شکر گذار ہیں۔

اور جب ہم نے سلیمان کے لئے موت مقرر کی،تودیمکوں کے سوا جو ان کے عصا کو کھا کر خالی کر رہی تھیں(یہاں تک کہ سلیمان زمین پر گر پڑے) کسی کو ان کی موت سے آگا ہی نہیں تھی ۔

اور جب سلیمان زمین پر گر پڑے توجنوں کواُن کی موت سے آگاہی ہو ئی ۔

کہ اگر وہ اسرار غیبی سے آگاہ ہوتے تو دیر تک عذاب اور ذلت وخواری میں پڑ ے نہ رہتے۔

کلمات کی تشریح

۱۔ذاالاید:

آد، یئیدُ،ایداً:قوی اور طاقتور ہو گیا.ذاالا ید:قوی اورتوانا۔

۲۔اَوّاب:

آب الیٰ اللّہ: اپنے گناہ سے توبہ کیا اور ایسا شخص آئب اور اوّاب ہے.بحث سے منا سب معنی:جو گناہ سے شرمندہ اور نادم ہو اور خدا کی خوشنودی اور رضا کا طالب ہو۔

۳۔اُوِّبی:

(مونث سے خطا ب) خدا وند عالم کی تسبیح میں اس کے ہماہنگ اور شانہ بشانہ رہو۔

۴۔سابغات:

سبغ الشی سبوغاً:تمام کیا اور کامل کیا.سابغات:استفادہ کے لئے آمادہ اور مکمّل زرہیں۔


۵۔قدِّرْ فی السّرد:

سر د ، زرہ کے حلقوں کے معنی میں ہے،(و قدَّر فی السرد)

یعنی حلقے یکساں اورایک جیسے بنائو کہ نہ ڈھیلے ہوں اور نہ کسے ہوئے ہوں اور ایک ناپ کا تےّار کرو۔

۶۔رُخائ:

نرمی.

۷۔مقّرنین فی ا لاصفاد:

رسّی یا زنجیر میں آپس میں بندھے ہوئے۔

۸۔محشورةً:

اکٹھا کیا گیا،جمع کیا گیا۔

۹۔ےُوزَعون:

وَزَعَ الْجیْش : الگ الگ صف کے ساتھ منظم ہوئے، پیکار کے لئے آمادہ ہوئے۔

۱۰۔ عفریت:

جناتوں میں سب سے قوی ومضبوط اور ان میں سب سے زیادہ تن وتوش والادیو۔

۱۱۔صَرْحُ مُمَّرَد مِنْ قَوَاْرِیرَ:

الصرح:آراستہ گھر،بلند عمارت،ممَّرد:خوشنما اور عالی شان قصر، کہ جس کا فرش اورسطح آئینہ سے بنا یا گیا ہو۔


۱۲۔لُجَّة :

کثیر پا نی،آہستہ آہستہ موجوں کے ساتھ موج مارنے والا حوض ،اس کی جمع لجج آئی ہے۔

۱۳۔اَسَلْنَاْ لَہُ عَےْنَ القِطْر:

سال المائع : بہنے والی چیز بہنے لگی، القطر: پگھلا ہوا تانبا،عبارت کے معنی یہ ہیں کہ:اُس پر پگھلا ہوا تا نبا ڈالیں۔

۱۴۔ےَزِغْ عَنْ اَمْرِنَا:

زَاْغَ عَنِ الَطّرِیق:

راستہ سے منحرف ہو گیا،آیت کے منا سب معنی یہ ہیں کہ جناتوں میں سے جو بھی سلیمان کے دستورات سے سر پیچی اور مخالفت کرے اسے ہم عذاب دیں گے۔

۱۵۔سعیر:

آگ اور اس کا شعلہ۔

۱۶۔جَفَانٍ کَالْجَواب:

جفان(جفنہ کی جمع ہے)یعنی کھانے کے بہت بڑے بڑے ظروف اور جواب یعنی بڑا حوض.جفان کالجواب یعنی:کھانے کے ایسے ظروف جن میں بہت زیادہ گنجائش اور وسعت ہوتی ہے۔

۱۷۔قُدور راسیات:

قدر راسیة: بہت بڑا دیگ جو بڑے ہو نے کی وجہ سے حمل و نقل کے قابل نہ ہو، الرّاسی: عظیم اور استوار پہاڑ۔

۱۸۔دابَّة الارض:

دیمک۔

۱۹۔منساة:

عصا(لاٹھی)۔


آیات کی تفسیر

ارشاد فرماتا ہے: اے پیغمبر! خدا کے قوی،بہت زیادہ توبہ کر نے والے اور خدا کی خوشنودی اور رضایت کے طالب بندے داؤد کو یاد کرو.جب کہ خدا نے پہاڑوں کو ان کاتابع بنا دیا تا کہ ان کی تسبیح کے ہمراہ خدا کی صبح و شام تسبیح کریںاور پرندوں کو ان کے ارد گرد جمع کر دیا تا کہ ان کی تسبیح کے ساتھ ہم آواز ہوں.اس کی بادشاہی کوپر ھیبت اور سپاہیوں کو قوی بنا دیا اور مقام نبوت،امور میں دور اندیشی اور صحیح تفکر اور منازعات (لڑائی جھگڑے)میں واضح بیان اور قطعی حکم اُسے عطا کیا. لوہا اس کے ہاتھوں میں نرم ہو گیا تا کہ اُس سے حلقہ دار اور منظم زرہیں بنا ئیں.داؤد سب سے پہلے آدمی ہیں جنھوں نے جنگ کے لئے زرہ تیار کی۔

خدا وند منّان نے داؤد کو سلیمان(سا فرزند) بخشا کہ انھوں نے بارگاہ خدا وندی میں بہت توبہ کی اور اللہ کی خو شنودگی ورضا کے طالب تھے. یہ سلیمان تھے جنھوں نے کہا:خدا یا ہمیں بخش دے اور ہمیں ایسی بادشاہی عطا کر کہ ہمارے بعد ویسی کسی کو نہ ملے،لہٰذا خد انے ان کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا کہ ان کے حکم کے تحت نرمی کے ساتھ جہاں وہ چاہیں روانہ ہو جا ئے، جنوں، دیووں، آدمیوں اور پرندوں میں سے ان کے سپاہی مقرر کئے اور ساری زبا نیں انھیں تعلیم دی، جنوں اور دیووں کو ان کا فرما نبردار بنا یا تا کہ جس چیز کی خواہش ہو ان کے لئے تعمیر کر دیں اور سمندروںکے اندر غوطہ لگا کر موتیاں لے آئیں اور اُن میں سے بعض کو زنجیر میں جکڑ کر قید خانہ میں ڈال دیا۔

وہ ایک دن اپنے سپا ہیوں کے ساتھ چیونٹیو کی وادی سے گذر رہے تھے تو سنا کہ ایک چیو نٹی اپنے ساتھیوں کو خبر دے رہی ہے اے چیونٹیوں! اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر نا دانستہ طور پر تمھیں کچل ڈالے، اس حال میں جو کچھ خدا وندسبحان نے انھیں اوران کے ماں باپ کو نعمت عطا کی تھی اس پر خدا کا شکر ادا کیا۔

ایک دن پرندوں کی فوجی پریڈ کا معائنہ کیا تو ھُد ھُد کو ان کے درمیان اپنے سر پر سایہ فگن نہیں دیکھا.تو کہا اسے تنبیہ کروں گا یااس کا سر کاٹ دوں گا، مگر یہ کہ اپنی غیبت کے لئے کوئی قابل قبول عذر پیش کرے، زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ہُدہُد آگیا اور ان کے لئے سبا اور یمن والوں کی خبر لے کر آیا کہ :

میں نے دیکھا کہ ایک عورت اُن پر حکومت کررہی ہے اور وہ ایک عظیم اور بڑے تخت کی مالک ہے.وہ اور اس کے افراد خدا کا سجدہ نہیں کرتے،بلکہ سورج کی پو جا کر تے ہیں۔

سیلمان نے کہا:دیکھوں گا کہ سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ گڑھ لیا ہے.میرا خط لے جا کر ان کے سامنے ڈال دے،پھر اُن سے دور ہوجا اوردیکھ کہ وہ کیا کہتے ہیں۔


حضرت سلیما ن کا خط اس طرح تھا.

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجھ پر طغیا نی اور سر کشی نہ کرو.اور مسلمان ہو کر میرے پا س آجاؤ. دلچسپ اور مزہ کی بات یہ ہے کہ یہ خط خو د ہی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ کلمہ اسلام گزشتہ ادیان کا ایک نام تھا.اور امور کی ابتداخدا کے نام اور بسم اللہ سے ان کی شریعتوں میں ایک عام بات تھی۔

ہاں ، جب سبا کی ملکہ بلقیس نے حضرت سلیمان کا خط لیا تو اپنے مشاورین سے مشورہ کیا کہ سلیمان کے خط کا کیا جواب دیں؟

بو لے: ہم قوی ،شجاع ، دلیر،صاحب شوکت اور نڈرسپا ہی ہیں،اس کے با وجود حکم آپ کا ہے۔

ملکہ نے کہا: بادشا ہ جب کسی شہر میں قہر وغلبہ سے داخل ہوتے ہیںتو فساد کرتے اور تباہی مچاتے ہیں اور وہاں کے معزز افراد کو رذلیل اور رسوا کرتے ہیں میں بہت جلد ہی سلیمان کے لئے ایک ھدیہ بھیجتی ہوں اور ان کے جواب کا انتظا ر کروں گی کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟

جب بلقیس کے تحفے سلیمان کی خد مت میں پہونچے توآپ نے ان نمائندوں سے جنھوں نے آپ کی خد مت میں تحفے دئیے تھے فرما یا : جو کچھ خدا وند سبحان نے مجھے عطا کیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمھیں دیا ہے؛ اور تحفوں کو قبول نہیں کیابلکہ فرمایا: میں ایک ایسے لشکر کے ساتھ تم پر حملہ کروں گا کہ جس کے مقا بلے کی طا قت نہیں رکھتے ہو اور تمھیں ذلت ورسوائی کے ساتھ کھینچ لاؤں گا۔

اُس وقت مجلس میں حاضر سپا ہیوں سے مخا طب ہوئے اور کہا :کون تخت بلقیس ہمارے لئے حاضر کرے گا؟

تو ایک بلند و بالا،قوی ہیکل اور طاقتور دیو نے کہا : میں قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں تخت بلقیس کو آپ کے سا منے حا ضر کر دوں گا۔

اور حضرت سلیمان کی عادت تھی کہ آدھا دن دربار میں بیٹھتے تھے اتنے میں وہ شخص (گزشتہ زمانے میں نا زل شدہ کتا ب کا ) جس کے پا س کچھ علم تھا آگے بڑھا اور بو لا:میں اسے چشم زدن میں حاضر کردوں گا اور حاضر کر دیا اس وقت سلیمان نے خدا کی تما م نعمتوں کا شکر ادا کیا۔


کہتے ہیں کہ اس کتاب کے عا لم حضرت سلیما ن کے وزیر آصف ابن برخیا تھے۔

پھر سلیمان نے فرمایا:بلقیس کے تخت میں کچھ تبد یلیاں کردو تا کہ اس کی عقل ودرایت کا معیار درک کریں.جب بلقیس آئی ،تو اس سے پوچھا:آیا یہ تمہارا تخت ہے؟

کہا: ایسا لگتاہے کہ وہی ہے.پھر بعد میں اس سے کہا: شاہی محل میں داخل ہو جاؤ محل کی دالان کا فرش صاف وشفاف شیشہ کا تھا اور اس کے نیچے پا نی بہہ رہا تھا. بلقیس نے پا نی کا گمان کیا اس لئے لبا س کے نچلے حصّہ کو اوپر اٹھا لیا اور اپنی پنڈ لیوں کو نما یاں کر دیا تا کہ اُس پانی سے گذر سکیں. یہ ماجرا دیکھ کر لوگوں نے بتایا یہ صاف و شفاف شیشہ ہے جس کے نیچے پا نی بہہ رہا ہے. بلقیس ایسے امور کے مشا ہدہ کے بعد جن کا آمادہ اور فراہم کرنا انسان کے بس سے با ہر ہے ایمان لے آئیں اور مسلمان ہوگئیں۔

خدا وند عالم نے سلیمان کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا اور ان کے لئے دیو بڑی سے بڑی بلند عمارتیں تعمیر کر تے تھے اور درختوں کے تنوں سے مجسمہ اور اس جیسی دوسری چیزیں ان کے لئے تراشتے تھے اور کھانے کے بڑے بڑے ظروف اور اتنے گہرے اور بڑے بڑے دیگ جو بڑے ہو نے کی بنا پر ایک جگہ سے دوسری جگہ حمل ونقل کے قابل نہیں تھے بناتے تھے۔

ایک دن حضرت سلیماناپنے محل کی چھت پر تشر یف لائے اور اپنے عصاپر ٹیک لگایا اور جنا تی کا ریگروں کے کاموں کا نظا رہ کر نے لگے وہ جنات جو اپنی کار کردگی میں زبردست مشغول تھے،اسی حال میں خدا وند عالم نے ان کی (حضرت سلیمان کی )روح قبض کر لی اورچند دنوں تک ان کا بے جا ن جسم عصا کے سہارے دیوؤں کے کاموں کو دیکھتا رہا، دیو لوگ بڑی محنت اور زحمت کے ساتھ اپنے ذمّہ امور کے لئے کوشش کر رہے تھے اور ذرہ برابر بھی نہ جان سکے کہ سلیمان مرچکے ہیں. یہ حا لت اسی طرح اُس وقت تک باقی رہی جب تک دیمک نے ان کے لکڑی کے عصا کو کھوکھلا نہ کر دیا اور سلیمان کے جسم کو بلندی سے زمین پر نہ گرا دیا ان کے گر تے ہی جنّات اور دیوؤںکو ان کے مرنے کی اطلا ع ہو گئی، کیو نکہ جنات کو اگر غیب کا علم ہوتا تو سلیمان کے مرنے کے بعد ایک آن بھی ان طاقت فرسا امور کو جاری نہ رکھتے!


پانچواں منظر: زکری اور یحییٰ

خدا وندسبحان سورہ ٔمریم کی پہلی تا ۱۵ویں آیات میں ارشاد فرما تا ہے:

(بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم )

( کهٰیٰعص٭ ذِکْرُ رَحْمَةِ راَبِکَ عَبْدَهُ زَکَرِیَّا ٭ إِذْ نَادَی رَبَّهُ نِدَائً خَفِیًّا ٭ قَالَ راَبِ ِنِّی وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّی وَاشْتَعَلَ الرَّْسُ شَیْبًا واَلَمْ َکُنْ بِدُعَائِکَ راَبِ شَقِیًّا ٭ وَِنِّی خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَرَائِی وَکَانَتْ امْرََتِی عَاقِرًا فَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا ٭ یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ راَبِ رَضِیًّا ٭ یَازَکَرِیَّا ِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ یَحْیَی لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا ٭ قَالَ راَبِ َنَّی یَکُونُ لِی غُلَام وَکَانَتِ امْرََتِی عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْکِبَرِ عِتِیًّا ٭ قَالَ کَذَلِکَ قَالَ رَبُّکَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّن وَقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ واَلَمْ تَکُنْ شَیْئًا ٭ قَالَ راَبِ اجْعَل لِی آیَةً قَالَ آیَتُکَ َلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ٭ فَخَرَجَ عَلَی قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فََوْحَی الَیهِمْ َنْ ساَبِحُوا بُکْرَةً وَعَشِیًّا ٭ یَایَحْیَی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَیْنَاهُ الْحُکْمَ صاَبِیًّا ٭ وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَ زَکَاةً وَکَانَ تَقِیًّا ٭ وَبَرًّا بِوَالِدَیْهِ واَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا ٭ وَسَلَام عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا ٭ )

کھٰےٰعص .ان آیات میں، تمہارا ربّ اپنے خاص بندہ زکریا پر اپنی رحمت کے متعلق گفتگو کرتا ہے۔

جب اُس نے تنہا ئی میں اپنے خدا کوآواز دی۔

اُس نے کہا:خدا یا!ہماری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر کے بال سفید ہو چکے ہیں۔

خدا یا میں نے جب بھی تمھیں پکا را محروم نہیں رہا ہوں میں اپنے موجودہ وارثوں (چچا زاد بھائیوں) سے خوفزدہ ہوں اور میری بیوی ابتدا ہی سے بانجھ ہے۔

لہٰذا مجھے ایک فرزند عطا کر جو میری اور آل یعقوب کی میراث پا ئے اور اسے اپنا پسندیدہ قرار دے ۔

(اُنھیںخطاب ہوا) اے زکریا! ہم تجھے یحییٰ نامی ایک فرزند کی خوشخبری دے رہے ہیں.اور اب تک کسی کو اس کا ہم نام قرار نہیں دیا ہے ۔


کہا:خدا یا ! مجھے کیسے کوئی فرزندپیدا ہو گا جبکہ میری بیوی پہلے ہی سے بانجھ ہے اور میں خود بھی مکمّل بوڑھا ہو چکا ہوں.(فرشتہ نے کہا) تمہارے ربّ کا ارشاد ہے:یہ کام میرے لئے نہا یت آسان ہے.تمھیں اس سے قبل جب کہ تم کچھ نہیں تھے میں نے خلق کیا۔

کہا: خدا یا ! ہمارے لئے کوئی نشا نی قرار دے.کہا: تمہاری علامت اور نشا نی یہ ہے کہ تین شب کلام نہیں کرو گے ۔

(زکریا) محراب(عبادت)سے خا رج ہوئے اور اپنی قوم کی طرف اشارہ کیا کہ صبح اور عصر کے وقت خدا کی تسبیح کرو.اے یحییٰ! کتاب (توریت ) کو مضبوطی سے پکڑلو؛اور اُس کو بچپنے میں مقام نبوت عطا کیا ۔

اور اپنی طرف سے اسے شفقت ، مہر بانی اور پاکیز گی عطا کی اور وہ پارسا اور پرہیز گار تھا.اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا تھا ۔

ستمگر اور سرکش نہیں تھا!اُس دن پر درود ہوجس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن ابدی زندگی کے لئے مبعوث ہو گا(اُٹھا یا جا ئے گا)۔

سورہ ٔآل عمران کی ۳۸ویں تا ۴۱ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

( هُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّهُ قَالَ راَبِ هَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً ِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعَائِ ٭ فَنَادَتْهُ الْمَلاَئِکَةُ وَهُوَ قَائِم یُصَلِّی فِی الْمِحْرَابِ َنَّ ﷲ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیَی مُصَدِّقًا بِکَلِمَةٍ مِنَ ﷲ وَسَیِّدًا وَحَصُورًا وَناَبِیًّا مِنَ الصَّالِحِینَ ٭ قَالَ راَبِ َنَّی یَکُونُ لِی غُلاَم وَقَدْ بَلَغَنِی الْکِبَرُ وَامْرََتِی عَاقِر قَالَ کَذَلِکَ ﷲ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ ٭ قَالَ راَبِ اجْعَلْ لِی آیَةً قَالَ آیَتُکَ َلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ َیَّامٍ ِلاَّ رَمْزًا وَاذْکُرْ رَبَّکَ کَثِیرًا وَساَبِحْ بِالْعَشِیِّ وَالِْبْکَارِ ٭ )

یہاں تک کہ زکریا نے اپنے ربّ سے دعا کی اور کہا:خدا یا ! اپنی طرف سے ایک پاک و پاکیزہ فرزند عطا کر کہ تو دعا کا سننے والا ہے ۔

فرشتوں نے اُ نھیں آواز دی جب کہ وہ محراب عبادت میں کھڑے ہوئے تھے کہ:خدا وند عالم تمھیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو کہ ایک کلمہ ( حضرت عیسیٰ ہیں) کی تصدیق کر نے والا رہبر، پرہیز گار اور پاکیزہ افراد میں سے پیغمبر ہے۔

آپ نے کہا: خدا یا !مجھے کس طرح کوئی فرزند ہو گا جب کہ میری ضعیفی کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور میری بیوی بانجھ ہے؟!(فرشتہ نے کہا) ایسا ہی ہے خدا جو چا ہتا ہے انجام دیتا ہے۔

(زکریا نے کہا):خدا یا!میرے لئے کوئی علامت قرار دے۔

کہا تمہاری علامت یہ ہے کہ تین دن تک لوگوں سے بات نہیں کرو گے مگر اشارہ سے؛ اپنے ربّ کو بہت زیادہ یاد کرواور صبح وشام اس کی تسبیح کرو۔


کلمات کی تشریح

۱۔اِشْتَعَلَ الرَّأسُ شَیْباً :

میرے سر کی سفیدی نے پو را سر گھیر لیا ہے؛(بڑھاپے کی وجہ سے میرے سر کے سارے بال سفید ہوگئے) خداوند سبحان نے بو ڑھاپے اور بال کی سفیدی کوآگ سے تشبیہ دی اور بال میں اس کی وسعت وگسترش کو اُس کے شعلہ سے تشبیہ دی ہے۔

۲ ۔ عاقر:

بانجھ عورت۔

۳۔ عَتِیاً:

بہت زیادہ ضیعف،کھو کھلی اور بالکل خالی ۔

۴۔سوّیاً :

یعنی تم بغیر اس کے کہ بیماری میں مبتلا ہو اورصحیح وسالم ہو نے کے باوجود کلام نہیں کر سکتے۔

۵۔فاوحیٰ الیھم :

ان کی طرف اشارہ کیا۔

۶۔خُذ الکتاب بقُوَّةٍ :

اپنی تمام تر طاقت سے توریت کو لے لو۔

۷۔( آتَیْناهُ الحُکْمَ صَبیّاً ) :

جب وہ تین سالہ بچہ تھا تو ہم نے اسے نبوت عطا کی۔

۸۔ حنا ناً :

اُس پر ہماری رحمت اور لطف۔


آیات کی تفسیر

حضرت زکریا پیری کی منزل کو پہنچ چکے تھے(یعنی بوڑھے ہو چکے تھے)ان کی ہڈیاں کمزور اور سر کے بال سفیدی کی طرف ما ئل ہو چکے تھے. کہ اپنے ربّ سے خطاب کیا، میںبوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے اور اپنے چچا زاد بھا ئیوں کے انجام کا ر سے جو کہ میرے بعد میرے وارث ہو گے خوفزدہ ہوں۔

لہٰذا مجھے ایک ایسا بیٹا عطا کر جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو اور اسے اپنے نیک بندوں میں قرار دے .خدا وند منّا ن نے حضرت زکریا کی دعا قبول کی اور انھیں یحییٰ نامی فرزند کی کہ اُس وقت تک کسی کو اس نام سے یاد نہیں کیا گیاتھا بشارت دی ۔

زکریانے کہا:مجھ سے کیسے فرزند پیدا ہو گا جبکہ میں بوڑھا ،کمزور ،لا غر اور سوکھ چکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہے(تولید کے سن سے باہر اور بچہ پیدا کر نے کے قا بل نہیں ہے)۔

خدا وند عالم نے فرمایا یہ کام میرے لئے بہت سہل اور آسان ہے،تمہارا اس سے پہلے کوئی وجود نہیں تھا لیکن میں نے پیدا کیا۔

زکریا نے کہا: خدا یا! اگر ایسا ہے تو میرے لئے اس عطیہ میں کو ئی علامت اور نشانی قرار دے۔

خدا وند متعال نے فرمایا: وہ علا مت یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو نے کے باوجود تین رات تک تکلم پر قادر نہیں ہو سکو گے ۔

زکریاجب محراب عبادت سے با ہر نکلے تو اپنی قوم کی طرف اشارہ کیا کہ روزانہ صبح وشام خدا کی تسبیح کرو۔

خدا وند عالم نے یحییٰ پر وحی نازل کی کہ: اے یحییٰ!اپنی تمام طاقت سے توریت کو پکڑ لو: اور اسے عہد طفولیت ہی میں مقام نبوت اور توریت کے مطا لب کا ادراک عطا فرمایا۔


چھٹا منظر: عیسیٰ بن مریم :

خدا وند سبحان سورۂ مریم کی ۱۶ویں تا ۳۳ ویں آیات میں ارشاد فرما تا ہے:

( وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ َهْلِهَا مَکَانًا شَرْقِیًّا ٭ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فََرْسَلْنَا الَیهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا ٭ قَالَتْ ِنِّی َعُوذُ بِالرَّحْمَانِ مِنْکَ ِنْ کُنتَ تَقِیًّا ٭ قَالَ ِنَّمَا َنَا رَسُولُ راَبِکِ لَِهَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا ٭ قَالَتْ َنَّی یَکُونُ لِی غُلَام واَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَر واَلَمْ َکُنْ بَغِیًّا٭ قَالَ کَذَلِکِ قَالَ رَبُّکِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّن وَلِنَجْعَلَهُ آیَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَکَانَ َمْرًا مَقْضِیًّا ٭ فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَکَانًا قَصِیًّا ٭ فََجَائَهَا الْمَخَاضُ الَی جإِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ یَالَیْتَنِی مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَکُنتُ نَسْیًا مَنْسِیًّا ٭ فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِهَا َلاَّ تَحْزَنِی قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا ٭ وَهُزِّی الَیکِ بِجإِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا ٭ فَکُلِی وَاشْراَبِی وَقَرِّی عَیْنًا فَِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ َحَدًا فَقُولِی ِنِّی نَذَرْتُ لِلرَّحْمَانِ صَوْمًا فَلَنْ ُکَلِّمَ الْیَوْمَ ِنسِیًّا ٭ فََتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا یَامَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا ٭ یَاُخْتَ هَارُونَ مَا کَانَ َبُوکِ امْرََ سَوْئٍ وَمَا کَانَتْ ُمُّکِ بَغِیًّا ٭ فََشَارَتْ الَیهِ قَالُوا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَهْدِ صاَبِیًّا ٭ قَالَ ِنِّی عَبْدُ ﷲ آتَانِی الْکِتَابَ وَجَعَلَنِی ناَبِیًّا ٭ وَجَعَلَنِی مُبَارَکًا َیْنَ مَا کُنتُ وََوْصَانِی بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٭ وَبَرًّا بِوَالِدَتِی واَلَمْ یَجْعَلْنِی جَبَّارًا شَقِیًّا ٭ وَالسَّلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ َمُوتُ وَیَوْمَ ُبْعَثُ حَیًّا ٭ )

قرآن میں مریم کو یاد کرو،جب کہ اُس نے اپنے گھرانے سے جدا ہو کر شرقی علاقہ (بیت المقدس) میں سکو نت اختیار کی .اوراپنے اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیا میں نے اپنی روح (روح القدس) کو انسانی شکل (خوبصورت) میں اس کے پاس بھیجا۔

مریم نے کہا:میں تم سے خدا کی پناہ چاہتی ہوں شاید کہ تم پارسا اور پاک باز ہو .(روح القدس نے) کہا :یقینا میں تمہارے ربّ کا فرستادہ ہوںآیا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں ۔

مریم نے کہا! مجھے کیسے کوئی بچہ ہو گا،جبکہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگا یاہے اور نہ ہی میں بد کار ہوں؟!

فرشتہ نے کہا ایسا ہی تمہارے ربّ نے کہا ہے کہ یہ کام ہمارے لئے نہایت آسان اور سہل ہے ہم اس بچہ کو لوگوں کے لئے آیت اورنشانی اور اپنی طرف سے ایک رحمت قرار د یں گے اور یہ امر یقینی ہے ۔

مریم اس بچہ سے حاملہ ہوئیں اور اس کے ساتھ ایک دور دارز جگہ پر ایک گو شہ میں قیام کیا.


دردِ زہ کھجور کے درخت کے نیچے عارض ہوا(غم واندوہ اور کرب کی شدت سے ا پنے آپ سے کہا ) اے کاش اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور فراموش ہو گئی ہوتی۔

(بچہ نے ) اسے نیچے سے آواز دی کہ : غم نہ کرو،تمہارے ربّ نے تمہارے قدم کے نیچے ایک نہر جاری کی ہے۔

خرمے کی شاخ کو اپنی طرف حرکت دو،تو تم پر تازہ خرمے گریں گے.کھاؤ پیؤ اور خوش وخرم رہو.اور اگر آدمیوں میں سے کسی کودیکھوتو کہو:میں نے خدا وند رحمن کے لئے خاموشی کا روزہ رکھا ہے آج میں کسی سے بات نہیںکروں گی۔

(مریم) حضرت عیسیٰ کو آغوش میں لئے ہوئے قوم کے سامنے آئیں۔

تو انھوں نے کہا:اے مریم! عجب تم نے بُرا کام کیاہے! اے ہا رون کی بہن! تمہارا باپ کوئی بُرا انسان نہیں تھا اور نہ ہی تمہاری ماں بد کار تھی۔

مریم نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا؛انھوں نے کہا:ہم گہوارہ میں موجود بچے سے کیسے کلام کریں ؟! (بچہ امر خدا وندی سے گو یا ہوا)اور کہا! میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے آسمانی کتاب اور نبوت کا شرف عطا کیا ہے..اور ہمیں ہم دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں مبارک قرار دیا ہے۔

اور جب تک زندہ ہوں نماز اور زکاة کی وصیت کی ہے۔

اور میرے لئے اس کا حکم ہے کہ میں اپنی ماں کی ساتھ نیکی کروں اور مجھے بدبخت اور ستم گر قرار نہیں دیا ہے.مجھ پر درود ہو جس دن میں پیدا ہوا ہوںاور جس دن موت آئے گی اور اس د ن جب آخرت کی ابدی زندگی کے لئے دوبارہ مبعوث کیا جاؤں گا۔


عیسیٰ بن مریم کے ساتھ بنی اسرائیل کی داستان

خداوند عالم سورۂ آل عمران کی ۴۵ تا ۵۲ویں آیات میں ارشاد فرما تا ہے:

( إِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ ِنَّ ﷲ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیهًا فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ وَمِنْ الْمُقَرّاَبِینَ ٭ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَکَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِینَ ٭ قَالَتْ راَبِ َنَّی یَکُونُ لِی وَلَد واَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَر قَالَ کَذَلِکِ ﷲ یَخْلُقُ مَا یَشَائُ ِذَا قَضَی َمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ٭ وَیُعَلِّمُهُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالِنجِیلَ ٭ وَرَسُولًإ الَی بَنِی ِسْرَائِیلَ َنِّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِآیَةٍ مِنْ راَبِکُمْ َنِّی َخْلُقُ لَکُمْ مِنَ الطِّینِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فََنفُخُ فِیهِ فَیَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِ ﷲ وَُبْرِئُ الَکْمَهَ وَالَبْرَصَ وَُحْیِ الْمَوْتَی بِإِذْنِ ﷲ وَُناَبِئُکُمْ بِمَا تَْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِی بُیُوتِکُمْ ِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ ٭ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلُِحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَجِئْتُکُمْ بِآیَةٍ مِنْ راَبِکُمْ فَاتَّقُوا ﷲ وََطِیعُونِ ٭ ِنَّ ﷲ راَبِی وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاط مُسْتَقِیم ٭ فَلَمَّا َحَسَّ عِیسَی مِنْهُمْ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ َنْصَارِی الَی ﷲ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ َنْصَارُ ﷲ آمَنَّا بِﷲ وَاشْهَدْ بَِنَّا مُسْلِمُونَ ) ٭)

جب فرشتوں نے مریم سے کہا: اے مریم!خداوند رحمن تمھیں اپنے ایک کلمہ مسیح بن مریم کے نام کی بشارت دیتا ہے کہ وہ دنیا وآخرت میں محترم اور معزز ہے اور خدا کے مقر ب لوگوں میں ہے۔

اور وہ گہوارہ میں لوگوں سے بات کرلے گا جس طرح بڑے لوگ کرتے ہیں اور وہ نیک اور شائستہ لوگوں میں ہے۔

(مریم نے )کہا خد ایا! کس طرح مجھے بچہ ہو گا جب کہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگا یا ہے.فرشتہ نے کہا:( خدا کا حکم) ایسا ہی ہے،خدا جو چا ہتا ہے پیدا کر دیتا ہے۔

جب وہ کسی چیز کا ارداہ کرتا ہے تو اس سے کہتاہے ہو جا تو وہ چیز اسی وقت ہو جاتی ہے خدا نے عیسیٰ کو کتاب وحکمت ،توریت وانجیل کی تعلیم دی ہے۔

اور اُس کو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبری کیلئے مبعوث کرے گا( تاکہ وہ کہے) میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے لئے ایک معجزہ لایا ہوں.میں تمھارے لئے مٹی سے ایک پرندے کا مجسمہ بناؤں گا اور اس میں پھونک ماروں گا تا کہ خدا کے اذن سے ایک پرندہ بن جا ئے اور کور مادر زاد اور کوڑھی کوخدا کے اذن سے شفادوں گا اور مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کروںگااور جو کچھ کھاتے ہو یا جو کچھ اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو اس کی خبر دوں گا۔


یہ معجزات تمہارے لئے(میری رسالت پر) ایک دلیل ہیں اگر تم مومن ہو .وہ توریت جو مجھ سے پہلے تھی اس کی تصدیق کرتا ہوں اور بعض وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں اُسے حلال کروں گا اور تمہارے ربّ کی جانب سے تمہارے لئے ایک نشا نی لا یا ہوں.لہٰذا اے بنی اسرا ئیل خدا سے ڈرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو.ﷲ ہی ہمارا اور تمہارا ربّ ہے لہٰذا اس کی عبادت اور پرستش کرو کہ سیدھا راستہ یہی ہے۔

جب عیسیٰ نے ان میں کفر کا احساس کیا،تو کہا ! خدا کی راہ میں ہمارے ساتھی اور چاہنے والے کون لوگ ہیں؟حواریوں نے کہا:ہم خدا کے ناصر ہیں اور خدا پر ایمان لائے ہیں؛گواہ رہو کہ ہم اس کے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم ہیں۔

سورۂ صف کی چھٹی آیت میں ارشاد ہوتا ہے؛

( وَإِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَابَنِی ِسْرَائِیلَ ِنِّی رَسُولُ ﷲ الَیکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَاْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ َحْمَدُ فَلَمَّا جَائَهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْر مُبِین )

اُس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا:اے بنی اسرائیل!میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں،اس توریت کی تصدیق کرتا ہوں کہ جو میرے سامنے ہے اور اپنے بعد ایک ایسے پیغمبر کی خوشخبری اور بشارت دیتا ہوں جس کا نام احمد ہے۔

پھر جب وہ پیغمبر( رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلّیٰ ٰ ﷲعلیہ و اٰلہ وسلم ) آیات اور معجزات کے ساتھ خلق کی طرف آیا،تو انھوں نے کہا :یہ (معجزات اور اس کا قرآن)کھلا ہوا سحر ہے ۔

سورہ ٔ نسا کی ۱۵۵ویں تا ۱۵۸ویں آیات میں خدا ارشاد فرماتا ہے:

( فاَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیثَاقَهُمْ وَکُفْرِهِمْ بِآ یَاتِ ﷲ وَقَتْلِهِمُ الَنْبِیَائَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَ قَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْف بَلْ طَبَعَ ﷲ عَلَیْهَا بِکُفْرِهِمْ فَلاَیُؤْمِنُونَ ِلاَّ قَلِیلًا ٭ واَبِکُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَی مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیمًا ٭ وَقَوْلِهِمْ ِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیحَ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ ﷲ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیهِ لَفِی شَکٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ ِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ یَقِینًا ٭ بَلْ رَفَعَهُ ﷲ الَیهِ وَکَانَ ﷲ عَزِیزًا حَکِیمًا )

پھر ان کی عہد شکنی اور آیات خدا وندی کے انکار اور پیغمبروں کے ناحق قتل کی وجہ سے (خدا نے انھیں کفیر کردار تک پہنچا یا یعنی انھیں عذاب دیا) اور کہتے تھے:ہمارے قلوب پو شیدہ اور مستور (چھپے) ہیں بلکہ خدا نے ان کے کفر کی وجہ سے اُن پر مہر لگا دی ہے کہ بجز معدودے چند افراد کے ایمان نہیں لائے اور ان کے کیفر کے با عث اور اس لئے کہ انھوں نے مر یم پر عظیم بہتان باندھا ہے ۔


اور یہ کہ انھوں نے کہا:ہم نے (حضرت ) مسیح عیسیٰ بن مریم خدا کے پیغمبر کو قتل کرڈ الاہے جبکہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیا ہے اور دار پر نہیں لٹکا یا ہے.بلکہ دوسرے کو ان کی شبیہ بنادیا گیاتھااور جن لوگوں نے ان کے قتل کے بارے میں اختلا ف کیا ہے، وہ اس کے بارے میں شک و تردید میں ہیں اور گمان کا اتباع کرنے کے علا وہ کوئی علم نہیں رکھتے؛اور انھوں نے اس کو یقینا قتل نہیں کیا. بلکہ خدا وند عالم نے انھیں اپنی طرف اوپر بلا لیا اور خدا عزیز اور حکیم ہے۔

کلمات کی تشریح

۱۔ کَلِمة :

یہاں پر ایک ایسی مخلوق کے معنی میں ہے کہ خدا وند عالم نے جس کو کلمہ کن(ہو جا)اور اس جیسے الفاظ کے ذریعہ اور خلقت کے عام اسباب و وسائل کو اس میں دخیل بنائے بغیر پیدا کیا ہے۔

۲۔ انتبذت:

کنارہ کشی اختیار کی،دور ہو کر ایک گوشہ میں چلی گئی۔

۳۔زکےّاً:

طاہر،ہر قسم کی آلودگی سے پاک ۔

۴۔سَرےّاً:

چھوٹی ندی ، پانی کی نہر۔

۵۔ جنّی:

تازہ چُنے ہوئے میوے۔


۶۔فریّاً:

ایک حیرت انگیز اور نا معلوم امر۔

۷۔اکمہ:

مادر زاد نابینا۔

۸۔مُصدِّقاً :

چونکہ توریت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آنے کی بشارت ہے وہ بھی انھیں صفات کے ساتھ آنا جو کہ توریت میں مذکورہیں لہٰذاحضرت رسول اکر م صلّیٰ ٰ ﷲعلیہ و اٰ لہ وسلم کا وجود توریت کے لئے مصدِّ ق اور تصدیق کر نے والا ہے۔

۹۔بغےّاً :

وہ بد کار(طوائف)عورت جو زنا کے ذریعہ کسب معا ش کرتی ہے۔

گزشتہ آیات کی تفسیر

بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ گرامی حضرت مریم کی داستان قرآن مجید میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

فرشتوں نے حضرت مریم کو آواز دی اور اللہ کی خوشخبری دی جو کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی ولا دت سے متعلق تھی کہ حضرت باری تعالیٰ ان کو اپنے کلمہ کن ( ہو جا ) سے اور معروف ومشہور اسباب ووسائل کے بغیر، کو خلق کرے گا اور وہ خدا کے کلام کو گہوار ہ میں اور بڑے ہو نے پر لوگوںکوابلا غ کرے گا۔

حضرت مریم نے ایسا خطاب سن کر کہا: خدا یا ! میں کس طرح دنیامیں کو ئی بچہ پیدا کرسکتی ہوں جب کہ کسی انسان نے مجھے مس تک نہیں کیاہے؟


جبرئیل خدا کا پیغام انھیں اس طرح ابلا غ کرتے ہیں:

خدا جس کو (اورجو بھی )چا ہتا ہے بغیر اسباب اور بغیر کسی وسیلہ کے صرف (کن) جیسے لفظ سے پیدا کر دیتا ہے اور وہ چیز اسی گھڑی پیدا ہو جا تی ہے ٹھیک اسی طرح جو اسباب ووسائل کے ذریعہ خلق ہوتی ہے۔

پھر جبرائیل نے حضرت مریم کے گلے کے سامنے گریبان میں روح پھونکی اور جو کچھ خدا وند عالم کا ارادہ تھا خود بخود تحقق پاگیا اور مریم حاملہ ہو گئیں۔

جب حضرت مریم نے اپنے اندر کسی بچے کا احساس کیا،تو اپنے خاندان سے ایک دور جگہ چلی گئیں،درد زہ نے انھیںخرمے کے سوکھے درخت کی جانب آنے پر مجبور کیا آپ نے اس سے ٹیک لگا کر کہا:اے کاش اس سے پہلے ہی مر کر نیست ونابود ہو گئی ہوتی ، کہ اسی حال میں ان کے پہلو سے عیسیٰ یا جبرائیل نے آواز دی غمگین نہ ہو خدا وند عالم نے تمہارے قدم کے نیچے ایک چھوٹی نہر جاری کی ہے ، خرمے کی سوکھی شاخ کو حرکت دو تو تازے خرمے گریں گے.پھر اسوقت وہ خرمے کھاؤ اور اس پانی سے سیراب ہو کر خوش وخرم ہو جاؤ اور جب کسی کو دیکھو تو کہو:میں نے خدا کے لئے خاموشی کے روزہ کی نذر کر لی ہے اور ہرگز آج کسی سے بات نہیں کروںگی۔

مریم نومولود کو اٹھا کر قوم کے سامنے آئیں. وہ لوگ منھ بنا نے اور چہر ہ سکوڑ نے لگے اور ناراض ہوکر کہا: اے ہارون کی بہن ! تم نے بہت گندہ اور ناپاک فعل انجام دیا ہے نہ تو تمہارا باپ زنا کار تھا اور نہ تمہاری ماں کوئی بد کار خاتون تھی حضرت مریم نے جناب عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ اس بچے سے بات کرو، وہ تمھیں جواب دے گا،بولے: ہم گہوارہ میں نو مولود سوئے ہوئے بچے سے کیسے بات کریں؟!تو خدا وند عالم نے عیسیٰ کو قوت نطق دی اور زبان گویا ہوئی، کہا: میں خدا کا بندہ ہوں،اس نے مجھے انجیل نامی کتاب دی ہے اور مجھے نبوت کا شرف عطا کیا ہے اور میں جہاں کہیں بھی رہوں مجھے مبارک اور نیک اور امور خیر کے لئے ایک معلّم قرار دیا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں اُس وقت تک مجھ نماز(قائم کرنے) زکوة(دینے) اور اپنی ماں کے حق میں نیکی کرنے کاحکم دیا ہے۔


خداوندعالم نے حضرت عیسیٰ کو رسالت کے ساتھ بنی اسرا ئیل کی جانب بھیجا. اور انھیں چند معجزات بھی عطا کئے تا کہ ان کی رسالت کی صداقت پر گواہی رہے۔

آپ مٹی سے پرندہ کی شکل بناتے تھے اور اُس میں پھو نک مارتے تھے،،تو وہ مجسمہ خدا کے اذن سے ایک زندہ پرندہ ہو جاتا تھااور اپنے ،بال وپر پھڑ پھڑانے لگتا تھا ؛ اور جوکچھ وہ اپنے گھروں میں کھاتے یا ذخیرہ کرتے تھے اس کی وہ خبر دیتے .اور پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو خدا کی اجازت سے شفا دیتے اور مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کر دیتے تھے۔

جو کچھ ان کے بارے میں اُن سے پہلے توریت میں ذکر ہوا تھا ان میںمکمّل طور پر صادق آیا اور وہ ان سے بھر پور مطابقت رکھتا تھا وہ اسی طرح حضرت خا تم الانبیاء محمد مصطفی صلّیٰ ٰ ﷲعلیہ و اٰ لہ وسلم کی خبر دیتے تھے۔

آخر کار بنی اسرائیل اُ ن پر ایمان نہیں لائے اور ان کی تکفیر کرتے ہوئے بو لے:یہ کھلا ہوا اور واضح سحر ہے ۔

آخر کار جب حضرت عیسیٰ نے ان کے کفر وعناد کا احساس کیا تو فرمایا! کون لوگ ہمارے ساتھ خدا کے دین کی نصرت کریں گے؟

حواریوں نے انھیں جواب دیا :ہم خدا کے ناصر ومدد گار ہیں،ہم خدا پر ایمان لائے ہیںاور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں. اس طرح سے بنی اسرائیل نے جو حضرت موسیٰ کے ذریعہ خدا سے عہد و پیمان کیا تھا؛( وہ یہ کہ جوکچھ توریت میں مذکور ہے اس پر ایمان لائیں گے اور حضرت عیسیٰ اور ان کے بعد خاتم الانبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لائیں گے). اُس عہد و پیمان کو توڑ ڈالا اور کفر وعناد کا راستہ اختیار کر لیا۔

انھوں نے اسی طرح حضرت مریم پر عظیم بہتان باندھا اور بہت بڑی تہمت لگائی اور بو لے:

وہ یوسف نا می ایک بڑھی شخص سے حا ملہ ہوئی ہے اور عیسیٰ کو پیدا کیا ہے۔

پھر وہ لوگ حضرت عیسیٰ کے قتل اور دار پر لٹکا نے کے درپئے ہوگئے۔

تو خدا وند عالم نے،اسی یہودی مرد کو جو حضرت عیسیٰ کو پکڑ کر لانے کے لئے دشمنوں کا راہنما بنا تھا اسے حضرت عیسیٰ کی شکل و صورت میںتبدیل کر دیا اور بنی اسرا ئیل نے بھی اُسی کو پھانسی کے پھند ے پر لٹکا یااور یہ خیال کیا کہ عیسیٰ بن مریم کو دار پر لٹکا دیا ہے؛جبکہ خدا وند منّان نے انھیں اپنی طرف بلندی پر بلا لیا ہے۔


( ۱۱ )

فترت کا زمانہ

*عصر فترت کے معنی.

*فترت کے زمانے میں ،پیغمبر کے آباء و اجداد کے علا وہ انبیاء اور اوصیاء

*حضرت ابراہیم کے وصی حضرت اسمٰعیل کے پوتوں کے حالات

*پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء واجداد کہ جو لوگ فترت کے زمانے میں تبلیغ پر مامور تھے.


عصر فترت کے معنیٰ

خداوند سبحان سورۂ مائدہ کی ۱۹ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

( ...قَدْ جَاْء َکُمْ رَسُوْلُنَاْ یُبیِّنُ لَکُمْ عَلیٰ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُوْ لُوامَاجَاْئَنَا مِنْ بَشِیرٍ وَ لَاْ نَذیرٍ فَقَدْ جَائَ کُمْ بَشِیْر وَنَذیر وَاللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شَیِٔ قَدِیْر )

... تمہارے پاس ہمارا رسول آیا تاکہ تمہارے لئے ان دینی حقائق کو رسولوں کے ایک وقفہ کے بعد بیان کر ے،تا کہ یہ نہ کہو کہ ہمارے لئے کوئی بشارت دینے اور ڈارنے والا نہیں آیا بیشک تمہاری طرف بشارت دینے والا،ڈرانے والارسول آیا اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اور سورۂ یس کی ۱ اور ۳ اور ۶ آیات میں ارشاد فر ماتا ہے:

( یٰس٭وَاْلقُرْآنِ الْحَکِیْمِ٭اِنَّکَ لَمِنَ المُرسَلِینْ٭...٭لِتُنذِرَ قَوْ ماً مَا أُنذِر آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَاْفِلُونَ )

ےٰس (اے پیغمبروں کے سید وسردار ) قرآن کریم کی قسم کہ تم رسولوں میں سے ہو..... تا کہ ایسی قوموں کو ڈراؤ جن کے آباء واجداد کو ( کسی پیغمبر کے ذریعہ)ڈرایا نہیں گیا ہے،کہ وہ لوگ غافل اور بے خبر ہیں۔

اسی کے مانند سورۂ قصص کی ۲۸ویں آیت اور سورۂ سجدہ کی تیسری آیت اور سورۂ سبا کی ۳۴ویں اور ۴۴ویں آیا ت میں بھی مذکور ہے۔

اور سورۂ شوریٰ کی ۷ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ کَذلِکَ أَوْ حَیْنَاْ اِلیکَ قُرآناً عَراَبِیّاً لِتُنذِرَ أُمَّ الْقُریٰ وَمَنْ حَوْلَهَاْ... )

اور اسی طرح قرآن کو (گویا اور فصیح) عربی میں ہم نے تم پر وحی کیا تا کہ مکّہ کے رہنے والوں اور اس کے اطراف ونواحی میں رہنے والوں کو انذار کرو(خدا کے عذاب سے ڈراؤ)۔

سورہ ٔسبا کی ۲۸ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ مَاْاَرسَلْنَاْکَ اِلاَّ کَافَّةًلِلنَّاسِ بَشِیْراً وَ نَذْیَراًوَلکنََّ اَکْثَرَ الَنّاسِ لَاْ یَعْلَمُوْنَ )

ہم نے تمھیں تمام لو گوں کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے؛ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں۔


کلمات کی تشریح

۱۔ فَتْرة:

فترت لغت میں دو محدود زمانوں کے فاصلہ کو کہتے ہیں.اور اسلامی اصطلاح میں زمانہ کا ایسا فاصلہ جو دو بشیر ونذیر رسول کے درمیان واقع ہوتا ہے۔

۲۔ اُمُّ الْقُریٰ:

شہر مکّہ مکرمہ۔

۳۔کا فة :

سب کے سب،سارے کے سارے اور تمام۔

حضرت اما م علی نے ارشاد فرما یا:خدا وند عالم نے رسول اکر م صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبروں کے درمیان زمانے کے فاصلے میں اور اُس وقت مبعوث کیا جب امتیں خواب غفلت اور جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں.اور وہ احکام خدا وندی جو رسولوں کی زبانی محکم اور استوار ہوئے تھے ان کو پامال کررہی تھیں ۔( ۱ )

گزشتہ آیات کی تفسیر

خا تم الا نبیاء حضرت محمد مصطفی صلّیٰ ﷲعلیہ و اٰلہ وسلم پیغمبروں کے درمیان فترت کے زمانے میں نہ کہ انبیاء کے درمیان فترت کے زمانے میں مبعوث بہ رسالت ہوئے۔

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ، تالیف محمد عبدہ، طبع مطبع الاستقامة مصر، ج ۲، ص ۶۹،خطبہ، ۱۵۶ اوراسی سے ملتا جلتا مطلب خطبہ نمبر ۱۳۱ میں بھی ذکر ہوا ہے.


