یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : آموزش دین (جلد چهارم)
تالیف : آیة اللہ ابراہیم امینی
ترجمه : شیخ الجامعہ مولانا اختر عباس صاحب
نظرثانی : حجة الاسلام مولانا نثار احمد صاحب
ناشر : انصاریان پبلیکیشنز قم امقدسه ایران
تعداد : سه ہزار
کتابت : جعفرخان سلطانپور
عرض ناشر
کتاب تعلیم دین سادہ زبان میں حوزہ علمیہ قم کی ایک بلند پایہ علمی شخصیت حضرت آیة اللہ ابراہیم امینی کی گرامی مایہ تالیفات میں سے ایک سلسلہ ''آموزش دین در زبان سادہ'' کا اردو ترجمہ ہے_
اس کتاب کو خصوصیت کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لئے تحریر کیا گیا ہے_ لیکن اس کے مطالب اعلی علمی پیمانہ کے حامل ہیں اس بناپر اعلی تعلیم یافتہ اور پختہ عمر کے افراد بھی اسی سے استفادہ کرسکتے ہیں_
بچوں اور جوانوں کی مختلف ذہنی سطحوں کے پیش نظر اس سلسلہ کتب کو چارجلدوں میں تیار کیا گیا ہے_ کتاب خدا اس سلسلہ کتب کی چوتھی جلد کے ایک حصّہ پر مشتمل ہے جسے کتاب کی ضخامت کے پیش نظر علیحدہ شائع کیا جارہا ہے_
اس سلسلہ کتب کی امتیازی خصوصیات درج ذیل ہے_
___ کتاب کے مضامین گوکہ اعلی مطالب پر مشتمل ہیں لیکن انھیں دل نشین پیرائے اور سادہ زبان میں پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ بچّوں کے لئے قابل
فہم اور دلچسپ ہوں_
___ اصول عقائد کے بیان کے وقت فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے ہوئے اتنا سادہ استدلالی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ نوعمر طلباء اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں_
___ مطالب و معانی کے بیان کے وقت یہ کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والوں کی فطرت خداجوئی بیدار کی جائے تا کہ وہ از خود مطالب و مفاہیم سے آگاہ ہوکر انھیں دل کی گہرائیوں سے قبول کریں اور ان کا ایمان استوار پائیدار ہوجائے_
___ ہماری درخواست پر حضرت حجة الاسلام و المسلمین شیخ الجامعہ الحاج مولانا اختر عباس صاحب قبلہ دام ظلہ نے ان چاروں کتابوں کا ترجمہ کیا_
ان کتابوں کو پہلا ایڈیشن پاکستان میں شائع ہوا تھا اور اب اصل متن مؤلف محترم کی نظر ثانی کے بعد اور اردو ترجمہ حجة الاسلام جناب مولانا نثار احمد ہندی کی نظر ثانی اور بازنویسی کے بعد دوبارہ شائع کیا جارہا ہے اپنی اس ناچیز سعی کو حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں
___ ہماری دلی آرزو ہے کہ قارئین گرامی کتاب سے متعلق اپنی آراء اور قیمتی مشوروں سے مطلع فرمائیں
والسلام ناشر محمد تقی انصاریان
باب اوّل
خالق کائنات ''خدا'' کے بارے میں
کائنات میں نظم اور ربط
ایک کتاب سامنے رکھئے وہ ہزاروں حروف اور الفاظ اور جملوں سے ملکر بنی ہوگی، ان حروف اور الفاظ کا آپس میں کیا تعلق ہوگا؟ کیا انھیں کسی تعلق کے بغیر ایک دوسرے کے نزدیک رکھا گیا ہے؟ یا کسی خاص ربط و تعلق سے انہیں ایک دوسرے سے جوڑا گیا ہے ___؟
جب آپ اس کتاب کو پڑھ چکیں گے تو تمام حروف اور الفاظ اور مختلف جملے اور کتاب کے مختلف حصّے آپس میں مربوط اور متناسب پائیں گے اور یہ سب ایک غرض کو پورا کر رہے ہوں گے اور یہ تمام حروف و کلمات ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوں گے اور ہر ایک اپنی جگہ ایک خاص مقام رکھتا ہوگا_
اس طرح آپ کو معلوم ہوگا کہ ان حروف اور کلمات کا لکھنے والا عاقل اور با شعور انسان ہے اور اس کام کے انجام دینے سے پہلے وہ اس سے آگاہ تھا
اور ان حروف اور کلمات کو اس طرح منظم کرنے میں اس کا ایک خاص مقصد تھا اور وہ اس کام کے انجام دینے کی قدرت اور مہارت رکھتا تھا_
کیا آپ کے ذہن میں یہ خیال آسکتا ہے کہ یہ کتاب خودبخود ایک حادثہ کے طور پر بغیر کسی مقصد کے وجود میں آگئی ہوگی؟
کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک بے شعور ''موجود'' جیسے ہوا'' نے قلم کو کاغذ پر چلایا ہوگا اور اس قسم کی کتاب لکھ ڈالی ہوگی؟
نہیں__ ہرگز آپ کے ذہن میں یہ خیال نہیں آئے گا کہ یہ کتاب خودبخود اور بغیر کسی مقصد کے وجود میں آگئی ہوگی_ اور یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ یہ کتاب کسی ایسے ذریعہ سے جو علم اور شعور نہ رکھتا ہو ایک حادثہ کے طور پر لکھی گئی ہوگی_ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر موجود کسی مناسب علّت اور سبب سے وجود میں آتا ہے اور اگر کوئی اس کے برعکس کہے بھی تو آپ اس پر ہنسیں گے_ اور اس کی اس بات کو غیر عاقلانہ کہیں گے_
پس ایک کاب کے کلمات اور حروف میں نظم و ضبط اور ربط و تعلق سے دو چیزیں سمجھ میں آتی ہیں:
ایک یہ کہ اس کا کوئی مؤلف او رلکھنے والا عقل و علم اور مہارت و قدرت رکھتا ہوگا اور اس کام کے ذریعہ اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوگا_
اس طرح ہر منظم اور بامقصد چیز اپنے بنانے والے کی عقل، تدبیر اور قدرت کو ظاہر کرے گی_ نیز اس چیز میں پایا جانے والا نظم اور بناوت کی عمدگی اس کے بنانے والے کی قدرت اور اس علم کے مقام کا اظہار ہوگی_
یہ کائنات بھی ایک عظیم کتاب کی مانند ہے جو مختلف کلمات اور حروف اور جملوں پر مشتمل ہے اور اس جہان کا ہر موجود اور اس میں پیش آنے والا ہر حادثہ اس کتاب کا ایک حرف یا کلمہ یا جملہ ہے_ اس جہان کے موجو دات اور حوادث، منتشر، بے ربط اور بے نظم ہیں بلکہ ایک کتاب کے حروف اور کلمات کی طرح منظم اور ایک دوسرے سے متصل ہیں_
اس عالم کی ایک بڑی کتاب انسانی بدن کی ساخت کو دیکھئے جو اس کائنات کی کتاب کا ایک کلمہ ہے_ اس میں سینکڑوں نازک نظاموں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے_ یہ تمام باعظمت نظام ایک چیز کو تشکیل دے رہے ہیں کہ جس کے تمام اجزاء آپس میں مربوط ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور دوسرے کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں_ انسانی بدن کے مختلف اجزاء اور نظام ایک عظیم کارخانہ کی مانند ہیں اور سب ایک دوسرے سے وابستہ ہیں_ انسانی بدن کے تمام اعضاء پورے نظم و ضبط سے کام کرتے ہیں تا کہ انسان اپنی زندگی کو جاری رکھ سکے_
انسان کا بدن تنہا اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتا بلکہ وہ دوسرے موجودات جیسے پانی، ہوا اور مختلف غذاؤں، درخت، نباتات، حیوانات اور زمین کے فطری سرچشموں کا محتاج اور ضرورت مند ہے_ ان کے بغیر زندگی نہیں بسر کرسکتا اور پھر یہ تمام چیزیں سورج کی روشنی، دن، رات کی منظم حرکت اور گرمی و سردی کے موسم سے ربط رکھتی ہیں اس طرح یہ ساری چیزیں ایک ایسی حقیقی وحدت کو تشکیل دیتی ہیں کہ گویا ایک کامل نظم اور ضبط انکے درمیان کار فرما ہے_
کائنات کی اس عظیم کتاب کو غور سے دیکھئے اور اس کے حسین و جمیل کلمات
پر نگاہ ڈالئے اس کے ہر ایک کلمہ میں گہرا نظم و ضبط پائیں گے_
کیا دیکھیں گے____؟
آپ اچھی طرج جان لیں گے کہ خلقت کا اتنا بڑا مجموعہ بغیر کسی غرض اور مقصد کے اتفاقی طور پر وجود میں نہیں آیا ہے_ بے شعور مادہ اور طبیعت اس قسم کے گہرے اور بامقصد نظام کو وجود میں نہیں لاسکتا_ ایسی ضخیم اور پر معنی کتاب مادہ کی تالیف نہیں ہوسکتی____؟
اس جہان اور اس کے نظم و ضبط کو جان لینے کے بعد اس کا حقیقی سبب آپ کی سمجھ میں آجائے گا اور آپ جان لیں گے کہ اس جہان کا کوئی پیدا کرنے والا ہے جو عالم اور قادر ہے_ جس نے اپنے علم اور تدبیر سے اس جہان کو کسی خاص غرض اور مقصد کے لئے خلق کیا ہے اور اسے چلارہا ہے_ لہذا آپ جس طرف نگاہ ڈالیں گے اور جس مخلوق کا مطالعہ کریں گے خالق جہان کے علم اور قدرت کے آثار آپ پر ظاہر ہوں گے_
خلقت عالم کا مشاہدہ اور مطالعہ خداشناسی کے طریقوں میں سے ایک بہترین طریقہ ہے جسے برہان نظم کا نام دیا گیا ہے_ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں تاکید کی گئی ہے کہ زمین، آسمان، سورج اور ستارے، حیوانات، نباتات، دن اور رات کی منظم گردش اور انسان کے وجود میں پائے جانے والے عجائبات مختلف شکلیں اور رنگ اور مختلف زبانوں کے وجود میں آنے کے متعلق غور و فکر کرو تا کہ خالق جہان کی معرفت حاصل کرسکو_ اور اس کی عظمت و قدرت کو معلوم کرسکو_
( و من ایته خَلقُ السَّموات وَ الَارض وَ اختلَافُ اَلسنَتكُم وَ اَلوَانكُمُ
انَّ فی ذلكَ لَای ت: للعلمینَ ) _
''سورہ روم ۳۰ آیت ۲۲''
اللہ تعالی کے علم اور قدرت کی نشانیوں
میں سے زمین اور آسمان کی خلقت اور تمہاری مختلف زبانوں اور مشکلوں کاہونا ہے اور یہ سوچنے والوں کے لئے بہت زیادہ نشانیاں ہیں''
سوچیے اور جواب دیجئے
۱_ ایک کتاب کے حروف اور الفاظ کے آپس میں ربط کو دیکھ آپ کیا سمجھتے ہیں:
۲_ اس سبق میں کائنات کو کس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے؟ اور تشبیہ دینے کا کیا مقصد ہے؟
۳_ خلقت جہان میں نظم و ضبط اور ارتباط کی کوئی مثال دیجئے
۴_ اس کائنات میں پائے جانے و الے نظم و ضبط اور ارتباط پر غور کرنے سے ہم کیا سمجھتے ہیں؟ اور خالق جہان کی کون سی صفت کو اس سے معلوم کرسکتے ہو؟
۵_ برہان نظم کسے کہا جانا ہے؟ اس دلیل کا خلاصہ کیا ہے
۶_ قرآن مجید کی آیات میں خالق کائنات کے پہچاننے کے لئے
کن چیزوں میں غور کرنے کے لئے کہا گیا ہے؟
۷_ برہان نظم کی کوئی مثال آپ پہلے پڑھ چکے ہیں؟ اگر ہاں تو اسے بیان کیجئے؟
کائنات پر ایک نگاہ
دیہات میں صبح کی لطیف اور فرحت بخش ہوا چل رہی ہے_ اس زندہ دل بوڑھے کو دیکھئے کہ صبح کی دودھیا روشنی میں اوپر نیچے ہو رہا ہے، کس ذوق و شوق اور چابکدستی سے گندم کی کٹائی کر رہا ہے_
اس کی گنگنانے کی لے کو سینے یہ دن اور رات، چاند کی روشنی یا اللہ اس کے بیٹھے بھی اس کی مدد کو پہنچ چکے ہیں_ ان میں سے کچھ باپ کی مدد کر رہے ہیں اور ایک جلانے کے لئے خشک لکڑیاں اکٹھی کر رہا ہے_ شاید کہ باپ اور بھائی بہنوں کے لئے چائے بنانا چاہتا ہے تا کہ سب مل کر ناشتہ کریں_
کیا آپ ان کے مہمان بننا پسند کریں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ لوگ مہربان اور مہمان نواز ہیں اور آپ کی اچھی طرح خاطر مدارات کریں گے_
اس بچے کے نزدیک بیٹھیئےتھوڑی دیر صبر کیجئے اور دیکھئے کہ کس طرح سورج ان پہاڑوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے اور کس خوبصورتی سے کھیتوں اور کھلیانوں پر نور بکھیرتا ہے_ سچ مچ سورج طلوع ہر کر پہاڑوں اور میدانوں کو کیسی خوبصورتی اور پاکیزگی بخشتا ہے_
غور کیجئے کہ اگر سورج طلوع نہ ہوتا اور ہمیشہ رات اور تاریکی ہوتی تو ہم کیا کرتے____؟ کبھی سوچا ہے کہ سورج یہ ساری روشنی اور توانائی کسطرح فراہم کرتا ہے____؟
کیا آپ کو سورج کا حجم معلوم ہے____؟
سورج کا حجم زمین سے دس لاکھ گنا زیادہ ہے_ یعنی سورج اگر ایک خالی کرّہ ہو تو ہماری زمین کے برابر دس لاکھ زمینیں اس کے اندر سماجائیں_ اس بڑے آتشی کرّہ کا درجہ حرارت ۶۰۰۰ ہے_
کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج اتنی شدید گرمی اور اتنے زیادہ درجہ حرارت کے باوجود کیوں زمین اور اس پر موجود چیزوں کو جلا نہیں ڈالتا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سورج، زمین سے ایک مناسب اور مقرر فاصلہ (ڈیڑھ کروڑ کلومیٹر) پر ہے_ اور اس کی روشنی اور توانائی صرف ضرورت کے مطابق کرہ زمین پر پہنچتی ہے_
کبھی آپ نے سوچا کہ سورج اور زمین کا درمیانی فاصلہ اگر اس مقدار میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا____؟
اگر سورج اور زمین کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے کم ہوتا مثلاً اگر نصف ہوتا تو کیا ہوتا____؟
ہاں زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا اور سورج کی تمازت تمام بناتات حیوانات اور انسانوں کو جلا ڈالتی_
اور اگر سورج اور زمین کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے زیادہ ہوتا مثلاً موجودہ فاصلے سے دوگنا ہوتا تو کیا ہوتا____؟
اس صورت میں روشنی اور حرارت ضرورت کے مطابق زمین پر نہ پہنچتی اور تمام چیزیں سرد اور مردہ ہوجاتیں_ تمام پانی برف ہوجاتا، کہیں زندگی کا نام و نشان نہ ملتا_
واضح رہے کہ زمین اور سورج کا یہ فاصلہ وسیع علم و آگاہی او رگہرے حساب و کتاب کے ساتھ معین کیا گیا ہے_
گندم کی خوشنما بالیاں، سورج کی روشنی اور حرارت سے ہی اتنی بڑی ہوئی ہیں_ سورج ہی کی حرارت کے سبب یہ تمام بناتات اور درخت نشو و نما پاکر ہمارے لئے پھل اور دوسری طرح طرح کی اجناس پیدا کرتے ہیں_ مختلف غذائیں جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں سورج کی توانائی ہی سے بالیدگی حاصل کرتی ہیں، در حقیقت یہ سورج ہی کی توانائی (انرجی) ہے کہ جو نباتات اور دیگر تمام غذاؤں میں ذخیرہ ہوتی ہے اور ہم اس سے طاقت و قوت حاصل کرتے ہیں_
حیوانات نباتات کی ذخیرہ شدہ توانائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم حیوانات کے ذریعہ بھی اس توانائی سے فیض یاب ہوتے ہیں_
مثلاً حیوان گھاس چرتے ہیں اور ہمیں دودھ دیتے ہیں اور ہم گوشت اور دودھ سے بنی ہوئی دوسری غذاؤں سے استفادہ کرتے ہیں_ مختصر یہ کہ سورج توانائی کا منبع ہے_
یہ سورج ہی کی توانائی ہے جو اس لکڑی میں موجود ہے اور اب یہ ان محنت کش باپ بیٹوں کے مہمانوں کے لئے چائے کا پانی ابال رہی ہے_
اے ان باپ بیٹوں کے معزز مہمانو آپ خورشید کی پر شکوہ اور حسین صورت سے اور اس کے اور زمین کے درمیان فاصلہ میں پائے جانے والے گہرے حساب و کتاب سے اور نباتات و حیوانات اور انسانوں کے اس کی روشنی اور توانائی سے فائدہ اٹھانے سے کیا سمجھتے ہیں____؟
آپ کائنات کی مختلف اشیاء کے درمیان پائے جانے والے حیرت انگیز ارتباط اور ہم آہنگی سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ اور کیا یہ کائنات ایک غیر منظم اور بے ربط اشیاء کا مجموعہ ہے یا ایک مکمل طور پر ہم آہنگ اور مربوط اشیاء کا مجموعہ ہے____؟
یقینا آپ جواب دیں گے کہ:
ہم کائنات کو ایک بہت بڑے اور مکمل طور پر ہم آہنگ اشیاء کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں او رہم خود بھی اس کا ایک حصہ ہیں_
اس عظیم، ہم آہنگ اور بڑے مجموعہ کو دیکھ کر آپ کے دل میں کیا خیال آتا ہے___؟
یہ نظم اور حساب جو اس عظیم جہان کے تمام اجزاء میں پایا جاتا ہے کس چیز کسی نشاندہی کرتا ہے___؟
کیا اس سوال کا یہ غیر عاقلانہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا خالق کوئی نادان اور جاہل و ناتواں موجود ہے___؟
ہمارا بیدار ضمیر اور عقل سلیم یہ جواب کبھی پسند نہیں کرے گی بلکہ کہے گی
کہ یہ عظیم نظم و ضبط اور اشیاء عالم کے درمیان ہم آہنگی اس کے بنانے والے کی عظمت اور قدرت اور علم کی علامت ہے کہ جن کی وجہ سے اس نے موجودات عالم کو اس طرح بنایا ہے او رخالق ہر ایک مخلوق کی ضروریات سے اپنے علم اور بصیرت کی بنا پر پہلے سے آگاہ تھا اس لئے اس نے کائنات کی ہر چیز کی ضروریات کو پورا کیا ہے اور ہر ایک کے لئے ایک مقصد اور اس تک پہنچنے کا راستہ معین کیا ہے_
وہ خالق عالم اور قادر کون ہے___؟
وہ عالم توانا اور قادر خدا ہے کہ جس نے یہ تمام نعمتیں ہمارے لئے پیدا کی ہیں اور ہمارے اختیار میں دے دی ہیں_ سورج اور چاند اور زمین کو ہمارے لئے مسخر کردیا ہے تا کہ کوشش اورمحنت سے زمین کو آباد کریں او رعلم و دانش حاصل کر کے اس دنیا کے عجائبات سے پردہ اٹھادیں اور اپنے پروردگار اور خالق کی عظمت کی نشانیوں کو دیکھیں اور ان نشانیوں سے اس کی بے انتہا قدرت اور کمال کا نظارہ کریں اور اس سے راز و نیاز اور مناجات کریں_
کیونکہ
''انسان خدا سے راز و نیاز اور مناجات کے وقت ہی اپنے اعلی اور صحیح مقام پر ہوتا ہے_ اگر انسان اپنے پروردگار سے دعا اور مناجات نہ کرے تو ایسی زندگی کس کام کی ہوگی؟
اور ایسا انسان کتنا بے قیمت ہوگا_''
دن اور رات کی پیدائشے کو دیکھئے اور صبح و شام ، دن ورات کے پیدا کرنے والے سےمناجات کیجئے _ کیا آپ جانتے ہیثں کہ زمین کی حرکت سے دن
اور رات پیدا ہوتے ہیں_ زمین ایک دن اور رات میں اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے_ زمین کا وہ آدھا حصّہ جو سورج کے سامنے ہوتا ہے وہ دن کہلاتا ہے اور دوسرا حصّہ تاریک اور رات ہوتا ہے_
زمین کی اسی محوری گردش سے گویا دن، رات میں اور رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور دن و رات مستقل یکے بعد دیگرے ایک ترتیب سے آتے جاتے رہتے ہیں_ دن میں سورج کی گرمی او رحرارت سے نباتات اور درخت نشو و نما پاتے ہیں اور دن ہی میں انسان کام کاج اور محنت و مشقت کرتے ہیں اور پر سکون رات میں آرام کر کے اور مناجات بجالاکر اگلے دن کے لئے نئی قوت حاصل کرتے ہیں اور دوسرے دن کے لئے کام کاج اور عبادت الہی کے لئے خود کو تیار کرتے ہیں_
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آپ دن بھر کی محنت و مشقت اور عبادت و ریاضت کے بعد رات کو مناجات بجالاکر پر سکون میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہوتے ہیں تو خالق کائنات کا یہ مربوط نظام اپنے نظم و ضبط اور ربط و ہم آہنگی کے کچھ اور تماشے دکھا رہا ہوتا ہے_
جی ہاں سورج سے حاصل کردہ روشنی اور توانائی سے چاند ہمیں نہ صرف ٹھنڈی اور فرحت بخش چاندنی سے نوازتا ہے بلکہ اسی چاندنی سے سمندر میں مدّ و جزر یعنی جوار بھاٹا آتا ہے_ تپتے ہوئے صحراؤں کی ریت ٹھنڈی ہوکر کاروانوں کے لئے آغوش مادر بن جاتی ہے_
یقین جایئےھیتوں میں سبز یاں نمو پاتی ہیں_ بلکہ اگر آپ ککڑی کے کھیت میں کسی نوزائیدہ ککڑی پر نظر ٹکا کر بیٹھ جایئےو دیکھیئے گا کہ اسی چھٹکی ہوئی
چاندنی میں آناً فاناً ککڑی جست لگا کر بڑھ جاتی ہے_
اسی رات میں ابر نیساں برستا ہے جس سے سیپی میں ہوتی_ بانس میں بنسلوچن، کیلے میں کافور او سانپ میں زہر مہرہ پیدا ہوتا ہے_
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زمین اس طرح منظم اور ایک خاص حساب سے حرکت میں نہ ہوتی تو کیا ہوتا___؟
زمین کے بعض حصّے ہمیشہ تاریکی میں ڈوبے رہتے_ ہمیشہ رات کا سماں ہوتا اور اس قدر سردی ہوتی کہ برف جمی رہتی_ اور بعض حصّوں میں ہمیشہ دن اور روشنی او رجھلسا دینے والی گرمی ہوتی_
دن اور رات کی پیدائشے بھی خالق کائنات کی قدرت، عظمت، علم، دانائی اور توانائی کی واضح نشانی ہے_
کیا آپ اس محنت کش بوڑھے سے چند سوال کرنا چاہیں گے___؟
صبر کیجئے، جب وہ ناشتہ کرنے کے لئے آپ کے پاس بیٹھے تو اس سے سوال کیجئے گا اور پوچھئے گا کہ گندم کے خوشنما خوشوں کے مشاہدے اور ان لہلہاتے کھیتوں اور حسین و جمیل فلک بوس پہاڑوں اور دل کش مرغزاروں کو دیکھ کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں___؟
اور اس سے پوچھئے گا کہ دن او ررات کی گردش اور آفتاب کے طلوع و غروب سے آپ کیا سمجھتے ہیں____؟
اور سوال کیجئے گا کہ سورج اور چاند کے کام اور ان میں پائے جانے والے نظم و ضبط کے مشاہدے سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج کا نور اور چاند کی روشنی کو کس نے پیدا کیا ہے___؟
پھر اس کی باتوں کو غور سے سینئے گا اور دیکھیئے گا کہ وہ آپ کو کتنا عمدہ اور سادہ جواب دیتا ہے اور ملاحظہ فرمایئےا کہ وہ اس جہان کو دیکھ کر اس کے خالق کے عالم و قادر ہونے اور اس کے عظمت و قدرت والا ہونے کا کس طرح نتیجہ نکالتا ہے اور کس ایمان و خلوص اور دل کی گہرائیوں سے اپنے خالق کے حضور مناجات کرتا ہے اس کی آواز کو خوب کان لگا کر سینئے گا کہ وہ اس شعر کو گنگنا کر کتنا عمدہ جواب دیتا ہے:
این شب و روز و این طلوع و غروب بر وجود خدا دلیل خوب نظم در کار ماہ و خورشید است نظم عالم نشان توحید اس نور خورشید و روشنائی ماہ باشد از جانب تو یا اللہ
یا اللہ
آیت قرآن
( و من ای ته خلق السّموت و الارض و ما بثّ فیهما من دآبّة)
اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں سے (ایک) زمین اور آسمان کی خلقت او رجوان میں حرکت کرنے والے ہیں''
(سورہ شوری آیة ۲۹)
سوچئے اور جواب دیجئے
۱) ___ سورج کے کرّہ کا حجم زمین کے حجم سے کتنا زیادہ ہے؟ سورج کی سطح کا درجہ حرارت کتنا ہے؟
۲)___ سورج کی اتنی حرارت او رگرمی کے باوجود کرہ زمین کیوں نہیں جلتا؟ سورج زمین سے کتنے فاصلے پر ہے؟
۳)___ اگر سورج کا زمین سے اتنا فاصلہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ مثلاً اگر آدھا فاصلہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ او راگر دوگنا فاصلہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
وضاحت کیجئے؟
۴) ___ سورج کا زمین سے او رموجودات زمین سے ارتباط کیا بتاتا ہے؟
۵)___ کائنات میں پائے جانے والے گہرے حساب و کتاب اور نظم و ضبط کا مشاہدہ کس طرح خالق عظیم اور دانا و توانا کی طرف راہنمائی کرتا ہے؟
۶)___ ایک انسان کی بہترین اور بلند پایہ حالت کس وقت ہوتی ہے؟
۷)___ زمین کی طبعی حرکت کو بیان کیجئے اور اس حرکت کا نتیجہ انسانوں کیلئے کیا ہوتا ہے بیان کیجئے اور وضاحت کیجئے کہ اگر زمین کی یہ طبعی حرکت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟
۸)___ اس سبق میں بیان کی گئی آیت قرآن کو زبانی ترجمہ کے ساتھ یاد کیجئے؟
ہر موجود کی علّت ہوتی ہے
درخت کے پتّے آہستہ آہستہ حرکت کر رہے ہیں_ اگر سوال کیا جائے کہ درخت کے پتّے کیوں حرکت کر رہے ہیں اور پتّوں کے حرکت کرنے کا سبب کیا ہے؟
تو جواب ہوگا:
ہوا پتّوں کو حرکت دیتی ہے_ پتّوں کے حرکت کرنے کا سبب ''ہوا'' ہے اگر ہوا نہ چلے تو پتّوں کی حرکت بھی ک جائے_ بالفاظ دیگر ہوا کا وجود پتّوں کے حرکت کرنے کی ''علّت'' ہے_ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پتّوں کی حرکت ''معمولی'' ہے اور ہوا ''علّت'' ہے_
''معمول'' اسے کہا جاتا ہے جو ''علّت'' کے ذریعہ سے وجود میں آئے _ اسی لئے اسے معلول کہا جاتا ہے_
آپ کے سامنے درخت سے ایک سرخ سیب زمین پرگرتا ہے_ آپ جھک
کر اسے زمین سے اٹھا کر سونگھتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ:
یہ سیب درخت سے کیوں گرا؟ اس کے گرنے کی علّت کیا تھی؟
زمین کی کشش ثقل، سیب کو اپنی طرف کھینچی ہے_ سیب کے گرنے کی ''علّت'' کشش ثقل ہے_
یہاں اس سلسلہ میں دو چیزیں ہیں_ ایک ''سیب کا گرنا'' اور دوسرا ''زمین کی کشش ثقل''_ کشش ثقل ''علّت'' ہوگی اور سیب کا گرنا ''معلول'' ہوگا_
اگر دیوار سے ٹیک لگائیں تو آپ اپنی پشت پر گرمی محسوس کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ دیوار کیوں گرم ہوگئی ہے؟ دیوار کے گرم ہونے کی علّت کیا ہے؟
آپ کا دوست کہتا ہے کہ مجھے علم نہیں_ آپ اٹھ کر کمرے سے باہر جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دیوار کے پیچھے ایک بڑی سیاہ دیگ کے نیچے آگ جل رہی ہے_ آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ دیوار کے گرم ہونے کی ''علّت'' یہ آگ تھی_
یہاں بھی دو چیزیں موجود ہیں جو ایک دوسرے سے واسطہ رکھتی ہیں_ ایک دیوار کی گرمی اور دوسرے آگ کا وجود_ دیوار کی گرمی آگ کی وجہ سے ہے_ یعنی اگر آگ نہ ہوتی تو دیوار گرم نہ ہوتی_ اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آگ کا وجود ''علّت'' ہے اور دیوار کی گرمی اس کا ''معلول'' ہے_ علّت اور معلول کے درمیان مکمل رابطہ پایاجاتا ہے جب تک علّت نہ ہوگی معلول وجود میں نہیں آئے گا_ معلول ہمیشہ علّت کے ذریعہ وجود میں آتا ہے_
انسان اپنی زندگی کے آغاز سے ہی اس روشن حقیقت سے واقف ہے او رجانتا ہے کہ کائنات میں پائی جانے والی مختلف چیزوں کا ایک دوسرے سے ایک خاص تعلق ہوتا ہے___؟
اور ____ کائنات کی یہ موجودات اپنے وجود و زندگی کے لئے ایک دوسرے کی محتاج ہیں_
چند مثالیں اور تجربات
اپنا ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھایئے
ہاتھ کو بڑھانا آپ کا کام ہے اور آپ اس کام کی علّت ہیں_ اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کام انجام نہیں پاسکتا تھا_
اسی طرح نگاہ اٹھا کر اپنے دوست کی جانب دیکھئے
یہ دیکھنا وہ کام ہے جو آپ انجام دے رہے ہیں_ بالفاظ دیگر آپ دیکھنے کی علّت ہیں_ یہ کام یعنی دیکھنا آپ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کام کے لئے آپ کا ہونا ضروری ہے_ اگرآپ نہ ہوں تو دیکھنے کا یہ عمل انجام نہیں پاسکتا لہذا آپ ''علّت'' ہیں اور آپ کا کیا ہوا کام ''معلول''_ اس طرح یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ''معلول'' کا وجود ''علت'' کا محتاج ہے اور بغیر علّت کے معلول وجود میں نہیں آسکتا_
آپ اپنے دوست کی بات سنتے ہیں_
یہ سننا آپ کا کام ہے اور آپ کے وجود سے تعلق رکھتا ہے اگر آپ کا وجود نہ ہو تو آپ اپنے دوست کی بات نہیں سن سکتے_
آپ اپنے دوست سے محبت کرتے ہیں_
یہ محبت کرنا بھی آپ کے وجود کا محتاج ہے_ کیونکہ اگر آپ نہ ہوں
تو آپ محبت بھی نہیں کرسکتے____ کیا ایسا نہیں ہے___؟
آپ کائنات میں پائی جانے والی بہت سی چیزوں کا علم رکھتے ہیں_
آپ کا یہ علم و دانش آپ کے وجود سے وابستہ ہے_ اگر آپ نہ ہوں تو وہ علم و دانش کہ جو آپ کے وجود کا معلول ہے وہ بھی نہ ہوتا_ آپ اپنے اور اپنے علم و محبت اور اپنے ارادے کے ساتھ ایک خاص وابستگی کو محسوس کرتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح آپ کے علم اور محبت اور ارادے کا وجود آپ کے وجود کے ساتھ مربوط اور آپ کے وجود کا محتاج ہے_
آپ حرکت کرتے ہیں، کوئی چیز لکھتے ہیں، راستہ چلتے ہیں، بات کرتے ہیں، سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں، جانتے ہیں ارادہ کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں_ یہ سب آپ کے کام ہیں اور آپ ان کے وجود کی علّت ہیں اور انہیں وجود میں لاتے ہیں_ اور اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کام بھی وجود میں نہ آتے_ ان کاموں کا موجود ہونا آپ کے وجود محتاج ہے اور اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ تمام کام ''معلول'' ہیں اور آپ ان کی ''علّت'' ہیں_ وہ خاص ربط جو ان کاموں کا آپ کے وجود کے ساتھ برقرار ہے اسے علّت کہا جاتا ہے_
انسان علّت کے مفہوم کو اچھی طرج جانتا ہے _ وہ ابتداء زندگی سے ہی اس سے آشنا ہے_ اور اس سے واسطہ رکھتا ہے_ مثلاً پیاس بجھانے کے لئے پانی تلاش کرتا ہے اور بھوک مٹانے کے لئے غذا ڈھونڈتا ہے_
کیا آپ، جانتے ہیں یہ کیوں ہوتا ہے___؟
یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ پیاس بجھانے کی علّت پانی ہے، وہ بھوک ختم کرنے کی علّت غذا کو سمجھتا ہے_ کیوں سردی کے
وقت آگ کے نزدیک پناہ لیتا ہے_ اس لئے کہ آگ کو گرمی کی علّت جانتا ہے اگر کوئی آواز سنتا ہے تو اس کی علّت کی جستجو کرتا ہے____ کیوں؟
اس لئے کہ ہر موجود علّت کا محتاج ہے (انسان)_ بجلی جلانے کے لئے بٹن دباتا ہے، بیماری دور کرنے کے لئے دوا حاصل کرتا ہے_ اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے بولتا ہے_
قانون علّت، ایک عالمگیر او رکلی قانون ہے اور تمام انسان اس کے مفہوم سے آگاہ ہیں اور اسے محسوس کرتے ہیں_ تمام لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور زندگی کو اس پر استوار کرتے ہیں_ تمام لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور زندگی کو اس پر استوار کرتے ہیں_ اگر انسان علّت کو نہ سمجھتا اور اس پر یقین نہ رکھتا تو اس کے لئے زندگی گزارنا ممکن نہ ہوتا اور کسی کام کی انجام دہی کے لئے اقدام نہ کرپاتا_
انسان نے قانوں علّت کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے، اسی لئے ہر موجود کے لئے اس کی علّت کی جستجو کرتا ہے_
کیوں کہتا ہے کہ پتّوں کی حرکت کا سبب کیا ہے؟
کیوں سیب درخت سے گرتا ہے؟
اسی قانون علّت کی بنیاد پر انسان مختلف قسم کی پیش گوئیاں، کرتا ہے کیونکہ وہ قانون علّت کو قبول کرتا ہے اسی لئے ہر علّت کے نتیجہ امیں ایک خاص موجود و معلول کی توقع رکھتا ہے_ سورج سے روشنی، آگ سے گرمی، پانی اور غذا سے بھوک اور پیاس کے دور کرنے کی امید رکھتا ہے_
قانون علّت ''جیسے کہ آپ کو علم ہوچکا ہے'' یہ بتاتا ہے کہ ہر موجود کا کسی دوسری چیز سے ربط ہے اور وہ اسکا محتاج ہے کہ جسے علت کا نام دیا جاتا ہے مثلاً دیوار کا گرم ہونا ایک
نئی چیز کا وجود تھا کہ جس اپنے گرمی دیوار کے پیچھے سے جلائے ہوئی آگ سے حاصل کی تھی ہمیشہ معلول کا وجود علّت کے وجود ظاہر ہوتا ہے اور علت کا محتاج ہوتا لیکن علت کو معلول کی احتیاج نہیں ہوتی
سوال :
اب ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ اس کائنات اور جو کچھ اس میں موجود ہے اس کی علّت کیا ہے؟ زمین اور آسمان اور سورج اور ستاروں کے وجود کا سرچشمہ کیا ہے___؟ یہ کائنات بھی ایک وجود ہے اور دوسرے چھوٹے بڑے موجودات کی طرح کسی چیز سے وابستہ اوراپنے وجود کے لئے محتاج ہے ___ یہ کس سے وابستہ اور کس کی محتاج ہے؟ اس کے وجود کی علّت کیا ہے؟ وہ کون سا غیر محتاج و بے نیاز وجود ہے کہ جس نے اس محتاج کائنات کووجود بخشا ہے ؟ اس جہان کے وجود کی علّت کیا ہے؟
انسان کی عقل اور وجدان کہ جس نے قانون علّیت کو ایک ضابطہ اور فارمولے کے طور پر قبول کر لیا ہے جو قادر اور توانا ہے _ جس نے اسے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے اور اسے چلارہا ہے اور اس کی عظمت و قدرت تمام جہان پر سایہ فگن ہے_
یہ کائنات اسی سے وابستہ اور اسی کی محتاج ہے_ اس جہان کا سرچشمہ اور علّت وہی ہے_ وہ اس کائنات کا قادر و توانا اور بے نیاز خالق ہے___ وہ خدا قادر مطلق ہے ہستی دینے والا خدا ہے جو جہان کو
ہستی اور وجود کا نور عطا کرتا ہے_ اور ہر لحظہ اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے وہ عالم اور قادر ہے_ اس نے یہ کائنات خلق کی _ اس میں نظم و ضبط و ہم آہنگی کو وجود بخشا اور اسے چلارہا ہے _ یہ وہ ذات ہے جو ہر لحظہ ہمارے وجود کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور اپنے لطف و کرم کے چشمے سے سیراب کرتی ہے
ہم اس کے بندے اور محتاج ہیں اور اس کی قدرت اور عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے اس کے فرمانبردار ہیں_
اس کی بے اتنہا اور مسلسل نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کے فرامین اور راہنمائی کواپنی زندگی کے لئے مشعل راہ قرار دیتے ہیں_
آیت قرآن
( انّ الله یمسک السّموت والارض ان تزولاه و لئن زالتا ان امسکهما من احد من بعده)
سورہ فاطر ۳۵_ آیت ۴۱
'' یقینا خدا ہے کہ جس ن زمین اور اسمان کو بر قرار رکھا ہے تا کہ نابود نہ ہوجائے اور خدائے تعالی کے علاوہ کوئی بھی نہیں جواسے نابودی سے بچا سکے ''
سوچیے اور جواب دیجیے
۱_ علّت اور معلول کے درمیان کیا تعلق ہے؟ ان میںسے کون دوسرے سے وابستہ اور اس کا محتاج ہوتا ہے___؟
۲)___ معلول کسکے وجود کا نتیجہ ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی موجود بغیر علّت کے وجود میں آسکے___؟
۳)___ اس سبق میں جن ''معلولوں'' کا ذکر ہوا ہے، ان کے ساتھ ان کی علّت تحریر کریں___؟
۴)___ علت اور معلول کے درمیان ربط کو کیا نام دیا جاتا ہے؟کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان قانون علّیت کے مفہوم کو نہ جانتا ہو، اور اس کا اسے یقین نہ ہو___؟ اس کی وضاحت کیجئے ___؟
۵)___ قانون علّیت ایک کلّی ضابطہ ہے؟ وضاحت سے بیان کیجئے___؟
۶)___ انسان جب ''کیوں، کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس سے کیا سمجھا جاتا ہے___؟
بڑے آبشار کا سرچشمہ
درختوں سے گھرے ہوئے فلک بوس پہاڑی درّے سے اس بلند اور خوشنما آبشار کا نظار ہ کیجئے_ آہا کیسا حسین منظر ہے_
کاش کسی چھٹی کے دن دوستوں کے ساتھ مل کر اس بلند اور خوشنما آبشار کو دیکھنے کے لئے وہلاں جاتے اور بید کے درختوں کے سائے میں ''جو اس ندی کے کنارے پر موجود ہیں'' بیٹھ کر اس دل فرب نظارے کو دیکھتے ، صاف ٹھندی اور فرحت بخش ہوا سے لطف اندوز ہوتے_ آبشار کے صاف و شفاف پانی میں نہاکر تھکان دور کرتے اور روح کو تازگی بخشتے_
سچ آبشار کا یہ زور و شور سے جھاگ اڑاتے نیچے گرنا کتنا خوبصورت، روح پر ور اور قابل دید ہے_
جب اسے دور سے دیکھتے ہیں تو ایک بلند وبالا چاندی کے ستون کی طر ح
نظر آتا ہے کہ جو مضبوطی کے ساتھ سیدھا کھڑا ہے_ لیکن جب اس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو تندوتیزپانی کابہاؤ نظر آتاہے جوتیزی اورجوش سے شور مچاتا،جھاگ اڑاتا اور موجیں مارتا ہوا نیچے گر رہا ہے_ اورہر لمحہ پانی پہاڑ کی بلندی سے تیزی کے ساتھ نیچے ندی کے ہموار بستر پر گر کر انگڑائی لیتا ہوا آگے کی طرف بہنے لگتا ہے_
اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سفید اور بلند ستون جو دور سے سیدھا کھڑا ہوا دکھائی دے رہا تھا وہ ایک لمحہ کے لئے بھی ٹھہرا ہوا نہیں ہے، بلکہ حرکت میں ہے اور ہر لمحہ پانی کا ایک نیار یلا اس آبشار سے گرتا ہے، گویاہر ہرلمحہ ایک نیا آبشار وجود میں آتاہے_
آبشار کی یہ روانی اورہرآن نئے وجود سے آپ کے ذہن میںایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اس آبشار کاسرچشمہ کہاں ہے___؟
اس آبشاار کے وجود میںآنے کی علّت کون سا سرچشمہ ہے___؟
کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر موجود کے لئے کسی نہ کسی علّت کا ہونا ضروریہ ہے_لہذا یقینا یہ آبشار بھی کہ جومسلسل بہہ رہا ہے اور ہر لمحہ ایک نئے وجود کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے اس کے لئے بھی علّت و سرچشمہ کا وجود ضروری ہے_ لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ سرچشمہ اورعلّت کیا ہے اورکہاںہے_
اس واضح مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اس کائنات اور اس میںپائی جانے والی موجودات پرنظرڈالیں توکیادیکھیںگے___؟
کیا یہ ایک ایسامجموعہ ہے جوایک جگہ ٹھہرااورکھڑاہواہے___؟
یاپھر ایسامجموعہ ہے جو مسلسل گردش میں ہے اور چل رہا ہے___؟
سورج کے نکلنے کو دیکھیئےور اس کے شفق رنگ غروب ہونے پرنظر
ڈالئے___ سورج کے نکلنے سے دن روشن ہوجاتا ہے_ اور اس کا ہر لمحہ نیا پیدا ہوتا ہے اور ساعت بہ ساعت گزرتا ہے_ غروب کے وقت دن ختم ہوجاتا ہے اور رات نمودار ہوتی ہے_ رات بھی ایک لحظہ کے لئے نہیں رکتی اور مسلسل گردش میں رہتی ہے_ یہاں تک کہ طلوع آفتاب تک پہنچ جاتی ہے گرمی، سردی، بہار اور خزال کے موسموں کو دیکھئے_ سردی کی نیند میں سوئے ہوئے پیڑ اور پودے بہار کی خوشگوار ہوا سے بیدار ہوتے ہیں_ کو نپلیں پھوٹنے لگتی ہیں پھر شگوفے اپنی بہار دکھاتے ہوئے اوربتدریج سفر طے کرتے ہوئے خوش رنگ پھولوں اورلذیذ پھلوںمیں تبدیل ہوجاتے ہیں_
بہارجاتی ہے اورخزاں آپہنچتی_درخت اپنے سرسبز وشاداب پتوں سے محروم ہوجات ہیں، زرد اورپمردہ پتّے درختوں کی ٹہنیوں سے زمین پرر گرپڑتے ہیں_ آج کی آمد سے گزری ہوئی کل کا نشان تک باقی نہیں رہتا_
موسم سرما کی آمد، گرمی اورجہاد کوبھلادیتی ہے_ پس ساری چیزیں حرکت اورتغیر میں ہیں_ذرا اور نزدیک آیئےورقریب سے دیکھئے کیا یہ عالم رنگ و بو ایک ساکت اورٹھہرا ہوامجموعہ نظر آتاہے___؟ یا ایک بلند آبشار کی طرح مسلسل متغیر اورہرلمحہ حرکت پذیر کارخانہ قدرت___؟
دورترین کہکشاں سے لے کر یہ چھوٹاسا ذرّہ جو آپ کے نزدیک پڑا ہے تمام کے تمام ایک حیران کن تغیر اور گردش میں ہیں اوراپنی مسلسل حرکت کوجاری رکھتے ہوئے عجیب و غریب اورنئی صورتیں پیدا کر رہے ہیں_ سورج، چاند، ستارے، پانی، مٹی، دن،رات،سال، مہینے، بادل، ہوا، بارش
