کتاب المومن

مؤلف: حسین بن سعید اہوازی
متن احادیث


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تیسری صدی ہجری کی کتاب حدیث

کتاب المومن

تالیف حسین بن سعید اھوازی

تحقیق و ترجمہ سید مرتضی حسین صدر الفاضل

کمپوزنگ: غلام قاسم تسنیمی

ناشرین پروگریسو پبلشرز

۱۶ اردو بازار لاہور


مقدمہ

بزرگان ملت کے آثار کا تحفظ زندہ قوموں کی خصوصیت ہے۔ اور محمد و آل محمد کے تعلیمات کی اشاعت ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ کتاب المومن، اسی قسم کی ایک خدمت ہے یہ کتاب گردش زمانہ کی ہاتھوں عام نگاہوں سے اوجھل تھی۔ دو تین قلمی نسخے کتاب خانوں کی زینت تھے جن میں سے ایک نسخہ میرے ایک بھائی کی کتابوں سے برآمد ہوا۔ جو میرے لئے از حد خوشی کا باعث تھا۔ کتاب المومن امام رضا علیہ السلام کے صحابی کی تالیف تھی۔ اس لئے فخر بھی ہوا۔

تاریخ تدوین حدیث شیعہ لکھتے ہوئے میں نے محسوس کیا تھا کہ علماء سابقین نے پہلی دوسری صدی ہجری کی چھوٹی چھوٹی تالیفات اور بڑے بڑے کتابوں کو اپنے ضخیم مجموعوں میں جمع کر کے احادیث اور اقوال محمد و آل محمد علیہم السلام کو محفوظ کر لیا۔ یہ ان کا بڑا احسان تھا۔ لیکن اگر وہ مجموعے الگ الگ بھی مل جاتے تو بڑا کام ہوتا۔ کتاب المحاسن، برقی اور کتاب الکافی کلینی کے مصادر مل جاتے۔ اکابر محدثین اور راویان احادیث کے انداز جمع و تدوین کا علم حاصل ہو جاتا۔

کتاب المومن ان کتابوں میں ہے جس سے علامہ برقی اور علامہ کلینی، علامہ طوسی اور علامہ مجلسی نے فائدہ اٹھایا۔ ان کی کتابوں میں اس کی حدیثیں موجود ہیں۔ آج ہم آپ کے سامنے اصل کتاب پیش کر رہے ہیں اور عرب و عجم میں یہ پہلی پیش کش ہے۔

کتاب المومن انسانی حقوق و فرائض کی دستاویز ہے۔ اس کتاب میں اہل ایمان کو باہمی اخوت، ایثار، ہمدردری اور تعاون کا درس دیا گیا ہے۔ آئمہ اہل بیت نے مسلمانوں کی قدر و قیمت سمجھائی ہے۔ سلف نے امیروں کو غریبوں کی خبرگیری کی دعوت دی ہے۔ غریبوں کی عزت نفس اور احترام ذات کا سبق دیا ہے۔ کتاب المومن آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے فلسفہ اخلاق و معاشرت کی تعلیم کا مجموعہ اور دین اسلام کے عملی پہلووں کا اہم ذخیرہ ہے۔ کتاب کے آٹھ باب ہیں جیسے جنت کے آٹھ دروازے۔ ہر باب میں عقیدہ و عمل، نیت و ثواب، دعوت و تبلیغ کے رنگا رنگ پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔

مومن کی سختیوں کا ذکر، مومنوں کے ثواب کا بیان، مومنوں کی اخوت کا تذکرہ، مومن کا مومن پر حق، مومن کی تکلیف دور کرنے کا ثواب اور اس کی حاجت برآوری کا اجر، مومن کو خوش حال کرنے کا شرف، مومن کی ملاقات اور بیمار پرسی کی تاکید، مومن کو سیر و سیراب کرنے، لباس دینے اور قرض ادا کرنے کے فوائد، مومن کی باہمی احترامات و اعزاز کی تفصیل، زیر نظر کتاب کے مسائل ہیں۔ کم و بیش دو سو حدیثوں میں تمثیل اور تشویق کے طور پر فرائض و احکام کی تفصیل موجود ہے۔ اگر مسلمان اس کتاب پو غور کریں تو انہیں انسان شناسی کی اعلی مثالیں اور اعلی تعلیمات ملیں گے جن پر عمل کرنے سے ہمارے بیمار معاشی اور اخلاقی مشکلات حل ہو سکتے ہیں۔

کتاب المومن کا قلمی نسخہ: میرے پاس جو قلمی کتاب ہے اس کی روشنائی اور کاغذ کی عمر زیادہ سے زیادہ ڈیڑہ سو برس ہوگی، اس کا سائز ۱۸ ضرب ۲۲ بٹا ۸ ہے اس کی پہلی سطر ہے۔

کتاب المومن : تالیف الحسین بن سعید الاھوازی قدس سرہ و ھو کوفی ثقۃ و قد تحول الی قم۔ ثم توفی رحمہ اللہ۔

دوسری سطر: بقم ایضا و لہ کتب جیدہ ۔۔۔۔

آخری صفحے کے دائیں حاشیہ پر یہ لکھ کر کاتب نے قلم روک لیا ہے:

”سلخ محرم“

سولہ ورق یا بتیس صفحے ہیں۔ اور ہر صفحے پر ۲۶ ، ۲۲ ، ۲۱ ، ۲۳ ، ۲۲ سطریں ہیں گویا بائیس سطر اوسط ہے۔ کاتب خوش خط اور بظاہر عالم ہے کہ اغلاط کم ہیں۔ حدیثوں کو مسلسل لکھا ہے۔ کوئی علامت اور امتیاز نہیں ہے۔ چار جگہ حاشیہ پر نسخہ بدل اور تین جگہ تشریحی مختصر حاشیہ ہے۔ نہ کاتب کا نام ہے نہ کتابت کی تاریخ، مگر نسخہ عمدہ ہے۔ پاکستان میں اس کتاب کے کسی نسخے کا سراغ نہ مل سکا۔ خوش قسمتی سے انہی دنوں ایک ایرانی فاضل اور نجفی طالب علم لاہور آئے۔ موصوف نے حجہ الاسلام مولانا سید عبد العزیز طباطبائی کو خط لکھنے کا مشورہ دیا۔ میں نے خط لکھا، جواب آیا:

یک نسخہ از آن در کتابخانه مرکزي دانشگاه تهران ضمن مجموعه ہست، نسخه دیگری ازان در تبريز آقاي سيدايرواني ہست و من از نسخه دانشگاه برائے خودم عکس گرفتم، من یک نسخہ از ایں کتاب دارم و با نسخہ تبریز خودم بردم مقابلہ کردم۔۔۔

یک نسخہ دیگر از کتاب مومن بخط حاجی میرزا حسین نوری در کتاب خانہ آیت اللہ حکیم در نجف است۔۔۔

مکتوب ۲۸ شوال ۱۳۸۸ ھ۔

ان نسخوں نے استفادہ ناممکن تھا۔ اس لیے اپنے ہی نسخہ کو بار بار دیکھتا، پڑھتا رہا اور تا بہ مقدور صحیح کر لیا۔ حدیثوں کو شمار کیا، واضح اور کشادہ مسودہ تیار کیا اور یہ عمل تین مرتبہ ہوا۔ اس کاوش و کوشش میں علامہ مجلسی کا نسخہ بحار کے مجلدات میں بکھرا ہوا ملا، جو شہید کے نسخے کی نقل تھا۔

بے شمار کتابوں کی بار بار ورق گردانی کے بعد اور پانچ مرتبہ از سر نو کتاب لکھ کر بڑی حد تک کام ختم کیا تھا کہ توفیق رفیق ہوئی اور مجھے (صفر ۱۳۸۹ ھ) میں امام موسی کاظم علیہ السلام و امام محمد تقی علیہ السلام کے جوار کاظمین میں، اس کتاب کی چھٹی قرائت کا موقعہ مل گیا۔ میں زیارت کے بعد نصف شب کو کتاب و حواشی لکھ رہا تھا۔ کیا بعید ہے کہ جناب حسین بن سعید یہاں آئے ہوں اور اپنے مخدوم امام سے استفادہ کیا ہو، دل باغ باغ تھا، زبان حمد خدا میں مصروف اور پیشانی سجدہ شکر میں تھی۔ بغداد سے کربلا اور کربلا سے نجف پہنچا اور جناب مولانا عبد العزیز صاحب نے صورت دیکھتے ہی اپنا نسخہ اور کتاب الزھد عاریتا مرحمت فرمایا۔

سرکار مرحوم آیت اللہ السید محسن طباطبائی کی خدمت میں حاضر ہوا۔

سرکار نے از راہ کرم اپنے نسخے کے استعمال کی اجازت مرحمت فرمائی اور میں نے کتب خانہ حکیم میں روبرے حرم اطہر امیر المومنین اپنے نسخے کا اس سے بھی مقابلہ کیا۔ اس طرح مقابلہ و تصحیح کی منزلیں، بلاد آئمہ علیہم السلام میں تمام ہوئیں اور تیسرا شرف یہ ملا کہ حضرت خاتم المحدثین آیت اللہ الشیخ محسن، مشہور بہ آغا بزرگ طہرانی (متوفی ۱۳۸۹) نے اس کتاب کو ملاحظہ فرما ۔۔۔ الذریعہ کے لیے ضروری نوٹ قلم بند فرمائے اور مجھے اجازہ ۔۔ مرحمت فرمایا۔

کتاب مع مقدمہ و تعلیقات و احوال رجال مکمل کر چکا تھا کہ اسی سال حج کی سعادت حاصل ہوئی اور کتاب کی چھٹی نقل یا آخری مسودہ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں پھر نظر سے گزرا۔ حج سے واپسی پر جناب شیخ مہدی حسین صاحب بالقابہ اور ان کے فرزند سعید جناب ظفر مہدی حفظہ اللہ نے اثناء گفتگو میں کتاب شائع کرنے کا ذمہ لے لیا۔ ورنہ اس بے منفعت مادی کتاب کا شائع ہونا مشکل تھا۔ اب موصوف اسی سعادت و ثواب میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ میرا شکریہ، صمیمانہ اس پر مستزاد، جناب محمد شریف صاحب نے جس خلوص اور محنت سے کتاب کی کمپوزنگ اور صحت اور خوش حالی کے مراحل انجام دئے اس کیلئے میں بے حد ممنون ہوں۔

کتاب کا اردو اور عربی مقدمہ بہت طویل تھا، فہرست احادیث اور اشاریہ بھی پچاس صفحے کا ہوگا۔ کاغذ نایاب ہونے کی وجہ سے میں نے اسے دوسری اشاعت کے لیے ملتوی کیا اور یہ مختصر مقدمہ از سر نو لکھ کر شریک طباعت کردیا۔

کتاب المومن میں تقریبا ۱۹۹ حدیثیں ہیں۔ ان کے نمبر میرے پاس ہیں، جس میں غلطی کا امکان ہے، ان میں دو، آنحضرت صہ سے چار حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے دو امام زین العابدین علیہ السلام سے سینتیس امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک غالبا امام موسی کاظم علیہ السلام سے تین امام رضا علیہ السلام سے اور باقی امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہیں۔ ان میں سے متعدد روایات کتب اہلسنت میں موجود ہیں۔ روایات عموما مرسل ہیں۔ لیکن دوسری کتابوں میں باسناد موجود ہیں۔ علامہ نوری رحمہ اللہ نے (خاتمہ مستدرک الوسائل ص ۲۹۲) میں کتاب المومن کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: کتاب مذکور جناب حسین بن سعید کی ان تیس کتابوں میں ہے جن کا اعتبار ضرب المثل ہے۔

ترجمہ:

عربی سے ناواقف حضرات کے لیے اس کا اردو ترجمہ ناگذیر تھا۔ ترجمہ آزاد اور مطلب خیز ہے تا کہ اگر کوئی صاحب براہ راست اس سے مستفید ہونا چاہیں تو زحمت نہ ہو۔ متن اور ترجمہ میں اگر کوئی فروگذاشت نظر آئے تو حقیر کو مطلع فرما کر شکر گذار کردیں۔

جناب حسین بن سعید اہوازی

مولف کتاب

حضرت حسین اہوازی کا ذکر تمام بنیادی کتب رجال میں موجود ہے۔ خلاصہ تحقیق یہ ہے۔ کہ

سعید بن حماد بن سعید بن مہران، امام زین العابدین علیہ السلام کے آزاد کردہ غلام تھے اور بظاہر مخلص شیعہ اور علم و فضل کے شیدائی تھے۔ انہوں نے اپنے دو فرزندوں کے نام اپنے دو اماموں کے نام پر رکھے۔ بڑے فرزند کا نام تھا حسن ؒ اور چھوٹے کو حسین ؒ کے نام سے موسوم کیا۔

ولادت

خیال ہے جناب حسین رحمہ اللہ کوفہ میں پیدا ہوئے اور میرے حساب اور اندازے کے مطابق ان کی پیدائش ۱۸۵ ۔ ۱۹۰ ھ کے لگ بھگ ہوئی، کیوں کہ تمام علماء رجال انہیں امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔

تعلیم و تربیت

حسن بن سعید ان کے بڑے بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں نے حدیث و روایت میں شہرت پائی اور فقہ و عقائد پر کتابیں لکھیں۔ اس لیے دونوں حضرات نے اپنے عہد کے علماء و اصحاب آئمہ علیہم السلام سے تعلیم حاصل کی۔ ذہانت و پاکیزہ نفسی میں کمال پایا۔ مشہور ہے کہ دونوں بھائیوں نے مل کر تیس کتابیں لکھی ہیں اور یہ کتابیں مدت مدید تک علماء میں مشہور رہیں۔ ابن ندیم کے بقول: حسن و حسین فرزندان سعید امام رضا علیہ السلام کے صحابی تھے اور اپنے عہد کے بہت بڑے عالم، فقہ، تاریخ اور حدیث و مناقب اور علوم شیعہ کے ماہر تھے۔ کوفہ کے باشندے اور اہواز کے متوطن تھے (الفہرست ابن ندیم، ص ۳۱۰) ۔

شیوخ و اساتذہ:

جناب حسین رحمہ اللہ نے متعدد علماء سے درس لیا ہوگا، بہت سے شیوخ کی خدمت میں حاضری دی ہوگی۔ تین معصوم اماموں کی زیارت کا شرف پایا۔ علماء ان کا احترام کرتے تھے اور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔ رجال کی کتابوں میں ان کے چند شیوخ کے نام ملتے ہیں جو سب کے سب عظیم المرتبت ہیں۔ مثلا

۱ ۔حماد بن عیسے غریق جحفہ ۲۰۸ ھ۔

۲ ۔ ابو محمد، یونس بن عبد الرحمن المتوفی ۲۰۸ ھ۔

۳ ۔ ابان بن محمد المتوفی ۲۱۰ ھ۔

۴ ۔ ابو محمد البجلی، صفوان بن یحی المتوفی ۲۱۰ ھ۔

۵ ۔ محمد بن ابی عمیر متوفی ۲۱۷ ھ۔

۶ ۔ عبد اللہ بن جبلہ الکنانی متوفی ۲۱۹ ھ۔

۷ ۔ حسن بن فضال متوفی ۲۲۴ ھ۔

۸ ۔ حسن بن محبوب متوفی ۲۲۴ ھ۔

۹ ۔ احمد بن محمد بن عیسے

۱۰ ۔علی بن مہزیار اہوازی۔

یہ حضرات حدیث و فقہ، روایت و درایت کے ستون اور آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔ حسین بن سعید نے اپنے بھائی اور مذکورہ شیوخ اصحاب سے کسب فیض کر کے خود علوم و عرفان کے دریا بہائے۔

وطن

جناب حسین بن سعید کے آباء و اجداد مدینہ میں رہتے ہوں گے۔ کیوں کہ امام زین العابدین کا بیشتر قیام مدینہ منورہ ہی میں رہا لیکن جناب حسن رحمہ اللہ و حسین رحمہ اللہ کوفہ میں رہے۔ آخر میں دونوں حضرات اہواز چلے گئےاور اسی نسبت سے مشہور ہوئے۔

وفات

جناب حسین رحمہ اللہ کوفہ سے اہواز اور آخر عمر میں اہواز سے، مرکز علم و ایمان۔ قم میں تشریف لے آئے تھے۔ قم میں حسن بن ابان کے گھر میں قیام تھااور حسن بن ابان ہی کے یہاں وفات پائی۔ تاریخ وفات کسی نے نہیں لکھی۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ واقعہ ۲۵۴ اور ۲۵۶ ھ کے قریب رونما ہوا، ساٹھ ستر کے درمیان عمر ہوگی۔

اولاد

حضرت شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی ؒنے کتاب الرجال میں جناب حسین بن سعید کے ایک صاحب زادے جناب احمدبن حسین کو اصحاب امام علی نقی و اصحاب امام حسن عسکری علیہما السلام میں شمار کیا ہے۔ لیکن ان سے کسی روایت کا سراغ نہیں ملتا۔ احمد بن حسین بن سعید، قم میں رہتے تھے اور غالبا ( ۳۲۰ ھ میں) قم ہی میں رحلت کر گئے۔ ان کی تین کتابوں کے نام کتب فہرست و رجال میں موجود ہیں۔

کتاب الاحتجاج، کتاب الانبیاء، کتاب المثالب

مولفات

جناب حسین بن سعید ثقہ اور متدین عالم اور متعدد کتابوں کے مولف و مصنف اور بلند پایہ محدث تھے۔ ان کی سب نے تعریف کی ہے اور ان کی کتابوں پر سب نے بھروسہ کیا ہے۔ وہ اپنے بھائی جناب حسن بن سعید کے ساتھ تصنیف و تالیف میں مصروف رہے۔ دونوں بھائیوں نے مل کر تیس کتابیں قلم بند کیں جن کی موضوع کے اعتبار سے ترتیب یہ ہے:

۱ ۔ کتاب التفسیر۔ (تفسیر میں) تفسیر فرات میں اس کے مطالب نقل کئے گئے ہیں۔ (اعیان الشیعہ ۲۶ ، ۱۰۰) ۔

فقہ میں کتاب الوضوء، کتاب الصلاہ، کتاب الصوم، کتاب الحج، کتاب الزکواہ، کتاب الخمس، کتاب النکاح، کتاب الطلاق، کتاب العتق و التدبیر و المکاتبہ، کتاب الایمان و النذور، کتاب المکاسب، کتاب التجارات و الاجارات، کتاب الوصایا، کتاب الفرائض، کتاب الصید الذبائح، کتاب الاشربہ ، کتاب الشہادات، کتاب الحدود، کتاب الدیات۔

گویا فقہ کا مکمل متن تحریر کیا تھا جو ان کے معاصر اور کچھ بعد کے علماء نے اپنے مجموعوں میں محفوظ کر لیا۔ اصل کتاب آج کل نایاب ہے۔

اخلاق و حقوق، عقائد و مناقب میں:

کتاب المومن، جو صرف جناب حسین بن سعید کی تالیف ہے اور آپ کے سامنے ہے۔

کتاب الزھد، اس کا ایک نسخہ نجف اشرف میں مولانا عبد العزیز صاحب طباطبائی کے پاس دیکھا جو کتاب المومن سے کچھ زیادہ ضخیم ہے۔

کتاب المروہ، کتاب التقیہ، کتاب الملاحم، کتاب الزیارات، کتاب الدعا (اس کتاب کا حوالہ علامہ کفعمی ؒ نے مصباح المتہجد میں اور ابن طاووس نے المجتنی میں دیا ہے)۔ کتاب المناقب، کتاب الرد علی الغلاہ۔

کتاب المومن:

بلا اختلاف یہ کتاب جناب حسین بن سعید ہی کی تالیف ہے۔ البتہ اسے مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ مثلا بقول نجاشی ؒ: کتاب حقوق المومن و فضلھم۔ بقول طوسی:ؒ

کتاب المومن۔

کتاب ابتلاء المومن

کتاب شدہ ابتلاء المومن، ممکن ہے یہ نام باب اول کے عنوان کی بنا پر لکھے گئے ہوں۔

نسخ مقابلہ اور ان کی علامتیں:

۱ ۔ میرا نسخہ جسے، اصل قرار دیا ہے۔

۲ ۔طباطبائی سے مراد جناب عبد العزیز طباطبائی کا ٖفوٹو گراف نسخہ ہے جس کے اصل کی تاریخ کتابت ۱۴ ربیع الثانی ۱۳۲۵ ھ ہے اور مولانا عبد العزیز صاحب نے نسخہ ایروانی سے اس کی تصحیح کی ہے۔

۳ ۔نسخہ حکیم ؒ یا نوری: علامت ہے حضرت آیت اللہ السید محسن الحکیم کے مملوکہ نسخے کی جسے حضرت محدث جلیل علامہ میرزا نوری ؒ نے جمعہ ۱۴ شوال ۱۲۷۹ ھ میں خود نقل فرمایا تھا۔

۴ ۔مجلسی ؒ: سے مراد وہ نسخہ ہے جس کے حوالے سے علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بحار الانوار میں احادیث نقل فرماتے ہیں۔ اور وہ علامہ جباعی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔

ثانوی مآخذ:

۱ ۔ کتاب المحاسن: احمد بن محمد البرقی طبع تہران ۱۳۷۰ ھ۔

۲ ۔ تحف العقول: حسن بن علی الحرانی، طبع تہران ۱۳۷۶ ھ۔

۳ ۔ الکافی، الاصول: محمد ابن یعقوب الکلینی، طبع تہران ۱۳۷۷ ھ۔

۴ ۔ الکافی، الفروع: محمد ابن یعقعوب کلینی طبع تہران ۱۳۱۵ ھ۔

۵ ۔بحار الانوار ج ۱۵: محمد باقر ابن محمد تقی المجلسی طبع تہران ۱۳۳۰ ھ۔

۶ ۔ بحار الانوار ج ۱۶ ، محمد باقر ابن محمد تقی المجلسی طبع تہران طبع ۱۳۱۵ ھ۔

۷ ۔ بحار الانوار، ج ۳ ، محمد باقر ابن محمد تقی المجلسی طبع تہران طبع ۱۳۱۵ ھ۔

۸ ۔ الوافی: محمد ابن مرتضی، طبع تہران ۱۳۲۴ ھ۔

۹ ۔الوافی، فیض الکاشانی، طبع تہران، ۱۳۲۴ ھ۔

۱۰ ۔ الصافی، التفسیر، فیض الکاشانی، طبع تہران، ۱۳۲۴ ھ۔

۱۱ ۔مصادقہ الاخوان: صدوق و مرتضی حسین لاہور، ۱۳۷۸ ھ۔

۱۲ ۔ مصادقہ الاخوان: صدوق و مشکواہ، طبع طہران، ۱۳۷۸ ھ۔

۱۳ ۔ کتاب الخصال: صدوق ؒ، طبع ایران ۱۳۷۴ ھ۔

۱۴ ۔ثواب الاعمال و عقاب الاعمال: صدوق، طبع بغداد ۱۹۶۲ ع۔

۱۵ ۔تنبیہ الخواطر و نزہہ النواظر: شیخ ورام، طبع ایران ۱۳۱۱ ھ۔

۱۶ ۔سفینہ البحار: شیخ عباس قمی، طبع ایران، ۱۳۵۵ ھ۔

۱۷ ۔ مستدرک الوسائل: نوری الطبرسی، طبع اول، ۱۳۵۵ ھ۔

۱۸ ۔ کتاب الاختصاص: شیخ مفید، طبع نجف ۱۳۷۹ ھ۔

۱۹ ۔ معانی الاخبار: صدوق، طہران، ۱۳۷۹ ھ خورشیدی۔

اور دوسرے مصادر جن کا ذکر حاشیہ میں کیا ہے۔

خاکسار

مرتضی حسین عفی عنہ

۲۸ جمادی الاول، ۱۳۹۱ ھ۔


بسم الرحمن الرحیم

رحمن و رحیم، اللہ کی رحمتیں ہوں رسولوں کےسردار(حضرت محمد مصطفی ص) اور ان کے معصوم اہلبیت پر۔

۱ -باب شدة ابتلاء المؤمن‏

۱-عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ فِي قَضَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ خَيْرٍ لِلْمُؤْمِنِ ‏.


پہلا باب: مومن کے امتحان کی سختیاں

۱ ۔ زرارہ بن اعین کہتے ہیں، امام ابو جعفر، محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا، خداوند عالم کے فیصلہ میں مومن کیلئے ہر طرح کی بھلائی ہوتی ہے۔

- وَ عَنِ الصَّادِقِ ع‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْراً لَهُ وَ إِنْ مَلَكَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا كَانَ خَيْراً لَهُ‏ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فَوَقاهُ اللَّهُ سَيِّئاتِ ما مَكَرُوا ثُمَّ قَالَ أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ تَسَلَّطُوا عَلَيْهِ وَ قَتَلُوهُ فَأَمَّا مَا وَقَاهُ اللَّهُ فَوَقَاهُ اللَّهُ أَنْ يَعْتُوَ فِي دِينِهِ‏

۲ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: خداوند عالم، مسلمان کے حق میں ہمیشہ اچھا ہی فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ خدا نے مومن آل فرعون کو فرعونیوں کی تدبیروں کے شر سے بچا لیا۔ خدا کی قسم وہ لوگ اس مومن پر مسلط ہو گئے اور اسے قتل کر دیا، مگر خدا نے اس مرد مومن کو یوں بچایا کہ وہ لوگ اسے اس کے دین سے منحرف نہ کر سکے۔

۳-وَ عَنِ الصَّادِقِ ع قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا لَهُ فِي الْمَصَائِبِ مِنَ الْأَجْرِ لَتَمَنَّى أَنْ يُقَرَّضَ بِالْمَقَارِيضِ.

۳ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر مومن کو یہ معلوم ہو جائے کہ اسے جو دکھ پہنچ رہے ہیں ان کا اجر کیا ہے، تو وہ قینچی سے اپنی بوٹیاں کٹوانے پر تیار ہوجائے۔ (کیوں کہ اس کے بدلے جو آخرت میں انعامات ملنے والے ہیں وہ ان تکلیفوں کا سب سے بڑا اور دلکش مداوا ہیں)۔

۴-عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ ع فَجَاءَ جَمِيلٌ الْأَزْرَقُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا بَلَايَا الشِّيعَةِ وَ مَا يُصِيبُهُمْ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع إِنَّ أُنَاساً أَتَوْا عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ع وَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا لَهُمَا نَحْواً مِمَّا ذَكَرْتُمْ قَالَ فَأَتَيَا الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ع فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ الْحُسَيْنُ ع وَ اللَّهِ الْبَلَاءُ وَ الْفَقْرُ وَ الْقَتْلُ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ أَحَبَّنَا مِنْ رَكْضِ الْبَرَاذِينِ‏ وَ مِنَ السَّيْلِ إِلَى صِمْرِهِ قُلْتُ وَ مَا الصِّمْرَةُ قَالَ مُنْتَهَاهُ وَ لَوْ لَا أَنْ تَكُونُوا كَذَلِكَ لَرَأَيْنَا أَنَّكُمْ لَسْتُمْ مِنَّا ۔

۴ ۔ ابن طریف نے بیان کیا کہ میں ایک دن امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں جمیل ازرق آ گئے اور شیعوں کے مشکلات اور مصائب کا تذکرہ ہونے لگا، امام نے فرمایا ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اور عبد اللہ بن عباس کے پاس حاضر ہوئے اور دونوں کے حضور میں یہی باتیں شروع ہو گئیں جن پر تم گفتگو کر رہے ہو۔ وہ دونوں حضرات اٹھے اور امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے خیالات امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں بیان کیے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

خدا کی قسم بلائیں اور فقر و فاقہ اور قتل تو ہمارے چاہنے والوں تک یوں آتا ہے جیسے شریف اچھی نسل کا ترکی گھوڑا مہمیز سے دوڑے یا سمرہ کی طرف سیلابی پانی کا بہاو ہو۔ راوی نے پوچھا سمرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: آخری حد۔ اور دیکھو، اگر لوگ اس طرح مصائب میں گرفتار نہ ہوں تو ہمیں یہ خیال ہو، کہ تم لوگ ہم سے کوئی وابستگی نہیں رکھتے۔

نکتہ:

ظاہر ہے کہ معاویہ کا دور شیعوں کے مصائب کا عہد شباب تھا، اور امام علیہ السلام کا ارشاد سو فی صد صحیح کربلا میں مصائب اور قتل میں ثابت قدمی، محبت اہلبیت کا سب سے بڑا معیار تھا۔ اس حدیث سے سیرت امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ واقعہ بھی معلوم ہوا کہ امام حسین علیہ السلام کے عہد آخر میں آپ کے پاس لوگ آتے تھے اور آپ کی صحبت سے فیض اٹھاتے تھے۔ جن میں ابن عباس بھی تھے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی نشست اپنے والد بزرگوار سے الگ تھی مگر کسی معاملہ میں آخری بات کے لیے پدر عالیقدر سے رجوع فرماتے تھے۔

۵-وَ عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع قَاعِداً فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ‏ فَقَالَ صَدَقْتَ إِنَّ طِينَتَنَا مَخْزُونَةٌ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَهَا مِنْ صُلْبِ آدَمَ فَاتَّخِذْ لِلْفَقْرِ جِلْبَاباً فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ وَ اللَّهِ يَا عَلِيُّ إِنَّ الْفَقْرَ لَأَسْرَعُ [أَسْرَعُ‏] إِلَى مُحِبِّيكَ مِنَ السَّيْلِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي‏.

۵ ۔ اصبغ بن نباتہ کی روایت ہے۔ ایک دن وہ امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص آیا اور حضرت سے عرض کرنے لگا یا امیر المومنین خدا کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا: ٹھیک ہے مگر ہماری طینت (خمیر) محفوظ امانت ہے۔ خدا نے صلب آدم علیہ السلام سے اس کا میثاق لے لیا تھا۔ اب تم فقر کی چادر کے لیے تیار رہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان اقدس سے سنا۔ خدا کی قسم، یا علی عہ وادی کے نشیب میں پانی کے بہاو سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ تمہارے شیعوں تک فقر پہنچتا ہے۔

نکتہ: مقصدیہ ہےکہ حب محمدوآل محمد کی راہ میں مشکلیں اور زحمتیں اول ہیں۔ ان مشکلوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

۶-عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ الشَّيَاطِينَ أَكْثَرُ عَلَى الْمُؤْمِنِ مِنَ الزَّنَابِيرِ عَلَى اللَّحْمِ‏.

