اصول دین

مؤلف: علامہ شیخ محمد حسن آل یاسین
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


كتاب:اصول دین

مؤلف:علامہ شیخ محمد حسن آل یاسین


مقدمہ ناشر

الحمدلله رب العالمین والصلوة والسلام علی سیدنا محمد وآلہ الطیبین الطاھرین۔

قارئین کرام ! واجب الوجود خداوندعالم اور اصول دین کے اثبات کے سلسلہ میں انسانی عقل کی رسائی کا خلاصہ واضح و روشن بیان کے ساتھ آپ کے ھاتھوں میں موجود ہے، جس میں مو لف (خدا ان کو بہترین اجر وثواب عنایت فرمائے) نے صدیوں کے تجربات اور علم وسائنس کے کشفیات اور الکٹرونک وغیرہ کے ذریعہ وجود خدا کو ثابت کیا ہے، جو در حقیقت بہت سے زخموں کی دوا اور اپنے گمشدہ کی تلاش میں مشعل راہ ہے جس کے ذریعہ انسان اسباب ایمان اور خداوندعالم کی معرفت تک پہنچ سکتا ہے، تاکہ خداوندتبارک وتعالیٰ،انبیاء کرام علیہم السلام اور اس کی کتاب پر اس کا ایمان پختہ ہوجائے۔

اسی وجہ سے مو سسہ امام علی علیہ السلام نے اردو متکلمین کے ذریعہ اس کتاب کا ترجمہ کرایا جس میں قرآن وسنت اور عقلی دلائل واضح اور بہترین انداز میں بیان کئے گئے ہیں،تاکہ ہمارا اپنا واجب فریضہ بھی ادا ہوجائے، کلمہ حق سرفراز اور ہدایت کا راستہ واضح اور روشن ہوجائے۔

ہم خدا وندعالم کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ ہماری اس ناچیز خدمت دین کو شرف قبولیت عطا فرمائے ، اور ہماری توفیقات میں اضافہ فرمائے۔ ہو حسبنا ونعم الوکیل۔

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ

شیخ ضیاء جواھری

موسسہ امام علی علیہ السلام


مقدمہ

حضرت علامہ سید مرتضیٰ حکمی دامت برکاتہ

ادیان عالم میں دین اسلام ایک امتیازی شان کا حامل ہے کیونکہ اس دین کی بنیاد فطرت اور عقلی برھان پر قائم ہے، چنانچہ اس دین کے معارف کا سرچشمہ یھی فطرت انسانی ہے، اور اس کی تعلیمات عقل وشعور کے چشموں سے پھوٹتی ہیں اس کے نتائج عقلی منطق پر مشتمل ہوتے ہیں، جب بھی انسان اس دین سے وابستہ ہوگا تو اس کی فکری طاقتوں میں کمال پیدا ہوگا ، اس کی غور وفکر میں ایک جولانی کیفیت طاری ہوگی، اس کی ذاتی قدرت میں چار چاند لگ جائیں گے۔

چنانچہ یھی دین اسلام ہے جس کی بنا پر انسان کی ذاتی فطرت میں کمال پیداهوتا ہے ، اوریھی دین اسلام ہے جو انسان کو اقوام عالم میں سربلندی وسرفرازی عطاکرتا ہے ، حقیقت تلاش دل اور ہدایت حاصل کرنے والی آنکھیں اور کان عطا کرتا ہے، اور ایسی مہذب زبان عطا کرتا ہے جس سے کلمہ خیر کے علاوہ اور کچھ صادر نہیں ہوتا، اور یھی دین اسلام ، انسانی روح کو وہ بلندی عطا کرتا ہے جس کے بعد کمال کا کوئی درجہ متصور نہیں ہوسکتا۔

المختصر اسی اسلام کی وجہ سے انسان معرفت اور کمال کے آخری درجات پر پہنچتا ہے، چنانچہ خدا پر ایمان رکھنا اور تقویٰ الٰھی اختیار کرنا اسی اسلام کا ایک ثمرہ ہے، اسی طرح عدل الٰھی پر عقیدہ رکھنا انسان کے دل ودماغ کو حیاتی معراج عطا کرتا ہے، اور خدا کی آسمانی رسالت پر ایمان رکھنا انسان کو اس منزل پر پهونچادیتا ہے کہ اس میں ہر خیر وشر کے ادارک کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے اسی طرح قیامت پر ایمان رکھنے سے انسان ہر ھر قدم پر اپنی ہمیشگی جائگاہ پر نظر رکھتا ہے،اسی طرح عقیدہ امامت انسانی فکر کو محکم اور استوار بناتا ہے جس سے اس کی اسلامی شخصیت بلند ہوجاتی ہے، بشرطیکہ عقیدہ امامت سے ہمیشہ متمسک رھے۔

بھر کیف اسلامی عقائد انسان کی اسلامی شخصیت کو معراج عطا کرتے ہیں، اور زندگی میں ان کے اثرات ظاہر ہوتے رہتے ہیں، اسی وجہ سے علامہ شیخ محمد حسن آل یاسین صاحب نے اسلامی عقائدومعارف سے متعلق جدید اور واضح اسلوب پر مشتمل چند علمی کتابیں مرتب کیں، جو انسان کوراہ ضلالت سے نکال کر راہ ہدایت پر گامزن کرتی ہیں۔

اور چونکہ علامہ موصوف؛ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی رحمة اللہ علیہ کے ممتاز شاگرد تھے، لہٰذا خوئی صاحب نے آپ سے فرمائش کی کہ اسلامی اصول عقائد کے بارے میں جدید طریقہ سے کوئی ایسی کتاب لکھیں جس میں دور حاضر کے لحاظ سے اسلامی حقانیت کو ثابت کیا جائے اور اس سلسلہ میں ہوئے نئے نئے اعتراضات کا بھی کافی وشافی جواب دیا جائے۔

اور جب علامہ موصوف نے کتاب ہذا کو مترتب کیا تو آیت اللہ خوئی صاحب نے اس کی نشر واشاعت میں بھر پور تعاون فرمایا، اور کتاب کو بہت جلد چھپوادیا۔

لہٰذا کتاب ہذا کی اہمیت کے پیش نظر آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو دقت نظرسے مطالعہ کر کے بغیر کسی شک وشبہ کے اسلامی حقائق سمجھنے کی کوشش فرمائیں ۔

امید ہے کہ موصوف کی یہ کاوش اسلامی عقائدسمجھنے کے سلسلہ میں مشعل راہ قرار پائے۔

سید مرتضیٰ حکمی

نجف اشرف ، ۱۳/ رجب المرجب ۱۳۹۲ ھ


عرض مترجم

خدائی مخلوق کے شاہکارحضرت انسان نے جب اس دنیا میں قدم رکھا تو اسی وقت سے اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کی خلقت کیسے اور کیوںهوئی اور اس زندگی کے بعد اس کی بازگشت کھاں ہے؟ ! انھیں تمام سوالات کے پیش نظر اس نے ماوراء طبیعت کا پتہ لگانا چاھا اس کی فطرت نے مدد کی اور خدا شناسی کے راستوں کو ہموار کیایھاں تک کہ اس نے یقین کرلیا کہ اس کا وجود بغیر بنانے والے کے نہیں پیدا ہوا، کوئی ایسی طاقت ہے جس نے اسے خلق کیا ہے، اور وہ ذات ہے خداوندعالم کی۔

تاریخ بشریت اس بات کی گواہ ہے کہ ہر زمانہ میں انسان خدا کی الوھیت کا عقیدہ رکھتا تھا، یہ اور بات ہے کہ بعض زمانہ میں اور بعض محدود مقامات پر خدا کے وجود کا انکار کردیا گیا جیسا کہ آج بھی بہت سے لوگ اپنی فطرت کا گلا گھونٹتے ہوئے خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ دنیا ”مادّہ“ کی مخلوق ہے، لیکن آج جبکہ سائنس ترقی کررھا ہے تو وجود خدا کے دلائل مزید واضح وروشن ہوتے جارھے ہیں اور خود سائنس اس بات کی ردّ کرتا ہے کہ مادہ کسی چیز کا خالق ہو۔

بھر حال یہ بات مسلم ہے کہ خدا ہی انسان کا خالق ہے، وھی عالمین کا ربّ حقیقی ہے، تب ہی اس نے انسان کی دوسری ضروریات کی طرح ہدایت کا انتظام بھی فرمایااور ہر زمانہ میں انبیاء بھیجے، اور جیسے جیسے انسانی معاشرہ نے ترقی کی اسی لحاظ سے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا گیا یھاں تک کہ سر زمین مکہ پر ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمآخری نبی بنا کر بھیجے گئے، اور آپ نے اسلام کی تبلیغ اس طرح فرمائی کہ خدا کو( الیوم اکملت لکم دینکم ) کی سند دینا پڑی، لیکن جب یہ آخری نبی بھی اس دنیا سے جانے لگا تو چونکہ نبوت کا سلسلہ بند ہوچکا تھا، ہدایت کے بغیر انسان کفر وضلالت کے دلدل میں پھنس جاتا، مگراللہ نے اپنے محبوب رسول کے ھاتھوں غدیر خم میں امامت وولایت کا سلسلہ قائم اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ معین فرمادیا، اور اسی امامت کی وجہ سے ڈوبتی ہوئی کشتی اسلام نہ جانے کتنی بارساحل پر لگی، اور آج بھی اسی امامت کے ذریعہ انسانیت ہدایت سے فیضیاب ہورھی ہے اور ایک دن وہ آئے گا جب اسی امامت کے ذریعہ؛ ظلم وجورسے بھری دنیا عدل وانصاف سے بھرجائے گی، تب اس کے بعد دنیا کا خاتمہ ہوگا، اس دنیاوی زندگی کے بعد ایک روز حساب وکتاب کے لئے رکھا گیا ہے، کیونکہ ہر صاحب عقل نیک کام کو اچھا اور برے کام کا برا سمجھتا ہے، نیز نیک کام پر مستحق مدح وثواب اور برے کام پر مستحق ذم وعذاب پر انسانی عقل شھادت دیتی ہے، اور اسی عذاب وثواب کے دن کو قیامت کھا جاتا ہے، جس دن خدا عدل وانصاف کے ساتھ جزا یا سزا دے گا۔

انھیں تمام باتوںکی تفصیل پر مشتمل ہے عالیجناب علامہ شیخ محمد حسن آل یاسین صاحب کی یہ کتاب ”اصول دین“ ،جس میں موصوف نے عمدہ انداز، بہترین استدلال، مستحکم بیان اور جدید طرز پر اپنے قلم کے جوھر دکھائے ہیں،اور خدا شناسی، عدل الٰھی ، نبوت،امامت،مہدویت اور قیامت کے بارے میں مفصل استدلال اور برھان قائم کئے ہیں،نیز اس سلسلہ میں بہت سے اعتراضات اور شبھات کے جوابات بھی دئے، واقعاً کتاب ہذاایک جامع اور بہترین کتاب ہے۔

مو سسہ امام علی علیہ السلام کے مدیر اعلیٰ حجة الاسلام والمسلمین شیخ جواھری صاحب نے اس عظیم کتاب کے ترجمہ کی ذمہ داری اس بندہ ناچیز کو عنایت فرمائی، حقیر کو اپنی ناتوانی کے ساتھ قلم کی ناتوانی کا بھی اقرار ہے جس کے پیش نظرحقیر کے لئے اس عظیم ذمہ داری کا نبھانا لمحہ فکریہ تھا، لیکن خدا کے لطف و کرم اوراس کی توفیق کے سھارے کمر ہمت باندھ کرترجمہ شروع کردیا۔ کسی مو لف کی بات کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا اور اس کی روانگی اور سلاست کو باقی رکھنا واقعا”کارے دارد“ ۔ علامہ موصوف نے اپنی کتاب میں مختلف استدلال کے اندر عربی اصطلاحات کے علاوہ سانئس کی اصطلاحات بھی کافی استعمال کی ہیں جن کی اردوکے ساتھ انگلش تلفظ کو حتی الامکان تلاش کرکے لکھ دیا گیا ہے ،اور باب توحید کے علاوہ دوسرے تمام ابواب میں اکثر آیات کا حوالہ تحقیق کرکے رقم کر دیا ہے، لیکن کھاں تک کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ آپ حضرات فرمائیں گے۔

آخر میں ان دوستوں اور احباب کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا جنھوں نے کتاب کی تصحیح، کمپوزنگ، اور پروف ریڈنگ وغیرہ میں ہر ممکن تعاون کیا ، خداوندعالم ہم سب سے اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے اور مزید توفیقات میں اضافہ فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔ والسلام

اقبال حیدر حیدری ۔

حوزہ علمیہ، قم، ایران

۱۸/ ذی الحجہ ۱۴۲۴ ھ

IHH۲۰۰۱@YAHOO.COM


توحید

خدا کی معرفت عقل و فطرت کی روشنی میں

( اٴَفِی اللهِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض ) ( ۱ )

”کیا تم کو خدا کے بارے میں شک ہے جوسارے آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے۔؟“

حضرت امام حسین علیہ السلام:

کیف یستدل علیک، بما هو فی وجوده مفتقر الیک، اٴیکون لغیرک من الظهور مالیس لک حتی یکون هو المظهر لک، متی غبت حتی تحتاج الی دلیل یدل علیک، ومتی بعدت حتی تکون الآثار هی التي توصل الیک ۔“

(بارالہٰا ! تیری معرفت کا ذریعہ وہ شی کیسے قرار دی جاسکتی ہے جس کا وجود خود تیرا محتاج ہے، کیا تیرے علاوہ بھی کوئی ایسی شی ہے جوبذات خود ظاہر ہو جب تک تو اس کا مظھر قرار نہ پائے؟ تو کب غائب تھا کہ ہمیں تیری راہنمائی کے لئے کسی راہنما کی ضرورت ہو؟ اور تو کب ہم سے دور تھا کہ ہم ان وسائل (آثار)کو تلاش کریں جو ہمیں تجھ تک پهونچائیں؟)

قدیم شاعر:

فواعجبا کیف یعصی الاله

ام کیف یجحده الجاحد

ولله فی کل تحریکة

وفی کل تسکینة شاهد

وفی کل شیء له آیة

تدل علی انه واحد

اس انسان پرتعجب ہے جو اپنے پروردگار کی (عمداً) معصیت کرتا ہے، بھلا خدا جیسی ذات کا کوئی انکار کرنے والا انکار کرسکتا ہے؟ !کیونکہ ذات پروردگار وہ ہستی ہے جس کی معرفت کے لئے ہر شی میں نشانی موجودھے جو خداوندعالم کے وحدہ لاشریک ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

مقدمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمدلله رب العالمین والصلوة والسلام علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین ۔

جب سے انسان نے اس فرش زمین پر لباس وجود زیب تن کرکے قدم رکھا ہے اسی وقت سے اس نے اپنی حیات کے خلق اور عنایت کرنے والے کے بارے میں غور و فکر کرنا شروع کردیا، لہٰذا واجب الوجود (خدا ) کے بارے میں لوگوں کی گفتگو صرف آج کی پیدوار نہیں بلکہ یہ گفتگو قدیم زمانہ سے چلی آرھی ہے، البتہ زمانہ قدیم کے لوگ اپنی خالص فطرت، محدود مدرک علمی اوراپنی کم صلاحیت کے اعتبار سے مورد بحث قرار دیتے تھے یعنی جتنی ان کے پاس بحث کرنے کے لئے مدارک اور محدود ذہنی سطح تھی اسی لحاظ سے بحث کیاکرتے تھے، لیکن آج جب زمانہ نے ترقی کی اور انسان وسیع الذہن ہوا تو اس (خدا) کے بارے میں گفتگو کا میدان بھی وسیع ہوا، یعنی جیسے جیسے عقل وشعورنے ترقی کی اور ذہن انسانی میں وسیع نشوونما ہوئی یھاں تک کہ اس فلسفی زمانہ میں عقل اپنے کمال تک پهونچی تو یہ واجب الوجود کے بارے میں بحث ومباحثہ بھی اسی بلندی کے ساتھ لوگوں میں رائج قرار پایا،جس میں جاھل اور منکرین خدا کے لئے کسی طرح کا کوئی اشکال واعتراض کرنے کا راستہ نہیں رہ جاتا۔

چنانچہ آج جبکہ علم اور سائنس کافی ترقی کررھا ہے بعض اسلام دشمن عناصر نے دین اسلام سے مقابلہ کی ٹھان لی ہے اور اسی سائنس وعلم کے ذریعہ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور مسلمانوں کے عقائد کو کمزور وضعیف کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں کہ یہ عقلی قاعدہ(کہ ہر مخلوق کے لئے ایک خالق اور ہر موجود کے لئے ایک موجِد کا ہونا ضروری ہے) درست نہیں ہے! بلکہ یہ کائنات خود بخوداور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئی ہے!!۔

خلاصہ یہ کہ اس سلسلہ میں انھوں نے بہت سے اعتراضات او رشبھات ایجاد کردئے اور بعض جھوٹی اور مظنون چیزوں کو مشهور کرکے ڈھول بجادیا کہ ”مادہ“ ازلی ہے !اور یہ ہمیشہ باقی رھے گا، چنانچہ ان لوگوں نے مسلمانوں کے نظریات میں شکوک وشبھات ڈالنے شروع کردئے لہٰذا وہ لوگ جن کے عقائد تقلیدی اور سنے سنائے اور بغیر دلیل کے تھے وہ ان اعتراضات وشبھات کے دریا میں بہنے لگے۔

اور چونکہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام کبھی بھی علم وعقل سے نہیں ٹکراتا، بلکہ اسلام تو علم وعقل پر قائم ہے، لہٰذا ہمارے لئے اس ماحول میں ”الوھیت“ (خدا کی معرفت) کی بحث اسی علم وسائنس کی روشنی میں بیان کرنا ضروری تھا جس طرح سائنس داں افراد نے اسی علم وسائنس کے ذریعہ اس سلسلہ میں تخریب کاری کی ہے، چنانچہ اس سائنس کے بعض نتائج کا خلاصہ یہ ہے کہ آج کے علم کی جدید ایجادات واکتشافات ہی ہیں جو خدا پر ہمارے ایمان کو زیادہ کردیتے ہیں،اور ہمارے لئے یہ علم ایسے ایسے استدلال وبرھان قائم کرتا ہے جن کا تذکرہ گذشتہ مولفین ومحققین کے یھاں نہیں ملتا، لہٰذا یھی سائنس (مکمل وضاحت کے ساتھ) ان لوگوں کے نظریہ کو باطل کردیتا ہے جو کہتے ہیں کہ مادہ ازلی ہے اور کائنات میں خلق وایجاد کے یہ اثرات اسی مادہ کے ہیں، یعنی ان لوگوں کے تمام نظریات باطل ہوجاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات خود بخود (اتفاقی طور پر) پیدا ہوگئی ہے۔

اور چونکہ ہماری یہ کتاب موضوع کے تمام اطراف وجوانب پر مشتمل ہے لہٰذا ہم نے مناسب سمجھا کہ اس میں فطرت سلیم، فلسفہ اور علم کلام کے دلائل کو اختصار کے طور پر بیان کر کے قرآن کریم سے تفصیل کے ساتھ برھان واستدلال نقل کریں کیونکہ قرآنی استدلال ہی بہترین استدلال ہیں، جن میں عقل وشعور اوراحساس سب کچھ پایا جاتا ہے ، اور پھر اس کے بعد سائنس کے ذریعہ خدا کے وجود پر دلیل وبرھان قائم کریں گے۔

بھرحال ہماری اس بحث کا مقصد یہ ہے کہ محترم قارئین اس سے استفادہ اور ہدایت حاصل کریں اور ہم بھی اجر وثواب کے مستحق قرارپائےں۔

و( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی هَدَانَا لِهَذَا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلاَاٴَنْ هَدَانَا اللهُ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُنَادِی لِلْإِیمَانِ اٴَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاٴَبْرَارِ ) ( ۳ )

”شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اس (منزل مقصود) تک پہنچادیا اور اگر خدا

ہمیں یھاں نہ پہچاتا تو ہم کسی طرح یھاں نہ پہنچ سکتے ۔

اے ہمارے پالنے والے (جب) ہم نے ایک آواز لگانے والے (پیغمبر) کو سنا کہ وہ ایمان کے لئے یوں پکارتا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے، پس اے ہمارے پالنے والے ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیوں کوہم سے دور کردے اورہمیں نیکو کاروں کے ساتھ (دنیا سے) اٹھالے۔“

والله ولی التوفیق ۔

شیخ محمد حسن آل یاسین کاظمین

، عراق۔


خالق ازلی کے وجود کی ضرورت

وجودخالق کائنات کے دلائل کی بحث ایک قدیم زمانہ سے چلی آرھی ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف طریقوں سے بحث ہوتی رھی ہے نیز دلائل وبرھان بھی بدلتے رھے ہیں۔

اور جب سے انسان نے شعور اور ترقی کی طرف قدم اٹھانا شروع کیا ہے اسی وقت سے اس کی دلی خواہش یہ رھی ہے کہ وہ ”ماوراء الغیب“ کی باتوں کا پتہ لگائے، کیونکہ اس کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مختلف اشیاء کے حقائق اور انتھا کا پتہ لگانے کے لئے بے چین ر ہے ، اوراس کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال اٹھتا رہتا ہے کہ وہ کھاں سے آیا؟ اور اس کی کیسے خلقت ہوئی؟ اوراسے آخر کھاں جانا ہے۔؟

چنانچہ اسی فطرت کے تحت اس نے کائنات کے بارے میں معلومات کرنا شروع کی اور اس سلسلہ میں غور وفکر سے نہیں گھبرایا اپنی استعداد کے مطابق اس نے ہر زمانہ میں اپنی کوشش جاری رکھی اور مبداء اول (وہ خداجو تمام چیزوں کو وجود بخشنے والا ہے )کے وجود کی بحث اوراس کائنات کے اسرار کی معلومات ایک مقدمہ رھی ہے جس کا سمجھنا مشکل کام رھا ہے اگرچہ انسان نے اپنی بھر پور کوشش صرف کردی ہے۔

اور جب انسان نے اشیاء کے حقائق سمجھ لئے تو اس نے سب سے پہلے وجود کو محدود اور بسیط پایا اس کے بعد اس نے مرور زمان کے ساتھ اپنی معرفت کے لحاظ سے اس دائرہ معرفت کو وسیع کیا چنانچہ اس نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق اس کائنات کے خالق کے وجود کے بارے میں اعتقاد پر دلیل قائم کی۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اس قدیم زمانہ میں انسان نے حیوانات، ستاروں اور دوسرے جمادات کی عبادت کی اور ان کو اپنا خدا تصور کیا، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یھی موت وحیات دیتے ہیں یھی خلق کرتے ہیں یھی رزق دیتے ہیں یھی عطا کرتے ہیں اور کسی چیز میں مانع ہوتے ہیں اور صرف ان کی عبادت یا ان کی تصدیق پر ہی اکتفاء نہ کی بلکہ یہ ان کے لئے قربانی کیا کرتے تھے اور ان سے قریب کرنے والے کاموں کو کیا کرتے تھے تاکہ ان تک خیر وبرکت پهونچے اور ان سے بلاء وشر دور رھے۔

چنا نچہ انسانوں کے ایک گروہ نے جب سورج کو دیکھا کہ وہ سب چیزوں کو حیات ورُشد عطا کرتا ہے اور اس کے بغیر کو ئی بھی چیز زندہ نہیں رہ سکتی لہٰذا اسی کو خدا مان بیٹھے۔

جب انھوں نے چاند کو رات کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے لوگوں کو نور دیتے ہوئے دیکھا تو اسی کو خدا مان لیا۔

جب انھوں نے ان ستاروں کود یکھا جو اپنی شعاعوںکی چمک دمک کو ایک دور درازمقام سے زمین کی طرف بھیجتے ہیں جو انسان کو سرگرداں اور حیران کردینے والی ہیں جو فکر انسان کو متحر ک کرکے مسدود کردیتی ہیں تو انسان یہ سمجھا کہ یھی نجوم خدا ہیں جن کی چمک دمک کائنات کو حیران وپریشان کئے ہوئے ہے۔

اورآخر میں جب انھوں نے بعض ان حیوانات کو دیکھا جن کے ذریعہ سے ان کے کھانے پینے یا پہننے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں یا ان میں عجیب وغریب چیزیں پائی جاتی ہیں یا ان کی قوت اور بھاری جسم کو دیکھا تو اس اعتقاد کے ساتھ کہ یھی خدا ہیں ان کی ہی عبادت شروع کردی۔!!

یہ باتیں صرف اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان اپنی فکر وعقل میں کمزور تھا جس طرح سے یہ بات بھی واضح ہے کہ انسان کی صحیح وسالم فطرت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے اس کائنات کو خلق کیا ہے۔

لیکن جب خداوندعالم نے آسمانی کتابیں اور انبیاء ومرسلین بھیجے تو انسان کو یہ معلوم ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ہی ہمارا ربّ ہے۔

( الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَی فِی خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعْ الْبَصَرَ هَلْ تَرَی مِنْ فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعْ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهو حَسِیرٌ ) ( ۴ )

”جس نے سات آسمان تلے اوپر بنا ڈالے ،کیاتجھے خدا کی آفرینش میں کوئی کسر نظر آتی ہے؟ تو پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے پھر دوبارہ آنکھ اٹھاکر دیکھ تو (ھر بار تیری) نظر ناکام او رتھک کر تیری طرف پلٹ آئے گی“

بے شک انسان اپنی فطرت کے ذریعہ ہی اپنے رب کو پہچان کر اس پر ایمان لاسکتا ہے، چنانچہ یھی فطرت انسانی (جس کو لا شعو رکہتے ہیں) انسان کو اس کائنات کے خالق کے وجود تک پهونچاتی ہے جس نے ان تمام موجودات کو خلق کیا اوران کو عدم سے وجود بخشا ، ہر چیز کے لئے ایک مخصوص نظام وقوانین وضع فرمائے تاکہ ان کے تحت وہ سب اپنے فرض کو پورا کرتی ہوئی اپنے اغراض ومقاصد تک پهونچ جائیں اور وہ نظام بھی ایسا ہو جو دقیق اور مرتب ہو جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ ہو۔

اور جیسا کہ فرانس کے بعض ماھرین نے وسطی افریقا، انڈومان نیکوبار جزائر نیز جزیرہ مابقہ اور فلپین کے بعض علاقوں میں پائی جانے والی قوم”اقزام“( ایک پستہ قد قوم جو بڑی بھادر ہوتی ہے) کی حیات کے بارے میںتحقیق کی تو اس نتیجہ تک پهونچے کہ یہ قوم ایک قدیم ترین طور وطریقہ اور ثقافت کی نشاندھی کرتی ہے جس کی بنا پر ہمیں بشر کے جنسی طور وطریقہ اور ثقافت کے بارے میں معلومات فراہم ہوتی ہیں اور ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم ابتداء میں مشرقی ایشیاء کے جنوبی ممالک کے تمام قوم وقبیلہ پر حاکم تھی۔

چنانچہ اس جماعت کے عقائد کے بارے میں تحقیق کرنے والے ماھر ”ینشمٹ“ وغیرہ نے کوئی ایسا اثر ونشانی نہیں پائی جس کی بنا پر یہ سمجھا جاسکے کہ یہ لوگ مادیات اور ارواح کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا سحر وجادو پر اعتقاد رکھنا یہ ناقص اور کم سے کم عقیدہ تھا،بلکہ مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ ایک موجود اسمی کی عبادت کرتے تھے جس کے بارے میں یہ کھا جاسکتا ہے کہ وہ سید عالم (خدا ) ہے۔

ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم ان قدیم قبیلوں اور ان کے عقائد کو دیکھیں لیکن یہ تاریخ ادیان خطرناک کشف ہے کیونکہ وہ (مستحکم اور قطعی دلائل کی بنیاد پر) فطرت انسان اور توحید (خدا) کے بارے میں ایک خاص رابطہ کا اقرار کرتے تھے۔( ۵ )

چنانچہ اسکاٹ لینڈ کے ایک دانشمند ”لانج“ کہتے ہیں:

”ھر انسان اپنے اندر ”علت“ کا نظریہ لئے ہوئے ہے اور اس کا اس کائنات کے بنانے والے خالق کا عقیدہ رکھنے کا نظریہ کافی ہے۔“( ۶ )

لہٰذا انسان نے اسی فطرت کے ذریعہ اس حقیقت کو سمجھا اورجب انسان کی یھی فطرت بسیط (غیر واضح) تھی تو اس کی دلیل بھی غیر واضح رھی اور جب فطرت انسانی واضح اور مکمل ہوگئی تو انسان کی دلیل بھی واضح اور مکمل ہوگئی، اس حیثیت سے کہ انسان اسی فطرت کے تحت اس بات کو مانتا رھا ہے کہ ہر اثر اپنے مو ثر پر دلالت کرتا ہے اور ہر موجود اپنے موجد (بنانے والے) پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اونٹ کے پیر کے نشان اونٹ کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح پیروں کے نشانات گذرنے والوں پر دلالت کرتے ہیں توپھر یہ زمین وآسمان کس طرح لطیف وخبیر (خدا) پر دلالت نہیں کرتے۔؟!!

قارئین کرام ! انسانی فطرت اور اس کی وجہ سے خدا پر ایمان رکھنے والی مثال کی طرح درج ذیل واقعہ بھی ہے:

”ہم ایک روز بغداد میں دینی مسائل کے بارے میں تقریرکررھے تھے کہ اچانک ایک دھریہ اس تقریر کے دوران آگیا اور اس نے خدا کے وجود کے لئے دلیل مانگی، چنانچہ صاحب مجلس نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے متکلمین کے پاس ایک شخص کو بھیجا لہٰذا وہ شخص ایک متکلم کے پاس گیا اور واقعہ کی تفصیل بیان کی چنانچہ اس متکلم نے اس شخص سے کھا کہ تم چلو میں آتا ہوں۔

ادھر سب لوگ اس کے منتظر تھے لیکن جب بہت دیر ہوگئی اور لوگ اٹھنا ہی چاہتے تھے تو وہ متکلم بڑبڑاتے ہوئے مجلس میں وارد ہوا، اور صاحب مجلس سے اپنی تاخیر کی عذر خواھی کی اور کھا کہ میں نے خواہ مخواہ دیر نہیں کی بلکہ میں راستے میں ایک عجیب وغریب واقعہ دیکھ کر مبهوت رہ گیا اور مجھے وقت کا احساس نہ ہوا اور جب کافی دیر کے بعد مجھے احساس ہوا تو میں دوڑتا ہوا چلا آیا۔

اور جب اس سے اس تعجب خیز واقعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کھا:

”جب میں آتے وقت دجلہ کے ساحل پر پهونچا تو میں نے ایک بہت بڑے درخت کو دیکھا کہ وہ دجلہ کی طرف جھکا اور خود بخود اس کے برابر تختے کٹتے چلے گئے او رپھروہ تختے آپس میں مل گئے یھاں تک وہ ایک بہترین کشتی بن گئی اور ساحل پر آکر رگ گئی اور میں اس کشتی میں سوار ہوگیا اور وہ بغیر چلانے والے کے چل پڑی یھاں تک کہ اس نے مجھے دریا کے اس طرف چھوڑدیا او رپھر دوسرے لوگ اس میں سوار ہوئے تو ان کو اُس طرف لے جاکر چھوڑ دیا اور وہ اسی طرح چلتی رھی، میں کھڑا اس منظر کو دیکھتا رھا، اوریھی میری تاخیر کا سبب ہے“

ابھی ان صاحب کی گفتگو تمام ہی ہوئی تھی کہ اس دھریہ نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اس کا مذاق بناتے ہوئے کھا:

”واقعاً مجھے اپنے اوپر افسوس ہورھا ہے کہ میں نے اس شخص کے انتظار میں اپنا اتنا وقت برباد کیا! میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ بے وقوف اور احمق شخص نہیں دیکھا ! کیا کسی انسان کی عقل اس بات کو قبول کرسکتی ہے کہ کوئی درخت خود بخود کٹے،اس کے تختے بنیں اور وہ آپس میں جڑےں اور کشتی بن جائے او ر پھر وہ کشتی خود بخود چل پڑے اور مسافروں کو ادھر سے ادھر پهونچائے؟!!

یہ سن کر وہ متکلم بول اٹھے:

”جب اس چھوٹی سی کشتی کا بغیر بنانے والے کے بن جانا عقلی طور پر ناممکن ہے اور بہت ہی تعجب او ربے وقوفی کی بات ہے، تو پھر یہ زمین وآسمان، چاند وسورج او راس کائنات کی دوسری چیزیں خود بخود کس طرح بن سکتی ہیں؟!! او راب بتا کہ میری باتیں تعجب خیز ہیں یا تیری؟۔

یہ سن کر وہ دھریہ خاموش ہوگیا ، اس کا سر جھک گیا اور اس کے سامنے اپنے غافل ہونے کے اقرار کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہ پڑا۔

اس طرح فطرت انسان دلیلِ اعتقاد بن سکتی ہے اور یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان آسان طریقہ سے فلسفی دلیل وبرھان اور اس کی اصطلاحات کے دلدل میں پھنسے بغیر وجود خالق پر دلیل قائم کرسکتا ہے ۔

وجود خدا پر عقلی اور فلسفی دلائل

قارئین کرام ! فلسفہ کی دلیل وبرھان کے مختلف طریقے ہیں چنانچہ فلاسفہ حضرات نے وجود خدا کے بارے میں منطقی اور عقلی برھان قائم کئے ہیں جو خداوندعالم کے وجود پر ایمان کو پختہ اور شبھات واعتراضات کا خاتمہ کردیتے ہیں۔

چنانچہ فلاسفہ حضرات کی سب سے واضح دلیل یہ ہے:

”اگر کوئی موجود ”واجب الوجود“ ہو تو ہمارا مقصود ثابت ہوجاتا ہے اور اگر وہ وجود واجب الوجود نہ ہوتو پھر” دور“ " Viciouscircle " یا” تسلسل“" Infinitc Regress " لازم آئے گا جو عقلی طور پر محال ہے۔

توضیح :

جو چیز ہمارے سامنے موجود ہے اگر وہ ”واجب الوجود“ ہے توہمارا مقصود ثابت ہے اور اگر ممکن الوجود ہو تو اس کے لئے کوئی ایسی مو ثر شئے کا ہونا ضروری ہے جو اس کو وجود عطا کرے اور اگروہ مو ثر شے واجب الوجود ہو تو ہمارا مقصود ثابت ہے اور اگر وہ مو ثر شے ممکن الوجود ہو تو وہ بھی ایک ایسے مو ثر کی محتاج ہوگی جو اس کو وجود عطا کرے، اور اگر وہ مو ثر شے واجب الوجود ہوگی تو ہمارا مقصود ثابت، اور اگر وہ بھی ممکن الوجود ہو تو پھر اس طرح تسلسل لازم آتا ہے جو عقلی طور پر باطل ہے۔

مزید وضاحت :

جو چیز ہمارے سامنے موجود ہے اس کے وجود میں کسی کو بھی شک نہیں ہوتا او راگر یہ وجود اپنی ذات کے لئے واجب ہو (یعنی اس کا وجود ذاتی ہو جس طرح آگ کے لئے حرارت) توہمارا مقصود ثابت ہے (یعنی وھی خدا ہے) اور اگرو ہ چیز اپنی ذات میں ممکن ہو، تو پھر یہ چیز اپنے وجود میں کسی مو ثر کی محتاج ہے اور اگر وہ مو ثر اپنی ذات میں واجب ہے تو بھی ہمارا مقصود ثابت ہے او راگر وہ بھی اپنے وجود میں کسی مو ثر کی محتاج ہو او روہ غیر خود اپنے نفس کے لئے مو ثر ہو تو اس صورت میں ”دور“ لازم آتا ہے جو محال ہے کیونکہ اس وقت ہر ایک بذات خود دوسرے پر موقوف ہوگی ،جبکہ مو ثر کا اثر پر مقدم ہونا لازم ہے۔

اور اگر وہ مو ثر کوئی دوسری چیز ہو تو پھر درج ذیل حالات سے خالی نھیں:

۱ ۔ وہ چیز ایسے وجود پر جاکر رکے جو اپنی ذات میں واجب ہو۔

۲ ۔ اس سلسلہ کی کوئی انتھا نہ ہو۔

اگر پہلی صورت ہو تو ہمارا مقصود ثابت ہے جبکہ دوسری صورت باطل ہے کیونکہ ہر ممکن شے کے لئے ایک مو ثر کا ہونا ضروری ہے اور یہ مو ثر تین حال سے خالی نہیں ہے:

۱ ۔ کوئی چیز بذات خود اپنے لئے مو ثر ہو۔

۲ ۔اس میںکوئی اندرونی شے مو ثر ہو۔

۳ ۔ کوئی بیرونی شے اس میں مو ثر ہو۔

پہلی صورت ناممکن او رمحال ہے کیونکہ مو ثر کا اثر سے پہلے ہونا ضروری ہے کیونکہ کسی چیز کا اپنے نفس پر مقدم ہونا عقلی لحاظ سے ممنوع ہے۔

دوسری صورت بھی محال ہے کیونکہ کسی چیز کا مو ثر ہونا اس کے ہر جز میں مو ثر ہونا چاہئے اور اگر اس کا کوئی جز مو ثر ہو تو پھر خود اپنے نفس میں مو ثر ہونا لازم آتا ہے او راپنے اثر میں بھی مو ثر کا ہونا لازم آتا ہے اور یہ دونوں محال ہیں پہلی صورت اس لئے محال ہے کہ ”تقدم الشی علی نفسہ“ (کسی چیز کا اپنے اوپر مقدم ہونا) لازم آتا ہے اور دوسری صورت اس لئے محال ہے کہ ”دور“ لازم آتا ہے اور دور بھی محال وباطل ہے۔

اور جب پہلی دوصورت باطل ہیں تو پھر تیسری صورت صحیح ہے یعنی ہر چیز میں کسی بیرونی شے کا مو ثر ہونا، او راگر وہ بیرونی شے ممکنات میں سے ہے ،تو وہ اپنی ذات کے لئے ممکن نہیں بن سکتی ،کیونکہ اگر ایسا ہو(یعنی اپنی ذات کے لئے ممکن ہو) تو پھر وہ شی اس میں داخل ہے، بلکہ اس چیز کا بیرونی ہونا ضروری ہے اور یھی ہماری بات کو ثابت کردتیا ہے۔

مذکورہ دلیل کا خلاصہ :

”بے شک اس کائنات کا پیدا کرنے والا کوئی نہ کوئی ہے کیونکہ کسی چیز کا خود بخود عدم سے وجود میں آنا ممکن نہیں ہے تو پھر اس پیدا کرنے والے کا وجود بھی ضروری ہے کیونکہ یہ بات بھی مسلم ہے کہ کسی امر عدمی کے ذریعہ کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی، تو پھر یہ پیدا کرنے والا یا تو واجب الوجود ہے یا واجب الوجود نہیں ہے۔

اور اگر واجب الوجود ہو تو ہمارا مقصد ثابت ہوجاتا ہے (کہ یھی واجب الوجود ذات خدا ہے)

اور اگر واجب الوجود نہیں ہے تو اس کے لئے ایک مو ثر کی ضرورت ہے جو اس کو وجود عطا کرے اور اگر یہ مو ثر اور سبب واجب الوجود ہو تو بھی ہمارا مقصود ثابت ہے اور اگر واجب الوجود نہ ہو پھر اس کے لئے بھی ایک مو ثر کی ضرورت ہے ، اسی طرح ہم آگے بڑھتے رھیں گے یھاں تک کہ وجود خالق اور واجب الوجود جو اس کائنات کا خالق ہے اس تک پهونچ جائیں ورنہ تو درج ذیل دو چیزوں میں سے ایک چیز لازم آئے گی (جو محال ہے):

۱ ۔ ”تسلسل“ تسلسل کے معنی یہ ہیں کہ ہر موجود اپنے موجد (بنانے والے) پر موقوف ہو او رپھر یہ موجود دوسرے مو جود پر موقوف ہوگا او رپھر وہ دوسرے پر ، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رھے اور عقلِ انسانی نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ جس سلسلہ کی کوئی انتھا نہ ہو وہ باطل ہے کیونکہ انسان اس سے کسی نتیجہ پرنھیں پہنچ سکتا۔

۲ ۔ ”دَور“ دور کے معنی یہ ہیں کہ موجدِ مو ثر نے ایسی چیز کو خلق کیا جس کو اثر کھا جاتا ہے او رخود اس اثرنے اس موجدِ مو ثر کو خلق کیا اور یہ واضح البطلان ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے پر موقوف ہیں۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا جب تسلسل او ردور دونوں باطل ہیں تو پھر ضروری ہے کہ ہم ایسے پیدا کرنے والے موجد کا اقرار کریں جس کا وجود اپنی ذات کے لئے واجب ہے (یعنی جو واجب الوجود ہے) اور وھی خدا کی ذات ہے۔

متکلمین کا استدلال

قارئین کرام ! خداوندعالم کے وجود کے سلسلے میں متکلمین حضرات نے ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا ہے جس میں صرف عقلی طریقہ پر اعتماد کیا گیا ہے جس میں کسی طرح کی آیات وروایات اور تقلید سے کام نہیں لیا گیا چنانچہ ان کے دلائل میں سے بعض دلائل اس طرح ہیں، ان کا کہنا ہے:

”تمام اجسام (بدن) حادث ہیں اور ان کے حدوث کی دلیل یہ ہے کہ ان میں تجدّد (تبدیلی اور نیا پن) ہوتارہتا ہے (یعنی تمام چیزیں ہمیشہ ایک سی نہیں رہتیں بلکہ بدلتی رہتی ہیں) اور جب یہ چیزیں تجدد سے خالی نہیں ہیں تو پھر ان کا محدث ہونا ضروری ہے اور جب ان کا حادث ہونا ثابت ہوگیا ہے تو پھر اپنے افعال کے بارے میں قیاس کرسکتے ہیں کہ ان کا بھی حادث کرنے والا ہے، مثلاً:

”یہ جھان محدث ہے، پہلے نہیں تھا بعد میں وجود میں آیا، کیونکہ کائنات کی ان تمام چیزوں میں خلقت کے آثار پائے جاتے ہیں بعض چیزیں چھوٹی ہیں بعض بڑی، کسی میں زیادتی ہے کسی میں کمی، اور ان سب کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں جیسا کہ رات دن سے بدل جاتی ہے، لہٰذا خداوندعالم ہی ان تمام چیزوں کا خالق ہے کیونکہ ہر چیز کے لئے ایک بنانے والے کا ہونا ضروری ہے اور ہر کتاب کے لئے لکھنے والے کا نیز مکان بنانے کے لئے ایک معمار کا ہونا ضروری ہے“

مذکورہ استدلال کا خلاصہ :

یہ عالم؛ جس میں جمادات، نباتات اور دیگر موجودات شامل ہیں، یہ حادث ہے یعنی پہلے نہیں تھا بعد میں موجود ہوا جیسا کہ ان تمام میں واضح طور پر آثار وجود پائے جاتے ہیں کہ ان چیزوں میں کمی وزیادتی طول وقصر موجود ہے اور ایک حال سے دوسرے حال میں بدلتے رہتے ہیں یا اسی طرح کے دوسرے آثار جن سے ان کے حادث ہونے کا پتہ چلتا ہے کہ یہ چیزیں عدم سے وجود میں آئی ہیں۔

اور جب اس کائنات کی تمام چیزوں میں تغییر وتبدیلی پائی جاتی ہے اور ہمارے افعال وحرکات کے ذریعہ ان چیزوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے اس طرح ہمارے افعال بھی خود بخود نہیں ہوتے بلکہ ہم ہیں جو ان کو انجام دیتے ہیں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کھانا پینا، حرکت کرنا، لکھنا، پڑھنا اور ہمارے روز مرّہ کے امور انجام دینے والے کا ہونا ضروری ہے تو اس کائنات کا خلق کرنے والے کا بھی ہونا ضروری ہے اور وہ خداوندعالم کی ذات اقدس ہے جس طرح ہر چیز کے لئے بنانے والے ،کتاب کے لکھنے کے لئے کاتب اور مکان کے بنانے کے لئے معمار کا ہونا ضروری ہے۔

قرآن کریم سے استدلال

ہم اس وقت قرآن کریم کی ان آیات کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ اس حقیقت کی واضح طور پر برھان ودلیل قائم کی گئی ہیں۔

قارئین کرام ! قرآن کریم وجود خالق پر مختلف طریقوں سے بہت سی دلیلیں اور برھان بیان کرتا ہے اور اس سلسلہ میں بہت زیادہ اہتمام کیا ہے جبکہ دوسری آسمانی کتابوں میں اس قدر اہتمام نھیںکیا گیا ہے بلکہ جس قدر قرآن کریم نے وجود خدا پر دلائل وشواہد پیش کئے ہیں کسی بھی(آسمانی) کتاب میں نہیں ہیں، قرآن کریم میں سوئی ہوئی عقلوں کو مکمل طور پر بیدار کردیا گیا ہے۔

شاید یھی سبب ہو کہ توریت میں ملحدین اور خدا کے بارے میں شک کرنے والوں کو قانع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا کیونکہ توریت میں ان لوگوںکو مخاطب کیا گیا ہے جو اسرائیل کے خدا پر ایمان رکھتے تھے، اور اس کے وجود میں ذرا بھی شک نہیں کرتے تھے بلکہ توریت میں خدا کے غضب سے ڈرایا ہے او رغیر خدا پر ایمان لانے والوں کی عاقبت سے باخبرکیا گیا ہے اور اگر ان کو اپنے واجبات میں غفلت کرتے دیکھا گیا تو ان کو خدا کے وعدہ اوروعید کی یاد دھانی کرائی گئی ہے۔

اسی طرح انجیل (جبکہ بعض تواریخ میں کئی انجیل بتائی گئی ہیں) اور مذھب اسرائیل میں وجود خدا کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ سب سے بڑا اختلاف یہ تھا کہ اس قوم کے سردار نفاق کے شکار ہوگئے تھے اور انھوں نے دین کا مذاق بنا رکھا تھا اور مال ودولت ا ورجاہ وحشم کے پیچھے پڑے ہوئے تھے (چنانچہ انجیل میں ان سب چیزوں کے بارے میں توجہ دلائی گئی ہے)

اور جب اسلام کا ظهور ہوا، او رقرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت لوگوں میں وجود خدا کے بار ے میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا تھا اس دور میں ملحد( دھریہ)مشرک اور توریت وانجیل کے ماننے والے پائے جاتے تھے او ران سب کا خدا اور اس کے طریقہ عبادت میں اپنا الگ الگ نظریہ تھا لہٰذا قرآن کریم کے لئے اس سلسلے میں خاص اہتمام کرناضروری تھا کیونکہ اس دور میں سبھی لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا تھی اور ان کو قانع کرنا اور راہ راست کی طرف ہدایت کرنامنظور تھا۔

اور چونکہ اسلام خاتم الادیان اور قرآن کریم خاتم الکتب ہے، اور اس دین اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قیامت تک کے لوگوں کے لئے اعتقادی اور دنیاوی پھلوؤں کو بیان کیا گیا ہے لہٰذا قرآن کریم میں ان تمام پھلوو ں پر توجہ بہت ضروری تھی، لہٰذا قرآن کریم میں وجودِ خداوندعالم پر دلائل بیان کئے ہیں اور ملحدین ومشککین اور جاھلوں کو اس کائنات کے خالق اور ان عظیم آثار کی طرف توجہ دلائی جو خداوندعالم کے وجود او رکمال پر دلالت کرتے تھے ،لہٰذا اس سلسلہ میں موجود ہر طرح کے شبھات واعتراضات کا سدّ باب کردیاگیا۔

چنانچہ قرآن مجید کی درج ذیل آیات نے ان موضوعات کی طرف عقل انسانی کو بہت ہی نرم انداز میں متوجہ کیا او راس کو اصلی ہدف ومقصد کی راہنمائی کی اورنرم لہجہ میں راہ مستقیم کی ہدایت کی اور انسان کے سامنے خلقت کے آثار وشواہد کو مکمل طور پر واضح کردیا اور کائنات کے دقیق حقائق پر حکمت کے ذریعہ متوجہ کیا اور انسان میں اٹھتے ہوئے طوفان کویقین وقناعت کے ساحل پر لگادیا۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:( إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِیهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونْ ) ( ۷ )

”بے شک آسمان وزمین کی پیدائش اور رات دن کے ردّ وبدل میں اور کشتیوں (جھازوں) میں جو لوگوں کے نفع کی چیزیں (مال تجارت وغیرہ) دریا میں لے کر چلتے ہیں اور پانی میں جو خدا نے آسمان سے برسایا ہے پھر اس سے زمین کو مردہ (بے کار) ہونے کے بعد جلا دیا (شاداب کردیا) اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئے اور ہواؤں کے چلانے میں اور ابر میں جو آسمان وزمین کے درمیان (خدا کے حکم سے) گھرا رہتا ہے (ان سب باتو ں میں) عقل والو ں کے لئے (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں۔“

( إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَآیَاتٍ لِاٴُولِی الْاٴَلْبَابِ ) ( ۸ )

”اس میں تو شک ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے پھیر بدل میں عقلمندوں کے لئے (قدرت خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں“

قارئین کرام ! درج ذیل تمام قرآنی آیات خداوندعالم کے وجود پر دلالت کرتی ہیں بشرطیکہ خلقت انسان او ردیگر مخلوقات کی پیچیدگیوں اور دوسرے امور میں توجہ کی جائے کیونکہ یہ تمام مخلوق بغیر کسی قادر کی قدرت اور بغیر کسی خالق کے ارادہ کے وجود میں نہیں آسکتی۔

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( اٴَفَرَاٴیْتُمْ مَا تُمْنُوْنَ اٴَ اٴَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهُ اٴَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ ) ( ۹ )

”جس نطفہ کو تم (عورتوں کے ) رحم میں ڈالتے ہو کیا تم نے دیکھ بھال لیا ہے؟ کیا تم اس سے آدمی بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟“

( فَلْیَنْظُرِ الاٴنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ) ( ۱۰ )

”تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا ہوا ہے؟ اچھلتے ہوئے پانی (منی) سے پیدا ہوا جو پشت اور سینے کی ہڈیوں کے بیچ سے نکلتا ہے۔“

( اٴَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اٴَمْ هُمُ الْخَالِقُوْنَ ) ( ۱۱ )

”کیا یہ لوگ کسی کے (پیدا کئے ) بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا یھی لوگ (مخلوقات کے) پیدا کرنے والے ہیں؟“

( وَمِنْ آیَاتِه اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اٴَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ ) ( ۱۲ )

”اور اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ،پھر یکایک تم آدمی بن کر (زمین پر) چلنے پھرنے لگے“

( وَاللّٰهُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمِّهَاتِکُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ شَیئًا وَجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالاٴبْصَارَ وَالاٴَفْئِدَةَ ) ( ۱۳ )

”اور خدا ہی نے تمھیں تمھاری ماو ں کے پیٹ سے نکالا (جب) تم بالکل نا سمجھ تھے او رتم کو کان دئے آنکھیں (عطا کیں) اور دل عنایت کئے“

تو کیا انسان کی یہ عجیب وغریب خلقت اور دوسرے شواہد خداوندعالم کے وجود پر دلالت نہیں کرتے ؟!!

سائنس کے نظریات

جیسا کہ آج کا سائنس کہتا ہے :

”انسان کا اصل وجود ایک خَلیہ " Cell "(جسم کا مختصر ترین حصہ)سے ہوا ہے او ریھی ایک خلیہ" Cell " ہر مخلوق کی بنیاد ہے اورھر خلیہ ایک باریک پردہ میںلپٹا ہوا ہوتا ہے (جو غیر جاندار ہوتا ہے) اور یھی پردہ، خلیہ کی شکل وصورت کو محدود کرتا ہے، پھر اس پردہ کے اندر سے خلیہ کا احاطہ کرلیتا ہے ایک اور جاندار پردہ، جو نھایت صاف و شفاف اور رقیق ہوتا ہے اور یھی وہ پردہ ہے جو خلیہ میں دوسرے جزئیات کو داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے اور بعض جزئیات کو اس سے خارج ہونے کا حکم دیتا ہے۔

اس کے بعد اس میں مختلف قسم کے لاکھوں کیمیاوی " Chemistry " (کیمسٹری) اجزاء پائے جاتے ہیں لیکن یہ اجزاء بہت ہی محدود ہوتے ہیں ، چنانچہ ان میں سے بعض تو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ صرف دوذرّوں والے ہوتے ہیں (جیسے کھانے کا نمک) اور بعض تین ذرووں والے ہوتے ہیں (جیسے پانی کے اجزاء) اور بعض چار، پانچ، دس، سو اور ہزار اجزاء والے ہوتے ہیں جبکہ بعض لاکھوں ذرات سے تشکیل پاتے ہیں (جیسے پروٹن " Proten " اور وراثتی " Geneticcs "اجزاء)

اسی طرح ہزاروں قسم کے اجزاء کا سلسلہ جاری رہتا ہے جن میں سے انسانی حیات کے لئے بعض قسم کے اجزاء پیدا ہوتے ہیں اور بعض ختم ہوجاتے ہیں اور یہ سب ایک دقیق کیمیاوی مشین کے ذریعہ فعالیت جاری رکھتے ہیں جن کے سامنے انسانی فکردنگ رہ جاتی ہے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہم اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ پروٹن کا ایک چھوٹا سا جز بھی بنالیں،جبکہ خود خلیہ کے اندر چندسیکنڈ کے اندر بن جاتا ہے۔

اور صرف پروٹن ہی نہیں ہیں بلکہ کیمیاوی مختلف عملیات ہیں جو بہت زیادہ دقیق ، نظام دقیق خلیہ اور اس کی ہیئت کے قانون کے زیر نظر جاری ہوتی ہے ، اور اسی کو خلیہ کا کیمیاوی ادارہ کھا جاتا ہے۔

اسی خلیہ اوراس پر حاکم ادارہ کے اندر بہت سے اہم امور تشکیل پاتے ہیں۔ چنانچہ اس خلیہ میں دو جزء پائے جاتے ہیںجو دونوں اس کی زندگی میں بہت قیمتی جزء ہوتے ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں:

پہلا : حامض ہے، جس کو ”حامض ڈی اوکسی ریبو نیوکلیک“ " Deoxy Ribonuclec acid "کھا جاتا ہے جس کا مخفف " h.d,n "هوتا ہے۔

دوسرا: حامض اس کو ”حامض ریبو نیو کلیک “ " Ribonuclec Acid "کھا جاتا ہے اوراس کا مخفف ”ح۔ر۔ن“ " h.r.n "هوتا ہے۔

لیکن ”ح۔ ڈ ۔ ن“ ، ” ح۔ر۔ن“سے بہت زیادہ شباہت رکھتا ہے صرف تھوڑا سا فرق ہے لیکن یہ کیمیاوی فرق ہی عالم خلیہ " Cells "میں اصل ہے مثلاً وراثتی " Geneticcs " اجزاء میں ”ح۔ ڈ ۔ ن“ھی اصل ہے اور ”ح۔ر۔ن“کا درجہ اس سے کم ہے۔

لہٰذا خلیہ کی زندگی اسی طریقہ ”ح۔ ڈ ۔ ن“ھی کی وجہ سے یہ اجزاء بڑھتے ہیں اور ان ہی کی وجہ سے اصل کے مطابق شکل وصورت بنتی ہے چنانچہ اس کے تحت کروڑوں سال سے انسان کی شکل وصورت اسی طریقہ پر ہوتی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اسی طریقہ سے گدھا اور مینڈھک میں بھی ہیں کہ وہ اسی طرح کی شکل وصورت رکھتے ہیں اورا نہیں اپنے اپنے خلیوں کی بنا پر انسان بنتا ہے ، گدھا اور مینڈھک بنتا ہے او رھر مخلوق کی تمام صفات انھیں ”ح۔ ڈ ۔ ن“کی بنا پر بنتی ہیں۔

اور یھی ”ح۔ ڈ ۔ ن“ ”ح۔ ر۔ ن“کو دوسرے اجزاء کے بنانے کے لئے معین کرتے ہیں تاکہ چھوٹے چھوٹے وہ اجزاء جن پر فعالیت کرنا اس ”ح۔ ڈ ۔ ن“کی شایان شان نہیں ہے ان ”ح۔ر۔ن“ فعالیت انجام دیں اور یہ ”ح۔ ر ۔ ن“چھوٹے چھوٹے اجزاء پر حکومت کرتے ہیں یھاں تک کہ ان اجزاء کی تعداد اس قدر زیادہ ہوجاتی ہیں جو معمہ کی شکل بن جاتی ہے۔

چنانچہ اس ایک خلیہ" Cell " کی ترکیب وترتیب سے انسان بنتا ہے اور انھیں سے انسان کے تمام اعضاء وجوارح بنتے ہیں اس کی وجہ سے بعض انسان پستہ قد اور بعض دیگر لوگ بلند قد ہوتے ہیں بعض کالے اور بعض گورے ہوتے ہیں، در حقیقت انسان کی حیات اسی خلیہ کی بنا پر ہوتی ہے،جبکہ آج کا سائنس اس ترکیب کو کشف کرسکتا ہے اس کی حرکت کا مقایسہ کرسکتا ہے اور اس کے مادہ کی تحلیل اور طریقہ تقسیم کو معلوم کرسکتا ہے لیکن اس میں چھپے حیاتی اسرار کو جاننے والے ماھرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ کام صرف اور صرف خداوندعالم کی ذات کا ہے۔

چنانچہ شکم مادر میں جو بچہ ہوتا ہے کس طرح اپنی غذا حاصل کرتا ہے، کس طرح سانس لیتا ہے اور کس طرح اپنی حاجت کو پورا کرتا ہے ،کس طرح اپنے اندر موجود اضافی چیزوں کو باھر نکالتا ہے اور کس طرح اپنی ماں کے شکم سے جڑا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ غذا حاصل کرکے اپنی آخری منزل تک پهونچتا ہے، کیونکہ بچہ کی غذا اس تک پهونچنے سے پہلے کس طرح تیار ہوتی ہے اور اس تک پهونچتی ہے یا جو غذا اس کے لئے باعث اذیت ہوتی ہے کون سی چیز اس تک پهونچنے میں مانع ہوتی ہے؟!

اور جب حمل (بچہ) اپنی آخری منزل پر پهونچ جاتا ہے تو پھر وہ کثیر غدد (رحم مادر)سے جدا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ غدد مختلف اغراض کے لئے ہوتے ہیں ان میں سے بعض تو وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے رحم کھلتا او ربند ہوتا ہے ان میں ہی سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بچہ پیر پھیلاسکتا ہے اور انھیں میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بچہ کی پیدائش طبیعی طور پر ہونے میں مدد ملتی ہے۔

اور چونکہ پستان بھی ایک غدہ ہے اور جب حمل پورا ہوجاتا ہے تو پھر اس میں دودھ پیدا ہوجاتا ہے جو ھلکے زرد رنگ کا ہوتا ہے اور واقعاً یہ عجیب چیز ہے کہ یہ دودھ ایسے کیمیاوی اجزا سے بنتا ہے جو بچے کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن یہ ولادت کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اور واقعاً نظام قدرت کس قدر عظیم ہے کہ پستان مادر میں ہر روز اس دودھ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس دودھ کے اجزاء میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے کیونکہ شروع میں یہ پانی کی طرح ہوتا ہے جس میں اجزاء رشد اور شکر کم ہوتی ہے لیکن (بچہ کی ضرورت کے تحت) اس میں اجزاء رشد ونمو ، شکر اور چربی بڑھتی رہتی ہے۔

اور جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تواس کے منھ میں دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت بچہ کچھ کھانا کھاسکتا ہے چنانچہ انھیں دانتوں کو خدا کی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ بھی مختلف طریقہ کے ہوتے ہیں کچھ کھانا کاٹنے کے لئے ہوتے ہیں تو کچھ چبانے کے لئے اور ان میں چھوٹے بڑے بھی ہوتے ہیں تاکہ کھانے کو اچھی طرح چبایا جاسکے، اگرچہ بعض ماھرین نے انسان کے مصنوعی دانت بنالئے ہیں یا دانتوں میں تبدیلی کے طریقے بنالئے ہیں لیکن وہ بھی خدا کی قدرت کا اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان کے اصلی دانت ہی طبیعی نظام کو مکمل کرسکتے ہیں اگرچہ انھوں نے طبیعی دانتوں کی طرح مصنوعی دانت بنالئے ہیں ۔

اسی طرح جب بچہ کا دودھ چھڑایا جاتا ہے اور وہ کھانا کھانا شروع کردیتا ہے تو خداوندعالم کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہونے لگتی ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر کتنی عجیب خلقت ہے جو انسان کی زندگی کو محفوظ کرتی ہے، مثلاً انسان کے منھ میں تین راستہ ہوتے ہیں ایک ناک والا، ایک سانس والا اور ایک حلق والا راستہ ہوتا ہے۔

چنانچہ آج کا علم طب کہتا ہے کہ اگرکچھ گرد وغبار سانس والے راستہ سے جانا چاھے تو وہ خود بخود رک جاتا ہے اس طرح سانس والے راستہ سے غذا بھی نہیں جاسکتی جبکہ یہ سب راستے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر غبار کا ایک ذرہ بھی (کھانے پینے کی چیزیں تو دور کی بات ہے) سانس والی نالی میں پهونچ جائے تو انسان فوراً مر جائے گا اور اس کام کے لئے ”چھوٹی زبان“ کا کردار عجیب وغریب ہے جو کھانے کے راستہ سے صرف غذائی چیزوں ہی کو جانے دیتی ہے اور اس زبان کی خلقت کتنی عجیب ہے کہ دن میں سیکڑوں مرتبہ انسان کھاتاپیتا ہے لیکن کبھی بھی یہ زبان غلطی نہیں کرتی بلکہ غذا کو اپنے مخصوص راستہ ہی سے اندرجانے دیتی ہے۔

اس کے بعد اس غذا کے ھاضمہ کی بات آتی ہے تو واقعاً کتنے منظم اور دقیق لحاظ سے یہ کھانا ہضم ہوتا ہے کیونکہ ایک خاص مشین کی دقیق فعالیت کے ذریعہ کھانا ہضم ہوتا ہے جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اس بہترین نظام کو خلق کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔

کیونکہ انسان دن بھر مختلف چیزیں کھاتا ہے چاھے وہ بہنے والی ہوں یا منجمد (جمی ہوئی)، سخت ہوں یا نرم، ھلکی ہو ں یا بھاری، کڑوی وتیز ہوں یا میٹھی، ٹھنڈی ہوں یا گرم یہ سب کی سب صرف ایک ہی چیز اور ایک ہی طریقہ سے ہضم ہوتی ہیں کیونکہ اس غذا پر ایک ترش (کڑوے) قسم کے غدہ سے کچھ رس نکلتا ہے جو اس غذا کو ہضم کرتا ہے او راگر یہ رس ذرا بھی کم ہوجائے تو غذا ہضم نہیں ہوگی اور اگر تھوڑا بھی زیادہ ہوجائے تو انسان کا جسم جلنے لگے او رپورے بدن میں سوزش ہونے لگے۔

اور جس وقت غذا منھ میں رکھی جاتی ہے تو ھاضمہ سسٹم کا پہلا کام شروع ہوجاتا ہے کیونکہ یہ غذا لعاب دہن سے مخلوط ہوتی ہے اور لعاب لعابی غدود سے نکلتا ہے جو کھانے کوہضم کرنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جس طرح یہ لعاب کڑوی ، تیز اور تکلیف دہ چیزوں کے اثر کو ختم کرنے میں اصلی عامل ہے، اور اسی کی وجہ سے کھانے کے درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ہے اور ٹھنڈی چیزوں کی ٹھنڈک کو کم کیا جاتا ہے چاھے وہ برف ہی کیوں نہ ہو،بھرحال جب یہ غذا دہن میں اپنے لعاب کے ذریعہ خوب چباکر مھین کرلی جاتی ہے تووہ پھر وہ آہستہ آہستہ حلق تک پهونچتی ہے اس کے بعد آنتوں کے ذریعہ معدہ تک پهونچتی ہے، اور یہ معدہ ”کلور وڈریک حامض“ جدا کرتا ہے، کیونکہ یہ کلور معدہ سے خاص نسبت رکھتا ہے اور اس کی نسبت ہزار میں چار یا پانچ ہوتی ہے، اور اگر اس حامض کلورکی نسبت زیادہ ہوجائے تو پھر پورا نظام معدہ جل اٹھے گا،چنانچہ یھی کلور حامض مختلف اجزا میں جدا ہونے کے بعد کھانے کو اچھے طریقہ سے ہضم کردیتا ہے، لہٰذا یہ آنتوں کا عصارہ اور عصارہ زردنیز ”بنکریاس“ وغیرہ یہ تمام عصارات اس غذا سے ملائمت رکھتے ہیں۔

اسی طرح آج کاسائنس یہ بھی کہتا ہے کہ وہ پانی جو معدہ او رآنتوں سے نکلتا ہے اس طرح وہ پانی جو ان کے پردوں میں ہوتا ہے یہ دونوں ان اہم عاملوں میں سے ہیں جو مختلف قسم کے مکروب" Microbe سے لڑتے ہیں کیونکہ جب یہ عصارات (پانی) نکلتے ہیں تو دوسرے قسم کے پانی ان دونوں کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتے یھاں تک وہ فضلہ کے ساتھ انسان سے خارج ہوجاتے ہیں۔

چنانچہ ابھی چند سال پہلے تک یہ بات معلوم نہیں تھی کہ ان ”صمّاء غدوں“ (بھرے غدوں) کاکیا کام ہے۔

او رکیمیاوی چھوٹے عامل جسم کی ضروری ترکیبات کو پورا کرتے اور ان کے کروڑوں اجزاء ہوتے ہیں، اور اگر ان میںسے کوئی ایک جزء بھی ناکارہ ہوجائے تو انسان کا پورا جسم متاثر ہوجاتا ہے کیونکہ ان غدوں سے نکلنے والا پانی جو ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث ہوتا ہے ،چنانچہ ان میں ذرا سا بھی اختلال، انسان کے لئے خطرہ جان بن جاتا ہے۔

اور واقعاً یہ بھی عجیب بات ہے کہ آج کا سائنس اس نتیجہ پر پهونچ چکا ہے کہ انسان کے جسم میں موجود انتڑیاں ساڑھے چھ میٹر کی ہوتی ہیں او ران کے اندر دو طرح کی حرکت ہوتی ہے:

۱ ۔ ”حرکت خلط“ جس کے ذریعہ کھانے کو اچھی طرح باریک کیا جاتا ہے اور آنتوں میں موجود مختلف قسم کے عصارات سے وہ کھانا بالکل ہضم ہوجاتا ہے۔

۲ ۔ ہضم شدہ کھانے کو جسم کے مختلف اعضاء تک پهونچانا اور آنتوں میں جس وقت کھانا ہضم ہوتا ہے تویہ کھانا دوحصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ہضم شدہ کھانا (غذائیت) اور غلاظت، لہٰذا اس حرکت کی بنا پر انسان کے جسم سے صرف غلاظت باھر نکلتی ہے جس کے باقی رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا (بلکہ نقصان ہوجاتا ہے)

اسی انسان کے جسم میں ان پیچیدہ مختلف کیمیاوی مادوں کے علاوہ دوسرے” میکروب “ " Microbe "، جراثیم" Virus " اور باکٹریا " Bacteria " بھی ہوتے ہیں جیسا کہ ماھرین علم کا کہنا ہے کہ اگر میکروب اور جراثیم میں کسی قسم کا کوئی اضافہ ہوجائے یا ان میں سے کوئی اپنا کام کم کرنے لگے یا ان کا تناسب کم وزیاد ہوجائے تو انسان ھلاک ہوجاتا ہے۔

اور یھی غدّے اور ان سے نکلنے والا مختلف قسم کا پانی ہی آٹومیٹک طریقہ سے کھانے کو مشکل سے آسان ، سخت سے نرم اور نقصان دہ سے فائدہ مند بنادیتے ہیں چنانچہ ماھرین علم نے معدہ کے اندر ان میکروب اور جراثیم کی تعداد ایک مربع سینٹی میٹر( C.M ) میں ایک لاکھ بتائی ہے ۔

اسی طرح ہمارے پورے جسم پرجو کھال ہوتی ہے اس کے اندرایسے سوراخ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ بدن سے فاضل پانی (پسینہ) نکلتا ہے لیکن قدرت کانظام دیکھئے کہ اس کھال کے سوراخوں سے باھر کا پانی اندر نہیں جاتا اور چونکہ فضا میں موجود جراثیم جب اس کھال کے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں تو یھی کھال ان کو مار ڈالتی ہے اور جب بیرونی جراثیم اس کھال پر غلبہ پانا چاہتے ہیں اور منطقہ جلدکو اکھاڑپھینکنا چاہتے ہیں تو یھاں پر ایک جنگ کا دور شروع ہوجاتا ہے اور اس جگہ نگھبان جراثیم جو جلد کی حفاظت کی خاطر پائے جاتے ہیں وہ جلدی سے اس جنگ کے موقع پر حاضر ہوجاتے ہیں اور اپنے دشمن کے اردگرد ایک مضبوط حصار بنادیتے ہیں اس کے بعد یاتویہ ان باھری جراثیم کو جسم سے دور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں یا پھر ہمارے جسم کا نگھبان جراثیمی گروہ حملات کی تاب نہ لاکر موت کے گھاٹ اترجاتا ہے لیکن فوراً اس کے بعد جسم کا نگھبان دوسراگروہ حاضر ہوجاتا ہے اور وہ بھی بیرونی جراثیم سے مقابلہ کرنا شروع کردیتا ہے اور جب یہ گروہ بھی تاب مقاومت کھوبیٹھتا ہے تو پھر تیسرا گروہ آتا ہے اسی طریقہ سے یکے بعد دیگرے بیرونی جراثیم سے مقابلہ کرنے کے لئے جسم کے نگھبان گروہ آتے رہتے ہیں یھاں تک کہ یہ نگھبان گروہ بیرونی جراثیم کوشکست دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اور یہ جسم کے نگھبان گروہ خون کے ذرات ہوتے ہیں ، جن کی تعداد تقریباً تیس ہزار بلین" Billion" (۳۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰ ,) ہوتی ہے جس میں کچھ ذرے سفید ہوتے ہیں اور کچھ سرخ۔

چنانچہ جب آپ کھال کے اوپر کسی سرخ پھنسی کو دیکھیں کہ جس کے اندر پیپ پیدا ہوچکا ہے تو سمجھ لیں کہ وہ گروہ جوجسم کی حفاظت کے لئے مامور تھا وہ اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے میں مرجاتا ہے کیونکہ یہ اپنے وظیفہ کی ادائیگی میں مارا گیا ہے اور یہ پھنسی کے اندر جو سرخی ہے یہ خون کے وھی ذرات ہیں جو اپنے خارجی دشمن کے سامنے ناکام ہونے کی صورت میںپھنسی کی شکل میں پیدا ہوگئے ہیں۔

اسی طرح اگر ہم کھال پر تھوڑی سی دقت کریں تب ہمیں اس کی عجیب خلقت کا احساس ہوگا کیونکہ جب انسان اس خلقت پر توجہ کرتا ہے تو یھی انسان کا سب سے بڑا عضو دکھائی دیتا ہے چنانچہ ایک متوسط قامت انسان کی کھال تقریبا تین ہزار بوصہ (دو میٹر) ہوتی ہے اور ایک مربع بوصہ میں دسیوں چربی کے غدے اور سیکڑوں عرق کے غدے اور سیکڑوں عصبی خلیے " Cells " ہوتے ہیں جن میں چند ہوائی دانہ ہوتے ہیں اور ملیونوں خلیے ہوتے ہیں۔

اور اس کھال کی ملائمت اور لطافت کے بارے میں اگر ہم بات کریں تو اس کو ہماری آنکھیں جس طریقہ سے دیکھ رھی ہیں در حقیقت یہ کھال ویسی نہیں ہے بلکہ اگر اس کو میکرواسکوپ" Maicroscope " کے ذریعہ دیکھیں تو یہ کھال اس سے کھیں زیادہ فرق رکھتی ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، چنانچہ جب ہم اس میکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھیں گے تو اس کے اندربہت سے ابھاراور بہت سے گڑھے نظر آئیں گے جیسے بال کی جڑوں کے سوراخ، جن کے اندر سے روغن نکلتا ہے تاکہ ہماری کھال کی سطح کو چربی مل سکے، اور انھیں جڑوں کے ذریعہ پسینہ نکلتا ہے اور یہ پسینہ وہ سسٹم ہے کہ جب درجہ حرارت شدید ہوتا ہے تو جلد کو شدت گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ کھال کے باھری حصہ کو میکرواسکوپ کے ذریعہ مشاہدہ کریں تو اس میں واضح طور پر ان اسباب کو دیکھیں گے جن کی وجہ سے کوئی چیز باھر نکلتی ہے، جس طرح پھاڑوں، پتھروں وغیرہ میں ہوتے ہیں۔

اسی طرح ہمارے جسم کی کھال کجھلانے یا دھونے سے بعض چیزیں خارج ہوتی ہیں، اور اس کھال سے بعض مواد کے خارج ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کھال پر ایک باریک پردہ پیدا ہوتا ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن اگر اس کو میکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھیں تو گویا بہت سے مردہ خلیے ہیں جو اپنی اصلی حالت کو کھوبیٹھے ہیں، چنانچہ ہر روز اسی طرح ہماری کھال پر ہزاروں باریک باریک پردہ بدلتے رہتے ہیں ،لیکن اگر یھی مردہ کھال تبدیل نہ ہو تو انسان کی صورت مسخ شدہ حیوان کی طرح دکھائی دے، لہٰذا ان مردہ خلیوں او رمردہ کھال کے لئے ضروری ہے کہ یہ تبدیل اور تعویض ہوتی رھے، تاکہ ان مردہ کھال کی جگہ نئی کھال آجائے، اور یہ سلسلہ اس زندگی میں چلتا رہتا ہے ، بھر کیف ہر جسم کے لئے اسی طرح کی کھال کا بدلتے رہنا ضروری ہے گویا یہ خلیوں کا ایک طبقہ ہوتا ہے، جبکہ کھال کے اندر سے ان کی غذا ان تک پهونچتی رہتی ہے تاکہ دن میں لاکھوں خلیے بنتے رھیں اور مردہ ہوکر باھر نکلتے رھیں۔

اسی طرح ہمیں انسان کے جسم کے بارے میں بھی توجہ کرنی چاہئے !کیونکہ اسی انسان کے کان کے ایک جز میں ایسا سلسلہ ہوتا ہے جو چار ہزارباریک اور ایک دوسرے سے بندھے ہوئے قوس(کمان) سے بنتا ہے، جو حجم اور شکل وصورت کے لحاظ سے ایک عظیم نظام کی نشاندھی کرتا ہے۔

چنانچہ ان کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ گویا یہ ایک آلہ موزیک ہے کیونکہ ان ہی کے ذریعہ انسان کی سنی ہوئی باتیں عقل تک پهونچتی ہیں ، چاھے وہ معمولی آواز ہو یا بجلی کی آواز سبھی کوعقل انسانی سمجھ لیتی ہے کہ یہ کس چیز کی آواز ہے۔

اسی طرح انسان میں عجیب وغریب گذشتہ چیزوں کے علاوہ دوسری چیزیں بھی موجود ہیں جیسے قوت سامعہ (کان)، قوت باصرہ، (آنکھ) قوت شامہ (ناک) اور انسانی ذوق، انسان کی ہڈیاں، رگیں، غدے، عضلات ونظام حرارت وغیرہ۔

المختصر یہ کہ طرح انسانی وجود میں ہزاروں دلیلیں موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسانی جسم کا یہ نظام ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی اتفاقی طور پر پیدا ہوگیا ہے اور نہ ہی ”بے جان مادہ“ کی حرکت کا نتیجہ ہے (جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں)۔

ہم اس سلسلے کی اپنی بحث کے اختتام پر سائنس کے کشف شدہ نتیجہ پر ختم کرتے ہیں جو کہتا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک عجیب وغریب سسٹم ہے جس کو ”کروموسوماٹ“ " Chromosomic " کھا جاتا ہے۔

کیونکہ ”کروموسوماٹ“ بہت ہی دقیق اور باریک ریشہ ہوتا ہے جس کی تشکیل ایسے ذرات کرتے ہیں جن پر ایک باریک پردہ ہوتا ہے اور وہ اپنے اطراف کی تمام چیزوں سے جدا ومحفوظ رہتا ہے، گویا یہ باریک ریشہ اپنے اس مقصد کے تحت اپنا پورا کام بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا رہتا ہے، لیکن یہ باریک پردہ دوسرے کیمیاوی مرکبات سے مل کر بغیر کسی رکاوٹ کے رشد ونموکرتے ہیں،جو”سیٹوپلازم“ " Cytoplasm "سے اس باریک پردہ کی طرف مندفع ہوتے ہیں، تاکہ ان کیمیاوی مرکبات کے ذریعہ ”کروموسوماٹ“ سے اجزاء تشکیل پائیں، اور زندگی کے مورد نیاز عناصر کی تخلیق ہوسکے۔

کیونکہ کروموسوماٹ کی ترکیب " D.N.A "کے اجزاء سے ہوتی ہے جس کو ” وراثتی " Geneticcs "“ اجزاء بھی کھا جاتا ہے،اس کی وجہ سے انسان لمبا اور ناٹا ہوتا ہے اور اسی کی بنا پر انسان کے جسم، آنکھ اور بالوں کا رنگ تشکیل پاتا ہے اور ان تمام سے بالا تر انسان کی آدمیت تشکیل پاتی ہے اور انھیں وراثتی اجزاء کی بناپر گھوڑے سے گھوڑا ہی پیدا ہوتا ہے او ربندر سے بندر، چنانچہ اسی کے باعث ہر مخلوق اپنی خاص شکل وصورت پر پیدا ہوتی ہے اور کروڑوں سالوں سے ہر مخلوق اپنی گذشتہ صنف کے مشابہ پیدا ہوتی ہے، چنانچہ کبھی آپ نے یہ نہ دیکھا ہوگا کہ کسی انسان سے گدھا متولد ہوا ہو، یا کسی گدھے سے بندر پیدا ہوا ہو؟! اور کسی درخت سے پھولوں کی جگہ پرندے پیدا ہوئے ہوں؟!!۔

کیونکہ یہ تمام صفات " D.N.A "کی بناپر ہوتے ہیں۔

اوران ”جزی “(اجزاء)کی تشکیل کا طریقہ کار بہت ہی عمدہ اور بہترین ہے ،اور یہ گول قسم کے ہوتے ہیں اور باہم ملے ذرات سے مل کر کبھی تو ”ریبوز“ نامی سوگر " Sugar "پیدا ہوتی ہے ، جس کا پتہ ماھرین آج تک نہیں لگاپائے کہ کھاں سے آتی ہے او رکیسے پیدا ہوتی ہے، اور ریبوز”فاسفیٹ“" Phoohate " کے ذرات سے مرتبط ہے،اور یہ عمل کروڑوں مرتبہ تکرار ہوتا ہے فاسفیٹ اور شوگر کے درمیان،اور اس کا ہمیشہ ایسے عمل کرتے رہنا ضروری ہے۔

چنانچہ اس شکل کے درجات کیمیاوی ماھرین کے تعریف سے کھیں زیادہ قیمتی ہیں، جو چار قوانین کے تحت تشکیل پاتے ہیں:

۱ ۔”آڈنین“۔

۲ ۔”ثمین“۔

۳ ۔”غوانین“

۴ ۔”سیٹوسین“

یھاں پرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں کا پہلا تیسرے سے یاچوتھے سے کیوں نہیں بدلتا؟ اور کون ہے جو اس میں مانع ہے؟

لہٰذا اس کے منع میں دوران ہندسہ ، دوری اور زاویہ مانع ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے ھرایک کے لئے محدودیت ہے جو ان میں سے دوسرے کے علاوہ صرف ایک میں حلول کرتا ہے۔

اور شاید یہ عظمت اور خوبصورتی کے بہترین عکاس ہیںجو ان عملیات میں جو ایک نئے جز کے بنانے کے وقت آپ مشاہدہ کریں، چنانچہ یہ دائرہ نما شکل اپنے اطراف میں ملیونوںالٹے چکر لگاتی رہتی ہے جو آخر میں ایک بغیر بنی رسی نما بن جاتی ہے ، چنانچہ آج کا سائنس ابھی تک اس بات کو کشف کرنے سے عاجز ہے کہ اس میں ایسی طاقت کھاں سے آئی ؟!

اسی طرح کسی قادر کی قدرت کے ذریعہ اس چیز میں دو شگاف ہوجاتے ہیں وہ بھی اس طرح جیسے کسی آری سے دوٹکڑے کردئے گئے ہوں، اور ملیونوں مرتبہ یہ شگاف پیدا ہوتا ہے تب جاکے کھیں اس ذرہ کی پیدائش ہوتی ہے، اور پھر اس پردہ کی طرف سے جزئیات کے اندر یا شوگر، فوسفات، آڈینین، ثیمین، غوانین اور سیٹوسین کے اندر داخل ہوتا ہے ، اور یہ تمام سوائے فوسفات کے علاوہ جادوئی طریقہ سے بن جاتے ہیںاس کے بعد اپنی شکل کے اطراف میں گھومنے لگتے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض تو اس شکل کے دوسری (بیرونی) طرف گھومتے ہیں جن کی وجہ سے شوگر اور فوسفات بنتے ہیں اور ان سب سے مل کر اس کے دوبڑے جزء بنتے ہیں ، اور اس کے بعد ان عملیات کی دس کروڑبار تکرار ہوتی ہے تب جاکے ایک شکل بنتی ہے اور پھر دسیوں کروڑ بار یہ عملیات جاری ہوتے ہیں اسی طریقہ سے اس کی شکلیں بنتی جاتی ہیں تاکہ پروٹن کے ذرات تشکیل پائیں۔

جبکہ D.N.A کے اجزاء انسان سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ تمام زندہ چیزوںکے مکروب سے لے کر حشرات او رھاتھی وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں اور یھی اساسی او ربنیادی اجزاء ہیں جن کی بنا پرحیات مکمل ہوتی ہے۔

حالانکہ علم کیمیاء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ قواعد جن کی بنا پر تمام چیزوں میںجو لازمی اجزاء ہوتے ہیں تو وہ تمام کائنات میں ان کی ترکیب میں اختلاف نہیں ہوتا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تمام کائنات کی چیزیں ایک دوسرے سے الگ کیوں ہیں؟!!

چنانچہ بعض ماھرین نے اس اختلاف کی وجہ یہ بتائی ہے کہ D.N.A .کے اجزاء کی مقدار اور گذشتہ چار قواعد کی بنا پر ان تمام چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

لیکن کسی بھی ماھر نے کوئی ایسی مطمئن بات نہیں بتائی جس کوانسان قبول کرسکے۔

کیونکہ جن ماھرین نے حیات کے اسرار کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھیں ہیں ان سب میں ”شاید“ ، ”بالفرض“ ،”بسااوقات“ جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً شاید اس کی وجہ یہ ہے ،بالفرض اس کی وجہ یہ ہو، جو اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ وہ ابھی تک حیاتی اسرار سے پردہ نہیں اٹھاپائے ہیں۔

کیونکہ اس شکل میں کروموساٹ ہوتے ہیںاور کروموساٹ ژین اور وراثتی اجزاء بنتے ہیں ، اور یہ وراثتی اجزاء D.N.A .کے اجزاء سے بنتے ہیں اور یہ D.N.A .جزئیات سے بنتے ہیں اور یہ جزئیات چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنتے ہیں، گویا یہ ایک ایسی عمارت ہے جس کے اندر ایک کمرہ اس کمرہ میں ایک اور کمرہ اور اس کمرہ میں ایک اور کمرہ۔۔۔۔۔۔


وجود خدا پر قرآنی آیات

قارئین کرام ! آئےے قرآن مجید کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں جن میں خداوندعالم کے وجود کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ درج ذیل آیات میں حیوانات کی خلقت اور دوسرے دقیق نظام کو بیان کیا گیا ہے جن کے مطالعہ کے بعد انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ حساب شدہ نظام یونھی اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا۔

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( وَاللّٰهُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی اٴَرْبَعٍ یَخْلُقُ اللّٰهَ مَایَشَآءُ ) ( ۱۴ )

”اور خدا ہی نے تمام زمین پر چلنے والے (جانوروں) کو پانی سے پیدا کیا اوران میں سے بعض تو ایسے ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو دو پاؤں سے چلتے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں ، خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔“

( وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالاٴنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ ) ( ۱۵ )

”اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چار پایوں کی بھی رنگتیں طرح طرح کی ہیں“

( وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الاٴرْضِ وَلَا طٰٓٓائِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلاّٰ اُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ ) ( ۱۶ )

”زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا پرندہ ہے ان کی بھی تمھاری طرح جماعتیں ہیں“

( اَوَلَمْ یَرَوا اِلٰی الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰفٰتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُهُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ ) ( ۱۷ )

”کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور سمیٹ لیتے ہیں کہ خدا کے سوا انھیں کوئی روکے نہیں رہ سکتا“

( وَالْاَنْعَامِ خَلَقَهَا لَکُمْ فِیْهَا دَفْ ء ٌوَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْکُلُوْنَ o وَلَکُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تَرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرِحُوْنَ o وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَمْ تَکُوْنُوْا بَالِغَیْهِ اِلَّا بِشَقِّ الْاَنْفُسْ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَو فٌ رَحِیْمْ o وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْهَا وَزِیْنَةً وَیَخْلُقُ مَا لٰا تَعْلَمُوْنَ ) ( ۱۸ )

”اسی نے چار پایوں کو بھی پیداکیا کہ تمھارے لئے ان (کی کھال اور اُون ) سے جاڑوں (کاسامان) ہے اس کے علاوہ اور بھی فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو اور جب تم انھیں سرِشام چرائی پر سے لاتے ہو جب سویرے ہی چرائی پر لے جاتے ہو تو ان کی وجہ سے تمھاری رونق بھی ہے اور جن شھروں تک بغیر بڑی جان کپھی کے پہنچ نہ سکتے تھے وھاں تک یہ چوپائے تمھارے بوجھ اٹھائے لئے پھرتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ تمھاراپروردگار بڑا شفیق مھربان ہے اور (اسی نے) گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کو( پیدا کیا)تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (اس میں) زینت (بھی) ہے (اس کے علاوہ) اور چیزیں بھی پیدا کرے گا جن کو تم نہیں جانتے“

اقسام حیوانات

ماھرین علم نے حیوانوں کی بہت سی قسمیں بیان کی ہیں، اور ان حیوانوں کے رہنے کی جگہ بھی مختلف ہے مثلاً: خشکی، دریا جن میں مختلف حیوانات رہتے ہیں اور ان حیوانات کے مختلف طریقوں کے ساتھ ایک بہت بڑا اختلاف نظر آتا ہے کیونکہ ہر حیوان اپنی زندگی کے لئے ایک مخصوص گھر بناتا ہے او ران کی غذا بھی مختلف ہوتی ہے۔

یہ منھ ھاضمہ کے لئے سب سے پہلا مرحلہ ہے اور اس کے لئے ایک عظیم فکر کی گئی ہے جو فکر وتصمیم گیری کرنے والے اور ان چیزوں کے خلق کرنے والے کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔

ان حیوانات میں کچھ ایسے ہیں جو صحرائی اور جنگلی ہوتے ہیں جیسے شیر اور بھیڑئے ، ان کے لئے وھاں کوئی غذا نہیں ہوتی مگر جس کا وہ شکار کرلیں چنانچہ ان کے لئے تیز اور سخت دانت اور بہت طاقتور ھاتھ اورپیروں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ شکار کرسکیں ،اسی طرح ان کے لئے پنجوںمیں طاقتور ناخن اور قوی ھاضمہ کا ہونا ضروری ہے تاکہ گوشت اور اپنے سخت کھانے کو ہضم کرسکےں۔

اور کچھ حیوانات ایسے ہیں جو چراگاہ میں زندگی گذارتے ہیں جن سے انسان خدمت لیتا ہے انسان ان کے قوام کے لئے نباتات اور چھوٹے چھوٹے درختوں اور گھاس وغیرہ کے ذریعہ غذا فراہم کرتا ہے، چنانچہ ان کے ھاضمہ کاسسٹم ان کے جسم کے لحاظ سے بنایا گیا ہے ،اسی وجہ سے ان کے منھ نسبتاً بڑے ہوتے ہیں، لیکن ان کا منھ کچھ مخصوص دانتوں سے خالی ہوتا ہے، جن کے بدلے ان کو اللہ نے ایسے دانت دئے ہیں جن کے ذریعہ مختلف درختوں اور گھاس وغیرہ کو بہت جلد کھا جاتے ہیں، اور اس کو ایک دفعہ میں نگل جاتے ہیں لیکن اس کے ہضم کے لئے عجیب مشین موجود ہے ،وہ جو کچھ بھی کھاتے ہیں وہ معدہ میں جاتا ہے جو کھانے کا مخزن ہے اور جب حیوان کھانا کھالیتا ہے اور آرام کے لئے بیٹھتا ہے تو پھر یہ کھانا معدہ سے ایک دوسرے” تجویف“نامی جگہ کی طرف چلا جاتا ہے اور پھراس معدہ کے منھ تک آتا ہے تاکہ ا سکو اچھی طرح کوٹ لے اس کے بعد پھر ایک دوسری تجویف میں چلا جاتا ہے اور پھر چوتھی بار بھی اسی طرح ہوتا ہے کیونکہ یہ تمام فعالیت حیوان کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ہے کہ حیوان کے جسم کے لئے جگالی کرنا نھایت ضروری اور حیاتی ہے کیونکہ گھاس کا ہضم ہونا ایک مشکل کام ہے کیونکہ اس میں ایسے اجزاء اور سلیلوز ہوتے ہیں جن پر سبزی کے خلیے کے غلاف ہوتے ہیںجن کو ہضم کرنے کے لئے حیوان کو کافی وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور اب اگر یہ حیوان جگالی نہ کرے اور اس کے لئے حیوان کے پاس مخزن نہ ہو تو اس صورت میں حیوان کا چارہ چرنے میں کافی وقت ضایع ہوگا یھاں تک وہ صبح سے شام تک بھی چرتا رھے گا تب بھی پیٹ نہ بھرے گالہٰذا حیوان کی غذا ہضم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایک ایسا مخزن ہو جس میں وہ اپنی غذا کو جگالی کے ذریعہ تحلیل کرے تاکہ بدہضمی کا شکار نہ ہو اور یہ غذا اس کے لئے سود مند ثابت رھے۔

لیکن پرندوں کے ھاضمہ کا سسٹم مذکورہ حیوانوں سے بالکل الگ ہوتاھے کیونکہ ہر پرندہ کی صرف ایک چونچ ہوتی ہے جس میں ہڈی نما دانت بھی ہوتے اوران کے نہ منھ ہوتا ہے اورنہ ہونٹ ہوتے ہیں چنانچہ پرندہ غذا کو بغیر چبائے کھاتا ہے۔

ان پرندوں کی غذا کی طرح ان کی چونچ بھی الگ الگ طرح کی ہوتی ہیں ان میں جو شکاری پرندے ہوتے ہیں ان کی چونچ قوی اور لمبی ہوتی ہے تاکہ گوشت کو خوب کوٹ لیں اور ”بطخ“ اور” ہنس“ کی چوڑی چونچ ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنی غذا مٹی اور پانی دونوں سے تلاش کرسکیں اور چونچ کے اطراف میں چھوٹی چھوٹی کچھ اضافی چیز بھی ہوتی ہے (جس طرح چھوٹے چھوٹے دانت) جو ان کی غذا کے کاٹنے میں مدد کرتی ہیں لیکن چڑیا ،کبوتر اور دوسرے پرندوں کی چونچ چھوٹی ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنے ہدف تک پهونچ سکیں۔

ان کے علاوہ بھی ہم اس مخلوقات کی عظیم او رمنظم چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حیوانات کے پیر، جن کی وجہ سے حیوان چلتا پھرتا، دوڑتااور بوجھ اٹھاتا ہے، کیونکہ یھی پیر حیوان کو تیز دوڑنے کی صلاحیت عطا کرتے ہیں اورحیوان کے ہر پیر میںکُھر ہوتے ہیں جو دوڑتے وقت احتمالی ضرر سے محفوظ رکھتے ہیں۔

لیکن گائے اور بھینس کے پیر چھوٹے اور مضبوط ہوتے ہیںجن میں کھُر ہوتے ہیں جو زراعتی اور نرم زمین پر چلنے میں مدد کرتے ہیں، اسی طرح اونٹ کے پیر اس قسم کے ہوتے ہیں جو اس کو ریت پر چلنے میں مدد کرتے ہیں اسی طرح اس کے پیروں پر موٹی اورسخت کھال ہوتی ہے جو اس کو کنکریوں اور ریت پر بیٹھنے میں مدد کرتی ہے۔

اسی طرح پرندوں کے پیر بھی ان کی طبیعت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں چنانچہ ان میں سے بعض گوشت خوار ہوتے ہیں اور ان کے پنچے سخت او رمضبوط ہوتے ہیں تاکہ وہ شکار کرنے میں ان کی مدد کریں جیسے باز اور گدھ،لیکن وہ پرندے جو اناج اور دیگر دانے وغیرہ کھاتے ہیں جیسے مرغ اور کبوتر ان کے پنچوں میں ا یسے ناخن ہوتے ہیں جن سے صرف زمین کھود سکتے ہیں (تاکہ اس میں چھپے دانوں کو نکال سکےں)، لیکن وہ حیوانات جو اپنی غذا پانی میں تلاش کرنے پر مجبور ہیں ان کی انگلیوں کے درمیان ایک پردہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی میں تیر کر اپنی غذا تلاش کرتے ہیں۔

اسی طرح انھی عجیب وغریب خلقت میں سے مینڈھک کی خلقت بھی ہے ، کیونکہ اس کی زبان دوسرے زندہ موجودات سے لمبی ہوتی ہے اور اس کی لمبائی اس کے قدکے نصف ہوتی ہے اور اس میں چپک ہوتی ہے جس سے وہ مکھیوں کا آسانی سے شکار کرتا ہے، کیونکہ مینڈھک بالکل کوئی حرکت نہیں کرتا مگر یہ کہ مکھی اس کے قریب ہوجائے اور جب زبان باھر نکالتا ہے تو اپنے سامنے موجود مکھیوں کا شکار کرلیتا ہے۔

اور واقعاً مینڈھک میں یہ بات کتنی عجیب ہے کہ اگر اس میں وہ گردن نہ ہوتی جس سے وہ اپنے سر کو حرکت دے کر اپنے اطراف میں دیکھتا ہے تو پھر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں جو چاروں جانب (گردن کے حرکت کرنے کی بنا پر) حرکت کرتی ہیں۔

قارئین کرام ! آج کے سائنس نے یہ بات کشف کی ہے کہ اکثر پستاندار " Mammals "حیوانات میں” قوہ شامہ“ (سونگھنے کی قوت)قوی ہوتی ہے برخلاف قوت باصرہ کے، جبکہ پرندوں میں دیکھنے کی قوت زیادہ تیز اور قوی ہوتی ہے اور اس کا راز یہ ہے کہ حیوانات کی غذا معمولاً زمین پر ہوتی ہے اور وہ اس کو سونگھ کر حاصل کرسکتے ہیں لیکن پرندے معمولاً آسمان میں پرواز کرتے ہیں لہٰذا ان کو اپنی غذا کی تلاش میں تیز آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ دور سے اپنی غذا کو دیکھ سکیں۔

لیکن ”مُحّار“(ایک دریائی حیوان) جس کی آنکھیں ہماری طرح ہوتی ہیں البتہ ہماری صرف دو آنکھیں ہوتی ہیں لیکن اس کی کئی عدد ہوتی ہیں اور ان میں لاتعداد چھوٹی چھوتی پتلیاں ہوتی ہیں جن کا احصاء ممکن نہیں ، اور کھا یہ جاتا ہے کہ ان کی مدد سے داہنے سے اوپر کی طر ف دیکھ سکتی ہیں، اور چھوٹی چھوٹی پتلیاں انسانی آنکھوں میں نہیں پائی جاتیں، تو کیا یہ پتلیاں اس محار میں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ اس میں انسان کی طرح سوچنے کی صلاحیت نہیں ہوتی؟ اسی طرح کھا یہ جاتا ہے کہ بعض حیوانوں میں دو آنکھیں اور بعض میں ہزار آنکھیں ہوتی ہیں جو سب کی سب الگ ہوتی ہیں تو کیا طبیعت علم مرئیات میں اتنے عظیم مرتبہ پر فائز ہے۔؟! یعنی کیا یہ تمام کی تمام دقیق اور حساب شدہ چیزیں بغیر کسی خالق کے وجود میں آسکتی ہیں؟!!