سب ایک بلند آبشار کی طرح حرکت کرنے میں مشغول ہیں_ تمام ایک زنجیر کے مختلف حلقوں کی طرح آپس میں مربوط ایک ہدف اور مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہیں_
ہر لمحہ موجودات کا وجود میں آنا اورتغيّر وحرکت میں رہنا ذہن میں ایک سوال پیدا کرتا ہے اوروہ یہ کہ اس کائنات کے بلندآبشار اوراس میں موجودات کا سرچشمہ کون ہے___؟ اس آبشار کے وجود میںلانے کی علّت کا سرچشمہ کون ہے؟ اس کا کیا جواب دیا جاسکتا ہے___؟
کیا یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس وسیع کائنات کے مختلف موجودات جو آپس میں مربوط اور ایک بلند آبشار کی طرح ہیں بغیر کسی علّت کے وجود میں آئے ہیں
انسانی فطرت کہ جو معمولی سی چیز کے وجود میں آنے کے لئے بھی علّت کی قائل ہے اس جواب کوہرگز پسندنہیں کرے گی بلکہ وہ ضروربالضروراس جہان ہستی کے موجودات کے لئے کوئی نہ کوئی علّت معلوم کرنا چاہے گی اوراس بلند وبالاآبشار کے لئے بھی طاقتور سرچشمہ کی جستجو کرے گی_ ایسی علّت کی کہ جواس کائنات کی تمام چھوٹی بڑی موجودات کا سرچشمہ ہو اور جس نے اپنے بے انتہا علم و قدرت کے ذریعہ اس عجیب و غریب نظام اورایک دوسرے سے مربوط اورایک مقصد کی جانب گامزن موجودات پیدا کیاہوااوران کو چلارہاہو_
انسان کی فطرت میںجوعلّت کی جستجو رکھی گئی ہے وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقرار کرے ی کہ اس جہان کے وجود (جومسلسل اورہر آن ایک نئی چیز وجود میں لارہاہے) کی علّت ایک عظیم، طاقتور اوربے نیازخالق ہے جس نے اپنے بے پناہ علماورقدرت و توانائی سے اسی جہان اوراس میں جانے والے تمام موجودات
کوپیدا کیاہے اور ا ن کی ایک معيّن و معلوم ہدف اورغرض کی طرف رہنمائی وہدایت کر رہاہے_ وہ خالق اس ہستی اور وجود کے بلند آبشار کاسرچشمہ ہے اوراپنے علم وتدبیر سے اسے رواںدواںرکھے ہوئے ہے_ اس جہان کا ہر ایک وجود اورہر ایک ذرّہ اپنے وجود میں اس کامحتاج ہے لیکن وہ ان میں سے کسی کامحتاج نہیں ہے اور کوئی بھی چیز اسکی مانند اورمثل نہیں ہے_
سبب وعلّت کی متلاشی عقل اچھی طرح جانتی اورمحسوس کرتی ہے کہ کائنات اوراس کے تمام موجودات ایک بلند اور خوبصورتن آبشار کے مانند ہیں کہ جو خود سے کچھ بھی نہیں بلکہ ہرہرقطرہ اورہرہر ذرّہ کاسرچشمہ قدرت کاایک لامحدود مرکز ہے_
تمام موجودات اسی ذات کے معلول ہیں اوراسی سے اپنے وجود کارنگ لیتے ہیں_ اسی ذات کے نور اورروشنی سے یہ روشن اورظاہر ہوتے ہیں_
یہی علّت کی متلاشی انسانی عقل اسے دعوت دیتی ہے کہ اس لامحدود قدرت کے مرکز کو پہچانے اور اس سے زیادہ سے زیادہ واقف ہو کیونکہ تمام اچھائی اورخوبی اسی سے ہے اور انسان کو اسی کی طرف لوٹنا ہے_
اگر انسان غور کرے اور کائنات کی تمام موجودات کا اچھی طرح مطالعہ کرے تو صاف طورسے مشاہدہ کرے گا کہ تمام کائنات اورجوکچھ اس میںہے صرف ایک وجود اوربے پناہ قدرت وحیات پرتکیہ کئے ہوئے ہے اور اسی کی مہرومحبت کے سرچشمہ سے وجود اورحیات حاصل کر رہا ہے_ اسی فکر و بصیرت کے سایہ میں انسان کاقلب ہرچیز سے بے نیاز ہوکرصاف اورصرف اس ذات سے پیوستہ ہوجاتا ہے اوراسکی عظمت وکبریائی کے علاوہ کسی اور کے سامنے اس کا سرنہیں جھکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دوسروں کے پاس جو کچھ بھی ہے سب اسی ذات کا عطا کیاہواہے،
لہذامخلوقات خدا نے لگا ہیں پھیر کر وہ اپنال دل صرف اسی سے لگالیتا ہے جو علم و قدرت، رحمت و خلقت کا سرچشمہ ہے اوراپنے آپ کوعظیم خالق کائنات اورپروردگار عالم کی حکومت و سرپرستی میں دے دیتا ہے_ سوائے اس کی رضا کے کسی دوسرے کی رضال نہیں چاہتا،سوائے اس کی قدرت کے کسی اورکی قدرت کونہیں مانتا_
اولیاء اورانبیاء خدا کی رہنمائی ورہبری میں خدا کے احکامات کوتسلیم کے ان پر عمل کرتا ہے_ اپنے پاکیزہ اخلاق اور نیک اعمال کے ساتھ اس کے تقرب اور محبت کے راستے پر چلتا ہے اور اس طرح انسانیت کے کمال کے آخری درجہ تک پہنچ جاتا ہے_ حقیقی کمال اور دنیا و آخرت کی سعادت کو حاصل کرلیتا ہے کہ جس کی عظمت اور زیبائی ناقابل تعریف ہے_
آیت قرآن
( انی الله شكّ فاطر السّموت والارض)
( سورہ ابراہیم ۱۴_آیت ۱۰)
کیا خدا میں بھی شک کیا جاسکتا ہے؟ وہ ہے کہ جس نے زمین اورآسمانوں کو پیدا کیاہے
سوچیے اورجواب دیجئے
۱) ___آبشار کس طرح وجود میں آتاہے؟ کیایہ ایک ثابت اور غیر
متحرک وجود ہے یا ایک متغیر ومتحرک وجود ہے؟
۲) اگر آبشار کے ہرلحظہ نئے وجود کودیکھا جائے توذہن میں کیاسوال ابھرتاہے؟
۳) جب کائنات اوراسکے موجودات کودیکھا جائے تو اس میں کیانظر آتا ہے؟کیا وہ ایک ثابت اور ساکت مجموعہ ہے؟ یاایک متغیر اورحرکت کرنے والامجموعہ؟ وضاحت کیجئے؟
۴) اس کائنات کے ہمیشہ متحرک اورمتغیر ہونے کی کوئی مثال بیان کیجئے؟
۵) جب کائنات میں تغیر اور نیا وجود دیکھیں تو اس سے دذہن میں کیا سوال اٹھتا ہے؟
۶) کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وسیع کائنات کے موجودات بغیر علّت کے وجود میں آئے ہیں؟ اگر نہیں توکیوں؟
۷) انسان کی علّت کی متلاشی فطرت اس عجیب نظام اورموجودات کے آپس میں ارتباط اورباہدف ہونے سے کیاسوچے گی؟
۸) اس وجوداوربلند ہستی کے آبشار کا سرچشمہ کون ہے؟
۹) اس حقیقت کو پالینے کا نتیجہ کہ ''اس کائنات کا سرچشمہ خدا ہے'' کیا ہے؟
۱۰) کیوں ایک خداشناس اور خداپرست انسان خدا کے آگے سرتسلیم خم کردیتا ہے اوراس کی حکومت و سرپرستی کو قبول کرلیتا ہے؟
خداشناسی کی دودلیلیں
دلیل اس عمدہ اور واضح بیان کوکہاجاتا ہے جس سے کسی بات کو ثابت کیا جائے اور اس سے متعلق نا واقفیت اور شک کو دور کیا جائے_ نیز اس قسم کے بیان کواصطلاح میں ''برہان'' کہا جاتا ہے_
ہم اب تک خداشناسی کے لئے دو دلیلوں سے واقف ہیں کہ جن میںسے ایک کو ''دلیل نظم'' اوردوسرے کو ''دلیل علّیت'' کہا جاتا ہے_ لہذا اب ہم ان دونوں دلیلوں پر تحقیق و جستجو اوران کا آپس میںتقابلی تجزیہ کرتے ہیں_
۱)دلیل نظم
خداشناسی کے بحثیں جو اس کتاب کی ابتداء میں اوراس کتاب کے سابقہ حصوں
میں آپ نے پڑھی ہیںتمام اسی دلیل نظم کی بنیادپرتحریرکی گئی ہیں_
مثلاً گزشتہ کتاب میں جب ہم اپنے بدن کے نظاموں میںسے ایک کے متعلق مطالعہ کر رہے تھے تو ہم نے پڑھا تھا کہ:
اس نظام میں جس حیرت انگیز نفاست سے کام لیا گیا ہے اس پراچھی طرح غور و فکر کیجئے اورخون کی گردش کے سلسلہ میں گردہ اورمثانہ کے در میان پائے جانے والے گہرے ارتباط اورنظم و ضبط پر فکر انگیز نگاہ ڈالئے_
آپ کیا دیکھتے ہیں___؟
کیا ایک با مقصد اورمنظم مجموعہ___؟
یاایک بے مقصد اورغیر منظم مجموعہ___؟
اس نہایت نفیس اہم عضواور اس حساس مجموعہ کے مشاہدہ سے آپ کے ذہن میں کیا خیال آتاہے___؟
اس کی تخلیق میں پائے جانے والے باریک حساب وکتاب اوراس کی ساخت میں جس تناسب و ارتباط اورہم آہنگی سے کام لیا گیا ہے اس سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
آیا آپ کواس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ یہ گہرا اورمنظم نظام (اور ہمارے بدن کے دوسرے نظام) خودبخود اوربغیر کسی حساب و کتاب کے وجود میں نہیں آئے گا___؟
آیا ممکن ہے کوئی عقل و شعور رکھنے والا انسان یہ بات تسلیم کرے کہ ساکت و بے شعور طبیعت (مادّہ) نے یہ حیرت انگیز نظام پیدا کیا ہے؟ ہرگز نہیں___؟
بلکہ ہر عقل و باشعور انسان یہ اقرار کرے گا کہ ایک دانا اور توانا
ہستی اس کی خالق وبنانے والی ہے اور اس کے بنانے میں اسی کا کوئی مقصد وہدف ہے_ اس بنیاد پرعقل وفہم رکھنے والے ہر انسان کا ایمان ان حیرت انگیز چیزوں کے مشاہدہ سے ایک عظیم خال عالم وقادر کے وجود پر مزید مضبوط ہوجاتا ہے اوراس کی شان وشوکت،قدرت اور لامحدود نعمتوں کے آگے اس کا سرتسلیم خم ہوجاتاہے_
خداشناسی کے متعلق جس دلیل کا آپ نے مندرجہ بالا سطورمیں مطالعہ کیا اسے دلیل نظم کہاجاتا ہے_ یعنی کائنات میں پائے جانے والے موجودات کودیکھ کراوران کے ہر ذرّہ میں نظم و ہم آہنگی، گہرے حساب اور درست تناسب کے مشاہدہ سے نتیجہ اخذکیاجاتا ہے_ کہ اس منظم اور مربوط نظام کی خالق اورپیدا کرنے والی اکی ایسی عالم وقادرہستی ہے جس نے اپنے علم اورقدرت سے ایسا عجیب وغریب نظم و ربط پیدا کیا ہے_ کیونکہ اگراس نظام کاخالق، جاہل اورناتواں ہوتا تو اس کے کام کا نتیجہ سوائے بے نظمی اور بے ربطی و بے حسابی اور بے مقصدی کے اور کچھ نہ ہوتا_
دلیل نظم کو مختصراً یوںبیان کیا جاسکتا ہے کہ:
عالم خلقت مکمل نظم وترتیب اور ہم آہنگی و ارتباط مبنی ہے اور ہر نظم وترتیب اورہم آہنگی وتناسب ایک دانا وتوانا کا کام ہوتا ہے_ پس یہ جہان بھی ایک داناو توانا خالق کی مخلوق ہوگا_
اس دلیل یعنی دلیل نظم میں پہلے اجزاء کائنات میں پائے جانے والے نظم وہم آہنگی اور حساب و کتاب وتناسب پرتوجہ کی جاتی ہے اورپھر اس اصول پریقین کے ساتھ کہ ''نظم وتناسب کسی عالم ودانا کا محتاج ہے'' یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیںکہ
کائنات میں یہ جو عظیم نظم و ہم آہنگی قائم ہے اس کی خالق ایک دانا وتواناہستی ہے_
۲) دلیل علّیت
اس سے پہلے دو سبق جن کا آپ نے مطالعہ کیا وہ دونوںدلیل علّیت کی بنیادی پرتحریر کئے گئے ہیں_ دلیل علّیت میں کائنات کے اجزا کے درمیان پائے جانے والے نظم و ہم آہنگی کامطالعہ نہیں کیا جاتا بلکہ موجودات کی ذات وہستی پر نگاہ ڈالی جاتی ہے_
اوروہ خاص احتیاج جو ہر موجود علّیت کے سلسلہ میں رکھتا سے اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے_
قانون علّیت کی بنیاد پر کہ جس پرانسان مضبوط یقین رکھتا ہے ہم بحث کو اس طرح پیش کرتے ہیں:
'' ہر موجود جو وجود میں آتا ہے اس کا وجود خود اپنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی دوسری چیز سے وابستہ اور اس کامحتاج ہوتا ہے کہ جسے ''علّت'' کہا جاتا ہے_
یہ کائنات بھی جو مختلف موجودات کا مجموعہ ہے، لازماً اس کی بھی کوئی علّت ضرور ہے_ اس کائنات کے موجودات کوئی نہ کوئی سرچشمہ رکھتے ہیں، ایک عظیم طاقتور اور بے نیاز خالق رکھتے ہیں، وہی اس بلند آبشار ہستی کا سرچشمہ اور علّت ہے_ اس ہستی کا ہر ایک قطرہ، ہر ایک ذرّہ اور ہر ایک وجود اپنی پیدائشے میں اس کا محتاج ہے لیکن وہ کسی کا محتاج اور کسی کا ہم مثل نہیں_
اگر انسان خوب غورکرے تو وہ واضح طور پرمشاہدہ کرے گا کہ تمام
مخلوقات کائنات ایک ہستی اور ایک لامحدود قوت پر تکیہ کئے ہوئے ہیں اور اس کی محبت و رحمت اور عطا کے سرچشمہ سے اپنا وجود اورہستی قائم رکھے ہوئے ہیں_
دلیل علّیت میں اس موضوع پرگفتگو ہوتی ہے کہ ہر موجود اپنے وجود کیلئے کسی سے وابستہ اور اس کا محتاج ہے_ اس کا وجود خود اس سے نہیں بلکہ ایک علّت کا محتاج ہے اور کائنات اور اس میں پایا جانے والا سب کچھ (جو تمام کے تمام موجود و مخلوق ہیں) لامحالہ قدرت کے ایک عظیم مرکز اور ایک لامحدود ہستی سے کسب فیض کرتے ہیں_ اس لامحدود قدرت کو خدا کہتے ہیں_
دونوں دلیلیں یعنی دلیل نظم اوردلیل علّیت اس لئے ہیں کہ یہ انسان پاک فطرت اور بیدار عقل سے حقائق کا مطالعہ کرے اور خداوند عالم کی ذات پر اپنے ایمان کومحکم اورمضبوط بنائے_
لیکن انسان کی پاک اورآگاہ فطرت، اپنے عظیم خالق و قادر پر اس طرح یقین رکھتی ہے اوریہ موضوع اس کے لئے اتنا واضح و روشن ہے کہ اس کے لئے معمولی سی دلیل و برہان کی بھی ضرورت نہیں_ یہ پاک فطرت اوریہ آگاہ انسان تمام موجودات کائنات کو اللہ تعالی کی قدرت اوراس کے ناقابل شکست ارادے پرتکیہ کرنے والادیکھتا ہے_ اور تمام مصائب اورسختیوں میں اسی سے پناہ کا طلب گار ہوتا ہے_ کبھی بھی ناامید اورمایوس نہیںہوتا_ کیوںکہ وہ جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی طاقتورہوتا ہے_
یہ پاک فطرت اورآگاہ انسان سوائے خداوند عالم کے کسی دوسرے
کے سامنے نہیں جھکتا اورسوائے اللہ تعالی کے فرمان اوراس کی حکومت و ولایت کے کسی کے فرمان وحکم کو قبول نہیں کرتا اور اپنی دنیاوی زندگی کو عزّت اورکامیابی کے ساتھ آخرت کی دائمی سعادت کی زندگی تک پہنچادیتا ہے_
آیت قرآن
( ربّکم ربّ السّموت و الارض الّذی فطرهنّ)
سورہ انبیاء ۲۱_ آیت ۵۶
''تمہارا رب ہے وہ جوزمین اور آسمان کا رب ہے کہ جس نے انہیں پیدا کیا_''
سوچیئے اور جواب دیجئے
۱) ___دلیل و برہان کی تعریف بتایئے
۲)___ آپ اسوقت تک خداشناسی کے بارے میں کتنے دلائل سے واقف ہیں؟
۳)___ ''دلیل نظم'' کو کس طرح بیان کیا جاتا ہے؟ اس کا خلاصہ بیان کیجئے؟
۴) ___ ''دلیل علّیت'' کوکس طرح بیان کیا جاتاہے؟
۵)___ خداشناسی کے لئے دلائل کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
۶)___ کیاپاک فطرت خداشناسی کے لئے دلیل وبرہان کی محتاج ہے؟
۷)___ پاک فطرت انسان خداشناسی کے متعلق کیا خیالات رکھتے ہیں کیاایسے لوگ خدا کے علاوہ کسی اورکے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں؟ کیوںصرف فرامین الہی کوقبول کرتے ہیں؟
خدا کی تلاش
جہاںتک تاریخ بتاتی ہے اورزمین کی کھدائی اورآثار قدیمہ کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے، گزشتہ دور کے انسان حتّی کہ قبل از تاریخ کے انسان بھی خدا سے آشنا اورواقف تھے اور اس عظیم ذات کا احترام کرتے اور اس کی عبادت بجالاتے تھے اوراس ذات کی خوشی کی خاطر بعض مراسم انجام دیتے تھے_
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ انسان ابتدا میںخدا کی طر ف کیسے متوجہ ہوا___؟ کون سے عوامل اور اسباب تھے جنھوں نے انسان کو خداپرستی کی فکر میں ڈالا؟ کون سے عوامل نے اس کی رہنمائی کی کہ وہ خالق کائنات کی جستجو اور تلاش کرے___؟ اس فکر مقصد اور اس کی بنیاد کیا تھی___؟ اصولاً کون سے عوامل اوراسباب اس بات کا باعث ہوئے کہ انسان خدا اور اس کی پرستش کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے بارے میں سوچنے لگا___؟
معمولی سے غور و فکر کے بعد اس سوال کا جواب معلوم کیا جاسکتا ہے، جیسے کہ تیسرے سبق میں بیان کیاجاچکا ہے کہ انسان فطرتاً معلول کی علّت و سبب کی تلاش وجستجو کرتا ہے_ انسان ابتدا ہی سے اس مسئلہ سے آگاہ ہے کہ ہر موجود اپنے وجود کے لئے کسی نہ کسی علّت کا محتاج ہے_ اسی بناپر وہ موجود کی علّت و سبب کا متلاشی نظر آتا ہے_ اگر بھوکا ہوتا ہے توغذا کی تلاش کرتا ہے کیونکہ غذاکوبھوک دورکرنے کی علّت و سبب سمجھتا تھا_ اگر پیاسا ہوتا توپیاس دورکرنے کے لئے پانی کی تلاش میں نکلتا، کیونکہ پانی کو پیاس کے دورکرنے کی علّت جانتا تھا اگرکسی آواز کودیوار کے پیچھے سے سنتاتواسے یقین ہوجاتا کہ آواز کی کوئی نہ کوئی علّت ہے اوراسکی علّت معلوم کرنے کے درپے ہوجاتا __ اوراگربیمارہوتا تواپنی بیماری کوکسی سبب وعلّت کا نتیجہ جانتا اوراس کے علاج کی فکر کرنے لگتا ہے سردی کودور کرنے کے لئے آگ کی پناہ ڈھونڈ تا کیونکہ گرمی کو سردی دورکرنے کی علّت جانتا_
علّت کی تلاش و جستجو ،ہر انسان کی خلقت وطینت میں موجود ہے اور ہر انسان ہمیشہ اس تلاش و جستجو میںرہتا ہے کہ موجودات کی علّت سے آگاہی حاصل کرے ہر موجود کے متعلق کہ وہ کیوں ہے اوراس کی علّت کیاہے اس کے سامنے واضح ہوجائے اورہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ اس علّت وسبب کی تلاش وجستجوکا درست اورقابل اطمینان جواب حاصل کرے_ اور جب تک اس کا صحیح جواب نہ پالے اسے آرام نہیں آتا_
انسان ذاتاً علّت کی تلاش کرنے والا موجود ہے اور وہ اپنی اس فطرت وطبیعت کوفراموش نہیں کرسکتا_
تمام انسان، بشموں دوراوّل کے انسان بھی اس فطرت و طینت کے حامل تھا_ یہ انسان اس کائنات میں زندگی گزاررہا تھا اورروزمرّہ کی زندگی میں اسے مختلف حیرت انگیز حوادث وواقعات سے واسطہ پڑتا تھا_ دن رات کا پے درپے اورتسلسل کے ساتھ ظہور، سردی و گرمی، سورج چاند اورستاروںکی منظم حرکت، عجیب وغریب حیوانات اورنباتات، بلند و بالا پہاڑوں،وسیع وعریض دریاؤں اورپانی کاجاری ہونا، ان تمام کواپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس فکر اورسوچ میں ڈوب جاتا تھا کہ اس جہاں کی علّت کون ہے؟ اوراس کووجود میں لانے والاکون ہے؟
لامحالہ یہ منظم کائنات اپنی علّت رکھتی ہے اورخالق دانا اور توانا نے اسے پیدا کیا ہے اوروہی اسے چلارہا ہے_
اس طرح سے دور اوّل کے انسان اللہ تعالی سے واقف ہوئے اور انہوںنے اس کے وجود کااعتراف کیا اوراس کی عظمت اور قدرت کے سامنے خشوع و خضوع کیا_
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک گروہ انحراف کا شکار ہوا اور جھوٹے معبود دل کی پرستش میں مشغول ہوگیا اور آہستہ آہستہ بت پرستی، خورشید پرستی، چاند پرستی، آتش پرستی، ستارہ پرستی بھی لوگوں میںپیداہوگئی_
جھوٹے معبودوں کا پیدا ہوجانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنی فطرت میں موجود، علّت کی تلاش کے عنصر کیا بناپر یہ بات جانتا تھا کہ اس کائنات کی بقا کے لئے ایک علّت ضروری ہے لیکن اس نے بعض امورمیں غلطی واشتباہ کیا اورجھوٹے معبودوں کو خالق حقیقی اورکائنات کی علّت جانا اور ان کی
پرستش میں مشغول ہوگیا_
مختصر یہ کہ انسان اس فطرت (علّت کی تلاش) کی وجہ سے جواس کی سرشت میں رکھی گئی ہے تمام موجودات کے لئے علّت تلاش کر رہا تھا اوراسی ذریعہ سے خالق کائنات کہ جوکائنات کی محتاج موجودات کی حقیقی علّت ہے سے واقف اورمطلع ہوا، اس کے وجود کوتسلیم کیا اوراس کی عبادت اورپرستش شروع کردی _
آیت قرآن
( و لئن سالتهم مّن خلق السّموت والارض لیقولنّ خلقهنّ العزیز العلیم)
اگران سے پوچھوکہ زمین اورآسمان کوکس نے خلق کیا ہے توجواب دیں گے کہ انھیں عزیز اورعلیم نے خلق کیا ہے (سورہ زخرف ۴۲_ آیت۹)
سوچیے اورجواب دیجئے
۱)___ کون سے اموراورعوامل نے انسان کوخداپرستی کی فکر میںڈالا ہے؟
۲)___ علّت کی تلاش یاعلّت جوئی سے کیا مراد ہے؟ انسان کی علّت جوئی سے متعلق کوئی مثال دیجئے؟
۳)___ ہر موجود کے سلسلہ میں ''کیوں اورکس علّت سے''_ انسان کے سامنے واضح ہونے سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
۴___ جھوٹے معبودوں کاپیدا ہونا کس بات کی دلیل ہے؟
زمین اور آسمان کا خالق
اپنی عمرکے گزرہے ہوئے دور کاتصور کرتاہوں، اپنے بچپن کوذہن میںلاتا ہوں،گوکہ اپنے شیرخوارگی کے زمانے کوتوپردہ ذہن پر نہیں لاپاتا لیکن اپنے اس دور کے معصوم چہرے کواپنی ماں کی آغوش میںدیکھ سکتاہوں__ اپنی بہن کے چہرے کو جومجھ سے چھوٹی ہے اورحال ہی میں دنیا میںآئی ہے دیکھتا ہوں_
وہ اپنی خوبصورت ننّھی منّی آنکھیں کھولتی ہے،جیسے آسمان سے ابرب کا پردہ ہتا رہی ہے_ ہونے ہولے اپنے نازک بسوںپرمسکراہٹ بکھیرتی ہے اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے چیزیں پکڑ کراپنے منہ کے قریب لے جاتی ہے_
میں گھنٹوں اس کے پاس بیٹھا سوچاکرتاہوں کہ___:
ماںکے پیٹ میں اسی طرح کس نے تیری پرورش کی ہے؟ وہ کیسا بہترین مصوّر ہے کتنا زبردست مجسمہ ساز ہے اوروہ کتنی اچھی طرح جانتا
ہے کہ تجھے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے، نہ صرف یہ بلکہ اس نے تیری یہ تمام ضروریات پوری بھی کی ہیں_
اس کائنات کے نظارے کے لئے خوبصورت آنکھیں، طرح طرح کی آواز میں سننے کے لئے کان، اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہاتھ اورچلنے پھرنے کے لئے پیر عطافرمائے_
تیری محبت کوماں کے دل میںجگہ دی اوراس نے تیری اچھی طرح تربیت کی___
سچ بتا تیرا پروردگار کون ہے___؟
میںبھی تیری طرح ایک نوزائیدہ بچّہ تھا_ اس سے پہلے اپنے وجود کی کوئی شکل توکیا نشان بھی نہ رکھتا تھا، ایک قدرت منہ مصوّر نے مجھے یہ شکل و صورت اور رنگ وروپ عطا کیا اورایک طاقت ور وجود نے مجھے اس طرح بنایا ہے_
پھر میں بھی کیوں نہ پوچھوں کہ میرا پروردگارکون ہے___؟
تمام انسان اس طرح کاسوال اپنے آپ سے کرتے ہیں_ اپنے وجود کی ضروریات پرنظر ڈالتے ہیں_ اپنے بچپن،شیرخوارگی کازمانہ اور اس سے بھی پہلے جب کہ وہ اپنی ماںکے پیٹ میں تھے، تصور میں لاتے ہیں_ اپنی ضروریات اور ان کی تکمیل کومحسوس کرتے ہیں اور اس حقیقت کوپالیتے ہیں کہ
ایک بے نیاز اورطاقتور وجود نے انھیں خلق کیا ہے اور ان کی اس طریقہ سے پرورش کی ہے_ اورخود سے پوچھتے ہیںکہ:
ہمارا پروردگار کون ہے؟
ان کی پاک فطرت،ان کی اپنے بزرگ پروردگار کی طرف رہنماتی کرتی
ہے اور ان کا واضح ادارک انھیں اس ذات کی ستائشے اور عبادت کی طرف راغب کرتا ہے_
ہمیشہ سے اور ہر دور میں انسان اپنے پروردگار (بے نیاز اور قادرمطلق) سے آشنا تھے اور صرف اسی کی پرستش کرتے تھے_ البتہ کبھی غلطی اور گمراہی کا شکار ہوجاتے اور بے جان بتوں، ناتواں مجسموں اور سورج چاند اورستاروں کو اپنا پروردگار سمجھتے لگتے تھے، ان کی تمام پریشانیوں اوربدبختیوں کا سبب یہی غلطی و گمراہی تھی_
اسی گمراہی کی وجہ سے وہ ہر قسم کی ذلّت کو برداشت کرلیتے تھے اور ہر قسم کے ظلم و ستم سہہ لیتے تھے_ جہالت اور گمراہی کے گہرے غار میں گرپڑتے تھے اور تاریکیوں کے اسیر ہوجاتے تھے_
لیکن مہربان خدا کہ جس نے ان کی پرورش کا وعدہ کیا ہے انھیں یوں ہی نہیں چھوڑ دیتا تھا_ انھیںبیدار اور آگاہ کرنے کے لئے پیغمبر بھیج دیتا تھا تا کہ ان کو اپنے پیغامات کے ذریعہ شرک کی تاریکیوں اورانحراف سے نجات دلاسکے_
پیغمبر ان کوبیدار کرنے کی کوشش کرتے تا کہ خداپرستی اور توحید کی طرف بلائیں اور شرک اوربت پرستی سے (جو تمام مشکلات اور پریشانیوں کا سبب ہے) مقابلہ کریں_
حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کے بڑے پیغمبروں میں سے ایک ہیں کہ جنھیں خداوند عالم نے لوگوں کی نجات اورہدایت کے واسطے بھیجا تھا تا کہ اپنی قوم کو بیدار اور آگاہ کریں اور ان کی عقلوں کے چراغ کو روشن کریں_ ان کے دلوں کو اپنے پروردگار کے عشق اورامید سے لبریز کردیں_ نیکیوں اوراچھائیوں کی ان کوتعلیم
دیں اور برائیوں سے انھیں روکیں_
اس زمانے میں اکثر لوگ بت پرست تھے_ لکڑی اور پتّھر سے مجسمے بناتے تھے اور ان کے سامنے سجدہ کرتے تھے_
یا سورج،چاند اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے_
خداوند عالم نے ان لوگو کی ہدایت اورنجات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذمّے ڈال دی اور آپ کو دورجوانی میں اپنی قوم کے پاس بھیجا لیکن چونکہ وہ لوگ بت پرستی میں بری طرح مبتلا تھے اس لئے ان کی رہنمائی بہت شکل تھی_ اس کے باوجود حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے کمر ہمّت باندھی_
آپ وقتاً فوقتاً ان کی عبادت گاہ میں جاتے اورجب موقع ملتا ان سے گفتگو کرتے_ خوش اخلاقی اورمہربانی کے ساتھ خالق کائنات (جو پوری دنیا کا خالق و پروردگار ہے) کے متعلق ان سے تبادلہ خیالات اوربحث و مباحثہ کرتے واضح اورروشن دلیلوں کے ذریعہ لوگوں کوخداشناسی کی طرف راغب کرتے_
آپ(ع) جانتے تھے کہ لوگوں کو شرک اور ذلّت اور ظلم سے نجات دلانے کے لئے پہلے مرحلہ میں ان کی عقل اور فکر کوبیدار کیا جائے_ لہذا آپ(ع) ان کی خوابیدہ عقلوں کوبیدار کرنے کی کوشش کرتے تھے_
جب آپ(ع) بت پرستوں کودیکھتے کہ بتوں کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے ہیں توان سے پوچھتے:
کیا انہیں پوجتے ہو کہ جن کہ تم نے خود اپنے ہاتھ سے بنایا ہے؟ یعنی تمہارے ہاتھ کا بنایا ہوا یہ بت تو خود تمہاری مخلوق ہے پھر وہ کیسے تمہارا پروردگار
اور خالق ہوسکتا ہے؟
وہ مجسمہ کہ جسے میں خود بناؤں کیسے میرا پروردگار ہوسکتا ہے؟ ایک مرتبہ آپّ ستارہ پرستوں کے عبادت خانے کے قریب سے گزرے، دیکھا کہ ایک جماعت اپنی آنکھیں آسمان کی طرف لگائے انتظار میں بیٹھی ہے_ آپ(ع) نے ان سے پوچھا_ کس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہو_
انھوں نے کہا کہ رات کے انتظار میں، تا کہ ہمارا خدا طلوع ہو اور ہم اس کی عبادت اور پرستش کریں_
غروب آفتاب کا وقت تھا،حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان کے پہلو میں انتظار کرنے بیٹھ گئے، یہاں تک کہ تاریکی چھاگئی اور خوبصورت ستارہ زہرہ افق سے نمودار ہوا_ ستارہ پرست سجدے میں گر گئے اور ایک خاص قسم کی عبادت اور دیگر رسوم ادا کرنے لگے_
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زہرہ ستارے کی بلندی، خوبصورتی اورروشنی کو دیکھا اور کہا: کیا یہ میرا پروردگار ہے؟
اس گفتگو کے دوران ستارہ آہستہ آہستہ غروب ہوئے لگا_ اور افق کے نزدیک ہوتے ہی مکمل طور پرغروب ہوکر عبادت کرنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا_
حضرت ابراہیم (ع) نے فرمایا کہ:
کس طر ح اس ستارے کو جوغروب ہوگیا ہے اپنا پروردگار سمجھتے ہو؟ کیونکہ اس ستارہ کی حرکت اوراس کاطلوع و غروب ہونا خوداپنی زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ میں ایک قادر مطلق پروردگار کے فرمان کے ماتحت ہوں جومجھے حرکت میں لاتا ہے اور طلوع و غروب ہونا میرے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے_
نہیں میںکسی ایسی چیز کو جو غروب ہوتی اور پستی کی طر ف جاتی ہے اپنا پروردگار نہیں مان سکتا اس لئے کہ ایسی محتاج اور نیازمند چیز میرا پروردگار نہیں ہوسکتی_
ستارہ پرستوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ گفتگو سنی اور گہری فکر وتذبذب میںڈوب گئے_ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل کا کوئی جواب نہ دے سکے_
خوبصورت اور چمکدار چاند طلوع ہوا_ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ کیایہ میرا پروردگار ہے؟
چاندپرستوں نے آپ(ص) سے یہ سوال سنا تو آپ(ع) سے بحث شروع کردی_ لیکن چند گھنٹے گزرنے کے بعد چاند بھی ڈوب گیا_
نہیں نہیں، یہ بھی میراپروردگار نہیں ہے_ یہ بھی نکلتا اور ڈوبتا ہے_ یہ بھی حرکت کرتا ہے اور اس میں بھی تغیر رونما ہوتا ہے اور زمان
و مکان کا محتاج ہے یہ موجود میرا پروردگار نہیں ہوسکتا_ کیونکہ یہ خود محتاج اورنیازمند ہے_
چاندپرستوں نے جب یہ بات سنی تو سوچنے لگے کیونکہ ان کے پاس
بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس واضح دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا_
چاند سے بھی زیادہ روشن اوربڑا سورج طلوع ہوا_ حضرت ابراہیم (ع) نے سوال کیا: کیا یہ میرا پروردگار ہے؟
لیکن سورج بھی مغارب میںپہونچا اور غروب ہوگیا_
نہیں سورج بی میرا پروردگار نہیں ہے یہ خود حرکت اور تغیر میں ہے_ یہ خود محتاج اور نیازمند ہے_
حضرت ابراہیم علیہ السلام اس وقت مشرکوں کے درمیان سے اٹھے اورفرمایا:
میں ان چیزوں سے کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو بیزار ہوں اور ان کی پرستش نہیں کرتا ہوں_ یہ سورج اور چاند اور یہ ستارے تمام کے تمام کسی دوسرے کے پیدا کئے ہوئے ہیں مں اس ذات کی طرف دیکھتا ہوں کہ جس نے آسمان اور زمین کوپیدا کیا_ وہی میرا پروردگار ہے_ وہی عبادت وپرستش کے لائق ہے منتہا وہی وہ ذات ہے جو اس کائنات پرحاکم ہے اسی پر ایمان لاؤ اوراپنے ایمان کوظلم وستم سے آلودہ نہ کرو تا کہ امن او ر ہدایت کا راستہ پاؤ_
توضیح اور تحقیق
یہ اللہ تعالی کی طرف سے دلیل تھی جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو تعلیم کی گئی تا کہ وہ اپنی قوم کی بیدار اور آگاہ کر سکیں اور انہیں موحوم تصورات اور غلط عقائد سے نجات دلا سکیں _ یہ دلیل تمام انسانوں کی اس فطرت پر مبنی ہے جسکے تحت وہ جانتے ہیں کہ ہر موجود کے لئے علت ضروری ہے اور ہر مخلوق کا کوئی خالق ہے_
اس فطرت کی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام ی قوم اس سلسلہ میںکسی شک و شبہ کا شکار نہ تھی کہ وہ کسی دوسری ذات کی پروردہ اور مخلوق ہیں اور ایک قادر و توانا ہاتھ ہے جوان کی اس طرح پرورش کر رہا ہے اور در حقیقت ایک خالق پرروردگار موجود ہے_
لیکن وہ اپنے اس پروردگار کی پہچان کے سلسلے میں لغزش کا شکار ہوگئے تھے _ایک گروہ بتوں کی پرستش کرتا تھا اور دورسرا گروہ سورج کو پوجتا تھا، ایک گروہ چاند اور بعض ستاروں کو اپنا پروردگار سمجھتا تھا_
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے مختصر سوالوں سے ان کی سوئی ہوئی دعقلوں مو جھنجھوڑتے اور انھیں آگاہ کرتے تھے تا کہ وہ بیدار ہوجائیں اور شرک کی بدنمائی کو دیکھ کر توحید اور خداپرستی کی طرف آجائیں_
حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان سے محبت اور مہربانی سے گفتگو کرتے تھے اور ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کے دوران ان باتوں کو ترجیح دیتے تھے جو فطرت سے ہم آہنگ اور ان کے لئے قابل قبول ہوا
کرتی تھیں _ اور کوشش کرتے تھے کہ ان کے تاریک ذہنوں روشنی کا ایک دریچہ کھول دیں _ اور انہیں بتاتے تھے کہ جن چیزوں کی تم پرستش کرتے ہو وہ خود مخلوق اور اپنے کے لئے کس دوسرے کے محتاج ہیں_ وہ کبھی طلوع ہوتے ہیں اور کبھی غروب _ اور مجبور ہیں کہ اپنے وجود کے لئے کسی بے نیاز سرچشمہ پر تکیہ کریں_
اور وہی بے نیاز سرچشمہ ہے کہ جس نے انھین پیدا کیا ہے وہی زمین اور آسمان کا خالق ہے اور وہی تمہارا پروردگار بھی ہے_ میں حق پسندیدہ اور حنیف ہوں، مین اسی ذات کی طرف متوجہ ہوں اور وہی زمین اور آسمانوں کا خالق ہے اور اس کا کسی کو شریک قرار نہیں دیتا_ اس کے سوا کی حکومت اور ولایت کو قبول نہیں کرتا اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت و اطاعت نہیں کرتا
خداوندعالم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان کلمات کو قرآن مجید میں بیان کیا ہے اور تمام حق پسند اور حنیف انسانوں سے چاہا ہے کہ آپ کی اقتدار کریں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام یک طرح تمام چیزوں سے دل خالی کریں اور زمین اور آسمان کے خالق سے وابستہ ہو جائیں، اسے محبت کریں اور اس سے مانوس اور آشنا ہوجائیں_
آیت قرآنی
( انّی وجّهت وجهی للّذی فطر السّموت و الارض حنیفا وّ ما انا من المشرکین)
میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے زمین اور آسمانوں کوپیداکیاہے میںحق پسند ہوں،مشرکین میںسے نہیںہوں''
''سورہ انعام ۶ آیت ۷۹''
سوچیئےور جواب دیجیے
۱)___ ہم اپنی ضروریات سے کس طرح بہتر طریقہ سے واقف ہوسکتے ہیں؟ اوراس واقفیت کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
۲)___ حضرت ابراہیم (ع) بت پرستوں کی خوابیدہ عقل کو بیدار کرنے کیلئے کیافرماتے تھے؟ اورکس طرح ان سے گفتگو کرتے تھے؟ اورکس طرح دلیل دیتے تھے؟
۳) آپ نے ستارہ پرستوں سے کیاکہا اورکس طرح ستارے کے غروب ہوجانے سے بے نیاز خالق کیلئے دلیل لائے؟
۴)___ چاند پرستوں سے کیاکہا اور ان کیلئے واضح دلیل کس طرح بیان کی؟
۵) ___ سورج پرستوں سے کیا کہا اور جب مشرکوں کے درمیان سے اٹھے توان سے کیا کہا؟
۶)___ حضرت ابراہیم (ع) کی گفتگوکیا چیز بیانکرتی ہے_ برہان نظم اوربرہان علّیت کی وضاحت کیجیئے؟
۷) ___ حنیف کسے کہتے ہیں؟ خداتعالی مومن انسان سے کیاچاہتاہے؟
اوران سے کس شخص کی اقتدا چاہتا ہے اورکس طرح؟
باب دوم
جہان آخرت (قیامت ) کے بارے میں
قیامت کادن حساب کادن ہے
اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اوررحم کرنے والاہے_
یہ لوگ کس چیزکے بارے میں پوچھ کچھ کر رہے ہیں؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ چومیگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ ہرگز نہیں، عنقریب انھیں معلومہوجائے گا: ہرگز نہیں،عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا_
کیا یہ حقیقت نہیںکہ ہم نے زمین کوفرش بنایا اور پہاڑوں کومیخوں کیطرح گاڑدیا اورتمھیں جوڑوں کی شکل میں پیداکیا،اورنیند کوتمہارے لئے آرام کا ذریعہ بنایا اور رات کوپردہ پوش اور دن کوروزی کمانے کا وقت بنایا، اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کئے اورایک نہایت روشن اورگرم چراغ پیداکیا اوربادلوں سے لگاتار بارش برسائی تا کہ اس کے ذریعہ سے غلّہ سبزی اورگھنے باغ آگائیں_
بے شک فیصلہ کادن ایک مقرر وقت ہے، جس روزصورمیں پھونک
ماردی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤگے اورآسمان کھول دیاجائے گا حتی کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیںگے یہاںتک کہ وہ سراب ہوجائیں گے_
درحقیقت جہنم ایک گھاٹ ہے، سرکشوں کاٹھکانا، جس میں وہ مدتوںپڑے رہیںگے، اس کے اندر کسی ٹھنڈک اورپینے ے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے اگر کچھ ملے گاتو وہ بس گرم پانی اورزخموں کا گندہ پانی_ وہ کسی حساب وہ کتاب کی توقع نہ رکھتے تھے اورہماری آیات کوانہوںنے بالکل جھٹلادیا تھا اورحال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی_
مندرجہ بالا عبارت جو آپ نے پڑھی قرآن کر یم کے اٹھتّرویں (۷۸) سورہ نبا کی چند آیا ت کا ترجمہ ہے_ان آیات میں خداوند عالم نے زمین و آسمان کی خلقت ،انسان اور جہان کی خلقت ،دن اور رات،پانی اور بارش،غلّہ گھاس پھوس اور درختوں کا ذکر فرمایا ہے_ اور اس نکتہ پر باربار زور دیا ہے کہ اگر تم غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ سب ہماری بنائی ہوئی ہیں اور ہم نے انھیں ایک خاص مقصد کے لئے خلق کیا ہے_
اور پھر خدا تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت اور حساب و کتاب کا دن نزدیک ہے_ ہم نے انسان اور جہان کو بے مقصد خلق نہیں کیا ہے_ فیصلے کا دن عنقریب آنے والا ہے_ اس دن پورا پورا حساب لیا جائے گا_ اچھے اور برے لوگ جدا جدا ہوجائیں گے اور وہ لوگ جو اس دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ سخت اور دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے کیونکہ انہوں نے اس روز حساب کو بھلادیا تھا_
لیکن متقین کہ جو ہمیشہ روز حساب کویاد رکھتے تھے اور اس دن کے خوف سے گناہوں سے دوررہتے تھے اب وہ آسائشےوں اور آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنّت میں رہیںگے_
اس کے علاوہ بھی قر آن مجید کی دوسری بہت سی آیات اور پیغمبر اکرم(ص) اور آئمہ علیہم السلام کے فرامین سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کے اعمال کا نہایت توجہ کے ساتھ اور بالکل ٹھیک حساب ہوگا اور ہر انسان کی قدر و قیمت اس کی نیکیوں اور برائیوں کے لحاظ سے متعین کی جائے گی_ حساب و کتاب کس طرح لیا جائے گا اور اس وقت کیا کیفیت ہوگی، یہ باتیں بھی حضور اکرم(ص) کی بعض احادیث میں بیان ہوئی ہیں_ ان میں سے بعض احادیث کی جانب ہم اشارہ کرتے ہیں_
پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے:
قیامت کے روز انسان کے قدم اٹھانے سے پہلے چار چیزوں کے متعلق سوال کیا جائے گا_ اپنی عمر کس طرح گزاری؟ اپنے جسم کوکس کام میں استعمال کیا؟ مال کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور خدا کے پیغمبر(ص) اور اہل بیت سے دوستی کے بارے میں پوچھا جائے گا ایک اور مقام پر پیغمبر(ص) اکرم فرماتے ہیں کہ:
قیامت کے روز ایک ایسے شخص کو حساب و کتاب کے لئے پیش کیا جائے گا کہ جس نے دنیام یں بہت سے اچھے کام اور بے شمار نیکیاں انجام دی ہوں گی_ اسے امید
