نو جوانوں کے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نو جوانوں کے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق

تالیف:آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی


مقدمه

عرض ناشر

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اورچودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت(علیه السلام) کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت(علیه السلام) عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت(علیه السلام) عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوت و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کیعالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل مولف آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی گرانقدر کتاب ”نوجوانوں کے لئے اصول عقائد کے پچاس سبق “ کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیںاور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


معرفت خدا کے دس سبق

پہلاسبق:خدا کی تلاش

۱ ۔کائنات سے واقفیت کا شوق

خلقت کائنات کے بارے میں آگاہی اور آشنائی حاصل کر نے کا شوق ہم سب میں پایا جاتاہے۔

یقینا ہم سب جاننا چاہتے ہیں:

خوبصورت ستاروں سے چمکتا ہوا یہ بلندوبالا آسمان ،دلکش مناظرسے بھری یہ وسیع زمین ،یہ رنگ برنگ مخلوقات،خوبصورت پرندے ،طرح طرح کی مچھلیاں ،سمندر اور پہاڑ،کلیاں اور پھول،سر بہ فلک قسم قسم کے درخت اور..کیا خود بخودپیدا ہو گئے ہیں یا یہ عجیب و غریب نقشے کسی ماہر ،قادر و غالب نقاش کے ہاتھوں کھینچے گئے ہیں؟..

اس کے علاوہ ہماری زندگی میں ہم سب کے لئے جو ابتدائی سوالات پیدا ہو تے ہیں ،وہ یہ ہیں:

ہم کہاں سے آئے ہیں ؟کہاں پر ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟

اگرہم ان مذکورہ تینوں سوالات کے جواب جانیں تو کتنے خو ش قسمت ہوں گے؟یعنی ہم جا نیں کہ ہماری زندگی کا آغاز کہاں سے ہوا ہے اور سر انجام کہاں جائیں گے؟اور اس وقت ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

ہمارا ضمیر ہم سے کہتا ہے :مذکورہ سوالات کے جواب حاصل کر نے تک آرام سے نہ بیٹھنا۔

کبھی کو ئی شخص ٹریفک حادثہ میں زخمی ہو کر بے ہوش ہو جا تا ہے اور معالجہ کے لئے اسے ہسپتال لے جاتے ہیں۔جب اس کی حالت قدرے بہتر ہو تی ہے اور وہ ہوش میں آتا ہے تو اپنے ارد گرد موجودافراد سے اس کا پہلا سوال یہ ہو تا ہے:یہ کون سی جگہ ہے؟مجھے کیوں یہاں لایا گیا ہے؟میں کب یہاں سے جاؤں گا؟اس سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان ایسے سوالات کے مقابلہ میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔

اس لئے جو چیز ہمیں سب سے پہلے خدا کی تلاش اور خالق کائنات کی معرفت حاصل کر نے پر مجبور کرتی ہے ،وہ ہماری تشنہ اور متلاشی روح ہے۔

۲ ۔شکر گزاری کا احساس۔

فرض کیجئے آپ کی ایک محترم مہمان کی حیثیت سے دعوت کی گئی ہے اور آپ کی مہمان نوازی اور آرام و آسائش کے تمام وسائل مہیا کئے گئے ہیں ۔لیکن چونکہ یہ دعوت آپ کے بڑے بھائی کے توسط سے انجام پائی ہے اور اپنے اسی بھائی کے ہمراہ دعوت پر گئے ہیں اور وہ اپنے میز بان کو اچھی طرح سے نہیں پہچانتے،اس لئے اس دعوت پر پہنچتے ہی آپ سب سے پہلے اپنے میز بان کو پہچان کر اس کا شکریہ بجا لانے کی کوشش کریں گے۔

ہم بھی جب خالق کائنات کے بچھائے ہوئے خلقت کے اس وسیع دستر خوان پر نظر ڈالتے ہیں اور بینائی والی آنکھیں،سننے کے کان ،عقل وہوش،مختلف جسمانی اور نفسیاتی توانائیاں،زندگی کے مختلف وسائل اور پاک و پاکیزہ رزق جیسی گو نا گوں نعمتوں کو اس وسیع دستر خوان پر دیکھتے ہیں تو بے ساختہ اس فکر میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں عطا کر نے والے کو پہچان لیںاور اگر چہ وہ ہمارے شکریہ کا محتاج بھی نہ ہو،ہمیں اس کا شکر یہ بجا لاناچاہئے اورجب تک یہ کام انجام نہ دیں،ہم بے چینی اور کمی کا احساس کرتے ہیں ،لہذا یہ ایک اور دلیل ہے جو ہمیں خدا کوپہچاننے کی طرف ترغیب دیتی ہے۔

۳ ۔خدا کی معرفت سے ہمارے نفع و نقصان کا تعلق۔

فرض کیجئے اپنے سفر کے راستہ پرآپ ایک چورا ہے پر پہنچے،وہاں پر شور وغل بر پا ہے،سب پکا ر پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس چوراہے پر نہ رکئے،یہاں بڑے خطرات ہیں۔ لیکن ہر ایک ہماری الگ الگ راستے کی طرف راہنمائی کر تا ہے ۔ایک کہتا ہے :بہترین راستہ یہ ہے کہ مشرق کی طرف چلے جائیں،دوسرا مغرب کی طرف مطمئن ترین راستہ بتاتا ہے اور تیسرا ہمیں ان دو راستوں کے بیچ والے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ،اور کہتا ہے خطرہ سے بچنے کا اور منزل نیز امن وامان اور سعادت وخوش بختی کی جگہ تک پہنچنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔

کیا ہم یہاں پر غور وفکر اور تحقیق کئے بغیر ان راستوں میں سے کسی ایک راستہ کا انتخاب کریں گے؟یا ہماری عقل ہمیں یہ حکم دے گی کہ وہیں پر رکے رہیںاور کسی راستہ کا انتخاب نہ کریں؟قطعاًایسا نہیں ہے۔

بلکہ عقل ہمیں حکم دیتی ہے کہ اس حالت میں جتنی جلد ممکن ہو تحقیق کریں اور ان افراد کی تجویزوں میں سے ہر ایک پر غور و فکر کے بعد جس کسی کے بارے میں صحیح اور سچ ہو نے کی نشانیاں اور اطمینان بخش دلائل موجود ہوں،اسے قبول کریں اور اطمینان کے ساتھ اس راہ کو منتخب کر کے آگے بڑھیں۔

اس دینوی زندگی میں بھی ہماری یہی حالت ہے ۔مختلف مذاہب اور مکاتب فکر میں سے ہر ایک ہمیں اپنی طرف دعوت دیتا ہے ۔لیکن چونکہ ہماری تقدیر،ہماری خوشبختی وبد بختی، ہماری ترقی وتنزل کا دار ومدار بہترین راستہ کی تحقیق اور اس کے انتخاب کرنے پر ہے،اس لئے ہم مجبور ہیں کہ اس سلسلہ میں غور وفکر کریں اور جو راستہ ہماری ترقی و تکامل کے موجب ہو اسے اپنے لئے چن لیں اور جو ہماری نابودی ،بدبختی اور بربادی کا سبب ہو اس سے پر ہیز کریں۔

یہ بھی ہمارے لئے خالق کائنات کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کر نے کی طرف دعوت کر نے کی ایک اور دلیل ہے۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( فبشّر عباد الّذین یستمعون القول فیتّبعون احسنه ) (سورئہ زمردآیہ/ ۱۸)

” میرے ان بندوں کو بشارت دیجئے،جو مختلف باتوں کو سنتے ہیں اور ان میں جو بات اچھی ہو تی ہے اسی کا اتباع کرتے ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے:

۱ ۔کیاآپ نے خدا کی معرفت کے سلسلہ میں جو کچھ آج تک اپنے ماں باپ سے سناہے ،اس کے علاوہ اس بارے میں خودبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے ؟

۲ ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ خدا کی تلاش اور خدا کی معرفت میں کیا فرق ہے؟

۳ ۔کیا آپ نے خدا وند متعال سے راز و نیاز کے دوران کبھی ایک عمیق روحانی لذت کا احساس کیا ہے؟


دوسراسبق .ہماری زندگی میں خدا کے وجودکی نشانیاں

فرض کیجئے کہ آپ کا ایک دوست سفر سے لوٹا ہے اور آپ کے لئے تحفہ کے طور پر ایک کتاب لایا ہے اور اس کتاب کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ایک بہترین کتاب ہے کیونکہ اس کا مصنف ایک غیر معمولی فطانت کا مالک،دانشور،آگاہ، ماہر اور اپنے فن میں ہر لحاظ سے انوکھا اور استاد ہے۔

آپ اس کتاب کا ہرگز سرسری مطالعہ نہیں کریں گے بلکہ اس کے برعکس اس کے تمام جملوں حتی اس کے لفظ لفظ پر غور وخوض کریںگے اور اگر اس کے کسی جملہ کو نہ سمجھے تو گھنٹوں بلکہ شایدمسلسل کئی دنوں تک فرصت پانے پر اس کے بارے میں سعی و کوشش کریں گے تاکہ اس کا معنی ومفہوم آپ کے لئے واضح ہو جائے ،کیونکہ اس کا مصنف ایک عام انسان نہیں ہے بلکہ ایک ایسا عظیم دانشورہے جوسوچے سمجھے بغیر ایک لفظ بھی نہیں لکھتا ہے۔

لیکن اگر اس کے برعکس آپ سے کہا جائے کہ( اگر چہ ممکن ہے یہ کتاب بظاہر خوبصورت ہو،لیکن) اس کا مصنف ایک کم علم شخص ہے اور کسی قسم کی علمی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور اس کے کام میں کوئی نظم و ضبط نہیں ہے!

واضح ہے کہ آپ اس قسم کی کتاب پر ایک سرسری نظر ڈالیں گے اور جہاں پر بھی کوئی ناقابل فہم مطلب نظر آئے گا اسے مصنف کی کم علمی کا نتیجہ تصور کریں گے اور سوچیں گے کہ اس پر وقت صرف کر نے سے کوئی فائدہ نہیں ہے !

کائنات کی مثال بھی ایک عظیم کتاب کے مانند ہے کہ اس میں موجود ہر مخلوق اس کا ایک لفظ یا جملہ ہے۔ایک خداشناس شخص کی نظر میں کائنات کے تمام ذرّات قابل غور ہیں۔ایک با ایمان انسان خدا پرستی کے نور کے پر تو میں ایک خاص تفکر و تدبر کے ساتھ خلقت کے اسرار کا مطالعہ کرتا ہے (اور یہی موضوع انسان کے علم ودانش کی تر قی میں مدد گار ثابت ہوتا ہے)کیو نکہ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات کا خالق،بے انتہا علم وقدرت رکھتا ہے ،اور اس کے تمام کام حکمت وفلسفہ کی بنیاد پر ہیں ،اس لئے وہ اور باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کر تا ہے ،گہری تحقیق کرتا ہے تاکہ اس کے اسرار کو بہتر صورت میں درک کرے۔

لیکن ایک مادہ پرست انسان خلقت کے اسرار کا گہرا مطالعہ کر نے کا شوق ہی نہیں رکھتا ہے،کیونکہ وہ بے شعور طبیعت کو ان کا خالق جانتا ہے ۔اگر ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ بعض مادی دانشور سائنسی ایجادات انجام دیتے ہیں ،یہ اس لئے ہے کہ وہ غالباًخدا کو قبول کرتے ہیں ،صرف اس کا نام طبیعت رکھتے ہیں ،کیونکہ وہ طبیعت کے کام کے سلسلہ میں ”نظم“،”حساب“اور”نظام“کے قائل ہیں۔مختصر یہ کہ خدا پرستی علم ودانش کی ترقی کا وسیلہ ہے۔

۲ ۔خدا کی معرفت اور تلاش وامید

جب انسان اپنی زندگی میں سخت اور پیچیدہ حوادث سے دوچار ہو تا ہے اور بظاہر اس پر ہر طرف سے امید کے دروازے بند ہو جاتے ہیںاور مشکلات کے مقابلہ میں کمزوری،ناتوانی اور تنہائی کا احساس کرتا ہے تو اس وقت خداپر ایمان اس کی مدد کرتا ہے اور اسے توانائی بخشتا ہے۔

جو لوگ خداپر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی اپنے آپ کوتنہا اور ناتواںنہیں پاتے،نا امید نہیں ہوتے،کمزوری اور ناتوانائی کا احساس نہیں کرتے ،کیو نکہ خدائی طاقت تمام مشکلات سے بالاتر ہے اور خدا کے سامنے تمام چیزیں آسان ہیں ۔

ایسے لوگ پروردگارعالم کی مہربانی،حمایت اور مدد کی امید کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنی پوری طاقت کو بروئے کار لاتے ہیں اور عشق و امید کے ساتھ سعی و کوشش کو جاری رکھتے ہیں اور مشکلات پر غلبہ پاتے ہیں۔

جی ہاں!خدا پر ایمان انسانوں کے لئے ایک بڑا سہارا ہے۔

خدا پر ایمان استقامت اور پائداری کا سبب ہے۔

خدا پر ایمان،دلوں میں امید کی کرن کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے۔اسی لئے با ایمان افرادکبھی خود کشی کا اقدام نہیں کرتے ہیں کیو نکہ خودکشی کا سر چشمہ مکمل نا امیدی اورناکامی کا احساس ہے ،لیکن با ایمان افراد نہ ہی نا امید ہو تے ہیں اور نہ ہی ناکامی کا احساس کر تے ہیں۔

۳ ۔خدا کی معرفت اورذمہ داری کا احساس

ہم ایسے ڈاکٹروں کو جانتے ہیں کہ جب کوئی تنگ دست بیمار ان کے پاس آتا ہے تو نہ صرف وہ اس سے فیس نہیں لیتے بلکہ اس کی دوائی کے پیسے بھی اپنے جیب سے دیتے ہیں ۔یہاں تک کہ اگر اپنے بیمار کے بارے میں خطرہ کا احساس کرتے ہیں تو اس کی جھونپڑی میں رات بھر اس کے سر ہانے بیٹھے رہتے ہیں ۔یہ خداپرست اور با ایمان افراد ہیں۔

لیکن ہم ایسے ڈاکٹروں کو بھی جانتے ہیں کہ پیسے لئے بغیر بیمار کے لئے کسی قسم کا اقدام نہیں کرتے ہیں ،کیو نکہ یہ قوی ایمان نہیں رکھتے۔

ایک با ایمان انسان جس عہدہ پر بھی فائز ہو،ذمہ داری کا احساس کرتا ہے،وہ فرض شناس ہو تا ہے ،نیک اور بخشنے والا ہو تا ہے ،وہ ہمیشہ اپنے اندر ایک معنوی پلیس کو حاضر پاتا ہے جو اس کے اعمال کی نگرانی کرتا ہے۔

لیکن بے ایمان افراد خود خواہ،خود غرض اور خطر ناک ہوتے ہیں اور اپنے لئے کبھی ذمہ دار ی کے قائل نہیں ہوتے۔ان کے لئے ظلم وستم اور دوسروں کی حق تلفی کرنا آسان ہو تا ہے اور نیک کام انجام دینے کے لئے حاضر نہیں ہوتے ہیں۔

۴ ۔ خدا کی معرفت اور سکون قلب

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں نفسیاتی اور روحی بیماریاں دوسرے زمانوں کی نسبت زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں کا ایک سبب احساس پریشانی ہے،مستقبل کے حوادث کی پریشانی ،موت کی پریشانی،جنگ کی پریشانی اور فقر و ناکامی کی پریشانی۔

لیکن اس کے بعد وہ کہتے ہیں:انسان کی روح سے پریشانیوں اور اضطرابوں کو دور کر نے والی چیزوں میں سے ایک خدا پر ایمان ہے ۔کیونکہ جب بھی پریشانی کے عوامل و اسباب اس کی روح پر اثر انداز ہو نا چاہتے ہیں خدا پر ایمان انھیں پیچھے ہٹا دیتا ہے۔

خدا جو مہر بان ہے،خدا جو رزق دیتا ہے،خدا جو اپنے بندوں کے حالات سے آگاہ ہے اور اس کے بندے جب بھی اس کی طرف رخ کرتے ہیں ،وہ ان کی مدد کرتا ہے اور مشکلات سے انھیں نجات بخشتا ہے۔

اسی لئے حقیقی مو منین ہمیشہ سکون احساس کرتے ہیں اور ان کی روح میں کبھی اضطراب نہیں ہوتا ہے اور چونکہ ان کاکام خدا کے لئے ہوتا ہے اس لئے اگر کبھی کوئی نقصان بھی اٹھاتے ہیں تو اسی سے تلافی چاہتے ہیں ،یہاں تک کہ جنگ کے دوران بھی ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہو تی ہے۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( الّذین آمنواولم یلبسواإیمانهم بظلم اولٰئک لهم الامن ) (سورئہ انعام/ ۸۲)

”جو لوگ ایمان لے آئے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا اور انھیں کے لئے امن وسکون ہے۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیاآپ کوگزشتہ لوگوں کی کوئی ایسی داستان یاد ہے جو مذکورہ ایمان وآثار کی وضاحت کرے؟

۲ ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ خدا پر ایمان رکھنے کادم بھرنے والے بعض افراد کیوں اخلاقی برائیوں سے آلودہ ہو تے ہیں اور ان میں مذکورہ چار آثار نہیں پائے جاتے ہیں؟


تیسرا سبق خدا کی معرفت کے دواطمینان بخش راستے

۱ ۔خدا کی معرفت اور علوم کی ترقی

معرفت خدا کے بارے میں زمانہ قدیم سے آج تک بہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور اس موضوع پر دانشوروں اور غیر دانشوروںمیں کافی بحث وگفتگو ہوتی رہی ہے۔

اس حقیقت کو پانے کے لئے ہر ایک نے ایک راستہ کا انتخاب کیا ہے۔لیکن تمام راستوں میں سے بہترین راستے جو ہمیں خالق کائنات تک جلدی پہنچاسکتے ہیں،دو راستے ہیں:

الف۔اندرونی راستہ(نزدیک ترین راستہ)

ب۔بیرونی راستہ(واضح ترین راستہ)

پہلے طریقہ میں ہم اپنے وجود کی گہرائیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں تا کہ توحید کی آواز کو اپنی روح کے اندر سن لیں۔

دوسرے طریقہ میں ہم وسیع کائنات پر ایک نظر ڈالتے ہیں اورتمام مخلوقات کی پیشانی پر اور ہرذرّہ کے اندرخداوند متعال کی نشانیاں پاتے ہیں۔ان دو طریقوں میں سے ہر ایک کے بارے میں طویل بحثیں کی گئی ہیں ۔لیکن ہماری کوشش یہ ہے کہ ایک مختصر بحث کے ذریعہ ان دو طریقوں کو ایک اجمالی تحقیق کے ساتھ بیان کریں۔

الف۔اندرونی راستہ

مندرجہ ذیل چند موضوعات قابل غور ہیں:

۱ ۔دانشور کہتے ہیں:اگر کسی بھی قوم ونسل سے متعلق ایک انسان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اسے کسی خاص قسم کی تعلیم وتر بیت نہ دی جائے ،حتی خدا پرستی اور مادیت کی گفتگو سے بھی بے خبر رکھاجائے تب بھی وہ خود بخود ایک ایسی قوی طاقت کی طرف متوجہ ہو جاتاہے جومادی دنیا سے بالا تر ہے اور پوری کائنات پر حکمران ہے۔

وہ اپنے دل اورضمیرکی عمیق گہرائیوں میں ایک لطیف ،محبت آمیز،اور متقن و محکم آواز کا احساس کرتا ہے جو اسے علم وقدرت کے ایک عظیم مبدا کی طرف بلاتی ہے،جسے ہم خدا کہتے ہیں ۔

یہ بشرکی وہی پاک اور بے لاگ فطری کی آواز ہے۔

۲ ۔ممکن ہے مادی دنیا اور روز مرہ زندگی کاشور وغل اوراس کی چمک دمک اس کو اپنی طرف مشغول کرے اور وہ عارضی طور پر اس آواز کو سننے سے غافل ہو جائے ،لیکن جب وہ اپنے آپ کو مشکلات اور مصیبتوں کے مقابلہ میں پاتا ہے ،جب خطرناک طبیعی حوادث اس پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے سیلاب،زلزلہ،طوفان اورایک نامناسب موسم کے سبب ہوائی جہاز میں رونما ہونے والے اضطرابی حالات سے دو چار ہو تا ہے ،اس وقت وہ تمام مادی وسائل سے مایوس ہو جاتا ہے اور اپنے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں پاتا ہے تو یہ آواز اس کی روح کے اندر ابھرتی ہے ،وہ احساس کرتا ہے کہ اس کے وجود کے اندر سے ایک طاقت اسے اپنی طرف بلا رہی ہے ،ایک ایسی طاقت جو تمام طاقتوں سے برتر ہے ،ایک پر اسرارطاقت جس کے سامنے تمام مشکلات سہل اور آسان ہیں۔

آپ بہت کم ایسے لوگوں کو پائیں گے جو اپنی زندگی کے مشکل ترین حوادث میں اس قسم کی حالت پیدا نہ کریں اور بے اختیار خدا کو یاد نہ کریں ۔یہی بات ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کتنا اس کے نزدیک ہیں اور وہ کس قدر ہمارے قریب ہے،وہ ہماری روح و جان میں موجود ہے۔

البتہ فطری آوازہمیشہ انسان کی روح میںموجود ہے لیکن مذکورہ لحظات میں یہ آواز زیادہ قوی ہو جاتی ہے۔

۳ ۔تاریخ ہمیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ ایسے صاحبان اقتدار جواپنے جاہ وجلال اور آرام و آسائش کے لمحات میں خدا کا نام تک لینے سے انکار کرتے تھے ،جب اپنی قدرت کی بنیادوں کو متزلزل ہوتے اور اپنی ہستی کے محلوں کو گرتے دیکھتے تھے تو اس عظیم مبداً(خدا) کی طرف متوجہ ہوتے تھے اورفطری آواز کو واضح طور پر سنتے تھے۔

تاریخ بتاتی ہے:جب فر وعون نے اپنے آپ کو پر تلاطم لہروں کی لپیٹ میں پایااور اس نے مشاہدہ کیا کہ جو پانی اس کے ملک کی آبادی اور زندگی کا سبب اور اس کی تمام مادی طاقت کا سر چشمہ تھا،اس وقت اس کے لئے موت کا حکم جاری کر رہاہے اور وہ چند چھوٹی لہروں کے مقابلہ میں بے بس ہو کر رہ گیا ہے اور ہر طرف سے اس پر نا امیدی چھائی ہوئی ہے ،تو اس نے فریاد بلند کی :”میں اس وقت اعتراف کرتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔“حقیقت میں یہ فر یاد اس کی فطرت اور روح کی گہرائیوں سے بلند ہوئی تھی نہ صرف فروعون بلکہ وہ تمام لوگ جو ایسے حالات سے دو چار ہوجاتے ہیں،اس آواز کو واضح طور پر سنتے ہیں۔

۴ ۔خود آپ بھی اگر اپنے دل کی گہرائیوں پر توجہ کریں گے توضرور تائید کریں گے کہ وہاں پر ایک نور چمکتا ہے جو تمھیں خدا کی طرف دعوت دیتا ہے ۔شاید زندگی میں آپ کو کئی بار ناقابل برداشت حوادث اور مشکلات سے دوچار ہو نا پڑا ہو اور تمام مادی وسائل ان مشکلات کو دور کر نے میں ناکام ہو گئے ہوں ،ان لمحات کے دوران آپ کے ذہن میںیہ حقیقت ضرور اجاگر ہوئی ہوگی کہ اس کائنات میں ایک بڑی اور قدرتمند طاقت موجود ہے جو اس مشکل کو آسانی کے ساتھ حل کر سکتی ہے۔

ان لمحات میں آپ کی امید پرور دگار کی عشق سے ممزوج ہوکرآپ کی روح وجان کو اپنی آغوش میں لیتی ہے اور یاس ونا امیدی کو آپ کے دل سے دور کر دیتی ہے ۔

جی ہاں!یہ نزدیک ترین راستہ ہے کہ ہر شخص اپنی روح کے اندر پرور دگار عالم اور خالق کائنات کو پاسکتا ہے۔

ایک سوال

ممکن ہے آپ میں سے بعض افراد یہ سوال کریں کہ کیا یہ احتمال نہیں ہے کہ ہم ماحول اور اپنے والدین سے حاصل کی گئی تعلیمات کے زیر اثر حساس مواقع پر ایسا سوچتے ہیں ؟اور خدا کی بار گاہ میں ہاتھ پھیلاتے ہیں؟

ہم اس سوال کے بارے میں آپ کو حق بجانب جانتے ہیں اور ہمارے پاس اس کا ایک دلچسپ جواب ہے ،جسے ہم آئندہ سبق میں بیان کریں گے ۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( فإذارکبوا فی الفلک دعوااللّٰه مخلصین له الدّین فلمّا نجّٰهم إلی البرّ إذا هم یشرکون ) (سورئہ عنکبوت/ ۶۵)

”پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیںپھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچ دیتا ہے تو فوراً شرک اختیار کر لیتے ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کوشش کرکے مذکورہ آیہ کریمہ کو آیت اور سورہ کے نمبر اس کے تر جمہ کے ساتھ لفظ بہ لفظ یاد کیجئے اور بتدریج زبان قرآن سے آگاہی حاصل کیجئے ۔

۲ ۔کیا آپ کو کبھی کوئی ایسا مشکل حادثہ پیش آیا ہے کہ آپ ہر طرف سے مایوس ہوچکے ہوں اور صرف پروردگار کے لطف کی امید باقی رہی ہو؟(ایک مختصر مقالہ یا تقریر کے ذریعہ اس کو بیان کیجئے )۔

۳ ۔اس راستہ کو ہم نے کیوں نزدیک ترین راستہ کہاہے؟


چوتھا سبق ایک اہم سوال کا جواب

سوال

گزشتہ سبق میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ ہم توحید اور خدا پرستی کی آواز کو اپنی روح کے اندر سے سنتے ہیں ،خاص کر مشکلات اور مصیبتوں کے وقت یہ آواز قوی تر ہو جاتی ہے اور ہم بے ساختہ طور پر خدا کو یاد کر کے اس کی لامحدود قدرت اور لطف و محبت سے مدد مانگتے ہیں۔

یہاں پر ممکن ہے یہ سوال پیش کیا جائے کہ یہ اند رونی آواز،جسے ہم فطرت کی آواز کہتے ہیں ،ان تبلیغات کا نتیجہ ہو جو معاشرہ کے ماحول ،مکتب و مدرسہ اور ماں باپ سے ہم سنتے ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک قسم کی عادت بن گئی ہے۔

جواب

اس اعتراض کا جواب ایک مختصر سے مقدمہ کے ذریعہ واضح ہو جاتا ہے۔

عادتیں اور رسم و رواج ،متغیّر اور ناپائیدار چیزیں ہیں ۔یعنی ہم کسی عادت اور رسم ورواج کو پیدا نہیں کرسکتے ہیں جو پوری تاریخ بشر کے دوران تمام اقوام میں یکساں صورت میں باقی رہے ہوں۔جو مسائل آج عادت اور رسم ورواج کے طور پر رونما ہوتے ہیں،ممکن ہے کل بدل جائیں ۔اسی وجہ سے ممکن ہے ایک قوم کے رسم ورواج اور عادات دوسری قوموں میں نہ پائے جائیں۔

اس لئے اگر ہم مشاہدہ کریں کہ ایک چیز تمام قوموں اور ملتوں کے در میان ہر زمان ومکان میں بلا استثنا ء موجودہے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اس کی ایک فطری بنیاد ہے جوانسان کی روح و جان کی ساخت اور بناوٹ میں قرار پائی ہے۔

مثال کے طور پر ایک ماں کی اپنے فرزند کی نسبت محبت کو کسی تلقین،تبلیغ عادت ورسم ورواج کا نتیجہ قطعاًنہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہم کسی قوم وملت اور کسی زمان و مکان میں نہیں پاتے ہیں کہ ایک ماں اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتی ہو۔

البتہ ممکن ہے ایک ماں نفسیاتی بیماری کی وجہ سے اپنے فرزند کو نابود کر دے یا کوئی باپ جاہلیت کے زمانہ میں غلط اور خرافی تفکر کی وجہ سے اپنی بیٹی کو زندہ دفن کردے ،لیکن یہ انتہائی شاذو نادر اور استثنائی مواقع ہیں،جوجلدی ہی ختم ہو کر اپنی اصلی حالت(یعنی فرزند سے محبت)پر لوٹ آتے ہیں۔

مذکورہ تمہید کے پیش نظر ہم آج کے اور ماضی کے انسانوں کی خدا پرستی کے مسئلہ پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

(چونکہ یہ سبق قدرے پیچیدہ ہے اس لئے اس پر زیادہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے)

۱ ۔عمر انیات کے ماہرین اور بڑے بڑے مورخین کی گواہی کے مطابق ہم کسی ایسے زمانے کو نہیں پاتے ہیں جس میں مذہب اور مذہبی ایمان لوگوں میںموجود نہ رہاہو بلکہ ہر عصراور ہر زمانے میں دنیا میں ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں مذہب موجود تھا اور یہ بذات خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خدا پرستی کا سر چشمہ انسان کی روح وفطرت کی گہرائیوں میں مو جود ہے نہ یہ کہ عادات،رسم و رواج اور تعلیم و تر بیت کا نتیجہ ہے ۔اس لئے کہ اگر یہ عادات ،رسم ورواج اور تعلیم وتر بیت کا نتیجہ ہو تا تو اس صورت میں اسے عام اور لافانی نہیں ہو نا چاہئے تھا ۔

یہاں تک کہ ایسے آثار و قرائن بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ ماقبل تاریخ میں زندگی بسر کر نے والے لوگ بھی ایک قسم کے مذہب کے قائل تھے (ما قبل تاریخ کا زمانہ اس زمانہ کو کہتے ہیں کہ ابھی لکھائی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور انسان اپنی یاد گار کے طور پر تحریر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

البتہ اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ چونکہ ابتدائی لوگ خدا کو ایک مافوق طبیعی وجود کی حیثیت سے نہیں پہچان سکتے تھے اس لئے اسے مادی مخلوقت کے در میان تلاش کرتے تھے اور اپنے لئے مادی مخلوقات سے بت بناتے تھے ۔لیکن انسان نے عقل و فکر کی تر قی کے ساتھ رفتہ رفتہ حق کو پہچان لیا اور مادی مخلوقات کے بنائے ہو ئے بتوں کو چھوڑ کر طبیعی کائنات کے ماوراء خدا کی لا محدود قدرت سے آگاہ ہوا۔

۲ ۔بعض ماہرین نفسیات نے صراحتاًکہاہے کہ انسان کی روح کے چارپہلو یا چار اصلی حس پائے جاتے ہیں:

۱ ۔”دانائی کی حس“: یہ حس انسان کوعلم و دانش حاصل کر نے کی ترغیب دیتی ہے اور اس کی روح کو علم حاصل کر نے کا شوق دلاتی ہے ،خواہ یہ علم اس کے لئے مادی فائدہ رکھتا ہو یانہ ہو۔

ب۔”بھلائی کی حس“یہ حس عالم بشریت میں اخلاقی اور انسانی مسائل کا سر چشمہ ہے۔

ج۔”زیبائی کی حس“:یہ حس،حقیقی معنی میں شعر،ادبیات اور فنّ وہنر کا سر چشمہ ہے۔

د۔”مذہبی حس“:یہ حس،انسان کو معرفت خدا اور اس کے فر مان کی اطاعت کر نے کی دعوت دیتی ہے ۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی حس انسانی روح کی ایک بنیادی اور اصلی حس ہے ۔یعنی یہ حس نہ کبھی اس سے جدا تھی اور نہ کبھی جدا ہو گی۔

۳ ۔آئندہ بحثوں میں ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اکثر مادہ پرست اور منکرین خدا نے بھی ایک طرح سے خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے،اگر چہ وہ لوگ خدا کے نام لینے سے پرہیز کرتے ہیں اوراسے فطرت یا دوسرے نام سے پکارتے ہیں ،لیکن اس فطرت کے لئے ایسی صفتوں کے قائل ہوتے ہیں کہ جو خدا کی صفات کے مشابہ ہیں۔

مثلاًکہتے ہیں :فطرت نے اگر انسان کو دو گردے دئے ہیں،یہ اس لئے ہے کہ اسے معلوم تھا،ممکن ہے ان دو گردوں میں سے ایک خراب ہو جائے تو دوسرا گردہ اس کی زندگی کو جاری رکھ سکے ،وہ ایسی ہی تعبیرات بیان کرتے ہیں ۔کیا یہ بات ایک بے شعور فطرت کے ساتھ متناسب ہے ؟یا یہ کہ یہ ایک ایسے خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے جو لامحدود علم وقدرت کا مالک ہے،اگر چہ انہوں نے اس کا نام فطرت رکھا ہے۔

بحث کا نتیجہ:

اس بحث میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ،اس سے یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں :

خدا کی محبت ہماری روح میں ہمیشہ موجود تھی اور ہو گی۔

خدا کا ایمان ایک ایسا ابدی شعلہ ہے جو ہمارے قلب و روح کو گرم کر تا ہے۔

خدا کی معرفت حاصل کر نے کے لئے ہم مجبور نہیں ہیں کہ طولانی راستے طے کریں،ہمیں اپنے وجود کی گہرائیوں میں نظر ڈالنی چاہئے،خدا پر ایمان کو ہم وہاں پر پائیں گے۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( ونحن اقرب إلیه من حبل الورید ) (سورئہ ق/ ۱۶)

”اور ہم اس سے رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔عادت کی چند مثالیں اور فطرت کی چند مثالیں بیان کیجئے۔

۲ ۔نادان لوگ کیوں بت پرستی کے پیچھے جاتے تھے؟

۳ ۔مادہ پرست خدا کو کیوں”فطرت“ کے نام سے یاد کرتے ہیں؟


پانچواں سبق: ایک سچاواقعہ

ہم نے بیان کیا کہ زبان سے خدا کا انکار کر نے والے بھی اپنی روح کی گہرائیوں میں خدا کے وجود کا ایماب رکھتے ہیں۔

بیشک کامیاں بیاں ۔خاص کر کم ظرف لوگوں کے لئے۔غرور پیدا کرتی ہیں اور یہی غرور ،فراموشی کا سبب بنتا ہے ،یہاں تک کہ کبھی انسان اپنی فطرت کو بھی بھول جاتا ہے ۔لیکن جب حوادث کے طوفان اس کی زندگی کو تہس نہس کر کے رکھ دیتے ہیں اور مشکلات کی تندو تیز آندھیاں ہر طرف سے اس پر حملے کرتی ہیں ،تو اس کی آنکھوں کے سامنے سے غرور و تکبر کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور توحید و معرفت خدا کی فطرت نمایاں ہو جاتی ہے۔

تاریخ بشر اس قسم کے افراد کے بہت سے نمو نے پیش کرتی ہے ،مندرجہ ذیل واقعہ ان میں سے ایک ہے:

ایک شخص اپنے زمانے کا مقتدر اور قوی وزیر تھا ،اکثر عہدوں کو اپنے قبضہ میں لے چکا تھا ،کوئی اس کی مخالفت کی جرئت نہیں کرتا تھا ۔ایک دن یہ وزیر ایک ایسی مجلس میں داخل ہوا جہاں پر دینی علماء بیٹھے تھے ۔اس نے ان سے مخاطب ہو کر کہا تم لوگ کب تک کہتے رہو گے کہ کائنات میں کوئی خدا ہے ،میں اس کی نفی میں ہزار دلیلیں پیش کرسکتا ہوں۔

اس نے اس جملہ کو ایک خاص غرور وتکبر کے ساتھ ادا کیا ۔مجلس میں موجود علماء چونکہ جانتے تھے کہ وہ اہل منطق واستلال نہیں ہے اور اقتدار نے اسے اس قدر مغرور کر دیا ہے کہ کوئی حق بات اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتی ہے،اس لئے انہوں نے بے اعتنائی کے ساتھ ایک با معنی اور حقارت آمیز خاموشی اختیار کی۔

یہ واقعہ گزر گیا ،ایک مدت کے بعد وزیر پر الزام لگا یا گیا اور وقت کی حکومت نے اسے گرفتار کر کے جیل بھیجدیا۔

ان علماء میں سے ایک عالم جو اس دن اس مجلس میں موجود تھا ،اس نے سوچا کہ اس شخص کی بیداری کا وقت آگیا ہے ،اب جبکہ اس کا غرور ٹھنڈا ہو چکا ہے اور خود پرستی کے پر دے اس کی آنکھوں سے ہٹ گئے ہیں اور حق کو قبول کر نے کی حس اس میں پیدا ہو گئی ہے اگر اب اس سے رابطہ قائم کیا جائے اور اس کی نصیحت کی جائے تو سود مند ہو گی ۔اس عالم دین نے اس شخص سے ملاقات کی اجازت حاصل کی اور اس سے ملاقات کر نے کے لئے جیل گیا ۔جوں ہی وہ اس شخص کے نزدیک پہنچا تو لوہے کی سلاخوں کے پیچھے اسے ایک کمرہ میں اکیلا پایا ۔وہ ٹہلتے اور سوچتے ہو ئے کچھ اشعار گنگنا رہا تھا ،عالم دین نے غور سے سنا تو دیکھا وہ یہ معروف اشعار پڑھ رہا تھا:

ما ہمہ شیران ولی شیر علم حملہ مان از باد باشد دم بدم!

حملہ مان پیدا وناپیداست باد جان فدای آن کہ ناپیداست باد!

یعنی ہماری مثال ان شیروں کے مانند ہے جو جھنڈوں پر نقش کئے جاتے ہیں،جب ہوا چلتی ہے تو وہ حر کت میں آتے ہیں گویا وہ حملہ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ کچھ نہیں ہیں بلکہ یہ ہوا کا چلنا ہے جو اسے قدرت بخشتا ہے ،ہم بھی جس قدر طاقتور ہو جائیں یہ طاقت ہماری اپنی نہیں ہے ۔جس خدا نے ہمیں یہ طاقت دی ہے،وہ جب چاہے ہم سے واپس لے لے۔

مذکورہ عالم دین نے دیکھا کہ ان حالات میں نہ صرف یہ خدا کا منکر نہیں ہے بلکہ ایک شدید خداشناس بن گیا ہے ۔اس سے حال واحوال پوچھنے کے بعد کہا:یاد ہے ایک دن تم نے کہاتھا :خدا کی نفی میں ہزار دلائل پیش کر سکتا ہوں میںاس و قت اس لئے آیاہوں کہ تمھارے ہزار دلائل کا ایک جواب دوں :خدا وند متعال وہ ہے جس نے تم سے اس عظیم اقتدار کو اس آسانی کے ساتھ چھین لیا، اس نے اپناسر نیچا کر لیا اور شر مندہ ہو گیا اور کو ئی جواب نہیں دیا کیو نکہ اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا اور وہ اپنی روح کے اندر خدا کے نور کا مشاہدہ کر رہا تھا۔

قرآن مجید فرعون کے بارے میں فر ماتا ہے:

( حتیّٰ إذاادرکه الغرق قال آمنت انّٰه لا إلٰه إلّاالّذی آمنت به بنوا إسرائیل ) (سورئہ یونس/ ۹۰)

”یہاں تک کہ غر قابی نے اسے (فرعون کو)پکڑ لیا تو اس نے آوازدی کہ میں اس خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لے آیا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔مذکورہ سچے واقعہ کو چند سطروں میں بیان کیجئے ۔

۲ ۔بنی اسرائیل کو کیوں بنی اسرائیل کہتے ہیں؟

۳ ۔فرعون کو ن تھا ،کہاں زندگی بسر کرتا تھا اور اس کا دعویٰ کیا تھا؟


چھٹا سبق: خدا کی معرفت کا دوسرا راستہ

ب۔بیرونی راستہ

ہم جس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں،اس پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ کائنات درہم برہم نہیں ہے بلکہ تمام موجودات ایک معیّن راہ پر

گا مزن ہیں اور کائنات کا نظم ایک بڑی فوج کے مانند ہے جو مختلف اور منظم یونٹوں میں تقسیم ہو کر ایک معین مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

مندر جہ ذیل نکات اس سلسلہ میں ہر شبہہ کو دور کرسکتے ہیں:

۱ ۔ہر زندہ مخلوق کے وجود میں آنے اور باقی رہنے کے لئے ضروری ہے کچھ خاص قوا نین اور حالات ایک دوسرے سے جڑُے ہوئے پائے جائیں ۔مثلاً ایک درخت کے وجود میں آنے کے لئے:زمین،مناسب آب وہوا اور ایک معیّن دھوپ اور گر می کی ضرورت ہو تی ہے تا کہ بیج کو ڈالا جائے اور وہ اچھی طرح سے غذا حاصل کرے ،تنفس کرے ،سبز ہو جائے اور نشو ونما پائے ۔

ان حالات کے بغیر اس کی نشو ونما ممکن نہیں ہے ،ان حالات کو منتخب کر نے اور ان مقد مات کو فراہم کر نے کے لئے عقل اور علم ودانش کی ضرورت ہے۔

۲ ۔ہر مخلوق کا اپنا ایک خاص اثر ہو تا ہے ،پانی اور آگ میں سے ہر ایک کا اپنا خاص اثر ہے ،جو ان سے کبھی جدا نہیں ہو تا ہے بلکہ ہمیشہ ایک ثابت اور پائدار قانون کی پیروی کر تا ہے ۔

۳ ۔زندہ مخلوقات کے تمام اعضاء آپس میں ایک دوسرے کا تعاون کر تے ہیں مثال کے طور پر یہی انسان کا بدن جو بذات خود ایک عالم ہے ،عمل کے وقت اس کے تمام اعضاء شعوری اور لا شعوری طور پر ایک خاص ہماہنگی سے کام کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر اگر کسی خطرہ سے دوچار ہو جائے تو تمام اعضاء دفاع کے لئے متحد ہو جاتے ہیں ۔یہ نزدیک رابطہ اور تعاون،کائنات کے نظم کی ایک اور علامت ہے ۔

۴ ۔کائنات پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ نہ صرف ایک زندہ مخلوق کے اعضاء وجسم بلکہ کائنات کی تمام مخلوقات بھی آپس میں ایک خاص ہماہنگی رکھتی ہیں۔ مثلاً زندہ مخلوقات کی نشو ونماکے لئے سورج چمکتا ہے ،بادل برستا ہے ،ہوا چلتی ہے ،زمین اور زمین کے منابع اس کی مدد کرتے ہیں ۔یہ کائنات میں ایک معین نظام کے وجود کی نشانیاں ہیں ۔

”نظم وضبط“اور ”عقل“کا رابطہ

یہ حقیقت ہر انسان کے ضمیر پر واضح ہے کہ جہاں کہیں بھی نظم پایا جاتا ہو وہ”عقل،فکر،نقشہ اور مقصد“کی دلیل ہے۔

کیونکہ انسان جہاں کہیں بھی ایک ثابت نظم وضبط اور قوانین کا مشاہدہ کرے وہ جانتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی علم وقدرت کے ایک مبدا کی بھی تلاش اور جستجو کر نی چاہئے اور اپنے ضمیر کے اس ادراک میں کسی استدلال کی ضرورت کا احساس بھی نہیں کرتا ہے۔وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ایک اندھا اوران پڑھ شخص ہر گز ایک ٹائپ مشین سے ایک اچھا مضمون یاایک اجتماعی و تنقیدی مقالہ نہیں لکھ سکتا ہے ،اور ایک دوسال کا بچہ کاغذ پر نامنظم صورت میں قلم چلاکر ہر گز ایک اچھی اور گراں قیمت نقا شی نہیں کرسکتا ہے۔ بلکہ اگر ہم ایک اچھا مضمون یا گراں قیمت مقالہ دیکھتے ہیں تو جانتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ اور عقل و شعور والے کسی شخص نے اسے لکھا ہے ،یااگر کسی نمائش گاہ میں نقاشی کا ایک اچھا نمو نہ دیکھتے ہیں تو اس بات میں شک وشبہہ نہیں کرتے ہیں کہ اسے ایک ہنر مند نقاش نے بنایا ہے ،اگر چہ ہم نے کبھی اس ہنر مند نقاش کو نہ دیکھا ہو۔

اس لئے جہاں کہیں بھی نظم وضبط پا یا جائے اس کے ساتھ عقل و ہوش ضرور ہو گا اور یہ نظم جس قدر بڑا،دقیق تر اور دلچسپ ہو گا ،جس علم و عقل نے اسے خلق کیا ہے وہ بھی اسی قدر بڑا ہو گا ۔

بعض اوقات اس بات کو ثابت کر نے کے لئے کہ ہر منظم چیز کے لئے عقل ودانش کے سر چشمہ کی ضرورت ہے ،ریاضیات عالی میں ذکر شدہ ”احتمالات کے حساب“سے مدد لی جاتی ہے اور اس طریقہ سے ثابت کرتے ہیں کہ مثلاًایک ان پڑھ شخص اگر ٹائپ مشین کے ذریعہ اتفاقی طور پر مشین کے بٹن دبا نے سے ایک مقالہ یا چند اشعار کو لکھنا چاہے تو”احتمالات کے حساب “کے مطابق اس میں اربوں سال لگ جائیں گے کہ حتی کرئہ زمین کی پوری عمر بھی اس کے لئے کافی نہیں ہوگی ۔(اس کی مزید وضاحت کے لئے کتاب”آفرید گار جہان“یا کتاب ”در جستجو خدا“کا مطالعہ فر مائیں)قرآن مجید فر ماتا ہے:

( سنریهم آیٰتنا فی الاٰفاق وفی انفسهم حتّیٰ یتبیّن لهم انّه الحقّ او لم یکف بربّک انّه علیٰ کل شیءٍ شهید ) (سورہ فصلت/ ۵۳)

”ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تا کہ ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ برحق ہے اور کیا تمھارے پرور دگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے۔کہ وہ ہرشے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والا ہے۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔صنعتی کار خانوں کی چند مثالیں(سبق میں بیان کی گئی مثال کے علاوہ )پیش کیجئے ،جن کے مشاہدہ سے خالق کائنات کے وجود کا علم حاصل ہو جائے۔

۲ ۔”آفاق“اور ”انفس“میں کیا فرق ہے؟آفاق اور انفس میں خدا کی نشانیوں کی چند مثالیں بیان کیجئے۔


ساتواں سبق:نظام خلقت کے چند نمونے

پوری کائنات میں ”نظم“،”مقصد“اور”نقشہ“کو واضح طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔اب توجہ فر ما یئے کہ ہم ان کے چند نمونوں کو بیان کرتے ہیں:

ہم نے یہاں پر آپ کے لئے چند چھوٹے بڑے نمونے اکٹھا کئے ہیں۔

خوشبختی سے آج طبیعی علوم میں ترقی کے نتیجہ میں عالم طبیعت میں انسان،حیوان،پودوں،خلیوں اور ایٹم کی حیرت انگیز عمارت کی باریک بینیوں اور ستاروں کے حیرت انگیز نظام نے ہم پر معرفت خدا کے دروازے کھول دئے ہیں۔اس لئے جر ات کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ طبیعی علوم کی تمام کتابیں تو حید اور معرفت خدا کی کتابیں ہیں ،جو ہمیں عظمت پروردگار کا درس دیتی ہیں،کیونکہ یہ کتابیں کائنات کی مخلوقات کے دلکش نظام سے پردہ اٹھاتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ خالق کائنات کس قدر عالم وقادر ہے۔

ملک بدن کی حکمرانی کا مرکز

ہماری کھوپڑی کے اندر خاکی رنگ کا ایک مادہ ہے ،جسے ہم مغز کہتے ہیں ۔یہ مغزہمارے بدن کے اہم ترین اور دقیق ترین حصہ کو تشکیل دیتا ہے ،کیو نکہ اس کاکام بدن کے تمام قوا کو فر مان جاری کرنا اور ہمارے جسم کے تمام اعضاء کو کنٹرول کرنا ہے۔اس عظیم مرکز کی اہمیت کو بیان کر نے کے لئے مناسب ہے پہلے آپ کے لئے یہ خبر بیان کریں:

جرائد میں یہ خبر نقل کی گئی تھی کہ ایک شیرازی طالب علم کو خوزستان میں ایک ٹریفک حادثہ کے نتیجہ میں مغز پر چوٹ لگ گئی تھی ،بظاہروہ سالم نظر آتا تھا ۔لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی تمام یاد داشتیں کھو بیٹھا تھا۔اس کا دماغ بخوبی کام کر تا تھا ۔مطالب کو سمجھتا تھا،لیکن اگر اپنے ماں یا باپ کو دیکھتا تو انھیں نہیں پہچانتا تھا۔جب اس سے کہتے تھے کہ یہ تمھاری ماں ہے ،وہ تعجب کرتا تھا ۔اسے اپنے گھر شیراز لے جایا گیا اور اس کی دستکاری۔۔جو اس کے کمرہ کی دیوار پر نصب تھی ۔۔اسے دکھائی گئی تو وہ تعجب سے ان پر نگاہ کر نے کے بعد کہتاتھا کہ میں انھیں پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔

معلوم ہوا کہ اس مغزی چوٹ کے نتیجہ میں اس کے دماغ کی خلیوں کا ایک حصہ، جو حقیقت میں فکر اور حافظہ کے مخزن کے در میان رابطہ کے تار کا رول ادا کرتا ہے ،بیکار ہوا ہے اور جیسے بجلی کا فیوزاڑ جانے کے نتیجہ میں بجلی منقطع ہو کر تاریکی پھیل جاتی ہے ،اسی طرح اس کی سابقہ یادوں کا ایک بڑا حصہ فرا موشی کی تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔

شاید اس کے مغز کا بیکار شدہ حصہ ایک پن کی نوک سے زیادہ نہیں ہوگا ،لیکن اس نے اس کی زندگی پر کس قدر اثر ڈالا ہے !اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ہمارے مغز کا سسٹم کس قدر پیچیدہ ہے اور اہم ہے۔

مغز و اعصاب کا سلسلہ دواہم حصوں سے تشکیل پاتا ہے :

۱ ۔ارادی اعصاب :ہمارے بدن کے تمام اختیاری حرکات،جیسے:راہ چلنے دیکھنے ،باتیں کر نے و....کا سرچشمہ اعصاب کا یہی حصہ ہے ۔

۲ ۔غیر ارادی اعصاب:اعصاب کا یہ حصہ ،دل کی دھڑکن،معدہ وغیرہ جیسے اعضاء کا کنٹرول کرتا ہے۔مغز کے اس حصہ کا ایک ذرہ بیکار ہو نے کے نتیجہ میں ممکن ہے انسان کا قلب یاکوئی دوسرا عضو مختل ہو کر رہ جائے۔

دماغ کا ایک عجیب وغریب حصہ:

”مخ“(بھیجا)دماغ کا وہ چھوٹا حصہ ہے جو دماغ کے دوحصوں کے در میان واقع ہے ،مغز کا یہ بالکل چھوٹاحصہ ہوش ،ارادہ اور شعور کا مرکز ہے۔یہ مغز کا ایک اہم ترین حصہ ہے بہت سے جذباتی رد عمل ،جیسے غضب اور ترس وغیرہ اسی سے مربوط ہیں ۔

اگر کسی جانور کا ”مخ“الگ کر دیا جائے ،لیکن اس کے باقی اعصاب اپنی جگہ پر صحیح وسالم ہوں تو وہ جانور زندہ رہتا ہے لیکن فہم وشعور کو بالکل ہی کھو دیتا ہے۔ایک کبو تر کا ”مخ“نکالا گیا ۔وہ ایک مدت تک زندہ رہا۔لیکن جب اس کے سامنے دانہ ڈالتے تھے وہ اسے تشخیص نہیں دے سکتا تھا اور بھوکا ہو نے کے باوجود اسے نہیں کھاتا تھا ۔اگر اسے اڑاتے تھے ،تو وہ پرواز ہی کرتا رہتا تھا ،یہاں تک کہ کسی چیز سے ٹکراکرگر جاتا تھا۔

دماغ کا ایک اور حیرت انگیز حصہ،”حافظہ“ ہے۔

کیا آپ نے اس پر غور کیا ہے کہ ہماراقوئہ حافظہ کس قدر حیرت انگیز ہے؟اگر ایک گھنٹہ کے لئے ہم سے حافظ چھین لیا جائے تو ہم کس مصیبت سے دو چار ہو جائیں گے؟!

حافظ کا مرکز ،جو ہماے دماغ کا ایک چھوٹا حصہ ہے ،ہماری پوری عمر کی یادوںکو تمام خصوصیات کے ساتھ ریکارڈکرتا ہے ۔جس شخص نے بھی ہم سے رابطہ قائم کیا ہو،اس کی تمام خصوصیات جیسے،قد،شکل وصورت،رنگ ،لباس،اخلاق اور جذبات کو ریکارڈ کر کے محفوظ رکھتا ہے اور ہر ایک کے لئے ایک الگ فائل تشکیل دیتا ہے۔لہذا جوں ہی ہم اس شخص سے روبرو ہو تے ہیں ،ہماری فکر تمام فائلوں میں سے اس شخص کی فائل کو نکال کر فوری طور پر اس کا مطالعہ کرتی ہے ۔اس کے بعد ہمیں حکم دیتی ہے کہ ہم اس کے مقابلہ میں کون سا رد عمل ظاہر کریں۔

اگر وہ دوست ہے تو اس کا احترام کریں اور اگر دشمن ہے تو اظہار نفرت کریں۔ لیکن یہ تمام کام اس قدر سرعت کے ساتھ انجام پاتے ہیں کہ وقت کے ذراسا بھی فاصلہ کا احساس تک نہیں ہو تا۔

اس مسئلہ پر تعجب اس وقت اور زیادہ ظاہر ہو تا ہے جب ہم اپنے حافظ میں موجود چیزوں کو تصویر کے ذریعہ کاغذپر تر سیم کر نا چاہیں یا انھیں کیسٹ میں ضبط کر نا چاہیں تو ہم بیشک کاغذ اور کیسٹ کی بڑی تعداد کو مصرف میں لاتے ہیں جو ایک انبار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔عجیب تر یہ ہے کہ ان کیسٹوں اور کاغذات میں سے ایک کو باہر نکالنے کے لئے ہمیں بہت سے مامورین کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے ،جبکہ ہمارا حافظہ ان تمام کاموں کو آسانی کے ساتھ فی الفور انجام دیتا ہے۔

بے شعورطبیعت کیسے باشعورچیزوں کی تخلیق کرسکتی ہے؟

انسان دماغ کے عجائبات کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں،ان میں سے بعض کاکالجوں اور یونیورسٹیوںکی کتابوں میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔کیا اس پر باور اور یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ غیر معمولی ،انوکھا،دقیق،پیچیدہ اورپر اسرار دماغ کسی بے شعور طبیعت کی تخلیق ہوگی؟اس سے بڑھ کر کوئی بات تعجب انگیز نہیں ہوسکتی ہے کہ ہم بے عقل طبیعت کو عقل کا خالق جانیں!

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( وفی انفسکم افلا تبصرون ) (ذاریات/ ۳۱)

”خود تمھارے اندر بھی (خدا کی عظمت اور قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں)کیاتم نہیں دیکھ رہے ہو؟“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیاآپ انسانی دماغ کے عجائبات کے بارے میں کچھ اور مطالب جانتے ہیں؟

۲ ۔خداوند متعال نے گوناگون حوادث کے مقابلہ میں انسانی دماغ کے تحفظ کے لئے کون سی تد بیریں کی ہیں؟


آٹھواں سبق: ایک چھوٹے سے پرندے میں حیرت انگیزدنیا

چمگادڑ اور اس کی عجیب خلقت

اس درس میں ہم اپنے بدن کے عظیم ملک سے۔۔کہ ہم نے اس کے سات شہروں میں سے ایک گلی کی بھی سیر نہیں کی ہے ۔۔باہر آکر تیزی کے ساتھ ادھر ُادھر گھوم پھر کر مخلوقات کے حیرت انگیز نظام کے چند نمو نے اکٹھا کریں گے:

ہم رات کی تاریکی میں آسمان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ہم ظلمت کے پردوں کے در میان ایک غیر معمولی پرندے کو پراسرار سایہ کی صورت میں دیکھتے ہیں جو پوری شجاعت کے ساتھ اپنی غذا حاصل کر نے کے لئے ہر طرف پرواز کر رہاہے۔

یہ پرندہ وہی ”چمگا دڑ“ ہے،جس کی ہر چیز عجیب ہے۔لیکن رات کی تاریکی میں اس کی پرواز عجیب تر ہے۔

اندھیری رات میں چمگا دڑ کا انتہائی سرعت کے ساتھ پروازکرنا اور کسی چیز سے اس کا نہ ٹکرانا اس قدر تعجب انگیز ہے کہ جتنا بھی اس پر غور کیا جائے اس پر اسرار پرندہ کے بارے میں نئے نئے اسرار معلوم ہو تے ہیں۔

یہ پرندہ رات کی تاریکی میں اسی سرعت وشجاعت کے ساتھ پرواز کرتا ہے کہ جیسے ایک تیز اڑنے والا کبوتر دن کے اجالے میں پرواز کر تا ہے ۔یقینا اگر اس پرندہ میں مانع کے بارے میں اطلاع دینے کا کوئی وسیلہ نہ ہو تا تو بڑی احتیاط سے اور آہستہ آہستہ پرواز کر تا۔

اگر اس پرندہ کو ایک تنگ و تاریک اورپرپیچ وخم اور سیاہی سے بھرے ٹنل(سرنگ)میں چھوڑ دیاجائے تووہ تمام پیچ وخم سے گزر جاتا ہے بغیر اس کے کہ ایک بار بھی ٹنل کی دیوار سے ٹکرائے اور ایک ذرہ سیاہی بھی اس کے پروں پر بیٹھے چمگادڑ کی یہ عجیب حالت اس کے وجود میں پائی جانے والی خاصیت کے سبب ہے جو کہ راڈار کی خاصیت کے ماند ہے۔

یہاں پر ہمیں راڈار کے بارے میں تھوڑی سی آگاہی حاصل کر نی چاہئے تا کہ ہمیں اس چھوٹے سے چمگادڑ میں اس راڈار کی حالت معلوم ہو جائے۔

علم فزیکس میں آواز کے سلسلہ میں ماورائے صوت کی امواج کے بارے میں ایک بحث ہے ۔یہ وہی امواج ہیں جن کا وقفہ اور طول اس قدر زیادہ ہے کہ انسان کے کان اسے درک کر نے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں ،اسی لئے انھیں ماورائے صوت کہتے ہیں ۔

جب اس قسم کی امواج کو ایک قوی ٹرانسمیٹر کے ذریعہ ایجاد کیا جاتا ہے ،تو یہ امواج ہر طرف پھیلتی ہیں ۔لیکن جوں ہی فضا میں کسی جگہ پر کسی رکاوٹ (دشمن کے جہاز یا کسی اور مانع)سے ٹکراتی ہیں ایک فٹ بال کے دیوار سے ٹکرانے کے مانند واپس پلٹتی ہیں بالکل اسی طرح کہ جب ہم ایک اونچے پہاڑ یا دیوار کے سامنے آوازبلند کرتے ہیں تو اس آواز کی گونج پہاڑ یا دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہے ۔ان امواج کی باز گشت کی مدت کے مطابق اس مانع کے فاصلہ کا صحیح انداز کیا جاسکتا ہے۔

بہت سے ہوائی جہازوں اور کشتیوں کو راڈرار کے ذریعہ سے ہی ہدایت کی جاتی ہے جہاں کہیں بھی وہ جانا چاہیں ۔اسی طرح دشمن کے ہوائی جہاز اور کشتیوں کو معلوم کر نے کے لئے بھی راڈار سے استفا دہ کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس چھوٹے سے پرندہ میں راڈار کے مانند ایک مشین موجود ہے ۔اس کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ اگر چمکادڑ کو ایک بند کمرے میں پرواز کرائیں اور اسی لمحہ ماورائے صوت کی امواج کو سننے کے قابل امواج میں تبدیل کر نے والے ایک مائیکر وفون کو کمرہ میں رکھا جائے تو پورے کمرہ میں ایک نامفہوم گوش خراش آواز پھیل جائے گی اور ہر سیکنڈمیں ۳۰ سے ۶۰ مرتبہ ماورائے صوت کی امواج چمگادڑ سے سنی جائیں گی۔

لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ چمگادڑ کے کس عضو سے یہ امواج پیدا ہوتی ہیں یعنی اس کا ٹرانسمیٹرکون سا عضو ہے اور مائیکر و فون کون سا عضو ہے؟

اس سوال کے جواب میں سائنسدان کہتے ہیں:یہ امواج چمگادڑکے حلق کی نالی کے قوی پٹھّوں سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کی ناک کے سوراخوں سے باہر نکلتی ہیں اور اس کے بڑے کان امواج کو حاصل کر نے میں مائیکروفون کاکام انجام دیتے ہیں۔

اس لئے چمگادڑاندھیری رات کی اپنی سیر و سیاحت کے دوران اپنے کانوں کا مر ہون منت ہے۔”جورین“نامی ایک روسی سائنسدان نے تجربے سے ثابت کیا ہے کہ اگر چمگادڑ کے کان کاٹ دئے جائیںتو وہ تاریکی میں کسی مانع سے ٹکرائے بغیر پرواز نہیں کرسکتا ہے۔جبکہ اگر اس کی آنکھوں کو بالکل ہی نکال دیا جائے تو پھر بھی وہ پوری مہا رت سے پرواز کر سکتا ہے ،یعنی چمگادڑ اپنے کانوں سے دیکھتا ہے،نہ اپنی آنکھوں سے اور یہ ایک عجیب چیز ہے۔(توجہ کیجئے!!)

اب ذرا غور کیجئے کہ اس چھوٹے سے پرندہ کے اس نازک جسم میں ان دو عجیب اور حیرت انگیز مشینوں کو کس نے خلق کیا ہے اور ان سے استفادہ کر نے کے طریقہ کو کس نے اسے سکھایا ہے تاکہ اس اطمینان بخش وسیلہ کے ذریعہ رات کے وقت اپنی پرواز کے دوران بہت سے خطرات سے محفوظ رہ سکے؟واقعاًکس نے سکھایا ہے؟

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بے شعور اور بے عقل طبیعت ایسا کام انجام دے سکے؟اور ایک ایسی مشین کو آسانی کے ساتھ اس پرندہ کے بدن میں قرار دے ،جسے بڑے بڑے سائنسدان کافی رقو مات خرچ کر کے بناتے ہیں؟

شاعر کہتا ہے:

شائستہ ستائش آن آفریدہ گاری اس کارچنین دلاویز نقشی زماء وطینی

وہ خالق جہان ہی تعریف کے ہی لائق جو آب وگل دکش جہاں بنادے

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں چمگادڑ کی خلقت کے بارے میں ایک مفصل خطبہ میں فر مایا ہے:

لاتمتنع من المضی فیه لغسق دجنتهفسبحان الباری لکل شیء علی غیر مثال “(خطبہ / ۱۵۵)

”وہ (چمگادڑ)شدید اندھیرے کی وجہ سے ہر گز اپنی راہ سے پیچھے نہیں ہٹتا ہے پاک ومنزّہ ہے وہ خدا جس نے کسی نمونہ کے بغیر ہر چیز کو خلق کیا ہے“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔چمگادڑ کی خلقت کے بارے میں آپ کونسے مزید دلچسپ اطلاعات رکھتے ہیں؟

۲ ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ چمگادڑ کے پر ،بچے کی پرورش کا طریقہ اور یہاں تک کہ اس کاسونا دوسرے حیوانات سے متفاوت ہے یعنی یہ مکمل طور پر ایک استثنائی پرندہ ہے


نواں سبق :حشرات اور پھولوں کی دوستی!

