درس عقائد

مؤلف: آیة اللہ مصباح یزدی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : درس عقائد

مؤلف : آیة اللہ مصباح یزدی

مترجم : ضمیر حسین بہاولپوری

تصحیح مرغوب عالم عسکری سمند پوری

نظر ثانی: فیروز حیدر فیضی

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

کمپوزنگ : علمدار سنٹر

طبع اول: ١٤٢٧ھ ۔ ٢٠٠٦ئ


قال رسول اﷲ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( صحیح مسلم: ١٢٢٧، سنن دارمی: ٤٣٢٢، مسند احمد: ج٣، ١٤، ١٧، ٢٦، ٥٩. ٣٦٦٤ و ٣٧١. ١٨٢٥ ،اور ١٨٩، مستدرک حاکم: ١٠٩٣، ١٤٨، ٥٣٣. و غیرہ.)


بسم الله الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، آیت اللہ مصباح یزدی کی گرانقدر کتاب درس عقائد کو مولانا ضمیر حسین نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


بسم اﷲ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

تمام حمد و ثنا اس خدا کے لئے ہے جس نے اس عالم ہستی کو وجود بخشا ، اور انسانوں کی ہدایت کے لئے پے در پے انبیاء کو مبعوث فرمایا، تاکہ انسانوں کے مختار ہوتے ہوئے اُنہیں انتہائی کمال تک پہنچا دیں تاکہ اُن کا شمار اشرف المخلوقات میں ہو جائے ،انسان کے انتہائی کمال تک پہنچنے میں صحیح عقائد کا بہت بڑا عمل و دخل ہے جب تک انسان کے عقائد صحیح نہ ہوں ،اُس وقت تک انتہائی کمال تک پہنچنا نا ممکن ہے اور اسلام کے دشمن ہمیشہ اس بات پر اپنی پوری توانائیاں صرف کرتے چلے آرہے ہیںتا کہ مسلمانوں میں فاسد عقائد رائج کر کے اُن کے درمیان پھوٹ ڈال دیں اور انہیں صراط المستقیم سے منحرف کر کے رہ گمراہی پر لگا دیں ۔

افسوس کا مقام ہے بڑے بڑے دانشمند بھی فاسد عقائد کے سیلاب میں بہتے ہوئے نظر آتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض تو خدا اور اس کے مبعوث کئے ہوئے رسولوں کے متعلق شک و تردید میں پڑ کر افرط و تفریط کا شکار ہو گئے ، بعض کو خدا کا بیٹا اور بعض کو بالکل اپنے جیسا بلکہ اس سے بھی بد تر ، بعض پیغمبروں کی طرف گناہان کبیرہ کی نسبت دے کر اُن کے قتل پر آمادہ ہو گئے تاکہ اپنے باطل عقائد اور خود ساختہ خدائوں کا دفاع کر سکیں اور اپنے باطل عقائد کا علم ہوتے ہوئے بھی اس پر ڈٹے رہے چونکہ اگر وہ پیغمبر بر حق کو تسلیم کر لیتے تو اُ ن کی شہرت ، سلطنت و ریاست خطرے میں پڑ جاتی ۔

لہذا انہوں نے دنیا کی لالچ میں آکر اپنی آخرت کو تباہ و برباد کرکے ہمیشہ اپنے لئے جہنم کے درد ناک عذاب کو خرید لیا اور دنیا کی چند روزہ فانی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی پر ترجیح دے دی

زیر نظر کتاب اُن صحیح عقائد پر مشتمل ہے جو ہادیان بر حق کی زبانوں سے بیان ہوئے ہیں جن پر عمل کر کے انسان دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل کر سکتا ہے ۔

اس کتاب کے مؤ لف حضرت آیت ا ﷲ مصباح یزدی دامت برکاتہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ، آپ کا شما ر عصر حاضر کے بزرگترین دانشمندوں میں ہوتاہے ، علم منطق ، فلسفہ وکلام، میں آپ کا چرچا ہر عام و خاص پر عیاں ہے۔

میں نے اُن کی اس کتاب کو اردو داں حضرات کے لئے مناسب سمجھ کر اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے ، تاکہ صحیح عقائد کے متلاشی حضرا ت اِن پر عمل کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل کر سکیں ۔

اگر چہ اس کتاب میں علمی اصطلاحات زیادہ استعمال ہوئیں ہیں تاہم میں نے اُن کو آسان لفظوں میں بیان کرنے کی کو شش کی ہے تاکہ تمام قارئین حضرات بصورت احسن مستفیض ہو سکیں۔

آخر میں قارئین گرامی سے گزارش ہے کہ جہاں کہیں غلطی کا شائبہ ملاحظہ فرمائیں تو بطور اصلاح ہمیں مطلع فرمائیں تا کہ آئندہ اڈیشن میں اصلاح ہو سکے ۔

آپ کی دعائوں کا طالب

ضمیر حسین


بسم الله الرحمن الرحیم

مقدمہ مولف

الحمد للّه رب العالمین والصلوٰة والسلام علی خیر خلقه محمد و آله الطاهرین لاسیما بقیة اللّه فی الارضین عجل اللّه تعالیٰ فرجه و جعلنا من اعوانه و انصاره.

بنیادی عقائد و افکار ہر باارزش اور اجتماعی و سیاسی نظام کی بنیادپر ہوتے ہیں، یہ عقائد انسانی کردار و اخلاق کو سنوارنے میں ،سو فیصد یا اس سے کمتر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اسلام کے با ارزش نظام کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لئے اس درخت کے ریشوں یعنی نظام عقیدتی کو دلوں میں استوار کرنا ہوگا، تا کہ ہمیشہ مثبت نتائج حاصل ہو سکیں، اور دو جہاں کی کامیابی نصیب ہو سکے ۔اسی وجہ سے اسلامی مفکرین نے آغاز اسلام سے اسلامی عقائد کو مختلف اسلوب اور شکل و صورت میں بیان کیا اور منجملہ علماء کلام نے اس سلسلہ میں مختلف کتابیں لکھیں، اس دور میں بھی نئے شکوک و شبہات کے پیدا ہونے کی وجہ سے مختلف کتابیں معرض وجود میں آئیں ، لیکن غالباً یہ کتابیں دو مختلف اور متفاوت سطح پر لکھیں گئیں ہیں، ان کتابوں کی ایک قسم نہایت سادہ اور زیادہ سے زیادہ توضیحات پر مشتمل ہے اور دوسری قسم پیچیدہ اصطلاحات، سخت بیانات اور سنگین عبارتوں پر مشتمل ہے،لیکن اس کے درمیان ایسی کتابیں جو متوسط درجہ کی اور قابل تدریس ہوں، نہیں ہیں اسی وجہ سے دینی مدارس میں برسوں سے ایسی کتابوں کی کمی کا احساس کیا جاتارہا ہے۔

اسی وجہ سے سازمان تبلیغات اسلامی کے ذمہ دارافراد اور ادارۂ درراہ حق کے فضلا اور علما کی مدد سے اس کتاب کو مرتب کیا گیا ہے ، جسکی چند خصوصیات درج ذیل ہیں۔

١۔ اس کتاب میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ مطالب منطقی ترتیب پر منظم ہوں اور تا حد امکان مسائل کو بیان کرنے کے دوران آئندہ کے حوالہ جات سے پرہیز کیا جائے۔

٢۔ عبارتوں کو آسان اور سادہ کرنے کے لئے نہایت کوشش کی گئی ہے، پیچیدہ اصطلاحات اور دشوار عبارتوں سے پوری طرح پرہیز کیا گیا ہے لہٰذامطلب کو واضح کرنے کے لئے ادبی عبارتوں کو ترک کردیا گیا ہے۔

٣۔ مطالب کو ثابت کرنے کے لئے روشن دلائل اور محکم تعابیر کا استعمال کیا گیا ہے متعدد اور سست دلائل سے پرہیز کیا گیا ہے۔

٤۔ مطالب کی توضیح میں زائد وضاحت کو پڑھنے والوں کی طبیعت کے خستہ حال نہ ہونے کا خاص خیال رکھا گیا ہے

٥۔چونکہ یہ کتاب متوسط سطح کے لوگوں کے لئے لکھی گئی ہے لہٰذا ایسے عمیق استدلالات کہ جسے سمجھنے کے لئے فلسفہ، تفسیر یا فقہ الحدیث جیسے علوم سے آشنائی کی ضرورت ہے پرہیز کیا گیا ہے لیکن جہاں کہیں ایسے استدلالات کی ضرورت پڑی وہاں صرف اختصار کے ساتھ سادے لفظوں میں وضاحت کر دی گئی ہے اور کامل استدلال کے لئے فقط دوسری کتابوں کے حوالے پر اکتفا کیا گیا ہے تا کہ پڑھنے والوں میں جستجو و تحقیق کی امنگ جاگتی رہے۔

٦۔ اس کتاب کے مطالب کو دروس کی شکل میں تقسیم اور متوسط تنہا ایک جلسہ(درس) کے برابر ذکر کیا گیا ہے۔

٧۔بعض دروس کے مہم مطالب کی دوسرے دروس میں کیداً تکرار کی گئی ہے تا کہ پڑھنے والے اچھی طرح سمجھ سکیں۔

٨۔ ہر درس کے آخر میں اسی درس سے مربوط سوالات درج کئے گئے ہیں جو درس کی تفہیم اور اسے پوری طرح سمجھنے میں نہایت مفید و مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

٩۔ لیکن جو بات مسلم ہے وہ یہ کہ مذکورہ کتاب بھی ضعف سے خالی نہیں ہوگی لہٰذا امید ہے کہ اساتذہ محترم اپنی تنقیدات کے ذریعہ ہماری مدد کریں تا کہ آئندہ طبع میں اس کا خیال رکھا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ حضرت ولی عصر ارواحنا لہ الفداء کی بارگاہ میں یہ درخواست ہے کہ حقیر کی اس ناچیز خدمت کو شرف قبولیت عطاء ہو اور اس طرح سے حوزۂ علمیہ اور شہداء والا مقام کے حقوق میں سے ایک حق ادا ہوجائے۔

قم محمد تقی مصباح یزدی۔


پہلا درس

دین کیا ہے؟

١۔ دین کا مفہوم

٢۔ اصول دین اور فروع دین۔

٣۔ جہاں بینی اور آئیڈیا لوجی۔

٤۔ الٰہی و مادی جہاں بینی۔

٥۔ آسمانی ادیان اور ان کے اصول۔

١۔دین کا مفہوم

اس کتاب کا ہدف عقائد اسلامی کا بیان کرنا ہے جسے اصول دین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، لہٰذا کسی بھی وضاحت سے پہلے مناسب یہ ہے کہ کلمہ ''دین'' اور اس سے مشابہ الفاظ کی ایک وضاحت کر دی جائے، اس لئے کہ علم منطق میں ''مبادی تصوری'' (تعریفات) کا مقام تمام مطالب پر مقدم ہے۔

دین ایک عربی کلمہ ہے جس کے معنی لغت میں اطاعت اور جزا کے ہیں اور اصطلاح میں اس جہان، انسان کے پیدا کرنے والے پر عقیدہ رکھنا اور ان عقائد سے متناسب دستورات عملی پر اعتقاد رکھنے کے معنی میں ہے، اسی وجہ سے وہ لوگ جو اس جہان کے خالق پر مطلق اعتقاد نہیں رکھتے اور اس جہان کی خلقت کو اتفاقی حادثہ یا مادی و طبیعی فعل و انفعالات کا نتیجہ سمجھتے ہیں انہیں ''بے دین'' کہا جاتاہے، لیکن وہ لوگ جو اس جہان کے خالق پر اعتقاد رکھتے ہیں، مگر اپنے اعمال و کردار میں انحراف و کج روی کے شکار ہیں انھیں ''بادین'' کہا جاتا ہے، اس طرح روئے زمین پر موجودہ ادیان حق و باطل میں تقسیم کئے جاتے ہیں، لہٰذا دین حق یعنی ایسے قوانین کا مجموعہ جو صحیح عقائد پر مشتمل اور واقعیت کے مطابق ہوںنیز ایسے اعمال کا حکم دے کہ جن کی صحت میں کافی ضمانت پائی جاتی ہو۔

٢۔اصول دین اور فروع دین

گذشتہ مفہوم دین کی توضیحات کے پیش نظر یہ بات روشن ہو گئی کہ کوئی بھی دین ہو دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

١۔ عقائد: جو پایہ و اساس کے حکم میں ہیں۔

٢۔ قوانین عملی: جو انھیں اساس کے مطابق اور انھیں کے ذریعہ وجود میں آئے ہوں۔

لہٰذا یہ بات پوری طرح روشن ہے کہ کسی بھی دین میں اس کے عقائد کو ''اصول'' اور احکام عملی کو (فروع) کا نام دیا جاتا ہے جیسا کہ اسلامی دانشمندوں نے ان دو اصطلاحوں کو عقائد اور احکام اسلامی کے لئے استعمال کیا ہے۔

٣۔جہاں بینی(تصور خلقت) اور آئیڈیالوجی ۔

جہاں بینی اور آئیڈیالوجی کی اصطلاح کم و بیش ایک ہی معنی میں استعمال ہوتی ہے، جہاں بینی کے معنی یہ ہیں (جہان و انسان کے مطابق چند اعتقادات اور بطور کلی ہستی) اور آئیڈیالوجی کے معنی یہ ہیں (انسانی کردار سے مطابق چند کلی نظریات اور آرا)۔

ان دونوں معنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ،کسی بھی عقیدتی اور اصولی نظام کو اس دین کی جہان بینی اور اس کے احکام عملی کے نظام کو آئیڈیالوژی کا نام اور انھیں دین کے اصول و فروع پر تطبیق دی جاتی ہے، لین یہ نکتہ پیش نظر رہے کہ آئیڈیا لوجی کی اصطلاح احکام جزئی کو شامل نہیں ہوتی جس طرح کہ جہان بینی کی اصطلاح بھی جزئی اعتقادات کے لئے استعمال نہیں ہوتی۔

ایک دوسرا نکتہ کہ جس کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کلمہ آئیڈیا لوجی عام معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کہ جو جہان بینی کو بھی شامل ہوتاہے۔(۱)

٤۔الٰہی و مادی جہان بینی۔

انسانوں کے درمیان جہان بینی کی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں لیکن ان سب کو ماوراء طبیعت کے قبول یا اسے انکار کرنے کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، الٰہی جہان بینی، اور مادی جہان بینی۔گذشتہ ادوار میں مادی جہان بینی کے پیروکاروں کو کبھی٫٫ طبیعی'' اور ''دہریہ،، اور کبھی ٫٫زندیق'' اور ''ملحد،، کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، لیکن انھیں ہمارے زمانہ میں ''مادی'' اور ''ماٹریالیٹ'' کہا جاتا ہے، مادی گری کی بھی مختلف شاخیں ہیں، جس میں سے مشہور ترین ( مٹریلزم ڈیالٹیک )ہے کہ جو (مار کسیزم) کا ایک حصہ ہے۔

اس ضمن میں یہ بھی روشن ہو گیا کہ ''جہان بینی'' کا استعمال دینی عقائدسے بھی زیادہ وسیع ہے اس لئے کہ یہ الحادی عقائد کو بھی شامل ہے جیسا کہ آئیڈیا لوجی کی اصطلاح بھی دینی مجموعہ احکام سے مخصوص نہیں ہے۔

٥۔آسمانی ادیان اور ان کے اصول۔

تاریخ ادیان، جامعہ شناسی اور عوام شناسی کے دانشمندوں کے درمیان پیدائشِ ادیان کی کیفیت کے سلسلہ میں اختلاف ہے، لیکن اسلامی اسناد کے ذریعہ جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ دین کا وجود انسان کی پیدائش کے ساتھ ہوا اور پہلے انسان (حضرت آدمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابو البشر) خدا کے رسول، توحیدو یکتا پرستی کے منادی تھے، اور بقیہ شرک آلود ادیان تحریفات، سلیقوں کے اختلاف، فردی اور گروہی اغراض کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔(۲)

ادیان توحید ی ہی ادیان آسمانی ہیں، جو تین کلی اصول میں مشترک ہیں۔

١۔ خدائے یکتا پر اعتقاد ۔

٢۔ عالم آخرت میں ہر انسان کے لئے ابدی حیات، اور جو کچھ اس جہان میں انجام دیا گیا ہے اس کی جزا یا سزا کا پانا۔

٣۔ بعثت انبیاء پر اعتقاد رکھنا تا کہ بشر کو انتہائی کمال اور سعادت دنیوی و اخروی کی طرف ہدایت مل سکے یہ تینوں اصول در اصل ان سوالوں کے جواب میں جو ہر ایک آگاہ انسان کے لئے پیش آئے ہیں، ہستی کا مبدا اور آغاز کیا ہے؟ زندگی کا خاتمہ کیا ہے؟ کس روش کے ذریعہ اچھی زندگی گذارنے کا طریقہ حاصل کیا جاسکتا ہے، وحی کے ذریعہ جو دستور العمل پیش کیا جاتا ہے وہ وہی دینی آئیڈیا لوجی ہے جو الٰہی جہان بینی کا نتیجہ ہے۔

اصلی عقائد لازم و ملزوم اور توابع و تفاصیل سے متصف ہیں جو دینی عقیدتی نظام کو تشکیل دیتے ہیں انھیں اعتقادات میں اختلاف مختلف مذاہب اور فرقوں کی پیدائش کا سبب واقع ہو ئے ہیں جیسا کہ بعض انبیاء کی نبوت اور آسمانی کتاب کے تعین میں اختلاف، ادیان یہودی ، مسیحی اور اسلام کے درمیان تفرقہ کا باعث بنا اور اسی اختلاف کی وجہ سے عقائد واعمال میں ایسے اختلافات اٹھے کہ جو کسی طرح بنیادی اعتقاد سے ھمانگی نہیں رکھتے جیسے، عقیدۂ تثلیث جو توحید کے بالکل ضد ہے، اگر چہ مسیحیوں نے اس کی توجیہ کرنے کی پوری کوشش کرڈالی ہے، یا پھر تعین جانشینی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مسئلہ کہ اسے خدا انتخاب کرے یا عوام الناس جو شیعہ اور سنی گروہوں میں شدید اختلاف کا باعث ہوا۔

نتیجہ:

توحید و نبوت اور معاد کو تمام آسمانی ادیان میں اساسی عقائد میں سے شمار کیا گیا ہے، لیکن وہ عقائد جو اساسی عقائد کے تجربہ و تحلیل کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں، یا انھیں کا ایک حصہ ہیں، ایک خاص اصطلاح کے مطابق انھیںاصلی عقائد میں شمارکیا جاسکتا ہے،جیسے وجود خدا کے اعتقاد کو ایک اصل اور اس کی وحدت کے اعتقاد کو ایک دوسری اصل مان لیا جائے، یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت پر اعتقاد اصول دین کا ایک حصہ ہے، جیسا کہ شیعہ دانشمندوں نے عدل جو ایک فرعی مسئلہ ہے اسے اصول کا جز قرار دیا ہے یا امامت جو نبو ت کی تابع ہے ایک دوسری اصل کے عنوان سے ذکر کیا ہے، درحقیقت کلمہ اصل کا استعمال ایسے اعتقادات کے سلسلہ میں اصطلاح کے تابع ہے اور یہ کسی بھی قسم کے مناقشہ اور بحث کا مقام نہیں ہے۔

اسی وجہ سے کلمہ اصول دین کو دو معنی عام و خاص میں استعمال کیا جاسکتا ہے، اس کی عام اصطلاح فروع دین اور بعض احکام کے مقابلہ میں بولی جاتی ہے، اور اس کی خاص اصطلاح بنیادی ترین عقائد سے مخصوص ہے، اسی طرح آسمانی ادیان کے درمیان مشترک عقائد جیسے اصول سہ گانہ (توحید ، نبوت اور معاد) بطور مطلق (اصول دین) اور ان کے علاوہ چند اصل کے اضافہ کے ساتھ (اصول دین خاص) یا پھر ایک چند وہ اعتقادات جو کسی مذہب یا فرقہ کی پہچان ہیں، اضافہ کر کے ( اصول دین و مذاہب) یا (ایک مذہب کے اصول عقائد) کاحصہ شمار کئے جا سکتے ہیں۔

سوالات:

١۔دین کے لغوی اور اصطلاحی مفاھیم کو بیان کریں؟

٢۔ جہان بینی اور آئیڈیا لوجی کی تعریف کے علاوہ ان دونوں کے فرق کو واضح کریں؟

٣۔ جہان بینی کی دو کلی کی وضاحت کریں؟

٤۔ اصول دین کی دو عام و خاص اصطلاحیں ہیں اس کی وضاحت کریں؟

٥۔ آسمانی ادیان میں مشترک اصول کیا ہیں، اور ان کی اہمیت کی وجہ کیا ہے؟

___________________

(۱)جہان بینی اورآئیڈیا لوجی کے سلسلہ میں زیادہ معلومات کے لئے رجوع کیا جائے ،کتاب کا نام آئیڈیا لوجی تطبیقی، درس اول۔

(۲)بعض آسمانی ادیان میں جباروں اور ستمگروں کی رضایت حاصل کرنے کے لئے بعض تحریفات کچھ اس طرح ہیں کہ، دین کے دائرے کو خدا کے ساتھ انسان کے رابطہ میں محدود اور احکام دین کو خاص مذہبی مراسم سے مخصوص، سماج کی سیاست اور اس کے امور کو دائرہ دین سے خارج کردیاگیا ہے جبکہ ہر دین آسمانی معاشرہ کی تمام ضرور توں کو بر طرف کر نے کا ذمہ دار ہوتا ہے

تا کہ دنیوی و اخروی سعاد ت حاصل ہو سکے جنھیں سمجھنے کے لئے عام انسانوں کی عقلیں نا کافی ہیں، اس مطلب کی توضیح انشاء اللہ آئندہ آئے گی، اور خدا کی جانب سے مبعوث ہونے والے آخری پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر واجب ہے کہ وہ قیامت تک کے وہ تمام دستورات جو انسانوں کے لئے ضروری ہیں، بیان کریں، اس وجہ سے اسلامی تعلیمات میں اجتماعی و سیاسی اور اقتصادی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ موجود ہے۔


دوسرا درس

دین میں تحقیق

تحقیق کے عوامل

دین میں تحقیق کی اہمیت

ایک شبہ کا حل

تحقیق کے عوامل

انسان کی نفسانی (روحانی و معنوی) خصوصیات میں سے ایک خاصیت حقائق اور واقعیات کا پتہ لگانا ہے جو ہر انسان میں آغاز ولادت سے پایا جاتا ہے، اور عمر کی آخری سانسوں تک یہ غریزۂ فطری باقی رہتا ہے، یہی حقیقت جوئی کی فطرت جسے ''حس کنجکاوی'' بھی کہا جاتا ہے انسان کو دین کے دائرے میں موجودہ مسائل کے سلسلہ میں تحقیق و جستجو اور دین حق کی شناخت کے لئے آمادہ کرتی ہے، جیسے:کیا غیر مادی اور غیرمحسوس شیء (غیب) کا وجود ہے؟ اور اگر ایسا کچھ ہے تو پھر کیا جہان مادی و محسوس اور جہان غیب میں کوئی ربط ہے؟ اور اگر ان دونوں میں ربط ہے تو پھر کیا کوئی نا محسوس موجود ہے جو اس جہان مادی کا خالق ہو؟

کیا انسان کا وجود اسی مادی بدن میں منحصر ہے ؟اور اس کی حیات صرف اسی دنیا سے مخصوص ہے یا اس دنیوی د زندگی کے علاوہ کوئی اور زندگی ہے؟ اور اگر انسان کے لئے ایک دوسری زندگی آخرت ہے تو کیا اس دنیاوی زندگی اور اس آخرت میں کوئی ربط ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی ربط ہے تو پھر

امور دنیوی میں کون سے امور آخرت کی زندگی میں مؤثر ہیں؟ اور کون سا راستہ زندگی کو صحیح گذارنے کے طور طریقہ کی پہچان کے لئے ہے؟ ایسا طور طریقہ جو دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کی ضمانت دے؟ اور وہ طور طریقہ کیا ہے؟

پس حقیقت جوئی کی فطرت وہ اولین عامل ہے جو انسان کو مسائل کی جستجو منجملہ دینی مسائل اور دین حق کو پہچاننے کے لئے ابھارتی ہے۔

حقیقت کی شناخت کے لئے انسانی فطرت میں جو عوامل جوش و ولولہ کا سبب بنتے ہیں ان میں سے ایک ان تمام آرزؤں کو حاصل کرنا ہے جو ایک یا چند فطرتوں (حقائق کی شناخت کے علاوہ) سے متعلق اور کسی خاص معلومات پر منحصر ہیں، جیسے کہ مختلف دنیوی نعمتوں سے بہرہ مند ہونا، علمی کوششوں کا نتیجہ ہے اور علوم تجربی کی کامیابیاں انسانوں کے لئے اپنی آرزؤں کے حصول میں نہایت مددگار ہیں، اسی طرح اگر دین ، انسان کے منافع و مصالح اور اس کی آرزؤں کو پورا کردے ،اور برے کاموں سے اسے روک دے تو یہ امر اس کے لئے نہایت مطلوب ہوگا، لہذا منفعت طلبی کی حس اور نقصان سے بچنے کی فطرت، دین میں اور زیادہ تحقیق و جستجو کی امنگ کو افزائش دینے کا سبب ہے۔

لیکن معلومات میں وسعت پیدا کرنے کے لئے اور تمام حقائق کو درک کرنے کے لئے کافی و سائل کا ہونا ضروری ہے، یہ ممکن ہے کہ انسان تحقیق کے لئے ایسے مسائل کا انتخاب کرے کہ جنھیں حل کرنا آسان سہل الوصول اور محسوس ہو لیکن دینی مسائل کی جستجو سے صرف اس بناپر پرہیز کرتا رہے کہ ان کا حل کرنا مشکل اور کسی اہم علمی نتائج تک پہچنا ممکن نہیں ہے، اس وجہ سے یہ امر ضروری ہے کہ لوگوں کے لئے یہ حقیقت روشن ہوجائے کہ دینی مسائل کافی اہمیت کے حامل ہیں اور ان مسائل میں تحقیق و جستجو بقیہ مسائل کی جستجو سے کاملاً متفاوت ہے۔

بعض ماہرین نفسیات کا عقیدہ ہے کہ اساساً خدا پرستی ایک مستقل آرزو ہے، جس کے سرچشمہ کو ''حس دینی'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسے حس جستجو، حسن نیکی اور حسن زیبائی (خوبصورتی) میں انسانی روح کے لئے چوتھاپہلوشمار کیا جاتا ہے۔

ان لوگوں نے تاریخی شواہد کی رو سے یہ امر ثابت کیا ہے کہ خدا پرستی کی حس ہر زمانہ میں مختلف شکلوں میں رہی ہے لہذا اس حس کا ہمیشگی اور اس طرح وسیع ہونا اس کے فطری ہونے کی دلیل ہے۔

البتہ اس فطرت کے عمومی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ تمام انسانو ںمیں زندہ و بیدار بھی ہو اور اسے مطلوب کی جانب بر انگخیتہ کرنے میں مدد بھی کرے ، بلکہ صحیح تربیت کے نہ ہونے اور فاسد معاشرہ کے پائے جانے کی وجہ سے اس کی دوستی بہت ضعیف پڑ گئی ہو یا اسے اپنی صحیح مسیر پر حرکت کرنے سے منحرف کر دے ، جیسا کہ بقیہ تمام فطرتوں میں ضعف اور انحراف کا امکان ہے۔

اس نظریہ کے تحت دین میں تحقیق و جستجو ایک مشتعل فطرت ہے ، دلائل اور برہان کے ذریعہ اسے ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس مطلب کو آیات و روایات کے ذریعہ مورد تائید قرار دیا جاسکتا ہے کہ جو دین کے فطری ہونے پر دلالت کرتی ہیں، لیکن چونکہ اس میل فطری کی تاثیر آشکار نہیں ہے لہٰذا کوئی بحث و مباحثہ کے دوران اپنے موقف کی تائید میں اس کے وجود کا منکر ہو سکتا ہے اسی وجہ سے ہم تنہا اسی بیان پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ عقلی دلائل کے ذریعہ اس حقیقت کو ثابت کریں گے۔

دین میں تحقیق۔

یہ حقیقت روشن ہوچکی ہے کہ ایک طرف حقائق کی شناخت کا فطری رجحان اور دوسری طرف حصول منفعت و مصلحت اور خطرات سے بچنے کی فطری خواہش ایک ایسا طاقتور عامل ہے جو تفکر و تحقیق اور علوم کی تحصیل میں نہایت مددگار ہے،یہی وجہ ہے جب کسی شخص کو اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ طول تاریخ میں بعض انسانوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم پروردگار کی طرف سے انسانوں کو دوجہان کی سعادت تک پہنچانے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں'' جنھوں نے اپنے پیغامات کے ابلاغ اور انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی بھی قسم کی زحمت اٹھانے سے دریغ نہیں کیا، اور تمام سختیوں کو اپنے لئے خریدا حتی کہ اپنی جانوں کو بھی اس ہدف کے تحت قربان کردیا، تو اس کے اندر دین میں تحقیق و جستجو کی ایک عجیب سی امنگ پیدا ہوتی ہے، اور وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا ان لوگوںنے جو

دعویٰ کیا تھا کیا ان کا یہ دعوی درست اور منطقی دلائل کی رو سے صحیح تھا یا نہیں، خصوصاً یہ جزبہ بیداری اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ا نھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے حیات جاودانی اور نعمت و سعادت کی بشارت دی ہے، عذاب دائمی اور ابدی شقاوت سے ڈرایا ہے، یعنی ان کی دعوت کو قبول کرلینا فراوان نعمتوں کے حصول کا موجب اور اس سے انکار کرنا دائمی خسران کا سبب ہے، ان سب حقائق کے جاننے کے بعد کون شخص دین سے غفلت کے لئے عذر پیش کرسکتا ہے اور دین کے سلسلہ میں تحقیق و جستجو سے منہ پھیر سکتا ہے؟

ہاں! ممکن ہے کہ بعض اشخاص، آرام طلب اور کاہل ہونے کی وجہ سے یہ تحقیق انجام نہ دیں یا پھر دین کے قبول کرلینے کے بعد اس کی پابندیوں اور بعض نفسانی خواہشوں پر ر وک لگ جانے کی وجہ سے دین میں جستجو کرنے سے پرہیز کریں۔(۱)

لیکن ایسے اشخاص کو اپنی آرام طلب طبیعت کی سزا بھگتنا ہوگی، اور عذاب ابدی میں گرفتار ہونا ہوگا ایسے لوگوں کی حالت ان بچوں سے بھی بد تر ہے جو دوائوں کی تلخی کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس جانے سے کتراتے ہیں اور اپنے لئے حتمی موت کو دعوت دے د یتے ہے، اس لئے کہ یہ بچے اپنے فائدہ و نقصان کو سمجنے کے سلسلہ میں کافی عقل و شعور نہیں رکھتے ڈاکٹر کی ہدایتوں سے مخالفت دنیا کی چند روزہ نعمتوں سے محرومی سے زیادہ نہیں ہے لیکن ایک بالغ انسان ،سود و زیاں کو درک کرنے اور جلد ختم ہوجانے والی نعمتوں کے سلسلہ میں غور و فکر کی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے قرآن نے اپنے غافل انسانوں کو حیوانات سے بھی زیادہ گمراہ جانا ہے۔

( اُولَئِکَ کَالاَنعَامِ بَل هُم اَضَلُّ، اُولَئِکَ هُمُ الغَفِلُونَ ) (۲) یہ لوگ گویا جانور ہیں بلکہ ان سے بھی کہیں گئے گزرے، یہی لوگ ( امور حق سے) بالکل بے خبر ہیں۔

ایک اور مقام پر حیوانات سے بدتر کہا ہے۔

( اِنَّ شَرَّ الدَّوآبٍّ عِندَ اللّهِ الصُمُّ البُکمُ الَّذِینَ لَا یَعقِلُونَ ) (۳)

اس میں شک نہیں کہ زمین پر چلنے والے تمام حیوانات سے بدتر خدا کے نزدیک وہ بہرہ گونگے (کفّار ) ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

ایک شبہ کا حل۔

اس مقام پر شاید کوئی شحص اپنے لئے یہ بہانا نہ پیش کرے کہ ایک مسئلہ کے تحت تنہا اسی صورت میں تحقیق و جستجو مفید ہے کہ جب اس کے حل کی امید ہو لیکن ہم دین اور اس کے مسائل کے سلسلہ میں ایسی فکر کے مالک نہیں ہیں، اسی وجہ سے اپنی طاقت کو ایسے امور میں صرف کرنے کی بجائے کیوں نہ ایسے موارد میں صرف کریں جس میں زیادہ سے زیادہ نتیجہ بر آمد ہونے کی توقع ہو ، ایسے شخص کا جواب اس طرح دیں گے ۔

سب سے پہلے یہ کہ: دین کے اساسی مسائل کو حل کرنا کسی بھی صورت میں علمی مسائل کے حل کرنے سے کم نہیں ہے اور اس بات کو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بعض مشکل مسائل کا حل دانشمندوں کے سالہا سال کی زحمتوں کا نتیجہ ہے ۔

دوسرا یہ کہ : احتمال کی قدر و قیمت تنہا ایک عامل کے تابع (مقدار احتمال) نہیں ہے، بلکہ اس درمیان متحمل کی مقدار کو بھی جاننا ہوگا، مثلاً اگر ایک اقتصادی تجارت میں منفعت ٥% اور دوسری تجارتوں میں ١٠ % ہو لیکن اگر پہلی والی تجارت میں متحمل کی منفعت ایک ہزار روپیہ اور دوسری

تجارت میں ایک لاکھ ر وپیہ ہو تو پھر پہلی تجارت پانچ گونہ دوسری تجارت پر فوقیت رکھتی ہے اگر چہ پہلی تجارت میں مقدار احتمال ٥ % فیصد جودوسری تجارت کی مقدار احتمال ١٠% کا نصف ہے(۴)

چونکہ دین میں تحقیق کی منفعت کا احتمال بے شمار ہے ہر چند قطعی نتیجہ ہے کہ دستیابی کا احتمال ضعیف ہو، لیکن اس راہ میں تحقیق اور کوشش ہر اس راہ سے زیادہ ہے جسمیں نتیجہ محدود ہو، اور تنہا اسی صورت میں دینی مسائل میں ترک تحقیق قابل قبول ہے کہ جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ دین غیر درست اور اس کے مسائل قابل حل نہیں ہیں، لیکن ایسا یقین و اطمینان کہاں سے حاصل ہو سکتا ہے؟!

سوالات

١۔ حقائق کی شناخت کے لئے انسان کا غریزہ کیا ہے؟

٢۔ کیوں انسان تمام حقائق کی تحقیق نہیں کرتا؟

٣۔ حس دینی کا مطلب کیا ہے؟ اور اس کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے کون سی دلیل ذکر کی گئی ہے؟

٤۔ اصول دین میں تحقیق کی ضرورت کو بیان کریں؟

٥۔ کیا دین کے قطعی مسائل کو حل کرنے کی امید نہ ہونے کو، ترک تحقیق کے لئے عذر بنایا جاسکتا ہے؟

__________________

(١) ''بل یرید الانسان لیفجرامامه'' . سورۂ قیامت ۔آیت٥/. ترجمہ: مگر انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے آگے بھی (ہمیشہ) برائی کرتا جائے

(٢)سورۂ اعراف۔ آیت/ ١٧٩. وہ لوگ چو پائے بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں.

(۳)سورۂ انفال۔ آیت/ ٢٢. وہ لوگ تمام حیوانات سے بدتر خدا کے نزدیک وہ بہرے گونگے کفار ہیں جو حقائق کو درک نہیں کرتے.

(۴)٥٠: ٥٠٠٠١٠٠ضرب ١٠٠٠۔ ١٠: ١٠٠ ١٠٠٠ : ١٠١٠٠ ضرب ١٠٠۔ ٥: ١٠ تقسیم ٥٠.


تیسرا درس

انسان بن کے جینے کی شرط

مقدمہ

انسان کمال طلب ہے

انسان کا کمال، عقل کی پیروی میں ہے

عقل کے احکام عملی کو مبانی نظری کی ضرورت ہے

نتیجہ

مقدمہ

گذشتہ درس میں آسان عبارتوں کے ذریعہ دین میں تحقیق اور دین حق کی شناخت کے سلسلہ میں بحث کی گئی کہ یہ امر منفعت جوئی اور ضرر سے بچنے کے لئے ایک فطری عامل ہے جسے ہر انسان اپنے وجود میں پاسکتا ہے(۱) یا علم حضوری اس کی تشخیص میں اشتباہ نہیں کرسکتا۔

اس درس میں اسی مطلب کو ایک دوسرے انداز میں ثابت کریں گے، جو دقیق مقدمات پرمشتمل ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر کوئی دین کے سلسلہ میں غور و فکر نہ کرے، جہان بینی اور صحیح آئیڈیالوجی کا معتقد نہ ہو وہ کمال انسانی کو حاصل نہیں سکتا، بلکہ اسے سرے سے ایک حقیقی انسان نہیں مانا جاسکتا یا دوسری تعبیرکے مطابق انسان بن کے جینے کے لئے جہان بینی اور صحیح آئیڈیالوجی کی ضرورت ہے۔

یہ دلیل تین مقدمات پر مشتمل ہے۔

١۔انسان ایک کمال جو (کمال طلب) موجود ہے۔

٢۔ کمال انسانی حکم عقل کی بنیاد پر حاصل ہونے والے اختیاری کردار کے سایہ میں حاصل ہوتا ہے۔

٣۔ عقل کے احکام عملی ایک خاص نظری شناخت کے پرتو میں آشکار ہوتے ہیں کہ جن میں سے بہترین جہان بینی کے تین اصول ہیں، یعنی مبدا وجود کی شناخت (توحید) حیات کا انجام(معاد) حاصل کرنے کے لئے ضمانت شدہ راستہ (نبوت) یا ہستی کی پہچان انسان کے پہچان اور راہ کی پہچان ہے اب اس کے بعد ان تینوں مقدمات کی وضاحت کے ساتھ بحث کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہیں۔

انسان کمال طلب ہے۔

اگر انسان اپنے باطنی اور رو حی (معنوی) میلانات میں غور و فکر کرے تو اسے بخوبی معلوم ہوگا کہ یہ سارے تمایلات ایک مخصوص ہدف کی جانب گامزن ہیں، اصولاً کوئی بھی انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا، کہ اس کے وجود میں کوئی نقص ہو اور اپنی پوری تاب و توانائی کے ساتھ اپنے ذاتی عیوب و نقائص کو دور کرنے میں لگا رہتا ہے تا کہ اپنے مطلوب ہدف تک پہنچ سکے، اور جب تک وہ عیوب دور نہیں ہوتے انھیں لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رکھتا ہے۔

یہ میلانات جب اپنی فطرت کے مطابق ہوتے ہیں تو یہی مادی و معنوی تکامل (کمال کی طرف جانے) کا ذریعہ بن جاتے ہیں، لیکن اگر اسباب و شرائط کی بنیاد پر یہی میلانات انحرافی مسیر پر گامزن ہوجائیں تو غرور و گھمنڈ، ریا کاری اور خودخواہی جیسی بری صفت انسان کے اندر پیدا جاتی ہے

بہر حال کمال طلبی کی صفت ایک قوی فطرت ہے جو روح انسان میں پائی جاتی ہے ، جس کے واضح نمونہ اور آثار بخوبی مشاہدہ کئے جا سکتے ہیں لیکن ایک معمولی توجہ کے ذریعہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان سب کا ریشہ وہی کمال جوئی ہے۔

انسان کا کمال، عقل کی پیروی میں ہے۔

نباتات کا رشد کرنا خارجی اسباب و شرائط کا نتیجہ اور ایک جبری امر ہے ،کوئی بھی درخت اپنے اختیار سے رشد نہیں کرتا، اور اپنی مرضی کے مطابق پھل نہیں دیتا، اس لئے کہ وہ ارادہ اور شعور کا حامل نہیں ہے۔

لیکن جانوروں کے رشد و نمو میں انتخاب کے آثار مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں، لیکن یہ ارادہ و انتخاب اپنی طبیعی تقاضوں کے مطابق ایک محدود دائرے میں غرائز ہ حیوانی کے تحت ہر حیوان کی اپنی حسی قوت کے مطابق ایک محدود شعور کے پر تو میں ہے۔

لیکن انسان کی ذات نباتاتی و حیوانی خواصیات کے حامل ہونے کے علاوہ دورو حانی امتیازی پہلوؤں کا بھی مالک ہے، ایک طرف تو اس کے فطری میلانات اور خواہشات کے لئے کوئی حد مقررنہیں ہے اور دوسری طرف اس کی قوت عقل کی کامل ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی معلومات کو بے نہایت بنا سکتا ہے، ان دونوں خصوصیات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اس کے ارادوں کی وسعت طبیعت کے حدود سے بھی کہیں زیادہ نظر آتی ہے ۔

جس طرح نباتات کے کمالات ایک خاص نباتی طاقت کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں اور حیوانی کمالات انھیں حسی ادراکات کے نتیجہ پائے جانے والے ارادوں کی وجہ سے ہے اسی طرح انسانی کمالات کا سر چشمہ در واقع اس کا روحانی پہلو ہے جو عقل اور ارادوں کے ذریعہ حاصل ہوتے

ہیں، وہ عقل کہ جو مطلوب کے مراتب کو پہچان لے اور تزاحم(اھم اور مھم کو سمجھنے کے وقت ان میں سے بہترین کو ترجیح دے۔

لہٰذا رفتار و کردار کے انسانی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عقل کی راہنمائی میں انسانی میلانات کے ذریعہ وجود میں آنے والے ارادوں کے ذریعہ حاصل ہو اور وہ عمل جو صرف اور صرف حیوانی غرائز کے ذریعہ عمل میں آئے، وہ حیوانی ہے جس طرح کہ وہ حرکت جو مکینکی طاقت کے ذریعہ انسانی بدن میں پیدا ہوتی ہے وہ ایک فیزیکی(طبیعی حرکت ہے۔

عقل کے احکام عملی کو مبانی نظری کی ضرورت ہے

اختیاری عمل ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعہ مطلوب نتیجہ کو حاصل کیا جاسکتا ہے، اور اس کی قدر و قیمت اس کے ہدف کے مطابق ہے جو روح کے تکامل(کمال کی طرف جانے) میں اثر انداز ہوتی ہے، لہٰذا جو عمل بھی کسی روحی کمال کے خاتمہ کا سبب ہے اس کی قدر و قیمت منفی ہوگی۔

لہذا اسی صورت میںعقل ، انسان کے اختیاری اعمال پر قضاوت کرسکتی ہے کہ جب انسانی کمالات اور ان کے مراتب سے پوری طرح آگاہ ہو، اور اچھی طرح سے جانتی و پہچانتی ہو کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ اوراس کی زندگی کی شعاعوں کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟ اور وہ کمالات کے کتنے مدارج طے کرسکتا ہے؟ یا دوسری تعبیر کے مطابق اس کے وجود کے کتنے پہلو ہیں ؟اور اس کی خلقت کامقصد وہدف کیا ہے؟

اسی وجہ سے صحیح آئیڈیالوجی کا حاصل کرنا، یعنی اختیار ی اعمال پر ایک پرُ ارزش نظام کا حاکم صحیح جہان بینی اور اس کے مسائل کو حل کرنے کی راہ میں ایک قدم ہے ، لہٰذا جب تک وہ ان مسائل کو حل نہیں کرتا اس وقت تک کردار و اعمال کے سلسلہ میں کوئی قطعی قضاوت نہیں کر سکتا، جس طرح سے کہ جب تک ہدف معلوم نہیں ہوتا اس وقت تک اس ہدف تک جانے والے راستہ کی تعیین غیر ممکن

ہے، لہذا یہ معارفِ نظری جو جہان بینی کے اساسی مسائل کو تشکیل دیتے ہیں حقیقت میں اسے عقل احکام عملی اور باارزش نظام کے مبنیٰ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

نتیجہ۔

ان مقدمات کی تشریح کے بعد اب ہم دین میں تحقیق کی ضرورت، صحیح آئیڈیا لوجی اور جہان بینی کو اس طرح ثابت کر یں گے۔

انسان اپنی فطرت کی وجہ سے اپنے انسانی کمال کی جستجو میں ہے اور اس کوشش میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے مطلوبہ کمال کو حاصل کرلے، لیکن قبل اس کے کہ وہ ان امور کو پہچانے جو اسے کمال تک پہنچاسکتے ہیںضروری ہے کہ وہ اپنے انتہائی کمال کو پہچانے، اور اس انتہائی کمال کا جاننا اپنے وجود کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے میں ہے اس کے بعد اپنے کمال کے مختلف مراتب میں مختلف اعمال کے درمیان موجود، رابطہ کے مثبت یامنفی ہونے کو تشخیص دے، تا کہ وہ اس طرح اپنے انسانی کمال کے صحیح راستہ کو پہچان سکے، لہٰذا جب تک وہ نظری شناخت (اصول جہان بینی) کو حاصل نہیں کرتا اس وقت تک صحیح عملی نظام (آئیڈیالوجی) کو قبول نہیں کرسکتا۔

لہذا دین حق کی معرفت حاصل کرنا جو صحیح جہان بینی اور آئیڈیالوژی کو شامل ہے ضروری ہے اور اس کے بغیر کمال انسانی تک پہنچنا غیر ممکن ہے جیسا کہ وہ رفتار جوایسے افکار و اقدار کا نتیجہ نہ ہو وہ انسانی نہیں ہو سکتی یا وہ لوگ جو انھیں جاننے کے باوجود انکار کرتے ہیں، تنہا اپنی حیوانی خواہشات اور جلد ختم ہو نے والی مادی نعمتوں پر اعتماد کرتے ہیں، ان کی اھمیت اصل میں ایک حیوان سے زیادہ نہیں ہیں، جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے

'( 'یَتَمَتَّعُونَ وَ یَأکُلُونَ کَمَا تَأکُلُ الاَنعَامُ'' ) .(۲)

وہ دنیا میں سکون حاصل کرتے ہیں اور اس طرح ( بے فکری سے) کھاتے پیتے ہیں جس طرح حیوان کھاتے پیتے ہیں ۔

چونکہ وہ لوگ اپنی انسانی صلاحیتوں کو تباہ کرتے ہیں لہٰذا درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے

( ''ذَرهُم یَأکُلُوا وَیَتَمَتَعُوا وَیُلهِهِمُ الاَمَلُ فَسَوفَ یَعلَمُونَ'' ) .(۳)

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انہیں انھیں کی حالت پر چھوڑ دیجئے تا کہ (خوب )عیش و نوش کر لیں اور ( زندگی کے ) مزے اڑالیں اور ان کی تمنا ئیں انہیں لہو و لعب میں مشغول رکھے عنقریب وہ جان لیں گے ۔

سوالات

١۔ دین میں تحقیق کی دوسری دلیل کن مقدمات پر مشتمل ہے؟

٢۔ انسانی کمال طلبی کی وضاحت کریں؟

٣۔ انسان کی مہم خصوصیات کو بیان کریں؟

٤۔مذکورہ خصوصیات اور ان کے حقیقی کمال میں کیا رابطہ ہے؟

٥۔ کسی طرح آئیڈیالوژی، جہان بینی پر منحصر ہے؟

٦۔ دوسری دلیل کی منطقی صورت بیان کریں؟

__________________

(۱)اس دلیل کی شکل کچھ اسطرح ہے اگر منفعت کا حصول اور ضرر سے پرہیز انسان کا فطری مطلوب ہے۔ ایسے

دین کے سلسلہ میں تحقیق کرنا جو بے نہایت منفعت کی طرف راہنمائی اور عظیم ضرر سے نجات دینے کا مدعی ہے ضروری ہے (تحقق معلول کے لئے علت ناقصہ ضرورت بالقیاس ہے) لیکن منفعت کا حصول اور ضرر سے پرہیز انسان کا فطری مطلوب ہے، لہذا ایسے دین کے سلسلہ میں تحقیق کرنا ضروری ہے۔

یہ استدلال جسے ''قیاس استثنائی'' کی شکل میں بیان کیا گیا ہے عقل کے احکامِ عملی اور ضرورت بالقیاس کی طرف ان کی باز گشت کے سلسلہ میں ایک خاص منطقی تحلیل ہے جو معلول (نتیجہ مطلوب) تک پہنچنے کے لئے ایک علت (فعل اختیاری) ہے، جیسا کہ اسے بیان کیا جاچکا ہے۔

اس درس میں یعنی مورد بحث دلیل کو اس شکل میں بیان کیاجاسکتا ہے، اگر کمال انسانی تک پہنچنا مطلوب فکری ہو تو اصول جہان بینی کی پہچان جو تکامل روح کے لئے شرط ہے ضروری ہوگا، لیکن کمال تک پہنچنا مطلوب فطری ہے، لہٰذا ان اصول کا جاننا ضروری ہے۔

(۲)سورۂ محمد۔ آیت/ ١٢ ۔ وہ حیوانوں کی طرح زندگی گذارتے ہیں اور کھاتے ہیں۔

(۳)سورۂ حجر۔ آیت/ ٣. انھیں ،انھیں کے حال پر چھوڑدیں کہ کھائیں اور زندگی گذاریں اور ان کی دنیوی آرزوئیں انھیں مگن رکھیں کہ عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا.


چوتھا درس

جہان بینی کے بنیادی مسائل کا راہ حل

مقدمہ

شناخت کی قسمیں

معرفت کی قسمیں

تنقید

نتیجہ

مقدمہ:

جب ایک انسان معرفت کے بنیادی مسائل کو حل کرنے اور دین حق کے اصول و قواعدکی پہچان کے لئے قدم اٹھاتا ہے تو وہ پہلے ہی مرحلہ میں ان سوالوں کاسامنا کرتاہے کہ وہ کس طرح ان مسائل کو حل کرے؟ کس طر یقہ سے بنیادی اور صحیح معارف کو حاصل کرے؟ اور اصولاً ان کی شناخت کے راستے کیا ہیں؟ نیز ان میں سے کسے ان معارف تک پہنحنے کے لئے انتخاب کرے؟

ان مطالب پر فنی اور تفصیلی گفتگو کرنے کے لے فلسفہ کی ایک بحث ا(شیاء کی معرفت) (اپیستمولوژی) کا سہارا لینا ضروری ہے ،' کہ جسمیں شناخت انسان کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے، اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ہم یہاں پر ان تمام پہلوؤں سے بحث نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ ہمیں اس کتاب میں اصل ہدف سے دور کردیں گے، اس وجہ سے ان میں سے فقط بعض کے بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے،اور مزید تحقیق کے لے (انشاء اﷲ)ہم ضرورت پڑنے پر اشارہ کریں گے(۱)

شناخت کی قسمیں ۔

انسان کی اس شناخت کے اعتبار سے چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

١۔ شناخت علمی( تجربی) (خاص اصطلاح میں) یہ شناخت، حسی امور کی مدد سے حاصل ہوتی ہے اگر چہ عقل ادراکات حسی کی عمومیت اور اس کے مجرد عن المادہ ہونے میں اپنا پورا کردار ادا کرتی ہے شناخت علمی سے ،تجربی علوم مثلاً سائنس، لبیرٹری، اور زیست شناسی (علم حیات )جیسے علوم میں استفادہ کیا جاتا ہے۔

٢۔ شناخت عقلی : ایسی شناخت مفاہیم انتزاعی (معقولات ثانیہ) کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، اس میں اساسی اور بنیادی رول عقل کا ہوتا ہے ، ہر چند اس بات کا امکان ہے کہ بعض قضایا بہ عنوان مفا ھیم انتزاعی یا مقدمہ از قیاس ہونے کی وجہ سے حسی و تجربی ہوں ، اس شناخت کی وسعت منطق، علوم فلسفیہ، اور ریاضیات سب کو شامل ہے۔

٣۔ شناخت تعبدی : اس شناخت کی حثیت ثانوی ہے، جو (قابل اعتما د ماخذ و مدرک ) (اتورتیہ) اور صادق شخص کے خبر دینے کے ذیعہ حاصل ہوتی ہے وہ مطالب جو پیروان دین ، اپنے دینی رہنماہونے کے ناطے ان کے اقوال کو قبول کرتے ہیں، اور کبھی کبھی ان کا یہ اعتقاد حس و تجربہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے اعتقاد سے کہیں زیادہ قومی ہوتا ہے جو اسی شناخت کا ایک حصہ ہے۔

٤۔شناخت شہودی : یہ شناخت دوسری اقسام کے بر خلاف مفہوم ذ ہنی کے واسطہ کے بغیر معلوم ذات عینی سے متعلق ہوتی ہے، جس میں کسی قسم کے اشتباہ کا امکان نہیں رہ جاتا لیکن جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جو کچھ بھی شہودی اور عرفانی کے نام سے بیان کیا جاتا ہے در حقیقت شھودات کی ایک ذہنی تفسیر ہوتی ہے جو قابل خطا ہے۔(۲)

معرفت کی قسمیں

شناخت کی قسمیں جن اصولوں کی بنیاد پر بیان کی گئیں ہیں انھیں اصولوں کے ذریعہ جہاں بینی کی بھی تقسیمات کی جاسکتی ہیں۔

١۔ معرفت علمی: یعنی انسان ،علوم تجربی کے ذریعہ حاصل ہونے والے نتائج کے ذریعہ ہستی کے سلسلہ میں ایک کلی معلومات حاصل کر ے۔

٢۔ معرفت فلسفی: وہ معرفت جو از راہ استدلال اور عقلی کاوشوں کے ذریعہ حاصل ہو ۔

٣۔ معرفت دینی: وہ معرفت جو رہبران دین پر ایمان رکھنے اور ان کی گفتار کو قبول کرنے کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔

٤۔ معرفت عرفانی: وہ معرفت جو کشف و شہود اور اشراق کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعا جہان بینی کے بنیادی مسائل کو انھیں چار تقسیموں کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے، تا کہ ان میں کسی ایک کے برتر ہونے کا سوال پیدا نہ ہو ۔

تنقید۔

حس و تجربی شناخت کی وسعت اور مادی و طبیعی قضایا میں محدودیت کی وجہ سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ علوم تجربی کی بنیاد پر معرفت کے اصول کو نہیں سمجھا جاسکتا اور اس سے مربوط مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ اس کے مسائل علوم تجربی کی حدود سے خارج ہیں، اور علوم تجربی میں ان مسائل کے تحت نفی و اثبات کا امکان نہیں ہے، جس طرح سے کہ وجود خدا کو آزمائشوں کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا، یا (العیاذ باللہ) اسکی نفی کا امکان نہیں ہے، اس لئے کہ علوم تجربی کے آلات ماوراء طبیعت تک پہنچنے سے قاصر ہیں، بلکہ ان کے ذریعہ تنہا مادی قضایا میں اثبات و نفی کا حکم صادر کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا علمی و تجربی معرفت (اپنے اصطلاحی معنی ) کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ نہیں ہے اور اسے صحیح معنوں میں کلمہ معرفت سے یاد نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسے '' جہان مادی کی شناخت'' کا نام دیا جاسکتا ہے، اس لئے کہ ایسی شناخت معرف کے بنیادی مسائل کا جواب نہیں دے سکتی۔

لیکن وہ شناخت جو تعبدی روش کے ذریعہ حاصل ہو ، جسیا کہ ہم نے اشارہ بھی کیا ہے اس کی ایک ثانوی حثیت ہے، کہ جسکا مطلب یہ ہے کہ پہلے مصدر یامصادر کا اعتبار ثابت ہوچکا ہو، یعنی پہلے مرحلہ میں کسی کی بعثت ثابت ہو تا کہ اس کے پیغامات کو معتبر سمجھاجاسکے، اور ہر امر سے پہلے پیغام ارسال کرنے والے یعنی وجود خدا کا اثبات ہونا چاہیے، لہٰذا یہ بات بطور کامل روشن ہے کہ خود پیغام ارسال کرنے والے کا وجود اور کسی پیغمبر کے وجود کو پیغام کے مستند ہونے کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جا سکتا ، جیسے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ قرآن کہتا ہے ''خدا ہے'' پس اس کا وجود ثابت ہے، البتہ وجود خدا کے اثبات، شناخت پیغمبر اور حقانیت قرآن کے بعد ''مخبرصادق'' اور '' منا بع معتبر'' کے ذریعہ، تمام فرعی مسائل اور احکامات کو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن بنیادی مسائل کو سب سے پہلے حل کرنا ضروری ہے، پس معلوم یہ ہو ا کہ روش تعبدی بھی بنیادی مسائل کے حل کے لئے نا کافی ہے، لیکن اشراقی عرفانی روش کے سلسلہ میں بہت طولانی بحث ہے۔

پہلے یہ کہ مسائل جہان بینی ایک ایسی شناخت ہے جو ذہنی مفاہیم پر مشتمل ہے لیکن متن شہود میں اسکا کوئی مقام نہیں ہے لہذا ایسے مفاہیم کے سلسلہ میں شہودپر اعتماد کرنا سھل انگاری اور ان کے ارادوں کے مطابق ہوگا۔

دوسرا یہ کہ : الفاظ و مفاہیم کے قالب میں شہودات کی تفسیر اور انھیں بیان کرنا، ایک قوی ذہن کا کام ہے، جسے عقلی کاوشوں اورفلسفی تحلیلوں میں ایک طولانی مدت تک جانفشانیوں کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا جو لوگ ایسے ذہن کے حامل نہیں ہوتے وہ اپنی تعبیرات میں متشابہ مفاہیم کا استعمال کرتے ہیں جو گمراہی کے عظیم عوامل میں شمار ہوتے ہیں۔

تیسرے یہ کہ : بہت سے مقامات پر جو چیز واقعاً شہود میں آشکار ہوتی ہے خیالی انعکاس

اور ذہنی تفسیر کی وجہ سے خود خود مشاہدہ کرنے والے کے لے ، شک و تردید کا باعث ہوتی ہے۔

چوتھے یہ کہ : ان حقائق کی جستجو جسے تفسیر ذہنی (معرفت) کا نام دیا جاتا ہے سیر و سلوک میں سالہا سال زحمت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، سیر و سلوک کی روش کو قبول کرنا علمی شناخت کا ایک حصہ ہے، جس میں معرفت کے بنیادی مسائل اور مبانی نظری سے واقف ہونے کی ضرورت ہے،لہٰذا سیر و سلوک میں سفر سے پہلے ان مسائل کا حل کرنا ضروری ہے تا کہ نتیجہ میں کشف و شہود حاصل ہو سکے درں حالیکہ شہود ی شناخت کا مرحلہ انجام کار ہے اصولاً عرفان حقیقی اس کو حاصل ہوتا ہے جو راہ خدا میں خالصةً لوجہ اللہ(صرف خدا کی مرضی کے لئے) زحمت اٹھائے اورایسی سعی و کوشش راہ بندگی و اطاعت میں شناخت خدا پر منحصر ہے، جسے سب سے پہلے حاصل کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ:

اس تحقیق کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ تنہا وہ راستہ جس نے معرفت شناسی کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنے والوں کے سامنے راہیں ہموار کی ہیں وہ راہ عقل اور روش تدبر و تفکر ہے، اور اس لحاظ سے جہان بینی واقعی کو جہان بینی فلسفی تسلیم کرناچاہیے ۔

البتہ عقل کے ذریعہ ان مسائل کو حل کرنا اور معرفت کو فلسفی مباحث میں منحصر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحیح معرفت حاصل کرنے کے لئے تمام فلسفی مسائل کا حل کیا جانا ضروری ہے بلکہ اس راہ میں صرف بد یہی اور چند مسائل کا حل کر لینا ہی کافی ہے کہ جو معرفت کے بنیادی مسائل میں شمار ہوتے ہیں، اگر چہ اس کے باوجود ایسے مسائل اور اسی قسم کے بہت سے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے فلسفی مہارتوں کا زیادہ ہونا ضروری ہے، اسی طرح شناخت عقلی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے مفید طریقہ شناخت کو بہ روی کار لانے کا مطلب یہ نہیں ہے بقیہ معلومات کو ترک کردیا جائے بلکہ بہت سے عقلی استدلالات میں ان مقدمات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، جو علم حضوری یا حس و تجربہ کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں، جس طرح سے کہ ثانوی مسائل اورفرعی اعتقادات کو حل کرنے کے لئے تعبدی شناخت کا سہارالیا جاسکتا ہے اور انھیں کتاب و سنت (دین کے معتبر منابع) کی اساس پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔

صحیح معرفت اور آئیڈیالوجی کو حاصل کرنے کے بعد سیر و سلوک کے مراحل کو طے کرنے کے لے مکاشفات و مشاھدا ت کی منزل تک پہنچا جاسکتا ہے اور بہت سے وہ مسائل جو عقلی استدلالات کے ذریعہ حل ہوتے ہیں انھیں ذہنی مفاہیم کے واسطہ کے بغیر حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سوالات

١۔ شناخت انسان کی اقسام اور ہر ایک کی وسعت کو بیان فرمائیں؟

٢۔ معرفت کی کتنی قسمیں تصور کی جا سکتی ہیں؟

٣۔ معرفت کے بنیادی مسائل کس طرح ثابت کئے جا سکتے ہیں؟

٤۔ جہان بینی علمی ( معرفت علمی ) پر تنقید و تبصرہ کریں؟

٥۔ معرفت کے مسائل کو بیان کرنے کے لئے تجربی شناختوں سے کس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے؟

٦۔ عقیدتی مسائل کے اثبات میں کس طرح اور کن موارد میں تعبدی شناختوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟

٧۔ معرفت عرفانی کی تعریف کریں؟ اور کیا شہود عرفانی کے ذریعہ معرفت کے بنیادی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے؟

____________________

(۱) اس سلسلہ میں مزید اطلاع حاصل کرنے کے لئے اس کتاب کے ددوسرے حصہ ''آموزش فلسفہ'' اور مقالہ ''شناخت'' جو کتاب پاسداری از سنگرھای ایدۓولوژیک'' میں ہے، اور ایدۓولوژی تطبیقی کے درورس میں سے پانچویں درس سے سولہویں درس تک کا مطالعہ کیا جائے

(۲) رجوع فرمائیں، آموزش فلسفہ۔ تیرہوان درس.


پانچواں درس

خدا کی معرفت

مقدمہ

حضوری اورحصولی معرفت

فطری معرفت

مقدمہ

اب تک ہمیں یہ معلوم ہوا کہ دین کی اساس و بنیاد کائنات کے خلق کرنے والے پر اعتقاد (یقین ) رکھنا ہے اور معرفت الٰہی اورمعرفت مادی کے درمیان اصلی فرق اسی کا پایا جانا اور نہ پایا جانا ہے

لہٰذا سب سے پہلا وہ مسئلہ جو حقیقت کے چاہنے والوں کے لئے پیدا ہوتا ہے اور جس کا جواب ہر شی سے پہلے ضروی ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کسی خدا کا وجود ہے یا نہیں؟ اور اس سوال کے جواب کو حاصل کرنے کے لئے جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان کیا جاچکا ہے اسے حل کرنے کے لئے عقل کی جولانیوں کی ضرورت ہے تا کہ کسی قطعی نتیجہ تک پہنچا جا سکے نتیجہ چاہے ٫٫ اثبات ،،میں ہو یا

٫٫ نفی،، میں اثبات کی صورت میں اس کے فرعی مسائل (توحید عدل اور تمام صفات الٰہی ) کی باری آتی ہے، نتیجہ کے نفی ہونے کی صورت میں مادی نظریہ کی تائید و تصدیق ہوتی ہے کہ جس کے بعد دین کے بقیہ مسائل کو حل کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔

حضوری اور حصولی معرفت۔

خدا کے سلسلہ میں دو اعتبار سے اس کی معرفت کا تصور کیا جاتا ہے ۔ ١۔معرفت حضوری۔

٢، معرفت حصولی۔ خدا کی نسبت معرفت حضوری کا مطلب یہ ہے کہ انسان مفاہیم ذہنی کو واسطہ بنائے بغیر شہود قلبی کے ذریعہ خد ا کی ذات سے آشنا ہو جائے۔

لہٰذا یہ بات روشن ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کے سلسلہ میں ایک واضح شہود سے روبرو ہوجائے

تو( جیسا کہ بلند مرتبہ عارفوں نے دعویٰ کیا ہے)، پھر کسی بھی عقلی استدلال و برہان کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ایسا شہود اور علم حضوری عام افراد(۱) کے لئے عرفانی سیر و سلوک کے مراحل طے کرنے کے بعدہی میسر ہے، اگر چہ ایسے انکشافات کا امکان عام افراد کے لئے کسی حد تک بجا ہے لیکن چونکہ معرفت کو حاصل کرنے کے لئے کافی معلومات نہیں رکھتے لہٰذا یہ چیز ان کیلئے ممکن نہیں ہو گی ۔

معرفت حصولی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کلی مفاہیم (جیسے بے نیاز خالق، عالم و قادر) یعنی ادراکات ذھنی اور ایک لحاظ سے غائبانہ طور پر خدا کی طرف نسبت دے،اور اس حد تک اعتقاد ررکھے ، کہ ایسی ذات کا وجود ہے کہ جس نے اس جہان کو پیدا کیا ہے اور پھر معرفت حصولی کے دوسرے ذرائع کو اس سے متعلق ایک منظم اصول تک رسائی ہو سکے ، جو کچھ بھی فلسفی براہین اور عقلی کاوشوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے وہ در اصل یہی معرفت حصولی ہے، لیکن جب ایسی معرفت انسان کو حاصل ہو جائے تو اسے معرفت حضوری کے سلسلہ میں بنی کوشش کرنا چا ہیے۔

فطری شناخت۔

عرفا ء ، حکماء اور دینی رہبروں کے اکثر اقوال میں اس عبارت کو اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ''خدا کی شناخت فطری ہے'' یا ' ' انسان فطرة ًخدا شناس ہے'' اس مطلب کو سمجھنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے فطر ت کے معنی سمجھنا ہوں گے۔

فطرت ایک عربی کلمہ اور ''نوع خلقت'' کے معنی میں ہے،اورانھیں امور کو فطری کہا جاتا ہے کہ جس کا ، خلقت و آفرینش تقاضا کرے، اسی وجہ سے اس کے لئے تین خصوصیات کا لحاظ کیا گیا ہے ۔

١۔ فطرت وہ موجود ہے جو نوع از موجودات کے تمام افراد میں، پائی جائے اگر چہ وہ کیفیت شدت و ضعف کے اعتبار سے متفادت ہوں۔

٢۔ فطری امور طول تاریخ میں ہمیشہ ثابت و مستحکم و نا قابل تبدیل رہے ہیں اور ایساکبھی بھی نہیں ہوسکتا کہ کسی نوع کی فطرت ایک زمانہ گذر جانے کے بعد اپنی اقتضا بدل دے اور اسی طرح زمانے کے بدلنے کی طرح اس کی اقتضا بدلتی رہے۔

( فِطرَتَ اللّه الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَیهَا لَا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّهِ ) ،)

یہی خدا کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے خدا کی خلق کی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ سو رہ روم۔ آیت/ ٣٠.

٣۔ فطری امور فطری ہونے کے لحاظ سے اور اقتضاء خلقت کے سبب اس کو سکھنے اور سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہاں اتنا ضرور ہے کہ اسے صحیح راستہ دکھانے اور قوت بخشنے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔

انسان کی فطریات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

الف: فطری معرفت کہ جو ہر انسان کے پاس تعلیم کے بغیر موجود ہے۔

ب: فطری میلانات اور رجحانات ہر فرد کی خلقت کا تقاضا و لارمہ ہیں، لہٰذا اگر ہر فطرت بشر کے لئے خدا کے سلسلہ میں ایک قسم کی شناخت ثابت ہو جائے کہ جس کے حصول کے لئے تعلیم و تعلم کی ضرورت نہ ہو تو اسے ''فطری خدا شناسی کا نام دیا جاسکتا ہے'' اور اگر تمام انسانوں میں خدا کی طرف توجہ اور اس کی پرستش کے میلانات ظاہر ہوجائیں تو اسے ( فطری خدا پرستی) کہا جاسکتا ہے۔

ہم نے دوسرے درس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ بہت سے صاحبان نظر کی رو سے دین اور خدا کی طرف توجہ پیدا کرنا انسان کی روحی خصوصیات کا تقاضا ہے کہ جسے ''حس مذہبی'' یا '' عاطفہ دینی '' کا نام دیا جاتا ہے، اب اس کے بعد ہم اس مطلب کا بھی اضافہ کرتے ہیں کہ خدا شناسی بھی انسانی فطرت کا تقاضہ ہے، لیکن جیسا کہ خدا پرستی کی فطرت ایک دیدہ و دانستہ میلان نہیں اسی طرح خدا شناسی کی فطرت بھی لاشعوری اور غیر دانستہ ہے اس لحاظ سے یہ فطرت عام افراد کو خدا شناسی کی عقلی جستجو و تلاش سے بے نیاز نہیں کر سکتی۔

لیکن اس نکتہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ ہر انسان معرفت حضوری کے ایک ادنی درجہ پر فائز ہے لہٰذا معمولی فکر و استدلال کے ذریعہ ،وجود خدا کو ثابت کرسکتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنیلا شعوری شناخت (مشاھدہ قلبی) کو قوی بنا سکتا ہے، اور آگاھانہ طور پر معرفت کے مدارج طے کرسکتا ہے۔

نتیجہ:

خدا شناسی کے فطری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل ووجود خدا سے آشنا ہے اور اس کی روح میں خدا شناسی کی فطرت موجود ہے جسے رشد و کمال دیا جاسکتا ہے۔

لیکن یہ فطرت عام افراد میں اس حالت میں نہیں ہے کہ انھیں کلی حثیت سے تفکر اورعقلی

استدلالات سے بے نیاز کردے۔

سوالات

١۔ معرفت کا سب سے بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اور اس کے اساسی ہونے کی وجہ کیا ہے؟

٢۔ خدا کے سلسلہ میں شناخت حضوری اور حصولی کی وضاحت کریں؟

٣۔ کیا شناخت حضوری کو عقلی استدلالات کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اور کیوں؟

٤۔شناخت حضور ی کے لئے شناخت حصولی کیا مدد کرسکتی ہے؟

٥۔ فطرت کے معنی بیان کریں؟

٦۔ امور فطری کی خصوصیات بیان فرمائیں؟

٧۔ امور فطری کی اقسام ذکر کریں؟

٨۔ کون سا فطری امر خدا سے مربوط ہے؟

٩۔ خدا شناسی کے فطری ہونے کے بارے میں وضاحت پیش کریں؟

١٠۔ کیا خدا شناسی کی فطرت عام لوگوں کو عقلی استدلالات سے بے نیاز کر سکتی ہے؟ اور کیوں؟

____________________

(١) البتہ ایسے مشاھدات و انکشافات کے اھل افراد سے انکار نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ ہمارا اعتقاد ہے کہ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام اپنے زمانہ طفولیت میں بھی ایسے شہودات کے مالک ہوا کرتے تھے یہاںتک کہ بعض ائمہ نے شکم مادر میں بھی ایسی شناخت کا ثبوت دیا ہے۔


چھٹا درس

خدا شناسی کا آسان راستہ

خدا شناسی کے راستے

آسان راستہ کی خصوصیات

آشنا علامات و آثار

خدا شناسی کے راستے

خدا کی معرفت حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع اور مختلف طریقے ہیں ، کہ جن کی طرف مختلف فلسفی وکلامی کتابوں، دینی رہنمائوں کے بیانات، اور آسمانی کتابوں میں اشارہ کیا گیا ہے، یہ دلائل مختلف جہتوں سے ایک دوسرے سے متفاوت ہیں جیسے کہ بعض دلیلوں میں حسی و تجربی مقدمات سے استفادہ کیا گیا ہے اور بعض دلائل محض مقدمات عقلی پر مشتمل ہیں، بعض دلیلیں خدائے حکیم کے وجود کا اثبات کرتی ہیں تو بعض ایک ایسے وجود کو ثابت کرتے ہیں جو اپنی پیدائش میں کسی دوسرے وجود کا محتاج نہیں ہے، (واجب الوجود) لہٰذا اس کی صفات کی پہچان کے لئے کچھ دوسرے دلائل کی ضرورت ہے ۔

خدا شناسی کے دلائل کو اُن پلوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو کسی ندی یا دریا سے عبور کرنے کے لئے بنائے گئے ہوں، ان میں بعض پل لکڑی کے ہوتے ہیں کہ جن سے صرف ایک ہلکا (کم وزن) آدمی آسانی سے گذرسکتا ہے اور بعض محکم اور طولانی ہوتے ہیں کہ جن سے ہر کوئی گذر سکتا ہے اور بعض پل آہنی و پر پیچ راستوں پر مشتمل ہوتے ہیں نشیب و فراز اور سُرنگوں سے گذرتے ہیں کہ جنھیں بڑی بڑی ٹرینوں کے گذرنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔

وہ لوگ کہ جو سادہ ذہن ہیں وہ آسان راستوں سے خدا کو پہچان سکتے ہیںاور اس کی عبادت انجام دے سکتے ہیں، لیکن وہ لوگ کہ جن کے ذہنوں میں شک و شبہات پائے جاتے ہیں انھیں محکم پل سے گذرنا ہوگا، اورجن کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کا انبار ہے اور طرح طرح کے وسوسہ پیدا ہوتے ہیں انھیں ایسے پل سے گذرنا ہوگا کہ جو زیادہ سے زیادہ استحکام کا حامل ہو، اگر چہ اس میں نشیب و فراز اور پیچ و خم کی مشکلات موجود ہوں۔

ہم اس مقام پر خدا شناسی کے آسان دلائل کے سلسلہ میں بحث کریں گے، اس کے بعد متوسط دلائل پیش کریں گے، لیکن پیچ وخم سے بھر پور راستے کہ جنھیں طے کرنے کے لئے فلسفہ کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اسے ایسے افراد طے کریں کہ جن کے ذہنوں میں شبہات کا انبار ہے، جو اپنے شبہات کو زائل کرنے نیز بھولے بھٹکے لوگوں کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔

آسان راستہ کی خصوصیات۔

خدا شناسی کا آسان راستہ بہت سی خصوصیات کا حامل ہے کہ جس میں سے مہم خصوصیات یہ ہیں

١۔ اس راستہ کو طے کرنے کے لئے پیچیدہ دلائل کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ایک آسان دلیل ہے کہ جسے یہاں ذکر کیا جاسکتا ہے، اسی وجہ سے وہ تمام لوگوں کے لئے خواہ وہ کسی طبقہ سے ہوں قابل فہم ہے۔

٢۔ یہ راستہ براہ راست ( خداء علیم و قدیر) کی طرف ہدایت کرتا ہے، جبکہ فلسفہ و کلام کے اکثر براہین پہلے مرحلہ میں ایک ایسے موجود کو ثابت کرنا چاہتے ہیں جو (واجب الوجود) ہے اور اس کی صفات، علم و قدرت، حکمت و خالقیت اور ربوبیت کو ثابت کرنے کے لئے دوسرے دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔

٣۔یہ راستہ ہر شی سے زیادہ فطرت کو بیدار کرنے اور فطری معرفت دلانے میں اثر انداز ہے اسی راستہ کو طے کرنے کے بعد انسان میں ایک ایسی عرفانی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ گویا وہ دست خدا کو جہان کی خلقت اور اسکی تدبیر میں مشاھدہ کرتے ہوئے محسوس کررہا ہے وہی دست خدا کہ جس سے اس کی فطرت آشنا ہے۔

انھیں خصوصیات کی وجہ سے اس راستہ کو انبیاء اور دینی رہبروں نے عام لوگوں کے لئے انتخاب کیا اور لوگوں کو اس راستہ کی طرف آنے کی دعوت دی،اور خواص کے لئے ایک دوسرے طریقہ کا ر کا انتخاب کیا یا ملحدوں اور مادی فلاسفہ کے مقابلہ میں مخصوص دلائل پیش کئے۔

آشنا نشانیاں ۔

خدا شناسی کا آسان راستہ جہان میں خدا کی آیات پر غور و فکر اور قرآن کی تعبیر کے مطابق آیات الٰہی میں تفکرکرنا ہے زمین و آسمان اور انسان کا وجود بلکہ کل جہان کی ہر شی ایک مطلوب و مقصود نشانی کے وجود سے آشنا ہے او ر ساعت قلب کی سوئیوں کو اس مرکز ہستی کی طرف ہدایت کر رہی ہیں کہ جو ھمہ وقت ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔

یہی کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے اسی کی نشانیوں میں سے ہے، کیا ایسانہیں ہے کہ اس کے مطالعہ سے اس کے مؤلف اور اس کے ہدف سے آپ آشنا ہوں گے؟ کیا آپ یہ احتمال دے سکتے ہیں کہ یہ کتاب خود بہ خود وجود میں آگئی ہے اور اس کا کوئی مؤلف و مصنف نہیں ہے؟ کیا یہ احمقانہ تصور نہیں ہے کہ کوئی یہ تصور کر بیٹھے کہ سیکڑوں جلد پر مشتمل دائرة المعارف کی کتاب ایک دھماکے سے وجود میں آ گئی، اس کے ذرّات نے حروف کی شکل اختیار کر لی اور دوسرے چھوٹے چھوٹے دھماکوں سے کاغذات بن گئے اور پھر چند دھماکوں سے پوری کتاب مرتب ہوگئی۔

کیا اس عظیم ھستی کی خلقت کو بے شمار اسرار و حکمت کے باوجود آنکھ بند کر کے ایک حادثہ مان لینا اس تصور سے ہزار گُنا احمقانہ نہیں ہے کہ جسے ہم نے بیان کیا؟!

ہاں، ہر باہدف نظام ا پنے ناظم کے عظیم ہدف پر دلالت کرتا ہے اور ایسے باھدف نظام تو اس جہان میں بے شمار ہیں کہ جن میں سب کی باز گشت ایک ہی چیز کی طرف ہے یعنی خالق حکیم نے

اس جہان کو خلق کیاہے اور اس کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔

گلستان کے دامن میں کھلنے والا پھول اور پھولوں کا درخت ،خاک و را کھ کی آغوش سے اپنی مختلف شکل و صورت میں سر اٹھاتا ہے سیب کا ایک تنا ور درخت تنہا ایک معمولی بیج کا نتیجہ ہے جو ہر سال سیکڑوں خوش ذائقہ اور لذیذ پھل عطا کرتا ہے، یہی حال بقیہ درختوں کا بھی ہے۔

اسی طرح وہ بلبل جو درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھی نغمہ سرائی کرتی ہے،انڈے کی چھال توڑ کر باہر آنے والا چوزہ زمین پر دانے چگنے کے لئے نوک مارتا ہے یا گائے کا پیدا ہونے والا بچھڑا سیر ہونے کے لئے اپنی ماں کے پستان ڈھونڈھتا ہے یا نوزاد (نو مولود) کی بھوک مٹانے کے لئے مائووں کے پستان میں اترنے والا دودھ یہ سب کچھ اسی کی آشکار نشانیاں ہیں۔

واقعاًآپ تصور کریں کہ نو مولود کے متولد ہوتے ہی ماں کے پستان میں دودھ کا آ جانا کیسا مرتب اور دقیق نظام ہے۔

وہ مچھلیاں جو انڈے دینے کے لئے پہلی مرتبہ سیکڑوں کیلو میٹر کا راستہ طے کرتی ہیں یا وہ پرندے جو دریائی گھاس پھوس میں اپنے گھونسلوں کو بخوبی پہچان لیتے ہیں یہاں تک کہ ایک بار بھی بھولے سے کسی دوسرے کے گھونسلے میں قدم نہیں رکھتے یا پھر شہد کی مکھیاں جو خوشبودار پھولوں کے رسوں کو حاصل کرنے کے لئے صبح اپنے آشیانے(چھتہ) سے باہر آتی ہیں، طولانی مسافتوں کو طے کرتی ہیں اور شام ہوتے ہی مستقیم طور پر اپنے (چھتہ) لوٹ آتی ہیں... یہ سب کی سب اس کی نشانیاں ہیں ،اور سب سے زیادہ عجیب مسئلہ تو یہ ہے کہ شہد کی مکھیاں اور گائے ، بھینس ، بھیڑ، بکریاں اپنی احتیاج سے کہیں زیادہ دودھ اور شہد دیتی ہیں تا کہ خدا کا برگزیدہ انسان اس سے استفادہ کر سکے۔

خود انسان کے بدن میں نہایت پیچیدہ اور حکیمانہ نظام قابل مشاہدہ ہیں منظم مجموعوں سے بدن کی ترکیب اور ہر مجموعہ کامتناسب اعضاسے مرکب ہونا اور ہر عضو کا لاکھوں زندہ خلیوں سے ترکیب پانا جبکہ یہ سب کے سب تنہا ایک خلیہ سے پیدا ہوئے ہیں اور ان تمام خلیوں کا ایک خاص ترکیبات سے وجود میں آنا اور پھر ہر عضوبدن کا ایک خاص مقام پر واقع ہونا ، اور تمام اعضاء بدن کا

کسی خاص ھدف کے تحت حرکت کرنا، جیسے پھیپھڑوں کے ذریعہ ا کسیجن کا حاصل کرنا اور پھر خون کے گلبل( globule )کے ذریعہ انھیں بدن کے مخنلف اعضاء تک پہنچ جانا نیز ایک معین مقدار میں جگر کے ذریعہ قند کی کمی کو پورا کرنا، نئے خلیوں کی پیدائش کے ذریعہ آسیب دیدہ عضلات کو بدلنا اور مختلف غدوں سے حاصل ہونے والے ہارمون اور سفید گلبل کے ذریعہ ضرررساں جراثیم سے مقابلہ جو بدن کو منظم رکھنے اور اس کی حیات کو باقی رکھنے کے لئے نمایاں کام انجام دیتے ہیں... یہ سب کی سب خداوند متعال کی نشانیاں ہیں، اور یہ عجیب نظام ہے کہ سیکڑوں سال گذرنے کے بعد ہزاروں دانشمند اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ تمام امور کس کے وسیلہ سے برقرار ہیں۔

ہر خلیہ اپنے چھوٹے سسٹم کے ساتھ کسی نہ کسی ھدف کے تحت اور خلیوں کا ہر دستہ ایک ایسے عضو کو تشکیل دیتا ہے جو خود با ھدف نظام ہے اور ایسے سیکڑوں سسٹم اپنی پیچیدگیوں کے ساتھ پورے ایک بدن پر حاکم ہیں، سلسلہ یہیں پر تمام نہیں ہوتا ،بلکہ موجودات کے اندرایسے ہزارں اور لاکھوں سسٹم ایسی بے کراں ہستی کو تشکیل دیتے ہیں جسے جہان طبیعت کا نام دیا جاتا ہے جونظم و کمال کے ساتھ حکیم واحد کے ہاتھوں جاری و ساری ہیں۔ اور یہ بات واضح و روشن ہے کہ علم و دانش جتنا بھی پیشرفت اور ترقی کرے گا اتنے ہی حکمت الٰہی کے اسرا رو رموز آشکار ہو تے جائیں گے اور یہی نشانیاں پاک نفس اور صاف طبیعت والوں کے لئے کافی ہیں۔

سوالات

١۔ خدا شناسی کی مختلف راہیں اور خصوصیات بیان فرمائیں؟

٢۔ خدا شناسی کا آسان راستہ کیا ہے؟ اور اس کی خصوصیات کیا ہیں؟

٣۔ موجودات عالم کی با ھدف نشانیاں ، بسط و تفصیل سے بیان کریں؟

٤۔ دلیل نظم کی منطقی شکل بیان کریں؟


ساتواں درس

واجب الوجود کا اثبات

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل مو ضوعات پر مشتمل ہے

متن برہان

امکان اوروجوب

علت و معلول

علتوں کے تسلسل کا محال ہونا

تقریر برہان

مقدمہ

ہم نے گذشتہ دروس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اسلامی فلاسفہ اور متکلمین نے خدا کے وجود کے ثابت کرنے کے لئے بہت سے دلائل اور براہین ذکر کئے ہیں جو فلسفہ وکلام کی بسیط کتابوں میں موجود ہیں، ہم ان تمام براہین میں سے ایک ایسے برہان کو بیان کریں گے کہ جسے سمجھنے کے لئے معمولی مقدمات کی ضرورت ہے ،اور جس کا سمجھنا آسان ہے۔ لیکن یہ مطلب واضح رہے کہ یہ دلیل صرف خدا کے وجود کو (واجب الوجود) ہونے کے اعتبار سے ثابت کرتی ہے یعنی وہ ایسا موجود ہے کہ جس کا وجود ضروری اور کسی پیدا کرنے والے سے بے نیاز ہے، اور ہم بقیہ صفات (ثبوتیہ و سلبیہ) جیسے علم و قدرت جسم کا نہ ہونا، زمان و مکان سے بے نیاز ہونا وغیرہ کو دوسرے دلائل کے ذریعہ ثابت کریں گے۔

متن برہان۔

کوئی بھی موجودعقلی،فرض کی بنیاد پر یاواجب الوجود ہے یا ممکن الوجود، ان دو صورتوں سے خارج نہیں ہے لہٰذا تمام موجودات کو ممکن الوجود نہیں کہا جاسکتا، اس لئے کہ ممکن الوجود کے لئے علت کا ہونا ضروری ہے اور اگر تمام علتیں ممکن الوجود ہوں اور یہ سب کی سب کسی دوسری علت کی محتاج ہوں تو پھر کبھی کوئی موجود متحقق نہیں ہوسکتا، یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق علتوں کا تسلسل محال ہے لہذا مجبوراً علتوں کا تسلسل ایک ایسے موجود پر تمام ہونا چاہیے کہ جو کسی دوسرے موجود کا معلول نہ ہو یعنی وہ

واجب الوجود ہو۔

یہ دلیل اثبات خدا کے لئے تمام دلیلوں میں ہر ایک سے آسان ہے جو چند عقلی مقدمات پر مشتمل ہے، جسے سمجھنے کے لئے کسی بھی حسی اور تجربی مقدمہ کی ضرورت نہیں ہے، لیکن چونکہ اس دلیل میں فلسفی مفاہیم اور اصطلاحات کا استعمال ہوا ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ ان اصطلاحات اور مقدمات کہ جن سے یہ دلیل مرتب ہوئی ہے وضاحت کر دی جائے۔

امکان اور وجوب۔

ایک معمولی قضیہ آسان ہونے کے باوجود، دو اساسی مفہوم (موضوع و محمول) سے تشکیل پاتا ہے، جیسے یہ قضیہ٫٫ خورشید منور ہے،، خورشید کے منور ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں٫٫خورشید،، موضوع اور٫٫منور،،محمول ہے۔

موضوع کے لئے محمول کا ثابت ہونا تین حالتوں سے خارج نہیں ہے یا محال ہے جیسے یہ کہا جائے ٫٫تین کا عدد چار کے عدد سے بڑا ہے،، یا ضروری ہے جیسے یہ جملہ ٫٫دوچار کا نصف ہے ،،یا پھر نہ ہی محال ہے اور نہ ہی ضروری جیسے کہ ٫٫خورشید ہمارے سروں پر پہنچ چکا ہے،،منطقی اصطلاح کے مطابق صورت اول میں نسبت قضیہ وصف ٫٫امتناع،، اور دوسری صورت میں وصف ٫٫ضرورت،، یا ٫٫وجوب،، اور تیسری صورت میں وصف ٫٫امکان،،٫٫اپنے خاص مضامین،، سے متصف ہے۔

لیکن چونکہ فلسفہ میں (وجود) کے سلسلہ میں بحث کی جاتی ہے اور جو، شیٔ ممتنع و محال ہو کبھی بھی وجود خارجی سے متصف نہیں ہو سکتی، لہٰذا فلاسفہ نے موجود کو فرض عقلی کی بنیاد پر واجب الوجود اور ممکن الوجود میں تقسیم کردیا ہے، واجب الوجود یعنی ایک ایسا موجود جو خود بخود وجود میں آجائے اور کسی دوسرے وجود کا محتاج نہ ہو، لہٰذا ایسا موجود ہمیشہ ازلی و ابدی ہوگا اس لئے کہ کسی چیز کا معدو م ہونا اور کسی زمانہ میں نہ ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا وجود خود سے نہیں ہے بلکہ موجو دہونے کے لئے

اُسے کسی دوسرے موجود کی ضرورت ہے جو اس کے متحقق اور موجود ہونے کی شرط ہے یا اس کے فاقد ہوتے ہی اس کا مفقود ہونا ضروری ہے اور ممکن الوجود یعنی ایک ایسا موجود کہ جس کا وجود خود سے نہ ہو بلکہ اسے موجود ہونے کے لئے کسی دوسرے موجود کی ضرورت ہو۔

یہ تقسیم جوفرض عقلی کی بنیاد پر کی گئی ہے ایک ایسے وجود کی نفی کرتی ہے کہ جو ممتنع الوجود بالضرورة ہو، لیکن یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ خارجی موجودات ممکن الوجود ہیں یا واجب الوجود یا دوسرے الفاظ کے مطابق اس قضیہ کا صادق ہونا تین صورتوں میں تصور کیا جاسکتا ہے، ایک یہ کہ ہر موجود واجب الوجود ہو، دوسرے یہ کہ ہر موجود ممکن الوجود ہو ،

تیسرے یہ کہ بعض موجودات ممکن الوجود اور بعض واجب الوجود ہوں، پہلے اور تیسرے فرض کی بنیاد پر واجب الوجود کا پایا جانا ثابت ہے لہذا اس فرضیہ کے سلسلہ میں تحقیق کرنا ہوگی کہ کیا ممکن ہے کہ تمام موجودات ممکن الوجود ہوں یا ایسا ہونا غیر ممکن ہے؟ اس فرضیہ کو باطل کرنے کے ذریعہ واجب الوجود کا وجود بطور قطعی ثابت ہو سکتاہے، اگر چہ وحدت اور بقیہ صفات کو ثابت کرنے کے لئے دوسرے دلائل کی ضروت ہے ۔

لہٰذا دوسرے فرضیہ کو باطل کرنے کے لئے ایک دوسرے مقدمہ کو اس برہان میں شامل کرنا ہوگا، اور وہ یہ ہے کہ تمام موجود کا ممکن الوجود ہونا محال ہے، لیکن چونکہ یہ مقدمہ بدیہی اور آشکار نہیں ہے لہٰذا اس طرح اسے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ممکن الوجود کو علت کی ضرورت ہے اور علتوں میں تسلسل محال ہے لہذا اس صورت میں علتوں کے تسلسل کو ایک ایسے موجود پر ختم ہونا ہوگا کہ جو کسی دوسری علت کا محتاج نہ ہو یعنی واجب الوجود ہو ،یہیںسے فلسفی مفاہیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ جس کی وضاحت کرنانہایت ضروری ہے۔

علت اور معلول۔

اگر کوئی موجود کسی دوسر ی موجود کا محتاج ہو، اور اس کا وجود دوسرے کے وجود پر منحصر ہو تو اسے فلسفہ کی اصطلاح میںمحتاج موجود کو ٫٫معلول،، اور دوسرے کو٫٫علت،، کہا جاتا ہے، لیکن علت کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ مطلقاً محتاج نہ ہو ، بلکہ وہ خود بھی کسی دوسری علت کی طرف نسبت دیتے ہوئے معلول اور اس کی محتاج ہو،اگر علت کسی بھی نیاز مندی سے مبرّا ہو تو اسے علت مطلق کہا جاتا ہے۔

یہاں تک ہم فلسفی اصطلاح علت و معلول اور ان کی تعریفوں سے آشنا ہوئے ہیں، اب اس کے بعد اس مقدمہ کی وضاحت ضرور ی ہے (کہ ہر ممکن الوجود کو علت کی ضرورت ہے)چونکہ ممکن الوجود کا وجود خود سے نہیں ہوتا لہٰذا وہ اپنے متحقق ہونے کے لئے کسی دوسرے موجود کا محتاج ہے، اس لئے کہ یہ قضیہ بدیہی اور آشکار ہے کہ ہر وہ محمول جسے موضوع کے لئے انتخاب کیا جاتا ہے یا تو،وہ خود بخود (بالذات) ثابت ہے، یا کسی دوسرے کی وجہ سے (بالغیر) اس کا ثبوت ہے جیسے کہ ایک شی یا تو خود بخود روشن ہے یا پھر کسی دوسری شی کی وجہ سے روشن ہوتی ہے، اور اس طرح ایک جسم یا تو خود بخود روغنی ہے یا پھر کسی دوسری شی کے ذریعہ اسے روغنی بنایا گیا ہے، لہٰذا یہ امر محال ہے کہ کوئی شئینہ تو خود بہ خود روشن ہو ،نہ ہی کسی شی کی وجہ سے روشن ہوئی ہو، در آں حالیکہ وہ روشن ہے ،اسی طرح ایک جسم نہ خود بہ خود بالذات روغنی ہو اور نہ ہی کسی دوسری شی کی وجہ سے روغنی ہوا ہو، اور اس کے باوجود بھی روغنی ہو تو یہ محال ہے ۔

پس ایک موضوع کے لئے وجود کا ثابت ہونا یا تو بالذات ہے یا بالغیر، اگر بالذات نہیں ہے تو ضرور بالغیر ہے، لہٰذا ہر ممکن الوجود جو خود بخود وجود سے متصف نہیں ہوا ہے وہ حتماً دوسری شی کے ذریعہ فیض وجود سے مستفیض ہوگا ، پس یہ وہی مسلمہ حقیقت کہ جسکوہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ ہر ممکن الوجود علت کا محتاج ہے لیکن بعض لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ اصل علیت کا معنی یہ ہے کہ (ہر موجود علت کا محتاج ہے) لہٰذا ان لوگوں نے یہ اشکال کیا ہے کہ پھر خدا کے لئے بھی علت ہونی چاہیے،

لیکن وہ لوگ اس نکتہ سے غافل ہیں کہ اصل علیت (موجود) بطور مطلق نہیں ہے بلکہ اس کا مو ضوع (ممکن الوجود) اور (معلول) ہے یا دوسری تعبیر کے مطابق ہر موجود محتاج علت کا محتاج ہے نہ ہر موجود۔

علتوں کے تسلسل کا محال ہونا۔

اس مقدمہ میں وہ آخری برہان جس کا استعمال ہوا ہے وہ یہ ہے کہ علتوں کا سلسلہ ایک ایسے موجود پر تمام ہو جو خود کسی کا معلول نہ ہو اس لئے کہ علتوں کا یہ نہایت تسلسل محال ہے اور اس طرح واجب الوجود کا وجود ثابت ہو جاتا ہے علت خود بخود موجود ہے اور کسی دوسرے وجود کی محتاج نہیں۔

فلاسفہ نے تسلسل کو باطل کرنے کے لئے متعدد دلیلیں پیش کی ہیں لیکن حقیقیت تو یہ ہے کہ علتوں کے سلسلہ میں تسلسل کا باطل ہونا آشکا رہے جو ایک معمولی تفکر سے سمجھ میں آجاتا ہے، یعنی چونکہ وجود معلول علت سے وابستہ اور اسی کے ذریعہ قائم ہے، اگر یہ فرض کرلیں کہ اس کی معلو لیّت عمومی ہے تو اس صورت میں کوئی موجود وجود میں نہیں آسکتا ،اس لئے کہ چند وابستہ موجودات کا ان کے مقابل موجود کے وجود ہونے کے بغیر فرض کرنا معقول نہیں ہے۔

آپ یہ فرض کریں کہ دوڑکے میدان میں ایک ٹیم طے کی جانے والی مسافت کے آغاز میں کھڑی ہے، اور سب کے سب دوڑنے کے لئے بالکل آمادہ ہیں، لیکن ہر ایک کا یہی ارادہ ہے کہ جب تک دوسرا نہیں دوڑتا وہ بھی نہیں دوڑے گا، یہ ارادہ اگر واقعاً عمومیت سے متصف ہو تو پھر ان میں سے کوئی بھی دوڑنے کے لئے قدم نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح اگر ہر موجود کا وجود میں آنا دوسرے موجود کے وجود میں آنے پر منحصر ہو توپھر کبھی بھی کوئی موجود وجود میں نہیں آسکتا، لہذاخارجی موجودات کا وجود میں آنا، اس بات کی علامت ہے کہ کوئی بے نیاز او غنی موجود ہے۔

تقریر برہان۔

گذشتہ بیان کئے گئے مقدمات کی روشنیمیں ایک بار پھر اسی برہان کا تکرارکرتے ہیں ہر وہ چیز جسے موجود کہا جاسکتا ہو وہ دو حال سے خارج نہیں، یا تو اس کے لئے وجود ضروری ہے یعنی وہ خود بخود موجود ہے کہ جسے اصطلاح میں (واجب الوجود) کہا جاتا ہے یا پھر اس کے لئے وجود کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ کسی دوسرے وجود کی برکت سے عالم وجود میں آیا ہے تو اسے اصطلاح میں (ممکن الوجود) کہا جاتا ہے اور یہ بات روشن ہے کہ جس چیز کا وجود محال ہو اس کا موجود ہونا غیر ممکن اور کسی بھی صورت میں اسے موجود کا نام نہیں دیا جاسکتا لہٰذا ہر موجود یا واجب الوجود ہے یا ممکن الوجود ۔

مفہوم (ممکن الوجود) میں غور و فکر کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جوشی بھی اس مفہوم کی مصداق بنے وہ علت کی محتاج ہوگی، اس لئے کہ جب کوئی موجود خود بخود موجود میں نہ آیا ہو تو مجبوراً کسی دوسرے موجود کے ذریعہ وجود میں آیا ہے جیسا کہ ہر وہ وصف جو بالذات نہ ہو تو اس کا بالغیر ہونا ضروری ہے اور قانون علیّت کا مفاد بھی یہی ہے کہ ہر وابستہ اور ممکن الوجود، کسی نہ کسی علت کا محتاج ہے کیا یہ کہنا درست ہے کہ بے علت خدا پر اعتقاد رکھناقانون علیت کو توڑناہے!

اور اگر ہر ممکن الوجود علت کا محتاج ہو تو کسی بھی حال میں کوئی موجود محقق نہیں ہوسکتا، یہ فرض بالکل اسی طرح ہے جسمیں ہر فرد اگر اپنے اقدام کو دوسرے کے آغاز پر مشروط کردے تو پھر کسی قسم کا کوئی اقدام وقوع پذیر نہیں ہوسکتا، لہذا خارجی موجودات کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی واجب الوجود موجود ہے۔

سوالات

١۔ امکان اور وجوب کی اصطلاح کو منطقی اور فلسفی اعتبار سے بیان کریں؟

٢۔ واجب الوجود اور ممکن الوجود کی تعریف کریں؟

٣۔تقسیم عقلی کی بنیاد پر واجب الوجود اور ممکن الوجود کی کتنی صورتیں فرض کی جا سکتی ہیں ؟

٤۔علت اور معلول کی تعریف کریں؟

٥۔ اصل علیّت کا مفادکیا ہے؟

٦۔ کیوں ہر ممکن الوجود کے لئے علت کی ضرورت ہے؟

٧۔کیا اصل علیّت کا تقاضہ یہ ہے کہ خدا کے لئے بھی کسی علت کا ہونا ضروری ہے؟ کیوں؟

٨۔کیا بدون خالق خدا پر اعتقاد اصل علیت کا نقض کرنا ہے؟

٩۔علتوں کے درمیان تسلسل کے محال ہے، بیان فرمائیں؟

١٠۔ اس برہان کی شکل منطقی کو بیان کریں اور واضح کریں کہ اس سے کون سا مطلب ثابت ہوتا ہے۔؟


آٹھواں درس

خدا کی صفات

مقدمہ

یہ بحث مند رجہ ذیل مو ضو عات پہ مشتمل ہے

خدا کا ازلی و ابدی ہونا

صفات سلبیہ

موجودات کو وجود بخشنے والی علت

موجودات کو وجود بخشنے والی علت کی خصوصیات

مقدمہ

گذشتہ دروس میں ہم نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ فلسفی دلائل کا نتیجہ ایک ایسے موجود کا ثابت کرنا ہے جو بعنوان (واجب الوجود) ہے اور دوسرے دلائل کے ذریعہ اس کے سلبی اور ثبوتی صفات کو ثابت کیا جاتا ہے تاکہ خدا وندعالم اپنے مخصوص صفات کے ذریعہ مخلوقات کے دائرے سے الگ ہو کر پہچانا جائے ، اس لئے کہ معرفت کے لئے صرف واجب الوجود کی حثیت سے جاننا کافی نہیں ہے، کیوں ؟ اس لئے کہ ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ خیال کرے کہ مادہ یا انرجی (قوت و طاقت) بھی واجب الوجود کا مصداق بن سکتے ہیں، لہٰذا اس کی سلبی صفات ثابت ہونا چاہیے تا کہ اس طرح یہ معلوم ہو جائے کہ واجب الوجو د کی ذات ، اُن صفات سے منزہ ہے جو مخلوقات میں پائی جاتی ہیں اور اس کی صفات مخلوقات پر صادق نہ آ سکتی اسی طرح اس کی صفات ثبوتیہ کا بھی ثابت ہونا ضروری ہے تا کہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ لائق پرستش و عبادت ہے، اور دوسرے عقائد، نبوت، معاد ا ور فروع کے اثبات کا راستہ آسان ہوجائے۔

گذشتہ برہان و دلیل سے یہ ثابت ہوگیا کہ واجب الوجود کو علت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہ ممکنات کے لئے خود علت ہے، یا دوسری تعبیر کے مطابق واجب الوجود کے لئے دو صفت ثابت ہیں ایک یہ کہ وہ ہر شی سے بے نیاز ہے، اس لئے کہ اگر اس میں معمولی سے احتیاج بھی پائی گئی تو وہ جس شی کا محتاج ہوگا وہ شیء اس کی علت بن جائے گی، کیونکہ بخوبی ہمیں معلوم ہے کہ (فلسفی اصطلاح )

میں علت کے معنی یہی ہیں کہ تمام موجودات اس کے محتاج ہوں اور دوسرے یہ کہ ممکن الوجودشی اس کی طرف نسبت دیتے ہوئے معلول ہیں، اور اس کی ذات تمام اشیاء کی پیدائش کی سب سے پہلی علت ہے۔

ان دو نتیجوں کے بعد ان کے لوازمات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ، صفات سلبیہ اور صفات ثبوتیہ کو پیش کریں گے، البتہ انھیں ثابت کرنے کے لئے فلسفی اور کلامی کتابوں میں متعدد دلیلیں ذکر کی گئیں ہیں، اسی لئے ہم یہاں صرف یہاں بات کو آسانی سے سمجھنے کے لئے اور سلسلہ کلام کو ربط دیتے ہوئے انھیں دلائل کو ذکر کریںگے جو گذشتہ براہین سے مربوط ہوں۔

خدا کا ازلی و ابدی ہونا۔

اگر کوئی موجود کسی دوسرے موجود کا معلول اور اس کا محتاج ہو تو پھر اس کا وجود اسی کا تابع کہلائے گا اور علت کے جاتے ہی اس کا وجود مٹ جائے گا، یا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ کسی بھی موجود کا معدوم ہوجانا ،اس کے ممکن الوجود ہونے کی علامت ہے، اور چونکہ واجب الوجود کا وجود خود بخود ہوتا ہے اور وہ اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں ہوتا ہے لہٰذا وہ ہمیشہ ہمیشہ باقی بھی رہے گا۔

اس طرح واجب الوجود کے لئے دو صفتیں اور ثابت ہوتی ہیں، ایک اس کا ازلی ہونا، یعنی گذشتہ ادوار میں بھی تھا ،اور دوسرا ابدی ہونا یعنی وہ مستقبل میں بھی باقی رہے گا، اور کبھی کبھی ان دونوں اصطلاحوں کو ایک کلمہ (سرمدی) کے تحت بیان کیا جاتا ہے۔

لہذا ہر وہ موجود جس میں سابقۂ عدم یا امکان زوال ہو وہ کبھی بھی واجب الوجود نہیں ہو سکتا لہذااس طرح سے تمام مادی قضایا کے واجب الوجود ہونے کا مفروضہ باطل ہو جاتا اور اس کا باطل ہونا بہت زیادہ واضح و روشن ہے۔

صفات سلبیہ۔

واجب الوجود کے لوازمات میں سے ایک صفت بساطت اور اس کا مرکب نہ ہونا ہے، اس لئے کہ ہر مرکب شی کا اس کے اجزا کی جانب محتاج ہونا واضح ہے، جبکہ واجب الوجود ہر قسم کی احتیاج سے مبرا ہے۔

اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ واجب الوجود کے اجزا بالفعل نہیں ہیں ،بلکہ ایک لکیر کے ضمن میں دو لکیروں کا فرض کرنا ہے، تو یہ فرض بھی باطل ہے، اس لئے کہ وہ چیز جو بالقوہ اجزا کی مالک ہو وہ عقلاً تجزیہ کے قابل ہوگی، اگر چہ وہ خارج میں متحقق نہ ہو اور تجزیہ کے ممکن ہونے کا مطلب تمام امکان کا زائل ہونا ہے، چنانچہ اگر ایک میٹر لمبی لکیر کو دوحصوں میں تقسیم کردیا جائے تو اس کے بعد وہ ایک میٹر لمبی لکیر نہیں رہ سکتی، اور یہ مطلب ہمیں پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ واجب الوجود کے لئے زوال نہیں ہے۔

اور چونکہ بالفعل اجزا سے مرکب ہونا اجسام کا خاصہ ہے، لہٰذا اس سے یہ مطلب بھی واضح جاتا ہے کہ کوئی بھی جسمانی موجود واجب الوجود نہیں ہو سکتا یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق اس کے ذریعہ خدا کا مجرد ہونا اور جسمانی نہ ہونا ثابت ہوجاتا ہے، نیز یہ مطلب بھیروشن ہوجاتا ہے کہ ذات خداوند متعال کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا اور ظاہر ی وسائل سے محسوس نہیں کیا جاسکتا، ا س لئے کہ محسوس ہونا اجسام و جسمانیات کے خواص میں سے ہے جسمانیت کی نفی کے ذریعہ اجسام کے اپنے تمام خواص جیسے مکان و زمان سے متعلق ہونا بھی واجب الوجود سے سلب ہوجاتا ہے، اِس لئے کہ مکان اُس کے لئے متصور ہے جس میں حجم و امتداد ہو، اسی طرح ہر وہ شی جس میں زمانہ پایا جاتا ہو وہ لحظہ اور امتداد زمانہ کے لحاظ سے قابل تجزیہ ہے اور یہ بھی ایک قسم کا امتد اد اور اجزا بالقوہ کی ترکیب ہے، لہٰذا خدا کے لئے مکان و زمان کا تصور باطل ہے اور کوئی بھی مکان و زمان سے متصف موجود واجب الوجود نہیں ہوسکتا۔

سر انجام، واجب الوجود سے زمان کی نفی کے ذریعہ حرکت و تغیر اور تکامل( کمال کی طرف جانے ) کا تصور بھی باطل ہوجاتا ہے، اس لئے کہ زمان کے بغیر کوئی بھی حرکت اور تغیر غیر ممکن ہے۔

لہٰذا وہ لوگ جو خدا کے لئے مکان ،جیسے عرش کے قائل ہوئے ہیں، یا اس سے حرکت اور آسمان سے نزول کی نسبت دی ہے یااُ سے آنکھوں سے قابل دید سمجھا ہے ،یا اسے قابل تغیر اور حرکت جانا ہے، در اصل ان لوگوں نے خدا کو بخوبی درک نہیں کیا ہے۔(۱)

کلی طور پر ہر وہ مفہوم جو کسی بھی انداز میں نقص، محدودیت یا احتیاج پر دلالت کرے خدا کے لئے منتفی ہے، اور صفات سلبیہ کا مطلب بھی یہی ہے۔

موجودات کو وجود بخشنے والی علت۔

گذشتہ دلیل کے ذریعہ جو مطلب واضح ہو چکا ہے وہ یہ ہے کہ واجب الوجود ممکنات کی پیدائش کا سبب ہے، اب اس کے بعد اس مطلب کے دوسرے پہلو کے سلسلہ میں بحث کریں گے، پہلے مرحلہ میں علت کی اقسام کی ایک مختصر وضاحت کرنے کے بعد علیّت الٰہی کی خصوصیات بیان کریں گے۔

علت اپنے عام معنی میں ہر اس موجود کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی دوسرے موجود سے وابستہ اور اس کے مد مقابل ہو، یہاں تک کہ یہ شروط اور مقدمات(۲) کو بھی شامل ہے اور خدا کے علت نہ رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ کسی بھی موجود سے وابستہ نہیں ہے، یہاں تک کہ اس کے لئے کسی قسم کی شرط یا معدی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن مخلوقات کے مقابلہ میں خدا کے علت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خلقت کووجود بخشنے والا ہے، جو علیت فاعلی کی ایک خاص قسم ہے، اس مطلب کی وضاحت کے لئے ہم مجبور ہیں کہ علت کی اقسام کو اجمالاً بیان کریں ،اور اس کی تفصیلی وضاحت کو فلسفی کتابوں کے حوالہ کرتے ہیں۔

ہمیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ایک سبرے کے اُگنے اور بڑھنے کے لئے مناسب بیج، زمین، خاک، آب و ہوا وغیرہ کی ضرورت ہے،اوریہ بھی طبیعی ہے کہ اسے کوئی زمین میں بوئے، اور اس کی آبیاری کرے، مذکورہ علّت کی تعریف کے مطابق جو کچھ ذکر کیا گیا وہ سبزے کے رشدو نمو کی علتیں ہیں۔

ان مختلف علتوں کو مختلف نظریات اور عقائد کے تحت چند اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے علتوں کا وہ مجموعہ کہ جس کا وجود معلول کے لئے ہمیشہ ہونا ضروری ہے (علت حقیقی) اور علتوں کا وہ مجموعہ کہ جس کی بقا ،معلول کی بقا کے لئے لازم نہیں ہے (جیسے سبزہ کے لئے کسان) ( علت اعدادی) یا( معدات) کہا جاتا ہے، اسی طرح جانشین پذیز علتوں کو ( علت جانشینی) اور بقیہ علتوں کو ( کلت انحصاری) کا نام دیا جاتا ہے۔

لیکن ایک علّت اور بھی ہے جو ان تمام علتوں سے متفاوت ہے جسے سبزہ کی رشد کے لئے ذکر کیا گیا ہے، جسے بعض نفسانی قضایا میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، جب انسان اپنے ذہن میں کسی کی صورت کو خلق کرتا ہے یا کسی امر کے انجام دینے کا ارادہ بناتا ہے تو ا س کے ساتھ فوراً ہی ایک نفسانی اثر بنام (صورت ذہنی) اور (ارادہ) متحقق ہوتا ہے کہ جس کا وجود، نفس کے وجود سے وابستہ ہے اسی وجہ سے ا ُسے اس کا معلول مانا جاتا ہے، لیکن معلول کی یہ قسم ایسی ہے کہ جو اپنی علت سے کسی بھی اعتبار سے مستقل و بة نیاز نہیں ہے اور وہ کبھی بھی اس سے جدا ہو کر مستقل نہیں رہ سکتی، اس کے علاوہ نفس کی فاعلیّت، صورت ذہنی یا ارادہ کی طرف نسبت دیتے ہوئے ان شرائط سے مشروط ہے کہ جس کی وجہ سے نقص، محدودیّت اور ممکن الوجود ہونا لازم آتا ہے، لہٰذا جہان کے لئے واجب الوجود کی فاعلیت قضایا ئے ذھنی کے لئے نفس کی فاعلیت سے بالا تر ہے کہ جس کی نظیر تمام فاعلوں میں نہیںملتی اس لئے کہ وہ کسی بھی احتیاج کے بغیر اپنے اس معلول کو وجود میں لاتا ہے کہ جس کی تمام ہستی اس سے وابستہ ہے۔

وجود بخشنے والی علت کی خصوصیات۔

اب تک جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کے مطابق وجود آ)فرین علت (وجود بخشنے والی علت) کی چند خصوصیات بیان کی جاسکتی ہیں۔

١۔ علت وجود آفرین کو اپنے معلولات کے تمام کمالات سے بنحو احسن و اکمل متصف ہونا ضروری ہے تاکہ وہ ہر موجود میں اس کی ظرفیت کے مطابق اضافہ کر سکے برخلاف علت ٫٫مادی،، وعلت٫٫معدی،، کة وہ فقط اپنے معلولات میں تغیر و تحول ایجاد کرتی ہے، اس کے لئے لازم نہیں ہے وہ ان تمام کمالات کے مالک ہوں جیسے کہ خاک کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ اس میں سبزہ کی تمام خصوصیات ہوں،یا ماں باپ اپنی اولاد کی خصوصیات سے متصف ہوں، لیکن وجود آفرین خدا کا اپنی بساطت کے باوجود تمام کمالات وجودی سے متصف ہونا ضروری ہے۔(۳)

٢ ۔ علّت وجود آفرین اپنے معلول کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور اس کی خلقت کے ساتھ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، لیکن فاعل طبیعی کاحال بالکل اس سے متفاوت ہے کہ جن کا کام صرف معلول کے میں تغیر ایجاد کرنا اور قوت و طاقت صرف کرنا ہے اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ مخلوقات کی خلقت سے واجب الوجود سے کوئی چیز کم ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذات الٰہی میں تجزیہ پذیری ممکن ہے جبکہ اس کا باطل ہونا ثابت ہو چکا ہے۔

٣۔علت وجود آفرین ایک حقیقی علت ہے جسکا معلول کی بقا کے لئے باقی رہنا ضروری ہے لیکن علت اعدادی میں معلول کی بقا، علت کی بقا سے وابستہ نہیں ہے۔

لہٰذا جو کچھ بھی بعض اہل سنت کے متکلمین سے نقل ہوا ہے کہ عالم اپنی بقا میں خدا کا محتاج نہیں ہے، یا بعض اقوال جو غربی فلاسفہ سے نقل ہوئے ہیں کہ جہان طبیعت کی مثال ایک گھڑی کی طرح ہے ہمیشہ کے لئے اس میں چابی بھر دی گئی ہے جسے اپنی حیات کو جاری رکھنے کے لئے خدا کی ضرورت نہیں ہے یہ سب کچھ حقیقت کے بر خلاف ہے بلکہ جہان ہستی ہمیشہ ہر دور اور تمام حالات میں خدا کی محتاج ہے، اور اگر وہ( حق تعالی )ایک لحظہ کے لئے بھی افاضہ ہستی سے نظر پھیر لے، تو اس کا وجود مٹ جائیگا۔

سوالات

١۔ صفات خدا کی پہچان کیوں ضروری ہے؟

٢۔گذشتہ برہان سے کیا نتیجہ حاصل ہوتا ہے؟

٣۔ خدا کے ازلی و ابدی ہونے کو ثابت کریں؟

٤۔ کس طرح ذات خدا کے بسیط ہونے اور اجزا بالفعل و بالقوہ سے مبرا ہونے کو ثابت کیا جاسکتا ہے؟

٥۔ خدا کے جسمانی نہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟

٦۔ کیوں خدا کو دیکھا نہیں جاسکتا؟

٧۔ کس دلیل کی بنیاد پر خدا مکان و زمان نہیں رکھتا؟

٨۔ کیا حرکت و سکون کو خدا سے نسبت دی جا سکتی ہے؟ کیوں؟

٩۔ علت کی قسمیں بیان کریں؟

١٠۔ علّت وجود آفرین کی خصوصیات کی شرح بیان کریں؟

____________________

(١)مکان رکھنا، آسمان سے نازل ہونا اور آنکھوں سے دیکھائی دینے کا عقیدہ بعض اہل سنت کا ہے، تغیر و تکامل کا نظریہ فلاسفہ غرب کی ایک جماعت کا ہے جن میں سے ھگل، برگسوں اور ویلیام جیمز ہیں، لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تغیر اور حرکت کی نفی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ساکن ہے بلکہ اس کی ذات کے ثبات کے معنی میں ہے اور ثبات، تغیر کی نقیض ہے، لیکن سکون حرکت کے مقابلہ میں عدم ملکہ ہے، اور اس چیز کے علاوہ کہ جس میں حرکت کی قابلیت ہو کسی دوسری شی کے لئے نہیں بولا جاتا

(٢)علل اعدادی کو کہا جاتا ہے۔

(۳)یہ معلوم ہونا چا ہیے کہ مخلوقات کے کمالات کے حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے مفاہیم (جیسے مفہوم جسم و انسان) بھی خدا پر قابل صدق ہوں، اس لئے کہ ایسے مفاہیم محدود اور ناقص موجودات پر دلالت کرتے ہیں، اسی وجہ سے خدا پر قابل صدق نہیں ہیں کہ جو بے نہایت کمالات کا مالک ہے۔


نواں درس

صفات ذاتیہ

مقدمہ

صفات ذاتیہ اور فعلیہ

صفات ذاتیہ کا اثبات

حیات

علم

قدرت

مقدمہ

ہمیں یہ معلوم ہے کہ خدا وند عالم علت وجود آفرین کائنات ہے، جس میں تمام کمالات جمع ہیں اور موجودات میں پائی جانے والی تمام صفتیں اور کمالات اسی کی ذات سے وابستہ ہیں، لیکن بندوں میں کمالات کے افاضہ سے اس کے اندر کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، تقریب ذہن کے لئے اس مثال کا سہارا لیا جاسکتا ہے، کہ استاد اپنے شاگرد کو جو کچھ اپنے علم سے فائدہ پہنچا تا ہے اس کی وجہ سے استاد کے علم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، البتہ خدا کی جانب سے وجود اور وجودی کمالات کا افاضہ اس مثال سے کہیں زیادہ بالاتر ہے، شاید اس ضمن میں سب سے واضح تعبیر یہ ہو کہ عالم ہستی ذات مقدس الٰہی کا جلوہ ہے، جسے اس آیت کریمہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے،

( اللّٰهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ ) .(۱)

خدا تو سارے آسمان اور زمین کا نور ہے

الٰہی کمالات کے لامتناہی ہونے کے پیشِ نظر ہر وہ مفہوم جو نقص و محدودیت سے پاک ہو اور کمال ہونے پر دلالت کرتا ہو اسے خدائے وحدہ 'لا شریک کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ قرآنی آیات اور ائمہ معصومین کی طرف سے صادر ہونے والی احادیث، ادعیہ، اور مناجاتوں میں نور، کمال، جمال، محبت اور بہجت جیسے مفاہیم استعمال ہوئے ہیں، لیکن جو کچھ فلسفہ و کلام کتابوں میں صفات الٰہی کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے، ان کی دو قسمیں ہیں، (صفات ذاتیہ اور فعلیہ) لہٰذا پہلے مرحلہ اول میں اس تقسیم کی وضاحت کے بعد ،ان میں سے اہم ترین صفات کے سلسلہ میں بحث کریں گے۔

صفات ذاتیہ اور فعلیہ۔

وہ صفات جسے خدا کی ذات سے نسبت دی جاتی ہے وہ یا تو وہ مفاہیم ہیں جو ذات احدیت میں موجود ہ کمالات سے حاصل ہوتے ہیں جیسے حیات، علم اور قدرت، یا پھر وہ مفاہیم ہیں جو عبد اور معبود کے درمیان رابطہ سے حاصل ہوتے ہیں جیسے خالقیت، رازقیت، لہٰذا پہلی قسم کو صفات ذاتیہ اور دوسری قسم کو صفات فعلیہ کہا جاتا ہے۔

صفات کی ان دو قسموں میں فرق یہ ہے کہ پہلی قسم میں، خدا ان صفات کے لئے عینی مصداق ہے لیکن دوسری قسم میں خالق و مخلوق کے درمیان موجودہ نسبت کی حکایت ہے، ذات الٰہی اور مخلوقات دو طرفہ حثیت سے پہچانے جاتے ہیں ، جیسے کہ صفت خالقیت مخلوقات کی ذات ،وجود خدا سے وابستگی کی بنا پر اخذ ہوتی ہے اور اس نسبت کی تشکیل اس کی دوطرفہ ، خدا ،و مخلوق سے ہوتی ہے خارج میں ذات مقدس الٰہی اور مخلوقات کے علاوہ کسی تیسری شیء کا کوئی وجود نہیں ہے، البتہ خداوند متعال خلقت کی قدرت سے متصف ہے لیکن (قدرت) اس کی ذاتی صفات میں سے ہے اور٫٫خلق کرنا،، ایک ایسا مفہوم ہے جو اضافی ہونے کے ساتھ مقام فعل سے ظہور میں آتا ہے، اسی وجہ سے (خالقیت) کا شمار صفات فعلیہ میں کیا جاتا ہے، مگر یہ کہ (خلق پر قادر) ہونے کے معنی لئے جائیں تو اس صورت میں اس کی بازگشت بھی صفت قدرت کی طرف ہوگی۔

حیات،و علم اور قدرت خدا کی مہم ترین صفات ذاتیہ میں سے ہیں، لیکن اگر سمیع و بصیر بہ معنی ،سنی اور دیکھی جانے والی چیزوں کا علم رکھنے والا ہو، یا سمع و ابصار کے معنی میں ہوں تو ان صفات کی باز گشت علیم و قدیر ہے اور اگر ان صفات کا مطلب بالفعل دیکھنا اور سننا ہوجو سنی اور دیکھی جانے والی اشیا اور سننے اور دیکھنے والوں کے درمیان موجودہ رابطہ سے حاصل ہوتے ہیں تو انھیں صفات فعلیہ میں سے شمار کیا جائے گا، جیسا کہ کبھی (علم ) بھی اسی عنایت کے لئے استعمال ہوتا ہے اوراسے (علم فعلی) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بعض متکلمین نے کلام اور ارادہ کو بھی صفات ذاتیہ میں سے شمار کیا ہے کہ جن کے سلسلہ میں آئندہ بحث کی جائے گی۔

صفات ذاتیہ کا اثبات۔

قدرت و حیات اور علم الٰہی کو ثابت کرنے کے لئے سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ جب ان مفاہیم کو مخلوقات کے سلسلہ میں استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اوصاف اس کے کمالات پر دلالت کرتے ہیں، لہذا ان صفات کی علت یعنی ذات الٰہی میں ، بطور کامل ہونا ضروری ہے، اس لئے کہ مخلوقات میں پائی جانے والی تمام صفات و کمالات خدا کی طرف سے ہیں لہذا عطا کرنے والے کے پاس ایسے اوصاف ہونا ضروری ہیں تا کہ وہ دوسروں کو عطا کر سکے، اس لئے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ حیات عطا کرنے والا خود حیات سے سرفراز نہ ہو،یا مخلوقات کو علم و قدرت عطا کرنے والاخود جاہل و ناتواں ہو لہذا مخلوقات میں مشاہدہ ہونے والے کمالات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خدا بھی ان کمالات کا بغیر کسی کمی و کسر کے حامل ہے،یا دوسری تعبیر کے مطابق خدا لامتناہی علم و قدرت اور حیات کا مالک ہے

اب اس کے بعد ان صفات کی وضاحت کرتے ہیں۔

حیات۔

حیات کا مفہوم دو طرح کی مخلوقات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ایک سبزہ اور گھاس پھوس جن میں رشد و نمو کی صلاحیت ہوتی ہے ، دوسرے حیوان اور انسان کہ جو ارادہ اور شعور سے متصف ہیں لیکن پہلا معنی ، نقص و احتیاج کا مستلزم ہے اس لئے کہ رشد و نمو کا لازمہ یہ ہے کہ موجود اپنے آغاز میں اس کمال سے عاری ہو ،بلکہ خارجی عوامل کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے تغیرات سے آہستہ آہستہ کمالات کا مالک بن جائے، اور ایسا امر خداسے منسوب نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ صفات سلبیہ میں گذرچکا ہے۔

لیکن حیات کا دوسرا معنی ،ایک کمالی مفہوم ہے، ہر چند اس کے امکانی مصادیق نقص کے ہمراہ ہیں لیکن پھر بھی اس کے لئے لامتناہی مقام فرض کیا جاسکتا ہے، کہ جس میں کسی قسم کی کوئی محدودیت اور نقص کا شائبہ نہ ہو، جیسا کہ مفہوم وجود اور مفہوم کمال میں بھی ا یسا ہی ہے ۔

حیات اپنے اس معنی میں کہ جو علم اور فاعلیت ارادی کا ملازم ہے یقیناًوجود غیر مادی ہو گا اگر چہ حیات کو مادی امور یعنی جاندار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اصل میں وہ اروح کی صفت ہے اور بدن کا روح سے رابطہ ہونے کی وجہ سے حیات کو بدن سے متصف کیا جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ جس طرح امتداد ، شی جسمانیت کا لازمہ ہے ،حیات بھی وجود مجرد(غیر جسمانی) کا لازمہ ہے لہذا اس طرح حیات خدا پر ایک اور دلیل ایک دلیل متحقق ہو گئی اور وہ یہ ہے کہ ذات مقدس الٰہی مجرد اور غیر جسمانی ہے جیسا کہ گذشتہ دروس میں اسے ثابت کیا جاچکا ہے اور ہر موجود مجرد، حیات سے سرفراز ہے، لہذا اس طرح خدا متعال بھی ذاتاً حیات کا مالک ہے۔

علم۔

علم کا مفہوم تمام مفاہیم میں ہر ایک سے زیادہ واضح و روشن ہے، لیکن مخلوقات کے درمیان

اس کے مصادیق محدود اور ناقص ہیں،لہٰذاان خصوصیات کے ساتھ یہ خدا پر قابل اطلاق نہیں ہے لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے کہ عقل میں اتنی توانائی ہے کہ وہ اس مفہوم ِکمالی کے لئے ایک ایسے مفہوم کا انتخاب کرئے کہ جس میں کسی قسم کی کوئی محدودیتاور نقص نہ ہو بلکہ عالم ہونا اس کی عین ذات ہو،علم خدا کے ذاتی ہونے کے یہی معنی ہیں ۔

خدا کے علم کو متعدد راستوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے، ایک وہی راستہ ہے کہ جس کی طرف تمام صفات ذاتیہ کے اثبات کے لئے اشارہ کیا جاچکا ہے، یعنی چونکہ مخلوقات کے درمیان علم پایا جاتا ہے لہٰذا خالق کی ذات میں اس کی کامل صورت کا ہونا ضروری ہے۔

دوسرا راستہ دلیل نظم کی مدد سے حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ ایک مجموعہ جس قدر نظم و ضبط کا حامل ہوگا اتنا ہی اس کے ناظم کے علم پر دلالت کرے گا، جس طرح سے کہ ایک علمی کتاب یا خوبصورت شعر یا کوئی نقاشی (آرٹ) وجود بخشنے والے کے ذوق اوراس کے علم و دانش پر دلالت کرتے ہیں اور کبھی بھی کوئی عاقل یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ایک فلسفی یا کوئی علمی کتاب کسی جاہل یا نادان شخص کے ہاتھوں لکھی گئی ہوگی لہٰذا کیسے یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایسا نظم یافتہ جہان کسی جاہل موجود کا خلق کردہ ہے؟!