ہوگی کہ ان نیک کاموں کی وجہ سے وہ خدا کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور منتظر ہوگا کہ فرشتے اس جنّت کی جانب لے جائیں_ عین اسی وقت چند ایسے انسان نمودار ہوں گے جن کا اس شخص نے حق غصب کیا ہوگا اور وہ اپنے حق کا مطالبہ کریںگ اور انصاف چاہیں گے لیکن قیامت کے روز اس ظالم و غاصب شخص کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا کہ ان طالبان حق کا حق ادا کرسکے آخر کار فرشتے اس شخص کی نیکیوں میں سے کچھ نیکیاں لے کر ان طالبان حق مظلوم انسانوں کے حصّہ میں ڈال دیں گے تا کہ وہ اپنے مطالبہ سے دستبردار ہوکر راضی ہوجائیں ممکن ہے اس شخص کے سامنے کچھ اور طالبان حق اپنا مطالبہ لے کر آئیں اور ان کی تعداد اتنی بڑھ جامے کہ اس شخص کی نیکیاں ہی ختم ہوجائیں، اس صورت میں فرشتے حق طلب کرنے والوں کے گناہوں اوربرائیوں کواس غاصب شخص کے نامہ اعمال میںڈال دیں گ اور اس طرح یہ انسان کہ جس نے دنیامیںلوگوںپر ظلم کیاہے اوران کے حقوق کو غصب کیاہے نہ صرف تمام نیکیاں اور اچھائیاں کہ جنھیں اس نے دنیا میں انجام دیا تھا اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھے گا بلکہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائے گا اب وہ ہوگا اور برائیوں کا بھاری بوجھ_
پیغمبر اکرم(ص) ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
اگر کوئی کسی پر ظلم کرتے ہوئے تازیانہ لگائے تو قیامت کے دن اس سے یقینا قصاص لیا جائے گا_''
خود آپ(ع) نے اپنی عمر کے آخربی دنوںمیںلوگوںکے سامنے اپنے کو قصاص کے واسطے پیش کردیا اور فرمایا:
خداکی قسم دنیا میں قصاص دنیاآخرت میں قصاص دینے سے بہت زیادہ سہل اور آسان ہے_ دنیا میں قصاص کو رائج کرو تا کہ آخرت کے قصاص سے محفوظ رہو_
آپ(ص) ہی نے فرمایا کہ:
قیامت کے دن سب سے پہلے جوایک دوسرے پردعوی کریں گے وہ ایک دوسرے پرزیادتی کرنے والے اورایسے میاںبیوی ہوںگے جن میں کبھی بھی نہ بنتی ہوگی_ مرد اللہ تعالی سے اپنی بیوی کی زیادتیوں کی شکایت کرے گا اور کہے گا کہ خداوندا یہ عورت بلاوجہ میری برائی کیا کرتی تھی اور خواہ مخواہ مجھ میں عیب نکالا کرتی تھی اور مجھے اذیت اور تکلیف دیتی تھی اوراس نے میرا گھر میں رہنادو بھر کردیا تھا عورت اس موقع پرانالزامات کوردکرے گی لیکن فرشتے اس کی زبان پر مہر لگادیں گے تاکہ وہ خاموش رہے،اس عورت کے اعضاء اور جوارح، ہاتھ اور پاؤں بات کرنے لگیں گے اور عورت کی ان زیادتیوں کوبیان کریںگے جوا س نے اپنے شوہر پرکی تھیں_ اورکبھی اس کے برعکس بیوی
اپنے شوہر کی زیادتیوںکی شکایت کرے گی اورکہے گی کہ اس نے میراجینا دشوار کردیاتھا_ بغیر کسی وجہ سے کے گھر میں چیخ وپکار کیاکرتا تھا اوراس نے گھر کواپنے غصّہ کی آگ سے جہنم میںتبدیل کردیاتھا_ مردکے اعضااورجوارح اس کے خلاف گوہی دیں گے اور عورت کی بات کی تصدیق کریںگے_''
پیغمبراسلام(ص) جودونوں جہانوں کیلئے رحمت اورانسانوں کے نجات دہندہ تھے پسندنہیںفرماتے ت کہ کوئی انسان اپن آپ کوآخرت کے عذاب اورقیامت کے حساب کی سختی میں گرفتار کرے_ لہذا آپ(ص) نے تمام مومن اورحق پسند انسانوں کوخطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ:
خدا اس بندہ پر اپنی رحمت نازل کرے جو موت کے آنے سے پہلے اس آدمی کا حق اداکردے جس کاحق اس کی گردن پر ہو، کیونکہ قیامت کے دن انسان کے پاس کسی قسم کا مال و دولت نہ ہوگا کہ وہ اپنے حق کے طلب گاروں کا حق اس کے ذریعہ ادا کرے_ روز قیامت صرف انسان کے اچھے اور برے اعمال اس کے ساتھ ہوں گے اورحق داروں کے حق طلب کرنے کی صورت میں اس کے اچھے اعمال کم کر کے طلب گاروں کے حصّہ میں ڈال دیئے جائیں گے اور اگر اس کے پاس کوئی اچھا عمل نہ ہوگا تو طلب گاروں کے برے اعمال اس کے حساب میں ڈال دیئے
جائیںگے_''
یقینا اس روز ہم بھی اپنے پروردگار کے سامنے جواب دہ ہوں گے اس عظیم دن کے لئے جس دن تمام طاقت و قدرت صرف ذات الہی کے ہاتھ میں ہوگی اور اسی کا حکم چلے گا اور کسی کو اس کی اجازت کے بغیر بات کرنے کی طاقت نہ ہوگی اورپھر سوائے حق اور صحیح بات کے کوئی اوربات کی بھی نہ جاسکے گی_ ضروری ہے کہ اس دن کے لئے زاد راہ جمع کریں اور بہترین زادراہ تقوی ہے_
پیغمبر اکرم (ص) کے فرمان کے مطابق:
پہلی چیز جس کے متعلق روز قیامت سوال ہوگا وہ نماز ہوگی بہترین چیز جسے انسان اپنے ساتھ لے جائے گاوہ اچھا اورنیک اخلاق ہوگا_''
ہمارے لئے بہتر یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ ہم سے روز قیامت سوال کیا جائے اوردنیا میں کئے جانے والے اعمار وافعال کا حساب طلب کیاجائے ہم خود ہی اپنے اعمال و اخلاق پرنگاہ ڈالیں اوراپنا محاسبہ کریں_
پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے کہ:
اپنے اعمال کاحساب کرو قبل اس کے کہ ان کا حساب کیا جائے_ اور اپنے اعمال کا وزن کروقبل اس کے کہ ان کاوزن کیاجائے_''
آیت قرآن
( انّ الّذین یصلّون عن سبیل الله لهم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب)
وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوگئے ہیں یقینا ان کے لئے سخت عذاب ہوگاکیونکہ انہوں نے قیامت کے دن کو بھلادیا ہے_''
''سورہ ص آیت ۲۶)
سوچیے اورجواب دیجئے
۱)___ خداوند عالم نے سورہ نباء میں جہان کے بامقصد ہونے کے ساتھ کن موضوعات کو یاد دلایا ہے؟
۲)___ خداوند عالم نے اس سورہ میںکن مسائل کاذکرفرمایا ہے (صرف سورہ کے اس حصّے میںکہ جس کاذکر اس درس میںکیاگیا ہے؟)
۳)___ قیامت کے دن کوکیوں'' روز فصل اور روز جدائی'' کہاجاتا ہے؟
۴)___ سورہ نباء میں ظلم اورزیادیتوںکرنے والوںکے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
۵)___ پیغمبر اکرم (ص) کا فرمان ہے کہ انسان سے قیامت کے دن چار چیزوں کے بارے میں سوال کیاجائے گا_ وہ چار چیزیں کون سی ہیں؟
۶)___اگر کوئی دنیا میں کسی پر ظلم کرے اورکسی کا مال اورحق غصب
کرے تو اس سے قیامت کے دن صاحبان حق اپنا حق کس طر ح وصول کریںگے؟
۷)___ پیغمبر اکرم(ص) نے دوسرے لوگوں کے حقوق کے متعلق کیا سفارش کی؟
۸)___ ایک دوسرے پرزیادتی کرنے والے میاں بیوی کس طرح انصاف چاہیں گے اوراگر اپنی زیادتیوںکا انکار کریںگے توکون ان کے اعمال کی گواہی دے گا؟
۹)___ سب سے پہلی چیز جس کا قیامت کے دن سوال ہوگا کیا ہے؟ بہترین چیز جو قیامت کے دن ہمارے کام آئے گی، کیا ہے؟
۱۰)___ قیامت کے دن حساب وکتاب کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک حدیث بیان کریں اور اس کی وضاحت بھی کریں؟
۱۱)___ قیامت کے دن کیلئے بہترین توشا اور زاد راہ کیاہے؟
قیامت کے ترازو
موت کے وقت انسان کے سامنے یہ دنیا ختم ہوجاتی ہے اور اس کے سامنے آخرت کی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں_ عمل کا زمانہ ختم ہوجاتا ہے اورحساب و کتاب اورجزا و سزا کازمانہ قریب ہوجاتاہے اور انسان دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوجاتاہے اگر انسان کی نظر میں دنیا کی قدر و قیمت ہوگی اور دنیاپرستی کاشکار ہوگا تو اس کے لئے دنیاکو چھوڑنا سخت مشکل و ناگوار ہوگا_ اور اگر اس کی نظر میں خدا کی خوشنودی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہوگی تووہ مکمل ذوق و شوق کے ساتھ اس سفر کے لئے تیارہوگا_
امام علی رضا علیہ السلام نے جانکنی کے بارے میں فرمایاہے کہ:
''کافر کے لئے موت کالمحہ نہایت سخت ہوگا_ گویا کہ ایک ادہا مسلسل اسے ڈس رہا ہے اوربچھوا سے بار بار اپنازہر
آلود ڈنک مار رہا ہے اوراس سے بھی زیادہ اذیت ناک_''
آپ(ص) سے سوال کیا گیا کہ:
کہاجاتا ہے کہ کافروں کے لئے اس دنیا سے جدا ہونے کی تکلیف اس سے بھی زیادہ سخت ہوگی کہ اس کے بدن کو آری سے ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے یا قینچی سے اس کی بوٹی بوٹی جدا کی جائے یا اس پربہت بھاری پتھر مارا جائے یا لوہے کی سلاخیں اس کی آنکھوں میںڈالی جائیں یا چكّی میں اسے پیس دیا جائے
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ:
ہاں ایسا ہی ہے لیکن تمام کافروں کے لئے نہیں بلکہ ان میں سے بعض کے لئے جو ظالم اور زیادہ گناہ گارہوں گے اورپھر یہ عذاب تو فقط آغاز ہوگا_ اس سے سخت اور سخت ترین عذاب تو اسے برزخ اور قیامت میں جھیلنا پڑے گا_ اس کے برعکس مومن جو خداپرست اورخدا سے دل لگائے ہوئے ہوں گے اور اس کے احکام و فرامین کو مانتے ہوں گے اورہمیشہ آخرت کویادکرتے ہوں گے اور لوگوںکے ساتھ صرف عدل و انصاف کا سلوک کرتے ہوںگے وہ بہت آسانی سے اس دنیا سے گزرجائیں گے کہ گویا پھول سونگھتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر رہے ہیں_ ان کا یہ سفر آخرت اسی طرح بزرخ اور اس کے بعد روز قیامت تک جاری رہے گا اور آخرت قیامت کے دن
کہ جس دن حساب وکتاب ہوا اوراعمال تو لے جائیں گے اس دن ان کے اعمال کا بھی ٹھیک ٹھیک حساب کیا جائے گا_
قیامت کے ترازو
خداوند عالم قرآن مجید میںقیامت کے دن کے بارے میں فرماتا ہے:
''پھر دیکھو وہ موت کی جانکنی حق لے کر آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے توبھاگتاتھا_''
''اس چیز کی طرف سے تو غفلت میںتھا، ہم نے وہ پردہ ہٹادیاجوتیرے آگے پڑاہواتھا اورآج تیری نگاہ خوب تیز ہے_''
قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازورکھ دیںگے پھر کسی شخص پرذرہ برابر ظلم نہ ہوگا_''
(سورہ ق آیت ۱۹_ سورہ انبیاء آیت ۴۷)
آپ سوچتے ہوں گے کہ عدالت کاترازو کیا چیز ہے؟ سوچتے ہوںگے کہ قیامت کے ترازو سے کیامراد ہے؟ اوریہ اعمال کے وزن اوراس کی قدر و قیمت کا کس طرح تعین کریں گے؟ عمل بے وزن اوربے قیمت ہونے کوکس ترازو سے تولیں گے؟
میزان کے معنی ترازو اوراس ذریعہ کے ہیں جس سے کسی چیز کوتولایا
ناپاجاتا ہے_
ہر چیز کو ایک مخصوص پیمانے سے ناپاجاتا ہے_ مثلاً سونے کے زیورات کے وزن کے لئے ایک حساس اورچھوٹا ترازو استعمال کیاجاتا ہے_ اسی طرح ایک بڑے ٹرک کاوزن معلوم کرنے کے لئے جو تربوزوں سے بھبرا ہوا ہو ایک بڑے کانٹے کو استعمال کیا جاتا ہے_ جسم کی حرارت اور نجار معلوم کرنے کے لئے تھرمامیٹر اورکسی چیز کی بلندی یا طول و عرض معلوم کرنے کے لئے میٹر سے استفادہ کیا جاتا ہے_
پس آپ نے دیکھا کہ میزان اورترازو مختلف شکلوں اور مختلف قسموںکے ہوتے ہیں_ جسم کی حرارت معلوم کرنے والا تھرمامیٹر اورٹرک کا وزن کرنے والے کانٹے کے درمیان کتنا فرق ہے_ لیکن اسکے باوجود یہ پیمائشے کرنے کاذریعہ کہلاتے ہیں_
اگرہم آپ کی کلاس میںمصوری کا مقابلہ منعقد کروائیں تو اس میں بہترین تصویر کا چناؤ کیسے کریں گے؟
اگرکچھ لوگوں کی طاقت کا موازنہ کریں کہ ان میں سے کون زیادہ طاقتور ہے تو کیسے معلوم کریں گے؟
اوراسی طرح ایک مجاہد کی بہادری معلوم کرنے کا آپ کے پاس کیا پیمانہ ہے؟ اس قسم کے مواقع پر''میزان اورترازو' ' وہ نمونہ ہوتاہے جودنیامیںپہلے سے موجودہو_ مثلاً ایک تحریر کی خوبصورتی اور اس کے حسن کوپرکھنے کے لئے ایک بڑے استاد کی تحریر سے اس کا موازنہ کیاجائے گا_ اور اسی لحاظ سے اس کامعیار معین کیا جائے گا_ پس اس صورت میں ترازو اور میزان استاد کی لکھی
ہوئی تحریر قرار پائے گی_
ایک کلاس کے طالب علموں کی قابلیت کاتعین کرنے کے لئے امتحان منعقد کیا جاتا ہے اور کلاس کے سب سے ذہین طالب علم کو دوسروں کے لئے میزان قرار دیا جاتا ہے_
آپ نے دیکھا ہوگا کہ کبھی کبھی آپ کے استاد پوری کلاس کو ایک سوال حل کرنے کے لئے دیتے ہیں اورپھر اس کی چیکنگ کے دوران جب دیکھتے ہیںکہ اکثر طالب علموں نے سوال غلط حل کیا ہے تو ان سے کہتے ہیںکہ فلاں طالب علم کودیکھو، اس نے سوال بالکل درست طور پرحل کیا ہے، جاؤ اوراس کی کاپی سے اپناسوال ملاؤ_
قرآن مجید کے مطالعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز بندوں کے حساب وکتاب کے لئے خداوند عالم ایسے میزان اورترازو معین کرے گا جن کے ذ ریعہ بندوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا تا کہ انسان اپنے اعمال کے وزن اوران کی قدروقیمت کے مطابق اپنی جزا کوپاکسیں_
اس بارے میں خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ:
''قیامت کے دن ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رک ھ دیںگے، پھر کسی شخص پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا جس نے رائی کے دانے کے برابر بھی عمل انجام دیا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اورحساب لگانے کے لئے ہم کافی ہیں_''
( سورہ انبیاء ۲۱_ آیت ۴۷)
'' اس دن پیمائشے اور وزن حق کے مطابق ہوگا جس شخص
کا پلڑا نیک اعمال سے بھاری ہوگا نجات پاجائے گا اور جنکا پلڑا ہلکا ہوگاوہ نقصان اور خسارہ میں ہیںرہیں گے کیونکہ انہوں نے ہماری آیت پرظلم کیا ہے، اور جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے_
البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ قیامت کا ترازو ان ترازؤوں سے مختلف ہے جن کا ہم اپنی روزمرّہ مادی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں_ قیامت کے دن کے ترازو کی نوعیت مختلف ہوگی_ اس ترازو کے ذریعہ لوگوں کے عقائد و افکار اور اخلاق و رفتار کو ناپا جاسکے گا_ عقائد کو پرکھنے کا پیمانہ ''حق'' ہوگا اور''حق'' سے موازنہ کر کے ہی عقائد کوپر کھا جاسکے گا_
انسانوں کے اعمال و افعار کا پیمانہ صالح لوگ ہوں گے_ انبیاء ائمہ خدا کے منتخب بندوں اور اولیاء اللہ کے اعمال کے ذریعہ انسانوں کے اعمال کا موازنہ کیا جائے گا_ جتنا کسی کا عمل ان کے عمل سے مشابہت رکھتا ہوگا اتناہی وزنی اورباقیمت ہوگا_ جواعمال خدا اور اس کی رضا کے لئے انجام دیئے جائیں وہ وزنی اور قیمتی ہیں اور جو اعمال غیر خدا کے لئے اور غفلت میں انجام دیئے جائیں وہ بے وزن وبے قیمت ہوتے ہیں، اگر چہ ان کی ظاہری صورت اچھی اورنیک ہی کیوں نہ ہووہ قیامت کے دن نیک اوراچھے اعمال میں شمار نہیں کئے جائیں گے_
لہذا جنّت اورخداوند عالم کاقرب وہ حاصل کرسکے گا جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا_ اور جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری نہ ہوگا وہ نجات نہ پاسکے گا اوروہ ضر ور بالضرور جہنّم میں جاء گا اور آگ کی تہہ میں پڑے گا_
قرآن مجید کا ایک سورہ جسے قارعہ کہا جاتا ہے اس کے ترجمے پرغور
کیجئے:
خدا کے نام سے جوبڑا مہربان اورنہایت رحم کرنے والا ہے_ ''تو ڑ دینے والی، توڑ دینے والی کیا ہے، کیا جانتے ہوکہ توڑنے والی کیا ہے_ وہ دن کہ جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی مانند اورپہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، پھر جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ اچھی اورخوشحال زندگی میں داخل ہوگا اور جس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کاٹھکانا جہنّم ہوگا اور تمہیں کیا جانتے ہو کہ جہنّم کیا چیز ہے_ بھڑ کتنی ہوئی آگ:
قیامت کے دن انسانی اعمال کا وزن کیا جائے گا اوراس کے پوشیدہ اعمال ظاہر و آشکار ہوجائیں گے_ اس دن انسان اپنے تمام اعمال اورحرکات کا مشاہدہ کرے گا_ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ:
اس دن انسانوں کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا ہوا بتادیا جائے گا_ بلکہ انسان خود ہی اپنی آپ کواچھی طرح جانتا ہے''
قیامت کے دن انسان کانامہ عمل اتنا واضح اورروشن ہوگا کہ وہ اس کو دیکھ کراپنے تمام اعمال س آگاہ ہوجاء گا اور ان کے درست ہونے کا اعتراف کرے گا اور میزان اتنا ٹھیک ٹھیک ہوگا کہ انسان سے کہاجائے گا کہ خود اپنا حساب کرے
قیامت کے دن انسان سے کہاجاء گا کہ:
اپنے نامہ عمل کوپڑھ، آج توخود اپنا حساب کرنے کے لئے کافی ہے''
قیامت کے دن باطنی اعمال اورپوشیدہ حقائق اس طرح واضح ہوں گے کہ کوئی بھی ان کا انکار نہ کرسکے گا_ اور اگرکوئی انکار کرنا چاہے گا تو اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی تا کہ اس کے اعضاء وجوارح گواہی دے سکیں_
خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے_
اس دن یعنی قیامت کے دن ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے اعضاء و جوارح، ہاتھ، پاؤں باتیں کریں گے اور اپنے کردار کی گواہی میں فرماتا ہے_
یہ ہماری کتاب ہے کہ جو حق کے مطابق تمہارے خلاف گواہی دے رہی ہے_ قیامت کا دن حساب و میزان کا دنہے_ حق اور عدل ادلہ جزا و سزا کا دن ہے_ نیک لوگوں کی ظالموں اور بدکاروں سے مکمل جدائی کا دن ہے_''
پس کتنا اچھا ہو کہ ہم اپنے آپ کواس عظیم دن کے لئے تیار کریں اور ایسے اعمال انجام دیں کہ اس دن جن کے دیکھنے سے شرمندگی نہ ہو_
آیت قرآن
''( و نضع الموازین القسط لیوم القی مة فلا تظلم نفس شیئا و ان کان مثقال حبّة من خردل اتینا بها و کفی بنا حاسبین ) _''
سورہ انبیاء ۲۱_ آیت ۴۷
قیامت کے دن ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازورکھ دیں گے پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا_ جس نے رائی کے برابر بھی عمل انجام دیا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے_ اور حساب کرنے کے لئے ہم کافی ہیں''
سوچیے اورجواب دیجئے
۱)___ دنیا سے آخرت کے سفر میں کون جان لیوا اور سخت شکل محسوس کرے گا اور کون ذوق و شوق سے اس کو طے کرے گا؟
۲)___ امام رضا علیہ السلام کے مطابق ظالم اورکافر دنیا سے رخصت کے وقت کیا محسوس کریں گے اور مومن و خداپرست اس موقع پر کیا محسوس کریں گے؟
۳)___ قیامت کے دن کون لوگ نجات پانے والے اور کون لوگ نقصان و خسارہ کا شکار ہوں گے؟ (آپ کی کتاب
میں اس بارے میں جو ذکر ہوا ہے اس کی رو سے جواب دیں؟)
۴)___ اس سبق میں ترازو کی جو قسمیں بیان ہوئی ہیں انہیں شمار کیجئے اور یہ بتلایئےہ قیامت کے دن ترازو کون کی چیز ہوگی؟ انسان کے اعمال کو کس سے تو لاجائے گا ...؟
۵)___ عمل کے بھاری یا بے وزن ہونے کا قیامت کے دن کیا سیار ہوگا؟
۶)___ سور ہ قارعہ کی آیات کی رو سے کون لوگ قیامت کے دن اچھی زندگی میں داخل ہوں گے اور کون لوگ ہاویہ اور عذاب میں ڈالے جائیں گے؟
۷)___ قیامت کے دن مشکلات اور شرمندگی سے بچنے کے لئے ہمیں کون سے اعمال انجام دینا چاہیئے؟
جنّت اوراہل جنّت; دوزخ اور اہل دوزخ
جناب ابوذر غفاری سے کسی نے سوال کیا کہ ہمارے لئے مرنا کیوں تکلیف دہ ہوتا ہے___؟
حضرت ابوذر نے جواب دیا:
'' اس لئے کہ تم نے اپنی دنیا کو آباد کیا ہے اور آخرت کو خراب و ویران کیا ہے_ اس دنیا میں اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی ہے اور گناہوں میں مبتلا رہے ہو اور جو کچھ تمہارے پاس تھا اسی دنیا میں خرچ کردیا ہے اور آخرت کے لئے کوئی توشہ و زاد راہ روانہ نہیں کیا_ اسی لئے تمہارے لئے ایک آباد مکان سے خراب و ویران مکان کی طرف منتقل ہونا تکلیف دہ ہوتا ہے_
اس نے پھر سوال کیا کہ ا بوذر ہماری حالت آخرت کے جہان میںداخل ہوتے وقت کیسی ہوگی؟
جناب ابوذر نے فرمایا:
لوگ دوقسم کے ہوتے ہیں_ نیک اور برے _ نیک لوگ، ان لوگوں کی طرح ہوں گے جو طویل مدّت اپنے گھر بار سے اوراپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے دور ہوں اوراب وہ اپنے گھر پہنچنے والے ہوں اور اپنے رشتہ داروں کا دیدار کرنے والے ہوں تو انھیں کتنی خوشی اور مسرّت محسوس ہوگی؟ وہ کتنے خوشحال خوشنود ہوں گے؟ نیک لوگ اس طرح اپنے مہربان خدا کے نزدیک اور اس کی خوبصورت بہشت میں داخل ہوں گے_ ملائکہ و پیغمبران و اولیاء خدا ان کا استقابل کریں گے اور وہ بہشت کی ختم ہونے والی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے لیکن گناہگار اور برے اعمال کے مرتکب اس مجرم اور باغی ی طرح ہو گے جو اپن گناہو کے خوف سے فرار ہوگیا ہو اور جب اسے گرفتار کے لایا جائے اور اس کے جرائم کی سزا سنائی جائے تو اس کی کیا حالت ہوگی؟
اعمال بد انجام دینے والا اپنے آپ کو اپنے اعمال میں گرفتار دیکھ رہا ہوگا تمام گناہگارو کی یہی حالت ہوگی، وہ خود کو خدا کے غیظ و غضب اور عذاب میں مبتلا دیکھ رہے ہوں گے_ وہ دیکھ رہے ہو گے کہ اب وہ اس پروردگار کے سامنے کھڑے ہیں جو بدلہ لینے والا ہے_ جس کے فرامین و احکامات کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہے_ ان پر پانی پانی کردینے والی شرمندگی طاری ہوگی اور وہ اپنے آپ کوعذاب کامستحق دیکھ رہے ہوں گے اوربالآخر ان کوکھینچ کر جہنّم میں لے جایا جائے گا_''
اس شخص نے پھر سوال کیا_ اے ابوذر بتایئےہ ہماری حالت
خداوند عالم کے سامنے کیسی ہوگی؟ جنّتی ہوں گے یا جہنّمی؟
حضرت ابوذر نے فرمایا کہ:
اپنے اعمال کو اللہ تعالی کی کتاب کے سامن رکھو اوردیکھو کہ خدائے تعالی قرآن مجید میں کیا فرماتے ہے اور تمہاری کیا حالت ہے_ خدائے تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ نیک اور صالح جنّتی ہوں گے اور فاسق و فاجر جہنّمی''_
ابوذر نے فرمایا:
اللہ تعالی کی رحمت نیک لوگوں سے زیادہ قریب ہے''_
آخرت میں انسان لامحالہ ان دو مقامات میں سے ایک میں قیام کرے گا_ جنّت میں یا جہنّم میں_
جنّت
جنّت نیک اور دیندار اور خداپرست لوگوں کی رہائشے اور مکان ہے، پیغمبروں اور ان کے پیروکاروں کے ہمیشہ رہنے کی چگہ ہے_
بہترین اور خوبصورت ترین مقام ہے جسے مہربان خالق نے اپنے نیک بندوں کے لئے بنایا ہے_ نہایت وسیع اور کشادہ ہے، زمین ماور آسمان کی وسعتوںکے مساوی بلکہ ان سے بھی وسیع و عریض ہے، روشن و پرنور ہے_ غرض انسان اس کی تعریف سے عاجز ہے_
اسے بہشت بھی کہتے ہیں_ قرآن اسے جنت سے تعبیر کرتا ہے
''جنّت'' یعنی سر سبز و شاداب درختوں سے بھرا ہوا باغ
جنت کے سر سبز و شاداب درختوں کے نیچے صاف اور شفاف اورٹھنڈے پانی کی نہریں جاری ہوں گی_ ان کی شاخوں پر رنگ برنگ اور مزے دار پھل لٹکے ہوئے ہوں گے اور معطر ہوا کے جھونکوں سے جھوم رہے ہوں گے_
جنّت میں کسی قسم کی برائی اور نقص کا وجود نہ ہوگا_ نیک لوگ وہاں جس چیز کی تمنّا کریں گے ان کے لئے حاضر کردی جائے گی_ جب کسی پھل کی خواہش کریں گے تو مدرختوں کی خوبصورت ٹہنیاں ہواکے چلنے سے حرکت کریں گی اور اس نیک بندے کے نزدیک پہنچ کر پھل اس کے ہاتھوں پر رکھ دیں گی_
جنّت میں مومنین کے لئے نہایت عایشان اور آسائشےوں سے پر، محل بنائے گئے ہوں گے، ان پر عمدہ اور بہترین فرش بچھے ہوئے ہوں گے مومنین بہترین اور خوش رنگ لباس زیب تن کئے ہوئے، آرامدہ مندوں پر پیغمبروں، ائمہ اطہار، شہداء اور دوسرے جنتیوں سے محو گفتگو ہوں گے_
پیغمبر (ص) فرماتے ہیں کہ:
میں نے جنّت میں دیکھا کہ فرشتے جواہرات اور انیٹوں سے ایک خوبصورت محل بنا رہے ہیں_ کبھی تیزی سے اور زیادہ کام کرنے لگتے اور کبھی کام چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں مسں نے ان سے پوچھا: کیا کام کر رہے ہو؟ کیوں کبھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم یہ
محل ایک مومن کے لئے بنا رہے ہیں_ آپ(ص) نے سوال کیا: پھر بناتے بناتے رک کیوں جاتے ہو_ فرشتوں نے جواب دیا کیونکہ محل بناتے میں استعمال ہونے والا سامان ختم ہوجاتا ہے_ آپ(ص) نے پوچھا: محل بنانے کا سامان کیا ہے؟ فرشتوں نے کہا یہ سامان اللہ اکبر لا الہ الا اللہ ہے جو ان جواہرات اور سونے کی دانیٹوں میں تبدیل ہوجاتا ہے اس محل کوبنانے کا سامان، اللہ تعالی کا ذکر اور وہ نیک اعمال ہیں جو خود مومن دنیا سے ہمارے لئے روانہ کرتا ہے جب تک مومن کار خیر اور اللہ تعالی کی یاد میں مشغول رہے، ہم تک سامان پہنچتا رہتا ہے اور اگر مومن غافل ہوجائے اور کار خیر انجام نہ دیے تو ہم تک سامان نہیں پہنچتا اور ہم بھی مجبوراً کام ر وک دیتے ہیں_''
جنّت میں نعمتیں ہمارے دنیاوی اعمال سے بنائی جاتی ہیں اور جنّت کی بعض نعمتیں اتنی خوبصورت ہیںکہ کبھی آنکھ نے ان جیسی خوبصورتی کو نہ دیکھا ہوگا ان کے دل پسند اور صاف کوکسی کان نے نہ سنا ہوگا بلکہ ان کا خیال بھی کسی کے ذہن میں نہیں آسکتا_ مختصر یہ کہ جنت کی نعمتیں ہماری فکروں سے بھی زیادہ بلند و بالا ہیں_ اور بہشت کی تعریف و توصیف میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے وہ ہماری ذہنی سطح کے مطابق بیان کیا گیا ہے_ ورنہ بہشت کی عظمت اور اس کی حقیقی خوبصورتی اور زیبائی ناقابل بیان ہے_
لیکن خدا نے بیان کے لئے کہ بہشت رہنے کے لئے کتنی عمدہ جگہ ہے اس کی کچھ صفات کو ہماری زبان اور ہماری ذہنی سطح کے مطابق بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ :
متقین کے لئے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اس کے پھل ہمیشہ رہنے والے ہیں اور اس کا سایہ لازوال ہے یہ تو انجام ہے متقی لوگوں کا لیکن کافروں کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے_''
(سورہ رعد ۱۳_ آیت ۳۵)
بہشت میں جس چیز کی خواہش کروگے تیار ہوگی اور جو چاہو گے وہ موجود ہوگا_''
(سورہ فصلّت ۴۱_ آیت ۳۵)
''ان مومن مردوں اور عورتوں سے خدا کا وعدہ ہے کہ انھیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہیں گے_ ان سدا بہار باغوں میں ان کے لئے پاکیزہ قیام گا ہیں ہوں گی اور سب سے بڑھ کریہ کہ اللہ کی خوشنودی انھیں حاصل ہوگی اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے_
(سورہ توبہ ۹ آیت ۷۲)
جنت میں تمام رہنے والے لوگ ایک مرتبے اور ایک درجے کے نہیں ہیں بلکہ اپنے ایمان اور خلوص اور اعمال صالح کی مقدار کے لحاظ سے ان کے مر اتب میں فرق ہوگا بہشت میں موت، غم، بیماری، فکر، مصیبت کا کوئی
وجود نہ ہوگا_ بلکہ جنّتی افراد ہمیشہ خداوند عالم کے لطف و عنایات کے زیر سایہ ہوں گے اور ہمیشہ خدا کی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے اور سب سے زیادہ یہ کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہوگا اور وہ بھی اللہ اور اس کے الطاف اور عنایات سے راضی ہوں گے_
دوزخ
دوزخ ظالموں اور بدکاروں کاٹھکا نہ ہے اور مشرکوں اور منافقوں کی قیام گاہ ہے_
دوزخی نہایت سخت اور بہت دردناک زندگی سے دوچار ہوں گے ان کے برے اعمال اور اور کفر و نفاق، عذاب اور سخت سزا کی صورت میں تبدیل ہوکر ان کے لئے ظاہر ہوں گے اور انھیں درد و رنج پہنچاتے رہیں گے_ آگ کا لباس ان کے جسم پر اور گلے میں طوق، ہاتھ اور پاؤں میں زنجیر پہنائی جائے گی_ آتش دوزخ کے شعلے ان کے جسم سے اٹھ رہے ہوں گے ان کے گوشت اور ہڈیوں کو جلا رہے ہوں گے_ ساتھ ہی ساتھ ان کے باطن میں قلب و روح میں بھی نفوذ کر رہے ہوں گے_
جہنّمیوں کا کھانا اور پینا، گندا، بدبودار، غلیظ اور جلادینے والا ہوگا جو پیپ سے بدتر ہوگا_ جس کی بدبو مردار سے زیادہ ہوگی_
جہنّم کا عذاب جو کفر و نفاق ظلم و ستم اور برے اعمال کا نتیجہ ہے اتنا سخت اور دردناک ہے کہ جس کا ہم تصوّر بھی نہیں کرسکتے_ اس دردناک
عذاب کی جھلک خداوند عالم اس بیان کی صورت میں ہمیں یوں دکھاتا ہے کہ :
ہم نے ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انھیں گھیرے میں لئے ہوئے ہوں گی وہاں گر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھون ڈالے گا بدترین پینے کی چیز اور بدترین رہائشے گاہ _''
(سورہ کہف ۱۸ آیت ۲۹)
جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا انھیں یقینا ہم آگ میں ڈالیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تا کہ وہ خوب عذلاب کا مزا چکھیں_ یقینا اللہ بڑا قادر اور حکیم ہے_''
(سورہ نساء ۴_ آیت ۵۵)
''دردناک سزا کی خبر دو انھیں جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انھیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی سے جہنّم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا_ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، لواب اپنی اس دولت
کا مزا چکھو جسے تم نے ذخیرہ کیا تھا_''
(سورہ توبہ ۹ آیت ۳۵)
یقینا آپ کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ معلوم کریں کہ روز قیامت ہمارا انجام کیا ہوگا؟ آخرت میں ہمارا ٹھکانا کہاں ہوگا؟ جنّت یا جہنّم؟
اگر ہم غور سے پیغمبر اکرم(ص) کے اس قول کا جائزہ لیں تو شاید اندازہ ہوجائے کہ ہمارا انجام کیا ہوگا؟
پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے:
بہشت مصائب اور آلام میں پوشیدہ ہے جو شخص دنیا کی مشکلات اور رنج و الم کو برداشت کرے گا وہ بہشت میں داخل ہوگا_ اور جہنّم لذّت و شہوت اور ہوس رانی میں پوشیدہ ہے، جو شخص شہوت اورہوس رانی میں مبتلا ہوگا وہ جہنّم میں جائے گا_
آیت قرآن
( مثل الجنّة الّتی وعد المتّقون تجری من تحتها الانهر اکلها دائم و ظلّها تلک عقبی الّذین اتّقوی و عقبی الکفرین النّار )
ساسالہ استعمال کرتے ہیں؟ اور کیوں فرشتے کام چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں؟
۷) ___دوزخ کن کاٹھکا نہ ہے اور جہنم کا عذاب کس چیز کانتیجہ ہوا ہے؟
۸) ___قرآن مجید کی آیات سے استفادہ کرتے ہوئے جہنّم کے عذاب کی کوئی مثال بیان کیجئے؟
متقیوں کے لئے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں_
اس کے پھل ہمیشہ رہنے والے ہیں اور اس کا سایہ لازوال ہے_ یہ تو انجام ہے متقی لوگوں کا_ لیکن کافروں کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے_''
(سورہ رعد ۱۳ آیت ۳۵)
سوچیے اور جواب دیجیے
۱)___ حضرت ابوذر- نے اپنے کلام میں نیک لوگوں کوکن لوگوں سے تشبیہ دی ہے اور گناہ گاروں اور برے لوگوں کوکن سے؟
۲)___ حضرت ابوذر کے قول کی روشنی میںبتا یئےہ اللہ تعالی کے نزدیک ہماری حالت کیا ہوگی؟
۳) ___اللہ تعالی کی رحمت کہاں گئی؟ جناب ابوذر نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا،اوراس جواب سے کیا مقصد تھا؟
۴) ___اس سبق کو ملحوظ رکھتے ہوئے بہشت کی تعریف کیجئے؟
۵) ___بہشت کی نعمتوں میں سے کون سی چیز سب سے برتر اور بالاتر ہے؟
۶) ___جنّت میں مومنین کا مکان بنانے کے لئے ملائکہ کون
قیامت کا خوف
خدا کے شائستہ بندوں کی ایک صفت
خدا کے شائستہ بندوں کے متعلق حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ:
خداوند عالم نے اپنی یاد کو دلوں کے منور ہونے کا سبب قرار دیا ہے یاد خدا دلوں کوسماعت بخشتی ہے، خدا کی یاد تاریک و مردہ اور افسردہ دلوں کوروشن، بینا اور زندہ کرتی ہے، خدا کی یاد سرکش اور گنہکار دلوں کو خدا کی بندگی اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجانے کا سبق دیتی ہے_
ہر دور میں خدا کے ایسے منتخب بندے ہوتے ہیں جو خدا کی یاد میں مشغول رہتے ہیں اور اس سے مناجات کرتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے اس سے راز و نیاز کرتے ہیں_
خدا کی یاد سے ان کی دلوں میں بیداری اور آگاہی کا نور چمکتا ہے_ ان کی آنکھ، کان اوردل اس سے منور ہوجاتے ہیں_
خدا کے یہ منتخب بندے لوگوں کو ''ایام اللہ'' کی یاد دلاتے ہیں اور اس کے ارفع و اعلی مقام سے ڈراتے ہیں_ یہ باخبر رہنما بھولے بھنکے ہوؤں کو ہدایت دیتے اور رہنمائی کرتے ہیں_ جو بھی میانہ روی اور صحیح راستہ اختیار کرے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اسے نجات کی خوش خبری دیتے ہیں_ جوکجروی اختیار کرے اس کی مذمّت کرتے ہیں اور ہلاکت و تباہی سے ڈراتے ہیں_
یہ لائق احترام اور یاد خدا میں مشغول رہنے والے بندے اندھیروں کا اجالا اور گم کردہ راہوں کے رہنما ہوتے ہیں_
جی ہاں اس قسم کے شائستہ لوگوں نے دنیا کی محبت کی جگہ اللہ کی یاد کو اپنے دل میں جگہ دی ہے_ دنیاوی کام کاج اورتجارت انہیں یاد خدا سے غافل نہیں کرتے_
وہ اس عمدہ سامان سفر سے اپنی زندگی کا سفر طے کرتے ہیں اور راہ طے کرتے وقت غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو بیدار کرتے اور انہیں گناہوں سے روکتے ہیں_ لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی عدل و انصاف کے مطابق سلوک کرتے ہیں_ لوگوں کو برے کاموں اورمنکرات سے منع کرتے ہیں اور خود بھی برے کاموں کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے_
گویا وہ راہ دنیا طے کر کے آخرت تک پہنچ چکے ہیںاوروہاں سکونت اختیار کر کے ماوراء دنیا کا مشاہدہ کر رہے ہیں_ قیامت کے وعدے انکے لئے ثابت ہوچکے،وہ لوگوں کے لئے ان حقائق پر سے پردہ ہٹاتے ہیں اورقیامت وبرزخ کے حالات کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں_
اس طرح کہ جیسے اس عالم کی جن چیزوں کا مشاہدہ وہ کر رہے ہیں لوگوں کی نگاہیں انھیں نہیں دیکھ پاتیں اور جن صداؤں کویہ سنتے ہیں لوگ نہیں سن پاتے_
اے کاش
تم اپنے ذہن میں ان کے بلند مرتبہ اورروحانیت کو دیکھ پکاتے اور ان کے مقام محمود کا مشاہدہ کر تے_ گویا انہوں نے اپنے اعمال ناموں کو اپنے سامنے کھول رکھا ہے_ اوراپنے نفس کے (محاسبہ میں) اورچھوٹی بڑی کوتاہیوں اور خطاؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں_
خدا کے عذاب کے خوف سے آہ و فغان اور گریہ و زاری کر رہے ہیں_ اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہوئے ندامت اورپشیمانی کا اظہار کر رہے ہیں اور اپنے رب سے عفو و بخشش کے طلبگار ہیں_
اگر ان منتخب بندگان خدا کو غور سے دیکھا جائے تو یہ ہدایت کے پرچم اور روشنی پھیلانے والے چراغ نظر آئیں گے کہ جن کے ارد گرد اللہ کی رحمت کے فرشتوں نے احاط کر رکھا ہے، آسمان کے دروازے ان پرکھلے ہوئے ہیں اورفرشتے آرام واطمینان سے ان پر نازل ہوتے ہیں_
ان کے لئے امن و کرامت کے مقامات تیار کئے گئے ہیں_ اس امن کے مقام ہیںکہ جہاں خدا ان سے آگاہ، ان کی سعی وکوشش سے راضی اور ان کی راہ و رسم سے خوش ہے_
یہ بندے اپنی مناجات کے ذریعہ نسیم رحمت اورپروردگار عالم کی بخشش کو جوش میں لاتے ہیں_ ان کے دل اللہ تعالی کے فضل و کرم کے
گرویدہ اور اللہ کی عظمت و بزرگی کے سامنے خاضع اور خاکسار ہوتے ہیں_
آخرت کے عذاب کے خوف سے ان کے دل زخمی اور شکستہ ہیں اور خوف خدا کے سبب کیے جانے والے طویل گریہ سے ان کی آنکھیں آزردہ اور خستہ ہوچکی ہیں
(نہج البلاغہ سے ایک اقتباس)
امیرالمومنین علیہ السلام کہ جو خود خدا کے شائستہ بندوں میں سے ہیں خدا کے صالح اور شائستہ بندوں کے اس طرح قیامت سے خوفزدہ ہونے کی صفت کا تذکرتے ہیں_ کتنا اچھا ہو کہ حضرت علی (ع) کے قول کے ساتھ ساتھ ان کے عمل میں بھی خدا کے شائستہ بندوں کی نشانیوں کو دیکھیں_
امام(ع) کے دو نہایت نزدیکی اصحاب سے امام(ع) کی مناجات کی کیفیت ان کی آہ و زاری، پر سوز نالوں اور قیامت کے خوف کے متعلق سنیں_
حبّہ عرفی اور نوف بکالی کہتے ہیں:
ایک دن ہم دارالامارة کے صحن میں سوئے ہوئے تھے کہ آدھی رات کو ایک دردناک آواز نے ہمیں بیدار کردیا_ یہ ہمارے مولا امیرالمومنین (ع) کی آواز تھی_ آپ نے ایک دیوار سے نیک لگائی تھی_ پھر آہستہ آہستہ قدم بہ قدم چلنے لگے_ ستاروں سے پر آسمان کودیکھتے اور تھوڑی دیر ٹھہرجاتے اور اچانک رونے کی آواز بلند کرتے اور آنسو بہاتے اور پر درد ودلگدار لہجے میں ان آیات کی تلاوت فرماتے تھے:
یقینا زمین و آسمان کی خلقت اور دن و رات کی منظم گردش میں عقلمندوں کے لئے واضح نشانیاں موجود ہیں، وہ عقلمند کہ جو خدا کو ہر حال میں یاد کرتے ہیں چاہے بیٹھے
چاہے کھڑے اور چاہے پہلو پر بستہ ہیں لیٹے ہوئے ہوں زمین و آسمان کی خلقت پر غور و خوض کرتے ہیں_
اے پروردگار تو نے اس عظیم کارخانہ کو بے کار و بے مقصد خلق نہیں کیا ہے تو عیب سے پاک ہے بس تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا
پروردگار یقینا جس کو تونے آگ میں داخل کردیا ضرور اسے رسوا کردیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں اے ہمارے رب ہم نے سنا ہے کہ ایک منادی ندا کرتا تھا ایمان کے لئے کہ ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لے آئے_ اے ہمارے رب پس بخش دے ہمارے گناہوں کو اور دور کردے
ہم سے ہماری بدیوں کو اور ہمیں نیکیوں کے ساتھ موت دے_
اسے پروردگار جو کچھ تونے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ہم سے وعدہ کیا ہے ہمیں عطا کر اور ہم کو روز قیامت رسوا نہ کرنا_ یقینا تووعدہ خلافی نہیں کرتا_''
(سورہ آل عمران ۳_ آیت ۱۹ تا ۱۹۴)