موسم بہار میں ایک دن ،جب ہوا رفتہ رفتہ گرم ہو رہی ہو،سرسبز اور خوبصورت باغوں اور کھیتوں کی ایک سیر کیجئے ۔آپ وہاں پر چھوٹے چھوٹے حشرات،شہد کی مکھیاں،طلائی مکھیاں ،تتلیاں اور چھوٹے چھوٹے مچھروں کو گروہوں کی صورت میں مشاہدہ کریں گے جوآہستہ آہستہ کسی قسم کے شور وغل کے بغیر ادھر اُدھردوڑتے پھرتے ہیں،ایک پھول سے اٹھ کر دوسرے پھول کی طرف پرواز کر تے ہیں ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی کی طرف اڑتے ہیں ۔

یہ حشرات اس قدر سر گرم عمل ہیں کہ جیسے کوئی مرموز طاقت ایک منتظم کے مانند انھیں حکم دیتی ہے اور ایک کارخانہ میں وردی پوش مزدوروں کی طرح ان کے پر وبال پھولوں کی زردی سے آغشتہ ہو کر مزدوروں کی شکل وصورت اختیار کر لیتے ہیں اور نہایت تندی اور لگن سے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔

حقیقت میں یہ ایک اہم ماموریت اور کام انجام دیتے ہیں ۔ان کی یہ ماموریت اس قدر عظیم ہے کہ پروفیسر رلئون برٹن اس سلسلہ میں کہتا ہے:

”بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ حشرات کے وجود کی بغیر ہمارے میوؤں کی ٹوکریاں خالی پڑی رہ جائیں گی“

ہم اس دانشور کے قول کے ساتھ اس جملہ کا اضافہ کرتے ہیں:”برسوں کے بعد ہمارے باغ اور لہلہاتے کھیت اس طراوت اور شادابی مکمل طور پر کھودیں گے ۔“اس لئے حقیقت میں حشرات میوؤں کی پرورش کرنے والے اور پھولوں کے بیج مہیّا کر نے والے ہیں۔

آپ ضرور پوچھیں گے کیوں کر؟اس لئے کہ پودوں کا حساس ترین حیاتی عمل یعنی عمل لقاح ( fertilization )انہی حشرات کے ذریعہ انجام پاتا ہے ۔آپ نے ضرور یہ بات سنی ہوگی کہ بہت سے حیوانوں کے مانند پھولوں میں نر و مادہ پائے جاتے ہیں اور جب تک ان کے در میان ملاپ اور پیوند کا کام انجام نہ پائے ،بیج ،دانہ اور ان کے نتیجہ میں میوہ حاصل نہیں ہو گا ۔

لیکن کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیاہے کہ پودوں کے بے حس وحرکت مختلف حصے کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جذب ہوتے ہیں اور نر پھولوں کی خلیہ ،جو مرد کے نطفہ( sperm )کے حکم میں ہے،مادہ پھولوں کی خیلہ سے ،جو مادہ کے نطفہ ( )کے حکم میں ہے، ملتی ہے اور ان کے در میان ازدواج کے مقد مات فراہم ہو تے ہیں؟

یہ کام بہت مواقع پر حشرات کے ذریعہ انجام پاتا ہے اور بعض مواقع پر ہواؤں کے ذریعہ۔

لیکن یہ بات اتنی آسان نہیں ہے جیسا ہم خیال کرتے ہیں۔یہ مبارک اور بابرکت نکاح جو حشرات کی خواستگاری سے انجام پاتا ہے ۔اس کی ایک حیرت انگیز اور طولانی تاریخ ہے۔یہاں پر ہم اس کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں:

دوقدیمی اور جگری دوست

علم طبیعت کے سائنسدان مطالعات و تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نباتات اور پھول زمین شناسی کے دوسرے دور کے دوسرے حصہ میں وجود میں آئے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ اسی دوران میں حشرات بھی وجود میں آئے ہیں اور یہ دونوںحوادث و واقعات سے پُرخلقت کی پوری تاریخ میں ہمیشہ دو وفادار اور جگری دوستوں کے مانند زندگی بسر کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لازم و ملزم رہے ہیں۔

پھولوں نے اپنے دائمی دوستوں کی محبت کو حاصل کر نے اور ان کے دہن کو شرین کر نے کے لئے ایک بہت ہی لذیز مٹھائی کو اپنے اندر ذخیرہ کیا ہے اور جب حشرات نر پھولوں کی خلیہ کو پیوند اور لقاح کے مقد مات مہیا کر نے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے زحمت اٹھاتے ہوئے پھولوں کے اندر داخل ہوتے ہیں!تو پھول انھیں اس مٹھائی کو مفت میں پیش کرتے ہیں،یہ مخصوص قند حشرات کے لئے اتنا میٹھا اور لذیز ہو تا ہے کہ انھیں بے اختیار اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

علم نباتات کے بعض ماہرین کا اعتقاد ہے کہ پھولوں کے خوبصورت رنگ اورخوشبوبھی حشرات کو اپنی طرف کھینچنے میں موثر ہیں ۔شہد کی مکھیوں پر کئے گئے تجربوں سے ثابت ہوا ہے کہ وہ رنگوں کو تشخیص دیتی ہیں اور پھولوں کی خوشبو کو درک کرتی ہیں۔

حقیقت میں یہ پھول ہیں جو خود کو حشرات کے لئے سجاتے ہیں اور خوشبو پھیلاتے ہیں تاکہ بازوق تتلیوں اور نفاست پسند شہد کی مکھیوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔وہ بھی دل کھول کر اس دعوت کو قبول کر کے کام کے مقد مات کو فراہم کرتے ہو ئے ان کی مٹھائی کو تناول کر تے ہیں ۔یہی مٹھائی اور خاص قند ہے جو حشرات کی غذا شمار ہوتی ہے اور جب یہ بہت ڈھیرہو جاتی ہے تو یہی شہد بن جاتا ہے ۔کیو نکہ جب حشرات پھولوں کے پاس آتے ہیں ،تو اس مٹھائی سے تھوڑا سا کھاتے ہیں اور اس کا زیادہ تر حصہ بے تکلّف مہمانوں کی طرح اپنے ساتھ لے جاکر اپنے چھتوں میں ذخیرہ کرتے ہیں۔پھولوں اور حشرات کے در میان دوستی و محبت کا یہ معاہدہ دوطرفہ منافع کی بنیاد پر ہمیشہ تھا اور رہے گا۔

توحید کاایک درس

جب انسان حشرات اور پھولوں کی زندگی میں ان حیرت انگیز نکات کا مطالعہ کرتا ہے ،توغیر شعوری طور پر اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے:پھولوں اور حشرات کے در میان اس دوستی و محبت کے عہد و پیمان کو کس نے برقرار کیا ہے؟

پھولوں کو یہ مخصوص مٹھاس اور لذیز غذا کس نے دی ہے ؟یہ دلکش اور خوشنما رنگ اور یہ خوشبو پھولوں کو کس نے عطا کی ہے کہ اس طرح حشرات کو اپنی طرف دعوت کرتے ہیں؟

حشرات،تتلیوں ،شہد کی مکھیوں اور بھڑوں کو یہ نازک پاؤں اور خوبصورت اندام کس نے عطا کئے ہیں تاکہ پھولوں کی خلیہ کونقل وانتقال دینے کے لئے مستعد و آمادہ رہیں؟

شہد کی مکھیاں کیوں ایک مدت تک خاص ایک ہی قسم کے پھولوں کی طرف رخ کرتی ہیں اور پھولوں اور حشرات کی خلقت کی تاریخ کیوں ایک ساتھ شروع ہوئی ہے؟

کیا کوئی شخص،جس قدر بھی ہٹ دھرم ہو،باور کر سکتا ہے کہ یہ سب واقعات پہلے سے مرتب ہوئے کسی نقشہ اور منصوبہ کے بغیر انجام پائے ہیں؟اور فطرت کے بے شعور قوانین ان حیرت انگیز مناظر کو خودبخود وجود میں لائے ہیں؟نہیں ،ہر گز نہیں

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( واوحیٰ ربّک إلی النّحل ان اتّخذی من الجبال بیوتاًومن الشّجر وممّا یعرشون ثمّ کلی من کلّ الثّمرات فاسلکی سبل ربّک ذللاً ) (سورئہ نحل/ ۶۸،۶۹)

”اور تمھارے پر وردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نر می کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔پھولوں کی تہ میں پائی جانے والی مٹھاس اور ان کے رنگ و خوشبو کے کیا فائدے ہیں؟

۲ ۔شہد کی مکھیوں کی زندگی کے عجائبات میں سے آپ کیا جانتے ہیں؟


دسواں سبق:نہایت چھوٹی مخلوقات کی دنیا

چونکہ ہم اس عالم خلقت کے عجائبات کے در میان زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے ساتھ رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ہم ان حیرت انگیز مخلوقات کی اہمیت سے اکثر غافل رہ جاتے ہیں ،مثال کے طور پر :

۱ ۔ہمارے ارد گرد بہت چھوٹے چھوٹے حیوانات اور حشرات پائے جاتے ہیں۔ کہ شایدان میں سے بعض کا جسم ایک یادو ملی میٹر سے زیادہ نہیں ہو گا ،پھر بھی یہ حیوانات ایک بڑے حیوان کے مانند ہاتھ پاؤں ،آنکھیں اور کان،یہاں تک کہ دماغ وہوش ،پٹھوں کا سلسلہ اور نظام ہاضمہ رکھتے ہیں۔

اگر ہم ایک چیونٹی کے دماغ کو مائیکر و سکوپ کے نیچے رکھ کر اس کی حیرت ناک بناوٹ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کیا عجیب اور دلچسپ بناوٹ ہے !اس کے مختلف حصے،جن میں سے ہر ایک حصہ اس چیونٹی کے چھوٹے سے اندام کے ایک حصہ کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے،ایک دوسرے کے ساتھ منظم صورت میں قرار پائے ہیں اور ان کی حالت میں معمولی سا خلل ان کے بدن کے ایک ہی حصہ کو مفلوج کر تا ہے۔

تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ اس چھوٹے سے دماغ میں، جو یقینا ایک پن کی نوک سے بھی بہت چھوٹا ہے،ہوش،ذہانت ،تمدن ،ذوق اور ہنر کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔بہت سے سائنسدانوں نے سالہا سال تک اس حیوان کی زندگی کے حالات پر تحقیق و مطالعہ کر نے میں اپنی عمر صرف کی ہے اور اس کے بارے میں دلچسپ اور حیرت انگیز نکات اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں۔

کیا جس نے اس قسم کے ایک چھوٹے سے حشرہ میں اس قدر ہوش،فطانت اور ذوق کو جمع کر دیا ہے ،وہ ایسی طبیعت ہو سکتی ہے جس میں ایک سوئی کی نوک کے برابر ہوش وذہانت نہ ہو؟

۲ ۔ایٹم کی پراسرار دنیا کے بارے میں ،ہم جانتے ہیں کہ سب سے چھوٹی مخلوق جس کے بارے میں بشر کو اب تک معلو مات حاصل ہوئی ہیں ایٹم اور اس کے اجزاء ہیں۔ایٹم اتنا چھوٹا ہے کہ طاقتور ترین مائیکرو سکوپ ،جو ایک تنکے کو پہاڑوں کی شکل میں دکھاتا ہے ،وہ بھی اسے دیکھنے میں عاجز ہے۔

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایٹم کتنا چھوٹا ہے،تو بس اس قدر جانئے کہ پانی کے ایک قطرہ میں روئے زمین کی پوری آبادی سے زیادہ ایٹم موجود ہیں ۔اگر ہم ایک سینٹی میٹر باریک ترین تار کے پرو ٹونوں کو گننا چاہیں اور ایک ہزار افراد سے مدد بھی لیں اور ہر سیکنڈ میں ہر شخص ایک پرو ٹون کو جدا کرے تو ۳۰ سے ۳۰۰ سال تک ایٹموں کے اختلاف کے مطابق ہمیں دن رات بیدار رہنا پڑے گا تاکہ ان کو گن سکیں۔

اب جبکہ ہمیں معلوم ہوا کہ ایک سینٹی میٹر باریک تار میں اس قدر ایٹم موجود ہیں، تو ذراسوچئے آسمان ،زمین ،آب وہوا،کہکشانوں اور ہمارے منظومہ شمسی میں کتنے ایٹم ہو ں گے ؟کیا انسان کا ذہن اس کے تصور سے خستہ نہیں ہو جائے گااور خالق کائنات کے علاوہ کوئی اس کا حساب لگا سکتاہے؟

ایٹم ،توحید کا درس دیتے ہیں

آج کل کی سائنسی بحث میں ایٹم شناسی اہم ترین بحث ہے ۔یہ انتہائی چھوٹی مخلوق ہمیں توحید کا درس دیتی ہے،کیونکہ ایٹم کی دنیا میں دوسری چیزوں سے زیادہ اس کے مندرجہ ذیل چار نکتے توجہ کو اپنی طرف مبذول کرتے ہیں:

۱ ۔غیر معمولی نظم وضبط۔ اب تک ایک سو سے زیادہ عناصر منکشف ہوئے ہیں ۔ان کے الیکٹرون تدریجاً ایک سے شروع ہو کر ایک سو سے زیادہ پر ختم ہوتے ہیں ۔یہ عجیب نظام ہرگز کسی بے شعور عامل کا پیداوار نہیں ہو سکتا ہے۔

۲ ۔قوتوں کا توازن۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مخالف برقی رویں ایک دوسرے کو جذب کرتی ہیں ۔اس لحاظ سے ایک ایٹم کے اندر موجود الیکٹرون جو منفی برقی رورکھتے ہیں ،ان کا مرکز( nucleus ) ،جو مثبت برقی رو کا حامل ہے ،ان کو ایک دوسرے کو جذب کر نا چاہئے ۔

اور دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ نیو کلیس کے گرد الیکٹرونوں کی گردش سے قوئہ دافعہ(مرکزسے دور ہونے کی طاقت)وجود میں آتی ہے ۔اس لئے یہ قوئہ دافعہ الیکٹرونوں کو ایٹم کے دائرہ سے دور کر نا چاہتی ہے تاکہ ایٹم کا تجزیہ ہو جائے اور ادھر سے قوئہ جاذبہ الیکٹرو نوں کو جذب کر کے ایٹم کو نابود کر نا چاہتی ہے ۔

یہاں پر قابل توجہ بات ہے کہ ایٹموں کے اندر کس دقیق حساب سے قوئہ جاذبہ ودافعہ منظم ہوئی ہیں کہ الیکٹرون نہ بھاگتے ہیں اور نہ جذب ہو تے ہیں ،بلکہ ہمیشہ ایک توازن کی حالت میںاپنی حرکت کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔کیا یہ ممکن ہے کہ اس توازن کوایک اندھی اور بہری طبیعت نے وجود میں لایا ہو؟

۳ ۔ ہر ایک اپنے معین راستہ پر گامزن ہے۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ بعض ایٹموں کے متعدد الیکٹرون ہوتے ہیں لیکن یہ سب الیکٹرون ایک مدار پر حرکت نہیں کرتے ،بلکہ یہ متعدّد مداروں پر حرکت کرتے ہیں ۔

یہ الیکٹروں لاکھوں سالوں سے ایک معین فاصلہ پر اپنے حدود میں بڑی تیزی کے ساتھ حرکت میں ہیں اور ان میں آپس میں کسی قسم کا ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا ہے۔

کیاان میں سے ہر ایک کو ان کے معین مداروں میں قرار دینا اور ایک حیرت انگیز نظام کے ساتھ ان کو حرکت میں لانا ایک آسان کام ہے؟

۴ ۔ایٹم کی عظیم طاقت۔

ایٹم کی طاقت کی عظمت کا اندازہ لگانے کے لئے صرف اس بات پر غور کر نا کافی ہے:

۱۹۴۵ ء ء میں میلکسیکو کے ایک بے آب و علف صحرا میں ایک ایٹمی تجربہ انجام دیا گیا ۔ایک چھوٹے سے ایٹم بمب کو ایک فولادی ٹاور پر چھوڑ دیا گیا ۔اس نے پھٹنے کے بعد اس فولادی ٹاور کو پانی میں تبدیل کر دیا پھر اسے بھاپ میں تبدیل کر دیا اور ایک مہیب بجلی اور آواز بلند ہو ئی ۔جب سائنسدان اس جگہ پر پہنچے تو ٹاور کا کوئی نام ونشان نہیں پایا۔

اسی سال جاپان پردو چھوٹے ایٹم بم پھینکے گئے ۔ایک کو شہر ناکاسا کی پر اور دوسرے کر شہر ہیروشیما پر۔پہلے شہر میں ۷۰ ہزار لوگ ہلاک ہو گئے اور اتنے ہی لوگ مجروح ہوئے اور دوسرے شہر میں ۳۰ سے ۴۰ ہزار لوگ ہلاک ہو گئے اوراتنے ہی لوگ مجروح بھی ہوئے،جس کے نتیجے میں جاپان نے مجبور ہو کر امریکہ کے سامنے بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈال دئے ۔

کیا ایٹم کے صرف ایک ذرّہ کے اسرار کا مطالعہ کر نا انسان کو خالق کائنات کی معرفت حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں ہے؟

لہذا وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس کائنات میں موجود ایٹموں کی تعداد کے برابر خدا کے وجود کے دلائل موجود ہیں۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( ولوانما فی الارض من شجرة اقلام والبحر یمدّه من بعده سبعة ابحر مانفدت کلمات اللّٰه ) (سورئہ لقمان/ ۲۷)

”اور اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کا سہار دینے کے لئے سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الہٰی تمام ہو نے والے نہیں ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیا آپ چیونٹیوں کی زندگی کے اسرار کے بارے میں کچھ اورمعلو مات رکھتے ہیں؟

۲ ۔کیا آپ ایک ایٹم کی بناوٹ کا خاکہ تختہ سیاہ پر کھینچ سکتے ہیں؟


دسویں سبق کی ایک تکمیلی بحث

خداوند متعال کی عظیم الشان صفات

صفات خدا

قابل غور بات ہے کہ جس قدر خلقت کائنات کے اسرار کا مطالعہ کر نے کے طریقہ سے خدا کو پانا یعنی وجود خدا کے بارے میں علم حاصل کر ناآسان ہے،اسی قدر خداوند متعال کی صفات کو بھی دقّت اور کافی احتیاط کے ساتھ پہچاننے کی ضرورت ہے۔

آپ ضرور پوچھیں گے کیوں ؟اس کی دلیل واضح ہے، کیونکہ خدا وند متعال ہماری کسی چیز سے یا جو کچھ ہم نے دیکھا ہے یا سنا ہے ان سب سے شباہت نہیں رکھتا ہے ۔ اسی لئے خدا کی صفت کو پہچاننے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس مقدس ذات سے مخلوقات کی تمام صفات کی نفی کریں ۔یعنی خداوند عالم کو اس محدود عالم طبیعت کی مخلوقات میں سے کسی ایک سے بھی تشبیہ نہ دیں یہ ایک بہت ہی نازک مرحلہ ہے،کیونکہ ہم اس طبیعت کے اندر نشوونما پائے ہیں ،ہم طبیعت سے متصل ومرتبط رہے ہیں ،اس سے اُنس پیدا کر چکے ہیں ،اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہرایک چیز کو اس کے پیمانہ پر تولیں۔

دوسرے الفاظ میں ہم نے جو دیکھاہے وہ جسم اور جسم کی خاصیت رکھنے والی چیزیں تھیں،یعنی ایسی موجودات جوایک معین زمان و مکان کی حامل تھیں،ان کے مخصوص ابعاد اور اشکال تھیں ۔اس حالت میں ایک ایسے خدا کا تصورکہ نہ جسم رکھتا ہے اور نہ زمان و مکان ،اس کے باوجود تمام زمان و مکان پر وہ احاطہ رکھتا ہے اور ہر لحاظ سے لا محدود ہے، ایک مشکل کام ہے۔یعنی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اس راستہ پر دقت کے ساتھ قدم رکھیں۔

لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا انتہائی ضروری ہے کہ ہم خدا وند متعال کی ذات کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہو سکتے اور اس کی ہمیں توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے ،کیونکہ اس قسم کی توقع اس بات کے مانند ہے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ ایک عظیم سمندر کو ایک چھوٹے سے کوزے میں سمو دیں یا ماں کے بطن میں موجود بچے کو باہر کی تمام دنیا سے مطلع کردیں،کیا ایسا ممکن ہے؟

اس نازک مرحلہ پر ممکن ہے ایک چھوٹی سی لغزش انسان کو معرفت خدا کے راستہ سے کوسوں دورلے جاکر پھینک دے اور بت پرستی ومخلوق پرستی کی سنگلاخ وادیوں میں آوارہ کر دے۔(توجہ کیجئے!) مختصر یہ کہ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ صفات خدا کا مخلوقات کی صفات سے کبھی موازنہ نہ کریں۔

صفات جمال و جلال

عام طور پر خداوند متعال کی صفات کو دوقسموں میں تقسیم کیاگیا ہے :صفات ثبوتیہ یعنی وہ صفات جو خداوند متعال میں پائی جاتی ہیں اور صفات سلبیہ یعنی وہ صفات جن سے خداوند متعال منزّہ ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا وند متعال کی ذات کتنی صفتوں کی مالک ہے؟اس کا جواب یہ ہے :خداوند متعال کی صفات ایک لحاظ سے لامحدود ہیں اور دوسرے لحاظ سے خداوند متعال کی تمام صفات ایک صفت میں خلاصہ ہو تی ہیں کیو نکہ خداوند متعال کی تمام ثبوتی صفات کو مندر جہ ذیل ایک جملہ میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:

خدا وند متعال کی ذات،ہر جہت سے لا محدود اور تمام کمالات کی مالک ہے۔

اس کے مقابلہ میں سلبی صفات بھی اس جملہ میں خلاصہ ہوتی ہیں:ذات باری تعالٰی میں کسی لحاظ سے کوئی نقص نہیں ہے۔

لیکن چونکہ دوسرے لحاظ سے کمالات اور نقائص کے در جات ہیں ،یعنی لا محدود کمال اور لا محدود نقص کا تصور کیا جاسکتا ہے،لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا وند متعال لا محدود صفات ثبوتیہ اور لا محدود صفات سلبیہ رکھتا ہے۔کیو نکہ جس کمال کا بھی تصور کیا جائے وہ خدا میں مو جود ہے اور جس نقص کا بھی تصور کیا جائے خداوند متعال اس سے پاک و منزّہ ہے۔لہذا خدا وند متعال کی ثبو تی و سلبی صفات لا محدود ہیں۔

خدا کی مشہور ترین صفات ثبوتیہ

خدا وند متعال کی معروف ترین صفات ثبوتیہ وہی ہیں ،جن کو مندرجہ ذیل مشہورشعر میں ذکر کیا گیا ہے:

عالم و قادروحیّ است و مرید ومدرک ہم قدیم ازلی پس متکلم صادق

۱ ۔خدا وند متعال عالم ہے،یعنی ہر چیز جانتا ہے۔

۲ ۔قادر ہے،یعنی ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔

۳ ۔حیّ ہے،یعنی زندہ ہے،کیونکہ زندہ موجود وہ ہے جو علم وقدرت رکھتا ہو چونکہ خداوند متعال عالم وقادر ہے،اس لئے زندہ ہے۔

۴ ۔مرید ہے،یعنی صاحب ارادہ ہے اور اپنے کاموں میں مجبور نہیں ہے جو کام بھی انجام دیتا ہے اس کا کوئی مقصد اور فلسفہ ہوتا ہے اور زمین وآسمان میں کوئی بھی چیز فلسفہ اور مقصد کے بغیر نہیں ہے۔

۵ ۔خداوند متعال مدرک ہے،یعنی تمام چیزوں کو درک کر تا ہے،تمام چیزوں کو دیکھتا ہے،تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام چیزوں سے آگاہ وباخبر ہے

۶ ۔خدا وند متعال قدیم اور ازلی ہے،یعنی ہمیشہ تھا اور اس کے وجود کا کوئی آغاز نہیں ہے ،کیونکہ اس کی ہستی اسی کی ذات کے اندر سے ابلتی ہے ،اسی وجہ سے ابدی اور جاودانی بھی ہے ۔اس لئے کہ جس کی ہستی اس کی ذاتی ہو اس کے لئے فنا اور نابودی کوئی معنی رکھتی۔

۷ ۔خداومد متعال متکلم ہے،آواز کی لہروں کو ہوا میں ایجاد کر سکتا ہے تا کہ اپنے انبیاء ومرسلین سے بات کرے،نہ یہ کہ خدا وند متعال زبان،ہونٹ اور گلا رکھتا ہے۔

۸ ۔خداوند متعال صادق ہے ،یعنی جو کچھ کہتا ہے سچ اور عین حقیقت ہے،کیونکہ جھوٹ بولنا یا جہل و نادانی کی وجہ سے ہو تا ہے یا ضعیف وناتوانی کی وجہ سے،چونکہ خداوند متعال عالم اور قادر ہے اس لئے محال ہے کہ وہ جھوٹ بولے۔

خدا کی مشہورترین صفات سلبیہ ۔

خدا وند متعال کی معرو ف ترین سلبی صفات مندرجہ یل شعرمیں ملاحظہ فر مائیں:

نہ مرکب بود وجسم ،نہ مرئی نہ محل بی شریک است ومعانی ،توغنی دان خالق

۱ ۔وہ مرکب نہیں ہے۔یعنی اس کے اجزائے ترکیبی نہیں ہیں ،کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے اجزاء کی احتیاج پیدا کر تا ،جبکہ وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔

۲ ۔خداوند متعال جسم نہیں ہے ،کیونکہ ہر جسم محدود،متغیر اورنا بودی کے قابل ہو تا ہے ۔

۳ ۔خداوند متعال مرئی نہیں ہے یعنی دکھائی نہیں دیتا ،کیونکہ اگر وہ دکھائی دیتا تو جسم ہو تا اور محدود اور قابل فنا ہو تا۔

۴ ۔خدا وند متعال کو ئی محل نہیں رکھتا ہے ،کیو نکہ وہ جسم نہیں ہے تاکہ اسے محل کی ضرورت پڑے۔

۵ ۔خدا کا کوئی شریک نہیں ہے ،کیو نکہ اگر اس کا شریک ہو تا تو اسے ایک محدود مو جود ہو نا چاہئے تھا ،چونکہ دو لا محددودمو جودات ہر جہت سے نا ممکن ہیں،اس کے علاوہ اس دنیا کے قوانین کی وحدت اس کی وحدا نیت کی علامت ہے۔

۶ ۔خداوند متعال کے معانی نہیں ہیں، کیونکہ اس کی صفات اس کی عین ذات ہیں۔

۷ ۔خداوند متعال محتاج اور نیاز مند نہیں ہے ،بلکہ غنی اور بے نیاز ہے،کیو نکہ علم و قدرت اور ہر چیز کے لحاظ سے ایک لا محدود وجود،کسی قسم کی کو ئی کمی نہیں رکھتا ہے ۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( لیس کمثله شیءٍ ) (سورہ شوری ٰ آیت/ ۱۱)

”اس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیا خدا کی وحدانیت اور اس کے لاشریک ہو نے کے بارے میں آپ کے پاس کوئی اور دلیل موجود ہے؟

۲ ۔کیا آپ نے سنا ہے کہ بعض مذاہب تین خداؤں اور بعض دو خداؤں کے قائل ہیں ؟یہ کون سے مذاہب ہیں؟


عدل الٰہی کے دس سبق

پہلا سبق عدل کیا ہے؟

خدا کی صفات میں سے صرف عدل کو اصو ل دین کا جزو کیوں قرار دیا گیا ہے؟

”عدالت“اور”مساوات“کے در میان فرق

۱ ۔تمام صفات الہٰی سے کیوں صرف عدل کو چنا گیا ہے ؟

اس بحث میں دوسری چیزوں سے پہلے یہ نکتہ واضح ہو نا چاہئے کہ عدالت کو جو کہ صفات خدا میں سے ایک صفت ہے ،بڑے علماء نے دین اصول کے پنجگانہ میں سے ایک اصل کے طور پرکیوں منتخب کیا ہے؟

خداوند متعال عالم ہے،قادر ہے،عادل ہے،حکیم ہے،رحمان ورحیم اور ازلی وابدی ہے،خالق ورازق ہے۔ان تمام صفات میں سے کیوں صرف عدالت کا انتخاب کیا گیا ہے اور اسی کو دین کے پنجگانہ اصول میں سے ایک قرار دیا گیا ہے؟

اس سوال کے جواب کے سلسلہ میں چند مطالب کی طرف توجہ کر نا ضروری ہے:

۱ ۔خدا وند متعال کی صفات میں عدالت کو ایک ایسی اہمیت حاصل ہے کہ بہت سی دوسری صفات اس کی طرف پلٹتی ہیں ،کیونکہ”عدالت“ اپنے وسیع معنی میں ہر ایک چیز کو اپنی جگہ پر قرار دینا ہے ۔اس صورت میں حکیم ،رزّاق،رحمان و رحیم اور ان جیسی دوسری صفات اس پر منطبق ہو تی ہیں۔

۲ ۔معاد کا مسئلہ بھی ”عدل الہی“ پر منحصر ہے۔انبیاء ومرسلین کی نبوت ورسالت اور ائمہ کی امامت بھی عدل الہٰی سے مربوط ہیں۔

۳ ۔اسلام کی ابتداء میں عدل الہٰی کے مسئلہ پر کچھ اختلا فات رو نما ہوئے:

سنّی مسمانوں کا ایک گروہ جنھیں ”اشاعرہ“ کہتے تھے، عدل الہٰی کے بالکل منکر ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ خدا کے بارے میں عدل و ظلم کو ئی مفہوم نہیں رکھتا ہے۔پوری کائنات اس کی ملک ہے اور اس سے متعلق ہے،وہ جو بھی کام انجام دے وہی عین عدالت ہے۔ یہاں تک کہ وہ حسن و قبح عقلی کے بھی قائل نہیں تھے ۔وہ کہتے تھے کہ ہماری عقل اکیلے ہی برے اور بھلے کو درک نہیں کر سکتی ہے ،یہاں تک کہ نیکی کر نے کی خوبی اور ظلم کی بدی کو بھی درک نہیں کر سکتی ہے(وہ اس قسم کے بہت سے مغالطے سے دو چار تھے)

اہل سنت کا ایک دوسرا گروہ جنھیں ”معتزلہ“ کہتے تھے اور تمام”شیعہ“ پرور دگار عالم کے بارے میں عدالت کے اصول کے قائل تھے اور کہتے تھے وہ ہر گز ظلم وستم نہیں کرتا ہے۔

ان دو گروہوں کو ایک دوسرے سے جدا کر نے کے لئے دوسرے گروہ کا نام ”عدلیہ“ رکھا گیا،جوعدل الہٰی کو اپنے مکتب کی علا مت کے عنوان سے اصول دین کا جزو سمجھتے تھے اور پہلے گروہ کا نام ”غیر عدلیہ“رکھا گیا،شیعہ”عدلیہ“گروہ میں شمار ہو تے تھے۔

شیعوں نے دوسرے تمام عدلیہ سے اپنے آپ کو مشخص کر نے کے لئے ”امامت“ کو بھی اصول دین کا جزو قرار دیا۔

لہذا جہاں کہیں بھی ”عدل“و”امامت“کی بات ہو وہ”شیعہ امامیہ“ کی پہچان ہے ۔

۴ ۔چونکہ فروع دین ہمیشہ اصول دین کا ایک پرتو ہے اور عدالت الہٰی کا اثر انسانی معاشروں میں غیر معمولی طور پر مؤثر ہے اور انسانی معاشرے کی اہم ترین بنیاد بھی اجتماعی عدالت پر منحصر ہے ،اس لئے عدالت کو اصول دین کے ایک جزو کے طور پر چن لینا ایک ایسا راز ہے جو انسانی معاشرے میں عدل کو زندہ کر نے اور ہر قسم کے ظلم وستم سے مقابلہ کر نے کا سبب بنتا ہے۔

جس طرح پرور دگار کی توحید ذات و صفات اور اس کی عبادت و پر ستش کی تو حید انسانی معا شرے میں وحدت و یکجہتی اور اتحاد کا نور ہے اور توحید صفوف کو تقویت بخشتی ہے ،اسی طرح انبیاء اور ائمہ کی رہبری بھی انسانی معا شرے میں ”سچی (عادلانہ)رہبری“کا مسئلہ القا کرتی ہے۔اس لئے پوری کائنات پر حاکم پروردگار کی عدالت کی اصل انسانی

معاشرے کے تمام مواقع میں عدالت کی ضرورت کی طرف ایک اشارہ و راز ہے۔

عظیم عالم خلقت عدالت پر بر قرار ہے۔انسانی معاشرہ بھی اس کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتا ہے۔

۲ ۔عدا لت کیا ہے؟

عدالت کے دو مختلف معانی ہیں:

۱ ۔اس لفظ کے وسیع معنی ،جیسا کہ ہم نے بیان کئے ”ہر چیز کا اپنی جگہ پر قرار پانا“ ہیں ۔دوسرے الفاظ میں موزون اور متعادل ہو نا ہے ۔

عدالت کے یہ معنی ،پوری خلقت کائنات، عالم کے نظام ،ایٹم ،انسانی وجود کی بناوٹ اور تمام نباتات وحیوانات میں پائے جاتے ہیں ۔

یہ وہی بات ہے جو پیغمبر اسلام کی مشہور حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ آپنے فر مایا:

”بالعدل قامت السموٰت والارض“

”عدالت کے ذریعہ آسمان اور زمین برقرار ہیں“

مثال کے طور پر اگر زمین کے قوائے ”جاذبہ“و ”دافعہ“ اپنے توازن کو کھودیں اور ان میں سے ایک دوسرے پر غلبہ پاجائے تو زمین ،یاسورج کی طرف جذب ہو جائے گی،اس میں آگ لگ جائے گی اور نابود ہو جائے گی اور یا اپنے مدار سے خارج ہو کر وسیع فضا میں آوارہ ہو کر نابود ہو جائے گی ۔

عدالت کے اسی معنی کو شاعر نے مندرجہ ذیل مشہور اشعار میں بیان کیا ہے :

عدل چبود ؟وضع اندر موضعش ظلم چبود؟وضع در نا موضعش

عدل چبود؟آب دہ اشجاررا ظلم چبود ؟آب دادن خاررا

عدل کیا ہے؟ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا ۔ظلم کیا ہے ؟چیز کو اس جگہ پر نہ رکھنا۔

عدل کیا ہے؟ درختوں کو پانی دیناظلم کیا ہے ؟کانٹوں کو پانی دینا۔

واضح ہے کہ پھولوں کے پودے یا میوہ دار درخت کی آبیاری کی جائے تو یہ اس کا صحیح استعمال ہے اور عین عدالت ہے ۔اگر بیکار گھاس پھوس یا کانٹوں کی آبیاری کی جائے تو یہ اس کا صحیح استعمال نہیں ہے اور عین ظلم ہے۔

۲ ۔عدالت کے دوسرے معنی”افراد کے حقوق کی رعایت کر نا“ہیں اوراس کا مخالف”ظلم“ یعنی دوسروں کا حق چھین کر اپنے لئے مخصوص کر نا،یا کسی کا حق چھین کردوسرے کو دینا یا تفریق کا قائل ہو نا ہے ،اس صورت میں کہ بعض کو ان کا حق ادا کریں اور بعض کو ان کا حق ادا نہ کریں۔

واضح ہے کہ دوسرے معنی”خاص“اور پہلے معنی ”عام“ہیں قابل توجہ بات ہے کہ”عدل“کے دونوں معانی خداوند متعال کے بارے میں صحیح ہیںاگر چہ ان مباحث میں زیادہ تر دوسرے معنی مقصود ہیں ۔

عدل الہٰی کے معنی یہ ہیں کہ خداوند متعال نہ کسی کا حق چھینتا ہے اور نہ کسی کا حق کسی دوسرے کو دیتا ہے اور نہ افراد کے در میان امتیازبرتتا ہے،وہ ہر لحاظ سے عادل ہے۔ اس کی عدالت کے دلائل سے اگلی بحث میں آگاہ ہوں گے۔

”ظلم“کسی کا حق چھیننے کے معنی میں ہو یا کسی کا حق کسی دوسرے کو دینے کے معنی میں یاتفریق وزیادتی کی صورت میں ،خدا کی ذات کے بارے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

وہ ہرگز نیک انسان کو سزا نہیں دیتا ہے اور بُرے انسان کی تشویق نہیں کرتا ہے۔کسی سے دوسرے کے گناہ پر مواخذہ نہیں کرتا ہے اوربُرے اور بھلے سے ایک ہی قسم کا برتاؤ نہیں کرتا ہے۔

یہاں تک کہ اگر ایک بڑے معاشرے میں ایک شخص کے علاوہ سب گناہ گارہوں تو خدا وند متعال اس ایک شخص کے حساب کو دوسروں سے جدا کرتا ہے اور اسے

گنا ہ گاروں کے ساتھ سزا میں شامل نہیں کرتا ہے۔

یہ جو”اشاعرہ“کی جماعت نے کہا ہے کہ”اگر خدا تمام انبیاء کوجہنّم میں ڈال دے اور تمام بد کاروں اور ظالموں کو بہشت میں ڈال دے، تو یہ ظلم نہیں ہے“یہ ایک بیہودہ، ناشائستہ، شرم ناک اور بے بنیاد بات ہے ،جس شخص کی بھی عقل خرافات اور تعصب سے آلودہ نہ ہو گی وہ اس بات کے قبح کی گواہی دے گا۔

۳ ۔مساوات اور عدالت میں فرق۔

ایک اور اہم نکتہ،جس کی طرف اس بحث میں اشارہ کر نا ضروری ہے ،یہ ہے کہ بعض اوقات ”عدالت“کا ”مساوات“ سے مغالطہ کیا جاتا ہے اور تصور کیا جاتا ہے کہ عدالت کے معنی یہ ہیں کہ مساوات کی رعایت کی جائے،جبکہ ایسا نہیں ہے۔

عدالت میں ہرگز مساوات شرط نہیں ہے بلکہ حق اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے ۔

مثال کے طور پر ایک جماعت کے شاگردوں میں عدالت یہ نہیں ہے کہ سب کو مساوی نمبر دئے جائیں اور دو مزدوروں کے در میان یہ عدالت نہیں ہے کہ دونوں کو مساوی مزدوری دی جائے ۔بلکہ عدا لت یہ ہے کہ ہر شاگرد کو اس کی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق نمبر دئے جائیں اور ہر مزدور کو اس کی محنت کے مطابق مزدوری دی جائے۔

عالم فطرت میں بھی وسیع معنی میں عدالت کا مفہوم یہی ہے ۔اگر ایک وہیل مچھلی کا دل جس کا وزن تقریباً ایک ٹن ہو تا ہے،ایک چڑیا کے دل کے برابر ہوتاتو یہ عدالت نہیں تھی ۔اگر ایک مضبوط لمبے درخت کی جڑ ایک چھوٹے سے پودے کی جڑ کے برابر ہو تو یہ عدالت نہیں ہے بلکہ عین ظلم ہے۔

عدالت کے معنی یہ ہیں کہ ہر مخلوق اپنے حق،استعداد اور صلاحیت کے مطابق اپنا حصہ حاصل کرے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔خدا کی تمام صفات میں سے صرف عدالت کو کیوں اصول دین کا جزو شمار کیاگیا ہے؟

۲ ۔”اشاعرہ“کون تھے؟ان کے عقائد کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

۳ ۔عدل الہٰی کا اعتقاد معاشرے میں کیا اثر رکھتا ہے؟

۴ ۔عدالت کے کتنے معانی ہیں؟ان کی تشریح کیجئے

۵ ۔کیا عدالت مساوات کے معنی میں ہے؟


دوسرا سبق :عدل الہٰی کے دلائل

۱ ۔حسن وقبح عقلی

پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہماری عقل اشیاء کی ”خوبی“اور ”بدی“ کو قابل توجہ حد تک درک کرتی ہے ۔(یہ وہی چیز ہے،جس کا نام علماء نے ”حسن قبح عقلی“رکھا ہے)

مثلا ہم جانتے ہیںکہ عدالت واحسان اچھی چیز ہے اور ظلم وبخل بری چیز ہے۔یہاں تک کہ ا ن کے بارے میں دین و مذہب کی طرف سے کچھ کہنے سے پہلے بھی ہمارے لئے یہ چیز واضح تھی،اگر چہ دوسرے ایسے مسائل موجود ہیں جن کے بارے میں ہمارا علم کافی نہیں ہے اور ہمیں رہبران الہٰی و انبیاء کی رہبری سے استفادہ کر نا چاہئے۔

اس لئے اگر”اشاعرہ“ کے نام سے مسلمانوں کے ایک گروہ نے ”حسن قبح عقلی“ سے انکار کر کے اچھائی اور برائی کو پہچاننے کا راستہ ۔حتی عدالت وظلم وغیرہ کے سلسلہ میں۔صرف شرع ومذہب کو کافی جانا ہے ،تو یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔

کیونکہ اگر ہماری عقل نیک وبد کو درک کر نے کی قدرت وصلاحیت نہ رکھتی ہوتو ہمیں کہاں سے معلوم ہو گا کہ خداوند متعال معجزہ کو ایک جھوٹے انسان کے اختیار میں نہیں دیتا ہے؟لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا بُرا اور قبیح ہے اور خدا سے یہ کام انجام پا نا محال ہے،تو ہم جانتے ہیں کہ خدا کے وعدے سب حق ہیں اور اس کے بیانات سب سچے ہیں ۔وہ کبھی جھوٹے کی تقویت نہیں کرتا ہے اور معجزہ کو ہر گز جھوٹے کے اختیار میں نہیں سونپتا ہے۔

اسی وجہ سے شرع ومذہب میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔

اس لئے ہم نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ حسن وقبح عقلی پر اعتقاددین و مذہب کی بنیاد ہے۔(توجہ کیجئے!)

اب ہم عدل الہٰی کے دلائل کی بحث شروع کرتے ہیں اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں جاننا چاہئے:

۲ ۔ظلم کا سر چشمہ کیا ہے؟

”ظلم“کا سر چشمہ مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ہے:

الف۔جہل:بعض اوقات ظالم انسان حقیقت میں نہیں جانتا ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔نہیں جانتا ہے کہ وہ کس کی حق تلفی کرتا ہے،اور اپنے کام سے بے خبر ہے۔

ب۔احتیاج:کبھی دوسروں کے پاس موجود چیز کی احتیاج انسان کو وسواس میں ڈالتی ہے کہ اس شیطانی کام کو انجام دے،جبکہ اگر بے نیاز ہو تا،اس قسم کے مواقع پر اس کے لئے ظلم کر نے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو تی۔

ج۔عجز و ناتوانی: بعض اوقات انسان راضی نہیں ہو تا کہ دوسروں کا حق ادا کر نے میں کو تاہی کرے لیکن اس میں یہ کام انجام دینے کی قدرت وتوانائی نہیں ہو تی ہے اور ناخواستہ ”ظلم“کا مرتکب ہو تا ہے۔

د۔خود پرستی ، حسد اور انتقامی جذبہ۔ گاہےمذکورہ عوامل میں سے کوئی ایک مؤثرنہیں ہوتا ہے،لیکن”خود پرستی“اس امر کا سبب بنتی ہے کہ انسان دوسروں کے حقوق کو پائمال کرے ۔یا ”انتقامی جذبہ“اور”کینہ وحسد“ اسے ظلم وستم کر نے پر مجبور کرتے ہیں ۔یا کبھی”اجارہ داری“دوسروں کی حق تلفی کا سبب بن جا تی ہے۔اور ان کے مانند دوسرے عوامل و اسباب۔

لیکن چونکہ مذکورہ بری صفات اور عیوب ونقائص میں سے کو ئی چیز خدا وند متعال کے وجود مقدس میں نہیں پائی جاتی ،وہ ہر چیز کا عالم ،سب سے بے نیاز،ہر چیز پر قادر اور ہر ایک کے بارے میں مہر بان ہے،اس لئے اس کے لئے ظلم کا مرتکب ہو نا معنی نہیں رکھتا ہے۔

اس کا وجود بے انتہا اور کمال لا محدود ہے،ایسے وجود سے خیر،نیکی،عدل وانصاف ،مہر بانی اور رحمت کے علاوہ کوئی چیز صادر نہیں ہو تی ہے ۔

اگر وہ بد کاروں کو سزا دیتا ہے تو وہ حقیقت میں ان کے کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے، جو انھیں ملتا ہے،اس شخص کے مانند جو نشہ آورچیزیں یا شراب پینے کے نتیجہ میں مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔قرآن مجید فر ماتا ہے:

( هل تجزون إلاّ ماکنتم تعلمون ) (سورہ نمل/ ۹۰)

”کیا تمھیں تمھارے اعمال کے علاوہ بھی کوئی معادضہ دیا جاسکتا ہے۔“

۳ ۔قرآن مجید اور عدل الہٰی

قابل توجہ بات ہے کہ قرآن مجید میں اس مسئلہ کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے ۔

ایک جگہ پر فر ماتا ہے:

( إنّ اللّٰه لا یظلم النّاس شیئاً ولکنّ الناّس انفسهم یظلمون)

(سورہ یونس/ ۴۴)

”اللہ انسانوں پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ انسان خودہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے ہیں۔“

ایک دوسری جگہ پر فر ماتا ہے:

( إنّ اللّٰه لا یظلم مثقال ذرّة)

”اللہ کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے۔“

روز قیامت کے حساب اور جزا کے بارے میں فر ماتا ہے:

( ونضع الموازین القسط لیوم القیمة فلا تظلم نفس شیئاً ) (سورہ انبیاء/ ۴۷)

”اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازوقائم کریں گے اور کسی نفس پر ادنیٰ ظلم نہیں کیا جائے گا۔“

(قا بل توجہ بات ہے کہ یہاں پر ”میزان“سے مقصود نیک و بد کو تولنے کا وسیلہ ہے نہ اس دنیا کے مانند کو ئی ترازو)

۴ ۔عدل و انصاف کی دعوت

ہم نے کہا کہ انسان کی صفات ،خدا وند متعال کی صفات کا ایک پر تو ہو نا چاہئیں تا کہ انسانی معاشرے میں الہٰی صفات کا نور پھیلے ۔اسی اصول کی بنیاد پر جس قدر قرآن مجید عدل الہٰی کو بیان کر تا ہے ،اسی قدر انسانی معاشرے اور ہر انسان میں عدل و انصاف قائم کر نے پر اہمیت دیتا ہے۔قرآن مجید بار بار ظلم کو معاشروں کی تباہی و بر بادی کا سبب بتاتا ہے اور ظالموں کے انجام کو درد ناک ترین انجام شمار کرتا ہے۔

قرآن مجید گزشتہ اقوام کی داستان بیان کر نے کے ضمن میں باربار اس حقیقت کی یاد دہانی کرتا ہے کہ دیکھو ظلم وفساد کے نتیجہ میں کس طرح وہ اقوام عذاب الہٰی سے دو چار ہو کر نابود ہوئے ،تم بھی اس سے ڈرو کہ کہیں ظلم کر نے کے نتیجہ میں اس قسم کے انجام سے دوچار نہ ہو جاؤ۔

قرآن مجید واضح الفاظ میں ایک بنیادی اصول کے عنوان سے کہتا ہے:

( إنّ الله یامر بالعدل والاحسان و إتیاء ذی القربیٰ وینهی عن الفحشآء والمنکر والبغی ) (سورہ نحل/ ۹۰)

”بیشک اللہ عدل،احسان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اور بد کاری ،ناشائستہ حر کات اور ظلم سے منع کرتا ہے۔“

قابل توجہ بات ہے کہ جس طرح ظلم کر نا ایک برا اور قبیح کام ہے ،اسی طرح ظلم کو بر داشت کر نا بھی اسلام اور قرآن کی نظر میں غلط ہے،چنانچہ سورئہ بقرہ کی آیت نمبر ۷۹ ۲ میں آیا ہے:

( لا تظلمون ولا تظلمون ) ( سورہ بقرہ/ ۲۷۹)

”نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے “

اصولی طور پر ظلم کو قبول کر نا ظلم کی حوصلہ افزائی ،اس کی تقویت اور ظالم کی مدد

کر نے کا باعث ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیا ہماری عقل براہ راست اور شرع کے بغیر نیکی اور بدی کو درک کرسکتی ہے؟

۲ ۔ظلم کن امور سے صادر ہوتا ہے ؟عدل الہٰی کی عقلی دلیل کیا ہے؟

۳ ۔عدل الہٰی اور خدا کی ذات مقدس سے ظلم کی نفی کے بارے میں قرآن مجید کیا کہتا ہے؟

۴ ۔عدالت اور ظلم کے مقابلہ میں انسان کی کیا ذمہ داری ہے؟

۵ ۔کیاظلم کو قبول کرنا اور ظلم وستم کو برداشت کر نا بھی گناہ ہے؟


تیسرا سبق: آفات و بلیّات کا فلسفہ( ۱)

قدیم زمانہ سے آج تک ایک ناآگاہ گروہ نے عدل الہٰی پر نکتہ چینی کی ہے اور ایسے مسائل پیش کئے ہیں جو ان کے اعتقاد کے مطابق عدل الہٰی سے ساز گار نہیں ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات نہ صرف ان مسائل کو عدل الہٰی کی نفی کی دلیل بلکہ انھیں وجود خدا کے انکار کی دلیل سمجھے ہیں!

من جملہ ان کے ناگوار حوادث کا وجود ،جیسے طو فان ،زلزلہ اور دوسرے عام مصائب ۔

اسی طرح وہ فرق جو مختلف انسانوں میں پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ انسان ،نباتات اور دوسری مخلوقات کو پیش آنے والی مصیبتیں اور آفتیں۔

یہ بحث،کبھی مادہ پرستوں کے مقابلہ میں معرفت خدا کی بحث میں پیش کی جاتی ہے اور کبھی عدل الہٰی کی بحث میں،ہم اسے اس بحث میں پیش کرتے ہیں۔

یہ جاننے کے لئے کہ،دقیق تجزیہ کے نتیجہ میں یہ تصور کس حدتک غلط ہے ،اس موضوع پر ایک مفصل بحث اور مندرجہ ذیل مطالب کی د قیق کی تحقیق ضرورت ہے:

۱ ۔محدود معلومات اورحالات کے زیر اثر فیصلے

عام طور پرہم اپنے فیصلوں اور مصادیق کی تشخیص میں مختلف اشیاء کے اپنے ساتھ رابطہ پر تکیہ کرتے ہیں ۔مثلاًہم کہتے ہیں فلاں چیز دور ہے یانزدیک یعنی ہماری نسبت۔

یافلاں شخص طاقتور ہے یا کمزور،یعنی ہماری روحی یا جسمی حالت کی نسبت اس کی حالت ایسی ہے ۔خیر وشر اور مصیبت وبلا کے بارے میں بھی لوگوں کے فیصلے اکثر اسی طرح کے ہوتے ہیں ۔

مثلاًاگر کسی علاقہ میں وسیع پیمانے پر بارش برسے ،ہمیں اس سے سرو کار نہیں ہے کہ اس بارش کے مجموعی اثرات کیسے تھے ،ہم صرف اپنی زندگی،گھر اورکھیت یازیادہ سے زیادہ اپنے شہر کی حد تک نظر ڈالتے ہیں ،اگر اس کا مثبت اثر تھا تو کہتے ہیں یہ نعمت الہٰی تھی ،اگر منفی تھا تو اسے ”بلا“کہتے ہیں۔

جب ایک پرانی اور فرسودہ عمارت کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لئے گراتے ہیں اور ہم پر وہاں سے گزرتے ہوئے اس کے گرد وغبار پڑتے ہیں تو کہتے ہیں :کیسا برا حادثہ ہے،اگر چہ آئندہ وہاں پرہسپتال ہی کیوں نہ تعمیر ہو اور دوسرے لوگ اس سے مستفید ہوں اور بارش کی مثال میں اگرچہ مجموعی طور پر علاقہ کے لئے مثبت اثرات ظاہر ہوں۔

ہم سطحی اور عام طور پر سانپ کے ڈسنے کو ایک مصیبت اور شر سمجھتے ہیں ۔ہم اس سے غافل ہیں کہ یہی ڈسنا اور زہر اس حیوان کے لئے دفاع کا ایک موثر وسیلہ ہے اور ہم اس سے بے خبر ہیں کہ گاہے اسی زہر سے حیات بخش دوائی بنائی جاتی ہے جو ہزاروں انسانوں کو موت سے نجات دیتی ہے۔

اس لئے اگر ہم مغالطہ سے بچناچاہیں تو ہمیں اپنی محدود معلو مات پر نظر ڈالنی چاہئے اور فیصلہ کرتے وقت صرف اشیاء کے اپنے ساتھ روابط کو مد نظر نہیں رکھنا چاہئے بلکہ ہمیں تمام جہتوں کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرناچاہئے۔

بنیادی طور پر دنیا کے حوادث زنجیر کی کڑیوں کے مانند آپس میں ملے ہوئے ہیں: آج،ہمارے شہر میں آنے والاطوفان اور سیلاب لانے والی بارش کا برسنا اس طولانی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو دوسرے حوادث کے ساتھ مکمل طور پر مربوط ہے اسی طرح یہ ماضی میں رو نما ہوئے اور مستقبل میں رونما ہونے والے حوادث سے جڑے ہوئے ہیں۔

نتیجہ کے طور پر حوادث کے ایک چھوٹے حصہ پر انگلی رکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ کر نا منطق اورعقل کے مطابق نہیں ہے۔

قابل انکار چیزصرف مطلق شر کی خلقت ہے۔لیکن اگرکوئی چیز کسی جہت سے خیر اور کسی جہت سے شر ہو اور اس کا خیر غلبہ رکھتا ہو تو کوئی مشکل نہیں ہے ۔ایک آپریشن کچھ جہات سے تکلیف دہ اور زیادہ تر جہات سے مفید ہے ،اس لئے نسبتاً خیر ہے۔

پھر مزید وضا حت کے لئے زلزلہ کی مثال پر غور کیا جاسکتا ہے:صحیح ہے کہ ایک جگہ پر زلزلہ ویرانی اورتباہی لاتا ہے ۔لیکن اگر ہم دوسرے مسائل سے اس کے سلسلہ وار روابط کو مد نظر رکھیں تو ممکن ہے ہمارا فیصلہ بدل جائے ۔

اس سلسلہ میں سائنسدانوں کے مختلف نظریات ہیں کہ زلزلہ زمین کی اندرونی گرمی اوربھاپ سے مربوط ہے یا چاند کی قوت جاذبہ سے مربوط ہے جو زمین کی خشک و جامد سطح کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور کبھی اسے توڑ دیتا ہے ،یا دونوں چیزوں سے مربوط ہے؟

لیکن مذکورہ عوامل میں سے جوبھی ہو،اس کے آثار کو مد نظر رکھناچاہئے ۔یعنی ہمیں جاننا چاہئے کہ زمین کی اندرونی گرمی ،زمین کے اندر موجود تیل کے ذخائر اور کوئلے کی کانوں اور دوسری چیزوں کی تولیدپرکیا اثر ڈالتی ہے؟!اس لئے یہ نسبتاً خیر ہے۔

اس کے علاوہ سمندروں کے مدوجزر،سمندروں کے پانی اور اس میں موجود جانوروں کی حفاظت اور کبھی خشک سواحل کی آبیاری میں کتنے موثر ہیں!یہ بھی نسبتاً خیر ہے۔

یہاں پر ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سطحی فیصلے اور محدود معلو مات ہیں جنھوں نے عالم خلقت کے ان امور کوتاریک کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ہم جس قدر حوادث کے آپسی روابط اور پیوند کے بارے میں زیادہ غور کریں گے اس مطلب کی اہمیت کے بارے میں اتناہی زیادہ آگاہ ہوں گے۔

قرآن مجید فر ماتا ہے:

( وما اویتم من العلم إلاّ قلیلاً ) ( سورہ اسراء/ ۸۵)

”اور تمھیں بہت تھوڑا ساعلم دیا گیا ہے۔“

لہذا اس تھوڑے سے علم و دانش کے ذریعہ فیصلہ کر نے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔

۲ ۔ناخوشگوار اور انتباہ کر نے والے حوادث

ہم نے ایسے افراد کو دیکھا ہے کہ جب وہ کسی نعمت میں غرق ہوتے ہیں تو”خود خواہی اور غرور“سے دو چار ہوتے ہیں اور اس حالت میں بہت سے اہم انسانی مسائل اور اپنے فرائض کو بھول ڈالتے ہیں ۔

اور ہم سب نے یہ بھی دیکھا ہے کہ زندگی کے مکمل آرام وآسائش کی حالت میں انسان کس طرح”خواب غفلت “میں پڑ جا تا ہے کہ اگر انسان کی یہ حالت جاری رہی تو وہ بد بختی سے دو چار ہو جاتا ہے ۔

بیشک زندگی کے بعض ناخوشگوار حوادث انسان کو غرور وتکبر اور غفلت کی نیند سے بیدار کر نے کے لئے ہیں۔

آپ نے یقینا سنا ہو گا کہ با تجربہ اور ماہر ڈرائیور صاف و ہموار اور پیچ و خم اور موڑوں سے خالی سڑ کوں کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں اور اس قسم کی سڑ کوں کو خطر ناک جانتے ہیں ،کیونکہ سڑکوں کا ہموار و یکسان ہو نا ڈرائیور کے لئے خواب آور ہو نے کا سبب بنتا ہے اور وہ خطرہ سے دوچار ہوسکتا ہے۔

حتی کہ بعض ملکوں میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی سڑکوں پر مصنوعی نشیب و فراز ( speed breaker ) سپیڈبریکراور موڑ بنائے جاتے ہیں تاکہ اس قسم کے خطرات کو روکا جاسکے ۔

انسان کی زندگی کا راستہ بھی ایسا ہی ہے ۔اگر زندگی میں نشیب و فرازاور مشکلات نہ ہوں اور اگر کبھی کبھار ناگوار حوادث پیش نہ آئیں تو انسان کے لئے خدا، اپنے سر انجام اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنا یقینی بن جاتا ہے ۔ہم ہر گز یہ نہیں کہتے کہ انسان خود اپنے لئے ناخوشگوار حوادث ایجاد کرے اور مصیبتوں کی طرف بڑھے، کیونکہ انسان کی زندگی میں یہ امورہمیشہ سے تھے اور رہیں گے ،بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اسے توجہ کر نی چاہئے کہ ان حوادث میں سے بعض کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کے غرور وغفلت کے لئے رکاوٹ بنیں کیو نکہ یہ چیزیں اس کی سعادت وخوشبختی کی دشمن ہیں ۔ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ فلسفہ بعض ناخوشگوار حوادث سے متعلق ہے،نہ کہ تمام حوادث سے متعلق۔باقی حصہ کے بارے میں انشا اللہ بعد میں بحث کریں گے۔

اس سلسلہ میں ہماری عظیم آسمانی کتاب قرآن مجید میں یوں ارشاد ہوتا ہے:

( فاخذنٰهم بالباسآء والضرّآء لعلّهم یتضرّعون)

( سورہ انعام/ ۴۲)

”اس کے بعد انھیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑ گڑائیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کن لوگوں نے آفات ومصائب کے مسئلہ کو عقائد میں شامل کیا ہے؟

۲ ۔آفات ومصائب کے کچھ نمو نے بیان کیجئے ،کیا آپ اپنی زندگی میں کبھی ان سے دوچار ہوئے ہیں؟

۳ ۔نسبتی اور ہمہ جہت فیصلہ اور ”شر مطلق“ و ”خیر مطلق“ کیا ہے؟

۴ ۔کیاطوفان اور زلزلے یقینا نقصان دہ ہیں؟

۵ ۔ناخوشگوارحوادث انسان کی زندگی میں کونسے مثبت نفسیاتی اثرات ڈال سکتے ہیں؟


چوتھا سبق:آفات و بلیّات کا فلسفہ( ۲)

ہم نے کہا کہ انسانی زندگی میں رو نما ہو نے والے ناخوشگوار حوادث،آفات،مشکلات اور ناکامیوں پر اعتراض کر نے والوں نے ان چیزوں کوعدل الہٰی سے انکار کر نے کا بہانہ قرار دیا ہے بلکہ بعض اوقات اسی بہانہ سے پرور دگار کے وجود کے بھی منکر بن گئے ہیں!

گزشتہ بحث میں ہم نے ان حوادث کے ایک حصہ پر بحث و تحقیق کی اور اس کے دو فلسفوں کی وضاحت کی ۔یہاں پر ہم اسی بحث کو جاری رکھتے ہیں ۔

۳ ۔انسان مشکلات میں پرورش پاتا ہے

ہم پھر یہ بات کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ہاتھوں اپنے لئے مشکلات اور حوادث ایجاد نہیں کر نے چاہئے ۔لیکن اس کے باوجود بہت سے مواقع پر سخت اور نا خوشگوار حوادث اور مشکلات ہمارے ارادہ کو تقویت بخشنے کا سبب بنتے ہیں،جس طرح لوہا بھٹی میں ڈال کر گرم کیا جاتا ہے اور وہ سرد و گرم جھیل کر پائدار ہو جاتا ہے ،اسی طرح ہم بھی حوادث کی بھٹی میں سرد و گرم زمانہ جھیل کر پختہ اور قوی بن جاتے ہیں۔

جنگ ایک بری چیز ہے،لیکن کبھی ایک سخت اور طولانی جنگ ایک ملت کی استعداد کو وسعت بخشتی ہے ،اختلافات کو اتحاد و یکجہتی میں تبدیل کرتی ہے اور پسماند گیوں کی تیزی کے ساتھ تلافی کر تی ہے۔

ایک معروف مغربی مورّخ کہتا ہے :”پوری تاریخ میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہر نمایاں تہذیب کا ظہور،ایک ملک پر کسی بیرونی بڑی طاقت کے حملہ کے بعد رونما ہو تا ہے اور یہی بیرونی حملہ اس ملک کی سوئی ہوئی قوتوں کو بیدار کر کے انھیں منسجم و متحد کر دیتا ہے“

لیکن زندگی کے تلخ حوادث کے مقابلہ میں ہر فرد اور ہر معا شرہ کا رد عمل یکساں نہیں ہو تا ہے ۔بعض لوگ ان حوادث کے مقا بلہ میں یاس و نا امیدی اور ضعف وبد ظنی کے شکار ہو جاتے ہیں اور منفی نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کے پاس مناسب وسائل موجود ہو تے ہیں ،وہ ان حوادث کے مقابلہ میں جوش وجذبہ سے حرکت میں آجاتے ہیں اور اپنی کمزوریوں کی تیزی کے ساتھ اصلاح کرتے ہیں۔

چونکہ ایسے مواقع پر اکثر لوگ سطحی فیصلہ کر تے ہیں اورصرف مشکلات اور سختیوں کو دیکھتے ہیںاس لئے وہ ان کے مثبت اور تعمیری آثار کو نہیں دیکھ پاتے۔

ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی کے تمام تلخ حوادث کے ایسے ہی اثرات ہوتے ہیں ،لیکن کم از کم ان میں سے بعض ایسے ہی ہیں۔

اگر آپ دنیا کے غیر معمولی انسانوں کی زندگی کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہو جائے گا تقریباً وہ سب مشکلات اور سختیوں میں پلے ہیں ،ایسے بہت کم لوگ پائے جاتے ہیں ،جو عیش وعشرت میں پلے ہوں اور غیر معمولی شخصیت بن کر شہرت پائے ہوں۔فوج کے کمانڈر وہ بنتے ہیںجوسخت اور طولانی میدان کار زار میں اپنے جوہر دکھاتے ہیں ۔عظیم اقتصاددان وہ ہو تے ہیں جو بحران زدہ اقتصادی بازاروں میں گرفتار رہے ہیں ۔

بڑے اور قدرتمند سیاست دان وہ ہوتے ہیں جو اپنی سیاسی تحریک میں مشکلات سے مقابلہ کرتے ہیں اور سختیاں جھیلتے ہیں ۔

مختصر یہ کہ انسان مشکلات اور سختیوں کی آغوش میں پرورش پاتا ہے۔

ہم قرآن مجید میں یوں پڑھتے ہیں:

( فعسیٰ ان تکرهوا شیئاً ویجعل اللّٰه فیه خیرا کثیراًً)

( سورہ نساء/ ۱۹)

”ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور خدا اسی میں خیر کثیر قرار دے۔“

۴ ۔ مشکلات خدا کی طرف پلٹنے کا سبب ہیں

ہم نے گزشتہ بحثوں میں پڑھا کہ ہمارے وجود کے ہر ایک حصہ کا ایک مقصد ہے۔آنکھ ایک مقصد کے لئے ہے ،کان ایک دوسرے مقصد کے لئے ،دل،دماغ اور اعصاب میں سے ہرایک کسی نہ کسی مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ،یہاں تک کہ ہماری انگلیوں کی لکیروں میں بھی ایک فلسفہ مضمر ہے۔

اس بنا پر کیسے ممکن ہے کہ ہمارا پورا وجود مقصد اور فلسفہ کے بغیر ہو؟

ہمیںگزشتہ بحثوں میں معلوم ہوا کہ یہ مقصد،انسان کے تمام جہتوں میں تکامل حاصل کر نے کے علاوہ کوئی اور چیز نہیںہے۔

اس تکامل تک پہنچنے کے لئے یقینا،تعلیم وتر بیت کے ایک ایسے عمیق نظام کی ضرورت ہے جو انسان کے پورے وجود پر حاوی ہے ۔اسی لئے خداوند متعال نے انسان کو پاک توحیدی فطرت عطا کر نے کے علاوہ عظیم انبیاء کو آسمانی کتابوں کے ساتھ بھیجا تاکہ اس راہ میں انسان کی رہبری کی ذمہ داری نبھائیں ۔

اس کے ساتھ اس مقصد کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ کبھی کبھی انسان کو اس کے گناہوں اور خطاؤں کا رد عمل دکھا یا جائے اور خدا کی نافر مانی کے نتیجہ میں وہ اپنی زندگی میں مشکلات سے دو چار ہو تاکہ اپنے برے اعمال کے نتائج سے آگاہ ہو کر خدا کی طرف پلٹ آئے ۔ایسے ہی مواقع پر بعض بلائیں اور نا خوشگوار حوادث رحمت و نعمت الہٰی ہو تے ہیں۔

جیساکہ قرآن مجید یاددہانی کرتا ہے:

( ظهر الفساد فی لبرّ والبحر بما کسبت ایدی النّاس لیذیقهم بعض الّذی عملوا لعلّهم یرجعون)

( سورہ روم/ ۴۱)

”لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بناپر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تا کہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھادے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں ۔“

مذکورہ بیان کے پیش نظر درد ناک حوادث کو”شر“ کامصداق جاننا، انھیں ”بلائیں“کہنا،اور انھیں عدل الہٰی کے خلاف سمجھنا عقل و منطق کے خلاف ہے،کیو نکہ جتنا ہم اس مسئلہ میں عمیق تر غور کریں گے زیادہ سے زیادہ اس کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوں گے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ہماری خلقت کا مقصد کیا ہے؟اس مقصد تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟

۲ ۔انسان مشکلات کا مقابلہ کر کے کیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند قوی بن سکتا ہے؟

۳ ۔کیا آپ نے ایسے افراد کو دیکھا ہے یا تاریخ میں پڑھا ہے جو مشکلات اور سختیوں سے مقابلہ کر نے کے نتیجہ میں عظیم مرتبہ پر فائز ہو چکے ہوں؟ ان کے حالات زندگی بیان کیجئے۔

۴ ۔ہمارے گناہوں کے رد عمل کے بارے میں قرآن مجید کیا فر ماتا ہے؟

۵ ۔تلخ اور نا خوشگوار حوادث سے کون لوگ مثبت نتیجہ حاصل کرتے ہیں اور کون لوگ منفی نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟


پانچواں سبق;آفات و بلیّات کا فلسفہ ( ۳)

چونکہ خدا کی معرفت اور توحید کے مباحث کا مطالعہ کر نے والوں کے لئے ناخوشگوار آفات و حوادث کی مشکل ایک قابل غور مشکل ہے،اس لئے ہم آفات و حوادث کے بارے میں مزید فلسفوں کو بیان کر نا ضروری سمجھتے ہیں ،لہذا اس بحث کو آگے بڑھا تے ہیں ۔

۵ ۔مشکلات اور نشیب وفراز زندگی کو روح بخشتے ہیں

شاید بعض افراد کے لئے اس مسئلہ کا ادراک مشکل ہو گا کہ اگر خدا کی نعمتوں کا سلسلہ جاری اور یکساں ہو تو وہ اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔

آج ثابت ہو چکا ہے کہ اگرایک جسم کوایک کمرہ کے بیچ میں رکھا جائے اور اسپر ہر طرف سے یکساں اور تیز روشنی ڈالی جائے اور خود جسم اور کمرہ بھی مکمل طور پر شفاف اور گول ہوں،تواس جسم کو ہر گز دیکھا نہیں جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہمیشہ جب روشنی کے کنارے سائے قرار پاتے ہیں تو وہ جسم کے ابعاد کو مشخص کر تے ہیں اور اسے اپنے اطراف سے جدا کرتے ہیں اور ہم اسے دیکھ سکتے ہیں۔

زند گی کی نعمتوں کی قدر و قیمت بھی مشکلات کے پرُ رنگ اور کم رنگ سایوں کے بغیر قابل مشاہدہ نہیں ہے ۔اگر کوئی شخص زندگی بھر کبھی بیمار نہ ہو تو وہ ہر گز صحت و سلا متی کے مزہ کا احساس نہیں کر سکتا ہے ۔اس کے بر عکس اگر وہ ایک رات کو شدید بخار اور سر درد میں مبتلا ہو جا ئے اور صبح ہو نے پر وہ اس بخار اور سر درد سے نجات پا جائے تو صحت و سلامتی کا مزہ اس کے ذائقہ کو اس قدرشیرین کر تا ہے کہ جب کبھی اسے اس بحرانی اور المناک رات کی یاد آتی ہے تو اسے معلوم ہو تا ہے کہ اس کے پاس صحت وسلامتی نام کا کون ساقیمتی گوہر ہے۔

یکساںزندگی۔حتی خوشحال ترین زندگی۔بالکل تھکا دینے والی،بے روح اور مہلک زندگی ہو تی ہے ۔اکثر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض افراد خوشحال اور ہر قس کے رنج والم سے خالی زندگی سے اس قدر تھک چکے ہیں کہ خود کشی کر نے پر مجبور ہو گئے ہیں یا ہمیشہ اپنی زندگی کے بارے میں گلہ شکوے کرتے ہیں۔

آپ کسی باذوق معمار کو پیدا نہیں کر سکتے ہیں ،جو ایک بڑے ہال کی دیواروں کو ایک زندان کی دیواروں کے مانند صاف اور یکساں تعمیر کرے،بلکہ وہ اس ہال کی دیواروں کو اتار چڑھاؤاور پیچ و خم کے ساتھ تعمیر کرکے پُر کشش بنا دیتا ہے ۔

یہ عالم طبیعت کیوں اس قدر خوبصورت ہے؟

پہاڑوں پر موجود جنگلوں کے مناظر اور چھوٹے بڑے درختوں کے بیچ میں سے مار پیچ کے مانندگزرنے والی نہریں کیوں اس قدرخوبصورت اور دل آویز ہوتی ہیں؟!

اس کی ایک واضح وجہ ان کا یکساں نہ ہو نا ہے۔

”روشنی“اور”تاریکی“،اورشب وروز کی آمد ورفت کا نظام ،جس کا ذکر قرآن مجید نے مختلف آیات میں کیا ہے،اس کا ایک اہم مقصد انسانوں کی یکساں زندگی کو ختم کر نا ہے ،کیو نکہ اگر سورج آسمان کے ایک کو نے سے یکساں اور مسلسل طور پر کرئہ زمین پر اپنی روشنی پھیلاتا اور نہ اپنی حالت میں تبدیلی لاتا اور نہ اس کی جگہ رات کا پردہ پڑتا،تو دوسرے مشکلات کے علاوہ ،تھوڑی ہی مدت میں سب انسان تھک جاتے۔

اس وجہ سے ماننا چاہئے کہ کم از کم زندگی کے بعض ناخوشگوار حوادث اور مشکلات میں یہ فلسفہ ہے کہ یہ بقیہ زندگی کو روح بخشتے ہیں اسے شرین اور قابل برداشت بناتے ہیں،نعمتوں کی قدر وقیمت کو واضح کر دیتے ہیں اور انسانوں کے لئے یہ ممکن بناتے ہیں کہ موجودہ نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔

۶ ۔خود ساختہ مشکلات

ایک اور نکتہ،جس کی طرف ہم اس بحث کے اختتام پر اشارہ کر نا ضروری سمجھتے ہیں ،یہ ہے کہ بہت سے لوگ ناخوشگوار حوادث اور مصائب کے عوامل کا محاسبہ کر نے میں بعض اوقات مغالطہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ظالم انسانوں کے ذریعہ وجود میں آئے ظلم کو خلقت کے نظام کی نا انصافی جانتے ہیں اور انسان کے کام کی بد نظمی کو خلقت کی بد نظمی شمار کرتے ہیں۔

مثلاًکبھی اعتراض کرتے ہیں کہ مصیبت زدہ پر ہی کیوں مصیبتیں ٹوٹ پڑ تی

ہیں ؟!زلزلوں میں کیوں شہروں میں نقصا نات کم ہوتے ہیں اور گاؤں میں زیادہ قربانیاں رو نما ہو تی ہیں اور بہت سے لوگ ملبے میں پھنسے رہ جاتے ہیں ،یہ کونسا انصاف ہے؟اگر کوئی مصیبت قسمت میں طے ہو تو کیوں یکساں نہیں آتی؟

درد ناک حادثات سے کیوں اکثر مستضعفین (کمزرولوگ)دو چار ہو تے ہیں؟اور وبائی بیماروں کے کیوں یہی لوگ زیادہ تر شکار ہو تے ہیں؟

جبکہ حقیقت میں ان میں سے کوئی بھی چیز خلقت کے نظام اور خدا کی خلقت اور عدالت سے مربوط نہیں ہے،بلکہ یہ خود انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم واستعمار کا نتیجہ ہو تا ہے۔

اگر گاؤں والے شہر نشینوں کے ظلم کی وجہ سے فقر و محرومیت سے دو چار نہ ہو تے اور اپنے لئے مضبوط مکانات تعمیر کر سکتے تو وہ زلزلہ میں زیادہ نقصا نات سے کیوں دوچار ہو تے اور دوسرے کم؟

لیکن جب ان کے گھر معمولی مٹی،پتھر اور لکڑی کے بنے ہوں اور ان میں چونا اورسمینٹ کا نام تک نہ ہو اور ہوا کے ایک جھونکے یا معمولی زلزلہ سے زمین بوس ہو جائیں تو انھیں اس سے بہتر حالت کی توقع نہیں کر نی چاہئے ،لیکن اس کا خدا کے کام سے کیا ربط ہے؟

ہمیں اس شاعر کے مانند اعتراض نہیں کر نا چاہئے ،جس نے کہا ہے:

”یکے را دادہ ای صد نازو نعمت“

ایک کو سو نعمتیں عطا کی ہیں اور دوسرے کو خاک ذلت پر بٹھا دیا ہے،

ایک کومحل کو عطا کئے ہیں اور دوسرے کو جھونپڑی!

حقیقت میں یہ اعتراض معاشرہ کے غیر عادلانہ اور غلط نظام پر کئے جانے چاہئے ۔ہمیں ان اجتماعی نا انصافیوں کا خاتمہ کرنا چاہئے فقر و پسماند گی سے مقابلہ کر نا چاہئے اور مستضعفین کو ان کے حقوق دینے چاہئے تاکہ معاشرہ میںاس قسم کے حالات پیدا نہ ہو نے پائیں۔

اگر معاشرہ کے تمام لوگوں کو مناسب غذا ،صحت اور طبی خدمات ملیں تو وہ عام بیماریوں کے مقابلہ میں مقاومت پیدا کریں گے۔

لیکن جب ایک معاشرہ کاغلط اجتماعی نظام اور اس پر حاکم استکبارایک شخص کے لئے اس قدر وسائل فراہم کرے کہ اس کے پالتو کتے اور بلی کے لئے بھی مخصوص ڈاکٹر معین ہو اور اس کے مقا بلہ میں دوسرے کے ایک نوزاد بچے کے لئے بھی صحت وسلامتی کے ابتدائی وسائل مہیا نہ ہوں تو اس قسم کے ناخوشگوار حالات زیادہ رو نما ہوتے ہیں۔

ایسے حالات میں ہمیں خدا کے کام پر اعتراض کر نے کے بجائے خود اپنے ہی کام پر اعتراض کر نا چاہئے۔

ہمیں ظالم سے کہنا چاہئے کہ ظلم نہ کرے ۔

ہمیں مظلوم سے کہنا چاہئے کہ ظلم برداشت نہ کرے!

ہمیں کو شش کر نی چاہئے کہ معاشرے کے ہر فرد کو کم از کم صحت و صفائی ،علاج و معالجہ ،کھانے پینے،رہائشی ،ثقافتی اور تعلیم وتر بیت کے ابتدائی ضروریات سے بہرہ مند ہو نا چاہئے ۔

مختصر یہ کہ ہمیں اپنے گناہوں کو خلقت کے نظام کی گردن پر نہیں ڈالنا چاہئے۔

خدا وند متعال نے ہم پر کب ایسی زندگی مسلط کی ہے؟اور کہاں پر اس قسم کے نظام کی تعریف کی ہے؟

اس نے ہمیں آزاد خلق کیا ہے ،کیونکہ آزادی ہمارے تکامل اور ارتقا اورتر قی کا راز ہے۔

لیکن ہم اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا تے ہیں اور دوسروں پر ظلم وستم کرتے ہیں اوریہی ظلم وستم معاشرہ کی بد حالی کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔

افسوس کہ بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں ،یہاں تک کہ معروف ومشہور شعراء کے اشعار میں بھی اس کے نمونے ملتے ہیں۔

قرآن مجید ایک مختصر اور بامعنی جملہ میں فر ماتا ہے:

( إن اللّٰه لا یظلم النّاس شیئاً ولکن النّاس انفسهم یظلمون ) ( سورہ یونس/ ۴۴)

”اللہ انسا نوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ انسان خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے ہیں۔“

اب ہم آفات وبلیّات کے فلسفہ کی بحث کو ختم کرتے ہیں ۔اگر چہ یہ ایک طولانی موضوع ہے لیکن ہم اسی مختصر بحث پر اکتفا کرتے ہیں۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ آفات وبلیّات کے فلسفہ کی بحث کو ہم نے کیوں تین اسباق میں بیان کیا؟

۲ ۔زندگی کے یکساں ہو نے میں کون سے برُے اثرات ہیں؟کیا آپ نے کسی کو دیکھا ہے جو اپنی عیش وعشرت کی زندگی سے بیزار ہو؟

۳ ۔کائنات میں نور وظلمت کے نظام کے فلسفہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

۴ ۔کیا معاشرے میں موجود تمام مصیبتیں خلقت کے نظام سے مربوط ہیں یا ان کے ہم بھی ذمہ دار ہیں؟

۵ ۔کیا معاشرے کی مصیبتوں کو ختم کر نے کے لئے کوئی صحیح طریقہ موجود ہے؟مستضعفین کے بارے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟


چھٹا سبق : جبر و اختیارکا مسئلہ

پرور دگار عالم کی عدالت سے مربوط مسائل میں سے ایک مسئلہ ”جبر و اختیار“کا مسئلہ ہے۔کیونکہ عقیدئہ جبر کے قائل لوگوں کے نزدیک انسان کو اپنے اعمال،رفتار اور گفتار پر کسی قسم کا اختیار نہیں ہے اور اس کے اعضاء کی حرکات ایک مشین کے پرزوں کے مانند ہیں۔

اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ عدال الہٰی سے کیا مناسبت رکھتا ہے؟شاید اسی وجہ سے اشاعرہ نے ،جن کے بارے میں ہم نے گزشتہ سبق میں ذکر کیا اور وہ حسن وقبح عقلی کے منکر ہیں،جبر کو قبول کر کے عدل الہٰی سے انکار کیا ہے ۔کیونکہ جبر کو قبول کر نے کی صورت میں ”عدالت“ کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

اس بحث کو واضح کر نے کے لئے چند موضوعات کی دقیق وضاحت کر نا ضروری ہے:

۱ ۔جبر کے عقیدہ کا سرچشمہ

ہرشخص اپنے وجود کی گہرائیوں میں احساس کر تا ہے کہ وہ اپنے ارادہ میںآزاد ہے،مثال کے طورپر فلاں دوست کی وہ مالی مدد کرے یا نہ کرے یا یہ کہ پیاس کی حالت میں اگر اس کے سامنے پانی رکھا جائے تو وہ اسے پئے یا نہ پئے۔اگر کسی نے اس کے خلاف کوئی ظلم کیا ہو تو وہ اسے بخش دے یا نہ بخشے۔

یا یہ کہ ہر شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے کانپنے والے ہاتھ اور اپنے ارادہ سے حرکت کر نے والے ہاتھ کے در میان فرق کرسکتا ہے۔

آزادی ارادہ کا مسئلہ انسان کا ایک عام احساس ہو نے کے باوجود کیوں انسانوں کا ایک گروہ جبر کا عقیدہ رکھتاہے؟!