تیسرا راستہ نظریجو ہے مقدمات فلسفی (غیر بدیہی)کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے جیسے یہ قاعدہ کہ ہر موجود جو مستقل ہو اور مجرد عن المادہ ہو وہ علم سے متصف ہو گا جیسا کہ یہ امر اس سے مربوط کتابوں میں ثابت کیا جاچکا ہے۔

علم الٰہی کی طرف توجہ دینا خود سازی کے ٫٫باب،،میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور اسی وجہ سے قرآن کریم میں اس کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے ۔

( یَعلَمُ خَائِنَةَ الاَعیُنِ وَمَا تُخفِ الصُّدُورُ ) .(۲)

خدا خائن آنکھوں اور دل کے رازوں سے آگاہ ہے۔

قدرت۔

وہ فاعل کہ جو امور کو اپنے ارادہ سے انجام دیتا ہے اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے امور میں صاحب ''قدرت'' ہے، لہذا قدرت یعنی فاعل مختار کا ہر اس امر کو انجام دینے کا ارادہ کہ جس کا اس سے صادر ہونے کا امکان ہے، جو فاعل جس قدر مرتبہ وجودی کی رو سے کامل ہوگا اس کی قدرت بھی اتنی ہی وسیع ہوگی، پس جو فاعل اپنے کمال میں لامتناہی ہو اس کی قدرت بھی بے نہایت ہوگی ۔

( اِنَّ اللَّهَ عَلَٰی کُلِّ شَئٍ قَدِیر ) ۔(۳)

خدا وند عالم ہر چیز پر قادر ہے۔

اس مقام پر چند نکات کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے۔

١۔ جو امر قدرت سے متعلق ہو گا اس میں امکان تحقق کا ہونا ضروری ہے، لہذا جو شی اپنی ذات کے اعتبار سے محال ہو وہ قدرت کا متعلق نہیں بن سکتی، اور خدا کا صاحب قدرت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا اپنی مثل بھی خلق کرسکتا ہے (اس لئے کہ خدا خلق نہیں کیا جاسکتا) یا دوکا عدد دو ہوتے ہوئے تین سے بڑا ہو جائے ،یا ایک فرزند کو فرزند ہوتے ہوئے باپ سے پہلے خلق کردے۔

٢۔ ہر کام کے انجام دینے کی قدرت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ان سب کو انجام دے، بلکہ وہ جسے چاہے گا انجام دے گا، اور جسے چاہے گا انجام نہیں دے گا حکیم خدا ،حکیمانہ فعل کے علاوہ کوئی اور فعل انجام نہیں دے سکتا اگر چہ وہ غیر حکیمانہ امور کے انجام دینے پر بھی قادر ہے، انشاء اللہ آئندہ دروس میں حکمت خدا کے سلسلے میں مزید وضاحت کی جائے گی۔

٣۔ قدرت کے جو معنی بیان ہوئے ہیںاس میں اختیار کے معنی بھی ہیں، خدا جس طرح بے نہایت قدرت کا مالک ہے اسی طرح لامحدود اختیارات سے سرفراز ہے، اور کوئی خارجی عامل اسے کسی عمل کے لئے زبردستی یا اس سے قدرت کو چھین لینے کی طاقت نہیں رکھتا اس لئے کہ ہر موجود کی قدرت اور اس کا وجود خود اسی کا مرہون منت ہے،لہٰذا وہ کبھی بھی اس طاقت کے مقابلہ میں مغلوب نہیں ہوسکتا کہ جسے اس نے دوسروں کو عطا کیا ہے۔

سوالات

١۔خدا کے لئے کن مفاہیم کو استعمال کیا جاسکتا ہے؟

٢۔ صفات ذاتیہ و فعلیہ کی تعریف کریں اور ان دونوں کے درمیان کا فرق بیان کریں؟

٣۔ صفات ذاتیہ کو ثابت کرنے کے لئے ایک کلی ضابطہ کیا ہے؟

٤۔حیات کتنے،معانی میں استعمال ہوتا ہے اور کون سے معنی کا استعمال خدا کے لئے درست ہے

٥۔ حیات الٰہی پر خاص دلیل کیا ہے؟

٦۔ علم الٰہی کو ت تینوں راستوں( طریقوں) سے ثابت کریں؟

٧۔ مفہوم قدرت کو بیان کریں اور خدا کی نامحدود قدرت کو ثابت کریں؟

٨۔ کون سی چیزیں قدرت سے متعلق نہیں ہوتیں؟

٩۔ کیوں خدا ناپسند امور کو انجام نہیں دیتا ؟

١٠۔ خدا کے مختار ہونے کا مطلب کیا ہے؟

____________________

(١)سورۂ نور، آیت/٣٥.

(۲)سورۂ غافر ،آیت/ ١٩.

(۳)سورۂ بقرہ۔ آیت /٢٠، اور دوسری آیات.


دسواں درس

صفات فعلیہ

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے۔

خالقیت

ربوبیت

الوہیت

مقدمہ

جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان کیا جاچکا ہے کہ صفات فعلیہ یعنی وہ مفاہیم جو ذات الٰہی اور اس کی مخلوقات کے درمیان پائے جانے والے رابطہ سے حاصل ہوتے ہیں کہ جن میں طرفین خالق و مخلوق ہیں، جیسے کہ خلق کرنے کا مفہوم مخلوقات کا، خدائے متعال سے وا بستہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے،لہذاس اگر اس رابطہ کا لحاظ نہ کیا جائے تو یہ مفہوم حاصل نہیں ہوسکتا۔

خالق و مخلوق کے درمیان لحاظ کیا جانے والا رابطہ غیر محصور ہے، لیکن پھر بھی اس کی دو قسمیں کی جا سکتی ہیں، پہلی قسم وہ روابط ہیں جو مستقیماً خالق و مخلوق کے درمیان ملاحظہ کئے جاتے ہیں جیسے ایجاد، خلق اور ابداع وغیرہ، اور دوسری قسم ان روابط کی ہے جو چنددوسرے روابط کے ذریعہ وجود میں آتے ہیں جیسے کہ رزق، اس لئے کہ پہلے مرحلہ میں روزی سے فائدہ اٹھانے والا جن چیزوں کو بہ عنوان رزق استعمال کرتا ہے اسے ملاحظہ کیا جائے، اور پھر اسے مہیا اور عطا کرنے والے کو مد نظر رکھا جائے، یا پھر ایک ایسے رابطہ کو ملاحظہ کیا جائے جو خالق و مخلوق کے درمیان پائے جانے والے چند روابط پر مترتب ہوتے ہوں جیسے مغفرت کہ جو، ربوبیت تشریعی الٰہی اور خدا کی جانب سے احکامات کے صادر ہونے اور پھر بندہ کے عصیان( گناہ) کرنے پر منحصر ہے۔

نتیجہ: صفات فعلیہ کو حاصل کرنے کے لئے خالق و مخلوق کے درمیان مقایسہ اور خالق و مخلوق کے درمیان موجود ہ رابطہ کا لحاظ کرنا ہوگا تا کہ ان روابط کے ذریعہ ایک مستقل مفہوم وجود میں آئے اِس وجہ سے ذات مقدس الٰہی خود بخود اور اُن روابط کے لحاظ کئے بغیر صفات فعلیہ سے متصف نہیں ہو سکتی لہذا صفات ذاتیہ اور صفات فعلیہ کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے۔

البتہ جسیا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ امکان ہے کہ اگر صفات فعلیہ کو ان کے مبادی اور منشا کے تحت ملاحظہ کیا جائے تو اس صورت میں ان سب کو صفات ذاتیہ کی طرف لوٹانا ہوگا، جیسا کہ اگر خالق یا خلاق کو اس معنی میں لیا جائے کہ جس میں خلق کی قدرت ہو تو اس کی باز گشت صفت ٫٫قدیر،، کی طرف ہوگی یا اگر صفت ٫٫سمیع ،، اور بصیر کو مبصرات و مسموعات کے جاننے والے کے معنی میں لیا جائے تو اس کی باز گشت ''علیم'' کی طرف ہوگی۔

اسی طرح وہ بعض مفاہیم جنھیں صفات ذاتیہ میں شمار کیا جاتا ہے انھیں ایک اضافی اور فعلی معنی میں ملاحظہ کیا جائے تو اس صورت میں ان کا شمار صفات فعلیہ میں ہوگا جیسے کہ مفہو م علم قرآن میں متعدد مقامات پر بطور صفات فعلی استعمال ہوا ہے(۱)

وہ مہم نکتہ جسے یہاں بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جب خدائے متعال اور مادی موجودات کے درمیان رابطہ تصور کیا جاتاہے اور اس طرح خدا کے لئے صفات فعلی حاصل ہوتے ہیں تو یہ صفات اس رابطہ کے طرف موجودات مادی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قید زمانی و مکانی سے منسوب ہوتے ہیں اگرچہ اس رابطہ کی پہلی طرف یعنی خدا ایسے قیود اور حدود سے منزہ ہے۔

جیسے کہ رزق خدا سے لطف اندوز ہونے والے کا عمل ایک خاص زمان و مکان میں واقع ہوتا ہے لہٰذا یہ قید روزی سے مستفیض ہونے والے سے متعلق ہوگی نہ روزی عطا کرنے والے سے اس لئے کہ ذات الٰہی ہر قسم کے زمان و مکان سے مستغنی ہے۔

یہ نکتہ ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعہ ان صفات اور افعال الٰہی کو حل کیا جا سکتا ہے کہ جن کی وجہ سے متکلمین کے درمیان شدید اختلاف ہے۔

خالقیت۔

واجب الوجود کے اثبات کے بعد ممکن الوجود کی خلقت کی پہلی علت کے عنوان سے اور اس مطلب کے پیش نظر کہ تمام ممکن الوجود اپنی ہستی میں اس کے محتاج ہیں واجب الوجود کے لئے صفت خا لقیت اور ممکن الوجود کے لئے مخلوقیت کا مفہوم حاصل ہوتا ہے مفہوم خالق جو اس رابطہ کے ذریعہ وجود میں آتا ہے علت وجود آفرین اور موجد ( ایجاد کرنے والا) سے مساوی ہے اور تمام ممکن الوجود اور ضرورت مند موجودات اس رابطہ کے ایک طرف ہونے کی وجہ سے صفت مخلوقیت سے متصف ہوتے ہیں۔

لیکن کبھی کلمہ ''خلق'' محدود معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور تنہا وہی موجودات اس رابطہ کے طرف قرار پاتے ہیں کہ جو مادہ اولیہ سے خلق ہوئے ہیں اور ان کے مقابل میں مفہوم ''ابداع'' ( ایجاد کرنا) ان موجودات کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ جو مادہ اول سے مسبوق نہ ہو ( جیسے مادہ اولیہ اور مجردات) اس طرح ایجاد کو خلق و ابداع میں تقسم کیا جاتا ہے ۔

بہر حال خدا کے خلق کرنے کا مطلب اشیا میں انسانوں کے تصرف اور انھیں بنانے کی طرح نہیں ہے کہ جس میں حرکت اور اعضاء بدن کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، اور حرکت کوبعنوان ''فعل'' اور اس کے قضایا کو بعنوان ''نتیجہ فعل'' یاد کیا جاتا ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ''خلق کرنا'' یعنی ٫٫ فعل،، ایک شیء اور خلق کیا ہوا یعنی ٫٫مخلوق،، ایک دوسری شیء ہو اس لئے کہ خدا ، موجودات جسمانی کے خواص سے منزہ ہے اگر خدا کے خلق کرنے کو مصداق عینی زائد فرض کر لیا جائے اس کی خلق کی ہوئی ذات پر ، تو پھر اسے ایک ممکن الوجود اور خدا کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق شمار کیا جائیگا ، اور اس کے خلق کرنے گفتگو تکرار ہو گی بلکہ جیسا کہ صفات فعلیہ کی تعریف میں بیان ہوا کہ یہ صفات وہ مفاہیم ہیں کہ جو صفات خداو خلق کے درمیان موجود نسبتوں کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں اور نسبتوں کا قیام عقل کی بنیاد پر ہے

ربوبیت۔

خالق و مخلوقات کے درمیان جن روابط کا لحاظ کیا جاتا ہے وہ یہ کہ مخلوقات اپنی آفرینش میں خدا کے محتاج ہونے کے علاوہ اپنی زندگی کے تمام مراحل میں اس سے وابستہ ہیں اور کسی بھی قسم کے استقلال سے عاری ہیں وہ جس طرح چاہے ان کے امور میں تصرف اور ان کے امور کی تدبیر کر ے۔

جب اس رابطہ کو بصورت کلی تسلیم کرلیا گیا تو اس سے مفہوم ربوبیت اخذ ہو نا لازم ہے کہ جس کا لازمہ امور کی تدبیر کرناہے، اور اس کے بے شمار مصادیق ہیں جیسے حفاظت کرنا، زندہ کرنا، مار ڈالنا ، روزی عطا کرنا، کمال عطا کرنا، راہنمائی کرنا، امرو نہی کرنا وغیرہ۔

ربوبیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ربوبیت تکوینی یعنی تمام موجودات کی احتیاجات کو بر طرف کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا، یعنی کہنا بہتر ہے کہ وہ پورے جہان کا چلانے والا ہے، لیکن ربوبیت تشریعی صرف باشعور اور مختار موجودات سے مخصوص ہے، جیسے انبیاء کو مبعوث کرنا، آسمانی کتابوں کو نازل کرنا، وظائف کی تعین اور احکام و قوانین کے بیان کرنے جیسے امور کو شامل ہے۔

نتیجہ۔ ربوبیت مطلق الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات اپنے تمام مراحل وجود میں خدا سے وابستہ ہیں، اور مخلوقات کی آپسی وا بستگی کا سرا بھی واجب الوجود تک پہنچتا ہے، وہ وہی ہے جو اپنی بعض مخلوقات کے ذریعہ بعض کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ، اور دوسری پیدا کی ہوئی اشیا کو اپنی مخلوقات کے لئے غذا بناتا ہے، اور اپنی باشعور مخلوقات کو باطنی عوامل(عقل اور حواس خمسہ) اور ظاہری عوامل (انبیائ، آسمانی کتب) کے ذریعہ ہدایت کرتا ہے اور مکلفین کے لئے احکام و قوانین وضع کرتا ہے۔

ربوبیت بھی خالقیت کی طرح ایک اضافی اور نسبتی مفہوم ہے، بس فرق اتنا ہے کہ مختلف موارد اور مقامات پر مخلوقات کے درمیان خاص اضافات و روابط ملاحظہ کئے جاتے ہیں، جیسا کہ مفہوم رزاقیت کے سلسلہ میں گذر چکا ہے۔

مفہوم خالقیت اور ربوبیت میں جب خوب غور و فکر کیا جائے تو ان کے درمیان نسبت اور اضافت سے یہ معلوم ہو جاتا ہے، کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے متلازم ہیں، اس اعتبار سے محال ہے کہ جہان کا ٫٫رب،، اس جہان کے خالق کے علاوہ کوئی اور ہو، بلکہ وہی خدا ،جو مخلوقات کومختلف خصوصیات اور ایک دوسرے سے مرتبط و وابستہ خلق کیا ہے وہی ان کی حفاظت کرنے والا ہے، حقیقت میں ، ربوبیت و تدبیر کا معنی و مفہوم مخلوقات کی تخلیقی کیفیت ، اور ان کے آپسی ارتباطات و تعلقات سے اخذ ہوتا ہے ۔

الوہیت۔

مفہوم ''الہ'' اور ''الوہیت'' کے سلسلہ میں صاحبان نظر کے درمیان شدید اختلاف ہے کہ جسے تفاسیر کی کتابوںمیں بیان کیا گیا ہے لیکن جو بات ہمارے نزدیک قابل اہمیت ہے وہ یہ کہ ٫٫الہ،، بہ معنی لائق عبادت ہونا(عبادت و اطاعت کے لحاظ سے شائستہ و سزا وار ہونا ) جیسے کہ '' کتاب'' وہ چیز جو لکھے جانے کے قابل ہو۔

اس معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے الوہیت ایک ایسی صفت ہے کہ جس کے لئے اطاعت و عباد ت کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا اگر چہ گمراہوں نے ،اپنے لئے باطل خدائوںکا انتخاب کرلیا ہے، لیکن جو ٫٫ ذات،، عبادت و اطاعت کیلئے شا ئیستہ و سزا وار ہو وہی ٫٫ذات،، خالق و رب قرار پائے گی، اور یہ ایک اعتقادی حصار ہے کہ جسے ہر شخص کے لئے ماننا ضروری ہے یعنی خدا کو واجب الوجود خالق اور صاحب اختیار ماننے کے علاوہ اسے اطاعت و عبادت کے لائق سمجھے اسی وجہ سے اس مفہوم کو اسلام کا شعار مانا گیا ہے (لا اله الا الله

سوالات

١۔ صفات ذاتیہ اور فعلیہ کے ارتباط اور ان دونوں کا ایک ہی مفہوم میں جمع ہونے کی کیفیت بیان کریں؟

٢۔کس اعتبار سے صفات فعلیہ، زمانی و مکانی قیود میں مقید ہوجاتے ہیں؟

٣۔ مفہوم خالقیّت کی شرح پیش کریں اور ایجاد و ابداع کے ساتھ اس کے فرق کو بیان کریں؟

٤۔ کیوں خلق کرنے کے مفہوم کو مصداق عینی کے اعتبار سے زائد بر ذات مخلوق، تصور نہیں کیا جا سکتا؟

٥۔ مفہوم ربوبیّت کو بیان کریں؟

٦۔اقسام ربوبیّت کی تشریح کریں؟

٧۔ خالقیّت اور ربوبیّت کے تلازم کو بیان کریں؟

٨۔ مفہوم الوہیّت کا خا لقیّت ا و ربوبیّت کے ساتھ جو تلازم ہے اسے بیان کریں؟

____________________

(١) سورہ بقرہ۔ آیت / ١٨٧،٢٣٥ سورہ انفا ل ۔آیت/ ٦٦ سورۂ فتح ۔ آیت/ ١٨ ،٧ ٢ سورہ آل عمران ۔آیت /١٤٠ ،١٤٢


گیارہواں درس

بقیہ صفات فعلیہ

مقدمہ

ارادہ

کلام کاصادق ہون

مقدمہ

علم کلام میں متکلمین کے درمیان ارادۂ الٰہی اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے جسے مختلف

پہلوئوں سے زیر بحث قرار دیا گیا ہے، کیا ارادہ کا تعلق صفات ذاتی سے ہے یا صفات فعلی سے ؟ کیا قدیم ہے یا حادث؟ کیا واحد ہے یا متعدد؟ وغیرہ...یہ تمام بحثیں فلسفہ میں ارادہ اور ارادہ الٰہی کے خصوصیات سے ہونے والی بحثوں سے جدا ہے لہٰذا یہ بات روشن ہے کہ ایسی بحث کو اس کتاب میں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے اسی وجہ سے پہلے ہم مفہوم ارادہ کی ایک مختصر وضاحت پیش کریں گے اورپھر ارداۂ الٰہی کے تحت بحث کا آغاز کریں گے۔

ارادہ۔

کلمہ ''ارادہ'' عرف میں کم از کم دو معنی میں استعمال ہوتا ہے، ایک محبت کرنا اور دوسر ے کسی کام کو انجام دینے کا ارادہ کرنا۔

پہلا معنی دوسرے معنی کی بہ نسبت وسیع ہے اس لئے کہ یہ اشیاء خارجی(۱) اور دوسروں کے افعال کے ساتھ اپنے افعال کو پسند کرنے کو شامل بھی ہوتا ہے لیکن دوسرا معنی صرف شخص کے ذاتی افعال کو شامل ہوتا ہے۔

لیکن ارداہ اپنے پہلے معنی کے مطابق (محبت) اگر چہ انسان کے لئے ایک نفسانی کیفیت ہے، لیکن عقل عیب و نقص کو بر طرف کر کے ایک عام مفہوم حاصل کر سکتی ہے کہ جسے جوہری موجودات کے ساتھ خدا پر بھی اطلاق کیا جا سکے، جیسا کہ علم کے ساتھ یہی ہوا ہے اسی جہ سے حب( محبت) کو صفات ذاتیہ میں شمار کیا جا سکتا ہے جو کہ (خود اپنی ذات سے محبت الٰہی پر قابل) اطلاق ہے، لہذا اگر ارادہ الٰہی کا مطلب حب کمال ہو تو یہ پہلے مرحلہ میں لا متناہی کمال الٰہی سے متعلق ہوتا ہے اور یہ بقیہ مراحل میں تمام موجودات کے کمالات پر صادق آتا ہے اس لئے کہ یہ اسی کے کمال کے آثار ہیں اس بنا پر اسے صفات ذاتیہ کا حصہ، قدیم، واحد اور عین ذات مقدس الٰہی مانا جاسکتا ہے۔

لیکن ارادہ بہ معنی کسی بھی امر کو انجام دینے کا قصد کرنا بغیر کسی شک کے صفات فعلیہ میں داخل ہے (جو امر حادث سے متعلق ہونے کی وجہ سے قیود زمان میں مقید ہے جیسا کہ قرآن میں وارد ہوا ہے کہ (اِنَّمَا اَمرُہُ اِذَا اَرَادَ شَیئًا اَن یَقُولَ لَہُ کُن فَیَکُونُ)(۲)

ترجمہ۔اس کی شان تو یہ ہے کہ جب کسی چیز کو (پیدا کرنا) چاہتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے ،کہ ہو جا ،تو فوراً ہو جاتی ہے

لیکن خدائے متعال کا صفات فعلیہ سے متصف ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ذات الٰہی میں کوئی تبدیلی واقع ہو یا کوئی صورت عرضی اس کے وجود میں ظاہر ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذات الٰہی اور اس کی مخلوقات کے درمیان شرائط اور ایک خاص نظریہ کے تحت ایک نسبت لحاظ کیا گیا ہو اور ایک خاص، مفہوم ا ضافی کو صفات فعلیہ عنوان سے اخذ کیا گیا ہومفہوم ارادہ کے تحت اس رابطہ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ ہر مخلوق چونکہ صاحب کمال ہے اور اس کی خلقت میں مصلحت و حکمت کار فرما ہے

اس لئے خلق ہوئی ہے، لہذا اس کا ایک خاص زمان و مکان اور کیفیت میں واقع ہونا، علم خدااور محبت الٰہی سے متعلق ہے کہ جس کو اس نے اپنے ارادے سے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہے، جب اس رابطہ کا لحاظ کیا جاتا ہے تو ایک مفہوم اضافی اور نسبتی بنام ''ارادہ'' حاصل ہوتا ہے، جو شی محدود سے تعلق کے اعتبار سے کچھ حدود و قیود کا حامل ہے اور یہ وہی مفہوم اضافی ہے جو حدوث و کثرت سے متصف ہے اس لئے کہ اضافت تابع طرفین ہے اور ان دونوں طر فوں میں سے کسی ایک کا حدوث اور کثرت سے متصف ہونا اوصاف کا ، اضافت کی طرف سرایت کرنے کے لئے کافی ہے۔

حکمت۔

جو وضاحت ارادۂ الٰہی کے تحت پیش کی گئی اس کے مطابق یہ بات روشن ہو گئی کہ یہ ارادہ یونہی، کسی بھی شی کے ایجاد سے متعلق نہیں ہوتا، بلکہ جو شی بھی ارادۂ الٰہی کے متعلق بنتی ہے، اس میں خیر اور کمال کی حکمت پائی جاتی ہے۔

اورچونکہ مادیات کا تزاحم بعض کا بعض دوسرے کے ذریعہ نقصان کا موجب ہوتا ہے محبت الٰہی کا کمال کے سلسلہ میں تقاضا یہ ہے کہ ان سب کی پیدائش اس طرح ہو کہ انھیں زیادہ سے زیادہ خیر و کمال مل سکے، ایسے روابط کو میزان پر قرار دینے سے مفہوم ''مصلحت'' سمجھ میں آتا ہے، وگرنہ مصلحت مخلوقات کے پائے جانے کے سلسلہ میں کوئی مستقل امر نہیں ہے کہ جو ان کی پیدائش میں براہ راست اثر انداز ہو ، چہ جائے کہ وہ ا رادہ الھی میں اثر گذار ہو۔

نتیجہ:

افعال الٰہی اس کے صفات ذاتیہ ، جیسے علم و قدرت خیر و کمال سے محبت ، جیسی چیزوں سے مترشح ہوتا ہے اور ہمیشہ ، کسی مصلحت کے پائے جانے ہی کی صورت میں متحقق ہوتا ہے ، تا کہ زیادہ سے زیادہ کمال و خیر حاصل ہو سکے، لہٰذا ایسے ارادہ کو ''ارادۂ حکیمانہ'' کا نام دیا جاتا ہے اور یہیں سے مقام فعل میں خدا کے لئے ایک دوسر ی صفت بنام ''حکیم ہونا'' سمجھ میں آتا ہے، اور بقیہ صفات فعلیہ کی طر ح اس کی بھی با ز گشت صفات ذاتیہ کی طرف ہوتی ہے ۔

البتہ یہ بات روشن ہے کہ مصلحت کی خاطر کسی امر کو انجام دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصلحت خدا کے لئے علت غائی ہو، بلکہ وہ ایک فرعی ہدف ہے لیکن امور کو انجام دینے میں علت غائی ،وہی اس کا ذاتی ، ولا امتناہی کمال سے محبت کرنا ہے جو ضمناً اس کے آثار یعنی موجودات کے کمالات سے متعلق ہے، لہذا اس مقام پر یہ کہنا درست ہے کہ افعال الٰہی کے لئے علت وہی علت فاعلی ہے، اور خدا زائد بر ذات کسی ہدف کا حامل نہیں ہے، لیکن یہ مطلب اس بات کا منافی نہیں ہے کہ موجودات کا کمال اور خیر ایک فرعی ہدف ہے، اور اسی کو قرآن نے بھی بیان کیا ہے اس لئے کہ قرآن کریم نے افعال الٰہی کے لئے ایسی علتوں کو بیان کیا ہے کہ جن میں سے ہر ایک کی باز گشت ،مخلوقات کے خیر و کمال کی طرف ہے، جیسے کہ امتحان و آزمائش، بہترین امور کا انتخاب کرنا، خدا کی بندگی کرنا،اوررحمت خاص سے متنعم ہونا(۳) انسان کی خلقت کے اہداف میں سے ہے کہ جن میں سے ہر ایک بالترتیب دوسرے والے کے لئے مقدمہ ہے۔

کلام الٰہی۔

خدا کی ذات سے نسبت دئے جانے والے مفاہیم میں سے ایک مفہوم، تکلم ہے اور ہمیشہ کلام الٰہی کے سلسلہ میں متکلمین کے درمیان بحث ہوتی رہی ہے، یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''علم کلام'' کا کلام نام سے شہرت پانا اس وجہ سے ہے کہ اس علم کے اصحاب(علماء متکلمین) کلام الٰہی کے

تحت بحث کرتے ہیں، اشاعرہ اسے صفات ذاتیہ میں سے اور معتزلہ صفات فعلیہ میں سے شمار کرتے

ہیں، ان دو گروہوں کے درمیان شدید اختلاف کا باعث یہی مسئلہ قرار پایا قرآن مجید ، کلام الھی ہے ، ایسی صورت میں یہ مخلوق (حادث) ہے یا غیر مخلوق (یعنی قدیم) اس سلسلہ میں بڑی بحثیں ہوئی ہیں، بسا اوقات اسی موضوع کی وجہ سے ایک دوسرے کو کافر کہا گیا۔

صفات ذاتیہ اور فعلیہ کی بیان کی گئی تعریفوں کے پیش نظر یہ اس مسئلہ کو بہ آسانی درک کیا جا سکتا ہے کہ تکلم فعل کی صفات میں سے ہے کہ جسے وجود بخشنے کے لئے ایک مخاطب کی ضرورت ہے تا کہ کہنے والے کے مقصود کو آواز یا مکتوب یا اپنے ذہن میں کسی مفہوم یا کسی اور راستہ کے ذریعہ درک کیا جا سکے، در حقیقت یہ مفہوم اس رابطہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے جو خدا کسی حقیقت کو اپنے بندہ کے لئے آشکار کرنا چاہتا ہے اور بندہ میں اس حقیقت کے درک کرنے کی طاقت پائی جاتی ہے مگر یہ کہ تکلم کے لئے کوئی دوسرے معنی فرض کر لئے جائیں جیسے تکلم پر قادر ہونا یا تکلم کے معنی و مفہوم جاننا تو پھر اس صورت میں اس صفت کی باز گشت بھی صفات ذاتیہ کی طرف ہوگی، جیسا کہ اس طرح کی باتیں صفات فعلیہ میں گذرچکی ہیں۔

لیکن قرآن خطوط یا الفاظ یا ذہنوں میں موجودہ مفاہیم یا ایک نورانی حقیقت اور مخلوقات سے مجرد کے معنی سے عبارت ہے ،مگر یہ کہ کوئی علم الٰہی کو بعنوان حقیقت قرآن سمجھے تو اس صورت میں اس کی باز گشت صفت ذاتی ''علم'' کی طرف ہوگی لیکن ایسی تاویلیں عرف کے محاوروں کے خلاف ہیں لہٰذا ان سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔

صدق۔

کلام الٰہی، اگر امرو نہی کی صورت میں بہ طور انشا ہو تو یہ بندوں کے عملی وظائف کو معین کرتا ہے اور اس میں کسی قسم کے صدق و کذب سے متصف کرنے کا کوئی مقام نہیں ہے لیکن اگر کلام الٰہی حقائق یا گذشتہ اور آئندہ حوادث کے سلسلہ میں بصورت اخبار ہو تو صدق سے متصف ہے جیسا کہ

قرآن کریم میں وارد ہوا ہے۔( وَمَن اَصدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِیثًا ) ).(۴)

اور خدا سے بڑھ کر بات میں سچا کون ہو گا ؟ اور اس صورت میں کوئی بھی انھیں قبول نہ کرنے پر کسی بھی قسم کا عذر پیش نہیں کرسکتا۔

یہ صفت جہان بینی کے فرعی مسائل آئیڈیالوجی کے بہت سے مسائل کو ثابت کرنے کے

لئے ایک قسم کے استدلال (نقلی اور تعبدی) سے متصف ہے۔

اس صفت کو ثابت کرنے کے لئے جو عقلی دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ کلام الٰہی ربوبیت الٰہی کی شان،جہان و انسان کی تدبیر، مخلوقات کی ہدایت اور علم و حکمت کی بنیادپر صحیح شناخت کو مخا طبین کے لئے فراہم کرنے کا ایک وسیلہ ہے اور اگر واقع سے کسی قسم کی مخالفت کا امکان ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہ ہوگا اس لئے کہ نقض غرض کی وجہ سے حکمت الٰہی کے خلاف تصور کیا جائے گا۔

سوالات

١۔ارادہ الٰہی کس معنی میں صفات ذاتیہ اور کس معنی میں صفات فعلیہ میں شمار ہو گا ؟

٢۔مفہوم ارادہ کو بعنوان صفت فعلی جلوہ دینے کے لئے خالق و مخلوق کے درمیان کس رابط کا لحاظ کرنا ضروری ہے؟

٣۔ارادۂ الٰہی کس طرح حدوث و کثرت سے متصف ہے؟

٤۔حکمت الٰہی کو بیان کریں؟

٥۔مفہوم مصلحت کس طرح حاصل ہوتا ہے؟

٦۔ کس معنی میں مخلوقات کی مصلحت،خیر اور اس کے کمال کو خلقت کا ہدف مانا جائے؟

٧۔کلام الٰہی کی شرح پیش کریں؟

٨۔خداوند متعال کے صادق ہونے پر عقلی دلیل بیان کریں؟

____________________

(١)جیسے کہ یہ آیۂ شریفہ (تریدون عرض الدنیا واللّه یرید الآخرة ) سورۂ انفال۔ آیت /٦٧

(۲)سورہ یس ،آیت/ ٨٢.

(۳) ر جوع کریں، سورۂ ہود آیت ٧ سورہ ملک آیت ٢ سورہ کہف آیت ٧ سورہ ذاریات آیت ٥٧ سورہ ہود آیت ١٠٨ سورہ جاثیہ آیت ٢٣ سورۂ آل عمران آیت ١٥ سورہ توبہ آیت ٧٢.

(۴)سورہ نسائ، آیت/٨٧


بارہواں درس

انحراف کے اسباب کی تحقیق

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے۔

انحراف کے اسباب

روحی اسباب

اجتماعی اسباب

فکری اسباب

انحرافی اسباب کا سد باب

مقدمہ:

پہلے درس میں اس مطلب کو واضح کردیا گیا ہے کہ جہان بینی (خدا کی معرفت )کو بہ اعتبار کلی دو حصوں (الٰہی اور مادی) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور ان کے درمیان مہم ترین اختلاف قادر و علیم پروردگار کے وجود کا مسئلہ ہے کہ جسے ثابت کرنے کے لئے ایک طرف الٰہی جہان بینی ایک بنیادی اصل کے عنوان سے تاکید کرتی ہے اور مادی جہان بینی اس کا سرے سے انکار کرتی ہے۔

گذشتہ دروس میں اس کتاب کی گنجائش کے مطابق وجود خدا کے اثبات، صفات ثبوتیہ اور سلبیہ ،صفات ذاتیہ و فعلیہ کے تحت گفتگو کی جا چکی ہے اب اس کے بعد اس اعتقاد کے استحکام نیز مادی جہان بینی کے نقد کے لئے ،ایک مختصر بحث کا آغاز کرتے ہیں تا کہ الٰہی جہان بینی کے مقصود کے اثبات کے علاوہ مادی جہان بینی کا بطلان ثابت ہوجائے۔

لہٰذا پہلے ہم توحید سے، انحراف اور الحاد کی جانب میلان کے اسباب بیان کریں گے اور پھر مادی جہان بینی کے اہم ترین نقطہ ضعف کی جانب اشارہ کریں گے۔

انحراف کے اسباب۔

الحاد کی داستان تاریخ بشر میں بہت قدیمی ہے، اگر چہ ہمیشہ انسانی معاشرے میں، جہاں تک تاریخ نے بیان کیا ہے۔ خدا پر اعتقاد اور ایمان رکھنے والوں کی مثالیں زمانہ قدیم سے بے شمار ہیں، لیکن اس کے باوجود انھیں لوگوں کے درمیان ملحد گروہوں کی ٹولیاں بھی نظر آتی ہیں، لیکن اٹھارہویں صدی سییورپ میں بے دینی اور الحاد کا ایک مستقل رواج شروع ہوا اور آہستہ آہستہ پورے جہان میں یہ مرض پھیل گیا۔

اگر چہ یہ طرز تفکر کلیسا اور مسیحیت کی ضد میں اٹھا تھا لیکن اس کی موجوں نے تمام ادیان و مذاہب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور مغرب سے صنعت و ٹکنالوجی کے ہمراہ بے دینی کا یہ نظریہ دوسری سرزمینوں کی طرف بڑھتا چلا گیا،اوراس آخری صدی میں اس فکر نے ،افکار اقتصادی، اجتماعی اور مارکسیسم کے سایہ میں تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس طرح انسانیت کے لئے ایک خطرناک صورت پیدا ہو گئی۔

اس منحرف عقیدہ کی پیدائش اور اس کے رواج پانے میں بے شمار اسباب و عوامل کار فرماہیں، اگر ہم ان سب عوامل کی تحقیق کرنا چاہیں ،تو تنہا انھیں کے لئے مستقل کتاب کی ضرورت ہے(۱) لیکن بطور کلی ان عوامل میں سے صرف تین کی جانب اشار ہ کریں گے۔

١۔روحی اسباب

بے دینی اور الحاد کی جانب بڑھتے ہوئے رجحانات کے اسباب ممکن ہے،لوگوں کے اندر موجود ہوں لیکن انسان اس کی طرف متوجہ نہ ہو جن میں سے اہم ترین راحت طلبی ، عیش پرستی بے قید و بند ، غیر ذمہ دارانہ زندگی گزارنا ہے۔

یعنی ایک طرف تحقیق کی زحمت( خصوصاً ان امور کے سلسلہ میں کہ جس میں مادی لذت کا وجود نہیں ہے) اس امر سے مانع ہے کہ سست اور کاہل افراد تحقیق کے لئے آمادہ ہوں، اور دوسری طرف حیوانی آزادی سے لگائو، اور بغیر مسولیت و پابندی کے زندگی گذارنے کی تمنا ان کو الٰہی جہان بینی کی طرف مائل ہونے سے روک دیتی ہے ، اس لئے کہ الٰہی افکار کے قبول کرنے اور حکیم پروردگار پر ایمان رکھنے کہ جس کے ضمن میں متعدد عقائد جنم لیتے ہیں، ان سب کا لازمہ، تمام اختیاری افعال میں انسان کی مسئولیت پذیری ہے، اور ایسی مسئولیت کا تقاضا یہ ہے کہ بعض مقامات پر اپنی بعض خواہشات سے چشم پوشی کی جائے، اور ذمہ داریوں کو قبول کر لیا جائے، جبکہ عیاشی کے ساتھ ان ذمہ داریوں کا قبول کرنا سازگار نہیں ہے، اسی وجہ سے یہ حیوانی خواہش لاشعوری طور پر اس امر کا سبب بنتی ہے ان تمام مسئولیتوں (ذمہ داریوں)کو قبول نہ کیا جائے اور سرے سے خداوند عالم کے وجود ہی سے انکار کرد یا جائے ۔

الحاد اور بے دینی کی جانب میلانات کے اور دوسرے نفسیاتی عوامل بھی ہیں ، جو بقیہ عوامل کے تعاقب میں ظاہر ہوتے ہیں۔

٢۔اجتماعی اسباب۔

بعض معاشروں میں پیش آنے والے وہ غیر مطلوب حالات کہ جن کی پیدائش میں دینی رہبروں کا خاص کردار ہوتا ہے، ایسے حالات میں بہت سے لوگ جو تفکر عقلی کے اعتبار سے ضعیف ہوتے ہیں اور مسائل کے تجزیہ و تحلیل پر پوری طرح قادر نہیں ہوتے،اورحوادثات کے اسباب سمجھنے میں بھی ضعیف ہیں ،حوادثات کو دین اور اس کے رہبروں کی دخالت کا نتیجہ سمجھتے ہیں، اور یہ اعتقاد پیدا کرلیتے ہیں ،کہ دینی اعتقادا ت ہی ایسے نا مطلوب حالات کو وجود میں لانے کا اصلی سبب ہیں، اسی بنا پر وہ دین و مذہب سے بیزار ہوجاتے ہیں ایسے نمو نے یورپ کے اجتماعی زندگی جو عہد رنسانس میں پیش آئے ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں، کلیسا کے سایہ میں مذہبی، حقوقی اور سیاسی عنوانات کے تحت پادریوں کی ناشائستہ حرکات مسیحیت سے بیزاری بلکہ دین و دینداری سے بطور کلی قطع تعلق ہونے کا سبب بننے۔

دینی رہبروں کے لئے ایسے اسباب کا جاننا نہایت ضروری ہے، تا کہ وہ اپنے مقام کی حساسیت اور اپنی ذمہ داری کی عظمت کو درک کر سکیں، اور انھیں بخوبی معلوم ہوجائے کہ ان کی معمولی ایک غفلت پورے معاشرے کی بد بختی اور گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔

٣۔ فکری اسباب۔

یعنی وہ شبہات جو ایک شخص کے ذہن میں آتے ہیں یا دوسروں کی زبانی سنتا ہے، استدلال اور قوت عاقلہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے انھیں دفع کرنے کی قوت نہیں رکھتا اور کم وبیش وہ ان شبہات سے متاثر ہو جاتا ہے ، یا کم از کم اس کا ذہن مضطرب و پریشان ہوجاتاہے جو (جہان بینی الھی )کے سلسلہ میں یقین و اطمنان پیدا کرنے سے مانع ہے ۔

ان عوامل کو بھی دو فرعی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جیسے وہ شبہات جو حس گرائی پر مبنی ہیں ،

وہ شبہات جو عقیدہ کے فاسد ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں وہ شبہات جو کمزور طریقہ استدلال ، اور غلط تنبہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں ، وہ شبہات جو ناگوار حوادث کی وجہ سے ذہنوں میں خطور کرتے ہیں کہ جن کے لئے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ حکمت خدا وند اور عدل الٰہی کے خلاف ہیں ،اسی طرح وہ علمی تحیوریاں جو عقائد دینی کے خلاف ہیں ، اور ان کی وجہ سے شبہہ پیدا ہوتا ہے ، نیز وہ شبہات جو مقررات و احکام دینی سے وابستہ ہیں ، بالخصوص مسائل حقوقی و سیاسی کے شعبہ میں ۔

اور کھبی کبھی دو یا چند عوامل مجموعاً طور پر شک و تردید یا انکار اور الحاد کا سبب ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں شخص نفسانی مرض (فکری وسواس ) میں گرفتار ہوجاتا ہے اور پھر کسی بھی دلیل وبرھان کے قبول کرنے سے انکار کرنے لگتا ہے، اس مرض میں مبتلا انسان، اپنے ہی عمل کی صحت میںشک کر نے لگتا ہے، اور اس کے صحیح ہونے کا اطمینان نہیں کرپاتا، دسیوں بار اپنا ہاتھ دھوتا ہے لیکن پھر بھی اس کی طہارت میں شک کرتا ہے جبکہ وہ پہلی ہی مرتبہ میں پاک ہوچکا ہے یا وہ سرے سے نجس ہی نہیں ہے۔

انحرافی اسباب کا سد باب۔

انحراف کے اسباب کے مختلف ہونے کی وجہ سے ان میں سے ہر ایک سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک خاص روش، موقع و محل اور مخصوص شرائط کی ضرورت ہے، جیسے روحی و اخلاقی اسباب کا علاج صحیح تربیت اوراس راستہ میں موجود موا نع کو بر طرف کرنے کے ذریعہ کیا جائے جیسا کہ ہم نے پہلے، دوسرے اور تیسرے درس میں٫٫ دین میں تحقیق کی ضرورت اور اس سے سہل انگاری کے نقصانات میں،، بیان کرچکے ہیں۔

اسی طرح اجتماعی اسباب کے برے اثرات کو روکنے کے لئے ایسے اسباب و عوامل کی روک ، تھام کے علاوہ دینداروں کے اخلاق و کردار کے ناشائیستہ ہونے اور دین کے صحیح نہ ہونے کے درمیان فرق کرنا ہوگا، بہر حال روحی و اجتماعی عوامل کی طرف توجہ دینے کی وجہ سے کم از کم ایسے منحرف کرنے والے اسباب کی تاثیر سے انسان محفوظ رہتا ہے۔

اسی طرح فکر ی اسباب کی بری تاثیر سے محفوظ رہنے کے لئے مناسب طریقہ اختیار کرنا ہوگا لہٰذا فاسد عقائد کو صحیح عقائد سے جدا کرنا ہوگا،اوردینی عقائد کو ثابت کرنے کے لئے غیر منطقی اور ضعیف استدلالوں سے پرہیز کرنا ہوگا اور یہ بھی آشکار کرنا ہوگا کہ دلیل کا ضعیف ہونا، مدعی کے نادرست ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

اب یہ بات روشن ہے کہ انحراف کے تمام عوامل کے سلسلہ میں تحقیق و جستجو اور ان میں سے ہر

ایک سے مقابلہ کے لئے مناسب راہ کا بیان کرنا ہماری بحث کے دائرے سے خارج ہے، اسی وجہ سے الحاد کی طرف میلانات کے فکری اسباب اور اس ضمن میں موجود شبہات کے جواب پر اکتفا کر تے ہیں

سوالات

١۔مادی جہان بینی پر تنقید اور اس کے ضمن میں تحقیق کرنے کا فائدہ کیا ہے؟

٢۔قرن اخیر میں الحاد کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات کیوں پیدا ہوئے ؟

٣۔ دین سے منحرف ہونے کے روحی اسباب کیا ہیں؟

٤۔ دین سے انحراف کے اجتماعی عوامل کیا ہیں؟

٥۔ فکری اسباب اور اس کی فروعات کو بیان کریں؟

٦۔ فکری وسواس کیسے وجود میں آتے ہیں؟

٧۔ انحراف کے اسباب سے مقابلہ کرنے کا راستہ کیا ہے؟

____________________

(١)استاد شہید مطہر ی نے اپنی کتاب (علل گرائش مادی گری) میں بعض اسباب و عوامل کا تذکرہ کیا ہے ،اور اس پر روشنی ڈالی ہے۔


تیرہواں درس

چند شبہات کا حل

موجود نا محسوس پر اعتقاد

خدا پر ا یمان رکھنے کے سلسلہ میں جہل ا ور خوف کا کردار

کیا قاعدہ علیت ایک کلی قا عدہ ہے؟

علوم تجربی کے نتائج

نا محسوس مو جودپر اعتقاد

خدا شناسی کے ضمن میں ایک معمولی شبہ یہ ہے کس طرح ایک ایسے موجود پر ایمان لایا جا سکتا ہے کہ جو قابل درک نہیں ہے اور نہ ہی اسے حس کیا جاسکتا؟

یہ شبہ ہمیشہ ان لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ جو قوی فکر کے مالک نہیں ہیں، لیکن ایسے دانشور بھی ہیں کہ جنھوں نے اپنے ا تفکر کی بنیا د ''اصالت حس'' پر قائم کی ہے اور نا محسوس موجود سے انکار ہے یا کم از کم اسے یقینی معرفت سے بعید سمجھا ہے۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ادراکات حسی کو جسم و جسمانیات سے بدن کو مس کرنے کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے اورہمارے حواس میں سے ہر حس اپنی موقعیت اور خاص شرائط کے تحت مادی موجودات کو درک کرتی ہے اور جس طرح آنکھ سے سننے یا کان سے دیکھنے کی توقع باطل ہے اسی طرح یہ انتظار بھی باطل ہے کہ ہمارے حواس تمام موجودات کو درک کرلیںگے۔

ا یک تو یہ کہ مادی موجودات کے درمیان ا یسی بھی چیزیں موجود ہیں جو حس کے دائرے سے باہر ہیں جس طرح کہ ہمارے حواس ( ULTRA-VIOLET (اور ( INFRA - RED )کے انوار اور الکٹرومنٹک وغیرہ امواج کو درک کرنے سے عاجز ہے۔

دوسرا یہ کہ ہم بہت سے حقائق کو ظاہری حواس کے علاوہ دوسری راہوں سے درک کرتے ہیں، اور ان کے وجود کا یقینی ا عتقاد حاصل کرلیتے ہیں جبکہ وہ حس کی قدرت سے باہرہیں، جیسے کہ ہم خود اپنے ڈر، ارادہ، محبت اور دوسری صفات سے آگاہ ہیں، اور ان کے وجود پر پورا ایمان بھی رکھتے ہیں، حالانکہ یہ روحی آثار خود روح کی طرح حس کے دائرے سے باہر ہیں، اس کے علاوہ خود ادراک ایک غیر عادی اور نامحسوس امر ہے۔

لہذا حواس کے ذریعہ کسی چیز کا درک نہ ہونا نہ تنہا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا بلکہ اسے بعید بھی نہیں کہا جا سکتا۔

خدا پر ایمان رکھنے کے سلسلہ میں جہل اور خوف کاکردار۔

جامعہ شناسوں کی طرف سے دوسرا شبہ جو پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا پر اعتقاد رکھنا ، خوف و خطر کی وجہ سے ہے بجلی یا زلزلہ یا اسی طرح کے اور دوسرے خطرات کی وجہ سے یہ تصور وجود میں آیا ہے در اصل بشر نے اپنی روحی اطمینان کی خاطر (العیاذ باللہ) ایک خیالی موجود بنام ''اللہ'' کو مانا ہے اور اس کی عبادت میں مشغول ہے، اسی وجہ سے خطرات کے مقابلہ میں محافظت کا امکان جس قدر بڑ ھتی جاتی ہے یا خطرات ، حوادثات کے اسباب و علل جیسے جیسے آشکار ہوتے جاتے ہیں ویسے اسی اعتبار سے خدا پر ایمان ضعیف ہوتا جاتا ہے۔

مارکسیسم نے اس شبہ کو اپنی کتابوں میں بعنوان''علم جامعہ شناسی'' کے نتائج کے تحت بڑی آب و تا ب کے ساتھ بیان کیاہے جسے غیر مطلع لوگوں کو دھوکا دینے کا ایک بہترین وسیلہ تصور کیا جاتا ہے

اس شبہ کے جواب میں یہ کہنا بہتر ہے کہ سب سے پہلے یہ شبہ تنہا ایک مفرو ضہ ہے جسے بعض جامعہ شناسوں نے پیش کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے پر کسی بھی علمی دلیل کا وجود نہیں ہے۔

دو سرے ، اس زمانہ میں بہت بڑے بڑے مفکرین تھے جو ہر ایک سے ز ائد حوادثات کے

علل و اسباب سے آگاہ تھے اور خدائے حکیم پر مضبوط عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی اسی عقیدہ

باقی ہیں،(۱) ایسا ہر گز نہیں ہے کہ خدا پر ایمان رکھنا خوف وجہل کا نتیجہ ہے۔

تیسرے ، اگر بعض حوادثات سے خوف یا اس کے و اسباب سے نا آگاہی ہی خدا پر اایمان رکھنے کا سبب ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وجود خدا خوف و جہل کا نتیجہ ہے جس طرح سے کہ بہت سے روحی اثرات جیسے لذت طلبی اور شہرت طلبی وغیرہ... علمی و فنی اور فلسفی انکشافات کا سبب ہے، لیکن یہ ان کے اعتبار کو خدشہ دار نہیں کرتا۔

چوتھے: اگر بعض لوگوں نے خدا کو، اس عنوان سے پہچانا ہے کہ وہ مجہول العلة حوادثات کو وجود

بخشنے والاہے یہاں تک کہ اگر علل و اسباب کے آشکار ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان میں کمی واقع ہوگئی ہے تو یہ خدا پر اعتقاد کے معتبر نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ سب کچھ ان کے ایمان کے ضعیف ہونے کی علامت ہے، اس لئے کہ جہانی حوادثات کی بہ نسبت خدا کا علت قرار دیا جانا ، اسکی طبیعی علتوں کے اثر انداز ہونے کی سنخیت کے اعتبار سے علت خدا کے عرض میں واقع نہیں ہے بلکہ ایک ایسی علت ہے جو ہر ایک کو شامل ہوتی ہے، اور تمام مادی وغیرمادی علتوں کے پہچاننے یا نہ پہچاننے میں اس کے طول میں موثر ہے،اور اس کی نفی و اثبات کے لئے کسی بھی قسم کی تاثیر سے عاری ہے۔(۲)

کیا قاعدہ علیت ایک قاعدہ کلی ہے۔

شبہات میں سے ایک شبہ جسے غربی دانشمندوں نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ اگر اصل علیت کلیت سے متصف ہے تو پھر خدا کے لئے بھی علت کا ہونا ضروری ہے، حالانکہ اس کے لئے فرض یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی علت نہیں ہے لہذا بے علت خدا کو ماننا قانون علیت کا نقض کرنا اور عدم کلیت

پر دلیل ہے، اور اگر قاعدہ علیت کی کلیت کو نہ مانیں تو پھر واجب الوجود کو ثابت کرنے کے لئے اس قاعدہ و قانون سے استفادہ نہیں کر سکتے، اس لئے کہ یہ ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اصل مادہ یا انرجی خود بخود علت کے بغیر وجود میں آگیا ہو ، اور اس میں ہونے والے تغیرات کی وجہ سے تمام موجودات ظہور میں آئے ہیں۔

یہ شبہ بھی جیسا کہ ساتویں درس میں اشارہ کیا جاچکا ہے، قاعدہ علیت کے تحت کی گئی غلط تفسیر کا نتیجہ ہے، یعنی ان لوگوں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ اس قاعدہ کا مفاد یہ ہے کہ (ہر شی موجود علت کی محتاج ہے) جبکہ اس کی صحیح تعبیر یہ ہے کہ (ہر ممکن الوجود یا وابستہ موجودعلت کا محتاج ہے) یہ ایک استثنا نا پذیر قاعدہ کلی ہے، لیکن یہ فرضیہ کہ اصل مادہ یا انرجی علت کے بغیر وجود میں آجائے اور اس میں ہونے والے تغیرات کی وجہ سے یہ جہان خلق ہو جائے، اشکالات و اعتراضات سے خارج نہیں ہے، جسے ہم آئندہ دروس میں بیان کریں گے۔

علوم اجتماعی کے نتائج۔

ایک شبہ یہ ہے کہ جہان و انسان کے پیدا کرنے والے وجود پر اعتقاد رکھنا جدید علوم کی رو سے سازگار نہیں ہے مثلاً کمیسٹری میں یہ بات مسلم ہے کہ مادہ اور انرجی ہمیشہ ثابت ہیں لہٰذا کوئی بھی شی عدم سے وجود میں نہیں آتی اور کوئی موجود بھی پوری طرح فنا نہیں ہوتا حالانکہ خدا پر عقیدہ رکھنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ اس نے مخلوقات کو عدم سے ،ہستی کی صورت میں وجود بخشا ہے۔

اسی طرح بیالوجی میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ زندہ موجودات بے جان موجودات سے متولد ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ انھیں کمال حاصل ہوتا ہے، یہاں تک کہ انسان وجود میں آتا ہے حالانکہ خدا پر ایمان رکھنے والوں کا عقید ہ ہے کہ اس نے ہر ایک کو جداگانہ خلق کیا ہے۔

جواب میں یہ کہنا بہتر ہے کہ پہلے یہ کہ ماد ہ ا ورانرجی کی بقا کا قانون ایک علمی اور تجربی قانون کے عنوان سے تنہا ان موجودات کے لئے ثابت ہے کہ جو قابل تجزیہ ہیں، لہٰذا اس کے ذریعہ اس فلسفی مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا، کہ مادہ یا انرجی ازلی و ابدی ہیں یا نہیں؟

دوسرے یہ کہ مجموعی اعتبار سے مادہ، انرجی کا ثابت ہونا اور اس کی ہمیشگی سے تعلق رکھنا کسی خالق سے بے نیازی کی دلیل نہیں ہے بلکہ دنیاء جہان کی عمر جس قدر بھی طولانی ہوگی ا س خالق کی ضرورت اتنی ہی زیادہ ہوگی، اس لئے کہ معلول کے لئے علت کی احتیاج کا معیار اس کی ذاتی وابستگی اور اس کا ممکن ہونا ہے نہ یہ کہ وہ حادث ہے اور محدودیت (قید) زمانی سے متصف ہے۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق مادہ اور انرجی جہان کی علت مادی کو تشکیل دیتے ہیں، نہ علت فاعلی کو بلکہ وہ خود علت فاعلی کے محتاج ہیں۔

تیسرے ،مادہ و انرجی کے ثابت ہونے کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ نئے موجودات وجود میں نہ آئیں اور ان میں کمی یا زیادتی واقع نہ ہو، بلکہ بعض موجودات جیسے روح، عقل ارادہ وغیرہ مادہ اور انرجی کی قسم سے نہیں ہیں، کہ جس کی کمی یا زیادتی، مادہ اور انرجی کے قانون بقا سے منافات ر کھے ۔

چوتھے : فرضیہ تکامل جسے ابھی تک پوری طرح علمی حلقے میں اعتبار نہیں ملا ہے اور جسے بہت سے مفکرین نے رد کیا ہے، خدا پر اعتقاد رکھنے سے منافات نہیں رکھتا، اور حد اکثر زندہ موجودات کے درمیان صرف علت اعدادی کو ثابت کرتا ہے نہ یہ کہ خدا سے ا س کے رابطہ کی نفی کرتا ہے ، جس کی دلیل یہ ہے کہ اسی فرضیہ کے بہت سے طرفدار آج بھی اور گذشتہ ادوار میں جہان و انسان کے پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے تھے اور رکھتے آئے ہیں۔

سوالات

١۔حس گرائی اور نامحسوس امور کے انکار پر کیا اشکالات ہیں؟

٢۔وہ اشکالات کیا ہیں جو بعض ماہر سماجیات کے فرضیہ پر وارد ہوئے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ وجود خدا کا نظریہ انسان کے خوف و جہل کا نتیجہ ہے ؟

٣۔کیا وجود خدا پر ایمان رکھنے کا عقیدہ علیت کی کلیت سے منافات رکھتاہے؟ کیوں؟

٤۔ کیا مادہ اور انرجی کی بقا کا قانون پروردگار عالم پر اعتقاد رکھنے منافات رکھتا ہے؟ کیوں؟

٥۔ کیا فرضیہ تکامل وجود خدا پر ایمان رکھنے کے عقیدہ کو باطل قرار دیتا ہے ؟ کیوں؟

____________________

(١) جیسے انشٹن، کرسی وریس والکسیس کارل اور دوسرے برجستہ مفکرین کہ جنھوں نے وجود کے اثبات کے لئے مقالہ تحریر کئے جن میں سے بعض مقالے جات کو کتاب ''اثبات وجود خدا'' میں جمع کیا گیا ہے۔

(٢)آئندہ دروس میں مزید وضاحت آئے گی ۔


چودہواں درس

مادی جہان بینی اور اس پر تنقید

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے۔

مادی جہان بینی کے اصول

اصل اول

اصل دوم

اصل سوم

اصل چہام

مادی جہان بینی کے اصول

مادی جہان بینی کے لئے درج ذیل اصول فرض کئے جا سکتے ہیں

پہلی اصل: ہستی جو مادہ(۱) اور مادیات کے ہم پلّہ و مساوی ہے اور اسی چیز کو موجود کا نام دیا جا سکتا ہے کہ جو یا تو مادہ اور حجم سے متصف ہونے کے علاوہ ابعادثلاثہ (طول، عرض، عمق) سے متصف ہو، یا مادہ کے خواص میں سے اس کا شمار ہو اور اسی ضمن میں مادہ بھی قابل تقسیم اور کمیت کا حامل ہے لہذااسی اصل کی بنیاد پر خدا کے وجود کا ایک غیر مادی اور طبیعت سے بلند موجود ہونے کے عنوان سے انکار کردیا جاتا ہے۔

دوسری اصل: مادہ ازلی و ابدی نیز نا قابل خلق ہے اور کسی علت کا محتاج بھی نہیں ہے اور اصطلاح فلسفی کے مطابق ''واجب الوجود'' ہے۔

تیسری اصل: اس جہان کے لئے علت غائی اور کسی ہدف کا تصور نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ کسی با شعور فاعل کا وجود نہیں ہے کہ جس کے لئے ہدف کا تصور کیا جائے۔

چوتھی اصل: اس جہان کے موجودات، (اصل مادہ کے علاوہ) مادہ کے ذرات کا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں، اسی وجہ سے گذشتہ موجودات کو آنے والے موجودات کے لئے شرط اور علت اعدادی مانا جا تا ہے، اور مادیات کے درمیان اکثر ایک قسم کی فاعل طبیعی کو قبول کیا جا تا ہے، جیسے کہ درخت کے پھل کے لئے فاعل طبیعی یا بیالوجی اورکمیسٹری کے اثرات کو خود ا سی کی طرف نسبت دی گی ہے، پھر کسی بھی موجود کے لئے فاعل الٰہی اور ہستی بخش کی ضرورت نہیں ہے۔

مذکورہ اصول کے علاوہ اصل پنجم کا اضافہ کیا گیا ہے جو معرفت شناسی سے مر بوط ہے بلکہ ایک طرح سے تمام اصول پر مقدم ہے اور وہ یہ ہے کہ صرف اسی شناخت کو معتبر مانا جا سکتا ہے کہ جو تجربہ حسی کے نتیجہ میں حاصل ہو ، اور چونکہ حسی تجربہ صرف مادہ اور مادیات کے وجود کو ثابت کرتے ہیں لہٰذا کسی بھی شی کا وجود غیر قابل قبول ہے۔

لیکن اس اصل پنجم کا باطل ہونا گذشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے(۲) جسے دوبارہ بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ بقیہ چار اصول کے سلسلہ میں گفتگو جاری رہے گی۔

پہلی اصل ۔

مادی جہان بینی میں اس اصل کا شمار بنیادی اصول میں کیا جاتا ہے لیکن یہ اصل بے بنیاد دعوے کے علاوہ کچھ نہیں ہے،اورماوراء طبیعت کے انکار کے لئے کسی بھی قسم کے برہان و دلیل قائم نہیںکی جا سکتی، بالخصوص ماٹریالسٹی معرفت شناسی کے ذریعہ کہ جس کی بنیاد اصالت حس و تجربہ پر قائم ہے، ماوراء طبیعت کی نفی پر دلیل لانا غیر ممکن ہے، اس لئے کہ یہ بات بخوبی روشن ہے کہ کوئی بھی٫٫ حس تجربی،، اپنے حدود یعنی مادہ اور مادیات سے ہٹ کر کسی شی کی نفی یا اثبات کا فریضہ ا نجام نہیں دے سکتی

، حس گرائی کی منطق کی بنا پر حد اکثر جو مطلب ثابت کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ٫٫ حس تجربی،، سے ماوراء طبیعت کو ثابت نہیں کیا جاسکتا، لہذا اس صورت میں کم از کم اس کے موجود ہونے کا احتمال باقی ر ہ جاتا ہے، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ انسان بہت سے غیر مادی موجودات کوجو مادہ کی خصوصیات کی حامل نہیں ہیں منجملہ روح کو، اپنے علم حضوری کے ذریعہ درک کرلیتا ہے، اس کے علاوہ بھی مجردات کے اثبات میں بے شمار دلیلیں فلسفی کتابوں میں ذکر کی گئیں ہیں۔(۳)

موجود مجرد یعنی روح کے شواہد میں سے رویائے صادقہ، مر تاضوں کے خار ق عادات امور اور انبیائ، ائمہ علیہم السلام اور اولیا الٰہی کے معجزات و کرامات ہیں(۴) بہر حال خدا کے وجود اور اس کے جسمانی نہ ہونے پر جو دلائل قائم کئے گئے ہیں اس اصل کے بطلان کے لئے کافی ہیں۔(۵)

دوسری اصل ۔

اسی اصل میں مادہ کے ازلی اور ابدی ہونے پر تاکید اور پھر یہ نتیجہ حاصل کیا گیا ہے کہ وہ خلق کئے جانے سے مستغنی ہے۔

لیکن مادہ کا ازلی اور ابدی ہونا، علمی اور تجربی دلائل کے ذریعہ یہ با ت قابل اثبات نہیں ہے اس لئے کہ تجربہ کا دائرہ محدود ہے اس لئے کہ کوئی بھی تجربہ زمان و مکان کے اعتبار سے جہان کے بے نہایت ہونے کو ثابت نہیں کر تا۔

اور مادہ کا ازلی ہونا اس بات کا لازمہ نہیں ہے کہ وہ خالق سے بے نیاز ہے جس طرح سے کہ ایک ازلی مکینکی حرکت کا فرض، ازلی قوتِ محرک کا لازمہ ہے نہ یہ کہ وہ قوت محرک سے بے نیاز ہے

مادہ کا خلق ہونے سے مستغنی ہونا ،واجب الوجود ہونے کے مساوی ہے، اور ہم نےآٹھویں در س میں اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ مادہ کا واجب الوجود ہونا محال ہے۔

تیسری اصل

تیسری اصل جہان کے ہد ف مند ہونے کا انکار ہے جس کے نتیجہ میں خالق کے منکر ہونے کا لازمہ پیش آتا ہے، لہٰذا خدا کے وجود کے ثابت ہونے کے ساتھ یہ اصل بھی باطل ہوجاتی ہے، اس کے علاوہ یہ سوال باقی ہے کہ ایک عقلمند انسان اس منظم جہان کو دیکھتے ہوئے کس طرح ا س کے بے ھدف ہونے کو مان سکتا ہے جبکہ اس میںنہایت نظم و ضبط کے علاوہ بے شمار آثار و فوائد رونما ہیں۔

چوتھی اصل ۔

چوتھی اصل مادی موجودات میں علیت کو منحصر سمجھنا ہے، لیکن اس اصل پر بے شمار ا عتراضات ہیں جن میں سے مہم ترین ا عتراضات درج ذیل ہیں۔

پہلے یہ کہ اس اصل کی بنیاد پر اس جہان بینی میں کسی نئے موجود کا وجود میں آنا غیر ممکن ہے، حالانکہ ہم برابر عالم انسان اور حیوانات میں نئے موجودات کی پیدائش کے شاہد ہیں، کہ جن میں سے مہم ترین حیات، شعور، عواطف، احساسات اور افکار ہیں۔

ماٹریالیسٹوں کا کہنا ہے کہ یہ موجودات مادہ کے خواص کے علاوہ کچھ اور نہیں ہیں۔

تو ان کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کے امتداد اور تقسیم پذیری مادہ اور مادیات کی خصوصیات میں سے ہے جبکہ یہ خصوصیات ان کے وجود میں نہیں پائی جاتیں۔

اور وہ موجودات جنھیں مادہ کے خواص کے نام سے یاد کیا جاتا ہے بے شک یہ خواص بے جان مادہ میں نہیں پائے جاتے یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق مادہ ایک مدت تک ان خواص سے عاری ہے اور ایک مدت کے بعد وہ ان سے متصف ہوجاتا ہے ، پس وہ موجودات جنھیں خواص مادہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسے بھی کسی خالق کی ضرور ت ہو گی جو اسے مادہ کی صورت میں وجود بخشے اور یہ وہی

علّت ہے کہ جسے علت ایجادی اور ہستی بخش کہتے ہیں۔

اس قول کے تحت ایک دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس قول کی بنیاد پر تمام موجودات کا وجود میں آنا جبری ہے، اس لئے کہ مادہ کی تأثیر اور اس کے تأ ثرات میں انتخاب و اختیار کا کوئی وجود نہیں ہے، اور اختیار سے انکار خلاف وجدان ہونے کے علاوہ تمام معنوی و اخلا قی اقدارکے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی ذمہ داریوں سے انکار کا ہے اور ظاہر ہے کہ معنوی اقدار اور ذمہ داری سے انکار کے نتیجہ میں انسانی زندگی میں کس طرح کے اثرات مرتب ہوں گے ؟! (وہ سب عیاں ہیں ) آخر کار، مادہ کے واجب الوجود نہ ہونے کی صورت میں جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے، کسی نہ کسی علّت کی ضرورت ہو گی ،اور یہ علت کبھی بھی علت طبیعی اور علت اعدادی نہیں ہوسکتی، اس لئے کہ روابط تنہا مادیات میں ایک دوسرے کے ساتھ متصور ہیں، لیکن تمام مادہ کا، علت کے ساتھ اس طرخ کے رابطہ ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا،لہذا جو علت بھی مادہ کو وجود بخشے گی وہ علت ایجادی اور ماوراء مادی ہوگی ۔

سوالات

١۔مادی جہان بینی کے اصول بیان کریں؟

٢۔مادہ اور مادی شی کی تعریف کریں؟

٣۔ پہلی اصل پر ہونے والے اشکالات کو بیان کریں؟

٤۔ دوسری اصل پر ہونے والے اشکالات کو بیان کریں؟

٥۔ تیسری اصل پر تنقید کریں؟

٦۔ چوتھی اصل پر ہونے والے اشکالات کو بیان کریں؟

____________________

(١)مفہوم مادہ اور اس کی تعریف سے زیادہ آشنا ئی کے لئے ٫٫پاسداری از سنگرہائی آئیڈیا لوجیک،، جہان بینی مادی ص ٢٩٧٢٩٢ اور آموزش فلسفہ ج٢ ص٤١اکتالیسویں درس کی طرف رجوع کریں۔

(۲)اس سلسلہ میں مزید اطلاح کے لئے آئیڈیا لوجی تطبیقی کے آٹھویں درس سے سولہویں درس تک، اور آموزش فلسفہ کے تیرہویں درس سے اٹھارہویں درس تک کا مطالعہ کیا جائے۔

(۳)نمونہ کے لئے آموزش فلسفہ ج٢ چوالیسویں درس سے انچاسویں درس کا مطالعہ کریں ۔

(۴)کتاب (نقدی فشردہ بر اصول مارکسیسم) میں دوسرے درس کی طرف رجوع کریں۔

(۵)اسی کتاب کے ساتویں اور آٹھویں درس کا مطالعہ کیا جائے اسی طرح کتاب آموزش فلسفہ کے باسٹھویں اور ترسٹھویں درس کا مطالہ کیا جائے۔


پندرہواں درس

ماٹریالیسم ڈیالٹیک اور اس پرتنقید

مکینکی اور ڈیالٹیکی ماٹریا لیسم

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

قاعدہ تضاد اور اس پرتنقید

قاعدہ جہش اور اس پرتنقید

قاعدہ نفی نفی اور اس پرتنقید

مکینکی اورڈیالٹیکی ماٹریالیسم

ماٹریا لیسم کی مختلف شاخیں ہیں ،کہ جن میں سے ہر ایک اپنے اندار میں کائنات اور اس کی اشیا کی پیدائش کو بیان کرتا ہے لیکن عصر جدید کے آغاز میں ان لوگوں نے جہان کے موجودات کی پیدائش کو مکینکی حرکت کی بنیاد پر مفاہیم فیزیک نیوٹنی کے ذریعہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اور ہر اس حرکت کو قوتِ محرّکہ کا معلول سمجھا ہے کہ جو خارج سے جسم متحرک میں داخل ہوئی ہے، ایک اور تعبیر کے مطابق وہ لوگ اس جہان کو ایک عظیم گاڑی کی طرح تصور کرتے ہیں کہ جس میں قوت محرک ایک حصہ سے دوسرے حصہ میں منتقل ہوتی ہے اور اس طرح یہ عظیم گاڑی حرکت میں آجاتی ہے۔

یہ فرضیہ (ماٹریالیسم مکینکی) کے نام سے مشہور ہوا ہے مختلف جہت سے اس نظریہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ، مخالفین کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،منجملہ یہ کہ اگر ہر حرکت ،قوت خارجی کا معلول ہے تو اس صورت میں جہان کے مادۂ اول کے لئے بھی ،کسی قوت کو فرض کرنا ہوگا کہ جو خارج سے اس کے جسم میں داخل ہوئی ہو اور اس امر کا لاز می نتیجہ یہ ہو گا ،ماوراء مادہ ایک قوت کوقبول کرنا ہو گا ہ جو کم از کم عالم مادہ میں پہلی حرکت کا عامل بنی ہو۔

دوسرا نقطہ ضعف یہ ہے کہ مکینکی قوت کے ذریعہ صرف وضعی اورا نتقالی حرکات کی توجیہ کی جا سکتی ہے حالانکہ تمام موجودات جہان کو مکانی تغیرات میں منحصر نہیں سمجھا جا سکتا، لہٰذا موجودات جہان کی پیدائش میں کسی اور موجود کو عامل ماننا پڑے گا۔

ان اعتراضات کے سامنے مکینکی ماٹریالیسم کی ناتوانی سبب بنی ،کہ وہ لوگ اس جہان کی پیدائش کے لئے کسی دوسرے عامل کی تلاش شروع کریں لہذا انھوں نے بعض حرکات کو بصورت ڈینامیکی تفسیر کی ، اور مادہ کے لئے ایک قسم کی خود تحرکی کا نظریہ تسلیم کر لیا ۔

مکتب ماٹریا لیسم دیالٹیک کے نظریہ کی بنیا د رکھنے والے منجملہ (مارکس و انگلس ہگل) ہیں کے انھوں نے مادی موجودات کے باطنی تضاد کو عامل حرکت کے عنوان سے پہچنوانے کی کوشش کی ہے، اور اصول مادہ کا ابدی اور خلق ہونے سے مبرا ہونا، موجودات کا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا اور اجتماعی حرکت کو قبول کرنے کے علاوہ اپنے فرضیہ کو ثابت کرنے کے لئے جدید اصول پیش کئے ۔

(١) فاعدہ تضاد (٢) کمی تغیرات کو کیفی تغیرات میں تبدیل کرنا (٣) قاعدہ نفی نفی یا (طبیعت میں تحقیق و جستجو کا قانون) اب اس کے بعد ہم ان تینوں اصل کو بیان کریں گے اور اس پر ہونے والے اعتراض کو ذکر کریں گے۔

٫٫قاعدہ تضاد،، ماٹریالیسم ڈیالٹیک کے مطابق ہر موجود دو ضدوں سے مرکب ہے (فعال و غیر فعال ) ( THESE ANTI THESE ) موجودات میںتضاد کا پایا جاناحرکت کا سبب ہے، یہاں تک کہ غیرفعال غالب ہوجاتا ہے اور ایک دوسرا موجود جو (انقلاب) ( CENTTHESE ) کے نام سے وجود میں آتا ہے، جیسے انڈا جو اپنے آغاز میں ایک نطفہ ہوتا ہے کہ جو آہستہ آہستہ رشد کرتا ہے اور ایک مدت کے بعد ایک بچہ جو بہ صورت انقلاب ( CENTTHESE ) ہے وجود میں آتا ہے۔

فیزیک میں مثبت اور منفی ،تضاد کا ایک نمونہ ہے جس طرح سے کہ جمع و تفریق ابتدائی ریاضیات میں تضاد کا ایک نمونہ ہے، اور کامل ریاضی میں جمع اور تفریق تضاد کا ایک نمونہ ہے یہ کیفیت موجودات اجتماعی اور تاریخی میں بھی قابل مشاہدہ ہے مثلاً دولت مندوں کے مقابلہ میں فقراء غیر فعال

( ANTI THESE ) ہیں جو آہستہ آہستہ رشد کرتے ہیں اور دولتمندوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوجاتے ہیںاس طرح دولتمندوں کے مقابلہ میں انقلاب ( CENTTHESE ) فقراء کی جماعت بصورت سوسیالسٹی اور کمیونسٹی وجود میں آجاتی ہے۔

تنقید۔

آغاز سخن میں اس نکتہ کی طرف توجہ رہے کہ دو مادی موجودکا اس طرح اکٹھا ہونا کہ ایک دوسرے کی تضعیف کا سبب بنے ، یا ایک دوسرے کی نابودی کا درپے ہو، اس مطلب کو ہر ایک نے قبول کیا ہے جیسا کہ اس کی مثال آگ اور پانی کے اکٹھا ہونے کی صورت میں دی جاتی ہے لیکن یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے اور اسے تمام موجودات پر صادق آنے وا لے قاعدہ کے عنوان سے نہیں مانا جا سکتا، اس لئے کہ اس ضمن میں سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔

دوسرے یہ کہ بعض مادی موجودات میں تضاد کا پایا جانا ، اس تناقض و تضاد سے کہ جو منطق و فلسفہ کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں ، اور جن کا محال ہونا بدہی ہے کسی بھی حال میں کوئی ربط نہیں ہے، اس لئے کہ (موضوعِ واحد)میں اجتماعِ ضدین کو محال سمجھا گیا ہے اور جو مثالیں بیان کی گئیں ہیں ان میں موضوعِ واحد نہیں ہے،اور مارکسسٹوں نے ضدین کے تحت جو مثالیں (اجتماع جمع و تفریق میں) پیش کی ہیں ان کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسی طرح ان پیشنگوئیوں کو ذکر کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے جو نظام سرما یہ داری سے متصف ممالک میں حکو مت و کارگر کے قیام میں بیان کی گئی ہیں۔

تیسرے یہ کہ اگر ہر موجود دو ضدوں کا مجموعہ ہو تو ان میں فعاّل اور غیر فعّال کے لئے بھی ایک دوسری ترکیب کو فرض کرنا پڑے گا، اس لئے کہ وہ بھی ایک موجود ہیں، اور اصل مذکور کی بنیاد پر ان کا بھی دو ضدوں سے مرکب ہونا ضروری ہے، اس طرح ہر محدود موجود کا بے نہایت اضداد سے مرکب ہونا لازم آتا ہے۔

لیکن وہ باطنی تضاد جسے عاملِ حرکت کے عنوان سے پہچنوایا گیا ہے اور اس طرح مکینکی ماٹریالیسم کے نقطہ ضعف کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس پر ہونے والے اعتراضات میں سے ایک معمولی ا عتراض یہ ہے کہ اس فرضیہ کے لئے کسی بھی علمی دلیل کا وجود نہیں ہے اس کے علاوہ خارجی قوت کے ذریعہ وجود میں آنے والی مکینکی حرکت سے کسی بھی حال میں انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن فوٹبال کی حرکت کو اس کے داخلی تضاد کا نتیجہ سمجھنا باطل ہے۔

قاعدہ جہش۔

چونکہ جہان میں ہونے وا لے تغیرات تدریجی اور ایک سمت میں رواں نہیں ہیں، اور بعض اوقات ایسے موجودات میں وجود پائے جاتے ہیں کہ جو گذشتہ موجودات سے کسی بھی صورت میں مشابہ نہیں ہوتے اور انھیں گذشتہ حرکت کی ایک کڑی نہیں مان سکتے لہٰذا مارکسسٹوں نے ایک دوسری اصل بنام ''جہش'' یا بنام (تغیرات کمی (مقداری )سے تغیرات کیفی میں منتقل ہو جانا) کا سہارا لیا اور اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی، کہ تغیرات کمی جب ایک معین حد تک پہنچ جاتی ہے تو وہ تغیری کیفی کی پیدائش کا سبب بن جاتی ہے جس طرح سے کہ جب پانی کی حرارت ایک معین مقدار تک پہنچ جائے تو وہ پانی بخار میںتبدیل ہو جاتا ہے یا جب ایک دھات حرارت میں اپنی معین مقدار کو پہنچ جائے تو وہ پگھل جاتی ہے اسی طرح جب سماج میں اختلافات شدید ہوجا ئے تو انقلاب وجود میں آجاتا ہے۔

تنقید۔

پہلے تو یہ کہ کسی بھی حال میں کمیت کیفیت میں نہیں بدلتی، ہاں اتنا ضرور ہے کہ کسی خاص موجود کی پیدائش میں ایک معین کمیّت کے وجود کی ضرورت ہے، جیسے پانی کا درجہ حرارت،بخار میں تبد یل جہیں ہوتا بلکہ پانی کے بخار میں تبدیل ہونے کے لئے ایک معین مقدار میں حرارت کا پایا جانا ضروری ہے۔

دوسرے یہ کہ ،ضروری نہیں ہے کہ یہ کمیت لازم ، سابقہ کمیت میں بالتدریج اضافہ کی وجہ سے ہے ، بلکہ سابقہ کمیّت میں کمی واقع ہونے کے سبب جدید کمیت کے وجود میں آنے کا امکان ہے، جیسے کہ بخار کا پانی میں تبدیل ہونا حرارت کے کم ہونے پر مشروط ہے۔

تیسرے یہ کہ کیفی تغیرات ہمیشہ ناگہانی نہیں ہیں، بلکہ بہت سے مقامات پر تدریجی ہوتے ہیں، جیسا کہ موم اور شیشہ کا پگھلنا تدریجی ہے۔

ہاں جس حقیقت کو یہاںمانا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ بعض طبیعی موجودات کے متحقق ہونے کے لئے ایک کمیت کا ہونا ضروری ہے، لیکن کمیت کا کیفیت میں تبدیل ، کمیت میں تدریجی ا عتبار سے اضافہ کا لازم ہونا اور تمام کیفی تغیرات کے لئے ا یسی کلیت کو تسلیم کرلینا ، کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں، لہذا قانون جہان شمول بنام (تغیرات کمی سے تغیرات کیفی میں منتقل ہوجانے )کا کوئی وجود نہیں ہے۔

قاعدہ نفی نفی۔

قاعدہ نفی نفی کا مطلب کہ جسے کبھی قانون تکامل ضدین یا جستجو طبیعت کا نام دیا جاتا ہے یہ ہے دیالتکی تحولات اور تغیرات میں ہمیشہ فعال ( THESE )کے ذریعہ غیر فعال ( ANTI THESE ) کی نفی کی جاتی ہے اور خود بخود غیر فعال انقلاب ( CENTTHESE ANTI THESE ) کے ذریعہ منتفی ہو جاتا ہے، جیسا کہ گھاس دانہ کی نفی کرتی ہے اور خود وہ گھاس نئے دانوں کے وجود میں آجانے کی وجہ سے منتفی ہو جاتی ہے ، اسی طرح نطفہ انڈے کی نفی کرتا ہے اور وہ خود چوزہ کے ذریعہ منتفی ہوجاتا ہے، یعنی ہر آنے والاوجود گذشتہ موجود کی بہ نسبت کامل تر ہوتا ہے اور اس اصل قاعدہ کی اہمیت اسی نکتہ میں پوشیدہ ہے کہ یہ (تغیرات کی کیفیت کو آشکار کرتی ہے، اور تغیرات کو کمال کی جانب رواں دواں ہونے کی طرف تاکید کرتی ہے۔

تنقید۔

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر تغیر و تحول کے بعد سابقہ حالت متغیر ہو جاتی ہے اور ایک جدید شکل اختیار کرلیتی ہے اور اگر قاعدہ نفی نفی کو اسی معنی میں لیا جائے تو پھر اس کے معنی لوازم تغیر کے بیان کرنے کہ علاوہ کچھ اور نہیں ہیں لیکن اس اصل کے لئے جن تفسیروں کو ذکر کیاگیا ہے وہ جہت حرکت اور اس کے تکاملی(بہ تدریج کامل) ہونے کو بیان کرنے والی ہیں لہذا اس کے مطابق یہ کہنا بہتر ہے کہ جہان کے تمام تغیرات کا مطلب یہ ہے کہ ہر ہونے والا وجود گذشتہ موجود سے کامل ہونا چائیے، لیکن یہ امر قابل قبول نہیں ہے ، کیا ٫٫ یو رنیسم ،، شعاعوں کے اثر سے سرب میں تبدیل ہونے کی وجہ سے کامل ہو جاتی ہے ؟ کیا پانی بخار میں بدل جانے کے بعد تکامل یافتہ ہو جاتا ہے ؟ یا بخار کے پانی میں بدل جانے کی وجہ سے اسے کمال مل جاتا ہے ؟کیا جو درخت خشک ہوجاتے ہیں اور ثمر دینے کی قوت کھو ب بیٹھتے ہیں وہ راہ کمال کی طرف گامزن ہیں ؟ ان تمام شواہد کے ہوتے ہوئے صرف بعض موجودات کے سلسلہ میں قانون تکامل کو مانا جاسکتا ہے، لیکن تمام موجودات کے لئے ایک کلی قانون ہونے کے عنوان سے اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

آخر کار اس امر کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ اگر بالفرض ان تمام اصول (قو اعد ) کا کلی ہونا مان لیا جائے تو یہ علوم طبیعی میں ثابت شدہ قوانین موجودات کی پیدائش کی کیفیت ہی کو بیان کرسکتے ہیں، لیکن جہان میں قانون کلی کے ثابت ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ موجودات علت جھان آفرین سے بے نیاز ہوں، اور جیسے کہ ہم سابق میں بیان کر چکے ہیں کہ مادہ اور مادیات ممکن الوجود ہیں، لہٰذا ان کا واجب الوجود کا محتاج ہونا ضروری ہے۔

سوالات

١۔ ماٹریالیسم ڈیالٹیکی اور مکینکی کے درمیان موجود فرق کی وضاحت کریں؟

٢۔ قاعدہ تضاد کی شرح پیش کریں اور اس پر ہونے والے اشکالات ذکر کریں؟

٣۔ قاعدہ جہش اور اس پر ہونے والے اشکالات ذکر کریں؟

٤۔ قاعدہ نفی نفی کو بیان کرتے ہوئے اس پر تنقید کریں؟

٥۔ کیا ان قواعد کے کلی ہونے کی صورت میں انکا جہان کے خالق سے بے نیاز ہونا ثابت ہوتا ہے؟ کیوں؟


سولہواں درس

خدا کی لاثانیت

مقدمہ

اس کی لاثانیت پر دلیل

مقدمہ

گذشتہ دروس میں وجود خدا کی ضرورت کو ثابت کیا جا چکا ہے ، اور آخر کے چند دروس میں مادی جہان بینی کے تحت بحث گذر چکی ہے ، اس نظریہ کے تحت تحقیق و جستجو سے یہ پہلو روشن ہوگیا، کہ علت (خدا) کے بغیر جہان کو فرض کرنا، نا معقول اور غیر قابل قبول ہے۔

لیکن اب اس کے بعد ،ہم توحید کے سلسلہ میں بحث کریں گے اور مشر کین کے غلط عقائد کو برملا کریں گے ،لیکن سوال یہ ہے کہ شرک آ میز عقائد انسانوں کے درمیان کیسے رائج ہوئے، اس سلسلہ میں ماہر سماجیات کے نظریات مختلف ہیں، لیکن ان تمام نظریات میں سے کوئی بھی نظریہ قابل اعتماد دلائل سے متصف نہیں ہے، اس ضمن میں شاید یہ کہنا درست ہو کہ آسمانی اور زمینی موجودات میں تنوع واختلاف، شرک آ میز عقائد میں مبتلا ہونے کا سبب بنا، اس طرح ان لوگوں نے ہر موجود کے لئے ایک خاص خدا کو فرض کرلیا، اچھائیوں اوربرائیوں کے لئے الگ الگ خدا کے ہونے پر اعتقاد پیدا کرلیا، اور اس طرح ان لوگوں نے جہان کے لئے دو خدا فرض کرلئے۔

اس کے علاوہ چونکہ زمینی حوادثات میں جب آفتاب، ماھتاب اور ستاروں کی دخالت کو مشاہدہ کیا تو ان کے ذہنوں میں یہ خیال آیا کہ یہ چاند سورج اور ستارے زمینی موجودات کی بہ نسبت ربوبیت سے متصف ہیں، اورچونکہ اپنی طبیعت میں کسی معبود کی پرستش کو لمس کرتے تھے لہٰذا ان لوگوں نے اپنے خیالی معبودوں کے لئے بت بنالئے، اور ان کی پرستش میں مشغول ہوگئے ،اس طرح بتوں کو ضعیف افکار سے متصف لوگوںکے درمیان اصالت مل گئی، اور پھر ہر قبیلہ نے اپنے توھمات کی بنیاد پر بتوں کی عبادت کے لئے قوانین وضع کرلئے تا کہ ایک طرف خدا پرستی کی حس کی تسکین ہوتی رہے اور دوسری طرف اپنی نفسانی خواہشات کو تقدس کا لباس عطا کر سکیں ،اور انھیں مذہبی شکل و صورت دے کر اپنی مراد حاصل کرلیں ،اسی وجہ سے آج بھی بت پرستوں کے درمیان ناچنا ،گانا ، شراب نوشی اور شہوت رانی، مذہبی رسومات کے تحت رائج ہے...

مذکورہ تمام عوامل کے علاوہ سب سے مہم وجہ وقت کے ظالموں اور جبارںکی خود خواہی اورتکبر جیسے عوامل سبب بنے ،کہ وہ پنا مقصد حاصل کرنے کے لئے سادہ لوح افراد کے افکار سے فائدہ اٹھائیں، لہٰذا اپنی قدرت و حدود سلطنت کو وسعت دینے کے لئے شرک آلود عقائد کی بنیاد ڈالی ، اور ا س کی ترویج کرتے رہے اور اپنے لئے ایک قسم کی ربوبیت کے قائل ہوگئے اور اس طرح طاغوتوں کی پرستش مذہبی مراسم کا جز شمار کی جانے لگی کہ جس کی مثالیں ہند، چین،ایران اور مصر کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی قابل مشاہدہ ہیں۔

بہر حال شرک آلود ادیان مختلف اسباب و علل کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں جنہوں نے دین الٰہی کے سایہ میں انسان کے تکامل اور کامیابی کے راستہ میں بڑے موانع ایجاد کئے، اسی وجہ سے انبیاء الٰہی کی تبلیغ کا ایک عظیم حصہ، شرک اور شر ک آلود ہ افراد سے مقابلہ کے لئے مخصوص تھا۔

لہٰذا شرک آلود عقائد کی بنیاد، جہانی حوادثات کے مقابلہ میں خدا کے علاوہ کسی دوسرے موجود کی ربوبیت کے اعتقاد پر استوار ہے، یہاں تک کہ بہت سے مشرکین اس جہان کے خالق کی، یگانگی کے قائل تھے، اور خالقیت میں توحید کو قبول کرتے تھے، لیکن وہ اس سے کم مرتبہ دوسرے درجہ کے ںدا کے بھی قائل تھے جو ان کے اعتقاد کے مطابق بطور مستقل اس جہان کو چلانے والے ہیں، اور خالق جہان کو خدائوں کا خدا اور رب الارباب کا نام دیتے تھے۔

لیکن یہ کم درجہ والے خدا کہ جس کے اختیار میں کائنات کا نظام ہے بعض لوگوں کے گمان کے مطابق فرشتہ ہیں کہ جنھیں مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، لیکن بعض لوگوں کے خیا ل کے مطابق جنّات ہیں، یا ستاروں کی روحیں یا گذشتہ لوگوں کی روحیں یا پھر نامرئی موجودات ہیںہم نے دسویں درس میں اشارہ کردیا ہے کہ حقیقی خالقیت اور ربوبیت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا خدا کی خالقیت کو قبول کرتے ہوئے کسی دوسری کی ربوبیت کو قبول کرنا درست نہیں ہے اور جو لوگ اس طرح کے عقیدے رکھتے ہیں وہ اس تناقض سے بے خبر ہیں، لہٰذا ان کے عقائد کو باطل کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اسکے تناقض کو بیان کردیا جائے۔

خدا کی یکتائی کے اثبات میںمختلف دلیلیں فلسفی اور کلامی کتابوں میں موجود ہیں، لیکن ہم یہاں پر صرف انھیں دلائل کو پیش کریں گے کہ جو ربوبیت میں یگانگت کو م براہ راست ثابت کرتے ہوں اور مشرکین کے عقائد کو باطل کرتے ہوں۔

خدا کی لاثانیت پر برہان و دلیل۔

اگر اس جہان کے لئے دویا دو سے ز ائد خدائوں کے فرض کو تسلیم کرلیا جائے تو چند حال سے خالی نہیں،یا یہ کہ اس جہان کی تمام مخلوقات، ان تمام خدائوں کی مخلوق اور معلول قرار پائے گی یا یہ کہ مخلوقات کے مجموعوں ،میں سے ہر مجموعہ، مفروض خدائوں میں سے کسی ایک کی مخلوق اور معلول ہو گا یا یہ کہ یہ تمام موجودات، تنہا ایک خدا کی خلق کردہ اور بقیہ خدا مدبّر کی حیثیت سے ہوں گے۔

لیکن ایک موجود کے لئے چند خدائوں کا ہونا محال ہے، اس لئے کہ دو یا چند خالقوں (علت جہان آفرین) کا کسی موجود کو خلق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان خدائوں میں سے ہر ایک ،کسی ایک وجود کا افاضہ کرے، جس کے نتیجہ میں متعدد وجود خلق ہو جائیں گے ، حالانکہ ہر موجود کے لئے صرف ایک ہی وجود ہے، وگرنہ ایک موجود نہیں رہ سکتا۔

لیکن دوسرا فرض یہ کہ ان خدائوں میں سے ہر ایک، کسی ایک مخلوق یا مخلوقات کے کسی خاص مجموعہ کا خالق کہلائے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ ہر مخلوق اپنے خالق کی مدد سے قائم ہو اور کسی دوسری مخلوق کی محتاج نہ ہو مگر یہ احتیاج ایسی ہو جو ا سکے خالق تک پہنچتی ہو اور تنہا وہی خدا اس مخلوق کی رسیدگی کرتا ہو ، یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق اس جہان کے لئے چند خدائوں کا فرض متعدد نظام کے موجود ہونے کا لازمہ ہے جو ایک دوسرے سے جدا ہیں ، حالانکہ اس جہان میں صرف ایک ہی نظام ہے اور تمام موجودات ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ایک دوسرے سے متاثر ہیں ، ایک دوسرے کے محتاج ہیں، گذشتہ و آئندہ کے تمام موجودات میں ارتباط برقرار ہے، ہر موجود اپنے بعد آنے والے موجود کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے پس وہ جہان جس میں صرف ایک ہی نظام برقرار ہے اور اس کے اجزا ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اسے چند علتوں کا معلول (چند خدائوں کا خلق کردہ) نہیں قرار دیا جاسکتا۔

اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ تمام مخلوقات کا خالق ایک خدا ہے اور بقیہ خدا جہان کی تدبیر اور اس کی ہدایت کے عہدہ دار ہیں، تو یہ فرض بھی صحیح نہیں ہوسکتا ،اس لئے کہ ہر معلول اپنی پوری ہستی کے ساتھ علت وجود آفرین کے ذریعہ قائم ہے اور کوئی بھی مستقل موجود اس میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ یہ تمام معلولات علت وجود آفرین کی طاقت و قدرت کے زیر سایہ ہیں اور تمام تاثیر اور اثر پذیری اس کے اذن تکوینی کے ذریعہ انجام پاتے ہیں، اس بنا پر ان خدائوں میں سے کوئی بھی حقیقی رب نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ رب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مربوب کی ذات میں بطور مستقل تصرف کرے جبکہ فرض یہ ہے کہ ایسے تصرفات مستقل نہیں ہیں، بلکہ یہ سارے تصرفات ا سکی ربوبیت کے زیر سایہ اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں اس طرح کے اختیارات و تصروفات ، توحید (ربوبی) سے منا فات نہیں رکھتے ، جیسے کہ اگر خالقیت بھی اذنِ خدا سے ہو تو توحید خالقیت کے منافی نہیں ہے قرآن اور روایات میں بعض بندوں کے لئے ایسی خالقیت اور غیر استقلالی ربوبیت ثابت ہے، جیسا کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے۔

( وَاِذ تَخلُقُ مِنَ الطِّینِ کَهَیئَةِ الطَّیرِ بِاِذنِ فَتَنفُخُ فِیهَا فتََکُونُ طَیرًا باِذنِ ) (۱)

اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتے اور پھر اس پر کچھ دم کر تے ہو اور وہ میرے حکم سے سچ مچ پرندے بن جاتے ۔

اسی طرح ایک ا اور مقام پر فرمایا ۔

( فَالمُدَ بِّرَاتِ أَمراً ) (۲)

اور ان کی قسم جو زمین و آسمان کے درمیان تیرتے پھرتے ہیں۔

نتیجہ۔

جہان کے لئے چند خدائوں کا توہّم ، خدا کو مادی اور اعدادی علتوں سے قیاس کرنے کے ذریعہ وجود میں آیا ہے حالانکہ علت وجود آفرین کو ایسی علتوں سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی، اور کسی بھی معلول کے لئے چند علت وجود آفرین یا رب یا مستقل مدبّر فرض نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا اس توہّم کو دفع کرنے کے لئے پہلے علت وجود آفرین کے معنی اور پھر اس کی خصوصیات اور نوعیت میں خوب غور کرنا ہوگا، تا کہ معلوم ہوجائے کہ معلول واحد کے لئے چند علتوں کا تصور باطل ہے، اور پھر اس جہان کے انتظامات میں غور و فکر کرنا ہوگا تا کہ معلوم ہو جائے کہ ایسا منظم جہان چند خدائوں یا چندارباب یا مستقل مدبروں کا خلق کردہ نہیں ہے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی واضح ہوگئی، کہ خدا کے بعض شائستہ بندوں کے لئے ولایت تکوینی کو ماننا جبکہ مستقل خالقیت اور ربوبیت کے معنی میں نہ ہو تو، یہ توحید سے منافات نہیں رکھتا، جیسا کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ علیہم السلام کی ولایت تشریعی الٰہی ربوبیت تشریعی سے کوئی منافات نہیں رکھتی، اس لئے کہ یہ خدا کی عطا کردہ اور اسی کے حکم سے ہے۔

سوالات

١۔شرک آلود عقائد کی پیدائش کے اسباب بیان کریں؟

٢۔ شرک سے آلود عقائد کی بنیاد کیا ہے؟

٣۔ خالقیت اور ربوبیت کے درمیان پائے جانے والے لازمہ کو بیان کریں؟

٤۔کیوں ہر موجود کے لئے چند خالقوں کا فرض کرنا باطل ہے؟

٥۔کیوں مخلوقات کے ہر مجموعہ کے لئے کسی ایک خالق کو فرض نہیں کیاجا سکتا؟

٦۔ اس امر میں کیا اشکال ہے کہ یہ جہان خدائے واحد کا خلق کردہ ہے اور اس کے لئے متعدد، ارباب ہیں ؟

٧۔چند خدائوں کا توہم کہاں سے وجود میں آیا اور اسے دفع کرنے کا راستہ کیا ہے؟

٨۔کیوں اولیاء الٰہی کے لئے ولایت تکوینی کا تصور خالقیت وربوبیت میں توحید سے منافات نہیں رکھتا؟

___________________

(١)سورۂ مائدہ۔ آیت/ ١١٠

(٢)سورہ نازعات ۔آیت /٥


سترہواں درس

توحید کے معانی

مقدمہ

نفی تعدد

نفی ترکیب

زائد برذات صفات کی نفی

توحید افعالی

تاثیر میں استقلال

دو مہم نتیجہ

شبہ کا جواب

مقدمہ

کلمہ توحید لغوی اعتبار سے ''یگانہ اور یکتا'' کے معنی میں آیاہے لیکن فلاسفہ، متکلمین، علماء اخلاق اور عرفاء کی نظر میں یہ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے، اور ان معانی میں سے ہر ایک توحید پر دلالت کرتا ہے، جنھیں اقسامِ توحید یا ''مراتب توحید'' بھی کہا جاتا ہے، لیکن یہاں پر ان کا بیان کرنا ہمارے ہدف سے خارج ہے۔

اسی وجہ سے یہاں پر ہم اس بحث سے مناسب اصطلاحات کا ذکر کریں گے،

١۔تعدد کی نفی:

توحید کی سب سے پہلی اور معروف اصطلاح خد ا کی وحدانیت کا اعتقاد رکھنا ہے نیز شرک صریح کے مقابلے میں تعدد خدا کی نفی ،یعنی دو یا دو سے زائد خدا کے وجود سے انکار اس طرح سے کہ ہر ایک کا وجود مستقل اور ایک دوسرے سے علیدہ ہو ۔

٢۔ ترکیب کی نفی :

دوسری اصطلاح اس معنی میں ہے ، کہ اس کی احدیت نیز درون ذاتی کے اعتبار سے ، اس کے بسیط ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے یعنی ذات الھی ، بالفعل اور بالقوہ اجزا

سے مرکب نہیں ہے ۔اس صفت کو زیادہ تر بصورت صفات سلبیہ بیان کیا جاتا ہے، جیسا کہ دسویں

درس میں اشارہ کیا جاچکا ہے، اس لئے کہ ہمارا ذہن مفہومِ ترکیب اور اس کے بطلان سے مفہوم بساطت کی بہ نسبت زیادہ آشنا ہے۔

٣۔زائد برذات صفات کی نفی۔

تیسری اصطلاح ذات الٰہی کا صفات ذاتیہ کے ساتھ یگانگت اور صفات کے زائد برذات نہ ہونے کے معنی میں ہے، کہ جسے (توحید صفاتی) کہا جاتا ہے اور روایات میں ''نفیِ صفات'' کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جبکہ اشاعرہ صفات الٰہیہ کے زائد بر ذات اور قدماء ثمانیہ ہونے کے قائل ہیں۔

توحید صفاتی کی دلیل یہ ہے کہ اگر تمام صفات الٰہی میں سے ہر ایک کے لئے جدا گانہ و علیحدہ مصداق فرض کر لئے جائیں تو چند صورتوں سے خا لی نہیں ہے،'پہلی صورت، یا ان صفات کے مصادیق ذات الٰہی میں یا داخل ہوں گے جس کا لاز می نتیجہ یہ ہوگا کہ ذات الٰہی کا اجزا سے مرکب ہونا لازم آئے گا کا مرکب کہلائے، جس کو ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ ایسا ہونا محال ہے یا وہ مصادیق ذات الٰہی سے جدا فرض کئے جائیں گے ایسی حالت میں یا تو وہ واجب الوجود ہوں گے یعنی وہ پیدا کرنے والے سے بے نیاز ہوں گے ، یا وہ ممکن الوجود ہوں گے کہ جس کے لیے ایک خالق کا ہونا ضروری ہے ، لیکن صفات واجب الوجود ہونے کا فرض تعددِ ذات اور شرک ِصریح کا موجب ہے، اور ہم یہ تصور نہیں کرسکتے کہ کسی مسلمان کا عقیدہ ایسا ہو گا، یا پھر صفات کا ممکن الوجود ہونے کا یہ مطلب ہے کہ خدا وند عالم ان صفات سے عاری ہے مزید بر آں ، وہ ان صفات کو خلق کرے اور پھر ان سے متصف ہوجائے جیسے اگر وہ حیات نہیں رکھتا لیکن وہ ایک موجود بنام ''حیات'' خلق کرے ،اور اس طرح وہ حیات کا مالک بن جائے اسی طرح اس کی دوسری صفات بھی فرض کر لی جائیں، حالانکہ یہ امر محال ہے کہ علت وجود آفرین مخلوقات کے کمالات کا حامل نہ ہو اور اس فرضیہ سے بدتر، تو یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوقات کے ضمن میں علم و قدرت اور بقیہ صفات کمالیہ سے متصف ہو۔

اس فرضیہ کے بطلان کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ خداوند عالم کے صفات زا ئد برذات نہیں ہیں بلکہ وہ عین ذات ہیں اور وہ ا یسے مفاہیم ہیں کہ عقل جس سے ایک مصداق بسیط کہ جسے ذات مقدس الٰہی رہتے ہیں اخذ کرتی ہے ۔

٤۔توحید افعالی۔

فلاسفہ اور متکلمین کے نزدیک توحید کی چوتھی اصطلاح ''توحید ِافعالی'' ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنے امور کو انجام دینے میں نہ تو کسی شی کا محتاج ہے اور نہ ہی کسی بھی موجود میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ اس کے امور میں اس کی مدد کر سکے۔

یہ مطلب علت وجود آفرین کی خصوصیات یعنی ذات الٰہی کا تمام مخلوقات کے مقابلہ میں قیومیت سے متصف ہونے کی طرف توجہ کے ذریعہ سمجھ میں آجاتا ہے اس لئے کہ ایسی علت کا معلول اپنے تمام وجود کے ساتھ علت کے سہارے قائم ہوتا ہے اور بذات خود کسی بھی قسم کے استقلال سے عاری نہیں ہے۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق جس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کا عطا کردہ ہے اور اسی کے دائرہ قدرت میں ہونے کے ساتھ اسی کی مالکیت حقیقی اورتکوینی کے زیر سایہ ہے، اور نیز خدا کی قدرت و مالکیت، قدرت الٰہی کا ایک جز بلکہ اس کے طول میں سے ہے نہ یہ کہ اس کی قدرت خداکی قدرت کے مدمقابل کسی مزاحمت کا باعث ہے ، جیسے کہ ایک غلام کی مالکیت مولیٰ کی اعتباری مالکیت کے زیر سایہ ہوتی ہے ''العبد و ماف یدہ لمولاہ'' لہذاکیسے ممکن ہے کہ خدا ان مخلوقات محتاج و ضرورت مند ہو جو خود اسی کے ذات سے وابستہ اور اسی کے ذریعہ قائم ہیں؟!

٥۔تاثیر استقلالی۔

توحید کی پانچویں اصطلاح اثر انداری میں استقلال ہے(۱) یعنی مخلوقات اپنے امور میں ذات الٰہی سے بے نیاز نہیں ہیں، اور جو اثرات بھی ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں وہ خدا کی دی ہوئی طاقت اور اس کی اجازت سے ہے در حقیقت جو ذات ہر شی سے بے نیاز ہو کر اپنے امور انجام د یتی ہے وہ ذات اقدس الٰہی ہے، دوسروں کی تاثیر اور فاعلیت، اسی کی تاثیر اور فاعلیت کے زیرِ سایہ ہے۔

اسی وجہ سے قرآن کریم ،طبیعی اور غیر طبیعی فاعلوں (جیسے جن و انس اور ملک ) کی نسبت خدا کی طرف دیتا ہے اورفرماتا ہے کہ بارش کا برسنا، سبزہ کا اگنا اور درختوں کا پھل دینا یہ سب اسی کی طرف سے ہے اور اس بات کی تاکید کرتا ہے تا کہ لوگ اس بات کو درک کریں اور برابر خد ا کی طرف متوجہ رہیں،کہ امور کی نسبت خدا کی جانب تمام عوامل کی بہ نسبت قریب ہے تقریب ذہن کے لئے یہ مثال کافی ہے کہ اگر کسی محکمہ کا رئیس اپنے زیر دست خدمت گذاروں کو کسی امر کے انجام دینے کا فرمان صادر کرے جبکہ امور کا انجام دینا انھیں کار ی گروںپر موقوف ہے لیکن کاریگروں کے ذریعہ انجام دیئے گئے امور کی نسبت محکمہ کے رئیس کی طرف دی جاتی ہے بلکہ عقلا فرمان صادر کرنے والے کی طرف نسبت دینے کو قوی اور بہتر جانتے ہیں۔

فاعل تکوینی کے بھی مراتب ہیں اور چونکہ کسی بھی فاعل کا وجود ارادۂ الٰہی کے ذریعہ قائم ہے، بالکل اسی طرح کہ جیسے صورت ذہنیہ کا وجود، تصور کرنے والے کے ذریعہ قائم ہے ''وللہ المثل الاعلی'' لہٰذا اگر کسی فاعل سے کوئی اثرات ظاہر ہوتے ہیں تو وہ خدا کے اذن اور ا س کے ارادہ تکویتی کے سبب سے ہیں (ولا حول ولا قوّة الا باللّه العل العظیم )

دو مہم نتیجے۔

توحید ِافعالی کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی بھی موجود کو لائق عبادت نہ سمجھے، اس لئے کہ صرف انسان کا خالق اور اس کا رب لائق پرستش ہے اور بس، یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق الوہیت ،خالقیت اور ربوبیت کا لازمہ ہے۔

اس کے علاوہ انسان کا تمام اعتماد خدا پر ہونا چاہیے اور اپنے تمام امور میں اسی پر توکل کر نا چاہیے ،اور صرف اسی سے مدد مانگنا چاہیے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے کا خوف دل میں نہیں آنا چاہیے نہ کھائے یہاں تک کہ جب اس کی احتیاجات کو پورا کرنے والے اسباب کا وجود نہ ہو تو تب بھی نا امید نہ ہو اس لئے کہ خدا غیر عادی راہوں سے اس کی احتیاجات کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

ایسا انسان ولایت خاصہ کے سایہ میں ہوتا ہے اور بے نظیر روحی اطمینان سے برخوردار ہوتا ہے( اَلََا اِنَّ اَولِیَا ئَ اللّهِ لَا خَوف عَلَیهِم وَلَا هُم یَحزَنُونَ ) .(۲)

آگاہ ہوجاؤ اس میں شک نہیں، کہ دوستان خد ا ( قیامت میں ) نہ کوئی خوفہوگا اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے۔

( اِیَّاکَ نَعبُدُ وَ اِیَّاکَ نَستَعِینُ )

اس آیہ شریفہ میں یہ دو نتیجے موجود ہیں، جسے ہر مسلمان روزانہ کم از کم دس مرتبہ تلاوت کرتا ہے۔

شبہ کا جواب۔

اس مقام پر شاید ذہن میں یہ شبہ اٹھے کہ اگر توحید کامل کا اقتضا یہ ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی دوسرے سے مدد طلب نہ کرے تو پھر اولیاء الٰہی سے بھی مدد طلب کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ اگر اولیاء الٰہی سے توسل اسی عنوان کے تحت ہو کہ وہ خدا سے ماوراء ہو کے مستقل حثیت سے مدد کرتے ہیں تو ایسا توسل توحید سے سازگار نہیں ہے، لیکن اگر اس عنوان کے تحت ہو کہ خدا نے انھیں اپنی رحمت تک پہنچنے کا وسیلہ اور بندوں کو ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے تو یہ تصور نہ صرف یہ کہ توحید کے منافی نہیں ہے اس کا شمار عبادت و اطاعت خدامیں ہے، اس لئے کہ یہ توصل اسی ذات الٰہی کے اذن سے انجام دیا گیا ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ خدا نے کیوںایسے وسائل بنائے ؟اور کیوں لوگوں کو ان سے توسل کا حکم دیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام احکام حکمتوں پر مبنی ہیں جن میں سے بعض حکمتوں کو یہاں ذکر کیا جا رہا ہے ۔

١۔ لائق بندوں کے مقام کو پہچنوانا ۔

٢۔ لوگوں کو ان کے مقام تک لے جانے کے لئے انھیں شوق دلانا۔

٣۔ لوگوں کو اپنی عبادتوں پر مغرور ہونے اور اپنے آپ کو کمالات کے آخری مراتب پر فائز ہونے کے تصور سے روکنا وغیرہ، جیسا کہ وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام سے توسل کے منکر تھے وہ اسی طرح کے تصورات کی وجہ سے گمراہ ہوئے ہیں جس کی مثالیں بے شمار ہیں۔

سوالات

١۔ توحید کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں؟

٢۔توحید صفاتی کے لئے کیا دلیل ہے؟

٣۔ توحید افعالی کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟

٤۔تاثیر استقلالی میں توحید بہ معنی یگانگت کی شرح پیش کریں؟

٥۔ وہ نتائج جو توحید کی آخری دو قسموں سے حاصل ہوتے ہیں وہ کیا ہیں؟

٦۔کیا اولیاء سے توسل کرنا توحید سے منافات رکھتا ہے؟ کیوں؟!

٧۔ کیوں خدا نے، لوگوں کو اولیا سے توسل کا حکم دیا ہے اور اس کی حکمت کیا ہے؟!

____________________

(١)عرفاء ''توحیدِ افعالی کو اس معنی میں استعمال کرتے ہیں.

(۲)سورۂ یونس۔ آیت/ ٦٢.