امیرالمومنین علیہ السلام بار بار ان آیات کی تلاوت کر رہے ہے تھے اشک بہاتے تھے اور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر مناجات اورراز و نیاز کرتے تھے حبّہ کہتا ہے:
میں حیرت زدہ اپنے مولا کی حالت کو دیکھ رہا تھا کہ آپ(ع) میرے بستر کے نزدیک آئے اور فرمایا:
''حبّہ سوئے ہوئے ہو یا جاگ رہے ہو؟''
میں نے عرض کی :
مولا،اے امیرالمومنین علیہ السلام جاگ رہا ہوں جب آپ(ع) ، خدا کے خوف سے اس قدر لرزاں اور نالہ کناں ہیں تو افسوس ہم بے چاروں کی حالت پر:
امیرالمومنین علیہ السلام کچھ دیر سرجھکا کر روتے رہے پھر فرمایا:
اے حبّہ ایک دن سب خدا کے سامنے اپنا حساب دینے کے لئے کھڑے کئے جائیں گے_ خدا اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے_ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور کوئی چیز ہمارے اور خدا کے درمیان حائل نہیں ہوسکتی اس کے بعد نوف کے بستر کے پاس گئے اور فرمایا:
اے نوف سو رہے ہو یا جاگ رہے ہو؟
نوف جو کہ امیرالمومنین (ع) کی حالت کو دیکھ کر رو رہے تھے بولے:
''یا علی (ع) جاگ رہا ہوں اور آپ کی اس روحانی حالت کو دیکھ کر گریہ کر رہا ہوں_''
امیرالمومنین (ع) نے فرمایا:
اے نوف اگر آج خوف خدا سے اشک بہاؤ گے تو قیامت میں تمہاری آنکھیں روشن ہوں گی _ تمہاری آنکھوں سے گرا ہوا آنسو کا ہر قطرہ آتش جہنّم کو
بجھادے گا_ جو انسان اللہ کے خوف سے ڈرے، گریہ کرے اور اس کی دوستی خدا کے لئے ہو تو بہشت میں اس کا درجہ سب سے بلند و بالا ہوگا_
اے نوف جو شخص خدا کو دوست رکھتا ہو اور جسے بھی دوست رکھتا ہو خدا کے لئے ہو، کبھی بھی خدا کی دوستی پر کسی اور کی دوستی کو ترجیح نہیں دے گا جو شخص جس سے بھی دشمنی رکھتا ہو خدا کیلئے ہو اس دشمنی سے خیر و خوبی کے علاوہ کچھ اور نہ پہنچے گا_
اے نوف جس وقت تم اپنی دوستی اور دشمنی میں اس درجہ پر پہنچو کمال ایمان پر پہنچو گے_ خدا سے ڈورکہ میں تمہیں نصیحت کر رہا ہوں'' یہ کہہ کہ امام (ع) ہم سے دور چلے گئے_ اور خدا سے مناجات شروع کردی اشک بہاتے جاتے تھے اور آہستہ آہستہ اس دعا کی تلاوت کرتے تھے_
پروردگار اے کاش مجھے علم ہوتاکہ جس وقت میں تجھ سے غافل ہوں تو مجھ سے ناراض ہوتا ہے اور منھ پھیر لیتا ہے یا پھر بھی مجھ پہ لطف و کرم رکھتا ہے؟ اے کاش مجھے علم ہوتا کہ میری طویل نیند، سستی و کوتاہی کے سبب میری حالت تیرے نزدیک کیسی ہے
اس رات امیرالمومنین (ع) تمام رات جاگتے رہے اور اپنے خالق سے ر از و نیاز کرتے رہے_ بے قراری کے عالم میں چہل قدمی کرتے تھے_
امیرالمومنین (ع) یوں ہی راتوں کو بیدار رہتے، مناجات کرتے اور خوئف خدا اور قیامت کے حساب و کتاب کا ذکر کر کے رویا کرتے تھے_
آیت قرآن
''( ربّنا ما خلقت هذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النّار ) ''
پروردگار تو نے اس جہان اور زمین و آسمان کو باطل پیدا نہیں کیا ہے تیری ذات پاک و پاکیزہ ہے پس ہمیں جہنّم کی آگ سے محفوظ رکھ_''
(سورہ آل عمران ۳ آیت ۱۹۱)
سوچیے اور جواب دیجیے
۱) ___امیرالمومنین (ع) نے اپنے اس خطبہ میں اللہ کے نیک اور صالح بندوں کی بہت سی صافت بیان کی ہیں_ آپ ان میں سے دو صفات کو بیان کریں؟
۲) ___یہ صالح بندے کس راہ کی تعریف اور کس کی مذمت کرتے ہیں؟
۳)___ ان کا ڈر اور خوف کس چیز سے ہے؟ ان کا طویل گریہ کس خوف کے نتیجہ میں ہے؟
۴) ___امیرالمومنین (ع) نے جن آیات کی تلاوت کی ان کا ترجمہ کیجئے؟
۵)___ ان آیات میں کن باتوں کا تذکرہ ہے کہ جس کے سبب
امیرالمومنین (ع) کی یہ حالت ہوگئی تھی؟
۶) ___جب امیرالمومنین (ع) نے حبّہ سے دریافت کیا کہ سو رہے ہو یا جاگ رہے ہو تو حبّہ نے آپ (ع) کو کیا جواب دیا؟
آپ (ع) نے قیامت کے دن کے بارے میں حبّہ سے کیا فرمایا؟
۷)___امیرالمومنین (ع) نے نوف سے قیامت کی یاد اور خوف خدا سے رونے کے متعلق کیا فرمایا؟
۸)___ امیرالمومنین (ع) نے ایمان کامل رکھنے والے انسان کی کیا تعریف کی؟ کامل ایمان ہونے کے لئے کیا علامتیں بیان کیں؟
باب سوم
نبوت کے بارے میں
تمام پیغمبروں کا ایک راستہ ایک مقصد
شاید آپ نے بہار کے موسم میں بادام کے خوش رنگ شگوفے کودیکھا ہوگا کیا آپ نے دیکھا ہے؟
آیا کبھی سوچا ہے کہ
بادام کا جو بیج رمین میں بویا جاتا ہے یہ بیج، پھول کی خوبصورت شکل؟، اختیار کرنے تک کس قدر طویل، پر پیچ اور کٹھن راستہ کرتا ہے_
کتنی سعی و کوشش کر کے یہ راستہ طے کرتا ہے تا کہ نشو و نما پاسکے اور اس خوبصورت لباس سے اپنے آپ کو راستہ کرے
آیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس طویل راستہ کو طے کرنے میں اسکی راہنمائی کون کرتا ہے_
ہم نے توحید کی بحث میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ
جسطرح خلقت کی ابتدا خداوند کریم سے ہے اسی طرح ان کے وجود کا باقی رہنا، پر وان چڑھنا اور نشو و نما بھی خدا کی ذات سے وابستہ ہے_
خدا کے علاوہ کون ہے جو بادام کے بیج کی مانند ایک مخصوص راہ کو طے کر رہے ہیں اور اس راہ میں صرف خدا کی ہدایت ان کے شامل حال ہے اور اس تکمیل کی راہ میں ان کا ہدایت کرنے والا پروردگار عالم ہے_
خداہی کی ذات ہے کہ جس نے ہر ایک کی سرشت اور فطرت میں حرکت راہ کو تلاش کرنا اور رشد و کمال تک پہنچنا و دیعیت کیا ہے اور یہ ایک عمومی ہدایت ہے اس عمومی ہدایت میں انسان کی حالت و کیفیت کیسی ہوتی ہے _ انسان دوسرے تمام موجودات سے ایک واضح فرق رکھتا ہے _ اور یہ فرق ، فکر ، ارادے و اختیار کی قدرت اور طاقت ،، کا ہوتا ہے _ دوسرے موجودات فکر و اختیار اور انتخاب جیسی قدرت سے بہرہ مند نہیں ہیں _ خداوند کریم نے یہ عظیم اور قیمتی نعمت انسان کو عطا کی ہے یہ بات واضح اور روشن ہے کہ انسان کو بھی دوسرے موجودات کی طرح عمومی ہدایت سے سرفراز ہونا چاہیئے لیکن یہ ہدایت بادام کے بیج کی طرح جبری نہیں ہے کہ اسکو رشد و ارتقاء کے مراحل طے کرنے میں کوئی اختیار حاصل نہیں انسان کو خدا نے فکر و انتخاب کی قوتوں کے ساتھ خلق کیا ہے لہذا ضروری ہے کہ اسے خیر و شر کے راستے بتائیں جائیں اور اگلا جہان جو کہ اس کے سامنے آنے والا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے واضح کردیا جائے تا کہ وہ
غور و فکر کے ساتھ اپنی راہ کا انتخاب کرسکے
انسان کو خیر و شر کا راستہ بتانے اور دکھانے والے اور آئندہ کے حالات سے آگاہ کرنے والے پیغمبر ہیں اللہ تعالی نے پیغمبروں کو انسان کی ہدایت لئے بھیجا ہے خداوند عالم نے سعادت بخش فرامین کو جو ایک حقیقی سر چشمہ سے جاری ہوتے ہیں وحی کے ذریعہ پیغمبروں کے اختیار میں قراردیا ہے پیغمبروں کی ماموریت ایک ایسی ماموریت ہے کہ جس میں تمام کے تمام پیغمبرو متحد اور ایک جیسا ہدف رکھتے ہیں یعنی کبھی بشارت و خوشخبری دے کراور کبھی دڑ اودھمکاکر معارف و احکام خدا کو لوگوں کیلئے بیان کریں اور انہیں خدا کے فرامین کی اطاعت کی دعوت دیں _
تین بنیادی اصول
تاریخ بشریت میں ہزاروں پیغمبر خداوند عالم کی جانب سے مبعوث کئے گئے ان میں سے کچھ دین اور شریعت لے کر آئے حضرت نوح (ع) ، حضرت ابراہیم (ع) ، حضرت موسی (ع) ، حضرت عیسی (ع) اور حضرت محمد(ص) کی مانند کہ ان تمام پاک و پاکیزہ ہستیوں پر ہمارا سلام ہو ان تمام پیغمبروں کو ''اولوالعزم'' پیغمبر کہاجاتا ہے_
باقی پیغمبران الہی کسی خاص دین و شریعت کے نہیں تھے بلکہ انکا کام اولوالعزم انبیاء کے دین و شریعت کی ترویج کرنا تھا لیکن یہ جان لینا چاہیئے کہ تمام پیغمبروں کے دین کی حقیقت و اصول ایک ہی میں اور وہ سب کے سب ایک ہدف کی طرف انسانوں کو دعوت دیتے ہیں_ سب ایک ہی پروگرام پر
عمل کرتے رہے ہیں_
تمام آسمانی آدیان ان تین بنیادی اصولوں پر استوار ہیں_
اوّل: __ خدائے واحد و خالق کی شناخت اور اس پر ایمان_ _''توحید''
دوم: __معاد و آخرت اور انسان کے جاودانہ مستقبل پر ایمان__ ''معاد''
سوم: __ پیغمبروں اور ان کے ایک راہ و ہدف پر ایمان__ ''نبوت''
پیغمبر ان گرامی ان تین بنیادی اصولوں کی طرف انسانوں کو دعوت دیتے تھے اور ان سے خدا کی ہدایت پر کان دھرنے کی آرزو کیا کرتے تھے_
وہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کی باتیں سنین اور ان پر غور و فکر کریں اور خدائے علیم و قدیر کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور زندگی گزرانے کا سلیقہ صرف اور صرف خدا کی رضا کے مطابق اپنائیں_
تمام پیغمبروں نے اول سے آخر تک، آدم(ع) سے خاتم (ص) تک انسانوں کو اسی حقیقت کی طرف دعوت دی ہے پیغمبروں نے اس راہ و روش کو جسے خداوند متعال نے انسانوں کی زندگی کیلئے پسند کیا ہے ''دین خدا'' کا نام دیا ہے اور یقین وہانی کرائی ہے کہ دین خدا ایک سے زیادہ نہیں_
تمام پیغمبر ایک دوسرے کی تائید کرتے تھے
تمام پیغمبروں کی دعوت کے اصول و کلیات میں معمولی سا بھی اختلاف نہیں پایا جاتا ہرآنے والا پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کو عزت و احترام سے یاد کیا کرتا تھا ان کی دعوت اور طریقہ کار کی تائید کرتا اور بعد میں آنے والے پیغمبر کی
خوشخبری اور بشارت دیتا تھا اپنی امت کو تاکید کے ساتھ حکم دیتا تھا کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لائیں، اس کی دعوت کو قبول کریں اور اس کی تائید کریں_
خداوند عالم قرآن کریم میں بطور یاد دہانی فرماتا ہے_
جب ہم پیغمبروں کو کتاب و حکمت دیتے تھے تو تاکید کرتے تھے کہ جب ہمارا رسول تمہارے بعد آئے تو تم پر لازم ہے کہ اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد و نصرت کرنا قرآن کریم پیغمبروں پر اور ان کے ایک ہدف و راستے پر ایمان کے متعلق اس طرح فرما رہا ہے_
کہدو ہم خدا پر ایمان لائے اور ہر اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ان تمام احکام پر ایمان لائے جو ہمارے لئے نازل کئے گئے وہ جو ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل (ع) و اسحاق (ع) و یعقوب (ع) اور ان کے نواسوں پر بھیجا ہے اور وہ جو موسی (ع) و عیسی (ع) اور دوسروں پیغمبروں پر نازل فرمایا ہے تمام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں کسی فرق و تفاوت کے قائل نہیں اور ہم سب خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور جو کوئی دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے گا اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان والوں میں ہوگا
''سورہ آل عمران آیت ۸۴''
اسلام یعنی خدا کے دین اور احکام کے سامنے جھک جانا تسلیم ہوجانا تمام پیغمبروں کی سیرت اللہ کے سامنے جھک جانا ہی تھی تمام پیغمبر اس معنی کے
اعتبار سے مسلم تھے ہر چند کہ اسلام ایک مخصوص معنی کے لحاظ سے اس دین کو کہا جاتا ہے جو جناب رسول خدا(ص) ، خداوند عالم کی طرف سے لائے ہیں_
حضرت ابراہیم (ع) دعا و مناجات کے وقت اس طرح خدا سے تقاضہ کر رہے ہیں_
ائے پروردگار مجھے اور میرے فرزند اسماعیل کو مسلم قرار دے اور میری نسل سے ایک امت کو وجود میں لا جو تیرے سامنے سرا پا تسلیم ہو ہماری عبادت ہمیں دکھا دے اور ہماری توبہ کو قبول فرما کہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے_ اے پروردگار میری ذرّیت اور اولاد میں سے ایک رسول مبعوث فرما کہ جو تیری آیات کو ان کے لئے پڑھے اور کتاب او رحکمت کی انہیں تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے اور رشد دے کہ تو عزیز و حکیم ہے_
کون ہے جو حضرت ابراہیم (ع) کے دین سے روگردانی کرے؟ مگر وہ جو کہ کم عقل ہو ہم نے اسے دنیا میں منتخب کیا ہے اور یقینا آخرت میں وہ صالحین میں شامل ہوگا_ یاد کرو کہ اس کے رب نے اس سے فرمایا اسلام لے آ_ وہ بولا میں پروردگار عالم کے سامنے اسلام لایا اور اس نکتہ کی ابراہیم (ع) نے اپنے فرزند اور یعقوب (ع) سے سفارش کی اور فرمایا
خدائے تعالی نے یہ دین تمہارے لئے منتخب کیا ہے
موت تک اس دین کو ترک نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ مرجاؤ اور مسلمان نہ ہو_
کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب (ع) موت کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کر رہے تھے؟ اس وقت جب انہوں نے اپنے فرزند سے پوچھا: میرے بعد کس کی پرستش کروگے انہوں نے جواب دیا_
آپ کے خدا اور آپ کے باپ دادا ابراہیم (ع) و اسماعیل (ع) کے خدا کی جو وحدہ لا شریک ہے اور ہم تمام اس کے ماننے والے اور اس کے سامنے تسلیم ہوجانے والے ہیں_
آپ نے ملاحظہ کیا کہ خدا پیغمبروں کو ایک اور صرف ایک ہدف کی جو صرف اللہ کے سامنے جھکنا ہے، تعلیم فرما رہے ہے اور جو بھی اس راستہ سے روگردانی کرے اسے بے عقل اور نادان شمار کرتا ہے اس سلسلہ میں ان آیات کی طرف توجہ فرمائیں جو ایک دوسرے پیغمبر کے لئے نازل کی گئیں_
خدا نے اسے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی اور اس کو بعنوان پیغمبر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا حضرت عیسی (ع) نے ان سے کہا: میں واضح اور روشن نشانیوں کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں میں مٹی سے تمہارے سامنے پرندے کا مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونکتا ہوں اور وہ بے جان مجسمہ خدا کے اذن سے پرندہ ہوجاتا ہے_ میں جذامی اور مبروص
کو شفا دیتا ہوں میں مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور گھر میں ذخیرہ کرتے ہو خبر دیتا ہوں ان تمام باتوں میں واضح نشانی ہے اگر تم پاک دل اور مومن ہو_
میں تورات پر ایمان رکھتا ہوں جو مجھے سے پہلے نازل ہوئی اور اس کی تصدیق کرتا ہوں بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کے حلال ہونے کا اعلان کرتا ہوں میں پروردگار کی طرف سے تمہارے سامنے واضح علامت اور نشانی لایا ہوں تقوی اختیار کرو اور میری اطاعت کرو او جان لو کہ میرا اور تمہارا پروردگار خدا ہے اس کی اطاعت کرو کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے_
لیکن جب عیسی (ع) نے محسوس کیا کہ لوگ ان کی بات کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں اور ان پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو فرمایا
خدا کی راہ میں میرے دوست اور مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم خدا کے دوست ہیں ہم خدا پر ایمان لائے ہیں او رگواہ رہنا کہ ہم سب مسلمان ہیں پروردگار ہم اس پر جو تو نے نازل کیا ہے ایمان لائے ہیں اور اس رسول کی پیروی کرتے ہیں_ ہمارا شمار گواہوں میں کرنا_
انبیاء خدا ایک مدرسہ کے معلم کی طرح ہیں جو ایک دوسرے کے بعد
مبعوث ہوئے اور بالعموم انسانوں کو خدا کے سامنے تسلیم ہوجانے کی دعوت دیتے ہرے اور اپنے اسی رہنما اصول اور ایک راستہ کو رشد و ارتق دیتے رہے اور دین خدا کی تعلیم دیتے رہے_
خدا کا دین ایک سے زیادہ نہیں اور یہی صراط مستقیم ہے اور انبیاء کا ہدف بھی ایک سے زیادہ نہیں_ آسمانی ادیان اور پیغمبروں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں_
ممکن ہے کہ مختلف ادیان کے فرعی احکام ہیں اختلاف پایا جاتا ہو اور یہ اختلاف زمانے اور لوگوں کی صلاحتیوں اور حالات زمانہ کے اختلاف کی بنا پر ضروری ہے کیونکہ تمام زمانوں میں لوگوں کے فہم و ادراک کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی لہذا تمام پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کے فہم و ادراک کے مطابق ان سے گفتگو کرتے تھے اور بتدریج معارف دین میں ان کے فہم و ادراک میں اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ آخری آسمانی پیغمبر(ص) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک نوبت آپہنچی آپ(ص) ایسے گہرے اور وسیع معارف اور احکام لے کر لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے کہ جن کی مثال پہلے ادیان میں نہیں ملتی_
یہ دین اپنی وسعت، عظیم معارف اور تمام احکام کے سبب انسانوں کے تفکر و تحقیق کی راہوں کو کھولتا چلاگیا اس لئے اس کا خداوند متعال کی طرف سے آخری اور بہترین دین کے عنوان سے اعلان کردیا گیا_
خداوند کریم دین اسلام کے حدود و ابعاد اور اپنے سے پہلے ادیان کے ساتھ اس کے ارتباط کو اس طرح بیان فرما رہے ہے_
آیت قرآن
''( شرع لکم مّن الدّین ما وصّی به نوحا وّ الّذی اوحینا الیک و ما وصّینا به ابرهیم و موسی و عیسی ان اقیموا الدّین و لا تتفرّقوا فیه ) ''
''سورہ شوری آیت ۱۳''
اس نے دین کا وہی طریقہ قرار دیا جس کی نوح(ع) کو وصیت کی تھی اور اے رسول اسی کی تیری طرف وحی کی اور اسی کا حکم ہم نے ابراہیم (ع) اور موسی (ع) اور عیسی (ع) کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ عمومی ہدایت سے کیا مراد ہے؟ موجودات کے لئے عمومی ہدایت کس طرح ہوتی ہے_
۲)___ انسان کس اعتبار سے دوسری موجودات سے مختلف ہے؟
۳) ___ بادام کے بیج سے عمدہ درخت کی صورت اختیار کرتے تک کی ہدایت کیسی ہدایت ہے؟ آیا یہ جبری ہدایت ہے؟ یا انتخاب و
اختیار کے ساتھ؟ وضاحت کیجئے
۴)___ اگر انسان میں فکر و انتخاب کی صلاحیت نہ ہوتی تو اس کی ہدایت کیسی ہوتی؟ ابھی جو انسان فکر و انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی ہدایت کا طریقہ کا کیا ہے؟
۵)___ انسان کو اچھائی، برائی بتانے والے اور آئندہ آنے والے خطرات سے آگاہ کرنے والے افراد کون ہیں؟
۶)___ خداوند عالم نے پیغمبروں کو کس لئے مامور کیا ہے؟
۷) ___ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں اور ان کی خصوصیت کیا ہے؟
۸)___ وہ کون سے تین بنیادی اصول ہیں کہ تمام پیغمبر جن پر ایمان لانے کے لئے تمام انسانوں کو دعوت دیتے تھے؟
۹)___ دین خدا سے کیا مراد ہے؟
۱۰)___ قرآن کریم نے تمام پیغمبروں کے ایک راہ و ہدف کے متعلق کیا کہا ہے؟
۱۱) ___ خداوند عالم کن افراد کو ''غیر عاقل اور سفیہ'' کے نام سے متعارف کراتا ہے ؟
پیغمبروں کا الہی تصور کائنات
دنیا کے متعلق ان کا نظریہ کیا ہے__؟
انسان کس طرح کا موجود ہے__؟
ان سوالوں کے جواب میں دو نظریے واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں_ ایک خدائی اور الہی نظریہ اور دوسرا مادی اور دہری نظریہ_ پہلے کو الہی تصور کائنات دوسرے کو مادی تصوّر کائنات کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے_
مادی تصوّر کائنات
اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک مستقبل وجود ہے_ ایسا موجود
ہے جس کے وجود میں آنے میں شعور و ارادہ کارفرما نہیں_
اس نظریہ کے مطابق جہان ایسا مجموعہ ہے کہ جو کوئی خاص مقصد یا ہدف نہیں رکھتا یہ جہان عناصر مادی سے تشکیل ہوا ہے کہ جن کی کوئی غرض و ہدف نہیں_ کائنات کے تمام کے تمام اجزاء و عناصر بے ہدف اور بے فائدہ ہیں_ کائنات کے اس عظیم مجموعہ کا ایک حصہ انسان ہے جو ایک بے مقصد موجود ہے جو نابودی کی طرف جارہا ہے_ اس کے کام بے مقصد ہیں اور اس کی انتہا ناامیدی، یاس و حسرت ، تاریکی اور نیستی و عدم ہے_
انسام کے لئے کوئی پناہ گاہ اور کوئی اس کا ملجا و ملولی نہیں وہ ایک بے انتہا تاریک وحشت ناک اور بے امید دنیا میں زندگی گذار رہا ہے_
مادّی تصوّر کائنات کے مطابق انسان کی زندگی بے قیمت اور بے معنی ہے کوئی ایسی ذا نہیں جس کے سامنے انسان جوابدہ ہو_ کوئی ایسا عالم اور برتر وجود نہیں جو انسان کے اچھے برے سلوک و عمل کو سمجھتا اور جانتا ہوتا کہ اسے سزا یا جزاء دے سکے_ انسان کے اعمال کی قدر و قیمت اور انسان کے اچھے اور برے کردار کا کوئی معیار موجود نہیں ہے_
الہی تصوّر کائنات
اس نظریے کے مطابق کائنات ایک مستقبل وجود نہیں رکھتی بلکہ اسے ایک مخلوق او رکسی سے وابستہ جانا جاتا ہے_
اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک ایسی مخلوق ہے کہ جسے بہت
گہرے حساب_ خاص نظم و ضبط اور خاص ہم آہنگی کے ساتھ کسی خاص_ مقصد اور ہدف کے لئے خلق کیا گیا ہے_
یہ کائنات ایک قدرت مند خالق کی قدرت کے باعث قائم ہے اور اس کا ارادہ اور اس کا علم اور قدرت ہمیشہ اس کائنات کے مددگار محافظ اور نگہبان ہیں_
اسی الہی نظریے کے مطابق اس کائنات کی کوئی بھی چیز بے فائدہ اور بے غرض و مقصد نہیں ہے_ اس کائنات کے موجودات میں انسان ایک خاص فضیلت و اہمیت رکھتا ہے_ اس کا ہدف سب سے بالا ہے جس کی طرف وہ تمام عمر بڑھتا رہتا ہے_
انسان کا انجام نا امیدی و یاس نہیں ہے_ بلکہ امید شوق اور موجود رہنا ہے انسان ایسا وجود ہے جسے فنا نہیں، بلکہ وہ اس فانی اور راہ گزر جہان سے ایک دوسرے جہان کی طرف سفر کر جائے گا جو باقی اور ہمیشہ رہنے والا ہے_
اس الہی نظریے کے مطابق انسان اپنے پروردگار مطلق اور اپنے خالق رحمن و رحیم کے سامنے جوابدہ ہے_ انسان اپنے خدا کے سامنے مکمل جوابدہی کا ذمہ دار ہے کیونکہ خداوند عالم نے اسے خلق فرمایا اور اسے اختیار عنایت فرمایا ہے اور اسے مکلف اور ذمہ دار بنایا ہے_
الہی نظریے کے مطابق انسان کا ایک خالق ہے جو خبیر و بصیر ہے اور اس کے اعمال کا حاضر و ناظر ہے_ جو اچھے برے کا تعین کرتا ہے اور صالح افراد کو جزا اور برے اور شریر کو سزا دیتا ہے_
پیغمبروں کا الہی تصوّر کائنات
پیغمبروں کا نظریہ کائنات و انسان کے بارے میں وہی ہے جو خدا کا نظریہ ہے_
کائنات کے بارے میں
تمام پیغمبر اس کائنات کو اس کی تمام موجودات کو محتاج اور مربوط جانتے ہیں_ ان تمام موجودات کو خداوند عالم کی عظمت کی نشانیاں اور علامتیں شمار کرتے ہیں_ تمام پیغمبر اور ان کے پیروکار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدائے رحمن و رحیم اس کائنا کا خالق ہے اور تما خوبیاں اسی کی طرف سے ہیں_ کائنات کو چلانا اور باقی رکھنا اس کے ہاتھ میں ہے_ کائنات لغو اور بیکار کھیل نہیں کہ جو کسی خاص ہدف اور غرض کے لئے پیدا نہ کی گئی ہو_
انسان اور سعادت انسان کے بارے میں
تمام پیغمبر انسان کے بارے ہیں ایک خاص فکر و نظر رکھتے ہیں، اسے ایک ایسا محترم، بلند و بالا اور ممتاز موجود جانتے ہیں کہ جو دو پہلو رکھتا ہے_ اس کا جسم خاک سے بنایا گیا ہے اور روح و جان اللہ تعالی کے خاص حکم اور عالم ربوبیت سے خلق کی گئی ہے_ اسی وجہ سے یہ ایک برتر اور ہمیشہ
رہنے والا موجود ہے کہ جو اللہ تعالی کی امانت قبول کرنے والا اور اس کی جانب سے مکلّف اور اس کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے_
اس نظریہ کے مطابق انسان کی سعادت واقعی اور ارتقا اللہ کی معرفت اور اس کے ارادے کی معرفت اور اس کے ارادے کے تحت چلنا اور اس کی رضا کے مطابق عمل کرنے میں ہے_ کیونکہ تمام قدرت اور خوبی اسی ذات کی جانب سے ہے_ اسی کی طرف توجہ کرنا انسان کی تمام خوبیوں اور کمالات انسانی کی طرف متوجہ رہنا ہے_
تمام پیغمبروں کی پہلی دعوت اللہ تعالی کی عبادت، اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے ہر قسم کے شرک کی نفی کرنا تھی_ اللہ کے پیغمبر، انسان کی شرافت و اہمیت کی بنیاد خدا کی عبادت اور اس کی وحدانیت کے اقرار کو قرار دیتے ہیں اور تمام بدبختیوں کی جڑ، خدا کو بھولنے اور اس کی یاد سے روگرانی کو قرار دیتے ہیں_ غیر خدا سے لگاؤ کو تمام تباہیوں، برائیوں اور بدبختیوں کی جڑ اور بنیاد شمار کرتے ہیں_
انسان کے مستقبل (معاد) کے بارے میں
پیغمبروں کی نگاہ میں انسان کا مستقبل ایک کامل، روشن اور امیدبخش و خوبصورت مستقبل ہے_ پیغمبروں کا یہ عقیدہ ہے کہ صالح اور مومن انسان کا مستقبل درخشاں اور روشن ہے_ وہ اس کائنات سے ایک دوسرے وسیع اور برتر جہان کی طرف جائے گا اور وہاں اپنے تمام اعمال کا نتیجہ دیکھے گا_
تمام پیغمبر انسان، کائنات اور سعادت انسان اور اس کے مستقبل کے لئے ایک واضح اور برحق نظریہ رکھتے تھے اور خود بھی اس بلند و برحق نظریہ پر کامل ایمان رکھتے تھے_
پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد
پیغمبروں کی دعوت کی اساس و بنیاد اسی مخصوص تصوّر کائنات پر مبنی تھی_ وہ خود بھی اپنے دین و شریعت کو اسی اساس پر استوار کرتے تھے_
حضرت نوح کی اپنی قوم سے پہلی گفتگو یہ تھی کہ
خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا کہ مجھے ایک پر درد عذاب کے دن کا تم پر خوف ہے''
جناب ہود(ع) کا اپنی قوم سے پہلا کلام یہ تھا
اے میری قوم خدا کی پرستش کرو کہ تمہارا اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے_
حضرت صالح پیغمبر کی بھی اپنی قوم سے اسی قسم کی گفتگو تھی_ آپ نے فرمایا:
اے میری قوم خدا کی عبادت کرو کہ تمہارا اس کے سواکوئی اور معبود نہیں ہے وہ ذات ہے کہ جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں حکم دیا کہ زمین کو آباد کرو اس سے درخواست کرو کہ تمہیں بخش دے اور اسی کی طرف رجوع کرو اس سے توبہ کرو_ ہاں میرا رب
بہت قریب اور اجابت (جواب دینے والا) کرنے والا ہے_ حضرت شعیب(ع) نے اپنی رسالت کے آغاز پر لوگوں سے اس طرح خطاب کیا_
اے میری قوم خدا کی پرستش کرو کہ تمہارا سوائے اس کے اور کوئی خدا نہیں او رکبھی وزن و پیمائشے میں کمی نہ کرو کہ میں تمہاری بھلائی کا خواہاں ہوں اور تم پر قیامت کے عذاب سے ڈرتا ہوں_
اے میری قوم وزن و پیمائشے کو پورے عدل سے بناؤ او رلوگوں کی چیزوں کو معمولی شمار نہ کرو اور زمین میں ہرگز فساد برپا نہ کرو_''
خداوند عالم نے حضرت موسی (ع) کی رسالت کے بارے میں یوں فرمایا ہم نے موسی کو واضح اور محکم دلائل اور آیات دے کر فرعون اور اس کے گروہ کی طرف بھیجا_ فرعون کے پیروکار اس کے امر کو تسلیم کئے ہوئے تھے لیکن فرعون کا امر ہدایت کرنے اور رشد دینے والا نہ تھا_ فرعون قیامت کے دن آگے آگے اپنی قوم کو جہنّم میں وارد کرے گا جو براٹھکانا اور مکان ہے اس دنیا میں اپنے اوپر لعنت او رنفرین لیں گے اور آخرت میں بھی یہ کتنا برا ذخیرہ ہے ان آیات کے ساتھ ہی قرآن میں اس طرح سے آیات ہے ایک دن آنے والا ہے کہ کوئی شخص اس دن اپنے
پروردگار کی اجازت کے بغیر بات نہ کرسکے گا_ اس دن ایک گروہ بدبخت اور شقی ہوگا اور ایک گروہ خوش بخت اور سعادت مند، وہ جو بدبخت اور شقی ہوں گے انہوں نے خدا کے سوا دوسروں سے اپنا دل لگا رکھا تھا اور خدا کی یاد اپنے دل سے نکال چکے تھے غیر خدا کی عبادت کرتے تھے وہ آگ میں گریں گے جو بہت شعلہ ور، بلند قد اور رعب دار ہوگی یہ لوگ اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں مگر سوائے اس کے کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے اور جو کچھ تیرا خدا چاہتا ہے اسے یقینا آخر تک پہنچا کر رہتا ہے لیکن وہ لوگ جو خدائے واحد پر ایمان لانے اور عمل صالح انجام دینے کی وجہ سے سعادت مند ہوئے ہیں بہشت میں داخل ہوں گے اور اس میں جب تک زمین و آسمان قائم ہیں زندگی گزاریں گے مگر یہ کہ خدا اس کے علاوہ کچھ اور چاہے البتہ خدا کی یہ عنایت اختتام پذیر نہیں_
اگر تمام پیغمبروں کی دعوت پر غور کریں تو نظر آتا ہے کہ تمام پیغمبروں کی دعوت میں اپنی نبوت کے اثبات اور بیان کے علاوہ دو رکن، دو اصل اور دو اساس موجود ہیں_
پہلا: خدائے واحد کی پرستش و عبادت: توحید_
دوسرا: انسان کا مستقبل سعادت یا شقاوت: معاد
ان دو بنیادی اصولوں پر ایمان لانا، انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد و اساس ہے_ پیغمبر دلیل و برہان اور معجزات و بینات کے ذریعہ پہلے انسانوں کو ان دو اصولوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے_
کائنات کے اسرار و عجائب میں غور و فکر کی ترغیب دلا کر انسانوں کو ان دو اصولوں پر عقیدہ رکھنے کی دعوت دیتے تھے_ انسان میں جو خداپرستی اور خداپرستی کی فطرت موجود ہے انبیاء اسے بیدار کرتے تھے تا کہ وہ خدا کی وحدانیت کو مان لیں اور اس کی پرستش کریں اور اپنے الہی نظر یے کے ذریعے سے اس کی قدرت کے آثار اور اس کی عظمت کا کائنات کے ہرگوشہ میں مشاہدہ کریں انسان کی خلقت کی غرض و غایت کو سمجھ سکیں اور موت کے بعد کی دنیا سے واقف ہوجائیں اور اپنی آئندہ کی زندگی میں بدبختی اور خوش بختی سے متعلق ہوچیں_
ابتداء میں تمام پیغمبر لوگوں کے عقائد کی اصلاح کرتے تھے کیونکہ اسی پر لوگوں کے اعمال، رفتار و کردار کا دار و مدار ہے_ ابتدا میں لوگوں کو ان دو اصولوں (توحید اور معاد) کی طرف دعوت دیتے تھے_
اس کے بعد احکام، قوانین و دساتیر آسمانی کو ان کے سامنے پیش کرتے تھے_ کیونکہ ہر انسان کا ایمان، عقیدہ اور جہان بینی اس کے اعمال اخلاق او رافکار کا سرچشمہ ہوا کرتے ہیں_
ہر انسان اس طرح عمل کرتا ہے جس طرح وہ عقیدہ رکھتا ہے ہر آدمی کا کردار و رفتار ویسا ہی ہوتا ہے جیسا اس کا ایمان و عقیدہ ہوتا ہے ہر انسان کے اعمال و اخلاق اس کے ایمان و اعتقاد کے نشان دہندہ ہوتے ہیں
صحیح اور برحق ایمان و عقیدہ عمل صالح لاتا ہے اور نیکوکاری کا شگوفہ بنتا ہے اور برا عقیدہ نادرستی، تباہی اور ستمگری کا نتیجہ دیتا ہے_ اس بنا پر ضروری ہے کہ لوگوں کی اصلاح کے لئے پہلے ان کے عقائد اور تصور کائنات کے راستے سے داخل ہوا جائے_
پیغمبروں کا یہی طریقہ تھا_
اللہ تعالی پر ایمان اور قیامت کے دن کے عقیدے کو لوگوں کے دل میں قوی کرتے تھے تا کہ لوگ سوائے خدا کے کسی اور کی پرستش نہ کریں اور اس کی اطاعت کے سوا کسی اور کی اطاعت نہ کریں_
پیغمبروں کا ہدف
تمام پیغمبروں اور انبیاء کا ہدف خدائے واحد پر ایمان لانا، اس کا تقرب حاصل کرنا، دلوں کو اس کی یاد سے زندہ کرنا اور اپنی روح کو خدا کے عشق و محبت سے خوش و شاد رکھنا ہوتا ہے اور تمام احکام دین، اجتماعی و سیاسی قوانین یہاں تک کہ عدل و انصاف کا معاشرے میں برقرار رکھنا اپنی تمام ترضرورت و اہمیت کے باوجود دوسرے درجے پر آتے ہیں_
پیغمبر، انسان کی سعادت کو اللہ تعالی پر ایمان لانے میں جانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگوں کے اعمال و حرکات اللہ کی رضا اور اس کے تقرّب کے حاصل کرنے کے لئے ہوں_ کائنات کے آباد کرنے میں کوشش کریں_ خدا کے لئے مخلوق خدا کی خدمت کریں اور انہیں فائدہ پہنچائیں _
خدا کے لئے ظالموں سے جنگ کریں_ خدا کے لئے عدل و انصاف کو پھلائیں اور مظلوموں اور محروموں کی مدد کریں_ یہاں تک کہ اپنے سونے اور کھانے پینے کو بھی خدا اور اس کی رضا کے لئے قرار دیں اور خدا کے سوا کسی کی بھی پرستش نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو سعادتمند ہوجائیں گے_
آیت قرآن
( ان لّا تعبدوا الّا الله انّی اخاف علیکم عذاب یوم الیم ) ''
خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو کہ میں تم پر اس دن کے دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں (سورہ ہود آیت ۲۶)
سوچئے اور جواب دیجئے
۱) ___ مادی نظر یے کے مطابق انسان کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اس نظریے میں انسان جوابدہ و ذمہ دار سمجھا جاتا ہے؟ آیا اس نظریے میں اعمال انسانی کے لئے کوئی معیار موجود ہے کہ جس سے اس کے اچھے اور برے اعمال کو معین کیا جاسکے؟
۲)___ مادّی تصوّر کائنات میں کائنات کو کس قسم کا موجود سمجھا جاتا ہے؟
۳) ___ پیغمبروں کا نظریہ انسان کے متعلق کیا ہے؟ اور وہ اسے کس قسم کا موجود تصور کرتے ہیں؟
۴)___ پیغمبروں کا تبلیغ کے سلسلہ میں پہلا کلام کیا ہوتا تھا؟
۵)___ پیغمبروں کی نگاہ میں انسان کی شرافت کی بنیاد کیا ہے؟
تمام بدبختیوں کی بنیاد کیا ہے؟ اور کیوں؟
۶)___ پیغمبروں کی نظر میں صالح اور مومن انسان کا مستقبل کیا ہے؟
۷)___ تمام پیغمبروں کی دعوت اور تبلیغ کا محور اور اساس کون سے اصول ہیں مثال دیجئے؟
۸)___ پیغمبروں کی نگاہ میں لوگوں کی اصلاح کس راستے سے ضروری ہے؟
۹)___ پیغمبروں کا مقصد و ہدف کیا ہے؟ اور وہ اس عالی ہدف تک پہنچنے کے لئے لوگوں سے کیا چاہتے تھے؟
پیغمبروں کی خصوصیات
خدا کے پیغمبر لائق اور شائستہ انسان تھے کہ جنہیں اس نے انسانوں میں منتخب کیا یہ صاحب لیاقت اور صالح افراد بہت سی خصوصیات کے حامل تھے ان میں سے بعض کو یہاں بیان کیا جاتا ہے_
خدا سے وحی کے ذریعہ ارتباط
پیغمبر(ص) خدا کے کلام اور پیغام کو سنتے تھے اور انہیں اچھی طرح سمجھتے تھے دین کے معارف اور حقائق، ہدایات اور اللہ کی گفتگ ان کے پاک دلوں پر وحی کی صورت میں نازل ہوتی تھی_
وہ خدا کی وحی کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اسے اپنے پاس محفوظ
رکھتے تھے پھر بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں کیلئے بیان کرتے تھے بعض پیغمبر اس فرشتہ الہی کا مشاہدہ بھی کرتے تھے جو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے مامور تھے جبکہ بعض صرف اس کی آواز سنتے تھے_
یہ بات تو آپ کو معلوم ہے کہ پیغمبر جسم و جان کے لحاظ سے دوسرے انسانوں کی طرح تھے غذا کھاتے تھے، باتیں کرتے تھے، لوگوں کے درمیان آمد و رفت رکھتے تھے، عام انسانوں کی مانند حواس کی مدد سے چیزوں کو دیکھتے تھے، آوازوں کو سنتے تھے_
لیکن روحانی اور معنوی طور سے حقائق کو سمجھنے اور معارف دین کے سلسلہ میں عالم انسانوں سے کہیں زیادہ بلند درجے پر ہوتے تھے _
ان کا باطن اتنا پاکیزہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے خدا سے رابطہ پیدا کرسکتے تھے اور عالم غیب کے حقائق اور معارف کو دریافت کرسکتے تھے اور اپنی چشم بصیرت سے جہان کی حقیقت اور باطن کا مشاہدہ کرتے تھے_ اللہ تعالی کے فرشتہ کو دیکھتے تھے اس کی آواز کو دل و جان سے سنتے تھے لیکن دوسرے انسان اس قسم کی طاقت اور استعداد نہیں رکھتے_
پیغمبر اس قسم کی لیاقت و قدرت رکھتے تھے کہ دین کے معارف اور حقائق کو جو اللہ تعالی کی جانب سے ان کے پاک و نورانی قلب پر نازل ہوتے ہیں سمجھ سکیں ان کی حفاظت و نگرانی کرتے ہوئے بغیر کسی کمی و زیادتی کے لوگوں تک پہنچا سکیں_
اس قسم کے ربط کو دین کی لغت اور اصطلاح میں ''وحی'' کہاجاتا ہے بہتر ہے کہ اس بات کو بھی جان لیں کہ وحی کا عمل تین طرح سے انجام
پاتاہے_
پہلا یہ کہ فرشتہ الہی خدا کے پیغام کو لے کر قلب پیغمبر پر نازل ہو اور صرف اس کی آواز سن سکیں_
دوسرا یہ کہ پیغمبر، فرشتے کی آواز سننے کے ساتھ ساتھ اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں_
تیسرا یہ کہ پیغمبر بغیر کسی واسطے کے حقائق دین کو خداوند عالم سے حاصل کرتے ہیں_
۲) گناہ اور غلطیوں سے پاک کرنا
پیغمبر ہر قسم کے گناہ اور برائیوں سے پاک ہوتے ہیں اور یہ عصمت و پاکیزگی ان کے اس علم و معرفت کے سبب ہوتی ہے کہ جو خداوند عالم نے انہیں عطا کیا ہے_
چونکہ پیغمبر برائیوں اور پلیدگی کو واضح طور پر سمجھتے تھے اس لئے کبھی بھی اپنے آپ کو گناہ اور معصیت سے آلودہ نہیں کرتے تھے_
پیغمبر اپنی گفتار میں سچے اور کردار و عمل میں کامل انسان تھے_
وحی کو سمجھنے اور بیان کرنے میں بھی خطاؤں سے پاک تھے یعنی اللہ کے پیغام کو صحیح ___ اور مکمل طور پر سمجھتے اور پھر اسے اسی صحیح اور مکمل صورت میں لوگوں تک پہنچاتے تھے_
لوگوں کی ہدایت و رہبری میں کسی قسم کی کوئی خطا غلطی اور انحراف
نہیں کرتے تھے___ اور خداوند عالم کی ذات ان تمام مراحل اور حالات میں ان کی محافظ اور مددگار ہوتی تھی_
۳) خدا کی راہ میں پائیداری اور استقامت
پیغمبر ایمان اور یقین سے سرشار ہوتے تھے اور ان کی ذمہ اریاں اور مقصد اتنا واضح ہوتا تھا کہ جس میں وہ معمولی شک اور تردد کا بھی شکار نہ ہوتے تھے خدا اور جہان آخرت پر انہیں دل کی گہرائیوں سے یقین تھا_
وہ اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ تھے اور اللہ تعالی کی رسالت اور اپنے فرائض کی انجام ہی میں ثابت قدم تھے حق کو پہچان چکے تھے اور اس میں انہیں کوئی شک و شبہ نہ تھا_