اس کے مختلف اسباب ہیں کہ ہم ان میں سے ایک اہم سبب کو یہاں پر بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان مشاہدہ کر تا ہے کہ ماحول افراد پر اثر ڈالتا ہے ،تربیت بھی ایک دوسری علت ہے اسی طرح پروپیگنڈے،ذرائع ابلاغ اور سماجی ماحول بھی بلا شبہ انسان کی فکرو روح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کبھی اقتصادی حالات بھی انسان میں تبدیلیاں ایجاد کر نے کا سبب بنتے ہیں ۔وراثت کے سبب ہو نے سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

یہ تمام عوامل اس کا سبب بنتے ہیں کہ انسان یہ خیال کرے کہ ہم با اختیار نہیں ہیں بلکہ ہمیں داخلی اور خارجی ذاتی عوامل اکھٹے ہو کر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کچھ ارادے اور فیصلے کریں،اگر یہ عوامل نہ ہو تے تو ہم سے بہت سے کام سرزد نہیں ہوتے۔یہ ایسے امور ہیں، جنھیںماحول کے جبر ،اقتصادی حالات کے جبر ،تعلیم وتربیت کے جبر اور وراثت کے جبر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ان عوامل میں سے ”مکتب جبر“فلاسفہ کی زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہے۔

۲ ۔جبریوں کی غلط فہمی کی اصل وجہ

لیکن جو لوگ ایسا خیال کرتے ہیں وہ ایک بنیادی بات سے غافل ہیں اور وہ یہ ہے کہ بحث”محر کات و عوامل“اور ”علت ناقصہ“کے بارے میں نہیں ہے بلکہ بحث”علت تامّہ“میں ہے۔دوسرے الفاظ میں :کوئی شخص انسان کی فکر اور اس کے عمل میں ماحول،تہذیب وتمدن اور اقتصادی اسباب کے اثر انداز ہو نے سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔اصل بحث اس میں ہے کہ ان تمام اسباب کے باوجود فیصلہ کا اختیار ہم ہی کو ہے۔

کیونکہ ہم واضح طور پر محسوس کرتے ہیں کہ سابقہ شہنشاہی نظام جیسے ایک غلط اور طاغوتی نظام میں بھی گمراہ ہو نے کے مواقع فراہم تھے ،لیکن ہم اس کے لئے مجبور نہیں تھے۔ ہمارے لئے اسی نظام اور ماحول میں بھی ممکن تھا کہ ہم رشوت لینے سے پر ہیز کریں، فحاشی کے مراکز کی طرف رخ نہ کریں اور آزادروی سے پرہیز کریں۔

لہذا ان مواقع کو”علت تامّہ“سے جدا کر نا ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد غیر مہذب گھرانوں اور برے ماحول میں پرورش پانے یا نامناسب وراثت کے مالک ہو نے کے باوجود اپنے لئے صحیح راہ کا انتخاب کرتے ہیں،یہاں تک کہ بعض اوقات یہی افراد اس قسم کے ماحول اور نظام کے خلاف انقلاب برپا کر کے اسے بدل دیتے ہیں، ورنہ اگر یہ ضروری ہوتا کہ تمام انسان ماحول،تہذیب و تمدن اور پروپیگنڈے کے تابع ہوں تو دنیا میں کبھی کوئی انقلاب برپا نہیں ہو سکتا اور تمام افراد ماحول کے سامنے ہتھیار ڈال کر جدید ماحول پیدا کر نے سے قاصر رہتے۔

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ تمام مذکورہ عوامل میں سے کوئی ایک بھی ”تقدیر ساز“نہیں ہے بلکہ یہ اسباب صرف مواقع فراہم کرتے ہیں اور انسان کی تقدیر کو صرف اس کا ارادہ اور عزم بناتا ہے۔

یہ ایساہی ہے کہ ہم ایک انتہائی گرم موسم میں خدا کی اطاعت کرتے ہوئے روزے رکھنے کا عزم کریں جبکہ ہمارے وجود کے تمام ذرات پانی کی خواہش کرتے ہیں لیکن ہم خدا کی اطاعت میں ان کی پروا نہیں کرتے جبکہ ممکن ہے کوئی دوسرا شخص حکم خدا کے باوجود اس خواہش کو قبول کر کے روزہ نہ رکھے۔

نتیجہ کے طور پر ان تمام ”اسباب وعوامل“کے باوجود انسان کے پاس عزم وارادہ جیسی ایک چیز ہے جس سے وہ اپنا مقدر بنا سکتا ہے۔

۳ ۔مکتب جبر کے سماجی اور سیاسی اسباب

حقیقت یہ ہے کہ ابتداسے ہی ”جبر واختیار“کے مسئلہ کے بارے میں کثرت سے غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے۔انسان کے ارادہ کی آزادی کی ”نفی“اور جبر کے عقید کی تقویت کے لئے کچھ خاص عوامل کا ایک سلسلہ بھی موثر کردار ادا کرتا رہا ہے۔ان میں سے بعض حسب ذیل ہیں:

الف:سیاسی عوامل

بہت سے جابر وستمگر حکام محروم اور مستضعف لوگوں کے انقلابی جذبہ کو خاموش کر نے اور اپنی غیر قانو نی اور مطلق العنان حکومت کو باقی رکھنے کے لئے ہمیشہ اس فکر کا سہارا لیتے رہے ہیں کہ ہم خود کوئی اختیار نہیں رکھتے،تقدیر کا ہاتھ اور تاریخ کا جبر ہماری قسمت کا فیصلہ کر نے والا ہے۔اگر کوئی امیر ہے اور کوئی غریب تو یہ قضا وقدر کے حکم یا تاریخ کے جبر کے سبب سے ہے!

واضح ہے کہ اس قسم کا طرز فکر کس حد تک لوگوں کے افکار کو بے حس کر سکتا ہے اور جابر حکام کی استعماری اور آمرانہ سیاست کی مدد کرسکتا ہے؟حالانکہ عقلی اور شرعی طور پر ہماری ”تقدیر“ خود ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ”جبر“کے معنی میں قضا وقدر کا بالکل وجود نہیں ہے ۔الہٰی قضا وقدر کی تعیین ہماری حرکات ،خواہشات ،ارادہ،ایمان،جستجو اور کوشش کے مطابق ہوتی ہے۔

ب۔نفسیاتی عوامل

جوکاہل اور سست افراد اپنی زندگی میں اکثر نا کام رہتے ہیں وہ ہر گز اس بات کو قبول نہیں کرتے ہیں کہ ان کی سستی اور خطائیں ان کی شکست کا سبب بنی ہیں۔لہذا اپنے آپ کو بری الذمہ قراردینے کے لئے ”مکتب جبر“کا سہارا لیتے ہیںاور اپنی ناکامی کو اپنی اجباری قسمت کے سر پر ڈالتے ہیں تاکہ اس طرح جھوٹا اور ظاہری سکون پیدا کر سکیں ۔وہ کہتے ہیں :کیا کریں ہماری قسمت کی چادر تو روز اول سے ہی ایسی سیاہ بنیُ گئی ہے جسے زمزم یا حوض کوثر کا پانی بھی سفید نہیں کر سکتا ۔ہم با استعداد بھی ہیں اور ہم نے کوشش بھی کی ہے لیکن افسوس ہماری قسمت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا!

ج۔سماجی عوامل:

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ وہ آزادی کے ساتھ ہو اوہوس کی راہوں پر چلتے رہیںاور اپنی حیوانی خواہشات کے مطابق ہر گناہ کے مرتکب ہوتے رہیں اس کے باوجود خیال کرتے ہیں کہ وہ گناہ کار نہیں ہیں اور سماج میں بھی اس قسم کا تاثر قائم کر نے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں۔

اس لئے وہ”عقیدہ جبر“کا سہارا لے کر اپنی ہوس رانی کی جھوٹی توجیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :ہمیں اپنے کاموں میں کسی قسم کا اختیار نہیں ہے!

لیکن بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے ،حتی اس قسم کی باتیں کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ان کے یہ عذر بے بنیاد ہیں۔لیکن عارضی لذتیں اور ناپائیدار منافع انھیں حقیقت کا کھلم کھلا بیان کر نے کی اجازت نہیں دیتے ۔

لہذا ضروری ہے کہ سماج کو اس جبری طرز فکر سے اور قسمت و تقدیر کو جبر کا نتیجہ قرار دینے کے عقیدہ سے بچانے کے لئے کوشش کی جائے۔کیونکہ اس قسم کا عقید ہ

سا مراجی طاقتوں کاآلہ کار اور جھوٹی ناکامیوں کے لئے مختلف بہانوں کا وسیلہ اور سما ج میں آلودگی بڑھانے کا بہت بڑا سبب بنتا ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔”جبر“اور”اختیار“کے نظریہ میں کیا فرق ہے؟

۲ ۔جبر کا عقیدہ رکھنے والے افراد کس دلیل پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں؟

۳ ۔ماحول،تہذیب وتمدن اور وراثت کے اثرات کا جواب کیا ہے؟

۴ ۔ان سیاسی ،نفسیاتی اور سماجی عوامل کی وضاحت کیجئے جن کی جھوٹی توجیہ کے لئے عقیدئہ جبر کا سہارا لیا جاتا ہے۔

۵ ۔ان عوامل کا مقابلہ کر نے کے لئے ہمیں کیا کر نا چاہئے؟


ساتواں سبق : ارادہ و اختیارکی آزادی پر واضح ترین دلیل

۱ ۔انسان کا ضمیر جبر کی نفی کرتا ہے

اگر چہ الہٰی فلاسفہ اور علماء نے انسان کے ارادہ میں آزاد ہونے کے سلسلہ میں گوناگوں دلائل پیش کئے ہیں ،مگر ہم اختصار کے پیش نظر ان دلائل میں سے ایک واضح ترین دلیل کو پیش کرتے ہیںاور یہ دلیل ”انسان کا ضمیر“ہے۔

ہم ہر چیز کا انکار کر سکتے ہیں ،لیکن اس بات کا انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ ہر معاشرے میں ۔چاہے وہ خدا پرستوں کا معاشرہ ہو یا مادہ پرستوں کا،مشرقی ہو یا مغربی، قدیم ہو یا جدید،امیر ہو یا غریب ،ترقی یافتہ ہو یا پسماندہ،معاشرے میں موجود ہر قسم کے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ ۔ایک ایسے”قانون“کا ہو نا ضروری ہے کہ جو معاشرے پر حاکم ہو اور لوگ اس قانون کی پیروی میں اپنی”ذمہ داری“پوری کریں اور اس قانون کی خلاف ورزی کر نے والے کو”سزا“دی جائے۔

مختصر یہ کہ”قانون“کی حاکمیت،عوام کی طرف سے قانون کا احترام اور اس کی”ذمہ داری“اوراس قانون کی خلاف ورزی کر نے والوں کو اس کی”سزا“جیسے مسائل پردنیا کے تمام عقلاء کا اتفاق ہے ،البتہ صرف وحشی اور غیر مہذب اقوام ان تینوں باتوں کو قبول نہیں کرتے۔

یہ مسئلہ،جسے ہم”تمام دنیا کے افرادکے ضمیر“کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، انسان کے اپنے ارادہ میں آزاد ہو نے پر واضح ترین دلیل ہے۔

یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے ارادہ وعمل میں مجبور ہو اور کسی قسم کا اختیار نہ رکھتا ہو لیکن قوانین کا احترام اور ذمہ داری اس کے لئے ضروری ہو اورقوانین کی خلاف ورزی کر نے پر اس سے باز پرس بھی ضروری ہو کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟اور ایسا کیوں نہیں کیا؟

اور خلاف ورزی ثابت ہو نے پر کبھی اس کو جیل کی سزا اورکبھی سزائے موت کا بھی سامنا کر نا پڑے۔

اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ہم پہاڑوں سے پھسل کر سڑک پر گر نے والے پتھروں ،جو مسافروں کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں ،کو عدالت میں لاکر ان کے خلاف مقدمہ چلائیں۔

یہ صحیح ہے کہ بظاہر ایک انسان اور پتھر کے ٹکڑے کے در میان بہت فرق ہے۔لیکن اگر ہم انسان کو اپنے ارادہ میں آزاد نہ جانیں تو یہ فرق بالکل ختم ہو جاتا ہے ،جس کے نتیجہ میں انسان اور پتھردونوںجبری عوامل کے تابع ہو جائیں گے۔پتھر قانون جاذبہ کے تحت سڑک کے بیچ میں آگرتا ہے اور انسان جبری عوامل کی وجہ سے مجرم،قاتل اور سرکش بن جاتا ہے ۔عقیدئہ جبر کے قائل افراد کے مطابق ان دونوں کے در میان کسی بھی قسم کا فرق نہیں ہے اور چونکہ کسی نے اپنے ارادہ سے کام انجام نہیں دیا ہے ،لہذا ایک کو عدالت کی کچہری میں کھڑا کر نا اور دوسرے کو چھوڑ دینا کیسے صحیح ہو گا؟!

ہم ایک دورا ہے پر کھڑے ہیں :یا تمام افراد کے عمومی ضمیر کو غلط اور خطا قراردیں اور تمام قوانین ،عدالتوں،مجرمین کو دی جانے والی سزاؤں کو بیہودہ،بلکہ ظالمانہ کام قرار دیں یاپھر ”عقیدہ جبر“ کا انکار کریں۔

بیشک دوسری ہی بات قابل ترجیح ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلسفی عقیدہ وتفکر کے لحاظ سے عقیدئہ جبر کا دم بھرنے والے افراد بھی جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو وہ عملی طور پر ”آزادی ارادہ“ کے عقیدہ پر عمل کرتے ہیں!

کیونکہ اگر کوئی شخص ان کے حقوق کو پامال کرے یا ان کو تکلیف پہنچائے تو اس کو سزا کا مستحق سمجھتے ہیں اور عدالت میںجاکر اس کے خلاف شکایت کرتے ہیں اور کبھی اتنا چیختے چلّاتے ہیں کہ جب تک اس کو سزا نہ مل جائے،چین سے نہیں بیٹھتے۔

پس اگر انسان اپنے ارادہ میں آزاد نہیں ہے تو یہ سرزنش،شکایت اورشور وغوغا اور داد و فریاد کس لئے کرتا ہے؟!

بہر حال دنیا کے عقلا کا عمومی ضمیر اس بات پر زندہ دلیل ہے کہ ”ارادہ کی آزدی“کی حقیقت کا اقرار تمام انسان اپنے دل کی گہرائیوں سے کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کے حامی اور طرفدار رہے ہیں اور اپنی زندگی کا ایک دن بھی اس عقیدہ کے بغیر نہیں گزار سکتے ہیں اور اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو اس کے بغیر نہیں چلاسکتے ہیں۔

عظیم اسلامی فلاسفر،”خواجہ نصیرالدین طوسی “جبر واختیار کی بحث کے دوران ایک مختصر اور جامع عبارت میں فر ماتے ہیں :

والضر ورة فاضیة باستناد افعالنا الینا “(تحریر العقائد ،بحث جبرو اختیار)

”ہمارا ضمیراس بات کا متقاضی ہے کہ ہمارے تمام اعمال خود ہم سے مربوط ہیں۔“

۲ ۔”جبر“کی منطق کا مذہب کی منطق سے تضاد

مذکورہ گفتگو کا تعلق اس بات سے تھا کہ جبر کا عقیدہ دنیا کے عقلاء کے عمومی ضمیر سے تضاد رکھتا ہے خواہ یہ عقلاء کسی مذہب کے ماننے والے ہوں یا لا مذہب۔

لیکن ہم مذہبی طرز فکر کے لحاظ سے بھی ایسے قطعی اور یقینی دلائل رکھتے ہیں جو عقیدئہ جبر کے باطل ہو نے پر دلالت کرتے ہیں ۔کیونکہ مذہبی عقائد ہرگز جبر کے عقیدہ کے موافق نہیں ہیں کیونکہ عقیدئہ جبر کو قبول کر نے کی صور ت میں مذہبی اصول وقوانین بھی مخدوش ہو جائیں گے ۔اس لئے کہ ہم گزشتہ بحث میں واضح طور پر ثابت کئے گئے عدل الہٰی کو جبر کے عقیدہ کی روشنی میں ثابت نہیں کرسکتے ہیں ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ خداوند متعال کسی کو برا کام انجام دینے پر مجبور کر کے اور پھر اس کو ایسا کام انجام دینے کے جرم میں سزا دے اور بازپرس کرے کہ کیوں یہ کام انجام دیا؟یہ کسی بھی منطق و عقل کے مطابق نہیں ہے!

لہذا جبر کے عقیدہ کو قبول کر نے کی صورت مین ثواب وعقاب اورجنت و جہنّم بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید کی آیات میں نامہ اعمال،سوال و جواب،الہٰی حساب،بد کاروں کی مذمت اور صالحین کی ستائش میں ذکر ہو ئے مفاہیم بھی بے معنی ہو جائیں گے۔کیونکہ اس عقیدہ کی بنیاد پر نیک اور بد کار افراد کے ارادہ واختیار میں کچھ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ہم مذہب میں سب سے پہلے انسان کی ”تکلیف اور ذمہ داری“سے مواجہ ہوتے ہیں ۔لیکن اگر انسان مجبور ہو تو کیا پھر اس ”تکلیف اور ذمہ داری“کا کوئی مطلب اور مفہوم ہے؟!

کیا ہم رعشہ کے مرض میں مبتلا کسی مریض کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے ہاتھ کی تھر تھراہٹ کو روک لے یا کسی ترائی میں پھسلنے والے شخص کو کہہ سکتے ہیں کہ رک جائے؟

یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ایک مشہور روایت میں مکتب جبر کو بت پرستوں اور شیطان کی جماعت کامکتب قرار دیتے ہوئے فر ماتے ہیں:

”تلک مقاله اخوان عبدة الاوثان وحضماء الرحمان وحزب الشیطان “ (اصول کافی ج ۱ ،ص ۱۱۹ باب جبر والقدر)

”یہ بت پرستوں کے بھائیوں ،خدا کے دشمنوں اور شیطان کے گروہ کی باتیں ہیں۔“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔جبر کے بطلان کی واضح ترین دلیل کیا ہے؟

۲ ۔ارادہ کی آزادی کے سلسہ میں دنیا کے لوگوں کے ضمیر کی وضاحت کیجئے۔

۳ ۔کیا جبر کا عقیدہ رکھنے والے عملی طور پر بھی ”جبر“کے مطابق عمل کرتے ہیں؟

۴ ۔کیا”جبر کا عقیدہ“عدل الہٰی کے موافق ہے؟اگر نہیں تو کیوں؟

۵ ۔ارادہ کی آزادی ہر قسم کی ذمہ داریوں کو قبول کر نے کی بنیاد کس طرح ہے؟


آٹھواں سبق:”امر بین الامرین“(یاوسطی مکتب)کیا ہے؟

۱ ۔”جبر“کے مقابلہ میں ”عقیدئہ تفویض“

افراط پر مبنی”عقیدئہ جبر“کے مقابلہ میں ”تفویض“کے نام سے ایک دوسرا مکتب موجود ہے۔یہ مکتب ”تفریط“پر مبنی ہے۔

عقیدئہ تفویض کے معتقد افراد کا کہنا ہے :خدا وند متعال نے ہمیں پیدا کر نے کے بعد تمام کام ہمارے سپرد کر دیئے ہیں اور اب خدا کا ہمارے اعمال وافعال سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔لہذا ہم اپنے اعمال کے قلمرو میں مکمل اور مستقل طور پر آزاداور حاکم ہیں!

بیشک،یہ عقیدہ بھی ”عقیدئہ توحید“کے بالکل موافق نہیں ہے ،کیونکہ ”توحید“نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تمام کا ئنات خدا کی ملکیت ہے اور کوئی چیز اس کی دسترس سے خارج نہیں ہے،حتی کہ ہمارے اعمال ہمارے ارادہ کی آزادی کے باوجود اس کی دسترس اور قدرت سے ہرگز باہر نہیں ہوسکتے ورنہ شرک لازم آئے گا۔

واضح تر عبارت میں:ہم دوخداؤں کے قائل نہیں ہو سکتے ہیں کہ ان میں سے ایک بڑا خدا ہو جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے اور دوسرا چھوٹا خدا یعنی ”انسان“جو اپنے تمام اعمال وافعال میں اس قدر آزاداور با اختیار ہے کہ خدا وند متعال بھی اس کے اعمال و افعال پر اثر انداز نہیں ہو سکتا!

یہ واضح شرک ہے اور دو یا چند خداؤں کی پرستش ہے ۔حق بات یہ ہے کہ ہم انسان کو آزاد اور با اختیار بھی تسلیم کریں اور خدا وند متعال کو اس پر اور اس کے اعمال پر حاکم بھی مانیں۔

۲ ۔در میانی مکتب

باریک نکتہ یہی ہے کہ ہم یہ خیال نہ کریں کہ ان مذکورہ دو باتوں کے در میان تضاد موجود ہے ۔اس امر میں گہری فکر کی ضرورت ہے کہ ہمیں خدا وند متعال کی ”عدالت“کو بھی مکمل طور پر قبول کر نا چاہئے ،اس کے بندوں کے لئے ”آزادی“اور”ذمہ داری“ کا بھی قائل ہو نا چاہئے ،اس کے علاوہ پوری کائنات پر اس کی حاکمیت اور توحید کابھی قائل ہو نا چاہئے اور یہ وہی چیز ہے جسے”امربین الامرین “سے تعبیر کیاگیا ہے۔(یعنی وہ عقیدہ جو افراط وتفریط کے در میان واقع ہوا ہے)

چونکہ یہ بحث ذرا پیچیدہ اور دقیق ہے،لہذا ہم اس کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔

فرض کیجئے آپ بجلی سے چلنے والی ایک ریل گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اور اس ٹرین کے ڈرائیور بھی آپ ہی ہیں ۔ٹرین کے پورے راستہ پر بجلی کا ایک قوی تارکھینچا گیا ہے اور ٹرین کی چھت پر لگا ہوا ایک مخصوص دائرہ (کڑا)بجلی کے اس تار سے ملا ہوا ہے اور حر کت کر رہا ہے اور لمحہ بہ لمحہ بجلی کو ایک قوی مر کز سے ٹرین کے انجن میں اس طرح منتقل کر رہا ہے کہ اگر ایک لمحہ کے لئے بھی اس قوی مرکز سے ٹرین تک بجلی نہ پہنچے تو ٹرین فوراً رک جائے گی۔

اس ٹرین کے ڈرائیورکی حیثیت سے بیشک آپ آزاد ہیں کہ راستے میں جہاں پر بھی چاہیں ٹرین کو روک سکتے ہیں ،اسے آہستہ یا تیز چلا سکتے ہیں لیکن اس تمام آزادی کے باوجود بجلی کے مرکز یعنی بجلی گھر میں بیٹھا ہوا شخص جب چاہے بجلی کو منقطع کر کے آپ کی ٹرین کو روک سکتا ہے ۔کیونکہ آپ کی ٹرین کی حر کت بجلی کی مر ہون منت ہے اور اس کی چابی مرکز برق میں بیٹھے ہوئے شخص کے ہاتھ میں ہے۔

اس مثال میں غور کر نے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ ٹرین کا ڈرائیور تمام تر آزادی ،اختیار اور ذمہ داری کے باوجود کسی اور کے کنٹرول میں ہے اور یہ دونوں امر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔

دوسری مثال:

فرض کیجئے کو ئی شخص کسی بیماری یا حادثہ کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کے اعصاب سے محروم ہو جاتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے پر قادر نہیں ہو تا ہے۔اگر اس کے اعصاب کو ایک خفیف اور ملایم برقی رو سے ارتباط دیا جائے تو اس کے اعصاب گرم ہو کر دوبارہ حرکت میں آسکتے ہیں ۔اب یہ شخص اسی ہاتھ سے کوئی بھی کام انجام دے سکتا ہے۔مثلاً اگر یہ شخص اسی ہاتھ سے کہ جس سے برقی روکا اتصال ہے کسی پر ظلم کرے ،کسی کے چہرے پر طمانچہ مارے یا کسی بے گناہ کے سینے میں چھرا گھونپ دے تووہ اپنی اس حر کت پر یقینا جواب دہ ہو گا ۔کیونکہ اس نے اپنی قدرت اور اختیار سے اس کام کو انجام دیا ہے۔اور قادر ومختار شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہو تا ہے ۔

لیکن اس کے باوجود اس انسان کے ہاتھ میں برقی رو داخل کر نے والا شخص بھی اس پر حاکمیت رکھتا ہے اور یہ انسان اپنی تمام آزادی و اختیار کے باوجود اس کے قبضئہ قدرت میں ہے۔

اب ہم اصلی مطلب کی طرف پلٹتے ہیں:

خدا وند متعال نے ہمیں ہمت اور طاقت عطا کی ہے ،ہمیں عقل وہوش اور جسمانی طاقت سے نوازا ہے ۔یہ تمام وسائل ہمیں لمحہ بہ لمحہ خدا وند متعال کی طرف سے عطا ہو رہے ہیں اگر ایک لمحہ کے لئے بھی خداوند متعال کا لطف وکرم ہم پر رک جائے اور اس سے ہمارا رابطہ منقطع ہو جائے تو ہم نابود ہو کر رہ جائیں گے۔

اگر ہم کوئی کام انجام دیتے ہیں تو یہ اسی کی طرف سے عطا کردہ قوت کے نتیجہ میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ جاری ہے حتی کہ ہماری آزادی اور اختیار بھی اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی نعمت ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم آزاد ہوں اور اس کی عظیم نعمتوں کے سایہ میں کمال کی منزل تک پہنچنے کا راستہ طے کریں۔

پس ہم اختیار اور ارادہ کی آزادی کے باوجود اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اوراس کی بار گاہ میں سر جھکائے ہو ئے ہیں اور اس کی حاکمیت کے قلمرو سے باہر نہیں ہو سکتے ۔ہم تمام تر قدرت اور توانائی کے باوجود اسی کے مرہون منت ہیں اور اس کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔”الامر بین الامرین “کا یہی معنی و مفہوم ہے ،کیو نکہ ہم نے کسی بھی موجود کو اس کے مثل قرار نہیں دیا ہے کہ شرک لازم آئے اور نہ ہی خدا کے بندوں کو ان کے اعمال میں مجبور جا نتے ہیں کہ ظلم لازم آئے ۔(غور فر مائیے!)۔

ہم نے یہ درس مکتب اہل بیت علیہم السلام سے حاصل کیا ہے،کیو نکہ ان حضرات سے سوال کیا جاتا تھا کہ کیا جبر و تفویض کے در میان کوئی تیسرا راستہ بھی ہے؟ تو وہ فر ماتے تھے :

”ہاں ،تیسرا راستہ بھی موجود ہے جو زمین و آسمان کے در میان فاصلہ سے وسیع تر ہے۔“(اصول کافی:ج ۱ ،ص ۱۲۱باب الجبروالقدر والامر بین الامرین)

۳ ۔قرآن مجید اور جبرو اختیار کا مسئلہ

قرآن مجید انسان کے ارادہ میں آزادی کے مسئلہ کو واضح طور پر ثابت کرتا ہے اور اس سلسلہ میں قرآن مجید میں سینکڑوں آیات ذکر ہوئی ہیں۔

الف۔وہ تمام آیات جن میں امر ونہی ،ذمہ داریوں اوراصول وقوانین کا ذکر کیا گیا ہے ،اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار میں آزاد ہے، کیونکہ اگر انسا ن آزاد نہ ہو تو اس کو بعض کاموں کا حکم دینا اور بعض کاموں سے روکنا لغو و بیہودہ شمار ہو گا۔

ب۔بد کاروں کی مذمت اور نیک لوگوں کی ستائش میں بیان شدہ آیات انسان کے خود مختار ہو نے پر دلالت کرتی ہیں ۔کیونکہ ”جبر“کی صورت میں مذمت اور مدح و ستائش بے معنی ہو گی ۔

ج۔جن تمام آیات میں قیامت سے متعلق سوال ،اور اس دن کے فیصلے کا دن ہو نے اور پھر اس کے نتیجہ میں جزاو سزا اور جنت و جہنم کا ذکر ہوا ہے ،وہ انسان کے با اختیار ہو نے پر دلا لت کر تی ہیں ۔کیونکہ جبر کی صورت میں ان آیات کا کوئی مفہوم نہیں ہو گا اور سوال و جواب،روز قیا مت کی عدالت میں پیشی اور بد کاروں کو سزا ملنا ”ظلم محض“شمار ہو گا۔

د۔انسان کو اس کے ا عمال کا مرہوں منت قرار دینے والی آیات،جیسے:

( کل نفس بما کسبت رهینة ) ( سورہ مدثر/ ۳۸)

”ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے“

( کلّ اُمری ءٍ بما کسبت رهین ) (سورہ طور/ ۲۱)

”ہرشخص اپنے اعمال کا گر وی ہے ۔“

یہ آیات واضح طور پر انسان کے صاحب اختیار ہونے کو ثابت کرتی ہیں ۔

ھ۔( إنا هدینا السّبیل إمّا شاکراًوامّا کفوراً )

( سورہ دہر/ ۳)

”یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دیدی ہے چاہے وہ شکر گزار ہو جائے یا کفران نعمت کر نے والا ہوجائے“

مذکورہ آیت بھی ہمارے اس مدعا کو ثابت کرتی ہے

قرآن مجید میں بعض ایسی تعبیرات وارد ہو ئی ہیں جو”امر بین الامرین “کے عقیدہ پر دلالت کرتی ہیں ۔لیکن بعض ناآگاہ لوگوں نے غلط فہمی سے ان آیات کو عقیدہ جبر کے حق میں ثابت کر نے کی کوشش کی ہے،مثلاً:

( وما تشاء ون إلاّان یشاء اللّٰه ) (سورہ دہر/ ۳۰)

”اور تم لوگ تو صرف وہی چاہتے ہو جو پرور دگار چاہتا ہے۔“

واضح ہے کہ مذکورہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات انسان سے اختیار کو سلب کر نا نہیں چاہتی ہیں بلکہ اس حقیقت کو ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ تم تمام اختیارات اور آزادی کے باوجود خدا وند متعال کے قبضہ قدرت میں ہو۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔”تفویض“سے کیا مراد ہے؟اور اس عقیدہ میں کونسا عیب ہے؟

۲ ۔”امربین الامرین “کے عقیدہ کی تعلیم ہم نے ائمہ اہل بیت (ع)سے حاصل کی ہے ،اس مطلب کی مثال کے ساتھ وضاحت کیجئے۔

۳ ۔”جبر“و”اختیار“ کے مسئلہ کے بارے میں قرآن مجید کی آیات کیا کہتی ہیں؟

۴ ۔اگر ہم جبر کے عقیدہ کو صحیح جان لیں تو پھر قیا مت کے دن،جنت و جہنّم اور سوال و جواب کے عقیدہ پر کیا اثر پڑے گا؟

۵ ۔کیا( وما تشا ء ون الاّ ان یشاء اللّٰه ) اور اس جیسی دوسری آیات ”جبر“پر دلالت کرتی ہیں؟


نواں سبق :ہدایت وگمراہی خدا کے ہاتھ میں ہے

۱ ۔ہدایت و گمراہی کی اقسام:

ایک مسا فر ایڈرس ہاتھ میں لئے ہو ئے آپ کے پاس آتا ہے اور آپ سے راہنمائی کا تقاضا کرتا ہے ۔آپ کے پاس اسے مقصد تک پہنچانے کے لئے دو راستے ہیں:

ایک یہ کہ اس کے ساتھ جاکر کمال نیکی اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے منزل مقصود تک پہنچادیں اور خدا حافظ کہہ کر واپس آجائیں۔

دوسرا یہ کہ ہاتھ کے اشارہ اور مختلف نشانیوں کے ذریعہ اسے مطلوبہ جگہ کی طرف راہنمائی کریں۔

بیشک آپ نے دونوں صورتوں میں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے اس کی راہنمائی کی ہے ۔لیکن ان دونوں طریقوں میں ایک واضح فرق ہے۔دوسرا طریقہ صرف راستہ دکھاناہے جبکہ پہلاطریقہ”مطلوبہ مقصد تک پہنچانا“ہے ۔قرآن مجید اور اسلامی روایات میں ”ہدایت“مذکورہ دونوں معنوں میں استعمال ہوئی ہے۔

ایک اور اعتبار سے کبھی ہدایت صرف ”تشریعی “صورت کی حامل ہوتی ہے یعنی قوانین اور دستورار کے طریقہ سے واقع ہوتی ہے اور کبھی”تکوینی“صورت کی حامل ہو تی ہے ،یعنی خلقت کے نظام کی راہوں سے ہدایت کی جا تی ہے ،جیسے ایک مکمل انسان بننے کے لئے نطفہ کی مختلف مراحل میں ہدایت۔یہ دونوں معانی بھی قرآن مجید اور روایات میں ذکر ہوئے ہیں ۔ہدایت کی اقسام واضح ہو نے کے بعد ہم اصل مطلب کی طرف پلٹتے ہیں۔(ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی بھی اسی طرح ہے)۔

ہم بہت سی آیات میں پڑھتے ہیں کہ ہدایت اور گمراہی خدا کا کام ہے۔بیشک ”راستہ دکھانے“کا تعلق خدا سے ہے ،کیونکہ اس نے انبیاء کو بھیجا ہے اور آسمانی کتا بیں نازل کی ہیں تاکہ انسان کی راہنمائی کریں۔

لیکن جبری طور پر ”مقصد تک پہنچانا“یقیناارادہ و اختیار کی آزادی کے خلاف ہے۔ چونکہ خدا وند متعال نے منزل مقصود تک پہنچا نے کی تمام قوتیں ہمارے اختیار میں دے رکھی ہیںاور ہمیں توفیق بخشنے والا وہی ہے ،لہذا ہدایت کے یہ معنی بھی خداوند متعال کی طرف سے ہیں،یعنی خدا وند متعال نے تمام عوامل اور مقدمات کو انسان کے اختیار میں قرار دیا ہے تا کہ وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔

۲ ۔ایک اہم سوال

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کی بہت سی آیات میں پڑھتے ہیں: ”خدا وند متعال جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کر تا ہے:جیسے یہ آیت:

( فیضلّ اللّٰه من یشاء ویهدی من یشاء وهو العزیز الحکیم ) (سورہ ابراھیم/ ۴)

”خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔“(۱)

بعض افراد قرآن مجید کی دیگر آیات اور خود آیتوں کی ایک دوسرے کی تفسیر کو مد نظر رکھے بغیر ،اس قسم کی آیات کا مشاہدہ کر کے اعتراض کی زبان کھولتے ہیں اور سوال کرتے ہیں :یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا جسے چاہے ہدایت کرے اور جسے چاہے گمراہ کرے؟پس ہمارا کیا قصور ہے؟!

اہم بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر کے وقت ہمیشہ دوسری آیات کے ساتھ ان کے رابطہ کو مد نظر رکھنا چاہئے تا کہ ہم ان کے اصلی اور حقیقی مفہوم سے آشنا ہو جائیں۔ہم یہاں پر ہدایت و گمراہی سے مربوط چند دوسری آیات کی نمونہ کے طور پر وضاحت کرتے ہیں تاکہ انھیں مذ کورہ آیت کے ساتھ ملا کر آ پ خود ضروری اور اصلی مطلب کو حاصل کر سکیں :

سورئہ ابراھیم کی آیت نمبر ۲۷ میں آیا ہے:

( ویضلّ اللّٰه لظّلمین)

”خدا وند متعال ظالمین کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے ۔“

ہم سورہ غافر کی آیت نمبر ۳۴ میں پڑھتے ہیں :

( کذلک یضلّ اللّه من هو مسرف مرتاب)

”خدا زیادتی کر نے والے اور شکی مزاج انسانوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے“

سورئہ عنکبوت کی آیت نمبر ۶۹ میں ہے:

( والّذین جاهدوا فینا لنهد ینّهم سبلنا)

”اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے“

جیسا کہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ خدا وند متعال کی مشیت اور اس کا ارادہ بلاوجہ نہیں ہے ،نہ وہ کسی کو بلا وجہ ہدایت کی تو فیق عطا کر تا ہے اور نہ کسی سے بلا وجہ سلب توفیق کر تا ہے۔

جو لوگ خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہین ،جنگ کی مشکلات کو برداشت کرتے ہیں ،اپنی نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرتے ہیں ،خدا کے دشمنوں کے خلاف ثابت قدمی کا ثبوت دیتے ہیں ،خدا وند متعال نے انھیں ہدایت کر نے کا وعدہ دیا ہے اور یہ وعدہ عین عدالت ہے۔

لیکن جو لوگ ظلم وستم کی بنیاد ڈالتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں زیادتی ،شک وشبہہ اور وسواس ایجاد کر نے کی کوشش کرتے ہیں ،خدائے متعال ان سے ہدایت کی تو فیق کو چھین لیتا ہے اور ان اعمال کے نتیجہ میں ان کا دل تاریک اور سیاہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ سعادت کی منزل تک پہنچنے سے محروم ہو جاتے ہیں ۔خدا کی طرف سے گمراہ کر دینے کے معنی یہی ہیں کہ خداوند متعال ہمارے اعمال کے نتیجہ کو ہمارے اختیار میں دے دیتا ہے اور یہ بھی عین عدالت ہے (توجہ فر مائیں!)

۳ ۔کیا خدا کا ازلی علم گناہ کی علت ہے؟!

آخری مطلب جو جبر واختیار کی بحث میں بیان کر ناضروری ہے ،وہ جبری عقیدہ کے قائل بعض لوگوں کا ”خدا کے ازلی علم“کے عنوان سے پیش کیا جانے والا بہانہ ہے۔

وہ کہتے ہیں:کیا خدا وند متعال جانتاتھا کہ فلاں شخص فلاں وقت کسی کو قتل کرنے یاشراب پینے کے جرم کا مرتکب ہو گا؟ اگر آپ کہیں خدا نہیں جانتاتھا ،تو آپ خدا کے علم کا انکار کرتے ہیں ،اور اگر کہیں کہ وہ جانتا تھا تواس شخص کووہ کام ضرور انجام دینا چاہئے ورنہ خدا کا علم واقع کے خلاف ہو گا ۔

لہذا خداوند متعال کے علم کو سچ ثابت کر نے کے لئے گناہ گاروں کومجبوراًمرتکب گناہ ہو نا چاہئے اور اطاعت کرنے والوں کو مجبوراً اس کی اطاعت کرنی چاہئے۔

لیکن ایسے افراد اپنے گناہوں اور خطاؤں پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ بہانہ تراشیاں کرتے ہیں ۔حقیقت میں وہ ایک نکتہ سے غافل ہیں کہ ہم کہتے ہیں خداوند متعا ل ازل سے ہی جانتاتھا کہ ہم اپنے ارادہ واختیار سے اطاعت یاگناہ انجام دیتے ہیں،یعنی ہمارا اختیار وارادہ بھی خدا کے علم میں ہے۔پس اگر مجبور ہو جائیں توخدا کا علم جہل میں تبدیل ہو جائے گا ۔(توجہ فر مائیں)

اس بات کی مزید وضاحت کے لئے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں:

فرض کیجئے ایک معلم جانتا ہے کہ فلاں شاگرد اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے فیل ہو جائے گا ۔اس کا یہ علم سو فیصد صحیح ہے کیونکہ یہ اس کے کئی برسوں کے تجربوں پر مبنی ہے۔

کیا فیل ہو نے کی صورت میں وہ شاگرد اپنے معلم کا گریبان پکڑ کر کہہ سکتا ہے کہ آپ کی پیشین گوئی اور علم نے مجھے فیل ہونے پر مجبور کیا؟!

اس سے بھی بہتر مثال یہ کہ فرض کریں ایک نیک اور بے خطا انسان ایک برے حادثہ کے وقوع سے پہلے اس کے بارے میں آگاہ ہو جاتا ہے اور کسی مصلحت کی بناء پر اس معاملہ میں مداخلت نہیں کرتا ہے ،کیا اس نیک اور بے گناہ انسان کاعلم مجرم کی ذمہ داری کو سلب کرے گا اور اسے جرم کا مرتکب ہو نے پر مجبور کرے گا ؟!(دقت فر مائیں)

یا فرض کریں کہ ایک ایسی جدید مشین ایجاد ہو جو آئندہ رونما ہو نے والے حادثہ کے بارے میں چند گھنٹے پہلے ہمیں خبر دے ۔ہمیں یہ مشین دقیق اطلاع دیتی ہے کہ فلاں شخص اپنے مکمل اختیار و ارادہ سے فلاں وقت فلاں کام انجام دے گا ۔کیا یہ پیشین گوئی کسی کے لئے جبر و زبر دستی کا سبب بن سکتی ہے ؟!

مختصر یہ کہ علم خدا ہرگز کسی کو کسی کام پر مجبور نہیں کرتا ہے۔

__________________

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ہدایت کی اقسام بیان کر کے ان کی وضاحت کیجئے ۔

۲ ۔ قرآن مجید کی آیات سے ایک ایسی آیت بیان کیجئے جس میں ہدایت وگمراہی کو خدا کی طرف نسبت دی گئی ہو۔

۳ ۔خدا کی ہدایت اور خدا کی گمراہی سے کیا مراد ہے؟

۴ ۔ خداوند متعال کے”ازلی علم “ سے کیا مراد ہے ؟

۵ ۔ کیا خدا کا ازلی علم ہمارے اختیار اور ذمہ داریوں کو سب کر دیتا ہے؟ اس سلسلہ میں ایک مثال کے ساتھ وضاحت کیجئے ۔

____________________

۱- اس آیہ شریفہ کا ترجمہ اگر یوں کیا جائے تو مذکورہ اشکال دور ہو جائے گا :”خدا اسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے جو(گمراہی)چاہتا ہے اور اسے ہدایت دیتا ہے جو”ہدایت“چاہتا ہے ۔توجہ فر مائیے۔


دسواں سبق:عدل الہٰی اور مسئلہ ”خلود“

ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید نے کفار اور گناہگاروں کے ایک گروہ کے بارے میں واضح طور پر دائمی سزا دینے یعنی دوسرے الفاظ میں ”خلود“کا ذکر کیا ہے۔

سورئہ توبہ کی آیت نمبر ۶۸ میں آیا ہے:

( وعداللهّٰ المنٰفقین والمنٰفقٰت والکفّار نار جهنّم خٰلدین فیها)

”اللہ نے منافق مردوں اور عورتوں سے اور تمام کافروں سے آتش جہنّم کا وعدہ کیا ہے جس میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“

اسی طرح اس آیت کے ذیل میں باایمان مردوں اور عورتوں کے لئے بہشت کے باغوں کا ہمیشہ کے لئے وعدہ کیا ہے:

( وعداللّٰه المؤمنین والمومنٰت جنّٰت تجری من تحتها الانهار خٰلدین فیها ) ( سو ر ہ توبہ/ ۷۲)

”اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔“

یہاں پر یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اس بات کو کیسے قبول کیا جائے کہ ایک انسان جس نے دنیا میں زیادہ سے زیادہ اسی سال یا سو سال زندگی گزاری ہو اور اس سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہو ،اسے کروڑوں سال بلکہ ہمیشہ ہمیشہ سزادی جائے؟!

البتہ یہ مطلب نیک اعمال کی جزا کے بارے میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کیو نکہ خدا کی رحمت کا سمندر وسیع ہے اور جزا جتنی زیادہ ہو خدا کی بے انتہا رحمت اور اس کے فضل و کرم کی علامت ہو گی ۔لیکن برے اعمال اور محدود گناہوں کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لئے اس کو کیسے عذاب میں مبتلا رکھا جاسکتا ہے ۔خداوند متعال کی عدالت کے پیش نظر اس کی کیا وجہ بیان کی جاسکتی ہے؟

کیا گناہ اور اس کی سزا کے در میان ایک قسم کا تعادل بر قرارنہیں ہو نا چاہئے؟

جواب:

اس بحث اور سوال کے قطعی حل اور جواب تک پہنچنے کے لئے چند نکات پر دقت کے ساتھ غور وفکر کر نے کی ضرورت ہے:

الف:قیامت کے دن کی سزائیں اس دنیا کی سزاؤں سے ہر گز شباہت نہیں رکھتی ہیں ۔مثلاًاگر کوئی شخص دنیا میں کسی جرم ،جیسے چوری وغیرہ کا مرتکب ہو جائے تو اسے ایک خاص مدت تک جیل میں ڈال دیا جاتاہے،لیکن قیامت کی سزائیں اکثر انسان کے اعمال کے آثار اور اس کے کاموں کی خاصیتوں کے اعتبار سے ہو تی ہیں۔

واضح ترعبارت میں گناہگاروں کی تمام سزائیں ،جن کا سامنا انھیں دوسری دنیا (قیامت)میں کرنا پڑ تا ہے در حقیقت ان کے اپنے کئے گئے گناہوں کا نتیجہ ہے جو ان کے دامن گیر ہو تے ہیں۔

اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ایک واضح تعبیر موجود ہے،فر ماتا ہے:

( فالیوم لا تظلم نفس شیئاًولا تجزون إلاّ ماکنتم تعملون ) (سورہ یٰس/ ۵۴)

”پھر آج کے دن کسی نفس پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو صرف ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا،جیسے اعمال تم کر رہے تھے۔“

ایک آسان مثال سے ہم اس حقیقت کو واضح کرسکتے ہیں:

ایک شخص منشیات یا شراب پینے کا عادی ہے ،جتنا بھی اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ زہریلی چیزیں تیرے معدہ کو خراب،تیرے دل کو بیمار اور تیرے اعصاب کو مجروح کردیں گی ،وہ پروا نہیں کر تا ہے ۔چند ہفتے یا چند مہینے ان مہلک چیزوں کی خیالی لذت میں غرق رہتا ہے اور اس کے بعد بتدریج زخم معدہ ،عارضہ قلب اور اعصاب کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر دسیوں سال عمر بھران بیماریوں میں مبتلا ہو کر شب وروزان کے عذاب میں گزارتا ہے ۔کیا یہاں پر یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ اس شخص نے تو چند ہفتہ یا چند مہینے سے زیادہ عرصہ منشیات یا شراب کا استعمال نہیں کیا تھا ،دسیوں سال عمر بھر کیوں امراض میں مبتلا ہو گیا؟

اس کے جواب میں فوراً کہا جائے گا یہ اس کے عمل کا نتیجہ واثر ہے !حتی اگر وہ حضرت نوح﷼ کی عمر سے بھی زیادہ یعنی دسیوں ہزار سال بھی عمر پائے اور مسلسل رنج و عذاب میں رہے تب بھی ہم یہی کہیں گے کہ اس نے جان بوجھ کر اور آگاہانہ طورپر اس چیز کو اپنے لئے خریدا ہے۔

قیامت کے دن کی سزائیں زیادہ تر اسی طرح ہیں ،اس لئے عدالت الہٰی پر کسی قسم کا اعتراض باقی نہیں رہتا ہے۔

ب:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ سزاؤں کی مدت گناہ کی مدت کے برابر ہونی چاہئے ،یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے ،کیونکہ گناہ اور اس کی سزا کے در میان زمانہ کے اعتبار سے کوئی ربط نہیں ہے بلکہ سزا کا تعلق اس گناہ کی کیفیت اور نتیجہ سے ہوتا ہے۔

مثلاًممکن ہے کوئی شخص ایک لمحہ میں ایک بے گناہ انسان کو قتل کر ڈالے اور اس دنیا کے بعض قوانین کے مطابق اسے عمر قید کی سزا دی جائے ۔یہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ انجام دینے کی مدت صرف ایک لمحہ تھی جبکہ سزا کی مدت دسیوں سال (عمر بھر)ہے،اور کوئی شخص اس سزا کو ظالمانہ شمار نہیں کرتا ہے،کیو نکہ یہاں پر منٹ،گھنٹے،مہینے یا سال کی بات نہیں ہے بلکہ گناہ کی کیفیت اور نتیجہ مد نظر رکھا جاتا ہے۔

ج:جہنم میں”خلود“ہمیشگی ،اور دائمی سزائیں ان لوگوں کے لئے ہیں ،جنہوں نے نجات کے تمام راستے اپنے اوپر بند کر لئے ہوں اور جان بوجھ کر فساد،تباہی اور کفر و نفاق میں غرق ہوئے ہوں اور گناہوں نے ان کے سارے وجود کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہو کہ حقیقت میں وہ خود گناہ و کفر کا روپ اختیار کر گئے ہوں۔

قرآن مجید میں یہاں پر ایک خوبصورت تعبیر ہے:

( بلیٰ من کسب سیّئة واحاطت به خطیئته فاولٰئک اصحٰب النّار هم فیها خٰلدون ) (سورہ بقرہ/ ۸۱)

”یقینا جس نے کوئی برائی حاصل کی اور اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا،وہ لوگ اہل جہنّم ہیں اور وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“

اس قسم کے افراد خداوند متعال کے ساتھ اپنے رابطہ کو مکمل طور پر منقطع کر لیتے ہیں اور نجات کے تمام راستوں کو اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں ۔

ایسے افراد کی مثال اس پرندہ کے مانند ہے جس نے جان بوجھ کر اپنے پروں کوتوڑ کر آگ لگا دی ہو اور وہ مجبور ہے ہمیشہ زمین پر رہے اور آسمان کی بلندیوں پر پرواز کر نے سے محروم رہے ۔

مذکورہ بالا تین نکات اس حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں کہ دائمی عذاب کا مسئلہ جوکہ منافقین اور کفار کے اےک خاص گروہ کے لئے مخصوص ہے ہر گز”عدل الہٰی“کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ ان کے برے اعما ل کا نتیجہ ہے اور ان کو پہلے ہی اس بات سے انبیاء الہٰی کے ذریعہ آگاہ کیا جا چکا ہے کہ ان کاموں کا نتیجہ اتنا تلخ اور برا ہے۔

اگر یہ افراد جاہل ہوں اور انبیاء کی دعوت ان تک نہ پہنچی ہو اور جہالت اور نادانی کی وجہ سے ایسے اعما ل کے مرتکب ہوئے ہوں تو وہ یقینا اس قسم کی سزا کے مستحق نہیں ہوں گے ۔

اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور اسلامی روایتوں سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ گناہگاروں کے ایک بڑے گروہ کو بھی بخش دیا جائے گا:

کچھ لوگ شفاعت کے ذریعے

کچھ لوگ معافی کے ذریعے

کچھ لوگ معمولی نیک اعمال کے ذریعہ خدا کے فضل وکرم سے کثیر اجرپا کر بخش دئے جائیں گے۔

اور کچھ لو گ ایک مدت تک جہنم میں اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے اور الہٰی بھٹی سے گزر کر پاک و صاف ہو نے کے بعد رحمت و نعمت الہٰی سے بہرہ مند ہوں گے ۔

صرف ایک گروہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے گاجو حق کے خلاف اپنی دشمنی اور ہٹ دھر می ،ظلم وفساد اور بے حد نفاق کی وجہ سے سرتا پا کفر اور بے ایمانی کی گہری تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔جہنم کی دائمی سزا کو بعض افراد نے کیونکر عدل الہٰی کے خلاف شمار کیا ہے؟

۲ ۔کیا آخرت کی سزائیں اس دنیا کی سزاؤں کے مانند ہیں؟ اگر نہیں تو وہ سزائیں کیسی ہیں؟

۳ ۔کیا عدالت،گناہ کی مدت اور سزا کی مدت برابر ہو نے کا تقاضا کرتی ہے؟

۴ ۔دوزخ کی دائمی سزائیں کن لوگوں کے لئے ہیں؟

۵ ۔عفو الہٰی سے کون لوگ بہرہ مند ہوں گے؟


نبوت کےدس سبق:

پہلا سبق:رہبران الہٰی کی ضرورت

ہمارے علم ودانش کی محدودیت

ممکن ہے بعض لوگ یہ سوچیں کہ کیا اصولی طور پر خدا کی طرف سے لوگوں کی راہنمائی کے لئے انبیاء کا مبعوث ہو نا ضروری ہے؟

کیا ہماری عقل وشعور حقائق کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں ہے ؟کیا انسان کی علمی ترقی پوشیدہ اسرار کو کشف کر نے اور تمام حقائق کو واضح کر نے کے لئے کافی اور مددگار نہیں ہے؟

جو چیزیں ممکن ہیں انبیاء ہمارے لئے لے آئیں وہ دو حالتوں سے خارج نہیں ہیں :یاہماری عقل ان کو بخوبی درک کرتی ہے یا درک کر نے سے قاصر ہے۔

پہلی صورت میں ہم انبیاء کو تکلیف دینے کے محتاج نہیں ہیں ۔جبکہ دوسری صورت میں ہمیں عقل و خرد کے خلاف مطالب کو قبول کر نے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

دوسرے الفاظ میں :کیا یہ درست ہے کہ انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر کسی دوسرے کے اختیار میں دے دے اور اس کی بات کو کسی چون و چرا کے بغیر قبول کرے ؟کیا انبیاء ہمارے جیسے انسان نہیں ہیں ؟یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے آپ کو اپنے جیسے انسانوں کے اختیار میں دے دیں؟

جواب

چند نکات کی طرف توجہ کر نے سے ان تمام سوالات کے جواب اور انسان کی زندگی کے نظام میں انبیاء کا مرتبہ واضح ہو جائے گا۔

۱ ۔ہمیں جاننا چاہئے کہ ہمارا علم وشعور محدود ہے ۔بشر کو نصیب ہوئی تمام علمی ترقی کے باوجود آج جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ ہمارے نہ جاننے کے مقابلہ میں ایک سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ اور ایک پہاڑ کے مقابلہ ایک تنکے کے مانند ہے ۔یا بعض بڑے دانشوروں کے کہنے کے مطابق جو بھی علوم آج ہمارے اختیار میں ہیں وہ کائنات کی کتاب ہستی کے الف با کے برابر ہیں۔

دوسرے الفاظ میں:ہمارے فیصلہ اور عقلی ادراک کا دائرہ ایک چھوٹے سے علاقہ کے مانند ہے کہ علم ودانش کی شعاعوں نے اسے روشن کیا ہے اور ہم اس کے باہر کی دنیا سے بالکل بے خبر ہیں۔

انبیاء آتے ہیں اور اس وسیع علاقہ کو ہماری ہر ضرورت کی حد تک روشن کرتے ہیں۔حقیقت میں ہماری عقل ایک قوی اور تیز روشنی والے لیمپ کے مانند ہے،لیکن انبیاء اور آسمانی وحی کی مثال تمام عالم کو روشن کر نے والے سورج کے مانند ہے۔کیا ایک قوی اور تیز روشن لیمپ رکھنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ میں سورج کا محتاج نہیں ہوں ؟!

واضح تر عبارت میں:زندگی کے مسائل کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :”معقول“،”غیر معقول“ اور”مجہول“۔

انبیاء ہر گز نا معقول بات،یعنی عقل وخرد کے خلاف نہیں کہتے اور اگر ایسی بات کہیں تو وہ انبیاء نہیں ہیں ۔وہ مجہو لات کو سمجھنے اور درک کر نے میں ہماری مدد کرتے ہیں اور یہ بات ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

لہذا وہ افراد جو زمانہ ماضی میں کہتے تھے کہ عقل وخرد کے ہوتے ہوئے ہم انبیاء کے محتاج نہیں ہیں ،(جیسے برہمن جو ہندوستان اور بعض دیگر علاقوں میں رہتے ہیں)یا وہ لوگ جوآج یہ کہتے ہیں کہ ان تمام علمی ترقیوں اور کا میابیوں کے بعد انسان انبیاء اور ان کی تعلیمات کا محتاج نہیں ہے ،تو وہ نہ انسان کے علم ودانش کی وسعت سے باخبر ہیں اور نہ انبیاء کی رسالت کا ادراک رکھتے ہیں ۔

ان لو گوں کی مثال اس بچے کی ہی ہے جوپہلی جماعت میں الف با پڑھنے کے بعد کہے کہ میں سب کچھ جا نتا ہوں اور مجھے معلم و استاد کی ضرورت نہیں ہے، کیا اس کی یہ بات بے بنیاد نہیں ہے؟

انبیاء صرف معلم ہی نہیں ہیں، ان کی رہبری کا مسئلہ ایک مستقل بحث کا حامل ہے کہ بعد میں ہم اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

۲ ۔کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر اپنے ہی جیسے کسی شخص کے اختیار میں دے دے ۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء۔جیسا کہ ہم بعد میں ثابت کریں گے ۔وحی الہٰی یعنی خداوند متعال کے لا محدودعلم سے رابطہ رکھتے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ قطعی دلائل کے ساتھ خداوند متعال سے ان کے رابطہ کو پہچانیں ،صرف اسی صورت میں ہم انبیاء کی باتوں کونہ صرف قبول کریں گے بلکہ ان کی تعلیمات پر دل وجان سے عمل بھی کریں گے ۔

اگر میں ایک ماہر اور ہمدرد طبیعت کے نسخہ پر عمل کروں تو کیا میں نے کو ئی برا کام کیا ہے؟

انبیاء ہمارے عظیم روحانی طبیب ہیں۔

اگر ہم نے اپنے معلم واستاد کے درس کو ،جو ہماری عقل و فکر کے مطابق ہے،کو قبول کریں تو کیا ہم نے غلط کام کیا ہے؟انبیاء بشریت کے سب سے بڑے معلم ہیں۔

بہتر یہ ہے کہ ہم خدا کی طرف سے انبیاء کی بعثت کی ضرورت کے دلائل پر مزید دقت کے ساتھ بحث کریں ۔

ہمارے پاس تین ایسی واضح اور محکم دلیلیں موجود ہیں ،جن سے ثابت ہو تا ہے کہ ہم انبیاء کی راہنمائی کے محتاج ہیں:

۱ ۔تعلیم کے اعتبار سے احتیاج

اگر ہم نور کی ایک خیالی اور افسانوی سواری پر سوار ہو کر تین لاکھ کیلو میٹر (پچاس ہزار فرسخ)فی سیکنڈ کی رفتار سے اس لا محدود کائنات کی سیر کریں تو کسی شک وشبہہ کے بغیر ہمیں حضرت نوح(ع) کی عمر جیسی ہزاروں عمریں در کار ہوں گے تاکہ ہم اس وسیع و عریض کائنات کے صرف ایک گوشے کا نظارہ کرسکیں۔

یہ کائنات اپنی ان تمام حیرت انگیز وسعتوں کے ساتھ یقینا عبث اور فضول نہیں بنائی گئی ہے اور جیسا کہ ہمیں توحید کے اسباق میں معلوم ہوا ہے کہ اس کائنات کا کوئی بھی فائدہ یا نفع خداوند متعال کے لئے نہیں ہے کیونکہ وہ ایک ایسا وجود ہے جو ہر لحاظ سے کامل،بے نیاز ،لامحدوداورہر نقص وعیب سے پاک ہے۔اس نے اس کائنات کو اس لئے نہیں بنایا ہے کہ اپنے کسی نقص کو بر طرف کرے۔

اس لئے ہم یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ خداوند متعال کا مقصد یہ ہے کہ دوسروں پر جو دو کرم کرے اور تمام موجودات کو تکا مل تک پہنچا دے ،جیسے سورج جو ہم زمین والوں پر چمکتا ہے حالانکہ وہ ہمارا محتاج نہیں ہے ۔سورج کی یہ روشنی صرف ہمارے فائدے کے لئے ہے ورنہ ہم سورج کے لئے کون سی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

کیا ہمارے لئے رشد و تکامل کی راہ کو طے کرنے اور انسان کامل کے مرحلہ تک پہنچنے کے لئے صرف ہماری معلومات کافی ہیں؟

ہم اس کائنات کے اسرار ورموز میں سے کتنے اسرار کے بارے میں آگاہ ہیں؟ بنیادی طور پر ہماری زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟یہ کائنات کب سے وجود میں آئی ہے؟کوئی بھی شخص ان سوالات کے صحیح اور دقیق جوابات نہیں جانتا ۔یہ کائنات کب تک باقی رہے گی ؟اس کا جواب بھی کسی کے پاس نہیں ہے۔

اجتماعی اور اقتصادی زندگی کے لحاظ سے بھی ہر دانشور اپنا ایک خاص نظریہ رکھتا ہے۔

مثلاً ایک گروہ”سر مایہ داری“نظام کا قائل ہے جبکہ دوسرا گروہ ”سوشلزم“اور ”کمیونزم“ کے نظریات کا حامی ہے اور تیسرا گروہ نہ پہلے کو قبول کر تا ہے اور نہ ہی دوسرے کو بلکہ دونوں گروہوں کے نظریات کو نقصان دہ جان کر مسترد کرتا ہے ۔

اسی طرح زندگی کے دیگر مسائل میں بھی دانشوروں کے نظریات میں کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

انسان حیران وپریشان ہو جاتا ہے کہ ان نظریات میں سے کس نظریہ کو قبول کرے۔؟!

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس بات کا اعتراف کیا جانا چاہئے کہ خلقت کے بنیادی اور حقیقی مقصد یعنی ”انسان کی تمام جہات میں پرورش ،بالید گی اور تکامل“کی منزل تک پہنچنے کے لئے ایسی تعلیمات کی ضرورت ہے جو صحیح اور حقیقی ہوں اور ہر قسم کی خطاؤں سے پاک اور زندگی کے حقائق کے مطابق ہوں ،ایسی تعلیمات جو اس طویل راہ میں اصلی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے انسان کی مددگار ثابت ہوسکیں۔

اور یہ سب کچھ صرف علم خدا یعنی انبیاء کے ذریعہ حاصل ہو نے والی الہٰی وحی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔اسی وجہ سے جس خدانے ہمیں اس کو طے کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ،ضروری ہے کہ وہ ایسا علم ودانش بھی ہمارے اختیار میں قرار دے ۔

۲ ۔اجتماعی اور اخلاقی مسائل میں رہبری کی احتیاج

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے وجود میں” عقل وخرد “کے علاوہ ایک اور قوت بھی موجود ہے کہ جس کا نام ”غرائز اور خواہشات“ ہے :خود پسندی کا غریزہ ،خشم وغضب کا غریزہ ،شہوت کا غریزہ اور اس قسم کے بہت سے دیگر غرائز اور خواہشات۔

بیشک اگر ہم اپنے غرائز کو قابو میں نہ رکھیں تو وہ ہم پر مسلط ہو جائیں گے حتی ہماری عقل وخرد کو بھی اسیر بنالیں گے اور انسان تاریخ کے ظالموں اور جابروں کی طرح ایسے بھیڑیے کی شکل اختیار کرلے گا جو ہر اعتبار سے جنگل کے بھیڑیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔

ہم اخلاقی تربیت کے لئے ایک تربیت کرنے والے استادکے محتاج ہیں ،ہم ایک”نمونہ“اور ”اسوہ“کے محتاج ہیں تاکہ”محاکات“ کے اصول کے مطابق اس کی گفتار ورفتار پر عمل کرسکیں۔

یہ ضروری ہے کہ ہر لحاظ سے ایک کامل اور تربیت یافتہ انسان اس خطرناک اور نشیب و فراز سے پر راستے میں ہمارا ہاتھ پکڑ لے اور ہمیں غرائز وخواہشات کے طغیان سے بچائے ،اخلاقی فضائل کے اصولوں کو اپنے کردار وعمل سے ہمارے دل وجان میں نقش کردے اور ہماری روح میں شجاعت،شہامت ،انسان دوستی،مروت،عفو وبخشش، وفادری،سچائی ،امانت داری اور پاک دامنی کو پروان چڑھائے۔

معصوم انبیاء کے علاوہ کون ہمارا ایسا مربی اور راہنما بن سکتا ہے؟

اسی دلیل کے پیش نظر ممکن نہیں ہے کہ ہمارا مہر بان اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا خدا ہمیں ایسے راہنماؤں سے محروم رکھے۔(اس بحث کا باقی حصہ آئندہ سبق میں بیان ہو گا)

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیا آپ یہ احساس کرتے ہیں کہ آپ کا علم ودانش جس قدر بھی زیادہ ہو جائے آپ کی جہالت آپ کے علم کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے؟(مثال دیجئے)

۲ ۔کیا آپ اندھی تقلید اور انبیاء کی پیروی کے در میان فرق کی وضاحت کر سکتے ہیں؟

۳ ۔اگر ہم کسی نا معلوم راستے پرراہنما کے بغیر چلیں تو ہمیں کن ممکنہ خطرے کا سامنا پڑ سکتا ہے؟

۴ ۔ہم انبیاء کی رہبری کے کس قدر اور کس لحاظ سے محتاج ہیں وضاحت کیجئے۔

۵ ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس سبق میں کونسا مطلب باقی رہا ہے جو آئندہ سبق میں بیان کیا جائے؟


دوسرا سبق: قانون گزاری کے لئے انبیاء کی ضرورت

ہم گزشتہ درس میں”تعلیم“اور” تربیت“کے حوالے سے انبیاء کی ضرورت کے بارے میں جان چکے ہیں ۔اب اجتماعی قوانین اور اس سلسلہ میں انبیا کے اہم رول پر بحث کریںگے۔

ہم جانتے ہیں کہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت جواس کی ترقی کا سبب بنی ہے اور اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مشہود ہے،اس کی وہی پر تلاش اجتماعی زندگی ہے۔

یقینا اگر تمام انسان ایک دوسرے سے الگ تھلگ زندگی بسر کرتے تو تہذیب وتمدن اور فکری لحاظ سے آج وہ سب ”عصر حجر“کے انسان جیسے ہوتے!

جی ہاں!یہ انسان کی اجتماعی تلاش وکوشش ہی ہے،جس نے تہذیب و تمدن کا چراغ جلایا ہے ،یہی اجتماعی تلاش وکوشش ہے جو انسان کی تمام علمی ایجادات اور انکشافات کا سبب بنی ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم چاند تک پہنچنے کے سفر کے مسئلہ پر غورکریں،تو معلوم ہو گا کہ یہ کام صرف ایک یا چند دانشوروں اور سائنسدانوں کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے ،بلکہ ہزاروں برسوں کے دوران لا کھوں علماء اور دانشوروں کے اجتماعی مطالعات ،انکشافات اور تجربیات کا نتیجہ ہے کہ انسان اس عظمت تک پہنچا ہے ۔

اگر ہمارے زمانہ میں ایک ماہر سرجن ایک مردہ انسان کے قابل استفادہ دل کو نکال کر دوسرے قریب المرگ انسان کے سینہ میں پیوند لگاتا ہے اور اسے قطعی موت سے نجات دلاتا ہے،تو یہ پوری تاریخ کے ہزاروں طبیبوں اور جراحوں کے تجربوں کا نتیجہ ہے جو استادوں کے ذریعہ شاگردوں کو منتقل ہوتا رہا ہے۔

لیکن اس اجتماعی زندگی میں ان تمام فوائد کے باوجود کچھ مشکلات بھی ہیں ،اور ہ مشکلات انسانوں کے ایک دوسرے کے حقوق اور منافع کا آپس میں متصادم ہونا ہے جو کبھی حق تلفی اور جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

یہاں پر قوانین ،نظام اور قواعد وضوابط کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے ۔قوانین ہماری تین بڑی مشکلات کو حل کرسکتے ہیں :

۱ ۔قانون معاشرے کی نسبت ہر فرد کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو اور ہر فرد کی نسبت معاشرے کی ذمہ داریوں اور فرائض کو واضح کرتا ہے،اور قابلیتوں کو بالید گی اور کوششوں کو مربوط کر نے کا سبب بنتا ہے۔

۲ ۔قانون لوگوں کے فریضوں اور ذمہ داریوں کی انجام دہی پر ضروری نگرانی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

۳ ۔قانون لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق کو پامال کر نے سے روکتا ہے اور معاشرے کو ہرج و مرج اور مختلف افراداور گرہوں کے در میان تصادم سے بچاتاہے۔ ضرورت پڑنے پر زیادتی کر نے والوں کے لئے مناسب سزائیں معیّن کرتا ہے ۔

بہترین قانون ساز کون ہے؟

اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ انسان کی ضرورت کے مطابق قانون سازی میں مذکورہ تین اصولوں کے ساتھ بہترین قوانین مرتب و منظم کر نے والا کون ہو سکتا ہے؟ تاکہ معاشرے کے افراد اور خود معاشرہ کے اختیارات ،فرائض اور حقوق واضح اور معین ہو جائیںاور لوگوں کے اعمال پر مکمل نگرانی کے علاوہ ظلم و زیادتی کر نے والوں کو بھی روکا جاسکے۔

اس سلسلہ میں ہم یہاں پر ایک واضح مثال پیش کرتے ہیں :

انسانی معاشرہ کو ایک بڑی ٹرین اور حکمراں طبقہ کو اسے چلا نے اور حرکت میں لانے والے انجن سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔

قانون اس ریلوے لائن کی پٹری کے مانند ہے جواس ریل گاڑی کو منزل مقصود تک پہنچنے کے راستہ کو معین کرتی ہے۔

پہاڑوں اور درّوں کے مختلف پیچ وخم سے گزر نے والی ایک اچھی ریلوے لائن کے لئے درج ذیل خصوصیات کا ہو نا ضروری ہے:

۱ ۔جس زمین سے ٹرین کو گزر نا ہے ،اس میں اس کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کو برداشت کر نے کی طاقت ہونی چاہئے۔

۲ ۔ریل کی دوپٹریوں کے درمیان کا فاصلہ مکمل طور پر ٹرین کے پہیوں کے موافق اور ھماھنگ ہو ناچاہئے اور اسی طرح ٹنلوں کی دیواریں اور ان کی بلندی ٹرین کی بلندی کے مطابق ہو نی چاہئے۔

۳ ۔نشیب و فراز اتنے گہرے اور اونچے نہ ہوں کہ ٹرین کے بریکوں اور اس کے جاذبہ کی قوت کو برداشت نہ کرسکیں۔

۴ ۔اسی طرح ٹرین کے گزر نے کے راستہ پر پہاڑوں سے پتھروں کے گرنے،سیلاب اور برف کے تودوںکے گرنے کو مکمل طور پر مد نظر رکھنا چاہئے تاکہ ٹرین صحیح وسالم ان رستوں سے گزر کر منزل مقصود تک پہنچ سکے۔اسی طرح اور دوسرے خصوصیات بھی اس زمین میں پائے جانے چاہئیں۔

اس مثال کو بیان کر نے کے بعد ہم پھر انسانی معاشرہ کی بحث کی طرف لوٹتے ہیں۔

انسانوں کے لئے بہتریں قانون بنانے والے قانون ساز کو مندرجہ ذیل خصوصیات کا حامل ہو نا چاہئے:

۱ ۔نوع انسان کو مکمل طور پر پہچانتا ہو اور ان کے تمام غرائز ،خواہشات،جذبات،ضروریات اور مشکلات سے آگاہ ہو۔

۲ ۔انسانوں میں پائی جانے والی تمام صلاحیتوں اورتوانائیوں کو مد نظر رکھے اور ان کو اجاگر کر نے کے لئے قوانین سے استفادہ کرے۔

۳ ۔معاشرے کو ممکنہ طور پر پیش آنے والے ہر قسم کے حوادث اور ان کے رد عمل کے بارے میں قبل از وقت پیش گوئی کرسکے۔

۴ ۔معاشرہ سے اس کے کسی بھی قسم کے منافع مربوط نہ ہوں تاکہ قوا نین وضع کرتے وقت اس کی فکر خود اپنے شخصی یا اپنے رشتہ داروں یا اپنی جماعت کے منافع کی طرف متوجہ نہ رہے۔

۵ ۔ضروری ہے کہ یہ قانون بنانے والا مستقبل میں انسان کو حاصل ہو نے والی ہر قسم کی ترقی یا تنزل سے مکمل طور پر آگاہ ہو۔

۶ ۔یہ قانون ساز ہر قسم کی خطا،غلطی اور فراموشی سے محفوظ ہو ناچاہئے۔

۷ ۔یہ قانون ساز ایسی طاقت کا مالک ہو ناچاہئے کہ معاشرے کے کسی فرد کی طاقت کے مقابلہ میں مرعوب نہ ہو جائے اور کسی سے نہ ڈرے اور اس کے ساتھ ہی نہایت مہر بان اور ہمدرد ہو نا چاہئے۔

یہ شرائط کس میں جمع ہیں؟

کیا انسان بہترین قانون ساز ہو سکتا ہے ؟

کیا آج تک کسی نے مکمل طورپر انسان کو پہچانا ہے؟جبکہ عصر حاضر کے ایک بڑے دانشور نے انسان کے بارے میں ایک مفصل کتاب لکھی ہے اور اس کا نام”انسان، موجود ناشناختہ “(انسان ایک نا شناختہ مخلوق)رکھا ہے ۔

کیا انسان کی ذہنیت ،میلانات ،غرائز اور جذبات کو مکمل طور پر پہچان لیا گیا ہے؟

کیا انسان کی جسمانی اور روحانی ضروریات کو خداوند متعال کے علاوہ کوئی اورشخص جانتا ہے؟

کیا عام انسانوں میں کوئی ایسا شخص پایا جاسکتا ہے جو معاشرے میں خاص ذاتی منافع نہ رکھتا ہو؟

کیا آپ عام انسانوں کے در میان کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو سہو وخطا سے محفوظ ہو اور معاشرے کے تمام افراد کو در پیش مسائل سے آگاہ ہو؟

لہذا خداوند متعال کی ذات اور خدا سے وحی حاصل کر نے والی ہستی (معصوم) کے علاوہ کوئی بھی شخص مکمل اور بہترین قانون سازنہیں ہو سکتا ہے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں: جس خدا وند متعال نے انسان کو کمال کے مراحل طے کر نے کے لئے پیدا کیا ہے ،اسے چاہئے کہ اس کی ہدایت کے لئے ایسے افراد کو مامور فر مائے جو تمام الہٰی قوانین کو انسان کے اختیار میں دے دیں۔

یقیناجب لوگ جان لیں گے کہ فلاں قانون ،خدا کا قانون ہے تو وہ اسے زیادہ اعتماد اور اطمینان سے قبول کر کے اس پر عمل کریں گے اور دوسرے الفاظ میں یہ آگاہی ان قوانین کے بہترین نفاذ کی ضمانت فراہم کرے گی۔

توحید و نبوت کے در میان رابطہ

ہم یہاں پر اس مطلب پر تو جہ کر نا ضروری سمجھتے ہیں کہ نظام خلقت بذات خود انبیائے الہٰی اور ان کی رسالت کے وجود پر ایک زندہ گوا ہے ۔

اس مطلب کی وضاحت یہ ہے :اگر ہم کائنات کے حیرت انگیز نظام پر ایک تحقیقی نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ خدا وند متعال نے اپنی مخلوقات کی کسی بھی ضرورت کو اپنے لطف و کرم سے محروم نہیں رکھا ہے ۔مثلاًاگر اس نے ہمیں دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا کی ہیں تو ان کی حفاظت اورروشنی کو مناسب طور پر تنظیم کر نے کے لئے پلکیں اور بھنویں بھی عطا کی ہیں ۔

آنکھوں کے گوشوں میں آنسوؤں کے غدود خلق کئے ہیں تا کہ آنکھوں کو مرطوب رکھیں ،کیونکہ آنکھوں کا خشک ہو نا ان کی نابودی کا سبب بن سکتا ہے۔

آنکھ کے گوشوں میں باریک سوراخ بنائے ہیں تا کہ آنکھوں کا اضافی پانی ان سوراخوں کے ذریعہ ناک میں داخل ہو جائے ۔اگر یہ باریک سوراخ نہ ہو تے تو آنسوؤں کے قطرے مسلسل ہمارے چہرے پر بہتے رہتے!

