انسان شناسی

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محمود رجبی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: انسان شناسی

مولف: حجة الاسلام و المسلمین محمود رجبی

مترجم: سید محمد عباس رضوی اعظمی

مصحح: مرغوب عالم عسکری

نظر ثانی: سید شجاعت حسین رضوی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے توکائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اسلام کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے سے پیچیدگیوںکا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کوپیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر، اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔


(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتو رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،حجة الاسلام و المسلمین عالیجناب مولانا محمود رجبی صاحب کی گرانقدر کتاب ''انسان شناسی ''کو فاضل جلیل مولانا سید محمدعباس رضوی اعظمی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، نیز ہم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


بسم الله الرحمٰن الرحیم

مقدمہ:

( ثُمَّ أنشأناهُ خَلقاً آخَرَ فتبارک اللّهُ أحسَنُ الخَالقِینَ ) (۱)

پھر ہم نے اس کو ایک دوسری صورت میں پیدا کیاپس

بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والاہے ۔

انسان بہت سے انتخابی عمل کا سامنا کرتا ہے جس میں سے فقط بعض کو انتخاب کرتا ہے ، بعض کو دیکھتا ہے، بعض کے بارے میں سنتا ہے اور اپنے ہاتھ ، پیر اور دوسرے اعضاء کو بعض کاموں کی انجام دہی میں استعمال کرتا ہے، قوت جسمانی کی رشد کے ساتھ ساتھ فکری ، عاطفی اور بہت سے مخلوط و مختلف اجتماعی روابط ،علمی ذخائر اور عملی مہارتوں میں اضافہ کی وجہ سے انتخابی دائرے صعودی شکل میں اس طرح وسیع ہو جاتے ہیں کہ ہر لمحہ ہزاروںامور کا انجام دینا ممکن ہوتاہے لہٰذا انتخاب کرنابہت مشکل ہو جاتا ہے ۔

____________________

(۱)سورۂ مومنون ۱۴


طریقہ کار کی تعین و ترجیح کے لئے مختلف ذرائع موجود ہیں مثلاً فطری رشد ، خواہشات کی شدت ، ناامنی کا احساس ، عادات و اطوار، پیروی کرنا ، سمجھانا اور دوسرے روحی و اجتماعی اسباب کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے لیکن سب سے مہم عقلی اسباب ہیں جوسبھی طریقۂ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر ایک کی معراج کمال اور انسانی سعادت کے لئے موثراور مہم طریقۂ کار کی تعیین و ترجیح اور سب سے بہتر واہم انتخاب کے لئے درکار ہیں جو انسانی ارادہ کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ انسان کی حقیقی اشرفیت اور برتری کے راز کو انہیں اسباب و علل اور طریقۂ کار کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیئے ۔

اعمال کی اہمیت اور ان کا صحیح انتخاب اس طرح کہ انسان کی دنیا و آخرت کی خوشبختی کا ذمہ دار ہو ، معیار اہمیت کی شناخت پر موقوف ہے ،ان معیار کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے حقیقت انسان ، کیفیت وجود ، آغازو انجام اور کمال و سعادت اخروی کوسمجھا جائے ۔یہ موضوع ایک دوسرے زاویۂفکرکا محتاج ہے جس کو انسان شناسی کہا جاتا ہے ۔

لہٰذا انسان شناسی کو معارف انسانی کی سب سے بنیادی چیزسمجھنا چاہیئے اور اس کا مطالعہ خاص کر ان افراد کے لئے جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی درست و بے نقص اور عقلی معیار پر استوار ہو ضروری ہے ۔

اس کتاب میں انسان شناسی کے بنیادی مسائل کی تحقیق پیش کی جائے گی۔ البتہ یہ بات مسلم ہے کہ انسان کی حقیقی شخصیت کی شناخت ، اس کی پیدائش کا ہدف اور اس ہدف تک رسائی کی کیفیت ، قرآنی تعلیمات ،اسلامی دستورات اور عقلی تجزیہ و تحلیل پر موقوف ہے ، لہٰذا کتاب کے اکثر مباحث میں انسان شناسی کے نظریات کو قرآن کریم اور دین اسلام کے تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے تویہ کتاب بالمشافہہ تدریس کیلئے مرتب کی گئی تھی لیکن ان افرادکی بہت سی درخواستوں کی وجہ سے جو معارف اسلامی سے دلچسپی رکھتے ہیں اور'' مؤسسۂ (اکیڈمی)آموزش و پژوہش امام خمینی '' کے پروگرام میں شرائط و مشکلات کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکتے تھے


لہٰذاان کے لئے ایک خصوصی پروگرام ''تدریس از راہ دور''(۱) تصویب کیا گیاجس میں نقش و نگار سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے معانی و مفاہیم کو غیر حضوری شکل میں اور نہایت ہی مناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔

آپ ابتدا ء مطالعہ ہی سے ایک تعلیمی پروگرام کے شروع ہو جانے کا احساس کریں گے اور رہنمائیوں کو اپنے لئے رہنما و راہبر محسوس کریں گے ، یہ راہنمائیاں مؤلف اور قاری کے درمیان گفتگو اور مکالمہ کی شکل میں ڈھالی گئی ہیں جو کتاب کے مطالب کو درست و دقیق اور مؤثر انداز میں حاصل کرنے کی ہدایت کرتی ہیں،البتہ بہتر نتیجہ آپ کے مطالعہ پر موقوف ہے ۔ ابتدا ہی میں پوری کتاب کے مطالب کو نموداری شکل میں پیش کیاگیا ہے تاکہ کتاب کے بنیادی مطالب کا خاکہ اور ہر بحث کی جایگاہمشخص ہو جائے اور کتاب کے مطالعہ میں رہنمائی کے فرائض انجام دے ۔ ہر فصل کے مطالب خود اس فصل سے مربوط تعلیمی اہداف سے آغاز ہوتے ہیں،ہر فصل کے مطالعہ کے بعد اتنی فہم و توانائی کی ہمیں امیدہے کہ جس سے ان اہداف کو حاصل کیا جاسکے نیز ان رہنمائیوں کے ساتھ ساتھ یاد گیری کے عنوان سیہر فصل کے مطالب کو بیان کرنے کے بعدبطور آزمائش سوالات بھی درج کئے گئیہیں جن کے جوابات سے آپ اپنی توانائی کی مشق اور آزمائش کریںگے ، سوالات بنانے میں جان بوجھ کرایسے مسائل پیش کئے گئے ہیں جو کتاب کے مطالب پر تسلط کے علاوہ آپ کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیںاور حافظہ پراعتماد کے ساتھ ساتھ مزید غور و فکر کے لئے بر انگیختہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہر فصل کے آخر میں اس کاخلاصہ اورمزید مطالعہ کے لئے منابع ذکر کئے گئے ہیں، ہرفصل کے خلاصہ میں مختلف فصلوںکے مطالب کے درمیان ہماہنگی برقرار رکھنے کے لئے آنے والی فصل کے بعض مباحث کو کتاب کے کلی مطالب سے ربط دیا گیا ہے۔کتاب کے آخر میں ایک ''آزمائش ''بھی ہے جس میں کلی مطالب ذکر کئے گئے ہیں تاکہ متن کتاب سے کئے گئے سوالات کے جوابات سے اپنی فہم کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے ۔ چنانچہ اگر کتاب کے کسی موضوع کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہر فصل کے آخر میں مطالعہ کے لئے بیان کی گئی کتابوں سے اپنی معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ درک مطالب میں پیش آنے والی مشکلات سے دوچار ہونے کی صورت میں اپنے سوالات کو مؤسسہ کے''تدریس از راہ دور''کے شعبہ میں ارسال کرکے جوابات دریافت کرسکتے ہیں، اسلوب بیان کی روش میں اصلاح کیلئے آپ کی رائے اور اظہار نظر کے مشتاق ہیں،اللہ آپکی توفیقات میں مزیداضافہ کرے۔

موسسۂ آموزشی وپژوہشی امام خمینی

____________________

(۱)راہ دور سے تعلیمی پروگرام کی تدوین اور اس کے انجام دہی میں ہم ماہرانہ تحقیقات و مطالعات نیز اکیڈمی کے داخلی و بیرونی معاونین و محققین کی ایک کثیر تعداد کی شب و روز کوشش و تلاش، ہمت اور لگن سے بہرہ مند تھے اور ہم ان تمام دوستوں کے خصوصاً''پیام نور ''یونیورسٹی کے جن دوستوں نے ہماری معاونت کی ہے شکرگذار ہیں۔


مطالعہ کتاب کی کامل رہنمائی

فصل ۱

انسان شناسی

مفہوم انسان شناسی

اہمیت و ضرورت

دور حاضر میں انسان شناسی کا بحران

دینی انسان شناسی کی خصوصیات

تعریف انسان شناسی، بشری تفکر کے دائرہ میں

انسان شناسی معارف دینی کے آئینہ میں

نوع

فصل ۲

خلقت انسان

اولین انسان کی خلقت

تمام انسانوں کی خلقت

اثبات روح کی دلیلیں

ادلۂ عقلی

ادلۂ نقلی


فصل ۳

انسانی فطرت

مشترکہ فطرت

فطرت

مشترکہ فطرت کے وجود پر دلیلیں

انسان کی فطرت الٰہی سے مراد

فطرت کی زوال ناپذیری

فصل ۴

نظام خلقت میں انسان کا مقام

خلافت الٰہی

کرامت انسان

کرامت ذاتی

کرامت اکتسابی


فصل ۵

آزادی و اختیار

مفہوم اختیار

شبہات جبر

انسان کے اختیار پر قرآنی دلیلیں

جبر الٰہی

اجتماعی و تاریخی جبر

فطری و طبیعی جبر

فصل ۶

اختیار کے اصول

عناصر اختیار

آگاہی و معرفت

ارادہ و خواہش

قدرت و طاقت


فصل ۷

کمال نہائی

مفہوم کمال

انسان کا کمال نہائی

قرب الٰہی

فصل ۸

رابطہ دنیا و آخرت

کلمات دنیا وآخرت کے استعمالات

نظریات کی تحقیق

رابطہ کی حقیقت و واقعیت

.