خدا کی بے پایاں قدرت پر تکیہ کرتے تھے اور دوسری کسی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے اپنے فرائض و ذمہ داریوں کو مکمل طور پر کما حقہ انجام دیتے تھے اور اپنے حامیوں اور دوستوں کی کمی سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے_
دشمنو کی طرف سے پیدا کی جانے والی شدید مشکلات ان کے مصمم ارادے اور فولادی عزم میں معمولی سا بھی خلل پیدا نہیں کرپاتی تھیں اور آپ حضرات مشکلات دور کرنے میں پائیداری اور استقامت سے کوشش کرتے تھے_
ذیل میں ہم بعض پیغمبروں کی سعی و کوشش کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں_
حضرت ابراہیم (ع) کی استقامت
اس عظیم پیغمبر نے تن تنہا بت پرستی اور شرک کا مقابلہ کیا اپنے دور کے ظالم ترین اور طاقتور انسان نمرود کے سامنے ڈٹ گئے اس کی عظیم طاقت سے نہ ڈرے اور پوری قوت سے اس سے کہا _
خدا کی قسم تمہارے بتوں کو توڑ پھڑ ڈالوں گا''
اور پھر تن تنہا بتوں کے توڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے چھوٹے اور بڑے بت کدے کے بتوں کو توڑ کر زمین پر ڈھیر کردیا_
جب نمرود کے دربار میں آپ کو جلائے جانے کا حکم ملا تو ذرا سی بھی کمزوری اور پشیمانی کا اظہار نہ کیا اور اپنے صحیح عقیدے کے دفاع میں مستحکم اور ثابت قدم رہے_
یہاں تک کہ اس لمحہ بھی کہ جب آپ کو آگ میں ڈالا جارہا تھا معمولی کمزوری اور ناتوانی کا اظہار نہ کیا اور سوائے خدا کے کسی سے مدد طلب نہ کی آپ(ع) اس وقت بھی صرف اللہ کے لطف و کرم پر ایمان رکھے ہوئے تھے_
اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے اپنے گھر بار کو چھوڑ دیا اور دوسری سر زمین کی طرف ہجرت کی اپنی بیوی اور بچے کو خشک و بے آب وادی میں تنہا چھوڑ گئے حضرت ابراہیم (ع) کی استقامت اس حد تک تھی کہ
قرآن انہیں ایک امت بتا رہا ہے اور ان کی اس طرح عمدہ تعریف کرتا ہے کہ:
حضرت ابراہیم (ع) تنہا ایک امت تھے اور مکمل طور پر خدا کے فرمانبردار تھے
حضرت موسی (ع) و حضرت عیسی (ع) کی استقامت
حضرت موسی (ع) اپنے بھائی ہارون کے ساتھ اونی لباس پہنے اور ہاتھ میں عصا لئے فرعون کے محل میں داخل ہوئے اور بغیر کسی وحشت و اضطراب کے اس ظالم طاقتور سے فرمایا_
میں اللہ تعالی کی طرف سے رسول ہوں اور بجز حق اور کچھ نہیں بولتا_ اللہ تعالی کی طرف سے واضح اور روشن دلائل اور گوہیاں لایا ہوں بنی اسرائیل کو میرے ساتھ روانہ کردے_
سورہ اعراف آیت ۱۰۴، ۱۰۵
حضرت موسی (ع) بنی اسرائیل کو فرعون کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے اس سے بر سر پیکار ہوگئے اور پوری استقامت سے ظالم فرعون کا خاتمہ کیا اور اس کے ظالم مددگاروں کو بھی ہلاک کردیا_
حضرت موسی (ع) نے ان مشکلات اور دشواریوں کے وقت جبکہ کسی طرف سے کوئی معمولی سی بھی امید نظر نہیں آرہی تھی اور پھر فرعون پوری قساوت سے بنی اسرائیل کا قتل عام کر رہا تھآ اور ان کی عورتوں کو لونڈی بنارہا تھا اپنے ماننے والوں سے یوں فرمایا_
اللہ تعالی سے مدد طلب کرو، صابر و محکم و مضبوط بنو اور جان لو کہ زمین اللہ کی ہے جسے چاہے اسے دے گا اور جان لو کہ پرہیزگاروں کی کامیابی یقینی ہے_
''سورہ اعراف ۷_ آیت۱۲۸''
حضرت موسی (ع) کی قوم کا گویا صبر و حوصلہ ختم ہوچکا تھا آپ سے انہوں نے کہا: اے موسی (ع) تمہارے پیغمبری کے لئے مبعوث ہونے اور رسالت کے لئے چنے جانے سے پہلے بھی ہم فرعون کے ظلم و ستم کے سبب اذیتیں اٹھا رہے تھے وہی مصائب اب بھی ہم پر باقی ہیں_
حضرت موسی (ع) خدا کی فتح و نصرت پر اعتماد و ایمان رکھتے ہوئے فرماتے تھے_
خداوند عالم جلدی ہی تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں ان کا جانشین قرار دے گا تا کہ تمہارے کردار و عمل کا جائزہ لے سکے''
سورہ اعراف۷، آیت ۱۲۹
حضرت عیسی (ع) بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ پر اتر آئے اور ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک مقام سے دوسرے مقام پر ہجرت کرتے رہے جہاں بھی گئے لوگوں کو خداوند عالم کا پیغام سنایا اور لوگوں کو ظالم و جابر حکمران کے سامنے جھکنے سے روکا یہاں تک کہ آپ کے وجود کو دشمن برداشت نہ کرسکے اور آپ کے قتل کے لئے پھانسی کا پھندا بنایا گیا لیکن آپ کو پا نہ سکے تا کہ قتل کریں_ خداوند عالم نے انہیں آسمان پر اپنے خاص بندوں کا مقام عنایت کیا ہے_
حضرت محمد مصطفی (ع) کی استقامت
حضرت محمد مصطفی (ع) نے بھی یکہ و تنہا شرک و بت پرستی سے مقابلہ کیا
اور پختہ و محکم ارادے سے آخری وقت تک کوشش کرتے رہے اور لاتعداد مشکلات اور دشواریوں کے باوجود پائیداری اور استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور معمولی سی کمزوری اور تردد کا بھی اظہار نہ کیا_
اپنی کھلی دعوت کے پہلے مرحلے میں اپنے رشتہ داروں سے فرمایا میں االلہ کا پیغمبر ہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے مامور ہوں کہ تمہیں گمراہی اور ضلالت سے نجات دلاؤں اور دنیا و آخرت کی خوش بختی اور سعادت تک پہنچاؤں جو شخص بھی مری مدد کا اعلان کرے گا اور اس عظیم کام میں میری نصرت کرے گا وہی میرا وزیر اور وصی ہوگا_
جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ آپ(ع) نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا اور کسی نے سوائے علی ابن ابی طالب (ع) کے اس دعوت اور پکار کو قبول نہ کیا پیغمبر اسلام(ص) نے پورے یقین کے ساتھ حضرت علی (ع) کو اپنا وزیر اور وصی چن لیا_
ایک دن حضرت ابوطالب (ع) نے پیغمبر (ص) سے کہا کہ:
قریش کے سردار میرے پاس آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تیرا بھتیجا محمد(ص) ہمارے بتوں کی توہین کرتا ہے اور ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو جو بت پرست تھے گمراہ کہتا ہے اب ہم ان باتوں کو برداشت نہیں کرسکتے انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ تم کو سمجھاؤں تا کہ اس کے بعد تم بتوں اور بت پرستوں پر تنقید نہ کرو''
حضرت رسول خدا(ص) اپنے مقصد پر کامل ایمان رکھتے تھے اور اپنی
الہی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ثابت قدم تھے لہذا اپنے چچا سے فرمایا:
چچا جان: میں اس راہ سے ہرگز نہ ہٹوں گا اور لوگوں کو خداپرستی اور توحید کی دعوت دینا نہیں چھوڑوں گا میں اپنی رسالت کے پیغام کو پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرسکتا میں اپنی کامیابی تک اس کام کو انجام دیتا رہوں گا_
ایک دفعہ اور قریش کے سردار، جناب ابوطالب کے پاس آئے اور کہا:
اے ابوطالب(ع) تم ہمارے قبیلہ کے بزرگ ہو تمہارا احترام ہمارے اوپر لازم ہے لیکن تمہارے بھتیجے نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے_ اگر اسے اس کام کے بجالانے پر فقر و محتاجی نے مجبور کیا ہے اور وہ مال و دولت چاہتا ہے تو ہم حاضر ہیں کہ بہت زیادہ مال اس کے حوالہ کریں اور اگر اسے جاہ و جلال اور مقام کی تمنّا ہے تو ہم حاضر ہیں کہ اسے اپنا سردار اور حاکم تسلیم کرلیں_
مختصراً یہ کہ ہم حاضر ہیں جو بھی وہ چاہتا ہے اسے دیں تا کہ وہ ان باتوں سے دستبردار ہوجائے_
جناب ابوطالب (ع) نے حضرت رسول خدا(ص) سے جو اس موقع پر موجود تھے کہا کہ اے بھتیجے تم نے سن لیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
پیغمبر(ص) نے فرمایا:
چچا جان خدا کی قسم اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج
اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں ہرگز اپنی دعوت سے دستبردار نہیں ہوں گا_
چچا جان میں ان سے صرف ایک چیز کی خواہش کرتا ہوں کہ یہ لوگ '' لا الہ الّا اللہ'' کہیں اور نجات پاجائیں_
پیغمبر اسلام(ص) اپنی دعوت کے تمام مراحل میں ان تمام مشکلات اور دشمنوں کی یلغا اور سختیوں کے مقابلے میں عزم و استقلال کے ساتھ ڈٹے رہے_ آپ نے اپنے کردار و عمل سے تمام مسلمانوں اور خداپرستوں کو صبر و استقامت کا درس دیا_
آیت قرآن
''( قل انّما انا بشر مثلکم یوحی اليّ انّما الهکم اله واحد فمن کان یرجوا لقاء ربّه فلیعمل عملا صالحا وّ لا یشرک بعباده ربّه احدا ) ''
''سورہ کہف آیت آخر''
کہدو کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں مجھ پر وحی ہوتی ہے تمہارا خدا ایک ہے جو شخص بھی اپنے پروردگار کے دیدار کا امیدوار ہوا سے چاہیئے کہ وہ عمل صالح انجاک دے اور کسی کو بھی پروردگار کی عبادت میں شریک قرار نہ دے _
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ وحی کسے کہتے ہیں؟
۲)___ کیا پیغمبر جسم و روح کے لحاظ سے دوسرے انسانوں کی طرح تھے؟
۳)___ پیغمبر وحی کے حاصل کرنے اور پہنچانے میں معصوم تھے اس جملہ کا مطلب بتایئے
۴)___ اس درس میں پیغمبروں کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں انہیں بیان کیجئے؟
۵)___ پیغمبروں کا اپنے ہدف پر ایمان و استقامت کا کوئی نمونہ بیان کریں؟
۶)___ حضرت موسی (ع) کے زمانہ میں طاغوت ( ظالم حکمران) کون تھا حضرت موسی (ع) کیسے اس کے ساتھ اس کے محل میں داخل ہوئے_
۷)___ حضرت موسی (ع) نے اپنے جاننے والوں کو خدا پر اعتماد اور صبر و استقامت کے بارے میں کیا فرمایا ؟
۸)___ پیغمبر اسلام (ص) نے کفار کو جو آپ کو صلح کی دعوت دیتے تھے کیا جواب دیا؟
باب چہارم
پیغمبر اسلام (ص) اور آپ(ص) کے اصحاب کے بارے میں
ایمان و استقامت
عمّار کا خاندان (گھرانہ) قرآنی آیات اور پیغمبر (ص) کی دل نشیں گفتار سن کر اور آپ کے کردار کو دیکھتے ہی پیغمبر اسلام(ص) کی نبوت اور دعوت بر حق پر ایمان لے آیا تھا اور دعوت اسلام کے ابتدائی مراحل میں مسلمان ہوچکا تھا
ابوجہل، جو کہ مكّہ کے بار سوخ اور مستکبرین میں شمار ہوتا تھا جب اسے عمّار کے خاندان کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو وہ بہت غضبناک ہوا اور جب عمار کو دیکھا تو انہیں بہت ملامت اور سرزنش کی اور ان سے کہا کہ
میں نے سنا ہے کہ تم بت پرستی کو ترک کر کے مسلمان ہوگئے ہو؟''
عمّار نے جواب دیا ''
ہاں میں نے، میرے ماں باپ اور بھائیوں نے
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گفتگو سنی_ ان آیات میں جو وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں، غور کیا ان کی دعوت کو حق جانا اور اسے قبول کرلیا ہے_
ابوجہل نے چلّاکر کہا: تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ مكّہ کے بزرگوں اور سرداروں کی اجازت کے بغیر محمد(ص) کے دین کو قبول کر لو تم عقل اور فکر سے عاری ہو تمہیں چاہیئے کہ بزرگوں اور سرداروں کے تابع بنو وہ تم سے بہتر سمجھتے اور جانتے ہیں
ہم مزدور اور محنتی لوگ بھی عقل و شعور رکھتے ہیں اور تم سے بہتر سمجھتے ہیں مال اور مقام نے تمہیں اندھا کردیا ہے کہ اتنے واضح حق کو نہیں دیکھ رہے ہو لیکن ہم نے اچھی طرح جان لیا ہے کہ محمد(ص) خدا کے پیغمبر(ص) ہیں اور وہ اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور ہماری ہدایت اور نجات کے لئے آئے ہیں خدا اور اس کا پیغمبر ہماری بھلائی کو تم سے بہتر طور پر سمجھتا ہیں، ہمارا ہمدرد تو پیغمبر(ص) ہے تم مالدار اور ظالم لوگ نہیں_
تم پہلے کی طرح ہم سے بے گارلینا چاہتے ہو اور ہمارے ہاتھ کی محنت ہڑپ کرنا چاہتے ہو لیکن اب وہ زمانہ گیا خداوند عالم نے ہمارے لئے دل سوز اور مہربان رہبر بھیجا ہے تا کہ تم جیسے ظالموں اور غارتگروں سے نجات دلائے
اور دنیا و آخرت کی عزت اور سعادت تک پہنچائے ہم نے اس کی رہبری کو قبول کرلیا ہے اور تمام وجود سے اس کے مطیع ہیں اور ہم ہی کامیاب رہیں گے_
ابوجہل کو اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی اس لئے سخت غصّے میں آیا اور جناب عمّار کو مارنا شروع کردیا_ ابوجہل کے غلاموں نے بھی اس کی مدد شروع کردی اور ڈنڈوں اور کوڈوں سے مار مار کر عمّار کے جسم کو نیلا کردیا_ جناب عمّار اس حالت میں بھی خدا کو یاد کرتے اور اللہ اکبر کہتے رہے_
جناب عمّار کا گھرانہ ایک غریب اور مستضعف گھرانا تھا بلکہ میں آپ کے کوئی عزیز و اقارب بھی نہیں تھے کہ جن کی مدد و حمایت حاصل کرتے اسی وجہ سے قریش کے سرداروں اور مكّہ کے متکبرو نے پكّا ارادہ کرلیا تھا کہ اس گھرانے کے بے یار و مددگار افراد کو اتنی ایذا پہنچائیں کہ وہ اسلام سے دستبردار ہوجائیں یا جان سے جائیں_
قریش کے سرداروں نے انہیں ڈرانا، دھمکانہ، مارنا، پیٹنا، اور برا بھلا کہناشروع کردیا_ عمار کے والد یاسر اور والدہ ''سمیہ'' کو وقتاً فوقتاً مارا پیٹا کرتے تھے اور ان سے چاہتے تھے کہ وہ دین اسلام سے دستبردار ہوجائیں اور پیغمبر اسلام(ص) کو برا بھلا کہیں اور گالیاں دیں (نعوذ باللہ)
مگر کیا عمار جیسے لوگ پیغمبر خدا کو گالیاں دے سکتے تھے؟ اور کیا ایمان سے دستبردار ہوسکتے تھے؟
آیئےپ کو بتائیں کہ اس وقت جب ان پر کوڑے برسائے
جاتے تھے تو وہ کیا کہتے تھے وہ کہتے تھے،
کس طرح ممکن ہے کہ ہم اللہ کے راستے کو چھوڑ دیں جب کہ اسی نے ہمیں حق کا راستہ دکھایا ہے ہم تمہارے ظلم و ایذا و سختی پر صبر کریں گے خدا ہمارے صبر و استقامت کو دیکھ رہا ہے اور وہ صبر کرنے والوں کو بہترین جزا دے گا_''
''سورہ ابراہیم ۱۴ آیت سورہ نحل ۱۶ آیت''
ابوجہل ان کے قریب آیا اور عمار اور ان کے والد یاسر، ماں سمیہ اور بھائی عبداللہ سے کہا کہ:
اسلام سے دستبرد ار ہوجاؤ اور محمد(ص) کو برا بھلا کہو اور گالیاں دو ورنہ تم اسی جگہ ختم کردیئے جاؤگے_
ابوجہل کے حکم پر وحشی اور بھیڑ یا صفت انسانوں نے اس ایماندار اور بے یار و مددگار گھرانہ پر حملہ کردیا اور تا زیانوں، مکوں اور لاتوں سے انہیں مارنا شروع کردیا اتنا مارا کہ ان کا بدن لہو لہان ہوگیا اور وہ نڈھال و بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑے لیکن اس کے باوجود جب انہیں ہوش آیا تو ''اللہ اکبر'' کا کلمہ ان کی زبان پر جاری تھا اور زخمی و خون آلود چہرے سے کہہ رہے تھے_
اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد رسول الله
پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں کو باندھ دیا گیا اور ان کے بدن
تپتے ہوے پتھروں اور گرم ریت پر ڈال کر ان کے سنیوں پر بڑے اور بھاری پتھر رکھ دئے گئے ان پیاروں کے بدن گرم ریت اور حجاز کی جلتی دھوپ میں جل رہے تھے، پگھلے جا رہے تھے لیکن ان کی تکبیر اور شہادت کی آواز اسی طرح سنی جارہی تھی:
تم سے جتنا ہوسکتا ہے ہمیں آزار و تکلیف پہنچاؤ ہم نے اللہ تعالی کا راستہ دلائل سے پالیا ہے اور اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں اور کبھی بھی اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تم ہمارے ایمان تک پہنچ نہیں سکتے صرف ہمارے بدن کو ایذا پہنچا سکتے ہو ہم خدا پر ایمان لے آئے ہیں تا کہ وہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آخرت کے بلند درجات میں جگہ عنایت فرمائے اور آخرت کا اجر و ثواب ہمیشہ رہنے والا ہے_
عمّار کے وال اسی ظلم و تشدد کے سبب شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوگئے اور مسلمانوں کو اپنے صبر و استقامت سے دینداری اور صبر کا درس دے گئے_
سميّہ سے جو اپنے شوہر کی شہادت کو دیکھ رہی تھیں کہا گیا کہ محمد(ص) کو برا بھلا کہو اور گالیاں دو سميّہ نے جواب دیا:
ہم نے اپنا راستہ پالیا ہے اور حضرت محمد(ص) پر ایمان لے آئے ہیں اور آپ کی رہبری کو قبول کرلیا ہے
ہم ہرگز اپنے مقصد سے دستبردار نہیں ہوں گے
ابوجہل نے جو اس بزرگ خاتوں کے منہ توڑ جواب سے ناچار ہوگیا تھا اور غصّہ کی شدّت میں پیچ و تاب کھا رہا تھا اپنے نیزے کو اس طرح اسلام کی اس بزرگ خاتون پر مارا کہ وہ زمین پر گر گئیں اور اسی حالت میں ''اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ کہتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملیں اور شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوگئیں، سميّہ اسلام کی پہلی خاتون ہیں جو اسلام کے راستے میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئیں_
عمّار کے ماں باپ شہد ہوگئے لیکن پھر بھی گا ہے بگا ہے آپ کو ایذا پہنچائی جاتی تھی برسوں تکلیفیں و ایذائیں سہنے کے بعد وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے وہاں رہ کر مجاہدین اسلام کی صفوں میں شامل ہوکر دشمنوں سے جنگ کرتے تھے_ پیغمبر خدا(ص) کی وفات کے بعد جناب عمّار امیرالمومنین (ع) کے باوفا دوستوں میں شمار ہوتے تھے آپ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے تھے یہاں تک کہ صفنین کی جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہاد ت پر فائز ہوگئے_
بے شمار درود و سلام ہو آپ پر اور آپ کے ماں باپ پر اور اسلام کے تمام شہداء پر کہ جو خدائے واحد پر ایمان کے راستے میں پائیدار اور ثابت قدم رہے اور ذلت و خوادری کو قبلو نہ کیا اور جاہلیت کے طور طریقوں کی طرف نہ پلٹے اور ظلم و ستم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور ظالموں کی حکومت اور ولایت پر خدا کی حکومت اور ولایت کو ترجیح دی_
آیت قرآن
''( و لنصبرنّ علی ما اذیتمونا و علی الله فلیتوكّل المتوكّلون' ) '
سورہ ابراہیم آیت ۱۴
پیغمبروں اور مومنین نے متکبرین سے یوں کہا کہ ہراس اذیت پر جو تم ہم پر روا رکھتے ہو صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو خدا ہی پر توکل کرنا چاہیئے_
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ متکبرین، اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کو کیوں اذیت دیتے تھے؟ اور آج کل متکبرین مسلمانوں کو کس طرح تکلیف پہنچا رہے تھے؟
۲)___ عمار اور ان کے والدین متکبرین کے تازیانوں کے باوجود اللہ کے ذکر کے علاوہ اپنے صبر و استقامت کے متعلق کیا کہا کرتے تھے؟ اور اب ہمارا فریضہ متکبرین جہان کے بارے میں کیا ہے؟
۳)___ جب پیغمبر (ص) یاسر اور سميّہ کے گھرانے کو دیکھتے تھے توان سے کیا سفارش کیا کرتے تھے اور کیا خوشبخری دیتے
تھے اور پیغمبر کی سفارش پوری امت اسلام کے لئے کیا ہے اس کے متعلق علم حاصل کرنے کے لئے مراجع دین کی طرف رجوع کریں
۴)___ سميّہ کس طرح شہید ہوئیں؟ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کیا کہتی تھیں؟
۵)___ سمیہ جب اپنے شوہر کو شہید ہوتے دیکھ رہی تھیں تو کفّار نے اس سے کیا مطالبہ کیا تھا؟ اور انہوں نے جواب میں کیا کہا مسلمانوں کا جواب ان مشکلات کے مقابل جو آج کل مشرق و مغرب والے امت اسلامی پر وارد کر رہے ہیں کیا ہونا چاہیئے_
۶)___ اسلام کے سبب متکبرین کو کیا نقصان پہنچتا تا ہے کہ وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں؟
۷)___ عمّار کے ماں باپ جیسے مومنین نے کس کی حکومت کو قبول کیا ہے؟ اور ظالم انہیں کس کی حکومت کی طرف بلاتے ہیں؟
۸)___ عمّار نے مكّہ سے کس طرف ہجرت کی ؟ پیغمبر خدا(ص) کی وفات کے بعد کن کے انصار میں داخل ہوئے؟ پھر کہاں شہید ہوئے کیا آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے عمار کے قاتلوں کے متعلق کیا فرمایا ہے؟
اقتصادی پابندی
بت پرستوں کی شدید مخالفت کے باوجود اسلام مسلسل پھیل رہا تھا اور روز بروز مسلمانوں کی تعداد اور اسلام کی طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا بت پرست اور روڈیرے اپنے جاہ و جلال اور منافع کو خطرہ میں دیکھ رہے تھے وہ اسلام کی پیش رفت روکنے کے لئے اپنی پوری کوشش کرتے تھے اور کسی ظلم و خباثت کے ارتکاب سے نہیں روکتے تھے کمزور اور محروم مسلمانوں کو تکلیف پہنچاتے، ان کی توہین کرتے اور ان کا مذاق اڑاے تھے تا کہ مسلمانوں پیغمبر اسلام(ص) کی مدد سے دستبردار ہوجائیں اور اسلام کو چھوڑدیں_ لیکن ان مسلمانوں کا خدا اور اسلام پر ایمان اتنا قوی اور محکم تھا کہ وہ ہر قسم کے آزار اور تکلیف اور محرومیت کو برداشت کرتے_ لیکن پیغمبر اسلام (ص) کی مدد سے دستبردار نہ ہوتے تھے اور
اسلام کو نہ چھوڑتے تھے_
جب اذیتیں اور تکلیفیں حد سے بڑھ گئیں تو پیغمبر اسلام(ص) نے مسلمانوں کے ایک گروہ کو خفیہ طور پر حبشہ کی طرف ہجرت کرجانے کی اجازت دے دی مسلمانوں نے گھر بار چھوڑا اور اپنے ایمان کی حفاظت کی خاطر حبشہ ہجرت کر گئے اور انہوں نے عیسائیوں کے ایک گروہ کو دین اسلام کی طرف راغب کیا اور اس طریقہ سے انہوں نے عیسائیوں سے اسلام کا تعارف کرایا اور قربانی دینے والے مسلمانوں نے اپنی گفتار و کردار سے اسلام کی حیات بخش تعلیمات کو حبشہ میں پھیلایا_
مشرکوں کا ارادہ اور حضرت ابوطالب (ع)
بت پرستوں اور وڈیروں نے یہ جان لیا تھا کہ اسلام کا پھیل جانا اب یقینی ہے اسی لئے انہوں نے خطرے کا احساس کرلیا تھا اور پھر وہ اس کے تدارک کے لئے صلاح و مشورہ کرنے ایک جگہ اکٹھا ہوئے اور مختلف تجاویز کے متعلق تبادلہ خیال اور بحث و مباحثہ کرنے لگے_
ان میں سے ایک گروہ کی تجویز تھی کہ رسول خدا(ص) کو قتل کردینے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن دوسرے گروہ کے لوگوں کا اس سے مختلف نظریہ تھا لیکن بالآخر نتیجہ کے طور پر رسول خدا(ص) کے قتل کی تجویز کو اکثریت نے قبول کرلیا اور قتل کردینے کا مصمم ارادہ کرلیا یہ فیصلہ بہت ہی خطرناک تھا_
آنحضرت(ص) کے چچا حضرت ابوطالب (ع) کو اس سازش کا علم ہوگیا
آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا:
کیا تم نے سنا ہے کہ قریش کے سرداروں نے محمد(ص) کے بارے میں کیا فیصلہ کرلیا ہے؟ کیا جانتے ہو کہ کون سی تجویزان کے جلسے میں منظور کرلی گئی ہے؟ جانتے ہو کہ انہوں نے پکا ارادہ کرلیا ہے کہ محمد(ص) کو قتل کردیں؟ تم ان کے اس ارادے کے مقابلے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ مجھ سے جہاں تک ہوسکا محمد(ص) کا دفاع کروں گا تم کیا اقدام کروگے؟ محمد(ص) تمہاری عزت و شرف کا سرمایہ ہے میں تم سے خواہش کرتا ہوں کہ پوری قوت سے اپنی عزت و شراقت کا دفاع کرو مجھے بتاؤ کہ محمد(ص) کے دفاع کے لئے کیا کروگے ؟
سب نے جواب دیا کہ ہم سب حاضر ہیں کہ محمد(ص) کا دفاع اور ان کی حمایت کریں لیکن ہم اپنی کم تعداد کے سبب کس طرح دشمن کی عظیم طاقت کا مقابلہ کرسکتے ہیں_
جناب ابوطالب(ص) نے کہا
ہماری ذمہ داری ہے کہ محمد(ص) کا دفاع کریں اور دشمن کی کثرت اور اپنی قلت سے نہ گھرائیں اور صبر و استقامت اور اتحاد سے ان پر غلبہ حاصل کریں بہتر ہوگا کہ ہم اپنی طاقت کو ایک جگہ جمع کریں پھر ہم سب کے سب مرد و عورت چھوٹے بڑے، محمد(ص) کے اردگرد جمع رہیں
اور دشمن سے ان کی حفاظت اور نگہداشت کریں_
رسول خدا(ص) کی حفاظت اور نگہداری
جناب ابوطالب کی تجویز گو بہت سخت اور مشکل تھی لیکن پھر بھی تما افراد نے اسے قبول کرلیا تھوڑاسا مال و اسباب اٹھایا اور مكّہ میں پہاڑ کے ایک درّے میں منتقل ہوگئے تا کہ حضرت محمد(ص) کی بہتر طور پر حفاظت کرسکیں_
تقریباً چالیس جنگجو مردوں نے اس درّہ میں کہ جس کا نام شعب ابی طالب تھا، عہد و پیمان کیا کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک جناب محمد(ص) کی حمایت و حفاظت کریں گے اور عورتوں نے بھی اسی قسم کا معاہدہ کیا_
طاقتور جوان دن رات اس درّے کے چاروں طرف پہرا دیتے تھے دن میں پہاڑ کی گرم اور جھلسا دینے والی چوٹیوں پر گشت کرتے تھے اور رات میں پیغمبر خدا(ص) کے بہادر چچا جناب حمزہ اور علی ابن ابی طالب (ع) تلواریں نکالے پہرے داری کرتے تھے اور خود جناب ابوطالب (ع) بھی توجہ دیتے تھے اور رات کو کئی مرتبہ پیغمبر اسلام(ص) کی جگہ کو تبدیل کردیتے تھے اور کسی دوسرے کو ان کے بستر پر سلادیتے تھے کہ کہیں دشمن حملہ نہ کردیں اور ان کے سونے کی جگہ کو معلوم کرلیں اور آپ(ص) پر حملہ کر کے آپ کو قتل نہ کردیں_
مكّہ کے بت پرستوں نے جب پیغمبر(ص) کے مددگاروں کی اس بہادری و جانفشانی کو دیکھا تو انہوں نے کئی وجوہ کی بناپر پیغمبر(ص) کے قتل کا ارادہ ترک کردیا اور اپنی محفلوں میں بحث و مباحثہ اور مشورے سے ایک
اور ارادہ کرلیا کہ شعب ابی طالب (ع) کے رہنے والوں سے روابط ختم کردیں اور ان کا اقتصادی بائیکاٹ کردیں تا کہ رسول خدا(ص) کے حامی و ناصر تھک جائیں، تنگ آجائیں اور آپ کی مدد سے دستبردار ہوجائیں اور آپ کو تنہا چھوڑدیں یا این کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں_
اقتصادی بائیکات کا معاہدہ
ان کی خاص انجمن میں جو ظالمانہ بائیکاٹ کا مضمون تیار کیا گیا اور اس پر سب نے دستخط کئے اس کا متن یہ تھا:
۱) ___ آج کے بعد کوئی حق نہیں رکھتا کہ محمد(ص) اور ان کے مددگاروں کے پاس آمد و رفت کرے اور ان کی مدد کرے_
۲)___ کوئی آدمی حق نہیں رکھتا کہ کوئی چیز ان کے پاس فروخت کرے یا کوئی چیز ان سے خریدے_
۳)___ کوئی بھی شخص ان سے شادی نہ کرے_
۴)___ اس معاہدہ پر دستخط کرنے والے افراد پابند ہوں گے کہ ان کو مورد اجراء قرار دیں اور ان کے پابند رہیں_
۵)___ دستخط کرنے والے پابندہوں گے کہ اس معاہدہ پر عمل کریں اور جستجو میں رہیں کہ کوئی بھی اس کی خلاف ورزی نہ کرے یہ معاہدہ قطعی اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا اور کوئی بھی اس میں ردّ و بدل کا حق نہیں رکھتا یہ معاہدہ
اس وقت تک معتبر رہے گا جب تک وہ لوگ محمد(ص) کو ہماری تحویل میں نہ دے دیں_
اس ترتیب سے اس ظالمانہ معاہدہ کو لکھا گیا اور اسے ایک مضبوط صندوق میں بند کر کے اندر رکھ دیا گیا اور اس کا دروازہ مضبوطی سے بند کردیا گیا اور اس معاہدہ کے تمام شقوں کی اطلاع تمام افراد کو دے دی گئی_
حضرت ابوطالب (ع) نے اپنے رشتہ داورں کو شعب کے ایک گوشے میں اکٹھا کیا اور ان کو قریش کے سرداروں کے اس معاہدے کی اطلاع دی اور فرمایا
تم جانتے ہو کہ قریش کے سرداروں نے کیا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے ارادہ کرلیا ہے کہ ہمار ا پوری طرح بائیکاٹ کریں اور ہمیں اقتصادی طور پر محصور کریں وہ چاہتے ہیں کہ ہم پر اتنا دباؤ ڈالیں کہ ہم محمد(ص) کی مدد سے دستبردار ہوجائیں تو اے میرے عزیزو اس ظالمانہ ارادے اور معاہدے کے مقابل کیا کروگے؟''
سب نے مل کر جواب دیا:
ہم یہ تمام سختیاں، رنج، بھوک، اور دباؤ برداشت کریں گے لیکن محمد(ص) کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑدیں گے اور اپنے خون کے آخری قطرے تک ان کی حفاظت کریں گے_''
جناب ابوطالب (ع) نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خود میں
بھی جب تک میرے بدن میں جان ہے محمد(ص) کی حمایت کرتا رہوں گا_
اقتصادی بائیکاٹ
اقتصادی بائیکاٹ شروع ہوگیا اور لوگوں کا شعب ابی طالب سے ہر قسم کا رابطہ ختم ہوگیا کسی کو حق نہیں تھا کہ شعب میں رہنے والوں سے آمد و رفت اور خرید و فروخت کرے_
قریش کے سرداروں نے ایک گروہ لوگوں کی آمد و رفت پر نگاہ رکھنے کے لئے معین کردیا_ وہ نگرانی کرتے تھے کہ کوئی شخص شعب میں داخل نہ ہو، کوئی بھی چیز ان کے ہاتھ فروخت نہ کرے جو بھی اس بائیکاٹ کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا اس کامال ضبط کرلیتے تھے_
شعب میں محصور ہونے والے افراد نے بائیکاٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی زندگی کی ضرورت اور کھانے پینے میں پہلے کی نسبت میانہ روی برتنا_ شروع کردی تھوڑی غذا کھاتے اور کم سے کم غذا اور پانی پر قناعت کرتے اور ایک دوسرے سے ہمدردی اور تعاون کرتے تھے جو کچھ ان کے پاس تھا ایک دوسرے کے اختیار میں قرار دیتے تھے جوانوں میں طاقت اور صبر کا مادّہ زیادہ تھا وہ اپنی معمولی غذا بھی نہ کھاتے تھے بلکہ انہیں بچّوں اور سن رسیدہ افراد کو دے دیتے تھے_
شعب میں کسی قسم کی آمد و رفت نہ ہوتی تھی_ خوراک کا ذخیرہ آہستہ آہستہ خرچ ہو رہا تھا اور شعب میں رہنے والوںپر بالخصوص بچّوں پر بھوک
زیادہ شدّت سے اثرانداز ہو رہی تھی صرف کبھی کبھار بعض جانباز اور دلیر افرد پوری طرج چھپ کر رات میں شہر جاتے اور ہزارہا مصیبتوں کے بعد کچھ خوراک حاصل کرتے اور واپس شعب میں لوٹ جاتے، کبھی بنی ہاشم کے ہمدرد رشتہ دار اپنے اونٹ پر خوراک لادتے اور آدھی رات کے وقت شعب کے نزدیک جا کر اسے چھوڑ آتے اور درّہ کی طرف بڑھا دیتے تھے_
شعب مین محبوس اور محصور لوگ سال میں فقط دو مرتبہ حرام مہینوں میں شعب سے باہر نکل سکتے تھے کیونکہ مشرک ان مہینوں میں اپنی پرانی رسم کے مطابق جنگ و جدال کو حرام جانتے تھے_
ان ایام میں پیغمبر(ص) ان لوگوں سے جو اطراف مكّہ سے حج و عمرہ ادا کرنے کے لئے آیا کرتے تھے گفتگو فرماتے تھے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے اور انہیں خداوند عالم کی پرستش اور روز آخرت (قیامت) پر ایمان لانے کی دعوت دیتے_
لیکن مشرکین ہر وقت آپ کی تبلیغ کے کام میں مداخلت کرتے اور لوگوں کو آپ کے اردگرد سے دور کردیا کرتے تھے آپ کی باتوں کو قصّہ کہانی قرار دیتے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ محمد(ص) (معاذاللہ) جھوٹ بولتا ہے آخرت (قیامت) کچھ بھی نہیں ہے_
قرآن کریم، پیغمبر(ص) سے مشرکین کے سلوک اور اس کی سزا اور عاقبت کے متعلق یوں بیان کرتا ہے_
''مشرکین کہتے ہیں کہ پیغمبر(ص) کی باتیں پہلے زمانے کے قصے اور افسانے ہیں لوگوں کو ان کی باتوں کو سننے سے
روکتے ہیں اور ان سے لوگوں کو دور کردیتے ہیں ایسے لوگ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور انہیں سمجھتے (اے رسول(ص) ) اگر تم انہیں دیکھتے (تو تعجب کرتے) جب وہ جہنّم کے کنارے کھڑے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم دنیا میں لوٹائے جاتے اور ہم اللہ کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور مومنین کے گروہ میں داخل ہوجاتے اپنی جن برائیوں کو چھپاتے تھے وہ ان کے سامنے ظاہر ہوجائیں گی اور اگر یہ دنیا میں دوبارہ لوٹائے جائیں پھر بھی انہیں برے کاموں میں مشغول ہوجائیں گے کیونکہ یہ جھوٹ بولتے ہیں_ مشرکین کہتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کے علاوہ کوئی اور دنیا نہیں ہے اور آخرت آنے والی نہیں ہے اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے (اے رسول(ص) ) اگر تم انہیں دیکھو (تو تعجب کروگے) جب یہ لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان سے سوال کیا جائے کا کیا اب بھی آخرت حق نہیں ہے؟ اس وقت جواب دیں گے_ کیوں نہیں پروردگار کی قسم یہ مکمل حق ہے ان سے کہا جائے گا کہ بس اب آخرت کی سزا کا مزا چکھو جو کفر و انکار کی سزا ہے_''
شعب کے محصورین ان مہینوں میں ہزار زحمت اور ارتباط کے ساتھ اپنے لئے غذا کی قلیل سی مقار حاصل کرپاتے تھے اور پیغمبر(ص) خدا اس
مختصر سے وقت میں اسی طرح لوگوں سے خطاب فرماتے تھے _
ایام حرام اسی طرح تیزی سے گزر جاتے تھے شعب کے رہنے والے مجبور ہوتے تھے کہ پیغمبر(ص) کی حفاظت کی غرض سے پھر اس شدید گرم درّے میں لوٹ جائیں اور وہیں پناہ لیں ان تمام مصائب پر یہ لوگ، رسول(ص) اور حق کے دفاع کی خاطر صبر کرتے تھے اور اس کی حفاظت کرتے تھے _
آیت قرآن
''( انّ الّذین امنوا والّذین هاجروا و جاهدوا فی سبیل الله اولئک یرجون رحمت الله و الله غفور رّحیم ) ''
سورہ بقرہ۲/ آیت ۲۱۸''
بہ تحقیق جو لوگ ایمان لائے او رجنہوں نے ہجرت کی ہے اور راہ خدا میں جہاد کیا ہے وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحیم ہے_
سوچیئےور جواب دیجئے
۱)___ مستکبرین، اسلام کی ترقی سے کیوں ڈرتے تھے؟ اور اسلام
کی دعوت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کیا کرتے تھے؟
۲)___ مسلمانوں کے ایک گروہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کیوں کی یہ اسلام کے فروغ، اس کی تبلیغ اور اس کی وسعت کے لئے کیا اقدام کرتے تھے؟ اور اسلام کی پیش رفت کے لئے کس چیز سے استفادہ کرتے تھے؟
۳)___ کیا ان لوگوں کو پہچانتے ہیں کہ جنہوں نے انقلاب اسلامی کے پھیلاؤ کے لئے ہجرت کی تھی، ان کی ہجرت کے سبب کو بیان کیجئے؟ اور ان کی خدمات کو بھی بیان کیجئے؟
۴)___ جب مشرکین نے اسلام کی وسعت سے خطرہ محسوس کیا تو اسکے تدارک کیلئے کیا سوچا؟ اور انہوں نے کیا ارادہ کیا؟
۵)___ جب ابوطالب(ع) کو مشرکین کے ارادے کی اطلاع ملی تو انہوں نے کیا کیا؟ اور اپنے رشتہ داروں سے کیا کہا؟
۶)___ مشرکین کا دوسرا ارادہ کیا تھا اور اس ظالمانہ معاہدہ کا مضمون کیا تھا؟
۷)___ اقتصادی بائیکاٹ کے بعد پیغمبر(ص) اور ان کے رشتہ داروں کی شعب ابی طالب میں کیا حالت تھی؟
۸)___ کس وقت پیغمبر(ص) اور ان کے رشتہ دار شعب ابی طالب سے باہر نکل سکتے تھے؟
۹)___ قرآن مجید مشرکین کی رسول (ص) خدا کے ساتھ گفتگو کے بارے میں کیا فرماتا ہے؟
۱۰) ___ کفار مشرکین آخرت میں کیا آرزو کریں گے؟ کیا ان کی آرزو پوری ہوگی؟
۱۱)___ مشرکین کا آخرت کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ خدا قیامت کے دن دن سے کیا کہے گا؟ اور یہ کیا جواب دیں گے؟ اور کیا جواب سنیں گے؟
استقامت اور کامیابی
پیغمبر اسلام(ص) اور ان کے وفادار ساتھیوں نے شعب ابی طالب(ع) میں تین سال بہت سختیوں اور تکلیفیں اٹھائیں یہ انتہائی سخت اور صبر آزما عرصہ تھا دن کو حجاز کی گرمی او رچلچلاتی ہوئی دھوپ اور رات کو دشمن کے اچانک جملہ کا خوف بچّوں کے دلوں کو لرزاتی تھی_ پانی اور غذا کی قلت اور بھوک پیاس کی تکلیفیں جان لیوا تھیں، بچّے بھوک پیاس کی شدّت سے تنگ آکر نالہ و فریاد کرتے اور اپنے ماں باپ سے خوراک طلب کرتے تھے_
گو ان تمام مصائب کا برداشت کرنا مشکل و دشوار تھا لیکن ان غیور اور بہادر جان نثاروں نے تمام مصائب کو برداشت کیا اور تیار نہ ہوئے کہ اپنی انسانی شرافت اور عزت سے دستبردار ہوجائیں اور رسول خدا(ص) کے دفاع سے ہاتھ اٹھائیں_ انہوں نے اتنے صبر و تحمّل کا مظاہرہ کیا کہ پیغمبر(ص)
کے دشمن ظلم کرتے کرتے تھک گئے بچّوں کی آہ و بکا اور ان کی فریاد و فغان نے ان میں سے بعض کے دل پر آہستہ آہستہ اثر کرنا شروع کردیا اور وہ اس برے طرز عمل پر پشیمان ہونے لگے_
کبھی وہ ایک دوسرے سے پوچھتے کیا ہم انسان نہیں ہیں ؟ کیا ہم صلہ رحمی اور مروّت و ہمدردی کی ایک رمق بھی باقی نہیں رہی؟
ہم نے کیوں اس ظالمانہ معاہدہ پر دستخط کئے؟
ہمارے اہل و عیال تو بڑے آرام سے گھروں میں سو رہے ہیں لیکن بنی ہاشم کے بچّے بھوک و پیاس سے آہ و بکار کر رہے ہیں اور انہیں آرام و سکون سے سونا تک نصیب نہیں_
اس اقتصادی بائیکاٹ کا کیا فائدہ؟
کیا یہ اقتصادی بائیکاٹ اور دباؤ ان بہادر جانبازوں کو سر تسلیم خم کرنے پر آمادہ کرسکے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ اگر وہ تمام کے تمام بھوک کی شدت کے سبب موت کے نزدیک بھی پہنچ جائیں تب بھی نہیں جھکیں گے _
مشرکین کا ایک گروہ جو نادم ہوچکا تھا کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا تا کہ اس ظالمانہ معاہدے کو ختم کرسکے اور حضرت محمد(ص) اور ان کے اصحاب کو اقتصادی محاصرے سے نجات دلاسکے_
لیکن قریش کے سردار اب بھی مصر تھے کہ دباؤ اور بائیکاٹ کو جاری رکھا جائے_
ابوطالب (ع) مشرکین کے مجمع میں
رسول اکرم (ص) نے حضرت ابوطالب(ع) سے کوئی بات کہی اور خواہش ظاہر کی کہ اس کو مشرکین تک پہنچادیں_ حضرت ابوطالب(ع) اپنے چند عزیزوں کے ساتھ مسجدالحرام کی طرف روانہ ہوئے اور سیدھے مجلس قریش میں آئے_
قریش کے سردار حضرت ابوطالب (ع) کو وہاں آتا دیکھ کر حیران ہوئے اور سوچنے لگے کہ شاید ابوطالب (ع) اقتصادی بائیکاٹ اور اس کی سختیوں سے تنگ آگئے ہیں اور اس لئے آئے ہیں کہ محمد(ص) کو ہمارے حوالے کردیں_