آنکھ کی پُتلی کو اس قدر حساس بنایا ہے کہ وہ خود بخود تیز یا کم روشنی کے مقابلہ میں تنگ یا گشادہ ہو جاتی ہے ،تا کہ ضرورت کے مطابق آنکھ میں روشنی داخل ہو جائے اور آنکھ کو کسی قسم کا صدمہ نہ پہنچے ۔

آنکھ کے حلقہ کے اطراف میں ایسے مختلف پٹھے بنائے ہیں تا کہ سر اور بدن کو ہلائے بغیر آنکھ کو آسانی کے ساتھ ہر طرف گھما کر مختلف مناظر کو دیکھا جا سکے ۔

وہ خدا جو انسان کی مختلف ضروریات کا اس قدر خیال رکھتا ہے ،کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اسے ایک معصوم اور قابل اعتماد رہنما اور رہبر سے محروم رکھے جو وحی الہٰی کے ذریعہ راہنمائی کرتا ہو؟!

مشہور و معروف فلاسفر بو علی سینا اپنے کتاب ”شفا“میں یوں لکھتا ہے:

”انسان کے لئے اپنی بقا کے تحفظ اور کمال حاصل کر نے کی ضرورت کے پیش نظر انبیاء کا مبعوث ہو نا یقینا پلکوں اور بھنوؤں کے بال اُگنے اور پاؤں کے تلوؤں میں خمیدگی جیسی چیزوں سے زیادہ ضروری ہے۔ممکن نہیں ہے کہ خداوند متعال اپنی ازلی عنایت کے تقاضے کی بناپر مذکورہ ضروری چیزوں کو پیدا کرے لیکن ان سے زیادہ ضروری چیز کو پیدا نہ کرے؟“

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے؟

۲ ۔انسان قانون کے بغیر زندگی کیوں نہیں گزار سکتا ہے؟

۳ ۔انسانی زندگی میں قانون کی اہمیت کو واضح کر نے کے لئے ایک زندہ مثال بیان کیجئے۔

۴ ۔ایک بہترین قانون ساز کے لئے کن صفات کا ہو نا ضروری ہے؟

۵ ۔انبیاء کا خود انسانوں میں سے ہو نا کیوں ضروری ہے؟


تیسرا سبق: انبیاء کیوں معصوم ہیں ؟

گناہ و خطا سے پاک ہو نا

بلا شک وشبہہ ہر نبی کے لئے ہرچیز سے پہلے تمام لوگوں کا اعتماد حاصل کر نا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کی بات کے بارے میں جھوٹ اور غلطی کا احتمال تک نہ دیں ورنہ اس کی رہبری کا منصب متزلزل ہو جا ئے گا۔

اگر انبیاء معصوم نہ ہوں تو بہانہ تراشی کر نے والے اس وجہ سے کہ انبیاء غلطی کرتے ہیں اور حقیقت پسند لو گ ان کی دعوت کی باتوں میں غیریقینی حالت کی وجہ سے ا ن کی دعوت کو قبول کر نے سے اجتناب کریں گے یا کم از کم اعتماد واطمینان کے ساتھ ان کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔

اس دلیل کو ہم”اعتماد کی دلیل“کہہ سکتے ہیں اور یہ عصمت انبیاء کے دلائل میں سے ایک اہم دلیل ہے۔

دوسرے الفاظ میں: یہ کیسے ممکن ہے کہ خداوند متعال ایک انسان کی بلا قید و شرط اطاعت کر نے کا حکم دیدے جبکہ ممکن ہے وہ انسان خطا یا گناہ کا مرتکب ہو جائے؟ کیا اس حالت میں لوگ اس کی اطاعت کر سکتے ہیں ؟اگر وہ اطاعت کریں تو ان کی اطاعت خطا و گناہ کی پیروی ہو گی اور اگر اطاعت نہ کریں تو اس کی رہبری کا منصب متزلزل ہو گا،خاص کر جبکہ انبیاء کی رہبری دوسروں کی رہبری سے مکمل طور پر متفاوت ہے ،کیونکہ لوگ اپنے تمام اعتقادات اور زندگی کے اصول و قوانین میں ان ہی انبیاء سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب عظیم مفسرین قرآن مجید کی آیہ شریفہ:

( اطیعوا اللّه واطیعواالرسول واولی الامر منکم )

(سورہ نساء/ ۵۹)

”اللہ کی اطاعت کرو اور رسول وصاحبان امر کی اطاعت کرو۔“

پر پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں:کس قید وشرط کے بغیر اطاعت کر نے کا حکم اس بات کی دلیل ہے کہ نہ صرف انبیاء معصوم ہیں بلکہ”اولی الامر“بھی معصوم ہیں۔اولوالامر سے مقصود وہ ائمہ ہیں جوپیغمبرکی طرح معصوم ہیں وگر نہ خداوند متعا ل بے قید وشرط ان کی اطاعت کر نے کا حکم نہیں دیتا ۔

ایک دوسرا طریقہ،جس سے انبیاء کے ہر گناہ کے مقابلہ میں معصوم ہو نے کو ثابت کیا جاسکتا ہے،یہ ہے کہ”انبیاء کے وجود میں گناہ کے عوامل واسباب کا میاب نہیں ہو تے ہیں۔“

اس کی وضا حت یوں کی جاسکتی ہے کہ جب ہم اپنے اندر غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہم بھی بعض گناہوں یا برے کاموں کے مقابلہ میں تقریباًمعصوم ہیں۔

درج ذیل مثالوں پر غور فر مائیے:

کیا آپ کسی ایسے عاقل انسان کو پیدا کر سکتے ہیں جوآگ کو کھالے؟یاکوڑا کرکٹ اور کسی گندی چیز کو نگل لے؟

کیا آپ کسی باشعور کو بالکل برہنہ ہو کر گلیوں اور بازاروں میں گھومتے ہو ئے پیدا کر سکتے ہیں؟

یقینا کسی با شعورانسان کو ایسا کام کر تے ہوئے پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اگر ہم کسی شخص کو ایسا کرتے دیکھیں تو یقین پیدا کریں گے کہ اس کا دماغ ٹھیک نہیں ہے اور وہ کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو گیا ہے ورنہ عام طور پر محال ہے کہ کوئی عاقل شخص اس قسم کا کوئی کام انجام دے۔

جب ہم اس قسم کے حالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے اعمال کی برائی ہمارے لئے اس قدر واضح ہے کہ کوئی بھی عاقل انسان ان کاموں کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔

یہاں پر ہم ایک مختصر جملہ میں اس حقیقت کو مجسم کر کے بتا سکتے ہیں کہ ہر عاقل اور صحیح وسالم شخص بعض بُرے اور ناشائستہ کا موں کی نسبت ”محفوظ“یادوسرے الفاظ میں ایک طرح ”معصوم “ہو تا ہے۔

اس مرحلہ سے آگے بھی ہم بعض ایسے اشخاص کو پاتے ہیں جو کئی دوسرے برے کاموں کے مقابلہ میں بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں جبکہ عام لوگوں سے ایسا ممکن نہیں ہے۔

مثال کے طور پر ایک آگاہ اور ماہر طبیب جو جراثیم کے مختلف انواع و اقسام کو بخوبی جانتا ہے ،ہر گز ایسے آلودہ پانی کو نہیں پیتا جس میں خطرناک متعدی بیماریوں میں مبتلا بیماروں کے کپڑے دھوئے گئے ہوں،جبکہ ممکن ہے ایک ان پڑھ اور ناآگاہ شخص اس قسم کی چیز کو اہمیت نہ دے۔

بہر حال ہم ایک سادہ تجزیہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ایک موضوع کے بارے میں جس قدر انسان کی آگاہی زیادہ ہو وہ برے کاموں سے زیادہ محفوظ رہ سکتا ہے۔

اس حساب سے اگر کسی کے”ایمان“اور ”علم وآگاہی“کی سطح اس قدر بلند ہو جائے کہ وہ خداوند متعال اور اس کی عدالت کے بارے میں ایسا اعتقاد ویقین پیدا کرے کہ گویا انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے حاضر وناظر مشاہدہ کر رہا ہے ،تو ایسا انسان تمام گناہوں کے مقابلہ میں محفوظ رہے گا اور اس کے سامنے ہر برا کام ویسا ہی ہو گا ،جیسا ہماری نظروں میں کوچہ و بازار میں مادر زاد ننگا گھومنا ہے۔

اس کے لئے حرام مال بالکل آگ کے شعلہ کے مانند ہو گا ،جس طرح ہم آگ کو اپنے منہ میں نہیں ڈالتے ،وہ بھی حرام مال کو اپنے منہ کی طرف نہیں لے جاتا ہے۔

اس گفتگو سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ انبیاء اپنے غیر معمولی علم وآگاہی کے پیش نظرگناہ کے عوامل پرکنٹرول رکھتے ہیں اور گناہ کے ہیجان انگیز ترین عوامل بھی ان کی عقل وایمان پر حاوی نہیں ہو سکتے،اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ انبیاء معصوم ہیں اور ہر قسم کے گناہوں سے پاک ومنزّ ہیں۔

عصمت کا مرتبہ کیسے فضیلت کا سبب بن سکتا ہے؟

بعض افراد جو عصمت کے مفہوم اور گناہوں سے بچنے کے عوامل کے بارے میں

آگاہی نہیں رکھتے ،اعتراض کرتے ہیں کہ اگر خداوند متعال کسی کو گناہ سے بچائے اور گناہ کے عوامل کو اس میں ختم کردے تو یہ اس کے لئے کوئی فضیلت نہیں ہو سکتی ہے !کیونکہ یہ ایک جبری عصمت ہے اور جبری عصمت فضیلت شمار نہیں ہوتی

لیکن ہماری مندرجہ بالا وضا حت کے پیش نظر اس اعتراض کا جواب مکمل طور پر واضح ہو گیا ہے :

انبیاء کی عصمت میں کسی بھی قسم کا اجباری پہلو نہیں ہے بلکہ ان میں موجود قوی ایمان ،محکم اور غیر معمولی علم وآگاہی ان کے لئے عصمت کی ایک عظیم فضیلت حاصل ہو نے کا سبب بنتے ہیں ۔

اگر ایک آگاہ و ماہر طبیب بیماری پھیلانے والے عوامل کے مقابلہ میں شدید پرہیزکا مظاہرہ کرے تو کیا یہ اس کی مجبوری شمار کی جائے گی ؟!

اگر ایسا شخص حفظان صحت کے اصولوں کی پوری طرح رعایت کرے تو کیا یہ کام اس کی ایک فضیلت شمار نہیں ہوگی؟

اگر ایک قانون دان کسی خطرناک جرم کے عدالت میں ہولناک نتائج کے پیش نظر اس سے سخت پرہیز کرتا ہے تو کیا یہ اس کی فضیلت شمار نہیں ہوگی ؟

پس ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انبیاء کے معصوم ہو نے میں نہ صرف اختیاری پہلو ہے بلکہ یہ ان کے لئے ایک بڑی فضیلت بھی ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔معصوم ہونے کی کتنی قسمیں ہیں؟

۲ ۔اگر انبیاء معصوم نہ ہوتے تو کیا ہو تا؟

۳ ۔مرتبہ”عصمت“کی حقیقت کیا ہے؟

۴ ۔سبق میں بیان شدہ مثالوں کے علاوہ چند اور مثالیں بیان کیجئے جن کی نسبت تمام لوگ یا کچھ لوگ معصوم ہوں۔

۵ ۔انبیاء کی عصمت اجباری ہے یا اختیاری ؟دلیل بیان کیجئے۔


چوتھا سبق: پیغمبر شناسی کا بہترین طریقہ

بلا شک وشبہہ ہر مدعی کے دعوی ٰکو قبول کر نا عقل و منطق کے خلاف ہے۔

ممکن ہے خدا کی طرف سے پیغمبری اوررسالت کادعویٰ کر نے والا شخص سچا ہو،لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایک موقع پرست اور دھوکہ باز شخص سچے انبیاء کے بجائے جھوٹا دعویٰ کرے۔اس لئے ضروری ہے کہ انبیاء کی دعوت اور ان کے خدا سے رابطہ کی حقیقت کو ثابت کر نے کے لئے ،ہمارے پاس ایک قطعی اور یقینی کسوٹی موجود ہو۔

اس مقصد تک پہنچنے کے لئے ہمارے پاس مختلف راستے موجود ہیں ،جن میں سب سے اہم مندرجہ ذیل دو راستے ہیں:

۱ ۔پیغمبر کی دعوت کے مطالب کے بارے میں پوری دقت سے تحقیق اور اس کے بارے میں قرائن و علامات کو اکھٹا کر نا۔

۲ ۔معجزہ اور خارق العادہ کام۔

ہم پہلے معجزہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں:

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لفظ ”معجزہ“سن کر تعجب کا اظہار کرتے ہیں یا معجزوں کو افسانوں اور کہانیوں کے مثل جانتے ہیں ،حالانکہ اگر ہم معجزہ کے معنی ومفہوم پر سنجیدگی کے ساتھ اور علمی پہلو سے غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کے تصورات بالکل غلط ہیں۔

حقیقت میں معجزہ ایک ناممکن کام اور بے علت معلول نہیں ہے ،بلکہ سادہ الفاظ میں معجزہ ایک خارق عادت کام کو کہتے ہیں جس کو انجام دینا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہو تی اور یہ صرف ایک غیر معمولی طاقت کے ذریعہ ہی انجام پاسکتا ہے۔

اس لئے معجزہ کے درج ذیل شرائط ہیں:

۱ ۔یہ ایک ممکن اور قابل قبول کام ہے۔

۲ ۔عام لوگ،حتی غیر معمولی ذہن رکھنے والے افراد بھی انسانی قدرت کے ذریعہ معجزہ کو انجام دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔

۳ ۔معجزہ پیش کر نے والے شخص کو اپنے کام پر اتنا یقین اور اطمینان ہو نا چاہئے کہ دوسروں کو اس کے مقابلہ کی دعوت کرے۔

۴ ۔کوئی بھی شخص معجزہ کے مانند کام انجام نہیں دے سکتا ہے ،جیسا کہ معجزہ کے نام ہی سے معلوم ہے کہ اس کے مقابلہ میں لوگ عاجز ہوں۔

۵ ۔معجزہ کا نبوت یا امامت کے دعویٰ کے ساتھ ہو نا ضروری ہے (اس لئے پیغمبر اور امام کے علاوہ دوسروں سے انجام پانے والے خارق عادت کام معجزہ نہیں کہلاتے بلکہ انھیں کرامت کہا جاتا ہے)۔

چند واضح نمو نے:

ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ مردوں کو زندہ کر نا اور لاعلاج مریضوں کو صحت یاب کر نا تھا۔

کیا ہمارے پاس کوئی ایسی دیل موجود ہے جس سے یہ ثابت کریں کہ انسان کے بدن کا نظام فیل ہو کر مرنے کے بعد پھر سے وہ زندہ نہیں ہو سکتا ہے؟!

کیا ہمارے پاس کوئی ایسی عقلی وعلمی دلیل موجود ہے جس سے ہم ثابت کریں کہ کینسر کی بیماری،جس کے علاج سے ہم عاجز ہیں ،کا کوئی علاج نہیں ہے۔

لیکن یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ انسان موجودہ قدرت اور حالات میں مردوں کو زندہ کر نے یا بعض بیماریوں کا علاج کر نے کی طاقت نہیں رکھتا ہے ،چاہے دنیا کے تمام ڈاکٹر مل کر اپنے تجربات اور علم سے مدد کیوں نہ لیں۔

لیکن اس میں کیا مشکل ہے کہ ایک انسان خدا کی قدرت اور اس کے لامحدود علم کے سمندر سے آگاہی حاصل کر کے ایک پر اسرار اشارہ کے ذریعہ ایک مردہ میں پھر سے روح کو لوٹا دے یا ایک لا علاج مریض کو شفا بخش دے!

علم صرف یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا ہوں اور مجھ میں یہ کام انجام دینے کی طاق نہیں ہے ،لیکن کبھی یہ نہیں کہتا ہے کہ فلاں کام انجام دینا ناممکن اور غیر معقو ل ہے۔

ایک دوسری مثال:

خلائی جہاز کے بغیر چاند کا سفر کر نا کسی بھی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ،لیکن اس میں کیا حرج ہے کہ ہماری قدرت سے برتر کوئی طاقت انسان کی ایجاد کی گئی سواری سے بالاتر ایک پر اسرار سواری کو ایجاد کر کے کسی کے اختیار میں قرار دیدے اور وہ خلائی جہاز سے مدد لئے بغیر چاند یا اس سے دورتر سیاروں کا سفر کر دے۔!

اگر کوئی شخص حقیقتاًاس قسم کا کوئی خارق عادت کام انجام دے اور اس کے ساتھ ہی نبوت کا دعویٰ بھی کرے اور لوگوں کو مقابلہ کی دعوت بھی دے اور عام لوگ اس کے مقا بلہ میں عاجز ہو جائیں تو یقین کریں گے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے ۔

معجزات کو توہمات اور خرا فات سے نہیں ملا نا چاہئے

”افراط“ و”تفریط“ہمیشہ برائی اور تباہی ایجاد کر نے اور حقیقت کے چہرہ کو بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں۔

معجزہ کے بارے میں بھی یہی امر صادق آتا ہے ۔جبکہ بعض تجدّد پسندی کے نام نہاد دعوے دار کھل کر یا اشاروں میں ہر قسم کے معجزہ سے انکار کر تے ہیں اس کے مقا بلہ میں کچھ لوگ زیادہ سے زیادہ معجزے گھڑتے ہیں اور مرموز دشمنوں کے توسط سے جعل کی گئی ضعیف روایتوں اور توہمات پر مشتمل افسانوں کو معجزات کے ساتھ ملا دیتے ہیں ۔اس طرح انبیاء کے حقیقی معجزوں کے علمی چہرے پر افسانوں اور خرافات کے پردے ڈال دیتے ہیں۔

جب تک حقیقی معجزات اس قسم کے جعلی افسانوں سے پاک و منزّہ نہ ہو جائیں، ان کا اصلی چہرہ آشکار نہیں ہو گا۔

اسی لئے ہمارے عظیم علماء اور فقہا ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ معجزات وغیرہ کے سلسلے میںاسلامی احادیث اس قسم کے افسانوں سے آلودہ نہ ہو جائیں۔

اسی لئے ”علم رجال“کو وجود میں لایاگیا تاکہ احادیث کے راویوں کو اچھی طرح پر کھا جائے اور”صحیح“اور”ضعیف“احادیث کے در میان فرق معلوم کیا جائے اور توہمات پر مشتمل مطالب حقائق سے ملنے نہ پائیں۔

آج سامراجی اورالحادی قوتیں بیکار نہیں بیٹھی ہیںبلکہ وہ بے بنیاد باتوںکو پاک ومنزہ دینی عقائد سے مخلوط کر دینے کی کوشش کر تی ہیں تاکہ اس طرح سے لوگوں کو حقیقی علم سے دور کر دیں۔لہذا ضروری ہے کہ ہم دشمنوں کی ان تخریبی سازشوں کے بارے میں پوری طرح باخبر رہیں اور ان کو ناکام بنادیں۔

معجزہ کا دوسری خارق عادت چیزوں سے فرق

غالبا ً آپ نے سنا ہو گا کہ کچھ جوگی بعض اوقات خارق عادت کام انجام دیتے ہیں ،ایسے عجیب وغریب کام کا مشاہدہ کر نے والے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے ،یہ ایک حقیقت ہے نہ افسانہ۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ ان خارق عادت کاموں اور انبیاء کے معجزات کے در میان کیا فرق ہے؟ہمارے پاس کونسی کسوٹی ہے جس پر کے ذریعہ ہم ان دوچیزوں کے در میا ن فرق معلوم کر سکیں؟

اس سوال کے کئی جواب ہیں ،ان میں سے واضح تر درج ذیل دو جواب ہیں:

۱ ۔جوگی ہمیشہ محدود کام انجام دیتے ہیں اور دوسرے الفاظ میں کو ئی بھی جوگی آمادہ نہیں ہو گا کہ آپ کی خواہشی کے مطابق کسی خارق عادت کام کو انجام دے بلکہ وہ ایسا خارق عادت کام انجام دیتا ہے جسے وہ خود چاہتا ہے یعنی اسی کام کو انجام دیتا ہے جس کی اس نے مشق کر کے اچھی طرح سے سیکھا ہے اور اس پر مسلط ہو گیا ہے ۔اس بات کی وجہ واضح ہے ،کیونکہ ہر انسان کی قدرت محدود ہے ،وہ صرف چند ایک کاموں میں مہارت حاصل کر سکتا ہے ۔

اس کے مقابلہ میں انبیاء کے خارق عادت کام کی کوئی محدو دیت نہیں ہے،ان کے لئے کسی قسم کی قید وشرط نہیں ہے ۔وہ ضرورت کے وقت ہر قسم کے مطالبہ شدہ معجزہ کو انجام دے سکتے ہیں ،کیونکہ وہ خدا کی لا محدود قدرت سے مدد لیتے ہیں اور معلوم ہے کہ خدا کی قدرت کی کوئی حد نہیں ہے،جبکہ انسان کی قدرت نہایت محدود ہے۔

۲ ۔جس کام کو ایک جوگی انجام دیدے ،دوسرا جوگی بھی ویسا ہی کام انجام دے سکتا ہے یعنی وہ کام بشر کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔

اسی لئے خارق عادت کام انجام دینے والا جو گی ہر گز دوسروں کو مقابلہ کی دعوت نہیں دیتا اور دوسرے الفاظ میں وہ چیلنج نہیں کر تا ہے ،کیونکہ وہ بخوبی جانتا ہے اس کے شہر یا دوسرے شہر وں میں اس کے جیسے افراد موجود ہیں جو ایسا کام انجام دے سکتے ہیں۔

لیکن اس کے بر عکس انبیاء مکمل اطمینان کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ”اگر دنیا کے تمام لوگ بھی جمع ہو جائیں تب بھی ہمارے انجام دئے گئے کام کے مانند کام کو انجام نہیں دے سکتے ہیں۔“

سحر و جادو کے بارے میں بھی یہ فرق صادق ہو تا ہے۔مذکورہ فرقوں سے سحر اور معجزہ کے حدود بھی مکمل طور پر معلوم ہو جاتے ہیں

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔”معجزہ“کو معجزہ کیوں کہتے ہیں؟

۲ ۔کیا معجزہ”قانون علّیت“سے مستثنیٰ ہے؟

۳ ۔کن طریقوں سے ہم معجزہ کو جوگیوں اور جادوگروں کے کام سے الگ کر سکتے ہیں؟

۴ ۔معجزہ کی اصلی شرائط کیا ہیں؟

۵ ۔کیا آپ نے اپنی زندگی میں معجزہ جیسی کو ئی چیز دیکھی ہے؟


پانچواں سبق : پیغمبر اسلام( صلی الله علیه واله والسلم ) کاسب سے بڑا معجزہ

لافانی معجزہ

تمام علمائے اسلام کا اس بات پر اعتقاد ہے کہ قرآن مجید،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔یہ جو ہم کہتے ہیں کہ یہ سب سے بڑا معجزہ ہے ،یہ اس لئے ہے کہ :

۱ ۔قرآن مجیدایک عقلی معجزہ ہے ،جس کا لوگوں کی روح اور فکر سے سر وکار ہے۔

۲ ۔یہ ایک ابدی،لا فانی اور ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ ہے۔

۳ ۔یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو گزشتہ چودہ صدیوں سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے :”اگر تم لوگ یہ کہتے ہو کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئی ہے تو اس کے مانند کوئی اور کتاب پیش کرو۔“

قرآن مجید میں کئی جگہوں پر کھل کر چلینج کی صورت میں اس قسم کے مقابلہ کی دعوت دی گئی ہے :

ایک جگہ پر قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:

( قل لئن اجتمعت الا نس والجن علی ان یاتوا بمثل هٰذا القرآن لا یا تون بمثله ولو کان بعضهم لبعض ظهیراً ) (سورہ اسرار/ ۸۸)

” آپ کہدیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی نہیں لا سکتے،چاہے سب ایک دوسرے کے مدد گار اور پشت پنا ہ ہی کیوں نہ ہو جائیں ۔“

دوسری جگہ پر اس چیلنج کی شرط کو آسان تر کرتے ہوئے فر ماتا ہے :

( ام یقولون افترٰیه قل فاتوا بعشر سور مثله مفتریٰت وادعوا من استطعتم من دون اللّٰه ان کنتم صٰدقین ) (سور ہ ہود / ۱۳)

”کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن بندے نے گڑھ لیا ہے تو کہدیجئے کہ اس کے جیسے دس سورے گڑھ کر تم بھی لے آو۔اور اللہ کے علاوہ جس کو چاہو اپنی مدد کے لئے بلا لو اگر تم اپنی بات میں سچےّ ہو۔“

اس کے بعد خاص طور پر مزید فر ماتا ہے کہ اگراس دعوت کو ان لوگوں نے قبول نہیں ،تو جان لینا کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔“ ( سورہ ہود/ ۱۴)

ایک بار اور مقابلہ کی شرائط کو کم سے کم کرتے ہوئے فر ماتا ہے:

( وإن کنتم فی ریب ممّا نزّلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهدا ئکم من دون اللّٰه إن کنتم صٰدقین ) (سورہ بقرہ/ ۲۳)

”اگرتمھیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسا ایک ہی سورہ لے آو ۔اور اللہ کے علاوہ جتنے تمھارے مدد گار ہیں سب کو بلا لو اگر تم اپنے دعوت اور خیال میں سچےّ ہو۔“

اس کے بعد والی آیت میں واضح طور سے فر ماتا ہے:

( فإن لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتّقوا النّار الّتی وقودها النّاس والحجارةُ اُعدّت للکٰفرین ) ( سورہ بقرة/ ۲۴)

”اور اگر تم(کفار) ایسا نہ کر سکے اور یقینانہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جسے کافرین کے لئے مہیا کیاگا ہے۔“

قرآن مجید کے منکرین کوپے در پے اس قسم کی دعوت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے معجزہ ہو نے پر زیادہ بھروسہ فر ماتے تھے۔ اگر چہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور بھی متعدد معجزات نقل ہوئے ہیں ،جو تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔

چونکہ قرآن مجید ایک زندہ معجزہ ہے اور ہم سب کی اس تک آسانی کے ساتھ رسائی ہے ،اس لئے ہم معجزات کی بحث میں زیادہ تراسی پر تکیہ کرتے ہیں۔

اس چیلینج کے مقابلہ میں مخالفین کا عجز

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ قرآن مجید نے مقابلہ کی دعوت کے سلسلہ میںمخالفین پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا ہے،اور مختلف بھڑ کانے والی عبارتوں سے ان کو دعوت دی ہے تا کہ کسی کے لئے کوئی بہانہ اور عذر باقی نہ رہے۔جیسے:

”اگر سچ کہتے ہو”ہر گز نہیں کرسکتے “،”تمام لوگوں سے مدد لے لوکم ازکم اس جیسا ایک سورہ لے آؤ۔“اور ”اگر کافر ہوگئے تو جلا دینے والی آگ تمھارے انتظار میں ہے۔“یہ تعبیریں اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔

یہ سب ایک طرف،دوسری طرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے مخالفین سے کوئی آسان مقابلہ نہیں تھا ،کیونکہ اسلام نے نہ صرف ان کے مذہب کو خطرہ میں ڈال دیاتھا،جس پر وہ سختی سے پابند تھے بلکہ ان کے اقتصادی اور سیاسی منافع حتی ان کے وجود کو بھی خطرہ میں ڈال دیا تھا۔

دوسرے الفاظ میں اسلام کی ترقی اور نفوذ نے ان کی پوری زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔لہذا وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کے لئے میدان میں آنے پر مجبور تھے۔

انھیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہتّھا کر نے کے لئے ہر قیمت پر قرآن مجید کی جیسی چند آیتوں کو لانا چاہئے تھا تا کہ اس کے بعد قرآن ان کو چیلینج دے کرانھیں عاجز اور ناتوان نہ کر سکتا اور اپنی حقانیت کی سند پیش نہ کر سکتا۔

انہوںنے اپنے زمانہ کے فصاحت و بلاغت میں کمال رکھنے والے تمام عربوں سے مدد طلب کی ،لیکن جب بھی قرآن مجیدکے مقا بلہ میں آئے ،توشکست سے دو چار ہو ئے اور پیچھے ہٹ گئے کہ اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے۔

ولید بن مغیرہ کا واقعہ

قرآن مجید سے مقابلہ کر نے کے لئے بلائے گئے لو گوں میں ”ولید بن مغیرہ“ بھی شامل تھا ۔اس کا تعلق قبیلہء ”بنی مخزوم“سے تھا ۔جو اس زمانہ میں عربوں کے در میان حسن تد بیر اور فکر صائب کے لحاظ سے بڑی شہرت کا حامل تھا

کفار نے اس سے درخواست کی کہ اس سلسلہ میں غور وخوض کر کے قرآن مجید کی عجیب وغریب آیات اور ان کے غیر معمولی نفوذ کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کرے۔

”ولید نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ قرآن مجیدکی چند آیات کی تلاوت فر مائیں ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”سورہ حم سجدہ“کی چند آیات کی تلاوت فر مائی ۔

ان آیات نے ولید کے اندر ایسا اضطراب اور ہیجان پیدا کیا کہ وہ بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور” قبلہ نبی مخزوم“کی منعقد شدہ محفل میں جا پہنچا اور ان سے مخاطب ہو کر بولا:

خدا کی قسم میں نے محمد(ص) سے ایسا کلام سنا ہے کہ نہ انسان کے کلام کے مانند ہے اور نہ جن اور پریوں کے کلام کے مانند... اس کے بعد ولیدبن مغیرہ نے یوں کہا:

”وان لہ لحلاوةوان علیہ لطلاوةوان اعلا ہ لمثمر و ان اسفلہ لمغدق وانہ یعلمو ولا یعلی علیہ۔“

ان کے کلام میں ایک خاص مٹھاس اور زیبائی ہے ،(ایک درخت کے مانند)اس کا اوپری حصہ میوؤں سے بھرا ہوا اور اس کی جڑ مضبوط ہے۔یہ ایک ایسا کلام ہے جو ہر چیز پر غالب ہے اور کوئی چیز اسے مغلوب نہیں کر سکتی ہے۔

ولید کے یہ کہنے سے قریش کے در میان یہ آواز گونجنے لگی کہ ولیدبن مغیرہ محمد کا دلداد ہ ہو گیا ہے!

”ابو جہل“نے فوراً مغیرہ کے گھر جاکر قریش میں پھیلی ہوئی یہ بات اس کو بتائی اور اسے قریش کی مجلس میں آنے کی دعوت دی۔

ولید بن مغیرہ نے قریش کی مجلس میں آکر کہا:

”کیا تم لوگ یہ سوچتے ہو کہ (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوانہ ہو گیا ہے ؟کیا تم لوگوں نے کبھی اس میں دیوانگی کے آثار دیکھے ہیں؟!

حاضرین نے کہا:”نہیں“

پھر ولید نے پوچھا:

کیا تم لوگ خیال کرتے ہو کہ وہ جھوٹ بولتا ہے ؟کیا اب تک وہ تم لوگوں میں ایک سچے اور امین شخص کی حیثیت سے مشہور نہیں تھے اور اسے تم صادق وامیں نہیں کہتے تھے؟!

قریش کے بعض سرداروں نے کہا:پھر ہم اس کی طرف کون سی نسبت دیں؟

ولید نے تھوڑی دیر غور وفکر کر کے کہا :تم لوگ کہو:وہ ساحر ہے ۔

اگر چہ کفار اس تعبیر سے قرآن مجید کے چاہنے والوںکو اس سے جدا کر نا چاہتے تھے ۔لیکن یہ تعبیر ”ساحر“خود اس بات پر ایک زندہ دلیل تھی کہ قرآن مجید غیر معمولی طور پر جذب کر نے والی پر کشش کتا ب ہے ،لہذا انہوں نے اس جذب کرنے والی قوت کا نام سحر رکھا،جبکہ اس کا سحر سے کوئی ربط نہیں تھا۔

اس کے بعد کفار قریش نے ہر جگہ اس کازبردست پروپیگنڈا کر نا شروع کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہر جادوگر ہے اور یہ آیات اس کے جادو ہیں،اس سے دوری اختیار کریں اور اس کا کلام سننے سے پر ہیز کریں۔!

لیکن تمام کو ششوں کے باوجودان کی یہ ریشہ دوانیاں کا میاب نہ ہو سکیں اور ہر گوشہ و کنار میں موجودحقیقت کے پاک دل پیاسے جوق در جوق قرآن مجید کی طرف آتے رہے اور اس الہی پیغام کے آب زلال سے سیراب ہو تے رہے ۔اس طرح قرآن مجید کے دشمن شکشت کھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

آج بھی قرآن مجید تمام دنیا والوں کو چیلینج کرتے ہوئے مقابلہ کی دعوت دے رہا ہے اور پکار پکار کے کہہ رہاہے:اے ہر قوم و ملت کے دانشورو،اے فلاسفہ،اے ادیبو اور اے اہل قلم !اگر تم قرآن مجیدکی آیات کے بارے میں شک وشبہہ رکھتے ہو اور انھیں انسانی عقل وفکر کی اختراع سمجھتے ہو تو تم بھی اس کے مانند کلام لے آؤ!

ہم یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام کے دشمن بالخصوص عیسائی پادری(جو اسلام کو ایک انقلابی اور بامعنی دین کی حیثیت سے اپنے لئے سخت اور خطر ناک رقیب جانتے ہیں)ہر سال اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کر نے پر کروڑوں ڈالر خرچ کرتے ہیں اور مختلف اسلامی ممالک میں گونا گوں ثقافتی ،علمی ،علاج و معالجہ اور صحت عامہ کے پرو گراموں کی آڑ میں سرگرم عمل ہیں ۔ان کے لئے بہت آسان ہو تا اگر وہ عربی زبان کے عیسائی دانشوروں،شاعروں ،اہل قلم اور فلاسفہ کو دعوت دیتے تاکہ وہ قرآن مجید کی سورتوں کے مانند چند سورتیں لکھ کر ان کی تشہیر کر کے مسلمانوں کا منہ بند کردیں!!

اگر ان کے لئے یہ ممکن ہو تا توقطعاً وہ اس کام کو ہر قیمت پر انجام دینے سے گریزکرتے۔

اس موضوع کے مقابہ میں ان کی ناتوانی قرآن مجید کے مخالفین کی برُی شکست اور قرآن مجید کے لا فانی معجزہ ہو نے پر واضح اور روشن دلیل ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکا سب سے بڑا معجزہ کیوں قرآن مجید شمار ہو تا ہے؟

۲ ۔قرآن مجید کیسا چیلینج کر تا ہے؟

۳ ۔اسلام کے دشمنوں نے قرآن مجید کو کیوں سحر سے نسبت دی ہے؟

۴ ۔اسلام، کیوں موجودہ عیسائیت کا سخت رقیب ہے؟

۵ ۔”ولید بن مغیرہ فخزومی“کا واقعہ کیا ہے؟


چھٹا سبق :قرآن مجید کے اعجاز کی ایک جھلک

حروف مقطعات کیوں؟

قرآن مجید کی بہت سی سورتوں کے آغاز میں ”حروف مقطعات“ جیسے:”الم”،المر اور ”یٓس“آئے ہیں۔

بعض اسلامی روایتوں کے مطابق ”حروف مقطعات“کا ایک فلسفہ اور رازیہ ہے کہ خداوند متعال یہ دکھا نا چاہتا ہے کہ یہ عظیم اور لافانی معجزہ قرآن مجید کیسے ان سادہ حروف ”الف،با“سے وجود میں آیا ہے۔کیسے یہ ایک عظیم کلام ایسے حروف اور الفاظ سے بنا ہے،جن کو ہر چند سالہ بچہ بھی پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،حقیقت میں اتنے عظیم کام کا ایسے کلمات والفاظ سے وجود میں آناہی سب سے بڑا معجزہ ہے۔

سوال پیدا ہو تا ہے کہ قرآن مجید کتنے پہلوؤں سے معجزہ ہے؟کیا صرف فصاحت و بلا غت کے لحاظ سے اور دوسرے الفاظ میں:صرف عبارتوں کی مٹھاس،مطالب کے رسا ہو نے اور ان کے غیر معمولی نفوذ سے یا دوسرے پہلوؤں سے بھی معجزہ ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید پر مختلف زاویوں سے نظر ڈالتے ہیں تو ہر زاویہ اور ہر دریچہ سے اس کے اعجاز کے چہروں میں سے ایک چہرہ نظر آتا ہے،جیسے:

۱ ۔فصاحت و بلاغت :اس کے الفاظ اور مفاہیم میں غیر معمولی مٹھاس اور کشش اور عجیب وغریب قوت جاذبہ پائی جاتی ہے۔

۲ ۔قرآن مجید ہر لحاظ سے بلند مطالب و مفاہیم پیش کرتا ہے ،بالاخص ہر قسم کے خرافات سے پاک عقائد بیان کر تا ہے۔

۳ ۔علمی معجزات :یعنی ایسے مسائل کے رخ سے پردہ اٹھانا جو اس زمانے تک انسان کے لئے پوشیدہ تھے۔

۴ ۔مستقبل میں رونما ہو نے والے بعض واقعات کے بارے میں واضح اور دقیق پیشین گوئی (قرآن مجید کی غیبی خبریں)۔

۵ ۔قرآن مجید میں کسی بھی قسم کے اختلاف ،تضاد اور تعارض کا نہ ہو نا ان کے علاوہ بھی اعجاز قرآن کے بہت سے پہلو ہیں۔

مذکورہ پانچ مسائل کے بارے میں بحث بہت طولانی ہے۔لیکن ہم چند اسباق کے ضمن میں اس بحث کے کچھ دلچسپ گوشوں کو تحقیق کے سا تھ بیان کریں گے:

فصاحت وبلاغت

ہم جانتے ہیں کہ ہر کلام کے دو پہلو ہوتے ہیں”الفاظ“ اور ”مفا ہیم“۔

اگر کلام ،کے الفاظ اور کلمات، خوشنما ،شائستہ ،منظم ،منجسم اور ھماھنگ ہوں اور پیچیدگی سے پاک ہوں اور اس کے جملوں کی ساخت معنی ومطلب کو کا مل طور پر دلچسپ اور جذاب صورت میں پیش کرے تو اس کلام کو فصیح و بلیغ کلام کہتے ہیں ۔

قرآن مجید عالی ترین حد تک ان دو خصو صیات کا حامل ہے، اسی لئے آج تک کوئی شخص اس قسم کی آیات اور سورتیں نہیں لاسکا ہے جن میں ایسی کشش ،جذابیت، مٹھاس اور زیبائی پائی جاتی ہو۔

ہم گزشتہ سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین عرب کا منتخب شخص،”ولید بن مغیرہ“ قرآن مجید کی چند آیتوں کی تلاوت سن کر مضطرب اور پریشان ہو کر فکر واندیشہ میں غرق ہو گیا ،اس نے ایک مدت تک غور وفکر اور مطالعہ کے بعد قرآن مجید سے مقابلہ کر نے کے لئے قریش کے سرداروں کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو ”جادو“اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جادو گر کہیں!

کفار نے پیغمبر اسلام کو متعدد بار ساحر کی نسبت دی ،اگر چہ وہ اس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی مذمت کر نا چاہتے تھے لیکن وہ حقیقت میں آپکی تعریف وتمجید کر رہے تھے،کیونکہ یہ سحر کی نسبت قرآن مجید کے غیر معمولی نفوذ کا اعتراف تھا ،چونکہ عام طور پر اس کی توجیہ نہیں کی جاسکتی تھی اس لئے انھیں اسے ایک مر موز اور نامعلوم جاذبہ کی حیثیت سے قبول کر نے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔

لیکن کفار اس بات کے بجائے کہ حقیقت کو قبول کریں،قرآن مجید کو معجزہ شمار کریںاور ایمان لائیں،اس کے خلاف ایک بات گڑھ کر گمراہ ہو گئے اور اسے جادو قرار دیا۔!

تاریخ اسلام میں ایسے واقعات بہت پائے جاتے ہیں کہ ضدّی،تند خواور جھگڑا لو افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جیسے ہی آتے تھے اور آنحضرت سے قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سنتے تھے تو فوراً اپنا عقیدہ بدل دیتے تھے ،کیونکہ قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں اسلام کا نور چمکنے لگتا تھا،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی کشش اور فصاحت و بلاغت یقینا ایک معجزہ ہے۔

ماضی ہی کی بات نہیں ،موجودہ زمانے میں بھی عربی ادبیات کے ماہرین جس قدر قرآن مجید کو پڑھتے ہیں اور اس کی تکرار کرتے ہیں وہ اس سے نہ صرف نہیںتھکتے اور سیر نہیں ہوتے بلکہ زیادہ سے زیادہ لذت محسوس کرتے ہیں۔

قرآن مجید کی عبارتیں انتہائی دقیق اور منظم ہیں ۔یہ تعبیرات بیان کی پاکیزگی اور سنجیدگی کے علاوہ واضح اور گویا ہیں ۔ضرورت کے وقت محکم اور منہ توڑ جواب دینے والی ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید کے نازل ہو نے کے زمانے میں ادبیات کے لحاظ سے عربی زبان ترقی کے عروج پر پہنچی ہوئی تھی ۔اسی لئے عصر جاہلیت کے عربی اشعار آج بھی عربی ادبیات کے بہترین نمو نے شمار ہوتے ہیں۔

مشہور ہے کہ ہرسال حجاز کے بڑے بڑے ادیب اور شاعر”بازارعکاظ“نامی ایک تجارتی اور ادبی مرکز میں جمع ہو کر اپنے بہترین اشعار کے نمونے پیش کرتے تھے ۔ان میں سے سب سے بہتر شعر کو”سال کے بہترین شعر“کے عنوان سے انتخاب کیا جاتا تھا اور اسے لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکا دیا جاتا تھا ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے زمانے میں ”معلقات سبع“کے نام سے اس قسم کے سات نمونے خانہ کعبہ میں موجود تھے۔

لیکن قرآن مجید کے نازل ہو نے کے بعد اس کی فصاحت و بلاغت کے مقابلہ میں یہ اشعار اس قدر پھیکے پڑ گئے کہ نہ صرف انھیں بتدریج وہاں سے ہٹا دیا گیا بلکہ انھیں فراموش بھی کر دیا گیا!

مفسرین قرآن نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق قرآن مجید کی مختلف آیتوں کے عجیب وغریب باریکیوں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔آپ ان تفا سیر کی طرف رجوع کر کے اس حقیقت سے آگاہ ہو سکتے ہیں ۔

قرآن مجید سے آشنائی اور معرفت حاصل ہو نے پر معلوم ہو گا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مندرجہ ذیل کلام میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں ہے:

ظاهره انیق وبا طنه عمیق لاتحصی عجائب ولا تبلی غرائبه ۔“

”قرآن مجید کا ظاہر خوش آئند اور زیبا ہے اور اس کا باطن گہرا اور عمیق ہے۔اس کے عجائب ناقابل شمار اور اس کے غرائب ناقابل زوال ہیں۔“

مکتب قرآن کے سب سے بڑے شاگرد امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں نہج البلاغہ میں فر ماتے ہیں:

”فیہ ربیع القلب وینا بیع العلم وما للقلب جلاء غیرہ“

”قرآن مجید دلوں کے لئے بہار ہے ،اس سے علم و دانش کے چشمے ابلتے ہیں اور انسان کے قلب و روح کو جلا بخشنے والا صیقل اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔“

غور کیجئے و جواب دیجئے

۱ ۔قرآن مجید کے ”حروف مقطعات“کا فلسفہ کیا ہے؟

۲ ۔کیا قرآن مجید صرف ایک اعتبار سے معجزہ ہے یا کئی اعتبار سے معجزہ ہے؟

۳ ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخالفین کیوں ساحر کہتے تھے؟

۴ ۔فصاحت وبلاغت کے در میان کیا فرق ہے؟

۵ ۔”معلقات سبع“کس زمانے سے مربوط ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟


ساتواں سبق: خداشناسی کے بارے میں قرآن مجید کا

طرز بیان

سب سے پہلے ہمیں اس معاشرے اور ماحول کا فکری اور ثقافتی اعتبار سے تجزیہ کر نا چاہئے ،جس میں قرآن مجید ناز ل ہوا ہے۔

تمام مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ،اس زمانے میں سر زمین حجاز دنیا کا پسماندہ ترین خطہ تھا اور عصر جاہلیت کے لوگوں کو وحشی یا نیم وحشی اقوام کے نام سے یاد کیا جاتاتھا۔

عقیدہ کے لحاظ سے وہ لوگ بت پرستی میں غرق تھے۔ان کی تہذیب وتمدن پر مختلف شکلوں میں پتھر اور لکڑی کے بنائے ہوئے بتوں کا منحوس سایہ وسیع پیمانے پر چھایا ہوا تھا،یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کجھور کے بت بناکر ان کے سامنے دوزانو بیٹھ کر پوجا کرتے تھے ،لیکن قحط سالی کے وقت انھیں کھا جاتے تھے !

بیٹیوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ انھیں انتہائی بے دردی سے زندہ در گور کر دیتے تھے ،اس کے باوجود فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے !اور خداوند متعال کی ذات کو انسان کی حد تک گرادیتے تھے۔

توحید اور یکتا پرستی پر سخت تعجب کرتے تھے،جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں یکتا پرستی کی دعوت دی تو انہوں نے نہایت تعجب اور حیرانی کی حالت میں کہا:

( اجعل الاٰلهة إلٰهاًوّاحداً إنّ هٰذا لشیء عجاب ) (سورہ/ ۵)

”کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنادیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے۔“

جو بھی شخص ان کی خرافات ،ان کے جھوٹے افسانوں اور نظریات کے خلاف زبان کھولتا تھا ،وہ اسے دیوانہ کہتے تھے ۔

ان کے معا شرے پر قبائلی نظام انتہائی شدت سے حکم فر ما تھا اور مختلف قبیلوں کے درمیان اختلا فات کا یہ عالم تھا کہ ان کے در میان جنگ کے شعلے کبھی خاموش نہیں ہو تے تھے ،بار بار روئے زمین پر ایک دوسرے کے خون کی ہولی کھیلتے تھے،قتل و غارت گری ان کا روز مرہ کا معمول بن گیا تھا اور اس پر فخر و مباہات کرتے تھے۔

ان کے اہم ترین مر کزی شہر،مکہ میںچند گنے چنے ہی پڑھے لکھے افراد تھے اور عالم ودانشور تو شاذو نادر ہی پائے جاتے تھے۔

اسی ماحول اور معاشرے میں ایک ایسا شخص اٹھا ،جس نے نہ کسی مدرسہ کا رخ کیا تھا اور نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا تھا وہ ایک ایسی کتاب لے آیا جو مفہوم و معنی کے لحاظ سے اس قدر عظیم ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی صاحبان علم ودانش اس کی تفسیر میں مشغول ہیں اور ہر دور میں نئے نئے حقائق کا انکشاف کرتے ہیں ۔

قرآن مجید کا ئنات اور اس کے نظام کے بارے میں نہایت دقیق حساب شدہ تصویر پیش کر تا ہے ۔تو حید کو اس کی مکمل صورت میں بیان کر تا ہے ۔زمین و آسمان کی پیدائش اور شب وروز ،چاند ،سورج،جمادات ونباتات اور انسان کی تخلیق کے اسرار کو خدائے وحدہ لاشریک کی نشانیوں کی دلیل کے طور پر اپنی مختلف آیات میں مختلف انداز،تعبیرات اور تشبیہات کے ساتھ پیش کر تا ہے۔

کبھی وہ انسان کے وجود کی گہرائیوں میں اتر کر فطری توحید کی بات کر تا ہے:

( فإذا رکبوا فی الفلک دعوا اللّٰه مخلصین له الدّٰین فلمّا نجّٰهم الی البرّ اذا هم یشرکون ) (سورہ عنکبوت/ ۶۵)

”پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں،پھر جب وہ نجات دے کر انھیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو فوراًشرک اختیار کر لیتے ہیں۔“

کبھی عقل وشعور کے ذریعہ استد لال کرتے ہوئے توحید کو ثابت کرتا ہے اور اس وسیع کائنات اور اپنے نفس کے بارے میں غور وفکر کر نے کی دعوت دیتا ہے ۔زمین وآسمان ،حیوانات ،پہاڑوں،سمندروں ،بارش کے برسنے ،باد نسیم کے جھونکوں اور انسان کے جسم و روح کے انتہائی دقیق،منظم اور پیچیدہ تخلیقی اسرار و رموز سے پر دہ اٹھا تا ہے۔

خداوند متعال کی صفات کو بیان کر نے کے لئے انتہائی گہرے اورد لکش طریقے کا انتخاب کرتا ہے ۔ایک جگہ فر ماتا ہے:

( لیس کمثله شیء ) (سورہ شوری/ ۱۱)

”کوئی بھی چیز اس کے مانند نہیں ہے“

دوسری جگہ پر فر ماتا ہے:

( هواللّٰه الّٰذی لا إلٰه إلاّ هو عالم الغیب والشّهادة هو الرّحمٰن الرّحیم هواللّٰه الّذی لا إلٰه إلاّهو الملک القدّوس السّلٰم المؤمن المهیمن العزیز الجبّار المتکبّر سبحٰن اللّٰه عمّا یشرکون هواللّٰه الخالق الباریء المصوّر له الاسماء الحسنیٰ یسبّح له مافی السمٰوات والارض وهو العزیز الحکیم )

( سورہ حشر/ ۲۲ ۔ ۲۴)

”وہ خدا وہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ حاضر و غائب سب کا جاننے والا،عظیم اور دائمی رحمتوں کا مالک ہے۔وہ اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کو ئی خدا نہیں ہے ۔وہ بادشاہ، پاکیزہ صفات،بے عیب، امان دینے والا، نگرانی کر نے والا، صاحب عزت ،زبر دست اور کبر یائی کا مالک ہے ۔اللہ ان تمام باتوں سے پاک وپاکیزہ ہے جو مشرکین کیا کرتے ہیں۔وہ ایسا خدا ہے جو پیدا کر نے والا ،ایجاد کر نے والا اور صورتیں بنانے والا ہے ۔اس کے لئے بہترین نام ہیں، زمین و آسمان کا ہرذرہ اسی کے لئے محو تسبیح ہے اور وہ صاحب عزت و حکمت ہے۔“

خداوند متعال کے علم کی توصیف اور اس علم کے لا محدود ہو نے کے بارے میں حسین ترین تعبیر کے ساتھ یوں بیان کر تا ہے:

( ولوانّما فی الارض من شجرة اقلام والبحر یمدّه من بعده سبعة ابحرٍما نفدت کلمٰة اللّٰه ) (سورہ لقمان/ ۲۷)

”اور اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور (سیا ہی کے طور پر)سمندر کا سہارا دینے کے لئے سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الہٰی تمام ہو نے والے نہیں ہیں“

خداوند متعال کے تمام چیزوںپر حاوی ہو نے اور اس کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہو نے کے سلسلہ میں قرآن مجید ایسی اعلیٰ تعبیرات پیش کرتا ہے کہ وہ تعبیرات صرف قرآن مجید سے ہی مخصوص ہیں:

( وللّٰه المشرق والمغرب فاینما تولّوا فثمّ وجه اللّٰه ) (سورہ بقرہ/ ۱۱۵)

”اور اللہ کے لئے مشرق بھی ہے اور مغرب بھی،لہذا تم جس جگہ کی طرف رخ کر لو گے سمجھو وہیں خدا موجود ہے“

( وهو معکم این ماکنتم واللّٰه بما تعملون بصیر ) (سورہ حدید/ ۴)

”اور وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو اور وہ تمھارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔“

جب معاد اور قیامت کی بات کرتا ہے تو مشرکین کے تعجب اور انکار کے مقابلہ میں کہتا ہے:

”(انسان اپنی خلقت کو بھول کر کہتا ہے)ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے؟“

”آپ کہدیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا اور وہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے ۔

”اس نے تمھارے لئے ہرے درخت سے آگ پیدا کردی ہے تو تم اس سے ساری آگ روشن کرتے رہو۔(وہ خدا جس نے آگ کے شعلوں کے ساتھ پانی کو بھی وجود بخشا ہے وہی مرنے کے بعد پھر زندہ کرسکتا ہے) کیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کا مثل دوبارہ پیدا کر دے؟یقینا ہے اور وہ بہترین پیدا کر نے والا اور جاننے والا ہے اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کر لے کہ ہوجا،تو وہ شے ہو جاتی ہے۔“ (سورہ یٓس/ ۷۸ ۔ ۸۲)

جب فوٹو گرافی اور ٹیب ریکارڈ ر کا تصور بھی نہیں تھا،قرآن مجیدنے انسان کے اعمال کے بارے میں اس وقت فر مایا ہے:

( یومئذٍ تحدّث اخبارهبانّ ربّک اوحیٰ لها)

(سورہ زلزل/ ۴ ۔ ۵)

”اس(قیامت کے)دن وہ (زمین)اپنی خبریں بیان کرے گی کہ تمھارے پرور دگار نے اسے اشارہ کیا ہے۔“

اور کبھی قرآن مجید ہاتھ ،پاؤں اور بدن کی جلد کی گواہی کے بارے میں ذکر کرتا ہے:

( الیوم نختم علیٰ افواههم وتکلّمنا ایدیهم وتشهد ارجلهم ) (سورہ یٓس/ ۶۵)

”آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔“

( وقالوا لجلودهم شهد تم علینا قالوا انطقنااللّٰه الذی انطق کل شئی ) (سورہ فصلت/ ۲۱)

”اور وہ اپنے اعضاء سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیسے شہادت دیدی ؟تو وہ جواب دیں گے ہمیں اسی خدا نے گو یا بنا یا ہے جس نے سب کو گو یائی عطا کی ہے۔“

قرآن مجیدکے معارف کی قدر وقیمت،اس کے مضامین ومفاہیم کی عظمت اور ان کے معار ف کا خرافات سے پاک و منزّہ ہو نا اس وقت واضح ہو تا ہے جب ہم اس کا مقائسہ موجودہ تحریف شدہ توریت و انجیل سے کرتے ہیں ،مثلاًہم دیکھیں کہ آدم کی تخلیق کے بارے میں توریت کیا کہتی ہے اور قرآن مجیدکیا کہتا ہے؟

انبیاء علیہم السلام کی داستانوں کو توریت کس انداز میں پیش کرتی ہے اور قرآن مجید کا انداز بیان کیا ہے؟

توریت اور انجیل خدا وند متعال کی کیسے توصیف کرتی ہیں اور قرآن مجید کس طرح خدا کی توصیف کرتا ہے؟

اس صورت میں قرآن مجید اور توریت وانجیل کے در میان فرق واضح طور پر معلوم ہو جائے گا۔

(اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے لئے ”رہبران بزرگ“نامی فارسی کتاب کا مطا لعہ کریں)

غورکیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔جس معاشرہ میں قرآن مجید نازل ہوا ہے،اس کے ماحول کی خصوصیات بیان کیجئے۔

۲ ۔اس معاشرے میں زندگی بسر کرنے والوں کے افکار پر بت پرستی نے کیا اثرات ڈالے تھے؟

۳ ۔فطری اور استدلالی توحید کے در میان کیا فرق ہے؟

۴ ۔پروردگار عالم کی معرفت اور اس کی صفات کے بارے میں قرآن مجید کے بیان کی روش کیسی ہے ؟مثالوں کے ساتھ واضح کیجئے۔

۵ ۔قرآن مجید کے مطالب و مفاہیم کو بہترین صورت میں کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟


آٹھواں سبق: قرآن مجید اورجدید سائنسی انکشافات

بیشک قرآن مجید علوم طبیعیات یا علم طب ،علم نفسیات اور علم ریاضی کی کتاب نہیں ہے۔

بلکہ قرآن مجید ہدایت اور انسان سازی کی کتاب ہے اور جو کچھ اس سلسلہ میں ضروری ہے وہ اس میں پایا جاتا ہے۔

ہمیں قرآن مجید سے توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ ہمارے لئے مختلف علوم کا دائرة المعارف ہو۔بلکہ ہمیں قرآن مجید سے نور ایمان و ہدایت ،تقویٰ وپرہیز گاری، انسانیت واخلاق اور نظم وضبط کے قوانین کامطالبہ کر نا چاہئے اور قرآن مجید میں یہ سب چیزیں موجود ہیں۔

لیکن قرآن مجیدمذکورہ مقاصد تک پہنچنے کے لئے کبھی علوم طبیعیات کے بعض مسائل اور خلقت کے اسرار اور کائنات کے عجائبات کی طرف بھی کچھ اشارے کرتا ہے۔ بالخصوص توحید کی بحث میں ”برہان نظم“کے تناسب سے خلقت کائنات کے بعض اسرار سے پردہ اٹھاکر ایسے مسائل کو واضح کرتا ہے کہ اس ماحول اور زمانہ کے دانشوروں کے لئے بھی نا معلوم تھے ۔

قرآن مجید کے اس قسم کے بیانات کے مجموعہ کو ہم ”قرآن مجید کے علمی معجزات“ کہتے ہیں ۔

یہاں پر اس قسم کے چند معجزات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

قرآن مجید اور قوت جاذبہ کا قانون

مشہور سائنسدان”نیوٹن“سے پہلے کسی نے قوت جاذبہ کے کلی قانون کا مکمل طور پر انکشاف نہیں کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ایک دن ”نیوٹن“سیب کے ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ ایک سیب درخت سے جدا ہو کرزمین پر گر گیا ۔اس چھوٹے اور معمولی واقعہ نے نیوٹن کے ذہن کو اس قدرسوچ میں مبتلا کر دیا کہ وہ برسوں تک اس سلسلہ میں غور وفکرکرتا رہا کہ یہ کون سی طاقت ہے جس نے سیب کو اپنی طرف کھینچ لیا؟ کیوں یہ سیب آسمان کی طرف نہیں گیا ؟بالآخر برسوں کی فکر کے بعد اس نے قانون جاذبہ کا انکشاف کیا کہ”دوجسم اپنے جسموں کی براہ راست نسبت سے اور ان کے در میان فاصلہ کی مجذور معکوس نسبت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔“

اس قانون کے انکشا ف سے معلوم ہوا کہ نظام شمسی کہاں پر واقع ہے؟ یہ بڑے بڑے سیارے کیوں اپنے مدار میں سورج کے گرد گھومتے ہیں ؟کیوں یہ فرار کر کے مختلف اطراف کی طرف نہیں چلے جاتے؟ وہ ایک دوسرے پر کیوں نہیں گرتے؟یہ کونسی طاقت ہے جس نے ان سیاروں کو اس لامتناہی فضا میں ایک خاص اور دقیق مدار میں گردش کی حالت میں رکھاہے اور وہ ذرہ برابر بھی اس سے انحراف نہیں کرتے ہیں؟!

جی ہاں!”نیوٹن“نے انکشاف کیا:ایک جسم کا دائرہ کی صورت میں گھومنا اس کے مرکز سے دور ہو نے کا سبب بنتا ہے اور قانون جاذبہ اسے مرکز کی طرف کھینچتا ہے۔اگر یہ دو قوتیں (دافعہ و جاذبہ)مکمل طور پر تعادل رکھتی ہوں،یعنی ”اجسام“اور ان کے در میان”فاصلے اتنی قوت ”جاذبہ“پیدا کریں کہ قوت”دافعہ“ کی دورانی حرکت کی سرعت اور مرکز سے دور ہو نے کا سبب بنیںتو ”جاذبہ“و ”دافعہ“ کا یہ تعادل انھیںدائمی طور پر اپنے مدار میں رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

لیکن قرآن مجید نے چودہ سوسال پہلے اس حقیقت کو سورئہ رعد کی دوسری آیت میں یوں بیان کیا ہے:

( اللّٰه الّذی رفع السمٰوٰت بغیر عمدٍ ترونها ثمّ استویٰ علی العرش وسخّر الشّمس والقمر کلّ یجری لاجلٍٍ مسمیً یدبّر الامر یفصّل الاٰیٰت لعلکم بلقآء ربّکم تو قنون)

”اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند کردیا ہے ،جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو ،اس کے بعد اس نے عرش پر اقتدار قائم کیا اور آفتاب و ماہتاب کو مسخر بنایا کہ سب ایک معینہ مدت تک چلتے رہیں گے،وہی تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اپنی آیات کو مفصل طور سے بیان کر تا ہے کہ شاید تم لوگ پروردگار کی ملا قات کا یقین پیدا کر لو۔“

اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے نقل کی گئی ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے:

الیس اللّٰه یقول بغیر عمد ترونها؟

قلت:بلی،قال:ثم عمد لکن لا ترونها!

(امام نے فر مایا:)کیا خدا نہیں فر ماتا ہے کہ ہم نے نظر نہ آنے والے ستونوں (کے ذریعہ اسے بلند کیا)؟راوی کہتا ہے میں نے امام کے سوال کے جواب میں عرض کی :جی ہاں۔امام(ع) نے فر مایا:لہذا ستون موجود ہیں،لیکن تم انھیں نہیں دیکھ پاتے ہو۔“

کیا ”قوت جاذبہ“کے مفہوم سے عام لوگوں کو آگاہ کر نے کے لئے عربی زبان میں ”عمدٍ لا ترونھا “(غیر مرئی ستون)سے زیادہ واضح اور آسان تعبیر موجود ہے؟!

ایک اور حدیث میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فر ماتے ہیں:

هذا النجّوم التی فی السماء مدائن مثل المدائن التی فی الارض مر بوطة کل مدینة الی عمود من نور“

”آسمان پر موجودہ یہ ستارے ،زمین پر موجود شہروں کے مانند شہر ہیں۔ ہر شہر دوسرے شہر کے ساتھ (ہر ستارہ دوسرے ستارے کے ساتھ)نور کے ستون کے ذریعہ جڑا ہوا ہے“!

آج کے سائنسدان اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آسمان پر موجود ستاروں میں کروڑوں کی تعداد میں ایسے ستارے ہیں جن میں زندہ اور عقل وشعور رکھنے والی مخلوقات ساکن ہیںاگر چہ ان کی تفصیلات اور جزئیات ابھی تک انسان کی دسترس میں نہیں ہیں۔

زمین کے اپنے اور سورج کے گرد گھومنے کا انکشاف

مشہور ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے اس بات کا انکشاف کیا کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے ،وہ تقریباًچار سو سال پہلے اٹلی میں رہنے والا ،”گلیلیو“نام کا ایک ماہر فلکیات تھا ۔سوسال اس انکشاف سے پہلے دنیا کے دانشور اور ماہرفلکیات،ایک مصری دانشمند ”بطلیموس“کے نظریہ ہیئت پر عمل پیرا تھے کہ وہ کہتا تھا:زمین کائنا ت کا مرکز ہے اور تمام دوسرے سیارے (کرّات)اس کے گرد گھومتے ہیں۔“

البتہ ”گلیلیو“کو اس علمی انکشافات کے جرم میں کلیسا کے حامیوں کی طرف سے حکم کفر دیا گیا۔اس نے اپنے اس نظریہ کے بارے میں بظاہر تو بہ اور اظہار ندا مت کر کے موت سے نجات پائی ۔لیکن آخر کار اس کے بعد والے دانشوروں اور سائنسدانوں نے اس کے نظریہ پر تحقیق جاری رکھی اور آج یہ مسئلہ نہ صرف ایک مسلم علمی حقیقت کے عنوان سے قبول کیا جا چکا ہے ،بلکہ قابل حس تجربوں سے بھی ثابت ہو چکا ہے کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے ۔فضائی پر وازوں کے بعد یہ مسئلہ عینی مشاہدات کے مرحلہ سے بھی گزر چکا ہے۔

مختصر یہ کہ زمین کی مرکزیت کا مسئلہ غلط ثابت ہوا اور معلوم ہو گیا کہ یہ ہماری آنکھوں کا دھوکہ ہے کہ ہم زمین کو ساکن اور تمام ستاروں اور سیاروں کو زمین کے گرد گھومتے محسوس کر رہے ہیں ۔حالانکہ ہم خود حرکت میں ہیں اور ستاروں اور سیاروں کو حرکت میں فرض کرتے ہیں ۔

بہر حال ”بطلیموس“کا نظریہ تقریباً پندرہ سو سال تک علماء اور دانشوروں کے ذہنوں پر چھایا رہا،حتی قرآن مجید کے ظہور کے وقت بھی کوئی اس نظریہ کی مخالفت کر نے کی جرات نہیںکرتاتھا۔

لیکن جب ہم قرآن مجید کی آیات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ سورئہ نمل کی آیت نمبر ۸۸ میں زمین کی گردش پر واضح صورت میں روشنی ڈالی گئی ہے:

( وتری الجبال تحسبها جامدة وهی تمرّمرّ السّٰحاب صنع اللّه الّذی اتقن کلّ شیءٍ انّه خبیر بما تفعلون ) (سورہ نمل/ ۸۸)

”اور تم پہاروں کو دیکھو گے توسمجھو گے کہ جیسے وہ اپنی جگہ پر جامد ہیں حالانکہ یہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے ۔یہ اس خدا کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو محکم بنایا ہے اور وہ تمھارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔“

مذکورہ آیت واضح الفاظ میں پہاڑوں کی حرکت کا ذکر کرتی ہے جبکہ ہم سب انھیں ساکن تصور کرتے ہیں ۔اور ان کی حر کت کی بادلوں کی حر کت سے تشبیہ دینا اس کی سرعت ،نرمی اور سکوت اور بغیر شور وغل کے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ”زمین کی حرکت“کو پہاڑوں کی حر کت سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی عظمت کو آشکار کیا جارہاہے ،کیونکہ یہ مسلم ہے کہ پہاڑ اپنے اطراف کی زمینوں کی حرکت کے بغیر کوئی حرکت نہیں رکھتے بلکہ دراصل ان کی حرکت زمین کی حر کت ہے (اپنے گرد گھومنا یا سورج کے گرد گھومنا یا دونوں حرکتیں )۔

ذرا غور کیجئے : ا یک ایسے زمانے میں جب دنیا کی تمام علمی محافل اور دانشور زمین کے ساکن وثابت ہو نے اور سورج اور تمام سیاروں اور ستاروں کے حرکت میں ہونے کے نظریہ کو باضابط طور پر قبول کر چکے تھے،یہ اعلان کر نا کہ زمین حرکت میں ہے،کیا یہ ایک عظیم علمی معجزہ شمار نہیں کیا جائے گا؟!

اور یہ اعلان بھی ایک ایسے شخص کے توسط سے کہ جس نے نہ صرف کسی سے کوئی سبق نہیں پڑھا تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہا تھا جو علم و تہذیب سے دور شمار ہو تا تھا ،کیا یہ انکشاف اس آسمانی کتاب کی حقانیت کی دلیل نہیں ہے۔؟

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔قرآن مجید کے علمی معجزات سے کیا مراد ہے؟

۲ ۔”قانون جاذبہ“کا سب سے پہلے کس نے انکشاف کیا ہے اور وہ کس زمانہ میں زندگی بسر کر تا تھا؟

۳ ۔قرآن مجید کس آیت میں اور کس تعبیر سے ”قانون جاذبہ“کو بیان کر تا ہے؟

۴ ۔”زمین کے سکون کا نظریہ “کس نے پیش کیا ہے اور یہ نظریہ کتنے سال تک دنیا والوں کے افکار پر چھایا رہا؟

۵ ۔قرآن مجید نے کس آیت میں اور کس تعبیر سے ”زمین کی حرکت“کو بیان کیا ہے؟


نواں سبق: پیغمبر اسلام (ص) کی حقّانیت پر ایک اور دلیل

نبوت کا دعویٰ کر نے والے کسی شخص کی دعوت کی حقانیت معلوم کر نے یا اس کے جھوٹ کا سراغ لگانے کے لئے معجزہ کے مطالبہ کے علاوہ دوسرا ایک طریقہ بھی ہے اور یہ طریقہ مقصد تک پہنچنے کی ایک اور زندہ دلیل ہو سکتا ہے ۔اور وہ طریقہ درج ذیل قرائن کی تحقیق وجمع آوری سے حاصل ہو سکتا ہے:

۱ ۔اخلاقی خصوصیات اور اجتماعی ریکارڈ۔

۲ ۔دعوت کے ماحول پر چھائے ہوئے حالات۔

۳ ۔زمانہ کے حالات۔

۴ ۔دعوت کے مطالب۔

۵ ۔نفاذ واجراء کے اصول وضوابط اور مقصد تک پہنچنے کے وسائل۔

۶ ۔معاشرے پر دعوت کے اثرات کا اندازہ۔

۷ ۔مقصد کے بارے میں داعی کے ایمان وفداکاری کا اندازہ۔

۸ ۔انحرافی تجویزوں اور مشوروں کی موافقت نہ کر نا ۔

۹ ۔عمومی افکار پر تیزی سے اثر انداز ہو نا۔

۱۰ ۔ایمان لانے والے لوگوں کے بارے میں تحقیق کر نا کہ وہ کس قسم کے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں؟!

