گریہ اور عزاداری

مؤلف: ناظم حسین اکبر
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


گریہ اور عزاداری

مصنف: ناظم حسین اکبر


بسم الله الرّحمن الرّحیم..

انتساب

عزاداری نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، سیّد الشہداء ،مظلوم کربلا ، امام حسین علیہ السّلام کی ترویج کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والے اور دیگر تمام ماتمی عزاداروں کے نام جنہوں نے اپنی ساری زندگی عزاداری کے دفاع اور عزاداروں کی خدمت پر صرف کردی


سخن مؤلف

الحمد لله ربّ العالمین والشّکر لله ربّ الشّهداء والصّدیقین الّذی جعل فی ذریّة الحسین علیه السّلام الآ ئمّة النجباء وفی تربته الشفاء وتحت قبته استجابة الدّعا وصلیّ اللّه علی محمّد وآله الطاهرین ۔

نواسہ رسول ،جگر گوشہ علی وبتول ، نو جوانان جنّت کے سردار امام حسین علیہ السّلام کے غم میں مجالس عزا کا قیام دین مبین اسلام کی بقا ء کی خاطر اس انقلاب کا تسلسل ہے جسے امام حسین علیہ السّلام نے کربلا کے میدان میں باطل کے خلاف برپا کیا ۔

امام حسین علیہ السّلام کے قیام کا مقصد دین خدا کو تحریف اور باطل افکار سے بچانا تھا جس کی واضح مثال تاریخ اسلام میں خلفاء کا عمل ہے کہ واقعہ کربلا سے پہلے ہر خلیفہ کا عمل شریعت نظر آتا ہے لیکن کربلا کے انقلاب نے وہ اثر چھوڑا کہ اس کے بعد شریعت اور خلفاء کے عمل کو جدا کردیا اس کے بعد کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ کسی خلیفہ وقت کے عمل کو شریعت میں داخل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد امام حسین علیہ السّلام دین کی پہچان بن گئے جیسا خواجہ اجمیری لکھتے ہیں:

شاہ ا ست حسین بادشاہ است حسین ****** دین است حسین دیں پناہ است حسین

سر داد نداد دست در دست یزید ******** حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین

خواجہ اجمیری نے امام حسین علیہ السّلام کو بانی اسلام کہہ کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس فرمان کی تائید کردی کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں گویا ا س نے حسین کورسول پاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نگاہ سے دیکھا ہے رسول خدا وصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مستقبل بیں نگاہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ ایک ایسا دور آئے گا کہ کلمہ گوؤں کی تلوار سے اسلام قتل کردیا جائے گا لہذا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ چاہا کہ جب اسلام کا خون بہا دیا جائے تو خون حسین اس کی رگوں میں دوڑا دیاجائے اسی لئے اُمّت اسلامیہ کو آگاہ کردیاکہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تعارف کرواکر بتا دیا کہ اے مسلمانو! اس کا خون نہ بہانااس لئے کہ اس کی رگوں میں میرا خون ہے یہ آواز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آج بھی گونج رہی ہے لیکن خود پرستوں نے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات بھی سنی ان سنی کردی اور اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند اور ان کے یارو انصارکو تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کردیا ،ان کی لاشوں کو پامال کیا اورسول زادیوں کو قیدی بنا کردرباروں اور بازاروں میں پھرایا گیا،یہی وہ غم تھا جس پر تمام انبیا ء علیہم السّلام نے گریہ وعزاداری کی اور پھر آئمہ معصومین علیہم السّلام نے خود مجالس عزابرپا کر کے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا اس لئے کہ مظلوم کربلا ، امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری کو زندہ رکھنا در حقیقت اسلام کو زندہ رکھنا ہے ۔

عزیزو اقارب کی موت پر گریہ کرنے کے جواز پر تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق پایا جاتا ہے(الفقہ علی المذاہب الأربعہ١:٥٠٢. )اور امام حسین علیہ السّلام پر گریہ و عزاداری اور ان کے غم میں ماتم ،عام غم و ماتم سے مکمل طور پر فرق رکھتا ہے اس لئے کہ یہ فرزند مصطفٰیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ماتم ہے ، نواسہ خاتم الانبیا ء کا ماتم ہے ، جگر گوشہ زہراء و مرتضٰی کا ماتم ہے ،اس غریب کا ماتم ہے جس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا ، اس مظلوم کا ماتم ہے جس کا کٹا ہوا سر اس کی بیٹیوں اور بہنوں کی آنکھوں کے سامنے شہر بہ شہر پھرایا گیا، اس مظلوم کا ماتم ہے جس کے بدن پر لبا س بھی باقی نہ رہنے دیا گیا ، ا س بے کس کا ماتم ہے جس کے چھ ماہ کے شیرخوار پر بھی ترس نہ کھایا گیا ، اس شہید کا ماتم ہے جس کی بہنوں اور بیٹیوں کو ننگے سر درباروں اور بازاروں میں پھرایا جاتا رہا ، اس امام معصوم کا ماتم ہے جس کا بدن تین دن تک بے گور و کفن کربلا کی جلتی ہوئی زمین پر پڑا رہا ، اس بے نوا کا ماتم ہے جس کی مظلومیت پر خود دشمن نے بھی گریہ کیا ، اس مظلوم کا ماتم ہے جس کی بے کسی پر انبیاء و ملائکہ اور جنّ و انس نے ماتم کیا ، اس بے وطن کا ماتم ہے جس پر آسمان نے خون برسای

لہٰذ ا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ہرعاشق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر واجب ہے کہ وہ نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مظلومیت کا غم منائے اور دوسروں کو بھی اس میں شرکت کرنے کی دعوت دے تاکہ اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کا اظہار کر سکے ۔کتاب حاضر میں ہم قرآن وسنّت اور سیرت صحابہ کرام سے امام حسین علیہ السّلام پر گریہ وعزاداری کے جواز کو اثبات کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فضیلت اوراجرو ثواب کے متعلق چند احادیث نقل کریں گے تاکہ ہماری بخشش کا سبب بن سکے۔

والسّلام علی من اتّبع الهدٰی

اللّهمّ اجعلنا من الباکین علی الحسین الشهید المظلوم علیه السّلام

ناظم حسین اکبر ( ریسرچ اسکالر )

ابوطالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور پاکستان

٤دسمبر ٢٠٠٩ء بمطابق ١٦ذی الحجہ ١٤٣٠ہجری


١۔حکم قرآن

قرآن مجید نے مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیں چاہے وہ جس جگہ ،جس زمانہ اور جس مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ ظلم کی سرکوبی اور ظالم کے خلاف قیام اسلام کا اوّلین فریضہ ہے اس لئے کہ ظلم کیخلاف آواز بلند نہ کرنا ظالم کی حوصلہ افزائی ہے اوراس سے دنیا میں ظلم کو فروغ حاصل ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ دین مبین اسلام میں کسی کی برائی بیان کرنا اور اس کی غیبت کرنا بدترین جرم ہے جسے قرآن مجید کی زبان میں مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قراردیا گیا ہے لیکن اس مسئلہ میں بہت سے مواقع کو مستثنٰی قرار دیا گیا ،جن میں سے ایک مظلوم کی ظالم کیخلاف فریاد بلند کرنا ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم وستم کی وجہ سے ظالم کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرسکتاہے چاہے وہ ظلم انفرادی ہو یا اجتماعی ۔

قرآن مجید نے اسی بات کو سورہ مبارکہ نساء میں یوں بیان فرمایا:

( لا یحبّ الله الجهر بالسّوء من القول الاّ من ظلم ) ( ۱ )

ترجمہ: اللہ مظلوم کے علاوہ کسی کی طرف سے بھی علی الاعلان برا کہنے کو پسند نہیں کرتا ...۔

اس آیت مجیدہ سے یہ پتہ چلتاہے کہ مظلوم کویہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالم پر علی الاعلان تنقید بھی کرسکتا ہے اور اسکے خلا ف احتجاج بھی ۔اور اسی احتجاج کا ایک مصداق ماتم امام حسین علیہ السّلام ہے جس میں عاشقان رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نواسے پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف احتجاج اور ظالم یزیدیوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں تا کہ یوں روز قیامت اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شفاعت حاصل کرسکیں۔اس لئے کہ ماتم اور عزاداری در حقیقت محمد وآل محمد علیہم السلام سے اظہار محبّت کا مصداق ہے ۔ جس کا حکم خود خداوند متعال نے دیا اور فرمایا:

( قل لا أسئلکم علیه أجرا الاّ المودّة فی القربٰی ومن یقترن حسنة نزد له حسنة فیها حسنا انّ الله غفور شکور ) ( ۲ )

ترجمہ : تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباسے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا تو ہم اس کی نیکی میں اضافہ کر دیں گے کہ بے شک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اورقدرداں ہے ۔

علاّمہ ذیشان حید ر جوادی اعلی اللہ مقامہ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :اس نیکی سے جو بھی مراد ہو اس کا محبت اہلبیت کے مطالبہ کے بعد ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محبت اہلبیت کے بعد جو نیکی بھی کی جاتی ہے خدائے کریم اس میں اضافہ کر دیتا ہے اور محبت کے بغیر جو نیکی انجام دی جاتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

اسی محبّت اہلبیت کا اظہار کرنے کی خاطر شیعہ و سنی مسلمان سڑکوں اور گلیوں میں نکل کر آل محمد علیہم السّلام سے حمایت اور یزید اور اس کے پیروکاروں سے برائت کااعلان کرتے ہیں اور ایسے جلسے و جلوس نہ توقرآن کے مخالف ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا اور نہ ہی عقل و عرف عام کے ۔جس کی دلیل ہر دور میں حکومتوں اور ظالموں کیخلاف ہونے والے جلسے جلوس اور بھوک ہڑتالیں ہیں اور کبھی کبھار سیاہ پٹیاں بھی باندھ لی جاتی ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہی لوگ جو اپنے کو مظلوم اور حکمرانوں کو ظالم ثابت کرنے کے لئے احتجاج بھی کرتے ہیں سیاہ پٹیاں بھی باندھتے ہیں اور بھوک ہڑتال کر کے اپنے بدن کو اذیت بھی پہنچاتے ہیں اس وقت نہ تو بدن کو اذیت پہنچانا ان کے نزدیک بدعت اور حرام قرار پاتا ہے اور نہ سیاہ پٹیاں باندھنا گناہ نظر آتا ہے مگر جیسے ہی نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، جوانان جنّت کے سردار امام حسین علیہ السّلام کی مظلومیت اور یزید کے ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے تو وہی لو گ اس احتجاج ااور اس ماتم و عزاداری کو بدن کو ا ذیت پہنچانے کا بہانا بنا کر اس پر بدعت کا فتوٰی لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ نہ تو قرآن نے ماتم و احتجاج کی نفی کی ہے اور نہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بلکہ اس کے برعکس ثابت ہے جیساکہ بیان کیا گیا کہ قرآن تو مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف فریاد بلند کرنے کو جائز قرار دے رہا ہے او ر سیرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل اس کی تائید کررہا ہے جسے آگے چل کر ذکر کیا جائے گا ۔

بقائے دین وشریعت غم حسین سے ہے ***** کھڑی یہ دیں کی عمارت غم حسین سے ہے

عزا سے واسطہ ہی کیا ہے شرک و بدعت کا ***** یہ دین اپنا سلامت غم حسین سے ہے

عزائے سید الشہدائ بھی اک عبادت ہے ***** عبادتوں کی حفاظت غم حسین سے ہے

جہاں میں غم تو سبھی کے منائے جاتے ہیں ***** نہ جانے کون سی آفت غم حسین سے ہے

نماز و روزہ وحج و زکات وخمس وجہاد ***** عبادتوں کی حفاظت غم حسین سے ہے

حسینیت سے ہی زندہ ہے حق اب تک ***** یزیدیت پہ قیامت غم حسین سے ہے

پہونچ نہ پائے گا جنّت میں وہ کبھی اختر***** کہ جس کسی کو عداوت غم حسین سے ہے( ۳ )


٢۔ سنّت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

تاریخ اور روایات یہ بتلاتی ہیں کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ا ورتابعین مرنے والوں اورشہداء و... پر گریہ کیا کرتے اور دوسروں کو بھی نہ صرف عزاداری کا موقع دیتے بلکہ انہیں اس عمل پر تشویق بھی کیا کرتے جیسا کہ حضرت عائشہ نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات پر اپنے منہ اور سینہ پر پیٹا( ۴ ) ۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے فرزند ابراہیم ، اپنے دادا حضرت عبد المطلب ، اپنے چچا حضرت ابوطالب اور حضرت حمزہ ، اپنی مادر گرامی حضرت آمنہ بنت وہب ، حضرت علی کی مادر گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد ، عثمان بن مظعون و... کی موت پر گریہ کیا، جس کے چند نمونے یہاں پر ذکرکررہے ہیں:

١) حضرت عبد المطلب پر گریہ :

جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جدّ بزرگوار حضرت عبد المطلب کی وفات ہوئی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے فراق میں گریہ کیا ۔حضرت امّ ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

أنا رأیت رسول الله یمشی تحت سریره وهویبکی ( ۵ )

میں نے رسول اللہ (صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کو دیکھا وہ ان کے جنازے کے ہمراہ روتے ہوئے چل رہے تھے ۔

٢) حضرت ابو طالب پر گریہ :

حامی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، مومن آل قریش ،سردار عرب حضرت ابوطالب کی وفات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سخت ناگوار گذری اس لئے کہ یہ وہ شخصیت تھے جنہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پرورش کے علاوہ بھی ہر مقام پر ان کی مدد و نصرت کی جس سے دین اسلام کا بول بالا ہو ااور مشرکین مکّہ کو ان کی زندگی میں یہ جرأت نہ ہوسکی کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نقصان پہنچا سکیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب ایسے شفیق چچا کی وفات کی خبر ملی تو حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا:

اذهب فاغسله و کفّنه وواره غفرالله له ورحمه ( ۶ )

جاؤ انہیں غسل و کفن دو اور ان کے دفن کا اہتمام کرو ،خداان کی مغفرت کرے اور ان پر رحمت نازل فرمائے ۔

٣) حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا پر گریہ :

مؤرخین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کی قبر کی زیارت کیلئے ابواء کے مقام پر پہنچے جیسے ہی ماں کی قبر کے پاس گئے اس قدر روئے کہ ساتھیوں نے بھی گریہ کرنا شروع کردیا( ۷ ) ۔

٤) اپنے فرزند ابراہیم پر گریہ :

خدا وند متعال نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک بیٹا عطا کیا تھا جس کا نام ابراہیم رکھا ۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے شدید محبت کرتے لیکن ایک سال کی عمر میں اس کی وفات ہوگئی جس سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو انتہائی صدمہ پہنچا اور اس کے فراق میں گریہ کرنا شروع کیا تو صحابہ کرام نے اس کی وجہ پوچھی تو جواب میں فرمایا:تدمع العینان ویحزن القلب ولا نقول مایسخط الربّ ( ۸ )

آنکھوں سے اشک جاری ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم ایسی بات نہیں کہتے جو خد ا وند متعال کی ناراضگی کا باعث بنے ۔

٥) حضرت فاطمہ بنت اسد پر گریہ :

حضرت فاطمہ بنت اسد ،حضرت علی علیہ السّلام کی ماں اور حضرت ابوطالب کی زوجہ محترمہ ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاں بہت مقام رکھتی تھیں یہاں تک کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انہیں اپنی ماں سمجھتے تھے جب تیسری ہجری میں ان کی وفات ہوئی توآپ سخت اندوہناک ہوئے اور گریہ کیا ۔مؤرخین لکھتے ہیں :

صلّی علیها وتمرغ فی قبرها وبکٰی ( ۹ )

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان پر نماز پڑھی، ان کی قبر میں لیٹے اور ان پر گریہ کیا.