اسی طرح مچھلی میں عجیب وغریب حس پائی جاتی ہے جس کی بنا پر دریاؤں کے پتھروں اور دوسری چیزوں سے نہیں ٹکراتی ، چنانچہ بعض ماھرین نے اس سلسلہ میں غور وخوض کرکے یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ مچھلی کے دونوں طرف ایک طولانی خط (لکیر) ہوتا ہے ، جبکہ یہ خط اتنا باریک ہوتا ہے کہ صرف دوربین ہی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے اور اس میں قوت حس کے بہت سے اعضاء ہوتے ہیں چنانچہ مچھلی انھیں کے ذریعہ پتھر یا کسی دوسری چیز کا احساس کرلیتی ہے جب پانی پتھروں اور دوسری چیزوں سے ٹکراتا ہے اور یہ پتھر وغیرہ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔

اسی طرح چمگادڑکی خلقت بھی کتنی عجیب وغریب ہے جیسا کہ ماھرین نے اس پر توجہ دلائی ہے، یہ چمگادڑ رات میں اڑتا ہے لیکن اپنے راستہ میں کسی مکان ، درخت یا کسی دوسری چیز سے نہیں ٹکراتا،چنانچہ اٹلی کے ایک ماھراور سائنسداں نے اس کی قدرت کے سلسلہ میں تحقیق کی، اس نے ایک کمرے میں کچھ رسیاں باندھیں، ہر رسی میں ایک چھوٹی گھنٹی باندھی کہ اگر رسی سے کوئی بھی چیز ٹکرائے تو وہ گھنٹی بجنے لگے ، اس کے بعد اس نے کمرے کو بالکل بند کردیا اور اس میں چمگادڑ کو چھوڑ دیا چنانچہ چمگادڑ اس کمرے میں اڑنے لگا لیکن کسی بھی گھنٹی کی کوئی آواز سنائی نہ دی، یعنی وہ کسی بھی رسی سے نہیں ٹکرایا ، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چمگادڑ میں ایسی طاقت ہوتی ہے کہ جب وہ اڑتاھے تو اس کے اندر سے ایک ایسی آواز نکلتی ہے جو کسی بھی چیز سے ٹکراکر واپس آتی ہے اور اسی واپس آئی آواز کے ذریعہ وہ اس چیز کا احساس کرلیتا ہے ، پس ثابت یہ ہوا کہ اس کے احساس کا طریقہ بالکل ”راڈار“ کی طرح ہے۔

اسی طرح اونٹ کی خلقت بھی بڑی عجیب ہے،چنانچہ اس کو خدا کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جیسا کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

( اٴفَلاٰ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ ) ( ۱۹ )

”تو کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف غور نہیں کرتے کہ کیسا (عجیب) پیدا کیا گیا ہے“

چونکہ اونٹ کی زندگی زیادہ تر جنگل اور ریگستان میں بسر ہوتی ہے چنانچہ خداوندعالم نے اس کو ایسا خلق کیا ہے جس سے وہ ایک طولانی مدت تک بغیر کچھ کھائے پئے رہ سکے، اور اپنی بھوک وپیاس پر کافی کنٹرول رکھ سکے۔

اسی طرح اونٹ کی لمبی اور گھنی پلکیں ہوتی ہیں جن کی بنا پر شدید طوفان او رآندھی میں بھی اپنی آنکھیں کھولے رکھتا ہے اور اس کی آنکھیں محفوظ رہتی ہیں ، اور جس طرح ہم آندھی کے وقت اپنی آنکھوں کے بند کرنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر مجبور نہیں ہوتا۔

اسی طرح اس کے پاؤں اس طرح نرم ہوتے ہیں جن سے وہ ریت پر آسانی سے چل سکتا ہے اور اس کے پیر ریت اور ریگستان میں نہیں دھنستے، اور اس کی ناک بھی آندھی کے وقت کھلی رہتی ہے لیکن پھر بھی اس میں کوئی گرد وغبار نہیں جاتا، اور اس کا اوپر والا ہونٹ نکلا ہوا ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کانٹوں والی گھاس وغیرہ کا آسانی سے پتہ لگاسکے۔

اسی طرح چیونٹی کی خلقت بھی کتنی عجیب ہے چنانچہ چیونٹی میں بہت سی خدا کی نشانیاں بتائی جاتی ہیں، کیونکہ اس میں فہم وادراک، صبراور احساس اس قدر ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس کے چھوٹے سے جسم اور حجم کو دیکھنے کے بعد نہیں سمجھ سکتا، اور شاید آج کی بہت سی جدید چیزیں اسی میں غور وفکر کرنے سے وجود میں آئی ہیں کیونکہ اس کی خلقت میں بہت ہی دقت اور نظم وترتیب کا لحاظ رکھاگیا ہے۔

چنانچہ بعض چیونٹی سردی کے زمانہ میں دوسری ان چیونٹیوں کے لئے کھانے دانے کا انتظام کرتی ہیں جو باھر نہیں نکل سکتیں، اسی طرح ان میں سے بعض وہ ہوتی ہیں جو دانوں کاآٹا بناتی ہیںاور وہ ہمہ وقت اسی کام میں مشغول رہتی ہیں۔

اور بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی فطرت میں کھانا کھانے کا مخصوص گھر بنانے کا میلان ہوتا ہے ، جن کو کھانے کا باغیچہ کھا جاسکتا ہے اور وھاں پر مختلف کیڑے مکوڑوں کا شکار کرکے لاتی ہیںاور وھاں پر آرام سے بیٹھ کر کھاتی ہیںان میں سے بعض ان شکار شدہ کیڑے مکوڑوں کے اندر سے ایک طریقہ کا رس نکالتی ہیں جو شہد کے مشابہ ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاتے وقت مزہ لیں۔

اسی طرح ان میں سے بعض وہ بھی ہوتی ہیں جو اپنے گروہ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور ان میں محافظ کا کام کرتی ہیں ، نیز بعض چیونٹیاں اپنے لئے گھر بنانے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں جبکہ دوسری چیونٹیاں اس طرح کے پتّے کاٹتی ہیں جو ان کے اندازہ کے مطابق ہوتے ہیں،اور ان میں سے بعض اپنے گھر کے اردگرد پھرہ داری کرتی ہیں۔

قارئین کرام ! ان تمام تفصیلات کے پیش نظر کیا مادہ کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اتنی دقیق چیزوں کو پیدا کرے جن میں ایک چیونٹی بھی ہے جو اتنے دقیق حساب وکتاب سے رہتی ہے؟

پس ان تمام چیزوں کے پیش نظر حیوانات قابل توجہ ہیں چنانچہ قرآن مجید نے اس بارے میں پہلے ہی بیان کردیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

( حَتَّی إِذَا اٴَتَوْا عَلَی وَادِی النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ یَااٴَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لاَیَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ) ( ۲۰ )

”یھاں تک کہ جب (ایک دن) چیونٹیوںکے میدان میں آنکلے توایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمھیں روند ڈالے اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔“

اس کے صدیوں بعد کھیں علم نے ان حقائق اور معلومات کو ثابت کیا ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ حیوانات کے علاوہ اور بھی بہت سی مختلف قسم کے حیوانات اور جانور ہوتے ہیں،مثلاً یھی مرغ جس سے ہم زیادہ سروکار رکھتے ہیں ان کی آواز بھی مختلف ہوتی ہے چنانچہ جب مرغی چھوٹے بچوں کو دانے ملنے کی بعد آواز لگاتی ہے تو اس کی آواز اور ہوتی ہے اسی طرح جب ان کو اپنے گھر کی طرف بلاتی ہے تو اس کی آواز کچھ اور ہوتی ہے۔

اسی طرح شہد کی مکھی جب کھیں پھولوں والی زمین میں جاتی ہے تو اپنے ایک خاص انداز میں گھومتی ہے جیسے انگریزی میں "۸"کا ہوتا ہے اور پھول میں شہد ہوتا ہے تو اس کو حاصل کرلیتی ہے۔

چنانچہ ایک ماھر دانشور جس نے چیونٹی کے متعلق تحقیق کی ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے ایک چیونٹی کو اپنے بل سے دور دیکھا جس نے اپنے ڈنک سے ایک مکھی کاشکار کیا اور اس کو تھوڑی دیر کے لئے وھیں پر ڈال دیا تقریباً بیس منٹ بعد جب اس کومکھی کے مرنے کا یقین ہوگیا تو اس کو اٹھاکر اپنے بل کی طرف چلنا شروع کیا ، لیکن جب اس میں لے جانے کی طاقت نہ رھی تو اس نے تنھا جاکراپنے ساتھیوں کو باخبر کیا تو ان چیونٹیوں کا ایک گروہ اس کے ساتھ نکلا یھاں تک کہ سب نے مل کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے اور پھر سبھوں نے اس کے مختلف اجزاء کو اٹھایا،اور اپنے بل میں لے گئیں، اب یھاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پہلی چیونٹی ،تنھا بغیر کچھ لئے اپنے بل میں گئی تو اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو دیکھ کر دوسری چیونٹیوں کو اس شکار کے بارے میںمعلوم ہوتا تو پھر اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو کس زبان میں باخبر کیا کہ میںنے ایک بہترین شکار کیا ہے آؤ مدد کرو تاکہ اس کو اپنے بل میں لے آئیں۔(پس معلوم ہوا کہ ان کی بھی ایک خاص زبان ہے جس سے وہ سمجھتی اور سمجھاتی ہیں)۔

اسی طرح آپ ھاتھی کی خلقت پر غور کریں تو اس میں بھی عجیب وغریب قدرت کے آثار ملاحظہ کریں گے مثلاًھاتھیوں کا جھنڈ جب ایک ساتھ چلتا ہے تو ان کے درمیان سے مسلسل ہمہمہ کی آواز آتی رہتی ہے لیکن جب یھی ھاتھی اپنے گروہ سے جدا ہوکر الگ الگ چلتے ہیں توان کی وہ آواز ختم ہوجاتی ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟!۔

اسی طرح جناب کوے کی آواز کس قدر مختلف اور بامفهوم ہوتی ہے چنانچہ وہ خطرہ کے وقت رونے جیسی آواز نکالتا ہے تاکہ اس کے دوسرے ساتھی خطر ہ سے مطلع ہوجائیں ، اور یھی کوا جب کوئی خوشی کامقام دیکھتا ہے تو ایسی آواز نکالتا ہے جو قہقہہ اور ہنسی سے مشابہت رکھتی ہے۔

قارئین کرام ! حیوانات میں کوئی ایسی زبان نہیں ہے جس کو سب سمجھتے ہوں ، بلکہ ان میں سے ہر صنف کی الگ الگ زبان ہوتی ہے، مثلاً آپ مکڑی کو دیکھیں ، یہ جب جالا بناتی ہے تو اس جالے کے تار ان کے درمیان گفتگو کاوسیلہ بنتے ہیں، چنانچہ کھا جاتا ہے کہ جب جالے کے ایک طرف مذکر اور دوسری طرف مونث ہو تو اسی جالے کے تارکے ذریعہ ان کے درمیان تبادلہ خیالات ہوتا ہے،اور اس کی مادہ اپنے شوھر کے استقبال کے لئے اسی جالے کے تار کے ذریعہ رابطہ قائم کرتی ہے، جس طرح آج کل فون کے ذریعہ گفتگو کی جاتی ہے۔

اور جب ہم مرغی کو دیکھتے ہیں تو اس کے اندر الٰھی شاہکار کی بہت سی عحیب وغریب نشانیاں پاتے ہیں، چنانچہ ہمارے لئے درج ذیل حقائق پر نظرکرکے خالق خائنات کی معرفت حاصل کرنا ہی کافی ہے:

ایک امریکی ماھر نے مرغی کے انڈے سے بغیر مرغی کے بچہ نکالنا چاھا ،چنانچہ اس نے انڈے کو ایک مناسب حرارت (گرمی) میں رکھا ، جس مقدار میں مرغی انڈے کو حرارت پهونچاتی ہے ، لہٰذا اس نے چند عدد انڈوں کو جمع کرکے ایک مشین میں رکھا ،وھاں موجود ایک کاشتکار نے اس کو بتایا کہ انڈوں کو الٹتا پلٹتا رھے، کیونکہ اس نے مرغی کو دیکھا ہے کہ وہ انڈوں کو الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لیکن اس ماھر نے اس کاشتکار کا مذاق اڑاتے ہوئے کھا کہ مرغی اس لئے انڈے کو بدلتی ہے تاکہ اپنے جسم کی گرمی انڈے تک پهونچاتی رھے،الغرض اس نے انڈوں کو چاروں طرف سے حرارت پهونچانے والی مشین میں رکھا لیکن جب انڈوں سے بچے نکلنے کا وقت آیا تو کوئی بھی انڈا نہ پھٹا تاکہ اس سے بچہ نکلتا، (وہ حیران ہوگیا) اور دوبارہ اس نے کاشتکار کے کہنے کے مطابق انڈوں کو مشین میں رکھ کر بچے نکلنے کی مدت تک ان کو الٹتا پلٹتا رھا، چنانچہ جب ان کا وقت آیا تو انڈے پھٹ گئے اور ان سے بچے نکل آئے۔

مرغی کے انڈوں سے بچے نکلنے میں الٹ پلٹ کرنے کی ایک دوسری علمی وجہ یہ ہے کہ جب انڈے کے اندربچہ بن جاتا ہے تو اس کی غذائی موادنیچے کے حصہ میں چلی جاتی ہے اب اگر اس کو مرغی نہ گہمائے تو وہ انڈا پھٹ جائے ، یھی وجہ ہے کہ مرغی پہلے اور آخری دن انڈوں کو نہیں پلٹتی کیونکہ اس وقت پلٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، پس کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان اسرار کو وہ بغیر کسی الٰھی الھام کے سمجھتی ہے، جس کے سمجھنے سے انسان بھی قاصر ہے؟

چنانچہ یھی الٰھی الھام ہے جس کی بنا پر پانی میں رہنے والے جانور بالخصوص سانپ اپنی جگہ سے ہجرت کرکے دور درازگھرے سمندروں میں جیسے ”جنوبی برمودا “ چلے جاتے ہیں ، پس یہ کتنی عجیب مخلوق ہے کہ جب ان کا رشد ونمو مکمل ہوجاتا ہے تو دریاؤں سے ہجرت کرکے مذکورہ سمندروں میں چلے جاتے ہیں ،وھیں انڈے دیتے ہیں اور کچھ مدت کے بعد مرجاتے ہیں لیکن ان کے بچے جو اس جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ کو نہیں پہنچانتے یہ لوگ اس راستہ کی تلاش میں رہتے ہیںکہ جدھر سے ان کے والدین آئے تھے، اس کے بعد سمندری طوفان اور تھپیڑوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آبائی وطن پهونچ جاتے ہیں اور جب ان کا رشد ونمومکمل ہوجاتا ہے تو ان کو ایک مخفی الھام ہوتا ہے کہ وہ جھاں پیدا ہوئے تھے وھی جائیں ، لہٰذا ان چیزوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کون سی طاقت ہے جو ان کو اس طرح کا الھام عطا کرتی ہے؟!، چنانچہ یہ کھیں نہیں سنا گیا ہے کہ امریکی سمندروں کے سانپ یورپی سمندر میں شکار کئے گئے ہوں، یا اس کے برعکس، اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ یورپی سانپوں کا رشد دیگر سانپوںکی بنسبت ایک سال یا اس سے زیادہ کم ہوتا ہے، کیونکہ یہ لوگ طولانی مسافت طے کرتے ہیں۔

بھرحال ان تمام چیزوں پر غور کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سانپوں کے اندر یہ طاقت اور فکرکھاںسے آئی جس کی بناپر یہ سب اپنی سمت، سمندر کی گھرائی وغیرہ کو معین کرتے ہیں،لہٰذا کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ سب ”بے جان مادہ“کی مخلوق ہیں؟!!

اسی طرح الٰھی الھام کی وجہ سے مختلف پرندے جب بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے والدین کی طرح اپنے لئے الگ آشیانہ بناتے ہیں اور وہ بھی بالکل اسی طرح جس میں وہ رہتے چلے آئے ہیں، یعنی ان کے گھونسلوں میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔

یھی الٰھی الھام ہے کہ جس کی بنا پر بعض حیوانات کے اجزاء کٹنے یا جلنے کے بعد دوبارہ اسی طرح سے بن جاتے ہیں، مثلاًجب سمندری سرطان (کیکڑا) اپنے جسم کے پنجوں کو ضائع کربیٹھتا ہے تو جلد ہی ان خلیوں کی تلاش میں لگ جاتا ہے جو اس کے پنجوں کی جگہ کام کریں اور جب خلیے بھی ناکارہ ہوجاتے ہیں تووہ سمجھ جاتا ہے کہ اب ہمارے آرام کرنے کا وقت آپہنچاھے، اور یھی حال پانی میں رہنے والے دیگر جانوروں کا بھی ہے۔

اسی طرح ایک دریائی حیوان جس کو ”کثیر الارجل“(بہت سے پیر والا)کہتے ہیں اگر اس کے دوحصہ بھی کردئے جائیں تو اس میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ اپنے باقی آدھے حصے سے دوسرا حصہ بھی مکمل کرلے۔

اسی طرح ”دودة الطعم“نامی کیڑے کی اگر گردن کاٹ دی جائے تووہ اس سر کے بدلے میں ایک دوسرا سر بنا لیتا ہے، جس طرح جب ہمارے جسم پر کوئی زخم ہوجاتا ہے یا گوشت کا ٹکڑا الگ ہوجاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ صحیح ہوجاتا ہے اور جب یہ زخم بھرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ خلیے کس طریقہ سے حرکت کرتے ہیں جن کے نتیجہ میں نیا گوشت، نئی ہڈی اور نئے ناخن یا کوئی دوسرا جز بن جاتا ہے۔

قارئین کرام ! حشرات کی دنیا بھی کیا چیز ہے چنانچہ اس میں غور وفکر کرنے کے بعد انسان کو تعجب ہوتاھے، اور شاید ان کی ”شناخت غرائز“ کے بعد ان کی تفصیل ہمارے سامنے مجسم ہوجائے۔

کیونکہ ”ابو دقیق “ حشرہ جو کرم کلے (بندگوبھی) میں پایا جاتا ہے اور اس میں انڈے دیتا ہے جبکہ وہ بند گوبھی کو نہیں کھاتا لیکن اس کے اندر ایک ایسا غریزہ ہوتا ہے جس کی بناپر اس کا انتخاب کرتا ہے ، چنانچہ جب اس کے انڈوں سے بچے نکلتے ہیں وہ بند گوبھی کو کھاجاتے ہیں ، پس معلوم یہ ہوا کہ یہ کیڑاانڈے دینے کے لئے بند گوبھی کا اس لئے انتخاب کرتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو مخصوص غذا مل سکے۔

تو کیا یہ ابو دقیق نامی کیڑا اس مسئلہ کو عقلی طور پر سمجھتا ہے؟!

اسی طرح ”زنبور الطین“ (انجن ھاری،جس کو کمھاری بھی کہتے ہیں) جو کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتی ہے اور اپنے مٹی کے چھتے میں لے جاتی ہے تاکہ کھانے کے لئے گوشت جمع رھے، اوراس کے بعداس پر ایک انڈا دیتی ہے، اس کو اپنے گھر میں رکھ دیتی ہے ، پھر گارے مٹی کی تلاش میں نکلتی ہے جب اس کو مل جاتی ہے تو اس سے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیتی ہے تاکہ جب انڈے پھٹنے کا وقت آئے اور بچے باھر نکلےں تو ان کا کھانے پہلے سے موجود رھے۔

اسی طرح وہ مچھر جو پانی پر اپنے انڈے دیتے ہیںلیکن کبھی بھی اس کے انڈے بچے پانی میں ضایع نہیں ہوتے تو کیا یہ مچھر قوانین ”ارشمیڈس“کو جانتا ہے۔

اسی طرح وہ حشرہ جس کو علم حشرات میں ”قاذفة القنابل“ کہتے ہیں جو پھاڑ کھانے والے حیوانات کے آگے آگے بغیر کسی خوف وھراس کے چلتا ہے اور اگرکسی جانور نے اس کو کھانے کے لئے منھ کھولا تو اپنے پیٹ پر موجود ایک تھیلی کو فشار دیتا ہے تاکہ اس سے تین قسم کے غدے نکلےں جس میں ”ھیڈروکینون“ ، ”فوق اکسیڈھیڈ روجین“ اور ”ازیم خاص“ اور جب یہ تینوں چیزیں مخلوط ہوتی ہیں تو ان میں سے ایک قسم کا گیس نکلتا ہے جس کی وجہ سے وہ درندہ حیوان بھی ڈر کی وجہ سے بھاگنے لگتا ہے ، تو کیا اس حشرہ اور کیڑے نے علم کیمسٹری میں کامبرج یونیورسٹی سے ڈیپلم" Diploma " کیا ہے؟!!

اسی طرح ابریشم کے کیڑے ، جو نھایت ہی باریک جال بناتے ہیں۔اور اسی طرح وہ جگنو جو رات میں روشنی پھیلاتا پھرتا ہے تاکہ روشنی پر آنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑوں کا شکار کرسکے۔

نیز اسی طرح پانی کے کچھ خاص کیڑے جو چند میٹر پانی میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر آسمان میں بھی کافی اوپر اڑلیتے ہیں۔

اسی طرح وہ تتلی جس کے پر بہت ہی نازک اور شفاف ہوتے ہیں جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو وہ نیلے رنگ کے دکھائی پڑتے ہیں، اور اگر اس میں دسیوں ہزار میں سے ایک جز بھی متغیر ہوجائے تو پھر اس کی روشنی میں بھی فرق آجائے گا یا بالکل ختم ہوجائے گی۔

قارئین کرام ! یھاں تک ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہوا کہ حیوانات کی دنیا واقعاً عجیب وغریب ہے جن کی خلقت اور نوآوری وغیرہ کو دیکھنے کے بعد(اگرچہ حیوانات کے صفات اس مختصر کتاب میں کماحقہ بیان نہیں کئے جاسکتے) انسان اس نتیجہ پر پهونچتا ہے :

) ِ صُنْعَ اللهِ الَّذِی اٴَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ إِنَّهُ خَبِیرٌ بِمَا تَفْعَلُون ) ( ۲۱ )

”(یہ بھی ) خدا کی کاریگری ہے کہ جس نے ہر چیز کو خوب مضبوط بنایا ہے بے شک جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وہ خوب واقف ہے۔“

تعالیٰ الله یقول المنکرون الجاحدون علوا کبیرا

قارئین کرام ! ہم یھاں پر ان آیات کریمہ کو بیان کرتے ہیں جو خداوند عالم کے وجود پربہترین دلیل ہیں ،جن میں انسان کونباتات،آسمان سے بارش ہونے اور زمین وآسمان کے درمیان موجودعجائبات میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے، کیونکہ ان تمام چیزوں کا اس قدر دقیق اور خصوصیات کے ساتھ پایا جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ صفات ان میں خود بخود نہیں پائے جاتے بلکہ ان سب کو مذکورہ صفات عطا کرنے والا خدوندعالم ہے۔

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ مَا تَحْرُثُون اٴَاٴَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ اٴَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا ) ( ۲۲ )

”بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم لوگ بوتے ہو کیا تم لوگ اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں، اگر ہم چاہتے تو اسے چور چور کردیتے ۔۔۔۔“

( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ اٴَ اٴَنْتُمْ اٴَنشَاٴْتُمْ شَجَرَتَهَا اٴَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ) ( ۲۳ )

”توکیا تم نے آگ پر بھی غور کیا جسے تم لوگ لکڑی سے نکالتے ہو کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں۔“

( وَهو الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاٴَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاکِبًا وَمِنْ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ اُنْظُرُوا إِلَی ثَمَرِهِ إِذَا اٴَثْمَرَ وَیَنْعِهِ إِنَّ فِی ذَلِکُمْ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُون ) ( ۲۴ )

”اور وہ وھی (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر چیز کے کوئے نکالے پھر ہم ہی نے اس سے ھری بھری ٹہنیاں نکالیں کہ اس سے ہم باہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور چوھارے کے درخت سے لٹکے ہوئے گچھے (پیدا کئے) اور انگور اور زیتون اور انار کے باغات جو باہم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (مزے میں) جداجدا ،جب یہ پہلے او رپکے تو اس کے پھل کی طرف غور تو کرو بے شک اس میں ایماندارلوگوں کے لئے بہت سی (خداکی ) نشانیاں پائی جاتی ہیں۔“

( الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ الْاٴَرْضَ مَهْدًا وَسَلَکَ لَکُمْ فِیهَا سُبُلاً وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ اٴَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّی ) ( ۲۵ )

”وہ وھی ہے جس نے تمھارے( فائدہ کے واسطے)زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لئے اس میں راھیںنکالیں اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر (خدا فرماتا ہے کہ )ہم ہی نے اس پانی کے ذریعہ مختلف قسموں کی گھاسیں نکالیں۔“

( اٴَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ لَکُمْ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا کَانَ لَکُمْ اٴَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا اٴَ ء ِلَهٌ مَعَ اللهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَعْدِلُونَ ) ( ۲۶ )

”بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے واسطے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم ہی نے پانی سے دلچسپ اور خوشنما باغ اگائے، تمھارے تو یہ بس کی بات نہ تھی کہ تم ان سے درختوں کو اگاسکتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ (ھر گز نھیں) بلکہ یہ لوگ خود( اپنے جی سے گڑھ کے بتوں کو)اس کے برابربناتے ہیں۔“

قارئین کرام ! نباتات کی دنیا بھی کس قدر عجیب ہے چنانچہ زمین شناسی (جیولوجی) " Geological "کے ماھرین اس بارے میں ہمیشہ بررسی وتحقیق میںمشغول ہیں کیونکہ وہ ہر روز ایک نہ ایک نئی چیز کشف کرتے ہیں۔

اورجیسا کہ ماھرین نے بیان کیا ہے کہ نباتات کی تقریباً پانچ لاکھ قسمیں ہیں اور وہ ترکیب اورتزویج اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہیں کیونکہ انھیں نباتات میں سے وہ بھی ہیں جن کی عمر کچھ دن کی ہوتی ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن کی عمر کچھ سال ہوتی ہے اور ان میں سے بعض کی عمر انسان کے کئی برابر ہوتی ہے۔

معمولاً نباتات وھاں پیدا ہوتی ہیں جھاں پر ان کے لئے مناسب اسباب موجود ہوں ، ان کے بیج طولانی مدت تک باقی رہتے ہیں کیونکہ جب تک ان کے لئے مناسب پانی اور مناسب گرمی موجود نہ ہوں تب تک پیدا نہیں ہوتیں، (جیسا کہ معلوم ہے کہ نباتات میں سے ہر ایک معین گرمی میں پیدا ہوتی ہیں) اسی طریقہ سے ان کے لئے ہوا کا بھی ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ اسی کی بدولت زندہ رہتی ہے اور اسی سے سانس لیتی ہے۔

اور جب دانہ اگنا شروع ہوتا ہے، تو پہلے چھوٹی چھوٹی جڑیں پیدا ہوتی ہیں اس وقت وہ اپنی غذا کو خود دانہ سے حاصل کرتا ہے یھاں تک کہ اس کی جڑیں زمین میں پھیلنا شروع ہوتی ہیں اس وقت وہ اپنی غذا زمین سے حاصل کرتا ہے گویا وہ انسان اور حیوان کے بچوں کی طرح ہے کہ جب تک وہ شکم مادر میں رہتا ہے تو اس کی غذا اس کی مادر کے ذریعہ پهونچتی ہے ، اس کے بعد اس کے دودھ سے غذا پهونچتی ہے اور جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو پھر وہ اپنی غذا میں خود مختار ہوجاتا ہے۔

قارئین کرام ! کیا ان تمام چیزوں کے ملاحظہ کرنے کے بعد کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ان تمام چیزوں کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہے؟

اور نباتات کا غذائی سسٹم،جڑوںپر منحصر ہوتا ہے کیونکہ یہ جڑیں ہی غذائی سسٹم کا پہلا جز ہیں، اور جڑیں نباتات کی احتیاجات کی بنا پر مختلف ہوتی ہیں، پس ان میں سے کچھ گاجر جیسی اور بعض آلو جیسی اور بعض جالی نما ہوتی ہیں، جبکہ ان تمام ا ختلاف کے باوجود ایک ہی مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔اور یہ مقصد نباتات کا اپنے لئے غذا حاصل کرنا ہے۔

اورجب یہ جڑیں رشد کرتی ہیں تو اس پر موجود چھلکا زمین سے رطوبت حاصل کرکے اس کو جڑوں کے اوپرپهونچاتا ہے، اور یھاں سے نباتات تک غذا پهونچتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد کرتی ہیں اور یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ نباتات کے لئے روشنی، پانی اور دیگر ضروری عنصر کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے جیسے کاربن، " Carbon " آکسیجن، " Oxygen " فسفور " Phosphore "، ”کاربرائڈ“" Carbide " وغیرہ۔

یہ بات بھی ذہن نشین رھے کہ نباتات اپنے پتوں کے ذریعہ سانس لیتی ہیں جو ان کے پھیپھڑوں کا کام کرتے ہیں چنانچہ نباتات حیوانوں اور انسانوں کی طرح انھیں پتوں کے ذریعہ آکسیجن،" Oxygen " کو حاصل کرتی ہیں اور کاربن اکسیڈ دوم " Carbon oxide "کو نکالتی ہے،اور نباتات کے سانس لینے سے گرمی میں کمی پیدا ہوتی ہے اور نباتات کا عملِ تنفس شب وروز جاری وساری رہتا ہے، مگر اس کا نتیجہ دن میں عمل کاربن کے مقابلہ میں ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ عمل کاربن کو نباتات عمل تنفس سے زیادہ جلدی انجام دیتی ہیں پس آکسیجن نکلتا رہتا ہے اور کاربن ڈائی اکسیڈ دوم" Carbon Dioxide " کو حاصل کرتا ہے۔

چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ہے کہ کاربن " Carbon " کا پیدا ہونا ہی ،ڈائی اکسیڈ کاربن " Carbon Dioxide " کی نابودی کے لئے کافی ہے ، اگر صرف اسی چیز پر اکتفا کی گئی ہوتی تو کافی تھا، لیکن خداوندعالم نے جو خالق عظیم ہے ایسی دوسری زندہ موجوات کوبھی خلق کیا جو اپنے سانس لینے میں کاربن اکسیڈ " Carbon oxide " نکالتی ہیں ، جیسا کہ مردہ جسم بھی کاربن اکسیڈ نکالتے ہیں نیز دیگر امور کی وجہ سے بھی یہ مادہ نکلتا ہے۔

چنانچہ اس کاربن اکسیڈ " Carbon oxide " کی نابودی میں کبھی کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ قدرت اور حکمت خدا کا تقاضا یہ ہے کہ فضا میں کاربن آکسائیڈ کی نسبت دس ہزار اجزا میں سے تین یا چار ہوتی ہے، اور اس نسبت کا اس مقدار میں موجود ہونا کائنات کی حیات کا سبب ہے ، اور (کاربن " Carbon " اور کاربن اکسیڈ" Carbon oxide " کی عملیات) میں ابھی تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب اس نسبت میں کوئی اختلاف ہوا ہو۔

چنانچہ بعض ماھرین کا کہنا ہے کہ اگرهوا میں آکسیجن،" Oxygen" % ۲۱ کے بجائے % ۵۰ ہوجائے تو اس کائنات میںجو چیزیں جلنے کے قابل ہیں ان سب میں آگ لگ جائے اور بجلی کی کوئی چنگاری اگر درخت تک پهونچ جائے تو وہ تمام آگ کی نذر ہوجائےں، اسی طرح اگر ہوا میں آکسیجن،" Oxygen" % ۱۰ یا اس بھی کم ہوجائے تو پھر تمام چیزوں کی زندگی خطرہ میں پڑجائے۔

تو کیا ان تمام تحقیقات کے بعد بھی کوئی انسان بے جان مادہ کوان تمام عجیب وغریب موجوات کا خالق کہہ سکتا ہے؟!!!

پانی کی خلقت

پانی ایک حیاتی اور ضروری مادہ ہے جو تمام ہی زندہ چیزوں کے لئے نھایت ضروری ہے:

( وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شیءٍ حَيٍّ ) ( ۲۷ )

”اور ہم ہی نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا “

لہٰذا پانی ضروریات زندگی میں سب سے اہم کردار رکھتاھے، اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس عظیم نعمت پر غور وفکر کرنے کی دعوت ہے بلکہ کرہ زمین پر موجود پانی کو دیکھ کر تمام لوگوں کواس خالق کے وجود پر دلیل کو درک کرنے کی دعوت دی گئی ہے:

( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ الْمَاءَ الَّذِی تَشْرَبُون اٴَاٴَنْتُمْ اٴَنزَلْتُمُوهُ مِنْ الْمُزْنِ اٴَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ اٴُجَاجًا فَلَوْلاَتَشْکُرُونَ ) ( ۲۸ )

”کیا تم نے پانی پر بھی نظر ڈالی جو (دن رات) پیتے ہو،کیا اس کو بادل سے تم نے برسایا یا ہم برساتے ہیں؟اگر ہم چاھیں تو اسے کھاری بنادیں تو تم لوگ شکر کیوں نہیں کرتے؟!

( وَمِنْ آیَاتِهِ یُرِیکُمْ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَیُنَزِّلُ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَیُحْیِ بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) ( ۲۹ )

”اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے واسطے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کوآباد کرتا ہے “

چنانچہ پانی کے ماھرین کا کہنا ہے کہ سمندر ہی آب شیرین(پینے کامیٹھا پانی) کی بنیاد اور اساس ہے اگرچہ سمندر کا پانی بہت زیادہ نمکین ہوتا ہے جس کو زمین پر زندہ موجودات استعمال نہیں کرسکتی، لیکن خدا وندعالم نے اپنی موجودات کے لئے پانی کو بارش کے ذریعہ صاف وخوشگوار بنایا ہے کیونکہ بارش کے ذریعہ ہی یہ نمکین پانی صاف اورگورا بنتا ہے۔

خدا وندعالم آسمان سے بارش برساتا ہے:

( وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) ( ۳۰ )

”اور وہ پانی جو خدا نے آسمان سے برسایا پھر اس سے زمین کو مردہ (بیکار) ہونے کے بعد جلا دیا(شاداب کردیا)

اور اگرخدا چاہتا تو یہ کھارا اور نمکین پانی اپنی پہلی والی حالت پر باقی رہتاجیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ۔

جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سمندر کے پانی کا نمکین ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ سمندر بہت وسیع اور گھرے ہوتے ہیں لیکن محدود اور بند ہوتے ہیں اور ان میں پانی بھرا رہتا ہے اور اگر یہ پانی نمکین نہ ہوتا تو ایک مدت کے بعد یہ پانی خراب اور بدبودار ہوجاتا۔

قارئین کرام ! ان کے علاوہ بھی پانی کی اہم خصوصیات ہوتی ہیں، مثلاً جب انسان سمندر کے پانی کو دیکھتا ہے تو اسے خدا کی قدرت اور اس کی تدبیر کا احساس ہوتا ہے، کیونکہ زمین کے تین حصے پانی ہیں تو اس سے ہوا او رگرمی پر بہت اثر پڑتا ہے، اور اگر پانی کے بعض خواص ظاہر نہ ہوں تو پھر زمین پر بہت سے حادثات رونما ہوجائیں، اور چونکہ پانی پانی ہے اور سالوں باقی رہ سکتا ہے اور پانی کی گرمی بھی زیادہ ہوتی ہے جو اوپر رہتی ہے جس کی بنا پر درجہ حرارت سطح زمین سے اوپر ہی رہتا ہے اور زمین میں سخت گرمی ہونے سے روکتاھے، اور یہ چیز زمین کو طولانی حیات کرنے میں مدد کرتی ہے جس کی وجہ سے سطح زمین پر موجود انسانوں (اور حیوانوں) کو فرحت ونشاط ملتی ہے۔

اسی طرح مذکورہ خواص کے علاوہ بھی پانی کی کچھ منفرد خاصیتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کے خالق نے اس کو اس طرح اس لئے خلق کیا ہے تاکہ اس کی مخلوقات مکمل طریقہ سے فائدہ اٹھاسکے۔ پس پانی ہی وہ مشهورومعروف اورواحدمادہ ہے جسکی کثافت " Density " پانی کے جماد کے وقت سب سے کم ہوتی ہے اور اس کی یہ خاصیت زندگی کے لئے بہت اہم ہے، کیونکہ اسی کی وجہ سے جب سخت سردی کے موسم میں پالا پڑتا ہے تو وہ اس کو ختم کردیتا ہے بجائے اس کے کہ وہ پانی کے اندر جائے اور غرق ہوجائے اور وہ آہستہ آہستہ جم جاتا ہے لیکن یہ پالا پڑنا اس پانی کو برف بننے سے روک دیتا ہے اگرچہ ٹھنڈک کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو ، اسی وجہ سے پانی میں موجود مچھلی او ردیگر حیوانات زندہ رہتے ہیں اور جب گرمی آتی ہے تو یہ پالا بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔

ان کے علاوہ بھی ہم پانی کے دوسرے عجیب فوائد کا ذکر کرسکتے ہیں، مثلاً نباتات کے لئے زمین کی سطح کو نرم کردیتا ہے، جس کی بنا پر نبات میں زمین کے اندر سے غذائی موادحاصل کرنے کے بعد رشد کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، چنانچہ یھی پانی ہے جو دیگر چیزوں کے اجسام کو نرم کرتا ہے ، اسی طرح پانی ہی وہ شے ہے جو انسان کے بدن میں داخل ہوکراس کے حیاتی مختلف عملیات میں مددگار ثابت ہوتا ہے، مثلاً خون یا خون کے مرکبات، اسی طرح پانی کا ایک بخار ہوتا ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے پانی ایک طولانی مدت تک پانی کی شکل میں بہنے والا باقی رہتا ہے ورنہ تو گرمی کی وجہ سے خشک ہوکر ختم ہوجائے۔

قارئین کرام ! سمندر اور دریا خدا کی عظیم نشانیاں ہیں، چنانچہ ان میں خشکی سے زیادہ متعدد قسم کے حیوانات پائے جاتے ہیںاور اس کائنات میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، مثلاً ایک مربع میٹر میں لاکھوں چھوٹے چھوٹے حیوانات پائے جاتے ہیں، جبکہ انھیں سمندروں میں بڑی بڑی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں ، واقعاً خداوندعالم کا قول صادق اور سچا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَهو الَّذِی سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاٴْکُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون ) ( ۳۱ )

”اور وھی وہ خدا ہے جس نے دریا کو (بھی تمھارے) قبضہ میں کردیا تاکہ تم اس میں سے (مچھلیوں کا) تازہ تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے زیور (کی چیزیں موتی وغیرہ)نکالو جن کو تم پہنا کرتے ہو اور تو کشتیوں کو دیکھتا رھے کہ (آمد ورفت میں) دریا میں (پانی کو) چیرتی پھاڑتی آتی جاتی ہے اور (دریا کو تمھارے تابع) اس لئے کردیا کہ تم لوگ اس کے فضل (نفع وتجارت) کی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔“

قارئین کرام ! یہ تو تھیں سمندر کی گھرائیوں کی باتیں اور اگر ہم اپنے اوپر وسیع وعریض نیلے آسمان پر دقت کے ساتھ غور وفکر کریں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ آسمان میں کس قدر چاند، سورج اور ستارے موجود ہیں ، اور اگر کوئی واقعاً ان میں غوروفکر کرے تو وہ بالکل دنگ رہ جائے گا اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس طرف توجہ دلائی ہے تاکہ ہم ایک عظیم اور ہمیشگی نتیجہ پر پهونچ جائیں، اور وہ یہ کہ یہ تمام عجیب وغریب چیزیں اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوئیں اور نہ ہی ان کا پیدا کرنا والا ”مادہ“ ہے:

( اٴَوَلَمْ یَنظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ ) ( ۳۲ )

”کیا ان لوگوں نے آسمان وزمین کی حکومت اور خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں غور نہیں کیا ؟!!“

( قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض ) ( ۳۳ )

”(اے رسول ) تم کہہ دو کہ ذرا دیکھو تو سھی کہ آسمانوں اور زمین میں (خدا کی نشانیاں) کیا کچھ ہیں۔۔۔“

( اٴَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَی السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاهَا وَزَیَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوج ) ( ۳۴ )

”تو کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا ہے اور اس کو (کیسی) زینت دی اور اس میں کھیں شگاف تک نھیں“

( اللهُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ) ( ۳۵ )

”خدا وھی تو ہے جس نے آسمانوں کو جنھیں تم دیکھتے ہو بغیر ستون کے اٹھاکھڑا کردیا۔۔۔“

( وَالسَّمَاءَ بَنَیْنَاهَا بِاٴَیدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ) ( ۳۶ )

”اور ہم نے آسمانوں کو اپنے بل بوتے سے بنایا اور بے شک ہم میں سب قدرت ہے“

( ِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِی لِاٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ( ۳۷ )

”اسی نے چاند اور سورج کو اپنی مطیع بنارکھا ہے کہ ہر ایک اپنے (اپنے) معین وقت پر چلاکرتا ہے“

ستاروں کی یہ کائنات کروڑوں ستاروں پر مشتمل ہے جن میں سے بعض ایسے ہیں جن کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن بعض کو دوربین وغیرہ ہی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے وجود کا محققین وماھرین احساس کرتے ہیں لیکن ان کو دیکھا نہیں جا سکتا، لہٰذا ان تمام چیزوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد انسان دنگ رہ جاتا ہے، کیونکہ کوئی ایسا مقناطیسی سسٹم نہیں ہے جس کی بناپر ان کو ایک دوسرے سے قریب یا ایک دوسرے سے دور کردے،جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ کسی سمندر میں دو اسٹمیر " Steamer " ایک راستہ پر ایک ہی سرعت کے ساتھ چلتے ہیں اوران کا آپس میں ٹکرانے کا احتمال ہوتا ہے۔

چنانچہ آج کا سائنس کہتا ہے کہ روشنی کی رفتارفی سیکنڈ ۱۸۶۰۰۰ میل ہے، ان میں سے بعض ستاروںکی روشنی فوراً ہی ہم تک پہنچ جاتی ہے اور بعض کی روشنی مھینوں اور بعض کی سالوں میں پهونچتی ہے تو آپ اندازہ لگائیں یہ آسمان کتنا وسیع وعریض اور عجیب وغریب ہے۔؟!

تو کیا یہ تمام چیزیں یونھی اتفاقی طورپر اور بغیر کسی قصد وارادہ کے پیدا ہوگئیں؟! اور کیا یہ تمام چیزیں بغیر کسی بنانے والے کے بن گئیں؟! اور کیا ”مادہ“ ان تمام چیزوں کو اتنا منظم خلق کرسکتا ہے؟!!

( هَذَا خَلْقُ اللهِ فَاٴَرُونِی مَاذَا خَلَقَ الَّذِینَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ) ( ۳۸ )

”(اے رسول ان سے کہہ دو کہ ) یہ تو خدا کی خلقت ہے پھر (بھلا) تم لوگ مجھے دکھاؤ تو کہ جو (معبود) خدا کے سوا تم نے بنارکھے ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا بلکہ سرکش لوگ (کفار) صریحی گمراھی میں (پڑے) ہیں۔“

قارئین کرام ! اس زمین کو خداوندعالم نے اس طرح خلق کیا ہے تاکہ اس پر مختلف چیزیں زندگی کرسکیںاور یہ زمین گھومتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ شب وروز وجود میں آئیں۔

اور یہ زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ہے جس کی وجہ سے سال اور فصل بنتی ہیں ، جس کی بنا پر کرہ زمین پر موجودہ مختلف مقامات پر ساکنین کے لئے مساحت زیادہ ہوجائے، اور زمین پر نباتات کی فراوانی ہوسکے۔

زمین کا یہ گھومنا بہت ہی حساب شدہ ہے، چنانچہ نہ اس میں کمی ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اگر اس زمین کی موجودہ حالت میں کمی یا اضافہ ہوجائے توزندگی کا خاتمہ ہوجائے۔

اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس زمین پر گیس کا غلاف ہوتا ہے جو گیس زندگی کے لئے ضروری ہے، چنانچہ یہ گیس زمین سے / ۵۰۰ میل کے فاصلہ پر رہتی ہے اوریہ غلاف اتنا ضخیم ہوتا ہے ،جو آج کے دور میں ایک سیکنڈ میں تیس میل کی دوری کو تیزی کے ساتھ طے کرتا ہے۔

جس کی بناپر ان ستاروں کی گرمی کو کم کردیتا ہے کہ اگر یہ غلاف نہ ہو تو پھر زمین پر کوئی زندہ باقی نہ بچے، اور اسی غلاف کی وجہ سے مناسب گرمی ہم تک پهونچتی ہے اسی طرح اس زمین سے پانی کا بخار بھی بہت دور رہتا ہے تاکہ خوب بارش ہوسکے، اور مردہ زمین سبزہ زار بن جائے کیونکہ بارش ہی کی وجہ سے پانی اتنا صاف ہوتا ہے اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو پھر زمین چٹیل میدان نظر آئے اور اس میں زندگی بسرکرناغیر ممکن ہوجائے۔

اسی طرح پانی کا ایک اہم خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ سمندر اور خشکی میں موجود تمام چیزوں کی حیات کی حفاظت کرتا ہے خصوصاً وہ برفیلے علاقے جھاں پر کڑاکے کی سردی ہوتی ہے کیونکہ پانی آکسیجن کی کافی مقدار کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے جب کہ آکسیجن کا درجہ حرارت کم ہو اور جو سمندر اور نھروں میں پانی کی سطح پر پالا ہوجاتا ہے اس کو یہ پانی ختم کردیتا ہے، کیونکہ نسبی طور پر خفیف ہوتا ہے پس اس بنا پر ٹھنڈے علاقے میں تمام پانی میں رہنے والے موجودات کازندگی گذار نا آسان ہوجاتا ہے، اور جب پانی جم جاتا ہے تو اس کے اندر سے کچھ حرارت نکلتی ہے جو سمندری حیوانات کی زندگی کی محافظت کرتی ہے۔

اب رھی خشک زمین تو یہ بھی بہت سی چیزوں کی حیات کے لئے بنائی گئی ہے ، چنانچہ اس میں ایسے بہت سے عناصر ہیں جو نباتات اور دوسری چیزوں کی حیات کی اہم ضرورت ہیں، جن سے انسان اور حیوانات کی غذا فراہم ہوتی ہے، چنانچہ بہت سے معادن زمین پر یا اس کے اندر پائے جاتے ہیں، اور اس سلسلہ میں بڑی بڑی کتابیںبھی لکھی گئی ہیں۔

اور اگراس زمین کا قُطر موجودہ قطر کے بجائے ایک چھارم ہوتا تو پھر اس کے اطراف میں موجود پانی اور فضائی دونوں غلاف کو یہ زمین اپنے اوپرروک نہ پاتی اور اس زمین پر اتنی گرمی ہوتی کہ کوئی بھی چیز زندہ نہیں رہ پاتی۔

اور اگر اس زمین کا اندازہ موجودہ صورت کے بجائے دوبرابر ہوتا اور اس زمین کی مساحت دوبرابر ہوتی ، اور اس وقت موجودہ زمینی جاذبہ دوبرابر ہوجاتا، جس کی بنا پر ہوائی غلاف کا نظام خفیف ہوجاتا، اور فضائی تنگی ایک کیلو گرام سے دو کیلوگرام فی مربع سینٹی میٹر ہوجاتی، اور یہ تمام چیزیں سطح زمین پر موجودہ تمام اشیاء کے لئے مو ثر ثابت ہوتیں، تو ٹھنڈے علاقے کی مساحت اور وسیع ہوجاتی، اور وہ زمین جو قابل سکونت ہے اس کی مساحت کافی مقدار میں کم ہوجاتی، چنانچہ ان وجوھات کی بناپر انسانی زندگی درہم وبرہم ہوجاتی۔

اسی طرح ا گرسطح زمین موجودہ مقدار سے زیادہ بلند ہو تو اس صورت میں یہ آکسیجن اور ڈائی اکسیڈ کاربن دوم " Carbon Dioxide "زیادہ جذب کرتی جس کی بنا پر نباتات کی زندگی تنگ ہوجاتی۔

اسی طریقہ سے اگر زمین کی سورج سے موجودہ دوری کو دوبرابر بڑھا دیا جائے تو اس کی سورج سے لی جانے والی موجودہ حرارت سے ایک چوتھائی کم ہوجائے گی اور اس صورت میں زمین کا سورج کے اردگرد چکر لگانا طولانی مدت طے پائے گا جس کی بنا پر سردی کا موسم بڑھ جائے گا اور سطح زمین پر رہنے والے موجودات کی زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔

اسی طرح سے اگرزمین اور سورج کے درمیان موجودہ مسافت کو کم کرکے نصف کردیا جائے تو موجودہ حرارت میںچار گنا اضافہ ہوجائے گا، اور گردش زمین سورج کے اطراف میں تیز ہوجائے گی، جس کی بنا پر زمین پر کسی بھی موجود کا زندہ رہنا ناممکن ہوجائے گا۔

یھاں تک کہ کرہ ارض کا میلان کہ جس کی مقدار ۲۳ زاویہ فرض کی گئی ہے یہ بھی بغیر مصلحت نہیں ہے کیونکہ اگر اس میں یہ میلان نہ ہوتا تو زمین کے دونوں قطب مسلسل اندھیرے میں ڈوبے رہتے اور پانی کے بخارات شمال وجنوب میں منڈلاتے رہتے، اور ایک دوسرے پر پالا یا برف بن کر منجمد ہوجاتے۔

المختصر زمین کا موجودہ دقیق نظام مختل ہوجائے تو تمام جاندار اشیاء کی زندگی نیست ونابود ہوکر رہ جائے گی، کیونکہ زمین کے اندر پائے جانے والے نظام جاندار اشیاء کے لئے اسباب حیات فراہم کرتے ہیں، تو کیا یہ سارا نظام اتفاقی اور تصادفی ہے؟!!

قارئین کرام ! زمین کی مٹی بھی عجیب کائنات ہے اور اسی سے بہت سی چیزیں مربوط ہوتی ہیں، جو تمام اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس زمین اور مٹی کا بنانے والا کوئی نہ کوئی ہے ، کیونکہ جب ہم مٹی کو دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کی فعالیت انجام دیتی ہے اور کس طرح بہت سے نتائج پیش کرتی ہے چنانچہ ماھرین نے اس کے نتائج کی درج ذیل قسمیں بیان کی ہیں: کہ اس کا نچلا حصہ گول ہوتا ہے اس پر مٹی کا ایک طبقہ ہوتا ہے، جب وہ ہٹ جاتا ہے تو دوسرا طبقہ اس کی چگہ پر آجاتا ہے۔

اور یہ بھی مسلم ہے کہ ہمارے لئے مٹی بہت ہی مفید ہے کیونکہ اکثرکھانے کی چیزیں اسی سے دستیاب ہوتی ہیں، کیونکہ تمام نباتات مٹی کی وجہ سے ہی رشد ونمو کرتی ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ بغیر زمین کے نباتات کا کوئی وجودهو ہی نہیں ہوسکتا،اور جب ان نباتات کی جڑیں کسی بھی موٹے پتھر سے ٹکراتی ہیں تو وہ آہستہ آہستہ ان سے ہٹتے جاتے ہیں البتہ پتھروں کا ہٹ جانا ان قواعد کے تحت ہوتا ہے جن سے پتھر پانی میںپگھل جاتے ہیں مثلاً ان میں کیلسم " Calcium "، میگنیسم" Magnesium " ، اورپوٹاشم" Potassium " ہوتے ہیں اسی طرح ان میں سلکون اسیڈس " Silicon Acids "باقی رہتے ہیں اور المینیم اور لوھے کا مٹی میں زیادہ غلبہ ہے ۔

جبکہ سلکون کے عناصر کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے پتھر کو پانی بناسکتے ہیںلہٰذا پتھر کو پانی بنانے والے اجزاء بھی اسی نبات میں ہوتے ہیں اور اسی طرح ان نبات میں وہ اجزاء بھی ہوتے ہیں جو ان کو رشد ونمودیتے ہیں تو یہ دونوں ایسی چیزیںھیں جو ایک دوسرے کے سوفی صد مخالف ہیںتوکیا ایک ساتھ رہ کر کام کرسکتی ہیں او ردرختوں اور نباتات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

لیکن یھی نیٹروجن" Nytrogen "جس کے ذریعہ بجلی بنتی ہے اور اس بجلی کو بہت سے لوگ موت کا فرشتہ بھی کہتے ہیں، چنانچہ اسی نیٹروجن" Nytrogen "کے " OXidS "سے بجلی کی طاقت پیدا ہوتی ہے ،لیکن جب یھی نیٹروجن کے اکسیڈس بارش یا برف کے ذریعہ مٹی میں جذب ہوتے ہیں تو اس کو یا اس پر موجود درختوں کو جلانے کے بجائے ان کو رشد ونمو عطا کرتے ہیں، چنانچہ مٹی میں موجود نیٹروجن کی مقدار کو سالانہ سوڈیم کی تیس بالٹی حاصل کرتی ہے اور یہ مقدار درختوں او ردیگر نباتات کے رشد ونمو کے لئے کافی ہوتی ہے۔!!

اور یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ یہ نیٹروجن جس سے بجلی بنتی ہے تو یہ مستوی علاقوں میں بنسبت مرطوب اور معتدل علاقوں کے زیادہ ہوتا ہے پس خشک اور جنگلی علاقوں میں اس کی مقدار میں اضافہ ہوتا رہتاھے، خلاصہ یہ کہ یہ نیٹروجن علاقے کی ضرورت کے تحت مختلف چیزوں میں کارگر ہوتا رہتاھے کیونکہ ہر علاقہ میں اس کی ایک خاص ضرورت ہوتی ہے تو کیا اس کی تدبیر کے لئے کوئی نہیں ہونا چاہئے؟!!

الغرض اس دنیا کے عجائبات میں سے کس کس چیز کا ذکر کیا جائے مثلاً پانی کا دورہ، اکسیڈ کاربن دوم کا دورہ، عجیب انداز میں زاد ولد ہونا اسی طرح روشنی اور نور کی عملیات ان سب کی قوت شمس کے خزانہ میں بہت زیادہ اہمیت ہے ، اسی طرح اس موجودہ کائنات کی زندگی میں اہم کردار رکھتے ہیں ، چنانچہ اس کائنات کی ظاہری چیزیں اور سبب واقع ہونے والی چیزیں اسی طرح تکامل وتوافق او رتوازن جن کے ذریعہ سے بہت سی چیزیں منظم ہوتی ہیں، توکیا یہ اتنی عجیب وغریب چیزیں اتفاقی اور اچانک پیدا ہوگئیں،(انسان کی عقل کو کیا ہوگیا اور ان تمام مخلوقات میں غور نہیں کرتا)

چنانچہ یہ بسیط جزئیات جن کی کوئی صورت معین نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے درمیان خالی جگہ ہوتی ہے ، لیکن ان سے کروڑوں کواکب اور ستارے نیز مختلف عالم وجود میں آئے جن کی معین صورت بھی ہوتی ہے اورطولانی عمر بھی اور اپنے خاص قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، تو کیا یہ بھی سب کچھ اتفاقی طور پر اچانک پیدا ہوگیا؟!!

اور یہ کیمیاوی مشهور عناصر جن کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہے تو کیا انسان ان میں تشابہ اور اختلاف کی صورتوں کو ملاحظہ نہیں کرتا؟کیونکہ ان میں بعض رنگین ہیں اور بعض رنگین نہیں ہیں، ان میں سے بعض ایسے گیس ہیں جن کو سائل (بہنے والی)یا جامد بنانا مشکل ہے اور بعض سائل ہیں، اور بعض ایسے سخت ہیں جن کو سائل یا گیس بنانا مشکل ہے ، ان میں سے بعض کمزور ہیں اور بعض سخت، ان میں سے بعض ھلکے اور بعض بھاری، بعض مقناطیسی ہیں اور بعض مقناطیسی نہیں ہیں، ان میں سے بعض نشاط آورھیں اور بعض بے قدرے، بعض احماض (کڑوے) ہیں اور بعض کڑوے نہیں ہیں ان میں بعض کافی عمر کرتے ہیں اور بعض کچھ دن ہی عمر کرتے ہیں ، لیکن یہ تمام ایک ہی قانون کے تحت ہوتے ہیں اور وہ قانون ”قانون دوری“ " Periodic Law "ھے۔

کیونکہ ان معین عنصر اور غیر معین عنصر کے ذرات کے درمیان فرق صرف پروٹونات اور نیوٹرونات کی تعداد میں ہوتا ہے جو گٹھلی کی طرح ہوتے ہیںاور دوسرا فرق یہ ہے کہ عدد اور الکٹرونات جو گٹھلی سے باھر ہوتے ہیں اور ان کا طریقہ تنظیم بھی جدا ہوتا ہے، لہٰذا اس بنا پر مواد مختلفہ کی کروڑوں قسمیں چاھے وہ عناصر ہوں یا مرکب چیزیں” کھربائی“" Electricity " جزئیات سے مل کر بنتی ہیں اور ان میں یا تو فقط صورت ہوتی ہے یا طاقت ، او رچونکہ مادہ بھی جزئیات او رذرات سے تشکیل پاتا ہے ، اور جزئیات وذرات ”الکٹرونات“ و”نیوٹرونات“سے ذرات تشکیل پاتے ہیں اسی طرح طاقت او رکھرباء" Electricity " یہ تمام کے تمام معین قوانین کے تحت ہوتے ہیں اس حیثیت سے کہ ان ذرات کی ایک مقدار بھی ان کی معرفت اور خصوصیات کو کشف کرنے کے لئے کافی ہے۔

کیا یہ تمام چیزیں اتفاقی ہوسکتی ہیں؟ اسی طرح کیا یہ تمام قوانین اور نظام کائنات صدفةً اور اچانک ہوسکتے ہیں؟!!

آج کا سائنس مادہ کے ازلی ہونے کو ردّ کرتا ہے

ہمیں اس بات کا یقین ہے اور اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ تمام جھان اور جو کچھ بھی اس میں موجود ہے جسے ہم ملاحظہ کررھے ہیں یہ سب قدیم زمانہ سے موجود ہیں اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ ” عدم“ کے ذریعہ کوئی چیز وجود نہیں پاتی؟! بلکہ ہر چیز کے لئے ایک بنانے والے کا ہونا ضروری ہے ، یعنی یہ تمام چیزیں پہلے نہیں تھیں اور بعد میں وجود میں آئیں، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا پیدا کرنے والا کون ہے؟


مادہ ہے یا خدا؟

اس جگہ اگر کوئی یہ کھے کہ ان کا پیدا کرنے والا مادہ ہے جیسا کہ بعض لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں تو ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ مادہ کیسے پیدا ہوا ؟اور اس کو کس نے پیدا کیا؟

ہمارے اس سوال کے جواب میں اھل مادہ کہتے ہیں:

”مادہ چونکہ پہلے سے موجود تھااور وہ ازلی ہے لہٰذا اس کے پیدا ہونے اوراس کو پیدا کرنے والے کی ضرورت ہی نہیں “

قارئین کرام ! آج کل کے سائنس نے اس نظریہ کو بہت ہی آسان طریقہ سے ردّ کیا ہے ، کیونکہ سائنس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہوسکتی، کیونکہ نظام کائنات کا دستور یہ ہے کہ گرم اجسام سے گرمی سرد اجسام کی طرف جاتی ہے اورذاتی طور پر اس کے برعکس نہیں ہوتی، مثلاً گرمی ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات میں تمام اجسام کا درجہ حرارت متعادل رہتا ہے اور اس میں معین طاقت جذب ہوتی ہے ،اور اگر ایک روز ایسا آجائے کہ جب اس میں کیمیاوی اور طبیعی کارکردگی نہ ہو، تو اس کائنات میں کوئی شی بھی زندہ باقی نہ بچے، جبکہ ہم دیکھ رھے ہیں کہ اس کائنات میں حیات باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مختلف قسم کی کارکردگی ہورھی ہے ، لہٰذا ہم یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ یہ کائنات ازلی نہیں ہے اور اگر اس کو ازلی مان لیا جائے تو اس کائنات کی تمام موجودات کبھی کی ختم ہوگئی ہوتیں۔

چنانچہ آج سائنس نے ایسے آلات بنالئے ہیں جن کی وجہ سے زمین کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ، لیکن پھر بھی اس کے نتائج تخمینی ہوتے ہیں لیکن ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کائنات کروڑوں اور اربوں سال پہلے ایجاد ہوئی ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ازلی (ہمیشہ سے)نھیں ہے اور اگر ازلی ہوتی تو اس میں کوئی بھی عنصر نہ پایا جاتا، چنانچہ قوانین ”ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics "کا قانون دوم بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔

لیکن وہ نظریہ جوکہتا ہے کہ” یہ کائنات دوری“ ہے یعنی پہلے یہ کائنات سُکڑی ہوئی تھی ، پھر پھیل گئی اور اس کے بعد پھر سُکڑ ے گی اوریہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

لیکن یہ نظریہ بھی درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دلیل قابل قبول ہے نیز نہ ہی اس کو علمی نظریہ کھا جاسکتا ہے، کیونکہ ”قوانین ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics " ، دلائل فلکی اور جیولوجی" Geological " ان تمام چیزوں سے مذکورہ نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ یہ چیز اس جملہ کی تائید کرتی ہے کہ ”زمین وآسمان کو ابتداء میںخداوندعالم نے خلق کیا ہے“:

”لقد خلق الله فی البدایة السماوات والارض“

(بے شک خدا نے ہی زمین وآسمان کو ابتداء میں خلق کیا ہے۔)

اسی طرح یہ بے عیب سورج اور چمکتے ہوئے ستارے اوریہ زمین اپنی تمام زندگی کے اسباب کے ساتھ بہترین دلیل ہے کہ اس کائنات کی اصل واساس ایک خاص زمانہ سے مربوط ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں حادث ہوئی (یعنی ازلی اور ہمیشہ سے نہیں ہے۔)

اسی طرح علم کیمیا (کیمسٹری)بھی دلالت کرتا ہے کہ تمام مادے زوال اور فنا کی طرف بڑھ رھے ہیں چاھے ان کی رفتار تیز ہو یا کم، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ ہمیشہ باقی نہیں رھے گا ،اور نہ ہی یہ مادہ ازلی تھا پس اس مادہ کی بھی کوئی ابتداء تھی کہ جب یہ وجود میں آیا ، چنانچہ اس بات پر علم کیمیا اور سائنس بھی دلالت کرتے ہیںکہ مادہ کی ابتدا ء تدریجی نہیں بلکہ یہ اچانک اور یکایک پیدا ہوا ہے ،لہٰذا سائنس کے ذریعہ اس کے پیدا ہونے کا وقت معین کیا جاسکتا ہے ، تو پھر ان تمام چیزوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ عالَمِ مادی مخلوق ہے اور یہ جب سے خلق ہوا ہے تو اسی وقت سے خاص قوانین کے تحت ہے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ محدود ہے جس میں کوئی اتفاقی عنصر نہیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! تقریباً سوسال پہلے روس کے ایک ماھر ”مانڈلیف“ نے ایسے کیمیاوی عناصر مرتب کئے جو ذرات کے وزن کو ترتیب دوری کے لحاظ سے بڑھادیتے ہیں ،اور اس نے ایسے عناصر کا پتہ لگایا ہے جن کے ذریعہ مادہ کی ایک نئی قسم ایجاد ہوتی ہے جس کی صفات تقریباً ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں، تو کیا ان تمام باتوں کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ہے کہ یہ کائنات تصادفی اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئی ہے؟!!

بتحقیق ”مانڈالیف“ کے کشفیات کو ”مصادفہ دوری“ کا نام نہیں دیا جاسکتا، البتہ اسے”قانون دوری“ " Periodic Law "کھا جاسکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان کو مصادفہ اور اتفاق کا نام دیدیں جیسا کہ ماھرین سائنس کا درج ذیل نظریہ :

عنصر ”الف“ ،عنصر ”ب“ کے ذریعہ متاثر ہوتا ہے لیکن عنصر ”الف“ ،عنصر ”ج“ کے ذریعہ متاثر نہیں ہوتا۔؟!

نھیں ھرگز نھیں! کیونکہ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کائنات کے تمام عنصر ”الف“ ،وعنصر ”ب“ میں قوت جاذبہ اور رجحان ہوتا ہے لیکن یہ طاقت عنصر”ج“ میں نہیں ہوتی۔

چنانچہ ماھر سائنسداںافراد کا ماننا ہے ھلکے معادنی ذرات اور پانی کے درمیان سرعت تفاعل معادنی ذرات کے اوزان کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی رہتی ہے ، اس حال میں کہ عناصر ”ھالوجینیہ “ جو جدا ہوئے ہیں ان کی گردش ،مذکورہ گردش کے بالکل مخالف ہوتی ہیں، اور آج تک بھی اس مخالفت کا سبب کسی کو معلوم نہ ہوسکا، اس کے باوجود بھی کسی بھی شخص نے اس چیز کو محض مصادفہ کا نام نہیں دیا ہے، اور نہ کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ ان عناصر کی مذکورہ گردش کبھی کبھی ایک دو مادہ کے بعد معتدل ہوجاتی ہے، یا زمان ومکان کے اختلاف کی بناپر معتدل ہوجاتی ہے، اور نہ ہی کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تمام ذرات بنفسہ کبھی کبھی اپنے تفاعل سے خارج ہوجاتے ہیں، یا برعکس فعالیت کرنا شروع کردیتے ہیں یا بغیر کسی سوچے سمجھے اپنی فعالیت انجام دیتے ہیں۔

سائنس نے ترکیب ذرات کوکشف کیا ہے کہ کیمیا کی وہ فعالیت جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کی خاصیت کو ملاحظہ کرتے ہیں یہ سب کے سب، خاص قوانین کے تحت ہوتے ہیں جن میں تصادفی اور اتفاقی کوئی چیز نہیں ہے۔

تاکہ ہم نامعلوم ذرات کے ذریعہ اس واضح نظریہ کو اخذ کریںکہ ہم یہ تصور کریں کہ اگر ”ھیڈروجن“ " Hydrogen "کے کروڑوں ذرات ایک جگہ جمع ہوجائےں تو ایک ملی میڑ ( m.m )جگہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔

بالفرض اگر ہم پیاسے ہو ں اور ہم پانی پئیں تو جو پانی ہم پیتے ہیں تو اس میں کچھ ریت کے ذرات ہوتے ہیں کیونکہ سمندر اور زمین میں ہونے کی وجہ سے پانی میں مٹی کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

اور کبھی کبھی یہ ذرات بہت ہی باریک باریک پتھر سے تشکیل پاتے ہیںجو بالکل ذرہ کے برابر ہوتے ہیں۔

اور یہ ذرہ ایک نوات ( بہت ہی باریک پتھر )سے وجود میں آتا ہے کیونکہ یہ نوات باریک پتھر سے بنتے ہیں، چنانچہ ان میں کے بعض پروٹن ہوتے ہیںاور بعض نیوٹرن ، جبکہ ان کے اردگرد ایک بعید فاصلہ پر الکٹرون گردش کرتی ہے۔

چنانچہ سائنسدانوں نے اس نظام میں بہت سی چیزوں کو کشف کیا ہے جن کی اب تک ۳۰/ قسموں کاپتہ چل چکا ہے جن میں سے بعض وہ ہیں جن کو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے جیسے ”پروٹن“، ”نیوٹرون“ اور ”الکٹرون“۔ " Proton","Neutron", "Electron "۔

اور ماھرین کا کہنا ہے کہ ”الکٹرون“ کے چکّر ایک سیکنڈ میں ۷ بلین " Billion " (ملین در ملین) ہوتے ہیں۔

جبکہ بعض ذرات ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے میں جذب ہوجاتے ہیں اور بعض ذرات کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں چونکہ ذرات کے بھی کچھ قوانین ہیں جو انسان میں شادی اور طلاق کے قوانین سے دقیق تر ہیں۔

اسی طرح ہم جس نمک کو مختلف غذاؤں میں استعمال کرتے ہیں اس کے دو جز ہوتے ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور اگر اس کے یہ دو جز ایک ساتھ نہ ہوں تو پھر ان میں کا ہر ایک جزء جسم میں فساد اور خرابی ایجاد کردیتا ہے، کیونکہ نمک میں دو درج ذیل چیزیں ہوتی ہیں:

۱ ۔”کلورائیڈ“ " Chloride " جو ایک قسم کی گیس ہوتی ہے جس کو اگر کوئی زندہ حیوان سونگ لے تو وہ موت کے گھاٹ اتر جائے۔

۲ ۔” سوڈیم“ " Sodium "جو ایک نرم عنصر ہوتا ہے جو پانی کو خشک کردیتا ہے اور اس کے اندر سے دھواں اور شعلے نکلتے ہیں یہ بھی اگر کسی کے بدن میں داخل ہوجائے تو وہ بھی مرجائے ، لیکن یھی دونوں زھریلی اور خطرناک چیزیں جب آپس میں مل جاتی ہیں تو نمک بن جاتاھے جس کے بعد نہ نقصان دہ ہوتا ہے اور نہ شعلہ ور۔

اسی طرح پانی کے بھی تین اجزاء ہوتے ہیں جس طرح سے اسلامی قوانین کے مطابق انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ ایک، دو تین یا چار بیویوں سے (ایک وقت میں) شادی کرسکتا ہے اسی طرح ذرات کا قانون بھی ہے پس جب ”کلورائیڈ“ ”سوڈیم“ سے ملتا ہے تو ہمارے لئے نمک بن جاتا ہے گویا یہ کلورڈ ایک ذرہ سے ملا ہے، اسی طرح جب آکسیجن،" Oxygen "، ہیڈروجن " Hydrogen " کے دو ذروں سے ملتا ہے تو پانی بنتا ہے، اور جب ”نیٹروجن“ تین ذروں سے ملتا ہے تو ”امونےا“نامی گیس بنتی ہے (جس کا مزہ منھ جلانے والا ہوتا ہے جو بے رنگ اور تیز مزہ رکھتی ہے) اور جب ”کاربن“ " Carbon " ہیڈروجن " Hydrogen "کے چار ذروں سے ملتا ہے تو ”میٹھن“ " Methane "نامی گیس بنتی ہے۔

اسی طرح بعض عناصر ایسے ہیںجو انفرادی طور پر رہتے ہیںاور ان میں کے بعض ذرات کے نام اس طرح ہیں: ”نیون“ اور ”راڈون“(جو دونوںگیس ہیں)

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ عالم ذرات بھی کتنا عجیب ہے جس میں مختلف فائدہ مندجزئیات ہوتے ہیں اور یہ ہماری زمین پر اس طرح ایک دوسرے سے مرتبط ہیں کہ انسان تصور کرنے سے قاصر ہے ، بس ایسے سمجھ لیجئے کہ جس طرح کسی بھی زبان کے حروف (جیسے عربی زبان میں حروف تہجی کی تعداد ۲۸/ ہے ) کو ایک دوسرے سے ملاتے جائےں، ان سے کلمات بنتے جائیں تب آپ دیکھیں کہ کتنے عنصر بنتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ لاکھوں او ر کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی۔

مثال کے طور پر یھی تین چیزیں :

۱ ۔ کاربن۔" Carbon " ۔

۲ ۔آکسیجن" Oxygen " ۔

۳ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔ کو اگر ایک دوسرے سے ملائیں تو لاکھوں کیمیائی مرکب تیار ہوسکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی الگ الگ خاصیتیں ہونگی۔

جیسا کہ ماھرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے مختلف پروٹن " Protein "کی اتنی قسم ہیں جن کی تعداد دسیوں لاکھ تک پهونچتی ہے جبکہ پروٹن" Protein "، کاربن" Carbon "، ہیڈروجن" Hydrogen " اور آکسیجن،" Oxygen " کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔اور کبھی کبھی پروٹن کے ساتھ ”فاسفور " Phosphore " اور ”کاربرائڈ“" Carbide "هوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔

اسی طریقہ سے ہمارے لئے حیات کے تمام جزئیات واضح ہوتے جاتے ہیں اوریہ جزئیات حیات اسی طریقہ سے جاری وساری ومتحدو منفصل (جدا) ہوتے جاتے ہیں، چنانچہ اس زندگی کے تمام جزئیات کے ادوار اور اس کے اتحاد وانفصال کی تمام صورتیں ایک معین اور معلوم مقدار کے مطابق رواں دواں ہے نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ زیادتی، کیونکہ ھرحالت کے لئے ایک قطعی قانون اور محکم نظام ہوتا ہے ۔

کیا کوئی صاحب عقل اور مفکر انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ عقل وحکمت سے خالی مادہ اپنے آپ کو خود بخود اچانک وجود میں لے آئے؟! یا یہ مجرد مادہ پہلے اس کائنات کے قوانین ونظام کا موجداور پھر ان قوانین کو اپنے اوپر لاگوبھی کردے یعنی پہلے ان قوانین کو اس مادہ نے ایجاد کیا اورپھر یہ مادہ ان قوانین کے ماتحت ہوجاتا ہے؟!!

بلا شبہ ہر صاحب عقل کا جواب یھاں نفی میں ہوگا، بلکہ مادہ جب طاقت میں تبدیل ہوتا ہے یا مادہ میں طاقت آتی ہے تو یہ تمام چیزیں معین قوانین کے تحت ہوتی ہیں، اور وہ مادہ جو وجود میں آیا ہے وہ بعد میںان قوانین کا محکوم ہوتاھے یعنی اس پر معین قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

اور جب ہمارا یہ مادی عالم اپنے جیسا( عالم) خلق کرنے یا ایسے قوانین تعین کرنے سے، (جو اس کے زیر اثر ہوں)عاجز ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس عالم کی خلقت ایک ایسے موجود کے ذریعہ وجود میں آئے جو مادہ کے علاوہ ہو۔

چنانچہ ہماری اس بات کی تائید قوانین حرارت کرتے ہیں، اور ہم انھیں کے ذریعہ طاقت میسورہ اور طاقت غیر میسورہ کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں،اور بتحقیق یہ بات ظاہر ہے کہ جب کوئی بھی حرارت متغیر ہو توطاقت میسورہ کا ایک معین جز طاقت غیر میسورہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ طبعیات میں یہ تغییر و تبدیلی اس کے برخلاف نہیں ہوتی،اور یہ” ڈینا میکا حرارتی قوانین“ " Thermo Dynamics "کا دوسرا قانون ہے۔

اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ حادث ہے (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے) تواس کے لئے کسی محدث کا ہونا ضروری ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے کو پیدا نہیں کرسکتی ،بلکہ یہ بات عقلی طور پر محال ہے کہ کوئی شے اپنی موجد ہو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ کا خالق اور موجد خداوندعالم کے علاوہ کوئی دوسر انھیں ہوسکتا۔

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ” تطورمادہ“ (حرکت مادہ) بر بناء صُدفہ ہے،تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مصادفت (اتفاق) موجودات عالم کے لئے بمنزلہ سبب ہے، اور کوئی بھی عقل اس بات کو قبول نہیں کرسکتی۔

چنانچہ علم طبیعات کے ماھر ڈاکٹر ”نوبلٹشی“کہتے ہیں:

”میں کبھی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ صرف مصادفت (اتفاق) الکٹرون پہلے پروٹن کے لئے مظھر ہو یا پہلے ذرات، یاپھلے احماض الامینیةیا پروٹوپلازم الاول " Protoplasm ۱st " یا بذرة اولیٰ یا عقل اول کے لئے مظھر ہو !! بلکہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا مظھر اور مفسر واجب الوجود اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی تمام اشیاء پر محیط ہے۔

قارئین کرام ! مصادفہ اور احتمال کا نظریہ ریاضی " Mathe matical " لحاظ سے تفصیلی طور پر گذر چکاھے ، جس کی بنا پر ہم بعض چیزوں کے بارے میں اتفاقی وجودکے قائل ہوئے کہ جن کی تفسیر اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی لیکن مذکورہ بحث کے مطالعہ سے اس بات پر قادر ہوجاتے ہیں کہ ہم ان اشیاء کے درمیان اتفاقی اور غیر اتفاقی اشیاء کے درمیان فرق کرلیں، لہٰذا اب ہم یھاں پروہ بحث بیان کرتے ہیں جس میں مادہ کو منشاء حیات قرار دیا گیاھے۔

چنانچہ بلا شبہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اساسی مرکبات کے پروٹن" Protein " تمام زندہ خلیے " Cells "پانچ عناصرسے مرکب ہوتے ہیں:

۱ ۔ کاربن" Carbon "۔

۲ ۔ ہیڈروجن" Hydrogen "۔

۳ ۔ نیٹروجن" Nytrogen "۔

۴ ۔ آکسیجن،" Oxygen " ۔

۵ ۔کبریت( سلفور)" Sulfur "

اور پروٹن کے ایک جز میں ۰۰۰’۴۰ ذرات پائے جاتے ہیں، اور اب تک سائنس نے ۱۰۲/ عناصر کا پتہ لگایا ہے توکیا ان کی تقسیم ایک اتفاقی اور تصادفی ہے،اورجب یہ پانچ عناصر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو پروٹن کا ایک جز بنتا ہے ، لہٰذا جب اس پروٹن کے ایک جز کے لئے اتنا دقیق حساب درکار ہے تو اس مادہ کے لئے جو تمام چیزوں کا لازمہ ہے اس میں ان ذرات کا حساب کس قدر دقیق ہونا چاہئے۔

جیسا کہ سویسی ریاضی داں ”ٹشالزیوجن“ نے ا ن تمام اسباب کا حساب وکتاب پیش کیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اس کائنات کا صدفةً اور اتفاقی پیدا ہونے کا احتمال اربوں اور کھربوں میں سے صرف ایک احتمال ہے ، کیونکہ اس نے اس طرح حساب کیا ہے کہ اگر عدد ۱۰/ کو ۱۰ میں ۱۶۰/ مرتبہ گنا کیا جائے تو اربوں کھربوں اور پدم وغیرہ سے بھی بڑی رقم بنی گی جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے تو اس رقم میں سے صرف ایک احتمال پایا جاتا ہے اور پھر کائنات کے لئے مادہ کی آزمایش کے لئے ملیونوں بار آزمائش کی ضرورت پڑی گی کیونکہ صرف زمین پر موجود پروٹن کے ایک جز کے لئے اربوں کھربوں سال کی ضرورت پڑے گی جس کا حساب مذکورہ دانشمند نے اس طرح کیا کہ عدد ۱۰ کو ۱۰ میں ۲۴۳ بار گنا کیا جائے تو یہ رقم تو گذشتہ رقم کے لاکھوں گنا ہوجائے گی جس کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس الفاظ نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان تمام حساب وکتاب کے پیش نظر اس کائنات کو اتفاقی کی پیدا وار کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ زمین کی پیدائش کا اندازہ لگایا لیا گیا ہے لیکن اس اعتبار سے ہزاروں برابر سال درکار ہیں تاکہ صرف زمین پر موجودات اس اعتبار سے پیدا ہوں۔

اور اگر ہم مذکورہ قاعدہ سے تھوڑا تنزل کریں اور ”ھیموغلوبین“ " Hemogbobin " کے ذرات کو دیکھیں جو کہ خون میں لال رنگ کے ہوتے ہیں (جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ پروٹن" Protein " کی ترکیب کا سب سے کم درجہ ہے) تو ان میں ”کاربن“ " Carbon "کے ۶۰۰/ متحد ذروں سے بھی زیادہ پائیں گے جن میں ہیڈروجن " Hydrogen "کے ۱۰۰/ ذروں سے کم نہیں ہوتے اور نیٹروجن کے ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح آکسیجن،" Oxygen " کے بھی ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ ہوتے ہیں یھاں تک کہ انسان میں ۲۵/ ٹریلین (۲۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,)) خون کے دائرے ہوتے ہیں۔

اسی طرح علم کیمیا کے ماھر ڈاکٹر” بوھلڑ “ کہتے ہیں :

اورجس وقت انسان، قوانین مصادفہ (اتفاقی نظریہ) کو ملاحظہ کرتا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگائے کہ کائنات کے کسی ایک پروٹن کے کسی ایک جز کا اتفاقی ہونا کھاں تک درست ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی عمر تقریباً تین بلین(ملیون در ملیون) (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,) سال یا اس سے بھی زیادہ ہے لیکن اس طویل مدت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ باتوں کے پیش نظر یہ بات ثابت ہے کہ یہ پروٹن " Protein " زندگی دہندہ کیمیاوی مواد ہیں اور ان میں زندگی نہیں پائی جاتی مگر جب تک ان میں وہ عجیب وغریب راز ودیعت نہ کیا جائے جس کی حقیقت کو ہم نہیں پہچانتے۔

بتحقیق اساسی مواد میں جن میں" Hydrogen","Oxygen","Carbon ", کے ساتھ کچھ عناصر نیٹروجن اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں تو ان کے لئے ملیونوں ذرات پائے جاتے ہیں تب ایک چھوٹا سا مواد بنتا ہے ، اور جب ہم اس سے بڑے جسم والے مواد کو دیکھتے ہیں تو اس ذرات کی بنا پر مصادفہ (اتفاقی) نظریہ کا بہت کم احتمال باقی بچتا ہے جس کو عقل انسانی سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتی اور اس کو ماننے سے انکار کردیتی ہے ۔

چنانچہ مذکورہ گفتگو کے پیش نظر ”علوم اکاڈمی نیویورک“ کے صدر استاد ”کرس موریسن“ وضاحت کرتے ہیں:

”فرض کریں کہ آپ کے ایک تھیلے میں پتھر کے ۱۰۰ عدد ٹکڑے ہیں جن میں ۹۹/ کالے ہیں اور ایک سفید ہے،اور ان کو آپس میں ملالیںاس کے بعد اگر آپ تھیلے میں ھاتھ ڈال کر ان میں سے سفید پتھر نکالنا چاھیںتو اس سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک فیصد ہے، اسی طرح اگر آپ اس کے بعد دوبارہ پتھر نکالنا شروع کریں تو بھی سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک ہی فیصد رھے گا لیکن اگر اسی کام کو دومرتبہ لگاتار نکالیں تو اس کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ہے اور اگر تیسری مرتبہ لگاتار نکالنا چاہیں تو اس کا احتمال دس لاکھ میں سے ایک ہے، اور اگر اس کے بعد اس کام کو چار بار لگاتار نکالیں تو رقم زیادہ ہوجائے گی، کیونکہ ہر بار اس عدد کو اسی میں گنا کیا جائے گا، مثلاً ۱۰۰ گنا ۱۰۰ دس ہزار ہوتے ہیں اسی طرح اگر تین بار لگاتار نکالنا چاھیں تو دس ہزار دس ہزار میں گنا کیا جائے گا جس سے دس لاکھ بن جائے گا، تو جتنی مرتبہ میں آپ اس سفید پتھر کو نکالنا چاھیں تو اس عدد کو اسی میں گنا کرتے چلے جائیں گے ، اور اس سفید پتھر کے نکلنا کا چانس گھٹتا چلا جائے گا۔

چنانچہ اس طریقہ کار سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے قارئین کو علمی اورواضح طریقہ سے ان دقیق حدود کو بیان کریں جن کے ذریعہ زمین پر زندگی بسرکرنا ممکن ہے اور حقیقی برھان کے ذریعہ زندگی حقیقی کے تمام مقومات کو ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ کسی بھی وقت میں کوئی ایک ستارہ صرف صدفہ اور اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔

کیونکہ جب ہم عالم مادی کی طرف دقت سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور بڑے سے بڑاایٹم ، ان میں خاص قوانین اور حساب وانضباط پایا جاتا ہے۔

یھاں تک کہ الکٹرون بھی ایک مدار سے دوسری مدار کی طرف نہیں جاتے جب تک کہ وہ ان کو اس طرح کی مساوی طاقت نہ مل جائے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوجائے، گویا ایک مسافر کی طرح ہے کہ جب تک اس کو زاد راہ نہ دیا جائے وہ سفر نہیں کرسکتا۔

چنانچہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی موت کے بھی خاص قوانین اور اسباب ہیں۔

ستاروں کے گھومنے میں طاقت متعادل ہے۔

اسی طرح مادہ ایک طاقت میں تبدیل ہوتا ہے اور سورج کے جسم کو نور معادلة کی طرف روانہ کرتا ہے۔

اسی طرح نور کے لئے بھی ایک معین رفتار ہے۔

اسی طرح ہر موج کے لئے طول ہوتا ہے اور حرکت کرنے والی طاقت بھی اور اس کی معین رفتار بھی۔

جیساکہ ہر معادن کے لئے کچھ ایسے مقناطیسی واضح اجزاء وخطوط ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے یہ معادن گردشی سسٹم میں قابل شناخت ہیں۔

اسی طرح ہر معدن اپنی خاص مقدار میں ہوتا ہے اس میں گرمی او ر سردی خاص مقدار میں ہوتی ہے اسی طرح ہر معدن کے لئے ضخامت اور بدن اور خاص وزن ہوتا ہے۔

چنانچہ ”اینش ٹن“ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر معادن کے جسم اور اس کی رفتار میں خاص تناسب ہے ، اسی طرح زمانہ اور نظام حرکت جو ایک متحرک مجموعہ ہے اس میں اور زمان ومکان میں رابطہ پایا جاتا ہے۔

جس طرح بجلی بھی خاص قوانین کے تحت پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح زلزلہ جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ بے قانونی کی وجہ سے حادث ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک خاص نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسی طرح کرہ زمین کا حجم اور اس کی سورج سے دوری ، اسی طرح سورج کی گرمی اور اس کی شاعیں جن کی وجہ سے مختلف چیزوں کو حیات ملتی ہے ، اسی طرح زمین کا اوپری حصہ، نیزپانی کی مقدار ، اور ”ڈائی آکسائیڈ کاربن ثانی“" Carbon Dioxide "اسی طرح نایٹروجن کا حجم ، اور انسان کی پیدائش اور اس کا زندگی بھر باقی رہنا، یہ تمام کی تمام (کسی کے )ارادے اور قصد پر موقوف ہیںاور جیسا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیںدقیق اور باریک حساب کے تحت ہوتے ہیں ،توکیا ان سب کا اتفاقی طور پر پیدا ہونا ممکن ہے؟!!

لیکن مادی لوگوں نے اتفاقی نظریہ کو ثابت کرتے ہوئے کھا ہے:

”بالفرض اگر حروف ابجد سے ایک صندوق بھرا ہوا ہو جس کی ترتیب وتنظیم کو لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ لاتعداد صدیوں میں انجام دیا گیا ہو ، اس صورت میں کوئی مانع پیش نہیں آتا کہ ہم ایک منظوم قصیدہ کے نظم ونسق وترتیب کو صرف ایک دفعہ میں جدا کردیں، چنانچہ اس صورت میں قصیدہ کے حروف کی دوبارہ ترتیب میںصرف ہم کو ایک عمل کرنا پڑے گا اور وہ عمل وھی ہے جو ہم نے قصیدہ کی ترتیب وتنظیم کے جدا کرنے میں انجام دیا تھا، پس ترتیب جدا کرنے میںہم کو صرف ایک عمل (مصادفت)کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوئی۔

اسی طریقہ سے ہمارا یہ عالم مادی جس کے بارے میں بہت سی ممکنہ مصادفات (اتفاقات) ہماری عقل میں آسکتی ہیں چنانچہ گذشتہ مثال کی طرح ہم عالم مادی میں بھی یھی طریقہ اپنا سکتے ہیں یعنی عقل اس بات سے منع نہیں کرتی کہ ہم اس نظام میں متعدد پائے جانے والے اتفاقات میں سے ایک اتفاق کو جدا کرلیں، اور یہ عالم مادہ چاھے عالَم جماد ہو یا عالم حیات۔“

لیکن ان کے قول کو ردّ کرنے کے لئے مذکورہ مثال کی تحلیل کرنا ہی کافی ہے، جس میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔سب سے پہلے ہمارے پاس ایسے حروف ہونا ضروری ہے جن سے قصیدہ کھا جاسکتا ہو، ان میں سے نہ ایک حرف کم ہو اور نہ زیادہ۔

۲ ۔ ان حروف کومنظم ومترتب کرنے والی طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

۳ ۔ اس طاقت کا باقی رہنا تاکہ نظم وترتیب ہوتی رھے اور بیچ میں متوقف نہ ہو۔

۴ ۔ ایسی بافہم قوت کا ہونا ضروری ہے جو قصیدہ تمام ہونے پر تنظیم وترتیب کی حرکت کو موقوف کردے۔

چنانچہ ان چاروں احتمالات میں ان کے دعویٰ کو باطل کرنے والی دلیل موجود ہے۔

پھلے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے کہ مذکورہ حروف جن کو ترتیب دیا گیا کس طرح پیدا ہوئے؟ اور مادہ مختلف اجزاء میں کس طرح تقسیم ہوا اور اس طرح کے نتائج کیسے برآمد ہوئے؟ اس کے بعد اس تقسیم کے لئے کس طرح اتحاد کی قابلیت پیدا ہوئی؟!

دوسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کریں گے :

وہ کونسی طاقت ہے کہ جس کے تحت یہ ترتیب وتنظیم انجام پائی اور کیا یہ عقلی طور پر صحیح ہے کہ یھی حروف بذات خود اس بات کی صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ خود بخود محرک ہوکر کوئی قصیدہ بن جائےں؟

تیسرے فرضیہ میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حروف کے درمیان ایک قوت محرکہ پائی جاتی ہے جو تنظیم وترتیب کاکام انجام دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کونسی طاقت ہے جو اس قوت محرکہ کو اثنائے حرکت میں رکنے نہیں دیتی، کیا اس قوت محرکہ کے پاس اس حرکت کو مسلسل جاری رکھنے کا ادراک پایا جاتا ہے؟!

چوتھے فرضیہ میں ہمارا سول یہ ہے کہ وہ طاقت کونسی ہے جس نے اس قصیدہ کے تمام ہونے پر اس قوہ محرکہ کے استمرار کو روک دیا،اور پھریہ قوت کیوں اس کام کو مسلسل جاری رکھنے سے متوقف ہوگئی؟!

( إِنَّ اللهَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ اٴَنْ تَزُولاَوَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ اٴَمْسَکَهُمَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا ) ( ۳۹ )

”بے شک خدا ہی سارے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر (فرض کرو کہ) یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اس کے سوا انھیں کوئی نہیں روک سکتا بے شک وہ بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔“

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مذکورہ نظریہ کو نہ تو منطق قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل تسلیم کرتی ہے،چنانچہ یہ تمام احتمالات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایک ایسی قوت کا ہونا ضروری ہے جو ازلی ، ابدی ، ہمیشگی اور صاحب عقل ہو،

اور اسی نے اس عظیم کائنات کو بغیر کسی اضطراب و اتفاق کے مرتب و منظم طریقہ سے خلق کیا ہے ۔

ہم نظریہ صدفہ کے باطل ہونے کے سلسلے میں مزید عرض کرتے ہیں:

اگر ہم بدون حیات مادہ میں حیات کا تصور کریں تو ہماری عقل دوچیزوں میں سے ایک چیز کو قبول کرتی ہے اور اس میں کسی تیسری چیز کا تصور نہیں :

۱ ۔ یا تو حیات مادہ کی خصوصیات اور لوازم میں سے ہے تو پھر اس صورت میں حیات کی خلقت کے لئے خالق مرید کی کوئی ضرورت نہیں !

۲ ۔ یا پھر حیات کا کوئی خالق ہے۔

پس اگر کوئی یہ کھے کہ حیات اورزندگی مادہ کی خاصیتوں میں سے ہے تو ہم اس سے یہ کہیں گے کہ اس صورت میں مادہ ازلی اور ابدی ہے جس کا اول وآخر نہیں ہے اور وہ ازل سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود ہے، اور اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ہیں چاھے جھاں بھی رھے۔

لیکن اس صورت میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ فلاں ستارہ پیدا ہوا اور فلاں ستارہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ حیات کی تمام خصوصیات کا بغیرکسی اثر کے اربوں سال تک باقی رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہے کہ حیات ایک زمانے کے بعد ظاہر ہو جس کا تاریخ نے اربوں سال کا حساب کیا ہے لہٰذا اس جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیات اتنے طولانی عرصے کے بعد کیوں ظاہر ہوئی جبکہ حیات کے خصوصیات ازل سے موجود ہیں؟!!

اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ حیات کا مادہ ازلی ہے تو اب سوال یہ در پیش ہے کہ یہ اتفاق(صدفہ) سے پیدا ہوکر دائمی کسیے ہوگئی؟ اوریہ اتنی طولانی مدت کھاں رھی ؟ یھاں تک کہ وہ یکایک بغیر کسی ارادہ وقصد کے وقوع پذیرهوگئی ؟!!

پس ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ ہم اس دوسرے فرضیہ کو صحیح مانیں کہ اس مجرد(بدون حیات) مادہ کے لئے ظهور حیات ایک خالق ازلی، مریداور صاحب اختیار سے وجود میں آئی ہے جو اس کے ظهور کے لئے زمانہ معین کرتا ہے اور جس جگہ رکھنا چاھے رکھتا ہے ،پس اسی نے اس کائنات کو اپنے ارادہ اور حکمت سے خلق کیا ہے، اور اسی کا نام اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔

زمین پر حیات کی شروعات

ہم اپنی بات کو تمام کرنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا اپنے لئے ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں :زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ اور کیا اس حیات کی اصل سورج ہوسکتا ہے؟!

لہٰذا ہم اس سوال کے جواب میں یہ عرض کرتے ہیں کہ حیات اور زندگی کیا ہے؟ کیا یہ حجم والی چیز ہے یا وزن دار مادہ؟ یا یہ ان دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ہے؟

حیات ایک ایسا اثر ہے جس کا ایک زندہ خَلیہ " Cell "میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے وہ بھی ٹلسکوپ " Telescope " وغیرہ کے ذریعہ، لہٰذا جب یہ معمولی اور سب سے چھوٹا نقطہ جو ”پروٹو پلازم“ " Protoplasm "سے مخلوط ہوتا ہے اور اس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیںجو ہوا میں سے " Carbon Dioxide۲th "خورشید سے حاصل کرتا ہے ، اور پانی سے " Hydrogen ", نکلتا ہے چنانچہ ان دونوں چیزوں سے اس کی غذا فراہم ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشد ونموکرتا ہے۔

چنانچہ ماھرین نے ”پروٹو پلازم “ " Protoplasm "کو بارھا مختلف وسائل اور مختلف زمانے میں خلق کرنا چاھالیکن سب ناکام رھے اور اسی وجہ سے خدا پر ایمان میں اضافہ ہوا جو ان تمام خلیوں کا خالق ہے کیونکہ مخلوقات اپنی کو نہیں بناسکتی۔

چنانچہ یھی واحد زندہ خلیہ جو حیات کا واحد عنصر ہے جس کی بنا پر یہ کائنات وجود میں آئی تو کیا یہ پہلا خلیہ خود بخود اچانک پیدا ہوگیا یا اس کو کسی نے خلق کیا ہے؟!

قارئین کرام ! زندگی کی ابتداء کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض افراد نے یہ کھاھے کہ حیات ”پروٹوجن “یا ”فیروس“ سے شروع ہوئی ہے یا ”پروٹن“ کے وجود سے شروع ہوئی ہے جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ ان نظریات نے اس میدان کا دروازہ بند کردیا جس سے عالم جماد اور عالم حیات میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ کسی بھی نظریہ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ان کی دلیلیں بہت کمزور ہیں ۔

ان تمام کے باوجود جو شخص بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ کوئی ایسی علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہے کہ تمام ذرات جمع ہوکر اتفاقی طور پر زندگی کے اسباب بن گئے ، کیونکہ خلیوں میں ہر ایک خلیہ اتنا دقیق ہے کہ ہماری سمجھ میں آنا مشکل ہے اور اس کائنات میں اربوں، کھربوں خلیہ موجود ہیں جو اپنی زبان بے زبانی سے خدا کی قدرت کی گواھی دے رھے ہیں، جن پر عقل وفکر اور منطق دلالت کررھی ہیں۔

اسی طرح حیات کی یہ تعریف کرنا کہ یہ ایک کیمیاوی نشاط ہے ، یہ تعریف بھی قابل قبول نہیں کیونکہ مردہ جسم میں بھی کیمیاوی مادہ پایا جاتاھے، اسی طریقہ سے خود مٹی میں بھی لوھا، تانبا اور کاربن نکلتا ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ جنسی خواہشات ” تستوسترون ھارمون“" Testosterone Hormone "کی وجہ سے ہوتا ہے ،لیکن اس کے بھی کوئی معنی نہیں ہیں کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں اس Hormone میں یہ فاعلیت اور خاصیت کس نے عطا کی؟!!

اسی طریقہ سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عالم نباتات کی حرکت سورج مکھی کے پھول کی طرح ہے جس میں ”ھارمون اکسین“ " Hormone Auxin ." کا کردار ہوتاھے اورہمیشہ اسی طرح یہ پھول سورج کی طرف گھومتا رہتا ہے اور اس میں کوئی مشکل ایجاد نہیں ہوتی۔

لہٰذا ہم یھاں پر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کونسی طاقت ہے جس نے مادہ کو اس طرح کی تاثیر عنایت کی جو نباتات میں اسی طرح کیمیاوی عناصر کو پهونچاتی ہے۔؟

کیونکہ ابھی تک خلیہ میں کیمیاوی ترکیب نے ہمارے اوپر راز حیات کو واضح نہیں کیا ہے کیونکہ حیات صرف مجرد منظومہ اور جامد مثلاً مکان نہیں ہے بلکہ یہ تو حیات منظومہ صاحب حیات ہے جس میں ایک طاقت ہوتی ہے جن کے اندر ایسی قدرت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کرتا ہے اور ایک ایسی فطرت ہے جس میں تنظیم و ترتیب کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اسی طرح سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ ہماری زمین سورج سے جدا ہوئی ہے اور جس وقت یہ سورج سے جدا ہوئی ،اس وقت اس کی گرمی سورج کے برابر تھی اور ہمارے فرض کے حساب سے اس کا درجہ حرارت ، سورج کے اس وقت کی گرمی کے برابر ہے اور چونکہ ملیونوں سال سے اس کی گرمی میں کمی واقع ہورھی ہے۔

لہٰذا اس وقت اس کی سطح کی گرمی ( ۶۰۰۰) درجہ ہے ، لیکن اس کے اندر کا درجہ حرارت چالیس ملین (چار کروڑ) درجہ ہے، اور جب اس زمین نے ان گیسوں کو حاصل کرناشروع کیا جو سورج سے جدا ہوئیں تھیں تو یہ زمین سطح ارض پر ٹھنڈی ہونے لگی اور پانی جب زمین کے اس حصے سے مس ہوا جو مرتفع اور حرارتی تھا تو یہ پانی فضا کی جانب بخار کی شکل میں جانے لگا کہ جس کا درجہ قابل تصور نہ تھا پس یہ پانی اس فضا کے مقابل قرار پایا جو سورج اور زمین کے درمیان ٹھنڈی تھی اس کے بعد یہ زمین کی طرف ھلاک کنندہ طوفان کی طرح واپس ہوا، اور آہستہ آہستہ جب اس میں درجہ حرارت کم ہوا تو پانی ایک جگہ رک گیا اور کھیں سمندر کی شکل میں اور کھیں منجمد ہوکر پھاڑوںکی شکل میں ظاہر ہوا۔

اور اگر کرہ ارضیہ کے بارے میں یہ فرضیہ صحیح ہو تو پھر ذرا اس زندہ خلیہ کے بارے میں فکر کریں جس کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ یہ زمین کے ساتھ سورج سے جدا ہوا ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ۶۰۰۰/ درجہ حرارت میں کس طرح باقی رہ سکتا ہے ، اگرچہ یہ خلیے غلاف شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

کیونکہ انسان کا درجہ حرارت ۳۷ / درجہ ہوتا ہے لیکن جب مریض ہوتا ہے تو یہ درجہ حرارت ۴۰ / درجہ تک پهونچ جاتا ہے ، اور جب پانی کا درجہ حرارت سوپر پهونچ جاتا ہے تو وہ بخار بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ہزارواں درجہ کفایت کرے گا کیونکہ یہ درجہ ہر شے کو گیس کا درجہ بنادیتا ہے اس صورت میں کوئی بھی سخت سے سخت چیز پگھل جاتی ہے، پس اگر یہ درجہ حرارت ۶۰۰۰ / پر پهونچ جائے توپھر اس کائنات کا کیا حال ہوگا؟!!