حقیقت میں اگر ہم ہر مدعی کے بارے میں مذکورہ دس مسائل پر سنجیدگی سے غور وفکر اور بحث و تحقیق کریں تو ہم اس کے سچ اور جھوٹ کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا بیان شدہ مطالب کے پیش نظر ہم مذکورہ دس مسائل کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ایک مختصر تحقیق و تجزیہ پیش کریں گے اگر چہ ان کے بارے میں متعدد کتابیں تالیف کرنے کی ضرورت ہے۔

۱ ۔دوست اور دشمن کی لکھی گئی تاریخوں سے جو کچھ ہمیں پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجتماعی سر گر میوں کے دوران آپ کی اخلاقی خصوصیات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ،وہ یہ ہے کہ آپ اس قدر پاک و پاکیزہ اور ایماندار تھے کہ حتی جاہلیت کے زمانے میں بھی آپ کو ”امین “کا لقب دیا گیا تھا۔تاریخ کہتی ہے:مدینہ کی طرف ہجرت کرتے وقت آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو مامور فر مایا تھا کہ آپ کے مدینہ روانہ ہونے کے بعد لوگوں کی امانتوں کو ان تک پہنچادیں۔

آپ کی شجاعت ،استقامت ،حسن اخلاق،وسعت قلبی ،جوانمردی اور عفو وبخشش جیسی خصوصیات کا مشاہدہ جنگ وصلح کی حالت میں کیا جاسکتاہے بالخصوص فتح مکہ کے موقع پر آپ کی طر ف سے شکست خور دہ خونخوار دشمنوں کے حق میں عام معافی کا اعلان ان خصوصیات کی ایک زندہ مثال ہے۔

۲ ۔سب جانتے ہیں کہ عام لوگ،حتی غیرمعمولی ذہانت کے مالک لوگ بھی،خواہ نخواہ ماحول کے حالات سے متاثر ہو تے ہیں ،البتہ بعض لوگ زیادہ اور بعض کم تر۔

اب ذراغور کیجئے کہ جس شخص نے اپنی زندگی کے چالیس سال جہل و بت پرستی کے ماحول میں گزارے ہوں،ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزاری ہو کہ جس کے لوگوں کی تہذیب وتمدن کے تانے بانے شرک و خرافات کی بنیاد پر مستحکم ہوئے ہوں ،اس کے لئے کیسے ممکن ہے کہ وہ فقط توحید کا دم بھرتے ہوئے شرک کے تمام مظاہر سے مقابلہ کرے؟!

یہ کیسے ممکن ہے کہ جہالت کے ماحول سے علم کے اعلیٰ ترین جلوے نمودار ہو جائیں؟!

کیا یہ قابل یقین ہے کہ ایک ”ماورائے طبیعت“تائید الہٰی کے بغیر ایسا عجیب مظہر وجود میں آئے ؟!

۳ ۔ہمیں دیکھنا چاہئے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہورکس زمانے میں ہوا ہے؟ایک ایسے زمانے میں کہ دنیا قرون وسطیٰ کے دور سے گزر رہی تھی ،وہ مطلق العنانیت ،استبداد،امتیازی سلوک اور قومی و طبقاتی ظلم کا دور تھا۔بہتر ہے ہم اس سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام کی زبان سے سنیں ،جو ظہور اسلام سے پہلے اور بعد والے دور کے عینی شاھد تھے،آپ(ع) فر ماتے ہیں:

”خداوندمتعال نے آپ کو ایک ایسے زمانے میں رسالت پر مبعوث فر مایا،جب دنیا کے لوگ حیرت کی وادی میں گمراہ ودربدر تھے،ان کی عقلیں جان لیواہواوہوس کی تابع تھیں ۔غرور و تکبر نے انھیں زوال سے دوچار کر دیا تھا ۔جاہلیت کی تاریکیوں نے انھیں گمراہ کر دیا تھا اور وہ جہل واضطراب کی حالت میں سر گرداں و پریشان تھے۔“ (نہج البلاغہ،خطبہ نمبر ۹۱ )

اب ذرا غور کیجئے کہ جس دن کا لائحہ عمل انسانوں کی مساوات ،قومی اور طبقاتی تعصبات کو ختم کر نا اور”انّما المومنون اخوة“(مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں)ہو،وہ دین اس زمانے کے حالات سے کیا مطابقت رکھتا ہے؟

۴ ۔آپ کی دعوت کا موضوع ،تمام جہات میں توحید،تمام ظالمانہ امتیازات کو ختم کر نا ،عالم انسانیت کا اتحاد ،ظلم وستم سے مقابلہ کر نا،ایک عالم گیر (عادلانہ) حکومت کا منصوبہ ،مستصعفین کا دفاع اور انسانی اقدار کے اہم ترین معیار کے طور پر تقویٰ،پرہیز گاری ،پاکیزگی اور امانت داری کا پر چار تھا ۔

۵ ۔آپ نے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کسی صورت میں بھی اس نا معقول نظریہ پر عمل نہیں کیا کہ” مقصد وسیلہ کی توجیہ کرتا ہے “۔کہ آپ اپنے مقدس مقاصد تک پہنچنے کے لئے مقدس وسائل سے استفادہ کرتے تھے۔

آپ دوٹوک الفاظ میں فر ماتے تھے:

( ولا یجرمنّکم شنان قوم علی الّا تعدلوا)

(سورہ مائدہ/ ۸)

”اور خبر دارکسی قوم کی عداوت تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ انصاف ترک کردو“

میدان جنگ میں اخلاقی اصولوں کی رعایت کر نے،غیر فوجیوں (عام انسانوں) کو اذیت و تکلیف نہ دینے ،درختوں اور نخلستانوں کو نابود نہ کرنے،دشمن کے لئے پینے کے پانی کو آلودہ نہ کر نے ،جنگی قیدیوں سے محبت سے پیش آنے اور اس قسم کے دسیوں مسائل کے بارے میں آپ کے احکام اس حقیقت کے واضح ثبوت ہیں۔

۶ ۔اس معاشرے میں آپ کی دعوت کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ اسلام کے دشمن ،لوگوں کے آپ کے قریب آنے سے گھبراتے تھے ،کیونکہ وہ آپ میں غیر معمولی قوت جاذبہ اورآپکے کلام میں نفوذ کا اثر دیکھتے تھے ۔بعض اوقات آپ کی گفتگو کے دوران شور وغل بر پا کرتے تھے تاکہ لوگ آپ کے کلام کو سن کر آپ کے گرویدہ نہ ہو جائیں ،اسی لئے آپ کے معجز نما اثر و رسوخ پر پردہ ڈالنے کے لئے آپ کو ”ساحر“ اور آپ کے کلام کو ”سحر“ سے تعبیر کرتے تھے کہ یہ بذات خودآپ کی دعوت کے غیر معمولی اور عجیب اثر کا اعتراف تھا۔

۷ ۔اپنی دعوت کی راہ میں آپ کی جاں نثاری کے پیش نظر معلوم ہو تا ہے کہ آپاپنے لائے ہوئے دین کے بارے میں دوسروں سے زیادہ مؤمن و پابند تھے۔

بعض جنگوں کے میدانوں میں، جہاں تازہ اسلام لائے ہوئے افراد بھا گ گئے لیکن آپ انتہائی سختی سے دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔اور جہاں پر دشمن لالچ اوردھمکی،مختصر یہ کہ ہر راہ سے سامنے آتاتھا آپ ان تمام مسائل کی پروا کئے بغیر اپنے عقیدہ پر سختی سے ثابت قدم رہتے تھے اور کمزوری اور شک و شبہہ سے دوچار ہوکر ہرگز آپ کے قدم نہیں ڈگمگاتے تھے۔

۸ ۔ کئی بارکوشش کی گئی کہ آپ کو منحرفین کی سازش کے جال میں پھنسا یا جائے، لیکن آپ کبھی نہ پھنسے، آپ فرماتے تھے: ”اگر سورج کو میرے ایک ہاتھ میںاورچاند کو دوسرے ہاتھ میں دیدیا جائے(یعنی پورے نظام شمس کو میرے قبضہ میں دے دیاجائے تا کہ میں اپنے مقصد سے دست بردار ہوجاؤں) تو بھی میں اپنے مقصد سے دست بردار نہیں ہوں گا۔“

۹ ۔ آپ کی دعوت کا عام لوگوں کے افکار پر اثر نہ صرف عجیب تھا بلکہ اس کی سرعت بھی معجزنما تھی۔ جن لوگوں نے اسلام کے بارے میں مغربی مستشرقین کی لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان تمام مستشرقین نے اسلام کے تیزی کے ساتھ پھیلنے پر تعجب کیاہے مثال کے طور پر ” تاریخ تمدن عرب اور مشرق میں اس کی بنیادیں“ نام کی کتاب لکھنے والے مشہور تین مغربی مصنفین اس حقیقت کا صریحی طور سے اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

” اس بات کو جاننے کے لئے اسلام کیسے اس قدر تیزی سے ترقی کرکے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں اس زمانہ کی متمدن دنیا کے اکثر علاقوں پر چھاگیا؟ اب تک کی گئی تمام کوششوں کے باوجود بھی یہ راز ایک لاینحل معمے کی صورت میں باقی ہے۔“

جی ہاں حقیقت میں یہ ایک معما ہے کہ اس زمانہ کے وسائل کے ساتھ اسلام کس ژرح اتنی تیزی اور سرعت کے ساتھ کروڑوں انسانوں کے دلوں کی گہرائیوں میں نفوذ کرگیا اور بہت سی تہذیبوں اورثقافتوں کو ختم کرکے ایک نئی تہذیب و تمدن کو وجود میں لایا؟

۱۰ ۔ آخر میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ آپ کے دشمن کفر و استکبار کے سردار، ظالم اور خود خواہ سرمایہ دار تھے، جبکہ آپ پر ایمان لانے والے اکثر پاک دل جوان حق کے متلاشی ، محروم ، مظلوم اور حتی غلام تھے۔ یہ ایسے افراد تھے جن کا سرمایہ سچائی اور پاک دلی کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہ حق کے پیاسے تھے۔

ان بحثوں کے مجموعہ سے کہ جس کی شرح بہت تفصیلی ہے، ہم آسانی کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچتے، ہیں کہ آپ کی دعوت ایک الہی دعوت تھی، ایک ایسی دعوت تھی جس کا سرچشمہ ماورائے طبیعت تھا، یعنی ایک ایسی دعوت جس کو پروردگار عالم نے انسانوں کو برائی، تباہی، جہالت ، شرک، ظلم اور ستم سے نجات دلانے کے لئے بھیجاتھا۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیا پیغمبر اسلام کی حقانیت کی پہچان کے لئے معجزہ کے علاوہ بھی کوئی طریقہ موجود ہے؟ وہ کون سا طریقہ ہے؟

۲ ۔” قرائن کی جمع آوری“ سے کس قسم کے قرائن مراد ہیں؟ اور کن امور کے بارے میں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے؟

۳ ۔ کیا اسلام سے پہلے اور اس کے بعد عرب معاشرے کے درمیان موازنہ کرنے سے کوئی نتیجہ اخذ کیا سکتا ہے؟

۴ ۔ عصر جاہلیت میں دنیا بالخصوص عربوں کے بارے میں اگر کچھ جانتے ہیں تو اس کا ایک خلاصہ بیان کیجئے۔

۵ ۔ اسلام کے دشمنوں نے (صلی الله علیه واله والسلم) پر کیوں سحر کی تہمت لگائی؟


دسواں سبق :حضرت محمد (صلی الله علیه واله والسلم) کا خاتم الانبیاء ہونا

خاتمیت کا صحیح مفہوم

حضرت محمد (صلی الله علیه واله والسلم) خداوند متعال کے آخری نبی ہیں اور نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہوتاہے۔ یہ ”دین اسلام کی ضروریات“ میں سے ہے۔

”ضروری“ کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ جو بھی شخص مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوجائے، جلدی ہی سمجھ لے گا کہ تمام مسلمان اس مطلب کا عقیدہ رکھتے ہیں اور یہ ان کے نزدیک واضح اور مسلّم ہے۔یعنی جس طرح کوئی شخص مسلمانوں سے سروکار رکھتاہو،تو وہ جانتا ہے کہ مسلمان مذہبی لحاظ ہے”توحید“ کی اصل پر سختی سے قائل ہیں، اسی طرح وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تمام مسلمان حضرت محمد (صلی الله علیه واله والسلم) کے آخری نبی ہونے کے عقیدہ پر اتفاق رکھتے ہیںا ورمسلمانوں کا کوئی گروہ کسی نئے نبی کے آنے کا منتظر نہیں ہے۔

حقیقت میں انبیاء کی بعثت کے ساتھ قافلہ بشریت نے اپنے تکامل کے مختلف مراحل کو یکے بعد دیگرے طے کیا ہے اور بالآخر انسان رشد وتکامل ایک ایسی منزل پر پہنچ گیاہے، جہاں پر وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتاہے۔ یعنی”اسلام کی جامع تعلیمات“ سے استفادہ کرکے اپنی مشکلات کو حل کرسکتاہے۔

دوسرے الفاظ میں، اسلام کمال بشریت کے دور کا آخری اور جامع قانون ہے۔ عقائد کے لحاظ سے دینی بصیرت کا مکمل نمونہ اور عمل کے حوالے سے بھی ایسا منظم قانون ہے جو ہر زمان و مکان میں انسان کی تمام ضروریات کے مطابق ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی دلیل

اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے دلائل ہمارے پاس کئی موجود ہیں کہ ان میں سے واضح تر درج ذیل تین دلیلیں ہیں:

۱ ۔ اس مسئلہ کا ضروری ہونا: ہم نے کہا کہ جو بھی شخص دنیا کے مسلمانوں سے جہاں کہیں بھی رابطہ قائم کرے، اسے معلوم ہوگا کہ وہ حضرت محمد کے خاتم الانبیاء ہونے کے قائل ہیں۔ اس لئے اگر کوئی شخص اسلام کو دلیل و منطق کی بنیاد پر قبول کرے، تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ حضرت محمد کے آخری نبی ہونے کے عقیدہ کو بھی قبول کرے، کیونکہ ہم نے گزشتہ اسباق میںاس دین کی حقانیت کو بہت سی دلیلوں کے ذریعہ ثابت کیا ہے، لہذٰ حضرت محمد کے خاتم الانبیاء ہونے کے عقیدہ کو بھی قبول کرنا چاہئے، کیونکہ یہ اس دین کی ضروریات میں سے ہے۔

۲ ۔ قرآن مجید کی آیات بھی حضرت محمد کے خاتم الانبیاء ہونے پر واضح اور روشن دلیل ہیں ، جیسے سورہ احزاب کی آیت نمبر ۴۰ میں ارشادہواہے:

( ما کان محمد ابااحد من رجا لکم ولکن رسول اللّٰه و خاتم النّبیّن)

” محمد تمھارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں“

قرآن مجید نے یہ تعبیر اس وقت پیش کی ہے جب عربوں میں منہ بولابیٹا بنانے کا رواج تھا۔ وہ کسی دوسرے ماں باپ کے بچے کو اپنے بیٹے کے طور پر لے لیتے تھے اور وہ ایک حقیقی فرزند کے عنوان سے اس خاندان میں داخل ہوتاتھا، محرم ہوتاتھا اور وارث بن جاتاتھا۔

لیکن اسلام نے اس جاہلانہ رسم کو ختم کرتے ہوئے فرمایا:” لے پالک بچے ہرگز حقیقی فرزندوں کی طرح شرعی اور حقوقی قوانین مین شریک نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے ایک ”زید“ بھی تھے جن کی پرورش آنحضرت (ع) نے فرمائی تھی، وہ بھی آپ کے فرزند کہے جا تے تھے۔ لہٰذا قرآن مجید فرماتاہے: بجائے اس کے کہ تم لوگ حضرت محمد کو ان لوگوں مین سے کسی کے باپ کے عنوان سے پکارو آنحضرت کو دو اصلی اور حقیقی اوصاف یعنی”رسالت“ و ” خاتمیت“ کے عنوان سے پکارو۔

اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاخاتم الانبیاء ہو نا آپکی رسالت کے مانند سبوں کے لئے واضح،ثابت اور مسلّم تھا۔

صرف یہ سوال باقی ہے کہ”خاتم“کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟

”خاتم“”ختم“سے بنا ہے۔اس کا معنی ختم کر نے والا اور وہ چیز ہے جس کے ذریعہ کسی کام کو ختم کیا جائے ۔مثلاًہر خط کے اختتام پر لگائی جانے والی مہرکو ” ختم“ کہتے ہیں ۔انگوٹھی کو بھی اس لئے ”ختم“کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں انگوٹھی کا نگینہ کو مہر کی جگہ پر استعمال کیا جاتاتھا ،ہر ایک اپنے خط کے آخر پر اپنی انگوٹھی کے نگینہ سے مہر لگاتاتھا ،جس پر اس کا نام یاکوئی اور نقش کندہ ہوتاتھا ،ہر ایک کی انگوٹھی کا نقش اس شخص سے مخصوص ہوا کرتاتھا۔

اسلامی روایات میں مذکورہے:جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس زمانہ کے کسی بادشاہ یا حکمراںکو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خظ لکھنا چاہتے تھے ،تو آپ کی خد مت میں عرض کی گئی کہ عجم کے بادشاہ مہر کے بغیر خط کو قبول نہیں کرتے ہیں۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک بالکل سادہ اور مہر کے بغیر خط تحریر فر ماتے تھے ۔اس تجویز کے بعد آپ نے حکم فر مایا کہ آپ کے لئے ایک ایسی انگوٹھی بنائی جائے جس کے نگینہ پر کلمہ ”لا الہ الا الّلہ محمّٰد رسول اللّٰہ “نقش ہو ۔اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے تمام خطوط پر یہ مہر لگائی جاتی تھی۔

اس لئے ”خاتم“کا اصلی معنی ختم کر نے والا آخر تک پہنچانے والا ہے۔

۳ ۔بہت سی ایسی روایتیں بھی پائی جاتی ہیں جن سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہو نا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے ۔ان میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں:

الف:جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کی گئی ایک معتبر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا :

”انبیاء کے در میان میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی ہو ،لیکن اس عمارت میں ایک جگہ صرف ایک اینٹ لگانا باقی ہو ،جو بھی اس عمارت میں داخل ہو تا ہے ،اس خالی جگہ پر نظر ڈالتے ہی کہتا ہے:کتنی خوبصورت ہے یہ عمارت لیکن ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے ۔میں وہی آخری اینٹ ہوں اور نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا ہے۔“ (تفسیر مجمع البیان )

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں:

”حلال محمد حلال ابداًالیٰ یوم القیامة وحرامه حرام ابداً الیٰ یوم القیامة “

”حلال محمدہمیشہ ہمیشہ قیامت تک حلال ہے اور حرام محمد ہمیشہ ہمیشہ قیامت تک حرام ہے“ (اصول کافی ،ج ۱ ،ص ۵۸)

شیعہ اورسنّی راویوں سے نقل کی گئی ایک مشہور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے مخاطب ہو کر فر مایا:

”انت منیّ بمنزلة هارون من موسیٰ الاّ انه ّ لا نبیّ بعدی “

”آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہے ،جو ہارون کی حضرت موسیٰ سے تھی ،صرف یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“

اس قسم کی دسیوں احادیث موجود ہیں ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہو نے کے سلسلہ میں کچھ سوالات ایسے ہیں جن پر غور کر نا ضروری ہے :

پہلاسوال:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر انبیاء کی بعثت خدا کی طرف سے ایک بڑا فیض ہے،تو ہمارے زمانے کے لوگ کیوں اس عظیم فیض وبر کت سے محروم ہیں ؟اسی زمانہ کے لوگوں کی ہدایت و رہنما ئی کے لئے کیوں ایک نئے راہنما کو نہیں بھیجا جاتا؟

جواب:ایسا کہنے والے حقیقت میں ایک اہم نکتہ سے غافل ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں کسی نبی کے مبعوث نہ ہو نے کا سبب اس زمانہ کے لوگوں کا بے لیاقت اور نا اہل ہو نا نہیں ہے،بلکہ اس لئے ہے کہ قافلہ بشریت علم و فکر کے لحاظ سے ایک ایسی منزل تک پہنچ گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے استفادہ کر کے خود آگے بڑھ سکتا ہے۔

اس بات کی مزید وضاحت کے لئے ہم یہاں پر ایک مثال پیش کرتے ہیں: اولو العزم نبی،یعنی صاحب شریعت اور صاحب کتاب نبی،پانچ ہیں:”حضرت نوح(ع)، حضرت ابراھیم(ع)،حضرت موسیٰ(ع)،حضرت عیسیٰ(ع)،اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ علیہم السلام“۔ان میں سے ہر ایک نے ایک خاص زمانے میں لوگوں کی ہدایت اور ان کے رشد و تکامل کے لئے انتھک کوششیں کی ہیں اور قافلہ بشریت کو ایک مرحلہ سے گزار کر دوسرے مرحلہ میں ایک دوسرے اولوالعزم پیغمبر کے حوالے کیا ہے۔یہاں تک کہ یہ قافلہ اپنی آخری منزل تک پہنچ کر اس قابل ہو گیا کہ خود اپنے راستے پر آگے بڑھ سکے ۔اس کی مثال اس طالب علم کی ہے جو اپنی تعلیم کے مختلف پانچ مراحل طے کر کے فارغ التحصیل ہو تا ہے:(البتہ فارغ التحصیل ہو نا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اس سے مراد اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر سفر کو جاری رکھنا ہے)

تعلیم کے یہ پانچ مراحل حسب ذیل ہیں :

پرائمری ،مڈل،ہائرسیکنڈری، گریجویشن(بی اے اورایم اے) اور ڈاکٹریٹ۔

اگر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کیا ہواایک شخص سکول یا یونیورسٹی نہیں جاتا ہے،تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس میں صلاحیت نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ اس قدر علم وآگاہی رکھتا ہے کہ جس کی مدد سے وہ اپنی علمی مشکلات کو حل کرسکتا ہے اور اپنے مطالعات کو جاری رکھتے ہوئے ترقی کے مراحل طے کر سکتا ہے۔

دوسراسوال:

چونکہ انسانی معاشرہ ہمیشہ تغیر وتبدّل کی حالت میں ہوتا ہے ،اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے مستقل،ثابت اور یکساں قوانین معاشرے کی ضروریات کا حل پیش کر سکیں؟

جواب:اسلام میں دو قسم کے قوانین ہیں :پہلی قسم ان قوانین پر مشتمل ہے جو انسان کی خاص صفات کے مانند مستقل اور ثابت ہیں ،جیسے:توحید پر اعتقاد،عدالت کے اصول کا نفاذ،اور ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے مقابلہ کرنا وغیرہ۔

ان قوانین کی دوسری قسم کلی اور جامع اصولوں کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہے جو موضوعات میں تبدیلی پیدا ہونے سے نئی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور ہر زمانے کی تغیر پذیر ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔

مثلاًاسلام میں ”اوفو ابالعقود “ کے عنوان سے ایک کلی قاعدہ ہے۔(یعنی اپنے عہد و پیمان کی وفاداری کرتے ہوئے انھیں پورا کرو)

زمانہ کے گزر نے کے ساتھ یقینا نئے اور مفید تجارتی،سیاسی اور اجتماعی معاہدات و معاملات پیش آتے ہیں۔انسان مذکورہ کلی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے جدید مسائل کا جواب دے سکتا ہے۔

اسی طرح ایک دوسرا قائدہ بنام”قائدہ لاضرر“ ہے۔اس قائدہ کے مطابق جو بھی حکم اور قانون انسان یا معاشرہ کے لئے مضر ہو اسے محدود ہو نا چاہئے۔

آپ نے ملاحظہ فر مایا کہ اسلام کے یہ کلی قاعدے کس قدر مسائل کو حل کر نے میں کار ساز ہیں ۔اسلام میں اس قسم کے قاعدے کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ہم انہی کلی قواعد اور اصول سے استفادہ کر کے عظیم اسلامی انقلاب کے بعد (بلکہ ہمیشہ)پیچیدہ ترین مسائل اور مشکلات کو حل کرسکتے ہیں۔

تیسرا سوال:

بیشک ہمیں اسلامی معاشرے میں مختلف مسائل کے سلسلہ میں رہبر کی ضرورت ہے۔پیغمبر کی عدم موجودگی اور ان کے جانشین کی غیبت کے پیش نظر رہبری کا مسئلہ معطّل ہو کر رہ گیا ہے ،اور خاتمیت کے اصول کے پیش نظر کسی دوسرے نبی کے مبعوث ہو نے کی امید بھی نہیں کی جا سکتی ہے،کیا یہ امر اسلامی معاشرہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے؟

جواب:اس زمانہ کے لئے بھی اسلام میں ضروری راہ حل کو مدنظر رکھا گیا ہے،یعنی ”ولایت فقیہ“کے ذریعہ اسلامی معا شرے کی رہبری کی ذمہ داری جامع الشرائط اور اعلیٰ سطح پر علم وتقویٰ اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ایک فقیہ کے ذمہ رکھی گئی ہے۔ایسے رہبر کی پہچان کا طریقہ بھی اسلامی قوانین میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے ،لہذا اس سلسلہ میں بھی کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔

اس بناپر ”ولایت فقیہ“سلسلہ انبیاء واوصیاء ہی کی ایک کڑی ہے۔”جامع الشرائط فقیہ کی رہبری “اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی معاشرہ سر پرست اور رہبر سے محروم نہیں ہے۔

(اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے لئے مصنف کی فارسی کتاب”طرح حکومت اسلامی“کا مطالعہ فر مائیں)۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔خاتمیت کاصحیح مفہوم کیا ہے؟

۲ ۔قرآن مجید کی آیات سے خاتمیت کو کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے؟

۳ ۔ہمارے زمانہ کے لوگ انبیائے الہٰی کی بعثت سے کیوں محروم ہوں؟

۴ ۔اسلامی قوانین کی کتنی قسمیں ہیں یہ قوانین ہمارے زمانہ کے مسائل کو کیسے حل کر سکتے ہیں ؟

۵ ۔کیا اسلامی معاشرہ رہبر کے بغیر قائم رہ سکتا ہے ؟ہمارے زمانہ میں رہبری کا مسئلہ کیسے حل کیا جاسکتا ہے؟


امامت کے دس سبق

پہلاسبق: امامت کی بحث کب سے شروع ہوئی؟

ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد مسلمان دو گرہوں میں تقسیم ہو گئے:

ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا ہے ،اور یہ کام امت پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے در میان میں سے کسی ایک کو رہبر کے عنوان سے منتخب کریں ۔اس گروہ کو ”اہل سنت“کہتے ہیں۔

دوسرا گروہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین آپکے ہی مانند خطا و گناہ سے معصوم ہو نا چاہئے اور بے پناہ علم کا حامل ہو نا چاہئے تاکہ لوگوں کی معنوی و مادی رہبر ی کی ذمہ داری سنبھال سکے اور اسلام کے اصولوں کی حفاظت کرتے ہو ئے انھیں بقا بخشے۔

ان کا عقیدہ ہے کہ ان شرائط کے حامل جانشین کا انتخاب خدا کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ،اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلی وسلم نے یہ کام انجام دیا ہے اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جا نشین مقرر فر مایا ہے۔اس گروہ کو ”امامیہ“یا”شیعہ“کہتے ہیں۔

ان مختصر مباحث سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلہ کے سلسلہ میں عقلی،تاریخی اور قرآن وسنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلائل کی روشنی میں بحث و تحقیق کریں۔لیکن اس بحث کو شروع کر نے سے پہلے ہم چند نکات کی طرف اشارہ کر نا ضروری سمجھتے ہیں:

کیا یہ بحث اختلاف پیدا کرنے والی ہے ؟

جب اما مت کی بحث چھڑتی ہے تو بعض لوگ فوراً یہ کہتے ہیں کہ آج کل ان باتوں کا زمانہ نہیں ہے!

آج مسلما نوں کے اتحاد ویکجہتی کا زمانہ ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے

جا نشین کا مسئلہ پر گفتگو کر نا اختلاف و افتراق پیدا ہو نے کا سبب بن سکتا ہے!

آج ہمیں اپنے مشترک دشمنوں کے بارے میں سوچنا چاہئے ،جیسے:صہیونزم اور مشرق و مغرب کی استعماری طاقتیں ۔اس لئے ہمیں اس اختلافی مسئلہ کو پس پشت ڈالنا چاہئے ۔لیکن یہ طرز فکر یقینا غلط ہے، کیو نکہ:

۱ ۔جو چیز اختلاف وافتراق کا سبب بن سکتی ہے ،وہ تعصب پر مبنی غیر معقول بحث اور کینہ پرور جھگڑے ہیں ۔لیکن مخلصانہ اور دوستانہ ماحول میں،تعصب ،ہٹ دھرمی اور لڑائی جھگڑوں سے پاک عقلی واستدلال بحثیں نہ صرف اختلاف انگیز نہیں ہیں ،بلکہ باہمی فاصلوں کو کم اور مشترک نقطہ نظر کو تقویت بخشتی ہیں ۔

میں نے اپنے حج و زیارت کے سفروں کے دوران متعدد بار حجاز کے اہل سنت علماء اور دانشوروں سے اس سلسلہ میں بحثیں کی ہیں ۔ہم دونوں فریق محسوس کرتے تھے کہ یہ بحثیں نہ صرف ہمارے تعلقات پر برُا اثر نہیں ڈالتی تھیں بلکہ زیادہ سے زیادہ آپسی افہام وتفہیم اور خوش فہمی کا سبب بھی بنتی تھیں۔یہ بحثیں ہمارے آپسی فاصلوں کو کم کرتی ہیں اور اگر کوئی بغض وعناد ہو تو اسے دلوں سے پاک کر دیتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ان بحثوں کے دوران واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے در میان مشترک نقطہ نظر کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ ہم ان مشترک نظریات پر اعتماد اور بھروسہ کر کے اپنے مشترک دشمن کا مقا بلہ کر سکتے ہیں۔

خود اہل سنت بھی چار مذاہب میں تقسیم ہو ئے ہیں (حنفی،حنبلی ،شافعی اور مالکی)ان چار مذاہب کا وجود ان میں اختلاف کا سبب نہیں بنا ہے اگر وہ شیعہ فقہ کو کم از کم پانچویں فقہی مذہب کے عنوان سے قبول کریں گے تو بہت سے اختلا فات اور مشکلات دور ہو جائیں گے،جیسا کہ ماضی قریب میں اہل سنت کے عظیم مفتی اور مصر کی الازہر یونیورسٹی کے سر براہ”شیخ شلتوت“نے اہل سنت کے در میان فقہ شیعہ کا باضابط طور پر اعلان کر کے ایک بڑا اور مؤثر قدم اٹھایا ۔انہوں نے اس طرح اسلامی افہام و تفہیم کے حق میں ایک بڑی اور مؤثر خد مت کی جس کے نتیجہ میں شیخ شلتوت اور عالم تشیع کے مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمی مرحوم بروجردی کے در میان دوستانہ تعلقات برقرار ہو ئے ۔

۲ ۔ہمارااعتقاد ہے کہ دوسرے مذاہب سے زیادہ شیعہ مذہب میں اسلام کی تجلّی واضح صورت میں موجود ہے ۔ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہوئے عقیدہ رکھتے ہیں کہ مذہب شیعہ اسلام کو تمام جہات میں بہتر صورت میں پہچنوا سکتا ہے اور اسلامی حکومت سے متعلق مسائل کو حل کر سکتا ہے ۔

تو پھر کیوں نہ ہم اپنے بچوں کو دلیل و منطق کے ساتھ اس مکتب کی تعلیم دیں؟!اور اگر ایسا نہ کیا تو یقینا ہم ان کے ساتھ خیانت کریں گے۔

ہمیں یقین ہے کہ پیغمبر اسلام نے قطعاًاپنے جا نشین کو معین فر مایا ہے ،اس میں کیا مشکل ہے کہ عقل ومنطق اور دلیل وبرہا ن سے اس موضوع پر بحث کریں؟

لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس بحث کے دوران دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کریں۔

۳ ۔اسلام کے دشمنوں نے ،مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کی بنیادوں کو متزلزل کر نے کے لئے سنیوں میں شیعوں کے خلاف اور شیعوں میں سنیوں کے خلاف اس قدر جھوٹ اور تہمتیں پھیلائی ہیں کہ جس کے نتیجہ میں بعض ممالک میں تما م شیعہ اور سنی ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں ۔

جب ہم اما مت کے مسئلہ کو مذکورہ ذکر شدہ طریقے سے بیان کریں گے اور شیعوں کے نقطہ نظر کو قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں دلائل سے واضح کریں گے،تو معلوم ہو گا کہ یہ جھوٹا پروپیگنڈا تھا اور ہمارے مشترک دشمنوں نے زہر چھڑ کا ہے ۔

مثال کے طور پر میں یہ کبھی بھول نہیں سکتا کہ ایک سفر کے دوران عربستان کی ایک عظیم دینی شخصیت سے میری ملاقات اور بحث ہوئی ۔اس نے اظہار کیا :”میں نے سنا ہے کہ شیعوں کا قرآن ہمارے قرآن سے الگ ہے۔“

میں نے انتہائی تعجب کے ساتھ اس سے کہا :میرے بھائی اس بات کی تحقیق کر نا بہت آسان ہے۔

میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ خود یا آپ کا نما ئندہ میرے ساتھ آئے تاکہ ”عمرہ“کے بعد کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ایران چلیں وہاں کے تمام کوچہ وبازار میں مسجدیں ہیں اور ہر مسجد میں بڑی تعداد میں قرآن مجید موجود ہیں۔اس کے علاوہ تمام مسلما نوں کے گھروں میں بھی قرآن مجید موجود ہیں ۔آپ جس مسجد میں چاہیں گے ہم چلیں گے یا جس گھر میں چاہیں اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور ان سے قرآن مجید طلب کریں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ کے اور ہمارے قرآن میں ایک لفظ حتیٰ کہ ایک نقطہ کا بھی اختلاف نہیں ہے ۔(بہت سے قرآن مجید ،جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں خود عربستان ،مصر اور دنیا کے دوسرے اسلامی ممالک سے شائع ہوئے ہیں)

بیشک اس دوستانہ اور نہایت استدلالی بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ اسلام کے دشمنوں نے اس مشہور عالم دین کے ذہن میں جو عجیب زہر افشانی کر رکھی تھی ،اس کا اثر ختم ہو گیا۔

مقصود یہ ہے کہ اما مت سے مربوط بحثیں ،جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا، اسلامی معاشرے میں اتحاد واتفاق کو مستحکم کرتی ہیں اور حقائق کے واضح ہو نے اور فاصلے کم ہو نے میں مدد کرتی ہیں۔

امامت کیا ہے؟

جیسا کہ عنوان سے ہی واضح ہے کہ ”امام“مسلمانوں کے پیشوا اور قائد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور شیعوں کے اصول عقائد کے اعتبار سے ”امام معصوم“اسے کہا جاتا ہے جو ہر چیز میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین ہو،اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبرمذہب کا بانی ہو تا ہے اور امام مذہب کا محافظ و نگہبان ہوتا ہے ۔پیغمبر پر وحی نازل ہو تی ہے لیکن امام پر وحی نازل نہیں ہو تی ہے۔ امام پیغمبر سے تعلیمات حاصل کرتا ہے او رقدرت کی طرف سے غیر معمولی علم کا حامل ہوتا ہے ۔

شیعہ عقیدہ کے مطابق ”امام معصوم“حکومت اسلامی کا صرف رہبر ہی نہیں ہوتا ہے ،بلکہ وہ معنوی و مادی ،ظاہری و باطنی ،غرض ہر جہت سے اسلامی معاشرے کا رہبر اور قائد ہو تا ہے ،وہ اسلامی عقائد و احکام کا نگہبان اور محافظ ہو تا ہے اور ہر قسم کے خطا وانحراف سے محفوظ ہو تا ہے اور وہ خدا کا منتخب بندہ ہوتا ہے۔

لیکن اہل سنت ،امامت کی اس طرح تفسیر نہیں کرتے ہیں ،بلکہ وہ اسے صرف اسلامی معاشرہ کا سر براہ جا نتے ہیں ،اور دوسرے الفاظ میں وہ ہر عصر وزمانہ کے حکمرانوں کو پیغمبر کا خلیفہ اور مسلمانوں کا امام جانتے ہیں۔

البتہ ہم آئندہ بحثوں میں ثابت کریں گے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک الہٰی نمایندہ کا ہونا ضروری ہے یعنی پیغمبر یا ایک معصوم امام روئے زمین پر ضرور موجود ہو نا چاہئے تاکہ دین حق کی حفاظت اور طالبان حق کی رہبری کرے ۔اور اگر کبھی یہ امام معصوم کسی مصلحت کے پیش نظر لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جائے تو اس کی طرف سے اس کے نمائندے احکام الہٰی کی تبلیغ اور حکومت اسلامی کی تشکیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج کل امامت کی بحث کرنا مناسب نہیں ہے ان کی دلیل کیا ہے۔

۲ ۔اس دلیل کے مقابلے میں اس بحث کی ضرورت کے لئے ہمارے پاس کتنے مستدل جواب ہیں؟

۳ ۔اسلام کے دشمن مسلمانوں کے در میان اختلا فات کو کیسے پھیلاتے ہیں اور ان اختلا فات کو دور کر نے کا طریقہ کیا ہے؟

۴ ۔کیا آپ دشمنوں کی تفرقہ اندازی کے کچھ نمو نے پیش کر سکتے ہیں؟

۵ ۔شیعہ مکتب میں ”امامت“کے کیا معنی ہیں اور اس کا سنی مکتب میں”امامت“ کے معنی سے کیا فرق ہے؟


دوسرا سبق: امام کے وجود کا فلسفہ

بعثت انبیاء کی ضرورت کے موضوع پر جو بحث ہم نے کی اس سے کافی حد تک ہمارے لئے پیغمبر کے بعد امام کی ضرورت کا مسئلہ واضح ہو جاتا ہے ،کیونکہ نبیاور امام(ع) اکثر موضوعات میں مشترک ہیں ،لیکن یہاں پر ضروری ہے کہ کچھ دوسرے موضوعات پر بھی روشنی ڈال جائے :

الہٰی رہبروں کے وجود کے ساتھ معنوی تکامل

سب سے پہلے ہمیں انسان کی خلقت کے مقصد پر بحث کرنی چاہئے کیونکہ یہ گلدستہ کائنات کا سب سے اچھا پھول ہے۔

انسان خدا کی طرف ،تمام جہات میں کمال مطلق اور معنوی تکامل کی منزل تک پہنچنے کے لئے ایک طولانی اور نشیب وفراز سے پر راستہ طے کرتا ہے۔

بیشک انسان اس راستہ کو ایک معصوم پیشوا کی رہبری کے بغیر طے نہیں کر سکتا ہے اور اس کے لئے ایک الہٰی معلم کی رہبری کے بغیر یہ منزل طے کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ”اس راہ میں تاریکیاں اور گمراہی کے خطرات موجود ہیں“۔

یہ صحیح ہے کہ خدا وند متعال نے انسان کو عقل وشعور کی قوت سے نوازا ہے اور اسے محکم اور قوی ضمیر عطا کیا ہے ،اس کے لئے آسمانی کتابیں بھیجی ہیں۔لیکن ممکن ہے یہ انسان ان تمام تکوینی اور تشریعی وسائل کے باوجود اپنے لئے صحیح راہ کی شناخت کر نے میں غلطی کا شکار ہو جائے ۔بیشک ایک معصوم پیشوا انحراف اور گمراہی کے خطرات کو دور کر دیتا ہے ۔لہذا ”امام کا وجود انسان کی تخلیق کے مقصد کو مکمل کر نے والا ہے۔“

یہ وہی چیز ہے جسے عقائد کی کتابوں میں”قاعدہ لطف“سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ”قاعدہ لطف“سے مراد یہ ہے کہ خدا وند متعال ان تمام چیزوں کو انسان کے اختیار میں دیتا ہے جو اس کو تخلیق کے مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں ۔انبیاء کی بعثت اور امام معصوم کا وجود بھی ان ہی میں سے ہے ورنہ انسان کے مقصد خلقت کی مخالفت لازم آئے گی۔(غور فر مائیں)۔

آسمانی ادیان کی حفاظت

ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جب الہٰی ادیان انبیاء کے قلوب پر نازل ہو تے ہیں تو وہ بارش کے پانی کی بوندوں کے مانند صاف وشفاف حیات بخش اور روح پرور ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ آلودہ ماحول اور کمزور یا ناپاک ذہنوں میں وارد ہوتے ہیں تو رفتہ رفتہ آلودہ ہو جاتے ہیں اور خرافات وتو ہمات ان میں اس قدر مخلوط ہو جاتے ہیں کہ ان کی بنیادی پاکیزگی اور لطافت ختم ہو جاتی ہے ۔اس حالت میں نہ ان میں جذّابیت باقی رہتی ہے اور نہ تربیت کا خاص اثر ،نہ ہی یہ ادیان پیاسوں کو سیراب کر سکتے ہیں اور نہ ان میں فضائل وکمالات کی کلیاں اور پھول کھلا سکتے ہیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ دین ومذہب کی اصلی شکل کی حفاظت اور دینی اصول وضوابط کے خالص رہنے کے لئے ایک معصوم پیشوا موجود ہو تا کہ وہ انحرا فات ،غلط افکار،غلط اور اجنبی نظریات،توہمات وخرافات سے دین کو بچاسکے ۔اگر دین ومذہب ایسے رہبر سے محروم ہوگا تو وہ دین مختصر مدت کے اندر ہی اپنی حقیقی شکل اور پاکیزگی کو کھودے گا۔

اسی لئے حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فر ماتے ہیں:

”اللّٰهم بلی ،لا تخلوا لارض من قائم للّٰه بحجة،اماظاهراًمشهورا،اوخائفاًمغمورا لئلا تبطل حجج اللّٰه وبینا ته ۔“ (نہج البلاغہ،کلمات قصارنمبر ۱۴۷)

”جی ہاں ،زمین ہر گز قیام کر نے والے حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی ہے،خواہ(وہ حجت خدا)ظاہر وآشکار ہو یامخفی وپوشیدہ،تاکہ خدا کی واضح دلیلیں اور نشانیاں باطل نہ ہونے پائیں۔“

حقیقت میں قلب امام اس محفوظ صندوق کے مانند ہے جس میں ہمیشہ گراں قیمت اسنادرکھے جاتے ہیں تاکہ چوروں کی لوٹ مار اور دوسرے حوادث سے محفوظ رہیں یہ بھی وجود امام کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ ہے۔

امت کی سیاسی واجتماعی رہبری

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کوئی بھی معاشرہ یاگروہ ایک ایسے اجتماعی نظام کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا ہے جس کی سر پرستی ایک توانا رہبر کرتا ہو۔اسی لئے زمانہ قدیم سے آج تک تمام اقوام و ملل نے اپنے لئے ایک رہبر کو منتخب کیا ہے۔ کبھی یہ رہبر صالح ہو تا تھا لیکن بہت سے مواقع پر ناصالح ہو تا تھا ۔اکثر مواقع پر امتوں کی ایک رہبر کی ضرورت اور احتیاج سے ناجائز فائدہ اٹھا تے ہو ئے ظالم بادشاہ اور سلاطین زورو زبر دستی سے لوگوں پر مسلط ہو کر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھےیہ ایک طرف۔

دوسری طرف انسان کو اپنے معنوی کمال کے مقصد تک پہنچنے کے لئے اس راستہ کو اکیلے ہی نہیں بلکہ جماعت اور معاشرہ کے ہمراہ طے کر ناچاہئے ۔کیونکہ فکری ،جسمانی، مادی اور معنوی لحاظ سے انفرادی طاقت کمزور ہو تی ہے اور اس کے مقابلہ میں اجتماعی طاقت بہت قوی ہوتی ہے ۔

لیکن ایک معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ایک ایسا صحیح نظام حکم فر ماہو،جو انسانی صلاحیتوں میں نکھار لائے ،انحرا فات اور گمراہیوں سے مقابلہ کرے،معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کا تحفظ کرے،بلند مقاصد تک پہنچنے کے لئے پرو گراموں کو منصوبہ بند طریقے پر منظم کرے اور ایک آزاد ماحول میں پورے معاشرے کو حرکت میں لانے کے عوامل یکجا کرے۔

چونکہ ایک خطا کارانسان میں ایسی عظیم ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت اور طاقت نہیں ہے ،جیسا کہ ہم ہمیشہ صحیح راستہ سے سیاسی حکمرانوں کے انحراف اور گمراہی کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں ،اس لئے ضروری ہے کہ خداوند متعال کی طرف سے ایک معصوم رہبران امور کی نگرانی ونظارت کرے اور لوگوں کی توانائیوں اور دانشوروں کے افکار سے استفادہ کرتے ہوئے انحرافات کی بھی روک تھام کرے۔

یہ امام کے وجود کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ اور”قاعدہ لطف“کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ہم مکرر عرض کر رہے ہیں کہ استثنائی زمانہ میں بھی ،جب امام معصوم کچھ وجوہات کی وجہ سے غائب ہوں تو لوگوں کی ذمہ داریاں واضح ہیں ۔ان شاء اللہ تعالیٰ ہم”حکومت اسلامی“کی بحث میں اس پر مفصل روشنی ڈالیں گے۔

اتمام حجّت کی ضرورت

امام کے وجود کی نورانی کرنوں سے صرف آمادہ دلوں کی رہنمائی ہی مقصد نہیں ہے تاکہ وہ کمال مطلق کے راستے پر گامزن رہیں بلکہ امام کا وجودان لوگوں کے لئے بھی حجت کے طور پر ضروری ہے،جو جان بوجھ کر گمراہی کی طرف جاتے ہیں ،تاکہ ان کے ساتھ وعدہ کی گئی سزابے دلیل نہ ہو اور کوئی شخص ایسا اعتراض نہ کر سکے ،کہ اگر کسی الہٰی رہبر نے ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ہمیں حق کی طرف دعوت دی ہو تی تو ہم ہر گزگمراہ نہ ہو تے۔

مختصر یہ کہ امام کے وجود کا مقصد یہ ہے کہ عذر اور بہانہ کے تمام راستے بند کر دیئے جا ئیں ،حق کی دلیلیںکافی حد تک بیان کی جائیں ،نا آگاہ لوگوں کو آگاہی فراہم کی جائے اور آگاہ افراد کو اطمینان دلاکر ان کے ارادہ کو تقویت بخشی جائے۔

امام،فیض الہٰی کا عظیم وسیلہ ہے

بہت سے علماء ،اسلامی احادیث کی روشنی میں،انسانی معاشرہ یا تمام کائنات میں پیغمبر اور امام کے وجود کو انسان کے بدن میں ”قلب“کے وجود سے تشبیہ دیتے ہیں۔

ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دل کی دھڑکن کے نتیجہ میں خون تمام رگوں میں پہنچ جاتا ہے اور اس طرح بدن کی تمام خلیوں کو غذا پہنچتی ہے۔

چونکہ امام معصوم ایک انسان کامل اور کاروان انسانیت کے راہنما کی حیثیت سے فیض الہٰی کے نازل ہو نے کا وسیلہ ہے اور ہر شخص پیغمبر وامام سے اپنے ارتباط کے مطابق اس فیض الہٰی سے بہرہ مند ہو تا ہے ۔لہذا یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح انسان کے لئے ”دل“کا وجود ضروری ہے اسی طرح عالم انسانیت کے لئے فیض الہٰی کے اس وسیلہ (امام(ع)) کا ہونابھی ضروری ہے۔(غور فر مائیے)

مغالطہ نہ ہو ،پیغمبر اور امام کے پاس اپنی کوئی ایسی چیز نہیں ہو تی ہے جسے وہ دوسروں کو عطا کریں ،بلکہ ان کے پاس جو کچھ ہو تا ہے وہ خدا کا دیا ہوا ہو تا ہے ،لیکن جس طرح ”دل“بدن کے لئے فیض الہٰی کا وسیلہ ہو تا ہے ،اسی طرح پیغمبر اور امام بھی تمام انسانوں کے لئے فیض الہٰی کے سبب اور وسیلہ ہو تے ہیں۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔انسان کے معنوی تکامل میں امام کا کیا کردار ہے؟

۲ ۔دین و مذہب کے محافظ کی حیثیت سے امام کا کیا کردار ہے؟

۳ ۔حکومت اور نظام کی رہبری کے لحاظ سے امام کا کیا کردار ہے؟

۴ ۔ اتمام حجت سے کیا مراد ہے ؟اور اس سلسلہ میں امام کا کیا کردار ہے؟

۵ ۔فیض الہٰی کے وسیلہ سے کیا مراد ہے ؟اس حوالے سے پیغمبر اور امام کے بارے میں کون سی تشبیہ بہترین تشبیہ ہے؟


تیسرا سبق : امام کے خاص شرائط وصفات

اس بحث میں سب سے پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ کر نا ضروری ہے :قرآن مجید سے بخوبی معلوم ہو تا ہے کہ”امامت کا مرتبہ“ایک ایسا بلند مرتبہ ہے کہ ممکن ہے ایک انسان اس مرتبہ تک پہنچ سکے ۔یہاں تک کہ یہ مرتبہ ”نبوت“ اور ”رسالت“کے مرتبہ سے بھی بلند تر ہے۔ کیونکہ بت شکن پیغمبر حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۴ میں ارشاد ہوا ہے:

( وإذ ابتلیٰ إبراهیم ربّه بکلمٰتٍ فاتمّهنّ قال إنّی جاعلک للنّاس اماماً قال ومن ذرّیّتی قال لا ینال عهدی الظلمین)

”اور اس وقت کو یاد کرو جب خد انے چند کلمات کے ذریعہ ابراھیم(ع) کا امتحان لیا اور انہوں نے اسے پورا کر دیا تو اس (خدا) نے کہا ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنارہے ہیں ۔انہوں نے عرض کی:میری ذریت؟ارشاد ہو یہ عہدئہ امامت ظالمیں تک نہیں جا ئے گا۔“

اس طرح حضرت ابراھیم(ع)،نبوت اور رسالت کا مرحلہ طے کر نے اور خدا کی طرف سے لئے گئے مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کر نے کے بعد لوگوں کی ظاہری وباطنی اور مادی ومعنوی پیشوائی کے بلند مرتبہ(امامت)پر فائز ہوئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نبوت ورسالت کے مرتبہ کے علاوہ لوگوں کی امامت ورہبری کے مرتبہ پر فائز تھے ،بعض انبیاء علیہ السلام بھی اس مرتبہ پر فائز تھے ،یہ ایک طرف۔

دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ کسی عہدہ کو سنبھالنے والے میں فرائض اور ذمہ داریوں کے مطابق شرائط اور صفات کا ہو نا ضروری ہے یعنی جس قدر مرتبہ بلند تر اور ذمہ داریان سنگین تر ہوں گی اسی تناسب سے ضروری شرائط اور صفات سنگین تر ہوں گی ۔

مثلاًاسلام میں قاضی اور جج کے عہدہ پر فائز ہونے،حتی گواہی دینے اور امام جماعت بننے کے لئے بھی عادل ہو نا ضروری ہے ۔جس مذہب میں ایک گواہی دینے یا نماز جماعت میں حمد وسورہ پڑھنے کی ذمہ داری نبھانے والے کے لئے عادل ہو نا ضروری ہو،ظاہر ہے اس میں امامت کے جیسے غیر معمول اور بلند مرتبہ پر فائز ہو نے کے لئے کن شرائط کا ہو نا ضروری ہو گا ۔

بہر حال امام کے لئے درج ذیل شرائط کا ہو نا ضروری ہے:

۱ ۔معصوم ہو نا:امام کو پیغمبر کے مانند معصوم ہو نا چاہئے یعنی اسے خطا اور گناہوں سے پاک ہو نا چاہئے ۔اگر ایسا نہ ہو گا تو وہ لوگوں کے لئے رہبر اور نمونہ نہیں بن سکتا ہے اور معاشرے کے لئے قابل اعتماد نہیں بن سکتا ہے۔

امام میں ایسی خصوصیات ہونی چاہئیںکہ لوگوں کے دل و جان پر حکمرانی کر سکے اور اس کا حکم کسی چون وچرا کے بغیر لوگوں کے لئے قابل قبول ہو نا چاہئے ۔جو شخص گناہوں میں آلودہ ہو گا وہ کبھی ہر لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہو سکتا اور ایسی مقبو لیت پیدا نہیں کر سکتا ۔

جو شخص اپنے روز مرہ کاموں میں غلطیوں اور خطاؤں کا مرتکب ہو تا ہو ،اس کے لئے کیسے ممکن ہے کہ معاشرے کے امور میں اس کے افکار و نظریات پر اعتماد کرتے ہو ئے کسی چون وچرا کے بغیر عمل کیا جائے؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبرکو معصوم ہو نا چاہئے ،امام میں بھی اس شرط کا ہو نا مندرجہ بالا دلیل کے مطابق ضروری ہے ۔

اس بات کو ایک اور طریقہ سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے،وہ طریقہ”قاعدہ لطف“ہے ۔کہ پیغمبر و امام کے وجود کی اصل کا انحصار اسی قاعدہ پر ہے اور یہ قاعدہ عصمت کی صفت کو بھی ضروری قرار دیتا ہے ،کیو نکہ پیغمبر و امام کے وجود مقدس کے مقاصد کی تکمیل مرتبہ عصمت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ سبق میں جو وجود امام(ع) کے فلسفے ہم نے بیان کئے ہیں وہ بھی اس (صفت عصمت)کے بغیر نامکمل رہیں گے۔

۲ ۔بھر پور علم:امام،پیغمبر کے مانند لوگوں کے لئے علمی مامن اور پناہ گاہ ہو تا ہے ۔وہ تمام اصول دین،فروع دین،قرآن مجید کے ظاہر و باطن ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی سنت اور جو کچھ اسلام سے مربوط ہے ان سب کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ و عالم ہو نا چاہئے کیونکہ وہ شریعت اسلام کا محافظ بھی ہو تا ہے اور لوگوں کا رہبر و قاعد بھی ہو تا ہے۔

جو اشخاص ،پیچیدہ اور مشکل مسائل پیش آنے کی صورت میں پریشان ہو کر دوسروں کی طرف دست ِسوال دراز کرتے ہیں اور ان کا علم ودانش اسلامی معاشرے کو پیش آنے والے مسائل کو حل کر نے سے قاصر ہو تا ہے وہ ہر گز امات کا منصب اور لوگوں کی رہبری وقیادت کی باگ ڈور نہیں سنبھال سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ امام کو دین الہٰی کا سب سے عظیم عالم ہو ناچاہئے تاکہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی وجہ سے پیدا ہو نے والے خلاء کو فوراًپر کر سکے اور صحیح اور ہر قسم کے انحرافات سے پاک اسلام کی راہ کو ثبات و دوام بخش سکے۔

۳ ۔شجاعت:امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی معاشرے میں شجاع ترین انسان ہو،کیونکہ شجاعت کے بغیر ،رہبری وقیادت ممکن نہیں ہے ۔یہ شجاعت سخت اور ناگوا حوادث جابروں،سرکشوں ظالموں،اور اسلامی مملکت کے داخلی وخارجی دشمنوںسے مقابلہ کے لئے ضروری ہے۔

۴ ۔زہد وتقویٰ:ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا کی ظاہری شان وشوکت اور زرق وبرق میں گرفتار ہوئے لوگ جلد دھوکہ کھاتے ہیں اور ان کے لئے حق کی راہ سے منحرف ہو نے کا احتمال زیادہ ہو تا ہے ۔ان دنیا پرستوں کو کبھی لالچ کے ذریعہ اور کبھی دھمکیوں سے اپنے اصلی راستہ سے منحرف کیا جاتا ہے۔

امام کو اس دنیا کی ظاہری نعمتوں کے مقابلہ میں ”اسیر“ہو نے کے بجائے ”امیر“(بے نیاز)ہو نا چاہئے۔

امام کو اس مادی دنیا کی ہر قید وبند ،یعنی، نفسانی خواہشات ،مقام و منزلت ،مال و دولت اور جاہ و حشم کی قیود سے آزاد و بے نیاز ہو نا چاہئے تاکہ فریب،اثرورسوخ اور سازش کے دام میں پھنسا کر اسے شکست نہ دی جا سکے ۔

۵ ۔پر کشش اخلاق: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآن مجید میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۵۹ میں ارشاد ہوا ہے:

( فبما رحمة من اللّٰه لنت لهم ولو کنت فظّاً غلیظ القلب لا نفضّوا من حولک ) ( سورہ آل عمران/ ۱۵۹)

”پیغمبر!یہ اللہ کی مہر بانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ہو تے“

پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر رہبر و پیشوا کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی پر کشش اور نیک اخلاق کا مالک ہو تا کہ وہ مقناطیس کے مانند لوگوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔

بیشک ہر قسم کی تند روی اور بد اخلاقی،جو لو گوں میں نفرت پیدا ہو نے کا سبب ہو تی ہے ،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامام کے لئے بہت بڑا عیب شمار ہو تی ہے وہ ایسے عیوب سے پاک و منزّہ ہو تے ہیں ،ورنہ(امام(ع))کے بہت سے وجودی فلسفے بے کار ہو کر رہ جائیں گے۔

یہ اہم ترین شرائط ہیں،جو عظیم علماء نے امام کے لئے بیان کئے ہیں۔

البتہ مذکورہ پانچ صفات کے علاوہ بھی امام کے لئے کچھ مزید صفات اور شرائط کا ہو نا ضروری ہے ،لیکن ان میں سے اہم ترین صفات یہی ہیں جن کا ذکر ہم نے کیا ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔منصب امامت کس دلیل سے انسان کے لئے ایک بلند ترین منصب ہے؟

۲ ۔کیا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر اولوالعزم انبیاء علیھم السلام بھی امامت کے منصب پر فائز تھے؟

۳ ۔اگر امام معصوم نہ ہو تو کون سی مشکل پیش آسکتی ہے؟

۴ ۔امام میں بھر پور علم کا ہو نا کیوں ضروری ہے؟

۵ ۔کس دلیل کی بناء پر امام کو سب سے شجاع ،باتقویٰ،زاہد اور اخلاقی لحاظ سے پر کشش ہو نا چاہئے۔


چوتھا سبق:امام کا تعیّن کس کے ذمہ ہے؟

مسلمانوں کے ایک گروہ (اہل سنّت)کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی حالت میں رحلت فر مائی کہ آپنے اپنے بعد کسی کو جانشین کے طور پر مقرر و معیّن نہیں فر مایا تھا ۔ان لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ذمہ داری خود مسلمانوں کی ہے کہ اپنے لئے رہبر اور پیشوا کو منتخب کریں اور اس کام کو ”اجماع مسلمین“ کے طریقہ سے انجام دیںجو دلائل شرعی میں سے ایک دلیل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ کام انجام پایا اور سب سے پہلے خلیفہ اول امت کے اجماع کے ذریعہ خلافت کے عہدے پر منتخب کئے گئے ۔جبکہ پہلے خلیفہ نے (اجماع امت کے بجائے) خود ذاتی طور پر (وصیت کے ذریعہ) دوسرے خلیفہ کو مقرر کیا۔

اس کے بعد دوسرے خلیفہ نے چھ افراد پر مشتمل ایک شوریٰ تشکیل دی تاکہ یہی لوگ ان کے بعد ان کے جانشین کو منتخب کریں۔

اس شوریٰ کے اراکین :حضرت علی(ع)،عثمان،عبدالرحمان بن عوف،طلحہ،زبیر اور سعد بن ادبی وقاص تھے۔

اس شوریٰ نے تین اراکین کی اکثریت سے،یعنی سعدبن ابی وقاص ،عبدالرحمان بن عوف اور طلحہ کی رائے سے عثمان کو منتخب کیا۔ دوسرے خلیفہ نے صراحت کی تھی کہ شوریٰ کے اراکین کی رائے تین تین افراد پر برابر تقسیم ہو جانے کی صورت میں جس طرف عبدالرحمان بن عوف (عثمان کے بہنوئی )کی رائے ہو وہی خلیفہ منتخب کیا جائے!

عثمان کی خلافت کے آخری دنوں میں لوگوں نے مختلف دلائل کی بنا ء پر ان کے خلاف بغاوت کی اور اس سے پہلے کہ وہ ذاتی طور پر یا شوریٰ کے ذریعہ اپناجانشین مقرر کرتے،انھیں قتل کر ڈالا۔

اس وقت عام مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین کی حیثیت سے آپ(ع) کی بیعت کی ۔صرف شام کے گورنر معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیا ،کیونکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ حضرت علی(ع) اسے موجودہ عہدے پر باقی نہیں رکھیں گے ۔

معاویہ نے نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی بیعت ہی نہیں کی بلکہ آپ(ع) کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کر دیا اور اس طرح تاریخ اسلام میں ناگوار،مرگ آور اور منحوث حوادث کا دور شروع ہوا جس کے نتیجہ میں بے گناہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا خون بہہ گیا۔

یہاں پر علمی اور تاریخی بحثوں کے واضح ہو نے کے لحاظ سے بہت سے سوالات ابھرتے ہیں ہم ان میں سے چند سوالات پر بحث کر رہے ہیں:

۱ ۔کیا امت کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین منتخب کر نے کا حق ہے؟

اس سوال کا جواب مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے ۔اگر ہم امامت کو اسلامی معاشرہ کی ظاہری حکمرانی جان لیں تو ایسے حاکم کو لوگوں کی رائے سے منتخب کر نا رائج ہے۔

لیکن اگر ہم امامت کو اس معنی میں لیں ،جس کی وضاحت ہم پہلے قرآن مجید کی روشنی میں کرچکے ہیں ،تو کسی شک و شبہہ کے بغیر،خداوند متعال یا وحی الہٰی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی شخص امام اور خلیفہ کو معین نہیں کرسکتا ہے۔

کیونکہ اس تفسیر کے مطابق امامت کی شرط اسلام کے تمام اصول وفروع میں بھر پور علم رکھنا ہے ایسا علم جس کا سر چشمہ علم الہٰی اور علم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتاکہ وہ شریعت اسلام کی حفاظت کرسکے۔

دوسری شرط یہ ہے کہ امام معصوم ہو ناچاہئے ،یعنی اسے خداکی طرف سے ہر خطاو گناہ سے پاک ومنزّہ ہو نے کی ضمانت حاصل ہو تا کہ معاشرے کی معنوی و مادی، ظاہری و باطنی رہبری و قیادت کی ذمہ داری سنبھال سکے۔

اس کے علاوہ امام یا خلیفہ کو اس منصب کے لئے ضروری زہد وتقویٰ ،پرہیز گاری اور شجاعت کا حامل بھی ہو ناچاہئے ۔

یہ بات یقینی ہے کہ ان شرائط کی تشخیص خدا اور پیغمبر کے علاوہ کسی اور کے ذریعہ ممکن نہیں ہے ۔وہی(خداہی) یہ جانتا ہے کہ کس شخص کی روح عصمت کے نور سے منور ہے اور وہی جانتا ہے کہ منصب امامت کے لئے ضروری علم ،تقویٰ ،پرہیز گاری ،شجاعت و شہامت کس شخص میں موجود ہے۔

جن لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اور امام کا تعیّن لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے،انہوں نے حقیقت میں امامت کے قرآنی مفہوم میں تبدیلی ایجاد کر کے امامت کو عام حکمرانی اور دنیوی امور میں لوگوں کی رہبری تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ورنہ جامع اور کامل معنی میں امامت کے شرائط پرور دگار عالم کے ذریعہ ہی قابل تشخیص ہیں اور وہی ان صفات کے بارے میں مکمل علم و آگاہی رکھتا ہے۔

امام کا انتخاب بھی بالکل اسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح پیغمبر کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔پیغمبر کا انتخاب لوگوں کی رائے سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ ضروری ہے کہ پیغمبر کا انتخاب خداوند متعال کی طرف سے ہو اور معجزات کے ذریعہ اس کی پہچان کر وائی جائے اس لئے کہ پیغمبر میں پائی جانے والی ضروری صفات کی تشخیص بھی صرف خدا وند متعال ہی کر سکتا ہے۔

۲ ۔کیا پیغمبر نے اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا ہے؟

بیشک دین اسلام ایک ”عالمی‘اور ”لافانی“دین ہے اور قرآن مجید کی واضح آیات کے مطابق یہ دین کسی خاص زمان و مکان سے مخصوص نہیں ہے ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رحلت کے زمانہ تک یہ الہٰی اور آسمانی دین جزیرئہ عرب سے باہر نہیں پھیلا تھا۔

دوسری طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی زندہ گی کے تیرہ سال مکہ میں شرک وبت پرستی سے مبارزہ اور مقابلہ کر نے میں گزرگئے اور ہجرت کے بعد، جو اسلام کے پھلنے اور پھولنے کا درد تھا ،آپ کی زندہ گی کے باقی دس سال بیشتر دشمنوں کی طرف سے تھوپی گئی جنگوں اور غزوات میں صرف ہو گئے۔

اگر چہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے مسائل کی تبلیغ اور تعلیم کے لئے دن رات انتھک کو شش کی اور اور نو عمر اسلام کا تمام جہات میں تعارف فر مایا،پھر بھی یقینا اسلام کے بہت سے ایسے مسائل باقی تھے جن کی تفسیر وتشریح کے لئے مزید وقت در کار تھا، اس لئے ضروری تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جیسا کوئی شخص آپ کے بعد اس سنگین ذمہ داری کو سنبھالے ۔

ان تمام باتوں کے علاوہ مستقبل کے حالات کی پیشنگوئی کے پیش نظر مذہب کو دوام بخشنے کے مقد مات کو فراہم کر نا ان اہم امور میں سے ہے کہ ہر رہبر اور قائد کو اس کی فکر ہو تی ہے اور ہر گز اس بات کے لئے آمادہ نہیں ہو تا ہے کہ اس بنیادی مسئلہ کو فرا موش کر دے۔

اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے بعض اوقات انسانی زندگی کے معمولی اور سادہ مسائل کے بارے میں بھی احکام بیان فر مائے ہیں ،کیا یہ ممکن ہے کہ آپ نے مسلمانوں کی خلافت،زعامت اور امامت جیسے اہم مسئلہ کے بارے میں کو ئی دستور معیّن نہیں فر مایا ہو گا؟!

مذکورہ تین نکات کا مجموعہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جانشین مقرر کر نے کا قطعاً اقدام فر مایا ہے ۔انشااللہ ہم بعد میں اس سلسلہ میں قطعی اور مسلّم الثبوت روایتوں کے چند نمو نے بھی پیش کریں گے تاکہ یہ منطقی حقیقت اور بھی زیادہ واضح ہو جائے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز اپنی زندگی کے دوران اس اہم اور حیاتی مسئلہ سے غافل نہیں رہے ہیں ،اگر چہ خاص سیاسی وجو ہات کی بنا ء پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایاہے۔

کیا یہ بات قابل یقین ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات (جیسے غزوہ تبوک) کے دوران صرف چند دنوں کے لئے مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو ضرور اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر فر ماتے تھے اور اپنی جگہ خالی نہیں رکھتے تھے،لیکن اپنی رحلت کے بعد کی کوئی پروا کئے بغیر کسی قسم کا اقدام نہ فر مائیں ،اور امت کو اختلا فات اور سر گردانی کے طوفان میں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ہر ایک رہبر کے ذریعہ اسلام کے دوام کی ضمانت فراہم نہ فر ما ئیں؟!

اگرپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا جانشین مقرر نہ فر ماتے تو یقینا نو عمر اسلام کے لئے بڑے خطرات لا حق ہو تے ۔عقل اور منطق اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کام انجام دیں جس سے اسلام کو خطرات لاحق ہوں۔جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کام امت کے ذمہ چھوڑ دیا ہے ،وہ اپنے اس نظریہ کی تائید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کم از کم ایک دلیل تو پیش کریں،جس سے ثابت ہو جائے کہ پیغمبر اسلام نے اس نظریہ کی تاکید فر مائی ہے !،جبکہ ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔

۳ ۔ اجماع اور شوریٰ

فرض کریں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنا جانشین مقرر کر نے کے )اس نہایت اہم مسئلہ کو نظر انداز کیا ہو اور خود مسلمانوں پر اس (خلیفہ) کے انتخاب کر نے کی ذمہ داری ہو لیکن ہم جانتے ہیں کہ ”اجماع“سے مراد تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور پہلے خلیفہ کی خلافت کے بارے میں ہر گز ایسا اتفاق یا اجماع حاصل نہیں ہوا ہے ۔صرف مدینہ میں موجود اصحاب میں سے چند صحابیوں نے اس بات کا فیصلہ کیا، جبکہ تمام اسلامی شہروں کے لوگوں نے اس فیصلہ میں بالکل شرکت نہیں کی ،بلکہ خود مدینہ میں موجود حضرت علی(ع) اور بنی ہاشم کے بہت بڑے گروہ نے اس انتخاب میں کسی قسم کی شرکت نہیں کی ،اس لئے یہ اجماع قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔

پھراگر یہ طریقہ صحیح تھا ،تو پہلے خلیفہ نے اپنا جانشین مقرر کر نے کے سلسلہ میں کیوں اس پر عمل نہیں کیا ؟انھوں نے کیوں ذاتی طور پر اپنا جانشین نامزد کیا ؟اگر ایک شخص کی طرف سے جانشین کو مقرر کر نا کافی ہوتا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کام کے لئے سب سے افضل و اولیٰ تھے۔اگر لوگوں کی طرف سے بعد میں کی جانے والی بیعت اس مشکل کو حل کر سکتی ہے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہی بیعت بہر صورت میں مسئلہ کو حل کرسکتی ہے ۔

اس کے علاوہ تیسری مشکل ”خلیفہ سوم“کے بارے میں پیش آتی ہے ،کہ دوسرے خلیفہ نے کیوں پہلے خلیفہ کے منتخب ہو نے کے طریقہ کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور جس طریقہ سے خود بر سر اقتدار آئے تھے ،اس کو بھی توڑ دیا یعنی نہ”اجماع“ پر عمل کیا اور نہ ذاتی طور پر کسی کو نامزد کیا بلکہ اس کام کے لئے ایک تیسرا طریقہ ایجاد کر کے ایک محدود شوریٰ کو اس کام کی ماموریت دے دی۔

اصولی طور پر اگر شوریٰ صحیح ہے تو یہ شوریٰ کیوں صرف چھ افراد تک محدود ہو؟اور چھ ارکان میں سے صرف تین ہی کی رائے کافی ہو؟

یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ اسلام کے ہر محقق کو پیش آتے ہیں اور ان سوالات کا جواب نہ ملنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام اور خلیفہ کے انتخاب کے مذکورہ طریقے صحیح نہیں ہیں ۔

۴ ۔علی علیہ السلام سب سے لائق وافضل تھے۔

اگر ہم فرض کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے کسی بھی شخص کو اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا تھا،اور یہ بھی فرض کرلیں کہ یہ کام لوگوں پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔لیکن کیا یہ صحیح ہے کہ خلیفہ اور امام کو منتخب کر نے کے وقت ایک ایسے شخص کو نظر انداز کر دیا جائے جو علم ،تقویٰ،پرہیز گاری شجاعت اور دوسرے امتیازات و خصوصیات کے لحاظ سے سب سے افضل ہو اور اس کے بجائے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو اس سے نہایت کمتر ہو؟!