٦)حضرت حمزہ پر گریہ :

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا حضرت حمزہ جنگ احد میں شہید ہوئے جس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوبہت صدمہ ہو ا اور ان پر گریہ کیا ۔سیرہ حلبیہ میں لکھا ہے :

لمّا رأی النبّی حمزة قتیلا بکٰی ، فلمّا رأی مامثّل به شهق ( ۱۰ )

جب پیغمبر (صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کو حضرت حمزہ شہید دیکھا تو ان پر گریہ کیا اور جب ان کے بدن کے اعضاء کو کٹا ہوا دیکھا تو دھاڑیں مار کر روئے ۔

امام احمدبن حنبل نقل کرتے ہیں:

جنگ احد کے بعد پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے شوہروں پر گریہ کرنے والی انصار کی عورتوں سے فرمایا:

ولکن حمزة لا بواکی له

لیکن حمزہ پر گریہ کرنے والا کوئی نہیں ۔

روای کہتاہے : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تھوڑی دیر آرام کے بعد دیکھا توعورتیں حضرت حمزہ پر گریہ کررہی تھیں۔

ابن عبدالبر کہتے ہیں : یہ رسم اب تک موجود ہے اور لوگ کسی مرنے والے پر گریہ نہیں کرتے مگر یہ کہ پہلے حضرت حمزہ پر آنسو بہاتے ہیں( ۱۱ ) ۔

٧) اپنے نواسے پر گریہ :

اسامہ بن زید کہتے ہیں : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے نواسے کی موت کی خبر سننے کے بعد بعض صحابہ کرام کے ہمراہ اپنی(منہ بولی ) بیٹی کے گھرپہنچے ۔ میت کو ہاتھو ں پر اٹھایا جبکہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور کچھ کہہ کررہے تھے( ۱۲ ) ۔

٨)حضرت عثمان بن مظعون پر گریہ :

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض صحابہ کرام کا اس دنیا سے جانا بھی آپ پر سخت ناگوار گذرا اور آپ سے صبر نہ ہوسکا ،انہیں اصحاب باوفا میں سے ایک عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہیںان کی وفات کے بارے میں لکھا ہے :

انّ النبّی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبّل عثمان بن مظعون وهو میّت وهویبکی ( ۱۳ )

حاکم نیشاپوری اس بارے میں یوں نقل کرتے ہیں ؛

ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشییع جنازہ کیلئے باہر تشریف لائے جبکہ عمر بن خطاب بھی ہمراہ تھے ۔ عورتوں نے گریہ کرنا شروع کیا تو عمر نے انہیں روکا اور سرزنش کی ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

یا عمر دعهن فان العین دامعة والنفس مصابة والعهد قریب ( ۱۴ )

اے عمر ! انہیں چھوڑ دے ۔ بے شک آنکھیںگریہ کناں ہیں ،دل مصبیت زدہ اور زمانہ بھی زیادہ نہیں گزرا ان روایات کی بناپر واضح ہے کہ یہ عمل سنت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں حرام نہیں تھا ۔ اوریہ عمر تھے جس نے اس سنت کی پرواہ نہ کی اور عورتوں کو اپنے عزیزوں پر گریہ کرنے پر سرزنش کی ۔


٣۔ صحابہ کرام او رتابعین کی سیرت

صحابہ کرام اور تابعین کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ اپنے عزیزوں کی موت پر گریہ کیا کرتے تھے ۔جس کے عملی نمونے بیا ن کر رہے ہیں:

١) حضرت علی علیہ السّلام :

ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ جب امیر المومنین کو مالک اشتر کی شہا دت کی خبر ملی تو گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

علی مثله فلتبک البواکی ( ۱۵ )

گریہ کرنے والوں کیلئے شائستہ یہ ہے کہ اس جیسے پر آنسوبہائیں۔

٢) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا :

عباد کہتے ہیں : حضرت عائشہ فرمایا کرتیں : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت میں نے ان کا سر تکیے پر رکھاوقمت التدم)اضرب صدری(مع النساء واضرب وجهی ( ۱۶ ) اور دوسری عورتوں کے ہمراہ سینے اور منہ پر پیٹا۔

٣) حضرت عمر:

عن أبی عثمان:أتیت عمر بنعی النعمان بن مقرن، فجعل یده علی رأسه و جعل یبکی ( ۱۷ )

ابوعثمان کہتے ہیں : جب میں نے حضرت عمر کو نعمان بن مقرن کی وفات کی خبر دی تو انہوں نے اپنے سر پرہاتھ رکھااور گریہ کیا ۔

جب محمد بن یحییٰ ذہلی نیشاپوری نے احمد ابن حنبل کی وفات کی خبر سنی توکہا : مناسب ہے کہ تما م اہل بغداد اپنے اپنے گھروں میں نوحہ خوانی کی مجالس برپا کریں ۔

٤)عبداللہ بن رواحہ :

عبد اللہ بن رواحہ نے جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنی تو ان کی شان میں اشعار پڑھتے ہوئے گریہ کیا( ۱۸ ) ۔

٥)عبداللہ بن مسعود :

نقل کیا گیا ہے کہ جب حضرت عمر کی وفات ہوئی تو ابن مسعودنے ان پر گریہ کیا :

فوقف ابن مسعود علی قبره یبکی ( ۱۹ )

ابن مسعودنے ان کی قبر پر کھڑے ہوکر گریہ کیا۔

٦)امام شافعی :

اہل سنّت کے امام ،شافعی امام حسین علیہ السّلام کی شان میں نوحہ پڑھتے ہوئے کہتے ہیں :

تاوب عنّی والفؤاد کئیب

وأرقّ عینی فالرقاد غریب

وممّا نفٰی جسمی وشیّب لُمّتی

تصاریف ایّام لهنّ خطوب

فمن مبلغ عنّی حسین رسالة

وان کرهتها أنفس وقلوب

قتیلا بلا جرم کأنّ قمیصه

صبیغ بماء الأرجون خضیب

فللسّیف اعوال وللرّمح رنّة

وللخیل من بعدالصّهیل نحیب

تزلزلت الدّنیا لآل محمد

وکاد لهم صمّ الجبال تذوب

وغارت نجوم واقشعرّت کوکب

وهتّک أستار وشقّ جیوب

یُصلّی علی المبعوث من آل هاشم

ویُعزی بنوه انّ ذا لعجیب

لئن کان ذنبی حبّ آل محمّد

فذلک ذنب لست منه أتوب

هم شفعائی یوم حشری وموقفی

اذا ما بدت للناظرین خطوب( ۲۰ )


گلی کوچوں میں عزاداری

گلی کوچوں او رسڑکوں پر عزاداری اور نوحہ خوانی ان امورمیں سے ہے جو صدر اسلام سے لے کر آج تک شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان رائج ہیںاور بڑے بڑے علمائے اہل سنّت اسے انجام دیتے چلے آئے

ہیں ۔جب تک اسلام کی سربلندی وسرفرازی کا کلمہ پڑھنے والے موجود ہیں تب تک امام حسین کے پیغام کو اسی عزاداری کے ذریعے دنیا والوں تک پہنچاتے رہیں گے ۔یہ وہ غم ہے جس کی حفاظت وپاسداری خود خدانے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ورنہ بنو امیہ اور بنو عباس نے اس غم کو مٹانے کے لئے کون سی کوشش نہ کی لیکن اس غم ، مجلس وماتم اوراس عزاداری مظلو م کربلا کونہ مٹاسکے اورپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چاہنے والے بھی آج تک اسی ماتم وعزاداری کی صورت میں نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت اور یزید سے بیزاری کا اعلان کر تے چلے آرہے ہیں۔

یا حسین بن علی ماتم تیرا ہم کرتے رہیں گے

دم تیرا ہم اللہ کی قسم بھرتے رہیں گے

لاکھ چھپے پردوں میں تو اے روح یزیدی

لعنت تیری تصویر پہ ہم کرتے رہیں گے

آج بھی عزادار ی کی مخالفت کرنے والے خود حکومت اور حکمرانوں کے خلاف سڑکوںاورروڈوں پر جلوس نکالتے رہتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ جب نواسہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مظلومیت اور یزید کے ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عاشقان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہی لوگوں کے اندر بغض رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل رسول ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے اور فوراان جلوسوں کا راستہ روکنے پر تیار ہوجاتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جلوس ان کے عقیدہ کی نفی کررہے ہیں لہذا جیسے کیسے ہو ان کا راستہ روکا جائے ورنہ کون سا ایسا دن ہے جس میں دنیا کے گوش وکنار میں ظلم کے خلاف احتجاج نہ ہوا ہو، لیکن وہاں نہ تو راستہ روکا جاتا ہے اور نہ بدعت کا فتوٰی لگایا جاتا ہے ۔ ذیل میں ہم علمائے اہل سنّت کے ماتم کے چند ایک نمونے پیش کر رہے تا کہ جو لوگ حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں ان پر اتمام حجت ہو جائے ۔

١۔طبری :

انہوں نے اپنی کتاب تاریخ الطبری میں لکھا ہے :

فلم أسمع والله واعیة مثل واعیة نساء بنی هاشم فی دورهنّ علی الحسین ( ۲۱ )

خدا کی قسم ! میں نے بنو ہاشم کی خواتین کے حسین پر گریہ و فریاد کے مانند کوئی گریہ نہیں سنا.

٢۔ نسفی :

وہ کہتے ہیں : میںاہل سنت کے حافظ بزرگ ابو یعلی عبدالمومن بن خلف (ت ٣٤٦ھ) کے جنازے میں شریک تھا کہ اچانک چار سو طبلوںکی آواز گونجنے لگی( ۲۲ ) ۔

٣۔ذہبی:

اہل سنّت کے بہت بڑے عالم دین اور علم رجال کے ماہر ذہبی کہتے ہیں : جوینی نے ٢٥ ربیع الثانی ٤٧٨ھ میں وفات پائی ۔ لوگ اسکے منبر کوتوڑ کر تبرک کے طور پر لے گئے ، اس کے سوگ میں دکانوں کو بند کردیا اور مرثیے پڑھے ۔ اس کے چار سو شاگرد تھے جنہوں نے اس کے فراق میں قلم ودوات توڑ ڈالے اور ا س کے لئے عزا برپا کی ۔ انہوں نے ایک سال کے لئے عمامے اتار دیئے اور کسی کی جرأت نہ تھی کہ سر کوڈھانپے ۔ طلاب شہر میں پھرتے ہوئے نوحہ وفریاد اور گریہ وزاری میں مشغول رہتے( ۲۳ ) ۔

٤۔سبط بن جوزی :

ابن کثیر (البدایة والنہایة ) میں لکھتے ہیں ؛

ملک ناصر (حاکم حلب) کے زمانے میں یہ درخواست کی گئی کہ روز عاشوراء کربلا کے مصائب بیان کئے جائیں ۔ سبط بن جوزی منبر پر گئے ، کافی دیر سکوت کے بعد عمامہ سر سے اتارا اورشدید گریہ کیا۔ اور پھر یہ اشعار پڑھے :

ویل لمن شفعائه خصمائه

والصور فی نشر الخلائق ینفخ

لا بد ان ترد القیامة فاطم

وقمیصها بدم الحسین ملطخ

افسوس ہے ان پر جن کی شفاعت کرنے والے جب میدان محشر میں صور پھونکاجائیگا تو ان کے دشمن ہونگے ۔ اورفاطمہ روز قیامت ضروراپنے فرزند حسین کے خون میں لتھڑی ہوئی قمیص لے کر میدان محشر میں وارد ہونگی۔

یہ کہہ کرمنبر سے اترے اور اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے( ۲۴ ) ۔

٥۔عمر بن عبدلعزیز :

خالد ربعی عمر بن عبدالعزیز کی عزاداری کے بارے میں کہتاہے :

تورات میں بیان ہوا ہے کہ عمربن عبد العزیز کی موت پر چالیس دن تک زمین وآسمان گریہ کریں گے( ۲۵ ) .

واضح روایات او رتاریخی شواہد کی روشنی میں مجالس ، ماتم وسوگواری ، نوحہ خوانی ، گریہ وعزاداری ، عزیزوں کے فراق میں بے تابی ، منہ اور سینے پر پیٹنا ، دکانوں کا بند رکھنا او رغم مناتے ہوئے سڑکوں پر نکلنا طول تاریخ مسلمین میں رائج رہا ہے اور علماء نے بھی اس کی تائید فرمائی ہے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔


گریہ و ماتم سے منع کرنے والی روایات

جو لوگ مردوں پر رونے کو حرام سمجھتے ہیں وہ اس حکم پر چند دلیلیں پیش کرتے ہیں :

پہلی دلیل:

وہ احادیث جو حضرت عمر، عبداللہ بن عمر او ردیگر سے نقل ہوئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے ۔

المیّت یعذّب فی قبره بما نیح علیه

یایہ حدیث :انّ المیّت یعذب ببکاء اهله علیه ( ۲۶ )

عزیزواقربا کے گریہ کی وجہ سے مردے پر عذاب نازل ہوتاہے ۔

اسی طرح سعید بن مسیّب سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے اپنے باپ کی وفات پر مجلس عزاکا پروگرام رکھا تو حضرت عمر نے ا س سے روکا،لیکن حضرت عائشہ نے ان کی بات نہ مانی، جس پر حضرت عمر نے ہشام بن ولید کو بھیجا کہ وہ انہیں زبردستی اس کا م سے روکے ۔جب عورتوں کو اس کی خبر ملی تو مجلس کو چھوڑ کر چلی گئیں ،اس وقت حضرت عمر نے ان سے کہا :

تردن أن یعذب ابوبکر ببکائکنّ! انّ المیّت یعذب ببکاء أهله علیه ( ۲۷ )

کیا تم اپنے گریے کی وجہ سے ابوبکر پر عذاب لانا چاہتی ہو ! بے شک میت کو اس کے گھر والوں کے گریے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے نقل کرتے وقت اشتباہ کیا ہے یا بطور کلی روایت کے متن کو بھول بیٹھا ہے ۔

ابن عباس کہتے ہیں :حضرت عمر کی وفات کے بعد جب یہ حدیث عائشہ کے سامنے پیش کی گئی توفرمایا: خداکی رحمت ہو عمر پر ، خدا کی قسم ! رسولخدا اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی بلکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

ان الله لیزیدالکافر عذابا ببکاء اهله

بیشک خداوند متعال کافر کے گھر والوں کے گریے کی وجہ سے اس پر عذاب بڑھادیتاہے ۔

اس کے بعد حضرت عائشہ فرماتی ہیں :ولاتزر وازرة وزر اخری ( ۲۸ )

ترجمہ:اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

عبدا للہ بن عمر بھی وہاں پر موجود تھے انہوں نے حضرت عائشہ کے جواب میں کچھ نہ کہا( ۲۹ ) ۔

ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب عبد اللہ بن عمر کی یہ روایت حضرت عائشہ کے سامنے نقل کی گئی توفرمایا: خداوند متعال عبد اللہ بن عمر کو بخش دے ۔ اس نے جھوٹ نہیں کہا ۔بلکہ یا توبھول بیٹھا ہے یا نقل کرنے میں اشتباہ کیاہے ۔

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک یہود ی عورت کی قبر کے پاس سے گزرے تو دیکھا اس کے رشتہ دار اس پر رورہے ہیں توفرمایا:

انهم لیبکون علیها وانها لتعذب فی قبرها

وہ اس پر رورہے ہیں جبکہ قبر میں اس پر عذاب ہورہاہے ۔

ان روایات کی توجیہ

علمائے اہل سنت نے اس بارے میں ان روایات کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے : ان احادیث کا معنی یہ ہے کہ وہ گریہ کے ہمراہ ایسی صفات وخصوصیات کا ذکر کرتے کہ جو شریعت مقدّسہ میں حرام ہیں ۔ مثال کے طورپر کہا کرتے : اے گھروں کو ویران کرنے والے! اے عورتوں کو بیوہ کرنے والے ...۔

ابن جریر ، قاضی عیاض اور دیگر نے ان روایات کی توجیہ میں کہا ہے کہ : رشتہ داروں کاگریہ سننے سے میت کا دل جلتاہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے ۔

مزید ایک توجیہ حضرت عائشہ سے نقل ہوئی ہے جو انہوں نے اس حدیث کے معنی میں بیان فرمائی ہے کہ جب رشتہ دار گریہ کرتے ہیں تو کافر یا غیر کافر پر اس کے اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوتاہے نہ کہ عز یزوں کے گریہ کی وجہ سے( ۳۰ ) ۔

علامہ مجلسی اس بارے میں فرماتے ہیں :

اس حدیث میں حرف (باء ) مع کے معنی میں ہے یعنی جب میت کے رشتہ دار اس پر گریہ کرتے ہیں تو وہ اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوتاہے( ۳۱ ) ۔

دوسری دلیل :

میت پر گریہ کرنے کی حرمت پر دوسری دلیل وہ روایت ہے جو متقی ہندی نے حضرت عائشہ سے نقل کی ہے کہ انہوںنے فرمایا :

جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جعفر بن ابی طالب ، زید بن حارثہ او رعبد اللہ رواحہ کی شہادت کی خبر ملی تو چہر ہ مبارک پرغم واندوہ کے آثار طاری ہوئے ۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی اچانک ایک شخص آیا او رعرض کیا: یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! عورتیں جعفر پر گریہ کر رہی ہیں ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

فارجع الیهن فاسکتهن ، فان أبین فاحث فی وجوههن )افواههن ( التراب ( ۳۲ )

ان کے پاس جاؤ او رانہیں خاموش کراؤ۔ پس اگر وہ انکار کریں تو ان کے منہ پر خاک پھینکو۔

اس روایت کا جواب

یہ روایت چند اعتبار سے قابل اعتراض ہے ۔

١۔ خودرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مرنے والوں اور شہداء پر گریہ کرتے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے جیسا کہ حضرت حمزہ اورجعفر و... پر گریہ کرنے کا حکم دیا ،اور پھر جب حضرت عمر نے عورتوں کو گریہ کرنے سے منع کیا تو فرمایا : انہیں چھوڑ دو، آنکھیں گریہ کناں ہیں اور...( ۳۳ ) ۔

٢ ۔ اس حدیث کے روایوں میں سے ایک محمدبن اسحاق بن یسار ہے ۔ جس کے بارے میں علمائے رجال میںاختلاف پایا جاتا ہے ۔ ابن نمیر کہتے ہیں : وہ مجہول ہے اور باطل احادیث کو نقل کرتاہے ۔

احمد بن حنبل کہتے ہیں : ابن اسحاق احادیث میں تدلیس کیا کرتا اور ضعیف احادیث کو قوی ظاہر کرتا( ۳۴ ) .