لہٰذا علم وعقل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کے جدا شدہ خلیہ کے ذریعہ حیات کا آغاز ہونا محال اور ناممکن ہے، لہٰذا اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک خالق حیّ ہو جو زمین پر مخلوقات کو پیدا کرے۔

چنانچہ ایک مشهور ومعروف ماھر ”غوسٹاف بونیہ“ کا یہ قول کتنا بہترین ہے:

”اگرہم نے زندہ مادہ کو خلق کیا ہے تو پھر یہ فکر کرنا کیسے ممکن ہے کہ کتنے ہی اجتماعی ،وراثتی اور پیچیدہ پیش آنے والے خصائص ”پروٹوپلازم حیّ“کے ٹکڑے میں پائے جاتے ہیں۔؟“

.....

قارئین کرام !

ان تمام باتوں کی تفصیل کے بعد ہم یھاں ایک یہ اہم سوال کرنا چاہتے ہیں:

”یہ پہلی موجود جس میں پہلے حیات نہ تھی کھاں سے آئی؟ اور کس طرح مختلف حالات میں تبدیل ہوئی؟ جبکہ اس میں پہلے کبھی حیات نہ تھی۔کیا یہ عدم سے وجود میں آگئی؟ یا مردہ مادہ سے پیدا ہوئی؟!!

اور کس طرح ایک مردہ شے سے زندہ چیز بن سکتی ہے اور وجود، عدم سے کیسے بن سکتا ہے۔؟“

اس سوال کا جواب سائنس کے پاس مفروضوں اور تخمینوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

مثلاً ایک صاحب کہتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ، آسمان سے شھاب( بجلی) کے ذریعہ نازل ہوئی ہے ، یعنی جب بہت ہی دوری پر موجود ستاروں سے شھاب جداهوئے تو ان کے ذریعہ یہ زندگی وجود میں آئی۔

اس کاجواب تو خود ہمارے سوال کی طرف پلٹ رھا ہے ، یعنی ہم پھر سوال کرتے ہیں کہ یہ پہلی مخلوق ان دوردراز ستاروں میں کھاں سے آئی؟

چنانچہ ایک اور ماھرسائنس کہتا ہے کہ یہ حیات مردہ مادہ کے ذرات کی ترتیب سے وجود میں آئی ہے ، اور اس نظریہ پر ہماری دلیل یہ ہے کہ زندہ مادہ، مردہ عناصر سے وجود میں آتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے اردگرد موجود پتھر ، پانی اور مٹی جیسے عناصر کے ذریعہ یہ مادہ تشکیل پاتا ہے اوریہ ذرات کاربن، ہیڈروجن، آکسیجن اور نیٹروجن " Hydrogen","Oxygen", "Carbon", "Nytrogen " ہی سے مادہ بنتا ہے چنانچہ ہم انھیں کو ترتیب دے کر دوبارہ دوسرے مادہ بناسکتے ہیں اور کبھی ان میں ”امینہ“ پروٹن ، نشویات اور سوگر کا اضافہ کرتے ہیں تو ایک نیا مادہ تشکیل پاتا ہے، اور یہ فرضیہ میں کافی نہیں ہے بلکہ اس پر کچھ تجربات کئے جانے ضروری ہیں جس میں بجلی اور شعائیں ہوتی ہیں اور جس میں مختلف قسم کی گیس ہوتی ہیں جیسے نوشادر آکسیڈ کاربن ،" CarbonDioxide " ”میٹھن“ " Methane " اور پانی کے بخارات کے فعل وانفعالات کے بعد آثار احماض امینیہ پیدا ہوتے ہیں۔

”احماض امینیہ“ (کڑوی گیس) جو ایک دودھ جیسی گیس ہوتی ہے جس کا تمام زندہ چیزوں میں ہوناضروری ہے اور جب ان احماض کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو ایک دوسری قسم کی پروٹن بن جاتی ہے ، یھاں تک کہ ان کو آپس میں ملانے سے کروڑوں قسم کی پروٹن بن سکتی ہیں جس طریقہ سے کسی زبان کے الفابیٹ کے ذریعہ سے مختلف کلمات بنتے جاتے ہیں تاکہ ان سے مختلف مفاھیم ومعانی حاصل کریں، اور یہ نتیجہ بخش پروٹن ہمیشہ حرارت وبرودت (ٹھنڈک) روشنی اور بجلی کے لئے اہم مواد ہوتے ہیںپس یہ پرو ٹن مرکب ہوکر دوسری خارجی چیزوں کے بننے کے باعث ہوتے ہیںتب جاکے جوھرحیات کی صفت بنتے ہیں۔

جبکہ زمین کو تقریباً کروڑوں سال ہوچکے ہیں اور مختلف تجربے ہوتے رہتے ہیںاور اس مرکب ”احماض امینیہ“ کے بے مثال تجربہ ہوچکے ہیںاور یہ احماض امینیہ پانی میں اپنے جوھر کے ساتھ گھُل جاتے ہیں تاکہ پروٹن کے لاکھوں مواد کوتشکیل دے، اور ضروری ہے کہ یہ احماض امینیہ ایک مرتبہ جب بے مثال گیس ( حامض دیزوکسی ربیونیوکلئیک ) " D.N.A " سے ملتے ہیں اور اسی جز سے ”فیروس“ بنتا ہے۔

یہ تمام مفروضوں کا مجموعہ تھا جو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا ہے کہ قانون صدفہ ہماری تائید کرتا ہے، جیسا کہ اگر کمپیوٹر پر بیٹھ کر ایک بندر کی بورڈ کے بٹن کو بہت ہی دقت سے دباتا چلا جائے تو کیا اس کے لکھنے سے کسی مشهور شاعر کا شعر بن سکتا ہے؟!!!ھر گز نہیں ، چاھے سالوں بیٹھ کر لکھتا رھے لیکن کبھی بھی اس کا یہ کام نتیجہ بخش نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا کہ احماض امینیہ اپنی ہیئت مخصوص " D.N.A " پر باقی رہتا ہے تب کھیں منفرد مادہ اپنے اوپر تسلط پیداکرتا ہے اور پھر یہ منفرد مادہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعہ تکاثر پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ بذر حیات برقرار رہتا ہے۔

بالفرض اگر ہم جدلی طریقہ سے قبول کریں اور فرض کریں کہ مٹی اور پانی کے عناصر بغیر کسی علت کے صدفةً اور اتفاقاً ( D.N.A ) حامض کے لحاظ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد اس ( D.N.A ) سے مختلف لاکھوں چیزیں بننے کا سبب بنتا ہے۔

لیکن ان تمام چیزوں میں وہ حیات نہیں ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔

پس ضروری ہے کہ ہم پلٹ کر یہ کھیں کہ اس حامض کے اجزاء بھی اتفاقاً اور صدفةً ہونے چاہئے تاکہ ان سے پروٹن وجود میں آئیں۔

اس کے بعد پروٹن بھی اتفاقاً خلیہ کے شکل میں ایجاد ہونے چاہئے۔

پھر یہ خلےے بھی اپنی ذات میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوکر نباتی شکل اختیار کریں اور پھر دوسرا خلیہ انسانی شکل کو پیدا کرے۔

اس کے بعد ہم زندگی کی تمام کڑیوں کودرجہ بدرجہ ملاتے جائیں ،تو اس جادوئی کلید (کنجی)کا مطلب یہ بھی ہوگاکہ یہ بھی صدفةً اور اتفاقی طور پر پیدا ہوا ہے؟!

لیکن کیا یہ عقل میں آنے والی باتیں ہیں:

کیااتفاقی طور پر پرندے اور مچھلیوں کااپنے گھروں سے لاکھوں میل فاصلہ پر چلے جانے کے باو جود اپنے گھروں میں واپس آجانا اتفاقی ہے؟!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مرغی کا بچہ انڈے کو توڑ کر خود بخودباھر نکل جائے!!

کیا زخم کا خود بخود ٹھیک ہوجانا یہ بھی اتفاق ہے!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ”سورج سے جدا شدہ اجزا“ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی حیات کا ملجاء وماویٰ سورج ہے تاکہ وہ اس کی اتباع کریں!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ جنگل اور پھاڑوں میں درخت خود بخود اگ جائیں ۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ”فیروس“ خلیہ کو کشف کرتا ہے اوراس سے اپنی حیات حاصل کرتا ہے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ نباتات اپنے لئے ”کلوروفیل“ " Chlorophill "کشف کرتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کی حیات باقی رھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ مچھر بڑی ہوشیاری سے پانی پرتیرے اور وھاں انڈے دے اور پانی پر تیرتا رھے اور ھلاک نہ ہو۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ چیونٹی اپنے اندرمو جود زھر کو محفوظ رکھے اور اپنے بچوں کو دی جانے والی غذا میں اسے نہ ملائے ۔ کیا یہ اتفاق کی ناؤ ریت پر چل سکتی ہے!!

اسی طرح شہد کی مکھی اتنے منظم طریقہ سے شہد کو جمع کرتی ہے، مختلف پھولوں سے رس چوستی ہے اور اس کو شہد میں تبدیل کرتی ہے اور اس کے موم سے شمع بنائی جاتی ہے کیا یہ بھی اتفاق ہے۔!!!

اسی طرح زمین پر رینگنے والے حشرات (کیڑے مکوڑے) فضا میں موجود قوانین کو سمجھتے ہیں اور اسی کے تحت اپنی زندگی چلاتے ہیں کیونکہ بہت سے کیڑے صرف برسات کے موسم میں نکلتے ہیں ، کیا یہ بھی اتفاق ہے !!!

اسی طرح رنگ برنگے حشرات جو اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے رنگ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح وہ حشرات جو بہت سی زھریلی گیس بناتے ہیں اورفضا میں چھوڑتے ہیں، کیا یہ بھی اتفاق ہے ؟!!

قارئین کرام ! اگر ہم ان تمام باتوں کو تسلیم کرلیں کہ یہ حیات بھی اتفاقی طور پر وجود میں آئی ہے تو ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ مذکورہ تمام چیزیں اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ہیں۔!!

چنانچہ ان تمام بے ہودہ باتوںکو عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی۔

اور جب مادہ پرستوں نے اپنے کواتفاق(صدفہ)کی اس کشمش میں پایا تو اس سے چھٹکارا پانے کے لئے صدفہ (اتفاق) کی جگہ ایک دوسرا لفظ رکھا اور اس طرح کھا کہ یہ ہماری حیات (جو مختلف الوان واقسام سے مزین ہے) ایک ضرورت کے تحت پیدا ہوئی جس طرح ایک بھوکا انسان غذا تلاش کرتا ہے اور مختلف غذا فراہم کرتا ہے اسی طرح ہماری زندگی میں مختلف ضروریات پیش آتی رھی اور ہمارے سامنے بہت سی چیزیں وجودمیں آتی گئیں!!۔

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ سب الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ،کیونکہ انھوں نے لفظ ”صدفہ “(اتفاق) کی جگہ ” ضرورت کے تحت “ رکھا ! ۔

یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ بغیر کسی عقل کی کارکردگی کے ایک بہت بڑا واقعہ بن جائے؟!! لہٰذا یھاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ”ضرورت“ کو کس نے پیدا کیا؟۔

اور یہ” ضرورت“ ”لاضرورت“ سے کیسے وجود میں آئی؟!!

کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت کو چھپانے والی ہیں جس کا عقل انسانی اور فطرت بدیھی طور پر انکار کرتی ہیں پس معلوم یہ ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ایک مدبر اور حکیم ہے۔

پس ہم ان زور گوئی والی باتوںکو بغیر دلیل کے کس طرح قبول کرسکتے ہیں؟!!

ہم کیسے ان محالات کو قبول کرسکتے ہیں؟!! تاکہ واضح حقائق کی پردہ پوشی ہوجائے جو کہ ہماری بدیھی فطرت میں شامل ہیں اور ہم ان کا مشاہدہ کررھے ہیں۔!! اور اگر ہم ان تمام چیزوں کی بداہت کو جھٹلائیں تو پھرگویا ہم نے عقل کو بیچ ڈالا ،!! کیونکہ یہ تمام چیزیں منطقی اور عقلی بدیھیات میں سے ہیں۔ اگر ہم ان تمام چیزوں کا انکار کریں تو گویا ہم نے اپنی عقل کو بالائے طاق رکھدیا حالانکہ ہم اپنے کو بہت بڑاعاقل اور علامہ سمجھتے ہیں۔

چنانچہ علم طبیعیات کے مشهورو معروف ماھر ڈاکٹر ”کونجڈن“کہتے ہیں: ”کائنات میں موجود ہر شے خدا کے وجود ، اس کی قدرت اور اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے ، اور جب ہم اس کائنات کی چیزوںکو ملاحظہ کرتے ہیں تو ہمیں نعمت خدا کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ،پس خدا ہی کی ذات ہے جس نے کائنات میں ان نعمتوں کو ہماری خدمت کے لئے خلق کیا ، لہٰذا ہم کسی مادی علمی وسیلہ سے خدا کو نہیں پہچان سکتے، لیکن ہم اپنے اندر اور کائنات کے ذرہ ذرہ میںخدا کی نشانیاں واضح طور پر دیکھتے ہیں: خلاصہ یہ کہ یہ علوم ، مخلوقات اور خدا کی قدرت کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نہیں دے سکتے۔ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهو عَلَی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) ( ۴۰ )

”(لوگو) وھی اللہ تمھارا پروردگار ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور ہی ہر چیز کا نگھبان ہے ۔“

( هو الَّذِی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) (( ۴۱ )

”وھی وہ (خدائے قادر) ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور ماہتاب کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، خدا نے اسے حکمت ومصلحت سے بنایا ہے وہ اپنی آیتوں کو واقف کار لوگوں کے تفصیل وار بیان کرتا ہے۔“

( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوه ) ( ۴۲ )

”خدا ہی ایسا (قادر وتوانا) ہے جس نے آسمان وزمین پیدا کرڈالے اورآسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے (مختلف درختوں سے) تمھاری روزی کے واسطے (طرح طرح کے) پھل پیدا کئے اور تمھارے واسطے کشتیاں تمھارے بس میں کردیں تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمھارے واسطے ندیوں کو تمھارے اختیار میں کردیا اور سورج چاند کو تمھارا تابعدار بنادیا کہ سدا پھیری کیا کرتے ہیں او ررات دن کو تمھارے قبضہ میں کردیا (کہ ہمیشہ حاضر باش رہتے ہیں) اور( اپنی ضرورت کے موافق) جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس میں سے بقدر مناسب تمھیں دیا ۔۔۔“

( اٴَلاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِین ) ( ۴۳ )

”دیکھو حکومت او رپیداکرنا بس خاص اسی کے لئے ہے۔“

____________________

[۱] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۳] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

[۴] سورہ ملک آیت ۳، ۴۔

[۵] نشاة الدین ص ۱۹۶،۱۹۷۔

[۶] نشاة الدین ص ۱۸۴۔

[۷] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۸] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۹] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[۱۰] سورہ طارق آیات ۶تا ۸۔

[۱۱] سورہ طٰہ آیت ۳۵۔

[۱۲] سورہ روم آیت ۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[۱۴] سورہ نور آیت ۴۵۔

[۱۵] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۱۶] سورہ انعام آیت ۳۸۔

[۱۷] سورہ ملک آیت ۱۹۔

[۱۸] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

[۱۹] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔

[۲۰] سورہ نمل آیت ۱۸ َ

[۲۱] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۲۲] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔

[۲۳] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔

[۲۴] سورہ انعام آیت ۹۹۔

[۲۵] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۲۶] سورہ نمل آیت ۶۰۔

[۲۷] سورہ انبیاء آیت ۳۰ ۔

[۲۸] سورہ واقعہ آیات ۶۸تا۷۰۔

[۲۹] سورہ روم آیت ۲۴۔

[۳۰] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[۳۱] سورہ اعراف آیت ۱۸۵۔

[۳۲] سورہ نحل آیت ۱۴ ۔

[۳۳] سورہ یونس آیت ۱۰۱۔

[۳۴] سورہ ق آیت ۶۔

[۳۵] سورہ رعد آیت ۲۔

[۳۶] سورہ ذاریات آیت ۴۷۔

[۳۷] سورہ فاطر آیت ۱۳۔

[۳۸] سورہ لقمان آیت ۱۱۔

[۳۹] سورہ فاطر آیت ۴۱۔

[۴۰] سورہ انعام آیت۱۰۲۔

[۴۱] سورہ یونس آیت۵۔

[۴۲] سورہ ابراھیم آیت ۳۲تا۳۴۔

[۴۳] سورہ اعراف آیت۵۴۔


عدل الٰھی

(باعتبارجبر واختیار)

( إِنَّ اللّٰهَ یَاٴمَرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ ) ( ۱ )

”بے شک خداوند عالم انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے اور احسان کا حکم کرتا ہے۔“

( وَمَا رَبُّکَ بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ ) ( ۲ )

”اور تمھارا پروردگا تو بندوں پر (کبھی) ظلم کرنے والا نہیں ہے۔“

صدق اللّٰه العلی العظیم

مقدمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للّٰه علی نعمائه والصلاة علی خاتم انبیائه وعلی آله الطیبین الطاهرین حجج اللّٰه واولیائه

خداوند عالم پر ایمان لانے والوں کے نزدیک عدل الٰھی ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔

تمام آسمانی ادیان، ہر عقلِ سلیم اور علمی منطق مکمل طریقہ سے عدل الٰھی کا اقرار کرتے ہیں۔

لہٰذا صرف عدل الٰھی ا ن عقائد میں سے نہیں ہے جس کی تصحیح کے لئے یہ خاص بحث کی جائے یعنی عدل الٰھی پر کوئی دلیل قائم کرنے یااس سلسلہ میں ہوئی قیل وقال اور شبھات کے جوابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک واضح بحث ہے ،جس کے لئے کسی وضا حت اور استدلال کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ توضیح واضحات اور مسلمات پر استد لال کی کوئی ضرورت نہیں ہوا کرتی ۔

لیکن ان واضح اور بد یھی فکر ی مسائل میں کبھی کبھی کچھ ملاوٹ اور حاشیہ زنی ہوجاتی ہے اور فرعی طور پر گمراہ کن چیزیں اضافہ ہوجاتی ہیں اور غلط ونا مناسب تفسیر وتاویلات کے ذریعہ بعض مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں، تو پھر اس قدر واضح وروشن چیزوں کی شفافیت مکدر ہوجاتی ہے ۔اور ان کا وضوح انحراف وکجروی کی طرف مٹرجاتا ہے ۔اس صورت میں ان چیزوں کو واضح کر نے کے لئے مزید بحث وگفتگو کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ حقیقت سے پردہ اٹھایا جاسکے ۔تاکہ پھر حواشی اور فروعات پر کوئی پردہ باقی نہ رھے نیزبحث وجدل کے وجہ سے مکدرفضا کوخوشگوار بنایا جاسکے ۔

چنانچہ علماء علم کلا م نے مسئلہ جبر واختیار کے سلسلے میں ایک طویل بحث کی ہے ۔ اور ان کو دو متقابل یا دومتضاد صفات میں تقسیم کیا ہے۔

اور ان تمام بحثوں کا نتیجہ عدل الٰھی لیا ہے لہٰذا جبر واختیار کا مسئلہ عدل الٰھی کی ایک فصل بن چکی ہے یا عدل الٰھی کے ابواب میں سے ایک باب بن گیا ہے ۔

اسی طرح علماء علم کلام نے مسئلہ قضاوقد رمیں بھی بہت تفصیلی گفتگو کی ہے اور بعض جگہ افراط کیا ہے یھاں تک کہ اس کو ایک مشکل مسئلہ بنا دیا ہے اور اس بحث کو عدل الٰھی کے ساتھ اضا فہ کردیا ہے اور اس کو اس اہم بحث کی ایک فصل قرار دیدیا ہے ۔

اس کے بعد بعض لوگوں نے اس مشکل کے بارے میں اکثر مسلمانوں کو اس بحث میں جاھل بتا یا ہے ۔اور بعض جوانوں کو مسئلہ قضا وقدر میں شک کرنے والابتایا ہے ۔

انھی وجوھات کی بناپر ہمارے لئے ضروری ہے (تاکہ اپنے دینی فریضہ کو پورا کر سکیں اور اپنے قارئین کی خد مت بھی ) کہ ہم اس اسلامی عقیدہ کے تحت ایک تفصیلی بحث کریں ۔لہٰذا امید کرتے ہیں کہ اس بحث کو مکمل طور پر واضح کریں اور اس مسلہ میں موجود شک وشبھات کو دور کریں اور حقیقت سے پردہ اٹھائیں۔

چونکہ یہ بحث علم کلام کی اصطلاحات والفاظ پر مشتمل ہے جس میں مختلف اقوال ونظریات اور شبھات واحتمالات پائے جاتے ہیں، لیکن ہماری پوری کوشش رھے گی کہ اس بحث کو آسان الفاظ اور واضح مطلب کے ذریعہ مکمل کریں تا کہ عصر حاضر کے تمام متعلم وطلباء اور عام لوگوں پر حقیقت واضح ہوجا ئے ۔

ہماری دلی آرزویہ ہے کہ خداوندعالم ہماری اس سعی کو درجہ قبولیت عطا کرے اور ہمارے لئے (اور دوسروں کے لئے ) سود مند وثواب واجر کا باعث بنے ۔

والحمد للّٰه الذی هدانا وما کنا لنهتدی لولا ان هدانا اللّٰه ۔

خداوندعالم عادل ہے

خداوند عالم پر سچا اور واقعی ایمان ( جیسا کہ ہماری عقل اور دیگر دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں) یہ ہے کہ ہم خداوند عالم کی قدرتِ خلاقیت پر ایمان رکھیں،۔ وہ قدرت خداجس کے ذریعہ یہ تمام کائنات اور جو کچھ بھی اس میں موجودھے اور اس کا ئنات کے لئے ایک مرتب نظام اور مسلم قوانین ترتیب دئے جن کو علماء کرام قوانین ”الا سباب والمسبات“ یا” علل ومعلولات“ کہتے ہیں ۔

اس نظام کائنات کی ایجاد جس میں دقیق اور حساب شدہ قوانین پائے جاتے ہیں جس میں عمل وسلوک کا بہترین طریقہ ہے، جو ایسی تنظیم ہے جس کا ہدف صواب، ثبوت اور استقرار ہے (جیسا کہ گذشتہ باب میں تفصیل گذر چکی ہے) یہ تمام چیزیں اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں کہ بے شک ان تمام چیزوں کا خلق کرنے والا عاقل، حکیم، صاحب اختیار اور قادر مطلق ہے اس کے حی (زندہ) ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہے بلکہ یہ کھا جائے کہ وہ تمام صفاتِ جمال وکمال کا مالک ہے، (ان الفاظ کے بھر پور معنی میں) اور اس کی یہ صفات ذاتی ہیں یعنی اضافی نہیں ہیں ، جیسا کہ بعض اذھا ن میں اس کا تبادر ہوتا ہے، بلکہ خداوند عالم کی یہ تمام صفات ذاتی اور لازمی ہیں جن کو علماء علم کلام ”عین ذات“ کہتے ہیں۔

اور یہ بات اپنی جگہ ثابت ہوچکی ہے کہ حقیقی حاکمیت خداوندعالم ہی کی ہے کیونکہ وھی ہر چیز پر قادر ہے جو چاھے کرسکتا ہے اس کی ذات ہے :

( لَا یَسْاٴَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَهُمْ یُسْئَلُوْنَ ) ( ۳ )

”جو کچھ وہ کرتا ہے اس کی پوچھ گچھ نہیں ہوگی (ھاں) اور لوگوں سے باز پرس ہوگی۔“

( قُلْ مَنْ بِیَدِهِ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیءٍ ) ( ۴ )

”(اے رسول) تم ان لوگوں سے پوچھو کہ بھلا اگر تم کچھ جانتے ہو تو(بتاؤ) کہ وہ کون ہے جس کے اختیار میں ہر چیز کی بادشاہت ہے۔“

اس کی ذات میں خطا اور غلطی کا ذرہ برابر بھی امکان نہیں ہے اور اس کی قدرت کاملہ کے سامنے کوئی قدرت نہیں آسکتی۔

نیز اسی طرح یہ بات بھی مسلم ہے کہ حاکمیتِ قانونی صرف اور صرف خداوندعالم ہی کی ذات کے لئے ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے:

( اِ نِ الْحُکْمُ اِلاّٰ لِلّٰهِ اَمَرَ اٴَنْ لَا تَعْبُدُوْا اِلاّٰ اِیَّاهُ ) ( ۵ )

”حکومت تو بس خدا ہی کے لئے خاص ہے اس نے تو حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔“

( وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنْزَلَ اللّٰهُ فَاٴُوْلٓئِکَ هُمُ الْکَافِرُوْنَ ) ( ۶ )

”(اور سمجھ لو) جو شخص خدا کی نازل کی ہوئی (کتاب) کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔“

یہ بات گذشتہ آیات ودلائل کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے کہ انسا ن کی موت کے بعد اس سے بڑا سخت حساب وکتاب ہوگا کہ اگر انسان فرمانبردار تھا تو اس کو جزا وثواب ملے گا اور اطاعت کے بدلے اس کو نعمتیں اور سعادت ابدی نصیب ہوگی، اور اگر کوئی شخص گناہگار تھا تو اس کی نافرنی کی بدولت اس کو عذاب اور بدبختی میں مبتلا کیا جائے گا۔

چنانچہ ان تمام مذکورہ باتوں سے نتیجہ یہ نکلتا ہے جس کو ماننا اور اقرار کرنا ہر انسان کا فریضہ ہے کہ وہ حاکم مطلق جس میں حقیقی اور قانونی حاکمیت دونوں موجودہیں اور جس کے قبضہ قدرت میں ثواب وعقاب ہے توپھر اس حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاک وپاکیزہ اور عادل ہو، اور اس کی پاکیزگی عدل مطلق کے درجہ تک پهونچی ہوئی ہو، تاکہ انسان اپنی خوشی اور اطمینان اور رضایت کے ساتھ اس کی اطاعت کرے اور اس کی ذات کو تمام شهوات اور نفسانی خواہشات سے پاک ومنزہ مانے، اس حاکم کی عدالت پر بھر پور اعتماد کرے، تاکہ اس کے احکام اور اس کی عدالت میں کوئی شک وشبہ نہ ہونے پائے، اور اگر اس حاکم کی عدالت پر ایما ن نہ ہو اور اس کو ظلم وجور سے پاک ومنزہ نہ مانے تو پھر انسان اپنے نفس کو نفس پرستی سے نہیں روک سکتا ، اور نہ ہی اپنے کو اعمال صالحہ پر پابند بناسکتا ہے اور نہ ہی اپنے کو محرمات سے روک سکتا ہے۔

عدل کے عقیدہ کے لئے اور اس کو ارکان اسلام کا ایک اہم رکن ماننے نیز ظلم کو قبیح ماننے اور اسی کو برائی وفساد کی بنیاد ماننے کے لئے ہمارے لئے کافی ہے کہ قرآن کریم نے ہم سب لوگوں کو عدل وانصاف کا حکم دیا ہے اور ظلم وستم سے منع فرمایا ہے جیسا کہ عقل بھی یھی حکم کرتی ہے، چنانچہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

عدل کے بارے میںقرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللّٰهَ یَاٴمَرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ ) ( ۷ )

”بے شک خداوند عالم انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے اور احسان کا حکم کرتا ہے۔“

( اِعْدِلُوْا هو اٴَقْرَبُ لِلتَّقْویٰ ) ( ۸ )

”تم (ھر حال میں) انصاف کرو، یھی پرھیزگاری سے بہت قریب ہے۔“

( وَ إِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اٴَنْ تَحْکَمُوْا باِلْعَدْلِ ) ( ۹ )

”اور جب لوگوں کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔“

( وَاٴُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ) ( ۱۰ )

”اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمھارے (اختلافات کے) درمیان انصاف (سے فیصلہ) کروں۔“

( هَلْ یَسْتَوِیْ هو وَمَنْ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ هو عَلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ ) ( ۱۱ )

”کیا وہ شخص جو لوگوں کو عدل میانہ روی کا حکم کرتا ہے اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہے۔“

( وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ صِدْقاً وَعَدْلاً ) ( ۱۲ )

”اور سچائی اور انصاف میں تو تمھارے پروردگار کی بات پوری ہوئی۔“

اسی طرح قرآن مجید میں ظلم وستم سے نھی کی گئی ہے اور ظلم کے نتائج سے باخبر کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

( قَالَ اٴَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسُوْفَ نُعَذِّبُهُ ) ( ۱۳ )

” جو شخص سرکشی کرے گا ہم اس کو فوراً سزا دیں گے۔“

( وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظَّاْلِمِیْنَ ) ( ۱۴ )

”خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔“

( لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الظَّاْلِمِیْنَ ) ( ۱۵ )

”ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔“

( وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اٴیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلَبُوْنَ ) ( ۱۶ )

”اور جن لوگوں نے ظلم کیا انھیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ لوٹائے جائیں گے۔“

( فوَیلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اٴَلِیْمٍ ) ( ۱۷ )

”جن لوگوں نے ظلم کیا ان پر درد ناک دن کے عذاب سے افسوس ہے۔“

( وَمَا ظَلَمْنَاْهُم وَلَکِنْ کَانُوْا اٴَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ) ( ۱۸ )

”ان پر کچھ ظلم نہیں کیا مگر وہ لوگ خود اپنے اوپر ستم توڑتے رھے ہیں۔“

( وَمَا ظَلَمْنَاْهُمْ وَلَکِنْ ظَلَمُوْا اٴَنْفُسَهُمْ ) ( ۱۹ )

”اور ہم نے کسی طرح ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ ان لوگوں نے آپ اپنے اوپر (نافرمانی کرکے) ظلم کیا۔“

قارئین کرام ! یہ تھیں قرآن مجید کی بعض وہ آیات جن میں خداوند عالم نے عدل کا حکم دیا ہے اور عدل کی ترغیب (رغبت) دلائی ہے نیز ظلم وجور سے روکا ہے اور اس کے نتائج سے مسلمانوں کو باخیر کیاھے، (اور اس سلسلہ میں مزید بہت سی آیات ہیں جن کو اختصار کے پیش نظر بیان نہیں کیا گیا ہے)

لہٰذا ان تمام آیات کے پیش نظر خداوندعالم کو عادل مطلق اور ظلم سے پاک وپاکیزہ ماننا ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خداوندعالم کو عادل ماننے کے لئے ہمیں کسی قرآنی آیت یا دوسری لفظی دلیلوں کے سھارے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود عقل انسانی اس مسئلہ پر بہترین دلیل ہے، کیونکہ عدل کو حسن ماننا اور ظلم کو قبیح ماننا عقل کے ان مسلمات میں سے ہے جن کے لئے کسی بھی دلیل وبرھان کی ضرورت نہیں ۔

کیونکہ اگر کوئی انسان آپ کی مکمل طور پر اطاعت کرے اور آپ کے احکامات کو مکمل طریقہ سے انجام دے لیکن پھر بھی آپ کی طرف سے یہ یقین ہو کہ آپ اس کو پریشان کریں گے یا اس کو اذیت دیں گے یا آپ اس کی اطاعت کا صلہ نہیں دیں گے، تو انسانی عقل چاھے مومن ہو یا کافر اس بات کے لئے قطعی راضی نہیں ہوگی بلکہ اس کام کو بہت برا اور پست ترین صفات میں شمار کرے گی۔

اسی بنا پر اس مسئلہ میں کوئی بھی مخالف نہیں ہے۔

اور چونکہ خداوندعالم (جوکہ کمالِ مطلق ہے) ایک عام انسان کے اخلاق سے گرا ہوا نہیں ہے (تعالی اللّٰہ عن ذالک علواً کبیراً)

مزید وضاحت:

قارئین کرام ! ہم ایک بنیادی اور اہم قاعدہ پر ایمان رکھتے ہیں (جیسا کہ عقل کا فیصلہ بھی یھی ہے) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوندعالم کے افعال صرف اور صرف حسن (نیک) ہوتے ہیں، یعنی خداوندعالم کسی بھی فعلِ قبیح کا مرتکب نہیں ہوتا کیونکہ خداوندعالم اس برے فعل کی برائی جانتا ہے اور اس فعل کے انجام دینے میں کوئی رغبت بھی نہیں رکھتا،کیونکہ جب کوئی انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کو کسی نہ کسی غرض کے لئے یا اس کی برائی سے لاعلمی کی وجہ سے یا اس کو کسی ذاتی مصلحت کے لئے انجام دیتا ہے، لہٰذا خداوندعالم اس برے کام کو اس لئے نہیں انجام دیتا کہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے، ہر چیز کا عالم ہے اور کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔

اسی طرح ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں (گذشتہ قاعدہ کے تحت اور عقلی حکم کی بنا پر بھی) کہ خداوندعالم کا ہر کام کسی نہ کسی غرض اور کسی نہ کسی فائدہ کے لئے ہوتا ہے:

( وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا بَاطِلاً ) ( ۲۰ )

”اور ہم نے آسمان اور زمین اورجو چیزیںان دونوں کے درمیان ہیں بے کار نہیں پیدا کیا۔“

( اٴَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَاْ خَلَقْنَاکُمْ عَبَثاً ) ( ۲۱ )

”تو کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تم کو یوں (ھی) بے کار پیدا کیا ہے۔“

مذکورہ آیت میں فعل عبث (بے ہودہ کام)کی نفی کی گئی اور بے ہودہ کام بے غرض ہوتا ہے اور بے غرض وبے مقصد کام حکیم اور صاحب عقل کے لئے قبیح ہوتاھے اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ فعل قبیح خداوندعالم کے لئے محال ہے۔

غرض سے ہماری مراد یہ نہیں ہے (جیسا کہ بعض خود غرض لوگوں نے مراد لی ہے) بلکہ وہ غرض جو خدا کی طرف پلٹتی ہے وہ ذاتی مصلحت یا ذاتی منفعت کے تحت ہوتی ہے، اور چونکہ خداوندعالم کسی چیز کا محتاج نہیں ہے اور نہ خدا کے لئے ہماری اصطلاح کے مطابق کوئی مصلحت ہے بلکہ اس غرض سے انسانوں کا فائدہ اور نظام کائنات کی مصلحت مراد ہوتی ہے۔

اور چونکہ خداوندعالم کا کوئی بھی کام عبث اور لهو ولعب نہیں ہوتا ،تو پھر ضروری ہے کہ خدا کے بارے میں یہ ایمان رکھیں کہ وہ اپنے بندوں سے اطاعت چاہتا ہے اور نافرمانی کو ناپسند سمجھتا ہے:

( یُرِیْدُ اللّٰهُ اٴَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمَاْتِهِ ) ( ۲۲ )

”خدا یہ چاہتا ہے کہ دینی باتوںسے حق کو ثابت کرے“

( وَلاٰ یَرْضٰی لِعَبَادِهِ الْکُفْرَ ) ( ۲۳ )

”(خدا) اپنے بندوں سے کفر اور ناشکری پسند نہیں کرتا“

( فَاِنَّ اللّٰهَ لاٰ یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ ) ( ۲۴ )

”خدا قوم فاسقین سے ہر گز راضی نہ ہوگا“

( یُرِیْدُ لِیُطَهرکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکُمْ ) ( ۲۵ )

”(خدا) یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک وپاکیزہ کردے اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردے“

( یُرِیْدُ اللّٰهَ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَهْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) ( ۲۶ )

”خدا تو یہ چاہتا ہے کہ (اپنے احکام) تم لوگوں سے صاف صاف بیان کردے اور جو اچھے لوگ تم سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے طریقہ پر چلادے“

قارئین کرام ! یہ وہ حقیقت ہے جس کے لئے کسی لفظی دلیل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے کافی ہے کہ خداوندعالم نے تمام لوگوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے، (اور اس کے لئے حکم کرنا صحیح نہیں ہے مگر وھی کام جس کا وہ ارادہ کرے) اور خداوندعالم نے لوگوں کو اپنی نافرمانی سے منع فرمایا ہے (اور اس کا نھی کرنا صحیح نہیں ہے مگر جس کام کو وہ ناپسند کرے) بلکہ یہ بات عقلی لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہے کہ جس کام کو نہیں چاہتا اس کا حکم دے اور جس کو پسند کرتا ہے اس سے روکے۔

لیکن بعض مسلمان متکلمین نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا ہے اور کہتے ہیں کہ وہ تمام اطاعتیں اور نافرمانیاں جن کے انسان مرتکب ہوتے ہیں وہ تمام افعال خدا میں سے ہیں اور وہ سب خداکے خاص ارادہ کے تحت انجام پاتے ہیں، (یعنی تمام کام خدا کرتا ہے انسان کچھ نہیں کرتا)

چنانچہ اس بات پر ان کی دلیل دو چیزیں ہیں:

پہلی دلیل:۔ اگر خداوندعالم صرف اطاعت کا ارادہ کرے، تو پھر اس کا ارادہ ہر حال میں متحقق ہونا چاہئےے، اگرچہ بندہ اس کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنا چاھے ، کیونکہ اگر انسان نافرمانی کا ارادہ کرے، تو یہ خداوندعالم کے ارادہ کے خلاف ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ خداوندعالم کا ارادہ فیل ہوگیا ہے، (نعوذ باللہ) اور خدا کے ارادہ پر بندہ کے ارادہ کا غلبہ ہوگیا ہے، اور یہ بات غیر ممکن اور غیر معقول ہے۔

لہٰذا یہ بات کھی گئی کہ خداوندعالم ہمیشہ اپنے بندوں سے اطاعت نہیں چاہتابلکہ جو وہ چاھے وہ انجام پاتا ہے۔

قارئین کرام ! اس مذکورہ اعتراض کا جواب یہ ہے کہ خداوندعالم ھرحال میں اطاعت چاہتا ہے لیکن خداوندعالم بندہ کو مجبور نہیں کرتا بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ بندہ خود اپنی مرضی،رغبت اور یقین کے ساتھ اس کی اطاعت کرے، اور صرف مکلف کے ارادہ سے وجود پائے، بغیر اس کے خداوندعالم کے ارادہ سے اس کا کوئی ربط ہو۔

دوسری دلیل:۔ خداوندعالم جس چیز کے انجام پانے کے بارے میں علم رکھتا ہے اس کا انجام پانا ضروری ہوتا ہے اور اس کا جس چیز کے نہ ہونے پرعلم ہوتا ہے اس کو انجام نہیں پانا چاہئے۔

پس جب خداوندعالم کسی انسان سے اطاعت نہ کرنے کا علم رکھتا ہے تو پھر انسان پر اس کا انجام دینا محال ہے، کیونکہ وہ ایسا کام کیسے کرسکتا ہے جو محال ہو، اور چونکہ خداوندعالم ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے تو پھر بندوں کے تمام افعال، خداوندعالم کے علم کے مطابق ہونے چاہئےں ، چاھے بندہ اس کام کا ارادہ کرے یا نہ کرے، لہٰذا انسان کے لئے اطاعت ونافرمانی میں کوئی اختیار نہیں ہے۔

اس اعتراض کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوندعالم کے علم کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے تمام حقائق واضح اورتمام چیزیں روشن ہیں اسی وجہ سے خداوندعالم کا ابولھب کے کفر اور ہمیشگی عذاب کے بارے میں خبر دینا ہے، کیونکہ خداوندعالم کو معلوم ہے کہ یہ شخص اسلام کا اقرار نہیں کرے گا اور آخر عمر تک اپنے کفر پر بضد رھے گا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خداوندعالم کا علم اس کے ایمان نہ لانے کا سبب ہے اور آخر عمر تک اس کے کفر پر باقی رہنے کا باعث ہے۔

قارئین کرام ! اس بات کو سمجھانے کے لئے ہم ایک دنیاوی مثال پیش کرتے ہیں:

فرض کیجئے جب کوئی ڈاکٹر کسی مریض کود یکھتا ہے اور اس کا معائنہ کرنے کے بعد اس کے نہ بچنے کی خبر دیتا ہے تو اس کی وجہ اس کا خطرناک مرض ہوتاھے اور کبھی کبھی اس کے تیمارداروں کو یہ بھی خبر دیدیتا ہے کہ یہ شخص مرنے سے پہلے بہت زیادہ درد وپریشانی میں مبتلا رھے گا۔

کیونکہ ڈاکٹر اس کے مرض کی کیفیت کو اچھی طرح جانتا ہے تو کیا کوئی انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ اس شخص کی موت کا سبب ڈاکٹر کا علم ہے؟! یا یہ کہ ڈاکٹر کا علم اور اسی کی موت کا خبر دینا ڈاکٹر پر اس کی حقیقت واضح و روشن ہونے کی وجہ ہے۔

اس طرح کی گفتگو کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ رھی ہے اور انھوں نے دو فاعلوں میں غلط فہمی کی ہے کیونکہ کوئی فاعل جیسے انجینیر، مو لف اور شاعر کے لئے ضروری ہے کہ یہ لوگ پہلے اپنے کام کو اپنے ذہن میں تصورکریں کیونکہ اسی تصور کے تحت ان کی کتاب، قصیدہ اور نقشہ تیار ہوتا ہے جو ان کے سابق علم کا معلول ہوتا ہے۔

لیکن واقعیات کا علم (مثلاً بندوں کے افعال پر خداوندعالم کاعلم) اس کے بر خلاف ہوتا ہے کیونکہ ان کا علم صرف کشف حقیقت ہوتا ہے اور جس طرح ہونے والا ہوتا ہے اسی پرعلم ہوتا ہے اور اس علم میں علت وسبب کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! ہمارے لئے یہ بات واضح ہے کہ ان دونوں اعتراضات میں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے گذشتہ مطلب ثابت ہوسکے، کیونکہ خداوندعالم اپنے ارادہ میں انسان کو مجبور نہیں کرتا، اور نہ ہی اس کا علم اطاعت ومعصیت کا سبب بنتا ہے۔

جیسا کہ ارشاد پروردگار ہے:

( وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاّٰ مَا سَعٰی ) ( ۲۷ )

”اور یہ کہ انسان کو وھی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔“

( وَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْهِ کُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلِاٴَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَ ) ( ۲۸ )

”جوکافر بن بیٹھا اس پر اس کے کفر کا وبال ہے اور جنھوں نے اچھے کام کئے وہ اپنے ہی لئے آسائش کا سامان کررھے ہیں“

قارئین کرام ! ان اعتراضات کے جوابات اور ردّ نیز ان جیسے اعتراضات کے مزید جواب آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں۔

جبر واختیار

”جبر واختیار“ کا مسئلہ ایک طولانی بحث کا حامل ہے چند صفحات میں اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کتاب میں اس کی تفصیل بیان ہوسکتی ہے۔

اور چونکہ مسئلہ ”جبر“ ایک سیاسی حربہ ہے یہ صرف غیر مذھبی حکام نے اپنے افعال واعمال کو صحیح کرنے کا ایک ذریعہ نکالا ہے ، ان کا مقصد صرف اسلام کے مخالف اعمال کو غیر اختیاری (جبری) کہہ کر عذر پیش کرنا ہے ۔

یہ موضوع بہت سے شعبے اور مختلف پہلو رکھتا ہے اسی وجہ سے علم کلام کے اہم مسائل میں شمار ہوتا ہے اور عقائد کے باب میں اہم باب ہے اور دینی مسائل کا ایک مشکل مسئلہ ہے۔

مسئلہ ”جبر“ یااس کے مثل دوسرے مسائل جن پر بعض مسلمانوں کا عقیدہ ہے ان کی بنیاد یہ ہے کہ انسان کے افعال واعمال صرف اس کے ارادہ واختیار سے انجام نہیں پاتے بلکہ وہ خداوندعالم کے ارادہ اور اس کے حکم سے انجام پاتے ہیں اور ان کے انجام دینے میں انسان کا کوئی کردار نہیں ہوتا، اس نظریہ کو ”جبر“ کھا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو مجبور ماننا پڑتا ہے، چاھے وہ اطاعت ہو یا معصیت یعنی ان کے انجام پر مجبور ہوتا ہے چاھے ان کا ارادہ کرے یا نہ کرے۔

چنانچہ جبر کے قائل لوگوں نے اپنے گمان کے مطابق قرآن کریم کی بعض وہ آیات جن میں اس بات کا ایک ھلکا سا اشارہ پایا جاتا ہے، پیش کی ہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

( قُلْ لَنْ یُصِیْبَنَا اِلاّٰ مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ) ( ۲۹ )

”(اے رسول) تم کہہ دو کہ ہم پر ہر گز کوئی مصیبت نہیں پڑسکتی مگر وھی جو خدا نے (ہماری تقدیر میں) لکھ دیا ہے۔“

( قُل کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ) ( ۳۰ )

”(اے رسول) تم کہہ دو کہ سب خدا کی طرف سے ہے“

لہٰذا ان آیات کے پیش نظر ان لوگوں نے یہ گمان کرلیا کہ ان آیات کے ذیل میں انسان کے افعال واعمال بھی آتے ہیں۔

جبکہ بعض مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے (کیونکہ وہ مذکورہ نظریہ کو باطل جانتے ہیں) کہ انسان او ر خداوندعالم میں سوائے خلق اول کے کوئی رابطہ نہیں ہے، یعنی خداوندعالم نے ان کو خلق کرنے کے بعد مکمل آزاد کردیا ہے اور تمام چیزوں کو انھیں پر چھوڑ دیا ہے ، ان کا خدا سے کوئی ربط نہیں ہے، ان کا ماننا یہ ہے کہ علت محدثہ معلول کی بقا کے لئے کافی ہے، اس حیثیت سے کہ معلول اپنے وجود کے بعد اپنی علت سے بے نیاز ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فقط پہلی علت حدوث کا محتاج ہوتا ہے ،چنانچہ علماء علم کلام اس نظریہ کو” تفویض“ کہتے ہیں یعنی خداوندعالم نے تمام کاموں کو انسان پر چھوڑ دیا ہے اور اب اس سے کوئی مطلب نھیں۔

جبکہ حقیقت میں صحیح نظریہ ان دونوں نظریات کا درمیانی راستہ ہے، اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کا بیان بہترین او ر دقیق ہے، آپ نے اپنی مشهور حدیث میں فرمایا:

لا جبر ولا تفویض ، بل منزلة بین المنزلتین( ۳۱ )

(نہ جبر اور نہ تفویض بلکہ دونوں کا درمیانی راستہ صحیح ہے)

وضاحت:

ھرانسان فطری طور پر اس بات کو سمجھتا ہے کہ وہ بہت سے کاموں پر قادر ہے اور وہ جن کاموں کا ارادہ کرے ان کو انجام دے سکتا ہے اور جن کاموں کو انجام نہ دینا چاھے ان کو چھوڑ سکتا ہے اور ہمارے لحاظ سے کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہوگا جو اس بات میں شک کرے، جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ انسان مکمل طور پر آزاد ہے۔

اسی طرح ہر انسان یہ بات بھی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ تمام صاحبان عقل اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص اچھے کام کرتا ہے اس کی مدح وتعریف کرتے ہیں اور جو شخص برے کام کرتا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، اور یہ بھی اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ انسان اپنے افعال میں مکمل آزاد ہے اور (اگر اختیار نہ ہو) تو صاحبان عقل کا مدح ومذمت کرنا صحیح نہ ہوگا۔

اسی طرح انسان فطری طور پر اس بات کا بھی احساس کرتا ہے کہ انسان کے کسی بلندی سے سیڑھی کے ذریعہ نیچے اترنے اور بلندی سے زمین کی طرف کودنے میں فرق ہے کیونکہ انسان پہلی صورت پر قادر ہے اور دوسری صورت میں مجبور۔

اسی طرح عقل سلیم کے نزدیک یہ بات بھی مسلم ہے اور کسی کو بھی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان میں ان طاقت وتوانائی کا خلق کرنے والا ان کو ایجادکرنے کے بعد ان سے جدانھیںهوا ہے، بلکہ ان چیزوں کاباقی رہنا ہر لمحہ اس مو ثر کا محتاج ہے،کیونکہ ان اشیاء کا خالق کسی معمار کی طرح نھیںھے کہ مکان بننے کے بعد مکان کو معمار کی ضرورت نہیں ہوتی،بلکہ عمارت اپنی جگہ پرباقی رہتی ہے چاھے اس کابنانے والا معمار مرھی کیوں نہ ہوجائے، اسی طرح کتاب جو اپنے لکھے جانے میںکاتب کی محتاج ہے ، بلکہ اس کائنات اور جوکچھ اس میں موجود ہے؛کاخالق روشنی کے لئے بجلی کی طرح ہے کہ جب تک بجلی رہتی ہے روشنی باقی رہتی ہے، اورروشنی اپنی بقاء میں ہر لمحہ بجلی کی محتاج رہتی ہے اوراگر بجلی کا تار ایک لمحہ کے لئے ہٹالیاجائے تو روشنی فوراًختم ہوجاتی ہے،بالکل اسی طرح اس کائنات کی تمام چیزیں اپنے وجود اور بقاء میںھر لمحہ اپنے مبدع اور مصدر (خالق) کی محتاج ہیں۔

قارئین کرام ! ہماری گذشتہ باتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے اعمال وافعال جبر وتفویض کے درمیان ہوتے ہیں، اور ان کے لئے دونوں میں حصہ ہوتا ہے، لہٰذا فعل یا ترک کو انجام دینے کی طاقت اگرچہ انسان کے اختیار سے ہی ہوتی ہے لیکن یہ قدرت خدا کا عطیہ ہے، اور انسان کا فعل ایک لحاظ سے خود انسان کی طرف منسوب ہوتاھے، اور ایک لحاظ سے خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔

قرآن کریم کی وہ آیات جن سے ”جبریوں“ نے استدلال کیا ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا اختیار کسی کام کو انجام دینے میں خدا کی قدرت کے نافذ ہونے میں مانع نہیں بن سکتا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خدا کی ذات اور اس کی قدرت سے بے نیاز ہوگیاھے ؟!!۔

اس سلسلہ میں ہمارے استاد آیت اللہ العظمیٰ امام خوئی رحمةاللہ علیہ نے اپنے درس میں ”المنزلة بین المنزلتین“کی تفسیر کرتے ہوئے درج ذیل بہترین مثال پیش کی:

”اگر کسی انسان کا ھاتھ اس طرح شَل ہوجائے کہ وہ اس کو نہ چلا سکے، اور کوئی ڈاکٹر اس کے کوئی ایسا آلہ لگائے جس کی وجہ سے اس کا ھاتھ حرکت کرنے لگے، اس طرح کہ جب وہ آلہ لگا ہوا ہو تو انسان اپنے ھاتھ کو حرکت دے سکے، تو جب تک وہ آلہ لگا ہوا ہے اس کا ھاتھ کام کرتا ہے اور جب اس کو الگ کردیا جائے تو اس کا ھاتھ اپنی پہلی حالت پر پلٹ جائے، تو جب اس کے وہ آلہ لگا ہوا ہے اور وہ اپنے ھاتھ کو حرکت دینے پر قادر ہے اور اپنے معمولی کاموں کو انجام دے رھا ہے تو اس کی یہ حرکت دونوں چیزوں کی سبب ہوگی ایک لحاظ سے صاحب دست کی طرف مستند ہے کیونکہ وہ اپنا ھاتھ خودچلا رھا ہے ، دوسری طرف وہ حرکت اس آلہ کی طرف بھی منسوب ہے کیونکہ وہ اس آلہ کے ذریعہ اپنا ھاتھ چلانے پر قادر ہے۔“

قارئین کرام ! یھی گذشتہ مثال مسئلہ ”جبر وتفویض“ کو اچھی طرح واضح کردیتی ہے کیونکہ ایک انسان حیات وقدرت کے عطا کرنے والے کا محتاج ہے جو ہر حال میں خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے لہٰذا ”تفویض“ بھی نہیں اوردوسری طرف انسان اپنے اعمال میں مجبوربھی نہیں ہے اور اس کے افعال بغیر اس کے ارادہ کے انجام نہیں پارھے ہیں لہٰذا ”جبر“ بھی نہیں ہے۔

لہٰذامذکورہ مطلب کے پیش نظر ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان فعل وترک پر مکمل اختیار رکھتا ہے اور اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لئے یعنی انسان کے مختار ہونے کے سلسلہ میں کچھ دلائل پیش کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ہوئے اعتراضات کے جوابات بھی پیش کرتے ہیں:

۱ ۔اختیاری اوراضطراری افعال میں فرق

ہم نے اس بات کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ انسان کے وہ افعال جواس کے قصد وارادہ سے انجام پاتے ہیں اور ان افعال میں جو اس کے اراداہ کے بغیر انجام پاتے ہیں ان دونوں میں واضح فرق ہے مثلاً کسی کے ھاتھ میں رعشہ پیدا ہوجائے اور اس کا ھاتھ ھلتا رھے، تو یہ اس کے مرض کی وجہ سے ہے اور انسان اس کو روکنے پر قادر نہیں ہے کیونکہ اسکے اختیار اورطاقت سے باھر ہے اور کبھی اس کاکام اختیاری ہوتاھے اوروہ اپنے اختیارسے انجام دیتاھے۔

اسی طرح انسان دوسرے افعال میں بھی فرق محسوس کرتاھے کہ کچھ کام اس کے اختیار سے ہوتے ہیں اور کچھ کام بغیر اختیار کے۔

او رجب ہمارے تمام افعال (ایک گمان کے مطابق) خداوندعالم کی مخلوق ہیں اور ان میں ہمیں ذرہ برابر بھی اختیار نہیں ہے تو پھر اختیاری و اضطراری کاموں میں فرق کااحساس کیسے کرسکتے ہیں؟!

اس سلسلہ میں بعض متکلمین نے فلسفہ تراشی کی ہے اور دونوں (اختیاری واضطراری) میں فرق بیان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ فعل اضطراری وہ افعال ہیں جو خدا کے ارادہ سے انجام پاتے ہیں انسان کی قدرت او ر اس کے ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا، او ر فعل اختیاری وہ ہوتے ہیں جن کو خداوندعالم انسان کے ارادہ کے ساتھ ساتھ ایجاد کرتا ہے۔ لیکن ان کا یہ قول بالکل واضح البطلان ہے۔

کیونکہ اگرقدرت سے مراد ، مشهور لغوی معنی ہوںکہ” اگر چاھے انجام دے اورنہ چاھے تو انجام نہ دے“ تو یہ مذکورہ جبر کے معنی کے خلاف ہیں بلکہ یہ تو اختیار پر دلیل ہے اور اگر اس قدرت سے کوئی دوسرے معنی مراد ہوں، تو پھر یہ اکراہ کے خلاف نہیں ہے، اور اس کو کبھی بھی قدرت نہیں کھا جاسکتا۔

لیکن اگر ارادہ کے معنی مذکورہ فلسفی لحاظ سے لئے جائیں تواسکے معنی بھی اختیار کے ہوں گے۔ (جیسا کہ صحیح بھی ہے)کیونکہ قائل کے گمان کے مطابق یھاںپر اختیار ہے ہی نھیں۔ کیونکہ (دعوی کے مطابق) فعل انسان کے ارادے واختیارسے نہیں ہے، او ر اگر قائل کے نزدیک ارادہ کے معنی فعل کوانجام دینے میں رغبت مراد ہو تو یہ رغبت فعل کا ایجاد کرنانھیںھے جیسا کہ ہماری عقل بھی یھی کہتی ہے،کیونکہ ایسے بہت سے کام ہیں جن میں انسان رغبت رکھتاھے لیکن صرف رغبت سے وہ کام نھیںهوپاتے، جبکہ رغبت عین فعل نہیں ہے (جیساکہ ہم پہلے کہہ چکے) تو پھراختیار واضطرار میں مذکورہ فرق لاحاصل ہوجاتاھے۔

۲ ۔اختیارکے سلسلہ میں قرآن مجید کی وضاحت :

قرآن مجید میںایسی بہت سی آیات موجودھیں جو اختیار کو بہترین طریقہ سے ثابت کرتی ہیں،اور واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان اپنے افعال واعمال میں مکمل طور پر مختارھے اوراگر ہر فعل اس انسان کی طرف منسوب ہے جس میں کسی بھی طرح کی تاویل وتفسیرنھیں کی جاسکتی۔

ارشادخداوندی ہوتاھے:

( کُلُّ امْرِیٴٍ بِمَا کَسَبَ رَهِیْنٌ ) ( ۳۲ )

”ھرشخص اپنے اعمال کے بدلے میں گرو ہے“

( مَنْ یَّعْمَلُ سُوْء اً یُجْزَ بِهِ ) ( ۳۳ )

”اور جو بھی برام کام کرے گا بھر حال اس کو سزا ملے گی“

( اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَاِنْ اٴَسَاٴتُمْ فَلَهَا ) ( ۳۴ )

”اگر تم لوگ اچھے کام کروگے تو اپنے فائدہ کے لئے کرو گے اور اگر برے کام کرو گے تو(بھی) اپنے لئے۔“

( فَمَنْ شَاءَ فَلْیُو مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ ) ( ۳۵ )

”بس جو چاھے ایمان لائے اور جو چاھے کفر اختیار کرے“

( فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَهُ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ ) ( ۳۶ )

”جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہے تو اسے (بھی) دیکھ لے گا“

( وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوْا الْعَمٰی عَلَی الْهُدیٰ ) ( ۳۷ )

”اور رھے ثمود تو ہم نے ان کو سیدھا رستہ دکھادیا مگر ان لوگوںنے ہدایت کے مقابلہ میں گمراھی کو پسند کیا“

( اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ( ۳۸ )

”جو کچھ تم کرتے تھے تمھیں اس کی سزا دی جائے گی“

( وَاَنِّی لاٰ اُضِیْعُ عَمَلَ عَاْمِلٍ مِنْکُمْ ) ( ۳۹ )

”ہم تم میں سے کسی کے عمل کو ضایع نہیں کرتے“

اسی طرح قرآن کریم میں دیگر آیات بھی موجود ہیں جو تمام کی تمام اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے اختیار کی وجہ سے خود انسان کی طرف ہے، لیکن کوئی فعل خدا کی مشیت اور اس کے ارداہ کے بغیر انجام نہیں پاتا۔

لیکن بعض لوگوں نے اس نظریہ کو نہیں مانا اور کھا کہ خداوندعالم کا یہ قول:

( اَللّٰهُ خَالِقُ کُلِّ شَیٴٍ ) ( ۴۰ )

”اللہ ہر چیز کا خالق ہے“

اس بات کی دلیل ہے کہ تمام افعالِ انسان،خدا کی مخلوق ہیں کیونکہ ”کُلِّ شَیٴٍ “ میں افعال انسان بھی آتے ہیں اور یہ افعال صرف انسان کی تخلیق نہیں ہیں، لہٰذا یہ ”جبر“ ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت انسان کے افعال واعمال کے سلسلہ میں نہیں ہے بلکہ اس آیت میں ان لوگوں کے نظریہ کی رد ہے جو متعدد خالق مانتے تھے مثلاً زمین کا خالق، افلاک کا خالق، انسانوں کا خالق وغیرہ وغیرہ، لہٰذا یہ آیت ان لوگوں کی ردّ میں نازل ہوئی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے اور تمام اشیاء کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

لفظ ”خالق“ کا خداوندعالم سے مخصوص ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہم اس کی خلقت کو تمام چیزوں میں عمومیت دیدیں یھاں تک انسان کے افعال بھی خدا کی مخلوق میں شمار ہونے لگےں، کیونکہ قرآن مجید میں تو خلق کی نسبت انسان کی طرف بھی دی گئی ہے جیسا کہ ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

( وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِبِاِذْنِی فَتَنْفَخُ فِیْهَا فَتَکُوْنُ طَیْراً بِاِذْنِی ) ( ۴۱ )

”اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے چڑیا کی مورت بناتے پھر اس پر (کچھ) دم کردیتے تو میرے حکم سے (سچ مچ) چڑیا بن جاتی۔“

( اٴَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُم مِنَ الطِّیْنِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِبِاِذْنِی فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَکُوْنُ طَیْراً بِاِذْنِ الله ) ( ۴۲ )

”میں گندھی ہوئی مٹی سے ایک پرندہ کی مورت بناؤں گا پھر اس پر (کچھ) دم کرونگا تو وہ حکم خدا سے اڑنے لگے گا“

( وَتَخْلُقُوْنَ اِفْکاً ) :( ۴۳ )

”تم ان کو گھڑتے ہو۔“

( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ اٴَحْسَنُ الْخَاْلِقِیْنَ ) ( ۴۴ )

”(سبحان اللہ) خدا بابرکت ہے سب بنانے والوں سے بہتر ہے“

( وَتَذَرُوْنَ اٴَحْسَنَ الْخَاْلِقِیْنَ ) ( ۴۵ )

”اور خدا کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بہتر پیدا کرنےوالا ہے“

قارئین کرام ! مذکورہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان بھی خالق ہے لیکن خداوندعالم احسن الخالقین ہے۔ لیکن قرآن مجید کی درج ذیل آیت سے یہ استدلال کرنا کہ افعالِ انسان، خداوندعالم کی ایجاد ہے:

( اَللّٰهُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) ( ۴۶ )

” خدا تمھارا خالق ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو“( ۴۷ )

کیونکہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ جو کچھ انسان انجام دیتا ہے وہ خداوندعالم کی خلقت ہے تو نتیجہ باطل ہے کیونکہ یہ آیہ شریفہ پہلی آیت کا نتیجہ ہے ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ) ( ۴۸ )

(جناب ابراھیم نے کھا کہ افسوس ) تم اس کی پرستش کرتے ہو جسے تم لوگ خود تراش کر بناتے ہو“

لہٰذا اس سوال کے جواب میں یہ مذکورہ آیت نازل ہوئی:

( اَللّٰهُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) ( ۴۹ )

اگر انسان ان دونوں آیات کوسامنے رکھے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ آیہ کریمہ ان لوگوں کی ردّ میں نازل ہوئی جو لکڑی اور پتھر سے بت بناکر ان کی عبادت کیاکرتے تھے اور ان سے قربت حاصل کرتے تھے، لہٰذا خداوندعالم نے اس آیت کے ذریعہ یہ ظاہر کردیا کہ ہم ہی نے ان مشرکین کو پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو پیدا کیا جن کے ذریعہ سے مشرکین بت بناتے ہیں۔

لہٰذا اس آیت میں بندوں کے افعال واعمال کے متعلق کوئی بات نہیں ہے۔

۳ ۔ عذاب، خود اختیا رپر دلیل ہے :

قارئین کرام ! خداوندعالم کا گناہکاروں پر عذاب کرنا، انسان کے مختار ہونے پر بہترین دلیل ہے، اس سلسلہ میں قرآن مجید میںموجودہ آیات کو ملاحظہ فرمائیں:

( لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) ( ۵۰ )

”اگر (کھیں) شرک کیا تو یقیناً تمھارے سارے اعمال اکارت ہوجائیں گے اور ضرور تم گھاٹے میں آجاؤگے“

( فَلاَیُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلاَّ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ( ۵۱ )

”اور برائی کرنے والوں کو اتنی ہی سزا دی جائے گی جیسے وہ اعمال کرتے رھے ہیں“

( یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اٴَلْسِنَتُهُمْ وَاٴَیْدِیْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) ( ۵۲ )

”جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ھاتھ اور پیر ان کی کارستانیوں کی گواھی دیں گے“

( وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ( ۵۳ )

”اور جیسی جیسی تمھاری کرتوتیں تھیں (ان کے بدلے) اب ہمیشہ عذاب کے مزے چکھو“

( وَقِیْلَ لِلظَّالِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ) ( ۵۴ )

”اور ظالموں سے کھا جائے گا کہ تم دنیا میں جو کچھ کرتے تھے اب اس کے مزے چکھو۔“

( فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اٴَمِرِهِ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ ) ( ۵۵ )

”جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ان کو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ (مبادا) ان پر کوئی مصیبت آپڑے“

( وَمَنْ یَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اٴَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ ) ( ۵۶ )

”اور جس نے ہمارے حکم سے انحراف کیا اسے ہم (قیامت میں) جہنم کے عذاب کا مزا چھکائیں گے“

کیونکہ اگر خداوندعالم اپنے بندوں کے افعال کا خالق ہو اور پھر ان کاموں پر ان کو عذاب میں بھی مبتلا کرے تو یہ محال ہے کیونکہ یہ تو کھلم کھلا ظلم ہے، (کہ افعال کو خود انجام دے اور سزا بندوں کو دے) اور خداوندعالم ہر ظلم سے پاک وپاکیزہ ہے:

( وَمَارَبُّکَ بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ ) ( ۵۷ )

”اور تمھارا پروردگا ر بندوں پر (کبھی) ظلم کرنے والا نہیں ہے“

( وَاَنَّ اللّٰهَ لَیْس بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ ) ( ۵۸ )

” خدا تو کبھی بندوں پر ظلم کرنے والا نھیں“

( وَمَا اٴَنَابِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ ) ( ۵۹ )

”اور میں اپنے بندوں پر (ذرہ برابر بھی) ظلم کرنے والا نہیں ہوں“

( وَمَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْماً لِلْعَالَمِیْنَ ) ( ۶۰ )

”اور خدا سارے جھان کے لوگوں (میںسے کسی) پر ظلم کرنا نہیں چاہتا“

( وَمَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْماً لِلْعِبَادِ ) ( ۶۱ )

”اور خدا تو اپنے بندوں پر ظلم کرنا چاہتا ہی نھیں“

( اِنَّ اللّٰهَ لاٰ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ) ( ۶۲ )

”خدا تو ہر گز ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا“

( اِنَّ اللّٰه لاٰ یَظْلِمُ النَّاْسَ شَیْئاً ) ( ۶۳ )

”خدا تو ہر گز لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا“

( وَلاٰ یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحداً ) ( ۶۴ )

”اور تیرا پروردگار کسی پر (ذرہ برابر) ظلم نہ کرے گا“

(یہ تھیں وہ آیات جن میں خداوندعالم نے اپنے سے ظلم کی نفی کی ہے۔)

لیکن بعض علماء علم کلام نے خداوندعالم کی طرف ظلم کی نسبت کو صحیح مانا ہے ، چنانچہ ان کے نظریہ کا خلاصہ یہ ہے:

”خداوندعالم کے لئے ظلم قبیح نہیں ہے کیونکہ وہ ظلم قبیح ہے جس کو عقل مکروہ جانے، یعنی وہ ظلم قبیح ہے جو دوسرے پر کیا جائے لیکن اگر اپنے پر ظلم کیا جائے چاھے وہ اپنے بدن پر ہو یا اپنے مال اور اپنی عزت پر،کیونکہ انسان اپنے مال میں تصرف کرنے میں آزاد ہے اور بغیر کسی قید وشرط کے تصرف کرسکتا ہے اور اس کا یہ تصرف کرنا قبیح نہیں ہے۔

اسی طرح خداوندعالم کو بھی اپنی مخلوقات میں تصرف کرنے کامکمل حق ہے کیونکہ وھی ان کا خالق اور مالک ہے اور چونکہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے اور اس کی قدرت وسلطنت کے آگے خاضع ہیں، لہٰذا وہ جس طرح چاھے ان میں تصرف کرسکتا ہے، پس جس کو چاھے عذاب کرے چاھے وہ مومن ہی کیوں نہ ہو، اور جس کو چاھے اپنی نعمتوں سے سرفراز کرے چاھے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تمام انسان اس کی ملکیت ہیں:

( وَلاٰ یُسْاٴَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَهُمْ یُسْاٴَلُوْنَ ) ( ۶۵ )

”جو کچھ وہ کرتا ہے اس کی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی (ھاں) اور لوگوں سے باز پرس ہوگی۔“

لہٰذا انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ خدا کی عظمت کے سامنے اپنی قابلیت دھائے اور کھے کہ خداوندعالم کا یہ فعل حسن ہے اور یہ فعل قبیح۔

قارئین کرام ! یہ اعتراض چند وجوھات سے مردود اور باطل ہے:

۱ ۔ کیونکہ خداوندعالم کے بارے میں حکمِ عقل کے فرض کی گفتگو نہیں ہے بلکہ اس چیز کا بیان ہے جس سے بندوں کے معاملات میں فضل ولطف کی امید ہو، کیونکہ ہم اس بات کو مکمل طور پر قبول کرتے ہیں کہ محال پر تکلیف کرنا یا جس کام کے انجام دھی کی قدرت نہ ہو، اس کا حکم دینا یا گناہکار کوجنت میں داخل کرنا یا مطیع اور فرمانبردار کو جہنم میں داخل کرنا، ان تمام چیزوں پر خداوندعالم مکمل قدرت رکھتا ہے، اور ہر طریقہ کا تصرف کرسکتا ہے اور کوئی بھی حکم کرسکتا ہے، اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس طرح کے کام انجام نہیں دیتا لیکن اس کا ان کاموں کو انجام نہ دینا اس کے لطف وکرم کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ وہ ان کاموں کو انجام دینے سے قاصر اور عاجز ہے۔

۲ ۔ اگر ہم ظلم کو قبیح نہ مانیں تو پھر انسان خداوندعالم کے احکامات کی پیروی نہیں کرے گا کیونکہ ان احکامات اور ان کے نتائج کے درست ہونے پر یقین نہ ہوگا، اور اسی طرح اس کو خدا کے وعدہ وفا کرنے پر بھی اطمینان نہ ہو گا۔

جبکہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( اِنَّ اللّٰهَ لاٰ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ( ۶۶ )

”بے شک خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا“

کیونکہ یہ سب کچھ اس اعتبار سے ہے کہ ظلم، کذب اور خلف وعدہ قبیح ہے، لیکن اگر مسئلہ قبح وقباحت کو ہٹالیا جائے جیسا بعض لوگوں کا گمان ہے تو پھر انسان، خدا کی اطاعت، خواہشات نفس کی مخالفت ہوا اور نفس امارہ سے جنگ پر اطمینان اور اعتماد نہیں کرے گا۔

۳ ۔ ظلم کسی غیر پر تعدی کرنے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ درمیانی راستہ سے افراط وتفریط کرنا بھی ظلم ہے، اسی وجہ سے کھا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے اپنے اوپر ظلم کیا، جبکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص اپنے تصرف، لباس، طعام، اور خرچ میں راہ اعتدال سے خارج ہوگیا ہے، درحالیکہ یہ سب کچھ اس کی ملکیت میں ہوتے ہیں، اور وہ اپنے مال میں تصرف کرنے میں بھی مکمل آزاد ہوتا ہے لیکن مذکورہ طریقہ کو عرف عام میں ظلم شمار کیا جاتا ہے۔

مثلاً اگر کوئی انسان کسی حیوان کو مارے جبکہ وہ حیوان اس کی ملکیت بھی ہو، اور اس کا فرمانبردار ،اور اس کو اذیت نہ دینے والا ہو تو کیا اس کو مارنے پر یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ میں تو اس کا مالک ہوں؟!

۴ ۔ ظلم قبیح ہے۔

اگر انسان اپنے افعال کے انجام دینے پر قادر اور مختار نہ ہو،اور صرف اس کے ارادہ سے ایجاد ہوجائے تو پھر خداوندعالم(معاذ اللہ) ”اظلم الظالمین“ ہوجائےگا، کیونکہ گناہگار شخص کو عذاب دیا جانا ضروری ہے اور چونکہ معصیت انسان کے اپنے اختیار سے نہیں ہے، لہٰذا اس کو عذاب کرنا کئی گنا ظلم سے بھی بُرا ہے۔

قارئین کرام ! ”جبر“ کا عقیدہ رکھنے والے اس سلسلہ میں دو جواب پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ عذاب کسی فعل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ”کسب “کی بنا پر ہے۔

لیکن ہم ان کے جواب میں کہتے ہیں کہ:

جو بات ”کسب“ کے لغوی معنی اور قرآن کریم میں استعمالات سے سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کسب اختیار کے ذریعہ انجام شدہ فعل کو کہتے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَنْ یَکْسِبْ اِثْماً فَاِنَّمَا یَکْسِبُهُ عَلیٰ نَفْسِهِ ) ( ۶۷ )

”اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو اس سے کچھ اپنا ہی نقصان کرتا ہے“

( لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْهَا مَااکْتَسَبَتْ ) ( ۶۸ )

”اس (انسان) نے اچھا کام کیا تو اپنے نفع کے لئے اور برا کام کیا تو اس کا (وبال) اسی پر پڑے گا“

( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اٴَیْدِیَهُمَا جَزَاءً بِمَا کَسَبَا ) ( ۶۹ )

”اور چور خواہ مرد ہو یا عورت تم ان کے کرتوت کی سزا میں ان کا (داہنا) ھاتھ کاٹ ڈالو“

( وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّئَاٰتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِهَا ) ( ۷۰ )

”اور جن لوگوں نے برے کام کئے ہیں تو گناہ کی سزا ان کے برابر ہے “

( اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ) ( ۷۱ )

”جو لوگ گناہ کرتے ہیں انھیں اپنے اعمال کا عنقریب ہی بدلا دیا جائے گا“

اسی طرح قرآن کریم میں دیگر آیات بھی موجود ہیں جو تما م اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ارادہ واختیار کے ذریعہ جو فعل انجام پائے اس کو ”کسب“ کہتے ہیں لیکن اختیار کی ایک شرط قدرتِ انسان ہے۔

لہٰذا ان کو جب خود اپنا دعویٰ ناقص دکھائی دیا تو انھوں نے یہ کھا کہ وہ کسب جو عذاب کا سبب بنتا ہے وہ ایسا فعل ہے جو خدا سے صادر ہوتا ہے لیکن انسان کے ارادہ کے ساتھ یعنی اس فعل کے وجود کے لئے انسان کا ارادہ اور خدا کا اس کام کوکردینا ضروری ہے۔

لیکن ہم اس کا جواب یوں دیتے ہیں:

۱ ۔اگر یہ مقارن ہونا (ارادہ انسان اور فعل خدا کا ایک ساتھ ملنا) اختیار سے خارج ہو تو انسان پر عذاب کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ان کے گمان کے مطابق انسان تو صرف اس فعل سے رغبت رکھتا تھا، لیکن اس فعل کو خداوندعالم نے ایجاد کیا (ان کے گمان کے مطابق)

پس در حقیقت رغبتِ انسان اور ایجاد خدا میں مقارنت پائی گئی ، اور یہ مقارنت بھی خدا کے ارادہ اور اس کی قدرت کے ذریعہ پیدا ہوئی کیونکہ ان کے گمان کے مطابق وھی فاعل حقیقی ہے، تو پھر یہ کس طرح صحیح ہوگا کہ خداوندعالم اس بندہ پر عذاب کرے جس نے فعل ہی انجام نہ دیا ہو، یا اس مقارنت کی بنا پر جس پر اُسے ذرا بھی اختیار نھیں۔

۲ ۔ خداوندعالم کا اپنے بندوں پر ظلم کرنا قبیح نہیں ہے کیونکہ یہ تو مالک کے تصرف کا ایک حصہ ہے اور وہ جو چاھے کرسکتا ہے، (ہم نے اس سلسلہ میں وضاحت کردی ہے) کیونکہ خود ذات افعال میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو حسن یا قبیح کا نام دیا جائے، اور انسان کے کاموں کو حسن وقبیح کہنا شریعت کی بناپر ہوتے ہیں کیونکہ جس کام کا شریعت نے حکم دیدیا ہے وہ حسن ہے اور جن کاموں سے روک دیا ہے وہ قبیح ہیں، کیونکہ اگر شارع کی نظر بدل جائے اور جس کام کا امر کیا تھا اس کے بارے میں نھی کردے اور جس چیز کے بارے میں منع فرمایا تھا اس کا حکم دیدے تو پھر قبیح، حسن سے اور حسن، قبیح سے بدل جائے گا، یعنی جو چیز حسن تھی وہ قبیح ہوجائے گی اور جو قبیح تھی وہ حسن ہوجائے گی۔

اور چونکہ (ان کے گمان کے مطابق) فعل کا حُسن وقبح شریعت مقدس کی وجہ سے ہے نہ کہ حکمِ عقل کی بنا پر، تو پھر خداوندعالم کے فعل کو حسن وقبح کا نام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ تو شریعت سے بھی بالاتر ہے، پس نتیجہ یہ ہوا کہ ہر وہ کام جو خدا انجام دے (چاھے ظلم پر ہی کیوں نہ منطبق ہو)وہ حسن وجمیل اور نیک ہے اور عقلِ انسانی یہ حکم کرنے سے قاصر ہے کہ خداوندعالم سے ظلم صادر ہونا قبیح ہے۔

قارئین کرام ! صحیح نظریہ بیان کرنے سے پہلے ہم حسن و قبح کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

پھلے معنی :

حسن وقبح کا اطلاق کمال ونقص پر ہوتا ہے، لہٰذا علم حسن ہے اور جھل ونادانی قبیح، شجاعت وکرم حسن ہیں اور ان کے مقابلہ میں بزدلی اور بخل قبیح ہیں، اور ان میں کسی بھی مفکر اور دانشمند نے کوئی اختلاف نہیں کیا ہے کیونکہ یہ ایسے یقینی مسائل ہیں جن کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔

دوسرے معنی:

حسن اس کو کہتے ہیں جو طبیعت کو اچھا لگے، اور قبیح اس کو کہتے ہیں جس سے طبیعت نفرت کرے،مثلاً یہ منظر، حسن ہے، یہ آواز حسن ہے یا بھوک کے وقت کھانا کھانا حسن ہے، اسی طرح یہ بھی کھا جاتا ہے کہ یہ منظر قبیح ہے یہ آواز قبیح ہے، اور اس معنی میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ اس کا فیصلہ بھی خود انسانی شعور کرتا ہے اور اس میں شرع کا کوئی دخل نہیں ہے۔

تیسرے معنی :

حسن وقبح کا اس چیز پر اطلاق کرنا جو مستحق مدح وذم ہو، لہٰذا اسی بناپر یہ دونوں اختیاری افعال کی صفت قرار پاتے ہیں،اس حیثیت سے کہ عقلاء کے نزدیک حسن کے فاعل کو مستحق مدح وثواب سمجھا جاتا ہے اور تمام ہی لوگوں کے نزدیک قبیح کے فاعل کو مستحق ذم وعذاب سمجھا جاتا ہے ،اور یھی تیسرے معنی موضوع بحث ہیں۔

چنانچہ اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ افعال کے حُسن وقُبح پر عقل کوئی حکم نہیں کرتی، بلکہ حسن وہ ہے جس کو شریعت حسن قرار دے اور قبیح وہ جس کو شریعت مقدس قبیح قرار دے، اور ان چیزوں میں عقل کی کوئی دخالت نہیں ہے۔

لیکن شیعہ امامیہ اور معتزلہ مذکورہ نظریہ کو قبول نہیں کرتے بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ عقل کی نظر میں خود افعال کی ارزش واہمیت ہے بغیر اس کے شریعت کا اس میں کوئی دخل ہو، اور انھی افعال میں سے بعض وہ افعال ہیں جو بذات خود حسن ہیں اور بعض بذات خود قبیح ہیں اور بعض ایسے افعال ہیں جن کو ان دونوں صفات میں سے کسی بھی صفت سے متصف نہیں کیا جاسکتا، شریعت مقدس انھی چیزوں کا حکم کرتی ہے جو حسن ہوتی ہیں اور ان چیزوں سے منع کرتی ہے جو قبیح ہوتی ہیں اور چونکہ صدق بذات خود حسن ہے اسی حسن کی وجہ سے خداوندعالم نے صدق کے لئے حکم کیا ہے اور جھوٹ چونکہ بذات خود قبیح ہے ، اسی قبح کی وجہ سے خداوندعالم نے اس سے روکا ہے، نہ یہ کہ خدا نے منع کرنے کے بعد جھوٹ کو قبیح قرار دیا ہو۔

اس مطلب پر ہماری دلیل یہ ہے کہ جو لوگ دین اسلام کو نہیں مانتے اور مختلف نظریات کے حامل ہیں وہ بھی صدق کو حسن اور جھوٹ کو قبیح مانتے ہیںجبکہ ان کو شریعت نے حسن وقبح کی تعلیم نہیں دی ہے۔

لہٰذا ان تمام باتوں سے ثابت یہ ہواکہ حسن وقبح ذاتی دونوں شرعی ہونے سے پہلے عقلی ہیں، عدل حسن ہے کیونکہ عدل ہے اور ظلم قبیح کیونکہ وہ ظلم ہے، بغیر اس کے کہ ان کے حسن وقبح میں کوئی شرعی اور دینی حکم ہو۔ لہٰذا عقلی لحاظ سے خداوندعالم کا عادل ہونا ضروری ہے کیونکہ عدل حسن ہے، اسی طرح عقلی لحاظ سے خداوندعالم کا ظالم ہونا محال ہے کیونکہ ظلم قبیح ہے۔

خلاصہ بحث:

عقلی اور قرآنی دلائل کے پیش نظر انسان اپنے فعل میں صاحب اختیار ہے اور اپنے تصرفات میں مکمل آزاد ہے اور کوئی جبر اکراہ نھیںھے، اور جو باتیں جبر کو ثابت کرنے کے لئے لوگوں نے بیان کی ہیں وہ ہماری بیان کردہ محکم نصوص ودلائل کے سامنے بے کار ہیں۔(لہٰذا نظریہ جبر باطل وبے بنیاد ہے)

خداوندعالم کا فرمان صادق اور سچا ہے:

ارشاد ہوتا ہے:

( وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهٰا فَاٴَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ اٴَفْلَحَ مَنْ زَکَّاهَا وَقَدْ خَاْبَ مَنْ دَسَّا هَا ) ( ۷۲ )

”(اور قسم ہے) جان کی جس نے اسے درست کیا پھر اس کی بدکاری اور پرھیزگاری کو اسے سمجھادیا، (قسم ہے) جس نے اس جان کو(گناہ سے) پاک رکھا وہ تو کامیاب ہوا، اور جس نے گناہ کرکے اسے دبادیا ، وہ نامراد رھا“


قضاء وقدر

مسئلہ” قضاء وقدر“ کی بحث (اگر چہ علماء کلام نے اس کو خاص عنوان کے تحت بیان کیا ہے) ”جبر واختیار“ کا اہم حصہ ہے جس کو جبر واختیار کی بحث سے جدا نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ مسئلہ بھی مذکورہ بحث کا بنیادی نظریہ ہے۔

ہم اس باب میں اختصار کی خاطر مکمل طریقہ سے تمام پہلو وں کوبیان نہیں کریں گے، کیونکہ بہت سی چیزیں اس کتاب کی وسعت سے باھر ہیں، ہم یھاں صرف اس کے اسلامی معنی کو واضح کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ قرآن وسنت نے اس بارے میں وضاحت کی ہے، تاکہ ہمارے عزیز قارئین اصول دین کے اس اہم مسئلہ کو پہچان لیں اور اس پر عقیدہ رکھیں، خصوصاً جیسا کہ ہم آج کل دیکھتے ہیں کہ انسان صبح سے لے کر شام تک کے واقعات،مصیبت و بلا اور خیر وشر کی باتوں کو قضا وقدر کہہ دیتاھے، تو کیایہ تمام کے تمام اسلامی عقیدہ کے تحت ہیں؟!یا نھیں؟

ہم ان دونوں الفاظ کے معنی اسلامی صحیح نقطہ نظر سے بیان کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ لغت اور قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں تاکہ ہم اس طریقہ سے ان دونوں الفاظ کے معنی میں شریعت کے ہدف ومقصد کو سمجھ سکیں، اوریہ دیکھ سکیں کہ اسلامی نصوص میں ان کا استعمال کس طرح ہوا ہے:

۱ ۔ لغوی معنی:

”قضا کے معنی عمل کے ہیں، پس اس کے معنی صنعت اور اندازہ کے ہیں مثلاً : ”قضی الشیٴ قضاء ا صنعه وقدره “ (یعنی کسی چیز کو بنانے کے لئے اس کی مقدار معین کی) یا ہر وہ کام جس کو کرنے کے لئے تیاری کی، اس کو تمام کیا، یا کسی چیز کو ادا کیا ، یا کسی چیز کو واجب کیا یا کسی چیز کا علم پیدا کیا، یا کسی چیز کو نافذ کیا۔ تو گویا اس نے ان کاموں کا اندازہ معین کیا۔

”وقضیٰ ای حکم“ (یعنی اس نے قضا کی یعنی اس پر حکم لگایا) جس طرح کوئی شخص فیصلہ میں قضاوت کرتے ہوئے حکم لگاتا ہے۔

قضا کے ایک معنی اعلان کے بھی ہیں جیسا کہ کہتے ہیں:

قضینا الیه ذالک الامر ای هیناه الیه وابلغناه ذالک( ۷۳ )

(یعنی ہم نے فلاں شخص کے لئے یہ اعلان کیا یعنی اس کو منع کیا اور اس تک خبر پهونچائی)

معنی قدر: قدر کے معنی قضا اور حکم کے ہیں۔( ۷۴ )

۲ ۔ قرآنی معنی:

قرآن مجید میں قضا کے درج ذیل چند معنی بیان ہوئے ہیں:

الف: خلق وایجاد، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :

( فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ) ( ۷۵ )

یعنی ہم نے سات آسمان کو خلق کیا۔

ب: وجوب وحکم، جیسا کہ ارشاد ربّ العزت ہے:

( وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ) ( ۷۶ )

یعنی ہم نے انسان پر واجب اور حکم کیا کہ خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہ کرے۔

ج: اعلان کرنا ، خبر دینا، جیسا کہ ارشاد ہے:

( وَقَضَیْنَا إِلَی بَنِی إسْرائِیلَ فِی الْکِتَابِ ) ( ۷۷ )

یعنی ہم نے بنی اسرائیل تک یہ خبر پہنچائی یا ان کے لئے یہ اعلان کیا۔

اسی طرح قرآن مجید میں لفظِ ”قدر“ دومعنی میں استعمال ہوا ہے:

الف: خلق وتنظیم اور تدبیر وترتیب، ارشاد ہوتا ہے:

( وَقدَّرَ ِفیْهَا اٴَقْوَاتَهَا ) ( ۷۸ )

”اور اس نے ایک مناسب انداز پر اس میں سامان معیشت کا بندوبست کیا“

( وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ ) ( ۷۹ )

”اور ہم نے چاند کے لئے منزلیں مقرر کردیں“

( وَاللّٰهُ یُقَدِّرُ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ ) ( ۸۰ )

”اور خدا ہی رات اور دن کا اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے“

( وَخَلَقَ کُلَّ شَیءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِیْراً ) ( ۸۱ )

”اور ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا پھر اسے اندازے سے درست کیا“

ب: بیان کرنا اور خبر دینا، جیسا کہ ارشاد ہے:

( اِلاّٰ امْرَاٴتَهُ قَدَّرْنَاهَا مِنَ الْغَابِرِیْنَ ) ( ۸۲ )

”یعنی ہم نے (جناب نوح (ع)) کو خبر دی ان کے لئے بیان کیا کہ ان کی بیوی غابرین (تقدیر میں پیچھے رہنے والوں) میں سے ہیں۔“

اب جبکہ ہمارے لئے ان دونوں الفاظ کے لغوی اور قرآنی معنی واضح ہوگئے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم قضاء وقدر کی طرف اپنے افعال کو منسوب کرتے ہوئے ان معنی کا لحاظ کریں اور جب ہم یہ کھیں کہ ہمارا یہ کام خداوندعالم کی قضاء وقدر سے ہے تو ہمیں اس کے معنی معلوم ہونے چاہئےں۔

کیونکہ ہمیں قضا وقدر سے معنی خلق مراد لینے کا حق نہیں ہے، (جو قضا وقدر کے ایک معنی ہیں)چونکہ گذشتہ بحث میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہمارے افعال ہمارے اختیار ، ہمارے ارادہ اور ہماری ایجاد سے ہوتے ہیں اور خداوندعالم کی ایجاد اور اس کے خلق کردہ نہیں ہوتے۔

پس جب ہم دلیل کے ذریعہ اس معنی (خلق) کو مراد نہیں لے سکتے تو پھر ان دونوں الفاظ کے معنی محصور ہوجاتے ہیں اس وقت خدا کی قضا کے معنی ”وجوب اور حکم“ کے ہوں گے، اور قدر کے معنی ”بیان اور علم“ کے ہوں گے۔

اس وقت کسی معنی فعل کے بارے میں ہمارا خبر دینے کا مطلب قضاء اللہ ہوگی اس کی قدر یعنی کسی چیز کے بارے میں وجوب یا اس کو بیان کرنا یا اس کا علم پیدا کرنا۔

لہٰذا ہم اس بنیاد پر کہتے ہیں کہ اللہ کی قضا پر راضی رہنا ، اور اس کی قدر کو قبول کرنا ضروری اور جس چیز کو خداوندعالم نے ہمارے لئے بیان کیا یا کسی چیز کے بارے میں حکم کیا ان پر ایمان ویقین رکھنا ضروری ہے، اور قضاوقدر کا یھی مطلب ہے، اس کے علاوہ اور کوئی مطلب ومقصد نہیں ہے۔

اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل میں ہمارے لئے حضرت علی علیہ السلام کے اس جواب پر توجہ کرنا کافی ہے جوآپ نے صفین کے راستہ میں ایک شامی شخص کے سوال( کہ کیا جنگ صفین خداوندعالم کی قضاو قدر سے ہے؟ )کے جواب میں فرمایا:

”نعم یا شیخ، ما علوتم تلعة ولاهیطتم وادیاً الا بقضاء اللّٰه

فقال الشامی: عند اللّٰه احستب عنائي یا امیر المومنین

فقال علیه السلام: مه یا شیخ ، فان اللّٰه قد عظم اجرکم فی مسیرکم وانتم سائرون وفی مقامکم و انتم مقیمون، وفی انصرافکم وانتم منصرفون ولم تکونوا فی شیٴ من امورکم مکرهین“[۸۳]

ھاں اے شیخ، تم کسی پھاڑی پر نہیں چڑھتے اور نہ کسی وادی میں اترتے مگر یہ سب کام خدا کی قضاء قدر سے ہوتے ہیں، اس وقت اس شامی نے کھا یا امیر المومنین (ع)کیا یہ کام اللہ کے نزدیک عنایت شمار ہوگا یعنی کیا جنگوں کی تمام پریشانیوں کا ثواب ملے گا؟!