علماء اسلام کی ایک بڑی تعداد ،حتی کہ اہل سنت علماء نے واضح طور پر لکھا ہے کہ اسلامی مسائل سے آگاہی اور علم رکھنے کے حوالے سے حضرت علی(ع) سب سے افضل تھے۔ خود حضرت (ع) سے باقی ماندہ روایات اور آثار اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں۔تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت علی (ع) تمام علمی مشکلات کو حل کر نے میں امت کے پناہ گاہ تھے،یہاں تک کہ اگر کبھی خلفاء کو بھی کوئی پیچیدہ یا مشکل مسئلہ پیش آتا تھا، وہ حضرت(ع) کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ(ع) سے مدد طلب کرتے تھے۔حضرت علی (ع)شجاعت ،علم ،تقویٰ،پرہیز گاری اور دوسری صفات کے لحاظ سے سب سے افضل تھے اس لئے اس فرض کی بناء پر کہ لوگوں کو امام وخلیفہ چننے کا حق تھا ،پھر بھی علی(ع) اس منصب کے لئے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ تھے۔(البتہ اس بحث سے متعلق کافی اسناد موجود ہیں ،جن کا ذکر اختصار کے پیش نظر یہاں پر ممکن نہیں ہے )۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ یا امام کو لوگ کیوں منتخب نہےں کرسکتے؟

۲ ۔کیا عقل ومنطق یہ بات مانتی ہے کہ پیغمبر نے اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا؟

۳ ۔پہلے تین خلفاء کا انتخاب کن طریقوں سے عمل میں آیا؟

۴ ۔کیا پہلے تین خلفاء کے انتخاب کا طریقہ علمی اور اسلامی اصولوں کے مطابق تھا؟

۵ ۔کن دلائل کی بناء پر علی(ع) سب سے لائق ہیں؟


پانچواں سبق:قرآن اور امامت

عظیم آسمانی کتاب قرآن مجید ،دوسری تمام چیزوں کے مانند امامت کے مسئلہ میں بھی ہمارے لئے بہترین راہنما ہے۔قرآن مجید نے مسئلہ امامت پر مختلف جہات سے بحث کی ہے۔

۱ ۔قرآن مجید”امامت“کو خدا کی جانب سے جانتا ہے:

جیسا کہ ہم نے گزشتہ بحثوں میں حضرت ابراھیم (ع) بت شکن کی داستانوں میں پڑھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراھیم(ع) کو نبوت اور رسالت پر فائز ہو نے اور مختلف امتحانات میں کامیاب ہو نے کے بعد امامت کے عہدہ پر قرار دیا ہے۔اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۴ میں ارشاد فر مایا ہے:

( وإذابتلیٰ إبرا هیم ربّه بکلمٰتٍ فاتمّهنّ قال إنی جاعلک للنّاس إما ماً)

”اور اس وقت کو یاد کروجب خدانے چند کلمات کے ذریعہ ابراھیم کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کر دیا تو اس نے کہا ہم تم کو لوگوں کا امام بنارہے ہیں۔“

قرآن مجیدکی مختلف آیات اور تاریخی قرائن سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت ابراھیم (ع) با بل کے بت پرستوں سے مبارزہ کر نے،شام کی طرف ہجرت کر نے اور خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے بیٹے اسماعیل(ع) کو قربان گاہ میں لے جانے کے بعد امامت کے منصب پر فائز ہو ئے ہیں۔

جب نبوت و رسالت کا عہدہ خدا کی طرف سے معیّن ہو ناضروری ہے تو مخلوق کی ہمہ جہت امامت و رہبری کا مرتبہ بطریق اولیٰ خدا کی طرف سے معیّن ہو نا ضروری ہے ،کیونکہ امامت کا مرتبہ رہبری کے تکامل کی معراج ہے ۔اس لئے یہ کوئی ایسی معمولی چیز نہیں ہے جسے لوگ انتخاب کریں ۔

پھر قرآن مجید خود مذکورہ آیت میں فر ماتا ہے:

( إنی جاعلک للنّاس اماماً)

”میں تم کو امام و پیشوا قرار دینے والا ہوں۔“

اسی طرح سورئہ انبیاء کی آیت نمبر ۷۳ میں بھی بعض با عظمت انبیاء جیسے: حضرت ابراھیم(ع) ،حضرت لوط(ع) ،حضرت اسحاق(ع) اور حضرت یعقوب(ع) کے بارے میں ارشاد ہو تا ہے:

( وجعلنا هم ائمة یهدون بامرنا)

”اورہم نے ان سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے“

اس قسم کی تعبیریں قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں بھی ملتی ہیں ،جن سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ الہٰی منصب خداوند متعال کے توسط سے ہی معیّن ہو نا چاہئے ۔

اس کے علاوہ ہم حضرت ابراھیم (ع) کی امامت سے متعلق مذکورہ آیت کے آخری حصہ میں پڑھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فرزندوں اور آنے والی نسل کے لئے اس منصب کی درخواست کی تو اللہ کی طرف سے یہ جواب ملا :

( لا ینال عهدی الظالمین)

”میرا عہد ہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا “

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی دعا قبول ہوئی ،لیکن آپ کے

فر زندوں میں سے جو ظلم کے مرتکب ہو نے والے ہیں وہ ہر گز اس مرتبہ پر فائز نہیں ہو ں گے۔

قابل ذکر بات ہے کہ لغوی اور قرآن مجید کی منطق کے اعتبار سے ”ظالم“ کے وسیع معنیٰ ہیں اور اس میں تمام گناہ من جملہ ان کے آشکار و مخفی شرک اور اپنے اوپر اور دوسروں پر ہر قسم کا ظلم شامل ہے ۔چونکہ خداوند متعال کے علاوہ کوئی اس امر سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے، کیونکہ صرف خدا ہی لوگوں کی نیتوں اور باطن سے آگاہ ہے ،اس لئے واضح ہو تا ہے کہ اس مرتبہ و منصب کا تعیّن صرف خدا وند متعال کے ہاتھ میں ہے ۔

۲ ۔آیہ تبلیغ

سورئہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ میں یوں ارشاد ہوا ہے:

( یٰا یّها الرّسول بلّغ ماانزل إلیک من ربّک وإن لم تفعل فما بلّغت رسا لته واللّٰه یعصمک من الناس إن اللّٰه لا یهدی القوم الکٰفرین)

”اے پیغمبر!آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پرور دگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کا فروں کی ہدایت نہیں کر تا ہے۔“

اس آیہ شریفہ کے لہجہ سے معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش مبارک پر ایک سنگین ما مو ریت ڈالی گئی ہے اور اس سلسلہ میں ہر طرف کچھ خاص قسم کی پریشانیاں پھیلی تھیں ،یہ ایسا پیغام تھا کہ ممکن تھا لوگوں کے ایک گروہ کی طرف سے اس کی مخالفت کی جاتی،اس لئے آیہ شریفہ تاکید کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر عمل کر نے کا حکم دیتی ہے اور ممکنہ خطرات اور پر یشانیوں کے مقابلہ میں آپ کو خاطر خواہ اطمینان دلاتی ہے۔

یقینا یہ اہم مسئلہ توحید، شرک یا یہودو منا فقین جیسے دشمنوں سے جہاد کر نے سے مربوط نہیں تھا،کیونکہ اس زمانہ(سورئہ مائدہ نازل ہو نے )تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہو چکا تھا۔

اسلام کے دوسرے احکام پہنچانے کے سلسلہ میں بھی اس قسم کی پریشانی اور اہمیت نہیں تھی ،کیو نکہ مذکورہ آیت کے مطابق بظاہر یہ حکم رسالت کے ہم وزن اور ہم پلہ تھا کہ اگر یہ حکم نہ پہنچا یا جاتا تو رسالت کا حق ادا نہیں ہو تا ۔کیا یہ مسئلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی اور خلافت کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے ؟خاص کر جب کہ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر شریف کے آخری دنوں میں نازل ہوئی ہے اور یہ خلافت کے مسئلہ کے ساتھ تناسب بھی رکھتا ہے ،جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت ونبوت کی بقا کا وسیلہ ہے۔

اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے صحابیوں کی ایک بڑی تعداد ،من جملہ زید بن ارقم ،ابو سعید خدری ،ابن عباس،جابر بن عبداللہ انصاری ،ابو ہریرہ ،حذیفہ اور ابن مسعود سے اس سلسلہ میں کثیر تعداد میں روایتیں نقل ہو ئی ہیں اور ان میں سے بعض روایتیں گیارہ واسطوں سے ہم تک پہنچی ہیں اور اہل سنت علماء،مفسرین ،محدثین اور مورخین نے بھی انھین نقل کرتے ہو ئے واضح کیا ہے کہ مذکورہ آیت حضرت علی(ع) اور غدیر کے واقعہ کے بارے میں نازل ہو ئی ہے ۔(۱)

ان شاء اللہ ہم ”غدیر“کی داستان کو ”روایات وسنت “کے عنوا ن سے آئندہ بحث میں تفصیل سے بیان کریں گے ۔لیکن یہاں پر ہم اسی یاد دہانی پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی ایک واضح دلیل ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ اپنی زندگی کے آخری حج سے لوٹتے وقت حضرت علی(ع) کو با ضابطہ طور پر اپنا جا نشین معیّن کریں اور تمام مسلمانوں کو ان کا تعارف کرائیں ۔

۳ ۔آیہ اولی الامر

سورئہ نساء کی آیت نمبر ۵۹ میں ارشاد ہوا ہے:

( یٰایّهاالّذین اٰمنوا اطیعوااللّٰه واطیعوا الرسول واولی الامر منکم)

”ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمھیں میں سے ہیں

یہاں پر اولوالامر کی اطاعت کسی قید وشرط کے بغیر خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کی اطاعت کے ہمراہ بیان ہوئی ہے۔

کیا”اولوالامر“سے مراد ہر زمان و مکان کے حکام اور فرمانروا ہیں؟ مثلاًکیا ہمارے زمانے میں ہر ملک کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنے حکام اور فر مانرواؤں کی اطاعت کریں؟(جیسا کہ اہل سنت کے بعض مفسرین نے بیان کیا ہے)

یہ بات عقل ومنطق کی کسی کسوٹی پر ہر گز نہیں اترتی ہے،کیونکہ اکثرحکمراںمختلف زمانوں اور عصروں میں منحرف،گناہ کار ،دوسرے ملکوں کے ایجنٹ اور ظالم ہو ئے ہیں۔کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی پیروی و اطاعت کی جانی چاہئے جن کا حکم اسلامی احکام کے خلاف نہ ہو؟یہ بھی آیت کے مطلق ہو نے کے خلاف ہے۔

کیا اس سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے مخصوص اصحاب ہیں؟یہ احتمال بھی اس آیت کے وسیع مفہوم (جو ہردور اور زمانے کے لئے ہے)کے خلاف ہے۔

اس لئے ہمارے لئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس سے مراد معصوم پیشوا ہے جو ہر دور اور زمانے میں موجود ہو تا ہے اور اس کی اطاعت کسی قید وشرط کے بغیر واجب ہو تی ہے اور اس کا حکم، خدا ورورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانند واجب الاطاعت ہو تا ہے۔

اس سلسلہ میں اسلامی منابع وماخذ میں موجود متعدد احادیث میں ”اولو الامر“کی حضرت علی(ع) اور ائمہ معصومین (ع) سے کی گئی تطبیق بھی اس حقیقت کی گواہ ہے۔(۲)

۴ ۔آیہ ولایت

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵ میں ارشاد ہوا ہے:

( إنما ولیکم اللّٰه ورسوله والّذین آمنواالّذین یقیمون الصّلوٰة ویؤتون الزکوٰة وهم راکعون)

”ایمان والو بس تمھاراولی اللہ ہے اور اس کا رسول اوروہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں۔“

عربی لغت میں لفظ”إنما“انحصار کے لئے استعمال ہو تا ہے،اس بات کے پیش نظر قرآن مجید نے مسلمانوں کی قیادت اور ولایت وسر پرستی کو صرف تین اشخاص میں منحصر فر مایا ہے :”خدا،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰة دیتے ہیں“۔

اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ”ولایت“ سے مراد مسلمانوں کی آپس دوستی نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی عام دوستی کے لئے قید وشرط کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تمام مسمان آپس میں دوست اور بھائی بھائی ہیں اگر چہ رکوع کی حالت میں کوئی زکوٰة بھی نہ دے ۔اس لئے یہاں پر ”ولایت“ وہی مادی و معنوی رہبری اور سر پرستی کے معنی میں ہے،بالاخص جب کہ یہ ولایت ،خدا کی ولایت اور پیغمبر کی ولایت کے ساتھ واقع ہو ئی ہے۔

یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ مذکورہ آیت میں ذکر شدہ اوصاف ایک مخصوص شخص سے مر بوط ہیں،جس نے رکوع کی حالت میں زکوٰة دی ہے،ورنہ یہ کوئی ضروری امر نہیں ہے کہ انسان نماز کے رکوع کی حالت میں زکوٰة ادا کرے ،حقیقت میں یہ ایک نشاندہی ہے نہ توصیف۔

ان تمام قرائن سے معلوم ہو تا ہے کہ مذکورہ بالا آیہ شریفہ حضرت علی(ع) کی ایک مشہور داستان کی طرف ایک پر معنیٰ اشارہ ہے کہ حضرت علی(ع) نماز کے رکوع میں تھے ،ایک حاجتمند نے مسجد نبوی میں مدد کی درخواست کی ۔کسی نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔ حضرت علی(ع) نے اسی حالت میں اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اشارہ کیا ۔حاجتمند نزدیک آگیا۔ حضرت علی(ع) کے ہاتھ میں موجود گراں قیمت انگوٹھی کو اتار کر لے گیا ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس واقعہ کا مشاہدہ فر مایا تو نماز کے بعد اپنے سر مبارک کو آسمان کی طرف بلند کر کے یوں دعا کی :پروردگارا!میرے بھائی موسی(ع) نے تجھ سے درخواست کی کہ ان کی روح کو کشادہ،کام کو آسان اور ان کی زبان کی لکنت کو دور فر مادے اور ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور مدد گار بنادےپرور دگارا! میں محمد ،تیرا منتخب پیغمبر ہوں ،میرے سینہ کو کشادہ اور میرے کام مجھ پر آسان فر ما، میرے خاندان میں سے علی(ع) کو میرا وزیر قرار دے تاکہ اس کی مدد سے میری کمر قوی اور مضبوط ہو جائے“

ابھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ مذکورہ بالا آیہ شریفہ کو لے کر جبرئیل امین نازل ہو ئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اہل سنّت کے بہت سے عظیم مفسرین ،مورخین اور محدثین نے اس آیہ شریفہ کی شان نزول کو حضرت علی(ع) کے بارے میں نقل کیا ہے ۔اس کے علاوہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک گروہ نے ،جن کی تعداد س سے زیادہ ہے،اس حدیث کو خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست نقل کیا ہے۔(۳)

ولایت کے موضوع پر قرآن مجید میں بہت سی آیات ذکر ہوئی ہیں ،ہم نے کتاب کے اختصار کے پیش نظر صرف مذکورہ چار آیتوں پر ہی اکتفا کیا۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔قرآن کی روشنی میں امام کو منتخب ومعین کر نا کس کے ذمہ ہے؟

۲ ۔آیہ تبلیغ کن حالات میں نازل ہو ئی ہے اور اس کا مفہوم کیا ہے؟

۳ ۔کن شخصیات کی بلا قید وشرط اطاعت کر نا عقل کے مطابق ہے؟

۴ ۔آیہ ”إنّما ولیکم اللّٰہ“کن دلائل کی بناء پر رہبری اور امامت کی طرف اشارہ ہے۔

۵ ۔مسئلہ ولایت کے بارے میں موجود قرآن مجید کی تمام آیات سے کن مسائل کے سلسلہ میں استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

____________________

۱۔مزید تفصیلات کے لئے تفسیر نمونہ ج۳:ص۴۳۵کا مطالعہ کریں۔

۲۔مزید تفصیلات کے لئے کتاب ”احقاق الحق“،”الغدیر“،”المراجعات“ اور ”دلائل الصدق“کا مطالعہ کریں۔

۳۔مزید توضیح کے لئے قیمتی کتاب”المراجعات “کا مطالعہ فر مایئے ،جس کا اردو ترجمہ”دین حق“کے نان سےہو چکا ہے۔


چھٹاسبق:امامت ،سنّت نبی کی روشنی میں

اسلامی احادیث سے مربوط کتابوں ،بالخصوص اہل سنت بھائیوں کی طرف سے تالیف کی گئی کتابوں کا مطالعہ کر نے کے دوران انسا ن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی گئی احادیث کی ایک کثیر تعداد سے روبرو ہو تا ہے جو واضح طور پر حضرت علی(ع) کی امامت و خلافت کو ثابت کرتی ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ اتنی احادیث موجود ہو نے کے باوجود اس مسئلہ کے بارے میں کسی قسم کا شک وشبہہ باقی نہیں رہ جاتا تو پھر ایک گروہ اہل بیت(ع) کی راہ سے ہٹ کر کو ئی دوسری راہ کیسے اختیار کر لیتاہے؟

یہ احادیث ،جن میں سے بعض کے اسناد سینکڑوں تک ہیں (جیسے حدیث غدیر) اور بعض کے اسناد دسیوں تک اور دسیوں مشہور اسلامی کتا بوں میں نقل ہو ئی ہیں ،ایسی واضح اور روشن ہیں کہ اگر ہم تمام گفتگوؤں کو نظر انداز کردیں اور کسی کی تقلید کر نا چھوڑ دیں،تو ہ مسئلہ ہمارے لئے ایسا واضح ہو جائے گا کہ کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

ان احادیث کے مخزن سے ہم یہاں پر چند مشہور احادیث کو نمونہ کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس موضوع پر بیشتر اور گہرے مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کے لئے ہم بعض منابع(کتابوں) کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ ان سی استفادہ کریں۔(۱)

۱ ۔حدیث غدیر

مورخین اسلام کی ایک بہت بڑی تعداد نے لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری سال حج بجا لائے ۔فریضہ حج کو بجالانے کے بعد جبکہ حجاز کے مختلف علاقوں سے حج کے لئے آئے ہوئے آپ کے نئے اور پرانے صحابیوںاور اسلام کے عاشقوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے ساتھ تھی ۔مکہ سے واپسی پر یہ عظیم اجتماع ،مکہ اور مدینہ کے در میان واقع ”جحفہ“نامی ایک جگہ سے گزرتے ہوئے ”غدیر خم“کے نام پر ایک خشک اور گرم بیابان میں پہنچ گیا ۔در حقیقت یہ ایک چورا ہا تھا ۔جہاں پر حجاز کے تمام لوگوں کے راستے جدا ہوتے تھے۔

یہاں پر حجاز کے مختلف علاقوں کی طرف جانے والے مسلمانوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو رکنے کا حکم دیا۔ جو آگے بڑھے تھے انھیں واپس آنے کا حکم دیا اور پیچھے سے آنے والوں کا انتظار کیا گیا،اس طرح سب ایک جگہ جمع ہو گئے ۔ہوا انتہائی گرم اور دھوپ نہایت جھلسا دینے والی تھی۔بیابان میں دوردور تک کہیں کوئی سائبان نظر نہیں آرہا تھا۔مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں ظہر کی نماز پڑھی ۔جب ان سب نے نماز کے بعد اپنے خیموں کی طرف جانا چاہا تو پیغمبر اسلام نے حکم دیا کہ سب لو گ ٹھہر جائیں اور ایک مفصل خطبہ کے ضمن میں ایک اہم الہٰی پیغام کو سننے کے لئے آمادہ ہو جائیں ۔

اونٹوں کے پالانوں کا ایک منبر بنایا گیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف لے گئے آپ نے حمد وثنائے الہٰی کے بعد لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

میں خدا کی دعوت کو لبیک کہتے ہوئے جلدی ہی تمھارے درمیان سے رخصت ہونے والا ہوں۔ میں ذمہ دار ہوں اور تم لوگ بھی ذمہ دار ہو ۔ تم لوگ میرے بارے میں کس طرح کی شہادت دیتے ہو؟

لوگوں نے بلند آواز سے کہا:

” نشہد انک قد بلغت و نصحت و جہدت فجزاک اللّٰہ خیرا“

”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے رسالت کی ذمہ داریاں نبھائیں اور ہماری بھلائی کے لئے ہماری نصحیت کی اور ہماری ہدایت میں نہایت کوشش کی،خداوند متعال آپ کو جزائے خیردے۔“

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت ، میری رسالت اور قیامت کی حقیقت اور اس دن مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کی شہادت دیتے ہو؟

جواب میں سب نے یک زبان ہوکر کہا: جی ہاں ، ہم گواہی دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: خداوندا! گواہ رہنا

آپ نے دوبارہ فرمایا: اے لوگوں ! کیا میری آواز سن رہے ہو؟انہوں نے کہا: جی ہاں۔

اس کے بعد پورے بیابان میں چاروں طرف خاموشی چھاگئی اور ہوا کی سنسناہٹ کی آواز کے علاوہ کوئی دوسری آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

پیغمبرا سلام نے فرمایا: اب بتاؤ کہ ان دو گرانقدر چیزوں کے ساتھ تم لوگ کیسا سلوک کروگے جومیں تمھارے درمیان یادگارکے طور پر چھوڑے جارہاہوں؟

مجمع میں سے کسی نے بلند آورز سے سوال کیا: کون سی دوگرانقدر چیزیں، یا رسول اللہ؟!

پیغمبر نے فرمایا: پہلی چیز ”ثقل اکبر“ یعنی کتاب الہی”قرآن مجید“ہے۔ اس کے دامن کو ہرگز نہ چھوڑنا تا کہ گمراہ نہ ہوجاؤ۔ اور دوسری گرانقدر یادگار چیز میرے اہل بیت ہیں۔ خداوند لطیف و خبیر نے مجھے خبردی ہے کہ یہ دوچیزیں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگیں یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے مل جائیں، ان دو نوں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے۔ اور ان سے پیچھے بھی نہ رہنا، کیونکہ اس صورت مین بھی ہلاک ہوجاؤگے۔

اس دوران اچانک آپ(ع) نے اپنی نظریں ادھر اُدھردوڑائیں، جیسے کہ آپ کوکسی کی تلاؤ تھی۔ جوں ہی آپ کی نظرحضرت علی(ع) پر پڑی، آپ جھک گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے رہی تھی۔ سب لوگوں نے حضرت علی (ع) کو دیکھا اور انھیں پہچان لیا۔

اس موقع پر آنحضرت نے اور زیادہ بلند آواز کے ساتھ رفرمایا:

ایّها الناس ! من اولی النّاس بالمومنین من انفسهم؟

لوگو! لوگوں میں سے کون شخص مومنین پر خود ان سے بھی زیادہ سزاورا ہے؟

سب نے جواب میں کہا: خدا اور س کا رسول(ع) بہتر جانتاہے۔

پیغمبر نے فرمایا:

” خداوند متعال میرامولا اور رہبر ہے، اور میں مؤمنین کا مولا ورہبر ہوں اور ان کی نسبت خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتاہوں۔“

اس کے بعد فرمایا:

”فمن کنت مولاه فعلی مولاه“

”جس جس کا میں مولا اور رہبر ہوں، اس اس کے علی(ع) بھی مولاہیں“

آنحضرت نے اس جملہ کوتین مرتبہ دہرایا، بعض راویان حدیث کے مطابق اس جملہ کو چار مرتبہ دہرایا، اس کے بعد اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کرکے فرمایا:

”اللّهم وال من والاه و عاد من عاداه واحب من احبه، وابغض من ابغضه، وانصرمن نصره، واخذل من خذله، وادار الحق معه حیث دار“

”خداوندا! اس کے دوستوں کو دوست رکھ اور س کے دشمنوں سے دشمن رکھ، جو شخص اسے محبوب رکھے اسے محبوب رکھ اور اس شخص سے بغض رکھ جس کے دل میں اس کا بغض ہو، اس کے دوستوں کی یاری فرما اور اس کا ساتھ چھوڑنے والوں کو محروم فرما، حق کو اس کے ساتھ پھیر جدھر وہ پھرے “

اس کے بعد فرمایا:

”تمام حاضرین اس خبر کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو اس دقت یہاں پر حاضر نہیں ہیں۔“

ابھی لوگ متفرق نہیں ہوئے تھے کہ جبرئیل امین وحی الہی لے کرنازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے یہ آیہ شریفہ لے آئے:( الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ) (سورہ مائدہ/ ۳))

”آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیاہے“

اس موقع پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:

”اللّٰه اکبر ،اللّٰه اکبر ،علی اکمال الدین واتمام النعمة ورضی الرب برسالتی والو لایة لعلی من بعدی ۔“

”خدا کی بزرگی کا اعلان کرتا ہوں ،خدا کی بزرگی کا اعلان کر تا ہوں، اس لئے کہ اس نے اپنے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کر دیا ہے اور میری رسالت اور میرے بعد علی(ع) کی ولا یت سے راضی ہو نے کا اعلان فر مایا ہے۔“

اس وقت لوگوں میں شور وغوغا بلند ہوا،لوگ حضرت علی (ع) کو اس مرتبہ کی مبارک باد دے رہے تھے ،یہاں تک کہ ابوبکر اور عمر نے لوگوں کے اجتماع میں علی(ع) سے مخاطب ہو کر یہ جملہ کہا:

”بخ بخ لک یابن ابیطالب اصبحت و امسیت مولای ومولا کل مؤمن ومؤ منة“

”مبارک ہو آپ کو ،مبارک ہو آپ کو ،اے فرزند ابیطالب آپ میرے اور تمام مومنین و مومنات کے مولا اور رہبر ہو گئے ہیں۔

مذکورہ بالاحدیث کو علمائے اسلام کی ایک بڑی تعداد نے مختلف عبارتوں میں، کہیں مفصل اور کہیں خلاصہ کے طور پراپنی کتا بوں میں درج کیا ہے ۔یہ حدیث متواتر احادیث میں سے ہے اور کوئی بھی شخص اس کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہونے پر شک وشبہہ نہیں کرسکتا ہے ،یہاں تک کہ مصنف و محقق ”علامہ امینی “نے اپنی مشہور کتاب ”الغدیر“ میں اس حدیث کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سو دس اصحاب اور تین سو ساٹھ اسلامی علماء کی کتابوں سے نقل کیا ہے۔یہ حدیث اہل سنت بھائیوں کی اکثرتفسیر و تاریخ اور حدیث کی کتا بوں میں درج ہے ،یہان تک کہ علمائے اسلام کی ایک بڑی تعداد نے اس حدیث کے سلسلہ میں مستقل کتا بیں لکھی ہیں۔مرحوم علامہ امینی نے اس سلسلہ میں ایک گرانقدر اور بے نظیر مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں چھبیس ایسے علمائے اسلام کے نام درج کئے ہیں جنہوں نے ”حدیث غدیر “کے متعلق مستقل کتا بیں لکھی ہیں۔

بعض اشخاص نے حدیث کی سند کو ناقابل انکار پاتے ہوئے اس کی امامت وخلافت پر دلالت کے بارے میں شک وشبہہ ایجاد کر نے کی کوشش کی ہے ،اور مولا کے معنی کو ”دوست“کے عنوان سے جھوٹی تو جیہ کر نے کی کو شش کی ہے،جبکہ حدیث کے مضمون ،زمان ومکان کے شرائط اور دوسرے قرائن پر غور کر نے سے بخوبی معلوم ہو تا ہے کہ” مولا“کا مقصد ،بمعنی مکمل رہبری و قیادت اورمسئلہ امامت و ولایت کے علاوہ کچھ نہیں ہے:

الف:آیہ تبلیغ ،جس کا ہم نے گزشتہ سبق میں ذکر کیا ،اس واقعہ سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ اس میں موجود تندوسخت لہجہ اور قرائن اس بات کی بخوبی گواہی دیتے ہیں کہ یہ عام دوستی اور رفاقت کی بات نہیں ہے ،کیونکہ یہ امر پریشان کن نہیں تھا اور اس کے لئے اتنی اہمیت اور تاکید کی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح اس واقعہ کے بعد نازل ہو نے والی آیہ ”اکمال الدین“ اس امر کی گواہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک غیر معمولی مسئلہ تھا اور رہبری وپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے علاوہ کوئی اور مسئلہ نہیں تھا۔

ب۔اس حدیث کا ان تمام مقد مات کے ساتھ اس تپتے ہوئے بیان میں ایک تفصیلی خطبہ کے بعد بیان کیا جانا اور اس حساس زمان و مکان میں لوگوں سے اقرار لینا یہ سب ہمارے دعویٰ کی مستحکم دلیل ہے۔

ج۔مختلف گرہوں اور شخصیتوں کی طرف سے حضرت علی (ع)کو مبارک باد دینے کے علاوہ اس سلسلہ میں اسی روز اور اس کے بعد کہے گئے اشعار،اس حقیقت کے گویا ہیں کہ یہ مسئلہ علی علیہ السلام کی امامت و ولایت کے بلند منصب پر منصوب ہو نے سے مربوط تھا نہ کسی اور چیز سے۔

غورکیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔داستان غدیر کو بیان کیجئے۔

۲ ۔”حدیث غدیر “پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنے اسناد سے اور کتنی اسلامی کتابوں میں نقل ہوئی ہے؟

۳ ۔”حدیث غدیر“میں ”مولا“ کیوں ”رہبر و امام“ کے معنی میں ہے اور دوست کے معنی میں کیوں نہیں ہے؟

۴ ۔غدیر کے واقعہ کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی(ع) کے حق میں کون سی دعاکی؟

۵ ۔ ”غدیر“اور ”جحفہ“کہاں پر ہیں؟

____________________

۱۔بیشتر وضاحت کے لئے کتاب”المراجعات“،”الغدیر“اور ”نوید امن وامان“کی طرف رجوع کریں۔


ساتواں سبق:حدیث ”منزلت“اور حدیث ”یوم الدار“

بہت سے عظیم شیعہ وسنی مفسرین نے حدیث ”منزلت“کو سورئہ اعراف کی آیت نمبر ۱۴۲ کے ذیل میں نقل کیا ہے۔اس آیہ شریفہ میں حضرت موسی(ع) کے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر جانے اور اپنی جگہ پر ہارون کو جانشین مقرر کر نے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔

حدیث یوں ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ مشرقی روم کے بادشاہ نے حجاز،مکہ اور مدینہ پر حملہ کر نے کے لئے ایک بڑی فوج کو آمادہ کیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کواپنے خاص انسانی اور حریت و استقلال کے نظام کے ساتھ اس علاقہ میں پہنچنے سے پہلے ہی ،نابود کر دیا جائے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مدینہ میں حضرت علی (ع) کو اپنا جانشین مقرر فر ماکر ایک عظیم لشکر کے ہمراہ تبوک کی طرف روانہ ہو گئے (تبوک جزیرہ عرب کے شمال میں مشرقی روم کی سلطنت کی سر حد پر واقع تھا)

حضرت علی(ع) نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی خدمت میں عرض کی:کیا مجھے بچوں اورعورتوں کے درمیان چھوڑ رہے ہیں ؟(اور اس بات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں کہ آپکے ہمراہ میدان جہاد میں چل کر اس عظیم افتخار کو حاصل کروں؟)۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:

”الاترضی ان تکون منّی بمنزلة هارون من موسی الا انّه لیس نبی بعدی؟“

”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمھاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون(ع) کی موسی(ع) سے تھی صرف یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا؟“

مذکورہ عبارت اہل سنت کی مشہور ترین حدیث کی کتابوں ،یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نقل ہوئی ہے ،صرف اس فرق کے ساتھ کہ صحیح بخاری میں پوری حدیث درج ہے اور صحیح مسلم میں ایک مرتبہ پوری حدیث اور دوسرے مرتبہ صرف جملہ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ لّا انّه لا نبی بعدی “ایک کلی اور تمام جملہ کی صورت میں نقل کی گئی ہے۔(۱)

اس کے علاوہ یہ حدیث اہل سنت کی دوسری کتابوں ،جیسے:”سنن ابن ماجہ“،”سنن ترمذی“اور بہت سی دوسری کتابوں میں نقل کی گئی ہے اور اصحاب رسولپر مشتمل اس حدیث کے راویوں کی تعدادبیس افراد سے زیادہ ہے،جن میں جابر بن عبداللہ انصاری ،ابو سعید خدری،عبداللہ بن مسعود اور معاویہ بھی شامل ہیں۔

ابو بکر بغدادی نے ”تاریخ بغداد“میں عمر بن خطاب سے یوں نقل کیا ہے:عمر بن خطاب نے ایک شخص کو حضرت علی(ع) کے خلاف برا بھلا کہتے ہوئے دیکھا ،عمر نے اس شخص سے کہا :مجھے لگتا ہے کہ تم منافق ہو، کیونکہ میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے

کہ آپ فرما تے تھے:

”انّما علیّ منّی بمنزلة هارون من موسی(ع) الّانه لا نبیّ بعدی “ (تاریخ بغداد ،ج ۷ ،ص ۴۵۲)

”علی علیہ السلام کی نسبت مجھ سے ویسی ہی ہے جیسی ہارون کی موسی(ع) سے تھی صرف یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

قابل توجہ بات ہے کہ احادیث کے معتبر منابع و ماخذ سے معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات (حدیث منزلت) صرف جنگ تبوک کے موقع پر ہی نہیں فر مائی ہے بلکہ درج ذیل سات مواقع پر بیان فر مائی ہے جو اس کے عام اور واضح مفہوم کی دلیل ہے:

۱ ۔”مکہ کے پہلے مواخات کے دن“۔یعنی جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں اپنے اصحاب سے برادری اور اخوت کا عہد و پیمان باندھا،اس موقع پر آپ نے یہی جملہ تکرار فر مایا۔

۲ ۔”مواخات کے دوسرے دن“۔جب (مدینہ منورہ میں) مہاجر وانصار کے در میان برادری و اخوت کا عہد وپیمان باندھا تو اس موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث منزلت کو دوسری بار بیان فر مایا۔

۳ ۔جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد نبوی کی طرف کھلنے والے گھروں کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں اور صرف حضرت علی (ع) کے گھر کا دروازہ کھلا رہے،توآپ نے اس پر بھی اس جملہ (حدیث منزلت )کو دھرایا۔

۴،۵،۶ و ۷ ۔اسی طرح غزوہ تبوک کے دن اور اس کے علاوہ تین اور مواقع پر آنحضرت نے اس حدیث کو دھرایا ہے کہ ان کے مدارک اہل سنت کی تمام کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں، لہذا نہ سند کے لحاظ سے اس حدیث کے بارے میں کوئی شک وشبہہ باقی رہتا ہے اور نہ اس کے عام مفہوم (دلیل) مفہوم ہو نے کے لحاظ سے ۔

حدیث منزلت کا مفہوم

اگر ہم اپنے ذاتی نظریات سے ہٹ کر،غیر جانبدارانہ طور پر مذکورہ حدیث پر تحقیق و تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ حضرت ہارون کو جو تمام مناسب اور عہدے بنی اسرائیل میں حاصل تھے ،حضرت علی علیہ السلام بھی صرف نبوت کے علاوہ ان تمام عہدوں پر فائز تھے،کیونکہ اس حدیث میں نبوت کے عہدے کے علاوہ کوئی اور قید وشرط موجود نہیں ہے۔

اس لئے یہ نتیجہ نکلتا ہے:

۱ ۔علی(ع) امت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل تھے۔ (کیونکہ ہارون کا مرتبہ بھی ایسا ہی تھا)۔

۲ ۔علی(ع)،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وزیر،خاص نائب اور رہبری میں آپ کے شریک تھے،کیونکہ قرآن مجید نے حضرت ہارون کے لئے یہ تمام منصباور عہدے ثابت کئے ہیں ۔(سورہ طہ،آیت ۲۹ سے ۳۲ تک)

۳ ۔علی (ع) ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ تھے ،آپ(ع) کے ہوتے ہو ئے کوئی دوسرا شخص اس عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا تھا ،کیونکہ حضرت موسی(ع) کی نسبت حضرت ہارون (ع) بھی یہی مقام و منزلت رکھتے تھے۔

حدیث ”یوم الدار“

اسلامی تواریخ کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعثت کے تیسرے سال خدا کی طرف سے امر ہوا کہ اپنی خفیہ دعوت اسلام کو آشکار فر مائیں ، چنانچہ سورہ شعراء کی آیت نمبر ۲۱۴ میں ارشاد ہوا ہے:

( وانذر عشیرتک الا قربین)

”اور پیغمبر!آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اپنے چچا حضرت ابو طالب(ع) کے گھر میں کھا نے کی دعوت دی ،کھانا کھانے کے بعد فر مایا:

”اے عبد المطلب کے فرزندو!خدا کی قسم عرب میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جواپنی قوم کے لئے مجھ سے بہتر کوئی چیزلایا ہو ،میں تمھارے لئے دنیا وآخرت کی نیکیاں لایا ہوں اور خدا وند متعال نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم لوگوں کو اس دین (اسلام )کی طرف دعوت دوں ،تم میں سے کون(اس کام میں) میری مدد کرے گا تاکہ وہ میرا بھائی ،وصی اور جانشین بن جائے“؟

سوائے علی علیہ السلام کے کسی بھی شخص نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعوت پر لبیک نہیں کہی ۔حضرت علی (ع) ان میں سب سے کم سن تھے،اٹھے اور عرض کی :”اے رسول خدا !میں اس راہ میں آپ کا یار ویاور ہوں ۔“پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی گردن پر اپنا دست مبارک رکھ کر فر مایا:

”ان هٰذا اخی ووصی وخلیفی فیکم فاسمعواله واطیعوه“

”یہ تم لوگوں میں میرا بھائی،وصی اور جانشین ہے،اس کی بات سنو اور اس کے حکم کی اطاعت کرو۔“

لیکن اس گمراہ قوم (قریش)نے نہ فقط پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ آپ کا مذاق بھی اڑایا۔

مذکورہ حدیث جو کہ حدیث ”یوم الدار“روز دعوت ذو العشیرہ کے نام سے مشہور ہے، کافی حد تک واضح اور گو یا ہے ۔اور سند کے ساتھ بہت سے اہل سنت علماء،جیسے:ابن ابی جریر ،ابن ابی حاتم ،ابن مردویہ،ابونعیم،بیہقی،ثعلبی،طبری،ابن اثیر،ابو الفداء اور دوسرے لو گوں نے اسے نقل کیا ہے۔(۲)

اگر ہم مذکورہ حدیث کے بارے میں بھی غیر جانبدارانہ طور پر تحقیق و تجزیہ کرین گے تو حضرت علی(ع) کی ولایت وخلافت سے مربوط حقائق بالکل واضح ہو جائیں گے کیونکہ اس حدیث میں بھی مسئلہ خلافت و ولایت کے بارے میں صراحت سے ذکر کیاگیا ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔حدیث ”منزلت“کیا ہے؟ اور یہ حدیث کتنے مواقع پر بیان کی گئی ہے؟

۲ ۔حدیث”منزلت“کا مفہوم حضرت علی (ع) کے لئے کون سے منصب اور عہدے ثابت کرتا ہے؟

۳ ۔قرآن مجید کی روشنی میں حضرت ہارون (ع)کو حضرت موسی(ع) کی نسبت کون سا مرتبہ حاصل تھا؟

۴ ۔حدیث ”منزلت“کو کن علماء نے نقل کیا ہے؟

۵ ۔حدیث ”یوم الدار“،اس کا مفہوم،سند اور اس کا نتیجہ بیان کریں۔

____________________

۱۔صحیح بخاری ج۶،ص۳۔ صحیح مسلم ج۱،ص۴۴۔اور ج۴،ص۱۸۷۔

۲۔مزید تفصیلات کے لئے کتاب” المراجعات“،ص۱۳۰سے الخ اورکتاب ”احقاق الحق“،ج۴،ص۶۲الخ کی طرف رجوع کیا جائے۔


آٹھواں سبق:حدیث ”ثقلین“اور حدیث”سفینہ“

حدیث ثقلین کے اسناد

اس حدیث کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی ایک بڑی جماعت نے بلا واسطہ (براہ راست)آنحضرت سے نقل کیا ہے بعض بزرگ علماء نے اس حدیث کی روایت کر نے والے اصحاب کی تعداد تیس سے زیادہ بتائی ہے۔(۱)

مفسرین،محدثین اور مور خین کے ایک بڑے گروہ نے اس حدیث کو اپنی کتا بوں میں درج کیا ہے۔اس طرح اس حدیث کے متواتر ہو نے میں کوئی شک وشبہہ باقی نہیں رہتا ہے۔

بزرگ عالم سید ہاشم بحرانی نے اپنی کتاب”غایة المرام“میں اس حدیث کو اہل سنت علماء کے ۳۹ اسناد اور شیعہ علماء کے ۸۰ اسناد سے نقل کیاہے ۔اور عالم بزرگوار میر حامد حسین ہندی نے اس حدیث کے بارے میں مزید تحقیقات انجام دی ہیں اور تقریباً دوسو اہل سنت علماء سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس حدیث کے سلسلہ میں تحقیقات کو اپنی عظیم کتاب(احقاق الحق) کی چھ جلدوں میں جمع کیا ہے ۔

جن مشہور اصحاب نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ،ان میں :ابو سعید خدری ،ابوذر غفاری،زید بن ارقم،زید بن ثابت،ابورافع،جبیر بن مطعم ،یاخذیفہ،ضمرہ اسلمی ،جابر بن عبداللہ انصاری اور ام سلمہ قابل ذکر ہیں۔حضرت ابوذرغفاری کے بیان کے مطابق اصل حدیث یوں ہے :ابوذر غفاری اس حال میں کہ خانہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے تھے، لوگوں کی طرف مخاطب ہو کربیان کر رہے تھے :میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ فر ماتے تھے :

( إنی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰه وعترتی وانهمالن تفترقاحتی یرد اعلی الحوض)

( جامع ترمذی،طبق نقل ینابیع المودة،ص ۳۷)

”میں تمھارے درمیان دویاد گار گرانقدر چیزیں چھوڑ ے جارہاہوں، قرآن مجیداور میرے اہل بیت(ع)۔یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچ جائیں ،پس تم ان کا خیال رکھنا اور دیکھنا تم میری وصیت کا ان کے بارے میں کس قدر لحاظ رکھتے ہو۔“

یہ روایت اہل سنت کے معتبر ترین مآخذ، جیسے ” صحیح ترمذی“، ”نسائی“،”مسند احمد“، کنزالعمال“ اور ” مستدرک حاکم“ و غیرہ میں نقل ہوئی ہے۔

بہت سی روایتوں میں”ثقلین“(دوگرانقدر چےزیں) کی تعبیر اور بعض روایات میں ”خلیفتین“(دوجانشین) کی تعبیر آ ئی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے ان دونوںمیں کوئی فرق نہیں ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ مختلف روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو مختلف مواقع پر لوگوںکے سامنے بیان فرمایاہے:

”جابربن عبداللہ انصاری“ کی روایت میں آیاہے کہ آنحضرت نے سفر حج کے دوران عرفہ کے دن اس حدیث (ثقلین) کو بیان فرمایا۔

”عبداللہ بن خطب“ کی روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت نے اس حدیث کو سرزمین جحفہ(جو مکہ اورمدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں سے بعض حجاج احرام باندھتے ہیں) میں بیان فرمایاہے۔

” ام سلمہ“ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرتنے اس حدیث کو غدیر خم میں بیان فرمایا۔

بعض روایتوں میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بستر علالت پر بیان فرمایاہے۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے یہ حدیث مدینہ منورہ میں منبر پر بیان فرمائی ہے(۲) ۔

حتی اہل سنت کے ایک مشہور عالم ” ابن حجر“ اپنی کتاب”صواعق المحرقہ“ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں:

” پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمانے کے بعد حضرت علی(ع) کے ہاتھ کو پکڑ انھیں بلند کیا اور فرمایا:” یہ علی(ع) قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدانہیں ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر کے پاس مجھ سے ملیں گے(۳) ۔“

اس سے واضح ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلہ پر ایک بنیادی اصول کی حیثیت سے بار بار تا کید فر ما ئی ہے اور اس قطعی حقیقت کو بیان کر نے کے لئے کو ئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ہے تا کہ اسے کبھی فرا موش نہ کیا جائے۔

حدیث ثقلین کا مفہوم

یہاں پر چند نکات قابل توجہ ہیں:

۱ ۔قرآن اور عترت (اہل بیت) کو پیغمبر اسلام کی طرف سے دو ”خلیفہ “ یا دو گرانقدر چیزوں کے عنوان سے پیش کر نا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مسلمانوں کو ہر گز ان دوچیزوں کا دامن نہیں چھوڑ نا چاہئے ،بالخصوص اس قید وشرط کے ساتھ جو بہت سی روایتوں میں مذکور ہے :” اگر ان دو چیزوں کا دامن نہ چھوڑو گے تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے “اس سے یہ حقیقت تا کید اً ثابت ہو تی ہے۔

۲ ۔قرآن مجید کا عترت کے ساتھ اور عترت کا قرآن مجید کے ساتھ قرار پانا اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح قرآن مجید ہر قسم کے انحراف اور خطا سے محفوظ ہے،اسی طرح عترت اور اہل بیت پیغمبر بھی مرتبہ عصمت کے مالک ہیں۔

۳ ۔ان بعض روایتوں میں پیغمبر اسلام نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت سے

فر مایا ہے :میں قیامت کے دن تم سے ان دو یاد گاروں کے ساتھ کئے گئے تمھارے برتا ؤ کے بارے میں باز پرس کرونگا تاکہ دیکھ لو کہ تمھارا ان کے ساتھ کیسا سلوک رہا ہے؟

۴ ۔بلاشک شبہہ،ہم ”عترت واہل بیت“کی جس طرح بھی تفسیر وتوضیح کریں،حضرت علی (ع) ان کے نمایاں ترین مصداق ہیں ۔اور متعدد روایات کے مطابق آپ(ع) کبھی قرآن مجید سے جدا نہیں ہوئے ہیں اور قرآن مجید بھی آپ(ع) سے جدا نہیں ہوا ہے۔

اس کے علاوہ متعدد روایتوں میں آیا ہے کہ آیہ ”مباہلہ“ کے نازل ہو نے کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی،فاطمہ حسن اور حسین (علیہم السلام) کو پکار کر فر مایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں۔“(۴)

۵ ۔اگر چہ اس دنیا کی چار دیواری میں مقیّد ہم لوگوں کے لئے قیامت سے متعلق مسائل پوری طرح واضح نہیں ہیں ،لیکن جیسا کہ روایتوں سے معلوم ہو تا ہے ”حوض کوثر“سے مراد بہشت میں موجود ایک خاص نہر ہے جس کے بہت سے خصوصیات ہیں، اور یہ نہر سچے مومنین ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ائمہ اہل بیت(ع) اور ان کے مکتب کے پیروؤں کے لئے مخصوص ہے۔

یہاں تک کی گئی ہماری گفتگو سے واضح ہو تا ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کے رہبر و قائد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور آپ(ع) کے بعد آپ ہی کی نسل سے گیارہ ائمہ ہیں۔

حدیث سفینہ

اہل سنت اور شیعوں کی کتا بوں میں جو دلکش تعبیریں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سے نقل ہو ئی ہےں،ان میں سے ایک مشہور حدیث ”سفینہ نوح“ہے۔

اس حدیث کے راوی حضرت ابو ذر فر ماتے ہیں کہ پیغمبر نے یوں فر مایا:

”الا إن ّمثل اهل بیتی فیکم مثل سفینة نوح من رکبها نجی ومن تخلف عنها غرق“

”میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح جیسی ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جو اس سے جدا ہوا وہ غرق (ہلاک) ہو گیا۔“

(مستدرک حاکم ،ج ۳ ،ص ۱۵۱)

یہ مشہور حدیث بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت پیغمبر کی پیروی و اطاعت کو ضروری اور لازم قرار دیتی ہے۔

چونکہ ایسی عظیم اور عالمگیر طوفان کے وقت صرف حضرت نوح کی کشتی نجات کا ذریعہ تھی ،اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی رحلت کے بعد امت مسلمہ میں رونما ہو نے والے گمراہی کے طوفان میں راہ نجات صرف ولایت اہل بیت سے تمسک رکھنا تھا اور ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔حدیث ثقلین کا مفہوم کیا ہے؟ اور یہ حدیث اہل بیت(ع) کے لئے کون سے امتیازات وخصوصیا ت ثابت کرتی ہے؟

۲ ۔حدیث ثقلین کو کن لوگوں نے نقل کیا ہے؟

۳ ۔”ثقلین“کے کیا معنی ہیں ؟کیا احادیث میں اس کی بجائے کوئی دوسری تعبیر بھی ذکر ہوئی ہے؟

۴ ۔حدیث ”ثقلین“کو پیغمبر اسلام نے کن مواقع پر بیان فر مایا ہے؟

۵ ۔حدیث”سفینہ“ کو سند اور مفہوم کے اعتبار سے بیان کیجئے۔

____________________

۱۔ الصواعق المحرقہ،ص ۷۵

۲۔سیرہ حلی ج۳۳،ص۳۰۸۔

۳۔المراجعات،ص ۴۲

۴۔مشکوة المصابیح ،ص۵۶۸(طبع دہلی)ریاض المنضرہ ،ج۲،ص۲۴۸(بحوالہ مسلم و تر مذی)۔


نواں سبق :بارہ امام (ع)

بارہ اماموں کے بارے میں روایات

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت و امامت کو ثابت کر نے کے بعد اب ہم باقی اماموں کی امامت کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔

اس سلسلہ کی بحث کا خلاصہ یہ ہے :

آج ہمارے پاس اہل سنت اور اہل تشیّع کی متعدد ایسی روایتیں موجود ہیں جو کلی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد”بارہ خلفاء اور ائمہ“کی خلافت کو ثابت کرتی ہیں۔

یہ احادیث اہل سنت کی نہایت اہم اور مشہور کتا بوں ،جیسے:صحیح بخاری،صحیح تر مذی،صحیح مسلم ،صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں درج ہیں۔

کتاب”منتخب الاثر “ کے مصنف نے اس موضوع پر دوسو اکتھر احادیث جمع کی ہیں جن کی قابل توجہ تعداد اہل تسنن علماء کی کتا بوں سے اور باقی شیعوں کی کتا بوں سے نقل کی گئی ہیں۔

مثال کے طور پر،اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلہ یوں آیا ہے:

”جابر بن سمرة“کہتا ہے کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فر مایا:

”یکون اثنا عشرامیراًفقال کلمة لم اسمعها فقال ابی انه قالکلهم من قریش ۔“ (صحیح بخاری ،ج ۹ ،کتاب الامقام،ص ۱۰۰)

”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے۔اس کے بعد ایک جملہ فر مایا کہ میں سن نہ سکا ۔میرے باپ نے کہا کہ پیغمبر نے فر مایا تھا :”وہ سب قریش میں سے ہیں “

”صحیح مسلم“میں اس حدیث کو یوں نقل کیا گیا ہے کہ”جابر“نے کہا :میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپنے فر مایا:

”لایزال الاسلام عزیزاًالی اثنا عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افهمها،فقلت لابی ماقال فقال کلهم من قریش “(صحیح مسلم،کتاب الامارہ ،باب الناس تیع لقریش)

”اسلام ہمیشہ عزیز رہے گا یہاں تک کہ میرے بارہ خلیفہ وجانشین ہوں گے ۔اس کے بعد ایک جملہ ارشاد فر مایا کہ میں نہ سن سکا۔ میں نے اپنے باپ سے سوال کیا ،تو انہوں نے کہا پیغمبر نے فر مایا :”وہ سب قریش ہوں گے۔“

کتاب ”مسند احمد“میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا گیا ہے کہ لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کے خلفائ

کے بارے میں سوال کیا ۔توآپنے فر مایا:

”اثناعشر کعدة نقباء بنیاسرائیل “ (مسند احمد،ج ۱ ،ص ۳۹۸)

”(میرے خلفاء)بنی اسرائیل کے نقباؤرؤسا کی تعداد کے برابر بارہ ہوں گے۔“

ان احادیث کا مفہوم

ان احادیث میں سے بعض میں”اسلام کی عزت“کا دار ومدار بارہ خلیفوں پر قرار دیا گیا ہے اور بعض میں قیامت کے دن کی بقاء اور حیات کو بارہ خلفاء کا مر ہون منت جانا ہے۔سب کو قریش سے اور بعض احادیث میں سب کو خاندان ”بنی ہاشم“سے بتایا گیا ہے۔یہ احادیث مذاہب اسلامی میں سے مذہب شیعہ کے علاوہ کسی مذہب سے تطبیق نہیں کرتی ہیں،کیونکہ شیعوں کے عقیدہ کے مطابق ان کی توجیہ مکمل طور پر بالکل صحیح اور واضح ہے،جبکہ اہل سنت علماء کے پاس ان کی توجیہ کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔

کیا ان(بارہ خلفاء)سے مراد پہلے چار خلفاء اور خلفائے بنی امیہ وبنی عباس ہیں؟

جبکہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نہ پہلے خلفاء کی تعدادبارہ تھی اور نہ بنی امیہ کے خلفاء کو ملاکر بارہ بنتی ہے نہ خلفائے بنی عباس کو ملا کر یہ تعداد بارہ بنتی ہے ۔مختصر یہ کہ کسی بھی حساب سے بارہ کی یہ تعداد پوری نہیں ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بنی امیہ کے خلفاء میں ”یزید“جیسے اور خلفائے بنی عباس میں ”منصوردوانقی “اور ”ہارون الرشید“جیسے افراد بھی تھے جن کے ظالم اور جابر ہونے میں کسی کو شک وشبہہ نہیں ہے ،اس لئے ممکن نہیں ہے ایسے افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء اور اسلام کی عزت وسر بلندی کا سبب شمار ہوں،جس قدر بھی ہم خلافت کے معیار کو گھٹائیں،ایسے افراد قطعاًاس دائرے میں نہیں آسکتے ہیں۔

اس بحث سے قطع نظر،شیعوں کے بارہ اماموں کے علاوہ کسی صورت میں بارہ خلفاء کی تعداد کہیں بھی پوری ہوتی نظر نہیں آتی ۔

بہتر ہے کہ اس بحث کو ہم اہل سنت کے ایک مشہور عالم کی زبانی پیش کریں:

”سلیمان بن ابراھیم قندوزی حنفی “اپنی کتاب ”ینا بیع المودة“میں فر ماتے ہیں:

بعض محققین نے کہا ہے :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدآپ کے بارہ خلفاء پردلالت کر نے والی احادیث مشہور ہیں ۔ یہ احادیث مختلف طریقوں سے نقل کی گئی ہیں۔مرور زمانہ سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس حدیث سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد آپ کے اہل بیت اور عترت سے بارہ جانشین ہیں،کیونکہ اس حدیث کو پہلے خلفاء سے مربوط جاننا ممکن نہیں ہے،کیونکہ ان کی تعداد چار افراد سے زیادہ نہیں تھی ۔اس کے علاوہ یہ حدیث بنی امیہ پر بھی تطبیق نہیں ہوتی ہے ،کیونکہ وہ بارہ سے زیادہ تھے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ سب ظالم وستمگر تھے اور یہ کہ وہ ”بنی ہاشم“سے نہیں تھے ،جبکہ پیغمبر نے فر مایا ہے کہ وہ بارہ کے بارہ بنی ہاشم سے ہیں،جیسا کہ ”عبد الملک بن عمر“نے ”جابر بن سحرہ“سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس سوال کے سلسلہ میں کہ وہ (بارہ جانشین)کسی قبیلہ سے ہوں گے؟ آہستہ جواب دینا اس بات کی دلیل ہے کہ بنی ہاشم کی خلافت پر بعض افرادراضی نہیں تھے ۔اسی طرح یہ حدیث خلفائے بنی عباس پر بھی قابل تطبیق نہیں ہے،کیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے آیہ مودت( قل لا اسئلکم علیه اجراً الا المودة فی القربیً ) (سورہ شوریٰ/ ۲۳) پر عمل نہیں کیا ہے اور حدیث کساء سے چشم پوشی کی ہے!

ان وجو ہات کی بناء پریہ حدیث صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت وعترت سے تعلق رکھنے والے بارہ اماموں پر ہی قابل تطبیق ہے۔

کیونکہ وہ علم ودانش کے اعتبار سے سب پر فضیلت رکھتے ہیں ،اور زہد وتقویٰ کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ زاہد وپرہیز گار ہیں ،اور حسب ونسب کے اعتبار سے بھی سب پر فضیلت رکھتے ہیں اور انہوں نے تمام علوم وفنون کو اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وراثت میں حاصل کیا ہے ۔اس نظریہ کی حدیث ثقلین اور دوسری بہت سی احادیث تائید کرتی ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہو ئی ہیں۔“ (ینابیع المودة،ص ۴۴۶)

دلچسپ بات ہے کہ میں نے اپنے سفر مکہ کے دوران علماء حجاز کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کے دوران اس حدیث کے بارے میں ان سے ایک نئی توجیہ سنی ،جس سے ان کی اس سلسلہ میں بے بسی اور عاجزی واضح ہوتی ہے ،وہ کہتے تھے :”شاید بارہ خلفاء اور امراء سے مراد پہلے چار خلیفہ ہیں جو اسلام کی ابتداء میں تھے اور ان کے باقی افراد مستقبل میں آنے والے ہیں جنہوں نے ابھی ظہور نہیں کیا ہے!“

اس طرح ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے واضح ہو نے والے ان خلفاء کے ارتباط سے دیدہ و دانستہ طور پر چشم پوشی کی گئی ہے۔

ہم یہ کہتے ہیںکہ کیاوجہ ہے کہ ہم اس حدیث کی واضح اور روشن تفسیر (جو شیعوں کے بارہ اماموں پر منطبق ہے)کو چھوڑ کر ایسی دلائل میں کود پڑیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔

نام بنام ائمہ کی تعیین

قابل توجہ بات ہے کہ اہل سنت راویوں سے ہم تک پہنچی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ بارہ اماموں کے نام ذکر ہوئے ہیں اور ان کی خصوصیات و صفات بھی تفصیل سے ذکر ہوئی ہیں۔

اہل سنت کے معروف اور مشہور عالم ”شیخ سلیمان قندوزی “اپنی اسی کتاب ”ینابیع المودة“میں یوں نقل کرتے ہیں:

”نعثل نامی ایک یہودی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورکئی سوالات کے ضمن میں آپ کے خلفاء اور اوصیاء کے بارے میں سوال کیا ۔آنحضرتنے اپنے جانشینوںکا تعارف یوں کرایا:

ان وصیی علی بن ابیطالب وبعده سبطای الحسن والحسین تلوه تسعة ائمة من صلب الحسین

قال یا محمّد فسمهم لی

قال(ص) اذا مضی الحسین فابنه علی،فاذا مضی علی فابنه محمد ،فاذا مضی محمد فابنه جعفر،فاذامضی جعفر فابنه موسی ،فازامضی موسی فابنه علی،فاذا مضی علی فابنه محمد، فاذا مضی محمد فابنه علی، فاذا مضی علی فابنه الحسن، فاذا مضی الحسن فابنه الحجة محمد المهدی (ع) فهٰؤلاء اثنا عشر “ (ینابیع المودة،ص ۴۴۱)

”میرے وصی علی بن ابیطالب ہیں اور ان کے بعد میرے دو نواسے حسن اور حسین ہیں اور حسین کے بعد نو امام ان کی نسل سے ہوں

گے ۔“

یہودی نے کہا :اُن کے نام بیان فر ما ئیے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:

جب حسین دنیاسے رخصت ہوںگے تو اُن کے بیٹے علی ہوں گے، جب علی دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے محمد ہوں گے ،جب محمد دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے جعفر ہوں گے ،جب جعفر دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے موسیٰ ہوں گے ،جب موسیٰ دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے علی ہوں گے،جب علی دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے محمد ہوں گے ،جب محمد دنیاسے رخصت ہوں گ تو ان کے بیٹے علی ہوں گے ،جب علی اس دنیاسے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے حسن ہوں گے،اور جب حسن اس دنیا سے رخصت ہوں گے توان کے بیٹے حجت محمد المھدی ہوں گے۔یہ بارہ امام ہیں۔“(ینابیع المودة،ص ۴۴۱)

اس کے علاوہ اسی کتاب”ینابیع المودة“میں ”کتاب مناقب“سے نقل کی گئی ایک اور حدیث درج ہے ،جس میں بارہ اماموں کے نام اور ان کے القاب بھی بیان کئے گئے ہیں اور حضرت مھدی کی غیبت ،اور اس کے بعد ان کے قیام کر کے دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح پر کر نے کا ذکر کیا گیا ہے جس طرح دنیا اس سے پہلے ظلم وستم سے بھر گئی ہوگی۔ (ینابیع المودة،ص ۴۴۲)

البتہ اس سلسلہ میں شیعوں کی احادیث بہت زیادہ اور حد تواتر سے بڑھ کر موجود ہیں ۔(غور فر مائیے)۔

جوشخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے

دلچسپ بات ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی گئی ایک حدیث میں آیا ہے:

”من مات بغیر امام مات میتتة جا هلیة“

(المعجم المفہرس لالفاظ الاحادیث النبوی،ج ۶ ،ص ۳۰۲)

”جو شخص امام کے بغیر مر جائے ،اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔“

شیعہ کتابوں میں یہی حدیث اس عبارت میں نقل ہو ئی ہے:

”من مات ولا یعرف امامه مات میتته جاهلته“

”جوشخص مرگیا اور اس نے اپنے امام کو نہیں پہچانا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔“(بحارالانوار ج ۶ ،(طبع قدیم)ص ۱۶)

یہ حدیث اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور اور ہر زما نے ایک معصوم امام موجود ہوتا ہے ،اس کو پہچاننا ضروری ہے ۔اس کو نہ پہچاننا اتنا نقصان دہ ہے کہ انسان کفر و جاہلیت کی سر حدمیں پہنچ جاتا ہے۔

کیا اس حدیث میں بیان کئے گئے امام وپیشوا سے مراد وہی لوگ ہیں جو زمام حکومت سنبھالتے ہیں،جیسے،چنگیز خان ،ہارون اور دوسروں کے ایجنٹ اور کٹھ پتلی حکام؟

بے شک اس سوال کا جواب منفی ہے، کیونکہ اکثر حکمران غیر صالح ،ظالم اور کبھی مشرق ومغرب کی طاقتوں سے وابستہ اور اغیار کی سیاست کے آلہ کار ہو تے ہیں،یقیناًایسے حکمرانوں کو امام کی حیثیت سے قبول کر نا انسان کو جہنم میں بھیج دیتا ہے۔

لہذا واضح ہو تا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک معصوم امام موجود ہو تا ہے لوگوں کے لئے اس کو تلاش کر کے اس کی رہبری کو قبول کر نا ضروری ہے۔

البتہ ہر ایک امام کی امامت کو مذکورہ بالا طریقوں کے علاوہ قرآنی نصوص اور آنے والے امام کے بارے میں ہر سابق امام کی بیان کی گئی احادیث و روایات نیز ان کے معجزات سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔بارہ اماموں کے بارے میں روایات کن کتا بوں میں نقل ہوئی ہے؟

۲ ۔ان احادیث کا مفہوم کیا ہے؟

۳ ۔ان احادیث اور روایات کے بارے میں کی گئی جھوٹی تو جیہات بیان کیجئے۔

۴ ۔کیا اہل سنت کی احادیث میں بارہ اماموں کے نام آئے ہیں؟

۵ ۔بارہ اماموں کو ثا بت کر نے کا دوسرا طریقہ کیا ہے؟


دسواں سبق:حضرت مہدی( عج )بارہویں امام اور دنیا کے مصلح اعظم

تاریک شب کا خاتمہ

جب ہم موجودہ حالات پر نظر ڈالتے ہیں اور ظلم وستم ،قتل وغارت، جنگ وخونریزی،اور بین الاقوامی سطح پر کشمکش،اختلا فات اور روز مرہ بڑھتی ہوئی اخلاقی برائیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں،توذہن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کیا یہی حالت جاری رہے گی؟ اور ظلم و ستم اور برائیوں کا دامن اس قدر وسیع ہوجائے گا کہ انسانی معاشرہ کو ایک دائمی جنگ میں مبتلا کرکے اسے نابود کردے گا ؟ یا اعتقادی انحرافات اوراخلاقی برائیاں اسے ایک متعفّن دلدل کے مانند اپنے اندر غرق کر لیں گی؟

یا نجات و اصلاح کی کوئی امید موجود ہے؟

اس اہم سوال کے دوجواب ہیں:

پہلا جواب، وہ ہے جو بدبینوں اور مادہ پرستوں کی طرف سے دیا جاتاہے کہ دنیا کا مستقبل تاریک ہے اور ہر دور وزمان میں زبردست خطرہ کا احتمال موجود ہے۔

دوسرا جواب دین داروں کا ہے، یعنی جولوگ ادیان الہی کے اصولوں کے معتقدہیں،مخصوصا مسلمان اور بالخصوص شیعہ، وہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں:

اس تاریک رات کے پیچھے ایک امید کی صبح بھی ہے۔

یہ سیاہ بادل ،مہلک طوفان اور تباہ کن سیلاب ایک دن ختم ہوں گے اور اس کے بعد صاف آسمان، چمکتا سورج اور آرام و آسائش کا ماحول آنے والاہے۔

یہ خوفناک بھنور ہمارے سامنے نہیں رہیں گے اور جلدی ہی افق پر نجات کا ساحل دکھائی دینے والاہے۔

دنیا ایک مصلح اعظم کے انتظار میں ہے جو ایک انقلاب کے ذریعہ دنیا کو حق وعدالت سے بھردے گا۔

البتہ تمام ادیان کے پیرو اس مصلح اعظم کو الگ الگ ناموں سے جانتے ہیں ۔ شاعر عرب نے کیا خوب کہاہے:

عبارتنا شتی و حسنک و احد وکل الی ذالک الجمال یشیر

” ہماری تعبیریں مختلف ہیں لیکن آپ کا حسن و زیبائی ایک چیز سے زیادہ نہیں ہے اور ہماری تمام تعبیریں صرف اسی حسن و زیبائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔“

فطرت اور مصلح اعظم کا ظہور

باطنی الہامات کہ جن کی امواج بعض اوقات عقلی فیصلوں سے بھی زیادہ قوی ہوتی ہیں، نہ صرف خدا کی معرفت کے مسئلہ میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں بلکہ تمام مذہبی اعتقادات میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں اور مصلح اعظم کے ظہور کے مسئلہ میں بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

اس کی علامتیں حسب ذیل ہیں:

پہلی علامت: عالمگیر عدل و انصاف سے عشق ومحبت، اس لئے کہ دنیا کے تمام لوگ ہر قسم کے آپسی اختلافات کے باوجود اور بغیر کسی استثناء کے صلح و عدالت سے محبت رکھتے ہیں۔ ہم سب اس کے لئے فریاد بلند کرتے ہیں اور اس راہ میں کوشش کرتے ہےں اور پوری قوت سے عالمگیر صلح و عدالت کے خواہان ہیں۔

اس مصلح اعظم کے ظہور کے فطری ہونے کے باری میں اس سے بہتر کوئی اور دلیل ممکن نہیں ہے، کیونکہ ہر جگہ پر ایک کی آرزؤں کا یکساں ہونا ان کے فطری ہونے کی دلیل ہے۔(غور کیجئے)

ہر حقیقی اور فطری عشق، خارج میں ایک معشوق کے وجود اور اس کی کشش کی علامت ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ خداوند متعال نے انسان کے اندر اس پیاس کو پیدا کیاہولیکن اس پیاس کو بجھانے کے لئے خارج میں کوئی چشمہ موجود نہ ہو؟

اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ انسان کی عدالت طلب فطرت بلند آواز میں کہہ رہی ہے کہ آخر کا رصلح اورعدل و انصاف تمام دنیا میںپھیل جائے گا اور ظلم وستم اور خود خواہی ختم ہوکر رہے گی اور انسانیت تمام دنیا میں ایک ملک کی حثیت سے ایک پرچم تلے مفاہمت اور پاکیزگی کے ساتھ زندگی بسرکرے گی۔

دوسری علامت : عام طور پر دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب میں ایک مصلح اعظم کے انتظار کا عقیدہ پایاجاتاہے۔ تقریبا تمام مذاہب میں اس موضوع پر ایک دلچسپ بات موجود ہے اور بشریت کے جان لیوازخموں پر مرہم رکھنے کے لئے ایک عظیم نجات دہند کے ظہور کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں ہے، بلکہ اسناد و مدارک سے معلو م ہوتاہے کہ یہ ایک عام اور قدیمی اعتقاد ہے جو مشرق و مغرب کے تمام مذاہب میں موجودرہاہے، اگر چہ اسلام ایک کامل مذہب ہونے کے ناطے اس مسئلہ پر زیادہ تاکید کرتاہے۔

زرتشتوں کی معروف کتاب” زند “ میں ” ایزدان“ اور”اہریمنان“ کے درمیان دائمی جنگ کے سلسلہ میں لکھا گیا ہے:”آخر کار ایزدان کو بڑی کا میابی حاصل ہوگی اوراہریمنان کو وہ نابود کردے گا

” کائنات اپنی اصلی سعادت کو حاصل کرے گی اور انسان نیک بختی کے تخت پر بیٹھ جائے گا۔!“

کتاب”جاماسب نامہ“ میں ”زرتشت“ سے نقل کیا گیا ہے:

”تازیان کی سرزمین سے ایک مرد ظہور کرے گ وہ بڑے سر، بڑے جسم اور بڑی پنڈلیوں والا ایک مرد ہوگا جو اپنے جدکے دین پر ہوگا اور اس کے ساتھ ایک بڑی فوج ہوگی وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔“

ھندؤں کی کتاب”وشنو جگ“ میں یوں آیاہے:

” سرانجام دنیا ایک ایسے شخص کی طرف پلٹے گی جو خدا کو دوست رکھتا ہوگا اور خدا کے خاص بندوں میں سے ہوگا۔“

ہندؤں کی کتاب” باسک“ میں آیاہے:

” آخری زمانہ میں ایک بادشاہ پر دنیا کا اختتام ہوگا، وہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کا پیشوا ہوگا، حقیقت میں حق اس کے ساتھ ہوگا، جو کچھ سمندروں ، دریاؤں، زمینوں اور پہاڑوں میں پوشیدہ ہے، وہ ان سب چیزوں کو حاصل کرے گا۔جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اس کی خبردے گا اور اس سے بڑی کوئی شخصیت دنیا میں نہیں آئے گی ۔“

عہد قدیم (تورات اور اس کے ملحقات) کی کتاب”مزامیرداؤد“ میں درج ہے:

”شر پسند لوگ نابود ہوجائیں گے لیکن خدا پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہو جائیں گے۔“

اسی کتاب کی اسی فصل میں آیا ہے:

”سچے لوگ زمین کے وارث ہو کر ہمیشہ کے لئے اس کے ساکن ہو جائیں گے۔“

اسی کے مانند عبارت، کتب تورات سے مربوط”اشعیای نبی“ کی کتاب میں بھی آئی ہے۔

انجیل” متی“ کی ۲۴ ویں فصل میں یوں آیاہے:

”جس طرح بجلی مشرق سے چمک کر مغرب تک پہنچتی ہے، اسی طرح فرزند انسان بھی ظہور کرے گ“

انجیل” لوقا“ کی بارہویں فصل میں بیان ہواہے:

” اپنی کمریں کس کے رکھو، اپنے چراغوں کو جلائے رکھو، اوراس شخص کے مانند رہو جو اپنے مالک کے انتظار میں ہوتاہے تا کہ جوں ہی وہ آجائے اور دروازہ کھٹکھٹائے تو فورا اس کے لئے دروازہ کھول دیں!“

کتاب ”علائم الظہور“ میں یوں آیاہے:

” چینیوں کی قدیم کتابوں، ہندوؤں کے عقائد، اسکنیڈینوی باشندوں، حتی قدیم مصر یوں اور میکسیکو کے باشندوں اوران جیسے دوسرے لوگوں میں ایک مصلح اعظم کے ظہور کا عقیدہ پایاجاسکتاہے۔“

عقلی دلائل

الف۔خلقت کا نظام ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ عالم بشریت کے لئے سر انجام عدل وانصاف کے قانون کے سامنے ہتھیار ڈال کر ایک عادلانہ نظام اور پائدار مصلح کے سامنے سر تسلیم خم کر ناضروری ہے۔

اس بات کی وضاحت یوں ہے :جہاں تک ہمیں علم ہے،کائنات مختلف نظاموں کا ایک مجموعہ ہے ،اس پوری کائنات میں منظم قوانین کا وجود اس نظام کی وحدت اور ہم آہنگی کی دلیل ہے ۔

نظم وضبط،قانون اور حساب وکتاب اس کائنات کے بنیادی مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔

عظیم اور وسیع نظاموں سے لے کر ایک ایٹم کے ایک ذرّے تک (کہ لاکھوں ذرّے ایک سوئی کی نوک پر سما سکتے ہیں)سب کے سب ایک دقیق نظام کے تحت ہیں۔

ہمارے بدن کے مختلف اعضاء ،ایک چھوٹی اور حیرت انگیز خلیہ کی بناوٹ سے لے کر مغز واعصاب،پھیپھڑے اور دل کے کام کر نے کے طریقہ تک،ایک ایسے نظام کے تحت چل رہے ہیں کہ بعض دانشوروں نے ان میں سے ہر ایک عضو کو انسان کے بدن میں ایک ایسی صحیح اور دقیق گھڑی سے تشبیہ دی ہے کہ منظم اور پیچیدہ ترین کمپیوٹر بھی اس کے سامنے ناچیز ہے۔

کیا ایسی منظم کائنات میں انسان،جواس ”کل“کا ایک”جزو“ ہے،ایک ناموافق اور نا منظم حصہ کے مانند ،جنگ و خونریزی اور ظلم وستم میں زندگی بسر کر سکتا ہے؟!