سب کے سب بہت خوش ہوئے اور ابوطالب(ع) کو نہایت احترام سے صدر مجلس میں بٹھایا اور خوش آمدید کہا: اور کہنے لگے اے ابوطالب (ع) تم ہمارے قبیلے کے سردار تھے اور ہو، ہم نہیں چاہتے تھے کہ تمہاری تھوڑی سی بھی بے حرمتی ہو لیکن افسوس تمہارے بھتیجے کے رویے نے اس قسم کا ماحول پیدا کردیا_ کیا تم کو یاد ہے کہ ہم محمد(ص) کے سامنے درگزر کرنے اور صلح کرنے پر آمادہ تھے اور اس نے ہمیں کیا جواب دیا تھا؟ تم سے ہم نے خواہش کی تھی کہ محمد(ص) کی حمایت سے دستبردار ہوجاؤ تا کہ ہم محمد(ص) کو قتل کرسکیں لیکن تم نے اسے قبول نہ کیا اور اپنے رشتہ داروں اور قبیلے کو اپنی مدد کیلئے بلایا اور محمد(ص) کی حفاظت او رنگرانی کرنا شروع کردی_ کیا قطع رابطہ اور
اقتصادی بائیکاٹ کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی صورت باقی رہی تھی؟ ہمیں یہ علم ہے کہ یہ مدت تم پر اور تمہارے اہل و عیال پر بہت سخت گزری اور تمہیں سخت و دشواری کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب ہم خوش ہیں کہ تم اب ہمارے پاس آگئے ہو اگر تم اس سے پہلے آجاتے تو تمھیں اور تمہارے اہل و عیال اور شتہ داروں کو یہ تکالیف اور مصائب نہ دیکھنے پڑتے_
جناب ابوطالب (ع) اس وقت تک خاموش تھے اور حاضرین کا گہری نظر سے جائزہ لے رہے تھے آپ (ع) نے فرمایا:
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اقتصادی بائیکاٹ کی سختی اور دباؤ سے تنگ آگیا ہوں؟ کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اپنے مقصد تک پہنچنے کے راستے پر چلنے سے تھک گیا ہوں اور اب مجھے دشواریاں برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے؟ اطمینان رکھو کہ معاملہ ایسا نہیں ہے اور جب تک میں زندہ ہوں محمد(ص) اور ان کی روش کی حمایت کرتا رہوں گا ان کے عظیم ہدف کے حصول کے لئے سعی و کوشش سے کبھی نہ تھکوں گا میں اور میرے جوان ایک مضبوط پہاڑ کی مانند ان تمام مشکلات کے سامنے ڈٹے رہیں گے اور جان لو کہ ہم یقینا کامیاب ہوں گے کیونکہ صبر و استقامت کا نتیجہ کامیابی ہوا کرتا ہے
میں نے محمد(ص) کی حمایت سے ہاتھ نہیں کھینچا اور نہ اس اور نہ اس لئے تمہارے پاس آیا ہوں کہ محمد(ص) کو تمہارے سپرد کردوں بلکہ میں محمد(ص) کا ایک پیغام تمہارے لئے لے کر آیا ہوں''
پیغمبر خدا(ص) کا پیغام
یہ پیغام تمہارے عہدنامہ سے متعلق ہے تم پہلے عہدنامہ والے صندوق کو لاؤ اور اس مجمع کے سامنے رکھو تا کہ میں محمد(ص) کا پیغام تم تک پہنچاؤں''
وہ صندوق لے آئے_
جناب ابوطالب (ع) نے گفتگو کو جاری رکھا اور فرمایا کہ: جو فرشتہ اللہ تعالی کا پیغام محمد(ص) کے پاس لے کر آیا کرتا ہے اب اس نے یہ پیغام دیا ہے کہ تمہارے عہد نامہ کی تحریر کو دیمک چاٹ گئی ہے اب صرف اس کا تھوڑا حصّہ باقی رہ گیا ہے صندوق کھولو اور عہدنامہ کو دیکھو اگر ان کا پیغام صحیح ہوگا تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبر(ص) بنا کر بھیجے گئے ہیں اور محمد(ص) خدا کی طرف (جو تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے) پیغام حاصل کرتے ہیں اور واقعاً وحی کا فرشتہ ان کے لئے خبر لاتا ہے صندوق کھولو، اور محمد(ص) کی بات کی صداقت کو دیکھو اگر محمد(ص) کی بات
صحیح ہوئی تو تم پانی سرکشی اور ظلم و ستم سے باز آجاؤ اور ان کی نبوت و خدا کی وحدانیت پر ایمان لے آؤ تا کہ دنیا و آخرت میں فلاح پاؤ اور اگر ان کی بات صحیح نہ ہوئی تو میں بغیر کسی قید و شرط کے محمد(ص) کو تمہارے سپرد کردوں گا، تا کہ جس طرح چاہو ان سے سلوک کرو''
بعض افراد نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ محمد(ص) نے صندوق کے اندر دیکھ لیا ہو، یقینا یہ بات غلط ہے_ جلدی سے مہر توڑو اور اسے کھولو تا کہ ان کے دعوے کا غلط ہونا سب پر ظاہر ہوجائے انہوں نے صندوق کھولا او رعہد نامہ کو باہر نکالا بڑے تعجب سے دیکھا کہ عہد نامہ کی تحریر کو دیمک چاٹ چکی ہے اور صرف تھوڑا سا حصّہ باقی رہ گیا ہے_
جناب ابوطالب (ع) بہت خوش نظر آرہے تھے آپ نے ان لوگوں سے کہا:
اب جبکہ تم نے محمد(ص) کی صداقت کو جان لیا تو ان کی دشمنی اور سرکشی سے باز آجاؤ اور اللہ کی وحدانیت رسول (ص) کی پیغمبری اور روز جزا کی حقانیت پر ایمان لے آؤ تا کہ دنیا و آخرت کی فلاح پاؤ''
بعض افراد بہت غصّے میں آگئے اور ایک گروہ سوچ و بچار میں غرق ہوگیا اسی وقت کچھ لوگ اٹھے اور کہا:
تم پہلے دن سے ہی اس عہد نامہ کے مخالف تھے
انہوں نے عہدنامہ کا باقی حصہ جو دیمک کے کھانے سے بچ گیا تھا
قریش کے ہاتھ سے لے لیا اور وہیں پھاڑ دیا اور فوراً جناب ابوطالب (ع) کے ساتھ شعب کی طرف روانہ ہوگئے_
اور یوں رسول خدا(ص) کی زندگی میں دعوت اسلام کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہوا_
آیت قرآن
''( انّه من يّتّق و یصبر فانّ الله لا یضیع اجر المحسنین ) ''
جو شخص تقوی اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ تعالی نیکیوں کے اجر کو ہرگز ضائع نہیں کرتا''
سورہ یوسف آیت ۹۰''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ پیغمبر اسلام(ص) اور آپ کے اعزاء و اقارب کتنی مدت شعب میں محصور رہے؟ یہ مدّت ان پر کسی گزری ان تمام سختیوں کو وہ کس مقصد اور غرض کے لئے برداشت کرتے رہے؟
۲)___ قریش کے سرداروں نے جناب ابوطالب (ع) کو دیکھ
کرکیا سوچا؟ انہوں نے کس لئے صدر مجلس میں جگہ دی___؟
۳)___ جناب ابوطالب (ع) نے جوانوں کے صبر و استقامت کی کس طرح تعریف کی؟
۴)___ مشرکین نے پیغام کے سننے اور صندوق کے کھولنے سے پہلے کیا سوچا تھا؟
۵)___ ابوطالب (ع) کی ملاقات اور پیغام کا کیا نتیجہ نکلا___؟
انسانوں کی نجات کیلئے کوشش
بعثت کے دسویں سال اقتصادی بائیکات ختم ہوگیا پیغمبر(ص) خدا اور آپ(ص) کے باوفا ساتھی تین سال تک صبر و استقامت سے صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بعد شعب کے قیدخانہ سے آزاد ہوئے اور اپنے گھروں کی طرف گئے_ خداوند متعال نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ خدا کی راہ میں سعی و کوشش کریں اور صبر و استقامت کا مظاہر کریں تو خدا ان کی مدد کرے گا اور خدا نے اپنا کیا ہوا وعہ پورا کیا_
حضرت ابوطالب(ع) کہ جنہوں نے رسول خدا(ص) کی حفاظت کی ذمہ داری کو قبول کیا تھا، کفار کی طاقت اور کثرت سے نہ گھبرائے اور آپ نے پوری قوت کے ساتھ رسول(ص) خدا کا دفاع کیا_
آخر کار خدا کی نصرت آپہنچی اور انہیں اس جہاد میں کامیابی نصیب
ہوئی اور ان کے احترام، سماجی مرتبے اور عظمت میں اضافہ ہوگیا بنی ہاشم اپنی اس کامیابی پر بہت خوش ہوئے اور تمام تکالیف اور سختیوں کے بعد دوبارہ اپنی زندگی کا آغاز کیا_
بت پرست اور قریش کے سردار اپنی شکست پر بہت پیچ و تاب کھارہے تھے لیکن ان حالات میں بے بس تھے لہذا کسی مناسب موقع کا انتظار کرنے لگے ان حالات میں پیغمبر اسلام(ص) کو تبلیغ دین کا نہایت نادر موقع ہاتھ آیا وہ بہت خوش تھے کہ اس طرح اپنے چچا کے سماجی رتبہ اور حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت آزادی سے اپنے الہی پیام کو پہنچانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اس لئے آپ(ص) بہت زیادہ لگن سے تبلیغ میں مشغول ہوگئے_
آپ(ص) نے لوگوں سے کہا
اے لوگو
وہ کون ہے جو زمین و آسمان سے تمہارے لئے روزی پہنچاتا ہے؟ کون ہے جس نے تمھیں آنکھ اور کان عنایت فرمائے؟ کون ہے جس کے ارادے سے جہان خلق ہوا اور اس کا نظام چل رہا ہے؟ لوگو تمہارے اس جہان کا پیدا کرنے والا خدا ہے وہی تمہاری اور اس جہان کی پرورش کرتا ہے اور روزی دیتا ہے وہ تمہارا حقیقی پروردگار ہے پس کیوں اس کا شریک قرار دیتے ہو اور اس کے علاوہ کسی اور کی
اطاعت کرتے ہو؟ صرف خدا کی پرستش کرو اور صرف اسی کی اطلاعت کرو کہ یہی صحیح راستہ ہے اور حق کا ایک ہی راستہ ہے اور اس کے سوا سب گمراہی ہے_ پس جان لو کہ کسی طرف جارہے ہو؟ اے لوگو
جو لوگ نیکی اور حق کا راستہ اختیار کرتے ہیں خدا انہیں بہترین جزا عنایت فرماتا ہے اور زیادہ اور بہتر بھی دیتا ہے نیکوں کے چہرے پر کبھی ذلّت و خواری کی گرد نہیں بیٹھتی، ایسے لوگ جتنی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے لیکن وہ لوگ جو برائی اور گناہ کا راستہ اختیار کرتے ہیں انہیں سخت سزا دی جائے گی''
لیکن افسوس کہ یہ حالات اور آزادنہ تبلیغ و گفتگو کا سلسلہ زیادہ مدت تک برقرار نہ رہ سکا_ ابھی اقتصادی بائیکاٹ کو ختم ہوئے نو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ حضرت محمد(ص) کے چچا حضرت ابوطالب (ع) وفات پاگئے اور یوں رسول خدا(ص) اپنے بہت بڑے مددگار، مہربان و ہمدرد اور جانثار سے محروم ہوگئے_
مشرکین اس بات سے خوش ہوئے اور پھر مخالفتوں کا سلسلہ شروع کردیا ابھی زیادہ وقت نہ گزار تھا کہ حضرت محمد(ص) کی زوجہ محترمہ جناب خدیجہ کہ جنہوں نے صداقت و وفاداری کے ساتھ حضرت محمد(ص) کے ساتھ
ایک طویل عرصہ گزارا تھا اور جو کچھ بھی ان کے پاس تھا اسے تبلیغ دین اور اسلام کی مدد پر خرچ کردیا تھا وفات پاگئیں_
اس حساس موقع پر ان دو حادثات کا واقع ہونا پیغمبر خدا(ص) کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور رنج و غم کا باعث تھا آپ نے اس سال کا نام غم و اندوہ کا سال یعنی عام الحزن رکھا_
حضرت ابوطالب(ع) کی وفات کے بعد بنی ہاشم نا اتفاقی کا شکار ہوگئے، اپنے اتحاد کی طاقت کو ہاتھوں سے کھو بیٹھے اور اس کے بعد وہ پہلے کی طرح رسول خدا(ص) کی حمایت نہ کرسکے''
کفار و مشرکین نے جو ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھے رسول خدا(ص) کو تکلیف اور ایذا پہنچانے کا سلسلہ پھر شروع کردیا اور آپ کے کاموں میں مداخلت کرنے لگے_
کوچہ و بازار میں پیغمبر اسلام(ص) کا مذاق اڑاتے اور آپ(ص) کو آزادانہ طور پر قرآن کی آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھنے نہ دیتے اور نہ ہی لوگوں سے بات چیت کرنے دیتے اور آپ کو ڈراتے دھمکاتے_
آخر کار نوبت یہاں تک آپہنچی کہ کبھی کبھار آپ کے سر مبارک پر کوڑا کرکٹ ڈال دیتے اور آپ خاک آلودہ ہوکر گھر واپس آتے آپ کی کم عمر صاحبزادی جناب فاطمہ (ص) آپ(ص) کے استقبال کے لئے آگے بڑھتیں_ آپ(ص) کو اس حال میں دیکھ کر ان کا دل دکھتا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے آپ کے سرمنہ کو صاف کرتیں اور بے اختیار دوپڑتیں لیکن رسول(ص) خدا فاطمہ (ع) سے نہایت شفقت کے ساتھ
فرماتے''
میری پیاری بیٹی پریشان نہ ہو، خدا کی راہ میں ان مصائب کا برداشت کرنا بہت آسان ہے''
اس طرح جناب ابوطالب (ع) اور حضرت خدیجہ کی وفات سے پیغمبر اسلام(ص) کی اندرونی اور بیرونی زندگی تہ و بالا ہوکر رہ گئی کیوں کہ آپ اپنے سب سے بڑے حامی و مددگار اور جانباز سے جو قریش کے قبیلے کا سردار تھا محروم ہوگئے اس لئے آپ کو اس معاشرے اور اجتماع میں آزادی اور سکون حاصل نہ رہا ہر وقت آپ کی جان خطرے میں رہتی تھی آپ کا گھر بھی ایک جان نثار و وفا شعار، دوست و مددگار اور غم گسار بیوی سے خالی ہوچکا تھا جب آپ ان مصائب اور تکالیف کو جو باہردی جاتی تھیں برداشت کرتے ہوئے گھر واپس لوٹتے تو اپنی بیوی اور ہمسر کا کشادہ اور مسکراتا چہرہ نہ دیکھ پاتے بلکہ چھوٹی سی بچّی کے روتے ہوئے چہرے پر نگاہ پڑتی، وہ آپ کے استقبال کے لئے آتی اور اپنی والدہ کے پوچھتی اور سوال کرتی''
بابا ماں کہاں ہیں؟
رسول خدا(ص) اپنی بیٹی کا چہرہ چومتے اسے پیار کرتے اور اس کے رخساروں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کے قطروں کو صاف کرتے اور فرماتے:
بیٹی رؤومت، تمہاری ماں بہشت میں گئی ہیں اور وہاں جنّت کے پاک فرشتے ان کی مہمان نوازی کر رہے ہیں
اس قسم کے حالات میں پیغمبر اسلام(ص) نے کس طرح اپنی رسالت کے کام کو انجام دیا؟ آیا ممکن تھا کہ حضرت ابوطالب (ع) جیسا کوئی اور شخص تلاش
کریں کہ جو ان کی تبلیغ اور دعوت کی حمایت کرے؟
کیا اس قسم کے حامی اور مددگار کے بغیر اپنی دعوت اور لوگوں کی ہدایت کا اہم فریضہ انجام دے سکتے تھے؟
طائف کا سفر
جب پیغمبر اسلام(ص) پر وہ وقت آیا کہ آپ مکہ کے لوگوں کی حمایت اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو آپ(ص) نے ارادہ کیا کہ طائف(۱) کا سفر کریں اور وہاں کے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیں اس امید کے ساتھ کہ وہ اسلام کو قبول کرلیں گے اور قریش کے سرداروں کے مقابلہ میں ان کی حمایت کریں گے_
پیغمبر(ص) خدا نے اپنی بیٹی فاطمہ(ص) کو اپنے عزیزوں میں سے ایک کے سپرد کیا اور تھوڑی سی خوراک اور پانی لے کر خفیہ طور پر مکہ سے باہر نکلے اور بندگان خدا کو ظلم و ستم، شرک و پلیدی اور گناہ سے نجات دلانے اور انہیں اللہ کی اطاعت اور بندگی کی طرف دعوت دینے کی غرض سے طائف کا رخ کیا_
مكّہ اور طائف کا درمیانی راستہ نہایت دشوار گزار اور کٹھن
____________________
۱) طائف ایک ٹھنڈا شہر ہے جو مكّہ سے بارہ فرسخ کے فاصلہ پر واقع ہے اور ثقیف قبیلہ جو قریش کا سب سے بڑا قبیلہ تھا وہاں سکونت پذیر رہا ہے
تھا آپ خستہ حال لیکن ایمان کامل اور بھر پور امید کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے وہاں آپ بالکل اجنبی اور ناآشنا تھے_
اگر چہ طائف کے اکثر لوگوںنے آپ کا نام اور آپ کے دین کے متعلق تھوڑا بہت سن رکھا تھا لیکن لوگوں نے آپ کو نزدیک سے نہیں دیکھا تھا اور وہ آپ کو نہیں پہچانتے تھے_
آپ شہر میں داخل ہوئے اور گلی کو چوں کا رخ کیا کہ شاید کوئی شناسا مل جائے لیکن آپ کو کوئی شناسا نظر نہین آیا کہ جو شہر کے رؤسا اور بزرگوں کے گھروں تک رہنمائی کرے اور آپ(ص) سے آپ کی مدد کے متعلق دریافت کرے کہ آپ(ص) اس شہر میں کیوں تشریف لائے ہیں؟
آخر کار کوئی صورت آشنا نہ پا کر رسول (ص) خدا نے خود اپنی پہچان کروائی اور اپنے سفر کے مقصد کو بیان کیا:
میں محمد بن عبداللہ، اللہ کا رسول(ص) ہوں، میں اللہ کی طرف سے تمہاری ہدایت و نجات کا پیغام لایا ہوں تم لوگ شرک و بت پرستی اور ظلم و ستم سے ہاتھ اٹھا لو اور خدا کی اطاعت کرو اور تقوی اختیار کرو اور میری پیروی کرو تا کہ تمہیں دنیا و آخرت کی پاکیزہ زندگی اور دائمی و نیک زندگی کی طرف راہنمائی کروں میں تمہیں قیامت کے دن حاضر ہونے سے ڈراتا ہوں اور آخرت کے عذاب سے خوف دلاتا ہوں ڈرو اس وقت سے جب کام تمام ہوجائے اور تم کافر و مشرک
دنیا سے چلے جاؤ کہ پھر قیامت کے دن حسرت و عذاب میں گرفتار ہوگے میری دعوت کو قبول کرلو تا کہ دنیا و آخرت میں فلاح پاؤ میری اور میری آسمانی دعوت کی حمایت کرو تا کہ میں تمام لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلا سکوں''
لیکن قبیلہ ثقیف کے سرداروں کے دل ظلم و ستم کی وجہ سے سخت اور تاریک ہوچکے تھے انہوں نے آپ کی آسمانی ندا کو قبول نہ کیا بلکہ آپ(ص) کے ساتھ بے جا اور ناروا سلوک کیا_ رسول (ص) خدا بہت زیادہ ملول ہونے کہ یہ لوگ کیوں اپنی گمراہی پر اصرار کر رہے ہیں؟ کیوں بتوں کی عبادت کرتے ہیں؟ کیوں ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی وہ ان کو کچھ دے سکتی ہیں؟
کیوں لوگ میرے نور پیغمبر(ص) کی جو اللہ نے مجھے عنایت کیا ہے پیروی نہیں کرتے؟ کیوں خدا کی وحدانیت کا اقرار نہیں کرتے؟
کیوں اپنی برائیوں اور ظلم پر باقی رہنا چاہتے ہیں؟
کیوں یہ لوگ اپنے ان برے اعمال سے دنیا و آخرت کی ذلت و خواری میں اپنے آپ کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ ...؟
رسول (ص) خدا افسردہ اور بے قرار ہوگئے اور مجبور ہوکر ان کے گھر سے باہر نکل آئے اور دوسرے لوگوں کودعوت دینا شروع کردیں_ تقریباً ایک مہینہ تک آپ(ص) نے اس شہر میں قیام کیا اور لوگوں سے جو کوچہ و بازار سے گزرتے تھے گفتگو اور آخرت کی دنیا____ میں انسانی اعمال کی
قدر و قیمت اور زندگی کی غرض و غایت اور صحیح راہ و رسم کے بارے میں لوگوں کو بتایا اور انہیں خداپرستی اور خدا دوستی اور اللہ کی اطاعت کی طرف دعوت دی اور آخرت کے عذاب سے ڈرایا_ لیکن آپ(ص) کے وعظ و نصیحت اور تبلیغ نے ان کے تاریک دلوں پر کوئی زیادہ اثر نہ کیا گو کہ ان میں سے بعض کے دلوں میں کہ جو بہت زیادہ آلودہ نہیں ہوئے تھے ایک نور سا چمک اٹھا تھا اور آہستہ آہستہ تاریکی اور برائی چھٹتی چلی گئی_
لیکن مستکبرین اور سردار کہ جو اپنی قدرت اور منافع کو خطرے میں دیکھ رہے تھے انہوں نے تدریجاً خطرے کا احساس کرلیا اور بعض نادان اور کمینے انسانوں کو ابھارا کہ وہ جناب رسول(ص) خدا کی راہ میں زحمتیں اور روکاوٹیں پیدا کریں آپ(ص) کا مذاق اڑائیں اور آپ کی گفتگو کے درمیان شور و غل مچائیں اور انہیں ناسزا کہیں اور پتھر ماریں_
آخر کار ایک دن جب آپ(ص) لوگوں کے درمیان تقریر فرما رہے تھے کہ اوباش قسم کے انسانوں اور دھوکہ میں آئے ہوئے نادانوں نے کہ جنہیں مستکبرین نے بھڑکایا تھا آپ کے گرد گھیرا ڈالا اور آپ کو پتھر مارنے شروع کردئے اور کہنے لگے کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ_
طائف سے خروج
پیغمبر اسلام(ص) نے مجبور ہوکر شہر سے باہر کا رخ کیا_ بے وقوف اور نادان لوگ اب بھی آپ(ص) کا پیچھا کر رہے تھے اور پتھر مار رہے تھے آپ(ص)
کا جسم مبارک بری طرح زخمی ہوچکا تھا اور آپ(ص) کے پاؤں سے خون بہہ رہا تھا آپ(ص) تھکے ماندے خون آلود جسم اور غم و اندوہ کے ساتھ طائف سے نکل گئے_
آپ(ص) ان لوگوں کی ہدایت اور نجات کے لئے تنہا اور اجنبی ہوتے ہوئے اس شہر میں داخل ہوئے تھے جو ظلم کے اسیر تھے اور اب زخمی اور خستہ بدن کے ساتھ اس شہر سے باہر جا رہے تھے بالآخر طائف کے احمق اور کمین لوگوں نے آپ(ص) پر پتھر برسانا بند کئے اور آپ(ص) کا پیچھا چھوڑ کر اپنے ظلم اور تاریکی سے مغلوب شہر کی طرف واپس لوٹ گئے_
پیغمبر(ص) جو زخموں سے چور تھے اور تھکن کی وجہ سے مزید چلنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ایک ایسے درخت کے سایہ میں بیٹھ گئے جس کی شاخیں ایک باغ کی دیوار سے باہر نکلی ہوئی تھیں اور اپنے خدا سے یوں مناجات کرنے لگے اے پروردگار میں اپنی کمزوری و ناتوانی اورناتوان لوگوں کے ظلم و ستم کو تیرے سامنے بیان کرتا ہوں اے مہربان خدا اور اے مستصعفین کے پروردگار مجھے کس کے آسرے پر چھوڑا ہے؟ کیا مجھے بیگانوں کے لئے چھوڑدیا ہے؟ تا کہ وہ اپنے سخت اور کرخت چہرے سے مجھے دیکھیں؟ کیا تجھے پسند ہے کہ دشمن مجھ پر مسلط ہوجائے؟
خدایا میں ان تمام مصائب کو تیرے لئے اور تیرے بندوں کی خاطر برداشت کر رہا ہوں_
باغ کا مالک آپ(ص) کی یہ حالت دور سے دیکھ رہا تھا اس کا دل پیغمبر اسلام(ص) کی اس حالت پر دکھا انگور سے بھری ایک ٹوکری غلام کے حوالہ کی جس کا نام ''عداس'' تھا کہ پیغمبر اسلام(ص) کو دے آئے_
عداس نے ٹوکری کو اٹھایا اور پیغمبر(ص) خدا کے نزدیک لایا_ پیغمبر(ص) کا تھکا ہوا نورانی چہرہ، زخمی جسم، اور خون میں آلودہ پاؤں اس کے لئے تعجب خیز تھے_ اس نے انگوروں کی ٹوکری پیغمبر(ص) کی خدمت میں پیش کی اور ادب سے بولا:
شوق فرمایئےان انگوروں میں سے کھا لیجئے''
اور خود ایک طرف جاکر کھڑا ہوکیا اور حیرت سے اللہ کے پیغمبر کی جانب دیکھنے لگا_
رسول خدا(ص) نے کہ جو بھوک و پیاس سے نڈھال تھے ایک خوشہ انگور کا اٹھایا اس کے صاف شفاف دانوں پر نظر ڈالنا شروع کردیا_
کتنی بر محل اور موقع کی مناسبت سے رسول خدا(ص) کی مہمانی کی گئی آپ(ص) کا خشک گلاتر ہوگیا''
عداس جو بڑی توجہ سے رسول خدا(ص) کی طرف دیکھ رہا تھا جب اس نے_ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا کلمہ رسول (ص) خدا سے سنا تو سخت تعجب ہوا اور پوچھا:
اس کلمہ سے کیا مراد ہے؟ اس کلمہ کو آپ نے کس سے سیکھا ہے؟
رسول خدا(ص) نے عداس کی صورت کو محبت آمیزنگاہ سے دیکھا اور پھر اس سے پوچھا:
تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ تمہارا کیا دین ہے؟
اس نے جواب دیا_
نینوا کا رہنے والا ہوں اور مسیحی دین رکھتا ہوں''
اچھا نینوا کے ہو جو اللہ کے نیک بندے یونس (ع) کا شہر ہے_
یونس جو متی کے فرزند ہیں''
عداس کی حیرانی میں اور اضافہ ہوا اور پوچھا کہ:
آپ(ص) یونس (ع) کو کس طرح جانتے ہیں؟ اور ان کے باپ کا نام کس طرح معلوم ہے؟ خدا(ص) کی قسم جب میں نینوا سے باہر نکلا تو اس وقت دس لوگ بھی نہیں تھے جو جناب یونس (ع) کے باپ کو جانتے ہوں آپ(ص) ان کو کس طرح پہچانتے ہیں؟ اور کس طرح ان کے باپ کا نام جانتے ہیں؟ اس خطّے کے لوگ جاہل ہیں اور آپ(ص) نے یونس (ع) کے باپ کا نام کس سے معلوم کیا ہے_
رسول خدا(ص) نے فرمایا:
یونس میرا بھائی اور خدا کا پیغمبر(ص) تھا اور میں بھی خدا کا پیغمبر ہوں خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ اپنے تمام کاموں کا آغاز اس کے نام اور اس مقدس کلمہ ''بسم اللہ الرحمن الرحیم'' سے کروں جانتے ہو کس لئے؟
عداس کہ جس کا دل روشن اور حق کو قبول کرنے پر راغب تھا بہت خوش ہوا اور پیغمبر خدا(ص) کی دعوت اور آپ(ص) کی پیغمبری کے
متعلق بہت سے سوالات کئے پیغمبر اسلام(ص) باوجود اسکے کہ بہت تھکے ہوئے تھے اس کے تمام سوالات کا بہت صبر و حوصلہ سے جواب دیتے رہے_ عداس کی گفتگو پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور آخر کار پیغمبر اسلام(ص) کی رسالت کی دعوت کی حقیقت اس پر واضح ہوگئی وہ آپ(ص) پر ایمان لے آیا اور مسلمان ہوگیا_
پیغمبر اسلام(ص) بھی اس کے اسلام لانے سے بہت خوش ہوئے اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس سفر میں ایک محروم اور ستم رسیدہ انسان کی ہدایت کی _
آپ(ص) نے عداس کو خداحافظ کہا اور مكّہ کی طرف روانہ ہوگئے اس مكّہ کی جانب کہ جسکے رہنے والے مشرکین تلواریں نکالے آپ(ص) کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے راستہ بہت سخت اور دشوار تھا_ لیکن اللہ کی طرف سے ذمہ داری اور ماموریت اور سول (ص) خدا کا ہدف زیادہ اہم تھا آپ(ص) نے چلنا شروع کیا آپ(ص) کے پاک و پاکیزہ خون کے قطرے آپ کے ایمان راسخ اور خدا کے بندوں کی ہدایت کی راہ میں_ استقامت کو راستے کے سخت پتھروں پر نقش کی صورت میں چھوڑ رہے تھے_
آیت قرآن
( لقد جاء کم رسول مّن انفسکم عزیز علیه ما عنتّم حریص
علیکم بالمؤمنین رء وف رّحیم)
سورہ توبہ آیت ۱۲۸''
تم میں سے رسول ہدایت کے لئے آیا ہے تمہاری پریشانی اور رنج اس پر سخت ہے وہ تمہاری ہدایت کے لئے حریص و دلسوز ہے اور مومنین پر مہربان اور رحیم ہے''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ پیغمبر خدا(ص) اپنی تبلیغ و گفتگو میں لوگوں کو کن اصولوں کی طرف دعوت دیتے تھے؟
۲)___ حضرت ابوطالب (ع) کی وفات نے پیغمبر اسلام(ص) کی تبلیغ اور دعوت پر کیا اثر ڈالا؟
۳)___ پیغمبر(ص) نے طائف کا سفر کس غرض سے کیا تھا؟ کتنی مدّت طائف میں رہے اور اس مدّت میں آپ(ص) کی تبلیغ کا کیا پروگرام تھا؟
۴)___ شہر کے بزرگوں اور سرداروں نے کس طرح پیغمبر(ص) کی تبلیغ کی مزاحمت کی؟ اور کیوں؟
۵)___ رسول خدا(ص) نے طائف کے شہر سے نکلنے کے بعد اللہ سے کیسی مناجات کی اور خدا سے کیا کہا؟
۶)___ اس حالت میں کس نے آپ(ص) کی مہمان نوازی کی؟
۷)___ عداس نے کس چیز کے سبب تعجب کیا؟ اور رسول (ص) سے کیا سوال کیا؟
۸) کس چیز کو سن کر عداس کے تعجب میں اضافہ ہوا؟
۹)___ عداس کس طرح مسلمان ہوا پیغمبر اسلام(ص) عداس کے مسلمان ہونے سے کیوں خوش ہوئے؟
پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت
حج کے ایام میں بہترین اور مناسب موقع تھا کہ پیغمبر اسلام(ص) مشرکین کے کسی دباؤ کے بغیر لوگوں سے گفتگو کرسکیں اور انہیں اسلام کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دے سکیں اور اسلام و ایمان کے نور کو لوگوں کے دلوں میں روشن کرسکیں_
اس مرتبہ پیغمبر اسلام (ص) خزرج قبیلہ کے چھ آدمیوں سے گفتگو کر رہے تھے اپنے دل نشین اور آسمانی آہنگ میں لوگوں کے لئے قرآن مجید کی ان آیات کی تلاوت فرما رہے تھے جو خداپرستی کی تائید اور شرک و بت پرستی کی نفی کے بارے میں تھیں اور بعض آیات عقل و دل کو بیدار کرنے کے بارے میں تھیں_
ان آیات میں سے چند ایک بطور نمونہ یہاں تحریر کی جاتی ہیں جن
کا تعلق سورہ نحل سے ہے''
خدا آسمان سے بارش برساتا ہے اور مردہ کو زندہ کرنا ہے، البتہ اس میں واضح اور روشن نشانی ہے اس گروہ کے لئے جو بات سننے کے لئے حاضر ہو تمہیں چوپایوں کی خلقت سے عبرت حاصل کرنا چاہئے_ خون اور گوبر کے درمیان سے پاکیزہ اور خوش مزہ دودھ تمہیں پلاتے ہیں کھجور اور انگور کے درخت کے پھولوں کو دیکھو کہ جس سے شراب بناتے ہو اور اس سے پاک و پاکیزہ روزی حاصل کرتے ہو اس میں عقلمندوں کے لئے واضح علامت موجود ہے تیرے خدا نے شہد کی مكّھی کو وحی کی ہے کہ وہ پہاڑوں او ردرختوں میں گھر بنائیں اور تمام میوے کھائیں اور تیرے اللہ کے راستے کو تواضع سے طے کریں اور دیکھو کہ ہم کس طرح شہد کی مکھی سے اس طرح کا مزیدار شربت مختلف رنگوں میں باہر لاتے ہیں کہ جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے اور اس میں سوچنے والوں کے لئے واضح نشانی موجود ہے خدا ہی ہے جس نے تمہیں خلق کیا اور وہی ہے جو تمہیں موت دے گا تم میں سے کچھ لوگ ضعیفی اور بڑھا پے کی عمر کو پہنچ جائیں گے کہ کچھ بھی نہیں سمجھ پائیں گے البتہ خدا علیم و قدیر ہے
پس کیوں غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں وہ چیزیں کہ
جن کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی روزی نہیں ہے، کچھ نہیں اور نہ ہی ان کے ذمہ کوئی کام ہے
قرآن مجید کی آیات کے معنی اور پیغمبر(ص) کی حکیمانہ اور دل نشین اور محبت بھری گفتگو نے ان لوگوں پر بہت اچھا اثر کیا اور انہیں اسلام کا گرویدہ بنادیا اس کے علاوہ انہوں نے یہودیوں سے سن رکھا تھا کہ حضرت موسی (ع) نے اپنی آسمان کتاب میں خبر دی ہے کہ ایک پیغمبر مکہ سے اٹھے گا جو وحدانیت او رتوحید پرستی کی ترویج کرے گا_ غرض پیغمبر خدا(ص) کی اس تمہیدی گفتگو ان کی روح پرور باتیں سن کر اور ان کا محبت بھرا انداز دیکھ کر ان میں ایک نئی روح پیدا ہوئی اور انہوں نے اسی مجلس میں اسلام قبول کرلیا،
جب وہ لوگ پیغمبر(ص) سے جدا ہونے لگے تو کہنے لگے کہ:
ایک طویل عرصہ سے ہمارے اور اس قبیلے کے درمیان جنگ جاری ہے امید ہے کہ خداوند عالم آپ(ص) کے مذہب اور دین کے وسیلے سے اس جنگ کا خاتمہ کردے گا اب ہم اپنے شہر یثرب کی طرف لوٹ کرجائیں گے تو آپ کے آسمانی دین اسلام کو لوگوں سے بیان کریں گے_
یثرب کے لوگوں نے تھوڑا بہت حضرت محمّد اور آپ کے دین کے متعلق ادھر ادھر سے سن رکھا تھا لیکن ان چھ افراد کی تبلیغ نے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے ایک مناسب فضا پیدا کردی اور اسلام کے لئے حالات سازگار بنادئے اور یوں کافی تعداد میں لوگ
اسلام کی طرف مائل ہوگئے اور بعضوں نے اسلام قبول بھی کرلیا_
تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ یثرب کے مشہور افراد میں سے بارہ آدمی مكّہ آئے تا کہ اپنے اسلام کو پیغمبر(ص) کے سامنے پیش کریں اور اسلام کیلئے اپنی خدمات وقف کردیں_
ان افراد کی پیغمبر(ص) سے ملاقات اتنی آسان نہ تھی کیونکہ مكّہ کی حکنومت بت پرستوں اور طاقتوروں کے زور پر چل رہی تھی اور شہر مكّہ کے رعب و دبدہ اور ظلمت و تاریکی کا شہر تھا آخر ان لوگوں سے ملاقات کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا گیا جو شہر سے باہر، پہاڑ کے دامن میں اور مشرکوں کی نظروں سے دور تھی یہ ملاقات آدھی رات کو عقبہ نامی جگہ پر رکھی گئی_
عقبہ کا معاہدہ
آدھی رات کے وقت چاند کی معمولی روشنی میں نہایت خفیہ طور پر سعد ابن زرہ، عبادہ ابن صامت اور دوسرے دس آدمی پہاڑ کے پیچھے پر پیچ راستے سے گزرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھوڑے سے مسلمان بھی مكّہ سے پیغمبر(ص) کے ساتھ آئے _
تمام گفتگو بہت رازداری کے ساتھ اور خفیہ طور پر ہوئی اور سپیدی صبح سے پہلے جلسہ برخاست ہوگیا اور ان تمام کے تمام حضرات نے انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنی اپنی راہ لی_ اور خوش بختی سے مكّہ کے مشرکوں میں سے کسی کو بھی اس جلسہ کی خبر نہ ہوئی_
مدینہ میں مسلمانوں نے ان بارہ افراد سے پوچھا کہ رسول خدا(ص) سے ملاقات کیسی رہی___؟ ان سے کیا کہا اور کیا معاہدہ ہوا___؟
انہوں نے جواب میں کہا کہ:
ہم نے خدا کے رسول (ص) سے معاہدہ کیا ہے کہ خدا کا کوئی شریک قرار نہ دیں گے، چوری نہ کریں گے نہ زنا اورفحشاء کا ارتکاب کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے ایک دوسرے پر تہمت نہیں لگائیں گے نیک کاموں میں رسول خدا(ص) کی مدد کریں گے اور آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے''
مدینہ میں تبلیغ اسلام
ایک مدّت کے بعد انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کو خط لکھا کہ ایک ایسا آدمی ہماری طرف روانہ کیجئے جو ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور قرآن مجید کے معارف سے آگاہ و آشنا کرے_
پیغمبر(ص) نے ایک جوان مصعب نامی ان کی طرف روانہ کیا مصعب قرآن مجید کو عمدہ طریقہ سے اور خوش الحانی کے ساتھ قرات کیا کرتا تھا اور بہت عمدہ اور دل نشین گفتگو کرتا تھا دن میں مدینہ کے ایک کنویں کے نزدیک درخت کے سائے میں کھڑا ہوجاتا اور بہت اچھی آواز کے ساتھ قرآن پڑھتا،
لوگ اس کے اردگرد حلقہ بنالیتے اور وہ ٹھہرٹھہر کر قرآن
کی تلاوت کرتا جب کوئی دل قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا تو اس سے گفتگو کرتا اور دین اسلام کی اعلی تعلمیات کو اس کے لئے بیان کرتا:
جن حق پرست اور حق کو قبول کرنے والے لوگوں کے دل نرم ہوجاتے تو وہ اس کی باتوں کو توجّہ سے سنتے اور اسلام کے گرویدہ ہو کر ایمان لے آتے تھے''
اسلام کی طرف اس طرح مائل ہونے کی خبر سن کر مدینہ کے بعض قبائل کے سردار سخت ناراض ہوئے اور ان میں سے ایک مصعب کو مدینہ سے باہر نکالنے کے لئے بڑی تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھا اور اس کے نزدیک پہنچ کر غصہ کے عالم میں اپنی تلوار کو نیام سے باہر کھینچ کر چلایا کہ: اسلام کی تبلیغ کرنے سے رک جا اور ہمارے شہر سے باہر چلا جا ورنہ ...؟
مصعب نے اس کے اس سخت لہجہ کے باوجود نہایت نرمی اور محبت سے کہا:
کیا ممکن ہے کہ ہم تھوڑی دیر کے لئے یہیں بیٹھ جائیں اور آپس میں گفتگو کریں؟ میری باتوں کو سنو اگر وہ غیر معقول اور غلط نظر آئیں تو میں ان کی تبلیغ سے دستبردار ہوجاؤں گا اور اس راستے سے کہ جس سے آیا ہوں واپس چلاجاؤں گا ...''
تم سچ کہہ رہے ہو، مجھے پہلے تمہاری بات کو سننا چاہئے،تمہاری دعوت کو سننا چاہیئے اس کے بعد کوئی
فیصلہ کرنا چاہئے''
اس سردار نے اپنی شمشیر کو نیام میں رکھا اور مصعب کے قریب بیٹھ گیا_ مصعب نے قرآن مجید کی چند منتخب آیا ت اس کے سامنے تلاوت کیں''
اے کاش کہ تاریخ نے ہمارے لئے ان آیات کو تحریر کیا ہوتا جو اس حساس لمحہ میں مصعب نے تلاوت کیں_ لیکن خدا کا شکر ہے کہ قرآن ہمارے سامنے ہے ہم ان آیات کے مانند دوسری آیات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو تقریباً وہی معنی رکھتی ہیں جن میں خدا نے مشرکین کو خبردار کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی ہے''___ دیکھیں اور سوچیں''
آیا جو خلق کرنے والا ہے خلق نہ کرنے والے کے برابر ہے بس تم کیوں نہیں سوچتے؟
اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہا ہو تو نہ کرسگو گے البتہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے اور خدا ان چیزوں کو جنہیں تم چھپاتے ہو اور انہیں جنہیں ظاہر کرتے ہو تمام کا علم رکھتا ہے،
یہ بت کہ جنہیں خدا کے مقابل پرستش کرتے ہو اور ان سے مانگتے ہو یہ کوئی چیز بھی خلق نہیں کرسکتے بلکہ خود کسی کے بنائے ہوئے ہیں''
تمہارا خدا ایک ہے وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل برے اور سرکش و متکبّر ہیں''
خدا اس سے جو تم چھپ کر انجام دیتے ہو آگاہ ہے اور اس سے کہ جسے علانیہ بجالاتے ہو آگاہ ہے اور خدا متکبّرین کو کبھی بھی دوست نہیں رکھتا
قرآن کے نورانی حقائق اور آیات کی جاذبیت و زیبائی اور مصعب کے حوصلے اور اخلاق و استقامت نے اس شخص میں تغیر اور تبدیلی پیدا کردی، اس کی سوئی ہوئی روح کو بیدار کردیا اور اس کی سرکش اور متکبّر عداوت سرنگوں ہوگئیں اور اسے ایسا سکون و اطمینان حاصل ہوا کہ وہ جاننے اور ماننے کے لئے آمادہ ہوگیا تب اس نے انتہائی تحمل اور بردباری سے کچھ سوالات ادب سے کئے پھر پوچھا:
اسلام کس طرح قبول کیا جاتا ہے؟ اس دین کے قبول کرنے کے آداب و رسوم کیا ہیں؟
مصعب نے جواب دیا:
کوئی مشکل کام نہیں، صرف اللہ کی وحدانیت اور محمد(ص) کی رسالت کی گواہی دی جائے، کپڑوں اور جسم کو پانی سے دھوکر پاک کیا جائے اور خدا کے بندوں سے انس و محبت کی راہ کھول دی جائے اور نماز پڑھی جائے_
عقبہ میں دوسرا معاہدہ
مدینہ کے لوگ دین اسلام کی حقانیت دریافت کر رہے تھے اور ایک کے بعد دوسرا امر الہی کو تسلیم کر رہا تھا وہ لوگ بہت ذوق و شوق سے دین اسلام کو قبول کر رہے تھے_ انتظار کر رہے تھے کہ حج کے دن آپہنچیں اور وہ سفر کریں اور پیغمبر(ص) کے دیدار کے لئے جائیں اور اپنی مدد اور خدمت
کرنے کا اعلان کریں''
آخر کار پانچ سو آدمیوں کا قافلہ مدینہ سے مكّہ کی طرف روانہ ہوا اس قافلہ میں ستّر کے قریب مسلمان بھی موجود تھے_ ان سب کا پروگرام پیغمبر اکرم(ص) سے ملاقات کرنے کا بھی تھا وہ چاہتے تھے کہ اس ملاقات میں پیغمبر(ص) سے رسمی طور سے بیعت کریں اور آپ(ص) کی مدد کا اعلان کریں''
۱۳/ ذی الحجہ کی آدھی رات کو منی میں ایک پہاڑی کے دامن میں ملاقات کرنے کا وقت معین کیا گیا،
وہ وقت آپہنچا اور مسلمان چھپ چھپ کر ایک، ایک، دو، دو، کر کے اس عقبہ کی طرف چل دئے اور وہاں مشرکوں کی سوئی ہوئی آنکھوں سے دور جمع ہوکر پیغمبر(ص) کے گرد حلقہ ڈال دیا،
انہوں نے پیغمبر(ص) سے خواہش کی کہ آپ(ص) کچھ خطاب فرمائیں، پیغمبر(ص) نے قرآن مجید کی کچھ آیات کا انتخاب کر کے ان کے سامنے تلاوت کی اور اسکی تشریح بیان کی اور فرمایا، اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر و استقامت کو اپنا شیوہ بناؤ اور یہ جان لو کہ نیک انجام متقیوں کے لئے ہوا کرتا ہے اس کے بعد پیغمبر(ص) نے اپنی خواہش کاا ظہار کیا اور فرمایا:
کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں مدینہ کی طرف ہجرت کروں اور تمہارے ساتھ زندگی بسر کروں؟''
سبھی نے پیغمبر(ص) کی اس خواہش پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا اور نہایت اشتیاق سے ایک بولا
خدا کی قسم میں پوری صداقت کے ساتھ آپ(ص) سے عہد
کرتا ہوں کہ آپ(ص) کے دفاع میں اپنی جان کی بازی لگادوں گا اور جو کچھ زبان سے کہہ رہا ہوں وہی میرے دل میں بھی ہے''
دوسرے نے کہا:
میں آپ(ص) کی بیعت کرتا ہوں کہ جس طرح اپنے اہل و عیال اور اولاد کی حفاظت کرتا ہوں، آپ(ص) کی بھی کروں گا:
تیسرے نے کہا:
ہم جنگ اور لڑائی کے فرزند ہیں اور جنگ کے سخت میدان کے لئے تربیت حاصل کی ہے اور جان کی حد تک پیغمبر خدا(ص) کی خدمت اور دفاع کے لئے حاضر ہیں''
یہ پورا اجتماع، شوق اور محبت سے لبریز تھا اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے دل کی بات کہی لیکن وہ یہ بھول چکے تھے وہ مكّہ میں اور مشرکوں کی ایک خطرناک حکومت کے درمیان بیٹھے ہوئے ہیں،
پیغمبر اکرم(ص) کے چچا نے جو آپ(ص) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے بہت دہیمی آواز میں جو کہ مشکل سے سنی جا رہی تھیں کہا:
مطمئن رہو، آہستہ بولو، کہیں مشرکوں نے ہمارے اوپر کوئی آدمی تعینات نہ کیا ہو ...''