اٹھارہواں درس

جبرو اختیار

مقدمہ

اختیار کی وضاحت

جبریوں کے شبہات کا جواب

مقدمہ

جیسا کہ گذشتہ دروس میں اشارہ کیا جا چکا ہے کہ تاثیر استقلالی میں توحید کا شمار عظیم معارف میں ہوتا ہے کہ جو انسانوں کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے، اسی وجہ سے قرآن میں اس مطلب کی طرف بڑی تاکید ہوئی ہے، اورمختلف بیانات کے ذریعہ اس مطلب کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، منجملہ تمام موجودات کا اذن و مشیت ،ارادہ و قضاے الٰہی سے وابستہ ہونے پر ایمان لانا وغیرہ

لیکن اس مطلب کو سمجھنے کے لئے رشد فکری ا ور عقلی بالیدگی کے علاوہ صحیح تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے، اسی وجہ سے وہ لوگ جو عقلی بالیدگی سے متصف نہیں تھے یا ان کی تعلیم میں نقص تھا یعنی جھنوں نے معصوم رہنماؤں، اور قرآن کے حقیقی مفسرین سے استفادہ نہیں کیا ، انھوں نے ، اس مطلب کو سمجھنے میں غلطی کی، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ تمام اثرات اور علیت صرف اور صرف خدا سے وابستہ ہے نیزاسی سے مخصوص ہے اور قرآن کریم کی صریح آیات کے برخلاف انھوں نے اسباب و وسائط سے ہر قسم کی تاثیر اور علیت کی نفی کی ہے اور اس طرح ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ مثلاً الٰہی طریقہ کار یہ ہے کہ جب آ گ کا موجود ہو گا تو اس کی حرارت بھی پائی جائے گی اسی طرح کھانا کھاتے وقت سیری اور پانی پیتے وقت سیرابی کا وجود ضروری ہے ، وگرنہ ایسا نہیں ہے کہ آگ ، حرارت پیدا کرنے میں موثر ہے یا کھانا اور پانی ، سیری و سیرابی کے حاصل ہونے میں کرئی رول ادا کرتے ہیں ہیں ۔

اس انحراف فکری کے برے نتائج اس وقت آشکار ہوتے ہیں کہ جب ہم ان نتائج کو انسان کے افعالِ اختیاری اوراس کی ذمہ داریوں کے تحت تجزیہ و تحلیل قرار دیتے ہیں اور اس کے سلسلہ میں تحقیق وجستجو کرتے ہیں، یعنی ایسی فکر کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال خدا سے منسوب ہوں، اور ان امور کے تحت انسان کی فاعلیت سلب ہوجائے ،لہذا اس صورت میں کوئی بھی اپنے عمل کے مقابل میں ذمہ دار نہیں ٹھہر سکتا۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق اس کج اندیشی کا تباہ کن نتیجہ جبر ہے یعنی انسانوں کا اپنے اعمال کے سبب کسی بھی ذمہ داری سے بری ہونا ہے، جس کی وجہ سے تمام نظام، خواہ اخلاقی ہوں یا تربیتی، فردی ہوں یا اجتماعی، بلکہ تشریعی نظام تو سرے ہی سے باطل ہوجاتے ہیں، اس لئے کہ جب انسان اپنے امور میں اختیار کا مالک نہ رہا تو پھر اس کے لئے وظیفہ، تکلیف، امر، نہی، ثواب و عذاب وغیرہ کا کوئی مطلب ہی نہیں رہتا، بلکہ اس فکر کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نظام تکوینی بے بنیاد ہوجا ئیں اس لئے کہ آیات قرآنی(۱) اور احادیث کے علاوہبراہین عقلی سے جو مطلب سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ جہان کی خلقت کا ہدف ا نسان کیخلقت کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے تا کہ یہ انسان اپنے اختیارات کے ذریعہ عبادت و اطاعت اور بندگی کے ذریعہ کمالات کے عظیم درجات اور قرب پروردگار کا مالک بن جائے ،اور اس کے اندر پروردگار کی خصوصی رحمت کے مالک بننے کی صلاحیت پیدا ہوجائے لیکن اگر

انسان تمام ذمہ داریوں سے بری ہو اور اسے کرئی ا ختیار نہ ہو تووہ رضوان الٰہی، اور خدا کی جاودانی نعمتوں سے سرفرازی کا اہل نہیں ہو سکتا ۔اور اس طرح ھدف خلقت کا نقض ہونا لازم آئے گا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خلقت کیمشینری ایک کھلونا بن جائے، اور پھر جبری انداز میں کچھ انسان خلق ہوں، اور چند حرکات و افعال کےنتیجہ میںبعض کو سزااوربعض کو جزا دے دی جائے ،جبکہ ان امر کی انجام دہی میں سارا نقش اسی مشینری کا ہے اور انسان مجبور ہے۔

اس فکر کے پھیلنے میں مہم ترین عامل ظالم حکومتوں کے برے مقاصد ہیں، جو اپنے ناشائستہ امور کو اس فکر کے ذریعہ عملی جامہ پہناتے تھے، جو اس حربہ کو کمزوروں پر اپنی برتری کے لئے اور مظلوموں کے قیام کو دبانے کے لئے استعمال کرتے تھے، یقیناً ایسے نتائج کے پیش نظر، ملتوں کو خواب غفلت میں رکھنے کے لئے جبر کو ایک خطرناک سبب ماننا ہوگا۔

اس کے علاوہ وہ لوگ جو تھوڑا بہت اس نظریہ کے نقطہ ضعف سے آشنا تھے لیکن توحید کامل اور نفی جبر کے درمیان کوئی راہ حل نکالنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اورنہ ہی اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے استفادہ کرتے تھے، لہٰذا تفویض کے قائل ہوگئے، اورانسان کے اختیاری افعال کو فاعلیت الٰہی کے دائرے سے خارج سمجھ بیٹھے اور اس طرح سے وہ اشتباہ میں مبتلا ہوگئے، اور یوں اسلام کے عظیم معارف اور اس کے فوائد سے محروم ہوگئے۔

لیکن وہ لوگ کہ جو ایسے عظیم معارف کو درک کرنے کی استعداد سے سرفراز تھے اور قرآن کے حقیقی مفسرین کی معرفت حاصل کر چکے تھے، وہ اس کج فکری سے محفوظ رہ گئے ،اورچونکہ اپنی فاعلیت اختیاری کو اس قدرت کے سایہ میں دیکھا جسے خدا نے انھیں عطا کیا تھا لہٰذا اس قدرت کی وجہ سے حاصل ہونے والے افعال کی ذمہ داری قبول کرلی، اور اس کے علاوہ خدا کی جانب سے تاثیر استقلالی کو درک کرلیا، اور اس طرح ایسے مفید نتائج کے حصول میں کامیاب ہوگئے۔

خاندان نبوت سے حاصل ہونے والی روایات میں اس بحث کے آثار ملتے ہیں، احادیث میں استطاعت جبرو تفویض کے عنوان کے تحت اور اس کے علاوہ اذن، مشیت، ارادہ، قضا وقدر الٰہی کے ابواب میںذکر کیا گیا ہے۔

ان مطالب کے علاوہ بعض روایتوں میں ا یسے لوگوں کو ان مسائل میں غور و فکر کرنے سے روکا گیا ہے کہ جو فکر ی اعتبار سے ضعیف ہیں تا کہ وہ گمراہ ہونے سے محفوظ رہیں۔

ہاں، جبرو اختیار کے مختلف اقسام ہیں کہ جن میں سے ہر ایک کے سلسلہ میں تحقیق و جستجو اس کتاب کے ہدف سے خارج ہے، لہٰذا اس موضوع کی اہمیت کی وجہ سے ان میں سے فقط بعض مسائل کو ذکر کریں گے اور ان لوگوں کو ہماری یہ تلقین ہے کہ جو مزید تحقیق کے خواہاں ہیں کہ وہ مبانی عقلی و فلسفی کو سمجھنے میں صبر سے کام لیں۔

اختیار کی وضاحت۔

ارادہ کی قوت ، امور یقینی میں سے ہے ،کہ جو ہر انسان میںپائی جاتی ہے، اس لئے کہ ہر انسان خطا ناپذیر علم حضوری کے ذریعہ اسے اپنے وجود میں درک کر تا ہے، جیسا کہ اسی علم کے ذریعہ اپنی بقیہ روحی خصوصیات کا پتہ لگاتا ہے یہاں تک کہ علم حضوری ہی کے ذریعہ کسی امر کے سلسلہ میں شک کا بھی احساس کر تا ہے، اور اسے درک کرنے میں کوئی شک نہیں کرتا۔

اسی طرح انسان ایک معمولی توجہ کے ذریعہ اپنے وجود میں اس بات کا احساس کرتا ہے کہ وہ تکلم کرسکتا ہے یا نہیں، غذا تناول کرسکتا ہے یا نہیں ، ہاتھوں کو حرکت دے سکتا ہے یا نہیں۔

کسی بھی امر کو انجام دینے کا ارادہ بنانا کبھی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے جیسے کہ ایک بھوکا کھانا کھانے کا رادہ کرتا ہے، یا ایک پیاسا پانی پینے کا ارادہ کرتا ہے اور کبھی عقلی آرزوئوں کو پورا کرنے اور انسانی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ارادہ کیا جاتا ہے جیسے کہ ایک مریض اپنی سلامتی حاصل کرنے کے لئے تلخ دوائیں کھاتا کرتا ہے، اور لذ یذ غذائوں سے پرہیز کرتا ہے، یا ایک محقق اپنے مقصود کی تلاش میں مادیات سے چشم پوشی کرتا ہے اوربے شمار زحمتیں تحمل کرتا ہے یا ایک فدا کار فوجی اپنے ہدف تک پہنچنے میں اپنی جان کو بھی قربان کردیتا ہے۔

در اصل انسان کی عظمتوں کا اندازہ ا س وقت لگتا ہے کہ جب مختلف خوا ہشیں جمع ہوں ، اور اس کے بعد انسان، فضائل اخلاقی، کرامت نفسانی ، اورقرب خداوندی و رضوان الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے اپنی پست اور حیوانی خواہشات سے چشم پوشی کر لے ، اس لئے کہ کوئی بھی عمل جس قدر دلچسپی اور کامل ارادہ سے انجام دیا جائے گا ، اسی کے مطابق روحی تکامل یا تنزل حاصل ہو گا ، اور اسی اعتبار سے جزاء و سزا کا مستحق ہوگا ۔

البتہ نفسانی خواہشات کے مقابل میں ٹھہر نے کی طاقت تمام انسانوں میں برابر نہیں ہے لیکن تمام انسانوں میں یہ (ارادہ) موہبت الٰہی موجود ہے انسان اگر چاہے تو تمرین کے ذریعہ اسے قوی بنا سکتا ہے۔

لہٰذا ارادہ کے موجود ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور مختلف طرح کے شبہات ذہن میں پیدا ہونے کی وجہ سے ارارہ جیسے امرِ وجدانی کے سلسلہ میں شک و تردید نہیں ہونا چاہئے اور جیسا کہ ہم نے اشارہ کردیا ہے کہ اختیار کا وجود ایک آشکار اصل کے عنوان سے تمام ادیانِ آسمانی، شرائع، اور تربیتی و اخلاقی نظاموں میں قبول شدہ ہے اور اس کے بغیر وظیفہ، تکلیف امر، نہی، جزا و سزا کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

وہ امور جو اس حقیقت سے انحراف کا باعث ہوتے ہیں اور جبر سے لگائو کا سبب بنتے ہیں ہمیں ان کا جواب دینا ضروری تا کہ اس وسوسہ کا خاتمہ ہوجائے لہٰذا اس مقام پر چند شبہات کے جوابات پیش کئے جا رہے ہیں ۔

شبہات کے جوابات۔

جبریوں کے مہم ترین شبہات درج ذیل ہیں۔

١۔ انسان کاا رادہ باطنی میلانات کا نتیجہ ہے، اور یہ میلانات نہ انسان کے اختیار میںہیں اور نہ ہی ان کے ظہور میں کوئی خارجی عامل سبب بنا ہے، لہذا اس طرح اختیار اور انتخاب کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا۔

٢۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ میلانات کا اٹھنا ارادہ کے بننے کا سبب ہے نہ یہ کہ کسی امر کو انجام دینے کے لئے کسی ارادہ کے وجود کا سبب ہے، جبر کا نتیجہ یہ ہے ،کہ جب خواہشات ظہور کریں تو مقاومت کی قوت سلب ہوجائے ،حالانکہ بہت سے امور میں انسان شک کرتا ہے کہ اسے انجام دے یا نہ دے اور کسی بھی امر کو انجام دینے کے لئے غور و فکر کی ضرورت ہے جو کبھی سود و منفعت ،تو کبھی دشواری کا سبب ہے۔

٢۔مختلف علوم میں یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ مختلف عوامل جیسے وراثت، (غذائیات اور دوائوں کے نتیجہ میں) غدود کے ترشحات، ا جتماعی عوامل، انسان کے ارادہ کے موجود ہونے کا سبب بنتے ہیں، اور انسانوں کے اخلاق کا بدلنا انھیں عوامل کے اختلاف کا سبب ہے جیسا کہ دینی متون میں بھی اسی مطلب کی طرف تاکید کی جاتی ہے، لہٰذا انسانی افعال کو آزاد، ارادہ کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آ ذاد ارادہ کو قبول کرلینے کا مطلب ان عوامل کی اثر گذاری کا منکر ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ان عوامل کے ہوتے ہوئے بھی مقاومت کرسکتا ہے اور مختلف خواہشات کے جمع کے دوران کسی ایک کا انتخاب کرسکتا ہے۔

البتہ یہ امر مسلم ہے کہ کبھی کبھی یہ عوامل انتخاب میں دشواری کا سبب بنتے ہیں لیکن اس کے باوجود مقاومت کرنا اور کسی ایک کا انتخاب کرلینا ،کمال میں تاثیر اور جزا کے مستحق ہونے کا سبب ہوتا ہے، جیسا کہ غیر معمولی ہیجانات سزا کے کم ہونے اور جرم میں تخفیف کا باعث ہوتے ہیں۔

٣۔ خدا تمام موجودات منجملہ افعالِ انسان کے وقوع سے پہلے پوری طرح ان سے آگاہ ہے،اورعلم الٰہی میں کسی قسم کی خطا کا کوئی امکان نہیں ہے،لہذا تمام حوادث، علم الٰہی کے مطابق واقع ہوتے ہیں، اور اس کے مخالف ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے،لہٰذااس مقام میں انسان کے ارادہ اور اختیار کا کوئی مطلب باقی نہیں رہتا ۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ علم الٰہی ہر اس حادثہ سے متعلق ویسا ہی ہے جیساکہ واقع ہونے والا ہے، اور انسان کے افعال اختیاری وصف اختیاریّت کے ہمراہ خدا کے نزدیک معلوم ہیں پس اگر یہ افعال وصف جبریت کے ساتھ واقع ہوں تو علم الٰہی کے خلاف واقع ہوں گے۔

جیسے خدا کو معلوم ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت میں ایک عمل کو انجام دینے کا ارادہ بنانے والا ہے اور اسے ضرور انجام دے گا، یہاں پر ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ علم صرف وقوع فعل سے متعلق ہے بلکہ وہ ارادہ اور اختیار سے بھی مربوط ہے لہذا علم الٰہی انسان کے آزاد ارادہ اور اس کے اختیار سے کوئی منافات نہیں رکھتا۔

جبریوں کا ایک دوسرا شبہ قضا و قدر کے سلسلہ میں ہے ان کے اعتقاد کے مطابق انسان کے اختیار سے سازگار نہیں ہے اور ہم آئندہ دروس میں اس مطلب کے تحت گفتگو کریں گے۔

سوالات

١۔جبر کے رواج اور اس سے وابستہ ہونے کے اسباب کیا ہیں؟

٢۔جبر سے وابستہ ہونے کے برے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

٣۔انسان کے اراد ہ اور اختیا رکی آزادی کی وضاحت کریں؟

٤۔ کیا باطنی میلانات اور ان کے وجود میں آنے کا سبب بننے والے عوامل انسان کے اختیار سے منافات رکھتے ہیں؟ کیوں؟

٥۔ وہ لوگ جو غیر معمولی ہیجانات اور دشوار شرائط میں گرفتار ہوجاتے ہیں، ان

میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے؟

٦۔ کیا وراثت اور ا جتماعی عوامل جبر کا سبب ہیں؟ کیوں؟

٧۔ کیا علم الٰہی انسان کے اختیار کی نفی کرتا ہے؟ کیوں؟

___________________

١۔ان آیات کی طرف مراجعہ کریں۔ سورۂ ہو۔د آیت/ ٧ ۔سورۂ ملک ۔آیت /٢۔ سورۂ کہف ۔آیت/ ٧۔ سورۂ ذاریات۔ آیت /٥٧۔ سورۂ توبہ ۔آیت/ ٧٢


انیسواں درس

دین کیا ہے

قضاوقدر کا مفہوم

قضا و قدر علمی و عینی

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہیں

انسان کے اختیار سے قضا و قدر کا رابطہ

متعدد علتوں کے اثر انداز ہونے کی قسمیں

قضا اور قدر پر اعتقاد کے آثار

قضاوقدر کا مفہوم

کلمہ ''قدر'' کے معنی اندازہ اور کلمہ ''تقدیر'' کے معنی تولنا اور اندازہ لگا نے کے ہیں اور کسی چیز کو ایک معین اندازے و پیمانے کے مطابق ساخت و ساز کے ہیں اورکلمہ ''قضا'' کے معنی انجام تک پہنچا نے اور فیصلہ کرنے کے ہیں اور کبھی یہ دونوں کلمہ ایک ساتھ تقدیر کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

تقدیر الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہر شی کے لئے کم (مقدار) و کیف ( حالت )، زمان و مکان کے اعتبار سے کچھ خاص حدود قرار دئے ہیں ،جو تدریجی اسباب و عوامل کے ذریعہ پاتے ہیں اورقضا الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شی کے مقدمات ، اسباب و شرائط فراہم ہو جائیں تو وہ شی اپنے اختتام تک پہنچ جائے ۔

اس تفسیر کے مطابق ، مرحلہ تقدیر، مرحلہ قضا سے پہلے ہے ، اور اس کے تدریجی مراتب ہیں

، جو قریب، متوسط ،بعید مقدمات کو شامل ہیں اور اسباب و شرائط کے بدلنے کے ساتھ یہ بھی بدل جاتے ہیں جیسے ایک جنین پہلے نطفہ پھر علقہ، پھر مضغہ یہاں تک کہ ایک کامل جنس کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس میں زمانی و مکانی تشخصات بھی پیداہوجاتے ہیں، اب اس کا ایک مرحلہ میں ساقط ہو جانا ، ٫٫تقدیر ،، میں تغیر سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن مرحلہ قضا ایک دفعی مسئلہ ہے جو اسباب و شرائط کے فراہم ہونے پر ہی منحصر ہے اس کے بعد اس کا پایا جانا حتمی ، و نا قابل تبدیل ہے

( َاِذَا قَضیٰ اَمراً فَاِنَّمَا یَقُولُ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ) .(۱)

جب وہ کسی امر کے بارے میں ٹھان لیتا ہے تو بس ا س سے کہتا ہے کہ ہوجا، وہ ہوجاتاہے

لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے کہ کبھی قضا و قدر دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، اسی وجہ سے انھیں حتمی اور غیر حتمی حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ روایات اور دعائوں میں قضا کو بدلنے والے اسباب میں سے ''صدقہ'' ماں باپ کے ساتھ نیکی، صلۂ رحم، دعا وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے۔

قضا و قدر علمی و عینی۔

کبھی تقدیر اورقضا الٰہی، موجودات کی پیدائش کے لئے اسباب و شرائط اور مقدمات کے فراہم ہونے کے تحت، علم خدا کہ معنی میں آیا ہے اسی طرح ان امور کے حتمی واقع ہو جانے کے سلسلہ میں یہ کلمات استعمال ہوتے ہیں جسے '' قضا و قد ر علمی '' کا نام دیا جاتا ہے، اور کبھی موجودات کی پیدائش کے تدریجی مراحل اور ان کے عینی تحقق کو، خدا کی ذات سے نسبت دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جسے '' قضا و قدر عینی ' ' کا نام دیا جاتا ہے۔

آیات و روایات کی روشنی میں علم الٰہی ان تمام موجودات کو شامل ہوتا ہے کہ جو خارج میں موجود ہوتے ہیں اور وہ سب کے سب خدا کی ایک مخلوق ''لوح محفوظ'' میں درج ہیں، لہٰذا جو بھی خدا

کی اجازت سے اس لوح محفوظ تک رسائی حاصل کرلے وہ گذشتہ اور آئندہ کے واقعات سے باخبر ہوجاتا ہے، اس لوح محفوظ کے علاوہ دوسرے کم مرتبہ لوح محفوظ بھی ہیں جو واقعات کو ناقص اور حدورد و

شرائط کے ساتھ بیان کر تے ہیں لہٰذا جو بھی ان تک رسائی حاصل کرلے وہ واقعات کے سلسلہ میں اجمالی علم حاصل کرلیتا ہے،جو قابل تبدیل بھی ہیں، شاید یہ آیت انھیں دو قسموں کی طرف اشارہ کر رہی ہے (یَمحُو اللّہُ مَا یَشَائُ وَ یُثبِتُ وَعِندَہُ اُمُّ الکِتَٰبِ)(۲)

پھر اس میں سے خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور حس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اس کے پاس اصل کتاب ،لوح محفوظ موجود ہے۔

بہر حال قضا و قدر علمی کے اعتبار کے سلسلہ میں اس سے زیادہ مشکلات و دشواریاں نہیں ہیں جو ہم نے خدا کے علم ازلی ہونے کے بارے میں بیان کی ہیں ، گذشتہ دروس میں علم الٰہی کے بارے میں جبریوں کے شبہات کے تحت گفتگو ہو چکی ہے اور ان کے شبہات کو کمزور اور ان کے بطلان کو واضح کیا جا چکا ہے ۔

لیکن قضا و قدر عینی پر اعتقاد کے سلسلہ میں جو مشکل ترین اعتراضات پیش کئے گئے ہیں ان کے جوابات دینا ضروری ہیں اگر چہ اس بابت تاثیر استقلالی میں توحید کے مباحث کے درمیان ایک اجمالی جواب د یا جا چکا ہے۔

انسان کے اختیار سے قضا و قدر کا رابطہ۔

ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ قضا و قدر عینی پر اعتقاد کا اقتضاء یہ ہے کہ موجودات کی پیدائش سے کمال تک بلکہ آخر عمر تک حتی کہ الھی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ مقدمات بعیدہ کے فراہم ہونے پر ایمان لانا ہوگا اور پیدائش کے شرائط کے فراہم ہونے سے آخری مرحلہ تک ارادہ الٰہی سے وابستہ ہونے پر یقین کرنا ہوگا۔(۳)

یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق جس طرح ہر موجود کا خدا کی مشیت اور اس کے ارادہ کی طرف نسبت دینا ضروری ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی وجود بھی موجود نہیں ہوسکتا، اسی طرح ہر شی کی پیدائش قضا و قدر الٰہی سے وابستہ ہے، اور اس کے بغیر کوئی بھی وجود اپنے حدود میں موجود نہیں رہ سکتا ، لہٰذا ا س نسبت کو بیان کرنا در اصل توحید کی تدریجی تعلیم یعنی تاثیرمیں استقلال کے معنی میں ہے جو توحید کے عظیم مراتب میں سے ہے، اور جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے کہ انسانوں کی تربیت میں توحید کی یہ قسم عظیم اثرات کی حامل ہے۔

لیکن موجودات کو اذن الٰہی اور اس کی مشیت سے نسبت دینا نہایت آسان ہے بر خلاف اس کے آخری مرحلہ نیز قطعی ہونے کی نسبت قضا الٰہی کی طرف اس لئے کہ اس میں پیچیدگیاں بہت زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ سب سے زیادہ متکلمین کی بحثوں کا مرکز بنا رہا ہے، اس لئے کہ تقدیر کے بننے میں انسان کے مختار ہونے کے اعتقاد کو قبول کرنے کے ساتھ اس اعتقاد (قضاو قدر ) کو ماننا اور اس پر ایمان لانا بہت مشکل ہے، اسی وجہ سے متکلمین کے ایک گروہ (اشاعرہ) نے چونکہ انسانی اعمال میں قضا الٰہی کے انتساب کا حامی تھا ، لہٰذا جبر کا قائل ہو گیا، لیکن متکلمین کا دوسرا گروہ (معتزلہ) چونکہ جبر اور اس کے جبران ناپذیر نقصانات سے آگاہ تھا لہٰذا اسے قبول نہ کرتے ہوئے انسانی افعال میں قضا الٰہی کی شمولیت کا منکر ہوگیا،اوران میں سے ہر ایک نے قرآنی آیات کی تفسیر اپنی رائے کے مطابق انجام دی اور مخالف آیتوں اور روایتوں کی تاویل کی جسے ہم نے مفصل جبر و تفویض کے سلسلہ میں لکھے گئے رسالہ میں پیش کیا ہے۔

لیکن ا صل اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعاً انسان کے افعال اختیاری ہیں اور وہ اپنے ارادہ میں مختار ہے تو اسے کس طرح ارادۂ الٰہی اور اس کی قضا سے نسبت دی جا سکتی ہے؟ اور اگراس کے افعال

کی قضا الٰہی سے نسبت دی گئی ہے تو پھر کس طرح انسان سے نسبت دی جا سکتی ہے؟

لہٰذا اس اشکال کو رفع کرنے کے لئے اور ان دونوں نسبتوں کو جمع کرنے کے لئے ایک علت کی طرف چند معلول کو نسبت دینے کے بارے میں ایک مختصر وضاحت پیش کریں گے تا کہ ان دونوں

نسبتوں کی نوعیت معلوم ہوسکے۔

متعدد علتوں کے اثر انداز کی قسمیں۔

ایک موجود کی پیدائش میںچند علتوں کے ائر انداز ہونے کی چند صورتیں ہیں۔

١۔ چند علتیں ایک ساتھ اثر انداز ہوں جیسے کہ بیج، پانی، ہوا، آفتاب جیسے اسباب مل کر سبزہ کے اگنے کاسبب بنتے ہیں۔

٢۔ چند علتیںنیابتاً ایک دوسرے کے بعد عمل کریں جیسے کہ ہوائی جہاز کے متعدد انجن یکے بعد دیگرے روشن ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہوائی جہاز برابر پرواز کرتا ہے

٣۔ چند علتوں کا آپس میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا جیسے کہ متعدد گیند کا ایک دوسرے سے ٹکرانا، یا متعدد کاروں کا ایک ساتھ اکسیڈنٹ ، یا ارادہ کا موئر ہونا ہاتھ کی حرکت پر اور ہاتھ کی حرکت کا اثر انداز ہونا قلم کی حرکت پر اور قلم کی حرکت کا نتیجہ ایک نوشتہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اسی طرح تمام موجودات ایک دوسرے کی تاثیر کا نتیجہ ہیں۔

٤۔ متعدد عوامل کا ایک دوسرے پر اثر، جبکہ ہر ایک دوسرے سے مستقل ہو، یہ فرض گذشتہ فرض سے بالکل جدا ہے اس لئے کہ وہاں ہاتھ کی حرکت ، ارادہ پر منحصر تھی اور قلم کی حرکت ، ہاتھ کی حرکت پر منحصر تھی ۔

ان تمام صورتوں میں چند علتوں کے ذریعہ ایک معلول کا وجود میں آنا لازمی ہے، لہٰذا فعل اختیاری میں ارادۂ الٰہی اور انسان کے ارادے کی تاثیر اسی قسم میں سے ہے، اس لئے کہ انسان اور اس کا ارادہ، ارادۂ الٰہی سے وابستہ ہے۔

لیکن وہ صورت کہ جس میں معلول واحد پر دو علتوں کا اجتماع غیر ممکن ہے، وہ دو ''ہستی بخش' (وجود آفرین )علتوں کا اجتماع ہے یا ایسے دو علتوں کا اجتماع ہے کہ جو مانعة الجمع، مستقل ،اور ایک دوسرے کے بدلے اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کہ ایک ارادہ دو مزید فاعلوں سے وجودمیں آئے یا دو مشابہ موجود دو تامہ علتوں کا نتیجہ ہوں۔

شبہ کا جواب۔

گذشتہ توضیحات کی روشنی میں انسان کے افعال اختیاری کو خدا سے نسبت دینے کے علاوہ خود انسان سے نسبت دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے ،اس لئے کہ یہ نسبتیں آپس میں مزاحم نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے طول میںہیں۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق ایک فعل کو اس کے فاعل کی طرف نسبت دینا یہ ایک مرحلہ ہے اور خود اس کے وجود کو خد کی طرف نسبت دینا اس شے بالا تر مرحلہ ہے کہ جس مرحلہ میں خود انسان کاوجود اور وہ مادہ کہ جس پر وہ فعل انجام پاتا ہے اور وہ آلاتُ جس کی مدد سے فعل واقع ہوا ہے سب کے سب اسی سے وابستہ ہیں۔

پس انسان کے ارادہ کی تاثیر علت تامہ کے ایک جز کے عنوان سے اپنے امور میں اس امر سے کوئی منافات نہیں رکھتا، کہ علت تامہ کے تمام اجزا کو خدا سے نسبت دیدی جائے ،اور وہ صرف خدا ہے جو جہان انسان اور اس کے تمام افعال و کردار کو اپنے دست قدرت میں سنبھالے ہوئے ہے، ہمیشہ انھیں وجود عطا کرتا ہے اور ان میں ہر ایک کو ایک معین شکل میں خلق کرتا ہے لہٰذا کوئی موجود بھی کسی بھی حال میں اس سے بے نیاز نہیں ہے، اور انسان کے اختیاری افعال بھی اس سے بے نیاز اور اس کی قدرت سے باہر نہیں ہیں، اور اس کی تمام خصوصیات، اور صفات الٰہی قضا و قدر سے وابستہ ہیں، لہذا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ یا تو وہ، انسان کے ارادہ سے وابستہ ہوں یا خدا کے ارادہ کے تحت ہوں اس لئے کہ یہ دونوں ارادے، مستقل اور مانعة الجمع نہیں ہیں،اوراعمال کو تحقق بخشنے میں ایک دوسرے کے بدلے اثر انداز نہیں ہوتے، بلکہ انسان کا ارادہ اس کے وجود کی طرح ارادۂ الٰہی سے وابستہ ہے، اور اسے تحقق بخشنے کے لئے خدا کے ارادہ کی ضرورت ہے۔

( مَا تَشَاء ُونَ اِلَّا اَنْ یَشَائَ اللّٰه رَبّ الْعَالَمِیْنَ ) .(۴)

اور تم کچھ چاہتے ہی نہیں مگر وہی جو سارے جہا ن کا پالنے والا خدا چاہتا ہے۔

قضا و قدر پر اعتقاد کے آثار۔

قضا قدر پر اعتقاد ،معرفت خدا کے حصول اور عقلی اعتبار سے انسان کے تکامل (بتدریج کامل ہونے) کے علاوہ بے شمار علمی فوائد کا حامل ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے اور بعض کو ہم یہاں ذکر کریں گے۔

وہ اشخاص جو حوادث کی پیدائش میں ارادہ الٰہی کی اثر اندازی اور قضا و قدر الھی پر ایمان رکھتے ہیں وہ ناگوار حادثوں سے نہیں ڈرتے، اور نالہ و زاری نہیں کرتے، بلکہ چونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ حوادث بھی اس کے حکیمانہ ارادہ کا ایک جز ہے اور اس کے واقع ہونے میں کوئی نہ کوئی حکمت کار فرما ہے لہٰذا رضا کارانہ اور والھانہ طور پر اس کا استقبال کرتے ہیں، اور اس طرح صبر و رضا ، تسلیم و توکل جیسے صفات کے مظور بن جاتے ہیں اور دنیا کی خوشیوں ورعنائیوں پر مغرور و سرمست نہیں ہو تے اور خدائی نعمتوں کو اپنے لئے فخر کا وسیلہ نہیں سمجھتے۔

یہ تووہی آثار ہیں کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے ۔

( مَا اَصَابَ مِنْ مُصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی اَنفُسِکُم اِلاَّ فِی کِتَٰبٍ مِن قَبلِ اَن نَّبرَأهَا اِنَّ ذَلِکَ عَلی اللّهِ یَسِیر ٭لِّکَیلاَ تَأسَوا عَلَی مَافَاتَکُم وَلاَ تَفرَحُو ا بِمَائَ ا تَکُم وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُختَالٍ فَخُورٍ ) (۵)

جتنی مصیبتیں روئے زمین پر اور خود تم لوگوں پر نازل ہوئی ہیں قبل اس کے کہ ہم انھیں ظاہر کریں (لوح محفوظ) میں مکتوب ہیں بیشک یہ خد اپر آسان ہے ،تا کہ جب تم سے کوئی چیز چھین لی جائے اس کا رنج نہ کرواورجب کوئی چیز (نعمت) خدا تم کو دے تو اس پر نہ اترایا کرو اور خدا کسی اترانے والے شیخی باز کو دوست نہیں رکھتا۔

لیکن اس بات کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ تاثیر استقلالی میں توحید قضا و قدر سے غلط مطلب نکالنا انتہائی سستی، کاہلی اور ذمہ داریوںسے از نو منھ موڑنا ہے ۔

اورہمیںیہ یاد رہنا چاہیے کہ جاودانی سعادت و شقاوت ہمارے اختیاری افعال میں ہے۔

( لهَا مَا کَسبَت وَ عَلَیهَا مَا اَکتَسَبَت ) .(۶)

اس نے اچھا کام کیا تو اپنے نفع کے لئے اور برا کام کیا تو (اس کا وبال)کا خمیازہ بھی وہی بھگتے گا،

( وَ اَن لَّیسَ للِاِنسَانَ اِلاَّ مَا سَعَی ) ٰ)(۷)

اور انسان کے لئے نہیں ہے مگر یہ کہ جتنی وہ کوشش کرے

سوالات

١۔ قضا و قدر کے لغوی معنی بیان کریں؟

٢۔ تقدیر الٰہی اور اس کی قضا کا مطلب کیا ہے؟

٣۔ کس اعتبار سے قضا و قدر کو حتمی اور غیر حتمی امور میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟

٤۔ بداء کیا ہے؟

٥۔ علمی اور عینی قضا و قدر کو بیان کریں؟

٦۔ لوح محفوظ اور لوح محو اثبات اور ان دونوں کا حتمی اور غیر حتمی تقدیر سے ارتباط کو بیا ن کریں؟

٧۔ قضا و قدر اور انسان کے مختار ہونے کے درمیان جمع کی مشکلات کے علاوہ اس موضوع کے تحت متکلمین کے اختلافات کی شرح دیں؟

٨۔ معلول واحد میں متعدد علتوں کے اثر انداز ہونے کی قسموں کو بیان کریں اور ان میں سے کون سی قسم محال ہے؟

٩۔ قضا و قدر کے مسئلہ میں جبر کے متعلق شبہات کو بیان کریں؟

١٠۔ قضا و قدر الھی پر اعتقاد رکھنے کے اثرات بیان کریں؟

____________________

(١)سورۂ آل عمران۔ آیت /٤٧، سورہ بقرہ ۔آیت /١١٧ ،سورۂ مریم ۔آیت /٣٥ ،سورۂ غافر۔ آیت/ ٦٨.

(۲)سورۂ رعد آیت ٣٩.

(۳)ارادہ اور قضا کا ا یک دوسرے پر منطبق ہونا سورہ آل عمران کی آیت نمبر ٤٧ اور سورۂ یس کی آیت نمبر ٨٣، کی تطبیق کے ذریعہ یہ مطلب روشن ہوجاتا ہے ''اِنَّمَا اَمْرُهُ اِذَا اَرَادَ شَیْئاً اَنْ یَقُوْلَ لَهُ کُنْ فَیَکُوْنُ'' .

(۴)سورۂ تکویر۔ آیت/ ٢٩.

(۵) سورہ حدید۔ آیت/ ٢٢ ٢٣

(۶)سورہ بقرہ۔ آخری آیت.

(۷)سورۂ نجم ۔آیت/ ٣٩.


بیسواں درس

عدل الٰہی

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

مفہوم عدل

دلیل عدل الٰہی

چند شبہات کا حل

مقدمہ

ہم نے گذشتہ دروس میں متکلمین کے دو گروہوں (اشعری اور معتزلی ) کے نظریات کلامی، ارادہ الٰہی، توحید ، جبرو اختیار، قضا و قدر کے سلسلہ میں گفتگو کی کہ جن میں یا تو افراط ہے تفریط۔

انھیں دو گرہوں کے درمیان بنیادی اختلاف میں سے ایک عدل الٰہی کا مسئلہ ہے، اس نظریہ میں شیعہ متکلمین ،معتزلہ کے موافق ہیں جنھیں اشاعرہ کے مقابل میں عدلیہ کہا جاتا ہے، اور یہ مسئلہ اپنی اہمیت کی وجہ سے علم کلام کے بنیادی و اساسی مسائل میں شمار کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس مسئلہ کو اصول عقائد کا ایک حصہ اور شیعہ و معتزلہ متکلمین کی پہچان کے عنوان سے جانا گیا ہے۔

لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اشاعرہ عدل الٰہی کے منکر نہیں ہیں، اور ایسا ہر گز نہیں ہے کہ وہ (العیاذ باللہ) خدا کو ظالم سمجھتے ہوں، اس لئے کہ قرآن کی آیات واضح انداز میں عدل الٰہی کے اثبات اور اس سے ہر طرح کے ظلم کی نفی کرتی ہیں، لیکن اصل اختلاف یہ ہے کہ کیا عقل، شرعی بیانات (کتاب و سنت) سے ہٹ کر خدا کے افعال کے لئے قوانین کا ادراک کرسکتی ہے، اور اس طرح کسی عمل کے انجام دینے یا اسے ترک کرنے کا حکم دے سکتی ہے، مثلاً کیا ''خدا کے لئے لازم ہے کہ مومنوں کو بہشت اور کافروں کو دوزخ میں لے جائے'' کیاعقل حکم دے سکتی ہے، یا پھر ایسے قضایا کا حل صرف وحی کے ذریعہ ممکن ہے اور عقل کو ایسے مسائل میں دخل اندازی کا کوئی امکان نہیں ہے؟

لہذا اختلاف کا محوری نقطہ(حُسن و قبح عقلی )کا مسئلہ ہے جس سے اشاعرہ نے انکار کیا ہے اور وہ قائل ہیں کہ تکوینی امور میں جو خدا کا فرمان ہے وہی بہتر ہے، اور (تشریعی امور) میں صرف اسی کا حکم اچھا اور بہتر ہے، اور ایسا ہرگز نہیں ہے چونکہ وہ نیک کام ہے لہٰذا اسے انجام دینے کا حکم دیا جائے یا برا کام ہے لہذا ا س سے روکا جائے۔

لیکن عدلیہ حضرات کا یہ نظریہ ہے کہ تکوینی اور تشریعی مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے افعال خدا کو(حُسن و قبح) سے متصل کیا جا سکتا ہے، اور عقل بھی ایک حد تک افعال کے برے یا اچھے ہونے کے اسباب کا پتا لگا سکتی ہے اور وجود مقدس الٰہی کو افعال قبیحہ سے منزہ کر سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عقل خدا کو (العیاذ بااللہ) نیک امور کا حکم دے یا برے امور سے منع کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عقل ذات خداوندی سے افعال قبیحہ کے صدور کو محال جانتی ہے نیز ذات الٰہی اور افعال حسنہ یا قبیحہ کے درمیان نسبتوں کا اندازہ لگا سکتی ہے۔

یہ بات آشکار ہے کہ ان مباحث کی تفصیلی تحقیق اور اس ضمن میں شبہات کا جواب جس میں اشاعرہ کی طرف سے ( حُسن و قبح) عقلی کا انکار کیا گیا ہے اور انھیں جماعت عدلیہ کے مقابلہ میں لا کر کھڑا کردیا ہے اس کتاب کی وسعت سے باہر ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس مسئلہ کے تحت معتزلہ کے بعض ضعیف نظریات ہوں کہ جن کی ہم مناسب موقع پر وضاحت کریں گے ، لیکن یہ حُسن و قبح عقلی کا مسئلہ شیعوں کے نزدیک قابل قبول اور کتاب و سنت کی طرف سے تائید کے علاوہ، معصومین علیہم السلام نے اس کے اثبات میں بڑی تاکید کی ہے۔

اسی وجہ سے ہم یہاں پر مفہوم عدل کے تحت تھوڑی وضاحت کریں گے، اور چونکہ یہ خدا کی صفاتِ فعلیہ ہے لہٰذا اس پر دلیلاقا ئم کرتے ہوئے اس ضمن میںموجودہ شبہات کے سلسلہ میں بحث کریں گے

مفہوم عدل۔

عدل کے لغوی معنی برابری اورمساوی کرنے کے ہیں، اور عرف عام میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کرنے کے معنی میں ہے جسے دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرنے کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے پس عدل کی اس طرح تعریف کی جا سکتی ہے اِعطَاَء کُلّ ذِ حَقٍ حَقَہُ''صاحب حق کے حق کو عطا کرنا

لہٰذا اس تعریف کے تحت ایک ایسے موجود کو فرض کرنا ہوگا جو صاحب حق ہو ، تا کہ اس کی رعایت کو عدل اور اس پر تجاوز کو ظلم کا نام دیا جا سکے لیکن کبھی مفہوم عدل کو وسعت دیتے ہوئے اس طرح تعریف کی جاتی ہے ،کہ (کسی بھی شی کو اس کے مقام پر رکھنااورکسی بھی فعل کو شائستہ صورت میں انجام دینا) اور پھر اس طرح عدل کی تعریف (وضع کل شئٍ ف موضعہ).(کسی بھی شی کو اس کے مقام پر رکھنا) کی جا سکتی ہے، عدل کی یہ تعریف حکمت کے مساوی اور ایک عادلانہ حکیمانہ عمل کا مساوی کہلائے گی لیکن کسی طرح (صاحب حق کا حق)کسی بھی شئی کا اپنا مقام معین ہو، اس سلسلہ میں کافی بحث ہے جس نے فلسفہ اور کلام کے ایک عظیم مباحث کو اپنے سے مخصوص کرلیا ہے جنھیں ہم یہاںپر کسی بھی صورت میں بیان نہیں کرسکتے۔

لیکن جس مسئلہ کی طرف توجہ لازم ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام عقلا اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یتیم کے دہن سے لقمہ کو چھیننا یا نا حق کسی کا خون بہانا ،ایک قبیح عمل ہے، یا یتیم کے دہن سے چھینا گیا لقمہ اس کے منھ میں لوٹا دینا یا ناحق خون بہانے والے کو سزا دینا ایک عادلانہ اور شائستہ عمل ہے، اور یہ امر خدا کے امر و نہی پر منحصر نہیں ہے یہاں تک کہ ایک ملحد بھی اپنے مقام پر یہی قضاوت کرتا ہے لیکن اس فیصلہ کا راز کیا ہے؟ اور کون سی طاقت حسن و قبح کے تعین کی صلاحیت رکھتی ہے اسی طرح کے اور دوسرے مسائل کے بارے میں فلسفہ کی کتابوں میں بحث کی جاتی رہی ہے۔

نتیجہ۔

عدل کے لئے دو مفہوم خاص اور عام فرض کئے جاسکتے ہیں، ایک یہ کہ دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا، اور دوسرے یہ کہ حکیمانہ عمل انجام دینا ،کہ جس میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کرنا شامل ہے

لہٰذا عدل کا لازمہ تمام انسانوں یا اشیاء کو برابراور مساوی تقسیم کرنا نہیں ہے جیسے کہ عادل استاد یہ نہیں ہے جو محنتی اور کاہل شاگردوں کو برابر سے تشویق یا انھیں مساوی حثیت سے سزادے، یا عادل قاضی یہ نہیں ہے جو مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان مورد نزاع مال کو مساوی تقسیم کردے، بلکہ عادل استاد یہ ہے جو ہر شاگرد کو اس کی شائستگی کے مطابق تشویق یا اس کی کاھلی کے اعتبار سے اسے سزادے، اور عادل قاضی یہ ہے جو مال کو اس کے مالک کے حوالہ کردے۔

اسی طرح حکمت الٰہی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ تمام مخلوقات کو ایک جیسا خلق کرے، جیسے کہ پرندوں کی طرح انسان کو بھی بال و پر عطا کرے... بلکہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ جہان کو اسی صورت میں خلق کرے کہ جس سے زیادہ سے زیادہ خیر و کمال مل سکے، اور مختلف موجودات کو انتہائی ہدف کے مطابق خلق کرے اسی طرح حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کی استعداد کے مطابق عمل انجام دینے کا حکم دے(۱) اور پھر اس کی استعداد اور توانائی کے مطابق قضاوت کرے(۲) اور اس کے عمل کے عوض میں سزا، یا جزا عطا کرے۔(۳)

دلیل عدل الٰہی ۔

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ عدل ایک تعریف کے مطابق حکمت الٰہی کا حصہ اور دوسری تعریف کے مطابق عین حکمت الٰہی ہے، لہٰذا اس کے اثبات میں دلیل بھی ایسی ہونی چاہیے جو حکمت الٰہی کو ثابت کر سکے، جس کے بارے میں گیارہویں درس میں اشارہ کیاجاچکا ہے، یہاں پر مزید اس کی وضاحت کی جا رہی ہے ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ خدا بے نہایت قدرت و اختیار کا مالک ہے اور تمام ممکن الوجود امور اسی کی قدرت میںہیں، اور کسی بھی خارجی طاقت کے سامنے تسلیم اور مغلوب ہوئے بغیر امور کی انجام دہی یا انھیں ترک کرنے پر قادر ہے، لیکن ہر وہ فعل جسے انجام دے سکتا ہے انجام نہیں دیتا بلکہ جس کے لئے ارادہ بناتا ہے اسے انجام دیتا ہے۔

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے حساب و کتاب نہیں ہے، بلکہ صرف وہ اپنے صفات کمالیہ کے مطابق ارادہ بناتا ہے، اور اگر اس کے صفات کمالیہ کسی فعل کا تقاضا نہ رکھتے ہوں تو وہ کبھی بھی اسے انجام نہیں دیتا،' چونکہ ذات خداوند کمالِ محض ہے ،لہٰذا اس کا ارادہ بھی مخلوقات کے کمال اور ان کے خیر سے متعلق ہوتا ہے، اور اگر کسی مخلوق کے وجود کا لازمہ ،جہان میں نقائص کی پیدائش کا سبب ہو تو اس کے نقائص مقصود بالتبع ہو ں گے۔

یعنی اس لئے کہ وہ خیر فراواں ناقابل انفکاک (شر) کا لازمہ ہے، لہٰذا اس خیر غالب سے ارادہ الٰہی متعلق ہوگا۔

پس الٰہی صفات کمالیہ کا اقتضا یہ ہے کہ جہان اس طرح خلق ہو کہ جو مجموعاً زیادہ سے زیادہ خیر و کمال کا سر چشمہ بن سکے لہذا یہیں سے خدا کے لئے صفات کمالیہ ثابت ہوجاتے ہیںاسی بنیاد پر ارادۂ الٰہی اسی انسان کی خلقت سے متعلق ہوتا ہے کہ جس میں امکان وجود ہو اور ''خیر و برکت کا منشا ہو، اور انسان کے امتیازات میں سے اس کا مختار ہونا اور ارادہ کے اعتبار سے آزاد ہونا ہے، بے شک اختیار و انتخاب کی طاقت سے متصف ہونا کمالات وجودی میں سے شمار کیا جاتا ہے، لیکن انسان کے مختار ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ وہ نیک امور انجام دے ،اور اپنے انتہا ئی کمال کی جانب قدم بڑھاتا رہے،اوراس میں اتنی طاقت ہو کہ وہ ناپسنداوربرُے امور سے اپنے آپ کو بچالے تا کہ شقاوت جاودانی اور خسران عظیم سے محفوظ رہ سکے، البتہ وہ امر جو تنہا ارادہ الٰہی سے متعلق ہوتا ہے وہ صرف تکامل ہے لیکن چونکہ انسان کے تکاملِ اختیاری کے لازمہ کے ساتھ امکان ِ سقوط بھی ہے، جو نفسانی خواہشوں کی پیروی سے حاصل ہو تا ہے، لہٰذا ایسا سقوط اختیاری بھی بالتبع ارادہ الٰہی سے متعلق ہوگا۔

اور چونکہ صحیح انتخاب خیر و شر کی راہوں کی صحیح شناخت کا محتاج ہے، لہٰذا خدا نے انسان کو انھیں امور کے انجام دینے کاحکم دیا ہے جن میں زیادہ سے زیادہ خیر و مصلحت ہو اسی طرح تباہی و بربادی کے عوامل سے بچنے کا حکم بھی دیا ہے،' تا کہ اس طرح اس کے تکامل کا وسیلہ فراہم ہوجائے اور چونکہ تکالیف اور احکام اس لئے وضع ہوئے ہیں تا کہ انسان ان پر عمل کرتے ہوئے مفید نتائج تک پہنچ سکے کہ جس میں خدا کے لئے نہ کوئی نفع ہے اور نہ ہی نقصان، اس وجہ سے حکم الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ یہ احکام مکلفین کی طاقت کے مطابق ہوں اس لئے کہ وہ احکام جن پر عمل نہیں کیا جا سکتا وہ بے فائدہ اور لغو ہیں۔

پس اس طرح عدل کا پہلا مرحلہ (اپنے خاص معنی میں) یعنی مقام تکلیف میں عدالت اس دلیل سے ثابت ہے کہ اگر خدا بندوں کی طاقت سے ما وراء ان پر کوئی حکم نافد کرے تو وہ چونکہ امکان عمل سے باہر ہے لہٰذا ایک بے فائدہ عمل کہلائے گا۔

لیکن بندوں کے درمیان فیصلہ میں عدالت کا مسئلہ اس نکتہ کی طرف توجہ دینے کے ذریعہ ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا کا ایسا کرنا صرف اس وجہ سے ہے تا کہ سزا و جزا کے اعتبار سے انسان مشخص ہوسکے ،لہذا اگر ایسی صورت میں خدا نے عدل و انصاف سے کام نہیں لیا تو نقص غرض لازم آئیگی ۔

آخر کار سزا اور جزا دینے کا مقصد مقام عدالت ہدفِ خلقت کے پیش نظر ثابت ہوجاتا ہے اس لئے کہ جس نے انسان کو اچھے اور برے امور کے نتائج تک رسائی کے لئے خلق کیا ہے اگر انھیں اس ہدف کے خلاف سزا یا جزا دینا چاہے تو وہ کبھی بھی اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔

لہذا تمام مظاہر کے درمیان عدل الٰہی کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کے صفات ذاتیہ حکیمانہ اور عادلانہ اعمال کا سبب ہیں اور ایسی کوئی صفت بھی اس کی ذات میں نہیں پائی جاتی جس میں ظلم و ستم یا عبث ہونے کا شائبہ پایا جاتا ہو۔

چند شبہات کا حل۔

١۔ مخلوقات کے درمیان خصوصاً انسانوں میں موجود اختلافات عدل الٰہی سے کس طرح سازگارہیں؟ اور کیوں خدا نے اپنی تمام مخلوقات کو یکساں خلق نہیں کیا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مخلوقات کے درمیان خلقت کے اعتبار سے موجودہ اختلافات نظام خلقت اور اس پر حاکم قانونِ علت و معلول کا لازمہ ہیں تمام مخلوقاتکا اپنی خلقت میں یکساں ہونا ایک خام خیالی ہے اگر اس سلسلہ میں ہم تھوڑا بھی غور کر لیں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ فرض ترک خلقت کے مساوی ہے اس لئے کہ اگر تمام مخلوقات مرد یا عورت ہو تے تو نسل آگے بڑھ نہیں سکتی تھی اور انسانی نسل کا خاتمہ ہوجاتا، اسی طرح اگر تمام مخلوقات انسان ہو تی تو انھیں اپنی احتیاجات کو برطرف کرنے کے لئے کوئی چیز باقی رہ نہ جاتی اس کے علاوہ اگر تمام حیوانا ت یا نباتات ایک ہی جیسے اور ایک ہی رنگ سے سرقراز ہوتے تو ایسے دلکش مناظر کے علاوہ مختلف فوائد کا وجود نہ ہوتا ،موجودات کا مختلف اشکال میں پیدا ہونا مادہ کے تغیرات کا نتیجہ ہے،اورخلقت سے پہلے کسی کا کوئی بھی حق خدا کے ذمہ نہیں ہے کہ وہ اسے کیسے اور کس شکل میں خلق کرے، کہاں قرار دے کس مقام میں اتارے، تا کہ اس طرح عدل قائم رہے اور ظلم کا خاتمہ ہوجائے۔

٢۔ اگر حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اس جہان میں خلق کرے، تو پھر اسے موت کیوں دیتا ہے اور کیوں اس کی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو یہ : اس جہان میں موجودات کی زندگی اور موت قوانین تکوینی اور علت و معلول روابط کی وجہ سے ہے، اور یہی نظام خلقت کا لازمہ بھی ہے

دوسرے یہ کہ: اگر زندہ موجودات نہیں مرتے اور باقی رہ جاتے تو آئندہ مخلوقات کے لئے خلقت کا کوئی مقام نہیں رہ جاتااوروہ وجود و حیات کی نعمتوں سے محروم ہوجاتے۔

تیسرے یہ کہ: اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ تمام انسان خلقت کے بعد ہمیشہ زندہ رہیں تو چند ہی سال کے اندریہ زمین انسانوں کے لئے تنگ ہوجاتی اور لوگ رنج و الم اور تنگی کی وجہ سے موت کی تمنا کرنے لگتے۔

چوتھے یہ کہ: انسان کی خلقت کا اصل ہدف کمال تک پہنچنا ہے اور جب تک انسان موت کے ذریعہ اس جہان سے جہانِ ابدی میں منتقل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے انتہائی ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔

٣۔یہ اس زمین پر بے شمار طبیعی بلائوں اور رنج و الم (جیسے زلزلہ سیلاب وغیرہ ) اور اجتماعی مشکلات جیسے جنگ ،جدال) کیونکر عدل الٰہی سے سازگار ہیں؟

سب سے پہلے ، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسے ناگوار حوادث کا وجود مادی تغیرات کا نتیجہ ہے اورجبکہ اس کی حکمت ان کے عیوب پر غالب ہے لہٰذا یہ کسی بھی حال میںمخالف حکمت نہیں ہو سکتے اس کے علاوہ اجتماعی مشکلات کا اٹھنا انسان کے مختار ہونے کا لازمہ ہے جو حکمت الٰہی کا تقاضا ہے اور زندگی کے مصالح اس کے مفاسد سے کہیں زیادہ ہیں اس لئے کہ اگر صرف مفاسد ہی مفاسد ہوتے تو اس زمین پر کوئی انسان باقی نہ رہتا۔

دوسرے یہ کہ ، ایک طرف بے شمار رنج و زحمت کا ہونا اسرار طبیعت کو کشف کر نے کے لئے انسانوں کی حرکت کا سبب اور مختلف علوم و فنون کے ایجاد کا انگیزہ ہے اوردوسری سختیوں سے نبرد آزمانا ، نیز اس سے مقابلہ کرنا انسانی صلاحیتوں کو پر ثمر بنانے کے لئے اور راہ تکامل کو طے کرنے کے لئے ایک زبر دست عامل ہے اس کے علاوہ اس جہان میں اگر سختیوں کو تحمل کرنا نیتِ خیر کے ساتھ ہو تو جہانِ ابدی میں عظیم نعمات سے سرفرازی کاسبب ہے۔

٤۔ اس زمین پر ہونے والے محدود گناہوں کی سزا عذاب ابدی کی شکل میں کیو نکر عدالت سے ساز گار ہے؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ نیک اور بد اعمال کے درمیان، اور اخروی سزا و جزا کے درمیان ایک قسم کا رابطۂ علیت پایا جاتا ہے جسے وحی الٰہی کے ذریعہ لوگوں کو سنادیا گیا ہے اور جس طرح اس جہان میں بعض حوادث وا شرار ، طولانی آثار کا سبب بنتے ہیں جیسے کہ انسان کا ا پنی یا دوسروں کی آنکھوں کو پھوڑ دینا ایک لحظہ کا عمل ہے لیکن اس کے آثار یعنی نا بینائی آخر عمر تک باقی رہتی ہے اس طرح بڑے بڑے گناہ آخرت میں ابدی آثار سے متصف ہیں، لہٰذا اگر کوئی اس جہان میں انھیں ان کی تلافی نہ کرے (جیسے کہ توبہ نہ کرے) تو اس کے برے آثار ابدتک ،اس کے دامن پر رہیں گے، جس طرح انسانوں کا آخری عمر تک اندھا رہنا تنہا اور تنہا ایک لحظہ کی شرارات کا نتیجہ ہے ،اور عدل الٰہی سے کوئی منا فات نہیں رکھتا، اسی طرح گناہوں کے نتیجہ میں عذاب ابدی میں گرفتار ہونا، عدل الٰہی سے منافات نہیں رکھتا ،اس لئے کہ جو کچھ بھی دیکھ رہا ہے، وہ ان گناہوںں کا نتیجہ ہے، جسے اس نے جانتے ہوئے انجام دیا ہے۔

سوالات

١۔ عدل الٰہی کے مسئلہ میں موجود ہ اختلاف کا ریشہ کیا ہے؟

٢۔ مفہوم عدل کی وضاحت کریں؟

٣۔کیا عدل کا لازمہ تمام موجودات کا ایک ہونا ہے؟ کیوں؟

٤۔حکمت اور عدل الٰہی کے لوازمات کیا ہیں؟

٥۔عدل الٰہی کی دلیل کیا ہے؟

٦۔ انسان کے خلق کرنے کا ہدف کیا ہے؟

٧۔مخلوقات کے درمیان تکوینی اختلافات کس طرح عدل اور حکمت الٰہی سے

سازگار ہیں؟

٨۔کیوں خدائے حکیم اپنی مخلوقات کو موت دیتا ہے؟

٩۔ طبیعی اور اجتماعی بلائیں کس طرح حکمت الٰہی سے سازگار ہیں؟

١٠۔ کیوں ایک محدود گناہ ،ابدی عذاب میں گرفتاری کا سبب ہوتے ہیں ؟

____________________

(١)''لَا یُکَلِّفُ اللّٰهُ نَفساً اِلاَ وُسعَهَا ''.سورۂ بقرہ۔ آیت /٢٨٦

(٢)''وَقُضِیَ بَینَهُم بِالقِسطِ وَهُم لاَ یُظلَمُون'' .سورۂ یونس۔آیت/ ٥٤

(٣)''فَالیَومَ لاَ تُظلَمُ نَفس شَیئاً وَلاَ تُجزَونَ اِلَّا مَاکُنتُم تَعمَلُونَ'' .سورۂ یس۔ آیت /٥٤


اکیسواں درس

مسائل نبوت پر بحث کرنے کے نتائج

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے۔

اس حصہ کے مباحث کا ہدف

علم کلام میں تحقیق کی روش

مقدمہ

ہمیں یہ مطلب معلوم ہوچکا ہے کہ وہ مسائل جنھیں حل کرنااور جاننا ہر عاقل شخص پر واجب ہے تا کہ وہ ایک انسانی زندگی بہ حسُن خوبی گذار سکے، درج ذیل ہیں۔

١۔ انسا ن اور جہان کا وجود کس سے ہے یا اِن دونوں کی تدبیر اور ارادہ کس کے ہاتھ میں ہے؟

٢۔ انسان کی زندگی کاانتہائی مرحلہ اورانتہائی ہدف کہاں ہے؟

٣۔ انسانوں کی وہ احتیاجات جس کے لئے بھی صحیح زندگی گذارنے کے طور طریقہ کا جاننا ضروری ہے تا کہ اس راستہ کے ذریعہ کمال حقیقی اور سعادت ابدی کو حاصل کیا جا سکے، لہٰذا ان مسائل کے پیش نظر کیا اس معرفت کو حاصل کرنے میں کوئی ضمانت ہے؟ اور اگر ہے؟ تو کن لوگوں کے اختیار میں ہے؟

ان سوالات کے صحیح جوابات در اصل (توحید، قیامت، نبوت) جیسے اصول ہیں کہ جو تمام ادیان آسمانی میں اصلی ترین عقائد میں شمارکئے جاتے ہیں۔

ہم نے اس کتاب کے پہلے مرحلہ میں معرفت ِخدا کے تحت بحث کی ہے اور اس نتیجہ تک پہنچے ہیںکہ تمام موجودات اپنے وجود کو، خالق ہستی سے حاصل کرتے ہیں، اور ہر ایک اسی کے حکیمانہ تدبیر کے زیر سایہ ہیں۔ اور کوئی بھی کسی بھی حال میں کہیں بھی، اور کسی بھی امر میں اس سے بے نیاز نہیں ہے

ہم نے ان مطالب کو، عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کردیا ہے، اور اس بات کی بھی وضاحت کردی ہے کہ ایسے مسائل کو صرف عقلی دلائل کے ذریعہ ہی حل کیا جا سکتا ہے، اس لے کہ تعبدی دلائل اور کلام خدا کو ،اسی وقت دلیل بنایا جا سکتا ہے جب وجود خدا اور اس کا کلام اس کا معتبر ہونا، دلیل عقلی کے ذریعہ ثابت ہو چکا ہو، جس طرح سے کہ نبی اور امام کے کلام کو سنت قرار دینا، ان کی نبوت و امامت اور ان کے کلام کی حجیت کے اثبات پر منحصر ہے تفصیل معاد کو وحی کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے ، اگر چہ ا صل قیامت، عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ قابل اثبات ہے۔

لہٰذا (نبوت اور قیامت) کے مسائل کو بیان کرنے کے لئے پہلے عقلی دلائل کے ذریعہ اصل قیامت اور اصل نبوت کو ثابت کرنا ہوگا، پھر جب رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت ثابت ہوجائے تو کتاب و سنت کے مطابق ان دونوں کے تفصیلی مسائل کو بیان کیا جائے گا، لیکن چونکہ ان دونوں کے مسائل کوجداگانہ بیان کرنا سمجھانے کے لئے نہایت مفید ہے لہٰذا گذشتہ سنت پر عمل کرتے ہوئے پہلے ہم نبوت کے مسائل اور پھر قیامت کے مسائل کو بیان کریں گے اور اگر بعض مقامات پر کسی ایسے مطلب کی ضرورت پڑ ی کہ جسے بعد میں ثابت کرنا ہوا تو اس کو استدلال کے درمیان (اصل موضوع) کے عنوان سے ذکر کردیں گے تا کہ بآسانی بات اپنی جگہ پر ثابت ہو سکے۔

اس حصہ کے مبا حث کا ھدف

ا س حصہ کو ذکر کرنے سے ہمارا پہلا ہدف یہ ہے کہ حقائق ہستی اور صحیح زندگی کے راستوں کی معرفت حاصل کرنے کے لئے حس و عقل کے علاوہ ایک اور راستہ بھی ہے، کہ جس میں خطا کا کوئی امکان نہیں ہے، جسے وحی کہا جاتا ہے جو ایک قسم کی الٰہی تعلیم ہونے کے ناطے اس کے خاص بندوں سے مخصوص ہے اور عوام اس کی حقیقت سے بے خبر ہے ،لیکن آثار اور علامتوں کے ذریعہ وحی کے ہونے کا پتہ لگاتے ہوئے انبیا ء الٰہی کے ادّعا یعنی وحی کے ہونے پر یقین کیا جا سکتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی کے لئے وحی الٰہی کا ہونا ثابت ہوجائے اور جب اس کے پیغامات دوسروں تک پہنچ جائیں تو ان پر واجب ہے، کہ اس کے احکامات پر عمل کریں، اور اس صورت میں کوئی بھی اس کی مخالفت کر کے عذر پیش نہیں کر سکتا، مگر یہ کہ وحی کسی خاص فرد ،یا گروہ یا ایک معین زمانہ سے مخصوص ہو۔

لہٰذا اِس حصہ کے بنیادی مسائل، بعثت انبیاء ٪ کی ضرورت، وحی کا لوگوں تک پہنچنے تک عمدی یا سہوی تصرفات سے محفوظ رہنا، یاانبیاء ٪ کا پیغامات الٰہی کو لوگوں تک پہنچانے میں معصوم ہونا، اور ان کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے کافی دلائل کا ہونا وغیرہ ہیپس جب وحی اور نبوت کے بنیادی مسائل دلیل عقلی کے ذریعہ ثابت ہو گئے تو اُس کے بعد دوسرے مسائل جیسے تعدد انبیائ، کتب، آسمانی شریعتیں، آخری رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آخری کتاب اور ان کے جانشین کی تعیین جیسے مسائل کے تحت بحث کی جائے گی۔

لیکن ان تمام مسائل کو عقلی برہان کے ذریعہ ثابت کرنا میسر نہیں ہے بلکہ بہت سے مقامات پر نقلی اور تعبدی دلائل کا سہارا لینا ضروری ہے۔

علم کلام میں تحقیق کی روش

اب تک جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کے مطابق فلسفہ اور علم کلام کے درمیان بنیادی فرق روشن ہوگیا اس لئے کہ فلسفہ ان مسائل میں سے ہے کہ جو عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت ہوتا ہے لیکن علم کلام ان مسائل پر مشتمل ہے کہ جو نقلی اور تعبدی دلائل کے بغیر قابل اثبات نہیں ہے۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق فلسفہ اور علم کلام کے درمیان موجودہ نسبت (عموم خصوص من وجہ) کی ہے یعنی فلسفہ اور علم کلام مشترک مسائل سے متصف ہوتے ہوئے دونوں اپنے مخصوص مسائل کے مالک بھی ہیں، ہاں فلسفہ کے اپنے مخصوص مسائل عقل کی بنیاد پر حل کئے جاتے ہیں، لیکن علم کلام کے مسائل عقلی اور تعبدی دلائل کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق در حقیقت علم کلام (تلفیقی) یعنی اس میں دلائل عقلی کے استعمال کے علاوہ تعبدی دلائل کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔

نتیجہ۔ فلسفہ اور علم کلام میں دو بنیادی فرق یہ ہے کہ دونوں مشترک مسائل (خدا کی معرفت) سے سرفراز ہونے کے علاوہ کچھ مخصوص مسائل کے مالک بھی ہیں، کہ جن میں فلسفہ کے مخصوص مسائل سے کلام اور کلام کے مخصوص مسائل سے فلسفہ میں بحث نہیںکی جاتی، اور دوسرا فرق یہ ہے کہ فلسفہ میں اس کے مسائل کے تحت تحقیق ایک، عقلی روش ہے لیکن علم کلام اپنے بعض مسائل میں جو ان دونوں میں مشترک ہیں عقلی روش کے ذریعہ اور بعض مسائل (جیسے امامت) میں نقلی روش کے ذریعہ بحث کرتا ہے، لیکن بعض مقام پر ( جیسے اصل قیامت کو ثابت کرنے کے لئے ) دونوں روش کو استعمال میں لاتا ہے، اِس مقام پر اِس بات کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے ،کہ علم کلام کے اپنے تمام خاص مسائل جو نقلی اور تعبدی روش کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں، ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ بعض مسائل جیسے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کردر و گفتار کی حجیّت خود قرآنی آیات کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے لیکن اس سے پہلے عقلی دلائل کے ذریعہ قرآن کی حقانیت کا ثابت ہونا ضرور ی ہے اور پھر آنحضرت کے خلفا کے تعیین اور اُن کے اقوال کی حجیت کے تحت بحث کی جاتی ہے۔

لیکن یہ امر واضح و آشکار ہے کہ دلائل نقلی کے ذریعہ حاصل ہونے والے نتائج اس صورت میں یقینی ہوںگے کہ جب ان کی سندقطعی اور ان کی دلالت آشکار ہوں۔

سوالات

١۔ کیوں خدا کی معرفت کے بعض مسائل کو ہم نے صرف عقلی اسلوب کے ذریعہ بیان کیا ہے؟

٢۔ نبوت کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟

٣۔ کیا نبوت اور قیامت کے بنیادی مسائل کو نقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟

٤۔ علم کلام کے کن مسائل کو نقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے؟

٥۔ مسائل نبوت کو معاد کے مسائل پر مقدم کرنے کی وجہ کیا ہے؟اور کیا ان دونوں کے مسائل کو منظم کرنے کے لئے کوئی منطقی ترتیب ہے؟

٦۔ فلسفہ اور علم کلام میں کیا فرق ہے؟

٧۔ علم کلام کے مسائل کے اثبات کی جہت سے اُسے چند قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ ان قسموں کی ترتیب بیان کریں؟


بائیسواں درس

بشر کو وحی اور نبوت کی ضرورت

بعثت انبیاء (ع) کی ضرورت

بشری علم کی ناکامی

بعثت انبیاء (ع)کے فوائد

بعثت انبیاء (ع) کی ضرورت۔

یہ مسئلہ نبوت کے مسائل میں سے ہے جسے ایک ایسے برہان کے ذریعہ ثابت کرنا ہوگا کہ جو تین مقدمات پر مشتمل ہو۔

پہلا مقدمہ یہ ہے انسان کی خلقت کا ہدف یہ ہے کہ وہ اپنے مختار ہونے کے ساتھ اعمال کے ذریعہ راہ تکامل کو انتہائی کمال تک طے کرے، ایسا کمال کہ جو انسان کے مختار ہوئے بغیر قابل دست رسی نہیں ہے، ایک دوسری تعبیر کے مطابق انسان کو اس لئے خلق کیا گیا ہے، کہ وہ خدا کی اطاعت و عبادت کے ذریعہ اپنے وجود میں رحمت الٰہی کی دریافت کی لیاقت پیدا کرے، جو صرف اور صرف انسان کامل سے مخصوص ہے، اورخدا کاا رادہ بھی انسان کی سعادت اور اس کے کمال سے متعلق ہے لیکن چونکہ یہ سعادت اختیاری افعال انجام دئے بغیر میسر نہیں ہے اس مسئلہ نے بشری زندگی کو دو راہے پر کھڑا کردیا ہے ،تا کہ وہ اپنے اختیار سے جسے چاہے انتخاب کرے جن میں سے ایک راستہ شقاوت کی طرف جاتا ہے جو بالتبع ارادہ الٰہی سے متعلق ہے نہ بالاصالةً۔

یہ مقدمہ عدل و حکمت الٰہی کی بحث کے ضمن میں واضح ہوگیا۔

دوسرا مقدمہ: یہ ہے کہ غور و فکر کے ذریعہ اختیار و انتخاب کرنا، مختلف ا مور کی انجام دہی میں بیرونی عوامل کا مہیا ہونا اور ان کی طرف باطنی کشش کے پائے جانے کے علاوہ امور کے صحیح یا غلط ہونے اور اسی طرح شائستہ اور ناشائستہ راستو ں کی ضرورت ہے، اور انسان اسی صورت میں غور و فکر کے ساتھ انتخاب کر سکتا ہے کہ جب ہدف اور اس تک پہنچنے والے راستہ کو اچھی طرح جانتا ہو ، اور اس کے فراز و نشیب ، پیچ و خم سے پوری طرح آگاہ ہو لہذا حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی معرفت کے حصول کے لئے خدا وند متعال ضروری وسائل و امکانات ، بشر کے اختیار میں قرار دے، وگرنہ اس کی مثال اس شخص کی ہوگی جو کسی کو اپنے مہمان سرا پر دعوت دے، لیکن اسے اس کا پتہ اور وہاں تک جانے والے راستہ کی نشاندہی نہ کرے ، ظاہرہے کہ ایسا عمل حکمت اور غرض کے خلاف ہوگا۔

یہ مقدمہ بھی چونکہ واضح ہے لہٰذا ا س کے لئے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔

تیسرا مقدمہ :یہ ہے کہ انسانوں کی وہ معمولی معرفت جو حس و عقل کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے اگر چہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کرتی ہے لیکن سعادت حقیقی اور راہ کمال کو فردی و اجتماعی ، مادی و معنوی، دنیوی و آخروی پہلوں کے لحاظ سے پہچاننے کے لئے کافی نہیں ہے، اور اگر ان مشکلات کے حل کے لئے کوئی اور راستہ نہ ہو تو انسان کی خلقت سے خدا کا ہدف پورا نہیں ہو سکتا۔

ان مقدمات کی بدولت ہم اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ راہ تکامل کی پہچان کے لئے حس و عقل کے علاو ہ کوئی دوسرا راستہ انسان کے اختیار میں ہونا چاہیے، تا کہ انسان براہ راست یا ایک یا چند واسطہ کے ذریعہ اس سے مستفید ہو سکے، ہاں،یہ وہی وحی کا راستہ ہے جسے خدا نے اپنے انبیاء (ع)کے اختیار میں دے دیا ہے، جس سے عوام، انبیاء (ع)کے ذریعہ اور انبیاء (ع) براہ راست مستفید ہوتے ہیں، اور جو چیز کمال نہائی اور سعادت کے حصول میں ضروری ہے اسے انسانوں کے اختیار میں قرار دیا ہے۔

ان تینوں مقدموں میں تیسرے مقدمہ کی بہ نسبت ممکن ہے کسی کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہو لہٰذا اس سلسلہ میں تھوڑی سی وضاحت کریں گے تا کہ اس طرح راہ تکامل کی تشخیص میں علوم بشری کی کمزوری اور بشر کیلئے راہ وحی کی ضرورت پوری طرح روشن ہوجائے۔

بشری علوم کی ناکامی۔

زندگی کے صحیح راستہ کو اس کے تمام جوانب کے ساتھ پہچاننے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے انسان کے آغاز و انجام نیز بقیہ موجودات کے ساتھ اس کے روا بط اور مخلوقات کے ساتھ اس کی معاشرت کے علاوہ سعادت و شقاوت میں اثر انداز ہونے والے مختلف پہلؤں کا جانا ضروری ہے نیز مصالح و مفاسد ،سود و زیاں میں کمی اور زیادتی کی تشخیص بھی ضروری ہے، تا کہ اس طرح کھربوں انسان کے وظائف مشخص ہو سکیں، جو مختلف طبیعی اور اجتماعی شرائط اور بدنی او روحی تفاوت و اختلافات کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں، لیکن ان تمام امور پر ایک یا چند افراد کی بات کیا ہزاروں علو م انسانی کے ماہرین بھی اکٹھا ہوجائیں تو بھی ایسے پیچیدہ فارمولے کو کشف کرکے اسے منظم اصول و قوانین کی ایسی شکل نہیں دے سکتے کہ جو تمام انسانوں کے لئے فردی و اجتماعی، مادی، معنوی، دنیوی و اخروی اعتبار سے مصالح و مفاسد کی ضمانت دے سکے، اس کے علاوہ بے شمار مصالح و مفاسد کے ٹکرائو کے دوران جو اکثر اوقات پیش آتے ہیں ان میں اہم کو انتخاب کر کے وظیفہ کو معین کرنا بھی ان کی استطاعت کے باہر ہے۔

تاریخ بشر میں بدلتے ہوئے قوانین نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ ہزاروں سال تک ہزاروں حقوق دانوں کی تحقیق و جستجو سے آج تک کامل اور عیب و نقص سے مبرا قوانین کا ایک مجموعہ وجود میں نہیں آسکا ،بلکہ ہمیشہ قانون کو وضع کرنے والے ایک مدت کے بعد اپنے ہی وضع کردہ قانون میں خطا سے آگاہ ہوئے، یا تو اسے بدل دیا یا پھر اسے کسی دوسرے وضع کردہ قانون کے ذریعہ کامل کردیا۔

لیکن اس مقام پر اس مطلب کی طرف توجہ مبذول رہے ،کہ انھوں نے بہت حد تک اپنے قوانین کو وضع کرنے میں الٰہی قوانین کا سہارا لیا ہے اور یہ بھی معلوم رہے، کہ قانون گذاروں کی تمام سعی و کوشش دنیوی اور اجتماعی زندگی کو سنوارنے کے لئے صرف ہوتی رہی ہے، لیکن کبھی بھی انھوں نے اخروی منافع کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور دنیوی قوانین سے اس کا کوئی موازنہ نہیں کیا، بلکہ اگر وہ اس مسئلہ کو مد نظر رکھ کر قو انین وضع کرتے تو کبھی بھی اس راہ میں کامیاب نہ ہوتے، اس لئے کہ مادی اور دنیوی مصلحتوں کو ایک حد تک تجربوں کے ذریعہ معین کیا جاسکتا ہے لیکن معنوی اور اخروی مصلحتیں کسی بھی حال میںتجربہ حسی کے قابل نہیں ہیں، اور پوری طرح سے اس کے مصالح کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اسی طرح ان کے لئے مصالح اخروی اور مصالح دنیوی کے ٹکرائو کے ہنگام اہم ومہم کو تشخیص دینا بھی غیر ممکن ہے؟

بشر کے موجودہ قوانین کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہزاروں سال پہلے جینے والے انسانوں کے علوم کا انداہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ قطعی نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ ادوار میں جینے والے اس عصر میں جینے والوں کے مقابلہ میں زندگی کے صحیح راستہ کی تشخیص میں نہایت ناتواں تھے، اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اس عصر کے انسانوں سے ہزاروں سالہ تجربات کے پیش نظر کامل قوانین کے مجموعہ کو وضع کرنے میں کامیابی حاصل کر بھی لی ہے یا بالفرض یہ قوانین انسانوں کی اخروی سعادت کے ضامن بھی بن گئے ہیں، لیکن پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کس طرح ہزاروں انسانوں کو ان کی جہالت میں چھوڑ دینا حکمت الٰہی سے سازگار ہے؟

نتیجہ۔ آغاز سے انجام تک انسانوں کی خلقت کا ہدف اسی صورت میں قابل تحقّق ہے کہ جب زندگی کے حقائق اور فردی و اجتماعی وظائف کی معرفت کے لئے حس و عقل سے ماورا کوئی دوسرا راستہ بھی موجود ہو، اور وہ راستہ وحی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا۔

اس بحث کی روشنی میں یہ مطلب بھی واضح ہوگیا کہ اس برہان کا تقاضا یہ ہے کہ اس زمین پر قدم رکھنے والے سب سے پہلے انسان کا نبی ہونا ضروری ہے تا کہ وہ وحی کے ذریعہ زندگی کے صحیح طریقہ کو پہچانے اور ہدف خلقت اُس کے متعلق متحقق ہوجائے اور اس کے بعد آنے والے انسان اسی کے ذریعہ ہدایت یافتہ ہوں۔

بعثت انبیاء (ع) کے فوائد۔

انبیاء الٰہی انسانوں کے کمال کو مشخص کرنے اور وحی کو دریافت کرنے کے بعد لوگوں کے سامنے اُسے بیان کرنے کے علاوہ انسانوں کے تکامل(بتدریج کمال تک پہنچنے) کے لئے دوسرے مہم راستوں سے بھی آگاہ تھے جو درج دیل ہیں۔

١۔ بہت سے ایسے مطا لب ہیں کہ جنھیں درک کرنے کے لئے انسانی عقول میں طاقت نہیں ہے، بلکہ اسے سمجھنے کے لئے گذشتہ زمانے کے علاوہ بے شمار تجربوں کی ضرورت ہے یا پھر وہ مطالب حیوانی خواہشات میں ملوث ہونے اور مادیات سے وا بسطہ ہونے کی وجہ سے فراموشی کا شکار ہوگئے ہیں، یا پھر زہریلی تبلیغات اور لوگوں کے درمیان غلط پروپگنڈوں کی وجہ سے مخفی ہوگئے ہیں، ایسے مطالب بھی انبیاء الٰہی کی جانب سے بیان کئے جاتے ہیں جنھیں پے درپے تذکرات اور بار بار تکرار کے ذریعہ پوری طرح فراموش ہونے سے بچا لیا جاتا ہے اور صحیح تعلیم کے ذریعہ ایسی زہریلی تبلیغات کے اثرات سے محفوظ کردیا جاتا ہے۔

یہیں سے انبیاء (ع)کا ''مذکِّر'' اور ''نذیر'' اور قرآن کا ''ذکر'' اور تذکرہ'' جیسی صفات سے متصف ہونا سمجھ میں آتا ہے امام علی علیہ السلام بعثت انبیاء (ع) کی حکمتوں کو بیان کرنے کے دوران فرماتے ہیں(لِیسَتأدُوہم میثاقَ فِطرَتہ و یُذکِّروہم مَنسِِّ نِعمَتِہ وَ یَحتجّوا عَلَیہم

بِالتّبلیغ)یعنی خدا نے اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجا تا کہ لوگوں سے پیمان فطرت پر وفاداری کا اقرار لیں، فراموش شدہ نعمتوں کی یاد دلائیں اور تبلیغ کے ذریعہ اتمام حجت کریں:

٢۔انسان کے تکامل(کمال کے آخری درجہ تک پہنچنے) کے مہم ترین عوامل میں سے اسوہ اور نمونہ کا ہونا ہے کہ جس کی ا ہمیت علم نفسیات ثابت ہے انبیاء الٰہی انسان کامل اور دست الٰہی کے ہاتھوں تربیت پانے کی وجہ سے اس کردار کو بہترین صورت میں پیش کرتے ہیں، لوگوںکو اپنی تعلیمات کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ ان کی تربیت اور تزکیہ کا اہتمام بھی کرتے ہیں، اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ قرآن میں تعلیم و تزکیہ کو باہم ذکر کیا گیا ہے یہاں تک کہ بعض مقامات پر تزکیہ کو تعلیم پر مقدم کیا گیا ہے۔

٣۔ لوگوں کے درمیان انبیاء (ع)کے موجودہونے کی برکات میں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ صورتحال کے موافق ہوتے ہی لوگوں کی سیاسی، اجتماعی رہبری کو بھی سنبھالتے ہیں، اور یہ امر بخوبی روشن ہے کہ ایک سماج کے لئے معصوم رہبر کا ہونا عظیم نعمتوں میں سے ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ سماج کی بہت سی مشکلات کو روک دیا جاتا ہے، اور سماج اختلاف ،گمراہی اور کج روی سے نجات پاجاتا ہے اور کمال کی جانب گامزن ہوجاتا ہے۔

سوالات

١۔انسان کی خلقت کا ہدف کیا ہے؟

٢۔کیا جس طرح خداکا حکیمانہ ارادہ انسان کی سعادت سے متعلق ہے اسی طرح اس پر عذاب سے بھی متعلق ہے؟ یا پھران دونوں میں کوئی فرق ہے؟

٣۔غور و فکر کے ساتھ انسان کو اختیار و انتخاب کے لئے کن امور کی ضرورت ہے؟

٤۔ کیوں عقلِ بشر تمام معارف کے سمجھنے میں ناقص و قاصر ہے؟

٥۔ بعثت انبیاء (ع) کی ضرورت پر موجود ہ برہان کو بیان کریں؟

٦۔ اگر انسان طولانی تجربوں کے ذریعہ دنیوی اور اجتماعی سعادتوں کو حاصل کر لیتا تو کیا پھر بھی اسے وحی کی ضرورت تھی؟ اور کیوں؟

٧۔ کیا سب سے پہلے انسان کے نبی ہونے پر دلیل قائم کی جاسکتی ہے؟

٨۔ انبیاء (ع)کے موجود ہونے کے تمام فوائد کو بیان کریں؟


تیئسواں درس

چند شبہات کا حل

کیوں بہت سے لوگ انبیاء ٪ کی ہدایت سے محروم ہو گئے؟

کیوں خدا نے انحرافات اور اختلافات کا سد باب نہیں کیا؟

کیوں انبیاء الٰہی صنعتی اور ا قتصادی امتیازات سے سرفراز نہ تھے؟

چند شبہات کا حل۔

بعثت انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں جو دلائل ذکر ہوئے ہیںانھیں دلائل کے ضمن میں چند شبہات اور سوالات ہیں جن کے جوابات یہاں ذکر کئے جائیں گے۔

کیوں بہت سے لوگ انبیاء ٪ کی ہدایت سے محروم ہو گئے؟

اگر تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے بعثت انبیاء ٪ کااقتضا یہ ہے کہ وہ انبیاء ٪ کو مبعوث کرے تو پھر کیوں سب کے سب فقط ایک ہی سرزمین ایشیا میں مبعوث ہوئے، اور بقیہ سر زمینیں اس نعمت سے محرم رہیں، خصوصاً گذشتہ ادوار میں ارتباطات کے و سائل بہت محدود تھے اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک، کسی خبر کو پہنچانا نہایت سختی سے انجام پاتا تھا اور شاید اس وقت کچھ ایسی قومیں رہی ہوں، جنھیں اصلاً بعثت انبیاء ٪ کی کوئی خبر نہ ملی ہو۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے ، انبیاء ٪ کی بعثت کسی خاص سرزمین سے مخصوص نہیں تھی، بلکہ قرآن کی آیات کے مطابق ہر امت اور ہر قوم کے پاس پیغمبر بھیجے گئے جیسا کہ سورۂ فاطر کی چوبیسویں آیت

میں خدا فرماتا ہے:(( وَان مِّن اُمَّةٍ اِلَّاخَلا فِیها نَذِیر )

اور دنیا میں کوئی امت ایسی نہیں گئی جس کے پاس ہمارا ڈرانے والاپیغمبر نہ آیا ہو۔

سورۂ نحل کی آیت چھتیسویں میں وارد ہوا ہے :

( وَلَقَد بَعَثنَا فِ کُلِّ اُمَّةٍ رَسُولاً اَنِ اعبُدُوااللَّهَ وَاجتَنِبُوا الطَّاغُوتَ )

اور ہم نے تو ہر امت میں ایک نہ ایک رسول ضرور بھیجا کہ وہ لوگوں سے کہے کہ خداکی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت سے بچے رہو۔

اور اگر قرآن میں محدود انبیاء ٪ کا نام آیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کل انبیا ء کی تعداد اتنی ہی تھی بلکہ خود قرآن کے بیان کے مطابق بہت سے انبیاء ٪ تھے کہ جن کے اسماء اس قرآن میں ذکر نہیں کئے گئے ، جیسا کہ سورۂ نساء کی آیت ١٦٤ میں خدا فرماتا ہے:

(( وَرُسُلاً لَّم نَقصُصهُم عَلَیکَ )

جن کا حال تم سے بیان نہیں کیا گیا۔

دوسرے: اس برہان کا تقاضایہ ہے کہ حس و عقل کے ماوراء کوئی ایسا راستہ ہونا چاہیے کہ جس کے ذریعہ یہ امکان ہو کہ لوگوں کی ہدایت کی جاسکے، لیکن بشر کی ہدایت کو مرحلۂ فعلیت تک پہنچنے کے لئے دو شرط ہے۔

١۔ پہلییہ کہ وہ لوگ خود اس نعمت الٰہی سے استفادہ کرنا چاہیں۔

٢۔دوسرے یہ کہ کوئی دوسرا اُن کی ہدایت میں مانع ایجاد نہ کرے، اور لوگوں کا انبیاء ٪سے محروم ہونے کا سبب خود اُن کے ناجائز اختیارات تھے، جس طرح کہ بہت سے لوگوں کا انبیاء ٪ کی ہدایت سے محرو م ہونا اِنھیں موانع کی وجہ سے ہے، جسے وہ لوگ خود انبیاء ٪ کی تبلیغ میں ایجاد کرتے تھے، اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ انبیاء الٰہی برابر ایسے موانع کو برطرف کرنے کے لئے کوشاں رہے ، اور ہمیشہ ستمگروں، ظالموں اور مستکبروں سے بر سر پیکار رہتے تھے، بلکہ انبیاء ٪ کی ایک کثیر تعداد راہ تبلیغ اور لوگوں کی ہدایت کی راہ میں شہید بھی ہوگئی ،بلکہ جب بھی انھیں نیک ساتھیوں کی حمایت ملی تو

اُنھوں نے وقت کے اُن ظالموں سے مقابلہ کیا ،کہ جو اُن کے اہداف میں موانع ایجاد کرتے تھے۔

قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ انسان کی تکاملی حرکت کی خصوصیات کا تقاضا یہ ہے کہ یہ تمام تدابیر اس طرح انجام پذیر ہوں کہ حق و باطل کے حامیوں کے لئے حسن انتخاب یا سوء انتخاب فراہم ہو جائے ،مگر یہ کہ ظالموں اور مستکبروں کا تسلط اس حد تک بڑھ جائے کہ ہادیوں کی ہدایت کا راستہ پوری طرح بند ہوجائے اور سماج سے نور ہدایت خاموش ہو جائے، یہی وہ صورت ہے کہ جب خدا غیب اور غیر عادی راہوں سے حق کے طرفداروں کی مدد فرماتا ہے۔

نتیجہ: اگر ایسے موانع انبیاء ٪کے راستو ںمیں نہ ہوئے تو ان کی دعوتِ توحید تمام انسانوں کے کانوں تک پہنچ جاتی اور تمام انسان وحی اور نبوت کے ذریعہ نعمت ہدایت سے بہر مند ہوجاتے، لہذا بہت سے لوگوں کا ہدایت انبیاء ٪سے محروم ہونے کا گناہ ،ان لوگوں کی گردنوں پر ہے کہ جنھوں نے راہ ہدایت انبیاء میں رکاوٹیں ایجاد کی ہیں۔

کیوں خدا نے انحرافات اور اختلافات کا سد باب نہیں کیا؟

اگر انبیاء ٪ تکامل انسان کے شرائط کو کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں تو پھر کیوں ان کے ہوتے ہوئے بشرخطا اور بدبختیوں کا شکار ہوا اور ہر زمانہ میں لوگوں کی ایک بڑی جماعت کفر و الحاد میں گرفتار رہی، یہاں تک کہ ادیان آسمانی کے پیروکاروں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے شعلہ بھڑکائے جس کی وجہ سے خونی جنگیں دیکھنے میں آئیں؟ کیا حکمت الٰہی کا تقاضا یہ نہ تھا کہ وہ کچھ ایسے راستہ بھی مہیا کرتا، جن کے ذریعہ ایسی بدبختیوں کا سد باب ہوجاتا اور کم از کم ادیان آسمانی کے پیروکار ایک دوسرے کے مقابلہ میں نہ ٹھہرتے۔

اس سوال کا جواب تکامل انسان کے اختیارات کی خصوصیات میں غور و فکر کرنے کے ذریعہ معلوم ہوجاتا ہے، اس لئے کہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے تکامل کے اسباب و شرائط کا جبری ہونے کے بدلے اختیاری ہونا ضروری ہے تا کہ وہ لوگ جو راہ حق کو پہچاننا چاہتے ہیں اور اسے اختیار کرنا چاہتے ہیں، وہ کمال اور سعادت ابدی کو حاصل کرنے میں مختارہیں،لیکن ایسے تکامل اور کمال کے لئے اسباب و شرائط کا مہیا ہوجانا اس معنی میں نہیں ہے کہ تمام انسانوں نے بہ نحو احسن اس سے استفادہ کیا ہو، اور صحیح راستہ کاانتخاب کیا ہو بلکہ قرآن کی تعبیر کے مطابق خدا نے انسانوں کو ایسے شرائط کے تحت اس لئے خلق کیا ہے تا کہ انھیں آزما سکے کہ ان میں کون نیکوکار ہے(۱) ، اس کے علاوہ قرآن میں بارہا اس بات کی تاکید ہوئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام انسانوں کو راہ ہدایت کی طرف راہنمائی کردیتا اور ظلم و ستم کو دبا دیتا(۲) ۔ لیکن اس صورت میں انتخاب کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا، نیز انسانوں کے کردار قابل ارزش بھی نہ رہتے،اور اسطرح انسان کی خلقت سے غرض الٰہی (اختیار و انتخاب) میں نقض آجاتا۔

نتیجہ۔ انسانوں میں فساد و تباہ کاری اور کفر و عصیان کی طرف میلان خود ان کے ناجائز اختیارات کا نتیجہ ہے، اور خود انسانوں کی خلقت میں ایسے امور پر قدرت کا لحاظ رکھا گیا ہے لہذا ایسے اختیار کے اثرات کا حاصل ہونا بالتبع لازم ہے، اگر چہ خدا کا ارادہ یہ ہے کہ انسان اپنے کمال کو حاصل کرلے، لیکن چونکہ اس ارادہ کا تعلق مختار ہونے پر مشروط ہے لہٰذا اس صورت میں سوء ِاختیار کے نتیجہ میں انحطاط کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اور حکمت الٰہی کا تقاضا تو یہ نہیں ہے کہ تمام انسان خواہ نخواہ ہدایت یافتہ ہوجائیں اگرچہ ان کے ارادہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

کیوں انبیاء ا لٰہی صنعتی اور اقتصادی امتیازات سے سرفراز نہ تھے؟

حکمت الٰہی کے تقاضوں کے پیش نظر کہ تمام انسان بہ نحو احسن اپنے حقیقی کمال کو حاصل کرلیں، کیا بہتر یہ نہ تھا ،کہ خدا وحی کے ذریعہ اس جہان کے اسرار لوگوں کے لئے فاش کردیتا، تا کہ مختلف نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے ذریعہ انسان راہ تکامل میں اپنے سفر کو سرعت بخش دیتا! جیسا کہ اس دور میں طبیعی طاقتوں کے ظہور اور مختلف اسباب کے ایجادات سے بشری تمدن نے نمایاں ترقی حاصل کی ہے، جن کی وجہ سے حفظ سلامت، امراض سے مقابلہ ارتباطات میں سرعت ،جیسے مطلوب عوامل اور آثار وجود میں آگئے، اس وضاحت کی روشنی میں آشکار ہے کہ اگر انبیاء الٰہی جدید علوم و صنائع اور آسائش کے وسائل لوگوں کے لئے فراہم کرنے کے ذریعہ اپنی اجتماعی اور سیاسی قدرت کو افزائش دے سکتے تھے اور بڑی آسانی سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے تھے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وحی و نبوت کے ہونے کی اصلی ضرورت ان امور میں ہے کہ جن میں بشر عادی وسائل کے ذریعہ کشف نہ کر سکے، اور اس سے جاہل ہوتے ہوئے کمال حقیقی کی طرف جانے والے راستہ کو معین نہ کر سکے، ایک دوسری تعبیر کے مطابق انبیا ء علیہم السلام کا اصلی وظیفہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو صحیح زندگی اور کمال حقیقی کے حصول میں مدد کریں، تا کہ وہ ہر حال میں اپنے وظیفہ کو پہچان سکیں، اور مطلو ب کو حاصل کرنے میں اپنی پوری طاقت صرف کریں، انسان ،خواہ دشت میں رہنے والا ہو، یا دریائوں کی سیر کرنے والا ہو یا کوئی بھی ہو، وہ ہر صورت میں اپنی انسانی حیثیت کو پہچان لے تا کہ معلوم ہوجائے کہ خدا کی عبادت کے وظائف کیا ہیں؟ تمام مخلوقات اور سماج میں رہنے والوں کے ساتھ رہن سہن کے واجبات کیا ہیں تا کہ انھیں انجام دینے کے ذریعہ کمال حقیقی اور سعادت ابدی تک پہنچ جائے لیکن صلاحیتوں اور صنعتی و طبیعی امکانات کا اختلاف خواہ ایک زمانہ میں ہو یا مختلف زمانوں میں، ایک ایسا امر ہے کہ جو خاص اسباب و شرائط کے تحت وجود میں آتا ہے اس کے علاوہ تکامل(کمال) حقیقی میں اس کا کوئی نقش بھی نہیں ہے، جیسا کہ آج کی علمی اور صنعتی ترقیاں دنیوی لذتوں کی افزائش کا باعث تو بنیں، لیکن لوگوں کی روحی اور معنوی تکامل میں ایک معمولی کردار بھی ادانہ کر سکیں، بلکہ ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان سب کا اثر بالکل بر عکس رہاہے

نتیجہ: حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مادی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی دنیوی زندگی کو جاری زکھ سکے ، اور عقل و وحی کی راہنمائی میں کمال حقیقی اور سعادت ابدی کی جانب قدم بڑھائے، لیکن روحی اور بدنی توانائیوں میں اختلاف، نیز طبیعی اور اجتماعی شرائط میں اختلاف، اسی طرح علوم و صنائع سے فائدہ حاصل کرنے میں اختلاف ایک خاص تکوینی اسباب و شرائط کے تابع ہے، جو نظام علِّی و معلولی کے تحت وجود میں آتے ہیں یہ اختلافات انسان کی ابدی تقدیر میں کسی بھی خاص کردار سے متصف نہیں ہیں، اس لئے کہ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک فرد یا ایک جماعت اپنی سادہ زندگی اور حداقل مادی و دنیوی نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہوئے کمال و سعادت کے عظیم درجات پر فائز ہوئے ہیں، اور اکثر دیکھنے میں آیا ہیے کہ ایک فرد یا جماعت ترقی یافتہ علوم صنائع اور بہترین وسائل زندگی سے سرفراز ہوتے ہوئے ،غرور و تکبر اور ظلم و ستم کے نتیجہ میں شقاوت ابدی میں گرفتار ہوگئے ہیں۔

البتہ انبیاء الٰہی نے اصلی وظیفہ (حقیقی اور ابدی سعادت و کمال کی طرف ہدایت) کے علاوہ لوگوں کو صحیح زندگی گذارنے کے لئے مدد کی ہے اور جہاں حکمت الٰہی نے تقاضا کیا وہاں ناشناختہ حقائق اور اسرار طبیعت سے پردہ بھی اٹھادیا، اور اس طرح تمدن ِبشر کو ترقی دینے میں مدد کی، جیسا کہ ایسی مثالیں جناب دائود اور ، جناب سلیمان اور جناب ذوالقرنین علیہم السلام(۳) کے حالات میں دیکھی جا سکتی ہیں، انھوں نے سماج کو کامیاب بنانے اور امور میں حسن تدبیر کے لئے نمایاں کام انجام دئے ہیں، جب جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے سر زمین مصر پر انجام دیا(۴) ایسے خدمات جو کچھ بھی انبیاء نے پیش کئے وہ ان کے اصلی وظیفہ سے جدا تھے۔

لیکن یہ سوال کہ کیوں انبیائ٪ نے اپنے اہداف کو کامیاب بنانے کے لئے صنعت و اقتصاد وغیرہ کا سہارا نہیں لیا ؟تو اس سوال کے جواب میں یہ کہنا بہتر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا ہدف جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے آزاد انتخاب کے لئے وسائل کا فراہم کرنا تھا ،اور اگر وہ غیر عادی طاقتوں کے بل بوتے پر قیام کرتے، تو آزادانہ تکامل اور رشد معنوی انسانوں کو حاصل نہ ہوتا، بلکہ عوام ان کی قدرتوں کے ڈر سے اطاعت کرتی ،نہ الٰہی فرمان اور آزاد انتخاب کے تحت۔

اسی سلسلہ میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں

اگر خداوند متعال اپنے انبیائ٪ کو مبعوث کرتے وقت سیم وزر کے گنجینہ، جواہرات اور قیمتی معادن اور باغات عطا کردیتا، ہوائوں کے پرندے اور زمین کے چرند ان کے لئے مطیع بنادیتا تو اس صورت میں جزا و سزا اور امتحان کا موقع باقی نہ رہتا۔

اور اگر اپنے انبیاء ٪کو بے مثال قدرت ، شکست ناپذیر عزت اور عظیم سلطنت عطا کرتا کہ جس کی وجہ سے لوگ ڈر کر یا طمع میں تسلیم ہوتے ہوئے، ظلم و ستم اور تکبر سے دست بردار ہوجاتے تو اس صورت میں اقدار مساوی ہوجاتے ،لیکن خدا کا یہ ارادہ تھا کہ پیغمبروں کی اطاعت اُن کی کتابوں کی تصدیق اور اُن کے حضور فروتنی کسی بھی عیب سے پاک ہوتے ہوئے حق کے لئے ہو،لہذا جس قدر بلا اور امتحان عظیم ہوں گے ثواب الٰہی اتنے ہی کثیر ہوںگے''۔(۵)

البتہ جب لوگ اپنے ارادہ اور رغبت سے دین حق کو قبول کرلیں اور ایک الٰہی سماج کو تشکیل دیدیں ،تو پھر اہداف الٰہی کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف قدرتوں سے استفادہ کرنا درست ہوگا، جیسا کہ ایسے نمو نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی میں ملتے ہیں۔(۶)

سوالات

١۔ کیا تمام انبیاء ٪کسی خاص سرزمین پر مبعوث ہوئے؟ دلیل کیا ہے؟

٢۔ کیوںانبیاء ٪ کی دعوتیں تمام انسانوں تک نہ پہنچ سکیں؟

٣۔کیوں خدا نے ایسے اسباب فراہم نہیں کئے کہ جس کی وجہ سے فساد و خون ر یزی کی روک تھام ہو ؟

٤۔ کیوں انبیاء ٪نے اسرار طبیعت کو فاش نہیں کیا تا کہ اُن کے ما ننے والے مادی نعمتوں سے زیادہ مستفید ہوتے؟

٥۔ کیوں انبیاء ٪نے اپنے اہداف کو کامیاب بنانے کے لئے صنعتی اور اقتصادی قدرتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا؟

____________________

(١) رجوع کریں ۔سورۂ ہود۔ آیت/ ٧۔ سورۂ ملک۔ آیت /٢۔ سورۂ مائدہ۔ آیت/ ٤٨ سورۂ انعام۔ آیت/ ١٦٥.

(٢)سورۂ انعام۔ آیت/ ٣٥ ١٣٨٧١٠٧ ١٢٨۔ سورۂ یونس۔ آیت/ ٩٩۔ سورۂ ہود۔ آیت/ ١١٨۔ سورۂ نحل۔ آیت /٩ ٩٣۔ سورۂ شوریٰ۔ آیت /٨۔ سورۂ شعرائ۔ آیت/ ٤۔ سورۂ بقرہ۔ آیت /٢٥٣.

(۳) رجوع کریں۔سورۂ انبیا ء آیت/ ٨٢٧٨ سورۂ کہف ۔آیت /٨٣ ٩٧. سورۂ سبائ۔ آیت /١٠ ١٣۔ بعض روایتوں کے ذریعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ذوالقرنین نبی نہیں بلکہ ولی خدا تھے.

(۴) رجوع کریں۔ سورۂ یوسف ۔آیت/ ٥٥.

(۵) نہج البلاغہ، خطبہ قاصعہ۔ سورۂ فرقان ۔آیت /٧ ١٠۔ سورۂ زخرف ۔آیت /٣١ ٣٥۔

(۶)سورۂ انبیا ء ۔آیت /٨١ ٨٢۔ سورۂ نمل ۔آیت /١٥ ٤٤.


چوبیسواں درس

عصمت انبیاء (ع)

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

وحی کے محفوظ رہنے کی ضرورت

عصمت کی دوسری اقسام

انبیاء (ع) کی عصمت

وحی کے محفوظ رہنے کی ضرورت۔

حس و عقل کی کمیوں کو پورا کرنے اور ضروری معا رف کے حصول میں مدد کرنے والے عامل یعنی اب جب کہ ہم نے وحی کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے اس کے بعد یہ مسئلہ سامنے آتا ہے! یہ مطلب ہر ایک کو معلوم ہے کہ عادی انسان بالواسطہ وحی سے استفادہ نہیں کرسکتے اور وحی کو دریافت کرنے کی لیاقت اور استعداد سے سرفراز نہیں ہوسکتے ، بلکہ چندخاص اجزا (انبیاء الٰہی) کے ذریعہ وحی کے پیغامات کو اُن تک پہچا نا ہوگا، لیکن ان پیغامات کے صحیح ہونے کی ضمانت کیا ہے، اور کہاں سے یہ معلوم ہوکہ نبی خدانے وحی کو دریافت کر کے صحیح و سالم لوگوں کے حوالہ کیا ہے؟ اور اگرخدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان رابطہ ہے بھی تو کیا اس نے اپنی رسالت انجام دے دی ہے؟ اس لئے کہ وحی اُسی وقت مفید واقع ہو سکتی ہے

جب مرحلہ صدور سے مرحلہ وصول تک عمدی یا سہوی تمام خطائوں اور اضافات سے محفوظ رہی ہو، وگرنہ واسطوں میں سہو و نسیان کے احتمال یا ان میں عمدی تضرفا ت کے احتمال کے ہوتے ہوئے لوگوں تک پہنچنے والے پیغام میں نادرست اور خطا ہونے کا باب کھل جائے گا، اور اس طرح اعتمادکے اٹھ جانے کا سبب ہوگا لہذا کیسے(۱) معلوم ہو سکتا ہے کہ وحی صحیح و سالم لوگوں تک پہنچی ہے؟

یہ بات روشن ہے کہ جب وحی کی حقیقت لوگوں کے لئے مجہول ہو اور اسے دریافت کی استعداد سے وہ سرفراز نہ ہوں تو اس صورت میں واسطوں میں کافی نظارت بھی نہیں رکھ سکتے، اور صرف اسی وقت وحی میں ہونے والے تصرفات سے آزاہی ممکن ہے کہ جب عقل و منطق کے خلاف کوئی پیغام موجود ہو، جیسے کہ کوئی یہ دعوی کرے کہ خدا نے اُس پر وحی بھیجی ہے: کہ اجتماع نقیضین جائز یا واجب ہے یا العیاذ باللہ) ذات الٰہی میں تعدد یا زوال یا ترکیب کا ہونا امکان پذیر ہے، اِن مطالب کے جھوٹے ہونے کو عقل کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن وحی کی اصلی ضرورت اُن مسائل میں ہے کہ جس میں عقل نفی و اثبات کے قابل نہیں ہے اور اس میں اتنی استعداد نہیں ہے کہ ان پیغامات کے صحیح یا باطل ہونے کو ثابت کر سکے، لہٰذا ایسے موارد میں کس طرح وحی کے پیغامات میں واسطوں کے عمدی یا سہوی تصرفا ت سے محفوظ رہنے کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح سے عقل، حکمت الٰہی کے پیش نظر، بائیسویں درس میں بیان کئے گئے برہان کے مطابق اس امر کو بخوبی درک کرتی ہے کہ وظائف اور حقیقتوں کا پتہ لگانے کے لئے کسی دوسرے راستہ کا ہونا ضروری ہے، اگر چہ اس کی اصلی حقیقت سے وہ بے خبر ہے اور اس طرح یہ بھی درک کرتی ہے کہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے پیغامات صحیح و سالم حالت میں لوگوں تک پہنچیں، وگرنہ غیر صحیح و سالم ہونے کی صورت میں نقض غرض لازم آئے گی۔

ایک دوسری تعبیر کے مطابق جب یہ معلوم ہوگیا کہ الٰہی پیغامات ایک یا چند واسطوں سے لوگوں تک پہنچتے ہیں تا کہ انسان کے اختیاری تکامل کا راستہ ہموار رہے، اور بشر کی خلقت سے خدا کا ہدف پورا ہوجائے لہذا صفات کمالیۂ الٰہی سے یہ امر بخوبی روشن ہوجاتا ہے کہ اس کی طرف سےآنے والے تمام پیغامات عمد ی یا سہوی تصرفات سے محفوظ ہیں، اس لئے کہ اگر خدا یہ ارادہ کرلے کہ اس کے پیغامات بندوں تک سالم نہ پہنچیں ،تو یہ حکمت کے خلاف ہوگا، جبکہ خدا کا حکیمانہ ارادہ اِس بات کی پوری طرح نفی کرتا ہے، اوراگر خدا اپنے بے کراں علم کے ہوتے ہوئے یہ سمجھ نہ سکے، کہ وہ کس طرح اور کن واسطوں سے اپنے پیغامات کو سالم لوگوں تک پہنچائے تو یہ اس کے لامتناہی علم سے سازگار نہیں ہے، اور اگر شائستہ واسطہ پیدا نہ کرسکے اور انھیں شیاطین کے ہجوم سے محفوظ نہ رکھ سکے تو یہ امر، اس کی لا محدود قدرت سے منافات رکھتا ہے،لہذا چونکہ خدا ہر شی کے بارے میں جانتا ہے لہٰذا خدا کے لئے یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ جسے واسطہ بنارہا ہے، اس کی خطا کاریوںسے بے خبر ہو(۲) اور اسی طرح یہ احتمال بھی باطل ہے کہ اس نے اپنی لامحدود قدرت کے ہوتے ہوئے بھی اپنے پیغامات کو شیاطین اور عمدی یا سہوی تصرفات سے محفوظ نہ رکھ سکا(۳) جس طرح سے کہ حکمت الٰہی کے پیش نظر یہ احتمال بھی باطل ہے، کہ اس نے اپنے پیغامات کو لوگوں تک صحیح و سالم نہ پہنچانے کا ارادہ کرلیا ہے(۴) ، لہٰذا خدا کا علم، اس کی قدرت و حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے پیغامات کو سالم اور تصرفات سے محفوظ لوگوں تک پہنچائے اور اس طرح وحی کا محفوظ رہنا عقلی برہان کے ذریعہ ثابت ہوجاتا ہے۔(۵)

عصمت کی دوسری قسمیں ۔

فرشتوں اور ا نبیاء (ع)کی وہ عصمت جودلیل کی بناء پر ثابت ہوتی ہے وحی کے پیغام پر منحصر ہے لیکن عصمت کی دوسری قسمیں بھی ہیں جو اس دلیل کے ذریعہ قابل اثبات نہیں ہیں ، جنھیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ، پہلی قسم فرشتوں سے متعلق ہے ، دوسری قسم انبیاء (ع) کی عصمت ہے اور تیسری قسم بقیہ انسانوں ، جیسے ائمہ (ع)، حضرت مریم ، اور حضرت زھراء کی عصمت ہے

فرشتوں کی عصمت کے سلسلہ میں ابلاغ وحی کے علاوہ دو مسئلہ پیش کئے جا سکتے ہیں ۔

پہلا مسئلہ ان فرشتوں کی عصمت کا ہے، جو دریافت وحی اور اُسے رسول تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں دوسرا مسئلہ ان فرشتوں کی عصمت کا ہے، جنھیں وحی سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ وہ کتابت اعمال، رزق پہنچانے اور قبض اوراح وغیرہ کے ذمہ دار ہیں۔

اس طرح انبیاء (ع) کی عصمت ان چیزوں کے سلسلہ میں جو ان کی رسالت سے مربوط نہیں ہے اس میں بھی دو مسئلہ ہیں، پہلا مسئلہ یہ ہے کہ انبیاء (ع)کا عمدی گناہوں اور سرپیچیوں سے محفوظ و مصؤن رہنا دوسرا مسئلہ انبیاء (ع)کا سہو و نسیان سے معصوم ہونا ہے اور انھیں دو مسئلہ کو غیر انبیاء (ع)کی عصمتوں میں پیش کئے جاسکتے ہیں۔

لیکن فرشتوں کی عصمت وحی کے ابلاغ کے علاوہ دوسرے مسائل میں دلیل عقلی کے ذریعہ اسی وقت قابل حل ہے کہ جب ملائکہ کی ماہیت او ران کی حقیقت معلوم ہو جائے ، لیکن ملائکہ کی ماہیت کا سمجھنا نہ ہی آسان ہے اور نہ ہی اِس کتاب کے متناسب، اِسی وجہ سے فرشتوں کی عصمت کی دلیل میں قرآن سے دو آیتوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں، خدا وند عالم قرآن کے سورۂ انبیاء کی ستا ئسیویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے :( بَل عِبَاد مُّکرَمُونَ لَا یَسبِقُونَهُ بِالقَولِ وَهُم بِاَمرِهِ یَعمَلُون )

بلکہ فرشتے خدا کے معزز بندے ہیں وہ گفتگو میں اس سے سبقت نہیں کرسکتے اور وہ اس کے حکم پر چلتے ہیں۔

اور اسی طرح سورۂ تحریم کی چھٹی آیت میں ارشاد فرماتا ہے :

( لَا یَعصُونَ اﷲَ مَا اَمَرَهُم وَ یَفعَلُونَ مَا یُؤمَرُونَ )

خدا جس بات کا حکم دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اورجو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔

یہ دو آیتیں پوری صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ملائکہ منتخب مخلوق ہیں، جو فرمان الٰہی کے مطابق اعمال انجام دیتے ہیں اور کبھی بھی اس کے فرمان سے روگردانی نہیں کرتے، اگر چہ ان آیتوں کی عمومیت تمام فرشتوں کی عصمت کو شامل ہے۔

لیکن انبیاء (ع) کی عصمت کے علاوہ بقیہ انسانوں کی عصمت کے سلسلہ میں بحث کرنا مباحث امامت سے سازگار ہے اسی وجہ سے اس حصہ میں انبیاء (ع)کی عصمت کے تحت بحث کریں گے اگر چہ اُن میں سے بعض مسائل کو تنہا نقلی اور تعبدی مسائل کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے اور اصولی اعتبار سے اسے کتاب و سنت کی حجیت ثابت ہونے کے بعد ذکر ہونا چاہئے، لیکن موضوعات کی مناسبت سے اِسی مقام پر اس کے سلسلہ میں بحث کریں گے اور کتاب و سنت کی حجیت کی بحث کو اصل موضوع کے عنوان سے قبول کرتے ہوئے اُسے اِسی مقام پر ذکر کر تے ہیں ۔

انبیاء (ع) کی عصمت ۔

گروہ مسلمین میں اس مسئلہ کے تحت شدید اختلافات ہے کہ انبیاء (ع) گناہوں کے مقابلہ میں کس حد تک معصوم ہیں، انثا عشری شیعوں کا عقیدہ ہے کہ انبیاء (ع) اپنے آغاز ولادت سے آخری لمحہ حیات تک تمام گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، بلکہ بھولے سے بھی کوئی گناہ نہیں کرتے لیکن اہل سنت کی بعض جماعتوں نے عصمت انبیاء (ع) کو گناہان کبیرہ کے مقابلہ میں مانا ہے، بعض نے دوران بلوغ سے، اور بعض نے کہا کہ بعثت کے بعد سے معصوم ہوتے ہیں، بلکہ اہل سنت کے بعض فرقوں (حشویہ اور اہل حدیث) کے اعتقاد کے مطابق) انبیاء (ع) ہر قسم کی عصمت سے عاری ہیں، ان سے گناہان کبیرہ صادر ہوسکتا ہے بلکہ وہ نبی ہوتے ہو ئے بھی عمداً گناہ کرسکتے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کرنے سے پہلے ہمیں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے پہلا نکتہ یہ ہے کہ انبیاء (ع)اور غیر ا نبیاء میں سے بقیہ انسانوں کے معصوم ہونے کا مطلب صرف گناہوں سے معصوم ہونا نہیں ہے بلکہ اس بات کا امکان ہے کہ ایک معمولی انسان خصوصاً کم عمر ہو نے کی وجہ سے کوئی گناہ انجام نہ دے۔

بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہایت طاقتور ملکہ نفسانی کے مالک ہیں، کہ جو سخت سے سخت شرائط و حالات میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں اور یہ ملکہ گناہوں کی آلودگیوں سے آگاہی، شکست ناپذیر ارادہ، اور نفسانی خواہشوں کو مہار کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے، اور چونکہ یہ ملکہ عنایت الٰہی کے ذریعہ حاصل ہوتاہے لہٰذا اس کی فاعلیت کو خدا کی جانب نسبت دی جاتی ہے، وگرنہ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ خدا معصوم انسان (انبیاء و آئمہ) کو زبردستی گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے

یا اس سے اختیار کو چھین لیتا ہے ان لوگوں کی عصمت جو منصب الٰہی ،جیسے نبوت و امامت سے متصف ہیں مراد یہ ہے ، کہ خدا نے گناہوں سے محفوظ رہنے کی ضمانت انھیں د ے دی ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی عصمت کا لازمہ یہ ہے کہ وہ تمام حرام اعمال کو ترک کردے ،جیسے کہ وہ گناہ جو تمام شریعتوں میں حرام ہیں، یا وہ امور جو خود اسی کے زمانہ کی شریعت میں حرام ہوں، لہٰذا انبیاء (ع) کی عصمت ان اعمال کے ذریعہ خدشہ دارنہیں ہوتی جو اس کی شریعت یا خود اس کے لئے جائز ہوں یا وہی عمل گذشتہ شریعت میں حرام ہو یا بعدمیں حرام کردیا جائے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ گناہ سے مراد یہ ہے، کہ جس سے ایک معصوم محفوظ رہتا ہے ایک ایسا عمل ہے کہ جسے فقہ میں حرام کہا جاتا ہے اور اسی طرح اس عمل کو ترک کرنا کہ جسے فقہ میں واجب کہا جاتا ہے۔

لیکن گناہ کے علاوہ دوسرے کلمات جیسے (عصیان) (ذنب) وغیرہ وسیع معنی میں استعمال ہوتے ہیں کہ جس میں ترک اولیٰ بھی شامل ہے اور ایسے گناہوں کا انجام دینا عصمت کے خلاف نہیں ہے۔

سوالات

١۔کس طرح وحی کو کسی بھی قسم کے خلل سے محفوظ رہنے کو ثابت کیا جاسکتا ہے؟

٢۔ دریافتِ وحی اور ابلاغ میں محفوظ رہنے کے علاوہ کن مقامات پر عصمت ضروری ہے؟

٣۔ فرشتوں کی عصمت کیسے ثابت کی جاسکتی ہے؟

٤۔ انبیا ء علیہم السلام کی عصمت کے سلسلہ میں کتنے اقوال ہیں؟ اور اہل تشیع کا نظریہ کیا ہے؟

٥۔ عصمت کی تعریف کریں اور اس کے لوازمات بیان کریں؟

___________________

(١)قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے:(وَمَاکَانَ اللَّهُ لِیُطلِعَکُم عَلَی الغَیبِ وَ لَٰکِنَّ اللَّهَ یَجتَبِی مِن رُّسُلِهِ مَن یَشَائُ )سورۂ آل عمران۔ آیت/ ١٧٩.

(۲)قرآن اس بارے میں فرماتا ہے ''اللَّهُ اَعلَمُ حَیثُ یَجعَلُ رِسَالَتَهُ '':سورۂ انعام ۔آیت /١٢٤

(۳)قرآن اس سلسلہ میں فرماتا ہے :

(عَلِمُ الغَیبِ فَلاَ یُظهِرُ عَلَٰی غَیبِهِ اَحَدًا ٭ اِلَّامَنِ ارتَضَیٰ مِن رَّسُولٍ فَاِنَّهُ یَسلُکُ مِن بَینَ یَدَیهِ وَمِن خَلفِهِ رَصَداً ٭لِّیَعلَمَ اَن قَد اَبلَغُوا رِسَٰلَٰتِ رَبِّهِم وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَ یهِم وَاَحصیٰ کُلَّ شَئٍ عَدَدَا ) سورۂ جن۔ آیت/ ٢٨٢٦.

(۴)(لِیَهلِکَ مَن هَلَکَ عَن بَیِنَّةٍ وَّ یَحیَ مَن حََّ عَن بَیِنَّةٍ ) سورۂ انفال ۔آیت/ ٤٢

(۵) سورۂ شعراء ۔آیت/ ١٩٣۔ سورۂ تکویر۔ آیت /٢١۔ سورۂ اعراف ۔آیت /٦٨۔ سورۂ شعرائ۔ آیت /١٠٧ ١٢٥ ١٤٣ ١٦٢ ١٧٨۔ سورۂ دخا ء آیت/١٨ سورۂ تکویرآیت/ ٢٠ سورۂ نجم آیت /٥۔ سورۂ حاقہ آیت /٤٤۔ سورۂ جن آیت/ ٢٨٢٦.