تیسری دلیل :

مُردوںپر گریہ کے حرام ہونے پر تیسری دلیل حضرت عمر کا عمل ہے ۔ نصر بن ابی عاصم کہتے ہیں : ایک رات حضرت عمر نے مدینے میں عورتوں کے گریے کی صدا سنی تو ان پر حملہ کردیا اور ان میں سے ایک عورت کو تازیانے مارے ، یہاں تک کہ اس کے سرکے بال کھل گئے ۔ لوگوں نے کہا : اس کے بال ظاہر ہوگئے ہیں تو جواب میں کہا :

أجل ،لاحرمة لها .( ۳۵ ) اس عورت کا کوئی احترام نہیں ہے۔

لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا خلیفہ کا عمل کسی مسلمان کے لئے حجت ہے۔ امام غزالی صحابہ کے عمل کے حجت ہونے کے بارے میں بیان کئے جانے نظریات کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

الأصل الثانی من الأصول الموهونة :قول الصحابی ،وقد ذهب قوم الی أنّ مذهب الصحابی حجة مطلقا ، وقوم الی أنّه الحجة ان خالف القیاس ، وقوم الی أن الحجة فی قو ل أبی بکر وعمر خاصة لقوله اقتدوا باللذین بعدی ،وقوم الی أنّ الحجة فی قول الخلفاء الراشدین اذااتفقواوالکلّ باطل عندنا ،فانّ من یجوز علیه الغلط والسّهو ،ولم تثبت عصمة عنه فلا حجة فی قوله ،فکیف یحتجّ بقولهم مع جواز الخطائ .( ۳۶ )

یہ سب اقوال باطل ہیں ۔ چونکہ جو شخص عصمت نہیں رکھتااو راس کے عمداً یا سہواً اشتباہ کرنے کا احتمال موجود ہو تواس کا قول حجت نہیں ہوسکتا،پس خطاکے جائز ہوتے ہوئے اس کے قول سے کیسے احتجاج کیا جا سکتا ہے ۔

اور پھر کتب اہل سنّت میں ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں خلیفہ کی رائے سنت وفعل رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سراسر مخالف دکھائی دیتی ہے ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے جسے امام احمد بن حنبل نے نقل کیا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا : اے عمر! ان عورتوں کو چھوڑ دو( ۳۷ ) ۔

اور اسی طرح حضرت عائشہ کا یہ قول کہ فرمایا:

خدا رحمت کرے عمر پر یا تو فراموش کربیٹھا ہے یااس سے نقل کرنے میں اشتباہ ہواہے( ۳۸ ) ۔ ()

ابن ابی ملیکہ نے ایک داستان نقل کی ہے جومُردوں پر ماتم کرنے کی حرمت کو بیان کرنے والی ان روایات کے جعلی ہونے کی تائید کررہی ہے وہ کہتے ہیں:

حضرت عثمان کی ایک بیٹی کی وفات ہوئی تو ہم عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس کے ہمراہ اس کے تشییع جنازہ میں شریک ہوئے ۔میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابن عمر نے رونے والوں پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت عثمان کے بیٹے سے کہا : انہیں روکتے کیوں نہیں ہو ؟ میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ فرمایا:

مُردے پر اس کے عزیز واقارب کے گریہ کرنے کی وجہ سے عذاب نازل ہوتا ہے ۔

اس وقت ابن عباس نے ابن عمر کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا: یہ عمر کا قول ہے اس لئے کہ جب حضرت عمر زخم کی شدت کی وجہ سے بستر پرموجود تھے تو صہیب ان کے پاس آئے اور گریہ وفریاد کرنا شروع کی تو عمر اس کے اس عمل سے ناراض ہو ئے اور کہا: کیا مجھ پر گریہ کر رہے ہو جبکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایاہے : مردے کو اس کے اقارب کے گریے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس کے بعدفرمایا: میں نے ان (عمر ) کی وفات کے بعد ان کی یہ بات حضرت عائشہ کے سامنے پیش کی تو انہوں نے یوں فرمایا:

رحم الله عمر، والله ما حدث رسول الله ،لیعذب ...ولکن رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال: انّ الله لیزید الکافر ببکاء أهله علیه

خدا عمر پر رحمت کرے ! پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہر گز ایسی بات نہیں فرمائی بلکہ انہوں نے تو یوں فرمایا: خداوند متعال کافر کے عزیزوں کے گریے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے ۔

اور پھر (حضرت عائشہ نے یہ حکم خدابیان ) فرمایا:

حسبکم کتاب الله ولاتزر وازرة وزرأخرٰی ( ۳۹ )

ترجمہ: اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گنا ہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عباس نے یہ جملہ فرمایا: خداہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے ۔

راوی کہتا ہے :جب عبداللہ بن عباس نے اپنی گفتگو ختم کرلی تو اس کے بعد ابن عمر خاموش رہے اور کوئی بات نہ کہی( ۴۰ ) ۔

ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے سامنے عبداللہ بن عمر کا یہی قول نقل کیا گیا کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس طرح کی حدیث نقل کرتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میت کو عزیزو اقارب کے گریہ کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو حضرت عائشہ نے فرمایا:

ذهل ابن عمر ! انّما قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انّه لیعذب بخطیئته وذنبه وانّ أهله لیبکون علیه الآن .( ۴۱ )

ابن عمر فراموش کر بیٹھا ہے جبکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں فرمایاہے : مردے پر اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب نازل ہورہا ہوتا ہے جبکہ اس کے رشتہ دار اس وقت اس پرگریہ کر رہے ہوتے ہیں ۔

اسی طرح ایک اور مقام پر حضرت عائشہ نے فرمایا:

انّکم لتحدّثون عن غیرکاذبین ولامکذوبین ولکن السّمع یخطی .( ۴۲ )

عمراو ر ابن عمر نے جان بوجھ کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دی ہے بلکہ سننے میں اشتباہ کر بیٹھے ہیں۔

نتیجہ

جوکچھ بیان کیا گیاہے یہ ان ادلہ کا خلاصہ ہے جو وہابیوں کے اس ادّعا کو رد کرنے کیلئے بیان کی گئی ہیںکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مرنے والوں پر گریہ کرنے سے منع فرمایاہے۔جبکہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بالکل واضح طور پر ثابت ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہر گز میّت پر گریہ کرنے اور مجالس عزا برپا کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ وہ بعض روایات جو کتب اہل سنّت میں اس کی نفی کررہی ہیںیا تو ان کی سند ضعیف ہے جیساکہ ذکر کر چکے یا پھر راوی نے اسے بیان کرنے میں اشتباہ کیا ۔اس لئے کہ ایسی روایات حکم قرآن ،سیرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کے مخالف ہیں جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان روایات کی نفی فرمائی ہے جس سے یہ واضح پتہ چلتا ہے کہ یا تو ان روایات کی ابتدا ہی سے کوئی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایاکہ یہ روایات خلیفہ کا اپنا قول ہے نہ کہ حدیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم .(شرح صحیح مسلم ،نووی ٥:٣٠٨.) اور یہ بھی ان بعض جعلی روایات کی طرح ہیں جو اہل سنت کی معتبر کتب میں بیان ہوئی ہیں جنہیں کوئی بھی مسلمان قبول کرنے کو تیا ر نہیں یہاں تک کہ خود اہل سنّت بھی ،یا پھر راوی نے بیان کرتے وقت توجہ نہ کی اور یہ روایات کافر پر عذاب کو بیان کر رہی ہیںجیسا کہ زوجہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی توجیہ فرمائی ۔ اورہم اسی مقدار پر اکتفا کرتے ہیں اس لئے کہ جو لوگ حق و انصاف کی پیروی کرنے والے ہیں ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔وما علینا الاّ البلاغ


انبیاء کا امام حسین پر گریہ کرن

امام صادق علیہ السّلام فرماتے ہیں : انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور ملائکہ کا امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنا طولانی ہو چکا ہے( ۴۳ ) ۔ ذیل میں ہم امام حسین علیہ السّلام پر انبیاء علیہم السّلام کے گریہ کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں :

١۔حضرت آدم کا گریہ کرنا:

اس آیت مجیدہ (( فتلقٰی آدم من ربّه کلمات ) ...)( ۴۴ ) کی تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جب خدا وند متعال نے حضرت آدم علیہ السّلام کی توبہ قبول کرنا چاہی تو جبرائیل علیہ السّلام کو ان کے پاس بھیجا تاکہ انہیں یہ دعا تعلیم دیں :

یا حمید بحقّ محمّد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،یا أٔعلی بحقّ علیّ ، یا فاطر بحقّ فاطمة ، یا محسن بحقّ الحسن ،یا قدیم الاحسان بحقّ الحسین ومنک الاحسان

جیسے ہی جناب جبرائیل علیہ السّلام نام حسین پر پہنچے تویہ نام سن کر حضرت آدم علیہ السّلام کے دل پر غم طاری ہوا اورآنکھوں سے اشک جاری ہوئے،جناب جبرائیل علیہ السّلام سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا:

یا آدم ! ولدک هذا یصاب بمصیبة تصغر عندها المصائب

اے آدم ! آپ کے اس فرزند پر ایسی مصیبت آئے گی کہ ساری مصیبتیں اس کے سامنے حقیر نظر آئیں گی

آدم علیہ السّلام نے فرمایا: وہ کونسی مصیبت ہو گی ؟ عرض کیا :

یقتل عطشانا غریباوحیدا فریدا لیس له ناصرا ولامعین ،ولو تراه یا آدم یحول العطش بینه وبین السّماء کالدّخان ، فلم یجبه أحد الاّ بالسّیوف ،وشرب الحتوف ،فیذبح ذبح الشاة من قفاه ، وینهب رحله وتشهر رأوسهم فی البلدان ، ومعهم النسوان ، کذلک سبق فی علم المنّان ،فبکٰی آدم وجبرائیل بکاء الثکلٰی ( ۴۵ )

اسے پیاسا قتل کیا جائے گاجبکہ وہ وطن سے دور ، تنھا اوربے یار ومدد گار ہوگا ۔اگرآپ اسے دیکھتے تو پیاس کی شدّت کی وجہ سے آسمان اس کی آنکھوں میں دھواں دکھائی دے گا ، ( وہ مدد کے لئے پکارے گا ) تو تلواروں اور شربت موت سے اس کا جواب دیا جائے گا ، اسے ذبح کرکے سر تن سے جدا کردیا جائے گا جیسے گوسفند کو ذبح کیا جاتا ہے ، ان کے خیموں کو لوٹ لیا جائے گا اور ان کے سروں کو مختلف شہر وں میں پھرایا جائے گا جبکہ ان کی عورتیں ان کے ہمراہ ہوں گی ، اس طرح کا پہلے ہی سے علم خدائے منّان میں گذر چکا ہے ،پس آدم و جبرائیل نے اس عورت کی مانند گریہ کیا جس کا جوان بیٹا مر گیا ہو ۔

ایک اور روایت میں بیان ہواہے کہ جب حضرت آدم و حوّا کو ایک دوسرے سے دور زمین پراُتارا گیا تو حضرت آدم علیہ السّلام جناب حوّا سلام اللہ علیہا کی تلاش میں نکلے اور چلتے چلتے سر زمین کربلا پہنچے ، وہاں پر دل پہ غم طاری ہوا اور جب قتل گاہ امام حسین علیہ السّلام پر پہنچے تو پاؤں میں لغزش آئی اور گر پڑے جس سے پاؤں سے خون جاری ہونے لگا ،اس وقت آسمان کی طرف سر بلند کیا اور عرض کیا :

الٰهی هل حدث منّی ذنب آخر فعاقبتنی به ؟ فانّی طفت جمیع الأرض ،وماأصابنی سوء مثل ما أصابنی فی هذه الأرض

فأوحی الله تعالٰی الیه : یا آدم ما حدث منک ذنب ،ولکن یقتل فی هذه الأرض ولدک الحسین ظلما ،فسال دمک موافقة لدمه

فقال آدم : یا ربّ أیکون الحسین نبیّا ؟ قال : لا ، ولکنّه سبط النّبیّ محمّد ، وقال: من القاتل له؟ قال: قاتله یزید لعین أهل السّمٰوات والأرض .فقال آدم:أیّ شیء أصنع یا جبرائیل ؟فقال: العنه یا آدم ! فلعنه أربع مرّات ومشیٰ خطوات الی جبل عرفات فوجد حوّا هناک (۴۶)

اے پروردگار! کیا میں کسی نئے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھا جس کی تو نے مجھے سزا دی ؟میں نے پورے روئے زمین کی سیر کی لیکن کہیں پہ اس طرح کی کوئی مصیبت پیش نہ آئی جو اس سر زمین پرپیش آئی ہے ۔

خدا وند متعال نے حضرت آدم پر وحی نازل کی : اے آدم ! تو نے کوئی گناہ نہیں کیا ،لیکن اس سر زمین پر تمہارے فرزندحسین کو ظلم وجفا کے ساتھ قتل کیا جائے گا،لہذا آپ کا خون ان کے خون کی حمایت میں جاری ہوا ہے۔

حضرت آدم نے عرض کیا : اے پالنے والے ! کیا حسین نبی ہوں گے ؟فرمایا: نہیں ،لیکن محمّد ۔۔صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۔ کے نواسے ہوں گے ۔

حضرت آدم نے عرض کیا : اسے کون قتل کرے گا ؟فرمایا یزید جو زمین وآسمان میں ملعون ہوگا ۔آدم نے جبرائیل سے کہا : میں کیا کر سکتا ہوں ؟ اس(جبرائیل ) نے عرض کیا : اے آدم ! اس پر لعنت بھیجو ،پس انہوں( آدم علیہ السّلام) نے اس پر چار مرتبہ لعنت بھیجی ۔اور چند قدم چلنے کے بعد کوہ عرفات میں حضرت حوّا سے جا ملے ۔

٢۔ حضرت نوح کا گریہ کرنا:

جب حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی گرداب میں آئی توانہوںنے خداوند متعال سے اس کا سبب پوچھا، جواب ملا : یہ سرزمین کربلا ہے اور جبرائیل علیہ السّلام نے امام حسین علیہ السّلام کی شہادت اور ان کے اہل وعیال کے اسیربنائے جانے کی خبر دی تو کشتی میں گریہ وماتم برپا ہوگیا اور آنحضرت نے بھی گریہ کیا( ۴۷ )

٣۔حضرت ابراہیم کا گریہ کرنا:

جب حضرت اسماعیل علیہ السّلام کوذبح کرنے سے بچالیا گیا تو جناب جبرائیل علیہ السّلام نے واقعہ کربلا بیان کیا اور اس پر گریہ کرنے کا اجر وثواب بتایاتو جناب ابراہیم علیہ السّلام نے کربلا میں ہونے والے مصائب پر گریہ کیا( ۴۸ ) ۔