فصل ۹

خود فراموشی

خود فراموشی کے مؤسسین

قرآن اور خود فراموشی

خود فراموشی کا علاج

ہگل

بیچ

مارکس


پہلی فصل :

مفہوم انسان شناسی

اس فصل کے مطالعہ کے بعدآپ کی معلومات :

۱۔'' انسان شناسی '' کی تعریف اور اس کے اقسام کو بیان کریں؟

۲۔جملۂ'' انسان شناسی؛ فکر بشر کے آئینہ میں '' کی وضاحت کریں ؟

۳۔معرفت خدا، نبوت و معاد کا انسان شناسی سے کیا رابطہ ہے دو سطروں میں بیان کریں؟

۴۔ انسان شناسی ''کل نگر''و'' جزء نگر'' کے موضوعات کی مثالوں کو ذکر کریں ؟

۵۔ خود شناسی سے کیا مراد ہے اور اس کا دینی انسان شناسی سے کیارابطہ ہے بیان کریں؟

۶۔ ''دور حاضر میں انسان شناسی کے بحران ''میں سے چارمحورکی وضاحت کریں ؟


خدا ،انسان اور دنیا فکر بشر کے تین بنیادی مسائل ہیں جن کے بارے میں پوری تاریخ بشر کے ہر دور میں ہمیشہ بنیادی، فکری اور عقلی سوالات ہوتے رہتے ہیں اور فکر بشر کی ساری کوششیں انہی تین بنیادی چیزوں پر متمرکز اور ان سے مربوط سوالات کے صحیح جوابات کی تلاش میں ہیں۔

بہر حال انسان کی معرفت ،اس کے مشکلات کا حل نیز اس کے پوشیدہ اسرار،کافی اہمیت کے حامل ہیں، جس نے بہت سے دانشمندوں کو اپنے مختلف علوم کے شعبوں میں مشغول کررکھا ہے۔(۱) مذاہب آسمانی کی تعلیمات میں (خصوصاً اسلام میں )معرفت خدا کے مسئلہ کے بعد معرفت انسان سب سے اہم مسئلہ مانا جاتا ہے،دنیا کا خلق کرنا ،پیغمبروں کو مبعوث کرنا ،آسمانی کتابوں کا نزول در حقیقت آخرت میں انسان کی خوشبختی کے لئے انجام دیا گیا ہے اگرچہ قرآن کی روشنی میں سبھی چیزیںخدا کی مخلوق ہیں اور کوئی بھی شئی اس کے مقابلہ میں نہیں ہے لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کی روشنی میں اس کائنات کو ایک ایسے دائرے سے کہ جس کے دو نقطہ ہوں تعبیر کیا گیا ہے جس کی حقیقی نسبت کا ایک سرا اوپر(اللہ) ہے اور دوسرا سرانیچے (انسان) کی طرف ہے(۲) اورانسان بھی ایک عرصۂ دراز سے ، اپنے وسیع تجربے کے ذریعہ اسی نسبت کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب

____________________

(۱)منجملہ علوم جو انسان اور اس کے اسرار و رموز کی تحلیل و تحقیق کرتے ہیں جیسے علوم انسانی تجربی اور دیگر فلسفے جیسے علم النفس ، فلسفہ خود شناسی ، فلسفہ اخلاق ،فلسفہ عرفان ، فلسفہ اخلاق ،فلسفہ اجتماعی ، فلسفۂ علوم اجتماعی ، فلسفہ تاریخ و حقوق وغیرہ

(۲) ایزوٹسو ،ٹوشی ہیکو، قرآن میں خدا و انسان ، ترجمہ احمد آرام ، ص ۹۲۔


کہ انسان شناسی کے ماہرین نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ انسان کی معرفت کے اسباب ووسائل ، پوری طرح سے انسان کی حقیقت اور اس کے وجودی گوشوں کے حوالے سے مہم سوالات کا جواب نہیں دے سکتے ہیں لہٰذا آج انسان کو ایسا وجود جس کی شناخت نہ ہو سکی ہو یا انسان کی معرفت کا بحران وغیرہ جیسے الفاظ سے یاد کیا جانے لگا ۔

مذکورہ دو حقیقتوں میں غوروفکرہمیں مندرجہ ذیل چار سوالات سے روبروکرتا ہے:

۱۔انسان کے بارے میں کئے گئے بنیادی سوال کون سے ہیںاور انسان کی معرفت میں کیسی کو ششیں ہونی چاہیئے اوران سوالات کے لئے مناسب جوابات تک رسائی کیسے ممکن ہے؟

۲۔انسان کی معرفت میں بشر کی مسلسل حقیقی تلاش کا سبب کیا ہے؟ اورکیا دوسرے بہت سے اسباب کی طرح فطری جستجو کا وجودہی ان تمام کوششوںکی وضاحت و تحلیل کے لئے کافی ہے؟ یا دوسرے اسباب و علل کی بھی جستجوضروری ہے یا انسان کی معرفت کے اہم مسائل اوراس کی دنیو ی و اخروی زندگی نیز علمی و دینی امور میں گہرے اور شدید رابطوں کو بیان کرنا ضروری ہے ؟

۳۔دور حاضر میں انسان شناسی کے بحران سے کیا مراد ہے اور اس بحران کے انشعابات کیا ہیں ؟

۴۔دور حاضر میں انسان شناسی کے بحران سے نجات کے لئے کیا کوئی بنیادی حل موجود ہے؟دین اور دینی انسان شناسی کا اس میں کیا کردار ہے ؟

مذکورہ سوالات کے مناسب جوابات حاصل کرنے کے لئے اس فصل میں انسان شناسی کے مفہوم کی تحقیق اور اس کے اقسام ،انسان شناسی کی ضرورت اور اہمیت ، انسان شناسی کے بحران اور اس کے اسباب نیز دینی انسان شناسی کی خصوصیات کے بارے میں ہم گفتگو کریں گے ۔


۱۔انسان شناسی کی تعریف

ہر وہ منظومہ معرفت جو کسی شخص ، گروپ یا طبقہ کا کسی زاویہ سے جائزہ لیتی ہے اس کو انسان شناسی کہا جا سکتا ہے ،انسان شناسی کی مختلف اور طرح طرح کی قسمیں ہیںکہ جس کا امتیاز ایک دوسرے سے یہ ہے کہ اس کی روش یا زاویہ نگاہ مختلف ہے، اس مقولہ کوانسان شناسی کی روش کے اعتبار سے تجربی ،عرفانی، فلسفی اور دینی میں اور انسان شناسی کی نوعیت کے اعتبار سیکلی اورجزئی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

۱۔روش اور نوعیت کے اعتبار سے انسان شناسی کے اقسام

انسان شناسی کے اقسام

روش کے اعتبار سے

نوعیت کے اعتبار سے

تجربی

عرفانی

فلسفی

دینی

جامع

اجزائ


۲۔انسان شناسی کے اقسام

تجربی،عرفانی،فلسفی اور دینی

متفکرین نے انسان کے سلسلہ میں کئے گئے سوالات اور معموں کو حل کرنے کے لئے پوری تاریخ انسانی میں مختلف طریقہ کار کا سہارا لیا ہے ،بعض لوگوں نے تجربی روش سے مسئلہ کی تحقیق کی ہے اور ''انسان شناسی تجربی ''(۱) کی بنیاد رکھی جس کے دامن میں انسانی علوم کے سبھی مباحث موجود ہیں ۔(۲)

____________________

(۱)انسان شناسی تجربی کو انسان شناسی logy Anthropo کے مفہوم سے مخلوط نہیں کرنا چاہیئے ،جیسا کہ متن درس میں اشارہ ہوچکا ہے، انسان شناسی تجربی، علوم انسانی کے تمام موضوعات منجملہ Anthropology کو بھی شامل ہے، گرچہ پوری تاریخ بشر میں مختلف استعمالات موجود ہیں، لیکن دور حاضر میں علمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں اس کے رائج معانی علوم اجتماعی کے یا علوم انسانی تجربی کے موضوعات میں سے ہے جس میں انسان کی تخلیق کا سبب ، جمعیت کی وسعت اور اس کی پراکندگی ، انسانوں کی درجہ بندی ، قوموں کا ملاپ ، ماحول و مادی خصوصیات اور اجتماعی و سماجی موضوعات،نیز روابط جیسے مسائل کو تجربہ کے ذریعہ واضح کیا گیاہے ۔