تب حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اے شیخ !(صبر کرو تاکہ واضح ہوجائے) خداوندعالم انھیں امور کا تمھیں بہت زیادہ اجر دیتا ہے اور تمھارے اٹھنے بیٹھنے اور چلنے میں ثواب ہے اور تم کسی کام میں مضطر ومجبور نہیں ہو ۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا:

لعلک ظننت قضاء اً لازماً وقدراً حاتماً ولوکان ذلک کذلک لبطل الثواب والعقاب وسقط الوعد والوعید، ان اللّٰه سبحانه امر عباده تخییرا ونهاهم تحذیراً وکلف یسیرا ولم یکلف عسیراً واٴعطی علی القلیل کیثراً( ۸۴ )

کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ قضا وقدر حتمی اور ضروری ہیں کیونکہ اگر ضروری اور حتمی ہوں تو پھر ثواب وعذاب باطل ہوجائیں، وعدہ ووعید ختم ہوجائیں، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اختیار کے ساتھ حکم دیا ہے اور ڈرانے کی وجہ سے نھی کی ہے، کم تکلیف کی ہے اور مشکل کاموں پر مکلف نہیں کیا اور وہ تو تھوڑے (اعمال) پر کثیر (جزا) دیتا ہے۔

قارئین کرام ! آپ نے توجہ فرمائی کہ حضرت علی علیہ السلام کے یہ فصیح وبلیغ کلمات ہماری بات پر واضح دلیل ہیں اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ شام کی طرف حرکت کرنا خدا کے حکم سے تھا (یعنی خداوندعالم کا حکم تھا کہ باغیوں سے جنگ کرنا واجب ہے) اور خداوندعالم نے ان لڑنے والوں کے لئے اجر کو عظیم قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے خدا کے حکم کی خاطر اس جنگ میں حصہ لیا ہے۔

اسی طرح حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ملائکہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ومنهم امناء علی وحیه والسنة والیٰ رسله ومختلفون بقضائه وامره( ۸۵ )

(اور ان میں سے بعض خدا کی وحی پر امین بنائے گئے اور بعض مرسلین کے لئے خدا کی زبان ہیں اور خدا کی قضا اور اس کے حکم کے پهونچانے والے ہیں)

ہم قضاء الٰھی اور امر ربی کو نہیں سمجھتے مگر وہ واجبات اور احکام جو ملائکہ، انبیاء ومرسلین کے لئے لے کر نازل ہوتے ہیں تاکہ انبیاء اپنی امتوں تک پهونچادیں۔

قدر پر ایمان کے سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

الناس فی القدر علی ثلاثة اٴوجه:رجل یزعم ان الامر مفوض الیه فقد وهن اللّٰه فی سلطانه، فهو هالک ورجل یزعم ان اللّٰه جل وعز اجبر العباد علی المعاصی وکلفهم ما لا یطیقون فقدظلم اللّٰه فی حکمه فهو هالک ورجل یزعم ان اللّٰه کلف العباد ما یطیقون ولم یکلفهم ما لا یطیقون فاذا اٴحسن حمد لله واذا اٴساء استغفر اللّٰه فهذا مسلم ۔“( ۸۶ )

قدر کے سلسلہ میں لوگوں کے تین گروہ ہیں:

۱ ۔ وہ شخص جو گمان کرتا ہے کہ تمام کام اس پر چھوڑدئے گئے ہیں تو اس نے خدا کی سلطنت میں اس کی توھین کی اور وہ ھلاک ہونے والا ہے۔

۲ ۔ وہ شخص جو گمان کرتا ہے کہ خداوندعالم بندوں کی معصیت کرنے میں ان کا اجیر ہے، اور اس نے بندوں کو ان چیزوں پر مکلف بنایا جو ان کی قدرت سے باھر ہیں، تو اس نے خدا کے حکم کے سامنے خدا پر ظلم کیا اور وہ بھی ھلاک ہونے والا ہے۔

۳ ۔ وہ شخص جس کا یہ عقیدہ ہے کہ خداوندعالم اپنے بندوں کو انھی کاموں پر مکلف کرتا ہے جن کی وہ طاقت رکھتے ہیں اور جس چیز کی طاقت نہیں رکھتے ان پر مکلف نہیں کرتا، اور وہ جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو خدا کی حمد کرتا ہے اور جب کوئی برا کام ہوجاتا ہے تو خدا سے استغفار کرتا ہے پس یھی شخص مسلمان ہے۔) اور یہ خداوندعالم کی قضاوقدر کے ایک دوسرے معنی ہیں جس میں اس کے امر( حکم) اور بندوں پر تکالیف کو بیان کیا گیا ہے،لہٰذا ہمارا اسلام پر راضی رہنا اور شریعت مقدسہ کا اقرار کرنا قضاء الٰھی پر راضی ہونا اور قدر الٰھی کا اقرار کرنا ہے۔

ہدایت وگمراھی

آخر بحث میں صرف ”ہدایت وگمراھی“کا مسئلہ باقی رہ گیا ہے جس کو علماء کرام نے جبر واختیار اور قضا وقدر کا ضمیمہ قراردیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بہت سی آیات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے ایک اشارہ ملتا ہے کہ خداوندعالم ہی انسان کو ہدایت یا گمراھی دیتا ہے اور اس میں انسان کو کوئی اختیار بھی نہیں ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَاءُ وَیَهْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ ) ( ۸۷ )

”تو یھی خدا جسے چاہتا ہے گمراھی میں چھوڑدیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے“

( وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) ( ۸۸ )

”اور جس کو خدا گمراھی میں چھوڑدے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نھیں“

قارئین کرام ! یھاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہدایت وگمراھی خدا کی طرف سے

ھے تو پھر گمراهوں کو ان کی گمراھی کی بناپر کیوں عذاب دے گا؟!! اور مومنین کو ان کی ہدایت پر ثواب کیوں دے گا؟!! جبکہ دونوں خداوندعالم کے افعال اور اس کے ارادہ سے ہیں۔

اس اعتراض کے جواب سے پہلے ہم ہدایت وگمراھی کے معنی بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ لغت کی کتابوں اور قرآن مجید کے استعمالات میں ان دونوں کے کیا معنی ہیں تاکہ واضح طور پر ان دونوں کے مفهوم کو سمجھ سکیں۔

لغت میں ہدایت کے معنی:

الدلالة علی الطریق الرشد( ۸۹ )

(ترقی کے راستہ پر دلالت کرنا)

لسان العرب میں ہدایت کے اس طرح معنی کئے ہیں:

هداه للطریق والی الطریق، اذا دلّه علی الطریق، وهدیته الطریق والبیت هدایة ای عرفته ۔( ۹۰ )

اس کی راستہ کی طرف ہدایت کی جبکہ وہ راستہ کو جانتا تھا، یا میں نے اس کی راستہ کی ہدایت کی یعنی اس کو جانتا تھا )

ہدایت گمراھی کی ضد ہے ،ہدایت کے معنی راہ دکھانا اور دلالت کے ہیں۔( ۹۱ )

یا جیسا کہ کھا جاتا ہے : ”ہد یت لک فی معنی بینت لک “۔( ۹۲ )

(میں نے تمھارے اس معنی میں ہدایت کی جس کو میں نے بیان کیا )

اسی طرح سے خدا وند عالم کایہ فرما ن بھی ہے ۔( اَوَلمْ یَهْدِ لَهُمْ ) ( ۹۳ )

”کیا ان لوگوں کو یہ نہیں معلوم۔ “

لیکن خداوند عالم کا یہ فرمان :

( قَالَ رَبَّنَا الَّذِیْ اٴَعْطٰی کُلَّ شَیٴٍ خَلَقَهُ ثُمَّ هَدیٰ ) ( ۹۴ )

”(جناب موسی علیہ السلام نے کھا ) ہمارا پروردگار جس نے ھرچیز کو اسی کے (مناسب ) صورت عطافرمائی اور پھراس نے ہدایت کی“

اس کے معنی یہ ہیں کہ خداوند عالم نے ہر چیز کو اس طریقہ سے پیدا کیا ہے تا کہ اس سے استفادہ کیا جاسکے ۔اس کے بعد اس کی زندگی کی طرف ہدایت کی ہے۔( ۹۵ )

کلام عرب میں ہدایت کے معنی توفیق کے بھی ہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے :

ولاتحر فنی هداک اللّٰه مساٴلتی

ولاآکونن کمن اودی به السفر [۹۶]

(یعنی خداوندعالم آپ کو توفیق دے کہ آپ ہماری حاجت پوری کریں ۔)

جیسا کہ خداوند عالم کا فرمان بھی ہے:

( فَاهْدُوْهُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ) ( ۹۷ )

یعنی ان کو جہنم میں داخل کردو۔

” کما تهدی المراٴة الی زوجها یعنی بذلک انها تدخل الیه( ۹۸ )

(جیسا کہ بیوی کو اس کے شوھر کے گھر بھیجا جاتا ہے، اور (اسی نکاح کے ذریعہ) ان میں میاں بیوی کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے)

اسی وجہ سے جو شخص قوم کے آگے آگے چلتا ہے یا ان کی ہدایت کرتا ہے اس کو ”ھادی“ کھا جاتا ہے ۔( ۹۹ )

او رہدایت کے معنی ثواب کے بھی ہیں( ۱۰۰ )

جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ ) ( ۱۰۱ )

”یعنی خدا نے ان کو ایمان کا ثواب عنایت فرمایا۔“

( وَاللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ ) ( ۱۰۲ )

( وَاللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ ) ( ۱۰۳ )

( وَاللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ) ( ۱۰۴ )

( اِنَّ اللّٰهُ لاٰ یَهْدِیْ کَیْدَ الْخَائِنِیْنَ ) ( ۱۰۵ )

یعنی ان ظالمین، کافرین، فاسقین اور خائنین کو ثواب نہیں دیا جائے گا۔

نیز ارشاد قدرت ہوتا ہے:

( لَیْسَ عَلَیْکَ هُدَاهُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ ) ( ۱۰۶ )

”یعنی ان کو ثواب نہیں دیا جائے گا او رخدا جس کو چاھے ثواب عطا کرے“

قارئین کرام ! ضلال وگمراھی کے معنی ھلاکت کے ہیں ، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

( وَاِذَا ضَلَلْنَا فیْ الاٴرْضِ ) ( ۱۰۷ )

”یعنی ہم نے ان کو ھلاک کردیا۔“

اور دین سے گمراھی کا مطلب حق سے دور ہوجانا اور اضلال کے معنی گمراھی کی دعوت دینا، یا گمراھی کو کسی کے سر پر لاد دینا، جیسا کہ خداوندعالم کا فرمان ہے:

( وَاَضَلَّهُمُ السَّاٴمِرِیُّ ) ( ۱۰۸ )

”یعنی سامری نے ان کو گمراہ کر چھوڑا“

اور اضلال کے معنی گناہگاروں کو جہنم میں ڈالنے کے بھی ہیں۔( ۱۰۹ )

قارئین کرام ! ہدایت وضلال کے ان تمام مذکورہ معنی کے پیش نظر درج ذیل چیزیں روشن ہوجاتی ہیں:

۱ ۔ اضلال کے معنی مخالف حق، اور گمراھی کی دعوت دینا یا کسی کے سر پر گمراھی کو لاد دینا بھی ہیں، اور ان معنی کے لحاظ سے خدا کی طرف اس کی نسبت نہیں دے سکتے، ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَاکَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ اِذْ هَدَاهُمْ ) ( ۱۱۰ )

”خدا کی شان یہ نہیں کہ کسی قوم کو جب ان کی ہدایت کرچکا ہو اس کے بعد انھیں گمراہ کردے“

بلکہ ضلالت وگمراھی (جیسا کہ قرآن مجید میں وضاحت کی گئی ہے) صرف انسان کے ارادہ واختیار سے ہوتی ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاٰلاً بَعِیْداً ) ( ۱۱۱ )

”جس نے کسی کو خدا کا شریک بنالیا وہ تو بس بھٹک کر بہت دور جاپڑا“

( قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِيْ ) ( ۱۱۲ )

”(اے رسول ) تم (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اپنی ہی جان پر میری گمراھی (کا وبال) ہے“

( مَنِ اهْتَدیٰ فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا ) ( ۱۱۳ )

”جو شخص روبراہ ہوتا ہے تو بس اپنے فائدہ کے لئے راہ پر آتا ہے او رجو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس نے بھٹک کر اپنا آپ بگاڑا“

( اِنَّ رَبَّکَ هو اٴَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهِ ) ( ۱۱۴ )

”بے شک تمھارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں“

اسی طرح اضلال ، ابطال وھلاکت کے معنی میں استعمال ہوا ہے:

ارشاد قدرت ہے:

( کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْکَافِرِیْنَ ) ( ۱۱۵ )

”یعنی کافرین کو ھلاک کردیا گیا“

( وَمَنْ یُضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) ( ۱۱۶ )

”یعنی کافرین وظالمین میں سے خدا جس کو بھی ھلاک کرنا چاہتا ہے اس کو ثواب عطا نہیں کرتا“

نیز خداوندعالم کا قول ہے:

( وَالَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ فَلَنْ یُضِلَّ اٴَعْمَالَهُمْ ) ( ۱۱۷ )

”یعنی جو لوگ راہ خدا میں جھاد کرتے ہیں خدا ان کے اعمال کو باطل نہیں کرتا“

۲ ۔ ہدایت، حق کی طرف دلالت کو کہتے ہیں۔

جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِهٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ ) ( ۱۱۸ )

”شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اس (منزل مقصود) تک پهونچایا اور اگر خدا ہمیں یھاں تک نہ پهونچاتا تو ہم کسی طرح یھاں تک نہیں پهونچ سکتے تھے“

( بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ هَدَاکُمْ لِلْاِیْمَاْنِ ) ( ۱۱۹ )

”بلکہ اگر تم (دعوی ایمان میں) سچے ہو تو (سمجھو کہ) خدا نے تم پر احسان کیا کہ اس نے تم کو ایمان کا راستہ دکھایا“

( وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوْا الْعَمٰی عَلَی الْهُدیٰ ) ( ۱۲۰ )

”اور رھے ثمود تو ہم نے ان کو سیدھا رستہ دکھا دیا مگر ان لوگوں نے ہدایت کے مقابلہ میں گمراھی کو پسند کیا۔“

اسی طرح ہدایت کاثواب پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔

جیسا کہ ارشاد خداوندعالم ہے:

( وَسَیَهْدِیْهِِمْ وَیُصْلِحُ بَالَهُمْ ) ( ۱۲۱ )

”یعنی ان کو ثواب دیا جائے گا“

قارئین کرام ! ہدایت وضلالت کے معنی کی بحث سے درج ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

اگر اضلال کے ” خلاف حق اشارہ کرنے“ کے معنی مرادلئے جائیں تو یہ معنی خداوندعالم کے لئے محال ہیں کےونکہ خدا تو حق کا حکم دیتا ہے، جبکہ عقلِ انسان بھی حکم کرتی ہے کہ خداوندعالم کبھی بھی خلاف حق حکم نہیں دے سکتا۔

ہدی وہدایت کے معنی ، حق کی طرف دلالت کرنا ہے اور یہ کام خداوندعالم نے کیا بھی ہے اور ہر زمانہ میں ارسال رسل اور انزال کتب کے ذریعہ حق کی طرف ہدایت کی بھی ہے۔

لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر ہدایت وگمراھی کے صرف یھی بہترین معنی ہیں کہ اضلال کے معنی ھلاکت اور عقاب کے ہیں او رہدی وہدایت کے معنی ثواب کے ہیں، اور قرآن مجید میں

یھی دونوں معنی مراد بھی ہیں، جن کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( اٴَ ُترِیدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضلَّ اللّٰهُ ) ( ۱۲۲ )

”یعنی جن کو خدا کے عذاب میں مبتلا کیا ہے کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کو ثواب دیا جائے“

( یُضِلُّ بِهِ کَثِیْراً وَیَهْدِی بِهِ کَثِیْراً ) ( ۱۲۳ )

”یعنی قرآن کے ذریعہ، خداوندعالم نے بہت سے لوگوں کو ھلاک کردیا ، کیونکہ ان لوگوں نے قرآن کے مقابلہ میں سرکشی کی اور اس کے اوامر ونواھی پر عمل نہیں کیا جبکہ ان پر اس پر عمل کرنا واحب ہے۔“

اور اگر ہدایت کے معنی ثواب نہ ہوں تو پھر ہم قرآن مجید میں موجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں ہدایت کے معنی نہیں سمجھ پاتے، کیونکہ ارشاد ہوتا ہے:

( لَیْسَ عَلَیْکَ هُدَاهُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَشَاءُ ) ( ۱۲۴ )

”(اے رسول) ان کا منزل مقصود تک پہچانا تمھارا فرض نہیں ہے (تمھارا کام ) راستہ دکھانا ہے مگر ھاں خدا جس کو چاھے منزل مقصود تک پهونچادے“

( اِنَّکَ لاٰ تَهْتَدِیْ مَنْ اٴحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَشَاءُ ) ( ۱۲۵ )

”(اے رسول ) تم جسے چاهو منزل مقصود تک نہیں پهونچاسکتے مگر ھاں جسے خدا چاھے منزل مقصود تک پہنچائے“

کیونکہ اگر ہدیٰ کے معنی ارشاد اور دلالت کے ہوں تو پھر یہ دونوں آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی رسالت کو ناکام کردیتی ہیں کیونکہ پھر نبی پر ارشاد اور توجیہ کرنا واجب ہے۔

لہٰذا اسی طریقہ پر ہم قرآن مجید کی دوسری آیات میں موجود لفظ ہدیٰ واضلال کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے واضح ہے کہ یہ تمام نصوص اختیار کامل اور ارادہ وآزادی کے خلاف معنی سے سالم ومحفوظ ہیں۔

اسی بنا پر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے فرمان کو بہترین طریقہ سے سمجھتے ہیں کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا:

الشقی من شقی فی بطن امه والسعید من سعد فی بطن اُمّه

(شقی اپنے ماں کے شکم سے شقی ہوتا ہے او رسعید اپنی ماں کے شکم سے سعید ہوتا ہے)

اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خداوندعالم نے انسان کو مجبور خلق کیا تاکہ وہ ضلالت وگمراھی کے ذریعہ شقی ہوجائے یا اطاعت وہدایت کے ذریعہ سعید ہوجائے بلکہ مقصد یہ ہے جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”الشقی من علم اللّٰہ وهو فی بطن امہ انہ سیعمل عمل الاشقیاء، والسعید من علم اللّٰہ وهو فی بطن امہ انہ سیعمل عمل السعداء“

(شقی وہ ہے جس کے بارے میں خدا جانتا ہے (درحالیکہ وہ شکم مادر میں ہوتا ہے) کہ وہ اشقیاء والے کام انجام دے گا، اور سعید وہ ہے جس کے بارے میں خدا جانتا ہے کہ نیک کاموں کو انجام دے گا)

پس ثابت یہ ہوا کہ خداوندعالم پر حقیقت واضح ہوتی ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں اور اس میں ذرہ برابر بھی معنی جبر واکراہ نہیں ہیں۔

( قُلْ هَذِهِ سَبِیلِی اٴَدْعُو إِلَی اللهِ عَلَی بَصِیرَةٍ اٴَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی وَسُبْحَانَ اللهِ وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ)

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین ۔

____________________

[۱] سورہ نحل آیت ۹۰۔

[۲] سورہ فصلت (حم سجدہ) آیت ۴۶۔

[۳] سورہ انبیاء آیت ۲۳۔

[۴] سورہ مومنون آیت ۸۸۔

[۵] سورہ یوسف آیت ۴۰۔

[۶] سورہ مائدہ آیت ۴۴۔

[۷] سورہ نحل آیت ۹۰۔

[۸] سورہ مائدہ /۸۔

[۹] سورہ نساء/ ۵۸۔

[۱۰] سورہ شوریٰ آیت۱۵۔

[۱۱] سورہ نحل آیت ۷۶۔

[۱۲] سورہ انعام/ ۱۱۵۔

[۱۳] سورہ کہف/۸۷۔

[۱۴] سورہ آل عمران/۵۷۔

[۱۵] سورہ اعراف/۴۴۔

[۱۶] سورہ شعرا/ ۲۲۷۔

[۱۷] سورہ زخرف/۶۵۔

[۱۸] سورہ نحل/ ۱۱۸۔

[۱۹] سورہ ہود /۱۰۱۔

[۲۰] سورہ ص/۲۷۔

[۲۱] سورہ مومنون /۱۱۵و

[۲۲] سورہ انفال آیت۷۔

[۲۳] سورہ نساء آیت ۲۶۔

[۲۴] سورہ زمرآیت۷۔

[۲۵] سورہ توبہ آیت ۹۶۔

[۲۶] سورہ مائدہ آیت ۶۔

[۲۷] سورہ نجم آیت ،۳۹۔

[۲۸] سورہ روم آیت ۴۴۔

[۲۹] سورہ توبہ آیت ۵۱۔

[۳۰] سورہ نساء آیت ۷۸۔

[۳۱] عیون اخبار الرضا(ع) تالیف شیخ صدوق ، ج ۲ ص ۱۱۴، روضة الواعظین تالیف فتال نیشاپوری، ص۳۸، احجاج طبرسی، ص ۱۹۸، بحار ا لانوار ج ۷۵ ۳۵۴، (تحقیق مترجم)

[۳۲] سورہ طور آیت ۲۱۔

[۳۳] سورہ نساء آیت ۱۲۳۔

[۳۴] سورہ نساء آیت ۱۲۳۔

[۳۵] سورہ کہف آیت ۲۹۔

[۳۶] سورہ زلزلة آیت ۷،۸۔

[۳۷] سورہ فصلت( حم سجدہ)آیت ۱۷۔ (۶)سورہ تحریم آیت ۷۔

[۳۸] سورہ آل عمران آیت ۱۹۵۔

[۳۹] سورہ زمر آیت ۲۶۔

[۴۰] سورہ مائدہ آیت ۱۱۰۔

[۴۱] سورہ آل عمران آیت ۴۹۔

[۴۲] سورہ عنکبوت آیت ۱۷۔

[۴۳] سورہ مومنون آیت ۱۴۔

[۴۴] سوره مومنون، آیت ۱۴.

[۴۵] سورہ صافات آیت ۱۲۵۔

[۴۶] سورہ صافات آیت ۹۶۔

[۴۷] ترجمہ معترض کے لحا ظ سے ہے۔ مترجم)

[۴۸] سورہ صافات آیت ۹۵۔

[۴۹] سورہ صافات آیت ۹۶۔

[۵۰] سورہ زمر آیت ۶۵۔

[۵۱] سورہ قصص آیت ۸۴۔

[۵۲] سورہ نور آیت ۲۴۔

[۵۳] سورہ سجدہ آیت ۱۴۔

[۵۴] سورہ زمر آیت ۲۴۔

[۵۵] سورہ نور آیت۶۳۔

[۵۶] سورہ سبا آیت ۱۲۔

[۵۷] سورہ حم سجدہ آیت ۴۶۔

[۵۸] سورہ آل عمران آیت ۱۸۲۔

[۵۹] سورہ ق آیت ۲۹۔

[۶۰] سورہ آل عمران آیت ۱۰۸۔

[۶۱] سورہ غافر آیت ۳۱۔

[۶۲] سورہ نساء آیت ۴۰۔

[۶۳] سورہ یونس آیت ۴۴۔

[۶۴] سورہ کہف آیت ۴۹۔

[۶۵] سوره انبیاء، آیت ۲۳ ۔

[۶۶] سورہ آل عمران آیت ۹۔

[۶۷] سورہ نساء آیت ۱۱۱۔

[۶۸] سورہ بقرہ آیت ۲۸۶۔

[۶۹] سورہ مائدہ آیت ۳۸۔

[۷۰] سورہ یونس آیت ۲۷۔

[۷۱] سورہ انعام آیت ۱۲۰۔

[۷۲] سورہ شمس آیت ۷ تا ۱۰۔

[۷۳] لسان العرب ج۱۵ص ۱۸۶۔۱۸۷۔

[۷۴] لسان العرب ج۱۵ص۷۴۔

[۷۵] سورہ فصلت آیت ۱۲۔

[۷۶] سورہ اسراء آیت ۲۳۔

[۷۷] سورہ اسراء آیت ۴۔

[۷۸] سورہ فصلت (حم سجد) آیت ۱۰۔

[۷۹] سورہ یٰس آیت ۳۹۔

[۸۰] سورہ مزمل آیت ۲۰۔

[۸۱] سورہ فرقان آیت ۲۔

[۸۲] سورہ نحل آیت ۵۷۔

[۸۳] تحف العقول ص ۳۴۹تا ۳۵۰۔(اصول کافی جلد اول ص ۱۵۵، بحار الانوار ج۵ ص ۷۵ ، مترجم)

[۸۴] نہج البلاغہ ج۳ ص ۱۶۷۔

[۸۵] نہج البلاغہ ج۳ ص ۱۶۷۔

[۸۶] تحف العقول ص ۳۴۴۔

[۸۷] سورہ ابراھیم آیت ۴۔

[۸۸] سورہ رعد آیت ۳۳۔

[۸۹] التبیان جلد اول ص ۴۱۔

[۹۰] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۵۔

[۹۱] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۳ تا ص۳۵۴۔

[۹۲] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۳ تا ص۳۵۴۔

[۹۳] سورہ سجدہ آیت ۲۶۔

[۹۴] سورہ طٰہ آیت ۵۰۔

[۹۵] لسان العرب ،ج۱۵ ص۳۵۳ تا ص۳۵۴۔

[۹۶] تفسیر طبری جلد اول ص۷۲تا ص۷۳۔

[۹۷] سورہ صافات ص۲۳۔

[۹۸] تفسیر طبری جلد اول ص۷۳۔

[۹۹] مجمع البیان جلد اول ص ۲۷،۲۸۔

[۱۰۰] مجمع البیان جلد اول ص ۲۷،۲۸۔

[۱۰۱] سورہ یونس آیت ۹۔

[۱۰۲] سورہ بقرہ آیت ۲۵۸۔

[۱۰۳] سورہ بقرہ آیت ۲۶۴۔

[۱۰۴] سورہ مائدہ آیت ۱۰۸۔

[۱۰۵] سورہ سوسف آیت ۵۲۔

[۱۰۶] سورہ بقرہ آیت ۲۷۳۔

[۱۰۷] سورہ سجدہ آیت ۱۰۔

[۱۰۸] سورہ طٰہٰ آیت ۸۵۔

[۱۰۹] التبیان جلد اول ص ۴۶۔

[۱۱۰] سورہ توبہ آیت ۱۱۵۔

[۱۱۱] سورہ نساء آیت ۱۱۶۔

[۱۱۲] سورہ سباء آیت ۵۰۔

[۱۱۳] سورہ اسراء آیت ۱۵۔

[۱۱۴] سورہ قلم آیت۷۔

[۱۱۵] سورہ غافر آیت ۷۴۔

[۱۱۶] سورہ رعد آیت ۳۳۔

[۱۱۷] سورہ محمد آیت ۴۔

[۱۱۸] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[۱۱۹] سورہ حجرات آیت ۱۷۔

[۱۲۰] سورہ فصلت( حم سجدہ)آیت ۱۷۔

[۱۲۱] سورہ محمد آیت ۵۔

[۱۲۲] سورہ نساء آیت ۸۸۔

[۱۲۳] سورہ بقرہ آیت ۲۶۔

[۱۲۴] سورہ بقرہ آیت ۲۷۲۔

[۱۲۵] سورہ قصص آیت ۵۶۔


نبوت

( وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْْسَلِیْْنَ اِلاّٰ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْْذِرِیْنَ فَمَنْْ آمَنَ وَاٴَصْلَحَ فَلاٰ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاٰ هُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ( ۱ )

”اور ہم تورسولوں کو صرف اس غرض سے بھیجتے ہیں کہ( نیکوں کو جنت کی)خوشخبری دیں او (بدوں کو عذاب جہنم سے) ڈرائیں، پھر جس نے اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں پر قیامت میں کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔“

( یَاَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا آمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَالْکِتَابِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِهِ وَالْکِتَابِ الَّذِیْ اٴَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ یَّکْفُرْ باِللهِ وَملاَئِکَتِه وَکُتُبِهِ وَرُسُلِه وَالیوْمِ الآخِرِ فقدْ ضلَّ ضلالاً بعیداً ) ( ۲ )

”اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (محمد ) پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی ایمان لاؤ، اور (یہ بھی یاد رھے کہ ) جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت کا منکر ہوا تو وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا پڑا۔“

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

وواتر الیهم انبیاء ه، لیستاٴدوهم میثاق فطرته، ویذکروهم منسي نعمته، ویحتجوا علیهم بالتبلیغ، ویثیروا له دفائن العقول

(خدا نے انسانیت کی خاطر مسلسل انبیاء بھیجے تاکہ ان کی فطرت کو بیدار کریں اور اور ان کو خدا کی فراموش شدہ نعمتوں کے بارے میں یاد دلائیں، اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت قائم کریں، اور ان کے لئے عقل کے چھپے خزانوں کو ظاہر کریں)

مقدمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔

قارئین کرام ! جب یہ بات طے ہے کہ زمین وآسمان اور جو کچھ ان کے درمیان موجو ہے ان پر بغیر کسی شریک اور مخالف کے خدا کا حکم جاری ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

( هو اللّٰهُ الَّذِیْ لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ هو، اَلْمٰلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلاٰمُ الْمَو مِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ) ( ۳ )

وھی خدا جس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں (حقیقی) بادشاہ پاک ذات (ھر عیب سے) بری، امن دینے والا، نگھبان، غالب زبردست بڑائی ولا ہے۔“

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( هو اللّٰهُ الْخَاْلِقُ الْبَارِیٴُ الْمُصَوِّرُ لَهُ اٴَلاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی ) ( ۴ )

”وھی خدا (تمام چیزوں کا) خالق ، موجد صورتوں کا بنانے والا اس کے اچھے اچھے نام ہیں“

ایضاً :

( هو اللّٰهُ الَّذِیْ لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ هو عَاْلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ هو الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ) ( ۵ )

”وھی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ،وھی بڑا مھربان نھایت رحم کرنے والا ہے“

اور جب ان آیات کی روشنی میں یہ طے ہوگیا ہے کہ تمام چیزوں پر خداوندعالم کا ہی حکم جاری ہے جس کی گواھی مستحکم دلائل اورفطرت انسانی دیتی ہیں تو اس خدا کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے (اس کے لطف وکرم اور فضل کی بنا پر) کہ وہ نوع بشریت کی ہدایت کا انتظام کرے تاکہ اس ہدایت کے ذریعہ نوع بشریت کمال وعروج تک پهونچے ان کی رفتار وگفتار کی اصلاح کرے، جیسا کہ خدا کے لئے یہ بھی ضروری ہے (لطف وکرم اور فضل کی تکمیل کے لئے) کہ ہر زمانہ کے انسانوں کے لئے حلال وحرام کی تفصیل بیان کرے تاکہ ان پر اتمام حجت ہوجائے اور عام طور پر سبھی مستفید ہوسکیں۔

قارئین کرام ! یہ تھے مختصر طور پر نبوت عام کے معنی۔

اور جبکہ عقلِ انسانی زمانہ کے ساتھ ترقی کررھی ہے اور تیزی سے جدید نتائج اور گھرائیوں کا پتہ لگارھی ہے تو اس لحاظ سے آسمانی ادیان بھی جو کہ انسانی عقل کے اعتبار سے نازل کئے گئے ہیں تاکہ ہر قوم وملت اور ہر زمانہ کے تقاضوں کو پورا کرسکے، اور ان کی ضروریات کا مکمل طور پر جواب دے سکے نیز اس زمانے کے فکری مسائل کا حل پیش کرسکے، یھاں تک کہ اسلام اس درجہ پر پهونچا کہ خداوندعالم نے اس کو منتخب کیا تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لئے ان کی عقلی پیشرفت اور ترقی کا جواب گو ہوسکے۔

یہ تھے معنی نبوت بمعنی خاص۔

ہم اس حصہ میں عنقریب نبوت پر عام معنی میں روشنی ڈالیں گے جو گذشتہ انبیاء علیہم السلام سے متعلق ہے، نیز ہم نبوت بمعنی خاص کی بھی وضاحت کریں گے جو دین اسلام سے مربوط ہے اور دین اسلام کے مبلغ اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی زندگی پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

البتہ کتاب کی ضخامت کو مد نظر رکھتے ہوئے واضح عبارت اور دلیلوں کے ذریعہ گفتگو کریں گے۔

لیکن توجہ رھے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ اور سیرت پاک کو تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے کیونکہ اس کے لئے خود ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے البتہ اس سلسلہ میں ہم نے ”فی رحاب الرسول (ص)“ نامی کتاب کا کام شروع کررکھا ہے امید ہے کہ خداوندمنان توفیق اور فرصت عطا کرے تاکہ اس کو پایہ تکمیل تک پهونچادیں۔

اسی وجہ سے ہمارے قارئین محترم اس باب میں ”نبوت“ اور اس سے مربوط مسائل کے علاوہ دوسری گفتگو نہیں پائیں گے، خداوندعالم ہماری مدد کرے اور استحکام عطا فرمائے۔

( رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیاً یُنَادِی لِلْاِیْمَانِ اٴَنْ آمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیَّآتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلیٰ رُسُلِکَ وَلاٰ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیَامَةِ اِنَّکَ لاٰ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ( ۶ )

”اے ہمارے پالنے والے (جب) ہم نے ایک آواز لگانے والے (پیغمبر) کو سنا کہ وہ ایمان کے لئے پکارتا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے، پس اے ہمارے پالنے والے ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے، اور ہمیں نیکیوں کے ساتھ اٹھا، اور اے پالنے والے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے جو کچھ وعدہ کیا ہمیں دے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، تو تووعدہ خلافی کرتا ہی نھیں۔“

وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین ۔

نبوت بمعنی عام

ہم نے پہلے بیان کیا اور اس نتیجہ کو باقاعدہ دلیلوں کے ذریعہ ثابت کیا کہ اس کائنات کے خالق پر ایمان رکھنا بالکل واضح ہے جس پرعقل، منطق، فطرت اور وجدان سبھی دلالت کرتے ہیں، اور اسی وضاحت کے بارے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ اگر ”مادہ“ کا وجود معلول ہے تواس کے لئے ایک ایسی قدرت کا ہونا ضروری ہے جو معلول نہ ہو، اسی ذات کو ”واجب الوجود“ اور ”ضروری الوجود“ کہتے ہیں، نیزاسی ذات اور مصدر اول کاعاقل ا ور توانا اور حکیم ہونا ضروری ہے، اور یہ چیزیں مادہ میں نہیں پائی جاتیں۔

ہم نے اس سے قبل اس بات کو بھی ثابت کیا کہ تمام چیزوں پر خداوندعالم کی ہی حاکمیت ہے کیونکہ:

( وَهو عَلٰی کُلِّ شَیء ٍقَدِیْر ) ( ۷ )

”اور وہ ہر چیز پر قادر وتوانا ہے“

( اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ ) ( ۸ )

”بے شک تمھارا پرودگار جو چاہتا ہے کرھی کے رہتا ہے“

( بِیَدِهِ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیٴٍ ) ( ۹ )

”تو وہ خدا (ھر نقض سے) پاک وصاف ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز کی حکومت ہے“

( لَا یُسْاٴَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَهُمْ یُسْاٴَلُوْنَ ) ( ۱۰ )

”جو کچھ وہ کرتا ہے اس کی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی (ھاں) اور لوگوں سے باز پرس ہوگی۔“

وہ سهو ونسیان سے پاک وپاکیزہ ہے وھی غنی وحمید ہے اور ہم کسی ایسی ذات کی حاکمیت پر تسلیم نہیں کرتے جس میں یہ صفات نہ پائی جائیں، اور عقل اس بات کی طرف واضح ثبوت دیتی ہے کہ یہ تمام صفات اللہ رب العزت کے علاوہ کسی میں نہیں پائی جاتے۔( ۱۱ )

قارئین کرام ! ہماری مذکورہ باتوں سے درج ذیل مسلم نتائج برآمد ہوتے ہیں:

ہمارا خدا وہ ہے جو قادر، عاقل اور حکیم ہے ، در حقیقت سارے جھان پر اس کی مکمل طور پر حاکمیت ہے اور نظام بشریت کا اسی حاکمیت کے زیر سایہ رہنا ضروری ہے تاکہ اس کی حاکمیت مزید روشن ہو، ایسی حاکمیت جس میں وہ جو چاھے کرے جو چاھے نہ کرے، کیونکہ خداوندعالم کی ذات عالم ہے اور اس کے علم کی طرح کسی کاعلم نہیں انسان خدا کے علم کی طرف ہزاروں سال بعد متوجہ ہورھا ہے جبکہ سب لوگوں کے ذوق اور سلیقے الگ الگ ہیں جن کے مصالح اور خواہشات جدا ہیں، افکار ونظریات مختلف ہیں اور اس شدید اختلاف کی صورت میں کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتا مگر یہ کہ جس کی سب پر حکومت ہو اور تمام افراد اسی کے سامنے سر جھکائیں، ایسی حکومت جس میں ہر انسان کے لئے اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہو، جس کے زیر سایہ نوع بشریت کی تمام مشکلات حل ہوجائیں۔

اس بات کو علماء کلام کی زبان میں ”ہدف بعثت انبیاء (ع) “ کھا جاتا ہے جس کو ”نبوت کے اغراض ومقاصد“ بھی کھا جاسکتا ہے۔

هوسکتا ہے کسی ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ: خداوندعالم نے نوع انسانی کی زندگی کے لئے ایک خاص نظام کیوں معین کیا؟! اور کیوں نہ اس کو مکمل طور پر آزاد چھوڑدیا تاکہ اپنے نظریات وخیالات کی بنا پر قواعد وضوابط بنائے اور اپنے تجربہ سے فائدہ حاصل کرے، چاھے وہ صحیح ہوں یا غلط، چاھے کسی چیز میں ترمیم کرے یاکسی چیز کو حذف کردے ،کسی چیز کو معتدل بنائے یا اس کو بالکل ہی بدل کر رکھ دے، یھاں تک کہ اپنی آخری منزل پر ایک بہترین اور کامل ترین نظام معین کرلے؟!

قارئین کرام ! ہم اس سوال کے تین جواب پیش کرتے ہیں:

پہلا جواب:

نظام اورقوانین بنانا صرف اسی کاحق ہے جو ”مصدر سلطنت“ (مالک الملک) ہو اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو، اور اسی بات پر آج کے تمام قانون گذار اور سیاست مدار اتفاق رکھتے ہیں۔

اور جیسا کہ ہمارا اعتقاد ہے کہ اللہ رب العزت مالک الملک ہے وھی قانونی اور واقعی طور پر حاکم ہے کسی دوسرے کو ذرہ برابر بھی دخالت کرنے کا حق نہیں ہے، تو پھر نظام انسانی وغیر انسانی کے قوانین وضوابط بنانے کا حق اسی کا ہے:

( قُلْ اِنَّ هُدَی اللّٰهِ هو الْهُدیٰ ) ( ۱۲ )

”(اے رسول ) ان سے کہہ دو کہ بس خدا ہی کی ہدایت تو ہدایت ہے(باقی سب ڈھکوسلا ہے) “

دوسرا جواب:

کیونکہ ہم معتقد ہیں کہ عقل انسانی اگرچہ اس کو خلاقیت کی قوت دی گئی ہے لیکن پھر بھی بعد والی مصلحتوں کا ادراک کرنے سے قاصر ہے، اور انسان اپنے اوپر آنے والی مشکلات کو دور نہیں کرسکتااگرچہ کچھ مشکلات کو تجربات کی بنا پر حل کرسکتا ہے اور بعض میں غلطی اور خطا کا بھی امکان ہے، اور بعض مشکلات تو ایسی ہوتی ہیں کہ انسانی عقل کی رسائی تک نہیں اور منزل مقصود تک نہیں پهونچا جاسکتا:

( وَمَا اٴَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ اِلّٰا لِتُبَیِّنَ لَهُمْ الَّذِیْ اخْتَلَفُوْا ِفیْهِ ) ( ۱۳ )

”اور ہم نے تم پر کتاب (قرآن) تو اسی وجہ سے نازل کی تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ باہم جھگڑا کئے ہیں ان کو صاف صاف بیان کردو“

تیسرا جواب:

اس نظام بشریت سے پہلے بھی خاص نظریات کی حکومت تھی اور بعض امتیازات کو فوقیت دی جاتی تھی، نظام کے بنانے والے چاھے جس قبیلہ سے ہوں یا کسی رنگ کے ہوں،ان میں ذات پات کا انعکاس پایا جاتا تھا۔

اسی لئے ضروری تھا کہ نوع انسانی ان تمام جھل ونادانی اور غلط تجربوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک ایسا عام نظام بنائیں جو انسان کی ضرورتوں کو جانتا ہو، اور ان کی روز مرہ کی مشکلات کو درک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اس کے نفع ونقصان کی چیزوں کو بیان کرتا ہو، اور نوع انسانی کے تمام افراد کے ساتھ مساوات کے قائل ہو ، اور یہ نہ دیکھے کہ یہ کس گروہ سے تعلق رکھتاھے کس طبقہ سے مرتبط ہے، اور کس شھر کا رہنے والا ہے۔

اس کائنات میں ان صفات کا حامل خداوندعالم کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ اور یہ نظام اورقوانین خدا کی طرف سے بھیجے گئے انبیاء (ع) کی رسالت کے علاوہ کچھ نہیں ہے، خدا نے اپنے انبیاء کو روئے زمین پر بھیجا تاکہ انسانیت کو کامیاب وکامران بنائیں اور اس کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ہدایت کرےں۔

اور ”لطف“ کے یھی معنی علماء علم کلام کی بھی مراد ہیں، لہٰذا اسی (لطف) کی طرف مستند کرتے ہیں کہ قاعدہ لطف کی بنا پر خداوندعالم کے لئے ضروری ہے کہ تاقیام قیامت نبوت کاانتظام کرے تاکہ نبوت کے ذریعہ نوع انسانی ہدایت یافتہ ہوکر اپنے نفع ونقصان کی باتوں کا پتہ لگاسکے اور ان پر عمل پیرا ہوکر سعادت اخروی حاصل کرلے۔

براہمہ( ۱۴ ) کا نظریہ یہ ہے کہ انسان کو انبیاء ومرسلین کی کوئی ضرورت نہیں ان کی دلیل اور گمان یہ ہے کہ چونکہ انبیاء (ع) وھی سب کچھ بیان کرتے ہیں جس بات کاعقل حکم کرتی ہے تو جب ہمارے پاس عقل ہے تو پھر انبیاء ومرسلین کی کیا ضرورت ہے؟! اور اگر انبیاء وہ چیزیں بیان کریں جو عقل کے مخالف ہوں تو ان کو فرض کے خلاف سمجھ کر چھوڑدیا جاتا ہے اوران پر عمل نہیں کیا جاتا۔

لیکن ان کی یہ دلیل اور گمان بالکل واضح البطلان ہے کیونکہ دلیل و برھان ان کے نظریہ کے برخلاف ہے، کیونکہ جو شخص بھی آسمانی ادیان سے واقف ہے اس کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیشہ شریعت ایسی چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے جن میں سے کچھ چیزیں عقل پر واضح ہوتی ہیں جبکہ کچھ چیزیں واضح نہیں ہوتیں اور جو چیزیں عقل پر واضح ہوتی ہیں ان پر شریعت زور دیتی ہے اور ان پر عمل کرنے کاحکم دیتی ہے اور اس میں عقل کی اہمیت واضح ہے۔

لیکن وہ چیزیں جو عقل پر واضح اور معلوم نہیں ہوتیں (جبکہ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے) تو ان چیزوں میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان بہترین کاموں کی طرف ہدایت کرے جن میں انسان اپنی زندگی کے مشکل ، مجهول اور جدید مسائل میں سرگرداں رہتا ہے۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن کو عقل نہیں پہچانتی اور جن کو براہمہ نے ”مخالف عقل“ سے تعبیر کیا ہے جبکہ ان کی یہ تعبیر بعید از عقل ہے، کیونکہ رسالت ونبوت جو کچھ بھی بیان کرتی ہیں وہ کبھی بھی عقل کے مخالف نہیں ہوا کرتی،لیکن چونکہ انھوںنے ہر اس چیز کو مخالف عقل قرار دیدیا جو عقل پرواضح نہ ہو، اور یھیں سے رسالت ونبوت مجهول چیزوں سے پردہ برداری کرتی ہیں، اور عقل کو متوجہ کرتی ہے۔

ارشاد رب العز ت ہے:

( لَقَدْ مَنَّ اللّٰهَ عَلَی الْمُو مِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُولاً مِنْ اٴَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَکِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ ) ( ۱۵ )

”خدا نے توایمانداروں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے واسطے انھیں کی قوم سے ایک رسول بھیجا جو انھیں خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کی طبیعت کو پاکیزہ کرتا ہے اور انھیںکتاب (خدا) اور عقل کی باتیں سکھاتا ہے“

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( تِبْیَاناً لِکُلِّ شَیٍٴ وَهُدیً وَرَحْمَةً ) ( ۱۶ )

”(سر تا پا) ہدایت اور رحمت اورخوشخبری ہے“

کیونکہ خداوندعالم نے ان عظیم سُفراء (انبیاء (ع)) کو امام کی صفت سے متصف کیا ہے :

( قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَاماً ) ( ۱۷ )

”ہم تم کو لوگوں کا امام بنانے والے ہیں“

اسی طرح انبیاء (ع) کو خلافت کے نام سے نوازا:

( یَادَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِی الْاٴَرْض ) ( ۱۸ )

”اے داوود ہم نے تم کو زمین پر (اپنا) نائب قرار دیا“

اور کبھی ان حضرات کو رسالت کے لقب سے سرفراز کیا:

( وَسَلاٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ) ( ۱۹ )

”اور پیغمبروں پر (درود) وسلام ہو“

( اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسَالٰاتِ اللّٰهِ ) ( ۲۰ )

”وہ لوگ جو خدا کے پیغاموں کو (لوگوں تک جوں کا توں) پہنچاتے ہیں“

اور کبھی ان کو نبوت کا نام دیا:

( فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْْنَ ) ( ۲۱ )

”تب خدا نے (نجات سے) خوشخبری دینے والے اور (عذاب سے) ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا“

اور کبھی بھی ان حضرات کو حاکم کی صفت سے توصیف نہیں فرمایا، چاھے قانونی معنی کے لحاظ سے ہو یا سیاسی لحاظ سے، کیونکہ نبی ورسول حاکم اعلی نہیں ہوتے ہیں بلکہ حاکم اعلی (خدا) کے نائب ہوتے ہیں۔

قرآن کریم مذکورہ صفات (جن کی طرف ابھی اشارہ کیا گیا ہے) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے خطاب کے لئے فقط نبی اور رسول کہہ کر خطاب فرماتا ہے:

( یٰاٴَ یُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اٴُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) ( ۲۲ )

”اے رسول جو حکم تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچادو“

( یَا اٴَیُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُکَ اللّٰهُ ) ( ۲۳ )

”اے رسول تم کو بس خدا کافی ہے“

اور یھی دوصفات قرآن مجید میں اکثر مقامات پر تکرار ہوئی ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ان دونوں صفات کے ایک ہی معنی ہیں یا ان صفات میں فرق ہے؟!

اس سوال کے جواب میں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ صاحب علم وبصیرت کے نزدیک حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بارے میں ان دونوں صفات میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ آپ کی ذات گرامی میں یہ دونوں صفات جمع ہیں اور آپ کی ذات والا صفات ان دونوں الفاظ کی مصداق ہے، اور اگر ان دونوں صفات میں فرق پایا جاتا ہے تو گذشتہ انبیاء ومرسلین میں ملتا ہے کہ ان میں سے بعض رسول تھے اور باقی تمام نبی۔

اگرچہ اس سلسلہ میں بہت سی تاویلات بیان کی گئی ہیں اور ان دونوں صفات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

نبی وہ ہوتا ہے جو خدا کی باتوں کو بغیر واسطہ کے انسانوں تک پهونچائے چاھے وہ صاحب شریعت ہو یا نہ ہو، صاحب شریعت ہو جیسے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمیا صاحب شریعت نہ ہو جیسے حضرت یحيٰ علیہ السلام کیونکہ ان کو اس وجہ سے نبی کھا گیاکہ ”انھوں نے خدا کی طرف سے خبر دی ہے۔“ نبی بروزن فعیل بمعنی مفعل ہے( ۲۴ )

اور رسول وہ ہوتا ہے جو بغیر واسطہ کے خدا کی طرف سے خبر دے اور وہ صاحب شریعت بھی ہو۔( ۲۵ )

یھاں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خدا کی طرف سے خبر دینے میں نبی ورسول دونوں برابر ہیں لیکن رسول کا امتیاز یہ ہے کہ وہ صاحب شریعت بھی ہوتا ہے جبکہ نبی عام ہوتا ہے چاھے وہ صاحب شریعت ہو یا پہلے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرے۔

اور یھی فرق اس سلسلہ میں بیان شدہ فرقوں میں بہتر ہے، جس کی وجہ سے علماء اھل کلام نے کھا ہے کہ :

ان کل رسول نبی ولا عکس

(یعنی ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا)

بھر حال ہماری گذشتہ گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خدا پر نبوت کا انتظام کرنا واجب ہے اور اس ”وجوب نبوت“ پر عقل اور قاعدہ لطف دونوں حکم کرتے ہیں۔

اسی طرح خدا اور بندوں کے درمیان ایسے سفیروںکا موجود ہونا ضروری ہے جو بندوں تک احکام پهونچائیں۔

نیز یہ بھی ضروری ہے کہ انبیاء (ع) کے پاس کوئی ایسی نشانی موجود ہو جو نبوت کے دعوے کو سچ کردکھائے، کیونکہ الٰھی سفارت کا یہ منصب اتنا عظیم ہوتاھے جس کا بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے لہٰذا اس منصب کے ادعا کرنے و الے بعض جھوٹے ہوتے ہیں اور بعض سچے، لہٰذا نبی کے پاس وہ عظیم نشانی ہو جو طبیعی افعال سے بلندوبالا ہو اور ایسا کام کوئی جھوٹا دعویٰ کرنے والا انجام نہ دے سکتا ہو، اور یہ عظیم نشانی صرف ”معجزہ“میں منحصر ہے جو طبیعی قوانین کا پابند نہیں ہوتا بلکہ ان قوانین کو توڑ دیتا ہے اور ان سے بالاتر کی اشیاء کو پیش کرتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”معجزہ“ کیا ہے؟ تو معجزہ اور اعجاز کے لغت میں معنی ہیں: عجز کا ایجاد کرنا جیسے ”عجزت زیداً ای جعلتہ عاجزاً“ (میں نے زید کو عاجز کردیا)

اصطلاحی معنی: خدا کی طرف سے نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی ایسا کام انجام دے جو طبیعی قوانین سے بالاتر ہو، اور (اس زمانہ کے)لوگ ایسا کام کرنے سے عاجز ہوں، اور یہ معجزہ نبی کے دعویٰ کی صداقت اور سچائی پر گواہ بن جائے۔

قارئین کرام ! اس بات پر توجہ رکھنا ضروری ہے کہ بعض وہ چیزیں جو جادوگر یا بعض علوم کے ماھرین انجام دیتے ہیں اس کو اصطلاح میں معجزہ نہیں کھا جاتا، اگرچہ جادوگروں کے کام کو کو ئی دوسرا نہیں کرسکتا (لیکن کیا کوئی دوسرا جادوگر بھی اس کام کو انجام نہیں دے سکتا؟ بالکل دے سکتا ہے) کیونکہ جادوگروں کا کام خاص قواعد کے تحت ہوتا ہے او ران قواعد وقوانین کے جاننے والے ان نتائج تک پهونچ ہی جاتے ہیں اگرچہ ضروری ہے کہ وہ ان قواعد میں ماھر ہونا اورمھارت رکھنا ضروری ہے۔

هوسکتا ہے کوئی شخص منصب الٰھی کا دعویٰ کرے او رکوئی ایسا کام بھی انجام دے جس کو دوسرے افراد انجام دینے سے عاجز ہوں، لیکن پھر بھی اس کا یہ کام اس کے جھوٹ کی دلیل بن جاتا ہے، جیسا کہ مسیلمہ کذاب کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ جب اس نے ایک کم پانی والے کنویں میں پانی زیادہ کرنے کے لئے تھوکا تو اس میں موجود تمام پانی خشک ہوگیا، اسی طرح جب اس کے موالیوں نے بچوں کے سروں پر ھاتھ پھیرنے کو کھا تو جب اس نے ھاتھ پھیرا تو سب بچے گنجے ہوگئے۔

خلاصہ یہ کہ نبوت کے لئے معجزہ کا ہونا ضروری ہے۔

اور یہ معجزہ دعویٰ کے مطابق ہو۔( ۲۶ )

چنانچہ اسی طریقہ (مطابق دعویٰ) کا معجزہ دکھانے والا خدا کی طرف سے سچا نبی ہوتا ہے:

( وَمَاکَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَاتِیَ بِآیَةٍ اِلّٰا بِاِذْنِ اللّٰهِ ) ( ۲۷ )

”اور کسی پیغمبر کی یہ مجال نہ تھی کہ کوئی معجزہ خدا کے اذن کے بغیر دکھائے“

پس یہ بات صحیح ہے کہ معجزہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور دعویٰ کی صداقت پر واضح دلیل ہوتا ہے کیونکہ صاحب اعجاز ایسا کام انجام دیتا ہے جو قوانین طبیعت کو توڑدیتا ہے اور مشهور ومعروف نتائج کا خاتمہ کردیتا ہے اور یہ کام خداوندعالم کی عطا کردہ قدرت کے کے بغیر ممکن نہیں ہے:

( مَا کَانَ حَدِیْثاً یُفْتَرِیٰ وَلٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ ) ( ۲۸ )

”(یہ قرآن) کوئی ایسی بات نہیں ہے جو (خواہ مخواہ) گڑھ لی جائے بلکہ (جو آسمانی کتابیں) اس کے پہلے موجود ہیں ان کی تصدیق ہے“

اور نبوت کا دعویٰ کرنے والے کے ھاتھوں پر ظاہر ہونے والا یہ معجزہ اس کی صداقت پر دلیل بن جاتا ہے اور یہ بات کشف کرتا ہے کہ خداوندعالم اس کی نبوت سے راضی ہے اور اس وجہ سے اس کو معجزہ دکھانے کی طاقت عطا کی ہے، چنانچہ اسی چیز کی طرف خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:

( وَلَوْ تَقُوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الاَقَاوِیْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ ) ( ۲۹ )

”اگر رسول ہماری نسبت کوئی جھوٹ بات بنالاتے تو ان کا داہنا ھاتھ پکڑ لیتے، پھر ہم ضرور ان کی گردن اڑادیتے“

( وَمَا کَانَ هَذَا الْقُرْآنُ اَنْ یُّفْتَرِیٰ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدِیْهِ وَتَفْصِیْلَ الْکِتَابِ لٰارَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اٴَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاهُ قُلْ فَاتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ) ( ۳۰ )

”یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ خدا کے سوا کوئی او راپنی طرف سے جھوٹ موٹ بنا ڈالے، بلکہ (یہ تو) جو (کتابیں پہلے کی) اس کے سامنے موجود ہیں اس کی تصدیق اور (ان) کتابوں کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ سارے جھان کے پروردگار کی طرف سے ہے ،کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول نے خود جھوٹ موٹ بنالیا ہے ، (اے رسول) تم کهو کہ (اچھا) اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو تو ایک ہی سورہ اس کے مقابلہ میںبنالاؤ، اور خدا کے سوا جس کو تمھیں (مدد کے واسطے) بلاتے بن پڑے بلالو)

خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

گذشتہ بحث کا خلاصہ یہ تھا کہ ”نبوت“ کا ہونا ضروری ہے اور اللہ پر ایمان رکھنے والے شخص کی عقل بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے، نیز نوع بشریت بھی اس چیز کی ضرورت کا احساس کرتی ہے اور (خدا کے لطف وکرم اور رحمت کا تقاضا بھی یھی ہے کہ خدا کی طرف سے ہر زمانہ کے لئے نبی، رسول ،شریعت اور کتاب کا ہونا ضروری ہے، یھاں تک کہ یہ سلسلہ ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمتک پهونچا، آپ کی ذات گرامی سید المرسلین وخاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمھے اور آپ کی شریعت دوسری شریعتوں کی خاتم ہے اور تاقیام قیامت باقی رہنے والی ہے۔

اور شاید یھی ہمارے نبی خاتم کا یہ پہلا امتیاز ہو کہ خداوندعالم نے ہمارے نبی کو دوسرے تمام انبیاء (ع) پر فضیلت دی ”رسول اللہ وخاتم النبیین“ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماور آنحضرت کی رسالت کبریٰ، زمان ومکان کے لحاظ سے عالمی ہے اور کسی قوم سے مخصوص نہیں اور ایسا نہیں ہے کہ زمین کے کسی ایک حصہ میں مخصوص ہو اور کوئی دوسرا حصہ اس میں شامل نہ ہو اور نہ ہی کسی خاص امت سے مخصوص ہے، نیز کسی خاص زمانہ سے بھی مخصوص نہیں ہے، چنانچہ اس سلسلہ میں خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ اِلاّٰ کَافَّةً لِلْنَّاسِ ) ( ۳۱ )

”اے رسول ہم نے تم کوتمام لوگوں کا رسول بناکر بھیجا“

( وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ اِلاّٰ رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْنَ ) ( ۳۲ )

”(اے رسول) ہم نے تم کو سارے جھاں کے لوگوں کے لئے از سر تا پا رحمت بنا کر بھیجا“

( قُلْ یَا اُیُّهَا النَّاسُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً ) ( ۳۳ )

”(اے رسول ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کے پاس خداکا بھیجا ہوا (پیغمبر)هوں“

( لِاُنْذِرَکُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ) ( ۳۴ )

”تاکہ میں تمھیں اور جس کے پاس اس کی خبر پهونچے، ڈراو ں“

( قُلْ یَا اُیُّهَا النَّاسُ اِنِّمَاْ اَنَا لَکُمْ نَذِیْرٌ مُبِیْنٌ ) ( ۳۵ )

”(اے رسول) کہہ دو کہ لوگو! میں تو صرف تم کو کھلم کھلا (عذاب سے) ڈرانے والا ہوں“

قارئین کرام ! یہ تمام آیات متفقہ طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمتمام لوگوں کے نبی ہیں، چاھے وہ آپ کی بعثت کے وقت موجود ہوں یا آپ کے بعد پیدا ہوںگے، چاھے وہ جزیرة العرب میں ہوں یا دوسرے ممالک میں۔

اور یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے پہلے کسی نبی یا رسول کو نہیں دیا گیا کیونکہ آپ سے پہلے انبیاء (ع) کسی خاص گروہ یا خاص طائفہ کے نبی ہوتے تھے وہ بھی خاص زمانہ میں جیسا کہ قرآن مجید نے واضح طور پر اشارہ کیا ہے:

( لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوْحاً اِلٰی قَوْمِهِ ) ( ۳۶ )

”ہم نے جناب نوح کو ان کی قوم کے پاس (رسول ) بناکر بھیجا“

( وَاِلٰی ثَمُوْدَ اٴَخَاهُمْ صَالِحاً ) ( ۳۷ )

”اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (رسول بنا کر بھیجا“

( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسَیٰ بِآیَاتِنَا إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ ) ( ۳۸ )

”اور ہم ہی نے یقیناً موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (پیغمبر بناکر ) بھیجا“

( وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِی اِسْرَائِیْلَ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ ) ( ۳۹ )

” اور (یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسی نے کھا اے بنی اسرائیل میں تمھارے پاس خدا کا بھیجا ہوا (آیا) ہوں“

چنانچہ ان آیات سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جناب نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کا اور جناب صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کا، جناب موسی علیہ السلام کو فرعون اور اس کے ساتھیوں کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کا نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ذات گرامی وہ واحد ذات ہے جن کو تمام لوگوں کا نبی بنا کر بھیجا گیا۔

اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ گذشتہ انبیاء (ع) کی رسالت وقتی اور خاص زمانہ کے لئے محدود ہونے کی کیا دلیل ہے؟ تو اس سلسلہ میں بھی عرض ہے کہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پہلی والی شریعت بعد والی شریعت کے ذریعہ منسوخ ہوجاتی ہے، پہلے والے احکام ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ جدید احکام نافذ کئے جاتے ہیں کیونکہ انسان دونوں شریعتوں کے احکام پر عمل نہیں کرسکتا جو اکثر احکام میں مختلف اور مخالف ہوتی ہیں۔

نیز کسی ایک چیز پر دونوں شریعتیں الگ الگ حکم کرتی ہیں اور اس بات پر عقلی دلیل اور فطرت انسان دلالت کرتی ہے اور اس کا حکم واضح ہے۔

لیکن اس سلسلہ میں یهودی کہتے ہیں کہ ہماری شریعت اور ہمارے نبی کی نبوت باقی ہے کیونکہ یہ لوگ ”نسخ“ کے نظریہ اور نسخ واقع ہونے کی نفی کرتے ہیں( ۴۰ ) ان کا گمان یہ ہے کہ اگر نسخ شریعت کو مان بھی لیا جائے تو خداوندعالم کا جاھل اور غیر حکیم ہونا لازم آتا ہے !۔

ان کے اعتراض کی دلیل یہ ہے کہ خداوندعالم کے احکام اس زمانے کی مصلحتوں کے لحاظ سے ہوتے ہیں کیونکہ بغیر مصلحت کے احکام عبث وبے ہودہ ہوتے ہیں او راس حکیم مطلق کی حکمت کے منافی ہیں۔

لہٰذا مصلحت کے مطابق احکام کو ختم کرنا حکمتِ خداوندی کے خلاف ہے کیونکہ اس حکم کے ختم کرنے سے بندوں کی مصلحت کا نابود ہونا لازم آتا ہے مگر یہ کہ تشریع کنندہ ( خدا ورسول )کے لئے تشریع کے بعد واضح ہوجائے کہ اس حکم میں مصلحت نہ تھی، تو اس کو ختم کردیتا ہے اور اگر ہم اس معنی میں نسخ کو مانیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا جاھل ہے، لہٰذا جب نظریہ نسخ کا نتیجہ نسخ کرنے والے کا جھل اور غیر حکیم ہونالازم آتا ہے، تو پھر خدا وندعالم کے بارے میں ان دونوں چیزوں (جھل اور غیرحکیم ہونا)کا ہونا جائز نہیں ہے تو پھر نسخ کے بارے میں نظریہ رکھنا بھی محال ہے۔!

قارئین کرام ! اس اعتراض کا مختصر جواب یہ ہے کہ شریعت کے احکام ومسائل مصلحتوں کے تحت ہوتے ہیں اور یہ بھی طے ہے کہ زمانہ کے بدلنے سے مصلحتیں بھی بدلتی رہتی ہیں کیونکہ کبھی کبھی کوئی خاص کام کسی قوم اور کسی زمانہ کے لئے صاحب مصلحت ہوتا ہے تو اس کام کے لئے حکم کیا جاتا ہے لیکن وھی کام دوسری قوم یا دوسرے زمانہ کے لئے صاحب مصلحت نہیں ہوتا تو اس کام سے روک دیا جاتا ہے۔

دوسرے یہ کہ عقلِ بشری کے ساتھ ساتھ آسمانی ادیان نے بھی رشد وترقی کی ہے، (جیسا کہ ہم جانتے ہیں) جس طرح ایک بچے کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے روز بروز اس کے علم وعقل اور قابلیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یھاں تک کہ وہ اپنے نظریات اور افکار پراعتقاد کرلیتا ہے، (مثلاً پہلے بچہ ایک کھیل کو اپنے لئے صحیح اور ضروری سمجھتا ہے لیکن جب وہ باشعور ہوجاتا ہے تو اس کھیل کو عبث اور بے ہودہ سمجھتاھے۔)

بالکل یھی حال آسمانی ادیان کا بھی ہے جو ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے نازل ہوئے ہیں اور ہر قوم کی مصلحتوں کے لحاظ سے احکام جاری کرتا ہے اور اس زمانہ کے فکری او رپختہ نظریات کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، یھاں تک کہ شریعت اسلام میں اس بلندی پر پهونچا جس کو خداوندعالم نے اختیار اور پسند کرلیا، اور زمانہ اور عقلی رشد کی بلندی پر پہنچے ہوئے تمام انسانوں کے لئے یہ شریعت مشعل راہ بن گئی۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خداوندعالم مصلحتوں سے جاھل تھا یا اس کے لئے کوئی ایسی چیز کشف ہوئی ہے جو پہلے کبھی معلوم نہ تھی۔ ان باتوں کے علاوہ خود توریت میں ایسی بہت سی چیزیں موجود ہیں جو وقوع نسخ پر دلالت کرتی ہیں مثلاً حضرت آدم کی شریعت میں ایک شخص کا دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا جائز تھا لیکن یھی کام شریعت جناب موسیٰ علیہ السلام میں حرام قرار دیدیا گیا، جس طرح جناب نوح (ع) کی شریعت میں ختنہ کرنے میں بڑے ہونے تک تاخیر کرنا جائز تھا لیکن حضرت موسی (ع)کی شریعت میںاس تاخیر کو حرام کردیا گیا، اسی طرح دوسرے واقعات بھی موجود ہیں۔

ان تمام باتو ںکے پیش نظر نسخ کو محال قراردینا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی مستحکم دلیل ہے جس پر اعتماد کیا جاسکے، لہٰذا یهودیوں کا یہ گمان خود ان کی کتاب توریت اور حکم عقل کے ذریعہ باطل ومردود ہے:

( وَلَنْ تَرْضیٰ عَنْکَ الْیَهودُ وَلَا النَّصَاریٰ حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ اِنَّ هُدَیٰ اللّٰهِ هو الْهُدیٰ ) ( ۴۱ )

”اور (اے رسول) نہ تو یهودی کبھی تم سے رضامند ہونگے نہ نصاریٰ یھاں تک کہ تم ان کے مذھب کی پیروی کرو، (اے رسول) ان سے کہہ دو کہ بس خدا ہی کی ہدایت تو ہدایت ہے“

( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلاَمِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ وَهو فِی الْآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ( ۴۲ )

”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کی پیروی کرے تو اس کا وہ دین ھرگز قبول ہی نہ کیا جائے گا“

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ کسی بھی نبی کا دعویٰ نبوت اس وقت صادق ہوسکتا ہے جب وہ کوئی معجزہ پیش کرے ایسا معجزہ جس کی مثال پیش کرنے سے بشر قاصر ہو۔

ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمدو طرح کے معجزات لے کر آئے۔


پہلا معجزہ: قرآن مجید ۔

دوسرے معجزات: جن کا اس وقت کے مسلمانوں نے مشاہدہ کیا ہے اور ان کی تعدا دبھی بہت زیادہ ہے، اوروہ متواتر طریقوں سے نقل بھی ہوئے ہیںنیز ان کے بارے میںبہت سی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں،اور علماء حدیث نے بھی ان کو جمع کیا ہے او ریہ نقل وروایت کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور ہر زمانہ میں جاری رھے گا۔ (انشاء اللہ)

اگرچہ بعض جاھل اور متعصب مولفین نے ان معجزات میں شک وتردید کی ہے اور بعض نے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ خود قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ہیں جو قرآن کے علاوہ دوسرے تمام معجزات کی نفی کرتی ہیں اور یہ کہ صرف قرآن مجید ہی آپ کا واحد معجزہ ہے اور یہ وہ معجزہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے پیش کیا تاکہ اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرسکیں۔

چنانچہ ان لوگوں نے اپنی دلیل کے طور پر درج ذیل آیت پیش کی جس میں ارشاد قدرت ہوتا ہے:

( وَمَامَنَعْنَا اَنْ نُرْسِلَ باِلْاٰیٰاتِ اِلاّٰ اَنْ کَذَّبَ بِهَا الاٴوَّلُوْنَ ) ( ۴۳ )

”اور ہمیں معجزات بھیجنے سے تو اس کے علاوہ اور کوئی وجہ مانع نہیں ہوئی کہ اگلوں نے انھیں جھٹلایا“

کیونکہ انھوں نے گمان کیا کہ اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسری نشانی (معجزہ) لے کر نہیں آئے کیونکہ وہ نشانیاں جو گذشتہ امتوں پر نازل کی گئیںان لوگوں نے ان کو جھٹلایا (لہٰذا ہمارے پیغمبر کو وہ نشانیاں دے کر نہیں بھیجا گیا)

اس اعتراض کے جواب میں ہمارے استاد آیت اللہ العظمیٰ امام خوئی نے تفصیل کے ساتھ دندان شکن جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔( ۴۴ )

”مذکورہ آیہ کریمہ میں جن آیات (نشانیوں) کا ذکر ہے او رجن کی نفی کی گئی ہے اور جن کو گذشتہ امتوں نے جھٹلایا ان سے مراد وہ نشانیاں ہیں جن کوگذشتہ انبیاء (ع) کے امتی اپنے نبی کے لئے

پیش کرتے تھے ، پس مذکورہ آیہ شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اے نبی تم پر واجب نہیں ہے کہ مشرکین کی تراشیدہ شدہ نشانیوں کا جواب دو، اور یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مطلق طور پر دوسرے معجزات کی نفی نہیں کرتی، اور اگر یہ طے ہو کہ کسی آیت (نشانی) کو جھٹلانے کی وجہ سے نشانیاں نہ بھیجی جائےں تو پھر تو قرآن کو بھی نہیں بھیجنا چاہئے تھا، کیونکہ بعض لوگوں نے تو اس کو بھی جھٹلایا اور یہ وجہ دوسری نشانیوں سے مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے بالخصوص جبکہ قرآن مجید آنحضرت کے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ ہے، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ جن نشانیوں کی نفی کی ہے وہ ایک خاص قسم کی نشانیاں ہیں مطلق نشانیاں نہیں ہیں۔

اگر گذشتہ امتوں کا جھٹلانا اس بات کی صلاحیت رکھتا ہو کہ حکمتِ الٰھی اور نشانیاں نہ بھیجنے میں اثرانداز ہوتا تو پھر اس بات کی بھی صلاحیت رکھتا ہوگا کہ خدا ،رسولوں کونہ بھیجے (کیونکہ دنیا والوں نے نہ معلوم کن کن انبیاء کو جھٹلایا) اور جب یہ بات باطل او رمردود ہے توگذشتہ بات بھی باطل ہے۔

لہٰذا طے یہ ہوا کہ خداوندعالم نے جو اپنی نشانیاں نازل فرمائیں وہ طلب کرنے والوں کی طلب کے مطابق تھیں، اور یہ بات واضح ہے کہ وہ لوگ اتمام حجت کرنے والی نشانیوں کے علاوہ بھی دوسری نشانیاں طلب کرتے تھے،(گویا ان کا مقصد ایمان لانانھیں تھا بلکہ اس طرح کی نشانیوں کے مطالبہ کے بعد نبی کو عاجز کرنا ہوتا تھایھی وجہ تھی کہ طلب شدہ نشانیوں کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے تھے) اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ معجزات دیکھنے کے باوجود بھی وہ ایمان نہیں لاتے تھے تو اب خدا پر لازم نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کے معجزات طلب کرنے پر معجزات ظاہر کردےتا، اور اگر خداوندعالم ان میں مصلحت دیکھتا کہ یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے تو حتماً ان کی طلب شدہ نشانیوں کو بھی نازل کردیتا۔

لہٰذا معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے مطالبات اتمام حجت کے بعد تھے اور سابقہ امتو ں کا جھٹلانا ہی سبب تھا کہ خداوندعالم اپنی نشانیوں کو نہ بھیجے کیونکہ ان نشانیوں کا جھٹلانا ان پر عذاب نازل ہونے کا سبب تھا لیکن امت محمدی پر خداوندعالم نے اپنے نبی کی خاطر لطف وکرم رکھا کہ اس امت سے اس طرح کی نشانیوں کا انکار کرنے والوں سے عذاب کو دور کیا، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( وَمَاکَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاٴَنْتَ فِیْهِمْ ) ( ۴۵ )

”حالانکہ جب تک تم ان کے درمیان موجود ہو تو خدا ان پر عذاب نہیں کرےگا“

لیکن ان نشانیوں کو جھٹلانے والوں پر عذاب اخروی کیا جائے گا کیونکہ اگر خدا کی کوئی نشانی صرف کسی نبی کی نبوت کے صرف اثبات کے لئے تواس کی تکذیب پر کوئی اخروی عذاب نہیں ہوگا اور اگر عذاب ہوگا تو اس نبی کے جھٹلانے پر عذاب ہوگا۔

لیکن وہ آیات ونشانیاں جن پر لوگوں نے اصرار کیا اور ہٹ دھرمی کی اور ان کا مطالبہ کیا تو اگر وہ اس وجہ سے ہو کہ خدا کی پہلی نشانی کی تصدیق ہوسکے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر حق واضح ہوجائے اور جب ان کی طلب شدہ چیز کو نبی انجام کرکے دکھادے تو پھر ان پر اس نبی کی تصدیق کرنا ضروری ہوجاتا ہے او راگر اپنی طلب شدہ چیز کو دیکھ کر بھی اس نبی پر ایمان نہ لائے تویہ نبی اور حق کا مذاق اڑانا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو قرآن کے علاوہ دوسرے معجزات کی نفی کرتی ہو اگرچہ یہ بھی طے ہے کہ قرآن مجید ہمارے لئے عظیم دائمی اعجازھے، لیکن

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے دوسرے بھی بہت سے معجزات ہیں۔

قارئین کرام ! معجزہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے اصلی اور نقلی ہونے کو کوئی آسانی سے نہیں سمجھ سکتا جیسا کہ گذشتہ اعتراض سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ اس سلسلہ میں معلومات رکھنے والے علماء ہی سمجھ سکتے ہیں اور اس کی خصوصیات سے یھی افراد آگاہ ہوتے ہیں اور یھی لوگ تشخیص دے سکتے ہیں کہ نوع انسانی اس طریقہ کا کام انجام دینے سے قاصر ہے یا وہ اس طرح کا کام انجام دے سکتے ہیں اسی وجہ سے علماء ہی سب سے پہلے معجزات پر ایمان لاتے ہیں:

( اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰهَ مِنْ عِبَادِه الْعُلَمَاءُ ) ( ۴۶ )

”اس کے بندوں میں خدا کا خوف کرنے والے تو بس علماء (ھی) ہیں“

کیونکہ جاھل انسان صدق وکذب میں امتیاز نہیں کرسکتا او رجو لوگ جاھل ہیں اور جب تک اس علم کے مقدمات سے جاھل ہیںان پر باب شک کھلا رہتا ہے کیونکہ یہ لوگ احتمال دیتے رھیں گے کہ اس کام کے کرنے والے نے اس علم کے مقدمات کے ذریعہ یہ کام کردکھایا ہے اور یہ صاحبان علم کے لئے ایسا کام کرنا کوئی مشکل نہیں ہے، چنانچہ ان تمام احتمالات کی بنا پر اس معجزہ کی جلدی تصدیق نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے حکمت الٰھی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر نبی کا معجزہ اس کے زمانہ میں شایع شدہ علم کے مشابہ ہو، جس پر اس زمانہ کے علماء نے ممارست اور تمرین کی ہو اور اس جیسا عمل انجام دینے کی کوشش کی ہو تاکہ جلد ہی تصدیق کرسکےں اور حجت تمام ہوجائے۔

اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرنے میں جلدی کی کیونکہ جناب موسیٰ (ع) کے معجزہ کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگالیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ (ع) نے انجام دیا وہ جادو گری نہیں ہے۔

اسی طرح نزول قرآن کے وقت چونکہ عربوں کی فصاحت وبلاغت اپنے عروج پر تھی، تواس وقت کے لحاظ سے حکمت الٰھی کا تقاضا یہ تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا معجزہ فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے ممتاز ہو، چنانچہ پیغمبر اسلام نے قرآن کو معجزہ کے طور پر پیش کیا جو فصیح وبلیغ تھا تاکہ عرب کے زبان داں اور ممتاز ادیبوں پر یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ کلام الٰھی ہے جو انسانی فصاحت وبلاغت اور ان کی فکر سے اوپر ہے۔

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقرآن مجید کے علاوہ بھی دوسرے معجزات رکھتے تھے جن کو اس کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان تمام معجزات میں قرآن کریم وہ عظیم معجزہ ہے جس کی شان نرالی ہے اور جس کی حجت بھی کامل ترین ہے کیونکہ ایک جاھل عرب جو علوم طبیعت سے واقف نہیں ہے وہ ان معجزات میں شک کرسکتا ہے اور وہ ان اسباب کی طرف نسبت دے سکتا ہے جن سے وہ جاھل ہے او راپنے ذہن میں یہ سوچ سکتا ہے کہ شاید یہ سب سحر اور جادو ہو، جیسا کہ سب سے پہلا گمان بھی یھی تھا لیکن جب فنون بلاغت اور کلام فصیح کے اسرار ان پر کشف ہوجائیں گے تو ان کو قرآن کے معجزہ ہونے میں کوئی شک نہیں رھے گا، ان پر یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ اس طرح کا کلام کوئی بشرپیش نہیں کرسکتا، جبکہ دوسرے معجزات کم مدت والے ہوتے ہیں اورجب وہ ختم ہوجاتے ہیں تو راوی اس کو نقل کرتے ہیں یا اس بات کے چرچے عوام الناس کی زبان پر ہوتے ہیں اس صورت میں باب شک کھل جاتا ہے جس میں بعض لوگ تصدیق کرتے ہیں اور بعض لوگ جھٹلاتے ہیں، لیکن قرآن کریم ایسا معجزہ ہے جو زمین وآسمان کے باقی رہنے تک باقی رھے گا، اور اس کا اعجاز بھی ہر زمانے کے تمام لوگوں کے سامنے باقی رھے گا۔

بتحقیق ہر وہ شخص جس تک اسلام کی دعوت پهونچی ہے یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے تمام لوگوں اور تمام امتوں کو اسلام کی دعوت دی ہے اور قرآن کریم کے ذریعہ ان لوگوںپر حجت تمام کی ہے اور وہ قرآن کا جواب دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان سب سے قرآن کا مثل لانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن کوئی بھی جواب پیش نہیں کرسکتا ، چاھے وہ اپنے وقت کا کتناھی بڑا سورماکیوں نہ ہو۔

اس کے بعد تنزل کرتے ہوئے اس جیسے دس سوروں کا مطالبہ کیا اس کے بعد ایک ہی سورے کا جواب طلب کیاگیا اور اگر عرب کے فصیح وبلیغ افراد میں کوئی بھی اس کا جواب لانے کی قدرت رکھتا تو قرآن کے اس چیلنج کا جواب دیتا اور قرآن کے چیلنج کوختم کردیتا ہے لیکن جب قرآن سنا تو حقیقت امر کا اقرار کیااور قرآن کے اعجاز کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے، اور یہ یقین کرلیا کہ ہم قرآن سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے،چنانچہ ان میں سے بعض نے قرآن کی تصدیق کی اور اسلام قبول کرلیا، لیکن بعض لوگ اپنے بغض وعناد پر قائم رھے اور جنگ وجدل کرنا شروع کردیا۔

چنانچہ بعض مورخین نے اس بات کو نقل کیا ہے کہ ولیدبن مغیرہ مخزومی کا ایک روز خانہ کعبہ سے گذر ہوا او رنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی زبان سے تلاوت کلام پاک کو دور ہی سے کان لگاکر سنا، اس کے بعد اپنی قوم کے مشرکین سے جاکر کھا:

”میں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے کلام کو سنا، جو نہ کسی انسان کاکلام ہے اور نہ ہی کسی جن کا، یہ وہ کلام ہے جس میں حلاوت اور خوبصورتی ہے اس کے اوپر کا( حصہ )ثمر دینے والے درخت کی مانند اور نیچے کاحصہ گورا ہے، یہ قرآن کی ترقی کی حالت میں ہے اور ہمیشہ سربلند رھے گا۔( ۴۷ )

اسی طرح ہشام بن حکم راوی ہیں کہ ایک سال خانہ کعبہ میں اپنے زمانہ کے چار بڑے بڑے مفکر اور ادیب جمع ہوئے جن کے نام اسی طرح ہیں:

۱ ۔ ابن ابی العوجاء۔

۲ ۔ ابو شاکر دیصانی۔

۳ ۔عبد الملک البصری۔

۴ ۔ ابن مقفع۔

اور یہ چاروں خدا کا انکارکرنے والے دھریے تھے ، جو آپس میں نبی اسلام اور حج کے بارے میں گفتگو کررھے تھے، چنانچہ گفتگو کے دوران طے یہ پایا کہ اس قرآن کا مقابلہ کیا جائے جو اس دین کی بنیاد ہے تاکہ اس کے مقابلہ اور تعارض سے قرآن کے اعجاز کو ختم کردیا جائے چنانچہ آپس میں یہ طے کیا کہ ان میں سے ہر شخص ایک چھارم ( on quarter )قرآن کا جواب لائے، چنانچہ اس پروگرام کے تحت آئندہ سال کا موسمِ حج طے کیا گیا۔

اور جب سال گذرنے کے بعد یہ لوگ تاریخ معینہ پر خانہ کعبہ میں جائے معین پر جمع ہوئے اور ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہوئے کہ تم نے کیا کیا او رتم نے کیاکام انجام دیا، چنانچہ ابن ابی العوجاء کہتا ہے کہ میرا پورا سال پریشانی واضطراب کی حالت میں گذر گیا اور قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوچتا رھا:

( فَلَمَّا اسْتَیْئَاٴسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیاً ) ( ۴۸ )

”پھر جب یوسف کی طرف سے مایوس ہوگئے تو باہم مشورہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے“

اور میں اس جیسی کوئی آیت نہیں بنا سکا۔

اس کے بعد عبد الملک نے بھی اسی طرح کھا کہ میں پورے سال قرآن مجید کی اس آیت سے مقابلہ کے بارے میں سوچتا رھا:

( یَاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهُ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنٍ اللّٰهِ لَنْ یَخْلُقُوْا ذُبَاباً وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهُ وَاِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لاٰ یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ) ( ۴۹ )

”اے لوگو ! ایک مثل بیان کی جاتی ہے تم اسے کان لگاکر سنو کہ خدا کو چھوڑ کرتم جن کو پکارتے ہو اور وہ لوگ اگرچہ سب کے سب اس کا م کے لئے اکٹھے ہوجائیں تو بھی ایک مکھی تک پیدا نہیں کرسکتے، اور اگر کھیں مکھی کچھ ان سے چھین لے جائے تو اس سے اس کو چھڑا نہیں سکتے، (عجب لطف ہے) کہ مانگنے والا اور جس سے مانگا گیا ہے دونوں ضعیف ہیں۔“

لیکن میں اس جیسی آیت بنانے سے قاصر رھا۔

اسی طرح ابی شاکر کا بھی خیال تھا کہ میں درج ذیل آیت کی طرح سوچنے سے قاصر رھا۔

( لَوْکَانَ فِیْهِمَا آلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ) ( ۵۰ )

”بفرض محال زمین وآسمان میں خدا کے سوا چند معبود ہوتے تو دونوں کب کے برباد ہوگئے ہوتے۔“

اور یھی حال ابن مقفع کا بھی تھا کہ پورا سال گذر گیا اور میں اس آیت سے مقابلہ نہ کرسکا:

( وَقِیْلَ یَا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَاءَ کَ وَیَا سَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْداً لِلْقَوْمِ الظَّاْلِمِیْنَ ) ( ۵۱ )

”اور جب خدا کی طرف سے حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی جذب کرلے، اور اے آسمان (برسنے سے) تہم جا اور پانی گھٹ گیا اور (لوگوں کا) کام تمام کردیا گیا اور کشتی جودی (نامی پھاڑ) پر جا ٹھھری اور (ھر چھار طرف) پکار دیا کہ ظالم لوگوں کو خدا (کی رحمت سے) دوری ہو۔“

ہشام کہتے ہیں کہ اسی موقع پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام وھاں سے گذرے، ان لوگوں کو دیکھا تو آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ اَنْ یَّاتُوْا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لاٰیَاتُوْنَ بِمِثْلِهِ وَلَوْکَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْراً ) ( ۵۲ )

”(اے رسول) تم کہہ دو کہ اگر ساری دنیا کے آدمی اور جن اس بات پر اکھٹا ہوں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو (غیرممکن)، اس کے برابر نہیں لاسکتے اگرچہ اس کوشش میں ایک ایک کا مددگار بھی بنے۔“

قارئین کرام ! ہمیشہ دشمنان دین چاھے وہ کسی بھی عقیدہ، نظریات اور فلسفہ کے ماننے والے ہوں ؛ ان کا یہ وطیرہ رھا ہے کہ اس معجزہ (قرآن کریم) کے اعجاز میں شک وتردید ایجاد کریں اور ہمیشہ اسلام دشمن طاقتوں نے سازش کرکے حملہ کئے ہیں اور اپنی پوری طاقت صرف کردی تاکہ اپنے شوم اہداف میں کامیاب ہوجائیں، جیسا کہ تاریخ کے اوراق پر ان حملوں کی تعدادبے شمار ملتی ہے۔

اس سلسلہ میں ایک اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی آیات میں تناقض اور تضاد پایا جاتا ہے جو اعجاز قرآن کے منافی ہے اور ان کے گمان کے مطابق یہ قرآن انسان کی صفت ہے اور کلام الٰھی نہیں ہے، چنانچہ اپنے اعتراض کی دلیل میں قرآن مجید کی درج ذیل آیت پیش کی ہے کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( آیَتُکَ اَلَّا تَکُلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ اَیَّامٍ اِلّٰا رَمْزاً ) ( ۵۳ )

”تمھاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے مگر اشارہ سے۔“

کہ یہ آیہ کریمہ دوسری آیت کے مخالف ہے جس میں خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( آیَتُکَ اَلَّا تَکُلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ) ( ۵۴ )

”تمھاری پہچان یہ ہے کہ تم تین رات برابر لوگوں سے بات نہیں کرسکوگے۔“

پس پہلی آیت میں تین دن کا ذکرھے جبکہ دوسری آیت میں یہ مدت تین رات بیان کی گئی ہے۔

اس اعتراض کے جواب میں کافی ہے کہ ہم اشارہ کریں کہ لغت عرب میں ”یوم“ کے معنی کیا ہیں چنانچہ عربی زبان میں ”یوم“ کہہ کر دن مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

( سَخَرَّهَاْ عَلَیْهِمْ سَبْعَ لِیَالٍ وَثَمَانِیَةَ اَیَّامٍ ) ( ۵۵ )

”خدا نے اسے (تیز آندھی کو )سات رات اور آٹھ دن لگاتا ران پر چلایا“

اور کبھی یوم کہہ کرشب وروز ( ۲۴ گھنٹے) مراد لئے جاتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِی دَارِکُمْ ثَلاٰثَةَ اَیَّامٍ ) ( ۵۶ )

”تب جناب صالح نے کھا اچھا تین دن تک (اور)اپنے گھر میںچین سے بیٹھ جاؤ“

جبکہ ”لیل“ سے مراد رات لی جاتی ہے:مثلاً:

( وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشیٰ ) ( ۵۷ )

”رات کی قسم جب (سورج) کو چھپالے“

ایضاً:

( سَبْعِ لِیَالٍ وَثَمَانِیَةَ اَیَّامِ ) ( ۵۸ )

اور کبھی کبھی ”لیل“ سے مراد شب و روز ہوتے ہیں:

( وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسیٰ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ) ( ۵۹ )

”اور وہ وقت بھی یاد کرو کہ جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا“

قارئین کرام ! جب لغت میں لیل ونھار کا استعمال ان دونوں معنی میں جائز اور صحیح ہے تو مذکورہ دونوںآیات میں کسی طرح کا کوئی تناقض نہیں ہے کیونکہ یوم اور لیل کبھی دن اور رات کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی یوم اور لیل کا اطلاق ۲۴ گھنٹے پر ہوتا ہے، اور اس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے اگر خود غرضی نہ ہو:

( اَفَلاٰ یتَدَبِّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اِخْتَلاٰفاً کَثِیْراً ) ( ۶۰ )

” تو کیا یہ لوگ قرآن میںغور نہیں کرتے اور (یہ خیال نہیں کرتے) اگر خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے آیا ہوتا تو (ضرور) بڑا اختلاف پاتے“

اب جبکہ یہ طے ہوگیا کہ قرآن کریم اپنی تمام روش میں بے انتھا فصیح وبلیغ معجزہ ہے اور اس کی فصاحت وبلاغت کا حال یہ ہے کہ نوع بشر اس کی مثال نہیں لاسکتی، اور ایسی منظم کتاب ہے جس میں ذرہ برابر بھی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا،پس قرآن کریم کے اعجاز کے دوسرے بھی پہلو ہیں جن کی تعداد بہت ہے اور قرآن میں غور وفکر کرنے والے پر بہت سی چیزیں کشف ہوتی ہیں کیونکہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں بہت سے معارف، اسرارِ علوم اور عالم کائنات کے حقائق بیان کئے ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ احتمال نہیں دے سکتا کہ یہ اس زمانہ میں زندگی بسر کرنے والے انسان کے بیان شدہ ہیں کیونکہ اس زمانے میں زندگی بسر کرنے والا شخص ان چیزوں کو درک نہیں کرتا تھا۔

اور جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم دین، عقیدہ اور تشریع کی کتاب ہے علم فلکیات، علم کیمیا اور علم فیزیک کی کتاب نہیں ہے ، لیکن پھر بھی ہم اس قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر کائنات اور طبیعت کے بارے میں بہت دقیق باتیں دیکھتے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں ایسی چیزوں کا علم ہونا ناممکن ہے مگر یہ کہ خداوندعالم ان چیزوں کے بارے میں وحی کرے اور اپنے رسول کو بتائے۔

بتحقیق قرآن کریم نے ان اسرار کو بیان کرنے میں بہترین انداز اپنایا ہے بعض چیزوں کے بارے میں صاف صاف وضاحت کی ہے جبکہ بعض چیزوں کی طرف صرف ایک اشارہ کیا ہے کیونکہ اس زمانہ میں بعض حقائق کو قبول کرنا بہت مشکل تھا۔

چنانچہ اس وقت کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان چیزوں کی طرف ایک اشارہ کیا جائے تاکہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے جس وقت علم کی پیشرفت ہو اور حقائق ظاہر ہوں ؛یہ چیزیں واضح اور کشف ہوجائیں، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( اَلَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مِهٰداً ) ( ۶۱ )

”جس نے زمین کو تمھارے لئے فرش بنایا“

یہ آیہ کریمہ اشارہ کرتی ہے کہ زمین گھومتی ہے لیکن اس چیز کو چند صدی گذرنے کے بعد سمجھا گیا کیونکہ لفظ ”المہد“ زمین کی حرکت کی طرف اشارہ کررھا ہے لیکن قرآن مجید کا یہ ایک ھلکا سا اشارہ تھا اور اس کو وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا، کیونکہ اس وقت زمین کو حالت سکون میں سمجھنا ایک عام بات تھی اور اس کے بارے میں گفت وشنید بے کار تھی، اور اگر اس وقت زمین کی حرکت کی باتیں کی جاتیں تو ان کو خرافات اور محال کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ۔

قارئین کرام ! ہم یھاں پر قرآن کریم کے ذکر شدہ چند حقائق کو بیان کرتے ہیں چاھے ان کو قرآن مجید نے واضح طور پر بیان کیا ہو یا ان کی طرف صرف اشارہ کیا ہو اگرچہ اس سلسلہ میں تفصیلی طور پر معلومات حاصل کرنے کے لئے الگ کتابوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہیں اور ان تمام کو اس کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمارا مقصد صرف چند مثالوں کو پیش کرنا ہے تاکہ بحث مکمل ہوجائے۔

قرآن مجید کے ان علمی اور دقیق اشاروں میں سے ایک یہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں موجود ہے:

( یَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ ) ( ۶۲ )

”اس کے سینہ کو تنگ دشوارگزار کردیتا ہے گویا(قبول ایمان) اس کے لئے آسمان پر چڑھنا ہے“

جیسا کہ سائنس نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جب انسان بلندی کی طرف آسمانوں میں پرواز کرتا ہے او راوپر کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے سینہ میں دباؤ پیدا ہوتا ہے یھاں تک کہ اس کا دم گھٹنے لگتا ہے کیونکہ اس وقت اس کو ”آکسیجن“ " Oxygen "نھیں ملتا۔( ۶۳ )

اسی طرح قرآن مجید کا علمی مسائل کی طرف ایک اشارہ درج ذیل آیت میں ہوتا ہے:

( وَاٴَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ ) ( ۶۴ )

”اور ہم ہی نے وہ ہوا بھیجیں جو بادلوں کو پانی سے بھرے ہوئے ہیں“

آج کا سائنس یہ کہتا ہے کہ تلقیح( ۶۵ ) دوقسم کی ہیں:

۱ ۔ذاتی؛ جیسے درخت اور گھاس بطور مستقیم تلقیح کرتے ہیں۔

۲ ۔خلطی؛ جس میں تلقیح کے لئے تخم ایک پودے سے دوسرے پودے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اسی صورت میں ایسے وسائل موجود ہونا ضروری ہیں جن کے ذریعہ سے تخم تلقیح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکے اگر چہ ان کے درمیان کافی دوری ہی کیوں نہ ہو، تو ان منتقل کرنے والے وسائل میں سے ہوا ایک اہم وسیلہ ہے کیونکہ اس زمین پر ایسے بہت سے درخت وغیرہ ہیں جن کی تلقیح ہوا کے علاوہ ممکن ہی نہیں ہے۔( ۶۶ )

انھیں اشاروں میں سے قرآن مجید کا ایک اشارہ یہ بھی ہے جس کو ماھرین فلکیات نے بھی قبول کیا کہ سورج بھی دوسرے ستاروں کی طرح اپنی حرارت کی زیادتی اور اپنی شعاعوں کو کم کرے کیونکہ اس میں اتنی شدت پائی جاتی ہے جس کو عقلِ انسانی قبول نہیں کرسکتی۔یھاں تک کہ اگر زمین سے اس کی دوری کو ختم کردیا جائے تو زمین سے شعلہ نکلنے لگےں، اور چاروں طرف سے دھواں اٹھنے لگے، اور یہ دھواں چاند تک پہنچ جائے گا او رپھر تمام نظام شمسی درہم وبرہم ہوجائےگا۔

اورآسمان پر موجود تمام ستاروں کا اسی اپنی حالت پر گامزن رہنا ضروری ہے قبل اس کے کہ اپنی دائمی محور کو حاصل کرے، چنانچہ ہمارا یہ سورج کبھی دائرہ سے خارج نہیں ہوتا۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے خداوندعالم کے فرمان کے معنی سمجھ میں آتے ہیں کہ خداوندعالم نے روز قیامت سے کس طرح ہم لوگوں کو ڈرایا ہے اور دنیاکی نابودی کی کس طرح تصویر کشی کی ہے:

( فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَو مَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ) ( ۶۷ )

(جب آنکھیں چکاچوند ہوجائیں گی اور چاند میں گہن لگ جائے گا اور سورج اور چاند اکھٹا کردئے جائیں گے تو انسان کھے گا: آج کھاں بھاگ کر جاؤں)

قرآن مجید کے انھی علمی اشاروں میں سے ایک یہ ہے جس کو قرآن مجیدنے بیان کیا ہے:

( وَاٴَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنٍ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتاً وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّاْ یَعْرِشُوْنَ ) ( ۶۸ )

”اور (اے رسول) تمھارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تو پھاڑ وںاور درختوں اوروہ لوگ جو اونچے اونچے مکان بناتے ہیں ان میں اپنے چھتے بنا۔“

جیسا کہ ماھرین علم کاکہنا ہے کہ شہد کی مکھی نے سب سے پہلے پھاڑوںمیں اپنا گھر بنانا شروع کیا اور یہ زیادہ تر وھیں پر اپنا گھر بنا کر زندگی کرتی ہیں اور اسی میں زاد ولد کرتی ہیںلیکن وھاں پر موجود بعض پریشانیوں کی بنا پر وھاں سے منتقل ہوکر درختوں میں اپنا گھر بنایا درختوں کو اس وجہ سے انتخاب کیا کیونکہ اس میں سوراخ اور کھوکھلی جگہ ہوتی ہیں تاکہ ان میں آرام سے زندگی گذار سکیں۔

اور جب انسان نے (دوسرے جانوروں کے گھروں کو دیکھ کر ) اپنے لئے گھر بنانا چاھا تو پہلے گھر بالکل اسی طرح ہوتے تھے جیسے جانوروں کے، شروع میں تو یہ گھر مٹی کے بنائے گئے اور

پھر ان کو خوبصورت بنانا چاھا تو لکڑی سے بنائے جانے لگے اسی طریقہ سے ان میں ترقی ہونے لگی اور آج یھاں تک پهونچ گئے ہیں (کہ بڑے بڑے شھروںمیں بڑی بڑی عمارتوں کی بھر مار ہے)۔

پس شہد کی مکھیوں کا پھاڑ میں گھر بنانااور پھر ان کا درختوں کا انتخاب کرنا اور ان کو دیکھ کر انسانوں کا گھر بنانا ان تمام چیزوں کے بارے میں قرآن کریم نے گفتگو کی ہے( ۶۹ )

ان ہی علمی حقائق میں سے جن کے بارے میں قرآن مجید نے خبر دی ہے زمین سے متعلق ہے جو ماضی قریب کی صدیوں تک مجهول رھا ۔اور وہ یہ ہے کہ زمین میں سوراخوں کے ذریعہ ہوا داخل ہوتی ان ہی علمی حقائق میں سے جن کے بارے میں قرآن مجید نے خبر دی ہے زمین سے متعلق ہے جو ماضی قریب کی صدیوں تک مجهول رھا ۔اور وہ یہ ہے کہ زمین میں سوراخوں کے ذریعہ ہوا داخل ہوتی بلکہ زمین کے یھی سوراخ اور ان کا اندازہ بھی سب سے اہم سبب ہے جس کی وجہ سے زمین مختلف ہوتی ہیں کہ بعض زمین سخت ہوتی ہیں اور بعض بھوڑ (ریتیلی زمین )، اور یہ بات ابھی کچھ دن پہلے ہی کشف ہوئی ہے کہ زمین میں سوراخ ہوتے ہیں اور ان میں ہوا ہوتی ہے اور جب زمین پر بارش ہوتی ہے تو اس ہوا کی جگہ وہ پانی بھر جاتا ہے اور جیسا کہ علم کیمیا نے کشف کیا ہے کہ مٹی پانی کے ذریعہ پھیل جاتی ہے اور خشک ہونے سے سمٹ جاتی ہے اور جب زمین کے سوراخ میں پانی بھر جاتا ہے تو مٹی کے اجزا ء پانی بھرنے سے متحرک ہوجاتے ہیں چنانچہ جب زمین پر بارش ہوتی ہے تو زمین حرکت میں آجاتی ہے اور اپنے اندازہ سے زیادہ ہوجاتی ہے زمین کی اس حرکت کو اس وقت دیکھا جاسکتا ہے جب اس میں پانی بھر جائے اسی طرح اس کے اندازہ کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔

قارئین کرام ! یہ وہ حقائق ہیں جن کو آج کا سائنس کشف کررھا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کے بارے میں چودہ سو سال پہلے ہی خبر دی ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَتَرَی الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَا اٴَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَهِیْجٍ ) ( ۷۰ )

”اورزمین کو مردہ دیکھ رھا ہے پھر جب اس پرپانی برسادیتے ہیں تو لھلھانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے “

یھاں پر” اہتزاز“ کے معنی حرکت کے ہیں اور ربت کے معنی جسم میں زیادتی کے ہیں، چنانچہ ان حقائق سے اس وقت پردہ برداری ہوئی جب آج کا علم کہتا ہوا نظر آرھا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں شگاف پیدا ہوتے ہیں یا پانی کے ذریعہ اس میں سوراخ کھل جاتے ہیں۔( ۷۱ )

قرآن کریم کے بتائے ہوے انھیں حقائق میں سے ایک یہ بھی ہے جس کو آج کا سائنس بھی قبول کرتا ہے کہ بدن سے خارج ہونے والی چیزوں کی دو قسمیں ہیں :

۱ ۔جن سے جسم کا فائدہ ہوتا ہے جیسے افرازات (خارج شدہ ) چیزیں ہضم ہونے والی چیزیں و مادہ تناسل یا بعض وہ چیزیں جو جسم کے اندر ہوتی ہیں اور جسم کے لئے ضروری ہموتے ہیں اور یہ قسم انسان کے بدن کے لئے ضروری ہے اور ان میں کوئی ضررو نقصان بھی نہیں ہے

۲ ۔ دوسری قسم وہ ہے جن میںجسم کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ جسم سے ان کا نکلنا ضروری ہے کیونکہ ان میں ایک قسم کا زھر پایا جاتا ہے کہ اگر وہ جسم میں باقی رھیں تو جسم کے لئے خطرہ لاحق ہوجائےگا جیسے پیشاب پاخانہ ۔پسینہ اور خون حیض۔

چنانچہ خدا وند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( یَسْاٴ لُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هو اٴَذًی فَاعْتَزِلُوْا النِّسَاءَ فِی الْمَحِیْضِ ) ( ۷۲ )

”اے رسول تم سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم ان سے کہدو کہ یہ گندگی اور گھن کی بیماری ہے لہٰذا تم ایام حیض میںعورتوں سے الگ رهو “

خداوند عالم نے آج کے علم کواس نتیجہ پر پہنچے سے پہلے ہمیں بتا دیا کہ خون حیض اذیت کنندہ ہے اور اس کا بدن میں باقی رہنا جسم کے لئے خطرناک ہے اور اس چیز کے پیش نظر مخصوص ایام میں عورت سے مباشرت کرنے سے منع فرمایا کیونکہ اس دوران عورت کا رحم شدید درد کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کا بدن اضطراب و پریشانی کے عالم میں ہوتا ہے ۔

کیونکہ اس کے اندرونی غددوں سے یہ خون باھر نکلتا رہتا ہے اور اس حالت میں جنسی تعلقات، نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو حیض آنا بند ہوجاتا ہے نیز دوسرے غلط اثراث مترتب ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اعضاء وتناسل میں سوزش ہونے لگتی ہے۔( ۷۳ )

انھی حقائق میں سے ایک یہ بھی ہے جس کے متعلق خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( افَلَا اُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النَّجُوْمِ وَاِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ ) ( ۷۴ )

”تو میں تاروں کی بنائی کی قسم کھاتا ہوں اور اگر تم سمجھ لو تو یہ بڑی قسم ہے“

ماھرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ستاروں کے درمیان تاحد خیال فاصلہ ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں خداوندعالم نے قسم کھائی ہے کیونکہ تمام ستارو ں کی دوری ۷۰۰ / نوری سال کے برابر ہے اور ایک نوری سال میں کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔( ۷۵ )

انھی حقائق میں سے ایک یہ ہے کہ جس کی طرف خداوندعالم نے اشارہ فرمایا ہے:

( وَاٴَنْبَتْنَا فِیْهَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْزُوْنٍ ) ( ۷۶ )

”اور ہم نے اس میں ہر قسم کی مناسب چیز اگائی۔“

کیونکہ یہ آیہ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام نباتات میں ایک خاص وزن ہوتا ہے جیسا کہ سائنس نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ نباتات خاص اجزاء سے مرکب ہوتی ہیں اور ان کا ایک خاص وزن ہوتا ہے اس حیثیت سے کہ اگر کسی جز میں اس کی مقدار معین میں کمی یا زیادتی آجائے تو اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ان اجزاء میں سے بعض اجزاء کا بہت دقیق وزن ہوتا ہے مثلاً میلی گرام یا اس سے بھی دقیق جس طرح سے آج کل سونا تولا جاتا ہے۔( ۷۷ )

قرآن مجید کتاب خداھے اس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے:

( اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمَو مِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَهُمْ اَجْراً کَبِیْراً ) ( ۷۸ )

”اس میں شک نہیں کہ یہ قرآن اس راہ کی ہدایت کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی ہے او رجو ایماندار اچھے اچھے کام کرتے ہیں ان کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر (وثواب موجود) ہے۔“

( صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ اِنَّهُ خَبِیْرٌ بَمَا تَفْعَلُوْنَ ) ( ۷۹ )

”(یہ بھی) خدا کی کاریگری ہے کہ جس نے ہر چیز کو خوب مضبوط بنایا اور بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے خوب واقف ہے۔“

شبھات واعتراضات

ہم نے شروع ہی میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھاکہ کتاب کے ان صفحات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی سیرت طیبہ اور تاریخ منور کو بیان نہیں کریں گے اور حوالہ دیا تھا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی سیرت طیبہ کو ”فی رحاب رسول (ص) “ نامی کتاب میں تحریر کریں گے۔

لیکن اس کے باوجود بھی نبوت عامہ، مخصوصاً ہمارے نبی اعظم کی نبوت کی گفتگو کے دوران دو اہم نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے او راس سلسلہ میں تحقیق کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان نکات سے چشم پوشی نہ کرے، کیونکہ وہ بہت عمیق ہیں اور ان میں خطا وغلطی کا امکان ہے، خصوصاً چونکہ یہ دونوں مسائل مقام نبوت سے بہت زیادہ ارتباط رکھتے ہیں کیونکہ مقام نبوت ایک الٰھی منصب ہے جو شهوات اور لذاتِ دنیا نیز گناهوں اور خطاؤں سے پاک وپاکیزہ ہوتا ہے۔

اور وہ دو مسئلے در ج ذیل ہیں:

۱ ۔ کثرتِ ازواج۔

۲ ۔ عصمت۔

اور ہمارے خیال کے مطابق اس بات میں ہمارے قارئین کرام بھی متفق ہوں گے کہ یہ دونوں مسئلے مقامِ رسالت سے بہت زیادہ ارتباط رکھتے ہیں لہٰذا یہ دونوں سیرت رسول بیان کرنے سے زیادہ اہم ہیں۔

قارئین کرام ! ہم آئندہ صفحات میں ان دونوں مسئلوں پر گفتگو کریں گے البتہ کتاب کی ضخامت کے پیش نظر مختصر طور پر بیان کریں گے، خداوندمنان ہمیں توفیق عنایت کرے۔ (آمین)

کثرتِ ازواج

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی حیات طبیہ میں کثرتِ ازواج کا مسئلہ بہت اہم ہے یھاں تک کہ دشمنان دین اور انگریز رائٹروں نے اس پر بہت سے اعتراضات کئے ہیں اور اپنے گمان کے مطابق اس مسئلہ میں دین اسلام او رپیغمبر اسلام پر لعن وطعن قرار دیا ہے۔

اصل موضوع کو بیان کرنے سے پہلے یہ عرض کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عظیم ہستی اپنی بیوی سے محبت کرے یا وہ اس کے ساتھ اپنی مشترکہ زندگی گذارے تو یہ کوئی عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو فطری تقاضا ہے اور بقاء انسانیت کا وسیلہ ہے، اور چونکہ نبی بھی بشروانسان ہیںلہٰذا ان میں ایک انسان کے تمام صفات کا پایا جانا ضروری ہے، ارشاد قدرت ہوتا ہے :

( وَقَالُوْا مَالِ هَذَا الرَّسُوْلِ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ) ( ۸۰ )

”اور ان لوگوں نے (یہ بھی)کھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے“

( قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ کُنْتُ اِلاّٰ بَشَراً رَسُوْلاً ) ( ۸۱ )

”اے رسول تم کہہ دو کہ سبحان اللہ میں ایک آدمی ہوں خدا کے رسول کے سوا آخر اور کیا ہوں“

چنانچہ یہ عیب نہیں ہے بلکہ عیب یہ ہے کہ انسان اس محبت میں اس قدر آگے بڑھ جائے کہ اپنے واجبات کو ترک کرنے پر مجبور ہوجائے اور اپنے حدود سے باھر نکل جائے اور اس کی تمام طاقت وتوانائی اسی میں صرف ہوجائے۔

تو کیا کوئی دشمن حضرت محمد (انگریز ہو یا غیر انگریز) یہ بات کہہ سکتا ہے کہ آپ نے کسی زوجہ کی وجہ سے کسی بھی واجب کو ترک کیا ہے، بلکہ اس سلسلہ میں تحقیق کرنے والوں کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت محمد کی ذات گرامی ایسی ذات تھی جس نے نبوت کا بھی مکمل حق ادا کیا اور ازواج کو بھی ان کا کامل حق دیا، اور یہ چیز ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عظمت پر بہترین دلیل ہے۔

اگر قلب نبی میں ذرہ برابر بھی شهوت پرستی اور ہواپرستی پائی جاتی تو پھر آپ کی ذات سر زمین مکہ پر عفت وحیا سے مشهور نہ ہوتی ، اور اگر شهوت پرستی کا ذرا بھی وجود پایا جاتا تو آپ اپنے شباب کے عالم میں اپنی قوم وقبیلہ کی باکرہ اور خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرتے، اوران بیوہ اور طلاق شدہ عورتوں سے شادی نہ کرتے، جن میں اکثر بوڑھی یا سن رسیدہ تھیں۔

بلکہ آنخضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شادیوں کا مقصد بعض حالات میں یہ ہوتا تھا کہ سسرالی رشتہ کی تعداد زیادہ ہو، تاکہ اسلام کی شان وشوکت میں اضافہ ہو جبکہ بعض حالات میں آپ کامقصد یہ ہوتا تھا کہ جو عورتیں اسلامی جنگوں میں یا اسلام کی خاطر مصیبت زدہ ہوتی تھیں یا ان کے شوھر شھید ہوجاتے تھے ان پر لطف ومھربانی کریں، چنانچہ یھی وجہ تھی کہ آپ کی بیویوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رھا لیکن اس کو اسلام دشمن عناصر نے دلیل کے طور پر پیش کیا کہ (حضرت) محمد (ص) نے شهوت پرستی کی خاطر اتنی شادیاں کی ہیں۔!