۶ ۔ فضیل بن یسار نےامام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ حضور نے فرمایا: جیسے نیلی مکھیاں گوشت پر چھا جاتی ہیں اس سے زیادہ شیطان مومن کو گھیرتا ہے۔

۷-وَ عَنْ أَحَدِهِمَا ع قَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِمَكْرُوهٍ وَ صَبَرَ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ أَلْفِ شَهِيدٍ.

۷ ۔ امام محمد باقر علیہ السلام یا امام جعفر صادق علیہ السلام (کافی ) امام جعفر صاق علیہ السلام سے روایت ہے جو مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا اور صبر کرتاہے۔ خدا اسے ہزار شہیدوں کا اجر دیتا ہے۔

۸-وَ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ع قَالَ: مَا أَحَدٌ مِنْ شِيعَتِنَا يَبْتَلِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِبَلِيَّةٍ فَيَصْبِرُ عَلَيْهَا إِلَّا كَانَ لَهُ أَجْرُ أَلْفِ شَهِيدٍ .

۸ ۔ابو الحسن،موسی کاظم علیہ السلام نےفرمایا:جس شیعہ کو خدا آزمایش میں مبتلا کرتا ہے اور وہ صبر کر لیتا ہے تو خدا اسے ہزار شہیدوں کا اجر دیتا ہے۔

۹-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى ع أَنْ يَا مُوسَى مَا خَلَقْتُ خَلْقاً أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ وَ إِنِّي إِنَّمَا أَبْتَلِيهِ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَ أُعْطِيهِ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ‏ وَ أَزْوِي عَنْهُ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَ أَنَا أَعْلَمُ بِمَا يَصْلُحُ عَلَيْهِ عَبْدِي فَلْيَصْبِرْ عَلَى بَلَائِي وَ لْيَرْضَ بِقَضَائِي وَ لْيَشْكُرْ نَعْمَائِي أَكْتُبْهُ فِي الصِّدِّيقِينَ عِنْدِي إِذَا عَمِلَ بِرِضَائِي وَ أَطَاعَ أَمْرِي‏.

۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے حضرت موسی علیہ السلام سے ایک وحی میں ارشاد کیا۔ اے موسی عہ!مجھے اپنے بندہ مومن سے زیادہ اپنی مخلوق میں کوئی محبوب نہیں۔ میں اسے ایسے ہی مشکلات میں مبتلا کرتا ہوں جو اس کیلئے فائدہ مند ہوں۔ پھر اسے جو کچھ دیتا ہوں وہ بھی اس کیلئے بہتر ہوتا ہے۔ جس چیز سے محروم کرتا ہوں اس میں بھی اس کیلئے اچھائی ہوتی ہے۔ میں ہی خوب جانتا ہوں کہ اس کیلئے کیا زیادہ بہتر ہے۔ مومن کو میرے آزمانے پر صبر میرے فیصلوں پر راضی برضا، میری نعمتوں پر شکر کرنا چاہیے۔ میں اسے اپنے صدیقوں میں شامل کر لوں گا اگر میری رضا کے مطابق عمل اور میرے حکم کی فرمانبرداری کرے۔

۱۰-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: كَانَ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ أَخٌ فِي اللَّهِ وَ كَانَ مُوسَى يُكْرِمُهُ وَ يُحِبُّهُ وَ يُعَظِّمُهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُكَلِّمَ لِي هَذَا الْجَبَّارَ وَ كَانَ الْجَبَّارُ مَلِكاً مِنْ مُلُوكِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ وَ اللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ وَ لَا سَأَلْتُهُ حَاجَةً قَطُّ قَالَ وَ مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذَا لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقْضِي حَاجَتِي عَلَى يَدِكَ فَرَقَّ لَهُ وَ ذَهَبَ مَعَهُ مِنْ غَيْرِ عِلْمِ مُوسَى فَأَتَاهُ وَ دَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْجَبَّارُ أَدْنَاهُ وَ عَظَّمَهُ فَسَأَلَهُ حَاجَةَ الرَّجُلِ فَقَضَاهَا لَهُ فَلَمْ يَلْبَثْ ذَلِكَ الْجَبَّارُ أَنْ طُعِنَ فَمَاتَ فَحَشَدَ فِي جَنَازَتِهِ أَهْلُ مَمْلَكَتِهِ وَ غُلِّقَتْ لِمَوْتِهِ أَبْوَابُ الْأَسْوَاقِ لِحُضُورِ جَنَازَتِهِ وَ قُضِيَ مِنَ الْقَضَاءِ أَنَّ الشَّابَّ الْمُؤْمِنَ أَخَا مُوسَى مَاتَ يَوْمَ مَاتَ ذَلِكَ الْجَبَّارُ وَ كَانَ أَخُو مُوسَى إِذَا دَخَلَ مَنْزِلَهُ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَلَا يَصِلُ إِلَيْهِ أَحَدٌ وَ كَانَ مُوسَى إِذَا أَرَادَهُ فَتَحَ الْبَابَ عَنْهُ وَ دَخَلَ عَلَيْهِ وَ إِنَّ مُوسَى نَسِيَهُ‏ ثَلَاثاً فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ ذَكَرَهُ مُوسَى فَقَالَ قَدْ تَرَكْتُ أَخِي مُنْذُ ثَلَاثٍ فَلَمْ آتِهِ فَفَتَحَ عَنْهُ الْبَابَ وَ دَخَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا الرَّجُلُ مَيِّتٌ وَ إِذَا دَوَابُّ الْأَرْضِ دَبَّتْ إِلَيْهِ فَتَنَاوَلَتْ مِنْ مَحَاسِنِ وَجْهِهِ فَلَمَّا رَآهُ مُوسَى عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ يَا رَبِّ عَدُوُّكَ حَشَرْتَ لَهُ النَّاسَ وَ وَلِيُّكَ أَمَتَّهُ فَسَلَّطْتَ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْأَرْضِ تَنَاوَلَتْ مِنْ مَحَاسِنِ وَجْهِهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ يَا مُوسَى إِنَّ وَلِيِّي سَأَلَ هَذَا الْجَبَّارَ حَاجَةً فَقَضَاهَا لَهُ فَحَشَدْتُ لَهُ أَهْلَ مَمْلَكَتِهِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ لِأُكَافِئَهُ عَنِ الْمُؤْمِنِ بِقَضَاءِ حَاجَتِهِ لِيَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا وَ لَيْسَ لَهُ عِنْدِي حَسَنَةٌ أُكَافِئُهُ عَلَيْهَا وَ إِنَّ هَذَا الْمُؤْمِنَ سَلَّطْتُ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْأَرْضِ لِتَتَنَاوَلَ مِنْ مَحَاسِنِ وَجْهِهِ لِسُؤَالِهِ ذَلِكَ الْجَبَّارَ وَ كَانَ لِي غَيْرَ رَضِيٍّ لِيَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا وَ مَا لَهُ عِنْدِي ذَنْبٌ‏.

۱۰ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: حضرت موسی عہ بن عمران کے ایک مواخاتی بھائی یا رضائے خدا کیلئے آپ کے دوست تھے۔ حضرت موسی عہ ان کی عزت و تکریم کرتے۔ اور بہت محبت فرماتے تھے۔ اس مرد مومن کے پاس ایک مرتبہ کوئی شخص آیا اور کہنے لگا: جبار سے میری سفارش کر دیجیے۔ جبار، بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ اس مومن نے کہا: بخدا، میں نہ اسے جانتا ہوں، نہ کبھی اس سے کوئی درخواست کی ہے۔ سائل نے کہا: تو اس میں آپ کا نقصان ہی کیا ہے؟ ممکن ہے خدا آپ کے ذریعہ میرا یہ کام پورا کرا دے۔ وہ مرد مومن سفارش پر آمادہ ہو گئے اور حضرت موسی عہ سے مشورہ لیے بغیر جبار کے پاس چلے گئے۔ جبار، نے جو انہیں دیکھا، تو بڑی عزت سے پیش آیا، اپنے پاس بھٹایا، اور اس آدمی کا کام دریافت کیا، اور سفارش مان لی۔ کچھ دن بھی نہ گذرے تھے کہ کسی نے اسے زخمی کر دیا جس کی وجہ وہ مر گیا۔ اس کے مرنے پر شہر کے بازار بند ہوگئے اور لوگ جوک در جوک جنازہ میں جمع ہوئے۔ اتفاق دیکھئے کہ حضرت موسی عہ کا جوان، مومن دوست بھی اسی دن وفات پا گیا جس دن جبار، نے رحلت کی تھی۔ اس مومن کی عادت تھی کہ گھر میں آ کر اندر سے کنجی بند کر لیا کرتا تھا جب حضرت موسی عہ آتے تھے تو یہ شخص دروازہ کھولتا تھا اور حضرت موسی عہ گھر میں چلے جاتے تھے۔ حضرت موسی عہ تین دن کے بعد اس سے ملنے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس مرتبہ تین دن کے بعد چوتھے دن حضرت کو خیال آیا کہ تین دن سے دوست کو نہیں دیکھا، آج چوتھا دن ہے چلنا چاہیے، گھر پہنچے، دروازا کھول کر اندر تشریف لے گئے تو دوست کو مردہ پایا، جنازہ پر کیڑے مکوڑوں کا قبضہ دیکھا۔ جسم کا حسن مٹ چکا ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسی عہ نے فریاد کی۔ پروردگارا، دشمن کے جنازہ پر وہ مجمع اور ایسی شان تھی، اور دوست کا یہ حال ہے؟ کیڑے مکوڑوں کا قبضہ ہے، جسم کی خوبصورتی مٹ چکی ہے! جواب ملا: موسی عہ میرے دوست نے اس سے ایک درخواست کی تھی۔ میں نے جبار کو مومن کی طرف سے بدلہ دیا، اس کے جنازے کی شان بڑھادی۔ مجمع عظیم جمع ہوا، تا کہ بندہ مومن پر جبار کے احسان کا حق دنیا میں ہی ادا ہو جائے، جب میرے پاس آئے تو کوئی ایسی نیکی لے کر نہ آئے جس کا صلہ وہاں مانگ سکے اور اس مومن پر کیڑے مکوڑوں کو اس لئے مسلط کیا کہ وہ اس کے حسن کو نقصان پہنچائیں۔ اس نے میری رضا کا خیال کئے بغیر اس جبار سے سوال کیوں کیا؟ مطلب یہ تھا کہ جب دنیا سے اٹھے تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہ ہو۔

۱۱-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ يُكْرِمَ عَبْداً وَ لَهُ عِنْدَهُ ذَنْبٌ ابْتَلَاهُ بِالسُّقْمِ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ابْتَلَاهُ بِالْحَاجَةِ فَإِنْ هُوَ لَمْ يَفْعَلْ شَدَّدَ عَلَيْهِ [عِنْدَ] الْمَوْتِ وَ إِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ يُهِينَ عَبْداً وَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ أَصَحَّ بَدَنَهُ فَإِنْ هُوَ لَمْ يَفْعَلْ وَسَّعَ فِي مَعِيشَتِهِ فَإِنْ هُوَ لَمْ يَفْعَلْ هَوَّنَ عَلَيْهِ الْمَوْتَ ‏.

۱۱ ۔حضرت ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا جب خداوند عالم کسی گنہگار بندے کی عزت افزائی چاہتا ہے۔ تو اسے بیماری میں مبتلا کرتا ہے یا پھر کسی ضرورت میں الجھاتا ہے۔ یا پھر موت کی سختی بڑھا دیتا ہے۔ اور جب کسی انسان کے اعمال و کردار قابل سرزنش و سزا ہوں مگر اس کا کوئی قابل تعریف و انعام عمل بھی ہوتو خدا اس کو جسمانی صحت عطا فرماتا ہے اگر یہ نہیں تو اس کی معاشی حالت کو بہتر بنا دیتا ہے، اگر یہ بھی نہیں کرتا تو موت کی سختیاں کم کر دیتا ہے۔

۱۲-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَ عِزَّتِي لَا أُخْرِجُ لِي عَبْداً مِنَ الدُّنْيَا أُرِيدُ رَحْمَتَهُ إِلَّا اسْتَوْفَيْتُ كُلَّ سَيِّئَةٍ هِيَ لَهُ إِمَّا بِالضِّيقِ فِي رِزْقِهِ أَوْ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ وَ إِمَّا خَوْفٍ أُدْخِلُهُ عَلَيْهِ فَإِنْ بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْ‏ءٌ شَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْمَوْتَ وَ قَالَ ع وَ قَالَ اللَّهُ وَ عِزَّتِي لَا أُخْرِجُ لِي عَبْداً مِنَ الدُّنْيَا وَ أُرِيدُ عَذَابَهُ إِلَّا اسْتَوْفَيْتُهُ كُلَّ حَسَنَةٍ لَهُ إِمَّا بِالسَّعَةِ فِي رِزْقِهِ أَوْ بِالصِّحَّةِ فِي جَسَدِهِ وَ إِمَّا بِأَمْنٍ أُدْخِلُهُ عَلَيْهِ فَإِنْ بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْ‏ءٌ هَوَّنْتُ عَلَيْهِ الْمَوْتَ‏.

۱۲ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے۔ میں اپنی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس مومن و نیک عمل شخص پر رحمت و انعام کی بارشیں کرنا چاہتا ہوں تو دنیاوی زندگی میں اس کے گناہوں کا بدلہ دے دیتا ہوں کبھی اس کی روزی میں سختی ہوتی ہے، یا جسمانی آزمائش، یا قلبی اور ذہنی پریشانیاں لاحق ہو جاتی ہیں۔اگر اس پر بھی ان گناہوں کے بدلہ میں کچھ کمی رہ جاتی ہے تو موت اور نزع میں سختیاں بڑہ جاتی ہیں۔ خداوند عالم نے فرمایا: میں قسم کھا کر کہتا ہوں جب میں کسی مستحق عذاب انسان کو دنیا سے اٹھاتا ہوں تو اس کے اچھے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیتا ہوں، یعنی وسعت رزق، یا جسمانی صحت، یا اطمینان خاطر اور پریشانیوں سے دوری یا موت کے وقت آسانی عطا کرتا ہوں۔

۱۳-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مَرَّ نَبِيٌّ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِرَجُلٍ بَعْضُهُ تَحْتَ حَائِطٍ وَ بَعْضُهُ خَارِجٌ مِنْهُ فَمَا كَانَ خَارِجاً مِنْهُ قَدْ نَقَبَتْهُ الطَّيْرُ وَ مَزَّقَتْهُ الْكِلَابُ ثُمَّ مَضَى وَ وقعت [رُفِعَتْ‏] لَهُ مَدِينَةٌ فَدَخَلَهَا فَإِذَا هُوَ بِعَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهَا مَيِّتٍ عَلَى سَرِيرٍ مُسَجًّى بِالدِّيبَاجِ حَوْلَهُ الْمَجَامِرُفَقَالَ يَا رَبِّ إِنَّكَ حَكَمٌ عَدْلٌ لَا تَجُورُ[ذَاكَ‏] عَبْدُكَ لَمْ يُشْرِكْ بِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ أَمَتَّهُ بِتِلْكَ الْمِيتَةِ وَ هَذَا عَبْدُكَ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ أَمَتَّهُ بِهَذِهِ الْمِيتَةِ فَقَالَ [اللَّهُ‏] عَزَّ وَ جَلَّ عَبْدِي أَنَا كَمَا قُلْتَ حَكَمٌ عَدْلٌ لَا أَجُورُ ذَاكَ عَبْدِي كَانَتْ لَهُ عِنْدِي سَيِّئَةٌ وَ ذَنْبٌ فَأَمَتُّهُ بِتِلْكَ الْمِيتَةِ لِكَيْ يَلْقَانِي وَ لَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ شَيْ‏ءٌ وَ هَذَا عَبْدِي كَانَتْ لَهُ عِنْدِي حَسَنَةٌ فَأَمَتُّهُ بِهَذِهِ الْمِيتَةِ لِكَيْ يَلْقَانِي وَ لَيْسَ لَهُ عِنْدِي شَيْ‏ءٌ .

۱۳ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک نبی نے ایک جگہ دیکھا کہ ایک شخص ایک دیوار میں دبا پڑا ہے، جس کا آدھا حصہ ملبہ میں ہے اور آدھا باہر ہے، جسے پرندوں اور کتوں نے نقصان پہنچایا ہے وہ نبی اس منظر کو دیکھ کر آگے بڑھے اور شہر میں آئے، دوسرا منظر دکھائی دیا، ایک بڑے آدمی کا جنازہ ہے، جس کے تابوت پر قیمتی چادر پڑی ہے، انگیٹھیوں میں خوشبو جل رہی ہے۔ یہ دیکھ کر نبی نے مناجات کی، پروردگارا! تو حاکم عادل اور منصف ہے۔ تو اپنے مومن اور موحد بندے پر عذاب نہیں کرتا۔ مگر کیا راز ہے؟ کہ ایک ایسا شخص جس نے ایک لمحہ کیلئے شرک نہیں کیا اس کی موت ایسی افسوسناک؟ اور یہ شخص جس نے کبھی ایمان قبول نہیں کیا۔ اس کی موت اس قدر قابل رشک؟ جواب ملاـ ہاں! میں منصف حاکم ہوں مگر وہ شخص کچھ گناہ کر چکا تھا، تو میں نے یہ چاہا کہ اسے ایسی موت دی جائے کہ جب میرے حضور میں آئے تو اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہ رہے۔ اور یہ بندہ کچھ نیکیاں کر چکا تھا اس لئے صلہ میں ایسی موت دی گئی کہ جب میدان حشر میں آئے تو انعام کا استحقاق باقی نہ رہے۔

۱۴-عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ رَفَعَهُ‏ قَالَ: بَيْنَمَا مُوسَى يَمْشِي عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ إِذْ جَاءَ صَيَّادٌ فَخَرَّ لِلشَّمْسِ سَاجِداً وَ تَكَلَّمَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ أَلْقَى شَبَكَتَهُ فَأَخْرَجَهَا مَمْلُوءَةً فَأَعَادَهَا فَأَخْرَجَهَا مَمْلُوءَةً ثُمَّ أَعَادَهَا فَأَخْرَجَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى اكْتَفَى ثُمَّ مَضَى ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ وَ صَلَّى وَ حَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقَى شَبَكَتَهُ فَلَمْ تُخْرِجْ شَيْئاً ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ تُخْرِجْ شَيْئاً ثُمَّ أَعَادَ فَخَرَجَتْ سَمَكَةٌ صَغِيرَةٌ فَحَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ وَ انْصَرَفَ فَقَالَ مُوسَى يَا رَبِّ عَبْدُكَ جَاءَ فَكَفَرَ بِكَ وَ صَلَّى لِلشَّمْسِ وَ تَكَلَّمَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ أَلْقَى شَبَكَتَهُ فَأَخْرَجَهَا مَمْلُوءَةً ثُمَّ أَعَادَهَا فَأَخْرَجَهَا مَمْلُوءَةً ثُمَّ أَعَادَهَا فَأَخْرَجَهَا مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى اكْتَفَى وَ انْصَرَفَ وَ جَاءَ عَبْدُكَ الْمُؤْمِنُ فَتَوَضَّأَ وَ أَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى وَ حَمِدَ وَ دَعَا وَ أَثْنَى ثُمَّ أَلْقَى شَبَكَتَهُ فَلَمْ يُخْرِجْ شَيْئاً ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُخْرِجْ شَيْئاً ثُمَّ أَعَادَ فَأَخْرَجَ سَمَكَةً صَغِيرَةً فَحَمَدَكَ وَ انْصَرَفَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ يَا مُوسَى انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَنَظَرَ مُوسَى فَكَشَفَ لَهُ عَمَّا أَعَدَّهُ اللَّهُ لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ فَنَظَرَ ثُمَّ قِيلَ لَهُ يَا مُوسَى انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ فَكَشَفَ لَهُ عَمَّا أَعَدَّهُ اللَّهُ لِعَبْدِهِ الْكَافِرِ فَنَظَرَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ [تَعَالَى‏] يَا مُوسَى مَا نَفَعَ هَذَا مَا أَعْطَيْتُهُ وَ لَا ضَرَّ هَذَا مَا مَنَعْتُهُ فَقَالَ مُوسَى يَا رَبِّ حَقٌّ لِمَنْ عَرَفَكَ أَنْ يَرْضَى بِمَا صَنَعْتَ‏.

۱۴ ۔ محمد بن ابی عمیر نے اپنے روایتی سلسلہ کے ذریعہ بیان کیا ہے: حضرت موسی عہ دریا کے کنارہ جا رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ شکاری آیا، آتے ہی اس نے سورج کو سجدہ کیااور کچھ مشرکانہ باتیں کیں، اس کے بعد ایک جال دریا میں ڈالا، اور مچھلیوں سے بھرا ہوا نکال لیا، کنارے پر خالی کیا اور دوبارہ ڈالا پھر جال بھر گیا، پھر نکالا اور خالی کیا، یہاں تک کہ جس قدر مچھلیاں چاہتا تھا پکڑ چکا تو اپنی راہ چلا گیا، اس کے بعد دوسرا شخص آیا اس نے آ کر ہاتھ منہ دھوئے وضو کیا نماز پڑھی حمد و ثنا کی پھر اس نے جال ڈالا مگر دو مرتبہ کوشش ناکام ہوئی، تیسری مرتبہ چھوٹی سی مچھلی پھنسی وہ غریب اسے دیکھ کر شکر خدا کر کے واپس چلا گیا۔ جناب موسی علیہ السلام نے فرمایا: پروردگارا تیرا ایک بندہ دیکھا، اس نے سورج کو پوجا، مشرکانہ و کافرانہ باتیں کیں پھر جال پھینکا اور تین مرتبہ مچھلیوں سے بھر بھر کے نکالا، یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری ہوئی اور وہ لدا پھندا چلا گیا۔ پھر ایک مومن آیا اس نے بہت اچھی طرح وضو کیا پھر نماز پڑھی حمد و ثنا کر کے جال ڈالا، کوئی مچھلی نہ ملی۔ دو مرتبہ کوشش کرنے کے بعد ایک چھوٹی سی مچھلی ملی، جسے وہ لے کر چلا گیا۔ (اس میں بھید کیا ہے؟) وحی ہوئی: موسی ! ذرہ دائیں طرف دیکھو۔ جناب موسی عہ نے دیکھا، تو خدا نے اپنے بندہ مومن کیلئے جو درجات معین کئے تھے اس پر سے پردے اٹھ گئے۔ جناب موسی نے وہ مراتب دیکھے۔ پھر حکم ہوا بائیں ہاتھ کی طرف دیکھو۔ حضرت کی نگاہوں میں اس مرد کافر کے مراتب آ گئے۔ خداوند عالم نے ارشاد فرمایا: موسی میں نے اس کافر کو جو دیا (مچھلیاں اور مسرتیں) اس سے کافر کو فائدہ نہ ہوگا، اور مومن کو جو نہ ملا اس سے اسے کوئی نقصان نہ ہوگا۔ موسی علیہ السلام نے فرمایا: جو تیری معرفت حاصل کر لے اس پر فرض ہے کہ جو بھی تو کرے اس پر راضی برضا رہے۔

۱۵-عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ رَأْسُ طَاعَةِ اللَّهِ [عَزَّ وَ جَلَ‏] الرِّضَا بِمَا صَنَعَ اللَّهُ إِلَى الْعَبْدِ فِيمَا أَحَبَّ وَ فِيمَا أَكْرَهَ وَ لَمْ يَصْنَعِ اللَّهُ بِعَبْدٍ شَيْئاً إِلَّا وَ هُوَ خَيْرٌ.

۱۵ اسحاق بن عمار کہتے ہیں، امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا: خدا اپنے بندے سے جو سلوک کرے وہ اچھا ہی ہوتا ہے خواہ بندہ اسے پسند کرے یا نہ کرے، راضی برضا رہنا ہی فرمان برداری کی بنیاد ہے۔

۱۶-عَنْ يُونُسَ بْنِ رِبَاطٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ أَهْلَ الْحَقِّ مُنْذُ مَا كَانُوا فِي شِدَّةٍ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ إِلَى مُدَّةٍ قَرِيبَةٍ وَ عَافِيَةٍ طَوِيلَةٍ.

۱۶ ۔ یونس بن رباط نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا: حق پرست لوگ ہمیشہ سے سختیوں میں ہیں، مگر ان سختیوں کی مدت مختصر اور اس کے بعد عافیت و اطمیان کی مدت طویل ہوگی۔

-عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ‏ يَقُولُ‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ وَلِيَّهُ غَرَضاً لِعَدُوِّهِ فِي الدُّنْيَا .

۱۷ ۔ سماعہ کہتے ہیں، میں نے حضرت کو یہ کہتے ہوئے سنا: خدا نے دنیا میں اپنے دوست کو اپنے دشمن کا نشانہ بنایا ہے۔

۱۸-عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقِ ع وَ أَنَا عِنْدَهُ إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا يَقُولُونَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْداً نَوَّهَ مُنَوِّهٌ مِنَ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَاناً فَأَحِبُّوهُ فَيُلْقِي اللَّهُ الْمَحَبَّةَ [لَهُ‏] فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ وَ إِذَا أَبْغَضَهُ نَوَّهَ مُنَوِّهٌ مِنَ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَاناً فَأَبْغِضُوهُ فَيُلْقِي اللَّهُ لَهُ الْبَغْضَاءَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ قَالَ وَ كَانَ ع مُتَّكِئاً فَاسْتَوَى جَالِساً ثُمَّ نَفَضَ كُمَّهُ ثُمَّ قَالَ لَيْسَ هَكَذَا وَ لَكِنْ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَبْداً أَغْرَى بِهِ النَّاسَ لِيَقُولُوا مَا لَيْسَ فِيهِ يُؤْجِرُهُ وَ يُؤْثِمُهُمْ وَ إِذَا أَبْغَضَ عَبْداً أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَهُ الْمَحَبَّةَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ لِيَقُولُوا مَا لَيْسَ فِيهِ لِيُؤْثِمَهُمْ [وَ] إِيَّاهُ‏ ثُمَّ قَالَ مَنْ كَانَ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا ثُمَّ أَغْرَى جَمِيعَ مَنْ رَأَيْتَ حَتَّى صَنَعُوا بِهِ مَا صَنَعُوا وَ مَنْ كَانَ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع أَغْرَى بِهِ حَتَّى قَتَلُوهُ وَ مَنْ كَانَ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَبِي فُلَانٍ وَ فُلَانٍ‏ لَيْسَ كَمَا قَالُوا.

۱۸ ۔ مفضل بن عمر کہتے ہیں، ایک آدمی نے میرے سامنے حضرت ابو عبد اللہ الصادق علیہ السلام سے پوچھا۔ وہ لوگ کہتے تھے کہ جب خدا کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو آسمان سے ایک ہاتف صدا دیتا ہے کہ فلاں شخص خدا سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر لوگوں کے دل میں اس کی محت جایگزین ہو جاتی ہے۔ اور جب خدا کو کوئی شخص نا پسند ہوتا ہے تو ایک منادی صدا دیتا ہے کہ فلاں شخص خدا کو محبوب نہیں اس لیے اس سے نفرت کرو۔ لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ امام، تکیہ لگائے تشریف فرما تھے یہ بات سن کر تکیہ سے ٹیک ہٹا کر بیٹھے، آستین کو جھاڑا اور فرمایا: نہیں یہ غلط ہے، ہاں، خدا جس سے محبت فرماتا ہے لوگ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں اور اسے برا کہتے ہیں کہ اسے اجر ملے۔

اور ان پر گناہوں کا بوجھ بڑھے۔ اور جب خدا کسی کو نا پسند فرماتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے، تا کہ اس کے بارے میں ایسی باتیں کرے جو اس میں نہیں ہیں اس طرح اس پر وہ گناہگار ہوں گے۔ پھر فرمایا:

یحیی بن زکریا عہ سے زیادہ خدا کا محبوب کون ہوگا؟ لیکن لوگ ان کے خلاف ہو گئے، اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب کو معلوم ہے۔ اور حضرت امام حسین عہ سے زیادہ خدا کا محبوب کون ہوگا، مگر لوگ ان کے دشمن ہوئے اور حضرت کو قتل کر دیا اور فلاں ابو فلاں سے بڑہ کر خدا کو ناپسند کون ہوگا؟ لوگوں نے جوتم سے کہا وہ غلط ہے۔

۱۹-عَنْ زَيْدٍ الشَّحَّامِ قَالَ قَالَ الصَّادِقُ ع‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ إِذَا أَحَبَّ عَبْداً أَغْرَى بِهِ النَّاسَ ‏.

۱۹ ۔ زید ہشام نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے امام نے فرمایا جب خدا کسی بندے کو محبوب رکھتا ہے تو لوگ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

۲۰-عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَخَذَ مِيثَاقَ الْمُؤْمِنِ عَلَى بَلَايَا أَرْبَعٍ [الْأُولَى‏] أَيْسَرُهَا عَلَيْهِ مُؤْمِنٌ مِثْلُهُ يَحْسُدُهُ وَ الثَّانِيَةُ مُنَافِقٌ يَقْفُو أَثَرَهُ وَ الثَّالِثَةُ شَيْطَانٌ يَعْرِضُ لَهُ يَفْتِنُهُ وَ يُضِلُّهُ وَ الرَّابِعَةُ كَافِرٌ بِالَّذِي آمَنَ بِهِ يَرَى جِهَادَهُ جِهَاداً فَمَا بَقَاءُ الْمُؤْمِنِ بَعْدَ هَذَا.

۲۰ ۔ ابو حمزہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا۔ آپ نے فرمایا: خداوند عالم نے مومن سے چار آزمایشوں کا عہد لیا ہے سب سے آسان بات یہ ہے کہ کوئی اس جیسا مومن اس سے حسد کرے گا۔ دوسرے کوئی منافق اس کا پیچھا کرےگا۔ تیسرے کوئی شیطان اس کے آڑھے آئے گا پریشان اور گمراہ کرنے کی کوشش کرےگا۔ چوتھے، کافر اس کے جہاد کو دیکھے۔ اس کے بعد مومن زندہ نہ رہے گا۔

عَنْ حُمْرَانَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ لَيَكْرُمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ حَتَّى لَوْ سَأَلَهُ الْجَنَّةَ وَ مَا فِيهَا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَ لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِهِ شَيْ‏ءٌ وَ لَوْ سَأَلَهُ مَوْضِعَ قَدَمِهِ مِنَ الدُّنْيَا حَرَمَهُ وَ إِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ لَيَهُونُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لَوْ سَأَلَهُ الدُّنْيَا وَ مَا فِيهَا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَ لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِهِ شَيْ‏ءٌ وَ لَوْ سَأَلَهُ مَوْضِعَ قَدَمِهِ مِنَ الْجَنَّةِ حَرَمَهُ وَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَيَتَعَاهَدُ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَتَعَاهَدُ الرَّجُلُ أَهْلَهُ بِالْهَدِيَّةِ وَ يَحْمِيهِ كَمَا يَحْمِي الطَّبِيبُ الْمَرِيضَ‏.