اسی طرح جب خداوند متعال نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے سامنے زمین وآسمان کو رکھا تو انہوں نے زیر عرش پانچ نور دیکھے ،جیسے ہی پانچویں نور یعنی امام حسین علیہ السّلام پر نظر پڑی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو پڑے( ۴۹ ) ۔

٤۔ حضرت موسٰی کاگریہ کرنا :

جب حضرت موسٰی علیہ السّلام کوہ طور پر گئے تو وحی خدا ہوئی اے موسٰی ! تم جس جس کی بخشش طلب کرو گے ہم بخش دین گے سوا قاتل حسین کے ۔حضرت موسٰی نے عرض کیا : پالنے والے وہ بزرگ ہستی کون ہے؟امام حسین علیہ ا لسّلام کا تعارف کروایا گیا ،یہاں تک کہ بتایا گیا کہ ان کا بدن بے گور و کفن زمین پر پڑا رہے گا ،ان کا مال واسباب لوٹ لیا جائے گا ،ان کے اصحاب کو قتل کردیا جائے گا، ان کے اہل وعیال کو قیدی بنا کر شہر بہ شہر پھرایا جائیگا ،ان کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا جائے گا اور ان کے بچے پیاس کی وجہ سے جان دے بیٹھیں گے ،وہ مدد کے لئے پکاریں گے لیکن کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا ۔

حضرت موسٰی نے یہ سن کر گریہ کیا ۔خداوند متعال نے فرمایا: اے موسٰی ! جان لے جو شخص اس پر گریہ کرے یا گریہ کرنے والی صورت بنائے تو اس پر جہنّم کی آگ حرام ہے( ۵۰ ) ۔

روایات میں نقل ہواہے کہ حضرت موسٰی علیہ السّلام نے اپنے پروردگار کے ساتھ مناجات کرتے ہوئے عرض کیا :

یا ربّ لم فضّلت أمّة محمّد علی سایرالأمم ؟قال الله تعالٰی : فضّلتهم لعشر خصال .قال: وماتلک الخصال الّتی یعملونها حتٰی أمر بنی اسرائیل یعملونها ؟قال الله تعالٰی:الصلاة والزکاة والصوم والحجّ والجهاد والجمعة والجماعة والقرآن والعلم والعاشوراء ،قال موسٰی: یاربّ وما العاشورائ؟قال: البکاء والتباکی علی سبط محمّدصلّی اللّه علیه وآله وسلّم والمرثیة والعزاء علی مصیبة ولد المصطفٰی ( ۵۱ ) .

اے پروردگار! تو نے کس لئے اُمّت محمّدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تمام امّتوں پر فضیلت دی ؟خداوندمتعال نے فرمایا:میں نے انہیں دس خصلتوں کی بناپر فضیلت دی ہے ۔حضرت موسٰی نے عرض کیا : وہ کونسی خصلتیںہیں تاکہ میں بنی اسرائیل کوان کے بجالانے کا حکم دوں ؟فرمایا: وہ نماز ، روزہ ، زکات،حجّ ، جھاد ، نماز جماعت و جمعہ ،قرآن ،علم اور عاشورہ ہے ۔حضرت موسٰی نے عرض کیا : یہ عاشورہ کیا ہے ؟آواز آئی :وہ محمّدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نواسے پر گریہ کرنا اور گریے والی صورت بناناہے ،فرزند مصطفٰیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصیبت پر مرثیہ پڑھنا اور عزاداری کرنا ہے ۔

٥۔ حضرت خضر کا گریہ کرنا:

جب حضرت موسٰی اور حضرت خضر نے مجمع البحرین میں ملاقات کی تو آل محمد علیہم السّلام او ران پر ڈھائے جانے والے مصائب کے بارے میں گفتگو کی تو ان کے گریہ کی آواز بلند ہوئی( ۵۲ ) ۔اور جیسے ہی کربلا کا تذکرہ ہو اتو گریہ اور بلند ہوا( ۵۳ ) ۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: امیرالمؤمنین علیہ السّلام صفین سے واپسی پر جب کربلاسے گذرے تو کربلا کی خاک کی ایک مٹھی بھر کر مجھے دی اور فرمایا: جب اس سے تازہ خون جاری ہو تو سمجھ جاناکہ میرے فرزند حسین شہید کردیئے گئے ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں :میرے ذہن میں یہ بات ہمیشہ باقی رہی ،یہاں تک کہ ایک دن نیندسے اٹھا تو دیکھا اس خاک سے تازہ خون جاری ہے جس سے سمجھ گیا کہ امام حسین علیہ السلام شہید کر دیئے گئے ۔میں گریہ وزاری میں مشغول تھا کہ گھر کے ایک گوشے سے آواز آئی:

اصبروا یا آل الرّسول

قتل فرخ البتول

نزل الرّوح الأمین

ببکاء و عویل

اے آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! صبر کرو ،فرزند بتول شہید کردیا گیا ۔جبرائیل امین گریہ وزاری کرتا ہوا نازل ہوا۔

میں نے گریہ کیا ،وہ دس محرم کا دن تھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آواز باقی جگہوں پر بھی سنی گئی اور وہ ندادینے والے حضرت خضر علیہ السّلام تھے( ۵۴ ) ۔

٦۔ حضرت زکریا کا گریہ کرنا:

حضرت زکریا علیہ السّلام جب بھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حضرت علی ، حضرت زہرائ اور امام حسن کا نام لیتے تو ان کا غم برطرف ہوجاتا لیکن جیسے ہی نام حسین لیتے تو ان پر گریہ طاری ہ وجاتا۔جناب جبرائیل علیہ السّلام نے آنحضرت کے سامنے امام حسین علیہ السّلام کی شہادت کا ماجر ابیان کیا تو انہوں نے گریہ کیا( ۵۵ ) ۔

٧۔ حضرت عیسٰی کا گریہ کرنا :

جب حضرت عیسٰی علیہ السّلام اور ان کے حواری کربلا سے گذرے تو انہوں نے گریہ کیا( ۵۶ ) ۔

٨۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گریہ کرنا:

جب جبرایئل علیہ السّلام نے امام حسین علیہ السّلام کی شہادت کی خبر دی توآپ نے گریہ کیا( ۵۷ ) ۔اور اسی طرح جب سید الشہداء کی تربت ان کے سامنے ظاہر کی گئی تو اس وقت بھی گریہ کیا( ۵۸ ) ۔


راہب کاامام حسین پر ماتم کرن

ابو سعید کہتا ہے : میں اس لشکر کے ہمراہ تھا جو سر امام حسین علیہ السّلام کو شام کی جانب لے کر جا رہا تھا ۔جب ایک منزل پر نصرانیوں کی بستی کے پاس پہنچے تو شمر نے بستی والوں سے بلا کر کہا : میں ابن زیاد کے لشکر کا سردار ہوں اور ہم عراق سے شام جارہے ہیں ۔عراق میں ایک باغی نے یزید کے خلاف بغاوت اور خروج کیا تو یزید نے ایک لشکر بھیج کر انہیں قتل کروادیا ،یہ ان کے سر اور ان کی عورتیں ہیں ہمیں یہاں پر رات ٹھہرنے کے لئے جگہ دی جائے ۔

راوی کہتا ہے : راہب نے اس سر کی طرف نگاہ کی تو دیکھا کہ اس سر سے نور بلندہو رہا ہے ۔اس نے شمر سے کہا : ہماری بستی میں آپ کی فوج کو ٹھہرانے کی جگہ نہیں ہے لہذا ان سروں اور قیدیوں کو ہمارے حوالے کردو ،ان کے بارے میں مت پریشان ہو اور تم لوگ بستی سے باہر رکو تاکہ اگر دشمن حملہ کردے تو دفاع کر سکو۔

شمر کو راہب کی تجویز پسند آئی ،سراور قیدی ان کے حوالے کئے اور خود بستی سے باہر رک گئے ۔راہب نے سروں کو ایک گھر میں جاکر رکھا اور وہیں پر قیدیوں کو بھی ٹھہرادیا ۔جب رات ہوئی تو اس نے دیکھا کہ گھر کی چھت پھٹی اور ایک نورانی تخت اترا، جس پر نورانی خواتین سوار ہیں اور کوئی شخص منادی دے رہا ہے کہ راستہ چھوڑ دو، یہ خواتین حضرت حوّا، صفیہ ، سارہ ، مریم ،راحیل مادر یوسف، مادر موسٰی ،آسیہ ،اور ازواج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھیں۔

راوی کہتا ہے : سرامام حسین علیہ السّلام کو صندوق سے نکالا اور ایک ایک بی بی نے اس کا بوسہ لینا شروع کیا ،جب فاطمہ زہرا کی نوبت آئی تو راہب کہتا ہے: مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا بس ایک آواز آرہی تھی اے میرے مظلوم لال! اے میرے شہید لال! ماں کاسلام ہو ۔

جسیے ہی راہب نے یہ آوازسنی غش کھا کرگرا اور جب ہوش آیاتو سر مبارک کو اٹھایااور کافور،مشک وزعفران سے اسے دھویااور اسے اپنے سامنے رکھ کر گریہ کرتے ہوئے یہ کہنے لگا:اے بنی نو ع آدم کے سردار !میں یہ سمجھتا ہوں کہ تو ہی وہ ذات ہے جس کی تعریف تورات وانجیل میں کی گئی، اس لئے کہ دنیا و آخرت کی خواتین تجھ پر گریہ کناں ہیں( ۵۹ ) ۔

نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آل سے جس شخص کو محبّت ہے

اسے نجات ملے گی یہ اک حقیقت ہے

غم حسین میں رونا ہماری فطرت ہے

وہ کیا بہائیں گے آنسو جنہیں عداوت ہے

جو شہر علم کو ان پڑھ کہیں معاذ اللہ

بنی اُمیہ میں اب تک وہی جہالت ہے

غم حسین کو دنیا مٹا سکتی نہیں

بقائے دین محمّدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ ضمانت ہے

نثار ہوتے ہیں انصار شہ پہ مہدی دیں

فضیلتوں کی میسر انہیں ریاست ہے

وجود انکا نہ ہو تو جہاں فناہوجائے

بقائے مہدی سے دنیا ودیں سلامت ہے

امام وقت کو جانے بغیر مر جائے

تواس کی موت حقیقت میں اک ہلاکت ہے

نماز فجر پڑھیں ترک راحتوں کو کریں

جہاد نفس ہی سب سے بڑی عبادت ہے

چمن جو کرب وبلا کا سجا ہے اکبر

جناب فاطمہ زہراء کی یہ ریاضت ہے


امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنے کی فضیلت

امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنے کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احادیث مبارکہ میں امام حسین علیہ السّلام کی مظلومیت پر گریہ کرنے کے بارے میں جو فضیلت نقل ہوئی ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں کرنا چاہئے اس لئے کہ اس امام مظلوم نے جو مصائب برداشت کئے ہیں اصحاب کو آنکھوںکے سامنے تڑپتے دیکھنا، بچوں کی پیاس ، بھائیوں کی شہادت ، عباس جیسے بھا ئی کے بازوؤں کا قلم ہونا ، علی اکبر جیسے حسین بیٹے کے سینے سے برچھی کا پھل نکالنا ، چھ ماہ کے شیر خوار کے گلے میں سہ شعبہ تیر کا لگتے دیکھنا یہ وہ مصائب ہیں جن کے مقابلے میں یہ ثواب کچھ بھی نہیں ہے ؟!

تصور کا فراز عرش تک توجانا آساں ہے

نشیب کربلا تک فکر انسانی نہیں جاتی

کونسا ایسا نبی ہے جس نے اتنے سارے مصائب برداشت کئے ہوں ؟ جناب یوسف علیہ السّلام جب کئی سال بعد اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السّلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے تو حضرت یعقوب علیہ السّلام نے سب سے پہلے یہ کہا : اے میرے فرزند ! مجھے یہ بتا کہ جب تمہارے بھائی تمہیں میرے پاس سے لے کر گئے تھے تو انہوں نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ حضرت یوسف نے عرض کیا: بابا جان ! مجھے اس سلسلے میں معاف کرئیے گا ،اس لئے کہ جناب یوسف جانتے تھے کہ میرے والد گرامی اسے برداشت نہیں کر پائیں گے ۔حضرت یعقوب نے فرمایا: اچھا بیٹا اگر سارا واقعہ نہیں بتاتے تو کچھ ہی بتا دو

کہا: بابا جان ! جب مجھے کنویں کے پاس لے گئے تو مجھ سے کہا : اپنا پیراہن اتارو۔میں نے کہا : اے بھائیو!کچھ خوف خدا کرو اور مجھے برہنہ مت کرو ، انہوں نے چاقو نکالا اور کہنے لگے : اگر پیراہن نہیں اتارو گے تو تمہیں قتل کر ڈالیں گے ، میں نے مجبورا پیراہن اتار ا توانہوں نے مجھے اُٹھا کر کنویں میں پھینک دیا ۔جیسے ہی جناب یعقوب علیہ السّلام کی یہ مصیبت سنی تو فریاد بلند کی اور غش کھا گئے( ۶۰ ) ۔

جناب یعقوب علیہ السّلام نے حضرت یوسف پر آنے والی مصیبت کے کئی سال بعد اسے سنا اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ جناب یوسف سامنے صحیح وسالم موجود تھے لیکن پھر بھی برداشت نہ کرسکے ،مگر امام حسین علیہ السّلام دین خدا بچانے کی خاطر اپنے جوان بیٹے کا لاشہ اپنے ہاتھوںسے اٹھا کر لائے اور پھر بھی شکر خدا کرتے رہے۔ تو وہ مصائب جو امام حسین علیہ السّلام نے دین خدا کی پاسداری کی خاطر برداشت کئے ان کے مقابلے میں اگر کسی کو ان پر آنسو بہانے کے بدلے میں جنّت مل جائے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ ذیل میں ہم ان بعض احادیث کو نقل کر رہے ہیں جن میں امام حسین علیہ السّلام کی مظلومیت پر گریہ کرنے کا ثواب اور فضیلت بیان کی گئی ہے ۔

پہلی حدیث

امام صادق علیہ السّلام فرماتے ہیں:

من ذکرنا أو ذکرنا فخرج من عینه دمع مثل جناح بعوضة ،غفر الله له ذنوبه ولوکانت مثل زبد البحر ( ۶۱ )

جو شخص ہمیں یاد کرے یا اس کے سامنے ہمارا ذکر جائے اور اس کی آنکھ سے مچھر کے پرکے برابر آنسو نکل آئے توخد اوند متعال اس کے گناہوں کو بخش دے گا اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔

ایک مرتبہ جب علاّمہ بحرالعلوم قدّس سرّہ سامراء جارہے تھے تو راستے میں امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنے کی وجہ سے گناہوں کے بخشے جانے کے بارے میں فکر کرنے لگے کہ کیسے ممکن ہے خدا وند متعال ایک آنسو کے بدلے میں کسی انسان کے سارے گناہ بخش دے ؟

اتنے میں ایک گھوڑے سوار سامنے آیا ،سلام کیا اور کہا :آپ پریشان نظر آرہے ہیں ؟اگر کوئی علمی مسئلہ ہے تو بتائیں شاید میں آپ کی مشکل کو حل کر سکوں ۔

سید بحر العلوم نے کہا:میں اس فکر میں مشغول تھا کہ کیسے خدا وند متعال امام حسین علیہ السّلام کے زائرین اور ان پر گریہ کرنے والوںکو اس قدر ثواب عطا کرے گا کہ زائر کے ہر قدم کے بدلے میں ایک حج و عمرے کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور ان پرگریہ کرنے والے کوایک قطرہ اشک کے بدلے میں بخش دے گا ؟