کیو نکہ خدا وند عالم نے حضرت عیسیٰ بن مریم کے بعد کو ئی بشارت دینے والا،انذار کرنے والا(اللہ کے ثواب اور اس کی جز ااور پا داش کی بشارت دینے والا اور گناہ و نا فرمانی کی بناء پرخدا کے عذاب سے ڈرانے والا )کہ جس کے ہمراہ اس کے ربّ کی طرف سے کو ئی آیت یا معجزہ ہو کوئی پیغمبر مبعوث نہیں کیا۔

حالت اسی طرح تھی یہاں تک کہ خدا وند عالم نے خاتم ا لانبیاء صلّیٰ ٰ ﷲعلیہ و اٰلہ وسلم کو بشیر ونذیر بناکر اور قرآنی معجزوں کے ساتھ مبعوث کیا تا کہ مکّہ اور اس کے اطراف ونواحی میں رہنے والوں کو بالخصوص اور عمومی طور پر دیگر لوگوں کو انذار کر یں۔

اس نکتہ کی طرف تو جہ ضروری ہے کہ پا نچ سو سال سے زیادہ کے طولا نی دور میں انبیا ء اور اوصیاء کا وجود لوگوں سے منقطع نہیں تھا اور خدا وندا عالم نے انسانوں کو اس طولا نی مدت میں آزاد نہیں چھوڑا تھا بلکہ اپنے دین کی تبلیغ کر نے والوں اور حضرت عیسیٰ کی شریعت پر اور ابرا ہیم کے دین حنیف کی تبلیغ کے لئے اوصیاء کو آمادہ کر رکھا تھا کہ ہم انشاء اللہ ان اخبار کو تحقیق کے ساتھ بیان کررہے ہیں۔


( ۱۲ )

*پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء و اجداد کے علاوہ فترت کے زمانے میں انبیاء اور اوصیائ

فترت کے زمانے میں انبیاء اور اوصیائ

سیرۂ حلبیہ میں خلا صہ کے طور پر اس طرح سے ذکر کیا گیا ہے :

حضرت اسمٰعیل کے بعد حضرت محمد مصطفیٰ صلّیٰٰ ﷲعلیہ و اٰلہ وسلم کے سوا عرب قوم کے درمیان کوئی پیغمبر مستقل شریعت کے ساتھ رسالت کے لئے مبعوث نہیںہو ا ۔

لیکن ''خالد ابن سنان'' اور اس کے بعد '' حنظلہ'' ایک مستقل شریعت کے لئے مبعوث نہیں ہوئے تھے ، بلکہ حضرت عیسیٰ کی شریعت کا اقرار اور اس کی تثبیت کرتے ہوئے اس کی تبلیغ کرتے تھے۔

حضرت عیسیٰ اور حنظلہ کے درمیان زمانے کے لحا ظ سے تین سو سال کا فاصلہ تھا۔( ۱ )

حضرت عیسیٰ اور حضرت ختمی مرتبت صلّیٰ ٰ ﷲعلیہ و اٰلہ وسلم کے درمیان فترت کے زمانے میں جن لوگوں کا نام مسعودی اور دیگر لوگوں نے ذکر کیاہے ان میں سے ایک''خالد ابن سنان عبسی'' ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے بارے میں فرما یا ہے:

''وہ ایک نبی تھے جن کی ان کی قوم نے قدر وقیمت نہیں جا نی'' اور تاریخ میں دوسرے لوگوں کا نام بھی نبی کے عنوان سے ذکر ہواہے جو کہ جوحضرت عیسیٰ اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان گزرے ہیں ۔( ۲ )

اسی طرح علامہ مجلسی نے اپنی عظیم کتاب بحار الانوار میں کے حالات کو بسط وتفصیل سے حضرت عیسیٰ کے آسمان کی طرف اُٹھائے جا نے کے بعد کے واقعات اور زمانۂ فترت کے واقعات کے باب میں کا ذکر کیا ہے( ۳ )

وہ انبیاء اور اوصیاء جن کی خبریں قرآن کریم،تفا سیر اور تمام اسلامی منابع اور مصادر میں مذکور ہیں وہ لوگ ہیں جنھیں خدا وند عالم نے لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے جزیرة العرب اور اس کے اطراف

____________________

(۱)سیرۂ جلسہ:ج ۱، ص ۲۱ اور تاریخ ابن اثیر،طبع اوّل مصر ،جلد ۱ ، ص ۳۱اور تاریخ خمیس جلد۱ ص ۱۹۹. (۲)مروج الذھب مسعودی، ج۱ ص۷۸ اور تاریخ ابن کیثر ج،۲،ص ۲۷۱.(۲)بحار الانوار، ج، ۱۴،ص ۳۴۵.


میں حضرت ابراہیم خلیل الرحمن کے اوصیاء کے زمانے تک اور پاک و پاکیزہ اسلامی شریعت کے مطابق مبعوث کیا ہے اور آپ کے اوصیاء حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی شریعت کے پا بند تھے۔

حضرت عیسیٰ کی شریعت کے جملہ اوصیاء میں سے ایک، جن سے اُن کے ماننے والوں نے علم و دانش سیکھا ہے بزرگ صحا بی جناب سلمان فارسی محمدی ہیں کہ جو اس دین کے راہبوںمیں شما ر ہوتے تھے اور ان کی داستان ذیل میں بطورخلا صہ نقل کی جا رہی ہے:( ۱ )

احمد کی مسند، ابن ہشام کی سیرة اور ابو نعیم کی دلا ئل النبوہ میں سلمان فارسی سے متعلق ایک روایت کے ضمن میں اس صحابی کی داستان کو ، حضرت عیسیٰ بن مریم کے اوصیا ء کی آخری فرد کے ساتھ جو کہ عموریہ( ۲ ) نامی جگہ پر مقیم تھے اور سلمان اُن کے ساتھ زندگی گذار رہے تھے اس طرح نقل کیا ہے:

میں عموریہ میں دیر کے راہب کی خد مت میں پہنچا اور اپنی داستان اُن کے سامنے بیان کی !انھوں نے کہا ؛میرے پا س رک جاؤ لہٰذاایک ایسے انسا ن کے پاس جو اپنے چا ہنے والوں کی ہدایت و سرپرستی کی ذمّہ داری لئے ہوا تھا سکونت اختیار کی یہاں تک کہ اسے موت آگئی اور جب وہ مرنے کے قریب ہوا تو میں نے اُس سے کہا: میں فلاں کے پاس تھا مگر جب وہ مرنے لگا تو اُس نے فلاں کے پاس جانے کی وصیت کی،اس دوسرے نے بھی مجھے حا لت احتضار میں فلاں شخص کی وصیت کی اور تیسرے نے بھی تمہارے پاس جا نے کی وصیت کی.اب تم مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے ہو اور کیا دستور دیتے ہو؟

اس نے کہا: ہاں بیٹا!خدا کی قسم میں اپنے زمانے کے لوگوں میں اپنے دین سے متعلق کسی کو سب سے زیادہ عالم اور عاقل نہیںجانتا کہ میں تمھیں حکم دوں کہ اُس کے پا س چلے جاؤ لیکن تم ایک ایسے پیغمبر کے زمانے میں ہو جو دین ابرا ہیم پر مبعوث ہو گا.وہ سر زمین عرب میں قیام کرے گااور ایسے علاقے میں (جو دوسوختہ زمینوں کے درمیان واقع ہے اور ان کے درمیان نخلستان ہیں) ہجرت کرے گا. اس کی واضح اور آشکار علامتیں اورنشا نیاں ہیں ،ہدیہ تو کھاتا ہے لیکن صدقہ نہیں کھاتا اور اس کے دونوں شانوں کے درمیان نبوت کی مہر لگی ہوئی ہے۔

____________________

(۱) ان کی خبروں سے متعلق سیرہ ٔابن ہشام، ج۱ ،ص ۲۲۷ پر رجوع کریں.

(۲) حموی وفات ۶۲۶ ھ قمری نے اپنی کتاب معجم البلدان میں عموریہ کے بارے میں تحریر کیا ہے: وہ روم کے شہروں میں سے ایک شہر ہے جسے معتصم عباسی وفات ۲۲۷ ھ ق) نے ۲۲۳ میں اُ س پر قبضہ کیا تھا.


اگر خود کو ایسے علا قے میں پہنچا سکتے ہو تو ایسا ہی کرو اور پھر اس وقت اس کی آنکھ بند ہو گئی اور دنیا سے رخصت ہو گیا۔( ۱ )

یہ فترت کے زمانے میں حضرت عیسیٰ کے بعض اوصیاء کی خبریں ہیں.لیکن حضرت ابراہیم کے دین حنیف کے اوصیاء کے بارے میں آیندہ فصل میں تحقیق کریں گے.اس سے پہلے حضرت اسمٰعیل کی سیرت کا کچھ اجما لی خا کہ پیش کریں گے جو کہ حضرت ابرا ہیم کے اوصیاء کی پہلی شاخ ہیں.پھر جہاں تک ممکن ہو گا انشا ء اللہ ان کے فرزندوں سے اوصیاء کی سیرت کی تشریح کریں گے۔

____________________

۱ ۔ مسند احمد،ج۴،ص۴۴۲۔۴۴۳؛ سیرہ ابن ہشام،وفات ۲۱۳ھ،ج۱،ص۲۲۷؛ دلائل النبوہ، ابو نعیم،وفات ۴۳ ھ.


( ۱۳ )

حنیفیہ شریعت پر آنحضرت کے وصی حضرت اسمٰعیل کی بعض خبریں.

*مناسک حج ادا کرنے کے لئے حضرت ابرا ہیم

کی حضرت اسمٰعیل کو وصیت.

*حضرت اسمٰعیل کی نبوت اور عمالیق،جر ھم

اور یمنی قبائل کو خدا پرستی کی دعوت دینا.

قرآن کریم میں حضرت اسمٰعیل کی نبوت کی خبر

خدا وند سبحان سورۂ مریم کی ۵۴ویں اور ۵۵ویں آیات میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَ اذْکُرْ فِی الْکِتاب ِاِسْمَاْعِیْلَ اِنَّهُ کَانَ صَادِقَ الَوعدِوَکَان رسُو لاً نبیّاً٭وَ کَانَ یَأمُرُ اَهلهُ با لصَّلَاةِ وَالزَّکَاْهِ وَکَان عِندَ راَبِهِ مَرْضِیّاً )

اور اپنی کتاب میں حضرت اسمٰعیل کے حالات زندگی کو یاد کرو کہ وہ وعدہ میں صادق اور رسول ونبی تھے. وہ اپنے اہل وعیال کو نماز (ادا کرنے ) اور زکا ة(دینے) کا حکم دیتے تھے اور اپنے ربّ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ تھے۔

سورہ ٔنساء کی ۱۶۳ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( ِنَّا َوْحَیْنَا الَیکَ کَمَا َوْحَیْنَإ الَی نُوحٍ وَالنّاَبِیِّینَ مِنْ بَعْدِهِ وََوْحَیْنَإ الَی بْرَاهِیمَ وَِسْمَاعِیلَ وَِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالَسْبَاطِ وَعِیسَی وََیُّوبَ وَیُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَیْمَانَ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا )

ہم نے تمہاری طرف بھی تو اسی طرح وحی کی جس طرح نوح اور ان کے بعد کے پیغمبروں پر وحی کی تھی اور ابراہیم ،اسمٰعیل ،اسحق ،یعقوب ، اسباط ، عیسیٰ، اےّوب ،یونس ،ہارون ،سلیمان اور داؤد پر ہم نے وحی کی اور داؤد کو زبور بھی دی۔


حضرت اسمٰعیل کی نبوت،دیگر منابع اور مصادر میں:

حضرت اسمٰعیل اپنے باپ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے زمانے سے ہی مکّہ میں زندگی گذار رہے تھے اور اپنے والد کی وصیت کے اجراء کر نے میں جو کہ حج کے شعا ئر کی ادائیگی سے متعلق تھی اورحضرت ابراہیم کی حنیفیہ شریعت کا ستون ہے، کوشش کی اور انھوں نے رسالت کی تبلیغ بھی انجام دی ہے جس کے متعلق ہم ذیل میں بیان کر رہے ہیں۔

۱۔ تا ریخ یعقوبی میں مذکو رہے:

جب حضرت ابراہیم نے فریضۂ حج انجام دیا اور واپسی کاارادہ کیا تو اپنے فرزند اسمٰعیل سے وصیت کی کہ بیت ﷲ الحرام کے پاس سکونت اختیار کریں اور لوگوں کی حج اور مناسک حج کی ادائیگی میں راہنمائی کریں،اسمٰعیل نے اپنے باپ کے بعد بیت ﷲ الحرام کی تعمیر کی اورمناسک حج کی ادائیگی میں مشغول ہوگئے۔( ۱ )

۲۔ اخبار الزمان میں منقول ہے:

خدا نے حضرت اسمٰعیل کو وحی کی اور آپ کو عمالیق،جرھم اور یمنی قبائل کی جانب بھیجا اسمٰعیل نے انھیں بتوں کی پرستش کرنے سے منع کیا. لیکن صرف معدود ے چند افراد ان پر ایمان لائے اور ان کی اکثریت نے کفر وعناد کا راستہ اختیار کیا۔

یہ خبر کچھ لفظی اختلا ف کے ساتھ مرآة الزمان میں بھی مذکور ہوئی ہے۔( ۲ )

اس طرح حضرت اسمٰعیل نے اپنی پو ری زندگی ان امور کی انجام دہی میں صرف کر دی جن کی ان کے باپ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اُن سے وصیت کی تھی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی اور مکّہ میں سپرد لحد کردئے گئے۔

ان کے بعد ایسے فرائض کی انجام دہی کے لئے ان کی نسل سے نیک اور شائستہ فرزندوں نے قیام کیا؛ہم انشاء اللہ ان میں سے بعض کا تعارف کرائیں گے۔

____________________

(۱) تا ریخ یعقوبی،ج۱، ص ۲۲۱.(۲) اخبار الزمان، ص ۱۰۳؛ مرآة الزمان ،ص ۳۰۹و ۳۱۰.


( ۱۴ )

فترت کے زمانے میں پیغمبر کے بعض اجداد کی خبریں عدنان،

مضر اور دیگر افراد

* الیاس بن مضر.

*کنانہ بن خز یمہ.

*کعب بن لؤی.

مکّہ میں بت پرستی کا عام رواج اور اس کے مقابل

اجداد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا موقف

* قُصیّ

*عبد مناف

*جناب ہاشم

*جناب عبد المطلب

*حضرت اسمٰعیل کے خاندان کا خلاصہ

*پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والدجناب عبد اللہ اور جناب ابو طالب.


فترت کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے بعض اجداد کے حالات.

''سُبل الھدی'' نامی کتاب میں ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ انھوں نے کہا:

عدنان،مضر، قیس، عیلان، تیم، اسد، ضبّہ اور خزیمہ کے والد''ادد '' مسلمان تھے اور ان کی رحلت بھی ملت ابراہیم پر ہوئی ہے۔( ۱)

ابن سعد کی طبقات میں بھی مذکور ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا:مضر کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان تھے۔( ۲ )

الیاس بن مضر بن نزاربن محمد بن عدنان

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

''مضر کے فرزندالیاس'' ایک شریف اور نجیب انسان تھے ان کی دوسروں پر فوقیت اور برتری واضح اور آشکا ر ہے.یہ وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اسمٰعیل کی اولا د پر نکتہ چینی کی اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے آباء واجدا کی سنتوں میں تبدیلی کردی تھی .انہوں نے بہت سے نیک افعال انجام دئیے لوگ آپ سے اس درجہ شاد ومسرور تھے کہ اسمٰعیل کے فرزندوں میں''ادد'' کے بعد کسی کے لئے ایسی شادمانی اور مسرت کا اظہار نہیں کیا تھا۔

اُنھوںنے حضرت اسمٰعیل کی اولا د کو اپنے آباء واجداد کی سنت کی مراعات کرنے کی طرف لوٹا یا اس طرح سے کہ تمام سنتیں اپنی پہلی حالت پر واپس آگئیں. وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے موٹے تازے اونٹوں کو خا نہ خدا کی قربانی کے لئے مخصوص کیا اور وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے حضرت ابراہیم کی وفات کے بعد رکن کی بنیاد رکھی؛اسی وجہ سے عرب(الیاس) کو بزرگ اور محترم سمجھتے ہیں...( ۳ )

____________________

(۱)سبل الھُدیٰ والرشاد محمد بن یو سف شامی کی تالیف جو ۹۴۲ھ ق میں وفات کر گئے ہیں،طبع دار الکتب،بیروت، ۱۴۱۴ ھ ق، ص ۲۹۱ اور فتح الباری، ج۷، ص۱۴۶ بھی ملاحظہ ہو.(۲)طبقات ابن سعد،طبع یورپ، ج۱، ص.۳؛اور تاریخ یعقوبی، ج۱، ص۲۲۶؛ اور کنزالعمّال، ج۱۲، ص۵۹ ،باب الفضائل،چوتھا حصّہ،مضر قبیلہ کے فضائل کے بارے میں حدیث نمبر ۳۳۹۷۸.(۳)تاریخ یعقوبی،ج۱،ص ۲۲۷.


ان تمام مطالب کے نقل کے بعد''سبل الھدایٰ'' نامی کتاب میں تحریر فرما تے ہیں:

عرب جس طرح سے لقمان کی عظمت اور بزرگی کے قائل تھے اسی طرح انھیں بھی محترم اور معزز شمار کرتے تھے۔( ۱ )

صاحبان شریعت پیغمبروں کے تمام اوصیاء ان صفات اور خصوصیات کے حامل تھے.اس لحاظ سے ''الیاس'' بھی حضرت ابراہیم کے بعد ان کی حنیفیہ شریعت کے ان کے بعد محافط ونگہبان اوصیاء میں سے شمار کئے جاتے ہیں۔

کنانة بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر

''کنانة'' ایک عالی قدر،بلند مقام،نیک صفت اور با عظمت انسان تھے اور عرب ان کے علم وفضل اور ان کی فو قیت اور برتری کی بناء پر ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔

وہ کہا کرتے تھے:مکّہ سے احمد نامی ایک پیغمبر کے ظہور کا وقت آچکا ہے جو لوگوں کو خدا ، نیکی ،جوود بخشش اور مکارم اخلاق کی دعوت دے گا.اس کی پیروی کرو تاکہ تمہاری عظمت وبزرگی میں اضافہ ہو اور اس کے ساتھ عداوت و دشمنی نہ کرنا اور جو کچھ بھی وہ پیش کرے اس کی تکذیب نہ کر نا .کیونکہ جوچیز بھی وہ پیش کرے گا وہ حق ہو گی۔( ۲ )

''کنانہ'' کی بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت ابراہیم کے اوصیاء میں سے اپنے پہلے والے وصی سے علم دریافت کیا ہے۔

کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک بن نضر بن کنانة

انساب الاشراف اور تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے(اور ہم انساب الاشراف کی باتوں کو نقل کررہے ہیں ) :

''کعب '' عرب کے نزدیک بڑی قدر وقیمت اور عظیم منزلت و مرتبہ کے حامل تھے اور ان کے روز وفات کو ان کے احترام میں تاریخ کا مبداء قرار دیا تھا. یہاں تک کہ ''عام الفیل'' آگیاا ور اسے تاریخ مبداء قرار دیا اس کے بعد ''جناب عبد المطلب'' کی موت کو تاریخ کا مبداء قرار دیا۔

____________________

(۱)سُبُل الھُدیٰ،ج۱،ص۲۸۹.

(۲) سیرہ ٔحلبیہ،ج۱،ص ۱۶؛ اور سبل الھدیٰ،ج۱،ص ۲۸۶،میں یہاں تک ہے...تا کہ تمہاری عظمت اور بزرگی میںاضافہ ہو.


کعب حج کے موسم میں لوگوں کے لئے خطبہ پڑھتے اور کہتے تھے:''اے لوگو''! سنو اور سمجھو اور جان لو کہ رات پُر سکون اور خاموش ہے اور دن روشن اور آسما ن کا شامیانہ لگا ہوا ہے اور زمین ہموار و برابر ہے اور ستارے ایسی نشا نیاں ہیں جو بے کا راور لغو پیدا نہیں کئے گئے ہیں کہ تم لوگ اُن سے روگرداں ہو جاؤ. گزشتہ لوگ آیندہ کے مانند ہیں؛اور گھر تمہارے سامنے ہے اور یقین تمہارے گمان کے علا وہ چیز ہے.اپنے رشتہ داروں کی دیکھ بھال کرو اور صلہ رحم قائم کرو اور ازداجی رشتوں کو باقی رکھو اور اپنے عہد وپیمان کا پاس ولحاظ کرو اور اپنے اموال کو(تجارت اور معا ملات کے ذریعہ) بار آور اور نفع بخش بناؤ جو کہ تمہاری جوانمردی اور جود و بخشش کی علا مت ہے اور جہاں تم پر انفاق لا زم ہو اُس سے صرف نظر نہ کرو اور اس حرم (خدا کے گھر)کی تعظیم کرو اور اس سے متمسک ہو جاؤ کیونکہ یہ ایک پیغمبرکی مخصوص جگہ ہے اور یہیں سے خاتم الانبیاء اُس دین کے ساتھ جو موسیٰ اور عیسیٰ لائے تھے مبعوث ہو گے پھر اس وقت اس طرح فرماتے تھے:

فترت کے بعد وہ محافظ ونگہبان نبی عالمانہ خبروں کے ساتھ آئے گا .اور یعقوبی کی عبارت میں اس طرح ہے:

اچانک وہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نبی آجا ئے گا اور سچی اور عالمانہ خبریں دے گا:

پھر کعب کہتے تھے: اے کاش ان کی دعوت اور بعثت کو ہم درک کرتے۔( ۱ )

سبل الھدیٰ والرشاد نامی کتاب میں بطور خلا صہ اس طرح مذکور ہے:

جمعہ کے دن کو ''عروبة'' کا دن کہتے تھے اور کعب وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس کا نام جمعہ رکھا ہے۔( ۲ )

پھر اس کے بعد لفظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ انھیں مذکورہ مطا لب کو اُس نے ذکر کیا ہے۔

جو کچھ ''کعب '' کی تعریف میں مورخین نے ذکر کیا ہے وہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے بعد'' اوصیائ'' میں سے ایک وصی تھے کعب اور الیاس حضرت ابراہیم کی دعا کے قبول ہو نے کے دو نمایاں مصداق تھے؛ جب انھوں نے بارگاہ خدا وندی میں اپنی ذریت کے حق میںدعا کی اور کہا : میری اولاد میں اپنے سامنے سراپا تسلیم ہو نے والی امت قرار دے۔

____________________

(۱)انساب الاشراف، بلاذری، طبع مصر، ۱۹۵۹۔ ج۱، ص۱۶ اور ۴۱؛ تاریخ یعقوبی، ج۱، ص۲۳۶، طبع بیروت، ۱۳۷۹ ھ؛سیرۂ حلبیہ، ج۱، ص ۹، ۱۵، ۱۶؛ سیرۂ نبوےة، حلیبہ کے حا شہ پر، ج۱، ص۹.(۲)سبیل الھدیٰ والر شادج۱ ،ص۲۷۸.


مکّہ میں بت پرستی کا رواج اور اس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء واجداد کا موقف

گزشتہ صفحات میں ہم نے بیان کیا کہ ''جر ھم'' قبیلہ نے ''ہاجرہ'' سے ان کے پاس سکونت کرنے کی اجازت مانگی تا کہ آب زمزم سے بہرہ مند ہوں تو ہا جرہ نے بھی انھیں اجازت دے دی۔

پھر سالوں گزرنے کے بعد ان کے فرزند (اسمٰعیل ) ایک مکمّل جوان ہوگئے، تو ''مضاض جرھمی'' کی بیٹی سے شادی کر لی اور اس سے صاحب اولا د ہوئے۔

پھر حضرت اسمٰعیل کی وفات کے بعد ، ان کے فرزند'' ثابت ''مضاض جرھمی کے نواسے نے امور کی باگ ڈور اپنے ہا تھوںمیں لے لی. ان کی وفات کے بعد ،جر ھم مکّہ کے امور پر قابض ہوگئے اور طغیانی اور سر کشی کی اور حق سے منحرف ہوگئے. ''خزاعہ قبیلہ ''نے اُن سے جنگ کی اور ان پر فاتح ہوگئے( ۱ ) اور مکّہ کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی.بیت ﷲ الحرام کی تو لیت کے ذمّہ دار ہوئے اور رفتہ رفتہ اسمٰعیل کی اولا د بھی کوچ کر گئی اور مختلف شہروں میں پھیل گئی جز معدودے چند افراد کے کہ جنھوں نے خانہ خدا کا جوار ترک نہیں کیا۔( ۲ )

خزاعہ قبیلہ کے سردار سالہا سال تک یکے بعد دیگرے مکّہ کی حکو مت اور بیت اللہ الحرام کی تولیت کے ما لک ہوتے رہے یہاں تک کہ ''عمر وبن لحّی'' کہ جو بڑا مالدار اور کثیر تعداد میں اونٹوں کا مالک تھا اور لوگ اس کے گھر پر کھانا کھا تے تھے جب تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوا ،تو اس کا کا فی اثر و رسوخ تھا اس طرح سے کہ اس کی رفتار وگفتار لوگوں کے لئے قوانین شرعیہ کے مانند لا زم الاجراء مانی جاتی تھی۔( ۳ )

شام کے شہروں میں ایک سفر میں عمر وبن لحی نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ بت کی پو جا کر تے ہیں اور جب اُس نے ان کے بارے میں اُن سے سوال کیا تو اسے جواب دیا:

____________________

(۱)تاریخ ابن کثیر، طبع اوّل، ج۲، ص ، ۱۸۴و۱۸۵ کو ملاحظہ کریں. (۲)تاریخ یعقوبی ج ۱، ص ۲۲۲۔ ۲۳۸.

(۳)تاریخ ابن کثیر، ج۲، ص۱۸۷.


یہ وہ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں، ان سے بارش کی درخواست کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں بارش سے نوازتے ہیں اور ان سے نصرت طلب کر تے ہیں وہ ہماری مدد کرتے ہیں۔

عمرو نے اُن سے کہا:

ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی بت ہمیں بھی دو تاکہ اسے اپنے ساتھ سرزمین عرب تک لے جائیں اور وہاں کے لوگ اس کی عبادت کریں؟

انھوں نے ا سے '' ہبل'' نامی بت دے دیا، عمرو اس بت کو لے کر مکّہ آیا اور حکم دیا کہ لوگ اس کو عظیم سمجھتے ہوئے اس کی عبادت کریں اس نے حد یہ کی کہ ان بتوں کو حج کے تلبیہ میں داخل کر دیا اور اس طرح سے کہہ رہا تھا:

(لبیک اللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ لاشریک لک،الّا شریک هو لک تملکه و ما ملک )

یعنی لبیک خدایا لبیک، تیرا کوئی شریک نہیں ہے جز اُس شریک کے کہ جو تیری ہی طرف سے ہے، وہ اور جو کچھ اس کے پاس ہے تیری بدولت ہے۔

خدا کے شریک سے اس کی مراد بت تھے۔اس سے خدا کی پناہ۔اسی طرح اُس نے حضرت ابراہیم کے حنفیہ آئین کو بدل ڈالا اور خود اس نے دیگر قوانین بنائے۔

''بحیرہ'' اور'' سائبہ'' کے قوانین اسی کے ساختہ اور پرداختہ افعال میں سے ہیں(اسی کے کارناموں میں شمار ہوتے ہیں) بحیرہ وہ اوٹنی ہے کہ جو کچھ حالات کے تحت اس کا دودھ بتوں اور جعلی خداؤں کی خدمت میں پیش کرتے تھے.سائبہ بھی ایک اونٹ ہی تھا کہ اُسے بتوں سے مخصوص کر دیا تھا ا س سے بوجھ ڈھونے اور بار اٹھانے کا کام نہیں لیا جا تا تھا اور اسے کسی کام میں استعمال نہیں کر تے تھے.( ۱ )

اس طرح سے توحید کی سرزمین پر بت پرستی عام ہوگئی. البتہ ان ناپسندیدہ انحرافات کا صرف ھبل پر انحصار نہیں ہے بلکہ ان بتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور انھیں کعبہ کی دیوار پر بھی آویزاں کردیا گیا۔ان بتوںکی عبادت اور پر ستش مکّہ سے جزیرة العرب کی دیگر آباد سرزمینوں اور مختلف قبائل تک منتقل ہوگئی. وہاں کے لوگوں کے درمیان سے توحید کی علا متیں غائب ہو کرفراموشی کاشکار ہوگئیں اور حضرت ابراہیم کی حنفیہ شریعت میں تحریف واقع ہوگئی۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد کی سیرت کی تحقیق کے بعد بُت پرستی کے مقابلے میں ان کے موقف اور عکس العمل کو بیان کرہے ہیں۔

____________________

(۱)تاریخ ابن کثیر،ج۲، ص۱۸۷ ۔۱۸۹؛ اور اس کا خلا صہ بلا ذری کی انساب الاشراف کی پہلی جلد کے ۲۴ صفحہ پر ملا حظہ ہو.


قُصیّ بن کلاب بن مرّہ بن کعب

قُصیّ کے جوان اور قوی ہو نے تک مکّہ کی حکومت اور خانہ خدا کا معاملہ خزاعہ قبیلہ کے ہاتھ میں رہا۔ انھوں نے اپنے پر اگندہ اور بکھرے ہوئے خاندان کو جمع کیا اور اپنے مادری بھائی''درّاج بن ربیعہ عذری'' سے نصرت طلب کی.درّاج قضاعہ کے ایسے گروہ کے ساتھ جسے وہ جمع کر سکتا تھا ان کی مدد کو آیا.پھر وہ سب خزاعہ سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور دونوں طرف سے کثیر تعداد میں لوگ ما رے گئے،نتیجہ کے طور پر''عمرو بن عوف کنانی'' کے فیصلے پر آمادہ ہوئے.

عمروبن عوف فیصلہ کے لئے بیٹھا اور اُس نے یہ فیصلہ کیا کہ قُصیّ مکّہ کی حکومت اور خا نہ خدا کی تو لیت کے لئے خزاعہ کے مقابل زیادہ سزاوار ہیں.

قُصیّ نے خزاعہ قبیلہ کو مکّہ سے نکال باہر کیا اور مکّہ کی حکو مت اور خانہ خدا کی خدمت کی ذمّہ داری اپنے ہاتھوںمیں لے لی .اور قریش کے اطراف و اکناف میں پھیلے ہوئے قبا ئل کو جو کہ پہاڑوں اور درّوں میں زندگی گزار رہے تھے جمع کیا اور مکّہ کے درّوں اور اس کی دیگر زمینوں کو ان کے درمیان تقسیم کردیا ، اسی لئے اُنھیں '' مجمّع '' ( جمع کر نے والا) کہتے ہیں شاعر نے اس سلسلے میں کیا خوب کہا ہے:

اَبُوْ کُمْ قُصیّ کَاْنَ یُُدْعَیٰ مُجَمِّعا

بِه جَمَعَ اللّٰهُ الْقَبَائِلَ مِنْ فَهِرْ

تمہارے باپ قُصیّ ہیں جنھیں لوگ مجمّع(جمع کرنے والا) کہتے تھے۔

خدا وند عالم نے ان کے ذریعہ فھر کے قبیلوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیا۔

قُصیّ نے قریش کے قبیلوں کے لئے''دار الندوة'' جیسی ایک جگہ تعمیر کی تاکہ وہاں اکٹھا ہو کراپنے سے مربوط امور میں ایک دوسرے سے مشورہ کریں .اُنہوں نے اسی طرح خانہ کعبہ کو اس کی بنیاد سے ایسا تعمیر کیا کہ ویسی تعمیر ان سے پہلے کسی نے نہیں کی تھی۔ (۱ ) قُصیّ بتوں کی پرستش سے شدت کے ساتھ روکتے تھے۔

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی۔ ج۱، ص۲۳۸ ۔۲۴۰.


قُصیّ اور بیت اللہ الحرام اور حاجیوں سے متعلق ان کا اہتمام

۱۔ ابن سعد کی طبقات میں مذکور ہے :

قُصیّ نے سقایت(سیراب کرنے) اور رفادت (حجاج کی مدد کرنے) کی ذمّہ داری قریش کو دی اور کہا: اے جماعت قریش ! تم لوگ خدا کے پڑوسی،اس کے گھر اور حرم کے ذمہ دار ہو اور حجاج خدا کے مہمان اور اُس کے گھر کے زائر ہیں اور وہ لوگ تعظیم و تکریم کے زیادہ حق دار مہمان ہیں۔لہٰذا حج کے ایام میں ان کے لئے کھانے اور پینے کی چیزیں فراہم کرو جب تک کہ وہ تمہارے علا قے سے اپنے گھروں کو نہ لوٹ جائیں۔

قریش نے بھی حکم کی تعمیل کی اور سا لانہ ایک مبلغ حجاج پر صر ف کر نے کے لئے الگ کر دیتے تھے اور اُسے قُصیّ کو دے دیتے تھے.قُصیّ ان مبلغوں سے مکّہ اور منی کے اےّام میں لو گوں کے کھا نے پینے کا بندوبست کرتے اور کھال سے حوض بنا تے اور اس کو پا نی سے بھرتے اور مکّہ،منی اورعرفات میں لو گوں کو پا نی پلا تے تھے،قُصیّ کی یہ یاد گار اسی طرح ان کی قوم (قریش) کے درمیان زمانۂ جاہلیت میں جاری رہی یہاں تک کہ اسلام کا ظہو ر ہوا اور یہ سنت آج تک اسی طرح اسلام میں باقی اور جا ری ہے۔( ۱ )

۲۔ تا ریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

قُصیّ نے قریش قبیلے کے افراد کو خانہ خدا کے ارد گرد جمع کر دیا اور جب حج کا زمانہ آیا تو قریش سے کہا:

حج کا زمانہ آگیا ہے اور میں کوئی بھی احترام واکرام عرب کے نزدیک کھا نا کھلا نے سے بہتر نہیں جانتا ہوں لہٰذا تم میں سے ہر ایک اس کے لئے ایک مبلغ عطا کرے۔

ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور کا فی مبلغ اکٹھا ہو گیا

جب حاجیوں کا سب سے پہلا گروہ پہونچا،تو آپ نے مکّہ کے ہر چوراہے پر ایک اونٹ ذبح کیا اور مکّہ میں بھی ایک اونٹ ذبح کیا اور ایک جگہ بنائی جس میں غذا،روٹی اور گوشت رکھااور پیاسوں کو دودھ اور پانی سے سیراب کیا اور خا نہ کعبہ کی طرف گئے تو اس کے لئے کنجی اور آستانہ کا انتظام کیا۔( ۲ )

انساب الاشراف میں مذکور ہے:

____________________

(۱)طبقات ابن سعد،طبع یورپ،ج۱،ص۴۱،۴۲.(۲) تاریخ یعقوبی،ج۱،ص ۲۳۹۔۲۴۱،طبع بیروت،۱۳۷۹ھ.

قُصیّ نے کہا : اگر میری دولت ان تمام چیزوں کیلئے کا فی ہوتی تو تمہاری مدد کے بغیر انھیں انجام دیتا (۱)


۳۔ سیرۂ حلبیہ میں خلا صہ کے طور پر اس طرح مذکور ہے:

جب حج کا وقت نزدیک آیا تو قُصیّ نے قریش سے کہا:

حج کا موقع آچکا ہے اور جو کچھ تم نے انجام دیا ہے عرب نے سنا ہے اور وہ لوگ تمہارے احترام کے قائل ہیں.اور میں کھانا کھلانے سے بہتر عرب کے نزدیک کوئی اور احترام واکرام نہیں جانتا.لہٰذا تم میں سے ہر شخص اس کام کے لئے ایک مبلغ عنایت کرے۔

ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور کافی مبلغ اکٹھا ہو گیا، جب حا جیوں کا سب سے پہلا گروہ پہونچا تو انھوں نے مکّہ کے ہر راستہ پر ایک اونٹ ذبح کیا اور مکّہ کے اندر بھی ایک اونٹ ذبح کیا اور گوشت کا سالن تیار کیا اور میوے کے پانی سے ملا ہوا میٹھا پا نی اور دودھ حجاج کو پلا یا ۔

قُصیّ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے''مزدلفہ '' میں آگ روشن کی تا کہ شب میں لوگ عرفہ سے نکلتے وقت اندھیرے کا احساس نہ کر سکیں۔

اُنھوںنے مکّہ کی تمام قابل اہمیت اور لا ئق افتخار چیزوں کو اپنے ہاتھ میںلے لیااور سقایت (سیرابی) حجاج کی مدد، کعبہ کی کلید برداری، مشاورتی اجلاس کی جگہ دار الندوہ، علمبرداری اور امارت و حکومت اپنے اختیار میں رکھی۔

''عبد الدار'' قُصیّ کی اولاد میں سب سے بڑے تھے اور ''عبد مناف'' اُن سب میں شریف ترین، اُنھوں نے شرافت کو اپنے باپ (قُصیّ) کے زمانے ہی میں اپنے سے مخصوص کر لیا تھا اور ان کی شرافت کا شہرہ ،آفاق میں گونج رہا تھاان کے بھائی ''مطلّب'' کا مرتبہ بھی علو مقام اور بلندی رتبہ کے لحاظ سے ان کے بعد ہی تھا اور لوگ ان دونوں بھائیوں کو بدران ( دو چاند )کہتے تھے.قریش نے عبد مناف کو ان کی جود و بخشش کی وجہ سے فیّاض کا لقب دیاتھا۔

قُصیّ نے اپنے بیٹے عبد الدار سے کہا:

میرے بیٹے: خدا کی قسم تمھیںتمہا رے بھا ئیوں عبد مناف اور جناب عبد المطلب کے ہم پلّہ دوںگا، اگر چہ وہ لوگ مر تبہ کی بلند ی اور رفعت کے لحاظ سے تم پر فو قیت رکھتے ہیں۔

____________________

(۱) انساب الا شراف۔۱،ص ۵۲.نکلنے کی راہ دیکھ سکیں.


قرار کوئی مرد بھی کعبہ کے اندار داخل نہیں ہو گا مگر یہ کہ تم اس کا دروازہ کھو لو. تم کعبہ کے پردہ دار ہو گے قریشیوں کا کوئی پرچم جنگ کے لئے اس وقت تک سمیٹا نہیں جا ئے گا جب تک کہ تم اجازت نہیں دوگے تم قریش کے علمبردار ہو۔

مکّہ میں کو ئی آدمی بھی تمہاری اجازت کے بغیر سیراب نہیں ہو گا مگر یہ کہ تم پلاؤ کیو نکہ سقایت کامنصب تم سے مخصوص ہے۔

کوئی بھی حج کے ایام میں کچھ نہیں کھا ئے گا مگر یہ کہ تم اسے کھلاؤ ، تم حاجیوں کے میزبان ہو. قریش کا کوئی کام قطعی اور یقینی مرحلہ تک نہیں پہونچے گا مگر یہ کہ تمہارے گھر میں ، تم دار الندوہ کے ذمّہ دار ہو۔ تمہارے سوا کوئی اس قوم کی رہبری نہیں کر ے گا تم اس قوم کے رہبر ہو.اور یہ سارے فخرو مباہات قُصیّ کے عطا کردہ ہیں۔

جب قُصیّ کی موت کا زمانہ قریب آیا تو انھوں نے اپنے فرزندوں سے کہا:شراب سے پرہیز کرو۔( ۱ )

گزشتہ مباحث میں ہم نے حضرت ابراہیم کی سنت میں دو واضح اور آشکار خصوصیتوں کا درج ذیل عنوان کے ساتھ تحقیقی جا ئزہ لیا ہے:

۱۔ بیت اللہ الحرام کی تعمیر اور انجام حج کے لئے لوگوں کو دعوت دینا اور اس کے شعائر کا قائم کرنا۔

۲۔ مہمانوں کو کھانا کھلا نے اور ان کی تعظیم وتکریم کی جانب ان کی تو جہ۔

ان دوخصلتوں کو ہم حضرت ابراہیم کی ذریت قُصیّ اور ان لوگوں میں جن کی خبریں اس کے بعد آئیںگی واضح انداز میں ملا حظہ کرتے ہیں کہ ان دو خصلتوں کے وہ لوگ مالک تھے۔

انبیاء اور مرسلین کے اوصیاء (اُس پیغمبر کی سنتوں کا احیاء کرنے میں جس کی شریعت کی حفاظت اور تبلیغ کے ذمہ دار ہوتے ہیں )ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

لیکن یہ بات کہ قُصیّ نے اپنے دو فرزندوں کا نام(عبد مناف) اور(عبد العزی) رکھا ایک ایسا مطلب ہے کہ انشاء اللہ جناب عبد المطلب کی جہاں سیرت اور روش کے بارے میںگفتگو کریں گے وہاں اس کے بارے میں بھی بیان کر یں گے۔

____________________

(۱)سیرۂ حلبیہ، ج۱، ص۱۳. کہ اُن میں سے بعض کا ذکر اُس کے حا شیہ سیرۂ نبویہ زینی دحلان کی تا لیف میں ہوا ہے.


قُصیّ کی وفات

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

قُصیّ انتقال کر گئے اور '' حجون '' میں سپرد لحد ہوئے ان کے بعد ان کے فرزند''عبد مناف '' نے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور ریاست حاصل کی اور ان کی قدر ومنز لت بڑھ گئی اوران کے شرف ومرتبہ میں اضا فہ ہوگیا۔( ۱)

عبد مناف بن قُصیّ

سیرۂ حلبیہ اور نبویۂ میں مذکور ہے:

عبد مناف کا نام مغیرہ تھا اور پتھر پر لکھی ایک تحریر ہاتھ لگی جس میں تحریر تھاقُصیّ کے فرزند مغیرہ نے تقوای الٰہی اختیار کر نے اور صلہ رحم کر نے کی وصیت کی ہے۔( ۲ )

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

(قُصیّ کے بعد) ''عبد مناف بن قُصیّ'' کو ریا ست ملی انھوں نے بھی اپنی حیثیت اور قدر و منزلت بڑھا لی اور اپنے شرف ومرتبہ میں اضافہ کیا۔

جناب ہاشم بن عبد مناف

عبد مناف کے فرزند ھا شم کانام '' عمر والعلیٰ '' تھا۔

۱۔ طبقات ابن سعد اور تاریخ یعقوبی میں خلا صہ کے طور پر مذ کور ہے:

اپنے باپ کے بعد جناب ہاشم نے مرتبت و منزلت حاصل کی اور ان کا نام اور چرچہ شہرہ آفاق ہو گیا اور قریش نے موافقت کی کہ سقایت (سیراب کرنا) ،ریاست اور رفادت (حاجیوں کی مدد کرنا) جناب ہاشم بن عبد مناف کے اختیا ر میں ہو گی۔

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی ، ج۱، ص ۲۴۱ جوہم نے جرھم، خزاعہ اور قُصیّ کے بارے میں مفصل گفتگو کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا علم ہو جائے کہ جنھوں نے ابرا ہیم کے دین حنیف کو بد لا ہے وہ حضرت ابراہیم اور اسمٰعیل کی اولا د کے علا وہ تھے.

(۲) سیرۂ حلبیہ،ج۱،ص ۷ اور سیرۂ بنویہ، ج۱، ص ،۱۷؛ سبل الھدی، ۱، ۲۷۴.


جناب ہاشم مراسم حج کی انجام دہی کے موقع پر قریش کے درمیان کھڑے ہو کر فرماتے تھے :

اے قریش واالو! تم لوگ خدا کے پڑوسی او راس کے اہل خانہ ہو.اس موسم میں خدا کے زوّار تمہارے پاس آئیں گے تا کہ اُس کے گھر کی حرمت کی تعظیم کریں.وہ لوگ خدا کے مہمانوں میں سے ہیں لہٰذااحترام کے زیادہ حق دار ہیں۔

خدا نے تمھیں اس کام کے لئے منتخب کیا ہے اور تمھیں اسی وجہ سے بزرگ بنایا ہے خدا نے تمہاری ہمسایگی کی رعایت و نگہداشت ہر ہمسایہ سے کہیں بہترکی اور ہر پڑوسی سے بہتر اپنے پڑوسی کو محفوظ رکھا ہے اب تم لو گ اس کے مہمانوں اور زائرین کا اکرام کرو.کہ وہ لوگ الجھے ہوئے بالوں ، غبار آلود صورتوں میں ہر شہر وعلاقہ سے اونٹ پر سوار ہو کر جو کہ لا غر ہو نے کے لحاظ سے تیر کی لکڑیوں کے مانند ہے راستہ سے پہنچنے ہی والے ہیں اس حال میں کہ وہ تھکے ماندے ہیں، بدبو دار، کثیف، گرد میں اٹے اور نادار لوگ ہیں لہٰذا ان کی مہمانی کے لئے اٹھ کھڑے ہو اور ان کی بے نوائی اور احتیاج کو دور کرو۔

جناب ہاشم نے کا فی مال اکٹھا کیا اور حکم دیا کہ کھال سے حوض تیار کریں اور زمزم کے پاس رکھ دیں پھر پانی سے ان کنوؤں کو پُر کر تے تھے جو مکّہ میں پائے جا تے تھے اور حاجیوں کو ان سے پلاتے تھے اور مکّہ منی، مشعر اور عرفات میں لوگوں کو غذا دیتے تھے،روٹی گوشت،گھی اورآٹا ان کے لئے فراہم کر تے تھے اور ان کے لئے منیٰ تک پانی اٹھا کر لیجاتے تا کہ وہ پئیں؛یہاں تک کہ حاجی لوگ منیٰ سے پرا گندہ ہو کر اپنے اپنے شہروں کو واپس چلے جاتے تھے۔( ۱)

۲۔ کتاب سیرۂ حلبیہ و نبویۂ میں مذکور ہے:

جب ذ ی ا لحجہ کا چاند نمودار ہوتا تھا تو جناب ہا شم صبح کے وقت اُٹھتے اور در کی طرف سے دیوار کعبہ سے ٹیک لگاتے اور اپنے خطبہ میں کہتے:

اے قریش کی جماعت! تم لوگ عرب کے سردار ہو اور سب سے زیادہ نیک نام ہو اور سب سے زیادہ عقلمند اور تمام قبیلوں سے زیادہ شریف اور عربوں میں عرب سے رحم کے لحاظ سے سب سے زیادہ قریب ہو۔

اے قریش کی جماعت! تم لوگ خدا وند متعال کے گھر کے پڑوسی ہو،خدا وند عالم نے تمھیں اپنی ولایت سے نوازا ہے اور تمہارے بعد اپنی ہمسا ئگی کو اسمٰعیل کے فرزندوں میں تم سے مخصوص کیا ہے۔

____________________

(۱) طبقات ابن سعد،ج۱، ص ۴۶ ؛ تاریخ یعقوبی،ج۱،ص ۲۴۲،طبع بیروت ۱۳۷۹ھ ہم نے ان دونوں کی باتوں کو جمع کیا ہے.


اب خدا کے زائر جواُس کے گھر کو عظیم سمجھتے ہیں تمہارے نز دیک آرہے ہیں وہ اس کے مہمان ہیں اور خدا کے مہمانوں کی قدر دانی کے لئے سب سے زیادہ لائق تم ہو۔

لہٰذا اس کے زائروں اور مہمانوں کی قدردانی کرو ،کہ وہ لوگ الجھے ہوئے غبار آلود بالوں کے ساتھ ہر شہر اور ہر علا قے سے ایسے اونٹوں پر سوارہو کر جو کہ تیر کی لکڑیوں کے مانند لا غر اور دبلے پتلے ہیں، پہنچنے ہی والے ہیں؛ لہٰذا اس کے گھرکے زائرین اور مہمانوں کی قدر دانی اور ضیا فت کرو.اس کعبہ کے ربّ کی قسم اگر ہمارے پاس اتنا مال ہوتا کہ ان تمام امور کے لئے کفایت کر تا تو تم سے مدد نہیں مانگتے.اب میں اپنے پاک وحلال مال سے کہ جس میں قطع رحم کا شائبہ تک نہیں اور نہ ہی کوئی مال ظلم وستم سے حاصل کیا گیا ہے اور نہ اُس میں کسی حرام کی آمیزش ہے (کچھ ان امور میں مصرف کے لئے) کنارے رکھتا ہوں (جدا کر تا ہوں) اور تم میں سے جو ایسا کرنا چا ہتاہے ایسا کرے۔

تم میںسے اس گھر کی حر مت کے ذریعہ چا ہتا ہوں کہ تم سے کو ئی مرد بیت اللہ کے زائروں کا اکرام کرنے اور انھیں تقویت پہنچا نے کے لئے حلال اور پاک مال کے سوا جدا نہ کرے؛ اُس میں ایک دنیار بھی ظلم وستم کے ذریعہ نہ لیا گیا ہو اورکسی سے قطع رحم نہ ہوا ہو اور زور زبردستی سے نہ لیا گیا ہو۔

ان لوگوں نے بھی تعمیل حکم کر تے ہوئے دقت سے کام لیتے ہوئے اپنے مال میں سے حلال مال کوالگ کر کے دار الندوہ میں رکھ دیتے تھے۔( ۱ )

۳۔ انساب ا لاشراف اور ابن ہشام کی سیرہ اور المحبّر میں مذکو ر ہے(اور ہم انساب الاشراف کی بات نقل کرتے ہیں):

ایک سال قریش کو قحط(خشک سالی) کا سامنا ہوا اور ان کے اموال تباہ ہوگئے اور بے چارگی و تنگد ستی سب پر چھا گئی.یہ خبر جناب ہاشم کو جو کہ شام کے غزہ نامی ( ۲). علا قے میں تجا رت کے لئے گئے ہوئے تھے پہنچی تو جناب ہاشم نے حکم دیا کہ روغنی روٹی (کیک) اور سادہ روٹی فراہم کریں ان کے دستور کے اجراء کے ساتھ ہی اس سے کہیں زیادہ چیزیں فراہم ہوگئیں.پھر انھیں تھیلوں میں رکھ کر اونٹوں پر لا د کر مکّہ کی طرف روانہ ہوگئے.جب مکّہ پہونچے تو حکم دیا کہ انھیں توڑ توڑ کر سالن میں بھگو دیں اور جو اونٹ اپنے ہمراہ لائے تھے انھیں نحر کر ڈالا اور مکّہ کے رہنے والوں کو سیر کر کے انھیں گرسنگی اور بھوک سے نجات دی۔

____________________

(۱)سیرئہ حلبیہ ج۱ ،ص۶ ، سیرئہ نبویہ ج ۱ ،ص۱۹.(۲) غرہ مصر کی سمت شام کی انتہا میں ایک شہر ہے؛ معجم البلدان.