کیا بے انصافیاں اور اخلاقی واجتماعی برائیاں ،جو ایک قسم کی بے نظمی ہیں،انسانی معاشرے پر ہمیشہ حاکم رہ سکتی ہیں ؟

نتیجہ:کائنات کے نظام کا مشاہدہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ سر انجام انسانی معاشرہ بھی ایک دن نظم وانصاف کے سامنے سر تسلیم خم کر کے اپنی خلقت کی اصلی راہ کی طرف لوٹے گا۔

ب۔معاشروں کا ارتقائی سفر،عالم بشریت کے روشن مستقبل کی ایک اور دلیل ہے، کیونکہ ہم اس حقیقت سے ہرگز انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ جب سے انسانی معاشرہ نے اپنے آپ کو پہچانا ہے،وہ کبھی ایک جگہ پر رکا نہیں ہے ،بلکہ ہمیشہ آگے کی طرف حرکت کرتا رہا ہے۔

مادی لحاظ سے انسان کا گھر،لباس،غذااور آمد ورفت اور حمل ونقل کے ذرائع ایک دن بالکل سادہ اور ابتدائی مرحلہ میں تھے۔آج یہی چیزیں ترقی کے ایک ایسے مرحلے پر پہنچی ہیں کہ عقلیں متحیرّر اور آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں اور ارتقاء کا یہ سفر یقینا جاری ہے۔

انسان، علم و دانش اور تہذیب وتمدن کے لحاظ سے بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس سلسلہ میں ہر روز نئی ایجادات ،تحقیق اور نئے مطالب حاصل کر رہا ہے۔

اس ”قانون ارتقاء“میں سر انجام معنوی اور اخلاقی واجتماعی پہلو بھی شامل ہیں اور انسانیت کو ایک عادلانہ قانون ،پائدار عدل و انصاف ،اخلاقی ومعنوی فضائل کی طرف لے جارہے ہیں ۔اگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاشروں میں اخلاقی برائیاں روزبروز اضافہ ہوتی جارہی ہیں ۔یہ سلسلہ تدریجاً خود بھی ایک تکاملی انقلاب کے لئے مواقع فراہم کرے گا۔

ہم کبھی نہیں کہتے کہ برائیوں اور فسادوں کی حوصہ افزائی کی جانی چاہئے ،لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ جب فساد اور برائیاں حد سے گزر جائیں گی ،تو اس کا رد عمل ایک اخلاقی انقلاب ہوگا۔جب انسان اپنے گناہوں کے نامطلوب عواقب کے نتائج میں بے بس ہو جائیں گے تو اس وقت وہ کم از کم ایک الہٰی رہبر کی طرف سے پیش کئے جانے والے قانون کو قبول کر نے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

قرآن مجید اور ظہور حضرت مہدی(عج)

قرآن مجید میں ایسی متعدد آیات موجود ہیں جو حضرت مہدی (عج)کے ظہور کی بشارت دیتی ہیں ۔ہم ان آیات میں سے صرف ایک آیت پر اکتفا کرتے ہیں:

سورئہ نور کی آیت نمبر ۵۵ میں ارشاد ہو تا ہے:

( وعداللّه الذین اٰمنوامنکم وعملوا الصّٰلحٰت لیستخلفنّهم فی الارض کما استخلف الّذین من قبلهم)

”اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان وعمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے۔“

اس آیہ شریفہ سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ زمین پر آخر کار ظالم وجابر حکمرانوں کی حکومت ان سے چھین لی جائے گی اور ان کی جگہ پر صالح مؤمن حکومت کریں گے۔

اسی آیت کے آخر میں مذکورہ وعدہ کے علاوہ مندرجہ ذیل تین اور وعدے بھی دئے گئے ہیں:

۱ ۔دین کا غلبہ اور دلوں میں اللہ کی حکومت کا معنوی نفوذ:

( ولیمکننّ لهم دینهم الّذی ارتضٰی لهم)

”اوران کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے۔“

۲ ۔ہر قسم کی بدامنی کا امن وامان میں تبدیل ہونا:

( ولیبدّ لنّٰهم من بعد خوفهم امناً)

”اور ا ن کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا۔“

۳ ۔پوری دنیاسے شرک کا خاتمہ ہو نا:

( یعبدوننی لا یشرکون بی شیئاً)

”وہ لوگ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے۔

حضرت امام علی بن الحسین (زین العابدین)نے اس آیت کی تفسیر میں فر مایاہے:

”ھم واللّہ شیعتنا یفعل اللّہ ذٰلک بھم علی یدی رجل منا وھو مھدی ھذہ الامة“

”خدا کی قسم یہ لوگ وہی ہمارے شیعہ ہیں ،خداوندمتعال ہمارے خاندان کے ایک شخص کے ذریعہ اس موضوع (حکومت الہٰی)کو محقّق فر مائے گا اور وہ اس امت کا مہدی ہے“(تفسیر مجمع النیان ،سورہ نور کی آیت ۵۵ کے ذیل میں)

احادیث میں حضرت مہدی(عج)کا ذکر

شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں اس موضوع پر ،کہ صلح وسلامتی ،امن وامان اور عدل وانصاف پر مبنی عالمی حکومت پیغمنر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے مربوط

”مہدی“نامی ایک شخص کے ذریعہ تشکیل پائے گی ،احادیث اس قدر زیادہ ہیں کہ تواتر کی حد سے بھی آگے بڑھ گئی ہیں۔

اس کے علاوہ شیعوں کی کتابوں میں بھی اس موضوع پر احادیث متواتر ہیں کہ وہ (مہدی موعود)بارہویں امام ،جانشین پیغمبر ،امام حسین (ع)کے نویں فرزند اور امام حسن عسکری کے بلا فصل فرزند ہیں۔

اہل سنت کی احادیث

اہل سنت کی کتابوں میں ”ظہور مہدی(ع)“سے متعلق احادیث کے متواتر ہونے کے سلسلہ میں اتناہی کافی ہے کہ اہل سنت علماء نے اس موضوع کو اپنی کتابوں میں واضح طور پر ذکر کیا ہے ،یہاں تک کہ حجاز میں اہل سنت کے عالمی سطح کے سب سے بڑے دینی مرکز”رابطہ عالم اسلامی“نے اس موضوع کے بارے میں حال ہی میں اپنے ایک رسالہ میں یوں لکھا ہے:

”وہ (مہدی موعود)بارہ خلفائے راشدین میں آخری خلیفہ ہیں کہ جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحیح احادیث میں خبر دی ہے اور مہدی (عج)سے متعلق احادیث،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے صحابیوں سے نقل کی گئی ہیں“

اس کے بعد حضرت مہدی (عج)سے متعلق احادیث نقل کر نے والے ”بیس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ذکر کر نے کے بعد لکھتے ہیں:

”ان کے علاوہ بہت سے مختلف گروہوں نے بھی احادیث نقل کی ہیں بعض اہل سنت علماء نے حضرت مہدی سے مر بوط احادیث کے بارے میں خصوصی کتا بیں لکھی ہیں ،جن میں ابو نعیم اصفہانی ،ابن حجر ہیثمی،شوکانی ،ادریس مغربی اور ابو العباس بن مؤمن قا بل ذکر ہیں۔“

اس کے بعد لکھتے ہیں:

”اہل سنت کے گزشتہ و موجودہ علماء کے ایک گروہ نے مہدی(عج)سے مربوط احادیث کے متواتر ہو نے کی تصریح کی ہے۔“

اس کے بعد ان علماء میں سے بعض کا نام ذکر کر نے کے بعد اپنی گفتگو کا خاتمہ اس عبارت پر کرتے ہیں:

”حفّاظ اور محدثین کی ایک جماعت نے واضح طور پر کہا ہے کہ مہدی(عج)سے مربوط احادیث صحیح بھی ہیں اور حسن بھی اور مجموعی طور پر یہ سب احادیث متواتر ہیں اور مہدی کے قیام کا عقییدہ واجب ہے اور یہ اہل سنت والجماعت کے قطعی اور مسلم عقائد میں سے ہے۔ جاہل اور بدعتی افراد کے علاوہ کوئی بھی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا ہے۔“

شیعوں کی احادیث

اس سلسلہ میں اسی قدر جاننا کافی ہے کہ اس موضوع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار(ع) سے سینکڑوں احادیث نقل کی گئی ہیں،یہاں تک کہ یہ احادیث تواتر کی حد سے بھی آگے بڑھ گئی ہیں ۔شیعوں کے نزدیک امام مہدی(عج)کا عقیدہ ضروریات دین میں شمار ہوتا ہے۔کوئی بھی شخص شیعوں کے نزدیک رہ کر حضرت مہدی(ع) کے ظہور کے بارے میں شیعوں کے عقائد ،حضرت مہدی کی بہت سی خصوصیات ،علائم ظہور ،ان کے طرز حکومت اور نظام کے بارے میں آگاہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔

شیعوں کے بزرگ علماء نے ابتدائی صدیوں سے آج تک اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور ان میں اس سلسلہ کی احادیث جمع کی ہیں۔

ہم یہاں پر نمونے کے طور پر چند احادیث کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں

اور تفصیلی مطالعہ کا شوق رکھنے والے قارئین کو درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کرنے کی تاکید کرتے ہیں:

” مھدی انقلابی بزرگ“،” نوید امن وامان“ اور علامہ صدرالدین صدرکی کتاب”المھدی“ ۔

پیغمبر اسلام (ع) نے فرمایا:

”لولم یبق من الدھر الّا یوم لطول اللّہ ذٰلک الیوم حتی یبعث رجلا من اھل بیتی یملاُھا قسطاً وعدلًا کما ملئت ظلماً و جوراً“

” اگر دنیا کی زندگی کا صرف ایک دن باقی رہ جائے،خداوند متعال اس دن کو اتنا طولانی کرے گا کہ میرے خاندان میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے تا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے جس طرح و ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔“

(یہ حدیث اہل سنت اور شیعوں کی اکثر کتابوں میں نقل ہوئی ہے)

ایک دوسری حدیث میں حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں:

اذا قام القائم حکم بالعدل و ارتفع الجور فی ایامه و امنت به السبل و اخرجت الارض برکاتها، و ردکل حق الی اهله، و حکم بین الناس بحکم داود و حکم محمّد فحینئذ تظهر الارض کنوزها، و تبدی برکاتها، و لا یجد الرجل منکم یومئذ موضعا لصدقته ولبره، لشمول الغنی جمیع المؤمنین!“

”جب قائم (عج)قیام(ظہور) فرمائیں گے، تو حکومت کو عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم کریں گے، ان کے دور حکومت میں ظلم و ستم کا خاتمہ ہوگا، ان کے وجود کی برکت سے راستے پر امن بن جائیں گے، زمین اپنی برکتوں کو اگل دے گی اور ہر شخص کواپنا حق ملے گا، و ہ حضرت محمّد اور حضرت داؤد(ع) کے مانند لوگوں کے مسائل حل کریں گے،اس وقت زمین اپنے اندر پوشیدہ خزانوں کو آشکار کردے گی اور اپنی برکتوں کو ظاہر کردے گی اور محتاجوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملے گا کیونکہ تمام مومنین بے نیاز اور مستغنی ہوں گے“

(بحار النوار،ج ۱۳( طبع قدیم)

ہم جانتے ہیں کہ حضرت مھدی (عج) کی غیبت کے دوران امامت و ولایت کے راستہ کی بقا امام زمانہ (عج)کے عام نائبین یعنی علماء و فقہا کے ذریعہ ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے:

۱ ۔ دنیا کے مستقبل کے بارے میں خدا پرستوں اور مادہ پرستوں کے نظریات میں کیا فرق ہے؟

۲ ۔کیا فطرت کے طریقہ سے ظہور مھدی(عج)کو ثابت کیاجاسکتاہے؟ اور کیسے؟

۳ ۔ کیا ظہور مھدی(عج)کے بارے میں کوئی عقلی دلیل موجود ہے؟

۴ ۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کیا فرماتا ہے؟

۵ ۔ اس موضوع پر سنت کا بیان کیا ہے؟


معادکے بارے میں دس سبق

پہلا سبق:ایک اہم سؤال

موت اختتام ہے یا آغاز؟

اکثر لوگ موت سے ڈرتے ہیں، کیوں؟

موت ہمیشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک وحشتناک ہیولا کے مانند مجسم ہوتی رہی ہے۔ موت کی فکر و اندیشہ نے بہت سوں کی زندگی کی شیرینی کے کام و دہن کو تلخ بنادیا ہے۔

لوگ ، نہ صرف موت سے ڈرتے ہیں بلکہ قبرستان کے نام سے بھی نفرت کرتے ہیں اور قبروں اور قبرستانوں کوزرق و برق اور آراستہ کرکے ان کی اصلی ماہیت کو بھلانا چاہتے ہیں۔

دنیا کی مختلف ادبیات میں یہ خوف واضح طور پر نمایاں ہے اور ہمیشہ اسے ”موت کا ہیولا“، ”موت کا پنجہ“ اور ”موت کا طمانچہ“ جیسی تعبیرات سے یاد کیاجاتاہے!

جب کسی مردہ کا نام لیتے ہیں، تو مخاطب کو خوف وحشت سے بچانے کے لئے ”اب سے روز“،”میری زبان گنگ ہو“،” سات پہاڑوں سے دور“،”اس کی مٹی کے برابر تمھاری عمر ہو“ جیسے جملے کہکر مخاطب اورموت کے درمیان ایک دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس عام تصور کے برعکس کیوں بعض لوگ نہ صرف موت سے نہیں ڈرتے تھے بلکہ موت کے وقت ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہواکرتی تھی اورفخر کے ساتھ موت کا استقبال کرتے تھے؟

تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ جب کچھ لوگ آب حیات اور جوانی کی اکسیر کے پیچھے دوڑتے تھے تو اسی وقت بعض لوگ عاشقانہ طور پر جہاد کے محاذوں کی طرف دوڑتے تھے اور موت کامسکراکر استقبال کرتے تھے اور کبھی اپنی طولانی زندگی سے شکوہ کرتے ہوئے اپنے معشوق کے دیدار کے دن اور لقاء اللہ کی آرزو اور تمنّا کرتے تھے۔ اور آج بھی ہم حق وباطل کے محاذ پر ان ہی مناظر کا واضح طور پر مشاہدہ کرتے ہیں کہ کس طرح سرفروش مجاہدین شہادت کے استقبال کے لئے دوڑتے ہیں۔

خوف موت کا اصلی سبب

غور و فکر اور تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس دائمی خوف و حشت کا اصلی سبب صرف دوچیزیں ہیں:

۱ ۔ موت کو فنا سمجھنا

انسان ہمیشہ نیستی (عدم) سے بھاگتاہے۔ بیماری سے بھاگتاہے کیونکہ یہ صحت و سلامتی کی نیستی ہے، تاریکی سے خائف ہے کیونکہ یہ روشنی کی نیستی ہے۔ فقر و محتاجی سے ڈرتاہے کیونکہ یہ تونگری کی نیستی ہے۔ حتی کہ انسان کبھی ایک خالی گھر سے بھی ڈرتاہے اور ایک سنسان بیا بان میں خوف سے دوچار ہوجاتاہے کیون کہ وہاں پرکوئی نہیں ہوتا!

تعجب کی بات یہ ہے کہ انسان خود مردہ سے بھی ڈرتا ہے، مثال کے طور پر ایک ایسے کمرے میں رات گزارنے کے لئے کبھی حاضر نہیں ہوتا ہے جس میں کوئی مردہ پڑاہو، حالانکہ جب وہی انسان زندہ تھا تو وہ اس سے نہیں ڈرتا تھا!

اب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کیوں عدم اور نیستی سے خائف ہوتاہے۔ اس کا سبب واضح ہے کہ، ہستی اور ہستی کے درمیان چولی دامن کاساتھ ہوتاہے، ایک موجود چیز دوسری موجود چیز سے آشنا ہوتی ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان ہرگز واقفیت نہیں ہوتی ہے، اس لئے نیستی سے ہماری اجنبیت بالکل فطری بات ہے۔

اب اگر ہم موت کو تمام چیزوں کا خاتمہ سمجھیں اور تصور کریں کہ مرنے سے تمام چیزیں ختم ہوجاتی ہیں تو ہمیں اس سے ڈرنے کا حق ہے، یہاں تک کہ ہم اس کے نام اور تصور سے بھی وحشت کریں تو حق ہے، کیونکہ موت ہم سے ہر چیز کو چھین لیتی ہے۔

لیکن اگر ہم موت کو ایک نئی زندگی ، ابدی حیات کا آغاز اور ایک عظیم دنیا کی طرف کھلنے والا دریچہ سمجھیں تو فطری طور پر نہ صرف اس سے وحشت زدہ نہیں ہوں گے بلکہ اس کی طرف پاکیزگی اور سربلندی سے قدم بڑھانے والوں کو مبارک باد بھی دیںگے۔

۲ ۔سیاہ اعمال نامے

ہم بعض ایسے افراد کو بھی جانتے ہیں جو موت کو نابودی اور نیستی سے تعبیر نہیں کرتے ہیں اور مرنے کے بعد والی زندگی کے ہرگز منکر نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود موت سے ڈرتے ہیں۔

انھیں موت سے ڈرنے کا حق ہے، ان کی مثال ان خطرناک مجرموں کی جیسی ہے، جو زندان سے باہر نکالے جانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں زندان سے باہر لے جانے کی صورت میں پھانسی پر لٹکادیا جائے گا۔

وہ زندان کی سلاخوں سے محکم چمٹے رہتے ہیں،اس لئے نہیں کہ وہ آزادی سے متنفرہیں،بلکہ وہ اس آزادی سے ڈرتے ہیں جس کانتیجہ موت کی سزا ہے،اسی طرح وہ بد کار اور ظالم بھی موت سے ڈرتے ہیں جو اپنے بدن سے روح کے نکلنے کو اپنے برے اعمال اورظلم وستم کی ناقابل برداشت سزا کا مقدمہ جانتے ہیں ۔

لیکن جو لوگ نہ موت کو ”فنا“جانتے ہیں اور نہ ان کا ”اعمال نامہ سیاہ“ہو تا ہے،وہ موت سے کیوں ڈریں؟

بے شک ایسے لوگ زندگی کو بھی پورے وجود سے چاہتے ہیں،لیکن اس زندگی سے موت کے بعد والی دنیا میں نئی زندگی کے لئے زیادہ فائدہ اٹھا نے کے لئے ،ایسی موت کا استقبال کرتے ہیں جو خدا کی مرضی ،اس کے مقصد اور افتخار کے لئے ہو۔

دو مختلف نظر ئیے

ہم نے کہا کہ لوگ دوطرح کے ہیں ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو اکثریت میں ہیں ،وہ موت سے بیزار اور متنفر ہیں۔

لیکن دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اس موت کا استقبال کرتے ہیں جو ایک عظیم مقصد کی راہ میں ہو جیسے خداکی راہ میں شہادت ،یا کم از کم جب احساس کرتے ہیں کہ ان کی طبیعی عمر آخر تک پہنچ گئی تو ان پر کسی بھی قسم کا غم و اندوہ طاری نہیں ہو تا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں گروہوں کے دو مختلف نظرئیے ہیں:

پہلا گروہ :ان لوگوں کا ہے جو یا تو موت کے بعد والی دنیا کا بالکل ایمان و عقیدہ نہیں رکھتے ہیں یا ابھی پوری طرح اس پر یقین پیدانہیں کرسکے ہیں،لہذا یہ لوگ موت کے لمحہ کو تمام چیزوں کو الوداع کہنے کا لمحہ جا نتے ہیں ،البتہ تمام چیزوں کو الوداع کہنا وحشتناک ہے، نور اور روشنی سے نکل کر مطلق تاریکی میں قدم رکھنا بہت ہی درد ناک ہے۔

اسی طرح کسی مجرم کا زندان سے آزاد ہو کر ایک عدالت میں پیش ہو نابھی وحشتناک ہے جہاں پر اس کے جرم کے اسناد آشکار ہوں ۔

دوسرا گروہ :یہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو موت کو ایک نئی زندگی کا آغاز اور ایک محدود و تاریک ماحول سے باہر نکل کر ایک وسیع اور نوانی عالم میں قدم رکھنا جانتے ہیں۔

ان لوگوں کی نظروں میں موت،ایک تنگ اور چھوٹے پنجرہ سے آزاد ہو کر لا محدود آسمان میں پرواز کر نا اور تنگ نظریات، لڑائی جھگڑوں ،کشمکشوں،ناراضگیوں ،کینہ توزیوں اور جنگ وجدل سے بھرے ایک ماحول سے نکل کر ایک ایسی وادی میں قدم رکھنا ہے جو ان تمام آلود گیوں سے پاک ہو۔فطری بات ہے کہ ایسے لوگ اس قسم کی موت سے خوفزدہ نہ ہوں اور حضرت علی کے مانند کہیں:

”لابن ابی طالب انس بالموت من الطفل بثدی امه“

”خدا کی قسم فرزند ابیطالب کو موت سے انس اس شیر خوار بچے سے زیادہ ہے جو اپنی ماں کی چھاتیوں سے انس رکھتا ہے۔

ٌ یافارسی شاعر کے مندرجہ ذیل اشعار کے مانند کہیں:

مرگ اگر مرد است گونزد من آی تادر آغوشش بگیرم تنگ تنگ!

من از اوجانی ستانم جاودان اوزہ من دلقی ستاند رنگ رنگ!

(موت اگر دلیر ہے تواس سے کہدو کہ میرے پاس آجائے تاکہ میں اسے اپنی گود میں لے لوں ۔میں نے اس سے جاودانہ زندگی حاصل کی ہے اور اس نے مجھ سے ایک درویشانہ پیراہن لیا ہے)۔

یہ بلا وجہ نہیں ہے کہ ہم تاریخ اسلام میں ایسے افراد کو پاتے ہیں،جو امام حسین علیہ السلام اور ان پر جان نچھاور کر نے والے ساتھیوں کے مانند جس قدر شہادت کا لمحہ ان کے نزدیک آتاتھا ،ان کے چہروں پر شادابی بڑھتی جاتی تھی اور اپنے پرور دگار سے ملاقات کرنے کے شوق میں پھولے نہیں سماتے تھے۔

اسی لئے ہم حضرت علی علیہ السلام کی فخر و مباہات سے بھری زندگی کی تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ جب ظالم قاتل کی تلوار کی ضرب آپ کے سر اقدس پر لگی توآپ نے فر مایا:

”فزت وربّ الکعبة“

”ربّ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا“

یہ واضح ہے کہ س کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ انسان خوامخواہ اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دے اور زندگی کی عظیم نعمت سے چشم پوشی کر لے اور عظیم مقاصد تک پہنچنے کے لئے اس سے استفادہ نہ کرے۔

بلکہ مقصود یہ ہے کہ زندگی سے پورا پورا استفادہ کرے لیکن اس کے خاتمہ سے ہرگز خوف زدہ نہ ہو خاص کر اس وقت جب وہ عظیم مقاصد کی راہ پر گامزن ہو۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔لوگ کیوں موت سے ڈرتے ہیں ؟اس کا سبب کیا ہے؟

۲ ۔بعض لوگ کیوں موت کا مسکراہٹ سے استقبال کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں شہادت کے عاشق ہوتے ہیں؟

۳ ۔موت کے لمحہ کو کس چیز سے تشبیہ دی جا سکتی ہے؟باایمان پاکیزہ لوگ کیا احساس کرتے ہیں اور بے ایمان ناپاک لوگ کیا محسوس کرتے ہیں؟

۴ ۔کیا آپ نے اپنی زندگی میںکسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو موت سے نہیں ڈرتا ہے ؟ان کا کون سا واقعہ آپ کو یاد ہے؟

۵ ۔موت کے بارے میں حضرت علی کا کیا نظریہ ہے؟


دوسرا سبق:معاد زندگی کو معنی بخشتی ہے

گر ہم اس دنیا کی زندگی کو دوسری دنیا (آخرت)کی زندگی سے قطع نظر تصور کریں تو یہ بالکل بے معنی اور فضول ہو گی۔

اس صورت میں ہماری اس دنیا کی زندگی بالکل اس کے مانند ہو گی کہ ہم جنین کے دوران بچے کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے قطع نظر تصور کریں۔

ماں کے شکم میں موجود بچہ ،جو اس محدود وتنگ وتاریک زندان میں مہینوں قید و بند رہتا ہے ،اگر عقل وشعور رکھتا اور اپنی جنین والی زندگی کے بارے میں فکر کرتا تو وہ بیشک تعجب کرتا:

میں کیوں اس تاریک زندان میں قید وبند ہوں؟

میں کیوں اس پانی اور خون میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں؟

آخر میری زندگی کا کیا نتیجہ ہو گا؟

میں کہاں سے آیا ہوں اور میرے آنے کا کیا فائدہ ہے؟

لیکن اگر اسے بتایا جائے کہ یہ تیرے لئے ایک ابتدائی مرحلہ ہے یہاں پر تمھارے اعضاء بن جائیں گے ،توانا ہو جاؤ گے اور ایک بڑی کو شش وحر کت کے لئے آمادہ ہوجاؤ گے۔

نو مہینے گزر نے کے بعد اس زندان سے تمھاری رہائی کا حکم جاری کیا جائے گا۔اس کے بعد تم ایک ایسی دنیا میں قدم رکھو گے جہاں پر چمکتا سورج ،روشن چاند،سرسبز درخت ،پانی کی جاری نہریں او گوناگوں نعمتیں ہوں گی۔یہ سننے کے بعد وہ اطمینان کا سانس لے کر کہے گا!اب میں سمجھ گیا کہ یہاں پر میری موجودگی کا فلسفہ کیا ہے!

یہ ایک ابتدائی مرحلہ ہے ،یہ چھلانگ لگا نے کا چبوترہ ہے،یہ ایک بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لئے ایک کلاس ہے۔

لیکن اگر جنین والی زندگی کا رابطہ اس دنیا سے کٹ جائے تو تمام چیزیں تاریک اور بے معنی ہو کر رہ جائیںگی اور جنین والی زندگی ایک وحشتناک ،تکلیف دہ،اور بے نتیجہ زندان میں تبدیل ہو جائے گی ۔

اس دنیا کی زندگی اور موت کے بعد والی دنیا کے در میان بھی ایساہی رابطہ ہے۔

کیاضروری ہے کہ ہم اس دنیا میں ستر سال یا اس سے کم یا زیادہ زندگی گزاریں اور مشکلات کے در میان ہاتھ پاؤں مارتے رہیں؟

کچھ مدت بے تجربہ اور خام رہیں ،جب ہماری خامی پختگی میں تبدیل ہو تو ہماری عمر تمام ہو جائے!

ایک مدت تک علم ودانش حاصل کریں ،جب ہم معلو مات کے لحاظ سے پختہ ہو جاتے ہیں تو بڑھاپا ہمارے سر پر آپہنچتا ہے!

آخر ہم کس لئے زندگی بسر کرتے ہیں ؟غذا کھانے ،لباس پہنے اور سونے کے لئے ؟اسی حالت میں زندگی کو دسیوں سال تک جاری رکھنے کا مطلب کیا ہے؟

کیا حقیقت میں یہ کشادہ آسمان،وسیع زمین ،یہ سب مقد مات ،یہ علم اور تجربے حاصل کر نا ،یہ سب اساتذہ اور مربیّ سب کے سب صرف اسی کھانے پینے اور لباس پہننے اور پست وتکراری زندگی کے لئے ہیں؟

یہاں پر معاد کو قبول کر نے والوں کے لئے زندگی کا فضول ہو نا یقینی بن جاتا ہے،کیونکہ وہ ان معمولی امور کو زندگی کا مقصد قرار نہیں دے سکتے ہیں اور موت کے بعد والی دنیا پر تو ایمان ہی نہیں رکھتے ہیں ۔

لہذا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ خود کشی کا اقدام کر کے اس بے مقصد زندگی سے نجات پانا چاہتے ہیں۔

لیکن اگر ہم یقین کریں کہ دنیا ”آخرت کی کھیتی “ہے ،دنیا ایسا کھیت ہے جس میں ہمیں بیج بونا ہے تا کہ اس کی فصل کو ہم ایک جاودانی اور ابدی زندگی میں کاٹ سکیں ۔

دنیا ایک ایسا کالج ہے جس میں ہمیں آگاہی حاصل کر نا ہے تا کہ ایک ابدی عالم کے لئے خود کو آمادہ کر سکیں ،دنیا ایک گزر گاہ اور پل ہے جس سے ہمیں عبور کر نا ہے۔

اس صورت میں ہماری دنیوی زندگی بے مقصد اور فضول نہیں ہوگی ،بلکہ ایک ایسی ابدی اور جاودانی زندگی کا مقدمہ ہوگی جس کے لئے ہم جس قدر کوشش کریں کم ہے۔

جی ہاںمعاد کا ایمان انسان کی زندگی کو مفہوم اور معنی بخشتا ہے اور اسے اضطراب، پریشانی اور بیہودگی سے نجات دلاتا ہے۔

عقیدئہ معاد کا انسان کی تربیت میں اہم کردار

اس کے علاوہ آخرت میں ایک عظیم عدالت کے وجود کا عقیدہ ہماری اس زندگی میں غیر معمولی طور پر مؤثر ہے۔

فرض کریںایک ملک میں یہ اعلان ہوجائے کہ سال کے فلاں دن کسی بھی جرم کی سزا نہیں ہوگی ،اس دن کوئی کیس درج نہیں ہوگا اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ اس دن کو کسی سزا کے بغیر گزار سکتے ہیں ،اس دن پولیس اور امن وانتظام کے مامورین تعطیل کریں گے ،عدالتیں بند ہوں گی ،یہاں تک کہ دوسرے دن جب زندگی معمول پر آجائے گی ،گزشتہ کل کی جرائم کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جائے گا۔

ذراغور کیجئے اس دن معاشرہ کی کیا حالت ہوگی؟

قیامت پر ایمان درحقیقت ایک عظیم عدالت پر ایمان ہے جواس دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قابل موازنہ نہیں ہے۔

اس عظیم عدالت کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

۱ ۔ایک ایسی عدالت ہے،جس میں نہ سفارش چلے گی اور نہ”ضوابط“پر ”روابط“کی حکمرانی ہوگی اور نہ جھوٹے مدارک پیش کر کے اس کے قاضیوں کی سوچ کو تبدیل کیا جاسکے گا۔

۲ ۔ایک ایسی عدالت ہے جس میں اس دنیا کی عدالتوں کے مانند عدالتی کاروائی نہیں ہوگی اور اسی لئے وہاں پر لمبے اور تفصیلی مراحل نہیں ہیں ،برق آساتحقیقات کے بعدصحیح اور دقیق حکم جاری کر دیا جاتا ہے۔

۳ ۔ایک ایسی عدالت ہے جہاں پر مجرموں کے جرائم کے دلائل و مدارک خود ان کے اعمال ہوں گے ،یعنی اس عدالت میں خود اعمال حاضر ہو کر گواہی دیں گے ،اور مجرم کے ساتھ اپنے ارتباکو وہ خوداس طرح مشخص کریں گے کہ انکار کی کو ئی گنجائش نہیں ہوگی۔

۴ ۔اس عدالت کے گواہ انسان کے اپنے ہاتھ ،پاؤں ،کان،آنکھیں،زبان اور اس کے بدن کی جلد حتی جس جگہ پر گناہ یا ثواب انجام دیا ہو گا اس کی زمین اور در دیوار ہوںگے ،یہ ایسے گواہ ہیں جو انسان کے اعمال کے فطری آثار کے مانند قابل انکار نہیں ہیں۔

۵ ۔اس عدالت کا قاضی اور حاکم خدا ہے ،جو ہر چیز سے آگاہ اور بے نیاز اور سب سے بڑا عادل ہے۔

۶ ۔اس کے علاوہ اس عدالت کی جزاوسزا قرار دادی نہیں ہیں ،اکثر خودہمارے اعمال ہی مجسّم ہو کر ہمارے سامنے ظاہر ہو تے ہیں اور ہمیں اذیت وآزار پہنچاتے ہیں یا ہمیں نعمت وآسائش میں غرق کر تے ہیں۔

اس قسم کی عدالت کا یقین انسان کو ایک ایسی جگہ پر پہنچاتا ہے،جہاں پر وہ علی علیہ السلام کے مانند کہتا ہے:

”خدا کی قسم اگر مجھے نرم بستر کے بجائے راتوں کو صبح تک مہلک کانٹوں پر جاگتے ہو ئے گزار نا پڑے اور دن کو میرے ہاتھوں اور پاؤں میں زنجریں باندھ کر مجھے گلی اور بازاروں میں گھسیٹا جائے ،یہ مجھے اس سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں اللہ کی عدالت میں اس حال میں حاضرکیا جاؤں کہ میں نے کسی بندے پر ظلم کیا ہو یا کسے کا حق غضب کیا ہو۔“ (نہج البلاغہ،خطبہ: ۲۲۴)

یہ اس عدالت کا ایمان ہے جوانسان (حضرت علی)کو مجبور کر تاہے کہ وہ آگ میں دہکتا ہوا سرخ لوہا اپنے بھائی کے ہاتھ کے قریب لے جائے ،جو بیت المال سے اپنے حصہ سے زیادہ کا طالب تھا ،جب اس کا بھائی ڈر کے مارے فریاد بلند کرتا ہے ،تو اسے نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے:”تم اس آگ سے ڈرتے ہو جو ایک کھلونے کے مانند انسان کے ہاتھ میں ہے،لیکن اپنے بھائی کو ایک ایسی ہولناک آگ کی طرف ڈھکیل رہے ہو جسے خدا کے قہر وغضب کے شعلوں نے بھڑ کایاہے؟“ (نہج البلاغہ،خطبہ ۲۲۴)

کیا ایسے ایمان رکھنے والے انسان کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے؟

کیا رشوت سے اس کے ایمان کو خریدا جاسکتا ہے؟

کیا اسے لالچ اور دھمکی سے حق کی راہ سے ظلم کی طرف منحرف کیا جاسکتا ہے؟

قرآن مجید فر ماتا ہے :جب گناہ کار اپنے اعمال ناموں کو دیکھیں گے تو چیختے ہوئے کہیں گے:

( مالهذا الکتاب لا یغادر صغیرةو الا کبیرة الّا احصاها ) (سورہ کہف/ ۴۹)

”ہائے افسوس اس کتاب نے تو چھوٹا بڑا کچھ گناہ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے۔“

اس طرح ہر کام انجام دیتے وقت انسانی روح کی گہرائیوں میں ذمہ داری کے احساس کی ایک طاقتورموج پیدا ہوتی ہے اور یہی احساس اسے ہر قسم کے انحرافات ،گمراہی اورظلم وزیادتی سے بچاتا ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔اگر اس محدود اور ناپائیدارزندگی کے بعد دوسری دنیا نہ ہو تی تو کیا ہو تا؟

۲ ۔معاد کے منکر بعض افراد کیوں خودکشی کا اقدام کرتے ہیں؟

۳ ۔قیا مت کی عدالت کااس دنیاکی عدالت سے کیا فرق ہے؟

۴ ۔معاد پر ایمان،انسان کے اعمال پر کیا اثر ڈالتا ہے؟

۵ ۔امیرالمومنین علی علیہ اسلام نے اپنے بھائی عقیل سے کیا کہا؟وہ کیا چاہتے تھے اور علی علیہ السلام نے انھیں کیا جواب دیا؟


تیسراسبق :قیامت کی عدالت کا نمونہ خود آپ کے وجود میں ہے

چونکہ موت کے بعد کی زندگی اور قیامت کی عظیم عدالت کا مسئلہ اس محدود دنیا میں مقیّد انسان کے لئے ایک نئی بات ہے۔لہذا خد وند متعال نے اس عدالت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہمارے لئے اسی دنیا میں پیش کیا ہے،جس کا نام ”ضمیر(وجدان)کی عدالت“ہے۔لیکن یہ بات نہ بھولیں کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ عدالت اس عظیم عدالت کا ایک چھوٹاسا نمونہ ہے۔

اس بات کی بیشتر وضاحت یوں ہے:

انسان،جوبھی اعمال انجام دیتا ہے ،ان کے سلسلہ میںکئی عدالتوںمیں اس کا مقدمہ چلتا ہے:

پہلی عدالت ،تمام کمزریوںاور نقائص کے باوجود وہی دنیوی اور انسانی عام عدالت ہے۔

اگر چہ ان ہی دنیوی عدالتوں کا جرائم کو کم کر نے میں نمایاں اثر ہو تا ہے،لیکن ان عدالتوں کی بنیاد ایسی ہے کہ ان سے مکمل انصاف کے نفاذ کی ہر گز توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔

کیوں کہ اگر ان عدالتوں میں ناقص قوانین اور نالائق جج کا نفوذ ہو گا تو ان کی حالت معلوم ہے کیا ہوگی!رشوت ستانی ،پارٹی بازی :خصوصی روابط ،سیاست بازی اور اس قسم کے ہزاروں دوسرے مسائل اس عدالت کو اس قدر متاثر کر دیتے ہیں کہ اس کے ہونے سے نہ ہو ناہی بہتر ہے،کیونکہ ایسی عدالتوں کا وجود خودغرض لوگوں کے برے مقاصد پو رے ہونے کا سبب بنتا ہے!

اگر ان عدالتوں کے قوانین عدل وانصاف پر مبنی اور قاضی آگاہ اور با تقوی ٰبھی ہوں ،تب بھی بہت سے مجرم ایسے ہوتے ہیں جو اس قدر ماہرانہ چال چلتے ہیں۔کہ جرم کے آثار کو ہی نابود کر کے رکھدیتے ہیں۔

یا عدالت میں ایسی کاغذبازی کرتے ہیں اور ایسا داؤں پیچ مارتے ہیں کہ قاضی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر قوانین کو بے اثر کردیتے ہیں۔

دوسری عدالت،جو اس عدالت سے منظم اور دقیق تر ہے وہ ”مکافات عمل“کی عدالت ہے۔

ہمارے اعمال کے کچھ اثرات ہو تے ہیں ،جو جلدی یا دیر سے رونما ہو کر ہمیں متاثر کرتے ہیں ۔اگر چہ یہ امر مطلق اور عام نہیں ہے ،لیکن کم ازکم بہت سے مواقع پر سچ ثابت ہوتا ہے۔

ہم نے ایسی حکومتیں بھی دیکھی ہیں جن کی بنیاد ظلم وستم پر تھی اور حکام جو چاہتے کر ڈالتے تھے،لیکن سر انجام اپنے ہی پھیلائے گئے جال میں پھنس گئے ہیں۔ان کے اعمال کے ردعمل(اثر)نے انھیں جکڑلیا اور ایسے زوال سے دوچار کر دیا کہ وہ بالکل نسیاًمنسیا ہو گئے ہیں اور لعنت ونفرین کے سوا ان کا نام ونشان تک باقی نہیں رہا ہے ۔چونکہ مکافا ت عمل وہی علت و معلول کے در میان رابطہ ہے ،اس لئے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو چالاکی سے اس کی گرفت سے بچ نکلیں۔

اس عدالت کا نقص یہ ہے کہ یہ عمومی اور کلی نہیں ہے ،اس لئے اس عدالت کے ہوتے ہوئے ہم قیامت کی عظیم عدالت سے بے نیاز نہیں ہیں ۔

تیسری عدالت، جو اس سے بھی منظم اور دقیق تر ہے،وہ”ضمیر کی عدالت“ہے۔

حقیقت میں جس طرح نظام شمسی ایک عظیم اور حیرت انگیز نظام کے باوجود ایٹم کی ایک انتہائی چھوٹے ذرّہ کے اندر سمٹا ہوا ہے ،اسی طرح قیامت کی عظیم عدالت کا ایک چھوٹاساماڈل ہماری روح میں پایا جاتا ہے۔

انسان کے وجود کے اندر ایک مرموزطاقت ہے ،جسے فلاسفر نے ”عقل عملی“کا نام دیا ہے اور قرآن مجید کی اصطلاح میں اسے ”نفس لوامہ“کہا جاتا ہے اور آج اسے ”وجدان“اور ”ضمیر“کے نام سے جانتے ہیں۔

جوں ہی انسان کسی اچھے یا برے کام کو انجام دیتا ہے،فوراً یہ عدالت کسی شور وغل کے بغیر تشکیل پاتی ہے ،اور مکمل طور پر صحیح اور اصولوں پر مبنی محا کمہ شروع کرتی ہے اور حکم کے نتیجہ کونفسیاتی سزا یا جزا کی صورت میں نافذ کرتی ہے۔

یہ عدالت کبھی مجرموں کو اندر سے ہی ایسے کوڑے مار کر روحی اذیت پہنچاتی ہے کہ وہ دل سے موت کا استقبا ل کرتے ہیں اور اسے زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور اپنے وصیت نامہ میں لکھتے ہیں کہ ہم نے ضمیر کے اضطراب کی وجہ سے خود کشی کی ہے!

کبھی انسان کے ایک نیک کام انجام دینے کے نتیجہ میں اس قدر اس کی اہمیت افزائی کرتے ہے کہ اس میں وجد وسرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ،وہ اپنے وجود میں ایک گہرا سکون محسوس کرتا ہے،دل کو لبھانے والا ایک ایسا سکون، جس کی لذت قابل بیان نہیں ہوتی ہے۔

اس عدالت کی عجیب خصوصیات ہیں:

۱ ۔اس عدالت میں قاضی،شاہد،حکم نافذ کر نے والا اور عدالت کی کاروائی دیکھنے والا سب ایک ہی ہے،وہی ضمیر کی طاقت ہے جو شہادت بھی دیتی ہے ،فیصلہ بھی کرتی ہے اور اس کے بعد آستین چڑھا کر اپنے حکم کو نافذ بھی کرتی ہے!

۲ ۔اس عدالت کا فیصلہ عام عدالتوں کے بر خلاف (کہ جن میں کیس کو کئی سال لگتے ہیں)فوری ہو تا ہے ،عام طور پر اس میں وقت نہیں لگتا ہے،البتہ کبھی جرم کے دلائل ثابت ہو نے اور دل کی آنکھوں کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹنے میں وقت کی ضرورت ہو تی ہے،لیکن دلائل پیش ہو نے کے بعد ،حکم فوری اور قطعی طورپر سنا دیا جا تا ہے۔

۳ ۔اس عدالت کا حکم ایک ہی مرحلہ میں انجام پاتا ہے،یہاں پر اپیل ،نظر ثانی اور سپریم کورٹ جیسی چیزوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

۴ ۔یہ عدالت صرف سزائیں نہیں دیتی ہے بلکہ فرائض انجام دینے والوں کو جزا بھی دیتی ہے۔اس لئے یہ ایک ایسی عدالت ہے جس میں نیک وبد دونوں کے کیس کی تحقیق و شنوائی ہو تی ہے اور ان کے اعمال کے تناسب سے انھیں سزا یا جزا ملتی ہے۔

۵ ۔اس عدالت کی سزاؤں کی دنیا کی عام عدالتوں کی سزاؤں سے کوئی شباہت نہیں ہے ۔بظاہر نہ کوئی زندان ہے،نہ کوڑے،نہ تختہ دار اور نہ گولیوں کی مار،لیکن اس عدالت کا حکم مجرم کو اندر سے ایسا جلاتا ہے اور جیل میں ڈال دیتا ہے کہ اس کے لئے دنیا اپنی تمام وسعتوں کے باوجود تنگ ہو جاتی ہے ایسی کہ ایک جیل کی خوفناک اور تنگ و تاریک کال کوٹھری سے بھی زیادہ تنگ ہو جاتی ہے۔مختصر یہ کہ عدالت اس دنیا کی عدالتوں کی جیسی نہیں ہے بلکہ قیامت کی عدالت کے مانند ہے۔

اس عدالت کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید نے اس کی قسم کھائی ہے اور اسے قیامت کی عدالت کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے سورئہ قیامت کی آیت نمبر ۱ سے ۴ تک ارشاد فر ماتا ہے:

( لااقسم بیوم القیمة ولا اقسم بالنّفس اللّوّامةایحسب الإنسان الّن نجمع عظامةبلٰی قادرین علی ان نّسوّی نبانه)

”میں روز قیامت کی قسم کھاتا ہوں اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے؟یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں۔“

لیکن ان تمام اوصاف کے باوجود ضمیر کی عدالت دنیوی ہو نے کی وجہ سے کچھ نقائص رکھتی ہے،جس کی وجہ سے یہ ہمیں قیامت کی عدالت سے بے نیاز نہیں کرسکتی ہے۔ کیونکہ:

۱ ۔ ضمیر کے حدود کے دائرہ میں تمام چیزیں نہیں آسکتی ہیں کیونکہ ضمیر کے حدود انسان کی فکر و تشخیص کے قلمرو کے مطابق ہوتے ہیں۔

۲ ۔ کبھی ایک ماہر دھو کہ باز اور چالباز انسان اپنے ضمیر کوبھی دھو کہ دے سکتاہے یعنی اپنے ضمیر کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک سکتاہے۔

۳ ۔ کبھی بعض گناہگاروں کے ضمیر کی آواز اس قدر کمزور ہوجاتی ہے کہ وہ ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔

لہذا چوتھی عدالت یعنی قیامت کی عظیم عدالت کی ضرورت واضح ہوجاتی ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ حقیقت میں انسان کامحاکمہ کتنی عدالتوں میں ہوتاہے؟

۲ ۔ پہلی عدالت کا نام اور اس کی خصوصیات بیان کیجئے۔

۳ ۔دوسری عدالت کی خصوصیات کیا ہیں؟

۴ ۔ تیسری عدالت کی خصوصیات کیا ہیں؟

۵ ۔ ضمیر کی عدالت کی خصوصیات اورنقائص بیان کیجئے۔


چوتھا سبق:معاد، فطرت کی جلوہ گاہ میں

عام طورپر کہاجاتا ہے کہ خدا کی معرت انسان کی فطرت میں موجود ہے۔اگر ہم ایک انسان کے آگاہ اور ناآگاہ ضمیر پر تحقیق و جستجو کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ ایک ایسے ماورائے طبیعت خالق پر ایمان رکھتا ہے جس نے علم، منصوبہ اور مقصد کے مطابق اس کا ئنات کو پیدا کیاہے۔

لیکن یہ مسئلہ”توحید و خداشناسی“ تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دین کے تمام بنیادی اصول اور فروع انسان کی فطرت کے اندرہونے چاہئے، اگر ایسا نہ ہوتو ”تشریعی“ اور”تکوینی“ احکام کے درمیان ضروری ہم آہنگی حاصل نہیں ہوگی۔(توجہ فرمایئے)

اگر ہم اپنے دل پر ایک نگاہ ڈالیں اور اپنی روح و جان کی گہرائیوں میں اترکر جستجو اور تحقیق کریں، تو ہم اپنے دل کے کانون سے یہ گنگناہٹ سنیں گے کہ زندگی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی ہے، بلکہ موت عالم بقاء کی طرف کھلنے والا ایک دریچہ ہے!

اس حقیقت کو ماننے کے لئے ہمیں مندرجہ ذیل نکات پر توجہ کرنی چاہئے:

۱ ۔ بقاء کا عشق

اگر انسان کوواقعا فنا اور نابودی کے لئے پیدا کیا گیا ہے، تو اسے فنا اور نابودی کا عاشق ہوناچاہئے، اور اپنی عمر کے آخر میں موت سے لذت حاصل کرنی چاہئے۔ لیکن ہم اس کے برعکس دیکھتے ہیں کہ انسان کے لئے موت کا چہرہ (نابودی کے معنی میں) کسی بھی زمانہ میں نہ صرف خوشگوار نہیں ہے بلکہ وہ ہر ممکن صورت میں اس سے بھاگتاہے۔

ہمارا بقاء کے ساتھ یہ عشق بتاتا ہے کہ ہم بقاء کے لئے خلق کئے گئے ہیں،اوراگر ہم فنا کے لئے پیدا کئے گئے ہوتے تو اس عشق و محبت کے کوئی معنی نہیں تھے۔

ہمارے اندر پائے جانے والے تمام بنیادی عشق ہمارے وجود کو مکمل کرتے ہیں، بقاء کے ساتھ ہمارا عشق بھی ہمارے وجود کو مکمل کرنے والاہے۔

یہ نہ بھولئے کہ ہم نے ”معاد“ کی بحث کو خداوند حکیم و علیم کے وجود کو قبول کرنے کے بعد شروع کیاہے، ہماراعقیدہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ ہمارے وجود میں خلق کیاہے وہ حساب و کتاب کے مطابق ہے، اس لحاظ سے انسان کا بقاء کے ساتھ عشق کا بھی کوئی حساب و کتاب ہوناچاہئے اور وہ اس دنیا کے بعدایک دوسری دنیا کے وجود کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوسکتا۔

۲ ۔ گزشتہ اقوام میںقیامت کا عقیدہ

تاریخ بشر جس طرح گواہی دیتی ہے کہ زمانہ قدیم سے گزشتہ اقوام میں کلی طور پر مذہب کا وجود تھا،اسی طرح قدیم ترین زمانہ سے انسان کے”موت کے بعدوالی زندگی“ کے بارے میں راسخ عقیدہ کی بھی گواہی دیتی ہے۔

قدیمی حتی،قبل تاریخ کے انسانوں کے بارے میں ملنے والے آثار، بالخصوص قبور کی تعمیر اورمردوں کو دفن کرنے کے طریقے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ وہ موت کے بعد والی زندگی پر ایمان رکھتے تھے۔

انسان میں ہمیشہ سے پائے جانے والے اس بنیادی عقیدہ کو محض ایک معمولی مسئلہ نہیں سمجھا جاسکتا ہے یا اسے ایک عادت یا تلقین کا نتیجہ تصور نہیں کیا جاسکتاہے۔

جب بھی ہم انسانی معاشروں میں پوری تاریخ کے دوران مستحکم بنیادوں پر مبنی کسی عقیدہ کو پائیں تو ہمیں اسے فطری ہونے کی علامت سمجھنا چاہئے، کیونکہ یہ صرف فطرت ہی ہے جو زمانہ حوادث اور اجتماعی و فکری تبدیلیوں کا مقابلہ کرسکتی ہے اور ثابت قدم رہ سکتی ہے، ورنہ عادات، رسومات اور تلقینیں زمانہ کے گزرنے کے ساتھ فراموش ہوجاتی ہیں۔

کسی خاص لباس کا پہننا ایک عادت یا آداب و رسوم کا حصہ ہے، لہذا حالات کے بدلنے یا زمانہ کے گزرنے سے اس میں تبدیلی آجاتی ہے۔

لیکن بیٹے کی نسبت ماں کی محبت ایک غریزہ اور فطرت ہے، لہذا نہ ماحول اور حالات کی تبدیلی اس کے شعلے کو خاموش کرسکتی ہے اورنہ زمانہ کے گزرنے کی وجہ سے اس پر گردوغبار پڑسکتاہے۔ اس طرح کی ہر کشش پیدا ہونے کی صورت میں جاننا چاہئے کہ یہ انسان کی فطرت کی دلیل ہے۔، جب دانشور کہتے ہیں: ”دقیق تحقیقات سے معلوم ہوتاہے کہ انسانوں کے ابتدائی اقوام بھی کسی نہ کسی مذہب کے پیرو تھے کیونکہ وہ اپنے مردوں کو ایک خاص طریقے پر دفن کرتے تھے اور ان کے کام کرنے کے آلات و وسائل کو ان کے ساتھ رکھتے تھے، اوراس طرح دوسری دنیا (آخرت) کے وجود پر اپنے عقیدہ کو ثابت کرتے تھے(۱) ۔“

توہمیں بخوبی معلوم ہوتاہے کہ یہ اقوام موت کے بعد والی زندگی کا عقیدہ رکھتے تھے،اگرچہ وہ اس سلسلہ میں غلط راہ پر چلتے تھے اور یہ تصور کرتے تھے کہ موت کے بعد والی زندگی بھی اس دنیوی زندگی کے مشابہ ہے، اس لئے اس دنیا کے آلات اورسازوسامان کی وہاں بھی ضرورت پڑے گی۔

۳ ۔ معاد کے فطری ہونے کی ایک اور دلیل انسان کے اندر وجدان و ضمیر کی عدالت کا وجود ہے ۔

جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی بیان کیا کہ ہم سب بخوبی احساح کرتے ہیں کہ ہماری یہ اندرونی عدالت ہمارے اعمال کی تفتیش کرتی ہے، نیکیوں کے مقابلہ میں جزادیتی ہے جس کے نتیجہ میں ہم ایسا آرام اور سکون کا احساس کرتے ہیں کہ ہماری روح نشاط وشادی کی ایک ایسی لذت محسوس کرتی ہے، جس کی توصیف سے زبامان اور قلم عاجز ہیں۔ اور بُرے کاموں بالخوصوص گناہان کبیرہ کے مقابلہ میںایسی سزا دیتی ہے جو انسان کے لئے زندگی کو تلخ بنادیتی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد نے ایک بڑے ظلم و جرم جیسے قتل کے ارتکاب کے بعد عدالت سے فرار کرنے کے بعد رضا کا رانہ طور پر خود کو عدالت میں پیش کیا ہے اور جرم کا اعتراف کرنے کے بعد پھانسی کے پھندے کا استقبال کیاہے اور اس کی وجہ ضمیرکے شکنجہ اور روحی عذاب سے نجات حاصل کرنا بتایاہے۔

اس باطنی و روحی عدالت کا مشاہدہ کرنے کے بعد انسان اپنے آپ سے یہ سوال کرتاہے: یہ کسیے ممکن ہے کہ ایک چھوٹا وجود رکھنے کے باوجود میرے اندر ایک ایسی عدلات موجود ہو، لیکن اس عظیم کائنات کی کوئی عدالت نہ ہو؟!

اس لئے معاد کے عقیدہ اور موت کے بعد زندگی کے فطری ہونے کو درج ذیل تین راہوں سے ثابت کیا جاسکتاہے:

۱ ۔ بقاء کاعشق۔

۲ ۔ پوری تاریخ بشریت میں اس ایمان اور عقیدہ کا وجود۔

۳ ۔ انسان کی روح کے اندر اس کے ایک چھوٹے سے نمونہ کا وجود۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔غیرفطری امور کو فطری امور سے کیسے جدا کیا جاسکتا ہے؟

۲ ۔انسان کی بقاء سے عشق رکھنے کی دلیل کیا ہے؟اور یہ بقاء کا عشق کیسے معاد کے فطری ہو نے کی دلیل بن سکتا ہے ؟

۳ ۔کیا گزشتہ اقوام بھی معاد کا عقیدہ رکھتے تھے ؟

۴ ۔ہمارے ضمیر کی عدالت کیسے ہمیں جزا یا سزا دیتی ہے ؟اس کی دلیل اور کچھ نمو نے بیان کیجئے۔

۵ ۔ضمیر کی عدالت اور قیامت کی عظیم عدالت کے درمیان کیا ربط ہے ؟

____________________

۱۔ جامعہ شناسی”کینگ“ ،ص۱۹۲


پانچواں سبق:قیامت،انصاف کی ترازومیں

کائنات کے نظام اور خلقت کے قوانین پر تھوڑا ساغور کرنے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ہرجگہ قانون کی حکمرانی ہے اور ہر چیز اپنی جگہ پربرقرارہے۔

یہ عادلانہ نظام،انسان کے بدن میں اس قدر باریکی کے ساتھ قائم ہے کہ اس میں چھوٹی سی تبدیلی اور ناہم آہنگی بیماری یا موت کا سبب بن جاتی ہے۔

مثال کے طور پر آنکھ، دل اور مغز کی بناوٹ میں ہر چیز اپنی جگہ پرہے اور ضروری حد تک یہ عدالت اور نظم نہ صرف انسان کے بدن میں موجود ہے بلکہ تمام کائنات پر حکم فرماہے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے:

”بالعدل قامت السموات و الارض“

”عدل کے ذریعہ آسمان اور زمین قائم ہیں“

ایک ایٹم اس قدر چھوٹا ہے کہ دسیوں لاکھ ایٹم ایک سوئی کی نوک میں سماسکتے ہیں ۔ذرا غور کیجئے کہ اس ایٹم کی بناوٹ کس قدر دقیق اور منظم ہونی چاہئے کہ کروڑوں سال سے اپنی اس حالت کو قائم رکھتا ہے۔

یہ الیکٹر ونوں اور یروٹونوں کے دقیق نظام میں غیر معمولی توازن وتعادل کی وجہ سے ہے اور کوئی بھی بڑا یا چھوٹا سسٹم اس حیرت انگیز نظام سے باہر نہیں ہے ۔

کیا واقعاًانسان ایک استثنائی مخلوق ہے؟اس عظیم کائنات کے لئے ایک نا موزون اور نا منظم جزء اور ایک بے جوڑ پیوند ہے کہ اسے آزاد رہنا چاہئے اور جس بے نظمی، ظلم اور بے انصافی کو چاہے ،اس کا مرتکب ہو جائے ؟یا یہاں پر ایک راز مضمر ہے؟

اختیار اور ارادہ کی آزادی

حقیقت میں انسان کائنات کی تمام مخلوقات سے ایک بنیادی تفاوت رکھتا ہے اور وہ اس کا ”اختیار اور ارادہ کی آزادی“رکھنا ہے۔

خداوند متعال نے انسان کو کیوں آزاد خلق کیا ہے اور فیصلہ کر نے کا حق اسے بخشا ہے تاکہ جو چاہے انجام دے؟

اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ آزاد نہ ہو تا تو وہ کمال حاصل نہیں کر سکتا تھا اور یہ عظیم امتیاز انسان کے معنوی واخلاقی کمال کا ضامن ہے ۔مثلاًاگر کسی کو نیزے کی نوک پر مستضعفین کی مدد کر نے اور معاشرے کی بھلائی کے کام انجام دینے پر مجبور کیا جائے ،تو بہر صورت یہ نیک کام انجام پاسکتا ہے،لیکن مدد کرنے والے کے لئے کسی قسم کے اخلاقی و انسانی کمال کا سبب نہیں بن سکتا ہے،حالانکہ اگر وہ اپنی مرضی اور ارادہ سے اس کا ایک فی صد حصہ بھی دیدے تو اسی قدر اس نے اخلاقی و معنوی کمال کی راہ پر قدم بڑھا یا ہے۔

اس لئے معنوی و اخلاقی کمال حاصل کر نے کی پہلی شرط ”اختیار وارادہ کی آزادی“ہے تاکہ انسان اپنی مرضی سے اس راہ کو طے کرے نہ کہ عالم طبیعت کے اضطراری عوامل کی طرح مجبوری کی حالت میں ۔خداوند متعال نے انسان کو یہ نعمت اسی بلند مقصد کے لئے عطا کی ہے۔

لیکن یہ نعمت اس پھول کے مانند ہے جس کے ارد گرد کانٹے بھی اگے ہو تے ہیں،او ریہ کانٹوں کا اگنا انسان کا اس آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھاکر ظلم وستم اور گناہ کا مرتکب وآلودہ ہو نا ہے۔

البتہ خدا وند متعال کے لئے اس میں کوئی مشکل نہیں تھی کہ اگر انسان ظلم وستم کا مرتکب ہوتا تو فوراً اس پر ایک ایسا عذاب نازل کر تا کہ پھر ایسا کبھی سوچتا بھی نہیں ،مثلاً اس کے ہاتھ فلج ہو جاتے ،آنکھیں اندھی ہو جاتیں اور زبان بے کار ہو جاتی۔

صحیح ہے کہ ایسی صورت میں کو ئی شخص آزادی کا نا جائز فائدہ نہ اٹھاتا اور گناہ کے پیچھے نہ جاتا،لیکن حقیقت میں یہ پرہیز گاری اور تقویٰ کا جبری پہلو ہوتا،اور انسان کے لئے کوئی فضیلت نہیں ہوتی بلکہ یہ شدید ،فوری اور بلا فاصلہ سزا سے ڈرنے کے سبب ہو تا۔

لہذا،انسان کو ہر حالت میں آزاد ہو نا چاہئے ،اور پرور دگار عالم کے گونا گوں امتحانات کے لئے آمادہ ہو نا چاہئے ،اور استثنائی مواقع کے علاوہ فوری سزاؤں سے محفوظ رہنا چاہئے تاکہ اپنی وجودی قدر ومنزلت کا مظاہرہ کر سکے۔لیکن یہاں پر ایک مطلب باقی رہ جاتا ہے ۔اور وہ یہ ہے :

اگر یہی حالت بر قرار رہے اور ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق راستہ کا انتخاب کرے،تو کائنات پر حکم فرما خدا کے قانون عدالت کی خلاف ورزی ہو گی۔

یہاں پر ہمیں یقین پیدا ہو تا ہے کہ انسان کے لئے ایک عدالت معیّن ہوئی ہے،جس میں بلا استثنا سب لوگ حاضر کئے جائیں تا کہ اپنے اعمال کی جزا پائیں اور عالم خلقت کی عمو می عدالت سے اپنا حصہ وصول کریں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ وقت کے نمرود ،فر عون ،چنگیزاور قارون ایک عمر ظلم و ستم کر تے رہیں اور ان کے لئے کسی قسم کا حساب و کتاب نہ ہو؟

کیا یہ ممکن ہے کہ مجرم اور پر ہیز گار دونوں کو پرور دگارکی عدالت کی ترازو کے ایک ہی پلّہ میں رکھا جائے؟

قرآن مجید اس سلسلہ میں سورہ قلم کی آیت نمبر ۳۵،۳۶ میں فر ماتا ہے:

( افنجعل المسلمین کا لمجرمین مالکم کیف تحکمون)

”کیا ہم اطاعت گزاروں کو مجرموں جیسا بنادیں ۔تمھیں کیا ہو گیا کیسا فیصلہ کر رہے ہو؟

ایک اور جگہ پر سورئہ ص کی آیت نمبر ۲۸ میں ارشاد ہو تا ہے :

( ام نجعل المتقین کا لفجّار)

”کیا ہم صاحبان تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دے دیں ؟“

صحیح ہے کہ بعض گناہگار اسی دنیا میں اپنے برے اعمال کی سزا پاتے ہیں یا اس سزا کے ایک حصہ کو پاتے ہیں ۔

صحیح ہے کہ ضمیر کی عدالت ایک اہم مسئلہ ہے۔

اور یہ بھی درست ہے کہ بعض اوقات گناہ اور ظلم وستم کے رد عمل اور بے انصافی کے برُے نتائج انسان کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیتے ہیں۔

لیکن اگر ہم درست اور دقت سے غور کریں تو معلوم ہو گا کہ مذکورہ تین امور میں سے کوئی ایک بھی عام نہیں تاکہ ہر ظالم وگناہ کار کو اس کے ظلم اور گناہ کے برابر سزادے۔ اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مکافات عمل کے چنگل ،ضمیر کی سزا اور اپنے برے اعمال کے رد عمل سے فرار کر جاتے ہیں یا کافی حد تک سزا نہیں پاتے۔

ایسے افراد اور عام لوگوں کے لئے عدل وانصاف کی ایک عدا لت کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہاں پرذرہ برابر بھی نیک اور برُے کام کا محاسبہ ہو،اگر ایسا نہ ہو گا تو اصلاًعدل وانصاف حاصل نہیں ہو گا۔

لہذا ”پرور دگارکے وجود“اور ”اس کے عدل“کو قبول کرنا ”قیامت“اور ”دوسری دنیا“ کے قبول کر نے کے برابر ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے جزو لا ینفک ہیں۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔آسمان اور زمین عدل کے ذریعہ کیسے قائم ہیں؟

۲ ۔انسان کو ”اختیار و ارادہ“کی آزادی کی نعمت سے کیوں نوازا گیا ہے؟

۳ ۔اگر گناہ گاراسی دنیا میں فوری طور پر اپنے اعمال کی شدید سزاپاتے تو کیا ہوتا؟

۴ ۔مکافات عمل ،ضمیر کی عدالت اور ہمارے اعمال کے رد عمل ہمیں قیامت کی عدالت سے کیوں بے نیاز نہےں کرتے؟

۵ ۔”عدل الہٰی“ اور ”معاد“کے مسئلہ کے در میان کیا رابطہ ہے؟


چھٹا سبق:معاد کا اسی دنیا میں مشاہدہ

قرآن مجید کی آیات اس حقیقت کو بخوبی بیان کرتی ہیں کہ بت پرست اور تمام کفار نہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے زمانے میں بلکہ دوسرے زمانوں اور عصروں میں بھی معاد اور موت کے بعد زندہ ہو نے کے مسئلہ پر تعجب اور وحشت کا اظہار کرتے تھے، حتیٰ اس قسم کا اعتقاد رکھنے والوں کو دیوانہ شمار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے تھے:

( هل ندلّکم علی رجل ینبئکم إذا مزّ قتم کلّ ممزّق إ نّکم لفی خلق جدید افتریٰ علی اللّٰه کذباً ام به جنّة ) (سبا/ ۷ ۔ ۸)

”کیا ان کا کہنا ہے کہ ہم تمھیں ایسے آدمی کا پتہ بتائیں گے جو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤگے تو تمھیں نئی خلقت کے بھیس میں لایا جائے گا ۔اس نے اللہ پر جھوٹا الزام باندھا ہے یا اس میں جنون پایا جاتا ہے۔“

جی ہاں،اس روز لاعلمی جہالت اور تنگ نظری کے سبب،موت کے بعد والی دنیا اور مردوں کے زندہ ہونے کے عقیدہ کو ایک قسم کی دیوانگی یا خدا پر تہمت شمار کیا جاتا تھا۔اور بے روح مادہ(مرنے کے بعد خاک میں ملے جسم)سے چشمہ حیات کے جاری ہونے کے عقیدہ کو دیوانگی سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس قسم کے افکار کے مقابلہ میں مختلف دلائل پیش کی ہیں،کہ ان سے عام لوگوں کے علاوہ بڑے دانشور اور مفکرین بھی اپنی فکری صلا حیتوں کے مطابق استفادہ کر سکتے ہیں۔

اگر چہ قرآن مجید کی ان دلائل کی تشریح کر نے کے لئے ایک مستقل کتاب تالیف کرنے کی ضرورت ہے،لیکن ہم یہاں پر ان کے چند نمونے پیش کر نے پر اکتفا کرتے ہیں :

۱ ۔کبھی قرآن مجید ان سے کہتا ہے کہ تم لوگ اپنی روز مرہ زندگی میں اپنی آنکھوں سے ہمیشہ معاد کے مناظرکا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ کس طرح بعض مخلوقات مرتی ہیں اور پھر زندہ ہوتی ہیں ،کیا اس کے باوجود بھی تم لوگ معاد کے مسئلہ میں شک وشبہہ کرتے ہو؟!