وہ گھوڑا سوار کہنے لگا : تعجب مت کرو ۔میں تمہیں ایک داستان سناتا ہوں جس سے تمہاری مشکل حل ہوجائے گی ۔ایک مرتبہ ایک بادشاہ شکار کے لئے نکلا تو شکار کے پیچھے گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے دور نکل گیا ،(پیاس نے اس پرغلبہ کیا )تو بیابان میں ایک خیمہ دکھائی دیا اس کے پاس پہنچا تو دیکھا ایک بوڑھی خاتون اپنے بیٹے کے ہمراہ موجود ہے ان کے پاس ایک بکری تھی جس کے دودھ سے وہ اپنا شکم سیر کیا کرتے اور کچھ نہ تھا ۔(انہوں نے جب بادشاہ کو دیکھا کہ بھوکا و پیاسا ہے) تو وہ بکری ذبح کر کے اسے کھلا دی جبکہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ بادشاہ ہے ،انہوں نے یہ کام فقط مہمان کے احترام میں کیا ۔بادشاہ نے رات وہیں پہ گذاری اور صبح واپس اپنے ساتھیوں کے پاس پلٹا اور ان سے ساری داستان بیان کی ،کہ میں یہاں سے بہت دور نکل گیا تھا بھوک وپیاس نے مجھ پر غلبہ کیا تو ایک خیمہ میںداخل ہو اوہاں پہ ایک بڑھیا موجود تھی جو مجھے نہیں جانتی تھی لیکن اس کے باوجود اپنا سارا سرمایہ مجھ پر قربان کردیا۔اب میں تم سے یہ مشورہ لینا چاہتا ہوں کہ اس بوڑھی عورت کے اس احسان کا بدلہ کیسے چکا سکتا ہوں؟

ایک نے کہا : اسے ایک سو گوسفند بخش کردو ۔دوسرے نے کہا : اسے ایک سو گوسفند اور ایک سو اشرفی بخش دو ۔ تیسرے نے کہا : فلاں کھیتی والی زمین اسکے حوالے کردو۔

بادشاہ نے کہا : میں اسے جتنا بھی دے دوں پھر بھی کم ہے اگر اپنی سلطنت اور تاج دے دوں تب اس کا بدلہ چکا سکتا ہوں، اس لئے کہ اس کے پاس جو کچھ تھا سارے کاسارا مجھ پر قربان کر دیا ،لہذا مجھے بھی چاہئے کہ جو کچھ میرے پاس ہے اسے عنایت کر دوں۔

امام حسین علیہ السّلام کے پاس بھی جو کچھ تھا اپنامال،اپنی اولاد ، اپنے بھائی، اپنے اہل وعیال، اپنی جان سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیاتو اب اگر خداوند متعال ان کے زائرین اور ان پر گریہ کرنے والوں کو اس قدر اجر وثواب عطا کردے تو اس پر تعجب کیسا ۔یہ کہہ کر وہ گھوڑے سوار وہاں سے غائب ہو گیا( ۶۲ ) ۔

دوسری حدیث

ابان بن تغلب اما م صادق علیہ السّلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

نفس المهموم لظلمنا تسبیح وهمّه لنا عبادة وکتمان سرّنا جهاد فی سبیل الله ثمّ قال أبو عبد الله علیه السّلام : یجب أن یُکتب هذا الحدیث بالذّهب ( ۶۳ )

ہمارے ظلم پر غمزدہ سانس لینا تسبیح ہے اور ہماری خاطر غمگین ہو نا عبادت ہے اور ہمارے راز کو مخفی رکھنا جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔اور پھر فرمایا: ضروری ہے کہ اس حدیث کو سونے سے لکھا جائے ۔

تیسری حدیث

امام رضا علیہ السّلام فرماتے ہیں:

من تذکّر مصابنا فبکٰی وأبکٰی لمّا ارتکب منّا،کان معنافی درجتنا یوم القیامة ،ومن ذکرنا بمصابنا فبکٰی وأبکٰی لم تبک عینه یوم تبکٰی العیون ،ومن جلس مجلسا یحیی فیه أمرنا لم یمت قلبه یوم یموت القلوب. ( ۶۴ )

جو شخص ہم پرآنے والے مصائب کو یاد کر کے ان پر روئے یا دوسروں کو رلائے تو روز قیامت اس کا درجہ ہمارے برابر ہوگا ۔اور جو شخص ہماری مصیبت کو بیان کر کے روئے یا رلائے تو وہ اس دن اس کی آنکھ گریہ نہ کرے گی جس دن سب آنکھیں گریہ کناں ہوں گی ۔اور جو شخص ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں ہمارے امر کو زندہ کیا جا رہا ہو تو اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہو گا جس دن سب دل مردہ ہوں گے ۔

چوتھی حدیث

سعد ازدی نے روایت نقل کی ہے کہ امام صادق علیہ السّلام نے فضیل سے فرمایا:

تجلسون وتحدّثون ؟ قال: نعم،جعلت فداک .قال: انّ تلک المجالس أحبّها ،فأحیو اأمرنا یافضیل ، فرحم الله من أحیا أمرنا. یا فضیل من ذکرناأو ذُکرنا عنده فخرج من عینه مثل جناح الذباب غفر الله له ذنوبه ولوکانت أکثر من زبد البحر ( ۶۵ )

کیا تم مل بیٹھ کر گفتگو کرتے ہو ؟عرض کیا: ہاں،میں آپ پر قربان ہوں ۔ فرمایا: بے شک میں ان مجالس کو دوست رکھتا ہوں ،پس اے فضیل ! ہمارے امر کو زندہ رکھو،خدا کی رحمت ہو اس پر جو ہمارے امر کو زندہ رکھے ۔

اے فضیل !جو شخص ہمارا ذکر کرے یا اس کے پاس ہمارا ذکر کیا جائے اور اس کی آنکھ سے مچھر کے پرکے برابرآنسو نکل آئے تو خداوند متعال اس کے گناہوں کو بخش دے گا اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔

پانچویں حدیث

محمد بن ابی عمّارہ کوفی نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن جعفر علیہما السّلام سے سنا وہ فرما رہے تھے :

من دمعت عینه فینا دمعة لدم سفک لنا،أو حقّ لنا انقضائ،أوعرض انتهک لنا، أو لأحد من شیعتنا بوّاه الله تعالٰی بها من الجنّة حُقبا . ( ۶۶ )

جو شخص ہمارے خون کے بہنے یا ہمارے حق کے غصب ہونے یا ہماری اورہمارے شیعوں میں سے کسی کی حرمت کے پامال ہونے پرایک قطرہ آنسو بہائے تو خدا وند متعال اسے اس آنسو کے بدلے میں ہمیشہ کے لئے جنّت میں جگہ عطافرمائے گا۔

ہر درد لادوا کی دوا ہے کربلا کے بعد

بن جائے گی یہ خاک ،شفا کربلا کے بعد

تلوار ہارتی رہی سر جیتتے رہے

ایسا تو معرکہ نہ ہوا کربلا کے بعد

اصغرسے ہار مان لی ظالم نے اس طرح

پھر کوئی حرملہ نہ ہوا کربلا کے بعد

بیعت کا سوال نہ اب اٹھے گا کبھی

نوک سناں سے شہ نے کہا کربلا کے بعد

چہرے اب نہ بال کسی کے ہٹائے گی

محتاط ہو گئی ہے ہو ا کربلا کے بعد

ظلم وستم کی دھوپ سے اسلام بچ گیا

زینب کی اوڑھ لی جو ردا کربلا کے بعد

عباس کی تھے جان وفا کربلا تلک

عباس اب ہے جان وفاکربلا کے بعد

عباس کے لبوں کو پانی نہ چھو سکا

قدموں میں تھک کے بیٹھ گیا کربلاکے بعد

کہنا خطائے حر کو خطابھی ہے اک خطا

رومال سیّدہ نے کہا کربلا کے بعد

اصغر تمہارے خشک لبوں کا یہ فیض ہے

پیاسہ نہ کوئی طفل رہا کربلا کے بعد

سینے پہ اپنے زخم بہتر لئے ہوئے

بیمار بانٹتا ہے دواکربلا کے بعد

کعبہ گواہ حرمت کعبہ گواہ ہے

زندہ ہوا ہے دین خداکربلا کے بعد

پہلے ان آنسوؤں کی تو قیمت نہ تھی کوئی

یہ قیمتی ہوئے ہیں رضا کربلا کے بعد

چھٹی حدیث

امام صادق علیہ نے فرمایا:

نظر امیرالمؤمنین صلوات الله علیه الی الحسین (علیه السّلام ) فقال: یا عبرة کلّ مؤمن ! فقال : أنا یاابتاه ؟ قال : نعم یا بنیّ ( ۶۷ )

امیرالمؤمنین علیہ السّلام نے حسین علیہ السّلام پر نگاہ ڈالی اور فرمایا:اے ہر مومن کی آنکھ کے آنسو ۔عرض کیا : بابا جان! میں ہر مومن کی آنکھ کا آنسو ہوں؟فرمایا: ہاں ،میرے فرزند۔

ساتویں حدیث

حسن بن علی بن عبداللہ نے ابی عمّارہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

ما ذکر الحسین بن علیّ علیه السّلام عند أبی عبد الله علیه السّلام فی یوم قطّ فرئی أبو عبدالله مُبتسما فی ذلک الیوم الی اللیل وکان أبو عبدالله یقول : الحسین عبرة کلّ مؤمن. ( ۶۸ )

جب کبھی امام صادق علیہ السّلام کے پاس امام حسین علیہ السّلام کاتذکر ہ کیا جاتا تو وہ پورا دن ان کے لبوں پر مسکراہٹ دکھائی نہ دیتی اور فرمایا کرتے: حسین ہر مومن کی آنکھ کا آنسو ہیں۔

آٹھویں حدیث

امام باقر علیہ السّلام نے اپنے والد بزرگوار امام زین العابدین علیہ السّلام سے نقل کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے:

أیّما مؤمن دمعت عیناه لقتل الحسین بن علی علیهما السّلام دمعة حتّی تسیل علی خدّه بوّأه الله بها فی الجنّة غرفایسکنها أحقابا ،وأیّما مؤمن دمعت عیناه دمعا حتّی تسیل علی خدّه لأذی مسّنا من عدّونا فی الدّنیا بوّأه الله مبوّأ صدق فی الجنّة ،وأیّما مؤمن مسّه أذی فینا فدمعت عیناه ،حتّی یسیل دمعه علی خدّیه من مضاضة ما أوذی فینا صرف الله عن وجهه الأذٰی وآمنه یو م القیامة من سخط النّار .( ۶۹ )

جس شخص کی آنکھ سے حسین بن علی علیہما السّلام کی شہادت پر آنسو نکل کر اس کے رخسار پر بہے تو خداوند متعال اسے اس کے بدلے میں ہمیشہ کے لئے جنّت میں مکان عطا فرمائے گا، اور جس شخص کے رخسار پر ہمارے اوپردشمن کی طرف سے ڈھائے گئے مصائب پر آنسو جاری ہو تو خدا وند متعال اسے جنّت میں صدیقین کا مرتبہ عطاکرے گا ،اور جسے ہماری راہ میں کوئی اذیت پہنچے اور اس کے رخسار پر آنسو جاری ہو جائے تو خداوند متعال اسے رنج وغم سے محفوظ رکھے گا اور اسے روز قیامت جہنّم کے غضب سے امان میں رکھے گا ۔

نویں حدیث

تفسیر امام حسن عسکری علیہ السّلام میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

جب یہ آیت مجیدہ واذ أخذنا میثاقکم لا تسفکون دمائکم... یہودیوں اور ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے باندھے ہوئے عہد وپیمان کو توڑ ڈالا ،انبیاء کو جھٹلایا اور خدا کے دوستداروں کو قتل کیا ۔تو اسوقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس امّت کے یہودیوں کی خبر دیتا ہوں جو اُن سے شباہت رکھتے ہیں۔لوگوں نے عرض کیا :یارسو ل اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! وہ کیسے ؟

فرمایا:میری امّت کاایک گروہ جو اپنے کو اس امّت اوراس ملّت میں شامل سمجھتا ہے میری آل کے افضل ترین افراد کو قتل کرے گا ، میری سنّت اور شریعت کو بدل ڈالے گا اور میرے دو فرزند حسن وحسین کواسی طرح شہید کرے گا جس طرح پہلے والے یہودیوں نے زکریا اور یحییٰ کو شہید کیا ۔خداوند متعال ان پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح اُن پر لعنت کی تھی اور ان کی اولاد پر حسین مظلوم کی نسل میں سے ایک ہادی و مہدی مبعوث کرے گا جو اپنے دوستوں کی تلواروں سے انہیں جہنم کی آگ میں جلا ڈالے گا ۔

خبردار! خداوندمتعال نے حسین کے قاتلوں ، ان کو دوست رکھنے والوں ، ان کی مدد کرنے والوں اور بغیر تقیہ کے ان پر لعنت نہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔

خداوندمتعال اپنی رحمت و شفقت سے حسین پر گریہ کرنے والوں پر درود بھیجتا ہے اور ان پر بھی درود بھیجتا ہے جو ان کے دشمنوں پر لعنت بھیجے ۔آگاہ ہوجاؤ! جو لوگ حسین کے قتل پر راضی ہیں وہ ان کے قتل میں شریک ہیں ۔آگاہ ہوجاؤ! انہیں شہید کرنے والے ، ان کے دشمنوںکی مدداوران کی پیروی کرنے والوں کا دین خداسے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خداوند متعال ملائکہ مقرّبین کوحکم فرمائے گا کہ حسین کی مصیبت اور ان کی عزاداری میں بہائے جانے والے آنسوؤں کو جمع کرکے خازن جنّت کے پاس لے جائیں تاکہ وہ انہیں آب حیات میں مخلوط کردے جس سے اس کی خوشبو میں ہزار برابر اضافہ ہو جائے گا۔

اور ملائکہ ان کے قتل پر خوش ہونے والوں کے آنسوؤں کواکٹھا کرکے انہیں جہنّم کے مشروبات میں ڈال دیںگے جو خون ،پیپ اور بدبودار پانی کی صورت اختیار کرلیں گے اور اس سے جہنّم کی گرمی میں شدّت آجائے گی تاکہ آل محمّد علیہم السّلام کے دشمنوں پر عذاب کو ہزار برابر کردیاجائے( ۷۰ ) ۔

دسویں حدیث

امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السّلام فرماتے ہیں:

انّ الله تبارک وتعالٰی اطّلع الی الأرض فاختارنا ،واختار لنا شیعة ینصروننا ، ویفرحون لفرحنا ویحزنون لحزننا ،یبذلون أموالهم وأنفسهم فینا ،أولئک منّا و الینا وقال: کلّ عین یوم القیامة باکیة وکلّ عین یوم القیامة ساهرة الاّ عین من اختصّه الله بکرامته وبکٰی علی من ینتهک من الحسین وآل محمّد ( ۷۱ )

خدا وند متعال زمین کی طرف متوجہ ہوا تو ہماراانتخاب کیا اور ہمارے لئے شیعوں کاانتخاب کیا جو ہماری مدد ونصرت کرتے ہیں،ہماری خوشی میں خوش اور ہماری مصیبت پر غمگین ہوتے ہیں،ہماری راہ میں اپنا مال وجان قربان کرتے ہیں وہ ہم میں سے ہیں اور ہماری ہی جانب آئیں گے ۔(اور پھر فرمایا:) روز قیامت ہر آنکھ گریہ کناںا ور بیدار ہوگی سوا اس آنکھ کے جسے خدا نے اپنی کرامت اور حسین و آل محمد کی بے حرمتی پررونے کی وجہ سے انتخاب کر لیا ہو ۔

گیارہویں حدیث

ریّان بن شبیب نقل کرتے ہیں کہ میں پہلی محرم کے دن امام رضاعلیہ السّلام کی خدمت میں شرفیاب ہواتوآپ نے مجھ سے فرمایا:

یابن شبیب !أصائم أنت ؟فقلت :لا ،فقال: انّ هذاالیوم هوالیوم الّذی دعا فیه زکریّا علیه السّلام ربّه عزّوجلّ فقال: (ربّ هب لی من لدنک ذرّیة طیّبة انّک سمیع الدّعا )(۷۲) فاستجاب الله له وأمر الملائکة ،فنادت زکریّا وهو قائم یصلیّ فی المحراب أنّ الله یبشّرک بیحیٰی ، فمن صام هذا الیوم ثمّ دعا الله عزّوجلّ استجاب الله له کما استجاب لزکریّا علیه السّلام

ثمّ قال : یابن شبیب ! انّ المحرّم هوالشّهر الّذی کان أهل الجاهلیة فیما مضٰی یحرّمون فیه الظلم والقتال لحرمته ،فما عرفت هذه الأمّة حرمة شهرها ولا حرمة نبیّهاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،لقد قتلوا فی هذا الشهر ذریّته ، وسبوا نسائه ، وانتهبوا ثقله ، فلا غفر الله لهم بذلک أبدا

یابن شبیب ! ان کنت باکیا لشیء فابک للحسین بنعلی بن أبی طالب علیهم السّلام فانّه ذبح کما یذبح الکبش ، وقتل معه ثمانیة عشر رجلا ، مالهم فی الاأرض شبیه ،ولقدبکت السّماوات السّبع والأرضون لقتله ، ولقد نزل الی الأرض من الملائکة أربعة آلاف لنصره ،فوجدوه قد قتل ،فهم عندقبره شعث غُبر الی أن یقوم القائم ، فیکونون من أنصاره ، وشعارهم یالثارات الحسین

یابن شبیب ! لقد حدّثنی أبی عن أبیه عن جدّه علیه السّلام أنّه: لمّا قتل الحسین جدّی صلوات الله علیه أمطرت السّماء دما وترابا أحمرا

یابن شبیب ! ان بکیت علی الحسین حتّی تسیر دموعک علی خدّیک ،غفر الله لک کلّ ذنب أذنبته صغیرا کان أو کبیرا ،قلیلا أو کثیرا

یابن شبیب ! ان سرّک أن تلقٰی الله عزّ وجلّ ولا ذنب علیک فزر الحسین علیه السّلام

یابن شبیب ! ان سرّک أن تسکن الغرف المبنیّة فی الجنّة مع النّبیّ صلّی الله علیه وآله وسلّم فالعن قتلة الحسین علیه السّلام

یابن شبیب ! ان سرّک أن یکون لک من الثواب مثل ما لمن استشهد مع الحسین ، فقل متٰی ما ذکرته :( ( یالیتنی کنت معهم فأفوز فوزا عظیما ) )( ۷۳ )

یابن شبیب ! ان سرّک أن تکون معنا فی الدرجات العُلٰی من الجنان ، فاحزن لحزننا ،وعلیک بولایتنا ،فلو أنّ رجلا تولّیٰ حجرا حشره الله معه یو م القیامة ( ۷۴ ) .