عبد اللہ ابن زبعریٰ نے اس قحط کے بارے میں جس نے مکّہ والوں کو زحمت و مشقت میں مبتلا کر رکھا تھا اس طرح یاد کیا ہے۔( ۱ )

عمر و العلیٰ هشم الثّر ید لقومه

و رجال مکّه مسنتون عجاف

وهو الّذی سنّ الرحیل لقومه

رحل الشتاء ورحلة الاصیاف

'' عمرو عُلیٰ'' نے اپنی قوم کے لئے سالن دار گوشت تیا ر کیا.جبکہ مکّہ والے قحط سے دوچار تھے ۔

اُس نے اپنی قوم کے لئے کاروانی تجا رت کی سنت قائم کی۔جاڑے کے کاروان اور گرمی کے کاروان کے عنوان سے ۔

اسی سال، تمام مکّہ والوں کو قحط نے اپنی گرفت میں لے لیا اور جناب ہاشم نے جو کچھ کیا اس سے تھوڑی ہی مدّت تک ان کی فریاد رسی ہوئی.لیکن اس تاریخ کے بعد مکّہ والوں کے درمیان کچھ ایسے بھی افراد تھے جو گر سنگی کے سامنے کوئی چارہ کار نہیں رکھتے تھے سوائے یہ کہ(اعتفاد) کریں اور ''اعتفاد'' یہ تھا کہ گھر اور خاندان کے تمام افراد صحرا کی طرف چلے جاتے تھے اور وہاں جا کرکسی سایہ میں موت کے انتظار میں بیٹھ جاتے تھے تاکہ یکے بعد دیگرے بھوک سے مر جائے اور خاندان کی کوئی فرد باقی نہ بچے۔

جناب ہاشم ابن عبد مناف نے اس نا موافق امر کے بارے میں چا رہ جوئی کی کہ اس کے بعد مکّہ میں پھر کو ئی پیدا نہیں ہوا کہ جو (اعتفاد) پر مجبور ہو. داستان اس طرح ہے:

''اعتفاد'' سے متعلق جناب ہاشم کی چارہ جوئی اور راہ حل

قرطبی نے ابن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا خلا صہ یہ ہے:

قریش کی ایسی عادت تھی کہ اُ ن میں سے جب کو ئی بھوک سے دوچار ہوتا اور کوئی راہ چارہ نہ ہوتی تو خود اور اپنے اہل وعیال کو مشہور ومعروف جگہ پر لے جاتا اور خیمہ لگا کر وہاں قیام کر تا تا کہ سب مر جائیں۔

یہ حالت''عمر وبن عبد مناف'' کے زمانے تک جو کہ اپنے زمانے کے سید وسردار تھے باقی رہی، عمروکا''اسد'' نامی ایک فرزند تھا اور وہ بنی مخزوم قبیلہ کے ایک لڑ کے کا دوست تھا کہ اس کے ساتھ کھیلتا کودتا تھا اور اسے بہت دوست رکھتا تھا۔

____________________

(۱)انساب الاشراف۔ ج ۱ ،ص ۵۸؛ اورسیرۂ ابن ہشام، ج۱، ص ۱۴۷؛ اور المحبر، تالیف ابن حبیب، ص ۱۴۶.


ایک دن اسد کے دوست نے اسد سے کہا:ہم لوگ کل ''اعتفاد'' کریں گے،اس دردناک بات کا مطلب یہ تھا کہ: ہم لوگ ایک ساتھ صحرا کی طرف جائیں گے اور ایک خیمہ کے نیچے جمع ہوجائیں گے تاکہ یکے بعد دیگرے بھوک کی شدت سے ہر ایک مرتا رہے یہاں تک کہ سب کے سب مر جائیں ۔

اسد یہ بات سن کر اپنی ماں کے پاس روتا ہوا آیااور جوکچھ اس کے دوست نے کہا تھا اُس نے اپنی ماں سے کہہ سنا یا ، اسد کی ماں نے بھی ان کے لئے تھوڑآٹا اور چربی بھیجی انھوں نے چند دن اس پر گذارے پھر چند روز بعد اسد کا دوست اس کے پا س آیااور کہا:ہم لوگ کل اعتفاد کریں گے۔

اسد اس بار بھی روتا ہوا باپ کی خد مت میں پہونچا اور اپنے دوست کا واقعہ اُن سے بیان کیا یہ بات عمروابن عبد مناف پر گراں گذری لہٰذا انھوں نے قریش کے ان افراد کو جو ان کے حکم کی تعمیل کرتے تھے آوازدی اور ان کے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور کہا:

تم لوگوں نے ایسا کام کیاہے جس سے اپنی تعداد کم کردی ہے جب کہ قبائل عرب کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور وہ کام تمہاری ذلت وخواری اور دوسرے عرب کی عزت کا باعث ہو رہا ہے۔

تم لوگ آدم کی اولا د میں سب سے زیادہ محترم اور حرم الٰہی کے ساکن اور رہنے والے ہو اور لوگ تمہارے تابع فرمان ہیں اور تمہاری باتیں سنتے ہیں. اور قریب ہے کہ یہ اعتفادد تمھیں ہلاک کر ڈالے اور نابود کر دے؛ قریش نے کہا:ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں؛(یعنی جو آپ کا حکم ہو گا ہم ماننے کو تیار ہیں) جناب ہاشم نے کہا: سب سے پہلے اس مرد (اسد کے دوست کے باپ ) کو کچھ دواور انھیں اعتفاد سے بچاؤ انھوں نے حکم کی تعمیل کی اور ایسا ہی کیا۔( ۱ )

پھر جناب ہاشم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو دوتجارتی سفر کے لئے تیّار کیا؛جاڑے میں یمن کی جانب اور گرمی میں شام کی جانب اور یہ طے کیا کہ دولت مند جو فا ئدہ حاصل کرے اسے فقیرپر تقسیم کرے؛ یہاں تک کہ وہ فقرا ء مالداروں کے ہم پلہ ہوگئے۔

یہ صورت حال اسی طرح با قی رہی یہاں تک اسلام کا ظہور ہو گا۔

اس طرح سے عرب میں کوئی قبیلہ ثروت وعزت کے لحاظ سے قریش کا ہم پلہ اور ہم شان نہ ہو سکا کہ ایک شاعر قریش نے کہا:

____________________

(۱) لسان العرب میں(عفد) کی لفظ کے بارے میں اور تفسیر قرطبی ج۲۰ ، ص ۲۰۴ ملاحظہ ہو.


والخا لطون فقیر هم بغنّهِمْ حتّیٰ یصیر فقیر هم کا لکافی

'' فقیر اور دولت مند آپس میں اس طرح مخلوط ہوگئے کہ ان کے فقر اء مالداروں کے مانند بے نیاز ہو گئے''۔

یہ صورت حال حضرت محمد صلّیٰ ﷲعلیہ و اٰ لہ وسلم کے خدا کی طرف سے مبعوث بہ رسالت ہونے تک باقی رہی۔

بلا ذری نے اپنی کتاب انساب الاشراف میں قریش کے ان دونوں تجارتی قافلوں کے جناب ہاشم کے ذریعہ متحرک ہو نے کے بارے میں اس طرح ذکر کیا ہے:

جناب ہاشم بن عبد مناف قریش کے تجارتی سفر کے موجد اور اس کے بانی ہیں اور اس کی داستان اس طرح ہے:

جناب ہاشم نے ابتدا میں قریش کے تجارتی قا فلہ کے روانہ ہو نے کے لئے شام کے بادشاہوں سے امنیت اور حفاظت کی ضمانت لی کہ قریش کے تجّار سالم، محفوظ اور مطمئن رہیں۔

پھر ان کے بھائی '' عبد شمس'' نے حبشہ کے حا کم سے اپنے اُن تاجروں کی حفاظت کی ضمانت جو وہاں جنس لے کر جاتے تھے ، دریافت کی اور '' مطّلب ابن عبد مناف '' نے یمن کے بادشاہ سے اور '' نوفل بن عبد مناف '' نے عراق کے حاکم سے امنیت اور حفاظت کا عہد وپیمان لیا۔

اس طرح سے دوتجارتی سفر میں جاڑے کے موسم میں یمن،حبشہ اور عراق کی طرف اورگرمی کے موسم میں شام کی طرف روانہ ہوتے تھے۔( ۱ )

خداوند عالم اس سے متعلق سورۂ قریش میں اس طرح فرماتا ہے:

(بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

( لِإِیلاَفِ قُرَیْشٍ ٭ ِیلاَفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ ٭ فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَیْتِ ٭ الَّذِی َطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ ٭ )

قریش کے انس والفت کی خاطر۔ ان کی الفت جاڑے اور گرمی کے سفر میں. لہٰذا(اس دوستی کے

____________________

( ۱) انساب الاشراف، بلاذری ، ج۱، ص ۵۹.


شکرانہ کے طور پر) اس گھر کے ربّ کی عبادت کریں. وہ جس نے اُنھیں شدید بھوک میں سیر کیا اور انھیں زبر دست خوف سے مامون و محفوظ رکھا ہے۔

عرب عربی معاشرہ اور سماج میں افتخار اور نیک نامی حاصل کرنے کی خاطر مہمانوں کی دیکھ ریکھ،ان کے اکرام اور اطعام(کھانا کھلانے) میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے،خواہ جو مال وہ اس راہ میں خرچ کرتے وہ چاپلوسی، لوٹ کھسوٹ،غصب،ربا،جوے اور اس طرح کی چیزوں سے کیوں نہ حاصل ہوا ہو۔لیکن جناب ہاشم نے اس مال سے اپنی رضا یت کا اظہار نہیں کیا۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی خواہش تھی کہ انفاق خدا وند سبحان کی خوشنودگی اور رضا کے لئے ہو نا چاہئے اسی لئے وہ خشک سالی اور گرانی کی وجہ سے بھوکوں کو سیر کرتے اور تجارتی قافلوں کو غذا ڈھونے والے قافلوں سے بدل دیتے تھے،مکّہ میں وہی اونٹ جو ان کے تجارتی سامان اور اجناس ڈھوتے تھے انھیں اونٹوں کو نحر کر کے اُن سے مکّہ والوں کے لئے غذا کا بندوبست کرتے تھے۔

اس سے اہم یہ بات ہے کہ انھوں نے اعتفاد کے مسئلہ کو اپنی قوم کے درمیان سے ہمیشہ کے لئے جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

اور اس سے بھی اہم یہ بات ہے کہ انھوں نے قریش کے لئے تجارتی قافلے تشکیل دئیے اور آباد اور مملو( جہاں آبادی زیادہ ہو ) جگہوں کی طرف روانہ کیا.اور چونکہ تجارتی قافلوں کے لئے جزیرة العرب میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ روانہ ہونا عرب کے مختلف قبائل کی غارت گری اور لوٹ مار کی وجہ سے ناممکن تھا. (کیو نکہ ان کی عادت ہو چکی تھی کہ ہر مسافر اور مال پر حملہ کریں اور غارت گری اور لوٹ مچائیں). اس لئے جناب ہاشم اور ان کے بھائیوں نے شام، ایران،حبشہ اور ان عربی قبیلوں کے سرداروں سے عہد وپیمان لیا جن کی سرزمین سے قافلے گذرتے تھے۔

اس طرح سے وہ گرمی میں شام اور ایران کی طرف اور جاڑے میں یمن اور افریقا کی جانب تجارتی سفر کر تے ایسی چیز کی اختراع وایجاد عرب اور غیر عرب کی تاریخ میں کبھی نہیں پائی گئی. حتیٰ کہ حاتم جیسے جوانمرد،سخی وجواد انسان نے بھی ایسے کاموں کا اقدام نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اورنے ایسا کیا کہ جس کی سخاوت اس سے کم یا زیادہ رہی ہو۔

جناب ہاشم بن عبد مناف اپنی قوم کے اقتصادی ، معاشی اور اُخروی معاملہ میں اپنے ان کارناموں کی وجہ سے اپنی قوم کے پیشر وشمار ہوتے ہیں۔

ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ خدا وند عالم پیغمبروں کو لوگوں کے معاش اور معاد سے متعلق امور کی ہدایت کے لئے مبعوث کرتا ہے۔انھوں نے اپنے دور اور اپنے بعد والے دور میں مکّہ والوں کو عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ مال دار بنا دیا۔


جناب عبد المطلب بن جناب ہاشم

۱۔سیرۂ ابن ہشام اور تاریخ طبری جیسی کتابوں میں بطور خلاصہ یوں نقل کیا گیا ہے:

''جناب عبد المطلب'' کی ماں نے سر میں سفید بال کی وجہ سے ان کا''شیبہ '' نام رکھا تھا۔( ۱ )

لیکن جس وقت ان کے چچا (مطلب)مدینہ گئے اور انھیں ان کی ماں سے لے کر مکّہ واپس آئے، چونکہ آپ کو اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا تو قریش نے انھیں دیکھ کریہ خیال کیا کہ وہ بچہ جناب عبد المطلب کا غلام ہے ۔

اس وجہ سے ان کا نام '' عبد المطلب'' رکھااور یہی نام ان کے اصلّیٰ نام کی جگہ مشہو ر ہو گیا۔

یہیں سے یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم اسلام صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض آباء واجداد کی نام گذاری اسی طرح سے ہوئی ہے۔

جیسے''جناب ہاشم'' چور کر نے والے کے معنی میں ہے کہ یہ نام انھیں مکّہ میں قحط سالی کے زمانے میں اپنی قوم کے بے نوا افراد کے لئے سالن دار گوشت میں روٹی چور چور کرنے کی وجہ سے دیا گیا ہے اور ان کا اصلی نام '' عمروالعلیٰ '' تھا جو فراموشی کی نذر ہو گیا۔( ۲ )

یا ''عبد مناف'' کانام در اصل مغیرہ تھا کہ قریش نے انھیں عبد مناف کہاہے( ۳ ) یا قُصیّ کو مجمّع کہتے تھے کیو نکہ انھوں نے قریش کو مکّہ میں جمع کیا تھا۔( ۴ )

____________________

(۱)عبد المطلب کی سوانح حیات جاننے کے لئے ابن ہشام کی سیرہ کی پہلی جلد،ص ۱۴۵. اور تاریخ طبری، ج۲، ص۳۳۵۔ ۳۳۶، طبع بیروت، دارالفکر، ملاحظہ ہو. اور ایک شاعر نے شعر کے جناب عبد المطلب کو شیبة الحمد کہا ہے،جیسا کہ ص ۲۹۶ پر ملاحظہ کریں گے.

(۲) اس سے پہلے ذکر شدہ ان کے حا لات زندگی میں ملاحظہ ہو۔(۳) اس سے پہلے ذکر شدہ ان کے حا لات زندگی میں ملاحظہ ہو.

(۴) اس سے پہلے ذکر شدہ ان کے حالات زندگی میں ملاحظہ ہو.


ابن سعد کی طبقات میں مذکور ہے:

قریش میں جناب عبد المطلب چہرہ کے اعتبار سے حسین ترین،جسم کے لحاظ سے بہترین ، نہایت خوبصورت ڈیل ڈول کے مالک،حلم و بر دباری کے اعتبار سے سب سے زیادہ صابر اور جود وبخشش کے اعتبار سے سب سے زیادہ کریم اور جواد انسان تھے۔

وہ لوگوں میں ایسے امور سے بہت دور تھے جو لوگوں میں بد نامی اور فساد کا باعث ہوتے ہیں وہ نہایت خدا پرست انسان تھے۔

ظلم اور ناپسندیدہ افعال کو ناپسند کرتے تھے. کوئی بادشاہ ایسا نہیں تھا جو انھیں دیکھے اور ان کا احترام نہ کرے اور ان کی خواہشوں کو پو را نہ کرے اور جب تک وہ زندہ رہے قریش کے آقا و مولا رہے۔( ۱ )

۳۔مروج الذھب میں مذکور ہے:

جناب عبد المطلب بن ہا شم ایک خدا شناس اور توحید کا اقرار کرنے والے اور وعدئہ روز جزا ( قیامت) کے معترف انسان تھے اور انھوں نے سماج کے غلط رسم ورواج کو ترک کردیا تھا، وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنھوں نے مکّہ میںلوگوں کو خوش ذائقہ پا نی پلا یا۔( ۲ )

چاہ زمزم کی کھدائی

تاریخ طبری اور سیرۂ ابن ہشام میں (کہ ہم اس بات کو انھیں مصادر سے ذکر کررہے ہیں) ابن اسحق سے روایت کی ہے کہ اس نے حضرت امام علی سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:

جناب عبد المطلب نے کہا: میں حجرِاسماعیل میں سویا ہوا تھا کہ اس عالم میں کوئی شخص میرے پا س آتا ہے اور کہتا ہے:طیبہ( ۳ ) کی کھدائی کرو۔

میں نے سوال کیا طیبة کیا ہے؟

پھر یہ موضوع میرے ذہن سے نکل گیا،دوسرے دن اسی جگہ میں سویا ہوا تھا کہ وہی شخص آکر کہتا ہے:کنواں کھودو۔

____________________

( ۱) طبقات ابن سعد،ج۱ ص ۵۰۔۵۱؛ طبع یورپ.(۲) مروج الذھب ،مسعودی،ج۲،ص ۱۰۳، ۱۰۴.

(۳) طاب طےّبة: پاکیزہ ہوگیا، اچھا ہوا ، لذیذ ہوگیا.


میں نے پوچھا کون سا کنواں؟

پھرموضوع میرے ذہن سے نکل گیا.جب تیسرے دن پھر اسی جگہ پر سویا ہوا تھا کہ پھر وہی شخص آتا ہے اور کہتا ہے:مضنونہ( ۱ ) کی کھدائی کرو!

میں نے سوال کیا مضنونہ کیا ہے؟

اور وہ چلا گیا اور جب میں چوتھے دن بھی اسی جگہ سویا ہوا تھا کہ وہی شخص آیا اور بولا:زمزم کی کھدائی کرو.میں نے پو چھا زمز م کیا ہے؟

اُس نے کہا: ایسا کنواں جس کا پانی کبھی تمام نہیں ہو گا اور انتہا کو نہیں پہو نچے گا اور کبھی سوکھے گا نہیں اور تم اس پانی سے حاجیوں کو سیراب کرو گے۔

اُس کی جگہ خون اور سر گین کے درمیان ہے( ۲ ) جہاں سرخ چونچ والا کوّا زمین پر چونٹیوں کے آشیانوں کے نزدیک چو نچ مارے گا۔ابن اسحق سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرما تے ہیں:

جب کوّے کی ماموریت جناب عبد المطلب پر واضح ہوئی اور کنویں کی جگہ کی جانب را ہنمائی ہوئی اوراطمینان ہوگیا کہ بات صحیح ہے .دوسری صبح کدال اٹھا ئی اور اپنے بیٹے حا رث کو کہ اس وقت تک ان کے علاوہ ان کا کوئی اور بیٹاپیدا نہیں ہوا تھا، اپنے ہمراہ لے گئے اور کھدائی شروع کر دی.جب کنویں کاحلقہ(دائرہ) نمایاں ہو گیا تو جناب عبد المطلب نے تکبیر کہی اور قریش کو معلوم ہوگیاکہ وہ اپنی مراد کو پہنچ گئے ہیں۔

لہٰذا اُن کے پاس جا کر بو لے: اے جناب عبد المطلب! یہ کنواں ہمارے باپ اسمٰعیل کا ہے اور ہمارا بھی اس میں ایک حق ہے ہمیں بھی اس میں اپناشریک قرار دو۔جناب عبد المطلب نے کہا:میں ایسا کام نہیں کر سکتا،یہ کنواں صرف ہم سے مخصوص ہے اور تم لوگوں کے درمیان صرف ہمیں دیا گیا ہے۔

____________________

(۱) الضنّ الضنّة: اس چیز کو کہتے ہیں جس کے بارے میں بخل کیا جا تا ہو اور اُسے کسی کو نہ دیتے ہوں ،زمزم کو مضنونہ کہتے ہیں اس لئے کہ اُس سے مومن افراد کے علا وہ کسی کو پلانے سے بخل کر تے ہیں اور منا فق اس سے سیر اب نہیں ہوتا ، مضنو نہ گرانبہا اور قیمتی شیٔ کو کہتے ہیں.(۲)خون اور سرگین ( گوبر) کے درمیان ایک مقام تھا جہاں وہ لوگ اپنے خدا کے لئے قربانی ذبح کرتے تھے اور اسی سے قریب چیونٹیوں کا آشیانہ بھی تھاصبح کے وقت جناب عبد المطلب خانہ خدا کی طرف گئے اسی وقت سرخ چونچ والا کوّا زمین پر بیٹھا اور جہاں بیٹھا تھا اُ سی جگہ چونچ ماری اس طرح سے جناب عبد المطلب چاہ زمزم کی جگہ سے آشنا ہوئے.


ان لوگوں نے کہا:

اُسے ہم سب میں تقسیم کرو ورنہ ہم تمھیں اُس وقت تک نہیں چھو ڑیں گے جب تک کہ تم سے ہم لوگ جنگ وجدال نہ کریں۔

جناب عبد المطلب نے کہا:اگر ایسا ہے تو ہمارے اور اپنے درمیان اپنی مرضی کے مطابق کوئی حَکَم انتخاب کرو تا کہ وہ ہمارے درمیان قضاوت کرے۔

انھوںنے کہا:بنی سعد ِ ھذیم کی کاہنہ( ۱ )

آپ نے کہا: بہتر ہے۔

یہ کاھنہ شام کی بلندیوں کی طرف سکونت پذیر تھی۔

پھر اُس کے انتخاب کے بعد جناب عبد المطلب عبد مناف کی اولاد میں سے اپنے چند اہل خاندان کے ساتھ اور قریش کے دیگر قبائل سے چند افراد کے ساتھ سوار ہوئے اور روانہ ہوگئے۔

راوی کہتا ہے: ان کاگذر بے آب و گیاہ اور شورہ زار زمینوں سے تھا.ابھی حجاز اور شام کے درمیان کاکچھ حصہ ہی طے کیا تھا کہ جو پانی جناب عبد المطلب اور ان کے ساتھی لئے ہوئے تھے تمام ہو گیا اور سخت پیا س کا غلبہ ہوا یہاں تک کہ موت کا یقین ہو گیا۔ان لوگوں نے قریش کے قبیلوں سے پانی طلب کیا تا کہ پیاس بجھائیں لیکن انھوں نے پا نی دینے سے انکار کر دیا اور کہا:ہم بیابان میں پھنسے ہوئے ہیں اور جو مصیبت تم پر پڑی ہے اسی مصیبت کا خطرہ ہم لوگ اپنی جان کے لئے بھی محسوس کر رہے ہیں۔

جب جناب عبد المطلب نے اپنے قریشی ساتھیوں کی خسّت و پست ذہنی دیکھی، تو اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان کے لئے خوفزدہ ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا:تم لوگ کیا بہتر سمجھتے ہو؟

انھوں نے جواب دیا:ہم لوگ آپ کی رائے کے تابع ہیں جوآپ کا حکم ہو گا ہم انجام دیں گے۔ جناب عبد المطلب نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ ہم میں ابھی ہر ایک قوی اور بحال ہے اپنے لئے ایک گڑھا کھودے اور ہم میں سے جب کوئی مر جائے تو دوسرے لوگ اسے گڑھے میں ڈال کراس کے اوپر مٹی

____________________

(۱) اُس کا ھنہ کا نام تاریخ طبری میں اسی طرح ہے ،لیکن باقی دیگر منابع ومآخذ میں اس کانام '' سعد بن ھذیم'' لکھا گیا ہے، یہ نام غلط اور تحریف شدہ ہے کیو نکہ ھذیم کا ھنہ کا باپ نہیں تھا بلکہ اس کے باپ کے بعد اس کی سر پر ستی اس کے ذمّہ تھی لہٰذا کا ھنہ ھذیم کے نام کے ساتھ پہچانی جاتی ہے.


ڈال دیں یہاں تک کہ صرف ایک آدمی بچے گا ایسی صورت میںایک آدمی کا ضایع ہو نا سب کے ضایع ہونے سے بہتر ہے۔

جناب عبد المطلب کے ساتھیوں نے کہا آپ کا فرمان اور دستور بہتر اور بجا ہے.پھر ان میں سے ہر ایک نے اپنے لئے ایک گڑھا کھو دا اور اس کے کنارے بیٹھ گیا،سبھی پیاس سے مر نے کاانتظار کرنے لگے. پھر کچھ وقفہ کے بعد جناب عبد المطلب نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کر کے کہا:خدا کی قسم ہم اپنے لئے جائز نہیں سمجھتے کہ عاجزی اور ناتوانی کے باعث اپنے ہا تھوں سے خود کو ہلاک کر ڈالیں۔

خدا سے بعید نہیں ہے کہ اس سرزمین میں کسی جگہ ہمارے لئے پانی کا انتظام کر دے.اٹھو اور حرکت کرو۔

ساتھیوں نے حکم کی تعمیل کی اور روانہ ہوگئے،یہاں تک کہ سبھی ، قبیلہ قریش کے افراد سے آگے ہوگئے اور قریشیوں نے ان کا نظارہ کرنا شروع کیا کہ دیکھیں کیا کرتے ہیں ۔

جناب عبد المطلب اپنے اونٹ کے قر یب گئے اور سوار ہوگئے جیسے ہی اپنی سواری کو حرکت دی اس اونٹ کے قدم کے نیچے خو شگوار پانی کا چشمہ جاری ہو گیا۔

جناب عبد المطلب نے تکبیر کہی اور ان کے ساتھیوں نے بھی تکبیر کہی پھر اتر کر خود اور ان کے ساتھیوں نے اُس پا نی سے اپنے آپ کوسیراب کیا اور اپنی مشکوں کو بھی پا نی سے بھر لیا ۔

جناب عبد المطلب نے اس کے بعد قریش کے افراد کو آواز دی اور کہا :پانی کے نزدیک آؤ کہ خدا وند عالم نے ہمیں سیراب کیا ہے۔

وہ لوگ آگئے اور پانی نوش کیا اور اپنے برتنوں کوبھی پانی سے بھر لیا اور اس وقت کہا: اے عبدالمطلب! خدا وند عالم نے تمہارے فا ئدہ کی خا طر ہمارے بر خلاف حکم کیا ہے ،خدا کی قسم ہم زمزم کے معاملہ میں تم سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے جس ذات نے تمھیں اس چٹیل میدان میں پا نی دیا ہے،اسی نے تمھیں زمزم بھی عنا یت کیا ہے.سرفراز اور کا میاب اس کی طرف لوٹ جاؤ۔

جناب عبد المطلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس ہوگئے اور اُس کاہن عورت کے پا س نہیں گئے اور اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔


ابن اسحق کہتا ہے: یہ ایک ایسی چیز ہے جو حضرت علی ابن ابی طالب (رضی ﷲ عنہ) کی گفتگو سے ہم تک زمزم کے بارے میں پہونچی ہے۔( ۱ )

یعقوبی نے تحریر فرمایا ہے:

جب حبشہ کا بادشاہ ابرھہ کعبہ کوڈھا نے کی غرض سے اپنے ہا تھی سواروں کے ساتھ مکّہ آیا،قریش پہاڑوں کی چوٹیوں پر فرار ہوگئے جناب عبد المطلب نے ان سے کہا: کاش ہم لوگ اکٹھا اور ایک قوت ہوتے اور اس فوج کو خا نہ خدا سے بھگادیتے۔

انھوں نے کہا : اس کے مقابل ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔

اس لئے جناب عبد المطلب حرم میں باقی رہے اور کہا:میں خدا کے گھر سے باہر نہیں جا ؤں گا اور خدا کے علاوہ کسی سے پناہ نہیں ما نگوں گا۔

ابرھہ کے سپا ہیوں نے جناب عبد المطلب کے اونٹوں کو پکڑ لیا.جناب عبد المطلب ابرھہ کے پاس گئے جب انھوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی،تو ان لوگوں نے ابرھہ سے کہا عرب کے سید وسردار،قریش کے بزرگ، لوگوں میں معزز انسان تمہارے پاس آئے ہوئے ہیں۔

آپ اُس کے پاس گئے،ابرھہ نے ان کا احترام واکرام کیا اور جمال و کمال اور ان میں پا ئی جا نے والی شرافت کی بناء پر انھوں نے اُس کے دل میں جگہ بنا لی،اس نے اپنے متر جم سے کہا:

جناب عبد المطلب سے کہو: تم جو چاہتے ہو درخواست کرو۔

جناب عبد المطلب نے کہا:اپنے ان اونٹوں کو تم سے مانگتا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے پکڑ لیا ہے۔

ابرھہ نے کہا:

تم کو دیکھنے کے بعد میں نے ،تمھیں ایک جلیل القدر،عظیم المرتبت انسان خیال کیا اور تم دیکھ رہے ہو کہ میں تمہاری عظمت وشرافت ، شان وشوکت کو در ہم بر ہم کر نے آیا ہوں اور تم مجھ سے میرے واپس جا نے کا مطالبہ نہیں کرتے کہ واپس چلا جائوں اور کعبہ کو اس کے حال پر چھوڑدوں، ایسے میں تم مجھ سے اپنے اونٹوں کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو؟!

جناب عبد المطلب نے جواب دیا:

میں ان اونٹوں کا ما لک ہوں اور اس گھر کا جس کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ منہدم کر دو گے اس

____________________

(۱) سیرۂ ابن ہشام، ج۱ ، ص ۱۵۴ ۔۱۵۵. طبع مبطع حجازی، قاھرہ، ۱۳۵۶ ھ.


کا بھی ایک مالک ہے کہ تم کو اس کام سے روک دے گا .ابرھہ نے جناب عبد المطلب کے اونٹوںکو واپس کردیا اور ان کی باتوں سے اس کے دل میں خوف پیدا ہو گیا۔

جب جناب عبد المطلب ابرھہ کے پاس سے واپس آئے اپنے فرزندوں اور ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور کعبہ کے دروازہ تک گئے اور اُس سے لپٹ کر بو لے:

لهم!ان تعف فا نهم عیالک ( ۱ )

یا ربّ انَّ العبد یمنعُ رحلهُ فامنع رحالک

لایغلبنّ صلیبهم و محا لهم ابداً محالک

''ابرھہ نے ہمیں نابود کر نے کا ارادہ کیا ہے.خدایا اگر تو نے انھیں معاف کر دیا تو وہ تیرے عیال ہیں....

خدایا! ہر بندہ اپنے گھر کا دفاع اور بچاؤ کر تا ہے،لہٰذا تو بھی اپنے گھر کا دفاع اور تحفظ کر. کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صلیب اور اُن کی طاقت از روی ظلم وبیداد تیری طاقت پر غا لب آجا ئے''۔

کہ خدا وند عالم نے ابا بیلوں کا لشکر اُس سے جنگ کر نے کے لئے بھیج دیا۔( ۲ )

بحار الانوار میں خلاصہ کے ساتھ اس طرح مذکور ہے:

جناب عبد المطلب نے اپنے بیٹے جناب عبد اللہ کو بھیجا تا کہ ابرھہ کے سپا ھیوں کی خبر لائے،پھر اس وقت خود خا نہ خدا کی طرف گئے اور سات بار اس کا طواف کیا، پھر صفا و مروہ کی جانب رخ کیا اور وہاں کی بھی سات بار سعی کی۔

جناب عبد اللہ ابو قبیس نامی پہا ڑ پر چڑھ گئے اور دیکھا کہ پرندوں( ابابیل) نے ابر ھہ کے لشکر کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے. لہٰذا واپس آئے اور اس کی خوشخبری اپنے باپ کو دی۔

جناب عبد المطلب بیٹے کی خبر سن کر باہر آئے اور کہہ رہے تھے:اے مکّہ والو!دشمن کے پڑاؤکی طرف غنائم حا صل کر نے جاؤ۔

____________________

(۱) ہم نے یعقوبی کی باتوں کا خلا صہ اس کی تاریخی کتاب کی ج۱، ص ۲۵۰۔ ۲۵۴ سے ذکر کیا ہے، یہ خبر دوسرے لفظوں میںسیرۂ ابن ہشام کی پہلی جلد کے ۵۴اور ۱۶۸ صفحہ اور طبقات ابن سعد، طبع یورپ، ج۱، ص ۲۸ ۔۵۶ پر بھی مذکو ر ہے.

(۲)مروج الذھب مسعودی، ج۲، ص ۱۰۵؛ سیرۂ ابن ہشام، ج۱، ص ۵۱.


لوگ دشمن کی پڑاؤ کی طرف روانہ ہوئے اور دیکھا کہ ابرھہ کے سپا ہی ٹوٹے پھوٹے تختوں کے مانند درہم برہم ہو کر ریزہ ریزہ ہو چکے ہیں.سارے پرندوں کی چونچ اور چنگل میںتین سنگر یزے تھے کہ ہر ایک سے اس لشکر کے ایک ایک سپا ہی کی حالت تباہ کر رہے تھے جب سب کو تباہ کر ڈالا تو واپس چلے گئے.ایسی چیز کسی نے نہ اس سے پہلے دیکھی تھی اور نہ بعد میں۔

جب سارے سپا ہی ہلاک ہوگئے،جناب عبد المطلب کعبہ کی طرف واپس آئے اور کعبہ کا پر دہ پکڑ کر کہا:

یا حابس الفیل بذی المغمس

حبسته کأ نَّه مکوّس

فی مجلس تزهق فیه الأ نفس

''اے وہ ذات جس نے ہا تھی کے لشکر کو ذی مغمس( ۱ ) نامی جگہ پر روک دیا.

اسے اس طرح روک دیا کہ گویا سر نگو ہو گیا تھا، وہ ایسے مخمصہ میں گرفتار ہوگیا جس میں جان نکل جا تی ہے''۔

پھر واپس آئے اور حبشہ کے سپاہیوں سے قریش کے فرار کر نے اور ان کی بے تابی کے بارے میں کہا:

طارت قریش اذرأت خمیساً

فظلت فرداً لا أریٰ أنیساً

و لا أحسّ منهم حسیساً

ا لّا اَخاً لی ما جداً نفیساً

مسوّداً فی اهله رئیسا( ۲ )

'' جب قریش کی ابرھہ کے لشکر پر نظر پڑی تو داہنے بائیں سے فرار ہوگئے اور میں تن تنہا بے ناصر و مددگار رہ گیا حتی کہ ان کی دھیمی آواز بھی میں نے نہیں سنی، سوائے ایک بھائی کے جو میرا تھا، وہ عظیم اور نیک انسان تھا.وہ اپنے اہل (اور قوم) کے درمیان سید و سردار،صاحب فضل و شرف اور عظیم المرتبت انسان ہے''۔

مسعودی کی مروج الذھب میں مذکور ہے:

جس وقت خدا وند سبحان نے ابرھہ اور اُس کے لشکر کو مکّہ میں داخل ہو نے سے روک دیا(اور انھیں نیست ونابود کر دیا)اس وقت جناب عبد المطلب نے اس طرح شعر ارشاد فر مایا:

____________________

(۱) ذی مغمس مکّہ سے نزدیک طا ئف کے راستہ پر ایک مقام ہے،معجم البلدان.(۲)بحار الانوار، ج۱۵، ص ۱۳۲، مجالس شیخ مفید کی نقل اور شیخ طوسی کے فرزند کی امالی کی نقل کے مطابق ص ۴۹ اور .۵.


انَّ للبیت لرباً ما نعاً

من یرده بأَثامٍ یصطلم

(گھر کا روکنے والاایک مالک ہے کہ جو بھی اس کی طرف برا قصد کر ے گا تو وہ اسے نابود کر دے گا)

رامه تُبّع فی من جند ت

حمیر و الحی من آل قدم .( ۱ )

( تبع انھیں میں سے ایک تھا کہ جس نے لشکر کشی کی،اسی طرح حمیر اور اس کے قبیلہ والے )

فانثنیٰ عنه و فی او داجه

جارح امسک منه بالکظم

(کہ لوٹنے کے بعد اس کی گردن میںکچھ زخم تھے جو سانس لینے سے مانع تھے)۔

قلت و الأشرم تردی خیله

اِنّ ذا الاشرم غرّ بالحرم

(اور اس کان کٹے (ابرھہ) سے جو اپنے لشکر کو ہلاکت میں ڈال رہا تھا میں نے کہا:بیشک یہ گوش بریدہ(کان کٹا) حرم کی بہ نسبت نہایت مغرور ہے)۔

نحن آل الله فی ما قد مضی

لم یزل ذاک علی عهد اِبرهم

( ہم گزشتہ افراد کی آل اللہ ہیں اور حضرت ابراہیم کے زمانے سے ہمیشہ ایسا رہا ہے)۔

نحنُ دمَّرنا ثموداً عَنوة

ثم عادا قبلها ذات ا لارم

( ہم نے ثمود کی سختی کے ساتھ گو شمالی کی اور انھیں ہلاک کر ڈالا اور اس سے پہلے شہر ارم والی قوم عاد کو )

___________________

(۱)ایک دوسرے نسخہ میں٫٫ من آل قرم،، ذکر ہوا ہے.


نعبد الله وفینا سُنّة

صلَة القربیٰ وایفاء الذمم

( ہم خدا کی عبادت کر تے ہیں اور ہمارے درمیان صلہ رحم اور عہد کا وفا کرنا سنت رہا ہے)۔

لم تزل للهِ فینا حجّة

یدفع الله بها عنّا النّقم

( ہمیشہ ہمارے درمیان خدا کی ایک حجت رہی ہے کہ اس کے ذریعہ بلاؤں کو ہم سے دور کر تا ہے)۔

اشعار کی تشریح

۱۔آثام:

گناہ اور اسی طرح گناہوں کی سزا کو بھی کہتے ہیں۔

۲۔یصطلم:

اصطلمہ وصلمہ الدّھرا والموتُ اوالعدُوّ: انھیں بے چارہ کردے،انھیں نابود کرے۔

۳۔تُبّع:

یمن کے بادشاہوں کو کہا جا تا ہے، جس طرح روم کے بادشاہوںکو قیصر اور ایران کے بادشاہوں کو کسریٰ کہا جا تا ہے اور وہ تُبّع حَمِیْرَ کہ جس نے خانۂ کعبہ کے ساتھ برا قصد کیا تھا انھیں میں سے ایک تھا۔

۴۔جارح:

زخم۔

۵۔کظم:

سانس کی نالی۔

۶۔اشرم:

کان یا ناک کٹا ہوا(یعنی وہ شخص جس کا کان یا ناک شگا فتہ ہو) اور حضرت عبد المطلب کے کلام سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ابرھہ ایسا ہی تھا۔


۷۔تردیٰ:

ہلاکت میں ڈال دے۔

۸۔غُرَّ :

غرَّ غرّا وغروراً: اسے دھو کہ دیا، اسے مجبور کیا کہ وہ ایک باطل چیز کی خواہش کرے،ایسا شخص مغرور اور فریب خوردہ ہے۔

۹۔ااِبْرَھَم:

ابراہیم ہے کہ ضرورت شعری کی بناء پر مخفف ہو گیا ہے۔

۱۰۔عنوة:

اخذ الشیٔ عنوةً: یعنی کوئی چیز زبر دستی اور مجبور کر کے لینا۔

۱۱۔ایفاء الذمم:

عہد کا وفا کر نا یعنی ہم ذریت حضرت ابراہیم کے د رمیان صلۂ رحم اور وفاء عہد کا رواج عام رہا ہے۔

یا ہمارے درمیان آل اللہ یعنی انبیاء جیسے ہود،صالح اور ابراہیم تھے اور یہ کہنا بجا ہے کہ جناب عبد المطلب نے لفظ'' فینا'' سے دونوں گروہ کو نظر میں رکھا ہے ۔

کیونکہ حضرت ابراہیم کی ذریت میں آل ﷲ اور اس کی حجتیں رہی ہیں، جیسا کہ حضرت ابراہیم سے پہلے انبیاء تھے جیسے ہود ا ور صالح ۔

جناب عبد المطلب ان اشعار میںیہ فرماتے ہیں کہ اس گھر کا ایک مالک ہے جو ہر اس شخص کو روکے گا جو گناہ کے ارادے سے اس کی طرف قدم بڑھائے گا اور اسے مسمار کر نا چاہے گا .اسی طرح ان اشعار میں تبع حمیری کا تذکرہ کر تے ہیں کہ جس نے خا نہ خدا پر دست دارزی کی، پھر بات کو ابرھہ تک لے جا تے ہوئے فرماتے ہیں:

جب اُس کان کٹے یا ناک کٹے شخص نے خا نہ خدا پر حملہ کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: یہ کان کٹا حرم کے ساتھ تجاوز کر نے میں بہت زیادہ مغرور اور فریب خوردہ ہے۔

جناب عبد المطلب اس مطلب کے ذکر کے بعد خبر دیتے ہیں کہ خود ان کا اور ان کے آباء و اجداد کا سلسلہ حضرت اسمٰعیل کی ذریت سے ہے اور حضرت ابراہیم کے زمانے ہی سے وہ آل اللہ ہیں ،جس طرح ہود اور صالح جیسے لوگ آل اللہ تھے؛ یہ ہوداور صالح ایسے آل اللہ ہیں جنھوں نے قوم عاد(ارم شہر والوں) اور اس کے بعد قوم ثمود کو اکھاڑ پھینکا ہے۔


خدا وند عالم نے ابرھہ کی داستان اپنی کتاب قرآن کریم میں اس طرح بیان کی ہے:

بِسْم اللّٰه الرَحمنِ الرَحِیمْ

( ااَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعلَ رَبُّکَ بأِصْحَابِ الفِیلِ٭ ااَلَمْ یَجْعَل کَیْدَهُم فِیْ تَضْلِیل٭ وَاَرْسَلَ عَلَیهِمْ طَیراً اَبَابِیل٭ تَر مِیْهِم بِحِجارةٍ مِنْ سِجِّیلٍ٭ فَجَعَلَهُم کَعَصفٍ مَأ کُولٍ )

بخشنے والے اور مہربان خدا کے نام

(اے ہمارے رسول!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے ربّ نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا کیا؟!

کیا ان کے مکر وحیلہ کو بیکار نہیں کیا؟! اور ان کے ہلاک کرنے کے لئے ابابیل پرندوں کو بھیجا. انھیں کھرنجوں کی کنکریاں مار رہے تھے. پھر انھیں چبائے ہوئے بھوسے کے مانند بنا دیا۔


اسی طرح خدا وند عالم نے جناب عبد المطلب کی تعبیر میں قوم ثمود اوراُن کے صالح آل اللہ سے مقابلے کے متعلق اس طرح خبر دی ہے:

( وَاِلیٰ ثَمُودَ اَخَاهُمْ صَالِحاًقَالَ یَاقَومِ اعبُدُوا اللّٰهَ مَالَکُمْ من اِلهٍ غَیرُه...٭قَالُوا یَاْ صَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرجوّاً قَبلَ هَٰذا اَتَنهاٰنَا أن نَعبُدَ مَا یَعبُد ابَأؤنَا وَاِنَّناَ لَفِی شَکٍ مِمَّاتَدْ عُونَااِلیهِ مُرِیبٍ٭قَالَ یَا قَومِ اَرَایتُم اِنْ کُنْتُ عَلیٰ بیِّنةٍ مِنْ ربِّیِ وَآتَانِی مِنْهُ رَحْمَةً...٭فَلَمَّاجَاء اَمْرُنَا نَجَّینَا صَالِحاً وَالَّذِینَ آمَنوا معهُ...٭وَ أَخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیحَةُ فَأَصْبَحُوا فِی دِیٰارِهِمْ جَاثِمینَ٭ ...اَلاَّ بُعداً لِثمُود ) ( ۱ )

ہم نے صالح پیغمبر کو قوم ثمود کی طرف بھیجا.صالح نے کہا:اے میری قوم!اُس خدا کی عبادت کرو جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے...(قوم نے) کہا:اے صالح! تم اس سے پہلے ہمارے درمیان امید کا مرکز تھے.کیا تم ہمیں اس کی پرستش سے روکتے ہو جس کی ہمارے آباء واجداد نے عبادت کی ہے؟ہم اس چیز سے جس کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو سخت بد گمان ہیں.صالح نے کہا:اے میری قوم!اگر ہم اپنے دعویٰ پر خدا کی طرف سے ایک دلیل اور معجزہ رکھتے ہیں اوراُس سے مجھے ایک رحمت ملی ہو تو اس وقت تمہاری کیا رائے ہو گی؟ جب ہمارے قہر کا حکم پہنچا تو ،صالح اور وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ان کو ہم نے نجات دی....اور ظالموں کو آسمانی صیحہ ( چنگھاڑ ) نے اپنی گرفت میں لے لیا اور صبح کے وقت اپنے دیار میں(ہمیشہ کے لئے) بے حس وحر کت پڑے رہ گئے.... آگاہ رہو کہ ثمود رحمت خداوندی سے دور ہیں۔

اسی طرح ان کے اخبار اور حکا یات قرآن کریم میں دوسری جگہ ۲۷ مقام پر ذکر ہوئی ہیں(۲ )

پھر اس کے بعد جناب عبد المطلب اپنی گفتگو میں خبر دیتے ہیں:

ثمَّ عاداً قبلھا ذات الارم۔ قوم عاد کہ انھیں خدا وند عالم نے ہلاک کر ڈالا جو کہ قوم ثمود سے پہلے زندگی گذار رہے تھے آپ کی یہ گفتگو سورۂ اعراف کی ۶۵ ویں تا ۷۴ ویں اور سو رہ ہود کی ۵۰ویں تا۶۸ ویں آیات سے یا دیگر سوروں میں جو بیان ہوا ہے اس سے مطابقت رکھتی ہے۔( ۳ )

____________________

(۱) سورۂ ہود، آیت، ۶۱ تا ۶۳، ۶۶ اور ۶۸.(۲) لفظ ثمو د کے لئے الفاظ قرآن کر یم سے متعلق المعجم المفہرس ملاحظہ ہو.

(۳)لفظ عاد کے لئے الفاظ قرآن کریم سے متعلق المعجم المفہرس ملا حظہ ہو.


اسی طرح انھوں نے شہر ارم کو قوم عاد سے متعارف کر ایا ہے ، یہ بات خدا وند عالم کی سورہ ٔفجر کی چھٹی تا نویں آیات سے مطابقت رکھتی ہے:

( اَلَمَ تَرَکَیفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ٭اِرَمَ ذَاتِ الْعِمادِ٭ الَّتِی لَمْ یُخلَق مِثْلُهَا فِیْ البِلادِ٭ وَ ثَمُودَ الَّذِینَ جَابوُاالصَّخْرَ بِا لْوٰادِ )

(اے ہمارے رسول!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے ربّ نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا؟!. شہر ارم میں جو کہ بلند وبالا اور عالی شان محلوں والا تھا ؟ !

ایسا شہر کہ جس کا مثل دوسرے شہروں میںنہیں پیدا ہوا. اور قوم ثمود کے ساتھ جو وادی میں پتھروں کو کاٹ کر اپنے لئے پتھروں سے قصر تعمیر کرتے تھے؟!

اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب عبد المطلب کا شعر قرآن کر یم میں مذکور پیغمبروں اور ہلاک شدہ امتوں کی خبروں سے مطابقت رکھتا ہے۔

وہ جہاں پر اپنے اجداد کی توصیف کر تے ہیں اور انھیں اللہ کے نبیوں کی ردیف میں ، پسندیدہ اخلاق ، جیسے صلہ رحم اور عہد کے وفا کر نے والی صفت سے متصف ہو نے کی بناء پر، قرار دیتے ہیں، وہیں ان کی بات کی سچائی ان کے اجداد کی سیرت کے بارے میں ثابت ہوجاتی ہے، جو کہ گزشتہ فصلوں میں مفصل طور پر بیان کی گئی ہے۔

اور آپ کی یہ بات کہ: وہ لوگ حضرت ابراہیم کے زمانے سے ہی آج تک آل اللہ اور خدا پرست ہیں اور خدا وند عالم ہمیشہ ان کے ذریعہ(یعنی جن لوگوں کو وہ آل اللہ اور حجت خدا کے عنوان سے متعارف کر تے ہیں) برائی اور ناگوار چیزوں کو دور کر تا ہے، یہ ایک ایسا مطلب ہے جو صحیح اور درست ہے .کیوکہ ان کے خدا پرست ہو نے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہیں کر تے اور ہم ان کی بات کی صداقت کو اس بات سے درک کر تے ہیں کہ پیغمبر کے آباء واجداد میں حضرت اسمٰعیل تک کسی کو ایسا نہیں پایا کہ بُت کو سجدہ کیا ہویا بُت کے لئے قربانی کی ہو،یا بت کے نام پر حج کا تلبیہ کہاہو یا بت کی قسم کھا ئی ہو یا بت کی کسی بیت یا کسی شعر میں مدح وستائش کی ہو،بلکہ ان تمام موارد میں بر عکس دیکھا ہے کہ انھوں نے خدا کا سجدہ کیا ہے اور خدا سے تقرب حاصل کر نے کے لئے قربانی کی ہے اور خداوند عالم کی قسم کھائی اور اُ س کی تعریف وتوصیف کی ہے.اس لحاظ سے حضرت عبد المطلب کی بات کا صادق ہو نا روشن وآشکار ہے۔


رہی ان کی یہ بات کہ ان کے درمیان ہمیشہ خدا کی کوئی حجت رہی ہے، تو اس کے متعلق یا یہ کہیں کہ پروردگار عالم نے اپنے گھر کے ساکنوں کو مکّہ میں کہ جسے ام القری کہتے ہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے یعنی اس ام القریٰ اور اس کے اطراف میں رہنے والے اور وہ لوگ جو حج ادا کر نے کے لئے اس کے محترم گھر کی طرف آتے ہیں پانچ سو سال سے زیادہ مدت تک انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور کسی ایسے شخص کو جس کے پاس شریعت اسلام وہ لوگ حاصل کر سکیں ان کے درمیان قرار نہیں دیا ہے کہ اس بات کا غلط ہو نا واضح اور آشکا ر ہے؛اور ہم نے اس کتاب کی ربوبیت کی بحث میں تشریح کی ہے کہ پروردگار عالم اس طرح کی چیزوں سے منزہ اور مبرا ہے۔

یا یہ کہیں کہ:

پروردگار عالم نے مسلسل نسلوں کو پانچ سو سال سے زیادہ ام القریٰ اور اس کے اطراف میں ان کے حال پر نہیں چھوڑا ہے اور اُن کے درمیان ایسے افراد کو قرار دیا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی دینی احکام سیکھنا چاہے تو وہ سکھانے کی صلاحیت رکھتا ہو؛ اس آیۂ شریفہ کے مصداق کے مطابق کہ خدا فرماتا ہے:

( وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوافِینَالَنَهْدِ یَنَّهُمْ سُبُلَنَا )

''اور وہ لوگ جو کہ ہماری راہ میں سعی و تلاش کرتے ہیں،ہم خود ہی انھیں اپنی راہ کی راہنمائی کرتے ہیں ''۔

اس بناء پر خدا وند عالم نے انھیں افراد کے درمیان ایسے لوگوں کو قرار دیا ہے کہ جو اُسی نسل کے سارے افراد پر حجت تمام کرتے ہیں. ایسی صورت میں دین خدا کی طرف ہدایت کر نے والا جناب عبد المطلب اور آپ کے آباء و اجداد کے علاوہ حضرت ابراہیم تک کون ہوسکتا ہے؟ پروردگار عالم کی قسم کہ خدا وند متعال نے ان کے درمیان ذریت حضرت ابراہیم سے حجتیں قرار دیں اور ان پر حجت تمام کی ہے اور ان کے ذریعہ بُرائی اور عذاب کو ان سے دور کیا ہے.اور جناب عبدالمطلب نے سچ کہا ہے کہ:

نحنُ آل الله فی ما قد مضیٰ

لم یزل ذاک علی عهد ابرهم

لم تزل الله فینا حجة

ید فع الله بها عنّا النقم


جناب عبد المطلب کے شاعرانہ اسلوب میں بالخصوص مذکورہ با لا ابیات میں کہ آپ نے اپنے شکست خوردہ دشمن (ابرھہ اور اس کے سپا ہی) پر فخر ومباہات کے موقع پر کہا ہے اور جن فضائل و مناقب کو شمار کیا ہے گزشتہ اور موجودہ عرب کی شاعرانہ روش سے واضح اور آشکار فرق پا یا جا تا ہے ۔

کیونکہ آپ نے اپنے باپ ہاشم کے وجود ذی جود پر افتخار نہیں کیا ایسا سخی اور جواد باپ جس نے خشک سالی کے زما نے میں مکّہ والوں کو کھانا کھلانے کا بندو بست کیا اور اونٹوں پر تجا رتی اجناس بار کر نے کے بجائے مکّہ والوں کے لئے شام سے غذا لائے اور. پھر انھیں اونٹوں کو جن پر لوگوں کے لئے غذا لا د کر لائے تھے ،نحر کیا اور گرسنہ ( بھوکے) لوگوں کو سیر کیا. یہ ایسا کار نامہ انجام دیا ہے کہ اُن سے پہلے نہ کسی عرب نے ایسا کیا اور نہ ہی حاتم طائی نے اور نہ ہی ان سے پہلے یا بعد میں کسی اورنے انجام دیا اور نہ ہم نے گزشتہ امتوں کی داستان میں کو ئی ایسا کا رنامہ ملاحظہ کیا ہے. اور اپنے باپ کے اقدام کو جو کہ اعتفاد کی رسم کو ختم کرنے کے لئے تھا کہ کو ئی گھرا نہ مجبوری اور گرسنگی(بھوک) کے زیر اثر موت سے دوچار نہ ہو اپنے لئے فخر شمار نہیں کر تے اور اس وقت عرب کو تجارت کے آداب سکھا نے اور اجناس کو آباد سرزمینوں میں لے جانے کو اپنی فوقیت و بر تری کا معیار نہیں سمجھتے۔

جناب عبد المطلب نے ان تمام فضائل میں سے کسی ایک فضیلت کو اپنے لئے افتخار کا باعث نہیں سمجھا،جب کہ تمام لوگوں کے درمیان مذکورہ بالا فضائل صرف اور صرف ان کے باپ ھا شم سے مخصوص تھے.اس طرح کے امور میں جو کہ خدمت خلق کا پتہ دیتے ہیں خود پر فخر ومباہات نہ کر نا اللہ کے نبیوں اور اس کی حجتوں کے واضح اورنمایا صفا ت میں سے ہے.یعنی یہ لوگ لوگوں کے ساتھ جود و بخشش کر کے اور معاشی امور میں ان کی خد مت کرکے لوگوں پر احسان نہیں جتاتے بلکہ صرف لوگوں کو اس منصب سے جو خدا نے اُن سے مخصوص کیا ہے اور لوگوں کو ہدایت کا وسیلہ قرار دیا ہے آگاہ کرتے ہیں.یہ کام جناب عبد المطلب نے اپنے اشعار میں انجام دیا ہے جس میں فرماتے ہیںکہ ''ہم قدیم زمانے سے ہی آل اللہ تھے...''۔


جناب عبد المطلب اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت

انساب الاشراف میں ختمی مرتبت حضرت محمد صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولا دت سے متعلق اختصار کے ساتھ یوں ذکر کیا گیا ہے:

جب آمنہ کے بطنِ مبارک میں حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور استقرا ر پایا تو خواب میں کوئی ان کے دیدار کو آیا اور اُس نے کہا:

اے آمنہ! تم اس امت کے سید وسردار کی حامل ہو، جب تمہارا بچہ پیدا ہو جا ئے تو کہو:(اُعیذُک بالواحِد مِن شرِّ کُلِّ حاسدِ)۔

یعنی ''تمھیں ہر حاسد کے شر سے خدا وند واحد کی پناہ میں دیتی ہوں'' اور اس کا نام احمد رکھو؛اور ایک روایت کے مطابق محمد رکھو. جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت ہو گئی تو آمنہ نے جناب عبد المطلب کو پیغام بھیجا کہ آپ کے لئے ایک بچہ پیدا ہوا ہے.جناب عبد المطلب شاد و خرم اٹھے اور گھر آئے (اس حال میں کہ ان کی اولا د اُن کے ہمراہ تھی) اور انہوں نے اپنی نگاہیں نو مولود فرزند کی طرف جمائیں، آمنہ نے اپنے خواب کو اُن سے بیان کیا اور یہ کہ اُن کے حمل کی مدت سہل اور آسان رہی ہے اور ولادت آسانی سے ہو گئی ہے، جناب عبد المطلب نے بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اُسے اپنے سینے سے لگا کر کعبہ میں داخل ہوگئے اور یہ اشعار پڑھے:

اَلْحَمدُ لِلّٰه الَّذِیْ اَعطَانِی

هَٰذا الْغُلاْمَ الطَیِّبَ ا لَاردانِ

اُعیذه با لبیتِ ذی الارکان

من کل ذی بغی و ذی شنآنِ

و حاسدٍ مضطرب العنان

تمام تعر یف اس خدا کی ہے جس نے ہمیں یہ پاک و پاکیزہ اور مبارک و نورانی بچہ عنایت کیا ہے. میں اسے خداوند عالم کے گھر کی پناہ میںدیتا ہوں تاکہ ظالموں،بد خواہوں اور بے لگام حاسدوں کے شر سے محفوظ رہے۔


تاریخ ابن عساکر اور ابن کثیر میں کچھ ابیات کا اضافہ کیا ہے کہ جو ان کے آخر میں ذکر ہوئے ہیں!

مندرجہ ذیل اشعار جو آخر میں اضافہ کے ساتھ مذکور ہیں :

انت الذی سُمِّیت فی الفرقان

فی کتب ثابتة المبان

احمد مکتوب علی اللسان( ۱ )

''تو وہی ہے جس کا نام فرقان اور محکم غیر تحریف شدہ کتابوں میں اور زبانوں پر'' احمد'' ہے ۔

ان اشعار میں جناب عبد المطلب خبر دیتے ہیں کہ آسمانی کتابوں میں ان کے پو تے کا نام احمد ہے۔

طبقات ابن سعد میں اختصار کے ساتھ اس طرح مذکور ہے:

____________________

(۱) انساب الاشراف، ج۱، ص ۸۰۔۸۱ کلمات میں اختلاف کے ساتھ؛طبقات ابن سعد، ج۱، ص ۱۰۳؛ تاریخ ابن عساکر،ج۱ ص ۶۹؛ ابن کثیر، ج۲، ص ۲۶۴۔ ۲۶۵؛ اسی طرح دلا ئل بیھقی، ج۱، ص۵۱ بھی ملاحظہ کیجئے.


حلیمہ:حضرت پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلا نے والی دا یہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان کے بارے میں خوفزدہ ہوئیں اسی وجہ سے کہ انھیں پانچ سال کے سن میں مکّہ واپس لے آئیں تا کہ ان کی ماں کے حوالے کر دیں،لیکن لوگوں کی بھیڑ کے درمیان انھیں گُم کر گئیں اور جتنا بھی تلا ش کیا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور آپ نہ ملے۔ لہٰذا حضرت عبد المطلب کی خدمت میں دوڑی ہوئی آئیں اور واقعہ سے انھیں آگاہ کیا.جناب عبد المطلب کی جستجو بھی فرزند کے حصول میں نتیجہ خیز نہ ہوئی نا چا ر وہ کعبہ کی طرف رخ کر کے کہنے لگے۔

لاهُمّ أَدِّ راکبی محمّدا ----أدِّ هْ الیَّ وَاصطنع عندی یدا

انت الذی جعلتَهُ لی عضدا -----لا یبعد الدَّهرُ به فیبعدا

انت الَّذی سمَّیتَهُ مُحمّداً( ۱ )

(خدا یا! ہمارے شہسوار محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو واپس کر دے ،اُسے لو ٹا دے اور اسے میرا ناصر و مدد گار قراردے.تو نے ہی اُس کو میرا بازو قرار دیا ہے، زمانہ کبھی اس کو مجھ سے دور نہ کرے، تو نے ہی اس کا نام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکھا ہے)۔

یہاں بھی جناب عبد المطلب تصریح کر تے ہیں کہ یہ خدا ہے جس نے اُن کے پو تے کا نام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکھا ہے۔

مروج الذھب نامی کتاب میں مذکور ہے:

جناب عبد المطلب اپنے فرزندوں کو صلۂ رحم اور کھانا کھلا نے کی وصیت اور انھیں تشو یق کرتے تھے اورڈرایا کرتے تھے تا کہ ان لوگوں کی طرح جو معاد،بعثت اور حشر و نشر کے معتقد ہیں، عمل کریں۔

انھوں نے سقایت (سقائی) اور رفادت کی ذمہّ داری اپنے فرزند''عبد مناف'' یعنی''جناب ابوطالب'' کودی اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعلق وصیت بھی انھیں سے کی( ۲ )

سیرۂ حلبیہ و نبویہ نامی کتابوں میں مذکور ہے:جاہلیت کے زمانے میں جناب عبد المطلب اُن لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اپنے اوپر شراب حرام کر دی تھی وہ مستجاب الداعوت انسان تھے (یعنی ان کی دعائیں بارگاہ خدا وندی میں مقبول ہوتی تھیں) انھیں ان کی جود وبخشش کی وجہ سے '' فیاض'' کہتے تھے اور چونکہ پر ندوں کے لئے پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھا نے کا انتظام کرتے تھے انھیں لوگوں نے ''مطعم طیر السمائ'' (آسمان کے پرندوں کوغذا دینے والے کا) لقب دے رکھا تھا۔

____________________

(۱)طبقات ابن سعد، طبع یورپ، ج۱، ص ۷۰۔ ۷۱ ، خبر میں اور لفظ کے اختلاف کے ساتھ انساب الاشراف۔ ج۱، ص ۸۲؛ اسی طرح سبل الھدی والارشاد ،ج۱، ص۳۹۰ بھی ملاحظہ ہو؛(۲) مروج الذھب، ج۲، ص ۱۰۸۔ ۱۰۹


روای کہتا ہے! قریش میں صابر اور حکیم شمار ہوتے تھے۔

پھر سبط جو زی کی نقل کے مطابق اختصار سے ذکر کیا ہے:جناب عبد المطلب اپنے بیٹوں کو ظلم و ستم اور طغیانی و سر کشی کے ترک کر نے کاحکم دیتے تھے اورانھیں مکارم اخلاق کی رعایت کی تشو یق اور تحریک کر تے اور انھیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور نازیبا حرکتوں اور ناپسندیدہ افعال کے انجام دینے سے روکتے تھے وہ کہتے تھے: کو ئی ظالم اور ستمگر دنیا سے نہیں جا ئے گا مگر یہ کہ اس کے ظلم کا انتقام لوگ اُس سے لے لیں گے اور وہ اُس کی سزا بھگتے گا۔

قضاء الہٰی سے ایک ظالم انسان جو کہ شام کا رہنے والا تھا بغیر اس کے کہ وہ دنیا میں اپنے سیاہ کارناموں اور بُرے افعال کی سزا بھگتے انتقال کر گیا. اس کی داستان جناب عبد المطلب سے نقل کی گئی۔

انھوں نے تھوڑی دیر غور وفکر کیا اور آخر میں کہا: خدا کی قسم اس دنیا کے بعد ایک دو سری دنیا ہے جس میں نیک لوگوں کو ان کے نیک عمل کی جزا اور بد کا روں کو اُن کے بُرے عمل کی سزا دی جائے گی۔

یہ بات اس معنی میں ہے کہ ستمگر و ظالم انسان کا دنیا میں نتیجہ یہ ہے .اور اگر مر گیا اور اُسے کوئی سزا نہ ملی تو پھر اس کی سزاآخرت کے لئے آمادہ اور مہیا ہے۔

ان کی بہت ساری سنتیں ایسی ہیں جن میں اکثر و بیشتر کی تائید قرآن کریم نے کی ہے جیسے نذر کا پورا کرنا،محارم سے نکاح کی ممانعت،چور کا ہاتھ کاٹنا،لڑکیوں کو زندہ در گور کر نے سے روکنا،زنا اور شراب کو حرام کر نا اور یہ کہ برہینہ خا نہ خدا کا طواف نہیں کر نا چاہئے۔( ۱)

سیرۂ بنویہ نامی کتاب میں مذکور ہے کہ :جناب ہاشم کے فرزند جناب عبد المطلب، قریش کے حکیموں اور بہت زیادہ صبر کر نے والوں اور مستجاب الدعوة انسان میں شمار ہوتے تھے.اُنہوں نے اپنے اوپر شراب حرام کر رکھی تھی۔ وہ سب سے پہلے انسان ہیں جو اکثر شبوں میں کوہ حرا میں عبادت(تحنث) کر تے تھے.وہ جب رمضان کا مہینہ آتا توفقراء کو کھانا کھلاتے اور پہاڑوں کی بلندی پر جا کر اس کے ایک گوشہ میں خلوت اختیار کرتے اس غرض سے کہ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے ذاتِ خدا وندی کی عظمت اور بزرگی کے بارے میں غور و خوض کریں۔( ۲ )

____________________

(۱)سیرۂ حلبیہ، ج۱ ص ۴؛ سیرۂ نبویۂ ، ج۱ ،ص ۲۱.(۲) سیرۂ نبویہ ، ج۱ ، ص۲۰ اسی مضمون سے ملتی جلتی عبارت انساب الاشراف کی پہلی جلد کے صفحہ ۸۴ پر مذکو ر ہے.تاریخ یعقوبی اور انساب الا اشراف بلا ذری میں اختصار کے ساتھ اس طرح ذکر ہوا ہے ( اور ہم نے اس مطلب کو تاریخ یعقوبی سے لیا ہے)۔


قریش پر مصیبت کے سا لہا سال قحط اور گرانی کے ساتھ گذرگئے یہاں تک کہ کھیتیاں برباد ہوگئیں اور دودھ پستا نوں میں خشک ہوگئے قریشیوں نے عاجزی اور درماندگی کے عالم میں جناب عبد المطلب سے پناہ مانگی اور کہا:خدا وند عالم نے تمہارے وجود کی برکت سے بارہا ہم پر اپنی رحمت کی بارش کی ہے اس وقت بھی خدا سے درخواست کرو تاکہ وہ ہمیں سیراب کرے۔

جناب عبد المطلب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ اُن اےّام میں جب کہ وہ اپنے جد کی آغوش میں تھے (اور اپنے جد کے سہارے راستہ طے کرتے تھے) باہر نکلے اور اس طرح دعا کی۔

''أللّهم سادَّ الخلَّة ِ،وَکَاشِفَ الکُربةِ،اَنت عَالم غَیر مُعَلَّم، مَسؤول غیرُ مُبَخَّل وَ هؤلائِ عبادُک وَ اماؤک بِعذراتِ حرمک یَشکُون اِلیکَ سَنیهِم الَّتی أَقحلتِ الضَرع وَ أَ ذهبتِ الزَّرعَ،فاسمعنَّ الّٰهُمّ وَ أَمطرنَّ غَیثاً مَریعاً مغدقاً )

خدایا !اے ضرو رتوں کو پورا کر نے والے اور کرب و بیچینی کو دور کر نے والے تو بغیر تعلیم کے عالم ہے اور بخل نہ کر نے والا مسئول ہے یہ لوگ تیرے بندے اور کنیزیں ہیں جو تیرے حرم کے ارد گرد رہتے ہیں۔

تجھ سے اس قحط کی شکا یت کرتے ہیں جس سے پستا نوں میں دودھ خشک ہو گیا ہے اور کھتیاں تباہ و برباد ہوگئیں ہیں۔

لہٰذا خدا یا! سُن اور ان پر زور دار موسلا دھار بارش نازل فرما۔

قریش ابھی وہاں سے حر کت بھی نہیں کر پا ئے تھے کہ آسمان سے ایسی موسلا دھا ر بارش ہوئی کہ ہر طرف جل تھل ہو گیا۔

ایک قریش نے ایسے مو قع پر اس طرح شعر کہا:

بشیبة الحمد اسقیٰ اللهُ بلدتنا وقد فقدنا الکریٰ واجلّوذ المطرُ

''خدا وند عالم نے شیبة الحمد(جناب عبد المطلب) کی بر کت سے ہماری سر زمینوں کو سیراب کیا جب کہ ہم عیش وعشرت کھو چکے تھے اور بارش کا دور دور تک سراغ نہیں تھا''۔

منّاً من اللهِ بالمیمونِ طائره وخیر من بشّرت یوماً به مُضرُ

''خداوند عالم نے مبارک فال انسان کے وجود سے ،ہم پر احسان کیا ہے اور وہ سب سے اچھا انسان ہے کہ ایک دن مضر قبیلہ والے اُس سے شاد و خرم ہوئے ہیں ''۔


مُبارک الامرِ یُستقیٰ الغمامُ به ما فی الأنام له عدلُ و لاخطرُ ( ۱ )

'' وہ مبارک مرد (جناب عبد المطلب) جس کی وجہ سے بادل نے برسنا شروع کیا؛ لوگوں کے درمیان وہ بے نظیر و بے مثال ہے ''۔

بحار الانوار میں مذکور ہے:

لوگ رسول خدا کے جد جناب عبد المطلب کے لئے کعبہ کے پاس فرش بچھا تے تھے تا کہ اس پر وہ تشریف فر ما ہوں اور اس پر ان کے احترام میں ا ن کے سوا ان کی کوئی اولاد بھی نہیں بیٹھتی تھی،لیکن جب پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم آتے تھے تو اُس پر بیٹھتے تھے، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا حضرات جا کر انھیں اس کام سے روکنے کی کوشش کرتے لیکن جناب عبد المطلب اُن سے مخاطب ہو کر کہتے!

میرے بیٹے کو چھوڑ دو اسے نہ روکو۔

پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پشت پر ہا تھ رکھ کر کہتے:میرے اس بیٹے کی خاص شان اور منزلت ہے۔( ۲ )

تاریخ یعقوبی نامی کتاب میں مذکو ر ہے کہ :

جناب عبد المطلب نے کعبہ کی حکومت اور ذمّہ داری اپنے بیٹے زبیر کے حوالے کی اور رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سرپرستی اور زمزم کی سقائی جناب ابو طالب کے سپر د کی اور کہا:میں نے تمہارے اختیار میں ایسا عظیم شرف اور بے مثال افتخار قرر دیا ہے جس کے سامنے عرب کے بزرگوں کے سر خم ہو جائیں گے۔

پھر اس وقت جناب ابو طالب سے کہا:

أُوصیک یا عبد منافٍ بعدی

بمُفردٍ بعد أبیه فردِ

''اے عبد مناف! تم کو اپنے بعد ایک یتیم کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ جو اپنے باپ کے بعد تنہا رہ گیا ہے''۔

فارقه و هُو ضجیع المهد

فَکُنت کا لأُ مّ له فی الوجد

____________________

(۱) یہاں تک بلا ذری کی انساب الاشراف کے صفحہ ۱۸۲ تا۱۸۵ پر حالات پراگندہ طور پر مذکور ہیں لیکن ہم نے تاریخ یعقوبی کی ج،۲ ص ۱۲ اور ۱۳ سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے.(۲)بحار الانوار، ج۱۵، ص ۱۴۴اور ۱۴۶ا ور ۱۵۰.


''اس کا باپ اس سے اس وقت جدا ہوگیا جب وہ گہوارے میں تھا اور تمہاری حیثیت اس کے لئے ایک دل سوز اور مہربان ماں کی تھی ''۔

تُدنیه من أَحشائها و الکبد --- فَأَنت مِن أَرجیٰ بنیّ عِندی

لدفع ضیمٍ أَو لشدِّ عقد( ۱ )

''کہ اسے دل و جان سے آغوش میں لیتی ہے.میں تم سے مشکلات اور پریشانیوں کے بر طرف کر نے اور رشتہ کو مضبوط بنا نے کے لحاظ سے اپنے تمام فرزندوں سے زیادہ امید رکھتا ہوں''۔

بحار الانوار میں،واقدی کی زبانی اس واقعہ کے نقل کے بعد اختصار کے ساتھ اس طرح روایت ہے:

اوصیک أَرجیٰ اهلنا بالر فدی --- یابن الذی غیبته فی اللحدِ

بالکره منّی ثمّ لا بالعمدی --- وخیرة الله یشاء فی العبدِ

جناب عبد المطلب نے کہا:اے ابو طالب! میں اپنی وصیت کے بعد تمہارے ذمّہ ایک کام سپرد کررہا ہوں.جناب ابو طالب نے پو چھا کس سلسلہ میں؟

کہا: میری تم سے وصیت میرے نور چشم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے متعلق ہے کہ تم میرے نزدیک اس کی عظمت اور قدر ومنزلت کو جا نتے ہو،لہٰذا اس کی مکمّل طور پرتعظیم کرو اور جب تک زندہ ہو روز وشب کسی بھی وقت بھی ا س سے الگ نہ ہونا؛ خدا را ،خدا را،حبیب خدا کے بارے میں۔پھر اُس وقت اپنے دیگر بیٹوں سے کہا:محمد کی قدر دانی کرو کہ بہت جلد ہی عظیم اور گراں قدر امرکا اس میں نظارہ کروگے اور بہت جلد اس کے انجام کار کو جس سلسلے میں میں نے اس کی تعریف و توصیف کی ہے وقت آنے پر سمجھ جائو گے ۔جناب عبد المطلب کے فرزندوں نے ایک آواز ہو کر کہا: اے بابا! ہم مطیع اور فرمانبردار ہیں اور اپنی جان و مال اُس پر فدا کر دیں گے۔پھر اس وقت جناب ابو طالب نے جوپہلے سے ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیگر چچا کے مقابلے سب سے زیادہ ان کی بہ نسبت مہر بان اور دلسوز تھے. کہا: میرا مال اور میری جان محمد پر فدا ہے،میں ان کے دشمنوں سے جنگ کروں گا اور دوستوں کی نصرت کروں گا۔

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی،ج،۲ ،ص ۱۳.


واقدی نے کہا ہے:

پھر جناب عبد المطلب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور دوبارہ آنکھ کھولی اور قریشیوں کی جانب نظر کی اور بو لے:اے میری قوم! کیا تم پر میرے حق کی رعا یت واجب نہیں ہے؟

سب نے ایک ساتھ کہا:بیشک،تمہارے حق کی رعایت چھوٹے بڑے،سب پر واجب ہے تم ہمارے نیک رہبر اور بہترین رہنما تھے۔

جناب عبد المطلب نے کہا: میںاپنے فرزند محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بن عبد اللہ کے بارے میں تم سے وصیت کر تا ہوں اس کی حیثیت اپنے درمیان ایک محتر م اور معزز شخص کی طرح سمجھنا اس کے ساتھ نیکی کر نا اور اس پر ظلم روا نہ رکھنا اور اس کے سامنے نا پسندیدہ افعال بجا نہ لانا۔

جناب عبد المطلب کے فرزندوں نے ایک ساتھ کہا: ہم نے آپ کی بات سنی اور ہم اس کی اطاعت و پیروی کریں گے۔( ۱ )

ابن سعد کی طبقات میں مذکو ر ہے:

جب جناب عبد المطلب کی موت کا وقت قریب آیا،تو انھوں نے جناب ابو طالب کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محافظت و نگہداری کی وصیت کی۔( ۲ )

جناب عبد المطلب کا اس وقت انتقال ہوا جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آٹھ سال کے تھے اور وہ خود ایک سو بیس سال کے تھے کہ اس سن میں دنیا کو وداع کہہ کر رخصت ہوئے۔

خدا وند عالم نے جناب عبد المطلب کو جسمی اعتبار سے قوی و توانا بنا یا تھا اور صبر وتحمل اور جو د وسخا کے اعتبار سے بڑا حو صلہ دیا تھا اور آپ کا ہاتھ بہت کھلا ہوا تھا انھیں توحید پرست،روز قیامت کی سزا کا معتقد اور جاہلیت کے دور میں خدا پر ست بنایا اور بتوں کی پرستش اور تمام ہلا کت بار چیزوں سے جو لوگوں کی تباہی کا باعث ہوتی ہیں ان سے انھیں دور رکھا تھا.وہ ظلم وستم اور گناہوں کے ارتکاب کو سخت ناپسند کر تے تھے.وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے غار حرا میں عبادت کے لئے خلوت نشینی کی تاکہ خدا کی عظمت و جلالت کے بارے میں تفکر کریں اور اس کی عبادت کریں وہ رمضان کے مہینے میں عبادت میں مشغول ہوتے اور فقرا ء و مسا کین کو اس ماہ میں کھانا کھلا تے تھے. آپ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے مکّہ میں خوش ذائقہ پا نی سے

____________________

(۱)بحار الانوار :ج۱۵، ص۱۵۲، ۱۵۳.(۲) طبقات ابن سعد،ج۱ص ۱۱۸.


لوگوں کو سیراب کیا اور خواب میں زمزم کا کنواں کھو دنے پر مامور ہوئے ور آپ نے اس حکم کی تعمیل کی اور صرف اپنے فرزند حا رث کے ساتھ مذکورہ کنویں کی کھدائی کی۔

اور جب ابرھہ اپنے ہاتھی پر سوار ہو کر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ خانہ کعبہ کو ڈھانے کے ارادہ سے مکّہ کے اطراف میں پہنچا،تو جناب عبد المطلب نے ابرھہ کے لشکر سے مقا بلہ کرنے کے لئے قریش کو آواز دی لیکن ان لو گوں نے سنی اَن سنی کر دی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر فرار کر گئے؛ لیکن جناب عبد المطلب نے خدا کے گھر کو نہیں چھوڑا اور خدا کو مخاطب کر کے اس طرح شعر پڑھا:

یا ربّ انَّ العبد یمنعُ

رحلهُ فامنع رحالک

خدایا! ہر بندہ اپنے گھر کا دفاع اور بچاؤ کر تا ہے،لہٰذا تو بھی اپنے گھر کا دفاع اور تحفظ کر۔

اور جب خدا وند متعال نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ہلاک کر ڈالا تو انھوں نے یہ اشعار کہے:

انَّ للبیت لرباً ما نعاً

من یرده بأَثامٍ یصطلم

(اس گھر کا روکنے والاایک مالک ہے کہ جو بھی اس کی طرف گناہ کا قصد کر ے گا تو وہ اسے نابود کر دے گا)۔

رامه تُبّع فی من جند ت

حمیر و الحی من آل قدم

( تبع انھیں میں سے ایک تھا کہ جس نے لشکر کشی کی،اسی طرح حمیر اور اس کے قبیلہ والے )۔

فانثنیٰ عنه و فی اوداجه

جارح امسک منه بالکظم

(کہ لوٹنے کے بعد اس کی گردن میںکچھ زخم تھے جو سانس لینے سے مانع تھے)۔


قلت والأشرم تردی خیله

اِنّ ذا الاَّشرم غرّ بالحرم

(اور اس کان کٹے (ابرھہ) سے جو اپنے لشکر کو ہلاکت میں ڈال رہا تھا میں نے کہا:بیشک یہ گوش بریدہ(کان کٹا) حرم کی بہ نسبت نہایت مغرور ہے)۔

نحن آل الله فی ما قد مضی

لمن یزل ذاک علی عهد اِبرهم

( ہم گزشتہ افراد کی آل اللہ ہیں اور حضرت ابراہیم کے زمانے سے ہمیشہ ایسا رہا ہے)۔

نحنُ دمَّرنا ثموداً عَنوة

ثم عادا قبلها ذات ا لارم

( ہم نے ثمود کی سختی کے ساتھ گو شمالی کی اور انھیں ہلاک کر ڈالا اور اس سے پہلے شہر ارم والی قوم عاد کو )

نعبد الله و فینا سُنّة

صلَة القربیٰ و ایفاء الذمم

( ہم خدا کی عبادت کر تے ہیں اور ہمارے درمیان صلہ رحم اور عہد کا وفا کرنا سنت رہا ہے)۔


لم تزل للهِ فینا حجّة

یدفع الله بها عنّا النّقم

( ہمیشہ ہمارے درمیان خدا کی ایک حجت رہی ہے کہ اس کے ذریعہ بلاؤں کو ہم سے دور کر تا ہے)۔

یہی سال تھا کہ آپ کے پو تے خاتم الانبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیدا ہوئے تو جناب عبد المطلب نے انہیںصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک کپڑے میں لپیٹا اور اُ نہیں اپنے سینے سے لپٹا کر کعبہ میں داخل ہوگئے اور اس طرح شعر پڑھا :

انت الّذی سُمِّیت فی الفرقان

فی کُتب ثابتة المثان

احمد مکتوب علی اللسان

''تو وہی ہے جس کا نام فرقان اور محکم غیر تحریف شدہ کتابوں میں '' احمد ہے ''۔

ان اشعار میں جناب عبد المطلب خبر دے رہے کہ آسمانی کتابوں میں ان کے پو تے کا نام احمد ہے۔

جناب عبد المطلب مستجاب الدعوات تھے، جس وقت قریش پر بارش نہیں ہوتی تھی اُن سے دعا کی درخواست کر تے تھے کہ آپ خدا سے دعا کریں تو خدا آپ کی دعا کے نتیجے میں موسلا دھار بارش نازل کرتا تھا.آخر ی بار پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جب آپ کم سن بچہ تھے رحمت باراں طلب کرنے کے لئے باہر گئے ابھی لوگ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔

جناب عبد المطلب نے کچھ ایسی سنتیں قائم کی ہیں کہ اسلام نے ان کی تائید اور تثبیت کی ہے. جیسے:

۱۔ نذر کا پو را کر نا؛ سورۂ انسان، آیت ۷ اور سورۂ حج ،آیت ۲۔

۲۔ محارم سے ازدواج کی ممانعت؛سورۂ نسائ،آیت ۲۳۔

۳۔ چور کا ہاتھ کاٹنا؛ سورۂ مائدہ، آیت ۳۸۔

۴۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کر نے کی ممانعت؛ سورۂ تکویر، آیت ۸، سورۂ انعام، آیت ۱۵۱، سورۂ اسرائ، آیت ۳.

۵۔ شراب کا حرام کر نا؛ سورۂ مائدہ، آیت ۹۰۔ ۹۱۔


۶۔ زنا کی حر مت سورۂ فرقان آیت۶۸، سورۂ ممتحنہ آیت ۱۲ ، سورۂ اسرائ، آیت ۳۲۔

۷۔ خا نہ کعبہ کے گرد عریاں اور برہینہ حالت میں طواف کر نے سے روکنا۔

پیغمبر خدا نے ۹ ھ میں جب انھوں نے اپنے چچا زاد بھائی علی کو حاجیوں کے سامنے سورۂ برائت کی ابتدائی آیات کی تلا وت کر نے پر مامور کیا تھا تب یہ بھی حکم دیا تھا کہ یہ موضوع بلند آواز سے لوگوں کو ابلاغ کر یں۔

۸۔صلۂ رحم کی رعایت ، خاندان والوں اور رشتہ داروں سے ارتباط رکھنا؛ سورۂ نسائ، آیت۱۔

۹۔ کھانا کھلانا؛ سورۂ مائدہ آیت ۸۹ اور سورۂ بلد آیت ۱۴ ، سورۂ الحاقہ آیت ۳۴۔

۱۰۔ظلم نہ کرنااور ستمگری کو ترک کرنا؛ سورۂ ابراھیم آیت ۲۲ اور بہت سی دیگر آیات۔

وہ غار حرا میں کنج تنہائی اختیار کرتے تھے اور کئی کئی راتیں خدا کی عبادت میں مشغول رہتے تھے ( کہ جس کو کہتے ہیں) یہی روش آپ کے پو تے خا تم الانبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اپنائی تھی.وہ روز جزا (قیامت) پر ایمان واعتقاد رکھتے تھے اور اس بات کی دوسروں کو بھی تبلیغ کر تے تھے۔

بحار الانوار میں اپنی سند کے ساتھ امام جعفر صادق سے انھوں نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے جد سے انھوں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے انھوں نے حضرت محمد صلّیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے اپنی وصیت میں فرمایا : اے علی! جناب عبد المطلب نے دور جا ہلیت میں پانچ سنتیں قائم کی ہیں کہ خدا وند عالم نے اسے اسلام میں اجرا کیا اور اس پر عمل کرنے کو ضروری سمجھا ہے ۔

انھوں نے باپ کی بیوی سے ازدواج حرام کیا ہے؛ اور خدا وند رحمن نے یہ آیت نازل فرمائی :

( لَا تَنْکِحُوا مَانَکَحَ آباؤُکُمْ مِنَ النِّسٰائِ )

جن عورتوں سے تمہارے آباء و اجداد نے نکاح کیا ہے اُن سے نکاح نہ کرو۔

جناب عبد المطلب نے ایک خزانہ پایا،تو اس کا خمس نکال کر جدا کر دیا اور راہ خدا میں صدقہ دیا، خدوند عالم نے بھی فرمایا:

( وَاعْلَمُوا اَنّمَا غَنِمْتُمْ مِن شَیٍٔ فَاِنَّ لِلّٰهِ خُمسَه )

جان لو کہ تمھیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو یقینا اس میں اللہ اور کے لئے خمس ہے۔

اور جب زمزم کا کنواں کھودا تو اُ سے حاجیوں کے پینے کے لئے مخصوص کر دیا. اور خدا وند عالم نے بھی فرمایا:( اَجَعَلْتُمْ سَقَایةَ الَحَاجَّ ) حجاج کو پانی پلانا ...؟


آپ نے اونٹ کی دیت سو اونٹ معین کی تو خدا وند عالم نے بھی اسی کو اسلام میں معین کردیا، پہلے خانہ خدا کے گرد طواف کر نے کی کوئی حد معین نہیں تھی جناب عبد المطلب نے سات چکر طواف معین کیا اور خدا وند عالم نے اسی کو اسلام میں باقی رکھا۔

اے علی! جناب عبد المطلب نے ازلام ( پانسوں) کے تیروں کے مطابق تقسیم نہیں کی،کسی بُت کی پوجا نہیں کی اور نہ ہی بُت کے لئے قربانی کیا ہوا گوشت کبھی نہیں کھا یا اور کہتے تھے میں ا پنے باپ ابراہیم کے دین کا پابند ہوں۔( ۱ )

قابل توجہ بات یہ ہے کہ جناب عبد المطلب کے اونٹ کے سم کے نیچے سے پانی کا ابلنا ( کہ جس کی حکا یت پہلے بیان کی جاچکی ہے ) ایک کرامت تھی خدا نے جس کے ذریعہ ان کو محترم بنا یا ۔

جس طرح ان کے جد اسمٰعیل کو اس سے پہلے ان کے قدم کے نیچے سے آب زمزم کے جاری ہو نے کی وجہ سے مکرم اور محترم بنایا تھا۔

خدا وند عالم نے اسی طرح کی کرامت سے اُن کے پو تے حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو گرامی قدر بنا یا جب جنگ تبوک میںآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تیر کے پاس سے چشمہ پھوٹ پڑا۔( ۲ )

جو کچھ ا س حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ جناب عبد المطلب نے زمانۂ جا ہلیت میں پا نچ سنتیں قائم کیں اور اسلام نے اس کی تائید اور تثبیت کی،وہ اس سے پہلے ذکر کی گئی باتوں سے منا فات نہیں رکھتا کیو نکہ کسی چیز کا ثابت کر نا دوسری چیزوں کے نہ ہو نے پر دلیل نہیں بن سکتا۔

بحث کا خلاصہ

حضرت ابراہیم نے اسمٰعیل کو وصیت کی کہ ان کی حنیفیہ شریعت کے ستونوں کو بیت ﷲ الحرام کی تعمیر اور منا سک حج کی ادائیگی سے قائم رکھیں.تو اسمٰعیل نے اپنی پوری زندگی اپنے باپ کی وصیت کا پاس و لحاظ رکھا یہاں تک کہ مکّہ میں انتقال کر گئے اور اپنی مادر گرامی (ہاجرہ) اور اپنے بعض فرزندوں کے پاس حجر اسمٰعیل میں سپر د لحد کئے گئے۔( ۳ )

____________________

(۱) بحار الانوار ، ج ۱۵،ص ۱۲۷ شیخ صدوق کی خصال ج۱، ص ۱۵۰ کی نقل کے مطابق

(۲) بحار الانوار ،ج ۲۱، ص ۲۳۵ ،خرائج کی نقل کے مطابق ص ۱۸۹ ، بابِ غزوۂ تبوک

(۳) ملاحظہ کیجئے : اسلام میں دو مکتب، ج۱ ، ص ۸۲ تا ۸۵ اور معا لم المدرستین، طبع ۴،ج۱ ،ص۶۰ تا ۶۴.


خدا نے اسحق کے فرزند یعقوب جو کہ اسرائیل سے مشہو ر تھے ان کی اولا د کے لئے بھی مخصوص احکام وضع کئے جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کی شریعت میں رائج ہوئے ہیں۔

حضرت عیسیٰ بن مر یم کے بعد رسولوں کی فترت کا زمانہ شروع ہو جا تا ہے .یعنی خدا وند عالم نے اس مدت میں کو ئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا رسول نہیں بھیجا .جز ان نبیوں کے جو بعض لوگوں کے لئے ہدایت کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے.انھیں عیسیٰ کی شریعت پر عمل کر نے کی دعوت دی.جیسے خالد بن سنان اور حنظلہ جن کا شمار اوصیاء شریعت عیسیٰ میں ہوتا ہے ۔

رہا سوال ام القریٰ (مکّہ) اور اس کے اطراف وجوانب کا تو حضرت اسمٰعیل کے پوتوں میں کوئی نہ کوئی بزرگ یکے بعد دیگرے حضرت ابراہیم کی حنیفیہ شریعت کے قیام اور حضرت کی سنتون کو زندہ کر نے کے لئے اُٹھے کہ اب مختصر طور سے ہم ان کا تعارف کراتے ہیں:

۱۔ مضر کے فرزند الیاس

مضر کے فرزند الیاس حضرت اسمٰعیل کے قبیلہ کے اُن افراد پر بہت ناراض ہوئے اور نکتہ چینی کی جنھوں نے اپنے آباء واجداد کی روش اور سنتوں کو بدل ڈالا تھا.انھوں نے ان کی نئے سرے سے تجد ید کی یہاں تک کہ تحر یف سے قبل والی حالت کے مانند ان پر عمل ہونے لگا۔

الیاس وہ پہلے آدمی ہیں جو اپنے ہمراہ قربانی کا اونٹ مکّہ لے گئے ، نیز وہ حضرت ابراہیم کے بعد پہلے آدمی ہیں جنھوں نے رکن کی بنیاد ڈالی۔

۲۔الیاس کے پو تے خز یمہ بن مدرکہ

خزیمہ کہتے تھے: ایک''احمد '' نامی پیغمبر کے خروج کا زمانہ قریب آچکا ہے.وہ لوگوں کو خدا، نیکی، احسان اور مکارم الاخلا ق (اخلاق کی بلندیوں) کی دعوت دے گا. تم سب اس کی پیروی کرنا اور اس کی کبھی تکذیب نہ کرنا کیو نکہ وہ جو کچھ لائے گا حق ہو گا۔


۳۔ کعب بن لو ٔی

کعب خزیمہ کے پو توں میں سے ہیں وہ حج کے ایام میں خطبہ دیتے اور کہتے تھے : زمین و آسمان اور ستارے لغو اور بیہودہ خلق نہیں کئے گئے ہیں اور روز قیامت تمہارے سامنے ہے .وہ اس کے ذریعہ لوگوں کو پسندیدہ اخلا ق اور بیت اللہ الحرام کی تعظیم و تکریم پر آما دہ کرتے تھے.اور انھیں آگاہ کرتے تھے کہ خا تم الانبیاء خدا کے گھر سے مبعوث ہو گے اور اس بات کی موسیٰ اور عیسیٰ نے بھی اطلا ع دی ہے اورشعر پڑھتے تھے:

علیٰ غفلةٍ یاتی النبی محمد فیخبرا خباراً صدوقاً خبیرها

اچانک محمد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آئیں گے اور وہ سچی خبر دیں گے۔

اور کہتے تھے:اے کاش میں ان کی دعوت اور بعثت کو درک کر تا..

۴۔ جناب قُصیّ

بعد اس کے کہ خزاعہ قبیلہ کے رئیس نے مکّہ میں بُت پر ستی کو رواج دیا.حضرت اسمٰعیلں کی نسل سے قُصیّ ان کے مقابلے کے لئے اُٹھے اور انھیں مکّہ سے باہر نکال دیا.انھوں نے بُت پر ستی سے منع کیا اور ابراہیم کی سنت جو مہمانوں کو کھا نا کھلانے سے متعلق تھی اس کی دوبارہ بنیاد ڈالی.وہ حج کا موسم آنے سے پہلے ہی قریش قبیلہ کے درمیان اٹھے اور ایک خطبہ کے ضمن میں فرمایا:

اے جماعت قریش ! تم لوگ خدا کے ھمسایہ(پڑوسی) اس کے حرم اور گھر والے ہو اور حجاج خدا کے مہمان اور اس کے گھر کے زائر ہیں .اور احترام وتکریم کے سب سے زیادہ لائق اور سزاوار ترین مہمان ہیں.لہٰذا حج کے ایام میں جب تک کہ تمہارے علا قے سے اپنے گھرواپس نہیں چلے جاتے اس وقت تک ان کے لئے غذا اور کھا نے پینے کی چیزیں فر اہم کرو، اگر میرا مال ان تمام امور کے لئے کافی ہوتا تو تن تنہا اور تمہاری شمو لیت کے بغیر اس کام کے لئے اقدام کر تا.لہٰذا تم میں سے ہر ایک اس کام کے لئے اپنے مال کا ایک حصّہ مخصوص کرے۔


قریش نے حکم کی تعمیل کی اور کافی مقدار میں مال جمع ہو گیا،جب حاجیوں کے آنے کا زمانہ قریب ہوا ، تو مکّہ کے ہر راستے پر ایک اونٹ نحر کیا اور مکّہ کے اندر بھی ایسا کیا اور ایک جگہ کا انتخاب کیا تا کہ وہاں روٹی اور گو شت رکھا جائے اور خوش ذائقہ اور میٹھا پانی اور دوغ (چھاچھ) حاجیوں کے لئے فر اہم کیا، وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے مزدلفہ میںآگ جلا ئی تا کہ رات کے وقت حجاج عرفات سے باہر آئیں تو اپنا راستہ پہچان سکیں،انھوں نے خانہ خدا کے لئے کلید بردار اور پردہ دارکا تقرر کیا اور اپنے بیٹے عبد الدار کے گھر کو دار الندوہ (مجلس مشاورت) کا نام دیا،اس طرح سے کہ قریش وہاں کے علا وہ کہیں فیصلہ نہ کر یں.انھوں نے اپنی موت کے وقت اپنے فرزندوں سے وصیت کی کہ شراب سے پر ہیز کریں۔

۵۔ جناب عبد مناف

قُصیّ کے بعد، ان کے فرزند عبد مناف کہ جن کانام مغیرہ تھا ان کے جا نشین ہوئے اور قریش کو تقوائے الٰہی،صلہ رحم اور پر ہیز گاری کی تعلیم دی۔

۶۔ جناب ھا شم

عبد مناف کے بعد ،ان کے فرزند جناب ہاشم ان کے جانشین ہوئے اور قَصیّ کی سنت و روش کی پیروی میں حجاج کی مہما ن نوازی کے لئے قریش کو آواز دی وہ اپنے خطبہ میں کہتے تھے:

خدا کے مہمانوں اور اس کے گھر کے زائرین کا احترام کرو اس گھر کے ربّ کا واسطہ،اگر میرے پا س اتنا مال ہوتا جو ان کے اخراجا ت کے لئے کا فی ہوتا تو تمہاری مدد سے بے نیاز ہوتا ، میں اپنے پاک وحلال مال سے کہ جس میں قطع رحم نہیں ہوا، کوئی چیز ظلم وستم سے نہیں لی گئی اور جس میں حرام کا گذر نہیں ہے(حجاج کے اخراجا ت کے لئے) ایک مبلغ الگ کر تا ہوں اور جو بھی چاہتا ہے کہ ایسا کرے وہ ایک مبلغ جدا کردے،تمھیں اس گھر کے حق کی قسم تم میں سے جو بھی بیت اللہ کے زائر کا احترام کر نے اور ان کی تقو یت کے لئے کوئی مال پیش کرے وہ اُس مال سے ہو جو پاک اور حلال ہو، جسے ظلم کے ذریعہ اور قطع رحم کر کے نہ لیا گیا ہو اور نہ زور اور زبر دستی سے حاصل کیا گیا ہو، قریش نے بھی اس سلسلے میں کافی احتیاط سے کام لیا اور اموال کو دار الندوہ میں رکھ دیا۔


جیسا کہ ہم ملاحظہ کر تے ہیں ،جناب ہاشم کا کام خدا کی خوشنودی حاصل کر نے میں انبیاء جیسا ہے انھوں نے نہ تو شہرت حاصل کر نے کے لئے اور نہ ہی اس لئے ان امور میں ہا تھ لگایا کہ دوسرے لوگ ان کی اور ان کی قوم کی تعریف و توصیف کریں ؛جیسا کہ اُس زمانے میں جاہل عرب کی روش تھی۔

ان کا قریش کے تجارتی قافلوں کے لئے پروگرام بنانا بھی خدا کی رضا و خوشنودی کے لئے تھا جبکہ وہ لوگ پہاڑوں اور بے آب و گیاہ سرزمینوں میں زندگی گذارتے تھے اور امر ار معاش کے لئے دودھ کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے تھے۔

جناب ہاشم اپنے امور میں دیگر انبیاء اور پیغمبروں کی طرح دور اندیش اور اپنی قوم کے دنیاوی معاش اور اخروی معاد کے بارے میں غور وخوض کر نے والے ایک معزز انسان تھے

۷۔ جناب عبد المطلب بن ہا شم

وہ توحید کا اقرار کر نے والے اور دنیا وآخرت میں ہر کام کی جزا یا سزا ملنے پر ایمان و اعتقاد رکھتے تھے ، وہ جاہلیت کے دور میں خد اشناس اور خدا پر ست تھے. انھوں نے زمزم کا کنواں کھودا۔

جناب عبد المطلب ایک مستجاب الدعوات شخص تھے،انھوں نے خدا سے بارش کی دعا کی تو خداوند عالم نے ان کے لئے بارش نازل کی انھوں نے خبر دی کہ خدا نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آسمانی کتابوں میں نام احمد رکھا ہے اور رسول خدا کے آباء و اجداد کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم کے دَور سے خدا کی کوئی نہ کوئی حجت رہی ہے جس کی وجہ سے خدا نے برائیوں کو ان سے دور کیا ہے۔

جناب عبد المطلب نے چند سنتوں کی بنیاد رکھی جس کی اسلام نے تائید اورتثبیت کی ہے ۔

تاریخ یعقوبی میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اختصار کے ساتھ ذکر ہوا ہے:

خدا وند عالم قیامت کے دن ہمارے جد جناب عبد المطلب کو پیغمبروں کے جلوہ کے ساتھ امت واحدہ کی صورت میں مبعوث کرے گا.( ۱ )

اس سے پہلے ا ن کی سیرت میں دیکھ چکے ہیں کہ اُنھوں نے اپنے فرزندوں اور اپنی قوم سے عہد و پیمان لیا کہ جب پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مبعوث بہ رسالت ہوں تو وہ لوگ ان کی نصرت کریں.جیسا کہ دیگر انبیاء اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی عہد و پیمان لیتے تھے۔

____________________

(۱) تاریخ یعقوبی ۔ج۲ ، ص ۱۲ تا ۱۴؛ بحار الانوار جلد ۱۵، ص ۱۵۷ کافی کی نقل کے مطابق، ج۱ ،ص ۴۴۶، ۴۴۷. حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ: آپ نے فرمایا : جناب عبد المطلب امت واحدہ کی صورت میں محشور ہو گے اس حال میں کہ پیغمبروں کی جھلک اور باشاہوں کی صورت کے حامل ہوں گئے.


رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے باپ جناب عبد اللہ اور چچا جناب ابو طالب

۱۔ جناب عبد اللہ خاتم الانبیاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ء کے والد

جناب عبد اللہ اور جناب ابو طالب کی ماں فاطمہ، عمر وبن عا ئذ بن عمران مخزومی کی بیٹی ہیں۔( ۲ )

____________________

(۲)سیرۂ ابن ہشام، ج۱، ص ۱۲۰


جناب عبد اللہ اپنے باپ جناب عبد المطلب کی سب سے چھوٹی اولا د ہیں۔

جیسا کہ اخبار سیرت سے اندازہ ہوتا ہے نوفل کی بیٹی رقیہ نے اپنے بھائی''ورقہ بن نوفل'' سے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مبعوث ہو نے کی خبر سنی تھی لہٰذااس نے خود کو جناب عبداللہ کے لئے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ماں آمنہ سے ازدواج سے پہلے پیش کیا تھا،لیکن جناب عبد اللہ نے اس پر توجہ نہیں دی، اُس سے شادی نہیں کی اور اس کی مراد پوری نہیں کی ۔

رقیہ بھی جناب عبد اللہ کے آمنہ سے شادی کر نے کے بعد آپ سے متعرّض نہ ہوئی ؛ ایک مرتبہ جناب عبد اللہ نے اس سے کہا تھا کہ جس چیز کی مجھ سے کل خواہش کر رہی تھی(مجھ سے شادی کرنے کی) آج کیوں نہیں چاہتی ہو؟ رقیہ نے جناب عبد اللہ کے جواب میں کہا تھا ! جو نور کل تمہارے ہمراہ تھا وہ تم سے جدا ہو گیا ہے۔

اور ایک دوسری روایت میں مذکور ہ بالا داستان کی طرح کا واقعہ کسی دوسری عورت کے بارے میں آیا ہے کہ اُس نے کہا:

جناب عبد اللہ جب کہ ان کی پیشانی سے ایک سفید نور ضوفشاں تھا، جیسے گھوڑے کی پیشانی پر سفیدی چمکتی ہے ، اس عورت کے سامنے سے گزرے تھے ۔( ۱ )

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد جناب عبد اللہ کے اخبار کے بارے میں اتنے ہی پر اکتفا ء کر تے ہیں،انشاء اللہ حضرت ابو طالب پیغمبر کے چچا کی شخصیت کے متعلق بیان کررہے ہیں۔

۲۔ اسلام کے ناصر اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سر پرست ،جناب ابو طالب

۱۔ ابو طالب:

مروج الذھب میں مذکور ہے:

''جناب ابو طالب'' کے نام کے بارے میں اختلا ف ہے ،بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا نام ''عبد مناف'' ہے ، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے. اور ایک گروہ کاخیال ہے کہ وہی کنیت ان کا نام ہے، اس دلیل سے کہ حضرت علی ابن ابی طالب (رضی ﷲ عنہ) نے پیغمبر کے املاء کرانے پرجب خیبر کے یہودیوں

____________________

(۱) سیرۂ ابن ہشام، ج۱، ص ۱۴۹، ۱۷۰


کے لئے خط لکھا،تو خط کے آخر میںاپنے نام اور جناب ابو طالب کے نام کے درمیان ابن سے''الف'' کو حذف کر دیا اور اس طرح لکھا: ''کتب علی بن ابی طالب '' لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب اسم ہے نہ کہ کنیت۔( ۱ )

جناب عبد المطلب نے پیغمبر کے متعلق وصیت میں جناب ابو طالب سے ایک شعر کے ضمن میں اس طرح بیان کیا ہے:

اوصیتُ من کنیتہُ لطالب

بابن الّذی قد غاب لیس آئِب

میں نے اس شخص کو جس کی کنیت میں نے ''طالب'' رکھی ہے، اس شخص (عبدﷲ ) کے فرزند کے بارے میں جو جا کے واپس نہیں آئے گا،اُس سے وصیت کی ہے۔

۲۔ جناب ابو طالب کی سیرت اور روش

تاریخ یعقوبی میں اختصار کے ساتھ ذکر ہوا ہے:

جناب عبد المطلب نے اپنی وصیت میں مکّہ کی حکو مت اور کعبہ کے امور اپنے فرزند '' زبیر'' کے حوالے کئے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سر پرستی اور زمزم کی سقائی''جناب ابو طالب '' کے ذمّہ کی۔

جناب عبد المطلب کا جب انتقال ہو اتو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس وقت آٹھ سال کے تھے۔( ۲ )

سیرۂ حلبیہ میں مذکور ہے:

''سقایت'' اس طرح سے تھی کہ چمڑے کے حوض دیوار کعبہ کے پا س رکھ دئیے جا تے تھے اور زمزم کی کھدائی سے پہلے خوش ذائقہ اور میٹھا پا نی دیگر کنؤوں سے ،مشکوں اور ظروف میں بھر کر اونٹ کی پشت پر لا د کر لا تے تھے اور ان کو حوض میں ڈال دیتے تھے اور بسا اوقات ایام حج میں حاجیوں کے پینے کے لئے اس میں انگور کا رس اور کھجور ڈال دیتے تھے.حاجیوں کے واپسی تک یہی صورت حال رہتی تھی. یہ پانی کا پہنچا نا اور حاجیوں کی مہمان نوازی''عبد مناف'' کے بعد ان کے فرزند ''جناب ہاشم'' اور ان کے بعد ان کے فرزند ''جناب عبد المطلب'' اور ان کے انتقال کے بعد ان کے فرزند جناب ابو طالب تک پہنچی اور انھوں نے ان

____________________

(۱)عربی املا کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ' 'ابن'' کا الف جب بیٹے کا نام اور باپ کے نام کے درمیان واقع ہو تو گر جا تا ہے جیسے ''الحسن بن علی'' یہاں پر بھی ابن اور علی کا الف ابی طالب کے درمیان حذف ہو گیا ہے اور ذکر ہوا ہے ''علی بن ابی طالب'' یہ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ابو طالب اسم ہے نہ کہ کنیت.(۲)تاریخ یعقوبی ،ج۲، ص ۱۳.


تمام امور کی انجام دہی کے لئے ہمت کی یہاں تک کہ فقر وناداری نے جناب ابو طالب کا پیچھا کیا لہٰذا اپنے بھائی جناب عباس سے آیندہ سال موسم حج تک کیلئے دس ہزار درہم قرض لیا اور سارا پیسہ حاجیوں تک آب رسانی میں اُسی سال خرچ کر دیا۔

جب دوسرا سال آیا تو، جناب ابو طالب کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے ''جناب عباس '' کا قرض ادا کرتے تو اپنے بھائی سے کہا : ۱۴ ہزار درھم ہمیں مزید دے دو تاکہ آیندہ سال سب ایک ساتھ دے دوں جناب عباس نے کہا میں قرض دوں گا مگر اس شرط کے ساتھ کہ اگر اس قرض کو بھی ادا نہ کر سکے تو تم حجاج کی سقایت سے کنارہ کشی اختیار کر لو گے اور اُ سے میرے حوالے کر دو گے. جناب ابو طالب نے قبول کر لیا یہاں تک کہ اس کے بعد تیسرا سال بھی آ پہنچا اور اس دفعہ بھی جناب ابو طالب کے پاس کچھ نہیں تھا کہ اپنے بھائی جناب عباس کا قرض ادا کرتے۔

اس وجہ سے سقائی کا فریضہ''جناب عباس '' کے حوالے کر دیا. جناب عباس کے بعد سقایت ان کے فرزند جناب عبد اللہ تک پہنچی اسی طرح جناب عباس بن جناب عبد المطلب کے فرزندوں میں دست بہ دست منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ ''سفّاح'' عباسی کا دور آگیا لیکن اس کے بعد بنی عباس نے اس فریضہ کو چھوڑ دیا۔( ۱ )

تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے:

حضرت علی بن ابی طالب نے فر مایا: ہمارے والدنے فقر و ناداری کی حالت میں سروری اور سرداری کی ہے. اور ان سے پہلے کوئی فقیر و نادار سیادت اور قیادت کو نہیں پہونچا ہے۔( ۲ )

۳۔ جناب ابو طالب کا عقیدہ اور ایمان

مروج الذھب میں مذکور ہے کہ:

جناب ابو طالب تمام گزشتہ اور اپنے ہم عصر لو گوں میں سب سے زیادہ خالق عالم کا اقرار کرتے تھے اور اپنے اس عقیدہ پر ثابت قدم تھے اور خالق ہستی کے وجود پر دلیل و برہان پیش کرتے تھے۔( ۳ )

انشاء اللہ آیندہ بحثوں میں اس سے متعلق زیادہ گفتگو کریں گے.جو کچھ ہم نے یہاں تک ذکر کیا ہے وہ جناب ابو طالب کی خاص سیرت تھی اور ہم انشاء اللہ جب جناب ابو طالب کے عصر میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت سے متعلق اخبار کی چھان بین کر یں گے تو اسی کے ساتھ ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت اور ان کا دفاع اور اسلامی عقائدکا تحفظ کرنے میں ان کی روش کی تحقیق کر یں گے۔

____________________

(۱) سیرۂ حلبیہ، ج ۱ ، ص ۱۴؛ سیرۂ نبویہ ، ج ۱ ، ص ۱۶؛ اور انساب الاشراف، ج۱، ص۵۷.(۲)تاریخ یعقوبی، ج۲ ،ص۱۴، طبع بیروت. (۳) مروج الذھب، مسعودی، ج۲، ص ۱۰۹۔


نتیجہ گیری

جزیرة العرب میں حضرت اسمٰعیل ، حضرت ابراہیم کی حنفیہ شریعت پر وصی، نبی اور رسول تھے،ان کے اور حضرت عیسیٰ کے بعد فترت کے زمانے میں بہت سے مبشرین اور منذرین مبعوث ہوئے تھے، ان میں سے بعض انبیاء واوصیاء حضرت عیسیٰ کی شریعت کے اپنی قوم کے درمیان مبلغ تھے،جیسے حنظلہ، خالد اور وہ راہب جن کی حضرت سلیمان نے شاگردی اختیار کی تھی۔

ام القریٰ (مکّہ) میں بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد کو یکے بعد دیگرے ہم دیکھتے ہیں کہ خا نہ کعبہ کی تعمیر میں مراسم حج کے بر قرار کر نے کے لئے اہتمام کر نا، مہمان نوازی اور کھا نا کھلا نا،بیت اللہ کے زائروں کی ہر طرح سے دیکھ بھال کر نا اور خدا کے مہمانوں تک پا نی پہونچانا، مراسم حج کے آخر تک انھوں نے ان تمام امور میں حضرت ابراہیم کی سنت کی اقتداء کی ہے. موسم حج میں خا نہ خدا کے زائروں کی مہمان نوازی میں اہتمام کر نا نہ فخر ومباہات اور اپنی شخصیت کے لئے تھا اور نہ اپنے قوم و قبیلہ کی شان بڑھانے کے لئے.بلکہ اس کے سائے میں وہ خدا کی خوشنودی کے خواہاں تھے. یہی وجہ تھی کہ اُس ضیافت اور مہما ن نوازی پر خرچ ہونے والے اموال کے لئے شرط لگا دی تھی کہ مال حرام سے نہ ہو. یہ اُ س حال میں ہے کہ خدا وند عالم نے مشرکین کے بارے میں اس طرح خبر دی ہے:

( وَ الَّذِینَ یُنِْفقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئا ئَ النَّاسِ وَ لَا یُؤمِنُوْنَ باللّٰهِ وَ لاَ بِالیَوْمِ الآخِر ) ( ۱ )

وہ لوگ (مشرکین) اپنے اموال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور خدا وند عالم اور روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے۔

ان بزرگوں نے لوگوں کو قیامت اور اس کے نتیجۂ اعمال سے ڈرایا؛ جبکہ خدا وند عالم عصر جاہلیت کے مشرکین اور ان کی گفتگو کے بارے میں اس طرح خبر دیتا ہے:

____________________

(۱)سورۂ نسائ، آیت: ۳۸


( وَقَالُوا مَاهِیَ اِ لَّاحَیَا تُنَا الدُّنْیاَ نَموتُ وَنَحْیَا وَ مَا یُهْلِکُنَا اِ لّا الدَّهرُ ) .)( ۱ )

(مشرکین نے) کہا: ہماری اس دنیاوی زندگی کے علا وہ کوئی حیات نہیںہے،اسی میں مرتے ہیں اور اسی میںجیتے ہیں اور ہمیں تو صرف زمانہ ہلاک کرتا ہے۔

( وَ قَالُوا اِنْ هِی اِِلَّا حَیٰاتُناَ الدُّنیَاَ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِیْن ) ( ۲ )

اور (مشرکین نے ) کہا:ہماری دنیاوی زندگی کے علاوہ کوئی چیز وجود نہیں رکھتی اور نہ ہی ہم محشور کئے جائیں گے۔

( ...وَلَئِن قُلتَ اِ نَّکُم مَبْعُو ثُونَ مِنْ بَعدِ الْمُوتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِ ینَ کَفَرُوااِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْر مُبین ) ( ۳ )

...اور اگر تم کہو کہ مر نے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے ،تو کفّار کہیں گے: یہ صرف کھلا ہوا جادو ہے۔

انھیںآیات کے مانند سورۂ اسراء کی ۴۹ ویں اور ۹۸ ویں آیات اور سورہ ٔ مو منون کی ۳۷ ویں اور ۸۲ ویں آیات اور سورہ ٔ صافات کی ۱۶ ویں اور سورہ ٔ واقعہ کی ۴۷ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے۔

اور سورہ ٔ یٰس کی ۷۸ ویں ۷۹ ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے۔

( وَضرَبَ لَنا مَثَلاً وَ نَسِیَ خَلْقَهُ قَالَ مَن یُحْیِی العِظَامَ وَهِی رَمِیمُ٭ قُل یُحْیِیهَا الَّذِی أَنشَأهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وهُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ علیمُ )

ہمارے لئے اس نے ایک مثال دی اور اپنی خلقت کو بھول بیٹھا اور کہا: ان ہڈیوںکو جو بوسیدہ ہو چکی ہیں کون زندہ کرے گا؟! کہو: وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انھیں خلق کیا تھا اور وہ ہر نوع خلقت کے بارے میں آگا ہ ہے۔

خدا وند سبحان نے سورۂ واقعہ کی ۴۶ تا ۴۸ ویں آیات میں ان جاہلوں کے جو اوصاف بتائے ہیں وہ اس طرح ہیں :

( وَکَانُوا یُصِرُّوْنَ عَلیَ الحِنْثِ العَظِیمِ٭ وَکَانُوا یَقُولُونَ أَاِذَاْ مِتْنَا وَکُنَّا تُراباً وَعِظَامَاً أاِنَّا لِمَبعوثُوْنَ٭ أَوَآبَاؤُنَا الأَ وَّ لون )

____________________

(۱)سورۂ جاثیہ، آیت: ۲۴.

(۲)سورۂ انعام، آیت: ۲۹.(۳) سورۂ ہود، آیت: ۷.


اور وہ لوگ بڑے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں. اور کہتے ہیں: کہ جب ہم مر کر خاک اور ہڈی ہو جائیں گے،تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟! آیا ہمارے گزشتہ آباء و اجداد بھی دوبارہ (زندہ ہو جائیں گے)؟!

منجملہ ان امور کے کہ جن کو اجداد پیغمبر ( یکے بعد دیگرے) انجام دیتے تھے، و ان کے معاشرے اور سماج میں رائج رسم و رواج کی مخالفت تھی جیسے شراب و زنا کی حرمت پو ری تاریخ میں وہ بھی ایسے سماج میں جس میں شراب نوشی اور زنا کاری کا ارتکا ب ان کے درمیان مختلف صورتوں اور شکلوں میں رائج تھا۔

اس طرح سے کہ مکّہ اور طائف میں اس حرام کاری کے لئے مخصوص گھر ہوتے تھے کہ ان کی بلندیوں پر مخصوص نشانات اورخاص قسم کے جھنڈے لگے ہوتے تھے جو اسی بات کی عکا سی کر تے تھے۔

اسی طرح لڑکیوں کو زندہ در گور کر نے سے نہی کر تے تھے،وہ بھی ایسے زمانے میں کہ خدا وند سبحان سورۂ نحل کی ۵۸ ویں اور۵۹ ویں آیات میں ارشاد فرما تا ہے:

( وَ اِذَاْ بُشَِّرَ أَحدُهُمْ بِا لاُنثٰی ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدّاً وَ هُو کَظِیم٭ یَتَوَارَیٰ مِنَ القَوْمِ ِمن سُوء ِمَا بُشِّرِ بِه أَیُمسکُهُ عَلیٰ هُوْنٍ أَم یدسُّهُ فِیْ التُّرابِ... )

اور ان میں سے جب کسی کو لڑکی کی ولا دت کا مژدہ سنا یا جاتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جا تا ہے اور غصّہ سے بھر جا تا ہے.اور جو کچھ اُسے مژدہ دیاگیا اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے وہ لوگوں سے پوشیدہ ہو جا تا تھا(اور فکر کر تا تھا) کہ آیا اسے ذلت و خواری کے ساتھ محفوظ رکھے یازمین میں اسے چھپا دے ۔

ہاں ، ان لو گوں (اجداد پیغمبر) نے اس کے علاوہ کہ نا پسندیدہ امور کو ترک کرتے ، دوسروں کو بھی ان کے کر نے سے منع کر تے تھے،اپنی قوم کے درمیان رائج رسم و رواج کی جنھیں قرآن کریم کے مکّی سوروں میں انھیںبُرے عنوان سے یاد کیا گیا ہے،مخا لفت کر تے تھے۔


اسی طرح مکا رم اخلا ق پر بہت توجہ دیتے تھے جو کہ ان سے مخصوص تھے اور لوگوںکو اس بات کی دعوت دیتے کہ خدا کے مہمانوں اور حاجیوںکو کھا نا کھلا نے کے لئے حلال طریقہ سے کمائی ہوئی رقم سے انفاق کریں.وہ بھی ایک ایسے معاشرہ میں جہاں ربا اور قمار بازی (جوا ) کے ذریعہ کمائی ہوتی ہو.اور چوری ، ڈکیتی اور لوگوں کے اموال کی لوٹ کھسوٹ جس طریقہ سے بھی ممکن ہوااور جس شخص سے بھی ممکن ہو لوٹ لیتے تھے۔

اعتقادی اعتبار سے بھی ،تاریخ نے یہ پتہ نہیں دیا کہ پیغمبر کے اجداد میں سے کسی ایک فرد نے بھی بُت پرستی کی ہو، یا بُت کے لئے قر بانی کی ہو،یا کسی بُت سے مدد مانگی ہو،کسی بُت سے طلب باراں کی ہو یا بُت کے نام پر حج کا لبیک کہا ہو،یا کسی بُت کے نام سے قسم کھائی ہو۔

اور وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب مکّہ اور اس کے ارد گرد اور اطراف کے علاقوں میں لوگوں کے عقائد اور ان کے یقین کی بنیاد بتوں پر استوار تھی اور ان کی گفتگو اور ان کا کلام انھیں کے محور سے پُرہوتا تھا۔

اور ان کا لوگوں کو قیامت کے دن اعمال کی سزا سے خوف دلانا ، وہ بھی ایسے معاشرہ میں جہاں اخروی زندگی کے معتقد افراد کی عقل و خرد کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور ان کی توہین کر تے تھے ،یہ ایک قابل غور مسئلہ ہے۔

اور عقل سلیم اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ تمام مذکورہ امور ان تمام صدیوں اور زمانوں میں اتفا قی تھے. وہ بھی حضرت اسمٰعیل کے فرزندوں کے زمانے سے حضرت عبد المطلب کے زمانے تک یعنی پانچ سو سال سے زیادہ کی مدت میں ایسا اتفاق ہوا ہو. یعنی اجداد پیغمبر ان تمام صدیوں میں اتفاقی طور پر ان صفات کے حامل ہوگئے تھے ، اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ان کا نسب اخلا قی پستیوں کی آلودگی سے پاک تھا اور یہ طہا رت اُ س وقت تھی جب مکّہ اور طا ئف میں زنا اور دوسری اخلاقی برائیاں عام تھیں ۔

جہاں تک اس حقیر نے سیرت اور انساب سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کیا ہے کوئی مشہور اور شناختہ شدہ گھرانہ نہیں ملا جس کا نسب اخلا قی گراوٹ اور اس جیسی آلودگی سے پاک ہو اور یہ کہنا کہ یہ سب اتفا قی اور حا دثاتی طور پر تھا تو یہ غیر معقول بات ہے۔

ان تمام باتوں کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ ،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد اپنی قوم کو خا تم الانبیاء کی بعثت کے بارے میں مکّہ میں مژدہ دیتے تھے اور بتاتے تھے کہ آنحضرت کا آسمانی کتابوں میں محمد اور احمد نام ہے ۔ وہ اپنی قوم سے مطا لبہ بھی کیا کرتے تھے کہ آنحضرت مبعوث ہو جائیں تو ان کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی نصرت کر یں۔ اجداد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ کارنامہ خدا وند عالم کی اس بات کا مصداق ہے کہ وہ سورۂ آل عمران آیت ۸۱ میں فرماتا ہے:


( وَاإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِیثَاقََ النّاَبِیینَ لَمَا آتیتُکم مِنْ کِتَابٍ وَ حِکْمَةٍ ثُمَّ جَاْئَ کُمُ رسول مُصدِّق لِمَا مَعَکُم لتُؤ مِنُنَّ بِه وَ لَتَنصُرُ نَّهُ قَالَ ئَ أَقرَرْتُم وَ اَخَذْتُم عَلیٰ ذَلِکُمْ اِصْرِی قَالُواْ أَقْرَرنَا فَا شْهَدُوا وَ أَنا مَعَکُم مِنَ الشَّاهِدِین ) اور جب خدا وند عالم نے پیغمبروںسے عہد و پیمان لیا کہ جب بھی ہم تمھیں کوئی کتاب یا حکمت دیں، پھر تمہاری طرف جب وہ پیغمبر آئے جو تمہارے دین کی تصدیق کر تا ہو، توقطعی طور سے اس پر ایمان لاؤ اور اس کی نصرت کرو(اُس وقت خدا نے پیغمبروں سے ) کہا: آیا تم نے اقرار کیا اور اُس کا عہد وپیمان کیا ؟ سب نے کہا: ہم نے اقرار کیا .فرمایا؛ پھر گواہ رہنا میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔اور یہ رسول وہی محمد بن جناب عبد اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔وہ تمام باتیں جو ہم نے اجداد پیغمبر کے عقائد کے بارے میں بیان کی ہیں سب سے زیا دہ جناب عبد المطلب سے صادر ہوئی ہیں جیسے ان کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولا دت کے موقع پر یہ شعر کہنا۔

انت الذّی سُمّیت فی الفرقان ---- فی کتب ثا بتة المبان

احمد مکتوب علی اللِّسان

''تم وہی ہو کہ فرقان او رغیر تحریف شدہ اور استوار کتابوں میںتحریر اور زبان پر جس کا ''احمد'' نام ہے۔

اور ان کا یہ شعر کہنا کہ جب حلیمہ نے انھیں گم کر دیا تھا :

انت الذّ ی سمَّیتهُ محمداً

'' خدا یا!'' یہ تو ہے کہ اس کا نام '' محمد '' رکھا ہے ۔

اور ان اشعار میں جو ابرھہ اور اس کے لشکر کی ہلا کت کے بعد پڑھے ہیں تصریح کر تے ہیں کہ خود وہ اور ان کے آباء و اجداد خدا کی حجتیں ہیں:

نحن آل الله فی ما قد مضی لم یزل ذاک علی عهد ابرهم

( ہم گزشتہ افراد کی آل اللہ ہیں اور حضرت ابراہیم کے زمانے سے ہمیشہ ایسا رہا ہے)۔

لم تزل للهِ فینا حجة --- یدفع الله بها عنّا النّقم

( ہمیشہ ہمارے درمیان خدا کی ایک حجت رہی ہے کہ اس کے ذریعہ بلاؤں کو ہم سے دور کر تا ہے)۔یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اسلام نے جناب عبد المطلب کی بعض سنتوں کی تا ئید کی ہے. کیو نکہ وہ حضرت ابراہیم کے دین حنیف پر تھے اور جو کچھ انھوں نے سنت چھوڑی ہے وہ ان کی شریعت کی پیروی کی بنیادپر تھی۔اسی وجہ سے جناب عبد المطلب کی سنتیں اسلام میں داخل ہوئیں اور خدا نے فرما یا:( ثُمَّ اَوْحَیْنَااالَیکَ اَنِ اتّاَبِعْ ملَّةَااِبْرَاْ هِیمَ حَنِیْفاً... ) ( ۱ )

____________________

(۱) سورۂ نحل، آیت، ۱۲۳.


پھر ہم نے تم پر وحی کی کہ (خدا پر ستی اور توحید اور معارف الٰہی کے نشر کر نے کے بارے میں) ابراہیم کے پاکیزہ آئین کی پیروی کرو۔

( قُلْ صَدَقَ اللّٰه فَا تَّبعُوا مِلَّةَ ااِبْرَاهِیْمَ حَنِیفاً... ) ( ۱ )

(اے پیغمبر) کہو کہ خدا کا قول سچا ہے (نہ تمہارا دعویٰ) تمھیں ابراہیم کے پاک و پاکیزہ آئین کی پیروی کر نا چاہئے کیو نکہ صاف ستھرا اور پاک و پاکیزہ ہے۔

( وَمَنْ أَحسَنُ دِیناً مِمَّن أَسلَمَ وَجهَهُ لِلّٰهِ وَ هُو مُحْسِن وَ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْراهِیمَ حَنِیْفاً... ) ( ۲ )

(دنیا میں ) اس دین سے کون دین بہتر ہے جس نے لوگوں کو خدا کے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم کر دیا ہے اور نیک کردار ہو نے کے علاوہ حق کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور ابراہیم کے دین حنیف کی پیروی کرتے ہیں...؟

اس لحاظ سے پیغمبر کے تمام اجداد ابراہیم کی حنفیہ شریعت کے پا بند تھے اور بے شک خداوند عالم کی گفتگو انتہائی صداقت کی حا مل ہے جیسا کہ سورۂ شعرأ کی ۲۱۹ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے :

( وَ تَقَلُّبَکَ فِی الْسَّاجِدِین )

خدا وند متعال تمہارے سجدہ گذاروں کے درمیان کروٹیں بدلنے (تمہارے اصلاب شامخہ سے ارحام مطہرہ میں منتقل ہو نے) کے بارے میں آگاہ ہے ۔

اسی آیت کی تفسیر میں ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ انھوں نے کہا: پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور مسلسل پیغمبروں کے صلبوں میں ایک پشت سے دوسری پشت تک منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ ان کی ماں نے انھیں جنم دیا۔

حضرت امام محمد باقر نے اس کی تفسیر سے متعلق فرما یا:

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور کا انبیاء کی پشت سے منتقل ہو نا ایک نبی سے دوسرے نبی تک مکمّل واضح اور معلوم ہے. یہاں تک کہ خدا نے انھیں ان کے باپ کی صلب سے پیدا کیا اور یہ کام حضرت آدم کے زمانے سے ہی نکاح کے ذریعہ سے تھا نہ کہ غیر شرعی اور نا جائز راستوں سے۔

____________________

(۱) سورۂ آل عمران، آیت ۹۵.

(۲)سورۂ نسائ، آیت ۱۲۵ اور انعام ۱۶۱.


امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب نے انبیاء کی توصیف میں نہج البلا غہ کے ۹۲ ویں خطبہ میں ارشاد فر ما یا ہے:

''خدا وند عالم نے انھیں بہترین جائے امن میں بطور امانت رکھا اور سب سے اچھی جگہ پر انھیں قرار دیا اور انھیں نیک صلبوں سے پاک رحموں میں منتقل کیا اور جب بھی ان میں سے کوئی مرجاتا تھا تو دوسرا دین کی تبلیغ کے لئے قیام کر تا تھا ،یہاں تک کہ خدا کے قیمتی دین کی تبلیغ خدا وند سبحان نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حوالے کی ،پھر خدا نے انھیں سب سے زیادہ قابل قدر اور قیمتی معدنوں ،سب سے بہتر صلبوں اور گراں قدر درختوں سے وجود بخشا وہی شجرۂ طیبہ کہ جس سے دیگر پیغمبروں کو اُس نے پیدا کیا ہے. اور امانت داروں اور اوصیا ء کو اسی سے انتخاب کیا ہے ان کی عترت بہترین عترت اور ان کا خاندان بہترین خاندان ہے اور ان کا شجرہ سب سے اچھا شجرہ ہے جو حرم ہی میں اگا ہے اور کرامت و بزرگی کے سائے میں بلند ہوا ہے۔

امیر المو منین فر ما تے ہیں :'' جب بھی ان میں سے کوئی مر جاتا تھا تو ان میں سے کو ئی دوسرا دین کی تبلیغ کے لئے قیام کر تا تھا،، یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ دین خدا کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے یکے بعد دیگرے قیام کر نے والے ( انبیاء و اوصیائ) آتے رہے اور حضرت آدم کے زمانے سے حضرت خاتمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک ان کا سلسلہ جاری رہا وہ بھی اس طرح سے کہ کبھی دنیا ان کے وجود سے خالی نہیں رہی ۔

حضرت علی نے دوسری جگہ فر ما یا ہے :

''دین خدا کو قائم کر نے والی حجت سے زمین کبھی خالی نہیں رہے گی؛ خواہ ہویدا اورآ شکار ہو یا خائف اور پو شیدہ'' تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کی حجتیں اور دلیلیں تباہ و برباد ہو جائیں ، وہ لوگ کتنے آدمی ہیں؟اور کہاں ہیں؟ خدا کی قسم وہ لوگ گنتی کے لحاظ سے بہت تھوڑے ہیںاور خدا کے نزدیک قدر ومنزلت کے لحاظ سے بہت ہی عظیم اور با عظمت ہیں۔

خدا وند سبحان اپنی آیات و بینات کی ان کے ذریعہ حفا ظت و نگہداری کر تا ہے. جب تک کہ اُن کو اپنے ہی جیسوں کے حوالے نہ کر دیں اور ان کا تخم (بیج) اپنے ہی جیسے افراد کے دلوں میں نہ بو دیں''( ۱ ) ۔

جی ہاں،خدا کی ربو بیت کا اقتضا یہی ہے کہ ہر عصر اور ہرزمانے میں انسانوں کے لئے امام وپیشوا قرار دے تا کہ اس کی طرف رجوع کر کے دین خدا کے معالم کو حاصل کر یں .یہ امر اس طرح ہونا چاہئے کہ اگر وہ

____________________

(۱) نہج البلاغہ، باب احادیث، حدیث ، ۱۴۷.


لوگ جستجو اور کوشش کر یں تو دینی مسائل سے آگاہ ہو جائیں، جیسا کہ وہ اپنی روزی اور رزق کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور حاصل کرتے ہیں جیسا کہ خدا وند متعال فر ما تا ہے:

( وَالّذِینَ جَاهَدُوافِینالَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلنا )

جو لوگ ہماری راہ میں کو شش کر تے ہیں تو ہم ضرور انھیں اپنی راہوں کی ہدا یت کرتے ہیں جس طرح سلمان فارسی محمدی نے راہ حق کے حصول کے لئے اصفہان کے ''جی ''نامی علاقہ سے باہر قدم نکالا اور ہجرت اختیار کر لی اور شام ، موصل اور عراق کے راہبوں کے دیر تک پہنچے۔

ہم اس بحث میں اس بات کی کوشش کر یں گے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد کی سیرت کے کچھ نمو نے جنھوں نے ابرا ہیم کی حنفیہ شریعت کی تبلیغ کی ہے ، بیان کر یں ۔

جبکہ لو گوںکا اس سلسلہ میں غلط نظریہ ہے کہ خدا وند تبارک وتعالیٰ نے فترت کے زمانے کے لوگوں کو اسی طرح مہمل اور بے کار چھو ڑ دیا تھا اور ان کے لئے کوئی امام اور پیشوا معین نہیں کیا تھا. تا کہ دین کے معالم اور اُ س کے دستور ات اُن سے یا د کریں۔

معاذ اللہ ۔کیا حرج ہے کہ جناب عبد المطلب بھی منجملہ انبیاء میں سے ایک ہوں جن کا قرآن میں نام نہیں ذکر ہے ؟ جبکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث میں ابوذر سے منقول ہے کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور مرسلین کی تعداد ۳۱۵ ہے کہ اس تعداد میں صرف ۲۵ نبی اور رسول کا نام قرآن میں ذکر ہوا ہے( ۱ )

لیکن یہ کہ پیغمبر کے اجداد موحد( خدا کی وحدا نیت کا اقرار کر نے والے) تھے تو یہ ایک ایسا مطلب ہے جو مذکورہ بالا باتوں کے علا وہ مندرجہ ذیل احادیث سے بھی معلوم ہو جائے گا:

ابن عباس نے کہا: پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے میں نے سوال کیا اور کہا:میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں. جب حضرت آدم جنت میں تھے تو آپ کہاں تھے؟ اس سوال کو سنکر حضرت مسکرائے یہاں تک کہ داڑھ کے دانت نمایاں ہوگئے ۔

پھر اس وقت فرما یا :میںا ن کی صلب میں تھا اور جب وہ زمین پر آئے تب بھی میں ان کی صلب میں تھا،اپنے باپ نوح کی صلب میں کشتی میں سوار ہوا اور ابراہیم کی صلب میں آگ میں ڈالا گیا،ہمارے ماں باپ ایک دوسرے کے ساتھ خلا ف شرع ( شرعی نکاح کے بغیر) نہیں رہے اور خدا وندعالم مجھے ہمیشہ

____________________

(۱) بحار الانوار : ج۱۱، ص۳۲ اور مسند احمد: ج۵، ص۲۶۵، ۲۶۶.


پاکیزہ اصلاب سے پاکیزہ رحموں میں منتقل کر تا رہا. کسی نسل میں جدائی اور فر قت پیش نہیں آئی مگر یہ کہ میں ان میںسے سب سے بہتر نسل میں تھا۔

خدا وندعالم نے مجھ سے نبوت کا عہدلیا اور مجھے اسلام کی ہدایت کی اور میرا ذکر آشکارا طور پر توریت اور انجیل میں کیا اور میری صفتوں کو شرق و غرب عالم میں ظاہر کیا، اپنی کتاب کی مجھے تعلیم دی اور مجھے آسمان کی بلندیوں پر لے گیا اور ان کے اسماء سے مجھے بہر ہ مند کیا :عرش کا خدا محمود ہے اور میں محمد ہوں ،مجھے خوشخبری دی کہ مجھے حوض بخش دیا اور کو ثر دیا، میں وہ پہلا شفاعت کر نے والا انسان ہوں جس کی شفاعت قبول ہو گی.پھراس وقت مجھ کو بہترین مقام اور منصب کے لئے مبعوث کیا۔

اور میری امت وہ خدا کی حمد کرنے والی امت ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرتی ہے( ۱ )

سورۂ زخرف کی ۲۶ تا۲۸ ویں آیات کی تفسیر میں ارشاد فرما تا ہے:

( وَاإِذْ قَالَ ااِبْرَاهِیمُ لاِِاَبِیهِ وَقَومِهِ اِنَّنی بَرائ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ٭ اِلَّا الَّذِی فَطَرنِی فِانَّهُ سَیَهْدِین٭ وَجَعَلَهَا کَلِمةً باقِیَةً فِی عَقِبِه لَعَلَّهمْ یَرْ جِعُونَ )

( اے ہمارے رسول!)اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ ( یعنی اپنے چچا) اور قوم سے کہا:اے بُت پرستو! میں تمہارے معبودوں سے سخت بیزار ہوں اور جز اس خدا کے جس نے مجھے خلق کیا ہے اور میری ہدا یت کر ے گا کسی کی نہیں عبادت کر تا اور اس خدا پر ستی (اور توحید) کو میری تمام ذریت میں کلمۂ باقیہ کے عنوان سے قرار دیا ہے تا کہ اس کی ذرّیت کے افراد (خدا وند واحد کی طرف) رجو ع کریں۔

ابن عباس نے اس طرح کہا ہے:یعنی ہمیشہ ان کی(ابراہیم) ذریت میں ایسے لو گ ضرور رہے ہیں جو کلمہ لا الہ الّا اللہ کا نعرہ لگا تے رہے ہیں( ۲ )

ابن عباس نے کہا ہے کہ:لفظ ''فی عقبہ'' ''ان کے جانشینوں'' کے معنی میں ہے( ۳ )

اوردوسری روایت کی بناء پر''ان کے فرزندوں'' کے معنی میں ہے( ۴ )

تفسیر قرطبی میںاختصار کے ساتھ اس طرح آیا ہے:یعنی خدا وند سبحان نے اس گفتار وکلام کو ان کی نسل میں ان کے فرزند اور فرزندوں کے فرزند میں باقی رکھا ہے. یا یہ کہ ان کی نسل نے غیر اللہ کی عبادت سے

____________________

(۱) تفسیر سیو طی : ج ۵، ص ۹۹ (۲)تفسیر ابن کثیر:ج۴، ص۱۲۶.

(۳)تفسیر قرطبی، ج۱۶، ص ۷۷. (۴) تفسیر سیو طی : ج ۶، ص ۱۶.


دوری کو اُن سے بعنوان میراث پایا ہے اور ہر ایک نے دوسرے کو اس امر کی وصیت کی ہے اور لفظ''عقب'' اس شخص کے معنی میں ہے جو اس کے بعد آتا ہے۔

صیح تر مذی اور مسند احمد میں واثلہ صحابی تک ان کی سند کے ساتھ ذکر ہو اہے:

خدا وندعالم نے اسمٰعیل کی اولا د میں کنانہ کو اور کنانہ سے قریش اور قریش سے بنی ہاشم اور بنی ہاشم سے مجھے انتخاب کیا اور چنا ہے( ۱ )

سنن ترمذ ی میں اپنی سند کے ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فر ما یا:

خدا وند رحمن نے ابرا ہیم کی اولاد میں اسمٰعیل کو اور اسمٰعیل کی اولاد میں کنا نہ کو اور کنانہ کی اولا د میں قریش کو اور قریش سے بنی ہاشم(ہا شم کی اولا د) کو اور بنی ہاشم سے مجھے چنا ہے۔

پھر ترمذی لکھتے ہیں : یہ صحیح اور اچھی حدیث ہے۔( ۲ )

واضح ہے لفظ قریش سے مراد منحصر طور پر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء و اجداد ہی ہیں. جو کچھ گذر چکا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء و اجداد کی فترت کے زمانے میں بعض خبر یں تھیں۔

مسعودی اپنی کتاب مروج الذھب میں لکھتا ہے:

لوگ ''جناب عبد المطلب'' کے بارے میں اختلاف نظررکھتے ہیں.اُن میں سے بعض انھیں مومن اور موحد( یکتا پر ست) خیال کر تے ہیں اور اس بات کے معتقدہیں کہ نہ انھوں نے اور نہ ہی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کسی آباء واجداد نے خدا کا کسی کو شریک قرار دیا ہے۔اور جناب عبد المطلب نسل در نسل پاک و پاکیزہ اصلاب سے پیدا ہوئے ہیں اور خود ہی اعلان کیا ہے کہ ان کی پیدا ئش صحیح ازدواجی رابطہ سے ہوئی ہے نہ کہ شرع کے خلا ف طریقہ سے۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو جناب عبد المطلب اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیگر اجداد کو مشرک جا نتے ہیں ،جز ان لوگوں کے جن کے ایمان کی صحت اور درستگی کی تا ئید ہوئی ہے.یہ ایک ایسی بات ہے جو امامیہ ،معتزلہ، خوارج، مرجئہ اور دیگر فر قوں کے درمیان اختلا ف کا با عث ہے. اور یہ کتاب اس طرح کے مطا لب کی ردّ یا اثبات کی گنجا ئش نہیں رکھتی کہ ہر ایک فر قہ کے دلائل کو اس میں پیش کریں۔

____________________

(۱)صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث شمارہ،۱؛ مسند احمد، ج۴، ص ۱۰۷

(۲)مسند احمد، ج،۴، ص ۱۰۷ ؛ صحیح ترمذی، ج، ۱۳، ص ، ۹۴ ،ابواب المناقب، باب اوّل، حدیث اوّل


ہم نے ان فرقوں میں سے ہر ایک کی باتوں اور ان کے دلائل کو اپنی دوسری کتاب ''المقالات فی اصول الدیانات'' اور'' استبصار'' نامی کتاب میں نقل کیا ہے ،امامت کے سلسلہ میں بھی ان کے نظریات اور اقوال کو''الصفوة'' نامی کتاب میں ذکر کیا ہے( ۱ ) مسعودی کی گفتگو تمام ہوئی۔

اور ہم عنقریب جناب ابو طالب کی پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سیرت اور رفتار کی تحقیق کر نے کے بعد انشاء اللہ اُن کے دلا ئل بھی پیش کریں گے۔


کتاب کے مطالب کا خلاصہ اور نتیجہ

اوّل :

حضرت آدم کے زمانے سے حضرت خاتم الانبیائٔ(صلوات اللہ علیھم اجمعین) تک وصی کی تعیین کا سلسلہ ہے۔

حضرت آدم کی اپنے فرزند شیث ہبة اللہ سے وصیت

جب شیث پیدا ہوئے تو حضرت خا تمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور ان میں منتقل ہو ا اور ان کے کامل اور پختہ جوان ہو نے کے بعد حضرت آدم نے اپنی وصیت ان کے سپرد کی اور انھیں آگاہ کیا کہ میرے بعد اللہ کی حجت اور زمین پر اس کے جا نشین ہیں وہی خدا کا حق اپنے اوصیاء تک پہنچا ئیں گے اور وہ دوسرے شخص ہیں جن میں حضرت خاتمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نور منتقل ہوا ہے۔

____________________

(۱) مروج الذھب، ج۲۲، ص۱۰۸۔ ۱۰۹ ان کی یہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ ''اثبات الوصیہ'' نامی کتاب ان کی نہیں ہے ورنہ اپنی دوسری تالیفات کے ضمن میں اس کا بھی ذکر کر تے اس کے علا وہ مسعودی جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجتا ہے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی (آل)کا نام نہیں لیتا اور دیگر مکتب خلفاء کے پیرو کاروں کے مانند صلّیٰ اللہ علیہ وسلم لکھتا ہے، جب کہ ''اثبات الوصیہ'' نامی کتاب میں یہ درود آل پیغمبرکو بھی شامل ہے ، مگر یہ کہ ہم یہ مانیں کہ''اثبات الوصیہ'' نامی کتاب مذکورہ کتابوں کے بعد تالیف ہوئی ہے.

ممکن ہے کہ اثبات الوصیہ نامی کتاب علی بن حسین مسعودی کی تألیف ہو جو نعمانی کی حدیث کے مشائخ میں شما ر ہوتے ہیں کہ نعمانی نے''الغیبة'' نامی کتاب میں ص ۱۸۸ اور ۲۴۱اور ۳۱۲ پر اس سے روایت کی ہے اور ہم نے معالم المدرستین کی پہلی جلد کی بحث وصیت میں بعض ان اخبار کو نقل کیا ہے کہ اثبات الوصیہ کا مؤلف جن کے نقل کرنے میں دیگر متعدد اور مشہور منابع و مآخذ کیساتھ شریک ہے.