(۲) فارسی میں کلمہ علوم انسانی کبھی کلمہ Humanities اور کبھی کلمہ Social sciences کے مترادف قرار پاتا ہے ۔ کلمۂ Humanities کا فارسی معنی علوم انسانی یا . .معارف انسانی قرار دینا بہتر ہے ، اس کا ابتدائی استعمال ان انگریزی اور یونانی آثار پر ہوتا تھا جو قرون وسطی میں اہل مدرسہ کی خدا شناسی کے برخلاف انسانی پہلو رکھتا تھا اور آج ان علوم میں استعمال ہوتا ہے جو انسان کی زندگی ، تجربہ رفتار و کردار کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔یورپ اور امریکہ میں یہ کلمہ ادبیات ، لسان ، فلسفہ ، تاریخ ، ہنر ، خداشناسی اور طبیعی و اجتماعی علوم کی موسیقی کے موضوعات کی جدائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ اور روش کے اعتبار سے علمی و تجربی روش میں منحصر نہیں ہے ، معارف دینی بھی جب فکر بشر کا نتیجہ ہو گی تواسی دائرہ اختیار میں قراردی جائیگی ، اسی بنا پر دینی معارف کے تفکرات و اعتبارات، خدا کی طرف سے اور فطرت سے بالاتر ذات سے حاصل ہونے کی وجہ سے اس گروہ سے خارج ہیں ، کلمہ ٔ Social sciences کا بالکل دقیق مترادف '' علوم اجتماعی تجربی '' ہے اور کبھی انسانی علوم تجربی کا استعمال، طبیعی تجربی علوم کے مد مقابل معنی میں ہوتا ہے،اور جامعہ شناسی، نفسیات شناسی ، علوم سیاسی و اقتصادی حتی مدیریت ، تربیتی علوم اور علم حقوق کے موضوعات کوبھی شامل ہے ۔ اور کبھی اس کے حصار میں جامعہ شناسی ، اقتصاد ،علوم سیاسی اور انسان شناسی ( Anthropology ) بھی قرار پاتے ہیں اور اجتماعی نفسیات شناسی ، اجتماعی حیات شناسی اجتماعی جغرافیا اور اس کے سرحدی گوشے اور حقوق ، فلسفہ اجتماعی ، سیاسی نظریات اور طریقہ عمل کے اعتبار سے تاریخی تحقیقات ( تاریخ اجتماعی ، تاریخ اقتصادی ) اس کے مشترکہ موضوعات میں شمار ہوتا ہے ۔رجوع کریں

Kuper Adman The social Sciences Encyclopedia Rotlage and Kogan paul

و: فرہنگ اندیشہ نو ، بولک بارس و غیرہ ، ترجمہ پاشایی و نیز :

Theodorson George, A modern Dictionary of Social Sciences


بعض لوگوں نے عرفانی سیرو سلوک اور مشاہدہ کو انسان کی معرفت کا صحیح طریقہ مانا ہے،اور وہ کوششیںجو اس روش سے انجام دی ہیں،اس کے ذریعہ ایک طرح سے انسا ن کی معرفت کو حاصل کر لیاہے جسے انسان شناسی عرفانی کہا جا سکتا ہے،دوسرے گروہ نے عقلی اور فلسفی تفکر سے انسان کے وجودی گوشوں کی تحقیق کی ہے اور فکری تلاش کے ما حصل کو انسان شناسی فلسفی کا نام دیا گیا ہے اور آخر کار ایک گروپ نے دینی تعلیمات اور نقل روایت سے استفادہ کرتے ہوئے انسان کی معرفت حاصل کی اور انسان شناسی دینی کی بنیاد رکھی ہے ،اس کتاب کی آئندہ بحثوں میں جو منظور نظر ہے وہ دینی تعلیمات اور نقل احادیث کے آئینہ میں انسان کی تحقیق ہے لہٰذاانسان شناسی کے باب میں دینی تعلیمات کو

ہم آئندہ مباحث میں محور قراردیں گے اگرچہ انسان شناسی فلسفی ،تجربی اور عرفانی معلومات بھی بعض جگہوں پروضاحت اور انسان شناسی دینی میں ان کا تقابل اور ہماہنگی کے بارے میں گفتگو کی جائیگی ، لہٰذا انسان شناسی میں ہماری روش ،نقل روایت اور ایک طرح سے تعبدی یا تعلیمات وحی کی روش ہوگی ۔(۱)

____________________

(۱)طریقہ وحی سے مراد یہ ہے کہ واقعیت اور حقایق کی شناخت میں تجربی طریقۂ سے استفادہ کرنے کے بجائے عقلی یا شہودی اور وحی الٰہی کے ذریعہ معرفت حاصل کی جائے ایسی معرفت پیغمبروں کے لئے منزل شہود کی طرح ہے اور دوسرے جو دینی مقدس متون کے ذریعہ اسے حاصل کرتے ہیں وہ سندی یا نقلی طریقہ سے حقیقت کو حاصل کرنا ہے اسی بنا پر اس کو روش نقلی بھی کہا جاتا ہے ۔ البتہ کبھی طریقہ وحی سے مراد، دین کی مورد تائید طریقوں کا مجموعہ ہے جوروش تجربی ، عقلانی اور شہودی کو اس شرط پر شامل ہے کہ جب وہ واقع نما اور ان کاقطعی ہونا ثابت ہوجائے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس قسم کی روش کو دینی روش کہنا چاہیئے ۔ دینی متون اور منابع کے درمیان فقط وہ اسلامی منابع مورد توجہ ہوناچاہیئے جو ہمارے نظریہ کے مطابق قابل اعتبار ہوں۔ چونکہ تمام منابع اسلامی کے اعتبار سے (خواہ وہ آیات و روایات ہوں) مسئلہ کی تحقیق و تحلیل کے لئے مزید وقت درکار ہے لہٰذا اسلام کا نظریہ بیان کرنے میں تمام مذاہب و فرقوں کے درمیان سب سے مستحکم و متقن منبع دینی یعنی قرآن مجید سے انسان شناسی کے مختلف موضوعات کی تحقیق و تحلیل میں استفادہ کریں گے اور مخصوص موارد کے علاوہ روائی منابع سے استناد نہیں کریں گے ؛ اسی بناپر مورد بحث انسان شناسی کو اسلامی انسان شناسی یا قرآنی انسان شناسی بھی کہا جاسکتا ہے ۔


انسان شناسی خردو کلاں یا جامع و اجزاء

انسان کے بارے میں پوری گفتگو اور انجام دی گئی تحقیق کو دو عام گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ کبھی انسان کی تحقیق میں کسی خاص شخص،کوئی مخصوص گروہ ،یا کسی خاص زمان و مکان کو پیش نظر رکھ کر افراد کے سلسلہ میں مفکرین نے سوال اٹھائے ہیںاوراسی کے متعلق جواب لانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور کبھی انسان بطور کلی کسی شخص یا خاص شرائط زمان و مکان کا لحاظ کئے بغیر مفکرین و محققین کی توجہ کا مرکز قرار پاتا ہے اور انسان شناسی کے راز کشف کئے جا تے ہیں ،مثال کے طور پر انسان کے جسمانی

طول ،عرض، عمق کی بناوٹ کی کیفیت کے بارے میں ،اسی طرح اولین انسان یا جسم میں تاریخی اعتبار سے تبدیلی اور تغیر کیبارے میں گفتگو ہوتی ہے یا ابتدائی انسانوں کے فکری ،عاطفی وعملی یا مخصوص سرزمین میں قیام یا معین مرحلۂ زمان میں زندگی گزارنے والے افراد کے طریقۂ زندگی ،کلچر، آداب و رسومات کے بارے میں تحقیق و گفتگو ہو تی ہے اور کبھی عام طور پر انسان کے مجبور و مختار ،دائمی اور غیردائمی یا دوسری مخلوقات سے اس کی برتری یا عدم برتری نیز اس کے انتہائی کمال اور حقیقی سعادت و خوش بختی کے بارے گفتگو ہوتی ہے جو کسی ایک فرد یا کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہوتی۔انسان شناسی کی پہلی قسم کو انسان شناسی خرد یا ''جزنمائی'' اور انسان شناسی کی دوسری قسم کو انسان شناسی کلاں یا ''کل نمائی'' کہا جا سکتا ہے ۔