۲۱ ۔ حمران نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ بندہ مومن خدا کی نظر میں زیادہ بلند ہے کہ اگر وہ جنت اور جنت کی تمام چیزوں کو مانگ لے تو خدا اسے عطا فرما دے اور اس کے خزانے میں کوئی کمی نہ ہو۔ لیکن اگر وہی مومن دنیا میں قدم ٹکانے کی جگہ مانگے تو خدا وہ جگہ نہ دے گا اور کافر کی خدا کے حضور میں کوئی اہمیت نہیں اگر دنیا و ما فیھا کا سوال کرے تو خدا عطا فرما سکتا ہے، اور اس کے خزانے میں کوئی کمی نہ آئے لیکن اگر یہی کافر جنت میں بالشت بھر زمین مانگے تو نہ دے گا۔ خداوند عالم مومن کا آزمایشوں میں یوں لحاظ کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے متعلقین کا تحفہ و ہدیہ کیلئے خیال کرتا ہے، اور خدا مومن کو دنیا سے یوں بچاتا ہے جیسے طبیب بیمار کو بد پرہیزی سے۔

عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع‏ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ ضَنَائِنَ‏ مِنْ خَلْقِهِ يَضَنُّ بِهِمْ عَنِ الْبَلَاءِ يُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ وَ يَرْزُقُهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَ يُمِيتُهُمْ فِي‏ عَافِيَةٍ وَ يَبْعَثُهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَ يُدْخِلُهُمُ‏ الْجَنَّةَ فِي عَافِيَةٍ.

۲۲ ۔ محمد بن عجلان نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ خداوند عالم کی مخلوق میں اس کے پسندیدہ کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر آسمان سے کوئی بلا نازل ہوتی ہے، یا روزی میں کمی ہوتی ہے تو خدا انہیں نوازتا ہےاور عافیت اور خوش حالی کو ان سے روکتا ہے۔ اس کے با وجود اگر ان مومنوں میں سے ایک کا نور بھی سارے عالم پر تقسیم کر دے تو سب لوگوں کیلئے کافی ہو۔

۲۳-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ خَلْقِهِ عِبَاداً مَا مِنْ بَلِيَّةٍ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ أَوْ تَقْتِيرٍ فِي الرِّزْقِ إِلَّا سَاقَ إِلَيْهِمْ وَ لَا عَافِيَةٍ أَوْ سَعَةٍ فِي الرِّزْقِ إِلَّا صَرَفَ عَنْهُمْ [وَ] لَوْ أَنَّ نُورَ أَحَدِهِمْ قُسِمَ بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ جَمِيعاً لَاكْتَفَوْا بِهِ‏.

۲۳ ۔ ابو حمزہ نے کہا امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے، خداوند عالم کے کچھ خاص الخاص بندے ایسے ہیں جنہیں وہ بلائوں میں آزماتا ہے اور عافیت (ایمان) میں زندگی، عافیت (ایماں) میں روزی اور عافیت (ایماں) میں موت عطا فرماتا ہے۔

۲۴-عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا قَضَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لِمُؤْمِنٍ [مِنْ‏] قَضَاءٍ إِلَّا جَعَلَ لَهُ الْخِيَرَةَ فِيمَا قَضَى‏.

۲۴ ۔ یزید بن خلیفہ ناقل ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے جو فیصلہ بھی مومن کیلئے فرمایا اس میں مومن کی بہتری ہی ہوتی ہے۔

۲۵-عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَذُودُ الْمُؤْمِنَ عَمَّا يَكْرَهُ مِمَّا يَشْتَهِي كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ عَنْ إِبِلِهِ‏ لَيْسَ مِنْهَا

۲۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم اپنے بندہ مومن کو اس کی پسند اور اپنی نا پسند چیز سے یوں روکتا ہے، جیسے کوئی شخص اپنے اونٹوں میں دوسرے اونٹ کو نہ آنے دو۔

۲۶-وَ عَنْهُ ع قَالَ: إِنَّ الرَّبَّ لَيَتَعَاهَدُ الْمُؤْمِنَ فَمَا يَمُرُّ بِهِ أَرْبَعُونَ صَبَاحاً إِلَّا تَعَاهَدَهُ إِمَّا بِمَرَضٍ فِي جَسَدِهِ وَ إِمَّا بِمُصِيبَةٍ فِي أَهْلِهِ وَ مَالِهِ أَوْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ مَصَائِبِ الدُّنْيَا لِيَأْجُرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ‏.

۲۶ ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند متعال مومن کی نگہداشت فرماتا ہے ، چالیس دن گذر جاتے ہیں تو حفاظت کے طور پر یا تو جسمانی بیماری میں مبتلا فرماتا ہے، یا اہل و عیال ، مال و اسباب پر کوئی مصیبت ڈال دیتا ہے۔ یا کسی اور دنیاوی زحمت میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اسے اچھا اجر و بدلہ دے۔

۲۷-عَنْ ابْنِ حُمْرَانَ‏ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَمُرُّ بِهِ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً إِلَّا وَ قَدْ يُذْكَرُ بِشَيْ‏ءٍ يُؤْجَرُ عَلَيْهِ أَدْنَاهُ هَمٌّ لَا يَدْرِي مِنْ أَيْنَ هُوَ.

۲۷ ۔ ابن حمران نے معصوم سے سنا۔ کوئی مومن ایسا نہ ہوگا جس پر چالیس راتیں گذریں۔ مگر یہ کہ کوئی چیز ایسی نہ آئے جو اس کو یاد دہانی کرائے اور اس پر اجر دیا جا سکے۔ کم از کم یہی ہوگا کہ وہ یہ بھول جائے کہ کہاں اور کس عالم میں ہے۔

۲۸-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ لَا يَصِيرُ عَلَى الْمُؤْمِنِ أَرْبَعُونَ صَبَاحاً إِلَّا تَعَاهَدَهُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى بِوَجَعٍ فِي جَسَدِهِ أَوْ ذَهَابِ مَالِهِ أَوْ مُصِيبَةٍ يَأْجُرُهُ اللَّهُ عَلَيْهَا.

۲۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن چالیس دن تک ایک حالت میں رہ سکتا ہی نہیں۔ خدا ضرور اس کی نگہداشت فرمائے گا۔ یا جسم کو تکلیف ہوگی یا مال جاتا رہے گا، یا کوئی ایسا صدمہ ہوگا جس کا اسے اجر دیا جا سکے۔

۲۹-وَ عَنْهُ ع قَالَ: مَا فَلَتَ الْمُؤْمِنُ مِنْ وَاحِدَةٍ مِنْ ثَلَاثٍ أَوْ جُمِعَتْ عَلَيْهِ الثَّلَاثَةُ أَنْ يَكُونَ مَعَهُ مَنْ يُغْلِقُ عَلَيْهِ بَابَهُ فِي دَارِهِ أَوْ جَارٌ يُؤْذِيهِ أَوْ مَنْ فِي طَرِيقِهِ إِلَى حَوَائِجِهِ [يُؤْذِيهِ‏] وَ لَوْ أَنَّ مُؤْمِناً عَلَى قُلَّةِ جَبَلٍ‏ لَبَعَثَ اللَّهُ شَيْطَاناً يُؤْذِيهِ وَ يَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ مِنْ إِيمَانِهِ أُنْساً.

۲۹ ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تین باتوں میں سے تینوں یا کم از کم ایک کا تو مومن کیلئے ضروری ہوگی کوئی ساتھی جو اس کیلئے گھر کا دروازا بند کر دے یا پڑوسی جو اسے دکھ دے یا کوئی شخص اس کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ مومن تو اگر پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے جب بھی کوئی شیطان اسے اذیت دینے کیلئے پہنچ جائے گا۔ ہاں خدا اس کا ایمان اس کی ڈہارس بنا دے گا۔

۳۰-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ الْمُؤْمِنُ لَا يَمْضِي عَلَيْهِ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً إِلَّا عَرَضَ لَهُ أَمْرٌ يَحْزُنُهُ وَ يَذْكُرُهُ بِهِ‏.

۳۰ ۔ محمد بن مسلم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا، حضور فرماتے تھے: مومن، چالیس راتوں کے گذرنے سے پہلے کسی ایسی بات سے ضرور دچار ہوگاجو اسے تکلیف دے اور یاد خدا کا باعث ہو۔

۳۱-عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ‏ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فَشَكَا إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ عَقَّنِي وُلْدِي وَ إِخْوَتِي‏ وَ جَفَانِي إِخْوَانِي فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع إِنَّ لِلْحَقِّ دَوْلَةً وَ لِلْبَاطِلِ دَوْلَةً وَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَلِيلٌ فِي دَوْلَةِ صَاحِبِهِ وَ إِنَّ أَدْنَى مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي دَوْلَةِ الْبَاطِلِ أَنْ يَعُقَّهُ وُلْدُهُ وَ إِخْوَتُهُ وَ يَجْفُوَهُ إِخْوَانُهُ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُ رَفَاهِيَةً فِي دَوْلَةِ الْبَاطِلِ إِلَّا ابْتُلِيَ فِي بَدَنِهِ أَوْ مَالِهِ أَوْ أَهْلِهِ حَتَّى يُخَلِّصَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ السَّعَةِ الَّتِي كَانَ أَصَابَهَا فِي دَوْلَةِ الْبَاطِلِ لِيُؤَخَّرَ بِهِ حَظُّهُ فِي دَوْلَةِ الْحَقِّ فَاصْبِرُوا وَ أَبْشِرُوا.

۳۱ ۔ ابو الصباح کہتے ہیں۔ میں حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ایک شخص آیا، اور اس نے اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا، میرے والد نے عاق کر دیا، بھائیوں نے چھوڑ دیا، دوستوں نے بے وفائی کی۔ امام نے فرمایا: حق کو بھی اقتدار حاصل ہوتا ہے باطل کا بھی دور اقتدار ہوتا ہے، ہر شخص اپنے حریف کے اقتدار میں ذلیل ہوتا ہے، مومن کو باطل کے اقتدار میں کم از کم یہ نقصان پہنچتا ہے کہ اس کے باپ بھائی اسے چھوڑ دیں دوست احباب بے وفائی کریں۔ مومن کو باطل کے اقتدار میں فارغ البالی نصیب ہی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر اسے اس دور میں خوش حالی مل جائے تو خداوند عالم اسے جسم مال یا اہل و عیال کے بارے میں کسی نہ کسی آزمائش میں ضرور مبتلا کرے گا تا کہ حق کے دور اقتدار میں اس کا حصہ زیادہ ہو صبر کوشعار بنائو اور بشارتیں قبول کرو۔

۳۲-عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالا إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُقَالُ لِرُوحِهِ وَ هُوَ يُغَسَّلُ أَ يَسُرُّكِ أَنْ تُرَدِّي إِلَى الْجَسَدِ الَّذِي كُنْتِ فِيهِ فَتَقُولُ مَا أَصْنَعُ بِالْبَلَاءِ وَ الْخُسْرَانِ وَ الْغَمِ‏.

۳۲ ۔ امام زین العابدین اور محمد باقر علیہما السلام سے منقول ہے: جب میت نہلائی جا رہی ہوگی۔ مومن کہے گا اے روح تجھے جسم سے رشتہ توڑنا کتنا آسان معلوم ہوا روح کہے گی۔ یہ بھلا نقصان اور غم کے ساتھ رہ کر کیا کرتی۔

۳۳-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ‏ يَا دُنْيَا مُرِّي عَلَى عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ بِأَنْوَاعِ الْبَلَايَا وَ مَا هُوَ فِيهِ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاهُ وَ ضَيِّقِي عَلَيْهِ فِي مَعِيشَتِهِ وَ لَا تَحْلَوْلِي لَهُ فَيَسْكُنَ إِلَيْكِ‏.

۳۳ ۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے رسول اللہ صہ سے روایت کی ہے ، آنحضرت نے فرمایا: خداوند عالم دنیا کو حکم دیتا ہے۔ میرے بندہ مومن کے پاس طرح طرح کی آزمایشیں لے کر جا اور معاملات دنیا پیش کر اس پر روزی تنگ کر دے۔ اسے فکر و پریشانی سے دور نہ ہونے دے۔ کہیں اس کا دل تجھ میں نہ لگ جائے۔

۳۴-عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ سَيَابَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْ بَلَاءٍ فَبِذَنْبٍ قَالَ لَا وَ لَكِنْ لِيُسْمَعَ أَنِينُهُ وَ شَكْوَاهُ وَ دُعَاؤُهُ الَّذِي يُكْتَبُ لَهُ بِالْحَسَنَاتِ وَ تُحَطَّ عَنْهُ السَّيِّئَاتُ وَ تُدَّخَرَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

۳۴ ۔ صباح ابن سبابہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی: کیا مومن کے گناہوں کے بدلے اس پر مصائب نازل ہوتے ہیں۔ فرمایا: نہیں۔ خدا مومن کی آہیں اس کی فریادیں اور دعائیں سننا چاہتا ہے۔ تاکہ نیکیوں اضافہ اور گناہوں میں کمی کرے۔ اور قیامت کیلئے ذخیرہ ہو۔

۳۵-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَيَعْتَذِرُ إِلَى عَبْدِهِ الْمُحْوِجِ [الَّذِي‏] كَانَ فِي الدُّنْيَا كَمَا يَعْتَذِرُ الْأَخُ إِلَى أَخِيهِ فَيَقُولُ لَا وَ عِزَّتِي وَ جَلَالِي مَا أَفْقَرْتُكَ لِهَوَانٍ كَانَ بِكَ عَلَيَّ فَارْفَعْ هَذَا الْغِطَاءَ فَانْظُرْ مَا عَوَّضْتُكَ مِنَ الدُّنْيَا فَيُكْشَفُ لَهُ فَيَنْظُرُ مَا عَوَّضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَا ضَرَّنِي يَا رَبِّ مَعَ مَا عَوَّضْتَنِي‏.

۳۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا خداوند عالم اپنے محتاج دنیا بندے سے اس قسم کی دل دہی کرتا ہے، جیسے دو دوست ایک دوسرے کی دل دہی کریں۔ خدا فرماتا ہے: نہیں میرے بندے نہیں۔ میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کسی دنیاوی پرخاش کی وجہ سے تجھے فقیری نہیں دی بلکہ مقصد یہ تھا کہ اپنی عطا و بخشش کو پاک و پاکیزہ کر دوں۔ اب دیکھ میں نے اس دنیا کے بدلے تجھے کیا دیا ہے، اس کے بعد ثواب و عطا سے پردے ہٹ جائیں گے۔ اور وہ ثواب و عطا مومن دیکھے گا اور عرض کرے گا اس معاوضہ کے بعد پروردگار میرا نقصان نہیں ہوا۔

۳۶-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: نِعْمَ الْجُرْعَةُ الْغَيْظُ لِمَنْ صَبَرَ عَلَيْهَا فَإِنَّ عَظِيمَ الْأَجْرِ لَمَعَ‏ عَظِيمِ الْبَلَاءِ وَ مَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْماً إِلَّا ابْتَلَاهُمْ ‏.

۳۶ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: شدید تکلیف میں غصہ کا کڑوا گھونٹ کیا عمدہ چیز ہے کیونکہ جتنی بڑی آزمایش ہوگی اتنا ہی بڑا اجر ہوگا۔ خدا جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو اسے امتحان میں ڈالتا ہے۔

۳۷-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِيَ الْمُؤْمِنِينَ لَعِبَاداً لَا يَصْلُحُ لَهُمْ أَمْرُ دِينِهِمْ إِلَّا بِالْغِنَى‏ وَ السَّعَةِ وَ الصِّحَّةِ فِي الْبَدَنِ فَأَبْلُوهُمْ بِالْغِنَى وَ السَّعَةِ وَ الصِّحَّةِ فِي الْبَدَنِ فَيَصْلُحُ لَهُمْ أَمْرُ دِينِهِمْ وَ قَالَ إِنَّ مِنَ الْعِبَادِ لَعِبَاداً لَا يَصْلُحُ لَهُمْ أَمْرُ دِينِهِمْ إِلَّا بِالْفَاقَةِ وَ الْمَسْكَنَةِ وَ السُّقْمِ فِي أَبْدَانِهِمْ فَأَبْلُوهُمْ بِالْفَقْرِ وَ الْفَاقَةِ وَ الْمَسْكَنَةِ وَ السُّقْمِ فِي أَبْدَانِهِمْ‏ فَيَصْلُحُ لَهُمْ [عَلَيْهِ‏] أَمْرُ دِينِهِمْ‏.

۳۷ ۔ ابو عبد اللہ نے رسول اللہ صہ سے روایت کی ہے کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ میرے مومن بندوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے دینی معاملات دولتمندی اور خوشحالی و صحت جسمانی کے بغیر ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ میں ان لوگوں کو دولت، خوش حالی اور صحت عطا کر کے آزماتا ہوں۔ وہ لوگ اپنے دین کے معاملات ٹھیک کر لیتے۔ اور کچھ لوگ فقر و فاقہ اور بیماری کے بغیر دینی معاملات ٹھیک نہیں کر سکتے ان کو اس آزمایش میں مبتلا کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ اپنے دینی معاملات ٹھیک کر لیتے ہیں۔

۳۸-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الْمُؤْمِنِ عَلَى أَلَّا يُصَدَّقَ فِي مَقَالَتِهِ وَ لَا يُنْتَصَفَ مِنْ عَدُوِّهِ‏.

۳۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خداوند متعال کی طرف سے مومن کی بات کی تردید بھی کی جائے گی اور اس کے دشمن کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ تا کہ دعوی ایمان کے بعد اسے ہر بات سے بری اور ہر معاملا میں آزاد نہیں کر دیا گیاہے۔

۳۹-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ إِذَا أَحَبَّ عَبْداً غَثَّهُ‏ بِالْبَلَاءِ غَثّاً وَ ثَجَّهُ بِالْبَلَاءِ ثَجّاً فَإِذَا دَعَاهُ قَالَ لَبَّيْكَ عَبْدِي لَبَّيْكَ عَبْدِي لَئِنْ عَجَّلْتُ لَكَ مَا سَأَلْتَ إِنِّي عَلَى ذَلِكَ لَقَادِرٌ وَ لَئِنْ ذَخَرْتُ لَكَ فَمَا ادَّخَرْتُ لَكَ خَيْرٌ لَكَ‏.

۳۹ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: خدا جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے بلائوں سے دبلا پتلا اور آزمائشوں کے ذریعہ لاغر و کمزور کر دیتا ہے۔ اور جب وہ مناجات کرتا ہے تو خدا کہتا ہے میرے مومن اگر تو رد بلا کیلئے جلدی کرتا تو میں اس پر قدرت رکھتا ہوں لیکن میں نے جو ذخیرہ جمع کیا ہے وہ تیرے ہی لئے اچھا اور سود مند ہے۔

۴۰-عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ يَا ثَابِتُ‏ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْداً غَثَّهُ بِالْبَلَاءِ غَثّاً وَ ثَجَّهُ بِهِ ثَجّاً وَ إِنَّا وَ إِيَّاكُمْ لَنُصْبِحُ بِهِ‏ وَ نُمْسِي ‏.

۴۰ ۔ ابو حمزہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اے ثابت جب خداوند عالم کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے بلائوں میں مبتلا کرتا ہے اور اسے لاغر و ناتواں کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بھی ہم اور تم دن کو دن اور رات کو رات کرتے ہیں اور زندگی گذر جاتی ہے۔

۴۱-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْحَوَارِيِّينَ شَكَوْا إِلَى عِيسَى مَا يَلْقَوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ شِدَّتِهِمْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يَزَالُوا مُبْغَضِينَ وَ إِيمَانُهُمْ كَحَبَّةِ الْقَمْحِ مَا أَحْلَى مَذَاقَهَا وَ أَكْثَرَ عَذَابَهَا.

۴۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: حضرت عیسی عہ کے حواریوں نے ان مصائب کا شکوا کیا جو ان کے دشمنوں کی وجہ سے ان پر نازل ہوتے تھے۔ حضرت عیسی عہ نے جواب میں فرمایا: مومن سے ہمیشہ دشمنی کی گئی ہے مگر ان کا ایمان گیہوں کا دانہ ہے کس قدر خوش ذائقہ اور کس قدر زحمتوں کا باعث ہے۔

۴۲-عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَعْيَنَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَكُونُوا إِخْوَانِي وَ أَصْحَابِي فَوَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ عَلَى الْعَدَاوَةِ وَ الْبَغْضَاءِ مِنَ النَّاسِ وَ إِلَّا فَلَسْتُمْ لِي بِأَصْحَابٍ ‏.

۴۲. عبد الاعلی بن اعین نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا اگر تم میرے دوست بننا چاہتے ہو تو اپنے تیئن دشمنی اور بغض عوام کیلئے آمادہ کر رکھو اگر اس پر صبر نہیں کر سکتے تو ہمارے دوست نہیں ہو۔

۴۳-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَيِّدِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فَشَكَا إِلَيْهِ رَجُلٌ الْحَاجَةَ فَقَالَ اصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَجْعَلُ لَكَ فَرَجاً ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ أَخْبِرْنِي عَنْ سِجْنِ الْكُوفَةِ كَيْفَ هُوَ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ ضَيِّقٌ مُنْتِنٌ وَ أَهْلُهُ بِأَسْوَإِ حَالَةٍ فَقَالَ ع إِنَّمَا أَنْتَ فِي السِّجْنِ تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فِي سَعَةٍ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ‏.

۴۳ ۔ محمد بن عجلان کہتے ہیں میں اپنے سید و آقا امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، ایک شخص نے کچھ مصائب و مشکلات کی شکایت کی،حضرت نے فرمایا: صبر کرو خدا آسودگی و گشایش عطا فرمائے گا۔ پھر کچھ دیر کیلئے خاموش ہونے کے بعد آپ نے اسی شخص کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا ۔ کوفہ کا قید خانہ کیسا ہے؟ اس نے عرض کی تنگ اور متعفن اور قیدیوں کا برا حال ہے۔ فرمایا: تم بھی تو آخر قیدخانہ میں ہو۔ پھر وسعتوں کی خواہش کیسی؟ تمہیں معلوم نہیں کہ دنیا مومن کیلئے قید خانہ ہے۔

۴۴-عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْداً بَعَثَ إِلَيْهِ مَلَكاً فَيَقُولُ أَسْقِمْهُ وَ شَدِّدِ الْبَلَاءَ عَلَيْهِ فَإِذَا بَرِأَ مِنْ شَيْ‏ءٍ فَابْتَلِهِ لِمَا هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ وَ قَوِيَ عَلَيْهِ حَتَّى يَذْكُرَنِي فَإِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَ دُعَاءَهُ [نِدَاءَهُ‏] وَ إِذَا أَبْغَضَ عَبْداً وَكَّلَ بِهِ مَلَكاً فَقَالَ صَحِّحْهُ وَ أَعْطِهِ كَيْ لَا يَذْكُرَنِي فَإِنِّي لَا أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ‏.

۴۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم جب کسی بندہ سے محبت کرتا ہے اس کے پاس ایک فرشتہ کو حکم دے کر بھیجتا ہے کہ اس شخص کو بیمار ڈالے اور بلائوں میں سختیاں کرے اور جب وہ شخص تندرست ہو جاتا ہے تو پھر اسے زیادہ سختیوں میں مبتلا کر دو۔ کیونکہ میں اس کی آواز و فریاد سننا چاہتا ہوں۔ اور جب کسی بندہ سے نفرت کرتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ موکل کرتا ہے کہ اسے صحت دے تاکہ وہ مجھے یاد نہ کرے مجھے اس کی آواز سننا گوارا نہیں ہے۔

۴۵-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ يَكُونُ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ دَرَجَةٌ لَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلِهِ فَيُبْتَلَى فِي جَسَدِهِ أَوْ يُصَابُ فِي مَالِهِ‏ أَوْ يُصَابُ فِي وُلْدِهِ فَإِنْ هُوَ صَبَرَ بَلَّغَهُ اللَّهُ إِيَّاهَا .

۴۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب کسی شخص کا درجہ خدا کی بارگاہ میں بلند ہو اور وہ شخص اس درجہ تک نہ پہنچ سکے تو خدا اسے جسمانی بیماری یا اولاد کی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے۔ اب اگر اس نے صبر کر لیا تو خدا اسی سے درجہ بلند تک پہنچا دیتا ہے۔

- وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ عَجَباً لِلْمُؤْمِنِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْضِي قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْراً لَهُ فَإِنِ ابْتُلِيَ صَبَرَ وَ إِنْ أُعْطِيَ شَكَرَ.

و عن أبي جعفر ع قال [جاء] عن النبي ص‏ و ذكر مثله سواء.

۴۶ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے آنحجرت صہ سے روایت کی ہے کہ مومن احترام و اعزاز کے لائق ہے خدا جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کیلئے بہتر ہی ہوتا ہے۔ اگر آزماتا تو مومن صبر کرتا ہے، اور اگر کچھ عطا فرماتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے یہی روایت یوں بھی ہے کہ ابو جعفر نے فرمایا کہ آنحضرت صہ تشریف لائے اور فرمایا۔

۴۷-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَ يُبْغِضُ وَ لَا يُعْطِي الْآخِرَةَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ وَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَسْأَلُ الرَّبَّ مَوْضِعَ سَوْطٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا يُعْطِيهِ إِيَّاهُ وَ يَسْأَلُهُ الْآخِرَةَ فَيُعْطِيهِ مَا شَاءَ وَ يُعْطِي الْكَافِرَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَ يَسْأَلُ فِي الْآخِرَةِ مَوْضِعَ سَوْطٍ فَلَا يُعْطِيهِ إِيَّاهُ‏.

۴۷ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ خداوند عالم دنیا کی نعمتیں دوست و دشمن سب کو عطا کرتا ہے مگر آخرت کے انعام فقط مومن ہی کو دے گا۔ مومن آخرت کیلئے دعا کرتا ہے تو خدا اس کی دعا کے مطابق کرتا ہے اور کافر کو دنیا اس کی خواہش کے مطابق دیتا ہے۔ لیکن اگر کافر بالشت بھر کی جگہ آخرت میں طلب کرے تو اسے نہ دی جائے گی۔

۴۸-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنُ لَا أَصْرِفُهُ فِي شَيْ‏ءٍ إِلَّا جَعَلْتُ ذَلِكَ خَيْراً لَهُ فَلْيَرْضَ بِقَضَائِي وَ لْيَصْبِرْ عَلَى بَلَائِي وَ لْيَشْكُرْ عَلَى نَعْمَائِي أَكْتُبْهُ‏ فِي الصِّدِّيقِينَ عِنْدِي ‏.

۴۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے میں اپنے بندہ مومن سے جو چیز بھی لیتا ہوں اس کیلئے بہتری قرار دیتا ہوں مومن کو میرے فیصلہ پر راضی، میری آزمائش پر صبر اور میری نعمتوں پر شکر گذار رہنا چاہیے۔ میں اسے اپنی صدیقین میں شامل کروں گا۔

۴۹-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ص حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ أَ لَا تَسْأَلُونِّي عَمَّا ضَحِكْتُ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَجِبْتُ لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَضَاءٍ يَقْضِيهِ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ خَيْراً لَهُ فِي عَاقِبَةِ أَمْرِهِ‏.

۴۹ ۔ حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا رسول اللہ صہ ایک مرتبہ مسکرائے کہ دندان مبارک نظر آنے لگے پھر فرمایا میرے ہنسنے کا سبب نہیں پوچھا۔ لوگوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ فرمایا مجھے مسلمان کے بارے میں حیرت ہوئی کہ خدا کا ہر فیصلہ ایسا ہوتا ہے کہ جس میں نتیجہ کے طور پر مسلمان کا فائدہ ہوتا ہے۔

۵۰-وَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ إِنَّهُ لَيَكُونُ لِلْعَبْدِ مَنْزِلَةٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لَا يَبْلُغُهَا إِلَّا بِإِحْدَى الْخَصْلَتَيْنِ إِمَّا بِبَلِيَّةٍ فِي جِسْمِهِ أَوْ بِذَهَابِ مَالِهِ‏.

۵۰ ۔ حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خدا کے حضور میں بندہ مومن کا ایک مرتبہ ایسا بھی ہے جہاں صرف ایک صورت میں پہنچ سکتا ہے یا جسم کی آزمائش ہو یا مال کا نقصان ہو۔


باب ۲ - مومن کے خاص اعزازات و ثواب

۵۱-عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع وَ أَنَا جَالِسٌ [عِنْدَهُ‏] عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى‏ مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها أَ يَجْرِي لِهَؤُلَاءِ مِمَّنْ لَا يَعْرِفُ مِنْهُمْ هَذَا الْأَمْرَ قَالَ إِنَّمَا هِيَ لِلْمُؤْمِنِينَ خَاصَّةً.

۱ ۔ زرارہ کہتے ہیں میری حاضری امام جعفرصادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ سورہ نسا کی آیت ( ۱۲۰)

من جاء ۔۔ کا کلیہ ان لوگوں پر بھی جاری ہوسکتا ہے جو عارف (مرتبہ امامت آل محمد کے جاننے والے) نہیں۔

حضرت نے فرمایا یہ آیت صرف مومنین کیلئے ہے۔

۵۲-عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُهُ‏ يَقُولُ‏ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى اللَّهِ ثَوَابٌ عَلَى عَمَلٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِينَ ‏.

۲ ۔ یعقوب بن شعیب کہتے ہیں کہ میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا مومن کے علاوہ کس شخص کے عمل کا ثواب خدا پر واجب نہیں۔

۵۳-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِذَا أَحْسَنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ ضَاعَفَ اللَّهُ لَهُ عَمَلَهُ لِكُلِّ عَمَلٍ سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ وَ ذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ‏ يُضاعِفُ لِمَنْ يَشاءُ .

۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب بندہ مومن احسان کرتا ہے خدا اس کے ہر عمل کو سات سو درجہ بڑہا دیتا ہے۔ یہ مطلب ہے قرآن کی آیت یضاعف لمن یشاء کا۔

۵۴-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَزْهَرُ نُورُهُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا تَزْهَرُ نُجُومُ السَّمَاءِ لِأَهْلِ الْأَرْضِ وَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ وَلِيُّ اللَّهِ يُعِينُهُ وَ يَصْنَعُ لَهُ وَ لَا يَقُولُ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَ‏ وَ لَا يَخَافُ غَيْرَهُ وَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَيْنِ لَيَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ فَلَا يَزَالُ اللَّهُ عَلَيْهِمَا مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ وَ الذُّنُوبُ تَتَحَاتُّ عَنْ وُجُوهِهِمَا حَتَّى يَفْتَرِقَا [يَتَفَرَّقَا].

۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کا نور اہل فلک کے سامنے یوں چمکتا ہے جیسے ستارے اہل زمین کیلئے۔

حضرت نے فرمایا: مومن خدا کا دوست ہے خدا اس کی مدد کرتا ہے، اور اس پر احسانات فرماتا ہے۔ مومن بھی خدا کے بارے میں ہمیشہ حق کہتا ہے اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ دو مومن ملاقات کے وقت جب مصافحہ کرتے ہیں تو خداوند عالم دونوں پر توجہ خاص فرماتا ہے اور دونوں کے چہرہ سے گناہ اس وقت تک دور ہوتے رہتے ہیں جب تک دونوں الگ نہ ہوں۔

۵۵-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَا يُوصَفُ وَ كَيْفَ يُوصَفُ وَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَ‏ وَ ما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏ فَلَا يُوصَفُ بِقَدَرٍ إِلَّا كَانَ أَعْظَمَ مِنْ ذَلِكَ وَ إِنَّ النَّبِيَّ ص لَا يُوصَفُ وَ كَيْفَ يُوصَفُ عَبْدٌ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ وَ قَرَّبَهُ مِنْهُ وَ جَعَلَ طَاعَتَهُ فِي الْأَرْضِ كَطَاعَتِهِ فَقَالَ عَزَّ وَ جَلَ‏ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَ مَنْ أَطَاعَ هَذَا فَقَدْ أَطَاعَنِي وَ مَنْ عَصَاهُ فَقَدْ عَصَانِي وَ فَوَّضَ إِلَيْهِ وَ إِنَّا لَا نُوصَفُ وَ كَيْفَ يُوصَفُ قَوْمٌ رَفَعَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ هُوَ الشِّرْكُ‏ وَ الْمُؤْمِنُ لَا يُوصَفُ وَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَلْقَى أَخَاهُ فَيُصَافِحُهُ فَلَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَ الذُّنُوبُ تَتَحَاتُّ عَنْ وُجُوهِهِمَا [جِسْمَيْهِمَا] كَمَا يَتَحَاتُّ الْوَرَقُ عَنِ الشَّجَرَةِ.

۵ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ خداوند عالم کی صفت و ثنا نہیں بیان کی جس سکتی۔ اور بیان بھی کیسے کی جائے کہ وہ فرماتا ہے: لوگوں نے کما حقہ خدا کی عزت و توقیر نہیں کی (سورہ ۲۲ ، آیت ۴۷)

جو بھی کہا جائے گا خدا اس سے بلند تر ہے اور نبی کریم صہ کی بھی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ آخر اس بندہ کی تعریف کیسے ہو جسے خدا نے بلندیاں عطا کی ہیں اسے اپنے قربت سے سربلند فرمایا ہے۔ روئے زمین پر اس کی فرمانبرداری کو اپنی فرمانبرداری قرار دیتے ہوئے ارشاد کیا ہے جو رسول دے اس پر کاربند رہو اور جس کام سے روک دے اس سے رک جائو۔ (سورہ ۵۹ ، آیت ۷) جس نے اس کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی جس نے اس مخالفت کی اس نے میری مخالفت کی خدا نے یہ منصب رسول صہ کو عطا کیا۔ اس طرح کیونکر اور کیسے اس قوم کی تعریف کی جا سکتی ہے جس کو خدا نے رفعت عطا کی ان سے رجس یعنی شرک کو دور کیا۔ اور مومن کی بھی تعریف نہیں کی جا سکتی ۔اور مومن جب اپنے دوست سے ہاتھ ملاتا ہے تو خدا مسلسل ان دونوں پر نگاہ کرم رکھتا ہے اور گناہ ان کے چہروں سے یوں دور ہوتے ہیں جیسے درخت سے پتے گریں۔

۵۶-عَنْ مَالِكٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ ع وَ قَدْ حَدَّثْتُ نَفْسِي بِأَشْيَاءَ فَقَالَ لِي يَا مَالِكُ أَحْسِنِ الظَّنَّ بِاللَّهِ وَ لَا تَظُنَّ أَنَّكَ مُفَرِّطٌ فِي أَمْرِكَ يَا مَالِكُ إِنَّهُ لَا تَقْدِرُ عَلَى صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ ص وَ كَذَلِكَ لَا تَقْدِرُ عَلَى صِفَتِنَا وَ كَذَلِكَ لَا تَقْدِرُ عَلَى صِفَةِ الْمُؤْمِنِ يَا مَالِكُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَلْقَى أَخَاهُ فَيُصَافِحُهُ فَلَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَ الذُّنُوبُ تَتَحَاتُّ عَنْ‏ وُجُوهِهِمَا حَتَّى يَفْتَرِقَا وَ لَيْسَ عَلَيْهِمَا مِنَ الذُّنُوبِ شَيْ‏ءٌ فَكَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى صِفَةِ مَنْ هُوَ هَكَذَا.

۶ ۔ مالک جہنی کہتے ہیں کہ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے دل میں کچھ باتیں تھیں حضرت نے فرمایا: مالک! خدا کے بارے میں عقیدہ کو استوار رکھو اور یہ خیال نہ کرو کہ تم افراط و تفریط کر رہے ہو۔ مالک! دیکھو تم رسول اللہ کی تعریف نہیں کر سکتے۔ اس طرح مومن کی مدح و ستایش بھی نہیں کر سکتے۔ مالک! جب مومن اپنے دوست سے ملتا اور مصافحہ کرتا ہے تو خدا مسلسل دونوں پر نگاہ کرم رکھتا ہے۔ اور جدا ہونے تک گناہ ان دونوں کے چہروں سے گرتے رہتے ہیں ۔ یہاں تک ان پر گناہ باقی نہیں رہتے۔ بتائو ایسے شخص کی تعریف کیسے کر سکتے ہو۔

۵۷-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِذَا الْتَقَى الْمُؤْمِنَانِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ تِسْعٌ وَ تِسْعُونَ لِأَشَدِّهِمَا حُبّاً لِصَاحِبِهِ‏.

۷ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب دو مومن ملاقات کرتے ہیں تو ان پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ ان میں سے نناوے رحمتیں اس کے حصہ میں آتی ہیں جو اپنے دوست کو زیادہ محبوب رکھتا ہو۔

۵۸-عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: زَامَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ إِذَا نَزَلَ صَافَحَنِي وَ إِذَا رَكِبَ صَافَحَنِي‏ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ كَأَنَّكَ تَرَى فِي هَذَا شَيْئاً فَقَالَ نَعَمْ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ فَصَافَحَهُ تَفَرَّقَا مِنْ غَيْرِ ذَنْبٍ‏.

۸ ۔ ابو عبید اللہ کہتے ہیں میں مکہ تک امام محمد باقر علیہ السلام کے ہم رکاب تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت جہاں بھی اترتے اور سوار ہوتے تھے مجھ سے مصافحہ کرتے تھے میں نے عرض کیا میری جان آپ پر نثار آپ مصافحہ میں کوئی خاص بات محسوس فرماتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا: ہاں جب مومن اپنے دوست سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے جدا ہونے تک ان پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔

۵۹-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: فَكَمَا لَا تَقْدِرُ الْخَلَائِقُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَكَذَلِكَ لَا تَقْدِرُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ ص وَ كَمَا لَا تَقْدِرُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ الرَّسُولِ ص كَذَلِكَ لَا تَقْدِرُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ الْإِمَامِ وَ كَمَا لَا تَقْدِرُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ الْإِمَامِ كَذَلِكَ لَا يَقْدِرُونَ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ الْمُؤْمِنِ‏.

۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مخلوق کیلئے کما حقہ خدا کی ثنا و صفت کا بیان نا ممکن ہے اس طرح کنہ مدح پیغمبر دشوار ہے۔ اور جیسے مدح پیغمبر مشکل ہے اسی طرح حقیقی طور پر امام کی مدح سرائی دشوار ہے۔ اور جیسے مدح امام مشکل ہے یوں ہی مومن کی تعریف مشکل ہے۔

۶۰-عَنْ صَفْوَانَ الْجَمَّالِ قَالَ سَمِعْتُهُ‏ يَقُولُ‏ مَا الْتَقَى مُؤْمِنَانِ قَطُّ فَتَصَافَحَا إِلَّا كَانَ أَفْضَلُهُمَا إِيمَاناً أَشَدَّهُمَا حُبّاً لِصَاحِبِهِ وَ مَا الْتَقَى مُؤْمِنَانِ قَطُّ فَتَصَافَحَا وَ ذَكَرَا اللَّهَ فَيَفْتَرِقَاحَتَّى يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.

۱۰ ۔ صفوان جمال کہتے ہیں: میں نے معصوم سے سنا کہ جب بھی دو مومن آپس میں ملاقات کرتے ہیں۔مصافحہ اور ذکر خدا کرتے ہیں تو جدا ہوتے ہی خدا ان دونوں کو بخش دیتا ہے۔ بشرطیکہ اس کی مرضی ہو۔

۶۱-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: نَزَلَ جَبْرَئِيلُ عَلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ مَنْ أَهَانَ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ فَقَدِ اسْتَقْبَلَنِي بِالْمُحَارَبَةِ وَ مَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنُ بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ وَ إِنَّهُ لَيَتَنَفَّلُ لِي حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَ يَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَ مَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْ‏ءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي فِي مَوْتِ [فَوْتِ‏] عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَ أَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ‏ وَ إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يَسَعُهُ إِلَّا الْفَقْرُ وَ لَوْ حَوَّلْتُهُ إِلَى الْغِنَى كَانَ شَرّاً لَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ لَا يَسَعُهُ إِلَّا الْغِنَى وَ لَوْ حَوَّلْتُهُ إِلَى الْفَقْرِ لَكَانَ شَرّاً لَهُ‏ وَ إِنَّ عَبْدِي لَيَسْأَلُنِي قَضَاءَ الْحَاجَةِ فَأَمْنَعُهُ إِيَّاهَا لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ‏.

۱۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: جبرائیل، رسول خدا صہ کی خدمت میں نازل ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ خداوند عالم ارشاد فرماتے ہیں، جو میرے مومن بندے کی بے حرمتی کرتا ہے وہ مجھ سے جنگ کے درپے ہوتا ہے۔

بندہ مومن فرائض (نمازیومیہ) ادا کر کے مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے۔ مگر جب وہ نافلہ پڑہتا ہے اور میرے لیے واجبات کے علاوہ اعمال مندوبہ بجا لاتا ہےتو میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اسے محبوب بناتا ہوں تو اس کے سننے کا کان، اس کے دیکھنے کی آنکھ، اس کے توانائی بازوں کا ہاتھ، اس کے رفتار کا پائوں میں ہو جاتا ہوں۔

جو کچھ بھی میں کرتا ہوں اس میں مجھے وہ تردد نہیں ہوتا جو بندہ مومن کی موت میں ہوتا ہے۔ جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ کیوں کہ مجھے مومن کو دکھ دینا اچھا نہیں لگتا۔ کچھ ایسے مومن بھی ہیں جو بہت تنگدست ہیں، اگر انہیں تونگری کی طرح موڑ دوں تو خود ان کے لئے نقصان کا باعث ہے۔ کچھ ایسے مومن ہیں جو دولتمند ہیں لیکن انہیں بے ذر و مال کر دوں تو نقصان دہ بات ہوگی۔

میرا بندہ مومن جب مجھ سے کسی حاجت کو پورا کرنے کی درخواست کرتا ہے، اور میں اسے پورا نہیں کرتا تو جو بہتر ہوتا ہے وہ اسے دیتا ہوں۔

۶۲-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيّاً فَقَدْ أَرْصَدَ لِمُحَارَبَتِي وَ مَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدٌ بِمِثْلِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَ إِنَّهُ لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّافِلَةِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَ يَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا إِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَ إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَ مَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْ‏ءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي فِي مَوْتِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ‏ وَ أَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ‏.

۱۲ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے، خداوند عالم فرماتا ہے: جو شخص میرے دوست و ولی سے توہین آمیز سلوک کرتا ہے وہ مجھ سے جنگ کے در پے ہوتا ہے۔ بندہ مومن فرائض کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ نافلہ ادا کر کے اور زیادہ قربت اختیار کرتا ہے، پھر اسے محبوب بنا لیتا ہوں، جب محبوبیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے تو میں اس کے سننے کے کان، دیکھنی کی آنکھ، حملہ کا ہاتھ، سفر کا پائوں ہوتا ہوں۔ اگر وہ دعا کرتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں۔ سوال کرتا ہے تو میں عطا کرتا ہوں۔ میں کسی بات میں اتنا تردد نہیں کرتا جس قدر مومن کی موت میں جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ کیوں کہ میں مومن کو دکھ دینا نہیں چاہتا۔

۶۳-عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ‏ مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيّاً فَقَدْ أَرْصَدَ لِمُحَارَبَتِي وَ أَنَا أَسْرَعُ شَيْ‏ءٍ فِي نُصْرَةِ أَوْلِيَائِي وَ مَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْ‏ءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي فِي مَوْتِ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ إِنِّي لَأُحِبُّ لِقَاءَهُ فَيَكْرَهُ الْمَوْتَ فَأَصْرِفُهُ عَنْهُ وَ إِنَّهُ لَيَسْأَلُنِي فَأُعْطِيهِ وَ إِنَّهُ لَيَدْعُونِي فَأُجِيبُهُ وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا إِلَّا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ لَاسْتَغْنَيْتُ بِهِ عَنْ جَمِيعِ خَلْقِي وَ لَجَعَلْتُ لَهُ مِنْ إِيمَانِهِ أُنْساً لَا يَسْتَوْحِشُ إِلَى أَحَدٍ.

۱۳ ۔ ابو عبد اللھ علیہ السلام سے روایت ہے کہ خداوند عالم فرماتا ہے: جو شخص میرے دوست (ولی) کی توہین کرتا ہے وہ مجھ سے لڑنے کی خواہش رکھتا ہے میں اپنے چاہنے والوں کی مدد جلد سے جلد کرتا ہوں۔ اور مجھے کسی بات میں وہ تردد نہیں ہوتا جو مومن کی موت میں ہوتا ہے۔ میں اس کی بقا کا مشتاق ہوتا ہوں اور وہ موت کو ناپسند کرتا ہے، میں موت کو روک لیتا ہوں۔ وہ مانگتا ہے میں اسے دیتا ہے۔ وہ دعا کرتا ہے میں قبول کرتا ہوں۔ اگر دنیا میں ایک بندہ مومن کے سوا کچھ نہ رہے جب بھی مجھے ساری دنیا کے مقابلہ میں کافی ہے۔ اور اس کی تنہائی کیلئے اس کے ایمان کو ایسا انیس و ہمدم بنا دیتا ہوں کہ اسے پھر کسی کی ہمنشینی درکار نہیں ہوتی۔

۶۴-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: لَوْ كَانَتْ ذُنُوبُ الْمُؤْمِنِ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ وَ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرَهَا اللَّهُ لَهُ فَلَا تَجْتَرُوا .

۱۴ ۔ ابو جعفر علیہ السلام کہتے ہیں کہ اگر مومن کے گناہ ریت کے ذرات اور سمندر کے پھین کے برابر ہوں جب بھی خدا بخش دے گا، دیکھو (اس خوشخبری سے خوش ہو کر گناہوں کی )جرات نہ کرنا۔

۶۵-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: يُتَوَفَّى الْمُؤْمِنُ مَغْفُوراً لَهُ ذُنُوبُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّا وَ اللَّهِ جَمِيعاً.

۱۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں خدا مومن کو دنیا سے گناہ بخشنے کے بعد اٹھاتا ہے۔ پھر فرمایا خدا کی قسم! ہم سب اسی طرح اٹھیں گے۔

۶۶-وَ عَنْ أَبِي الصَّامِتِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فَقَالَ يَا أَبَا الصَّامِتِ أَبْشِرْ ثُمَّ أَبْشِرْ ثُمَّ أَبْشِرْ ثُمَّ قَالَ لِي يَا أَبَا الصَّامِتِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِ وَ إِنْ جَاءَ بِمِثْلِ ذَا وَ مِثْلِ ذَا وَ أَوْمَأَ إِلَى الْقِبَابِ قُلْتُ وَ إِنْ جَاءَ بِمِثْلِ تِلْكَ الْقِبَابِ فَقَالَ إِي وَ اللَّهِ وَ لَوْ كَانَ بِمِثْلِ تِلْكَ الْقِبَابِ إِي وَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ‏.

۱۶ ۔ ابو صامت کہتے ہیں ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ابو صامت! خداوند عالم مومن کے گناہ بخش دے گا خواہ وہ ایسے ہوں یا ایسے۔آپ نے اشارہ فرمایا۔ میں نے عرض کی اگر ان (گنبندوں اور) قبون جیسے ہوں۔ آپ نے فرمایا، ہاں با خدا چاہے ان گنبندوں جیسے ہوں۔ آپ نے دو مرتبہ قسم کھائی۔

۶۷-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: قُلْتُ بِمَكَّةَ لَهُ إِنَّ لِي حَاجَةً فَقَالَ تَلْقَانِي بِمَكَّةَ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنَّ لِي حَاجَةً فَقَالَ تَلْقَانِي بِمِنًى‏ فَلَقِيتُهُ بِمِنًى فَقُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنَّ لِي حَاجَةً فَقَالَ هَاتِ‏ حَاجَتَكَ فَقُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَذْنَبْتُ ذَنْباً فِيمَا بَيْنِي وَ بَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ أَحَدٌ وَ أُجِلُّكَ‏ أَنْ أَسْتَقْبِلَكَ بِهِ فَقَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ تَجَلَّى‏ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ فَيُوقِفُهُ عَلَى ذُنُوبِهِ ذَنْباً ذَنْباً ثُمَّ يَغْفِرُهَا لَهُ لَا يَطَّلِعُ عَلَى ذَلِكَ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ وَ يَسْتُرُ عَلَيْهِ مِنْ ذُنُوبِهِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يُوقِفَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لِسَيِّئَاتِهِ كُونِي حَسَنَاتٍ وَ ذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ‏ فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ‏.

۱۷ ۔ راوی کہتا ہے۔ میں نے ابو جعفر علیہ السلام سے مکہ میں عرض کیا مجھے ایک ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا: مکہ کے اندر بیان کرنا، میں نے مکہ کے اندر جا کر عرض کیا، فرزند رسول مجھے کچھ عرض کرنا ہے۔ فرمایا منی میں ملو، میں منی میں ملا اور عرض کیافرزند رسول کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں فرمایا ہاں بیان کرو۔ میں نے عرض کی، میں نے ایک ایسا گناہ کیا ہے، جسے صرف خداوند عالم جانتا ہے۔ حضرت نے فرمایا: قیامت کے دن خداوند عالم اپنے مومن بندے کو روکے گا اور اس کا ایک ایک گناہ گنوائے گا پھر انہیں فرمائے گااور اس کی خبر نہ کسی مقرب فرشتے کو ہوگی نہ کسی نبی مرسل کو۔

دوسری حدیث میں ہے۔ خدا بندہ مومن کے ان گناہوں پر پردہ ڈال دے گا جن کے بارے میں وہ یہ نہ چاہے گا کہ اسے با خبر کرے۔ اس کے گناہوں کو اشارہ ہوگا کہ حسنات میں بدل جائیں قرآن مجید میں یہ بات یوں ارشاد فرمائی ہے: یہ لوگ وہ ہیں جن کے سیئات کو خدا حسنات میں بدل دے گا۔

۶۸-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ أَنَّ الْكَافِرَ لَيَدْعُو فِي حَاجَتِهِ‏ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَجِّلُوا حَاجَتَهُ بُغْضاً لِصَوْتِهِ وَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَدْعُو فِي حَاجَتِهِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَخِّرُوا حَاجَتَهُ شَوْقاً إِلَى صَوْتِهِ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ دَعَوْتَنِي فِي كَذَا وَ كَذَا فَأَخَّرْتُ إِجَابَتَكَ وَ ثَوَابُكَ كَذَا وَ كَذَا قَالَ فَيَتَمَنَّى الْمُؤْمِنُ أَنَّهُ لَمْ يُسْتَجَبْ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَرَى مِنْ حُسْنِ الثَّوَابِ.

۱۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: کافر دعا کرتا ہے تو خداوند عالم حکم دیتا ہے اس کی دعا پوری کرو کہ اس کی آواز بری سمجھتا ہے۔ اور جب مومن دعا کرتا ہے تو خدا کہتا ہے اس کی حاجت روا کرنے میں دیر کرو مجھے اس کی آواز اچھی معلوم ہوتی ہے۔ پھر قیامت کے دن خدا کہے گا میرے بندہ مومن تو نے مجھے فلاں فلاں موقعہ پر پکارا تھا اور تیری دعا قبول ہونے میں تاخیر ہوئی تھی۔ اب تیرا ثواب یہ ہے۔ اس وقت مومن تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں اس کی کوئی بھی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔ اس ثواب و انعام کا مرتبہ دیکھ کر۔

۶۹-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَجَابَهُ فَشَخَصَ بَصَرِي نَحْوَهُ إِعْجَاباً بِهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ لِخَلْقِهِ‏.

۱۹ ۔ ابو عبد اللھ علیہ السلام نے فرمایا: کہ جب کوئی مومن دعا کرتا ہے تو خدا اسے قبول فرما لیتا ہے اس پر میری نگاہیں حیرت سے مڑیں۔ حضرت نے ارشاد کیا، بیشک خدا اپنی مخلوق کیلئے بڑی وسعتیں رکھتا ہے۔

۷۰-وَ عَنِ ابْنِ أَبِي الْبِلَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالَ: إِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ صَعِدَ مَلَكَاهُ فَقَالا يَا رَبِّ مَاتَ فُلَانٌ فَيَقُولُ انْزِلَا فَصَلِّيَا عَلَيْهِ عِنْدَ قَبْرِهِ وَ هَلِّلَانِي وَ كَبِّرَانِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ اكْتُبَا مَا تَعْمَلَانِ لَهُ‏.

۲۰ ۔ ابن ابی الولاد نے اپنے والد سے انہوں نے کسی عالم کی زبانی نقل کیا ہے کہ جب مومن مرتا ہے تو اس کے دونوں (کاتب اعمال ) فرشتے عالم بالا میں جاتے اور حضور خداوندی میں عرض کرتے ہیں کہ پروردگارا فلاں شخص مر گیا، حکم ہوتا ہے جائو قیامت تک اس کی قبر کے پاس (عبادت کرو) نماز پڑہو، تکبیر و تحلیل کرو۔ اور جو عمل کرو اس کو اسی کے نامہ اعمال میں لکھتے رہو۔

۷۱-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ رُؤْيَاهُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءاً مِنَ النُّبُوَّةِ وَ مِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى عَلَى الثَّلَاثِ‏.

۲۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام کا ارشاد ہے: مومن کا خواب نبوت کا حصہ ہے، بعض لوگوں کو اس میں سے تین حصہ مل جاتے ہیں۔

۷۲-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْداً عَصَمَهُ وَ جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ‏ وَ جَعَلَ ثَوَابَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَ إِذَا أَبْغَضَهُ وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ وَ جَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ‏.

۲۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں جب خدا کسی بندہ سے محبت فرماتا ہے تو اسے ہر بات سے بچاتا ہے۔ اس کے دل میں بے نیازی پیدا کر دیتا ہے اور اس کا ثواب اسے دکھا دیتا ہے (اور جب کسی سے غضبناک ہوتا ہے تو اسے نفس امارہ کے حوالے کر دیتا ہےاور اس کی بے مایگی اس کی آنکھوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے)

۷۳ابْنُ أَبِي الْبِلَادِ وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَدْعُو فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَ جَلَّ يَا جَبْرَئِيلُ احْبِسْهُ بِحَاجَتِهِ فَأَوْقِفْهَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ شَوْقاً إِلَى صَوْتِهِ‏.

۲۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن دعا کرتا ہے تو خدا جبرائیل کو حکم دیتا ہے کہ جبرائیل اس کی حاجت روک لو اس کی آواز مجھے محبوب ہے۔

۷۴-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ طِينَةَ الْمُؤْمِنِ مِنْ طِينَةِ الْأَنْبِيَاءِ فَلَنْ تَخْبُثَ‏ أَبَداً.

۲۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں خداوند عالم نے مومن کی طینت پیغمبروں کی طینت سے بنائی ہے اس لئے وہ کبھی بھی نجس نہیں ہو سکتی۔

۷۵-عَنْ صَفْوَانَ الْجَمَّالِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِنَّ هَلَاكَ الرَّجُلِ لَمِنْ ثَلْمِ الدِّينِ‏.

۲۵ ۔ صفوان جمال کہتے ہیں کہ میں ابو عبد اللہ علیہ السلام سے سنا کہ مسلمان آدمی کی موت دین میں رخنہ ڈالتی ہے۔

۱۷۶وَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ مَنْ لَا يَعْرِفُ لِأَخِيهِ مِثْلَ مَا يَعْرِفُ لَهُ فَلَيْسَ بِأَخِيهِ‏.

۲۶ ۔ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کا عمل جنت میں اس کے لئے انتظام کرتا ہے، جیسے کوئی شخص اپنے خادم کو بھیجےاور وہ اس لئے فرش وغیرہ تیار کرے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی آیت (سورہ روم، آیت ۴۴) پڑہی و من عمل صالحا ۔۔۔ اور جو شخص نیک عمل کرے گا وہ عمل اس کیلئے راہیں ہموار کریں گے۔

۷۷-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَذُودُ الْمُؤْمِنَ عَمَّا يَكْرَهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ الْغَرِيبَ لَيْسَ مِنْ إِبِلِهِ [أَهْلِهِ‏].

۲۷ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا اللہ مومن کو برائیوں سے یوں ڈھکیلتا ہے جیسے کوئی شخص اجنبی اونٹ اپنے اونٹوں سے نکال دے۔

۷۸-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا فَتَصَافَحَا أَدْخَلَ اللَّهُ يَدَهُ فَصَافَحَ‏ أَشَدَّهُمَا حُبّاً لِصَاحِبِهِ‏.

۲۸. حضرت ابو جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب دو مومن ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں تو (خداوند عالم) ان میں جو زیادہ محبت کرنے ولا ہے، اس پر دست کرم رکھتا ہے۔

۷۹-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: كَمَا لَا يَنْفَعُ مَعَ الشِّرْكِ شَيْ‏ءٌ فَلَا يَضُرُّ مَعَ الْإِيمَانِ شَيْ‏ءٌ .

۲۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: کہ جیسے شرک کے ساتھ کوئی چیز فائدہ نہیں پہنچا سکتی، اسی طرح ایمان کے ساتھ کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

۸۰-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْ‏ءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَلَى قَبْضِ رُوحِ عَبْدِيَ‏ الْمُؤْمِنِ لِأَنَّنِي أُحِبُّ لِقَاءَهُ وَ هُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ فَأَزْوِيهِ عَنْهُ وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَاحِدٌ لَاكْتَفَيْتُ بِهِ عَنْ جَمِيعِ خَلْقِي وَ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ إِيمَانِهِ أُنْساً لَا يَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ.

۳۰ ۔ ابو جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں خداوند عالم فرماتا ہے: مجھے کوئی چیز متردد نہیں کرتی۔ ہاں اس مومن کی روح قبض کرنا، جسے موت اچھی معلوم نہ ہو اور میں اس سے ملاقات چاہوں۔پھر میں موت اس سے دور کر دیتا ہوں۔ اگر پوری زمین پر صرف ایک مومن رہ جائے تو ساری خلقت کے مقابلہ میں وہ ایک اکیلا کافی ہے۔ اور میں اس کے ایمان کو اس کا غمگسار بنا دوں کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔

۸۱-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَمُوتُ فِي غُرْبَةٍ مِنَ‏ الْأَرْضِ فَيَغِيبُ عَنْهُ بَوَاكِيهِ إِلَّا بَكَتْهُ بِقَاعُ الْأَرْضِ الَّتِي كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَيْهَا وَ بَكَتْهُ أَثْوَابُهُ وَ بَكَتْهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ الَّتِي كَانَ يَصْعَدُ بِهَا عَمَلُهُ وَ بَكَاهُ الْمَلَكَانِ الْمُوَكَّلَانِ بِهِ‏.

۳۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں اگر کوئی مومن ایسے عالم مسافرت میں دنیا سے اٹھتا ہے۔ جہاں اس پر رونے والیاں نہیں ہوتیں تو میں اس زمین کو اس پر رلاتا ہوں، جس پر اس نے نمازیں پڑہیں اور عبادتیں کی ہیں۔ اس کا ثواب روتا ہے۔ وہ دروازہ ہائے آسمان روتے ہیں جن سے اس کا عمل بلند ہوا کرتا تھا۔ اس کے وہ دونوں فرشتے روتے ہیں جو اس پر موکل تھے۔

۸۲-وَ عَنْ أَحَدِهِمَا ع قَالَ: إِنَّ ذُنُوبَ الْمُؤْمِنِ مَغْفُورَةٌ فَيَعْمَلُ الْمُؤْمِنُ لِمَا يَسْتَأْنِفُ أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ إِلَّا لِأَهْلِ الْإِيمَانِ‏.

۳۲ ۔مومن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مومن از سر نو عمل کرتا ہے۔ یہ شرف صرف اہل ایمان ہی کو حاصل ہے۔

۸۳-عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُهُ‏ يَقُولُ‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ‏ خَلْقاً ضَنَّ بِهِمْ عَنِ الْبَلَاءِ خَلَقَهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَ أَحْيَاهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَ أَمَاتَهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ فِي عَافِيَةٍ.

۳۳ ۔ اسحق بن عمار کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا: کہ خداوند عالم کے کچھ خاص الخاص بندے ہیں جنہیں وہ ہر بلا سے بچاتا ہے، انہیں عافیت میں خلق فرمایا، عافیت کے ساتھ زندہ رکھا، عافیت کے ساتھ موت دی اور عافیت کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا۔


باب ۳ ۔ خدا نے مومنوں میں محبت و اخوت پیدا کی ہے۔

۸۴-عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ بَنُو أَبٍ وَ أُمٍّ فَإِذَا ضَرَبَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ عِرْقٌ سَهِرَ الْآخَرُونَ ‏.

۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مومن آپس میں سگے بھائی ہیں، اگر ایک کو بھی کوئی دکھ ہوتا ہے تو سب بے چین ہو جاتے ہیں۔

۸۵-وَ عَنْ أَحَدِهِمَا ع أَنَّهُ قَالَ: الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ‏ َالْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِذَا سَقَطَ مِنْهُ شَيْ‏ءٌ تَدَاعَى سَائِرُ الْجَسَدِ.

۲ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی مثال یہ ہے، جیسے ایک جسم۔ کہ جیسے ایک جسم کے اگر جسم کا ایک حصہ بھی ضایع ہوتا ہے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔

۸۶-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ كَالْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِذَا اشْتَكَى شَيْئاً مِنْهُ وَجَدَ أَلَمَ‏ ذَلِكَ فِي سَائِرِ جَسَدِهِ لِأَنَّ أَرْوَاحَهُمْ مِنْ رُوحِ اللَّهِ تَعَالَى وَ إِنَّ رُوحَ الْمُؤْمِنِ لَأَشَدُّ اتِّصَالًا بِرُوحِ اللَّهِ مِنِ اتِّصَالِ شُعَاعِ‏ الشَّمْسِ بِهَا.

اور حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام ہی نے فرمایا مومن، مومن کا بھائی ہے۔ جیسے ایک جسم کے اعضا، اگر ایک کو تکلیف ہوتی ہے تو پوے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ اور مومن کی روح کا تعلق روح الہی سے اس سے زیادہ جیسے سورج کی کرن کا آفتاب سے۔

۸۷-عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: تَنَفَّسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ هَمٌّ يُصِيبُنِي مِنْ غَيْرِ مُصِيبَةٍ تُصِيبُنِي أَوْ أَمْرٍ يَنْزِلُ بِي حَتَّى تَعْرِفُ ذَلِكَ أَهْلِي فِي وَجْهِي وَ يَعْرِفُهُ صَدِيقِي فَقَالَ نَعَمْ يَا جَابِرُ قُلْتُ مَا ذَلِكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ‏ قَالَ وَ مَا تَصْنَعُ بِهِ قُلْتُ أُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَهُ فَقَالَ يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ طِينِ الْجِنَانِ وَ أَجْرَى بِهِمْ مِنْ رِيحِ‏ الْجَنَّةِ رُوحَهُ فَكَذَلِكَ الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ لِأَبِيهِ وَ أُمِّهِ فَإِذَا أَصَابَ رُوحاً مِنْ تِلْكَ الْأَرْوَاحِ فِي بَلْدَةٍ مِنَ الْبُلْدَانِ شَيْ‏ءٌ حَزِنَتْ [خَرِبَتْ‏] هَذِهِ الْأَرْوَاحُ لِأَنَّهَا مِنْهَا.

۳ ۔ جابر نے حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام کے سامنے ٹھنڈی سانس بھری پھر کہا۔ فرزند رسول ص!کبھی کبھی مجھے کسی مصیبت کے بغیر یا سانحہ کے بغیر غم محسوس ہونے لگتا ہے، دوست اور میرے گھر والے میرے چہرے سے اس کا اندازہ کر لیتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا: ہاں جابر ٹھیک ہے۔ میں نے عرض ہے اس کا سبب کیا ہے؟ فرمایا: یہ پوچھ کر کیا کرو گے؟ عرض کی میرا دل چاہتا ہے کہ وجہ معلوم ہو۔ فرمایا: خدا نے مومن جنت کی مٹی سے پیدا کیا ہے، ان کی روح میں جنت کی ہوا ملائی ہے، جبھی تو مومن، مومن کا حقیقی بھائی ہے۔ مومن دنیا کے کسی حصہ میں ہو، اگر کسی روح کو صدمہ پہنچتا ہے تو اپنے اسی تعلق کی وجہ سے دوسری روح غمگین ہو جاتی ہے۔

۸۸-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ لِأَبِيهِ وَ أُمِّهِ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ طِينِ الْجِنَانِ وَ أَجْرَى فِي صُوَرِهِمْ مِنْ رِيحِ الْجِنَانِ فَلِذَلِكَ هُمْ إِخْوَةٌ لِأَبٍ وَ أُمٍ‏.

۴ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: مومن، موم کا حقیقی بھائی ہے۔ کیونکہ خدا نے انہیں جنت کی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ جنت کی ہوا ان کے جسم میں رکھی۔ جبھی تو وہ مادری و پدری بھائی ہوئے۔

۸۹-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ تَلْتَقِي فَتَتَشَامُّ كَمَا تَتَشَامُّ الْخَيْلُ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَ مَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ وَ لَوْ أَنَّ مُؤْمِناً جَاءَ إِلَى مَسْجِدٍ فِيهِ أُنَاسٌ كَثِيرٌ لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَاحِدٌ لَمَالَتْ رُوحُهُ إِلَى ذَلِكَ الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَجْلِسَ إِلَيْهِ‏.

۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: روحیں گروہ در گروہ ہیں اور یہ ایک دوسرے کو یوں محسوس کرتی ہیں، جیسے عمدہ نسل گھوڑے۔ اب اگر وہ پہچان لیتی ہیں تو مانوس ہو جاتی ہیں اور اگر وہ بات محسوس نہیں کرتیں تو تم الگ ہو جاتے ہو۔ اگر کسی مسجد میں بہت سے لوگ ہوں اور ایک مومن بھی ہو تو روحیں ادھر مائل ہوتی ہیں اور آدمی وہیں جا بھیٹتا ہے۔

۹۰-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: لَا وَ اللَّهِ لَا يَكُونُ [الْمُؤْمِنُ‏] مُؤْمِناً أَبَداً حَتَّى يَكُونَ لِأَخِيهِ مِثْلَ الْجَسَدِ إِذَا ضَرَبَ عَلَيْهِ عِرْقٌ وَاحِدٌ تَدَاعَتْ لَهُ سَائِرُ عُرُوقِهِ‏.

۶ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں با خدا، مومن اسی وقت مومن ہوگا جب وہ اپنے برادر ایمانی کیلئے جسم کے مانند ہو جائے۔ کہ جب اس کے کسی حصہ کو دکھ پہنچتا ہے، تمام اعضا بے قرار ہو جاتے ہیں۔

۹۱-وَ عَنْهُ ع قَالَ: لِكُلِّ شَيْ‏ءٍ شَيْ‏ءٌ يَسْتَرِيحُ إِلَيْهِ وَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْتَرِيحُ إِلَى أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَمَا يَسْتَرِيحُ الطَّيْرُ إِلَى شَكْلِهِ‏.

۷ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کیلئے کوئی چیز سکون کا باعث بنتی ہے، مومن کیلئے سکون کا باعث اس کا ایمانی بھائی ہے جس کے پاس بیٹھ کر اسے وہ سکون ملتا ہے جو طائر کو اپنے ہمجنس کے پاس بیٹھ کر۔

۹۲-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ فِي تَبَارِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَ تَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى تَدَاعَى لَهُ سَائِرُهُ بِالسَّهَرِ وَ الْحُمَّى‏.

۸ ۔ مومن آپس میں میل جول، حسن سلوک اور ہمدردیوں میں جسم کے مانند ہیں کہ جب ایک عضو کو دکھ ہوتا ہے تمام جسم بخار اور شب بیداری میں بسر کرتا ہے۔


باب ۴ ۔ مومن کا مومن پر حق

- عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع مَا حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ قَالَ إِنِّي عَلَيْهِ شَفِيقٌ إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَعْلَمَ وَ لَا تَعْمَلَ وَ تُضَيِّعَ وَ لَا تَحْفَظَ قَالَ فَقُلْتُ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سَبْعَةُ حُقُوقٍ وَاجِبَةٍ وَ لَيْسَ مِنْهَا حَقٌّ إِلَّا وَ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى أَخِيهِ إِنْ ضَيَّعَ مِنْهَا حَقّاً خَرَجَ مِنْ وَلَايَةِ اللَّهِ وَ تَرَكَ طَاعَتَهُ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهَا نَصِيبٌ أَيْسَرُ حَقٍّ مِنْهَا أَنْ تُحِبَّ لَهُ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَ أَنْ تَكْرَهَ لَهُ مَا تَكْرَهُهُ لِنَفْسِكَ وَ الثَّانِي أَنْ تُعِينَهُ بِنَفْسِكَ وَ مَالِكَ وَ لِسَانِكَ وَ يَدَيْكَ وَ رِجْلَيْكَ وَ الثَّالِثُ أَنْ تَتَّبِعَ رِضَاهُ وَ تَجْتَنِبَ سَخَطَهُ وَ تُطِيعَ أَمْرَهُ وَ الرَّابِعُ أَنْ تَكُونَ عَيْنَهُ وَ دَلِيلَهُ وَ مِرْآتَهُ وَ الْخَامِسُ أَنْ لَا تَشْبَعَ وَ يَجُوعَ وَ تَرْوَى وَ يَظْمَأَ وَ تَكْتَسِيَ وَ يَعْرَى وَ السَّادِسُ أَنْ يَكُونَ لَكَ خَادِمٌ وَ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ‏ وَ لَكَ امْرَأَةٌ تَقُومُ عَلَيْكَ وَ لَيْسَ لَهُ امْرَأَةٌ تَقُومُ عَلَيْهِ أَنْ تَبْعَثَ خَادِمَكَ يَغْسِلُ ثِيَابَهُ وَ يَصْنَعُ طَعَامَهُ وَ يُهَيِّئُ فِرَاشَهُ وَ السَّابِعُ أَنْ تُبِرَّ قَسَمَهُ وَ تُجِيبَ دَعْوَتَهُ وَ تَعُودَ مَرْضَتَهُ وَ تَشْهَدَ جَنَازَتَهُ وَ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ تُبَادِرُ مُبَادَرَةً إِلَى قَضَائِهَا وَ لَا تُكَلِّفْهُ أَنْ يَسْأَلَكَهَا فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ وَصَلْتَ وَلَايَتَكَ بِوَلَايَتِهِ وَ وَلَايَتَهُ بِوَلَايَتِكَ.

و عن المعلى‏ مثله و قال في حديثه فإذا جعلت ذلك وصلت ولايتك بولايته‏ و ولايته بولاية الله عز وجل‏.

۱ ۔ معلی بن خنیس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی، مومن کا مومن پر حق کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا: مجھے ڈر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں تم کو بتادوں اور تم عمل نہ کر سکو، بھول جائو اور یاد نہ رکھ سکو۔ میں نے عرض کی ایسا نہ ہوگا۔ فرمایا مومن کے مومن پر سات واجبی حقوق ہیں اور کوئی حق ایسا نہیں جو ایک پر ہو دوسرے پر نہ ہو۔ اگر ان میں ایک حق بھی تلف ہو گیا تو خدا کی نافرمانی بھی ہوئی اور اس کی ولایت سے باہر بھی ہو گیا۔ پھر اسے ایمان کا کوئی حصہ نصیب نہ ہوگا۔ ان حقوق میں سب سے آسان حق یہ ہے کہ مومن جو اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے دوست کیلیے اور جو خود نا پسند کرے وہی دوسرے کیلئے ناپسند کرے۔ دوسرے، یہ کہ اپنے دوست کی جان و مال، ہاتھ پائوں اور زبان سے مدد کرے۔ تیسرے، اس کی رضامندی کے در پر رہے۔ اس کو ناراض نہ ہونے دے۔ اس کا کہنا مانے۔ چوتھے، اس کیلئے گناہ و آئینہ صفت رہنما بنے۔ پانچھویں، وہ بوکھا ہو تو تم شکم سیر نہ ہو۔ وہ پیاسا ہو تو تم سیراب نہ ہو۔ چھٹے، تمہارے پاس خادم ہو یا تمہاری خادمہ ہے جو تمہاری خدمت کرے اور دوست بے نوکر چاکر ہو تو اس وقت تم فرض ہے کہ اپنے نوکر کو بھیج کر اس کے کپڑے دھلوا دو، اس کیلئے کھانا پکوا دو، اس کا بچھونا بچھوا دو۔ ساتویں، دوست، دوست کی قسم پوری کرے اس کی دعوت قبول کرے بیمار ہو تو عیادت کرے، مر جائے تو جنازے میں شریک ہو۔اگر اسے کوئی ضرورت پیش آجائے تو اسے پورا کرنے میں کوشش اور جلدی کرے ۔ وہ مجبور ہو کر تم سے سوال نہ کرے۔ اگر یہ مرحلہ طے کر لیے تو تمہاری محبت اس کی محبت اور اس کی محبت تمہاری محبت سے وابستہ ہوجائے گی۔

معلی بن خنیس کی اسی روایت میں ایک سلسلہ سے یہ جملا بھی نقل ہے۔ جب تم نے یہ کر دیا تو اپنی محبت کو اس کی محبت سے اور اس کی محبت، محبت خداوند عالم سے وابستہ کر لی۔

. ۹۴- عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَا وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ فَقَالَ ع ابْتِدَاءً يَا ابْنَ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص سِتُّ خِصَالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ ابْنُ أَبِي يَعْفُورٍ وَ مَا هِيَ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ يُحِبُّ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِأَعَزِّ أَهْلِهِ وَ يَكْرَهُ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ مَا يَكْرَهُ لِأَعَزِّ أَهْلِهِ وَ يُنَاصِحُهُ الْوَلَايَةَ فَبَكَى ابْنُ أَبِي يَعْفُورٍ وَ قَالَ كَيْفَ يُنَاصِحُهُ الْوَلَايَةَ قَالَ يَا ابْنَ أَبِي يَعْفُورٍ إِذَا كَانَ مِنْهُ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ بَثَّهُ هَمَّهُ‏ يَهُمُّ لِهَمِّهِ وَ فَرِحَ لِفَرَحِهِ إِنْ هُوَ فَرِحَ وَ حَزِنَ لِحُزْنِهِ إِنْ هُوَ حَزِنَ فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُفَرِّجُ عَنْهُ فَرَّجَ عَنْهُ وَ إِلَّا دَعَا اللَّهَ لَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع ثَلَاثٌ لَكُمْ وَ ثَلَاثٌ لَنَا أَنْ تَعْرِفُوا فَضْلَنَا وَ أَنْ تَطَئُوا أَعْقَابَنَا وَ تَنْظُرُوا عَاقِبَتَنَا فَمَنْ كَانَ هَكَذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ فَيَسْتَضِيئُ بِنُورِهِمُ مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُمْ‏ فَأَمَّا الَّذِينَ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ فَلَوْ أَنَّهُمْ يَرَاهُمْ مَنْ دُونَهُمْ لَمْ يَهْنِئْهُمُ الْعَيْشُ مِمَّا يَرَوْنَ مِنْ فَضْلِهِمْ فَقَالَ ابْنُ أَبِي يَعْفُورٍ مَا لَهُمْ فَمَا يَرَوْنَهُمْ وَ هُمْ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ قَالَ يَا ابْنَ أَبِي يَعْفُورٍ إِنَّهُمْ مَحْجُوبُونَ بِنُورِ اللَّهِ أَ مَا بَلَغَكَ حَدِيثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ وَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وُجُوهُهُمْ أَبْيَضُ مِنَ الثَّلْجِ وَ

أَضْوَأُ مِنَ الشَّمْسِ الضَّاحِيَةِ فَيَسْأَلُ السَّائِلُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَحَابُّوا فِي جَلَالِ اللَّهِ‏.

۲ ۔ عیسی بن ابی منصور کہتے ہیں: میں، عبد اللہ بن ابی یعفور اور عبد اللہ طلحہ ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے۔ امام علیہ السلام نے ابن ابی یعفور کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا: ابن ابی یعفور! رسول اللہ صہ کا فرمان ہے: جس میں چھ خصلتیں ہوں گی وہ حضور خدا میں اوپر اور دائیں طرف کے لوگوں میں ہوگا۔ ابن ابی یعفور نے عرض کی، وہ کونسی خلصتیں ہیں؟ میں آپ پر فدا ہوں۔ فرمایا: مسلمان اپنے بھائی کیلئے وہی چیز پسند کرے جو اس کو اپنے عزیز ترین گھر والے کیلئے محبوب ہو۔ اور مرد مسلمان اپنے بھائی کیلئے وہ بات پسند نہ کرے جو اپنے عزیز ترین رشتہ دار کیلئے پسند نہ ہو۔ اور اس سے پر خلوص محبت رکھے۔

ابن ابی یعفور رونے لگے اور پوچھا، پر خلوص محبت کیوں کر رکھی جائے۔ امام عہ نے فرمایا: اس کی تین صورتیں ہیں، اس کی فکر میں فکر کرے، اس کی خوشی میں خوش ہو، اس کے غم میں غمگین ہو۔ اگر دوست کو خوشی ہو تو اس کی خوشی میں مسرور ہو، ورنہ دوست کے لیے مسرت کی دعا کرے۔

راوی کہتا ہے، پھر ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تین باتیں تم سے متعلق ہیں اور تیں ہم سے: ہمارے شرف سے باخبر رہو۔ ہماری اولاد کا خیال رکھو، ہمارے مستقبل کا انتظار کرو۔ جو مومن اس انداز کا ہوگا وہ حضور خدا میں سامنے حاضر ہوگا۔ اس سے کم درجہ کے لوگ اس کی روشنی سے نور حاصل کریں گے۔ لیکن وہ لوگ دائیں طرف ہوں گے ان کا بھی عالم یہ ہوگا کہ ان سے کمتر درجہ کے لوگ اگر ان کا مرتبہ دیکھ لیں تو اپنی زندگی سے بیزار ہو جائیں (اور جلد سے جلد موت کی تمنا کر کے وہ مرتبہ حاصل کریں)

ابن ابی یعفور نے پوچھا: تو کمتر درجہ کے لوگ انہیں دائیں طرف ہوتے ہوئے دیکھتے کیوں نہیں؟ فرمایا: وہ لوگ نور الہی کے پردوں میں ہیں۔ ابن ابی یعفور! تمہیں رسول اللہ صہ کی وہ خدا کے مقربین میں دائیں سمت اور سامنے کے حاضر باش ہیں ان کے چہرے برف سے زیادہ سفید اور دوپہر کے سورج سے زیادہ منور ہیں۔ پوچھنے والا پوچھے گا، یہ لوگ کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جلال خدا باہم دیگر محبت کی تھی۔

۹۵-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: وَ اللَّهِ مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْ‏ءٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَاءِ حَقِّ الْمُؤْمِنِ‏ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ أَفْضَلُ حَقّاً مِنَ الْكَعْبَةِ وَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ أَخُو الْمُؤْمِنِ عَيْنُهُ وَ دَلِيلُهُ فَلَا يَخُونُهُ وَ لَا يَخْذُلُهُ‏ وَ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَنْ لَا يَشْبَعَ وَ يَجُوعُ أَخُوهُ وَ لَا يَرْوَى وَ يَعْطَشُ أَخُوهُ وَ لَا يَلْبَسُ وَ يَعْرَى أَخُوهُ وَ مَا أَعْظَمَ حَقَّ الْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ‏ وَ قَالَ أَحْبِبْ لِأَخِيكَ الْمُسْلِمِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَ إِذَا احْتَجْتَ فَسَلْهُ وَ إِذَا سَأَلَكَ فَأَعْطِهِ وَ لَا تَمَلَّهُ خَيْراً وَ لَا يَمَلَّهُ لَكَ كُنْ لَهُ ظَهِيراً فَإِنَّهُ لَكَ ظَهِيرٌ إِذَا غَابَ فَاحْفَظْهُ فِي غَيْبَتِهِ وَ إِنْ شَهِدَ زُرْهُ وَ أَجْلِلْهُ وَ أَكْرِمْهُ فَإِنَّهُ مِنْكَ وَ أَنْتَ مِنْهُ وَ إِنْ كَانَ عَاتِباً فَلَا تُفَارِقْهُ حَتَّى تَسُلَّ سَخِيمَتَهُ وَ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ إِنِ ابْتُلِيَ فَأَعْطِهِ وَ تَحَمَّلْ عَنْهُ وَ أَعِنْهُ‏.

۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے مومن کا حق ادا کرنے سے بہتر خدا کی کوئی عبادت ہی نہیں کی گئی۔

آپ ہی نے فرمایا: مومن کا حق، کعبہ کے حق سے بہتر ہے۔ آپ ہی نے فرمایا: مومن، مومن کا بھائی، اس کی آنکھ اور اس کا رہنما ہے۔ نہ اپنے بھائی سے خیانت کرتا ہے نہ اسے یکا و تنہا چھوڑتا ہے۔

اور مسلمان کا مسلمان پر یہ حق ہے کہ اس وقت تک شکم سیر نہ ہو جب تک اس کا بھائی بوکھا ہو۔ جب تک بھائی پیاسا ہو۔ اس وقت تک سیراب نہ ہو۔ لیکن اس وقت تک لباس نہ پہنے جب تک وہ برہنہ رہے۔ اور مسلمان کے حق سے زیادہ کسی مسلمان پر کوئی حق نہیں۔

اور آپ ہی نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کیلئے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ جب تمہیں ضرورت ہو تو اس سے سوال کر لو۔ اور جب وہ تم سے سوال کرے تو اس کی بات پوری کرو۔ اسے بری بات سنا کر غمگین نہ کرو اور اسے اپنے لئے ناگوار نہ سمجھو، اس کے مددگار بنو۔ اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کی غیر حاضری میں اس کی عزت و آبرو کا خیال رکھو۔ اگر وہ موجود ہو تو اس کی ملاقات کو جائو۔ اس کا اعزاز و اکرام کرو۔ کیونکہ وہ تمہارا ہے، تم اس کے ہو۔ اور اگر وہ ناراض ہو جائے تو اس وقت تک اس کو نہ چھوڑو جب تک وہ تم سے خوش نہ ہو جائے۔ اگر اسے کوئی خوشی ہو تو خدا کا شکر ادا کرو۔ اگر آزمائش میں مبتلا ہو تو اسے کچھ مالی امداد دو۔ اس کی بات برداشت کرو۔ اس کی رعایت کرو۔

۹۶-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَحِقُّ عَلَيْهِ نَصِيحَتُهُ وَ مُوَاسَاتُهُ وَ مَنْعُ عَدُوِّهِ مِنْهُ ‏ ۔

۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن، مومن کا بھائی ہے۔ اس کا حق اپنے بھائی پر یہ ہے کہ اس کے ساتھ خلوص سے پیش آئے، ہمدردی کرے، اسے دشمن سے بچائے۔

۹۷-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْ‏ءٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَاءِ حَقِّ الْمُؤْمِنِ‏.

۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: حق مومن ادا کرنے سے بہتر خدا کی عبادت ہی نہیں کی گئی۔

۹۸-وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُونُهُ وَ لَا يَخْذُلُهُ وَ لَا يَعِيبُهُ وَ لَا يَحْرِمُهُ وَ لَا يَغْتَابُهُ ‏.

۶ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صہ کا ارشاد ہے: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس سے خیانت کرتا ہے نہ عیب لگاتا ہے، نہ اسے چھوڑتا ہے ، نہ اس کی غیبت کرتا ہے۔

۹۹-وَ عَنْهُ ع قَالَ: إِنَّ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ إِنْ عَطَسَ أَنْ يُسَمِّتَهُ وَ إِنْ أَوْلَمَ أَتَاهُ وَ إِنْ مَرِضَ عَادَهُ وَ إِنْ مَاتَ شَهِدَ جَنَازَتَهُ ‏.

۷ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان کا مسلمان پر حق یہ ہے کہ جب وہ چھینکے تو " یرحمكَ اللَّهُ " کہے اور اگر بیمار ہو جائے تو عیادت کرے اور اگر وفات پا جائے تو جنازہ میں شریک ہو۔

۱۰۰-وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ أَنَّ نَفَراً مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَرَجُوا فِي سَفَرٍ لَهُمْ فَأَضَلُّوا الطَّرِيقَ فَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ شَدِيدٌ فَتَيَمَّمُوا وَ لَزِمُوا أُصُولَ الشَّجَرِ فَجَاءَهُمْ شَيْخٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ فَقَالَ قُومُوا لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ هَذَا الْمَاءُ قَالَ فَقَامُوا وَ شَرِبُوا فَأُرْوُوا فَقَالُوا لَهُ مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا مِنَ الْجِنِّ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ ص إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ عَيْنُهُ وَ دَلِيلُهُ فَلَمْ تَكُونُوا تَضِيعُوا بِحَضْرَتِي‏.

۸ ۔ ابو جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں: کچھ مسلمان سفر کیلئے چلے اتفاقا راستے میں بھٹک گئے۔ اسی عالم میں انہیں سخت پیاس لگی۔ انہوں نے (غسل میت کے بدلہ) تیمم کر لیےاور درخت کے تنو کی آڑ میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں ایک سفید پوش بزرگ آئے اور کہنے لگے: اٹھو۔ کوئی ڈر کی بات نہیں۔ لو یہ پانی ہے۔ یہ لوگ اٹھے اور سیر ہو کر پانی پیا۔ اور ان سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ خدا آپ پر کرم فرمائے۔ انہوں نے کہا، میں ان جنوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صہ کی بیعت کی اور میں نے آنحضرت صہ سے سنا تھا: مومن، مومن کا بھائی ہے۔ اس کا نگہبان ہے، اس کا رہنما ہے۔ پھر تم میرے سامنے کیسے ہلاک ہو سکتے تھے۔

۱۰۱عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ قَوْمٍ عِنْدَهُمْ فُضُولٌ وَ بِإِخْوَانِهِمْ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَ لَيْسَ تَسَعُهُمُ الزَّكَاةُ وَ مَا يَسَعُهُمْ أَنْ يَشْبَعُوا وَ يَجُوعَ إِخْوَانُهُمْ فَإِنَّ الزَّمَانَ شَدِيدٌ فَقَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَ لَا يَخْذُلُهُ وَ لَا يَحْرِمُهُ‏ وَ يَحِقُّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ‏ الِاجْتِهَادُ لَهُ وَ التَّوَاصُلُ عَلَى الْعَطْفِ‏ وَ الْمُوَاسَاةُ لِأَهْلِ الْحَاجَةِ وَ التَّعَطُّفُ مِنْكُمْ يَكُونُونَ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ رُحَمَاءَ بَيْنَهُمْ مُتَرَاحِمِينَ مُهِمِّينَ‏ لِمَا غَابَ عَنْكُمْ مِنْ أَمْرِهِمْ عَلَى مَا مَضَى عَلَيْهِ مَعْشَرُ الْأَنْصَارِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص‏.

۹ ۔ سماعہ کہتے ہیں، میں نے امام عہ سے پوچھا: کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کچھ زائد دولت ہوتی ہے اور ان کے احباب شدید ضرورتوں میں مبتلا ہوتے ہیں، لیکن ان پر زکوات بھی واجب نہیں ہوتی، مگر یہ بھی گنجائش نہیں کہ خود شکم سیر ہوں اور ان کے بھائی بوکھے رہیں زمانہ بھی سخت ہے۔

حضرت نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ ظلم کرتا ہے، نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اسے محروم کرتا ہے۔ اور مسلمانوں پر حق ہے کہ محبت و شفقت کے ساتھ صلہ رحم میں کوشش کرے، حاجتمندوں کے ساتھ ہمدردی کرے اور ایک دوسرے کی خبر رکھے اور حکم خدا (رحماء بینھم؛ کی مثال بن جائیں۔ ایک دوسرے پر رحم کریں جو لوگ موجود نہ ہوں ان کے معاملات میں متفکر رہیں۔ جیسے رسول اللہ ص کے انصار تھے۔

۱۰۲وَ عَنْهُ ع قَالَ: سَأَلْنَاهُ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَكُونُ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُ يَوْمِهِ وَ مِنْهُمْ مَنْ عِنْدَهُ قُوتُ شَهْرٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ عِنْدَهُ قُوتُ سَنَةٍ أَ يَعْطِفُ مَنْ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمٍ عَلَى مَنْ لَيْسَ عِنْدَهُ شَيْ‏ءٌ وَ مَنْ عِنْدَهُ قُوتُ شَهْرٍ عَلَى مَنْ دُونَهُ وَ مَنْ عِنْدَهُ قُوتُ سَنَةٍ عَلَى مَنْ دُونَهُ‏ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ وَ ذَلِكَ كُلُّهُ الْكَفَافُ الَّذِي لَا يُلَامُ عَلَيْهِ فَقَالَ ع هُمَا أَمْرَانِ أَفْضَلُكُمْ فِيهِ أَحْرَصُكُمْ عَلَى الرَّغْبَةِ فِيهِ وَ الْأَثَرَةِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقُولُ‏ وَ يُؤْثِرُونَ عَلى‏ أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ وَ إِلَّا لَا يُلَامُ عَلَيْهِ‏ وَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَ يَبْدَأُ بِمَنْ يَعُولُ‏.

۱۰ ۔ امام علیہ السلام سے پوچھا گیا: ایک ایسا شخص ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے، کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ایک مہینہ کی خوراک ہے، کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس ایک سال کی روزی ہے۔ کیا ایک دن کی خوراک رکھنے والا، دوسرے آدمیوں کے ہوتے ہوئے اپنے ایک دن کی خوراک بوکھے کو دے دے گا۔ حالانکہ یہی خوراک اس کی کل مایہ بساط ہے۔ حضرت نے فرمایا: دونوں برابر ہیں۔ اب ان میں افضلیت اسے ملے گی جو رعایا پر زیادہ مہربان ہو، ورنہ وہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں انہی ایثار پسند مومنوں کی تعریف کی گئی ہے۔ سورہ حشر کی نویں آیت ہے۔ اور وہ لوگ انتہائی ضرورت کے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ اگر یہ جذبہ نہ ہو تو وہ دوسرے کو کچھ نہ دیں۔ اونچا ہاتھ پھیلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اور پہل اسے دی جائے جو محتاج ہو۔

۱۰۳وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: أَ يَجِي‏ءُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي كِيسِهِ فَيَأْخُذُ حَاجَتَهُ فَلَا يَدْفَعُهُ فَقُلْتُ مَا أَعْرِفُ ذَلِكَ فِينَا قَالَ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع فَلَا شَيْ‏ءَ إِذاً قُلْتُ فَالْهَلَكَةُ إِذاً قَالَ إِنَّ الْقَوْمَ لَمْ يُعْطَوْا أَحْلَامَهُمْ بَعْدُ.