لہٰذا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی بیویوں کے اسماء گرامی او رمختصر حالات بیان کرتے ہیں تاکہ اس سلسلہ میں ہوئے اعتراضات کا خاتمہ ہوجائے۔

۱ ۔ خدیجہ بنت خویلد:

چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمان کے ساتھ مل کر تجارت کاکام کیا کرتے تھے اسی اثنا میں آپ سے آشنائی اور واقفیت ہوگئی، جناب خدیجہ (ع) کی اس سے پہلے دو مرتبہ شادی ہوچکی تھی اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال تھی او ر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عمر ۲۵/ سال تھی، اس وقت آپ نے جناب خدیجہ سے شادی کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی اس زوجہ کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے آنحضرت کے ساتھ اس وقت زندگی گذاری جب آپ نے ظاہری طور پر اعلان رسالت نہیں کیا تھا اور آپ ہی کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی رسالت پر ایمان لائیں، اور راہِ اسلام میں اپنا سارا مال ودولت خرچ کردیا۔

اسی طرح دشمنان اسلام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکویہ بھی طعنہ دیا کہ جناب خدیجہ کی عمر چونکہ حضرت محمد (ص) سے ۱۵/ سال زیادہ تھی لیکن ان کے پاس چونکہ بہت زیادہ مال ودولت تھی اورآنحضرت کے پاس کچھ نہیں تھا لہٰذا آپ نے مال کے لالچ میں جناب خدیجہ سے شادی کی ۔

لیکن یہ اعتراض خود بخود ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمخود جناب خدیجہ کی ذات کو اس قدر چاہتے تھے کہ آپ ان کی زندگی میں بھی ان کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے او ران کی وفات کے بعد بھی ان کا بہت زیادہ احترام اور محبت کا اظھار کیا کرتے تھے اور اس بات کا مشاہدہ دوسری ازواج نے بھی کیا ہے۔( ۸۲ )

کیا کسی انسان کو اتنی محبت واحترام بیوی کے مال کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔!

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ازواج میں صرف یھی پہلی مومنہ کا امتیاز ہے کہ خداوندعالم نے اسی بیوی کے ذریعہ نسلِ نبوت کوباقی رکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی اکلوتی بیٹی( ۸۳ ) جناب فاطمہ زھرا = کے ذریعہ آپ کی نسل کو بڑھایا۔

۲ ۔ سودة بنت زمعة:

یہ بی بی جوانی کے آخری حصے میں بیوہ ہوگئیںتھیں کیونکہ ان کا مسلمان شوھر ہجرت سے قبل مکہ میں ہی وفات پاگیاتھا اور جب ان کی زندگی بیوہ ہونے کی وجہ سے تنھائی میں بسر ہونے لگی تو اس وقت رسول اسلام نے ان پر لطف وکرم کرتے ہوئے اور ان کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان سے نکاح کیا تاکہ ان کی مشکلات دور ہوجائیں، اور ان کے پڑھاپہ کا سھارا بن جائیں، لہٰذا ان کے شوھر محمد رسول اللہ ہیں نہ صرف ”محمد“ (ص)جن کے بارے میں شهوت پرستی کا ڈھول بجایا جار ھا ہے۔

۳ ۔عائشہ بنت ابی بکر:

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی یہ بیوی سب سے کم عمر تھی اور ازواج نبی میں صرف یھی باکرہ تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ہجرت کے بعد ان سے شادی کی ہے۔

۴ ۔ حفصہ بنت عمر بن الخطاب:

ان کے پہلے شوھر جنگ بدر میں زخمی ہوئے او رانتقال کرگئے، جس وقت حفصہ بیوہ ہوئیں تو حضرت عمر نے جناب عثمان سے ملاقات کی اور رودادِ غم سنائی تب جناب عثمان نے کھا: مجھے عورتوں کے مسئلہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس کے بعد ابوبکر سے ملاقات ہوئی اور ان سے بھی کچھ کھا تو وہ بھی چُپ رھے تو یہ دیکھ کر حضرت عمر جناب ابوبکر پر غصہ ہوئے (لیکن جب کسی سے کوئی بات نہ بنی تو) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان سے نکاح کرلیا۔( ۸۴ ) گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماسلامی جنگ میں شھیدهونے والے اُن کے شوھر کی جگہ لے لینا چاہتے تھے اور ان کی مشکلات کو دور کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ ان کے پدر بزرگوار (جناب عمر) بھی یھی چاہتے تھے۔

۵ ۔زینب بنت خزیمہ:

انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے قبل دو دفعہ شادی کی تھی ان کا دوسرا شوھر جنگ بدر میں شھید ہوگیا تھا، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان کے اور ان کے شوھر کے اکرام میں ان سے نکاح کیا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی یہ بیوی صرف آٹھ ماہ زندہ رھیں اور اس کے بعد اس دنیا سے چل بسیں۔

۶ ۔ ام سلمہ:

آپ کے پہلے شوھر جنگ احد میں زخمی ہوئے اور جب زخم کچھ مندمل ہوگئے تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے سرائے (مہمان خانہ) میں رکھا گیا لیکن وھاں بھی ان کے زخم ٹھیک نہ ہوئے اور جب زخم بڑھتے گئے تو ان کی حالت خراب ہوگئی اور اسی عالم میں دار فانی سے رخصت ہوگئے، چنانچہ انھوں نے ام سلمہ اور چند اولاد چھوڑیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان کی اور ان کے بچوں کی حالت پر رحم کرتے ہوئے ان سے نکاح کرلیا، اور ،چونکہ جناب ام سلمہ کے شوھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے چچا زاد بھائی بھی تھے، چنانچہ جب رسول اللہ نے جناب ام سلمہ سے اپنا پیغام بھجوایا تو انھوں نے اپنے بڑھاپے اور بچوں کی وجہ سے معذرت چاھی لیکن حضرت رسول خدا نے ان کے عذر پر توجہ نہ دی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا مقصد ان پراور ان کی اولاد کی حالت پر رحم کرنا مقصودتھا۔

۷ ۔ زینب بنت جحش:

یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے چچا کی لڑکی تھی چنانچہ انھوں نے پہلی مرتبہ زید بن حارثہ سے شادی کی اور یہ زید جناب خدیجہ بنت خویلد کے غلام تھے لیکن جناب خدیجہ نے ان کو رسول اللہ کو ھبہ کردیا تھا، رسول اللہ نے ان کو آزاد کردیا او راپنا بیٹا بنالیا او ران کو ”زید بن محمد “ کے نام سے مشهور کردیا گیا، اور یہ اس شھرت پر باقی رھے یھاں تک کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

( اُدْعُوْهُمْ لِآبَائِهِمْ ) ( ۸۵ )

”گود لئے بچوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو“

چنانچہ اس کے بعد ان کو اپنے حقیقی باپ حارثہ کی طرف نسبت دینے لگے اور ان کو زید بن حارثہ کھا جانے لگا۔

جناب زید نے رسول اللہ کی محبت اور رغبت میں زینب سے شادی کی تھی، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اس شادی میں حصہ لیا ، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمعملی طور پر ذات پات اور آقا وغلام کے فرق کو ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ اسلام میں مساوات کو فروغ ملے، آپ نے زینب کو اس شادی کے لئے راضی کیا اور وہ راضی بھی ہوگئیں ، اس وقت قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

( وَمَاکَانَ لِمُو مِنٍ وَلاٰ مُوْمِنَةٍ اَذَا قُضَی اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اٴَمْراً اٴَنْ یَّکُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اٴَمْرِهِمْ ) ( ۸۶ )

”اور نہ کسی ایماندار مرد کو یہ مناسب ہے اور نہ کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدا اور اس کے رسول کسی کام کا حکم دیں تو ان کو اپنے اس کام (کے کرنے یا نہ کرنے) کا اختیار ہو۔)

چنانچہ جناب زینب نے اس شادی کو قبول تو کرلیا لیکن مکمل طورپر دل سے راضی نہ تھیں، اور یہ شادی ہوگئی لیکن چونکہ جناب زینب مکمل طریقہ سے راضی نہ تھیںلہٰذا یہ شادی زیادہ دن پابرجا نہ رہ سکی، کیونکہ جناب زینب اس شادی سے خوش نہ تھی اور زید بھی جناب زینب کی عظمت اور بزرگی کی گفتگو کیا کرتے تھے، چنانچہ ان تمام باتوں کے پیش نظر جناب زید اس مشترکہ زندگی کو

چلانہ سکے اور طلاق کا ارادہ کرلیا تاکہ ان مشکلات سے نجات مل جائے لیکن جناب زید آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے مشورے کے بغیر طلاق بھی نہیں دے سکتے تھے، چنانچہ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مشورہ کیا تو رسول اسلام نے ان کو اس کام سے منع کیا اور فرمایا جیسا کہ قرآن مجید بھی اس چیز کی حکایت کررھا ہے:

( اٴَمْسِکْ عَلَیْکَ زُوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰهَ ) ( ۸۷ )

”(جناب زید کو حکم ہوتا ہے کہ)تم اپنی زوجہ (زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور خدا سے ڈرو“

لیکن رسول اسلام جانتے تھے کہ یہ شادی آخر تک قائم نہیں رہ پائے گی اگرچہ آپ نے طلاق کو وقتی طور پر رکوادیا ،اس کے بعد آپ نے ارادہ کرلیا کہ اگر زید ان کو طلاق دے بھی دیں تو میں ان سے نکاح کرلوں گا، کیونکہ زید اس شادی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ادھر رسول اسلام بھی لوگوں کی قیل وقال سے خائف تھے کیونکہ عرب کے دستور کے مطابق اگر کسی شخص نے کسی کو اپنا لڑکا بنا رکھا ہو تو اس کی بیوی سے(طلاق کی صورت میں) نکاح کرنا بُرا سمجھا جاتا ہے۔

ادھر ایک مدت کے بعد جناب زید نے جناب زینب کو طلاق دیدی، اور جب طلاق ہوگئی تو خداوندعالم نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جناب زینب سے نکاح کرلیں، تاکہ عرب میں مشهور غلط رواج کو ختم کردیا جائے کہ منھ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا حرام یا بُرا ہے۔

چنانچہ خداوندعالم نے اس بات کی حکایت کی ہے:

( فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِنْهَا وَطْراً زَوَّجْنَاکَهٰا لِکَیْ لٰایَکُوْنَ عَلَی الْمُو مِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَائِهِمْ ) ( ۸۸ )

”غرض جب زید اپنی حاجت پوری کرچکا (اورزینب کوطلاق دیدی) تو ہم نے (حکم دے کر) اس عورت (زینب) کا نکاح تم سے کردیا تاکہ عام مومنین کو اپنے منھ بولے لڑکوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کسی طرح کی تنگی نہ رھے“

اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ نکاح خداوندعالم کے حکم سے تھا تاکہ حکمِ شریعت واضح ہوجائے اور عملی طور پر مساوات کا بہترین ثبوت پیش کیا جاسکے۔

بعض دشمنان دین (خصوصا انگریزوں) نے اس سلسلہ میں بہت سے قصے اور افسانہ گڑھ ڈالے او ریہ کھا کہ جب حضرت محمد زید کے گھر جاتے تھے تو ان کی بیوی کو تعجب سے دیکھتے تھے چنانچہ انھوں نے زید کو طلاق کے لئے ابھارا تاکہ خود زینب سے شادی کرلیں۔

لیکن ان کا یہ گمانِ ناقص، صاحبان غور وفکر کے نزدیک بالکل باطل ومردود ہے کیونکہ جناب زینب آپ کے چچا کی لڑکی تھیں اور آپ نے شادی سے پہلے بھی ان کو دیکھا تھا او ران کوپہچانتے تھے او راگر آپ کے دل میں ان سے شادی کرنے کی ذرا بھی رغبت ہوتی تو پہلے ہی ان سے شادی کرسکتے تھے اور زید کو ان سے شادی کرنے کے لئے نہ کہتے۔

۸ ۔ جویریة بنت الحارث:

یہ قبیلہ بنی مصطلق سے تعلق رکھتیں تھیں اور اپنے قبیلہ والے سے ہی شادی کی، لیکن جب وہ اسیر کرکے مدینہ لائی گئیں اور وہ مسلمانوں کے حصے میںآ گئیں ، چنانچہ انھوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنے کو ایک مبلغ معین میں خرید لیں اور نبی اکرم کے پاس آئیں او راپنا حسب ونسب اور حالِ حاضر کی حالت بتائی اور درخواست کی کہ آپ اس مبلغ کی ادائیگی میں مدد کریں، چنانچہ رسول اسلام نے ان پر لطف وکرم اور مھربانی واکرام کرنے کا ارادہ کیا گویا ان کی قوم والوں کو اس کام سے اسلام کی طرف رغبت دلائی اور آپ نے ان کو وہ مبلغ دیدیا تاکہ وہ مبلغ دیدیں او رآنحضرت سے نکاح کرلیں، چنانچہ اس واقعہ سے سب لوگوں کو خوشی ہوئی۔

چنانچہ اس شادی کا سب سے پہلا اثر یہ ہوا کہ اس قبیلہ کے جو اسیر مسلمانوں کے پاس تھے وہ سب نے آزاد کردئے کیونکہ یہ سب رسول اسلام کے سسرالی رشتہ دار ہوگئے تھے۔

۹ ۔ صفیہ بنت حي:

یہ قوم یهود سے تعلق رکھتی تھیں اور انھوں نے اپنے ہی قبیلہ والوں سے دو مرتبہ شادی کی تھی، لیکن جب جنگ خیبر ہوئی تو ان کو اسیر کرلیا گیا تب رسول اسلام نے ان سے نکاح کرلیا تاکہ اسیروں کے حال پر رحم وکرم کامکمل ثبوت دیا جاسکے۔

۱۰ ۔ ام حبیبة بنت ابی سفیان:

ان کی بھی پہلے شادی ہوچکی تھی اور انھوں نے اپنے شوھر اور مسلمان مھاجرین کے ساتھ حبشہ ہجرت کی، لیکن وھاں جاکر ان کا شوھر مرتد ہوگیا لیکن یہ اپنے اسلام پر باقی رھیں،عالمِ غربت میں اپنے دین وایمان کی حفاظت کرتی رھیںاور ایک مدت تک حبشہ میں مشکلات کی زندگی گذارتی رھیں کیونکہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا شوھر بھی نہیں تھا او رنہ ہی مکہ واپس پلٹ سکتی تھیں چونکہ ان کے باپ اور ان کے بھائی او ردیگر قبیلہ والے دشمنان اسلام کی اسیری میں تھے۔

چنانچہ جب رسول اسلام نے اس واقعہ کی تفصیل سنی تو ایک شخص کو حبشہ بھیجا تاکہ ان سے جاکر نکاح کی بات کرے، چنانچہ انھوں نے بھی موافقت کی، اور جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مدینہ واپس آگئیں اور رسول اسلام نے ان سے نکاح کرلیا اور یہ ام المومنین کے دائرے میں شامل ہوگئیں، گویا رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان کی حبشہ کی مشکلوں پر صبر وتحمل کرنے اور راہ اسلام میں استقامت کرنے کی وجہ سے ان سے نکاح کیا۔

۱۱ ۔ میمونہ بنت الحارث:

یہ بھی بیوہ تھیں اور ان کی عمر ۴۹ سال تھی انھوں نے اپنے نفس کو رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو ھبہ کردیا تاکہ آپ بھی ازواج نبی میں شامل ہوجائیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَاْمْرَاٴةً مَوْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيْ ) ( ۸۹ )

” ایماندار عورت اگر وہ اپنے کو (پیغمبر )بنی کو دیدے اور نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہتے ہوں۔“

چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان پر لطف وکرم کیا او ران کو بھی امھات المومنین میں شامل کرلیا۔

قارئین کرام ! کیا کوئی شخص ازواج نبی کی مذکورہ تفصیل پڑھنے کے بعد بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمایک شهوت پرست تھے؟! کیا ایسے شخص کو جس نے بیواو ں اور بوڑھی عورتوں سے نکاح کیا ہو اس کے بارے میں یہ کھا جاسکتا ہے کہ غرائز جنسی اور شهوت پرستی کے جال میں پھنسے ہوئے تھے، نہیں ھرگز نھیں۔

بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمایک معمولی انسان نہ تھے بلکہ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے او رایسے انسان تھے جو ہر قسم کی شهوت پرستی سے پاک وپاکیزہ تھے اور شعور کے اس بلند درجہ پر فائز تھے کہ جھاں پر انسانیت سے بے پناہ محبت والفت اور ذمہ داری کا احساس پایا جاتا ہے۔

عصمت

ھر صاحب عقل پر یہ بات واضح ہے کہ نبی چونکہ پیغامات الٰھی کولوگوں تک پهونچاتا ہے اور ان کے سامنے دینی احکامات پیش کرتا ہے لہٰذا اس کی باتوں پراس وقت یقین کیا جاسکتا ہے جب وہ صادق ہو اور بھول چوک اور خطا وغلطی سے پاک ہو، اور ہر طرح کی معصیت وگناہ سے دور ہو ،نیز خدا کی مکمل طریقہ سے اطاعت کرتا ہو،تاکہ (یقینی اور قطعی طور پر ) ان تمام چیزوں سے پاک ومنزہ ہو جو اس کے اقوال، اعمال اور دیگر امور میں باعثِ شک بنتے ہوں۔

چنانچہ اسی چیز کو علماء علم کلام”عصمت “ کہتے ہیں۔

اس بنا پر عصمت کے معنی ایک ایسی داخلی طاقت ہے جو نبی کو ترکِ طاعت، فعل معصیت اور بری باتوں سے روکتی ہے۔

انبیاء (ع) کی عمومی زندگی کی معرفت کے بعد انسان اس نتیجہ پر پهونچ جاتا ہے کہ نبی کے لئے صاحب عصمت ہونا ضروری ہے اور ہمارے لئے انبیاء کی عصمت پر یقین رکھنا واجب ہے، چنانچہ شیعہ حضرات انبیاء (ع) کی عصمت کی ضرورت پر زیادہ اصرار کرتے ہیں اور اسلامی فرقوں میں صرف ہمارا واحد مذھب ہے جو انبیاء (ع) کی عصمت کا قائل ہے چونکہ دوسرے اسلامی فرقے انبیاء (ع) کی عصمت مطلقہ کو ضروری نہیں سمجھتے، جبکہ فرقہ معتزلہ اگرچہ انبیاء (ع) کو گناہِ کبیرہ سے معصوم مانتاھے لیکن ان کے لئے گناہ صغیرہ کو جائز جانتا ہے البتہ ایسے گناہِ صغیرہ جو فقط ثواب کو کم کرتے ہیں لیکن باعث عذاب نہیں ہوتے۔( ۹۰ )

اور چونکہ مسئلہ واضح ہے لہٰذا اس میں زیادہ گفتگو اور دلیل کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ خود انسان کا وجدان اور دل اس بات کی گواھی دیتا ہے کہ وہ نبی جو خطا وغلطی کرتا ہو اور معصیت وگناہ کا مرتکب ہوتا ہو اس صورت میں کوئی بھی انسان اس کی اطاعت وپیروی نھیںکرے گا اور نہ ہی اس کے قول وفعل او رامر ونھی کو قبول کرے گا۔

قارئین کرام ! اس سلسلہ میں بہت سی کلامی کتابوں میں بغیر سوچے سمجھے لکھ دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں ان لوگوںکے وہم کی وجہ سے قرآن مجید کی وہ آیات ہیں جن کے ظاہر سے اس بات کااشارہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمگناہ اور معصیت کے مرتکب ہوئے۔

لیکن جب ہم بحثِ نبوت اور نبی کی عظمت کا صحیح طریقہ سے جائزہ لینا چاھیں تو ہمیں اس طرح کی آیات کے ظاہر سے پرھیز کرتے ہوئے ان کے اصل مقصد تک پهونچنا چاہئے یھاں تک کہ ہم پر حقیقت امر واضح ہوجائے اور ہم شکوک وشبھات کا سدّ باب، مستحکم دلیل وبرھان اور فہم صحیح سے کردیں۔ (لہٰذا مناسب ہے کہ پہلے ہم ان آیات کو بیان کریں جن کے ذریعہ سے مخالفین عصمت نے استدلال کیا ہے اور پھر ان کا مکمل جواب پیش کریں۔)

پہلی آیت:

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَ ) ( ۹۱ )

جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ کرنے پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے (اگرچہ ان کی بخشش کا وعدہ کیا گیا ہے)

جواب :

قارئین کرام ! اس سلسلہ میں لفظ ”ذنب“ کے بارے میں بعض مفسرین نے بہت سی وجوھات بیان کی ہیں ان میں سب سے بہتر وجہ وہ ہے جس کو سید مرتضیٰ نے اختیار کیا ہے ، (سید مرتضیٰ کا علم وادب اور لغت میں منفرد مقام ہے) چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:

”آیہ کریمہ میں لفظ ”ذنبک“ سے مراد امت محمدی کے گناہ ہیں کیونکہ ذنب مصدر ہے اور مصدر کبھی کبھی فاعل کی طرف مضاف ہوتا ہے مثلاً ”اعجبنی شعرک اٴو ادبک او نثرک “ (مجھے تمھارے اشعار یا نثر اور ادب پر تعجب ہے) کیونکہ اس مثال میں مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہوا ہے، لیکن کبھی کبھی مصدر اپنے مفعول کی طرف بھی مضاف ہوتا ہے مثلاً: ”ساء نی سجنک ا و مرضک “ ( میں آپ کے قید ہونے یا مرض میں مبتلاهونے کی وجہ سے پریشان ہوا) کیونکہ اس مثال میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہوا ہے اور جس کو قید ہوئی یا بیمارهو وہ مفعول ہے۔

اب آئےے قرآن مجید کی اس آیت میں دیکھتے ہیں کہ لفظ ”ذنب“ مفعول کی طرف اضافہ ہوا ہے اور ذنب سے مراد امت کے ذریعہ نبی کے اوپر واقع ہونے والے سبّ و شتم ا ورمذاق اڑانے کے گناہ ہیں نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی تکذیب اور جنگ میں آپ کو اذیت دینے والے کے گناہ مراد ہیں۔

اور اگر قرآن کی آیت کے اس طرح معنی نہ کریں تو آیت کی تفسیر نہیں ہوسکتی، آیت کو ملاحظہ فرمائیں ارشاد ہوتا ہے:

( اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ ) ( ۹۲ )

”اے رسول یہ حدیبیہ کی صلح نہیں (بلکہ) ہم نے حقیقتاً تم کو کھلم کھلا فتح عطا کی ہے تاکہ خدا تمھاری امت کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کردے۔“

کیونکہ اس آیہ کریمہ میں فتح کے بعد غفران وبخشش کا ذکر ہے اور جس روز فتح حاصل ہوئی اس روز غفران نہیں تھی کیونکہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی، خداوندعالم نے اس صلح کانام فتح رکھا، اور اسی صلح کے ذریعہ سے فتح مکہ کے اسباب فراہم ہوئے، چنانچہ اس طرح سے آیت کے معنی واضح ہوجاتے ہیں :

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُبِیْناً لِیَغْفِرَلِاَجَلِکَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِ قومکَ نَحْوِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَمنه بعد هذا الصلح والی ان َیُتِمَّ الفتح ولیتم نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ بالفتح الکبیر والنصر العظیم

یعنی اے میرے حبیب ہم نے تم کو واضح طور پر فتح وکامیابی عنایت کی اور اس صلح کے بعد سے مکمل کامیابی تک آپ کی وجہ سے آپ کی قوم کے گذشتہ وآئندہ کے گناہ بخش دئے تاکہ خدا اس عظیم فتح کے ذریعہ تم پر اپنی نعمتیں نازل کرے۔

قارئین کرام ! اگر مذکورہ آیہ مبارکہ کے معنی بعض کج فکر لوگوں کی طرح کریں کہ ذنب سے مراد بذات خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ ہیں تو پھر اس فتح کے بعد غفران وبخشش کوئی معنی نہیں رکھتے، کیونکہ اس بخشش کے سوا اس کے اور کوئی معنی نہیں ہوتے کہ فتح کے بعد ان لوگوں کے گناہ بخش دئے جائیں جنھوں نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شان میں بے ادبی کی، ان لوگوں کے وطن کو لشکر نبوی کے ذریعہ فتح کرائے او ران کے جاھلیت کے زمانہ کو ختم کردے۔

دوسری آیت:

( وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیْهِ وَاٴَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اٴَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللهَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللهُ مُبْدِیهِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللهُ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَهَا ) ( ۹۳ )

”اے رسول اس وقت کو یاد کرو جب اس شخص (زید) سے کہہ رھے تھے جس پر خدا نے احسان (الگ)کیا اور تم نے اس پر (الگ)احسان کیا ،(جناب زید کو حکم ہوتا ہے کہ)تم اپنی زوجہ (زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور خدا سے ڈرو، غرض جب زید اپنی حاجت پوری کرچکا (طلاق دیدی) تو ہم نے (حکم دے کر) اس عورت (زینب) کا نکاح تم سے کردیا“

جیسا کہ بعض لوگوںنے دعویٰ کیا ہے کہ اس آیہ کریمہ میں رسول اسلام کی سرزنش اور ملامت کی گئی ہے کیونکہ وہ لوگوں کی قیل وقال سے خوف زدہ تھے۔

جواب:

جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیںکہ یہ آیہ کریمہ زید بن حارثہ اور ان کی زوجہ جناب زینب بنت جحش کے بارے میں ہے او رہم نے چند صفحے قبل اس بارے میں تفصیل بیان کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام آیت کے سیاق وسباق سے اچھی طرح آگاہ ہیں چنانچہ آپ حضرات اس آیت کے ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی کوئی سرزنش اور ملامت نہیں پاتے۔

تیسری آیت:

( عَفَا اللّٰهُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وتَعْلَمَ الْکَاذِبِیْنَ ) ( ۹۴ )

بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ کلمہ ”عفا الله عنک“ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بخشش اور معاف کرنا گناہ او رخطا کے بعد ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ اس آیہ کریمہ کے معنی اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک اس کے سیاق وسباق کو مد نظر نہ رکھیں کیونکہ ماقبل ومابعد کو سامنے رکھ کر ہی آیت کے اصلی معنی سمجھے جاسکتے ہیں۔

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ یُهْلِکُونَ اٴَنفُسَهُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اٴَذِنتَ لَهُمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ لاَیَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴَنْ یُجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ إِنَّمَا یَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِی رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُونَ وَلَوْ اٴَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاٴَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَکِنْ کَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِیلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِینَ ) ( ۹۵ )

”(اے رسول ) اگر سردست فائدہ اور سفر آسان ہوتا تو یقیناً یہ لوگ تمھارا ساتھ دیتے مگر ان پر مسافت کی مشقت طولانی ہوگئی، اور (اگر پیچھے رہ جانے کی پوچھو گے تو )یہ لوگ فوراً خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں سکت ہوتی تو ہم بھی ضرور تم لوگوں کے ساتھ ہی چل کھڑے ہوتے (یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاکر ) اپنی جان آپ ھلاک کئے ڈالتے ہیں او رخدا تو جانتا ہے کہ یہ لوگ بیشک جھوٹے ہیں ۔(اے رسول ) خدا تم سے درگزر فرمائے تم نے انھیں (پیچھے رہ جانے کی)اجازت ہی کیوں دی تاکہ (تم ایسا نہ کرتے تو) سچ بولنے والے (الگ )ظاہر ہوجاتے اور تم جھوٹوں کو (الگ) معلوم کرلیتے۔ (اے رسول ) جو لوگ (دل سے) خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے جھاد (نہ) کرنے کی اجازت مانگنے کے نہیں (بلکہ وہ خود جائیں گے)

اور خدا پرھیزگاروں سے خوب واقف ہے (پیچھے رہ جانے کی) اجازت تو بس وھی لوگ مانگیں گے جو خدا او رروز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل (طرح طرح کے) شک کررھے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواںڈول ہورھے ہیں (کہ کیاکریں او رکیا نہ کریں)اور اگر یہ لوگ (گھر سے) نکلنے کی ٹھان لیتے تو (کچھ نہ کچھ) سامان تو کرتے مگر (بات یہ ہے ) خد ا نے ان کے ساتھ بھیجنے کو ناپسند کیا تو ان کو کاھل بنادیا اور (گویا) ان سے کہہ دیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے (مکھی) مارتے) رهو۔“

جواب:

قارئین کرام ! ان آیات میں غور وفکر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کلمہ ”عفا الله عنک“ میں گناہ شرعی نہیں ہے یعنی حکم خدا کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان آیات میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ آپ جنگ میں شرکت نہ کرنے والوں کے جھوٹ وسچ کو کن طریقوں سے پہچانےں تاکہ آپ کو اپنے اصحاب میں صادقین وکاذبین کی شناخت ہوجائے، کیونکہ اگر آپ ان لوگوں کی تاخیر میں اجازت نہ دیتے تو جھوٹے اور سچوں کی پہچان ہوجاتی، لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ان لوگوں کو جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت دیدی جو یہ کہہ رھے تھے کہ ہم جنگ میں جانے سے معذور ہیں لہٰذا ان کی سچائی کا ثبوت نہ مل سکا کیونکہ ان میں سے بعض لوگ سچے تھے اور بعض لوگ صرف بھانہ کررھے تھے لیکن ان کے درمیان کوئی پہچان نہ ہوسکی۔

چوتھی آیت:

( وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَهَدیٰ ) ( ۹۶ )

اور چونکہ ضلال عصمت کے مخالف ہے اور گمان کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا کہ جس میں ضلالت وگمراھی پائی جائے گی وہ ذات معصوم نہیں ہوسکتی۔

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ ضلال کے معنی ذھاب اور انصراف کے ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپھلے یہ نہیں جانتے تھے کہ کس طرح خدا کی عبادت کی جائے اور اپنے واجبات کی ادائیگی کرکے کس طرح تقرب الٰھی حاصل کیا جائے تو اس وقت تک خاص معنی میں عبادت نہیں کرتے تھے یھاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کی ہدایت کی اور رسالت اسلام سے سرفراز کیا اور مذکورہ آیت انھیں آیات میں سے ہے جن میں خداوندعالم نے اپنے نبی پر نازل کردہ نعمتوں کو شمار کیا اور اپنی خاص عنایات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے شامل حال رکھیں۔

ارشاد ہوتا ہے:

( اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآویٰ وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَهَدیٰ وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَاَغْنٰی ) ( ۹۷ )

”کیا اس نے تم کو یتیم پاکر (ابوطالب) کی پناہ نہیں دی (ضرور دی) او رتم کواحکام سے ناواقف پایا تو تمھیں منزل مقصود تک پهونچادیا او رتم کو تنگدست پاکر غنی کردیا“

چنانچہ یہ آیات واضح طور پر ہمارے مطلوب ومقصور پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ خداوندعالم نے جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو یتیم پایا تو آپ کو پناہ دی اور پرورش کی اور جب آپ کو تنگدست پایا تو آپ کو غنی کردیا اس کے بعد جب خاص معنی میں عبادت کا طریقہ نہیں آتا تھاتو خداوندعالم نے عبادت خاص کی طرف ہدایت کی۔

پانچویں آیت:

( وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ) ( ۹۸ )

”اور تم سے وہ بوجھ اتاردیا“

جبکہ عرف عام میں”وزر“ کے معنی گناہ کے ہیں۔

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ لغت میں ”وزر“ کے معنی ثقل (بوجھ) کے ہیں اور گناهوں کو اسی وجہ سے ”وزر“ کھا جاتا ہے کیونکہ گناهوں کا انجام دینے والا سنگین ہوجاتا ہے، چنانچہ اس بناپر ہر وہ چیز جو انسان کو بوجھل کردے تو اس کو ”وزر“ کھا جاتا ہے حقیقی ثقل سے شباہت کی وجہ ہے جیسا کہ یہ ذنب سے بھی مشابہ ہے اور ذنب کو بھی ”وزر“کھا جاتا ہے۔

لیکن وہ چیز جو رسول اسلام کو سنگین اور بوجھل کرتی تھی،وہ آپ کی قوم کا شرک وکفر اور آپ کی رسالت کا انکار نیز آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنا تھا لیکن جس دین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلملے کر نازل ہوئے آپ اس کی مسلسل دعوت دیتے رھے جبکہ آپ دشمنوں کے مقابلہ میں کمزور اور ضعیف تھے او رنہ ہی آپ کے ساتھ بہت زیادہ افراد تھے جو اذیت اور شرارت کے وقت ان کا مقابلہ کرتے۔

اور یھی معنی ہیں ”وزر“ کے یعنی ایسی سنگینی جس کے غم والم کی وجہ سے آپ کی کمر ٹوٹی ہوئی تھی،اور شاید اسی معنی میں آیات کاا دامہ بہترین شاہد ہو کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ) ( ۹۹ )

کیونکہ رفع ذکر اور مشکلات کے بعد آسانیوں کا تذکرہ اس صورت میں صحیح ہے جب وزرسے مراد رسول اسلام کی وہ سنگینی مراد لی جائے جو آپ کی قوم میں ہدایت اور اسلام سے بے توجھی کی وجہ سے آپ کے دل میں موجود تھی۔

قارئین کرام ! یہ تھی نبوت بمعنی عام کی گفتگو جو ہدایت بشر اور بہترین نظام زندگی کو سازوسامان بخشنے والی ہے اور یہ تھی بحث ”خاتم النبین“ (ص) کی جو تمام لوگوں کے رسول بناکر بھیجے گئے جو ”شاہد بھی ہیں اور مبشر ونذیر بھی جو خدا کے حکم سے خدا کی طرف دعوت دینے والے سراج منیر بھی ہیں۔ آپ کی ذات گرامی، وہ ہے جن کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهویٰ اِنْ هو الِاَّ وَحْیٌ یُوْحٰی ) ( ۱۰۰ )

” وہ تو اپنی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں یہ تو بس وحی ہے جو بولی جاتی ہے“

آخر کلام میں اس گفتگو کا اختتام اس طرح کرتے ہیں:

( رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِیْنَ ) ( ۱۰۱ ) و( اَلْحَمُدْ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِهٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَو لَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ ) ( ۱۰۲ )

”اے ہمارے پالنے والے جو کچھ تو نے نازل کیا ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول (عیسیٰ (ع)) کی پیروی اختیار کی“ ”شکر ہے اس خدا کا حس نے ہمیں اس (منزل مقصود) تک پهونچایا اور اگر خدا ہمیں یھاں تک نہ پهونچاتا تو ہم کسی طرح یھاں تک نہیں پهونچ سکتے تھے“۔

____________________

[۱] سورہ انعام آیت ۴۸۔

[۲] سورہ نساء آیت ۱۳۶۔

[۳] سورہ حشر آیت ۲۳

[۴] سورہ حشر آیت ۲۴۔

[۵] سورہ حشر آیت ۲۲)

[۶] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳،۱۹۴۔

[۷] سورہ مائدہ آیت ۱۲۰۔

[۸] سورہ ہود آیت ۱۰۷۔

[۹] سورہ یٰس آیت ۸۳۔

[۱۰] سورہ انبیاء آیت ۲۳ ۔

[۱۱] رجوع فرمائیں باب” عدل الٰھی بین جبر واختیار “ پر۔

[۱۲] سورہ بقرہ آیت ۱۲۰۔

[۱۳] سورہ نحل آیت ۶۴۔

[۱۴] براہمہ کے سلسلہ میں امام غزالی نے اپنی کتاب ”المنخول“ ص ۱۳ میں وضاحت کی ہے اس سلسلہ میں ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی کی کتاب ”مذاھب الاسلامیین“ جلد اول ص ۷۴۶ پر بھی توجہ کرسکتے ہیں۔

[۱۵] سورہ آل عمران آیت ۱۶۴۔

[۱۶] سورہ نحل آیت ۸۹۔

[۱۷] سوره بقره آیت ۱۲۴

[۱۸] سورہ ص آیت۲۶۔

[۱۹] سورہ صافات آیت۱۸۱۔

[۲۰] سورہ احزاب آیت۳۹۔

[۲۱] سورہ بقرہ آیت ۲۱۳۔

[۲۲] سورہ مائدہ آیت ۶۷۔

[۲۳] سورہ انفال آیت ۶۴۔

[۲۴] مجمع البحرین ، علامہ طریحی جلد اول ص ۴۰۵ ،مطبوعہ نجف اشرف ۱۳۷۸ھ۔

[۲۵] مجمع البحرین ، علامہ طریحی جلد اول ص ۴۰۵ ،مطبوعہ نجف اشرف ۱۳۷۸ھ۔

[۲۶] یعنی اگر مریض کو شفا دینے کا دعویٰ کرے تو مریض شفایاب ہوجائے ایسا نہ ہو کہ شفا دینے کا دعویٰ کرے اور وہ مرض زیادہ ہوجائے یا مریض کا جنازہ نکل جائے، مترجم)

[۲۷] سورہ رعد آیت ۳۸، وسورہ غافر آیت ۷۸ ۔

[۲۸] سورہ یوسف آیت ۱۱۱۔

[۲۹] سورہ حاقہ آیت ۴۴ تا ۴۶۔

[۳۰] سورہ یونس آیات ۳۷ تا ۳۸۔

[۳۱] سورہ سباء آیت ۲۸۔

[۳۲] سورہ انبیاء آیت ۱۰۷۔

[۳۳] سورہ اعراف آیت ۱۵۸۔

[۳۴] سورہ انعام آیت ۱۹۔

[۳۵] سورہ حج آیت ۴۹۔

[۳۶] سورہ اعراف آیت ۵۹۔

[۳۷] سورہ اعراف آیت ۷۳۔

[۳۸] سورہ زخرف آیت ۴۶۔

[۳۹] سورہ صف آیت ۶۔

[۴۰] المنخول غزالی ص ۲۸۸۔

[۴۱] سورہ بقرہ آیت ۱۲۰۔

[۴۲] سورہ آل عمران آیت ۸۵۔

[۴۳] سورہ اسراء آیت۵۹۔

[۴۴] البیان فی تفسیر القرآن جلد اول ص ۷۶تا۷۹۔

[۴۵] سورہ انفال آیت ۳۳۔

[۴۶] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[۴۷] المعجزة الخالدة ص ۲۱۔

[۴۸] سورہ یوسف آیت۸۰۔

[۴۹] سورہ حج آیت ۷۳۔

[۵۰] سورہ انبیاء آیت ۲۲۔

[۵۱] سورہ ہود آیت۴۴۔

[۵۲] سورہ اسراء آیت۸۸۔

[۵۳] سورہ آل عمران آیت ۴۱۔

[۵۴] سورہ مریم آیت ۱۰۔

[۵۵] سورہ حاقہ آیت ۷۔

[۵۶] سورہ ہود آیت۶۵۔

[۵۷] سورہ لیل آیت۱۔

[۵۸] سورہ حاقہ آیت ۷۔

[۵۹] سورہ بقرہ آیت ۵۱۔

[۶۰] سورہ نساء آیت ۸۲۔

[۶۱] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[۶۲] سورہ انعام آیت ۱۲۵۔

[۶۳] اللہ یتجلی فی عصر العلم ص ۱۶۶۔

[۶۴] سورہ حجر آیت ۲۲۔

[۶۵] طریقہ زاد ولد درخت۔

[۶۶] القرآن الکریم والعلوم الحدیثہ ۸۱۔۸۵۔

[۶۷] سورہ قیامت آیت ۷تا ۱۰۔

[۶۸] سورہ نحل آیت ۶۸۔

[۶۹] القرآن الکریم والعلوم الحدیثہ ص ۱۹تا ۲۱۔

[۷۰] سورہ حج آیت ۵۔

[۷۱] القرآن الکریم والعلوم الحدیثہ ص ۸۲تا ۸۳۔

[۷۲] سورہ بقرہ آیت ۲۲۲۔

[۷۳] الاسلام والطب والحدیث ص ۴۰۔

[۷۴] سورہ واقعہ آیت ۷۵تا ۷۶۔

[۷۵] اللہ یتجلی فی عصر العلم ص ۱۶۶۔

[۷۶] سورہ حجر آیت ۱۹۔

[۷۷] البیان جلد اول ص ۵۴۔

[۷۸] سورہ اسراء آیت ۹۔

[۷۹] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[۸۰] سورہ فرقان آیت ۷۔

[۸۱] سورہ اسراء آیت ۹۳۔

[۸۲] ام المومنین جناب عائشہ راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جناب خدیجہ سے جس قدر محبت کیا کرتے تھے کسی بھی بیوی سے اس قدر محبت نہیں کرتے تھے اگرچہ میں نے ان کو نہیں دیکھا، لیکن اس بات کا اندازہ میں نے اس بات سے کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمجناب خدیجہ کا کثرت سے ذکرکیا کرتے تھے، اور جب کبھی آپ گوسفند ذبح کرتے تھے توجناب خدیجہ کی چاہنے والیوں کو بھیج دیتے تھے۔ اسی طرح جناب عائشہ کا بیان ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمگھر سے باھر نکلتے تھے تو جناب خدیجہ کا تذکرہ اور ان کی مدح وثنا کیا کرتے تھے ، جب ایک روز آپ نے اسی طرح جناب خدیجہ کا ذکر کیا تو میں نے آنحضرت سے عرض کیا: ”آپ کیوں اس قدر خدیجہ کا ذکر کرتے ہیں درحالیکہ وہ تو ایک بوڑھی عورت تھی، جبکہ خداوندعالم نے آپ کو ان سے اچھی بیوی عطا کردی ہے“ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمبہت غضبناک ہوئے، غضب کی وجہ سے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ،اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: ”خدا کی قسم اللہ نے مجھے ان سے اچھی زوجہ نہیں دی !!کیونکہ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیںجب لوگوں نے میرا انکار کیا اور انھوں نے میری اس وقت تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، انھوں نے اپنے مال میں مجھ سے اس وقت مساوات کی جب لوگوں نے میری ناکہ بندی کررکھی تھی، خداوندعالم نے ان سے مجھے اولاد عطا کی جب مجھے ”لاولد“کہہ کر طعنہ دیا جاتا تھا“ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ باتیں سن کر میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کرلیا کہ اب کبھی جناب خدیجہ کو اس طرح برا نہ کهوں گی۔ (مزید تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں: نھایة الارب ج۱۸ ص۱۷۲)

[۸۳] مورخین کے درمیان مشهور یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی چار بیٹی تھیں: ۱۔زینب۔ ۲۔ رقیہ۔ ۳۔ام کلثوم۔ ۴۔ فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیھا)

لیکن اگر کوئی تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھے تو اپنے کو اس شھر ت کا مخالف پائے گا، اور اس بات کا یقین کرے گا کہ جناب فاطمہ زھرا = کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی کوئی بیٹی نہ تھی، چنانچہ ہم یھاں پر مختصر طور پر ایک اشارہ کرتے ہیں:

الف: جناب زینب:

بعض مورخین کا بیان ہے کہ جب جناب زینب کی ولادت ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عمر ۳۰/ سال تھی (استیعاب ج۴ص ۲۹۲، اسد الغابہ ج۵ص۴۶۷، نھایة الارب ج۸ص ۲۱۱)

زینب کی شادی ابو العاص بن ربیع بن عبد العزی بن عبد شمس سے ہوئی، اور یہ اس کی خالہ کا لڑکا تھا چنانچہ زینب کے دو بچے تھے ایک علی جو بچپن میں مرگیا دوسرے امامة۔

زینب نے اپنی ماں کے ساتھ اسلام قبول کیا لیکن چونکہ ان کے شوھر نے اسلام قبول نہ کیا لہٰذا ان دونوں میں جدائی ہوگئی، (کیونکہ میاں بیوی میں سے اگر کوئی ایک کافر ہو تو اسلام ان دونوں میں جدائی کا حکم صادر کردیتا ہے) لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمدونوں کی جدائی کو عملی نہیں بناسکے، لہٰذا وہ رسول اسلام کے گھر میں اسلام پر باقی رھی اور ان کا شوھر اپنے شرک پر باقی رھا (ملاحظہ فرمائیں گذشتہ حوالے نیز تاریخ طبری ج ۲ ص۶۶۷، طبقات ابن سعد ج۸ص ۲۴، اسد الغابہ ج ۵ ص ۴۶۷، نھایة الارب ج۱۸ص ۲۱۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے جیسا کہ روایات بھی اس بات کی طرف اشارہ کررھی ہے کہ جناب زینب کی عمر بعثت پیغمبر کے وقت دس سال تھی تو کیا یہ ممکن ہے کہ دس سال کی عمر میں شادی بھی ہوجائے اور دوبچوں کی ولادت بھی؟! اور اگر یہ مان لیں کہ شادی سات یا آٹھ سال کی عمر میں ہوئی تو پھر زینب جناب خدیجہ کے پہلے شوھر ابوھالہ کی لڑکی تھی (نہ کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی) (رجوع کریں نھایة الارب ج۱۸ ص۱۷۱)

ب: رقیہ:

ج: ام کلثوم:

جیسا کہ بعض مورخین نے نقل کیا ہے کہ رقیہ کی جب ولادت ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی عمر شریف ۳۳سال تھی اور ام کلثوم اس سے چھوٹی تھی۔ (الاستیعاب ج۴ ص ۲۹۲، نھایة الارب ج۱۸ص ۲۱۲) اور اس بات پر مورخین کا اتفاق ہے کہ ان دونوں کی شادی بعثت سے قبل عتبہ اور عتیبہ (فرزندان ابی لھب بن عبد المطلب) سے ہوئی، اور یہ دونوں اپنے ماں کے ساتھ اول بعثت میں اسلام لائیں(طبقات ابن سعد ج۸ ص ۲۴،۲۵)

اور جب رسول اسلام نے اعلان رسالت کیا تو ابولھب نے اپنے دونوں لڑکوں کو طلاق کا حکم دیدیا، چنانچہ انھوں نے دونوں کو طلاق دیدی، اس کے بعد جناب رقیہ سے جناب عثمان نے شادی کی اور جب کفار ومشرکین نے مسلمانو ںکو پریشان کرنا شروع کیا تو جناب رقیہ نے دیگر مھاجرین کے ساتھ ہجرت کی۔

(تاریخ طبری ج۲ ص ۳۳۰، ۳۳۱، وص ۳۴۰، نھایة الارب ج۱۸ ص ۲۱۲، الاصابہ ج۴ص۲۹۷)

ہم کہتے ہیں کہ جناب رقیہ کے لئے کیسے ممکن ہے کہ سات سال ہونے سے پہلے ہی شادی کرلیں اور طلاق بھی ہوجائے اور ان کی بہن ام کلثوم بھی جو اُن سے ایک سال چھوٹی تھی شادی بھی کرلیں اور طلاق بھی ہوجائے۔

[۸۴] طبقات ابن سعد ج۸ ص ۵۶تا ۵۷۔

[۸۵] سورہ احزاب آیت ۵۶۔

[۸۶] سورہ احزاب آیت ۳۶۔

[۸۷] سورہ احزاب آیت ۳۷۔

[۸۸] سورہ احزاب آیت۳۷۔

[۸۹] سورہ احزاب آیت ۵۰۔

[۹۰] ”مذاھب الاسلامین “ تالیف ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی جلد اول ص ۴۷۸، اسی طرح امام غزالی کی کتاب ”المنخول“ پر رجوع فرمائیں، جیسا کہ مولف کہتے ہیں: ”انبیاء (ع) کے لئے عصمت کا قائل ہونا ضروری نہیں ہے“ اس کے بعد اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم تو یہ بات بھی جائز جانتے ہیں کہ خدا کسی کافر کو نبی بنائے اور اس کو معجزہ عطا کرے“ اسی طرح مذکورہ کتاب کے محقق نے اس بات پر حاشیہ لگایا اور کھا: اس سلسلہ میں رافضی مخالف ہیں کیونکہ وہ انبیاء (ع) کو معصیت اور گناہ سے پاک وپاکیزہ مانتے ہیں اسی طرح معتزلہ کا بھی عقیدہ ہے مگر یہ لوگ انبیاء (ع) کے لئے گناہ صغیرہ کو جائز مانتے ہیں۔“

[۹۱] سورہ فتح آیت۲۔

[۹۲] سورہ فتح آیت۱،۲۔

[۹۳] سورہ احزاب آیت ۳۷۔

[۹۴] سورہ توبہ آیت ۴۳۔

[۹۵] سورہ توبہ آیات ۴۲ تا ۴۶۔

[۹۶] سورہ والضحیٰ آیت ۷۔

[۹۷] سورہ والضحیٰ آیت ۶ تا ۸۔

[۹۸] سورہ شرح آیت۲۔

[۹۹] سورہ انشراح آیت ۵،۶۔

[۱۰۰] سورہ نجم آیت ۳تا ۴۔

[۱۰۱] سورہ آل عمران آیت۵۳۔

[۱۰۲] سورہ اعراف آیت ۴۳۔


امامت

مقدمہ

قارئین کرام ! ”امامت“ کے موضوع پر بہت زیادہ بحث وگفتگو ہوئی ہے یھاں کہ اس سلسلہ میں ہزاروں کتابیں لکھیں جاچکی ہیں۔

اورمتعدد مو لفین نے اس سلسلہ میں بہت سی فروعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے چنانچہ بعض مو لفین نے کچھ پھلووں پر گفتگو کی ہے تو بعض دیگر مو لفین نے دوسرے پہلو پرروشنی ڈالی ہے، کیونکہ بعض مو لفین نے بحث امامت کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا او ربعض دیگر مو لفین نے امامت کو حدیث کی روشنی میں، تو بعض مو لفین نے امامت کو علم کلام کی روشنی میں بیان کیا تو کسی نے تاریخ کی روشنی میں اور کسی نے امامت کی بحث کو وقت وفات النبی سقیفہ کے حدود میں بیان کیا ہے تو بعض لوگوں نے ائمہ (ع) کی سوانح حیات اور ان کی تاریخ بیان کی ہے، چنانچہ آج تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری وساری ہے۔

چونکہ اس سلسلہ میں لکھی گئی کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی بعض لوگوں نے تعصب اور خود غرضی کے تحت اس موضوع کی حقیقت ہی کو بیان نہیں کیا، لہٰذا بہت سی کتابیں اسی تعصب اور کج فکری سے بھری پڑی ہیں چنانچہ اسی تعصب کا نتیجہ ہے کہ ان کتابوں میں ایسے مسائل بیان کئے گئے ہیں جن کو عقل ومنطق قبول نہیں کرتی۔

یھی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے بحث امامت کو اس طرح پیش کیا ہے جس میں ہوا پرستی اور خیالی تصورات کے علاوہ کچھ نہیں پایا جاتا اور ان میں نہ تو امامت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور نا ہی ایسے نکات کو بیان کیا گیا جو بین المسلمین متفق علیہ ہوں،جبکہ ان نظریات کا سبب صرف یھی کتابیں ہیں جو اصل موضوع سے خارج ہیں۔

لہٰذا اب ہم صاف طور پر بیان کرتے ہیں :

”ہم چونکہ آج امامت کی بحث کرنا چاہتے ہیں جبکہ ”سقیفہ“ کو چودہ صدیاں گذر گئیں ہیں پس یہ کیوں کھا جاتا ہے کہ ہم اختلاف کررھے ہیں اور جب اختلاف کرتے ہیں (جیسا کہ بحث کرنے والوں کا وطیرہ رھا ہے) تو ہم پر تعصب اور زیادہ روی کی تہمت کیوں لگائی جاتی ہے ؟! جبکہ اختلاف رائے سے کسی واقعہ کی حقیقت نہیں بدلتی۔“

تو کیا اس موضوع کے بارے میں ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے معاصر انسان مطمئن ہوجائے اور اپنے دل میں موجودہ شبھات کا حل تلاش کرلے؟۔

یا اس سلسلہ میں کچھ ایسے موارد ہیں جن کی وجہ سے انسان دھوکا کھاجاتا ہے یا جن کی وجہ سے نوع بشر کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے؟

آج دنیا بھر کے تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ آج ہمارے سامنے کوئی امام حاضر نہیں ہے ، جو ان میں اختلاف کا باعث ہو مثلاً بعض لوگ اس کی بیعت کریں او ربعض اس کی بیعت سے انکار کردیں، اور اسی وجہ سے ایسا کوئی جھگڑا نہیں ہے جس سے انسان ڈرے یا اس سلسلہ میں کچھ کہنے والا کسی سے خوف کھاجائے۔

شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو:

”جب باتیں کچھ اس طرح ہیں تو اس گفتگو ، بحث او رجد جہدکا کیا فائدہ“؟

جواب:

ہم اس سلسلہ میں اسلام کا حقیقی نظریہ پیش کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو نظام زندگی ہے اور ہم اس اہم اور خطرناک موضوع کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کا صاف اور واضح جواب پیش کریں، چنانچہ اس سلسلہ میں چند اہم سوال اس طرح ہیں:

۱ ۔اسلام کی نظر میں ”امامت“ کے کیا معنی ہیں؟

۲ ۔کیا”امامت“ ضروری ہے اگر ضروری ہے تو کیسے؟

۳ ۔کیا واضح طور پر کسی کو منصب ”امامت“ پر منصوب کیا گیا ہے یا انتخاب پر چھوڑ دیا گیا ہے؟

۴ ۔کیا ”امامت“ منصوص ہے؟ ٹیوقراطی ہے" Theocratic "،یاڈکٹاٹوری " Dictaorship " یاڈیموکراٹک " Democratic " ہے ؟

ان سوالات کے علاوہ اور دیگر پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں حقیقت کو واضح کرنے کے لئے عمیق بحث کی ضرورت ہے تاکہ اس اہم مسئلہ میں اسلامی نظریہ واضح ہوجائے۔

چنانچہ ہم اس باب میں ایسی روش اختیار کریں گے جس سے ہمارے قارئین کرام اسلامی فرقوں میں موجودہ نظریات میں سے صحیح نظریہ کا انتخاب کرلیں، اور ادھر اُدھر نہ بھٹکنے پائیں۔

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وفات کے بعد کے حالات سے بعض مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پهونچ سکتی ہے لہٰذا ہم ان کو بیان نہیں کریں گے۔

ہماری ساری امید خداوندعالم کی ذات ہے کیونکہ وھی ہماری مدد کرنے والا ہے اور ہمارے لڑکھڑاتے ہوئے قدم میں ثبات پیدا کرنے والا ہے اور وھی مذکورہ باتوں کے بیان کرنے میں نصرت ومدد کرنے والا ہے خداوند ! ہمارے قلم کو سهو وخطا سے محفوظ رکھ اور ہمیں اس راستہ پر چلا جس میں تیری مرضی ہو، او رہمارا قول وفعل تیری مرضی کے مطابق ہو، انہ خیر مسدد وموفق ومعین۔

وآخر دعواناان الحمد لله رب العالمین ۔

امامت کے عام معنی

امام کے معنی اپنی قوم کے آگے چلنے والے رھبر اور مقتدیٰ کے ہیں (جیسا کہ عربی لغت میں آیا ہے)۔( ۱ )

لہٰذا امامت کے معنی قیادت اورریاست کے ہیں، اسی وجہ سے نماز پڑھانے والے کو بھی امام کھا جاتا ہے کیونکہ وہ دوسروں سے آگے ہوتا ہے۔

چنانچہ قرآن مجید میں اسی لغوی معنی کو استعمال کیا گیا ہے؛ ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامَا ) ( ۲ )

”خدا نے فرمایا کہ میں تم کو (لوگوں کا) پیشوا (امام) بنانے والا ہوں“

( وَمِنْ قَبْلِهِ کِتَابُ مُوْسٰی اِمَاماً وَرَحْمَةً ) ( ۳ )

(اور اس سے قبل جناب موسیٰ کی کتاب (توریت) جو لوگوں کے لئے پیشوا اور رحمت تھی“

( وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَاماً ) ( ۴ )

”اور ہم کو پرھیزگاروں کا پیشوا بنا“

( یَوْمَ نَدْعُوْ کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ ) ( ۵ )

”اس دن کو یاد کرو جب ہم تمام لوگوں کو ان کے پیشواو ں کے ساتھ بلائیں گے۔“

اسی طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ پر لفظ ”امام“ استعمال ہوا ہے۔

معنی خلیفہ: جیسا کہ عربی لغت بیان کرتی ہے : امیر، سلطان اعظم او راپنے سے ماقبل کے جانشین کو خلیفہ کھا جاتا ہے۔( ۶ )

لہٰذا خلافت کے معنی امارت، سلطنت اور کسی کے قائم مقام کے ہیں۔

اور اسی معنی میں قرآن مجید میں لفظ ”خلیفہ“ ، ”خلائف“ اور” خلفاء“ استعمال ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

( اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَةً ) ( ۷ )

”میں (اپنا) ایک نائب زمین میں بنانے والا ہوں“

( یَادَاو دَ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ ) ( ۸ )

”اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں (اپنا) نائب قرار دیا“

( هوالَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاٰئِفَ الْاَرْضِ ) ( ۹ )

”اور وھی تو وہ (خدا) ہے جس نے زمین میں (اپنا) نائب بنایا“

( وَاذْکرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ ) ( ۱۰ )

”اور (وہ وقت) یاد کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد خلیفہ (وجانشین) بنایا“

قارئین کرام ! ان کے علاوہ بھی دوسرے مقامات پر ان الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔

چنانچہ علماء اھل لغت لفظ ”امامت“ او ر”خلافت“ کے مذکورہ معانی پر متفق ہیں لیکن علماء کلام نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے کہ ان دونوں الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں یا ان کے الگ الگ معنی ہیں۔

چنانچہ بعض لوگوں نے امامت کی اس طرح تعریف کی ہے:

”امامت، نبی کی اس خلافت کو کہتے ہیں جس میں دین اور نظام دنیا کی محافظت کی جاتی ہے۔“( ۱۱ )

خلافت کے بارے میں ابن خلدون صاحب کہتے ہیں:

”خلافت کو تمام مسلمان شرعی طور پر آپس میں طے کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی مشکلات کا حل تلاش کیا جاسکے۔“( ۱۲ )

اور اسی بات کی تاکید کرتے ہوئے موصوف کہتے ہیں:

”خلافت وہ دینی منصب ہے جو امامتِ کبریٰ کے تحت ہوتا ہے“( ۱۳ )

ایک صاحب نے اس طرح ان دونوں (خلافت وامامت) میں رابطہ بیان کرتے ہوئے کھا:

”خلافت امامت کبریٰ ہے او رامامت نماز ؛ امامت ِ صغریٰ ہے۔“( ۱۴ )

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ دونوں لفظ ایک ہی مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور شاید ”ریاست“ و ”قیادت“ مذکورہ معنی میں سب سے جامع معنی ہوں جن پر ان دونوں الفاظ کے معنی متفق ہیں۔

لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ قیادت وریاست میدان عمل میں کس طرح وقوع پذیر ہوئی تو ہم اس سلسلہ میں واضح فرق دیکھتے ہیں او رایک متکلم دوسرے متکلم سے الگ نظریہ پیش کرتا ہے اور اس طرح سے ان دونوں الفاظ کے معنی کرتا ہے کہ ان دونوں میں بہت زیادہ فرق دکھائی دیتا ہے۔

لہٰذا طے یہ ہوا کہ امامت کے معنی دینی ریاست کے ہیں جیسا کہ دینی نصوص بھی اس معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور خلافت کے معنی حکومت کی ریاست کے ہیں جیسا کہ اس بات پر بھی نصوصِ دینی اشارہ کرتی ہیں۔

چنانچہ شیعہ وسنی محققین کے نزدیک ”امام“ صاحب حقِّ شرعی کو کھا جاتا ہے جبکہ خلیفہ ؛ صاحبِ سلطنت کو کھا جاتا ہے۔( ۱۵ ) چنانچہ اس لحاظ سے حضرت ابوبکر کی خلافت، سلطنتِ حکومت تھی ، دینی سلطنت نھیں۔( ۱۶ )

اسی وجہ سے ان دونوں الفاظ کے لئے ایک خاص میدان اور معین دائرہ ہے۔

اس اختلاف کے باوجود ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ یہ دونوں منصب ایک شخص میں جمع ہونے چاہئےں جیسا کہ مذکورہ نصوص سے بھی یھی نتیجہ نکلتا ہے کیونکہ اسلامی نظریہ کے مطابق دین وسیاست (حکومت) میں جدائی نہیں ہے۔

اور جیسا کہ یورپی ممالک سے یہ نظریہ ( دین کا سیاست جدا ہونا) ہم تک پهونچا ہے اور بعض حکومتوں میں ”چرچ “ (گرجا گھر) لوگوں کے عام امور میں دخالت کرتا ہے کیونکہ عیسائی نظام ؛حکومت اور روش حکم کو قبول نہیں کرتی، لیکن ہم مسلمانوں کے لئے شعار کو قبول کرنے میں کوئی بھی عذر نہیں ہے کیونکہ ہمارا دین در حقیقت، رسالت دین اور نظام حکومت ہے۔( ۱۷ )

لہٰذا ضروری ہے کہ دین وحکومت کی ریاست ایک ہی شخص میں جمع ہوں کیونکہ اگر دونوں جداجدا ہوں تو پھر نہ ہی نظام دین چل سکتا ہے او رنہ ہی نظام حکومت۔

لیکن مسلمانوں کے درمیان بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کا ماننا یہ ہے کہ امامت جدا ہے ، اور خلافت جدا، اور اس نظریہ کے لئے مسلمانوں کی تاریخ عملی کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ مسلمانوں میں امامت ،خلافت سے جدا رھی ہے اور مرجع دینی رئیسِ حکومت کے علاوہ رھا ہے کیونکہ یزید بن معاویہ جو خلیفہ تھا لیکن مسلمانوں کا امام نہیں تھا او رنہ ہی مسلمان، دینی مسائل اور عقائد میں اس کی طرف رجوع کرتے تھے۔

قارئین کرام ! شیعوں کی نظر میں” امامت“ رسالت کا ایسا جز ہے جس کے ذریعہ رسالت کامل ہوتی ہے او راس کا وجود جاری وساری رہتا ہے، چنانچہ عقل بھی اس بات کا حکم کرتی ہے کیونکہ امامت لطف ہے او رھر لطف خداپر واجب ہے جیسا کہ علم کلام میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

امامت لطف کیوں ہے؟ تو اس کے جواب میں یہ عرض کیا جائے گاکہ چونکہ لطف اس شی کا نام ہے جس کے ذریعہ سے انسان خدا کی اطاعت سے قریب، اس کی نافرمانی سے دوراور راہ حق پر گامزن رہتا ہے او رحقیقت بھی یھی ہے کہ امامت کے ذریعہ مذکورہ معنی متحقق ہوتے ہیں (یعنی انسان امامت کے ذریعہ خدا کی اطاعت سے قریب اور اس کی نافرمانی سے دور ہوتا ہے)جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ اگر مبسوط الید (صاحب طاقت وقدرت) قائد جس کی لوگ اطاعت کریں تو وہ ظالم کو نابود کرنے والا، مظلوم کے ساتھ انصاف کرنے والا اور لوگوں کے امور کو اخلاص وایمان کے ذریعہ منظم کرنے والا نیز لوگوں کو ہوا وهوس او رانانیت سے باھر نکالنے والا ہوتا ہے جن کے ذریعہ سے انسان خدا کی اطاعت سے قریب، معصیت وبرائی سے دور اور اس راہ پر گامزن ہوجاتا ہے جس کو خداوندعالم نے پسندکیا ہے، اور یھی معنی ہیں ”لطف“ کے جس کو ہم نے ابھی بیان کیا ہے۔

چنانچہ اس سلسلہ میں مزید گفتگو کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قدیم زمانے سے آج تک تمام قوم وقبیلہ کا ایک رئیس اور سردار رھا ہے جس کے ذریعہ اس قوم کے مسائل حل ہوتے ہیں اور اپنے لئے دستور وقوانین معین کئے جاتے ہیں چنانچہ آج کا سماج بھی رئیس اور حکومت کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے کہ کوئی ایسی حکومت ہو جو انسانی زندگی کے تمام امور مثلاً: سیاست، اقتصاد، عدالت، تربیت اور لشکری امور کو بہترین طریقہ سے انجام دے۔

چنانچہ اسلام کی نظر میں حکومت کی ریاست کے لئے وسیع نظر ہے اس لحاظ سے کہ دین او ردنیا دونوں امور میں اسی کا حکم نافذ ہونا چاہئے وہ امور جن کو شریعت اسلام نے پیش کیا ہے جن میں اسلامی مناطق میں تمام طور وطریقہ کو بیان کیا گیا ہے،چاھے وہ انسان کا خدا سے رابطہ ہو یا انسان کی اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ ہو۔

او رچونکہ انسانی سماج کے قوانین انسان کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور زمان ومکان کے لحاظ سے قابل تبدیل ہوتے ہیں لیکن اسلام کا قانون ایسا نہیں ہے کیونکہ آسمانی دین میں تغییر وتبدیلی نہیں ہوتی، لیکن دین اسلام کے مکمل اور کامل ہونے کے ساتھ ساتھ بعض بنیادی اصول میں نصوص بہت زیادہ واضح نہیں ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ مکمل طریقہ سے ان مسائل کی تشریح اور وضاحت کی جائے۔۔

قارئین کرام ! جو دلیل نبوت کی ضرورت پر دلالت کرتی ہے وھی دلیل امامت کی ضرورت پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ نبوت کا وجود بغیر امامت کے نامکمل ہوتا ہے او راگر امامت کو نبوت سے جدا مان لیا جائے تو یہ حقیقت اسلام کے منافی ہے کیونکہ رسالت کا قیامت تک باقی رہنا ضروری ہے، پس: زندگی کا آغازنبوت ہے ۔ اور امامت اس حیات کا برقرار رکھنا ہے۔

اگر ہم امامت کو چھوڑ کر صرف نبوت کی بات کریں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نبوت ورسالت کا زمانہ معین ہے اور رسول کی حیات کے بعد باقی نہیں رہ سکتی او راپنے اہداف کی تکمیل اور استمرار کے لئے کسی وصی کو بھی معین نہیں کرسکتی (جب تک خدا کی مرضی نہ ہو )

اور چونکہ اسلام کا ہدف ومقصد ایک ایسی حکومت ہے جو تمام انسانوں کو ، اختلاف ِ وطن و رنگ کے باوجود ایک پلیٹ فارم پر جمع کردے، لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام اس ہدف کی خاطر رسول جیسی زندگی رکھنے والے شخص کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وفات کے بعد قیادت اور رھبری کا انتظام کرے۔

خلاصہ گفتگو:

در حقیقت منصب امامت، معنی نبوت کوکامل کرنے والا ہے او رنبی کا وجود بغیر امامت کے عملی طور پر مکمل نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح نبوت ضروری ہے اسی طرح امامت بھی ضروری ہے، جس طرح خدا پر نبوت واجب ہے اسی طرح امامت بھی واجب ہے اور اس کے لئے بہترین سند اور بہترین دلیل درج ذیل مشهور ومعروف حدیث رسول ہے:

”من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتةالجاھلیة“

(جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے تو اس کی موت جاھلیت کی موت ہوتی ہے)

اور جب امامت کا ہونا ضروری ہے تو کیا اسلام نے مسلمانوں کو اس چیز کا اختیار دیا ہے کہ وہ اس امام کا انتخاب کریں جو اس عظیم اور اہم ذمہ داری کو سنبھالے یا منصب امامت کا انتخاب الٰھی نصوص کے ذریعہ ہوتا ہے اور نبی کے ذریعہ معین کیا جاتا ہے۔

چنانچہ شیعہ او راکثر معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ امام کے لئے ضروری ہے کہ اس کو خود نبی منصوب کرے اور نبی بذات خود اس کو معین کرے ۔

جس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں:

چونکہ امامت، نبوت کا استمرار ہے لہٰذا اس میں بھی نبوت کی طرح تعین خاص کی ضرورت ہے جس سے یہ کشف ہوجائے کہ خداوندعالم نے اس منصب کو اختیار کیا ہے اور خدا اس سے راضی ہے۔

پس جس طرح نبوت بھی انتخاب اور شوریٰ سے نہیں ہوسکتی اسی طرح امامت بھی شوریٰ کے انتخاب سے نہیں ہوسکتی۔

اور یھی وہ راستہ ہے جو امامت وامام کے مسئلہ میں ثابت اور معین ہے لیکن دوسرے اسلامی فرقوں نے اس سلسلہ میں کوئی خاص راستہ نہیں اپنایا۔( ۱۸ )

بلکہ کہتے ہیں جو شخص بھی امامت کا متولی ہوگیا او راپنے کو امام تصور کرنے لگا تو وہ امام ہے چاھے اس متولی کو انتخاب کے ذریعہ بنایا گیا ہو جیسے ابوبکر ،عثمان، حضرت علی (ع) اور امام حسن (ع) کے لئے ہوا، اور تاریخ اسلام میں ان کے علاوہ کسی کا انتخاب نہیں ہوا ، یا اپنے سے ما قبل نے ان کے بارے میں وصیت کی ہو جیسا کہ عمر بن خطاب اور اکثر خلفائے اموی، عباسی اور عثمانی کے لئے ہوا ہے یا چاھے طاقت کے بل بوتہ کی بنا پر ہو جیسے معاویہ بن ابی سفیان اور ابو عباس السفاح نے کیا ہے۔

چنانچہ شیعہ حضرات تعین امام کے بارے میں نص کی ضرورت پر اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ ارشاد قدرت ہے:

( وَرَبُّکَ یَخْلُق مَا یَشَاءُ وَیَخْتَارُ مَاکَانَ لَهُمُ الْخَیَرَةَ ) ( ۱۹ )

”اور تمھارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور( جسے چاہتا ہے) منتخب کرتا ہے ۔“

کیونکہ یہ آیت واضح الفاظ میں دلالت کرتی ہے کہ دین وشریعت کے محافظ ونگھبان کی ذمہ داری خداوندعالم پر ہے، بندوں کو اس سلسلہ میں ذرابھی اختیار نہیں دیا، اور اس موضوع میں فقط وفقط خداوندعالم ہی کو اختیار ہے۔

لیکن بعض لوگوں نے اس استدلال پر اعتراض کیا کہ اس آیت میں جس اختیار کی طرف اشارہ کیاگیاھے وہ صرف نبوت سے مخصوص ہے او راگر امامت کے بارے میں بھی کوئی یھی کھے تو اس کا یہ قول قابل قبول نہیں ہے۔

لیکن جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ مذکورہ آیت کے صدر وذیل میں کوئی ایسا اشارہ نہیں ہے جس میں اختیار کو انبیاء (ع) سے مخصوص کردیا جائے بلکہ آیت مطلق اختیار کی بات کررھی ہے اور کسی بھی طرح کی کوئی قید او رتاویل کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، اور جیسا کہ ہم نے کھا کہ امامت وھی نبوت کا استمرار ہے، اور امامت، رسالت کومکمل کرنے والی ہے لہٰذا جب نبوت کے اختیار کا حق صرف خدا کو ہے توپھر امامت میں بھی اختیار صرف خداوندعالم کی ذات ہی کو ہونا چاہئے۔

اور حق بات تو یہ ہے کہ اگر روایات واحادیث کے ذریعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وصیت بھی ثابت نہ ہو تو صرف عقل ہی اس وصیت کو ثابت کرنے کا حکم کرتی ہے کیونکہ ہم میں سے کوئی ایک بھی اس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ اگر موت قریب ہے تو اگرچہ مال ودولت اور اولاد کم ہو ، کہ ان کے بارے میں وصیت نہ کریں بلکہ ہر انسان ایسے موقع پر کسی کو اپنا وصی بناتا ہے تاکہ وہ اس کے بعد اس کی اولاد اور مال ودولت کا خیال رکھے۔

تو کیا پھر وہ نبی اعظم جو اتنی عظیم میراث (اسلام) کو چھوڑکر جارھا ہو تو کیا وہ اپنی اس میراث کا کسی کو وصی نہیں بنائے گا، تاکہ وہ اس کی محافظت کرے اور اس میں صحیح طریقہ سے تصرف کرسکے۔؟!

حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وفات کے وقت موجود ہ قرائن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے وصیت فرمائی اور اپنی میراث کو لاوارث نہیں چھوڑا تاکہ وہ زمانہ کے حوادث وبلاء میں گرفتار نہ ہوجائے۔

وہ اسلام جس نے دنیا کے تمام مسائل میں احکام وقواعد معین کئے ہیں انسان کی زندگی کے ہر پہلو پر نظر رکھی ہو؛ خرید وفروخت ہو یا حوالہ وکفالہ، اجارہ ووکالت ہو یا مزارعہ ومساقاة، قرض ورہن ہو یا نکاح وطلاق، صید وذباحہ ہو یا اطعمہ واشربہ اور چاھے حدود ودیات ہو یا دیگر مسائل ، جب ان سب کو بیان کردیا تو کیا وہ اس اہم مسئلہ امامت کو نہیں بیان کرے گا؟!

کیونکہ مسئلہ امامت اتنااہم ہے جس کے ذریعہ امت اسلامی کی قیادت او ررھبری ہوتی ہے اور جس چیز کا آغاز خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا ہے اس کو پایہ تکمیل تک پهونچانا ہے۔

وہ اسلام جو اپنے احکام میں عدالت ومساوات او رمسلمانوں کے لئے اطمینان کا خیال رکھتا ہے جو ہر خوف سے امان دیتا ہے اور انسان کے اعضاء وجوارح کو ایسی طاقت عطا کردیتا ہے جس سے خیانت، فتنہ وفساد او ربرائیوں سے اپنے نفس کو روک لیتا ہے تو کیا اسلام بغیر امام کے اس عظیم ہدف تک پهونچ سکتا ہے؟!!

کیونکہ امام کی لوگوں کو گمراھی سے نجات دینے ولاتاھے اور بے عدالتی کو ختم کرتاھے کیونکہ بے عدالتی سے حاکم فاسد ہوجاتا ہے اور حاکم کے فاسد ہونے سے انسانی نظام اوردین فاسد ہوجاتا ہے لہٰذا ان تمام برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسے امام کی ضرورت ہے جس میں تمام صفاتِ کمال موجود ہوں، ہر برائی سے پاک وپاکیزہ ہو، او راپنے قول وفعل میں ہر طرح کی خطا وغلطی سے محفوظ ہو، ہم اسی چیز کو عصمت کہتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ ان تمام صفات کے حامل شخص کا انتخاب ہونا ضروری ہے جو کسی معمولی شخص میں جمع نہیں ہوسکتیں، تو پھر نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ امت کے سامنے اس منصب کے بارے میں بیان دے، اور صاف طور پر لوگوں کو بتائے کہ میرے بعد فلاں امام ہے۔

اور یہ عصمت جس کے بارے میں ہم نے اشارہ کیا کوئی عجیب چیز نہیں ہے جیسا کہ بعض اسلامی فرقوں خصوصاً یورپی مو لفین کا عقیدہ ہے بلکہ یہ تو حاکم کے شرائط میں سے ایک اہم شرط ہے ،اور وہ بھی ایسا حاکم جس کا کام قرآن کی تفسیر کرنا اور اسلام کے غیر واضح مسائل کی شرح کرنا ہے، کیونکہ عصمت کے معنی عرب میں ”منع“ کے ہیں( ۲۰ )

اور اصطلاح میںیھی معنی مراد لئے جاتے ہیں یعنی عصمت ایک نفسانی ملکہ (قوت) ہے جو انسان کو فعلِ معصیت او رترک طاعت سے منع کرے اور اس کی عقل وشعور پر احاطہ رکھے تاکہ اس کو ہر طرح ہوشیار رکھے اور اس سے کوئی بھول چوک نہ ہو اوراس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس سے خدا ناراض ہو۔ کیونکہ معصیت کا مرتکب قرآنی اصطلاح میں ظالم ہوتاھے:

( وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاٴُوْلٓئِکَ هُمُ الظَّاْلِمُوْنَ ) ( ۲۱ )

”اور جو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے بڑھتے ہیںوھی لوگ تو ظالم ہیں“

( وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ) ( ۲۲ )

”اور جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا)

( هٰو لٓاءِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا عَلٰی رَبِّهِمْ اٴَلاٰ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ ) ( ۲۳ )

”یھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ (بہتان) باندھا، سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی پھٹکار ہے“

( ثُمَّ نُنْجِیَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّاْلِمِیْنَ فِیْهَا جَثِیًّا ) ( ۲۴ )

”پھر ہم پرھیزگاروں کو بچائیں گے اور نافرمانوں کو اس میں چھوڑ دیں گے“

اسی طرح قرآن مجید میں دیگر مقامات پر اس مضمون کی آیات موجود ہیں۔

اور یہ عاصی (گناہگار) جس کو قرآن مجید نے ”ظالم“ کھا ہے اس کو کوئی بھی شرعی ذمہ داری جو دین وشریعت اور خداوندعالم سے متعلق ہو؛ نہیں دی جاسکتی، اور اس بات پر قرآن مجید نے واضح طور پر بیان دیا ہے، ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

( وَاِذِبْتَلیٰ اِبْرَاهِیْمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّهُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَاماً قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ قَالَ لاٰ یَنَالُ عَهْدِیْ الظَّالِمِیْنَ ) ( ۲۵ )

”(اے رسول اس وقت کو یاد کرو) جب ابراھیم کو ان کے پروردگار نے چند باتوں میں آزمایا اور (جب) انھوں نے پورا کردیا تو خدا نے فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا (امام) بنانے والا ہوں (جناب ابراھیم نے عرض کی اور میری اولاد میں سے بھی، فرمایا (ھاں مگر) میرا یہ عہدہ ظالمین تک نہیں پهونچ سکتا“

اس آیت کی تفسیر میں فخر رازی صاحب کہتے ہیں:

”یہ بات ثابت ہے کہ اس عہد سے مراد امامت ہے کیونکہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کوئی فاسق شخص امام نہیں ہوسکتا، تو بدرجہ اولیٰ رسول نہ فاسق ہوسکتا ہے او رنہ ہی گناہ اور معصیت کرسکتا ہے۔( ۲۶ )

اسی طرح یہ بات بھی واضح ہے کہ ”عصمت“ کے معنی اور شرائط امامت، عجیب وغریب نہیں ہیں بلکہ یہ وہ معنی ہیں جس کے ذریعہ شرعی نصوص اورروحِ دین مکمل ہوتی ہے۔

چنانچہ ڈاکٹر احمد محمود صبحی مسئلہ ”عصمت“ پر شیعوں کے عقیدہ پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں:

”تمام سیاسی فلاسفہ جس وقت کسی حکومت کی بڑی ریاست کی بات کرتے ہیں یا کسی دوسرے بڑے عہدے کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہیں تو اس کو شبھات واعتراضات سے بالاتر قراردیتے ہیں ، اسی طرح وہ سیاسی فلاسفہ جو ”ڈکٹیٹری“ ( Dictatory ) اور کسی حکومت میں حاکم کی سب سے بڑی ریاست کے قائل ہیں وہ اس کے لئے بھی عصمت کے قائل ہیں اگرچہ دوسرے صفات بھی اس میں ضروری مانتے ہیں۔

اسی طرح ”ڈیموکراسی“ ( Democracy )کے فلاسفہ بھی اس کے شعبوں اور قواعد وقوانین میں عصمت کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ”ان تمام ریاستوں کے لئے عصمت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان کا نظام قائم ہو اور ان کے ماتحت افراد ان کی تائید کریں“

”تمام سیاسی نظام میں باوجودِ اختلاف ایک ایسی ریاست کا وجود ہوتا ہے جس میں تمام احکام میں اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے او رکسی بھی فرد کوحاکم یا قانون گذار نہیں بنایا جاسکتا ہے جب تک کہ اس میں قداست اور عصمت نہ پائی جائے لہٰذا صرف شیعہ ہی عصمت کے قائل نہیں ہیں جس سے کسی شخص کو تعجب ہو، اگرچہ شیعہ حضرات نے ہی عصمت کے بارے میں بحث شروع کی ہے لیکن وہ اس نظریہ میں تنھا نہیں ہیں بلکہ دوسرے افراد بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں“( ۲۷ )

قارئین کرام ! جیسا کہ مذکورہ باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعوں نے اپنے احساسات یا ہمدردی کی بنا پر کسی معین شخص کا انتخاب نہیں کیا اور نہ ہی کسی سیاست سے کام لیا بلکہ انھوں نے نص وروایات سے وہ چیزیں حاصل کی ہیں جس میں حیات صحیح اور بناء سلیم( ۲۸ ) کا ذریعہ پایا جاتا ہے اور وہ اس نظریہ کا دفاع کرتے ہیں جو ایمان، اسلام او راخلاص کی جان ہے اور اس سے ہدف اور شعورِ مصلحت تک پهونچا جاسکتا ہے۔

چنانچہ جو لوگ نص کی ضرورت کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی بات کی تائید درج ذیل نکات سے واضح ہوجاتی ہے:

۱ ۔نص کا ہونا ،اس انسانی شعور وفطرت کے مطابق ہے جو انسان کے وجود میں موجودھے جس کے ذریعہ وہ اپنے ماورائے غیب (خدا) کے محتاج ہونے کی ضرورت کا احساس کرتا ہے کیونکہ تمام امور میں اسی ذات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔( یعنی اگر ہم امام کو منصوص من اللہ قرار دیں تو ہمارا ربط ہمیشہ خدا سے برقرار رھے گا)

پس امامت (منصوص من اللہ) ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو ما ورائے غیب سے متصل کرتی ہے، کیونکہ امامت کے پاس وہ شعوروادراک اور اطمنان ہوتا ہے جو انسان کو راہ ضلالت سے نکال کر راہ ہدایت پر گامزن کردیتا ہے۔

۲ ۔ نص ، اس علم نفس کے قاعدے سے بھی ہم آہنگ ہے جو انسان کے اندر قانون سے سرکشی اور طغیانیت کی روح کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔

کیونکہ جب امام خداوند وحدہ لاشریک کی طرف سے بلافصل معین ہوگا تو تمام لوگوں کے نزدیک موثق ، عادل، مخلص اور تمام رذائل و برائی سے پاک وپاکیزہ سمجھا جائے گا اور اس امام کے ذریعہ وہ اسباب جو انسان کے اندر سرکشی اور طغیانیت کے پائے جانے والے اسباب ختم ہوجائیں گے۔

۳ ۔ نص ، اس نظریہ سے بھی ہم آہنگ ہے جس کو علماء کرام دین کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اجتماعی زندگی میں روابط کے لئے بہت ضروری چیز ہے جس کی وجہ سے وحدت واتحاد اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔

لہٰذا امام منصوص ایک عظیم درجہ کانام ہے جو مبداء اعلی اور ایمان بلند درجوںپر فائز ہوتاھے۔

لیکن اھل تحقیق اس بات کو جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وفات کے وقت بھی خطرناک اور حسّاس حالات تھے اور چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمان حالات پر مکمل طریقہ سے علم رکھتے تھے او راپنے بعد ہونے والے واقعات سے بھی باخبر تھے، چنانچہ اپنے بعد ہونے والے واقعات کی خبر بھی دی اور خداوندعالم نے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے:( اٴَفَاِنْ مَّاتَ اٴَوْ قُتِلَ اِنْقَلَبْتُمْ عَلٰی اٴَعْقَابِکُمْ ) ( ۲۹ )

”اگر (محمد) اپنی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں توتم الٹے پاو ں (اپنے کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے“پس کیوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اپنے بعد کے لئے نص اور وضاحت نہیں فرمائی اور کیوں دوسروں نے اس کام کو انجام دیا؟! (معاذ اللہ) کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمدوسروں سے کم درک وفہم رکھتے تھے او ر آپ میں ذمہ داری کا احساس وشعور کم تھا؟!!