اس کتاب کے زاویہ نگاہ سے انسان شناسی کلاںیا کل مورد نظر ہے اسی بنا پر انسان کے سلسلہ میں زمان و مکان اور معین شرائط نیز افراد انسان کے کسی خاص شخص سے استثنائی موارد کے علاوہ گفتگو نہیں ہو گی،لہٰذا اس کتاب میں مورد بحث انسان شناسی کا موضوع ،انسان بعنوان عام ہے اور انسان کو بہ طور کلی اور مجموعی مسائل کے تناظر میں پیش کیا جائے گااور وہ تجربی اطلاعات و گزارشات جو کسی خاص انسان سے مختص ہیں یا کسی خاص شرائط و زمان و مکان کے افراد سے وابستہ ہیں اس موضوع بحث سے خارج ہیں۔


انسان شناسی کی ضرورت اور اہمیت

انسان شناسی کی ضرورت اور اہمیت کے لئے دو زاویہ نگاہ سے تحقیق کیا جاسکتا ہے :

پہلے زاویہ نگاہ میں ، اس مسئلہ کی بشری تفکر کے دائرہ میں تحقیق کی جاتی ہے ۔

دوسرے زاویہ نگاہ میں ،انسان شناسی کی اہمیت کو دینی تعلیمات کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے ۔

الف: انسان شناسی ،بشری تفکر کے دائرے میں باہدف زندگی کی تلاش

انسان کی زندگی کا بامقصد اور بے مقصد ہونا اس کے مختلف تصورات سے پوری طرح مرتبط ہے اور ان مختلف تصورات کو انسانشناسی کی تحقیقات ہمارے لئے فراہم کرتی ہے ، مثال کے طور پر اگر انسان شناسی میں ہم یہ تصور ذہن میں بٹھا لیں کہ انسان کا کوئی معقول و مناسب ہدف نہیں ہے جس پر اپنی پوری زندگی گذارتا رہے یا اگر انسان کو ایسی مخلوق سمجھا جائے جو زبر دستی الٰہی ، تاریخی ، اجتماعی زندگی گذارنے پر مجبور ہو اور خود اپنی تقدیر نہ بنا سکے تو ایسی صورت میں انسان کی زندگی بے معنی اور کاملاً بے مقصد اور عبث ہوگی ، لیکن اگر ہم نے انسان کو باہدف (معقول و مناسب ہدف) اور صاحب اختیار تصور کیا اس طرح سے کہ اپنے اختیار سے تلاش و کوشش کے ذریعہ اس بہترین ہدف تک پہونچ سکتا ہے تو اس کی زندگی معقول و مناسب اور بامعنی وبا مقصدتصور کی جائے گی ۔(۱)

____________________

(۱)معانی زندگی کی تلاش کا مسئلہ نفسیاتی علاج ( Psychotherapy )میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور نفسیاتی علاج کے موضوعات میں سے ایک با مقصدعلاج ( logotherapy ) ہے ،بامقصد علاج کے نفسیاتی ماہرین کا عقیدہ ہے کہ تمام نفسیاتی علاج جس کا کوئی جسمانی سبب نہیں ہے زندگی کو بامقصد بنا کر علاج کیا جاسکتا ہے،بامقصد علاج کا موجد ''وکٹر فرینکل ( Emil Viktor Frankle ) معتقد ہے کہ زندگی کوایسا بامقصد بنانا چاہیئے کہ انسان اپنی زندگی گذارنے میں ایک ہدف نہائی کا تصور حاصل کرلے تاکہ اس کے زیر سایہ اس کی پوری زندگی بامقصد ہوجائے اورایسا کوئی لاجواب سوال جو اس کی زندگی کے بامقصد ہونے کو متزلزل کرے اس کے لئے باقی نہ رہے ، ایسی صورت میں جب کہ اس کی تمام نفسیاتی بیماریوں کا کوئی جسمانی سبب نہیں ہے اس طرح قابل علاج ہیں ۔ با مقصد علاج کے سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو:

الف) انسان در جستجوی معنا ، ترجمہ اکبر معارفی ۔

ب)پزشک و روح ، ترجمہ بہزاد بیرشک ۔

ج) فریاد ناشنیدہ معنا ، ترجمہ بہزاد بیرشک ، از وکٹرفرینکل۔


اجتماعی نظام کا عقلی ہونا(۱)

تمام اجتماعی اور اخلاقی نظام اس وقت قابل اعتبار ہوںگے جب انسان شناسی کے بعض وہ بنیادی مسائل صحیح اور واضح طور سے حل ہوچکے ہوں جو ان نظام کے اصول کو ترکیب و ترتیب دیتے ہیں۔ اصل میں اجتماعی شکل اور نظام کے وجود کا سبب انسان کی بنیادی ضرورتوں کا پورا کرنا ہے اور جب تک انسان کی اصلی اوراس کی جھوٹی ضرورتوںکو جدا نہ کیا جاسکے اور اجتماعی نظام انسان کے حقیقی اور اصلی ضرورتوں کے مطابق اس کا اخروی ہدف فراہم نہ ہوسکے تواس وقت تک یہ نظام منطقی اور معقول نہیں سمجھا جائے گا ۔

____________________

(۱) '' اجتماعی نظام''سے ہماری مراد ایسا آپس میں مر تبط مجموعہ اور عقائد ونظرات کا منطقی رابطہ ہے جسے کسی معین ہدف کو حاصل کرنے کے لئے روابط اجتماعی کے خاص قوانین کے تحت مرتب کیا گیا ہو جیسے اسلام کا اقتصادی ، سیاسی ، حقوقی اور تربیتی نظام ، اسی بنا پر اس بحث میں اجتماعی نظام کا مفہوم اس علوم اجتماعی سے متفاوت ہے جومختلف افراد کے منظم روابط اور ایک معاشرہ اور سماج کے مختلف پہلوئوں کو شامل ہوتاہے جس میں اگرچہ کسی حد تک مشابہت پائی جاتی ہے لیکن اس کا انتزاعی پہلو بہت زیادہ ہے،مذکورہ صراحت کے پیش نظر علمی و اجتماعی نظریہ کے دستور اور اجتماعی نظام کے درمیان فرق روشن ہوجاتا ہے ۔


علوم انسانی کی اہمیت اورپیدائش

''علوم انسانی تبیینی'' سے مرادوہ تجربی علوم ہیں جو حوادث بشر کی تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں اورفقط تاریخ نگاری اور تعریف کے بجائے حوادث سے مرتبط قوانین واصول کوآشکار کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔ ان علوم کا وجود و اعتبار انسان شناسی کے بعض مسائل کے حل ہونے پر موقوف ہے ، مثال کے طور پر اگرتمام انسانوں کے درمیان مشترکہ طبیعت اور فطری مسائل کے مثبت پہلوؤں کے جوابات تک رسائی نہ ہوسکے اور کلی طور پر انسانوں کے لئے حیوانی پہلو کے علاوہ مشترک امور سے انکار کر دیا جائے تو انسانی علوم کی اہمیت ، حیوانی اور معیشتی علوم سے گر جائے گی ،اور ایسی حالت میں علوم انسانی کا وجود اپنے واقعی مفہوم سے خالی ایک بے معنی لفظ ہو کر رہ جائے گا ، اس لئے کہ اس صورت میں انسان یا کسی بھی حیوان کا سمجھنا بہت دشوار ہوگا ،اس لئے کہ یا خود اسی حیوانی اور معیشتی علوم کے ذریعہ اور ان پر جاری قوانین کا سہارا لے کر اس تک رسائی حاصل کی جائے گی یا ہر انسان کی ایک الگ اور جدا گانہ حیثیت ہو گی جہاں ایک نمونہ یا بہت سے نمونے کی تحقیق اور ان نمونوں پر جاری قوانین اور ترکیبات کے کشف سے دوسرے انسانوں کی شناخت کے لئے کوئی جامع قانون حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے جبکہ ان دونوں صورتوں میں علوم انسانی تبیینی اپنے موجودہ مفہوم کے ہمراہ بے معنی ہے،لیکن انسانوں کی مشترکہ فطرت کو قبول کرکے ( مشترکہ حیوانی چیزوں کے علاوہ جو انسانوں کے درمیان مشترک ہیں) راہ انکشاف اور اس طرح کے قوانین ومختلف نظامِ معرفت تشکیل دے کر انسان کے مختلف گوشوں میں علوم انسانی کی بنیاد کو فراہم کیا جاسکتا ہے ۔

البتہ اس گفتگو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری مشکلات سے چشم پوشی کرلی جائے جو علوم انسانی کے قوانین کو حاصل کرنے میں در پیش ہیں ۔

اجتماعی تحقیقات اور علوم انسانی کی وجہ تحصیل

مزید یہ کہ انسان شناسی کے مسائل علوم انسانی کے اعتبار اور وجود میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، علوم انسانی کے اختیارات اور میدان عمل کی حد بندی کا انسان شناسی کے بعض مباحث سے شدید رابطہ ہے ، مثال کے طور پر اگر ہم انسان شناسی کے بابمیں روح مجرد سے بالکل انکار کردیں یا ہر انسان کی اس دنیاوی زندگی کے اختتام سے انسان کی زندگی کا اختتام سمجھا جائے تو انسانی حوادث اور اجتماعی تحقیقوںنیز ہر معنوی موضوع میں ، انسان کی موت کے بعد کی دنیا سے رابطہ اور اس دنیاوی زندگی میں اس کے تأثّرات سے چشم پوشی ہو گی ،اس طرح انسان کے سبھی اتفاقات میں فقط مادی حیثیت سے تجزیہ و تحلیل ہوگی