۱۱ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: کیا کبھی یہ بھی ہوا کہ ایک شخص اپنے برادر مومن کے پاس آئے۔ اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنی ضرورت کی چیز نکال لے۔ پھر واپس نہ کرے۔

راوی نے عرض کی: ایسا کوئی آدمی ہمارے دوستوں میں تو ہے نہیں۔ امام عہ نے فرمایا: تو پھر کچھ بھی نہیں۔ راوی نے عرض کی: اس کی معنی یہ ہے کہ ہم کہیں کے نہ رہے؟ حضرت نے فرمایا: اس قوم کو اب عقل کیا آئے گی۔

۱۰۴وَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع‏ قَالَ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ التَّمَحُّلَ عَلَى الْأَبْرَارِ فِي كِتَابِ اللَّهِ قِيلَ وَ مَا التَّمَحُّلُ قَالَ إِذَا كَانَ وَجْهُكَ آثَرَ عَنْ وَجْهِهِ الْتَمَسْتَ‏ لَهُ‏ وَ قَالَ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ‏ وَ يُؤْثِرُونَ عَلى‏ أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ قَالَ لَا تَسْتَأْثِرْ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْكَ‏.

۱۲ ۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے ابرار و نیکوکار لوگوں کو قرآن میں تمحل (یا تحمل) کا حکم دیا ہے۔ پوچھا گیا تمحل (یا تحمل) کی معنی کیا ہے؟ فرمایا: جب تمہاری آبرو اس شخص سے زیادہ ہو جس کیلئے تم سے درخواست کی گئی ہو۔ قرآن مجید کی آیت و یوثرون علی انفسھم و لو کان بھم خصاصہ۔ کے بارے میں ارشاد ہے کہ اپنے سے زیادہ محتاج شخص کو ضرورت میں ترجیح دو۔

۱۰۵وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَلُمْهُ وَ لَا يَخْذُلُهُ وَ لَا يَعِيبُهُ وَ لَا يَغْتَابُهُ وَ لَا يَحْرِمُهُ وَ لَا يَخُونُهُ‏ وَ قَالَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَ يَعُودَهُ إِذَا مَرِضَ وَ يَنْصَحَ لَهُ إِذَا غَابَ وَ يُسَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ وَ يُجِيبَهُ إِذَا دَعَاهُ وَ يُشَيِّعَهُ إِذَا مَاتَ‏.

۱۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے تنہا چھوڑتا ہے، نہ اس کو عیب لگاتا ہے، نہ اسے محروم کرتا ہے، نہ اسے خیانت کرتا ہے۔

معصوم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی پر یہ حق ہے کہ ملاقات ہو تو اس پر سلام کرے۔ بیمار ہو تو عیادت کو جائے۔ غیر حاضر ہو تو اس کیلئے خلوص برتے۔ جب چھینکے تو دعا دے۔ جب بلائے اور پکارے تو جواب دے۔ مر جائے تو جنازہ میں شرکت کرے۔

۱۰۶وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي إِسْمَاعِيلَ يَا أَبَا إِسْمَاعِيلَ أَ رَأَيْتَ فِيمَنْ قِبَلَكُمْ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ لَيْسَ عِنْدَهُ رِدَاءٌ وَ عِنْدَ بَعْضِ إِخْوَانِهِ فَضْلُ رِدَاءٍ أَ يَطْرَحُهُ عَلَيْهِ حَتَّى يُصِيبَ رِدَاءً قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِذَا كَانَ لَيْسَ لَهُ إِزَارٌ أَ يُرْسِلُ إِلَيْهِ بَعْضَ إِخْوَانِهِ بِإِزَارٍ حَتَّى يُصِيبَ إِزَاراً قُلْتُ لَا فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ قَالَ مَا هَؤُلَاءِ بِإِخْوَانٍ‏.

۱۴ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے: آپ نے ابو اسماعیل سے فرمایا: ابو اسماعیل!تمہارے دوستوں میں اگر کسی کے پاس ایک عبا (قبا یا شیروانی پر ڈالنے ایک عربی لباس) ہو اور اس کے دوست کے پاس زیادہ عبائیں (ردائیں) ہوں تو وہ اپنی زائد عبا اپنے بھائی کو دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے دوسری ردا ملے۔اسماعیل نے عرض کیا۔ نہیں۔ فرمایا: اچھا اگر کسی کے پاس زیر جامہ نہ ہوتو دوسرا شخص جس کے پاس کئے ہوں وہ اتنی مدت کیلئے بھیج دیتا ہے کہ زیر جامہ بنوا لے۔ عرض کی، جی نہیں! حضرت علیہ السلام نے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو پھر وہ لوگ آپس میں دوست اور بھائی نہیں۔


باب ۵ ۔ مومن کی حاجت برآوری ، اس کی زحمت دور کرنا، مومن کیلئے آسانیاں فراہم کرنا۔

۱۰۷عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ مَشَى لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ فِي حَاجَتِهِ فَنَصَحَهُ فِيهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَا عَنْهُ سَيِّئَةً قُضِيَتِ الْحَاجَةُ أَوْ لَمْ تُقْضَ فَإِنْ لَمْ يَنْصَحْهُ فَقَدْ خَانَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ص خَصْمَهُ‏.

۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص کسی مرد مسلم کی ضرورت کیلئے خلوص کے ساتھ کوشش کرتا ہے، خدا ہر ہر قدم پر ایک حسنہ لکھتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے اور اگر خلوص نہ برتے گا تو خدا و رسول صہ کے ساتھ خیانت برتے گا۔ رسول اللہ اس کے دشمنوں ہوں گے۔

۱۰۸وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ انْتَخَبَ قَوْماً مِنْ خَلْقِهِ لِقَضَاءِ حَوَائِجِ فُقَرَاءَ مِنْ شِيعَةِ عَلِيٍّ ع لِيُثِيبَهُمْ بِذَلِكَ الْجَنَّةَ.

۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو شیعیان علی عہ کے ضرورتمندوں کی حاجت برآری کیلئے پیدا کیا ہے تا کہ اس کے اس صلہ میں انہیں جنت عطا فرمائے۔

۱۰۹وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا وَ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَ مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُؤْمِنٍ وَ هُوَ مُعْسِرٌ يَسَّرَ اللَّهُ لَهُ حَوَائِجَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ عَوْرَةً سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَبْعِينَ عَوْرَةً مِنْ عَوْرَاتِهِ الَّتِي يُخَلِّفُهَا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ قَالَ وَ إِنَّ اللَّهَ لَفِي عَوْنِ الْمُؤْمِنِ‏ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ فَانْتَفِعُوا فِي الْعِظَةِ وَ ارْغَبُوا فِي الْخَيْرِ.

۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: جو مومن کسی مومن کی تکلیف دور کرے گا خدا اس کی ستر تکلیفیں دنیا اور آخرت کی دور کرے گا۔

فرمایا: اور جو شخص تنگ حالی کے وقت مومن کیلئے آسانی و خوشحالی فراہم کرے گا خدا اس کی دنیا و آخرت کی ضرورتیں پوری کرے گا اور جو شخص مومن کے عیب کو چھپائے گا خدا اس کے دنیا و آخرت کے ستر عیب چھپائے گا۔

فرمایا: خداوند عالم اس وقت تک مومن کی مدد کرے گا جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرے۔ اس نصیحت سے فائدہ اٹھائو۔ نیکی کی طرف رغبت کرو۔

۱۱۰وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مَنْ خَطَا فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ‏ بِخُطْوَةٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَ كَانَتْ لَهُ خَيْراً مِنْ [عِتْقِ‏] عَشْرِ رِقَابٍ وَ صِيَامِ شَهْرٍ وَ اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‏.

۴ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے جو شخص اپنے برادر مومن کی ضرورت کیلئے ایک قدم بھی اٹھائے گا خدا اس کے بدلے دس نیکیاں لکھے گا اور اس کا ثواب دس غلام آزاد کرنے اور ایک مہینہ کے روزہ اور مسجد الحرام کے اعتکاف سے بہتر ہوگا۔

۱۱۱وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَضَاءُ حَاجَةِ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ حُمْلَانِ أَلْفِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ عِتْقِ أَلْفِ نَسَمَةٍ وَ قَالَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَمْشِي لِأَخِيهِ فِي حَاجَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ حَطَّ بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةً وَ رَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُفَرِّجُ عَنْ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كُرْبَةً إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعِينُ مَظْلُوماً إِلَّا كَانَ ذَلِكَ أَفْضَلَ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَ اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ‏.

۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی حاجت پوری کرنا راہ خدا میں جہاد کیلئے ہزار آراستہ گھوڑے دینے اور ہزار غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔

اور فرمایا ہے: جب کوئی مومن اپنے برادر ایمانی کی ضرورت کیلئے دوڑ دھوپ کرتا ہے تو خدا ہر قدم پر ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ کم کرتا ہے۔ اور ایک درجہ بلند کرتا ہے۔ اور جو مومن اپنے مومن بھائی کی کسی تکلیف کو دور کرتا ہےتو خدا اس کے آخرت کے تکالیف میں ایک تکلیف کو دور کرتا ہے۔

اور جب بھی مومن کسی مظلوم کو مدد کرتا ہے تو اس کا یہ عمل ایک مہینہ کے روزوں اور مسجد الحرام کے اعتکاف سے بہتر قرار دیتا ہے۔

۱۱۲عَنْ نَصْرِ بْنِ قَابُوسَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ الْمَاضِي ع بَلَغَنِي عَنْ أَبِيكَ‏ أَنَّهُ أَتَاهُ آتٍ فَاسْتَعَانَ بِهِ عَلَى حَاجَتِهِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ مُعْتَكِفٌ فَأَتَى الْحَسَنَ ع فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمَشْيَ فِي حَاجَةِ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنِ اعْتِكَافِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِصِيَامِهِمَا ثُمَّ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ ع وَ مِنِ اعْتِكَافِ الدَّهْرِ.

۶ ۔ نصر ابن قابوس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو الحسن ماضی سے عرض کی، آپ کے جد بزرگوار کے بارے میں، میں نے سنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس ایک سائل آیا، اسے کہا گیا کہ امام اعتکاف میں ہے۔ وہ شخص امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اس بات کا ذکر کیا، امام نے فرمایا: مومن کی ضرورت کے واسطے دوڑدھوپ لگاتار مسجد الحرام میں دو مہینوں کے اعتکاف سے بہتر ہے۔ پھر امام ابو الحسن ماضی نے فرمایا: بلکہ زندگی بھر کے اعتکاف سے بہتر ہے۔

۱۱۳وَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ حُلْوَانَ‏ قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَأَتَانِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِنَا فَسَأَلَنِي قَرْضَ دِينَارَيْنِ وَ كُنْتُ قَدْ طُفْتُ خَمْسَةَ أَشْوَاطٍ فَقُلْتُ لَهُ أُتِمُّ أُسْبُوعِي ثُمَّ أَخْرُجُ فَلَمَّا دَخَلْتُ فِي السَّادِسِ اعْتَمَدَ عَلَيَّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع وَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي قَالَ فَأَتْمَمْتُ سَبْعِي وَ دَخَلْتُ فِي الْآخَرِ لِاعْتِمَادِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع عَلَيَّ فَكُنْتُ كُلَّمَا جِئْتُ إِلَى الرُّكْنِ أَوْمَأَ إِلَيَّ الرَّجُلُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع مَنْ كَانَ هَذَا يُومِئُ إِلَيْكَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ هَذَا رَجُلٌ مِنْ مَوَالِيكَ سَأَلَنِي قَرْضَ دِينَارَيْنِ قُلْتُ أُتِمُّ أُسْبُوعِي وَ أَخْرُجُ إِلَيْكَ قَالَ فَدَفَعَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع وَ قَالَ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمَا إِيَّاهُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ فَأَعْطِهِمَا إِيَّاهُ لِقَوْلِي قَدْ أَنْعَمْتُ لَهُ‏ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَ عِنْدَهُ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا يُحَدِّثُهُمْ فَلَمَّا رَآنِي قَطَعَ الْحَدِيثَ وَ قَالَ لَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ حَتَّى أَقْضِيَ لَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَلْفَ نَسَمَةٍ وَ أَحْمِلَ عَلَى أَلْفِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ.

۷ ۔ حلواں شہر کے ایک شخص کا بیان ہے کے میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ اتنے میں شیعوں میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے مجھ سے دو دینار قرض مانگے۔ اور اس وقت میں پانچھ شوط دوڑ چکا تھا، اس لیے اس سے کہا طواف مکمل کر لوں تو آتا ہوں ابھی میں چھٹی شوط میں تھا کہ امام جعفر صادق چھٹی شوط میں تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے میرے کاندہے پر ہاتھ رکھا۔ ہم رکن کی طرف چلے تو اس شخص نے مجھے پھر اشارا کیا۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے دریافت فرمایا، تمہیں یہ کون اشارا کر رہا ہے؟ میں نے عرض کی، آپ پر قربان ہوں، یہ شخص آپ کے ہواخواہوں میں ہے، مجھ سے دو دینار قرض مانگ رہا تھا، میں نے اسے کہا، طواف مکمل کر لوں تو آتا ہوں۔ یہ سنتے ہی امام نے ہاتھ ہٹا کر فرمایا: جائو اور اس کی ضرورت پوری کرو۔ میں سمجھا کے حضرت فرماتے ہیں جائو دونوں دینار اسے دے دو۔ کیونکہ میں نے کہا تھا، میں اس کے ساتھ کچھ سلوک کر چکا ہوں۔ دوسرے دن میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں کچھ احباب و اصحاب حاضر تھے اور امام ان سے گفتگو فرما رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر حضرت نے بات کا رخ موڑا اور فرمایا: کسی دوست کی حاجت برآری کیلئے دوڑ دھوپ مجھے ہزار غلام آزاد کرنے اور ہزار با ساز و سامان گھوڑے راہ خدا میں ہدیہ دینے سے زیادہ پسند ہیں۔

۱۱۴وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ مَنْ سَرَّ مُؤْمِناً فَقَدْ سَرَّنِي وَ مَنْ سَرَّنِي فَقَدْ سَرَّ اللَّهَ‏.

۸ ۔ ابو جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ صہ کا ارشاد ہے: جو شخص کسی مومن کو خوش کرتا ہے وہ مجھے خوش کرتا ہے، اور جو مجھے خوش کرتا ہے وہ خدا کو خوش کرتا ہے۔

۱۱۵عَنْ مِسْمَعٍ قَالَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ ع يَقُولُ‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ وَ خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ وَ هُوَ ثَلِجُ الْفُؤَادِ .

۹ ۔ مسمع کہتے ہیں امام جعفر صادق علیہ السلام سے میں نے سنا: جو شخص کسی مومن کی دنیاوی تکلیف کو دور کرے گا خدا اس کی آخرت کی تکلیف دور کرے گا۔ اور وہ قبر سے مطمئن و پر سکون محشور ہو گا۔

۱۱۶وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعاً كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَهُ سِتَّةَ آلَافِ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ سِتَّةَ آلَافِ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ سِتَّةَ آلَافِ دَرَجَةٍ وَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَمَّارٍ وَ قَضَى لَهُ سِتَّةَ آلَافِ حَاجَةٍ وَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع لَقَضَاءُ حَاجَةِ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ طَوَافٍ وَ طَوَافٍ حَتَّى عَدَّ عَشْرَ مَرَّاتٍ‏ ۔

۱۰ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص خانہ کعبہ کا ایک کامل طواف کرے خداوند عالم چھ ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے اور چھ ہزار برائیاں اس کے نامہ اعمال سے مٹاتا ہے اور چھ ہزار درجہ اس کے بڑہاتا ہے۔

ابن عمار کی روایت میں ہے۔ چھ ہزار حاجتیں پوری کرتا ہے اور ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی بر آری، طواف اور طواف۔ دس مرتبہ فرمایا سے بہتر ہے۔

۱۱۷وَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ لَقَضَاءُ حَاجَةِ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عِتْقِ أَلْفِ نَسَمَةٍ وَ مِنْ حُمْلَانِ أَلْفِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏.

۱۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی حاجت پوری کرنا ہزار غلام آزاد کرنے اور ہزار سجے ہوئے گھوڑے راہ خدا میں ہدیہ دینے سے بہتر ہے۔

۱۱۸وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ مَنْ قَضَى لِمُسْلِمٍ‏ حَاجَتَهُ نَادَاهُ‏ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ ثَوَابُكَ عَلَيَّ وَ لَا أَرْضَى لَكَ ثَوَاباً دُونَ الْجَنَّةِ ۔

۱۲ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی ضرورت پوری کرتا ہے خداوند عالم اسے صدا دیتا ہے کہ تیرے اس عمل کا بدلہ میرے ذمہ ہے، اور جنت سے کم ثواب پر میں خوش نہیں ہوں گا۔

۱۱۹وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَأَلَهُ أَخُوهُ الْمُؤْمِنُ حَاجَتَهُ وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى قَضَائِهَا فَرَدَّهُ مِنْهَا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُجَاعاً فِي قَبْرِهِ يَنْهَشُ [مِنْ‏] أَصَابِعِهِ‏.

۱۳ ۔ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: اگر کسی مومن سے کوئی مومن سوال کرے اور وہ اسے پورا کر سکتا ہو، پھر پورا نہ کرےتو خداوند عالم قبر میں اس پر ایک اژدہا مسلط کرتا ہے جو اس کی انگلیاں چباتا ہے۔

۱۲۰وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَتَبَ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَ مَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَ رَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَ كَانَ عِدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَ صَوْمِ شَهْرٍ وَ اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ‏.

۱۴ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے برادر ایمانی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ اس کے نامہ اعمال میں، دس برائیاں مٹاتا ہے اور دس درجہ بلند کرتا ہے، اس کا یہ عمل دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ ایک مہینہ کے روزوں اور مسجد الحرام میں اعتکاف کے برابر ہے۔

۱۲۱وَ عَنِ الصَّادِقِ ع‏ مَنْ فَرَّجَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ يَخْرُجُ مِنْ قَبْرِهِ مَثْلُوجَ الصَّدْرِ .

۱۵ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ایک پریشانی دور کرے گا خدا قیامت کے دن اس کی پریشانی دور کرے گا۔

۱۲۲وَ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْكَاظِمِ ع قَالَ: مَنْ فَرَّجَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ كُرْبَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

۱ ۶- امام جعفر موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ایک پریشانی دور کرے گا خدا قیامت کے دن اس کی پریشانی دور کرے گا۔

۱۲۳وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: فِيمَا نَاجَى اللَّهُ بِهِ عَبْدَهُ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ أَنْ قَالَ إِنَّ لِي عِبَاداً أُبِيحُهُمْ جَنَّتِي وَ أُحَكِّمُهُمْ فِيهَا قَالَ مُوسَى يَا رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تُبِيحُهُمْ جَنَّتَكَ وَ تُحَكِّمُهُمْ فِيهَا قَالَ مَنْ أَدْخَلَ عَلَى مُؤْمِنٍ سُرُوراً ثُمَّ قَالَ إِنَّ مُؤْمِناً كَانَ فِي مَمْلَكَةِ جَبَّارٍ وَ كَانَ مُولَعاً بِهِ فَهَرَبَ مِنْهُ إِلَى دَارِ الشِّرْكِ وَ نَزَلَ بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ فَأَلْطَفَهُ وَ أَرْفَقَهُ‏ وَ أَضَافَهُ‏ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ وَ عِزَّتِي وَ جَلَالِي لَوْ كَانَ فِي جَنَّتِي مَسْكَنٌ لِمُشْرِكٍ لَأَسْكَنْتُكَ فِيهَا وَ لَكِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَى مَنْ مَاتَ مُشْرِكاً وَ لَكِنْ يَا نَارُ هَارِبِيهِ‏ وَ لَا تُؤْذِيهِ قَالَ وَ يُؤْتَى بِرِزْقِهِ طَرَفَيِ النَّهَارِ قُلْتُ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ أَوْ مِنْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ ‏.

۱۷ ۔ ابو جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے اپنے بندہ خاص موسی بن عمران سے وحی میں فرمایا: میرے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں میری جنت میں عام اجازت ہوگی، میں انہیں جنت کا حاکم بنا دوں گا۔ حضرت موسی ؑ نے پوچھا: پروردگارا! وہ لوگ کون ہوں گے، جنہیں جنت مباح ہوگی اور وہ وہاں حکومت کریں گے؟ خداوند عالم نے فرمایا جو لوگ مومن کو خوش کریں گے۔

امام ؑ نے فرمایا: ایک مومن، جبار کی حکومت میں رہتا تھا، جبار اس کے در آزاد ہو گیا۔ ایک مرتبہ وہ مومن اس حکومت سے بھاگ کر مشرک کے علاقہ میں چلا گیا۔ اور ایک مشرک کے یہاں ٹھہر گیا۔ اس مشرک نے مومن کے ساتھ بڑی نرمی، مہربانی اور حسن سلوک کیا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو خداوند عالم نے فرمایا: میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میری جنت میں ایک مشرک کا بھی گھر ہوتا تو میں تجھے ضرور دیتا۔ لیکن میری جنت ہر اس شخص پر حرام ہے جو شرک کی حالت میں مرے۔ ہاں، اے جھنم کی آگ تو اس شخص سے دور رہ اور تکلیف نہ دے۔ حضرت نے فرمایا: وہیں اے دو وقت روزی پہنچے گی۔ سائل نے پوچھا، جنت سے؟ فرمایا: جہاں سے خدا کی مرضی ہوگی۔

۱۲۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ قَضَى لِمُسْلِمٍ حَاجَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَ مَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَ رَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَ أَظَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ‏.

۱۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی حاجت پوری کرے گا۔ خدا اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھے گا، دس گناہ کم کر دے گا، دس درجے بڑہائے گا اور خدا اپنے سایہ رحمت میں اس وقت جگہ دے گا جب کہ اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔

۱۲۵أَبُو حَمْزَةَ عَنْ أَحَدِهِمَا ع‏ أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَقَالَ مُسْلِماً نَدَامَةً فِي بَيْعٍ‏ أَقَالَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَذَابَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ

۲۰ ۔ ابو حمزہ نے امام ؑ روایت کی ہے: جو مسلمان کسی کے سودے میں رعایت اور کمی کرے گا، اس کے عذاب میں قیامت کے دن کمی کرے گا۔

۱۲۶وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ أَدْخَلَ عَلَى مُؤْمِنٍ سُرُوراً خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ ذَلِكَ السُّرُورِخَلْقاً فَيَلْقَاهُ عِنْدَ مَوْتِهِ فَيَقُولُ لَهُ أَبْشِرْ يَا وَلِيَّ اللَّهِ بِكَرَامَةٍ مِنَ اللَّهِ وَ رِضْوَانٍ مِنْهُ‏ ثُمَّ لَا يَزَالُ مَعَهُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَإِذَا بُعِثَ تَلَقَّاهُ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ‏ فَلَا يَزَالُ مَعَهُ فِي كُلِّ هَوْلٍ يُبَشِّرُهُ وَ يَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيَقُولُ لَهُ مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا السُّرُورُ الَّذِي أَدْخَلْتَ عَلَى فُلَانٍ‏.

۲۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مومن کو خوش کرے گا۔ خدا اس خوشی کو ایک صورت عطا کرے گا جو اس سے مرنے کے وقت ملے گی اور اس سے کہے گی۔ اے خدا کے ولی! خدا کی دی ہوئی کرامت و رضا مبارک ہو۔ پھر وہ خوشی اس کے ساتھ رہی گی، جب اسے قبر میں اتارا جائے گا تو پھر یہی کہے گی۔ اس کے بعد قیامت کے ہر خطرناک مرحلہ میں اس کے ساتھ رہے گی۔ یہاں تک کہ وہ شخص پوچھے گا، تو کون ہے؟ وہ جوا دے گی، میں وہ خوشی ہوں جسے تم فلاں شخص کے دل میں پیدا کیا تھا۔

۱۲۷وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مِنْ أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ إِدْخَالُ السُّرُورِ عَلَى أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ إِشْبَاعِ‏جَوْعَتِهِ أَوْ تَنْفِيسِ كُرْبَتِهِ أَوْ قَضَاءِ دَيْنِهِ‏.

۲۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خدا کا پسندیدہ ترین کام یہ ہے کہ مومن اپنے مومن بھائی کو خوش کرے۔ اس کا شکم سیر کرے، اس کی تکلیف کو دور کرے، اس کے قرض کو ادا کرے۔

۱۲۸وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ مَنْ أَكْرَمَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ بِمَجْلِسٍ يُكْرِمُهُ أَوْ بِكَلِمَةٍ يُلْطِفُهُ بِهَا أَوْ حَاجَةٍ يَكْفِيهِ إِيَّاهَا لَمْ يَزَلْ فِي ظِلٍّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.

۲۳ ۔ ابو جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں: رسول اللہ صہ نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی محفل میں عزت افزائی کرے گا، یا کسی جملے سے اس کو خوش کرے گا یا اس کی حاجت برآری کرے گا وہ فرشتوں کے سایہ میں اس طرح کی عزت کے ساتھ رہے گا۔

۱۲۹وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ إِنَّ مِنْ عِبَادِي مَنْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالْحَسَنَةِ فَأُحَكِّمُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ يَا رَبِّ وَ مَا هَذِهِ الْحَسَنَةُ قَالَ يُدْخِلُ عَلَى مُؤْمِنٍ سُرُوراً .

۲۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے حضرت موسی ؑ کو وحی کی کہ میرے بندوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حسنہ کے ذریعہ، مسلسل مجھ سے قریب ہوتے رہتے ہیں۔ حضرت موسی ؑ نے پوچھا، پروردگارا! وہ حسنہ کیا ہے؟ فرمایا: مومن کے دل کو خوش کرنا۔

۱۳۰وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَشْيُ الْمُسْلِمِ فِي حَاجَةِ الْمُسْلِمِ خَيْرٌ مِنْ سَبْعِينَ طَوَافاً بِالْبَيْتِ الْحَرَامِ‏.

۲۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان کا مسلمان کی ضرورت کے لیے دوڑ دھوپ کرنا بیت الحرام کے ستر طوافوں سے بہتر ہے۔

۱۳۱وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ مِمَّا يُحِبُّ اللَّهُ مِنَ الْأَعْمَالِ إِدْخَالَ السُّرُورِ عَلَى الْمُسْلِمِ .

۲۶- ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان کے دل کو خوش کرنا خدا کا محبوب عمل ہے۔

۱۳۲عَنْ صَفْوَانَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ مَيْمُونٌ‏ الْقَدَّاحُ فَشَكَا إِلَيْهِ تَعَذُّرَ الْكِرَاءِ فَقَالَ لِي قُمْ فَأَعِنْ أَخَاكَ‏ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَيَسَّرَ اللَّهُ لَهُ الْكِرَاءَ فَرَجَعْتُ إِلَى مَجْلِسِي فَقَالَ لِي مَا صَنَعْتَ فِي حَاجَةِ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ قُلْتُ قَضَاهَا اللَّهُ تَعَالَى فَقَالَ أَمَا إِنَّكَ إِنْ تُعِنْ أَخَاكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ طَوَافِ أُسْبُوعٍ بِالْكَعْبَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَجُلًا أَتَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ع فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَعِنِّي عَلَى حَاجَتِي فَانْتَعَلَ‏ وَ قَامَ مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع وَ هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَقَالَ لَهُ أَيْنَ كُنْتَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ تَسْتَعِينُهُ عَلَى حَاجَتِكَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَذُكِرَ لِي أَنَّهُ مُعْتَكِفٌ فَقَالَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ أَعَانَكَ عَلَى حَاجَتِكَ لَكَانَ خَيْراً لَهُ مِنِ اعْتِكَافِ شَهْرٍ.

۲۷ ۔ صفوان کہتے ہیں میں ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں ترویہ کے دن حاضر تھا، اتنے میں قداح (آنکھوں کا آپریشن کرنے والا طبیب) حاضر ہوئے اور کرایہ سواری کی باتیں کرنے لگے۔ حضرت نے مجھے حکم دیا: اٹھو، اور اپنے بھائی کی مدد کرو۔ میں ہاروں کے ساتھ گیا اور خدا نے ان کے لیے سواری کا انتظام کر وا دیا۔ جب حضور میں آیا تو امام نے دریافت فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کے سلسلے میں کیا کیا؟ میں نے جواب دیا، خدا نے ان کا کام کروا دیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو! تمہارا اپنے بھائی کی مدد کرنا مجھے کامل طواف کعبہ سے زیادہ پسند ہے۔ پھر ارشاد فرمایا: ایک شخص امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی، اے ابو محمد! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میری ایک ضرورت پوری کر دیں۔ حضرت نے کفش پہنی اور اس کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ راستے میں امام حسین علیہ السلام کو ملاحظہ فرمایا کہ حضرت نماز میں مصروف ہیں۔ آپ نے اس سے پوچھا، تم ابو عبد اللہ ؑ کے پاس گئے تھے؟ جواب ملا، جی، میں حاضری دی تھی لیکن مجھے بتایا گیا کہ حضور اعتکاف میں ہیں۔ امام حسن نے فرمایا: لیکن اگر وہ تمہاری ضرورت میں تمہاری مدد فرماتے تو ان کو ایک مہینہ کے اعتکاف سے زیادہ ثواب ملتا۔

۱۳۳وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مَا مِنْ عَمَلٍ‏ يَعْمَلُهُ الْمُسْلِمُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ إِدْخَالِ السُّرُورِ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ وَ مَا مِنْ رَجُلٍ يُدْخِلُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بَاباً مِنَ السُّرُورِ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهِ بَاباً مِنَ السُّرُورِ .

۲۸ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان کے اعمال میں خدا کو سب سے زیادہ مسلمان کا مسلمان کو خوش کرنا پسند ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو خوشی کے ایک دروازے میں لے جاتا ہے خدا قیامت کے دن اسے بھی سرور و مسرت کے دروازے میں جانے کی اجازت دے گا۔

۱۳۴وَ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ع قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ جَنَّةً ادَّخَرَهَا لِثَلَاثٍ إِمَامٍ عَادِلٍ وَ رَجُلٍ يُحَكِّمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي مَالِهِ وَ رَجُلٍ يَمْشِي لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ فِي حَاجَةٍ قُضِيَتْ لَهُ أَوْ لَمْ تُقْضَ ‏.