اے ابن شبیب !کیا روزے سے ہو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ،فرمایا: یہ وہ دن ہے جس دن حضرت زکریا علیہ السّلام نے دعا مانگی کہ اے پالنے والے مجھے نیک اولاد عطا فرما ۔توخداوند متعال نے ان کی دعا قبول کی اور ملائکہ کو حکم دیا (کہ انہیں بشارت دیں) ملائکہ نے ندادی اور یحیٰی کی بشارت دی جبکہ وہ محراب میں نماز ادا کررہے تھے۔

پھر فرمایا: اے ابن شبیب! محر م وہ مہینہ ہے جس میں اہل جاہلیت اس کے احترام کی خاطر ظلم وقتال کو حرام سمجھتے تھے لیکن اس امّت نے اس مہینے اور اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حرمت کا خیال نہ رکھا ۔اس مہینے میں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آل کو قتل کیا ،ان کی عورتوں کو قیدی بنایااور ان کا مال لوٹ لیا،خداوندمتعال ان کے اس گناہ کو ہر گز نہیں بخشے گا ۔

اے ابن شبیب! اگر کسی پر گریہ کرنا چاہتے ہو تو حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السّلام پر گریہ کرو اس لئے کہ انہیں اس طرح ذبح کیا گیا جس طرح گوسفند کو ذبح کیا جاتاہے اور ان کے ساتھ ان کے اہل بیت کے اٹھارہ ایسے مردوں کو شہید کیا گیا جن کی زمین پر کوئی مثال نہ تھی ۔

بے شک ساتوں آسمان و زمین ان پر روئے اور ان کی مدد ونصرت کے لئے آسمان سے چار ہزار ملائکہ نازل ہوئے لیکن جب پہنچے تو شہید کردئیے جا چکے تھے لہذاوہ ملائکہ خاک آلود ہ بالوں کے ساتھ وہیں ان کی قبر پہ رک گئے یہاں تک کہ قائم کاظہور ہو اور وہ ان کے ا نصار بنیں اور ان کا شعار یہ ہے یا لثارات الحسین ۔

اے ابن شبیب !میرے باپ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے جدّ سے یہ نقل کیا :جب میرے داداحسین کو شہید کیا گیا تو آسمان نے سرخ خون اور خاک برسائی ۔

اے ابن شبیب! اگر تو حسین پر اس قدر آنسو بہائے کہ تیرے رخسار پر جاری ہ وجائے تو خداوند متعال تمہارے سب چھوٹے بڑے گناہوں کو معاف کر دے گا چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ ۔

اے ابن شبیب ! اگر تو یہ چاہتا ہے کہ جب خداکی بارگاہ میں پیش ہو تو گناہوں سے پاک ہو توحسین علیہ السّلام کی زیارت کر ۔

اے ابن شبیب! اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ جنّتی مکانوں میں رہنا پسند کرتا ہے تو حسین علیہ السّلام کے قاتلوں پر لعنت بھیج ۔

اے ابن شبیب ! اگر تو یہ چاہتا ہے کہ تیرا شمار ان لوگوں کے ساتھ ہو جو حسین علیہ السّلام کے ساتھ شہید ہوئے تو جب بھی انہیں یاد کرے یہ کہہ:( یا لیتنی کنت معهم فأفوز فوزا عظیما ) .(سورہ نساء :٧٣.)

اے ابن شبیب ! اگر تو یہ پسند کرتا ہے کہ ہمارے ساتھ جنّت کے بلند درجات پر فائز ہو تو ہمارے غم میں غم مناؤ اور ہماری خوشی میں خوش ہو ،اور تجھ پر ہماری ولایت واجب ہے ،اس لئے کہ اگر کوئی شخص پتھر سے محبّت کرتا ہے تو خداوند متعال اسے اسی کے ساتھ محشور کرے گا۔

عمرو لیث ایک شیعہ بادشاہ تھے ایک دن اپنے لشکرکی دیکھ بھال کے لئے نکلے تو معلوم ہوا کہ اس کے لشکر کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہو چکی جیسے ہی سنا اپنے کو گھوڑے سے گرایا اور سر سجدے میں رکھ کر گریہ کرنے لگے ۔

جب تھوڑی دیر بعد سر سجدے سے اٹھایا تو ایک غلام نے آگے بڑھ کر کہا : اے بادشاہ سلامت ! جس کے پاس اتنے غلام ،اتنا بڑالشکراور پھر کوئی مشکل بھی نہ ہوتو اسے تو چاہئے کہ دوسروں کو رلائے اور خود نہ روئے ،دوسروں پرہنسے اور کسی کو اپنے اوپرہنسنے نہ دے ۔اس گریے کا سبب کیا ہے؟

عمرولیث نے کہا:جب میں نے اپنے لشکر کی تعداد دیکھی تو مجھے واقعہ کربلا یاد آگیا اور میں یہ آرزو کرنے لگاکہ اے کاش! میں اس لشکرکے ساتھ کربلا کے صحرا میں ہوتا اور فاسقوں کی گردنیں اڑاتا یا پھرخود اپنی جان قربان کر کے بلند درجات پر فائز ہوتا ۔

جب اسے موت آئی تو ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ سر پر قیمتی تاج سجائے ،خوبصورت کمر بند باندھے ہوئے ہے ا ور اس کے دائیں بائیں غلام اور سامنے حوریں ہیں ۔جب اس پوچھا گیا کہ یہ مقام تجھے کیسے ملا تو کہا: خداوند متعال نے میرے دشمنوں کو مجھ سے راضی کردیااور میرے گناہوں کو بخش دیا اور یہ اس آرزو کی وجہ سے جو میں نے امام حسین علیہ السّلام کی مدد ونصرت کے لئے کی تھے( ۷۵ ) ۔

بارہویں حدیث

امام صادق علیہ السّلام نے زرارہ سے فرمایا:

)یازرارة(انّ السّماء بکت علی الحسین علیه السّلام أربعین صباحا بالدّم ، وانّ الأرض بکت أربعین صباحا بالسّواد ، وانّ الشّمس بکت أربعین صباحابالکسوف والحمرة ، وانّ الجبال انقطعت وتنثرت،وانّ البحار تفجّرت،وانّ الملائکة بکت أربعین صباحاعلی الحسین ، ومااختضبت منّا امرأة و لاادهنت ولااکتحلت حتّی أتینا رأس عبید الله بن زیاد( لعنه الله) وما زلنا فی عبرة بعده،وکان جدّی اذاذکر ه بکٰی حتّی تملأ عیناه لحیته ،وحتّی یبکی لبکائه رحمة له من رء اه ...( ۷۶ ) ۔

اے زرارہ ! بے شک آسمان چالیس دن تک حسین علیہ السّلام پرخون رویا،زمین نے چالیس دن تک سیاہی کی صورت میں ان پرگریہ کیا،سورج نے چالیس دن تک گرہن اورسرخی کی صورت میں ان پر گریہ کیا، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر پراکندہ ہوگئے ، دریا کی موجوں میں شدّت آگئی ، اس مظلوم کی شہادت کے بعد ہماری عورتوں نے نہ تو مہندی لگائی،نہ بالوں میں تیل ،نہ آنکھوں میں سرمہ اور نہ ہی پاؤں میں پازیب ڈالی ،یہاں تک کہ عبید اللہ بن زیاد ملعون کا سر ہمارے پاس لایاگیا ۔ اس واقعہ کے بعد ہم ہمیشہ گریہ کناں ہیں۔(اورپھر فرمایا:)میرے داداامام زین العابدین علیہ السّلام کی یہ عادت تھی کہ جب بھی

اس مصیبت کا تذکرہ کرتے تو گریہ کرنے لگتے،یہاں تک کہ ریش مبارک آنسوؤں سے ترہو جاتی۔اور اس قدر شدید گریہ کرتے کہ ہر دیکھنے والا ان پر ترس کھاتے ہوئے گریہ کرنے لگتا۔

تیرہویں حدیث

ابن عباس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک طولانی روایت نقل کی ہے جس کا ایک حصّہ ہم یہاں پر نقل کریں گے کہ جب جناب جبرائیل علیہ السّلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو امام حسین علیہ السّلام کی شہادت کی خبر دی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسین علیہ السّلام کو بتایاتوانہوں نے کہا:

...وأنایاجدّاه ! وحقّ ربیّ وحقّک أن لم یدخلواالجنّة لم أدخل قبلهم ،وأطلب من ربّی أن یجعل قصورهم مجاورة لقصری یوم القیامة

اے ناناجان! مجھے اپنے ربّ اور آپ کے حق کی قسم ،میں اس وقت تک جنّت میں داخل نہیں ہوں گا جب تک کہ وہ داخل نہ ہو جائیں۔اور میں اپنے ربّ سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ روز قیامت ان کے قصر کو میرے قصر کے ساتھ قراردے۔

چودہویں حدیث

علاّمہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے نقل کیا ہے :

لمّا أخبرالنّبیّ ابنته فاطمة بقتل ولدها الحسین ومایجری علیه من المحن بکت فاطمة بکاء شدیدا ،وقالت: یاأبه متٰی یکون ذلک ؟قال:فی زمان خال منّی ومنک ومن علیّ ،فاشتدّ بکائها وقالت: یاأبه ،فمن یبکی علیه ؟ومن یلتزم باقامة العزاء له؟فقال النّبیّ:یافاطمة انّ نساء اُمّتی یبکون علی نساء أهل بیتی ،ورجالهم یبکون علی رجال اهل بیتی،ویجدّدون العزاء جیلا بعد جیل،فی کلّ سنة فاذا کان یوم القیامة تشفعین أنت للنساء وأنا للرّجال وکلّ من بکی منهم علی مصائب الحسین أخذنا بیده وأدخلناه فی الجنّة .یا فاطمة کلّ عین باکیة یوم القیامة الاّ عین بکت علی مصائب الحسین فانّها ضاحکة مستبشرة بنعیم الجنّة ( ۷۷ ) ۔

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت فاطمہ کو ان کے بیٹے حسین کی شہادت اور ان پر آنے والے مصائب کی خبر دی تو انہوں نے شدید گریہ کیا اور عرض کیا:اے باباجان! یہ واقعہ کب پیش آئے گا ؟فرمایا: جب نہ میں ہوں گا ،نہ تم ہو گی اور نہ علی ہوں گے ۔فاطمہ زہرائ نے مزید گریہ کیااور عرض کیا:باباجان ! کون ان پر گریہ کرے گا؟اورکون ان کی عزاداری برپاکرے گا؟فرمایا: اے فاطمہ ! میری امت کی عورتیں ہمارے اہل بیت کی عورتوں پر روئیں گی اور ان کے مرد ہمارے مردوں پر روئیں گے ، اور ان کی عزاداری ہر سال ایک نسل سے دوسری نسل زندہ رکھے گی ،اور جب روزقیامت آئے گا تو تم عورتوں کی شفاعت کرو گی اور میں مردوں کی ۔اور جس جس نے حسین پر گریہ کیا ہو گا ہم اس کا ہاتھ تھام کر اسے جنّت میں داخل کردیں گے۔اے فاطمہ ! روز قیامت ہر آنکھ گریہ کنا ں ہوگی سوا اس آنکھ کے جس نے حسین پر گریہ کیا ہوکہ وہ اس دن جنّت کی نعمتوں کی وجہ خوشحال ہوگی۔


گریہ نہ کرنے کے اسباب

آنکھ سے آنسو جاری نہ ہونے کے اسباب وہی امور بیان کئے گئے ہیں جو سنگدلی اور شقاوت قلب کا باعث بنتے ہیںسنگدلی ان امور میںسے ہے جو انسان کو الطاف ربّانی ،نعمات پروردگاراور دنیا و آخرت کی سعادت کی راہوں سے دور رکھتے ہیں۔اسی لئے تو آئمہ معصومین علیہم السّلام نے اپنے چاہنے والوں کو یہ درس دیاہے کہ ہمیشہ پروردگار سے دل کی سختی کی پناہ مانگتے رہو ،یہ شقی القلب ہونا ہی باعث بنا کہ امّت رسول صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نواسے اور جوانان جنّت کے سردار کے قتل پرتیار ہوگئی ۔سید بن طاوؤس نے ایک دعامیں یہ جملہ نقل کیا ہے :

اللّهمّ أعوذ بک من قلب لایخشع وعین لاتدمع ( ۷۸ )

خدایا!تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو خشوع نہ رکھتا ہو اور ایسی آنکھ سے جو اشک نہ بہاتی ہو ۔

دل کی بیماریوں میں سے سب سے بد ترین بیماری اس کی قساوت ہے جو غضب خدا کا باعث بنتی ہے روایت میں نقل ہواہے:

ماغضب الله علی قوم ولاانصرف رحمته عنهم الاّ لقساوتهم ( ۷۹ )

خداوند متعال نہ تو کسی قوم پر غضبناک ہوا اور نہ ہی اپنی رحمت کو ان سے منقطع کیا مگر ان کی سنگدلی کی وجہ سے ۔

ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے :

مامرض قلب أشدّ من القسوة ( ۸۰ )

سنگدلی سے بڑھ کر کوئی دل کی بیماری نہیں ہے ۔

مؤمنین کرام کو چاہئے کہ وہ اس بیماری سے اپنے کو محفوظ رکھیں ورنہ ممکن ہے کہ دل کی یہ بیماری انہیں اپنے مولا ئے حقیقی سے دور کرکے جہنّم پہنچا دے ۔

سنگدلی کا علاج

آئمہ معصومین علیہم السّلام نے انسانوں کو اس بیماری سے بچانے کے لئے چند ایک چیزوں کی نصیحت فرمائی ہے جن پر عمل کرتے ہوئے وہ خود کوشقاوت قلب سے نجات دے سکتے ہیں:

١۔ تلاوت قرآن:

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام سے فرمایا:

یاعلی ! تنوّر القلب قرائة قل هوالله أحد ( ۸۱ )

اے علی ! سورہ قل ھواللہ أحد کی تلاوت دل کونورانی کرتی ہے ۔

٢۔ علماء کی ہم نشینی:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا :

یا علی ! خمسة تجلوا القلب وتذهب القساوة :مجالسة العلماء ورأس الیتیم وکثرة الاستغفار وسهر الکثیر والصوم بالنهار .( ۸۲ )

اے علی! پانچ چیزیں دل کو روشن اور سنگدلی کو دور کرتی ہیں: علماء کی ہم نشینی ،یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا،کثرت استغفار ، کم سونا اور دن روزے سے گذارنا۔

٣۔کم کھانا:

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین علیہ السّلام سے فرمایا:

یاعلی !تنوّرالقلب...وقلّة الأکل ( ۸۳ )

اے علی! کم کھانادل کی نورانیت کا باعث بنتا ہے۔

٤۔ ذکر خدا کا ترک نہ کرنا:

خداوند متعال نے حضرت موسٰی کو خطاب فرمایا:

یا موسٰی! لاتدع ذکری علی کلّ حال انّ ترک ذکری یقسی القلوب. ( ۸۴ )

اے موسٰی! میرے ذکر کو کسی حال میں مت ترک کرنا،بے شک میرے ذکر کا ترک کرنادلوں کے سخت ہونے کا باعث بنتا ہے۔

٥۔ کم بولنا :

حضرت عیسٰی نے فرمایا:

لا تکثرواکلامکم فتقسواقلوبکم ومن کثرکلامه قلّ عقله وقسی قلبه ( ۸۵ )

زیادہ مت بولو کہ دلوں کو سخت کر بیٹھو گے ۔جو زیادہ بولتا ہے اس کی عقل کم ہو جاتی ہے اوردل سخت ہوجاتاہے ۔

٦۔گمراہوں سے دور رہنا :

رسول خد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أربعة مفسدة للقلوب الی أن قال: مجالسته الموتٰی ،فقیل : یا رسول الله ! ومامجالسته الموتٰی ؟قال: مجالسته کلّ ضالّ عن الایمان. ( ۸۶ )

چار قسم کے لوگ دلوں کو فاسد کرتے ہیں ...یہاں تک کہ فرمایا: مُردوں کے ساتھ ہم نشینی ۔لوگوں نے سوال کیا : یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! مُردوں کے ساتھ ہم نشینی سے کیا مراد ہے ؟فرمایا : ہر گمراہ شخص کے ساتھ بیٹھناہے ۔

٧۔ دنیا کی فکر نہ کرنا:

روایت میں بیان ہوا ہے :

تفرّغوا من هموم الدّنیا مااستطعتم فانّه من کانت الدّنیا همّته قسی قلبه وکان فقره بین عینیه ( ۸۷ ) .