اور انسانی تحقیقیں مادی زاویوں کی طرفمتوجہ ہو کر رہ جائیں گی لیکن اگر روح کا مسئلہ انسان کی شخصیت سازی میں ایک حقیقی عنصر کے عنوان سے بیان ہو تو تحقیقوں کا رخ انسان کی زندگی میں روح و بدن کے حوالے سے تاثیر و تاثّرکی حیثیت سے ہو گا اور علوم انسانی میں ایک طرح سے غیر مادی یا مادی اور غیر مادی سے ملی ہوئی تفسیر و تشریح بیان ہوگی ، اس نکتہ کو آئندہ مباحث کے ضمن میں اچھی طرح سے واضح کیا جائے گا ۔(۱)

ب)انسان شناسی، معارف دینی کے آئینہ میں

انسان شناسی کے مباحث کا اصول دین اور اس کے وجود شناسی کے مسائل سے محکم رابطہ ہے نیز فروع دین اور دین کے اہم مسائل سے بھی اس کا تعلق ہے ۔ یہاں ہم وجود شناسی اوردین کے حوالے سے اجتماعی انسان شناسی سے رابطے کے بارے میں تین بنیادی اصولوں کے تحت تحقیق کریں گے ۔

خدا شناسی اور انسان شناسی

انسان شناسی اور خدا شناسی کے رابطہ کو سمجھنا (انسان و خدا کی طرف نسبت دیتے ہوئے ) شناخت حصولی اور شناخت حضوری دونوں کے ذریعہ ممکن ہے ۔(۲) یا دوسرے لفظوں میں ، انسان کی حضوری معرفت خود وسیلہ اور ذریعہ ہے خدا کی حضوری معرفت کا ،اور اسی طرح انسان کے سلسلہ میں حصولی شناخت بھی خدا اور اس کے عظیم صفات کے بارے میں حصولی شناخت کا ایک ذریعہ ہے۔ پہلی قسم میں عبادت ، تزکیہ نفس ، عرفانی راستوں کے ذریعہ اور دوسری قسم میں انسانی وجوداور اس کے اسرارورموز میں غور و فکر کے ذریعہ یہ شناخت ممکن ہے ۔اس کے باوجودیہ مباحث

____________________

(۱)موجودہ علوم انسانی کی فقط مادی تحلیلوں و معنوی گوشوں اور غیر فطری عناصر سے غفلت کے بارے میں معلومات کے لئے ملاحظہ ہو: مکتب ھای روان شناسی و نقد آن ( خصوصاً نقد مکتب ھا کا حصہ ) دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ۔

( ۲ ) معر فت یا علم حضوری سے مراد عالم اور درک کرنے والے کے لئے خود شئی کے حقیقی و واقعی وجود کاکشف ہونا ہے اور علم حصولی یعنی درک کرنے والے کے لئے حقیقی و خارجی شی کے وجود کا کشف نہ ہونا ہے ۔بلکہ اس حقیقی اور خارجی شی کے مفہوم یا صورت کو( جو اس وجود خارجی کو بیان کرتی ہے ) درک کرنا ہے اور اس صورت و مفہوم کے ذریعہ اس خارجی شی کودرک کیا جاتا ہے ۔


انسان شناسی،جو علم حصولی کے مفاہیم میں لحاظ کئے جاتے ہیں انسان کی حضوری معرفت اور خدا کے سلسلہ میں حضوری شناخت کے موضوع سے خارج ہیں لہٰذا ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔(۱)

قرآن مجید خدا کی حصولی معرفت کے ساتھ انسان کی حصولی معرفت کے رابطہ کو یوں بیان کرتا ہے :

( وَ فِی الاَّرضِ آیات لِلمُوقِنِینَ وَ فِی أَنفُسِکُم أَفَلا تُبصِرُونَ ) (۲)

زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں (خدا کے وجود اور اس کے صفات پر بہت ہی عظیم )ہیں اور تم میں ( بھی)نشانیاں (کتنی عظیم )ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ۔

اور دوسری آیت میں بیان ہوا :

( سَنُریهِم آیاتِنَا فِی الآفاقِ وَ فِی أَنفُسِهِم حَتیٰ یَتَبَیّنَ لَهُم أَنّهُ الحَقُّ ) (۳)

عنقریب ہم اپنی نشانیوں کو پورے اطراف عالم اور ان کے وجود میں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ حق ہے ۔(۴)

____________________

(۱)قابل ذکر یہ ہے کہ انسان کی حقیقی سعادت ( انبیاء الٰہی کی بعثت کا ہدف) پروردگار عالم کی عبادت میں خلوص کے ذریعہ ممکن ہے جو اس کی حضوری معرفت کا سبب ہو ۔ لیکن ایسی معرفت کا حصول بغیر علمی مقدمات کے ممکن نہیں ہے یعنی اس کی حقیقت اور عظمت کے حوالے سے اس کی حصولی معرفت ، نیز اس پر عقیدہ رکھنا ، اور مقام عمل میں اس پر پورا اترناہے، اور انسان شناسی کی تحقیق و تحلیل اس حضوری معرفت کی راہ حصول میں پہلا قدم ہے ۔ (۲)ذاریات ۲۰و ۲۱۔

(۳)فصلت ۵۳۔

(۴)مراد ؛ معرفت حصولی میں مفاد آیت کا منحصر ہونا نہیں ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں حضوری و حصولی دونوں معرفت مراد ہو لیکن ظاہر آیت کے مطابق معرفت حصولی حتماً مورد نظر ہے ۔


نبوت اور انسان شناسی

نبوت کا ہونا اوراس کا اثبات ورابطہ ،انسان شناسی کے بعض مسائل کے حل پر موقوف ہے ۔ اگر انسان شناسی میں یہ ثابت نہ ہو کہ وہ فرشتوں کی طرح خدا سے براہ راست یا باواسطہ رابطہ رکھ سکتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وحی اور پیغمبرکے سلسلہ میں گفتگو کی جائے ؟!

وحی اورمنصب نبوت سے مرادیہ ہے کہ لوگوں میں ایسے افراد پائے جاتے ہیںجوبراہ راست یا فرشتوں کے ذریعہ خداوند عالم سے وابستہ ہیں ، خداوند عالم ان کے ذریعہ معجزات دکھاتا ہے اور یہ حضرات خدا سے معارف اور پیغامات حاصل کرتے ہیں تا کہ لوگوں تک پہونچائیں ،اس حقیقت کو ثابت اور قبول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس رابطہ کے سلسلہ میں انسان کی قابلیت کو پرکھا جائے ۔بنوت کا انکار کرنے والوں کے اعتراضات اور شبہات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان ایسا رابطہ خداوند عالم سے رکھ ہی نہیں سکتا اور ایسا رابطہ انسان کی قدرت سے خارج ہے ، قرآن مجید اس طرح بنوت کا انکار کرنے والوں کے سلسلہ میں فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

( مَا هٰذا لاّ بَشَر مِثلُکُم ...ولَو شَائَ اللّٰهُ لأَنزَلَ مَلائِکَةً مَا سَمِعنَا بِهٰذا فِی آبَائِنَا الأوَّلِینَ ) (۱)

''یہ (پیغمبر )تم جیسا بشر کے علاوہ کچھ نہیں اگر خدا چاہتا(کوئی پیغمبر بھیجے ) تو

فرشتوں کو نازل کرتا ، ہم نے تو اس سلسلہ میں اپنے آباء و اجداد سے کچھ نہیں سنا

دوسری آیت میں کافروں اور قیامت کا انکار کرنے والوں سے نقل کرتے ہوئے یوں بیان کیا ہے :

( مَا هٰذَا لاّ بَشَر مِثلُکُم یَأکُلُ مِمَّا تَأکُلُونَ مِنهُ وَ یَشرَبُ مِمَّا تَشرَبُونَ وَ لَئِن أَطَعتُم بَشَراً مِثلَکُم ِنَّکُم ِذاً لَخَاسِرُونَ ) (۲)

____________________

(۱)مومنون ۲۴ ۔

(۲) مومنون ۳۳و ۳۴۔


(کفار اور قیامت کا انکار کرنے والے کہتے ہیں :)یہ (پیغمبر ) فقط تمہاری طرح ایک بشر ہے جو چیزیں تم کھاتے اور پیتے ہو وہی وہ کھاتا اور پیتا ہے ، اور اگر تم لوگ نے اپنے جیسے بشر کی پیروی کرلی، تب تو ضرور گھاٹے میں رہوگے ۔