دوسرا بیان

جب خدا نے آدم کو دنیا سے اٹھا نے کا ارادہ کیا تو انھیں حکم دیا کہ اپنے بیٹے شیث کو اپنا وصی بنا ئیں اور جو کچھ علم حاصل کیا ہے انھیں تعلیم دیں، آدم نے حکم کی تعمیل کی اور ایسا ہی کیا۔

تیسرا بیان

جب آدم کی موت کا وقت قریب آیا ،تو شیث اور ان کی اولا د ان کی خد مت میں آگی، آدم نے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے دعا کی اور بر کت طلب کی اور شیث کو اپنا وصی بنایا اور انھیں اپنے جسد کی حفا ظت کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ میرے مر نے کے بعد میرے جسم کو غار گنج میں رکھ دینا اور اس کے بعد وہ اپنی رحلت کے موقع پر اپنے فر زندوں اور پوتوں کو وصیت کریں اور جب پہاڑ اور اپنی سر زمین سے نیچے آجائیں تو ان کا جسم لے کر زمین کے بیچ میں رکھ دیں. جب انوش (شیث کے فرزند) دنیا میں آئے تو نور ختمی مرتبت آپ کی پیشانی میں چمکنے لگا ، جب منزل رشد وکمال کو پہونچے تو آپ کو وصیت فرمائی اور اس امر سے آگاہ کیا کہ تمام شرف و کرامت اس نور کی مرہون منت ہے اور اس امر کی بھی تاکید فرمائی کہ اپنی اولاد کو بھی اس حقیقت سے با خبر رکھیںاور وصایت کا یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے ۔

شیث کی اپنے بیٹے انوش سے وصیت

جب شیث کی موت کا وقت قریب آیا توان کے فرزنداور فرزندوں کے فرزند جوکہ اُس وقت مو جود تھے جیسے: انوش ، قینان ، مہلائیل ، یرد ، اخنوخ ، ان کی عورتیں اور ان کے بچے ، یہ سب ان کے پاس جمع ہوگئے، شیث نے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے دعا کی اور برکت طلب کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ قا بیل ملعون کی اولاد سے اختلاط نہ رکھیں.پھر اس وقت اپنے بیٹے انوش سے وصیت کی اور ان سے حضرت آدم کے جسد کی حفاظت کی وصیت کی اور تاکید کی کہ تقوائے الٰہی اختیار کریںاور اپنی قوم کو تقوائے الٰہی اور نیک عبادت کا حکم دیں اس کے بعد وہ دار فانی سے رخصت ہوگئے۔


انوش حضرت آدم کی حیات ہی میں پیدا ہو چکے تھے .شیث نے موت کے وقت اُن سے وصیت کی اور انھیں اس نو ر کے بارے میں آگاہ کیا جواُن میں منتقل ہوا ہے (حضرت خاتم الانبیاء کا نور جو ان کی نسل سے وجود میں آئیں گے) اور انھیں حکم دیا تا کہ اپنے فرزندوں کو ہر بزرگ دوسرے بزرگ کے بعد اور ہر نسل دوسری نسل کو اس نور کی عظمت و منزلت،شرف و فضیلت سے آگاہ کر ے۔

انوش نے اپنے باپ کے بعد احسن طریقے سے باپ کے حکم کو پایہ تکمیل تک پہونچایا اور امور رعیت کا انتظام و اہتمام اور ان احکام و قوانین پر عمل کیا جن کے اُن کے باپ بھی پیرو تھے۔

انوش کی اپنے فرزند قینا ن سے وصیت

شیث کی وفات کے بعد ،انوش نے اپنے باپ اور دادا کی وصیت پر عمل کر نا شروع کردیا. خدا کی اچھے انداز میں پر ستش و عبادت کی اور اپنی قوم کوبھی حُسن عبادت کا حکم دیا۔

جب انوش کے مر نے کا زمانہ قر یب آیا،تو ان کے بیٹے اور پو تے جیسے قینان اور مہلائیل ان کے ارد گر د جمع ہوگئے، انھوں نے حضرت قینان کو حضرت آدم کے جسد کی حفاظت و نگہداری کی وصیت کی اور سب کو حکم دیا کہ ان کے پاس نما ز پڑھیں اور خدا کی زیادہ سے زیادہ پاکیزگی بیان کریں،پھر اس کے بعد رحلت کر گئے۔

ایک دیگر بیان میں

اپنے بیٹے قینان سے وصیت کی اور انھیں اُس معھود نور سے جو ان تک منتقل ہوا تھا اور وہ راز جو بطور امانت ان کے حوالے کیا گیا تھا آگاہ کیا پھر انتقال کر گئے قینان نے اپنے باپ انوش کی سیرت و روش اختیار کی۔

قینان اپنی قوم کے درمیان خدا کی اطا عت و فر نبرداری میں مشغول ہوگئے اور اس کی احسن طریقے سے عبادت کی اور حضرت آدم اور شیث کی وصیت کی پیروی کی۔


قینان کی اپنے فرزند مہلائیل سے وصیت

جب قینان کی مو ت کاوقت قریب آیا ،بیٹے اور پوتے مہلائیل ،یر د،متوشلح اور لمک اور ان کی عورتیں اور ان کے بچے ان کے ارد گرد جمع ہوگئے قینان نے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے دعا کی اور برکت کی درخواست کی .پھر اس وقت مہلائیل کو اپنا وصی بنایا اور انھیں حضرت آدم کے جسد کی حفاظت و نگہداری کی تاکید کی اور اُس نور سے جو اُن تک منتقل ہوا تھا آگا ہ کیا،مہلائیل نے لوگوں کے درمیان باپ کی سیرت اختیار کی۔

مہلائیل کی اپنے فر زند یوراد سے وصیت

یارد ( یا یوارد ، یا یرد ) مہلائیل کے فرزند ہیں جو باپ کے وصی ہوئے اور مہلائیل نے انھیں سرّ مکنون اور حضرت خاتم الا نبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال نور سے انھیں مطلع کیا اور صحف کی انھیں تعلیم دی اور زمین سے بہرہ مند ہونے کا طریقہ اور جو کچھ دنیا میں ہو نے والا ہے انھیں یاد کرایا اور سرّ ملکوت نامی کتاب جسے مہلائیل فر شتہ نے آدم کو تعلیم دی تھی ان کے حوالے کر دی ،وہ حضرات اس کتاب کو مختوم اور مہر شدہ صورت میں یکے بعد دیگرے بعنوان میراث پاتے رہے ہیں۔

یوراد کی اپنے بیٹے اخنوخ (ادریس)سے وصیت

مرآة الزمان نامی کتاب میں مذکور ہے:

جب یرد کی موت کا زمانہ قریب ہوا تو ان کے بیٹے اور پو تے جیسے اخنوخ ، متوشلح، لمک اور نوح ان کے پاس جمع ہوگئے. یر د نے ان پر درود بھیجا اور ان کے لئے بر کت کی دعا کی اور اخنوخ کو وصیت کی اور انھیں اُن تمام علوم سے آگاہ کیا جو اُن کے پاس تھے اور سر ملکوت نامی کتاب اُن کے حوالے کر دی اور انھیں حکم دیا کہ ہمیشہ غار گنج میں جہاں حضرت آدم کا جسد رکھا ہوا ہے نماز پڑھیں،پھر انتقال ہو گیا۔


اخنوخ پر تیس صحیفے نازل ہوئے اور ان سے پہلے حضرت آد م پر اکیس صحیفے اور شیث پر ۲۹ صحیفے نازل ہوئے کہ ان میں تسبیح و تہلیل کا ذکر تھا ۔

حضرت آدم کے بعد جو سب سے پہلے پیغمبری کے لئے مبعوث ہوئے ادریس یا اخنوخ بن یردہیں ۔

متوشلح اور دیگر چند افراد اخنوخ کی اولاد تھے ،اخنون نے متوشلح سے وصیت کی.لمک اور چند افراد متوشلح کے فرزند تھے کہ متوشلح نے لمک سے وصیت کی، نوح پیغمبر، لمک کے فر زند ہیں۔

ادریس کی اپنے بیٹے متوشلح سے وصیت

ادریس نے اپنے بیٹے متوشلح سے وصیت کی ،کیو نکہ خدا وند عالم نے ان پر وحی نازل کی کہ اپنے بیٹے متوشلح سے وصیت کرو کہ ہم بہت جلد ہی ان کی صلب سے ایک پیغمبر مبعوث کر نے والے ہیں کہ اس کا کام میری مر ضی کے مطابق اور میری تائید سے ہے۔

ایک دوسرے بیان میں:

ادریس نے اپنے بیٹے متوشلح سے وصیت کی اور جب عہد و پیمان ان کے حوالے کر دیا تو انھیں اُس نور سے جو ان تک منتقل ہوا ہے (حضرت خاتم الانبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور سے ) آگا ہ کیا۔


متوشلح کی اپنے بیٹے لمک سے وصیت

اخبار الزمان نامی کتاب میں مذکور ہے:

جب متوشلح کی موت کا زمانہ قر یب آیا ، تو انھوں نے اپنے بیٹے لمک سے وصیت کی ،لمک جامع(جمع کر نے والے) کے معنی میں ہے اور وہ نوح پیغمبر کے والد ہیں۔

متوشلح نے ان سے وصیت کی ا ور صحیفے اور مہر لگی کتابیں کہ جو ادریس پیغمبر کی تھیں ان کے حوالے کیں اور وصیت ان تک منتقل ہو گئی۔

لمک کی اپنے بیٹے نوح سے وصیت

اور جب لمک کی موت کا وقت قریب آیا تو نوح ، سام ، حام اور یافث اور ان کی عورتوں کو بلایا ، شیث کی اولاد میں صرف ان آٹھ افراد کے علا وہ کوئی باقی نہیں رہا تھا کیو نکہ باقی پہاڑ سے نیچے آکر قابیل کی اولاد سے مخلوط ہوگئے تھے اور ان سے راہ و رسم برقرار کر لی تھی ۔

لمک نے ان آٹھ افراد پر درود بھیجا اور ان کے لئے برکت کی دعا کی اور کہا:

اس خدا سے دعا کر تا ہوں جس نے آدم کو زیور تخلیق سے آراستہ کیا کہ ہمارے باپ آدم کی برکت تم پر نازل کر ے اور حکو مت وسلطنت تمہارے فرزندوں میں قرار دے میں مر جا ؤں گا اور اے نوح ! تمہارے سوا ان میں سے کوئی دوسرا جو عذاب خدا وندی کا مستحق ہے نجات نہیں پا ئے گا. اور جب میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا کر غار گنج (جہاں حضرت آدم کا جسد رکھا ہوا ہے) میں رکھ دینا اور جب خدا کا ارادہ ہو کہ کشتی میں سوار ہو تو مجھے اور جسد آدم کو اٹھا کر پہاڑ کے نیچے لے آؤ اور ہمیں اپنے ساتھ ساتھ رکھو اُس وقت تک کہ جب تک کشتی سے باہر نہ آجاؤ۔

اور جب طوفان تھم جائے اور کشتی سے باہر آجاؤ اور زمین پر قدم رکھو تو حضرت آدم کے جسد کے پاس نماز پڑھو اور اپنے بڑے بیٹے سام کو تا کید کرو کہ آدم کے جسد کو اٹھا کر اپنے کسی فرزند کے ساتھ اُسے زمین کے وسط میں سپرد خاک کر دے اور خدا وند عالم فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اُس کے ہمراہ بھیجے گا تا کہ اُس کا ہمدم ہو اور وسط زمین کی راہنمائی کر ے۔


خدا وند عالم نے نوح پر ،ان کے جد ادریس پیغمبر کے زمانے میں اور ادریس کو آسمان پر اٹھا ئے جانے سے پہلے وحی نازل کی اور انھیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو طغیا نی و سر کشی کے انجام سے ڈرائیں اور انھیں ان گناہوں کے ارتکاب سے منع کریں جن کے وہ مر تکب ہوتے تھے اور انھیں عذاب سے ڈرائیں. نوح نے خدا کے حکم کی تعمیل کی اور عبادت خدا اور قوم کو خدا کی طرف دعوت دینے میں مشغول ہوگئے۔

نوح کی اپنے بیٹے سام سے وصیت

جب حضر ت نوح کشتی سے باہر آئے توتین سو ساٹھ سال تک زندہ رہے اور جب موت کا وقت قر یب آیا تو ان کے بیٹے سام ،حام ، یافث اور ان کی اولا د ان کے ارد گرد جمع ہو گئی۔

نوح نے ان سے وصیت کی اور خدا وند سبحان کی عبادت کا حکم دیا اور سام کوحکم دیا کہ جب وہ انتقال کر جائیں تو کشتی کے اندر جائے اور کسی کو اطلاع د یئے بغیر حضرت آدم کے جسد کو زمین کے وسط میں اور مقدس جگہ پر سپرد لحدکر دے. پھر کہا. اے سام! جب تم ملکیزدق کے ہمراہ اس کام کوا نجام دینے کے لئے روانہ ہو جاؤ گے تو خدا وند سبحان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کو تمہارے ساتھ کرے گا تا کہ تمہارا راہنما ہو اور وسط زمین کے بارے میں تمھیں اطلاع دے. اس ماموریت میں کسی کو اپنے کام سے باخبر نہ کر نا یہ حضرت آدم کی وصیت کا جز ہے جو انھوں نے اپنے فرزندوں سے کی تھی اور ہر ایک نے دوسرے کو اس کے انجام دینے کی وصیت کی یہاں تک کہ یہ وصیت تم تک پہونچی ؛ پھر جب اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں فرشتہ نے راہنمائی کی ہے،تو جسد آدم کو اسی جگہ خاک میں دفن کر دو،پھر اس گھڑی حکم دو کہ ملکیزدق وہاں سے جدا نہ ہو اور خدا کی عبادت کے سوا کوئی کام نہ کرے۔

خدا وند سبحان نے ریاست اور وہ تمام کتابیں جو پیغمبروں پر نازل ہوئی تھیں سام کے حوالے کیں اور اسے دیگر فرزندوں اور بھائیوں سے الگ نوح کی جانشینی سے مخصوص کر دیا۔


سام کی اپنے بیٹے ارفخشد سے وصیت

سام باپ کی وفات کے بعد خدا کی عبادت اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں مشغول ہوگئے۔ انھوں نے کشتی کا دروازہ کھو لا اور حضرت آدم کے جسد کو اپنے بیٹے ملکیزدق کے ہمراہ لے کر خفیہ طور پر بھائیوں اور خاندان کو اطلاع دئیے بغیر جسد کو نیچے لائے .فرشتہ نے ان کی راہنمائی کی ذمّہ داری لی اور اس جگہ تک جہاں حکم تھا کہ حضرت آدم کے جسد کو وہاں دفن کریں ان کے ساتھ ساتھ رہا؛اور جسد آدم کو وہیں پر سپرد لحد کر دیا۔

اور جب سام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے ارفخشد کو وصیت فرمائی، جو کہ اپنے والد کے بعد زمین میں ان کے جانشین تھے۔

ارفخشد کی اپنے بیٹے شالح سے وصیت

جب ارفخشد کی موت کا وقت قریب آیا ،بیٹے اور خاندان والے ان کے پا س جمع ہوگئے،انھوں نے خدا وندعالم کی عبادت اور گناہوں سے دوری اختیار کر نے کی تاکید کی ۔

پھر اس وقت اپنے بیٹے شالح سے کہا : میری وصیت قبول کرو اور میرے بعد خا ندان کے درمیان میرے جانشین رہو اور خدا وند رحمان کی اطاعت و عبادت کے لئے قیام کرو ، یہ کہہ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔

شالح کی اپنے بیٹے عابر سے وصیت

شالح کی موت کا وقت جب نزدیک آیا،تو اپنے بیٹے عابر سے وصیت کی اور انھیں حکم دیا کہ قابیل ملعون کی اولاد سے کنارہ کشی اختیار کر یں.یہ کہہ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

گزشتہ فصلوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے کس طرح اپنے دو بیٹے اسمٰعیل و اسحق کو حنفیہ شریعت کی حفاظت کے لئے وصیت فر ما ئی ہے۔ کتاب کی اس جلد میںجو کچھ ہم نے یہاں تک ذکر کیا ہے، جا نشینی اور وصایت سے متعلق اخبار کے سلسلوںکا ایک حصّہ تھا۔

پہلی جلد میں ہم نے پڑھا کہ خدا وند عالم نے موسیٰ کلیم اللہ کو کس طرح حکم دیا کہ یسع بن نون کو اپنی شریعت اور امت پر اپنا وصی بنا ئیں۔


اور حضرت داؤد نے اپنے فرزند سلیمان کو اسی امر سے متعلق وصیت فرمائی اور حضرت عیسی نے اپنے حواری شمعون یا سمعان کو اسی امر کی وصیت کی اور یہ وصیت کا سلسلہ حضرت آدم کے زمانے سے حضرت عیسیٰ کے دور تک یوں ہی جاری و ساری رہا۔

واضح ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دیگر پیغمبروں کی بہ نسبت کو ئی الگ روش نہیں رکھتے تھے اور ان کی سیرت بھی اُن سے جدا اور متفاوت نہیں تھی.لہٰذا آنحضرت نے خدا کے حکم سے اپنے بعد کے لئے اپنے اہلبیت اور عترت سے بارہ وصی معین کئے کہ اُن میںسب سے پہلے ان کے چچا زاد بھائی امیر المومنین ہیں .اور ان میں آخری امام حسن عسکری کے فرزند حضرت مہدی (عج)ہیں۔

اس وصایت سے متعلق مفصل و مشروح اخبار ہمارے ماھر فن بزرگوں کی پانچ کتا ب''اثبات الوصیہ'' میں ذکر ہوئے ہیں کہ ہمارے شیخ اور استاد ''الذریعہ'' کے مؤلف نے ان کا تعارف کر ایا ہے۔اور ہم نے ان کی وصیت سے متعلق بعض روایات واخبار کو ۲۵ صفحہ سے زیادہ میں معالم المدرستین نامی کتاب کی پہلی جلد میں(پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے وارد نصوص کے ذیل میںاپنے بعد ولی امر کی تعیین سے متعلق) ذکر کیا ہے کہ یہاں پر اختصار کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

۱۔ اسلام کی دعوت کے آغاز میں اور آیت( وَانْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الَّاقْرَبین ) کے نازل ہو نے کے بعد پیغمبر اکرم نے جناب عبد المطلب کے فرزندوں کو بلا یا اور انھیں اسلام قبول کر نے کی دعوت دی۔

پھر اُس مہمانی کے اختتام پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب کی گردن پر رکھا اور فرمایا: یہ، تمہارے درمیان میرا بھائی میرا وصی اور جا نشین ہے۔

اس کی اطا عت و فرمانبرداری کرو۔( ۱ )

۲۔ پیغمبر کے دو صحابی سلمان فارسی اور ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

میرا وصی اور میرے راز کا محافظ اور سب سے اچھا شخص جسے میں اپنے بعد اپنا جا نشین بنائوں گا اور وہ شخص جو میرے امور کو انجام دے گا اور میرے قرضوں کو ادا کر ے گا وہ علی بن ابی طالب ہیں۔( ۲ )

____________________

(۱)تاریخ طبری، طبع یورپ، ج۳ ، ص۱۱۷۱؛ اور تاریخ ابن اثیر، ج۲ ،ص ۲۲۲؛ تاریخ ابن عساکر میں امیر المومنین کے حال کی تشریح اور شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید، ج۳ ،ص ۲۶۳ کہ جس میں ا ختصار کے ساتھ نقل کیا گیا ہے.۲۔ سلمان فارسی کی روایت معجم الکبیر میں ،ج۶، ص ۲۲۱ اور مجمع الزوائد، ج۹ ،ص ۱۱۳ .ابو سعید کی روایت علی بن ابی طالب کے فضائل سے متعلق کنزالعمال ،ج۲ ،ص ۱۱۹ کی کتاب فضائل سے.اور طبرانی نے ج ،۲ ،ص ۲۷۱ پر ذکر کیا ہے ؛ ابو سعید بن مالک خراجی متوفّٰی ۵۴ھ کی سوانح حیات استیعاب اور اسد الغابہ اور اصابہ نامی کتاب میں ذکر ہوئی ہے،بعد کے صفحات میں ان تین کتابوں سے متعلق''سہ گانہ کتابوں'' کے عنوان سے نام ذکر کر یں گے.


۳۔ انس بن مالک سے( اختصار کے ساتھ ) روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اُ س سے فرمایا:سب سے پہلا شخص جو اس در سے داخل ہو گا امام المتقین،سید المسلمین،یعسوب الدین اور خاتم الوصیین ہے...اور اسی وقت علی اُس در سے داخل ہوئے۔( ۱ )

۴۔بریدہ صحابی نے کہا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا ہے کہ : ہر پیغمبر کا ایک وصی اور وارث رہا ہے اورعلی میرے وصی اور وارث ہیں.... ..( ۲ )

۵۔ صحیح بخا ری،مسلم اور دیگر منابع و مصادر میں مذکور ہے( ۳ ) (اور ہم بخا ری کی بات کو نقل کرتے ہیں):

پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرما یا:

(یَا عَلی اَنتَ مِنّیِ بِمنزِلة هَارُونَ مِنْ مُوسَیٰ اِلَّا اَنَّه لَا ناَبِیَّ بَعدِی )

اے علی تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے،اس فرق کے ساتھ کہ میرے بعد کوئی پیغمبرنہیں آئے گا۔

۶۔ سنن ترمذی اور مسنداحمد بن حنبل میں مذکور ہے:(اور ہم ترمذی کی بات کو نقل کرتے ہیں)۔( ۴ )

(اِنِّی تَارِِک فِیْکُم مٰا اِنْ تَمَسَّکتُم بهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعدِی ،أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الاّٰخَرِ: کِتاَبَ

____________________

(۱)حضرت امیر امو منین کی سوانح حیات ابن عساکر اور حلےة ا لاولیاء کی پہلی جلد کے صفحہ ۶۳ پر اور زبیدی کی تالیف موسوعۂ اطرف الحدیث عن امجاد سادة المتقین میں ذکر ہوئی ہے، انس بن مالک اور ابو ثمامہ خزرجی کے سال وفات کے بارے میں اختلاف ہے ۹۰ سے ۹۳ ہجری تک ذکر کیا گیا ہے.(۲)ریاض النضرہ میں امام کی سوانح حیات ج۲ ،ص۲۳۴اور تاریخ ابن عساکر۔بریدہ،ابو عبد اللہ بن حدید بن عبد اللہ الاسلمی جنگ احد کے بعد مد ینہ آئے اور دوسری جنگوں میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم رکاب ہوکر شرکت کی. ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے کے لئے سہ گانہ کتابوں کی طرف رجو ع کریں. (۳) صحیح بخاری، ج،۲ ص۲۰۰ باب مناقب علی بن ابی طالب؛ صحیح مسلم،ج۷،ص ۱۲۰ باب فضائل علی بن ابی طالب؛ترمذی، ج ۱۳، ص ۱۷۱،باب منا قب علی ؛ طیالسی،ج۱،ص ۲۸ ۔۲۹، حدیث ۲۰۵، ۲۰۹، ۲۱۳؛ ابن ماجہ؛باب فضائل علی بن ابی طالب ، حدیث ۱۱۵؛ مسند احمد،ج۱، ص ۱۷۰ ،۱۷۳ تا ۱۷۵، ۱۷۷، ۱۷۹، ۱۸۲، ۱۸۴، ۱۸۵ اور ۳۳۰ اور ج ۳،ص ۳۲ اور ۳۳۸ اور ج۶،ص ۳۶۹ اور ۴۳۸؛ اور مستدرک حاکم ،ج۲،ص ۳۳۷؛ طبقات ابن سعد،ج ۳،ص ۱ ،۱۴ اور ۱۵؛ مجمع الزوائد، ج۹ ،ص ۱۰۹ تا ص ۱۱۱ اور بہت سے دیگر منابع و مآخذ.

(۴)سنن ترمذی ،۱۳، ص ۲۰۱؛ اسد الغا بہ، ج۲ ص ۱۲. حضرت امام حسن کی سونح حیات کے ذیل میں. الدرّ المنثور سورۂ شوریٰ کی آیہ مودت کی تفسیر کے ضمن میں ؛مستدرک الصحیحین اور ان کی تلخیص ج۳، ص ۱۰۹. خصائص نسائی ص۳۰ ؛مسنداحمد،۳،ص ۱۷ صدر روایت میں ''انی اوشکُ ان ادعی فاجیب'' ذکر ہے کہ جس کی صفحہ ۱۴، ۲۶، ۵۹ پر بسط و تفصیل کے ساتھ شرح کی گئی ہے طبقات ابن سعد ج۲، ق۲، ص۲؛ کنز العمال،ج۱ ص ۴۷ اور ۴۸ اور اس کے صفحہ ۹۷ پر اختصار کے ساتھ مذکور ہے۔


اللّٰهِ حَبل مَمدُوْد مِنَ السَّمٰائِ اِلیٰ الَٔارضِ،وَ عِترتِی أَهلَ بَیْتیِ،وَلَنْ یَتَفَرَّقاَ حَتّیٰ یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوضَ،فَانْظُرُوْا کَیْفَ تَخْلَفُو نَنِی فِیهِمَا )میں تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر ان سے متمسک رہے،تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور ان میں سے ایک دوسرے سے عظیم اور گرانقدر ہے ایک خدا کی کتاب جو آسمان سے زمین کی طرف کھینچی ہوئی رسی ہے اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہلبیت.یہ دو ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں.غور کرو کہ ان دو کے بارے میں میری وصیت کا کیسے پاس و لحاظ رکھو گے۔

اور یہ بھی ارشاد فرما یا:

(لَا یَزالُ هَٰذَا اَلدِّیْنُ قَائِماً حَتّیٰ تَقُومَ السَّاعَةُ أَوْ یَکُونَ عَلَیْکُمْ اِثْنَاعَشَرَ )

یہ دین قیامت کے دن تک،یا اُس وقت تک جب تک کہ تم پر بارہ آدمی امامت کریں گے ہمیشہ برقرار رہے گا۔

ایک دوسری روایت میں مذکور ہے:

(لاٰ یَزٰالُ اَمَرُ الَنََّاسِ مَاضِیاً اِلیٰ اِثْنٰی عَشَرَ )

لوگوں کا کام ہمیشہ بارہ آدمیوں پر ثابت واستوار رہے گا ۔

اس کے بعد دوسری روایت میں فرما یا:

ثُمّ یَکُون المَرج وَالهَرج

(ائمہ معصومین علیھم السلام اور حضرت صاحب الزمان( عج )کا دور گزرنے کے بعد ) پھر دنیا تباہی و بربادی اورہرج ومرج کا شکار ہو جائے گی اور آخری زمانے کا فتنہ ظاہر ہو گا۔

اور ایک دوسری روایت میں ہے:

فَاذَا هَلکُوا مَاجت الَٔا رضُ بَأهِلهَا

اور جب تمام ائمہ آکر کے گزر جائیں گے تو زمین اور اس کے باشند ے اضطراب اور بے چینی کا شکار ہو جائیں گے۔

ایک دوسری روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا ہے کہ ان کی تعداد بنی اسرائیل کے نقباء کے برابر بارہ افراد پر مشتمل ہے ۔یہ روایات اہلبیت پیغمبر کے بارہ ائمہ کے علاوہ کسی اورپر صادق نہیں آتی ہیں ؛ ایسے امام جن کے آخری فرد کی عمر خدا نے طولا نی کر دی ہے اور اُن کے بعد دنیا نابود ہوجائے گی۔

چونکہ مکتب خلفاء کے علماء ائمہ اہلبیت علیھم السلام کے معتقد نہیں ہیں لہٰذا ان روایات کی تفسیر میں حیران و سرگرداں ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اس کے معنی اور تاویل کرنے سے عاجز و بے بس ہیں۔


پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدان کے بارہ اوصیائ

ہم یہاں پر ان بارہ افراد کے اسماء بیان کررہے ہیں جن کے ناموں کی تصریح پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دوسری روایات میں فرمائی ہے۔

پہلے وصی حضرت علی بن ابی طالب امیر المو منین ، وصی رسول ربّ رلعالمین۔

دوسرے وصی حضرت حسن بن علی سبط اکبر.

تیسرے وصی حضرت حسین بن علی سبط اصغر ، شہید کربلا.

چوتھے وصی حضرت علی بن الحسین سجاد ، زین العابدین

پانچویں وصی حضرت محمد بن علی باقر.

چھٹے وصی حضرت جعفر بن محمدں صادق.

ساتویں وصی حضرت موسی بن جعفر کاظم.

آٹھویں وصی حضرت علی بن موسیٰ رضا.

نویں وصی حضرت محمد بن علی جواد ، تقی.

دسویں وصی حضرت علی بن محمد ہادی، نقی.

گیارھویں وصی حضرتحسن بن علی عسکری.

بارھویں وصی حضرت محمد بن الحسن مھدی،حجت اور منتظر.

اس طرح سے حضرت آدم سے خا تم ا لانبیاء صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تک وصی کی تعیین کا سلسلہ چلا ہے۔


دوسرے:

یہ کہ ہم نے اس کتاب میں دیکھا کہ اللہ کی حجتوں کے درمیان ''انوش'' نے زمین پر کھجور کا درخت لگا یا ، زراعت کی اور زمین میں بیج بویا اور زمین کی آباد کاری میں مشغول ہوئے اور اپنے فرزند قینان کو نما ز قائم کرنے،زکاة ادا کر نے،خانہ خدا کا حج کر نے اور قابیلیوں سے جہاد کر نے کا حکم دیا اور خود بھی باپ کے حکم کی تعمیل کی اور اس کو کمال کے تمام مراحل تک کامیابی سے ہمکنارکیا ۔

اور''یرد'' کو دیکھتے ہیں کہ استخراج معادن اور شہر کی تعمیر میں مشغول ہوئے ہیں،مسجدیں بنانے مضر درندوں کے قتل کر نے اور گائے بھیڑ کے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔

ادریس وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے سوئی سے خیاطی(سلائی) کی ہے اور وہ پہلے انسان ہیں جنھوں نے قابیل کی اولاد کو قید کیا اور انھیں اپناغلام بنا یا ، وہ علم نجوم میں ماہر تھے.اور بارہ برجوں اور آسمانی سےّاروں میں سے ہر ایک کا مخصوص نام رکھا ہے۔

متوشلح بھی شہروں کی تعمیر کی جانب متوجہ ہوئے ہیں وہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اونٹ کی سواری کی ہے۔

یہیں سے ہم درک کرتے ہیں کہ جو لوگ خدا کی طرف سے اسلام کی تبلیغ پر مامور تھے وہ اپنے زمانے میں بشری تمدن کے بھی راہنما تھے ، لوگوں کی ہدایت کے بارے میں عیسائیوں کے دعوے کے برخلاف صرف ان کی عبادت کی کیفیت اور طریقوں پر اکتفا نہیں کیا ہے ۔

تیسرے :

عصر فترت میں پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد کو دیکھتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند اسمٰعیل کی دعا کے مصداق تھے جیسا کہ ان دونوں حضرات نے سورۂ بقرہ کی ۱۲۸آیت کی نقل کے مطابق بارگاہِ خدا وندی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا یا :

( رَبََّنَا وَاجْعَلْنَامُسْلِمَینِ لَکَ وَ مِن ذُرِّیَّتِنَا اُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ... )

خدا یا! ہمیں اپنا مسلم مطلق قرار دے اور ہمارے فرزندوں کو بھی ایسی امت قرار دے جو تیرے سامنے خاضع اور سراپا تسلیم ہوں۔


انھیں میں سے ''خزیمہ بن مدرکہ'' بھی تھے کہ فرما تے تھے:

مکّہ سے احمد نامی پیغمبر کے خروج کا زمانہ قریب ہے اس کی خصو صیت یہ ہو گی کہ لوگوں کو خدا کی عبادت اور پرستش کی دعوت دے گا لہٰذا اس کی پیروی کرنا اور اس کی تکذیب نہ کر نا کہ وہ جو کچھ پیش کریگا وہ حق ہے۔

''کعب بن لؤی'' بھی کہتے تھے آسمان وزمین بیکار خلق نہیں کئے گئے ہیں اور دار آخرت تمہارے سامنے ہے، وہ لوگوں کو مکارم اخلا ق کی دعوت دیتے تھے اور کہتے تھے؛ اللہ کے پر امن حرم سے خاتم الانبیائ، اس امر کے لئے جس کی موسیٰ اور عیسیٰ نے خبر دی ہے مبعوث ہوں گے۔

اور اس طرح فرما تے تھے''اچانک خدا کے پیغمبر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پہنچ جائیں گے جب کہ تم غافل ہوگے ...'' پھر کہتے تھے : اے کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا اور پیغمبر کی دعوت و بعثت کو درک کرتا۔

اور جب''عمر وبن لحیّ'' ''ہبل'' نامی بُت کو مکّہ لایا اور بُت پر ستی عام ہو گئی تو،یہ ''قُصیّ'' تھے کہ بُت پرستی کو مردود سمجھتے ہوئے لوگوں کو خدا کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے. انھوں نے حج کے شعائر کو جو کہ ابراہیم کے دین حنیف کے بنیادی جز میں شامل تھے قائم رکھا اور مکّہ والوں کی مدد سے حجاج کو کھانا کھلانے اور ان کی مہمان نوازی کے لئے قدم اٹھا یا۔

ان کے بعد یہی ذمّہ داری ان کے فرزند ''عبد مناف'' نے سنبھالی اور انہوں نے قریش کو تقوائے الٰہی اور صلہ رحم کی رعایت کا حکم صادر کیا۔

ان کے فرزند ''جناب ہاشم'' بھی حجاج کو کھانا کھلانے اور مہمان نوازی کے لئے اٹھے، انھیں نے مکّہ میں اپنے مدد گاروں سے کہا: تمھیں اس گھر کی حر مت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم لوگ اس امر کے لئے صرف اور صرف حلال مال مخصوص کرو اور خبردار وہ مال جوغصبی ہو، زور زبردستی سے چھینا گیا ہو اور قطع رحم کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہوا یسے مال کو اس محترم کام کے لئے ہرگز مخصوص نہ کرنا۔


یہ جناب ہاشم ہی تھے کہ جنھوں نے جاڑے اور گرمی میں دو تجارتی سفر کی،شام اور ایران، یمن اور حبشہ کی جانب بنیاد ڈالی۔

ان کے فرزند'' جناب عبد المطلب'' نے بھی اپنے آباء و اجداد کی را ہ و روش اپنائی.ان کے بارے میں اس طرح کہا گیاہے:

وہ قلبی اعتبار سے توحید اور روز قیامت پر اعتقاد رکھتے تھے،خدا وند عالم نے زمزم نامی کنویں کی کھدائی ان کے ہاتھوں کرائی .اور جب ابرھہ اپنے لشکر کے ساتھ کعبہ کو منہدم کر نے کے لئے مکّہ آیا تو اُس سے جناب عبد المطلب نے کہا: اس گھر کا ایک مالک ہے جو تجھے روک دے گا پھر اُس وقت خدا سے رازو نیاز کرتے ہوئے اس طرح شعر پڑھا:

یا ربِّ فان المرئَ یمنع

رحله فامنع رحالک

''خدایا! ہر شخص اپنے گھر کا دفاع کر تا ہے،لہٰذا تو بھی اپنے گھر کا دفاع کر''۔

ابرھہ اور اس کے سپا ھیوں کے مکّہ پر حملہ کر نے کے بعد قریش فرار کر گئے اور جناب عبد المطلب اور ان کا گھرانہ تنہا وہاں رہ گیا۔

اور جب خدا نے ابرھہ کے لشکر کو نیست و نابود کر دیا تو اس طرح شعر پڑھا:

طارت قریش اذ رات خمیساً

فظلت فرداً لَا اری انیسا

''جب قریش کی نظر ابرھہ کے لشکر پر پڑی تو داہنے بائیں سے فرار کر گئے اور میں تن تنہا بے یارو مددگار باقی رہ گیا''

''ہم قدیم ا لایام ہی سے آل اللہ تھے اور حضرت ابراہیم کے دور سے اب تک ایسا ہی ہے۔

ہم نے قوم ثمود کو درمیان سے اکھاڑ پھینکا اور اس سے پہلے شہر ارم والی قوم عاد کو۔

ہم خدا کے عبادت گزار ہیں، صلۂ رحم اور عہد وپیمان کا پاس ولحاظ رکھنا ہماری سنت ہے۔

ہمیشہ خدا کی ہمارے درمیان ایک حجت (راہنما) رہی ہے کہ خدا وند عالم اس کے ذریعہ بلاؤں کو ہم سے دور کر تا ہے'' ۔

شیبة الحمد (جناب عبد المطلب) ان اشعار میں فر ماتے ہیں:


جب قریش نے ابرھہ کے لشکر کو دیکھا تو پرندوں کی طرح ہر جانب سے فرار کر گئے اور میں تن تنہا بے مونس و یاور حرم میں باقی رہ گیا. عبدا لمطلب کی یہ بات اس ایمان اور اطمینان کی عکاسی کر رہی ہے جو ایمان وہ خدا پر رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ خدا ابرھہ کو حرم میں داخل نہیں ہونے دے گا اور اسے تباہ و برباد کردے گا. وہ اور ان کا گھر انہ حضرت ابراہیم کے زمانے سے آل اللہ ہیں اور اس بات کا مخلوق میں خدا کی حجت کے سوا کوئی مصداق نہیں ہوسکتا. کیو نکہ خدا کی یہی حجتیں تھیں کہ ثمود اور عاد قبیلہ کو ارم اور اس کے ستونوں کے ساتھ ویران کر دیا اور چونکہ ہود اور صالح جناب عبد المطلب کے اجداد کے سلسلے میں نہیں ہیں اور ان دو پیغمبروں کی قومیں قریش سے نہیں تھیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب عبد المطلب کی یہ بات کہ '' ہم نے قوم ثمود اور عاد کو اپنے درمیان سے اکھاڑ پھینکا '' اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کی حجتوں نے کہ اُن میں سے ایک جناب عبد المطلب بھی تھے ثمود اور عاد کو اپنے درمیان سے اکھاڑ پھینکا، پھر خدا نے اس وقت ان کی دعا سے ابرھہ کو نابود کر دیا. اور اُن کا یہ کہنا کہ ''ہمیشہ ہمارے درمیان خدا کی حجتیں رہی ہیں کہ خدا ان کے ذریعہ ہم سے بلاؤں کو دور کرتا ہے'' یہ اس بات کی تاکید ہے کہ اپنے زمانہ میں وہ خود ہی خدا کی ایک حجت تھے،جیسا کہ حضرت ہوداور حضرت صالح اور حضرت ابراہیم اپنے زمانے میں خدا کی حجت تھے۔

جب پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے،تو جناب عبد المطلب نے اپنے شعر میں کہا کہ ان کے پوتے کا نام آسمانی کتابوں میں''احمد'' ہے جیسا کہ خدا نے عیسیٰ بن مریم کی زبان سے فرما یا:

( وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَاتِی مِنْ بَعدِی اِسْمُهُ اَحْمَدُ )

میں اپنے بعد آنے والے پیغمبر کی تمھیں بشارت دے رہا ہوں جس کا نام احمد ہو گا۔

اور جب پیغمبر کی دایہ حلیمہ سعدیہ نے جناب عبد المطلب کوان کے مکّہ کے پہاڑوں میں گم ہو جانے کی خبر دی، توجناب عبد المطلب نے اپنے ربّ سے خطاب کر کے کہا:

''خدایا! محمد کو کہ تو نے خود ہی اس کا نام محمد رکھا ہے ہمیں لو ٹا دے''۔


یہ تمام باتیں اس بات کی عکاسی کر رہی ہیں کہ عبدا لمطلب ان لو گو میں سے تھے جو اپنے سے قبل کی آسمانی کتابوںکے بارے میں آگاہی رکھتے تھے ؛ اور یہ مکّہ جیسے جہالت سرشت شہر اور قریش کی طرح جاہل لوگوں میں ممکن نہیں ہے مگر یہ کہ اس بات کو قبول کر یں کہ وہ کتابیں اُن کے اختیار میں تھیں اور جناب عبد المطلب سلسلۂ اوصیاء ابراہیم اور اسمٰعیل کی ایک کڑی ہیں۔

اوریہ بھی کہ جناب عبد المطلب صلۂ رحم کی رعایت ، محتاجوں کو کھانا کھلانے ، ظلم وستم نہ کرنے اور سر کشی و طغیانی نہ کرنے کا حکم دیتے تھے اور کہتے تھے:

کوئی ستمگر دنیا سے نہیں جا تا مگر یہ کہ وہ اپنے ظلم وستم کی سزا بھگت لے اور کہتے تھے: خدا کی قسم اس دنیا کے بعد پاداش اعمال کی ایک جگہ ہے. جہاں اچھے یا بُرے کاموں کی جزا یا سزا ملے گی۔

جناب عبد المطلب نے نذر پوری کرنے، چور کاہاتھ کاٹنے،محارم سے شادی کر نے کی ممانعت اور لڑکیوں کو زندہ در گور کر نے سے روکنے کی سنت قائم کی ۔

اور شراب پینے،زنا کر نے اور برہنہ خانہ خدا کے ارد گر د طواف کر نے سے روکا ہے۔( ۱ )

یہ سب کچھ خاتم الانبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت میں مذکورہے ۔

خدا وند عالم نے مکّہ والوں کے لئے جناب عبد المطلب کی طلب باراں سے متعلق دعا مستجاب کی ہے. وہ ہر سال ماہ رمضان میں غار حرا میں عبادت کے لئے جاتے تھے؛ جناب عبدالمطلب نے تمام قریش (بالخصوص جناب ابو طالب) کو پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رعایت کی تاکید فرمائی ۔

____________________

(۱) دور جاہلیت میں بعض افراد، اپنے لباس میں اس بہا نے سے طواف نہیں کرتے تھے کہ انھوں نے اس لباس میں گناہ کیا ہے لہٰذا طواف کے موقع پر یا مکّہ والوں سے عارےةً لباس مانگتے تھے یا عریاں کعبہ کا طواف کر تے تھے.


آیات کی تفسیر میں عبرت کے مقامات

خداوندعالم نے بنی اسرائیل کو ان کے زمانے میں تمام عالم پر ان کو فو قیت و بر تری عطا کی اُس وقت جب فرعون اور فرعون کے ماننے والوں نے ان کے لڑکوں کے سر کاٹ کر اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ کر بدترین عذاب سے انھیں دو چار کیا تو اس نے انھیں نجات دی اور سارے عالم پر انھیں بر تری عطا کی اور دنیا میں عظیم فوقیت اور رفعت کا مالک بنا یا۔

اسی طرح اُن کے لئے دریا کو شگافتہ کیا اور اس کے درمیان خشکی کا راستہ پیدا کیا تا کہ وہ عبور کر سکیں اور اس نے انھیں عبور کرایا. فر عون اور اس کے سپا ہیوں نے ان کا پیچھا کیا اور اسی خشکی کے راستہ پر قدم رکھا جس سے بنی اسرائیل آگے گئے تھے اور بنی اسرائیل کی آخری فرد کے باہر آتے ہی دریا آپس میں مل گیا اور خدا نے فرعون اور اُس کے سپا ہیوں کو بنی اسرائیل کی نگاہوں کے سامنے غرق کر دیا. پھر فرعون کی لاش کو پانی کی سطح پر لے آیاکہ آج تک مصر کے میوزیم میں سالم موجود ہے اور دنیا والوں کے لئے عبرت کا سامان ہے۔

بنی اسرائیل اُسی طرح آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بتوں کی پو جا کررہی ہے،تو پھر انھوں نے موسیٰ سے کہا:''ہمارے لئے بھی ان کی طرح کو ئی خدا قرار دو''موسیٰ نے اُن سے کہا:ان کی روش لغو اور باطل ہے۔

آیا اس خدا کے علاوہ کہ جس کانام جلیل ہے اور اُس نے تم کو سارے عالم پر برتری و فو قیت عطا کی ہے کوئی دوسرا خدا تلاش کروں؟!

اس کے بعد خدا نے بنی اسرائیل سے فرمایا:( اسکنوا الارض )

اس سر زمین کو اپنے تصرف میں قرار دو یہ اس حال میں خطاب تھا جب کہ ان کی ایک عمر فرعون کی غلامی میں گذرچکی تھی حتیٰ کہ اپنے مالک و مختار بھی نہیں تھے چہ جائیکہ وہ کسی زمین کے تمام خصوصیات و امتیازات کے ساتھ مالک ہوں۔

اور خدا وند عالم نے بادل کو ان کے سر پر سایہ فگن قرار دیا اور آسمانی غذائیں(من وسلویٰ) انھیں کھلائیں کہ سلویٰ سب سے عمدہ گو شت کو شامل ہے اور منّ اصلی اور خالص شکر کو شامل ہے.ایسی حالت میں انھوں نے موسیٰ سے کہا! اے موسیٰ ! ہم ایک قسم کی غذا پر اکتفاء نہیں کر سکتے.اپنے ربّ سے کہو کہ ہمیں زمین کی پیدا شدہ چیزیں، دانے، لہسن، پیاز، مسور کی دال وغیرہ سے نوازے کہ موسیٰ نے ان سے کہا: کسی ایک شہر میں داخل ہو جاؤ وہاں تمہاری آرزوئیں پوری ہو جائیں گی۔


اسی طرح خداوند عالم نے انھیں سارے عالم پر برتری دی ،جب موسیٰ نے انھیں بارہ قبیلوں میں تقسیم کیا اور خدا کے حکم سے اپنا عصا پتھر پر مارا تو پانی کے بارہ چشمے اُس سے پھوٹ پڑے اور ہر قبیلہ نے اپنی اپنی پینے کی جگہ مخصوص و معین کر لی اور ہر ایک نے اپنی اپنی پیاس بجھائی۔

خداوند جل جلالہ نے موسیٰ سے ۳۰شب کا وعدہ کیا کہ طور سینا پر جائیں تاکہ توریت جو کہ بنی اسرائیل کے لئے قوانین اور شریعت پر مشتمل ہے ،انھیں عطا کرے.خدا نے اس وعدہ کو دس دن مزید بڑھا دیا اور اس کو چالیس دن میں کامل کر دیا لیکن اس مدت میں سامر ی نے (۱ )حضرت موسیٰ کے طور سینا پر مناجات کے لئے جانے کے بعد قوم بنی اسرائیل کو گمراہ کر دیا.اُس نے ان کے سونے کے زیورات سے ایک گو سالہ بنایا اور جو خاک وہ اپنے ساتھ لئے ہوئے تھا وہ حضرت جبرئیل کے قدموں کی خاک تھی اسے گو سالہ کے منھ میں ڈال دیا نتیجہ یہ ہوا کہ اس میں ہوا پھونکنے سے گوسالہ کی آواز نکلتی تھی. سامری نے اُن سے کہا؛ یہ تمہارا اور موسیٰ ـکاخدا ہے!! تو ہارون نے ان سے کہا! تم لوگ اس کے ذریعہ امتحان اور آزمائش

____________________

(۱) سامری شمرونی کا معرّب ہے جس طرح کلمہ عیسیٰ کہ یشوع جو کہ عبری زبان کا لفظ ہے، اس سے معرّب ہوا ہے. شمرونی شمرون کی طرف منسوب ہے( جو کہ اسباط بنی اسرائیل میں سے یساکا ر کا چوتھا بیٹا ہے). اس کے لئے قاموس کتاب مقدس میں لفظ شمرون ملاحظہ ہو.


میں مبتلا ہوگئے ہو.تمہا را ربّ خدا وند رحمن ہے. انھوں نے جواب دیا : جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس نہیں آجاتے ہم اس گوسالہ کی پو جا نہیں چھوڑیں گے۔

خدا وندعالم نے بنی اسرا ئیل کی اس کارستانی کی موسیٰ کوخبر دی،پھر موسیٰ انتہائی افسوس اور غم و غصّہ کے ساتھ ان کے پاس واپس آئے اور اپنے بھائی ہارون کو زجروتو بیخ کی، ہارون نے کہا: اے بھائی! اپنا ہاتھ میرے سراور داڑھی سے ہٹالو. اس قوم نے مجھے چھوڑ دیا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کرڈالیں۔

پھر جب بنی اسرائیل اپنی خطا پر نادم و پشمان ہوئے تو خداوند سبحان نے ان کی توبہ قبول کی اس شرط کے ساتھ کہ جو لوگ گوسالہ پرستی میں مشغول ہوگئے تھے وہ خود کو خداپرستوں کے حوالے کر دیں تا کہ انھیں قتل کیا جائے جب ان لوگوں نے اس فرمان کو قبول کیا اور امر خدا وندی کے سامنے سراپا تسلیم ہوگئے، تو خدا وند منّان نے انھیں معاف کر دیا.لیکن تعجب ہے کہ اُس کے بعدبھی موسیٰ سے خواہش کی کہ انھیں بھی اپنے ہمراہ ربُّ العزت کی وعدہ گاہ تک لے جائیں اور وہ خود ان کو خدا سے کلام کرتے ہوئے دیکھیں۔

اس وجہ سے موسیٰ نے اُن میں سے ستر افراد کو چُنا.جب وہ لوگ میقات (وعدہ گاہ) پر پہونچے تو کہنے لگے کہ : ہم خدا کو آشکار طور پر دیکھنا چاہتے ہیں! لہٰذا (جیسا وہ خیال کر تے تھے) اسی اثناء میں ایک بجلی نے انھیں اپنے لپیٹ میں لے لیا(اور اسی جگہ مرگئے) کہ خدا وند عالم نے دوبارہ انھیںموسیٰ کی درخواست پر حیات دی.پھر اس طرح سے یہ لو گ توریت پر(جسے خدا وند سبحان نے چراغ ہدایت قرار دیا تھا تاکہ ان کے انبیاء اس کے مطابق حکم کریں) ایمان لائے ۔

موسیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ یاد دلانے کے بعد کہ خدا وند عالم نے ان پر کیا کیا نعمتیں نازل کیں ہیں اوران کے ذریعہ سے انھیں عالمین پر فضیلت دی ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے میری قوم!مقدس سرزمین (سر زمین شام) کہ خدا وند عالم نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے داخل ہو جاؤ۔

انھوں نے کہا: اے موسیٰ ! وہاں ایک ستمگراور سرکش قوم رہتی ہے،ہم وہاں اُس وقت تک قدم نہیں رکھ سکتے جب تک کہ وہ وہاں سے باہر نکل نہ جائیں اور جیسے ہی وہ باہر جائیں گے ہم وہاں داخل ہو جائیں گے۔


اُس وقت ان کی قوم کے دو دانشوروںنے اُن سے خطاب کر تے ہوئے کہا: دروازہ سے اُن کے سامنے وارد ہو ، کہ تمہارے داخل ہو جانے ہی سے تمہاری کامیابی ہو جائے گی اور اگر مومن ہو تو خدا پر توکل اور بھروسہ کرو۔

قوم نے کہا: اے موسیٰ ! جب تک کہ وہ وہاں ہیں ہم ہر گز وہاں داخل نہیں ہو گے. لہٰذا تم خود اور تمہارا خدا چلے جاؤ.اور اُن سے جنگ کرو ہم یہاں بیٹھ کر انتظار کر رہے ہیں!!

اس کا جواب دیتے ہوئے خدا وند سبحان نے فر مایا:

( فَاِ نَّهَا مُحَرَّ مَة عَلَیْهِمْ اَرْبَعِینَ سَنَةً یَتِیْهُونَ فِیْ الْاَرْضِ فَلَا تٔاسَ عَلٰی الْقَوِمِ الْفَاسِقِینَ )

چالیس سال تک ان کا اس سر زمین پر تصرف کر نا حرام ہے،وہ لوگ اتنی مدت تک سینا کے جنگلوں میں اسی طرح حیران و سرگرداں رہیں گے اور تم اے موسیٰ ! ستمگروں کے لئے اپنا دل نہ جلاؤ.اور ان کی خاطر رنجیدہ نہ ہو۔

یہ سب حضرت موسیٰ کے زمانے میں بنی اسرائیل کی بعض داستان ہے. لیکن جو کچھ اس قوم سے موسیٰ کے بعد سرزد ہوا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ:

اُن میں سے بعض نے دریائے سرخ کے کنارے سکونت اختیار کر لی .اور مچھلی کا شکار کر نے لگے (قضاء الٰہی سے دریا کی مچھلیاں شنبہ کو بہت زیادہ ساحل کے کنارے آتی تھیں اور خدا نے انھیں شنبہ کو شکار کرنے سے ان کے سرکش نفس کی ریاضت و تزکیہ کے لئے منع کر دیا تھا). ان لوگوں نے اس ممانعت کی مخالفت کی اور سنیچر کے دن مچھلی کا شکار کر نے لگے ،نتیجہ کے طور پر خدا نے انھیں بندر کی شکل میں مسخ کر کے ہلاک کر ڈالا۔

خداوند منّان نے حضرت موسیٰ کے اوصیاء کے درمیان حضرت داؤد کو قرار دیا اور ان کو زبور عطاکی ، جب داؤد زبور کی تلا وت کر تے اور تسبیح خدا وندی کی آواز بلند کر تے تو اُن کی خو ش الحانی پہاڑوں میں اس طرح گونجتی کہ پر ندے تسبیح میں ان کے ہم آواز ہو جاتے.خدا وند عالم نے ان کے ہاتھ میں لوہا نرم بنا دیا تھا تا کہ اُس سے زرہ بنائیں پھران کے بعد حضرت سلیمان کو قرار دیا اور ہوا کو اُن کے اختیار میں دے دیا تا کہ اُن کے حکم کے مطابق وہ جہاں چاہیں حر کت کرے.اسی طرح جنّاتوں کو جو دریا میں غوّاصی پر مامور تھے تاکہ ان کے لئے اندر سے گوھرنکال لائیں اور عبادت خانے،مجسمے،محرابیں اور حوض کے برابر پیا لے اور بڑی بڑی ثابت دیگیں یعنی جو قابل نقل و انتقال نہ ہوتی تھیں حضرت سلیمان کے لئے بناتے تھے۔


خدا وند منان نے انھیںحیوانوں کی زبان سکھائی اس طرح سے کہ چیونٹی کی گفتگو درک کرلی اور ھدھد نے تخت بلقیس کے بارے میں انھیں باخبر کیا اور ان کے ملازموں میںاُس شخص نے جسے کتاب کا تھوڑا سا علم تھا یمن سے چشم زدن میں تخت بلقیس شام میں حاضر کر دیا۔

ملا ئکہ ان کے خد مت گزار تھے اور جنوں میں جو حضرت سلیمان کے حکم کی نافرمانی کر تا تو اسے عذاب کے تازیانہ سے تنبیہ کر تے تھے ۔

جنّات حضرت سلیمان کے مرنے کے بعد اسی طرح اپنی فعّالیت اور ماموریت پر لگے ہوئے تھے یہاں تک کہ دیمک نے اُن کے عصا کو کھوکھلاکر دیا اور سلیمان زمین پر گر پڑے۔

یہ تمام موارد(مقامات) بنی اسرائیل اور ان کے پیغمبروں کے درمیان استثنائی صورت کے حامل تھے، منجملہ ان استثنائی حالا ت کے حضرت موسیٰ کے زمانے میں ایک واقعہ یہ تھا کہ ایک مقتول کے قاتل کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو گیا تو خدا نے انھیں حکم دیا کہ ایک گائے کا سر کاٹیں اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑااس مقتول کے جسم پر ماریں، جب انھوں نے ایسا کیا تواس کے زیر اثر خدا نے اس مقتول کو زندہ کردیا اور حقیقت امر آشکار ہو گئی۔

منجملہ ان داستانوں کے ''عزیر'' اور ''ارمیا''کی بھی داستان ہے کہ ایک ایسے ویران گاؤں سے ان کا گذر ہوا جس کی دیواریں اور چھتیں گر چکی تھیں اوروہاں کے رہنے والے سب مر چکے تھے اور درندے ان کے جسموں کو کھا چکے تھے، توحیرت سے کہا:خداوند عالم ان مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ ! خدا نے انھیں ایک سو سال مردہ رکھا پھر دوبارہ زندہ کیا صبح کے وقت ان کی روح قبض کر لی اور شام کے وقت ان کی زندگی واپس کر دی( یعنی جسم میں جان ڈال دی) ایک فرشتہ نے اُن سے پو چھا کتنی دیر تک سوتے رہے؟

عزیرنے آسمان اور سورج کی طرف نظر کی تو وہ ڈوبنے ہی کے قریب تھا اور کہا:(میر ے خیال میں) ایک دن یا اس کا ایک حصّہ سویا رہا۔

فرشتہ نے کہا:بلکہ تمہارے سونے کی مدت ایک سو سال ہے! اپنی غذا(انجیر،انگور) اپنی پینے کی چیز (انگور کے رس) کی طرف نظر ڈالو اوردیکھو ،کہ اتنے سالوں کے بعد بھی ان میں کو ئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اب اپنے گدھے کی طرف دیکھو کہ اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر تتر بتر اور نابود ہوگئیں ہیں!