پچیسواں درس

انبیاء (ع)کے معصوم ہونے کی دلیلیں

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

عصمت انبیاء (ع) پر عقلی دلائل

عصمت انبیاء (ع) پر نقلی دلائل

عصمت انبیاء (ع) کاراز

مقدمہ

شیعوں کے معروف اور قطعی عقائد میں سے انبیاء (ع) کا عمدی اور سہوی گناہوں سے معصوم ہونے کا عقیدہ ہے جس کی ائمہ علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو تعلیم دی ہے اور اپنے مختلف بیانات کے ذریعہ دشمنوں کے اقوال کو باطل قرار دیاہے ائمہ علیہم السلام کا عصمت انبیاء (ع) کے سلسلہ میں اپنے دشمنوں سے احتجاجات میں سے سب سے زیادہ مشہور امام رضا علیہ السلام کا احتجاج ہے جو کتب حدیث اور تاریخ میں درج ہے۔

لیکن مباح امور میں انبیاء علیہم السلام کا سہو و نسیان باعث اختلاف رہا ہے اور ائمہ علیہم السلام کی جانب سے وارد ہونے والی روایات، اختلاف سے خالی نہیں ہیں، جس کے سلسلہ میں تحقیق و جستجو اِس بحث کی وسعت سے خارج ہے، لیکن اتنا مسلم ہے کہ اِسے ضروری اعتقادات میں سے شمار نہیں کیا جا سکتا ، اور وہ دلائل جو انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے تحت بیان کئے گئے ہیں دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

١۔ عقلی دلائل۔

٢۔ نقلی دلائل۔

اگر چہ اس بحث میں زیادہ تر اعتماد نقلی دلائل پر کیاگیا ہے، ہم یہاں دو دلیلوں کے بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور اس کے بعد کچھ قرآنی دلائل کو ذکر کریں گے۔

عصمت انبیاء (ع)پر عقلی دلائل۔

انبیاء علیہم السلام کا گناہوں کے ارتکاب سے معصوم رہنے پر پہلی عقلی دلیل یہ ہے کہ ان کی بعثت کا پہلا ہدف انسانوں کو اُن حقائق اور وظائف کی طرف ہدایت کرنا ہے جسے خدا نے انسانوں کے لئے معین فرمایا ہے، در حقیقت یہ لوگ انسانوں کے درمیان خدا کے نمائندے ہیں ،کہ جنھیں لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت کرنا ہے، لہذا اگر ایسے نمائندے دستورات خدا کے پابند نہ ہوں اور اپنی رسالت کے بر خلاف اعما ل کے مرتکب ہوں تو لوگ اُن کے اعمال کو اُن کی گفتار سے جدا کہیں گے اور اِس طرح لوگوں کا اعتماد اُن کی گفتار پر ختم ہوجائے گا اور یوں اُن کی بعثت کا ہدف مکمل نہ ہوسکے گا، لہذا حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انبیاء (ع) پاک اور تمام گناہوں سے دور ہوں بلکہ سہو و نسیان کی بنیاد پر کوئی نا شائستہ عمل بھی انجام نہ دیں، تا کہ لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ انھوں نے سہو و نسیان کو گناہوں کے ارتکا ب کے لئے بہانہ بنالیا ہے۔

عصمت انبیاء علیہم السلام پر دوسری عقلی دلیل یہ ہے کہ وہ وحی کو لوگوں تک پہنچانے اور انھیں راہ مستقیم کی طرف ہدایت کرنے کے علاوہ ان پر لوگوں کی تربیت اور تزکیہ کی بھب ذمہ داری ہے تا کہ وہ مستعدا افراد کو کمال کے آخری منازل تک لے جائیں یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق تعلیم اور ہدایت کے وظیفہ کے علاوہ وظیفہ تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں،اور وہ بھی ایسی تربیت جو سماج کے برجستہ اور عاقل حضرات کو بھی شامل ہوتی ہے۔

لہٰذا ایسے مقامات انھیں لوگوں کے لئے شائستہ ہیں کہ جو انسانی کمالات کے اعلیٰ مقامات پر فائز ہوں اور ملکہ نفسانی (ملکہ عصمت) کے عظیم درجہ پر فائز ہو۔

اس کے علاوہ مربی کا کردار افراد کی تربیت کرنے میں ،اُس کی گفتار سے کہیں زیادہ موثر ہوتا ہے اور وہ افرادجو کردار کے اعتبار سے عیوب اور نقائص کے حامل ہو تے ہیں ان کی گفتار بھی مطلوب تاثیر سے برخوردار نہیں ہو سکتی،لہذا انبیاء علیہم السلام کی بعثت اس عنوان کے تحت کہ وہ سماج کے مربی ہیں اسی صورت میں قابل تحقق ہے کہ جب ان کا کردار اور ان کی گفتار ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہو۔

عصمت انبیاء (ع) پر نقلی دلائل۔

١۔ قرآن کریم بعض انسانوں کو مخلص(۱) (جنھیں خدا کے لئے خالص کردیا گیا ہو) کے نام سے یاد کرتا ہے یہاں تک کہ ابلیس بھی انھیں گمراہ کرنے کی طمع نہیں رکھتا جیسا کہ قرآن نے اُس کے قول کو نقل کیا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو گمراہ کرے گا لیکن مخلصین اُس کی دسترس سے خارج ہیں۔ سورۂ ص کی آیت نمبر (٨٣٨٢) میں ہے :

( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُوِیَنَّهُم اَجمَعِینَ ٭ اِلَّا عِبَادَکَ مِنهُمُ المُخلَصِینَ )

وہ بولا تیری ہی عزت و جلال کی قسم ان میں سے تیرے خالص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کروں گا۔

اور بے شک ابلیس کا انھیں گمراہ نہ کرنے کی طمع اُس عصمت کی وجہ سے ہے جو انھیں گناہوں سے مقابلہ میں حاصل ہے، وگرنہ وہ تو اُن کا بھی دشمن ہے اگر اُسے موقع مل جائے تو اُنھیں بھی گمراہ کئے بغیر نہ چھوڑے۔

لہٰذا عنوان (مخلَص) عنوان (معصوم) کے مساوی ہے، اگر چہ ہمارے پا س اس صفت کا انبیاء (ع) سے مخصوص ہونے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ صفت انبیاء (ع) کو بھی حاصل ہے جیسا کہ خود قرآن نے بعض انبیاء (ع) کو مخلصین میں سے شمار کیا ہے سورۂ ص کی آیت (٤٦٤٥) میں فرماتا ہے :

( وَاذکُر عِبٰدِنَا اِبرَاهِیمَ وَ اِسحَاقَ وَ یَعقُوبَ اُولِی الاَیدِ وَالاَبصَارِ٭ اِنَّا اَخلَصنَا هُم بِخَالِصَةٍ ذِکرَیٰ الدَّارِ )

اے رسول! ہمارے بندو ںمیں ابراہیم اسحاق اور یعقوب (ع)کو یاد کرو جو قوت و بصیرت والے تھے ہم نے ان کو ایک خاص صفت کی یاد سے ممتاز کیا تھا۔

اور سورۂ مریم کی (٥١) آیت میں فرماتا ہے :

( وَاذکُر فِ الکِتَابِ مُوسیٰ اِنَّهُ کَانَ مُخلَصاً وَ کَانَ رَسُولاً نَّبِیاً )

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! قرآن میں موسیٰ ـکا تذکرہ کرو اس میں شک نہیں کہ وہ میرا برگزیدہ اور بھیجا ہوا صاحب شریعت نبی تھا۔

اس کے علاوہ قرآن نے یوسف علیہ السلام کا سخت ترین لحظات میں محفوظ رہنے کو اُن کے

مخلص ہونے سے نسبت دے رہا ہے جیسا کہ سورۂ یوسف کی آیت (٢٤) میں فرماتا ہے:

( کَذَالِکَ لِنَصرِفَ عَنهُ السُّوئَ وَالفَحشَائَ اِنَّهُ مِن عِبَادِناَ المُخلَصِینَ )

ہم نے اُس کو یوں بچایا تا کہ ہم اس سے برُائی اور بدکاری کو دور رکھیں بے شک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا۔

٢۔ قرآن انبیاء (ع) کی اطاعت کو مطلق قرار دے رہا ہے جیسا کہ سورۂ نساء کی آیت (٦٤) میں فرماتا ہے:( وَمَا اَرسَلنَا مِن رَّسُولٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذنِ اللَّهِ )

اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس واسطے کہ خدا کے حکم سے لوگ اس کی اطاعت کریں۔

اور ان لو گوں کی مطلق اطاعت اُسی صورت میں صحیح ہے کہ جب ان کی اطاعت اطاعت خدا ہو، اور ان کی پیروی کرنا اطاعت خدا کے خلاف نہ ہو وگرنہ ایک طرف خدا کی اطاعت کا حکم اور دوسری طرف اُن لوگوں کی اطاعت کا حکم جو خطائوں سے محفوظ نہیں ہیں غرض کے خلاف ہوگا۔

٣۔ قرآن نے الٰہی منصبوں کو انھیں لوگوں سے مخصوص جانا ہے ،کہ جن کے ہاتھ ظلم سے آلودہ نہ ہوں، جیسا کہ قرآن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جواب میں فرماتا ہے، کہ جب انھوں نے منصب امامت کی اپنی اولاد کے لئے درخواست کی( لَا یَنَالُ عَهدِ الظَّالِمِینَ ) (۲)

فرمایا ہاں! مگر میرے اس عہد پر ظالموں میں سے کوئی شخص فائز نہیں ہو سکتا ۔

اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ ہر گناہ نفس پر ایک ظلم ہے اور قرآن کی زبان میں ہر گنہگار ظالم ہے، پس انبیاء الٰہی جو منصب الٰہی کے ذمہ دار ہوتے ہیں ،ہر قسم کے گناہ اور ظلم سے پاک ہوتے ہیں۔

عصمت انبیاء (ع) کا راز ۔

اس درس کے اختتام پر بہتر ہے کہ ہم انبیاء (ع) کے معصوم ہونے کے اسرار کی طرف ایک مختصر اشارہ کردیں،لہذا انبیاء علیہم السلام کا وحی کو حاصل کرنے میں معصوم ہونے کا راز یہ ہے کہ اصولاً وحی کو درک کرنا خطا بردار ادراکات سے ممکن نہیں ہے اور جو بھی اسے حاصل کر لینے کی صلاحیت سے سرفراز ہو، وہ ایک ایسے علم کی حقیقت کا مالک ہے جسے وہ اپنے سامنے حاضر پاتا ہے، او روحی سے اس کا رابطہ ہوتا ہے ،خواہ وہ وحی لانے والا فرشتہ ہویا کوئی اور ہو بخوبی اُسے مشاہدہ کرتا ہے(۳) اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ و حی حا صل کرنے والا شک میں مبتلا ہوجائے کہ اس پر وحی ہوئی ہے یا نہیں؟ یا کس نے اس پر نازل کی ہے؟ یا وحی کے مطالب کیا ہیں؟ اور اگر بعض من گھڑت تو جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے جھوٹ نہ جانا۔

داستانوں میں آیا ہے کہ مثلاً کسی نبی نے اپنی نبوت میں شک کیا ،یا وحی کے مطلب کو بھلادیا ،یا وحی نازل کرنے والے کو پہچان نہ سکا، یہ سب کچھ صاف بہتان ہے اور ایسے بہتان بالکل اسی طرح ہیں کہ کوئی اپنے وجود یا کسی حضوری اور وجدانی امر کے تحت شک کرے!!

لیکن انجام وظائف (لوگوں تک پیغام الٰہی کے پہچانے) میں انبیا ء علیہم السلام کی عصمت کے راز کو بیان کرنے کے لئے ایک مقدمہ کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے اختیاری افعال اس صورت میں انجام پاتے ہیں، کہ جب انسانوں کے باطن میں اُس کے انجام دینے میں رجحان ہو ،جو مختلف اسباب و عوامل کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور ایک شخص علم اور مختلف ادراکات کے ذریعہ مطلب تک پہنچنے والے راستہ کو معین کرتا ہے۔

اور اِسی کے مطابق امور کو انجام دیتا ہے لیکن جب اس میں متضاد رجحان ہوں تو اس صورت میں وہ بہترین کو انتخاب کرنے کی کوشش میں رہتا ہے، لیکن کبھی کبھی علوم کی کمزوری بہترین کو معین کرنے میں خطا سے دوچار ہونے کا سبب بن جاتی ہے یا بہترین سے غفلت یا پست ترین شی سے انس اشتباہ کا سبب بن جاتا ہے صحیح فکر اور صحیح انتخاب کا موقع نہیں مل پاتا۔

لہذا انسان جس قدر حقائق سے آشنا ہو، اور حقائق کے تحت زیادہ سے زیادہ توجہ سے سرفراز ہو، نیز ا س کے علاوہ باطنی ہیجانات اور ہنگاموں کو مہار کرنے میں عظیم قدرت سے سرفراز ہو تو وہ اتنا ہی حسن انتخاب میں کامیاب ہوگا ،اور خطائوں سے اُسی انداز ے کے مطابق محفوظ رہے گا۔

یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو مستعد، و راستہ ، عقل و بینش سے سرفراز ہونے کے علاوہ صحیح تربیت میں پلے، بڑھے ہیں وہ فضیلت و کمال کے درجات حاصل کرلیتے ہیں، یہاں تک کہ اس راہ میں مرتبہ عصمت تک بھی پہنچ جاتے ہیں، اور ان کے ذہنو ں میں گناہ کا خیال تک نہیں آتا، جیسا کہ کوئی بھی عاقل شخص اپنے ذہن میں زہر کو پینے یا غلاظتوں کے کھانے کی فکر کو نہیں لاتا، اسی طرح یہ لوگ بھی گناہوں کے ارتکاب کی فکر اپنے ذہن میں نہیں لاتے۔

اب اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ ایک شخص کی استعداد حقائق کو سمجھنے میں بے نہایت اور روح کی طہارت و پاکیزگی کے اعتبار سے عظیم مقامات پر فائز ہے اور قرآن کی تعبیر کے مطابق وہ روغن زیتون کی طرح زلال نیز خالص اور شعلہ ور ہونے کے نزدیک ہو بغیر اس کے کہ وہ کسی شعلہ سے ارتباط برقرار کرے (یکادزیتہا یضئی و لو لم تمسہ نار)اور اُسی قوی ا ستعداد اور روح کی پاکیزگی کی وجہ سے خدا کی تربیت میں پرہان چڑھے اور خدا اس کی روح القدس کے ذریعہ مدد کرے، ایسا شخص غیر قابل وصف کمالات کے مدارج کو طے کر تاہے بلکہ ہزاروں سال طولانی راستہ کو ایک شب میں طے کر لیتا ہے ، دوران طفولیت بلکہ شکم مادر میں، ہر ایک پر، اُسے برتری حاصل ہوگی، ایسے شخص کی نگاہ میں گناہوں کی حقیقت اسی طرح آشکار ہے جس طرح دوسروں کے لئے زہر پینے اور غلاظتوں کو کھانے کی حقیقت۔

اورجس طرح عادی و معمولی افراد کا ایسے کاموں سے پرہیز جبری نہیں ہے اسی طرح معصوم کا گناہوں سے بچنا کسی بھی صورت میں ان کے اختیار کے خلاف نہ ہوگا۔

سوالات

١۔انبیاء علیہم السلام کی عصمت کو عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کریں؟

٢۔ قرآن کی کون سی آیات انبیاء (ع) کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں؟

٣۔ وحی کو بیان کرنے میں انبیاء (ع) کے معصوم ہونے کا راز کیا ہے؟

٤۔ انبیاء (ع)کا گناہوں سے بچنا کیسے ان کے اختیار سے سازگار ہے؟

____________________

(١)اس بات کی طرف توجہ ہے کہ مخلَص لام کے فتحہ کے ساتھ،مخلِص لام کے کسرہ کے ساتھ جدا ہے، مخلَص لام کے فتحہ کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے شخص کو خالص بنادیا ہو ،اورمخلِص لام کے کسرہ کے ساتھ اس کا مطلب یہ ہے کہ شخص نے اپنے اعمال اخلاص کے ساتھ انجام دئے ہوں۔

(۲)سورۂ بقرہ۔ آیت ١٢٤.

(۳) قرآن اس سلسلہ میں فرماتا ہے :(مَاکَذَبَ الفُؤَادُ مَارَأیٰ) سورۂ نجم ۔آیت ١١


چھبیسواں درس

چند شبہات کا حل

معصوم جزاء کا کیونکر مستحق ہے؟

کیوں معصومین گناہ کا اقرار کرتے تھے؟

شیطان کا انبیاء (ع) کے اعمال میں تصرف کرنا ان کے معصوم

ہونے کے ساتھ کیسے سازگار ہے؟

حضرت آد م ـ کی طرف نسیان اور عصیان کی نسبت ۔

بعض انبیاء (ع)کی طرف جھوٹ کی نسبت ۔

حضرت موسیٰ ـکے ذریعہ قبطی کا قتل۔

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی رسالت میں شک کرنے سے نہی۔

چند شبہات کا حل۔

انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے سلسلہ میں چند شبہات پیش کئے گئے ہیں کہ جن کے جوابات ہم اسی درس میں بیان کریں گے۔

پہلا شبہ یہ ہے

کہ اگر خدا نے انبیا ء علیہم السلام کو گناہوں کے ارتکاب سے روک رکھا ہے جس کا لازمہ وظائف کو انجام دینا بھی ہے تو پھر اس صورت میں انبیاء علیہم السلام کے لئے اختیاری امتیاز باقی نہیں رہتا، اور گناہوں سے بچنے کی جزا اور وظائف کو انجام دینے کی صورت میں کسی بھی پاداش کے مستحق نہیں رہ جاتے، اس لئے کہ اگر خدا انبیاء کے علاوہ کسی اور کو معصوم قرار دیتا تو وہ بھی انھیں کی طرح ہوتے۔

اسی شبہ کا جوا ب

گذشتہ بیانات کی روشنی میں آشکار ہے جس کا ملازمہ یہ ہے کہ معصوم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وظائف کو انجام دینے کے لئے اور گناہوں سے پرہیز کرنے کے لئے ان پر جبر کیا گیا ہو جیسا کہ گذشتہ درس میں یہ مطلب روشن ہوچکا ہے، اورخدا کا انھیں معصوم رکھنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ ان سے اختیاری افعال کی نسبت چھین لی جائے اگر چہ تمام موجودات نہایتاً خدا کے ارادۂ تکوینی کے دائرے میں ہیں، چنانچہ جب خدا کی جانب سے کوئی خاص وضاحت ہو تو امو رکو اس کی طرف نسبت دینا ایک جدا صورت ہے، لیکن خدا کا ارادہ، ارادہ انسان کے طول میں ہے نہ کہ اُس کے عرض میں (یعنی انسان کا ارادہ وہی خدا کا ارادہ ہے نہ یہ کہ خدا کاا رادہ اور انسان کا ارادہ دو مستقل امر ہوں) اور نہ ہی انسان کا رادہ خدا کے ارادہ کاجانشین ہے۔

اور معصومین کی بہ نسبت خدا کی خاص عنایت ہے تو جس طرح خاص اسباب و شرائط سنگین ذمہ داریوں کا سبب بنتے ہیں، اسی طرح یہ خاص توجہ بھی سنگین ذمہ داریوں کا سبب ہے ،جس طرح وظائف کو انجام دینے کی جزا زیادہ ہوگی اسی طرح اس کی مخالفت کی سزا بھی زیادہ ہوگی، اسی طرح جزا و سزا کے درمیان اعتدال برقرار ہوجاتا ہے، اگرچہ ایک معصوم کبھی بھی اپنے اختیار سے کسی سزا کا مستحق نہیں ہو سکتا اور ا یسے اعتدال کی مثالیں اُن تمام لوگوں میں دیکھی جا سکتی ہیں کہ جو خاص نعمتوں سے سرفراز ہیں جیسا کہ علماء اور خاندان رسالت(۱) سے وابستہ حضرات کی ذمہ دار یاں زیادہ ہیں لہٰذا جزا یا سزا بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی(۲) اسی وجہ سے جو جتنا بلند ہوتا ہے اس کے سقوط کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

دوسراشبہ یہ ہے

کہ معصومین اور انبیاء علیہم السلام کی طرف سے جو دعائوں میں وارد ہوئے ہیں ان میں ان حضرات نے اپنے آپ کو گنہگار کہا ہے اور اپنے گناہوں سے استغفار کرتے تھے پس ایسے اعترافات کے ہوتے ہوئے کیسے ان کے معصوم ہونے کو تسلیم کیا جاسکتا ہے؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے

کہ حضرات معصومین علیہم السلام جو درجات کے اختلاف کے ساتھ کمال و قرب کے عظیم مقامات پر فائز تھے اپنے لئے دوسروں کے وظائف سے کہیں عظیم وظائف کے قائل تھے بلکہ معبود کے علاوہ کسی غیر کی طرف معمولی توجہ کو بھی عظیم گناہ شمار کرتے تھے اسی وجہ سے ہمیشہ استغفار کیا کرتے تھے اور جیسا کہ یہاں ذکر کیاجاچکا ہے کہ انبیاء (ع)کی عصمت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ حضرات ان امور کے ارتکاب سے محفوظ ہیں جنھیں گناہ کا نام دیا جا تا ہے بلکہ ان کے معصوم ہونے کا مطلب واجبی تکالیف کی مخالفت اور محرمات فقہی کے مرتکب ہونے سے محفوظ رہنے کا نام ہے۔

تیسرا شبہ یہ ہے

کہ انبیاء (ع) کی عصمت پر قرآنی دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ وہ مخلصین میں سے ہیں اور شیطان کو انھیں گمراہ کرنے کی بھی کوئی طمع نہیں ہے، حالانکہ خود قرآن سے بعض مقامات پر انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں شیطان کی طرف سے کئے گئے تصرفات کو بیان کیا گیا ہے :

( یَا بَنِی آدَمَ لَا یَفتِنَنَّکُمُ الشَّیطَانُ کَمَا اَخرَجَ َبَوَیکُم منَ الجَنَّةِ ) (۳)

اس آیت میں شیطان کا آدم و حوا علیہما السلام کو دھوکا دینا اور ان کا بہشت سے نکل جانے کو قرآن شیطان کی طرف نسبت دے رہا ہے، اور سورۂ ص کی آیت (٤١) میں جناب ایوب علیہ السلام کی زبانی نقل فرماتا ہے :

( اِذ نَادَیٰ رَبَّهُ َنّ مَسَّنَِ الشَّیطَانُ بِنُصبٍ و عَذَابٍ )

جب ایوب علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے فریاد کی کہ مجھے شیطان نے بہت تکلیف و اذیت پہنچا رکھی ہے۔

اس کے علاوہ سورۂ حج کی آیت (٥٢) میں شیطان کی طرف انبیاء علیہم السلام پر القائات کو ثابت کرتا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے:( وَمَا اَرسَلنَا مِن قَبلِکَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبٍِّ اِلَّا اِذَا تَمَنّیٰ اَلقَی الشَّیطَانُ فِ اُمنِیَّتِهِ )

اور اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم نے تو آپ سے پہلے جب کبھی کوئی رسول اور نبی بھیجا تو یہ ہوا، جس وقت اس نے تبلیغ دین کی آرزو کی تو شیطان نے ا ن کی آرزو میں خلل ڈالا ، اور لوگوں کو گمراہ کیا۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے

کہ ان تمام آیات میں شیطان کے تصرف کے نتیجہ میں انبیاء (ع)کا واجبی تکالیف سے مخالفت کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے اور سورۂ اعراف کی (٢٧) آیت میں شجرہ منہیہ کے سلسلہ میںجس وسوسہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، اس میں اس درخت سے نہ کھانے کی کوئی تحریم نہیں تھی، بلکہ جناب آدم و حوا سے اتنا کہہ دیا گیا تھا کہ اگر اس درخت سے ،کھائو گے تو جنت سے نکال کرزمین کی طرف بھیج دئے جائو گے، اور شیطانی وسوسہ اس امر سے مخالفت کا سبب بنا، اس کے علاوہ وہ جس عالم میں تھے وہ عام تکلیف (ارشادی) تھی وہاں کوئی شریعت نہیں تھی کہ جس کے وہ پابند ہوتے، اور سورۂ ص کی (٤١) آیت میں ان مصیبتوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو شیطان کی وجہ سے جناب ایوب ـپر نازل ہوئی تھیں، اور آپ کے متعلق کسی بھی امر کے مخالفت کی طرف کوئی معمولی اشارہ بھی نہیں ہے، اور سورۂ حج کی (٥٢) آیت میں ان رکاوٹوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو انبیاء علیہم السلام کے اہداف میں شیطان ایجاد کرتا تھا، اور ان کی تکلیف کا باعث بنتا تھا، یہاں تک کہ خدا اس کے مکر کو باطل کردیتا ہے اور اپنے دین کو قائم کردیتا ہے۔

چوتھا شبہ یہ ہے

کہ قرآن کے سورۂ طہ کی (١٢١)آیت میں نسبت عصیان اور اسی طرح اسی سورۂ کی آیت (١١٥) میں نسیان کی نسبت جناب آدم کی طرف دی جارہی ہے، لہٰذا ایسی نسبتیں ان کی عصمت سے کیسے سازگار ہیں؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے

کہ گذشتہ بیان سے واضح ہے کہ یہ عصیان اور نسیان واجبی تکالیف میں سے نہیں تھے کہ گناہ حساب کئے جائے۔

پانچواں شبہ یہ ہے

کہ قرآن کے بعض مقامات پر جھوٹ کی نسبت انبیاء علیہم السلام کی طرف دی گئی ہے جیسا کہ سورۂ صافات کی آیت (٨٩) میں جناب ابراہیم علیہ السلام کی زبانی فرماتا ہے:( فَقَالَ اِنِّ سَقِیم ) انھوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں۔

حالانکہ جب جناب ابراہیم نے یہ جملہ کہا مریض نہ تھے اور اسی طرح آپ ہی کی زبانی سورۂ انبیاء کی آیت (٦٣) میں فرماتا ہے :( قَالَ بَل فَعَلَهُ کَبِیرُهُم )

بلکہ ان بتوں کو اُن کے بڑے خدا نے توڑا ہے۔

حالانکہ خود جناب ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو منہدم کیا تھا، اور اسی طرح سورۂ یوسف کی آیت (٧٠) میں فرماتا ہے :

( ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّن اَیَّتُهَا العِیرُ اِنَّکُم لَسَارِقُونَ )

پھر ایک منادی للکار کے بولا کہ اے قافلہ والو یقیناً تم ہی لوگ چور ہو۔

ان شبہات کا جواب یہ ہے

کہ بعض روایتوں کے مطابق یہ سب ''توریہ'' سے ہے اہم ترین مصلحتوں کے لئے بولا جاتا ہے اور اس مطلب کو خود قرآن کی آیتوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ جناب یوسف کی داستان میں فرماتا ہے:

(کذلک کدنا لیوسف)

بہر حال ایسے جھوٹ عصیان اورگناہ حساب نہیں کئے جاتے۔

چھٹا شبہ یہ ہے

کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی داستان میں آیا ہے کہ جناب موسیٰ ـ نے اُس قبطی کو مار ڈالا جو ایک بنی اسرائیل کے ساتھ جھگڑ رہا تھا، اسی وجہ سے آپ مصر سے فرار کرگئے ،اور جب خدا نے آپ کو فرعون کی جانب مبعوث کیا تو آپ نے بارگاہ خدا میں عرض کی :

( وَلَهُم عَلََّ ذَنب فَاَخَافُ اَن یَّقتُلُون ) (۴)

اس کے علاوہ ان کے لئے میری گردن پر ایک جرم ہے مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قصاصاً قتل نہ کر دیں ۔

اور جب فرعون نے اس قتل کی نسبت آپ کی طرف دی تو فرمایا :

(( قَالَ فَعَلتَُهَا اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّالِینَ ) (۵)

ہاں میں نے اس کام کو انجام دیا جب میں حالت غفلت میں تھا۔

یہ داستان کس طرح انبیا ء علیہم السلام کی عصمت بلکہ بعثت سے پہلے معصوم ہونے سے سازگار ہے۔

اس شبہ کا جواب یہ

ہے کہ قبطی کا قتل عمدی نہیں تھا بلکہ ایک مشتی کی وجہ سے تھا کہ جسے صرف دور کرنے کے لئے مارا تھا، اس کے علاوہ (ولھم عَلَّ ذَنب) کا جملہ فرعونیوں کے گمان کے مطابق ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھے گنہگار سمجھتے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے قصاص میں قتل نہ کر ڈالیں اور (وانا من الضّالین )کا جملہ فرعون سے ہم کلامی کے دوران کہا ہے کہ میں اس بعثت سے پہلے ایسے براہین سے بے خبر تھا اور اب دلیل قاطع کے ساتھ مبعوث ہوا ہوں یا ضلال کا مطلب یہ ہے، کہ میں اس عمل کے انجام سے بے خبر تھا، بہر حال کسی بھی صورت میں جناب موسیٰ کا واجبی تکالیف سے مخا لفت ،ان جملوں سے ثابت نہیں ہوتی۔

ساتواں شبہ یہ ہے

کہ سورۂ یونس کی آیت (٩٤) میں خدا اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے :( فَاِن کُنتَ فِ شَکٍّ مِّمَّا اَنزَلنَا اِلَیکَ فَسئَلِ الَّذِینَ یَقرَئُ ونَ الکِتَابَ مِن قَبلِکَ لَقَد جَائَکَ الحَقُّ مِن رَبِّکَ فَلَا تَکُونَنَّ مِنَ المُمتَرِینَ )

پس جو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اگر اس کے بارے میں تم کو کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کتاب خدا پڑھا کرتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھو تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے کتاب آچکی ہے تم ہر گز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔

اسی طرح سورۂ بقرہ کی آیت (١٤٧)، سورۂ آل عمران کی آیت (٦٠) سورۂ انعام کی آیت /١١٤، سورۂ ہود کی آیت (١٧) اور سورۂ سجدہ کی آیت (٢٣) میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شک و تردید سے منع فرماتا ہے، پس کس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ وحی کو درک کرنا غیر قابل شک ہے۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے

کہ یہ آیات اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ آپ نے کوئی شک کیا ہو بلکہ صرف اس مطلب کو بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت میںکوئی شک و تردید نہیں ہے، در اصل ایسے بیانات '' ایاک أعنی واسعَیِ یا جارة''میں سے ہے۔

آٹھواں شبہ یہ ہے

کہ قرآن میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف بعض گناہوں کی نسبت دی گئی ہے جنھیں خدا نے بخش دیا جیسا کہ فرماتا ہے:

( لَّیَغفِرَلَکَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِکَ وَمَا تأَ خَّرَ ) (۶)

تاکہ خدا تمہاری اُمت کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے

ا س شبہ کا جواب یہ ہے

کہ ان آیتوں میں (ذنب) سے مراد وہ گناہ یں جنھیں مکہ کے مشرکین ہجرت سے پہلے اور اس کے بعد قائل تھے کہ آپ نے اُن کے خدائوں کی توہین کی ہے اور مغفرت سے مرا د ، اُن آثار کو دفع کرنا ہے کہ جن کے مترتب ہونے کا امکان تھا، اور اس مطلب پر دلیل، فتح مکہ کو معاف کردینے کی علت شمار کی ہے جیسا کہ فرماتاہے:

(( اِنَّا فَتَحنَا لَکَ فَتحًا مُّبِیناً ) )(۷)

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! یہ حدیبیہ کی صلح نہیں بلکہ ہم نے حقیقتا تم کو کھلم کھلا فتح عطا کی ۔

اب یہ امر واضح ہوگیا ہے کہ اگر اس گناہ سے مراد اصطلاحی گناہ ہوتا تو بخشش کی علت میں فتح مکہ کو بیان کرنے کوئی وجہ نہ تھی ۔

نواں شبہ یہ ہے

کہ قرآن کریم : جناب زید کی مطلّقہ سے آنحضرت کے شادی کرنے کی داستان کی طرف اشارہ کر رہا ہے ، جب کہ زید پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منہ بولے فرزند تھے ۔

( وَتَخشَی النَّاسَ وَاللَّهُ اَحَقُّ أَن تَخشَاهُ ) (۸)

اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا کا زیادہ حق تھا کہ تم اُس سے ڈرو۔ ایسی تعبیر مقام عصمت سے کیسے سازگار ہے

اس شبہ کا جواب یہ ہے

کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو صر ف اور صرف اس بات کا ڈر تھا، کہ کہیںخدا کے اس دستور پرعمل کرنے اور جاہلیت کی رسومات میں سے ایک (گود لئے بچوں کو حقیقی بچوں جیسا سمجھنا) رسم توڑنے کی وجہ سے تھا کہ کہیں مسلمان ضعف ایمان کی وجہ سے ا ُس عمل کو نفسانی خواہشات کا نتیجہ نہ سمجھ بیٹھیںاور اُن کے دین سے نکل جانے کا باعث نہ بنے خدا اِس آیت میں اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو باخبر کرتا ہے کہ ارادہ الھی کے ساتھ اُس سنت شکنی کی مصلحت یعنی ایسی رسومات سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا اس طرح کے غلط تصور سے زیادہ سزاوار ہے لہذا اس آیت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کسی بھی قسم کی کوئی سرزنش نہیں کی گئی ہے۔

دسواں شبہ یہ ہے

کہ قرآن نے دو مقام پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عتاب ( ملامت و سرزنش ) کی ہے، ان میں سے پہلا مقام یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعض افراد کو جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت دی تو خدا نے فرمایا : (( عَفَا اللَّهُ عَنکَ لِمَ اَذِنتَ لَهُم ) (۹)

اے رسول! خدا تم سے در گذر فرمائے تم نے اُنھیںپیچھے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی اور بعض حلال امور میں اپنی بعض ازواج کی جلب رضایت کے لئے فرمایا:

(( یَاَ یُّهَا النَّبُِّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللَّهُ لَکَ تَبتَغِ مَرضَاتَ اَزوَاجِکَ ) (۱۰)

اے رسول !جو چیز خدا نے تمہارے لئے حلال کی ہے تم اس سے اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے کیوں کنارہ کشی کر تے ہوایسے عتاب آپ کی عصمت سے کیسے سازگار ہیں؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے

کہ ایسے بیانات در اصل عتاب کی شکل میں پیغمبر کی مدح میں ہیں جو آنحضرت کی بے نہایت عطوفت اور مہربانی پر دلالت کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ نے منافقوں کو بھی ناامید نہیںکیا،اور ان کے اسرار کو فاش نہیں کیا نیز اپنی ازواج کی خواہشوں کو اپنی خواہش پر مقدم رکھا، اور ایک مباح فعل کو قسم کے ذریعہ اپنے اوپر حرام کرلیا تھااور پیغمبر کا ایسا کرنا ( معاذاللہ) اس لئے نہیں تھا کہ حکم خدا کو بدل دیں، اور لوگوں کے لئے حلال کو حرام کردیں۔

در اصل یہ آیات ان آیات سے نہایت مشابہ ہیں کہ جس میں منافقوں کی ہدایت کے لئے آپ کی دلسوزی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

(( لَعَلَّکَ بَاخِع نَّفسَکَ َلَّا یَکُونُوا مُؤمِنِینَ ) (۱۱)

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شاید اس فکر میں تم اپنی جان ہلاک کر ڈالو گے کہ یہ کفار ، مومن کیوں نہیں ہو جاتے ۔

یا ان آیات سے مشابہ ہیں کہ جو عبادت کی خاطر زحمتوں کے تحمل کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں( طهَ٭ مَا أَنزَلنَا عَلَیکَ القُرآنَ لِتَشقیٰ ) (۱۲)

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا، کہ تم اس قدر مشقت اٹھاء وبہر حال یہ مقامات عصمت کے خلاف نہیں ہیں۔

سوالات

١۔ ایک معصوم کو دوسروں پر کیسے امتیازی اختیارات حاصل ہیں؟ وہ اعمال جو عصمت الٰہی کی بنا پر انجام دیئے جائیں اور کس جزا کے مستحق ہیں ؟

٢۔ کیوں انبیاء اور اولیاء (ع) اپنے آپ کو گنہگار سمجھتے اور استغفار کرتے تھے؟

٣۔انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں شیطان کے تصرفات ان کی عصمت سے کیسے سازگار ہیں؟

٤۔ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کی طرف جس نسیان اور عصیان کی نسبت دی گئی ہے وہ آپ کی عصمت سے کیسے سازگار ہے؟

٥۔ اگر سارے انبیاء (ع) معصوم ہیں تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور جناب یوسف علیہ السلام نے کیوں جھوٹ بو لے؟

٦۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں موجودہ شبہ اور اس کے جواب کو ذکر کریں؟

٧۔ اگر وحی کے ادراک میں کوئی خطا واقع نہیں ہوسکتی تو پھر کیوں خدا باربار اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوآپ کی رسالت میں شک و تردید سے منع کردیا ہے؟

٨۔ سورۂ فتح میں آنحضرت کی طرف جس گناہ کی نسبت دی گئی ہے وہ کیونکر آپ کی عصمت سے سازگار ہے؟

٩۔ جناب زید کی داستان کے متعلق شبہات اور جوابات بیان کریں؟

١٠۔ حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بہ نسبت قرآن میں جو عتاب وارد ہوا ہے وہ کیا ہے؟ اور اس کا جواب کیا ہے ؟

____________________

(١)قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے :(یَا نِسَائَ النَّبِیِّ لَستُنَّ کَأَحدٍ مِّنَ النِسَائِ )

سورۂ احزاب ۔آیت /٣٢٣٠.

(٢)جیسا کہ روایت میں وارد ہوا ہے'یَغفَرُ للِجَاهِل سَبعُونَ ذَنباً قَبلَ اَن یُغفَرَ للِعالِمِ ذَنب وَاحِد'' .

(۳) سورہ اعراف ۔ آیت/ ٢٧

(۴)سورۂ شعرائ۔ آیت /١٤

(۵)سورۂ شعراء آیت ٢٠.

(۶) سورۂ فتح ۔آیت/ ٢

(۷) سورہ فتح ۔آیت /١.

(۸) سورۂ احزاب ۔آیت ٣٧

(۹) سورہ توبہ۔ آیت /٤٣

(۱۰) سورۂ تحریم۔ آیت/ ١

(۱۱) سورۂ شعرائ۔ آیت/ ٣

(۱۲)سورۂ طہ۔ آیت/ ١،٢


ستائیسواں درس

معجزہ

نبوت کو ثابت کرنے کے راستے

معجز ہ کی تعریف

خارق عادت امور

الٰہی خارق عادت امور

انبیاء (ع)کے معجزات کی خصوصیات

نبوت کو ثابت کرنے کے را ستے۔

نبوت کے بنیادی مسائل میں سے ایک تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ سچے پیغمبروں کے د عوے کی صداقت اور جھوٹے نبیوں کے د عوے کا بطلان کیسے ثابت ہو؟

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر کوئی فرد گناہوں میں آلود ہ ہو، کہ جس کی قباحت کو عقل بھی بخوبی درک کرتی ہے، ایسا شخص کسی بھی صورت میں قابل اعتماد نہیں ہوسکتا، خصوصاً اُس وقت یہ اعتماد محال ہوجاتا ہے، کہ جب وہ عقل کے خلاف کسی امر کی طرف دعوت دنے یا اُس کی باتوں میں تناقض و اختلاف پایا جاتا ہو۔

اس کے علاوہ اس امر کا بھی امکان ہے کہ اس شخص کے گذشتہ حالات ایسے ہوں کہ بے غرض افراد اس کی باتوں پر اعتماد کرلیں ،خصوصاً جب عقل بھی اُس کی باتوں کی تصدیق کر رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک فرد کی پیغمبری کسی دوسرے رسول کی پیشینگوئی کے ذریعہ ثابت ہوجائے اور وہ بھی اس طرح ثابت ہوجائے کہ حقیقت کے طلبگاروں کے لئے شک و تردید کا مقام باقی نہ رہ جائے۔

لیکن جب لوگوں کے پاس اطمینان بخش قرائن نہ ہوں، نیز اُن کے پاس کسی نبی کی بشارت یا تائید بھی موجود نہ ہو، تو انھیں نبوت کے اثبات کے لئے دوسر ے را ستے اختیار کرنے پڑ یں گے ، لہٰذا خدا نے اِس مشکل کو حل کرتے ہوئے اپنے رسولوں کو معجزے عطا کئے تاکہ یہ معجزے اُن کے د عوے کو ثابت کرنے میں اُن کی مدد کر یں اِسی وجہ سے اُنھیں آیات کے(۱) نام سے یاد کیا گیا ہے۔

نتیجہ۔ کسی نبی کے د عوے کو ثابت کرنے کے لئے تین راستے ہیں۔

١۔اطمینان بخش قرائن کے ذریعہ، لیکن یہ صرف ان نبیوں کے متعلق صحیح ہے جنہوں نے لوگوں کے درمیان سالہا سال زندگی گذاری ہو، اور ایک عظیم شخصیت کے مالک ہوں لیکن اگر کوئی نبی ایام جوانی یا اپنی شخصیت کی پہچان سے پہلے وہ مبعوث بہ رسالت ہو جائے تو اُس نبی کے د عوے کو اس راہ کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔

٢۔گذشتہ نبی نے، آنے والے نبی کی خبر دی ہو، یہ راستہ بھی انھیں لوگوں سے مخصوص ہے کہ جنھوں نے اُس سے پہلے کسی نبی کی معرفت حاصل کرلی ہو اور اس کی جانب سے آنے والے نبی کی تائید یا بشارت سنی ہو۔

٣۔ معجزہ، یہ راستہ نہایت مفید اور تمام مقامات پر مفید ہے، لہٰذ اس کے بارے میں مزید وضاحت پیش کرتے ہیں۔

معجزہ کی تعریف۔

معجزہ یعنی ایک ایسا غیر عادی عمل، جو ارادہ خداوند کے مطابق نبوت کا دعوی کرنے والے شخص کی جانب سے صادر ہو اور اُس کے دعوے کو ثابت کرے۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ تعریف تین مطالب پر مشتمل ہے۔

الف: غیر عادی امور کا وجود ،جو عادی اسباب کے ذریعہ وجود میں نہیں آتے۔

ب: غیر عادی امور میں سے بعض ارادہ ٔ الٰہی اور اُس کی اجازت سے واقع ہوتے ہیں۔

ج: ایسے غیر عادی امور کسی پیغمبر کے دعوے کی صداقت کی علامت بن سکتے ہیں اسی وجہ سے اصطلاح میں اس کو ''معجزہ'' کہا جاتا ہے۔

خارق عادت امور۔

جو موجودات بھی اس کائنات میں وجود میں آتے ہیں عموماً وہ سب کے سب کسی نہ کسی اسباب و علل کا نتیجہ ہوتے ہیں جنھیں آزمائشات کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے جیسے کہ فیزیک، بیا لوجی ، کیمسٹری اور روحی علوم میں ترکیبات کے نتیجہ میں وجود میں آنے والے موجودات کی جزئیات کا علم ہو جاتا ہے لیکن بعض نادر مواقع میں وجود میں آنے والے بعض موجودات کاوجود میں آنا، بالکل متفاوت ہوتا ہے، جس کے تمام اسباب و علل کو حسی آزمائشات کے ذریعہ معلوم نہیں کیا جاسکتا، بلکہ صرف کچھ ایسے شواہد مل جاتے ہیں کہ جو اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ اس طرح کے موجودات کے پائے جانے میں کوئی دوسری علت کا ر فرما ہے ، جیسے کہ مرتاضوں (کے دریافت کرنے والوں) کے حیرت انگیز کام مختلف علوم کے ماہرین کا کہناہے کہ ایسے امور مادی اور تجربی قوانین کے تحت وجود میں نہیں آتے، لہٰذا اسے وہ ''خارق عادت '' کا نام دیتے ہیں۔

الٰہی خارق عادت امور۔

غیر عادی امور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے خارق عادت امور کی ایک قسم، ایسے اسباب و علل پر مشتمل ہوتی ہے جو عادی تو نہیں لیکن بشر کے اختیار میں ضرور ہیں، جسے تعلیم اور تمرین کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے کہ مرتاضوں کے غیر عادی امور ، خارق عادت امور کی دوسری قسم: صرف اذن پروردگار سے واقع ہوتی ہے کہ جس کے اختیارات کبھی بھی اُن لوگوں کے سپرد نہیں کئے جاتے جواِس سے مر بو ط نہ ہوں، اِسی وجہ اس کی دو خصوصیات پیش کی گئی ہیں ،ایک تو یہ کہ ،یہ اس قابل نہیں کہ اس کو سیکھا اور سکھایا جا سکے،دوسرے یہ کہ کسی طاقت و قوت سے مرغوب نہیں ہوتے ، ایسے غیر عا دی امور اُس کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں، جسے کبھی بھی ہوس باز اور گمرا ہ افراد کے سپردنہیںکیا جا سکتا، لیکن یہ صرف انبیاء (ع)سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اولیاء الٰہی بھی اس سے سرفراز ہوتے ہیں ، اِسی وجہ سے علم کلام میں تمام خارق عادت امو ر کو معجزہ نہیں کہاجاتا ، لھذا وہ خارق عادت امور جو انبیاء (ع) کے علاوہ اولیاء کرام سے صادر ہوتے ہیں انھیں کرامت کہا جاتا ہے، اِسی طرح غیر عادی علوم بھی وحی نبوت سے مخصوص نہیں ہیں، لہٰذا جب ایسے علوم انبیاء (ع)کے علاوہ دوسروں کو عطا کئے جاتے ہیں تو اُسے الہام یا تحدیث یا انہیں جیسا دوسرا نا م دیا جاتا ہے۔

اس بحث کے ضمن میں خارق عادت امور (الٰہی اور غیر الٰہی) دو نوعیت سے جانے جا سکتے ہیں ، یعنی اگر خارق عادت امور کو انجام دینا قابل تعلیم و تعلم ہوتا ،یا کسی دوسرے میں اتنی طاقت ہوتی کہ اِن کے درمیان موانع یا خلل ایجاد کردے یا اِس کے اثر کو باطل کردے تو کسی بھی صورت میں یہ خدا کی جانب سے خارق العادہ امور کے حامل نہیں ہوسکتے تھے، جب کہ کسی شخص کی بد اخلاقی اور تباہ کاری کو خدا سے رابطہ نہ ہونے کی دلیل اور اُس کے امور کے نفسانی یا شیطانی ہونے کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔

اس مقام پر مناسب ہے کہ ایک دوسرے نکتہ کی طرف اشارہ کر دیا جائے کہ خارق العادہ

امور کا فاعل، خدا کو قرار دیا جا سکتا ہے (اگر چہ تمام مخلوقات منجملہ عادی موجودات کی فاعلیت کی نسبت بھی اُسی کی طرف ہے) اس اعتبار سے اس کا محقق ہونا خدا کے اذن خاص پر موقوف ہے(۲) اور اُنھیں واسطوں سے فرشتہ یا انبیاء (ع) کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے اِس لحاظ سے اس کی حثیت یا واسطہ یا فاعل قریب کی ہے ، جس طرح سے کہ قرآن میں مردوں کو زندہ کرنا، بیماروں کو شفاء دینا اور پرندوں کے خلق کرنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نسبت دی گئی ہے،(۳) لہٰذا اِن دونوں نسبتوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ خدا کی فاعلیت بندوں کی فاعلیت کے طول میں ہے۔

انبیاء (ع) کے معجزات کی خصوصیات۔

معجزہ کی تعریف میں جس تیسرے مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء (ع)کے معجزے ان کے د عوے کے صحیح ہونے کی علامت ہیں، اِسی وجہ سے جب کسی خارق عادت امر کہ جسے علم کلام میں معجزہ کہا جاتا ہے خدا کی اجازت پر منحصر ہونے کے علاوہ پیغمبرں کی پیغمبری کی دلیل ہوتے ہوئے اُس کے مفہوم میں معمولی تبدیلی کے ساتھ اُن خارق عادت امور کو بھی شامل ہوجاتا ہے جسے امامت کو ثابت کرنے کے لئے انجام دیا جاتا ہے، اور اِس طرح کرامت کی اصطلاح اُن خارق عادت امور سے مخصوص ہوجاتی ہے جو اوصیائِ الٰہی سے صادر ہوتے ہیں، جو ایسے غیر عادی امور کے مقابلہ میں ہے جس کا انحصار نفس اورشیطان پر ہو جیسے سحر، کہانت اور مرتاضوں کے افعال ،یہ قسم قابل

تعلیم و تعلم ہے اور طاقتور عوامل کے مقابلہ میں مغلوب بھی ہوسکتے ہے اور اُ س کا خدا کی جانب سے نہ ہونے کے سبب اُن کے انجام دینے والوں کو گنہگار اور فاسد عقیدے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

اس مقام پر جس نکتہ کی طرف توجہ لازم ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء (ع)کے معجزات جس چیز کو براہ راست ثابت کرتے ہیں، وہ انبیاء (ع) کی نبوت کا دعوی ہے ، لیکن رسالت کے پیغامات کا صحیح ہونا اور اُن کے احکامات کی پیروی کرنا بھی براہ راست اس سے ثابت ہوجاتا ہے، یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق انبیاء علیہم السلام کی نبوت عقلی دلیل اور اُن کے پیغامات تعبدی دلائل کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔(۴)

سوالات

١۔ سچے پیغمبروں کو کن راستوں سے پہچانا جاسکتا ہے اور ان راستوں میں کیا فرق ہے؟

٢۔ جھوٹے نبیوں کی پہچان کیا ہے؟

٣۔ معجزہ کی تعریف کریں؟

٤۔ خارق لعادت امور کیا ہیں۔؟

٥۔ الٰہی خارق العادہ امور اور غیر الٰہی خارق العادہ امور میں کیا فرق ہے؟

٦۔ الٰہی خارق عادت امور کو کن راہوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے؟

٧۔ الٰہی خارق عادت امور کے درمیان انبیاء (ع) کے معجزات کی خصوصیات کیا ہیں؟

٨۔ معجزہ اور کرامت کی اصطلاح کو بیان کریں؟

٩۔ معجزہ خدا کا کام ہے یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا؟

١٠۔ معجزہ پیغمبروں کے سچے ہونے کی دلیل ہے یا اُن کے پیغامات کے صحیح ہونے کی؟

____________________

(١)کلمہ آیات مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے جیسے علم و قدرت، حکمت ، موجودات خواہ وہ عادی ہوں یا غیر عادی۔

(۲)سورۂ رعد۔ آیت /٣٧. سورۂ غافر۔ آیت /٧٨

(۳)سورۂ آل عمران۔ آیت/ ٤٩. سورۂ مائدہ۔ آیت/ ١١٠

(۴)اسی کتاب کے چوتھے اور چوبیسویں درس کی طرف رجوع کیا جائے.


اٹھائیسواں درس

چند شبہات کا حل

کیا اعجاز اصل علیت کے لئے ناقض نہیں ہے؟

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے۔

کیا خارق عادت امور سنت الٰہی میں تغیر ایجاد کرنے کے مترادف نہیں ہیں؟

کیوں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معجزات پیش کرنے سے خودداری فرماتے تھے؟

کیا معجزات برہان عقلی ہیں یا دلیل اقناعی؟

چند شبہات کا حل۔

مسئلہ اعجاز کے سلسلہ میں چند شبہات ہیں کہ جن کے جوابات اِس درس میں دئے جائیں گے۔

پہلا شبہ یہ ہے

کہ ہمیشہ مادی موجودات کا وجود میں آنا ،کسی خاص علت کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ جنھیں علمی آزمائشات کے ذریعہ معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی موجود کی علتوں کا نا شناختہ رہ جانا، اس موجود کے لئے علت نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے، لہٰذا خارق عادت امور کو اِس عنوان سے قبول کیا جاسکتا ہے ،کہ وہ ناشناختہ علل و عوامل کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں، اور جب تک ان امور کے علل و اسباب نا شناختہ ہیں اس وقت تک انھیں حیرت انگیز امور میں شمار کیا جاسکتا ہے، لیکن قابل شناخت علتوں کا انکار علمی آزمائشوں کے ذریعہ اصل علیت کے نقض کے معنی میں ہے اور غیر قابل قبول ہے۔

اِس شبہ کا جوا ب یہ ہے کہ اصل علیت کا صرف تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی وابستہ موجود ، یا معلول کے لئے علت کا ہونا ضروری ہے، لیکن تمام علتوں کا آزمائشوں کے ذریعہ قابل شناخت ہونا کسی بھی صورت میں اصل علیت کا لازمہ نہیں ہے اور اس لازمہ کے لئے کوئی دلیل بھی نہیں ہے اس لئے کہ علمی آزمائش امور طبیعی میں محدود ہیں، اور کسی بھی صورت میں ماوراء طبعیت امورکے وجود ، یا عدم یا اُ س کی اثر گذاری کو آزمائش و سیلئہ کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اعجاز کی تفسیر ناشناختہ علتوں سے آگاہی کے معنی میں صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ اگر یہ آگاہی عادی علتوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ہو تو اِس میں اور بقیہ عادی موجودات میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے اور کسی بھی صورت میں اُسے خارق عادت امر نہیں کہا جا سکتا، اور اگر آگاہی غیر عادی طریقہ سے حاصل ہوئی ہو تو اُسے خارق عادت امور میں سے شمار کیا جائے ، لیکن جب وہ اذن الٰہی پر منحصر اور نبوت کی دلیل ہو تو معجزہ کی قسموں میں شامل ہے، جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لوگوں کے ذ خائر اور خوراک سے آگاہی آپ کے معجزات میں سے تھا(۱) لیکن معجزہ کو صرف اِسی ایک قسم میں منحصر نہیں کیا جاسکتا، اس اعتبار سے کہ بقیہ اقسام کی نفی کردی جائے لیکن پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ ایسے امور اور بقیہ خارق عاد ت امور میں اصل علیت کے اعتبار سے فرق کیا ہے؟

دوسرا شبہ یہ ہے

کہ خدا کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ وہ کسی بھی موجود کو کسی خاص علت کے سہارے وجود میں لاتا ہے، اور قرآن کی آیتوں کے مطابق سنت الٰہی قابل تغیر نہیں ہے۔(۲)

لہٰذا خارق عادت امور سنت الٰہی میں تغیر و تبدل کا سبب بنیں ، مذکورہ آیتوں کی بنیاد پر یہ بات غیر قابل قبول ہے؟

یہ شبہ بھی گذشتہ شبہ سے مشابہ ہے بس فرق اتنا ہے کہ گذشتہ شبہ میں عقلی دلائل استعمال ہوئے تھے اور اس شبہ میں قرآنی آیت کا سہارا لیا گیا ہے اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ موجودات کے علل و اسباب کو عادی علل و اسباب میں منحصر سمجھنے کو تغیر ناپذیر سنت الٰہی کا جز سمجھنا بے بنیاد بات ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے ، جیسے کوئی یہ دعویٰ کرے کہ علت حرارت کا آگ میں منحصر ہونا خدا کی تغیر ناپذیر، سنتوں میں سے ہے، اِیسے د عووں کے مقابلہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مختلف معلولات کے لئے مختلف علتوں اور اسباب عادی کے لئے غیر عادی اسباب کا جمع ہونا ایک ایسا امر ہے جو ہمیشہ دیکھا گیا ہے

اور اس وجہ سے ُاسے سنت الٰہی کا جزء شمار کرنا چاہیے اور اسباب کے عادی اسباب میں منحصر ہونے کو

اُس کے لئے ایک قسم کا تغیر سمجھنا چاہیے کہ کی قرآن نے نفی کی ہے۔

بہر حال ان آیتوں کی تفسیر کرنا جو سنت الٰہی کے تغیر ناپذیر ہونے پر دلالت کرتی ہیں، اس 'صورت میں کہ عادی اسباب کا جانشین قبول نہ کرنا اس عنوان کے تحت ہے کہ وہ خدا کی تغیر ناپذیر سنتوں میں ہے ایک بے بنیاد تفسیر ہے، بلکہ بہت سی وہ آیا ت جو معجزات اور خارق عادت امور کے ہونے پر دلالت کرتی ہیں،' اس تفسیر کے باطل ہونے کے لئے ایک محکم دلیل ، بلکہ اُن آیتوں کی صحیح تفسیر کو تفسیر کی کتابوں میں تلاش کرنا ہوگا اور ہم اس مقام پر صرف ایک اجمالی اشارہ کریں گے کہ یہ آیات ،معلول کی اپنی علت سے مخالفت نہ کرے پر دلالت کرتی ہیں نہ یہ کہ علتوں کا متعدد ہونا یا علت عادی کی جگہ علت غیر عاد ی کے آ جانے کی نفی کرتی ہیں بلکہ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ تاحد یقین اسباب کی تأثیر اور غیر عادی علل ان آیتوں کے موارد میں سے ہیں۔

تیسرا شبہ یہ ہے

کہ قرآن کے مطابق لوگ بارہا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے معجزہ کی درخواست کرتے تھے اور آنحضرت ایسی خواہشوں کے جواب سے خودداری فرماتے تھے(۳) لہذا اگر معجزہ نبوت کو ثابت کرنے کا وسیلہ ہے تو پھر کیوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس وسیلہ کے استعمال سے خودداری فرماتے تھے؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ایسی آیتیں ان درخواستوں سے مربوط ہیں جو اتمام حجت اور ( ضحیح قرائن صدق، گذشتہ انبیاء (ع)کی بشارتیں، اورمعجزات کے ذریعہ آپ کی نبوت کے اثبات کے بعد) ضد اور عناد کی وجہ سے کی جاتی تھیں(۴) اورحکمت الٰہی کا تقاضا یہ تھا کہ ایسی خواہشو ں کا جواب نہ دیا جائے۔

مزید وضاحت:

معجزہ اِس جہان میںموجوہ نظام کے درمیان ایک علیحدہ مسئلہ ہے جسے لوگوں کی خواہشوں کو پورا کرے (جیسے ناقۂ حضرت صالح ـ ) اور کبھی بطور ابتدائی (جیسے حضرت عیسی کے معجزات) انجام دیا جاتا تھا، لیکن اس کا ہدف خدا کے انبیاء (ع)کو پہچنوانا اور لوگوں پر حجت کو تمام کرنا تھا، لہٰذا معجزہ کا پیش کرنارسولوں کی دعوتوں کو جبراً قبول کرنے اور اُن کے احکامات کے سامنے مجبوراً تسلیم ہوجانے کے لئے نہیں تھا اور نہ ہی وقت گذارنے کے لئے ایک کھیل اور عادی اسباب و مسببات میں ہنگامہ ایجاد کرنے کے لئے تھا، اور ایسے ہدف کے ہوتے ہوئے ایسی خواہشوں کا جواب کبھی نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ایسی خواہشوںکاجواب دینا حکمت کے خلاف ہوگا، یہ خواہشیں ان درخواستوں سے مشابہ ہیں کہ جو ایسے امور سے مربوط تھیں کہ جس کی وجہ سے راہ اختیار ختم ہوجاتا، اور لوگوںکو انبیا ء علیہم السلام کی دعوت قبول کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑتا، یا ان درخواستوں کی طرح ہیں کہ جنھیں عناد اور دشمنی یا حقیقت طلبی کے علاوہ کسی دوسرے اغراض کے تحت پیش کئے کرتے تھے، اس لئے کہ ایسی درخواستوں کا جواب دینے کی وجہ سے معجزات کھلونا بن جاتے اور عوام اُسے اپنے لئے وقت گزارنے کا بہترین وسیلہ تصور کرلیتی، یا اپنے شخصی منافع حاصل کرنے کے لئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس جمع ہوجاتی، اور دوسری طرف آزادانہ اختیار،و انتخاب کا راستہ بند ہوجاتا، اس کے علاوہ لوگ مجبور ہو کر انبیاء علیہم السلام کی اطاعت قبول کرتے، اور یہ دونوں صورتیں معجزات کے پیش کرنے کی حکمت کے خلاف ہیں، لیکن ان مقامات کے علاوہ جہان حکمت الٰہی کا تقاضا ہو،وہاں ان کی خواہشوں کا جواب دے دیا جاتا تھا جیسا کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بے شمار معجزات قطعی سند کے ساتھ ثابت ہیں، جن میں ہر ایک سے واضح اور جاودانی قرآن کریم ہے کہ جس کی وضاحت انشاء اللہ آئندہ آئے گی۔

چوتھا شبہ یہ ہے

کہ معجزہ چونکہ اذن الٰہی پر منحصر ہے جو اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ خدا اور معجزہ دکھانے والے کے درمیان خاص ارتباط پایا جاتا ہے اس لئے کہ اُسے خدا نے یہ خاص اجازت عنایت کی ہے، یا ایک دوسر ی تعبیر کے مطابق اس نبی نے اپنی خواہش اور عمل کو اُس کے ارادہ کے ذریعہ تحقق بخشا ہے، لیکن ایسے ارتباطات کا عقلی لازمہ یہ نہیں ہے کہ اُس میں اور خدا کے درمیان اُس ارتباط کے علاوہ دوسرے ارتباطات بھی پائے جاتے ہوںلہذا معجزہ کو د عوی نبوت کے صحیح ہونے پر دلیل عقلی نہیں مانا جاسکتا، بلکہ اُسے صرف ایک ظنی اور قانع کردینے والی دلیل کا نام دیا جاسکتا ہے۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ خارق عادت امور اگرچہ الٰہی کیوں نہ ہوں، خود بخود رابطہ وحی کے ہونے پر دلالت نہیں کرتے اِسی وجہ سے اولیاء علیہم السلام کی کرامت کو اُن کے نبی ہونے کی دلیل نہیں مانی جاسکتی لیکن یہاں بحث اس شخص کے سلسلہ میں ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے معجزہ دکھایا ہے اب اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے(۵) ، جو عظیم اور بدترین گناہوں میں سے ہونے کے علا وہ دنیا و آخرت میں تباہی کا موجب بھی ہے، اُس میں ہرگز خداُ سے ایسے ارتباط کے برقرار ہونے کی صلاحیت نہیں ہوسکتی، اور خدا کبھی بھی ایسے فرد کو معجزہ کی قدرت عطا نہیں کرسکتا کہ جس کی وجہ سے لوگ گمراہ اور بدبخت ہوجائیں(۶)

نتیجہ:

عقل بخوبی درک کرتی ہے کہ صرف وہی شخص خدا سے خاص ارتباط برقرار کرنے اور معجزہ کی قدرت سے سرفراز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ جو اپنے مولا سے خیانت نہ کرے اور ا سکے بندوں کی گمراہی اور بدبختی کا موجب نہ بنے، لہٰذا معجزہ کا پیش کرنا د عوای نبوت کے صحیح ہونے پر ایک قاطعِ دلیل عقلی ہے۔

سوالات

١۔ اصل علیت کا مطلب کیا ہے؟ اور اسکا لازمہ کیا ہے؟

٢۔ کیوں اصل علیت کو مان لینا اعجاز کوقبول کرنے کے خلاف نہیں ہے؟

٣۔ کیوں اعجاز کی تفسیر ناشناختہ علتوں سے آگاہی کے معنی میں صحیح نہیں ہے؟

٤۔ کیا اعجاز کو قبول کرلینا تغیر ناپذیر سنت الٰہی کے خلاف نہیں ہے؟ کیوں؟

٥۔ کیاانبیاء علیہم السلام ابتداء امر میں معجزات پیش کرتے تھے یا جب لوگوںکی طرف سے درخواست ہوئی تو اس وقت اپنا معجزہ پیش کرتے تھے؟

٦۔ کیوں انبیا ء علیہم السلام معجزہ کے حوالے سے بعض خواہشوں کا جوا ب نہیںدیتے تھے؟

٧۔ اس امر کی وضاحت کریں کہ معجزہ ایک دلیل ظنی اور اقناعی نہیں ہے بلکہ ادعاء نبوت کے سچے ہونے پر ایک عقلی دلیل ہے؟

____________________

(١)سورۂ آل عمران۔ آیت/ ٤٩.

(٢) سورۂ بنی اسرائیل۔، آیت/ ٧٧،.سورۂ احزاب۔ آیت/ ٦٢. سورۂ فاطر۔ آیت/ ٤٣ سورۂ فتح۔ آیت/ ٢٣.

(۲)سورۂ انعام۔ آیت/ ٣٧ سورۂ یونس۔ آیت /٢٠ سورۂ رعد۔ آیت /٧ سورۂ انبیا ۔ آیت/ ٥

(۳) سورۂ انعام۔ آیت/ ٣٥ ١٢٤ سورۂ طہ۔ آیت /١٣٣ سورۂ صافات ۔آیت /١٤ سورۂ قمر۔ آیت /٢ سورۂ شعراء ۔آیت /٣ ٤ ١٩٧ سورۂ اسرائ۔ آیت /٥٩ سورۂ روم۔ آیت /٥٨

(۵)سورۂ انعام۔ آیت/ ٢١ ٩٣ ١٤٤ سورۂ یونس ۔آیت/ ١٧ سورۂ ہود۔ آیت /١٨ سورۂ کہف ۔آیت/ ١٥ سورۂ عنکبوت۔ آیت/ ٦٨ سورۂ شوریٰ۔ آیت /٢٤

(۶)سورۂ الحاقہ۔ آیت /٤٤ ٤٦


انتیسواں درس

انبیاء علیہم السلام کی خصوصیات

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

انبیاء علیہم السلام کی کثرت

انبیاء علیہم السلام کی تعداد

نبوت و رسالت

اولو العزم انبیاء علیہم السلام

چند نکات

انبیاء علیہم السلام کی کثرت۔

اب تک ہم نے مسائل نبوت میںسے تین مسئلہ کے تحت بحث کی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں اُن معلومات کا بنیادی نقش ہے کہ جنھیں معلوم کرنے میں علومِ بشری ناکافی ہیں، اس مشکل کے تحت حکمت الٰہی کا تقاضایہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری رکھے اور انھیں ضروری حقائق کی تعلیم دے تا کہ وہ انھیں صحیح و سالم تمام انسانوں تک پہنچادیں، اس کے علاوہ ا سے لوگوں کے سامنے اس طرح بیان کر ے کہ اُن پر حجت تمام ہوجائے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے سب سے عمومی راستہ معجزہ ہے۔

ہم نے اِن مطالب کو عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا ،لیکن یہ دلائل انبیاء علیہم السلام کے متعدد ہونے اور آسمانی کتابوں کے متعدد ہونے کو ثابت نہیں کرسکتے، اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ بشری زندگی اس طرح ہوتی کہ ایک ہی رسول اُس کی ضرورتوں کو کائنا ت کے ختم ہونے تک اِس طرح پورا کردیتا کہ ہر فرد اور گروہ اُسی ایک رسول کے ذریعہ پیام اسلام کو اخذ کرتا تو یہ امر اُن دلائل کے تقاضے کے خلاف نہ ہوتا۔

لیکن ہمیںمعلوم ہے کہپہلے یہ کہ ، ہر انسان کی عمر خواہ نبی ہو یا غیر نبی محدود ہے لہٰذا حکمت الٰہی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ایک ہی رسول جہان کے ختم ہونے تک زندہ رہے اور خود ہی تمام انسانوںکی ہدایت کا فریضہ انجام دے۔

دوسرے یہ کہ : بشر کی زندگی مختلف حالات اور ادوار میں کبھی بھی ایک جیسی نہیں رہتی لہٰذا شرائط کا مختلف او ر متغیر ہوتے رہنا خصوصاً روابط اجتماعی کا پیچیدہ ہونا احکام اور اجتماعی قوانین کے درمیان میں اثر ا نداز ہے، بلکہ بعض حالات میںجدید قوانین کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا اگر یہ قوانین اسی رسول کے ذریعہ بیان ہوتے جو ہزاروں سال پہلے مبعوث ہوئے تھے تو یہ ایک غیر مفید امر ہوتا اور انھیں ان کے مقامات پر جاری کرنا اور ہی زیادہ سخت ہوتا۔

تیسرے یہ کہ : اکثر زمانوں میں مبعوث ہونے وا لے رسولوں کو اپنی تبلیغ کے لئے حالات اور شرائط ایسے نہیںتھے جو اپنے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچا سکتے۔

چوتھے یہ کہ :جب بھی ایک رسول کسی قوم کی جانب مبعوث ہوتا تھا تو اس کی تعلیمات کو زمانہ کے گذرنے کے ساتھ بدل دیا جاتا اور ا ُس میں تحریف کردی جاتی تھی(۱) اورآہستہ آہستہ ایک رسول کا لایا ہوا دین انحراف کا شکار ہوجاتا تھا، جس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی تھی وہی دین ان کے بعد انحراف سے دو چار ہوگیا اور تثلیث جیسے عقائد اُس دین کے جزبن گئے۔

ان نکات کے پیش نظر انبیاء علیہم السلام کا متعدد ہونا اور شریعتوں کا بدلتے رہنا اور بعض احکامات میں اختلافات کا راز سمجھ میں آجاتا ہے،(۲) لیکن ان سب شر یعتوں میں اصول عقائد اور مبانی اخلاقی کے اعتبار سے فردی و اجتماعی احکامات میں ھماھنگی تھی مثلاً نماز تمام شریعتوں میں تھی اگر چہ ان نمازوں کی کیفیت متفاوت اور ان کے قبلہ مختلف تھے یا زکوٰة اور صدقہ دینا تمام شریعتوں میں تھا اگر چہ اس کی مقدار میں اختلاف تھا۔

بہر حال تمام رسولوں پر ایمان لانا اور نبوت کی تصدیق کے ساتھ اُن میں کسی فرق کے قائل نہ ہونا نیز اُن پر نازل ہونے والے تمام پیغامات اور معارف کو قبول کرنا نیز اس علاوہ ان میں یکسانیت کا قائل ہونا ہر انسان پر لازم ہے،(۳) ایک نبی کا ا نکار تمام انبیاء علیہم السلام کے انکار کے برابر اور کسی ایک حکم کا منکر ہونا تمام احکامات الٰہیہ کے منکر ہونے کے مساوی ہے(۴) البتہ کسی بھی اُمت کے لئے کسی بھی زمانہ میں اسی دور کے نبی کے احکامات کے مطابق وظائف معین ہوتے رہے ہیں ۔

جس نکتہ کی طرف یہاں پر اشارہ کرنا لازم ہے وہ یہ ہے کہ اگر چہ عقل ،مذکورہ نکات کے کے تحت انبیا ء علیہم السلام اور شریعتوں کے متعدد ہونے کے راز کو معلوم کر سکتی ہے لیکن اصل راز کا پتہ نہیں لگا سکتی ،کہ کیوں؟ کب؟ کیسے؟ کسی دوسرے نبی کی بعثت یا کسی جدید شریعت کی ضرورت ہے ، فقط اس حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی بشر کی زندگی اس طرح ہو، کہ ایک نبی کے پیغامات تمام انسانوں تک پہنچ سکیں اور اس کے پیغامات آنے والوں کے لئے محفوظ رہ جائیں، نیز اجتماعی شرائط اس طرح متغیر نہ ہوں، کہ کسی جدید شریعت یا احکامات کلی میں تبدیلی کی ضرورت پڑے، تو ان حالات میں کسی جدید نبی کی بعثت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انبیاء علیہم السلام کی تعداد۔

جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کردیا ہے کہ ہماری عقل انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکتی ، بلکہ اُسے صرف نقلی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے اور قرآن کریم میں اگر چہ یہ خبر موجود ہے کہ ہر اُمت کے لئے ایک نبی ضرور مبعوث ہوا ہے(۵) لیکن اِ س کے باوجود قرآن نے اُن کی تعداد کو معین نہیں کیا ہے بلکہ اُن میں سے صرف ٢٤ رسولوں کا نام آیا ہے اور اُن میں سے بھی بعض رسولوں کی داستانوں کی طرف فقط اشارہ کیا گیا ہے اِس کے علاوہ اُن میں بھی بعض

نبیوں کے اسماء ذکر نہیں کئے گئے،(۶) لیکن معصومین علیہم السلام کی طرف سے منقول روایتوں کے مطابق خدا نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کو مبعوث کیا ہے(۷) جن کا سلسلہ حضرت آدم ابوالبشر علیہ السلام سے شروع اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ختم ہوتاہے۔

خدا کی طرف سے بھیجے گئے رسول ،نبی ہونے کے علاوہ نذیر، منذر، بشیر، مبشر(۸) جیسے صفات کے بھی حامل تھے نیز صالحین و مخلصین میں اُن کا شمار ہوتا تھا ،اور ان میں سے بعض منصب رسالت پر بھی فائز تھے بلکہ بعض روایتوں کے مطابق منصب رسالت پر فائز نبیوں کی تعداد ( تین سو تیرہ) ذکر کی گئی ہے۔(۹) اسی وجہ سے اس مقام پر مفہوم نبوت وامامت اورنبی و رسول کے درمیان فرق کو بیان کر ر ہے ہیں ۔

نبوت اور رسالت۔

کلمہ ''رسول'' پیغام لانے والے کے معنی میں ہے اور کلمۂ ''نبی'' اگر مادۂ '' نباء سے ہے تو اہم خبر کے مالک ، اور اگر مادہ ٫٫نبو ،، سے ہے تو بلند و بالا مقام والے کے ہیں ۔

بعض لوگوں کا گمان ہے کہ کلمہ نبی کلمہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اعم ہے یعنی نبی وہ ہے کہ جس کی طرف خدا کی جانب سے وحی کا نزول ہو اور اُسے لوگوں تک پہنچانے میں وہ مختار ہے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ ہے کہ جس پر وحی کو لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔

لیکن یہ صحیح نہیں ہے اس لئے کہ قرآن میں بعض مقامات پر نبی کی صفت رسول کی صفت کے بعد مذ کو ر ہے(۱۰) حالانکہ قاعدہ کے مطابق جو چیز عام ہو اسے خاص سے پہلے ذکر ہونا چاہیے اس کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ابلاغ وحی کے لئے وجوب پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔

بعض روایتوں میں وارد ہو اہے کہ مقام نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ نبی فرشتہ وحی کو خواب میں مشاہدہ کرتا ہے اور بیداری میں صرف اس کی آواز سنتا ہے جبکہ مقام رسالت کا حامل شخص بیداری میں فرشتہ وحی کو مشاہدہ کرتا ہے۔(۱۱)

لیکن اس فرق کو مفہوم لفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے قبول نہیں کیا جا سکتا ، بہر حال جس مطلب کو قبول کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ '' نبی'' مصداق کی رو سے (نہ مفہوم کے لحاظ سے) رسول، سے عا م ہے، یعنی تمام ر سول مقام نبوت سے سرفراز تھے لیکن مقام رسالت صرف کچھ خاص انبیاء علیہم السلام سے مخصوص تھا جن کی تعداد ( ٣١٣) ہے، بس رسولوں کا مقام نبیوں کے مقابلہ میں بلند ہے جیسا کہ خود ،تمام ر سو ل فضیلت کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں تھے(۱۲) بلکہ ان میں سے بعض مقام امامت سے بھی سزاوار تھے۔(۱۳)

اولوالعزم انبیاء علیہم السلام۔

قرآن کریم نے بعض رسولو ں کو اولوالعزم کے نام سے یاد کیا ہے لیکن اُن حضرات کی خصوصیات کو بیان نہیں کیا ہے: روایتوں کے مطابق اولوالعزم پیغمبروں کی تعداد پانچ ہے(۱۴) حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اور حضرت محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (۱۵) قرآن کے بیان کے مطابق اِن حضرات کی خصوصیات صبر و استقامت میں ممتاز ہونے کے علاوہ اُن میں سے ہر ایک مستقل کتاب اور شریعت کے مالک تھے نیز ہم عصر اور متأخر انبیاء علیہم السلام، اُن کی شریعتوں کی اتباع کرتے تھے مگر یہ کہ، کوئی دوسرا اولوالعزم رسول مبعوث ہو اورگذشتہ شریعت منسوخ ہوجائے اِسی ضمن میں یہ امر بھی روشن ہوگیا کہ ایک زمانہ میں دو ، پیغمبر اکٹھا ہو سکتے ہیں جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام جناب ابراہیم علیہ السلام کے ہم عصر، اور حضرت ہارون ـ جناب موسیٰ علیہ السلام ، کے ہم عصر اور حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہم وقت ، ہم زمان تھے۔

چند نکات۔

اس درس کے آخر میں مسئلہ نبوت کے تحت فہرست وارچند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

الف: ہر نبی دوسرے نبی کی تصدیق اور اُس کے آنے کی پیشنگوئی کرتا تھا(۱۶) لہذا اگر کسی نبوت کا دعویٰ اور ہم عصر نبیوں یا گزشتہ رسولوں کی تکذیب کرے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

ب: انبیاء علیہم السلام اپنی تبلیغ کی وجہ سے لوگوں سے اجر طلب نہیں کرتے تھے(۱۷) فقط رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجر رسالت کے عنوان سے اہل بیت علیہم السلام کی مودّت کی وصیت فرمائی تھی(۱۸) جس کی منفعت خود اُمت کے حق میں ہے(۱۹) ۔

ج: بعض انبیاء علیہم السلام منصب الٰہی کے مالک ہونے کے علاوہ قضاوت اور حکومت کے حق سے بھی سرفراز تھے جن میں سے حضرت داود ، اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا نام لیا جا سکتا ہے سورہ نساء کی ٦٥ آیت سے استدلال ہوتا ہے کہ ہر رسول کی اطاعت مطلقاً واجب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام رسول س مقام کے مالک تھے۔

د: جن، جو مکلف اور مختار مخلوقات میں سے ہیں اور عادی حالات میں انسان کے لئے قابل دید نہیں ہیں، بعض انبیاء علیہم السلام کی دعوتوں سے باخبر ہوتے تھے اور اُن میں صالح افراد اُن کی دعوتوں پر ایمان بھی لائے تھے، اُن لوگوں کے درمیان حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیرو موجود ہیں(۲۰) اور ان میں سے بعض ابلیس کی پیروی کرتے ہوئے انبیاء علیہم السلام کی تکذیب بھی کرتے ہیں۔(۲۱)

سوالات

١۔ انبیاء علیہم السلام کے متعدد ہونے کی حکمت بیان کریں؟

٢۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوتیں اور ان کے احکامات ے مقابل میں لوگوں کا وظیفہ کیا ہے؟

٣۔ کس صورت میں جدید نبی کو مبعوث کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟

٤۔ انبیا ء اورر سولوں کی تعداد بیان کریں؟

٥۔ نبی اور رسول میں کیا فرق ہے اور مفہوم و مصداق کے اعتبار سے ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

٦۔انبیاء علیہم السلام کو منصب الٰہی کی رو سے ایک دوسرے پر کیسے برتری حاصل ہے؟

٧۔ اولو العزم رسول کون ہیں؟ اور ان کی خصوصیات کیا ہیں؟

٨۔ کیا زمانِ واحد میں پیغمبروں کا متعدد ہونا ممکن ہے؟ اور ممکن ہونے کی صورت میں کسی ایک نمونہ کو بیان کریں؟

٩۔ انبیاء علیہم السلام کے اوصاف میں سے آپ کو مذکورہ اوصاف کے علاوہ اگر یاد ہوں تو ذکر کریں؟

١٠۔ جنات کا طرز عمل، ایمان اور کفر کے لحاظ سے انبیاء علیہم السلام کی بہ نسبت کیسا ہیں؟

____________________

(١)ایسے نمونہ سے آگاہی کے لئے علامہ شیخ محمد جواد بلاغی کی کتاب ''الھدایٰ الی دین المصطفیٰ'' کی طرف رجوع کیا جائے.

(٢)سورۂ بقرة ۔آیت /١٣١۔ ١٣٧۔ ٢٨٥، سورۂ آل عمران۔ آیت/ ١٩۔ ٢٠.

(۳) سورۂ شوریٰ۔ آیت/ ١٣ ، سورۂ نساء ۔آیت /١٣٦ ١٥٢، سورۂ آل عمران۔ آیت/ ٨٤ ٨٥

(۴) سورۂ نسائ۔ آیت /١٥٠، سورۂ بقرہ ۔آیت /٨٥

(۵)سورۂ فاطر۔ آیت/ ٢٤، سورۂ نحل۔ آیت/ ٣٦

(۶) سورۂ بقرہ ۔آیت /٢٤٦ ٢٥٦.

(۷) رجوع کیا جائے رسالۂ اعتقادت صدوق اور بحار الانوار (طبع جدید) ج١١ ص ٣٢٣٠٢٨ ٤٢.

(۸)سورۂ بقرة۔ آیت /٢١٣، سورۂ نسائ۔ آیت /١٦٥

(۹)بحار الانوار ۔ج٨١١ص ٢٨، ٣٢

(۱۰) بحار الانوار ج١١ ص٣٢ (۱۱) اصول کافی ج١ ص١٧٦(۱۲) سورۂ بقرہ۔ آیت /٣٥٣ سورۂ بنی اسرائیل۔آیت/٥٥ (۱۳)سو رہ بقرہ۔ آیت/ ١٢٤ سورۂ انبیاء ۔آیت/ ٧٣، سورۂ سجدہ۔ آیت/ ٢٤.

(۱۴)سورۂ احقاف ۔آیت ٣٥.

(۱۵)بحار الانوار ج١١ ص٢٤ اور معالم النبوة آیت/ ١١٣.

(۱۶)سورۂ آل عمران۔ آیت /٨١

(۱۷)سورۂ انعام۔ آیت/ ٩٠سورۂ یس ۔آیت/٢١، سورۂ قلم۔ آیت /٤٢، سورۂ یونس۔ آیت/ ٧٢، سورۂ ہود۔ آیت /٢٩ ٥١، سورۂ فرقان ۔آیت /٧٥، سورۂ شعرائ۔ آیت /١٠٩، ١٢٧،١٤٥، ١٦٤، ١٨٠، سورۂ یوسف ۔آیت/ ١٠٤

(۱۸)سورۂ شوریٰ۔ آیت/ ٢٣

(۱۹) سورۂ سبا ۔آیت /٤٧

(۲۰) سورۂ احقاف۔ آیت /٢٩، ٣٢

(۲۱) سورۂ جن ۔آیت/ ١، ١٤


تیسواں درس

انبیاء علیہم السلام اور عوام

مقدمہ

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے ۔

انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں لوگوں کا کردار

انبیاء علیہم السلام سے مخالفت کے اسباب

انبیاء علیہم السلام سے ملنے کا طریقہ

انسانی معاشروں کی تدبیر میں بعض سنت الٰہی

مقدمہ

قرآن مجید جہاں گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی داستانوں کو ذکر کرتا ہے اور ان کی درخشاں زندگی کے ہرہرگوشہ کی تفصیل بیان کرتا ہے اور اُن کی تاریخ میں موجود تحریفات کے پردے فاش کرتا ہے وہیں انبیاء علیہم السلام کی تبلیغات کے مقابلہ میں لوگوں کے ردّ عمل کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے ایک طرف انبیا ء الٰہی علیہم السلام کے مقابلہ میں لوگوں کی مخالفتوں نیز ان کی مخالفت کے اسباب و علل کو بیان کرتا ہے اور دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کا لوگوں کو ہدایت اور تربیت کرنے کے علاوہ کفر و شرک جیسے عوامل سے بر سر پیکار ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے نیز انسانی معاشروں میں جاری سنت الٰہی خصوصا انبیاء علیہم السلام اور لوگوں کے درمیان ارتباط کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ جس میں عبرت آموز نکات پوشیدہ ہیں۔

یہ مباحث اگر چہ براہ راست اعتقادی مسائل سے مربوط نہیں ہوتی لیکن چونکہ مسائل نبوت سے مربوط بہت سارے روشن پہلو ، مختلفابہامات سے پردہ ہٹانے کے علاوہ تاریخ کے وادثات سے عبرت حاصل کرنے اور انسانی زندگی کو سنوار نے میں نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں اسی وجہ سے اس درس میں جو مہم نکات ہیں ان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

انبیاء علیہم السلام کے مقابل میں لوگوں کا کردار۔

جب بھی انبیاء الٰہی علیہم السلام قیام کرتے اور لوگوں کو خدئے ا واحد(۱) اور اس کے احکامات کی اطاعت کرنے نیز باطل خدائوں کی پرستش سے بیزاری، شیاطین اور طاغوت سے کنارہ کشی، ظلم و فساد، گناہ اور معصیت سے پرہیز کرنے کے لئے دعوت دیتے تھے تو انہیں عموماً لوگوں کی مخا لفتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا(۲) مخصوصاً معاشرہ کے وہ افراد جو حاکم اور مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے عیش و نوش(۳) میں مست ،علم و دانش(۴) مال و ثروت کی فراوانی پر مغرور تھے، وہ شدت سے مقابلہ کرتے تھے فقیر طبقات کی ایک بڑی جماعت کواپنا حامی بناکر لوگوں کو راہ حق کی پیروی سے روکتے تھے(۵) اور اس طرح صرف وہی لوگ ایمان لاتے تھے جو معاشرہ کے پچھڑے ہوئے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے(۶) اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ایک سماج صحیح و سالم عقائد اور عدل کی بنیادوں پر قائم ہونے کے ساتھ احکامات الٰہیہ کا مطیع ہوتا جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایسا سماج دیکھنے میں آیا، اگر چہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیما ت کا ایک حصہ آہستہ آہستہ ضرور سماج میں نفوذ کرجاتا تھا، یا کبھی حاکمان وقت کی طرف ان کی جھوٹی عظمتوں کو بتانے کے لئے پیش کیا جاتا تھا ،جیسا کہ آج زیادہ تر حقوقی نظام آسمانی شریعتوں کے اقتباس کا نتیجہ ہیں جنھیں منبع و ماخذ کے بغیر اپنے افکار کے عنوان سے پیش کیاگیا ہے۔

انبیاء علیہم السلام سے مخالفت کے اسباب۔

انبیاء علیہم السلام سے مخالفت کے اسباب میں سے خواہشات نفسانی اور فحشا سے لگائو(۷) کے علاوہ خود خواہی، غرور، اور استکبار ،جیسے عوامل ہیں کہ جو زیادہ تر سماج کے مالدوں اور اثر و نفوذ رکھنے والوں کے درمیان پائے جاتے ہیں(۸) نیز گذشتہ آباو اجداد کی سنتوں کی پیروی بھی مہم عوامل میں سے تھی(۹) ۔اسی طرح دانشمندوں ،حکمرانوں، اور مالداروں کی مخالفت کے اسباب میں سے سماجی مقام اور اقتصادی منابع کو اپنے لئے محفوظ رکھنا تھا(۱۰) اور دوسری طرف لوگوں کا جہالت اور نادانی کی وجہ سے کفر کے سربراہوں کے دھوکے میں آجانا اور اُن کی پیروی کرنا سبب بنتا تھا کہ وہ کیسے اوہام اور باطل عقائد پر ایمان رکھنے سے دست بردار ہوں اور اس ایمان کو قبول کرنے سے پرہیز کریں جسے صرف چند محروم افراد نے قبول کیا ہے جبکہ یہ لوگ معاشرے کے مالداروں اور شرفا کی جانب سے مطرود و مردود بھی کردیئے جاتے تھے اس کے علاوہ سماج پر حاکم فضاکے اثرات کو بے اثر نہیں سمجھا جاسکتا۔(۱۱)

انبیاء علیہم السلام سے ملنے کا طریقہ۔

مخالفین ، انبیاء علیہم السلام کی تبلیغات کو ناکام بنانے کے لئے مختلف طریقے اپناتے تھے ۔

الف: تحقیر و استہزاء :

وہ لوگ پہلے مرحلہ میں پیغمبروں کی شخصیت کی تحقیر کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے(۱۲) تاکہ لوگ ان سے بد ظن ہوجائیں۔

ب:ناروا بہتان:

اور پھر ان پر بہتان باندھتے تھے نیز ان کی طرف ناروا نسبتیں دیتے تھے جیسے سفیہ و احمق اور مجنون کے نام سے پکارتے تھے(۱۳) اور جب کوئی معجزہ پیش کرتے تو جادو گر کا نام دیتے تھے(۱۴) اسی طرح الٰہی پیغاما ت کو اساطیر الاولین کہتے تھے۔(۱۵)

ج: مجادلہ اور مغالطہ :

اورجب انبیاء الٰہی علیہم السلام حکمت اور دلائل کے ذریعہ استدلال پیش کرتے یا جدال احسن کی صورت میں ان لوگوں سے مجادلہ کرتے یا لوگوں کو نصیحت کرتے ،اور کفر و شرک کے ناگوار نتائج سے آگاہ کرتے نیز خدا پرستی کے نیک انجام کے سلسلہ میں خبر دیتے، اور مومنین کو دنیا و آخرت میں سعادت کی خوشخبری دیتے ،تو کفر کے سربراہ، لوگوں کو ایسی باتوں کے سننے سے منع کرتے اور پھر اپنی ضعیف منطق کے ذریعہ اُن کا جواب دیتے، اس کے علاوہ اس امر میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے تھے تا کہ لوگوں کو اُن کی باتوں کے سننے سے روک دیں(۱۶) وہ لوگ اپنی منطق میں اپنے آباء و اجداد اور بزرگان ملت کے دین اور ان کے رسم و رواج کا سہارالیتے(۱۷) اس کے علاوہ اپنی مادی ثروت کی چمک دمک، دکھلاتے اور با ایمان لوگوں کے ضعف اور ناداری کو ان کے عقائد کے باطل ہو نے کو دلیل بناتے(۱۸) اور اپنے لئے یہ بہانہ بنالیتے کہ کیوں خدا نے اپنے رسول کو فرشتوں میں سے انتخاب نہیں کیا؟ یا اُن لوگوں کے ساتھ کیوں کسی فرشتہ کو نہ بھیجا؟ یاکیوںانھیں مالدار نہیں بنایا؟(۱۹) اور کبھی ان کی لجاجت اس حد تک بڑھ جاتی کہ کہتے کہ ہم اسی صورت میں ایمان لا ئیں گے کہ جب ہم پر بھی وحی نازل ہو یا پھر خدا کو ہم دیکھ لیں اور اس کی آواز بلاواسطہ سنیں۔(۲۰)

د۔ دھمکی دینا اور طمع دلانا : ایک دوسرا طریقہ جو انبیاء علیہم السلام کی داستانوں میں مشاہدہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ انبیاء علیہم السلام، اور اُن کے اطاعت گذ اروں کو مختلف اذیتوں، شکنجوں ،شہر بدر کرنے، سنگ سار کرنے، اور قتل کرنے کی دھمکی دیتے تھے،(۲۱) اس کے علاوہ مختلف چیزوں کی لالچ دلاتے تھے خصوصاً کثیر دولت کے ذریعہ لوگوں کو انبیاء علیہم السلام کی اطاعت سے روکتے تھے۔(۲۲)

ھ ۔ خشونت اور قتل: لیکن جب وہ لوگ انبیا ء علیہم السلامی کاصبر و استقامت، اور صلاہت ومتانت کو مشاہدہ کرتے(۲۳) اور دوسری طرف اُن کے چاہنے والوں کے اخلاص کو دیکھتے تواپنی تبلیغات کے ناکام ہونے اور استعمال کئے گئے ہتھکنڈوں کے ناکارہ ہونے کی صورت میں اپنی دھمکیوں کو عملی کر دیتے اور آزاز و اذیت شروع کردیتے جیسا کہ اسی طرح انھوں نے بہت سے انبیاء الٰہی کو قتل کرڈالا(۲۴) اورانسانی معاشرہ کو عظیم نعمتوں اور قوم اور سماج کو صالح رہبروں سے محروم کردیا۔

انسانی معاشروں کی تدبیر میںبعض سنت الٰہی۔

اگر چہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصلی ہدف یہ تھا کہ لوگ دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں ضروری تعلیمات سے آشنا ہوجائیں اور اُن کی عقل و تجربہ کا ضعف وحی کے ذریعہ ختم ہوجائے یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق اُن کے لئے حجت تمام ہوجائے(۲۵) لیکن خدا نے انبیا ء کی بعثت کے دوران اپنی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اُن کی دعوتوں کو قبول کرنے کے لئے فضا کو ہموار بنایا ، تا کہ اس طرح انسانوں کے تکامل کے لئے راستہ آسان ہوجائے اور چونکہ خدا اور ا سکے رسول سے روگردانی کے عظیم عوامل میںسے لوگوں کی نہایت مشکلات کے ہوتے ہوئے ان سے غفلت اور بے نیازی تھی(۲۶) لہٰذا خدا فضاء کو اس طرح ہمو ار کرتا تھا کہ لوگ ان ضرورت مندں کی طرف متوجہ ہوجائیں اور غرور و تکبر کی سواری سے اُتر جائیں اِسی وجہ سے بلائوں کو نازل کرتا اور انھیں سختیوں سے دوچار کردیتا تا کہ مجبور ہو کر اپنی ناتوانی کا احساس کرلیں اور خدا کی طرف متوجہ ہوجائیں۔(۲۷)

لیکن اس عامل کا اثر ہر ایک پر مؤثر نہ تھا خصوصاً وہ لوگ جو دولت میں سرمست اور سالہا سال لوگوں پر ظلم و ستم کے ذریعہ کثیر مال و دولت جمع کرلی تھی قرآن کی تعبیر کے مطابق ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوچکے تھے وہ ان سب کے باوجود بھی وہ متوجہ نہیں ہوتے(۲۸) اسی طرح خواب غفلت میں گرفتار رہتے، اور اپنی باطل راہ پر قائم رہتے اُن پر انبیاء علیہم السلام کے مواعظ، عذاب کی دھمکیاں ،اور ان کی نصیحتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اور جب خدا اُن سے بلائو ںکو ٹال دیتا، اورانھیں نعمتوں سے نوازدیتا ،تو یہ کہتے کہ نعمتوں اور بلاوں کا آنا جانا زندگی کا ایک لازمہ ہے اور ایسا تو ہوتا

رہتا ہے نیز ایسا تو گذشتہ لوگوں کے ساتھ بھی ہوا ہے(۲۹) اور حسب سابق مال کو جمع کرنے اور ظلم و ستم میں مشغول ہوجاتے، حالانکہ غافل تھے کہ نعمتوںکی افزائش دنیا و آخرت میں بدبخت ہونے کے لئے ان کے واسطے ایک حیلہ ہے(۳۰) ۔

بہر حال جب بھی انبیاء الٰہی علیہم السلام کے پیروکار تعداد کے اعتبار سے اس حد تک ہو جاتے کہ وہ ایک مستقل جامعہ تشکیل دے سکتے اور اُن میں دفاع کی قوت آجاتی تو انھیں دشمنان خدا سے جہاد کے لئے حکم دے دیا جاتا تھا(۳۱) اور ان کے ہاتھوں جماعت کفار پر عذاب الٰہی نازل ہوتا تھا(۳۲) وگرنہ مومنین انبیاء علیہم السلام کے حکم سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے اور پھر اُن پر بازگشت اور ایمان لانے کی ناامیدی کے بعد عذاب نازل ہو جاتا تھا(۳۳) یہ ہے وہ سنت الٰہی جو کبھی بھی نہیں بدلتی۔(۳۴)

سوالات

١۔ انبیا ء علیہم السلام کی دعوت کے مقابل میں لوگوں کا رد عمل کیا تھا؟

٢۔ انبیاء علیہم السام سے مخالفت کے اسباب کیا ہیں؟

٣۔ انبیاء علیہم السلام کے مخالفین کیسے کیسے طریقے اپناتے تھے؟

٤۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت اور ان کے مقابل میں لوگوں کی مخالفت کی صورت میں سنتِ الٰہی کیا ہوتی تھی؟

____________________

(١) سورۂ نحل۔ آیت/ ٣٦، سورہ انبیاء ۔آیت /٢٥، سورۂ فصلت ۔آیت/ ١٤، سورۂ احقاف۔ آیت/ ٢١

(٢) سورۂ ابراہیم۔ آیت/ ٩، سورۂ مومنون ۔آیت/ ٤٤

(٣) سورۂ سبا۔ آیت/ ٣٤،

(٤) سورۂ غافر ۔آیت/ ٨٣، سورۂ قصص۔ آیت /٧٨، سورہ زمر۔ آیت /٤٩

(٥)سورہ احزاب۔ آیت/ ٦٧، سورہ سبا۔ آیت/ ٣١/٣٣

(٦) سورۂ ہود۔ آیت/ ٤/٢٧/٣١

(۷)سورۂ مائدہ۔آیت/٧٠

(۸)سورۂ غافر آیت/٥، سورۂ اعراف آیت/ ٧٦

(۹)سورۂ بقرآیت/ ١٧٠، سورۂ مائدہ آیت/١٠٤، سورہ یو نس آیت/ ٧٨، سورہ انبیاء آیت/٥٣، سورۂ شعرائآیت' ٧٤، سورۂ لقما ن/ آیت ٢١،سورۂ زخرف آیت/٢٢،٢٣.

(۱۰)سورۂ ہودآیت /٨٤، ٨٦، سورۂ قصص آیت /٧٦،٧٩، سورہ تو بہ آیت/ ٣٤.

(۱۱)سورہ ابرا ہیم /آیت ٢١، سورۂ فاطرآیت/٤٧، سورۂ ہود آیت/٢٧، سورۂ شعراء آیت/٣٤.

(۱۲) سورۂ حجر۔ آیت ١١، یس آیت ٣٠، زخرف آیت٧، مطففین آیت ٢٩،٣٢.

(۱۳)سورۂ اعراف آیت ٦٦، سورۂ بقرہ آیت ١٣، سورۂ مومنون آیت ٢٥.

(۱۴)سورۂ ذاریات آیت٣٩، ٥٢،٥٣.

(۱۵)سورۂ انعام آیت ٢٥، انفا ل آ یتٍ ٣١، سورۂ نحل آیت ٢٤، مومنون ٨٣، نمل ٦٨، قلم ١٥، مطففین.١٣

(۱۶)سورۂ نوح ٧، سورۂ فصلت ٢، انعام ١١٢، ،١٢١، سورۂ غافر ٥، ٣٥، اعراف ٧٠، ٧١، کہف ٥٦.

(۱۷)سورۂ بقرہ ١٧٠، مائدہ ١٠٤، اعراف٢٨، انبیائ٥٣، یونس ٧٨ لقمان ٢١.

(۱۸)سورۂ یونس آیت/٨٨،سباء آیت/٣٥،' قلم آیت/ ١٤،مریم آیت /٧٧، مدثر آیت/ ١٢، مزمل آیت/١١، احقاف آیت١١

(۱۹)سورۂ انعام آیت/٧،٩،اسرائ/ ٩٠،٩٥، فرقان/ ٨٤

(۲۰)سورۂ بقرہ آیت /١١٨، انعام آیت/١٢٤، نساء آیت/١٥٣

(۲۱)سورۂ ابراہیم آیت/١٣، ہود آیت/٩١، مریم آیت/ ٤٦، یس آیت /١٨، غافرآیت/٢٦

(۲۲)انفال آ)یت/ ٣٦

(۲۳)سورۂ ابراہیم آیت/١٢

(۲۴)سورۂ بقرہ آیت/٦١،٨٧،٩١، آل عمران آیت/٢١١، ١١٢، ١٨١، مائدہ آیت/٧٠، نساء آیت/١٥٥

(۲۵)سورۂ نساء آیت/٦٥، طہ آیت/١٣٤

(۲۶) سورۂ علق آیت/٦

(۲۷)سورۂ انعام آیت/٤٢،اعراف آیت /٩٤

(۲۸)سورۂ انعام آیت /٤٣، سورۂ مومنون آیت/ ٧٦

(۲۹)سورۂ اعراف آیت /١٨٣، ٩٥

(۳۰)سورۂ اعراف آیت/١٩٣،١٨٢، آل عمران آیت/ ١٧٨، توبہ آیت/٥٥،٥٨، مومنون آیت/ ٥٤،٥٦

(۳۱)سورۂ آل عمران آیت /١٤٦

(۳۲)سورۂ عنکبوت آیت/٤١٠. اور بہت سے دوسرے مقامات پر قرآن میں ذکر ہوا ہے

(۳۳)سورۂ آل عمران آیت/١٤٦

(۳۴)سورۂ فاطر آیت/٤٣، غافر آیت/٨٥، اسراء آیت/٧٧


اکتیسواں درس

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مقدمہ

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اثبات

مقدمہ

ہزاروںانبیاء علیہم السلام، مختلف ادوار میں اورمختلف سرزمینوں پر مبعوث ہوئے اور انسانوں کی تربیت و ہدایت میں اپنا ممتاز کردار پیش کیا، انسانی معاشروں میں درخشاں آثار چھوڑے ،اور ان میں سے ہر ایک نے انسانوںکی ایک جماعت کی تربیت کی، اور بقیہ انساوںپرغیر مستقیم اثر چھوڑا، بلکہ اُن میں سے بعض توحیدی اور ایک عادلانہ سماج قائم کرنے اور اُس کی رہبری کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔

انبیاء الٰہی کے درمیان حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام، اور حضرت مو سی علیہ السلام نے خدا کی جانب سے زمانے کے تقاضوں کے لحاظ سے اخلاقی وظائف اور فردی و اجتماعی احکام و قوانین پر مشتمل کتاب ،بشر کی دسترس میں قرار دی، لیکن یہ کتابیں یا تو زمانہ کے گذرنے کے ساتھ بالکل محو ہوگئیں یا اُن میں لفظی اورمعنوی تحریفیں کی گئیں، اور اس طرح آسمانی شریعتیں مسخ ہوگئیں جب کہ جناب موسی علیہ السلام کی کتاب توریت میں بے شمار تحریفیں ہوئیں اور اب حضرت عیسی علیہ السلام کی انجیل کے نام سے کوئی کتاب باقی نہیں رہی، بلکہ آج جو کچھ ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد اُن کے حواریوں کے نوشتہ جات ہیں، جنھیں کتاب مقدس کا نام دیا گیا ہے۔

اگر کوئی منصف انسان کتاب توریت اور انجیل کا مطالعہ کرے تو اُسے بخوبی معلوم ہو جائے گا، کہ یہ کتابیں حضرت موسی علیہ السلام اور جناب عیسی علیہ السلام کی نہیں ہیں توریت کا حال تو یہ ہے کہ وہ خدا کو ایک انسان کی شکل میں بیان کرنے کے علاوہ خدا اور اس کے رسولوں کی طرف شرمناک نسبتیں دیتی ہے ،کہ خدا بہت سے امور سے بے خبر ہے(۱) اور بارہا جس عمل کو انجام دیتا ہے اس سے پشیمان ہوجاتا ہے(۲) وہ اپنے بندوں میں سے ایک بندہ (حضرت یعقوب علیہ السلام) سے کشتی لڑتا ہے لیکن اُسے مغلوب نہیں کر پاتا اور جب تھک جاتا ہے تو اُس سے التماس کرتا ہے کہ اُسے چھوڑ دے ، تا کہ اس کی مخلوقات اپنے خدا کو اِس حال میں مشاہدہ نہ کرے،(۳) اسی کتاب میں جناب دائود علیہ السلام کی طرف زنا محصنہ کی نسبت دی ہے(۴) اور جناب لوط علیہ السلام کی طرف شراب نوشی اور محارم سے زنا کی نسبت بھی دی گئی ہے،(۵) اس کے علاوہ کتاب توریت کے لانیوالے حضرت موسیٰ کی موت کی شرح بھی بیان کرتی ہے کہ وہ کیسے اور کہاں انتقال کر گئے(٦)

کیا صرف یہی نکات ہمارے سمجھنے کے لئے کافی نہیں ہیں کہ یہ توریت حضرت موسی علیہ السلام کی توریت نہیں ہے؟ لیکن انجیل کا حال تو توریت سے بھی برُا ہے ا س لئے کہ اولاً جو کتاب حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی یہ وہی انجیل نہیں ہے اور خود مسیحیوں نے بھی کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا ہے،

بلکہ آج جو کچھ بھی اُن کے حواریوں کے نوشتہ جات ہیں یہ کتا ب شراب نوشی کی تجویز کے علاوہ اُسے بنانے کو حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات میں شمار کرتی ہے(۷) خلاصہ یہ ہے کہِ ان دو

اولوالعزم رسولوں پر جو کچھ بھی نازل ہوا تحریف کا شکار ہوگیا، اور اب اس میں لوگوں کی ہدایت کی صلاحیت باقی نہیں رہی، لیکن یہ تحریفیں کیسے ہوئیں اس کی بڑی مفصل داستان ہے جسے یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں ہے۔(۸)

ہاں! حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت کے چھ سو سال بعد جب جہل اور ظلم و بربریت نے دنیا کے گوشہ گوشہ کو تاریک بنارکھا تھا، اور ہدایت کے چراغ خاموش ہوچکے تھے، تو خداوند متعال نے اس دور کے پست ترین اور تاریک ترین سرزمین پر اپنے آخری رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مبعوث کیا ،تا کہ ہمیشہ کے لئے چراغ وحی کو فروزاں بنادے ،اور نسخ و تحریف سے محفوظ جاودانی کتاب کو بشر کے ہاتھوں میں تھا دے اور اس طرح لوگوں کو حقیقی معارف، آسمانی حکمتیں اور الٰہی قوانین کی تعلیم سے آراستہ کردے نیز دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ کی طرف گامزن کر دے ۔(۹)

امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے دور کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: '' خدا نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس وقت مبعوث کیا جب گذشتہ انبیاء علیہ السلام کی بعثتوں سے کافی فاصلہ واقع ہوچکا تھا، لوگ گہرے خواب میں پڑے سورہے تھے، دنیا کے گوشہ گوشہ میںفتون کے شعلے بھڑک رہے تھے، امور پراکندہ تھے، جنگ کے شعلہ بھڑک رہے تھے، گناہ اور جہالت کی تاریکی چھائی ہوئی تھی، دھوکہ دھڑی اور حیلہ گری آشکار تھی، حیا ت بشر کا تناور درخت مرجھایا ہوا تھا اور اس کے سرسبز ہونے کی کوئی اُمید بھی نہ تھی، پانی کی قلت، مشعل ہدایت خاموش ، گمراہی کے پرچم لہرا رہے تھے، بشر کو بد بختیوں نے گھیر رکھا تھا، اور اپنا کریہہ چہرہ نمایاں کردیا تھا، ایسی گمراہی و جہالت اور بد اخلاقی کی وجہ سے فتنہ کے سر اٹھانے کا ہر دم خطرہ تھا، لوگوں پر ناامیدی، ڈر، اور نا امنی کے تاریک بادل چھا ئے ہو ئے تھے، اور اپنے لئے شمشیر کے علاوہ کسی اور چیز کو پناہگاہ نہیں سمجھتے تھے''۔(۱۰)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہورکے بعد بشر کے لئے خدا شناسی، حقیقت جوئی، نبوت کے سلسلہ میں جستجو تحقیق، اور دین اسلام کی حقانیت جیسے اہم موضوعات تصور کئے جاتے رہے ہیں، ان موضوعات کے اثبات کے ساتھ نسخ و تحریف سے محفوظ قرآن کریم کی حقانیت اور اس کا کتاب الھی و آسمانی ہونا نیز تا قیامت بشر کے لئے ضمانت شدہ راستہ ،تمام صحیح عقائد کے اثبات اورتمام احکامات کا تعارف رہتی دنیا تک کے لئے کی گئی ہے ، جس کے ذریعہ تمام معارف ہستی کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اثبات۔

جیسا کہ ہم نے ستائسیویں درس میں بیان کیا کہ کسی بھی نبی کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے تین راستے ہیں

۔ ١۔پہلا راستہ، اس نبی کی گذشتہ زندگی سے آشنائی اور حالات و قرائن سے مدد لینا۔

٢۔ دوسرا راستہ، گذشتہ نبی کی پیشینگوئی۔

٣۔ تیسرا راستہ ، انبیا ء علیہم السلام کا معجزہ دکھانا ہے۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت کے اثبات کے لئے یہ تینوں راستہ موجود تھے مکہ والوں نے آپ کی چالیس سالہ زندگی کو نزدیک سے مشاہدہ کیا تھا اور بخوبی اُنھیں معلوم تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں کوئی ضعیف پہلو نہیں ہے اور اِس حد تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سچا اور امانتدار سمجھتے تھے ،کہ آپ کو

امین کے لقب سے یاد کرتے تھے، لہٰذا ایسے شخص کی طرف جھوٹ بولنے اورجھوٹے دعویٰ کرنے کی نسبت نہیں دی جاتی تھی ،اس کے علاوہ گذشتہ نبیوں نے آپ کے ظہور کی بشارت دی تھی(۱۱) اور اہل کتاب کا ایک گروہ واضح نشانیوں اور علامات کے ساتھ انتظار میں تھا۔(۱۲) یہاں تک کہ یہ لوگ مشرکین عرب سے کہا کرتے تھے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ایک رسول مبعوث ہونے والا ہے کہ جس کی خبر گذشتہ انبیا ء علیہم السلام نے دی ہے اور وہ ادیان توحیدی کی تصدیق بھی کرے گا۔(۱۳) اسی وجہ سے یہودو نصاریٰ کے بعض علما ء اِنھیں علامتوں کے پیش نظر آپ پر ایمان لائے(۱۴) اگر چہ ان میں سے بعض نے نفسا نی اور شیطانی خواہشات کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنے سے روگردانی کرلی، قرآن کریم اس سلسلے میں فرماتا ہے:

( اَوَلَم یَکُن لَّهُم آیَةً اَن یَعلَمَهُ عُلمَائُ بَنِ اِسرَائِیلَ ) (۱۵)

کیا اُن کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں۔

جس طرح علماء بنی اسرائیل کی طرف سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلسلہ میں خبر دینا ،اور گذشتہ نبیوں کی پیشینگوئیاں، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت پر اہل کتاب کے لئے روشن گواہیاں تھیں اسی طرح دوسروں کے لئے گذشتہ نبیوں کی حقانیت نیز خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حقانیت پر حجت تھی، اس لئے کہ وہ لوگ ان پیشنگوئیوں کی صداقت اور علامتوں کو بخوبی مشاہدہ کرتے تھے اور اپنی عقل کی بنیاد پر اچھی طرح تشخیص بھی دیتے تھے۔

اور سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ آج کی توریت و انجیل میں ایسی بشارتوں کو تحریف اور محو کردینے کی تمام سعی و کوشش کے باوجود اس میں ایسے نکات ا ب بھی موجود ہیں جو حق کے طلبگاروں پر حجت تمام کر دیتے ہیں، جیسا کہ علما یہود و نصاریٰ میں سے ایک کثیر تعداد،انھیں نکات کے پیش نظر حق طلبی کی وجہ سے دین اسلام پر ایمان لاچکی ہے۔(۱۶)

اسی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بے شمار معجزے پیش کئے جو احادیث کی صحیح کتابوں میں تواتر کے ساتھ نیز تاریخ کے دامن میں آج محفوظ ہیں،(۱۷) لیکن آخری رسول اور جاودانی دین کو پہچنوانے میں عنایت الٰہی کا تقاضا یہ تھا، کہ ان معجزات کے علاوہ جو اتمام حجت کردیتے ہیں، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک ایسا ابدی معجزہ عطا کر ے کہ جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے حجت رہے، ہاں وہ قرآن ہے، اسی وجہ سے آئندہ درس میں ہم اس کتاب کی اعجازی شان بیان کریں گے۔

سوالات

١۔ سابق رسولوں کی کتابوں کا حال بیان کریں؟

٢۔ توریت میں موجود تحریفوں میں سے چند تحریفوں کو ذکر کریں؟

٣۔ موجودہ انجیل کے غیر معتبر ہونے کی وضاحت کریں؟

٤۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی اہمیت کو بیان کریں؟

٥۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کو ثابت کرنے والے راستہ کو بیان کریں؟

____________________

(١)توریت سفر پیدائش۔ تیسرا باب شمارہ ٨۔١٢

(٢)توریت، سفر پیدائش۔ چھٹا باب شمارہ ٦۔

(٣)توریت، سفر پیدائش ۔٣٢٠ باب شمارہ ٢٤۔٣٢.

(٤) عہدقدیم، سموئیل کی دوسری کتاب گیارہواں باب۔

(٥) توریت سفر پیدائش انیسواں باب شمارہ ٣٠۔٣٨۔

(٦) تورات سفر تشنیہ ۔باب ٣٤

(۷)انجیل، یوحنا باب سوم.

(۸)اظہار الحق، مصنف رحمة اللہ ہندی، الہدیٰ الی دین المصطفیٰ مصنف علامہ بلاغی، راہ سعات، مصنف علامہ شعرانی.

(۹)سورۂ جمعہ ٣٢.