لہٰذا نبوت کا ہونا یا نہ ہونا اس مسئلہ کے حل سے وابستہ ہے کہ کیا انسان اللہ کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات وحی کو دریافت کرسکتا ہے یا نہیں ؟ مزید یہ کہ نبوت کا ہونا ، نبوت عامہ کا اثبات اور انبیاء کی بعثت کی ضرورت بھی اسی انسان شناسی کے مسائل کے حل سے وابستہ ہے کہ کیا انسان وحی کی مدداور خدا کی مخصوص رہنمائی کے بغیر ،نیز صرف عمومی اسباب کے ذریعہ معرفت حاصل کرکے اپنی راہ سعادت کو کامل طریقے سے پہچان سکتا ہے ؟ یا یہ کہ عمومی اسباب کسب معرفت کے سلسلہ میں کافی و وافی کردار ادا نہیں کرسکتے اور کیا ضروری ہے کہ خدا کی طرف سے انسان کی رہنمائی کے لئے کوئی پیغمبر مبعوث ہو ؟

معاد اور انسان شناسی

وحی کی روشنی میں انسان کا وجودصرف مادی دنیا اور دنیاوی زندگی ہی سے مخصوص نہیں ہوتابلکہ اس کے وجود کی وسعت عالم آخرت سے بھی تعلق رکھتی ہے اوراس کی حقیقی زندگی موت کے بعدکی دنیا سے مربوط ہے لہٰذا ایک زاویہ نگاہ سے معاد پر اعتقاد ، موت کے بعد انسان کی زندگی کے دوام اور اس کے نابود نہ ہونے کا اعتقاد ہے اور ایسا اعتقاد در اصل ایک طرح سے انسان کے سلسلہ میں ایسا تفکر ہے جسے انسان شناسی کے مباحث سے اگرحاصل اور ثابت نہیں کیا گیا تو معاد کے مسئلہ کی کوئی عقلی ضرورت نہیں رہ جاتی اورمعاد کا مسئلہ عقلی دلائل کی پشت پناہی سے عاری ہوگا اسی وجہ سے قرآن مجید معاد کی ضرورت و حقانیت پر استدلال کے لئے موت کے بعد انسان کی بقا اور اس کے نابود نہ ہونے پر تکیہ کرتا ہے اور رسول اکرم سے مخاطب ہو کرمنکرین معادکی گفتگو کو اس طرح پیش کرتا ہے :


( وَ قَالُوا أَئِ ذَا ضَلَلنَا فِی الأرضِ أَئِ نّا لَفِی خَلقٍ جَدیدٍ ) (۱)

اور (معاد کا انکار کرنے والے )یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب (ہم مرگئے اور بوسیدہ ہوگئے اور )زمین میں ناپید ہوجائیں گے تو کیا ہم پھردوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟

ان لوگوں کے جواب میں قرآن یوں فرماتا ہے :

( ...بَل هُم بِلِقائِ رَبِّهِم کَافِرُونَ٭قُلّ یَتَوفَّاکُم مَلکُ الموتِ الذِی وُکِّلَ بِکُم ثُمَّ لیٰ رَبِّکُم تُرجَعُونَ ) (۲)

(ان لوگوں نے زمین میں مل جانے کو دلیل قرار دیا ہے ورنہ معاد کے ہونے اور اس کے تحقق میں کوئی شبہہ نہیں رکھتے ہیں )بلکہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات ہی سےانکار کرتے ہیں(اے پیغمبر! اس دلیل کے جواب میں ) تم کہدو کہ: ملک الموت

جو تمہارے اوپر معین ہے وہی تمہاری روحیں قبض کرے گا (اور تم ناپیدا نہیں ہوئوگے)اس کے بعد تم سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف پلٹائے جائوگے ۔

انسان شناسی اوراحکام اجتماعی کی وضاحت

اس سے پہلے انسان کی حقیقی قابلیت اور بنیادی ضرورتوں کی معرفت نیز بنیاد سازی اور معقول و صحیح اجتماعی عادات و اطوار کی ترسیم مورد تائید قرار پا چکی ہے۔ لہٰذاہم یہاں اس نکتہ کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ بعض دین کے اجتماعی احکام کو عقلی نقطۂ نظر سے قبول کریں اور انہیں انسان شناسی کے بعض مسائل میں استفادہ کریں، اگرچہ دین کے اجتماعی احکام کی صحت و حقانیت علم خدا کے اس لامتناہی سرچشمہ کی وجہ سے ہے کہ جس کی ذات ،عادل، رحیم و کلیم جیسے صفات سے استوار ہے ،لیکن اسلام کے بعض اجتماعی احکام کی معقول وضاحت ((دینی ، عالم کی معرفت میں ) اس طرح سے کہ جو لوگ

____________________

(۱)سجدہ ۱۰۔

(۲)سجدہ ۱۰و ۱۱


دین کونہیں مانتے ہیںان کے لئے بھی معقول اور قابل فہم ہو )صرف انسان شناسی کے بعض مسائل کے جوابات کی روشنی میں میسور وممکن ہے مثال کے طور پر وحی کی تعلیمات میں ، انسان کی حقیقی شخصیت (انسان کی انسانیت )قرب الہٰی(خدا سے قریب ہونا)کی راہ میں گامزن ہونے کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ اور خدا سے دور ہونے کا مطلب خود کو فراموش کرنا اور انسانیت کے رتبہ سے گر کر حیوانات سے بدتر ہونا ہے(۱) اس مطلب کی روشنی میں ، وہ شخص جو اسلام کی حقانیت اور اس پر ایمان لانے کے بعد کسی غرض اور حق کی مخالفت کی وجہ سے اسلام سے منہ موڑ کے کافر(مرتد) ہوجائے تو اس کے لئے پھانسی کا قانون ایک معقول اور مستحکم فعل ہے ،اس لئے کہ ایسے شخص نے اپنی انسانیت کو جان بوجھ کر گنوایا ہے نیزحیوان اور بد ترین مخلوق ہونے کا سہرا باندھ کر جامعہ کے لئے خطرناک جانور(۲) میں تبدیل ہوگیا ہے ۔

دور حاضر میں انسان شناسی کا بحران اور اس کے مختلف پہلو

بہت سی فکری کوششیں جو وجود انسان کے گوشوں کو روشن کرنے کے لئے دوبارہ احیاء ہوئی ہیںاس نے بشر کے لئے بہت سی معلومات فراہم کی ہیں ،اگرچہ ان معلومات کی جمع آوری میں تحقیق کے مختلف طریقوں کو بروئے کار لایا گیا ہے لیکن ان میں روش تجربی کا حصہ دوسری راہوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے ،اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ انسان شناسی میں زیادہ حصہ تجربہ کا ہے۔ بہت سے قضایا اور انکشافات جو انسان شناسی کے مختلف مسائل کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اور وجود انسانی کے

____________________

(۱)(أولٰئِکَ کَالأنعَامِ بَل هُم أَضَلُّ أولٰئِکَ هُمُ الغَافِلونَ )''وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بہت زیادہ گمراہ ہیں ، وہ لوگ بے خبر اور غافل ہیں ''( سورۂ اعراف ۱۷۹)

(۲)(إنَّ شرَّ الدَّوَابِّ عندَ اللّهِ الّذِینَ کَفَرُوا فَهُم لایُؤمِنُونَ )''یقینا خدا کے نزدیک بدترین جانور وہی ہیں جو کافر ہوگئے ہیں پس وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ''( انفال ۵۵)


تاریک گوشوںکے حوالے سے قابل تحقیق ہیں ۔ نیز فراوانی اور اس کے ابعاد کی کثرت کی وجہ سے نہ صرف انسان کے ناشناختہپہلوئوں کو جیسا چاہیئے تھا واضح کرتے اور اس نامعلوم موجود کی شناخت میں حائل شدہ مشکلات کو حل کرتیخود ہی مشکلات سے دچار ہوگئے ہیں ۔(۱)

علم کے کسی شعبہ میں بحران کا معنی یہ ہیںکہ جن مشکلات کے حل کے لئے اس علم کی بنیاد رکھی گئی ہووہ علم اس کو حل کرنے سے عاجز ہو اور اپنے محوری و مرکزی سوالات کے جوابات میں مبہوت و پریشان ہو، ٹھیکیہی صورت حال دور حاضر میں انسان شناسی کی ہوگئی ہے، یہ بات ایک سر سری نظر سے معلوم ہوجاتی ہے کہ دور حاضر میں انسان شناسی کی مختلف معلومات، مختلف جہتوںسے بحران کا شکار ہیں۔ انسان شناسی کا ماہر، جرمنی کا فلسفی ''اسکیلر میکس '' لکھتا ہے کہ : تاریخ کے اوراق میں کسی وقت بھی ...انسان جس قدر آج معمہ بنا ہوا ہے کبھی نہیں تھا ...تخصصی علوم جن کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہی ہو رہا ہے اوربشر کے مسائل سے مربوط ہیں ،یہ بھی ذات انسان کو مزید معمہ بنائے ہوئے ہیں ۔(۲)

دور حاضر میں انسان شناسی کے بحران کا چار بنیادی طریقوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور ان چار بنیادی طریقوں سے مراد یہ ہیں؛ ۱۔ علوم نظری کی ایک دوسرے سے عدم ہماہنگی اور اندرونی نظم سے عاری ہونا۔ ۲۔ فائدہ مند اور مورد اتفاق دلیل کا نہ ہونا ۔ ۳۔ انسان کے ماضی و مستقبل کا خیال نہ کرنا