۲۹ ۔ ابو الحسن علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے اپنی ایک جنت تین لوگوں کے لیے رکھی ہے۔ امام عادل، وہ مسلمان جو اپنے بھائی کو تصرف کا اختیار دے دے اور وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کے لیے دوڑ دھوپ کرے خواہ وہ ضرورت پوری ہو یا نہ ہو۔

۱۳۵عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ أَحَدِهِمَا ع قَالَ: مَشْيُ الرَّجُلِ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ تُكْتَبُ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَ تُمْحَى عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَ يُرْفَعُ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَ يَعْدِلُ عَشْرَ رِقَابٍ وَ أَفْضَلُ مِنِ اعْتِكَافِ شَهْرٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ صِيَامِهِ ‏.

۳۰ ۔ محمد بن مروان نے امام (جعفر صادق علیہ السلام) سے روایت کی ہے: برادر مسلم کی ضرورت کے لیے کسی انسان کی دوڑ دھوپ کے صلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی اور دس برائیاں کاٹی جاتی ہیں اور اس کے درجے بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کا ثواب دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ اس کا عمل مسجد الحرام میں ایک مہینہ کے اعتکاف اور ایک مہینہ کے روزے کر برابر ہے۔

۱۳۶وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مَنْ مَشَى فِي حَاجَةٍ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ حَتَّى يُتِمَّهَا أَثْبَتَ اللَّهُ قَدَمَيْهِ يَوْمَ تَزِلُّ الْأَقْدَامُ ‏.

۳۱ ۔ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت برآری میں کوشش کرے اور اسے پورا بھی کر دے تو خداوند عالم اس دن اس کے قدم نہ ڈگمگانے دے گا جس دن تمام قدم ڈگمگا رہے ہوں گے۔

۱۳۷وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ مَنْ أَعَانَ أَخَاهُ اللَّهْفَانَ اللَّهْبَانَ مِنْ غَمٍّ أَوْ كُرْبَةٍ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَهُ اثْنَتَيْنِ وَ سَبْعِينَ رَحْمَةً عَجَّلَ لَهُ مِنْهَا وَاحِدَةً يُصْلِحُ بِهَا أَمْرَ دُنْيَاهُ‏ وَ وَاحِدَةً وَ سَبْعِينَ لِأَهْوَالِ الْآخِرَةِ .

۳۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت رسالت مآب کا ارشاد ہے: جو شخص اپنے بھائی کی غم و الم سے ہانپتے کانپتے وقت مدد کرے گا۔ خداوند عالم بہتر رحمتیں اسے عطا فرمائے گا۔ جن میں سے ایک رحمت تو فوری طور پر اس کے دنیاوی معاملات میں عطا ہو گی اور اکہتر رحمتیں آخرت کے خوفناک مراحل میں عطا ہوں گی۔

۱۳۸وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ مَنْ أَكْرَمَ مُؤْمِناً فَإِنَّمَا يُكْرِمُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَ ‏.

۳۳ ۔ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صہ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مومن کی عزت و تکریم کرتا ہے وہ خداوند عالم کی عظمت کا اظہار کرتا ہے۔

۱۳۹وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: فِي‏حَاجَةِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ ثَلَاثٌ تَعْجِيلُهَا وَ تَصْغِيرُهَا وَ سَتْرُهَا فَإِذَا عَجَّلْتَهَا هَنَّيْتَهَا وَ إِذَا صَغَّرْتَهَا فَقَدْ عَظَّمْتَهَا وَ إِذَا سَتَرْتَهَا فَقَدْ صُنْتَهَا .

۳۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن جب اپنے بھائی سے کوئی حاجت بیان کرے تو اسے تین باتیں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جلدی کرنا، بات کو معمولی سمجھنا اور اس حاجت کو چھپانا۔ جب حاجت بر آری میں جلدی کرتا ہے تو گویا اسے آسان بنا دیتا ہے اور جب اسے معمولی سمجھتا ہے تو بات کی بڑائی کا خیال کرتا ہے اور جب اسے چھپاتا ہے تو اسے آسان بنا دیتا ہے۔

۱۴۰وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ يُقْرِضُ مُؤْمِناً قَرْضاً يَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَهُ بِحِسَابِ الصَّدَقَةِ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَدْعُو لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِ مَلَكاً يَقُولُ وَ لَكَ مِثْلُهُ وَ قَالَ ع دُعَاءُ الْمُؤْمِنِ لِلْمُؤْمِنِ يَدْفَعُ عَنْهُ الْبَلَاءَ وَ يُدِرُّ عَلَيْهِ الرِّزْقَ‏.

۳۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: کو مومن کسی مومن کو قربت و رضائے خدا کے لیے قرض دیتا ہے تو خداوند عالم اس کے صلہ صادقین کے حسنات جیسا عطا فرماتا ہے۔ جب بھی کوئی مومن اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے، خدا عالم ایک فرشتہ متعین کرتا ہے جو کہتا ہے: ایسی ہی اچھی بات خدا تیرے لیے کرے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی دعا مومن کے لیے بلائیں دور کرتی اور روزی میں برکت دیتی ہے۔

۱۴۱عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي الطَّوَافِ إِذْ أَخَذَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع بِعَضُدِي فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَ لَا أُخْبِرُكَ بِفَضْلِ الطَّوَافِ حَوْلَ هَذَا الْبَيْتِ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ طَافَ حَوْلَ هَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعاً ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ أَلْفَ دَرَجَةٍ وَ أَثْبَتَ لَهُ أَلْفَ شَفَاعَةٍ ثُمَّ قَالَ أَ لَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قَضَاءُ حَاجَةِ امْرِئٍ أَفْضَلُ مِنْ طَوَافِ أُسْبُوعٍ وَ أُسْبُوعٍ حَتَّى بَلَغَ عَشَرَةً ثُمَّ قَالَ يَا إِبْرَاهِيمُ مَا أَفَادَ الْمُؤْمِنُ مِنْ فَائِدَةٍ أَضَرَّ عَلَيْهِ مِنْ مَالٍ يُفِيدُهُ الْمَالُ أَضَرُّ عَلَيْهِ مِنْ ذِئْبَيْنِ ضَارِيَيْنِ فِي غَنَمٍ قَدْ هَلَكَتْ رُعَاتُهَا وَاحِدٌ فِي أَوَّلِهَا وَ آخَرُ فِي آخِرِهَا ثُمَّ قَالَ فَمَا ظَنُّكَ بِهِمَا قُلْتُ يُفْسِدَانِ أَصْلَحَكَ اللَّهُ قَالَ صَدَقْتَ إِنَّ أَيْسَرَ مَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَيَقُولَ زَوِّجْنِي فَيَقُولَ لَيْسَ لَكَ مَالٌ ‏.

۳۶ ۔ ابراہیم تیمی طواف کر رہے تھے۔ اتنے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے آکر بازہ پکڑا اور سلام کیا پھر فرمانے لگے: خانہ کعبہ کے طواف کا مرتبہ بتائوں کیا ہے؟ ابراہیم نے عرض کی، فرمائیے۔ امام نے فرمایا: جو مسلمان اس گھر کا طواف کامل کرے پھر مقام پر آئے اور کعبہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کرے۔ خدا اس کے نامہ اعمال میں ہزار نیکیاں لکھتا، ہزار برائیاں مٹاتا ہے۔ اس کے ہزار درجے پڑھتے اور ہزار شفاعتیں حاصل ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا: اس سے بڑی بات بتائوں؟ ابراہیم نے عرض کی ارشاد۔ فرمایا: مسلمان شخص کی حاجت برآری سات شوط۔ دس مرتبہ فرمایا: طواف سے بہتر ہے۔ پھر فرمایا: ابراہیم! مال کے اس فائدہ سے جو دیر میں حاصل ہو مومن کو در حقیقت فائدہ نہیں ہوتا۔ مال تو ان دو بھیڑیوں سے زیادہ نقصان رساں ہے جو بکریوں کے ایسے گلے میں گھس جائیں جس گلہ کا مالک مر گیا ہو۔ ایک بھیڑیا گلہ کے اگلے حصہ پر ٹوٹ پڑے اور دوسرا آخری حصہ پر۔ تمہارے خیال میں وہ دونوں بھیڑیے کیا کریں گے؟ ابراہیم نے عرض کی۔ خدا آپ کے حالات بہتر کرے، بھیڑیے گلے کو تباہ کر دیں گے۔ فرمایا: سچ کہا۔ یہی حال اس شخص کا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی بھائی کے پاس شادی کا پیغام لے کر جائے اور وہ شخص یہ کہہ کر رد کر دے کہ تمہارے پاس مال تو ہے نہیں۔

۱۴۲عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنْ حَقِّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ فَقَالَ حَقُّ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ لَوْ حَدَّثْتُكُمْ بِهِ لَكَفَرْتُمْ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ خَرَجَ مَعَهُ مِثَالٌ مِنْ قَبْرِهِ فَيَقُولُ لَهُ أَبْشِرْ بِالْكَرَامَةِ مِنْ رَبِّكَ وَ السُّرُورِ فَيَقُولُ لَهُ بَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ ثُمَّ يَمْضِي مَعَهُ يُبَشِّرُهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ وَ رَوَاهُ عَنْ غَيْرِهِ‏ قَالَ فَإِذَا مَرَّ بِهَوْلٍ قَالَ لَيْسَ هَذَا لَكَ وَ إِذَا مَرَّ بِخَيْرٍ قَالَ هَذَا لَكَ فَلَا يَزَالُ مَعَهُ‏ يُؤْمِنُهُ مِمَّا يَخَافُ وَ يُبَشِّرُهُ بِمَا يُحِبُّ حَتَّى يَقِفَ مَعَهُ‏ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَإِذَا أُمِرَ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ لَهُ الْمِثَالُ أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ قَدْ أَمَرَ بِكَ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَهُ مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ بَشَّرْتَنِي حِينَ خَرَجْتُ مِنْ قَبْرِي وَ آنَسْتَنِي فِي طَرِيقِي وَ خَبَّرْتَنِي‏ عَنْ رَبِّي فَيَقُولُ أَنَا السُّرُورُ الَّذِي كُنْتَ تُدْخِلُهُ عَلَى إِخْوَانِكَ فِي الدُّنْيَا جُعِلْتُ مِنْهُ لِأَنْصُرَكَ‏ وَ أُونِسَ وَحْشَتَكَ ‏.

۳۷ ۔ ابان بن تغلب سے روایت ہے، کہ میں نے حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام سے مومن کے حق دریافت کیے۔ حضرت نے فرمایا: مومن کا حق تو اس قدر زیادہ اور بلند ہے کہ اگر میں بیان کروں تو شاید دین کا انکار کر دو۔ مومن جب قبر سے نکلتا ہے تو اس کے ساتھ ایک (ہمزاد) تمثال بھی باہر آتی ہے اور کہتی ہے۔ تجھے اپنے رب کی طرف سے ملی ہوئی کرامت و مسرت کا مژدہ ہے۔ وہ شخص کہے گا۔ خدا تجھے بھی بہتری کی بشارت دے۔ پھر وہ تمثال اس مومن کو اسی طرح بشارت دیتی رہے گی۔

ابان کے علاوہ دوسرے راوی نے کہا: جب وہ مومن کسی خوف کے مرحلہ سے گزرے گا تو (ہمزاد) تمثال کہے گی، یہ تیری منزل نہیں ہے۔ اور جب کسی خوش گوار مرحلہ سے گزرے گا تو تمثال کہے گی۔ یہ تمہاری منزل ہے۔ یونھی وہ خوفناک منزلوں میں مطمئن اور پسندیدہ مرحلوں میں بشارت دیتی رہے گی۔ آخر کار حضور خداوندی میں حاضر ہوگی۔ جب اس شخص کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا تو تمثال کہے گی۔ جنت مبارک ہو۔ خدا نے تمہیں جنت جانے کا حکم دیا ہے۔ وہ شخص پوچھے گا۔ تم کون ہو؟ خدا تم پر رحم کرے۔ جب دنیا سے چلا تو تم نے بشارت دی۔ راستے میں دل بہلایا، پروردگار کے حضور میں پہنچایا۔ تمثال کہے گی۔ میں وہ خوشی ہوں جسے تم نے دنیا میں اپنے بھائیوں کے دلوں میں داخل کیا تھا۔ میں اسی سے خلق ہوئی ہوں کہ تمہیں بشارتیں دوں اور تنہائی میں مونس و ہمدرد رہوں۔

۱۴۳وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى دَاوُدَ ع إِنَّ الْعَبْدَ مِنْ عِبَادِي لَيَأْتِينِي بِالْحَسَنَةِ فَأُبِيحُهُ جَنَّتِي فَقَالَ دَاوُدُ يَا رَبِّ وَ مَا تِلْكَ الْحَسَنَةُ قَالَ يُدْخِلُ عَلَى عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ سُرُوراً وَ لَوْ بِتَمْرَةٍ قَالَ دَاوُدُ يَا رَبِ‏ حَقٌّ لِمَنْ عَرَفَكَ أَنْ لَا يَقْطَعَ رَجَاءَهُ مِنْكَ‏.

۳۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خداوند عالم نے داوود علیہ السلام پر وحی کی۔ میرے بندوں میں ایسا شخص بھی ہوگا جو حسنہ پیش کرے گا اور میں اپنی جنت مباح کر دوں گا۔ حضرت داوود علیہ السلام نے عرض کی۔ پروردگارا! وہ حسنہ کیا ہوگا؟ ارشاد ہوا۔ میرے مومن کے دل کو خوش کرے گا، چاہے ایک کھجور ہی دے کر ہو۔ حضرت داود علیہ السلام نے فرمایا: (پروردگار) جو تیری معرفت رکھتا ہے۔ اس پر حق ہے کہ تجھ سے کبھی مایوس نہ ہو۔

۱۴۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا جَاءَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَقَامَ مَعَهُ فِي حَاجَتِهِ كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏.

۳۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب کسی مسلمان کے پاس کوئی مسلمان اپنی حاجت لے کر آتا ہے اور وہ شخص اسی وقت اس کا کام کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اسے وہ حیثیت حاصل ہوتی ہے جیسے راہ خدا کا مجاہد۔

۱۴۵وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ أَعَانَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ‏ اللَّهْبَانَ‏ اللَّهْفَانَ عِنْدَ جَهْدِهِ فَنَفَّسَ كَرْبَهُ وَ أَعَانَهُ عَلَى نَجَاحِ حَاجَتِهِ كَانَتْ لَهُ بِذَلِكَ‏ اثْنَتَانِ وَ سَبْعُونَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ يُعَجِّلُ لَهُ مِنْهَا وَاحِدَةً يُصْلِحُ بِهَا أَمْرَ مَعِيشَتِهِ وَ يَدَّخِرُ لَهُ وَاحِدَةً وَ سَبْعِينَ رَحْمَةً لِحَوَائِجِ الْقِيَامَةِ وَ أَهْوَالِهَا.

۴۰ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے مصیبت زدہ، پریشان حال مومن بھائی کی مدد کرے گا اور زحمتوں کے وقت اس کی تکلیف دور کرے گا اسے بہتر درجے رحمت کے عطا ہوں گے۔ ان میں ایک رحمت ایسی ہوگی کہ اس کی معیشت اور دنیاوی زندگی مستفید ہوگی اور اکہتر رحمتیں قیامت کے پیش آنے والی ضرورتوں میں کام آئیں گی۔


باب ۶ ۔ مومن کی ملاقات اور مزاج پرسی

۱۴۶عَنِ النَّبِيِّ ص أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ عَادَ مَرِيضاً فِي اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ خَوْضاً وَ إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ اسْتِنْقَاعاً فَإِنْ عَادَهُ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِلَى أَنْ يُمْسِيَ فَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِلَى أَنْ يُصْبِحَ‏.

۱ ۔ رسول اللہ صہ نے فرمایا: جو مومن رضائے خدا کے لیے کسی مریض کی عیادت کرتا ہے۔ وہ رحمتوں میں ڈوبتا ہے اور جب وہ مزاج پرسی کرتا ہے تو وہ خدا سے بھرپور فائدے حاصل کرتا ہے۔ اگر وہ صبح کو عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے رحمت طلب کرتے ہیں اور اگر شام کو جاتا ہے تو ستر ہزار ملائکہ صبح تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

۱۴۷وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ عَادَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ فِي مَرَضِهِ‏ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعَةٌ وَ سَبْعُونَ‏ أَلْفَ مَلَكٍ فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ وَ اسْتَغْفَرُوا لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ فَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ‏.

۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: جو مومن اپنے برادر مومن کی بیماری میں صبح کے وقت مزاج پرسی کے لیے جاتا ہے اس کے لیے ستر ہزار فرشتے صبح تک رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اگر اس کے پاس جا کر بیٹھتا ہے تو رحمتیں ڈھانپ لیتی ہیں اور شام تک اس کے واسطے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرتا ہے تو فرشتے صبح تک دعائے مغفرت کرتے ہیں۔

۱۴۸وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ‏ يُرِيدُ أَخَاهُ لِلَّهِ لَا لِغَيْرِهِ الْتِمَاسَ وَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدَهُ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُنَادُونَهُ مِنْ خَلْفِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَلَا طِبْتَ وَ طَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ.

۳ ۔ ابو جعفر علیہ السلام فرماتےہیں:جب مسلمان شخص خشنودی و رضائے خدا کےلیےاپنے بھائی سےملنےجاتاہےتوخداوند عالم ستر ہزار فرشتے اس کی منزل تک صدا دیتے رہتے ہیں، تم خوش و خرم رہو اور جنت تم کو گوار ہو۔

۱۴۹وَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع‏ أَنَّهُ قَالَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ تَذْهَبُ بِنَا نَعُودُ فُلَاناً قَالَ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَإِذَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ جَالِسٌ عِنْدَهُ فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع يَا أَبَا مُوسَى أَ عَائِداً جِئْتَ أَمْ زَائِراً فَقَالَ لَا بَلْ عَائِداً فَقَالَ أَمَا إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ‏.

۴ ۔ امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: آئو فلاں شخص کی عیادت کر آئیں۔ وہ اصحابی امیر المومنین علیہ السلام کے ہمرکاب وہاں گئے، تو دیکھا ابو موسی اشعری بھیٹے ہوئے ہیں۔ امیر المومنین علیہ السلام نے ابو موسی اشعری سے پوچھا، عیادت کرنے آئے ہیں یا ملاقات کے لیے؟ ابو موسی نے کیا، عیادت کے لیے۔ حضرت نے فرمایا: جب کوئی مومن اپنے مومن بھائی کی عیادت کو جاتا ہے، ستر ہزار فرشتے اس وقت تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنے گھر واپس نہ آجائے۔

۱۵۰وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع عَنِ النَّبِيِّ ص أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي جَبْرَئِيلُ ع أَنَّ اللَّهَ أَهْبَطَ إِلَى الْأَرْضِ مَلَكاً وَ أَقْبَلَ ذَلِكَ الْمَلَكُ يَمْشِي حَتَّى وَقَعَ إِلَى بَابِ دَارِ رَجُلٍ وَ إِذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّ الدَّارِ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ مَا حَاجَتُكَ إِلَى رَبِّ الدَّارِ قَالَ أَخٌ لِي مُسْلِمٌ زُرْتُهُ فِي اللَّهِ قَالَ لَهُ‏ مَا جَاءَ بِكَ إِلَّا ذَلِكَ قَالَ مَا جَاءَ بِي إِلَّا ذَلِكَ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْكَ‏ وَ هُوَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ أَوْجَبْتُ لَكَ الْجَنَّةَ قَالَ وَ قَالَ الْمَلَكُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَيُّمَا مُسْلِمٍ زَارَ مُسْلِماً لَيْسَ إِيَّاهُ يَزُورُ وَ إِنَّمَا إِيَّايَ يَزُورُ وَ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ.

۵ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے اپنے والد، انہوں نے امام حسین علیہ السلام سے روایت نقل کی، رسول اللہ صہ نے فرمایا کہ مجھ سے جبرائیل نے کہا: خداوند عالم نے ایک فرشتہ زمین پر بھیجا، وہ فرشتہ ایک آدمی کے گھر پر پہنچا، وہاں دروازے پر ایک آدمی صاحب خانہ سے اندر جانے کی اجازت مانگ رہا تھا، فرشتہ نے اس سے پوچھا: صاحب خانہ سے آپ کو کیا کام ہے؟ اس نے کہا، میں خدا کی خوشنودی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو آیا تھا۔ فرشتے نے کہا: کیا واقع تو صرف خدا کے لیے یہاں آیا تھا؟ اس نے کہا: ہاں، صرف خدا کے لیے۔ فرشتہ نے کہا: تو بھائی، میں خدا کا پیام بر ہوں، خدا تمہیں سلام کہتا ہے، اور تم پر جنت واجب ہو چکی ہے۔ حضرت نے کہا، کہ فرشتہ نے بیان کیا، خداوند عالم فرماتا ہے: جو مسلمان دوسرے مسلمان کی ملاقات کو صرف میری خاطر جاتا ہے وہ میری ملاقات کو آتا ہے اور اس کا ثواب جنت ہے۔

۱۵۱وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ وَ الصَّدِيقُ وَ الشَّهِيدُ وَ الْوَلِيدُ وَ الرَّجُلُ الَّذِي يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ ‏.

۶ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صہ کا ارشاد گرامی ہے: تم لوگوں میں سے جنتی لوگوں کو بتائوں وہ کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کی، جی ہاں، ارشاد ہو۔ فرمایا: نبی، صدیق، شہید اور نو مولود بچہ اور وہ شخص جو شہر سے دور دراز گوشہ میں کسی سے صرف خوشنودی خدا کی خاطر کسی سے ملنے جائے۔

۱۵۲عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبْدَ الصَّالِحَ يَقُولُ‏ مَنْ زَارَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ لِلَّهِ لَا لِغَيْرِهِ يَطْلُبُ بِهِ ثَوَابَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ يَنْتَجِزُ مَوَاعِيدَ اللَّهِ تَعَالَى‏ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ‏ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ يُنَادُونَهُ أَلَا طِبْتَ وَ طَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ تَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا .

۷ ۔ ابو حمزہ کہتے ہیں، میں نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے سنا وہ فرما رہے تھے: جو اپنے مومن بھائی سے خوشنودی خدا کے لیے ملتا ہے اور اس کا ثواب صرف خدا سے چاہتا ہے اور خدا کے وعدوں پر بھروسہ رکھتا ہے۔ خدا ستر ہزار فرشتے اس کے واسطے نامزد کرتا ہے۔ یہ فرشتے اس کے برآمد ہونے سے گھر واپس آنے تک صدا دیتے رہتے ہیں: تو خود بھی خوش نصیب ہے اور جنت بھی تیری پسندیدہ جگہ ہے۔ یہ جنت تجھے ثواب میں ملی ہے۔

۱۵۳وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ زَارَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ قَالَ الرَّبُّ جَلَّ جَلَالُهُ أَيُّهَا الزَّائِرُ طِبْتَ وَ طَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ.

۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام کا ارشاد ہے: جب کوئی اپنے مومن بھائی کی ملاقات کو جاتا ہے تو خدا فرماتا ہے۔ اے ملنے آنے والے، خوش آمدید! تیرے لیے جنت خوشگوار و پسندیدہ مقام ہے۔

۱۵۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أَيُّمَا مُسْلِمٍ عَادَ مَرِيضاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ‏ خَاضَ رِمَالَ‏ الرَّحْمَةِ فَإِذَا جَلَسَ إِلَيْهِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يَدْخُلَ إِلَى مَنْزِلِهِ كُلُّهُمْ يَقُولُونَ أَلَا طِبْتَ وَ طَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ.

۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صہ کا ارشاد ہے: جو مسلمان کسی بیمار کی عیادت کرنے جائے گا رحمت خدا اسے ڈھانپ لے گی اور جب وہ اس بیمار کے پاس بیٹھےگا اس وقت رحمت میں نہا جائے گا۔ جب واپس آئے گا تو ستر ہزار فرشتے کہتے ہوں گے۔ تو بھی پیارا، تیری جنت بھی تجھے پیاری ہو۔

۱۵۵وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ جَنَّةً لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ حَكَمَ فِي نَفْسِهِ بِالْحَقِّ وَ رَجُلٌ زَارَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ فِي الْبِرِّ وَ رَجُلٌ أَبَرَّ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ ‏.

۱۰ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی ایک ایسی جنت ہے جس میں تین قسم کے لوگ جا سکیں گے۔ اپنے نفس کے بارے میں بے لاگ فیصلہ کرنے والے، حسن سلوک کے طور پر اپنے مومن بھائی سے ملنے والے، رضائے خدا کی خاطر مومن سے حسن سلوک کرنے والے۔

۱۵۶وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُوتِيَ‏ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَيُحَاسِبُهُ‏ حِساباً يَسِيراً ثُمَّ يُعَاتِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ يَا مُؤْمِنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَعُودَنِي حَيْثُ مَرِضْتُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ أَنْتَ رَبِّي وَ أَنَا عَبْدُكَ أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يُصِيبُكَ أَلَمٌ وَ لَا نَصَبٌ فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَ جَلَّ مَنْ عَادَ مُؤْمِناً فَقَدْ عَادَنِي ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ هَلْ تَعْرِفُ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ لَهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَعُودَهُ حَيْثُ مَرِضَ أَمَا لَوْ عُدْتَهُ لَعُدْتَنِي ثُمَّ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَ سُؤَالِكَ‏ ثُمَّ لَوْ سَأَلْتَنِي حَاجَةً لَقَضَيْتُهَا لَكَ ثُمَ‏ لَمْ أَرُدَّكَ عَنْهَا.

۱۱ ۔ ابو جعفر و ابو عبد اللہ علیھما السلام سے روایت ہے: قیامت کے دن خداوند عالم بندہ مومن کو قریب کرے گا، پھر سرسری حساب ہوگا، اس کے بعد اس کو سرزنش ہو گی کہ جب بیمار ہوا تھا تو مجھ تک آنے سے کس نے روکا تھا؟ مومن عرض کرے گا، پروردگارا! تو معبود ہے، میں بندہ ہوں، تو زندہ و پائندہ ہے جسے کوئی دکھ اور غم نہیں ہوتا، (یہ کیا ارشاد ہو رہا ہے؟) جواب ملے گا: جو بھی مومن کی عیادت کو گیا، اس نے میری عیادت کی۔ پھر دریافت کرے گا: تو فلاں ابن فلاں کو جانتا ہے؟ بندہ عرض کرے گا۔ ہاں، جانتا ہوں۔ ارشاد پوگا: کیا رکاوٹ تھی کہ وہ بیمار ہوا اور اس کی عیادت کو نہ گیا؟ اگر تو اس کی عیادت کو جاتا تو میں تیری عیادت کرتا۔ مجھے اپنی ضرورت کے وقت متوجہ پاتا۔ اگر کوئی حاجت طلب کرتا تو میں اسے پورا کرتا۔ پھر تجھے رد نہ کرتا اور تو محروم نہ لوٹتا۔

۱۵۷وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ إِنَّ مَلَكاً مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَرَّ بِرَجُلٍ قَائِمٍ عَلَى بَابِ دَارٍ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا يُقِيمُكَ عَلَى بَابِ هَذِهِ الدَّارِ قَالَ أَخٌ لِي فِي بَيْتِهَا أَرَدْتُ أَنْ‏ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ الْمَلَكُ هَلْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُ رَحِمٌ مَاسَّةٌ أَوْ نَزَعَتْ بِكَ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ لَا مَا بَيْنِي وَ بَيْنَهُ قَرَابَةٌ وَ لَا نَزَعَنِي‏ إِلَيْهِ حَاجَةٌ إِلَّا أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَ حُرْمَتُهُ فَأَنَا أَتَعَاهَدُهُ وَ أُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ لَهُ الْمَلَكُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ وَ هُوَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ‏ إِنَّمَا إِيَّايَ أَرَدْتَ وَ إِلَيَّ تَعَمَّدْتَ وَ قَدْ أَوْجَبْتُ لَكَ الْجَنَّةَ وَ أَعْتَقْتُكَ مِنْ غَضَبِي وَ أَجَرْتُكَ مِنَ النَّارِ .

۱۲ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: ایک فرشتہ کسی راستے سے جا رہا تھا اس نے ایک آدمی کو ایک شخص کے دروازے پر کھڑے دیکھا۔ فرشتہ نے رک کر اس سے پوچھا: بندہ مومن اس دروازے پر کیسے کھڑے ہو؟ اس نے کہا: اس گھر میں میرا بھائی رہتا ہے، میں اسے سلام کرنے آیا ہوں۔ فرشتے نے کہا: اس کی تمہاری کوئی عزیزداری ہے یا کسی ضرورت سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں کوئی قرابت داری نہیں، نہ کوئی ضرورت ہے۔ ہاں ، اخوت اسلامی اور حرمت دین کا رشتہ ضرور ہے۔ میں اس کا خیال رکھتا ہوں اور صاحب سلامت صرف خدا کے لیے کرتا ہوں۔ فرشتہ نے کہا: میں خدا قاصد ہوں اور تمہارے لیے اس کا سلام اور یہ پیام لایا ہوں کہ تم نے میری ہی بارگاہ کا ارادہ کیا ہے، میری ہی طرف بڑھے۔ میں نے جنت تمہارے لیے واجب قرار دی۔ میں نے تمہیں اپنے قہر و جلال سے آزاد اور جہنم سے رہا کیا۔

۱۵۸وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ زَارَ مُؤْمِناً كَانَ زَائِراً لِلَّهِ‏ عَزَّ وَ جَلَ‏ وَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ عَادَ مُؤْمِناً خَاضَ الرَّحْمَةَ خَوْضاً فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَإِذَا انْصَرَفَ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ‏ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ وَ يَسْتَرْحِمُونَ عَلَيْهِ وَ يَقُولُونَ طِبْتَ وَ طَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ إِلَى تِلْكَ السَّاعَةِ مِنَ الْغَدِ وَ كَانَ لَهُ‏ خَرِيفٌ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ الرَّاوِي وَ مَا الْخَرِيفُ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ زَاوِيَةٌ فِي الْجَنَّةِ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِيهَا أَرْبَعِينَ عَاماً .