(۱۰)نہج البلاغہ ۔خطبہ ١٨٧

(۱۱)سورۂ صف آیت/٦

(۱۲)سورۂ اعراف۔ آیت /١٥٧،بقرہ آیت/١٤٦، سورہ انعام آیت/٢٠

(۱۳)سورۂ بقرہ۔ آیت /٨٩

(۱۴)سورۂ مائدہ آیت /٨٣، احقاف آیت/١٠

(۱۵) سورہ شعراء ۔ آیت /١٩٧

(۱۶)ان علماء میں مرزا محمد رضا (جنکا شمار تہران کے عظیم یہودی دانشمندوں میں ہوتا ہے) اور ''اقامة الشہود فی رد الیہود'' کے مصنف بھی ہیں، یزد کے علماء یہود میں سے حاج بابا قزوینی صاحب کتاب ''محضر الشہود فی رد الیہود'' بھی ہیں۔ مسیحیوں کے مطابق اسقف پروفیسر عبد الاحد دائود صاحب کتاب ''محمد در توریت و انجیل'' ہیں۔

(۱۷)بحار الانوار ج٢٧ ص٢٢٥ اتک ١٨، اور تمام حدیث و تاریخ کی کتابیں ملاحظہ فرمائیں


بتیسواں درس

اعجاز قرآن

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

قرآن کا معجزہ ہونا

اعجاز قرآن کی صورتیں

فصاحت و بلاغت

صاحب قرآن کا اُمیِّ ہونا

اتفاق نظر اور عدم اختلاف

قرآن کا معجزہ ہونا۔

قرآن تنہا ایک ایسی آسمانی کتاب ہے کہ جس نے پورے دعویٰ کے ساتھ اعلان کردیا ہے کہ کسی میں بھی اس کی مثل لانے کی طاقت نہیں ہے یہاں تک کہ تمام جن و انس اکٹھا ہوجائیں، پھر بھی وہ اس کتاب کی نظیر لانے سے ناتواں ہیں(۱) بلکہ وہ اِس جیسی کتاب تو کیا، اِس کے دس سورہ(۲) بلکہ ایک ہی سورہ یہاں تک کہ تنہا ایک سطر کا جواب لانے سے، حد درجہ ناتواں ہیں۔(۳)

اس کے علاوہ نہایت تاکید کے ساتھ تمام انسانوں کو چیلنج کرتا ہے اور اِس کتاب کے جواب نہ لانے کی قدرت کو اِس کتاب او راس کتاب کے لانے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خدائی ہونے کی دلیل قرار دیتاہے ۔(۴)

لہذا اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ خود اس کتاب نے اپنے معجزہ ہونے کی خبر دی ہے اور اسے لانے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اِس کتاب کے ابدی ہونے اور اپنی رسالت کی حقانیت پر جاودانی معجزہ قرار دیا ہے،بلکہ آج بھی چودہ صدیاں گذرجانے کے باوجود مختلف وسائل کے ذریعہ دوست و دشمن کے کانوں تک اس کے پیغامات پہنچ رہے ہیں اور اس طرح انسانوںپر حجت تمام ہورہی ہے۔

اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ جب رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رسالت کا آغاز کیا تو سب سے پہلے آ پ کو اپنے سخت ترین دشمنوں سے مقابلہ کرنا پڑا کہ جھنوں نے اُس دین کو نابود کرنے کے لئے اپنی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا، اور جب آپ کے دشمن اپنی دھمکیوں اور طمع دلانے وغیرہ سے مایوس ہوگئے تو آپ کے قتل کے لئے کمر ہمت باندھ لی، لیکن یہ بھی خدا کی جانب سے وحی کے مطابق مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کے ذریعہ باطل ہوگیا، اور آپ نے اپنی بقیہ عمر مکہ مشرکین اور دھوکے باز یہودیوں سے جنگ میں گذار دی، اور آپ کے چراغ حیات کے گل ہوتے ہوئے آج تک داخلی اور خارجی منافقین اس نورِ الٰہی کو خاموش کرنے کے درپے ہیں جنھوںنے اُسے خاموش کرنے کے لئے اپنی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا اور اگر قرآن جیسی کتاب لانا، ان کے بس میں ہوتا، تو وہ ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہ کرتے۔

آج جب دنیا کی ظالم طاقتوں نے اپنے جبری تسلّط کی راہ میں اسلام کو سب سے بڑے دشمن کے عنوان سے پہچان لیا ہے اور اس سے مقابلہ کے لئے اپنی پوری توانائی کے ساتھ جد و جہد شروع کردی ہے، تمام مالی، سیاسی، تبلیغاتی، علمی، امکانات کو اکٹھا کرلیا ہے اگر ان لوگوں میں اتنی بساط ہوتی کہ قرآن کی صرف ایک سطر کے ماند کوئی عبارت بنالیتے تو اپنے وسائل اور تبلیغات کے ذریعہ دنیا کے چپہ چپہ میں اُس کا اعلان کردیتے، اِس لئے کہ اسلام سے مقابلہ کے لئے یہ آسان ترین راستہ ہے۔

لہٰذا اگر انسان سمجھ دار اور با شعور ہو تو ایسے قرائن اور حالات کو دیکھتے ہوئے مان لے گا کہ قرآن ایک لا ثانی او رجاودانی کتاب ہے بلکہ کوئی فرد ،یا جماعت تعلیم و تدریس ،یا تمرین کے ذریعہ اس جیسی کتاب نہیں لا سکتا، یعنی یہ کتاب ایک معجزہ کی تمام خصوصیات کا (خارق عادت ہونا) الٰہی اور غیر قابل تقلید ہونا، نبوت کے دعویٰ کی حقانیت کی دلیل بننے کی مالک ہے اسی وجہ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت اور دین اسلام کی حقانیت پر دلیل قاطع ہے، اور بشر کے لئے سب سے عظیم نعمت اور کیا ہوسکتی ہے کہ اُس نے اِس کتاب کو اِس طرح نازل کیا ہے کہ تا ابد معجزہ بنی رہے ،نیز اپنی صداقت کی دلیل سے سرفراز رہے وہ بھی ایسی دلیل کہ جس کی دلالت کو سمجھنے کے لئے تحصیل اور ت مہارت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے لئے قابل فہم ہے۔

اعجاز قرآن کی صورتیں۔

اب تک ہمیں یہ اجمالاً معلوم ہوگیا ہے کہ قرآن خدا کا کلام اور معجزہ ہے لہٰذا اِس کے بعد اُس کے معجزہ ہونے کی صورتوں کی طرف اشارہ کریں گے۔

الف ۔قرآن کی فصاحت و بلاغت۔

قرآن کے اعجاز کی پہلی صورت اس کی فصاحت و بلاغت ہے یعنی خداوند متعال نے اپنے مقصود کو بیان کرنے کے لئے خوبصورت اور پرُ معنی ترین الفاظ کے ذریعہ منظم اور بہترین ترکیب کے ساتھ پیش کیا ہے تا کہ معنی مقصود کو آسان اور بنحو اَحسن اپنے مخا طبین کو سمجھا سکے، لہٰذا ایسے الفاظ کا انتخاب اور انھیں بلند معانی کے لئے مناسب جملوں کی خوبصورت لڑیوں کی ترکیب صرف اُسی ذات کے بساط میں ہے کہ جو پوری طرح الفاظ کی خصوصیات، معانی کے دقائق، اور ان دونوں میں موجود رابطوں پرتسلط ہو، نیز معانی کی بلندیاں اور مقام و محل کی رعایت کرتے ہوئے بہترین الفاظ اور عبارتوں کا انتخاب کرنے اور ایسا وسیع احاطہ، وحی اور الہام الٰہی کے بغیر کسی بھی انسان کے لئے میسر نہیں ہے۔

قرآن کا ملکوتی طرز سخن اور لاجواب لحن نیز الفاظ ومعانی کی وسعت و گہرائی ،عربی زبان سے آشنا نیز فن فصاحت و بلاغت کے ماہر ین کے لئے قابل درک ہے ، لیکن فصاحت و بلاغت کے معجزہ ہونے کی تشخیص اُنھیں لوگوں کے بس میں ہے جو مختلف فنون میں ید طو لی سے سرفراز ہوں، قرآن کے مقابلہ میں دوسری فصیح و بلیغ عبارتوں کے علاوہ اپنی توانائیوں اور مہارتوں کو آزماچکے ہوں، اور یہ کام صرف عرب کے ماہر اور زبردست شعرا کرسکتے تھے، اِس لئے کہ عربوں کے لئے سب سے بڑا ہنر شعر گوئی تھی جو آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے دوران اپنے عرو ج پر پہنچ چکی تھی، شعرا اپنے بہترین اشعار کو ادبی تنقید وں کے بعد اُسے بہترین ہنر کے عنوان سے پیش کرتے تھے۔

بنیادی اعتبار سے حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی نبی کا معجزہ اُس زمانہ کے علم و ہنر کے تناسب و تقاضے کے مطابق ہو ، تا کہ اُس زمانہ کے لوگ اُس معجزہ کے اعجاز کو علوم بشری کے مقابلہ میں درک کرسکیں، جیسا کہ امام ہادی علیہ السلام سے جب ابن سکیت، نے سوال کیا کہ کیوں خدا نے حضرت موسی علیہ السلام کا معجزہ ، ید بیضاء ،اور عصا کو اژدھا میں تبدیل کردینا، اور اِسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کا معجزہ، بیماروں کو شفا دینا ،اور حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا معجزہ ،قرآن کو قرار دیا''؟ تو آپ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا، ''حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں رائج ہنر ،سحر اور جادو تھا، اِسی وجہ سے خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ،جادو سے مشابہ قرارا دیا ،تا کہ وہ لوگ معجزہ جیسے عمل کی ناتوانی کو درک کرسکیں ،اور حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں طبابت اپنے عروج پر تھی لھذا خدا نے حضرت عیسی علیہ السلام کا معجزہ لا علاج بیماروں کو شفا دینا قرار دیا، تا کہ لوگ اِس معجزہ کے اعجاز کو بخوبی درک کرسکیں، لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور میں رائج ہنر سخن سرائی اور شعر گوئی تھی، لہٰذا خدا نے قرآن کو بہترین اسلوب کے ساتھ ناز ل کیا، تا کہ قرآن کے ا عجاز کی برتری کو بخوبی درک کیا جا سکے ۔(۵)

ہاں اُس دور کے زبردست ادباء جیسے ،ولید بن مغیرہ مخزومی، عقبہ بن ربیعہ، اور طفیل بن عمرو، نے قرآن کی فصاحت و بلاغت اور بشر کے بہترین کلاموں پر اُس کی برتری کا اقرارا کیا(۶) یہاں تک کہ ایک صدی کے بعد ابن ابی العوجائ، ابن مقفع، ابو شاکر دیصانی ،اور عبد الملک بصر ی، جیسے افراد نے قرآن کے مقابلہ میں زور آزمائی کرنے کی کوشش کی اور مسلسل ایک سال تک اس کا جواب لانے میں سعی و کوشش کرتے رہے لیکن وہ جواب میں ایک حرف بھی پیش نہ کر سکے، یہاں تک کہ مجبور ہو کر قرآن کی عظمت کے مقابلہ میں گھٹنے ٹیک دئے، اور جب وہ لوگ مسجد الحرام میں اپنی ایک سال کی زحمتوں کا نتیجہ جمع کرنے کے لئے اکٹھا ہوئے تو اسی ہنگام امام صادق علیہ السلام ان لوگوں کے پاس سے گذرے اور اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( قُل لَئِنِ اجتَمَعَتِ الاِ نسُ وَ الجِنُّ عَلی اَن یَتُوا بِمِثلِ هَذَا القُرآنِ َلا یَتُونَ بِمِثلِهِ وَلَوکَانَ بَعضُهُم لِبَعضٍ ظَهِیراً ) (۷)

اے رسول!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اِن سے کہدو کہ اگر دنیا کے سارے جن و انس اس بات پر اکٹھے ہو جائے کہ اِس قرآن کا مثل لے آئیں تو اِس کا مثل نہیں لاسکتے اگر چہاس بابت ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔

ب۔ قرآ ن لانے والے کا اُمیِّ ہونا۔

قرآن اپنے معمولی حجم کے باوجود فردی و اجتماعی احکام و قوانین نیز اسلامی معارف کا سمندر کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، جنھیں جمع کرنے اور ا س سلسلہ میں تحقیق کے لئے علو م و فنون میں ماہر افراد کی ایک جماعت کی ضرورت ہے جو سالہا سال اس مسئلہ کے تحت جستجو و تحقیق کریںاور آہستہ آہستہ اِس میں موجود اسرارہ سے پردہ گشائی کریں اگر چہ اس کے تمامحقائق اور اسرار سے پردہ کشائی فقط انھیں لوگوں کے بساط میں ہے کہ جو علم الٰہی کے مالک اور خدا کی جانب سے تائید شدہ ہوں قرآن میں موجود بلند معارف کے مجموعے، اخلباقی دستورات کے باارزش خزانے، عادلانہ اور منظم قوانین، عبادتوں کے باب میں فردی و ا جتما عی احکامات کا حکمت کی بنیاد پر استوار ہونا، مفید ترین نصیحتیں ،عبرتوں سے بھر پور داستانیں، تعلیم و تربیت کے طور طر یقے، یا ایک جملہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قرآن اُن تمام اصول و قوانین پر مشتمل ہے جو انسان کی دنیوی و آخروی سعادتوں کے لئے ضروری ہیں، جسے بہترین اسلوب کے ساتھ اس طرح جمع کردیا ہے کہ جس سے ایک سماج کے مختلف افراد اپنی استعدادکے مطابق سمجھ سکیں۔

حقائق و معارف کے ایسے مجموعہ کو جمع کرنا عادی انسانوں کی بساط کے باہر ہے لیکن جو چیز آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے وہ یہ کہ ایسی با عظمت کتاب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں پیش کی گئی ہے جس نے نہ مکتب دیکھا، نہ قلم کو ہاتھ لگایا ، بلکہ ایسے سماج میں تربیت پائی جو تمدن سے کوسوں دور تھا، اور اس سے بھی عجیب غریب بات یہ ہے کہ بعثت سے پہلے چالیس سال تک ایسا کوئی کلام بھی اُس ذات سے سننے میں نہیں آیا، اور رسالت کے دوران جو کچھ بھی وحی کے عنوان سے پیش کیا، ایک ایسے مخصوص اسلوب و ترکیب پر مشتمل تھا جو ا سے دوسرے کلاموں کے درمیان ممتاز کردیتا تھا یہاں تک کہ خود وحی اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذاتی کلام میں فرق واضح و روشن رہتا تھا۔

قرآن اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہو ے فرماتا ہے:

( وَمَا کُنتَ تَتلُوا مِن قَبلِهِ مِن کِتٰبٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِیَمِینِکَ اِذًا لَّارتَابَ المُبطِلُونَ ) (۸)

اے رسول! قرآن سے پہلے نہ تو تم کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے تم لکھا کرتے تھے ایسا ہوتا تو یہ جھوٹے ضرور تمہاری نبوت میںشک کرتے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے :

( قُل لَّو شَائَ اللَّهُ مَا تَلَوتُهُ عَلَیکُم وَلَااَدرَٰیکُم بِهِ فَقَد لَبِثتُ فِیکُم عُمُراً مِّن قَبلِهِ َفلََا تَعقِلُونَ ) (۹)

اگر خدا چاہتا تو میں یہ کتاب تمہارے سامنے پیش نہ کرتا اور اس سے آگاہ نہ کرتا جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے درمیان زندگی گذاری کیا تم لوگ کچھ سمجھ سکے؟

شاید قرآن میں سورہ بقرہ کی آیت (٢٣) ''فَأتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثلِہِ'اسی اعجاز کی طرف اشارہ ہو یعنی احتمال یہ ہے کہ (مثلہ) کی ضمیر (عبدنا) کی طرف پلٹ رہی ہو۔

اگر فرض محال کو ممکن مان لیا جائے کہ ہزاروں دانشمند افراد ایک دوسرے کی مدد سے ایسی کتاب کے جواب لانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن کسی بھی صورت میں ایک مکتب میں جانے والے اور درس نہ پرھنے والے شخص سے ایسی کتاب کا جواب لانا غیر ممکن ہے۔

لہٰذا ایک اُ مِّی شخص کے ذریعہ ایسی بے نظیر خصوصیات پر مشتمل کتاب کا ظاہر ہونا قرآن کے اعجاز کے دوسرے پہلوں کی طرف ایک اشارہ ہے۔

ج۔ اتفاق نظر اور عد م اختلاف۔

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو (٢٣) سال کی مدت میں تلخ و شیریں حوادث ، نشیب و فراز سے بھر پور حالات کے باوجود اُس کے مطالب میں روانی او راعجاز کے پہلو برقرار ہیں۔لہٰذ ظاہر و باطن، الفاظ و معانی میں روانی قرآن کے اعجاز کی ایک دوسری صورت ہے خود قرآن میں اسی نکتہ کی طرف ایک اشارہ موجود ہے :( اَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ القُرآنَ وَلَو کَانَ مِن عِندِ غَیرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوا فِیهِ اختِلاَفاً کَثِیراً ) (۱۰) تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اگر خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے آیا ہوتا تو ضرور اس میں ا ختلاف پاتے۔

وضاحت:

ہر انسان ہمیشہ دو قسم کی حالتوں سے دوچار ہو تا ہے،

پہلے یہ کہ برابر اس کی معلومات اور مہارتوں میں اضافہ ہوتار ہتا ہے اور یہ افزائش اُس کے کلام میں پوری طرح اثر انداز بھی ہوتی ہے اور طبیعی اعتبار سے بیس سال کے اندر نمایاں فرق آجاتا ہے۔

دوم: یہ کہ زندگی کے مختلف حوادث اور مختلف حالات جیسے یاس و امید، خوشی و غم اور اضطراب و آرام، احساسات وخیالات کی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں، لہٰذاُ اس کے حالات کا اسطرح سے متغیر ہوتے رہنا اُس کے کلام میں شدید اختلاف اور ضد و نقیضن کا سبب بنتا ہے، در اصل رفتار و گفتار میں تبدیلی روحی حالات کے متغیر ہونے کا سبب ہوتے ہیں کہ جو خود طبیعی اور اجتماعی اوضاع و احوال کے تابع ہیں۔

اب اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ قرآن کریم آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اپنی لکھی ہوئی کتاب ہے تو آپ کی زندگی کے حوادث، تلخ و شیر یں حالات کی وجہ سے یہ کتاب بے شمار اختلافات اور ضد و نقیضن سے پرُ ہونی چاہیے تھی لیکن ہم ایسے اختلاف کامشاہدہ نہیں کررہے ہیں۔

لہٰذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کے مضامین میں عدمِ اختلاف اور اتحاد کا ہونا ،اُس کی فصاحت و بلاغت کا معجزہ ہے نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اس کتاب کا سرچشمہ خداوند متعال کی ذات ہے جو بدلتے ہوئے حالات پر مسلط اور طبیعت پرحاکم ہے۔

سوالات

١۔ قرآن کس طرح اپنے معجزہ ہونے کا دعویٰ کررہا ہے وضاحت فرمائیں ؟

٢۔ اعجاز قرآن پر اجمالی دلیل کیا ہے؟

٣۔ کیا یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ اب تک کسی نے بھی اس کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا، یا اس کاجواب لائے ہوں اور ہم اس سے بے خبر ہوں؟ کیوں؟

٤۔ قرآن کی حیرت انگیز بلاغت کی تشریح کریں؟

٥۔ اعجاز قرآن اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اُ مِّی ہونے میں کیا کوئی ربط برقرا رہے؟

٦۔ قرآن میں اختلاف کا نہ ہونا کیونکر اس کے معجزہ ہونے پر دلالت کرتا ہے؟

____________________

(١)سورۂ بنی اسرا ئیل آیت/ ٨٨

(٢)سورۂ ہود آیت/ ١٣

(٣) سورۂ یونس/ ٣٨

(٤)سورۂ بقرہ آیت /٢٤٢٣

(۵)اصول کافی، ج۔١ ص٢٤.

(۶)اعلام الوریٰ ص٢٧ ٢٨ سیرہ ابن ہشام ج١ ص٤١٠.

(۷)سورۂ بنی اسرائیل آیت٨٨۔ تفسیر نور الثقلین اِسی آیت کے ضمن میں رجوع کریں.

(۸)سورۂ عنکبوت ۔ آیت٤٨

(۹)سورۂ یونس آیت ١٦

(۱۰)سورۂ نسائ۔ آیت ٨٢


تیتیسواں درس

قرآن کا تحریف سے محفوظ رہن

مقدمہ

قرآن میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہون

قرآن سے کسی چیز کا کم نہ ہون

مقدمہ

جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کردیا ہے کہ ضرورتِ نبوت کی دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ الٰہی پیغامات صحیح و سالم انسانوںتک پہنچیں، تا کہ اس پر عمل کرتے ہوئے انسان اپنی دنیا و آخرت کی سعادتوں تک رسائی حاصل کر سکے۔

لہٰذا قرآ ن کا لوگوں تک پہنچنے تک محفوظ رہنا دوسری آسمانی کتابوں کی طرح محتاج بحث نہیں ہے لیکن ہمیںیہ کہاں سے معلوم کہ دوسری آسمانی کتابیں بشر کے اختیار میں آنے کے بعد تحریفات کا شکار ہوئیں یا ایک مد ت گذرنے کے بعد طاق نسیاں کا شکار ہوگئیں، جیسا کہ آج ہمارے درمیان حضرت ابراہیم و حضرت نوح علیہما السلام کی کتابوں کا کوئی اثر موجود نہیں ہے۔ اور حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی کتابیں اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں ہیں۔ لہٰذا اِن مطالب کے پیش نظر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ آج ہمارے پاس جو آسمانی کتاب کے عنوان سے قرآن موجود ہے کیا یہ وہی کتاب ہے جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوئی اس میں کسی بھی قسم کی کوئی تحریف ، کمی و زیادتی نہیں ہوئی ہے؟

البتہ وہ لوگ کہ جنھیں اسلام اور مسلمین کی تاریخ کا تھوڑا ، بہت بھی علم ہے ، وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے جانشین ائمہ علیہم السلام نے قرآن کی کتابت اور اُس کی آیات کے حفظ کرنے میںکیا اہتمام کیا ہے ، یہاں تک کہ تاریخ کے مطابق تنہا ایک جنگ میں قرآن کے حافظین میں سے سترافراد شہید کردئے گئے، چودہ صدیوں سے قرآن کو تواتر سے نقل کرنے اور اُس کی آیات و کلمات اور حروف کی تعداد کو شمار کرنے میں مصروف ہیں وہ اس بات سے با خبر ہیں ایسے لوگ کھبی بھی قرآن میں معمولی تحریف کا امکان بھی نہیں دے سکتے، لیکن اگر تاریخ کے ایسے قطعی قرائن سے صرف نظر کرلیا جائے تو عقلی و نقلی دلائل کے ذریعہ قرآن کے سالم رہنے کو ثابت کیا جاسکتا ہے، یعنی پہلے مرحلہ میں دلیل عقلی کی بنیاد پر قرآن میں کسی بھی چیز کے زیادہ ہونے کو ثابت کرنے کے بعد خود قرآن کی آیات کے سہار ے اُس میں سے کسی بھی چیز کے کم نہ ہونے کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔

اسی وجہ سے قرآن کے سالم رہنے کی بحث کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

قرآن میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہونا۔

قرآن میں کسی بھی چیز کے زیادہ نہ ہونے کا مسئلہ تمام مسلمین بلکہ جہان کے تمام باخبر افراد کے نزدیک قبول شدہ ہے، بلکہ کوئی ایسا حادثہ بھی رونما نہیں ہوا کہ جس کی وجہ سے قرآن میں کسی بھی چیز کے زیادہ ہونے کا احتمال دیا جاسکے، اور اِسی اضافہ کے لئے کسی سند کا کوئی بھی وجود نہیں ہے، بلکہ عقلی دلیل کی بنیاد پر اس مسئلہ کو اس طرح باطل کیا جاسکتا ہے کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ قرآن کے معانی میں کسی کامل معنی کا اضافہ ہوا ہے تو اُس کا مطلب یہ ہوگا قرآن کا مثل یا نظیر لانا ممکن ہے، حالانکہ اعجاز قرآن اوربشر کی ناتوانی کے پیش نظر یہ امر باطل ہے، اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ تنہا ایک کلمہ یا ایک چھو ٹی آیت کا صرف اضافہ ہوا ہے تو اسکا لازمہ یہ ہے کہ نظم سخن میں خلل وارد ہوا ہے اور قرآن اپنی اعجاز آمیز شکل و صورت سے خارج ہوگیا ہے، اور اس صورت میں قابلِ تقلید اور اُس کے مثل لانے کا امکان پیدا ہوجائے گا، اس لئے کہ قرآن، آیتوں کے اعجاز آمیز نظم، کلمات و حروف کے انتخاب پر منحصر ہے ،لہٰذا اُن میں خلل اور تغیر کے وارد ہوتے ہی وہ اپنی اصلی حالت سے خارج ہوجائے گا۔

لہذا جس دلیل کے ذریعہ قرآن کا اعجاز ثابت ہے اُسی دلیل کے ذریعہ قرآن کا اضافات سے محفوظ رہنا ثابت ہے، نیز اُسی دلیل کے ذریعہ کسی کلمہ یا جملہ کا کم ہونا اس کے کم ہوتے ہی حالت اعجاز کے ختم ہوجانے کی نفی کرتا ہے ، لیکن قرآن سے کسی کامل سورہ کے کم نہ ہونے یا قرآن سے ایک کامل مطلب کا اس طرح سے خارج ہوجانا کہ ُاس کے اعجاز میں خلل وارد نہ ہو، اس کے نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لئے دوسرے دلائل کی ضرورت ہے۔

قرآن سے کسی چیز کا کم نہ ہونا۔

آج تک علماء اسلام خواہ سنی ہوں یا شیعہ برابر اس امر کی تاکید کرتے رہے ہیں کہ جس طرح قرآن میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا اسی طرح اُس سے کچھ کم بھی نہیں ہوا ہے انھوں نے اپنے اِس مطلب کے لئے بے شمار دلیلیں پیش کی ہیں، لیکن احادیث کی کتابوںمیں بعض من گھڑت حدیثوں کو نقل کرنے کی وجہ سے بعض معتبر روایتوں(۱) سے غلط مفہوم کو حاصل کرتے ہوئے بعض نے اِس مطلب کا احتمال اور بعض نے قرآن سے بعض آیات کے کم ہونے کی تائید بھی کی ہے۔

قرآن کا کسی بھی قسم کی تحریف خواہ اضافہ کے معنی میں ہو یا کم ہونے کے معنی میں۔

اس سلسلہ میں تاریخ کے قطعی قرائن ہونے کے علاوہ قرآن سے ایسے مطالب کا حذف ہوجانا جو اُس کے اعجاز کو ختم کردے، دلیلِ اعجاز کے ذریعہ باطل ہے بلکہ قرآن کی ایک سورہ یا ایک آیت کے حذف ہونے سے محفوظ رہنے کو خود قرآن کریم کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔

یعنی جب یہ امر واضح ہوگیا کہ تمام قرآن خدا کا کلام ہے اور اُس میں ایک حرف کا بھی نہیں ہوا ہے لہذا اُس کی آیات کے مفاہیم نقلی و تعبدی دلائل کے عنوان سے حجت ہیں، لہٰذا قرآن کی آیت سے حاصل ہونے والے مفاہیم میں سے ایک مفہوم قرآن کا خدا کی جانب سے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہنے کی ضمانت لینا ہے، جبکہ دوسری آسمانی کتابوں کی حفاظت خود اُسی اُمت کے حوالہ تھی(۲) یہی مفہوم سورۂ حجر کی آیت نمبر(٩) میں موجود ہے( 'اِنَّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِکرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) یہ آیت دو جملوں پر مشتمل ہے، پہلا جملہ( اِنَّا نَحنُ نَزَّلنَا الذَّکرَ ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قرآن کو خدا نے نازل کیا ہے اور نزول کے دوران اِس میںکسی بھی قسم کا کوئی تصرف بھی نہیں ہوا ہے اور دوسرا جملہ( وَاِناَّ لَهُ لحَافِظُونَ ) )اس جملہ میں نہایت تاکید ہوئی ہے جو اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خدا نے اِس میں کسی بھی قسم کی تحریف نہ ہونے کی ضمانت لے رکھی ہے

یہ آیت اگر چہ قرآن میں کسی بھی قسم کے اضافہ کی نفی کررہی ہے لیکن ایسی تحریف کے نہ ہونے پر اِس آیت سے بھی استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے اِس لئے کہ قرآن میں کسی بھی آیت کے اضافہ کے فرض میں وہ آیت خود بھی شامل ہے ،لہٰذا اِس آیت کے ذریعہ اِس فرض کو باطل کرنا صحیح نہیں ہے، اِسی وجہ سے ہم نے قرآن کے معجزہ ہونے کے ذریعہ اس فرضیہ کو باطل کیا ہے اور پھر اِسی آیت کے ذریعہ کسی آیت یا سورہ کا اس طرح سے حذف ہونا جو قرآن کے اعجاز آمیز نظم میں خلل وارد نہ کرے اس قسم کے حذف سے قرآن کے محفوظ رہنے کو بھی ثابت کردیا ہے، پس اسطرح قرآن کا تحریف (خواہ اضافہ کے ساتھ ہو یا حذف ہونے کے ساتھ) سے محفوظ رہنا عقلی اور نقلی دلائل کی ترکیب سے ثابت ہوجاتا ہے۔

اِس بحث کے آخر میں اِس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم سمجھتے ہیں کہ قرآن کا تحریف سے محفوظ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن جہاں بھی ہو کتابت یا قرائت کے اعتبار سے محفوظ یا غلط تفسیراور تحریفِ معنوی سے پوری طرح پاک ہو، یا نزول کے مطابق اس کے سورہ اور آیتیں منظم ہوں

''( بما استحفظو امن کتاب الله وکانوا علیه شهدائ' )

،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس مقدار میں نازل ہوا ہے اسی طرح انسانوں کے درمیان کم و زیادتی کے بغیر موجود ہے تا کہ طالبان حقیقت اپنا مقصود حاصل کرسکیں، لہٰذا قرآن کے بعض نسخوں کا ناقص یا کتابت کے اعتبار سے غلط ہوناقرائتوںکے اختلاف یا نزول قرآن کے مطابق آیات اور سورں کا منظم نہ ہونا مختلف تفسیرں اورمعنوی تحریفوں کا ہونا قرآن کا تحریف سے محفوظ رہنے کے خلاف نہیں ہے۔

سوالات

١۔ قرآن کا تحریف سے محفوظ رہنے کے مسئلہ کو بیان کریں؟

٢۔ تاریخی اعتبار سے قرآن کے تحریف سے محفوظ رہنے پر دلائل کیا ہیں؟

٣۔ قرآن کا محفوظ رہنا کس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے؟

٤۔ قرآن میں زیادتی کے نہ ہونے کو ثابت کریں؟

٥۔کس دلیل کی بنیاد پر قرآن سے کچھ بھی کم نہیں ہوا ہے؟

٦۔ کیا انھیں دلیلوں کے ذریعہ قرآن میں اضافہ نہ ہونے کو ثابت کیا جا سکتا ہے ؟ کیوں اور کیسے؟

٧۔اس امر کی وضاحت کریں کہ قرآن کا قرائت یا کتابت کے اعتبا ر سے ناقص ہونا معنوی تحریفوں اور مختلف تفسیروں کا ہونا کیونکر قرآن کا کسی بھی قسم کی تحریف سے محفوظ رہنے کے مسئلہ کے خلاف نہیں ہے ۔؟

____________________

(١)جیسے کہ وہ روایات جو آیتوں کی تفسیر یا اس کے بیان کرنے یا غلط تفسیروں اور معنوی تحریفوں کو باطل کرنے والی ہیں، جن سے یہ سمجھا گیا ہے کہ وہ قرآن کے کلمات کے حذف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

(۲)جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر (٤٤) میں علماء یہود و نصاریٰ کے سلسلہ میں فرماتا ہے ۔


چونتیسواں درس

اسلام کا جہانی اور جاودانی ہونا

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

مقدمہ

اسلام کا جہانی ہونا

اسلام کے جہانی ہونے پر قرآن کے دلائل

اسلام کا جاودانی ہونا

چند شبہات کا حل

مقدمہ

ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا اور اُن کے پیغامات پر یقین کرنا لازم ہے، لہٰذا انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کا انکار یا اُن کے پیغامات میں سے کسی پیغام کا منکر ہونا ربوبیت تشریعی کے انکار اور شیطان کے کفر کے مانند ہے۔

لہٰذا آنحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے ثابت ہوجانے کے بعد آپ پر اور اُن سبھی احکام پر ایمان لانا کہ جو خدا کی طرف سے نازل ہوئے ہیں ضروری اور واجب ہے،لیکن کسی بھی نبی اوراُس کی کتاب پر ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُس کی شریعت پر عمل کرنا بھی ضروری ہو، جیسا کہ مسلمین تمام انبیاء علیہم السلام اور اُن کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ گذشتہ شریعتوں پر عمل نہیں کرسکتے، جس طرح سے کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا کہ ہر اُمت پر اُسی دور کے نبی کی شریعت پر عمل کرنا واجب ہے(۱) لہذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت پر عمل کرنا تمام انسانوں پراُسی وقت واجب ہوگا

کہ جب آپ کی رسالت کسی خاص قوم سے مخصوص نہ ہو اور آپ کے بعد کسی دوسرے نبی کی بعثت نہ ہوئی ہو کہ جسکی وجہ سے شریعت اسلام کے منسوخ ہونے کا سوال پیدا ہو ۔

اِسی وجہ سے اس مسئلہ پر بحث کرنا ضروری ہے، کہ کیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت جہانی اور جاودانی ہے یا پھر کسی خاص قوم اور زمانے سے مخصوص ہے؟

اِس مسئلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اِسے صرف عقلی بنیاد پر حل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ نقلی علوم اور تاریخ میں تحقیق و جستجو کر نی ہو گی یعنی اس کو حل کرنے کے لئے معتبر اسناد کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔

اور جس کے لئے قرآن کریم کی حقانیت اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت و عصمت آشکار ہوچکی ہو اُس کے لئے کتاب و سنت سے زیادہ معتبر مدرک کچھ اور قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

اسلام کا جہانی ہونا۔

اسلام کا جہانی ہونا اور کسی خاص قوم سے مخصوص نہ ہونا اس دین کی ضروریات میں سے ہے، یہاں تک کہ وہ لوگ جو اسلام کو نہیں مانتے اُن لوگوں کوبھی بخوبی معلوم ہے کہ اسلام جہانی ہے اورکسی خاص سرزمین سے مخصوص نہیں ہے۔

اس کے علاوہ تایخی شواہد بے شمار ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں ،کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیصر روم، بادشاہ ایران، مصر و حبشہ کے حاکم ،اور شامات کے فرمانروا ،نیز عر ب کے قبیلوں کے رئیسوں کے نام، خاص خطوط تحریر فرمائے ،اور اُنھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے ،اُسے قبول نہ کرنے کی صورت میں عذاب سے ڈرایا،(۲) لہذا اگر دعوت اسلام عمومی نہ ہوتی تو دوسر ی سر زمینوں کے بادشاہوں کے نام دعوت اسلام کے لئے خطوط روانہ نہ کرتے۔

لہٰذا کوئی بھی شخص حقانیتِ اسلام پر ایمان اور اُس کی شریعت پر عمل کرنے میں فرق کا قائل نہیں ہوسکتا، اور کوئی بھی اُس شریعت پر عمل کرنے اور اُس کی پیروی کرنے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

اسلام کے جہانی ہونے پر قرآنی دلائل۔

جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا کہ ایسے مطالب کو ثابت کرنے کے لئے بہترین دلیل قرآن کریم ہے کہ جس کی حقانیت اور معتبر ہونا گذشتہ دروس میںثابت ہوچکا ہے، لہٰذا اگر کوئی ایک فرد بھی قرآن کا اجمالی مطالعہ کر ے تو اسے بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ اس کی دعوت جہانی ہے، اورکسی خاص قوم یا سرزمین سے مخصوص نہیں ہے، جیسا کہ بہت سی آیات میں(یَٰأَ یُّہَا النَّاسُ ) اے لوگو!(۳) یا پھر (یَا بَنِی ئَ ا دَمَ)اے اولاد آدم(۴) جیسے عناوین کے ذریعہ لوگوں کو خطاب کیا ہے، اور اپنی ہدایت کو (اَلنَّاس وَالعَالَمِینَ)تمام انسانوں '(۵)(۶) کے لئے قرار دیا ہے، اس کے علاوہ بہت سی آیات میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کو تمام انسانوں(اَلنَّاس وَ العَالَمِینَ)(۷)(۸) کے لئے مقرر کیا ہے اورایک آیت میں اس کی دعوت کو ہر اس شخص سے مخصوص ، اور شامل ہوجانا ہے جو اس سے باخبر ہوجائے(۹) ا سی طرح دوسرے مقامات پر ادیان آسمانی کے ماننے والوں کو اہل کتاب کے عنوان سے خطاب کیا ہے(۱۰) اور انھیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کو قبول کرنے کی طرف دعوت دی ہے، نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قرآن کے نزول کے ھدف کا دوسرے ادیان پر اسلام کی کامیابی کو قرار دیا ہے ۔(۱۱)

اِن آیات کومد نظر رکھتے ہوئے قرآن کی دعوت کے عمومی ہونے اور اسلام کے جہانی ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔

اسلام کا جاودانی ہونا۔

گذشتہ آیات جس طرح عمومی کلمات ''بنی آدم، العالمین، الناس'' کے استعمال اور غیر عرب قوموں کو خطاب کرنے کے علاوہ بقیہ آسمانی ادیان کے ماننے والوں کو مخاطب کرکے اسلام کے جہانی ہونے کو ثابت کرتے ہیں، اسی طرح زمان کو مطلق قرار دیتے ہوئے کسی خاص زمانہ سے مخصوص ہونے کی نفی کر تی ہے بلکہ اس آیت کی تعبیر(لیظہرہ علی الد ین)(۱۲) کسی بھی قسم کے شبہ کو زائل کردیتی ہے، اسی سورۂ فصلت کی ( ٤٢) آیت کے ذریعہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ جس میں خدا فرماتا ہے :( وَاِنَّهُ الکِتَٰب ٭عَزِ یز لَا یَأ تِیهِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیهِ وَلَامِن خَلفِهِ تَنزِیل مَن حَکِیمٍ حَمِیدٍ ) اور اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ قرآن کبھی بھی مقام اعتبار سے ساقط نہیں ہوسکتا، نیز یہ آیت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاتمیت کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے کسی دوسرے نبی اور اس کی شریعت کے ذریعہ دین اسلام کے منسوخ ہونے کو بھی رد کرتی ہے ،اس کے علاوہ اسی طلب کے تحت بے شمار روایتیں بھی وارد ہوئیں ہیں :

(حلال محمد حلال الی یوم القیامة، و حرامه حرام الی یوم القیامة (۱۳)

جس طرح سے اسلام جہانی ہے اسی طرح سے جاودانی بھی ہے جو دین کی ضروریات میں سے ہونے کے علاوہ کسی بھی دلیل سے بے نیاز ہے۔

چند شبہات کا حل۔

اسلام کے دشمن جنھوں نے اسلام کو نابود کرنے کے لئے اپنی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا ،اور برابر اُس سے بر سر یکار رہے ،اور ہمیشہ اس کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی ،انہوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا ہے جن کہ ذریعے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام عربوں سے مخصوص ہے اور بقیہ انسانوں کا اس سے کوئی سرو کار نہیں ۔

انھوں نے اپنے اعتراض کی تائید میں یہ آیت پیش کی ہے کہ جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کواپنے رشتہ داروں کو اکٹھا کرکے انھیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتی ہے، اسی طرح سورۂ مائدہ کی ٦٩، آیت کو بھی اپنی سند بناتے ہیں کہ جس میں خدا یہود و نصاریٰ اور صائیین کی طرف اشارہ کرنے کے بعد سعادت کے لئے ایمان کو معیار قرار دیتا ہے اور سعادت کے لئے اسلام کو قبول کرنے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتا، اس کے علاوہ اسلامی فقہ میں اہل کتاب کا شمار مشرکین میںنہیں ہے بلکہ جزیہ کوادا کرنے کے ذریعہ دامن اسلام میں ان کے مال و جان محفوظ ہیں اور وہ اپنی شریعت کے مطابق اعمال انجام دے سکتے ہیں، لہٰذا اس طرح انھیں اجازت دینا گویا اُن ادیان کی حقانیت کو تسلیم کرنا ہے۔

اس شبہ کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ آیت جس میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رشتہ د اورں اور اہل مکہ کا تذکرہ ہے، در اصل وہ آیت آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کے پہلے مرحلہ کو بیان کرنے والی ہے اور اس کے بعد اہل مکہ اور اس کے اطراف میں رہنے والوںاور اسی طرح پھیلتے پھیلتے تمام انسانوں کو اپنے دائرے میں شامل کرلیتی ہے، لہٰذا ایسی آیت کو اُن آیتوں کے لئے (مخصوص کرنے والی )نہیں مان سکتے کہ جو اسلام کے جہانی ہونے پر دلالت کرتی ہیں، اس لئے کہ یہ آیات عمومی طور پر لوگوں کو اپنا مخاطب بناتی ہیں اور انھیں تخصیص سے کوئی سر و کار نہیں ہے۔

لیکن سورۂ مائدہ کی مذکورہ آیت اِس نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تنہا اسی دین یا فلاں دین سے منسوب ہونا سعادت حقیقی کے حصول کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ سعادت کے لئے ایمان واقعی اور ان وظائف پر عمل کرنا بھی ضروری ہے جسے خدا نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اور اُن دلائل کی بنیاد پر جو اسلام کے جہانی اور جاودانی ہونے کو ثابت کرتے ہیں وہ اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کے بعد ان قوانین پرعمل ضروری ہے جو آپ پر نازل ہوئے۔

لیکن اہل کتاب کا مشرکین کے مقابلہ میں ممتاز ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ اسلام کو قبول کرنے اور اُس کے قوانین پر عمل کرنے سے معاف کردئے گئے ہیں، بلکہ ایک دنیوی مصلحت ہے جو اُن کے لئے رکھی گئی ہے، بلکہ شیعوں کے اعتقاد کے مطابق یہ چھوٹ بھی ایک معین مدت کے لئے ہے کہ جب امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور ہوگا تو اُن سے یہ اختیار بھی چھین لیا جائے گا اور ان سے بھی اسی طرح کا برتاؤ ہو گا کہ جس طرح مشرکین سے ہوا ہے، اس مطلب کو اس جملہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے( لیظهره علی الدین کله )

سوالات

١۔کس صورت میں تمام انسانوں پر اسلام کی پیروی کرنا واجب ہے؟

٢۔ اسلام کے جہانی اور جاودانی ہونے پرقرآنی دلائل کیا ہیں؟

٣۔ اس مطلب کے لئے ان دلائل کے علاوہ کیا کوئی اور دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں؟

٤۔ اس امر کی وضاحت پیش کریں کہ وہ آیت جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے رشتہ داروں کو دعوت اسلام کا حکم دیتی ہے کیا وہ آیت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کو ان کے رشتہ داروں سے مخصوص ہونے پر دلالت کرتی ہے۔؟

٥۔ اس مطلب کی وضاحت کریں کہ کیا سورۂ مائدہ کی آیت (٦٩) دوسری امتوں کا اسلام کی پیروی سے معاف ہونے پردلالت کرتی ہے؟

٦۔ کیا اہل کتاب کا اپنی شریعت کے مطابق عمل کرنا شریعت اسلام کے احکام کی پیروی سے معذور ہونے کی دلیل ہے؟

____________________

(١)اسی کتاب کے انتیسویں درس کی کی طرف رجوع کیا جائے.

(۲) یہ خطوط تاریخ میں درج ہیں جنھیں ''مکاتیب الرسول'' نامی کتاب میںجمع کردیا گیا ہے۔

(۳)سورۂ بقرہ ۔آیت٢١، نسائ۔ آیت ١٧٤، فاطر آیت ١٥

(۴)سورۂ اعراف۔ آیت ٢٦، ٢٧، ٢٨، ٣١، ٣٥، سورہ یس ۔ آیت٦٠.

(۵)سورۂ بقرہ۔ ١٨٥، ١٨٧، سورہ آل عمران۔ ١٣٨، ابراہیم۔١، ٥٢، جاثیہ ۔٢٠، زمر۔ ٤١، نحل۔ ٤٤، کہف۔٥٤، حشر ۔٢١.

(۶) سورۂ انعام ۔٩٠، یوسف ۔١٠٤، ص۔٨٧ ،تکویر ۔٢٧، قلم۔٥٢

(۷)سورۂ نسائ۔ ٧٩، حج۔ ٤٩، سبائ۔ ٢٨ (۸)سورۂ انبیائ۔١٠٧، فرقان۔١

(۹) انعام ۔١٩ (۱۰) سورۂ آل عمران۔ ٦٥، ٧٠، ٧١، ٩٨، ٩٩، ،١١٠، مائدہ۔ ١٥، ١٩

(۱۱) سورۂ توبہ ۔٣٣، فتح ۔٣٨، صف۔٩

(۱۲)سورۂ توبہ ۔٣٣،' فتح ۔٣٨، صف۔٩

(۱۳) کافی ،ج،١،ص ٥٧


پینتیسواں درس

خاتمیت

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

مقدمہ

خاتمیت پر قرآنی دلائل

خاتمیت پر روائی دلائل

ختم نبوت کا راز

چند شبہات کے جوابات

مقدمہ

١۔ دین اسلام کے جاودانی ہونے کی وجہ سے شریعت اسلام کا کسی دوسرے نبی کی بعثت سے منسوخ ہونے کا احتمال ختم ہوجاتا ہے، لیکن یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ کوئی ایسا نبی مبعوث ہو جوخود دین اسلام کی ترویج کرے اور اس کا مبلغ ہو،جیسا کہ گذشتہ انبیاء علیہم السلام میں سے بہت سے نبی ایسی ہی ذمہ داریوں کے پابند تھے یہ انبیاء علیہم السلام خواہ صاحب شریعت نبی کے زمانہ میں رہے ہوں جیسے جناب لوط علیہ السلام ، صاحب شریعت پیغمبر جناب ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں تھے اور اُن کی شریعت کے تابع تھے ،یا بنی اسرائیل کے درمیان مبعوث ہونے والے اکثر انبیاء علیہم السلام صاحب شریعت نبی کے بعد مبعوث ہوئے اور ان کی شریعت کے تابع تھے اِسی وجہ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاتمیت کے لئے ایک جداگانہ بحث کرنا ضروری ہے تا کہ ایسے تو ہمات ختم ہوجائیں۔

خاتمیت پر قرآنی د لائل۔

اسلام کے ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تمام ہوگیا ہے یعنی (آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خاتم ہیں) اور آپ کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی نبی مبعوث ہونے والا ہے یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی معلوم ہے کہ یہ اسلام کے اعتقادات میں سے ہے اور اس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اسی وجہ سے دوسری ضروریات کی طرح اِس کے لئے استدلال کی ضرورت نہیں ہے، اس کے علاوہ اس مطلب کو قرآن اور متواتر دلیلوں کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔

جیسا کے قرآن کریم فرماتا ہے:

( مَاکَانَ مُحَمَّد اٰبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُم وَلَکِن رَّسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبیِیّنَ ) (۱)

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم مردوں میںسے کسی کے باپ نہیں ہیں بلک اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔

یہ آیت واضح انداز میں آپ کے خاتم ہونے کو بیان کرتی ہے، لیکن اسلام کے دشمنوں نے اس آیت پر دو اعتراض کئے ہیں۔

(١) پہلا اعتراض یہ ہے کہ ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اس (کلمہ خاتم) کے وہی معنی مرادہیں جو مشہورہیں نیز یہ آیت سلسلہ انبیاء علیہم السلام کے ختم ہونے کی خبر بھی دے رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسولوں کی بعثت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔

دوسرا ا عترض یہ ہے کہ ،بالفرض اگر ہم تسلیم کرلیں کہ مفاد آیت وہی ہے جو آپ نے بیان کیاہے،یعنی آنحضرت سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں ،لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبوت کے ساتھ ، رسا لت کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے ،

پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ خاتم کے معنی ختم کرنے اور تمام کرنے والے کے ہیں اور خاتم کو اسی وجہ سے انگوٹھی کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کے لگنے کے بعد تحریر مکمل ہو جاتی ہے

دوسرے اعترض کا جواب یہ ہے کہ جو بھی نمائندہ خدا مقام رسالت سے سرفراز ہو وہ مقام نبوت کابھی مالک ہے، لہٰذا انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ کے ختم ہوتے ہی رسولوں کا سلسلہ بھی تمام ہوجاتا ہے اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا کہ(۲) اگر چہ مفہوم نبی رسول سے اعم نہیں ہے لیکن یہاںپر خود نبی رسول سے عام ہے۔

خاتمیت پر روائی دلائل۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاتمیت کے سلسلہ میں سیکڑوں روا یات موجود ہیں جو اس بات کی وضاحت اور تاکید کرتی ہیں جیسے کہ حدیث منزلت جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہوئی ہے اُسے شیعہ اور سنی علماء نے تواتر کے ساتھ نقل کی ہیں جس کی وجہ سے اُس کی صحت اور مضمون میں کسی بھی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا اور وہ روایت یہ ہے۔

جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ تبوک کے لئے مدینہ سے خارج ہونا چاہا تو حضرت علی علیہ السلام کو مسلمانوں کی دیکھ بھال اور اُن کے امور کی انجام د ھی کے لئے اپنا نائب بناکر مدینہ چھوڑ گئے ،لیکن حضرت علی علیہ السلام اس فیض الٰہی سے محروم ہو نے کے سبب غمگین و رنجیدہ خاطر تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، یہ دیکھ کر حضرت رسول اکرا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ سے فرمایا ۔

''اَمَا تَرضَیٰ اَن تَکُونَ مِنِّ بِمَنزِلَهِ هَارُونَ مِن مُوسیٰ اِلَّا اَنَّهُ لَا نَبَِّ بَعدِ (۳)

کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون علیہ السلام کو موسی علیہ السلام سے تھی؟ اور ا سی جملہ کے فوراً بعد فرمایا :

(اِلَّا اَنَّهُ لَانَبِّيَ بَعدِ )

بس فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا یہ جملہ آپ کی خاتمیت کے سلسلہ میں بھی ہر قسم کے شبہ کو دفع کردیتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ فرماتے ہیں:

(ایُّها النَّاس اِنَّهُ لَا نَبَِّ بَعدِ وَلَا اُمَّةَ بَعدَکُم ):(۴)

اے لوگو ! میرے بعد کوئی نبی اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں آئے گی۔

اسی طرح ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں :

(اَیُّهَا النَّاسُ اِنَّهُ لَا نَبَِّ بَعدِ وَلَا سُنَّةَ بَعدَ سُنَّتِی )(۵)

اے لوگو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری سنت کے بعد کوئی سنت نہیں ہوگی

ختم نبوت کا راز۔

جیسا کہ ہم نے اِس مطلب کی طرف گذشتہ صفحات پر بھی ا شار ہ کیا ہے کہ پے در پے نبیوں کے مبعوث ہو نے کی حکمت ایک طرف زمین کے مختلف گوشوں میں رہنے والوں تک پیغامات الٰہی کا پہچانا اس قدر آسان نہیں تھا اوردوسری طرف اجتماعی روابط کا پھیلنے کی وجہ سے حالات کا پیچیدہ ہوجانا کہ جس کے سبب نئے آیئن اور جدید قوانین کی ضرورت تھی، اس کے علاوہ زمانہ کے گذرنے کے ساتھ افراد یا جماعتو ںکے درمیان تبدیلی اور جاہلانہ دخالتوں کی وجہ سے، وجود میں آنے والی تحریفات کا تقاضا یہ تھا کہ کسی جدید نبی کی بعثت کے ذریعہ تعلیم الٰہی کو آگے بڑھایا جائے اورتحریفات کا خاتمہ ہو۔

لہٰذا جب پوری کائنات کے لئے تبلیغ رسالت الھی کی ذمہ داری صرف ایک رسول اور اس کے حامیوں اور جانشینوں کی مدد سے ممکن ہو جا اور اس کی شریعت کے احکام و قوانین حال و آئندہ کی احتیاجات کے جواب دینے پرقادر ہوں نیز مسائل جدید کو حل کرنے کے لئے اس شریعت میں آنی صلاحیت ہو اور اس کے علاوہ تحریف سے محفوظ رہنے کی ضمانت اُسے دی گئی، ہو تو پھر اس صورت میں کسی دوسرے پیغمبر کی بعثت کی کو ئی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن بشری علوم ایسے شرائط کی تشخیص سے ناتواں اور عاجز ہے ، فقط خدا ہے جو اپنے لامتناھی علم کی وجہ سے ایسے زمان و شرائط کے تحقق سے باخبر ہے جیسا کہ اُس نے آخری نبی اور اُس کی کتاب کے ساتھ انجام دیا۔

لیکن سلسلہ نبوت کے ختم ہوجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا او راُس کے بندو ںکے درمیان اب کوئی رابطہ نہیں رہتا، بلکہ اگر خدا چاہے تو کسی بھی وقت اپنے شائستہ بندوں کو علم غیب کے ذریعہ اضافہ کرسکتا ہے اگرچہ وحی کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو، جیسا کہ شیعوں کے عقیدہکے مطابق خدا نے ائمہ علیہم السلام کو ایسے علوم سے نوازا ہے، انشاء اللہ آئندہ دروس میں امامت سے متعلق مباحث کے سلسلہ میں بیان کریں گے۔

چند شبہات کے جوابات۔

گذشتہ بیان سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ختمِ نبوت کا راز۔

ایکً ،یہ ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب کی مدد سے پیغامات ا لہی کو تمام انسانوں تک پہنچا سکتے تھے

دوسرے یہ کہ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کتاب (قرآن) کے سلسلہ میں کسی بھی قسم کی تحریف سے محفوظ رہنے کی ضمانت لے لی گئی ہے،

تیسرے یہ کہ ۔ شریعت اسلام تا قیامت پیش آنے والی ضرورتوں کو پورا کرسکتی ہے۔

لیکن یہ ممکن ہے کہ ان مطالب کے پیش نظر کوئی یہ شبہ پیش کرے، جیسا کہ گذشتہ ادوار میں اجتماعی اور اقتصادی روابط کے پیچیدہ ہونے کی وجہ سے جدید احکامات یا اُن میں تغیرات کی ضرورت پڑھ جاتی تھی، یاپھر کسی دوسرے نبی کی بعثت کی ضرورت ہوتی تھی اسی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد بھی نمایاں تغیرات وجود میں آئے ہیں، اور اجتماعی روابط پیچیدہ ہوگئے ہیں،لہذا اس صورت میں ہمیں کہاں سے معلوم کہ آئندہ حالات کے بدلنے کی وجہ سے کسی دوسرے نبی کی بعثت کی ضرورت نہ پڑے؟

اس شبہ کے جواب میں ہم صرف اتنا کہیں گے کہ کس طرح کے تغیرات بنیادی قوانین کے بدل جانے کے موجب ہوتے ہیں، اس کی تشخیص بشر کے ہاتھ میں نہیں ہے اس لئے کہ ہمیں احکام و قوانین کی حکمتیں اور علتوں پر تسلط نہیں ہے بلکہ ہم نے تو اسلام کے جاودانی ہونے کے دلائل آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاتمیت کے ذریعہ کشف کئے ہیں کہ اب اس کے بعد اسلام کے بنیادی قوانین کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ ہم بعض اجتماعی مسائل کی پیدائش کا انکا ر نہیں کرتے کہ جن کے لئے نئے قوانین کی ضرورت ہے، لیکن اسلام نے اپنے مسائل کے قوانین کو وضع کرنے کے لئے ایسے اصول و قواعد وضع کر دئے کہ جس کی مدد سے باصلاحیت افراد ضروری احکامات کو حاصل کر کے انھیں جاری کر سکتے ہیں،اور ان مطالب کی تفصیلی بحث کو فقہِ اسلام کی بحث حکومت اسلامی (امام معصوم اور ولی فقیہ) کے اختیارات کے حصہ میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔

سوالات

١۔ اسلام کے جاودانی ہونے کے اثبات کے بعد خاتمیت کے سلسلہ میں بحث کی کیا ضرورت ہے؟

٢۔ قرآنی دلیل کے ذریعہ کیسے خاتمیت کو ثابت کیا جاسکتا ہے؟

٣۔ اس دلیل کے سلسلہ میں موجودہ شبہات کو ذکر کریں اور ان کے جوابات تحریر فرمائیں؟

٤۔ خاتمیت پر دلالت کرنے والی روایتوں میں سے تین روا یت کو ذکر کریں؟

٥۔ کیوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے بعد سے انبیا ء علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ ختم ہوگیا؟

٦۔ کیا ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد، علوم سے استفادہ کا راستہ بند ہوگیا ہے؟ کیوں؟

٧۔ کیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد وجود میں آنے والے سماجی تغیرات کے لئے جدید شریعت کی ضرورت نہیں ہے؟ کیوں؟

٨۔جدید مسائل کے پیدا ہونے کی وجہ سے سماج کی ضرورتوں کو آئین اسلام کے ذریعہ کیسے حل کیا جا سکتا ہے ۔

____________________

(۱)سورۂ احزاب۔ آیت ٤٠.

(۲)اس کتاب کے انتیسویں درس کی طرف رجوع کیا جائے۔

(۳)بحارا الانوار۔ ج٣٧ص٢٨٩٢٥٤. صحیح بخاری ۔ج٣ ص٥٨. صحیح مسلم ۔ج٢ ص ٣٢٣. سنن ابن ماجہ ۔ج ١، ص٢٨. مستدرک حاکم۔ ج٣ ص١٠٩. مسند ابن حنبل۔ ج١ ص ٣٣١و ج٢ ص٣٦٩،٤٣٧.

(۴) وسائل اشیعہ ۔ج١ ص ١٥. خصال ۔ج١ص ٣٢٢ خصال ج۔٢ ص ٤٨٧.

(۵) وسائل الشیعہ، ج١٨ ص٥٥٥. من لا یحضرہ الفقی، ج٤ ص ١٦٣. بحار الانوار، ج٢٢ ص ٥٣١. کشف الغمہ ،ج١، ص٢١


چھتیسواں درس

امامت

مقدمہ

مفہوم امامت

مقدمہ

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر کے ،جب اِس شہر میں پہنچے تو اس شہر کے لوگوں اور وہاںبسنے والے مہاجر مسلمانوں نے بڑے زور و شور سے آپ کا استقبال کیا اسی وجہ سے اِنھیں انصار اور ہجرت کرنے والوں کو مہاجر کا نام دیا گیا، آپ نے وہاں ایک اسلامی سماج کی بنیاد ڈالی اور اس کی باگ ڈ ور اپنے ہاتھوں میں لی، مسجد النبی محل عبادت اور تبیلغ رسالت کے علاوہ لوگوں کی تعلیم و تربیت کا مرکز ہونے کے ساتھ مہاجروں اور ناداروں کی پناہگاہ بھی تھی،وہا ں پر لوگوں کی اقتصادی و معاشرتی ضرور توں کو پورا کیا جاتا تھا ،اس طرح وہ جگہ محلِ قضاوت او رجھگڑوں کے حل و فصل اور جنگ کے لئے مشورہ، فوج کو میدان جنگ کی طرف حرکت دینے اور ان کی مدد کرنے کا مرکزتھی غرضکہ حکومت کے تمام مسائل اِسی مسجد میں حل وفصل ہوتے تھے بلکہ لوگوں کی دنیا اور ان کے دین کے تمام امور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ میں تھے اور خود مسلمان بھی آپ کی اطاعت میں کوشاںرہتے تھے اس لئے کہ خدا نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کا مطلق حکم دیاتھا(۱) بلکہ خدانے سیاسی،قضائی اور جنگی مسائل میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کے لئے نہایت تاکید کی تھی۔(۲)

ایک دوسری تعبیر کے مطابق آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منصب نبو ت و امامت نیز تعلیم و تربیت کے فرائض اور سماج کے امور کو حل و فصل کرنے پر بھی مامور تھے، اور جس طرح اسلام وظائف عبادی، سیاسی ،اخلاقی، اقتصادی، اور حقوقی وغیرہ سے سرفراز ہے، اسی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے وظائف کو بیان کرنے کے ذمہ دار ہونے کے علاوہ قوانین الٰہی کو جاری کرنے کے عہدہ دار اور حکومتی منصب کے مالک تھے۔

اس لئے کہ یہ امر آشکارہے کہ وہ دین جو تاقیامت تمام انسانوں کی رہبری کا دعویدار ہے وہ اُن مسائل کے مقابل میں سہل انگار ی سے کام نہیں لے سکتا، اور وہ سماج جو اس دین کی بنیادوں پر قائم ہو وہ سیاسی اور حکومتی مناصب سے مبرا نہیں ہوسکتا وہ منصب جو عنوان امامت کے ضمن میں شمار کئے جاتے ہیں۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد کون اس مقام کا عہدہ دار و سزاوار ہے کون اُسے سنبھالے؟

کیا جس طرح خدا نے یہ منصب اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو عطا کیا تھا اِسی طرح کسی اور کو عطا کیا ہے؟ کیا یہ منصب صرف اِسی صورت میں قابل قبول ہے کہ جب خدا اُسے عطا کرے؟یا پھر خدا کی جانب سے اس منصب کو عطا کرنا صرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخصوص تھا، اور آپ کے بعد اس منصب کی ذمہ دار ی کو خود عوام تعین کرے؟کیا عوام کو ایسا کوئی حق ہے یا نہیں؟۔

اور یہی مسئلہ سنی اور شیعہ حضرات کے درمیان نقطہ اختلاف ہے، اس لئے کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ یہ منصب الٰہی خود خدا کی جانب سے باصلاحیت لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے، لہذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا کی جانب سے اس امر کو انجام دیا ہے اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنا بلا فصل خلیفہ بنادیا

نیز اُن کے بعد ان کے گیارہ فرزندوں کو اِس منصب کی عہدہ داری کے لئے مقرر فرمادیا تھا ، لیکن اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ امامت بھی رسالت و نبوت کے منصب کی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے ساتھ تمام ہوگیا ہے، اور اِس کے بعد سے امام کا انتخاب لوگوں کے اختیار میں دے دیا گیا ہے، یہاں تک کہ بعض اہل سنت کے بزرگ علماء کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اسلحہ کی بنیاد پر مسلط ہوجائے تو اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔(۳) لہذا معلوم ہے کہ یہ نظریہ جباروں اور ظالموں کے لئے ایک موقع غنیمت ہے جواپنے زور و ظلم کی بنیاد پر جس حد تک چاہیں سوء استفاد کر سکتے ہیں، اور اس طرح مسلمانوں کے ضعف اور اُن کی بدبختی کا سبب بن سکتے ہیں۔

در حقیقت اہل سنت نے امامت کو خدا کی جانب سے منصوب کئے بغیر قبول کر کے دین اور سیاست میں جدائی کی بنیاد ڈالی ہے، اور شیعوں کے عقیدہ کے مطابق یہی نقطہ اختلاف اسلام کی صحیح راہ اور خدا کی عبادت سے انحراف کا باعث بنا ہے، جس کی وجہ سے آج تک بلکہ آئندہ بھی ہزاروں ناگوار حوادث وجود میں آتے رہیں گے۔

اسی وجہ سے ہر فرد مسلمان پر واجب ہے کہ اس مسئلہ کے سلسلہ میںتعصب اور تقلید سے پرہیز کرتے ہوئے تحقیق کرے(۴) اور مذہب حق کو پہچان کر اُس کی شدت سے حمایت کر ے اِس مسئلہ میں یہ امر آشکار ہے کہ جہان اسلام کی مصلحت کو پیش نظر رکھنا چاہیے، بلکہ دشمنان ا سلا م کے لئے دو مذہبوںکے اختلافات اور تفرقہ سے فائدہ اٹھنے کا موقع نہیں دینا چاہئے، اور کسی بھی صورت میں کوئی بھی ایسا عمل انجام نہیں دینا چاہیے جو مسلمانوں میں اختلاف کا باعث بنے، نیز کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کا اتحاد باقی رہ جائے، اس لئے کہ اس تفرقہ کا نقصان تمام مسلمانوں کو اٹھانا ہوگا اور مسلمانوں کے معاشرہ کے ضعیف ہونے کے علاوہ اُس سے کوئی اور نتیجہ ظاہر نہیں ہوسکتا، لیکن اس طرح مسلمانوں کے درمیان حفظ وحدت کی خاطر مذہب حق کی شناخت کا راستہ بند نہیں ہونا چاہئے تا کہ مسائلِ امامت کے سلسلہ میں طالبانِ حق تحقیق سے محروم نہ ہوسکیں، اس لئے کہ حق و حقیقت کو پالینا مسلمانوں کی دنیوی اور اخروی سعادت کا باعث ہے۔

مفہوم امامت۔

امامت لغت میں رہبری کے معنیٰ میں ہے چنانچہ جو بھی راہ حق میں یا راہ باطل میں کسی گروہ کی رہبری کرے اسے امام کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں کفار کے لئے کلمہ ''أَ ئِمَّةَ الکُفرِ''(۵) استعمال ہوا ہے اور نمازی جس شخص کی اقتدا کرتے ہیں اسے امام جماعت کہا جاتا ہے۔

لیکن علم کلام میں امامت یعنی دینی اور دنیوی امور میں سماج ِاسلامی پر ریاست عام ،اِس تعریف میں دنیوی امور کا شامل کرنا دائرہ امامت کی وسعت کی بنا پر ہے وگرنہ سماج اسلامی کے دنیوی امور کی تدبیر دین اسلام کا ایک جزء ہے۔

مذہب تشیع کے لحاظ سے ایسی حکمرانی اسی وقت صحیح ہوگی کہ جب خداوند عالم کی طرف سے عطا ہوئی ہو اور اصالة،ً یا،نیابةً ایسے مقام کا مالک وہی ہو سکتا ہے جو احکامِ اسلامی کوبیان کرنے میں خطاؤں سے معصوم اور گناہوں سے دور ہو، بلکہ امام کے لئے نبوت و رسالت کے علاوہ تمام الٰہی منصبوں پر فائز ہونا ضروری ہے تا کہ ، قوانین احکام اور معارف اسلامی کے سلسلہ میں اس کے بیانات حجت ہوں اور حکومتی پیمانہ پر اُس کے قوانین واجب الاطاعة قرار پائیں۔

اس بیان کے لحاظ سے شیعہ اور سنی حضرات کے درمیانِ موضوع امامت کے تحت اختلاف تین چیزوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔

١۔ اول یہ کہ امام خدا کی جانب سے منصوب ہونا چاہئے۔

٢۔ دوم یہ کہ علوم الٰہی کا مالک اور اس کا خطائوں سے محفوظ و مصؤن ہونا ضروری ہے ۔

٣۔ سوم یہ کہ گناہوں سے معصوم ہونا بھی ضروری ہے۔

البتہ معصوم ہونا امامت کے مساوی نہیں ہے، اس لئے کہ شیعوںکے اعتقاد کے مطابق حضرت زہرا بھی معصوم تھیں، اگر چہ مقام امامت کی مالک نہیں تھیں، جیسا کہ حضرت مریم بھی مقام عصمت پر فائز تھیں اور شاید او لیاء الٰہی کے درمیان اوربھی افراد موجود ہوں جو عصمت درجہ پر فائز ہوں کہ جن کی ہمیں کوئی اطلاع نہ ہو ، بلکہ بنیادی اعتبار سے معصوم شخص کا پہچاننا خدا کی جانب سے اطلاع کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

سوالات

١۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منصب نبوت و رسالت پر فائز ہونے کے علاوہ اور کن مناصب پر فائز تھے؟

٢۔ شیعہ اور سنی حضرات کے درمیان نقطہ اختلاف کیا ہے؟

٣۔ نصب الٰہی کے بغیر امامت کو قبول کرلینے کی وجہ سے کیسے نتائج سامنے آسکتے ہیں؟

٤۔ امامت کے لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہیں؟

٥۔ امامت کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟

____________________

(۱)سورۂ آل عمران۔ ١٣٢٣٢ نسائ۔ ٨٠٦٩١٤١٢. مائدہ۔ ٩٢، انفعال ۔٤٦٢١. توبہ۔ ٧١ نور۔ ٥٦٥٤٥١. احزاب۔٦٦:٧١ .حجرات۔ ١٤ فتح ۔١٧١٦. محمد۔ ٣٣. مجادلہ۔ ١٢ ممتحن۔ہ ١٢ تغابن۔ ١٢ جن ٢

(۲) سورۂ آل عمران۔ ١٥٢. نسائ۔ ٤٢ ٥٩ ٦٥ ١٠٥، مائدہ۔ ٤٨، حج۔ ٦٧، احزاب۔ ٦ ٣٦. مجادلہ۔ ٨ ٩،. حشر۔٧

(۳)ابویعلی کی کتاب ''الاحکام السلطانیہ'' اور ابو القاسم سمرقندی کی کتاب کا ترجمہ السواء والاعظم'' ص ٤٠ ص٤٢ کی طرف رجوع کریں.

(۴)خدا کا شکر ہے کہ بہت بڑے بڑے دانشمندوں نے اس راہ میں بڑی تحقیق کی ہے جسے مختلف زبانوں میں مختلف انداز میں مرتب کیا ہے اور حق کے طلبگاروں کے لئے راستہ بالکل ہموار کردیا ہے ،جس میں سے عبقات الانوار، الغدیر، دلائل الصدق غایہ المرام ا ور اثبات الھدا، کا نام لیا جاسکتا ہے، لیکن وہ لوگ کہ جن کے پاس فرصت نہیں ہے وہ لوگ کت ا ب المراجعات کا مطالعہ کریں جو سنی اور شیعہ عالموں کے درمیان مکاتبات پر مشتمل ہے، اور اسی طرح ''اصل الشیعہ و اصولہا'' کا مطالعہ کریں، ان دونوں کتابوں کا فارسی میں ترجمہ ہوچکا ہے۔

(۵) سورۂ توبہ۔ آیت۔ ١٢


سیتیسواں درس

امام علیہ السلام کی احتیاج

مقدمہ

وجود امام علیہ السلام کی ضرورت

مقدمہ

وہ لوگ جو اعتقادی مسائل میں گہری فکر کے مالک نہیں ہیں، وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان اختلاف صرف یہ ہے کہ شیعہ حضرات معتقد ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کردیا تھا لیکن سنی حضرات معتقد ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا، بلکہ پہلے مرحلہ میں خود لوگوں نے جانشین مقرر کیا ،اور دوسرے مرحلہ میں اُسی جانشین نے اپنے لئے دوسرے جانشین کا انتخاب کیا، اور تیسرے مرحلہ میں جانشین کا انتخاب چھ لوگوں پر مشتمل شوری کو سونپ دیا گیا تھا، اور خلیفہ چہارم کو پھر خود لوگوں نے انتخاب کیا، لہٰذا مسلمانوں کے درمیان خلیفہ کی تعیین کے لئے کوئی روش نہیں ہے اسی وجہ سے خلیفہ چھا رم کے بعد جس کے پاس بھی فوجی طاقت تھی وہ خلیفہ بن بیٹھا، جیسا کہ آج غیر مسلمان ممالک میں ہوتا ہے۔

یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق شیعہ حضرات خلیفہ اول کی تعیین کے سلسلہ میں اسی روش کے قائل ہیں جو خلیفہ دوم کو معین کرنے کے لئے اپنائی گئی تھی، صرف فرق اتنا ہے کہ وہاں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات کو لوگوں نے نہیں مانا ،لیکن خلیفہ دوم کے سلسلہ میں خلیفہ اول کی بات سب نے مان لی۔

لیکن ہم یہاں پر اِن سوالات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ۔

١۔ خلیفہ اول کو خلیفہ دوم کی تعیین کا حق کس نے دیا؟ اور کیوں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ( اہل تسنن کے اعتقاد کے مطابق) خلیفہ کی تعیین میں اسلام کا خیال نہیں رکھا، اور کیوں ایک مسلمان سماج کو سرپرست کے بغیر تنہا چھوڑ دیا، حالانکہ آپ جب بھی مدینہ سے خارج ہوتے تھے اپنے لئے کوئی جانشین مقرر فرمادیتے تھے، اس کے علاوہ خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بعد سر اٹھانے والے فتنوں سے باخبر تھے، اس طرح کے سوالات سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ سنی اور شیعہ حضرات کے درمیان اختلاف ،کیایہ ہے کہ امامت ایک دینی مقام اور ایک الٰہی منصب ہے کہ وہ جسے چاہے منصوب کرئے یا پھر ایک دنیوی سلطنت اور اجتماعی عو امل کے تابع ہے؟

اور شیعوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے جانشین کو معین کرنے میں مستقل نہیں تھے ،بلکہ آپ نے اُسے خدا کے فرمان کے مطابق انجام دیا ہے در اصل ختم نبوت کی حکمت امام معصوم علیہ السلام کو معین کرنے سے مر بوط ہے جس کے ذریعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اسلامی سماج کی مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔

اس مطلب سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ کیوں شیعوں کے نزدیک فرعی ہونے کے بدلے امامت ایک ''اصل اعتقادی'' ہے اور کیوں وہ لوگ ان شرائط ( علم خدادادی) عصمت (خدا کا منصوب کرنا) کو امام میں ہونا ضروری سمجھتے ہیں؟ اور کیوں شیعہ اعتقاد مفاہیم احکام الہی کی شناخت اور اسلامی سماج پر فرما راوائی جیسے مفاہیم اس طرح سے ملے ہوئے ہیں، کہ گویا اِن تمام مفاہیم پر مفہوم امامت چھایا ہوا ہے لہٰذا ہم یہاں پر مفہوم امامت اور عقائد تشیع کے درمیان اس عقیدہ کی موقعیت اور اس کی حجت کے سلسلہ میں بحث کرتے ہیں۔

وجودا مام علیہ السلام کی ضرورت۔

بائیسویں درس میں یہ نکتہ روشن ہوگیا تھا کہ خلقتِ انسان کا ہدف اسی وقت کامل ہوسکتا ہے کہ جب وحی کے ذریعہ اُس کی ہدایت کی جائے اور حکمتِ الٰہی کا تقاضا تھا کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو مبعوث کرے تا کہ وہ انسانوں کو دنیا و آخرت میں سعادتمندی کا درس دے سکیں، نیز انسانوں کو درجۂ کمال تک تربیت کریں، اور اگر ممکن ہو تو سماج میں احکامِ الٰہی کو جاری کریں۔

اور چونتیسویں اور پینتیسو یں درس میں اس امر کو روشن کردیا گیاہے کہ دین ِاسلام، جاودانی، ابدی اورنسخ نہ ہونے والا دین ہے ،اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد کسی نبی کی بعثت واقع نہیں ہوسکتی، اور ختمِ نبوت بعثت انبیا ء علیہم السلام کی حکمت سے اُسی وقت سازگار ہے کہ جب آخری شریعت تمام انسانوں کی ضروریات کو پورا کرسکے، اور تاقیامت اس کی بقا کی ضمانت ہو۔

یہ ضمانت قرآن میں موجود ہے اور خدا نے اس کتاب کو کسی بھی قسم کی تحریف سے محفوظ رکھنے کی ضمانت لی ہے، لیکن قرآن کی آیات سے تمام احکامات آشکار نہیں ہیں، نماز کی رکعات کی تعداد اور اُسے انجام دینے کی کیفیت اس طرح اور بھی بہت سے مستحبّات ہیں کہ جن کی کیفیتوں کو قرآن نے بیان نہیں کیا، اس کے علاوہ خود قرآن نے بھی احکامات کی تفاصیل بیان نہیں کی ہے، بلکہ یہ کام آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سپرد تھا، تا کہ جو علم خدا نے(وحی کے علاوہ) آپ کو عطا فرمایا تھا، اس کی مدد سے تشریح فرماتے(۱) اِسی وجہ سے آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نسبت کا شمار اسلام کو پہچاننے والے اصلی منابع میں سے ہوتا ہے۔

لیکن آپ کی زندگی کی دشوار یا ں، جیسے شعب ابی طالب کے تین سال، اور دس سال دشمنان اسلام سے جنگ کے دوران ، آپ کو اجازت نہیں دی، کہ تمام احکامات الہی کی تفصیلوں کو بیان کرتے ، اور جو کچھ اصحاب نے آپ سے معلوم کیا تھا، اس کا بھی سالم رہ جانا خطرے سے خالی نہیں تھا، یہاں تک کہ وضو کا مسئلہ جو آج تک اختلاف کا شکار ہے اُسے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں کے درمیان سالہا انجام دیا تھا، لہذا جب احکام عملی کا یہ حال ہے، جبکہ یہ احکام ہمیشہ لوگوں کی نظروں کے سامنے اور اُن کی ضروریات میں سے ہیں، جس میں تحریف آسان نہیں ہے، تو پھر پیچیدہ اور سخت ترین احکامات خصوصاً وہ احکامات جو دنیا پرستوں اور ہوسرانوں کے مخالف ہیں ان میں تحریف کے امکانات کہیں زیادہ موجود ہیں(۲)

ان نکات کے پیش نظر یہ امر آشکار ہوجاتا ہے کہ دین اسلام اُسی وقت دین کامل اور تاقیامت تمام انسانوں کی ضروریات پورا کرنے والا بن سکتا ہے کہ جب اُس میں اُن ضروری مصلحتوں کو پورا کرنے والے اسباب موجود ہوں وہ مصلحتیں کہ جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد خطرات کا شکار ہو ئیں، اور یہ مشکل آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف جانشین کے معین کئے بغیر حل نہیں ہو سکتی تھی، اور جانشین بھی ایسا ہو جو علوم الٰہی سے آراستہ اور احکامات کو اِس طرح بیان کرے ،جس طرح وہ نازل ہوئے ہیں، نیز عصمت کی صفت سے مزین بھی ہو،تا کہ نفسانی اور شیطانی حملات کا شکار نہ ہو اور دین میں جان بوجھ کر کوئی تحریف نہ کرے، اس کے علاوہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح لوگوں کی تربیت کر سکے اور انھیں کمال کی آخری منازل تک رہنمائی کر سکے اور اگر شرائط جمع ہوجائیں حکومت کی باگ ڈور سنبھال کر احکام الہی کو جاری کرے اور جہان میں حق و عدالت کو قائم کرے۔

نتیجہ: ختمِ نبوت اُسی وقت حکمت الٰہی سے سازگار ہو سکتی ہے کہ جب اُسے امام معصوم کے نصب سے مربوط کیا جائے جو نبوت و رسالت کے علاوہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام صفات سے متصف ہو۔

اس طرح وجود ِامام کی ضرورت بھی ثابت ہوجاتی ہے اور علوم الٰہی سے آراستہ ہونے کے علاوہ مقامِ عصمت پر فائز ہونے کی ضرورت بھی، نیز امام کا خدا کے فرمان کے مطابق منصوب ہونا بھی صرف اِس لئے ہے کہ اُسے معلوم ہے کہ کہاں منصب امامت کو قرار دے بلکہ وہی بندوں کی ولایت کامالک ہے اور اس میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ اِس منصب کو با صلاحیت لوگوں کو عطا کردے۔

اس مقام پر اس نکتہ کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ اہل سنت امام کی بیان کی گئی خصوصیات میں سے کسی بھی خصوصیت کے قائل نہیں ہیں، اور نہ ہی انھیں اس بات کا دعویٰ ہے کہ وہ خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے منصوب ہوئے ہیں، نیز مقام عصمت پر فائز ہونے اور علوم الہی سے آراستہ ہونا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اُنھوں نے اپنی کتابوں میں اُن کی خطائوں اور لوگوں کے سوالات کے مقابل میں عاجزی کو تحریر بھی کیا ہے، جیسا کہ انھوں نے خلیفہ اول کے لئے نقل کیا ہے کہ (انّ ل شیطان یعترین) اور خلیفہ دوم کی نسبت نقل کیا ہے کہ اس نے خلیفہ اول سے بیعت کو ایک بے تدبیر امر کا نام دیا(۳) اور بارہا اپنی زبان سے اس جملہ کی تکرار کی (لولا علّى لهلک عمر )(۴) خلیفہ سوم(۵) اور خلفاء بنی عباس اور بنی امیہ کی خطائیں اس قدر آشکار ہیں کہ انھیں بیا ن کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ جو بھی تاریخِ خلفاء سے معمولی آشنائی رکھتا ہو اسے بخوبی ان خطائوں کا علم ہے جو انھوں نے انجام دی ہیں۔

سنیوں کے مقابلہ میں صرف شیعہ حضرات ان شرائط کا بارہ اماموں میں ہونا ضروری سمجھتے ہیں، مذکورہ وضاحت کے ذریعہ امامت کے سلسلہ میں شیعوں کے عقیدہ کی صحت آشکار ہوجاتی ہے، جسے ثابت کرنے کے لئے مفصل دلائل کی ضرورت نہیں ہے اس کے باوجود ہم اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے آئندہ دروس میں کتاب و سنت سے سہارا لیں گے۔

سوالات

١۔ مسئلہ امامت میں شیعوں کا نظریہ اور اس مسئلہ میں اہل سنت سے اختلاف کو بیان کریں؟

٢۔ کیوں شیعہ حضرات امامت کو (اصل اعتقاد)کے عنوان سے معتبر جانتے ہیں؟

٣۔ وجود ِامام علیہ السلام کی ضرورت کو بیان کریں؟

٤۔ مذکورہ بیانات سے کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں؟

____________________

(١)سورۂ بقرہ۔ آیت ١٥١، آل عمران۔ ١٦٤. جمعہ۔ ٢،. نحل ۔٦٦ ٦٤. احزاب ۔٢١ حشر۔٧

(۲) علامہ امینی نے الغدیر میں سات سو احادیث گھڑنے والوں کے نام ذکر کئے ہیں کہ جن میں سے بعض کی طرف ایک لاکھ احادیث کے گھڑنے کی نسبت دی گئی ہے (الغدیر ج٥ ص ٢٠٨)

۳۔ شرح نھج البلاغہ ،ج ١ ،ص ١٤٢ ، ١٥٨ ،ج،٣، ص٥٧

۴۔الغدیر ،ج٦، ص ٩٣ کے بعد ،

۵۔الغدیر ٨،ص ٩٧کے بعد


اڑتیسواں درس

منصب امام

منصب امام

گذشتہ درس میں ہم نے وضاحت کر دی ہے کہ ختم نبوت کا سلسلہ ،امام معصوم علیہ السلام کو منصوب کئے بغیر حکمت الٰہی کے خلاف ہے، اور جہانی و جاودانی اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اُس کے لئے شائستہ جانشین معین کئے جائیں، جو نبوت و رسالت کے علاوہ تمام مناصب الٰہی سے سرفراز ہو۔

اس مطلب کو قرآنی آیات اور سنی و شیعہ تفا سیر میںموجود ہ روایات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔جیسا کہ قرآن میں سورۂ مائدہ کی تیسری آیت میں خدا فرماتا ہے:

( اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دَینَکُم وَ اَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دیناً )

میں نے آج تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے دین ِاسلام سے راضی ہوگیا۔

یہ آیت تمام مفسرین کے قول کے مطابق حجة الوداع کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے چند ماہ پہلے نازل ہوئی، جس میں اسلام کاآسیب پذیری سے محفوظ رہ جانے کی وجہ سے کفار کی نااُ میدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ''آج میں نے تمہارے دین کو کامل اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا'' اور ان روایات کی روشنی میںجو اِس آیت کے ضمن میں وارد ہوئی ہیں یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہ اکمال و اتمام، کفار کی ناامیدی سے مر بوط اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے حکم خداوندی کے مطابق جانشین کے انتخاب کے ذریعہ متحقق ہوجاتا ہے، اس لئے کہ کفار اِس خیال خام میں تھے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد چونکہ آپ کا کوئی فرزند نہیں تھا، لہٰذا اسلام بے سرپرست اور سرگردان ہوجائے گا، لیکن جانشین کے انتخاب کے ذریعہ دین کامل ہوگیا اور کافروں کی اُمیدوں پر پانی پھر گیا(۱)

دین کے اکمال کی داستان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجة الوداع سے فارغ ہو کر مدینہ کی جانب لوٹے تو غدیر خم کے مقام پر تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور ایک مفصل خطبہ دینے کے بعد آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوںکو مخاطب کر کے سوال کیا(اَلَستُ اَولیٰ بِکُم مِن اَنفِسِکُم )(۲) کیا میں خدا کی جانب سے تمہارا ولی نہیں ہوں، سب نے مل کر، ہاں کہا ، یہ جواب سن کر آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے اٹھاکر فرمایا ''مَن کُنتُ مَولَاہُ فَعَلِیّ مَولَاہُ''. اور اس طرح آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فرمادیا، اور پھر حاضرین نے آپ کی بیعت کی نیز خلیفہ دوم نے بیعت کرنے کے ضمن میں حضرت علی ـ کو ان القاظ میں تہنیت پیش کی(بَخٍ بَخٍ لَکَ یَا عَلیّ اَصبَحتَ مولای وَ مولیٰ کُل مُومِن وَ مُؤمِنَةٍ)(۳) اُس روز یہ آیت نازل ہوئی( اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دَینَکُم وَ اَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُم الِاسلَامَ دِینا ) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تکبیر کہی اور فرمایا:( تَمامُ نبُوَّتِی وَ تَمامُ دِینِ اللّہِ ولایةُ علیٍّ بَعدِی)

اور ایک روایت میں آیاہے کہ جسے بعض اہل سنت کے بزرگ علماء نے نقل کیا ہے کہ ابو بکر اور عمر اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا، کہ کیا یہ ولایت صرف حضرت علی علیہ السلام سے مخصوص ہے؟ تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا: ہاں یہ وصایت علی علیہ اسلام اور میرے اوصیاء سے تاروز قیامت مخصوص ہے، تو انھوں نے پھرسوال کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوصیاء کون لوگ ہیں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''

(عَلِی اَخِی وَ وَزِیرِی وَ وَارِثِی وَ وَصِی وَ خَلِیفَتِی فِی اُمَّتیِ وَ وَلیُّ کُلّ مومن مِن بَعدِی ثُمَّ اِبنِی الحَسن ثُمَّ اِبنِی الحسین ثُمَّ تِسعَةُ مِن وُلدِ اِبنِی الحُسین واحداً بَعدَ واحدٍ القرآن مَعَهُم وَ هُم مَعَ القُرآنِِ لَا یُفارِقُهُم وُ لَا یُفَارِقُهُم حَتَّی یَرِدوا عَلیَّ الحَوض )(۴)

ان روایات کی روشنی میں جو مطلب سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجة الوداع سے پہلے اس امر کے لئے مامور کردئے گئے تھے لیکن آپ کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں لوگ آپ کی جانشینی کو آپ کے شخصی و نجی نظر یہ پر حمل نہ کر یں، اور اسے قبول کرنے سے انکار کردیں، اِسی وجہ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موقع کی تلاش میں تھے تا کہ اس امر کا اعلان کردیں، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو ئی( یَااَیُّهَاالرَّ سُولُ بَلِّغ مَا اُنزِلَ الیکَ مِن رَبِّک وَ اِن لَم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَهُ وَ اللَّهُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) .(۵)

اے رسول جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا جا چکا ہے اُسے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا ،تو گویا تم نے میری رسالت کا کوئی کام نہیں کیا او تم ڈرو نہیں خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

آیت میں اِس امر کو لوگوں تک پہنچانے کی تاکید اس حد تک ہے کہ اگر یہ حکم انجام نہیں پایا تو گویا تبلیغ رسالت کے انجام نہ دینے کے برابر ہے، آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خوشخبری دیتا ہے کہ اِس پیغام کے برُے نتائج سے محفوظ رکھے گا، یہ آیت جیسے ہی نازل ہوئی، آپ کو معلوم ہوگیا ،کہ اس پیغام کا لوگوں تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے اور اِس سے زیادہ تاخیر جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کا اعلان کردیا۔(۶)

اگر چہ وہی دن اِس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے اور لوگوں سے بیعت لینے سے مخصوص تھا، وگرنہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا پنے دوران حیات میں مختلف مقامات پر مختلف انداز میں حضرت علی ـ کی جانشینی کو ، لوگوں کے گوش گذار کرایا تھا بلکہ بعثت کے پہلے ہی سال جب آیہ،( وَاَنذِر عَشِیرَتَکَ الَاقرِبِینَ'' ) (۷) نازل ہوئی ،تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس وقت فرمایا: جو شخص سب سے پہلے میری دعوت کو قبول کرے گااور میری مدد کر ے گا، وہ میرے بعد میرا جانشین و خلیفہ ہو گا، اور فریقین کا اس بات پر اتفاق ہے ، جس شخص نے سب سے پہلے اعلان نصرت کیا حضرت علی علیہ السلام تھے(۸) اسی طرح جب آیہ( یَا ایها الذین آمنوا اطیعو الله و اطیعو الرسولَ و اُولی الامر منکم ) (۹) نازل ہوئی، اور اس آیت نے اولو الامر کی اطاعت کو مطلق اور اُسے اطاعت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے برابر قرار دیا تو جابر بن عبد اللہ انصاری نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا کہ یہ اولو الامر کون ہیں کہ جن کی اطاعت کاآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کے ساتھ حکم دیا گیا ہے؟! تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا :

(هم خلفائی یا جابر و ائمةُ المسلمینَ مِن بَعدِی، اَوَّلُهُم علیُّ ابن ابی طالب، ثُّمَ الحسن، ثُّمَ الحسین، ثُّمَ علی بن الحسین ثم محمد بن علی المعروف بالتوراة بالباقر، سَتُدرِکُهُ یا جابر، فاذا لَقیتَهُ فاقرَأهُ منّی السلام،َ ثُّمَ الصادق جعفر بن محمد، ثّم موسیٰ بن جعفر، ثم علی بن موسیٰ، ثم محمد بن علی، ثم علی بن محمد، ثم الحسن بن علی، ثم سمیّی وَکنیّی حجة اﷲ فی ارضه بقیته فی عباد ه ابن الحسن بن علی )(۱۰)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیشینگوئی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری امام باقر علیہ السلام کے زمانہ تک با حیات رہے اور آنحصرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلام کو پہنچایا ،

ایک دوسری حدیث میں ابو بصیر سے، اس طرح منقول ہے کہ ابو بصیر نے آیت اولوا الامر کے سلسلہ میں امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا ،تو آپ نے جواب میں فرمایا: یہ آیت حضرت علی، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے، تو میں نے دوبارہ عرض کیا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو پھر قرآن میں حضرت علی علیہ السلام اور اُن کے اہلبیت علیہم السلام کے اسماء کیوں نہیں ذکر کئے؟ تو آپ( علیہ السلام )نے فرمایا: تم جا کر اُن لوگوں سے کہہ دو کہ جب نماز کے لئے آیت نازل ہوئی ، تو اس میں چار رکعت یا تین رکعت کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا یہ وضاحت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بیان فرمائی تھی، اسی طرح آپ علیہ السلام نے حج و زکات کے سلسلہ میں آیات کی تفصیل بیان فرمائی لہٰذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اُن آیتوں کی طرح اِس آیت کی بھی تفصیل بیان فرمائی جو اِس طرح ہے :(مَن کنت مولاه فعلی مولاه )(اوصیکم بکتاب الله و اهل یبیتی فانی سئلت الله عزو جلّ ان لا یُفَّرَقَ بینهماحتی یُورِدهما علیّ الحوض فاعطانیذلک )یعنی میں تمہیں کتاب خدا اور اپنے اہل بیت کے ساتھ ساتھ رہنے کی وصیت کرتا ہوں، میں نے خدا کی بارگاہ میں درخواست کی ہے کہ ان دونوں میں اس وقت تک جدائی نہ ڈالے کہ جب تک یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس نہ پہنچ جائیں، اور خدا نے میری درخواست قبول کرلی ،اور اِسی طرح ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا :

( لا تعلموهم فانهم اعلم منکم انهم لن یخرجوکم من باب هدی ومن یدخلوکم فی باب ضلالة )(۱۱)

یعنی انھیں تعلیم دینے کی کوشش نہ کرو کیوں کہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں، جو ہرگز تمہیں باب ہدایت سے خارج اور چاہ ضلالت میں داخل نہیں کرسکتے''.

اسی طرح بارہا اس مطلب کی طرف اشارہ فرمایا یہاں تک کہ اپنی حیات کے آخری ایام میں بھی فرمایا:

(اِنِّی تَارِکُ فِیکُمُ الثَّقلینِ کتابَ اﷲ وَ اَهلِ بَیتِی اِنَّهُمَا لَن یَفتَرِقَا حَتَّی یَرِدَا عَلَیّ الحَوض )(۱۲)

اور فرمایا( الان ان مثل اہل بیتی فیکم مثل سفینة نوح من رکبہا نجا ومن تخلف عنہا غرق)(۱۳)

اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کو بارہا مخاطب کر کے فرمایا:

(اَنتَ وَلیُّ کَلَ مَومنٍ بَعدِی)(۱۴)

ایسی سیکڑوں احادیث ہیں کہ جن کی طرف اشار کر نے کی یہاں پر گنجائش نہیں(۱۵)

سوالات

١۔قرآن کی کون سی آیت حضرت علیہ السلام کی جانشینی پر دلالت کرتی ہے؟ اور اس کی دلالت کو بیان کریں؟

٢۔ خضرت علی علیہ السلام کے منصب امامت پر فائز ہونے کی تفصیلات بیان کریں؟

٣۔ کیوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کے پیغام کو پہنچانے میں تأخیر سے کام لیتے تھے؟ اور پھر کیسے اس امر کو انجام دینے کے لئے کمر ہمت باندھ لی؟

٤۔ کون سی روایتیں تمام ائمہ علیہم السلام کی امامت پر دلالت کرتی ہیں؟

٥۔ ان تمام روایتوں کو بیان کریں کہ جو اہل بیت علیہم السلام کی امامت پر دلالت کرتی ہیں؟

____________________

(١) اس آیت کے سلسلہ میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر المیزان میں مراجعہ کریں

(٢) یہاں سورۂ احزاب ۔آیت ٦ '' النبی اولی بالمومنین من انفسہم'' کی طرف اشارہ ہے

(٣) اس حدیث کی دلالت اور سند کے قطعی ہونے کو ثابت کرنے لئے عبقات الانوار اور الغدیر کی طرف رجوع کیا جائے.

(۴)غاید المرام۔ باب ٥٨ حدیث ٤ جسے فرائد حموینی نے نقل کیا ہے.

(۵) سورۂ مائدہ۔ ٦٧ اور تفسیر المیزان کی طرف مراجعہ کیا جائے.

(۶) اس موضوع کو اہل سنت نے سات صحا بیو ں سے نقل کیا ہے ، زید بن ارقم، ابو سعید خدری٠ ابن عباس ، جابر بن عبد اللہ انصاری، براء بن عازب ، ابو ہریرہ، ابن مسعود، الغدیر ج١ ص ٣

(۸) سورۂ شعراء ٢١٤.

(۸) عبقات النوار ، الغدیر، المراجعات.

(۹) سورہ نساء آیت ٥٩

(۱۰) غایة المرام ، ج ١٠ ،ص٢٦٧ اور اثیات الھداة ، ج ٣ ،ص ١٢٣ ، و، ینادیع المودة، ص ٤٩٤

(۱۱) غایة المرام (طبع قدیم) ج٢ ص٥٦٢.

(۱۲) یہ روایت بھی متواترات میں سے ہے، جسے ترمذی، نسائی، صاحب مستدرک نے مختلف طرق سے نقل کی ہے.

(۱۳) مستدرک حاکم۔ ج٣ ص١٥١.

(۱۴) مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ١٣٤ ١١١. صواعق ابن حجر۔ ص ١٠٣. مسند ابن حنبل ۔ج١ ص ٣٣١ ج٤ ص ٤٣٨ و

(۱۵) کمال الدین وتمام النعمة، بحار الانوار.


انتالیسواں درس

عصمت اور علم امام

مقدمہ

عصمت امام

علم امام

مقدمہ

جیسا کہ ہم نے گذشتہ درس میں بیان کر دیا کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان موضوع امامت کے تحت صرف تین مسئلوں میں اختلاف ہے

١۔ پہلے یہ کہ امام کا تعینو انتخاب، خدا کی جانب سے ہو۔

٢۔ دوسرے یہ کہ امام ملکۂ عصمت سے آراستہ ہو۔

٣۔ تیسرے یہ کہ علم لدنی کا مالک ہو، اور سینتیسویں درس میں عقلی دلائل کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کردیا ہے اور اڑتیسویں در س میں ائمہ علیہم السلام کا خدا کی جانب سے منصوب ہونے کو بیان کر دیا اور اب اس درس میں عصمت اور علم خدادادی کے سلسلہ میں بحث کرتے ہیں ۔

عصمت امام ۔

منصب امامت کا الٰہی ہونا اور حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا خدا کی جانب سے منصب امامت پر فائز ہونے کے اثبات کے بعد ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کو اِس آیت کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے ۔

'' لَا ینالُ عَہدِ الظَالِمِینَ''(۱)

یعنی منصب امام صرف انھیں حضرات کے لئے سزاوار ہے جو گناہوں سے آلودہ نہ ہوں۔

اس کے علاوہ آیہ ''اولوا الامر''(۲) جو امام کی اطاعت کو مطلق قرار دیتی ہے اور امام کی اطاعت کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کے مساوی قرار دیتی ہے، اُس کے ذریعہ بھی ائمہ علیہم السلام کی عصمت کو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں امام کی اطاعت کو اطاعت خدا کے خلاف قرار نہیں د یا جا سکتا لہٰذا او لوالامر یعنی امام کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس کے معصوم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

اسی طرح ائمہ ا طہار علیہم السلام کی عصمت کوآ یہ تطہیر سے بھی ان کا معصوم ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے:

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذہِبَ عَنکُمُ الرِجسَ اَہلَ البَیتِ وَ یُطَہِّرَ کُم تَطہِیراً)(۳)

اے اھل بیت !(رسول) خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی ) برائی سے دوررکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ایسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔

بندوں کی تطہیر کا ارادۂ تشریعی، کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کے سلسلہ میں خدا کا ارادہ، ارادۂ تکوینی ہے کہ جس میں اراد کا ارادہ کرنے والے (خدا ) سے تخلف ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

(( اِنَّمَا اَمرُهُ اِذَا اَرَادَ شَیٔاً اَن یَقُولَ لَهُ کُن فَیَکُونُ ) .(۴)

پس تطہیر مطلق اور کسی بھی قسم کی نجاست اور پلیدی سے دورری عین عصمت ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانو ںمیں سے کوئی بھی فرقہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا قائل

نہیں ہے فقط شیعہ فرقہ ہے جو حضرت زہراء علیہا السلام اور بارہ اماموں کی عصمت کا قائل ہے۔(۵)

اس مقام پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا لازم ہے کہ اس آیت کے سلسلہ میں وہ روایتیں جو نقل ہوئیں ہیں، ان میں سے اکثر کو اہل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اِس بات پردلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت ،خمسہ طیبہ کے سلسلہ میںنازل ہوئی ہے۔(۶)

شیخ صدو ق حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرما یا: اے علی! یہ آیت تمہارے اور حسن و حسین علیہم السلام اور تمہار ی نسل سے ہونے والے اماموں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ،میں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی! تم ہوگے پھر حسن اور پھر حسین اور حسین کے بعد علی بن الحسین اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد جعفر بن محمد اس کے بعد موسیٰ بن جعفر اس کے بعد علی بن موسیٰ اس کے بعد محمد بن علی اس کے بعد علی بن محمد اس کے بعد حسن بن علی اور پھر حسن کے فرزند حجت خدا امام ہوں گے۔

اس کے بعد فرمایا: کہ یہ اسماء اسی ترتیب سے ساحت عرش پر لکھے ہوئے ہیں، اور جب میں نے ان اسماء کو دیکھا تو خدا سے سوال کیا کہ یہ اسماء کس کے ہیں! تو خدا نے فرمایا:اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں کہ جنھیں پاک قراردیا گیا ہے اور وہ معصوم ہیں نیز ان کے دشمنوں پر بے شمار لعنت کی گئی ہے۔(۷)

ان آیتوں کے علاوہ حدیث ثقلین جس میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ائمہ ا طہار علیہم السلام کو قرآن کے مساوی قرار دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ دونوں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت پر ایک روشن دلیل ہے، اس لئے کہ ایک معمولی خطا کا بھولے سے بھی سرزد ہوجانا قرآن عملی مفارقت کا سبب ہوگا۔

علم امام۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ ا طہار علیہم السلام لوگوں کے مقابلہ میں علمی اعتبار سے بہت بلند مقامات کے حامل تھے جیسا کہ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

(لَا تُعَلِّمُوهُم فَاِنَّهُم اَعلَمُ مِنکُم )

انھیں تعلیم نہ دو اس لئے کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ جاننے والے ہیں(۸)

مخصوصاً حضرت علی علیہ السلام جو بچپنے سے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سائے میں رہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آخری سانسوں تک آپ کے علوم سے مستفید ہوتے رہے، جیسا کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود فرمایا:

(اَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِّ بَابُهَا )(۹)

میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔

اس کے علاوہ خود امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

( اِنَّ رَسُولَ اللَّهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَلَّمَن اَلفَ بَابٍ وَ کُلُّ بَابٍ یَفتَحُ اَلفَ بَابٍ فَذَلِکَ اَلفَ اَلفَ بَاب حَتَّی عَلِمتُ مَاکَانَ وَ مَایَکُونُ اِلی یَومِ القِیَامَةِ وَ عَلِمتُ عِلمَ المَنایا وَ البَلایا وَ فَصلَ الخِطابِ)(۱۰)

یعنی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار ہزار باب کھولے جو مجموعاً ہزار ہزار باب (دس لاکھ باب ) ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اُن سب سے میںباخبرہوگیا ، اموات و آفات کے اسرار کا میں عالم اور 'عدل کے ساتھ حکم کرنا'' کا مالک ہوں۔

لیکن علوم آ ل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صرف اُن علوم پر منحصر نہیں ہے کہ جسے واسطہ کے ساتھ یا واسطہ کے بغیر انھوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل کیا ،بلکہ ائمہ اطہار علیہ السلام غیر عادی علوم سے بھی سرفراز تھے جس سے بصورتِ الہٰام باخبر ہوجاتے تھے(۱۱) بالکل اسی طرح کہ جیسے جناب خضر، جناب ذوالقرنین،(۱۲) حضرت مریم اورجناب موسیٰ کی والدہ پر افاضہ ہوا کرتا تھا(۱۳) جن میں سے بعض کو قرآن نے وحی سے تعبیر کیا ہے لیکن یہاں وحی سے مراد وحی نبوت نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض ائمہ علیہم السلام بچپنے میں مقام امامت پر فائز اور دوسروں سے تعلیم حاصل کرنے سے بے نیاز ہوتے تھے۔

یہ مطلب ان روایتوں کے ذریعہ ثابت ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئیں ہیں جن کی حجیت آپ لوگوں کی عصمت سے ثابت ہے، لیکن ان میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کرنے سے پہلے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ضروری ہے جس میں بعض افراد کو'ومن عندہ علم الکتاب'(۱۴) کے عنوان سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حقانیت پر بہ طور شاھد پیش کیا گیا ہے، اور وہ آیت یہ ہے

(( قُل کَفَی بِاللّهِ شَهِیداً بَینِ وَ بَینَکُم وَمَن عِندَهُ عِلمُ الکِتَابِ ) (۱۵)

آپ کہہ دیں کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان شہادت اور گواہی دینے کے لئے کافی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کافی ہیں کہ جن کے پاس علم الکتاب ہے۔

پس اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ شخص جس کی گواہی خدا کی گواہی کے برابر ہو، اور علم الکتاب سے آراستہ ہو ، وہ کمالات کے عظیم درجات پر فائز ہوگا ۔

ایک دوسری آیت میں اسی شاہد کی طرف اشارہ کیا ہے:

( افَمَن کَانَ عَلی بَیِّنَةٍ مِن رَبِّهِ وَ یَتلُوهُ شَاهِد مِّنهُ ) (۱۶)

تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہواس آیت میں(مِنہُ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شاہد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان اور آپ کے ا ہل بیت سے ہے، اہل تشیع و تسنن کی طرف سے نقل ہونے والی روایتوں کے مطابق اس شاہد سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔

منجملہ ابن مغازلی شافعی نے عبد اللہ بن عطا سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ''عبد اللہ بن سلام ( آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور میں اہل کتاب کے بزرگ علماء میں سے تھے) کے فرزند ہمارے سامنے سے گذرے تو میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ومن عندہ علم الکتاب.سے مراد اس شخص کے والد ہیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا نہیں،بلکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں، اور آیہ ''

( وَیَتلُوهُ شَاهِد مِنه ) اور آیہ( اِنَّما وَلِیُکُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا ) (۱۷)

(اے ایماندارو)تمارے مالک و سرپرست بس یہی ہیں ۔ خدا اس کا رسول اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے اسی طرح بہت سی روایتوں کے مطابق جو شیعہ اور سنی اسناد کے(۱۸) مطابق وارد ہوئی ہیں، سورۂ ہود میں ''شاہد'' سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں، لہٰذا ''منہ'' سے مراد امام علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

علم الکتاب کے حامل ہونے کی اہمیت اُس وقت آشکار ہوگی کہ جب ہم جناب سلیمان علیہ السلام کے حضور میں تخت بلقیس کے حاضر کرنے کی داستان کا مطالعہ کریں:

(( وَقَالَ الذِّى عِندَهُ عِلم مِنَ الکِتَاب أَناَ آتِیکَ بِهِ قبَلَ أن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُکَ ) (۱۹)

یعنی جس کے پاس کتاب کا ایک مختصر علم تھا اس نے کہا کہ میں تخت بلقیس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یہاں حاضر کروں گا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الکتاب کے ایک حصہ سے باخبر ہونا ایسے حیرت انگیز امورکا باعث ہے، پس تمام علم الکتاب سے متصف ہونا کیسے عظیم اثرات کیرونما ہونے کا سبب ہوسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے ''جناب سدیر'' سے نقل ہونے والی روایت میں فرمایا ہے، سدیر کہتے ہیں کہ میں،، ابو بصیر، یحییٰ بزاز اور دائود بن کثیر جو امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرت بڑے غضب کے عالم میں وارد مجلس ہوئے فرمایا: کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیںکہ ہمارے پاس علم غیب ہے، حالانکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب سے واقف نہیں ہے میں اپنی کنیز کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ فرار ہوگئی جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حجرہ میں مخفی ہے۔(۲۰)

''( انا راده الیک و جاعلوه من المرسلین'''' ) قصص ٧٠''.

سدیر کہتے ہیں: جب امام علیہ السلام اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی ابو بصیر اور میسر کے ساتھ آنحضرت کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں میں نے حضرت علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم آپ پر قربان جائیں آپ نے جو کچھ اپنی کنیز کے سلسلہ میں فرمایا، اسے ہم نے تسلیم کیا اور ہم اس کے بھی معتقد ہیں کہ آپ بے شمار علوم کے مالک ہیں نیز کبھی بھی آپ کے سلسلہ میں علم غیب کا دعوی نہیں کرتے۔

ا مام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سدیر! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں،، تو آپ نے فرمایا کہ کیا اِس آیت کی تلاوت نہیں کی ہے:

( قَالَ الذِّى عِندَهُ عِلم مِن الکِتَابِ اَنَا آتِیکَ بِهِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اَلِیکَ طَرفُکَ )

وہ شخص ( آصف بن برخیا ) جس کے پاس کتاب خدا کا کچھ علم تھا بولا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا ۔

تو میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ شخص کتاب میںسے کس قدر علم کا مالک تھا؟ تو میں نے کہا کہ آپ ہی فرمائیں، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک عظیم سمندر سے صرف ایک قطرہ کے برابر، اس کے بعد فرمایا کہ کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے؟ (قل کفی باللہ شہیداً بین و بینکم ومَن عندہ علم الکتاب)

میں نے کہا کہ ضرور تلاوت کی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بتائو وہ شخص افضل ہے جو تمام کتاب کے علم سے واقف ہے یا وہ شخص جو صرف کتاب کا ایک حصہ جانتا ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا خدا کی قسم تمام کتاب کا علم ہما رے پاس ہے(۲۱) اب اس کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے علوم کو بیان کرنے والی روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

امام رضا علیہ السلام، امامت کے سلسلہ میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں : جب خدا کسی کو لوگوں کے لئے منتخب کرتا ہے تو اسے سعہ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری اور اُسے علم کی دولت سے آراستہ کردیتاہے تا کہ وہ سوالات کے جوابات دے سکے ،اور حق کو پہچاننے میں سرگردان نہ ہو، چنانچہ ایسا شخص معصوم، خدا کی طرف سے تائید شدہ اور خطائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔

در اصل خدا، اِس لئے اس کو یہ خصلتیں عطا کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں پر حجت تمام کر سکے لھذایہ ایک عطیہ ہے جسے خدا پسند کرتا ہے ا ُسے عطاء کرتا ہے

ا سکے بعد فرمایا کیا عوام میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ایسے شخص کو پہچان کر اسے منتخب کرلیں، اور جب وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں تو کیا وہ شخص ایسی صفات کا مالک ہوتا ہے ؟!(۲۲)

حسن بن یحییٰ مدائنی امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب امام سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح جواب دیتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے میں فرمایا: کبھی اُس پر الہٰام ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ سے سنتا ہے اور کبھی دونوں ایک ساتھ(۲۳) واقع ہوتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''وہ امام جسے معلوم نہ ہو کہ اس پر کیسی مصیبت آنے والی ہے اور اس کا انجام کیاہوگا تو وہ بندوں پر خدا کی حجت نہیں ہوسکتا۔(۲۴)

ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب بھی امام کسی چیز کے متعلق جانناچاہتا ہے تو خدا اُس سے باخبر کردیتا ہے۔(۲۵)

اسی طرح آپ کی جانب سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میں ایا ہے کہ روح، جبرئیل و میکائیل سے عظیم تر مخلوق ہے جو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پا س تھی، اُن کے بعد ائمہ علیہم السلام کی طرف منتقل ہوگئی جن سے ان کی مدد ہوتی ہے۔(۲۶)

سوالات

١۔امام علیہ السلام کی عصمت کو کن آیتوں کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے؟

٢۔کون سی روایت امام علیہ السلام کی عصمت پر دلالت کرتی ہے؟

٣۔ ائمہ علیہم السلام کن راہوں سے علوم کو حاصل کرتے ہیں؟

٤۔ گذشتہ ادوار میں کون لوگ ایسے علم کے مالک تھے ؟

٥۔ کون سی آیت علم امامت پر دلالت کرتی ہے اس کی وضاحت کریں؟

٦۔ علم الکتاب کی اہمیت بیان کریں؟

٧۔علوم ائمہ علیہم السلام سے مربوط چند روایتوں کو پیش کریں؟

____________________

(١) سورۂ بقرہ آیت ١٢٤.

(٢)سورہ نسا۔آیت٥٩

(٣) سورۂ احزاب آیت ٣٣

(٤) سورۂ یس ٨٢.

(۵) مزید وضاحت کے لے تفسیر المیزان اور کتاب ''الامامة والولایة فی القرآن''. کی طرف رجوع کیا جائے

(۶) غایة المرام ص ۔٢٨٧ ٢٩٣.

(۷) غایة المرام (ط قدیم) ۔ج،٦۔ ص ٢٩٣

(۸) غایة المرام ۔ص،٢٦٥ اصول کافی۔ ج ١' ص٢٩٤

(۹)مستدرک حاکم۔ ج٣ ص ٢٢٦قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ ایک سنی عالم نے ایک کتاب بنام

''فتح الملک العلی بصحة حدیث مدینة العلم علی'' نے لکھی جو ١٣٥٤ میں قاہرہ میں چھپی ہے

(۱۰) ینابیع المودہ۔ ص٨٨ اصول کافی ۔ج ١ ص،٢٩٦

(۱۱) اصول کافی۔ کتاب الحجہ۔ ٢٦٤ ٢٧٠

(۱۲)اصول کافی ۔ج ١، ص ٢٦٨

(۱۳) سورۂ کہف۔ ٦٥ ٩٨ آل عمران ۔٤٢، مریم ١٧' ٢١ طہ۔ ٣٨ قصص۔٧

(۱۴) سورۂ رعد۔ ٤٣

(۱۵)سورۂ رعد ۔٤٣

(۱۶) سورۂ ہود۔ آیت/ ١٧

(۱۷) سورۂ مائدہ۔ آیت /٥٥

(۱۸)غایة المرام (ط قدیم) ٣٥٩.٣٦١

(۱۹) سورۂ نمل۔آیت ٤٠

(۲۰) اس حدیث کے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ باتیں نامحرموں سے کہی ہیں، اور یہ نکتہ معلوم رہے کہ وہ علم غیب جو خدا سے مخصوص ہے اس سے مراد وہ علم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے سائل کے سوال کے ( کیا آپ علم غیب کے مالک ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ '' انما ہم تعلم من ذی علم '' وگرنہ ا نبیاء اور اولیاء الٰہی وحی اور الہٰام کے ذریعہ علوم غیبی سے واقف تھے، مادر حضرت موسیٰ کے لئے خدا کی جانب سے الہٰام انھیں مقامات میں سے ایک ہے کہ جس کے لئے شک نہیں کیا جاسکتا ۔

(۲۱)اصول کافی۔ ج١ ص٢٥٧(طبع دار الکتب الاسلامیہ).

(۲۲)اصول کافی۔ ج١ ص ١٩٨ ٢٠٣.

(۲۳)بحار الانوار ۔ج٢٦ ص٥٨.

(۲۴)اصول کافی ۔ج١ ص١٥٨.

(۲۵)اصول کافی ۔ج١ص ٢٥٨.

(۲۶) اصول کافی ج١ص ٢٧٣.


چالیسواں درس

حضرت مہدی (عج)

مقدمہ

جہانی حکومت الٰہی

وعدہ الٰہی

چند روایتیں

غَیبت اور اُس کا راز

مقدمہ

گذشتہ بحث کے ضمن میں ہم نے اُن روایتوں کو بیان ہے کیاجس میں ائمہ علیہم السلام کے اسماء درج تھے ،لیکن ان روایتوں کے علاوہ دوسری بہت سی روایتں ہیں جنھیں شیعہ اور سنی علماء نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی ہیں ،جس میں یا تو ائمہ اطہار علیہم السلام کی تعداد کاتذکرہ ہے یا بعض روایتوں میں ان حضرات کا قریش سے ہونے کی طرف اشارہ ہے یا بعض روایتوں میں ان کی تعداد کو نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق ہو نے کا اشارہ ہے، اسی طرح بعض روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ ان میں نو امام، امام حسین علیہ السلام کے صلب سے ہوں گے، اوربعض روایتوں میں جنھیں شیعہ اور سنی علماء نے صحیح سندکے ساتھ نقل کیا ہے ان میں ان کے ا سماء مبارک در ج ہیں(۱) اور انھیں تمام ائمہ علیہم السلام کے ہونے کی طرف اشارہ موجود ہے جنھیں ہم یہاں بیان کرنے سے قاصر ہیں(۲)

بلکہ اس درس کو امام حجت مہد ی بن حسن علیہ السلام سے مخصوص کرتے ہیں، اور اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف مہم نکات کی طرف اشارہ کریں گے۔

جہانی حکومت الٰہی۔

ہمیں یہ نکتہ اچھی طرح معلوم ہوچکا ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کی بعثت کا ہدف لوگوں کو رشد تکا مل( بہ تدریج کمال تک پہونچانے) کے راستہ پر گامزن کرنا تھا ، اور یہ ھدف وحی الھیکو لوگوں کی دست رس میں قرار دینے ہی کے ذریعہ متحقق ہو سکتا ہے ، اِس ہدف کے علاوہ اُن کے اور دوسرے اہداف بھی تھے جیسے لوگوں کی عقلوں اور اُن میں بااستعداد حضرات کی روحی اور معنوی اعتبار سے تربیت کرنا وغیرہ ۔

یعنی، انبیاء علیہم السلام، خدا پرستی، عدل و داد کی حکومت ،اور الٰہی آر زوؤں کے مطابق ایک اچھے اور ہدایت یافتہ سماج کو قائم کرنا چاہتے تھے، لہٰذااُن میں سے ہر ایک نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے قدم اٹھائے بلکہ ان میں سے بعض حکومت الٰہی کو قائم کرنے میں کامیاب بھی ہوئے،' لیکن اُن میں سے کسی کے لئے بھی جہانی حکومت قائم کرنے کے شرائط مہیا نہ ہوسکے۔

لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اُن کی تعلیمات ناقص ، یا اُن کی رہبری میں نقص تھا ، یا ہدف الٰہی محقق نہ ہوسکا، اس لئے کہ اُن کا ہدف تو صرف یہ تھا کہ انسانوں کے مختار ہوتے ہوئے کمال کی جانب حرکت کے لئے شرائط فراہم کئے جائیں۔

( لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللَّهِ حُجَّة بَعدَ الرُّسُلِ ) (۳)

تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کی خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہ جائے۔

یعنی لوگوں پر دین حق اور الٰہی پیغمبروں کو ماننے کے لئے کوئی جبر نہیں ہے، اور یہ ہدف حاصل ہوچکا ہے۔

لیکن پھر بھی خدا نے اپنی کتابوںمیں پوری زمین پر حکومت الٰہی کے برپا ہونے کی خوشخبری دی ہے جسے دین حق کے قبول کرنے کے لئے شرائط کے فراہم ہونے کی پیشنگوئی کا نام دیا جا سکتا ہے، جو با عظمت جماعتوں اور افراد کے علاوہ غیبی مدد کے ذریع حکومت جہانی کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو برطرف کرکے عدل و انصاف کی حکومت قائم ہوگی، ستمگروں سے نالاں معاشرے او رمختلف مذاہب و حکمرانوں سے عاجز سماج کو نجات ملے گی اس ہدف کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت اور دین جاودانی کا انتہائی ہدف مانا جا سکتا ہے جیسا کہ خدا وندے عالم فرماتا ہے(( لِیُظهِرَ هُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ ) (۴)

تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے

چونکہ امامت، نبوت کو کامل کرنے والی اور حکمت خاتمیت کو محقق کرنے والی ہے لہٰذا اِس سے یہ نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ یہ ہدف آخری امام علیہ السلام کے ہاتھوں پورا ہوگا، اور یہ وہی مطلب ہے کہ جس کی طرف اُن روایتوں میں تاکید کی گئی ہے کہ جو امام زمانہ (عج) اوراحنا لہ الفداہ کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں۔

اب اِس کے بعد اُس حکومت جہانی کے سلسلہ میں بشارت دینے والی آیتوںکی طرف اشارہ کرتے ہیںاور اُس کے بعد اِسی ضمن میں موجود روایتوں کا تذکر ہ کریں گے۔

وعدۂ الٰہی۔

خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے توریت و انجیل میں یہ بشارت دیدی ہے کہ زمین کے وارث صالح افراد ہوں گے۔

( وَلَقَد کَتَبنَا فِی الزّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِ َنَّ الاَرضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ ) (۵)

اور ہم نے یقیناً زبور میں لکھ دیا تھا کہ روئے زمین کے وارث ہمارے نیک بندہ ہوں گئے ،

ایک دوسری روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس مضمون کے مشابہ عبارت موجود ہے(۶) اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وعدہ ضرور ایک دن پورا ہوگا۔

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر داستان ِفرعون کے بعد نقل کرتا ہے

( وَنُرِیدُ اَن نَّمُنَّ عَلَی الذِّینَ استضُعِفُوا فِی الاَرضِ وَ نَجعَلَهُم اَئِمَّةً و نَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ ) (۷)

اور ہم تو یہ چاہتے ہیں جو لوگ روئے زمین پر کمزو کردئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور ا نھیں لوگوں کو پیشوا بنائیں اور انھیں کو اِس زمین کا مالک و وارث قرار دیں۔

یہ آیت گرچہ بنی اسرائل کے سلسلہ میں ہے، فرعون کی ہلاکت کے بعد اُن کا حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کی طرف اشارہ کرتی ہے لیکن (نرید) کی تعبیر ایک سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے اسی وجہ سے بہت سی روایتوں میں اسی آیت کو حضرت مہدی ( عج) کی جہانی حکومت کے لئے دلیل بنایا گیا ہے۔(۸)

نیز قرآن نے ایک دوسرے مقام پر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم میں سے جو بھی واقعی ایمان لائے ،اور نیک اعمال انجام دے ،وہ زمین کا خلیفہ ہوگا اور پورے امن و امان کے ساتھ خدا کی عبادت کرے گا۔

( وَ عَدَ اللَّهُ الَّذینَ آمَنُوا مِنکُم وَ عمِلُوا الصّالِحَاتِ لَیَستَخلِفَنَّهُم فِی الاَ ر ض ِ کَمَا استَخلَفَ الّذِینَ مِن قَبلِهِم وَلیُمَکِنَنَّ لَهُم دِینَهُمُ الَّذ ارتَضَیٰ لَهُم وَلَیُبَدِلَنَّهُم مِّن بَعدِ خَوفِهِم اَمنًا یَعبُدُونَنِ لَا یُشرِکُونَ ب شَئیًا وَمَن کَفَرَ بَعدَ ذَلِکَ فَاُولَئِکَ هُمُ الفَاسِقُون ) (۹)

اے ایمان والوں تم میں سے جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کیے ان سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو ایک نہ ایک دن روئے زمین ضرور پر اپنا نائب مقرر کرئے گا، جس طرح ان لوگوں کو نائب بنایا جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں،اور جس دین کو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا(اسلام) اس پر انہیں ضرور ضرور پوری قدرت دے گا،اور ان کے خائف ہونے کے بعد امن سے ضرور بدل دے گا،اور وہ میری ہی عبادت کریں گے،اور کسی کو ہمارا شریک نہیں بنائیں گے، اور جو شخص بھی اس کے بعد نا شکری کرے تو ایسے ہی لوگ بدکار ہیں۔

روایات کے مطابق یہ وعدہ امام زما نہ (عج) کے ہاتھوںپورا ہوگا۔(۱۰)

اسی طرح بہت سی روایتوں میں قرآن کی مختلف آیتوں(۱۱) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو امام مہدی (عج) کی جہانی حکومت پر دلالت کرتی ہیں جنھیں ہم یہاں بیان نہیں کرسکتے(۱۲)

چند روایتیں۔

وہ روایتیں جسے شیعہ اور سنی علماء نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی ہیں حد تواتر سے بھی زیادہ ہیں اور وہ روایتیں جسے صرف سنی علماء نے نقل کیا ہے خود انھیں کے قول کے مطابق وہ روایتیں متواتر ہیں(۱۳) بلکہ اُنھیں علماء میں سے بعض اِس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مہدی (عج) پر

اعتقاد تمام اسلامی فرقوں میں پایا جاتا ہے،(۱۴) انھوں نے حضرت مہدی (عج) اور اُن کے ظہور کے علامات کے سلسلہ میں مختلف کتابیں بھی تحرییر کی ہیں(۱۵) ان روایتو ںمیں سے ہم چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اہل سنت نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعد د روایتیں نقل کی ہیں جن میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:اگر جہان میں سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تو خداُ سے اتنا طولانی کردیگا کہ میرے اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک فرد کہ جس کا نام میرے ہی نام پر ہوگا عالمی حکومت قائم کرے گا، اور زمین کو اسی طرح عدل و داد سے پر کرے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔(۱۶)

جناب ام سلمہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل فرماتی ہیں : آپ نے فرمایا مہدی ( عج) میری عترت اور فاطمہ علیہا السلام کی اولاد سے ہے۔(۱۷)

جناب ابن عباس رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ یقیناً علی علیہ السلام میرے بعد اِس اُمت کے امام ہیں اور اس کی اولاد سے ایک قائم منتظر ،عج، ہے، لہذا جب وہ ظہور کرے گا ،تو ز مین کو اسی طرح عدل و انصاف سے پر کردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔(۱۸)

غیبت ِاور اُس کا راز ۔

اہل بیت علیہم ا لسلام کی طرف سے امام زمانہ علیہ السلام کے سلسلہ میں جو روایات وارد ہوئی ہیں ان میں آپ کی غیبت کی طرف تاکید ہوئی ہے جیسا کہ عبد العظیم حسنی ،امام محمد تقی اور آپ اپنے جد امام علی علیہم السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے قائم ،عج، کی غیبت طولانی ہوگی اور شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ جو بھوکے چوپایوں کی طرح جو اپنی چراگاہوں کی تلاش میں پھرتے ہیں، اسی طرح وہ ہمارے قائم (عج) کی جستجو میں سرگرداں ہوں گے اور اسے نہیں پائیں گے ، یاد رہے کہ اس وقت جو بھی اپنے ایمان پر ثابت رہے گااور حضرت کی غیبت کی وجہ سے قساوت قلب میں مبتلا نہیں ہوگا وہ روز قیامت میر ی صف میں ہوگا، ا س کے بعد فرماتے ہیں کہ جب ہمارا قائم، قیام کرے گا، اُس کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی، اور کوئی ظالم حکمران اُس پر مسلط نہیںہوسکے گا) اِس ہدف کی خاطر وہ پوشیدہ طور پر متولد ہوگا اور نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔(۱۹)

امام سجاد علیہ السلام اپنے جد حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام نے فرمایا کہ ہمارے قائم کی دو غیبتیں ہوں گی جن میں سے دوسری غیبت پہلی غیبت سے طولانی ہوگی اُس وقت جو یقین قوی اور معرفت صحیح کا مالک ہوگا وہ اُس کی امامت پر باقی رہے گا۔(۲۰)

راز غیبت کومعلوم کرنے کے لئے ائمہ اطہار کی حیات کا اجمالی جائزہ لینا ہوگا۔

یہ نکتہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد لوگوںنے ابو بکر ، پھر عمر، اُس کے بعد عثمان ،کی بیعت کی، لیکن عثمان کی طرف سے ذات پات کے فرق او ر غیر عادلانہ برتاؤ کی وجہ سے لوگوں نے اُس کے خلاف قیام کر کے اسے قتل کردیا اور پھر امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی ۔

حضرت علی علیہ السلام جبکہ خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے خلیفہ تھے لیکن جامعہ اسلامی کی خاطر خلفائ، ثلاثہ کے ادوار میں خاموش رہے فقط اس دور میں اتمام حجت کرتے رہے لیکن اسلام و مسلمین کی منفعت جہاں ہوتی تھی وہاں اپنی کوششوں سے دریغ نہیں کرتے تھے اور جب آپ نے خلافتِ ظاہری کی باگ ڈور سنبھالی تو آپ کے اقتدار کا پورا دور ، اصحاب جمل،نہروان اور معاویہ سے جنگ کرنے میں ختم ہو گیا، آخر کار خوارج میں سے ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوگئے ۔

امام حسن علیہ السلام بھی معاویہ کے فرمان سے زہر کے ذریعہ شہید کردئے گئے، اور معاویہ کی موت کے بعد اس کا بیٹا یزید کہ جسے اسلام کی کوئی پروا نہ تھی تخت سلطنت پر بیٹھ گیا، اُس کے اعمال و حرکات سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کچھ ہی برسوں میں اسلام کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا، اِسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام نے قیام کے علاوہ کوئی اورچارہ نہیں دیکھا، لہٰذا اپنی مظلومانہ شہادت کے ذریعہ مسلمانوں کو بیدار اور اسلام کو فنا ہونے سے بچالیا ، لیکن اس کے باوجود حکومت عدل کی تشکیل کے لئے شرائط مہیا نہ ہوسکے، اِسی وجہ سے تمام ائمہ اطہار علیہم السلام نے عقائد و معارف احکام، تہذیب نفس اور با صلاحیت لوگوں کو تربیت کرنے میں اپنی عمریں گزار دیں، اورجہاں تک حالات اجازت دیتے تھے پوشیدہ طور پر لوگوں کو ظالموں کے خلاف ابھارتے رہے، اور انھیں حکومت اسلامی کے قائم ہونے کی امید دلاتے رہے یہاں تک کہ اسی راہ میں تمام ائمہ علیہم ا لسلام ایک ایک کر کے شہید کردئے گئے۔

بہر حال ائمہ اطہار علیہم السلام نے ڈ ھائی سو سال کی مدت میں ،جان لیوا مشکلات اور بے شمار زحمتوں کے باوجود لوگوں کو اسلام کے حقائق سے آشنا کرتے رہے ، اُن میں سے بعض نے عمومی طور پر اور بعض نے اپنے اصحاب کے لئے خصوصی طور پر تعلیم و تربیت کا آغاز کیا ، اس طرح انھوں نے معارف اسلامی کے ذریعہ ایک اسلامی سماج تشکیل دینے کی کوشش کی اور شریعت محمد یصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بقاء کی ضمانت ملی نیز ممالک اسلامی کے گوشہ و کنار میں ظالموں کے خلاف قیام ہوئے اور ایک حد تک ستمگروں کے ظلم و ستم کا خاتمہ ہوا۔

لیکن جس خبر نے ظالموں کی نیند اڑادی وہ حضرت مہدی (عج) کے ظہور کی خبر تھی جو اُن کی نابودی کی خبر دیتی تھی، اِسی وجہ سے امام حسن عسکری علیہ السلام کو شدت و سختی سے نظر بند کردیا تھا ، تا کہ اگر آپ سے کوئی فرزند پیدا ہو تو اُسے قتل کرڈالیں، اور خود امام حسن عسکری علیہ السلام کو جوانی کے عالم میں زہر سے شہید کرڈالا لیکن خدا کا یہ ارادہ تھا کہ حضرت مہدی (عج) پیدا ہوں ،اور انسانوں کو ان کے ذریعہ نجات مل سکے، اسی وجہ سے جب آپ پیدا ہوئے تو پانچ سال تک کچھ خاص افراد کے علاوہ کوئی بھی آپ کی زیارت نہیں کرسکتا تھا اورجب گیا رہویں امام کا انتقال ہوگیا ،تو لوگوںکا ارتباط آپ سے نواب اربعہ کے ذریعہ ہوتا تھا(۲۱) ، اسی طرح ایک مدت گذری گئی اور پھر نا معلوم مدت کے لئے غیبت کبریٰ کا زمانہ شروع ہوگیا، اوریہ زمانہ اُسی وقت ختم ہوگا کہ جب اسلامی معاشرہ میں حکومت جہانی کے قائم ہونے کے لئے شرائط فراہم ہوجائیں اُس وقت امام علیہ السلام خدا کے اِذن سے ظہور کریں گے۔

لہٰذا امام علیہ السلام کی غیبت کا اصلی راز ستمگروں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رہنا ہے اِس کے علاوہ روایتو ںمیں دوسری حکمتیں بھی بیان ہوئی ہیں ، منجملہ یہ ہے کہ خدا اِس طرح لوگوں کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ان کے ماننے والے اپنے ایمان میں کس قدر پائدار اور ثابت قدم ہیں۔

البتہ زمانہ غیبت میں لوگ آپ کے فیوض و برکات سے محروم نہیں ہیں، بلکہ روایتوں کے مطابق آپ کے فیوض کا سلسلہ اسی طرح لوگوں کے شامل حال ہے۔(۲۲) کہ جس طرح خورشید بادلوں کی پشت سے نور افشانی کرتا ہے، اور آج بھی بہت سے نیک اور صالح افراد اپنی مشکلات اور بلائوں سے خلاصی کے لئے آپ کی خدمت میں مشرف ہوچکے ہیں اس کے علاوہ آپ کا وجود لوگوں کی امید کا سبب ہے ہ وہ آپ کے ظہور کے لئے شرائط کو مہیا کرنے کے ساتھ اپنی اصلاح کریں۔

سوالات

١۔انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا انتہائی ہدف کیا ہے؟

٢۔ یہ ہدف کیسے پورا ہوسکتا ہے؟

٣۔ کون سی آیت حکومت جہانی کے قائم ہونے کی خوشخبری دیتی ہے؟

٤۔ امام مہدی ( عج) کے سلسلہ میں اہل سنت نے جو روایتیں نقل کی ہیں ان میں سے بعض کو بیان کریں؟

٥۔اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے حضرت مہدی (عج) کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایتوں میں سے بعض کو بیان کریں؟

٦۔ غیبت صغریٰ اور کبریٰ نیز ان دونوں کے درمیان فرق کو واضح کریں؟

٧۔ امام زمانہ( عج) کی غیبت کا راز کیا ہے؟

٨۔ غیبت کے زمانہ میںلوگ امام زمانہ (عج) سے کیسے ملاقات کر سکتے ہیں۔؟

____________________

(١)منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر ، طبع سوم ۔ ص١٢١٠.