جس قدر ممکن ہو خود کو دنیاکی فکر سے آ زاد رکھو ، اس لئے کہ جس کی ساری کوشش دنیا کے لئے ہوتی ہے اس کادل سخت ہوجاتا ہے اور فقر و تنگدستی اس کی آنکھوں کے سامنے رہتی ہے (یعنی وہ دنیا کے سوا کچھ دیکھتا ہی نہیں ہے )۔

٨۔ زیادہ مال جمع نہ کرنا:

امیر المؤمنین علیہ السّلام نے فرمایا:

انّ کثرة المال مفسدة للدّین ومفساة للقلوب ( ۸۸ )

بے شک مال کی کثرت دین کو فاسد اور دلوں کو سخت بنا دیتی ہے۔

٩۔ گناہ نہ کرنا:

امیرالمؤمنین علیہ السّلام فرماتے ہیں:

ما من شیء أفسد للقلب من خطیئة ( ۸۹ )

گناہ سے بڑھ کر کوئی شے دل کوفاسد نہیں کر سکتی ۔

١٠۔مال حرام سے بچنا:

پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا:

یاعلی! من أکل الحرام سوّد قلبه

اے علی ! جس نے حرام کھایا اس نے اپنا دل سیاہ کیا ۔

اگر انسان دل کی اس بیماری کا علاج نہ کرے تو ممکن ہے کہ اپنے زمانے کے امام سے مقابلے پر اُتر آئے جیسا کہ کربلا کے میدان میں جب یزیدیوں نے امام حسین علیہ السّلام کے خطبے پر توجہ نہ دی تو اس وقت فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا:قد ملئت بطونکم من الحرام ۔تمہارے شکم حرام سے بھر چکے ہیں اس لئے تم اپنے زمانے کے امام کی بات سننے کوتیار نہیں ہو او رآج بھی کتنے لوگ ایسے ہیں جو امام زمانہ عجّل اللہ فرجہ الشّریف کی نافرمانی کررہے ہیں جبکہ وہ اس بات کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں کرتے کہ اس کا سبب کیا ہے۔


امام زمانہ ذاکر حسین

واعظ اہل بیت مرحوم شیخ احمد کافی رضوان اللہ تعالٰی علیہ نقل کرتے ہیںکہ مرحوم ملاّ احمد مقدّس اردبیلی فرماتے ہیںکہ ہم لوگ طلاّب کے ہمراہ امام حسین کی زیارت کرنے کربلا جاتے تو ہمارے قافلہ میں ایک طالب علم تھا جو مصائب امام حسین بیان کیا کرتا اور خدانے اسے عجیب انداز مصائب دیا تھاعلاّمہ مقدّس اردبیلی کہتے ہیںہم امام حسین کے چہلم کے دن کربلا میں پہنچے تو دیکھا ہر طرف بھیڑ ہی بھیڑ ہے میں نے طالب علموں سے کہا : وہ طالب علم کہاں ہے جو مصائب پڑھا کرتا تھا کہانہیں معلوم وہ کہاں چلاگیا ،میں نے کہا جاؤ اسے ڈھونڈ کے لاؤ ۔ طالب علموں نے اندر بہت بھیڑ ہے آپ ادھر ہی ایک کونے کھڑے ہو کر زیارت پڑھ لیں تاکہ زائرین کے لئے مزاحمت ایجاد نہ ہو ۔میں نے طالب علموں کو جمع کر کے پوچھا کہ وہ طالب علم کہاں گیا تاکہ مصائب سناتا ،اتنے میں ایک عربی شخص مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور کہا: اے مقدّس اردبیلی کیا پروگرام ہے ؟ میں نے کہا : زیارت پڑھنا چاہتا ہوں۔کہااچاھ بلند آواز سے پڑھو تاکہ میں بھی سن سکوں ۔میں نے بلند آواز سے زیارت پڑھی تو اس نے مجھے زیارت کے بعض لطیف نکات کی طرف متوجہ کیا اور کہا تم اس طالب علم سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا:ہم اس سے مجلس سننا چاہتے ہیں۔کہا اگر میں سنا دوں تو پھر؟ہم نے کہا : اگر پڑھنا جانتے ہوتو سنا دو ۔اب اس نے امام حسین کی ضریح کی طرف منہ کیا اور عجیب انداز میں مصائب پڑھا کہ ہمیں منقلب کردیا ۔اور پھر ایک جملہ کہا :یا اباعبداللہ یہ طلاّب اور میں اس منظر کو کیسے بھول ہیںجب آپ نے اپنی بہن زینب کو الوداع کیا تھا ۔علاّمہ مقدّس اردبیلی فرماتے ہیں: جب میں سر اٹھا کر دیکھا تو وہ عربی نوجوان وہاں سے غائب ہو چکا تھا اس وقت میں سمجھا کہ وہ امام زمانہ عجّل اللہ فرجہ الشّریف تھے ۔

عزاداروں کی خدمت کا ثواب

صاحب کتاب اسرار الشہادة ایک معتبر واسطے سے (علاّمہ بحر العلوم کے مشہور شاگرد شیخ حسین تبریزی سے) نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دن غروب آفتاب کے وقت وادی السّلام میں موجود تھا اور نجف اشرف جاناچاہتا تھا کہ اچانک دیکھا گھوڑوںپر سوار ایک جماعت آ رہی ہے اور ان کے آگے آگے ایک نورانی چہرے والا شخص ہے جو دوسروںسے بالکل الگ نظر آرہا ہے ۔جب یہ لوگ میرے پاس پہنچے تو میں نے ان میں سے دو افراد کو پہچان لیا اور ان کے قریب گیا ،سلام کیا اور انہیں ان کے نام سے پکا ر ا،انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: ہم وہ نہیں ہیںجو آپ سمجھ رہے ہیںبلکہ ہم تو ملائکہ ہیںاور وہ شخص جو سب سے آگے آگے ہے وہ اہواز کے رہنے والے ایک نیک شخص کی روح ہے اور ہم سب کو اس کے استقبال کا حکم دیا گیا ہے آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں ۔میں ان کے ساتھ چل پڑا ،انہوں نے اس کے گھوڑے کی رکاب پکڑی اور ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں ہر طرح کی نعمتیں ہی نعمتیںتھیں ،ہر طر ف چراغوں نے نور پھیلا رکھا تھا ۔او راس کا عجیب احترام کیا گیا ،جنّتی کھانوں کا دستر خوان بچھا یا گیا ،انواع واقسام کے کھانے لائے گئے ...اس شخص میں تین خصوصیات تھیں جس کی وجہ سے یہ مقام ملا :

١۔ اہل بیت رسول علیہم السّلام سے بے پناہ محبت کیا کرتا ۔

٢۔ ہمیشہ رزق حلال کھاتا۔

٣۔ سال کے اخراجات سے جو بچ جاتا اسے غریبوں اور امام حسین کی عزاداری کی راہ میں خرچ کر دیتا ۔

یہی نیکی باعث بنی کہ خدا وند متعال نے اسے اتنابلند مقام عطا کیا کہ ملائکہ بھی اس کا استقبال کررہے( ۹۰ ) ۔

مؤمنین کی ذمہ داری

عزاداری امام مظلوم دین مقدّس اسلام کی بقاء کی ضامن ہے اور پوری امّت اسلامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دین کی بقاء کی خاطر امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری کو احسن طریقے سے برپا کرنے کی کوشش کرے جس میں پیش قدم ماتمی عزادار ہیں جو اپنی جانوں پرکھیل کر اس عزاداری کی راہ میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ذیل میں ہم عزاداروں کی ذمہ داریاں بیان کر رہے ہیں تا کہ وہ ان کا مطالعہ اوران پر عمل پیراہوکر بہتر طریقے سے دین کی خدمت کر سکیں :

١۔ خدا وند متعال کا شکر ادا کرنا کہ اس نے اہل بیت علیہم السّلام کی ولایت کی نعمت سے نوازاہے۔

٢۔اپنے والدین اور ان اساتیذ کے لئے دعاکرناجنہوں نے آل رسول کی محبت اور ان کی پیروی کرنے کی تربیت دی۔

٣۔عزاداری میں باوضو شریک ہوںاس لئے کہ یہ پاک ہستیوں کا ذکر ہے اور اگر انسان باوضو ہو کر اس ذکر کوسنے گا تو یقیناثواب میں اضافے کا موجب بھی بنے گا ۔

٤۔ غم وحزن والی صورت بناناکہ امام رضا علیہ السّلام فرماتے ہیں جب محرم کا مہینہ آتا تو میرے بابا پرغم وحزن کی عجیب کیفیت طاری ہوتی اور پھر فرمایا: اے ابن شبیب! اگر چاہتے ہو کہ روز قیامت ہمارے ساتھ رہو تو ہمارے غم میں غمگین ہو( ۹۱ ) ۔

٥۔سیاہ کپڑے پہننا اور امام بارگاہوںکو بھی سیاہ پوش کرنا جو غم اور آل محمد سے محبت کی علامت ہے۔

٦۔مجالس عزا کا برپا کرنا اور ان میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرنا۔

جیسا کہ امام صادق علیہ السّلام نے فضیل سے فرمایا: اے فضیل ! کیا مجالس برپا کرتے ہو

اس لئے کہ میں ان مجالس کو پسند کرتا ہوں( ۹۲ ) ۔

٧۔مجالس عزاداری میں دوسروں کے حقوق کی رعایت کرناجیسا کہ خدا وند متعال کا ارشاد بھی ہے :

( یاأیها الّذین آمنوا اذاقیل لکم تفسّحوافی المجالس فافسحوا )

ترجمہ:اے ایمان والو! جب تمہیں مجلس میں وسعت کے لئے کہا جائے تو دوسروں کو جگہ دے دو۔

مسلمانوں میںایک شوق یہ بھی تھا کہ ہر وقت بزم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں حاضر رہو تاکہ اپنے تقرّب کا پروپیگنڈا کیا جاسکے او راس طرح عدیم الفرصت مسلمانوں کو زحمت ہوتی تھی تو قدرت نے تنبیہ کی کہ اوّلا تو آنے والوں کو جگہ دو اور پھر جگہ کم ہو تو اٹھ جاؤ اور اسے برا نہ مانو اس لئے کہ صاحبان علم وایمان کو بہر حال برتری حاصل ہونی چاہئے اور انہیں محفل میں مناسب جگہ ملنی چاہئے ،انہیں جاہلوں اور کم مرتبہ لوگوں کے برابر نہیں قراردیا جاسکتا ہے۔

عالم عالم ہوتاہے اورجاہل جاہل ،صرف محفل میں آکر بیٹھ جانے سے جاہل عالم نہیں کہا جا سکتا اور محفل میں حاضر نہ رہ سکنے کی وجہ سے عالم جاہل کے مانند نہیں ہو سکتا ۔علم ایک کمال بشریت ہے جو اپنے حامل کو سر فراز اور سر بلند رکھتا ہے( ۹۳ ) ۔ پس عزاداروں کو چاہئے کہ اگر کوئی اہل علم مجلس کے دوران آجائے تو اسے مناسب جگہ دیں ۔

٨۔جب ذکر مصیبت کیاجائے تو گریہ کرنا تاکہ بخشش کا سبب بن سکے۔

٩۔ایسی مجالس میں شرکت کرنا جہاں اہل علم و تقوٰی خطاب کررہے ہوں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا :

یاعلی ! اذا أتٰی علی المؤمن أربعین صباحا ولم یجلس العلماء ،قسی قلبه وجرّ علی الکبائر ( ۹۴ )

اے علی! جب کوئی مومن چالیس دن تک علماء سے دور رہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے او ر

تو گناہ کبیرہ کے انجام دینے میں اس کی جرأت بڑھ جا تی ہے ۔

١٠۔ اہل بیت علیہم السّلام کے دشمنوں سے اظہار نفرت کرنا ۔

١١۔ایّام عزاداری میں امام زمانہ عجّل اللہ فرجہ الشریف اور ایک دوسرے کو تسلیت عرض کرنا( ۹۵ ) ۔

١٢۔ہر طرح کی فضول گفتگواور غیر شرعی حرکات سے پرہیز کرنا۔

١٣۔مجلس کے بعد خطیب سے جس بات کی سمجھ نہ آئے اس کے متعلق سوال کرنا۔

١٤۔عزاداری کی راہ میں مشکلات ایجاد کرنے والے مسائل پر نگاہ رکھنا اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا۔

١٥۔امر بالمعروف اورنہی عن المنکرجو امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری کا اصلی مقصد ہے

اگر مجلس میںگانوں کی طرز پر قصیدے پڑھے جائیں تو مؤمنین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پڑھنے والے کو احترام کے ساتھ روک دیںاور اس شرعی وظیفہ کے انجام دینے میں کوتاہی نہ برتیں۔ورنہ بنی اسرائیل کی طرح اس ذمہ داری میں کوتاہی کی وجہ سے لعنت کے مستحق قرار پائیں گے( ۹۶ ) ۔

١٦۔علماء،ذاکرین،ماتمیوںاوربانیان مجالس کا احترام کرنا۔

١٧۔روز عاشور کام کاج کی چھٹی کرنا۔ امام رضا علیہ السّلام فرماتے ہیں:جو شخص روزعاشور کام چھوڑ دے گا تو خد اوند متعال اس کی دنیا وآخرت کی حاجات کو پوراکردے گا( ۹۷ ) ۔