( واللّه الّذی ارسل الرّیٰح فتثیر سحاباً فسقنه الیٰ بلد مّیّت فاحیینا به الارض بعد موتها کذٰلک النشور ) ( سورہ فاطر/ ۹)

”اللہ ہی وہ ہے جس نے ہواؤں کو بھیجا تو وہ بادلوں کو منتشر کرتی ہیں اور پھر ہم انھیں مردہ شہر تک لے جاتے ہیں اور زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندہ کر دیتے ہیں ،اسی طرح مردے دو بارہ اٹھائے جائیں گے۔“

موسم سر ما میں جب ہم طبیعت کے چہرہ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر سو موت کے آثار نظر آتے ہیں،درخت پتوں،پھولوں اور میوؤں سے خالی پڑے ہیں اور خشک لکڑی بن کر اپنی جگہوں پر بے حرکت کھڑے ہیں،نہ کوئی پھول مسکراتا ہے اور نہ کوئی کلی کھلتی دکھائی دیتی ہے اور نہ پہاڑوں اور صحراؤں میں کہیں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں۔

جب بہار کا موسم آتا ہے ،ہوا ملائم ہوتی ہے ،بارش کے حیات بخش قطرات برسنے لگتے ہیں ،دیکھتے ہی دیکھتے پوری طبیعت میں ایک حرکت نمایاں ہو جاتی ہے:سبزے اور پودے اگنے لگتے ہیں،درختوں پرپتے لکل آتے ہیں، کلیاں اور پھول کھل اٹھتے ہیں، پرندے درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھ کر چہچہانے لگتے ہیں اور ”محشر“ کا شور بپا ہوجاتاہے۔

اگر موت کے بعد زندگی کے کوئی معنی نہ ہوتے تو ہم ہر سال اپنی آنکھوں کے سامنے ان مناظر کا مشاہدہ نہیں کرتے، اگر موت کے بعد زندگی ایک ناممکن امر اور دیوانگی کی بات ہوتی تو، ہماری آنکھوں کے سامنے اس طرح محسوس صورت میں اس کی ہرگز تکرار نہ ہوتی۔آخر زمین کے مرنے کے بعد زندہ ہونے اور انسان کے مرنے کے بعد زندہ نے میں کیا فر ق ہے؟

۲ ۔ کبھی قرآن مجید ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں ابتدائے خلقت کی طرف لے جاتاہے، ابتدائی خلقت کی یاد دہانی کراتاہے،اس صحرائی مرد کی داستان کی طرف اشارہ کرتاہے جو سڑی گلی ایک ہڈی کا ٹکڑالے کر پیغمبر اسلام کی خدمت میں آگیا اورر چیخ چیخ کر کہنے لگا:” اے محمد! کون اس سڑی ہوئی ہڈی کو پھر سے زندہ کرنے کی طاقت رکھتاہے؟ مجھے بتادو کہ کون یہ کام انجام دے سکتاہے؟“ وہ گمان کررہا تھا کہ مسئلہ معاد کے خلاف ایک دندان شکن دلیل لے آیا ہے۔ لیکن قرآن مجید نے پیغمبر اسلام کو یہ فرمانے کا حکم دیا:

( قل یحییها الذی انشاها اوّل مرّة ) (سورہ یٓس/ ۷۹)

” آپ کہدیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ(بے جان مادہ سے) خلق کیا ہے وہی (پھر سے ) زندہ کرے گا“

ابتدائی خلقت اور دوبارہ پیدا کرنے میں کیا فرق ہے ؟

لہذا دوسری آیات میں ایک بالکل مختصر لیکن بامعنی جملہ میں فرماتاہے:

( کما بدانا اول خلق لغید ) ( سورہ نساء/ ۱۰۳)

” جس طرح ہم نے شروع میں خلق کیا اسی طرح پھر لوٹا دیں گے۔“

۳ ۔ کبھی قرآن مجید وسیع زمین وآسمان کی خلقت کے بارے میں خداوند متعال کی عظیم قدرت کی یاد دہانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:

( اولیس الّذی خلق السّموات و الارض بقدر علی ان یخلق مثلهم بلی وهو الخلّق العلیم ۰انّما امره اذا اراد شیئا ان یقول له کن فیکون۰ ) سورہ یٓس/ ۸۱ ۔ ۸۲

” تو کیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کا مثل دوبارہ پیدا کردے۔ یقینا ہے اور وہ بہترین پیدا کرنے والا اور جاننے والاہے۔ اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ہوجا تو وہ شے فورا ہوجاتی ہے۔“

ان مسائل میں شک وشبہہ کرنے والے، ایسے افراد تھے جن کی فکر کی فضا ان کے چھوٹے سے گھر کی چار دیواری سے زیادہ نہیں تھی، ورنہ وہ جانتے تھے کہ دوبارہ زندہ کرنا ابتدائی خلقت سے آسان اور سادہ تر ہے اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے خدا کی قدرت کے مقابلہ میں مردوں کو زندہ کرنا کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔

۴ ۔ قرآن مجید کبھی موت کے بعد زندہ کرنے کی پروردگار کی ”طاقتوں“ کو ان کی نظروں میں منعکس کرکے فرماتاہے:

( الّذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارا فاذا انتم منه توقدون ) (سورہ یٓس/ ۸۰)

” اس نے تمھارے لئے ہرے درخت سے آگ پیدا کردی ہے تو تم اس سے ساری آگ روشن کرتے رہے ۔“

یعنی جو خدا ہرے درخت سے آگ پیدا کرسکتا ہے وہ انسانوں کو مرنے کے بعد زندہ کرنے کی بھی قدرت رکھتاہے ۔

جب ہم قرآن مجید کی اس عجیب و غریب تعبیر پر دقت سے غور کرتے ہیں اور جدید سائنس سے مدد لیتے ہیں تو سائمنس ہمیں تباتی ہے: جب ہم کسی درخت کی لکڑی کو جلاتے ہیں تو اس سے جو آگ نکلتی ہے، یہ وہی سورج کی گری اور نورہے جو سالہا سال سے طاقت (انرجی) کی صورت میں درخت میں درخت میں ذخیرہ ہوئی ہے۔ ہم خیال کرتے تھے وہ نور اور حرارت نابود ہوچکی ہے، لیکن آج دیکھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں اورحیات کا لباس نوزیب تن کرلئے ہیں۔

کیا اس خدا کے لئے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا مشکل امر ہے، جو یہ قدرت رکھتا ہے کہ دسیوں سال تک آفتاب کے نور و حرارت کو ایک درخت کے جسم مین زخیرہ کرے اور ایک لمحہ میں اس حرارت اور نور کو درخت سے بارہر لے آئے(۱) ؟

بہر حال ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے کیسی مستدل اورواضح منطق سے ان لوگوں کا دندان شکن جواب دیکر معاد کے ممکن ہونے کو واضح طور پر ثابت کردیاہے، جو مسئلہ میں شک و شبہہ ایجاد کرتے تھے اور حتی کہ معاد کا اعتقاد رکھنے والوں کو دیوانہ کہتے تھے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ مسئلہ معاد سے مشرکین کیوں تعجب کرتے تھے؟

۲ ۔ معاد کے منظر کو ہم کیسے ہر سال پودوں میں مشاہدہ کرتے ہیں؟

۳ ۔ قرآن مجید نے اپنی بعض آیات میں جنین کے دوران کو معاد کی ایک نشانی تبائی ہے، اس کی وجہ کیاہے؟

۴ ۔ توانائیوں(انرجیوں) کا دوبارہ زندہ ہونا کیاہے؟

۵ ۔ قرآن مجید نے کیوں” الشجر الاخضر“(ہر ے درخت) سے استدلال کیا ہے؟

____________________

۱۔ قابل غور بات ہے کہ سائنس(علم نباتات) نے ثابت کیا ہے کہ ہرے درخت سورج کی روشنی سے کاربن ڈائی اوکسائڈ گیس کو جذب کرکے اس کاتجزیہ کرتے ہیں اور کاربن کو اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیںا ور اوکسیجن کو چھوڑ دیتے ہیں اس کے علاوہ سورج کی توانای (انرجی) کو بھی اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔


ساتواں سبق:معاد اور تخلیق کا فلسفہ

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ خداوند متعال نے ہمیں کس لئے پیدا کیا ہے؟

باغبان درخت کو پھل کے لئے لگاتاہے، کسان فصل کاٹنے کے لئے زمین کو کھود کر اس میں کیاریان بناتا ہے اور بیج بوتاہے۔ آخر خلقت کے باغبان نے ہمیں کس لئے پیدا کیا ہے؟

کیا خداوند متعال کو کسی چیز کی کمی تھی، جس کی تلافی کے لئے ہمین خلق کیاہے؟ اس صورت میں تو خدا کو محتاج ہونا پڑے گا اور پروردگار کے لئے محتاج ہونا اس کی ذات اور اس کے لامحدود وجود کے شایان شان نہیں ہے۔

مذکورہ سوالات کا جواب مفصل ہے لیکن ان کے جواب چند جملوں میں خلاصہ کرکے واضح کیا جاسکتاہے:

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم خداوند متعال کی صفات کا اپنی ذات سے موازنہ کرتے ہیں، چونکہ ہم ایک محدود مخلوق ہیں، اس لئے جو بھی کام انجام دیتے ہیں، اپنی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہوتاہے، ہم سبق پڑھتے ہین تا کہ اپنی علمی کمی کو پورا کریں، کام کرتے ہیں تا کہ اپنی مال کمی پورا کریں ۔ علاج و معالجہ کے پیچھے دوڑتے ہین تا کہ صحت وسلامتی حاصل کریں۔

لیکن خداوند متعال، جو ہر لحاظ سے ایک لا محدود وجود ہے، اگر کو ئی کام انجام دے تو ہمیں اس کے مقصد کو اس کے وجود سے باہر جستجو اور تلاش کرنی چاہئے، وہ اس لئے کسی کو پیدا نہیں کرتا ہے تا کہ خود اسے کوئی فائدہ ملے،بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ”اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازے“۔

وہ ایک پر نور اور لا محدود سورج ہے ، جو کسی احتیاج کے بغیر اپنا نور پھیلاتاہے تا کہ سب اس کے وجود سے مستفید ہوں ۔ یہ اس کی لامحدود اورپر برکت و پر فیض ذات کا تقاضا ہے کہ تمام مخلوقات کا ہاتھ بکڑ کر انھیں کمال کے راستہ پر گامزن کرتاہے۔

ہماری خلقت اپنے عدم سے کمال کی طرف ایک برجستہ قدم تھا خدا کی طرف سے انبیاء کا بھیجنا،آسمانی کتابوں کا نزول اور قوانین و احکام کا معین ہونا، ہر ایک ہمارے کمال کے مراحل شمار ہوتے ہیں ۔

یہ دنیا ایک عظیم یونیورسٹی ہے اور ہم اس کے طالب علم ہیں(۱) ۔

یہ دنیا ایک آمادہ کھیت ہے اورہم اس کے کسان ہیں(۲) ۔

یہ دنیا ایک فائدہ بخش تجارتی مرکز ہے اورہم اس کے تاجر ہیں(۳) ۔

ہم کیسے انسان کی خلقت کے لئے کسی مقصد کے قائل نہیں ہوسکتے ؟ حالانکہ جب ہم اپنے اطراف پر نظر ڈالتے ہیں اور مخلوقات کے ذرہ ذرہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ ان میں سے ہر ذرہ کا ایک مقصد ہے۔

ہمارے بدن کے عجیب وغریب کارخانہ میں کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں ہے یہاں تک کہ ہمارے آنکھوں کی پلکیں اور ہمارے تلوؤں کی گہرائی بھی بے مقصد نہیں ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے وجود کا ہر جز کوئی مقصد رکھتا ہولیکن ہمارا پورا وجود بے مقصد ہو؟

جب ہم اپنے وجود سے باہر آکر اس عظیم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں،تو ہم اس کائنات میں موجود ہر چیز کو بامقصد پاتے سورج کی روشنی با مقصد ہے ،بارش کا برسنا با مقصد ہے اور ہوا کاچلنا بھی بامقصد ہے، لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ پوری کائنات بے مقصد ہو؟!

حقیقت یہ ہے کہ گویا اس عظیم کائنات کے بیچ میں مقصد کی نشامذہبی کے لئے ایک بڑاسائن بورڈ نصب کیا گیا ہے ہم اس کی عظمت کے پیش نظر کبھی پہلے لمحات میں اسے دیکھ نہیں پاتے ہیں اس سائن بورڈپر یہ عبارت لکھی گئی ہے: ” تربیت و تکامل“۔

اب جبکہ ہم اپنی خلقت کے مقصد کے بارے میں کسی حدتک آگاہ ہوگئے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری اس دنیا کی چند دنوں کی زندگی ان تمام مشکلوں،مصیبتوں اور ناکامیوں کے ساتھ ہماری خلقت کا مقصد ہوسکتی ہے؟

فرض کیجئے میں اس دنیا میں ساٹھ سال زندگی بسر کروں ،ہرروز صبح سے شام تک روزی کمانے کے لئے کوشش کروں اور شام کو تھکا ہوا گھر لوٹوں ،اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ میں اپنی پوری عمر میں کئی ٹن غذا اور پانی صرف کروں ،بڑی زحمتوں اور محنتوں کے بعد ایک گھر تعمیر کروں ،پھر اسے یہیں پر چھوڑ کر اس دنیا سے چلاجاؤں ۔کیا اس مقصد کی یہی اہمیت ہے کہ مجھے درد ورنج سے بھری اس چند روزہ زندگی کی طرف بلایا جائے؟

اگر ایک انجینئر ،ایک بیابان کے بیج میں ایک بڑی عمارت تعمیر کرے اور اس کو مکمل کر نے میں اسے برسوں لگ جائیں اور اس عمارت کو مکمل کر نے کے بعد اس میں تمام سازوسامان فراہم کرے ۔لیکن جب اسے اس عمارت کی تعمیر کے بارے میں سوال کریں کہ آپ کا مقصد کیا ہے؟ تو وہ جواب میں کہے :میرا مقصد یہ ہے کہ جب تک یہ عمارت اس بیابان میں موجود ہے جو بھی مسافر یہاں سے گزرے،اس میں ایک گھنٹہ آرام کرے!کیا یہ جواب سن کر ہم سب تعجب سے یہ نہیں کہیں گے :ایک مسافر کے ایک گھنٹہ آرام کے لئے اس قدر زحمتوں اور محنتوں کی ضرورت نہیں تھی!

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ قیا مت اور موت کے بعد والی زندگی کا عقیدہ نہیں رکھتے ہیںوہ اس دنیا کی زندگی کو فضول سمجھتے ہیں ۔مادہ پرستوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سنا گیا ہے کہ اس دنیا کی زندگی بے مقصد ہے۔حتی بعض اوقات ان میں سے کچھ افراد خود کشی کر لیتے ہیں کیونکہ وہ اس دنیا کی مادی اور مکرر اور بے مقصد زندگی سے تنگ آجاتے ہین۔

جو چیز زندگی کو مقصد بخشتی ہے اور اسے معقول اور با حکمت بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس زندگی کو دوسری دنیا کے لئے مقدمہ سمجھاجائے اور اس زندگی کے مشکلات کو برداشت کر نا اور اس کے لئے اتنے دکھ درد اٹھانا ایک ابدی زندگی کی راہ میں استفادہ کر نے کے لئے ہو۔

یہاں پر اس دلچسپ مثال کا پھر سے ذکر کر نا مناسب ہو گا جسے ہم نے اس سے پہلے بیان کیا ہے،یعنی اگر ماں کے شکم میں موجود جنین صاحب عقل وشعور ہو تا اور اس سے کہا جاتا :”تیری اس زندگی کے بعد کوئی خبر نہیں ہے ،“تو وہ اپنی زندگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہتا:”پس اس کا کیا مطلب ہے کہ میں اس جگہ قیدی بنا رہوں؟خون پیتا رہوں اور ہاتھ پاؤں باندھے ہو ئے ایک کو نے میں پڑا رہوں اور اس کے بعد کچھ نہ ہو ؟پرور دگار کا میری اس خلقت سے کیا مقصد تھا؟!“لیکن اگر اسے اطمینان دلایا جائے کہ یہ چند مہینے جلدی گزرنے والے ہیں اور یہ دنیا میں نسبتاً ایک طولانی زندگی کی آمادگی کا دور ہے ،وہ دنیا اس جنین کے ماحول سے بہت زیادہ وسیع،پر نور اور با شکوہ ہے اور اس کی نسبت زیادہ نعمتوں سے مالا مال ہے۔“اس وقت وہ مطمئن ہو جائے گا کہ اس کاجنینی دوران ایک با معنی و با مقصد دور ہے اسی لئے قابل برداشت ہے۔

قرآن مجید سورہ واقعہ آیت نمبر ۶۲ میں ارشاد فر ماتا ہے:

( ولقد علمتم النشّاة الاولیٰ فلو لا تذکرون)

”اور تم پہلی خلقت کو تو جانتے ہو تو پھر اس میں غور کیوں نہیں کرتے ہو؟(کہ اس کے بعد بھی ایک جہان ہے)۔“

مختصر یہ کہ یہ دنیا اپنے تمام وجود سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کے بعد ایک اور دنیا ہے ورنہ یہ دنیا فضول ،بیہودہ اور بے معنی ہوتی ۔

اس بات کو قرآن مجید کی زبانی سنئے کہ سورہ مو منون کی آیت نمبر ۱۱۵ میں ارشاد فر ماتا ہے:

( افحسبتم انّما خلقنکم عبثا وانکم إ لینا لا تر جعون)

”کیا تمھارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمھیں بیکار پیدا کیا اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاؤ گے؟“

اس کا اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ اگر ”معاد“(جس کی تعبیر قرآن مجید میں خدا کی طرف پلٹنا ہے)کا وجود نہ ہو تا تو انسان کی خلقت عبث اور بیہودگی کے برابر ہوتی۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلقت کا فلسفہ کہتا ہے:اس عالم کے بعد ایک اور عالم کا وجود ضروری ہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔خدا کی صفات کا مخلوق کی صفات سے کیوں موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے؟

۲ ۔ہماری خلقت کا مقصد کیا ہے؟

۳ ۔کیا اس دنیا کی زندگی انسان کی خلقت کا مقصد ہوسکتی ہے۔

۴ ۔جنین کی زندگی کا اس دنیا کی زندگی سے موازنہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

۵ ۔قرآن مجید اس دنیا کی تخلیق سے آخرت کے وجود پر کیسے استدلال کرا ہے؟

____________________

۱،۲،۳:نہج البلاغہ:کلمات قصار اور حدیث مشہور”الدنیا مزرعة الآخرة“ کامضمون۔


آٹھواں سبق :روح کی بقاء،قیامت کی ایک علامت

کوئی شخص نہیں جانتا ہے کہ انسان کب سے”روح“کے وجود کے بارے میں فکر کرنے لگاہے۔

صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ انسان ابتداء سے ہی اپنے اور اس دنیا کی دوسری مخلوقات کے در میان فرق کا مشاہدہ کرتا رہا ہے ،اپنے او رپتھر ،لکڑی ،پہاڑ اور صحرا کے در میان فرق،اپنے اور حیوانات کے در میان فرق۔

انسان نے خواب کی حالت کو دیکھا تھا ،اسی طرح اس نے موت کی حالت کو بھی دیکھاتھا ۔وہ دیکھ رہاتھا کہ خواب اور موت کے دوران بغیر اس کے کہ جسم و مادہ میں کوئی تبدیلی ایجاد ہو اس کی حالت میں ایک عظیم تغیر وتحول پیدا ہوتا ہے ،یہیں سے اس نے سمجھا کہ اس جسم کے علاوہ ایک اور گوہر بھی اس کے اختیار میں ہے۔

اس کے علاوہ وہ دیکھ رہا تھا کہ حیوانات سے بھی فرق رکھتا ہے،کیونکہ وہ فیصلے لینے میں اختیار وآزادی کا مالک ہے ،جبکہ حیوانات کی نقل وحرکت فطری اور جبری ہے۔

بالخصوص نیند کی حالت میں جب اس کے بدن کے تمام اعضاء ایک کونے میں خاموش پڑے ہوتے تھے اور وہ خواب میں مختلف مناظر کا مشاہدہ کرتا تھا تو اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ ایک مخفی اور پر ُاسرارطاقت اس کے وجود پر حکم فر ماہے ،تو اس نے اس کا نام ”روح“ رکھا۔

جب عالم بشریت کے مفکرین نے فلسفہ کی بنیاد ڈالی تو ”روح“ایک اہم فلسفی مسئلہ کے عنوان سے دوسرے مسائل کی فہرست میں قرار پائی ۔اس کے بعد تمام فلاسفہ نے اس کے بارے میں اپنے نظریات پیش کئے،یہاں تک کہ بعض اسلامی علماء کے کہنے کے مطابق ،روح کی حقیقت اور اس سے مربوط دوسرے مسائل کے بارے میں تقریباً ”ایک ہزار اقوال ونظریات“پیش کئے گئے ہیں۔ یہ ایک لمبی بحث ہے، لیکن جس اہم مطلب کو جاننا ضروری ہے،وہ اس سوال کا جواب ہے:

کیا روح مادہ ہے یا غیر مادہ ؟دوسرے الفاظ میں :کیا روح مستقل ہے یا مغز واعصاب کے سلسلہ کے مادی اور کیمیاوی خصوصیات میں سے ہے؟

بعض مادی فلاسفہ اس بات پر مصر ہیں کہ روح اور اس سے متعلق مظاہر بھی مادی ہیں اور مغز کے خلیوں کے خواص میں سے ہیں،اور جب انسان مرتا ہے تو اس کے ساتھ روح بھی نابود ہو جاتی ہے ،بالکل اسی طرح کہ ایک گھڑی پر ہتھوڑی مار کر اسے توڑ دیا جائے تو اس گھڑی کا چلنابھی بند ہو جا تا ہے!

اس گروہ کے مقابلہ میں الہٰی فلاسفہ ہیں،حتی بعض مادی فلاسفہ بھی جوروح کی حقیقت کے قائل ہیں ،وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ بدن کے مرنے سے روح نہیں مرتی بلکہ وہ باقی رہتی ہے۔

اس مسئلہ ،یعنی روح کی حقیقت ،استقلال اور بقاء کو ثابت کر نے کے لئے کافی اور پیچیدہ دلائل پیش کی گئی ہیں کہ ہم یہاں پر ان میں سے بعض واضح ترین دلائل کو آسان اور روان عبارتوں میں اپنے عزیز نو جوانوں کی آگاہی کے لئے بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ ایک وسیع کا ئنات ایک چھوٹی جگہ میں نہیں سما سکتی

فرض کیجئے آپ ایک عظیم سمندر کے کنارے بیٹھے ہیں ۔اس کے ساحل پر سربفلک پہاڑوں کاایک سلسلہ ہے ۔پانی کی گرجتی لہریں مسلسل ساحلی چٹانوں سے ٹکراتی ہیں اور غیض وغضب کی حالت میں سمندر کی طرف پلٹ جاتی ہیں۔

پہاڑ کے دامن میں واقع بڑی بڑی چٹانیں بتارہی ہیں کہ پہاڑوں پر کیا غوغا ہے،نیلگوں آسمان بھی اس پہاڑ اور سمندر پر خیمہ لگائے ہوئے ہے اور رات کے وقت اپنی عظمت و شکوہ کا مظا ہرہ کر رہا ہے۔

ہم ایک لمحہ اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے اس منظر کو اپنے ذہن میں اسی شان وشوکت اور عظمت کے ساتھ مجسم کرتے ہیں۔

بے شک اس ذہنی نقشہ اور اس عظیم منظر اور تصور کے لئے ایک مناسب جگہ کی ضرورت ہے،ممکن نہیںہے کہ یہ نقشہ مغز کی چھوٹی خلیوں میں سما سکے ،اگر ایسا ہو تو ایک بڑا نقشہ ایک چھوٹے سے نقطہ پر سمائے گا (جو محال ہے)،جبکہ ہم اس نقشہ کو اس کی تمام عظمتوں کے سا تھ اپنے ذہن میں احساس کرتے ہیں۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم جسم اور مغز کی خلیوں کے علاوہ ایک اور گوہر رکھتے ہیں اور ہر اندازہ کے نقشہ کو اپنے اندر منعکس کر سکتا ہے،یقینا یہ گوہر عالم مادہ سے ماوراء ہے،کیونکہ مادی دنیا میں ہمیں ایسی چیز نہیں ملتی ہے۔

۲ ۔بیرونی دنیا میں روح کے انعکاس کی خصوصیت

ہم اپنے وجود کے اندر بہت سی طبیعیاتی اور کیمیاوی خاصیتں رکھتے ہیں،معدہ اور دل کی حرکتیں طبیعیاتی عمل ہیں،لیکن آب دہن اور معدہ کی رطوبت کا غذا پر اثر ایک کیمیاوی عمل ہے ۔اور اس قسم کے عوامل ہمارے پورے جسم میں فراواں صورت میں پائے جاتے ہیں۔

اگر روح ،سوچ اور فکر سب مغزکی خلیوں کی مادی ،طبیعیاتی اور کیمیاوی خصو صیتیں ہیں،توان میں اور ہمارے جسم کی دوسری خصوصیتوں میں کیوں فرق پا یا جا تا ہے؟

فکر واندیشہ اور روح بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارے رابطہ اور پیوند کو برقرار کرتی ہیں اور ہمارے ارد گرد گزرنے والے حالات سے ہمیں آگاہ کرتی ہیں،لیکن لعاب دہن اور معدہ کی رطوبت کی کیمیائی خصو صیتں اور آنکھ ،زبان،اور دل کی طبیعیاتی حر کتیں ہر گز یہ حالت نہیں رکھتی ہیں ۔

دوسرے الفاظ میں ،ہم بخوبی احساس کرتے ہیں کہ ہمارا وجودبیرونی دنیا سے

مر بوط ہے ،اور ہم اس کے مسائل سے آگاہ ہیں ،کیا بیرونی دنیا ہمارے اندر داخل ہوتی ہے؟ یقینا نہیں،پس مسئلہ کیا ہے؟

یقینا بیرونی دنیا کا نقشہ ہماے پاس آتا ہے اور ہم روح کی بیرونی منظر کشی کی خصوصیت سے استفادہ کے ذریعہ اپنے وجود سے باہر والی دنیا کے بارے میں آگاہ ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت ہمارے جسم کے کسی بھی طبیعیاتی اور کیمیائی حصہ میں موجود نہیں ہے۔(غور کریں)

دوسری عبارت میں :بیرونی اور عینی مخلوقات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے ان پر ایک قسم کا تسلط اور حاوی ہو نا ضروری ہے ۔یہ کام مغز کی خلیوں کا نہیں ہے،مغز کی خلیے صرف باہر سے متاثر ہو سکتی ہیں ،جس طرح جسم کی دوسری خلیے متاثر ہوتی ہیں۔

اس فرق سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں پر طبیعیاتی اور کیمیائی تبدیلیوں کے علاوہ ایک اور حقیقت کا وجود ہے جو ہمیں اپنے وجود سے باہر والی دنیا پر مسلط اور حاوی کرتی ہے اور یہ ”روح“کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے ،جو مادی دنیا اور مادہ کی خصوصیات سے بالاتر ہے۔

۳ ۔روح کے حقیقی اور مستقل ہونے پر تجرباتی دلائل

خوش قسمتی سے آج دنیا کے دانشوروں اور سائنسدانوں نے مختلف علمی اور تجربی طریقوں سے روح کی حقیقت اور اس کے مستقل ہونے کو ثابت کیا ہے اوران لوگوں کا داندان شکن جواب دیا ہے جو روح کے مستقل ہو نے کے منکر ہیں اور اسے مادہ کی خصوصیات سے نیز اس کا تابع جانتے ہیں ۔

۱ ۔مقنا طیسی خواب (ہیپنو ٹزم یا میگنیٹزم)ان محکم دلائل میں سے ہیں جو بہت سے تجربوں کے بعد ثابت ہوئے ہیں ۔بہت سے لوگوں نے انھیں دیکھا ہے ،جن لوگوں نے ان کو نہیں دیکھا ہے،ان کے لئے تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے:

کچھ افراد مختلف علمی طریقوں سے کسی اور شخص کے ذریعہ نیند میں چلے جاتے ہیں،کسی کو نیند میں ڈالنے والے کو”عامل “کہا جاتا ہے اور نیند میں چلا جانے والا ”میڈیم“کہلاتا ہے۔”میڈیم“شخص تلقین ،فکری تمرکز،اور آنکھ کی مقنا طیسی قوت جیسی چیزوں کے ذریعہ ایک گہری نیند میں چلا جاتا ہے ،لیکن یہ نیند عام نیند کے مانند نہیں ہوتی ہے ،بلکہ یہ ایک ایسی نیند ہوتی ہے جس میں سونے والے (میڈیم)سے رابطہ برقرار کیا جاسکتا ہے،اس سے بات کی جاسکتی ہے اور اس کا جواب سنا جاسکتا ہے۔

اسی حالت میں روح سونے والے کو مختلف جگہوں پر بھیجتی ہے،کبھی وہ وہاں سے اپنے ساتھ تازہ خبریں لے آتا ہے اور ایسے مسائل کی اطلاع حاصل کرتا ہے،جن کے بارے میں عام حالت میں اسے کوئی خبر نہیں ہوتی ہے۔

کبھی اس حالت میں ریاضی کے پیچیدہ ترین سوال حل کرتا ہے۔

کبھی اس مقنا طیسی نیند کے دوران اپنی مادری زبان کے علاوہ ایک ایسی زبان میں بات کرتا ہے ،جس سے وہ کبھی آشنا نہیں تھا۔

کبھی کسی مقفّل صندوق میں رکھے ہوئے کاغذ پر کچھ مطالب وہ لکھ دیتا ہے ۔

حتی کہ کبھی ارواح ،شبح (دورسے نظرآنے والے جسم) کی صورت میںاور کبھی واضح سایوں کی صورت میں اس قسم کے اجتماعات میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کی تفصیل ہم نے کتاب”عودارواح“ میں بیان کی ہے۔

۲ ۔”اسپرٹزم“ یا”موت کے بعد ارواح سے ارتباط“ روح کی حقیقت اور استقلال کی ایک دلیل ہے۔

اس وقت بھی ”روحیون کی جماعتوں“ کے نام سے دنیا بھر میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں۔ جن کے بارے میں مصری دانشور”فریدوجدی“ کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے تقریبا تین سورسالے اورروزنامے دنیا بھر میں شائعے ہوتے ہیں۔ مختلف شخصیتوں پر مشمل معروف افراد ان کے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ارواح سے رابطہ قائم کیا جاتاہے اور اس کے علاوہ بہت سے غیر معمولی کام بھی انجام دئے جاتے ہیں۔

اگر چہ بعض فریب کار، روح سے ارتباط کے مسئلہ کے بارے میں کسی قسم کا علم رکھے بغیر لوگوں کو دھو کہ دینے کے لئے ارواح سے رابطہ کا دعوی کرتے ہیںا ور اس طرح اس سے کافی حد تک ناجائز فائدہ اٹھا تے ہیں۔ لیکن یہ فریب کاری اس حقیت کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا بڑے بڑے محققین نے اعتراف کیا ہے اور وہ ارواح کے ساتھ رابطہ کا ممکن ہونا ہے(۱) ۔

یہ سب انسان کی روح کی حقیقت ، اس کے استقلال اور مرنے کے بعد باقی رہنے کی دلیل ہے، اور معاد اورموت کے بعد زندگی کی حقیقت کے سلسلہ میں ایک مؤثر قدم ہے۔

۳ ۔ وہ خواب جو ہم دیکھتے ہیں اور خواب کی حالت میں ہمارے سامنے مجسم ہونے والے مناظر کبھی مستقبل میں رونما ہونے والے حوادث سے پردہ اٹھاتے ہیں اور پوشیدہ مسائل کو آشکار کرتے ہیں، ان کو ہم محض اتفاق نہیں کہہ سکتے، بلکہ یہ بھی روح کی حقیقت و استقلال کی ایک اور دلیل ہیں۔

اکثر افراد نے اپنی زندگی میں سچے خواب دیکھے ہیں اس کے علاوہ سنتے آئے ہیں کہ فلاں دوست نے ایک ایسا خواب دیکھا ہے کہ ایک مدت کے بعد کسی کمی بیش کے بغیر اس کی تعبیر سچ نکلی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ انسان کی روح کا خواب کی

حالت میں دوسرے عوالم سے رابطہ ہوتاہے اور وہ کبھی مستقبل میں رونما ہونے والے حوادث کا مشاہدہ کرتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ اموربخوبی ثابت کرتے ہیں کہ روح مادی نہیں ہے اور یہ انسان کے مغز کی طبیعیاتی اور کیمیائی خصوصیت نہیں ہے، بلکہ یہ ماورائے طبیعت ایک حقیقت ہے جو اس جسم کے مرنے سے نابود نہیں ہوتی ہے اور یہ امور بذات خود مسئلہ معاد اور موت کے بعد عالم آخرت کو ثابت کرنے کے لئے راہ کوہمرارکرتی ہیں۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ روح کے مسئلہ میں الہی فلاسفہ اور مادی افراد کے درمیان کیا فرق ہے؟

۲ ۔ روح کی حقیقت کی ایک دلیل ”بڑی چیز کا چھوٹی جگہ میں نہ سماناہے“ اس سے مراد کیاہے؟

۳ ۔ ”مقناطیسی خواب“ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

۴ ۔ ارواح کے ساتھ ارتباط سے کیا مراد ہے؟

۵ ۔ سچے خواب کس طرح روح کی حقیقت اوراستقلال کی دلیل ہے؟

____________________

۱۔ اس کی مزید و ضاحت کے لئے کتاب”عود ارواح“ اورکتاب”معاد وجہان پس از مرگ“ کی طرف رجوع فرمائیں۔


نواں سبق:جسمانی اورروحانی معاد

معاد کی بحث میں پیش آنے والے اہم سوالات یہ ہیں کہ کیا ”معاد“ صرف روحانی پہلو رکھتی ہے یا انسان کا جسم و بدن بھی دوسری دنیا میں لوٹ آئے گا؟ اور انسان اسی دنیوی روح وجسم کے ساتھ صرف بلندتر درجہ کے ساتھ دوسری دنیا میں زندگی کوجاری رکھے گا؟

پرانے زمانہ کے بعض فلاسفہ صرف روحانی معاد کے قائل تھے اور جسم کو ایک ایسا مرکب جانتے تھے جو صرف اس دنیا سے مربوط ہے اور موت کے بعد انسان اس کا محتاج نہیں ہوگا، اسے چھوڑ کر عالم ارواح میں پرواز کرے گا۔

لیکن اسلام کے عظیم علما اور بہت سے فلاسفہ کا عقیدہ یہ ہے کہ معاد دونوں صورتوں میں یعنی ”روحانی“ و”جسمانی“ ہوگی۔ صحیح ہے کہ یہ جسم خاک بن جائے گا اور یہ خاک زمین میں پراگندہ ہوکر گم ہوجائے گی، لیکن پروردگار قادر و عالم ان تمام ذرات کو قیامت کے دن دوبارہ اکٹھا کرکے انھیں زندگی بخشے گا اور اس موضوع کو”جسمانی معاد“ کہا جاتا ہے ،کیونکہ روح کے پھر سے لوٹنے کو قطعی سمجھا گیا ہے اور چونکہ بحث صرف جسم کے لوٹنے کی ہے، یہ نام اسی عقیدہ کے لئے رکھا گیاہے۔

بہر حال معاد سے متعلق، قرآن مجید میں مختلف اور کافی تعداد میں موجود آیات بھی ”جسمانی معاد“پر دلالت کرتی ہیں۔

جسمانی معادپر قرآنی شواہد

ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح ایک صحرائی عرب نے ایک بوسیدہ ہڈی کوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی خد مت میں پیش کر کے سوا ل کیا تھا کہ کون اسے پھر سے زندہ کرسکتا ہے؟اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کے حکم سے جواب دیا تھا کہ وہی خدااسے پھر سے زندہ کر سکتا ہے جس نے اسے پہلے خلق کیا ہے،وہی جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے اور سبزے درخت سے آگ نکالی ہے ۔اس واقعہ سے مربوط آیات سورہ یٓس کی آخر میں آئی ہیں۔

قرآن مجید کا دوسری جگہ پر ارشاد ہے:

”تم لوگ قیامت کے دن قبروں سے باہر آؤ گے۔“

( سورہ یٓس/ ۵۱ ،قمر/ ۷)

ہم جانتے ہیں کہ قبریں خاک شدہ جسموں کی جگہ ہیں نہ روح کی۔

بنیادی طور پر معاد کے منکروں کا تعجب اس بات پر تھا کہ وہ کہتے تھے :”جب ہم خاک میں تبدیل ہوجائیں گے اور یہ خاک پرا گندہ ہو جائے گی تو ہم کیسے پھر سے زندہ ہو جائیں گے؟“

( وقالوا ء إذاا ضللنا فی الارض ء إنّالفی خلق جدید ) (سورہ سجدہ/ ۱۰)

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم زمین میں گم ہو گئے تو کیا نئی خلقت میں پھر ظاہر کئے جائیں گے؟“

قرآن مجید جواب میں ارشاد فر ماتا ہے:

( اولم یروا کیف یبدی ء اللّٰه الخلق ثم یعیده إنّ ذٰلک علی اللّٰه یسیر ) (سورہ عنکبوت/ ۱۹)

”کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح مخلوقات کو ایجاد کرتا ہے اور پھر دوبارہ واپس لے جاتا ہے،یہ سب اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔“

ایک عرب جاہل کہتاتھا:

( ایعدکم انّکم إذا متّم وکنتم تراباً وعظاما انّکم تخرجون ) (سورہ مومنون/ ۳۵)

”کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور ہڈی ہوجاؤگے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤگے؟“

قرآن مجید کی مذکورہ تمام تعبیرات اور اس موضوع سے متعلق دوسری آیات واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جگہ پر ”جسمانی معاد“کی بات کرتے تھے اور تنگ نظر مشرکین کا تعجب بھی اسی بات پر تھا۔چنانچہ ہم نے دیکھاکہ قرآن مجید اسی جسمانی معاد کے چند نمونوں کو نباتات وغیرہ کے سلسلہ میں پیش کر کے ان کے لئے تشریح فر ماتا ہے اور ابتدائی خلقت اور خدا کی قدرت کو شاہد کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس لئے ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہو اور قرآن مجید سے تھوڑی سی واقفیت رکھتے ہوئے جسمانی معاد کا منکر ہو۔قرآن مجید کی نظر میں جسمانی معاد کا انکار اصل معاد کے انکار کے برابر ہے۔

عقلی شواہد

اس کے علاوہ عقل بھی کہتی ہے کہ روح اور بدن الگ الگ حقیقتیں نہیں ہیں ،یہ دونوں مستقل ہونے کے باوجود آپس میں پیوند اور رابطہ رکھتے ہیں،دونوں ایک ساتھ نشو ونما پاتے ہیں ،اور یقینا ابدی اور جاودانی زندگی کے لئے ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔

اگرچہ دونوں(روح اور بدن)برزخی مدت(دنیا وآخرت کے در میان فاصلہ)کے دوران کچھ مدت تک ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں،لیکن ہمیشہ کے لئے یہ دوری ممکن نہیں ہے ۔جس طرح روح کے بغیر جسم ناقص ہے اسی طرح روح بھی جسم کے بغیر ناقص ہے ۔روح حکم فرما اور عامل حرکت ہے اور بدن فر مانبردار اور وسیلہ عمل ہے ،کوئی بھی حکم فر ما،فرما نبردار سے اور کوئی بھی ہنر مند وسیلہ عمل سے بے نیاز نہیں ہوتاہے۔

چونکہ آخرت میں روح اس دنیا کی نسبت ایک بلندتر سطح پر قرار پائے گی اس لئے اسی نسبت سے جسم کو بھی کمال حاصل کر نا چاہئے ،اور ضرور ایساہی ہوگا ،یعنی انسان کا جسم قیامت کے دن اس دنیا کی فرسودگی ،عیوب اور نقائص سے خالی ہوگا۔

بہر حال جسم و روح ایک دوسرے کی ہمزاد اور مکمل کر نے والے ہیں اور معاد صرف روحانی یا صرف جسمانی نہیں ہو سکتی ہے ۔دوسرے الفاظ میں جسم وروح کی خلقت اور ان کے آپسی رابطہ اور پیوند کی حالت کا مطالعہ اس بات کی ایک واضح دلیل ہے کہ معاد جسمانی و روحانی دونوں صورتوں میں واقع ہوگی ۔

دوسری طرف انصاف وعدالت کا قانون بھی یہی کہتا ہے :معاد دونوں پہلوؤں سے (جسمانی وروحانی)ہونی چاہئے ۔کیونکہ اگر انسان کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے ۔تو اس نے اس گناہ کو اس روح اور جسم کے ذریعہ انجام دیا ہے ،اور اگر اس نے کو ئی نیک کام انجام دیا ہے تو وہ بھی اس جسم وروح سے انجام دیا ہے اس لئے اس کی جزا اور سزا بھی اسی روح اور بدن کو ملنی چاہئے ۔اگر صرف جسم ہی پلٹے گا یا صرف روح ہی پلٹے گی اور ان میں سے صرف ایک ہی کو جزا یاسزا ملے گی،تو عدل وانصاف کا قانون نافذ نہیں ہوگا ۔

جسمانی معاد سے متعلق چند سوالات

دانشوروں نے اس سلسلہ میں متعدد سوالات پیش کئے ہیں کہ بحث کو مکمل کرنے کے لئے ان میں سے بعض کاذکر جواب کے ساتھ ضروری ہے:

۱ ۔علوم طبیعیات( natural sciences )کے دانشوروں کی تحقیقات کے مطابق،انسان کا بدن اس کی پوری عمر کے دوران کئی بار تبدیل ہوتا ہے ۔اس کی مثال اس پانی کے حوض جیسی ہے،جس میں ایک طرف سے پانی داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف سے رفتہ رفتہ باہر نکلتا ہے ظاہر ہے کہ ایک مدت کے بعد اس حوض کا پورا پانی تبدیل ہو جاتا ہے ۔

انسان کے بدن میں یہ صورت احتمالاًہر سات سال کے بعد ایک بار پیش آتی ہے ،اس لئے انسان کا بدن اس کی پوری حیات کے دوران کئی بار تبدیل ہو تا ہے!

اب یہ سوال پیداا ہوتا ہے کہ انسان کے جسموں میں سے کون سا جسم قیامت کے دن لوٹے گا؟

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں :ان میں سے انسان کا آخری بدن لوٹے گا،جیسا کہ مذکورہ آیات میں ہم نے پڑھا کہ خداوند متعال انسانوں کو ان ہی پوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیوں سے دوبارہ زندہ کرے گا ۔اور اس بات کے یہ معنی ہیں کہ انسان کا آخری بدن لوٹے گا،اسی طرح قبروں سے مردوں کے اٹھ کر نکلنے سے بھی آخری بدن کے زندہ ہو نے کے معنی نکلتے ہیں۔

لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کا آخری بدن اپنے اندر وہ تمام آثار اور خصو صیات محفوظ رکھتا ہے جو اس کی پوری عمر میں مختلف بدن رکھتے تھے ۔

دوسرے الفاظ میں:جو بدن تدریجاًنابود ہو تے ہیں۔وہ اپنے آثار وخصوصیات کو آنے والے دوسرے بدن میں منتقل کرتے ہیں،اس لئے آخری بدن گزشتہ تمام بدنوں کا وارث ہو تا ہے اور عدل وانصاف کے قانون کے تحت تمام جزا وسزا کا مستحق قرار پا سکتا ہے۔

۲ ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم خاک میں تبدیل ہو جائیں گے اور ہمارے بدن کے ذرات پودوں اور میوؤں میں تبدیل ہو جائیں گے ،اور نتیجہ کے طور پر دوسرے انسان کے بدن کے جزو بن جائیں گے تو قیا مت کے دن کیا ہو گا؟(یہ وہی چیز ہے جسے فلسفہ وکلام کے علم میں ”شبهئه آکل و ماکول “کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)

اگر چہ اس سوال کا جواب تفصیلی بحث کا حامل ہے، لیکن ہم ایک مختصر عبارت میں ضرورت بھر اس پر بحث کر نے کی کوشش کریں گے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے :جس انسان کے بدن کے ذرات خاک میں تبدیل ہو نے کے بعد دوسرے بدن میں منتقل ہوتے ہیں ،وہ یقینا پہلے بدن میں واپس آجاتے ہیں۔(مذکورہ آیات بھی اس دعویٰ کی واضح شا ہد ہیں)

یہاں پر بظاہر جو مشکل نظر آتی ہے ،وہ صرف یہ ہے کہ دوسرا بدن ناقص ہو جائے گا۔

لیکن حقیقت میں یہ دوسرا بدن ناقص نہیں ہو تا ہے بلکہ چھوٹا ہو تا ہے،چونکہ یہ ذرات تمام بدن میں پھیلے ہوئے تھے ،جب اس سے واپس لئے جاتے ہیں تو وہ بدن اسی نسبت سے ضعیف اور چھوٹا ہو جاتا ہے۔

اس لئے نہ پہلا بدن نابود ہوتا ہے اورنہ دوسرا بدن،صرف جو چیز یہاں پر وجود میں آتی ہے وہ دوسرے بدن کا چھوٹا ہو نا ہے اور یہ امر کبھی کو ئی مشکل پیدا نہیں کرتا ہے،کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قیا مت کے دن تمام بدن کمال حاصل کریں گے،اور نقائص اور کمیاں دور ہو جائیں گی،جس طرح ایک بچہ نشو ونما پاتا ہے ۔یا ایک زخمی کے زخم میں نئے سرے سے گوشت بھر جاتا ہے اوراس کی شخصیت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح قیا مت کے دن چھوٹے اور ناقص بدن مکمل صورت میں زندہ ہوں گے ،کیونکہ قیامت عالم کمال ہے۔

اس طرح اس سلسلہ میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی ہے(غورکیجئے ۔مزید وضاحت کے لئے کتاب ”معاد وجہان پس از مرگ“کی طرف رجوع کیجئے)۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔کیا قیامت کے دن انسان کی زندگی ہر لحاظ سے اس دنیا جیسی زندگی ہے؟

۲ ۔کیا ہم قیامت کے دن جزا وسزا کو اس دینا میں بالکل درک کرسکتے ہیں؟

۳ ۔کیا بہشت کی نعمتیں اور جہنّم کے عذاب صرف جسم سے مربوط ہیں۔

۴ ۔اعمال کے مجسم ہونے سے مراد کیا ہے اور قرآن مجید نے اس سلسلہ میں کیسے دلالت کی ہیں؟

۵ ۔اعمال کے مجسم ہو نے کاعقیدہ معاد کی بحث کی کن مشکلات کا جواب دیتا ہے۔


دسواں سبق:جنّت ،جہنّم اور تجسّم اعمال

بہت سے لوگ اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا موت کے بعد عالم آخرت بالکل اسی دنیا کے مانند ہے یا اس سے فرق رکھتا ہے؟ کیا اس عالم کی نعمتیں،سزائیں ،اور مختصر یہ کہ اس پر حکم فر ما نظام اور قوانین اسی دنیا جیسے ہیں؟

اس کے جواب میںواضح طورپر کہنا چاہئے کہ ہمارے پاس بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے معلوم ہوتاہے کہ اس دنیا اور اس دنیا میں کافی فرق ہے، حتی کہ اس حدتک فرق ہے کہ جو کچھ ہم اس دنیا کے بارے میں جانتے ہیں وہ ایک ایسی سیاہی جسم کے مانند ے جسے ہم دور سے دیکھتے ہیں۔

بہتر ہے کہ ہم اس سلسلہ میں اسی ”جنین“ والی مثال سے استفادہ کریں:جس قدر”جنین“ کی دنیا اور اس دنیا میں فرق ہے، اسی قدر یاا س سے زیادہ اس دنیا اور دوسری دنیا کے درمیان فرق ہے۔

اگر ماں کے شکم(عالم جنین) میں موجود بچہ عقل و شعور رکھتا اور باہر کی دنیا، آسمان،زمین،چاند،سورج،ستاروں،پہاڑوں،جنگلوں اور سمندروں کے بارے میں ایک صحیح تصویر کشی کرنا چاہتا تو وہ ہرگز یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔

عالم جنین میں موجود بچہ جس نے اپنی ماں کے انتہائی محدود شکم کے علاوہ کچھ نہین دیکھاہے، اس کے لئے اس دنیا کے چاند،سورج،سمند، امواج،طوفان،بادنسیم، اورپھولوں کی خوبصورتی کا کوئی مفہوم ومعنی نہیں ہے، اس کی لغت کی کتاب صرف چند الفاظ پر مشتمل ہے۔ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ ماں کے شکم کے باہر سے کوئی اس سے بات کرے تو وہ ہرگز اس کی بات کے معنی تک نہیں سمجھ سکتاہے۔

اس محدود دنیا اور اس دوسری وسیع دنیا کے درمیان فرق ایسا ہی یا اس سے زیادہ ہے، لہذا ہم کبھی دوسری دنیا کی نعمتوں اوربہشت برین کی حقیقت کے بارے میں ہرگزآگاہ نہیں ہوسکتے ہیں۔

اسی وجہ سے ایک حدیث میںآیاہے:

” فیها مالاعین رات ولا اذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر

”بہشت میں ایسی نعمتیں ہیں کہ جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے، کسی کان نے نہیں سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کا تصور پیدا ہواہے۔“

قرآن مجید اسی مطلب کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:

( فلا تعلم نفس مااخفی لهم من قرّ اعین جزاء بماکانوا یعملون ) “(سورہ سجدہ/ ۱۷)

” پس کسی نفس کو نہیں معلوم ہے کہ اس کے لئے (وہاں پر)کیا کیاخنکی چشم کا سامان چھپاکر رکھا گیا ہے جوان کے اعمال کی جزاہے۔“

اس دنیا پر حکم فرما نظام بھی اس دنیا کے نظام سے کافی فرق رکھتاہے، مثلا:قیامت کی عدالت میں انسان کے ہاتھ، پاؤں، اس کے جسم کی جلد اوریہاں تک کہ جس زمین پر گناہ یا ثواب انجام دیا ہے اس کے اعمال کے گواہ ہوں گے:

قرآن مجید میں سورہ یٓس کی آیت نمبر ۶۵ میں ارشاد ہواہے:

( الیوم نختم علی افواههم و تکلمنا ایدیهم و تشهد ارجلهم بما کانوا یکسبون)

” آج ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ کیسے اعمال انجام دیا کرتے تھے۔“

دوسری جگہ پر سورہ فصلت کی آیت نمبر ۲۱ میں فرماتاہے:

( وقالوا لجلود هم الّذی انطق کلّ شی)

” اور وہ اپنے اعضاء سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیسے شہادت دیدی ؟تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اسی خدا نے گویا بنایا ہے جس نے سب کو گویائی عطا کی ہے (تا کہ ہم حقائق بیان کریں)“

البتہ ایک زمانہ میںاس قسم کے مسائل کا تصور کرنا مشکل تھا، لیکن علم کی ترقی کے پیش نظر مناظر اور آواز کو رکارڈ اور ضبط کرنے کے نمونوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ چیز باعث حیرت نہیں ہے۔

بہر حال اگر چہ عالم آخرت کی نعمتوں کے بارے میں ہمارا تصور صرف دور سے نظر آنے والی ایک جسم کی سیاہی کے مترادف ہے اور ان کی وسعت اور اہمیت سے صحیح معنوں میں آگاہ نہیں ہو سکتے ہیں، لیکن اس حد تک جانتے ہیں کہ اس عالم کی نعمتیں اور

سزائیں، جسمانی اور روحانی دونوں صورتوں میں ہیں، کیونکہ معاد دونوں پہلو رکھتی ہے لہذا فطری طور پر اس کی جزاء وسزابھی دونوں جنبوں کے ساتھ ہونی چاہئے۔ یعنی جس طرح مادی و جسمانی جنبوں کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۵ میںارشاد ہوتاہے:

( وبشرّالّذین آمنوا وعملوالصّٰلحٰت انّ لهم جنّت تجری من تحتها الانهر ولهم فیها ازواج مطهرة وهم فیها خالدون)

” پیغمبر:آپ ایمان اور عمل صالح والوں کو بشارت دیں کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں بھی ہوںگی اور انھیں اس میں ہمیشہ رہنا بھی ہے۔“

اسی طرح قرآن مجید ، معنوی نعمتوں کے بارے میں بھی سورہ توبہ کی آیت نمبر ۷۲ میں ارشاد فرماتاہے:

( ورضوان من اللّٰه اکبر)

”(بہشتیوں کو ملنے والی) اللہ کی خوشنود ی اور رضایت ان تمام نعمتوں سے برتر ہے۔“

جی ہاں، بہشتی اس احساس سے کہ خداوند متعال ان سے راضی ہے اور پروردگار عالم نے انھیں قبول کیاہے،اس قدر خوشنودی اورلذت کا احساس کرتے ہیں کہ اس کا کسی چیز سے موازنہ نہیں کیا جاسکتاہے۔جہنمیوں کے بارے میںبھی جسمانی عذاب اور آگ کے علاوہ ان پر خداوند متعال کا خشم و غضب اور اس سے ناراضگی ہر جسمانی عذاب سے

بدترہے۔

اعمال کا مجسم ہونا

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتاہے کہ قیامت کے دن ہمارے اعمال زندہ ہوں گے اور مختلف شکلوں میں ہمارے ساتھ ہوں گے، جزاوسزا کی اہم باتوں میں سے ایک یہی اعمال کا مجسم ہوناہے۔

ظلم وستم، کالے بادلوں کی صورت میں ہمارا محاصرہ کریں گے جیساکہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک حدیث میں آیا ہے:

( الظّلم هو الظّلمات یوم القیامة)

” ظلم قیامت کے دن تاریکیاںہے“

ناجائز طریقے سے کھا یا ہوایتیموں کا مال آگ کے شعلوں کے مانند ہمیں گھیر لے گا۔ اس سلسلہ میں سورہ نساء کی آیت نمبر ۱۰ مین ارشادہوتاہے:

( انّ الّذین یاکلون اموال الیٰتمٰی ظلماً إنّما یاکلون فی بطونهم نارا وسیصلون سعیرا)

” جولوگ ظالمانہ انداز سے یتیموں کامال کھاجاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میںآگ بھر رہے ہیں اور عنقریب واصل جہنّم ہوںگے۔“

ایمان، نور وروشنی کی صورت میں ہمارے اطراف کو منور کرے گا۔ اس سلسلہ میں سورہ حدید کی آیت نمبر ۱۲ میں ارشاد الہی ہے:

( یوم تری المومنین والمومنٰت یسعٰی نورهم بین ایدیهم وبایمانهم)

” اس دن تم باایمان مردوں اور با ایمان عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ایمان ان کے آگے آگے اور دا ہنی طرف چل رہاہے“

سود خور ، جنھوں نے اپنے برے اور بے شرمانہ عمل سے معاشرہ کے اقتصادی توازن کو درہم برہم کیا ہوگا، وہ مرگی کے مریضوں کی طرح ہوںگے جو اٹھتے وقت اپنا توازن برقرار رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں، کبھی زمین پر گرتے ہیں اور کبھی لڑکھڑاتے ہوئے اٹھتے ہیں۔(سورہ بقرہ / ۲۷)

جو مال ذخیرہ اندوزوں اور مالدار کنجوسوں نے جمع کرکے اس سے محروموں کا حق ادانہیں کیا ہے، وہ ان کے لئے ایک بھاری طوق کے مانند ان کی گردن میں اس طرح لٹکادیا جائے گا کہ وہ حرکت کرنے کی طاقت نہ رکھیں گے۔

سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۸۰ میں ارشاد ہوتاہے:

( ولا یحسبنّ الذین یبخلون بما اٰتٰهم اللّٰه من فضله هو خیرا لهم بل هو شرّ لهم سیطوّقون ما بخلوا به یوم القیمة)

” اورخبردار جو لوگ خدا کے دئے ہوئے میں بخل کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ سوچنا کہ اس بخل میں کچھ بھلائی ہے۔ یہ بہت براہے اور عنقریب جس مال میں بخل کیا ہے وہ روز قیامت ان کی گردن میں طوق بنادیاجائے گ“

اسی طرح تمام اعمال اپنی مناسب صورت میں مجسم ہوںگے۔

ہم یہ جانتے ہیں کہ علم وسائنس نے ثابت کیاہے کہ کوئی بھی چیز دنیا میں نابود نہیں ہوتی ہے بلکہ مادہ اورقوت (انزجی) ہمیشہ اپنی شکل و صورت بدلتے رہتے ہیں ۔ ہمارے افعال اور اعمال بھی نابود ہوئے بغیر ان دونوں صورتوں سے خارج نہیں ہیں اور اس قانون کے حکم کے مطابق جاودانی اور ابدی حالت میں ہیں، اگر چہ ان کی شکل و صورت بدل جائے۔

قرآن مجید ایک مختصر اور لرزہ خیز عبارت میںقیامت کے بارے میں فرماتاہے:

( ووجدوا ماعملوا حاضرا ) (سورہ کہف/ ۴۹)

” اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے“

حقیقت میں انسان جو کچھ پاتاہے وہ اس کے اعمال کا نتیجہ ہوتاہے ، لہذا خداوند متعال اسی آیت کے ذیل میں فورا فرماتاہے:

( ولایظلم ربّک احدا ) (سورہ کہف/ ۴۹)

”تمھارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتاہے“

ایک دوسری جگہ پر سورہ زلزال کی آیت نبمبر ۶ میں فرماتاہے:

( یومئذ یصدر النّاس اشتاتا لیروا اعمالهم)

”اس روز سارے انسان گروہ در گروہ قبروں سے نکلیں گے تا کہ اپنے اعمال کو دیکھیں ۔“

اسی سورہ زلزال کی آیت نمبر ۷ اور ۸ میں ارشاد ہوتاہے:

( فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یره ومن یعمل مثقال ذرّةشرّا یره)

”پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا“

مذکورہ آیات میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ فرماتا ہے کہ خود ان اعمال کو دیکھے گا۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھنا یعنی اسی دنیا کے ہمارے چھوٹے بڑے اورنیک وبد اعمال کا محفوظ اور ثابت رہنا اور نابود نہ ہونا اور قیامت کے دن ہر جگہ ان کا ہمارے ساتھ رہنا سب کے لئے ایک انتباہ ہوسکتاہے تاکہ ہم اپنے برے اعمال اور گناہوں کے مقابل ہوشیار رہیں اور اپنے نیک اعمال کے چاہنے والے اور ان پر ثابت قدم رہیں۔

تعجب کی بات ہے کہ دوحاضرمیں ایسے آلات ایجاد کئے گئے ہیں کہ اس مسئلہ کے ایک حصہ کو اسی دنیا میں ہمارے لئے مجسم کیا جاسکتاہے:

ایک دانشور لکھتاہے: سائنس دان آج مصری کمہاروں کی دوہزار سال قدیمی آواز کو اسی طرح منعکس کرسکتے ہیں کہ وہ آواز سننے کے قابل ہے۔ کیونکہ مصری عجائب گھروں میں دوہزارسال پرانے کوز ے موجود ہیں کہ انھیں مخصوص چرخوں اور ہاتھوں سے بناتے وقت کمہاروںکی آوازکی لہریں کوزوں کے جسمون میں نقش ہوگئے ہیں اور آج ان لہروںکو نئے سرے سے اس طرح زندہ کیا جارہاہے کہ ہم اپنے کانوں سے انھیں سن سکتے ہیں(۱) ۔

بہر حال مسئلہ معاد اورقرآن میں ذکر شدہ نیک لوگوںکی ابدی جزا اور بدکاروں کی دائمی سزاکے بارے میں بہت سے سوالات کا جواب ”اعمال کے مجسم ہونے“ اور ہراچھے اور برے کام کے انسان کے جسم و روح پر اثر ڈالنے اور اس اثر کے ہمیشہ ہمارے ساتھ رہنے کے پیش نظر دیاجاسکتاہے۔

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱ ۔ جسمانی معاد سے مراد کیاہے؟

۲ ۔ جسمانی معاد کے منکرین کیا کہتے ہیں اورقرآن مجید ان کا کیسے جواب دیتاہے؟

۳ ۔ جسمانی معاد کے لئے عقلی استدلال کیاہے؟

۴ ۔ عدل و انصاف کے قانون اور جسمانی معاد کے درمیان کو ن سا رابطہ ہے؟

۵ ۔ شبہہ”آکل وماکل“ سے مرادکیا ہے اور اس کا جواب کیا ہے؟

____________________

۱۔کتاب”راہ طے شدہ“ سے ماخوذ۔


فہرست

مقدمه ۴

عرض ناشر ۴

معرفت خدا کے دس سبق ۶

پہلاسبق:خدا کی تلاش ۶

۱ ۔کائنات سے واقفیت کا شوق ۶

۲ ۔شکر گزاری کا احساس۔ ۷

۳ ۔خدا کی معرفت سے ہمارے نفع و نقصان کا تعلق۔ ۷

غور کیجئے اور جواب دیجئے: ۸

دوسراسبق .ہماری زندگی میں خدا کے وجودکی نشانیاں ۹

۲ ۔خدا کی معرفت اور تلاش وامید ۱۰

۳ ۔خدا کی معرفت اورذمہ داری کا احساس ۱۰

۴ ۔ خدا کی معرفت اور سکون قلب ۱۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۱

تیسرا سبق خدا کی معرفت کے دواطمینان بخش راستے ۱۲

۱ ۔خدا کی معرفت اور علوم کی ترقی ۱۲

الف۔اندرونی راستہ ۱۲

ایک سوال ۱۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۴

چوتھا سبق ایک اہم سوال کا جواب ۱۵


سوال ۱۵

جواب ۱۵

بحث کا نتیجہ: ۱۷

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۷

پانچواں سبق: ایک سچاواقعہ ۱۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۹

چھٹا سبق: خدا کی معرفت کا دوسرا راستہ ۲۰

ب۔بیرونی راستہ ۲۰

”نظم وضبط“اور ”عقل“کا رابطہ ۲۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۱

ساتواں سبق:نظام خلقت کے چند نمونے ۲۲

ملک بدن کی حکمرانی کا مرکز ۲۲

دماغ کا ایک عجیب وغریب حصہ: ۲۳

دماغ کا ایک اور حیرت انگیز حصہ،”حافظہ“ ہے۔ ۲۳

بے شعورطبیعت کیسے باشعورچیزوں کی تخلیق کرسکتی ہے؟ ۲۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۴

آٹھواں سبق: ایک چھوٹے سے پرندے میں حیرت انگیزدنیا ۲۵

چمگادڑ اور اس کی عجیب خلقت ۲۵

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۷

نواں سبق :حشرات اور پھولوں کی دوستی! ۲۸


دوقدیمی اور جگری دوست ۲۹

توحید کاایک درس ۲۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۳۰

دسواں سبق:نہایت چھوٹی مخلوقات کی دنیا ۳۱

ایٹم ،توحید کا درس دیتے ہیں ۳۲

۳ ۔ ہر ایک اپنے معین راستہ پر گامزن ہے۔ ۳۲

۴ ۔ایٹم کی عظیم طاقت۔ ۳۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۳۳

دسویں سبق کی ایک تکمیلی بحث ۳۴

خداوند متعال کی عظیم الشان صفات ۳۴

صفات خدا ۳۴

صفات جمال و جلال ۳۵

خدا کی مشہور ترین صفات ثبوتیہ ۳۵

خدا کی مشہورترین صفات سلبیہ ۔ ۳۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۳۷

عدل الٰہی کے دس سبق ۳۸

عدل الٰہی کے دس سبق ۳۸

پہلا سبق عدل کیا ہے؟ ۳۸

۱ ۔تمام صفات الہٰی سے کیوں صرف عدل کو چنا گیا ہے ؟ ۳۸

۲ ۔عدا لت کیا ہے؟ ۳۹


۳ ۔مساوات اور عدالت میں فرق۔ ۴۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۴۱

دوسرا سبق :عدل الہٰی کے دلائل ۴۲

۱ ۔حسن وقبح عقلی ۴۲

۲ ۔ظلم کا سر چشمہ کیا ہے؟ ۴۲

۳ ۔قرآن مجید اور عدل الہٰی ۴۳

۴ ۔عدل و انصاف کی دعوت ۴۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۴۴

تیسرا سبق: آفات و بلیّات کا فلسفہ( ۱) ۴۶

۱ ۔محدود معلومات اورحالات کے زیر اثر فیصلے ۴۶

۲ ۔ناخوشگوار اور انتباہ کر نے والے حوادث ۴۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۴۹

چوتھا سبق:آفات و بلیّات کا فلسفہ( ۲) ۵۰

۳ ۔انسان مشکلات میں پرورش پاتا ہے ۵۰

۴ ۔ مشکلات خدا کی طرف پلٹنے کا سبب ہیں ۵۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۵۲

پانچواں سبق;آفات و بلیّات کا فلسفہ ( ۳) ۵۳

۵ ۔مشکلات اور نشیب وفراز زندگی کو روح بخشتے ہیں ۵۳

۶ ۔خود ساختہ مشکلات ۵۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۵۶


چھٹا سبق : جبر و اختیارکا مسئلہ ۵۷

۱ ۔جبر کے عقیدہ کا سرچشمہ ۵۷

۲ ۔جبریوں کی غلط فہمی کی اصل وجہ ۵۸

۳ ۔مکتب جبر کے سماجی اور سیاسی اسباب ۵۸

الف:سیاسی عوامل ۵۹

ب۔نفسیاتی عوامل ۵۹

ج۔سماجی عوامل: ۵۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۶۰

ساتواں سبق : ارادہ و اختیارکی آزادی پر واضح ترین دلیل ۶۱

۱ ۔انسان کا ضمیر جبر کی نفی کرتا ہے ۶۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۶۳

آٹھواں سبق:”امر بین الامرین“(یاوسطی مکتب)کیا ہے؟ ۶۴

۱ ۔”جبر“کے مقابلہ میں ”عقیدئہ تفویض“ ۶۴

۲ ۔در میانی مکتب ۶۴

دوسری مثال: ۶۵

۳ ۔قرآن مجید اور جبرو اختیار کا مسئلہ ۶۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۶۷

نواں سبق :ہدایت وگمراہی خدا کے ہاتھ میں ہے ۶۸

۱ ۔ہدایت و گمراہی کی اقسام: ۶۸

۲ ۔ایک اہم سوال ۶۸


۳ ۔کیا خدا کا ازلی علم گناہ کی علت ہے؟! ۷۰

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۷۱

دسواں سبق:عدل الہٰی اور مسئلہ ”خلود“ ۷۲

جواب: ۷۲

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۷۴

نبوت کےدس سبق: ۷۶

نبوت کےدس سبق: ۷۶

پہلا سبق:رہبران الہٰی کی ضرورت ۷۶

ہمارے علم ودانش کی محدودیت ۷۶

جواب ۷۶

انبیاء ہمارے عظیم روحانی طبیب ہیں۔ ۷۷

۱ ۔تعلیم کے اعتبار سے احتیاج ۷۸

۲ ۔اجتماعی اور اخلاقی مسائل میں رہبری کی احتیاج ۷۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۸۰

دوسرا سبق: قانون گزاری کے لئے انبیاء کی ضرورت ۸۱

بہترین قانون ساز کون ہے؟ ۸۲

توحید و نبوت کے در میان رابطہ ۸۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۸۴

تیسرا سبق: انبیاء کیوں معصوم ہیں ؟ ۸۶

گناہ و خطا سے پاک ہو نا ۸۶


غور کیجئے اور جواب دیجئے ۸۸

چوتھا سبق: پیغمبر شناسی کا بہترین طریقہ ۹۰

چند واضح نمو نے: ۹۱

ایک دوسری مثال: ۹۱

معجزات کو توہمات اور خرا فات سے نہیں ملا نا چاہئے ۹۱

معجزہ کا دوسری خارق عادت چیزوں سے فرق ۹۲

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۹۳

پانچواں سبق : پیغمبر اسلام( صلی الله علیه واله والسلم ) کاسب سے بڑا معجزہ ۹۴

لافانی معجزہ ۹۴

اس چیلینج کے مقابلہ میں مخالفین کا عجز ۹۵

ولید بن مغیرہ کا واقعہ ۹۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۹۸

چھٹا سبق :قرآن مجید کے اعجاز کی ایک جھلک ۹۹

حروف مقطعات کیوں؟ ۹۹

فصاحت وبلاغت ۹۹

غور کیجئے و جواب دیجئے ۱۰۱

ساتواں سبق: خداشناسی کے بارے میں قرآن مجید کا ۱۰۲

طرز بیان ۱۰۲

غورکیجئے اور جواب دیجئے ۱۰۵

آٹھواں سبق: قرآن مجید اورجدید سائنسی انکشافات ۱۰۶


قرآن مجید اور قوت جاذبہ کا قانون ۱۰۶

زمین کے اپنے اور سورج کے گرد گھومنے کا انکشاف ۱۰۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۰۹

نواں سبق: پیغمبر اسلام (ص) کی حقّانیت پر ایک اور دلیل ۱۱۰

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۱۳

دسواں سبق :حضرت محمد (صلی الله علیه واله والسلم) کا خاتم الانبیاء ہونا ۱۱۴

خاتمیت کا صحیح مفہوم ۱۱۴

پہلاسوال: ۱۱۶

دوسراسوال: ۱۱۷

تیسرا سوال: ۱۱۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۱۸

امامت کے دس سبق ۱۱۹

امامت کے دس سبق ۱۱۹

پہلاسبق: امامت کی بحث کب سے شروع ہوئی؟ ۱۱۹

کیا یہ بحث اختلاف پیدا کرنے والی ہے ؟ ۱۱۹

امامت کیا ہے؟ ۱۲۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۲۲

دوسرا سبق: امام کے وجود کا فلسفہ ۱۲۳

الہٰی رہبروں کے وجود کے ساتھ معنوی تکامل ۱۲۳

آسمانی ادیان کی حفاظت ۱۲۳


امت کی سیاسی واجتماعی رہبری ۱۲۴

اتمام حجّت کی ضرورت ۱۲۵

امام،فیض الہٰی کا عظیم وسیلہ ہے ۱۲۵

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۲۶

تیسرا سبق : امام کے خاص شرائط وصفات ۱۲۷

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۲۹

چوتھا سبق:امام کا تعیّن کس کے ذمہ ہے؟ ۱۳۱

۱ ۔کیا امت کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین منتخب کر نے کا حق ہے؟ ۱۳۲

۲ ۔کیا پیغمبر نے اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا ہے؟ ۱۳۳

۳ ۔ اجماع اور شوریٰ ۱۳۴

۴ ۔علی علیہ السلام سب سے لائق وافضل تھے۔ ۱۳۵

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۳۵

پانچواں سبق:قرآن اور امامت ۱۳۶

۱ ۔قرآن مجید”امامت“کو خدا کی جانب سے جانتا ہے: ۱۳۶

۲ ۔آیہ تبلیغ ۱۳۷

۳ ۔آیہ اولی الامر ۱۳۸

۴ ۔آیہ ولایت ۱۳۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۴۰

چھٹاسبق:امامت ،سنّت نبی کی روشنی میں ۱۴۲

۱ ۔حدیث غدیر ۱۴۲


غورکیجئے اور جواب دیجئے ۱۴۶

ساتواں سبق:حدیث ”منزلت“اور حدیث ”یوم الدار“ ۱۴۷

حدیث منزلت کا مفہوم ۱۴۸

حدیث ”یوم الدار“ ۱۴۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۵۰

آٹھواں سبق:حدیث ”ثقلین“اور حدیث”سفینہ“ ۱۵۱

حدیث ثقلین کے اسناد ۱۵۱

حدیث ثقلین کا مفہوم ۱۵۲

یہاں پر چند نکات قابل توجہ ہیں: ۱۵۲

حدیث سفینہ ۱۵۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۵۴

نواں سبق :بارہ امام (ع) ۱۵۵

بارہ اماموں کے بارے میں روایات ۱۵۵

ان احادیث کا مفہوم ۱۵۶

نام بنام ائمہ کی تعیین ۱۵۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۵۹

دسواں سبق:حضرت مہدی( عج )بارہویں امام اور دنیا کے مصلح اعظم ۱۶۱

تاریک شب کا خاتمہ ۱۶۱

فطرت اور مصلح اعظم کا ظہور ۱۶۲

عقلی دلائل ۱۶۴


قرآن مجید اور ظہور حضرت مہدی(عج) ۱۶۵

احادیث میں حضرت مہدی(عج)کا ذکر ۱۶۶

اہل سنت کی احادیث ۱۶۶

شیعوں کی احادیث ۱۶۷

غور کیجئے اور جواب دیجئے: ۱۶۸

معادکے بارے میں دس سبق ۱۶۹

معادکے بارے میں دس سبق ۱۶۹

پہلا سبق:ایک اہم سؤال ۱۶۹

موت اختتام ہے یا آغاز؟ ۱۶۹

اکثر لوگ موت سے ڈرتے ہیں، کیوں؟ ۱۶۹

خوف موت کا اصلی سبب ۱۶۹

۱ ۔ موت کو فنا سمجھنا ۱۷۰

۲ ۔سیاہ اعمال نامے ۱۷۰

دو مختلف نظر ئیے ۱۷۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۷۲

دوسرا سبق:معاد زندگی کو معنی بخشتی ہے ۱۷۳

عقیدئہ معاد کا انسان کی تربیت میں اہم کردار ۱۷۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۷۶

تیسراسبق :قیامت کی عدالت کا نمونہ خود آپ کے وجود میں ہے ۱۷۷

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۷۹


چوتھا سبق:معاد، فطرت کی جلوہ گاہ میں ۱۸۰

۱ ۔ بقاء کا عشق ۱۸۰

۲ ۔ گزشتہ اقوام میںقیامت کا عقیدہ ۱۸۱

۳ ۔ معاد کے فطری ہونے کی ایک اور دلیل انسان کے اندر وجدان و ضمیر کی عدالت کا وجود ہے ۔ ۱۸۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۸۲

پانچواں سبق:قیامت،انصاف کی ترازومیں ۱۸۳

اختیار اور ارادہ کی آزادی ۱۸۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۸۵

چھٹا سبق:معاد کا اسی دنیا میں مشاہدہ ۱۸۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۸۸

ساتواں سبق:معاد اور تخلیق کا فلسفہ ۱۸۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۹۱

آٹھواں سبق :روح کی بقاء،قیامت کی ایک علامت ۱۹۳

۱ ۔ ایک وسیع کا ئنات ایک چھوٹی جگہ میں نہیں سما سکتی ۱۹۴

۲ ۔بیرونی دنیا میں روح کے انعکاس کی خصوصیت ۱۹۴

۳ ۔روح کے حقیقی اور مستقل ہونے پر تجرباتی دلائل ۱۹۵

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۹۷

نواں سبق:جسمانی اورروحانی معاد ۱۹۸

جسمانی معادپر قرآنی شواہد ۱۹۸

عقلی شواہد ۱۹۹


جسمانی معاد سے متعلق چند سوالات ۲۰۰

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۰۱

دسواں سبق:جنّت ،جہنّم اور تجسّم اعمال ۲۰۳

اعمال کا مجسم ہونا ۲۰۵

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۰۷

نو جوانوں کے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق

نو جوانوں کے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 68