۱۳ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: جو مومن دوسرے مومن کی ملاقات کو جاتا ہے، وہ شخص گویا خدا کی زیارت کو جاتا ہے۔ جو مومن کسی مومن کی عیادت کو جاتا ہے، وہ رحمت میں غوطہ لگاتا ہے اور جب بیمار کے پاس جا کر بیٹھتا ہے، رحمت اسے ہر طرف سے گھیر لیتی ہے، جب واپس جاتا ہے تو خدا ستر ہزار فرشتے نامزد کرتا ہے جو اس کے لیے اس وقت سے دوسرے دن تک مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اس کے چاروں طرف خریف ہوتی ہے۔

راوی نے پوچھا: آپ پر میری جان فدا ہو، خریف کیا چیز ہے؟

فرمایا: جنت کا ایک کنارہ جس میں ایک گھوڑے سوار چالیس سال چلے تو اسے طے کر سکے گا۔


باب ۷: مومن کو کھلانے، پلانے، لباس دینے اور قرض ادا کرنے کا ثواب

۱۵۹عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع أَنَّهُ قَالَ: شِبَعُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَعْدِلُ رَقَبَةً مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ ع‏.

۱ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نےفرمایا:چارمسلمانوں کو کھاناکھلاناحضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام کو آزاد کرنےکےبرابر ہے۔

۱۶۰وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُدْخِلُ بَيْتَهُ مُؤْمِنَيْنِ يُطْعِمُهُمَا وَ يُشْبِعُهُمَا إِلَّا كَانَ ذَلِكَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ نَسَمَةٍ.

۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب کسی مومن کے گھر میں دو مومن آئیں اوروہ انہیں کھاناکھلائےتواسکایہ عمل ایک غلام آزادکرنےسےبہترہے۔

۱۶۱وَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَ: مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً مِنْ جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَ مَنْ سَقَى مُؤْمِناً مِنْ ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ وَ مَنْ كَسَا مُؤْمِناً مِنَ الْعُرْيِ كَسَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الثِّيَابِ الْخُضْرِ وَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ قَالَ‏ مَنْ كَسَا مُؤْمِناً مِنْ عُرْيٍ لَمْ يَزَلْ فِي ضَمَانِ اللَّهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ سِلْكٌ‏.

۱۶۲وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً مِنْ جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقَى مُؤْمِناً سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ وَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ كَسَا مُؤْمِناً مِنْ عُرْيٍ لَمْ يَزَلْ فِي سِتْرِ اللَّهِ وَ حِفْظِهِ مَا بَقِيَتْ مِنْهُ خِرْقَةٌ.

۳ و ۴ ۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مومن کو بھوک میں شکم سیر کرے گا، خدا اسے جنت میں میووں سے سیر کرے گا اور جو کسی مومن کو پیاس کے وقت سیراب کرے گا، خدا اسے جنت کے بہترین مشروبات سے لطف اندوز ہونے کا شرف بخشے گا۔ جو مومن کسی بے لباس مومن کو لباس دے گا وہ اس وقت تک خدا کے ستر و حفظ و اماں میں رہے گا۔ جب تک اس کے جسم پر لباس کا ایک تار بھی باقی رہے۔ (چوتھی حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہے اور صرف ایک لفظ عربی کا فرق ہے)۔

۱۶۳وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ قَالَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ يَا ثَابِتُ أَ مَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ كُلَّ يَوْمٍ رَقَبَةً قُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَا أَقْوَى عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَ مَا تَقْدِرُ أَنْ تُغَدِّيَ أَوْ تُعَشِّيَ أَرْبَعَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ أَمَّا هَذَا فَإِنِّي أَقْوَى عَلَيْهِ قَالَ هُوَ وَ اللَّهِ يَعْدِلُ عِتْقَ رَقَبَةٍ .

۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ثابت! روزانہ ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے دعائیں دیتے ہوئے عرض کیا: میری حیثیت ایسی نہیں ہے ۔ فرمایا: چار آدمیوں کو صبح یا شام کا کھانا کھلا سکتے ہو؟ ثابت نے جواب دیا: جی ہاں، یہ تو ہو سکتا ہے۔ امام نے فرمایا: خدا کی قسم یہ کام ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔

۱۶۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ كَسَا مُؤْمِناً ثَوْباً لَمْ يَزَلْ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَا بَقِيَ مِنَ الثَّوْبِ شَيْ‏ءٌ وَ مَنْ سَقَاهُ شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ رَحِيقٍ مَخْتُومٍ وَ مَنْ أَشْبَعَ جَوْعَتَهُ أَطْعَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ.

۶ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نےفرمایا: جو کسی مومن کو لباس عطا کرے گا، جب تک اس لباس کا کوئی حصہ بھی مومن کے جسم پر رہے گا، اس وقت تک وہ خدا کی رحمتوں میں رہے گا اور جو مومن کو ایک گھونٹ پانی پلائے گا، خدا اسے جنت کی بہترین شراب پلائے گا اور جو مومن کی بھوک دور کرے گا، خدا اسے جنت کے پھلوں سے سیراب کرے گا۔

۱۶۵وَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ ع أَنَّهُ قَالَ: لَأَنْ أُطْعِمَ أَخَاكَ لُقْمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِدِرْهَمٍ وَ لَأَنْ أُعْطِيَهُ دِرْهَماً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِعَشَرَةٍ وَ لَأَنْ أُعْطِيَهُ عَشَرَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ رَقَبَةً.

۷ ۔ امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے: تمہارا اپنے مومن بھائی کو ایک لقمہ عطا کرنا، ایک درہم دینے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور ایک درہم عطا کرنا، درہم صدقہ دینے سے زیادہ ا چھا ہے اور دس درہم عطا کرنا ایک غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔

۱۶۶وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُطْعِمُ مُؤْمِناً شِبَعاً إِلَّا أَطْعَمَهُ‏ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَ لَا سَقَاهُ شَرْبَةً إِلَّا سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ وَ لَا كَسَاهُ ثَوْباً إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الثِّيَابِ الْخُضْرِ وَ كَانَ فِي ضَمَانِ اللَّهِ تَعَالَى مَا دَامَ مِنْ ذَلِكَ الثَّوْبِ سِلْكٌ ‏.

۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو مومن بھی کسی مومن کو شکم سیر کرے گا، خداوند عالم اسے جنت کے پھلوں سے نوازے گا اور جب بھی کوئی مومن کسی کو سیراب کرے گا، خدا اسے جنت کا بہترین مشروب عطا فرمائے گا اور جو مومن بھی کسی مومن کو لباس پہنائے گا، خدا اسے جنت کے سبز رنگ کا لباس عطا کرے گا اور جب تک اس مومن کے جسم پر اس کپڑے کا ایک تار باقی رہے گا، لباس عطا کرنے والا مومن اس وقت تک خدا کی ضمانت میں رہے گا۔

۱۶۷وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: مِنْ‏ أَحَبِّ الْخِصَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ ثَلَاثَةٌ مُسْلِمٌ أَطْعَمَ مُسْلِماً مِنْ جُوعٍ أَوْ فَكَّ عَنْهُ كُرْبَةً أَوْ قَضَى عَنْهُ دَيْناً .

۹ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کی پسندیدہ خلصتیں تین ہیں: مسلمان کا کسی گرسنہ مسلمان کو سیر کرنا یا اس سے مصیبت دور کتنا اور مومن کے قرض کا ادا کرنا۔

۱۶۸وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَوَّلُ مَا يُتْحَفُ بِهِ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أَنْ يُغْفَرَ لِمَنْ تَبِعَ جَنَازَتَهُ‏.

۱۰ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مرنے والوں کو اس کی قبر میں جو پہلا تحفہ دیا جائے گا، وہ یہ خوش خبری ہوگی کہ اس کے جنازے کے ساتھ آنے والے بخش دیے گئے۔

۱۶۹وَ عَنْ سَدِيرٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُعْتِقَ كُلَّ يَوْمٍ نَسَمَةً قُلْتُ لَا يَحْتَمِلُ ذَلِكَ مَالِي قَالَ فَقَالَ تُطْعِمُ كُلَّ يَوْمٍ رَجُلًا مُسْلِماً فَقُلْتُ مُوسِراً أَوْ مُعْسِراً قَالَ إِنَّ الْمُوسِرَ قَدْ يَشْتَهِي الطَّعَامَ‏.

۱۱ ۔ سدیر سے روایت ہے کہ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم روزانہ ایک غلام آزاد کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کی، میری مالی حیثیت اتنی بڑی نہیں ہے۔ فرمایا: روزانہ ایک مسلمان کو کھانا کھلا دیا کرو۔ میں نے عرض کی: پیسے والے آدمی کو یا محتاج کو؟ فرمایا: خوش حال تو کھانا خرید سکتا ہے۔

۱۷۰وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع أَنَّهُ قَالَ: إِطْعَامُ مُسْلِمٍ يَعْدِلُ عِتْقَ‏ نَسَمَةٍ.

۱۲ ۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان کو شکم سیر کرنا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر (ثواب رکھتا) ہے۔


باب ۸: مومن پر مومن کا احترام لازم ہے

۱۷۱وَ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ إِلَى‏ الْكُفْرِ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ مُوَاخِياً لِلرَّجُلِ‏ عَلَى الدِّينِ ثُمَّ يَحْفَظُ زَلَّاتِهِ وَ عَثَرَاتِهِ لِيَضَعَهُ‏ بِهَا يَوْماً مَا.

۱ ۔ زرارہ نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے سنا: آدمی وقت کفر سے بہت قریب ہو جاتا ہے جب اس کی دوسرے شخص سے دوستی دین کی بنیاد پر قائم ہو اس کے با وجود دوست کی غلطیاں اور لغزشیں یاد رکھے تا کہ کسی دن موقع پائے اور اسے ذلیل کرے۔

۱۷۲وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ بَهَتَ‏ مُؤْمِناً أَوْ مُؤْمِنَةً بِمَا لَيْسَ فِيهِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي طِينَةِ خَبَالٍ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ قُلْتُ وَ مَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ صَدِيدٌ يَخْرُجُ مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ ‏.

۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مومن یا مومنہ پر عیب یا بہتان لگائے تو وہ وہ اس عیب سے صاف ہو جائے گا اور بہتان تراش کو قیامت کے دن خدا طینت خبال میں محشور کرے گا۔ راوی نے پوچھا: طینت خبال کے معنی کیا ہیں؟ فرمایا: پیشاب کا گرم پانی۔

۱۷۳ وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ مَنْ أَذَاعَ فَاحِشَةً كَانَ كَمُبْتَدِئِهَا وَ مَنْ عَيَّرَ مُؤْمِناً بِشَيْ‏ءٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى‏

يَرْكَبَهُ‏.

۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ آنحضرت صہ کا ارشاد ہے: جو شخص کسی مومن کے عیب کی تشہیر کرے گا گویا وہ اس برائی کا آغاز کرے گا اور جو زبردستی کسی مومن کو کسی چیز کا مرتکب قرار دے گا، وہ خود مرنے سے پہلے اس کا ارتکاب ضرور کرے گا۔

۱۷۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنَيْنِ إِلَّا وَ بَيْنَهُمَا حِجَابٌ فَإِنْ قَالَ لَهُ لَسْتَ لِي بِوَلِيٍّ فَقَدْ كَفَرَ فَإِنِ اتَّهَمَهُ فَقَدِ انْمَاثَ‏ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.

۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: دو مومنوں کے درمیان حجاب ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص یہ کہہ دے کہ تم میرے دوست نہیں ہو تو (گویا) وہ منکر ہو گیا اور اگر اتہام بھی لگا دے تو اس کے دل میں ایمان یوں گھل جاتا ہے جیسے پانی میں نمک پگھل جائے۔

۱۷۵وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: لَوْ قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ أُفٍّ لَكَ انْقَطَعَ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ فَإِذَا قَالَ لَهُ أَنْتَ عَدُوِّي فَقَدْ كَفَرَ أَحَدُهُمَا فَإِنِ‏ اتَّهَمَهُ انْمَاثَ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.

۵ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے دوست سے کہتا ہے اف (تف) ہے تم پر۔ تو ان کا باہمی سلسلہ محبت ٹوٹ جاتا ہے۔ اور جب وہ یہ کہہ دے کہ تم میرے دشمن ہو تو دونوں میں ایک کافر و منکر ہو گیا اور اگر کوئی شخص دوسرے پر تہمت لگائے تو بہتان طراز کے دل میں ایمان کا وہ حال ہوتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جائے۔

۱۷۶وَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ مَنْ لَا يَعْرِفُ لِأَخِيهِ مِثْلَ مَا يَعْرِفُ لَهُ فَلَيْسَ بِأَخِيهِ‏.

۶ ۔ رسول اللہ صہ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کے وہ حقوق نہ مانے جو اس کے لیے مانے جاتے ہوں، تو در حقیقت دوست اور بھائی ہی نہیں۔

۱۷۷وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: أَبَى اللَّهُ أَنْ يُظَنَّ بِالْمُؤْمِنِ إِلَّا خَيْراً وَ كَسْرُ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيِّتاً كَكَسْرِهِ حَيّاً.

۷ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خدا کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ مومن سے بد ظنی کی جائے اور مردہ مومن کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ شخص کی ہڈی توڑی جائے (یعنی کسی زندہ شخص کے عیب بیان کرنا گڑے مردے نکالنے کے برابر ہے)

۱۷۸وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَخْذُلُ أَخَاهُ وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى نُصْرَتِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ.

۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: کوئی مومن اگر اپنے بھائی کی مدد کرنے کا امکان رکھتا ہو اس کے باوجود مدد نہ کرے تو خدا اسے دنیا و آخرت میں ضرور رسوا کرے گا۔

۱۷۹وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَأَلَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ حَاجَةً وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى قَضَائِهَا فَرَدَّهُ بِهَا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُجَاعاً فِي قَبْرِهِ يَنْهَشُ أَصَابِعَهُ‏.

۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: جو مومن اپنے برادر ایمانی سے کوئی ضرورت کی چیز طلب کرے اور وہ اسے دے سکتا ہو، اس کے باوجود اسے ناکام لوٹا دے، خداوند عالم اس کی قبر میں ایک اژدہا مسلط کرے گا جو اس کی انگلیاں چبائے گا۔

۱۸۰وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ وَ لَمْ يُنَاصِحْهُ فَقَدْ خَانَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ‏.

۱۰ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: جو مومن اپنے بھائی کی کسی ضرورت میں ہمراہ ہو جائے اور اس سے خلوص نہ برتے تو گویا اس نے خدا و رسول سے دغا کی۔

۱۸۱و عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ:لَاتَسْتَخِفَّ بِأَخِيكَ الْمُؤْمِنِ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ اسْتِخْفَافِكَ وَيُغَيِّرَ مَا بِكَ‏.

۱۱ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: اپنے مومن بھائی کی توہین نہ کرو۔ اس واسطے سے کہ جب تم اس کی توہین کرو گے تو خدا اس پر رحم کرے گا اور تمہارے اعمال خراب ہو جائیں گے۔

۱۸۲وعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّه ع أَنَّهُ قَالَ:مَنْ حَقَّرَمُؤْمِناً فَقِيراًلَمْ يَزَلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَاقِراً مَاقِتاًحَتَّى يَرْجِعَ عَنْ مَحْقَرَتِهِ إِيَّاهُ ‏.

۱۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو کسی مومن فقیر کی توہین کرتا ہے، خداوند عالم اس وقت تک اس کی حقارت فرماتا اور غضب ناک رہتا ہے جب تک وہ اس کو توہین آمیز بات سے بری الذمہ نہیں کر دیتا۔

۱۸۳وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَدْخَلَ السُّرُورَ عَلَى مُؤْمِنٍ فَقَدْ أَدْخَلَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص وَ مَنْ أَدْخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَدْ وَصَلَ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَذَلِكَ مَنْ أَدْخَلَ عَلَيْهِ كَرْباً.

۱۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: مومن کو خوش کرنے والا رسول اللہ صہ کو خوش کرتا ہے اور رسول اللہ صہ کو خوش کرنے والا خدا تک خوشی پہنچاتا ہے۔ یہی بات اس آدمی کے لیے ہے جو مومن کو دکھ دے اور تکلیف پہنچائے۔

۱۸۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيّاً فَقَدْ أَرْصَدَ لِمُحَارَبَتِي ‏.

۱۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صہ نے فرمایا: خداوند عالم کا ارشاد ہے: جو میرے دوست کی توہین کرتا ہے، وہ مجھ سے لڑنے کی تیاری کرتا ہے۔

۱۸۵وَ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقُولُ مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيّاً فَقَدْ أَرْصَدَ لِمُحَارَبَتِي وَ أَنَا أَسْرَعُ شَيْ‏ءٍ إِلَى نُصْرَةِ أَوْلِيَائِي‏.

۱۵ ۔ معلی بن خنیس سے روایت ہے کہ انہوں نے امام علیہ السلام کی زبان مبارک سے سنا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے: جو میرے چاہنے والے کی توہین کرتا ہے، وہ مجھ سے لڑنے کی تیاری کرتا ہے اور میں اپنے دوست کی مددد کرنے میں دیر نہیں کرتا۔

۱۸۶وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: نَزَلَ جَبْرَئِيلُ عَلَى النَّبِيِّ ص وَ قَالَ لَهُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ مَنْ أَهَانَ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ فَقَدِ اسْتَقْبَلَنِي بِالْمُحَارَبَةِ.

۱۶ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صہ کی خدمت میں جبرئیل حاضر ہوئے اور عرض کی: اے محمد مصطفی صہ! آپ کے پروردگار کا ارشاد ہے، میرے بندہ مومن کی جو بھی توہین کرتا ہے، وہ لڑنے کے لیے میرے سامنے آتا ہے۔

۱۸۷وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ سَتَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ مَنْ هَتَكَ سِتْرَ مُؤْمِنٍ هَتَكَ اللَّهُ سِتْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

۱۷ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے گا، خداوند عالم قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا اور جو شخص کسی مومن کے پردے چاک کرے گا، قیامت کے دن خدا اس کے پردے چاک کرے گا۔

۱۸۸وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع أَنَّهُ قَالَ: لَا تَرْمُوا الْمُؤْمِنِينَ وَ لَا تَتَّبِعُوا عَثَرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَثْرَةَ مُؤْمِنٍ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَثْرَتَهُ وَ مَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَثْرَتَهُ فَضَحَهُ فِي بَيْتِهِ‏.

۱۸ ۔ ابو جعفر علیہ السلام روایت ہے: مومنوں پر بہتان طرازی نہ کرو، ان کے عیب تلاش نہ کرو۔ جو شخص کسی مومن کی کمزوریاں ڈھونڈے گا، قیامت کے دن خدا اس کے عیب واضح کرے گا اور جب اللہ کسی کے عیب واضح کرے تو وہ آدمی اپنے گھر میں ہی رسوا ہو جاتا ہے۔

۱۸۹وَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَدْخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ شِيعَتِنَا سُرُوراً فَقَدْ أَدْخَلَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص وَ كَذَلِكَ مَنْ أَدْخَلَ‏ عَلَيْهِ أَذًى أَوْ غَمّاً.

۱۹ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے: ہمارے شیعہ کو خوش کرنے والا، خدا کو خوش کرتا ہے اور اس کو دکھ یا غم پہنچانے والا خدا کو دکھ دیتا ہے۔

۱۹۰عَنْ عَبْدِ اللَّهِ‏ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع عَوْرَةُ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَعْنِي سَبِيلَيْهِ‏ فَقَالَ لَيْسَ حَيْثُ تَذْهَبُ إِنَّمَا هُوَ إِذَاعَةُ سِرِّهِ ‏.

۲۰ ۔ عبد اللہ بن سنان نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے پوچھا: مومن کے شرمناک مقامات (عورت) مومن پر حرام ہے؟ فرمایا: ہاں، انہوں نے عرض کی۔ شرمناک مقامات یا عورت سے مراد آگا پیچھا ہے؟ فرمایا: جدھر تمہارا خیال جاتا ہے وہ مراد نہیں۔ مقامقات شرم (عورت) سے یہاں پر افشائے راز ہے۔ عیب کا اعلان اور چھپانے کی باتیں دوسروں کو بتانا حرام ہیں۔

۱۹۱وَ عَنْهُ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ‏ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ بَعَثَهُ‏ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي طِينَةِ خَبَالٍ‏ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ فِيهِ وَ قَالَ إِنَّمَا الْغِيبَةُ أَنْ تَقُولَ فِي أَخِيكَ مَا هُوَ فِيهِ مِمَّا قَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهِ‏ فَإِذَا قُلْتَ فِيهِ مَا لَيْسَ فِيهِ فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِي كِتَابِهِ‏ فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبِيناً

۲۱ ۔ جو شخص کسی مومن کے بارے میں ایسی بات کہے جو اس میں نہ ہو تو خدا اسے طینت خبال میں رکھے گا، یہاں تک کہ وہ مومن اس عیب سے پاک ہو۔

۱۹۲وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَجْلِسْ فِي مَجْلِسٍ يُسَبُّ فِيهِ إِمَامٌ أَوْ يُغْتَابُ فِيهِ مُسْلِمٌ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقُولُ‏ وَ إِذا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آياتِنا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَ إِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطانُ فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرى‏ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ‏۔

۲۲ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صہ نے فرمایا: اللہ اور روز آخرت پر ایمان لانے والے کو کسی ایسی محفل میں نہ بھیٹنا چاہیے جہاں امام پر سب و شتم ہو رہا ہو یا کسی مسلمان کی غیبت کی جا رہی ہو۔ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

جب یہ دیکھو کہ لوگ ہماری آیتوں میں گہرے جا رہے ہیں اور بے کار کی باتیں کر رہے ہیں تو ان سے پہلو تہی کرو تا ایں کہ کسی اور موضوع پر گفتگو کریں اور اگر شیطان یہ بات ذہن سے نکال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (سورت الانعام، آیت ۶۸)

۱۹۳وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنْ رَوَى عَلَى مُؤْمِنٍ رِوَايَةً يُرِيدُ بِهَا عَيْبَهُ وَ هَدْمَ مُرُوَّتِهِ أَقَامَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَقَامَ الذُّلِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ‏.

۲۳ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: جو شخص کسی مومن کے خلاف کوئی خبر تراشے، جس سے اس کو عیب لگانا یا اس کی شان گھٹانا مقصود ہو تو خدا اس شخص کو قیامت کے دن رسوا کن مقام پر رکھے گا یہاں تک کہ مومن اس بات سے بری ہو جائے۔

۱۹۴وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَ لَمْ يُؤْمِنْ بِقَلْبِهِ لَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَ لَا تَتَّبِعُوا عَثَرَاتِهِمْ فَإِنَّ مَنِ اتَّبَعَ عَثْرَةَ أَخِيهِ اتَّبَعَ اللَّهُ عَثْرَتَهُ وَ مَنِ اتَّبَعَ اللَّهُ عَثْرَتَهُ فَضَحَهُ وَ لَوْ فِي جَوْفِ بَيْتِهِ ‏.

۲۴ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صہ نے فرمایا: زبان سے ایمان لانے والو اور دل میں ایمان رکھنے والو، مومنوں کی برائیاں نہ تلاش کرو۔ جو ان کی لغزشیں ڈھونڈتا ہے، خدا اس کی لغزشیں ڈھونڈتا ہے اور جس کی لغزشیں خدا ڈھونڈتا ہے، اس کو رسوا کرتا ہے، خواہ اس کے گھر ہی میں رسوا کیوں نہ کرے۔

۱۹۵عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَحَدِهِمَا ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مَنْ لَمْ يَأْمَنْ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالَ غَشَمَهُ وَ أَضَلَّهُ وَ أَضَلَّهُ وَ غَشَمَهُ‏.

۲۵ ۔ محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ امام نے فرمایا: رسول اللہ صہ کا ارشاد ہے کہ وہ شخص مومن ہی نہیں جس کے پڑوسی اس کے بوائق سے بے خوف نہ ہوں۔ میں نے پوچھا: حضور بوائق کے کیا معنی؟ فرمایا: ظلم اور دست اندازی۔

۱۹۶وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ عَوْرَةُ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ قَالَ لَيْسَ هُوَ أَنْ يَكْشِفَ فَيُرَى مِنْهُ شَيْئاً إِنَّمَا هُوَ أَنْ يَزْرِيَ عَلَيْهِ أَوْ يَعِيبَهُ‏.

۲۶ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کے مقامات شرم مومن پر حرام ہیں۔

فرمایا: اس کا یہ مطلب نہیں کہ مومن کو برہنہ دیکھنا ہی حرام ہے، بلکہ مومن پر عیب لگانا اور اس کی شان گھٹانا بھی حرام ہے۔ (شرم گاہ دیکھنا اور بہتان لگانا یا الزام تراشی، قانون اسلام میں ایک جیسی چیزیں ہیں)۔

۱۹۷وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: مَنِ اغْتِيبَ‏ عِنْدَهُ أَخُوهُ الْمُؤْمِنُ فَلَمْ يَنْصُرْهُ وَ لَمْ يَدْفَعْ عَنْهُ وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى نُصْرَتِهِ وَ عَوْنِهِ فَضَحَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ .

۲۷ ۔ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے: اگر کسی کے سامنے اس کے برادر ایمانی پر عیب لگایا جا رہا ہو اور وہ اس کی مدد کر سکتا ہو پھر مدد نہ کرے اور جواب نہ دے، صفائی نہ کرے تو خداوند عالم اسے دنیا اور آخرت میں رسوا کرے گا۔

۱۹۸وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: إِذَا قَالَ الْمُؤْمِنُ لِأَخِيهِ أُفٍّ خَرَجَ مِنْ وَلَايَتِهِ وَ إِذَا قَالَ أَنْتَ لِي عَدُوٌّ كَفَرَ أَحَدُهُمَا لِأَنَّهُ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَمَلًا مِنْ أَحَدٍ يَعْجَلُ فِي تَثْرِيبٍ‏ عَلَى مُؤْمِنٍ بِفَضِيحَتِهِ وَ لَا يَقْبَلُ مِنْ مُؤْمِنٍ عَمَلًا وَ هُوَ يُضْمِرُ فِي قَلْبِهِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سُوءً وَ لَوْ كُشِفَ الْغِطَاءُ عَنِ النَّاسِ لَنَظَرُوا إِلَى مَا وَصَلَ بَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَ خَضَعَتْ لِلْمُؤْمِنِينَ‏ رِقَابُهُمْ وَ تَسَهَّلَتْ لَهُمْ أُمُورُهُمْ وَ لَانَتْ لَهُمْ طَاعَتُهُمْ وَ لَوْ نَظَرُوا إِلَى مَرْدُودِ الْأَعْمَالِ مِنَ السَّمَاءِ لَقَالُوا مَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ أَحَدٍ عَمَلًا.

۲۸ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب ایک مومن دوسرے مومن سے (ناراضگی یا غصہ میں) اف کہتا ہے تو اس کی مخلصانہ محبت سے نکل جاتا ہےاور جب کہتا ہے: تو میرا دشمن ہے، تو ایک نہ ایک کافر ہو جاتا ہے؛ کیونکہ خدا ایسے شخص کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جو کسی مومن کی رسوائی کا بار بار ذکر کرے اور دل سے اس مومن کے لیے برائی چاہے۔ اگر پردے اٹھا دیے جائیں تو مومن اور خدا کے درمیان جو رشتہ ہے ساری دنیا اسے دیکھ کر مومن کے سامنے جھک جائے اور آسمان کی راہیں کھل جائیں۔ لوگ کہہ اٹھیں کہ مومن کے سوا خدا کسی کا عمل قبول ہی نہیں کرتا۔

۱۹۹وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ الْمُؤْمِنُ حَرَامٌ كُلُّهُ عِرْضُهُ وَ مَالُهُ وَ دَمُهُ‏.

۲۹ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسالت مآب صہ نے فرمایا: مومن مکمل احترام ہے، اس کی آبرو محترم، اس کا مال محترم، اس کا خون محترم ہے۔

۲۰۰وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: لَا تَبْدَأِ الشَّمَاتَةَ بِأَخِيكَ‏ الْمُؤْمِنِ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ يُغَيِّرَ مَا بِكَ‏ قَالَ وَ مَنْ شَمِتَ بِمُصِيبَةٍ نَزَلَتْ بِأَخِيهِ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يُغَيَّرَ مَا بِهِ‏.

۳۰ ۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت ہے: اپنے مومن بھائی کا مذاق نہ اڑائو۔ خدا اس پر رحم فرمائے گا اور تمہارے حالات بدل دے گا (لوگ تمہارا مذاق اڑانے لگیں گے)۔

۲۰۱وَ عَنْ أَخِي الطِّرْبَالِ‏ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِي الْأَرْضِ حُرُمَاتٍ حُرْمَةَ كِتَابِ اللَّهِ وَ حُرْمَةَ رَسُولِ اللَّهِ وَ حُرْمَةَ أَهْلِ الْبَيْتِ وَ حُرْمَةَ الْكَعْبَةِ وَ حُرْمَةَ الْمُسْلِمِ وَ حُرْمَةَ الْمُسْلِمِ وَ حُرْمَةَ الْمُسْلِمِ ‏.

۳۱ ۔ اخی الطربال کہتے ہیں کہ میں نے امام سے سنا: زمین پر کچھ چیزیں خدا کی حرمتیں ہیں یعنی قرآن مجید کی حرمت، رسول اللہ صہ کی حرمت، اہل بیت کی حرمت، کعبہ کی حرمت، مسلمان کی حرمت۔

بحمدہ ترجمہ ختم ہوا۔ ۱۳ شعبان ۱۳۸۸ ھ۔ سہ شنبہ، نظر ثانی مکمل ہوئی شب پنجم ذی قعدہ ۱۳۸۹ ھ۔ سہ شنبہ ڈمرا جہاز قریب مسقط سفر حج۔


فہرست

مقدمہ ۴

ترجمہ: ۶

جناب حسین بن سعید اہوازی ۶

مولف کتاب ۶

ولادت ۷

تعلیم و تربیت ۷

شیوخ و اساتذہ: ۷

وطن ۸

وفات ۸

اولاد ۸

مولفات ۸

اخلاق و حقوق، عقائد و مناقب میں: ۹

کتاب المومن: ۹

نسخ مقابلہ اور ان کی علامتیں: ۹

ثانوی مآخذ: ۱۰

پہلا باب: مومن کے امتحان کی سختیاں ۱۳

نکتہ: ۱۴

باب ۲ - مومن کے خاص اعزازات و ثواب ۲۸

باب ۳ ۔ خدا نے مومنوں میں محبت و اخوت پیدا کی ہے۔ ۳۷


باب ۴ ۔ مومن کا مومن پر حق ۳۹

باب ۵ ۔ مومن کی حاجت برآوری ، اس کی زحمت دور کرنا، مومن کیلئے آسانیاں فراہم کرنا۔ ۴۵

باب ۶ ۔ مومن کی ملاقات اور مزاج پرسی ۵۶

باب ۷: مومن کو کھلانے، پلانے، لباس دینے اور قرض ادا کرنے کا ثواب ۶۱

باب ۸: مومن پر مومن کا احترام لازم ہے ۶۴