چنانچہ یہ نظریہ نقصان دہ نہیں ہوتا (جبکہ قرآنی آیات او راحادیث نبوی کے ذریعہ اسلامی اصول ثابت کرنے کے بعد اور فطرت انسانی اور علمی دلائل نیز اجماع کے قیام کے بعد) کہ اس کو کوئی چھوڑنے والا چھوڑدے یا اس کو برے القاب سے یاد کرے یا اپنی مرضی سے اس پر کوئی بھی نام منطبق کرے۔

اسی طرح یہ بات بھی امامت کے لئے نقصان دہ نہیں ہے کہ اس پر ”ٹیوقراطی“ " Theocratic " کانام دیا جائے جیسا کہ بعض مولفین نے امامت پر یہ نام منطبق کیا ہے۔

کیونکہ اگر اس سے مراد ”دینی حکومت“ ہو تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے بلکہ صحیح معنی بھی یھی ہیں،اور اگر اس سے دین کے نام پر لوگوں پر حکومت کرنا مراد ہو تویہ قیاس ہے اور نظریہ امامت کے برخلاف ہے۔

اسی وجہ سے ڈاکٹر” مجید خدوری“ نے اس نظریہ کو ردّ کیا اور امامت پر یہ نام منطبق نہیں کیا کیونکہ یہ واقع پر صادق نہیں ہے بلکہ ایک دوسرا نام ”نوموقراطی“( ۳۰ ) رکھایعنی وہ حکومت جس میں قانون کی حکومت اور قانون کو فوقیت حاصل ہو، چنانچہ یہ وہ حقیقت ہے کہ جس میں شک کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کے لئے شک اور انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

اسی طرح امامت کو”ڈکٹیٹری“ " Dictaorship " کا نام دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ بعض مولفین نے ایسا کھا بھی ہے۔

کیونکہ ”ڈکٹیٹری“ میں خاص فرد یا خاص افراد کی حکومت ہوتی ہے گویا وہ حکومت کے مالک ہوتے ہیں اور قانون ان کے ھاتھوں میں ایک کھلونا ہوتا ہے اور یہ ”ڈکٹیٹری“ واقعاً اسلامی حکومت کے برخلاف ہے کیونکہ اسلامی حکومت میں تو صرف قانون کی حکومت ہوتی ہے اور اس میں قانون کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔

اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ قانون کی حکومت جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں (چاھے وہ جنگ کا زمانہ ہو یا غیر جنگ کا) قانونی حکومت کو بروئے کار لائے ہیںچنانچہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت ”ڈکٹیٹری“سے بالکل مخالف تھی۔

اسی طریقہ سے امامت پر ”طبقاتی حکومت“ (خاص طبقہ کی حکومت) کا نام دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس نظریہ کو پیش کیا ہے۔

کیونکہ کسی خاص طبقہ کی حکومت کامطلب یہ ہے کہ وہ طبقہ تشریعات کو مسخر کرلے اور تمام نظام سے اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرتا رھے، چنانچہ اس طرح کی حکومت سے بھی اسلام کا کوئی سروکار نہیں ۔

کیونکہ قانون کی حکومت میںکسی کے لئے کوئی نرمی کا خانہ نہیں ہوتا (یھاں تک کہ خود امام کے لئے) یعنی امام کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ احکام میں تبدیلی کرے کہ امامت اور طبقہ کے تمام افراد کے درمیان قطع تعلق کرے۔

اسی طرح امامت کو ”غیرڈیموکریٹی“ کا نام دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ”ڈیموکریٹی“ میں اہمیت اور بنیاد کسی خاص شعبہ کی حکومت ہوتی ہے اورشعبہ کی حکومت کا مصدر بھی دین ہوتا ہے جو حکومت کی اصل اور بنیاد ہے۔

اور چونکہ خداوندعالم مالک الملک ہے جو چاھے کرے جو چاھے نہ کرے لہٰذا اس کے لئے یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ کائنات کے ہر نظام میں اس کا حکم اور اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے، یعنی ہر حال میں اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔

اور چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلممالک الملک کے نمائندے ہیں اور اسی کی طرف سے بولتے ہیں اور اس کے امین ہیں لہٰذا ان پر امام کو منصوب اور معین کرنا ضروری ہے اور یہ کام خدا کی مرضی سے ہونا چاہئے، چنانچہ یھی بات سیاسی نظریہ سے بھی ہم آہنگ ہے کہ انتخاب میں مصدر حکومت سے مشورہ ہونا چاہئے۔


امام کے بارے میں وضاحت

گذشتہ گفتگو کا خلاصہ :

۱ ۔ راہ اسلام کو جاری وساری رکھنے کے لئے امامت کا ہونا ضروری ہے۔

۲ ۔ امامت کا انتخاب بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپر ضروری ہے کیونکہ آپ کی ذات( لاینطق عن الهوی ) کی مصداق ہے اور جب بات یھاں تک آگئی ہے اور واضح خلاصہ بھی آپ حضرات نے ملاحظہ فرمالیا تو بات آگے بڑھ کرایک جدید مرحلہ تک پهونچتی ہے اوروہ یہ کہ ہم اس امام کی تلاش کریں جس کے بارے میں نص او راعلان کیا گیا ہے نیز ان واضح نصوص کو بھی ملاحظہ کریں جن کے ذریعہ سے امام کی معرفت و شناخت ہوتی ہے۔

اور چونکہ امامت سے متعلق روایات اور رایوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہیں کہ اس کتاب میں ان کو بیان نہیں کیا جاسکتا اور راویوں کے بیان کرنے کا طریقہ بھی جداجدا ہے، لیکن ہم یھاں پر فقط تین عدد شاہد پیش کرتے ہیں اور باقی تفصیل کو تفصیلی کتابوں کی طرف حوالہ دیتے ہیں۔(مثلاً الغدیر علامہ امینی ، عبقات الانوار اورالمراجعات وغیرہ)

پہلی حدیث: ” حدیث دار “

ابن جریر طبری نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپر یہ آیت نازل ہوئی :

( وَانْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاٴَقْرَبِیْنَ ) ( ۳۱ )

”(اے رسول) تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب خدا) سے ڈراؤ“

چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے خاندان عبد المطلب کو دعوت کے لئے بلایا جس میں ان کے چچا جناب ابوطالب ، جناب حمزہ، جناب عباس اور ابو لھب بھی تھے اور جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

یا بنی عبد المطلب انی واللّٰه ما اعلم شاباً فی العرب جاء قومه باٴفضل ممّا قد جئتکم به، اٴنی قد جئتکم بخیر الدنیا والآخرة، وقد امرنی اللّٰه تعالیٰ اٴن اٴدعوکم الیه، فاٴیکم یوازرنی علی هذا الامر علی اٴن یکون اخي ووصیي وخلیفتي فیکم؟

(اے خاندان عبد المطلب ! خدا کی قسم، میں عرب میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو اپنی قوم میں مجھ سے بہتر پیغام لایا ہو میں تم میں دنیا وآخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں ، اور خداوندعالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس دعوت کو تمھارے سامنے پیش کردوں، پس تم میں کون شخص ہے جو اس کام میں میری مدد کرے، اور جو شخص میری مدد کرے گا وہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ ہوگا۔)

چنانچہ یہ سن کر سب لوگوں نے اپنا سر جھکالیا او رکوئی جواب نہ دیا، اس وقت حضرت علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کھا:

انا یا نبي اللّٰه اٴکون وزیرک علیه ، فقال (ص) ان هذا اخي ووصیي وخلیفتي فیکم، فاسمعوا له واطیعوا

(یا رسول اللہ میں حاضر ہوں اور میں آپ کا وزیر ہوں، تب رسول اللہ نے فرمایا:

یہ میرے بھائی، میرے وصی اور تمھارے درمیان میرے خلیفہ ہیں ان کی باتوں کو سنو اور ان کی اطاعت کرو) یہ سن کر سب لوگ جناب ابو طالب کو یہ کہہ کر ہنستے ہوئے چلے گئے:

”اے ابو طالب تم کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے بیٹے کی باتوں کو سنو اور ان کی اطاعت کرو“( ۳۲ )

قارئین کرام ! یہ حدیث اپنے ضمن میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے تین صفات کی حامل ہے:

۱ ۔وزیرهونا۔

۲ ۔وصی ہونا۔

۳ ۔خلیفہ ہونا۔

اب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے حضرت علی علیہ السلام کو کس لئے یہ صفات عطا کئے اور کسی دوسرے کو ان صفات سے کیوں نہیں نوزا؟ اور کیوں آپ نے اس کام کے لئے بعثت کے بعد پہلے جلسہ کا انتخاب کیا؟

اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو اس کام میں اپنے لئے ایک مددگار کی ضرورت تھی تو وزارت کافی تھی لیکن ان کے ساتھ خلافت ووصایت کا کیوں اضافہ کیا؟ اور اپنے رشتہ داروں کو ڈرانے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے اور وصایت وخلافت میں کیا ربط ہے؟ ان سوالوں کے جوابات دینے کے لئے ہم پر مندرجہ ذیل چیزوں کا بیان کرنا ضروری ہے:

قارئین کرام ! رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماپنے اس پہلے اعلان میں عہد جدید ، جدید معاشرے اورنئی حکومت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔

کیونکہ جب کوئی اہم شخصیت اپنے ہدف کو باقی رکھنا چاہتی ہے تو اس رئیساور ایک نائب مقرر کیا جاتا ہے تاکہ اگر رئیس کو کوئی پریشانی لاحق ہوجائے تو اس کے نائب کی طرف رجوع کیا جاسکے۔

چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمبھی اس ہدف کے تحت حاضرین کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ (دین ودنیا) کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو فقط مادام العمر باقی رھے اور اس کے بعد ختم ہوجائے گا کیونکہ یہ ایک الٰھی رسالت ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اور رسول کی وفات کے بعد ختم نہیں ہوگی، بلکہ جب تک زمین باقی ہے اس وقت تک یہ دین باقی ہے او رمیرے بعد بھی اس دین کا باقی رکھنے والا ہوگا اور وہ یہ جوان ہے جس نے اس وقت میری مدد ووزارت کا اعلان کیاھے یعنی حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام)

اور یہ تمام باتیں مذکورہ حدیث شریف میں دقت اور غور وفکر کرنے سے واضح ہوجاتی ہیں اور شاید یھی وجہ تھی کہ جس کی بنا پر امام رازی نے اس حدیث کی صحت اور سند دلالت کا اعتراف کیا لیکن خلافت کے معنی میں شک کیا اور اس بات کا دعویٰ کیا کہ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماپنی وفات کے بعد خلیفہ معین کرنا چاہتے تھے تو ”خلیفتي فیکم“ نہ کہتے یعنی علی تم میں میرے خلیفہ ہیں، بلکہ ”خلیفتي فیکم من بعدی“ (یعنی تم میں میرے بعد میرے خلیفہ ہوں گے) کا اضافہ کرتے تاکہ واضح طور پر نص بن جائے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم دونوں الفاظ میں کوئی فرق نہیں پاتے، اور اگر یہ طے ہو کہ ”خلفتي فیکم من بعدی“ دلالت کے اعتبار سے واضح ہوتی تو پھر ”خلفیتي فیکم“بھی اسی طرح ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر مجھ پر کوئی پریشانی آجائے تو تمھارے درمیان علی (ع) خلیفہ ہیں اور اسی طرح کے الفاظ موت کے بعد خلافت پر واضح نص ہوتے ہیں اور اس معنی کی تاکید لفظ ”وصی“ کرتا ہے کیونکہ اسلام میں کسی کو موت کے وقت ہی وصی بنایا جاتا ہے کیونکہ موصی کی موت کے بعد وصی اس کے کاموں پر عمل کرتا ہے۔

اور اگر کسی کام کے بارے میں موت سے قبل کہنا ہو تو کھا جاتا ہے ”ہذاوکیلی“ (یہ میرا وکیل ہے)، ”وصیي“(میرا وصی) نہیں کھا جاتا کیونکہ وکالت ایک اسلامی تعبیر ہے جو اس شخص کے لئے کھی جاتی ہے جو انسان کی قید حیات میں اس کی نیابت میں کسی کام کو انجام دے۔

لہٰذا اس بات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے روز اول ہی واضح بیان فرمایاکہ کون میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا اور کون مسلمانوں میں میرا وصی ہوگا تاکہ کشتی اسلام میری وفات کے بعد امواج زمانہ کی نذر نہ ہوجائے۔

اور یہ اسلام کا آغازجس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اس محدود مجمع میں اپنا خلیفہ مقرر کیا اور ہمیشہ اس پر تاکید فرماتے رھے یھاں تک کہ آخری عمر میں بھی (غدیر خم میں)اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی۔

دوسری حدیث: ”حدیث المنزلة“

امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے حضرت علی (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا:

انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی( ۳۳ )

(اے علی تم میں اور مجھ میں وھی نسبت ہے جو جناب ھارون اور جناب موسیٰ (ع) کے درمیان تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نھیں)

قارئین کرام ! اگرچہ یہ حدیث مختصر ہے لیکن پھر بھی بہت سے معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے لیکن اگر کوئی طائرانہ نظر ڈالے گا تو اس پر حدیث کے معنی واضح نہیں ہوں گے لیکن اگر کوئی شخص اس حدیث میں غور وفکر کرے گا تو اس پر یہ معنی بہت واضح ہوجائیں گے۔

چنانچہ یہ حدیث شریف حضرت علی علیہ السلام کے لئے اشارہ کرتی ہے :

۱ ۔ حضرت علی علیہ السلام رسول اللہ کے وزیر ہیں کیونکہ جناب ھارون جناب موسیٰ کے وزیر تھے:

( وَاجعلْ لی وَزِیراً منْ اٴَهلی ) ( ۳۴ )

”اور میرے کنبہ والوں میں سے میرے بھائی ھارون کو میرا وزیر بنادے“

۲ ۔آپ رسول اللہ کے بھائی ہیں کیونکہ جناب ھارون جناب موسیٰ کے بھائی تھے:

( هَارُوْنَ اَخِیْ ) ( ۳۵ )

”میرے بھائی ھارون“

۳ ۔ آپ ہی رسول اللہ کے شریک ہیں کیونکہ جناب ھارون بھی موسیٰ کے شریک تھے:

( وَاشْرِکْهُ فِیْ اٴَمْرِیْ ) ( ۳۶ )

”اور میرے کام میں اس کو میرا شریک بنا“

۴ ۔ حضرت علی علیہ السلام خلیفہ رسول ہیں ، جیسا کہ جناب ھارون جناب موسیٰ کے خلیفہ تھے:

( وَقَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْهِ هَارُوْنَ اخْلُفْنِی فِیْ قَوْمِی ) ( ۳۷ )

”(اورچلتے وقت ) موسی نے اپنے بھائی ھارون سے کھا کہ تم میری قوم میں میرے جانشین ہو“

۵ ۔ امامت نبوت سے مشتق ہے کیونکہ حدیث میں ضمیر ”انتَ“ امامت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور لفظ ”منّی“ نبوت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یھاں پر حرف ”جر “نشو ونمو اور وجود کے معنی میں ہے اور یہ نشو ونما اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ دونوں درجہ میں برابر ہیں تب ہی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

الا انه لا نبی بعدی “ (مگر میرے بعد کوئی نبی نھیں)

اور جب جناب موسیٰ (ع)نے خدوندعالم سے درخواست کی کہ ان کے اھل سے ان کا وزیر معین کردے (جیسا کہ مذکورہ آیت بیان کرتی ہے) تو یہ درخواستِ جناب موسیٰ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ نبی کی خلافت ووزارت خدا کے حکم سے ہوتی ہے لوگوں کے انتخاب اور اختیار سے نھیں۔

قارئین کرام ! جب ہم ”حدیث منزلت“ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے یہ سب کچھ فقط حضرت علی علیہ السلام کے اکرام اور تجلیل کی غرض سے نہیں بیان کیا بلکہ اس کے پسِ پردہ ایک بہت اہم مقصد تھا اور وہ یہ کہ آپ امت کو اس بات پر متوجہ کرنا چاہتے تھے کہ نبی اپنے بعد حکومت کی ریاست اور کشتی اسلام کی مھار کس کے ھاتھ میں دے کر جارھے ہیں۔

اور جیسا کہ یہ حدیث شریفہ اشارہ کرتی ہے کہ حضرت علی (ع)،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے ساتھ شریک ہیں لیکن یہ شرکت کسی تجارت، صنعت او رزراعت میں نہیں ہے بلکہ آپ کی شرکت دین اور اسلام میں ہے اور اسلام میں پیش آنے والی تمام زحمتوں کو برداشت کیا اور دین کی اہم ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی،اور چونکہ ایک معمولی انسان شرکت کے حدود کو آسانی سے نہیں سمجھ سکتا (خصوصاً جبکہ یہ بھی معلوم ہو کہ جناب ھارون نبی بھی تھے) اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے حدیث منزلت میں ایسی قید لگادی تاکہ اشکال نہ ہونے پائے اور اس شرکت کی حدود بھی معین کردی اسی وجہ سے مطلق طور پر نبوت کی نفی کردی اور نبوت کو شرکت کے حدود سے نکالتے ہوئے فرمایا:

” میرے بعد کوئی نبی نھیں“

اور شاید اس حدیث کے معنی اس وقت مزید روشن ہوجائیں جب یہ معلوم ہو کہ حدیث منزلت کو رسول اسلام نے اس وقت بیان فرمایا جب آپ مدینہ منورہ سے ”جنگ تبوک“ میں جارھے تھے اس وقت نائب اور قائم مقام بنایا ۔

لیکن شیخ ابن تیمیہ اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس حدیث سے حضرت علی علیہ السلام کی کوئی بھی فضیلت ثابت نھیںهوتی کیونکہ جس وقت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمجنگ تبوک کے لئے نکلے ہیں تو آپ کے ساتھ تمام اصحاب اور تمام مومنین تھے او رمدینہ میں عورتوں اور بچوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا یا وہ لوگ جو جنگ میں نہیں گئے تھے چاھے وہ مجبور ہوں یا منافق تو ایسے لوگوں پر کسی کو خلیفہ بنانا کوئی بھی فضیلت نہیں رکھتا۔( ۳۸ )

لیکن حدیث پرغوروفکر کرنے والاشخص ابن تیمیہ کے نتیجہ سے مطمئن نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرا نتیجہ نکالتا ہے کہ:

اس وقت مدینہ منورہ مرکز نبوت اور دار السلطنت تھا۔

جب کسی حکومت کا رئیس اپنے دار السطنت سے کسی دوسری جگہ جاتا ہے (جیسے تبوک) اور چونکہ اس وقت کا مواصلاتی نظام بہت ہی کمزور ہوتا تھا تو گویا جانے والا ایک طویل مدت کے لئے وھاں سے غائب ہورھا تھا اور چونکہ جنگ کے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کب ختم ہوگی اور کب پلٹ کر آنا ہوگا تو ایسے موقع پر کسی رئیس کا نائب بنانا اور اس کو دار السلطنت میں جانشین بناکر چھوڑنا ایک عظیم معنی رکھتا ہے اور وہ بھی ایسے ماحول میں جب دشمنان اسلام اور منافقین کی طرف سے ہر ممکن خطرہ موجود ہو اور وہ ایک ایسی فرصت کی تلاش میں ہوں کہ موقع ملنے پر اسلام اور مسلمانوں کو نابود کر ڈالیں، لہٰذایسے ماحول میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ معین کرنا ایک عظیم فضیلت ہے۔

تیسری حدیث: ”حدیث غدیر“

اس حدیث کو اکثر صحابہ وتابعین نے روایت کیا ہے اور بہت سے علماء وحفاظ نے اس کو نقل کیا ہے۔( ۳۹ )

بطور اختصارہم صرف حدیث کے محل شاہد اور ان چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو امامت وامام کی وضاحت سے متعلق ہیں۔

چنانچہ اکثر روای کہتے ہیں:

”جب ہم حجة الوداع سے واپس پلٹ رھے تھے ، اورغدیر خم میں پهونچے تو رسول اسلام نے نماز ظھر کے بعد مسلمانوں کے درمیان خطبہ دیا اورحمد باری تعالیٰ کے بعد فرمایا:

”اے لوگو ! قریب ہے کہ میں اپنے پروردگار کی دعوت پر لبیک کهوں میں بھی مسئول ہوں او رتم بھی مسئول ہو، پس تم لوگ کیا کہتے ہو؟

تب لوگوں نے کھا: ”ہم گواھی دیتے ہیں کہ آپ نے دین اسلام کی تبلیغ کی، ہم کو وعظ ونصیحت کی اورجھاد کیا ، ”فجزاک اللّٰہ خیراً“

یھاں تک کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

ان اللّٰه مولای واٴنا مولی المو منین ، وانا اولی بهم من انفسهم، فمن کنت مولاه فهذا علی مولاه، اللّٰهمّ وال من والاه وعاد من عاداه وانصر من نصره، واخذل من خذله واٴدر الحق معه حیثما دار ۔“

(اللہ میرا مولا ہے او رمیں مومنین کا مولا ہوں اور میں ان کے نفسوں پر اولیٰ بالتصرف ہوں پس جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں، خدایا تو اس کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے، خدا یا تو اس کی نصرت فرما جو علی کی نصرت کرے، اور اس کو ذلیل کردے جو علی کو ذلیل کرنا چاھے او رجدھر علی جائیں حق کو ان کے ساتھ موڑدے)

اور جب رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا یہ کلام تمام ہوا تو سب لوگ حضرت علی علیہ السلام کی طرف مبارکباد دینے کے لئے بڑھے، چنانچہ حضرت عمر نے کھا:

بخ بخ لک یا علی، اصبحت مولانا ومولی کل مومن ومومنة

(مبارک ہو مبارک اے علی، آپ ہمارے اورھر مومن ومومنہ کے مولا ہوگئے)

اس کے بعد جناب جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے:

( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِي وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاٰمَ دِیْناً ) ( ۴۰ )

”آج میں نے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردیں اور تمھارے اس دین اسلام کو پسند کیا“

قارئین کرام ! یہ تھا حدیث غدیر کا خلاصہ،اور یہ تھی شان نزول اور یہ تھے الفاظ حدیث، اس حدیث شریف میں نظریہ ”امامت“ کی مکمل وضاحت کی گئی ہے اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ یہ امامت ، ولایت عام او رمطلقہ مسئولیت کی حامل ہے اور سول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وفات کے بعد جس امام کے بارے میں سوال کیا جارھا تھا اس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے لوگوںکے سامنے پیش کردیا اور اس حدیث ودلیل کو سن کر لوگوں نے اپنا مقصد حاصل کرلیا جس کے نتیجہ میں تہنیت اور مبارکباد پیش کرنے لگے۔

لیکن بعض لوگوں نے فلسفہ چھاڑنا شروع کیا درحالیکہ وہ حدیث کی صحت کا انکار نہ کرسکے بلکہ یہ کھا کہ یہ حدیث آپ کے مدعا کو ثابت نہیں کرتی چونکہ لغت میں لفظ” مولا“ کے بہت سے معنی ہیں جیسے ناصر، ابن عم، رفیق، وراث وغیرہ اور ہم یہ نہیں جانتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی مراد کون سے معنی تھے اور کس معنی میں حضرت علی علیہ السلام کو مولا کھا ہے۔

لیکن یہ فلسفہ تراشی خود غرضی اور ہوا وهوس کی دین ہے اور نہ ہی معترض نے موضوع میں غور وفکر کیا ہے۔ ان اعتراضات کو ختم کرنے کے لئے درج ذیل امور رپر توجہ کرنا:

۱ ۔ اعلان ولایت سے قبل آیہ بلّغ کا نازل ہونا چنانچہ مورخین ومفسرین نے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمآخری حج سے واپس آرھے تھے تو اس وقت خداوندعالم نے وحی فرمائی:

( یَاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّٰهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) ( ۴۱ )

”اے رسول جو حکم تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے پهونچادو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھ لو) تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پهونچایا اور (تم ڈرو نھیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“

۲ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا اعلان ولایت کے لئے جنگل میں ظھر کے وقت کا انتخاب کرنا۔

۳ ۔کلام پیغمبر میں تینوں ولایت کا ذکر ہونا:

الف:اللّٰه مولای ۔

اللہ میرا مولا ہے۔

ب:انامولی المومنین ۔

میں مومنین کا مولا ہوں۔

ج:من کنت مولاه فهذا علی مولاه ۔( ۴۲ )

جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع)بھی مولا ہیں۔

۴ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا حضرت علی علیہ السلام کے لئے دعا کرنا:

اللّٰهمّ وال من والاه وعاد من عاداه واخذل من خذله وادرالحق معه حیث دار ۔( ۴۳ )

پروردگارا ! تو اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی کو دشمن رکھے اور ذلیل کر اس کو جو علی کو ذلیل کرنا چاھے، اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی جائیں ۔

جبکہ اس دعا میں ولایت کے معنی بغیر حاکم کے مکمل نہیں ہوسکتے ہیں

۵ ۔ آیہ اکمال کا نازل ہونا:الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔( ۴۴ ) جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ تھا جس وجہ سے خداوندعالم نے دین کو کامل کیا اور نعمتیں تمام کیں۔

۶ ۔ حاضرین غدیر خم کا حضرت علی علیہ السلام کا مذکورہ الفاظ میں مبارک باد پیش کرنا۔( ۴۵ )

مذکورہ چھ نکات میں غور وفکر کرنے سے انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی نظر میں حضرت علی (ع) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے وراث ،ناصر ،دوست او رابن عم نہیں ہیں اور نہ ہی ارث ونصرت کا مسئلہ ہے اور اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمان باتوںکاقصد کرتے توپھر غدیر کے ماحول اور ان آیات جن کو خدا نے اس موقع پر نازل فرمایا اور تبریک وتہنیت کے لئے ایسے الفاظ کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اگر لفظ مولا سے مراد امامت وخلافت نہ ہو تو پھر ان سب چیزوں کا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اور جیسا کہ ڈاکٹر احمد محمود صبحی نے حقیقت کا انکشاف کیا ہے اور جو لوگ اس حدیث کا انکارکرتے ہیں ان کے لئے بہترین جواب دیا ہے، چنانچہ موصوف کہتے ہیں:

”چونکہ اھل ظاہر(حنبلیوں) اور سلفیوں( وھابیوں)کے نزدیک معاویہ سے محبت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا لہٰذا اس سے محبت کرنا ہی اپنا شعار بنارکھا ، اسی وجہ سے انھوں نے مذکورہ حدیث کے معنی اس لحاظ سے کئے تاکہ علی کی محبت کو ترک کرنے میں کوئی مضائقہ پیش نہ آئے۔( ۴۶ )

مذکورہ باتوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اپنی امت کی قیادت ورھبری کے لئے امام کی معرفی کی ہے۔

اور مذکورہ حدیث (اگرچہ اس کے الفاظ او رمناسبت مختلف ہیں) امامت کے بارے میں صاف اور روشن ہے جو مکمل طریقہ سے ہمارے مقصود پر دلالت کرتی ہے۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فقط امام اول کا معین ہوجانا کافی ہے اور باقی ائمہ علیہم السلام کے بارے میں تعیین کی ضرورت نہیں ہے یا ان کے لئے بھی نص اور احادیث کا ہونا ضروری ہے؟

یعنی باقی ائمہ (ع) کی امامت کیسے ثابت ہوگی؟ اور ان کو بارہ کے عدد میں محدود کرنا (نہ کم وزیاد) کیسے صحیح ہے؟

قارئین کرام ! ائمہ (ع)کی امامت کو دو طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے:

پہلا طریقہ:

ان احادیث کے ذریعہ جن کی تعداد بہت زیادہ اور بہت مشهور ہیں جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے امام حسن وامام حسین علیہما السلام کو مخاطب کرکے فرمایا:

انتما الامامان ولامکما الشفاعة( ۴۷ )

(تم دونوں امام ہو اور دونوں شفاعت کرنے والے ہو)

اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:

هذا امام ، ابن امام اخو امام، ابو الائمة( ۴۸ )

(یہ خود بھی امام ہیں اور امام کے بیٹے ، امام کے بھائی او رنو اماموںکے باپ ہیں)

اور اس طرح بہت سی روایات موجود ہیں جن سے کتب حدیث وتاریخ بھری پڑی ہیں اور ان میں امامت کی بحث تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔

دوسرا طریقہ:

گذشتہ امام کے ذریعہ آنے والے امام کا بیان، اورچونکہ گذشتہ امام کا بیان ،حجت اور دلیل ہوتاھے اور اس پر یقین رکھناضروری ہے جبکہ ہم گذشتہ امام کی امامت پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو صادق اور امین جانتے ہیں۔( ۴۹ )

اب رھا ائمہ (ع) کا بارہ ہونا نہ کم نہ زیادہ تو اس سلسلہ میں بھی بہت سی روایات موجود ہیں( ۵۰ ) اور ہمارے لئے یھی کافی ہے کہ اس مشهور ومعروف حدیث نبوی کو مشهور ومعروف شیوخ نے بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ارشاد فرمایا:”لایزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون اثنا عشر خلیفة کلهم من قریش( ۵۱ )

(دین اسلام قیامت تک باقی رھے گا او رتمھارے بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے)

ایک دوسری حدیث میں اس طرح ہے:

ان هذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیه اثنا عشر( ۵۲ )

(بتحقیق یہ امر (دین) ختم نہیں ہوگا یھاں تک کہ اس میں بارہ (خلیفہ) ہوں گے)

اور اگر ہم اس حدیث شریف میں غور وفکر کریں (جبکہ اس حدیث کو تمام مسلمانوںنے صحیح مانا ہے) تو یہ حدیث دو چیزوں کی طرف واضح اشارہ کررھی ہے:

۱ ۔دین کا قیامت تک باقی رہنا۔

۲ ۔قیامت تک فقط بارہ خلیفہ ہی ہوں گے جو اسلام ومسلمانوں کے امور کے ذمہ دار ہوں گے۔

اور یہ بات واضح ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا بارہ خلیفہ سے وہ حکّام مراد نہیں ہیں جو شروع کی چار صدیوں میں ہوئے ہیں کیونکہ ان کی تعداد بارہ کے کئی برابر ہے اور ان میں سے اکثر کتاب وسنت رسول کے تابع نہیں تھے لہٰذا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے حقیقی خلیفہ نہیں ہوسکتے۔

تو پھر انکے علاوہ ہونے چاہئیں،اور وہ حضرت علی (ع) اور ان کے گیارہ فرزندوں کے علاوہ کوئی نھیں، یہ وہ ائمہ ہیں جن سے لوگ محبت کیا کرتے تھے او ران کا اکرام کیا کرتے تھے اور انھیں سے اپنے دینی احکام حاصل کیا کرتے تھے، نیز اپنی فقھی مشکلات میں انھیں کی طرف رجوع کرتے تھے اور جب بھی کوئی مشکل پڑتی تھی اس کے حل کے لئے انھیں ائمہ(ع) کے پاس جایا کرتے تھے۔

اگر کوئی شخص اس سلسلہ میں احادیث نبوی اور ان کے عدد کے بارے میں مزید اطلاع حاصل کرنا چاھے تو اس کو چاہئے کہ مخصوص مفصل کتابوں کا مطالعہ کرے۔(مثلاً الغدیر علامہ امینی رحمة اللہ علیہ، عبقات الانوار سید حامد حسین طاب ثراہ وغیرہ)

حضرات ائمہ علیہم السلام

سلسلہ بحث کو مکمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مختصر طور پر ائمہ (ع) کے اسماء گرامی اور ان کے زمانہ کے مختصر حالات بیان کریں نیز مختصر طور پر ان کی چھوڑی ہوئی میراث کے بارے میں بھی ذکر کریں او رخود ان حضرات کی مختصر طورپر سوانح حیات بیان کریں، ان تمام باتوں میں ہم اختصار کا پورا خیال رکہیں گے تاکہ ہماری کتاب بہت زیادہ ضخیم نہ ہوجائے۔

اور ہماری ساری امید خداوندعالم کی ذات پر ہے کیونکہ وھی مدد کرنے والا ہے تاکہ ہم ائمہ (ع) کی سوانح حیات کو تحریر کرسکیں اور ہر امام کے حالات بیان کریں تاکہ آج کا ہمارا زمانہ ان کی رھبری وقیادت اور ان کی چھوڑی ہوئی میراث کو پہچان لے، چنانچہ انھوں نے زمانہ کے لئے ایسی ایسی میراث چھوڑی ہیں جو عالم بشریت کے لئے بہت عظیم سرمایہ اور مایہ سرفرازی وباعث عزت ہے۔

خداوندعالم ہماری مدد ونصرت فرمائے(آمین)

پھلے امام : حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام

حضرت علی (ع)کا مشهور لقب ”امیر المومنین“ ہے آپ کو اس لقب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے سرفراز فرمایا تھا۔( ۵۳ )

آپ کی ولادت باسعادت مکہ معظمہ اورخانہ کعبہ میں ۱۳/ رجب المرجب ۳۰ عام الفیل کو ہوئی۔( ۵۴ )

آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے بچپن ہی سے اپنے پاس رکھا تاکہ آپ کے چچا ابوطالب پر کچھ بوجھ کم ہوجائے، چنانچہ خداوندعالم نے یہ چاھا کہ آپ کی تربیت اس کا محبوب رسول کرے اور ہر طرح کی مشکلات ومصائب سے محفوظ رکھے۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلممبعوث بہ رسالت ہوئے تو سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام نے اظھار اسلام کیا۔( ۵۵ )

اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی دعوت دی تو اسی موقع پر آپ کی وزارت ، وصایت اور خلافت کے بارے میںواضح بیان دیا (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے) اور جس وقت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو حضرت علی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شبیہ بن کر آپ کے بستر پر سورھے تاکہ قریش یہ سمجھیں کہ ”محمد“(ص) ابھی بستر پر سورھے ہیں۔

اور مدینہ منورہ ہجرت کے بعد آپ نے تمام اسلامی جنگوں میں شرکت کی اور ہر جنگ میں پرچم اسلام آپ(ع) ہی کے ھاتھوں میں رھا، اور آپ(ع) ہر جنگ میں(سوائے جنگ تبوک کے)نبی کے ساتھ ساتھ رھے ، چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے آپ کو اسلام کی دار السلطنت میں احتمالی خطرے کی بنا پر مدینہ میں چھوڑدیا تھا (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے)

خداوندعالم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے آپ کی تکریم کی خاطر رسول اللہ کی اکلوتی بیٹی جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا سے شادی کی۔( ۵۶ )

اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اپنی آخری عمر میں آپ کو امامت کے لئے منصوب کیا جیسا کہ حدیث غدیر میں گذر چکا ہے۔

اور چونکہ وفات نبی کے بعد آپ کی زندگی میں بہت سے حادثات رونما ہوئے لیکن آپ(ع) نے اپنی کوشش اور وعظ ونصیحت کو جار ی رکھا تاکہ ہدف اسلام آگے بڑھتا رھے اور اس مقدس راہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رھے، اور مشکل حالات کو برداشت کرتے رھے۔اور جب لوگوں نے قتل عثمان کے بعد آپ کو خلافت قبول کرانا چاھاتو چنانچہ آپ نے کراہةً قبول کرلی لیکن اسی مناسبت سے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

”اگر حاضرین کی بھیڑ جمع ہوکر میرے پاس نہ آتی او ریہ ثابت ہوجاتا کہ ہمارے ناصر ومددگار موجود ہیں او راگر علماء سے خدا کا عہد وپیمان نہ ہوتا کہ ظالم سے دشمنی اور مظلوم سے ہمدردی کریں تو پھر میں اس خلافت کی مھار کو اس کے سوار پر ڈال دیتا اور اس کے دوسرے کو پہلے والے کے کاسہ سے سیراب کردیتا، کیونکہ میں نے اس دنیاکو بکری کے ناک سے بہتے گندے پانی سے بھی پست پایا“۔(خطبہ شقشقیہ)

آپ کی خلافت کے دوران ناکثین (اھل جمل) قاسطین (تابع معاویہ) اورمارقین (خوارج) سے جنگ ہوئی ۔( ۵۷ )

آپ کی شھادت، مظلومانہ طریقہ سے شب ۲۱ / رمضان المبارک ۴۰ ھ( ۵۸ ) کو کوفہ میں ہوئی اور آپ کو کوفہ سے باھر ”نجف“ میں دفن کردیا گیا۔

دوسرے امام : حضرت حسن بن علی علیہ السلام

آپ کے دو مشهور ومعروف لقب ”مجتبیٰ “ او ر”زکی“ تھے۔

آپ کی ولادت باسعادت شب ۱۵/ رمضان المبارک تین ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ کی تربیت آغوش پیغمبر اور قرآنی ماحول میں ہوئی۔

آپ امام ہدیٰ( ۵۹ ) وسیدی شباب اھل الجنة( ۶۰ ) میں سے ایک ہیں آپ کی ذات ان دومیں سے ایک ہے جن کے ذریعہ ذریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمباقی ہے، آپ ہی ان چار حضرات میں سے ایک ہیں جن کے ذریعہ رسول اسلام نے نصاری نجران سے مباھلہ کیا او رآپ ہی پنجتن پاک کی ایک فرد ہیں جن کی شان میں آیہ تطھیر نازل ہوئی۔

آپ نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے ساتھ سات سال زندگی گذاری اور اس کے بعد اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ تمام مشکلات ومصائب میں شریک رھے اور جب حضرت علی علیہ السلام کی وفات ہوئی تو خلافت آپ کے قدموں میں آگئی اور معاویہ اور شام کے رہنے والوں کے علاوہ پورے عالم اسلام نے آپ کی بیعت کی، آپ نے دین کی خاطر اپنے لشکر کو معاویہ اور اس کے لشکر سے مقابلہ کے لئے بھیجا لیکن اس کے بعد آپ کو مشهور ومعروف صلح کرنی پڑی آپ کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے پہلے ہی ارشاد فرمادیا تھا:

ان هذا سید یصلح اللّٰه علی یدیه بین فئتین عظیمتین( ۶۱ )

(یہ میرا بیٹا سید وسردار ہے خداوندعالم اس کے ھاتھوں پر دو عظیم گروہ کی صلح کرائے گا)

قارئین کرام ! صلح امام حسن علیہ السلام کی تفصیل یعنی اس موقع کے حالات کیا تھے امام علیہ السلام نے کس طرح ان حالات کا مقابلہ کیا،صلح کا مقصد کیا تھا ، اس صلح کے کیا کیا بند تھے، شرطیں کیاکیا تھیں، کیا معاویہ نے ان شرائط کو پورا کیا؟ ان تمام چیزوں کو اس کتاب کی ضخامت کے پیش نظر بیان نہیں کیا جاسکتا او رجو شخص ان تمام چیزوں کی تفصیل جاننا چاھے تووہ ”صلح الحسن“نامی کتاب کا مطالعہ کرے، کیونکہ مذکورہ کتاب میں مکمل طریقہ سے بحث کی گئی ہے اور اس کتاب کے متعدد ایڈیشن بھی چھپ چکے ہیں۔

بعض معترضین نے امام حسن علیہ السلام پر یہ بھی اعتراض کیا کہ آپ کی کئی بیویا ںتھیں یھاں تک کہ بعض لوگوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کی بیویوں کی تعداد ۳۰۰ سے ۹۰۰ کے درمیان تھی۔( ۶۲ )

لیکن تاریخ کی تحقیق سے یہ اعتراض بے جا ثابت ہوتا ہے اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ کی سات یا آٹھ بیویاں تھیں۔( ۶۳ ) جیسا کہ یہ بات بھی کشف ہوجاتی ہے کہ آپ (ع)پنے اپنی تین بیویوں کو طلاق بھی دی ہے۔( ۶۴ )

چنانچہ ڈاکٹر احمد محمود صبحی صاحب نے آپ کے مسئلہ تعدد ازواج کے بارے میں حاشیہ لگایا اور کھا:

”آپ کا تعدد ازواج سے شاید مقصد یہ رھا ہو کہ مختلف قبائل سے آپ کے سسرالی رشتہ داری ہوجائےں کیونکہ (ابن خلدون کے قول کے مطابق) حاکم وقت اپنی رشتہ داری اورخاندان کے بل بوتہ پر حکومت کرتاتھا یھی وجہ ہے کہ تمام بنی امیہ نے اس کی حکومت کی طرف داری کی، (اور اس کی حمایت میں حکومت شام کے مخالفین کا قتل وغارت کیا)

چنانچہ امام حسن علیہ السلام نے جب یہ دیکھا کہ آپ کی اولاد کو قتل کیا جارھا ہے اور آپ کی نسل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے کثرت ازواج اور کثرت نسل کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں دیکھا۔( ۶۵ )

آپ کو (معاویہ کے حکم سے) زھر دیا گیا او رآپ مدینہ منورہ میں ۲۸/ صفر سن پچاس ہجری( ۶۶ ) کو شھید کئے گئے اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کردیا گیا۔

تیسرے امام : حضرت حسین بن علی علیہ السلام

آپ کا مشهور ومعروف لقب ”سید الشہداء“ ہے۔

آ پ کی ولادت باسعادت ۳/ شعبان المعظم سن چار ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ کی پرورش سایہ نبوت، موضع رسالت، مختلف الملائکہ اور معدن علم میں ہوئی۔

آپ بھی اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کے تمام بنیادی فضائل میں شریک ہیں یعنی آپ بھی امام ہدیٰ، سیدا شباب اھل الجنة میں سے ایک ہیں، آپ ہی کی ذات ان دو میں سے ایک ہے جن کے ذریعہ ذریت رسول باقی ہے آپ ہی ان چار حضرات میں سے ایک ہیں جن کے ذریعہ رسول اسلام نے نصاریٰ نجران سے مباھلہ کیا اور آپ بھی پنجتن پاک(ع) کی ایک فرد ہیں جن کی شان میں آیہ تطھیر نازل ہوئی۔

آپ(ع) نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے ساتھ چھ سال تک کی زندگی گذاری، او رآپ پر وہ تمام مصیبتیں پڑیں جو وفات رسول کے بعد اھل بیت (ع)پر پڑیں یھاں تک کہ آپ کے بھائی امام حسن علیہ السلام کو زھر سے شھید کردیا گیا او رآ پ نے اپنی زندگی میں اپنی والدہ گرامی، پدر بزرگوار اور اپنے بھائی کے غم کو برداشت کیا۔

اور جس وقت معاویہ کی موت ہوئی تو یزید اس کا وارث بنا اوراس نے سب مسلمانوں کو اپنی بیعت کے لئے بلایا، تو ان میں سے بعض لوگوں نے نالائق جوان کی بیعت کرنے سے انکار کردیا۔

چنانچہ آپ کی حکومت وقت سے مخالفت کے تین اہم اسباب تھے:

۱ ۔یزید کا مستحق خلافت نہ ہونا اور خلافت کی اھلیت نہ رکھنا۔

۲ ۔صلح امام حسن علیہ السلام میں جو معاہدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہوچکا تھا کیونکہ معاویہ کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ معاویہ کے بعد خلافت آپ (امام حسن (ع)) ہی کے پاس رھے گی او راگر امام حسن (ع) کے لئے کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آگیا تو ان کے بعد حق خلافت ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام کو ہوگا، لہٰذا معاویہ کو اپنے بعد کسی کو خلیفہ معین کرنے کاکوئی حق نہیں تھا۔( ۶۷ )

اس کا مطلب یہ ہے کہ معاویہ کے مرتے ہی امام حسین علیہ السلام در حقیقت صاحب خلافت ہوگئے تھے کیونکہ معاویہ نے اس معاہدہ پر بھی دستخط کر رکھے تھے۔

۳ ۔ اس وقت کے حالات اس طرح کے تھے کہ ایسے حالات میں قیام کرنا واجب ہوجاتا ہے کیونکہ خود آپ (ع) نے ایک حدیث میں اس طرح اشارہ کیا ہے:

انی لم اخرج بطراً و لااشراً ولامفسداً ولاظالماً وانما خرجت اطلب الصلاح فی امة جدی محمد (ص) ارید ان آمر بالمعروف وانهیٰ عن المنکر( ۶۸ )

(میں کسی فتنہ وفساد اور ظلم کے لئے نہیں نکل رھا ہوں بلکہ میں اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی امت کی اصلاح کے لئے نکل رھا ہوں اور میں امر بالمعروف او رنھی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں)

اسی طرح اپنے شیعوں کے نام ایک خط لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

فلعمری ما الامام الا الحاکم بالکتاب، القائم بالقسط، الدائن بدین الحق، الحابس نفسه علی ذات الله( ۶۹ )

(خدا کی قسم امام کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ قرآن کے مطابق حکم کرے، عدالت قائم کرے، دین حق کی طرف دعوت دے اور پروردگار کے سامنے اپنے نفس کا حساب کرے)

قارئین کرام ! اس اسباب کی تحقیق وبررسی کے بعد ان لوگوں کا نظریہ باطل ہوجاتا ہے جن کی نظر میں امام حسین علیہ السلام خطاکار ہیں جیسے ابوبکر بن عربی وغیرہ ،کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ امام حسین کے لئے یزید کی بیعت کرکے خاموش ہوجانا بہتر تھا۔( ۷۰ )

قارئین کرام ! آپ حضرات غور تو کریں کہ کیسے امام حسین علیہ السلام کے لئے یہ بہتر تھا کہ یزید کی بیعت کرکے خاموش ہوجاتے جبکہ امام حسین علیہ السلام اپنے اوپر واجب دیکھ رھے تھے کہ قیام کریں اور خود معاویہ نے اس عہد نامہ پر دستخط کررکھے تھے جس میں امام حسین علیہ السلام کو بیعت نہ کرنے اور سکوت اختیار نہ کرنے کا حق تھا۔

لہٰذا حضرت امام حسین علیہ السلام تاریخ کے اوراق پر فاتح اکبر کے نام سے مشهور ہیں اگرچہ کربلا کے میدان میں ظاہری طور پر آپ کو اور آپ کے لشکر کو تہہ تیغ کردیا گیا جبکہ ان کے قاتلوں پر ہمیشہ تاریخ لعنت کرتی چلی آرھی ہے، اگرچہ انھوں نے اپنی جنگ میں غلبہ حاصل کیا،بلکہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جس میں جنگ میں(ظاہری) غلبہ پانے والوں پر دنیا نے اس طرح لعنت وملامت کی ہو جس طرح قاتلین امام حسین علیہ السلام پر کی ہے( ۷۱ )

آپ کی شھادت ۱۰/ محرم ۶۱ ھ کو عصر کے وقت کربلا میں ہوئی( ۷۲ ) او رآپ کربلائے معلی میں دفن ہیں۔

چھوتھے امام: حضرت زین العابدین علیہ السلام

آپ کے دومشهور لقب ہیں ”سجاد“ اور ”زین العابدین“ ،آپ کی ولادت باسعادت مدینہ منورہ میں سن اڑتیس ہجری کو ہوئی،آپ کا اس وقت بچپن تھا جس وقت آپ کے جد امیر المومنین علیہ السلام پر مصائب پڑے اور آپ کے چچا امام حسن علیہ السلام کے ساتھ سازش کی گئی جس کے بعد آ پ کو معاویہ سے صلح کرنا پڑی، (جیسا کہ اشارہ گذر چکا ہے)

اور جس وقت واقعہ کربلا نمودار ہوا اس وقت آپ کی جوانی کا عالم تھا آپ تمام مصائب کربلا میں شریک تھے یھاں تک کہ آپ کو اسیر کرکے شام لے جایا گیا لیکن آپ اور آپ کی پھوپھی جناب زینب سلام اللہ علیھا نے یزید کے مقصد کو ناکام بنادیا کیونکہ یزید لوگوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ ایک خارجی نے حکومت وقت پر خروج کیا تھا لہٰذا اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا گیا (لیکن جناب سید سجاد اور جناب زینب (سلام اللہ علیہما) کے خطبوں کی وجہ سے یزید کا سارا ہدف کافور ہوگیا،چنانچہ امام علیہ السلام کی زندگی میں واقعہ کربلا کے بعد جب مدینہ والوں نے یزیدی ظلم وجور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو ”واقعہ حرہ“ پیش آیا جس میں یزید نے اپنی فوج کے لئے اھل مدینہ کے مال ودولت اور ناموس کو حلال کردیا تھا اور انھوں نے ظلم وبربریت کا وہ دردناک کھیل کھیلا کہ تاریخ شرمندہ ہے، اس واقعہ میں مروان بن حکم جیسے آپ کے دشمن کو بھی سوائے آپ کے در دولت کے علاوہ کھیں پناہ نہ ملی ۔( ۷۳ )

اور ان لوگوں کو اس وجہ سے امام علیہ السلام نے اپنے گھر میں پناہ دی تھی تاکہ تاریخ اور لوگوں کے لئے ایک عظیم درس مل جائے کہ الٰھی امام کا کردار کیسا ہوتا ہے۔امام علیہ السلام نے حکومت وقت کے ظلم اور اھل بیت علیہم السلام کی مظلومیت کو اپنی دعاؤں میں بیان کرنا شروع کیا اور یہ دعائیں لوگوں کو تعلیم دینا شروع کیں، چنانچہ امام علیہ السلام کی یہ دعائیں مومنین میں رائج ہوتی چلیں گئیں ان دعاؤں میں حاکم وقت کی حقیقت اور اس کے ظلم وجور کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور لوگوں کے ذہن کو ان سازشوں کی طرف متوجہ کیا کہ حکومت وقت تعلیمات دین کو ختم کرنا چاہتی ہے اور مقام اولیاء اللہ واصفیاء اللہ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے نیز حلال وحرام میں تحریف کرناچاہتی ہے اور سنت رسول کو نابود کرنا چاہتی ہے۔( ۷۴ )

چنانچہ امام علیہ السلام نے ان سخت حالات کا مقابلہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ کیا ، امام (ع) کی ان دعاو ں کے مجموعہ کو ”صحیفہ سجادیہ“ کھا جاتا ہے امام کی یہ عظیم میراث ہمارے بلکہ ہر زمانہ کے لئے حقیقت کو واضح کردیتی ہے، یہ عظیم کتاب مختلف تراجم کے ساتھ سیکڑوں بار چھپ چکی ہے۔

امام علیہ السلام کی عظیم میراث میں سے ”حقوق“ نامی رسالہ بھی ہے جس میں تمام خاص وعام حقوق بیان کئے گئے ہیں جس کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ عوام الناس کے حقوق کیا ہیں اور خدا کے حقوق کیا کیا ہیں انسان کو اپنے اعضاء وجوارح پر کیا حق ہے اور کیا حق نہیں ہے، چنانچہ یہ رسالہ بھی متعدد بارطبع ہوچکا ہے۔ امام سجاد علیہ السلام کی شھادت ۹۵ ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کو ”جنت البقیع“ میں دفن کیا گیا۔( ۷۵ )

پانچویں امام : حضرت محمد باقر علیہ السلام

آپ کا مشهور ومعروف لقب ”الباقر“ ہے او رآپ کو یہ لقب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے عطا فرمایا تھا۔واقعہ کربلا میں آپ کا عہد طفولیت تھااور اپنی جوانی میں ان تمام مشکلات ومصائب میں شریک تھے جو آپ کے پدر بزرگوار امام سجاد علیہ السلام اور دوسرے علویوں پر پڑے۔جب آپ اپنے پدر بزرگوار کی وفات کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے تو آپ حکومت وقت سے بالکل جدا ہوگئے اور کسی بھی طرح کا کوئی رابطہ نہ رکھا چنانچہ آپ نے اپنا سارا وقت علوم دینی اور حقائق اسلام کو بیان کرنے میں صرف کردیا اور گذشتہ اموی حکومت کے زمانہ میں فقہ وحدیث جو اموی دور میںغبارآلود ہوگئے تھے ان کو صاف کردیا۔

در حالیکہ آپ کا حکام زمانہ سے بالکل رابطہ نہیں تھا لیکن جب بھی انھیں کوئی مشکل اور پریشانی ہوتی تھی توان مشکلات کو حل کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاصر ہوتے تھے، اور امام علیہ السلام بھی اس سلسلہ میں ذرہ برابر بھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے بلکہ اُن کی مشکلات کو حل فرما دیا کردیتے تھے اور ان کو وعظ ونصیحت فرماتے تھے، اسلام اور ارکان اسلامی کی حفاظت فرماتے تھے۔

جیسا کہ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ عبد الملک بن مروان کا امام علیہ السلام سے مشورہ کے بعد ان تمام ظروف او رکپڑوں کو بند کرادیاجن پر مصر کے بعض عیسائیوں نے سریانی زبان میں اپنا عقیدہ ”اب، ابن اور روح القدس“ چھاپ کر بازاروں میں روانہ کیا تھا۔

اسی طریقہ سے جب خلیفہ اور بادشاہ روم کے درمیان گفتگو ہوئی اور خلیفہ بادشاہ روم کو کوئی مستحکم جواب نہ دے سکا ، چنانچہ اس نے خلیفہ کی طرف سے بے توجھی کی خاطر سخت رویہ اختیار کیا اور اس نے درہم ودینار پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے لئے نازیبا الفاظ لکھ کر مسلمانوں کے بازار میں بھیجے کیونکہ اس زمانہ میں درہم ودینا ر روم میں بنائے جاتے تھے۔

جب عبد الملک نے یہ حال دیکھا تو امام علیہ السلام سے مشورہ کرنے پر مجبور ہوگیا اور اس سلسلہ میں آپ کوشام دعوت دی چنانچہ امام علیہ السلام نے مصلحت کے تحت اس دعوت کو قبول کیا اور آپ شام تشریف لے گئے اور جب عبد الملک نے آپ کے سامنے مشکل بیان کی تو آپ نے فرمایا کہ صنعت گروں کو بلایا جائے، خلیفہ نے ان سب کو حاضر کرلیا تب امام علیہ السلام نے ان لوگوں کو بتایا کہ کس طرح درہم ودینار کا سانچہ بنائیں، کس طرح ان کی مقدار معین کی جائے اور کس طرح ان پر کچھ تحریر کیا جائے،چنانچہ امام علیہ السلام نے اس طریقہ سے مسلمانوں کو رسوائی سے بچالیا اور بادشاہ روم ناکام ہوگیا( ۷۶ )

امام علیہ السلام کے بے شمار شاگرد تھے آپ کی میراث وہ گرانبھا ذخیرہ ہے جس سے تفسیر، فقہ، حدیث، کلام اور تاریخی کتب بھری ہیں، آپ کی شھادت ذی الحجہ ۱۱۴ ھ( ۷۷ ) مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

چھٹے امام : حضرت جعفر صادق علیہ السلام

آپ کا مشهور ومعروف لقب ”صادق “ھے۔

آپ کی ولادت باسعادت ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ کے زمانے میں اموی سلطنت کمزور ہوگئی یھاں تک کہ بالکل ہی اس کا خاتمہ ہوگیا اس کے بعد عباسی حکومت تشکیل پائی چنانچہ عباسی حکومت اپنے نئے منصوبوں کو تیار کرنے میں مشغول تھی لہٰذا امام علیہ السلام نے موقع غنیمت شمار کیا اور وسیع پیمانہ پر تعلیم وتربیت میں مشغول ہوگئے، آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ایسے ایسے شاگرد جو بعد میں اسلام کی مشهور ومعروف شخصیتیں بن گئیں۔

آپ(ع) کے شاگرد اور آپ سے احادیث روایت کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ لوگوں کی زبان پر شیعیت کے بجائے ”مذھب جعفری“ گردش کرنے لگا، اور اس مذھب کو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب کرنے لگے جبکہ تشیع تمام اھل بیت (ع)سے منسوب ہے اور کسی ایک امام سے مخصوص نہیں ہے۔

امام علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں کس قدر دینی خدمات انجام دیں ہیں اس کے لئے کافی ہے کہ ہم بعض تاریخوں میں آپ کے شاگردوں اور رواة کی تعداد کو ملاحظہ کریں جن کی تعدادچار ہزارا تک بتائی جاتی ہے۔( ۷۸ )

اسی طرح ابو الحسن وشاء کہتے ہیں کہ :

”میں نے اس مسجد (کوفہ) میں ۹۰۰ / راویوں کو دیکھا جو کہتے تھے: ”حدثنی جعفر بن محمد(ع)“ (مجھ سے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا)( ۷۹ )

اسی طرح ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم امام علیہ السلام کی بعض باقی باندہ علمی میراث کو دیکھیں اور امام علیہ السلام کی عظمت وبلندی کا اندازہ لگائیں۔

اگر آپ کی تفسیر قرآن، علم فقہ، فلسفہ اور علم کلام وغیرہ کو ایک ساتھ جمع کیا جائے تو ایک بے نظیر عظیم الشان دائرة المعارف بن جائے گا۔

آ پ کے علمی آثار میں سے :

طبی قوانین اور صحت سے متعلق دستور جن کو دو کتابوں میں جمع کیا گیا ہے۔

”توحید المفضل “ اور ”الاھلیلجہ “( ۸۰ )

ان دونوں کتابوں میں مسئلہ ”عدوی “ (جس کے ذریعہ ”مکروب“ " Microbe " کی شناخت ہوتی ہے) کے بارے میں مکمل طریقہ سے وضاحت کی گئی ہے۔

اسی طرح علم الامراض کے بارے میں مکمل طور پروضاحت کی گئی ہے، امام علیہ السلام نے سب سے پہلے دورة الدمویة تھر ما میٹر" Thermometer "کشف کیا اس کے بعد کھیں ڈاکٹر ”ھارفی بقرون“ نے اس طرح اشارہ کیا ہے۔

آپ ہی نے جابر بن حیان کو علم کیمیا ( Chemistry )کی تعلیم دی اسی وجہ سے آپ کو علم کیمیا کا موجد کھا جاتا ہے جیسا کہ ڈاکٹر محمد یحيٰ الھاشمی کہتے ہیں۔( ۸۱ )

امام علیہ السلام کے طریقہ کار کے بارے میں استاد ”ڈونالڈسن“ نے تدریس کے طریقہ کو بیا ن کرتے ہوئے کھاھے:

”آپ کی روش تدریس سقراطی تھی آپ اپنے شاگردوں کے ساتھ ہمیشہ بحث ومباحثہ کرتے تھے اور خالص او رسادہ موضوعات سے اپنی گفتگو کاآغاز فرماکر دقیق، علمی ، پیچیدہ اور مشکل موضوعات پر بحث ختم فرماتے تھے۔( ۸۲ )

آپ کی شھادت ۱۴۸ ھ( ۸۳ ) کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کوبھی جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

ساتویں امام : حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام

آپ کے دو مشهور لقب ”کاظم“ اور ”باب الحوائج“تھے ۔

آپ کی ولادت باسعادت ۱۲۸ ھ کو مقام ”ابواء“ (مدینہ کے قریب ایک مقام)میں ہوئی۔

آپ کی زندگی بنی عباس سلطنت کے زیر اثر مشکلات سے دوچار رھی ہے۔

آپ کی زندگی کس قید خانہ میں گذری ہے اس کا بیان کرنا مشکل ہے ھارون الرشید آپ کا سخت مخالف تھا اس کا سبب بھی بعض مورخین نے یہ بیان کیا ہے کہ جس وقت ھارون الرشید مدینہ منورہ میں داخل ہو کرمسجد النبی میں زیارت کے لئے گیا اور چونکہ اس نے قبر نبوی پر توجہ دی تو مدینہ کے زعماء اور سردار اس کو تحفے دینے کے لئے گئے او رجب ھارون قبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپر حاضر ہوا تو اس طرح سلام کیا:

السلام علیک یا ابن العم

(اے میرے چچازاد بھائی تم پر سلام ہو)

اس کا یہ سلام لوگوں کو فریب دینے کے لئے تھا تاکہ لوگ اس قریبی رشتہ داری کو دیکھ کر اس کو خلافت کا مستحق مان لیں، لیکن جب امام علیہ السلام نے اس مکر وفریب کو دیکھا تو اس کو بے نقاب کردیا اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو مخاطب کرکے کھا:

السلام علیک یا ابه

(اے پدر بزرگوار تم پر سلام ہو)

یہ سن کر ھارون الرشید کا سر شرم کی وجہ سے جھک گیا اور اس پر کینہ وکدورت کے آثار ظاہر ہونے لگے۔

چنانچہ اس کے بعد سے امام علیہ السلام اور ھارون الرشید میں بہت سے مناظرات ہوئے کہ کون رسول اللہ سے زیادہ قریب ہے، ھارون الرشید کی دلیل یہ تھی کہ لڑکی کی اولاد ”ذریت“ اور اس کے اولاد نہیں ہوتی۔ کیونکہ ذریت اور ابناء صرف باپ کے ذریعہ منسوب ہوتے ہیں ماں کے ذریعہ نھیں۔

لیکن امام علیہ السلام نے ھارون الرشید کو وہ دندان شکن جوابات دئے جن کی وجہ سے اس کو منھ کی کھانی پڑی، ان میں سے بعض کا خلاصہ یہ ہے:

۱ ۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماب تک زندہ ہوتے تو تیری بیٹی سے نکاح کرسکتے تھے لیکن میری بیٹی سے ہر گز یہ قصد نہ کرتے۔

۲ ۔خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْهِ مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَاءَ نَا وَاٴَبْنَاءَ کُمْ ) ( ۸۴ )

”پھر جب تمھارے پاس علم (قرآن) آچکا اس کے بعد بھی اگر تم سے کوئی (نصرانی) جناب عیسیٰ (ع) کے بارے میں حجت کرے تو کهو کہ (اچھا میدان میں) آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔۔۔۔“

اور اس بات کو تمام مسلمان جانتے ہیں کہ آپ نے مباھلہ میں بیٹوں کی جگہ امام حسن وامام حسین علیہما السلام کو لیا جو آپ کی بیٹی کی اولاد ہیں اور قرآن کریم نے ان دونوں کو ابناء (بیٹے) کھا۔

قرآن مجید نے جناب ابراھیم علیہ السلام کی زبانی نقل کیا:

( وَمِنْ ذُرِّیَّتِه دَاو دَ وَسُلَیْمَانَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسیٰ وَهَارُوْنَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِیَ الْمُحْسِنِیْنَ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیيٰ وَعِیْسٰي ) ( ۸۵ )

”اور ان ہی (ابراھیم ) کی اولاد سے داو د ، سلیمان وایوب ویوسف وموسیٰ وھارون (سب کی ہم نے ہدایت کی) اور نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی صلہ فرماتے ہیں اور زکریا اور یحيٰ اور عیسیٰ(ع)۔۔۔)

اور جناب عیسیٰ (ع)بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن قرآن کریم نے ان کو ماں کی طرف سے ذریت ابراھیم علیہ السلام میں شمار کیا اس کامطلب یہ ہے کہ انسان ماں کی طرف سے ذریت میں شامل ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اس بات کو صاف طور پر بیان کیا ہے۔

یہ تمام چیزیں سن کر ھارون الرشید شرمندہ ہوگیا لیکن اس کے دل میں بھرا بغض وحسد ظاہر ہونے لگا جس کی بنا پر امام علیہ السلام پر مصائب پڑنے لگے اور آپ کو قید خانہ میں بھیج دیا گیا اور اس پر بھی ھارون کو سکون نہ ملا بلکہ امام کو ایک قید خانہ سے دوسرے قید خانہ میں بھیج دیتا تھا لہٰذا امام علیہ السلام کو تعلیم وتربیت کا موقع کم ملا ہے۔

لیکن پھر بھی آپ نے اپنی آزاد زندگی میں وہ عظیم علمی آثار چھوڑے ہیں جو اسلام کے عظیم منابع میں شمار ہوتے ہیں۔

آپ(ع) کی شھادت شب ۲۵ رجب ۱۸۳ ھ( ۸۶ ) کو ہوئی اور آپ کو قریش کے قبرستان میں دفن کیا گیا جس کو آج کل کاظمیہ (کاظمین) کھا جاتا ہے جو امام علیہ السلام سے منسوب ہے)


آٹھویں امام : حضرت علی رضا علیہ السلام

آپ (ع)کا مشهور لقب ”رضا“ ہے۔

آ پ (ع)کی ولادت باسعادت ۱۱/ ذیقعدہ ۱۴۸ ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ (ع)کے زمانہ میںسب سے پہلاعباسی خلیفہ بنا او رآپ اپنے پدربزرگوار پر پڑنے والی تمام مشکلات میں شریک تھے، جس وقت مامون کو خلافت ملی تو اسلامی علاقوں میں بہت سی اہم مشکلات پیدا ہوگئیں جن میں سے بعض یہ ہیں:

امین ومامون کے درمیان ہوئی جنگ کے نتیجہ میں حکومت کی ساکھ کمزور پڑگئی اور چونکہ مامون نے ایران کو دار السلطنت بنالیا تھا لہٰذا عباسی افراد اور ان کے طرفدار برائی کیا کرتے تھے اور اسی طرح علویوں کی طرف سے مکہ مکرمہ، یمن، کوفہ، بصرہ اور خراسان سے قیام ہوئے۔

چنانچہ ان تمام مشکلات کو حل کرنے کے لئے ہمیشہ مامون پریشان رہتا تھاچنانچہ اس کو کوئی چارہ کار دکھائی نہ دیا مگر یہ کہ امام علیہ السلام کو ”مرو“ (خراسان کا ایک علاقہ) میں بلالیا اور جب آپ سے ملاقات ہوئی تو خلافت آپ کے سپرد کرنے کی پیش کش کی، (لیکن امام علیہ السلام نے قبول نہیں کی) اس کے بعد مامون نے ولی عہدی کے لئے بہت اصرار کیا (چنانچہ امام علیہ السلام نے مجبوراً ومصلحتاً قبول کرلیا)

مامون اس کام کے ذریعہ موجودہ حالات سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا خصوصاً عالم اسلام کے بعض مناطق میں حکومت کی مخالفت میں قیام ہوچکے تھے۔لہٰذا اس حکومت میں امام رضا علیہ السلام کی شرکت (اگرچہ برائے نام ہی کیوں نہ ہو) بھڑکے ہوئے آگ کے شعلوں کو خاموش کرنے میں مددگار ثابت ہوئی، کیونکہ ان مناطق میں حب آل علی پائی جاتی تھی اور چونکہ امام علیہ السلام اولاد علی میں سے تھے لہٰذا ان کا قیام ختم ہوگیا۔

امام علیہ السلام جانتے تھے کہ مامون کا اصرار صرف ایک چال ہے کیونکہ یھی مامون مستقبل میں میرے خلاف ایک زبردست مہم چلائے گا یا بعض علویوں کے ضمیروں کو خرید کر اس تحریک کا علمدار بنادے گا۔

لیکن امام علیہ السلام اس علم کے باوجود یہ احساس کررھے تھے کہ اگر اس پیش کش (ولی عہدی) کو قبول نہ کیا تو باعث عسر وحرج ہوگا کیونکہ اگر آپ قبول نہ کرتے تو اس کے معنی یہ تھے کہ آپ اصلاً مستحق خلافت نہیں ہیں یا خلافت کی مھار سنبھالنے کی لیاقت نہیں رکھتے۔

اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے ولی عہدی کو قبول کرلیا تاکہ مامون کا امتحان لیا جاسکے اور اس کو آزماسکیں۔

چنانچہ امام علیہ السلام رسمی طور رپر ولی عہد ہوگئے۔

اس کے بعد بہت سے واقعات رونما ہوئے اور امام علیہ السلام کی وفات ایسے حالات میں ہوئی جن کو دیکھ کر انسان شک میں پڑجاتا ہے (اور وہ یہ کہ آپ کی شھادت مامون کے ذریعہ ہوئی ہے) لیکن ان تمام تفصیلات کو یھاں ذکر نہیں کیا جاسکتا۔

امام علیہ السلام کے علمی آثار وہ عظیم مجموعہ ہے جن کا اسلامی منابع میں شمار ہوتا ہے ان میں سے ایک رسالہ جس کو مامون کے لئے لکھا تھا جس کا نام ”الذھبیہ“ تھا جو طبی مسائل میں تھا اور ”طب الرضا“ کے نام سے مشهور ہوا، اس رسالہ کی شرح ڈاکٹر زینی صاحب نے کی ہے، اور اس رسالہ کے مطالب او رعلم طب کے درمیان مقایسہ کیا ہے،چند سال قبل یہ رسالہ بغداد سے شایع ہوچکا ہے۔

آپ کی شھادت صفر ۳۰۳ ھ( ۸۷ ) کو طوس میں ہوئی اور طوس (خراسان) میں دفن ہوئے ہیں، آج آپ کے مدفن کو ”مشہد“ کھا جاتا ہے۔

نویں امام : حضرت محمدتقی علیہ السلام

آپ کے دو مشهور لقب تھے ”جواد “ اور ”تقی“ ،آپ کی ولادت باسعادت رمضان المبارک ۱۹۵ ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی، آپ نے خلیفہ مامون کے زمانہ میں اپنی زندگی کا آغاز کیا وہ مامون جو اھل بیت (ع) اور ان کی ولایت کا جھوٹا مظاہرہ کررھا تھا۔

اور جس وقت امام رضا علیہ السلام کی وفات واقع ہوئی تو لوگوں کی زبان پر امام علیہ السلام کے قتل کا الزام مامون پر لگایا جارھا تھا چنانچہ مامون نے اس افواہ کو جھوٹا ثابت کرنے اور عملی طور پر دلیل قائم کرنے کی کوشش کی اور اس نے امام تقی علیہ السلام سے محبت کا اظھار کیا او راپنی بیٹی امّ الفضل سے آپ کی شادی کرنے کا ارادہ کیا تاکہ دونوں خاندانوںمیں جدید رشتہ داری کی بنا پر محبت پیدا ہوجائے، لیکن اس کام کے لئے دوسرے عباسیوں نے اپنی ناراضگی ظاہر کی اور اصرار کیا کہ اس شادی سے صرف نظر کرے او ریہ مطالبہ کیا کہ علویوں کے ساتھ گذشتہ خلفاء کا رویہ اختیار کرے یعنی ان کے ساتھ جنگ ودشمنی کی جائے،لیکن مامون نے ان کی یہ بات نہ سنی او ران کو جنگ ودشمنی سے روکا کیونکہ اسے آل علی (ع) سے قطع تعلق کی کوئی خاص وجہ نہیں دکھائی دی اور ان کے سامنے وضاحت کی کہ اپنی بیٹی کی شادی کسی عاطفہ او رمحبت کی بنا پر نہیں کررھا ہوں بلکہ امام علیہ السلام کی شخصیت وفضیلت تمام علماء اور ماھرین پر واضح ہے درحالیکہ ان کاسن بھی کم ہے۔

لیکن جب ان لوگوں نے مامون کو اپنے فیصلہ پر مصمم پایا تو کھا کہ امام علیہ السلام کو مزید علم وفقہ میں مھارت حاصل کرنے دو اس وقت مامون نے کھا: ”یہ اھل بیت (ع) کی ایک فرد ہیں ان کا علم خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اگر تم نہیں مانتے تو ان کا امتحان کرلو تاکہ تم پر بھی حقیقت واضح ہوجائے۔“

چنانچہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ امام علیہ السلام کا امتحان لیا جائے اور ان میں سے بعض لوگ امتحان کے لئے تیار ہوگئے، اور قاضی القضاة یحيٰ بن اکثم کو آمادہ کیا کہ وہ امام علیہ السلام سے سوال کرکے شکست دیدے۔، چنانچہ امتحان کی تاریخ پهونچ گئی اور امام ویحيٰ بن اکثم کے درمیان مناظرہ ہوا جس کے نتیجہ میں یحيٰ بن اکثم کو منھ کی کھانی پڑی او رامام علیہ السلام کی شخصیت فقہ اسلامی کے میدان میں روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی،اس مناظرہ میں امام علیہ السلام کی قابلیت کو دیکھ کر مامون نے اپنی لڑکی سے شادی کردی اور امام ومامون کے درمیان تعلقات بہتر ہوگئے۔(ظاہراً)

لیکن جب مامون کے بعد معتصم کو خلافت ملی تو اس نے امام علیہ السلام کو بغداد بلالیا اور آپ کو ایک مخصوص گھر میں رکھا گیا لیکن آپ کی وفات ان مبہم حالات میں ہوئی جن کی بنا پر معتصم پر الزام لگایا جانے لگا کہ اس نے ام الفضل کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زھر پلایا۔

اور چونکہ امام علیہ السلام معتصم کے زیر نظر تھے لہٰذا بغداد کے ان حالات میں بھی امام علیہ السلام نے وہ علمی آثار چھوڑے جن سے مشهور اسلامی کتابیں منور ہیں۔

آپ کی شھادت ذی الحجہ ۲۲۰ ھ( ۸۸ ) میں ہوئی او رآ پ کو آپ کے دادا کے پاس ”کاظمیہ“ (کاظمین) میں دفن کیا گیا۔

دسویں امام : حضرت علی نقی علیہ السلام

آپ ”نقی“ او ر”ھادی“ کے لقب سے مشهور تھے۔

آپ کی ولادت باسعادت ۱۵/ ذی الحجہ ۲۱۲ ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ کی کچھ زندگی معتصم کے زمانہ میں گذری اور یھی وہ زمانہ تھا جس میں ”سرمن رائے“ تشکیل پائی کیونکہ اس زمانہ میں ترکوں او رممالک نے حکومت اسلامی کے لئے بہت سی مشکلیں ایجاد کردی تھیں لہٰذا معتصم ان مشکلوںکا مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں مشغول تھا۔

اس کے بعد واثق کا زمانہ آیا یہ وہ زمانہ تھا جس میں امام علیہ السلام او رخلیفہ کے درمیان اچھے تعلقات رھے ہیں۔

اس کے بعد متوکل کا زمانہ آیا لیکن یہ وہ زمانہ تھا جس میں اھل بیت (ع) سے علی الاعلان دشمنی او رمقابلہ کیا جانے لگا اور لوگوں کو ان سے منحرف کیاجانے لگا۔

اور جب مدینہ میں متوکل کے والی کو امام علیہ السلام کی شان وشوکت کو دیکھ کر اپنی حکومت کے ڈگمگانے کا خوف لاحق ہوا تو اس نے متوکل کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ امام علیہ السلام تیری حکومت کے خلاف انقلاب لانا چاہتے ہیں۔

جب ان تقاریر کا سلسلہ بڑھنے لگا تو متوکل نے امام علیہ السلام کو خط لکھ کر سرمن رائے بلایا تاکہ آپ او رآپ کے اھل بیت وھاں پر رھیں تاکہ لوگوں کا رجحان آپ کی طرف سے ہٹ جائے اور والی مدینہ کو لکھا کہ امام علیہ السلام کے ساتھ کچھ محافظین بھیجے تاکہ امام علیہ السلام کے احترام واکرام کا مزید مظاہرہ ہوسکے۔

چنانچہ امام علیہ السلام نے ان حالات کو دیکھ کر سفر کا ارادہ کرلیا اور سرمن رائے جانے کے لئے رختِ سفر باندھ لیا اور جب امام علیہ السلام متوکل کے تیار کردہ مکان میں پهونچے، چند روز رہنے کے بعد آپ نے اس کا مکان چھوڑ دیا اور اپنے مال سے ایک مکان خریدا تاکہ خلیفہ کے مہمان بن کر نہ رھیں ، یھی وہ مکان تھا جس میں آپ کو دفن بھی کیا گیا، جو آج بھی لاکھوں افراد کی زیات گاہ ہے۔

امام علیہ السلام نے مجبوراً سرمن رائے میںقیام فرمایا، یھاں تک کہ آپ کی شھادت واقع ہوئی کیونکہ ہمیشہ آپ کے خلاف سازش ہوتی رھی او رآپ کو ہر طرح کی اذیت دی جانے لگی،اس جرم میں کہ یہ ہماری حکومت کے خلاف انقلاب لانا چاہتے تھے او رہماری حکومت کے خلاف بغاوت کرنا چاہتے تھے۔

ان تمام حالات کے بعد بھی خلیفہ کو جب بھی کوئی شرعی مشکل پیش آتی تھی تو وہ امام علیہ السلام کے پاس آکر پنا ہ لیتا تھا کیونکہ خلیفہ میں مسائل شرعی سمجھنے کی صلاحیت نہ تھی او رنہ ہی وہ شرعی سوالات کا جواب دے سکتا تھا۔

امام علیہ السلام کے علمی آثار نفیس وقیمتی ہیں جن میں ”جبر وتفویض“ کے موضوع پر بہترین رسالہ ہے جس میں مسئلہ کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی اور اس میں موجود ہ پیچیدگیوں کا مکمل حل بیان کیا گیا ہے خلاصہ یہ کہ اس مسئلہ میں مکمل وضاحت کی گئی ہے او رآپ کے جد امجد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے قول: ”لا جبر ولا تفویض ، بل امر بین الامرین“( ۸۹ ) کی مکمل شرح کی گئی ہے۔

آپ کی شھادت رجب ۲۵۴ ھ( ۹۰ ) کو سامرہ میں ہوئی اور آپ کو اپنے ہی گھر میں دفن کیا گیا جو ہزاروں مومنین کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔

گیارهویں امام : حضرت حسن عسکری علیہ السلام

آپ ”عسکری “ کے نام سے مشهور تھے ، عسکری ”عسکر“ کی طرف منسوب ہے جوسرمن رائے کے ناموں میں سے ایک نام تھا۔

آپ کی ولادت باسعا دت ربیع الاول ۲۳۲ ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ کی حیات طیبہ میں درج ذیل حکام کا زمانہ تھا:

۱ ۔ خلیفہ المعتز ؛ اس زمانہ میں خلیفہ اور امام کے درمیان کوئی دشمنی یا سازش نہیں تھی کیونکہ اس زمانہ میں تُرک لشکر نے خلیفہ کے لئے بہت سی مشکلیں ایجاد کر رکھی تھیں ،اس کی حکومت میں تباہ کاری وخرابکاری کر رکھی تھی اورخلیفہ ان مشکلات سے دست وپنجہ نرم کر رھا تھا لیکن آخر کار خلیفہ کو خلافت سے معزول ہونا پڑا۔

۲ ۔ خلیفہ مہتدیٰ؛ اس کے امام علیہ السلام کے ساتھ اچھے روابط تھے اور اسی وجہ سے خلیفہ شراب، محفلِ رقص وسرور سے دور تھا اور نیکی وخیر کا مظاہر ہ کرتا تھا۔

۳ ۔ خلیفہ معتمد ؛ یہ خلیفہ اھل بیت (ع)کا سخت دشمن تھا اسی وجہ سے اس نے امام علیہ السلام کو ایک مدت تک قید خانہ میں رکھا لیکن مجبور ہوکر امام علیہ السلام کو آزاد کرنا پڑا کیونکہ اس وقت کے نصاریٰ نے خلیفہ سے کچھ علمی سوالات کر لئے تھے چنانچہ اس مشکل کو حل کرنے اور نصاریٰ کے کھوٹے پن کو ظاہر کرنے کے لئے امام علیہ السلام کی مدد لی جیسا کہ تاریخی کتابیں اشارہ کرتی ہیں۔

جس وقت امام علیہ السلام کی وفات کی خبر ملی تو وہ نگران تھا کیونکہ اس وقت ”محمد“ مہدی بن امام عسکری علیہما السلام کی بحث شروع ہوچکی تھی اور اس سلسلہ میں امام مہدی علیہ السلام کے چچاحعفر بن علی میں حسد وکینہ بھرا ہوا تھا او رآپ کے مال ومنال او رآپ کے مقام کی طرف چشم طمع لگائے ہوئے تھا، اور اپنے بھتیجے (امام مہدی (ع)) کو تلاش کرنا چاہتا تھا لیکن یہ اور خلیفہ دونوں اپنے ارادوں میں ناکام ہوگئے اور امام مہدی دشمنوں کی نظروں سے مخفی رھے اور خداوندعالم نے ان کو حاسدوں کے حسد سے نجات دی۔

حالانکہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ پُر آشوب تھا لیکن پھر بھی راویوںنے بہت سی روایات نقل کی ہیں جو علم ومعرفت میں اپنا مقام رکھتی ہیں۔

آپ کی شھادت ۸/ ربیع الاول ۲۶۰ ھ( ۹۱ ) کو سرمن رائے میں ہوئی اور آپ کو اپنے پدر بزرگوار کے جوار میں (آپ کے ہی مکان میں)دفن کیا گیا۔

بارهویں امام :حضرت محمد بن الحسن (مہدی منتظر (عج)

آپ کے ”مہدی“ اور ”القائم المنتظر“ دو مشهور ومعروف لقب ہیں ۔

آپ کی ولادت با سعادت ۱۵/ شعبان المعظم ۲۵۵ ھ کو فجر کے وقت سامراء میں ہوئی۔

جب حکومت وقت نے آ پ کے پدربزرگوار کی وفات کے وقت آپ کے بارے میں سنا تو آپ کو تلاش کیا گیا، لیکن آپ ان کی نظروں سے پوشیدہ رھے۔

آپ نے غیبت صغریٰ میں کچھ مخصوص افراد منتخب کئے جو شیعوں کے مسائل او رسوالات کو امام سے جاکر بیان کرتے او ران کے جواب لاتے تھے۔

اور جب اس غیبت میں بھی خطرہ در پیش آیا تو پھر ملاقات کا یہ سلسلہ بھی بند ہوگیا اور آپ مکمل طور پر پوشیدہ ہوگئے یھاں تک کہ آپ کے نائیبین بھی نہ مل سکے، (اور امام علیہ السلام آج تک مخفی ہیں)

انشاء اللہ ایک روز آئے گا جب خداوندعالم آپ کو ظهور کا حکم دے گا او ر آپ ظلم وجور سے بھری دینا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ آپ کے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے بہت سی احادیث میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے؛مثلاً:

ان علیا وصیي ومن ولده القائم المنتظر المهدی الذی یملاء الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً

(بے شک علی میرے وصی ہیں اور ان ہی کی اولاد میں سے مہدی منتظر ہوں گے جو ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے)

ایضاً:

ابشروا بالمهدی رجل من قریش من عترتی تخرج فی اختلاف من الناس وزلزال، فیملاٴ الارض عدلاً وقسطاً کما ملئت ظلماً وجوراً( ۹۲ )

(اے لوگو ! میں تم کو مہدی کے بارے میں بشارت دیتا ہوں جو قریش سے ہوں گے جب لوگوں میں اختلاف اور لغزشیں پائی جائیں اسی وقت ان کا ظهور ہوگا اور وہ ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے)

قارئین کرام ! چونکہ موضوع امام مہدی ایک اہم موضوع ہے لہٰذا اس سلسلہ میں ایک مستقل باب میں بحث کرتے ہیں اور اس باب میں تین مرحلوں میں بحث کریں گے:

۱ ۔ نظریہ ”مہدویت“ او راس کااسلام سے رابطہ۔

۲ ۔مسلمانوں کے درمیان متفقہ احادیث نبوی میں امام مہدی کی شناخت او رتعین۔

۳ ۔ امکانِ غیبت اور اس کے دلائل۔

لہٰذا اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات کے لئے آئندہ باب میں رجوع فرمائیں۔

قارئین کرام ! بحث ”امامت“ عقل وروایات کی روشنی میں آپ نے ملاحظہ فرمائی اور امامت کے سلسلہ میں ”احادیث“ صاف اور واضح طور پر ملاحظہ کیں۔

نیز ائمہ (ع)کی پاک وپاکیزہ زندگی، سیرت اور علمی عظیم آثار پر بھی توجہ فرمائی۔ کیا ان سب حقائق کو پڑھنے کے بعد بھی کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ شیعہ یهودیوں کے پیروکار ہیں اوردائرہ اسلام سے خارج ہیں؟! اسی طرح گذشتہ وضاحت کے بعد بھی کیا کوئی یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ شیعیت کا ظهور خلافت عثمان بن عفان کے زمانہ میں ہوا، اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے قیام کیا۔

کیا عبد اللہ بن سبا کو شیعیت کا مو سس کھا جاسکتا ہے کہ اس نے اسلام کا لبادہ پہن کر اسلام کو نابود کرنے کی کوشش کی؟!

اور کیا تاریخ میں عبد اللہ بن سبا کا وجود ہے جس کی طرف شیعیت کی ایجاد کی نسبت دی جائے؟!

اب ہم اس سلسلہ میں مورخین کے نظریات قلمبند کرتے ہیں:

۱ ۔ ڈاکٹر برنارڈلویس نے عبد اللہ بن سبا کا وجود صرف خیالی بتایا ہے اور اس بات کی تاکید کی ہے کہ مختلف زمانے میں ابن سبا کی طرف نسبت دینا متاخرین علماء کی من گھڑت کھانی ہے۔( ۹۳ )

۲ ۔ڈاکٹر طٰہ حسین صاحب نے ابن سبا کی طرف منسوب تمام واقعات کو نا قابل قبول مانا ہے اور مورخین کی روایات پر حاشیہ لگاتے ہوئے کھا:

”شیعوں پر یہ سب تہمتیں ،شیعہ مخالفین اور شیعہ دشمنوں نے لگائی ہیں“۔( ۹۴ )

۳ ۔ ڈاکٹر جواد علی صاحب نے عبد اللہ بن سبا کی تمام باتوں کو مشکوک قرار دیا ہے کیونکہ اس کی تمام روایتیں سیف بن عمرھی سے ہیں اور اس کے علاوہ کسی نے بھی بیان نہیں کی جبکہ سیف بن عمر خود بھی اور اس کی روایات بھی غیر قابل قبول ہیں۔( ۹۵ )

۴ ۔ ڈاکٹر علی الوردی صاحب کا نظریہ ہے کہ اموی حکّام نے جلیل القدر صحابی جناب عمار بن یاسر کو عبد اللہ بن سبا کا لقب دیا ہے اور اس پر بہت سے قرائن وشواہد ہیں۔( ۹۶ )

۵ استاد احمد عباسی صالح صاحب کی نظر میں عبد اللہ بن سبا کا وجود ایک افسانہ ہے، جیسا کہ موصوف اپنی گفتگو کے دوران فرماتے ہیں:

”اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ عبد اللہ بن سبا ایک خرافی تصور کا نام ہے اور لوگوں نے اس خرافی شخص کا وجوداس لئے تصور کیاکہ اس کی طرف جو کچھ بھی نسبت دینا چاھیں وہ دے سکیں، چنانچہ عبد اللہ بن سبا کے جو واقعات موجود ہیں وہ سب متاخرین کی من گھڑت کھانیاں ہیں کیونکہ قدیمی منابع اور کتابوں میں اس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں ہے چہ جائیکہ اس کے نظریات کا کوئی وجود بھی ہو“( ۹۷ )

پس خلاصہ یہ ہوا کہ عبد اللہ بن سبا صرف ایک افسانہ ہے جس کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا تو پھر حقیقت میں شیعیت کی بنیاد رکھنے والا کون ہے؟ اور کس نے سب سے پہلے اس لفظ کو استعمال کیا؟

جواب :

سب سے پہلے اس لفظ کو حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے استعمال کیاجیسا کہ طبری اور حافظ ابن حجر نے اپنے مشهور حفاظ سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

( اِنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) ( ۹۸ )

”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں یھی لوگ بہترین خلائق ہیں“

اور اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا:

”ہم انت وشیعتک“( ۹۹ ) (وہ آپ او رآپ کے شیعہ ہیں)

اب جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ سب سے پہلے اس کلمہ کا استعمال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے کیا اور شیعہ سے مراد حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو لیا تو پھر خود غرض او ر شک کرنے والوں کے بے جا اعتراضات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اَلْحَمُدْ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِهٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَو لَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ ۔

والسلام علی المرسلین والحمد لله رب العالمین ۔

مہدی منتظرکی معرفت عقل وفطرت کی روشنی میں

(مہدی ومہدویت)

( وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ ) ( ۱۰۰ )

ابن حجر ہیتمی شافعی اس آیت کے ذیل میںکہتے ہیں:

”مقاتل بن سلیمان اور ان کے تابع مفسرین نے کھا کہ یہ مذکورہ آیت (حضرت امام) مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“

( لِیُظْهرهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ ) ( ۱۰۱ )

حافظ گنجی شافعی اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں:

”سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ (دین اسلام کو تمام ادیان پر ظاہر کرنے والے) (حضرت ) امام مہدی اولاد فاطمہ (سلام اللہ علیھا) سے ہیں۔“

مقدمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله علی ما اٴنعم واٴلهم ،صلی اللّٰه علی سیدنا محمد وآله وسلم

قارئین کرام ! حضرت امام ”مہدی منتظر“ کے سلسلہ میں بہت سے شک وشبھات کے سیاہ بادل منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں،اور مسلمانوں کے درمیان میں بہت سی ردّ وبدل ہوتی رھی ہے ،یھاں تک کہ بعض کتابوں اور بعض مولفین نے ”امام مہدی“ پر ایمان کو خرافات اور افسانہ پر ایمان رکھنابتایا ہے۔

جبکہ ان بحث کرنے والوں پر لازم تھا کہ اپنی بحث کو صرف اسی حقیقت کوواضح کرنے کے لئے مخصوص کرتے،تاکہ جو شبھات اس سے متعلق پائے جاتے تھے ان کو دور کرتے، اور ناقص افتراء پردازی کا خاتمہ کرکے خالص حقیقت سے پردہ برداری کرتے، تاکہ تمام لوگوں کے سامنے حقیقت واضح اور روشن ہوجائے۔

چنانچہ بعض حضرات ایسے بھی ہونگے جو یہ خیال کریں کہ یہ موضوع او راس طرح کے دوسرے موضوعات نے مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کردیا ہے اور ان کے درمیان اختلافات کی آگ بھڑکادی ہے، لہٰذا ان جیسے موضوعات پر بحث ہی نہ کی جائے تو زیادہ مفید ہے، لیکن ہمارے لحاظ سے یہ تصور حقیقت سے بہت دور ہے کیونکہ کسی بھی زمانہ میں کسی بات پر خاموش رہنا اس طرح کی مشکلات کا علاج نہیں رھا ہے، لہٰذا اس طرح کا خیال خام سوء ظن او رپستی کی علامت کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔

لہٰذا اس سلسلہ میں صاف اور وضاحت کے ساتھ گفتگو کرنا ہی مفید اور بہتر ہے، تاکہ نامعلوم حقائق سے پردہ برداری کی جاسکے ، جھوٹ او ربے ہودہ باتوں کا پول کھل جائے اور شک وتردید کا سد باب ہوسکے۔

اسی وجہ سے ہم اسی اہم مقصد وہدف کے بارے میں چند صفحات گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور ہم آپ تک خالصانہ واضح طورپرحقائق کو ہوبهو پهونچانا چاہتے ہیں۔

ہم اس حصہ میں بھی (اپنی تحقیق اور جستجو )کو محترم قارئین کی خدمت پر پیش کرتے ہوئے امیدوار ہیں کہ اس بحث کے مطالعہ کے بعد انصاف سے کام لیں اور خود غرضی کا شکار نہ ہوں۔

ہماری دلی آرزو یہ ہے کہ ہمارے قارئین کرام اس بحث کے مطالعہ میں وہ چیزیں پائے گے جن پر گذشتہ صدیوں سے غبار چڑھا ہوا تھا اور”مہدی ومہدویت“ کے سلسلہ میں شیعہ حضرات کے عقیدہ سے بھی آگاہ ہوجائیں گے۔

اَلْحَمُدْ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِهٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَو لَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ ۔


پہلا مرحلہ :

نظریہ مہدویت

گذشتہ فصل ”امامت“ کا خلاصہ یہ ہے کہ امامت نام ہے رسالت کے مکمل کرنے والے جز کا، جیسا کہ نصوص اور عقل انسانی بھی دلالت کرتی ہیں، اور جو دلیل نبوت کے لئے قائم کی جاتی ہے اسی دلیل کے تحت امامت کی بھی ضرورت کو ثابت کیا جاسکتا ہے، کیونکہ بغیر امامت کے نبوت کا وجود مکمل نہیں ہوتاھے اور اگر نبوت کو ناقص تصور کرلیں تو یہ بات حقیقت اسلام سے منافی ہے کیونکہ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ قیامت تک نبوت ورسالت کا ہوناضروری ہے۔

لہٰذا نبوت زندگی کا آغاز ہے او رامامت اس زندگی کا دوام او رباقی رہنا ہے، اور اگر ہم نبوت کوامامت کے بغیر تصور کریں تو پھر ہمیں یہ کہنے کا حق ہے کہ رسالت ایک محدود سلسلہ ہے جو رسول کے بعد اپنی حیات کو باقی نہیں رکھ سکتایعنی اپنے اغراض ومقاصد میں اپنی وصی کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پهونچاسکتی۔

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وصیت روایات کے ذریعہ بھی ثابت نہ ہو تو ہماری عقل اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو اس طرح کی وصیت کرنی چاہئے، کیونکہ ہمارے سامنے جب کوئی شخص اس دنیا سے جاتا ہے تو اپنے تھوڑے سے مال کے لئے بھی وصیت کرتا ہے اور کسی ایک شخص کو اپنا وصی بناتا ہے تاکہ اس کی اولاد اور مال ودولت پر نظر رکھے، تو کیا وہ رسول جوسردار انبیاء ہو اور اتنی عظیم میراث (نوع بشریت کے لئے اسلام) چھوڑے جارھا ہے، اس میراث پر کسی کو وصی نہ بناکرجائے گا؟!!

لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے وقت ِوفات کے حالات کے پیش نظر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے وصی بنایا اور آپ نے اپنی امت کو شک وشبھات کی وادی میں بے یارو مددگار نہیں چھوڑا۔

اسی طرح یہ بات بھی مزید روشن ہوجاتی ہے کہ شیعہ امامیہ نے انتخاب کے مسئلہ میں مخالفت احساسات کی بنا پر نہیں کی، یا کسی سیاسی پہلو کو مد نظر رکھا ہو، بلکہ انھوں نے تو روایات اور دیگر نصوص میں وہ چیزیں پائی ہیں جن میں صحیح زندگی کی ضمانت ہے چنانچہ ہم لوگ تو اس مسئلہ میں اس تائید کا دفاع کرتے ہیں اور وہ بھی اسلام واخلاص کی حقیقت کے پیش نظرتاکہ کسی مقصد تک پهونچ جائیں۔

حضرت علی علیہ السلام سب سے پہلے امام ہیں اور ان تمام ائمہ (ع)کے بارے میں متواتر احادیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمموجود ہیں جن میں کبھی تو وضاحت کے ساتھ او رکبھی اشاروں میں ائمہ (ع)کی امامت کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، (جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں) اور یہ تمام روایات اپنے انداز بیان کے اختلاف کے ساتھ ایک ہی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور وہ یہ کہ یہ حضرات رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد امام اور خلیفہ ہیں۔

دوسرے امام : حضرت حسن بن علی (علیہ السلام )

تیسرے امام : حضرت حسین بن علی( علیہ السلام )

چوتھے امام : حضرت علی بن الحسین ، (امام سجاد علیہ السلام )

پانچویں امام : حضرت محمد بن علی (امام باقر علیہ السلام )

چھٹے امام : حضرت جعفر بن محمد الصادق (علیہ السلام )

ساتویں امام: حضرت موسیٰ بن جعفر الکاظم (علیہ السلام )

آٹھویں امام : حضرت علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام )

نویں امام: حضرت محمد بن علی ،تقی (علیہ السلام )

دسویں امام : حضرت علی بن محمد نقی (علیہ السلام )

گیارهویں امام: حضرت حسن بن علی عسکری (علیہ السلام )

بارهویں امام : حضرت محمد بن حسن المہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)( ۱۰۲ )

اوربارهویں امام لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور جب حکم خدا ہوگا تو آپ ظهور فرمائیں گے” اور ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔“( ۱۰۳ )

لیکن امام مہدی کے سلسلہ میں بہت سے لوگوں نے عجیب وغریب اور بے جا اعتراضات کئے ہیں اور آپ کی” غیبت“کے بارے میں بہت زیادہ بے ہودہ گفتگو کی ہے جس کی بنا پر سیاہ بادلوں نے حقیقت پر پردہ ڈال دیا اور انسان صحیح طریقہ پر حقیقت کی پہچان نہ کرسکا، جبکہ بعض مخلص مو لفین نے اس سلسلہ میں غور وخوض سے کام نہیں لیا اس خوف سے کہ یہ سلسلہ بہت مشکل ہے ، جبکہ مخالفین اور منکرین اس سلسلہ میں بہت زیادہ مذاق اڑانے کی غرض سے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اس موضوع کو نابود کردیا اور جس کو یہ لوگ بہت بڑا اسلحہ سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کا خیال خام یہ ہے کہ ہماری یہ باتیں

نھایت استدلال اور منطق پر استوار ہیں جن کی کوئی ردّ نہیں کرسکتا۔

اسی طرح بعض لوگوں نے ”مہدی ومہدویت“ کے بارے میں علمی استدلالات سے بحث نہیں کی ہے اور نہ ہی خاص موضوع کو واضح کیا ہے چنانچہ ایسے خیالات کے قائل ہوگئے ہیں کہ عقل ومنطق سے دور ہیں۔

قارئین کرام ! اس کتاب میں ہماری روش اسی موضوع کے تحت ہوگی تاکہ ہم بھی ان اشکالات سے دور رھیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہوئے ہیں۔

لہٰذا ہم اس کتاب میں اپنے طریقہ کی بنا پر احادیث کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے :

۱ ۔ وہ احادیث جن میں نظریہ ”مہدویت“ کو بیان کیا گیا ہے اور وہ کس طرح اسلام سے ارتباط رکھتی ہیں۔

۲ ۔ وہ احادیث نبوی جن میں امام” مہدی “کو معین کیاگیا ۔

۳ ۔ وہ احادیث جن میں امکان ”غیبت“ پر بحث کی گئی ہے اور غیبت پر دلالت کرتی ہیں۔

چنانچہ ان تمام احادیث کی وضاحت کرنے کے کے بعد حقیقت واضح ہوجائے گی، اور اس کووہ تمام ہی لوگ جو اپنی ہویٰ وهوس اور خود غرضی کے خواھاں نہ ہوں؛آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

اگر ہم تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالیں( خصوصاً اگر تاریخ ادیان کو ملاحظہ کریں)تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ”مہدویت “ کا عقیدہ صرف اور صرف شیعہ حضرات سے ہی مخصوص نہیں ہے اور نہ ہی ان کی ایجاد ہے (جیسا کہ بعض مولفین نے کھا ہے کہ مہدویت کا عقیدہ صرف شیعوں کی ایجاد ہے) بلکہ ہم تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ عقیدہ مسلمانوں سے بھی مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے آسمانی ادیان بھی اس عقیدہ میں شریک ہیں۔

کیونکہ یهود ونصاریٰ بھی ایک ایسے مصلح منتظر کا عقیدہ رکھتے ہیں جو آخرالزمان میں آئے گا جس کا نام ”ایلیا“ ہوگا (یہ تھا یهودیوں کا نظریہ) جبکہ عیسائیوں کے نزدیک وہ مصلح منتظر حضرت عیسیٰ بن مریم ہونگے۔

اسی طرح دیگر مسلمان بھی اپنے مذھبی اختلاف کے باوجود اسی چیز کا اقرار کرتے ہیں جبکہ شیعہ امامی اور کیسانیہ اور اسماعیلیہ ”امام مہدی“ کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کو ضروریات مذھب سے شمار کرتے ہیں، اسی طرح اھل سنت حضرات اپنے ائمہ اور علماء حدیث کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں،جن میں سے بعض لوگوں نے مہدویت کا دعویٰ بھی کیا ہے جیسا کہ مغرب ، لیبی اور سوڈان میں اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ اھل سنت کے بعض بڑے بڑے علماء نے اپنے کو ”مہدی مصلح“ کھلوایا۔

نیز اسی طرح کا عقیدہ تینوں آسمانی ادیان میں ملتا ہے۔

اسی طرح یہ عقیدہ شیعہ حضرات میں، دوسرے مسلمان بھائیوں کی طرح پایا جاتا ہے اور امام مہدی کے بارے میں ان کا وھی عقیدہ ہے جس کو ڈاکٹر احمد امین صاحب نے اھل سنت کے نظریہ کو بیان کیا ہے کہ:

”اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک آخرالزمان میں اھل بیت (ع) سے ایک شخص ظاہر نہ ہوجائے جو دین کی نصرت کرے گا اور عدل وانصاف کو عام کردے گا ،تمام مسلمان اس کی اتباع وپیروی کریں گے اور تمام اسلامی ممالک پر حکومت کرے گا جس کا نام ”مہدی“ ہوگا۔( ۱۰۴ )

شیعہ حضرات بھی وھی کہتے ہیں جو شیخ عبد العزیر بن باز رئیس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کہتے ہیں، چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:

”(حضرت ) مہدی کا مسئلہ معلوم ہے کیونکہ ان کے سلسلہ میں احادیث مستفیض بلکہ متواتر ہیں جو ایک دوسرے کی کمک کرتی ہوئی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ واقعاً مہدی موعود ہیں اور ان کا ظهورحق ہے“۔( ۱۰۵ )

قارئین کرام ! یھاںتک یہ بات واضح ہوگئی کہ ”نظریہ مہدویت“ایک صحیح نظریہ ہے جیساکہ معاصر کاتب مصری عبد الحسیب طٰہ حمیدہ کہتے ہیں( ۱۰۶ )

لیکن واقعاً تعجب خیز ہے کہ جناب عبد الحسیب صاحب اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوئے کہ خود پہلے نظریہ مہدویت کوصحیح مان چکے ہیں کیونکہ ان کا بعد کا نظریہ پہلے نظریہ کے مخالف ہے جبکہ اس سے پہلے انھوں نے یہ بھی کہہ ڈالا تھا کہ ”مہدویت کا نظریہ ایک ایسا نظریہ ہے جو یهودیوں سے لیا گیا ہے اور جس کا اسلام سے کوئی سروکار نہیں ہے“( ۱۰۷ )

کیونکہ موصوف اپنی اس عبارت سے صرف اور صرف شیعوں پر تہمت لگانا چاہتے ہیں کہ شیعوں کے عقائد یهودیوں سے لئے گئے ہیں،لیکن موصوف نے اپنے اس اعتراض سے تمام مسلمانوں پر تہمت لگائی ہے (جبکہ اس بات کی طرف متوجہ بھی نہیں ہیں) کیونکہ ان کی ان دونوں بات میں واضح طور پر ٹکراؤ ہے کیونکہ پہلے انھوں نے نظریہ مہدویت کو صحیح تسلیم کیا لیکن بعد میں اس کو یهودیوں کے عقائد میں سے کہہ ڈالا، چنانچہ آپ حضرات نے بھی اندازہ لگایا لیا ہوگا کہ موصوف کا اتنی جلدی نظریات کا تبدیل کرنا ان کی بد نیتی اور تعصب پر دلالت کرتا ہے کیونکہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات پر یہ بات واضح ہے کہ عبد اللہ ابن سبا نامی شخص کا تاریخی وجود ہی نہیں بلکہ یہ صرف خیالی اور جعلی نام ہے اور صرف اس کے نام سے مختلف عقائد منسوب کردئے گئے ہیں جو سب کے نزدیک معلوم ہیں کہ یہ سب کچھ جعلی اور صرف افسانہ ہے، اور شاید یہ سب اس وجہ سے ہو کہ صدر اسلام میں عبد اللہ بن سبا کا نام بہت زیادہ زبان زدہ خاص وعام تھا اور اس سے مراد رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے جلیل القدر صحابی جناب عمّار یاسر ہوتے تھے جیسا کہ بعض مولفین نے اس چیز کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔( ۱۰۸ )

خلاصہ بحث یہ ہوا کہ ”نظریہ مہدویت“ شیعوں کی ایجاد کردہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں یهود وغیریهود کی اتباع کرتے ہیں بلکہ اس سلسلہ میں تینوں آسمانی ادیان (یهودی ،عیسائی اور اسلام) نے بشارت دی ہے ، اور اسلام نے اس سلسلہ میں عملی طور پر مزید تاکید کی ہے ، چنانچہ تمام مسلمانوں نے اس مسئلہ کو قبول کیا ہے اور اس بارے میں احادیثیں نقل کی ہیںاور ان پر یقین کامل رکھتے ہیں۔

لہٰذا ان تمام باتو ںکو ”شیعہ حضرات کی گمراھی اور بدعتیں“ کہنا ممکن نہیں ہے اور اس قول پر یقین کرنا ناممکن ہے ، بلکہ یہ ایک ایساصحیح عقیدہ ہے جو عقائد اسلام کی حقیقت اور احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اخذ شدہ ہے جس کا انسان انکار ہی نہیں کرسکتا۔

چنانچہ اس حقیقت کا خلاصہ عراقی سنی عالم جناب شیخ صفاء الدین آل شیخ نے یوں کیا ہے:

”حضرت امام مہدی منتظر کے بارے میں احادیث اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے کہ” وہ آخر الزمان میں ظاہر ہوں گے اور اسلام کو اس کی صحیح حالت پر پلٹادیں گے، اوردین و ایمان کی قوت اور رونق کو بھی پلٹادیں گے اسی طرح دین کی رونق کو بھی لوٹادیں گے“

چنانچہ اس طرح کی روایت بغیر کسی شک وشبہ کے متواتر ہیں بلکہ ان سے کم بھی ہوتیں تب بھی علم اصول کی اصطلاح کی بنا پر ان کومتواتر کہنا صحیح تھا ۔

قارئین کرام ! حضرت امام مہدی کے بارے میں صاف صاف روایات موجود ہیں اور ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ علماء اھل سنت نے اس سلسلہ میں بہت سی روایات نقل کی ہیں جیسا کہ برزنجی صاحب نے ”الاشاعة لاشتراط الساعة“ میں ، جناب آلوسی صاحب نے اپنی تفسیر میں، ترمذی صاحب ، ابو داؤد، ابن ماجہ ، حاکم، ابویعلی ، طبرانی عبد الرازق، ابن حنبل، مسلم، ابونعیم ، ابن عساکر، بیہقی ، تاریخ بغداد ، دار قطنی ، ردیانی ونعیم بن حمادنے اپنی کتاب ”الفتن“ میں اور اسی طرح ابن ابی شیبہ، ابونعیم الکوفی، البزار، دیلمی، عبد الجبار الخولانی نے اپنی تاریخ میں، جوینی، ابن حبان، ابوعمرو الدانی نے اپنی سنن میںو۔۔۔

خلاصہ مذکورہ حضرات وغیرہ نے لکھا ہے کہ (امام مہدی) کے ظهور پر ایمان رکھنا ضروری ہے کیونکہ ان کے ظهور پر اعتقاد رکھنا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث کی تصدیق کرنا ہے۔( ۱۰۹ )

قارئین کرام ! اکثر علماء اسلام نے مہدویت کے بارے میں اقرار کیا ہے اور اس سلسلہ میں اخبار وراوایات کی تصحیح کی خاطر کتابیں تالیف کی ہیںتاکہ زمانہ پر حقیقت واضح ہوجائے اور اس حقیقت کو لوگوں کے سامنے پیش کریں جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے پیش کیا ہے ، لہٰذا ہم مثال کے طور پر چند مولفین کے نام پیش کرتے ہیں ، اگرچہ مولفین کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ہے جس کو ہم بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ عباد بن یعقوب الرواجنی متوفی ۲۵۰ ھ نے کتاب ”اخبار المہدی“ میں۔

۲ ۔ ابو نعیم اصفھانی متوفی ۴۳۰ ھ نے کتاب ”اربعین حدیثا فی امر المہدی“( ۱۱۰ ) و کتاب ”مناقب المہدی“( ۱۱۱ ) و کتاب ”نعت المہدی“ میں۔

۳ ۔محمد بن یوسف کنجی شافعی متوفی ۶۵۸ نے کتاب ”البیان فی اخبار صاحب الزمان“ میں۔

۴ ۔ یوسف بن یحيٰ سلمی شافعی متوفی ۶۸۵ ھ نے کتاب ”عقد الدرر فی اخبار المہدی المنتظر“ میں ۔( ۱۱۲ )

۵ ۔ ابن قیم جوزی متوفی ۷۵۱ ھ نے کتاب ”المہدی“ میں۔

۶ ۔ ابن حجر ہیتمی شافعی متوفی ۸۵۲ ھ نے کتاب ”القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر“ میں( ۱۱۳ )

۷ ۔ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ ھ نے کتاب ”العرف الوردی فی اخبار المہدی“ جو شایع شدہ بھی ہے اسی طرح دوسری کتاب ”علامات المہدی“ میںبھی۔

۸ ۔ ابن کمال پاشا حنفی متوفی ۹۴۰ ھ نے کتاب ”تلخیص البیان فی علامات مہدی آخر الزمان“ میں( ۱۱۴ )

۹ ۔ محمد بن طولون دمشقی متوفی ۹۵۳ ھ نے کتاب ”المہدی الی ماورد فی المہدی“ میں۔( ۱۱۵ )

۱۰ ۔علی بن حسام الدین متقی ہندی متوفی ۹۷۵ ھ نے کتاب ”البرھان فی علامات مہدی آخر الزمان“ اورکتاب ”تلخیص البیان فی اخبار مہدی آخر الزمان“ میں۔( ۱۱۶ )

۱۱ ۔ علی قاری حنفی متوفی ۱۰۱۴ ھ نے کتاب ”الرد علی من حکم وقضی ان المہدی جاء ومضی“ وکتاب”المشرب الوردی فی اخبار المہدی“ میں ۔( ۱۱۷ )

۱۲ ۔ مرعی بن یوسف الکرمی حنبلی متوفی ۱۰۳۱ ھ نے کتاب ”فرائد فوائد الفکر فی الامام المہدی المنتظر“ میں( ۱۱۸ )

۱۳ ۔ قاضی محمد بن علی شوکانی متوفی ۱۲۵۰ ھ نے کتاب ”التوضیح فی تواتر ما جاء فی المہدی المنتظر والدجال والمسیح“ میں۔( ۱۱۹ )

۱۴ ۔ رشید الراشد التاذفی حلبی (معاصر) نے کتاب ”تنویر الرجال فی ظهور المہدی والدجال“ میں جو شایع شدہ بھی ہے۔

قارئین کرام ! یہ تھے چند اھل سنت مولف جنھوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث نقل کی اور کتابیں لکھیں ہیں۔

اسی طرح شعراء کرام نے بھی حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں اپنے اپنے اشعار میں مہدی او رمہدویت کی طرف اشارہ کیا ہے چنانچہ انھوں نے اپنے اشعار وقصائد میں حضرت مہدی کی معرفت، ان کے ظهوراور ان کے وجود کی ضرورت کو بیان کیا ہے جن کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ، لہٰذا ہم یھاں پر چند شعراء کے ا شعار بطور مثال پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ کمیت بن زید اسدی متوفی ۱۲۶ ھ کہتے ہیں:

متیٰ یقوم الحق فیکم متیٰ یقوم مهدیکم الثانی ( ۱۲۰ )

کب ہمارے درمیان حق آئے گا اور کب ہمارا مہدی قیام کرے گا۔

۲ ۔ اسماعیل بن محمد حمیری متوفی ۱۷۳ ھ کہتے ہیں:

باٴن ولیَّ الامر والقائم الذی تطلع نفسی نحوه بتطرّبِ

له غیبة لابد من اٴن یغیبها فصلی علیه اللّٰه من متغیب

فیمکث حیناً ثم یظهر حینه فیملاٴ عدلا کل شرق ومغرب[۱۲۱]

ولی امر قائم منتظر کے لئے میرا دل خوشحالی سے انتظار کرتا ہے۔

ان کے لئے غیبت ضروری ہے پس اس غائب پر خدا کا درود وسلام ہو۔

وہ پردہ غیب سے ظاہر ہونگے تو مشرق ومغرب (پوری دینا)کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

۳ ۔ دعبل خزاعی متوفی ۲۴۶ ھ کہتے ہیں:

خروج امامٍ لا محالة خارج یقوم علی اسم اللّٰه والبرکاتِ

یمیز فینا کل حق وباطل ویجزی علی النعماء والنقمات[۱۲۲]

امام کا ظهور (ایک روز) حتمی اور ضروری ہے اور آپ خدا کے نام او راس کی برکتوں کے ساتھ ظهور کریں گے۔

اور آپ کے ظهور کے وقت حق وباطل الگ الگ ہوجائے گا اور نعمت ونقمت کے لحاظ سے جزا دیں گے۔

۴ ۔ مھیار دیلمی متوفی ۴۲۸ ھ کہتے ہیں:

عسیٰ الدھر یشفي غداً من عداک قلبَ مغیظٍ بہم مکمدِ

عسیٰ سطوة الحق تعلو المحال عسیٰ یُغلب النقص بالسودد

بسمعي لقائمکم دعوة یلبي لھا کل مستنجد( ۱۲۳ )

ہم اس دن کے منتظر ہیں کہ جب آپ کے دشمن ھلاک ہونگے اور ہم خوشحال۔

عنقریب وہ دن آنے والا ہے جب حق باطل پر اور کمزور متکبروں پر غلبہ حاصل کریں گے۔

اور جب ہمارے کانوں میں حضرت قائم(ع) کی آواز آئے گی تو ہم سب ان کی آواز پر لبیک کھیں گے۔

۵ ۔ ابن منیر طرابلسی متوفی ۵۴۸ ھ مخالف کا مسخرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

والیتُ آل امیة ة الطھر المیامین الغرر

واکذّب الراوی واٴطعن ن فی ظهور المنتظر ( ۱۲۴ )

میں آل امیہ کو دوست رکھتا ہوں جن کے صفات عالی ہیں!!