پھر اس وقت خداوند عالم نے پراگندہ جسموں کو ایک دوسرے سے متصل کیا اور ان پر گوشت چڑھا یا اور انھیں زندہ کر دیا تو عزیرکو معلوم ہو گیا کہ کس طرح خدا مردہ کو زندہ کر ے گا اور جب ا نھوں نے ایسا دیکھا تو کہا :مکمّل طور پر مجھے معلوم ہو گیا کہ خدا ہر چیز پر قادر و تواناہے۔

حضرت موسیٰ کے بعد استثنائی داستانوں میں حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا جیسے پیغمبروں کی بھی داستان ہے۔

حضرت زکریا خدا کو پکار کر کہتے ہیں: خدا یا! میری ہڈیاں بو سیدہ ہوگئیں(کمزور ہوگئیں) ہیں اور میرے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں اور میری بیوی بانجھ ہے، اپنے بعد اپنے وارثوں سے خائف اور ہرا ساں ہوں تو خود ہی مجھے ایک جانشین عطاکر جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔

توخدا وند عالم نے انھیں یحییٰ کی خوشخبری دی ایسے نام کے ساتھ کہ اُس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا اور خدا نے ان کے بچپنے ہی میں انھیں کتاب اور قضاوت عطا کی ۔

سب سے زیادہ مشہور ان کی استثنائی داستان خدا کے پیغمبر حضرت عیسیٰ کی ان کی ماں مریم کے ذریعہ بن باپ کے ولادت کی خبر ہے.اور اپنی قوم سے گہوارہ میں ان کا کلام کر نا اور یہ کہناکہ خدا نے انھیں کتاب و حکمت عطا کی ہے. اور ان کا مٹی سے ایک پرندہ کا پیدا کر نا اور کوڑھی، کور مادر زاد کو شفا دینا ،مردوں کو زندہ کر نا اور حضرت عیسیٰ کی شکل وصورت میں ان کی مخبری کرنے والے بدخواہ کو تبدیل کر نا تا کہ عیسیٰ کی جگہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا جا ئے.خدا نے حضرت عیسیٰ کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندی پر بلا لیا اور اب تک اسی طرح انھیں زندہ رکھا ہے تا کہ انھیں آخری زمانے میں زمین میں حضرت بقےة اللہ الاعظم مہدی صاحب الزمان کے پاس لوٹا دے۔

اسی طرح بنی اسرائیل کے انبیاء کے لئے بھی استثنائی حالات کا سراغ رکھتے ہیں کہ اُن سے پہلے کسی ایک پیغمبر میں بھی نہیں دیکھا ہے، جیسے وہ سب کچھ جو حضرت سلیمان کو دیا گیا، جنّاتوں کا ان کے لئے کام کرنا، یا بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کا پیدا ہو نا اور خدا کی اجازت سے ان کا مٹی سے پرندہ خلق کر نا۔


اور ہم کسی قوم کو بنی اسرائیل سے زیادہ سنگدل قوم نہیں جانتے.وہ نہایت بدطینت لو گ تھے جنھوں نے اپنے پیغمبر سے نہ گانہ معجزات اور آیات دیکھے اور اس کا مشاہدہ کیا کہ اُس نے انھیں دریا کے بارہ خشکی راستوں سے گذارا اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا. خدا وند منّا ن نے انھیں پو ری تاریخ انسانیت میں بے مثال معجزے کے ذریعہ نجا ت دی لیکن جیسے ہی اُن کی نظر بتوں پر پڑی تو اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں: اے موسیٰ! ہمارے لئے ان کے بُتوں کے مانند بُت سے ایک خدا بناؤ!!

یا جب ان کے پیغمبر ان کے عمل کے لئے شریعت لا نے گئے تو گوسالہ پر ستی میں مشغول ہوگئے!!

یہ سب ان کے ناپسندیدہ اور بُرے صفات کے نمونے ہیں کہ جن کے ذریعہ ایسا طرز تفکراور ایسی روش دکھائی دیتی ہے جو ان سے مخصوص تھی اور گزشتہ یا ان کے بعد کی امتوں میں نہیں پائی گئی ہیں۔

ان کے دشمن بھی ایسے ہی تھے؛ جیسے فرعون اور اس کے درباری اور وہ اقوام اور امتیں جو اُس زمانے میں سر زمین شام کی ساکن کہلاتی تھیں اور وہ اُن سے جنگ پر ما مور ہوئی تھیں۔

ان تمام استثنائی حالا ت اور مواقع کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ دیگر امتوں کی بہ نسبت استثنائی اور خصوصی احکام کی احتیاج رکھیں. انھیں موارد(مقامات) میں کعبہ سے بیت المقدس کی طرف قبلہ کا تبدیل ہو ناہے اور ان تمام چیزوں کی تحریم جنھیں اسرائیل( یعقوب پیغمبر ) نے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں اور چونکہ بعض خصوصی حالات ان امتوں کے نابود ہو جانے کی وجہ سے کہ جن سے ان کی سرزمین میں انھوں نے جنگ کی تھی.حضرت عیسیٰ بن مریم کے زمانے میں ختم ہوچکے تھے. لہٰذا،خداوند عالم نے اُن کے کچھ محرمات جواُن پر حرام کر دیئے تھے حلال کر دیئے۔

اور چو نکہ حضرت ختمی مرتبت صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ان تمام استثنائی مواقع اور خاص حالات کا خاتمہ ہو چکا تھا،لہٰذا استثنائی احکام اور ان سے مخصوص قوانین بھی درمیان سے اٹھا لئے گئے ؛ چنانچہ خدا وند متعال سورۂ اعراف کی ۱۵۷ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

( اَلَّذِٔٔیْنَ یَتّاَبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ الناَبِیَّ ا لأُ مِّیََّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَه مَکتُوْباً عِندَهُمْ فِیْ التَّورَاةِ وَ اْلاِنْجِیْلِ یَأ مُرُهُمْ بِِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَا هُم عَنِ المُنْکرِ وَیُحِلُّ لَهُمْ الطَّیِّباتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیهِمُ الخَبائثَ وَ یضعُ عَنهُم اِصْرَهُمْ وَ الأَغَلْالَ الَّتِی کَانَتْ عَلَیهِمْ... )


جو لوگ اس امی نبی رسول کی جس کا نام و نشان اپنے پاس موجود توریت اور انجیل میں تحریر پاتے ہیں پیروی کریں ایسا پیغمبر جو انھیں نیکی کا حکم دیتا اور بُرائی سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال کر تا ہے اور نجاستوں کو اُن پر حرام کر تا ہے، قید وبند کی تکلیف گراں سے انھیں آزاد کر دیتا ہے۔

اسی وجہ سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی شریعت منسوخ ہو گئی اور حکم ہوا کہ ابراہیم کے دین حنیف کی پیروی کر یں کہ اب اس کے مبلغ اور بیان کر نے والے حضرت خاتم الانبیائصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔

ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلا کہ اسلام کے قوانین اور شریعتیں حضرت آدم سے لے کر حضرت خاتم الانبیاء صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تک ایک دین واحد اور انسان کی فطرت کے مطابق ہیں اور چو نکہ اللہ کی تخلیق میں کو ئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے لہٰذا خدا کی شریعت اور اس کے قوانین بھی تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔

اللہ کی شریعت ہر زمانے کے پیغمبر کے ہم عصر لو گوں کی ضرورت کے مطابق اس پیغمبر پر نازل ہوئی ہے اسی لحاظ سے اُس شریعت میں سے ایک خاندان کی ضرورت کے مطابق حضرت آدم پر نازل ہوئی ۔

حضرت ادریس کے زمانے میں ایک شہر کے رہنے والوں کی نیاز کے بقدر اور نوح کے زمانے میں چند شہروں اور علاقوںکی نیاز وضرورت کے بقدر اس شریعت کا دائرہ وسیع ہو گیا. حضرت نوح کے زمانے کی شریعت کی اتنی مقدار ہمارے زمانے کو بھی شامل ہے۔

چنانچہ خدا وند عالم فرما تا ہے:

( شَرعَ لَکُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِه نُوْحاً )

'' تمہارے لئے دین میں وہ راستہ قرار دیا ہے جس کی نوح کو وصیت کی تھی '' ابراہیم کا دین حنیف نوح کی شریعت سے اختلاف نہیں رکھتا جیسا کہ خدا وند سبحان فرما تا ہے:

( وَانَّ مِنْ شِیعَتهِ لِابِرَاهیمَ )

اس معنی میں کہ ابراہیم حضرت نوح کے اتباع کر نے والوںمیں تھے۔


حضرت ختمی مرتبت صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت بھی حضرت ابراہیم کے دین حنیف سے اختلاف نہیں رکھتی جیسا کہ خدا وند متعال فرما تا ہے:

( وَاتّاَبِعْ مِلَّةَ ااِبْرَاهِیمَ حَنِیفاً )

''ابراہیم کے دین حنیف کی پیروی کرو ''. اور ہم سے بھی فر ما یا:

( وَ اتاَبِعُوْا مِلَّةَ ااِبْرَاهیِمَ حَنیفاً )

ابراہیم کے دین حنیف کی پیروی کرو. اللہ کی شریعت کی بہ نسبت آدمی کی شان شہد کی مکھی کے مانند ہے کہ خدا وند عالم نے جس کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ اس خاص نظم و ترتیب کے تحت زندگی بسر کرے جو اس کی فطرت سے ہم آہنگ ہو ۔

اسی طرح وہ نظامِ آفرینش جسے ربّ العالمین نے اپنی ربو بیت کے اقتضاء کے مطابق تمام مخلوقات کے لئے اوّل تخلیق سے مقرر فرمایا ہے آج تک متغیّر نہیں ہوا ہے اور اس کا نظام حیات ،خدا کی عطا کر دہ فطرت کی پیروی سے دور نہیں ہوا ہے. اور آدمی اس قاعدہ سے بری اور مستثنیٰ نہیں ہے اور وہ خدا کی دیگر مخلوقات کے درمیان کوئی نئی مخلوق نہیں ہے۔

یہاں پر ہمارے مباحث کتاب کی ا س جلد میں ختم ہوتے ہیں جو کہ خود ہی ان مطالب کی شرح و تفصیل ہیں جو پہلی جلد میں خلا صہ کے طور پر بیان ہو چکے ہیں اور کہیں اضافہ کے ساتھ یا بیان کی تبدیلی کے ساتھ،عقائد اسلام پیش کر نے میں قرآن کریم کی پیروی کی ہے ، جیسا کہ قرآن کریم نے کہیں اختصار سے اور کسی موقع پر بسط و تفصیل سے اور کہیں ایک مقام سے دوسرے مقام پر تعبیر کی تبدیلی کے ساتھ بیان کیاہے۔

ان مباحث کی تکمیل کے بعد انشاء اللہ جلد سوم میںجہاں تک ممکن ہوگا ہم قرآن کریم اور دیگر منابع و مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے مکّہ میں پیغمبر ختمی مرتبت صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی تحقیق کر یں گے۔

(وآخر دعوانا ان الحمد للّٰه ربّ العالمین )


فہرستیں

* آیات

*احادیث

*اشعار

*کتابیں

* مولفین

* مقامات

* ملل، قبائل اور مختلف موضوعات


فہرست آیات

آیہ کریمہ اسم سورہ ، آیت نمبر صفحہ

لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ ٭ سورهٔ حدید، آیت۲۵ ۹

وَالَّذِینَ آمَنُوا بِﷲ وَرُسُلِهِ واَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ َحَدٍ ٭ سورهٔ نسائ، آیت۱۵۲ ۹

ِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا ﷲ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ ٭ سورهٔ فصلت، آیت ۳۰ ۱۰

وَالَّذِینَ آمَنُوا بِﷲ وَرُسُلِهِ ُوْلَئِکَ هُمْ الصِّدِّیقُون ٭ سورهٔ حدید، آیت ۱۹ ۱۰

سَابِقُوإ الَی مَغْفِرَةٍ مِنْ راَبِکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا کَعَرْضِ ٭ سورهٔ حدید، آیت۲۱ ۱۰

لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی ﷲ حُجَّة بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ ٭ سورهٔ نسائ، آیت۱۶۵ ۱۱

ﷲ یَصْطَفِی مِنَ الْمَلَائِکَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ ِنَّ ﷲ ٭ سورهٔ حج، آیت ۷۵ ۲۳

ِنَّ ﷲ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ اِبْرَاهِیمَ وَآلَ عِمْرَانَ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۳۳ ۲۳

ِنَّا َوْحَیْنَا الَیکَ کَمَا َوْحَیْنَإ الَی نُوحٍ وَالنّاَبِیِّینَ ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۱۶۳ ۲۳

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ ُمَّةٍ رَسُولاً َنْ اُعْبُدُوا ﷲ ٭ سورهٔ نحل، آیت ۳۴ ۲۳

فَهَلْ عَلَی الرُّسُلِ ِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِین ٭ سورهٔ نحل، آیت ۳۵ ۲۴

وَإِذْ َخَذَ ﷲ مِیثَاقَ النّاَبِیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۸۱ ۲۴

وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْنَاهَا اِبْرَاهِیمَ عَلَی قَوْمِهِ ٭ سورهٔ انعام، آیت ۸۳ ۲۴

قُولُوا آمَنَّا بِﷲ وَمَا ُنزِلَ الَینَا وَمَا ُنزِلَ الَی ٭ سورهٔ بقره، آیت ۱۳۶ ۲۵

لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَاب ٭ سورهٔ حدید، آیت ۲۵ ۲۵

وَمَا عَلَی الرَّسُولِ ِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِین ٭ سورهٔ نور، آیت ۵۴ ۲۵

وَمَا عَلَی الرَّسُولِ ِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِین ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۱۸ ۲۵

وَمَا َرْسَلْنَا فِی قَرْیَةٍ مِنْ نَذِیرٍ ِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَا ٭ سورهٔ سبأ، آیت ۳۴ ۲۵


وَالیٰ عَاد ٍاَخاهُم هُودا ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۶۵ ۲۶

وَالیٰ عَاد ٍاَخاهُم هُودا ٭ سورهٔ هود، آیت ۵۰ ۲۶

وَالَیٰ مدین اَخَاهُم شُعیبا ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۸۵ ۲۶

وَالَیٰ مدین اَخَاهُم شُعیبا ٭ سورهٔ هود، آیت ۸۲ ۲۶

وَالَیٰ مدین اَخَاهُم شُعیبا ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۳۶ ۲۶

وَالیٰ ثَمُوداَخَاهُم صَالحاًً ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۷۳ ۲۶

وَالیٰ ثَمُوداَخَاهُم صَالحاًً ٭ سورهٔ هود، آیت ۶۱ ۲۶

وَالیٰ ثَمُوداَخَاهُم صَالحاًً ٭ سورهٔ نمل، آیت ۲۵ ۲۶

فَاصبِِرکَماصَبرَاُولَوالعَزم مِن الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ ٭ سورهٔ احقاف، آیت ۳۵ ۲۶

ِنَّااَرسَلنٰک بِالْحَقِ بَشیراًًوَنَذیراًوَاِنْ مِّن اُمّةٍ اِ لَّا ٭ سورهٔ فاطر، آیت ۲۴ ۲۶

وَمَااَهْلَکنامِنْ قَرْ یَةٍٍا اِلَّا لَهامُنذِرُونَ ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۲۰۸ ۲۶

وَلََقَد ْاتَینامُوسیٰ تِسعَ آیاتٍٍ بَینّات ٍفَسئل بنی ٭ سورهٔ اسرائ، آیت ۱۰۱ ۲۶

وَاَدخِلْ یَدَک فی جَیبِکَ تَخْرُ جْ بَیضائَ مِنْ غَیرِ ٭ سورهٔ نمل، آیت ۱۲ ۲۷

وَلَقَدْ اَرْسَلنَا رُسُلاً مِن قبلکَ وَجَعلنَا لَهُم اِزوَاجاً ٭ سورهٔ رعد، آیت ۳۸ ۲۷

وَلََقَدْاَرسَلنَارُسُلاًمِن قَبلکَ مِنهُمِ مَن قَصَصنَا ٭ سورهٔ غافر، آیت ۷۸ ۲۷

وَِنْ یُکَذِّ بُوکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَاد ٭ سورهٔ حج، آیت ۴۲ ۲۷

یاَاَیَّهُااَلنبَّی اِنَّااَرَسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذیرًا ٭ سورهٔ احزاب، آیت ۴۵ ۲۸

وَمَااَرَسَلنَاکَ اِلاّ کَافّة ً لِلنََاّسِ بَشِیراًًوّنَذ یرا ٭ سورهٔ سبأ، آیت ۲۸ ۲۸

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی َنْ یَْتُوا بِمِثْل ٭ سورهٔ اسرائ، آیت ۸۸ ۲۸

وَ مَااَرْسَلنَامِنْ قَبلکَ مِنْ رَسول ٍ وَلَا نبی ٭ سورهٔ حج، آیت ۵۲ ۳۱

وَ مَانُر سِلُ الْمُرْ سَلینَ اِلاَّ مُبَشِّریَن وَمُنْذِ رین ٭ سورهٔ انعام، آیت ۴۸ ۳۳

وَ مَانُر سِلُ الْمُرْ سَلینَ اِلاَّ مُبَشِّریَن وَمُنْذِ رین ٭ سورهٔ کهف، آیت ۵۶ ۳۳


ِنَّااَرسَلنٰک بِالْحَقِ بَشیراًًوَنَذیراًوَاِنْ مِّن اُمّةٍ اِ لَّا ٭ سورهٔ فاطر، آیت ۲۴ ۳۳

وَ اَنزَ لنَا الْحَد یدفیهِ بَأس شَدید وَمَنافِعُ لِلنّاس ٭ سورهٔ حدید، آیت ۲۵ ۳۴

اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفا ٭ سورهٔ اسرائ، آیت ۹۲ ۳۴

قالَ راَبِ اْجَعْل لی آیة ًقالَ آ یَتُکَ اَلا ّ تُکَلِّمَ النَاسَ ٭ سورهٔ مریم، آیت ۱۰ ۳۵

وَ کَاَ یِّن مِنْ آیة فی السمواتِ و الارض ِیَمُرُّون ٭ سورهٔ یوسف، آیت ۱۰۵ ۳۵

وَأدخل یدکَ فی جَبیکَ تخُرجْ بیضاء مِن غیر ٭ سورهٔ نمل، آیت ۱۲ ۳۵

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَُمَّهُ آیَةً وَآوَیْنَاهُمَإ الَی رَبْوَةٍ ذَاتِ ٭ سورهٔ مومنون، آیت ۵۰ ۳۶

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَُمَّهُ آیَةً وَآوَیْنَاهُمَإ الَی رَبْوَةٍ ذَاتِ ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۹۱ ۳۶

فَأَنجَینٰاه وَ اَصْحابَ السَّفینةِ وَ جَعَلنَاهاآیة ً لِلعَالمین ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۱۵ ۳۶

وَ ماَ کُنَّا مُعَذِّبینَ حتیّّٰ نَبعَثَ رسولاً ٭ سورهٔ اسرائ، آیت ۱۵ ۴۰

وَ لِکُلِّ اُمَّةٍ رَسُول فَاِذاجَائَ رَسُولُهمُ قُضِیَ بَینَهُمْ ٭ سورهٔ یونس، آیت ۴۷ ۴۰

فَعَصَواْ رَسُولَ رَبّهِم فَأَخَذَهُمْ اَخْذَ ةًًرابِیَة ٭ سورهٔ الحاقه، آیت ۱۰ ۴۰

وَ مَنْ یَعص اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَاِ نَّ لَهُ نارَجَهَنّمَ خَالِدینَ ٭ سورهٔ جن، آیت ۲۳ ۴۰

مَا أنْتَ لَّابَشَر مِثلُنافأتِ بِآ یة ٍانْ کُنتَ مِن الصّادِ قینَ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۵۴ ۴۱

فَعقروها فَأَ صْبَحُوا نَادِمین ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۵۷ ۴۲

فَأَخَذَهمُ العَذا ب انَّ فی ذ لِکَ لَأ یةوَ مَاکانَ اَکْثَرُ ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۵۸ ۴۲

وَِنْ کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَْتُوا بِسُورَةٍ ٭ سورهٔ بقره، آیت ۲۳ ۴۲

سُبْحَانَ رَ بِیّ هَلْ کُنتُ اِلاَّبَشَرا ًرَسُولاًً ٭ سورهٔ اسرائ، آیت ۹۳ ۴۳

ثُمَّ اَوْحَیْناَاالَیکَ اَن اتّبع مِلّةابرا هیم حنَیفاً... ٭ سورهٔ نحل، آیت ۱۲۳ ۴۴

اَلْیَو م اَکْمَلْتُ لَکُمْ دینکُم وَاَتمَمْتُ عَلیَکُم نِعمتی ٭ سورهٔ مائده، آیت ۳ ۴۴

وَلَقَدْعَهِدْنَا اِلٰی آدمَ مِن قَبْلُ فَنَسِیَ واَلَمْ نَجدلَهُ عزماً ٭ سورهٔ طه ٰ ، آیت۱۱۵ ۴۷


وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ ِنِّی جَاعِل فِی الَرْضِ ٭ سورهٔ بقره، آیت ۳۰ ۴۷

انَّ اللّٰهَ اِصطَفَیٰ آدَمَ وَ نُوحاً وَآلَ ااِبْرَاهیمَ وَآل ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۳۳ ۴۸

اُولئک الَّذِینَ آتَینَاهُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالَنُّبوَّة ٭ سورهٔ انعام، آیت۸۹ ۴۸

اِنّیِ جَاعِل فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً ٭ سورهٔ بقره، آیت ۳۰ ۴۹

یَادَائُ وْدُ اِنَّاجَعَلنَاکَ خَلیفَةً فِی الْاَرْضِ ٭ سورهٔ ص، آیت ۲۶ ۴۹

... وَاذْکُرُ وا اإِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفائَ مِنْ بَعدِ قُومِ نُوح ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۶۹ ۵۰

وَاِذکُرُوا اِذجَعَلَکُم خُلَفائَ مِن بَعدِ عاد ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۷۴ ۵۰

عََسَیٰ رَبَّکُمْ اَنْ یُهْلِکَ عَدُ وَّکُم وَیَسَتخِلَفکُمْ فِی ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۱۲۹ ۵۰

ساَبِحِ اسْمَ راَبِکَ الْاَ عْلٰی ٭ سورهٔ اعلیٰ، آیت ۱ ۵۱

وَعَلّمَ آدَمَ ا لْاَ سْمَاْئَ کُلَّهَا ٭ سورهٔ بقره، آیت ۳۱ ۵۱

وَاذْکُرْ فِیْ الْکِتَابِ اِدْریسَ اِنَّه کَانَ صِدِّیقاًًناَبِیاً ٭ سورهٔ مریم، آیت ۵۶ ۸۳

وَالَّذِینَ آمَنُوا بِا للّٰهِ وَرُسُله اُولئکَ هُمْ الصِّدِّ یقون ٭ سورهٔ حدید، آیت ۱۹ ۸۳

وَإِذْ َخَذَ ﷲ مِیثَاقَ النّاَبِیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۸۱ ۹۹

اَلَمْ تَرَ الَی الَّذِینَ ُوتُوا نَصِیبًا مِنْ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۲۳ ۱۰۰

قُلْ اِنْ تُخَفُوا مَا فِی صَدُ وْرِکُم اَوتُبدُوهُ یَعْلَمهُ اللّٰهُ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۲۹ ۱۰۰

قُلْ ِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ ﷲ فَاتّاَبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ ﷲ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۳۱ ۱۰۱

قُلْ َطِیعُوا ﷲ وَالرَّسُولَ فَِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ ﷲ لَا ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۳۲ ۱۰۱

فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۶۱ ۱۰۱

یَااَهلَ الَکِتاب لِمَ تَلبِسُونَ الَحَقَّ بِِالبَاطِل وَ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۷۱ ۱۰۱

وَاِذَ اَخَذَ اللّٰهُ مِیثَاقَ النَّبیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ.. ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۸۱ ۱۰۱

یَعرِ فُونَهُ کَمَایَعِرفُونَ اَبْنَائِ هم ٭ سورهٔ بقره، آیت ۱۴۶ ۱۰۲


یَعرِ فُونَهُ کَمَایَعِرفُونَ اَبْنَائِ هم ٭ سورهٔ انعام، آیت ۲۰ ۱۰۲

وَلَقَدْ اَرْسَلنَانُوْحاًوَااِبْرَاهیم وَ جَعَلْنَافِی ذُرِّ یَّتِهِماَ ٭ سورهٔ حدید، آیت ۲۶ ۱۰۷

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحاً اِلیٰ قَوْ مِه فَلاَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۱۴ ۱۰۷

فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ مَا لَکُمْ مِنْ ِلٰهٍ غَیْرُهُ َفَلاَ ٭ سورهٔ مومنون، آیت ۲۳ ۱۰۷

إِذْ قَالَ لَهُمْ َخُوهُمْ نُوح َلَا تَتَّقُونَ ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۰۶ ۱۰۸

فَاِنْ تَوَ لَّیتُمْ فََمَا سَأَ لْتکُمْ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجِریَ اِلَّا ٭ سورهٔ یونس، آیت ۷۲ ۱۰۸

قَالُوا َنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الَرْذَلُون و٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۱۱ ۱۰۸

قَالَ یَاقَوْمِ َرََیْتُمْ ِنْ کُنتُ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ راَبِی ٭ سورهٔ هود، آیت ۲۸ ۱۰۸

قَالَ راَبِ ِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلاً وَنَهَارًا ٭ سورهٔ نوح، آیت ۵ ۱۰۹

وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بَِعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِی فِی ٭ سورهٔ هود، آیت ۳۷ ۱۱۱

وَ جَعَلْنَاذُرِّیّتَهَ هُمُ البَا قِینَ٭ وَتَرَ کْنَا عَلیهِ فِی ٭ سورهٔ صافات، آیت ۷۱ ۱۱۲

تِلکَ مِنْ أنْبائِ الغَیْبِ نُو حِیهاا لیکَ مَا کُنْتَ ٭ سورهٔ هود، آیت ۴۹ ۱۱۳

یَا بُنیَّ ارْکبْ مَعنا وَ لاَ تَکُن مَعَ الکَا فِرِینَ ٭ سورهٔ هود، آیت ۴۲ ۱۱۸

رَبّ اِنِّی أَعُوذ بِکَ اَنْ اَسَأَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِه ٭ سورهٔ هود، آیت ۴۷ ۱۱۸

وَ اذْ کُرْ اَخاعَاد ٍ اإِذْ اَنْذَ رَ قَوْ مَهُ بِالْاَحقافِ ٭ سورهٔ احقاف، آیت ۲۱ ۱۳۷

وَالیٰ عَاد ٍ اَخَاهُمْ هُودا ً قَالَ یَا قُومِ اعْبُدوا اللّٰهَ ٭ سورهٔ هود، آیت ۵۰ ۱۳۸

وَقَالَ الْمَلَا ُٔمِنْ قَوْمِهِ الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا ٭ سورهٔ مومنون، آیت ۳۳ ۱۳۸

وَالَی عَادٍ َخَاهُمْ هُودًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۶۵ ۱۳۹

کَذَّبَتْ عَاد فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِی وَنُذُرِ ٭ سورهٔ قمر، آیت۱۸ ۱۴۰

وَلَقَدْ َرْسَلْنَإ الَی ثَمُودَ َخَاهُمْ صَالِحًا َنِ اعْبُدُوا ٭ سورهٔ نمل، آیت ۴۵ ۱۴۵


کَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِینَ ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۴۱ ۱۴۵

وَِلٰی ثَمُودَ َخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ ٭ سورهٔ هود، آیت ۶۱ ۱۴۶

وَالَی ثَمُودَ َخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۷۳ ۱۴۷

وَکَانَ فِی الْمَدِینَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُفْسِدُونَ فِی الَرْضَ ٭ سورهٔ نمل، آیت ۴۸ ۱۴۸

وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبََ اِبْرَاهِیم ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۶۹ ۱۵۳

وَإِذْ قَالَ اِبْرَاهِیمُ لِاَبِیهِ آزَرَ َتَتَّخِذُ َصْنَامًا آلِهَةً ٭ سورهٔ انعام، آیت ۷۴ ۱۵۳

وَاِبْرَاهِیمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا ﷲ وَاتَّقُوهُ ذَلِکُمْ ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۱۶ ۱۵۴

سَلاَم عَلَی نُوحٍ فِی الْعَالَمِین ٭ سورهٔ صافات، آیت ۷۹ ۱۵۵

وَلَقَدْ آتَیْنَا اِبْرَاهِیمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِهِ عَالِمِین ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۵۱ ۱۵۶

اَلَمْ تَرَ الَی الَّذِی حَاجَّ اِبْرَاهِیمَ فِی راَبِهِ َنْ آتَاهُ ﷲ ٭ سورهٔ بقره، آیت ۲۵۸ ۱۵۷

فَآمَنَ لَهُ لُوط وَقَالَ ِنِّی مُهَاجِر الَی راَبِی ِنَّهُ هُوَ ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۲۶ ۱۵۸

وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا اِبْرَاهِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا سَلَامًا ٭ سورهٔ هود، آیت ۶۹ ۱۵۸

هَلْ َتَاکَ حَدِیثُ ضَیْفِ اِبْرَاهِیمَ الْمُکْرَمِینَ ٭ سورهٔ ذاریات، آیت۲۴ ۱۵۹

کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِین ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۱۶۰ ۱۶۰

وَإِذْ قَالَ اِبْرَاهِیمُ راَبِ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا ٭ سورهٔ ابراهیم، آیت۳۵ ۱۶۱

وَإِذْ بَوَّْنَا لاِبْرَاهِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ َنْ لاَتُشْرِکْ ٭ سورهٔ حج، آیت ۲۶ ۱۶۲

وَإِذِ ابْتَلَی اِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فََتَمَّهُنَّ ٭ سورهٔ بقره، آیت ۱۲۴ ۱۶۲

وَقَالَ ِنِّی ذَاهِب الَی راَبِی سَیَهْدِین ٭ سورهٔ صافات، آیت ۹۹ ۱۶۳

یا اهل الکتاب ِ لم تُحا جُّون فی ابراهیمَ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۶۵ ۱۶۴

ثُمَّ اَوحَینا اَنِ اتَّبعِ مِلَّة اِبرا هیمَ حَنیفا ً وَ ما کانَ ٭ سورهٔ نحل، آیت ۱۲۳ ۱۶۴


وَمن اَحْسَنُ دِینا ً مِمَّن اَسلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَ هُو ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۱۲۵ ۱۶۴

فَلَمّا اعتَزَ لَهُم وَ ما یَعبدونَ مِن دُون اللّٰهِ ٭ سورهٔ مریم، آیت ۴۹ ۱۶۵

وَوَهبنا لهُ اسحاقَ وَ یَعقُوبَ نا فلةً وَ کُلّاً جَعَلنَا ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۷۲ ۱۶۵

أُوْلٰئِکَ الّذ ین اَنعمَ اللّٰه عَلیهِم منَ النَّبیِّنَ ٭ سورهٔ مریم، آیت ۵۸ ۱۶۵

اِنّی بَرِیٔ مِمّٰا تُشرِ کُون ٭ سورهٔ انعام، آیت ۷۸ ۱۶۹

فَأتُوا بِه عَلیٰ اَعیُن النَّاسِ لَعلّهمْ یَشْهَدُون ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۶۱ ۱۶۹

أ أنْتَ فعَلتَ هَذا بآ لِهَتنا یَااِبرا هیم ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۶۲ ۱۶۹

انکم انتم الظالمون ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۶۴ ۱۷۰

فَمَاکَانَ جَوابَ قَومِه اِلَّا أنْ قَالوا اقتلُوهُ أَوْ حَرِّقوه ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۲۴ ۱۷۰

حَرِّ قُو هُ و اْنْصُر واْ آلِهتکم اِن کُنتُم فَاعِلین ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۶۸ ۱۷۰

أَ لَمْ تَرَ اِلیَٰ اَلّذی حَا جَّ ا برا هیمَ فِی راَبِه أنْ آتاهُ اَللّٰه ٭ سورهٔ بقره، آیت ۲۵۸ ۱۷۰

اإِذْ قَالَ ااِبْرَاهِیم راَبِیَ الّذِی یُحیِیْی وَیُمِیْت ٭ سورهٔ بقره، آیت۲۵۸ ۱۷۱

أنَا اُحیِی وَاُمیت ٭ سورهٔ بقره، آیت۲۵۸ ۱۷۱

...فَإِنَّ ﷲ یَاْتِی بِالشَّمْسِ مِنْ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا ٭ سورهٔ بقره، آیت۲۵۸ ۱۷۱

یاَ اَیُّهَاالنَّاس ضُرِبَ مَثل فا سْتَمِعوُالهُ اِنَّ الّذینَ ٭ سورهٔ حج، آیت ۷۳ ۱۷۱

وَ اِنْ یَسْلُبْهُم الذُّ بابُ شَیْئاً لٰا یَسْتَنقذ وُه مِنه ٭ سورهٔ حج، آیت ۷۳ ۱۷۲

مَا قَدَرُوا اللهَ حقَّ قَدره ٭ سورهٔ انعام، آیت ۹۱ ۱۷۲

فآ مَن له لوط... ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۲۶ ۱۷۳

واِنَّ لُوطَاًًلِمَن المُرسَلِین ٭ سورهٔ صافات، آیت ۱۳۳ ۱۷۳

وَ قَالَ ِنَّ فِیهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ َعْلَمُ بِمَنْ فِیهَا ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۳۲ ۱۷۳

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرَاهِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْهُ الْبُشْرَی ٭ سورهٔ هود، آیت ۷۴ ۱۷۳


قاَلَ اِنّ فِیهَالُوطا ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۳۲ ۱۷۴

انَّ اِبراهیم لَحَلیم اَوَّاه مُنیب ٭ سورهٔ هود، آیت ۷۵ ۱۷۵

رَبّنَااِنّیِ اَسْکَنْتُ ذُرّ یّتی بِوادٍغِیرذِی زرعٍ ٭ سورهٔ ابراهیم، آیت۳۷ ۱۷۵

رَبّناَوَاجَعلنَا مُسلِمینِ لَکَ وَمِنْ ذُرّیَّتِنَا أُمَّةً مُسلِمَة ٭ سورهٔ بقره، آیت ۱۲۸ ۱۷۶

راَبِ اجعَلنِی مُقیم الصَّلاة وَمِنْ ذُرِّیَّتی ٭ سورهٔ ابراهیم، آیت۴۰ ۱۷۷

اِنَّ اللّٰهَ اِصطَفیٰ لَکُمُُ الدِّ ین فَلا تَمُو تُنَّ اِ ٭ سورهٔ بقره، آیت ۱۳۲ ۱۷۷

یاَاَبَتِ اِفْعَل مَا تُؤمَرُ سَتَجِدُ نِی اِنشَاء اللّٰه ٭ سورهٔ صافات، آیت ۱۰۲ ۱۷۷

یَااِبراهیمُ قَد صَدَّقْتَ الرُّؤیا ٭ سورهٔ صافات، آیت ۱۰۵ ۱۷۷

فَا تّاَبِعُوا مِلَّة اِبرا هیمَ حَنیفاً ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۹۵ ۱۷۸

وَ اذِابتلیَ اِبرَاهیمَ رَبُّهُ بِکلمٰا ت ٍ فَأَ تَمَّهُنَّ ٭ سورهٔ بقره، آیت ۱۲۴ ۱۷۸

فَمَالاَبِثَ اِنْ جَائَ بِعَجَلٍ حِنَیذٍ ٭ سورهٔ هود، آیت ۶۹ ۱۷۸

وَ طَهِر بَیتِیَ لِلطَّائِفیِنَ وَالقَائِمِینَ وَالرُّ کَّعِ ٭ سورهٔ حج، آیت ۲۶ ۱۷۹

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِی ِسْرَائِیلَ ِلاَّ مَا حَرَّمَ ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۹۳ ۱۸۳

وَ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًی لِبَنِی ٭ سورهٔ اسرائ، آیت ۲ ۱۸۳

وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَلاَتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ ٭ سورهٔ سجده، آیت۲۳ ۱۸۳

نَّا َنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُور یَحْکُمُ بِهَا ٭ سورهٔ مائده، آیت ۴۴ ۱۸۳

وَ اذ قَال مُوسیٰ لِقَومه یَا قَومِ لِمَ تُؤ ذُوننی ٭ سورهٔ صف، آیت ۵ ۱۸۴

إِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ ِنَّ ﷲ یُبَشِّرُک ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۴۵ ۱۸۴

وَ اِذ ْ قَالَ عیسیٰ ابن مَریمَ یَابَنی اِسرائیل اِنی ٭ سورهٔ صف، آیت ۶ ۴ ۱۸

وَالَی مَدْیَنَ َخَاهُمْ شُعَیْبًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا ﷲ ٭ سورهٔ هود، آیت ۸۴ ۱۸۹


قاَل المَلأُ الَّذِینَ اِسْتکبرُ واْ مِن قَوْ مِه لَنُخرِجنَّک ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۸۸ ۱۹۱

لَنُخْرِجَنَّکَ وَمَنِ اتَّبعکَ مِنْ قر یتنا،أولَتعودُنَّ فِی ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۸۸ ۱۹۲

وََوْحَیْنَإ الَی مِّ مُوسَی َنْ َرْضِعِیهِ فَِذَا خِفْتِ ٭ سورهٔ قصص، آیت ۷ ۱۹۷

إِذْ قَالَ مُوسَی لِأَهْلِهِ ِنِّی آنَسْتُ نَارًا سَآتِیکُمْ ٭ سورهٔ نمل، آیت ۷ ۱۹۸

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَی بِآیَاتِنَإ الَی فِرْعَوْن ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۱۳۵ ۱۹۹

فََخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُون ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۵۷ ۲۰۲

وَجَاوَزْنَا بِبَنِی ِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ فََتْبَعَهُمْ فِرْعَوْن ٭ سورهٔ یونس، آیت ۹۰ ۲۰۲

وَجَاوَزْنَا بِبَنِی ِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ فََتَوْا عَلَی قَوْمٍ ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۱۳۸ ۲۰۳

یَابَنِی ِسْرَائِیلَ قَدْ َنجَیْنَا کُمْ مِنْ عَدُوِّ کُم ٭ سورهٔ طه ٰ، آیت۸۰ ۲۰۴

وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَی َرْبَعِینَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ ٭ سورهٔ بقره، آیت۵۱ ۲۰۷

واختار موسیٰ قومهُ سبعینَ رجُلاً لمیقاتنا فلمّا ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۱۵۵ ۲۰۷

وَإِذْ قُلْتُمْ یَامُوسَی لَنْ نَصْبِرَ عَلَی طَعَامٍ وَاحِدٍ ٭ سورهٔ بقره، آیت۶۱ ۲۰۸

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ ﷲ ٭ سورهٔ مائده، آیت ۲۰ ۲۰۸

ِنَّ قَارُونَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیْهِم ٭ سورهٔ قصص، آیت ۷۶ ۲۰۹

وَاذْ کُرْعَبَدْنَادَا ؤدَ ذَا الأیْدِ نّه أَوّاب ٭ سورهٔ ص، آیت ۲۰ ۲۲۰

وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلاً یَاجِبَالُ َوِّبِی ٭ سورهٔ سبأ، آیت ۱۰ ۲۲۱

وَسَخَّرْناَ مَع دَاؤُدَ الجِبالَ یُسبّحن وَالطَّیرَ ٭ سورهٔ انبیائ، آیت ۷۹ ۲۲۱

وَ وَهَبنَا لِد اوُدَسُلِیمانَ نِعمَ الِعبدُ اِنَّهُ أوّاب ٭ سورهٔ ص، آیت ۳۰ ۲۲۱

وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ عِلْمًا ٭ سورهٔ نمل، آیت ۱۵ ۲۲۱

وَلِسُلَیْمَانَ الرِّیحَ غُدُوُّهَا شَهْر وَرَوَاحُهَا ٭ سورهٔ سبأ، آیت ۱۲ ۲۲۲


کهٰیٰعص٭ ذِکْرُ رَحْمَةِ راَبِکَ عَبْدَهُ زَکَرِیَّا ٭ سورهٔ مریم، آیت ۱ ۲۲۵

هُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّهُ قَالَ راَبِ هَبْ لِی ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۳۸ ۲۳۱

وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ َهْلِهَا ٭ سورهٔ مریم، آیت ۱۶ ۲۳۲

إِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ ِنَّ ﷲ یُبَشِّرُک ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۴۲ ۲۳۵

وَإِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَابَنِی ِسْرَائِیلَ ِنِّی ٭ سورهٔ صف، آیت ۶ ۲۳۷

فاَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیثَاقَهُمْ وَکُفْرِهِمْ بِآ یَاتِ ﷲ وَقَتْلِهِمُ ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۱۵۵ ۲۳۸

...قَدْ جَاْء َکُمْ رَسُوْلُنَاْ یُبیِّنُ لَکُمْ عَلیٰ فَتْرَة ٭ سورهٔ مائده، آیت ۱۹ ۲۳۹

یٰس٭وَاْلقُرْآنِ الْحَکِیْمِ٭اِنَّکَ لَمِنَ المُرسَلِین ٭ سورهٔ یٰس، آیت ۳ ۲۴۵

وَ کَذلِکَ أَوْ حَیْنَاْ اِلیکَ قُرآناً عَراَبِیّاً لِتُنذِر ٭ سورهٔ شوریٰ، آیت ۱۷ ۲۴۵

وَ مَاْاَرسَلْنَاْکَ اِلاَّ کَافَّةًلِلنَّاسِ بَشِیْراً وَ نَذْیَر ٭ سورهٔ سبأ، آیت ۲۸ ۲۴۵

وَ اذْکُرْ فِی الْکِتاب ِاِسْمَاْعِیْلَ اِنَّهُ کَانَ صَادِق ٭ سورهٔ مریم، آیت ۵۴ ۲۴۶

ِنَّا َوْحَیْنَا الَیکَ کَمَا َوْحَیْنَإ الَی نُوحٍ وَالنّاَبِیِّین ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۱۶۳ ۲۵۷

لِإِیلاَفِ قُرَیْشٍ ٭ سورهٔ قریش، آیت ۱ ۲۷۵

ااَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعلَ رَبُّکَ بأِصْحَابِ الفِیل ٭ سورهٔ فیل، آیت ۱ ۲۸۷

وَاِلیٰ ثَمُودَ اَخَاهُمْ صَالِحاًقَالَ یَاقَومِ ٭ سورهٔ هود، آیت ۶۱ ۲۸۸

اَلَمَ تَرَکَیفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ٭اِرَمَ ذَاتِ الْعِماد ٭ سورهٔ فجر، آیت ۶ ۲۸۹

وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوافِینَالَنَهْدِ یَنَّهُمْ سُبُلَنَا ٭ سورهٔ عنکبوت، آیت ۶۹ ۲۹۰

لَا تَنْکِحُوا مَانَکَحَ آباؤُکُمْ مِنَ النِّسٰائِ ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۲۲ ۳۰۱

وَاعْلَمُوا اَنّمَا غَنِمْتُمْ مِن شَیٍٔ فَاِنَّ لِلّٰهِ خُمسَة ٭ سورهٔ انفال، آیت ۴۱ ۳۰۱

اَجَعَلْتُمْ سَقَایة لَحَاج ٭ سورهٔ توبه، آیت ۱۹ ۳۰۱


وَ الَّذِینَ یُنِْفقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئا ئَ النَّاس ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۳۸ ۳۱۰

وَقَالُوا مَاهِیَ اِ لَّاحَیَا تُنَا الدُّنْیاَ نَموتُ وَنَحْیَا ٭ سورهٔ جاثیه، آیت ۲۴ ۳۱۱

وَ قَالُوا اِنْ هِی اِِلَّا حَیٰاتُناَ الدُّنیَاَ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِیْن ٭ سورهٔ انعام، آیت ۲۹ ۳۱۱

...وَلَئِن قُلتَ اِ نَّکُم مَبْعُو ثُونَ مِنْ بَعدِ الْمُوتِ ٭ سورهٔ هود، آیت ۷ ۳۱۱

وَضرَبَ لَنا مَثَلاً وَ نَسِیَ خَلْقَهُ قَالَ مَن یُحْیِی ٭ سورهٔ یٰس، آیت ۷۸ ۳۱۱

وَکَانُوا یُصِرُّوْنَ عَلیَ الحِنْثِ العَظِیمِ ٭ سورهٔ واقعه، آیت ۴۶ ۳۱۱

وَ اِذَاْ بُشَِّرَ أَحدُهُمْ بِا لاُنثٰی ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدّاً ٭ سورهٔ نحل، آیت ۵۸ ۳۱۲

وَاإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِیثَاقََ النّاَبِیینَ لَمَا آتیتُکم ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۸۱ ۳۱۳

ثُمَّ اَوْحَیْنَا االَیکَ اَنِ اتّاَبِعْ ملَّةَ ااِبْرَاْهِیمَ حَنِیْفاً ٭ سورهٔ نحل، آیت ۱۲۳ ۳۱۴

قُلْ صَدَقَ اللّٰه فَا تَّبعُوا مِلَّةَ ااِبْرَاهِیْمَ حَنِیفاً ٭ سورهٔ آل عمران، آیت ۹۵ ۳۱۵

وَمَنْ أَحسَنُ دِیناً مِمَّن أَسلَمَ وَجهَهُ لِلّٰهِ وَ هُو ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۱۲۵ ۳۱۵

وَمَنْ أَحسَنُ دِیناً مِمَّن أَسلَمَ وَجهَهُ لِلّٰهِ وَ هُو ٭ سورهٔ انعام، آیت ۱۶۱ ۳۱۵

وَ تَقَلُّبَکَ فِی الْسَّاجِدِین ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۲۱۹ ۳۱۵

وَاإِذْ قَالَ ااِبْرَاهِیمُ لاِِاَبِیهِ وَقَومِهِ اِنَّنی بَرائ مِمَّا ٭ سورهٔ زخرف، آیت ۲۶ ۳۱۸

وَانْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الَّاقْرَبین ٭ سورهٔ شعرائ، آیت ۲۱۴ ۳۲۷

رَبََّنَا وَاجْعَلْنَامُسْلِمَینِ لَکَ وَ مِن ذُرِّیَّتِنَا اُمَّةً ٭ سورهٔ بقره، آیت۱۲۸ ۳۳۱

وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَاتِی مِنْ بَعدِی اِسْمُهُ اَحْمَد ٭ سورهٔ صف، آیت ۶ ۳۳۴

فَاِ نَّهَا مُحَرَّ مَة عَلَیْهِمْ اَرْبَعِینَ سَنَةً یَتِیْهُونَ فِیْ ٭ سورهٔ مائده، آیت ۲۶ ۳۳۸

اَلَّذِٔٔیْنَ یَتّاَبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ الناَبِیَّ ا لأُ مِّیََّ ٭ سورهٔ اعراف، آیت ۱۵۷ ۳۴۱

شَرعَ لَکُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِه نُوْحا ٭ سورهٔ شوریٰ، آیت ۱۳ ۳۴۲

وَانَّ مِنْ شِیعَتهِ لِابِرَاهیم ٭ سورهٔ صافات، آیت ۸۳ ۳۴۲

وَاتّاَبِعْ مِلَّةَ ااِبْرَاهِیمَ حَنِیفاً ٭ سورهٔ نسائ، آیت ۱۲۵ ۳۴۲


احادیث کی فہرست

حدیث یا روایت کا متن معصوم صفحہ

لاتخلو الارض من قائم للّٰهِ بحجّة،اما ظاهراً.. امیرالمومنین ، ۱۱

نبی وہ ہے جو (خدا کے احکام کو ) خواب میں... امام صادق ، ۳۱

انبیاء کی تعداد سے متعلق حدیث، رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۷

اولوالعزم کو اسی دن سے ایسا نام دیا ہے کہ.. امام رضا ، ۳۷

انبیاء و پیغمبروں کے سید وسردار پانچ افراد امام صادق ، ۳۹

خدا وند سبحان نے کسی پیغمبر کو ماموریت نہیں امام صادق ، ۳۹

سب سے پہلے نبی اور رسولوں کی تعداد کے بارے رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۴۱

جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور عظیم دن انکے رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۵۲

حضرت آدم کے مقام دفن سے رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۵۳

کوفہ میں مسجد سہلہ ادریس کا گھر... . . . . امام صادق ۸۴

خدا وند عالم نے ،آدم اور ان کے بعد کے امیرالمومنین ، ۱۰۰

خداوند عالم نے رسول گرامی اسلام کو امیرالمومنین ، ۳۴۶

وہ ایک نبی تھے کہ ان کی قوم. رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۲۵۱

مضر کو بُرا بھلا نہ کہو کیو نکہ... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۲۶۱

اے علی! عبد المطلب نے جا ہلیت کے... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۰۱

خدا قیامت کے دن ہمارے جد عبد المطلب رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۰۶

خدا نے انھیں سب سے اچھی جائی امن امیرالمومنین ، ۳۱۶

زمین اس حجت سے جو دین خداکو قائم امیرالمومنین ، ۳۱۶


آدم کے زمانے میں رسول خدکا وجود. رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۱۷

خدا وند عزّوجل نے ابراہیم کے رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۱۹

یہ میرا بھائی ،وصی اور میرا جانشین رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۷

سب سے پہلا انسان جو اس در سے داخل رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۸

میرا وصی اور راز کا محافظ،... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۷

ہر پیغمبر کا ایک وصی اور وارث تھا،... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۸

انت منی بمنزله هارون من ...... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۸

انّی تارک فیکم الثِّقلین ... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۸

لا یزال هذا الدّین قائماًحتّی ... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۹

لا یزال امر النّاس ماضیاً ... رسول خدا صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ۳۲۹

اشعار کی فہرست

ابو کم قُصیّّ کان یدعیٰ مجمّعاً به جمع اللهُ القبائل من فهر (۲۶۶)

عمر و العلی هشم الثریدَ لقوم و رجالُ مکة مسنتون عجاف

و هو الذی سنّ الرحیل لقومه رحل الشّتاء ورِحلةَ الأ صیاف (۲۷۳)

و الخالطون فقیر هم بغنّیهم حتیٰ یصیر فقیر هم کا لکافی (۲۷۵)

یا حابس الفیل بذی المغمس حسبته کأنَّه مکوّس

فی مجلس تز هق فیه اهله الأنفس ( ۲۸۴)

طارت قریش اذ رأت خمیسا فظلت فرداً لا أ ریٰ أنیساً (۲۸۴،۳۳۳)

و لا أحسّ مِنهم حسیسا الّا اَخاّ لی ما جداً نفیساً

مسوداً فی اهله رئسیا (۲۸۴)


انّ للبیت لَرَباّ ما نعاً مَن یُردهُ بِأَ ثامٍ یصطلم

رامه تُبّع فیمن جندت حمیر و الحی من آل قدم (۲۸۵، ۲۹۹)

فانثیٰ عنه و فی اوداجه جارح امسکَ منه بالکظ

قلت و الأ شرم تردی خیله اِنّ ذا الأ شرم غرّ با لحرام ( ۲۸۵ ،۲۹۹)

نحن آل الله فی ما قد مضیٰ لم یزل زاک علی عهد ابرَهم(۲۹۰ ،۲۹۹ ،۳۱۴ )

نحن دمَّرنا ثمود اً عَنوة ثم عاداً قبلها ذات الارم (۲۸۵،۲۹۹)

نعبد الله و فینا سُنّة صلَة القربیٰ و ایفاء الذمم ( ۲۸۵،۳۰۰)

لم تزل للهِ فیناحجّة یدفع بها عنّا النّقم (۲۸۵ ،۲۹۰ ،۳۰۰ ،۳۱۴)

الحمدُ لله الذی اعطانی هذا الغلام الطَّیِّب ا للا ردانِ

أُ عیذ ه با لبیت ذی الاَرکانِ مِن کُلِ ذی بغیٍ و ذی شنآنِ

وَ حا سدٍ مُظطرب العنان ( ۲۹۲)

انت الذی سُمِّیت فی الفرقان فی کتب ثابتة المبان

احمد مکتوب علی اللسان (۲۹۲ ،۳۰۰)

لاهُمَّ أَد راکبی محمّداً ادِّه وَ اصطنع عندی یدا

انت الذ جَعَلتَهُ لی عضُدا لا یبعد الدَّهرُ به فیبعدا

انت الَّذی سمِّیتَهُ محمّداً (۲۹۳)

بشیبة الحمد اسقیٰ اللهُ بلدتنا وقد فقد ناالکریٰ واجلّوذ المطرُ

منّاً من الله بالمیمونِ طائره وخیر من بشّرت یوماً به مُضرُ

مبارک الأمر یُستسقیٰ الغمامُ به ما فی الأثام له عدلُ و لا خطر ( ۲۹۵ )

أُوصیکَ یا عبد منافٍ بعدی بِمُفرد بعد أبیه فردِ


فادقة و َهو ضجیعُ المهد فَکُنتَ کا لأُم له فی الوجد

تُد نیه مِن أَحشا ئها و الکبد فَأَنت مِن أّرجیٰ بنیّ عِندی

لدفع ضیمٍ أَو لشدِّ عفد (۲۹۶)

اوصیکَ أَرجیٰ اهلنا با لرفدی یابن الذی غیبة فی اللحدِ

بالکره منّی ثُمّ لا بالعمدی وخیرة اللّٰه یشا فی العبدِ (۲۹۷)

یا ربّ انَّ العبد یمنعُ رحلهُ فامنع رحالک (۲۹۹، ۳۳۳)

انت الّذی سُمِّیت فی الفرقان فی کُتب ثابتة المبان

احمد مکتوب علی اللسان (۳۰۰،۳۱۴)

علیٰ غفلة یأتی النبی محمد فیخبر أخباراً صدوقاً خبیرها (۳۰۴)

اوصیت مَن کنیتهُ بطالب یابن الّذی قد غاب لیس آئب (۳۰۸)

یا رب ان المرء یمنع رحله فامنع رحالک (۳۳۳)


کتابوں کی فہرست

( الف )

اثبات الوصیہ ،۳۲۰،۳۲۷.