(٢)بحار الانوار ، غایة المرام ، اثبات الہداة وغیرہ.

(۳) سورۂ نسائ۔ آیت ١٦٥

(۴) سورۂ توبہ۔ آیت ٣٣ سورہ فتح۔ آیت ٢٨ سورہ صف ۔ آیت٩،

بحار الانوار۔ ج٥١ ص ٥٠ ج٢٢ ص٦٠، ج ٥٨ ٥٩

(۵)سورۂ انبیائ۔ آیت ١٠٥

(۶) سورۂ اعراف۔ آیت ١٢٨

(۷) سورۂ قصص ۔آیت٥

(۸)بحارا لانوار۔ج ٥٤٥١ج ۔٣٥ ٦٤٦٣.

(۹)سورہ نور۔ آیت ٥٥

(۱۰) بحار الانوار۔ ج ٥١ ٥٨ ج٥٠ ٣٤ ٦٤

(۱۱)جیسے یہ آیات ''ویکون الدین کلّمہ للّہ '' ''لیظہرہ علی الدین کلہ'' ''بقیة اللہ خیر لکم''

(۱۲)بحار الانوار۔ ج٦٤٤٤٥١

(۱۳)صواعق ابن حجر۔ص ٩٩، نور الابصار ۔شبلنجی۔ص ١٥٥ اسعاف الراغبین۔ص ١٤٠ الفتوحات الاسلامیہ ۔ج٢ص٢١١

(۱۴) شرح ابن ابی الحدید نہج البلاغہ ج٢ ص ٥٣٥ سبائک الذہب سویدی ۔ص٧٨ غایة المامول ۔ج٥ ص٣٦٢

(۱۵) کتاب ''البیان فی اخبار صاحب الزمان '' تالیف حافظ محمد بن یوسف گنجی شافعی کتاب '''البرھان فی علامات مہدی آخر الزمان۔ تالیف متقی ہندی

(۱۶)صیح ترمذی ۔ج٢ ص ٤٦. صحیح ابو داود۔ج٢ ص ٢٠٧ مسند ابن حنبل ۔ج١ ض ٢٧٨ ینابیع المودہ۔ ص ١٨٦ ٢٥٨ ٤٤٠. ٢٨٨. ٢٩٠

(۱۷)اسعاف الراغبین١٣٤.

(۱۸) ینابیع المودہ ٤٩٤.

(۱۹)منتخب الاثر ٢٥٥.

(۲۰) منتخب الاثر ٢٥١.

(۲۱) عثمان بن سعید ، محمد بن عثمان، حسین بن روح، علی بن محمد سمری.

(۲۲) بحار الانوار۔ ج٥٢ ص٩٢


اکتا لیسواں درس

شنا خت عا قبت کی اہمیت

مقدمہ:

قیا مت پر اعتقاد کی اہمیت وضرورت

قیا مت کے مسئلہ پر قر آن کی تا کید

نتیجہ:

مقدمہ:

اس کتا ب کی ابتدا ہی میں ہم نے دین مبین اور اس کے بنیا دی عقا ید (تو حید ، نبوت ، قیامت،) کے بیا ن کے سا تھ اس بات کی تشر یح ووضاحت بیان کر دی تھی کہ انسا نی زندگی کا مفہوم، انھیں مسا ئل کے حل میں پو شید ہ ہے اور کتا ب کے پہلے حصے میں خدا شناسی ( تو حید ) کے مسا ئل اور د وسرے حصے میں راہ اور ر ہنما شنا سی (بنو ت و امامت) کے متعلق بحث گذر چکی ہے اور اب کتاب کے تیسرے حصے میں معاد (قیا مت) کے عنو ان کے تحت گفتگو کوجاری رکھتے ہیں ۔

لیکن پہلے معا د کی خصو صیت اور انسا ن کی ،انفرا دی ،اجتما عی زندگی پر پڑنے والے اثرا ت سے بحث ہو گی، اور اس کے بعد اس بات کی وضاحت کریں گے کہ معاد (قیا مت) کا خصوصی تصور نا محسوس رو ح اور اس کے زندئہ جا وید ہو نے کے سا تھ مشروط ہے، اور جس طر ح مو جود ات کی معرفت بغیر خدا ئے وحدہ'لا شریک کے نا قص ہے اسی طر ح انسان کی معرفت بھی بغیر اس اعتقاد کے کہ رو ح زندئہ جا وید ہے نا قص اور نا مکمل ہے ۔

اس بیان کے بعد قیا مت کے بنیا دی مسا ئل منا سب اندا ز سے ا س کتا ب میں بیا ن کر یں گے۔

قیا مت پر اعتقا د کی ا ہمیت وضرورت۔

زندگی کا جذبہ ،اس کی ضرو رت اور خو اہشا ت اور ضرو ریا ت زندگی کی طر ف اس کا رجحا ن اصل میں یہ تمام چیزیں صر ف کمال اور ابدی سعا دت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں، اور اب رہی با ت کہ انسان انھیں حا صل کرنے کے لئے کس را ستہ کا انتخا ب کرے، تو اس کے لئے ضرو ری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جا ئے کہ انسان ان اھداف کی شنا خت کیسے کرے ؟

جو اسے اس کے ھدف تک پہنچا دیں در حقیقت زندگی کے را ستے کی تعین اور اپنی رفتار و کر دار کو معین کرنے کا اصل سبب انسان کی اپنی سوجھ بو جھ اور تصو ر اور خود اپنے کما ل و سعادت اور اپنی حقیقت کو پہچان لینا ہے ،اور جو لو گ زندگی کو صر ف ما دیت اور اس سے متعلق عناصر کو اپنی حقیقت سمجھتے ہیں ،اور یہ تصور کرتے ہیں کہ یہی چند روزہ زندگی ہی سب کچھ ہے اور مو ت کے بعد صر ف عدم اور فنا ہے ،یا اخرو ی لذت او ر سعا دت ِابدی کے منکر ہیں وہ اپنی زندگی کو کچھ ایسا بنا لیتے ہیں کہ اب صرف ان کے پیش نظر یہی دنیا وی لذت اور خو ا ہش ہی ان کی سعا دت اور نیک بختی ہے لیکن جو افرا د اپنی دنیا وی زندگی کو ہی نہیں بلکہ اس کے آگے آنے وا لی زندگی کی حقیقت سے آشنا ہیں وہ اپنے اعمال و کردا ر کو آنے والی ابدی زندگی کا وسیلہ بنا تے ہیں اور ایسے بنیا دی کا م انجام دیتے ہیں جو اُن آنے وا لی اس زندگی میں مددگا ر ثا بت ہو ں یا دوسرے الفا ظ میں یو ں کہا جا ئے کہ مادی زندگی کی سختیو ں اور نا کامیو ں کے با وجود یہ لوگ ما یو س اور نا امید نہیں ہو تے، بلکہ سعا دت و کا میا بی تک پہنچنے کے لئے اپنی بھر پو ر کو شش اور تلا ش جا ری رکھتے ہیں ۔

انسانی زندگی کے یہ دو اہم رخ صر ف اس کی انفرا دی زندگی ہی پر منحصر نہیں ہیں بلکہ اجتما عی زند گی پر گہرا اثر چھوڑ تے ہیں چنا نچہ آخر ت پر ایمان اور جزا وسزا جیسی چیزیں انسان کو دوسرو ں کے حقوق کا خیا ل، ایثا ر اور احسا ن جیسے قا بل تحسین کر دا ر پر آما دہ کر تی ہیں او ر ظا ہر ہے کہ جس معا شرے یا قو م و ملت کا یہ عقیدہ ہوگا، اس کے یہا ں قا نون عدا لت پر عمل ،ظلم و ستم کا مقابلہ اور زور و زبر دستی کاکم سے کم استعما ل ہو گا ،اور واضح رہے کہ اگر یہ اعتقا د ات دنیا کی تمام قو میں اپنا شیو ہ بنا لیں تو اس دنیا کی بین الا قوامی مشکلا ت خو د بخو د حل ہو جا ئیں گی۔

لہٰذا ان تمام بیا نا ت کے پیش نظر قیا مت کی اہمیت و ضرو رت رو ز رو شن کی طر ح واضح ہو جا تی ہے بلکہ تنہا عقیدئہ تو حید ( بغیر عقید ئہ قیا مت کے ) بھی انسانی زند گی کو صحیح را ستہ دکھا نے سے قا صر ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام ادیا ن آسما نی خصوصاًدین اسلا م اورتمام پیغمبر ان الہٰی قیا مت کے عقید ہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کی ہمیشہ یہی کو شش رہی کہ یہ عقید ہ انسا نیت کا اہم ترین رکن بن جا ئے اور لو گو ں کے دلو ں میں یہ عقید ہ را سخ ہو جا ئے ۔

آخر ت پر اعتقا د، انفرا دی اور اجتما عی زند گی کے اعتبا ر سے صرف اسی صو ر ت میں کا ر گر ثا بت ہوں گے، جب ہم یہ ما ن لیں ،کہ اس دنیا کے اعما ل اور ابدی زندگی کی سعا دت و بد بختی کے در میا ن ایک قسم کا را بطہ علیت پا یا جا تا ہے ،یا کم از کم یہ ثا بت ہو جائے، کہ وہاں کا ثوا ب و عذاب صر ف اس دنیا میں عمل کرنے کا نتیجہ ہے ( جیسے دنیوی فو ائد اور نقصا ن )اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مسئلہ آخر ت اپنی حققیت و اصلیت کھو بیٹھے گا کیو نکہ اس کے معنی یہ ہو ں گے کہ دنیوی سعا دت حا صل کر نے کے لئے اسی دنیا میں کو شش ہونی چاہیے اور اخر وی سعا دت ونجا ت کے لئے وہاں کی دنیا ہو نی چا ہیے لہٰذا ضر ور ت ہے کہ قیا مت کے اثبا ت کے سا تھ سا تھ دنیا و آخر ت کے در میان پا ئے جا نے وا لے ر ابطے اور ا بد ی خو شبختی یا بد بختی میں انسان کے اختیا ر اعما ل و کر دا ر کی تا ثیر کو بھی ثا بت کر دیا جا ئے ۔

قیا مت کے مسئلہ پر قر آن کی تا کید۔

قر ان کر یم کی ایک تہا ئی سے زیا دہ آیتیںانسان کی ابد ی زند گی سے متعلق ہیں بعض آیا ت بیان کر تی ہیں کہ آخر ت پر ایما ن رکھنالا زم ضر ور ی ہے(۱) اور بعض آیتیں انکا ر آخر ت کے نقصا نا ت

کو بیان کر تی ہیں(۲) بعض آیتیں ابدی نعمتو ں کا تذکر ہ کرتی ہیں(۳) اور بعض آیات میں ابدی عذا ب کا ذکر مو جو د ہے(۴) اور اسی طر ح سے بہت سی دوسر ی آیتو ں میں بھی نیک اور بد اعما ل اور آخر ت میں اسی بنیا د پر ہو نے وا لے ثو اب و عقا ب کا ذکر ہوا ہے ، نیز اور دوسرے طر یقو ں سے بھی قیا مت کے امکا ن اور اس کی ضرورت و اہمیت پر قر آن نے تا کید کی ہے، اور سا تھ ہی سا تھ منکر ان قیا مت کے سا منے محکم اور ٹھو س دلیلیں بھی پیش کی ہیں اور ان کے اعتر اضات کے جو ابا ت دئے ہیں چنا نچہ گمرا ہی ،انکار قیا مت اور اس سے ،فر امو شی کی بنیا دی وجہ بھی بیان فر ما ئی ہے(۵) اگر قر آن مجید میں غور کیا جا ئے تو اس سے یہ با ت صا ف ظاہر ہو تی ہے کہ پیغمبر وں کی گفتگو اور ا ن کے اقوال نیز لو گو ں سے بحث و مبا حثہ کا بیشتر حصہ قیا مت کے مو ضو ع سے متعلق ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان کی کو ششیں تو حید کو ثا بت کرنے سے زیا دہ قیا مت کو ثا بت کر نے کے لئے رہی ہیں کیو نکہ اکثر افرا د قیا مت کو قبو ل کر نے میں بہت ہی شدید و سخت رہے اور اس سختی کی بھی شا ید دو وجہ بیان ہو سکتی ہے۔

١۔ پہلی وجہ جو مشتر ک ہے وہ یہ ہے کہ ہر غیبی اور نا محسو س چیزو ں کا انکا ر کر دینا ہے ۔

٢۔اور دوسر ی وجہ جو قیا مت کے مسئلہ سے مخصو ص ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا کسی قا نو ن کا پا بند نہ ہو نا( لاا با لی ہو نا ) ہے کیو نکہ قیا مت کا قبو ل کر نا گو یا اپنی زندگی کا محدو د کر لینا اور برے اعما ل ،منجملہ ظلم و فساد و گنا ہوں سے نفرتو بیزاری کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خو اہشا ت سے دست بر دا ر ہو جا ئے اور اس کے انکا ر کر دینے کی صو ر ت میں ہوا و ہو س اور شہو ت پر ستی و خو د خو اہی کے سا رے را ستے کھل جا ئیں گے قرآن مجید اسی نکتہ کی طر ف اشارہ کرتے ہو ئے ارشاد فر ما رہا ہے ۔

( اَیَحْسِبُ الْاِنْسَاَنُ اَلِّن نَجْمَعَ عِظَاَ مَهُ ٭بَلَیٰ قَاْدِرِیْنَ عَلَیٰ اَنْ نُسَوِّ یَ بَنَانَه ٭بَلْ یُرِیْدُ اْلاِنْسَاْنُ لِیَفْجَرُاَمَامَهُ ) (۶)

کیا انسا ن یہ خیا ل کر تا ہے کہ ہم اس کی ہڈیو ں کو جمع نہ کر سکیں گے ،یقیناہم اس با ت پر قا در ہیں کہ اس کی انگلیو ں کے پو ر تک درست کر لیں بلکہ انسان یہ چا ہتا ہے کہ اپنے سا منے برا ئی کر تا چلا جا ئے ۔

اور اسی قیا مت کے اس حقیقی معنی سے انکا ر وامتنا ع کو ان افرا د میں ڈھو نڈھا جا سکتا ہے جو اپنی تحریر و تقر یر یا رفتا ر و گفتا ر کے ذر یعہ اس با ت کی کو شش کر تے ہیں کہ قیا مت کو اسی دنیا کا ایک حا دثہ بنا کر لو گو ں کے سا منے پیش کر یں جس سے مر ا د یہ ہے کہ اس دنیا میں قو میں آئیں گی جن میں طبقا تی نظا م نہ ہو گا، یا جنت سے مرا د یہی زمین ہے یا آخر ت اور اس سے متعلق دوسری چیزیںصرف فر ضی اور تصوراتی یا خود ساختہ دا ستا نیں ہیں(۷)

قر آن مجید نے ایسے افرا د کو ( ا نسان نما شیطا ن ) اور ( انبیا ء کے دشمنو ں ) سے تعبیر کیا ہے جو اپنے نر م و لطیف لہجہ اور سحر آمیز باتوں کے ذریعہ لو گو ں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور لو گو ں کو صحیح عقید ہ و ایمان اور احکا م الہٰی پر عمل کرنے سے منحر ف کر دیتے ہیں ۔

( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنْالِکُلِّ نَبِِّ عَدُوْاً شَیَاطِیْنَ الاِنْسِ وَاْلجِنِّ یُوْحِْ بِعْضِهِم اِلَیٰ بَعْض زُخْرُفَ القَوْل غُرُوْراً وَلَوْ شَاْئَ رِبُّکَ مَاْ فَعَلُوْهُ فَذَرْ هُمْ وِمَاْ یَفْتَرُوْنَ ٭ وَ لِتَصْغیٰ اِلِیْهِ اَفْئدَةُ الَّذِیْنَ لاَیُوْمِنُوْنَ بِاْ لآخِرةِ و لِیَرضَوْهُ ولْیَقترِ فُوْا مَاهُمْ مُقتَرفُوِنَ ) (۸)

اور اسی طر ح ہم نے ہر نبی کے لئے شیا طین جن و انس میں سے، انکا دشمن قرا ر دیا ہے یہ آپس میں ایک دو رسرے کو د ھوکہ دینے کے لئے مہمل با تو ں کے اشا رے کر تے ہیں اور اگر خدا چا ہ لیتا تو یہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے تھے لہٰذا اب آپ انھیں ان کے افتراء پر چھوڑ دیجئے، اور یہ اس لئے کر تے ہیں کہ جن لو گو ں کا ایما ن آخر ت پر نہیں ہے ان کی طرف مائل ہو جا ئیں اور وہ اسے پسند کر لیں اور پھر خو د بھی انھیں کی طر ف افتراء پر دا زی کر نے لگیں ۔

نتیجہ۔

انسان کو چا ہیے ایک ایسے راستہ کا انتخا ب کرے جو اسے اُس کی منزل مقصو د یعنی کما ل اور سعا دت ابد ی سے ہم کنا ر کر دے اوراس کے لئے ضر ور ی ہے کہ پہلے وہ اس با ت پر غور کر ے، کہ کیا انسان کی زند گی اُس کی مو ت کے بعد ختم ہو جا تی ہے یا اس کے بعد بھی کو ئی دوسری زندگی ہے؟ یا یہ کہ اس جہا ن سے دوسرے جہا ن میں منتقل ہو نا ایک شہرسے دوسرے شہر میں سفر کر نے جیسا ہے، کہ جس کے لئے زندگی کے تمام وسا ئل اور ضروریا ت کو وہیں حا صل کیا جا سکتا ہے ؟یا یہ کہ اس دنیا کی خا ص زندگی اُس آنے والی زندگی کی خو شی اور نا خو شی کا مقد مہ ہے اور جو کا م واعمال یہاں انجا م دئے جا ئیں اور اس کے آخر ی نتیجہ سزا یا جزا کو وہا ں حا صل کہا جا ئے جب تک یہ مسا ئل حل نہیں ہو جا تے، تب تک انسان صحیح را ستے اور مقصد کا انتخاب نہیں کر سکتا، کیو نکہ جب تک انسان کو اس کے سفر کا مقصد معلوم نہ ہو، تب تک اس تک پہنچا نے وا لے را ستے کو معین نہیں کیا جا سکتا ۔

یہ با ت بھی قا بل ذکر ہے کہ اس حیا ت ابدی کے وجود کا احتما ل جتنا بھی ضعیف اور فرضی ہی کیو ں نہ ہو پھر بھی ہو شیا راور عقلمند انسان کو اس کے سلسلے میں تحقیق اور تلا ش و جستجو پر آما دہ کر تا ہے، اس لئے کہ اس احتمال کی کو ئی حد معین نہیں ہے ۔

سوا لا ت

١۔ اپنی زندگی کو منظم بنا نے کے لئے قیا مت پر اعتقا د رکھنے اور نہ رکھنے میں کیا فر ق ہے ؟

٢۔ کس صو رت میں اخر وی زند گی پر اعتقاد رکھنا زند گی کو منظم بنا نے میں اچھا کر دا ر ادا کرسکتا ہے ؟

٣۔ قیا مت کے متعلق قر آن مجید کی تا کید کو وا ضح طو ر سے بیا ن کیجئے ؟

٤۔لو گ قیا مت کو قبو ل کر نے میں اتنی سختی سے کیو ں کا م لیتے ہیں ،شرح کیجئے ؟

٥۔ قیا مت پر اعتقا د کی تحر یف میں دلو ں کے مریض لو گو ں کی کو ششوں کے چند نمو نے اور اس کے مقا بلے میں قرآن کا مو قف کیا ہے ؟

٦۔قیا مت کے با رے میں تحقیق کی ضر ورت کو لکھتے ہو ئے اس تحقیق کی بر تر ی کو دنیا وی مسا ئل پر تحقیق کر نے پر بیان کریں ،شر ح دیں ؟

____________________

١۔بقرہ ٤،لقمان ٤،نمل٫٣

۲۔اسراء ١٠،فرقان ١١ صبا ٨،مو منون ٧٤،

۳۔ رحمٰن ٤٦، تا آخر سورہ ،واقعہ ١٥ ،٣٨ ،الدہر ١١،٢١ ،

۴۔حا قہ آیت۔ ٢٠،٢٧،ملک ٦،١١ ،واقعہ ٤٢ ،٥٦،

(۵) سورہ ص آیت٢٦ ۔سورہ سجدہ آیت١٤٠

۶۔ قیامت۔ آیت/ ٣، ٥

۵۔نمل آیت ٦٨، الحقاف آیت ١٧،

۸۔ انعام ١١٢، ١١٣،


بیا لیسوا ں درس

مسئلہ قیامت اور مسئلہ رو ح کا با ہمی رابطہ

زندہ مو جود ات کی وحد ت کا معیا ر

انسان کے وجود میں روح کا مقام(کردار)

زندہ مو جود ا ت کی وحد ت کا معیا ر۔

تمام حیوا نو ں کی طر ح انسان کا بد ن بھی زند ہ اور متحر ک اجزا ء اور عناصر کا ایک مجمو عہ ہے کہ جس میں سے ہر ایک عنصر مسلسل تبدیلی و تغیر کا شکار ہے، اور اس کا یہ اندا ز پیدا ئش کے وقت سے لیکر زندگی کے خا تمہ تک بدلتا نہیں ہے یا یہ کہ ان عناصر اور اجزاء کی تعدا د ہمیشہ ایک حالت پر باقی ہے ۔

اس تبد یلی اور تغیرا ت کو دیکھتے ہو ئے جو حیو انا ت بلکہ خا ص طو رسے انسانوں کے بدن میں جا ری ہے یہ سوال پید ا ہو تا ہے کہ وہ کو ن سا معیا ر ہے جس کی بنیا د پر متغیر اور بدلے ہو ئے عنا صر واجزا ء کے مجمو عہ کو موجو د ِ واحد کا نام دیا جا ئے، جبکہ ممکن ہے کہ پو ری زندگی میں متعدد مر تبہ وہ اجزا ء اور عنا صر تبدیل ہو جا ئیں اور ان کی جگہ ا سی طرح کے دو سرے عنا صر آجا ئیں ؟(۱)

اس سوال کا سب سے آسان اور سا دہ جو اب جو دیا جا تا ہے وہ یہ ہے کہ زند ہ مو جودا ت میں وحد ت کا معیا ر ان اجزا ء کا ایک دوسرے سے ایک ہی زما نے میں یا الگ الگ متصل ہو نا جبکہ وہ عناصر تدریجی طو ر سے ناپدید اور ختم ہو تے رہتے ہیں اور اس جگہ دوسرے عنا صر پیدا ہوجا تے ہیں لیکن پیو ستگی اور اتصا ل کے سبب جو مسلسل تبد ل و تغیر کے ساتھ ہے مو جو د وا حد کا نام دیا جاتا ہے ۔

لیکن یہ جو اب اطمینان بخش نہیں ہے کیو ں کہ اگر ایک مکا ن فر ض کرلیں کہ جو مختلف اور متعدد اینٹو ں سے مل کر تیا ر ہو ا ہو، اور اس کی اینٹو ں کو آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے تبد یل کر تے رہیں، اس طر ح کی کچھ مد ت کے بعد پہلے کی ایک اینٹ بھی با قی نہ رہ جا ئے تو ایسی صو رت میں اس نئی اینٹوں کے مجمو عے کو وہی پہلے والا مکا ن نہیں کہا جا سکتا، اگر چہ سہل انگا ری کی بنا پراعتبار سے ایسی تعبیرا ت کا استعما ل کیا جا تا ہے بالخصوص ان لو گو ں کی جا نب سے جو اس مجمو عے کے اجزاء کی تبد یلی کی اطلا ع نہیں رکھتے ۔

گذشتہ جو ا ب کو اس طر ح مکمل کیا جا سکتا ہے کہ یہ تبدیلی اس مجمو عے کی وحدت کے لئے نقصا ن دہ نہیں ہے کہ جب ایک فطر ی اور اندرونی سبب کی بنیا دوا قع ہو جیسا کہ زند ہ مو جودا ت میں دیکھا جا تاہے ،لیکن کسی مکا ن کی اینٹو ں کی تبد یلی ایک با ہر ی اور خا رجی سبب کی بنیا د پر واقع ہو ئی ہے لہٰذا اس پو ر ی مد ت میں جس دو ران اس کے اجزاء تبدیل ہو تے ہیں اس کی طر ف حقیقی وحد ت کی نسبت نہیں دی جا سکتی ۔

یہ جوا ب اس ایک طبیعی و فطر ی سبب کے قبو ل کر نے پر مو قو ف ہے جو ان تما م تغیرا ت اور تبدیلی کے سا تھ ہمیشہ با قی رہتا ہے اور ان اجزا ء اور عناصر کے نظا م اور تر تیب کو محفو ظ رکھتا ہے ، پس دوبا رہ اس سبب کے با رے میں سوا ل پید ا ہو تا ہے کہ اس سبب کی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کی وحد ت کا معیار کیا ہے ؟

معر و ف فلسفی نظر یہ کے مطا بق ہر طبیعی مو جو د میں وحد ت کا معیا ر ایک امر بسیط (غیر مر کب ) اور غیر محسو س شیء ہے اور وہ طبیعت ( فطر ت ) یا صورت(۲) یعنی اجزاء اور ذرات کے بد لنے سے تبدیل نہیں ہو تے اور زند ہ مو جو دا ت کہ جو مختلف افعال انجا م دیتے ہیں جیسے غذا حا صل کر نا اور رشد و نمو کرنا ، ایجاد و تولید کرنا وغیرہ ایک عامل کی وجہ سے ہے کہ جس کو نفس کوا جاتا ہے ۔

قدیم فلسفی علما ء نفس نبا تی اور نفس حیو ا ن کوما دّی اور نفس انسانی کو مجرد عن المادہ جا نتے تھے لیکن بہت سے اسلا می حکما ء منجملہ صدر المتألھین شیر ازی نے نفس حیوا نی کو بھی تجرد اور ما دہ سے خا لی ہونے کو ایک مر تبہ جا نا ہے او ر شعو ر وارا دہ کو اسی مجر د مو جو د کی علامت شما ر کیا ہے لیکن ما تر یا یسیم کہ جو وجود کو ما دّے اور اس کی خا صتیو ں میں منحصر جا نتے ہیں وہ رو ح مجر د کا انکا ر کر تے ہیں اور جدید ما دہ پر ست انسان (مادّیین) (جیسے پو زتیو لیسم بنیا دی طور سے ہر غیر محسو س چیز کا انکا ر کرتے ہیں اور جب کسی بھی غیر محسو س چیز کو قبو ل نہیں کر تے جس کے نتیجہ میں ان کے پا س زندہ مو جو دا ت ہیں وحد ت کے معیا ر کے سلسلے میں کو ئی صحیح جو اب نہیں ہے۔

اس بنا پر کہ نبا تا ت کے اندر معیار وحدت اس کا نفس نبا تی ہوتا ہے لہٰذا نبا تی زند گی کا وجو د، مادہ مستعد میں صورت اور نفس نباتی خاص کی وجہ سے ہے ، اس طرح سے جس و قت ما دہ کی استعداد ختم ہو جا ئے گی اس وقت اس کا صورت اور نفس نبا تی ہونا بھی ختم ہو جا ئے گا اور اگر ہم یہ فر ض کرلیں کہ وہ ما دّہ دو با رہ صو رت نبا تی کو قبو ل کر نے کی صلا حیت و استعداد کو حاصل کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں ایک جدید نفس نباتی کا اس میں اضا فہ ہو گا ،لیکن دو (پرا نے اور نئے) سبزوں ( درخت یا پو دے) کے درمیا ن مکمل شبا ہت کے با وجو د بھی حقیقی وحد ت نہیں پا ئی جا سکتی اور اگر دقیق نظر سے دیکھا جا ئے تو اس جدید سبزے کو پہلے والا سبزہ نہیں کہا جا سکتا ۔

لیکن حیو ان اور انسان کے متعلق ،چو نکہ ان دو نو ں کی رو ح مجر د ہے ( ما دّہ سے خا لی ہے ) لہٰذا بد ن کے نا بود اور ختم ہو جا نے کے بعد بھی با قی رہ سکتی ہے ،اور جب دو با رہ بدن میں دا خل ہو گی تو اپنی وحد ت کو حفظ کر سکتی ہے چنا نچہ مو ت سے پہلے بھی یہی رو ح کی وحدت شخص کی وحد ت کا معیا ر تھی اور ما د ہ کا تبدیل ہو نا شخص کے بد ل جا نے کا سبب نہیں بنتا،لیکن اگر کو ئی انسان و حیوان کے وجود کو اسی بد ن اور اسکی خا صیتو ں میں منحصر جا نے ،اور رو ح کو بھی اسی بدن کی خا صیت یا خا صیتو ں کا مجمو عہ تسلیم کرے یہا ں تک کہ اگر اس کو غیر محسو س لیکن ما دّی تصو ر کر ے، کہ جو بدن کے اعضا ء و جو ارح کے ختم ہو جا نے کے سا تھ سا تھ وہ (روح)ختم ہو جا ئے گی تو ایسا انسان قیا مت کا صحیح تصور نہیں کر سکتا،کیو نکہ اس فر ض کے سا تھ کہ بدن دو بارہ حیا ت کی استعداد پید ا کر سکتا ہے ، کیونکہ نئی خا صیتیں اس کے اند ر پیدا ہوں گی اور ایسی صو رت میں وحد ت کا حقیقی معیا ر وجود میں نہیں آسکتا، کیو نکہ فر ض یہ ہے کہ پہلے کی خا صیتیں با لکل ختم ہو چکی ہیں اور نئی خاصیتوں نے جنم لیا ہے ۔

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ ُاس وقت موت کے بعد حیات کا صحیح تصور ممکن ہے جب روح کو بدن سے اور اس کی خاصیتوں سے ہٹ کر الگ سمجھیں اور یہاں تک اس کو ایک مادی صورت نہ سمجھیں جو بدن میں حلول کر گئی ہو اور بدن کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے،لہذا سب سے پہلے روح کو قبول کرنا ہوگا،اس کے بعد اس کو ایک امرِ جو ہری تسلیم کرنا ہو گانہ بدن کے اعراض کے مانند کوئی شیئ،(بدن کے اوپر عارض ہونے والی کیفیات)اور اس کے بعد پھر،اس کو بدن کے ختم ہو جانے کے بعد بھی قابل بقا اور قابل استقلال ماننا ہوگا نہ کہ حلول کرنے والی شیء کی طرح(اصطلاح میں مادہ کے مطابق)کہ جو بدن کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

انسان کے وجود میں روح کا مقام(کردار)

یہاںپر جس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا روح اور بدن سے مرکب ہونا، پانی میں آکسیجن اور ہیڈ روجن سے مرکب ہونے کے مانند نہیں ہے کہ ان دونوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے کے ساتھ ساتھ خود مرکب کا وجود بھی ایک کل کے عنوان سے ختم ہوجائے بلکہ روح، انسان کا ایک اصلی عنصر ہے اور جب تک یہ عنصر باقی ہے انسان کی انسانیت بھی باقی رہے گی اور شخص کی شخصیت بھی باقی رہے گی،اسی لئے بدن کے عناصر اور اجزاء کے بدل جانے کی وجہ سے شخص کی وحدت پر کوئی برُا اثر نہیں پڑتا ،کیوں کہ انسان کی وحدت کا حقیقی معیار اس کی روح ہے قرآن حکیم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُن منکرین قیامت کے جواب میں جو کہتے تھے کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان اپنے بدن کے سارے اجزاء ختم ہونے کے بعد دوبارہ نئی حیات پاجائے؟

خدا وندے عالم ارشاد فرماتا ہے۔

( قُلْ يَتَوَفَّاکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ اَلَّذِْ وُکِّلَ بِکُمْ ) (۳)

کہدو (کہ تم نابود نہیں ہوگے بلکہ) فرشتہ موت تمہیں اٹھائے گا

بس ہر انسانیت اور شخصیت کا قوام اور وجود اسی چیز سے وابستہ ہے جس کو ملک الموت(اٹھا لیتا)،قبض کر لیتا ہے،نہ کہ بدن اس اجزاء کے ذریعہ جو زمین میں بکھر جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے،

سوا لات

١۔کیا ایک مجموعہ کے متغیر اجزاء کے اتصال کو اس کی وحدت کا معیار مانا جا سکتا ہے؟اور کیوں؟

٢۔کون سے دوسرے معیار کو ارگانیک ترکیبات کی وحدت کے لئے پیش کیا جا سکتا ہے؟

٣۔موجوداتِ مرکب و با لخصوص زندہ موجودات کے بارے میں معروف فلسفی کا نظریہ کیا ہے؟

٤۔صورتِ طبیعی اور نفس میں کیا فرق ہے؟

٥۔نفسِ نباتی،اور نفسِ حیوانی وانسانی میں کیا فرق ہے ؟اور یہ فرق مسئلہ قیامت میں کیا اثر رکھ سکتا ہے؟

٦۔قیامت کا صحیح تصور کن اصول کا محتاج ہےَ

٧۔انسان کا روح و بدن کے ساتھ مرکب ہونے اور کیمیائی ترکیبات میں کیا فرق ہے؟

____________________

۱۔اس سوال سے پہلے ایک دوسرا سوال سا منے آ تاہے کہ بنیادی طور سے ثا بت اوربند مجمو عے میں وحد ت کا معیا ر کیا ہے ؟اور کیمیا ئی تر کیب کو کس معیار کے مطا بق مو جو د واحد شما ر کیا جا سکتا ہے ؟ لیکن بحث و گفتگو کے زیا دہ طولانی ہو جانے کی وجہ سے اس کو یہا ں چھیڑ نے سے پر ہیز کیا جا رہا ہے، ضرور ت مند حضرا ت آمو زش فلسفہ جلد اول درس نمبر ٢٩ کی طر ف رجو ع کر یں ۔

۲۔جا ننا چاہیے ان میں سے ہر ایک لفظ کے دوسرے اصطلا حی معنی بھی پا ئے جا تے ہیں اور یہا ں پر ان سے مراد وہی صو رت ِنو عیہ ہے ۔

۳۔سورہ سجدہ۔ آیت ۔١١


تینتا لیسواں درس

روح کا غیر محسوس ہونا (روح کا مجرد ہونا)

مقدمہ:

جو ذیل کی بحثوں پر مشتمل ہے

روح کے غیر محسوس ہونے پر عقلی دلائل

قرآنی دلائل

مقدمہ:

اس سے پہلے ہم یہ جان چکے ہیں کہ مسئلہ قیامت مسئلہ روح کے اوپر موقوف ہے، یعنی اس وقت کہا جا سکتا ہے(جو بھی مرنے کے بعد زندہ ہوگا وہ واقعاً وہی پہلا شخص ہوگا)کہ جب بدن کے ختم ہو جانے کے بعد بھی روح باقی رہے،یا یوں کہا جائے کہ ہر انسان اپنے مادی بدن کے علاوہ ایک غیر مادی جو ہر رکھتا ہے جو بدن سے الگ ہو کر مستقل رہنے کی قابلیت رکھتا ہے،اگر ایسا نہ ہو تو اسی شخص کے لئے دوبارہ حیات کا فرض کرنا عاقلانہ تصور نہیں ہوگا، لھذا قیامت کے اثبات اور اس سے متعلق مسائل اور خود قیامت کو بیان کرنے سے پہلے یہ مطلب ثابت ہو جانا چاہیے اس لئے ہم نے اس درس کو اسی موضوع سے مخصوص کردیا ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لیے دو طریقوں سے استدلال کریں گے ، ایک تو عقل کے ذریعہ سے اوردو سرا وحی کے ذریعہ(۱)

روح کے غیر محسوس ہو نے پر عقلی دلائل

کا فی زمانے سے فلسفیوں اور مفکروں نے روح(کہ جس کو فلسفی اصطلاح میں نفس کہا جاتاہے)(۲) کے بارے میں کافی بحث و گفتگو کی ہے ،اور خصوصاً اسلامی حکماء نے اس موضوع کو بہت ہی اہمیت دی ہے ،اپنی فلسفی کتابوں کے زیادہ حصوں کو اسی کی بحث سے مخصوص کردیا ہے اور اس کے علاوہ خود مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں،اور ان لوگوں کے نظریات کو جو روح کو بدن کے اعراض میں سے ایک عرض یا مادی صورت(جوبدن کے مادہ میں ڈھل جائے) تصور کرتے ہیں بے شمار دلائل کے ذریعہ ردّ اور باطل کیا ہے،

ظاہر ہے کہ اس سے تفصیلی بحث ا س موضوع کے ذیل میں اس کتاب کے لئے مناسب نہیں ہے لہذا اس مختصر گفتگو پر اکتفا کرتے ہیں،اور کوشش کر تے ہیں کہ اس باب میں ایک واضح بیان اور محکم گفتگو پیش کریں، چنانچہ یہ بیان چند عقلی دلیلوں پر مشتمل ہے جسے ہم اس مقدمہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔

ہم اپنی جلد اور کھال کے رنگ اور اپنے بدن کی شکل و صورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اعضاء بدن کی نرمی اور سختی کو اپنی قوت لامسہ کے ذریعہ محسوس کرتے ہیں نیز اس کو تشخیص دیتے ہیں اور اپنے بدن کے اندرونی اجزاء کے بارے میں صرف غیر مستقیم طریقہ سے اطلاع حاصل کر تے ہیں ،لیکن ہم اپنے اندرخوف و محبت اور غصہ و ارادہ نیز اپنی فکر کو بغیر حسی اعضاء کے درک کر لیتے ہیں، اور میرا ذا تی و جود(نفس) جو قوت احساسات کا ما لک ہے نیز عطوفت و مہربانی اور نفسیاتی حالات اپنے اندر رکھتا ہے بغیر حسی اعضاء کے آگاہ ہے۔

لہذا انسان کلی طور سے دو طرح کے ادراکات کا مالک ہے ،ادراک کی پہلی قسم وہ ہے کہ جس میں حسیِ اعضاء کی ضرورت پڑتی ہے،اور ادراک کی دوسری قسم وہ ہے جس میں حسی اعضاء کی ضرورت نہیں پڑتی،

ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ان خطا ؤںاور غلطیوں کے پیش نظر جو ادراکاتِ حسی میں پائی جاتی ہیں،ممکن ہے کہ خطا کا احتمال، ادراک کی پہلی قسم سے مربوط ہے لیکن دوسری قسم میں کسی بھی طرح کے خطا و شائبہ کا امکان نہ ہو،مثال کے طور پر ممکن ہے کہ کوئی شک کرے کہ کیا آیا اس کی کھال کا رنگ واقعاً ویسا ہی ہے جیسا وہ محسوس کرتا ہے یا نہین،لیکن کوئی بھی انسان اپنی فکر اور ذہن کے بارے میں یہ شک نہیں کر سکتا کہاس کے وہاں سوچنے کی قوت ہے یا نھیں ،ارادہ کیا یا نہیں، شک پیدا ہوا یا نہیں۔

اس مفہوم کو فلسفہ میں اس تعبیر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ علم حضوری بغیر کسی واسطے کے خود واقعیت سے متعلق ہوتا ہے اس لئے اس میں خطاء کا امکان نہیں ہے لیکن علم حصولی چونکہ ادراکی واسطے کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے لہذا ذاتی اعتبارسے قابل شک و تردید ہے(۳)

یعنی انسان کے یقینات اور اس کے حتمی علوم علم حضو ری ہیں جہ شہود کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں ، وہ علم بہ نفس یعنی احساسا ت اور عو اطف اور دوسرے نفسیا تی حا لا ت کو بھی شا مل ہیں اس بنا پر (میں ) کا وجو د جو درک کرنے والا ہے، غو ر و فکر کرنے والا شک وشبہہ کے قابل نہیں ہے جیسا کہ خو ف و محبت اور غصہ اور فکر و ارا دہ بھی قا بل شک نہیں ہے ۔

اب یہ سو ال پیدا ہو تا ہے کہ کیا یہ ( میں ) وہی ماد ی اور محسوس بد ن ہے اور کیا یہ نفسیا تی حا لا ت بھی اسی بدن کا ایک عا رضہ ہے یا ان کا وجود بدن کے وجود سے علیحدہ ہے اگر چہ اس ٫٫میں،،

اور ٫٫بدن،، کے درمیان نہا یت ہی گہرے تعلقا ت ہیں اور اپنے اکثر افعا ل کو اسی بدن کے ذریعہ انجام دیتا ہے اور اس میں اپنا اثر بھی ڈا لتا ہے اور خو د اس بدن سے متا ثر بھی ہو تا ہے ، مذکو رہ مقدمہ کے پیش نظر اس سوال کا جو ا ب بہت آسا نی سے دریافت ہوجاتا ہے کیو نکہ۔

١۔سب سے پہلے م٫٫میں،،کو علم حضو ری کے ذریعہ درک کرتے ہیں جبکہ ٫٫بدن،، کو حسی اعضا ء کے ذریعہ محسوس کیا جاتا ہے ۔

٢۔ دوسرے ٫٫میں،،ایک ایسا وجود ہے جو اپنی وحد ت اور حقیقی شخصیت کے وصف کے سا تھ دسیوں سال تک با قی رہتا ہے اور اس وحد ت و شخصیت کو ہم نا قا بل حفظ علم حضو ری کے ذریعہ درک کرتے ہیں در آ ں حا لیکہ بدن کے اجزاء با رہا تبدیل ہو تے رہتے ہیں اور سا بق اور لا حق اجزا کے در میان کو ئی بھی معیار وحد ت نہیں پا یا جا تا ۔

٣۔تیسرے ٫٫میں،، ایک بسیط اور نا قابل تجز یہ مو جود کا نام ہے مثلاً اس کو آدھے (میں ) میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ،جبکہ بدن کے اعضا ء و جو ارح متعدد اور قا بل تجزیہ و تقسیم ہیں ۔

٤۔ چو تھے احسا س اور اراد ہ وغیر ہ کے مانند ایک بھی نفسیاتی حا لت میں ما دیا ت کی اصلی خا صیت جیسے امتدا د اور قابل تقسیم ہو نا نہیں پا ئی جا تی ،( یعنی نفسیا تی حا لت میں ما دیت کی کو ئی بھی اصلی خا صیت نہیں پا ئی جا تی ،اور ایسے غیر ما دی امو ر کو ما دہ(بدن )کے اعرا ض میں شما ر نہیں کیا جا سکتالہٰذا ان اعر اض کا مو ضو ع ایک جو ہر ہے جو غیر ما دی (مجرد ) ہے(۴) ۔

مو ت کے بعد رو ح کی بقا اور استقلا ل اور ا سکے وجود کے او پر اطمینان بخش اور د ل نشیں دلیلیں وہ سچے خو اب ہیں کہ بعض شخصیتو ں نے مر نے کے بعد خوا بوں کے ذریعہ ان حقائق کی نشاندھی کی ہے نیز اولیا ء خدا کی کر امتو ں اور یہا ں تک کہ مرتاضوں کی ریاضتوں کے ذریعہ رو ح اور اس کے غیر محسو س ہونے کو ثا بت کیا جا سکتا ہے ،اس مو ضو ع پر گفتگو کر نے کے لئے ایک مفصل اور مستقل کتا ب در کا ر ہے

قرآنی دلائل۔

قر آن کر یم کی رو سے رو ح انسانی کے وجود میں شک و شبہہ نہیںکیا جا سکتا وہ رو ح جس کو اس کی انتہا ئی شرا فت کی بنیا د پر خدا کی طر ف منسوب کیا جا تا ہے(۵)

جیسا کہ انسان کی خلقت کی کیفیت کے متعلق ار شا د ہو رہا ہے

( وَنُفِخَ فِیْهِ مِنْ رُوْحِهِ ) (۶) بدن کو بنا نے کے بعد اس میں اپنی ر وح پھو نک دی ،ایسا نہیں ہے کہ معا ذ اللہ خدا کی ذا ت سے کو ئی شے جدا ہو کر انسان کے اند ر منتقل ہو گئی ہو ۔

اور حضرت آدم کی تخلیق کے با رے میں فر ما تا ہے (نَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوْحِْ)(۷) اسی طر ح دوسری آیتو ں سے استفا دہ ہو تا ہے کہ روح بدن اوراس کی خا صیتو ں سے علیحدہ ایک دوسری شی

ہے جو بقا کی صلا حیت رکھتی ہے باہم ان کا فر وں کے قو ل کو ذکر کرنے کے بعد کہتے تھے ۔

( ئَ اِذَاْ ضَلََلنَا فیِْ الْاَرْضِ أَئِ نَّا لَفِ خَلقِِِ جَدِیْد ) )(۸) جس وقت ہم (مرگئے) اور زمین میں گم ہو گئے ( اور ہما رے بدن کے اجزاء مٹی میں بکھر گئے )کیا ہم دو با رہ پیدا کئے جا ئیں گے ۔

اس طر ح جو اب دے رہا ہے( قُلْ یَتَوَفَّا کُمْ مَلَکُ ا لْمَو ت اَلَّذِْ ُوُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلیٰ رَبِّکُمْ تُْرجَعُوْنْ ) )(۹)

کہدو(تم گم نہیں ہوگے) وہ موت کا فرشتہ جو تمہارے اوپر تعینات ہے وہ تمہیں وفات دے گا اور پھر اپنے پروردگار کی طرف پلٹا دیئے جائوگے،

پس انسان کی شناخت کا معیار وہی روح ہے کہ جو موت کے فرشتے کے ذریعے قبض کی جاتی ہے،اور ہمیشہ محفوظ رہتی ہے نہ کہ وہ اجزاء بدن جو زمین میں بکھر جاتے ہیں اورختم ہو جاتے ہیں اور ،ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے۔(ا( َللّهُ یَتَوَفی الا نفس حَیْنَ مَوْ تِها وَا لَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَاْ مِهَاْ فَیُمْسِکُ التِّی قَضَیٰ عَلَیْهَا الْمَو تَ ،وَ یُرْ سِلُ الاُ خریٰ الٰی اَجَلٍ مُسَمّی ) ٰ )(۱۰)

اللہ ہی ہے جو روحوں کو(یا اشخاص) کو موت کے وقت اپنی طرف بلا لیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی رو حوں کو بھی نیند کے وقت طلب کر لیتا ہے(یعنی وہ جو سو گیا ہے اس کی موت کا وقت نہیں آیا)۔

اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کر لیتا ہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت کے لئے آزاد کردیتا ہے۔

اور ستمگا روں کی موت کی کیفیت کے بارے میں ارشاد فرماتاہے۔

( اِذِ الظَّالِموُنَ فِ غَمَرَاتِ اَلْمَوْتِ وَالْمَلاَئِکَةُ بَاسِطوُا أَ یْدِيْهِمْ أَخْرِجُوْا أَنْفُسَکُمْ ) )(۱۱)

اور اگر آپ دیکھتے کہ ظالمین موت کی سختیوں میں ہیں اور ملائکہ اپنے ہاتھ بڑھائے ہوئے آواز دے رہے ہیں کہ اب اپنی جانوں کو نکال دو۔(تسلیم ہو جائو)

ان آیات اور اس طرح کی دوسری آیتوں کہ جن کو اختصار کی وجہ سے ہم نے نقل نہیں کیا، استفادہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کی نفسیت اور شخصیت اس چیز کے ذریعہ ہے جس کو خدا اور ملک الموت اور روح قبض کرنے والے فرشتے اپنے قبضہ میں لے لیتے ہیں اور بدن کا نابود ہوجانا انسان کی روح اور اس کی حقیقت وحدت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

نتیجہ کلام۔

سب سے پہلے،انسان کے اندر ایک شئے بنام روح پائی جاتی ہے،دوسرے یہ کہ انسان کی روح بدن سے جدا ہو کر بقا اور استقلال کی صلاحیت رکھتی ہے،نہ کہ مادی صورت اور اعراض کی طرح جو بدن کے ختم ہوجانے سے ختم ہو جائے،

تیسرے یہ کہ ہر فرد اور ہر شخص کی شناخت اور اس کا امتیاز اس کی روح سے وابستہ ہے،بلکہ یوںکہا جائے کہ ہر انسان کی حقیقت اس کی روح ہے اور بدن روح کی بہ نسبت ایک وسیلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

سوالات

١۔علم حضوری اور علم حصولی کی تعریف کرتے ہوئے ان کے ما بین فرق کو واضح کیجئے؟

٢۔روح کے غیر محسوس ہونے کو عقلی دلیلوں سے واضح کیجئے؟

٣۔روح کے غیر محسوس(مجرد)ہونے پر دوسری کون سی دلیلوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟

٤۔اس بحث و گفتگو سے مربوط آیات کو ذکر کیجئے؟

٥۔ان آیتوں سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

____________________

١۔ ممکن ہے یہ تو ہم پیدا ہو کہ وحی کے ذریعہ استدلا ل قیا مت اور روح کے مسائل کو ثا بت کر نے کے لئے ایک دوری استد لا ل ہے کیو نکہ اس دلیل میں جو بنو ت کی ضر ورت پر پیش کیا تھا اس اخر وی حیا ت کو جو مسئلہ رو ح پر موقوف ہے ایک اصل مو ضو ع کے عنوا ن سے نظر میں رکھا تھالہذا خو د اس اصل کو ثا بت کر نا وحی کے ذ ریعہ اور بنو ت کے ذریعہ مستلز م دو ر ہے یعنی دور لا زم آئے گا لیکن تو جہ ضر وری ہے کہ وحی کے ذریعہ استدلا ل کی صحت میں ضرو رت نبو ت کے مسئلہ کی ضرو رت نہیں ہے بلکہ اس کے وقوع پر مو قو ف ہے کہ جو معجزہ کے ذریعہ ثا بت ہو گا ( غور کیجئے ) اور چو نکہ قر آن مجید خو د بخو د معجزہ اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حقا نیت کی دلیل ہے لہٰذا اس کے ذریعہ رو ح اور قیامت کے مسا ئل کو ثا بت کر نے کے لئے استد لا ل کر نا صحیح ہے ۔

۲۔جا ننا چا ہیئے کہ نفس کی فلسفی اصطلا ح اس کے اخلا قی اصطلا ح کے علا وہ ہے جو عقل کے مقابل میں اور اس کی ضد کے عنوان سے استعما ل کی جا تی ہے

۳۔آمو زش فلسفہ ج ١ درس نمبر ١٣ کی طرف رجو ع کریں ۔

۴۔آمو زش فلسفہ جلد دوم در س نمبر ٤٤ اور ،٩٤ کی طرف رجو ع کر یں

۵۔ اصو ل کا فی۔ ج ١ ص ،١٣٤

۶۔سجدہ آیہ ٩

۷۔حجر ٢٩ ،ص ٧٢

۸ سجد ہ ۔ آیت ١٠

۹۔ سجدہ آیت ١١

۱۰۔ زمر۔ آیت ٤٢ ،

۱۱۔ انعا م ۔ آیت ٩٣،


چوّالسیوا ں درس

قیامت کا اثبات

مقدمہ:

جو مندرجہ ذیل بحثوں پر مشتمل ہے

برہان حکمت

برہان عدالت

مقدمہ

جیسا کہ ہم نے اس کتاب کے شروع ہی میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا، کہ قیامت اور آخرت میں انسان کے ہر فرد کے زندہ ہونے پر اعتقاد رکھنا تمام آسمانی ادیان کا بنیادی ترین عقیدہ ہے،اور انبیاء الٰہی علیہم السلام نے بھی اس اصل پر تاکید فرمائی ہے،اور لوگوں کے دلوں میں اس عقیدہ کو ثابت اور راسخ کرنے کے لئے بے انتہا ز حمتیں برداشت کی ہیں،اور قرآن مجید میں قیامت اور عدل پر عقیدہ رکھنے کو خدا کی توحید پر عقیدہ رکھنے کے برابر جانا گیا ہے ،اورتقریباً بیس سے زیادہ مقامات پر کلمہ ( اللّہ) اور( وَا لےَوم الاَخِر) کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا ہے،اگرچہ دوہزار سے زیادہ آیات میں آخرت سے متعلق بحث کی گئی ہے۔

اس جز کی ابتدا میں ہم نے عاقبت شناسی کے بارے میں تحقیق کی اہمیت پر حتی المقدور روشنی ڈا ل چکے ہیں،اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیامت کا صحیح تصور اس روح کو قبول کرنے پر موقوف ہے جو ہر انسان کی شناخت کا معیار ہے اور اس کا وجود موت کے بعد بھی باقی رہے گا ،تاکہ یہ کہا جا سکے کہ وہی شخص جو اس دنیا سے گیا ہے دوبارہ قیامت اور آخرت میں زندہ کیا جائے گا،پھر اس کے بعد عقل و وحی کے ذریعہ اس روح کو ثابت کیا گیا ہے تاکہ انسان کی ابدی زندگی کے بارے میں گفتگو کا راستہ ہموار ہو جائے اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس اہم اعتقادی اصل کو ثابت کرنے کی کوشش کریں۔

جس طرح مسئلہ روح کودو طریقوںعقل و نقل(آیات وروایات)کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہے ، اسی طرح اس مسئلہ کو بھی انہیں دونوں طریقوں سے ثابت کریں گے،ہم سب سے پہلے قیامت کی ضرورت پر دو عقلی دلیلیں پیش کریں گے اور اس کے بعد بعض قرآنی ارشادات کو ضرورت اور امکان معاد کے سلسلے میں پیش کریں گے۔

برہان حکمت۔

خدا شناسی کے باب میں وضاحت کی تھی کہ خدا کی خلقت بیکار اور بے مقصد نہیں ہے بلکہ خیر و کمال سے محبت کہ جو خدا کی عین ذات ہے بالاصالة اور اس کے آثار ہیں باالتبع،کہ جس میں خیر وکمال کے بعض مراتب پائے جاتے ہیں متعلق ہوتی ہے،اسی لئے دنیا کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خیرو کمال کا کسب کرنا اس پر مبنی ہو ،اور اس طرح سے ہم نے حکمت کی صفت کو ثابت کیا، کہ اس کا تقاضہ یہ ہے کہ مخلوقات کو ان کے مناسب کمال اور مقصد تک پہنچایا جا سکے،لیکن چونکہ مادی دنیا مزاحمتوںاور ٹکرائو کا مقام ہے، مادی موجودات کے خیر وکمالات ایک دوسرے کے معارض ہیں لہذا خدا کی حکیمانہ تدبیر کا تقاضہ یہ ہے کہ ا س کو اس انداز سے مرتب اور منظم کرے کہ مجموعی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ خیرات اور کمالات ا س پر مرتب ہوں،بلکہ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں بہترین نظام پایا جائے،اسی وجہ سے مختلف قسم کے عناصر اور ان کی مقدار و کیفیت ، فعل و انفعالات نیز اس کی حرکات و سکنات اس طرح منظم اور مرتب ہیں کہ سبزوں اور درختوں اور آخر میں اس دنیا کی سب سے کامل ترین مخلوق یعنی انسان کی خلقت کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم ہو جائے ،اور اگر یہ مادی دنیا اس طرح پیدا کی گئی ہوتی کہ موجودات زندہ کی پیدائش اور اس کے رشد کو ناممکن بنا دیتی، تو یہ

حکمت کے خلاف کام ہوتا۔

اب ہم مزید اضافہ کرتے ہیں اس بات کے مد نظر کہ انسان کے اندر قابل بقا روح پائی جاتی ہے ،اور وہ ابدی و جاودانی کمالات کو حاصل کرسکتا ہے وہ بھی ایسے کمالات جس کا تقابل مادی کمالات سے نہیں کیا جاسکتا،اگر اس کی حیات اس د نیوی زندگی پر منحصر ہو جائے تو حکمت الٰہی کے ساتھ سازگار نہیں ہو سکتی،خاص طور سے اس بات کے پیش نظر کہ دنیاوی حیات بے شمار رنج و مصیبت اور سختیوں و پریشانیوں کے ہمراہ ہوتی ہے اور غالباًکو ئی بھی لذت بغیر رنج و مصیبت اور زحمت کے حاصل نہیں ہوتی،اس طرح حساب لگانے والے افراد ا س نتیجہ پر پہنحے ہیں کہ محدود لذتوں کو حاصل کرنے کے لئے ان سب زحمتوں اور پریشانیوں کا برداشت کرنا مفید نہیں ہے،اور انہیں محاسبات کے ذریعہ بیکاری اور بے مقصد زندگی کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے یہاں تک بعض لوگ زندگی سے شدید محبت رکھنے کے باوجود خود کشی کی منزل تک پہنچ جاتے ہیں در حقیقت اگر انسان کی زندگی اس کے علاوہ نہ ہوتی کہ مسلسل زحمتیں برداشت کرے، اور طبیعی و اجتماعی مشکلات سے ہمیشہ دست و گریباں رہے تاکہ چند لمحہ لذت و خوشی کے ساتھ گذارے، اور اس وقت خستگی اور تھکاوٹ کے باعث سو جائے تاکہ جس وقت اس کا جسم دوبارہ محنت کرنے اور کام کے لئے آمادہ ہو جائے(نیادن اور نئی روزی) تو پھر دو با رہ سعی و کو شش کر ے مثلاً ایک لقمہ رو ٹی حا صل کرلے اور اسے کھا نے کے ذریعہ ایک لمحہ کی لذت محسو س کرے اور اس کے علا وہ کچھ نہیں !ایسا تکلیف دہ اور رنج و ملا ل آور تسلسل کو عقل ہر گز پسند نہیں کر تی، اور نہ تو اس کے انتخا ب کا حکم ( فتوی) دیتی ہے، ایسی زندگی کی بہترین مثا ل یہ ہے کہ ایک ڈرا ئیو ر اپنی کا ر کو پٹر ول پمپ تک جا ئے اور پٹرو ل کی ٹنکی کو بھر نے کے بعد اس پٹر ول کو دوسرے پٹرول پمپ تک لیجانے میں صرف کر دے ،اور اس کام کو برابر انجام دیتا رہے یہا ں تک کہ اس کی کا ر پرا نی و بو سید ہ ہو جا ئے اور کام کر نا چھوڑ دے یا کسی اکسیڈنٹ یا دوسرے موانع کی وجہ سے تباہ ہو جائے ۔

ظاہر ہے کہ انسان کی زندگی کے متعلق ایسا نظر یہ رکھنا بے مقصد بے ہدف ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔

دوسری طر ف انسان کی مہم اور بنیادی خو اہشا ت میں سے ایک بقااور جا ویدانگی ہے کہ جسے خدا ووند عا لم نے اس کی فطر ت میں قرار دیا ہے اورا یک ایسے محر ک اور قوت کے حکم میں ہے جو اسے

ابدیت کی طر ف لے جا تا ہے اور مسلسل اس کی رفتار میں اضا فہ کر تا رہتا ہے ایسے مو قع پر اگر یہ فر ض کیا جا ئے کہ ایسے محر ک اور تیز رفتا ری سے چلنے وا لے کا انجام سوا ئے اس کے کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی رفتا ر کی سر عت کی انتہا پر ایک مضبو ط پتھر سے ٹکر ا جا ئے اور پا ش ہا ش ہو کر ختم ہو جا ئے آیا ایسے انجام اور مقصد کے پیش نظر قو ت و سر عت و رفتا ر میں اضا فہ کر نا منا سب ہو گا ؟لہذا ایسا فطری رجحان اس وقت حکمت الہٰی کے سا تھ سا ز گا ر ہو گا کہ جب اس فا نی اور مو ت سے محکوم دنیا کے علا وہ کو ئی اور زندگی پا ئی جا ئے ۔

حا صل کلا م یہ ہے کہ اپنی انھیںدو تمہید وں کے بعد یعنی حکمت اور انسان کے لئے ابدی زندگی کے امکان سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس محدود دنیا وی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی انسان کے لئے ہو نی چا ہیے تا کہ حکمت الہٰی کی مخالفت نہ ہو ۔

اور جا ودا نی زند گی کی طرف رجحا ن کو ایک دوسر ا مقدمہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس میں حکمت الہٰی کو ضمیمہ کر کے ایک دوسری دلیل بنا کر پیش کی جا سکتی ہے ۔

اسی کے ضمن میں یہ با ت بھی رو شن ہو گئی ہے کہ انسان کی ابدی زندگی میں ایک دوسرا نظا م ہو نا چا ہیئے کہ جس میں دنیا وی حیا ت کی طر ح رنج و مصیبت نہ پا ئی جا ئے ورنہ یہی دنیا وی زندگی اگر ہمیشہ کے لئے ممکن ہو جا تی ، تب بھی حکمت خدا کے سا تھ سا زگا ر نہ ہو تی ۔

برہان عدا لت۔

اس دنیا میں سا رے انسان اچھے اور بر ُے عمل کو انجام دینے میں آزاد ہیں ایک طر ف تو وہ لو گ ہیں جو اپنی پو ر ی زندگی خدا کی عبا دت اور بند گا ن ِخدا کی خد مت میں گذا ر دیتے ہیں،اور دوسری طر ف ایسے ایسے گنہگار اور بد کردا ر افراد نظر آتے ہیں جو اپنی شیطا نی خوا ہشا ت تک پہنچنے کے لئے بڑے سے بڑا ظلم اور بد سے بد تر گنا ہ کا ارتکا ب کر تے ہیں اور بنیا دی طو ر سے اس دنیا میں انسان کی خلقت کا مقصد اور اس کو مختلف متضا د رجحا نا ت اور ار ا دہ و انتخا ب سے اور مختلف عقلی و نقلی شنا ختو ں سے

ما لا مال کر دینے اور اس کی مختلف رفتا ر و کر دا ر کے لئے مو قع فر اہم کر نے اور حق و با طل اور خیر و شر کے دو ، را ہے پر لا کر کھڑا کر دینے کا مقصدو ہد ف یہ ہے کہ انسان بے شما ر امتحا نا ت اور آزمائشو ں سے گذ رے، اور اپنے کما ل کی را ہ کو اپنے ارا دہ و اختیا ر کے ذر یعہ انتخا ب کر ے، تا کہ اپنے اختیا ری اعمال کی جزا یا سزا پا سکے اور در حقیقت انسان کے لئے اس دنیا کی پو ری پو ری زند گی صر ف امتحا نا ت اور آزمائشیں اور اپنی شخصیت کو بنا نا ہے یہا ں تک کہ یہ انسان اپنی عمر کے آخر ی لمحے تک ان آزمائشا ت اور امتحا نا ت اور تکلیف کے انجام دینے سے معذور نہیں ہے ۔

لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے نیک بندے اور گنہگا ر وظا لم اس دنیا میں اپنے کئے کی جزا یا سزا نہیں پا تے اور بسا اوقات دیکھتے ہیں گنہگا ر لو گ زیا دہ نعمتو ں سے سر فراز ہیں اور خو شحا ل زندگی بسر کر رہے ہیں،اور بنیادی اعتبار سے اس دنیاوی زندگی میں بہت سے ایسے اعمال ہیں جنکی جزا یا سزا کی گنجائش نہیں،مثلاً وہ شخص جس نے ہزاروں بے گناہ انسان کو قتل کردیا ہو اسکو ایک بار سے زیادہ قصاص نہیں کیا جا سکتا اور باقی تمام جرائم و فسادات اور سارے ظلم بغیر سزا کے رہ جائیں گے،حالانکہ عدل پروردگار کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر کسی نے چھوٹے سے چھوٹا بھی اچھا یا برُا کام کیا ہے تو اس کو اس کا نتیجہ ملنا چاہیے۔

پس جیسا کہ یہ دنیا آزمائش اور امتحان کا مقام ہے ویسے ایک دوسرا مقام ہونا چاہیے جہاں جزا اور سزا ملے اور انسان کے اعمال کا نتیجہ سامنے آئے اور ہر فرد اپنے مناسب مقامات تک پہنچ جائے، تاکہ خدا کی عدالت عینی طور سے محقق ہو جائے۔

اسی بیان کے ذیل میں یہ بھی واضح ہوتا ہے آخرت ، انتخاب راہ اور تکلیف کوانجام دینے کی جگہ نہیں ہے،آئندہ انشاء اللہ اس سے بھی مفصل بحث کریں گے۔

سوالات:

١۔حکمت الٰہی کا نظام احسن سے کیا رابطہ ہے؟شرح کیجئے؟

٢۔برہان حکمت کو دو تقریروں کے ذریعہ بیان کیجئے؟

٣۔اس برہان سے اصل قیامت کے اثبات کے علاوہ اور کون سا دوسرا نکتہ سمجھ میں آتا ہے؟

٤۔اس دنیا میں انسان کی خلقت کے مقصد کی وضاحت کیجئے؟

٥۔برہان عدالت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیجئے؟

٦۔اس برہان سے کون سا خاص نکتہ حاصل ہوتا ہے؟


پینتالیسواں درس

قرآن میں قیامت کا تذکرہ

مقدمہ

قیامت کا انکار بے دلیل ہے۔

قیامت کے مانند دوسرے حوادث۔

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے۔

سبزوں کا اُگنا۔

اصحاب کہف کا سونا۔

حیوانوں کا زندہ ہونا۔

بعض انسانوں کا زندہ ہونا۔

مقدمہ:

قرآن مجید میں قیامت کو ثابت کرنے یا منکرین قیامت سے احتجاج کرنے کے متعلق جو آیتیں موجود ہیں، ان کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

١۔وہ آیتیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ منکرین قیامت کے پاس قیامت کے انکار کے اوپرکوئی دلیل نہیں ہے یعنی ان کے پاس انکار قیامت کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

٢۔وہ آیاتِ کریمہ جو قیامت کے مانند رو نما ہونے والے دوسرے حوادث کی طرف اشارہ کرتی ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ قیامت کا واقع ہونا بعید از قیاس نہیں ہے

٣۔وہ آیات جو قیامت کے منکرین کے شبہات کو رد اور اس کے واقع ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔

٤۔وہ آیتیںجو اس بات کی طرف اشارہ کرتی کہ قیامت خدا کا ایک حتمی اور سچاّوعدہ ہے جس میں تبدیلی نہیں آسکتی،اور در حقیقت قیامت کے برپا ہونے کو سچّے خبر دینے والے کی خبر کے ذریعہ ثابت کرتی ہیں۔

٥۔وہ آیات شریفہ جو قیامت کی ضرورت پر عقلی دلیلوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں،در حقیقت آیاتِ کریمہ کے ابتدائی تین گروہ امکانِ وقوع قیامت سے متعلق ہیں اور دوسرے دو گروہ قیامت کی ضرورت سے متعلق ہیں ۔

قیامت کا انکار بے دلیل ہے۔

قرآن مجید نے باطل عقائد رکھنے والوں کے مقابل میں احتجاج کی جو روش اپنائی ہے وہ یہ ہے کہ ان سے دلیل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ ظاہر اور واضح ہو جائے کہ ان کے فاسد اور باطل عقائد عقل و منطق کی بنیاد پر نہیں ہیں ،چنانچہ کئی آیتوں میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ۔

( قُلْ هٰاتُوْا بُرْهٰانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰادِقِینَ ) (۱)

اے پیغمبر !ان سے کہدیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل لے کر آئو اور اسی کے مانند دوسرے مقامات پر بھی اسی لب و لہجہ میں ارشاد ہوا کہ ایسے غلط عقیدہ رکھنے والے کسی واقعی اور دلیل کے ذریعہ ثابت چیز پر عقیدہ نہیں رکھتے ،بلکہ بے دلیل وہم وگمان اور غیر واقعی خیالات پر ہی اکتفا کرتے ہیں(۲) منکرین قیامت کے متعلق فرماتا ہے۔

( وَقٰالُواْ مٰا هَِ اِلاَّحَيٰاتُنَا اَلْدُنْيَا نَمُوْتُ وَنَحٰی وَمَا يُهْلِکُنَا اِلاَّ اَلدَّهْرْ وَمَا لَهُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمِِِ اِنْ هُمْ اِلاَّ يَظُنُّونَ ) (۳)

اور یہ لوگ کہتے ہیں، کہ یہ صرف زندگانی دنیا ہے اسی میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو ہلاک کردیتا ہے اور انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ یہ صرف ان کے خیالات ہیں اور بس۔

اور اسی طرح دوسری آیات ِشریفہ میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ قیامت کا انکار صرف وہم وگمان اور بغیر کسی دلیل وبرہان کے ہے(۴) اگرچہ ممکن ہے کہ اگر یہ بے دلیل مدعیٰ خواہشات اور ہوا پرستی کا پیش خیمہ بن جائے تو ہوا پرست افراد سے قبول کرلیں گے،(۵)

لیکن آہستہ آہستہ(تدریجاً)یہ مدعیٰ ارتکاب گناہ کی وجہ سے اعتقاد اور یقین کی صورت اپنا لے گا(۶) حتیٰ کہ لوگ اپنے اس موہوم عقیدہ پر ہٹ دھرمی(سخت پابندی) سے کام لینے لگیں گے(۷)

قر آن مجید نے قیامت کا انکا ر کر نے وا لو ں کے قو ل کو نقل کیا ہے جو نہا یت بعید اور اگر ان لو گو ں نے کو ئی شبہ بھی کیا تو وہ بھی نہا یت ہی ضعیف اور سست اور بے اہمیت ہے(۸)

اب ایسی صو رت میں ایک طر ف تو پر ور دگا ر قیا مت سے مشا بہ حو ا دث کا ذکر کر تا ہے تا کہ وقوع قیا مت کے بعید ہونے کا تصو ر دور ہو جا ئے(۹)

اور دوسری طرف اُن شبہا ت کے جو ابات کی طر ف اشا ر ہ کر رہا ہے تا کہ اِس سلسلے میں کو ئی شک و شبہ با قی نہ رہ جا ئے اور قیامت کا آنا ثا بت ہو جا ئے لیکن صر ف اسی پر اکتفا نہیں کیا اور اِس وعدئہ خدا کے حتمی اور ضر وری ہو نے اور وحی کے ذریعہ لو گو ں پر حجت تما م کر نے کے سا تھ سا تھ قیامت کی ضر ورت پر عقلی دلیلو ں کی طر ف بھی اشا رہ کیا ہے جیسا کہ آئندہ در سو ں میں بیا ن کیا جا ئے گا ۔

قیامت کے ما ند دوسرے حو ادث

( الف )سبزوں کا اگنا۔

مرنے کے بعد انسان کا دو با رہ زند ہ ہو نا اس ،حیات ما بعد الموت کے مانند ہے اور اس کی مثال سبزہ اُگنے کی طر ح ہے جس طر ح زمین میں سبز ہ خشک ہو جا نے کے بعد دو با رہ اگتا ہے اسی طرح انسان مرنے کے بعد زندہ ہو گا ، اگر انسان روز مر ہ وقوع میں آنے والے واقعات کو پیش نظر رکھے اور اس میں غور و فکر کر ے، تو یہ اُس کے لئے اپنی مو ت کے بعد دو با رہ حیا ت کو سمجھنے کے لئے کا فی ہیں اورچو نکہ انسان روز مرہ کی ان تمام چیزو ں کو دیکھنے کا عا دی ہو چکا ہے، لہٰذ ا ایسے منا ظر کو وہ کو ئی خاص اہمیت نہیں دیتا ،اور بہت ہی آسا ن اور سا دہ سمجھتا ہے ورنہ پیدا ئش کے لحا ظ سے سو کھی ہو ئی گھا س کے دو با رہ سبز ہو نے اور انسان کے مر نے کے بعد دو با رہ زند ہ ہو نے میں کو ئی فر ق نہیں ہے ۔

قر آن مجید نے اس عا دت کو ختم کر نے کے لئے متعدد مر تبہ لو گو ں کی تو جہ مبذو ل کر ا ئی ہے انسان کے دوبارہ زندہ ہونے کو اس سے تشبیہ دی ہے(۱۰) اور ارشاد فر ما تا ہے

( فَانْظُرْ اِلٰی آثاْرِ رَحمَةِ اللَّهِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَ رْضَ بَعْدَ مَوْ تِهَااِنَّ ذَالِکَ لَمُحیْی ا لمَوْ تٰی وَ هُوْ عَلٰی کُلِّ شَی ئٍ قَدِیْر ) (۱۱)

پس رحمت خدا کے آثا رکو غو ر سے دیکھو کہ کیسے زمین کو مر دہ ہو نے کے بعد زند ہ کر تا ہے بیشک (وہی زمین کا زند ہ کرنے والا )مر دو ں کو دو با رہ زند ہ کر تا ہے اور وہ ہر چیز پر قا در ہے

(ب)اصحا ب کہف کا سو نا۔

قر آن مجید اصحا ب کہف کی عجیب و غریب دا ستا ن کو بیان کر نے کے بعد ار شا د فر ما تا ہے۔

( وکَذَلِکَ اَعْثَرْ نَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حق وَأَنَّ السَّا عَةَ لَارَیْبَ فِیْهَا ) )(۱۲) او ر اس طر ح ہم نے قو م کو ان کے ( اصحا ب کہف ) حا لا ت پر مطلع کر دیا، تا کہ انہیں معلو م ہو جا ئے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیا مت آ ئے گی، اس میں کسی طر ح کا شک و شبہہ نہیں ہے ۔

حقیقتا ایسا عجیب و غریب حا دثہ کہ چند افر اد صد یو ں ( شمسی اعتبا ر سے تین سو سال اور قمر ی لحا ظ سے تین سو نو سا ل ، سو تے رہیں ،اور اس کے بعد بیدا ر ہو جا ئیں، انسان کو قیا مت کی طرف متو جہ کر نے اور یہ وا ضح کر نے کے لئے کہ قیامت کا وقو ع قریب قیا س ہے اور بعید نہیں ہے نہا یت مو ثر ا ور کا میا ب ہے کیو نکہ انسان کا سو نا مو ت کے مثل ہے ( النوم اخ المو ت) ( سو نا مو ت کا بھا ئی ہے ) اور جا گنا اسی کی حیا ت کے ما نند ہے جو مو ت کے بعد حا صل ہو، لیکن نیند کے عالم میں یا سو نے کی حا لت میں عموماً انسان کا جسم اپنے فطر ی اور طبیعی حا لت ( زندگی کے آثا ر کے سا تھ بیولوجیک ) پر بر قرا ر رہتا ہے اور رو ح کا جسم میں واپس آنا کو ئی تعجب خیز ،با ت نہیں ہے لیکن اگر یہی جسم تین سو سال سو تا رہے او ر وہ بھی بغیر آب و دا نہ کے تو ایسی صو رت میں بدن کے فطری نظام میں خلل پڑ جا نا چا ہیے اور اس جسم کو تباہ و برباد ہو جا نا چا ہیے اور روح کو دو با رہ اس میں آنے کی صلا حیت کھو دینا چا ہیے، لیکن یہ غیر معمو لی معجزہ الہٰی انسان کی فکر کو اس معمو لی نظا م کے پسِ پر دہ دوسری حقیقت کی طرف متو جہ کر تا ہے جس کا مفہو م یہ ہے کہ رو ح کا جسم میں دو با رہ پلٹ کر آنا، ہمیشہ عا دی اور معمو لی اسباب و شر ائط کے ہو نے یا نہ ہو نے کا محتا ج نہیں ہے لہذا انسان کی دو سری زندگی بھی اگر چہ اس طبیعی اور فطر ی نظام کے خلا ف ہی کیو ں نہ ہو کو ئی مما نعت نہیں رکھتی وعدئہ پر ور دگا ر کے مطا بق محقق ہو کر رہے گی۔

(ج) حیو انا ت کا زندہ ہو نا ۔

اسی طر ح قرآن کر یم غیر عادی طر یقہ سے زند ہ ہو نے وا لے چند حیو انو ں کی طرف بھی اشا رہ کر رہا ہے جن میں سے وہ چا ر پر ندے ہیں جو حضرت ابرا ہیم ـ کے ہا تھو ں زندہ ہو ئے تھے(۱۳) دوسرے وہ ( گد ھا جس پر جنا ب عزیر سوا ر ہو تے تھے ) اس کے بھی دو با رہ زند ہ ہو نے کی طر ف قرآن نے اشا رہ کیا ہے اور جب حیو ان کا زندہ ہو نا ممکن ہے تو انسان کا زندہ ہو نا بھی نا ممکن نہیں ہو گا

(د)اسی دنیا میں بعض انسانوں کا زندہ ہو نا ۔

سب سے زیا دہ مہم با ت یہ ہے کہ بعض افر اد اسی دنیا میں دو با رہ زیو رِ حیا ت سے آرا ستہ ہو ئے ہیں کہ جس کے چند نمو نے خو د قر آن مجید نے بیان فر ما ئے ہیں، انھیں افرا د میں سے ایک بنی اسرا ئیل کے نبی ہیں جو ایک سفر کے دو ران ایک ایسے قریے سے گذرے، جہا ں کے لو گ ہلا ک اور نا بو د ہو چکے تھے ،اور ان کے آثا ر فنا ہو چکے تھے جب آپ کی نظر ان افرا د پر پڑی تو بے سا ختہ ذہن میں یہ خیا ل پیدا ہو ا کہ یہ افرا د دو با رہ کیو ں کر زند ہو سکتے ہیں ؟اسی اثنا میں پر ور دگا ر نے ان کی رو ح قبض کر لی، اور پو رے سو سال کے بعد دو با رہ زندہ کیا ،اور ان سے سوال کیا کہ تم اس مقام پر کتنا سوئے ؟وہ جو کہ گو یا ابھی سو کر جا گے تھے بو لے ایک روز ، یا اس سے بھی کچھ کم، خطا ب ہو ا نہیں بلکہ تم کو یہا ں پر سو سال ہو گئے دیکھو ایک طر ف تمہا ر ا آب و دا نہ با لکل صحیح و سا لم ہے لیکن دوسری طر ف تمھا رے گد ھے کا کیا حا ل ہے جس کی ہڈیاں بکھری ہو ئی ہیں !اب صر ف یہ دیکھو کہ ہم کیسے ان ہڈ یو ں کو آپس میں جو ڑتے ہیں اور اس پر گو شت چڑھا تے ہیں اور اسے دو با رہ زندہ کر دیتے ہیں(۱۴) ؟!

دوسر واقعہ :

بنی اسرا ئیل کا وہ گروہ جس نے حضرت مو سیٰ ـ سے کہا کہ جب تک ہم خدا کو اپنی آنکھو ں سے نہ د یکھ لیں گے، ہر گز ایما ن نہیں لا ئیں گے، لہٰذا خدا نے انھیں آسما ن سے ایک بجلی گر ا کر ہلا ک کر دیا لیکن پھر حضرت مو سیٰ کی در خو است پر خدا نے انھیں دو با رہ زند ہ کر دیا(۱۵) ۔

ایک اور واقعہ بنی اسرا ئیل کا یک شخص حضرت مو سی ٰ کے زما نے میں قتل کر دیا گیا تھا اور ذبح کی ہو ئی گا ئے کے ایک حصے کو اس سے مس کیا گیا اور وہ زندہ ہو گیا اس کی تفصیل سو رئہ بقرہ میں مو جود ہے نیز اس سو ر ہ مبا رکہ کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے پھر ار شا د ہوا۔

( کذَلِکَ یُحیِ اللَّهُ المَوْ تَیٰ وَ یُرِ یْکُمْ آیَا تِهِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ) )(۱۶)

اسی طر ح خدا مر دوں کو زندہ کر تا ہے اور اس کی نشا نیو ں کو تمھا رے سامنے رکھتا ہے تاکہ شا ید تمھیں کچھ عقل آجا ئے ۔

اور اسی طر ح حضرت عیسیٰ کے معجزے کے ذریعہ(۱۷) بعض مر دوں کا زندہ ہو نا،یہ وہ نمو نے ہیں جن کو قیا مت کے وقوع کے امکا ن کے سلسلے میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔

سوا لا ت :

١۔ قرآن قیا مت کا انکا ر کر نے وا لو ں کے سا تھ کس طر ح پیش آتا ہے ؟ بیان کیجئے ؟

٢۔سبزہ کا اگنا انسان کے دو با رہ قیا مت میں زندہ ہو نے سے کیا شبا ہت رکھتا ہے؟اس سے متعلق قر آن کا کیا بیان ہے ؟

٣۔ اصحاب کہف کی داستان سے،قیامت سے متعلق کون سا نکتہ سمجھ میں آتا ہے؟

٤۔حضرت ابراہیم کے ہاتھوں پرندوں کے زندہ ہونے کو بیان کرتے ہوئے قیامت کے موضوع سے اس کے رابطہ کو بیان کیجئے؟اور شرح پیش کیجئے؟

٥۔قرآن مجید میں زندہ ہونے والے میں کن لوگوں کا ذکر موجود ہے؟

____________________

١۔ بقر ہ ۔آیت ١١١ ،انبیا ئ۔ آیت ٢٤ ، نمل۔ آیت ٦٤

٢۔ مو منون ١١٧، نساء ١٥٧ ، انعام ١٠٠ ،١١٩ ،١٤٨ ، کہف ٥ ،حج ٣،٨،٧١ ، عنکبوت ٨،روم ٢٩ ،لقما ن ٢٠، غا فر ٤٢ زخرف ٢٠ نجم ٢٨ ،

٣۔چاثیہ ٢٤، ٤ ۔ قصص ٣٩ ، کہف ٣٦ ،ص ٢٧ جا ثیہ ٣٢ ، انشقاق ١٤، ٥ ۔قیا مت ٥

۶۔روم ۔آیت ١٠، مطفین ١٠ ۔١٤ ،

۷۔ نحل۔آیت ٣٨

۸۔ ھود ۔ آیت ٧ ، اسراء ۔آیت ٥١ ،صا فا ت ۔آیت ١٦، ٥٣، دخان۔آیت٣٤،احقاف۔آیت١٨

۹۔ وہ امو ر جو ایک دو سرے کے ما نند ہیں حکم واحد کا درجہ رکھتے ہیں خواہ امکان کا حکم ہو یا عدم امکا ن کا حکم

(حکم الا مثال فی ما یجوز و ما لا یجو ز واحد)

۱۰۔ اعرا ف ٥٧ ، حج ٥۔٦ ، روم ١٩ ،فا طر ٩ فصلت ١٩ زخرف ١١ ،ق ١١ ،

۱۱۔ روم ٥٠

۱۲۔کہف ۔ آیت ٢١

۱۳۔بقرہ۔ آیت ٢٦٠

۱۴۔ بقرہ ۔ آیت ٢٥٩

۱۵۔ سورہ بقرہ ۔آیت٥٥،٥٦

۱۶۔سورہ بقرہ ۔آیت٦٧،٧٣

۱۷۔آل عمران۔آیت٤٩،مائدہ۔آیت١١٠


چھیا لیسواں درس

منکرین کے شبہات کے لئے قرآن کا جواب

فنا ہونے کے بعد دوبارہ پلٹنے کا شبہ۔

جو مندرجہ ذیل بحثوں پر مشتمل ہے۔

بدن میں دوبارہ حیات پانے کی قابلیت نہ ہونے کا شبہ۔

فاعل کی قدرت کے بارے میں شبہ۔

عالم کے علم کے بارے میں شبہ۔

منکرین قیامت کے مقابلہ میں قرآن کریم نے جو احتجاج کیا ہے اور جو جوابات دئے ہیں ان کے لب ولہجہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت کے انکار کرنے والوں کے ذہن میں پہلے سے یہ سارے شبہات پائے جاتے تھے،جس کو ہم جوابات کی مناسبت سے اس طرح ترتیب دیتے ہیں۔

١۔فنا ہونے کے بعد دوبارہ پلٹنے کا شبہ۔

اس سے پہلے اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ قرآن کریم ان لوگوں کے مقابلہ میں جو یہ کہتے تھے، کہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد در حالیکہ اس کا جسم پاش پاش ہو کر نابود ہو گیا ہے وہ دوبارہ زندہ ہو جا ئے؟جوا ب دیتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے وجود کی شناخت تمہاری روح کے ذریعہ ہے نہ کہ تمہارے بدن کے اعضا وجوارح کے ذریعہ جو زمین میں بکھر جا تے ہے(۱)

اس گفتگو سے اس بات کا استفادہ ہو تا ہے کہ کافروں کے انکار کاسرچشمہ اور اس کا سبب فلسفہ کا وہی شبہہ ہے جیسے'' اعادئہ معدوم محال ،،(فنا ہو جانے والی شی کا پلٹنا محال ہے)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یعنی ان لوگوں کا گمان تھا کہ انسان اسی مادی جسم کو کہتے ہیں جو مرنے کے بعد نابود اور فناہو جاتا ہے لہذا اگر دوبارہ زندہ ہو گا تو وہ کوئی دوسرا شخص ہوگا،کیونکہ اُس موجود کا پلٹنا جو معدوم (نابود،ختم ہو چکا ہو)ذاتاً ممکن نہیں ہے،

اس شبہ کا جواب قرآن کریم کے بیان سے واضح ہو جا تا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنی پہچان اور اُس کی شخصیت اس کی روح سے وابستہ ہے،بلکہ یوں کہا جائے کہ معاد و قیامت،اعادئہ معدوم(فناشی کا پلٹنا)نہیں ہے،بلکہ اُس موجود کی روح کی بازگشت کا نام ہے۔

٢۔بدن میں دوبارہ حیات پانے کی صلاحیت نہ ہونے کا شبہ۔

پہلا شبہ قیامت کے امکان ذاتی سے مربوط تھا اور یہ شبہہ اس امکان وقوعی سے متعلق ہے(یعنی آیا ایسا واقع ہونا ممکن ہے)یعنی اگرچہ بدن میں روح کا پلٹ آنا عقلی لحاظ سے محال اور نا ممکن نہیں ہے اور فرض کرنے کی صورت میں کوئی تناقض نہیں پایاجاتا، لیکن اس کا واقع ہونا بدن کی قابلیت و صلاحیت کے اُوپر موقوف ہے کہ جس کو آستہ آستہ تدریجی صورت میں فراہم ہونا چاہیے،مثلاً رحم میں ایک نطفہ قرار پائے اور اس کے رشد و نمو کی ساری مناسب شرطیں مہیا ہوں ،تاکہ وہ آہستہ آہستہ مکمل جنین کی شکل اختیار کرلے، اور ایک انسان کی صورت میں بدل جائے،لیکن وہ بدن جو گلنے کے بعد ختم ہوگیا ہے اس میں اب حیات کی صلاحیت نہیں پائی جا تی کہ دوبارہ زندہ ہو سکے۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ دنیا کا یہ ظاہری نظام صرف ممکن نظام نہیں اور تجربات کی بنیاد پر اس دنیا میں جن اسباب اور علتوں کو پہچانا گیا ہے وہ منحصر و محدود نہیںہیں، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اسی دنیا میں غیر معمولی حوادث وجود میں آئے ہیں، جیسے بعض حیوانوں کا زندہ ہونا یا بعض انسانوں کا زندہ ہونا،قرآن مجید میں مذکورہ بعض غیر معمولی حوادث کے ذریعہ اس جواب کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

٣۔ فاعل کی قدرت کے بارے میں شبہ۔

ایک دوسرا شبہ یہ پایا جاتا ہے کہ ایک واقعہ کے وجود میں آنے کے لئے ذاتی امکان اور قابلیت کے علاوہ فاعل کے قدرت کی بھی شرط پائی جاتی ہے،اور یہ کہاں سے ثابت ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے؟

یہ ہے بے بنیاد شبہ ان لوگوں کی ایجاد ہے جو خداکی لامحدود قدرت کو نہیں سمجھ سکے اور اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی قدرت کی کوئی حد و انتہا نہیں ہے اور ہر ممکن شی سے، اسکا تعلق ہے،جیسا کہ اِس بے کراں عظیم دنیا کو اُس نے پیدا کیا ہے۔

( اَوَلَمْ يَرَواْ أَنَّ اَللّٰهَ اَلَّذِْ خَلَقَ اَلسَّمَواتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَعْ بِخَلْقِهِنَّ بِقَٰدِرٍِِِعَلَیٰ أَن یُحيِیَ المَوتَیٰ بلیٰ اِنَّه عَلَیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدیر ) (۲)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور اس کے پیدا کرنے میں اسے کوئی دقت اور پریشانی نہیں ہوئی وہ خدا مردوں کو دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے،

اس کے علاوہ دوبارہ زندہ کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ سخت بھی نہیں ہے کہ جس میں زیادہ قدرت کی ضرورت پڑے،بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے پہلی خلقت سے آسان ہے کیوں کہ دوبارہ زندہ کرنے میں سوائے روح کے پلٹنے کے اور کچھ نہیں ہے،

(فَسَےَقُوْلُوْنَ مَن ےُعِیِدُ نَا قُلِ الَّذ فَطَرَ کُمْ اَوَّلَ مَرّةٍ فَسَےُنْغِضُوْنَ اِلَیْک رَئُ وسَہُمْ)(۳) ہیں گے کہ کون ہم کو پلٹائے گا(اور دوبارہ زندہ کرے گا)کہدو کہ وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے بس وہ لوگ تمہارے سامنے سر ہلائیں گے(اور اس جواب پر تعجب کریں گے۔

( وَ هُوْ اْلَذِيْ یَبْدَ ئُ الْخَلْقَ ثُمَ یُعِیْدُ هُ وَ هُوَأَهْوَنُ عَلَیْه ) )(۴)

اور وہی ایسا ہے جو خلقت اور پیدا ئش کا آغا زکر تا ہے اور پھر اس کو پلٹا دیتا ہے اور یہ ( پلٹا نا) اس کے لئے بہت آسا ن ہے ۔

٤۔ فا عل کے علم کے با رے میں شبہ۔

ایک اور شبہ یہ ہے کہ اگر خدا وند عالم انسانوں کو زندہ کرے اور اُن کو اُن کے اعمال کی جزا یا سزا دے تو اس کے لئے اُ سے ضروری ہوگا کہ پہلے وہ بے شما ر اجسام کو ایک دوسرے سے الگ کرے تاکہ ہر ا یک کی رو ح کو اسی کے بدن میں داخل کر ئے ، اور دوسری طر ف سا رے اچھے اور برُے کامو ں کو بھی یاد رکھے ،تا کہ اسی کے لحا ظ سے جزا یا سزا تجویزکرے اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ سا رے بدن جو مٹی بن چکے ہیں اور اس کے ذرا ت آپس میں مل گئے ہیں ان کو ایک دو سرے سے جدا کر کے اُس کو پہچا نے ؟اور کیسے ممکن ہے کہ ہز ارو ں بلکہ کر وڑو ں سا ل تک ہر انسان کے اعما ل و رفتار و کردارکا ریکارڈ محفوظ رکھے اور اس کی نظا رت کرتا ہے اور پھر ان سب کا فیصلہ کرے ؟یہ شبہ بھی ان لو گو ں کی ایجا د و اختراع ہے جنھوں نے خدا کے لا محدود علم کو نہیں پچا نا اور خدا کے علم کو اپنے نا قص اور محدود علم پر قیاس کرتے ہیں اور اس کا جو اب یہ ہے کہ خدا کے علم کی کو ئی حدا ور انتہا نہیں ہے اور اس کا علم سا ری چیزوں کو اپنے احا طے میں لئے ہو ئے ہے اور خدا وند عالم کبھی بھی کسی چیز کو فر امو ش نہیں کر تا

قرآن مجید فر عون کے قو ل کو اِس طر ح نقل کر رہا ہے کہ اُس نے حضرت مو سیٰ سے کہا ۔ (فَمَا بَالُ ا لقُرُونِِ الأُولیٰ )اگر خدا ہم سب کو زند ہ کرے اور ہم سب کا حساب و کتاب کرے تو وہ لاکھوں کروڑوں لوگ جو ہم سے پہلے مر گئے اور ختم ہو گئے ان کا کیا ہوگا؟ حضرت موسیٰ نے جواب دیا( عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّ لَا يُضِلُّ رَبِّ وَلَا يَنسی ) ٰ )(۵) ان سب کا علم پروردگار کے پاس کتا ب

میں محفوظ ہے اور میرا خدا گمراہ نہیں ہوتا اور کوئی چیز بھولتا نہیں ہے۔

ایک آیت میں آخر کے دو شبہوں کا جواب اس طرح بیان ہوا ہے۔

( قُْلْ يُحْیٍِِیٍهَا الَّذِْ اَنشَأَ هَا أَوَّ ل مرةٍ وَهُوَ بِکُلِّ خَلقٍ عَلِیْم ) (۶)

(اے پیغمبر)کہدیجئے مردوں کو وہی زندہ کرتا ہے جس نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے۔

سوالات:

١۔فناہونے کے بعد دوبارہ پلٹنا محال ہے ، اس شبہ اور اس کا جواب بیان کیجئے؟

٢۔بدن میں دوبارہ حیات پانے کی قابلیت نہ ہونے کا شبہ اور اس کا جواب تحریر کریں ؟

٣۔فاعل کی قدرت سے متعلق شبہ اور اس کا جواب بیان کریں ؟

٤۔فاعل کے علم سے متعلق شبہ اور اس کا جواب ،بیان کریں ؟

____________________

١۔ سجدہ ۔ آیت ١٠ ۔ ١١

۲۔ احقا ف ٣٣، یس ٨١ ، اسراء ٩٩ صا فا ت ۔آیت ١١ ، نا زعا ت ۔آیت٢٧

۳۔ اسرا ء ۔آیت ٥١ عنکبو ت۔ آیت ١٩ ۔٢٠ ،ق ۔آیت١٥ ، واقعہ۔آیت ٦٢ یس ٨٠ حج ٥، قیا مت ٤٠ ،

۴۔ روم۔ آیت ٢٧

۵۔ طہ۔آیت ٥١ ۔٥٢ ، ق۔ آیت ٢۔٤

۶۔ یس۔ آیت ٧٩


سینتالیسواںدرس

قیامت کے بارے میں خدا کا وعدہ

مقدمہ:

خدا کا سچا اور یقینی وعدہ

عقلی دلائل کی طرف اشارہ

مقدمہ

قرآن مجید ایک طرف تو خدا وند عالم کی جانب سے اپنے بندوں کے لئے بھیجے گئے پیغام کے عنوان سے قیامت کے وقوع پر تاکید کررہا ہے اور اس کو ایک حتمی اور خدا کا سچا وعدہ شمار کرتا ہے، جس میں وعدہ خلافی کا امکان نہیں ہے،اور اس کے ذریعہ لوگوں پر اپنی حجت تمام کررہا ہے،اور دوسری طرف قیامت کی ضرورت پر عقلی دلائل کی طرف اشارہ کررہا ہے، تاکہ لوگوں کی عقلی لحاظ سے قیامت کو پہچاننے کی خواہش پوری کرے اور اپنی حجت کو دو گنا کردے،اس لئے ہم قیامت کے متعلق قرآنی بیانات کو دو حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

خدا کا سچا(حتمی)وعدہ:

قرآن کریم نے قیامت کے آنے اور عالم آخرت میں تمام انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو ایک یقینی اور غیر قابل شک و تردید امر جانا ہے،اور ارشاد فرماتاہے:

( اِنَّ الساعَةَ آتِيَة لَا رَیبَ فِیهَا ) (۱)

ا ور اس کو ایسا سچا وعدہ شمار کیا ہے جس میں خلاف کا تصور نہیں ہو سکتا،اور فرمایا:

( بَلَی وعداً عَلَیهِ حَقاً ) (۲)

اے رسول کہہ دو کہ وہ ضر ور ایسا کرے گا اس پر اپنے وعدہ کی وفا لا زمی اور ضر وری ہے :

اور متعدد مر تبہ اس کے وا قع ہو نے کے سلسلے میں قسمیں کھا چکا ہے جیسا کہ ارشا د ہے

( قُل بَلیٰ وَ رَبّیِ لَتُبعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بٍما عَمِلتُم وَ ذالِکَ عَلَی اللَّهِ یَسِیر ) (۳)

اے رسول!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم کہہ دو کہ ہا ں اپنے پر ور دگا ر کی قسم تم ضرور اٹھا ئے جائو گے جو کا م تم کر تے ہو اس کے با رے میں تم کو ضرو ر بتایا جا ئے گا اور یہ کام خدا پر آسان ہے ۔

لو گوں کو اس سے ہو شیا ر اور آگا ہ کر نا انبیا ء کا مہم ترین وظیفہ اور ان کی اہم ذمہ داری جا نتے ہو ئے ارشا د فر ما تا ہے:

( یُلقِی الرَّوحَ مِن أَ مرِهِ عَلیٰ مَن یَشَا ئُ مِن عِبَا دِهِ لِیُنذِرَ یَو مَ التَّلاقِ ) )(۴)

اپنے حکم سے رو ح نا زل کر تا ہے تا کہ وہ بند وں کو قیامت کے دن سے ڈرا ئے جس دن وہ لو گ قبر وں سے نکل پڑیں گے ۔

اور اس کے منکرین کے لئے ابدی بد بختی اور جہنم کا عذا ب معین کیا ہے اور فر مایا:

( وَاَعتَد نَا لِمَن کَذَّبَ بِا لْسَّا عَةِ سَعِیْراً ) (۵)

جس شخص نے قیا مت کو جھو ٹ سمجھا اس لئے ہم نے جہنم کو تیا ر کر رکھا ہے ۔

اس بنا پر جو اس کتا ب ( قر آن ) کی حقا نیت تک پہنچُ گیاہے وہ قیا مت کے انکا ر یا اُس میں شک

کر نے کا کو ئی بہا نہ نہیں کر سکتا ،پہلے حصہ میںیہ با ت واضح ہو چکی ہے کہ قرآن مجید کی حقا نیت ہر حق طلب اور انصا ف پسند انسان کے لئے قا بل در ک و فہم ہے اس وجہ سے کو ئی بھی شخص اس کو قبول نہ کر نے کا کو ئی عذر پیش نہیں کر سکتا ،مگر وہ شخص جس کی عقل میں کو ئی قصور پا یا جا تا ہو یا کسی اور سبب سے اس کی حقا نیت کو درک نہ کر سکے ۔

عقلی دلا ئل کی طر ف اشا رہ

قیا مت کی ضرو رت پر قر آن مجید کی بہت سی آیتوں میں عقلی استد لال کا لب و لہجہ پا یا جا تا ہے کہ جس کو بر ہا ن حکمت اور بر ہان عدا لت بر نا ظر مانا جا سکتاہے جیسا کہ استفہامِ انکا ری کی صو رت میں ارشاد ہو رہا ہے :

( اَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عبثاً وَأَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَاتُرجَعُوْنْ ) )(۶)

کیا تم نے یہ گما ن کر لیا ہے کہ ہم نے تمھیں بیکا ر پید ا کیا ہے اور تم ہما ری طر ف پلٹا ئے نہیں جا ئوگے ؟یہ آیہ شر یفہ کھلے انداز میں اس با ت پر دلا لت کر تی ہے کہ اگر قیامت اور خدا کی طرف باز گشت نہ ہو تی، تو اس دنیا میں انسان کا پیدا ہو نا بیکا ر اور بے مقصد ہو تا چو نکہ پر ور دگا ر بیکا ر اور بے مقصد کا م انجام نہیں دیتا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ اس دنیا کے علاوہ کوئی دوسری جگہ ہے ،جہان ،اپنی طرف باز گشت کے لئے قائم کرے گا ۔

یہ بر ہا ن ایک استثنا ئی قیاس ہے جس کا پہلا مقد مہ ایک قضیہ شر طیہ ہے جو اس با ت پر دلا لت کرتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کے پیدا ہو نے کا حکیما نہ مقصد اس وقت پو را ہو گا، جب اِس دنیا کی زندگی کے بعد انسان اپنے پر ور دگا رکی با ر گا ہ میں پلٹ کر جا ئے اور آخر ت میں اپنے اعما ل کے نتیجے کو حا صل کرے اور ہم نے اس ملا زمہ کو بر ہان حکمت کے ذیل میں بیان کیا تھا لہذا دو با رہ بیان کر نے کی ضر ورت نہیں ہے ۔

لیکن دوسرا مقدمہ ( خدا بیکا ر اور بے مقصد کام انجام نہیں دیتا )یہ وہی حکمت الٰہی اور اس کے کام کے عبث و بیہو دہ نہ ہونے کا مسئلہ ہے جو خدا شناسی کے باب میں ثا بت ہو چکا ہے اور بر ہان حکمت کے بیان میں جس کی وضا حت کی جا چکی ہے، لہٰذا مذکو رہ آیہ شر یفہ مذکو رہ بر ہا ن پر پو ری طر ح قا بل انطباق ہے ۔

اب ہم مزید اس بات اضا فہ کرتے ہیں کہ انسان کی پیدا ئش ،اس دنیا کی پید ائش کے لئے ہد ف غا ئی اور اصلی مقصد کی حیثیت رکھتی ہے اگر اس دنیا میں انسان کی زندگی بیکا ر اور بے ہد ف ہو اور ایسی ہو جس میں کو ئی حکیما نہ مقصد نہ پا یا جا ئے تو اس دنیا کی پیدا ئش بھی بیکا ر ہے ،بے مقصد ہے ، اور وہ با طل ہو جا ئے گی اس نکتہ کا استفا دہ ان آیتو ں سے کیا جا سکتا ہے جو عالمِ آخر ت کے و جو د کو دنیا کی پیدا ئش کے حکیما نہ ہو نے کا تقا ضہ جا نتی ہیں اور جیسا کہ عقلمندوں ( اولو الا لباب) کی صفتوں کے متعلق

ارشا د ہو تا ہے ۔

( وَ یَتَفَکَّرُونَ فِ خَلقِ السَّمٰوَاتِ وَا لْاَ رضِ رَ بَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَاْ بَا طِلاً سُبحا نَکَ فَقِنْا عَذَاْ بَ النّا رِ ) (۷)

اور وہ لو گ آسما نو ں اور زمینوں کی خلقت کے با رے میں غور و فکر کرتے ہیں (اور پھر کہتے ہیں ) پر ور دگا ر ! تو نے ان چیزو ں کو بیکا ر نہیں پید ا کیا تو پا ک و پا کیز ہ ہے ( اس چیز سے کہ بیہو دہ و بے مقصدکا م کرے )پس مجھے آتش جہنم سے محفو ظ رکھ ۔

اس آیت سے یہ استفا دہ ہو تا ہے دنیا کی خلقت کے با رے میں غور و فکر کر نا، انسا ن کو پر وردگا ر کی حکمت کی طرف متوجہ کر دیتا ہے یعنی اس عظیم کائنات کی خلقت کے وقت خدا کی نگا ہ میں ایک حکیما نہ مقصد تھا اور ا س نے اس کو بیکا ر و بے مقصد پیدا نہیں کیا لہذا اگر کوئی دوسرا عالم مو جود نہ ہو جو اس دنیا کی خلقت کا آخری مقصد اور ہدف قرا ر پا ئے تو خدا کی خلقت کا بیکا ر بے مقصد ہو نا لارم آئے گاقرآن حکیم کی آ یات کا دوسر ا گر وہ جو قیا مت کی ضر ورت پر بر ہان ِعقلی کی طر ف ایک اشا رہ ہے اور جو بر ہان عدا لت پر قابل تطبیق ہے(۸)

یعنی عدا لتِ الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ نیک اعما ل انجام دینے وا لے کو اس کی جزا اور گنہگا رو ں کو ان کے کئے کا بد لہ دیا جائے اور ان دونوں کی عا قبت اور انجام کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا جائے نیز دونوں کے در میان فر ق کا قائل ہو جائے ،اور چو نکہ اس دنیا میں ایسا کوئی فر ق نہیں پا یا جا تا لہٰذا ایک دوسرے عالم کو برپا کرنے کی ضرورت ہو گی، تاکہ خدا وند عالم اپنی عدا لت کو عینی صورت میں پیش کر سکے جیسا کہ سورئہ جا ثیہ میں ارشا د فر ماتا ہے ۔

( اَمْ حَسِبَ الّذِیْنَ اجْتَرحُوا السَّیِّئَاٰتِ اَن نَّجْعَلَهُمْ کَا لّذِیْنَ آمَنُوْ ا وَعَمِلُو ا الصَّا لِحَا تِ سَوَآئً مَّحْیَا هُمْ وَمَمَاتُهُمْ سا ئَ مَا یَحْکُمُو نَ٭ وَخَلَقَ اللَّهُ السَمٰوَاتِ وَاْلََارْضَ باِ لْحَقِّ لِتُجْزَیٰ کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَت وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) )(۹)

کیا برا ئی اختیا ر کر نے والوںنے یہ خیا ل کر لیا ہے کہ ہم انھیں ایما ن لا نے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے برابر قرا ر دیں گے کہ سب کی مو ت وحیا ت ایک جیسی ہو یہ ان لو گو ں نے نہا یت بد ترین فیصلہ کیا ہے، اور اللہ نے آسما ن اور زمین کو حق کے سا تھ پید ا کیا ہے اوراس لئے بھی کہ ہر نفس کو اس کے اعمال کا بد لہ دیا جا سکے اور یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جا ئیگا ۔

یاد دہا نی کے لئے ضر وری ہے کہ جملہ(وَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمٰوَاْتِ وَالْارَضََ باِ لْحَقِّ) سے بر ہان حکمت کی طر ف اشا رہ ہے جیسا کہ بنیا دی طور سے بر ہانِ عدالت کو بھی بر ہان ِحکمت کی طر ف پلٹا یا جا سکتا ہے کیونکہ جیسا کہ ہم نے عدل الٰہی کی بحث کے ذیل میں وضاحت کی تھی کہ عدل حکمت کے مصا دیق میں سے ہے ۔

سوا لا ت:

١۔ قران کریم قیامت کو کیسے ثا بت کر رہا ہے اورلو گو ں پر اپنی حجت کیسے تمام کرتاہے ؟

٢۔ بر ہانِ حکمت کی طرف کو نسی آ یات اشا رہ کر رہی ہیں ؟ان کے استقلال کو بیان کیجئے؟

٣۔ بر ہان ِعدا لت کی طرف کو نسی آیا ت اشا رہ کر رہی ہیں ان کے استد لال کو بیان کیجئے ؟

٤۔ بر ہان ِعدالت کو بر ہان ِحکمت کی طر ف کس طر ح پلٹا یا جا سکتا ہے ؟

____________________

١۔ غا فر ٥٩ اور رجوع کریں آل عمران ٩،٢٥ ،نسائ ٨٧ ، نعام ١٢ کہف ٢١ حج ٧ شوریٰ ٧ ،جا ثیہ ٢٦ ،٣٢ ،

۲۔نحل ٣٨ ،آل عمران ٩،١٩١ ، نساء ١٢٢، یو نس ٤،٥٥، کہف ٢١ ، انبیا ء ١٠٣ ، فر قان ١٦ ، لقمان ٩، ٣٣،فا طر ٥ زمر ٢٠ نجم ٤٧ ،جا ثیہ ٣٢ احقاف ١٧ ،

۳۔ تغا بن ٧، یو نس ٥٣ ،سبا ٣ ،۔

۴۔غا فر ١٥ ، انعام ١٣٠ ، ١٥٤، رعد ٢ شوریٰ ٧، زخرف ٦١ زمر ٧١

۵۔فر قان ١١ ، اسراء ١٠ ، سباء ٨، مو منون ٧٤،

۶۔مو منون ١١٥،

۷۔ آل عمران ١٩١

۸۔ ص ٢٨ ،غا فر ٥٨ قلم ٣٥ ، یو نس ٤

۹۔جا ثیہ ٢١۔٢٢


اڑ تا لیسواں درس

عالم آخر ت کی خصو صیا ت (آخرت کی پہنچان)

مقد مہ:

عقل کی روشنی میں آخر ت کی خصوصیا ت

مقدمہ :

انسان جن چیزوں کے با رے میں تجربہ نہیں رکھتا اور جنکو باطنی دلیلوں اور علم حضور ی کے ذریعہ نہیں سمجھ سکتا، یا پھر اپنے احسا سا ت کی روشنی میں سے در ک نہیں کرسکتا ، اس کے بارے میں شنا خت کا مل حاصل کرن اس کے لئے محال ہے لہٰذا اس نکتہ کی طرف تو جہ کر تے ہو ئے ہمیں اس با ت کی تو قع نہیں رکھنی چا ہیے کہ ہم آخر ت اور اس میں رو نما ہو نے والے حوا دث کو صحیح معنوں میں پہچا ن سکتے ہیں یا ان کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں، بلکہ ایسے مسا ئل میں صر ف عقل ور و ایا ت کے ذریعہ ثا بت شد ہ اوصا ف اور مسلما ت پر اکتفا کر لینا ضروری ہے اوراس سے اُوپر پر وا ز کر نا منا سب نہیں ہے ۔

افسوس کا مقام ہے کہ بعض افرادنے یہ سمجھا نے کی لا حا صل کوشش کی ہے کہ آخر ت بھی اسی دنیا کے مانند ہے اور اس بارے میں یہا ں تک آگے بڑھ گئے ہیں کہنے لگے بہشت اسی دنیا میں آسمان کے کسی کرّے یا سیارے میں ہے جدید علمی ترقی کے ذریعہ ایسے وسائل ایجاد کئے جا سکتے ہیں کہ جن کی مدد سے وہاں منتقل ہوا جا سکتا ہے جہاں نہا یت راحت و آرام کے سا تھ زندگی گذا را ی جا سکتی ہے ۔

اور دوسری جا نب بعض لو گ تو سر ے سے ہی آخر ت کا انکا ر کر بیٹھے ہیں اور انکے تصو ر میں آخر ت اور جنت صر ف اخلا قی قدر و منز لت کا نام ہے یعنی قو م و ملت کے خد مت گذا ر اور نیک افراد اُس سے لو لگا ئے ہیں اور ان کی نظر میں دنیا و آخر ت کے درمیان فر ق صر ف فا ئدے اور قدر و منز لت کی بنیا د پر ہے ۔

ایسی صو رت میں ہم سب سے پہلے گروہ اول سے سوال کرتے ہیں کہ بہشت آخراگر آسمان کے کسی سیّارے پر ہے اور آنے والی نسل وہاں پہنچے گی تو قیا مت کے دن انسانوں کا دو بارہ زند ہ ہو نا، اور ایک جگہ پر جمع ہونا جس کی قرآن مجید نے بھی تصر یح فر ما ئی ہے اس کے کیا معنی ہو ں گے ؟اور کیسے گذشتہ قو موں کے اعما ل کی جزا اور سزا وہاں دی جا ئے گی ؟ دوسرے گر وہ سے بھی ہمارا یہی سوال ہے کہ جب جنت صر ف اخلا قی اہمیت و ضرو رت کا نام ہے تو جہنم بھی خلا ف ِاخلا قی چیزو ں کے علا وہ کو ئی دو سر ی شے نہیں ہو گی اور ایسی صو رت میں قرآن مجید نے جو قیا مت کے وقوع پر اورانسانوں کے دو با رہ زندہ ہو نے پر اتنی تا کید کی ہے اس کا کیا ہو گا؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ انبیا ء (ع)قیا مت اور آخر ت کے اسی مفہوم کو صراحت کے سا تھ بیان کر دیتے تا کہ اپنے اُوپر ہونے والے تمام اعتر اضا ت اور تہمتوں سے محفو ظ رہتے اور ان پر دیوانگی اور افسانہ گو ئی وغیر ہ کے الزا ما ت نہ لگتے ؟