اور میں اس راوی کی تکذیب کرتا ہوں جو ظهور مہدی کے انتظارمیں کہتا ہے!!

۶ ۔ محمد بن طلحہ شافعی متوفی ۶۵۲ ھ کہتے ہیں :

وقد قال رسول اللّٰه قولا قد رویناه

وقد ابداه بالنسبة والوصف و سمّاه

یکفی قوله ”منّی“ لاشراق محیاهُ

ومن بضعته الزهراء مرساه ومسراه

فمن قالوا هو المهدی ما مانوابما فاهوا ( ۱۲۵ )

بلا شبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے (امام مہدی کے بارے میںارشاد فرمایا جس کو ہم نے بیان کیا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے آپ کی نسبت، اوصاف اور نام بھی بیان کیا ہے۔

آپ کی شان میں لفظ ”مِنِّی“ کہنا ہی آپ کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت زھرا (ع)آپ کا ایک جزء ہیں جن سے آپ باھر جاتے وقت اور واپس آتے وقت (سب سے پہلے) ملاقات کیا کرتے تھے۔ جو افراد حضرت مہدی کے بارے میں کہتے ہیں وہ کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتے (بلکہ یہ حقیقت تو پہلے سے معلوم شدہ ہے)

۷ ۔ ابن ابی الحدید معتزلی متوفی ۶۵۶ ھ کہتے ہیں:

ولقد علمتُ بانه لا بد من مهدیکم ولیومه اٴتوقعُ

یحمیه من جند الاله کتائب کالیم اٴقبل زاخراً یتدفعُ

فیها لآل اٴبی الحدید صوارم مشهورة ورماحُ خط شرَّع[۱۲۶]

مجھے امام مہدی پر یقین ہے اور ان کے ظهور کا انتظار ہے۔ لشکر خدا کے سپاھی امام زمانہ کی اس طرح حمایت کریں گے جس طرح دریا کی لھریں اٹھتی ہیں۔

اس وقت آل ابی الحدید تیر وتلوار کے ساتھ آپ کی حمایت میں جنگ کرے گی۔

۸ ۔ شمس الدین محمد بن طولون حنفی دمشقی متوفی ۹۵۳ ھ ، موصوف ارجوزہ کے ضمن میں فرماتے ہیں جس کوبارہ اماموں کی شان میں کھا ہے: والعسکری الحسن المطھرُ محمد المہدی سوف یظھرُ( ۱۲۷ )

امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد حضرت مہدی ظاہر ہوں گے۔

۹ ۔ عبد اللہ بن علوی الحداد تریمی شافعی متوفی ۱۱۳۲ ھ فرماتے ہیں:

محمد المهدی خلیفة ربنا امام المهدی بالقسط قامت ممالکه

کاٴني به بین المقام ورکنها یبایعه من کل حزب مبارکه

حضرت امام مہدی ہمارے رب کے خلیفہ ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی۔ اور جب آپ رکن ومقام کے درمیان کھڑے ہوں گے اس وقت ہر گروہ آپ کی بیعت کرتا ہوا نظر آئے گا۔

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

ومنّا امام حان حین خروجه یقوم باٴمر اللّٰه خیر قیام

فیملو ها بالحق والعدل والهدی کما ملئت جوراً بظلم طغام( ۱۲۸ )

ہمارے امام کے ظهور کا وقت نزدیک ہے جو خدا کے حکم سے بہترین قیام کرےں گے۔ چنانچہ آپ ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

دوسرا مرحلہ: مہدی کون ہیں؟

حضرت مہدی (ع) کی معرفت

قارئین کرام ! اسلام نے یهودیوں کے اس نظریہ کو باطل قرار دیا ہے کہ ”ایلیا“ ہی مصلح منتظر ہے، اسی طرح نصاریٰ کا جناب عیسیٰ (ع)کو مصلح منتظر ماننے کوبھی باطل قرار دیا ہے ، نیز اسی طرح کیسانیہ کا محمد بن حنفیہ کا ، نیز اسماعلیوں کا جناب اسماعیل بن جعفر کا مصلح منتظر ماننے کو باطل اور بے بنیاد قرار دیا ہے کیونکہ محمد بن حنفیہ او راسماعیل بن جعفرزندہ نہیں ہیں۔

لہٰذا اب فقط شیعہ اور سنی حضرات کے درمیان یہ اختلاف باقی ہے کہ مہدی کون ہیں؟

چنانچہ اھل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ مہدی آخری زمانہ میں تلوار کے ساتھ ظاہر ہونگے کیونکہ اس سلسلہ میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی روایات بہت زیادہ ہیں جو تواتر کی حد تک پهونچی ہوئی ہیں جن میں مہدی منتظر کی بشارت دی گئی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ میرے اھل بیت میں سے ہوں گے اور یہ کہ وہ سات سال حکومت کریں گے نیز وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ، ان کے ساتھ جناب عیسیٰ (ع) بھی ہوںگے او ر جناب عیسیٰ (ع) ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔( ۱۲۹ )

لیکن شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ امام مہدی آخری زمانہ میں ظاہر ہونگے ان کا نسب علوی ہوگا ان کے ھاتھ میں تلوار ہوگی اور وہ ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے اور پوری دنیا میں اسلام کا بول وبالا ہوگا۔

دونوں حضرات کے نظریات کا خلاصہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ، دونوں حضرت مہدی کے ظهور کے قائل ہیں تو پھر ان دونوں میں اختلاف کیا ہے؟

تو عرض خدمت ہے کہ اختلاف صرف اتناھے کہ اھل سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ آخری زمانہ میں پیدا ہوں گے یعنی وہ اس وقت موجود نہیں ہیں او ریہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب پیدا ہوں گے ان کے باپ کون ہوں گے۔!!

اسی نظریہ کے تحت ”سنوسی“ نے لیبی میں او رعبد الرحمن نے سوڈان میں تلوار کے ذریعہ قیام کیا او رمہدویت کا دعویٰ کرڈالا ۔

لیکن شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مہدی : محمد بن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) ہیں اور آپ اس دنیا میں موجود ہیں لیکن کوئی ان کود یکھ نہیں پاتا۔

اور یھی دونوں فریق میں نقطہ اختلاف ہے۔

اور چونکہ مدعی کے پاس دلیل کا ہونا ضروری ہوتا ہے (جیسا کہ فقھی قانون بھی کہتا ہے) لہٰذا ہم یھاں پر کچھ ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جن کے ذریعہ شیعہ حضرات اپنے اس عقیدہ کو ثابت کرتے ہیں نیز منکرین کی طرف سے بیان شدہ دلائل کی بھی ردّ کریں گے تاکہ صاحبان علم وبصیرت پر حقیقت بالکل واضح اور روشن ہوجائے۔

اور چونکہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت الٰھی منصب ہوتا ہے جس میں نص اور تعین کا ہونا ضروری ہوتا ہے لہٰذا منطق واحادیث کے مستحکم دلائل کی بنا پر شیعہ حضرات امامت حضرت مہدی پر ایمان رکھتے ہیں ۔

یھاں پر کوئی شخص یہ سوال کرسکتا ہے کہ وہ احادیث جن کے ذریعہ آپ امام مہدی کی امامت پر ایمان رکھتے ہیں کھاں ہیں اور ان کے راوی کون کون ہیں۔؟

توہم جواب میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک یادو حدیث نہیں ہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی بہت سی احادیث ہیں جن کو اکثر صحابہ نے نقل کیا ہے اور بہت سے حفاظ نے روایت کیا ہے اور اس قدر روایت وتواتر کے پیش نظر کسی کو ان احادیث کی صحت پر شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

اس سلسلہ میں مزید دقت اور موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم ان احادیث کو سند ودلالت کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

۱ ۔ وہ احادیث جن کی سند صحیح ہے اور ان کی دلالت بھی واضح ہے نیز ان میں کوئی شک وشبہ بھی نہیں ہے، ائمہ حدیث اور بڑے بڑے حفاظ نے ان احادیث کے حسن وصحت کا اقرار کیا ہے، اور بعض نے ان کی صحت کو بخاری اور مسلم میں ہونے کو شرط کیا ہے لہٰذا ان احادیث کے مطابق عمل کرنا او ران پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔

۲ ۔ وہ احادیث جو دلالت کے اعتبار سے صحیح ہیں لیکن ان کی سند ضعیف ہے، ان احادیث پر بھی عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ علم حدیث کے قواعد کے مطابق ان احادیث کا ضعف سند پہلی قسم کے ذریعہ جبران ہوجاتا ہے او راکثر مشهور علماء کرام نے ان پر عمل کیا ہے بلکہ ان کے مضمون پر اجماع ہے۔

۳ ۔ وہ احادیث جن میں بعض صحیح ہیں اور بعض ضعیف، لیکن یہ احادیث متواتر احادیث کے مخالف ہیں لہٰذا اگر ان کی تاویل ممکن نہ ہو تو پھر ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا اور ان کو چھوڑدینا ضروری ہے مثلاً جس طرح یہ احادیث جو دلالت کرتی ہیں کہ” حضرت مہدی کا نام احمد ہے یا امام مہدی کے والد کا نام رسول اللہ(ص) کے پدر بزرگوار کے نام پر ہوگا یا آپ ابو محمد حسن زکی کی اولاد سے ہونگے“ کیونکہ یہ احادیث شاذاور نادر ہیں اور مشهور نے ان سے اعراض کیا ہے یعنی ان کے مطابق عمل نہیں کیا۔( ۱۳۰ )

لہٰذا قسم اول اور قسم دوم باقی بچتی ہیں جن پر عمل کیا جانا چاہئے جو مختلف طریقہ سے ایک ہی مقصد تک پهونچاتی ہیں اگرچہ الفاظ مختلف ہیں لیکن سب ایک ہی ہدف کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ، لہٰذا ہم یھاں پر ان احادیث کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

وہ احادیث جن میں کھا گیا ہے کہ حضرت مہدی قریش سے ہوں گے:

احمدا ورماوردی نے روایت کی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

ابشروا بالمهدی ، رجل من قریش من عترتی، یخرج فی اختلاف من الناس وزلزال، فیملاٴ الارض عدلا وقسطا کما ملئت ظلماً وجوراً( ۱۳۱ )

(میں تمھیں مہدی کے بارے میں بشارت دیتا ہوں جو قریش اور میرے عترت سے ہوں گے وہ لوگوں کے اختلاف اورتفرقہ کے وقت ظاہر ہونگے اور ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھردیں گے۔)

بعض احادیث میں امام مہدی کو اولاد عبد المطلب سے بتایا گیا ہے:

ابن ماجہ نے اپنی سند کے ساتھ جناب انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ انس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

نحن ولد عبد المطلب سادة اهل الجنة انا وحمزه وعلی وجعفر والحسن والحسین والمهدی( ۱۳۲ )

(ہم اولاد عبد المطلب اھل بہشت کے سردار ہیں: میں، جناب حمزہ حضرت علی جناب جعفر امام حسن وامام حسین او رامام مہدی (علیہم السلام)

جبکہ بعض احادیث کا بیان ہے کہ امام مہدی از آل محمد ہوں گے:

قال رسول اللّٰه (ص) یخرج فی آخر الزمان رجل من ولدی اسمه کاسمی وکنیته ککنیتی، یملاٴ ا لاٴرض عدلاً کما ملئت جوراً فذلک هو المهدی“ (وهذا حدیث مشهور ) ( ۱۳۳ )

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: میری اولاد میں سے ایک شخص ظاہر ہوگا جس کا نام میرے نام پر جس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی اور وہ ظلم وجور سے بھری دینا کو عدل وانصاف سے بھر دیگا اور وہ مہدی ہوگا ، )اور یہ حدیث مشهور ہے۔( ۱۳۴ )

اور بعض کابیان ہے کہ مہدی میری عترت میں سے ہونگے:

ابوداؤد نے اپنی سند کے ذریعہ جناب ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا:

سمعت رسول اللّٰه (ص) یقول المهدی من عترتی( ۱۳۵ )

(میں نے رسول اللہ سنا کہ مہدی میری عترت سے ہوں گے)

بعض احادیث میں امام مہدی کو اھل بیت سے بتایا گیا ہے:

قال النبی (ص) لولم یبق من الدهر الا یوم لبعث اللّٰه رجلا من اهل بیتی یملو ها عدلا کما ملئت جوراً ( ۱۳۶ )

(حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا کہ اگر (قیامت میں) ایک روز بھی باقی رہ جائے تو خداوندعالم میرے اھل بیت سے ایک شخص کو ظاہر کرے گا جو ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھردے گا)

جبکہ بعض روایات ،امام مہدی کو نسل علی علیہ السلام سے بتاتی ہیں:

سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

ان علیا وصیي، و من ولده القائم المنتظر المهدی الذی یملاٴ الارض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلماً( ۱۳۷ )

(بے شک علی میرے وصی ہیں اور ان ہی کی نسل سے قائم منتظر مہدی ہوں گے جو ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے)

جبکہ بعض روایات میں اولاد فاطمہ سلام اللہ علیھا سے بتایا گیا ہے:

مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، بیہقی وغیرہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

المهدی من عترتی من ولد فاطمة( ۱۳۸ )

(مہدی میری عترت،جناب فاطمہ (ع) کی اولاد سے ہوں گے)

اوربعض روایات میںآیا ہے کہ امام حسین کی اولاد میں سے ہوں گے:

قال رسول اللّٰه (ص) لاتذهب الدنیا حتی یقوم بامتی رجل من ولد الحسین یملاٴ الارض عدلاً کما ملئت ظلما( ۱۳۹ )

(حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:جب تک حسین کی اولاد سے میری امت میںایک شخص ظهور نہ کرلے اس وقت تک قیامت نہیں آسکتی او روہ ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا“)

بعض روایت میں آیا ہے کہ ذریت امام حسین علیہ السلام سے نہم ہوں گے:

عن سلمان الفارسی رضی اللّٰه عنه قالدخلت علی النبی (ص) فاذا الحسین علی فخذیه هویقبل خدیه ویلثم فاه ویقول انت سید ابن سید اخو سید وانت امام ابن امام اخو امام و انت حجة ابن حجة اخو حجة ابو حجج تسعه، تاسعهم قائمهم المهدی ( ۱۴۰ )

(جناب فارسی راوی ہیں کہ جب میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی خدمت عالیہ میںمشرف ہوا تودیکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام آپ کی آغوش میں بیٹھے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمآپ کے رخسار اور منھ کا بوسہ لے رھے ہیں اور کہہ رھے ہیں تم سید ، سید کے بیٹے اور سید کے بھائی ہو۔ تم امام، امام کے بیٹے ، اور امام کے بھائی ہو۔ تم حجت، حجت کے بیٹے ، حجت کے بھائی اور نو حجتوں کے باپ ہو جن کا نواں مھدی ہوگا)

بعض روایات میں بارہ اوصیا بارہ ائمہ ،بارہ خلیفہ بیان ہوا ہے:

”۔۔۔ان وصیی علی بن ابی طالب وبعده سبطای الحسن والحسین تتلوه تسعه اٴئمه من صلب الحسین، قال :یامحمد فسمهم لی، قال : اذا مضی الحسین فابنه علی، فاذا مضی علی فابنه محمد فاذا مضی محمد فابنه جعفر، فاذا مضیٰ جعفر فابنه موسی فاذامضی موسیٰ فابنه علی فاذا مضی علی فابنه محمد فاذا مضی محمد فابنه علی فاذا مضی علی فابنه الحسن فاذا مضی الحسن فابنه الحجة محمد المهدی فهولاء اثنا عشر( ۱۴۱ )

(میرے وصی علی ابن ابی طالب ہیں ان کے بعد میرے دونوں نواسے حسن وحسین (ع)ھیں اور ان کے بعد حسین کی نسل سے ۹ / وصی ہوں گے (سائل سے سوال کیا )یا رسول اللہ آپ ان کے بھی نام بیان فرمائیں ،تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا :

جب امام حسین گذر جائیں گے تو ان کے فرزند علی (زین العابدین ) اور جب علی گذر جائیں گے تو ان کے فرزند محمد (باقر) اور جب محمد گذر جائیں گے تو ان کے فرزند جعفر (صادق)اور جب جعفر گذر جائیں گے تو ان کے فرزند موسیٰ (کاظم )اور جب موسی ٰگذر جائیں گے ان کے فرزند علی (رضا ) اور جب علی (رضا ) گذر جائیں گے تو ان کے فرزند محمد (تقی ) اور جب محمد گذر جائیں گے ان کے فرزند علی(نقی ) اور جب محمد گذر جائیں گے ان کے فرزند حسن (عسکری )اور جب حسن گذر جائیں گے تو ان کے فرزند حجت محمد مھدی (علیہم السلام) ہوں گے بس یھی میرے وصی بارہ ہیں۔“)

یحيٰ بن الحسن نے کتاب عمدہ میں اس حدیث کے ۲۰/ طریقے نقل کئے ہیں کہ رسول اسلام کے بعد ۱۲ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے اور مذکورہ بیس طریقے درج ذیل کتابوں میں اس طرح ہیں :

صیح بخاری میں ۳/ طریقے۔

صیح مسلم میں ۹/ طریقے ۔

سنن ابی داؤدمیں ۳/ طریقے۔

سنن ترمذی میں ایک طریقہ۔

اور حمیدی میں ۳ / طریقے ۔

اور بعض روایات کے مطابق مھدی (ع)، حسن عسکری (ع)کے فرزند ہوں گے ۔

مناقب میں جابر بن عبداللہ انصاری ، حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے روایت کرتے ہیں:

”۔۔۔فبعده ابنه الحسن یدعی العسکری فبعده ابنه محمد یدعی بالمهدی و القائم والحجة فیغیب ثم یخرج فاذا خرج یملاٴ الارض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلما( ۱۴۲ )

(آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمایک حدیث کے ضمن میں فرمایا: ان کے بعد ان کے فرزند حسن عسکری ان کے بعد ان کے فرزند محمد مہدی والقائم والحجة ہیں پس وہ ہونے کے بعد ظاہر ہوں گے اور ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔)

قارئین کرام ! مذکورہ تمام احادیث کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس امت کے مہدی امام حسن عسکری کے فرزند ہیں چنانچہ اس مسلم نتیجہ سے کوئی گریز نہیں کرسکتا ۔

اس حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان اصحاب کے اسماء گرامی کو بیان کیا جائے جنھوں نے حضرت مہدی سے متعلق احادیث نقل کی ہے اور چونکہ ہر روایت کے تمام افراد کو اس مختصر کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

(لہٰذا صرف راوی کو بیان کرتے ہیں )

۱) ابو اما مة الباھلی ۔

۲) ابو ایوب الانصاری ۔

۳) ابو سعید خدری

۴) ابو سلیمان راعی رسول اللہ (ص)۔

۵) ابوالطفیل۔

۶) ابو ھریرہ ۔

۷) ام حبیبہ ام المومنین ۔

۸) ام سلمہ ام المومنین ۔

۹) انس بن مالک ۔

۱۰) ثوبان (غلام رسول ) ۔

۱۱) جابر بن سمرة ۔

۱۲) جابر بن عبد اللہ انصاری ۔

۱۳) حذیفہ الیمانی ۔

۱۴) سلمان فارسی ۔

۱۵) شھربن حوشب ۔

۱۶) طلحہ بن عبیداللہ ۔

۱۷) عائشہ ام المومنین ۔

۱۸) عبد الرحمن بن عوف ۔

۱۹) عبد اللہ بن الحارث بن حمزہ ۔

۲۰) عبداللہ بن عباس ۔

۲۱) عبداللہ بن عمر ۔

۲۲) عبداللہ بن عمرو بن العاص۔

۲۳) عبداللہ بن مسعود ۔

۲۴) عثمان بن عفان ۔

۲۵) علی بن ابی طالب ۔

۲۶) علی الھلالی ۔

( ۲۷) عمار بن یاسر ۔

۲۸) عمران بن حصین۔

۲۹) عوف بن مالک ۔

۳۰) قرة بن ایاس ۔

۳۱) مجمع بن جاریة الانصاری( ۱۴۳ )

قارئین کرام ! شیخ عبد المحسن صاحب نے امام مہدی (ع)کے سلسلے میں احادیث بیان کرنے والے مشهور و معروف حفاظ کی تعداد ۳۸ بتائی ہے ، چنانچہ ہم یھاں پر ان افراد کی فھرست بیان کرتے ہیں :

۱ ۔ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن میں ۔

۲ ۔ ترمذی نے اپنی کتاب جامع میں ۔

۳ ۔ ابن ماجہ نے اپنی کتاب سنن میں ۔

۴ ۔ نسائی نے اپنی کتاب کبری میں ۔

۵ ۔ احمد نے اپنی کتاب مسند میں ۔

۶ ۔ ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح میں ۔

۷ ۔ حاکم نے اپنی کتاب مستدرک میں۔

۸ ۔ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی کتاب المصنف میں ۔

۹ ۔ نعیم بن حماد نے اپنی کتاب الفتن میں ۔

۱۰ ۔ ابو نعیم نے اپنی کتاب المھدی والحلیة میں ۔

۱۱ ۔ طبرانی نے اپنی کتاب کبیر، اوسط اور صغیر میں۔

۱۲ ۔ دار قطنی نے اپنی کتاب الافراد میں ۔

۱۳ ۔ بارودی نے اپنی کتاب معرفة الصحابہ میں ۔

۱۴ ۔ ابو یعلی الموصلی نے اپنی کتاب مسند میں۔

۱۵ ۔ بزار نے اپنی کتاب مسند میں ۔

۱۶ ۔ الحارث بن ابی اسامہ نے اپنی کتاب مسند میں ۔

۱۷ ۔ الخطیب نے اپنی کتاب تلخیص المتشابہ ، المتفق اور مفترق میں۔

۱۸ ۔ ابن عساکر نے اپنی کتاب تاریخ میں۔

۱۹ ۔ ابن مندہ نے اپنی کتاب تاریخ اصفھان میں۔

۲۰ ۔ ابو الحسن حربی نے اپنی کتاب الاول من الحربیات میں۔

۲۱ ۔ تمام الرازی نے اپنی کتاب فوائد میں ۔

۲۲ ۔ ابن جریر نے اپنی کتاب تہذیب الآثار میں ۔

۲۳ ۔ ابو بکر بن المقری نے اپنی کتاب معجم میں ۔

۲۴ ۔ ابو عمر والدانی نے اپنی کتاب السنن میں۔

۲۵ ۔ ابو غنم الکوفی نے اپنی کتاب الفتن میں۔

۲۶ ۔ الدیلمی نے اپنی کتاب مسند الفردوس میں۔

۲۷ ۔ ابو بکر الاسکاف نے اپنی کتاب فوائد الاخبار میں ۔

۲۸ ۔ ابو الحسین بن المناوی نے اپنی کتاب الملاحم میں ۔

۲۹ ۔بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوة میں ۔

۳۰ ۔ ابوعمرا ور المقری نے اپنی کتاب سنن میں ۔

۳۱ ۔ ابن الجوزی نے اپنی کتاب تاریخ میں ۔

۳۲ ۔ یحی الحمانی نے اپنی کتاب مسند میں ۔

۳۳ ۔رویانی نے اپنی کتاب مسند میں۔

۳۴ ۔ ابن سعد نے اپنی کتاب الطبقات میں۔

قارئین کرام ! یہ تھی ان مولفین اور کتابوں کی فھرست جن میں حضرت امام مھدی کے سلسلہ میں احادیث بیان کی گئی ہیں۔

حضرت امام مھدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت

آپ کی ولادت با سعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھ کو فجر کے وقت شھرسامراء میں ہوئی( ۱۴۴ )

آپ کے والد گرامی نے آپ کا نام محمد رکھا اور یھی نام رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی اس مشهور حدیث کا مصداق تھا جس میں آپ نے فرمایا تھا” یواطی اسمہ اسمی “( ۱۴۵ )

(اس کا نام میرے نام پر ہوگا ) اور آپ ہی کے والد گرامی نے آپ کی کنیت (ابوالقاسم ) رکھی( ۱۴۶ )

یہ وہ حقیقت ہے جس پر شیعہ امامیہ اور دیگر اسلامی فرقے متفق ہیں لیکن بعض مسلمانوں نے (حالانکہ مھدویت کا اقرار کیا ہے ) حضرت مھدی کا اس وجہ سے انکار کیا چونکہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے کوئی فرزند نہیں تھا اور اس مدعا کو ثابت کرنے کے لئے چار دلیلیں بیان کی ہیں جن کو یھاں پر مختصر طور پر بیان کیا جاتا ہے :

۱ ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنی والدہ ام الحسن کے لئے تمام مال وقف اور دیگر امور کے بارے میں وصیت کی اور اگر امام حسن عسکری (ع)کے کوئی فرزند ہوتا تو ان کو وصیت کرنا چاہئیے تھی۔

۲ ۔ حضرت امام مھدی کے چچا جعفر بن علی نے اس بات کی گواھی دی ہے کہ ان کے بھائی ( امام حسن عسکری علیہ السلام ) کے کوئی فرزند نھیںتھا اور ایسے مسائل میں چچا کی گواھی خاص اہمیت رکھتی ہے ۔

۳ ۔ شیعہ حضرات جیسا کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام عسکری علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو غیر خواص سے چھپایا ( یعنی صرف خاص لوگوں ہی کو معلوم تھا) تو آپ نے ایسا کیوں کیا؟جب کہ اس زمانہ میں آپ کے اصحاب بہت زیادہ تھے اور ہر طرح کی طاقت و توانائی رکھتے تھے جب کہ گذشتہ ائمہ علیہم السلام جو اموی وعباسی حکام کے زمانے میں زندگی کرتے تھے اور اس وقت کے

حالات زیادہ خراب تھے ،لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس طرح اپنی اولاد کو نہیں چھپایا ۔

۴ ۔ تاریخ میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے جس میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی فرزند ہو اور نہ ہی کسی نے اس طرح کی روایت کی ہے ۔

انھیں چار دلیلوں کے ذریعہ امام مھدی بن الحسن عسکری کی ولادت کا انکار کرتے ہیں ۔

قارئین کرام ! ہم ان چار دلیلوں کے جواب مختصر طور پر بیان کرتے ہیں تاکہ حق و حقیقت واضح ہوجائے ۔

پہلی دلیل کا جواب :

امام علیہ السلام کا اپنی والدہ گرامی کو وصیت کرنا دلیل نہیں ہوسکتا کہ امام کے کوئی فرزند نہ ہو، امام علیہ السلام اس وصیت کے ذریعہ دشمنوں کی نظروں کو امام مھدی کی طرف سے ہٹا نا چاہتے تھے اور دشمن کو شک و شبہ میں ڈالنا چاہتے تھے کہ ان کے کوئی اولاد ہے یا نھیں؟ اور آپ نے عمداً اس طرح کا شک ایجاد کیا تاکہ حکومت وقت اس وصیت کو دیکھ کر مزید شک و شبہ میں پڑ جائے ۔( ۱۴۷ )

امام حسن عسکری علیہ السلام نے گویا اپنے جد امام جعفر صادق علیہ السلام کی روش پر عمل کیا کیونکہ امام صادق علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت درج ذیل پانچ افراد کے لئے وصیت کی:

۱ ۔منصورعباسی۔

۲ ۔ ربیع ۔

۳ و ۴ ۔ قاضی مدینہ اور اس کے ساتھ ان کی زوجہ حمیدہ ۔

۵ ۔ اپنے فرزند امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) ۔

کیونکہ امام صادق علیہ السلام اپنے اس کام سے دشمنوں کی نظروں کو اپنے فرزند موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ہٹانا چاہتے تھے۔( ۱۴۸ )

اور اگر صرف امام موسی کاظم علیہ السلام ہی کو وصیت فرماتے تو پھر بنی عباس کا رویہ کچھ اور ہی ہوتا چنانچہ جب منصور عباسی کو امام صادق علیہ السلام کی وفات کی خبرپهونچی تو مدینہ میں اپنے والی کو خط بھیجا اور لکھا جو شخص بھی امام علیہ السلام کا وصی ہو اس پر زندگی تنگ کردی جائے ،چنانچہ والی مدینہ نے اپنی تحقیق کے بعد منصور کو خط لکھا کہ امام (علیہ السلام ) کے پانچ وصی ہیں ، جن میں سب سے پہلے اور مہم خود جناب خلیفہ ہیں، لہٰذا امام علیہ السلام نے اپنی اس سیاست کے تحت اپنے فرزند موسی کاظم علیہ السلام کو آزار و اذیت سے بچالیا۔

دوسری دلیل کا جواب :

جعفر بن علی ( امام حسن عسکری کے بھائی ) ایک عام انسان تھے اور ان سے بھی خطاو نسیان اور باطل دعوی کا امکان ہے ، اور وہ گویا قابیل کے مشابہ تھے جس نے اپنے بھا ئی ھابیل کو قتل کرڈالا، یا جناب یعقوب علیہ السلام کے لڑکوں کی طرح جنھوں نے اپنے بھائی (جناب یوسف ) کو کنویں میں ڈال دیا اور جھوٹی قسمیں کھانے لگے کہ ان کو بھیڑیا کھا گیا ۔

جعفر کا خیال یہ تھا چونکہ میرے بھائی کے کوئی اولاد نہیں ہے لہٰذا اگر وہ ان کا انکار کریں گے تو وہ امام ہوجائیں گے اور ان کے پاس بیت المال اکٹھا ہوجائے گا لیکن خدا وند عالم کا ارادہ ہر چیز پر غالب ہوتا ہے، جو وہ چاہتا ہے وھی ہوتاھے۔

چنانچہ ایک مدت بعد (جعفر) اپنے کئے پر شرمندہ ہوے اور توبہ کی یھاں تک کہ جعفر تواب کے نام سے مشهور ہوئے ۔

قارئین کرام ! چچا کا بھتیجہ کے مقابلہ میں آجانا کوئی عجیب چیز نہیں ہے کیونکہ ابو لھب و عباس دونوں اپنے بھتیجے(حضرت) محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے مقابلہ میں آگئے اور ان کی نبوت کا انکار کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی طرف سحر وجنون کی نسبت دی، آپ سے مقابلہ کے لئے لشکر آمادہ کیا اور آپ کی دشمنی میں مختلف کا رنامے انجام دیئے۔

تیسری دلیل کاجواب :

امام عسکری علیہ السلام کا اپنے فرزند کے مسئلہ کو چھپانا ، ایک اہم مسئلہ تھا چونکہ امام عسکری جانتے تھے کہ یہ مشهور ہوچکا ہے کہ اھل بیت میں سے بارھواں امام، تلوار کے ساتھ قیام کرے گا اور باطل حکومتوں کو ختم کرکے حق کی حکومت قائم کرےگا اسی وجہ سے اس وقت کے تمام حکام خوف زدہ تھے لہٰذا آپ کی شناخت کے بعد آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ۔

اسی وجہ سے امام عسکری علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ اپنے بیٹے مھدی کو خاص افراد کے علاوہ دوسرے لوگوں سے چھپائیں تاکہ محفوظ رہ سکیں ، اور اس بات کی وضاحت و تائید اس وقت ہوتی ہے،جب امام علیہ السلام کی شھادت کے بعد خلیفہ نے حکم دیا کہ امام علیہ السلام کے گھر میں پهونچ کر سب بچوں اور غلاموں کو پکڑ لو۔( ۱۴۹ ) اور اگر واقعا حکم خدا سے محمد بن الحسن (امام مھدی ) مخفی نہ ہوتے تو ان کوبھی قتل کردیا جاتا ۔

گویاامام حسن عسکری (ع) کا یہ فعل ،مادر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح تھا کہ جب ان پر وحی نازل ہوئی کہ حضرت موسی (ع) کو (صندوق) میں چھپا دیا جائے ،کیون کہ فرعون سے ان کو خطرہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی بیان ہو ا ہے، لیکن گذشتہ ائمہ علیہم السلام کا ایسا نہ کرنا اس وجہ سے تھا کہ ان کا قیام تلوار کے ذریعہ نہیں تھا بلکہ حالات زمانہ کے لحاظ سے ہی ان کی ذمہ داریاں تھیں ۔

اسی وجہ سے بعض ائمہ محفوظ اور آزاد تھے اگرچہ صحیح معنی میں امان اور آزاد نہ تھے ۔

چوتھی دلیل کا جواب :

شرع مقدس میں کسی کی اولاد، دایہ کے قول یا ولادت کے وقت حاضر عورتوں کی کہنے یا باپ کے اعتراف سے یا دو مسلم افراد کے اقرار سے کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے ثابت ہوجاتی ہے ، لہٰذا یہ تمام پہلو اس سلسلے میں موجود ہیں ۔

چنانچہ جناب حکیمہ بنت امام جواد علیہ السلام نے دایہ کے فرائض انجام دئے ہیں اور ولادت (مھدی ) پر گواھی دی ہے ۔

اسی طرح امام عسکری علیہ السلام نے اپنے خاص اصحاب کے سامنے اپنے فرزند کے بارے میں اقرار کیا( ۱۵۰ )

اسی طرح یکے بعد دیگرے مسلمانوں نے (نسل در نسل) اس کی روایت کی ہے اور اس کی صحت کی گواھی دی ہے، شیعہ امامیہ اجماع کے ساتھ ساتھ بہت سے مو لفین و مورخین نے بھی خبر ولادت کی روایت کی ہے مثال کے طور پر چند افراد کے اسماء گرامی درج کئے جاتے ہیں :

۱ ۔محمد بن طلحة الشافعی المتوفی ۶۵۲ ھ( ۱۵۱ )

۲ ۔ سبط ابن الجوزی المتوفی ۵۵۴ ھ( ۱۵۲ )

۳ ۔ الکنجی الشافعی المتوفی ۶۵۸ ھ( ۱۵۳ )

۴ ۔ابن خلکان الشافعی المتوفی ۶۸۱ ھ( ۱۵۴ )

۵ ۔ صلاح الدین الصفدی المتوفی ۷۶۴ ھ( ۱۵۵ )

۶ ۔ابن حجر ہیتمی الشافعی المتوفی ۸۵۲ ھ( ۱۵۶ )

۷ ۔ ابن الصباغ المالکی المتوفی ۸۵۵ ھ( ۱۵۷ )

۸ ۔ ابن طولون الدمشقی متوفی ۹۵۳ ھ۔( ۱۵۸ )

۹ ۔ الحسین بن عبداللہ سمرقندی متوفی ۱۰۴۳ تقریبا۔( ۱۵۹ )

۱۰ ۔ محمد العیان الشافعی متوفی ۱۲۰۶ ۔( ۱۶۰ )

۱۱ ۔ سلیمان القندوزی الحنفی متوفی ۱۲۹۴ ھ۔( ۱۶۱ )

۱۲ ۔ محمد امین السویدی متوفی ۱۲۴۶ ھ۔( ۱۶۲ )

۱۳ ۔ مومن الشبلنجی الشافی متوفی ۱۴۵ ھ۔( ۱۶۳ )

تیسرا مرحلہ :

امکان غیبت اور اس کے دلائل

قارئین کرام ! گذشتہ مرحلوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عقیدہ مھدویت اسلام کابنیادی عقیدہ ہے جس کے بارے میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے بھی (گذشتہ احادیث میں ) بشارت دی ہے اور اصحاب و علماء نے ہر زمانہ میں یکے بعد دیگرے روایت کی ہے ۔

اس طرح یہ بات بھی طے ہوگئی ہے کہ جس مھدی کا احادیث میں تذکرہ ہوا ہے وہ محمد بن الحسن العسکری (علیہ السلام ) ہیں اور وہ سامرہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی ولادت کی خبر اس روز خاص اصحاب تک پهونچی ہے نیز اس کے بعد سے تاریخ کے دامن میں اسی طرح مشهور ہے گذشتہ دو مرحلوں کے بعد ضروری ہے کہ تیسرے مرحلہ میں گفتگو کی جائے جو خود پہلے دو مرحلوں سے متعلق ہے کہ (حضرت) محمد (بن الحسن امام مہدی) کی ولادت ہو چکی ہے اور وھی مھدی ہیں، لہٰذا بہتر ہے درج ذیل بحث کو مختلف پھلوؤں سے واضح کریں:

۱ ۔کیا امام مھدی غائب ہیں ؟

۲ ۔اور اگر غائب ہیں تو کیا انسان اتنی طولانی عمر پا سکتا ہے ؟

اور چونکہ یہ مرحلہ بہت حساس ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ بحث میں وارد ہونے سے پہلے ایک مقدمہ بیان کریں تاکہ نتائج اور اہداف کو بہترین طریقہ سے واضح کرنے میں مدد مل سکے ۔

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ اسلام نے عقیدہ و ایمان کے لئے عقل کو اساس و مصدر قرار دیا ہے اور اندھی تقلید سے روکا ہے چونکہ غرض یہ ہے کہ اصول اعتقاد عقل سے مستند ہوں ، اورعقل کے ذریعہ ہی ان کو پرکھ کر عقیدہ کی منزل تک پهونچا جائے ، اور اس میں ہوائے نفس نردم دلی اورذاتی نظریات کو دخل نہیں ہونا چاہئے ۔

عقل ہی کے ذریعہ انسان خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے اور یھی ایمان کی طرف ہدایت کرتی ہے اوریھی خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دلیل قائم کرتی ہے ۔

انسان اسی عقل کے ذریعہ خدا کے ایمان کے ساتھ ساتھ ضرورت نبوت ، امامت اور معاد پر دلیل قائم کرتا ہے ۔

لیکن احکام شرعی کے دوسرے فرعی احکام میں عقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی ، اور اس طرح کی دلیل قائم کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ ان کو قبول کرنے کے لئے فقط شرعی طریقہ سے نصوص کا وارد ہوجانا ہی کافی ہے ۔اسی وجہ سے امت اسلامی ملائکہ کے وجود، جناب عیسی کے گهوارہ میں کلام کرنے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے ھاتھوں پر سنگریزوں کے تسبیح کرنے پراعتقاد رکھتے ہیں جو قرآن کریم اور سنت صحیحہ میں وارد ہوئے ہیں ۔

اسی طرح جب ہم اما م مھدی اور ان کی غیبت کی بحث کرتے ہیں تو ہماری اس بحث سے اصول اسلام کو قبول کرنے والے افراد مراد ہوتے ہیں ، اور جوافراد خدا کا بھی انکار کرتے ہیں یا اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذھب کو مانتے ہیں وہ ہماری مراد نہیں ہیں ۔ کیونکہ اس مسئلہ کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و احادیث کا سھارا لینا ضروری ہے اور جو شخص قرآن و سنت ہی کو نہ مانتا ہو تو اس کے سامنے قرآن و احادیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرے الفاظ میں یہ عرض کیا جائے کہ ہم اس موضوع پر دینی اعتقاد کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں جو شرعی دلائل سے مستند ہوتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے نزدیک ان پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ، چنانچہ ہم نے کسی دوسری چیز کو بنیاد نہیں بنایا، اور ہمارا یہ مسئلہ ایک آسان حساب کی طرح نہیں ہے جیسے ۲ اور ۲ چار ہوتے ہیں یا کسی فلسفی قاعدہ کی طرح جو اپنی جگہ مسلم ہے اور اس میں کوئی مناقشہ نہیں کیا جاسکتا جیسے دور و تسلسل کے باطل ہونے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہوتا۔

قارئین کرام ! ہم اس مسئلہ میں ہر پہلو کی قرآن و سنت کے ذریعہ وضاحت کریں گے کیونکہ تمام مسلمانوں کے درمیا ن یھی دونوں باب معرفت اور تشریع کے منابع ہیں ۔

اور اگر کوئی شخص ان دونوں کا انکار کردے وہ اسلام اور اسلام کے تمام احکام کے دائرہ سے خارج ہوجائے گا.( ۱۶۴ )

اور جب ہمار ی تمھید واضح ہوگئی ہے تو ہم کہتے ہیں : ”وہ احادیث نبی “ جن کو اکثر حفاظ حدیث نے بیان کیا ہے اور ان احادیث میں لفظ ”غیبت“ کی( ۱۶۵ ) تکرار ہوئی ہے ۔

( وَلِیُمَحِّصَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَیَمْحَقَ الْکَافِرِینَ ) ( ۱۶۶ )

”اور یہ بھی منظور تھا) کہ سچے ایمانداروں کو ثابت قدمی کی وجہ سے (نراکھرا) الگ کرلے اور نافرمانوں (بھاگنے والوں )کا ملیامیٹ کردے“

اس کے بعد جناب جابر سے کھا :یہ خدا کے امور میں سے ایک امر اور خدا کے اسرار میں سے ایک راز ہے پس تم کو کبھی اس سلسلے میں شک نہ ہو کیونکہ خدا وند عالم کے امور میں شک کرنا کفر ہے ۔

اور بعض احادیث میں اس طرح ہے :

تکون له غیبة و حیرة تضل فیها الامم ( ۱۶۷ )

(اس امام مھدی ) کے لئے ایسی غیبت ہوگی جس میں لوگوں کو حیرت ہوگی اور لوگ گمراہ ہوجائیں گے ۔

ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے :

لا یثبت علی القول بامامة الامن امتحن اللّٰه قلبه للایمان( ۱۶۸ )

ان کی غیبت ان کے اصحاب سے بھی ہوگی ان کی غیبت کا اقرار صرف وھی لوگ کرسکتے ہیں جن کا خدا وند عالم نے ایمان کے لئے امتحان لے لیا ہوگا ۔

اس طرح ابن عباس کی روایت ہے :

یبعث المهدی بعد ایاس حتی یقول الناس :لا مهدی( ۱۶۹ )

امام مھدی کا ظهور نا امیدی کے بعد ہوگا یھاں تک کہ لوگ کہنے لگیں گے کہ کوئی مھدی نہیں ہے ۔

قارئین کرام ! مذکورہ احادیث میں لفظ غیبت سے مراد یہ نہیں ہے کہ اما م مھدی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونگے اور اپنی وفات کے بعد دوبارہ اس دنیا میں لوٹائے جائیںگے بلکہ لفظ غیبت اس بات کی طرف اشارہ کررھا ہے کہ وہ مخفی ہیں اور پردہ میں ہیں اور لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور ان کو دیکھا نہیں جاسکتا، ان احادیث کا مطالعہ کرنے سے یھی بات انسان کے ذہن میں آتی ہے۔

اور اس حدیث شریف نقل کرنے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے:

”من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیہ “

(جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاھلیت کی موت ہوتی ہے۔)

اس حدیث کے مطابق ہر زمانہ میں امام کا ہونا ضروی ہے ۔

اب جبکہ ولادت محمد بن الحسن المھدی ثابت ہوگئی جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ،تو پھر لفظ ”غیبت “ اور ہر زمانہ میں وجود امام کی ضرورت بہترین اور جامع دلیل ہیں کہ حضرت امام مھدی علیہ السلام آج تک زندہ ہیں اور اس سلسلہ میں ہوئے تمام اعتراضات کا خاتمہ کردیتی ہیں۔

اور اگر کوئی شخص امام مھدی کی وفات کی بات کرے تو پہلے تو یہ گذشتہ احادیث کے مخالف ہے جن میں آپ کی غیبت اور استمرار حیات کے بارے میں بیان ہوا ہے اور اس کے علاوہ کسی نے بھی آپ کی وفات کے بارے میںکوئی دلیل نہیں بیان کی یھاں تک کہ منکرین کی کتابوںمیں بھی اس طرح کی کوئی بات ذکر نہیں ہوئی کہ کب آپ کی وفات ہوئی کونسا دن تھا کونسی تاریخ تھی اور کیاسن تھا کب آپ کی تشیع جنازہ ہوئی کون لوگ آپ کی تشیع جنازہ میں شریک ہوئے؟ کھاں دفن ہوئے؟ کس شھر میں دفن ہوئے؟

لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظریہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آپ کا وجومبارک باقی ہے اور آپ دشمنوں کی نگاهوں سے مخفی ہیں اور آپ اپنی زندگی کی محافظت کررھے ہیں ۔

قارئین کرام ! امام علیہ السلام کی غیبت کے دو مرحلہ تھے ۔

۱ ۔ آپ کا لوگوں کی نظروںسے مخفی ہوناجب خلیفہ وقت کے لشکر نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا آپ اسی وقت سے صرف اپنے معتمد نائبین سے ملاقات کرتے تھے اور انھی کے ذریعہ شیعوں کے مسائل اور مشکلوں کا جواب دیا کرتے تھے (امام علیہ السلام کی غیبت کایہ سلسلہ ۷۰ / سال تک جاری رھا اور اس زمانہ کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں)

۲ ۔ آپ کا مکمل طور سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجا نا چنانچہ اب کسی سے بھی ملاقات نہیں کرتے ۔( ۱۷۰ )

کسی انسان کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ ( جبکہ امام مھدی کے وجوداور آپ کی غیبت اور آپ کی ادامہ حیات کے بارے میں یقین ہے ) کہ کیا کوئی انسان اتنی طولانی عمر پا سکتا ہے ؟ اور کیا عقل اس بات کو قبول کرتی ہے ؟

اس سوال کے جواب سے پہلے ہم قارئین کرام کے اذھان عالیہ کو گذشتہ مطلب کی طرف لے جانا چاہتے ہیں کہ اگر حقائق شرعی صحیح احادیث کے ذریعہ ثابت ہوجائیں تو چونکہ ہم مسلمان ہیں لہٰذا ان کا قبول کرنا ہمارے لئے ضروری ہے، چاھے ہمارے ذہن میں اس کا فلسفہ نہ بھی آئے اور اس بات کو سمجھنے سے قاصر رھیں۔

اور اگر کسی حکم کی حکمت اور علت نہ سمجھ پائیں تو اس کو انکارکرنے سے انسان بری الذمہ نہیں ہوسکتا بلکہ ہر حال میں اس پر یقین واعتقاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ اسلام کے مسلم احکامات کا اس وجہ سے انکار کرنا صحیح نہیں ہے کہ یہ چیزیں ہماری سمجھ میں نہیں آرھی ہیں یا اس کی تاویل سے ہم قانع نہیں ہورھے ہیں۔

چنانچہ طول عمر اور سیکڑوں سال تک کسی کا زندہ رہنا محال نہیں ہے جیساکہ بعض لوگوں کا گمان ہے، بلکہ مورخین نے تاریخ بشریت کے ایسے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں جن کی بہت زیادہ عمر رھی ہے، مثلاً حضرت آدم علیہ السلام نے ہزار سال کی عمر پائی۔

اسی طرح لقمان حکیم(صاحب نسور) نے ۳۵۰۰ سال عمر پائی، نیز جناب سلمان فارسی نے طویل عمر پائی جیسا کہ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ جناب سلمان فارسی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاصر تھے اور خلیفہ دوم کے زمانہ میں وفات پائی۔

اسی طرح بہت سے ایسے افراد تھے جنھوں نے سیکڑوں سال کی عمر کی، جن کے بارے میں بہت سے مورخین نے بیان کیا ہے خصوصاً جناب سجستانی صاحب نے زیادہ عمر کرنے والوں کو اپنی کتاب میں جمع کیا ہے جو ”المعمرون“ کے نام سے ۱۳۲۳ ھ مطابق ۱۹۰۵ ء میں مصر میں پہلی مرتبہ طبع ہو چکی ہے۔

قارئین کرام ! یہ تھا تاریخی پہلو جس کے ذریعہ کسی انسان کی طولانی عمر پانے کا اثبات کیا جاسکتا ہے۔

اب رھا قرآن کے ذریعہ استدلال، قرآن کریم کی گفتگو تمام مورخین اور روایوں سے زیادہ صادق اور بہترین دلیل ہے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

”جناب نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں ” ۹۵۰“ سال تبلیغ کی اور خدابہتر جانتا ہے کہ تبلیغ سے پہلے اور طوفان کے بعد جناب نوح کتنے سال زندہ رھے۔ اس طرح جناب یونس علیہ السلام بطن ماھی میں طویل مدت تک باقی رھے اور اگر خدا کا لطف و کرم نہ ہوتا تو بطن ماھی میں قیامت تک باقی رہتے :

( فَلَوْلَا اِنَّهُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبَثَ فِیْ بَطْنِه اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) ( ۱۷۱ )

”پھر اگر یونس (خدا کی ) تسبیح (وذکر ) نہ کرتے تو روز قیامت تک مچھلی ہی کے پیٹ میں رہتے پھر ہم نے ان کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) ایک میدان میں ڈال دیا“

حضرت یونس کا شکم ماھی میں باقی رہنا یعنی قیامت تک زندہ رہنا اس طرح ان کے ساتھ مچھلی کا بھی اس طولانی مدت تک زندہ رہنا ثابت ہوتا ہے ۔

اس طرح اصحاب کہف کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ لَبِثُوا فِیْ کَهْفِهِمْ ثَلاٰثَ مِاٴَئةَ سَنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعاً ) ( ۱۷۲ )

”اور اصحاب کہف اپنی غارمیں تو تین سو برس سے زیادہ رھے “

اور یہ بھی معلوم نہیں کہ غار میں جانے سے قبل اور غار سے باھر نکلنے کے بعد کتنے سال زندہ رھے۔

اسی طرح ارشاد خدا وندی ہوتاھے :

( اٴَوْ کَالَّذِی مَرَّ عَلَی قَرْیَةٍ وَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلَی عُرُوشِهَا قَالَ اٴَنَّی یُحْیِی هَذِهِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَاٴَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ آیَةً لِلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَکْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهُ قَالَ اٴَعْلَمُ اٴَنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ( ۱۷۳ )

”(اے رسول تم نے) مثلاً اس (بندے کے حال) پر بھی نظر کی جو ایک گاؤں پر سے (هوکر) گزرا اور وہ ایسا اجڑا تھا کہ اپنی چھتوں پر ڈھے کر گرپڑا تھا یہ دیکھ کر وہ بندہ کہنے لگا اے اللہ اب گاؤں کو (ایسی) ویرانی کے بعد کیونکر آباد کرے گا اس پر خدا نے اس کو (مارڈالا) اور سو برس تک مردہ رکھا او رپھر اس کو جلا اٹھایا (تب) پوچھا تم کتنی دیر پڑے رھے ؟ عرض کی: ایک دن پڑا رھا یا ایک دن سے بھی کم ، فرمایا: نہیں ، تم (اس حالت میں) سو برس پڑے رھے ، اب ذرا اپنے کھانے پینے (کی چیزوں) کو دیکھو کہ ابھی تک خراب نہیں ہوئیں، اور ذرا اپنی سواری (گدھے) کو دیکھو کہ اس کی ہڈیاں ڈھیر پڑی ہیں،اور ہم اسی طرح تمھیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں، پھر ان ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بیساختہ آواز دی کہ مجھے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے“۔

کھانے پینے کی چیزوں کاسوسال تک خراب نہ ہونا انسان کی طولانی عمر سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے( ۱۷۴ )

ان کے علاوہ مولفین سیرت و حدیث نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جناب خضر علیہ السلام جناب موسی علیہ السلام سے پہلے تھے اور آخر زمان تک باقی رھیں گے ۔

تو کیا جن باتوں کو قرآن مجید اور سنت نبوی بیان کررھی ہے ان تمام باتوں کی تصدیق کرنا ایک مسلمان پر واجب نہیں ہے ؟ یا ان باتوں کی تصدیق کرنا واجب نہیں ؟ اور اگر ہماری عقل ان باتوں کو نہ سمجھے توکیا ہمارے لئے ان چیزوں کا انکار کرنا صحیح ہے جس کے بارے میں آج کا علم کشف اسرار کرنے سے قاصر ہے۔؟

قارئین کرام ! امام مھدی کی غیبت کا موضوع بھی اسی طرح ہے لہٰذا مذکورہ نصوص ودلائل کے مطابق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی تصدیق کرتے ہوئے آپ کی حیات پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔

کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی شان میں خداوندعالم فرماتا ہے:

قارئین کرام ! تو کیا ڈاکٹر صاحب کو جناب نوح ،جناب یونس(علیہم السلام)،مچھلی اور اصحاب کہف پر موت کا حکم جاری نہ کرنا عقل کوگھودینے کے مترادف نہیں ہے ۔

( وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهویٰ اِنْ هو الِاَّ وَحْیٌ یُوْحٰی ) ( ۱۷۵ )

”اور وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بولتے ہی نھیں، یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے۔“

آپ کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے حکم خدا ہے :

( وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهوا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَاب ) ( ۱۷۶ )

”اور ھاں جو تم کو رسول دیدیں وہ لے لیاکرو، اور جس سے منع کریں اس سے باز رهو اور خدا سے ڈرتے رهو، بے شک خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔“

لہٰذا (امام مھدی پر ) ہمارا ایمان و عقیدہ کوئی عجیب وغریب شی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جس کا سابقہ اسلام میں نہ ہو بلکہ یہ تو جناب نوح کی عمر اور جناب یونس کا شکم ماھی میں باقی رہنا یا سو سال تک کھانے کا خراب نہ ہونے پر ایمان کی طرح ہے ۔اب جبکہ قرآن واحادیث کے ذریعہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ انسان ہزاروں سال باقی رہ سکتا ہے اور گذشتہ امتوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں ۔بس یہ بات مافوق علم یا مافوق عقل نہیں ہے جیسا کہ آج کا علم بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے اگر اس کے بدن کی طاقت کو محفوظ رکھنے کے وسائل مھیا ہوجائیں ۔

چنانچہ آج کل کے ڈاکٹروں کا ماننا یہ ہے کہ جسم کے اہم اجزاء بی نھایت وقت تک باقی رہ سکتے ہیں اور انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ہزاروں سال زندہ رھے اگر اس کے لئے ایسے عوارض پیش نہ آئیں جن سے ریسمان حیات قطع ہوجائے، اور ان کا یہ کہنا صرف ایک گمان ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے تجربات سے اس نتیجہ پر پهونچے ہیں ۔انسان ساٹھ ،ستر یاسو سال کی عمر میں نہیں مرتا مگر یہ کہ بعض عوارض کی بنا پر اس کے بعض اعضاء خراب ہوجاتے ہیں یا بعض اعضاء کا دوسرے اعضاء سے ربط ختم ہوجانے پر انسان کی موت واقع ہوتی ہے اور جب سائنس اتنی ترقی کرلے گا کہ ان عوارض کو دور کرسکے تو پھر انسان کا سیکڑوں سال زندہ رہنا ممکنات میں سے ہوجائے گا( ۱۷۷ )

اس طرح ”جان روسٹن“ اپنے تجربیات اور کشفیات کی بنا پر قائل ہے کہ انسان کو سالم زندہ رکھنا کوئی محال کام نہیں ہے( ۱۷۸ )

کیونکہ مشهورو معروف ماھرین نے جو گذشتہ صدیوں میں اکتشافات کئے ہیں ان سے یہ امید کی جاتی ہے کہ انسان ایک ایسا مرکب نسخہ تیار کرے گا جس سے مزید تحقیق کرنے کے بعد اس مرحلہ تک پهونچ سکتا ہے جیسا کہ ”براون سیکوارڈ“،” کسی کاریل“، ”فورنوف مینش بنکوف“، ”بوغو مولٹینر“اور ”فیلاتوف “وغیرہ نے تجربات کئے ہیں ۔

لیکن” روبرٹ ایٹنجر“ نے ابھی کچھ دنوں پہلے ایک بہترین کتاب بنام”کیاانسان کا ہمیشہ کے لئے زندہ رہنا ممکن ہے “ لکھی جس میں انسان کو مزید امیدوار کیا ہے اور یہ کھا یہ انسان جو زندہ ہے اور سانس لیتا ہے تو ان فیزیا ئیہ(وظائف اعضاء بدن) حصہ میں اپنی بقا کا مالک ہوجاتا ہے، یعنی انسان کے اعضاء وجوارح اگر ان پر کوئی مشکل نہ پڑے تو یہ طولانی مدت تک کام کرسکتے ہیں۔

ان تمام وضاحتوں کے بعد علاوہ جن میں انسان کا ہزاروں سال باقی رہنا ممکن ہے ،اور اگر انسانی خلیوں کو برف میں رکھ دیا جائے تو وہ خلیے محفوظ رہتے ہیں او راگر ان کو برف سے نکال کر مناسب گرمی دی جائے تو اس کی حرکت واپس آجائے گی۔اور جب حقیقت یھاں تک واضح ہوگئی اس کے علاوہ ہم عصر ماھرین نے بھی انسان کی طویل عمر کے امکان پر تاکید اور وضاحت کی ہے ، او ر ان وسائل کا پتہ لگانا جن کے ذریعہ سے انسان طولانی عمر حاصل کرسکتا ہے یھی ایک اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے جس کی وجہ سے انسان دنیاوی مشکلات کو دفع کرسکتا ہے،پس جب انسان کا حسب استعداد وطبیعت باقی رہنے کا امکان صحیح ہے تو پھر حضرت امام مھدی (عج) کا اتنے سال زندہ رہنا حسب طبیعت اور ارادہ الٰھی کی بدولت ممکن اور صحیح ہے۔

قارئین کرام ! آپ نے گذشتہ مطالب کو ملاحظہ فرمایا اور چونکہ آج کل کا یہ زمانہ جس میں ہم زندگی گذار رھے ہیں فکری اعتبار سے پر آشوب زمانہ ہے لہٰذا اس دور میں اس مصلح منتظر کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے جو صحیح راہ سے بھٹکی انسانیت کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرے۔ اور چونکہ عقل بشری (مسلم وغیر مسلم) ایسے مصلح منتظر کے وجود ضروری کا اقرار کرتی ہے، اگرچہ اس کے پاس آیات وروایات سے کوئی نص بھی موجود نہ ہو جیسا کہ انگریزی مشهور ومعروف فلسفی ”برنارڈشَو“ نے اس مصلح منتظر کے بارے میں اشارہ کیا ہے او راپنے ذاتی نظریات کو اپنی کتاب ”الانسان والسوپر مین“ میں بیان کیا ہے ، اس کا نظریہ ہے کہ یہ مصلح منتظر ایک زندہ اور صاحب جسم انسان ہے جن کا بدن صحیح وسالم ہے اور خارق العادة عقل کا مالک ہے وہ ایک ایسا اعلیٰ انسان ہے جس تک ایک ادنیٰ انسان جدوجہد کے ذریعہ ہی پهونچ سکتا ہے ، اوراس کی عمر ۳۰۰ سال سے کھیں زیادہ طولانی ہے، اور وہ قدرت رکھتا کہ ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائے جس کو اس نے اپنی حیات میں حاصل کیا مثلاً اپنی زندگی میں تجربات کئے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے تاکہ اپنے بدن کو صحیح وسالم رکھ سکے۔“( ۱۷۹ )

چنانچہ جناب عباس محمود العقاد” برنارڈشو“ کی گفتگو پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں: ”موصوف کی باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ”سوپر مین شو“ کا وجود ومحال نہیں ہے اور ان کی دعوت دیناایک مسلم حقیقت ہے“( ۱۸۰ )

آئےے آخر کلام میں خداوندعالم کی بارگاہ اقدس میں عرض کریں: ”اللّٰهم انا نشکو الیک فقد نبینا، وغیبة ولینا وکثرة عدونا وقله عددنا وشدة الفتن بنا، وتظاهر الزمان علینا، فصلی علی محمد وآله واعنا علی ذلک بفتح منک تعجله، وبضر تکشفه ونصر تعزّه وسلطان حق تظهره“ اللّٰهم انصره نصراً عزیزاً وافتح له فتحاً یسیراً واجعلنا من انصاره واعوانه انک سمیع مجیب“ وآخردعونا ان الحمد لله رب العالمین ۔

ملحق کتاب

اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کے بعد استاد شیخ محمد رضوان الکسم (مقیم دمشق) کا ایک خط ملا جس میں انھوں نے ہماری بعض چیزوں پر اعتراض کیا ۔

لیکن اب جبکہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شایع رھا ہے ہم نے ان کے خط اور اپنے جواب کو اس بحث کے خاتمہ پر نقل کردینا مناسب سمجھاتاکہ ہمارے قارئین کرام بھی اعتراضات مع جوابات ملاحظہ کرلیں۔

شیخ کسم کا خط

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔

الحمد لله رب العالمین والصلوة والسلام علی خاتم النبین ۔

محترم جناب شیخ محمد حسن آل یاسین صاحب

سلام علیکم وروحمة اللّٰہ وبرکاتہ

امابعد:

آپ کی کتاب ”المہدی بین التصور والتصدیق“( ۱۸۱ ) نظروں سے گذری اور اس کامطالعہ کیا اور جیسا کہ آپ نے اس میں بیان کیا کہ ہماری یہ کتاب ایک بہترین اور صاف ستھری گفتگو نیز خود غرضی سے خالی ہے لیکن کتاب پڑھتے وقت آپ کی کچھ باتوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا جیسا کہ آپ نے فرمایا:

”اسلام نے عقیدہ کے لئے عقل کو اصل قرار دیا ہے اور اندھی تقلید سے منع کیا ہے“

لیکن ہمارے لحاظ سے آپ کی یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات اس کے برعکس ہیں اور خداوند عالم نے کسی چیز پر بغیر یقین کے اعتقاد رکھنے کو سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے :

( قُلْ هَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ) ( ۱۸۲ )

”اے رسول تم کهو کہ کیا تمھارے پاس کوئی دلیل ہے (اگرھے) تو ہمارے (دکھانے کے واسطے )اس کو نکالو “

ایضا :

( لَوْلَا یَا تُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطَانٍ بَیِّنٍ فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ اِفْتَرَیٰ عَلَی اللّٰهِ کِذْباً ) ( ۱۸۳ )

(پھر یہ لوگ ان کے معبود ہونے ) کی کوئی صریح دلیل کیوں نہیں کرتے اور جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان سے زیادہ ظالم اور کون ہوگا )

ایضا:

( مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اِتِّبَاعُ الظَّنِّ ) ( ۱۸۴ )

”ان کو اس واقع کی خبر ہی نہیں مگر فقط اس گمان کے پیچھے چل رھے ہیں “

بس گویا خدا وند عالم ہم سے علم و یقین چاہتاھے اور ظن و گمان سے منع فرماتا ہے ،اور ظن پر عمل کرنے والوں کے لئے وعدہ عذاب دیا ہے لہٰذا ان آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے اعتقادات یقین کے مطابق ہونے ضروری ہیں ۔

اسی طرح آپ کی اس کتاب کے مطالعہ کے بعد آپ کی اس بات پر بھی اعتراض ہوا کہ حضرت امام مھدی (عج) کے عقیدہ کے بارے میں علم و یقین موجود ہے جیسا کہ آپ نے تحریر کیا کہ آپ (امام مھدی عج) کے بارے میںمتواتر احادیث وارد ہوئی ہیں اوریہ احادیث صاف طور پر بھی اور اشارتاً بھی، اور آپ نے کتاب کے حاشیہ میں حوالہ دیا شیخ شرف الدین کی کتاب المراجعات اور علامہ امینی کی کتاب الغدیر ج اول کا ،لیکن جب ہم نے ان دونوں کتابوں میں رجوع کیا تو ہمیں اس نظریہ پر استدلال کرنے والی احادیث نہیں ملی چونکہ جو احادیث ہیں بھی ان کی سند ،،سند احاد ہیں نہ کہ تواتر جیسا کہ آپ نے دعوی کیا ہے، تو کیا یہ احادیث یقین کی منزل تک پهونچاتی ہیں؟ واقعا آپ کی باتیں تعجب خیز ہیں ۔

اس طرح آپ کا یہ قول کہ امام مختار کے لئے تمام برائیوں سے پاک و پاکیزہ اور تمام صفات کمال کا حامل ہونا ضروری ہے (اور اسی کو عصمت کہتے ہیں ۔۔۔تا آخر۔) برادر عزیز !یہ کون سی عصمت ہے کیا کوئی انسان معصوم ہوسکتا ہے کیا آپ ہی نے امام علیہ السلام کا قول نقل نہیں کیا کہ” کل آدم خطا ء و خیرالخطائین توابون“ (ھرانسان خطاکارھے اور بہترین خطا کاروہ ہے جو توبہ کرلے )کیا اس قول سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ذات مستثنیٰ ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلممستثنیٰ نہیں ہیں تو پھر آپ کے پاس عصمت کے لئے کیا دلیل ہے ؟!

اس کے علاوہ آپ نے درج ذیل مرقوم صحیح حدیث :”من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیة “

(جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے اس کی موت جاھلیت کی موت ہوتی ہے)؛سے استدلال کیا اور اس سے محمد بن الحسن (امام مھدی ) کی امامت ثابت کرنا چاھی کیا کوئی عقلمند انسان آپ کی اس بات کو قبول کرسکتا ہے ؟ ! مذکورہ حدیث تو اپنے منطوق و مفهوم سے صرف اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر مسلمان اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے اور کتاب وسنت پر عمل کے ذریعہ اس (امام )کی بیعت کرے، لہٰذا مذکورہ حدیث امامت پر دلالت نہیں کرتی ، تو آپ نے کس طرح (امام) مھدی کی امامت کو مراد لیا اور کس طرح سے بارہ اماموں کی امامت میں محصور کیا آپ کی یہ بات بغیر دلیل نہیں ہے ؟!!

کیونکہ خدا وند عالم نے ہم تک بیان پہنچادیا ہے لہٰذا ہمیں روایات و احادیث کی پیر وی کرنا ہوگی ،اور اگر وہ احادیث قطعی ہوں تو ہم ان سے اپنے عقائد اخذ کریں گے اور اگر احادیث ظنی ہونگی تو ان سے صرف احکامات اخذ کرسکتے ہیں ،پس کسی بھی عقلمند مسلمان کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ وہ امور مظنونہ کے مطابق اعتقاد رکھے یعنی کسی چیز کاگمان کے مطابق معتقد ہوجائے اور کہنے لگے کہ (حضرت امام)مھدی عنقریب آئیں گے، جب تک اس کے پاس ایسی قرآنی دلیل نہ ہو جس کے ذریعہ برھان قائم کرسکے ۔ہم آپ اور آپ کے دوستوں سے امید وار ہیں کہ ہمارا یہ خط وکتابت کا سلسلہ اطمینان بخش ثابت ہو ،تاکہ خدا وند عالم کی رضایت و خوشنودی حاصل ہو سکے۔ والسلام علیکم و رحمةاللّٰہ وبرکاتہ۔

محمدرضوان الکسم

۱۵ ربیع الثانی ۸۹ ۱۳ ھ ۲۹/۷/۱۹۶۹ ئ

خط کا جواب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جناب محترم محمد رضوان الکسم صاحب

سلام علیکم و رحمة اللّٰہ وبر کاتہ۔

آپ کا خط ملا ،محبت کا شکریہ ۔

۱ ۔لیکن ہم اپنے اس قول سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹےں گے کہ اسلام نے عقل کو مصدر عقیدہ اور ایمان کی بنیاد قرار دیا ہے اور جیسا کہ آپ نے فرمایا : عقائد یقین کے ساتھ ہونے چاہئیں ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اس سلسلہ میں بھی ذرہ برابر عقب نشینی نہیں کریں گے چاھے اس کے نتائج ہمارے حق میں ہوں یا ہمارے ضرر میں ۔

۲ ۔ جن احادیث نبوی کے بارے میں ہم نے تو اتر کا ادعا کیا ہے وہ حضرت علی علیہ السلام سے مخصوص ہیںاور وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد وھی شرعی طور پر امام ہیں اور ہم نے تواتر سے مراد تواتر معنوی لیا ہے تواتر لفظی نھیں،کیونکہ وہ تمام احادیث اپنی تمام تر تاکید کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کی امامت پر دلالت کرتی ہیں اگرچہ آپ کے نظریہ کے مطابق ان احادیث کی سند احاد (غیر متواتر ) ہیں لیکن وہ تمام ایک ہی مطلب(مسئلہ امامت) کی نشان دھی کرتی ہیں ،پس مسئلہ امامت تمام احادیث میں متواتر ہے ۔

۳ ۔ ہم نے عصمت کی تفصیلی بحث کتاب امامت میں کی ہے لہٰذا بحث عصمت کو مذکورہ کتاب میں ملاحظہ فرمائیں، انشاء اللہ آپ ہمارے نظریہ سے متفق ہوجائیں گے ۔

۴ ۔ اب رھا آپ کا وہ اعتراض جس میں آپ نے کھا : یہ تعین کھاں سے اور بارہ اماموں سے کس طرح مخصوص کیا کس نے بیان کیا یہ سب کچھ بغیر دلیل کے نہیں ہے ؟

تو ان سب سوالوں کے جواب بھی بحث امامت میں ملاحظہ فرمائیں ۔

۵ ۔ لیکن وہ اعتراض جو آپ نے خط کے آخر میں کیا کہ (امام ) مھدی (ع) کا اعتقاد امور مظنونہ (گمان ) میں سے ہے لہٰذا اس پر اعتقاد رکھنا صحیح نہیں ہے ۔

آپ کا یہ اعتراض اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے ہماری کتاب کو غور سے نہیں پڑھا اور اگر آپ دوبارہ اس کتاب کو غور وفکرکے ساتھ ملاحظہ کریں تو آپ ان اصحاب و حفاظ کی فھرست دیکھیں گے جنھوں نے حضرت امام مھدی (عج) کے بارے میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی احادیث بیان کی ہیں اور ان افراد کی فھرست بھی دیکھیں گے جنھوں نے امام مھدی کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں یا ان کو اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے،لہٰذا ان علماء کا امام مھدی کے بارے میں احادیث کا بیان کرنا اور ان کی صحت کا اقرار کرنا کیا انسان کو قطع و یقین کی منزل تک نہیں پهوچاتا ؟!

وسلام علی من اتبع الهدی وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین ۔

محمد حسن آل یاسین

____________________

[۱] لسان العرب ج۱۲ ص ۲۴ (مادہ ام

[۲] سورہ بقرہ آیت ۱۲۴۔

[۳] سورہ احقاف آیت ۱۲۔

[۴] سورہ فرقان آیت ۷۴۔

[۵] سورہ اسراء آیت ۷۱۔

[۶] لسان العرب ج۹ص ۸۳، ۸۴، ۸۹( مادہ خلف)۔

[۷] سورہ بقرہ آیت ۳۰۔

[۸] سورہ ص آیت ۲۶۔

[۹] سورہ انعام آیت ۱۶۵۔

[۱۰] سورہ اعراف آیت ۶۹۔

[۱۱] الاحکام السلطانیہ ص ۳۔

[۱۲] مقدمہ ابن خلدون ص ۱۵۹۔

[۱۳] مقدمہ ابن خلدون ص ۱۸۳۔

[۱۴] نظریة الامامة ص ۲۲۔

[۱۵] نظریة الامامة ص ۲۴۔

[۱۶] نظریة الامامة ص ۲۰۔

[۱۷] ہماری کتاب ”مفاھیم اسلامی“میں ”الاسلام دین ودولة“ عنوان پر رجوع فرمائیں۔

[۱۸] ڈاکٹر احمد محمود صبحی کہتے ہیں : ابوبکر وعمر کی خلافت ایک وقتی مسئلہ تھا تاکہ احتمالی فتنہ وفساد رونما نہ ہونے پائے اور ان کی حکومت، کامل نظام کی بنیاد کے لئے نہیں تھی۔ (نظریة الامامة ص ۲۶)

[۱۹] سورہ قصص آیت ۶۸۔

[۲۰] لسان العرب ج۱۲ص ۴۰۳(مادہ عصم)۔

[۲۱] سورہ بقرہ آیت ۲۲۹۔

[۲۲] سورہ طلاق آیت ۱۔

[۲۳] سورہ ہود آیت ۱۸۔

[۲۴] سورہ مریم آیت ۷۲۔

[۲۵] سورہ مریم آیت ۷۲۔

[۲۶] سورہ بقرہ آیت ۱۲۴۔

[۲۷] نظریة الامامة ص ۱۳۵تا ۱۳۹۔

[۲۸] یہ بات قابل توجہ ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وفات کے بعد انتخاب کے قائل تھے لیکن جناب ابوبکر نے اپنے بعد نص (جناب عمر کی خلافت کی وضاحت) کی توپھر انھوں نے بھی نص کے بارے میں کہنا شروع کردیا اور علت یہ بیان کی کہ عام حالت میں نص ہی کے ذریعہ اپنے بعد والے کو معین کرتے ہیں لیکن چونکہ اس وقت فتح کی جنگ تھی (یعنی مسلمان دوسرے شھروں کو فتح کرنا چاہتے تھے) اور سرکشی وبغاوت کرنے کا خوف تھا (لہٰذا رسول اسلام نے کسی کی خلافت پر واضح بیان نہیں دیا)

[۲۹] سورہ آل عمران آیت ۱۴۴.

[۳۰] نظریة الامامة ص ۶۲۔

[۳۱] سورہ شعراء آیت ۲۱۴۔

[۳۲] اس روایت کو خلاصہ کرکے نقل کیا ہے، تاریخ طبری ج۲ص ۳۱۹،۳۲۱۔ مطبوع دار المعارف، مصر ۱۹۶۱ء ۔ اور جیسا کہ ڈاکٹر محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب ”حیاة محمد“ ص۱۰۴ کے پہلے ایڈیشن میں اس حدیث کو نقل کیا لیکن دوسرے ایڈیشن میں اس حدیث کوحذف کردیا، قارئین کرام اس حدیث کے مصادر اور سندوں کو کتاب الغدیر ج۲ ص ۲۵۲تا ۲۶۰ پر ملاحظہ فرمائیں۔

[۳۳] صحیح مسلم ج۷ص ۱۲۰، اس حدیث کی سند اور منابع کے سلسلہ میں کتاب الغدیر جلد اول ص۴۸تا ۴۹ وج۳ص ۱۷۲تا ۱۷۶ ملاحظہ فرمائیں۔

[۳۴] سورہ طٰہ آیت ۲۹۔

[۳۵] سورہ طٰہ آیت ۳۰۔

[۳۶] سورہ طٰہ آیت ۳۲۔

[۳۷] سورہ اعراف آیت۲ ۱۴۔

[۳۸] نظریة الامامة ص ۲۲۹۔

[۳۹] ان صحابہ، تابعین علماء ،حفاظ اور رایوں کے اسماء گرامی نیز منابع حدیث کے بارے میں کتاب الغدیر جلد اول مکمل طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

[۴۰] سورہ مائدہ آیت ۳

[۴۱] سورہ مائدہ آیت ۶۷، اس آیت کی شان نزول کے بارے میں تفسیر ”الدر المنثور“ ج۲ص ۲۸۹، فتح الغدیر جلد اول ص ۶۰ اور کتاب الغدیر جلد اول ص ۱۹۶ تا ۲۰۹ میں ذکر شدہ کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔

[۴۲] سد الغابہ ج ۴ص۲۸، البدایة والنھایة ج۵ص ۲۰۹، ۲۱۳، اور الغدیر کی پہلی جلد میں بیان شدہ کتابیں۔

[۴۳] سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۴۳ ، البدایة والنھایة ج۵ص۰ ۲۱، وفیات الاعیان ج۴ص ۳۱۸ ، اور الغدیر کی پہلی جلد میں بیان شدہ کتابیں۔

[۴۴] اس آیت(سورہ مائدہ آیت۳) کی شان نزول کے بارے میں تاریخ بغداد ج۸ ص ۲۹۰، الدر المنثور ج۲ ص ۲۵۹، اور الغدیر کی پہلی جلدص۱۲۰تا ۲۱۷ میں بیان شدہ کتابیں۔

[۴۵] تاریخ بغداد جلد ۸ص ۲۹۰، البدایہ والنھایة ج۵ ص ۲۱۰، اور الغدیر کی پہلی جلد میں بیان شدہ کتابیں۔

[۴۶] نظریة الامامة ص ۲۲۱۔

[۴۷] نزھة المجالس ج۲ص۴۷۲۔

[۴۸] منھاج السنة ج۴ص۲۱۰۔

[۴۹] تعیین امامت کے سلسلہ میں حدیث نبوت کوگذشتہ حوالوں کے علاوہ ارشاد مفید، المناقب شھر آشوب السروی، فصول المہمہ، ابن صباغ مالکی ،مطالب السوال ابن طلحہ شافعی، ینابیع المودة قندوزی حنفی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

[۵۰] شیخ قندوزی وغیرہ نے پیغمبر اکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

”انا سید النبیین وعلی سید الوصیین وان اوصیاي بعدي اثنا عشر“اس حدیث اور حدیث اثنا عشر کے بارے میں کتاب ینابیع المودة ص ۴۴۷، ۴۸۶،۴۸۷، ۴۸۸، ۴۹۲، ۴۹۳ ملاحظہ فرمائیں۔

[۵۱] صحیح بخاری ج۹ ص ۱۰۱، صحیح مسلم ج۶ص ۳، سنن ترمذی ج۴ ص ۵۰۱، وسنن ابی داود ج۲ص ۴۲۱، وجامع الاصول ج۴ص ۴۴۰تا ۴۴۲۔

اس حدیث کے طُرق کے بارے میں حافظ قندوزی کہتے ہیں: صحیح بخاری میں اس حدیث کو تین طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اور صحیح مسلم میں نو طریقوں سے، سنن ابی داؤد میں دو طریقوں سے، سنن ترمذی میں ایک طریقہ سے اور حمیدی میں تین طریقوں سے بیان کیا گیا ہے، رجوع فرمائیں ینابیع المودة ص ۴۴۴۔

اضافہ مترجم: یھاں پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ایک ایک حدیث نقل کردینا بہتر ہے تاکہ قارئین کرام ان دونوں حضرات کی نقل کو بھی دیکھ لیں:

,,عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمره ؛قال: سمعت النبی یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة، لم اسمعها،فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش

صحیح بخاری جلد ۹، کتاب الاحکام، باب۵۲ ”استخلاف“ حدیث۶۷۹۶۔ صحیح مسلم جلد۶، کتاب الامارہ، باب۱۱ ” الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش“ حدیث۱۸۲۱۔

ترجمہ :۔عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے کہ: میں نے رسول خدا سے سنا کہ آپ نے فرمایا: (میرے بعد میرے) بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کہتے ہیں کہ: دوسرا کلمہ میں نے صحیح سے نہیں سنا جس میں آنحضرت نے ان بارہ خلفاء کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہوں گے، لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کھا کہ: وہ جملہ جو اس نے نہیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔

مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آیا ہے:

جابر بن سمره؛ قال: انطلقتُ الی رسول اللّٰه ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْهَا الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش “ ، صحیح مسلم جلد ۶ ،کتاب الامارہ ،باب۱ حدیث۱۸۲۱،کتاب الامارہ کی حدیث نمبر۹۔

ترجمہ:۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ: ایک مرتبہ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ خدمت رسول خدا سے مشرف ہوا تو میں نے رسول سے سنا کہ آپ فرما رھے تھے کہ: یہ دین الٰھی بارہ خلفاء تک عزیز اور غالب رھے گا ، اس کے بعد دوسرا جملہ میں نہ سن سکا کیو نکہ صدائے مجلس سننے سے حائل ہوگئی تھی، لیکن میرے پدر بزرگوار نے کھا :وہ جملہ یہ تھا کہ: تمام یہ بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے۔ (مترجم)۔

[۵۲] صحیح مسلم ج۶ص۴۔

[۵۳] حلیة الاولیاء جلد اول ص ۶۳۔

[۵۴] الارشاد ، شیخ مفید ص ۳۔

[۵۵] سب سے پہلے مسلمان کو تعین کرنے کے سلسلہ میں کتاب الغدیر ج۳ ص ۱۹۲ تا ۲۰۹ پر رجوع فرمائیں کیونکہ وھاں پر ۶۶/اصحاب اور تابعین کے اقوال نقل کئے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام ہی سب سے پہلے مسلمان ہیں۔

[۵۶] جناب فاطمہ زھرا (ع) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اکلوتی بیٹی تھیں اس سلسلہ میں باب نبوت ص ۲۴۳/ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔

[۵۷] چنانچہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشن گوئی کی تھی کہ خوارج آپ سے جنگ کریں گے ، مراجعہ کریں تاریخ بغداد ج۸ص ۳۴۰، وج۱۲ص ۱۸۷، والاستیعاب ج۳ص۵۳۔

[۵۸] اس شب میں آپ کی شھادت کے سلسلہ میں مروج الذھب ج۲ ص ۲۹۱، الکافی جلد اول ص ۴۲۵، ارشاد ص ۶ ،اور جیسا کہ طبری نے اپنی تاریخ ج۵ص ۱۴۳ میں بیان کیا ہے کہ عبد الرحمن بن ملجم نے آپ کو ۱۷ ویںیا ۱۹ویں کی شب کو ضربت لگائی اور ضربت کے بعد آپ دو دن تک زندہ رھے لہٰذا طبری کی ایک روایت کے مطابق ۲۱ویں شب کو آپ کی شھادت واقع ہوئی۔

[۵۹] نزہة المجالس ج۲ ص ۴۷۶۔

[۶۰] سنن ترمذی ج۵ ص ۶۵۶۔

[۶۱] ایضاً ج۵ ص ۶۵۸۔

[۶۲] عقیدة الشیعہ ص ۹۰۔

[۶۳] اھل البیت ص ۲۸۰تا ۲۸۲۔

[۶۴] اھل البیت ص ۲۸۲۔

[۶۵] نظریة الامامة ص ۲۸۲ تا ۳۲۸۔

[۶۶] الولادة والوفات از ارشاد ص ۱۹۱ وص ۱۹۷۔

[۶۷] صلح حسن، ص۲۵۹۔

[۶۸] المناقب ج۲ ص ۲۰۸۔

[۶۹] الارشاد ، ص ۲۱۰۔

[۷۰] العواصم من القواصم ص ۲۳۱۔

[۷۱] نظریة الامامة ص ۳۳۶۔

[۷۲] تاریخ ولادت وتاریخ شھادت ماخوذ از کتاب ارشاد شیخ مفید ص ۲۰۳۔(تاریخ ولادت مولف نے ارشاد کے مطابق پانچ شعبان بیان کی تھی جبکہ مشهور ومعروف تاریخ ولادت ۳ شعبان ہے(مترجم)

[۷۳] الکامل ج۳ ص ۳۱۱۔

[۷۴] صحیفہ سجادیہ کے درج ذیل صفحات پر رجوع فرمائیں: ص ۲۵، ۳۸، ۵۶، ۸۲، ۱۰۷، ۱۶۹، ۱۹۶، ۲۳۶، ۲۶۱، ۲۶۲، ۳۰۴، اور ص ۳۰۸۔

[۷۵] تاریخ ولادت وشھادت نقل از کتاب ”الارشاد“ شیخ مفید ص ۲۷۰۔

[۷۶] اس سلسلہ میں مزید آگاھی کے لئے کتاب ”المحاسن والمساوی ،بیہقی، ص ۲۳۲تا ۲۳۶تک مراجعہ فرمائیں۔

[۷۷] تاریخ ولادت وشھادت بنقل از الارشاد ص ۲۷۹۔

[۷۸] المناقب ج۲ ص ۳۲۴۔

[۷۹] الشیعة من حیاة الصادق جلد اول ص ۸۸۔

[۸۰] یہ دونوں کتاب نجف، قاھرہ ، ایران اور بیروت سے متعد د بار چھپ چکی ہیں۔

[۸۱] رجوع کریں کتاب ”الامام الصادق ملہم الکیمیا “ ڈاکٹر ھاشمی، طبع دوم سوریا ۱۹۵۸ء ۔

[۸۲] مجلہ البلاغ ، سال دوم شمارہ دوم ص ۸۳۔

[۸۳] تاریخ ولادت وشھادت بنقل از الارشاد ص ۲۸۹۔

[۸۴] سورہ آل عمران آیت ۶۱۔

[۸۵] سورہ انعام آیت ۸۴،۸۵ ۔

[۸۶] ولادت وشھادت منقول از الارشاد ص ۳۰۷۔

[۸۷] تاریخ ولادت وشھادت بنابر نقل الارشاد ص ۳۲۵۔

[۸۸] تاریخ ولادت وشھادت نقل از الارشاد ص ۳۳۹۔

[۸۹] یہ رسالہ مکمل طور پر تحف العقول میں نقل کیا گیا ہے ص ۳۴۱تا ۳۵۶۔

[۹۰] تاریخ ولادت وشھادت منقول از الارشاد ۳۵۲۔

[۹۱] تاریخ ولادت وشھادت بنقل از الارشاد ص ۳۶۰۔

[۹۲] پہلی حدیث ینابیع المودة ص ۴۴۸، دوسری حدیث صواعق المحرقہ ص ۹۹۔ اس سلسلہ کی مزید احادیث کو سنن ابی داؤد ج۲ ص ۴۲۲ والحاوی ج۲ص ۱۲۴ تا ۱۲۵ ملاحظہ فرمائیں۔

[۹۳] اصول الاسماعیلیہ ص ۸۶،تا ۸۷۔

[۹۴] الفتنة الکبریٰ جلد اول ص ۱۳۱، ص ۱۳۴۔

[۹۵] مجلة المجمع العلمی العراقی ج۳ جز اول ص ۵۳۔

[۹۶] وعاظ السلاطین ڈاکٹر علی الوردی۔

[۹۷] الیمین والیسار فی الاسلام ص ۹۶۔

[۹۸] سورہ بینہ آیت ۷۔

[۹۹] تفسیر طبری ج۳۰ ص ۲۶۵، الصواعق المحرقہ ص ۹۶، نھایہ ابن الاثیر ج۳ ص ۲۲۶، الدر المنثور سیوطی ص ۳۷۹۔

[۱۰۰] سورہ زخرف آیت ۶۱۔

[۱۰۱] سورہ توبہ آیت ۳۳

[۱۰۲] اسی کتاب کی فصل امامت پر رجوع فرمائیں۔

[۱۰۳] اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو جناب ابن حجر ہیتمی نے اپنی کتاب صواعق المحرقہ ص۹۹ میں بیان کیا ہے۔

[۱۰۴] المہدی والمہدویہ ، تالیف ڈاکٹر احمد امین ص ۱۱۰۔

[۱۰۵] مجلة الجامعة الاسلامیہ شمارہ ۳ص ۱۶۱تا۱۶۲۔

[۱۰۶] ادب الشیعہ ص ۱۰۱، اور اسی بات کی تائید ڈاکٹر عبد الحلیم النجار کتاب ”المہدیة فی الاسلام“ کے مقدمہ میںکرتے ہوئے کہتے ہیں: علماء حدیث نے حضرت مہدی کے سلسلہ میں اس قدر روایت بیان کی ہیں جو کہ تواتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں۔

[۱۰۷] ادب الشیعہ ص ۱۶۔

[۱۰۸] وعاظ السلاطین ، ڈاکٹر علی الوردی۔

[۱۰۹] مجله التربیه اسلامیه سال ۱۴ شماره ۷ ص ۳۰.

[۱۱۰] اس کتاب سے ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ ص ۲۷۵ میں روایت نقل کی ہے۔

[۱۱۱] اس کتاب سے حافظ کنجی شافعی نے اپنی کتاب ”البیان“میں بہت سی روایات نقل کی ہیں۔

[۱۱۲] اس کتاب کا نسخہ ”عہد مخطوطات عربیہ“ قاھرہ میں موجود ہے۔

[۱۱۳] اس کتاب کی روایت ”اسعاف الراغبین“ ص ۱۳۹ میں پائی جاتی ہیں اور اس کتاب کے قلمی نسخے ”حلب“ اور ”استنالبول“ میں موجود ہیں ، نیز ہمارے پاس بھی اس کی ایک فوٹو کاپی موجود ہے جو کہ مولف کے سامنے قرائت شدہ نسخہ (موجود در ”حلب“ ) ؛کے مطابق ہے۔

[۱۱۴] اس کتاب کا قلمی نسخہ استانبول (ترکیہ) میں موجود ہے۔

[۱۱۵] اس کتاب کا ذکر خود مولف نے اپنی کتاب ”الائمہ الاثنی عشر“ ص ۱۱۸ میں کیا ہے۔

[۱۱۶] ان دونوں کتابوں کے قلمی نسخے استانبول میں موجود ہیں، اور ہمارے پاس بھی کتاب برھان کی ایک فوٹو کاپی حرم مکی کتب خانہ سے اخذ شدہ موجودھے۔

[۱۱۷] پہلی کتاب کا نسخہ ہندوستان میں اور دوسری کتاب کا نسخہ استانبول میں موجود ہے۔

[۱۱۸] اس کتاب کا قلمی نسخہ استانبول میں موجود ہے۔

[۱۱۹] مجلة الجامعة الاسلامیہ / شمارہ ۳/ ص ۱۳۱۔

[۱۲۰] الغدیر ج۲ ص ۱۸۴۔ مطبوعہ نجف اشرف ۱۳۶۵ھ۔

[۱۲۱] الغدیر ج۲ ص ۲۲۳۔

[۱۲۲] دیوان دعبل ص ۴۲۔

[۱۲۳] دیوان مھیار جلد اول ص ۳۰۰۔

[۱۲۴] الغدیر ج۴ص ۲۷۹۔

[۱۲۵] مطالب السوال ج۲ ص ۷۹۔

[۱۲۶] شرح القصائد السبع العلویات ص ۷۰۔

[۱۲۷] الائمہ الاثنی عشر ص ۱۱۸۔

[۱۲۸] دیوان عبد اللہ بن علوی المسمیٰ ”الدر المنظوم ص ۱۸و ۱۴۶۔

[۱۲۹] الصواعق المحرقہ ص ۹۹ نیز مراجعہ کریں المہدی والمہدویہ۔

[۱۳۰] رجوع کریں کتاب المہدی ص ۹پر ۔

[۱۳۱] الصواعق المحرقہ ص ۹۹، اسعاف الراغبین ص ۲۴۳، الحاوی ص ۱۲۴۔

[۱۳۲] سنن ابن ماجہ ج۲ص۱۳۶، فصول المہمہ ص ۲۷۶، ینابیع المودة ص ۴۳۵، الحاوی ج۲ص۱۲۴۔

[۱۳۳] تذکرة الخواص ص ۳۷۷،سنن ابی داؤد ج۲ص ۴۲۲، الصواعق المحرقہ ص ۹۸، نور الابصار ص ۱۵۶تا ۱۵۷ والحاوی ج۲ ص ۱۲۹تا ۱۳۷۔

[۱۳۴] ظاہراً یہ جملہ راوی کا ہے۔مترجم)

[۱۳۵] سنن ابی داؤد ج۲ص ۴۲۲، الصواعق المحرقہ ص ۹۷، ااسعاف الراغبین ۱۳۱، الحاوی ج۲ ص ۱۲۴۔

[۱۳۶] سنن ابی داؤد ج۲ص ۴۲۲، الصواعق المحرقہ ص ۹۷، نور الابصار ۱۵۷، الحاوی ج۲ ص ۱۲۴تا ۱۲۶ ، اور مسند احمد بن حنبل جلد اول ص ۳۷۶،ص۳۷۷،۴۳۰،۴۴۸ میں یہ حدیث اس طرح ہے: ”لا تذهب الدنیا اولا تنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من اهل بیتی یواطیٴ اسمه اسمی “اسی طرح سنن ترمذی ج۴ص ۵۰۵، تذکرة الحفاظ ج۲ ص ۴۸۸ میں بھی ہے، نیز مراجعہ کریں سنن ابن ماجہ ج۲ ص ۱۳۶۶۔

[۱۳۷] ینابیع المودة ص ۴۸۸، الحاوی ج۲ ص ۱۳۰۔

[۱۳۸] سنن ابی داؤد ج۲ص ۴۲۲، البیان ص ۶۴، الصواعق المحرقہ ص ۹۷، اسعاف الراغبین ص ۱۳۱،سنن ابن ماجہ ص ۲ ص۱۳۶۸، الحاوی ج۲ ص ۱۲۴تا ۱۲۷ ۔

[۱۳۹] ینابیع المودة ص ۴۴۵، کتاب البیان میں اس حدیث کے ۸۲جملے ہیں جس میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے امام حسین علیہ السلام کے منکب پر ھاتھ رکھ کر فرمایا: ”من ہذا مہدی الامة“(یعنی ان کی نسل سے مہدی امت ہوں گے)۔

[۱۴۰] ینابیع المودةص ۴۴۵۔

[۱۴۱] ینابیع المودةص ۴۴۱۔

[۱۴۲] ینا بیع المودة ص ۴۴۳و اسعاف الراغبین ص ۱۳۹تا ۱۴۰۔

[۱۴۳] اس سلسلے میں مذکورہ حوالوں کے علاوہ شیخ عبد الحسن العباد کی بحث در مجلہ الاسلامیہ نمبر ۳ ص ۱۲۸ بعنوان عقیدة اھل بیت السنة وا لاثر فی مھدی المنتظر ۔

[۱۴۴] الاشاد ص ۳۷۲ ینابیع الموة ص ۴۵۱ و ۴۵۲۔

[۱۴۵] صحیح ترمزی ج ۲ ص ۲۷۰ و الصواعق المحرقہ ص ۹۷۔

[۱۴۶] تذ کرة الخواص ۔ص ۳۷۷و صواعق المحرقہ ص۱۲۴، و مطالب السوؤل ج ۲ ص ۷۹،اور نورالابصارص۱۵۴۔

[۱۴۷] الفصول العشرة شیخ مفید ص ۱۳و۱۴۔

[۱۴۸] الفصول العشرة شیخ مفید ص ۱۴۔

[۱۴۹] الارشاد ص ۳۷۲۔

[۱۵۰] ارشاد ص ۳۷۲۔

[۱۵۱] مطالب السئوول ج ۲ ص ۷۹ ۔

[۱۵۲] تذکرة الخواص ص ۳۷۷۔

[۱۵۳] البیان ص ۱۰۲تا۱۱۲۔

[۱۵۴] وفیات الاعیان ج۳ ص ۳۱۶۔

[۱۵۵] الوافی بالوفیات ج۲ ص۳۳۶۔

[۱۵۶] الصواعق محرقہ ص ۱۲۴۔

[۱۵۷] الفصول المہمةص۲۷۴۔

[۱۵۸] الائمہ الاثنیٰ عشر ص ۱۱۷۔

[۱۵۹] تحفة الطالب ص ۱۷(خطی نسخہ در مکتبہ حرم تحت رقم ۳۳تاریخ دھلوی ۔)

[۱۶۰] اسعاف الراغبین ص ۱۴۰۔

[۱۶۱] ینابیع المودة ص۴۵۰تا۴۵۱۔

[۱۶۲] سبائک الذھب ص۷۸۔

[۱۶۳] نور الابصار ص ۱۵۴۔

[۱۶۴] اس سلسہ میں ڈاکٹر احمد امین صاحب کا قول (اپنی کتاب المھدی والمھدویہ ص۱۰۸میں ) کتنا عجیب ہے ، وہ کہتے ہیں ابن خلدون کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر خبر واحد کی تائید عقل کے ذریعہ ہورھی ہے تو اس کو قبول کیا جائے گا، اور خبر کثیرہ کو چھوڑنا ضروری ہے اگر عقل ان کی تائید نہ کرے ،اسی وجہ سے اس نے مھدی و مھدویت کا انکار کیا کیوں کہ یہ سب کچھ حکم عقل کے خلاف ہے ۔

[۱۶۵] حافظ گنجی شافعی کی کتاب ”البیان “ ص ۱۰۲تا ص۱۱۳پر رجوع فرمائیں ۔اس طرح شیخ قندوزی حنفی نے اپنی کتاب ینابیع المودة ص ۴۴۸ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اسلام (ص) نے ارشاد فرمایا : ”علی میرے وصی ہیں اور انھی کی نسل سے القائم المنتظر المھدی ہونگے جو ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، قسم اس پروردگار کی جس نے مجھے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا کہ جو لوگ ان کی امامت کو ان کی غیبت کے زمانہ میں قبول کرلیں گے تو ان کے لئے باعث عزت و احترام ہے، یہ سن کر جابر بن عبدللہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے قائم کے لئے غیبت ہوگی؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا : قسم بخدا،ھاں ۔

[۱۶۶] سورہ آل عمران آیت ۱۴۱

[۱۶۷] ینابیع المودة ص۴۸۸۔

[۱۶۸] ینابیع المودة ص ۴۹۵۔

[۱۶۹] الحادی ج ۲ ص ۱۵۲۔

[۱۷۰] ڈاکٹر احمد امین امام مھدی کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ شیعہ معتقد ہیں کہ امام مھدی غائب ہے اور اپنے شیعوں اور تابعین کو ہدایت کرتے ہیں تاکہ ان سے مظالم سے دور رھیں اور وہ پردہ کے پیچھے سے امرو نھی کرتے ہیں المھدی والمھدویہ ص ۱۰۹تا ۱۱۹ ۔

[۱۷۱] سورہ صافات آیت ۱۴۳تا ۱۴۴۔

[۱۷۲] سورہ کہف آیت ۲۵۔

[۱۷۳] سورہ بقرہ آیت ۲۵۹۔

[۱۷۴] قرآن مجید کی ان تمام واضح آیات کے بعد بھی ڈاکڑ احمد امین صاحب کہتے ہیں کہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ اتنی طولانی عمر مخفی رھے یا زندہ رھے مگر یہ کہ خدا وند عالم اس پر حکم موت جاری کرے لیکن یہ کہ ان لوگوں کے گمان کے ذریعہ جنھوں نے اپنی عقل کو کھو دیا ہو (المھدی و المھدویة ص ۹۶)

[۱۷۵] سورہ نجم آیت ۳تا ۴۔

[۱۷۶] سورہ حشر آیت ۷۔

[۱۷۷] مجلہ مقتطفہ سال ۵۹/ حصہ سوم۔

[۱۷۸] اگرچہ محال کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ بعید کہنا صحیح ہے کہ انسان کو زندہ رکھنا بعید نہیں ہے۔

[۱۷۹] برنارڈ شو ، عباس محمود العقاد/ سلسلہ اقراء/ شمارہ ۸۹ ص ۱۲۴تا ۱۲۵۔

[۱۸۰] برنارڈ شو ، عباس محمود العقاد/ سلسلہ اقراء/ شمارہ ۸۹ ص ۱۲۴تا ۱۲۵۔

[۱۸۱] علامہ موصوف کی یہ کتاب پہلے الگ الگ حصوں میں چھپی تھی بعد میں ان کو ایک جگہ جمع کرکے چھاپا گیا ہے۔(مترجم)

[۱۸۲] سورہ انعام آیت ۱۴۸۔

[۱۸۳] سورہ کہف آیت ۱۵۔

[۱۸۴] سورہ نساء آیت ۱۵۷۔


قیامت

( زَعَم الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اٴَنْ لَنْ یُبْعَثُوْا قُلْ بَلٰی وَ رَبِّی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبِّو نَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَ ذٰلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیْرٌ ) ( ۱ )

”کافروں کا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ دوبارہ نہ اٹھا ئے جائیں گے (اے رسول) تم کہہ دو، وھاں اپنے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھا ئے جاو گے پھر جو جو کام تم کرتے رھے اس بارے میں تم کو ضرور بتادیا جائے گا اور یہ تو خدا پر آسان ہے“

( قُلِ اَللهُ یَحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ القِیَامَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ) ( ۲ )

”(اے رسول )تم کہہ دو کہ خدا ہی تم کو زندہ (پیدا)کرتا ہے اوروھی تم کو مارتا ہے پھر وھی تم کو قیامت کے دن جس (کے ہونے)میں کسی طرح کا شک نھیں“

مقدمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله رب العالمین والصلوٰة و السلام علی خیرخلقه محمد وآله الطیبین الطاهرین

یہ وہ عظیم اسلام ہے جس نے اپنے احکامات و تکالیف نوع بشریت کے حوالے کئے ہیں اور اپنے تمام احکامات میں یا تو کسی فعل کو طلب کیا ہے یا اس فعل کے ترک کرنے کے لئے کھا ہے اسی طرح اپنے تمام اھداف و مقاصد میں جتنے بھی رابطے پائے جاتے ہیں چاھے اس شخص کامعاشرہ سے رابطہ ہو یا معاشرہ کا افراد سے رابطہ ہو یا ان تمام کا حکومت سے رابطہ ہو یا حکومت کا اپنے تمام شعبہ جات سے رابطہ ہو، اس کے بعد (ان تمام رابطوں سے بڑھ کر)انسان کا اپنے پروردگار سے رابطہ کس طریقہ سے ہو یا کس طریقہ سے خدا کی عبادت کی جائے اور اس کا تقرب حاصل کیا جا سکے۔

اس ہمیشہ باقی رہنے والے ا سلام نے اپنی تمام تر تعلیمات احکام،فرائض اور نظم و ضبط کے باوجود کیااس نے ایک مسلمان کو عملی میدان میں آزادی کا اختیار دیا ہے؟کہ اگر وہ چاھے تو عمل کرے اور نہ چاھے تو عمل نہ کرے؟

یا اس کو ملزَم اور مجبور کر دیا گیا کہ احکامات و تکالیف پر ہر حال میں عمل کرے اور کسی بھی صورت میں ان سے غفلت نہ کرے، کیونکہ اگر ان فرائض و احکام کی مخالفت کرے گا تو مستحق عقاب ہوگا ،۔

اور جب ایک مسلمان کے لئے ان تمام احکام پر مکمل طریقہ سے عمل کرنا ضروری ہے، تو کیا صرف ان مخالفتوں پر عذاب وعقوبت ہوگی جس کا علم حاکم وقت کو ہوجائے اور وہ اس کے لئے قانون کے معین شدہ عقوبت کو اس پر جاری کرے اور بس؟

لیکن وہ جرائم اور مخالفتیں جو مخفی طورپر انجام پاتی ہیں تو اس صورت میں تو کسی حاکم کو معلوم نہیں ہوتا تو کیا ان مخالفتوں پر کوئی عقاب نہیں ہوگا؟!