اس کے بعد یہ جلسہ ختم ہوا اور لوگوں نے فرداً فرداً پیغمبر(ص) کے ہاتھ پر بیعت کی، عہد کیا اور خداحافظ کہا:
ابھی دن کی سفیدی بھی نمودار نہیں ہوئی تھی کہ تمام لوگ وہاں سے علیحدہ علیحدہ روانہ ہوگئے''
لیکن افسوس، دوسرے دن معلوم ہوا کر مكّہ کے مشرکوں کو اس جلسے کی خبر مل چکی ہے اور اہل مدینہ کی پیغمبری(ص) سے بیعت اور بہت کی گفتگو کا کافی حد تک انہیں علم ہوچکا ہے مشرکین میں اضطراب اور خوف پھیل گیا اور انہوں نے سوچا کہ اگر محمد(ص) اور دوسرے مسلمان مكّہ سے مدینہ چلے گئے اور وہاں مضبوط مرکز بنالیا تو کیا ہوگا؟
لہذا وہ سب دالندوہ میں اکٹھے ہوئے اور بہت زیادہ سختی کرنے کا فیصلہ کیا اور اسلام کی جڑیں کاٹنے اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے کسی عمدہ طریقہ کو سوچنے لگے_
آیت قرآن
( انّ الّذین قالوا ربّنا الله ثمّ استقاموا فلا خوف علیهم و لا هم یحزنون ) ''
سورہ احقاف آیت ۱۳/''
البتہ جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب خدا ہے اور پھر اس پر محکم رہے تو نہ ان پر خوف ہوگا ورنہ ہی وہ محزون ہوں گے''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ سورہ نحل کی جن آیات کا ترجمہ اس سبق میں بیان ہوا ہے، ان میں خداوند عالم نے کن چیزوں کو اپنی قدرت کی_
واضح نشانیاں بتایا ہے؟ اور ان نشانیوں کے ذکر کرنے سے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟ یہ نشانیاں دین اسلام کے اصولوں میں سے کس اصل کو بیان کرتی ہیں _
۲)___ قبیلہ خرزج کے ان چھ آدمیوں نے کہ جنہوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے سامنے اسلام قبول کیا تھا یہودیوں سے کیا سن رکھا تھا؟ اور یہودیوں کی وہ خبر کس اصول کو بیان کرتی ہے؟
۳) ___ جب یہ لوگ پیغمبر اسلام(ص) سے جدا ہو رہے تھے تو کس مسئلہ کے بارے میں امید کا اظہار کر رہے تھے؟
۴)___ پیغمبر(ص) نے کس آدمی کو مدینہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجا؟ اور اس میں کیا خصوصیات موجود تھیں؟ اس کی تبلیغ کا کیا طریقہ تھا؟ اور دین اسلام کو قبول کرنے کے لئے وہ کون سی چیزیں بیان کرتا تھا؟
۵)___ دوسرے معاہدہ کا وقت کیا تھا؟ اس میں کتنے افراد نے پیغمبر(ص) کا دیدار کیا؟ اور کیا کہا اور کیا سنا ؟
مشرکوں کا مکر و فریب
جب مشرکوں کو اس خفیہ اجلاس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں پر آزار و تکلیف پہنچانے میں اضافہ کردیا مسلمان جو مصائب و مشکلات کی بناپر بہت زیادہ دباؤ میں تھے انہوں نے پیغمبر(ص) سے سوال کیا کہ کیا ان مصائب پر صبر کریں؟ یا کوئی اور راستہ اس کے لئے سوچیں؟
رسول خدا(ص) نے انہیں حکم دیا کہ بالکل خفیہ طور پر مشرکوں کی آنکھوں سے چھپ کر مدینہ کی طرف کہ جسے اس زمانے میں یثرب کہا جاتا تھا اور بعد میں اس کا نام پیغمبر(ص) اسلام کے احترام میں ''مدینة الرسول'' رکھا گیا ہجرت کر جائیں اور آپ(ص) نے انہیں خوشخبری دی کہ:
جو لوگ اس رنج و غم اور ظلم پر جوان پر روا رکھا گیا ہے صبر کر کے ہجرت کرجائیں گے تو خداوند
بزرگ ان کے لئے دنیا میں ایک عمدہ اور قیمتی جگہ عطا کرے گا البتہ ان کا آخرت میں اجر بہت بہتر اور بالاتر ہوگا یہ عظیم اجر اس شخص کو نصیب ہوگا کہ جو مشکلات میں صابر اور پائیدار اور استقامت رکھتا ہو اور خداوند عالم پر توکل کرے البتہ خدا تم پر جو مشکلات میں صبر وہ حوصلہ رکھتے ہو او راللہ تعالی کی راہ میں ہجرت اور جہات کرتے ہو بہت ہی مہربان اور بخشنے والا ہے''
لیکن ہجرت کس طرح ممکن ہے؟
اس شہر سے کہ جس میں بہت طویل مدت گزاری ہو اور اس سے مانوس ہوں کس طرح چلے جائیں؟
کیسے ہوسکتا ہے کہ گھر بار کو چھوڑ کر یک و تنہا ایک ایسے شہر کی طرف چلے جائیں جو ہمارے لئے بالکل اجنبی ہے؟
کس طرح چھوٹے بچّوں کو اتنے طویل اور سخت سفر میں ہمراہ لے جایا جائے_
اور کس طرح اس شہر میں کہ جس سے واقف نہیں زندگی گزاری جائے؟ نہ کسب اور نہ کوئی کام نہ کوئی آمدنی اور نہ ہی گھر یہ
یہ تمام مشکلات ان کی آنکھوں میں پھر گئیں_ لیکن اللہ کا وعدہ اور خدا پر توکل اور خدا کے راستے میں صبر ان تمام مشکلات اور سختیوں کو آسان کردیتا تھا_
لہذا خدا کے وعدے پر اعتماد اور خدا کی مدد سے ان فداکار مسلمانوں
نے مدینہ کی طرف ہجرت کا آغاز کیا''
مشرکوں کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس وقت تک کافی زیادہ مسلمانوں مدینہ ہجرت کرچکے تھے_ لہذا دوسرے مسلمانوں کی ہجرت کرتے تھے بالخصوص رات کے وقت اور وہ بھی آدھی رات کے وقت جب نگرانی کرنے والے غفلت اور نیند میں ہوتے تھے تو وہ عام راستوں سے ہٹ کر سخت اور دشوار گزار راستہ کے ذریعہ پہاڑوں کے نشیب و فراز عبور کر کے زخمی پیروں اور جھلسے ہوئے چہروں کے ساتھ مدینہ پہنچتے تھے''
اس قسم کی ہجرت اور استقامت و ایثار نے کفّار کی وحشت میں اور اضافہ کردیا وہ ڈرتے تھے کہ مسلمان مدینہ میں ایک مضبوط مرکز بنا کر ان پر حملہ نہ کردیں_ لہذا فوراً انہوں نے مٹینگ طلب کی تا کہ صلاح و مشورے اور سوچ بچار سے اس خطرے کے تدارک کے لئے کہ جس کا ان کو خیال تک نہ تھا خوب غور و خوض کریں_
اس اجلاس میں ایک مشرک نے گفتگو کی ابتداء ان الفاظ سے کی:
'' ہم سوچتے تھے کہ محمد(ص) کی آواز کو اپنے شہر میں خاموش کردیں گے لیکن اب خطرہ بہت سخت ہوگیا ہے مدینہ کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور محمد(ص) سے عہد و پیمان باندھ لیا ہے جانتے ہوکیا
ہوا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ چند روز قبل عقبہ میں ایک اجلاس ہوا ہے؟ کیا جانتے ہو کہ اکثر مسلمان مدینہ کی طرف چلے گئے ہیں اور وہاں کے مسلمانوں سے مل گئے ہیں؟ جانتے ہو کہ اگر محمد(ص) مدینہ کو اپنا مرکز بنانے میں کامیاب ہوگئے تو کتنا بڑا خطرہ ہمارے لئے پیدا ہوجائے گا؟ اس سے پہلے کہ حالات ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں اس کا علاج سوچا جائے_ اگر اس خطرے کے تدارک کے لئے جلدہی کوئی اقدام نہ اٹھایا گیا اور کوئی قطعی فیصلہ نہ کیا گیا تو باقی ماندہ فرصت بھی ہاتھ سے نکل جائے گی اور بہت جلد محمد(ص) بھی مدینہ میں اپنے ساتھیوں سے جاملیں گے_
جانتے ہو اس کا علاج کیا ہے؟ صرف اور صرف محمد(ص) کا قتل_ اب ہمارے پاس صرف یہی ایک راستہ باقی ہے_ ایک بہادر آدمی کو اس کام پر مامور کیا جائے کہ وہ چھپ کر محمد(ص) کو قتل کردے اور اگر بنی ہاشم محمد(ص) کے خون کا مطالبہ کریں تو خون بہا ادا کردیا جائے یہی ایک راہ ہے اطمینان و سکون سے زندگی بسر کرنے کی''
ایک بوڑھا آدمی جو ابھی ابھی اجلاس میں شامل ہوا تھا اس نے کہا:
نہیں یہ طریقہ صحیح نہیں ہے کیونکہ بنی ہاشم یقینا خونبہا لینے پر راضی نہیں ہوں کے جس طرح بھی ہوگا وہ قاتل کو پتہ لگا کر اسے قتل کردیں گے کس طرح ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اس کام کو رضاکارانہ طور پر انجام دے کیا کوئی تیار ہے؟
کسی نے جواب نہ دیا،
دوسرے نے کہا:
کیسا رہے گا کہ اگر محمد (ص) کو پکڑ کر قید کردیں؟ کسی کو ان سے ملنے نہ دیں اس طرح لوگوں سے ان کا رابطہ منقطع ہوجائے گا اور لوگ ان کو اور ان کی دعوت کو بھول جائیں گے''
اس بوڑھے نے کہا:
نہیں: یہ اسکیم بھی قابل عمل نہیں ہے، کیا بنی ہاشم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے اور تم آسانی کے ساتھ محمد(ص) کو گرفتار کرلوگے؟ اور اگر بالفرض ان کو پکڑ بھی لو تو بنی ہاشم تم سے جنگ کریں گے اور انہیں آزاد کرالیں گے''
ایک اور آدمی بولا:
محمد(ص) کو اغوا کر کے ایک دور دراز مقام پر چھوڑ آئیں انہیں خفیہ طریقے سے گرفتار کر کے ایک سرکش اونٹ پر بٹھا کر ان کے پاؤں اونٹ کی پیٹھ کے نیچے مضبوطی سے باندھ دیں اور اس اونٹ کو کسی دور دراز مقام پر چھوڑ آئیں تا کہ بیابان کی بھوک و پیاس سے محمد(ص) ہلاک ہوجائیں_ اور اس صورت میں قبائل میں سے انہیں کوئی بچا بھی لے تو وہ مجبوراً اپنی دعوت
سے دستبردار ہوجائیں گے کیونکہ اس حالت میں انہیں کون پہنچانے گا اور کون ان کی باتوں اور ان کی دعوت پر کان دھرے گا یہ ایک بہترین طریقہ ہے اے ضعیف مرد''
وہ بوڑھا تھوڑی دیر خاموش رہا جلسہ میں بیٹھے ہوئے لوگ اسے دیکھ رہے تھے کہ دیکھیں اب وہ کیا کہتا ہے_ کچھ توقف کے بعد اس نے سکوت کو توڑا اور گفتگو شروع کی:
نہیں ... یہ کام بھی قابل عمل نہیں ہے_ اول تو یہ کہ تم اتنی آسانی سے محمد کو گرفتار نہ کرسکوں گے، دوسرے یہ کہ تم نہیں جانتے کہ اگر انہیں بیابان میں چھوڑ آؤ اور وہ کسی قبیلے میں چلے جائیں تو پھر کیا ہوگا؟ اپنی عمدہ اور دلنشین گفتگو سے کہ جسے وہ قرآن کہتے ہیں اس قبیلے کے لوگوں کو اپنی طرف بلائیں گے اور یوں تمہارے ساتھ جنگ کرنے اور تم سے اور تمہارے بتوں اور رسم و رواج سے لڑنے اور تمہارا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مضبوط مرکز پالیں گے''
عجیب بوڑھا ہے؟ جو کچھ کہتے ہیں ان کی مخالفت کرتا ہے؟
اے ضعیف مرد تم بتاؤ تمہاری تجویز کیا ہے؟
وہ بوڑھا کچھ دیر تک اور خاموش رہا، سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ کیا کہتا ہے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد دھیمی آواز میں بولا، جانتے ہو کہ اس کا قابل عمل علاج کیا ہے؟
علاج یہ ہے کہ ہر ایک قبیلے سے ایک آدمی منتخب کرو اور انہیں اس بات پر مامور کرو ہ وہ سب
مل کر رات کی تاریکی میں محمد(ص) پر حملہ کردیں اور محمد(ص) کو ان کے بستر پر ٹکڑے ٹکڑے کردیں اس طرح سے بنی ہاشم بھی قاتل کو نہ پہچان سکیں گے اور نہ ہی ایک ساتھ سب سے جنگ کرسکیں کے لہذا وہ خونبہا لے کر خاموش اور راضی ہوجائیں گے اجلاس میں شامل لوگوں نے بحث و گفتگو کے بعد اسی طریقہ کار کی تائید کی اور اس کو انجام دینے کا ارادہ کرلیا لیکن خداوند عالم کی ذات ان کی باتوں اور ان کے برے ارادوں سے غافل نہ تھی_
خداوند عالم فرماتا ہے:
ہرگز گمان مت کرو کہ خدا ظالموں کے کردار سے غافل ہے نہیں: ان کے اعمال کی تمات تر سزا کو اس دن تک کہ جس دن سخت عذاب سے آنکھیں بند اور خیرہ ہوں گی اور گردش کرنے سے رک جائیں گی ٹال دیا ہے اس دن یہ جلدی (دوڑتے ہوئے) اور سرجھکائے حاضر ہوں گے لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ کہ جسکا عذاب ان کو گھیرے گا اور ظالم کہیں گے کہ پروردگار ہماری موت کو کچھ دن کے لئے ٹال دے تا کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور تیرے پیغمبروں کی پیروی کریں کیا تم ہی نہیں تھے کہ قسم کھاتے تھے کہ ہم پر موت اور زوال نہیں آئے گا؟''
آیت قرآن
''( و مکروا و مکر الله و الله خیر الماکرین ) ''
سورہ آل عمران آیت ۵۴
انہوں نے مکر و فریب کیا اور اللہ نے ان کا جواب دیا اور اللہ بہترین نقشہ کشی کرنے والا ہے_
سوچئے او رجواب دیجئے
۱) ___ جب مسلمانوں نے پیغمبر(ص) سے مصائب اور سختیوں کی روک تھام کا تقاضہ کیا تو انہوں نے کیا جواب دیا؟ اور خداوند عالم کی جانب سے کون سی خوشخبری دی؟
۲)___ ہجرت کی مشکلات کیا تھیں؟ اور مسلمان کس طرح ان مشکلات پر غالب آتے تھے؟
۳)___ مسلمان کس طرح ہجرت کر کے مدینہ پہنچا کرتے تھے؟
۴)___ مسلمانوں کی ہجرت اور استقامت و ایثار نے کفار پر کی اثر ڈالا؟
۵)___ کفّار نے کس مسئلہ کے بارے میں اجلاس منعقد کی اور کس بات پر ان کا اتفاق ہوا تھا؟
۶)___ خداوند عالم ظالموں کی سزا کے متعلق قرآن مجید میں کیا فرماتا ہے؟ اور ظالم اپنے پروردگار سے کیا کہیں گے اور کیا خواہش کریں گے اور خدا انہیں کی جواب دے گا؟
پیغمبر(ص) خدا کی ہجرت (۱)
اللہ تعالی کفّار کے منحوس ارادوں سے آگاہ تھا اس نے کفّار کے حیلے سے پیغمبر(ص) کو آگہ کردیا اور ان کے برے ارادے کو پیغمبر(ص) کے سامنے ظاہر کردیا_
خداوند عالم نے پیغمبر(ص) کو خبر دی کہ مشرکوں نے تمہارے قتل پر کمر باندھ رکھی ہے لہذا نہایت خاموشی کے ساتھ چھپ کر اس شہر سے مدینہ کی جانب ہجرت کر جاؤ کہ یہ ہجرت، دین اسلام کی بنیاد کو مضبوط بنانے اور محروم لوگوں کو ان ظالموں سے نجات دلانے کا موجب ہوگی_
تم اللہ کی رضا اور مخلوق خدا کی ہدایت کے لئے اپنے اپنے گھر بار کی محبت کو پس پشت ڈال کر ہجرت کرجاؤ کیونکہ اللہ تعالی اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں او رمہاجرین کی مدد کرتا ہے، ان کی حمایت کرتا ہے اور انھیں سعادت و کامیابی کا راستہ بتاتا ہے_ اللہ کا دین ہمیشہ ہجرت و جہاد اور ایثار وقربانی سے وابستہ رہا
ہے اور ہمیشہ رہے گا_
پیغمبر خدا(ص) نے اللہ کے حکم سے ہجرت کا پكّا ارادہ کرلیا_
لیکن ہجرت اور یہ ارادہ نہایت پر خطر تھا_ پیغمبر(ص) اور ان کا گھر مکمّل طور پر دشمنوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا_ آمد و رفت کی معمولی سی علامت اور گھر میں ہونے والی غیر معمولی حرکات و سکنات پیغمبر(ص) کے ارادے کو ظاہر کردیتیں اور آپ(ص) کی ہجرت کے پروگرام کو خطرے میں ڈال سکتی تھیں_
کفّار نے آپ(ص) کے گھر اور سونے اور بیٹھنے کی جگہ تک کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرلی تھیں تا کہ اس حملہ کی کامیابی کی تکمیل میں کہ جس کو انجام دیتے کے طریقے اور وقت کا تعین ہوچکا تھا کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہوسکے_
رات کے وقت پیغمبر(ص) کی آمد و رفت کے معمولات سے یہ لوگ آگاہ تھے، یہاں تک کہ دروازے کے سوراخ اور دیوار کے اوپر سے پیغمبر کے سونے کی جگہ تک ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھی_
یہاں تک کہ شب ہجرت آپہنچی_
پیغمبر نے ہجرت کے موضوع پر حضرت علی (ع) سے کہ جنہوں نے ابتداء بعثت سے ہی آپ(ص) کی مدد و نصرت کا پیمان باندھ رکھا تھا مشورہ کیا اور پوچھا:
اے علی (ع) کیا تم خدا کے اس حکم کی تعمیل میں میری مدد کرو گے؟
یا رسول اللہ(ص) میں کس طرح سے آپ(ص) کی مدد کروں؟''
حضرت علی (ع) نے کہا:
کام بہت مشکل ہے_ چالیس کے قریب مشرک چاہتے ہیں کہ
رات کے وقت سب مل کر مجھ پر حملہ کردیں اور مجھے بستر ہی پر ٹکڑے ٹکڑے کردیں_ خدا نے مجھے ان کے اس ارادے سے آگاہ کردیا ہے او رہجرت کر جانے کا حکم دیا ہے_ لیکن اگر میں رات کے وقت مكّہ چھوڑدوں ت۶و یہ میرے بستر کو خالی پا کر اس طرف متوجہ ہوجائیں گے اور میرا پیچھا کریں گے اور مجھے تلاش کر کے اپنا کام انجام دیں گے اب اس کے تدارک کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ میری جگہ کوئی اور بستر پر آج کی رات سوجائے_ اس طرح مشرکین یہ گمان کریں گے کہ میں اپنے بستر پر موجود ہوں_ اے علی (ع) کیا تم تیار ہو کہ آج کی رات میرے بستر پر سوجاؤ اگر چہ یہ کام بہت خطرناک ہے کیونکہ چالیس مشرکین تلواریں سونتے ہوئے آدھی رات کے وقت گھر پر حملہ آور ہوں گے اور عین ممکن ہے کہ میری جگہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں؟''
حضرت محمد(ص) کا یہ بیان سن کر علی (ع) نے سوال کیا کیا اس صورت میں آپ(ص) محفوظ رہیں گے؟
ہاں میں محفوظ رہوں گا اور اگر اس طرح تم نے میری مدد کی تو خدا کے فضل سے میں کامیاب ہوجاؤں گا'' حضرت محمد(ص) نے جواب دیا_
حضرت علی (ع) نے فرمایا:
ہاں میں ضرور آپ کی مدد کروں گا:
حضرت علی (ع) کا یہ محکم اور قطعی جواب ایسا تھا کہ جس کی نظر تاریخ اسلام میں نہیں لائی جاسکتی_
ہاں یہ جذبہ ایثار و قربانی ہی تھا جو اس بات کی بنیاد بنا کہ
حضرت علی ابن ابی طالب(ع) ، راہ خدا اور پیغمبر خدا کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی بازی لگانے پر آمادہ ہوئے اور اس عہد و پیمان پر استقامت و پائیداری کا مظاہرہ کیا جو آپ(ع) نے پیغمبر خدا(ص) سے کر رکھا تھا_
ہاں، علی (ع) اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے تھے تا کہ پیغمبر(ص) خدا کی جان سلامت رہ سکے_ اور آپ(ص) اللہ کے دین کی تبلیغ کرتے رہیں_ لوگوں کو خداپرستی کی دعوت دیتے رہیں اور ظلم و ستم اور فسق و فجور کو جڑسمیت اکھاڑ پھینکیں_
یوں حضرت محمد(ص) نے اپنی عظیم الشّان ہجرت کا آغاز فرمایا_ ایک مناسب و موزوں وقت پر مکہ سے مدینہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے_
اس رات کہ جس کا مشرکین کو شدت سے انتظار تھا مشرکین آہستہ آہستہ پیغمبر(ص) کے گھر کے نزدیک جمع ہوئے اور ابھی رات کا زیادہ حصّہ نہیں گزارا تھا کہ چالیس طاقتور اور جنگجو آدمیوں نے تلواریں نیام سے نکال کر پیغمبر(ص) کے گھر کا محاصرہ کرلیا_
دروازے کے سوراخ اور دیوار کے اوپر سے گھر کے اندر دیکھا رات کی دھیمی روشنی میں انھیں نظر آیا کہ محمد(ص) معمول کے مطابق سبز رنگ کی چادر اپنے اوپر ڈالے کبھی اس پہلو کبھی اس پہلو کروٹیں بدل رہے ہیں وہ مطمئن ہوگئے کہ آپ(ص) گھر میں موجود ہیں اور ان کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہونے والا ہے_
ان میں سے کچھ نے چاہا کہ آدھی رات کے وقت گھر پر حملہ
کردیں اور محمد(ص) کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں_ لیکن بعض نے کہا کہ گھر میں عورتیں اور بچے بھی سوئے ہوئے ہیں یہ انصاف نہیں کہ رات کی تاریکی میں انہیں پریشان کیا جائے پورا گھر ہمارے محاصرہ میں ہے_ محمد(ص) بھی بستر پر سوئے ہوئے اور ان کے لئے کوئی فرار کا راستہ بھی نہیں ہے تو کیوں جلد بازی دکھائیں_ __؟ بہتر ہے صبر کریں اور صح کے وقت حملہ کریں تا کہ سب دیکھ لیں کہ مختلف قبیلوں کے افراد اس قتل میں شریک ہیں_
انہوں نے صبح تک صبر کیا بعض وہیں پر سوگئے اور بعض پہرہ دیتے رہے کہ کوئی گھر سے باہر نہ نکلنے پائے_ سحر کے وقت تلواریں برہنہ کئے دروازے او ردیوار پھاند کر گھر میں داخل ہوئے اور پیغمبر (ص) خدا کے حجرے کے پاس آکر جمع ہوگئے_
حضرت علی علیہ السلام کی رعب دار آواز سن کر اور ان کے غضب ناک چہرے کو دیکھ کر وہ بے اختیار مبہوت اور حیران و پریشان ہوکر اپنی اپنی جگہ رک گئے_ اور پوچھا:
محمد(ص) کہاں ہیں؟
کیا انہیں میرے سپرد کیا تھا؟ حضرت علی (ع) نے غیظ و غضب کے عالم میں جواب دیا_
مشرکین اپنے پروگرام کی ناکامی اور دن رات کی محنت کے ضائع ہوجانے پر سخت مایوس ہوئے اور فوراً ہی حضرت محمد(ص) کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے_
انہوں نے خیال کیا کہ یا تو محمد(ص) مكّہ میں چھپے ہوئے ہیں یا پھر مدینہ کی طرف چلے گئے ہیں دونوں صورتوں میں انھیں تلاش کیا جاسکتا ہے اور گرفتار کر کے قتل کیا جاسکتا ہے_
مختلف گروہوں کو مكّہ کی طرف روانہ کیا تا کہ مكّہ سے باہر نکلنے کے راستوں کو کنٹرول میں لے لیں_ ان لوگوں کو جو پیروں کے نشان پہنچاننے میں مہارت رکھتے تھے حکم دیا کہ محمد(ص) کے قدموں کے نشانات کے ذریعہ اس راستے کو دریافت کریں جہاں سے وہ گزر گئے ہیں_ اس کے علاوہ عام اعلان کردیا گیا کہ جو بھی محمد(ص) کو گرفتار کرے گا یا ان کی پناہ گاہ کے متعلق بتائے گا اسے ایک ۱۱۰ سو اونٹ انعام میں دئے جائیں گے_
لوگوں کی بڑی تعداد انعام کے لالچ میں حضرت محمد(ص) کو تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئی_ سب نے بہت تلاش کیا، تمام جگہوں کو دیکھا بالآخر حضرت محمد(ص) کے پیروںکے نشانات انہیں نظر آئی گئے_
پیغمبر(ص) کے پیروں کے نشانات کو جو مٹی، ریت اور پتھروں پر بن گئے تھے پہچان لیا گیا اور ان کی وساطت وہ غارتک پہنچ گئے اور آپس میں کہنے لگے_
یقینا محمد(ص) اس غار میں چھپے ہوئے ہیں_
جناب رسول(ص) خدا اور ابوبکر ان کی آوازوں کو غار میں سن رہے تھے
او رانہیں دیکھ رہے تھے، لیکن مکڑی کے جالے نے جو غار کے مہ پر بنا ہوا تھا اور جس پر ایک کبوتر انڈوں پر بیٹھا ہوا تھا ان کو غار کے اندر جانے سے روک دیا انہوں نے کہا:
کیسے ممکن ہے کہ کوئی غار میں داخل ہو؟ اگر کوئی غار میں داخل ہوتا تو مکڑی کا جالا ٹوٹا ہوا ہوتا اور کبوتر کا گھونسلہ نیچے گرجاتا اور اس کے انڈے ٹوٹ چکے ہوتے_
لیکن انہیں یہ علم نہیں تھا کہ تمام زمین اور آسمان کے موجودات اللہ کی فوج ہیں، اس کا لشکر ہیں، اور چونکہ خداوند علیم و حکیم ہے_ وہ اس قسم کے لشکر کو بھیج کر اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے_ خصوصاً ان بندوں کی جو اس کی راہ میں جہاد و ہجرت اور کوشش کرتے ہیں اور مشرکوں کے مکر و فریب سے خوف نہیں کھاتے اور اپنی تمام کوشش کو اللہ کی رضا جوئی میں اور اس کے احکام کے نفاذ کے لئے مشغول رہتے ہیں مکڑی و کبوتر او رخارک خاشاک تمام کے تمام خدا کی فوج ہیں، نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی_ اور پیغمبران فوجوں کی پناہ میں غار کی تہہ میں ابوبکر کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور بہت آرام سے باہر دیکھ رہے تھے اور ابوبکر کو تسلّی دے رہے تھے اور فرما رہے تھے_
ڈور نہیں، خدا ہمارے ساتھ ہے اور مشرکوں کے شر کو ہم سے دور کرے گا_
کفّار نے کافی دیر تک آپ(ص) کو تلاش کیا اور آخر کار مایوس ہوکر واپس لوٹ گئے_
ہم نے پہلے سے اپنے بندوں اور رسولوں سے وعدہ کر رکھا ہے اور تاکید کی ہے کہ ہمارا لشکر ہی کامیاب ہوگا سلام ہو تمام پیغمبروں پر اور حمد و سپاس تمام جہانوں کے لئے'' (القرآن)
اور یوں خداوند عالم نے اپنے پیغمبر(ص) کی مدد فرمائی اور کافروں کے وقار کو ختم اور نیچا رکر دکھایا اور اپنے کلمے کو باوقار و بالاتر کردیا کیونکہ خدا ہمیشہ کامیاب اور حکیم ہے اور کافروں کا مکر اسی طرح ختم ہوجاتا ہے اگر چہ ان کا مکر و فریب اپنی قدرت کی زیادتی سے پہاڑوں کو ہی کیوں نہ گرادینے والا ہو_
ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر(ص) کی کس طرح مددد کی اور یہ بھی دیکھا کہ خدا کے کیسے لشکر پوشیدہ ہیں_ پس کتنا اچھا ہے کہ ہم بھی اس کی مدد پر اعتماد کریں، اس پر توکل کریں اور اپنی جان و مال سے اس کی راہ میں ہجرت و جہاد کریں کہ یہ طریقہ زندگی کا بہترین اور نیک ترین طریقہ ہے سب سے بہتر ہجرت گناہ سے ہجرت کرنا ہے اور سب سے بڑا جہاد اپنی خواہشات اور شہوت سے جہاد کرنا ہے اور جو بھی خدا کی راہ میں جہاد کرے خدا اس کے لئے کامیابی کے ایسے راستے کھول دیتا ہے جس کا انہیں علم بھی نہیں ہوتا_
خدا کے خالص بندے جو خدا پر توکل کرتے ہیں اس سے صبر و ثابت قدمی طلب کریں تو جان لیں کہ کامیابی اسی ذات کی طرف سے ہوتی ہے اور تمام قدرت اسی کے ہاتھ میں ہے_ خداوند عالم اس قسم کے بندوں کے لئے اپنا لشکر روانہ کرتا ہے تا کہ اپنے وعدے کو پورا کرے اور یقینا خدا
وعدہ خلافی نہیں کرتا_
کون جانتا تھا کہ خدا اپنے پیغمبر کی مکڑی کے باریک جالے اور ایک کبوتر سے مدد کرے گا؟ پیغمبر(ص) نے لطف خداوندی پر اعتماد کرتے ہوئے ہجرت کے لئے قدم اٹھایا اور کبھی نہ سوچا کہ لوگ مجھے تلاش کریں گے اور مجھے ڈھونڈ نکالیں گے تم پھر کیا ہوگا؟ وہ اللہ کی نصرت کے وعدے پر ایمان و اطمینان رکھتے تھے اور اسی کی مدد سے ہجرت کی طرف اپنا قدم بڑھایا خدا نے بھی آپ کی مدد کی اور یہ خدا کا پکا وعدہ ہے کہ اس کے دین کی مدد کرنے والے کی وہ خود مدد کرتا ہے_
آیت قرآن
''( ولله جنود السّموت و الارض و کان الله عزیزاً حکیماً ) ''
زمین و آسمان کا تمام لشکر اللہ کا ہے اور اللہ عزیز و حکیم ہے''
(سورہ فتح ۴۸ آیت ۷)
سوچئے اور جواب دیجیے
۱)___ پیغمبر(ص) خدا نے اپنی ہجرت کا ذکر کس کے سامنے کیا؟ اور کیا فرمایا؟ انہوں نے پیغمبر(ص) سے کیا پوچھا؟ اور آخر میں کیا جواب دیا؟
۲) ___جب کفّار پرہنہ تلواروں کے ساتھ پیغمبر(ص) کے گھر پر جمع ہوئے تو کیا دیکھا؟ اور کیا سنا؟
۳)___ پیغمبر(ص) کو تلاش کرنے کے لئے کیا تدبیر کی؟ کتنا انعام مقرّر کیا گیا؟
۴)___ جس وقت پیغمبر(ص) خدا کے پیروں کے نشان تلاش کئے اور غار تک جا پہنچے تو کیا دیکھا؟
۵)___ پیغمبر(ص) اور ابوبکر کو غار سے باہر کیا نظر آیا ؟ پیغمبر(ص) ابوبکر سے کیا فرما رہے تھے؟
۶)___ خدا کا لشکر کیا چیزیں ہیں؟ اور خدا اپنے مہاجر اور مجاہد بندوں کی اس لشکر سے کس طرح مدد کرتا ہے؟
۷)___ سب سے بہترین ہجرت کون سی ہے اور سب سے بہترین جہاد کیا ہے؟
۸)___ خداوند عالم نے اپنے نہ نظر آنے والے لشکر سے جو کفّار کی آنکھوں میں معمولی معلوم ہوتا تھا اس ہجرت میں کس طرح مدد کی ؟
پیغمبر خدا کی ہجرت (۲)
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم مسلسل تین دن تک غار ثور میں مقیم رہے آپ(ص) کا دل خدا کی یاد سے مطمئن اور خدا پر توکل و اعتماد سے پر امید و روشن تھا آپ(ص) موقع کی تلاش میں تھے کہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے سفر ہجرت کو دوبارہ شروع کریں او رمدینہ پہنچ جائیں_
اس ہجرت کے عظیم الشان اثرات اور تنائج کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے اور اس ہجرت کا عظیم اور پر وقار مستقبل کسی ذہن میں نہ تھا_ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ یہ ہجرت تاریخ میں تمام حق پسند اور حق کے متلاشی انسانوں کو اپنی تحریک کی بقا اور اس کے پھیلاؤ کے لئے ہجرت اختیار کرنے کا سبق دے گی_
اس وقت مكّہ کی تمام بدبخت طاقتیں چاہتی تھیں کہ راستے
میں ہجرت کرنے والے کو تلاش کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں لیکن مرضی الہی تھی کہ یہ راہیان عشق خیریت کے ساتھ اپنے اس سفر کو طے کریں اور مدینہ پہنچ کر پہلی مسجد کی بنیاد ڈالیں اور اس مسجد سے اٹھنے والی صدائیں بندگان خدا کو عبادت و تقوی اور خدا کی مدد کے لئے جہاد اور ہجرت کے لئے بلائیں اور ____ یقینا اللہ اپنے حکم کے نافذ کرنے او راپنے ارادے کو پورا کرنے پر قادر ہے_
کبھی کبھی آپ(ص) کے ہم سفر اور سا تھی، مشرکوں کی سنگدلی او ردشمنی، ان کی طاقت و قدرت اور آپ کی تلاش میں ان کی کوششوں اور بعض اوقات غار کے نزدیک ہی سے آنے والی ان مشرکوں کے قدموں کی آوازوں اور چیخ و پکار سے خوف و اضطراب کا شکار ہوجاتے تھے_ ایسے میں پیغمبر(ص) ان کی ہمت بندھاتے اور دل جوئی کرتے تھے اور فرماتے تھے_
خوف نہ کرو، غم نہ کھاؤ، خدا ہمارے ساتھ ہے''
غار ثور مكّہ کے جنوب میں واقع ہے جبکہ مدینہ کا راستہ مكّہ کے شمال میں ہے لہذا مشرکین زیادہ تر آپ کو شمال ہی کی جانب تلاش کر رہے تھے جنوب کی سمت ان کا دھیاں زیادہ نہ تھا_ اس بناپر آپ(ص) کے ازلی باوفا اور مددگار حضرت علی (ع) رات کی تاریکی میں جب مشرکین کی آنکھیں نیند میں ڈوب جاتیں، آپ(ص) کے لئے کھانا اور پانی لے جاتے مکڑی کے تانے ہوئے جالے کے پیچھے سے آپ(ص) کی خدمت میں کھانا پانی پیش کرتے اور آپ(ص) کو مكّہ حالات اور مشرکوں کے ارادوں سے آگاہ کرتے
کبھی کبھی ابوبکر کے فرزند عبداللہ بھی غار میں کھانا اور پانی لے کر آتے تھے_
ایک رات پیغمبر(ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ لوگوں کی جو امانتیں میرے پاس موجود تھیں انھیں ان کے مالکوں تک پہنچا دو اور دو اونٹ ہمارے لئے لے آؤ کہ ہم مدینہ کی طرف روانہ ہوں اور تم میری بیٹی فاطمہ (ع) اور دوسری عورتوں کو ساتھ لے کر ہم سے آملنا_
آپ کی یہ بات سن کر ابوبکر نے کہا کہ میں نے اونٹ تیار کر رکھے ہیں پیغمبر(ص) نے ان اونٹوں کو منگوانا اس شرط کے ساتھ قبول کیا کہ ابوبکر ان کی ا جرت لے لیں_
ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو پیغمبر اکرم(ص) پر حد سے زیادہ اعتماد تھا_ انہوں نے اپنی بہت سی قیمتی چیزیں آپ(ص) کے پاس بطور امانت رکھی تھیں تا کہ وہ محفوظ رہیں_ اسی اعتماد کی بناپر آپ کو امین کا لقب دیا گیا تھا_
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ''امانت'' اور اس کی حفاظت اور مالکوں تک لوٹا دینا اسلام کے ان احکام و قوانین میں شامل ہے جن کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے_ یہاں تک کہ امانت میں خیانت کرنا گناہ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے_ مومن ہرگز امانت میں خیانت نہیں کرتا اور بات کرنے میں جھوٹ نہیں بولتا اور جو وعدہ کرتا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا_
چوتھی رات، جب مکمل اندھیرا چھاگیا تو نحیف و کمزور جسم کے تین اونٹ تھوڑے سے پانی اور غذا کے ساتھ غار کے دہانے کے قریب تیار کھڑے تھے، ان کے ساتھ راستہ جاننے والا ایک شخص بھی تھا_
خدا کا آخری اور عظیم پیغمبر(ص) اپنے پروردگار کے حکم سے ایک عظیم
ہجرت کے لئے آمادہ و تیار ہے___اہل مكّہ کو بیدار کرنے کے لئے ۱۳/ سال تک شدید محنت و کوشش کرنے کے بعد اب اپنا شہر اور اپنا گھر چھوڑنے کے لئے تیار ہے___ اپنے آپ کو سفر کی صعوبتوں اور مشکلات میں ڈالنے کے لئے تیار ہے___ اس شہر کو کہ جو ظل و شرک اور بت پرستی کی غلاظتوں سے پر ہے ترک کرنے کو تیار ہے___ صحرا و پہاڑوں کی طرف راہ پیما ہونے کو تیار ہے_ لیکن خداوند عالم آپ(ص) سے واضح الفاظ میں وعدہ کرتا ہے_
وہی ذات جس نے تم پر قرآن نازل کیا اور اس کی پیروی تم پر فرض کردی تمہیں اس شہر میں واپس لائے گا''
اس جانے کا انجام لوٹ کرآنا ہے تم اس شہر میں لوٹ کر آؤ گے اور توحید کے گھر سے بتوں کو توڑ پھینکو گے_
پیغمبر اسلام(ص) نہایت آہستگی کے ساتھ غار کی تاریکی سے باہر آگئے اونٹوں پر سوار ہوئے اور مدینہ کی طرف اپنے سفر کا آغاز کردیا رات کو سفر کرتے اور ستاروں کی چمک سے راستہ معلوم کرتے اور دن میں پہاڑوں کے درّوں اور پتّھروں کے سائے میں پناہ لیتے اور آرام کیا کرتے اور رات کو پھر سفر پر چل پڑتے اور راہ خدا میں سراپا تسلیم ہوتے ہوئے ذوق و امید سے راستہ طے کرنے لگتے_
غیرمانوس راستے سے تیزی کے ساتھ گزرتے تھے_ یہ ایک طویل و خطرناک اور دشوار سفر تھا_ لیکن راستے کی دوری کو خدا سے امید
نزدیک کردیتی تھی اور راہ کی سختی کو ''اللہ کے حسن و ثواب کے اعتماد'' نے آ سان کردیا تھا اور سفر کے خطروں کا بدل ''اللہ تعالی '' کا فتح و نصرت کا وعدہ تھا''
سفر کے دوران ایک روز جبکہ آپ ایک بڑے پتھر کے سایہ میں آرام فرما رہے تھے آپ(ص) نے دیکھا کہ کفار کا ایک سوار تیزی کے ساتھ آپ(ص) کی جانب آرہا ہے_ اگر یہ سوار نزدیک آجاتا اور آپ(ص) کا راستہ روک لیتا تو دوسرے کفار بھی پہنچ جاتے اور آپ(ص) کی ہجرت ناکام ہوجاتی لیکن پیغمبر(ص) خدا کو اپنے پروردگار کے لطف و کرم پر کامل یقین تھا_ آپ(ص) نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور فرمایا_
اے خدا اے رحمن جو بندوں پر عنایت کرتا ہے اے رحیم جو مومنوں پر مہربانی کرتا ہے تیرے سوا کسی کی تعریف نہیں کرتے کیونکہ تو ہی حمد و ثنا کے لائق ہے اور حمد و ثنا تیرے لئے ہی مخصوص ہے تیرے سوا کسی کو اپنا رب نہیں جانتا کیونکہ تو ہی میرا پروردگار ہے صرف تو ہی میرا معبود ہے_ اے میرے مددگار میری مدد کر کہ میں نے تیری طرف ہجرت کی ہے اور ہمیں اس کافر دشمن کے شر سے محفوظ رکھ اور توہی ہر ایک کام پر قادر ہے_
فوراً ہی پیغمبر(ص) کی دعا قبول ہوئی اور سوار کے تیز رفتار گھوڑے نے اچانک اپنی لگام سوار کے ہاتھوں سے چھڑائی اور دونوں پچھلے پیروں
کے بل کھڑا ہوگیا اور چكّر لگا کر جھٹکے کے ساتھ سوار کو زمین پر گرادیا اور ایک طرف کھڑا ہوگیا_ سوار اٹھا اور سخت تکلیف اور غصّہ کے عالم میں دوبارہ گھوڑے پر سوار ہوا_ چند قدم چلنے کے بعد گھوڑے نے پھر اسی طرح سے زمین پر گرادیا_
غرض دو تین مرتبہ ایسا ہی ہوا تو سوار سمجھ گیا کہ گھوڑے کی اس ناراض کی گیا وجہ ہے_ سوار نے اپنے ارادے کو بدلا و معذرت خواہی کے لئے خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوا اور معافی چاہی_
رسول خدا(ص) نے اس سے فرمایا کہ اب جب کہ تجھے حقیقت کا علم ہوگیا ہے جلدی سے واپس لوٹ جا اور ہمارے تعاقب میں جو بھی اس طرف آرہا ہے اسے واپس لوٹا دے_
کافر واپس چلاجاتا ہے اور پیغمبر(ص) خدا تیز رفتاری سے مدینہ کی جانب چل پڑتے ہیں یہاں تک کہ آپ(ص) مدینہ کے نزدیک پہنچ گئے_
مسلمانان مدینہ، انصار و مہاجر، عورت مرد، بچّے بوڑھے سب کے سب آپ(ص) کے شوق دیدار میں منتظر نگاہوں کے ساتھ بیرون مدینہ آپ(ص) کے استقبال کے لئے موجود تھے_
یکایک ان لوگوں نے دور سے رسول خدا(ص) کو آتے ہوئے دیکھا اور عالم شوق میں بے اختیار صدائے تکبیر بلند کرتے ہوئے اور صلوات و سلام بھیجتے ہوئے آپ(ص) کی سمت دوڑے _ رسول خدا(ص) مدینہ سے نزدیک ایک قبانامی دیہات میں قیام پذیر ہوئے تا کہ حضرت علی (ع) اور ان کے ہمراہی بھی پہنچ جائیں _
ہجرت پیغمبر اکرم (ص) اتنا عظیم اور اہم واقعہ ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتداء سی سے ہوئی_ ہجرت کے ذریعہ ہمیں سبق دیا گیا کہ ہر زمانہ کے لوگ پیغمبر(ص) کی اس سیرت پر عمل کریں اور ہمیشہ اپنا رخ خدا کی جانب اور اپنے قدم ہجرت کی راہ میں اٹھانے کے لئے تیار ہیں_ اور مسلسل کہیں کہ
پروردگار ہم نے ایمان کی ندا دینے والے کی پکار کو سنا_ وہ کہہ رہا تھا کہ پروردگار پر ایمان لے آؤ پروردگار ہم ایمان لے آئے ہمارے گناہوں کو معاف کردے، ہماری خطاؤں کی پردہ پوشی کر اور ہمیں نیک اور صالح لوگوں کے ساتھ اس دنیا سے اٹھا_ خدایا: جو کچھ تو نے اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے ہمیں عنایت فرما اور ہمیں قیامت کے دن ذلیل و خوار نہ کرنا کہ تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا_
اس طرح اپنے پروردگار سے راز و نیاز کریں اور اس سے یوں جواب سنیں کہ:
خداوند عالم نے تمہاری دعا کو قبول کرلیا کہ میں ہرگز تمہارے (خواہ مردہوں یا عورت) کسی عمل کو ضائع اور بغیر اجر کے نہ چھوڑوں گا جن لوگوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے گھر بار کو چھوڑ دیا ہے، خدا کی راہ میں تکالیف اور اذیتوں سے دوچار ہوئے ہیں اور
اللہ تعالی کے راستے میںجنگ و جہاد کیا ہے یہاں تک کہ وہ قتل ہوجائیں، خدا ان کی خطاؤں اور گناہوں کو چھپائے گا اور انہیں بخش دے گا اور اس بہشت میں کہ جس کے گھنے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں داخل کرے گا_ یہ اللہ کا ثواب و تحفہ ہے اور یقینا اچھا ثواب تو اللہ ہی کے پاس ہے_ خبردار کافروں کے چند دن تمہارے شہر میں آمد ور فت تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کردے یہ تھوڑے دن کچھ فائدہ دیکھیں گے پھر ان کا مقام و ٹھکانہ جہنم میں ہوگا جو بہت بری جگہ ہے لیکن وہ لوگ کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی ذات سے تقوی اختیار کیا ان کے لئے وسیع و کشادہ بہشت ہے کہ جس کے درختوں او رباغوں کے نیچے پانی سے بھری نہریں جاری ہیں_ وہ اس پر امن اور خوبصورت جگہ میں زندگی بسر کیں گے یہ ہدیہ ہے ان کے لئے خداوند عالم کی طرف سے البتہ وہ جو اللہ کے نزدیک ہے ابرار لوگوں کے لئے وہ بہت ہی بہتر ہے_
ابرار و نیک لوگ اللہ تعالی کی عوت کو دل و جان سے سنتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں زمین کی فضا کو بہت وسیع پاتے ہیں اور ابرار تو ہمیشہ ہجرت میں زندگی بسر کرتے ہیں_ ظلم و ستم او رجہاد
کی زمین سے عدل و علم کی سرزمین کی طرف او ربدی سے نیکی کی طرف اور برائی سے اچھائیوں کی طرف ہمیشہ ہجرت کرتے ہیں_ حقیقت میں مہاجر وہ ہے جو برائیوں سے ہجرت کر کے اور انھیں ترک کرے_
آیت قرآن
( اذ هما فی الغار اذ یقول لصاحبه لا تحزن انّ الله معنا فانزل الله سکینته علیه و ايّده بجنود لّم تروها و جعل کلمة الّذین کفروا السّفلی و کلمة الله هی العلیا و الله)
جب وہ دو غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھغ کہ رنج و ملال نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے_ اللہ نے اس پر اطمینان اور سکون قلب نازل فرمایا اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی کہ تم انھیں دیکھ نہیں سکتے اور اللہ نے کافروں کا بوں نیچا کردیا اور اللہ کابوں تو اونچا ہی ہے اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے''_
( سورہ توبہ آیت ۴۰)
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ پیغمبر خدا(ص) کتنے دن غارثور میں پوشیدہ رہے؟
۲)___ جب پیغمبر(ص) کے ساتھی کافروں کی آواز سن کر خوفزدہ ہوئے تو پیغمبر(ص) نے کن الفاظ میں انھیں تسلّی دی؟
۳)___ آپ(ص) کے غار میں پوشیدہ رہنے کے دوران کون لوگ آپ(ص) کے لئے غذا اور پانی لے کر آتے تھے؟
۴)___ امانت اور اسے اس کے مالکوں کو لوٹا نے کے سلسلہ میں اسلام کا کیا حکم ہے؟
۵)___ چند سوال خود سے بناؤ؟
بابرکت پیسہ
خداوند عالم نے پیغمبر(ص) کو مبعوث کیا تا کہ لوگوں کو صحیح اور درست زندگی گزارنے کے اصول اور طریقے بتائیں اور انہیں فردی اور اجتماعی زندگی کے صحیح اصول اور طریقوں سے روشناس کرائیں پیغمبر(ص) کی سیرت اور سنّت، زندگی کے لئے بہترین سبق ہے اور آپ(ص) کی گفتگو انسانوں کے لئے بہترین راہنما ہے_
مندرجہ ذیل سطور میں ہم ایک واقعہ نقل کرتے ہیں_ جس میں آپ دیکھیں گے کہ رسول خدا(ص) کس طرح معاشرے میں زندگی گزارتے ہیں تھے آپ(ص) کیسا لباس زیب تن کرتے تھے اور کس طرح آپ حاجت مندوں کی مدد کو پہنچتے تھے:
جناب رسول خدا(ص) کا لباس پرانا اور بوسیدہ ہوچکا تھا آپ(ص)
نے کچھ پیسے حضرت علی علیہ السلام کو دئے اور فرمایا کہ بازار جاؤ اور میرے لئے ایک قمیص لے آؤ
حضرت علی علیہ ا لسلام اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں کہ:
میں نے پیغمبر(ص) سے پیسے لئے اور بازار سے ان پیسوں کی جو بارہ درہم تھے ایک قمیص خریدی اور لاکر پیغمبر(ص) کی خدمت میں پیش کردی پیغمبر(ص) نے قمیص لی اور اسے تھوڑی دیر دیکھا پھر فرمایا: میری خواہش ہے کہ اس سے سستی قمیص پہنوں کیا بیچنے والا اس قمیص کو واپس لے لے گا؟
پتہ نہیں میں جاتا ہوں اور اس سے اس بارے میں بات کرتا ہوں''
میں نے جواب دیا اور پیغمبر(ص) سے قمیص لی اور بیچنے والے کے پاس گیا اور اس سے کہا:
میں نے یہ قمیص پیغمبر(ص) کے لئے خریدی تھی لیکن پیغمبر(ص) چاہتے ہیں کہ اس سے سستا لباس پہنیں کیا تم اس قمیص کو واپس لے سکتے ہو؟''
بیچنے والے نے وہ قمیص اور بارہ درہم واپس کردئے میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا، رسول خدا(ص) نے فرمایا:
بہتر یہ ہے کہ ہم دونوں اکٹھے بازار چلیں او رکوئی سستا لباس تلاش کریں،
ہم دونوں بازار کی طرف چل دیئے راستے میں ایک لڑکی گلی کے کنارے بیٹھی رو رہی تھی_ رسول خدا(ص) اس کے نزدیک گئے اور پوچھا ''پیاری بیٹی'' کیا ہوا ہے؟ کیوں پریشان ہو؟
کیوں رو رہی ہو؟
وہ چھوٹی بچّی پیغمبر خدا(ص) کو پہچانتی تھی اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کئے اور بولی:
یا رسول اللہ(ص) میں ایک گھر کی کنیز او رخدمتگار ہوں مجھے چار درہم دیئےئے کہ ان سے سودا خریدوں لیکن وہ پیسے مجھ سے کہیں گم ہوگئے ہیں، اگر خالی ہاتھ گئی تو وہ پوچھیں گے اور مجھے ماریں گے_ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں؟ گھر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی ...''