اخبار الزمان،۶۱،۶۲،۶۸،۷۱،۷۲،۷۶،۷۹،۸۶،۸۹،۹۳،۱۲۳،۲۵۸،۳۲۴.

استبصار ،۳۲۰.

استیعاب، ۳۲۷.

اسد الغابہ، ۳۲۷.

اسلام میں دو مکتب ،۳۰۲،

اصول کافی، ۳۱،۳۸.

امالی، ۲۸۴.

انجیل،۱۹،۲۷،۲۸،۱۶۴،۱۸۴،۲۳۸،۲۴۱،۳۱۸،۳۴۱.

انساب الاشراف، ۲۶۲،۲۶۳،۲۶۵،۲۶۷،۲۷۲،۲۷۳،۲۷۵،۲۹۱،۲۹۲،۲۹۳،۲۹۴،

۳۰۹،۲۹۶.

( ب )

بحار الانوار،۳۷،۳۸،۱۱۵،۲۵۱،۲۸۲،۲۸۴،۲۹۶،۲۹۷،۲۹۸،۳۰۱،۳۰۲،۳۰۶،۳۱۷،

بحر المحیط،۱۰۲.

( ت )

تاریخ ابن اثیر ( الکامل فی التاریخ )، ۱۲۳،۲۵۱،۳۲۷.

تاریخ ابن عساکر، ۱۱۴،۱۱۷،۲۹۲،۳۲۷.

تاریخ ابن کثیر ، ۲۶۴،۲۶۵.

تاریخ الخمیس،


تاریخ طبری،۵۲،۵۷،۶۸،۷۵،۷۹،۸۴،۸۵،۸۶،۸۹،۹۰،۹۳،۹۹،۲۷۷،۲۷۸.

تاریخ یعقوبی، ۶۲،۶۳،۶۸،۷۲،۷۵،۷۹،۹۲،۱۱۹،۱۲۳،۱۲۷،۲۶۴،۲۶۶،۲۶۷،۲۷۰،

۲۷۱،۲۸۳،۳۰۶، ۳۰۸،۳۰۹.

تفسیر ابن کثیر، ۱۰۰،۳۱۸.

تفسیر سیوطی، ۳۸،۱۰۲،۱۱۴.

تفسیر طبری، ۱۰۰،۱۱۴.

تفسیر قرطبی ، ۱۰۰،۲۷۳،۳۱۸.

تورات، ۳۸،۷۹،۹۴،۹۷،۹۸،۱۱۵،۱۶۴،۱۸۳،۱۸۴،۱۸۶،۲۱۹،۲۳۲،۲۳۴،۲۳۵،

۲۳۸،۲۴۰،۲۴۲،۲۵۲،۳۱۸،۳۳۶،۳۳۷،۳۴۱.

( ح )

حلےة الاولیائ، ۳۶۸.

( خ )

خرائج، ۳۰۲.

خصائص، ۳۲۸.

خصال ،۳۷،۳۸،۳۰۲.

( د )

در المنثور، ۱۰۲،۳۲۸.

دلائل النبوة،۲۵۲،۲۵۳.

( ذ )

الذریعہ، ۳۲۷.


( ر )

روضہ کافی، ۱۱۴.

ریاض النضرہ،۳۲۸.

( ز )

زاد المسیر فی العلم التفسیر،۱۰۰.

( س )

سبل الھدیٰ والرشاد، ۲۶۱،۲۶۲،۲۶۳،۲۷۰،۲۹۳.

سنن ابن ماجہ، ۱۲۰.

سنن ترمذی، ۳۱۹،۳۲۸.

سیرۂ ابن ہشام،۱۲۰،۲۵۲،۲۵۳،۲۷۲،۲۷۳،۲۷۷،۲۷۸،۲۸۲،۲۸۳.

سیرۂ حلبیہ،۲۵۱،۲۶۲،۲۶۳،۲۶۸،۲۶۹،۲۷۰،۲۷۱،۲۷۲،۲۹۲،۲۹۴.

سیرۂ نبویہ، ۲۷۲،۲۶۳،۲۶۹،۲۷۰،۲۷۲،۲۹۴.

( ش )

شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید)،۳۲۷.

شرح نہج البلاغہ (محمد عبدہ)، ۲۴۶.

( ص )

صحیح بخاری، ۳۲۸.

صحیح ترمذی ، ۳۱۹.

صحیح مسلم، ۲، ۳۱۹،۳۲۸.

الصفوہ، ۳۲۰.


( ط )

طبقات ابن سعد،۵۲، ۲۵۱،۲۶۸،۲۷۰،۲۷۱،۲۷۸،۲۸۳،۲۹۲،۲۹۳،۲۹۴،۳۲۸.

( ع )

عیون اخبار الرض ، ۳۸.

( غ )

الغیبہ، ۳۲۰.

( ف )

فتح الباری ، ۱۲۰،۲۶۱.

فرھنگ فارسی معین، ۸۵.

فضائل کنز العمال، ۳۲۸.

( ق )

قاموس کتاب مقدس، ۱۶۷،۳۳۶.

قرآن،۱۱،۱۲،۱۳،۲۹،۳۳،۳۶،۳۹،۴۳،۴۹،۸۳،۹۸،۹۹،۱۰۷،۱۳۳،۱۴۳،۱۵۱،

۱۷۱،۱۸۵،۲۳۶،۲۴۰،۲۹۹،۳۱۷،۳۴۳.

( ک )

کنز العمال، ۱۲۰،۳۲۷.

( ل )

لباب التأویل فی معانی التنزیل،۱۰۲.

لسان العرب، ۲۷۴.

( م )

مجالس، ۲۸۴.

مجمع الزوائد ، ۳۲۷.


المحبّر،۲۷۳.

مرآة الزمان ،۶۱،۶۲،۶۷،۶۸،۷۱،۷۲،۷۵،۷۶،۷۹،۸۵،۳۲۳.

مرآة العقول ، ۱۱۵.

مروج الذھب، ۶۱،۶۲،۶۳،۶۷،۷۱،۷۹،۸۵،۸۶،۸۹،۹۳،۱۲۷،۲۵۱،۲۷۸،۲۸۳،

۲۸۴،۲۹۳،۳۰۷،۳۰۹،۳۱۹.

مستدرک الصحیحین ، ۳۲۸.

مستدرک حاکم، ۲،۳۲۸

مسند احمد، ۲،۳۷،۵۲،۲۵۲،۲۵۳،۳۱۷،۳۲۸.

معالم المدرستین، ۱۱،۳۲۰،۳۲۷.

معانی الاخبار، ۳۷.

معجم البلدان، ۱۱۴،۱۱۹،۱۴۱،۱۹۱،۲۵۲،۲۷۲،۲۸۴.

معجم الفاظ قرآن کریم، ۳۱.

معجم الکبیر، ۳۲۷.

المعجم المفھرس الفاظ القرآن الکریم، ۲۸۸.

معجم الوسیط، ۳۱.

مفردات راغب،۳۱.

المقالات فی اصول الدیانات، ۳۲۰.

موسوعۂ اطراف الحدیث عن أمجاد السادة المتقین،۳۲۸.

( ن )

نھاےة اللغة،۳۷.

نہج البلاغہ ، ۱۱،۳۱۶.


مولفین کی فہرست

( الف )

ابن ابی الحدید، ۳۲۷

ابن اثیر، ۵۷،۷۵،۷۹،۱۲۳،۲۵۱،۳۲۷.

ابن جوزی،۵۷،۶۱،۱۰۱.

ابن حبیب، ۲۷۳.

ابن سعد، ۵۲،۵۳،۲۶۱،۲۶۷،۲۷۰،۲۷۱،۲۷۸،۲۸۳،۲۹۲،۲۹۳،۲۹۸،۳۲۸.

ابن عساکر، ۱۱۴،۱۱۷،۲۹۲،۳۲۷.

ابن کثیر ، ۵۷،۱۰۰،۱۱۴،۲۵۱،۲۶۴،۲۶۵،۲۹۲،۳۱۸.

ابن ماجہ ، ۱۲۰،۳۲۸.

ابن ہشام، ۱۲۰،۲۵۲،۲۵۳،۲۷۲،۲۷۷،۲۸۲،۲۸۳،۳۰۶،۳۰۷.

ابوحیان، ۱۰۲.

ابو نعیم ،۲۵۳.

احمد بن حنبل ،۲،۳۷،۵۲،۲۵۲،۲۵۳،۳۱۷،۳۱۹،۳۲۷،۳۲۸.

( ب )

بخاری ،۳۲۸.

بلاذری ،۲۶۳،۲۶۵،۲۷۵،۲۹۵،۲۹۶.

بیھقی ،۲۹۲.

( ت )

ترمذی ، ۳۱۹،۳۲۸.


( ح )

حاکم، ۲،۳۲۸.

حموی،۱۱۴،۱۱۹،۱۴۱،۲۵۲.

( ز )

زبیدی ، ۳۲۸.

زینی دحلان، ۲۶۹.

( س )

سبط بن جوزی،۵۷،۶۱،۲۹۴.

سید سامی البدری، ۱۱۵.

سیوطی ، ۳۸،۱۰۲،۱۱۴،۳۱۸.

( ش )

شیخ صدوق ، ۳۰۲.

شیخ طوسی، ۲۸۴.

شیخ مفید،۲۸۴.

( ط )

طبرانی، ۳۲۷.

طبری، ۵۲،۵۷،۶۸،۷۵،۷۹،۸۴،۸۵،۸۶،۸۹،۹۰،۹۳،۹۹،۱۰۰،۱۱۴،۲۷۷،۲۷۸،

۲۸۰،۳۲۷.

طیالسی ، ۳۲۸.


( ق )

قرطبی، ۱۰۰،۲۷۳،۳۱۸.

( م )

مجلسی ،۳۷،۳۸،۱۱۵،۲۵۱.

محمد عبدہ، ۲۴۶.

مسعودی،۵۷،۶۱،۶۲،۶۷،۷۹،۸۵،۹۳،۱۲۳،۱۲۷،۲۵۱،۲۷۸،۲۸۳،۲۸۴،۳۰۹،

۳۱۹.

مسلم ،۳۱۹،۳۲۸.

( ن )

نسائی، ۳۲۸.

( و )

واقدی ، ۲۹۷.

(ی )

یعقوبی،۶۲،۶۳،۶۸،۷۲،۷۵،۷۹،۸۵،۹۳،۱۱۹،۱۲۳،۱۲۷،۲۶۴،۲۶۶،۲۶۷،۲۷۰،

۲۷۱،۲۸۳،۳۰۶،۳۰۸،۳۰۹.


مقامات کی فہرست

( آ )

آراراط،۱۱۵.

آشور، ۱۱۵.

آفریقا، ۲۷۶.

( الف )

احقاف، ۱۴۱.

ارم،۲۸۵،۲۷۸،۲۸۹،۲۹۹.

اصفہان، ۳۱۷.

ام القریٰ ،۲۹۰،۳۰۳،۳۱۰.

اورارطو (آراراط)، ۱۱۵.

اور بیل ، ۱۱۵.

اورشلیم، ۱۱۵.

اور کلدا نیین،۱۱۵.

ایران، ۲۷۶،۲۸۶،۳۳۲.

( ب )

بابل، ۱۱۵،۱۱۹،۱۷۲.

بغداد ، ۱۱۶.

بیت اللہ الحرام،۱۷۵،۱۷۸،۲۵۸،۲۶۴،۲۶۷،۲۶۹،۳۰۲،۳۰۴.

بیت المقدس، ۲۳۶،۳۴۱.


بیروت ، ۵۲،۵۳،۶۱،۶۲،۶۸،۸۶،۹۴،۱۲۰،۱۲۳،۲۶۱،۲۶۳،۲۶۷،۲۷۱،۲۷۷،

۳۰۹.

بین النھرین، ۱۱۶.

( ت )

تبوک ،۱۹۱.

( ج )

جزیرۂ ابن عمر،۱۱۴.

جزیرة العرب، ۲۵۱،۲۶۵،۲۷۶،۳۱۰.

جودی، ۱۱۴.

( چ )

چاہ زمزم، ۲۶۴،۲۷۱،۲۷۸،۲۷۹،۲۸۱،۲۸۲،۲۹۶،۲۹۹،۳۰۱،۳۰۲،۳۰۶.

( ح )

حبشہ ،۲۷۵،۲۷۶،۲۸۲،۲۸۴،۳۳۲.

حجون، ۲۷۰.

حضرموت ، ۱۴۱.

حلہ، ۱۱۹.

حیرہ، ۱۱۶.

( خ )

خیبر، ۳۰۷.


( د )

دارالندوہ ،۲۶۶،۲۶۸،۲۶۹،۲۷۲،۳۰۵.

دریای سرخ ، ۱۹۱،۲۱۷.

دریای وان، ۱۱۴.

( ذ )

ذی مغمس، ۲۸۴.

( ر )

رود ورس، ۱۱۴.

رود دجلہ ، ۱۱۶،۱۱۹.

رود فرات، ۱۱۶،۱۱۹.

روم ، ۲۵۲،۲۸۶.

( س )

سبأ ، ۲۲۴.

سواد ، ۱۱۶.

( ش )

شام ، ۱۵۰،۱۷۲،۱۷۶،۱۷۹،۱۸۶،۱۹۱،۲۲۰،۲۶۴،۲۷۲،۲۷۴،۲۷۵،۲۷۶،۲۹۴،۳۱۷،

۳۳۲،۳۳۷،۳۳۹،۳۴۱.

شوش، ۷۵.

( ص )

صحرای سینا،۱۷،۱۶۱،۱۷۵،۱۹۵،۲۰۳،۲۱۵،۲۱۸

.( ط )

طائف ، ۳۲۱.

طور، ۲۱۸،۳۳۶.


( ع )

عراق، ۵۳،۱۱۵،۱۲۰،۲۷۵،۳۱۷.

عرفات،۱۷۷،۲۶۷،۲۷۱،۳۰۴.

عمان، ۱۴۱.

عموریہ، ۲۵۲.

( غ )

غار حرا،۷،۲۸۴،۲۹۶،۳۰۱.

غار گنج ، ۶۲،۷۹،۳۲۱،۳۲۳،۳۲۴.

غزہ، ۲۷۲.

( ف )

فاران، ۱۷۵.

فلسطین، ۱۷۹.

( ق )

قاہرہ ، ۲۸۲.

( ک )

کسکر، ۱۱۹.

کعبہ، ۱۵،۵۱،۵۲،۶۲،۱۶۱،۱۶۳،۱۷۵،۱۷۶،۱۷۷،۱۷۸،۱۷۹،۲۶۵،۲۶۶،۲۶۷،

۲۶۸،۲۶۹،۲۷۱،۲۷۲،۲۸۲،۲۸۳،۲۸۴،۲۸۶،۲۹۲،۲۹۳،۲۹۶،۲۹۹.

کوفہ،۷۵،۸۴،۱۱۴،۱۱۵،۱۱۷

. کوہ آرارت، ۱۱۴.

کوہ ابو قیس، ۲۸۳.

کوہ صفا ، ۲۸۳.

کوہ کوفان، ۱۱۶.


کوہ مروہ، ۱۷۶،۲۸۳.

( م )

مدائن ، ۱۱۶.

مدین، ۲۶،۱۹۰،۱۹۱،۱۹۲،۲۱۵.

مدینہ، ۱۵۰،۳۲۸.

مزدلفہ،۲۶۸.

مسجد سہلہ، ۸۴.

مسجد کوفہ، ۱۱۴،۱۱۷.

مصر،۱۲۳،۱۸۵،۱۸۶،۲۱۵،۲۱۷،۲۷۲،۳۳۵.

مکّہ ،۱۷،۴۳،۵۱،۶۲،۱۶۱،۱۷۵،۱۷۶،۱۷۹،۲۴۵،۲۴۶،۲۴۷،۲۵۷،۲۵۸،۲۵۹،۲۶۲،

۲۶۴،۲۶۵،۲۶۶،۲۶۷،۲۶۸،۲۶۹،۲۷۲،۲۷۳،۲۷۷،۲۷۸،۲۸۲،۲۸۳،۲۸۴،۲۹۰،

۲۹۱،۲۹۳،۲۹۸،۲۹۹،۳۰۲،۳۰۳،۳۰۴،۳۰۸.

منا، ۲۱۷،۲۷۱.

موصل،۱۱۴،۳۱۷

( ن )

نجف، ۱۱۴،۱۱۶.

( و )

وادی القریٰ، ۱۹۱.

( ی )

یمن، ۲۵۵،۲۵۷.


ملتوں، قبیلوں اور مختلف موضوعات کی فہرست

( الف )

آل ابراہیم،۲۳،۳۹.

آل داؤد، ۲۲۵.

آل عمران، ۲۳،۳۹.

آل فرعون، ۱۹۷،۲۰۰.

آل یعقوب، ۲۳۱.

ابابیل، ۲۸۳،۲۸۸.

امامیہ، ۳۱۹.

( ب )

بنی اسرائیل،۱۰۱،۱۶۷،۱۸۰،۱۸۳،۱۹۳،۱۹۵،۲۰۰،۲۰۲،۲۰۳،۲۰۴،۲۰۵،۲۰۶،۲۱۴،۲۱۵

۲۳۷،۲۳۸،۲۴۰،۲۴۲،۳۲۹،۳۳۵،۳۳۶.

بنی عباس،۱۱۶،۳۰۹.

بنی مخزوم، ۲۷۳.

بنی ہاشم، ۳۱۹.

( ث )

ثمود،۴۲،۵۰،۱۴۲،۱۴۵،۱۴۶،۱۴۷،۱۵۰،۲۸۵،۲۸۷،۲۸۸،۲۸۹،۲۹۹،۳۳۳،

۳۳۴.

( ج )

جرھم، ۱۷۶،۲۵۸،۲۷۰.

جنگ احد، ۳۲۸.

جنگ بتوک، ۳۰۲.


( ح )

حوض کوثر، ۳۲۹.

( خ )

خزاعہ،۲۶۴،۲۶۶،۲۷۰،۳۰۴.

خوارج، ۳۱۹.

( ر )

روز قیامت، ۱۶۳،۲۹۸،۳۰۴،۳۱۰،۳۳۳.

( س )

سواع(بُت)، ۱۱۰،۱۱۷.

( ع )

عاد،۵۰،۱۳۷،۱۳۸،۱۴۰،۱۴۲،۱۴۸،۱۵۰،۱۸۵،۱۸۷،۲۸۸،۲۸۹،۳۳۳،۳۳۴.

عام الفیل،۲۶۲.

( غ )

غزوۂ تبوک،۳۰۲.

( ق )

قابیلیان، ۶۲،۷۹،۸۴،۸۵،۸۹،۳۲۱.

قریش، ۴۳،۱۱۹،۲۶۶،۲۶۷،۲۶۸،۲۶۹،۲۷۰،۲۷۱،۱۷۲،۲۷۳،۲۷۴،۲۷۵،۲۷۶،

۲۷۷،۲۷۸،۲۷۹،۲۸۰،۲۸۱،۲۸۲،۲۸۴،۲۹۴،۲۹۵،۲۹۸،۲۹۹،۳۰۰،۳۰۴،۳۰۵،

۳۱۹،۳۳۲،۳۳۳،۳۳۴،۳۳۵.

( ک )

کنعائیان، ۱۷۲.


( م )

مرجئہ، ۳۱۹.

مضر، ۲۶۱.

معتزلہ ،۳۱۹.

( ن )

نسر (بتُ)، ۱۱۰،۱۱۷.

( و )

ود(بُت) ، ۱۱۰،۱۱۷.

( ہ )

ھبل(بُت) ، ۲۶۵،۳۳۲.

ھندو، ۱۷۲.

( ی )

یعوق(بت) ،۱۱۰،۱۱۷.

یغوث(بت)، ۱۱۰،۱۱۷.


فہرست

حرف اول ۵

مقدمہ ۹

مباحث کی سرخیاں ۱۱

اس بحث سے متعلق پیش گفتار ۱۶

( ۱ ) ۱۷

اسلامی اصطلاحیں * صطفاء ۱۷

کلمات کی تشریح ۲۴

۱۔ یصطفی: ۲۴

۲۔ اَوْحَےْنَا: ۲۴

۳۔ بعثت: ۲۵

۵۔ حُکْم: حَکَمَ، ےَحْکُمُ ،حُکْماً : ۲۵

۶۔ نبّو ت : ۲۵

۷۔ ( نبأ) : ۲۶

۸۔ رسول: ۲۷

۹ ۔ اولو العزم : ۲۷

۱۰۔ بشیر و نذ یر : ۲۷

۱۱ ۔ بےّنات: ۲۸

۱۲۔ و انز لنا : ۲۸

۱۳۔ میزان: ۲۸


۱۴۔لِےَقُومَ النَّاسُ بِالقِسطِ: ۲۹

۱۵۔ بأ س شدید: ۲۹

۱۶ ۔ کسفاً : ۲۹

۱۷ ۔ زخر ف: ۲۹

۱۸۔ جیب: ۲۹

۱۹ ۔ مبصرة : ۲۹

۲۰ ۔ اصری : ۳۰

۲۱ ۔ طاغو ت: ۳۰

۲۲ ۔آیت : ۳۰

۲۔آیت قرآن کریم کی رو سے ۳۱

رو ایات میںگز شتہ آیات کی تفسیر ۳۲

معجزہ اور آیت کی حقیقت ۳۸

( ۲ ) ۴۲

حضرت آدم ـ ۴۲

آدم ـ کی خلقت ۴۲

کلمات کی تشریح ۴۴

۱۔اجتباہ : ۴۴

۲۔ تابَ : ۴۴

۳۔خلیفة : ۴۴

پہلی وجہ سے متعلق: ۴۴


۲۔خدا کا داؤد سے خطاب: ۴۵

دوسری وجہ سے متعلق: ۴۵

۴۔ا لاسماء : ۴۶

۵۔نسبّح بحمدک: ۴۷

۶۔نقدّس: ۴۷

آیات کی تفسیر ۴۷

( ۳ ) ۵۰

حضرت آدم ـکے بعد اوصیاء سیرت کی کتابوں میں : ۵۰

مقدمہ ۵۰

شیث ہبة اللہ سیرت کی کتابوں میں ۵۲

حضرت شیث ـکی ولا دت ۵۲

حضرت آدم ـ کی وصیت حضرت شیث سے ۵۲

ان کا فیصلہ اور خا نۂ خدا کا حج ۵۳

شیث کی اپنے فرزند انوش سے وصیت ۵۴

حضرت شیث ـ کے فرزند انوش ـ ۵۵

انوش کی ولادت اور ان سے شیث کی وصیت اورخا تم ا لا نبیاء صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور کا ان میں منتقل ہو نا ۔ ۵۶

سب سے پہلا شخص جس نے درخت لگا یا اورکھیتی کی ۵۶

انوش کی اپنے فرزند قینان کو وصیت اور انھیں حضرت آدم ـکے صحیفوں کی تعلیم دینا ۵۷

انوش کی وفات ۵۷

انوش کے فرزند قینان ۵۸


حضرت قینان کا عرصہ وجود پر قدم رکھنا اور ان کی پیشانی میں حضرت خاتم الا نبیا ء کے نو ر کا درخشاں ہو نا ۵۸

قینان کی اپنے فرزند مہلائیل سے وصیت ۵۹

قینان کے فرزند مہلائیل ۶۰

مہلائیل ـ کی اپنے فرزند یرد سے وصیت ۶۲

مہلائیل کے فرزند یوارد ۶۳

یرد کا عرصۂ وجود پر قدم رکھنا اور ان میں نور کا منتقل ہو نا ۶۴

مہلائیل کی اپنے فرزند یرد سے وصیت ۶۴

یرد کی اپنے فرزند ادریس سے وصیت ۶۴

خدا کے پیغمبر ادریس (اخنوخ) ۶۵

۱۔قرآن کریم میں ادریس کا نام ۶۶

کلمات کی تشریح ۶۶

الف۔ صدّیق: ۶۶

ب۔ علیّاً : ۶۶

۲ ۔ ادریس سیرت کی کتابوں میں ۶۶

حضرت ادریس پر آسمانی صحیفوں کا نزول اور ان کا سلا ئی کر نا ۶۸

ادریس کے زمانے میں شیث اور قابیل کے پوتوںکے درمیان اختلاط ۶۸

اخنوخ یا ادریس پیغمبر کے فرزند متوشلح ۷۰

حضرت ادریس کا اپنے فرزند سے وصیت کرنااور خا تم الا نبیاء صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کانور ۷۱

سب سے پہلے سوار ۷۲

متوشلح کے فرزند لمک ۷۳


متوشلح کی اپنے فرزند لمک سے وصیت ۷۳

شیث اور قا بیل کے پو توں کاباہمی ازدواج اور اس شادی کے نتیجے میں ظا لم و جا بر، سرکش و باغی نسل کا دنیا میں آنا ۷۳

شیث کی اولاد میں سے صرف ۸ افراد کا باقی رہنا اور لمک کی نوح سے وصیت ۷۴

( ۴ ) ۷۵

پیغمبروں کے اوصیاء کی تاریخ توریت کی روشنی میں ۷۵

توریت کی نقل کے مطابق حضرت نوح کے زمانے تک اوصیاء کی کچھ سر گذ شت ۷۵

اس بحث کا نتیجہ ۷۷

( ۵ ) ۸۱

حضرت نوح اور ان کے بعد اوصیاء کے حالات ۸۱

حضرت نوح ۸۱

قرآنی آیات میں حضرت نوح کی سیرت وروش ۸۲

کلمات کی تشریح ۸۸

۱۔فعمّیت علیکم: ۸۸

۲۔بمعجزین: ۸۸

۳۔استغشوا ثیا بھم: ۸۸

۴۔مدرارا ً: ۸۸

۵۔وقارا ً: ۸۸

۶۔ اطوارا ً : ۸۸

۷۔ طبا قا ً: ۸۸


۸۔ فجا جا ً: ۸۸

۹۔ تبا را ً : ۸۸

۱۰ ۔ با عیننا: ۸۹

۱۱۔تنور: ۸۹

۱۲۔غیض : ۸۹

۱۳ ۔جودی: ۸۹

گزشتہ آیات کی تفسیر(۱) ۹۱

اسلامی مصا در میں حضرت نوح کی داستان ۹۴

نوح کے فرزند سام * ۹۶

نوح کی اپنے بیٹے سام سے وصیت ۹۷

سام حضرت آدم کے جسد کو کشتی سے اٹھا تے ہیں ۹۷

سام کی اپنے فرزند ارفخشد سے وصیت ۹۷

سام کے فرزند ارفخشد * ۹۸

ارفخشد اپنے والد سام کے بعد ۹۸

ارفخشد کی اپنے بیٹے سے وصیت ۹۸

ارفخشد کے فر زند شالح * ۹۹

خدا کی اطا عت و عبادت میں شا لح کا مشغول ہونا ۹۹

( ۶ ) ۱۰۰

قرآ ن کریم میں اوصیاء حضرت نوح میں سے انبیاء کے حالات ۱۰۰

حضرت ہود ۱۰۰


آیات کر یمہ میں حضرت ہود پیغمبر کی سیرت ۱۰۱

کلما ت کی تشریح ۱۰۵

۱ احقاف : ۱۰۵

۲ لتا فکنا : افک: ۱۰۵

۳ عارض : عارض : ۱۰۵

۴ اترفنا ہمُ: ۱۰۵

۵ ھیھا ت: ۱۰۵

۶۔ بصطة: ۱۰۵

۷ رجس: ۱۰۶

۸قطعنا دا بر ھم: ۱۰۶

گز شتہ آیات کی تفسیر کا خلا صہ ۱۰۶

حضرت صالح پیغمبر ۱۰۷

قرآن کریم میں حضرت صا لح کی سیرت اور روش ۱۰۷

کلمات کی تشریح ۱۱۱

۱۔اطّیرنا وطا ئر کم: تطےّر و اطّیر: ۱۱۱

۲۔ ھضیم: ۱۱۱

۳۔فارھین: ۱۱۱

۴۔جاثمین: ۱۱۱

۵۔بؤاکم: ۱۱۱

۶۔و لا تعثوا: ۱۱۱


۷۔عتوّا : ۱۱۲

۸۔رجفةً: ۱۱۲

۹۔ رھط: ۱۱۲

آیات کی تفسیر کا خلا صہ ۱۱۲

بحث کا نتیجہ ۱۱۳

(۷) ۱۱۴

ابراہیم ( خلیل الرحمن) ۱۱۴

قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کی سر گذشت کے مناظر ۱۱۵

پہلا منظر، حضرت ابراہیم اور مشر کین ۱۱۵

دوسرا منظر۔ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ۱۱۹

تیسرا منظر۔ ابراہیم او ر اسمٰعیل اور تعمیر خانہ کعبہ: ۱۲۲

چوتھا منظر، ابرا ہیم و اسحق اور یعقوب ۱۲۶

کلمات کی تشریح ۱۲۷

۱۔ حنیفا ً: ۱۲۷

حنف: ۱۲۷

۲۔راغ : ۱۲۷

۳۔ یز فّون: ۱۲۷

۴۔ اُفّ : ۱۲۷

۶۔ بُھِت: ۱۲۸

۷۔ بوّانا: ۱۲۸


۸۔ ضا مر: ۱۲۸

۹۔ فجّ عمیق ۱۲۸

۱۰۔ مثا بہ : ۱۲۸

۱۱۔ تلّہ: ۱۲۸

۱۲۔ قا نتا ً : ۱۲۸

۱۳۔ اوّاہ : ۱۲۹

۱۴۔ منیب : ۱۲۹

ناب الیہ : ۱۲۹

۱۵۔ صرّة: الصّرة: ۱۲۹

۱۶۔ فصّکت: ۱۲۹

۱۷ ۔ نافلة: ۱۲۹

۱۸۔ اسرا ئیل: ۱۲۹

پہلا منظر، ابرا ہیم اور مشر کین: ۱۳۰

۱ ۔ ابرا ہیم اور ستارہ پر ست افراد : ۱۳۰

۲۔ابرا ہیم بت پر ستوں کے ساتھ: ۱۳۱

۳۔ ابرا ہیم اور ان کے زمانے کے طا غوت ۱۳۲

دوسرا منظر۔ قوم لوط کی داستان میں ابرا ہیم کا موقف ۱۳۵

تیسرا منظر۔ ابرا ہیم اور اسمٰعیل کی خبر خانہ کعبہ کی تعمیر اور حج کا اعلا ن کر نا ۱۳۷

چوتھا منظر: ابرا ہیم اپنے خا ندان کی دو شاخ کے ہمرا ہ: ۱۴۲

پہلی شاخ: ۱۴۲


دوسری شاخ: ۱۴۲

( ۸ ) ۱۴۳

حضرت اسحق کے فرزند یعقوب (اسرا ئیل ) ۱۴۳

کلما ت کی تشریح ۱۴۶

۱۔ ھا دوا: ۱۴۶

۲۔ ربّا نیون: ۱۴۶

۳۔ احبار: ۱۴۶

۴۔ کلمة : ۱۴۶

۵۔ مسیح: ۱۴۶

گزشتہ آیات کی تفسیر ۱۴۷

ایک خاص مدت زمانہ میں ،قوم یہود کے لئے اشتنائی احکام: ۱۴۷

( ۹) ۱۴۸

حضرت شعیب پیغمبر ۱۴۸

کلمات کی تشریح ۱۵۰

۱۔ مَدْےَن : ۱۵۰

۲۔ لا یجر منّکم: ۱۵۰

۳۔ شقاقی: ۱۵۱

۴۔ لا تعثوا: ۱۵۱

۵۔عثا: ۱۵۱

۶۔ بقےة اللہ: ۱۵۱


گزشتہ آیات کی تفسیر میں اہم نکات ۱۵۱

(۱۰) ۱۵۳

بنی اسرا ئیل اور ان کے پیغمبروں کی روداد اور قرآن کریم میں ان کے مخصوص حالات کی تشریح ۱۵۳

سب سے پہلا منظر۔ حضرت موسیٰ ـکی ولادت اور ان کا فرعون کے فرزند کے عنوان سے قبول ہو نا: ۱۵۳

کلمات کی تشریح ۱۵۴

۱۔ فارغاً : ۱۵۴

۲۔قُصِّیہ: ۱۵۴

۳۔فبصُرت بہ عن جُنبٍ: ۱۵۴

دوسرا منظر ،نہ گانہ معجزات ۱۵۴

تیسرا منظر؛ بنی اسرائیل سینا نامی صحرا میں اور حضرت موسیٰ ا ور ان کے بعد کے زمانے میں ان کی طغیانی و سرکشی ۱۵۹

کلمات کی تشریح ۱۶۶

۱۔ جیبک، جیب: ۱۶۶

۲۔ مَلائہ ، الملائُ : ۱۶۶

۳۔ ارجہ ، اَرْج الامر: ۱۶۷

۴۔ حاشرین: ۱۶۷

حاشرین : ۱۶۷

۵۔ تلقف، لقف الطعام: ۱۶۷

۶۔یأ فکون، اَفک یافکُ: ۱۶۷

۷۔صَا غرین، صاغر: ۱۶۷


۸۔ مِن خلا فٍ، قطع الایدی و الارجلَ من خلافٍ : ۱۶۷

۹۔افرغ ، ۱۶۸

۱۰۔ سنین : ۱۶۸

۱۱۔ یطےّروا، تطّیر: ۱۶۸

۱۲۔طوفان: ۱۶۸

۱۳۔ جراد : ۱۶۸

۱۴۔ القَمّل: ۱۶۸

۱۵۔رجز: عذاب ۱۶۸

۱۶- ینکثون: ۱۶۸

۱۷۔ طود: ۱۶۸

۱۸۔ ازلفنا: ۱۶۹

۱۹۔ متبّر، تبَّرہ : ۱۶۹

۲۰۔ اسباطاً : ۱۶۹

۲۱۔ اِنْبََجَستْ : ۱۶۹

۲۲۔ من و سلویٰ: ۱۶۹

۲۳۔حطّة : ۱۶۹

قولوا حِطّة: ۱۶۹

۲۴۔ یعدون: ۱۷۰

۲۵۔ بقلھا وقثاّئھا وفو مِھا : ۱۷۰

۲۶۔ لا تأس علیٰ القوم: ۱۷۰


۲۷۔عتوا: ۱۷۰

۲۸۔شُرّعاً : ۱۷۰

۲۹ ۔خاسئین: ۱۷۰

.۳ ۔خُوار، خار الثور والعجل خواراً: ۱۷۰

۳۱۔ لا مَساسَ :مسّہ و ماسّہ: ۱۷۰

۳۲۔ یعکفون اور عاکفین: ۱۷۰

۳۳۔ نبذتُھا : ۱۷۱

۳۴۔ سوّلت لی نفسی: ۱۷۱

۳۵۔ ننسفنَّہ: ۱۷۱

۳۶۔ فتنُک: ۱۷۱

۳۷ ۔ مسکنة : ۱۷۱

۳۸ ۔ لَن نبرح: ۱۷۱

۳۹۔ لم ترقب: ۱۷۱

.۴۔ خطبُک: تمہارا حال،تمہاری موقعیت۔ ۱۷۱

آیات کی تفسیر میں قابل توجہ اور اہم مقامات ۱۷۱

چو تھا منظر۔ داؤد اور سلیمان ۱۷۸

کلمات کی تشریح ۱۸۴

۱۔ذاالاید: ۱۸۴

۲۔اَوّاب: ۱۸۴

۳۔اُوِّبی: ۱۸۴


۴۔سابغات: ۱۸۴

۵۔قدِّرْ فی السّرد: ۱۸۵

۶۔رُخائ: ۱۸۵

۷۔مقّرنین فی ا لاصفاد: ۱۸۵

۸۔محشورةً: ۱۸۵

۹۔ےُوزَعون: ۱۸۵

۱۰۔ عفریت: ۱۸۵

۱۱۔صَرْحُ مُمَّرَد مِنْ قَوَاْرِیرَ: ۱۸۵

۱۲۔لُجَّة : ۱۸۶

۱۳۔اَسَلْنَاْ لَہُ عَےْنَ القِطْر: ۱۸۶

۱۴۔ےَزِغْ عَنْ اَمْرِنَا: ۱۸۶

۱۵۔سعیر: ۱۸۶

۱۶۔جَفَانٍ کَالْجَواب: ۱۸۶

۱۷۔قُدور راسیات: ۱۸۶

۱۸۔دابَّة الارض: ۱۸۶

۱۹۔منساة: ۱۸۶

آیات کی تفسیر ۱۸۷

حضرت سلیما ن کا خط اس طرح تھا ۱۸۸

پانچواں منظر: زکری اور یحییٰ ۱۹۰

کلمات کی تشریح ۱۹۲


۱۔ اِشْتَعَلَ الرَّأسُ شَیْباً : ۱۹۲

۲ ۔ عاقر: ۱۹۲

۳۔ عَتِیاً: ۱۹۲

۴۔سوّیاً : ۱۹۲

۵۔فاوحیٰ الیھم : ۱۹۲

۶۔خُذ الکتاب بقُوَّةٍ : ۱۹۲

۷۔ ( آتَیْناهُ الحُکْمَ صَبیّاً ) : ۱۹۲

۸۔ حنا ناً : ۱۹۲

آیات کی تفسیر ۱۹۳

چھٹا منظر: عیسیٰ بن مریم : ۱۹۴

عیسیٰ بن مریم کے ساتھ بنی اسرائیل کی داستان ۱۹۶

کلمات کی تشریح ۱۹۸

۱۔ کَلِمة : ۱۹۸

۲۔ انتبذت: ۱۹۸

۳۔زکےّاً: ۱۹۸

۴۔سَرےّاً: ۱۹۸

۵۔ جنّی: ۱۹۸

۶۔فریّاً: ۱۹۹

۷۔اکمہ: ۱۹۹

۸۔مُصدِّقاً : ۱۹۹


۹۔بغےّاً : ۱۹۹

گزشتہ آیات کی تفسیر ۱۹۹

( ۱۱ ) ۲۰۲

فترت کا زمانہ ۲۰۲

عصر فترت کے معنیٰ ۲۰۳

کلمات کی تشریح ۲۰۴

گزشتہ آیات کی تفسیر ۲۰۴

( ۱۲ ) ۲۰۶

*پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء و اجداد کے علاوہ فترت کے زمانے میں انبیاء اور اوصیائ ۲۰۶

فترت کے زمانے میں انبیاء اور اوصیائ ۲۰۶

( ۱۳ ) ۲۰۹

حنیفیہ شریعت پر آنحضرت کے وصی حضرت اسمٰعیل کی بعض خبریں ۲۰۹

قرآن کریم میں حضرت اسمٰعیل کی نبوت کی خبر ۲۰۹

حضرت اسمٰعیل کی نبوت،دیگر منابع اور مصادر میں: ۲۱۰

( ۱۴ ) ۲۱۱

فترت کے زمانے میں پیغمبر کے بعض اجداد کی خبریں عدنان، ۲۱۱

فترت کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے بعض اجداد کے حالات ۲۱۲

الیاس بن مضر بن نزاربن محمد بن عدنان ۲۱۲

کنانة بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر ۲۱۳


کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک بن نضر بن کنانة ۲۱۳

مکّہ میں بت پرستی کا رواج اور اس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباء واجداد کا موقف ۲۱۵

قُصیّ بن کلاب بن مرّہ بن کعب ۲۱۷

قُصیّ اور بیت اللہ الحرام اور حاجیوں سے متعلق ان کا اہتمام ۲۱۸

قُصیّ کی وفات ۲۲۱

عبد مناف بن قُصیّ ۲۲۱

جناب ہاشم بن عبد مناف ۲۲۱

جناب عبد المطلب بن جناب ہاشم ۲۲۸

چاہ زمزم کی کھدائی ۲۲۹

اشعار کی تشریح ۲۳۷

جناب عبد المطلب اور پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت ۲۴۴

بحث کا خلاصہ ۲۵۶

۱۔ مضر کے فرزند الیاس ۲۵۷

۲۔الیاس کے پو تے خز یمہ بن مدرکہ ۲۵۷

۳۔ کعب بن لو ٔی ۲۵۸

۴۔ جناب قُصیّ ۲۵۸

۵۔ جناب عبد مناف ۲۵۹

۶۔ جناب ھا شم ۲۵۹

۷۔ جناب عبد المطلب بن ہا شم ۲۶۰


رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے باپ جناب عبد اللہ اور چچا جناب ابو طالب ۲۶۱

۱۔ جناب عبد اللہ خاتم الانبیا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ء کے والد ۲۶۱

۲۔ اسلام کے ناصر اور پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سر پرست ،جناب ابو طالب ۲۶۲

۱۔ ابو طالب: ۲۶۲

۲۔ جناب ابو طالب کی سیرت اور روش ۲۶۳

۳۔ جناب ابو طالب کا عقیدہ اور ایمان ۲۶۴

نتیجہ گیری ۲۶۵

کتاب کے مطالب کا خلاصہ اور نتیجہ ۲۷۶

اوّل : ۲۷۶

حضرت آدم کی اپنے فرزند شیث ہبة اللہ سے وصیت ۲۷۶

دوسرا بیان ۲۷۷

تیسرا بیان ۲۷۷

شیث کی اپنے بیٹے انوش سے وصیت ۲۷۷

انوش کی اپنے فرزند قینا ن سے وصیت ۲۷۸

ایک دیگر بیان میں ۲۷۸

قینان کی اپنے فرزند مہلائیل سے وصیت ۲۷۹

مہلائیل کی اپنے فر زند یوراد سے وصیت ۲۷۹

یوراد کی اپنے بیٹے اخنوخ (ادریس)سے وصیت ۲۷۹

ادریس کی اپنے بیٹے متوشلح سے وصیت ۲۸۰

ایک دوسرے بیان میں: ۲۸۰


متوشلح کی اپنے بیٹے لمک سے وصیت ۲۸۱

متوشلح کی اپنے بیٹے لمک سے وصیت ۲۸۱

لمک کی اپنے بیٹے نوح سے وصیت ۲۸۱

نوح کی اپنے بیٹے سام سے وصیت ۲۸۲

سام کی اپنے بیٹے ارفخشد سے وصیت ۲۸۳

ارفخشد کی اپنے بیٹے شالح سے وصیت ۲۸۳

شالح کی اپنے بیٹے عابر سے وصیت ۲۸۳

پیغمبر اکرم صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدان کے بارہ اوصیائ ۲۸۷

دوسرے: ۲۸۸

تیسرے : ۲۸۸

آیات کی تفسیر میں عبرت کے مقامات ۲۹۳

فہرستیں ۳۰۲

فہرست آیات ۳۰۳

احادیث کی فہرست ۳۱۴

اشعار کی فہرست ۳۱۵

کتابوں کی فہرست ۳۱۸

مولفین کی فہرست ۳۲۳

مقامات کی فہرست ۳۲۶

ملتوں، قبیلوں اور مختلف موضوعات کی فہرست ۳۳۱


اسلام کے عقائد(تیسری جلد )

اسلام کے عقائد(تیسری جلد )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 352