عزاداروں کے نام پیغام

اے صف ماتم مظلوم بچھانے والو

یاد گار ایک مسافر کی منانے والو

مجلس ذکر عزا میں مری آنے والو

اے شہادت پہ مری اشک بہانے والو

ذکر کرتے ہو زباں سے سحر وشام مرا

گوش دل سے سنتے نہیں پیغام مر

متغیر ہے بہت رنگ جہاں اب تو سنو

باغ اسلا م ہے پامال خزان اب تو سنو

جاگ اٹھو ،ترگ کرو خواب گراں اب تو سنو

مٹ رہے ہیں مری منزل کے نشان اب تو سنو

کیسے ثابت ہو رلاتی ہے تمہیں یاد مری

دیکھتا یہ ہوں کہ سنتے نہیں فریا دمیری

کیا یہ منشاء ہے کہ پھر خوں میں نہا کر آؤں

پھر اسی شان سے ہاتھوں پہ لئے سر آؤں

قصر جنّت سے ادھر بادل مضطر آؤں

کیا یہ مطلب ہے کہ پھر قبر سے باہر آؤں

جوش میں پھر نہ مرا جذبہ غیرت آئے

کہیں پہلے نہ قیامت سے قیامت آئے

اب نہ وہ دل ہیں نہ وہ گلشن اخلاص کی سیر

ہوگیا کیا کہ نہیں میری طرح طالب خیر

کیسے اپنے ہو کہ باطن میں نظر آتے ہو غیر

مجھ سے دعوائے محبت میری تعلیم سے بیر

دل میں جب جوش اطاعت کا بھرا ہوتاہے

حق محبت کا اسی وقت اداہوتا ہے

کیا تمہیں آکے اس خواب سے بیدار کروں؟

کیا کسی دشت کو پھر سے خون سے گلزار کرو ں

اپنے اکبرکو پھر آمادہ پیکار کروں

کیا پھر عباس کو لشکر کا علمدار کروں؟

مجھ سے مانوس ہو میری راہ سے بیزار ہو تم

پھر کسی خونی منظڑ کے طلبگار ہو تم

آج ہر بات پہ کیوں تفرقہ کرتے ہو تم

انجمن ساز ہو یا خانہ برانداز ہو تم

دل پہ ہوتا نہیں انوار حقائق کا ورود

کم ہے اعمال میں اخلاص وصداقت کا وجود

ذوق تحسیں ہے کہیں اور کہیں شوق نمود

حال یہ ہے تو رہے گی یہ عزا بھی بے سود


شہید کربلا کو سلام

بھولا نہ سانحہ ابھی عالم حسین کا

انسانیت کو آج بھی غم حسین ک

محسن تھا نہ کوئی ہمدم حسین کا

گردش میں قافلہ رہا پیہم حسین ک

ٹکرا گیا ہزاروں سے شیر خد اکا لال

اہل جہاں نے دیکھ لیا دم حسین ک

بیعت نہ کی کسی نے بھی سب ہو گئے شہید

ہرایک آدمی تھا منطّم حسین ک

رنج والم میں ڈوبی ہے کرب وبلا کی شام

ماتم کررہی ہے صبح کو شبنم حسین ک

کوشش ہزار ان کو جھکانے کی کی مگر

دشمن کے آگے سر خم نہ ہو حسین ک

نسل خلیل سے ہیں وہ سبط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی

کوثر بھی حسین کا زمزم حسین ک

لہرا رہا ہے صبر وشجاعت کا آج بھی

کرب وبلا کے سینے پہ پرچم حسین کا

نام یزید لیتا ہے کون احترام سے

لیکن ہے نام اب بھی مکرّم حسین کا

یاد حسین دل میں ہے جمشید جلوہ گر

سینے میں اپنے رکھتے ہیں ہم غم حسین ک

( جمشید اقبال حنفی)

وصلی الله علی الحسین وجدّه وأبیه وأمّه وأخیه والمعصومین من بنیه وغفرالله شیعته ومحبّیه ولعن الله قاتلیه ۔


حوالے

. نساء : ١٤٨. ( ۱ )

. سورہ شوری:٢٣. ( ۲ )

. ماہنامہ اصلاح لکھنؤشمارہ ١:١١٣. ( ۳ )

. سیرة النبوة ٦: ٧٥؛ مسند احمد ٦: ٢٧٤. ( ۴ )

. تذکرة الخواص : ٧. ( ۵ )

. الطبقات الکبرٰی ،ابن سعد ١:١٢٣. ( ۶ )

. المستدرک ١:٣٥٧؛ تاریخ المدینہ ،ابن شبّہ ١:١١٨. ( ۷ )

. العقد الفرید ٣:١٩. ( ۸ )

. ذخائر العقبٰی :٥٦. ( ۹ )

. السیرة الحلبیة ٢:٢٤٧. ( ۱۰ )

. الاستیعاب ١: ٣٧٤. ( ۱۱ )

. سنن نسائی ٤: ٢٢. ( ۱۲ )

. المستدرک علی الصحیحین ١:٢٦١؛ السنن الکبرٰی ٣:٤٠٧. ( ۱۳ )

. المستدرک علی الصحیحین ١: ٣٨١، مسند احمد ٢: ٤٤٤. ( ۱۴ )

. سیر اعلام النبلاء ٤: ٣٤؛ الکامل فی التاریخ ٣: ٢٢٧. ( ۱۵ )

. سیرة النبوة ٦: ٧٥؛ مسند احمد ٦: ٢٧٤. ( ۱۶ )

. المصنف لابن ابی شیبہ ٣: ٤٥؛ مسند احمد ٦:٢٧٤؛ السیرة النبویة٦:٧٥.المستدرک علی الصحیحین ٣: ٣٣٢ ؛ ( ۱۷ )

. السیرة النّبویہ ٣: ١١١. ( ۱۸ )

. العقد الفرید ٤:٢٨٣. ( ۱۹ )

. بحار الأنوار ٤٥: ٢٥٣؛ احقاق الحق ٣٣: ٧٥٩. ( ۲۰ )

. تاریخ طبری ٣:٣٤١. ( ۲۱ )

. سیر اعلام النبلاء ١٥: ٤٨٠ ؛ تاریخ ابن عساکر ١٠ : ٢٧٢. ( ۲۲ )

. سیر اعلام النبلاء ١٨:٤٦٨ ؛ تاریخ بغداد ٩٣ ؛ وفیات الاعیان ٣ : ١٤٩. ( ۲۳ )

. البدایة والنھایة ١٣: ٢٠٧. ( ۲۴ )

. تاریخ الخلفاء ، سیوطی ١: ٢٤٥. ( ۲۵ )

( ۲۶ ) صحیح بخاری ١:٢٢٣،کتاب الجنائز ؛صحیح مسلم ٣:٤٤،کتاب الجنائز ؛ جامع الاصول ١١: ٩٩؛ ح ٨٥٧؛ السیرة النبویة ٣:٣١٠؛ سننن ابن ماجہ ١:٥٠٦ ، ح ١٥٨٩.

. صحیح ترمذی ،ح١٠٠٢. ( ۲۷ )

. سورة فاطر : ١٨. ( ۲۸ )

. المجموع ٥: ٣٠٨ ؛ صحیح بخاری ١: ٤٣٢. ( ۲۹ )

. المجموع ٥: ٣٠٨. ( ۳۰ )

. بحار الانوار ٧٩: ١٠٩. ( ۳۱ )

. کنزالعمال ١٥:٧٣٢ ؛ المصنف لابن ابی شیبہ ٣: ٢٦٥. ( ۳۲ )

. سنن نسائی ٤: ٩١ ؛ مسند احمد ٣: ٣٣٣ ؛ا لمستدرک علی الصحیحین ١: ٣٨١. ( ۳۳ )

. تہذیب الکمال ١٦: ٧٠. ( ۳۴ )

. کنزالعمال ٥:٧٣١ ؛ المصنف عبدالرزاق ٣: ٥٥٧ ح ٦٦٨٢. ( ۳۵ )

. المستصفیٰ ١؛ ٢٦٠ ؛ دراسات فقہیة فی مسائل خلافیة : ١٣٨. ( ۳۶ )

. مسند احمد ٣: ٣٢٣. ( ۳۷ )

. المجموع ، نووی ٥: ٢٠٨. ( ۳۸ )

. سورہ فاطر :١٨ ( ۳۹ )

. مسند احمد ١:٤١؛جامع الأصول ١١:٩٩. ( ۴۰ )

. شرح صحیح مسلم ،نووی ٥: ٣٠٨. ( ۴۱ )

. مسند احمد ١: ٤٢؛ جامع الأصول ١١: ٩٣،ح٨٥٦٣. ( ۴۲ )

. بحار الأنوار ٤٥:٢٠٨. ( ۴۳ )

. سورہ بقرہ : ٣٧. ( ۴۴ )

. بحار الأنوار ٤٤:٢٤٥؛ عوالم العلوم ١٧:١٠٤. ( ۴۵ )

. بحارالأنوار ٤٤:٢٤٢؛عوالم العلوم ١٧:١٠١. ( ۴۶ )

. عوالم العلوم ١٧:٢٩؛بحارالأنوار ٤٤:٢٤٣. ( ۴۷ )

. بحار الأنوار ٤٤:٢٢٦. ( ۴۸ )

. الخصائص الحسینیة :١٧٨. ( ۴۹ )

. بحار الأنوار ٤٤:٣٠٨. ( ۵۰ )

. مجمع البحرین ٣:٤٠٥؛مستدرک الوسائل ١٠:٣١٨. ( ۵۱ )

. بحارالأنوار ٣:٣٠١؛ تفسیر قمی ٢: ٣٨. ( ۵۲ )

. تذکرة الشّہداء :٣٣. ( ۵۳ )

. بحار الأنوار ٤٤:٢٥٢؛ امالی صدوق :٤٧٨و٤٨٠. ( ۵۴ )

. بحار الأنوار ٤٤:٢٢٣. ( ۵۵ )

. معالی السبطین ١:١٧٦؛ بحار الأنوار ٤٤:٢٥٣. ( ۵۶ )

. بحارالأنوار١٨: ١٢٥. ( ۵۷ )

. بحار الأنوار ٣٦:٣٤٩. ( ۵۸ )

. البکاء للحسین :٣٩٥. ( ۵۹ )

. حیات القلوب ١:١٨٥. ( ۶۰ )

. بحار الأنوار ٤٤:٢٧٨؛تفسیر قمی ٢: ٢٦٦. ( ۶۱ )

. العبقری الحسان١:١٩٩. ( ۶۲ )

. امالی شیخ مفید : ٣٣٨؛ بحارالانوار ٤٤: ٣٥١. ( ۶۳ )

. امالی صدوق : ١٣١؛ عیون اخبار الرّضا ٢:٢٦٤؛ بحار الانوار ٤٤:٢٧٨. ( ۶۴ )

. قرب الاسناد : ٣٦؛ بحارالأنوار ٧٤: ٣٥١. ( ۶۵ )

. امالی شیخ مفید:١٧٥؛جامع الأخبار :٩٦. ( ۶۶ )

. کامل الزیارات :١٠٨؛بحارالأنوار٤٤:٢٨٠. ( ۶۷ )

. کامل الزیارات :١٠٨؛بحارالأنوار ٤٤:٢٨٠. ( ۶۸ )

. وسائل الشیعہ ١٤:٥٠١؛تفسیر قمی ٢:٢٦٧. ( ۶۹ )

. بحارالأنوار ٤٤:٢٩٢. ( ۷۰ )

. خصال صدوق٢:٦٢٦؛عوالم العلوم١٧:٥٢٥. ( ۷۱ )

. سورہ آل عمران :٣٨. ( ۷۲ )

. سورہ نساء :٧٣. ( ۷۳ )

. امالی صدوق:١٩٢؛عیون اخبارالرضا١:٢٩٩؛بحارالأنوار ٤٤:٢٨٥. ( ۷۴ )

. البکاء للحسین :٣٩١ ( ۷۵ )

. کامل الزیارات: ٨٠؛ بحارالأنوار٤٥:٢٠٦. ( ۷۶ )

. بحار الأنوار ٤٤:٢٩٢. ( ۷۷ )

. اقبال الأعمال :٤٨٧؛ تہذیب الأحکام ٦:٣٥. ( ۷۸ )

. الفصول المہمة :٤٢. ( ۷۹ )

. بحارالأنوار ٦٥:٣٣٧؛مستدرک الوسائل ١٢:٩٤. ( ۸۰ )

. المواعظ العددیة :٢٥٨. ( ۸۱ )

. تحف العقول : ٢٩٦؛بحارالأنوار ٧٨:١٧٦. ( ۸۲ )

. مواعظ العددیة ٢٥٨. ( ۸۳ )

. اصول کافی ٢:٤٩٧؛بحارالأنوار ١٣:٣٤٢. ( ۸۴ )

. بحارالأنوار ١٤:٣٢٤. ( ۸۵ )

. بحارالأنوار ١٠٣:٢٢٦؛مستدرک الوسائل ١٧:٣٥٢. ( ۸۶ )

. ارشاد القلوب :١٨. ( ۸۷ )

. تحف العقول :١٩٩. ( ۸۸ )

. اصول کافی ٢: ٢٦٨. ( ۸۹ )

. داستانھای شگفت انگیزی از عزاداری امام حسین:٢٢٠. ( ۹۰ )

. امالی صدوق،مجلس ٢٧ ( ۹۱ )

. وسائل الشیعہ ١٤:٥٠١. ( ۹۲ )

. حاشیہ قرآن مجید ،ذیشان حیدر جوادی :١١١٩ ( ۹۳ )

. البکاء للحسین : ١٣٤. ( ۹۴ )

. وسائل الشیعة ١٤:٥٠٩. ( ۹۵ )

. سورہ مائدہ : ٧٨و٧٩. ( ۹۶ )

. امالی صدوق،مجلس ٢٧. ( ۹۷ )


فہرست

انتساب ۴

سخن مؤلف ۵

١۔حکم قرآن ۷

٢۔ سنّت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۹

١) حضرت عبد المطلب پر گریہ : ۹

٢) حضرت ابو طالب پر گریہ : ۹

٣) حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا پر گریہ : ۱۰

٤) اپنے فرزند ابراہیم پر گریہ : ۱۰

٥) حضرت فاطمہ بنت اسد پر گریہ : ۱۰

٦)حضرت حمزہ پر گریہ : ۱۰

٧) اپنے نواسے پر گریہ : ۱۱

٨)حضرت عثمان بن مظعون پر گریہ : ۱۱

٣۔ صحابہ کرام او رتابعین کی سیرت ۱۳

١) حضرت علی علیہ السّلام : ۱۳

٢) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : ۱۳

٣) حضرت عمر: ۱۳

٤)عبداللہ بن رواحہ : ۱۳

٥)عبداللہ بن مسعود : ۱۴

٦)امام شافعی : ۱۴


گلی کوچوں میں عزاداری ۱۶

١۔طبری : ۱۷

٢۔ نسفی : ۱۷

٣۔ذہبی: ۱۷

٤۔سبط بن جوزی : ۱۷

٥۔عمر بن عبدلعزیز : ۱۸

گریہ و ماتم سے منع کرنے والی روایات ۱۹

پہلی دلیل: ۱۹

ان روایات کی توجیہ ۲۰

دوسری دلیل : ۲۰

اس روایت کا جواب ۲۱

تیسری دلیل : ۲۱

نتیجہ ۲۳

انبیاء کا امام حسین پر گریہ کرن ۲۴

١۔حضرت آدم کا گریہ کرنا: ۲۴

٢۔ حضرت نوح کا گریہ کرنا: ۲۵

٣۔حضرت ابراہیم کا گریہ کرنا: ۲۶

٤۔ حضرت موسٰی کاگریہ کرنا : ۲۶

٥۔ حضرت خضر کا گریہ کرنا: ۲۷

٦۔ حضرت زکریا کا گریہ کرنا: ۲۷


٧۔ حضرت عیسٰی کا گریہ کرنا : ۲۸

٨۔ پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گریہ کرنا: ۲۸

راہب کاامام حسین پر ماتم کرن ۲۹

امام حسین علیہ السّلام پر گریہ کرنے کی فضیلت ۳۱

پہلی حدیث ۳۲

دوسری حدیث ۳۳

تیسری حدیث ۳۳

چوتھی حدیث ۳۴

پانچویں حدیث ۳۴

چھٹی حدیث ۳۵

ساتویں حدیث ۳۶

آٹھویں حدیث ۳۶

نویں حدیث ۳۷

دسویں حدیث ۳۸

گیارہویں حدیث ۳۸

بارہویں حدیث ۴۰

تیرہویں حدیث ۴۱

چودہویں حدیث ۴۱

گریہ نہ کرنے کے اسباب ۴۳

سنگدلی کا علاج ۴۳


١۔ تلاوت قرآن: ۴۳

٢۔ علماء کی ہم نشینی: ۴۴

٣۔کم کھانا: ۴۴

٤۔ ذکر خدا کا ترک نہ کرنا: ۴۴

٥۔ کم بولنا : ۴۴

٦۔گمراہوں سے دور رہنا : ۴۵

٧۔ دنیا کی فکر نہ کرنا: ۴۵

٨۔ زیادہ مال جمع نہ کرنا: ۴۵

٩۔ گناہ نہ کرنا: ۴۵

١٠۔مال حرام سے بچنا: ۴۶

امام زمانہ ذاکر حسین ۴۷

عزاداروں کی خدمت کا ثواب ۴۷

مؤمنین کی ذمہ داری ۴۸

عزاداروں کے نام پیغام ۵۱

شہید کربلا کو سلام ۵۴

حوالے ۵۶

گریہ اور عزاداری

گریہ اور عزاداری

مؤلف: ناظم حسین اکبر
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 22