پیغمبر خدا(ص) نے نہایت مہربانی اور شفقت سے اسے تسلّی دی اور فرمایا:
بیٹی افسوس نہ کرو، یہ چار درہم لو اور سودا لے کر گھر لوٹ جاؤ''
اس لڑکی نے وہ درہم لئے اور خوش خوش وہاں سے چلی گئی ہم بھی بازار کی طرف روانہ ہوگئے پیغمبر(ص) نے ایک سادہ لباس چار درہم میں
خریدا وہیں پہنا اور خدا کا شکر ادا کیا''
کیا ہی اچھا ہوا گر آپ یہ جان لیں کہ جب پیغمبر(ص) نیا لباس پہنتے تھے تو کیا دعا فرماتے تھے آپ(ص) فرماتے تھے_
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ لباس مجھے عنایت فرمایا تا کہ اس کے ذریعے میں اپنے بدن کو ڈھانپ سکوں خدایا اس لباس کو میرے لئے خیرو برکت کا لباس قرار دے اور مجھے اس میں سالم اور عافیت سے رکھ''
ہمارے پیغمبر گرامی کبھی اللہ تعالی کی یاد سے غافل نہیں ہوا کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا بندہ سمجھے تھے اور ہمیشہ اس کے بے شمار الطائف اور نعمتوں پر شکر ادا کرتے تھے_
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
جب ہم گھر واپس آئے تو ایک آدمی کو دیکھا جو ایک پھٹا پرانا لباس پہنے ہوئے لوگوں سے مدد کا طالب ہے اور کہہ رہا ہے کہ جو بھی میرے جسم کو لباس کے ذریعہ ڈھانپے گا خدا اسے بہشتی لباس پہنائے گا_ پیغمبر(ص) اس کے نزدیک گئے، ابھی کچھ دیر پہلے جو لباس آپ(ص) نے خریدا تھا اسے اپنے جسم سے اتارا اور اس مرد کو دے دیا اور فرمایا کہ اسے پہن لو، آپ(ص) نے کچھ دیر اس س اور باتیں کیں، وہ آدمی بہت خوش ہوا اور پیغمبر(ص) کا شکریہ ادا کرنے لگا''
پیغمبر(ص) نے فرمایا:
جو مسلمان اللہ کی رضا کی خاطر کسی مسلمان کو لباس دے گا تو جب تک وہ لباس اس مسلمان کے جسم پر رہے گا لباس دینے والا خدا کی ضمانت و حفاظت اور خیر و برکت ہیں رہے گا_
ہم دوبارہ بازار آئے اور چار در ہم میں ایک اور قمیص خریدی پیغمبر(ص) نے اسے پہنا اور پھر اسی طرح اللہ کا شکر ادا کیا اور گھر کی طرف واپس آنے لگے راستہ میں ہمیں یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ وہ لڑکی جسے ہم نے پہلے چار درہم دیے تھے وہ ابھی تک گلی کے کنارے بیٹھی ہوئی ہے پیغمبر(ص) اس کے نزدیک گئے اور پوچھا:
گھر کیوں نہیں گئی؟ کیا کچھ خریدا نہیں؟''
لڑکی نے جواب دیا:
یا رسول اللہ کیوں نہیں چیزیں تو میں نے خرید لی ہیں لیکن بہت دیر ہوگئی ہے ، میں ڈرتی ہوں کہ گھر والے مجھے ماریں گے اور کہیں گے کہ اتنی دیر کیوں کی؟''
پیغمبر(ص) نے فرمایا''
ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ چل کر تمہاری سفارش کرتا ہوں لڑکی خوش ہوگئی اور گھر کا پتہ بتانے کے لئے ہمارے آگے آگے چلنے لگی جب ہم گھر کے دروازے پر پہنچے تو پیغمبر(ص) نے بآواز بلند گھر کے مالک کو سلام کیا کسی نے جواب نہ دیا، دوبارہ سلام کیا پھر بھی کوئی جواب نہ پایا _
پیغمبر(ص) ہمیشہ پسند کرتے تھے کہ مسلمانوں کو سلام کریں،
جس کے پاس سے گزرتے اسے سلام کرتے خواہ وہ فقیر ہو یا امیر، چھوٹا ہو یا بڑا آپ(ص) نہایت عمدہ سلوک و رفتار کے مالک تھے آپ(ص) کے لبوں پر ہمیشہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ کھیلتی رہتی اورآپ(ص) زور سے قہقہہ لگا کرنہیں ہنستے تھے، ہمیشہ انکساری سے پیش آتے تھے لیکن اس انکساری میں احساس کمتری کا ذرہ برابر شائبہ تک نہ ہوتا تھا آپ(ص) سخی تھے لیکن ہرگز فضول خروچی نہیں کرتے تھے نرم دل اور رقیق القلب تھے، تمام مسلمانوں سے محبت کرنے والے اور ان پر مہربان تھے،
اسی تواضح و انکساری کے پیش نظر آپ(ص) نے تیسری مرتبہ سلام کیا کسی نے گھر کے اندر سے جواب دیا،
السلام علیکم یا رسول اللہ(ص)
اور فوراً دروازہ کھول دیا_
رسول خدا(ص) نے فرمایا:
میں نے اس سے پہلے دو مرتبہ سلام کیا تھا لیکن تم نے کوئی جواب نہیں دیا، کیا میری آواز کو نہیں سن رہے تھے؟
صاحب خانہ نے دست بستہ عرض کیا:
کیوں نہیں یا رسول اللہ(ص) لیکن آپ(ص) کی دلکش آواز اور سلام کرنا میرے دل کو اس قدر بھایا کہ بے اختیار میرا جی آپ(ص) کی من موہنی آواز کو دوبارہ سننے کے لئے مچل گیا''
پیغمبر خدا(ص) نے فرمایا:
یہ لڑکی تاخیر سے گھر لوٹی ہے لیکن یہ بے قصور ہے، میں اس لئے آیا
ہوں کہ اس کی سفارش کروں، تم اسے معاف کردو''
صاحب خانہ کہا،
یا رسول(ص) اللہ آپ(ص) کی بابرکت تشریف آوری کے سبب میں نے اس لڑکی کو معاف کیا اور راہ خدا میں آزاد کیا،
پیغمبر خدا(ص) بہت خوش ہوئے، صاحب خانہ کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی ساتھ خداوند عالم کا بھی شکر ادا کیا_
واپسی میں آپ(ص) نے مجھ سے فرمایا:
یا علی (ع) یہ بارہ درہم کتنے بابرکت تھے جنہوں نے دو آدمیوں کو لباس پہنایا اور ایک کنیز کو آ زاد کردیا''
سچ ہے، اگر پیغمبر(ص) نے اس قیمتی لباس کو پہن لیا ہوتا تو کس طرح ممکن تھا کہ ان کی مدد ہوسکی تھی پیغمبر(ص) کے بارے میں کتنا اچھا کہا گیا ہے کہ وہ ''خفیف المؤونہ و کثیر المعونہ'' (کمتر مدد لینے والے اور زیادہ مدد کرنے والے) البتہ ہر مسلمان کو چاہیئےہ وہ آپ(ص) کی پیروی اختیار کر کے ایسا ہی ہوجائے_
آیت قرآن
( امنوا بالله و رسوله و انفقوا ممّا جعلکم مستخلفین فیه فالّذین امنوا منکم و انفقوا لهم اجر کبیر)
خدا اور اس کے رسول (ص) پر ایمان لاؤ اور اس سے جو خدا نے بطور امانت تمہارے اختیار میں قرار دیا ہے خرچ کرو تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے اور خرچ کرتے ہیں ان کے لئے بہت بڑا اجر ہوگا_
''سورہ مائدہ آیت ۷''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱) ___وہ چھوٹی بچّی جو پیغمبر اکرم(ص) کو راستے میں ملی کیوں رو رہی تھی؟ پیغمبر(ص) نے اس سے کیا پوچھا؟ اس نے آپ(ص) کو کیا جواب دیا؟
۲)___ جب پیغمبر(ص) نیا لباس پہنتے تھے تو کس طرح اور کن الفاظ میں اللہ کا شکر ادا کرتے تھے؟ اور خدا سے کیا طلب کرتے تھے؟
۳) ___پیغمبر(ص) نے ایک مسلمان کو رضائے الہی کی خاطر لباس پہننے کا کیا ثواب بیان فرمایا ہے؟
۴) ___پیغمبر(ص) نے واپس لوٹنے پر اس لڑکی کس حالت میں دیکھا؟ اور اس سے کیا گفتگو کی؟
۵)___ رسول (ص) کی سیرت لوگوں کو سلام کرنے اور ان سے میل ملاپ میں کیسی تھی؟ کیا تم بھی کوشش کرو گے کہ رسول (ص) کی طرح لوگوں سے شفقت اور مہربانی سے پیش آؤ؟
۶)___ رسول خدا(ص) کے بارے میں کہا گیا کہ وہ خفیف الموؤنہ اور کثیر المعونہ'' تھے اس کی وضاحت کیجئے؟
۷)___ پیغمبر خدا(ص) کی صفات میں سے دس صفات کو بیان کیجئے؟
باہمی تعاون
جو شخص بھی اپنے آپ کودوسروں سے برتر سمجھے اور اپنے بوجھ کو دوسروں پر ڈالے، خدا کے غیظ و غضب کا شکار ہوگا''
لعنت اور نفرین ہو اس پر کہ جو اپنی زندگی کا بوجھ دوسرے کے کندھے پر ڈالتا ہے،
یہ دونوں اقوال رسول گرامی (ص) کے ہیں_ آپ(ص) مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں کہ سستی اور تن پروری سے پرہیز کریں او رمحنت و کوشش سے اپنی روزی اپنے ہاتھ سے کمائیں خدا کے لطف و کرم کی امید رکھیں اور اپنی دنیا کو پاک و پاکیزہ اور آباد بنائیں''
نہ صرف یہ کہ اپنے بوجھ کو دوسروں پر نہ ڈالیں بلکہ دوسرے مسلمانوں
کے بوجھ کو بھی بانٹیں او راپنی مدد کا ہاتھ ان کی طرف بڑھائیں اور جان لیں کہ خداوند عالم نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا:
جانتے ہیں، رسول خدا(ص) نے اس نیک خصلت کی لوگوں کو کس طرح تعلیم دی____؟
کیا صرف اپنی گفتگو سے____؟
نہیں بلکہ گفتار سے زیادہ اپنے رفتار و عمل سے آپ(ص) نے اچھی باتوں کی تعلیم دی کیونکہ پیغمبراکرم(ص) جو کچھ فرماتے تھے اس پر کامل ایمان رکھتے تھے اور اس سے پہلے کہ لوگوں کو کسی کام کی دعوت دیں، خود اس پر ایمان اور بصیرت سے عمل کرتے تھے_
لوگ بھی چونکہ آپ(ص) کی صداقت اور ایمان کو نہ صرف آپ کے قول میں بلکہ آپ کے اعمال و افعال بھی دیکھ رہے ہوتے تھے لہذا آپ(ص) سے اور آپ(ص) کے خدائی پیغام سے عقیدت کا اظہار کرتے اور آپ(ص) کی پیروی کرتے تھے،
اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم آپ(ص) کے ساتھ ایک سفر پر چلیں اور آپ(ص) کے سلوک و رفتار اور عادات و اطوار کو بالخصوص لوگوں کی مدد اور ان سے مدد و تعاون کے سلسلے میں آپ(ص) کی روش کو قریب سے دیکھیں_
پیغمبر(ص) سفر پر جانے کے لئے تیار ہیں آپ(ص) نے کنگھی، مسواک، اور مختصر سا سامان سفر اٹھایا، اور اپنے ہم سفروں اور ساتھیوں کو بھی
ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ سب بھی اپنا سامان سفر اور ضرورت کی چیزیں ساتھ لے لیں تا کہ سفر میں دوسروں کے لئے زحمت کا باعث نہ بنیں_
تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد آپ(ص) نے گھر سے نکلتے ہوئے اپنے اہل و عیال او ردوستوں کو نہایت گرم جوشی سے خداحافظ کہا جب قافلہ روانگی کے لئے حرکت میں آیا تو آپ نہایت خضوع و خشوع کے ساتھ خداوند متعال سے یوں مخاطب ہوئے_
خدایا تیری رضا و عنایت سے سفر کر رہا ہوں اور تیری ذات کی طرف متوجہ ہوں اور تیری رحمت پر اعتماد کرتا ہوں_ خدایا اس سفر میں تمام امید و اطمینان تیرے لطف سے وابسطہ ہے تو میری حاجات کو برلا جس چیز کو تو میرے لئے پسند کرتا ہے اسی کی توفیق عنایت فرما کہ تو میری مصلحت کو مجھ سے بہتر جانتا ہے خدایا: پرہیز گاری اور تقوی کو میرے راستے کا سامان قرار دے او رمجھے اپنی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار دے اور جس طرف بھی جاؤں مجھے نیکی اور اچھائی کی طرف متوجہ کردے''
اس سفر میں بھی دوسرے سفروں کی طرح آپ(ص) کاروان کے آخر میں چل رہے تھے تا کہ کمزور و ضعیف اور پیچھے رہ جانے والوں کی خبرگیری کرتے رہیں_
راستے میں ایک جگہ کھانا کھانے اور سستانے کے لئے
یہ قافلہ ٹھہرا پیغمبر اکرم(ص) کے فرمان اور خواہش کے مطابق اونٹوں سے سامان اتار کر انہیں بیابان میں چھوڑ دیا گیا تا کہ وہ بھی گھاس پھونس سے اپنا پیٹ بھرلیں_
قافلہ کا ہر آدمی کسی نہ کسی کام میں مشغول ہوگیا ایک گروہ پانی لینے چلا گیا، کچھ لوگوں نے دنبہ ذبح کیا اور اس کی کھال اتارنے میں مشغول ہوگئے_ ایک دو آدمی انٹوں کی حفاظت کرنے لگے اسی دوران پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ میں آگ جلانے کے لئے بیابان سے سو کھی لکڑیاں اکٹھی کر کے لاتا ہوں_
اصحاب نے کہا:
یا رسول اللہ(ص) آپ (ص) تھکے ہوئے ہیں آرام کریں ہم خود سب کام انجام دے لیں گے؟''
آپ کا کیا خیال ہے؟
آیا رسول خدا(ص) نے اصحاب کی اس پیش کش کو قبول کرلیا ہو گا اور اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے آ رام کی غرض سے لیٹ گئے ہوں گے؟
اس سلسلہ میں کیا جواب ہے آپ کا؟ خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھے اور اپنے کام کی زحمت کو ان کی گردن پر ڈالے
یہ تھا پیغمبر اکرم(ص) کا جواب :
تم بھی میری طرح سفر سے تھکے ہوئے ہو جس طرح
میں غذا کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہوں گا کام کرنے میں بھی مجھے تمہارا شریک ہونا چاہیئےہ اسلامی طریقہ نہیں ہے کہ میں آرام کروں ا ور تم لوگ کام کرو نہیں ایسا نہیں ہوگا میں بھی تمہاری طرح کوئی کام انجام دوں گا''
آپ(ص) اٹھے اور جلانے کے لئے سوکھی لکڑیاں جمع کرنا شروع کردیں_ اس طرح تمام لوگوں نے مل جل کر اور باہمی تعاون سے کھانا تیار کیا ا ور نہایت مہر و محبت کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر تناول کیا_
پیغمبر اسلام(ص) باوجود اس مقام او رخدائی منصب اور اجتماعی حیثیت کے ایک عام مسلمان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے آپ(ص) کی خوراک اور لباس بھی دوسرے عام مسلمانوں کی طرح تھا بلکہ بسا اوقات ان سے بھی زیادہ معمولی قیمت کا ہوا کرتا تھا اپنے ذاتی کاموں کو اکثر اوقات خود ہی انجام دیتے تھے اپنی جوتی اور لباس کو پیوند لگاتے تھے گھر کے کاموں میں مدد فرمایا کرتے تھے مشکیزہ کے ذریعہ گھر میں پانی لاتے تھے اور کبھی کبھی خودد کھانا تیار کرتے تھے: بچّوں کی نگہداشت و پرورش میں مدد کیا کرتے تھے_ گھر کا دروازہ کبھی خود آکر کھولتے تھے گندم اور جو کا آتا پیسنے اور روٹی پکانے میں مدد کیا کرتے تھے، حیوانات کا دودھ دوہتے تھے، انہیں پانی پلاتے اور چارہ ڈالتے تھے،
کشادہ روٹی سے لوگوں سے پیش آتے تھے اور خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے گفتگو کرتے تھے، کوشش کرتے تھے کہ ہر ایک کو یہاں تک کہ بچّوں کو بھی سلام کریں اور فرمایا کرتے تھے کہ:
میں بچّوں کو سلام کرتا ہوں تا کہ بچّوں کا احترام او رعزّت میری امت کی ایک اچھی سنّت قرار پائے اور مسلمان بچّوں کو سلام کریں اور ان کا احترام کریں،
آپ(ص) بد مزاج اور بد زبان نہیں تھے اگر آپ کے سامنے کوئی کسی کی برائی کرتا تو آپ(ص) ناراض ہوجاتے اور فرماتے کہ رک جاؤ، کوئی اور بات کرو سب مسلمانوں کے لئے مہربان اور ہمدرد تھے اور ان کی مدد کو پہنچتے تھے_ اور اپنے کام دوسروں پر ڈالنے سے پرہیز کرتے تھے،
ایک دن مسلمانوں کی ایک جماعت جو سفر سے لوٹ کر آئی تھی آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک کی تعریف کرنے لگی_
یہ لوگ کہنے لگے وہ کتنا دیندار اور متّقی ہے اس نے کسی کو کوئی تکلیف اور ایذ انہیں پہنچائی جب ہم راستے ہیں کہیں قیام کرتے تو وہ فوراً پانی تلاش کر کے وضو کرتا اور نماز میں مشغول ہوجاتا اسے سوائے نماز اور دعا کے کسی کام سے سروکار نہ تھا،
پیغمبر اکرم(ص) نے دریافت کہا:
اگر اس کی سفر میں یہ عادت تھی تو اس کے کام کاج کون کرتا تھا؟ اس کے اونٹ کا سامان کون اتارتا تھا؟ کون اس کے لئے غذا اور پانی لاتا تھا؟ کون اس کے لئے کھانا پکاتا تھا؟ اور چلتے وقت کون اس کے اونٹ پر سامان لادتا تھا؟''
یا رسول(ص) اللہ ان تمام کاموں کو ہم فخریہ طور پر انجام دیتے
تھے'' ان لوگوں نے جواب دیا،
رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا:
یقینا تم اس سے بہتر ہو او راللہ کے نزدیک بلند درجہ رکھتے ہو یہ ٹھیک نہیں کہ ایک مسلمان اپنے کام کا بوجھ دوسروں کی گردن پر ڈالے اور خود اپنے خیال میں عبادت کرنا شروع کردے نماز و دعا اپنی جگہ بہترین عبادت ہیں لیکن سعی و کوشش بھی ایک بہت بڑی عبادت ہے اور خداتعالی کی مخلوق کی خدمت کرنا بھی بڑی عبادت ہے''
اب آپ سوچئے کہ:
آپ کس طرح اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں؟ کن کاموں میں ان کے ساتھ مدد و تعاون کرتے ہیں؟
کیا آپ کا پّکا ارادہ ہے کہ اپنے مدرسے اور گھر کے کاموں کو خود انجام دیں گے اوردوسروں کے کاندھوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے؟
کیا آپ کوشش کرتے ہیں کہ ماں باپ اور دوسرے افراد کا بوجھ اٹھائیں اور خود کسی پر بوجھ نہ بنیں؟
مختصر یہ کہ آپ رسول خدا(ص) کی اس سنت پر کس طرح عمل پیرا ہوں گے؟
آیت قرآن
( و تعاونوا علی البرّ و التّقوی و لا تعاونوا علی الاثم و العدوان)
نیک کاموں اور تقوی میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور ظلم و گناہ میں کسی سے تعاون نہ کرو''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ عام طور پر پیغمبر(ص) کون سی چیزیں سفر میں اپنے ہمراہ لے جاتے تھے؟ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کا سفر میں ساتھ لے جانا رسول خدا(ص) کی کن صفات کی نشان دہی کرتا ہے___؟
۲) ___ پیغمبر(ص) سفر کرتے وقت اپنے اصحاب کو کیا تاکید کیا کرتے تھے اور کیوں؟
۳)___ رسول خدا(ص) کی عادت اور سیرت، سفر کرنے سے پہلے اپنی قوم، دوستوں اور اہل بیت (ع) کے ساتھ کیا تھی؟ پیغمبر(ص) کی یہ سیرت ہمیں کیا درس دیتی ہے؟
۴) قافلہ کی روانگی کے وقت رسول خدا(ص) کون سی دعا پڑھا کرتے تھے؟ آپ(ص) کی دعا کے الفاظ بتایئے
۵) عام طور پر پیغمبر(ص) قافلے کے کس حصہ میں چلا کرتے تھے؟
۶) درمیان راہ قیام کے وقت، رسول خدا(ص) جانوروں کے متعلق کیا حکم دیا کرتے تھے؟
۷) خدا کے رسول (ص) نے غذا کی تیاری کے لئے کونسا کام اپنے ذمّہ لیا؟ اس وقت اصحاب نے آپ(ص) سے کیا کہا؟ آپ نے ان کے جواب میں کیا فرمایا؟
۸) پیغمبر(ص) بچّوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا کرتے تھے؟
۹) اگر پیغمبر(ص) کے سامنے کسی کی برائی کی جاتی تو آپ کیا فرماتے تھے؟
۱۰) پیغمبر(ص) نے ان لوگوں سے کہ جو اپنے ہمسفر کی تعریف کر رہے تھے کیا پوچھا تھا؟ اور ان سے ان کے ہمسفر کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟
ہمّت مرداں مدد خدا
اسلامی لغت میں ''سوال'' کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک معنی پوچھنے کے ہیں_ یعنی نہ جاننے والا کسی جاننے والے سے سوال کرتا ہے، تا کہ اس طرح وہ اپنے علم میں اضافہ کرسکے اس لحاظ سے سوال کرنا بہت اچھا اور پسندیدہ فعل ہے_ جو شخص نہیں جانتا اسے چاہئے کہ وہ جاننے والوں سے سوال کرے تا کہ اس کے علم و آگاہی میں اضافہ ہوجائے دین اسلام کے پیشواؤں کے کلام میں ملتا ہے کہ علم و دانش کے بند دروازوں کی چابی ''سوال'' کرنا ہے''
سوال کے دوسرے معنی کسی سے مدد طلب کرنے اور بلامعاوضہ کوئی چیز مانگنے کے ہیں ان معنوں میں کسی سے سوال کرنا اسلامی نقطہ نگاہ سے بہت ہی برا اور ناپسندیدہ عمل ہے_
ایک شخص نے پیغمبر(ص) سے پوچھا کہ:
یا رسول اللہ(ص) مجھے کوئی ایسا عمل بتایئےہ مجھے اس کے بجالانے کے بعد یقین ہوجائے کہ میں اہل جنّت میں سے ہوں''
پیغمبر(ص) نے اس کے جواب میں تین چیزوں کے متعلق فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ آخرت میں جنتیوں کے زمرے میں شامل ہوجاؤ تو ان تین چیزوں کی ہمیشہ پابندی کرو:
۱)___ بلاوجہ غصہ نہ کرو
۲)___ کبھی لوگوں سے سوال نہ کرو
۳)___ لوگوں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے کرتے ہو_
نیز پیغمبر(ص) نے فرمایا:
جو شخص ایک دو دن کی روزی رکھنے کے باوجود لوگوں سے سوال کرے تو خداوند عالم اسے قیامت کے دن برے چہرے سے محشور کرے گا''
پیغمبر(ص) خدا مسلمانوں کی غیرت و شرافت انسانی کے اتنے قائل تھے کہ آپ کو پسند نہ تھا کہ کوئی مسلمان اپنی عزت و آبرو کو اس کے اور اس کے سامنے رسوا کرے اور بغیر ضرورت اور لاچاری کے سوال کے لئے لب کشائی کرے اور خدا کے سوا اور کسی سے حاجت طلب کرے_
آپ(ص) فرمایا کرتے تھے کہ مومن کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرتا پھرے حالانکہ آپ(ص) ضرورت کے وقت محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مدد و نصرت بھی کیا کرتے تھے لیکن پسند نہیں کرتے کہ مومن
اپنی عزّت و شرافت اور آبرو کو کسی کے سامنے رسوا کرے یہاں تک کہ خود پیغمبر(ص) کے سامنے بھی اظہار حاجت اور نیازمندی کرے اور آپ(ص) تاکید فرماتے تھے کہ:
ہر وہ شخص جو بے نیازی کا مظاہرہ کرے اور کسی سے سوال نہ کرے اور اپنے دل کے راز کو فقط اپنے خدا سے کہے تو خدا اسے بے نیاز کردے گا لیکن جو شخص بلاوجہ اس سے اور اس سے سوال کرے اور اپنی عزّت نفس کو مجروح کرے، خداوند عالم بھی اس کے لئے فقر و نیازمندی کے دروازے کھول دیتا ہے''
اس مطلب کو بہتر طور پر سمجھنے اور پیغمبر خدا(ص) کی انسان ساز اور عزّت آفرین سنّت کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ واقعہ ملاحظہ فرمایئےور اس میں حضرت رسول خدا(ص) کے اس شخص سے برتاؤ پر توجّہ دیجئے_
ایک شخص مدّت سے بے کار تھا اور بے کاری نے اسے فقیر و تہی دست کردیا تھا اس کے سامنے فقر سے نجات اور ضروریات پوری کرنے کے تمام راستے بند ہوچکے تھے اور اس کا کوئی علاج دکھائی نہ دیتا تھا ایک دن اس شخص نے اس مسئلہ کو اپنی بیوی کے سامنے بیان کیا اور اس سے مشورہ طلب کیا،
اس کی بیوی نے کہا کہ رسو ل خدا(ص) ایک مہربان اور کریم و سخی انسان ہیں بہتر ہے کہ ان کی خدمت میں جاؤ اور اپنی حالت کو بیان کرو اور ان سے مدد طلب کرو_
اس شخص کو یہ تجویز پسند آئی وہ اٹھا اور رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا، سلام کیا اور شرم کے مارے ایک کونے میں بیٹھ گیا_
رسول اکرم(ص) نے اس کے چہرے پر نگاہ ڈالی اور ایک ہی نگاہ میں تمام معاملے کو سمجھ گئے اس سے پہلے کہ وہ شخص اپنی مصیبت اور تنگدستی کے متعلق کچھ کہتا اور سوال کے لئے لب کشائی کرتا پیغمبر(ص) نے گفتگو کے لئے اپنے لب کھولے اور وہاں موجود افراد سے ان الفاظ میں خطاب فرمایا:
ہم ہر سائل کی مدد کریں گے لیکن اگر وہ بے نیازی اختیار کرے اور اپنا ہاتھ مخلوق کے سامنے نہ پھیلائے اور کام میں زیادہ محنت و کوشش کرے تو خدا اس کی احتیاج کو پورا کرے گا_
خدا کے رسول(ص) کی مختصر و پر معنی گفتگو اس محتاج انسان کے دل پر اثر کر گئی_ آپ کے مقصد کو اس شخص نے سمجھ لیا اپنی جگہ سے اٹھا آپ کو خداحافظ کہا اور اپنے گھر لوٹ آیا_ بیوی جو اس کے انتظار میں تھی اس نے ماجرا دریافت کیا_
مرد نے جواب دیا کہ:
میں رسول خدا(ص) کی خدمت میں گیا تھا اس سے پہلے کہ کچھ کہتا، رسول (ص) نے فرمایا کہ جو شخص چاہے ہم اس کی مدد کریں گے لیکن اگر بے نیازی اختیار کے اور اپنا ہاتھ کسی کے سامنے نہ پھیلائے تو خدا اس کی احتیاج کو دور کردے گا میں سوچتا ہوں کہ آپ(ص) کی نظر میری
حالت پر تھی اسی لئے میں نے کچھ نہ کہا اور گھر واپس لوٹ آیا ہوں لہذا پیغمبر(ص) کے ارشاد کے مطابق ہمیں خود ہی کوئی علاج سوچنا چاہئے_
اس نے ایک دودن مزید مشکل اور پریشانی میں کاٹے اور غور و فکر کرتا رہا لیکن تمام سوچ بچار کے باوجود کوئی مناسب کام اور کوئی ایسا علاج جو اسکے بند دروازے کو کھول دیتا اس کے ذہن میں یہ آیا مجبوراً اس نے دوبارہ ارادہ کیا کہ پیغمبر(ص) خدا کی خدمت میں جائے اور اپنی حالت کو بیان کرے اور آپ سے امداد طلب کرے_
دوبارہ خدمت رسول(ص) میں پہنچا، سلام کیا اور شرمساری کے ساتھ آپ(ص) کے سامنے بیٹھ گیا منتظر تھا کہ موقع ملے اور اپنے مقصد کو پیغمبر(ص) کے سامنے بیان کرے لیکن رسول (ص) خدا جن کے نزدیک ایک انسان کی عزّت و آبرو کی بہت قیمت تھی، آپ(ص) نے اسے موقع نہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو شرمندہ کرے اور پیغمبر(ص) کے سامنے اپنی حاجت کا اظہار کرے اس سے پہلے کہ وہ اس بات کے لئے لب کشائی کرے آپ(ص) نے دوبارہ وہی جملہ دہرایا:
ہم ہر سائل کی مدد کریں گے لیکن اگر وہ بے نیازی اختیار کرے اور اپنا ہاتھ مخلوق کے سامنے درازنہ کرے اور اپنے کام میں زیادہ محنت و کوشش کرے تو خدا اس کی ضروریات پوری کردے گا_
پیغمبر خدا(ص) کی گفتگو نے اس شخص کے ایمان قلبی کو راسخ و قوی کردیا اور عزت نفس، آبرو اور شرافت کی اہمیت کو اس کے سامنے واضح
کردیا اس نے سوال کرنے کا ارادہ ترک کردیا اور گھر واپس لوٹ آیا جہاں اس کی بیوی فقر و فاقہ سے عاجز، رسول(ص) خدا کی طرف سے مدد کے انتظار میں بیٹھی تھی_ شوہر نے پیغمبر(ص) سے ملاقات کی تفصیل کو بیوی کے سامنے بیان کیا اور دونوں ایک بار پھر فقر و فاقہ کے تدارک کی فکر کرنے لگے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات آخر کار انہوں نے پکا ارادہ کرلیا کہ رسول(ص) خدا کی خدمت میں جائیں اور ہر حال میں اپنے مقصد کو بیان کریں اور مدد طلب کریں_
اب تیسری دفعہ وہ پیغمبر(ص) کی خدمت میں شرف یاب ہوا وہ قطعی فیصلہ کرچکا تھا کہ اپنے رنج و مصیبت اور پریشانی کو آپ(ص) کے سامنے تفصیل سے بیان کرے گا اور آپ(ص) سے مدد طلب کرے گا لیکن جو نہی اس کی نگاہ پیغمبر(ص) کے چہرہ مبارک پر پڑی اس کے تمام وجود کو شرم و حیا نے گھیرلیا اور کافی دیر تک آرام سے ایک گوشہ میں بیٹھا رہا اور سورچ رہا تھا کہ کیا کہے_ اسی دوران رسول(ص) خدا کی عزّت آفرین کلام کو سنا، آپ(ص) یقین و امید کے لہجے میں فرما رہے تھے: جو شخص مدد طلب کریگا ہم اس کی مدد کریں گے لیکن اگر وہ زیادہ محنت کرے تو خدا اس کی ضرورت و حاجت کو دور کردے گا_ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور محبت آمیز نگاہ رسول(ص) چہرے پر ڈالی گویا وہ محسوس کرچکا تھا کہ رسول(ص) اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کو ہر چیز پر فوقیت دیتے ہیں اور آپ نہیں چاہتے کہ وہ اپنی عزّت و آبرو کو اس آسانی کے ساتھ کھو بیٹھے اس نے رسول کو خداحافظ کہا اور گھر واپس لوٹ آیا_
خدا کے رسول(ص) کی باتوں نے اس کے دل سے سستی، شک و شبہ اور ناامیدی کو پوری طرح دور کردیا اور اس کی جگہ طاقت اور یقین نے لے لی
اور اللہ پر اعتماد کے ساتھ اس نے پکا ارادہ کرلیا کہ وہ سخت محنت و کوشش کرے گا اور ہر حال میں کوئی نہ کوئی کام شروع کرے گا اور اس طرح اپنی محتاج اور بے سر و سامانی کو دور کرنے کی کوشش کرے گا_
ایک بار پھر وہ خالی ہاتھوں لیکن عزم و امید سے لبریز دل کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور اپنی بیوی کے سامنے پورا قصہ اور اپنا فیصلہ بیان کیا_
دوسرے دن صبح ہی صبح وہ گھر سے نکلا اور صحرا کی جانب چل پڑا صبح سے شام تک سخت محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ لکڑیوں کا ایک ڈھیر اکٹھا کیا اور اسے کاندھے پر اٹھا کر شہر کی جانب چل دیا لکڑیوں کو بیچ کر تھوڑی سی غذا کا انتظام کیا اور خوش و خرم گھر کی طرف روانہ ہوا اس کی بیوی جو اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی اس کے استقبال کے لئے خوش خوشی دوڑی ہوئی آئی دونوں نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور محنت کوشش اور خدا پر اعتماد کے پھل کی لذّت کو چکھا''
دوسرے دن بھی صبح ہی صبح پکے ارادے کے ساتھ صحرا کی طرف روانہ ہوا اور خوب تلاش و کوشش کے بعد لکڑیوں کا ایک ڈھیر اکٹھا کرلیا_ کندھے پر ڈآلا اور شہر کی طرف چل پڑایوں یہ شخص ایک مدّت تک اسی طرح کام کرتا رہا_
آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے اس نے لکڑی کاٹنے کے لئے ایک کلہاڑی اور سامان اٹھانے کے لئے ایک جانور خرید لیا اس کاکام دن بدن بہتر ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ اپنے مال کے ایک حصّہ سے غریبوں اور سکینوں کی مدد کرنے لگا وہ لذّت اور خوشی جو اسے اپنی کوشش اور
کام کرنے سے حاصل ہوئی تھی دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتا اور انہیں بھی محنت کرنے کی طرف راغب کرتا،
ایک دن اس کی رسول (ص) خدا سے ملاقات ہوئی اسے وہ سختیوں کے دن اور پیغمبر(ص) کی وہ حوصلہ افزا گفتگو یاد آگئی کہ کس طرح خدا کے رسول(ص) نے اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کی تھی، کہنے لگا:
یا رسول(ص) خدا میرا کام بہت اچھا چل رہا ہے_ اور میرے حالات زندگی بھی اچھے ہوگئے ہیں''
رسول خدا(ص) مسکراے اور فرمایا:
میں نے نہیں کہا تھا کہ جو بے نیازی کا اظہار کرے خدا اسے محتاجی سے نجات دیتا ہے_ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کا وعدہ سچا ہوتا ہے البتہ اس کے ساتھ ا جر و ثواب اور نیک انجام بھی عطا فرماتا ہے_
آپ نے دیکھا کہ پیغمبر(ص) کی نگاہ میں انسان کی عزّت و شرافت کی کتنی قدر و قیمت ہے اور آپ(ص) سوال کرنا کتنا ناپسند فرماتے تھے؟
کام اور کام کرنے والا اسلام کی نظر میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے بالخصوص وہ کام جس کے ذریعہ کوئی چیز پیدا کی جائے ان کی اتنی قدر و قیمت ہے کہ عبادت میں بلکہ بہترین عبادات میں شمار ہوتے ہیں_
پیغمبر (ص) اکرم نے فرمایا ہے کہ:
عبادات کے ستّر اجزاء ہیں اور ان میں سب سے بہترین کام کرنا ہے وہ کام کہ جس سے حلال روزی
حاصل ہو''
امام محمد(ص) باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص کام کرے اور محنت کرے تا کہ لوگوں سے سوال نہ کرنا پڑے اور اپنے خاندان کے اخراجاتن میں وسعت دے سکے اور اپنے ہمسایوں کی مدد کرے جب وہ آخرت میں محشور ہوگا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا،
امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:
جو شخص اپنے خاندان کے لئے روزی حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے''
آیت قرآن
( فاذا قضیت الصّلوة فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل الله ) ''
جب نماز ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کی تلاش کرو''
سوچئے اور جواب دیجئے
۱)___ سوال کرنے سے کیا مراد ہے؟ ان دونوں معنی کو جو سبق میں بیان کئے گئے ہیں تحریر کیجئے؟
۲)___ علم کے بند دروازے کی چابی کیا ہے؟ وضاحت کیجئے کہ کس طرح؟
۳)___ پیغمبر(ص) نے اس مرد کی درخواست کے جواب میں کیا کہا جس نے کہا تھا کہ اسے کچھ کام سکھائیں؟
۴)___ جس شخص کے پاس ایک دودن کی روزی موجود ہو اس کے باوجود لوگوں سے سوال کرتا پھرے قیامت میں کس طرح محشور ہوگا؟
۵)___ پیغمبر(ص) نے اس مرد سے کیا فرمایا جو آپ(ص) سے سوال کرنے آیا تھا؟
۶)___ پیغمبر(ص) کی امید افزا گفتگو نے کس طرح ا س مرد کو کام کرنے پر آمادہ کیا؟
۷)___ رسول اکرم(ص) کام کرنے اور حلال روزی کمانے کے بارے میں کیا قول ہے؟
۸)___ امام محمد باقر (ع) کا قول محنت و کوشش کے متعلق کیا ہے؟ اس کے مفہوم کی وضاحت کیجئے؟
۹)___ امام جعفر صادق (ع) نے کن افراد کو جہاد کرنے والوں میں شمار کیا ہے؟
فہرست
عرض ناشر ۴
باب اوّل ۶
خالق کائنات ''خدا'' کے بارے میں ۶
کائنات میں نظم اور ربط ۷
سوچیے اور جواب دیجئے ۱۱
کائنات پر ایک نگاہ ۱۳
وہ خالق عالم اور قادر کون ہے___؟ ۱۷
آیت قرآن ۲۰
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۱
چند مثالیں اور تجربات ۲۴
سوال : ۲۷
آیت قرآن ۲۸
سوچیے اور جواب دیجیے ۲۹
بڑے آبشار کا سرچشمہ ۳۰
بڑے آبشار کا سرچشمہ ۳۰
آیت قرآن ۳۵
سوچیے اورجواب دیجئے ۳۵
خداشناسی کی دودلیلیں ۳۷
خداشناسی کی دودلیلیں ۳۷
۱)دلیل نظم ۳۷
۲) دلیل علّیت ۴۰
آیت قرآن ۴۲
سوچیئے اور جواب دیجئے ۴۲
خدا کی تلاش ۴۴
خدا کی تلاش ۴۴
آیت قرآن ۴۷
سوچیے اورجواب دیجئے ۴۷
زمین اور آسمان کا خالق ۴۹
توضیح اور تحقیق ۵۶
توضیح اور تحقیق ۵۶
آیت قرآنی ۵۷
سوچیئےور جواب دیجیے ۵۸
باب دوم ۵۹
باب دوم ۵۹
جہان آخرت (قیامت ) کے بارے میں ۵۹
قیامت کادن حساب کادن ہے ۶۰
پیغمبر اکرم (ص) کے فرمان کے مطابق: ۶۶
آیت قرآن ۶۶
سوچیے اورجواب دیجئے ۶۷
قیامت کے ترازو ۶۹
قیامت کے ترازو ۶۹
قیامت کے ترازو ۷۱
آیت قرآن ۷۶
سوچیے اورجواب دیجئے ۷۷
جنّت اوراہل جنّت; دوزخ اور اہل دوزخ ۷۹
جنّت اوراہل جنّت; دوزخ اور اہل دوزخ ۷۹
جنّت ۸۱
''جنّت'' یعنی سر سبز و شاداب درختوں سے بھرا ہوا باغ ۸۲
''جنّت'' یعنی سر سبز و شاداب درختوں سے بھرا ہوا باغ ۸۲
دوزخ ۸۵
آیت قرآن ۸۷
سوچیے اور جواب دیجیے ۸۹
قیامت کا خوف ۹۰
قیامت کا خوف ۹۰
خدا کے شائستہ بندوں کی ایک صفت ۹۰
آیت قرآن ۹۷
آیت قرآن ۹۷
سوچیے اور جواب دیجیے ۹۷
باب سوم ۹۹
نبوت کے بارے میں ۹۹
تمام پیغمبروں کا ایک راستہ ایک مقصد ۱۰۰
تمام پیغمبروں کا ایک راستہ ایک مقصد ۱۰۰
تین بنیادی اصول ۱۰۲
تمام پیغمبر ایک دوسرے کی تائید کرتے تھے ۱۰۳
آیت قرآن ۱۰۹
آیت قرآن ۱۰۹
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۰۹
پیغمبروں کا الہی تصور کائنات ۱۱۱
پیغمبروں کا الہی تصور کائنات ۱۱۱
مادی تصوّر کائنات ۱۱۱
الہی تصوّر کائنات ۱۱۲
پیغمبروں کا الہی تصوّر کائنات ۱۱۴
پیغمبروں کا الہی تصوّر کائنات ۱۱۴
کائنات کے بارے میں ۱۱۴
انسان اور سعادت انسان کے بارے میں ۱۱۴
انسان کے مستقبل (معاد) کے بارے میں ۱۱۵
پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ۱۱۶
پیغمبروں کا ہدف ۱۲۰
آیت قرآن ۱۲۱
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۲۱
پیغمبروں کی خصوصیات ۱۲۳
پیغمبروں کی خصوصیات ۱۲۳
خدا سے وحی کے ذریعہ ارتباط ۱۲۳
۲) گناہ اور غلطیوں سے پاک کرنا ۱۲۵
۳) خدا کی راہ میں پائیداری اور استقامت ۱۲۶
حضرت ابراہیم (ع) کی استقامت ۱۲۷
حضرت ابراہیم (ع) کی استقامت ۱۲۷
حضرت موسی (ع) و حضرت عیسی (ع) کی استقامت ۱۲۸
حضرت موسی (ع) و حضرت عیسی (ع) کی استقامت ۱۲۸
حضرت محمد مصطفی (ع) کی استقامت ۱۲۹
آیت قرآن ۱۳۲
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۳۳
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۳۳
باب چہارم ۱۳۴
باب چہارم ۱۳۴
پیغمبر اسلام (ص) اور آپ(ص) کے اصحاب کے بارے میں ۱۳۴
ایمان و استقامت ۱۳۵
ایمان و استقامت ۱۳۵
آیت قرآن ۱۴۱
آیت قرآن ۱۴۱
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۴۱
اقتصادی پابندی ۱۴۳
اقتصادی پابندی ۱۴۳
مشرکوں کا ارادہ اور حضرت ابوطالب (ع) ۱۴۴
رسول خدا(ص) کی حفاظت اور نگہداری ۱۴۶
اقتصادی بائیکات کا معاہدہ ۱۴۷
اقتصادی بائیکاٹ ۱۴۹
آیت قرآن ۱۵۲
سوچیئےور جواب دیجئے ۱۵۲
استقامت اور کامیابی ۱۵۵
استقامت اور کامیابی ۱۵۵
ابوطالب (ع) مشرکین کے مجمع میں ۱۵۷
ابوطالب (ع) مشرکین کے مجمع میں ۱۵۷
پیغمبر خدا(ص) کا پیغام ۱۵۹
آیت قرآن ۱۶۱
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۶۱
انسانوں کی نجات کیلئے کوشش ۱۶۳
انسانوں کی نجات کیلئے کوشش ۱۶۳
طائف کا سفر ۱۶۸
طائف سے خروج ۱۷۱
آیت قرآن ۱۷۵
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۷۶
پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت ۱۷۸
پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت ۱۷۸
عقبہ کا معاہدہ ۱۸۱
مدینہ میں تبلیغ اسلام ۱۸۲
عقبہ میں دوسرا معاہدہ ۱۸۵
آیت قرآن ۱۸۸
سوچئے اور جواب دیجئے ۱۸۸
مشرکوں کا مکر و فریب ۱۹۰
مشرکوں کا مکر و فریب ۱۹۰
آیت قرآن ۱۹۷
آیت قرآن ۱۹۷
سوچئے او رجواب دیجئے ۱۹۷
پیغمبر(ص) خدا کی ہجرت (۱) ۱۹۹
پیغمبر(ص) خدا کی ہجرت (۱) ۱۹۹
آیت قرآن ۲۰۷
سوچئے اور جواب دیجیے ۲۰۷
پیغمبر خدا کی ہجرت (۲) ۲۰۹
پیغمبر خدا کی ہجرت (۲) ۲۰۹
آیت قرآن ۲۱۷
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۱۸
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۱۸
بابرکت پیسہ ۲۱۹
بابرکت پیسہ ۲۱۹
آیت قرآن ۲۲۵
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۲۶
باہمی تعاون ۲۲۸
باہمی تعاون ۲۲۸
آیت قرآن ۲۳۵
آیت قرآن ۲۳۵
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۳۵
ہمّت مرداں مدد خدا ۲۳۷
ہمّت مرداں مدد خدا ۲۳۷
آیت قرآن ۲۴۵
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۴۶
سوچئے اور جواب دیجئے ۲۴۶