ان سب با تو ں اور بحثو ں کے بعد اختلا فا ت اور منا ظرات جو فلا سفہ اورمتکلمین کے درمیان واقع ہو ئے ہیں کہ آیا معا د ( قیا مت میں دو با رہ زندہ ہو نا اور حساب و کتا ب ہو نا)جسمانی ہے یا رو حا نی؟ کیا یہ ما دی دنیا با لکل فنا ہو جا ئے گی یا نہیں؟ کیا یہ اخروی جسم ، وہی دنیاوی جسم ہے یا اس کے مثل و مانند کوئی دوسری شی ہے ؟ اگر چہ یہ عقلی اور فلسفی کو ششیں حقیقت جوئی کی راہ میں قا بل داد و تحسین ہیں اور انھیں کے سا ئے میں ضعیف و قوی نظر یا ت بھی سامنے آئے ہیں لیکن ہمیں اس با ت کی توقع نہیںرکھنی چا ہیے کہ ان بحثو ں سے ہم ابدی زندگی کی تہہ تک پہنچ جا ئیں گے اور اصل حقیقت ہمارے لئے اس طر ح رو شن ہوجا ئے گی کہ گویا ہم نے اسے پالیا ہے ۔

وا قعاً کیا ابھی تک اسی دنیا ئے فا نی کے تمام حقا ئق پو ری طرح سے کشف ہو گئے ہیں ؟ کیا سا ئنس والوں نے اس حقیقت کو کشف کر لیا ہے کہ ما دہ کیا چیز ہے؟ انر جی کیا ہے؟ یا مختلف مو جود طا قتیں اور قوتیں کیااور کیسی ہیں ؟کیا اس دنیا کے مستقبل کے سلسلے میں کو ئی یقینی پیشین گو ئی کر سکتے ہیں ؟ کیا انھیں یہ معلوم ہے کہ اس دنیا کی مقنا طیسی کیفیت ختم کر دی جا ئے الکٹر ون ذرا ت اپنی حر کت سے رک جا ئیں تو کیا ہو گا ،یا ان چیز وں کا وا قع ہو نا ممکن ہے یا نہیں ؟

کیا فلسفیوں نے اس دنیا سے متعلق سا رے عقلی مسا ئل کو یقینی طور سے حل کر لیا ہے ؟اور کیا جسمی اور نو عی صو رتیں جسم و روح کے در میان رابطے کے سلسلے میں مزید حقائق جاننے کی تحقیقات کی ضر ور ت نہیں ہے ؟

لہذا ہم اپنے ان نا قص علوم اور محدود علم و دا نش کے ذریعہ اس دنیا کے حقا ئق تک کیسے پہچانیں جب کہ ہما رے پاس اس کے با رے میں کو ئی تجربہ بھی نہیں ہے انسان کے علم کے ناقص ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے وہ قطعاً کسی چیز کو پہچا نتا ہی نہیں، یا اس را ہ میں اس کی تما م تر کو ششیں بیکا ر ہیں ۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اس خدا داد عقل کے ذریعہ بہت سے اسرارِ طبیعت اور راز خلقت کو کشف کر سکتے ہیں، البتہ ہمیں اپنے علوم اور تجر با ت کو بڑھانے کے لئے علمی اور فلسفی روش اور طر یقوں سے مدد لینی چا ہیے، لیکن اس کے سا تھ سا تھ لازم ہے کہ اپنی عقلی طا قت کی حد اور سا ئنسی تجر با ت کی سطح کو ملحوظ رکھیں اور اپنی حد سے زیا دہ پر واز کرنے کی کو شش نہ کریں،اور اس اصول کو بھی قبو ل کریں

( وَ ماَ أُوتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلّا قَلِیْلا ً ) (۱)

اور تم کو بہت تھو ڑا علم دیا گیا ہے ۔

ہا ں، کبھی کبھی عا لما نہ اور عمیق نظر، حکیما نہ تو ا ضع وا نکسا ری اور ذمہ دا را نہ دینی احتیا ط کے پیش نظر ہمیں قیا مت کے حقا ئق کے متعلق یقینی رائے دینے، غیب کی با تیں اور بے جا تا ویلا ت سے پر ہیز کر نا ا ہیے، سو ائے ان حقا ئق کے جنکے با رے میں خدا وند عالم اور عقلی دلیلوں نے ہمیں اجا زت دی ہے ۔

بہر حا ل مو منین کے لئے کا فی ہے کہ جو پر ور دگا ر نے نا زل فر مایا ہے اسے صحیح تسلیم کر تے ہو ئے اس پر ایما ن رکھے جن کے بارے میں صحیح تشخیص نہیںدے سکتا جن کی خصو صیا ت سے وا قف نہیں ہو سکتا خصو صاًوہ امو ر جن کے با رے میںہما رے علم و تجر بے نا قص ہیں ۔

اب ہم اس با ت کی کو شش کر تے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس حد تک ہم آخر ت کی خصو صیا ت اور دنیا و آخر ت کے فر ق کو عقل کی رو شنی میں بیان کر سکتے ہیں ۔

عقل کی روشنی میں آخرت کی خصو صیا ت۔

قیامت کی ضرورت کے سلسلے میں جو دلائل ہم نے بیان کئے ہیں انھیں کے پیش نظر آخرت کی خصوصیات کو بیان کریں گے،ان میں سے چند اہم خصوصیات یہ ہیں،

١۔آخرت کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ابدی اور جاودانی ہو نا چاہیے،کیونکہ ہم نے پہلی دلیل میں ابدی حیات کے امکان اور انسانی فطرت کے مطابق ہونے سے بحث کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ حیات ابدی حکمت الٰہی کا تقاضہ ہے،

٢۔دوسری خصوصیت جو دونوں ہی دلیلوں سے ثابت ہے اور دلیل اول میں اس کی طرف اشارہ بھی ہوا ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت کا نظام ایسا ہو کہ جس میں آخرت کی تمام نعمتیں اور رحمتیں بالکل خالص اور بغیر کسی رنج و زحمت کے حاصل ہوں تاکہ ایسے افراد جو کسی گناہ اور معصیت میں مبتلا ہوئے بغیر انسانی کمال کے اہم درجات تک پہنچے ہیں اس سعادت سے لطف اندوز اور نعمتوں سے سرفراز ہوں۔

دنیا کے بر خلاف کہ جہاں ایسی خالص سعادت ممکن ہی نہیں ہے بلکہ د نیاوی خوشبختی نسبی ہے جو ہمیشہ رنج ومعصیت کے ساتھ ہوتی ہے۔

٣۔تیسری خصوصیت یہ ہے کہ جہانِ آخرت کے کم از کم دو الگ الگ حصے ہونے چاہیے تاکہ نیک اور بد یا مومن وکافر ایک دوسرے سے جُد ا رہیں اور دونوں اپنے اپنے اعمال و کردار کے لئے تلافی کریں اور یہ دونوں مقام اور منزلیں شریعت الہٰی کی زبان میں جنت و جہنم کے نام سے موسوم ہیں۔

٤۔چوتھی خصوصیت جو برہانِ عدالت سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ابدی جہان کو اتنا وسیع ہونا چاہیے کہ جس میں تمام انسانوں کو ان کے نیک اور برے اعمال کی جزا وسزا دینے کی گنجائش ہو،مثلاً اگر کسی نے لاکھوں انسانوں کو ناحق قتل کیا ہے تو اسے وہاں اس کی سزا ملے اور اگر کسی نے لاکھوں انسانوں کی حیات اور زندگی بچائی ہے تو اسے اس کی جزا ملنے کا امکان ہو۔

٥۔سب سے مہم خصوصیت جو اسی برہان عدالت سے ثابت ہوتی ہے اس کا ذکرپہلے بھی ہو چکا ہے کہ آخرت صرف جزا وسزا کا مقام ہے نہ اعمال وکردار کا ۔

توضیح:

دنیاوی زندگی ایک چیز ہے جس کا دار ومدار متضاد خواہشات اور آرزؤوں پر ہے اور ہمیشہ یہ خواہشات زندگی کے دوراہے پر ٹھہر جاتی ہیں اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے اور یہی انتخاب ان کے عمل کے راستے کو ہموار کرتا ہے اور عمر کے آخری لمحہ تک اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور حکمت وعدالتِ الٰہی کا تقا ضا یہی ہے کہ اس کے اوامر پر عمل کرنے والوں کو جزا اور اس سے منحرف افراد کو سزا کا مستحق قرار دے۔

اب ایسی صورت میں اگر ہم یہ فرض کریں کہ عالم آخرت بھی عمل انجام دینے کی جگہ ہے تو رحمت الٰہی اور اس کی فیاضی کا تقا ضا یہ ہے کہ ان اعمال کی انجام دہی میں مانع نہ ہو اور انسان کو اتنا موقع دے کہ وہ اپنے راستے کا انتخاب خود کرے،تو ایسی صورت میں ضرورت پیش آئیگی کہ اس کے علاوہ کوئی اور بھی عالم ہو جس میں ان اعمال پر جزا و عقوبت قرار دی جائے،پس ہم نے جس دنیا کو آخرت فرض کیا تھا وہ آخرت نہیں بلکہ دوسری دنیا شمار ہوگی اور آخرت صرف آخری جہان کو کہا جائے گا جہاں اعمال پر ثواب اور عقاب مترتب ہوں اور وہاں اعمال بجالانے کی گنجائش نہ ہو۔

بس یہیں سے دنیا اور آخرت کا اساسی اور بنیادی فرق سامنے آتا ہے یعنی دنیا اسے کہتے ہیں جہاں انسان کی آزمائش اور امتحان ہو اور اچھے یا برے اعمال بجالائے اور آخرت اس ابدی زندگی کا نام ہے جہاں صرف اپنے کئے کی اچھی یا بری جزا یا سزا ملے ۔

(وَاِنَّ الْيَوْمَ عَمَل وَلَا حِساب وَغَداً حِساب وَلَا عَمَل (۲)

سوالات:

١۔ہم کیوں آخرت کو صحیح اور مکمل طریقہ سے نہیں پہچان سکتے؟

٢۔آخرت کے بارے میں غلط تصور اور کج فکری کے دو نمونے ذکر کرتے ہوئے اس پر تنقید کیجئے؟

٣۔ہم آخرت کی خصوصیات کس طرح سمجھ سکتے ہیں؟

٤۔عقل کی روشنی میں عالم آخرت کی خصوصیات کو ذکر کرتے ہوئے اس کی مکمل شرح کیجئے؟

____________________

١۔ بنی اسرائیل۔ آیت٨٥

۲۔ نہج البلا غہ خطبہ ٤٢


انچاسواں درس

موت سے قیامت تک

مقدمہ:

ہر ایک کو موت آنی ہے

روح قبض کرنے والا

یہ موضوعات مندرجہ ذیل کی پر مشتمل ہیں

قبض روح آسان ہے یا سخت

موت کے وقت ایمان اور تو بہ کا قبول نہ ہونا

دنیا میں واپسی کی آرزو

عالم برزخ

مقدمہ:

ہمیں معلوم ہو چکا کہ ہم اس محدود علم کے ذریعہ آخرت اور مطلق عالم غیب کی حقیقت اور اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے بلکہ ہم صرف عقلی براہین سے حاصل ہونے والے کلی مسائل اور وحی و روایات سے اخذ ہونے والی بعض خصو صیات کے ذکر پر اکتفا کریں گے ،اگرچہ ممکن ہے کہ قرآن مجید میں عالم آخرت کی توصیف میں ذکر شدہ بعض الفاظ متشابہ ہوں اور ان کو سننے کے بعد جو تصورات ہمارے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، شاید وہ واقعی مصداق کے مطابق نہ ہوں اور یہ خطا ہمارے قاصر ذہن کی ہے نہ بیان کی، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن کریم نے ہمارے ذہنی ساخت وسازکے لحاظ سے بہترین الفاظ کا انتخاب کیا ہے جو حقائق کو کما حقہ بیان کرتے ہیں۔

اور چونکہ قرآن کریم کا بیان آخرت کے مقدمات کو بھی شامل ہے لہذا اپنے کلام کاآغاز بھی انسان کی موت سے کرتے ہیں۔

ہر ایک کو موت آنی ہے۔

قرآن مجید اس بات پر بہت تاکید کرتا ہے کہ تمام انسان بلکہ تمام(ذی روح)کو ایک نہ ایک دن ضرور مرنا ہے اور کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے والا نہیں ہے،(کل من علیہا فان)(۱) جو بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہو جانے والا ہے۔

( کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوتِ ) (۲)

ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے،

( اِنَّکَ مَيِّت وَ اِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ) (۳)

بے شک تم بھی مرو گے اور یہ لوگ بھی مریںگے۔

( وَماَجَعَلْناَ لِبَشَرٍمِنْ قَبْلِکَ اَلْخُلْدَ أَفَاِ ینْ مِتَّ فَهُمُ اَلْخالِدُونَ ) (۴)

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بشر کے لئے ہمیشگی نہیں قراردی تو کیا اگر آپ مر جائیں تو یہ لوگ ہمشہ باقی رہیں گے ۔

نتیجتاً موت ایک قانون کلی اور ناقابل انکار حقیقت ہے جس سے کسی شی کو بھی فرار نہیں ہے۔

روح قبض کرنے والا:

قرآن مجید ایک طرف تو قبض روح کی نسبت خداوند عالم کی طرف دیتا ہے ،اور فرماتا ہے :

(( اَللّٰهُ يَتَوَفیّٰ اَلْاَنْفُسَ حَینَ مَو ِتهَا ) )(۵) خدا موت کے وقت روح قبض کرتا ہے۔

اور دوسری طرف ملک الموت کو قبض روح پر مامور بتاتا ہے۔

( قُلْ يَتَوَفٰاکُمْ مَلَکُ اَلْمَوْتِ اَلَّذِی وُکِّلَ بِکُم ) (۶)

آپ کہدیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پہنچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیا ہے۔

اور ایک دوسرے مقام پر قبض روح کو فرشتوں اور رسولوں کی طرف نسبت دی ہے،

( حَتّیٰ اِذَا جَائَ أَحَدَ کُمُ اَلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلَنَا ) (۷)

یہاں تک کہ جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے نمائندے اُسے اٹھا لیتے ہیں۔

اور یہ واضح چیز ہے کہ جب فاعل اپنے کسی کام کو دوسرے فاعل کے ذریعہ انجام دے تو اس فعل کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے اور اگر دوسرا فاعل کسی تیسرے شخص کے وسیلے سے کام انجام دے تو یہ تیسرا شخص بھی اس میں شامل ہوجاتا ہے ،پس چونکہ خداوند عالم، ملک الموت کی روح قبض کرتا ہے اور ملک المو ت بھی اپنی ما تحت فر شتوں کے ذریعے قبض رو ح کر تا ہے لہٰذا قبض ِروح کی نسبت تینوں کیطرف دینا صحیح ہے ۔

قبض روح آسان ہے یاسخت؟

قر آن مجید سے یہ با ت معلو م ہو تی ہے کہ مو ت کے فر شتے سا رے انسانوں کی رو ح کو ایک طر یقہ سے قبض نہیں کر تے، بلکہ بعض افرا د کی روح نہا یت آسا نی اور احترام کے سا تھ اور بعض افراد کی نہا یت ہی سختی اور اہا نت کے سا تھ قبض کر تے ہیں، اس دعوے کی شا ہد مثا ل یہ آیہ شر یفہ ہے( اَلّذِیْنَ تَتَوَفَّا هُمُ الْمَلَا ئِکَةُ طَیّبِینَ یَقُولُونَ سَلَام عَلَیْکُمْ ) )(۸) جنھیں ملا ئکہ اس عالم میں اٹھا تے ہیں کہ وہ پا ک و پا کیزہ ہو تے ہیں اور ان سے ملا ئکہ کہتے ہیں کہ تم پر سلا م ہو ۔

اور کا فر وں کے با رے میں یو ں ارشا دہوا:( وَلَو تَرَیٰ اِذْ یَتَوَفیٰ الّذِیْنَ کَفَرُوْا المَلََا ئِکَةُ یَضْرِ بُوْنَ وُ جُوْهَهُمْ وَ اَدْبَاْ رَهُمْ ) )(۹) کاش تم دیکھتے جب فر شتے ان کی جان نکا ل رہے تھے اور انکے رخ اور پشت پر ما ررہے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مو منین اور کفار کے در میان ان کے ایما ن اور کفر کے در جا ت کے اعتبا ر سے قبض روح کے بھی در جا ت اور طبقا ت ہوں۔

مو ت کے وقت ایما ن اور تو بہ کا قبول نہ ہو نا

کفار اور گناہگا ر، افراد جب اپنی مو ت کو سامنے دیکھتے ہیں اور اپنی نیوی زندگی سے ما یو س ہو جا تے ہیں تو اپنے گذشتہ اعمال و کر دا ر پر نا دم و پشیما ن ہو جا تے ہیں اور اپنے ایما ن اور تو بہ کا اظہا ر کر نے لگتے ہیں اگر چہ اس وقت یہ دو نوں ہی چیزیں ان کے لئے عبث و بیکا ر ہیں :

اُس دن جب خدا کی کھلی آیا ت ظا ہر ہوں گی تو اس شخص کا ایمان جو پہلے نہیں لا یا یا اُس نے اپنے ایمان کے دوران کو ئی کا ر خیر انجام نہیں دیا تو اُس کا ایمان اسے کو ئی فا ئدہ نہیں پہنچا ئے گا:

( وَ لَیسَتِ التَوبَةُ لِلَّذینَ یعَمَلُونَ السِّیاٰتِ حتَّی اِذا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الموتُ قَالَ اِنِّ تُبْتُ الآنَ ) (۱۱)

اور توبہ ان لو گوں کے لئے نہیں ہے جو پہلے بر ائیاں کر تے ہیں اور پھر جب مو ت سا منے نظر آ تی ہے تو کہتے ہیں ،کہ اب ہم نے تو بہ کر لی ہے ۔

اور فر عون کے قو ل کو نقل کر رہا ہے جب وہ غرق ہو رہا تھا تو اس نے کہا

( آمَنت اَنَّه لا اِلٰه اِلّاالّذِ آمَنَت بِهِ بَنُو اِسرا ئیلَ وَ اَنَا مِنَ المُسلِمینَ ) (۱۲)

میں ایمان لا یا اس پر کہ کوئی خدا نہیں ہے سو ائے اس خدا کے جس پر بنی اسرا ئیل ایمان لائے ہیںاور میں اہل اسلا م میں سے ہوں ،اس کے جو اب میں ارشاد ہو رہا ہے ۔

( ألَآن وَ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ المُفسِدِینَ ) )(۱۳)

اب (مرنے کے وقت ایمان لا تا ہے ) حا لا نکہ تو اس سے پہلے نا فر مانی کر چکا اور تو تو فسا د بر پا کرنے والوںمیں سے تھا ۔

دنیا میں واپسی کی آرزو۔

اسی طر ح قر آن کر یم کفار اور گنہگا ر وں کے متعلق نقل کر تا ہے کہ جب مو ت کے با دل ان کے سر پر منڈلا نے لگتے ہیںاور عذا ب و ہلا کت کا سایہ ان کی آنکھوں کے سا منے چھا جاتا ہے ، تب وہ آرزو کرتے ہیں کہ کا ش ہم دنیا میں واپس چلے جا تے ،اور اعمال صا لحہ انجام دیتے، اور اہل ایمان میں سے ہو جاتے ،یا پر وردگار سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں واپس کر دے، تا کہ وہ تلافی مافات کرلیں لیکن ان کی یہ تمنا ئیں کبھی بھی پو ری ہو نے والی نہیں ہیں(۱۴)

بعض آیا ت میں اس بات کی طر ف اشا رہ ہو تا ہے کہ اگر انھیں واپس بھی کر دیا جاتا تو وہ بھی وہی فعل انجام دیتے جو پہلے انجام دیا کرتے تھے(۱۵)

اور روز قیا مت بھی ان کی یہی آرزو اور تمنا ئیں ہو نگی جو بدرجہ اولی قا بل قبو ل نہ ہو ں گی:

( حَتیٰ اِذَاْ جَاْ ئَ أَحَدَ هُمُ الْمَوتُ قَالَ ربِّ ارجِعوُنِ٭ لَعلَّ اَعْمَلُ صَالحاً فِیمَا تَرَکتُ کَلَّا اِنَّهَا کَلِمَة هُوَ قَائِلُهَا ) )(۱۵)

یہا ں تک کہ جب ان میںسے کسی کو موت آئی تو کہنے لگے پر ور دگا ر ا :تو مجھے ایک بار اس ( دنیا) کو جسے میں چھوڑ آیا ہو ں پھر واپس کر دے ،تا کہ میں اس مر تبہ اچھے اچھے کام کروں ( جو اب دیا

جا ئیگا ) ہر گز نہیں یہ ایک لغو با ت ہے جسے وہ بک رہا ہے ۔

(أ( وتَقُولَ حِیْنَ تَرَ یٰ العذابَ لَوْ أَنّ لِ کَرَّةً فَاَ کُونَ مِنَ المُحسَنِینَ ) (۱۶)

یا جب وہ عذا ب کو دیکھیںگے تو کہیں گے کا ش پلٹا دیئے جاتے تو نیک بند وں میں سے ہو جاتے( اِذْ وُقِفُوْا عَلیٰ النارِ فَقَا لُوْا یَاْ لَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِا یَاْ تِ رَبِّنَا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤمِنِینَ ) )(۱۷)

( اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگر تم اِن لو گو ں کو اُس وقت دیکھتے تو تعجب کر تے ) کہ جب جہنم کے کنا رے پر لا کر کھڑ ے کئے جا ئیں گے تو اُسے دیکھ کر کہیں گے اے کا ش ہم دنیا میں دو با رہ لو ٹا دئے جا تے اور اپنے پ ر ور دگا ر کی آیتوں کو نہ جھٹلا تے اور ہم مو منین میںسے ہو تے ۔

(( اِذِ الْمُجْرِمُوْ نَ نَا کِسُوا رُئُ و سِهِم عِنْدَ رَبِّهِم رَبّنَا اَبْصَرناَ وَ سَمِعْنَا فارجِعنَا نَعمَلُ صالِحاً اِنَّا مُو قِنُونَ ) )(۱۸)

اور جب مجر مین حسا ب کے وقت اپنے پر ور دگا کی با رگا ہ میں اپنے سر جھکا ئے کھڑ ے ہو ں گے اور عرض کر رہے ہو ں گے کہ پر ور دگا ر ہم نے اچھی طر ح دیکھ لیا ہے اور سن لیا ہے تو ہمیں دنیا میں ایک با ر پھر لوٹا دے، تا کہ ہم نیک کا م کریں، اب تو ہم کو قیا مت کا پو را پورا یقین ہے ۔

ان آیا ت سے یہ صا ف ظاہر ہو تا ہے کہ قیا مت اعمال و انتخا ب کی جگہ نہیں یہا ں تک کہ وہ یقین جو دم مرگ یا آخر ت میں حاصل ہوگا انسان کے تکامل( بتدریج کامل تک پہنچنے) کیلئے فائدہ بخش نہیں ہوگا،اورانعام کا مستحق نہیں قرار پائے،اسی لئے کفار اور گنہگار اس دنیا میں واپسی کی آرزو کریں گے تاکہ اس دنیا میں پلٹ آئیں اور اپنے اختیار سے ایمان لائیں اور عمل صالح انجام دیں۔

عالم برزخ۔

قرآنی آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ موت اور قیامت کے درمیان فاصلہ کو برزخ کہا جاتا ہے جو انسان موت کے بعد اور قیامت سے پہلے قبر میں گذارتا ہے کہ جس میںتھوڑا بہت رنج و مصیبت اور خوشی ومسرت کا بھی سامنا ہوتا ہے،بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گنہگار مومنین اس دوران بعض رنج وعذاب میں مبتلا ہونے کے ذریعہ پاک کردئے جائیں گے،اور ان کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔

چونکہ برزخ سے مربوط آیات تفسیر طلب ہیں لہذا ان سے صرف نظر کرتے ہو ئے صرف ایک آیہ شریفہ پر اکتفا کرتے ہیں۔وَمِن وَرائِہِم بَرزَخ اِلیٰ ےَومِ ےُبعَثُونَ(۱۹) اور ان کے بعد (ان کی موت کے بعد)ایک برزخ ہے جب تک کہ اٹھا نہ لئے جائیں۔

سوالات:

١۔ اس دنیا میں انسان کے ہمیشہ نہ رہنے کو قرآ نی آیات سے واضح و روشن کیجئے ؟

٢۔انسان کی روح کون قبض کرتا ہے مربوط آیتوں کے درمیان جو اختلاف ہے اسے پیش کیجئے ؟

٣۔روحوں کے قبض کرنے کے سلسلے میں کیا فرق ہے؟

٤۔مرتے دم ایمان اور توبہ کے بارے میں قرآنی بیان کو مع آیات کے وضاحت کیجئے؟

٥۔قرآن کریم، دنیا میں کس طرح کی واپسی کا انکار کررہا ہے؟آیا اس واپسی کا انکار رجعت کے عقیدے کے منافی ہے؟

٦۔عالم برزخ کی شرح کیجئے؟

____________________

١۔ رحمٰن ۔ آیت ٢٦

٢۔ آل عمران ۔ آیت ١٨٥۔ انبیا ء ۔آیت ٣٥

٣۔زمر۔آیت٣٠

٤۔انبیا ئ۔آیت٣٤

٥۔زمر۔آیت٤٢

۶۔سجدہ۔آیت ١١

۷۔انعام ۔آیت٦١

۸۔ نحل۔آیت ٣٢ ۔انعام۔آیت ٩٣

۹۔ انفال ۔آیت ٥٠ ۔ محمد۔آیت ٢٧

۱۰۔انعام ۔آیت٥٨ ١۔اورصبا۔آیت ٥١ ،٥٣،غا فر۔آیت ٨٥ ،سجدہ۔آیت ٢٩

۱۱۔ نسائ۔آیت ١٨

۱۲۔ یو نس۔آیت ٩٠

۱۳۔یونس۔آیت٩١

۱۴۔ جا ن لینا چا ہیے کہ قر آن کر یم ان لو گو ں کے پلٹنے کی آرزوؤ ں اور تمنا وں کا انکا ر کر تا ہے جن کی سا ری زندگی گنا ہ اور معصیت میں بیت چکی ہو اور مو ت کے وقت دنیا میں واپسی کی تمنا رکھتے ہو ں تا کہ اپنے گنا ہو ں کی تلافی کر سکیں لیکن قیا مت سے واپسی کی قطعاً نفی کر تا ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ دنیا کسی طر ح واپسی ممکن نہیں ہے کیو نکہ ایسے افراد بھی تھے جو مو ت کے بعد دوبا رہ اسی دنیا میں زندہ ہو چکے ہیں اور شیعو ں کے عقیدہ کے مطا بق حضرت مہدی عج کے ظہور کے بعد کچھ لو گو ں کی رجعت ہو گی ۔

۱۴۔ انعام۔آیت ٢٧۔٢٨

۱۵۔ مو منون ۔آیت ٩٩ ۔١٠٠

۱۶۔زمر ۔آیت ٥٨، نیز شعراء ۔آیت ١٠٢

۱۷۔ انعام۔آیت ٢٧ ۔ ٢٨ نیز اعراف۔آیت ٣٥

۱۸۔ سجدہ ١٢ ،نیز فا طر ٣٧ ،

۱۹۔ مو منون ١٠٠


پچاسواں درس

قرآن مجید میں قیامت کا نقشہ

مقدمہ:

زمین ،دریا اور پہاڑوں کی حالت

آسمانوں اور ستاروں کی کیفیت

موت کا صور

زندگی اور آغاز قیامت کا صور

الٰہی حکومت کا ظہور اور سببی ونسبی رشتوں کا خاتمہ

خدائی عدالت

ابدی ٹھکانے کی طرف روانگی

جنّت

جہنّم

مقدمہ:

قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے قیامت اور ابدی زندگی صرف انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے سے شروع نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے ،کہ اس دنیا کا نظام بھی تہ وبالا ہو جائے اور دوسری دنیا دوسری خصوصیات کے ساتھ عالم وجود میں آئے جس دنیا کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اس کے بارے میں کوئی نظریہ بھی نہیں دے سکتے اور اس کے بعد ابتداء خلقت سے لے کر اختتام دنیا تک کے تمام انسان زندہ کئے جائیں گے پھر اپنے اپنے اعمال کی جزاء وسزا انہیں ملے گی۔

چونکہ اس موضوع سے متعلق آیات قرآنی فراواں ہیں لہذا کتاب کے اختصار کے پیش نظر ان سے کنارہ کشی کرتے ہوئے صرف ان کے مضامین کا خلاصہ بیان کررہے ہیں۔

زمین دریا اور پہاڑوں کی حالت

زمین میں بہت ہی عظیم زلزلہ آئے گا(۱) زمین اپنے اندر تمام پوشیدہ خزانے اگل دے گی(۲) اور اس کے سارے اجزا بکھر جائیں گے(۳) دریا پھٹ جائیں گے(۴) اور سارے پہاڑ حرکت میں آجائیں گے(۵) اور ایک دوسرے سے ٹکرا دئے جائیں گے(۶) اور ریت کے ٹیلے کی

طرح ہو جائیں گے(۷) اوردھنی ہوئی روئی کے مانند بن جائیں گے(۸) اور پھر فضا میں بکھر جائیں گے(۹) اور اونچے اونچے آسمانوں سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑوں کو ریت کے چٹیل میدان میں تبدیل کردیا جائے گا(۱۰)

آسمانوں اور ستاروں کی کیفیت

چاند(۱۱) اور سورج(۱۲) اور وہ عظیم ستارے جو ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑے اور چمکدار ہیں سب کی چمک دمک ختم ہو جائیگی اور سب تیرگی میں چلے جائیں گے(۱۳) اور ان کا ایک نظام کے مطابق حرکت کرنا ختم ہو جائے گا(۱۴) اور سورج وچاند آپس میں ٹکراکر ایک ہوجائیں گے(۱۵) اور وہ آسمان جو اس دنیا پر مضبوط اور محفوظ چھت کی طرح ہے متزلزل اور کمزور ہوجائے گا(۱۶) اور پھٹ جائے گا اور اس میں دراڑیں پڑ جائیں گی(۱۷) اور اس کی چادر لپیٹ دی جائے گی(۱۸) اور سارے آسمانی سےّارے پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہوجائیں گے(۱۹) اور اس دنیا کی فضا دھوئیں اور بادل سے بھر جائیگی(۲۰)

موت کا صور۔

ایسی ہی حالت میں موت کا صور پھونک دیا جائے گا اور تمام زندہ موجودات مر جائیں گے(۲۱) اور اس فطری دنیا میں زندگی کا کوئی اثر نہیں ملے گا،اور خوف و اضطرار ہر ایک پر چھا جائے گا(۲۲) مگر وہ لوگ جو ہستی اور موجودات کے اسرار اور حقیقت سے واقف ہیں اور جن کے دل خدا کی محبت اور معرفت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

زندگی اور آغاز قیامت کا صور۔

پھر وہ دوسرا جہان جس میں بقا اور ابدیت کی قابلیت پائی جاتی ہے معرض وجود میں آئے گا(۲۳) اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگااٹھے گی(۲۴) اور زندگی کے صور کی آواز بلند ہوگی(۲۵) اور سارے انسان(بلکہ حیوانات بھی)(۲۶) ایک لمحے میں زندہ ہو جائیں گے(۲۷) اور پھر گھبرا ئے ہوئے اور پریشان حال(۲۸) ٹڈیوں اور فضا میں اڑ تی ہوئی پتنگوں(۲۹) کے مانند تیز رفتاری(۳۰) سے اپنے رب کے پاس حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوجائیں گے(۳۱) اور سب ایک میدان میں جمع ہوجائیں گے(۳۲) اس وقت سوچیں گے کہ عالم برزخ میں ان کا توقف ایک دن یا ایک گھنٹہ کے برابر تھا(۳۳)

الٰہی حکومت کا ظہور اور سببی ونسبی رشتوں کا خاتمہ۔

اُس جہان میں حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیںگے،(۳۴) اور خدا کی حکومت اور سلطنت کا مکمل ظہور ہو جائے گا،(۳۵) اور مخلوقات پر ایک ہیبت طاری ہوگی کسی کو بھی بلند آواز میں گفتگو کرنے کی جرأت نہیں ہوسکتی(۳۶) اور ہر ایک کو اپنے انجام کی فکر ہوگی یہاں تک کہ اولاد اپنے والدین سے اور رشتہ دار و قرابت دار ایک دوسرے سے دور بھاگیں گے اور اپنا منھ چھپائیں گے(۳۷) اور سببی ونسبی رشتوں کی بنیاد ہی ختم ہوجائے گی(۳۸) اور وہ دوستیاں کہ جو دنیاوی اور شیطانی مفاد و معیار پر استوار تھی دشمنی میں بدل جائے گی(۳۹) اور اپنی گذشتہ غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے حسرت ویاس اور شرمندگی،ہر دل پر چھا ئی ہوگی(۴۰)

خدائی عدالت کامقدمہ(محاکمہ)

اُس و قت خدا کی عدالت میں حاضری ہوگی ،اور سارے بندوں کے اعمال حاضر کئے جائیں گے،(۴۱) اور نامہ اعمال تقسیم کیا جائے گا(۴۲) اور ہر نیک و بد کام کی نسبت اس کے فاعل کی طرف اتنی واضح اور روشن ہوگی ،کہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، کہ تم نے کیا کیا ہے؟(۴۳) اس دادگاہ (عدالت) میںفر شتے پیغمبران الہٰی اور خدا کے منتخب بندے ،گو اہوں کے عنوان سے حا ضر ہو ں گے(۴۴) یہاں تک کہ انسان کے ہا تھ پیر اوربدن کی کھال تک اس کے خلاف گواہی دے گی(۴۵) اور سارے انسانوں کے حساب و کتاب میں بہت دقت اور غور سے کام لیا جائے گا، اور خدا کی میزان پر تولا جائے گا(۴۶) اور پھر عدل وانصاف کی بنیاد پر ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا(۴۷) اور ہر ایک کو اس کی محنتوں کا پھل ملے گا(۴۸) نیک کام کرنے والوں کو دس گنا انعام دیا جائیگا(۴۹) اور کوئی بھی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا(۵۰) لیکن جن لوگوں نے دوسروں کو گمراہ کیا ہے وہ اپنے گناہوں کے علاوہ گمراہ ہونے والے افراد کے گناہوں کو بھی اپنے دوش پر اٹھا ہیں گے(۵۱) (بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی کی جائے)اسی طرح کسی سے بھی کسی چیز کا عوض اور بدلہ قبول نہیں کیا جائیگا(۵۲) کسی کی سفارش قبول نہیں ہوگی(۵۳) مگر ان لو گوں کی شفا عت قبو ل ہو گی، جنکو خدا کی طرف سے اجا زت دی گئی ہے اور وہ لو گ خدا کی مر ضی اور معیا ر کے مطا بق شفا عت کر یں گے(۵۴)

ابدی ٹھکا نے کی طرف روانگی

اسکے فوراً بعد خدا کے حکم کا ا علا ن کیا جا ئے گا(۵۵) نیک کام کر نے وا لے اور گنہگا ر ایک دوسرے سے جد ہوجا ئیں گے(۵۶) اور مو منین سرخرو ،شا داب اور مسر تو ں میں ڈو بے ہو ئے جنت کی طرف(۵۷) اور کفار منا فقین جنکے چہرے سیا ہ ہو گئے ہو ں گے غمگین وپر یشا ن ذلت و خو ا ری کے ساتھ جہنم کی طرف رو انہ ہو ں گے(۵۸) اور سب کے سب جہنم سے ہو کر گذر یں(۵۹) اس حا لت میں کہ مو منوں کے چہرے سے نو ربر س رہا ہو گا اور ان کے راستے روشن ہوں گے(۶۰) اور کفار و منافقین اندھیرے میں پھنسے ہوڈ گے اور منافقین جو اس دنیا میں مومنین کے ساتھ گھلے ملے رہتے تھے مو منین کو آواز دیں گے کہ ہما ری طرف اپنا چہر ہ گھما و تاکہ تمھا رے نور سے فا ئدہ اٹھا ئیں تو اس وقت وہ جو اب سنیں گے کہ اس نور کو پانے کے لئے پچھلے پاؤں ( دنیا میں )پلٹ جا ئو! پھر وہ منا فقین اور کفا ر کہیں گے کہ کیا بھول گئے ؟کیا تمھارے سا تھ اس دنیا میں نہیں تھے ؟ پھر جو اب پا ئیں گے کیوں نہیں ظاہر اً ہما رے ہی سا تھ تھے لیکن تم نے خو د کو گر فتا ر کر لیا تمھا رے دل میں شک پیدا ہو گیا اور تم سنگدل ہو گئے اور آج تمھا را فیصلہ ہو گیا آج تم سے اور کا فروں سے کوئی قبو ل نہیں کیا جا ئیگا

اور آخر کا ر کفا ر و منا فقین کو جہنم کے منھ میں جھو نک دیا جا ئے گا(۶۱)

جس وقت مو منین جنت کے نز دیک پہنچیں گے تو اس کا در وا زہ کھو ل دیا جا ئیگا اور رحمت کے فر شتے ان کا استقبا ل کر یں گے ،سلا م و احتر ام کے سا تھ ان کو ابدی سعا دت کی خو ش خبر ی سنا ئیں گے ،(۶۲) اور دوسری طر ف جب کفا ر و منا فقین جہنم کے نز دیک پہنچیں گے تو اس کا دروازہ کھل جا ئیگا اور عذا ب کے فر شتے سختی سے ان کی مذمت کریں گے اور ان کو ابدی عذا ب کی خبردیں گے(۶۳)

جنت۔

بہشت مین آسما نوں اور زمینوں کی وُسعت کے برا بر لمبے چو ڑے با غات ہو نگے(۶۴) ہر قسم کے پھلو ں سے لدے ہو ئے طر ح طر ح کے درخت جو ہر وقت انسا ن کی دسترس میں ہو ںگے(۶۵) اور عظیم و خو بصورت مکا نا ت ہو نگے اور صا ف و شفاف پا نی کی نہریں اور چشمے ہو نگے(۶۶) نیز دو دھ و شہد اور پا ک و پا کیزہ ،طیب و طا ہرشراب(۶۷) اور ہر وہ چیز جس کا د ل چاہے یا بہشتیوں کو ضرورت محسوس ہو وہ موجود ہو گی(۶۸) او ر ان کی خو اہشا ت سے زیا دہ چیزیں مو جو د ہونگی(۶۹) اور بہشتی لو گ وہاں ریشم کے نرم و نا زک لبا س میں ملبوس اور مختلف قسم کی ز ینتوں سے آراستہ ہو ں گے(۷۰) اور سجے ہو ئے تخت پر نر م ولطیف بستر پر ٹیک لگا ئے ایک دوسرے کے سا منے بیٹھے ہوئے خدا کی حمد و ثنا میں مشغول ہو نگے(۷۱) اور کوئی بھی غلط با ت نہ تو زبان پر جاری کریں گے اور نہ ہی کا نوں سے سنیں گے(۷۲) نہ ٹھنڈک ان کو تکلیف پہنچا ئے گی اور نہ گر می کا احساس ان کو اذیت دے گا(۷۳) اور نہ تو کسی طر ح کا رنج و ملا ل اور نہ ہی تھکن کا احسا س ہو گا(۷۴) اور نہ تو کوئی غم ہو گا اور نہ ہی کو ئی خوف،(۷۵)

اور نہ کسی کے دل میں کوئی کینہ ہو گا نہ دشمنی(۷۶) حسین و جمیل خد مت گزا ر ان کے چا روں طر ف ٹہلتے ہو ںگے(۷۷) اور جنتی شرا ب کا جام ان کو پلا رہے ہو ں گے کہ جس کی لذت و نشا ط قابل تو صیف نہیں ہے، اور کسی طر ح کا نقصا ن نہ ہو گا(۷۸) کئی قسم کے پھل اورپر ندوں کے گو شت نو ش فر ما رہے ہوں گے(۷۹) اورخو بصو رت و مہر بان نیز پا کدا من شریک حیا ت اور سا تھیوں سے لطف اندوز ہو نگے(۸۰) اور ہر چیز سے بڑھ کر رضا ئے پرو ردگا ر کی رو حا نی نعمت سے سر فرا ز ہو نگے(۸۱) اور خد کی ایسی مہر با نی ان کے شا مل حا ل ہو گی جو انھیں خو شیو ں میں غر ق کر دیگی اور کو ئی بھی خو شیو ں کے اس مر تبے کو تصور بھی نہیں کر سکتا(۸۲) اور یہ بے نظیر سعا دت اور ناقابل تو صیف نعمتیں اور خدا کی رحمت ،رضا و خوشنودی ہمیشہ ہمیشہ ان کے سا تھ ر ہے گی(۸۳) جو کبھی ختم ہو نے والی نہیں ہے(۸۴)

جہنم

جہنم ان کا فر وں اور منا فقوں کا ٹھکا نہ ہے جن کے دلو ں میں ایما ن کا نو ر با لکل نہیں پا یا جا تا(۸۵) اور جہنم کے اندر اتنی وسعت اور گنجا ئش پا ئی جا تی ہے کہ سا رے گنا ہ گا روں کو اپنے اند ر بھر لینے کے بعد بھی ( ہل من مزید) ( کیا کو ئی اور بھی ہے ) کی آواز بلند کر یگا(۸۶) اس میں صر ف آگ ہے اور بس، عذا ب ہے اور بس !!

چا روں طرف اس کے شعلے بلند ہو نگے اور کانون کو پھا ڑدینے والی غصہ سے بھری آوازیں خو ف و اضطرا ب میں اضا فہ کریں گی(۸۷) وہا ں لو گو ں کے چہرے سکڑے ہو ئے ،سیا ہ ، کریہ المنظر ، اور جھر یوں سے بھرے ہو ں گے(۸۸) یہا ں تک کہ دو زخ کے فر شتو ں کے چہرے پر بھی مہر بانی ،محبت اور نرمی کے آثا ر نہیں دکھا ئی دیں گے(۸۹) جہنم کے لو گ لو ہے کے طو ق و سلا سل نیز ہتھکڑیوں بیڑیوں سے با ندھے جا ئیں گے،(۹۰) اور آگ انھیں سر سے پیر تک اپنے قبضے میں لئے ہو گی(۹۱) اور خو د وہی لو گ آگ بنا نے اور لگا نے والے ہو ں گے(۹۲) جہنم کی فضا میں سوا ئے آہ و فغا ں ، فریا د و بکا اور نا لہ و شیون اور جہنم کے اوپر تعینا ت فر شتوں کی خوفنا ک اور گرجدا ر آواز کے اور کچھ سنا ئی نہیں دیگا(۹۳) اور گنہگا روں کے اوپر کھو لتا ہو ا گر م پا نی انڈیلا جا ئے گا، جو ا ن کو اند ر سے پگھلا دیگا(۹۴)

اور جب کبھی گر می اور پیا س کی شد ت کی و جہ سے پا نی کی در خو ا ست کریں گے تو انھیں گر م جلتا ہوا ا ور نجس و بد بو دا ر پا نی دیا جا ئے گا، جسے وہ لو گ بہت ہی شو ق سے پئیںگے(۹۵) اور ان لو گو ں کی غذا درخت ( زقوم ) ہے جو آگ سے اگتا ہے جس کو کھا نے سے اندرونی سوز ش و جلن میں اضا فہ ہو جا ئیگا(۹۶) اور ان کا لبا س ایک سیا ہ اور چپکنے والے ما د ے سے بنا ہو ا ہو گا جو ان کے لئے ایک عذ ا ب کا با عث ہو گا(۹۷) اور شیا طین و جنا ت کے گنہگا ر بھی ان کی ہمنشینی سے دو ر بھا گیں گے(۹۸) اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور مذمت کریں گے(۹۹) اور جس وقت وہ لو گ خد ا کی با رگا ہ میں معذرت خوا ہی کے لئے اپنی زبا ن کھو لیں گے اس وقت دور ہو جاؤ خا مو ش ہو جاؤ ایسے الفاظ سے انھیں خاموش کر دیا جائے گا(۱۰۰) پھر وہ لو گ جہنم کے دربان کے پا س پنا ہ لیں گے ،اور ان سے در خو است کریں گے کہ تم ہی خدا سے ہما ر ے عذا ب میں کمی کے لئے سفا رش کر و، تو وہ جو اب پا ئیں گے کہ کیا خدا وند عالم نے اپنے پیغمبر وں کو مبعوث نہیں کیا تھا ،اور تمھا رے اوپر اس نے اپنی حجت تما م نہیں کی تھی ؟(۱۰۱) دو با رہ مر نے کی تمنا کر یں گے اور جو ا ب پا ئیں گے کہ اب تم ہمیشہ اسی جہنم میں رہو گے(۱۰۲) اگر چہ مو ت انکے اوپر چا روں طرف سے بر س رہی ہو گی مگر اس کے با وجو د نہیں مر یں گے(۱۰۳) اور انکے بدن کی جتنی کھا ل آگ میں جلتی جا ئیں گی اتنی ہی نئی کھا ل اگتی جا ئیں گی(۱۰۴) اور ان پر عذا ب ہو تا رہے گا ۔

بہشتیو ں سے تھو ڑے کھا نے پا نی کی بھیک ما نگیں گے تو جوا ب سنیں گے کہ خدا نے بہشتی نعمتوں کو تمھا رے اوپر حر ام کر دیا ہے(۱۰۵) اور بہشتی لو گ ان سے پو چھیں گے کہ کو نسی چیز تمھا ری بد بختی کا سبب ہے اور تمھیں جہنم میں کھینچ لا ئی ہے ؟ تو لو گ کہیں گے کہ ہم نماز یو ں اور خدا کے عبا دت گذا ر بند وں میں سے نہیں تھے اور غریبو ں کی مدد نہیں کر تے تھے اور فسا دیوں کے سا تھ مل کر رہتے تھے اور روز قیا مت کو جھٹلا تے تھے(۱۰۶) اس وقت آپس میں ایک دوسرے سے الجھ جا ئیں گے ،اور لڑنے لگیں گے(۱۰۷) گمرا ہ ہو نے وا لے گمر اہ کر نے والوں سے کہیں گے ،کہ تم ہی لو گو ں نے ہمیں گمرا ہ کیا ہے وہ لو گ جواب دیں گے کہ تم لو گو ںنے اپنی رضا اور خواہش سے ہما ری پیر وی کی ہے(۱۰۸) نیچے کا م کر نے والے اپنے اوپر کا م کرنے والے ( رعا یا اپنے حا کم یا ارباب ) سے کہیں گے کہ تم ہی نے ہمیں اس سختی تک پہچا یا ہے وہ جو اب دیں گے کہ کیا ہم نے زبر دستی اور جبراً تم کو راہ راست سے روکا تھا(۱۰۹) با لا خر وہ لو گ شیطا ن سے کہیں گے کہ ہم لو گو ں کی گمرا ہی کا سبب بنا ہے تو وہ جوا ب دے گا کہ خدا نے تم سے سچا وعدہ کیا لیکن تم لو گو ں نے قبول نہیں کیا اور میں نے جھو ٹا وعدہ کیا تو تم نے قبو ل کر لیا، لہٰذا میری مذمت کے بجا ئے خود اپنی مذمت کرو، اور آج ہم میں سے کو ئی بھی ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکتا(۱۱۰) لہٰذا اپنی نا فر ما نی اور کفر کی سزا بھگتنے کے اور کو ئی چا رہ نہیں ہے لہذا ہمیشہ ہمیشہ عذا ب میں مبتلا رہیں گے(۱۱۱)

سو الات:

١۔ قیا مت کے وقت زمین و آسما ن کی کیفیت کو تفصیل سے بیان کیجیے ؟

٢۔ قیامت کے آغا ز کی کیفیت اور اس کے اوصاف کو بیان کریں؟

٣۔الہٰی عدا لت کے محا کمہ ( مقدمہ ) کی شر ح و تفصیل پیش کریں ؟

٤۔مو منین اور کفار کے متعلق ابدی ٹھکا نو ں کی طرف روانگی کی وضا حت کیجئے ؟

٥۔بہشتی نعمتوں کو تفصیل سے بیان کیجئے ؟

٦۔جہنم اور جہنمیوں کی کیفیت اور حا لت کو تحریر کریں ؟

٧۔ جہنمیوں کی گفتگو کو تفصیل سے بیان کیجئے ؟

____________________

١۔ زلزال ١ حج ١ واقعہ ٤ مزمل ٤ ١ ، ٢۔ زلزال ٢،انشقاق ٤ ، ٣۔ الحا قہ ١٤ ، فجر ٢١ ،

٤ تکویر ٦ ، انفطا ر ٣ ٥۔ کہف ٤٧ ، نحل ٨٨ ، طور ١٠ تکویر ٢ ، ٦۔ الحا قہ ٤، واقعہ ٥ ، ٧۔ مزمل ١٤ ،

٨۔ معارج ٩ ، قارعہ ٥ ٩۔طہ ٰ١٠٥ ، مرسلا ت ١٠ ، ١٠۔ کہف ٨، نبا ء ١١٢٠۔ قیامت ٨ ، ۔١٢ تکویر ١، ١٣۔ تکویر ٢ ، ١٤ ۔انفطا ر ٢ ، ١٥۔قیا مت ٩ ،١٦ ۔ طور ١ ، حا قہ ١٦ ، ١٧۔ رحمٰن ٣٧،حا قہ ١٦، مزمل ١٨ ، مر سلات ١٩، انفطا ر ١ ، انشقا ق ١ ، ۔ انبیا ء ١٠٤ ،تکویر ١١ ١٩۔معا رج ٨ ، ٢٠۔ فر قان ٢٥، دخا ن ١٠ ،

۲۱۔ زمر ٦٨ ، حا قہ ١٣ ، یٰس ٤٩ ، ۲۲۔نمل ٨٧ ، ٨٩ ، ۲۳۔ ابرا ہیم ٤٨،زمر ٦٧، مر یم ٣٨، ق ٢٢

۲۴۔ زمر ٦٩ ، ۲۵۔ زمر ٦٨ ، کہف ٩٩،ق٢٠ ،٤٢،نبا ١٨،نا زعا ت ١٣ ۔١٤ ، مدثر ٨ ، صا فا ت ١٩

۲۶۔انعام ٣٨ ، تکویر ٥ ،۲۷۔کہف ٤٧ ، نحل ٧٧ ، قمر ٥٠ ، نبا ١٨ ، ۲۸۔ق ٢٠

۲۹۔ قارعہ ٤، قمر ٧ ، ۳۰۔ ق ٤٤ ۔ معا رج ٤٣

۳۱۔ یٰس ٥١ ، مطففین ٣٠ ، قیا مت ١٢ ۔١٣ نیز آیا ت حشر و نشر

۳۲ کہف ٩٩، تغا بن ٩ نساء ٧٨ ، انعام ١٢، آل عمران ٩

۳۳۔ روم ٥٥، نا زعا ت ٤٦ ، یو نس ٤٥ ، اسرا ء ٥٢ طہٰ ١٠٣۔١٠٤ ، مو منون ١١٣ ، احقاف ٣٥

۳۴۔ ابرا ہیم ٢١ ۔ العادیا ت ١٠ ، طا رق ٩ ق ٢٢ الحا قہ ١٨

۳۵۔ حج ٦٥، فر قان ٢٦ ، غا فر ١٦ ، انفطا ر ١٩

۳۶۔ ہود ١٠٥ ، طہٰ ١٠٨، ١١١ ، نبا ٣٨

۳۷۔ عبس ٣٤۔٣٧، شعرا ء ٨٨ ، معا رج ١٠ لقمان ٣٣

۳۸۔ بقرہ ١٦٦، مومنون۔آیت/١٠١

۳۹۔ زخرف ٦٧

۴۰۔ انعام ٣١ ، مر یم ٣٩ ، یو نس ٥٤

۴۱۔ آل عمران ٣٠ ، تکویر ١٤، اسراء ٤٩ ،

۴۲۔ بنی اسرائیل ١٣۔١٤ ۔١٧ ، الحا قہ ١٩ ۔٢٥ ، انشقاق ١٠٧

۴۳۔ رحٰمن ٣٩ ،

۴۴۔زمر ٦٩ ،بقرہ ١٤٣،آل عمران ١٤ ، نسائ۔٦٩ ، ہود ١٨ ۔حج ٧٨ ،ق ٢١، نحل ٨٤ ۔٨٩

۴۵۔ نور ٢٤ ،یٰس ٦٥ ،فصلت ٢٠ ۔٢١ ،

۴۶۔ اعرا ف ٨۔٩، انبیا ء ٤٧، مو منوں ١٠٢۔١٠٣ ، قارعہ ٦۔٨

۴۷۔ یو نس ٥٤۔٩٣ ، جا ثیہ ١٧ ،نحل ٧٨ ، زمر ٦٩ ۔٧٥

۴۸۔ النجم ٤٠۔٤١، بقر ہ ٢٨ ،٢٨٦ ، آل عمر ان٢٥ ۔ ١٦١،انعام ٧٠، ہو د ١١١ ، ابرا ہیم ٥١ ،

۴۹۔ انعام ١٦٠،

۵۰۔ النجم ٣٩ ، انعام ٤٦،فا طر ١٨ زمر ٧

۵۱۔ نحل ٢٥ ، عنکبو ت ١٣ ، یہا ں پر یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ جو لو گ دوسرو ں کی ہد ایت کا سبب بنتے ہیں دو گنا

ثو اب پا ئیں گے جیسا کہ روا یا ت میں صا ف وا ضح ہے ۔

۵۲۔بقرہ ٤٨ ، ١٣٢، آل عمران ٩١ لقمان ٣٣ ، ما ئدہ ٣٦، حدید ١٥

۵۳۔ بقر ہ ٤٨ ، ١٢٣ ، ٢٥٤، مد ثر ٤٨

۵۴۔ انبیا ء ٢٨ بقرہ ٢٥٥،یو نس ٣ ،مر یم ٨٧،،طٰہ ١٠٩ ،سبا ٣٣، زخر ف ٨٦ نجم ٢٦،

۵۵۔اعرا ف ٤٤

۵۶۔انفال ٣٧ ، روم ١٤ ، ١٦ ،٤٣، ٤٤ ، شو ریٰ ٧ ، ہو د ١٠٥، ١٠٨ ، یٰس ٥٩

۵۷۔ زمر ٧٣ ، آل عمر ان ١٠٧ مر یم ٨٥ ، قیا مت ٤٢ ،٢٤ ، مطففین ٢٤ ، غا شیہ ٨ عبس ٣٨ ۔٣٩

۵۸۔ زمر ٦٠۔٧١، آل عمر ا ن ١٠٦، انعام ١٢٤، یو نس ٢٧ مر یم ٨٦ طہٰ ١٠١،١٢٦ ،١٢٤، ابرا ہیم ٤٣ ،قمر ٨ معا رج ٤٤، غا شیہ ٢ اسرا ء ٧٢،٩٧ ، عبس ٤٠،٤١

۵۹۔ مر یم ٧١ ،٧٢

۶۰۔ حد ید ١٢

۶۱۔ حدید ١٣۔١٥ ، نساء ١٤٠

۶۲۔ زمر ٧٣ ، رعد ٢٢،٢٤

۶۳۔ زمر ٧١ ، ٧٢ ، تحریم ٦، انبیا ء ١٠٣

۶۴۔ آل عمر ان ١٣٣، حدید ٢١ ،

۶۵۔ الحا قہ ٢٣، دہر ٦۔١٨ ،٢١ مطففین ٢٨

۶۶۔ بقرہ ٢٥ ، آل عمران ١٥، اور دسیوں دوسری آیتیں

۶۷۔ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ١٥ ،دھر ٦۔١٨ ، ٢١ مطففین ٢٨

۶۸۔ نحل ٣١ ، فر قان ١٦ زمر ٣٤، فصلت ٣١ شوریٰ ٢٢ زخر ف ٧٠ ،٧١ ،ق ٣٥

۶۹۔ ق ٣٥ ، ۷۰۔ کہف ٣١ ،حج ٢٣ ، فا طر ٣٣ دخا ن ٥٣ ، دھر ٢١۔اعرا ف ٣٢ ،

۷۱ ۔ اعرا ف ٤٣، یو نس ١٠ ، فا طر ٣٤ زمر ٧٤

۷۲۔مر یم ٦٢ ،نبا ء ٣٥ ، غا شیہ ١١

۷۳۔ الد ھر ١٣ ، ۷۴۔ مر یم ٦٢ ، نبا ء ٣٥ ، غا شیہ ١١

۷۵۔ ، اعرا ف ٣٥، حجر ٤٨ ،

۷۶۔ اعرا ف ٤٣ ، حجر ٤٧

۷۷۔ طور ٢٤ ، واقعہ ١٧ ، دھر ١٩

۷۸۔ صا فا ت ٤٥ ۔٤٧ ص ٥١ ،طور ٢٣ ، زخرف ٧١ واقعہ ١٨۔١٩ دھر ٥۔٦۔١٥ ،١٩ ، نبا ٣٤ مطففین ٢٥، ٢٨

۷۹۔ ص ٥١ طور ٢٢ رحمٰن ٥٢ ،٦٨ ، واقعہ ٢٠۔٢١ ، مر سلا ت ٤٢ ، نبا ٣٢

۸۰۔ بقرہ ٢٥ آل عمران ١٥ ،نسا ء ٥٧ صا فا ت ٤٨ ۔٤٩ ص ٥٢ زخرف ٧٠ دخا ن ٥٤ طور ٢٠ رحمٰن ٥٦ ،٧٠ ،٧٤ واقعہ ٢٢ ۔٢٣ ،٣٤ ،٣٧ ، نبا ٣٣

۸۱۔ آل عمرا ن ١٥ ، تو بہ ٢١،٧٢ حدید ٢٠ ، ما ئدہ ١١٩ مجا دلہ ٢٩ بینہ ٨

۸۲۔ سجدہ ١٧

۸۳۔ بقرہ ٢٥ ،٨٢ آل عمر ان ١٠٧ ،٣٦ ،١٩٨ ، نساء ١٣ ، ٥٧ ، ١٢٢ ، ما ئدہ ٨٥ ،١١٩ ،اعراف ٤٢ ،تو بہ ٢٢،٧٢،٨٩ ، ١٠٠، یو نس ٢٦ ، ھو د ٢٣ ، ١٠٨، ابراہیم٢٣، حجر ٤٨، کہف ٣ ، ٨ ١٠ ، طہٰ ٧٦ انبیا ء ١٠٢ ، مو منون ١١ فر قان ١٦ ،٧٦، عنکبو ت ٥٨ ، لقما ن ٩، زمر ٧٣ ، زخر ف ٧١، احقاف ١٤ ، ق ٣٤، فتح ٥،حدید ١٢ ، مجا دلہ ٢٢ ، تغا بن ٩ طلا ق١١،بینہ ٨،

۸۴۔ دخا ن ٥٦، فصلت ٨، انشقاق ٢٥، تین ٦ ،

۸۵۔ نساء ١٤٠ ، اور دوسری دسیو ں آیتیں ۔

۸۶۔ ق ٣٠، ، ۸۷۔ ھو د ١٠٦ ، انبیا ء ١٠٠ ، فر قان ١٢ ، ملک ٧،٨

۸۸۔ آل عمران ١٠٦ ، ملک ٢٧ ، مو منون ١٠٤ ، زمر ٦٠

۸۹ ۔ تحریم ٩١ ، ۹۰۔ رعد ٥ ، ابرا ہیم ٤٩،صبا ٣٣ غا فر ٧١،٧٢، الحا قہ ٣٢ دھر ٤ ،

۹۱۔ ابرا ہیم ٥٠ فر قان ١٣، انبیا ء ٩٨ ، جن ١٥، تحر یم ٦

۹۲۔ بقرہ ٢٤، آل عمران ١٠، انبیا ء ٩٨، جن ١٥، تحریم ٦

۹۳۔ فر قان ١٣ ،١٤ انشقاق ١١ ،

۹۴۔حج ١٩،٢٠ دخا ن ٤٨،

۹۵۔ انعام ٧٠ ، یو نس ٤ کہف ٢٩، واقعہ ٤٢ ، ٤٤، ٥٥ ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ١٥

۹۶۔ صا فا ت ٦٢ ، ٦٦، ص ٥٧، دخا ن ٤٥ ، ٤٦ ، واقعہ ٥٢ ،٥٣ نباء ٢٥ ، غا شیہ ٦ ،٧

۹۷۔ ابرا ہیم ١٧،طہٰ ٧٤ فا طر ٣٦ ۹۸۔ زخرف ٣٨۔ ٣٩ ، شعراء ٩٤۔٩٥ ،ص ٨٥ ،

۹۹۔ اعرا ف ٣٨ ۔٣٩ ، عنکبو ت ٢٥، مر سلا ت ٣٥۔٣٦،

۱۰۰۔ مو منو ن ١٠٨ ، روم ٥٧ ، غا فر ٥٢،مر سلا ت ٣٥۔٣٦

۱۰۱۔ غا فر ٤٩۔٥٠، ۱۰۲۔ زخرف ٧٧، ۱۰۳۔ ابراہیم ١٧، طہٰ ٧٤ ، فا طر ٣٦

۱۰۴۔ نساء ۔٥٦،

۱۰۵۔ اعرا ف ٥٠ ، ۱۰۶۔ مدثر ٣٩۔٤٧ ، ۱۰۷۔ ص ٥٩، ٦٤

۱۰۸۔ اعراف ٣٨،٣٩ صا فا ت ٢٧ ۔٣٣ ،

۱۰۹۔ابراہیم ٢١ ،سباء ٣١ ،٣٣ ،

۱۱۰۔ ابر اہیم ٢٢،

۱۱۱۔ بقرہ ٣٩، ٨١، ١٦٢، ٢١٧،٢٥٧،٢٧٥، آل عمران ٨٨،١١٦ ،نساء ١٦٩ ، ما ئدہ ٣٧، ٨٠ انعام ١٢٨، اعرا ف ٣٦،تو بہ ١٧، ٦٣، ٦٨، یو نس ٢٧ ، ٥٢، ھو د ١٠٧ ، رعد ٥، نحل ٢٩ ، کہف ١٠٨ ، طہٰ ١٠١ ، سجدہ ٢٠، مو منون ١٠٣ ، احزاف ٦٥، زمر ٧٢، غا فر ٧٦، زخرف ٧٤ مجا دلہ ١٧ ، تغا بن ١٠ ، جن ٢٣ ، بینہ ٦


اِکیاو نو اں درس

دنیا کا آخر ت سے مقابلہ

مقدمہ:

دنیا کا فنا ہوجا نا اور اخر ت کا ہمیشہ با قی رہنا

یہ گفتگو ذیل کے مو ضوعا ت پر مشتمل ہے

آخر ت میں نعمت اور عذا ب کے ما بین جد ائی

آخر ت کا اصل ہو نا

دنیا وی زندگی کو انتخا ب کر نے کا نتیجہ

مقد مہ:

ہم نے عالم آخر ت کے با رے میں عقل اور نقل ( آیا ت و روا یا ت ) کے ذریعہ جو معلو ما ت حا صل کی ہیں، اس کی رو شنی میں دنیا و آخر ت کے درمیا ن مختلف زا ویہ سے تقا بل کر سکتے ہیں، خو ش قسمتی سے یہ تقا بل ( مو ازنہ ) خو د قر آن مجید کے اندر مو جو د ہے اور ہم قرآ نی بیانا ت کے ذریعہ دنیا و آخر ت کو صحیح طر یقہ سے تصو ر کر سکتے ہیں ۔

دنیا کا فا نی ہو نا اور آخر ت کا ابدی ہو نا ( ہمیشہ با قی رہنا )

دنیا وآخرت کے درمیان سب سے پہلا اور وا ضح تر ین اختلا ف دنیا وی زندگی کا محدود ہو نا اور اخر وی زندگی کا ہمیشہ با قی رہنا ہے ،ہر انسان کی عمر کے لئے اس دنیا میں ایک حد معین ہے کہ حد تک ہر ایک کو جلد یا د یر پہنچنا ہے حتیٰ کہ اگر کو ئی شخص سیکڑوں یا ہزا روں سا ل بھی اس دنیا میں زندگی بسر کرلے با لا خر اس کو ایک روز اس ما دی عالم کے تغیر کے سا تھکہ جب پہلا صو ر پھو نکا جا ئے گا ختم ہو جا نا ہے، جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے ۔

دوسری طر ف قر آن مجید کی تقریباً،اسی،آیتیں آخر ت کے ابدی ہو نے پر دلا لت کرتی ہیں(۱) اور ظا ہر ہے کہ محدود چا ہے جس قدر بھی طو لا نی مدت ہو لا محد ود سے مقابلہ نہیں کر سکتا، صرف عالم آخر ت بقا اور دو ام کے لحا ظ سے دنیا کے اوپر عظیم فضیلت کا حا مل ہے اور یہ ایسا مطلب ہے جو مختلف آیتوں میں آخر ت کو ( ابقیٰ)(۲) اور دنیا وی زندگی کو ( قلیل )(۳) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور دوسری آیتوں میں دنیا وی زندگی کو اس سبزہ سے تشبیہ دی گئی ہے جو چند روز سر سبز و شا داب رہنے کے بعد زردی کی طر ف ما ئل ہو تا ہے اور پھر (پژمردگی) کملا ہٹ شروع ہو جا تی ہے اور آخرت میں با لکل خشک ہو کر ختم ہو جا تا ہے(۴) اور خدا وند عالم ایک آیت میں کلی طور سے ارشا د فر ما تا ہے کہ صرف وہ شی جو خدا کے نزدیک ہے ہمیشہ با قی رہنے والی ہے(۵)

آخرت میں نعمت اور عذا ب کے ما بین جد ائی

دنیا اور آخر ت کی زندگی میں ایک دوسر ا بنیا دی فر ق یہ ہے کہ دنیا کی زندگی اور اسکی تمام خو شیا ں رنج و مشکلا ت کے سا تھ ملی جلی ہیں اور ایسا ہر گز نہیں ہے کہ کچھ لو گ ہمیشہ ہر لحا ظ سے خو شحا ل ،بے فکر ،اور آسو دہ خا طر ہو ں گے اور کچھ افراد ہمیشہ عذا ب اور پر یشا نیوں میں مبتلا ہو ں گے اور غم و مصیبت سے ود چا ر ہو ںگے بلکہ تقریباً سا رے لو گ ہر طر ح کی خوشیو ں، لذتو ں اور عیش وآرام سے ما لا مال بھی ہیں اورسا تھ ہی سا تھ رنج و مصیبت اور غم و غصہ سے بھی دست و گر یباں ہیں ۔

لیکن عالم آخر ت کے دو الگ الگ حصے ( جنت و جہنم ) پا ئے جا تے ہیں، جس میں سے پہلا حصہ وہ ہے کہ جس میں کسی قسم کی کو ئی پریشا نی عذا ب ،خو ف اور غم کا شا ئبہ بھی نہیں پا یا جا تا، جب کہ دوسرے حصے میں آگ ،درد مصیبت ،حیرت و یاس اور غم کے علا وہ کچھ اور ہا تھ آنے والا نہیں ہے کہ جو دنیا وی لذت کا اثر ہے ۔

یہ تقابل بھی خو د قر آن مجید کے اندر پا یا جا تا ہے اور آخرت کی نعمتوں اور تقرب پر ورد گا ر کی بر تری کو دنیا وی نعمتوں کے او پر صا ف لفظو ں میں بیان کیا گیا ہے(۶) جس طر ح آخر ت کے عذا ب کو دنیا وی مشکلا ت اور مصیبتوں سے سخت تر بیان کیا گیا ہے(۷)

آخرت کا اصل ہو نا ۔

دنیا و آخر ت کے در میان ایک اہم فر ق یہ ہے کہ دنیا وی زندگی آخر ت کے لئے مقد مہ ہے اور ابدی سعا دت کو حا صل کر نے کا ذریعہ ہے اور آخر ت کی زندگی آخری اور اصل زندگی ہے، اگر چہ دنیو ی حیا ت اور اس کی ما دی و معنوی نعمتیں انسان کو بہت پسند ہیں ،لیکن اس کے با وجود کہ یہ ساری نعمتیں صر ف امتحا ن کا ذریعہ ہیں اور حقیقی نشو و نما اور ترقی نیزابدی سعادت کو حا صل کر نے کے لئے ایک وسیلہ ہے لہٰذا اصل نہیں ہو سکتی اور اس کی وا قعی قدر و قیمت ایک زاد راہ اور توشہ کی سی ہے جو انسان اپنی ا بدی زندگی کے لئے آما دہ کر تا ہے(۸) اس لئے اگر کو ئی شخص آخرت کو فرا موش کر کے دنیا کے حسن وجما ل میں گر فتار ہو جا ئے، اوراس کی لذتو ں کو اپنا آخری مقصد سمجھ بیٹھے تو گو یا وہ اس کی واقعی قدر و قیمت کو نہیں پہچا ن سکا ،اور اس کے لئے فر ضی اہمیت کا قا ئل ہو گیا کیو نکہ اس نے وسیلہ کو

مقصد سمجھ لیا ہے اگر ایسا ہے تو سوا ئے فریب اور کھیل اور مشغو لیت کے اور کچھ نہیں ہے، اسے لئے قر آن مجید نے دنیا کی زندگی کو کھیل مشغو لیت اور وسیلہ فر یب کے نا م سے یا د کیا ہے(۹) اور آخر ت کی زندگی کو ایک حقیقی حیا ت جا نا ہے(۱۰) لیکن توجہ کا مقام ہے کہ وہ تما م مذ متیں جو دنیا کے سلسلے میں بیان کی گئی ہیں و ہ دنیا طلب انسا نوں اور ا س کو ھدف و مقصد بنا کے زندگی گذا ر نے وا لوں سے متعلق ہیں، ور نہ زندگانی دنیا خدا کے اُن نیک بندوں کے لئے جو اس کی حقیقت کو پہچا نتے ہیں، اور اس کو ایک وسیلہ کی حثیت سے دیکھتے ہیں ،اور اپنی زند گی کے تمام لمحا ت، ابدی سعا دت کے حصول میں صرف کرتے ہیں نہ صرف یہ کہ ان کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ وہ غیر معمو لی قدر و قیمت کے ما لک ہیں ۔

دنیا وی زندگی کو انتخا ب کر نے کا نتیجہ ۔

عالم آخر ت کی فضیلت اور غیر قا بل تو صیف بہشتی نعمتوں اور خدا کی مرضی و خوشنودی کو دنیا وی لذتو ں کے اُ وپر ترجیح دینے میں کسی بھی شک و شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے لہذا دنیا وی زندگی کو انتخا ب کر نا، اور اس کو آخر ت کے اُوپر تر جیح دینا، ایک غیر حکیما نہ اقدا م ہے(۱۱) کہ جس کا نتیجہ حسرت اور شر مندگی کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے لہذا اس کو انتخا ب کرنااور اس کی لذتو ں پر دل و جان سے قر با ن ہو جا نا نہ یہ کہ صرف ابدی سعا دت سے محر و می کا سبب ہے بلکہ ہمیشہ کی بد بختی کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے ۔

وضا حت ۔

یہ کہ اگر انسان، ابدی سعادت کے بجا ئے دنیا کی جلد گذر جا نے وا لی لذ تو ں کا انتخا ب کرے اس طر ح کہ اس کی اخر وی زندگی کا کو ئی نقصا ن نہ ہو تو ایسا اقدا م اخر وی سعا دت کے غیر

معمو لی رجحا ن کو دیکھتے ہو ئے ایک غیر عا قلا نہ کا م ہے لیکن کیا کیا جا ئے کہ کسی کو بھی عا لم ابد یت سے مفر نہیں ہے اور وہ کہ جس نے اپنی سا ری قوّ توں کو دنیا کی زندگی کے اُوپر صرف کر د ے اور عالم آخر ت کو بھلا بیٹھے یا با لکل سرے سے اس کا انکا ر کر دے تونہ صرف یہ ہے کہ بہشتی نعمتوں سے محروم ہو گیا بلکہ ہمیشہ کے لئے جہنم کے عذاب میں گرفتار ہو جائے گا ،اور اُس کا دوگنا نقصان ہو گا(۱۲) اسی لئے قرآن مجید ایک طرف تو آخرت کی نعمتوں کی بر تری اور فضیلت کو گوش گذار اور ہو شیا ر کر رہا ہے کہ خبر دار کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیاوی زندگی تم کو دھو کا دیدے(۱۳) اور دوسری طرف دنیا سے قلبی لگا ئو اور آخر ت کو بھو ل جا نے ،جہا ن ابدی سے انکا ر یا اس کے با رے میں شک و شبہ کے نقصا نا ت کو گنوا ر ہا ہے اور اس بات کی تا کید کر رہا ہے کہ ایسے امور ہمیشہ کی شقا وت اور بد بختی کا سبب ہیں اور ایسا بھی نہیں ہے کہ دنیا کو تر جیح دینے وا لا صر ف آخر ت کی جزا سے محر وم رہے گا بلکہ ہمیشہ کی سزا اُس کا مقدر بن جا ئے گی(۱۴) اور اس کا راز و سبب یہ ہے کہ دنیا پر ست انسان نے خدا کی دی ہو ئی صلا حیتو ں کو ضا ئع کر دیا اور وہ درخت جو ابدی سعادت کا پھل دینے والا تھا اسکو خشک و بے پھل کر دیا ،اور اس نے حقیقی نعمت عطا کرنے والے (خدا) کے حق کا لحاظ نہیں کیا ،اور اس کی دی ہو ئی نعمتوں کو اسکی مر ضی کے خلا ف استعما ل کیا اور ایسا شخص جب اپنے بر ُے انتخا ب کے نتیجے کو دیکھے گا تو یہ آرزو کر ے گا کہ اے کا ش میں مٹی ہو جاتا ، اور ایسی بر ی عا قبت میں مبتلا نہ ہو تا(۱۵)

سو الا ت:

١۔دنیا و آخر ت کے در میان کیا فر ق ہے ؟

٢۔دنیا کی مذمت کیوں کی گئی ہے ؟وضا حت کیجئے ؟

٣۔دنیا سے لگا ئو کے کیا نقصا نا ت ہیں ؟

٤۔ آخرت پر ایما ن نہ رکھنا ابدی عذا ب کا سبب کیوں ہے؟

____________________

١۔ بہشت میں دو زخ کی جا ودا نی اور خلود سے متعلق آیتوں کی طر ف رجوع کریں

٢۔ کہف ٤٦ ، مر یم ٧٦، طہٰ ٧٣،١٣١، قصص ٦٠ ، شوریٰ ٣٦، غا فر ٣٩، اعلیٰ ١٧

٣۔ آل عمران ١٩٧، نساء ٧٧، تو بہ ٣٨ نمل ١١٧،

٤۔یو نس ٢٤، کہف ٤٥،٤٦ حدید ٢٠، نمل ٩٦،

٥۔ آل عمران ١٥ ، نساء ٧٧، انعام ٣٢، اعراف ٣٢ یو سف ١٠٩ ، نحل ٣٠ ، کہف ٤٦، مر یم ٧٦، طہٰ ٧٣، ١٣١ ، قصص ٦٠ ، شو ریٰ ٣٦، اعلٰی ١٧،

۶۔ آل عمران ١٥، نساء ٧٧، انعام ٣٢، اعراف ٣٢، یو سف ١٠٩، نحل ٣٠، کہف ٤٦ ، مر یم ٧٦ ، طہٰ ٧٣ ، ١٣١، قصص٦٠ ، شو ریٰ ٣٦، اعلیٰ ١٧ ،

۷۔ رعد ٣٤، طہٰ ١٢٧، سجدہ ٢١، زمر ٢٦ ، فصلت ١٦ ، قلم ٣٣ ، غا شیہ ٢٤،

۸۔ قصص ٧٧

۹۔ آل عمران ١٨٥، عنکبو ت ٦٤، محمد ٣٦، حدید ٢٠ ،

۱۰۔ عنکبوت ٦٤، فجر ٢٤،

۱۱۔ اعلیٰ ١٦ ، فجر ٢٤ ، ھو د ٢٢، کہف ١٠٤ ، ١٠٥ ، نمل ،٤،٥

۱۲۔ ھود / ٢٢، کھف /١٠٢ - ١٠٥، نمل/ ٤-٥

۱۳۔ بقرہ ١٠٢ ،٢٠٠ ،تو بہ ٣٨ ، روم ٣٣ فا طر ٥، شو ریٰ ٢٠ ، زخر ف ٣٤، ٣٥،

۱۴۔ اسراء ١٠ ، بقرہ ٨٦ ، انعام ١٣٠ ، یو نس ٧ ،٨،ھو د ١٥ ،١٦ ، ابراہیم ٣، نحل ٢٢، ١٠٧، مو منون ٧٤، نمل ٤،٥،٦٦ روم ٧،١٦، لقمان ٤ ،سبا ٨،٢١، زمر ٤٥، فصلت ٧، نا زعا ت ٣٨،٣٩،

۱۵۔ نبا ٤٠،


با ونواںدرس

دنیا آخر ت کی کھیتی ہے

مقدمہ :

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

دنیا آخر ت کی کھیتی ہے ١۔ دنیا وی نعمتیں آخر ت کی سعاد ت کا سبب بن سکتی ہیں

٢۔دنیاکی نعمتیں اخر وی شقا وت ( بد بختی ) کا سبب نہیں بن سکتی ۔

٣ ۔ نتیجہ گفتگو

مقدمہ:

ہمیں یہ با ت معلوم ہو چکی ہے کہ انسانی زندگی اس جلد گذر جا نے والی دنیاوی حیات پر منحصر نہیں ہے، بلکہ دو با رہ عالم آخر ت میں زندہ ہو نا ہے اور وہاں ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور ہم یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ آخر ت کی زندگی ہی عینی اور حقیقی حیا ت ہے، حد تو یہ ہے کہ دنیا وی زندگی کو خر وی حیا ت کے سا منے زندگی کہنا منا سب ہی نہیں ہے ایسا نہیں ہے کہ اخر وی زندگی کا مطلب فقط نیک و بد ہو نا یاایک فر ضی و خیا لی امرہو نا ہے ۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم دنیا و آخر ت کی زند گی کے در میان مو جو دہ را بطے کو بیان کر تے ہو ئے اس کی نوعیت واضح کریں اگر چہ گذشتہ بحثو ں میں کسی حد تک اس را بطہ کے با رے میں بیان کیا جا چکا ہے منا سب معلوم ہوتا ہے کہ مزید اور وضا حت کر دی جا ئے اور عقلی دلیلوں اور قر آنی بیانات کی رو شنی میں دنیا و آخر ت کے ما بین را بطہ کو واضح کیا جائے ۔

دنیا آخر ت کی کھیتی ہے

یہا ں پر سب سے پہلے جس با ت کی تا کید کر نا ضرو ری ہے وہ یہ ہے کہ آخرت کی خو شبختی اور بد بختی دنیا میں انجام پانے والے انسانی رفتا ر و کر دا ر کی تا بع ہے اور ہر گز ایسا نہیں ہے کہ آخر ت کی نعمتو ں کو حا صل کر نے کے لئے آخرت ہی میں کو شش کرے، اور جس کے پاس جتنی زیا دہ جسمانی اور فکری قوت پا ئی جا ئے گی وہ اتنا ہی زیا دہ نعمتوں سے سر فراز ہو گا ،یا فر یب اور دھوکا، دھڑی کے ذریعہ دوسروں کی ایجا دا ت سے غلط فا ئد ہ اٹھا ناچاہتے ہیں جیسا کہ بعض نا دان افراد کے ذہنوں میں یہ غلط تصور پا یا جا تا ہے اور وہ آخر ت کی زندگی کو دنیا سے با لکل علیحدہ اور مستقل تصور کرتے ہیں۔

قرآن کر یم بعض کفا ر کے قول کو اس طر ح نقل کر رہا ہے ۔( وَ ما اَظُنُّ السّاعَةَ قا ئِمَةً وَ لئِن رُدِدتُ اِلَیٰ رَبِّ لَاَ جِدَ نَّ خَیراً مِنهَا مُنقَلَبا ) ً )(۱)

(دنیا پر ست انسا ن نے کہا ) کہ مجھے تو اس با ت کا گمان بھی نہیں ہو تا کہ کبھی قیا مت آئے گی اور اگر آبھی گئی تو جب میں اپنے پر ور گا ر کی طرف لو ٹا یا جا ئو ں گا تو یقیناً اس دنیا سے کہیں بہتر پا ئوں

گااور دوسری جگہ ارشاد ہو رہا ہے ۔

( وَمَا اَظُنُّ السّاعَةَ قَائِمَةً وَ لَئِن رُجِعتُ اِلَیٰ رَبِّ اِنَّ لِ عِندَ هُ لَلحُسنَی ) ٰ )(۲)

قیامت کا آنا تو میرے وہم و گما ن میںنہیں ہے لیکن اگر آگئی، تو جب میں اپنے رب کی طرف لو ٹا یا جا ئو ں گا تو خدا کے نزدیک سب سے بہتر ین نعمتیں پا ئوں گا ایسے لو گو ں کا، یا تو یہ خیا ل تھا، کہ آخر ت میں بھی سعی و کو شش کے ذریعہ نعمتوں کو حا صل کیا جا سکتاہے یا تو یہ گما ن تھا، کہ دنیا میں ان لو گو ں کا ما لدا ر ہو نا، خد ا کی جانب سے ایک خا ص کر م اور احسان ہے ،بس آخر ت میں بھی خدا کے یہ احسانات اور الطاف ان کے شا مل حا ل ہو ں گے ۔

بہر حا ل اگر کو ئی انسان آخر ت کی زندگی کو دنیا وی زندگی سے با لکل الگ اور مستقل حیثیت جا نتا ہے اور دنیا میں انجام دئے ہو ئے نیک و بد اعمال کو آخر ت کی نعمتوں اور عذاب کے اوپر مو ثر تصور کرتا ہے تو گو یا ، وہ قیامت پر جو آسمانی ادیان کے اعتقادی اصول میں سے ایک ہے ایمان نہیں رکھتا، کیونکہ اس اصل کا وجود دنیا وی اعمال کی جزا و سزا کے عنوان سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کو با زار ، محل تجا رت یا کھیتی کا نام دیا گیا ہے، یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں انسان کام کرے ، زراعت کرے ، محنت و کوشش کرے تو اس کی در آمد ( اس کا فا ئدہ) وہاں (قیامت میں ) حا صل کرے گا(۳) قیا مت کے متعلق مو جودہ دلیلیں اور قر آنی بیا نا ت کا تقاضا بھی یہی ہے جس میں کسی قسم کی شر ح و تو ضیح کی ضر ورت نہیں ہے ۔

دنیا کی نعمتیں آخرت کی سعادت (خوشبختی) کا سبب نہیں

بعض دیگر افراد کا خیال یہ تھا کہ دنیا میں دو لت ،فر زند، اور دیگر تمام اسباب عیش و آرام آخر ت میں بھی راحت و سکون کا باعث ہو ں گے اور شا ید یہی وجہ ہے کہ میت کے ہمرا ہ زرو جو اہر اور قیمتی مو تیوں یہا ںتک کہ خو رد نوش کے سامان بھی دفن کر دیتے تھے ، اور یہ غلط رسم اسی تصور کا نتیجہ تھی ( ان سے مر بو ط رفتا ر سے قطع نظر)قر آن کریم اس با ت کی تا کید کر رہا ہے ما ل و فر زند خو د بخو د (قطع نظر اس سے کہ اس کے اعمال کیسے ہیں ؟) تقر ب الہٰی کا ذریعہ نہیں بن سکتے(۴) اور نہ آخر ت میں کسی کو نفع پہنچا ئیں گے(۵) اور بنیادی طور سے ایسے روا بط اور اسبا ب کو ایک دن ختم ہو نا ہے(۶) اور ہر انسان اپنا سر ما یہ اور اپنے سے متعلق تمام اشیا کو یہیں چھوڑ جا ئیگا(۷) اور با لکل تنہا خدا وند عالم کی

بار گا ہ میں جا ئیگا(۸) اور صرف خدا سے معنوی روا بط میں استحکام پا یا جا ئیگا، اسی لئے صر ف وہی مو منین جو اپنے شریک حیا ت ،اولاد، اور قرابت داروں سے ایما نی رشتہ جوڑ ے ہو ئے ہیں بہشت میں ایک سا تھ رہیں گے(۹) ۔

اس گفتگو کا ما حصل یہ ہے کہ دنیا و آخرت کے ما بین ارتباط ،دنیا وی مو جودا ت کے در میان پا ئے جا نے والے تعلقات کی طرح نہیں ہیں اور ہر گز ایسا نہیں ہے کہ جو اس دنیا میں سب سے زیا دہ قوی ،حسین، خو شحا ل اور ما لدا ر ہو گا، وہ آخرت میں بھی ویسا ہی محشو ر ہو گا ورنہ فر عون، قارون، وغیرہ آخرت میں زیادہ سعادت کے حق دار ہو ں گے ،بلکہ ممکن ہے کہ وہ لو گ جو اس دنیا میں تنگ دستی نا توا نی اور رنج و مصبت کی زندگی گذار رہے ہیں وہ پر ور گار عالم کے احکا م پر عمل کر نے کے نتیجے میں با لکل سالم قوی اور حسین و جمیل محشور ہوں اور ابدی نعمتوں سے سر فراز ہو ں ۔

بعض نا دان افراد کا خیا ل یہ ہے کہ آیہ شر یفہ

( وَ مَن کَانَ فِی هٰذِهِ اَعمیٰ فَهُوَ فِ الآخِرَةِ اَعمیٰ وَاَ ضَلَُ سَبِیلًا ) )(۱۰)

کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا وی سلا متی اور فا ئد ہ اور آخر ت کی سلا متی اور فائدے کے در میان براہ راست را بطہ پا یا جا تا ہے در آن حا لیکہ یہ لو گ اِس با ت سے غا فل ہیں کہ اس آیت میں (ا ند ھا ) سے مر اد ظا ہر ی نا بینا نہیں ہے بلکہ اس سے مر اد دل کا اندھا ہو نا ہے ،جیسا کہ دوسری آیت میں ارشا د ہوتاہے : (( فَاِ نَّهَا لا تَعمَی الا َبصَارُ وَ لَکِن تَعم القُلُو بُ الَّت فِ الصُّدُورِ ) (۱۱)

آنکھیں اندھی نہیں ہو تیں بلکہ سینوں میں مو جود دلوں میں اندھا پن پا یا جا تا ہے، اور ایک دو سرے مقام پر اس طر ح ارشاد ہے :

( وَ مَن اَعرَضَ عَن ذِکرِ یی فَاِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنکاً وَ نَحشُرُهُ یَو مَ القِیَا مَةِ اَعمی٭ٰ قالَ لِمَ حَشر تنِی اَعمیٰ وَ قَد کنُتُ بَصیراً ٭قال کَذَالِکَ اَتَتکَ آیا تُ رَبِّک فَنَسِیتَهَا وَ کَذَالِکَ الیَومَ تنسیٰ ) (۱۲)

جو میری یا د(کتاب ) سے اعراض کر یگا اس کو اپنی زندگی میں سختیوں ،پر یشا نیوں کا سامنا کر نا پڑے گا اور ہم اسے قیامت میں اندھا محشور کریں گے ( کہنے والے نے کہا ) مجھے اندھا کیوں محشور کیا گیا با وجود یکہ میں بینا تھا خد ا کہیگا جس طر ح میری نشا نیاں تجھ تک پہنچیں لیکن تو نے اسے فر اموش کر دیا اسی طر ح آج تجھے بھلا دیا گیا،بس دنیا و آخر ت کا رابطہ اس رابطے سے جدا ہے جو دنیا وی سبب و مسبب ( علت و معلول) کے در میان ہو تا ہے ۔

دنیا کی نعمتیں آخرت کی شقاوت ( بد بختی) کاسبب بھی نہیں ہو سکتیں

دوسری طرف : بعض لو گو ں کا گمان ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور آخرت کی نعمتوں میں بر عکس رابطہ بر قرارہے یعنی وہ لو گ آخر ت کی سعادت تک پہنچ سکتے ہیں جنھوں نے دنیا کی نعمتوں سے کو ئی سرو کا ر نہیںرکھا ہے اوراس کے بر عکس یعنی وہ لو گ جو دنیا کی لذتو ں سے لطف اندوز ہیں وہ آخرت کی خوشبختی سے محروم رہیں گے اور ( ان لو گو ں نے اپنی با ت کو ثا بت کرنے کے لئے ) آیا ت و روایات کا سہا را بھی لیا ہے جو اس امر پر دلا لت کرتی ہے کہ دنیا پر ستوں کے حصے میں آخرت کا کوئی حق نہیں ہے در آں حا لیکہ یہ لوگ اس با ت سے غا فل ہیں(۱۳) ( کہ یہ ان کے مد عیٰ پر دلیل نہیں ہے )دنیا طلبی دنیا کی نعمتوں سے ا ستفا د ہ کے معنی میں نہیں ہو سکتا ،بلکہ دنیا طلب وہ ہے جو دنیا کی لذتوں کو اپنا نصب العین بنا لے اور اس کو حا صل کر نے کے لئے اپنی تمام صلا حیتوں کو بر وئے کا ر لا ئے اگر چہ ممکن ہے

اس تک نہ پہنچ سکے اور آخرت طلب وہ ہے جو دنیا کی سر مستیوں میں نہ کھو جا ئے بلکہ اس کا مقصد آخرت کی خو شگو ار زندگی ہو،اگر چہ ممکن ہے دنیاوی نعمتوں سے جی بھر کے فا ئدہ اٹھا چکا ہو جیسے حضرت

سلیمان ـ اور دیگر بہت سا رے انبیا کر ام اور اولیاء خد ا (ع) کہ جو دنیا کی بے پنا ہ نعمتوں سے ما لا مال تھے لیکن ان نعمتوں کے ذریعہ آخرت کی سعادت اور تقر ب الہٰی کو حاصل کر نے میں کوشاں رہے ۔

بس دنیا و آخرت کی نعمتوںکے در میان نہ ہی براہ راست را بطہ پا یا جا تا ہے اور نہ ہی بر عکس (بہ صورت منفی) بلکہ دنیا کی نعمتیں بھی اور مصیبتیں بھی خدا وند متعال کی حکیما نہ تدبیر کی بنیاد پر انسا نوں کے در میان تقسیم کی گئی ہیں(۱۴) اور ساری چیزیں انسا نوں کی آزما ئش کا ذریعہ ہیں(۱۵) اور دنیا کی فا نی نعمتوں سے دامن بھرا ہوا ہو نا، یا اس سے محروم ہونا خود بخود رحمت الہٰی سے دو ر ی یا نزدیکی کی علا مت نہیں ہے اور سعادت ( خو شبختی ) یا شقا وت ( بد بختی) کا سبب بھی نہیں ہے(۱۶)

نتیجہ کلا م:

اس پو ری گفتگو سے جو نتیجہ سا منے آتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا و آخرت کے در میان ہر قسم کے را بطے کا انکار کر دینا خو د قیا مت کے انکا ر کے حکم میں ہے، لیکن نہ آخرت کی نعمتوں کے در میان کو ئی رابطہ ہے اور نہ دنیا کی نعمتوں اور آخرت کے عذا ب کے در میان اور نہ اس کے بر عکس ۔

اور بطور کلی دنیا وآخر ت کے در میان را بطہ، دنیا و ی مو جودا ت کے ما بین پا ئے جا نے والے را بطے کے جیسا نہیں ہے اور اس پر فیز یکس اور بیا لو جی کے قو انین کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ،بلکہ وہ جو نعمت یا عذا ب آخرت کا سبب ہے وہ اِسی دنیا میں انسان کے اپنے اختیا ری اعمال ہیں ،لیکن اس لحاظ سے نہیں کہ قوت کا خرو ج کر نا اور مواد میں تغیرا ت پیدا کرنا بلکہ اس لحا ظ سے کہ نعمت اور عذا ب کے سبب کا سر چشمہ ایما ن اور با طنی کفر ہے ۔

اور سیکڑوں آیا تِ قر آنی سے اس مفہو م کو اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قر آن کے نزدیک آخرت کی ابدی خو شبختی تک پہنچنے کا سبب خدا روز قیا مت نیز انبیاء الہٰی پر ایمان رکھنا ہے اور خدا کے پسند ید ہ اعمال جیسے نما ز ، رو زہ ، حج و زکواة ،اور بند گا ن خدا کے سا تھ احسان ( نیکی ) اور امر بہ معر و ف ( نیکیوں کا حکم دینا ) نہی از منکر ( بر ائیوں سے روکنا ) کفا ر اور ستمگروں سے جہاد اور عدل و انصا ف کر نا ہے ۔

اور عذا ب ابدی میں مبتلا ہو نے کا سبب کفر ،شر ک، و نفاق قیا مت کا انکا ر انبیائ(ع) کو جھٹلا نا نیز گنا ہو ں کا مرتکب ہونا ، اور ظلم کر نا ہے اور بہت سا ری قر آنی آیات میں اجما لی طور سے ایما ن اور عمل صا لح(۱۷) کو آخر ت کی سعا دت کا سبب جا نا گیا ہے اور کفر و گنا ہ(۱۸) کو آخرت کی بد بختی کا با عث تصور کیا گیا ہے ۔

سوا لا ت:

١۔ دنیا و آخرت کے در میان را بطے کے انکا ر میں کیا اعتراض ہو سکتاہے ؟

٢۔ آخرت کے لئے دنیا کے کھیتی ہو نے کا کیا مطلب ہے وضا حت کیجئے ؟

٣۔دنیا اور آخرت کی نعمتوں کے در میان کو ن سی نسبت پا ئی جا تی ہے ؟

٤۔ دنیا کی نعمتوں اور آخرت کے عذا ب کے در میان کیا را بطہ ہے ؟

٥۔ دنیا کے وہ کو ن سے امو ر ہیں جن کا آخرت کی سعا دت یا شقاوت سے حقیقی رابطہ ہے ؟

____________________

١۔کہف ٣٦

٢۔ فصلت ٥٠،

۳۔قا بل توجہ با ت یہ ہے کہ قر آن مجید میں دنیا وی جزا اور سزا کا بھی ذکر مو جو د ہے لیکن مکمل جزا اور سزا آخرت سے مخصوص ہے

۴۔ سبا ٣٧، ۵۔ شعرا ء ٨٨، لقما ن ٣٣ ، آل عمران ١٠ ، ١١٦ ، مجا دلہ ١٧ ، ۶۔ بقر ہ ١٦٦، مو منون ١٠١، ۷۔ انعام ٩٤،

۸۔ مر یم ٨٠ ، ٩٥ ،

۹۔رعد ٣٣، غا فر ٨، طور ٢١،

۱۰۔ اسراء ٧٢ ، ( جو اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ آخر ت میں اندھا اور گمرا ہ رہیگا )

۱۱۔ حج ٤٦

۱۲۔ طہٰ ١٢٤ ۔١٢٦

۱۳۔ بقرہ ٢٠٠ ، آل عمر ان ٧٧ ، اسرا ء ١٨ ، شوری ٰ ٢٠ ،احقا ف ٢٠ ،

۱۴۔ زخر ف ٣٢،

۱۵۔ انفال ٢٨ ، انبیا ء ٣٥ ،تغا بن ١٥ اعرا ف ١٦٨ ، کہف ٧ ما ئدہ ٤٨ ، انعام ١٦٥، نمل ٤٠ ، آل عمرا ن ١٨٦ ،

۱۶۔ آل عمران ١٧٩، مو منون ٥٦، فجر ١٥،١٦،

۱۷۔ بقرہ ٢٥، ٣٨، ٦٢، ٨٢، ١٠٣، ١١٢، ٢٧٧، آل عمران ١٥ ، ٥٧ ، ١١٤، ١١٥، ١٣٣، ١٧٩، ١٩٥، ١٩٨، نساء ١٣، ٥٧، ١٢٢، ١٢٤، ١٤٦، ١٥٢، ١٦٢، ١٧٣، ما ئدہ ٩،٦٥، ٦٩، انعام ٤٨، توبہ ٧٢ یو نس ٤،٩، ٦٣، ٦٤، رعد ٢٩، ابراہیم ٢٣، نحل ٩٧، کہف ٢،٢٩،٣٠، ١٠٧، طہٰ ٧٥ ، حج ١٤ ، ٢٣، ٥٠ ، ٥٦، فر قان ١٥، عنکبو ت ٧، ٩،٥٨، روم ١٥ ، لقمان ٨، سجدہ ١٩، سبا ٤، ٣٧، فا طر ٧، ص ٤٩، زمر ٢٠ ، ٣٣، ٣٥ ، غا فر ٤٠ ، فصلت ٨ شو ریٰ ٢٢، ٢٦، جا ثیہ ٣٠ ، فتح ١٧ ، حدید ١٢، ٢١، تغا بن ٩، طلا ق ١١، انشقاق ٢٥ ، بر وج ١١، تین ٦، بینہ ٧ ، ٨،

۱۸۔ بقرہ ٢٤، ٣٩، ٨١، ١٦١، ١٦٢، آل عمران ٢١، ٥٦، ٨٦،٨٨، ٩١ ، ١١٦، ١٣١،١٧٦،١٧٧،١٩٦،١٩٧،نساء ١٤، ٥٦، ١٢١، ١٤٥، ١٥١، ١٦١، ١٦٨، ١٦٩، ١٧٣، ما ئدہ ١٠، ٣٦، ٧٢، ٨٦، انعام ٤٩ ، توبہ ٣، ٦٨، یو نس ٤، ٨، رعد ٥، کہف ٣٢ ، غا فر ٦، شو ریٰ ٢٦، جا ثیہ ١١، فتح ١٣ ، ١٧ ، حدید ١٩ ، مجا دلہ ٥، تغا بن ١٠ ، ملک ٦، انشقاق ٢٢، ٢٤، غا شیہ ٢٣، ٢٤، بینہ ٦


تر پنو اں در س

دنیا و آخرت کے در میان را بطہ کی قسم

مقدمہ :

جو حسب ذیل بحثو ں پر مشتل ہے

را بطہ حقیقی ہے یا فر ضی

قرا نی دلیلیں

مقدمہ :

ہم کو یہ با ت معلوم ہو چکی ہے کہ ایک طرف تو ایما ن اور عمل صا لح کے در میان اور دوسری طرف تقر ب پر ور دگا ر اور آخرت کی نعمتو ں کے در میان اور اسی طر ح سے ایک طرف تو کفر اور گنا ہ کے در میان اور دوسری طر ف خدا سے دوری اور ابدی نعمتوں سے محر ومی کے در میان منا سبت او ر براہ راست ا بطہ پا یا جا تا ہے ۔

اور اسی طر ح ایما ن و عمل صا لح اور عذاب ِآخرت کے در میان اور کفر و گنا ہ اور ابدی نعمتو ں کے در میان بر عکس نسبت پا ئی جا تی ہے ۔

اور قر آن کریم کی روشنی میں ان نسبتوں کے اصول ہو نے کے با رے میں کسی طر ح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور اُن کاانکار کر نا گو یا خو د قر آن کا انکا ر کر نا ہے ۔

لیکن اس اہم اور ضروری گفتگو کے متعلق کچھ ایسے مسا ئل سا منے آتے ہیں کہ جس کے با رے میں بحث اور وضا حت کی ضرو رت ہے، بطور مثا ل یہ کہ آیا مذ کو رہ رو ابط حقیقی ہیںیا تکوینی ؟ اور کیا یہ روا بط ، وضع و اعتبار ( معا ہدے) کے تا بع ہے ؟ ایما ن اور عمل صالح کے در میان کیا را بطہ ہے ؟ اور کفر و گنا ہ کے در میان کیا نسبت ہے ؟اور کیا خو د اعمال صا لح اور برے اعمال کے در میان موثر اور متاثرہونے کے اعتبار سے کوئی رابطہ پایا جا تا ہے یا نہیں ؟

اس در س میں ہم سب سے پہلے، مسئلہ سے متعلق گفتگو کر تے ہو ئے اس با ت کی وضا حت کر نا چا ہیں گے کہ مذکو رہ رو ابط فر ضی اور قرا ردا دی امو ر میں سے نہیں ہیں ۔

را بطہ حقیقی ہے یا قرار دادی (فر ضی)

جیسا کہ ہم نے با رہا اس امر کی طر ف اشا ر ہ کیا ہے کہ دنیا وی اعمال اور نعمتو ںیا آخرت کے عذا ب کے در میان کو ئی معمولی یا ما دی رو ابط نہیں پا ئے جا تے کہ جن کو فیزیکی یا کیمیا وی قوا نین کی بنیا د پر بیان کر تے ہو ئے اس کی تفسیر کی جا ئے، حتیٰ یہ تصور جو بعض لو گو ں کا ہے ،کہ انسانی اعمال میں جو قو ت صرف ہو تی ہے وہ ان لوگوں کے نظریہ کی بنیاد پر جو اس بات کے قا ئل ہیں ،کہ ما دہ اور قوت ایک دوسرے سے تبدیل ہو کر مجسم ہو جا تا ہے اور آخرت کی نعمتوں یا عذا بو ں کی شکل میں ظا ہر ہو تے ہیں یہ ایک غلط تصور ہے کیو نکہ ۔

١۔ایک انسان کی گفتار اور کر دار میں استعما ل ہو نے والی قوت کی مقدا ر اتنی بھی نہیں ہے کہ جو مجسم ہو نے کے بعد ایک سبب کے برابر ہو سکے، چہ جا ئے کہ جنت کی بے شما ر نعمتوں میں تبدیل ہو جا ئے

٢۔ یہ کہ ما دہ اور قوت کا ایک دوسرے میں تبدیل ہو نا کسی خا ص عوا مل و اسباب کے مطا بق ہو تا ہے جس کا اعما ل کی نیکی یا برا ئی اور فا عل ( انسان) کی نیت سے کو ئی وا سطہ نہیں ہے اور کسی بھی طبیعی ( فطری) قا نون کی بنا پر خا لص اعمال اور دکھا وے کے اعمال میں امتیا ز قائم نہیں کیا جا سکتا تا کہ یہ کہا جا سکے کہ ایک کی قوت نعمت میں تبدیل ہو گئی ہے اور دوسرے کی قوت عذاب میں بد ل گئی ہے ۔

٣۔ وہ قوت اور طا قت جو ایک مر تبہ کسی عبا دت میں کا م آچکی ہے ممکن ہے دوسری مر تبہ کسی گنا ہ میں استعما ل ہو ۔

لیکن ایسے رابطے کا انکا ر کر نا حقیقی را بطے کے مطلقاًانکا ر کے معنی میں نہیں ہے کیو نکہ حقیقی ار تبا طا ت کا دا ئرہ نا شنا ختہ اور غیر مجر ب رو ابط کو بھی شا مل ہے اور جس طر ح علوم تجربی (تجر بیا تی علوم) د نیوی اور اخروی علوم، مو جودا ت کے در میان را بطہ سببیت کو ثا بت نہیں کر سکتا اسی طر ح ان

کے در میان سببیت اور مسببیت کے را بطے کے با طل کر نے کے اُوپر بھی قا در نہیں ہیں ،اور اگر یہ فر ض کر لیا جا ئے کہ اچھے اور برُے اعما ل انسانی روح پر وا قعی اثر رکھتے ہیں اور وہی روحی اثر ہے جو آخرت کی نعمت یا عذا ب کا سبب ہے جسے دنیا کی خا رق عا دت(غیر معمو لی) مو جودا ت میں بعض نفسوں کے اثر انداز ہوتے ہیں ایسا فر ض غیر معقو ل نہیں ہو گا بلکہ فلسفہ کے خاص اصول کی مدد سے اس کو ثا بت بھی کیا جا سکتا ہے اور اس کتا ب میں اس بیا ن کی گنجا ئش نہیں ہے ۔

قر آنی دلیلیں:

اگر چہ قر آنی بیا نات اکثر مقا مات پر فر ضی اور قرادادی را بطے کو ذہن سے نزدیک کر تے ہیں، جسے وہ آیا ت شر یفہ جو اجر و جزاکی تعبیر پر مشتمل ہے(۱) لیکن دوسری آیتوں سے انسان کے اعما ل اور آخرت کے ثوا ب و عقاب کے در میان فر ضی اور قرار دادی را بطہ کے علا وہ دوسرے را بطے کا بھی استفا دہ کیا جا سکتا ہے اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلے گروہ کی آیتوں کی تعبیر سمجھنے میں آسانی کے لئے اور اکثر لو گوں کی فکری سطح کی منا سبت سے ہے کہ جن کا ذہن ایسے مفا ہیم سے زیا دہ ما نوس ہو تا ہے ۔

اسی طر ح احا دیث شر یفہ میں بھی بے شما ر دلیلیں مو جو دہیں جو یہ بیان کر رہی ہیں کہ انسان کے اختیا ر ی اعما ل کی کئی ملکو تی اور مثا لی شکلیں جو عالم بر زخ اور قیا مت میں ظا ہر ہو ںگی ۔

اب ہم ان آیا ت شر یفہ کو جو انسان کے اعما ل اور آخر ت کے نتیجوں کے در میان حقیقی را بطے پر دلا لت کر تی ہیں سا منے رکھتے ہیں

١۔( وَ مَا تُقَدِّمُوا لِاَ نفُسِکُم مِن خَیرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ) (۲)

ہر وہ نیکی جس کو تم نے پہلے سے بھیج دیا ہے خدا کے پا س اُسے پا ئو گے ۔

٢۔( یَومَ تَجِدُ کُلُّ نَفسٍ مَا عَمِلَت مِن خَیرٍ مُحضَراً وَ مَا عَمِلَت مِن سُوئٍ تَوَدُّ لَواَنَّ بَینَهَا وَ بَینَهُ اَمَداًبعیداً ) (۳)

اس دن جب ہر شخص اپنے انجام دئے ہو ئے ہر اعما ل خیر کو اپنے سا منے حاضر دیکھے گا، اور اپنے بر ے اعما ل کو بھی دیکھے گا تو اس با ت کی تمنا کرے گا کہ اس کے اور اعما ل کے در میان دوری اور فا صلہ ہو جائے ۔

٣۔( یَومَ یَنظُرُ المَرئُ مَا قَدَّ مَت یَدَا هُ ) (۴)

اُس دن جب انسان دیکھے گا کہ اس کے ہا تھوں نے پہلے کیا بھیجا ہے

٤۔( فَمَن یعَمَل مِثقَالَ ذَرَّةٍ خَیراً یَرَهُ ٭وَ مَن یَعمَل مِثقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ ) (۵)

بس اگر کسی ایک نے ذرہ بر ابر بھی کار خیر انجام دیا ہے تو اسے (ضر ور )دیکھے گا اور اگر کسی نے ایک ذرہ بر ابر بھی برُا کام کیا ہے تو وہ بھی اسے دیکھے گا ۔٥۔

( هَل تَجزَونَ اِلّا مَا کُنتُم تَعمَلُونَ ) (۶)

کیا وہ جزا جو تمکو دی جا ئے گی ان اعما ل کے علا وہ ہے جو تم نے ( دنیامیں ) انجا م دیا ہے ۔

٦۔( اِنَّ الَّذِینَ یَاکُلُونَ اَموَالَ الیَتَامیٰ ظُلماً ِانَّما یَاکُلُونَ فِ بُطُو نِهِم نَا راً ) (۷)

بے شک وہ لو گ جو یتیموں کا ما ل نا حق ( چھین) کر کھا تے ہیں گو یا وہ لو گ اپنے شکم کو آگ سے بھر تے ہیں ۔

ظا ہر ہے کہ قیامت کے روز انسان کے لئے اس دنیا میں انجام دئے ہو ئے اعما ل کا دیکھ لینا ،اس کی جزا یا سزا نہیں ہو سکتی بلکہ یہ اس کی ملکو تی اور مثا لی صو رتیں ہیں جو مختلف نعمتیں اور قسم قسم کے عذا ب کی شکل میں ظا ہر ہو نگی اور انسان انھیں شکلوں کے ذریعہ نعمت سے سر فرا ز ہو گا یا عذا ب میں مبتلا ہو گا جیسا کہ اس آخری ایہ شریفہ سے استفا دہ ہو تا ہے کہ یتیم کے ما ل کو کھا نے کی با طنی صو رت آگ کا کھا نا ہے اور جس وقت دنیا (قیا مت ) میںحقیقتیں کھل کر سا منے آئیں گی تب معلو م ہو گا کہ فلا ں حر ام غذا کا با طن آگ ہی تھی، اور پھر اس کے اندر جلنے کی تکلیف کو محسو س کرے گا اور پھر اس سے کہا جا ئے گا کیا یہ آگ اس حر ام ما ل کے سوا کچھ اور ہے جو تو نے کھا یا تھا ؟

سوا لا ت :

١۔ اگر یہ فر ض کر لیا جائے کہ اعما ل کے مجسم ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ قوت ( انرژی) جو کام کو انجام دینے میں کام آئی ہے وہ موا د میں تبدیل ہو تی ہے تواس میں کیا حر ج ہے ؟

٢۔انسان کے اعما ل اور اس کے آخر وی نتا ئج کے در میان کیا را بطہ ہے ؟اس را بطے کو عقلی طور سے کیسے تصور کیا جا سکتا ہے ؟

٣۔ اعما ل کے مجسم ہو نے پر کو ن سی آیا ت دلا لت کرتی ہیں اور اجر و جزا جیسی تعبیر کے استعما ل کر نے کا سبب کیا ہے ؟

٤۔کیا اعما ل کے مجسم ہو نے کی تفسیر یہ ہو سکتی ہے کہ خود اعما ل اپنی اسی دنیا وی شکل میں ظاہر ہو نگے اور کیوں ؟

____________________

۱۔ اجر کی تعبیر تقریباً نو ے (٩٠) مر تبہ اور جزا کی تعبیر اور اس کے مشتقا ت کی تعبیر ایک سو سے زیا دہ قر آن مجید میں استعما ل ہو تی ہے ۔

۲۔بقرہ ١١٠، اور سورہ مزمل آیت نمبر ٢٠ کا بھی مطا لعہ کریں

۳۔ آل عمران ٣٠

۴۔ نبا٤٠

۵۔ زلزال ٧،٨

۶۔نمل ٩٠، اور سو رہ قصص آیہ نمبر ٨٤ کی طرف رجوع کر یں۔

۷۔نساء ١٠،


چوّ نواں درس

ابدی خو شبختی یا بد بختی میں ایمان کا دخل

مقدمہ:

ایمان اور کفر کی حقیقت

جو مند رجہ ذیل مو ضو عا ت پر مشتمل ہے

ایما ن اور کفر کا نصاب (حد)

ابدی خو شبختی یا بد بختی میں ایما ن کی تا ثیر

قر آنی دلیلیں

مقدمہ:

ایک اور مسئلہ جو پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا ایمان اور عمل صالح میں سے ہر ایک (الگ الگ)مستقل طور سے ابدی سعادت کا سبب ہیں،یا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سعادت کا سبب بنتے ہیں؟اور اسی طرح کیا کفر اور عصیان(گناہ) میں سے ہر ایک مستقل طور سے عذاب ابدی کا باعث ہیں یا دونوں باہم ایک ساتھ یہ اثر رکھتے ہیں؟اگر ان دونوں مسئلوں میں ہم دوسری حالت کو مان لیں(یعنی دونوں مل کر سعادت یا شقاوت کا سبب ہیں) تو ایسی صورت میں اگر کوئی شخص صرف ایک چیز ایمان یا عمل صالح رکھتا ہو تو اس کا انجام کیا ہوگا؟اسی کے مانند اگر کوئی انسان صرف کفر اختیار کرے یا صرف کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہو، تو اس کی عاقبت کا کیا ہوگا؟اور اگر ایک با ایمان شخص حد سے زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرے،یا ایک کافر انسان بے شمار کا ر خیر انجام دے تو کیا ا اس کی عاقبت بخیر ہوگی یا اس کے بھی برُے انجام ہوں گے ؟اور کسی بھی صورت میں اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے کچھ حصے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ گذارے، اور زندگی کے کچھ حصّہ کفر اور گناہ سے آلودہ بسر کرے تو ایسے شخص کا کیا حشر ہوگا؟

یہ وہ مسائل ہیں جن کے سلسلے میں اسلام کے ظہور کی پہلی صدی سے بحث ہوتی چلی آ رہی ہے،اور خوارج جیسے گروہ کے افراد کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف گناہ کا ارتکاب ابدی شقاوت کا ایک مستقل سبب ہے اور صرف یہی نہیں، بلکہ کفر اور ارتداد کا باعث بھی ہے،اور دوسرا گروہ جیسے مُرحبئہ کہتے ہیں ، اس گروہ کے افراد کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف ایمان کا پایا جانا ابدی نجات کے لئے کافی ہے،اور گناہوں کا ارتکاب مومن کی سعادت کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا،

لیکن حق بات یہ ہے کہ ہر گناہ ابدی شقاوت(بد بختی)کا سبب نہیں ہوتا، اگرچہ ممکن ہے گناہوں کی زیادتی ایمان کے سلب ہونے کی وجہ بن جائے،اور دوسری طرف ایسا بھی نہیں کہ ایمان رکھنے کی صورت میں سارے گناہ بخش دئے جا ئیں، اور کوئی گناہ اپنا برُا اثر نہ رکھے۔

اس درس میں ہم سب سے پہلے ایمان اور کفر کی وضاحت کریںگے اور پھر یہ بیان کریں گے کہ ابدی سعادت اور بد بختی میں ایمان و کفر کا کیا دخل ہے اور دوسرے مسائل کو انشاء اللہ آئندہ ،درسوں میں بیان کریںگے۔

ایمان اور کفر کی حقیقت

ایمان ایک قلبی اور نفسیاتی حالت کا نام ہے جو کسی ایک مفہوم کو جاننے اور اس کی طرف میلان کے اثر سے پیدا ہوتی ہے،اور انہیں دونوں اسباب میں شدت اور ضعف کی بنا پر کمال یا نقص پیدا ہوتاہے، اور اگر انسان کسی شی کے وجود سے ،چاہے وہ غیریقینی ہی کیوں نہ ہو،آگاہ نہ ہو تو اس پر ایمان بھی نہیں لاسکتا ،لیکن فقط آگاہ ہونا ،یا اطلاع حا صل کر لینا کافی نہیں ہے، اس لئے کہ ممکن ہے جس سے آگاہی حا صل ہوئی ہے یا وہ اس کے بعض لوازمات انسان کی خواہش کے خلاف ہوں اور وہ اس کے برخلاف رجحان رکھتا ہو، اس بناء پر وہ اس کے لوازمات پر عمل کرنے کا فیصلہ نہ کرے، بلکہ اس کے خلاف عمل کرنے کا فیصلہ کرلے،جیساکہ قرآن کریم فرعونیوں کے بارے میں فرما رہا ہے،

( وَ جَحَدُوا بِهَا وَاستَقَینَتهَا اَنفُسُهُم ظُلمًا و عُلُواً ) (۱) ظلم اور منزلت طلبی کے نشہ میں آیات الٰہی کا انکار کردیا باوجودیکہ اس کا یقین کرچکے تھے اور جناب موسیٰ نے فرعون کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا،( لَقَد عَلِمتَ مَا اَنزَلَ هٰوُلائِ اِلَّا رَبُّ السَّمواتِ وَالا َرضِ ) (۲) بے شک تم جانتے ہو کہ ان آیات اور معجزات کو سوائے زمین وآسمان کے پروردگار کے کسی اور نے نہیں نازل کیا۔

باوجودیکہ وہ (فرعون)ایمان نہیں لایا تھا لوگوں سے کہتا تھا،(( مَاعَلِمتُ لَکُم مِن اِله غَیرِ ) (۳) میں تمہارے لئے اپنے علاوہ کسی کو خدا نہیں جانتا،اور صرف اس وقت جب ڈوبنے لگا ،تب اس نے کہا،(( آمَنتُ اُنَّهُ لَااِلَهَ اِلَّا الَّذِی آمَنَت بِهِ بَنُواِسرائیلَ ) (۴) میں ایمان لایا اس خدا پر جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں جس پر بنی اسرا ئیل ایمان لائے

اور اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ مجبوری میں ایمان لانا قابل قبول نہیں ہے(۵) اگرچہ اس کو ایمان کا نام دیا جائے۔

پس ایمان کا دارو مدار قلبی رجحان اور اختیار پر ہے ،علم وآگاہی کے بر خلاف کہ جو بے اختیار بھی حاصل ہوجاتا ہے،اس بناء پر ایمان ایک قلبی اور اختیاری عمل تصور کیا جا سکتا ہے، یعنی عمل کے مفہوم کو وسعت دے کر ایمان کو بھی عمل ہی کے مقولے میں شمار کیا جاسکتا ہے،لیکن لفظ،،کفر،، کبھی عدم ایمان کے عنوان سے تعبیر ہوتا ہے اور ایمان کا نہ ہونا، چاہے شک اور جہل بسیط کی وجہ سے ہو، یا جہل مرکب کے سبب ، مخالف رجحان کی وجہ سے ہو، یا عمداً انکار اور دشمنی کی وجہ سے، بہر حال کفر کہا جائے گا،اور کبھی صرف آخری قسم یعنی( انکارخدا) اور دشمنی سے مخصوص ہوجاتا ہے کہ جو ایک وجود ی امر ہے اور ایمان کی ضد شمار کیا جاتا ہے۔

ایمان اور کفر کی حد(نصاب)

قرآنی آیات کریمہ اور روایات سے جو مطلب نکلتا ہے اس کی روشنی میں کم سے کم ایمان جو ابد ی سعادت کے لئے درکار ہے وہ خدا کی وحدانیت اور اسکی اخروی جزا وسزا پر ایمان اور انبیاء علیہم السلام پر جو کچھ نازل ہوا اُس کی صحت پر ایمان لانا ہے اور پھر اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا وند عالم کے احکام پر عمل کرنے کا اجمالی ارادہ ہے، اور کم سے کم کفر جو ابدی بدبختی کے لئے کافی ہے وہ توحید میں شک یانبوت، قیامت ،میں شک کرنا ہے یا ان چیزوں کا انکار کرنا جن کے بارے میں جانتا ہو کہ یہ انبیاء (ع)پر نازل ہوئی ہیں۔

اور کفر کا بدترین مرتبہ اور آخری حد از روئے دشمنی تمام مذکورہ حقائق کا انکار کردینا با وجودیکہ اس کی صحت کا علم رکھتا ہو اور دین حق سے جنگ وجدال کرنا ہے۔

اسی طرح شرک(توحید کا انکار) بھی کفر کے مصادیق میں ایک مصداق ہے،اور نفاق جو کفر باطنی کا نام ہے جس میں ہمیشہ دھوکا بازی پائی جاتی ہے اور اسلام کا اظہار کیا جاتا ہے،اور منافقین(نقاب پوش کافر) کا انجام سارے کفار سے برا ہوگا جیسا خود قرآن کریم کا ارشاد ہے، (( اِنَّ المُنافِقِینَ فِی الدَّرکِ الاَسفَلِ مِنَ النَّارِ ) (۶) ترجمہ :اس میں تو شک ہی نہیں کہ منافقین جہنّم کے سب سے نیچے طبقے میں ہونگے۔