تو اس بارے میں کیا نظریہ ہے جس میں مخالفت اور قانون شکنی پر کوئی بھی دیکھنے والا نہیں ہوتا تاکہ اس کو اس کے جرائم کی سزا دلاسکے، لہٰذا یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ خدا کے اوامر واحکامات کی مخالفت ہے مثلاً انسان کا نمازنہ پڑھنا یا روزہ نہ رکھنا۔

اور جن مخالفتوں پر مجرم پر حد جاری ہوتی ہے یا اس کو دیت دینا پڑتی ہے تو کیا ان میں خداوندعالم کا حق بھی ہوتا ہے ”جس پر قانون وضعی کی اصطلاح میںعام حق کا اطلاق ہوتا ہے“ یا فقط مجرم پر حد جاری ہونے سے مجرم بالکل بری الذمہ ہوجاتا ہے؟

اور یہ مسلمان جو خدا کی خلوص کے ساتھ اطاعت کرتا ہے اور بہت سی لذات وشهوات اور رغبات کو اپنی اوپر حرام کرتا ہے تاکہ خدا کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے اس کا تقرب حاصل کرے ، جیسا روزہ دار جس کو بھوک وپیاس کا احساس ہوتا ہے لیکن خدا کی اطاعت میں روزہ بجالاتا ہے، یا جس طرح کوئی سامان کا بیچنے والا اگر وہ چاھے تو کم تول سکتا ہے یا کسی چیز میں ملاوٹ کرسکتا ہے ، لیکن خدا کی اطاعت کی خاطر یہ کام نہیں کرتا، یا اسی طرح کی دوسری مثالیں، جن میں انسان مخفی طریقہ سے کوئی حرام کام کرسکتا ہے لیکن خدا کی رضا کے پیش نظر اس کو انجام نہیں دے سکتا۔

چنانچہ یہ مسلمان جو اپنے نفس پر اتنی چیز وں کو صرف خدا کی خوشنودی کے لئے حرام قرار دیتا ہے، تو کیا اس کا ثمر ہ صرف یہ ہے کہ اس نے خدا کی اطاعت کرلی اور بس ، مرحبا،! یعنی اس کے بعد کوئی ثواب وجزا نھیں، یا اس کے بعد انسان کے لئے اس کا معاوضہ ملے گا جو اس نے اس دنیا میں رہ کر بہت سی چیزوں سے پرھیز کیا ہے اس کے بدلہ میں اس کو روزقیامت اتنااجر ملے گا کہ اس کا کوئی گھاٹا نہیں ہوگا، بلکہ اس کا بدلہ کھیں زیادہ ملے گا ۔

اور جبکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ اس کو ان تمام چیزوں کے بدلے میں اتنا سب کچھ ملے گا تو وہ یہ کام اطمینان اور سکون کے ساتھ انجام دے سکتا ہے ، اور اس راہ میں آنے والی تمام روکاٹوں کا مقابلہ کرنے کےلئے دلی طور پر آمادہ رھے گا۔

اور جب یہ بدلہ صحیح ہے جیسا کہ ہم نے ابھی اشارہ کیا تو یہ کب ہوگا اور کس طرح؟

تو پھر ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی گذارنے کے بعد اس منزل پر پہنچے جھاں اس کو اطاعت کے بدلے میں انعام واکرام ملے اور معصیت نافرمانی کے بدلے میں عقوبت و عذاب ملے۔

تو پھر انسان کے مرنے کے بعد ایک ایسے دن کا آنا ضروری ہے کہ جب اس کوحساب اور قضاوت کے لئے دوبارہ زندہ کیا جائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ شخص اپنے گذشتہ کاموں کی بنا پر مستحق ثواب وجزا ہے یا مستحق عذاب وسزا۔

لیکن یھاں پر پهونچنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب ممکن ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟ اور کیا کوئی عقلمند انسان اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے؟ تا کہ اس کا حساب وکتاب ہوسکے اور اس کے ثواب وعذاب کے بارے میں طے کیا جاسکے؟!

قارئین کرام ! ہم نے انھیں تمام باتوں کی تفصیل بیان کرنے کے لئے اس حصہ کو مرتب دیا ہے تاکہ ہم اپنے قارئین کے سامنے ان مسائل کی تھوڑی تفصیل بیان کریں، البتہ ہم مطالب کو آسان عبارت میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے او رفلسفی اور دقیق اصطلاحوں سے پرھیز کریں گے تاکہ مطالب کماحقہ آپ حضرات تک پهونچ سکیں، اور آپ حضرات کی فکر روشن ہوجائے۔

ہمیں امید ہے کہ ان صفحات میں اپنے مقصد کو کما حقہ آپ تک پهونچائیں اور پیچیدہ مسائل کی توضیح وتفسیر بیان کریںتاکہ آپ حضرات تک اسلامی حقائق پهونچ جائیں۔

اوریہ بات بھی عرض کردینا ضروری ہے کہ: ہمارے قارئین کرام ہم سے یہ چاھیں (جبکہ ہم اصول دین کی اس اہم اصل (قیامت) کے بارے میں گفتگو کریں گے) کہ آپ کی بحث صرف عقلی ہونی چاہئے تاکہ نقض وبررسی کی جاسکے اور وہ بھی فلسفی روش کے مطابق تاکہ اس میں قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم یھاں پر ایک دوسرا طریقہ اختیار کررھے ہیں جو آپ کی خواہش سے تھوڑا مختلف ہے۔

کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کلی طور پر قیامت کا مسئلہ ہمارے عقیدہ اور شریعت اسلام کی حدود میں ہے، لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہم قرآن کریم سے کوئی نظریہ اوردلائل پیش کریں اور اس کے بعد قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیارآپ لوگوں کوهوگا یا اس پر اشکال کا بھی اختیار ہوگا، لہٰذا ہم اسی روش کو اختیار کرتے ہیں۔

چنانچہ اس چیز کو ماننے میں کوئی عقلی قباحت نہیں ہے بلکہ یہ تو منطق صحیح کا نتیجہ ہے جس کو ہر شخص قبول کرتا ہے اور اسی عقل کے ذریعہ انسان آہستہ آہستہ اپنے ایمان کو پختہ کرتا ہے او ر اس کو ہر اعتبار سے اپنے لئے مشعل راہ قرار دیتا ہے۔

اورہم خداوندعالم پر ایمان رکھتے ہیں کہ وھی ہماراخالق اور ایجاد کرنے والا ہے، جبکہ اس ایمان پر عقل کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے۔( ۳ )

اسی طرح ہم خدا وندعالم پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کو عادل مانتے ہیں جو ہر طرح کی ہواء نفسی، جھوٹ، ظلم اور برے قصد سے پاک و پاکیزہ ہے۔( ۴ )

اسی طرح خدا کے ایمان کے ساتھ ساتھ ہم نبوت عامہ (گذشتہ انبیاء کی نبوت) اور نبوت خاتم (نبوت حضرت محمد مصفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر بھی ایمان رکھتے ہیں( ۵ )

کیونکہ یہ ایمان کے تینوں مراحل ایسے ہیں جو پہلے مرحلہ پر موقوف ہیں اور انھیں تینوں مراحل کی بنا پر ایک دوسرے مرحلہ کی نوبت آتی ہے جس کو قیامت کھا جاتا ہے، کیونکہ جب پہلے مرتبہ میں خدائے خالق وعادل پر ایمان رکھتے ہیں تو دوسری منزل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپر ایمان رکھنا ضروری ہے اور تیسرے مرحلہ میں خداکی نازل کردہ کتاب (قرآن کریم) پر ایمان رکھنا ضروری ہوجائے گا، توپھر تعجب کی کوئی بات نہیں کہ اس سلسلہ میں ان احادیث نبوی پر بھی عمل کریں جو خدا کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپر وحی نازل ہوئی ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود ہم اس موضوع کو بیان کرنے میں صرف عقلی دلائل وبرھان پر ہی اکتفاء نہیں کریں گے بلکہ ہم یہ بھی بیان کریں گے کہ آیا عقلی طور پر قیامت کا وجود ممکن ہے یا محال؟ اور کیا عقل قیامت کے وجود کا تصور کرسکتی ہے یا نھیں؟ اور کیا یہ عقیدہ کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے یا نہیں ، خلاصہ یہ کہ وجود قیامت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن واحادیث اور عقلی دلائل کی روشنی میں بغیر افرادط وتفریط کے حق کو بیان کریں گے۔

خداوندعالم کا قول صادق اور سچا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیهِ وَمَنْ اٴَصْدَقُ مِنْ اللهِ حَدِیثًا ) ( ۶ )

”کوئی خدا نہیں سوائے اس کے وہ تم کو قیامت کے دن جس میں ذرا بھی شک نہیں ضرور راکھٹا کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات میں کون سچا ہوگا“

( وَیَقُولُونَ مَتَی هَذَا الْوَعْدُ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ قُلْ لَکُمْ مِیعَادُ یَوْمٍ لاَتَسْتَاٴْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلاَتَسْتَقْدِمُونَ ) ( ۷ )

”اور (الٹے) کہتے ہیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو (آخر)یہ (قیامت کا) وعدہ کب (پورا) ہوگا، (اے رسول ) تم ان سے کہہ دو کہ تم لوگوں کے واسطے ایک خاص دن کی میعاد مقرر ہے کہ نہ تم اس سے ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہو اور نہ آگے ہی بڑھ سکتے ہو۔“

( یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ ) ( ۸ )

”اور( اس دن کو یادرکھو) جس دن ہر شخص جو کچھ اس نے (دنیا میں) نیکی کی ہے اور جو کچھ برائی کی ہے اس کو موجود پائے گا“

( یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اٴَخِیهِ وَاٴُمِّهِ وَاٴَبِیهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِیهِ لِکُلِّ امْرِءٍ مِنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاٴْنٌ یُغْنِیهِ وُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ضَاحِکَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ) ( ۹ )

”اس دن (قیامت) آدمی اپنے بھائی اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنے لڑکوں سے بھاگے گا اس دن ہر شخص (اپنی نجات) کی )ایسی فکر میں ہوگا جو اس کے (مشغول ہونے کے )لئے کافی ہو، بہت سے چھرے تو اس دن چمکتے ہونگے خنداں شادمان (یھی نیکوکار ہیں) اور بہت سے چھرے ایسے ہوں گے جن پر گرد پڑی ہوگی اس پر سیاھی چھائی ہوئی ہوگی (اور یھی کفار بدکار ہیں)“

وآخر دعونا ان الحمد لله رب العالمین

محمد حسن آل یاسین

کاظمین، عراق


قیامت کی ضرورت

جو شخص موضوع قیامت پر گفتگو کرنا چاھے ،تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مر حلے میں ”قیامت“ کو غیر تفصیلی طور سے ثابت کرے تاکہ اس کی ضرورت اور اس کے یقینی ہونے پرعقیدہ رکھے ،نیز اس ضرورت اور یقینی ہونے کے اسباب کو تلاش کرے اور اس کی ضرورت پر دینی دلائل قائم کرے۔

اور جب اس ضرورت(معاد) کو انسان دلیل و برھان سے ثابت کر لیتاھے تو ایک دوسری بحث کا آغاز ہوتا ہے: کہ اس معاد کی جزئیات کیا کیا ہیں، کیونکہ ضرورت معاد وہ بنیادی مسئلہ ہے کہ جس کے بغیر جزئیات معاد کے بارے میں بحث کرنا فضول ہے۔

کیونکہ انسان کسی ٹھوس نتیجہ تک نہیں پهونچ سکتا مگر یہ کہ تدریجی طور پر اس طرح کہ بعد والا مرحلہ پہلے والے مرحلے سے مر تبط ہو اور ان کے درمیان ایک مستحکم رابطہ ہو جس کے ذریعہ حقائق سے پردہ اٹھ جائے اور حقیقت واضح ہوجائے :

۱ ۔کیا خدا وند عالم امر و نھی کرتا ہے؟

ہمارے لحاظ سے ہر عقل مند انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ خدا وند عالم نے امر و نھی کیا ہے ،کیونکہ انھیں اوامر نواھی کے عظیم مجموعہ کو شریعت اسلام کھا جاتاھے ،

اور اگر ہم قرآن مجید پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اس بات کی دلیل آسانی سے مل سکتی ہے: جیسا کہ ارشاد خدا وند عالم ہوتا ہے:

( اَقِیْمُوْالصَّلوٰةَ وَاٴَتُوا الزَّکٰاةَ ) ( ۱۰ )

”پا بندی سے نماز اداکرو اور زکوةدیا کرو“

( کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامَ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) ( ۱۱ )

”روزہ رکھنا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھا اسی طرح تم پر بھی فرض کیا گیا ۔“

( وَلِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ ) ( ۱۲ )

”اور لوگوں پر واجب ہے کہ محض خدا کے لئے خانہ کعبہ کا حج کریں“

( وَاعْلَمُوْااَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیءٍ فَاِنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ ) ( ۱۳ )

”اور جان لو کہ جو کچھ تم (مال لڑکر)لوٹو ان میں کا پانچواں حصہ مخصوص خدا “

( جَاهِدُوْا فِی اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ ) ( ۱۴ )

”جو حق جھاد کرنے کا ہے خدا کی راہ میں جھاد کرو “

( اَحَلَّ اللهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبَوٰ ) ( ۱۵ )

”حالانکہ خرید وفروخت کو خدا نے حلال اور سود کو حرام قرار دیا “

( اٴِنَّ اللهَ یَاٴمُرُ بِا لْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَاٴِیْتَا یٴِ ذِی الْقُربٰی وَ یَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ ) ( ۱۶ )

”اس میں شک نہیں کہ خدا انصا ف اور(لوگوں کے ساتھ)نیکی کرنے اور قرابت داروں کو (کچھ)دینے کا حکم کرتا ہے اور بدکاری اور ناشایستہ حرکتوں اور سر کشی کرنے سے منع کرتا ہے“

( لاَ یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً ) ( ۱۷ )

”نہ تم میں سے ایک دوسرے کی غیبت کرے“

( لاَ تَجَسَّسُوا ) ( ۱۸ )

”ایک دوسرے کے مال کی ٹوہ میں نہ رھا کرو“

( اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکِذْبَ الَّذِیْنَ لَا یُو مِنُوْنَ بِاٴَیٰاتِ اللهِ ) ( ۱۹ )

”بہتان تو بس وھی لوگ باندھا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے۔“

( اٴِجْتَنِبُوْا کَثِیراً مِنَ الظَّنِّ ) ( ۲۰ )

”بہت سے گمان (بد )سے بچے رهو“

( وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ ) ( ۲۱ )

”ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی خرابی ہے“

ان کے علاوہ اور دیگر آیات کریمہ ہیں جن میں خدا وندا عالم کی طرف سے امر و نھی بیان ہوئے ہیں۔

لہٰذااس وقت ہم یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ خدا وند عالم نے امر و نھی کیا ہے ۔

۲ ۔کیا یہ اوامر و نواھی الزامی ہوتے ہیںیا ارشادی؟

یہ مسئلہ علم اصول فقہ میں تفصیلی طور پر ثابت ہو چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز وجوب پر دلالت کرے اور وجوب میں ظاہر بھی ہو اگر مستحب پر دلالت کرنے والے قرینہ سے خالی ہو، اس کو امر کھا جاتا ہے،اورحکم عقل کے ذریعہ اس کا وجوب ہوتا ہے کیونکہ عبد پر مولا کے حکم کی اطاعت کرنا ضروری ہے اور مولا جس کام کا ارادہ کرلے اس کو انجام دینے کے لئے حرکت کرنا ضروری ہے تاکہ عبودیت و مالکیت کا حق ادا ہو سکے۔

جس طرح مسئلہ نھی کا خلاصہ تھا:

نھی بھی الزام پر دلالت کر نے میں امر کی طرح ہوتی ہے اور حرمت میں ظاہر ہوتی ہے اور جب صیغہ نھی کسی ایسے شخص سے صادر ہو جس کی اطاعت واجب ہے تو اس مولیٰ کی وجوب اطاعت ،و حرمت نا فرمانی عقلی طور پر ثابت ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ جس کام سے مولیٰ منع فرمائے اس کو انجام دینا جائز نہیں ہے،،( ۲۲ )

اور کیونکر مذکورہ مطلب صحیح نہ ہو ، جبکہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( مَا اٴَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَا کُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ) ( ۲۳ )

”جو تم کو رسول دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رهو“

( فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اٴَمْرِهِ اٴَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اٴَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ) ( ۲۴ )

”جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ(مبادا) ان پر کوئی مصیبت آپڑے یا ان پر کوئی درد ناک عذاب نازل ہو“

پس ان تما م چیزوں سے ثابت یہ ہوا کہ خدا وند عالم کے اوامر و نواھی مکمل طور پر الزامی (ضروری)هوتے ہیں ،اور اس میں کسی کو کوئی اختیار و رخصت نہیں ہے۔

۳ ۔اگر کوئی ان اوامر و نواھی کی مخالفت کرے تو؟

جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے کہ خدا وند عالم نے امر ونھی کیا ہے اور ان اوامر و نواھی پر عمل کرنا ضروری ہے نیز ان کی مخالفت جائز نہیں ہے تو کیا اگر کوئی انسان خدا کے امر و نھی کی مخالفت کرے تو کیا اس پر عقوبت و عذاب (مادی معنی میں)هونا چاہئے یا نہیں ؟یا ان کی مخالفت پر معنوی آثار مرتب ہوں گے؟

اس سوال کے جواب میں ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم چند قرآنی آیات کا مطالعہ کریںتاکہ خدا وند عالم کی مخالفت کا نتیجہ معلوم ہو سکے۔

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( وَمَنْ یَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اٴَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ ) ( ۲۵ )

”اور ان میں سے جس نے ہمارے حکم سے انحراف کیا اسے ہم (قیامت میں)جہنم کے عذاب کا مزا چکھائیں گے“

( قُلْ اِنِّی اٴَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) ( ۲۶ )

”(اے رسول)تم کهو کہ اگر میں نافرمانی کروں تو بیشک ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں“

( وَکَاٴَ یِّنْ مِنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اٴَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَاباً شَدِیْداً وَعَذَّبْنَاهَاعَذَاباً نُکْراً ) ( ۲۷ )

”اور بہت سے بستیوں (والے)نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سر کشی کی تو ہم نے ان کا بڑی سختی سے حساب لیا اور انھیں بُرے عذاب کی سزا دی“

( ماَ سَئَلَکَکُمْ فِی سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ) ( ۲۸ )

”آخر تمھیں دوزخ میں کون سی چیز (گھسیٹ )لائی وہ لوگ کھیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھا کرتے تھے“

( فَوَیْلٌ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ َیوْمٍ اٴَلِیْمٍ ) ( ۲۹ )

”جن لوگوں نے ظلم کیا ان پر درد ناک عذاب سے افسوس ہے“

پس مذکورہ آیات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خدا وند عالم کے اوامر و نواھی جس کو شریعت اسلام کھا جاتا ہے؛ کی مخالفت پر (ابدی)عذاب ہوتا ہے۔

۴ ۔کیا خدا وند عالم کے وعدوعید حقیقی ہیں یا صرف لوگوں کو اطاعت پر تحریک کرنے کے لئے ؟

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا وند کریم کا قرآن مجیدمیں بار با ر اس بات کا ذکر کرنا کہ انسان کو مرنے کے بعد قیامت میں اٹھا یا جائے گا اور اچھے اعمال کرنے والوں کو بہشت میں اور برے اعمال کرنے والوں کو جہنم میںبھیجا جائے گا،یہ وعد و وعید صرف لوگوں کی ترغیب اور تحریک کے لئے ہیں ۔تاکہ لوگ خدا کی اطاعت کریں اور اس کی نا فرمانی نہ کریں جب کہ در حقیقت ان میں کوئی انعام یا عذاب نہیں ہے گویا اس قول کا کہنے والا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ مادی جسم چونکہ موت کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور اس کا دوبارہ اپنی حالت پر پلٹنا محال ہے کیونکہ جو چیز ختم ہو جاتی ہے دوبارہ واپس نہیں پلٹ سکتی ۔لہٰذامادی معنی کے لحاظ سے انعام و جزا اور عذاب کا تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ گویا یہ وعدہ وعید صرف ایک (دہمکی)هوتی ہے جس میں حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں(اور خدا وند عالم نے قرآن کریم کو عر بی زبان میں واضح طور پر نازل کیا ہے)اور ہم عربی زبان کو جانتے ہیں اور اس کے مورد استعمال نیز اس کے الفاظ کی دلالت سے بھی با خبر ہیں ۔چنانچہ ہم کوئی ایسا جواز نہیں پاتے جس سے الفاظ کو اس کے ظاہر کے خلاف حمل کریں حالانکہ خلاف ظاہر پر دلالت کرنے والے قرینہ سے خالی ہو۔

اور جب قرآن مجید میں استعمال شدہ الفاظ کے ذریعہ کسی کو مخاطب کیا گیا ہو اور اس میں کوئی ایسا قرینہ بھی نہ ہو جس سے اس کی تاویل کی جاسکے تو پھر اس کو اس کے حقیقی معنی میں ہی استعمال کیا جائے گا ،اور ہمیں ذرہ برابر بھی اس کو مجاز ،مبالغہ اور جھوٹے وعدوں پر حمل کرنے کا حق نہیں ہے۔

قارئین کرام ! ہم آپ کے سامنے ایسی آیات قرآنی کو بیان کریںگے جن میں حشر و نشر اور قیامت پر واضح طور پر تائید کی گئی ہے اور ایسی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس میں کسی قسم کی تاویل اور تقیید کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،اور جن میں ذرہ برابر بھی ہیرا پھیری نھیںکی جاسکتی۔

چنانچہ ارشاد خدا وندی ہے:

( کَمَا بَدَاٴَ نَا اٴَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدُهُ وَعْدًا عَلَیْنَا اٴِنَّا کُنّاَ فَاعِلِیْنَ ) ( ۳۰ )

”جس طرح ہم نے (مخلوقات کو)پہلی بار پید ا کیا تھا (اسی طرح)دوبارہ (پیدا )کر چھوڑیں گے(یہ وہ)وعدہ (ھے جس کا کرنا)ہم پر (لازم)ھے اور ہم اسے ضرور کر کے رھیں گے“

( جَعَلَ لَهُمْ اٴَجْلاً لاَرَیْبَ فِیِهِ ) ( ۳۱ )

”اس نے ان(کے موت)کی ایک میعاد مقرر کر دی ہے جس میں ذرا بھی شک نہیں “

( وَحَشَرْ نَا هُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحْدًا ) ( ۳۲ )

”اور ہم ان سبھوںکو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے ایک کو نہ چھوڑیں گے“

( وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَری الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفَقِیْنَ مِمّاَ فِیْهِ وَیَقُوْلُوْنَ یَا وَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَلَا کَبِیْرَةً اٴِلَّا اٴِحْصَاهَا وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حاَضِرًا وَ لاَ یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ) ( ۳۳ )

”اور(لوگوں کے اعمال کی)کتاب (سامنے رکھی جائے گی)تو تم گناہگار وں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا)ھے (دیکھ دیکھ کر)سہمے ہوئے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ھائے ہماری شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹے ہی گناہ کو بے قلمبند کئے چھوڑتی ہے نہ بڑے گناہ کو اور جو کچھ ان لوگوں نے (دنیامیں) کیا تھا وہ سب (لکھاهوا)موجود پائیں گے اور تیرا پرور دگار کسی پر (ذرہ برابر)ظلم نہیں کرے گا“

( ثُمَّ اٴِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰ لِکَ لَمَیِّتُوْنَ ثُمَّ اٴِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تُبْعَثُوْنَ ) ( ۳۴ )

”پھراس کے بعد یقیناً تم سب لوگوں کو( ایک نہ ایک دن) مرنا ہے اس کے بعد قیامت کے دن تم سب کے سب قبروں سے اٹھائے جاو گے“

( اٴَفَحَسِبْتُمْ اٴِنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثاً وَاٴِنَّکُمْ اٴِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ) ( ۳۵ )

”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو (یونھی ) بیکار پیدا کیا اور یہ کہ تم ہمارے حضور لوٹا کر نہیں لائے جاو گے “

( رَبَّنَا اٴِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لاَرَیْبَ فِیْهَ اٴِنَّ اللهَلاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ( ۳۶ )

”اے ہمارے پروردگار بیشک تو ایک نہ ایک دن جس کے آنے میں شبہ نہیں لوگوں کو اکٹھا کرے گا(تو ہم پر نظر عنایت رھے)بیشک خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا “

( یَا مَعْشَرَ الْجِنَّ وَالْاٴِنْسِ اٴلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ هٰذَا قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰی اٴَنْفُسِنَا وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا ) ( ۳۷ )

”(پھر ہم پوچھیں گے) کہ کیوںاے گروہ جن و انس کیا تمھارے پا س تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے جو تم سے ہماری آیتیں بیان کریں اور تمھیں تمھارے اس روز (قیامت)کے پیش آنے سے ڈرائیں، وہ سب عرض کریں گے(بیشک آئے تھے)ہم خود اپنے اوپر آپ اپنے (خلاف) گواھی دیتے ہیں (واقعی)ان کو دنیا کی(چند روزہ)زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا“

( إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتاً ) ( ۳۸ )

”بیشک فیصلہ کا دن مقرر ہے“

( ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَاِلٰی رَبِّهِ مَآبَا ) ( ۳۹ )

”وہ دن بر حق ہے تو جو شخص چاھے اپنے پروردگار کی بارگاہ (اپنا) ٹھکانا بنائے“

( وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُوَ اٴَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) ( ۴۰ )

”اور جس شخص نے جیسا کیا ہو اسے اس کا پوراپورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں وہ اس سے خوب واقف ہے“

( وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْالاَ تَاٴْ تِیْنَا السَّاعَةُ ،قُلْ بَلٰی وَرَبِّی لَتَاٴْتِیَنَّکُمْ عَالِمِ الْغَیْبِ لاَیَعْزَبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوَاتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَلاَ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلاَ اٴَکْبَرُ اِلَّا فِی کِتَابٍ مُبِیْنٍ لَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ اُو لٰئِکَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیْمٌ ) ( ۴۱ )

”اور کفار کہنے لگے کہ ہم پر تو قیا مت آئے گی ہی نہیں (اے رسول)تم کہہ دو ھاں(ھاں)مجھ کو اپنے اس عالم الغیب پروردگار کی قسم ہے جس سے ذرہ برابر(کوئی چیز)نہ آسمان میں چھپی ہوئی ہے اور نہ زمین میں کہ قیامت ضرور آئے گی اور ذرہ سے چھوٹی چیز اور ذرہ سے بڑی (غرض جتنی چیزیں ہیں سب )واضح و روشن کتاب(لوح محفوظ)میں محفوظ ہیں تاکہ جن لوگوں نے اچھے کام کئے ان کو خدا جزاء خیر دے، یھی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (گناهوں کی)مغفرت اور (بہت ہی)عزت کی روزی ہے “

( وَاٴَقْسَمُوْا بِاللهِ جَهْدَ اٴَیْمَانِهِمْ لاَیَبْعَثُ اللهُ مَنْ یَمُوْتُ بَلٰی وَعْداً عَلَیْهِ حَقًّا وَلٰکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهَ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااٴَنَّهُمْ کَانُوْاکَاذِبِیْنَ ) ( ۴۲ )

”اور یہ کفار خدا کی جتنی قسمیں ان کے امکان میں تھیں کھا (کر کہتے)ھیں کہ جو شخص مرجاتا ہے پھر اس کو خدا دوبارہ زندہ نہیں کرے گا (اے رسول کہدوکہ)ھاں ضرور ایسا کرے گا)اس پر اپنے وعدہ کی وفا لازم و ضروری ہے مگر بہتیرے آدمی نہیں جانتے ہیں(دوبارہ زندہ کرنا اس لئے ضروری ہے )کہ جن باتوں پر یہ لوگ جھگڑ ا کرتے ہیں انھیں ان کے سامنے صاف و واضح کر دے گا اور تاکہ کفار یہ سمجھ لیں کہ یہ لوگ (دنیامیں)جھوٹے تھے“

( وَمَا اٴَدْرَاکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ ثُمَّ مَا اٴَدْرَاکَ مَایَوْمُ الدِّیْنِ یَوْمَ لاَ تَمْلِکُ نَفْسٌلِنَفْسٍ شَیْئًا وَالْاٴَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰهِ ) ( ۴۳ )

”اور تمھیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیا ہے پھر تمھیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیا چیز ہے، اس دن کوئی شخص کسی کی بھلائی نہ کر سکے گا اور اس دن حکم صرف خدا ہی کا ہوگا“

پس نتیجہ بحث یہ ہوا :

۱ ۔خدا وندعالم امر و نھی کرتا ہے۔

۲ ۔ اس کے امر ونھی الزامی ہوتے ہیں ۔

۳ ۔ان اوامر و نواھی کی مخالفت موجب عقوبت ہوتی ہے۔

۴ ۔اسی عقوبت کے حقیقی (مادی)معنی ہیں اور صرف ڈرانے کے لئے نہیں ہیں ۔

لہٰذاہم کہتے ہیں کہ ان تمام مطالب کے پیش نظر قیامت کا ہونا ضروری ہے اور ایک مسلمان پر قیامت کا ایمان رکھنا اس کو ضروری اور قطعی ماننا ضروری ہے۔

اور اسی بات پر مذکورہ تما م آیات دلالت کرتی ہیں، کیونکہ انھیں آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ قیامت وہ چیز ہے ”جس میں کوئی شک نھیں“اور یھی(یوم الحق)ھے جس میں ایک ساعت بھی کم و زیادتی نہیں ہو سکتی ،اوراس قیامت کا مقصد حساب و کتاب ہے کیونکہ ہر انسان کو اس کے اعمال کی بنا پر جزا یا سزا دی جائے گی۔

انھیں آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ:

( لَایُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَلَا کَبِیْرَةً إلّٰا اٴِحْصَاهَا ) ( ۴۴ )

”نہ چھوٹے گناہ کو بے قلمبند کئے چھوڑتی ہے نہ بڑے گناہ کو“

انھی آیات میں موجود ہے:

( کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُحْضِرًا وَ مَاعَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ ) ( ۴۵ )

”ھر شخص جو کچھ اس نے (دنیامیں ) نیکی کی ہے اور جو کچھ برائی کی ہے اس کو موجود پائے گا“

اور انھیں آیات کی بنا پر مجرمین ”مشفقین مما فیہ“دکھائی دیتے ہیں ۔

پس خدا وند عالم کا وعدہ قیامت ”حق “ ہے اور خدا سے زیادہ کون صادق الوعد ہو سکتا ہے، اور جولوگ گمان کرتے ہیں:

( اٴَنْ لَنْ یَبْعَثُوْا ) (وہ مبعوث نہیں کئے جائیں گے)اور کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی وہ کافر اور جھوٹے ہیں۔

( وَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ وَ مَا یُکَذِّبُ بِهِ اِلاَّ کُلَّ مُعْتَدٍاَثِیْمٍ ) ( ۴۶ )

”اس دن کو جھٹلانے والوں کی خرابی ہے جو لوگ روز جزا کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ اس کو حد سے نکل جانے والے گنہگار کے سوا کوئی جھٹلاتا۔“

اور جب گفتگو اس نتیجہ پر پهونچ چکی ہے تو ضروری ہے (تاکہ بحث کے تمام پہلو ں پر گفتگو ہو جائے )کہ ہم غور و فکر اور یقین کے ساتھ یہ بات طے کر یں قیامت کے دن کیا چیزپلٹائی جائے گی؟

کیا وہ فقط ”روح“ھے جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ روح کا جسم میں پلٹنا محال ہے؟

یا فقط”جسم“ھے جیسا کہ جناب جبائی اور ان کے پیر و کار افراد کا نظریہ ہے کیونکہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ روح ہی جسم ہے؟

یا جسم کے ساتھ روح بھی جیسا کہ اکثر علماء اسلام کا عقیدہ ہے۔

اس موضوع سے متعلق آیاتِ قرآنی کے سیاق سے ذہن میںاس بات کا تبادر ہوتا ہے کہ قیامت میں ایسے زندہ جسم کے ساتھ اٹھا یا جائے گا جو لذتِ نعمت اور دردِ عذا ب درک کر سکے ،یعنی ”جسم کے ساتھ روح“جس میں تمام عضوو تمام صفات و خصوصیات موجود ہوں گے۔قرآن مجید کی مذکورہ آیات اپنی تمام وضاحت کے ساتھ اپنے مقصود و معنی کو بیان کرتی ہیں اور کسی بھی طرح کی تاویل و قید سے منزہ ہے ،اور دلالت کے اعتبار سے بھی اتنی واضح ہیں کہ ان میں کسی طرح کی ہیرا پھیری نہیں کی جا سکتی ۔

ارشاد خدا وندی ہے:

( وَیَوْمَ یُحْشَرُ اٴَعْدَاءُ اللهِ إِلَی النَّارِ فَهُمْ یُوزَعُونَ حَتَّی إِذَا مَا جَاءُ وْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاٴَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوا اٴَنطَقَنَا اللهُ الَّذِی اٴَنطَقَ کُلَّ شَیْءٍ وَهو خَلَقَکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ اٴَنْ یَشْهَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلاَاٴَبْصَارُکُمْ وَلاَجُلُودُکُمْ وَلَکِنْ ظَنَنْتُمْ اٴَنَّ اللهَ لاَیَعْلَمُ کَثِیرًا مِمَّا تَعْمَلُون ) ( ۴۷ )

”اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف ہکائے جائیں گے تو یہ لوگ ترتیب وار کھڑے کئے جائیں گے یھاں تک کہ جب سب کے سب جہنم کے پاس جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے( گوشت پوست) ان کے خلاف ان کے مقابلہ میں ان کی کارستانیوں کی گواھی دیں گے اور یہ لوگ اپنے اعضاء سے کھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواھی دی؟!! تو وہ جواب دیں گے کہ جس خدا نے ھرچیز کو گویا کیا، اس نے ہم کو بھی (اپنے قدرت سے)گویا کیا، اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور (آخر)اسی کی طرف لوٹ کرجاو گے اور(تمھاری تو یہ حالت تھی کہ)تم لوگ اس خیال سے (اپنے گناهوں کی)پردا داری بھی تو نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے اعضاء تمھارے بر خلاف گواھی دیں گے بلکہ تم اس خیال میں (پھولے ہو)تھے کہ خدا کو تمھارے بہت سے کاموں کی خبر ہی نھیں“

( اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی اَفْوَاهِهِمْ وَ تُکَلِّمُنَا اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) ( ۴۸ )

آج ہم ان کے منھ پر مھر لگا دیں گے اور جو(جو)کارستانیاں یہ لوگ (دنیا میں) کر رھے تھے خود ان کے ھاتھ ہمیں بتا دیں گے اور ان کے پاو ں گواھی دیں گے“

( إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَاراً کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوْا الْعَذَابَ ) ( ۴۹ )

”(یاد رھے)کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انھیں ضرورعنقریب جہنم کی آگ میں جھونک دیں گے (اورجب ان کی کھالیں (جل ) جائیں گی تو ہم ان کے لئے دوسری کھالیں بدل کر پیدا کر دیں گے تاکہ وہ اچھی طرح عذاب کا مزہ چکھیں“

( اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَه بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی اَنْ نُّسَوِّیَ بِنَانَه ) ( ۵۰ )

”کیا انسان یہ خیا ل کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو بو سیدہ ہونے کے بعد (جمع نہ کریں گے ھاں ضرور کریں گے) ہم اس پر قادر ہیں کہ ہم اس کی پور پور درست کریں۔“

قارئین کرام ! مذکورہ آیات کا غور و فکر کے ساتھ تلاوت کرنا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ قیامت میں انسان کو ”جسم و روح“کے ساتھ اٹھایا جائے گا کیونکہ آنکھیں، کان، کھال، منھ، ھاتھ، پیر، ہڈی اور درد عذاب کا احسا س سب کچھ دنیاوی طرح سے ہوگا، اوران تما م چیزوں کے پیش نظر شک و تاویلات کی کوئی گنجائش باقی نہیں ر ہ جا تی۔

قارئین کرام ! ہم مذکورہ آیات میں سے صرف آخری دو آیات کے بارے میں کچھ علمی مطالب بیان کرنا چاہتے ہیں اور یہ وہ حقائق ہیں جن کو خدا وند عالم نے اس وقت بیان کیا جب یہ علمی کشفیات نہیں تھے،اور ہم ان مطالب کو قرآن کے معجزہ ہونے پر دلیل بھی کہہ سکتے ہیں۔

چنانچہ پہلی آیت میں کفار کو نار جہنم میں جلانے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوْداً غَیْرَهَا ) ( ۵۱ )

”جس وقت جہنم کی آگ انسان کی کھال کو جلائے گی تو ہم اس کھال کو دوبارہ بنادیں گے تاکہ ہمیشہ دردو تکلیف میں مبتلا رھے اورعذاب الیم کا مزہ لیتا رھے“۔

پس یہ ان کی کھال کا تبدیل کرنا کس لئے ؟

اس کی وجہ کو آج کا علم طب بیان کرتا ہے کہ انسان کی کھال میں دردو الم کاشدید احساس پایا جاتا ہے لیکن گوشت اور اندرون اعضاء میں کم احساس ہوتا ہے اسی وجہ سے ایک طبیب کا یہ ماننا ہے کہ اگر انسان کا جسم معمولی طورپر اس طرح جلے کہ فقط کھال تک اس کا اثر جائے تو اس کو بہت شدید درد ہوتا ہے اس کے برخلاف اس کے جس کے بدن کا اندرونی حصہ بھی جل جائے اگر چہ اس میں خطرہ زیادہ ہے لیکن درد و تکلیف کا احساس زیادہ نہیں ہوتا۔

قارئین کرام ! آپ نے خدا وندعالم کی حکمت کو ملاحظہ فرمایا،جب کہ آج کا انسان تر قی کر کے اس نتیجہ پر پهونچا ہے ”خداوندعالم عزیز و حکیم ہے“( ۵۲ )

دوسری آیت :

جس میں قیامت کے منکرین کے اعتقاد کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد قیامت کے بارے میں تاکید و اصرار کیا ہے:

( بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی اَنْ نُّسَوِّیَ بِنَانَه ) ( ۵۳ )

انگلیوں کے سرے (پورے)کیا خاصیت رکھتے ہیں؟

آج کا سائنس کہتا ہے :

”انگلیوں کے سرے گویا ایک عجیب شئی ہے جن میں لکیریںهوتی ہیں اور ان لکیروں کی شکل و صورت ایک دوسرے انسان سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہیں اگر چہ حسب و نسب میں یا خونی رشتہ میں ایک دوسرے کے قریب ہوں پس اس پورے عالم بشریت میں ایک جیسی انگلیوں کی لکیریں رکھنے والے نہیں پائے جاسکتے۔

سب سے پہلے جب ۱۸۸۴ ء میں انسان کی انگلیوں کی لکیروں کے بارے میں تحقیق پیش کی گئی کیونکہ جس وقت بڑی بڑی دور بین بنائی گئی اور ان کے ذریعہ سے اس بات کو ثابت کیا گیا کہ ہر انسان کے لئے جدا جدااور دقیق لکیریں ہیں جو انسان کی انگلیوں کی کھال میں خوبصورتی بھی عطا کرتی ہیں جس کو خدا وند عالم نے اس کی انگلیوں میںقرار دیا ہے۔ اور جو انسا ن کی شخصیت کی نشاندھی کرتی ہیں۔

یہ تمام لکیریں ایسی بناوٹ اور شکل کی ہوتی ہیں کہ ان کے تمام دقیق اجزاء اور تمام مختلف شکل کاغذ پر آجاتی ہیں ،مثلاًانگلیوں پر روشنائی لگاکر ایک کاغذ پر لگانے سے یہ ساری لکیریں واضح طور پر نمایاں ہو جاتی ہیں ، اسی طریقہ سے انگلیوں کے یہ نشانات لوھے ،شیشے یا چکنی لکڑی وغیرہ پر ظاہر ہو سکتے ہیں ،ایک عالمی رپورٹ کے مطابق ۴۰۰ ملین " Million " لوگوں کی انگلیوں کے نشانات میں سے صرف ایک نشان معمولی طور پر ایک دوسرے سے مشابہ پایا گیا ہے ،لیکن وہ بھی دو افراد میں مکمل طور پر ایک دوسرے سے جدا ہے ، کیو نکہ ان دونوں افراد میں جو شباہت پائی گئی ہے وہ مکمل طور پر ایک دوسرے پر منطبق نہیں ہوتی ۔

آج کے زمانہ میں تو دنیا کی اعلیٰ درسگاهوں میں اس موضوع کے لئے خاص شعبہ جات کھل گئے ہیں ،تاکہ انگلیوں کی لکیروں کے بارے میں مکمل طور پر تحقیق کر سکیں اور بعض معاملات اور بعض حوادث اور چوری وغیرہ میں اشخاص کی پہچان کر سکیں ،کیونکہ کسی بھی چیز پر مثلاً اسلحہ کو پکڑنے یا دروازے یا تالے پر ھاتھ لگا نے سے ھاتھوں کے نشانات ان پر منتقل ہو جاتے ہیں ،اور پھران نشانات کو مشینوں کے ذریعہ کاغذپر اتار لیا جاتا ہے اور ان کو بڑا کر کے مزید واضح کیا جاتا ہے تاکہ انھیں نشانیوں کے ذریعہ متہم اور ملزم کی شناخت ہو سکے۔

واقعاً یہ بات بھی عجیب ہے کہ ھاتھوں کی نشانیوں کا یہ عجیب سسٹم ہے کہ یہ ولادت کے وقت سے آخر وقت تک ثابت رہتی ہیں اور ان میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آتی ،یھاں تک کہ انسان اپنی عمر کے مختلف حصوں سے گذرتا ہوا رشد ونمو کرتا ہے لیکن ان میں کوئی بھی تحریف کوئی بھی تبدیلی نہیں آتی ،گویا یہ ایک بڑی دور بین کے مابین ہیں جو بچپن کی لکیروں کو دیکھ کر جوانی اور بڑھاپے کے عالم کی لکیروں کو اصل کے مطابق بناتی رہتی ہیں۔

در حقیقت یہ بات بھی تعجب آور ہے کہ جب انسان کے ھاتھوں کی لکیریں کسی حادثہ کی بناپر ختم ہوجاتی ہیں یا جل جاتی ہیں تو نظام قدرت کے تحت یہ پھر دوبارہ اپنی اسی پرانی حالت کے مطابق نقشہ بناتی ہیں جو بالکل پرانی شکل سے ملتی ہیں، یعنی ان میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ چنانچہ اس علم کے ما ھرین نے ان خطوط اور لکیروں کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے:

۱ ۔فصیلة الخطوط المتقوسة ،(قوس دار لکیریں )

۲ ۔فصیلة الخطوط المرادیة ۔(جالی ٹائپ کی)

۳ ۔ فصیلة الخطوط الدوامیة ۔(گول او ردائرہ والی) جو ایک دوسرے پر چڑھی رہتی ہیں جو آہستہ آہستہ اندر کی طرف باھر کی طرف کو پھیلتی بھی ہیں اور یہ وسط میں موجود مر کز میں پائی جاتی ہیں۔

۴ ۔فصائل المرکبات ،یہ گذشتہ تینوں قسموں سے مل کر بنتی ہے ،اورصرف یھی قسم دوسرے لوگوں سے ملتی جلتی ہوتی ہے،لیکن ان کا پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔

المختصر آج کے دور میں جرائم کی دنیا میںان لکیروں کے ذرریعہ بہت سے جرائم کو کشف کرلیا جا تا ہے یھاں تک کہ ہزاروں انکشافات اس الٰھی راز سے ہوتے رہتے ہیں جس کو خداوند عالم نے انسان کی ھاتھ کی انگلیوں کے سرے میں قرار دیا ہے۔

واقعاً اسلام نے پہلے ہی روز جسم میں پو شیدہ اس عظیم راز کی طرف نشاندھی کر دی تھی اور قرآن مجید نے لوگوں کے ذہنوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ ہر انسان کی انگلیوں کے سرے پرخاص لکیریں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے ذرہ برابر بھی نہیں ملتی ۔( ۵۴ )


قیامت کا ممکن ہونا اوراس کی دلیل

ہم نے اس بحث کے مقدمہ میں عر ض کیا تھا کہ ہم مسئلہ معاد پر مکمل طور پر عقیدہ رکھتے ہیں اور وھاں پر ہم نے یہ اشارہ بھی کیا کہ قیامت پر ایمان رکھنا خدا وند عالم کے ایمان کانتیجہ ہے کیونکہ وھی تمام مخلوقات کا خالق ہے اور تمام موجودات کی اصل وجہ ہے اور وھی مسبب الاسباب ہے،بغیر اس کے کہ اس کے وجود کے لئے کوئی سبب ہو،یا اس کے وجود کے لئے کوئی مسبب ہو۔ اور جب ہم نے خدا وند عالم کی ذات اقدس پر مکمل ایمان کر لیا اور یہ مان لیا کہ وھی تمام مخلوقات کی علت ہے،اور یہ کہ مادہ اس کی ایک مخلوقات میں سے ہے اگر چہ بعض نے مادہ کو ازلی اور ابدی تصور کیا ہے( ۵۵ )

لہٰذا انسان حشر ونشر اور قیامت کے عقیدہ سے فرار نہیں کرسکتا ،کیونکہ قیامت کا امکان پایا جاتا ہے اور اس کا واقع ہونا محال نہیں ہے۔

وہ عقل جو فاعل اول پر ایمان رکھتی ہے وہ ایسے راستے کھول دیتی ہے کہ اس فاعل کی ایسی قدرت پر ایمان رکھے جو اس فعل کو دوسری مرتبہ بلکہ ہزاروں مرتبہ انجام دے سکتا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے جس کے لئے مزید وضاحت و استدلال کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس چیز کے لئے ہم ایک مثال پر اکتفاء کرتے ہیں کہ وہ شخص جو کوئی ایک چیز بنا سکتا ہے (مثلاً الکٹرونک عقل یا کوئی گاڑی)تو وہ انسان اس چیز کو دوبارہ بنانے کی بھی قدرت رکھتا ہے ،اور اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ،جب کہ ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ صانع اول خدا وندعالم کی ذات ہے۔

اسی طرح ایک گاڑی بنانے والا انجینئر اگراس گاڑی کے چھوٹے چھوٹے ہزاروں مختلف پرزوں کو الگ الگ بھی کردے ،تو وہ پھر بھی اس بات پر قادر ہے کہ اس گاڑی کو ویسی ہی بنادے جس طرح وہ پہلے تھی ،اور کوئی شخص بھی اس سے کوئی دلیل طلب نہیں کرے گا کہ وہ ایسی قدرت کس طرح رکھتا ہے ،کیونکہ جو شخص کسی چیز کو پہلی مرتبہ بنا سکتا ہے وہ اس کو دوبارہ کیا بلکہ سیکڑوں اور ہزاروں بار بنا سکتا ہے۔

بالکل اسی طرح قیامت کے امکان پر بھی دلیل قائم ہو سکتی ہے چنانچہ اس سلسلے میں قرآن مجید نے واضح طورپر حشر ونشر اور قیامت کے عقیدہ کو بیان کیا ہے،لہٰذاہم یھاں پر صاحبان ارباب کے لئے قرآن مجید کی وہ آیات بیان کرتے ہیں جن میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ارشاد خدا وندی ہوتا ہے:

( وَقَالُوا اٴَءِ ذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَءِ نَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا قُلْ کُونُوا حِجَارَةً اٴَوْ حَدِیدًا اٴَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا قُلْ الَّذِی فَطَرَکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ( ۵۶ )

”اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مرنے کے بعد سڑ گل کر)ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کرکے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے؟!! (اے رسول)تم کہہ دو کہ تم (مرنے کے بعد)چاھے پتھر بن جاو یا لوھا یا کوئی اور چیز جو تمھارے خیال میں بڑی (سخت)هواور اس کا زندہ ہونا دشوار بھی ہو، وہ بھی ضرور زندہ ہوگی، تو یہ لوگ عنقریب ہی تم سے پوچھیں گے بھلا ہمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا تم کہہ دو کہ وھی (خدا)جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا“

( وَیَقُوْلُ الاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَامِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا اَوَ لَایَذْکُرُ الاِنْسَانُ اَناَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَلمَ ْیَکُ شَیْئًا ) ( ۵۷ )

”اور( بعض )آدمی (ابی بن خلف)تعجب سے کھا کرتے ہیں کہ کیا جب میں مرجاو ں گا تو جلدی سے جیتا جاگتا (قبرسے)نکالا جاو ں گاکیا وہ (آدمی)اس کو نہیں یادکرتا کہ اس کو اس سے پہلے جب وہ کچھ نہیں تھا پیدا کیا“

( یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ کَمَا بَدَاٴْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدُه وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ ) ( ۵۸ )

”(یہ) وہ دن (هوگا)جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیںگے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے جس طرح ہم نے (مخلوقات کو)پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح) دوبارہ (پیدا)کر چھوڑیں گے (یہ وہ)وعدہ (ھے جس کا کرنا) ہم پر لازم ہے اور ہم اسے ضرور کر کے رھیں گے“

( اَللهُ یَبْدَو ا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُه ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْ جَعُوْنَ ) ( ۵۹ )

”خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا وھی دوبارہ (پیدا) کرے گا پھر تم سب لوگ اس کی طرف لوٹائے جاو گے“

( وَقَالُوْا اٴَ ءِ ذَا کُنَّا عِظَاماً وَ رُفَاتاً اٴَءِ نَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلقاً جَدِیْداً ) ( ۶۰ )

”اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مرنے کے بعد سڑ گل کر )ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، تو کیا از سر نو پیدا کرکے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے“

( اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ قَادِرٌعَلٰی اَن یَّخلُقَ مِثْلَهُمْ ) ( ۶۱ )

”کیا ان لوگوں نے اس پر بھی نہیں غور کیا کہ وہ خدا جس نے سارے آسمان اور زمین بنائے اس پر بھی (ضرور ) قادر ہے کہ ان ایسے آدمی دوبارہ پیدا کرے“

( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِنْ طِیْنٍ ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِی قَرارٍ مَکِیْنٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةًفَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰاماً فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْماً ثُمَّ اَنْشَاٴْ نٰهُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ لَمَیِّتُون ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰاَمَةِ تُبْعَثُوْنَ ) ( ۶۲ )

”اور ہم نے آدمی کو گیلی مٹی کے جوھر سے پیدا کیا ،پھر ہم نے ا س کو ایک محفوظ جگہ (عورت کے رحم میں)نطفہ بنا کر رکھا پھر ہم نے نطفہ کو جما ہوا خون بنا یا ،پھر ہم نے منجمد خون کو گو شت کا لوتھڑا بنایا، ہم ہی نے لوتھڑے کی ہڈیاں بنائیںپھر ہم ہی نے ہڈیوں پر گو شت چڑھایا پھر ہم ہی نے اس کو (روح ڈال کر)ایک دوسری صورت میں پیدا کیا تو (سبحان الله)خدابا برکت ہے جو سب بنانے والوں سے بہتر ہے پھر اس کے بعد یقینا تم سب لوگوں کو (ایک نہ ایک دن)مرنا ہے اس کے بعد قیامت کے دن تم سب کے سب قبروں سے اٹھائے جاو گے“

( نَحْنُ خَلَقْنٰکُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ اَفْرَءَ یْتُمْ مَا تُمْنُوْنَ ءَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَه اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ نَحْنُ قَدَّرْناَ بَیْنَکُمْ الْمَوْتَ وَ ماَ نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَعَلٰی اَنْ نُبَدِّلَ اَمْثَالَکُمْ وَ نُنْشِئَکُمْ فِی مَالَا تَعْلَمُوْنَ لَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشْاَةَ اٴلاُولٰی فَلَوْلاَ تَذَکَّرُوْنَ ) ( ۶۳ )

”تم لوگوں کو(پہلی بار بھی) ہم ہی نے پیدا کیا ہے پھر تم لوگ (دوبارہ کی) کیوں نہیں تصدیق کرتے تو جس نطفہ کو تم (عورت کے)رحم میں ڈالتے ہو کیا تم نے دیکھ بھال لیا، کیا تم اس سے آدمی بناتے ہو؟ یا ہم بناتے ہیں ہم نے تم لوگوں میں موت کو مقرر کر دیا ہے اورہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمھارے ایسے او ر لوگ بدل ڈالیں اور تم لوگوں کو اس (صورت)میں پیدا کریں جسے تم مطلق نہیں جانتے اور تم نے پہلی پیدائش تو سمجھ ہی لی ہے (کہ ہم نے کی)پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟“

( اَیَحْسَبْ الْاِنْسَانُ اَنْ ُیتْرَکَ سُدًی اَلَمْ یَکُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی ثُمَّ کَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰی فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنَّ یُحِْیَ الْمَوْتٰی ) ( ۶۴ )

”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا کیا وہ (ابتداً)منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے پھر لوتھڑا ہوا پھر خدا نے اسے بنایا پھر اسے درست کیا پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک)مرد اور(ایک) عورت ،کیا اس پر قادر نہیں کہ (قیامت میں)مردوں کو زندہ کر دے“

( اَوَلمَ ْیَرَوْا اَنَّ اللهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰیٓ اَنْ یُّحْیَِ الْمَوْتٰی بَلٰی اِنَّه عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ ) ( ۶۵ )

”کیا ان لوگوں نے یہ نہیں غور کیا کہ جس خدا نے سارے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نہیں ،وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کرے ھاں(ضرور) و یقینا ہر چیز پر قادر ہے“

( اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِنْ مَّآءٍ مَهِیْنٍ فَجَعَلْنٰهُ فِی قَرَارٍ مَّکِیْنٍاِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍفَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ وَیْلٌ یَّو مَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ ) ( ۶۶ )

”کیا ہم نے تم کو ذلیل پانی (منی) سے پیدا نہیں کیا؟! پھر ہم نے اس کوایک معین وقت تک ایک محفوظ مقام (رحم)میں رکھا، پھر(اس کا) ایک اندازہ مقرر کیا، تو ہم اچھا اندازہ مقرر کرنے والے ہیں، اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے“

( اَوَلَمْ یَرَالْاِنْسَانُ اِنَّا خَلَقْنٰه ُ مِنْ نُطْفَةٍ فَاِذَا هوخَصِیْمٌ مُبِیْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِیَ خَلْقَه قَالَ مَنْ یُحْیِ الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیْمٌ قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بُِکِّل خَلْقٍ عَلِیْمُ ) ( ۶۷ )

”کیا آدمی نے اس پر بھی غور نہیں کیا ہم ہی نے اس کو ایک ذلیل نطفہ سے پیدا کیا پھر وہ یکا یک (ہمارا ہی)کھلم کھلامقابل (بنا)ھے اور ہماری نسبت باتیں بنانے لگا ہے اور اپنی خلقت (کی حالت)بھول گیا (اور)کہنے لگا کہ بھلا جب یہ ہڈیاں (سڑ گل کر)خاک ہوجائیں گی تو (پھر) کون (دوبارہ)زندہ کر سکتا ہے (اے رسول) تم کہدو کہ اس کو وھی زندہ کرے گا جس نے ان کو (جب یہ کچھ نہ تھے)پہلی مرتبہ حیات دی، وہ ہر طرح کی پیدایش سے واقف ہے“

( اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلٰی وَهُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ) ( ۶۸ )

”(بھلا )جس (خدا)نے سارے آسمان اور زمین پیدا کئے کیا وہ اس پر قابو نہیں رکھتا کہ ان کے مثل (دوبارہ)پیدا کردے ھاں(ضرور قابو رکھتا ہے)اور وہ تو پیدا کرنے والاواقف کار ہے“

( اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الاَوَّلِ بَلْ هُمْ فِی لَیْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ) ( ۶۹ )

”تو کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟(ھر گز نھیں)،مگر یہ لوگ ازسر نو(دوبارہ)پیداکرنے کی نسبت شک میں پڑے ہیں“

( لَخَلَقُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) ( ۷۰ )

”سارے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا،لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت یقینی بڑا(کام) ہے مگر اکثر لوگ (اتنابھی) نہیں جانتے“

( یٰاَ یُّهَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَیِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَانَشَآءُ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوْا اَشُدَّکُمْ وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یَّرِدُّ اِلٰیٓ اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا وَتَرَی الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَهِیْجٍ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللهَهُوَالْحَقُّ وَاَنَّه یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاَنَّه عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ وَاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَارَیْبَ فِیْهَا وَاَنَّ اللهَیَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ ) ( ۷۱ )

”اے لوگو! اگر تم کو (مرنے کے بعد)دوبارہ جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہے تو اس میں شک نہیں کہ ہم نے تمھیں (شروع شروع مٹی )سے اس کے بعد نطفہ سے اس کے بعد جمے ہوئے خون سے پھر اس لوتھٹر ے سے جو پورا(سڈول)هو یا ادھوراهو؛ پیداکیا تاکہ تم پر(اپنی قدرت)ظاہر کر یں (پھر تمھارا دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے)؟! اور ہم عورتوںکے پیٹ میں جس (نطفہ)کو چاہتے ہیں ایک مدت معین تک ٹھھرا رکھتے ہیں ،پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں پھر (تمھیںپالتے ہیں)تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، اور تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیںجو (قبل بڑھاپے کے)مر جاتے ہیں اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو ناکارہ زندگی (بڑھاپے )تک پھیر لائے جاتے ہیں تاکہ سمجھنے کے بعدسٹھیاکے کچھ بھی (خاک)نہ سمجھ سکے اور وہ تو زمین کو مردہ (بیکار افتادہ) دیکھ رھا ہے ،پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو لھلھانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر طرح کی خو شنما چیزیں اگاتی ہے تو یہ (قدرت کے تماشے اس لئے دکھاتے ہیں تاکہ تم جانو)کہ بیشک خدا بر حق ہے اور (یہ بھی کہ)بیشک وھی مردوں کو جلاتا ہے اور وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت یقینا آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور بیشک جو لوگ قبروں میں ہیں ان کو خدا دوبارہ زندہ کرے گا“

( لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ اٴَ لَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا ) ( ۷۲ )

”اور (اس وقت ہم یاد دلائیں گے کہ جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح )تم لوگوں کو (آخر)ہمارے پاس آنا پڑا، مگر تم تو یہ خیال کرتے تھے کہ تمھارے (دوبارہ پیداکرنے کے) لئے کوئی وقت ہی نہیں ٹھھرائیں گے“

اس طرح ہمارے بہترین طریقہ سے یہ واضح ہو جا تا ہے :

( اَنَّ اللهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَ الاَرْضَ قٰادِرٌ عَلٰی اٴَنْ یَخْلُقَ مِثْلَهُمْ ) ( ۷۳ )

”وہ خدا جس نے سارے آسمان اور زمین بنائے اس پر بھی (ضرور )قادر ہے کہ ایسے آدمی دوبارہ پیدا کرے “

کیونکہ دوسری مرتبہ کسی چیز کا پیدا کرنا یا اس کو دوبارہ بنانا پہلی پیدائش سے مختلف نہیں ہو سکتا ،اور اس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس پر دلیل بھی قائم ہے۔

اور اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ نطفہ میں اسی طرح کی صلاحیت ہے کہ وہ نطفہ سے علقہ بنے اور علقہ سے مضغہ بنے ،اور مضغہ سے جنین بنے اور جنین سے بچہ بنے اور پھر جوان ہو جائے اور آخر میںبڑھاپے کی منز ل تک پهونچ جائے ،تو جو خدا ان تمام چیزوں پر قادر ہے، تووہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ تخلیق کے ان مراحل کو دوبارہ بھی انجام دے، انسان کے لئے حشر و نشر قرار دے اور ان کو دوبارہ زندہ کرے۔

( یُحْیِ الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیْمٌ ) ( ۷۴ )

” وہ ہڈیوں کو راکھ ہونے کے بعد بھی زندہ کر سکتا ہے“

جیسا کہ اس نے انسان کو اس وقت بھی پیدا کیا جب کچھ نہ تھا۔

کیونکہ خدا وندا عالم کی ذات کے سامنے کوئی تعجب والی بات نہیں ہے کیونکہ اس کی ذات وہ ہے:

( اَلَّذِیْ اَنْشَاهَا اَوَّلَ مَرَّةً ) ( ۷۵ )

”اس کو وھی زندہ کرے گا جس نے ان کو(جب یہ کچھ نہ تھے پہلی مرتبہ زندہ کیا“

اس کی ذات وہ ہے:

( اَلَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰا تِ وَ الاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ ) ( ۷۶ )

”آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نھیں“

اورخدا کی ذات ہی وہ ہے :

( بَلٰی وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ ) ( ۷۷ )

”اور وہ تو پیدا کرنے والا واقف کار ہے“

( فَسُبْحَانَ الَّذِیْ بِیَدِهِ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیءٍ ) ( ۷۸ )

”وہ خدا(ھر نفس سے)پاک صاف ہے جس کے قبضہ قدرت میںھر چیز کی حکومت ہے“

( سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) ( ۷۹ )

”اور وہ خدا جو سارے جھاں کا پالنے والا ہے“

قارئین کرام ! یہ منطق و فطرت اور وجدان ہے ،جس میں کسی طرح کے شک و شبہ اور بے جا احتمال کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص اس ٹھوس حقیقت میں شک کرے بھی تو ہم اس کو قیامت میں شک کرنے والا نہیں کھیں گے ،کیونکہ ہم اس پر اعتراض کریں گے ،کہ اس کا یہ شک اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے دعوے میں کہ” خدا ہی مبداء اول ہے“ سچا نھیںھے،اور اس کو اس وقت یہ بھی حق نہیں پهونچتا کہ وہ قیامت کے بارے میں استدلال طلب کرے یا قیامت کا انکار کرے یا قیامت پر یقین نہ کر ے بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خلق اول اور خالق اول پر ایمان کے سلسلے میں بحث کرے،کیونکہ قیامت کا مسئلہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں) ایسے عمل کی تکرار ہے جو خدا وندا عالم نے پہلے انجام دیا ہے کیونکہ اگر کوئی شخص گذشتہ مسئلہ پر یقین و ایمان رکھتا ہے تو پھربعد والے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی باقی نھیںرہ جاتی۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ قیامت کا انکا ر کرنا خدا وند عالم کے خالق ہونے کا انکار نہیں ہے بلکہ یہ تو حکم عقل کی بنا پر ہے کہ کسی چیز کا واپس پلٹانا محال ہے، کیونکہ انسان مرنے کے بعد معدوم ہو جاتا ہے ،اور یہ بات واضح ہے کہ معدوم کا اعادہ محال ہے، یعنی جو چیز بالکل ختم ہوجائے اس کو دوبارہ اسی حالت پر پلٹانا غیر ممکن ہے اور ایک عقلمند انسان کے لئے محالات پر ایمان رکھنا معقول نہیں ہے۔!!

قارئین کرام ! یہ تھا بعض لوگوں کے اعتراض کا خلاصہ ،کیونکہ ان پر یہ بات مخفی رھی ہے اور موت و معاد کے حقیقی معنی کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائے۔

کیونکہ اگر معتر ض اپپے اعتراض پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ان کی موت کامطلب اس کے اجزاء و اعضاء کا معدوم ہونا نہیں ہے،بلکہ در حقیقت موت کے ذریعہ وہ اجزاء متفرق اور پرا کندہ ہو جاتے ہیں ۔ (جیسا کہ مشهور شعر ہے: )

(”موت کیا ہے انھیں اجزاء کا پریشاں ہونا“)

جبکہ بعض لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے جسم کے اعضاء کا متفرق اور بکھرجانا ان کا معدوم ہونا ہے یعنی اس کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہتا،جب کہ حقیقت میں یہ اجزاء موجود رہتے ہیں اگر چہ متفرق اور جدا جدا ہوجائیں،اور جب خدا ان بکھرے ہوئے اعضاء کو اپنی قدرت کاملہ سے جمع کرنا چاھے گا تو ان کو پرانی حالت پر پلٹادے گا اور جسم و روح ایک جگہ جمع ہو جائیں گے اور اسی کا نام معاد ہے۔

چنانچہ اس معنی کی طرف قرآن کریم کی وہ آیت جس میں جناب ابراھیم علیہ السلام نے اپنے پر وردگار سے سوال کیا تھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ،بہترین دلیل ہے۔

ارشادخدا وندی ہے:

( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتَی ) ( ۸۰ )

(پالنے والے تو مجھے دکھا دے کہ مردوںکو کس طرح زندہ کرے گا)

تو اس وقت خدا وند عالم نے جناب ابراھیم علیہ السلام کے جواب میں فرمایا:

( قَالَ فَخُذْ اٴَرْبَعَةً مِنْ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَیْک ) ( ۸۱ )

(یعنی جناب ابراھیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ چار پرندوں کو لے کر ان کا قیمہ بنا لو ،اور اس کو آپس میں اس طرح ملالو کہ وہ ایک دوسرے سے الگ کر نے کے قابل نہ رھیں۔

( ثُمَّ اجْعَلْ عَلَی کُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْء اً ) ( ۸۲ )

”یعنی پھر ا س مخلوط قیمہ کو الگ الگ پھاڑوں پر رکھ دو ۔“

( َ ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاٴْتِینَکَ سَعْیًا ) ( ۸۳ )

”اس کے بعد تم ان کو پکارنا ،وہ دوڑے ہوئے تمھارے پاس آجائیںگے۔“

یعنی خدا وندعالم نے ان پرندوں کے اعضاء و اجزاء کو ان کے اصلی صاحب سے ملادیا جبکہ وہ مستقل طریقہ سے ایک دوسرے سے جدا جدا ہوگئے ،اور جب ہر پرندہ کے سارے اجزاء اس سے مل گئے تو خدا وندعالم نے ان کو حیات عطا کر دی۔

قارئین کرام ! قرآن مجید کی یہ آیت ہمارے لئے بہترین دلیل ہے کہ موت نام ہے اجزاء و اعضاء کا متفرق ہوجانا،اور موت کسی بھی صورت میں انعدام نہیں ہے جیسا کہ قیامت کے بعض منکرین کا گمان ہے۔

لہٰذاطے یہ ہوا کہ اس کام (دوبارہ زندہ کرنے میں)استحالہ اور محال ہونے کی کوئی بات نہیں ہے،اور عقلی طور پر شک شبہ کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں ہے،جیسا کہ بعض گمان کرنے والوں کا گمان ہے۔

اور جب یہ طے ہو گیا کہ معاد نام ہے انسان کو موت کے بعد حساب و کتاب کے لئے واپس پلٹانے کا،اور اسی محاکمہ کے نتیجہ میں ثواب وعقاب کیا جائے گا :

( وَحَشَرَ نَا هُمْ فَلَمْ نُغَادِرُ مِنْهُمْ اَحَدًا ) ( ۸۴ )

”اورہم ان سبھوں کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے ایک کو نہ چھوڑیں گے“

( یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ ) ( ۸۵ )

”اور اس دن کو یا رکھو )جس دن ہر شخص جو اس نے (دنیا میں)نیکی کی ہے اور جو کچھ برائی کی ہے اس کو موجود پائے گا“

تو پھر ضروری ہے کہ تمام عالم اور جو کچھ اس میں موجود ہے وہ فنا ہوں اور ان کی حرکت حیات کی چکی بند ہو ،اور تمام زندہ چیزوں کو موت آئے۔

( یَوْمَ نَطْوِی السَّمَاءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُب ) ( ۸۶ )

”جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے“

( یَوْمَ تُبَدِّلُ الاٴَرْضُ غَیْرَ الاٴَرْضِ وَالسَّمٰوٰاتِ ) ( ۸۷ )

”جس دن یہ زمین بدل کردوسری زمین کر دی جائے گی اور (اسی طرح) آسمان (بھی بدل دئے جائیں گے“

تو کیا یہ باتیں عقل میں آتی ہیں؟اور کیا آج کا سائنس اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کرتا ہے تاکہ ہمارے سامنے آفاق کی مجمل باتیں واضح و روشن ہو جائیں؟

(چند دانشوروں کے نظریات)

قارئین کرام ! اس سلسلے میں چند دانشوروں کے نظریات ملاحظہ فرمائیں:

پرو فیسر”فرانک لین“کہتے ہیں:

”ڈینا میکا حراری“ " Thermo Dynamics "کے قوانین اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کی حرارت آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی،اور ایک دن وہ آئے گا کہ تمام چیزوں کا درجہ حرارت گھٹ کر بالکل ”صفر“هوجائے گا ،اور اس وقت تمام طاقتیں ختم ہو جائیں گی، اور پھر زندگی محال بن جائے گی، لہٰذاضروری ہے کہ ایک ایسی حالت پیدا ہو جس میں تمام طاقتیں ختم ہو جائیں کیونکہ مرور زمان کے ساتھ ساتھ تمام چیزوں کا درجہ حرارت بالکل (صفر) ہو جائےگا“

اسی طرح پرو فیسر ”اڈوارڈ لوثر کیل“کہتے ہیں :

” حرارت گرم چیزوں سے ٹھنڈی چیزوں کی طرف منتقل ہوتی ہے اور کبھی اس کے بر عکس نہیں ہوتا یعنی حرارت اس کے بر عکس نہیں چلتی کہ ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دن وہ آئے گا جب اس دنیا کی حرارت تمام اجسام میں برابر ہو جائے گی ،اور اس صورت میں تمام چیزوں کی طاقت ختم ہو جائے گی ،اور اس وقت کیمیاوی یا طبعی عملیات ختم ہو جائیں گی،اور پھر اس کائنات کی حیات ختم ہوجائے گی “

نیز پرو فیسر کلوڈ۔م۔ھا ثاوی کہتے ہیں:

”اسحاق نیوٹن،،کی تحقیق یہ ہے کہ یہ نظام کائنات نابودی کی طرف بڑھ رھا ہے ،اور ایک دن وہ آئے گا جب تمام چیزوں کی حرارت برابر ہو جائے گیاور حرارت کے بارے میںتحقیق ان نظریات کی تائید کرتی ہے اور” طاقت میسور“”طاقت غیر میسور“ میں تبدیل ہو جائے گی ،اور جب حرارت میں تبدیلی آئے گی تو طاقت میسور غیر میسور میں بدل جائے گی ،اور اس کے بر عکس ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے “

اسی طرح”بولٹز مین“ نے بھی اس نظریہ کی تائید کی ہے کیونکہ وہ اپنی لا جواب تدریس اورریاضی تحقیق کو بروئے کار لایا ہے یھاں تک کہ اس نے ثابت کیا ہے کہ طاقت میسور کا ختم ہو جانا جس کی طرف ڈینا میکا" Thermo Dynamics "قوانین کا قانون دوم اشارہ کرتا ہے،اور یہ ایک ایسی خاص حالت کا پیدا ہونا ہے جس میں ہر طبیعی تغیر و تبدلی نظام کائنات میں نقص اور تحول ایجاد کرتی ہے، اور حرارت کی اس حالت میں طاقت میسور ،طاقت غیر میسور میں تبدیل ہوکر کم اور ختم ہو جائے گی ،یا بالفاظ دیگر تمام چیزیں منحل اور ختم ہو جائیں گی۔“

اسی طرح ڈاکٹر جمال الدین الفندی کہتے ہیں:

”تمام علماء فلک اس بات پر تائید کرتے ہیں کہ سورج (دیگر سیاروں کی طرح)کی حرارت ،اس کا حجم اور اس کی شعاعیں اس حد تک خطرناک ہوجاتی ہیں جن تک عقل کی رسائی ممکن نہیں ،اور جب یہ حرارت بیرونی سطح میں پھیل جائے گی تو اس کے شعلہ اور دھواں اس قدر پھیل جائے گا کہ وہ چاند تک پهونچ جائیں گے ،اور تمام نظام شمسی اپنا تو ازن ختم کردے گا ، آسمان میں ہر ستارہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا ہمیشگی کار نامہ سے پہلے ایسی حالت رکھتا ہو ،لیکن ہمارا یہ سورج اب تک اس مرحلہ تک نہیں پهونچا ہے۔“( ۸۸ )

خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( فَاٴرْتَقِبْ یَوْمَ تَاٴتِی السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِیْن ) ( ۸۹ )

”تو تم اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے ظاہر بظاہر دھواں نکلے گا“

( فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یَقُوْلُ الٴاٴِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ) ( ۹۰ )

”جب آنکھیں چکا چوند میں آجائیں گی اور چاند گہن میں چلا جائے گا اور سورج اور چاند اکھٹا کر دئے جائیں گے تو انسان کھے گا آج کھاں بھاگ کر جاو گے“

( وَحُمِلَتِ الاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتًا دَکَّةً وَاحِدَةً ) ( ۹۱ )

”زمین اور پھاڑ اٹھا کر اکبارگی (ٹکراکر)ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے“

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ بڑے بڑے دانشوروں کے نظریہ کے مطابق بھی یہ کائنات اور تمام عالم سب کچھ فنا کی طرف بڑھ رھا ہے تو پھر قیامت کے دن کا آنا بہت ممکن ہے ،بلکہ آج کے علمی لحاظ سے ایک یقینی اور قطعی بات ہے۔

اور اب جب کہ آج کے سائنس نے اس حقیقت کے بارے میں ہمیں مزید اطمینان عطا کردیا ہے ،لیکن بعض قدیم فلاسفہ جن کے زمانہ میں آج کا جدید علم نہیں تھا ،لہٰذاان کا نظریہ یہ تھا کہ یہ کائنات اسی صورت پر باقی رھے گی اور اس میں زوال و فنا نہیں ہو گا، کیونکہ وہ یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ چونکہ سورج میں (اتنی طولانی عمر کے بعد بھی ) کوئی کمی اور کاستی نہیں آئی ہے،لہٰذایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رھے گا ،اور اگر اس میں فنا کی بات ہوتی تو اب تک اس میں تبدیلی یا نقص پیدا ہوگیا ہوتا ۔

لیکن ان کا یہ نظریہ درج ذیل حقائق کی روشنی میں باطل ہو جاتا ہے:

۱ ۔ڈینا میکا حراری " Thermo Dynamics " قانون نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ یہ حرارت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں ہے،اور ایک دن ایسا آئے گا جب یہ کائنات فنا ہوجائے گی (جیسا کہ تفصیل گزر چکی ہے)

۲ ۔ستارہ شناس افراد نے بہت سی مرتبہ سورج پر ہوئے دہماکوں کا تجربہ کیا جن کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ سورج کے اس حصے میں بوسیدگی آگئی ہے۔

۳ ۔فلکی ماھرین کی اس بات کی تائید کرنا کہ سورج کی سطح خارجی چاند تک پهونچ جائے گی، اور پھر نظام شمسی کا تو زان ختم ہو جائے گا (جیسا کہ تفصیل گزر چکی ہے)

لہٰذاان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ کائنات ضرور بالضرور فنا ہوجائے گی ،جبکہ سورج کا ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والوں کے قول کے لئے کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔

اسی طرح جب لوگوں نے قاعدہ ”المادة لاتفنیٰ“(مادہ کے لئے فنا نہیں ہے)کی بنا پر قیامت کا انکار کیا ہے ،لیکن ان کا یہ قول بھی بے بنیاد اور باطل ہے ،کیونکہ ان کا یہ قول بہت قدیمی ہے اور آج کے علم نے یہ بات ثابت کی ہے کہ مادہ بھی فنا ہو نے والا ہے، چاھے مادہ فنا ہو یا نہ ہو، اس مسئلہ کا ہماری بحث (معاد) سے کوئی رابطہ نہیں ہے،کیونکہ معاد مادہ کی صورت کا بدلنا ہے نہ کہ مادہ کا فنا ہونا،جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ) ( ۹۲ )

”(مگر کب) جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین کردی جائے گی۔“

اور تبدل اور فنا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

جبکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ” تبدل مادہ“ اور ”فنا“ میں بہت بڑا فرق ہے۔

خلاصہ بحث !

( اَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لَا رَیْبَ فِیْهَا وَاَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ ) ( ۹۳ )

”اور قیامت یقینا آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اوربیشک جو لوگ قبروں میں ہیں ان کو خدا دوبارہ زندہ کرے گا“

( اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِی ضَلاَلٍ بَعِیْدٍ ) ( ۹۴ )

”جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ بڑے پر لے درجے کی گمراھی میں ہیں “

( یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ ) ( ۹۵ )

”او ر جس روز قیامت بر پا ہوگی اس روز اھل باطل بڑے گھا ٹے میں رھیں گے۔“

اور یہ قیامت عنقریب آئے گی جب زمین اپنی پوری آب وتاب پر پهونچ جائے گی اور انسان ترقی کی آخری منزلوں کو طے کرلے گا ، اور زمین اپنی تمام تر زینتوں کے ساتھ مزین ہوجائے گی، اور انسان یہ گمان کرنے لگے گا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی حکومت تمام اشیاء پر ہے یھاں تک کہ بارش پر بھی کنٹرول کرنے لگے گا، اور پھاڑوں پر بھی زراعت کرنے لگے گا، نیزمشکل امراض کا علاج کرنے لگے گا، اور مردہ لوگوں کے دلوں اور آنکھوں کا زندہ انسان میں پیوند لگانے لگے گا، اور ستاروں کے درمیان سیر کرے گا ، اور ذرہ کو روشن کردے گا، اور پھاڑوں کو ہٹانے لگے گا، کیونکہ انھیں تمام چیزوں کے بارے میں خداوندعالم نے ڈرایا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( حَتّٰی اِذَا اَخَذَتِ الاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّیِّنَتْ وَظَنَّ اٴَهْلُهَا اَنَّهُمْ قَادِرُوْنَ عَلَیْهَا اٴَتَا هَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَا رًا فَجَعْلَنَاهَا حَصِیْدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِاٴلْاٴَمْسِ ) ( ۹۶ )

”یھاں تک کہ جب زمین نے(فصل کی چیزوں سے)اپنا بناو سنگار کر لیا اور ہر طرح آراستہ ہوگئی اور کھیت والوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ اس پر یقینا قابو پا لیں گے (جب چاھیں گے کاٹ لیں گے) یکا یک ہمارا حکم و عذاب رات یا دن کو آپهونچا تو ہم نے اس کھیت کو ایسا صاف کٹا ہو ا بنادیاجیسے کل اس میں کچھ تھا ہی نھیں“

قارئین کرام !مذکورہ آیت میں ایک بڑا لطیف اشارہ ہے کہ خدا وند عالم فرماتا ہے کہ قیامت رات میں آئے گی یا دن میں،اوراس کی تفسیر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتی کہ زمین کروی(انڈے کے شکل کی)ھے جس میں آدھی میں رات ہوتی ہے اور آدھی میں دن، اور جب قیامت آئے گی تو وہ ایک لمحہ میں آئے گی:

( وَمَا اٴَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اٴَوْ هو اٴَقْرَبُ ) ( ۹۷ )

”قیامت کا واقع ہونا تو ایسا ہے جیسے پلک جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر“

یعنی قیامت کے وقت آدھی زمین میں رات ہوگی اور آدھی میں دن اس کے علاوہ قرآن مجید نے قیامت کی ایک دوسری نشانی بھی بیان کی ہے ،اور وہ یہ کہ جب صور پھونکا جائے گا تب قیامت آئے گی ۔

اسی طرح قیامت کے لئے قرآن مجید نے ایک اور نشانی بیان کی ہے کہ تمام لوگوں میں خون برف بن جائے گا چاند و سورج کو گہن لگے گا پھاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ،ستارے پھیکے (ماند)پڑجائیں گے دریا پھٹنے لگیں گے،زمین میں زلزلہ آجائے گا ،اور زمین و آسمان میں تمام زندہ چیزیں نابو د ہو جائیںگی۔

اور سب کچھ پہلے صور پھونکنے کے نتیجہ میں ہوگا۔اور دوسرے صور میں تمام کے تمام زندہ ہو جائیں گے اور حساب کتاب شروع ہوجائےگا۔( ۹۸ )

( وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیهِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْکِتَابِ لاَیُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلاَیَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا ) ( ۹۹ )

”نہ چھوٹے ہی گناہ ہو بے قلمبند کئے چھوڑتی ہے نہ بڑے گناہ کو اور جو کچھ ان لوگوں نے(دنیامیں )کیا تھا وہ سب (لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور تمھارا پروردگار کسی پر (ذرہ برابر ) بھی ظلم نہیں کرے گا“

( وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیءَ بِالنَّبِیِّینَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهو اٴَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُونَ ) ( ۱۰۰ )

”اور اعمال کی کتاب (لوگوں کے سامنے)رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ لاکر حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر (ذرہ برابر ) ظلم نہیں کیا جائے گا اور جس شخص نے جیسا کیا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلا مل جائے گا اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں وہ اس سے خوب واقف ہے“

والحمد لله رب العالمین۔

____________________

[۱] سورہ تغابن آیت۷۔

[۲] سورہ جاثیہ آیت ۲۶۔

[۳] شروع کتاب خدا شناسی پر رجوع فرمائیں۔

[۴] بحث عدل الٰھی رجوع فرمائیں۔

[۵] رجوع فرمائیں بحث نبوت پر ۔

[۶] سورہ نساء آیت ۸۷۔

[۷] سورہ سباء آیت ۲۹،۳۰۔

[۸] سورہ آل عمران ۳۰۔

[۹] سورہ عبس ۳۴تا ۴۱۔

[۱۰] سورہ بقرہ آیت۴۳۔

[۱۱] سورہ بقرہ آیت۱۸۳۔

[۱۲] سورہ آل عمران آیت ۹۷۔

[۱۳] سورہ انفال آیت ۴۱۔

[۱۴] سورہ حج آیت ۷۸۔

[۱۵] سورہ بقرہ آیت ۲۷۵۔

[۱۶] سورہ نحل آیت۹۰۔

[۱۷] سورہ حجرات آیت ۱۲۔

[۱۸] سورہ حجرات آیت ۱۲۔

[۱۹] سورہ نحل آیت ۱۰۵۔

[۲۰] سورہ حجرات آیت۱۲۔

[۲۱] سورہ مطففین آیت۱۔

[۲۲] صول الفقہ شیخ مظفر جلد اول ص۵۵،۵۹،۸۹،۹۰۔

[۲۳] اورہ حشر آیت۷۔

[۲۴] سورہ نور آیت۶۳۔

[۲۵] سورہ سباء آیت ۱۲۔

[۲۶] سورہ انعام آیت۱۵۔

[۲۷] سورہ طلاق آیت ۸۔

[۲۸] سورہ مدثر آیت۴۲،۴۳۔

[۲۹] سورہ زخرف آیت ۶۵۔

[۳۰] سورہ انبیاء آیت ۱۰۴۔

[۳۱] سورہ اسراء آیت۹۹۔

[۳۲] سورہ کہف آیت ۴۷۔

[۳۳] سورہ کہف آیت۴۹۔

[۳۴] سورہ مومنون آیت ۱۵۔

[۳۵] سورہ مومنون آیت ۱۱۵۔

[۳۶] سورہ آل عمران آیت۹۔

[۳۷] سورہ انعام آیت ۱۳۰۔

[۳۸] سورہ نباء آیت ۱۷۔

[۳۹] سورہ نباء آیت ۳۹۔

[۴۰] سورہ زمر آیت ۷۰۔

[۴۱] سورہ سباء آیت ۳،۴۔

[۴۲] سورہ نحل آیت۳۹۔

[۴۳] سورہ انفطار آیت۱۷تا۱۹۔

[۴۴] سورہ کہف آیت۴۹۔

[۴۵] سورہ آل عمران آیت ۳۰۔

[۴۶] سورہ مطففین آیت ۱۰تا۱۲۔

[۴۷] سورہ فصلت حم السجدہ آیت ۱۹تا ۲۲۔

[۴۸] سورہ یٰس آیت ۶۵۔

[۴۹] سورہ نساء آیت۵۶۔

[۵۰] سورہ قیامت ۳تا۴۔

[۵۱] سورہ نساء آیت ۵۶۔

[۵۲] الاسلام و الطب الحدیث ص۶۶۔

[۵۳] سورہ قیامت آیت۴۔

[۵۴] ڈاکٹر ابراھیم الراوی ،مجلة العدل النجفیة ۔ ع ۱# س۶ص۲۔

[۵۵] مادہ”ازلی نہ ہونے کے سلسلہ میں اور ازلی کہنے والوں کی دلیل کی رد“ہماری کتاب ھوامش علی کتاب نقد الفکرالدینی ”طبع بیروت ۱۳۹۱ھ مطابق ۱۹۷۱ء میں ملاحظہ فرامائیں۔

[۵۶] سورہ اسراء آیت ۴۹،۵۰۔

[۵۷] سورہ مریم آیت ۶۶،۶۷۔

[۵۸] سورہ انبیاء آیت ۱۰۴ ۔

[۵۹] سور ہ روم آیت ۱۱۔

[۶۰] سورہ اسراء آیت ۴۹۔

[۶۱] سورہ بنی اسرائیل (اسراء) آیت ۹۹۔

[۶۲] سورہ مومنون آیت ۱۲ تا ۱۶۔

[۶۳] سورہ واقعہ آیت ۵۷تا ۶۲۔

[۶۴] سورہ القیامة ۳۶تا ۴۰۔

[۶۵] سورہ احقاف آیت۳۳۔

[۶۶] سورہ المرسلات آیت ۲۰تا۲۴۔

[۶۷] سورہ یٰس آیت ۷۷تا۷۹۔

[۶۸] سورہ یٰس آیت ۸۱۔

[۶۹] سورہ ق آیت ۱۵

[۷۰] سورہ مومن آیت۵۷۔

[۷۱] سورہ حج آیت۵تا۷۔

[۷۲] سورہ کہف آیت ۴۷۔

[۷۳] سورہ اسراء آیت ۹۹۔

[۷۴] سورہ یٰس آیت۷۸۔

[۷۵] سورہ یٰس آیت۷۹۔

[۷۶] سورہ احقاف آیت۳۳۔

[۷۷] سورہ یٰس آیت ۸۱۔

[۷۸] سورہ یٰس آیت۸۳۔

[۷۹] سورہ نمل آیت ۸۔

[۸۰] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔

[۸۱] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔

[۸۲] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔

[۸۳] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔

[۸۴] سورہ کہف آیت ۴۷۔

[۸۵] سورہ آل عمران آیت ۳۰۔

[۸۶] سورہ انبیاء آیت ۱۰۴۔

[۸۷] سورہ ابراھیم ۴۸۔

[۸۸] گذشتہ علمی مطالب کے سلسلہ میں کتاب”اللہ یتجلی فی عصر العلم“ ص۸،۲۹،۹۲،۸۳ ،۱۶۷ پر رجوع فرمائیں۔

[۸۹] سورہ دخان آیت ۱۰۔

[۹۰] سورہ قیامت آیت۱۰۔

[۹۱] سورہ الحاقة آیت ۱۴۔

[۹۲] سورہ ابراھیم آیت۴۸۔

[۹۳]سورہ حجر آیت۷۔

[۹۴] سورہ شوری آیت ۱۸۔

[۹۵] سورہ الجاشیہ آیت ۲۷۔

[۹۶] سور یونس آیت۲۴۔

[۹۷] سورہ نحل آیت۷۷،وسورہ قمر آیت ۵۰۔

[۹۸] القرآن مصطفی محمود :ص۲۰۷ تا ۲۰۹۔

[۹۹] سورہ کہف آیت ۴۹۔

[۱۰۰] سورہ زمر آیت۶۹تا ۷۰۔


فہرست

مقدمہ ناشر ۴

مقدمہ ۵

حضرت علامہ سید مرتضیٰ حکمی دامت برکاتہ ۵

عرض مترجم ۷

توحید ۹

خدا کی معرفت عقل و فطرت کی روشنی میں ۹

مقدمہ ۱۰

خالق ازلی کے وجود کی ضرورت ۱۲

وجود خدا پر عقلی اور فلسفی دلائل ۱۵

توضیح : ۱۶

مزید وضاحت : ۱۶

مذکورہ دلیل کا خلاصہ : ۱۷

متکلمین کا استدلال ۱۸

مذکورہ استدلال کا خلاصہ : ۱۸

قرآن کریم سے استدلال ۱۹

سائنس کے نظریات ۲۱

وجود خدا پر قرآنی آیات ۳۰

اقسام حیوانات ۳۱

پانی کی خلقت ۴۲


مادہ ہے یا خدا؟ ۵۰

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ ۵۴

زمین پر حیات کی شروعات ۶۰

عدل الٰھی ۷۰

(باعتبارجبر واختیار) ۷۰

مقدمہ ۷۰

خداوندعالم عادل ہے ۷۱

مزید وضاحت: ۷۵

جبر واختیار ۷۸

وضاحت: ۷۹

۱ ۔اختیاری اوراضطراری افعال میں فرق ۸۱

۲ ۔اختیارکے سلسلہ میں قرآن مجید کی وضاحت : ۸۲

۳ ۔ عذاب، خود اختیا رپر دلیل ہے : ۸۴

۴ ۔ ظلم قبیح ہے۔ ۸۷

پھلے معنی : ۸۹

دوسرے معنی: ۸۹

تیسرے معنی : ۹۰

خلاصہ بحث: ۹۰

قضاء وقدر ۹۲

۱ ۔ لغوی معنی: ۹۲


۲ ۔ قرآنی معنی: ۹۳

قدر کے سلسلہ میں لوگوں کے تین گروہ ہیں: ۹۵

ہدایت وگمراھی ۹۶

لغت میں ہدایت کے معنی: ۹۷

نبوت ۱۰۸

مقدمہ ۱۰۸

نبوت بمعنی عام ۱۱۰

پہلا جواب: ۱۱۱

دوسرا جواب: ۱۱۲

تیسرا جواب: ۱۱۲

خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۱۱۷

پہلا معجزہ: قرآن مجید ۔ ۱۲۱

شبھات واعتراضات ۱۳۲

کثرتِ ازواج ۱۳۳

۱ ۔ خدیجہ بنت خویلد: ۱۳۴

۲ ۔ سودة بنت زمعة: ۱۳۵

۳ ۔عائشہ بنت ابی بکر: ۱۳۵

۴ ۔ حفصہ بنت عمر بن الخطاب: ۱۳۵

۵ ۔زینب بنت خزیمہ: ۱۳۶

۶ ۔ ام سلمہ: ۱۳۶


۷ ۔ زینب بنت جحش: ۱۳۶

۸ ۔ جویریة بنت الحارث: ۱۳۸

۹ ۔ صفیہ بنت حي: ۱۳۹

۱۰ ۔ ام حبیبة بنت ابی سفیان: ۱۳۹

۱۱ ۔ میمونہ بنت الحارث: ۱۳۹

عصمت ۱۴۰

پہلی آیت: ۱۴۱

جواب : ۱۴۱

دوسری آیت: ۱۴۲

جواب: ۱۴۲

تیسری آیت: ۱۴۳

جواب: ۱۴۳

جواب: ۱۴۳

چوتھی آیت: ۱۴۴

جواب: ۱۴۴

پانچویں آیت: ۱۴۵

جواب: ۱۴۵

امامت ۱۵۳

مقدمہ ۱۵۳

امامت کے عام معنی ۱۵۵


خلاصہ گفتگو: ۱۵۸

امام کے بارے میں وضاحت ۱۶۶

گذشتہ گفتگو کا خلاصہ : ۱۶۶

پہلی حدیث: ” حدیث دار “ ۱۶۶

دوسری حدیث: ”حدیث المنزلة“ ۱۶۹

تیسری حدیث: ”حدیث غدیر“ ۱۷۱

پہلا طریقہ: ۱۷۴

دوسرا طریقہ: ۱۷۴

حضرات ائمہ علیہم السلام ۱۷۵

پھلے امام : حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ۱۷۶

دوسرے امام : حضرت حسن بن علی علیہ السلام ۱۷۷

تیسرے امام : حضرت حسین بن علی علیہ السلام ۱۷۹

چھوتھے امام: حضرت زین العابدین علیہ السلام ۱۸۰

پانچویں امام : حضرت محمد باقر علیہ السلام ۱۸۱

چھٹے امام : حضرت جعفر صادق علیہ السلام ۱۸۲

ساتویں امام : حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام ۱۸۴

آٹھویں امام : حضرت علی رضا علیہ السلام ۱۸۷

نویں امام : حضرت محمدتقی علیہ السلام ۱۸۸

دسویں امام : حضرت علی نقی علیہ السلام ۱۸۹

گیارهویں امام : حضرت حسن عسکری علیہ السلام ۱۹۰


بارهویں امام :حضرت محمد بن الحسن (مہدی منتظر (عج) ۱۹۱

جواب : ۱۹۳

مہدی منتظرکی معرفت عقل وفطرت کی روشنی میں ۱۹۴

(مہدی ومہدویت) ۱۹۴

مقدمہ ۱۹۴

پہلا مرحلہ : ۱۹۶

نظریہ مہدویت ۱۹۶

دوسرا مرحلہ: مہدی کون ہیں؟ ۲۰۴

حضرت مہدی (ع) کی معرفت ۲۰۴

حضرت امام مھدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ۲۱۲

پہلی دلیل کا جواب : ۲۱۳

دوسری دلیل کا جواب : ۲۱۴

تیسری دلیل کاجواب : ۲۱۴

چوتھی دلیل کا جواب : ۲۱۵

تیسرا مرحلہ : ۲۱۵

امکان غیبت اور اس کے دلائل ۲۱۶

ملحق کتاب ۲۲۳

شیخ کسم کا خط ۲۲۳

خط کا جواب ۲۲۶

قیامت ۲۳۸


مقدمہ ۲۳۸

قیامت کی ضرورت ۲۴۳

۱ ۔کیا خدا وند عالم امر و نھی کرتا ہے؟ ۲۴۳

۲ ۔کیا یہ اوامر و نواھی الزامی ہوتے ہیںیا ارشادی؟ ۲۴۴

۳ ۔اگر کوئی ان اوامر و نواھی کی مخالفت کرے تو؟ ۲۴۵

دوسری آیت : ۲۵۲

قیامت کا ممکن ہونا اوراس کی دلیل ۲۵۴

(چند دانشوروں کے نظریات) ۲۶۱

خلاصہ بحث ! ۲۶۴

اصول دین

اصول دین

مؤلف: علامہ شیخ محمد حسن آل یاسین
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 28