۴ ۔ انسان کے اہم ترین حوادث کی وضاحت سے عاجز ہونا ۔

____________________

(۱)''ہوسرل ''منجملہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے انسان شناسی کے بحران کو بیان کیا ہے ،اس نے '' وین''(مئی ۱۹۳۵)کی اپنی تقریر میں ''یورپ میں انسانیت کی بحران کا فلسفہ ''اور ''پراگ ''(۱۲ ۱۹۳۴)کی تقریر میں ''نفسیات شناسی اور یورپ کے علوم کا بحران''کے عناوین سے اس موضوع پر تقریریں کی ہیں اوراس کی موت کے بعد اس کے مسودوں کو ۱۹۵۴ئ میں ایک پر حجم کتاب کی شکل میں ''بحران علوم اروپائی و پدیدار شناسی استعلایی '' کے عنوان سے منتشرکیا گیاہے ،ملاحظہ ہو ؛ مدرنیتہ و اندیشہ انتقادی، ص۵۶

(۲) Scheler Max. lasituation de l' hommo dans la monde.p. ۱۷

کیسیرر سے نقل کرتے ہوئے ، ارنسٹ ، ( ۱۳۶۰) فلسفہ و فرہنگ ، ترجمہ بزرگی نادرزادہ ، تہران ؛ موسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی ، ص ۴۶و ۴۷۔


الف) علوم نظری کی آپس میں ناہماہنگی اور درونی نظم و ضبط کا نہ ہونا

تمام مفکرین مدعی ہیں کہ انسان کے سلسلہ میں ان کا خاکہ اور نظریہ، دنیاوی اور تجربی معلومات و حوادث پر مبنی ہے اور ان کے نظریات کی دنیاوی حوادث سے تائید ہو جاتی ہے لیکن اگر ان نظریات کی سبھی توضیحات کو ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی فطری وحدت مجہول ہے اور ہم انسان کی ایک فرد یاایسے مختلف افراد سے رو برو نہیں ہیںجو ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔(۱) مثال کے طور پر''رفتار گرایان'' کا عقیدہ ( جو انسان کے کردار کو محور تسلیم کرتے ہیں )جیسے ا سکینر(۲) ، سیاسی و اقتصادی جامعہ شناس جیسے کارل مارکس(۳) ، جامعہ شناس جیسے دور کھیم(۴) علم الحیات کے نظریات کو ماننے والے اور عقیدہ وجود والے جیسے ژان پل سارٹر(۵) کے نظریات انسان کے اختیارات اور آزادی کے بارے میں ملاحظہ کریں کہ کس طرح ایک دوسرے سے ہماہنگ اور قابل جمع نہیں ہیں؛ ''عقیدۂ رفتار و کردار رکھنے والے'' اختیار کا ایک سرے سے ہی انکار کرتے ہیں۔ ''مارکس'' انسان کے اختیاراور آزادی کو روابط کے ایجاد اور تاریخی جبر کی پیداوار سمجھتا ہے ۔'' دورکھیم'' اجتماعی جبر کی تاکید کرتا ہے۔ ''حیات شناس افراد'' عناصر حیات کے سرنوشت ساز کردار کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور'' ژان پل سارٹر''انسان کی بے چوں و چرا آزادی کا قائل ہے کہ جس میں حیات کے تقاضوں سے بالاتر ہو کرمادی دنیا کے تغییر ناپذیر قوانین کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔''اسکیلر میکس'' اس سلسلہ میں کہتا ہے کہگذشتہ دور کے برخلاف آج کے دور میں انسان شناسی تجربی(اپنے تمام انواع کے ساتھ) انسان شناسی فلسفی اور انسان شناسی الٰہی ایک دوسرے کے مخالف یا آپس میں بالکل ایک دوسرے سے علیحدہ ہیںان میں

____________________

(۱)کیسیرر، ارنسٹ ؛ فلسفہ و فرہنگ (ترجمہ )ص ۴۵و ۴۶۔

(۲) B.F.Skinner

(۳) Karl Marx

(۴) Emile Durkheim

(۵) Jean-Paul


انسان کے سلسلہ میں اجماعی نظریہ اور اتحاد نہیںپایا جاتا ہے ۔(۱)

ب) فائدہ مند اور مورد اتفاق دلیل کا نہ ہونا

طبیعی علوم میں وہ قوانین جن کو علوم طبیعی کے اکثر مفکرین مانتے ہیں ان کے علاوہ، تجربی روش کو بھی اکثر مفکرین نے آخری دلیل اور حاکم کے عنوان سے قبول کیا ہے،اگرچہ اس کی افادیت کی مقدار میں بعض اعتراضات موجود ہیں لیکن علوم انسانی میں (جیسا کہ'' ارنسٹ کیسیرر''(۲) ذکرکرتاہے کہ)کوئی ایسی علمی اصل نہیں ملتی جسے سبھی مانتے ہوں(۳) ایسے موقعہ پر ایک مفید حاکم و دلیل کی شدید ضرورت ہوتی ہے، اس کے باوجود علمی تحقیق یہ ہے کہ دور حاضر میں ہر انسان شناس اپنے نظریات کے سلسلہ میں عین واقعیت اور تجربی دلیلوں سے ہماہنگی کا مدعی ہے ، حالانکہ ، تجربی روش جس کو آخری اور مستحکم دلیل و حاکم کے عنوان سیپیش کیا گیا ہے خود ہی متناقض معلومات فراہم کرتی ہے اوروہ بیان کئے گئے مشکلات کو حل کرنے میں مرجع ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے لہٰذا ضروری افادیت سے محروم ہے مزید یہ کہ (مفکرین کے )قابل توجہ گروہ نے کلی طور پر ( حتی ان موارد میں بھی جہاں علم تجربی ہمارے لئے ہماہنگ معلومات فراہم کرتا ہے)اس روش کی افادیت میں شک ظاہر کیا ہے اور تفہیم و حوادث شناسی کے دوسرے طریقۂ کار کی تاکید کی ہے ۔

ج) انسان کے ماضی اور مستقبل کا خیال نہ کرنا

انسان شناسی تجربی کے نظریات ،انسان کے ماضی اور مستقبل (موت کے بعد کی دنیا) کے سلسلہ میں کوئی گفتگو نہیں کرتے ہیں۔ اگر انسان موت سے نابود نہیں ہوتا ہے (جب کہ ایساہی ہے ) تو یہ نظریات اس کی کیفیت اور اس دنیاوی زندگی سے اس کے رابطوں کی وضاحت و تعریف سے عاجز ہیں

____________________

(۱)اسکیلرمیکس۔

(۲) Earnest Cassirar

(۳)کیسیرر ، ارنسٹ ، گذشتہ حوالہ، ص ۴۶۔


چنانچہ وہ اپنے ماضی سے غافل ہیں ،انسان کی سر نوشت اوراس کی خواہش میں معنوی اسباب کا اثر و عمل بھی ایک دوسرا مسئلہ ہے جس کے بارے میں انسان شناسی تجربی کے نظریات کسی بھی وضاحت یا حتمی رأی دینے سے قاصر ہیں ۔انسان شناسی کے دوسرے اقسام بھی (دینی انسان شناسی کے علاوہ ) اخروی سعادت اور انسانی اعمال کے درمیان تفصیلی اور قدم بہ قدم روابط کے بیان سے عاجز ہیں ۔

د) انسان کے اہم ترین حوادث کی وضاحت سے عاجز ہونا

دور حاضر میں انسان شناسی کے نظریے اور مکاتب اس دنیا کے بھی مہم ترین انسانی حوادث کی تفصیل و صراحت سے عاجز ہیں اور اس جہت سے بھی علمِ انسان شناسی بحران کا شکار ہے ۔ زبان ، اجتماعی اور انسانی حوادث کے اہم ترین ایجادات میں سے ہے اور اس کی اہمیت اتنی ہے کہ علوم انسانی کے بعض مفکرین کا نظریہ ہے کہ: جو مکتب اچھی طرح زبان کی وضاحت پر قادر ہے وہ انسانی حوادث کی بھی صراحت کر سکتا ہے جب کہ دور حاضر میں انسان شناسی ،زبان کے بعض گوشوں کی تفسیر و وضاحت سے عاجز ہے مثال کے طور پر وہ نظریات جو انسان کو ایک مشین یا کامل حیوان کا درجہ دیتے ہیں کس طرح ان جدید اصطلاحات و ایجاد معانی جن کو پہلی مرتبہ انسان مشاہدہ کرتا ہے یا اس طرح کی چیزوں کے سمجھنے میں ذہن انسانی کی خلاقیت اور اس کی ابتکاری صلاحیت کی کیونکروضاحت کرسکتے ہیں؟ یا نمونہ کے طور پر میدان فہم و تفہیم میں (مقصد کو بیان کرنے کے لئے کلمات کا ایجاد کرنا) جو حیوانات کی آواز کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے ،انسان کی خلاقیت کی کس طرح وضاحت کریں گے ؟ ''چومسکی''(۱) معتقد ہے کہ قابلیت اور ایجادات ،انسان کی زبان کے امتیازات میں سے ہے یعنی ہم سب سے گفتگو کرسکتے ہیں اور زبان کے قوانین اور معانی کی مدد سے ایسے جملات کو سمجھتے ہیں جس کو اس سے پہلے سنا ہی نہ تھا ، لہٰذا زبان ماہیت کے اعتبار سے حیوانات کے اپنے مخصوص طریقۂ عمل سے کاملاًجدا ہے ۔(۲)