ایک خاص نکتہ جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اور کفر فقہی مسائل جیسے طہارت، حلیت ذبیحہ کا حلال ہونانکاح کا جائز ہونا ، میراث وارث ہونا یا نہ ہونا ایمان کے ملازم ہے ، لیکن یہ ایمان اس ایمان اور کفر سے جو اصول دین میں موضوع بحث واقع ہوتے ہیں کوئی نسبت اور ملازمت نہیں ر کھتے اس لئے کہ ممکن ہے کہ کوئی شخص شھاد تین پ ھے(خود پیغمبر کی گواہی دے)

اورفقہی مسائل اس کے لئے ثابت ہو ں در آن حالیکہ قلبی طور سے اس کے مضامین اور لوازم توحید اور نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اصول دین کو پہنچاننے پر قادر نہ ہو اور بعنوان مثال وہ دیوانہ اور بے عقل ہو یا سماج کے ماحول کی وجہ سے دین حق کو نہ پہچان سکے تو وہ اپنی کوتاہی کے لحاظ سے معذور مانا جائے گا، لیکن اگر کوئی شخص تمام امکانات اور شناخت کی تمام سہولتوں کے باوجود کوتاہی کرے اور شک کی حالت میں باقی رہ جائے یا بغیر کسی دلیل کے اصول اور ضروریات دین کا انکار کردے تو ایسا شخص معذور نہیں سمجھا جائے گا(اس کا عذر قبول نہ ہوگا)اور ابدی عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔

ابدی خوشبختی یا بد بختی میں ایمان اور کفر کا دخل

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ انسان کا حقیقی کمال تقرب الٰہی کے زیر سایہ متحقق ہوتا ہے ،اس کے برخلاف انسان کی بد بختی خدا سے دوری کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے،لہذا،خدا وند عالم پر ایمان اور اس کی تکوینی و تشریعی ربوبیت پر ایمان ر کھنا کہ جس کا لازمہ قیامت اور نبوت پر عقیدہ رکھناہے، انسان کے حقیقی کمال کا شجر جانا جا سکتا ہے کہ جس کے شاخ و برگ خدا کے پسندیدہ اعمال ہیں اور ابدی سعادت اس کا پھل ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا،پس اگر کوئی انسان اپنے دل میں ایمان کے بیج کو نہ بوئے اور اس بابرکت پودے کو نہ لگائے اور اس کی پرورش نہ کرے ،بلکہ اس کے بجائے کفر اور گناہ کے زہریلے بیج کو اپنے دل کی کھیتی میں چھڑک دے تو گویا اس نے خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو ضائع کردیا اور اس نے ایک ایسے درخت کو پروان چڑھایا جس کا پھل(زقّوم) دوزخی پھل ہوگا،ایسا شخص ہر گز ابدی سعا دت سے ہمکنا ر نہیں ہو سکتا ، اوراس کے نیک اعمال کا اثر اس دنیا سے آگے نہیں جا سکتا، اور اس کا راز یہ ہے کہ انسان کا ہرا ختیا ری فعل اس کی روح کو مقصد اور ہدف تک پہنچنے کے لئے ایک فاعل کا لحاظ کرنا ضروری ہے اور وہ شخص جو عالم ابدی اور تقر ب الہٰی پراعتقا د نہیں رکھتا، وہ کیسے اپنے لئے ہد ف اور مقصد معین کر سکتا ہے اور اپنی رفتا ر کو یکسوئی عطا کر سکتا ہے زیا دہ سے زیا دہ جو چیز کا فروں کے نیک اعما ل کے لئے معین کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے عذاب میں کچھ کمی کر دی جا ئے گی کیونکہ ایسے کا م خو د پر ستی اور دشمنی کی رو ح کو ضعیف وکمزور بنا دیتے ہیں ۔

قر آنی دلیلیں

قر آن کر یم نے ایک طرف انسان کی ابدی خو شبختی کے لئے ایمان کو بنیا دی حیثیت دی ہے اور دسیوں آیتوں میں عمل صا لح کو ایمان کے سا تھ ذکر کر نے کے علا وہ بعض آیتوں میں ایمان کو اخر وی سعا دت کے سلسلہ میں ، عمل خیر میں موثر ہونے کے اعتبار سے شرط کی حیثیت سے جانا ہے جیسا کہ ارشاد ہو رہا ہے (( وَ مَن یعَمَل مِنَ الصّا لِحَا تِ مِن ذَکَرٍ اَواُنثیٰ وَهُوَ مُؤ مِن فَاُ ولِئکَ یَدخُلوُن الجَنَّة ) (۷) مر د اور عو رت میں جو بھی نیک عمل انجام دے اور ایما ن بھی رکھے وہ جنت میں وا رد ہو گا ۔

دوسری طرف سے کا فروں کے لئے دوزخ اور جہنم کے عذا ب کو معین کیا ہے اور ان کے اعما ل کو تبا ہ و برباداور بے نتیجہ جا نا ہے اور ایک مقام پر ان لو گو ں کو ایسی راکھ سے تشبیہ دی ہے جس کو تندو تیز ہوا منتشر کر دیتی ہے اور اس کا کچھ اثر با قی نہیں رہتا ۔

(( مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَ بِّهِم اَعمَالُهُم کَرَمَادٍ اُشتَدَّت بِهِ الریحُ فِ یَو مٍ عَاصِفٍ لَا یَقّدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلی شَئٍ ذلِکَ هُوَ الضَّلا لُ البَعِیدُ ) (۸)

کا فر وں کے اعما ل کی مثا ل اس راکھ کے ما نند ہے کہ جس پر ایک طو فا نی روز کی تند ہوا کا جھو کا پڑے اور اسے اڑا لے جا ئے ،کہ وہ اپنے حا صل کئے ہو ئے پر بھی کو ئی اختیا ر نہ رکھیں گے اور یہ بہت دور تک پھیلی ہوئی گمر ا ہی ہے ۔

اور دوسری جگہ ارشا د فر ما رہا ہے کہ کا فرو ں کے اعما ل کو غبا ر کی طر ح ہوا میں اڑا گے:

( وَ قَدِمنَا اِلیٰ ما عَمِلُوا مِن عَمَلٍ فَجَعلنا هُ هَبا ئً مَنثُو راً ) (۹)

( کا فروں نے جو بھی عمل انجام دیا ) ہم نے آکر ہر اس عمل کو فضا میں غبار کی طر ح منشر کر دیا

اور ایک دوسری آیت میں کافروں کے اعمال کو اس سراب سے تشبیہ د ی ہے کہ جس کو دیکھ کر پیا سا انسان اس کی طرف دوڑ تا ہے لیکن جیسے ہی وہاں پہنچتا ہے وہ پا نی نہیں ہو تا :

( وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَعمَا لُهُم کَسَرابٍ بِقِیعَةٍ یَحسَبُهُ الظّمانُ مائً حَتّی اِذَاجا ئَ هُ لَم یَجِد هُ شَیئًا وَّوَجَدَ اللّهَ عِندَهُ فَوَ فَّا هُ حِسابَهُ وَاللّهُ سَریعُ الحِسَابِ ) (۱۰)

اور جن لو گو ں نے کفر اختیار کر لیا ان کے اعما ل اس ریت کے ما نند ہیں جو چٹیل میدان میں ہو اور پیاسا اسے دیکھ کر پا نی تصو ر کرے اور جب اس کے قریب پہنچے تو کچھ نہ پا ئے بلکہ اس خدا کو

پا ئے جو اس کا پو را حسا ب کر دے کہ اللہ بہت جلد حسا ب کر نے والا ہے ۔( اَوکَظُلُمَاتٍ فِ بَحرٍ لُجّ یَغشَاهُ مَوج مِن فَو قِه سَحَابظُلُما ت بَعضُهَا فَوقَ بَعضٍ اِذَا أَخرَ جَ یَدَهُ لَم یَکَد یَراهَا وَ مَن لَم یَجعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً فَمَالَهُ مِن نُورٍ ) )(۱۱)

یا ان کے اعما ل کی مثا ل اس گہرے در یا کی تا ریکیوں کی سی ہے کہ جس کو لہروں نے ڈھانپ رکھا ہو اور اس کے اُوپر تہ بہ تہ با دل بھی ہو ں کہ جب وہ اپنے ہا تھ کو نکا لے تو تا ریکی کی بنا پر کچھ نظر نہ آئے اور جن کے لئے خدا نور نہ قر ار دے اس کے لئے کو ئی نور نہیں ( کنا یہ ہے اس با ت سے کہ کا فرو ں کی حر کت تا ریکی میں ہے اور وہ کہیں نہیں پہنچ سکتے )اور دوسری آیت میں خدا کا ارشاد ہے کہ دنیا پر ستوں کے عمل کے نتیجے ،اسی دنیا میں ان کو د ے د ے جائیں گے اور آخر ت میں ان کے لئے کو ئی حق نہ ہو گا

جیسے یہ آیت شر یفہ ۔

(( مَن کَانَ یُرِیدُ الحَیا ةَ الدُّنیَا وَ زِینَتَهَا نُوَفِّ اِلَیهِم أَعمَا لَهُم فِیهَا وَ هُم فِیهَا لَا یُبخَسُونَ ٭اُولِئکَ الَّذِینَ لَیسَ لَهُم فِی الا خِرَةِ اِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیهَا وَبَاطِل مَا کَانُو ا یَعمَلُو نَ ) )(۱۲) جو شخص زندگا نی دنیا اور اس کی زینت کے طلب ہیں ہم اسکے اعما ل کا پورا پورا حسا ب یہیں کر دیتے ہیں اور کسی طر ح کی کمی نہیں کر تے اور یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں جہنم کے علا وہ کچھ نہیں ہے اور ان کے سا رے کا رو با ر بر با د ہو گئے ہیں اور سا رے اعما ل با طل و بے اثر ہو گئے ہیں ۔

سو الا ت :

١۔ ایمان اور کفر کے متعلق خو ارج اور مر جئہ کا نظر یہ تحریرکر تے ہو ئے ان کے مقابل میں قول حق کو بیان کر یں ؟

٢۔ایمان اور کفر کی حقیقت اور علم و جہل سے اس کے را بطہ کو واضح کیجئے ؟

٣۔ ایما ن اور کفر کے نصا ب کو بیان کریں؟

٤۔ شر ک و نفا ق کی کفر سے کیا وابستگی ہے ؟

٥۔ ابدی سعا دت و شقا وت میں ایمان و کفر کی تا ثیر اور اس کے راز کو بیان کر یں ؟

٦۔فقہی اسلا م و کفر کی کلا می ایما ن و کفر سے کیا نسبت ہے ؟

٧۔ اس تا ثیر پر قر آنی دلیلیں پیش کریں ؟

____________________

١۔نمل ١٤،

٢۔ اسراء ١٠٢،

٣۔ قصص ٣٨،

٤ ۔ یو نس ٩٠،

٥۔درس نمبر ٩ نو کا ،مطا لعہ کریں

۶۔ نساء ١٤٥،

۷۔نساء ١٢٤ ، اور نحل ٩٧ ، اسرا ء ١٩، طہٰ ١١٢، انبیا ء ٩٤ ، غا فر ٤٠ کی طرف رجو ع کر یں ۔

۸۔ ابرا ہیم ١٨

۹۔ فر قان ٢٣،

۱۰۔ نور ٣٩، ۱۱۔ نور ٤٠

۱۲۔ ھو د ١٥ ،١٦ ،


پچپنواں در س

ایمان اور عمل کا آپس میں رابطہ

مقدمہ:

ایما ن کاعمل سے رابطہ

عمل کا ایما ن سے رابطہ

نتیجہ

مقدمہ :

ہمیں یہ با ت معلوم ہو چکی ہے کہ ابد ی سعا دت و شقا و ت کا اصل سبب ایما ن اور کفر ہے، اور مستحکم ایما ن ہمیشہ کی خو شبختی کی ضما نت ہے ہر چند ممکن ہے کہ گنا ہوں کا ارتکاب محدود عذا ب کا با عث بن جا ئے ، اور دوسری طر ف مستحکم کفر ہمیشہ کی بد بختی کا سبب ہے اور اس کے ہو تے ہو ئے کو ئی بھی نیک کا م آخر ت کی سعا دت کا سبب نہیں ہو سکتا ،اسی کے ضمن میں اشا رہ کر تے چلیں ، کہ ایمان اور کفر میں شد ت اور ضعف کو قبول کر نے کی صلا حیت ہے اور ممکن ہے کہ بڑے بڑے گنا ہو ں کے ارتکا ب کی وجہ سے ایمان سے ہا تھ دھو نا پڑے، اور اسی طر ح نیک کا م انجام دینا، کفر کی بنیاد وں کو کمزور کر دیتا ہے، اور ممکن ہے کہ ایمان کے لئے را ہ ہموا ر کر دے اس مقام پر ایمان اور عمل کے در میان را بطے کے سوا ل کی اہمیت کاا ندا زہ ہو تا ہے ہم اس درس میں اس سوال کے جو اب کو بیان کریں گے ۔

ایمان کا عمل سے رابطہ

گذشتہ بیا نات سے واضح ہو چکا ہے کہ ایمان ایک قلبی اور نفسانی حا لت کا نام ہے کہ جو علم و

دانش کی وجہ سے مزید تقویت پاتے ہیں ، اور اس کا لا زمہ یہ ہے کہ با ایمان انسان اجما لی طور سے ان چیزوں کے لوازم پر جن پر ایمان رکھتا ہے عمل کر نے کا فیصلہ کر تا ہے

اس بنا پر وہ شخص جو کسی حقیقت سے آشنا ہے، لیکن اس کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ کبھی بھی اس کے لوازمات پر عمل نہیں کریگا وہ ہر گز ایما ن نہیں رکھ سکتا ،یہاں تک کہ اگرعمل کر نے یا نہ کرنے کے سلسلے

میں شک میں مبتلا ہو جائے تب بھی جا نے کہ وہ ایمان نہیں لا یا ہے، قر آن کریم کا ارشاد ہے

(( قَا لَتِ الَا عرَابُ آمَنَّا قُل لَم تُومِنُوا وَ لَکِن قُولُوا اَسلَمنَا وَ لَمَّا یَدخُلِ الاِ یمَانُ فِ قُلُوبِکُم ) )(۱)

یہ بدو عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو (اے رسول ) آپ کہدیجئے کہ تم ایمان نہیں لا ئے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لے آئے ہیں ابھی ایمان تمھارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہو اہے، لیکن حقیقی ایمان کے بھی کچھ مرا تب ہیں اور ایسا نہیں ہے ایمان کے ہر مر تبے کا لازمہ یہ ہو کہ اس سے مر بوط تمام و ظا ئف انجام دئے جا ئیں اور ممکن ہے کہ شہو انی یا غضبی دبا ئو کمزور ایمان رکھنے والے انسا ن کو گنا ہ کے ارتکاب پر مجبور کر دے لیکن اس طر ح نہیں کہ وہ ہمیشہ گناہو ں میں ملوث رہے اور تمام لو از مات کی مخا لفت کرتا ر ہے البتہ جتنا زیا دہ ایمان میں استحکا م پا یا جا ئیگا اور جتنا زیادہ کا مل ہو گا اتنا ہی زیا دہ اس کے منا سب اعمال کو انجام دینے میں اثر رکھے گا ۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایمان ذا تی اور فطری طور سے اپنے لو ازما ت اور متعلقات پر عمل کر نے کا تقاضا کر تا ہے اور یہی تا ثیر کی مقدا ر کا تقاضا بھی اس کی شدت و ضعف سے وابستہ ہے اور با لا خر انسان کا فیصلہ اور ارادہ ہی ہے جو کسی کا م کو انجام دینے یا تر ک کر نے کو متعین کر تا ہے ۔

عمل کا ایمان سے رابطہ

انسان کا اختیا ری عمل یا تو منا سب اور ایمان کے سا تھ ہو گا یا غیر منا سب اور ایمان کے خلا ف ہو گا پہلی صو رت میں ایمان کو تقویت حا صل ہو تی ہے اور دل کی نو را نیت میں اضا فہ ہو تا ہے، اور دوسری صو رت میں ایمان کمزور اور انسان کا قلب تا ریک ہو جا تا ہے اس بنا پر وہ اعما ل صا لحہ جو ایک مو من کے ذ ریعہ ا نجام پا تے ہیں با وجو دیکہ یہ اس کے ایمان سے کسب فیض کرتے ہیں مگر اس کی قوت ایمان اور ثا بت قدمی میں اضا فہ کر تے ہیں اور بہت سا رے نیک کا م کے لئے ر اہ ہمو ار کر تے

ہیں اور اس آیہ شر یفہ کے ذریعہ تکا مل ایمان میں عمل صا لح کی تا ثیر کو ظا ہر کیا جا سکتا ہے ۔

( اِلَیهِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ العَمَلُ الصّا لِحُ یَرفَعُهُ ) (۲)

پا کیز ہ کلما ت اور اچھے اعتقا دات اللہ کی طر ف بلند ہو تے ہیں اور عمل صا لح انھیں بلند کر تا

ہے(۳) اور اسی طر ح متعدد آیتوں میں نیک اعما ل انجام دینے وا لوں کے ایمان میں زیا دتی اور نور و ہد ا یت میں اضا فہ کو بیان کیا گیا ہے(۴) دوسری طر ف اگر مقتضا ئے ایمان کے سا تھ سا تھ مخا لف سبب اور محر ک وجود میں آجا ئے ،اور غیر منا سب عمل انجام دینے کا سبب بن جا ئے، اور اس شخص کا ایمان اتنا مستحکم نہ ہو جو اسے غیر شائستہ عمل سے روک سکے، تو اس کا ایمان کمزور ی کی طرف ما ئل ہو جا ئیگا، اور گنا ہ کے دو با رہ انجام دینے کا خدشہ پیدا ہو جا ئیگا اور اگر یہ حا لت اسی طر ح با قی ر ہ گئی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا ،کہ اصل ایمان کو زوا ل کی طر ف جا نے کا خطر ہ پیدا ہو جا ئے گا اور ( معاذاللہ ) اس کو کفر اور نفاق میں تبدیل کر دیگا، قر آن مجید، ان افراد کے با رے میں جو نفاق کا شکار ہو گئے ہیں فر ما تا ہے

( فَاعقَبَهُم نِفَا قًا فِ قُلُو بِهِم اِلیٰ یَومِ یَلقَونَهُ بِمَا اَخلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَ بِمَا کَانُویَکذِ بُونَ ) )(۵)

چو نکہ ان لو گوں نے خدا سے وعدہ خلا فی کی اور جھوٹ بو لے لہٰذا خد انے ان کے دلو ں میں نفا ق کو داخل کر دیا ہے اس دن تک جس دن یہ لو گ خدا سے ملا قا ت کر یں گے اور یہ ارشا د ہو رہا ہے

(( ثُمَّ کَانَ عَاقِبَةَ الَّذِین أَسَائُ وا السُّوأَ یٰ اَن کَذَّبُوابا یَٰتِ اللّهِ وکَانُو بِهَا یَستَهزِؤُنَ ) (۶) اور اس وقت ان لو گو ں کا انجام جو بد ترین گنا ہو ں کا ارتکاب کر تے تھے یہ ہوا کہ انھوں نے خدا کی آیا ت کو جھٹلا یا اور اسکا مذا ق اڑا یا ۔اور اسی طر ح دوسری متعدد آیتوں میں گنہگا روں کے کفر اور تا ریکی قلب اور سنگ دلی میں اضا فہ کا ذکر کیا ہے(۷)

نتیجہ

ایمان اور عمل کے آپس کے رابطے کو دیکھتے ہو ئے اور انسان کی سعا دت میں ان دو نوں کے کردا ر کی طرف توجہ کر تے ہو ئے انسان کی سعاد تمندا نہ حیا ت کو ایک درخت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے(۸) اس طر ح کہ خدا وند عالم کی وحدا نیت اور اس کے بھیجے ہو ئے رسولوں اور اسکے پیغاما ت اور روز قیامت پر ایمان رکھنا ،گو یا اس درخت کی جڑ کو تشکیل دیتا ہے اور ایمان کے لو ازما ت پر عمل کرنے کا فیصلہ اس کے تنہ کی حیثیت رکھتا ہے، کہ جو بغیر کسی واسطہ کے جڑ سے اگتا ہے اور وہ شا ئستہ اور منا سب

اعمال کہ جو ریشہ ایمان سے مترشح ہوتے ہیں اس کی شا خ و بر گ کی طرح ہیں، اورا بدی سعا دت اس درخت کا پھل ہے اگر جڑ کاوجود نہ ہو، تو تنہ اور شا خ و بر گ وجو د میں نہیں آسکتے، اور میو ہ بھی نہیں

آسکتا ،لیکن ہر گز ایسا نہیں ہے جڑ کے وجود سے منا سب شا خ و بر گ اور بہترین پھلو ں کا ہو نا لازم ہے بلکہ کبھی کبھی ایسا ہو تا ہے، در خت فضا اور زمین کی نا ساز گا ری اور مختلف آفتوں کی وجہ سے مر جھا جاتے ہیں اور اس میں منا سب شا خ و بر گ نہیں اُگ پا تے اسی صورت میں وہ درخت نہ صرف یہ کہ خا طر خو اہ پھل نہیں دیتا بلکہ خشک ہو جا تا ہے اور بہت ممکن ہے اس درخت کی شا خ یا تنہ یا اسکی جڑوں میں قلم ( پیو ند ) لگا ئی جا تی ہے ان سے دوسرے آثا ر ظاہر ہو ں اور ممکن ہے اتفاقاًوہ پیو ند(قلم) کسی دوسرے در خت میں تبدیل ہو جا ئے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ایمان کفر میں تبدیل ہو جائے ۔

حصل کلام یہ ہے کہ ا یمان کو ایسے ا مور کے ذریعہ یاد کیا گیا ہے جو سعا دتِ انسانی کا ا صلی سبب ہے لیکن ا س سبب کا اثر اعما ل صا لحہ کے ذریعہ لا زم غذا ئوں کے مکمل جذ ب ہو جا نے پر مشر وط ( مو قو ف) ہے اور گنا ہوں سے پر ہیز کے ذریعہ اس کے نقصا ن دہ امور کو دو ر کر نے اور آفتو ں کو ختم کر نے پر مو قو ف ہے اور وا جبات کا تر ک کر نا اور محر ما ت کا ارتکا ب کر نا ایمان کی جڑو ں کو کمزو ر بنا تا ہے اور کبھی کبھی ایمان کے در خت کو خشک کر دیتا ہے جس طر ح غلط عقا ئد کے پیو ند، اس کی حقیقت میں تبدیلی کا با عث بن جا تے ہیں ۔

سو الا ت

١۔نیک اعما ل میں ایمان کا کیا اثر ہے ؟ وضا حت کیجئے ؟

٢۔ نیک اور برے اعما ل کا ایمان کی قوت اور کمزو ری میں کیا اثر ہے شر ح کیجئے؟

٣۔ ایمان اور عمل کے آپس کے روا بط اور ان دو نوں کا انسان کی سعا دت سے کیا را بطہ ہے بیان کیجئے ؟

____________________

١۔ حجرات ١٤،

۲۔ فاطر /١٠

۳۔ اس بنا پر کہ ضمیر فا علی، العمل الصا لح کی طرف اور ضمیر مفعولی الکلم الطیب کی طر ف پلٹتی ہے ۔

۴۔آل عمران ١٧٣، انفال ٢ ، تو بہ ٫ ١٢٤، کہف ١٣ ، مر یم ٧٦، احزا ب ٢٢، محمد ١٧، مد ثر ٣١،

۵۔ تو بہ ٧٧،

۶۔ روم ١٠ ،

۷۔ بقر ہ ١٠ ، آل عمران ٩٠ ، نسا ء ١٣٧، ما ئدہ ٦٨،تو بہ ٣٧ ،اسرا ء ٦٠ ، ٨٢، صف ٥ نو ح ٢٤،

۸۔ ر۔ک: ابرا ہیم ٢٤ ۔ ٢٧،


چھپنو ا ں در س

مقدمہ :

انسان کا حقیقی کما ل

یہ بحث مشتمل ہے ذیل کی گفتگو پر

عقلی بیان

خو اہش اور نیت کا کردا ر

مقدمہ :

بعض ایسے افرا د جو اسلا می ثقا فت سے کا فی حد تک ما نوس نہیں ہیں اور آگا ہی نہیں رکھتے ،اور اپنے ظا ہر ی اور سطحی معیا ر کی بنیا د پر انسانی رفتار و اعمال کی قدرو قیمت کا اندا زہ لگا تے ہیں، نیز محر ک و فا عل کی نیت کی اہمیت کی طر ف کو ئی تو جہ نہیں دیتے اور بہ تعبیر دیگر حُسنِ فعلی کے مقا بلہ میں حُسنِ فعلیکو اہمیت نہیں دیتے یا دوسروں کی دنیا وی زندگی میں آسا ئش و آرام کے حوالے سے موثر ہونے کو معیا ر قدر و قیمت سمجھتے ہیں ایسے لو گ بہت سا رے اسلا می عقا ئد اور معا رف کی تحقیق اور اس کو سمجھنے میں گمرا ہی سے دو چا ر ہو جا تے ہیں ، یا اس حقیقت کو کو سمجھنے اور بیان کر نے سے قا صر رہتے ہیں، من جملہ ایمان کا اثر اور اس کا اعما ل صا لحہ سے رابطہ اور کفر و شر ک کا تبا ہ کن کر دار اور بعض چھو ٹے اور کم مدت اعما ل کو بڑے اور طو لا نی مدت اعما ل پر فوقیت و بر تری کے سلسلہ میں کج فکری کا شکا ر ہو جاتے ہیں، مثلاً ایسا تصو ر کر تے ہیں وہ بڑے ایجا دا ت کے ما لک افر اد جنھوں نے دوسر وں کے لئے آ سا ئش و آرا م کے اسبا ب فر اہم کئے ہیں یا وہ حر یت پسند افر اد جنھوں نے اپنی ملت کی آزا دی کی راہ میںجنگ و جدا ل کا سا منا کیا ہے ان کو آخر ت میں بلند و با لا مقام ملنا چا ہیے ہر چند کہ وہ خدا او ر قیامت پر ایمان نہ رکھتے رہے ہوں ،اور کبھی کبھی نوبت یہا ں تک پہنچ جا تی ہے کہ اسی دنیا میں انسانی قدر و قیمت اور زحمت کر نے وا لوں اور محنت کشو ں کی آخری کا میا بی پر ایمان رکھنے ہی کو انسانی سعا دت کے لئے ایمان کی ضرورت بتا تے ہیں ،اور حد تو یہ ہے خدا کے مفہوم کو بھی ایک قیمتی مفہوم اور اخلا قی مو ا زین کے مطا بق رقم کر تے ہیں ۔

اگر چہ گذشتہ در سو ں میں جو بیان ہوا اس کی روشنی میں ایسی گفتگو اور ایسے خیا لا ت کی خطا اور کمزوری کو بھی پہنچا نا جا سکتا ہے، لیکن اس مو جودہ زما نہ میں ایسے افکا ر کی نشر واشا عت اور آئند ہ کی نسل کے لئے جو خطر ہ پیدا ہو گیا ہے اس کو بچا نے کے لئے ضرو ری ہے کہ اس کے با رے میں تھوڑی سی وضا حت کر دی جا ئے ۔

البتہ ایسے مسا ئل پر ایک جا مع اور مفید گفتگو کر نے کے لئے وسیع زما نہ اور ساز گا رحا لا ت

در کا ر ہیں ۔

اس لئے اس مقام پر ان مسا ئل کے عقیدتی پہلو کو دیکھتے ہو ئے اور اس کتا ب کی مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے صر ف بنیادی ترین مسا ئل کو بیان کر نے ہی پر اکتفا کرتے ہیں ۔

انسان کا حقیقی کمال

اگر ہم سیب کے درخت کو ایک بغیر پھل کے در خت کے سا تھ تصور کریں اور دو نوں کا مقابلہ کریں، تو سیب کے در خت کو بے پھل درخت سے زیا دہ قیمتی شما ر کریں گے، اور یہ فیصلہ صر ف اس لئے نہیں ہے کہ انسان پھل دا ر درخت سے زیا دہ فا ئدہ اٹھا تا ہے بلکہ اس لئے کہ پھل دا ر درخت کا وجود بے پھل در خت سے زیا دہ کا مل ہے اور اس کے آثا ر بھی اس سے زیا دہ ہیں اس لئے اس کی قدر و منز لت بھی زیا دہ ہو گی لیکن اگر یہی سیب کا درخت اگر کسی آفت کا شکار ہو جا ئے یا اس کو کو ئی مر ض لا حق ہو جا ئے اور اس کی نشو و نما رک جائے تو یہ اپنی قدر و قیمت کھو دے گا، اور ممکن ہے کہ ا س کی گندگی اور دوسروں کے لئے نقصا ن کا سبب بن جائے ۔

انسان کا بھی دوسرے تمام جا نو روں کے مقا بلے میں یہی حکم ہے اور اس صو رت میں جب وہ اپنے لا ئق اور منا سب کمال تک پہنچ جا ئے اور اس کے وجود سے اسکی فطر ت کے مطا بق آثا ر ظا ہر ہو نے لگیں، تو گو یا وہ انسان جانوروں سے زیا دہ قدر و قیمت کا حا مل ہے لیکن اگر آفت و گمرا ہی کا شکا ر

ہو جائے تو ممکن ہے کہ دورے سا رے جا نو روں سے بھی پست تر اور نقصا ن دہ ہو جا ئے جیسا کہ قر آن مجید میں ذکر ہو ا ہے کہ بعض انسان سا رے حیو انا ت(۱) سے بھی برُے ہیں اور چو پا یوں(۲) سے زیا دہ گمرا ہ ہیں دوسری طر ف سے اگر کسی نے سیب کے در خت کو صر ف پھو ل کھلنے اور غنچہ لگنے تک ہی دیکھا ہو تو وہ گما ن کر ے گا، کہ اس کی تر قی اور پھو لنے پھلنے کی آخر ی حد یہی ہے اور اب اس سے زیا دہ کما ل ا س میں نہیں پایا جا تا اسی طر ح جنھو ں نے صر ف انسان سے متو سط کما لا ت کا مشا ہد ہ کیا ہے وہ انسان کے آخری کمال اور اس کی حقیقت کو نہیں درک کر سکتے اور صر ف وہ ہی لو گ انسان کی واقعی قدر و قیمت کاا ندا زہ لگا سکتے ہیں ،کہ جو اس کے کما ل کی آخر ی منز ل کو پہچا نتے ہیںلیکن انسان کا آخر ی کما ل اس کا کمال ما دی نہیں ہے اس لئے کہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ انسان کی انسانیت کا تعلق ملکو تی روح سے ہے اور انسانی تکا مل بھی در حقیقت وہی روح کا تکا مل ہے جو اپنی اختیا ری کا ر کر دگی سے حا صل ہو تا ہے چا ہے وہ قلبی اور اند رونی کا ر کر دگی ہو یا، بیرو نی او ر اعضا و جوا رح کی مدد سے حاصل ہونے والی کار کردگی اور ایسے کمال کا اندا زہ کسی حسی تجر با ت اور پیمانے کے ذریعہ نہیں لگا یا جا سکتا لہذا اس تک پہنچنے کے لئے آزما یشی وسا ئل کا سہارا نہیں لیا جا سکتا بس جو خود کما ل تک نہیں پہنچ سکتا اور اس کو علم حضور ی اور قلبی مشا ہدہ کے ذر یعہ نہیں پا سکتا اس کو چا ہیے کہ اس کما ل تک پہنچنے کیلئے عقلی دلیل یا وحی پر وردگا ر اور آسما نی کتا بوں کا سہارا لے۔

لیکن وحی خداوند عالم اور قرآنی ارشادات اور اہلبیت عصمت وطہارت علیہم السّلام کے نورانی بیانات کے لحاظ سے کسی بھی شک وتردید کا مقام نہیں ہے کہ انسان کا آخری کمال اسی کے وجود کا ایک مرتبہ ومقام ہے کہ جس کی طرف تقرب الٰہی کے عنوان سے اشارہ کیا گیا ہے،اور اس کمال کے آثار رضائے پروردگار اور ابدی نعمتیں ہیں جو آخرت میں ظاہر ہونگی،اور اس تک پہنچنے کا کلی راستہ خدا پرستی اور تقویٰ ہے کہ جو تمام انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام حالات میں شامل ہے،لیکن عقلی نقطہ نظر سے اس موضوع کے لئے پیچیدہ ترین دلیلوں کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ جس کے لئے کافی حد تک فلسفی مقدمہ اور تمہید کی ضرورت ہے،لیکن ہم یہاں بہت آسان گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔

عقلی بیان

انسان فطری طور سے لامحدود کمالات کا خواہاں ہے علم اور قدرت ان کمالات کو ظاہر کرنے کا بہترین وسیلہ ہیں،اور ایسے کمال تک پہنچنا ہی لامحدود لذتوں اور ہمیشہ کی سعادت کا سبب ہے اور اس وقت یہ کمال انسان کے لئے میسر ہوتا ہے کہ جب انسان علم وقدرت کے لامحدود سر چشمہ اور کمالِ مطلقِ حقیقی یعنی خداوند عالم سے وابستہ ہوجائے ،اور اسی رابطہ کو قرب خداوندی کا نام دیا جاتا ہے(۳) بس انسان کا حقیقی کمال جو اس کا مقصد خلقت ہے خداوند عالم کے تقرب اور اس سے رابطہ کے زیر سایہ حاصل ہوتا ہے،اور وہ انسان جو اس کمال کے سب سے کم اور پست مرتبے کو بھی اپنے پاس نہیں رکھتا ،یعنی جو شخص ضعیف ترین ایمان کا حامل بھی نہیں ہے وہ اس درخت کے مانند ہے جو ابھی پھل دینے نہیں لگا اگر ایسا درخت کسی آفت سماوی یا روگ ومرض کی وجہ سے پھل کی صلاحیت کو

کھو دے تو اُس کی منزلت بے پھل درخت سے بھی زیادہ گر جائے گی،اس بناء پر کمال اور انسانی سعادت میں ایمان کے کردار کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ انسان کے روح کی اصل خصوصیات خداوند عالم سے علم وآگاہی اور اختیار کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہے،اور بغیر اس رابطے کے مناسب کمال اور اس کے آثار سے محروم ہو جائے گا، بلکہ یوں کہا جائے کہ انسان کی انسانیت کا وجود نہیں ہو سکتا،اور اگر انسان برُے اختیارات کے ذریعہ ایسی بلند صلاحیتوں کو برباد کردے، تو گویا اس نے اپنے اوپر بدترین ظلم کیا ہے اور وہ ابدی سزا کا مستحق ہوگا،اور قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے،

( اِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَاللَّهِ الَّذِینَ کَفَرُوا فَهُم لَا يُؤمِنُونَ ) (۴) بے شک خدا کے نزدیک جانوروں میں کفار سب سے بدتر ہیں،پس وہ ایمان نہیں لاتے۔

خلاصہ یہ کہ ایمان اور کفر میں سے ہر ایک انسان کے لئے سعادت و کمال کی طرف ترقی کی حرکت یا عذاب و بد بختی کی طرف تنز لی کی حرکت کو معین کرتا ہے،اور ان میں سے جو بعد میں ہوگا وہی آخری اور عاقبت ساز اثر رکھے گا،(آخرت کی اچھائی یا برُائی اسی کے قبضے میں ہے)۔

خواہش(محرک)اور نیت کا کردار

مذکورہ اصل کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے ،کہ انسان کے اختیاری کاموں کی حقیقی قدرو قیمت تب معلوم ہوگی، جب ہم یہ دیکھیں کہ وہ انسان کو حقیقی کمال یعنی قرب پروردگار تک پہنچا نے میں کتنا اثر رکھتی ہے،اگرچہ بہت سے اعمال کسی نہ کسی طرح چاہے بعض امور کا سہارا لے کر ہی صحیح دوسروں کے تکامل اور ترقی کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں تو وہ اچھائی اور فضیلت سے متصف کئے جاتے ہیں ،لیکن فاعل کی ابدی سعادت میں ان کی تاثیر اس اثر کے اوپر موقوف ہے جو روح کے تکامل اور میں اعمال نے اثر چھوڑ اتھا، دوسری جانب سے اگر دیکھا جائے تو خارج افعال کا فاعل کی روح سے جو ارتباط ہے وہ ارادہ کے ذریعہ حصل ہوتا ہے کہ یہ کام اس کے بغیر واسطہ کے ہے،اور کام کا ارادہ مقصد اور نتیجہ کی محبت،اور شوق و رجحان کی بنا پر وجود میں آتا ہے اورا سی کا نام خواہش اورسبب ہے جوروح کے اندر مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے ایک حرکت پیدا کرتا ہے،اور کام کے ارادہ کی شکل مجسم ہو کر ظاہر ہوتا ہے،بس ارادی کام کی قدروقیمت خواہش(سبب) اور فاعل کی نیت کے تابع ہے،اور کام کے حسن کا بغیر فاعل کے حسن کے روح اور سعادت ابدی کے تکامل میں کوئی اثر نہیں ہے۔

اور یہی دلیل ہے کہ جو کام مادی اور دنیوی اسباب اور خواہشات کی بنا پر انجام پاتے ہیں وہ ابدی سعادت میں کوئی اثر نہیں رکھتے،اور اگر اجتماعی اور معاشرے کی سب سے بڑی خدمت بھی(ریا) دکھاوے یا خود نمائی کے لئے ہوتو فاعل کو اس کا ایک ذرہ فائدہ نہیں پہنچے گا(۵) بلکہ ممکن ہے اس کے لئے نقصان اور روحی انحطاط کا باعث بن جائے اس لئے قرآن کریم آخرت کی سعادت میں اعمال صالحہ کی تاثیر کو ایمان اور قصد قربت]اِرَادَه وَجهُ اللّه وَابتِغَائَ مَرَضَات اللّه [پر مشروط اور موقوف جانا ہے(۶)

حاصل کلام یہ ہے کہ نیک کام دوسروں کی خدمت کرنے میں منحصر نہیں ہے ،دوسر ا یہ کہ دوسروں کی خدمت کرنا بھی انفرادی عبادت کی طرح سعادت ابدی اور اخروی تکامل اور ترقی میں اس وقت مو ثر ہوگی کہ جب خدائی خواہشات اور آرزوئوں سے وابستہ ہو۔

سوالات

(١)ہر شی کی حقیقی قدرو قیمت کس چیز میں ہے؟

(٢)انسان کے آخری کمال کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟

(٣)ثابت کیجئے کہ انسان کا آخری کمال صرف ارتباط اور تقرب خدا کے زیر سایہ ہی حاصل ہو سکتا ہے؟

(٤)ثابت کیجئے کہ نیک کاموں کی تاثیر انسان کی ابدی سعادت میں الٰہی مقصد اور مراد پر موقوف ہے؟

____________________

١۔ انفا ل ٢٢،

٢ ۔ اعرا ف ١٧٩،

۳۔ زیا دہ تفصیل معلو م کر نے کے لئے مئو لف کی کتا ب ( خو د شنا سی بر ای خود سا زی ) کی طرف رجو ع کریں ۔

۴۔انفا ل ٥٥،

۵۔بقر ہ ٢٤٦ ، نسا ء ٣٨، ١٤٢، انفا ل ٤٧، مو عون ٦،

۶۔ نساء ١٢٤، نحل ٩٧ ، اسرا ء ١٩، طہٰ ١١٢، انبیا ء ٩٤، غا فر ٤٠ ، انعام ٥٢، کہف ٢٨ ، روم ٣٨، بقرہ ٢٠٧،٢٦٥،


ستاو نواں درس

حبط و تکفیر

مقدمہ:

یہ بحث مندرجہ ذیل موضوعات پر مشتمل ہے

ایمان و کفر کا رابطہ

نیک و بد اعمال کا رابطہ

مقدمہ:

ایک اور مسئلہ جو ایمان و عمل صالح اور آخرت کی سعادت کے درمیان رابطے اور اس کے بر خلاف کفر وگناہ اور ابدی شقاوت کے درمیان رابطے کے سلسلے میں پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا ایمان اور کفر کے ہر لمحات کا تعلق اس کے اخروی نتیجہ سے ہے؟ اسی طرح کیا ہر اچھے اور برے اعمال کا رابطہ اس کی جزا یا سزا سے یقینی و ثابت نیز نا قابل تبدیل ہے ؟یا یہ کہ کسی نہ کسی طرح تبدیلی ایجاد ہو سکتی ہے؟مثلاًنیک اعمال کے ذریعہ گناہوں کی تلافی کی جاسکتی ہے یا بر عکس یعنی نیک کام کے اثر کو گناہ کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے؟ کیا وہ شخص جس نے اپنی حیات کے نصف حصّے کو کفر وگناہ کی حالت میں گذارا اور باقی نصف زندگی کو ا یمان اورا طاعت خدا میں بسر کیا ہے کچھ مدت تک عذاب میں گرفتار رہنے کے بعد اجر و ثواب کا مستحق ہو سکتا ہے ؟یا ایسا نہیں ہے بلکہ دونوں کو جمع کرکے جبری صورت میں اس کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خوشبختی یا بد بختی کو معین کردیاجائے گا؟یا ایسا بھی نہیں ہے بلکہ کوئی اور راستہ نکالا جائے گا؟

یہ مسئلہ در حقیقت حبط و تکفیر(۱) کے مسئلہ کے جیسا ہے، کہ جو قدیم زمانے سے اشاعرہ اور معتزلہ فرقوں کے علماء کلام کے درمیان موضوع بحث وگفتگو رہا ہے ،اور ہم اس درس میں شیعوں کے نظرئے کو خلاصہ کے طور پر بیان کریں گے۔

ایمان اور کفر کا رابطہ۔

گذشتہ درسوں میں ہم یہ جان چکے ہیں کہ بغیر اعتقادی اصولوں پر ایمان رکھے ہوئے کوئی عمل صالح ابدی خوشبختی کا ذریعہ نہیں بن سکتا،بلکہ جملہ بدل کر کہا جائے کہ کفر اچھے اور شائستہ امور کو بے اثر بنا دیتا ہے، یہاں پر اس بات کا اضافہ ضروری ہے کہ انسان کی زندگی کے آخری لمحات میں ایمان کا پایا جانا اس کے سابقہ کفر کے بُرے اثرات کو محو کر دیتا ہے ، جس طرح روشن نور گذشتہ تاریکیوں کو بر طرف کردیتا ہے ،اور اس کے بر عکس، آخری وقت کا کفر، اس کے گذشتہ ایمان کے اثر کو ختم کردیتا ہے،اور انسان کے نامۂ اعمال کو سیاہ اور عاقبت کو تباہ کردیتا ہے،با لکل اُس آگ کے مانند جس کی ایک چنگاری پورے خرمن کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ، یایہ کم ایمان ایک روشن چراغ کی طرح ہے کہ جو دل ودماغ کے آشیانوں کو روشن اور تابناک کردیتا ہے اور تاریکیوں وتیرگیوں کو دور کردیتا ہے،اور کفر اُس چراغ کے بجھنے کے مانند ہے جو اپنے گل ہونے کے ساتھ ساتھ تمام اُجالوں کو ختم کرکے اندھیرے کو جنم دیتا ہے اور جب تک انسان کا دل ودماغ اس مادی وتغیر نیز پیچ وخم سے بھری ہوئی دنیا سے وابستہ رہے گا ،مسلسل روشنی و تاریکی ،نور وظلمت کی کمی اور زیادتی کے خطرے سے اس وقت تک دوچاررہے گا جب تک اس سرای فانی سے گذر نہ جائے،اور اس کے اوپر ایمان اور کفر کے انتخاب کرنے کا راستہ بند نہ ہوجائے،اور پھر چاہے جتنا آرزو کرے کہ ایک بار پھر اس دنیا میں آکر اپنی

تاریکیوں کو ختم کرلے،لیکن یہ تمنا اس کو کوئی فائدہ نہ پہچائے گی(۲)

ایمان وکفر کے درمیان یہ اثر متقابل قرآن کی نگاہ میں ایک ثابت امر ہے جس میں کسی طرح کے شک و تردید کی گنجائش نہیں ہے،اور اس بیان پر قرآن کریم کی بہت سی آیتیں دلالت کرتی ہیں مثلاًسورۂ تغابن کی آیت نمبر(٩)وَ مَن ےُومِن بِاللّہِ وَ ےَعمَل صَالِحاً ےُکَفِّر عَنہُ سَیِّاٰ تِہِ،جو بھی خدا پر ایمان لایا اور عمل صالح انجام دیا تو یہ اس کے برے کاموں کو محو کردیگا،اور سورۂ بقرہ کی آیت نمبر (٢١٧) میں ارشاد ہورہا ہے کہ (وَمَن ےَرتَدِد مَنکُم عَن دِینِہِ فَےَمُت وَہُوَکَافِر فَاُولیِٔکَ حَبِطَت اَعمَالُہُم فِ الدُّنےَا وَالآخِرَةِ وَاُولیِٔکَ اَصحَابُ النَّارِ ہُم فِیہَا خَالِدُونَ)،تم سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے(مرتد ہوجائے)اور حالت کفر میں چلاجائے ،تو اس کے اعمال دنیاو آخرت میں باطل ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

نیک وبد اعمال کا رابطہ

ایمان و کفر کے مابین موجود رابطہ کی طرح نیک و بد امور کے درمیان بھی اسی طرح کا رابطہ فرض کیا جا سکتا ہے،لیکن بطور کلی اس طرح نہیں کہ ہمیشہ انسان کے نامۂ اعمال میں اس کے نیک کام ثبت ہو جائیں اور گذشتہ تمام برے اعمال اس سے مٹ جائیں(جیسا کہ بعض معتزلی متکلمین کا نظریہ ہے ) یا یہ کہ ہمیشہ دونوں اعمال کو جمع کر کے جبری صورت میں گذشتہ اعمال کی مقدار و کیفیت کو دیکھتے ہوئے اسی کے مطابق ثبت کردیا جائے(جیسا کہ بعض دوسرے افراد کا نظریہ ہے)بلکہ اعمال کے متعلق تفصیل کا قائل ہو نا پڑے گا یعنی اس طر ح کہ بعض نیک اعمال اگر شا یستہ طر یقہ سے انجام د ئے جا ئیں اور پیش خدا وہ امور قبو ل ہوں تو وہ بر ے اعما ل کے اثر ا ت کو ختم کر دیتے ہیں جیسے تو بہ اگر مطلو ب اور بہتر طریقہ سے انجام پا ئے، تو انسان کے گنا ہ بخش دئے جا ئیں گے(۳)

اور یہ امر با لکل روشنی کی اس شعاع کی طر ح ہے جو کسی خا ص اور معین مقام پر پڑے اور اس جگہ کو روشن کر دے، لیکن ہر نیک عمل ہر گنا ہ کے اثر کو ختم نہیں کر تا، اور اسی لئے ممکن ہے ایک شخص مو من ایک مدت تک اپنے گنا ہو ں کے عذاب میں مبتلا رہے اور آخر کا ربہشت میں پہنچ جا ئے گو یا کہ انسان کی روح کے مختلف ابعاد(پہلو) ہیں اور اعمالِ نیک یا بد میں سے ہر ایک صرف ایک پہلو سے مربوط ہوتا ہے مثلاً وہ نیک عمل جو ،،الف،،کے جنبہ سے متعلق ہے وہ،،ب،،کے جنبہ سے متعلق گناہوں کو محو نہیں کریگا،مگر یہ عمل صالح اتنازیادہ نورانی ہو کہ جو روح کے دوسرے جوانب سرایت کر جائے یا گناہ ا تنی زیادہ آلودگی رکھتا ہو کہ تمام پہلوں و اطراف وجوانب کو آلودہ کردے جیسا کہ روایات شریفہ میں وارد ہوا ہے کہ قبول شدہ نماز گناہوں کو دھودیتی ہے اور ان کے بخشش کا سبب بنتی ہے،اور قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ( وَاَقِمِ الصَّلَوٰ ة طَرفَِ النَهَارِ وَ زُلفاً مِنَ اللَّیلِ اِنَّ الحَسَنَاتِ يُذهِبنَ السِّیاتِ ) (۴) اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ دن کے دونوں اطراف میں اور رات گئے نماز قائم کریں اس لئے کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں۔

اور بعض گناہ جیسے عاق والدین،شراب پینا ایسے ہیں کہ جو ایک مدت تک عبادت کو قبول ہونے میں مانع ہو جاتے ہیں،یا جیسے کسی کی مدد کرنے کے بعد احسان جتانا جو اس کام کے ثواب کو ختم کر دیتاہے ، جیسا کہ قرآن میں موجود ہے(( لاتُبطِلُوا صَدَقَاتِکُم بِالمَنَّ وَالَا ذَیٰ ) ٰ(۵) اپنے احسانات اورصدقات کو احسان جتانے اور تکلیف پہچانے کے ذریعہ ضائع نہ کرو ،لیکن نیک و بد اعمال کے ایک دوسرے میں اثر انداز ہونا نیز اس کی نوعیت اقسام اور اس کی مقدار کو وحی خدا اور معصومین علیہم السّلام کے کلمات کے ذریعہ معین کرنا پڑے گا،اور ان سب کے لئے کسی کلی قانون کو معین نہیں کیا جاسکتا۔

اس درس کے اختتام پر مناسب ہے کہ اشارہ کیا جائے کہ نیک و بد اعمال اس دنیا میں کبھی کبھی خوشحالی یا بد حالی، یا کسی نیک کام کی توفیق یا اس کے سلب ہوجانے میں اپنا اثر دکھاتے ہیں ،جیسا کہ دوسروں کے ساتھ نیکی کرنا، بالخصوص والدین اور قرابت داروں کے ساتھ احسان کرنا، طول عمر اور آفات و بلاؤں کے دور ہونے کا سبب بنتا ہے،یا بزرگوں کی بے احترامی بالاخص معلم اور اساتذہ کی بے احترامی،توفیقات کے سلب ہوجانے کا باعث ہے، لیکن ان آثار کے مترتب ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے ،کہ انسان کو پوری جزا یا سزا اسے مل چکی، بلکہ جزا اور سزا کی اصلی جگہ قیامت ہے۔

سوالات

١۔حبط وتکفیر کے معنی بیان کریں؟

٢۔ایمان اور کفر کے درمیان کتنی طرح کے رابطے کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟اور ان میں سے کون سا بہتر اور صحیح ہے؟

٣۔اعمال نیک اور بد کے رابطہ کو کیسے فرض کیا جاسکتا ہے؟ان میں سے کون سیصورت صحیح ہے؟

٤۔آیا نیک و بد اعمال کے دنیوی اثرات آخرت کی جزا یا سزا کا مقام لے سکتے ہیں؟یا نہیں؟

____________________

١۔ حبط و تکفیر یہ قر آن مجید کی دو اصطلا حیں ہیں کہ جس میں سے پہلے کا مطلب یہ ہے کہ نیک کا م کا بے اثر ہو جا نا اور دوسرے کا مطلب یہ ہے کہ گنا ہوں کی تلا فی ہو جا نا ۔

۲۔ در س نمبر ١٤ کی طرف رجو ع کریں ۔

۳۔ رجوع کریں ، نساء ١١٠، آل عمرا ن ١٣٥، انعام ٥٤، شو ریٰ ٢٥، زمر ٥٣ ، و........

۴۔ ھود ١١٤،

۵۔بقرہ ٢٦٤،


اٹھاونواں درس

مومنین کے امتیازات

مقدمہ:

ثواب میں اضافہ

جو ذیل کی بحثوں پر مشتمل ہے

گنا ہان صغیر ہ کی بخشش

دوسروں کے اعما ل سے استفا دہ

مقدمہ:

ہم خدا شناسی(۱) کے باب میں یہ جان چکے ہیں، کہ خدا کے ارادہ کا اصل تعلق نیکیوں اور کمالات سے ہوتا ہے،اور برائیوں اور نقائص کا تعلق ارادۂ الٰہی سے با لتبع ہوتا ہے اسی کو دیکھتے ہوئے انسان کے متعلق بھی خدا کا اصلی ارادہ اس کی ترقی و تکامل اور ابدی خوشبختی تک رسائی اور وہاں کی ابدی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے سے تعلق رکھتا ہے اور تباہکاروں اور گنہگاروں کا عذاب اور اُن کی بد بختی جو ان کے برے انتخاب کے نتیجہ میں انہیں حاصل ہوئی ہے با لتبع خدا کے حکیمانہ ارادے میں شامل ہے او ر اگر عذاب و اخروی بد بختی میں مبتلا ہونا خود انسان کے برے انتخاب کا نتیجہ نہ ہوتا، تو خدا کی بے پایان رحمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے، کہ اس کی ایک بھی مخلوق عذاب میں مبتلا نہ ہو(۲)

لیکن یہ وہی خدا کی ہمہ گیر رحمت ہے کہ جس نے انسان کی آفرینش کا اقتضاء اس کے اختیارات و انتخاب کی خصوصیت قرار دیا ،اور ایمان و کفردونوں راستوں میں سے ہر ایک کے انتخاب اور اختیارات کا لازمہ ایک اچھے یا برے انجام تک پہنچ جانا ہے اس فرق کے ساتھ کہ نیک انجام تک پہنچ جانا، خدا کے اصلی ارادہ سے متعلق ہے اور دردناک عاقبت تک پہنچ جانا خدا کے تبعی ارادہ سے متعلق ہے اور یہی فرق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تکوین میں بھی اور تشریع میں بھی(یعنی خلقت میں بھی اور دستور العمل میں بھی)نیکی کے پہلو کو ترجیح دی جائے یعنی انسان فطری طور سے ایسا خلق کیا گیا ہے کہ نیک کام اس کی شخصیت کو بنانے میں گہرا اثر رکھیں اور تشریعی اعتبار سے مکلف کے لئے سہل و آسان ہو تاکہ سعادت کے راستہ کو طے کرنے اور ابدی عذاب سے نجات پانے میں سخت اور جان لیوا تکلیفوں کا سامنا نہ کرنا پڑے(۳) اور جزا وسزا کے موقع پر بھی اس کی جزا کے پلّے کو بھاری کردیا جائے اورخدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرجائے(۴) اور خدا رحمت کا یہ تقدم و رجحان بعض امور میں مجسم ہوکر سامنے ظاہر ہوجاتا ہے کہ جس کے بعض نمونے ہمیہاں پر آپ کے سامنے ذکر کررہے ہیں۔

ثوا ب میں اضا فہ

خدا وند عالم راہ سعاد ت کے طلبگا روں کے لئے مقام انعام میں سب سے پہلی جس جزاکا قائل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ صرف عمل کے برابر ثواب اپنے بندوں کو نہیں دیتا، بلکہ اس کو بڑھا کے عطا کرتا ہے ،یہ مفہوم قرآن مجید کی بعض آیتوں میں بالکل صاف بیان کیا گیا ہے ،من جملہ سورہ نمل کی آیت نمبر (٨٩) میں ارشاد ہورہا ہے،( مَن جَائَ بَالحَسَنَةِ فَلَهُ خَیر مِنهَا ) جو کوئی بھی نیکی انجام دے گا اس سے بہتر اس کی جزا پائے گا۔

اور سورۂ شوریٰ کی آیت نمبر(٢٣)میں ارشاد ہے (وَمَن ےَقتَرِف حَسَنَةً نَزِدلَہُ فِیہَا حُسناً)، جو کوئی بھی نیک کام انجام دے گا ہم اس کی نیکی کو بڑھا دیں گے۔

اور سورۂ یونس کی آیت نمبر(٢٦) میں فرما رہا ہے(لِلَّذِ ینَ اَحسَنُوا الحُسنیٰ و زِےَادَة)، ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکی کی ہے ،نیکی بھی ہے اور اضافہ بھی ہے۔

اور سورۂ نساء کی آیت نمبر(٤٠) میں اس طرح آیا ہے کہ، (اِنَّ اللّہَ لَا ےَظلِمُ مِثقَالَ ذَرَّةٍ وَاِن تِلکَ حَسَنَةً ےُضَاعِفہَا وَےُؤتِ مِن لَدُنہُ اَجراً عظیماً)،

اللہ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا انسان کے پاس نیکی ہوتی ہے تو اسے دوگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتا ہے اور سورۂ انعام کی آیت نمبر(١٦٠)میں ارشاد الہی ہے:( مَن جَائَ بِا لحَسَنَةِ فَلَهُ عَشرُ اَمثَالِهَا وَمَن جَائَ بِالسَّیئَةِ فَلَا يُجزَیٰ اِلَّا مِثلَهَا وَهُم لَايُظلَمُونَ ) ، جو شخص بھی نیکی کرے گا، اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی اور کوئی ظلم نہ کیا جا ئے گا ۔

گناہان صغیرہ کی بخشش

سعادت کی راہ پر چلنے والوں کیلئے ایک دوسرا امتیاز یہ ہے کہ اگر مومنین بڑے گناہوں سے پرہیز کرنے لگیں تو خدا اتنا مہربان ہے کہ وہ ان کے چھوٹے گناہ بھی معاف کردیگا اور اس کے اثر کو محو کردیگا،جیسا کہ سورۂ نساء کی آیت نمبر(٣١) میں ارشاد ہورہا ہے( اِن تَجتَنِبُوا کَبائِرَ مَاتُنهَونَ عَنهُ نُکَفِّر عَنکُم سَيِّاتِکُم وَنُدخِلکُم مُدخَلاً کَرِیماً ) ،اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے کہ جن سے تمہیں روکا گیا ہے پرہیز کر لوگے تو ہم دوسرے گناہوں کی پردہ پوشی کردیں گے اور تمہیں با عزت منزل تک پہنچا دیں گے۔

واضح ر ہے کہ ایسے لوگوں کے چھوٹے گناہوں کو بخشے جانے کے لئے توبہ کی شرط نہیں ہے کیونکہ توبہ بڑے بڑے گناہوں(گناہ کبیرہ) کے بخشنے کا بھی سبب ہے۔

دوسروں کے اعمال سے استفادہ

مومنین کے لئے ایک دوسری برتری یہ ہے کہ خدا وند عالم فرشتوں اور اپنے خاص چنے ہوئے بندوں کے استغفار کو ان مومنین کے حق میں قبول کرتا ہے، اور سارے مومنین کی دعاؤں اور استغفار کو ان کے حق میں قبول کرتا ہے،اور یہاں تک کہ ان اعمال کے ثواب جو دوسرے لوگ کسی مومن کے لئے ہدیہ کرتے ہیں اس کو بھی ان مومنین تک پہنچاتا ہے ،یہ مطالب آیات اور روایات میں بہت کثرت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، لیکن چونکہ یہ موضوع شفاعت کے مسئلے سے بلا واسطہ رابطہ ر کھتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ قدر تفصیل سے اس موضوع پر روشنی ڈالیں اس لئے ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔

سوالات

١۔رحمت الٰہی کے سبقت کرنے کا راز کیا ہے؟

٢۔تکوین وتشریع میں اس سبقت کے مجسم ظاہر ہونے کو بیان کریں؟

٣۔اس کے موارد کو انسان کی جزا وسزا میں وضاحت کے ساتھ بیان کریں؟

____________________

١۔ درس نمبر ١١ خدا شناسی کی طر ف رجو ع کریں ۔

٢۔ہم دعائے کمیل میں پڑھتے ہیں ،(فبا لیقین اقطع لو لا ما حکمت به من تعذیب جا حدیک و قضیت به من اخلاد معا ندیک لجعلت النارکلها بر داً و سلا ماّ و ما کا نت لاحد فیها مقراً ولا مقاما ً۔

۳۔ (یرید الله بکم الیسر ولا یر ید بکم العسر ) بقرہ ١٥٨، وماجعل علیکم فی الدین من حرج ۔

حج ٧٨،

۴۔ سبقت رحمتہ غضبہ


انسٹھو اں درس

شفا عت

مقدمہ:

جو ذیل کی بحثو ں پر مشتمل ہے

شفا عت کا مفہوم

شفا عت کے اصول

مقدمہ:

من جملہ ان خصو صیا ت میں سے ایک ایسی خصوصیت کہ جس کو خدا وند عا لم نے مو منین سے مخصوص کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کو ئی مو من شخص مر تے دم تک اپنے ایما ن کی حفا ظت کر لے جا ئے اور ایسے گنا ہو ں کا ارتکا ب نہ کر ے، جو اس کی تو فیقات کے سلب ہو جا نے کا با عث بنے اور اس کی عا قبت کی بد بختی شک و شبہ یا انکا ر جحو د کی منز ل تک پہنچا دے، اور ایک جملہ میں یوں خلاصہ کر دیا جائے کہ اگر ایمان کے سا تھ اس دنیا سے اٹھا ئے تو وہ ہر گز ابدی عذا ب میں مبتلا نہیں ہو گا اس لئے کہ اس کے چھوٹے گناہ ، بڑے گنا ہوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے بخش دئے جائیں گے، اور اُس کے بڑے گنا ہ تو بہ و استغفار کے وسیلہ سے معا ف کر دئے جا ئیں گے، اور اگر اُسے ایسی تو بہ کی تو فیق حا صل نہ ہو سکی، تو دنیا کی مصیبتیں اور پر یشا نیاں اُس کے گنا ہو ں کے بو جھ کو ہلکا کر دیں گی نیز بر زخ اور قیا مت کی ابتدا ئی سختیا ں اس کے اعما ل کے نقا ئص اور آلو دگیوں کو دو ر کر دیں گی اور اگر اس کے با وجود اسکے گنا ہو ں کی آلو دگی پا ک نہ ہو سکی تو شفا عت کے وسیلہ سے جو اولیا ء خدا خصو صاً حضو ر سر ور کا ئنا ت اور ان کے اہل بیت (ع) جو خدا کی وسیع و عظیم رحمت کی جلو ہ نما ئی کرتے ہیں،کے ذریعہ

جہنم کے عذا ب سے نجا ت پا جا ئیں گے(۱) اور بے شما ر رو ایا ت کی رو شنی میں وہ مقام محمو د(۲) جس کا وعدہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیا گیا ہے وہ اسی مقام شفا عت کا نام ہے اور خو د یہ آیہ شر یفہ (وَ لَسَوفَ یُعطِیکَ رَبُّّکَ فَتَرضَیٰ)(۳) اور تمھا ر ا پر ور دگا ر تمھیں اتنا عطا کر دے گا کہ تم خو ش ہو جا ئو گے حضور کی شفا عت کے ذریعہ الہٰی بخشش کی طر ف اشا رہ ہے جو مستحق افرا د کے شا مل حا ل ہو گی ۔

اس بنا پر گنہگا ر مو منین کی سب سے بڑی اور آخر ی امید اور آسراشفا عت ہے لیکن اس کے با وجود خدا کے عذاب سے امان کا یقین نہیں کر لینا چا ہیے بلکہ ہمیشہ یہ خو ف دل میںجاگتا رہے کہ خدا نخوا ستہ ا س سے کو ئی ایسا فعل سر زد ہو جا ئے جو مر تے دم تک کبھی بھی اس کی عا قبت کی بر با دی یا ایمان کے سلب ہو جا نے کا سبب بن جائے ،اور خبر دا ر کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی محبت ان کے دلو ں میں اس حد تک رسوخ کر جا ئے کہ (معا ذ اللہ ) وہ اللہ کی دشمنی کے سا تھ اس دنیا سے رخصت ہو اس لئے وہ لو گ یہ دیکھ رہے ہیں کہ خدا ہے جو ان کے اور ان کی محبوب اور معشو ق اشیا ء کے در میان مو ت کے ذریعہ جدا ئی ڈا ل دیتا ہے ۔

شفا عت کا مفہو م

شفا عت ،ما دہ شفع سے لیا گیا ہے جو جوڑے کے معنی میں ہے اور عر ف عام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ کو ئی با عزت انسان کسی بزر گ شخصیت سے کسی مجر م کی سزا سے چشم پو شی یا کسی خد مت گذار کی اجر ت میں اضا فہ کی در خو ا ست کر ے اور شا ید ایسے مقا مات پر لفظ شفا عت کو استعما ل

کر نے کا نکتہ یہ ہو کہ مجر م انسان خو بخو د بخشے جا نے کا مستحق نہیں ہو تا، یا خد مت کا رخو د بہ خو د اجر ت میں اضا فہ کا استحقا ق نہیں رکھتا لیکن سفا رش کر نے وا لے ( شفیع ) کی در خو است کا منسلک ہو جا نا اسے اس کا مستحق بنا دیتا ہے عام حا لا ت میں کو ئی کسی سفا رش کر نے و الے کی سفا رش کو اس لئے قبو ل کر لیتا ہے وہ اس با ت سے ڈر تا ہے کہ اگر اس کی سفا رش کو قبو ل نہ کر ے گا تو وہ ناراض ہو جا ئے گا اور اس کا رنجید ہ خا طر ہو نا اس کی الفت یا خد مت کی لذ ت سے محر ومی کا سبب بنے گا، یا ممکن ہے کہ سفا رش کر نے وا لے کی جانب سے نقصا ن پہنچنے کا با عث ہو وہ مشرکین جو اس دنیا کو پیدا کر نے وا لے خدا کے لئے انسانی او صا ف کے قا ئل تھے، جیسے شر یک حیا ت ، مونس و مدد گا ر دو ست ہم مشغلہ سا تھی کی محبت کی ضر ورت یا اپنے ر قیب اور اپنے برابر کی شخصیت سے خو ف وغیر ہ، وہ خدا کے لئے ان سب صفا ت کے اس لئے قا ئل تھے، کہ ا ن کی تو بہ ان لو گو ں کی طرف مبذول ہو جائے اور وہ اس کے غضب سے محفو ظ رہیں، اور اسی لئے وہ لو گ بتوں اور مجسمو ں کے مقابلہ میں فر شتوں اور جنا توں کی پر ستش کرتے تھے اور کہتے تھے ۔( هٰؤُ لَا ئِ شفعاؤنا عِندَ اللَّهِ ) )(۴) یہ سب خدا کے نزدیک ہما ری

شفا عت کر نے وا لے ہیں اور کہتے تھے :

( مَا نَعبُدُ هُم اِلَّا لِیُقَرِّ بُونَا اِلَی الٰلّهِ زُلفَیٰ ) )(۵) ہم ان کی پر ستش صر ف اس لئے کر تے ہیں کہ ہمیں اللہ سے قر یب کر دیں گے ۔

اور قر آن مجید ان لو گو ں کے جا ہلا نہ خیا لا ت کو اس طر ح با طل کر تے ہوئے فر ما تا ہے :

( لَیسَ لَهَا مِن دُونِ اللّهِ وَلِّ وَلَا شَفِیع ) )(۶) لیکن غو ر و فکر کا مقام ہے کہ ایسے شفا عت کر نے و الو ں اور ایسی شفا عت کی نفی کر نے کے معنی مطلقاً شفا عت کا انکا ر کر نا نہیں ہے، خو د قر آن مجید میں آیا ت مو جود ہیں جو شفا عت کو ( خدا کی اجا زت اور اس کے اذن سے ثا بت کر تی ہیں )

( شفا عت با ذن اللہ ) اور وہ آیا ت شفا عت کر نے و ا لو ں اور جنکی شفا عت کی جا ئے گی ان کی شرائط کو بھی بیان کر رہی ہیں اور خدا کی جا نب سے اجا زت یا فتہ شفا عت کر نے و الوں کی شفا عت کا قبو ل ہو نا، کسی خو ف یا ضرو رت کی وجہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا را ستہ ہے جسے خدا وند عالم نے ان لو گو ں کے لئے کھو لا ہے، جن کے اند ر رحمت الہٰی ،کی لیا قت کم پا ئی جا تی ہے اور اس کے وا سطے کچھ شر طیں اور اصول قرا ر د یئے ہیں اور در حقیقت صحیح شفا عت پر عقید ہ ،اور شر ک آمیز شفا عت پر عقیدہ کے در میان وہی فر ق ہے جو فر ق خدا کی جا نب سے حاکمیت اور تدبیر ، اور خود مختار حاکمیت و تدبیر کے درمیان میں ہے جو خدا شنا سی کے باب میں بیان ہو چکی ہے(۷) کبھی کبھی شفا عت کا لفظ اس سے بھی زیا دہ و سیع معنیٰ میں استعما ل ہو تا ہے اور انسان کے اند ر دوسرے کے ذریعہ اچھا اثر ظا ہر ہو نے کو بھی شا مل ہے جیسے ما ں با پ اپنی اولادکے متعلق یا اس کے بر عکس اسی طرح معلم اور ر ہنما اپنے شا گر دوں کے متعلق اور یہا ں تک کہ مو ذن ان لو گو ں کے متعلق جو اس کی آوا ز کو سن کر نما ز کو یا د کر تے ہوئے مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں شفا عت کر یں گے اور در حقیقت ہر نیک اثر جو اس دنیا میں انجام دیا گیا ہے وہ شفا عت اور مدد کی شکل قیامت کے دن ظا ہر ہوگا ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ گنہگا ر وں کی توبہ و استغفا ر اسی دنیا میں ان کے لئے ایک طر ح کی شفا عت ہے اور یہا ں تک کہ دوسرو ں کے حق میں دعا کر نا اور خد ا سے ان کی حا جتوں کو پور ا ہو نے کی در خو است کر نا در حقیقت خدا کے نزدیک شفا عت شما ر کی جا تی ہے ، کیو نکہ یہ سا ری چیزیں خدا کے نز دیک کسی انسان تک نیکی پہنچا نے یا کسی سے شر کو دور کر نے لئے واستہ ہے ۔

شفا عت کے اصو ل

جیسا کہ اشا رہ کیا جا چکا ہے کہ شفا عت کر نے یا شفاعت پا نے کے لئے بنیا دی شر ط خد کی اجا زت ہے، جیسا کہ سو رہ بقرہ کی آیت نمبر ٥٥ ٢،میں ارشاد ہو ا ہے( مَن ذَالَّذِی یَشفَعُ عِندَهُ اِلَّا بِاِذنِهِ ) )کو ن ہے جو اس کی با رگا ہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفا رش کر سکے ،اور سو رہ یو نس کی آیت نمبر ٣میں یو ں ارشا د ہے( مَا مِن شَفِیعٍ اِلَّا مِن بَعدِ اِذنِهِ ) کو ئی سفا رش نہیں کر سکتا مگر اس کی

اجا زت کے بعد اور سو رہ طہٰ کی آ یت نمبر ١٠٩ میں بھی ارشا د ہو رہا ہے :

(( یَومَئِذٍ لَا تَنفَعُ الشَّفَا عَةُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَهُ الَّرحمٰنُ وَ رَضِیَ لَهُ قَولاً ) )

اس دن کسی کی سفا رش کام نہ آئے گی ،سوا ئے ان کے جنھیں خدا نے اجاز ت دیدی ہو اور وہ ان کی بات سے را ضی ہو اور سو رہ سبا ء کی آیت نمبر ٢٣ میں فر ما تا ہے :

( وَلَا تَنفَعُ الشَّفَا عَةُ عِندَهُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَهُ ) اس کے نزدیک کسی کی سفا رش کام نہ آئے گی مگر اس کی جس کو اجاز ت دی گئی ہو ان آیات سے اجما لی طور سے خدا کی اجازت ثا بت ہو تی

ہے لیکن اجا زت یا فتہ افرا د کی خصو صیت کا اند ا زہ نہیں ہو تا ، لیکن دوسر ی آیا ت کے ذ ریعہ طر فین ( شفا عت کرنے وا لے اور شفا عت پا نے وا لے ) کی شر طو ں کو واضح کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سورہ زخرف کی آیت نمبر ٨٦ میں ہے :

( وَلا یَملِکُ الَّذِینَ یَد عُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَن شَهِدَ بِا لحَقِّ وَ هُم یَعلَمُونَ ) اور وہ لو گ جو خدا کے علا وہ کسی اور کو آواز دیتے ہیں شفا عت کا حق نہیں رکھتے ( اور کسی کو بھی شفا عت کا حق نہیں ) مگر وہ جو حق کی گو اہی دے اور علم بھی رکھتا ہو، شا ید ( مَن شَھِدَ بِا لحَق) سے مرا د اعما ل کے اوپر گو اہ فرشتے ہو ں جو خدا کی تعلیم کے ذریعہ بندوں کے اعما ل اور نیتوں سے وا قف رہتے ہیں اور ان کی رفتا ر و کر دا ر کی قدر و قیمت اور کیفیت پر شہا دت دے سکتے ہیں ،جیسا کہ حکم اور مو ضو ع کے تنا سب سے استفا دہ کیا جا سکتا ہے کہ سفا رش کر نے والو ں کے پا س اتنا علم ہو نا چا ہیے کہ جو شفا عت پا نے وا لوں کی صلا حیت کی تشخیص دے سکیں ۔

اور یقینی طور سے ان دو نوں شرا ئط کے حا مل وہ معصو مین (ع)ہیں ،دوسری طر ف سے بعض آیا ت سے استفا دہ ہو تا ہے کہ شفا عت پا نے وا لے مر ضی خدا کے حق دار ہو ں جیسا کہ سور ہ انبیا ء کی آیت نمبر ٢٨میں ارشاد ہے :( وَ لَا یَشفَعُونَ اِلَّا لِمَن اِر تَضیٰ ) )سفا رش نہیں کر سکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کر ے اور سو رہ نجم کی آیت نمبر ٢٦ میں ارشاد ہے : (و( َکَم مِن مَلَکٍ فِی السَّموات لَا تُغِن شَفَاعتُهُم شَیًا اِلَّا مِن بَعدِ اَن یَأ ذَنَ اللّهُ لِمَن َیشَاء وَ یَر ضی ) ٰ) اور آسما نوں میں کتنے ہی ایسے فر شتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کا م نہیں آسکتی، جب تک خدا جس کے با رے میں چا ہے اور پسند نہ کر ے اجا زت نہ دیدے ۔

صا ف ظا ہر ہے کہ رضائے پر وردگا ر کی منز ل میں ہو نے سے مر اد یہ نہیں ہے کہ اس کے سا رے اعما ل پسندیدہ ہو ں ورنہ شفا عت کی کو ئی ضرو رت نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ خو د شخص دین و ایمان کے لحاظ سے مر ضی خدا کے مطا بق ہو جیسا کہ رو ایا ت میں اسی عنوان سے تفسیر ہو ئی ہے ۔

دوسری طر ف چند آیتوں میں ان لو گو ں کی خصلت جن کی سفا رش نہیں ہو سکتی بیان کی گئی ہے، جیسے سو رہ شعراء کی آیت نمبر ١٠٠ میں مشر کین کے قول کو نقل کر رہا ہے( فَمَا لَنَا مِن شَا فِعِین ) اور سورہ مدثر کی آیت نمبر ٤٠سے ٤٨ تک آیا ہے کہ مجر مو ں کے دو زخ میں جا نے کے سبب کے با رے میں سوا ل کیا جا ئے گا تو وہ لو گ جو اب میںتر ک ِنما ز(۸) بیکسو ں کی مدد نہ کر نے روز قیا مت کے جھٹلا نے کی خصلت کو گنوائیں گے اس کے بعد ارشا د ہے( فَمَا تَنفَعهُم شَفا عَة الشَا فِعِینَ ) ) اس آیت سے استفا دہ ہو تا ہے کہ وہ مشرکین او ر قیا مت کا ا نکا ر کر نے وا لے جو خدا کی عبا دت نہیں کر تے اور اس کے محتا ج بند وں کی مدد نہیں کر تے ،اور صحیح اصول و قوا نین کے پا بند نہیں ہیں ۔

شفا عت ہر گز ان کے شا مل حا ل نہیں ہو گی او ر اس با ت پر غور کر تے ہو ئے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استغفا ر بھی اس دنیا میں ایک طر ح کی شفا عت ہے اور ان کا استغفا ر ان لو گو ں کے حق میں جو ا س بات کے لئے حا ضر نہیں ہیں، آپ سے استغفا ر و شفا عت کی در خوا ست کر یںشامل نہیں ہو گا(۹) اس سے اس با ت کا اندا زہ ہو تا ہے کہ شفا عت کا انکا ر کر نے وا لا بھی شفا عت کا حق دار نہیں ہے جیسا کہ یہی مضمو ن احا دیث میں ذکر ہو ا ہے(۱۰)

حا صل کلا م یہ ہے کہ مطلقا ً اور اصلی سفا رش کر نے وا لے کے لئے ضر وری ہے کہ خد ا کی اجا زت کے علا وہ خو د بھی معصیت کا ر نہ ہو اور دوسروں کے گناہ اور اطا عت کے مر ا تب کو سمجھنے کی قدر ت رکھتا ہو نیز سچے پیرو کار بھی ان کے زیر سا یہ شفا عت کے کمترین مر تبہ کے ما لک ہو تے ہیں ،جیسا کہ ایسے افراد شہدا ء اور صد یقین کے زمر ہ میں محشور کئے جا ئیں گے(۱۱) اوردوسری طرف صر ف وہ لو گ شفا عت پا نے کا حق رکھتے ہیں جو خدا کی اجا زت کے علا وہ خدا و رسو ل اور قیامت اور وہ چیزیں جو خدا نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نا زل کی ہیں جیسے شفا عت کی حقا نیت پر ایمان رکھنا، نیز اس اعتقاد پر آخر دم تک باقی رہنا ہے ۔

جو خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایما ن لا ئے خدا کے نزدیک وہی لو گ صدیقین اور شہدا ء ہیں ،

سو الا ت:

١۔ شفا عت کے معنی اور اس کے استعما ل کے موارد کو تفصیل سے بیا ن کر یں ؟

٢۔صحیح شفا عت اور شر ک آمیز شفا عت کے درمیان فر ق بیا ن کیجئے ؟

٣شفا عت کر نے و لے کے شرا ئط کی وضا حت کیجئے ؟

٤۔شفا عت پا نے وا لے کے شرا ئط کی وضا حت کیجئے ؟

____________________

١۔ ( ادّ خرت شفا عتی لا ھل الکبا ئر من امتی ) میں نے اپنی شفا عت اپنے امت کے گنہگا روں کے لئے ذخیر ہ کیا ہے ، بحا ر لانوا ر ج ٨ ص ٣٧ ۔٤٠،

٢۔ اسرا ء ٧٩،

٣۔ ضحی ٥

۴۔ یو نس ١٨ ، روم ١٣ ، انعام ٩٤، زمر ٤٤ ، وغیرہ

۵۔ زمر ٣

۶۔ انعام ٧٠، ٥١، سجدہ ٤، زمر ٤٤،

۷۔ رجوع کریں،باب خدا شنا سی درس نمبر ١٦،

۸۔ امام صا دق اپنی زند گی کے آخر ی لمحا ت میں فر ما یا:(ان ّ شفاعتنا لا تنا ل مستخفا با لصلوٰة ) ہما ری شفاعت اس انسان تک نہیں پہنچ سکتی جو نما ز کو ہلکا سمجھے ۔ بحا ر الانوا ر ج٤ ص ٢

۹۔ منا فقون ٥۔٦

۱۰۔ (عن النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مَن لم یؤمن بشفاعت فلا اناله الله شفاعت )جو میری شفا عت پر ایما ن نہیں رکھتا خدا میری شفا عت کو اس کے شا مل حا ل نہیں کر ے گا ، بحا ر لانوا ر ج٨ ص ٥٨ ،

۱۱(وا لذین آمنوا با الله و رسوله او لٰئک هم الصدقون والشهد اء عند ربهم )


سا ٹھو اں درس

چند شبھات کا حل

شفا عت کا انکا ر کر نے وا لی آیتو ں کا جا ئز ہ۔

خدا پر شفا عت کر نے وا لو ں کا کو ئی اثر نہیں ہو تا۔

شفا عت کر نے وا لے خدا سے زیا دہ مہر بان نہیں ہیں۔

شفا عت خدا کی عدالت کے منا فی نہیں ہے ۔

شفا عت خد ا کی سنت کی تبدیلی کا سبب نہیں ۔

شفا عت کا وعدہ لو گو ں کی گستا خی اور جسا رت کا با عث نہیں۔

شفا عت کے استحقا ق کے شرا ئط کا حا صل کر نا سعا دت تک پہنچنے کی کو شش۔

شفا عت کے متعلق بہت سے اعتراضا ت اور شبہا ت ذکر کئے گئے ہیں کہ جن میں سے بعض اہم شبہا ت کا ذکر ہم اس در س میں کر نا چا ہتے ہیں

شبہ (١)

سب سے پہلا شبہ یہ ہے کہ قر آن مجید کی متعدد آیتیں اس با ت پر دلا لت کر تی ہیں، کہ قیا مت کے رو ز کسی کی شفا عت کو قبو ل نہ کیا جا ئے گا، جیسا کہ سو رہ بقر ہ کی آیت نمبر ٤٨ میں ار شا د ہو رہا ہے (( وَاتَقُوا یَوماً لَا تَجزِی نَفسٍ عَن نَفسٍ شیئاً وَ لَا یُقبَلُ مِنهَا شَفا عَة وَ لَا یُؤخَذُ مِنهَا عَدل وَلَا هُم یُنصَرُو نَ ) اس دن سے ڈرو کہ جب کو ئی کسی کے کام نہیںآئیگا اور نہ ہی کسی کی سفا رش قبو ل کی جا ئے گی اور نہ ہی کسی سے عو ض اور بدلہ لیا جا ئے گا، اور نہ اس کی کو ئی مدد کی جا ئے گا ۔

جو اب :

اس کا جو اب یہ ہے کہ ایسی آ یا ت بے اصو ل اور استقلا لی ( خو د مختا ر ) شفا عتو ں کی نفی میں ہے کہ بعض لو گ جس کا اعتقاد رکھتے ہیں، اس کے علا وہ مذکو ر ہ آیا ت عام ہیں اور یہ ان آیا ت کے ذ ریعہ جو شفا عت کے قبو ل کئے جا نے پر دلا لت کر تی ہیں تخصیص پا گئی ہے جیسا کہ گذشتہ درس میں ان کی طر ف اشا رہ کیا ہے ۔

شبہ (٢)

شفا عت کے صحیح ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ خدا وند عالم شفا عت کر نے و الو ں کے زیر اثر آگیا ہے یعنی ان لو گو ں کی شفا عت خدا کے بخش دیئے جانے کا سبب بن گئی جبکہ وہ خدا فعل ہے

جو اب :

شفا عت کے قبو ل ہو نے کا معنی زیر اثر آنا نہیں ( متا ثر ) ہے جیسا کہ دعا اور تو بہ کا قبو ل ہو نا ایسا غلط معنی نہیں رکھتا کیو نکہ ان سا رے مقا ما ت پر بند وں کے کام رحمت الہٰی کے قبو ل کر نے کی آما دگی کا سبب اور ذ ریعہ ہیں اور اس اصطلا ح ( مقولے )کے لحا ظ سے کہ قبو ل کر نے وا لے کی قا بلیت شر ط ہے نہ کہ انجام دینے وا لے کی فا علیت ۔

شبہ(٣)

شفا عت کا لا زمہ یہ ہے کہ شفا عت کر نے وا لے خدا سے بھی زیا دہ مہر با ن ہو گئے ہیں ، کیو نکہ ہما را فر ض یہ ہے کہ اگر ان کی شفا عت نہ ہو ئی تو گنہگا ر عذا ب میں مبتلا ہو جا تا یا اس کا عذ ا ب دا ئمی ہوجا تا ۔

جو اب :

شفا عت کر نے وا لو ں کی ہمدر دی یا مہر با نی خدا کی بے پایا رحمت کی ایک جھلک ہے یا یوں کہا جائے کہ شفا عت ایک ایسا راستہ ہے ،جسے خو د پر ور د گا ر عالم نے اپنے گنہگا ر بند وں کے لئے قر ار دیا ہے اور حقیقت میں اس کی رحمت کے مجسم اور ظاہر ہو نے کا سب سے اعلیٰ نمو نہ ہے جو اس کے نیک اور منتخب بند وں کے ذریعہ ظا ہر ہو تا ہے، اور اسی طر ح تو بہ اور دعا بھی دوسرے وسیلے ہیں ،کہ جنھیں خدا نے مرا دوں کے پو ری ہو نے اور گنا ہو ںکے بخشے جا نے کے لئے قر ا رد یا ہے ۔

شبہ (٤)

ایک اور اعترا ض یہ ہے کہ اگر گنہگا ر و ں کے عذاب کے متعلق خدا کا حکم اس کی عدا لت کا تقاضا ہو تا تو ان لو گو ں کے لئے شفا عت کا قبو ل کر لینا اس کی عدا لت کے خلا ف ہو گا ۔

جو اب :

جتنے بھی احکا م الہٰی ہیں چا ہے شفا عت سے پہلے عذا ب کا حکم یا شفا عت کے بعد عذا ب سے نجا ت کا حکم، اس کی عدل و حکمت کے مطا بق ہے اور دو نوں حکمو ں کے عا دلا نہ اور حکیما نہ ہو نے میں دو ضدوں کے جمع ہونے والی نسبت بھی نہیں ہے اس لئے کہ اس کا مو ضو ع الگ ہے اس کی وضا حت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ عذ اب کا حکم ارتکا ب گنا ہ کا تقا ضا ہے ان اسبا ب سے قطع نظر کہ جو گنہگا ر کے حق شفا عت کے قبو ل کا مو جب ہے اور عذا ب سے نجا ت کا مذکو رہ حکم اسبا ب کے ظہو ر کا سبب ہے اور حکم کا بد لنامو ضو ع کی قید کے بد لنے کے تا بع ہے ،بہت فر ا وانی کے سا تھ جس کی مثا ل احکا م اور تکوینی مقدرا ت اور تشریعی احکا م و قوا نین کے اندر مل جا ئیں گی اور اسی طر ح اپنے اپنے زما نے کے اعتبا ر سے حکم منسو خ اور حکم نا سخ کے عا دلانہ ہو نے میں کو ئی منا فا ت نہیں ہے ، نیز دعا اور صدقہ دینے سے مصیبتوں کے بر طر ف ہو نے کے حکیما نہ ہو نے میں کو ئی منا فا ت نہیں ہے اور شفا عت کے بعد گنا ہوں کے بخشے جا نے کا حکم، شفا عت کے تحقق سے پہلے عذاب کے حکم کے منا فی نہیں ہے ۔

شبہ(٥):

ایک اور اشکا ل یہ ہوتا ہے کہ خد ا وند عالم نے شیطان کی پیر وی کو دو زخ کے عذا ب میں مبتلا ہو نے کا سبب جا نا ہے: جیسا کہ سو رہ حجر کی آیت نمبر ٤٢،٤٣ میں ارشا د فر ما تا ہے( اِنَّ عِبَا دِ لَیسَ لَکَ عَلَیهِم سُلطَان اِلَّا مَنِاتَّبَعَکَ مِنَ الغَاوِین٭َ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوعِدُهُم اَجمَعِینَ ) )بیشک تو ( اے ابلیس! ) میرے بند وں پر مسلط نہیں ہو سکتا ،مگر وہ گمرا ہ لو گ جو تیری پیر وی کر یں اور ان کی ہمیشہ کی جگہ جہنم ہے ۔

اور حقیقت میں گنہگا رو ں کو قیا مت میں عذا ب میں گر فتا ر کر نا، خدا کی سنت ہے اور ہم یہ بھی جا نتے ہیں سنت خدا، تغیر و تبدیلی نہیں ہو سکتی ،جیسا کہ سو رہ فا طر کی آیت نمبر ٤٣ میں فر ما تا ہے (( فَلَن تَجدَ لِسَنَّةِ اللّٰهِ تَبدِیلًا وَ لَن تَجدَ لِسُنَّةُ اللّٰهِ تَحوِ یلاً ) )

تم ہر گز سنت الہٰی میں تبدیلی نہیں پا ئو گے اور ہر گز سنت پر ور دگا ر میں تغیر نہیں پا سکتے لہٰذا کیسے ممکن ہے کہ یہ سنت شفا عت کے ذریعہ ٹو ٹ جا ئے ؟

جوا ب:

اس کا جوا ب یہ ہے کہ وا جد الشرا ئط گنہگا ر وں کے با رے میں شفا عت کا قبو ل کر نا، خد ا کی نا قابل تبدیل سنتوں میں سے ایک ہے ،اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا وند عالم کی سنت، حقیقی معیا ر اور ملاک کے تابع ہے اور کو ئی بھی سنت جس کے سا رے تقا ضے، اور وجو دی و عدمی شرا ئط پا ئے جا ئیں گے وہ تبدیلی کو قبو ل نہیں کر سکتی، لیکن وہ عبا ر تیں جوا س سنت پر دلا لت کر تی ہیں وہ پوری طرح سے مو ضو ع اور اس کے تمام شرائط و قیود کو بیا ن نہیں کر رہی ہیں، اس رو سے ایسے مو را د پا ئے جا تے ہیں کہ جہاں ظا ہر ی طور سے آیات چند مختلف سنتوں کو شا مل ہے جب کہ حقیقت میں آیت کا مصدا ق

اخص اور اقوی ملاک کا تابع ہے لہٰذا ہر سنت اپنے مو ضو ع کی واقعی قیو د و شرا ئط کو دیکھتے ہو ئے ( نہ صر ف وہ قید یں اور شر طیں جو عبا رت میں ائیں ہیں ) ثا بت اور غیر قا بل تغیر ہے انھیں میں سے ایک سنت کا نام شفا عت ہے جو خا ص گنہگار وں کے لئے جن کے اند ر معین شرا ئط پا ئے جا تے ہو ں اور معین اصو ل و قو انین ان کے شا مل حا ل ہے ثا بت اور ناقا بل تبدیل ہے ۔

شبہ(٦)

شفا عت کا وعدہ، لو گو ں کو گنا ہ کے مرتکب ہو نے اور بے راہ روی میں گستاخ اور جری بنا دیتا ہے ۔

جو اب :

اس اعتراض کا جو اب تو بہ قبول ہو نے اور گنا ہوں کے ختم ہو جا نے کے سلسلے میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ شفا عت اور مغفرت کا شا مل حا ل ہو نا، کچھ شرا ئط کے اوپر مو قو ف ہے کہ گنہگا رانسان ان شر ائط کے حصو ل کا یقین نہیں حا صل کر سکتا اور شفا عت پا نے کے من جملہ شرا ئط یہ ہیں کہ انسان اپنے ایمان کو تا دم مر گ بچا لے جا ئے اورہم یہ جا نتے ہیں کہ کو ئی بھی انسان ایسی شرط کے پو رے ہو نے کا یقین نہیں کر سکتا دوسری طر ف سے اگر کو ئی انسان کسی گنا ہ کا مر تکب ہو گیا اور اسے اپنے اس گنا ہ کی بخشش کی کو ئی امید ہو تو وہ ما یوسی اور نا امیدی میں گر فتا ر ہو جا ئیگا اور ما یو سی اس کے اند ر گنا ہ کو تر ک کر نے کے حو صلہ کو ضعیف کر د ے گی نیز اسے آئند ہ اسی غلط را ستے پر چلنے کی تر غیب دلا دے گی اسی لئے الہٰی مر بی کی روشن تر بیت یہ ہے کہ ہمیشہ لو گو ں کو خو ف اور امید کے در میان ورکے رکھے یعنی رحمت الہٰی اتنا امید وار نہ بنا د ے کہ خد ا کے یہا ں سے اطمینا ن حا صل کر لیں ،اور عذا ب الہٰی سے بھی اتنا نہ ڈر ا د ے کہ رحمت خدا سے ما یوس ہوجا ئیں اور ہم یہ جا نتے ہیں یہ دو نوں چیزیں گنا ہا ن کبیرہ ہیں ۔

شبہ(٧) :

ایک اور اعتراض یہ ہے کہ عذاب سے نجا ت پا نے میں شفا عت کی تا ثیر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا کام (شفا عت کر نے والے) سعادت تک پہچا نے اور بد بختی سے نجا ت پا نے میں اثر رکھتا ہے در آں حا لیکہ اس آیہ شر یفہ کے لحا ظ سے (وَاَن لَیسَ لِلاِ نسَانِ اِلَّا مَا سَعیٰ)صرف شخص کی اپنی کو شش ہے جو اسے سعا دت تک پہنچاتی ہے۔

جو اب:

انسان کی سعی اور کو شش منز ل مقصو د تک پہچنے کے لئے کبھی تو بطور مستقیم ہو ئی ہے، اور یہ کو شش راستہ کے آخری حصہ تک جاری رہتی ہے اور کبھی غیر مستقیم ہے جو مقد ما ت اور واسطوں کو فرہم کر نے کے ذریعہ ہو تی ہے، شفا عت پا نے والا شخص بھی سعا دت تک پہچنے کے مقد ما ت اور واسطوں کو حاصل کر نے کی کو شش کر تا ہے ،اس لئے کہ ایمان لا نا اور شفا عت کے استحقاق کے شرا ئط کا حا صل کر نا، سعا دت تک پہچنے کی را ہ میں سعی و کو شش شما ر کی جا تی ہے، چا ہے یہ کو شش نا قص ہی کیوں نہ ہو، اسی لئے کچھ مدت تک بر زخ کی مصیبتوں اور پر یشا نیوں اور عر صہ قیامت کی ابتدا ئی سختیوں میں گر فتا ر ہو نا پڑتا ہے لیکن بہر حا ل خود اس نے سعا دت کی جڑ یعنی ایمان کو اپنے دل کے اند ر مضبو ط کرتے ہوئے اس کو نیک اعما ل کے ذ ریعہ اس طر ح آبیاری کر تا رہتا ہے کہ زندگی کے آخری لمحا ت تک خشک نہ ہو نے پا ئے لہٰذا اس کی آخری سعا دت خو د اسی کی سعی و کوشش کا نتیجہ ہے اگر چہ شفا عت کر نے وا لے بھی اس درخت کے بار آور ہو نے میں اثر رکھتے ہیں ،جس طرح دنیا میں بھی بعض دوسرے افر اد انسا نوں کی ہد ایت اور ان کی تر بیت میں مو ثر ہیں، اور ان کی تا ثیر خو د شخص کی سعی و کوشش کی نفی کے معنی میں نہیں ہے ۔

سو الا ت :

١۔ شفا عت کی نفی کے اوپر دلا لت کر نے والی آیتو ں کے ہوتے ہوئے، شفاعت کے متحقق ہونے کا کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے ؟

٢۔ آیا شفا عت کا لا زمہ امور خدا وند عالم میں دوسروں کا اثر اندازہونا نہیں ہے ؟

٣۔ کیا شفا عت کا لا زمہ یہ نہیں ہے کہ دایہ ، ماں سے زیادہ مہربان ہو ؟

٤۔ شفا عت کا عدالت خدا سے کیا را بطہ ہے وضا حت کیجئے ؟

٥۔کیا شفا عت خد ا کی سنت کی تبدیلی کا با عث نہیں ہے ؟

٦ کیا شفا عت کا وعدہ گنہگا ر وں کی گستا خی اور جسور ہونے کا سبب نہیں ہے ؟

٧۔ وضا حت کیجئے کہ شفا عت ، انسان سعا دت کے لئے خود انسان کی سعی و کو شش کے

منا فی نہیں ہے ؟

٭٭٭٭٭


فہرست

حرف اول ۵

پیش لفظ ۷

مقدمہ مولف ۹

پہلا درس ۱۱

دین کیا ہے؟ ۱۱

١۔دین کا مفہوم ۱۱

٢۔اصول دین اور فروع دین ۱۱

٣۔جہاں بینی(تصور خلقت) اور آئیڈیالوجی ۔ ۱۲

٤۔الٰہی و مادی جہان بینی۔ ۱۲

٥۔آسمانی ادیان اور ان کے اصول۔ ۱۳

١۔ خدائے یکتا پر اعتقاد ۔ ۱۳

نتیجہ: ۱۳

سوالات: ۱۴

دوسرا درس ۱۵

دین میں تحقیق ۱۵

تحقیق کے عوامل ۱۵

دین میں تحقیق۔ ۱۶

ایک شبہ کا حل۔ ۱۸

سوالات ۱۸


تیسرا درس ۲۰

انسان بن کے جینے کی شرط ۲۰

مقدمہ ۲۰

انسان کمال طلب ہے۔ ۲۱

انسان کا کمال، عقل کی پیروی میں ہے۔ ۲۱

عقل کے احکام عملی کو مبانی نظری کی ضرورت ہے ۲۲

نتیجہ۔ ۲۳

سوالات ۲۳

چوتھا درس ۲۵

جہان بینی کے بنیادی مسائل کا راہ حل ۲۵

مقدمہ: ۲۵

شناخت کی قسمیں ۔ ۲۵

معرفت کی قسمیں ۲۶

تنقید۔ ۲۶

نتیجہ: ۲۸

سوالات ۲۸

پانچواں درس ۳۰

خدا کی معرفت ۳۰

مقدمہ ۳۰

حضوری اور حصولی معرفت۔ ۳۰


فطری شناخت۔ ۳۱

نتیجہ: ۳۲

سوالات ۳۳

چھٹا درس ۳۴

خدا شناسی کا آسان راستہ ۳۴

خدا شناسی کے راستے ۳۴

آسان راستہ کی خصوصیات۔ ۳۵

آشنا نشانیاں ۔ ۳۵

سوالات ۳۷

ساتواں درس ۳۸

واجب الوجود کا اثبات ۳۸

مقدمہ ۳۸

متن برہان۔ ۳۸

واجب الوجود ہو۔ ۳۹

امکان اور وجوب۔ ۳۹

علت اور معلول۔ ۴۰

علتوں کے تسلسل کا محال ہونا۔ ۴۱

تقریر برہان۔ ۴۱

سوالات ۴۲

آٹھواں درس ۴۳


خدا کی صفات ۴۳

مقدمہ ۴۳

خدا کا ازلی و ابدی ہونا۔ ۴۴

صفات سلبیہ۔ ۴۴

موجودات کو وجود بخشنے والی علت۔ ۴۵

وجود بخشنے والی علت کی خصوصیات۔ ۴۶

سوالات ۴۷

نواں درس ۴۹

صفات ذاتیہ ۴۹

مقدمہ ۴۹

صفات ذاتیہ اور فعلیہ۔ ۵۰

صفات ذاتیہ کا اثبات۔ ۵۰

حیات۔ ۵۱

علم۔ ۵۱

قدرت۔ ۵۲

سوالات ۵۳

دسواں درس ۵۵

صفات فعلیہ ۵۵

مقدمہ ۵۵

خالقیت۔ ۵۶


ربوبیت۔ ۵۷

الوہیت۔ ۵۸

سوالات ۵۸

گیارہواں درس ۵۹

بقیہ صفات فعلیہ ۵۹

مقدمہ ۵۹

ارادہ۔ ۵۹

حکمت۔ ۶۰

نتیجہ: ۶۱

کلام الٰہی۔ ۶۱

صدق۔ ۶۲

سوالات ۶۲

بارہواں درس ۶۴

انحراف کے اسباب کی تحقیق ۶۴

مقدمہ: ۶۴

انحراف کے اسباب۔ ۶۵

١۔روحی اسباب ۶۵

٢۔اجتماعی اسباب۔ ۶۶

٣۔ فکری اسباب۔ ۶۶

انحرافی اسباب کا سد باب۔ ۶۷


سوالات ۶۷

تیرہواں درس ۶۹

چند شبہات کا حل ۶۹

نا محسوس مو جودپر اعتقاد ۶۹

خدا پر ایمان رکھنے کے سلسلہ میں جہل اور خوف کاکردار۔ ۷۰

کیا قاعدہ علیت ایک قاعدہ کلی ہے۔ ۷۱

علوم اجتماعی کے نتائج۔ ۷۱

سوالات ۷۲

چودہواں درس ۷۳

مادی جہان بینی اور اس پر تنقید ۷۳

مادی جہان بینی کے اصول ۷۳

پہلی اصل ۔ ۷۴

دوسری اصل ۔ ۷۴

تیسری اصل ۷۵

چوتھی اصل ۔ ۷۵

سوالات ۷۶

پندرہواں درس ۷۷

ماٹریالیسم ڈیالٹیک اور اس پرتنقید ۷۷

مکینکی اورڈیالٹیکی ماٹریالیسم ۷۷

تنقید۔ ۷۸


قاعدہ جہش۔ ۷۹

تنقید۔ ۷۹

قاعدہ نفی نفی۔ ۸۰

تنقید۔ ۸۰

سوالات ۸۱

سولہواں درس ۸۲

خدا کی لاثانیت ۸۲

مقدمہ ۸۲

خدا کی لاثانیت پر برہان و دلیل۔ ۸۳

نتیجہ۔ ۸۵

سوالات ۸۵

سترہواں درس ۸۶

توحید کے معانی ۸۶

مقدمہ ۸۶

١۔تعدد کی نفی: ۸۶

٢۔ ترکیب کی نفی : ۸۷

٣۔زائد برذات صفات کی نفی۔ ۸۷

٤۔توحید افعالی۔ ۸۸

٥۔تاثیر استقلالی۔ ۸۸

دو مہم نتیجے۔ ۸۹


شبہ کا جواب۔ ۸۹

سوالات ۹۰

اٹھارہواں درس ۹۱

اٹھارہواں درس ۹۱

جبرو اختیار ۹۱

مقدمہ ۹۱

اختیار کی وضاحت۔ ۹۳

شبہات کے جوابات۔ ۹۴

سوالات ۹۵

انیسواں درس ۹۶

دین کیا ہے ۹۶

قضاوقدر کا مفہوم ۹۶

قضا و قدر علمی و عینی۔ ۹۷

انسان کے اختیار سے قضا و قدر کا رابطہ۔ ۹۸

متعدد علتوں کے اثر انداز کی قسمیں۔ ۹۹

شبہ کا جواب۔ ۹۹

قضا و قدر پر اعتقاد کے آثار۔ ۱۰۰

سوالات ۱۰۱

بیسواں درس ۱۰۳

عدل الٰہی ۱۰۳


مقدمہ ۱۰۳

مفہوم عدل۔ ۱۰۴

نتیجہ۔ ۱۰۵

دلیل عدل الٰہی ۔ ۱۰۶

چند شبہات کا حل۔ ۱۰۷

سوالات ۱۰۹

اکیسواں درس ۱۱۰

اکیسواں درس ۱۱۰

مسائل نبوت پر بحث کرنے کے نتائج ۱۱۰

مقدمہ ۱۱۰

اس حصہ کے مبا حث کا ھدف ۱۱۱

علم کلام میں تحقیق کی روش ۱۱۲

سوالات ۱۱۳

بائیسواں درس ۱۱۴

بشر کو وحی اور نبوت کی ضرورت ۱۱۴

بعثت انبیاء (ع) کی ضرورت۔ ۱۱۴

بشری علوم کی ناکامی۔ ۱۱۵

بعثت انبیاء (ع) کے فوائد۔ ۱۱۷

سوالات ۱۱۸

تیئسواں درس ۱۱۹


چند شبہات کا حل۔ ۱۱۹

کیوں بہت سے لوگ انبیاء ٪ کی ہدایت سے محروم ہو گئے؟ ۱۱۹

کیوں خدا نے انحرافات اور اختلافات کا سد باب نہیں کیا؟ ۱۲۱

کیوں انبیاء ا لٰہی صنعتی اور اقتصادی امتیازات سے سرفراز نہ تھے؟ ۱۲۱

سوالات ۱۲۳

چوبیسواں درس ۱۲۵

عصمت انبیاء (ع) ۱۲۵

وحی کے محفوظ رہنے کی ضرورت۔ ۱۲۵

عصمت کی دوسری قسمیں ۔ ۱۲۶

انبیاء (ع) کی عصمت ۔ ۱۲۸

سوالات ۱۲۹

پچیسواں درس ۱۳۰

پچیسواں درس ۱۳۰

انبیاء (ع)کے معصوم ہونے کی دلیلیں ۱۳۰

مقدمہ ۱۳۰

عصمت انبیاء (ع)پر عقلی دلائل۔ ۱۳۱

عصمت انبیاء (ع) پر نقلی دلائل۔ ۱۳۱

عصمت انبیاء (ع) کا راز ۔ ۱۳۳

سوالات ۱۳۵

چھبیسواں درس ۱۳۶


چند شبہات کا حل۔ ۱۳۶

پہلا شبہ یہ ہے ۱۳۶

اسی شبہ کا جوا ب ۱۳۷

دوسراشبہ یہ ہے ۱۳۷

اس شبہ کا جواب یہ ہے ۱۳۷

تیسرا شبہ یہ ہے ۱۳۸

اس شبہ کا جواب یہ ہے ۱۳۸

چوتھا شبہ یہ ہے ۱۳۹

اس شبہ کا جواب یہ ہے ۱۳۹

پانچواں شبہ یہ ہے ۱۳۹

ان شبہات کا جواب یہ ہے ۱۳۹

چھٹا شبہ یہ ہے ۱۴۰

اس شبہ کا جواب یہ ۱۴۰

ساتواں شبہ یہ ہے ۱۴۰

اس شبہ کا جواب یہ ہے ۱۴۱

آٹھواں شبہ یہ ہے ۱۴۱

ا س شبہ کا جواب یہ ہے ۱۴۱

نواں شبہ یہ ہے ۱۴۲

اس شبہ کا جواب یہ ہے ۱۴۲

دسواں شبہ یہ ہے ۱۴۲


اس شبہ کا جواب یہ ہے ۱۴۲

سوالات ۱۴۳

ستائیسواں درس ۱۴۵

معجزہ ۱۴۵

نبوت کو ثابت کرنے کے را ستے۔ ۱۴۵

معجزہ کی تعریف۔ ۱۴۶

خارق عادت امور۔ ۱۴۶

الٰہی خارق عادت امور۔ ۱۴۷

انبیاء (ع) کے معجزات کی خصوصیات۔ ۱۴۸

سوالات ۱۴۸

اٹھائیسواں درس ۱۵۰

چند شبہات کا حل۔ ۱۵۰

پہلا شبہ یہ ہے ۱۵۰

دوسرا شبہ یہ ہے ۱۵۱

تیسرا شبہ یہ ہے ۱۵۲

مزید وضاحت: ۱۵۲

چوتھا شبہ یہ ہے ۱۵۳

نتیجہ: ۱۵۳

سوالات ۱۵۳

انتیسواں درس ۱۵۵


انتیسواں درس ۱۵۵

انبیاء علیہم السلام کی خصوصیات ۱۵۵

انبیاء علیہم السلام کی کثرت۔ ۱۵۵

انبیاء علیہم السلام کی تعداد۔ ۱۵۷

نبوت اور رسالت۔ ۱۵۷

اولوالعزم انبیاء علیہم السلام۔ ۱۵۸

چند نکات۔ ۱۵۸

سوالات ۱۵۹

تیسواں درس ۱۶۱

انبیاء علیہم السلام اور عوام ۱۶۱

مقدمہ ۱۶۱

انبیاء علیہم السلام کے مقابل میں لوگوں کا کردار۔ ۱۶۱

انبیاء علیہم السلام سے مخالفت کے اسباب۔ ۱۶۲

انبیاء علیہم السلام سے ملنے کا طریقہ۔ ۱۶۲

الف: تحقیر و استہزاء : ۱۶۲

ب:ناروا بہتان: ۱۶۳

ج: مجادلہ اور مغالطہ : ۱۶۳

انسانی معاشروں کی تدبیر میںبعض سنت الٰہی۔ ۱۶۴

سوالات ۱۶۴

اکتیسواں درس ۱۶۷


پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۶۷

مقدمہ ۱۶۷

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اثبات۔ ۱۶۹

سوالات ۱۷۰

بتیسواں درس ۱۷۲

اعجاز قرآن ۱۷۲

قرآن کا معجزہ ہونا۔ ۱۷۲

اعجاز قرآن کی صورتیں۔ ۱۷۳

الف ۔قرآن کی فصاحت و بلاغت۔ ۱۷۳

ب۔ قرآ ن لانے والے کا اُمیِّ ہونا۔ ۱۷۵

ج۔ اتفاق نظر اور عد م اختلاف۔ ۱۷۶

وضاحت: ۱۷۶

سوالات ۱۷۷

تیتیسواں درس ۱۷۹

قرآن کا تحریف سے محفوظ رہن ۱۷۹

مقدمہ ۱۷۹

قرآن میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہونا۔ ۱۸۰

قرآن سے کسی چیز کا کم نہ ہونا۔ ۱۸۰

سوالات ۱۸۱

چونتیسواں درس ۱۸۳


اسلام کا جہانی اور جاودانی ہونا ۱۸۳

مقدمہ ۱۸۳

اسلام کا جہانی ہونا۔ ۱۸۴

اسلام کے جہانی ہونے پر قرآنی دلائل۔ ۱۸۴

اسلام کا جاودانی ہونا۔ ۱۸۵

چند شبہات کا حل۔ ۱۸۵

سوالات ۱۸۶

پینتیسواں درس ۱۸۸

خاتمیت ۱۸۸

مقدمہ ۱۸۸

خاتمیت پر قرآنی د لائل۔ ۱۸۸

خاتمیت پر روائی دلائل۔ ۱۸۹

ختم نبوت کا راز۔ ۱۹۰

چند شبہات کے جوابات۔ ۱۹۱

سوالات ۱۹۲

چھتیسواں درس ۱۹۳

امامت ۱۹۳

مقدمہ ۱۹۳

مفہوم امامت۔ ۱۹۵

سوالات ۱۹۵


سیتیسواں درس ۱۹۷

امام علیہ السلام کی احتیاج ۱۹۷

مقدمہ ۱۹۷

وجودا مام علیہ السلام کی ضرورت۔ ۱۹۸

سوالات ۲۰۰

اڑتیسواں درس ۲۰۱

منصب امام ۲۰۱

سوالات ۲۰۴

انتالیسواں درس ۲۰۶

عصمت اور علم امام ۲۰۶

مقدمہ ۲۰۶

عصمت امام ۔ ۲۰۶

علم امام۔ ۲۰۸

سوالات ۲۱۱

چالیسواں درس ۲۱۴

حضرت مہدی (عج) ۲۱۴

مقدمہ ۲۱۴

جہانی حکومت الٰہی۔ ۲۱۴

وعدۂ الٰہی۔ ۲۱۶

چند روایتیں۔ ۲۱۷


غیبت ِاور اُس کا راز ۔ ۲۱۷

سوالات ۲۱۹

اکتا لیسواں درس ۲۲۲

شنا خت عا قبت کی اہمیت ۲۲۲

مقدمہ: ۲۲۲

قیا مت پر اعتقا د کی ا ہمیت وضرورت۔ ۲۲۲

قیا مت کے مسئلہ پر قر آن کی تا کید۔ ۲۲۴

نتیجہ۔ ۲۲۵

سوا لا ت ۲۲۶

بیا لیسوا ں درس ۲۲۷

مسئلہ قیامت اور مسئلہ رو ح کا با ہمی رابطہ ۲۲۷

زندہ مو جود ا ت کی وحد ت کا معیا ر۔ ۲۲۷

انسان کے وجود میں روح کا مقام(کردار) ۲۲۹

سوا لات ۲۳۰

تینتا لیسواں درس ۲۳۱

روح کا غیر محسوس ہونا (روح کا مجرد ہونا) ۲۳۱

مقدمہ: ۲۳۱

روح کے غیر محسوس ہو نے پر عقلی دلائل ۲۳۱

قرآنی دلائل۔ ۲۳۳

نتیجہ کلام۔ ۲۳۵


سوالات ۲۳۵

چوّالسیوا ں درس ۲۳۷

قیامت کا اثبات ۲۳۷

مقدمہ ۲۳۷

برہان حکمت۔ ۲۳۸

حکمت کے خلاف کام ہوتا۔ ۲۳۸

برہان عدا لت۔ ۲۳۹

سوالات: ۲۴۰

پینتالیسواں درس ۲۴۱

قرآن میں قیامت کا تذکرہ ۲۴۱

مقدمہ: ۲۴۱

قیامت کا انکار بے دلیل ہے۔ ۲۴۲

قیامت کے ما ند دوسرے حو ادث ۲۴۳

( الف )سبزوں کا اگنا۔ ۲۴۳

(ب)اصحا ب کہف کا سو نا۔ ۲۴۳

(ج) حیو انا ت کا زندہ ہو نا ۔ ۲۴۴

(د)اسی دنیا میں بعض انسانوں کا زندہ ہو نا ۔ ۲۴۴

دوسر واقعہ : ۲۴۵

سوا لا ت : ۲۴۵

چھیا لیسواں درس ۲۴۷


منکرین کے شبہات کے لئے قرآن کا جواب ۲۴۷

١۔فنا ہونے کے بعد دوبارہ پلٹنے کا شبہ۔ ۲۴۷

٢۔بدن میں دوبارہ حیات پانے کی صلاحیت نہ ہونے کا شبہ۔ ۲۴۸

٣۔ فاعل کی قدرت کے بارے میں شبہ۔ ۲۴۸

٤۔ فا عل کے علم کے با رے میں شبہ۔ ۲۴۹

سوالات: ۲۵۰

سینتالیسواںدرس ۲۵۱

قیامت کے بارے میں خدا کا وعدہ ۲۵۱

مقدمہ ۲۵۱

خدا کا سچا(حتمی)وعدہ: ۲۵۱

عقلی دلا ئل کی طر ف اشا رہ ۲۵۲

سوا لا ت: ۲۵۴

اڑ تا لیسواں درس ۲۵۵

عالم آخر ت کی خصو صیا ت (آخرت کی پہنچان) ۲۵۵

مقدمہ : ۲۵۵

عقل کی روشنی میں آخرت کی خصو صیا ت۔ ۲۵۷

توضیح: ۲۵۸

سوالات: ۲۵۸

انچاسواں درس ۲۶۰

موت سے قیامت تک ۲۶۰


مقدمہ: ۲۶۰

ہر ایک کو موت آنی ہے۔ ۲۶۱

روح قبض کرنے والا: ۲۶۱

قبض روح آسان ہے یاسخت؟ ۲۶۲

مو ت کے وقت ایما ن اور تو بہ کا قبول نہ ہو نا ۲۶۲

دنیا میں واپسی کی آرزو۔ ۲۶۳

عالم برزخ۔ ۲۶۴

سوالات: ۲۶۴

پچاسواں درس ۲۶۶

قرآن مجید میں قیامت کا نقشہ ۲۶۶

مقدمہ: ۲۶۶

زمین دریا اور پہاڑوں کی حالت ۲۶۷

آسمانوں اور ستاروں کی کیفیت ۲۶۷

موت کا صور۔ ۲۶۷

زندگی اور آغاز قیامت کا صور۔ ۲۶۷

الٰہی حکومت کا ظہور اور سببی ونسبی رشتوں کا خاتمہ۔ ۲۶۸

خدائی عدالت کامقدمہ(محاکمہ) ۲۶۸

ابدی ٹھکا نے کی طرف روانگی ۲۶۹

جنت۔ ۲۶۹

جہنم ۲۷۰


سو الات: ۲۷۱

اِکیاو نو اں درس ۲۷۷

دنیا کا آخر ت سے مقابلہ ۲۷۷

مقد مہ: ۲۷۷

دنیا کا فا نی ہو نا اور آخر ت کا ابدی ہو نا ( ہمیشہ با قی رہنا ) ۲۷۷

آخرت میں نعمت اور عذا ب کے ما بین جد ائی ۲۷۸

آخرت کا اصل ہو نا ۔ ۲۷۸

دنیا وی زندگی کو انتخا ب کر نے کا نتیجہ ۔ ۲۷۹

وضا حت ۔ ۲۷۹

سو الا ت: ۲۸۰

با ونواںدرس ۲۸۲

دنیا آخر ت کی کھیتی ہے ۲۸۲

مقدمہ: ۲۸۲

دنیا آخر ت کی کھیتی ہے ۲۸۲

دنیا کی نعمتیں آخرت کی سعادت (خوشبختی) کا سبب نہیں ۲۸۳

دنیا کی نعمتیں آخرت کی شقاوت ( بد بختی) کاسبب بھی نہیں ہو سکتیں ۲۸۴

نتیجہ کلا م: ۲۸۵

سوا لا ت: ۲۸۶

تر پنو اں در س ۲۸۸

دنیا و آخرت کے در میان را بطہ کی قسم ۲۸۸


مقدمہ : ۲۸۸

را بطہ حقیقی ہے یا قرار دادی (فر ضی) ۲۸۹

قر آنی دلیلیں: ۲۸۹

سوا لا ت : ۲۹۱

چوّ نواں درس ۲۹۲

ابدی خو شبختی یا بد بختی میں ایمان کا دخل ۲۹۲

مقدمہ: ۲۹۲

ایمان اور کفر کی حقیقت ۲۹۳

ایمان اور کفر کی حد(نصاب) ۲۹۴

ابدی خوشبختی یا بد بختی میں ایمان اور کفر کا دخل ۲۹۵

قر آنی دلیلیں ۲۹۵

سو الا ت : ۲۹۷

پچپنواں در س ۲۹۸

ایمان اور عمل کا آپس میں رابطہ ۲۹۸

مقدمہ : ۲۹۸

ایمان کا عمل سے رابطہ ۲۹۸

عمل کا ایمان سے رابطہ ۲۹۹

نتیجہ ۳۰۰

سو الا ت ۳۰۱

چھپنو ا ں در س ۳۰۲


مقدمہ : ۳۰۲

مقدمہ : ۳۰۲

انسان کا حقیقی کمال ۳۰۳

عقلی بیان ۳۰۴

خواہش(محرک)اور نیت کا کردار ۳۰۵

سوالات ۳۰۶

ستاو نواں درس ۳۰۷

حبط و تکفیر ۳۰۷

مقدمہ: ۳۰۷

ایمان اور کفر کا رابطہ۔ ۳۰۸

نیک وبد اعمال کا رابطہ ۳۰۸

سوالات ۳۱۰

اٹھاونواں درس ۳۱۱

مومنین کے امتیازات ۳۱۱

مقدمہ: ۳۱۱

ثوا ب میں اضا فہ ۳۱۲

گناہان صغیرہ کی بخشش ۳۱۲

دوسروں کے اعمال سے استفادہ ۳۱۳

سوالات ۳۱۳

انسٹھو اں درس ۳۱۴


شفا عت ۳۱۴

مقدمہ: ۳۱۴

شفا عت کا مفہو م ۳۱۵

شفا عت کے اصو ل ۳۱۶

سو الا ت: ۳۱۸

سا ٹھو اں درس ۳۲۰

چند شبھات کا حل ۳۲۰

شبہ (١) ۳۲۰

جو اب : ۳۲۱

شبہ (٢) ۳۲۱

جو اب : ۳۲۱

شبہ(٣) ۳۲۱

جو اب : ۳۲۱

شبہ (٤) ۳۲۲

جو اب : ۳۲۲

شبہ(٥): ۳۲۲

جوا ب: ۳۲۳

شبہ(٦) ۳۲۳

جو اب : ۳۲۳

شبہ(٧) : ۳۲۴


جو اب: ۳۲۴

سو الا ت : ۳۲۵

درس عقائد

درس عقائد

مؤلف: آیة اللہ مصباح یزدی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 92