____________________

(۱) Chomsky Noam (۲)لسلی ، اسٹیونسن ، ہفت نظریہ دربارہ طبیعت انسان ، ص ۱۶۱۔


دینی انسان شناسی کی خصوصیات

دینی انسان شناسی اپنے مد مقابل اقسام کے درمیان کچھ ایسے امتیازات کی مالک ہے جسے ہم اختصار کے ساتھ بیان کررہے ہیں :

جامعیت

چونکہ دینی انسان شناسی تعلیمات وحی سے بہرہ مند ہے اور طریقہ وحی کسی خاص زاویہ سے مخصوص نہیں ہے لہٰذااس سلسلہ میں دوسری روشوں کی محدودیت معنی نہیں رکھتی ہے بلکہ یہ ایک مخصوص عمومیت کی مالک ہے، اس طرح کہ اگر ہم کسی فرد خاص کے بارے میں بھی گفتگو کریں تواس گفتگو کوانسان کے سبھی افراد کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان کیا جاسکتا ہے اور اس فرد خاص کے اعتبارسے بھی بیان کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ گفتگو کرنے والا کامل اور ہر زاویہ سے صاحب معرفت ہے ، مزید دینی انسان شناسی کی معلومات یہ بتاتی ہے کہ یہ انسان شناسی ، انسان کے مختلف افراد کو مدنظر رکھتی ہے نیز جسمانی و فطری ، تاریخی و سماجی ،دنیاوی واخروی، فعلی و ارمانی، مادی و معنوی لحاظ سے بھی گفتگو کرتی ہے اور بعض موارد میں ایسی حقیقتوں کو منظر عام پر لاتی ہے جن کو انسان شناسی کے دوسرے انواع و اقسام کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے ، دینی تعلیمات میں منظور نظرا ہداف ہی انسان شناسی دینی کے مختلف گوشے ہیں جو انتخابی صورت میں انجام پاتے ہیں ۔لہٰذا ہر پہلو کے مسئلہ کو اسی مقدار میں پیش کیا جائے گا جس قدر وہ انسان کی حقیقی سعادت میں اثر انداز ہے ، جب کہ اس کی انتخابی عمومیت باقی رہے گی بلکہ انسان شناسی کے ہر ایک شعبہ مثلاً فلسفی ، تجربی ،شہودی کے لئے ایک خاص موضوع مورد نظر ہو گا اور انسان شناسی سے مربوط دوسرے موضوعات اس کے دائر ۂبحث سے خارج ہوںگے ۔


استوار اور محکم

دینی انسان شناسی ،تعلیمات وحی سے مستفادہے ،چونکہ یہ تعلیمات نا قابل خطا اور کاملاً صحیح ہیں لہٰذا اس قسم کی انسان شناسی استواری اور استحکام کا باعث ہو گی جو فلسفی ، عرفانی اور تجربی انسان شناسی میں قابل تصور نہیں ہے ، اگر دینی انسان شناسی میں دینی نظریات کا استفادہ اور انتساب ضروری ہوجائے تو ان نظریات کے استحکام اور بے خطا ہونے میں کوئی شک نہیں ہوگا ، لیکن انسان شناسی کے دوسرے اقسام؛ تجربی ، عقلی یا سیر و سلوک میں خطا اور غلطی کے احتمال کی نفی نہیں کی جا سکتی ہے۔

مبدا اور معاد کا تصور

غیر دینی انسان شناسی میں یا تو مبدا اور معاد سے بالکل عاری انسان کی تحقیق ہوتی ہے (جیسا کہ ہم تجربی انسان شناسی اور فلسفی و عرفانی انسان شناسی کے بعض گوشوں میں مشاہدہ کرتے ہیں) یا انسان کے معاد و مبدأ کے بارے میں بہت ہی عام اور کلی گفتگو ہوتی ہے جو زندگی اور راہ کمال کے طے کرنے کی کیفیت کو واضح نہیں کرتی ہے لیکن دینی انسان شناسی میں ، مبدا اور معاد کی بحث انسانی وجود کے دو بنیادی حصوں کے عنوان سے مورد توجہ قرار پائی ہے اوراس میں انسان کی اس دنیاوی زندگی کا مبدا اور معاد سے رابطہ کی تفصیلات و جزئیات کو بیان کیا گیا ہے اسی لئے بعثت انبیاء کی ضرورت پراسلامی مفکرین کی اہم ترین دلیل جن باتوں پر استوار ہے وہ یہ ہیں:دنیا اور آخرت کے رابطہ سے آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت اور سعادت انسانی کی راہ میں کون سی چیز موثر ہے اور کون سی چیز موثر نہیں ہے اس سے واقفیت اورعقل انسانی اور تجربہ کا ان کے درک سے قاصر ہوناہے۔(۱)

بنیادی فکر

دینی انسان شناسی کے دوسرے امتیازات یہ ہیں کہ آپس میں تمام افراد انسان کے مختلف سطح کے رابطہ سے غافل نہیں ہے اور تمام انسانوں کو کلی حیثیت سے مختلف سطح کے ہوتے ہوئے، ایک قالب اورایک تناظر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس تفکر میں انسان کا ماضی ، حال اور آئندہ ، جسم و روح ، مادی و

____________________

(۱)ملاحظہ ہو : محمد تقی مصباح ، راہ و راہنما شناسی ؛ ص ۴۳و ۴۴۔


معنوی اور فکری تمایل نیز ان کے آپسی روابط کے تاثرات ،شدید مورد توجہ قرار پاتے ہیں ۔ لیکن تجربی، فلسفی ،عرفانی انسان شناسی میں یا تو آپس میں ایسے وسیع روابط سے غفلت ہو جاتی ہے یااتنی وسعت سے توجہ نہیں کی جاتی ہے بلکہ صرف بعض آپسی جوانب کے روابط سے گفتگو ہوتی ہے ۔

خلاصہ فصل

۱۔ انسان کی شناخت اور اس کے ابعادوجودی، زمانہ قدیم سے لے کراب تک مفکرین کی مہم ترین تحقیقات کا موضوع رہے ہیں ۔

۲۔ہر وہ منظومہ معرفت جو کسی شخص ، گروہ یا انسان کے ابعاد وجودی کے بارے میں بحث کرے یا انسان کے سلسلہ میں کلی طور پربحث کرے اس کو انسان شناسی کہا جاتا ہے ۔

۳۔ انسان شناسی کی مختلف قسمیں ہیں ،جو تحقیقی روش یا زاویہ نگاہ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ۔

۴۔ اس کتاب میں مورد توجہ انسان شناسی ، انسان شناسی کلاں یا جامع ہے جو روائی اور دینی تعلیمات کی روشنی میں یا یوں کہا جائے کہ وحی اور تعبدی طریقہ سے حاصل ہوتی ہے ۔

۵۔ انسان شناسی ''کلاں نمائی'' مندرجہ ذیل اسباب کی وجہ سے مخصوص اہمیتکی حامل ہے :

الف)زندگی کو واضح کرتی ہے ۔ ب)اجتماعی نظام کو بیان کرتی ہے ۔

ج)علوم و تحقیقات کی طرفداری میں موثر ہے ۔ د)دین کے بنیادی اصول اور اس کے اجتماعی احکام کی توضیح سے مربوط ہے ۔

۶۔ دور حاضر میں انسان شناسی کے نظریات میں عدم ہماہنگی کی وجہ سے جامع اور مفید دلیل و حاکم کے فقدان ، انسان کے ماضی و آئندہ سے چشم پوشی اور اس کے مہم ترین حوادث کی وضاحت سے عاجزاور شدید بحران سے روبرو ہے ۔

۷۔ دینی انسان شناسی ''ہمہ گیر ''ہونے کی وجہ سے جامعیت ، نا قابل خطا، مبدا و معاد پہ توجہ اور دوسرے انسان شناسی کے مقابلہ میں عمدہ کردار کی وجہ سے برتری رکھتی ہے۔


تمرین

اس فصل سے مربوط اپنی معلومات کو مندرجہ ذیل سوالات و جوابات کے ذریعہ آزمائیں اور اگر ان کے جوابات میں کوئی مشکل در پیش ہو تومطالب کا دوبارہ مطالعہ کریں ؟

۱۔ منددرجہ ذیل موارد میں سے کون انسان شناسی کل نمائی اور ہمہ گیر موضوعات کا جزء ہے اور کون انسان شناسی ،جزئی موضوعات کا جزء ہے ؟

''سعادت انسان ، خود فراموشی، حقوق بشر ، انسانی قابلیت ، انسانی ضرورتیں ، مغز کی بناوٹ ''

۲۔ ''خود شناسی ''سے مراد کیا ہے اور دینی انسان شناسی سے اس کا کیا رابطہ ہے ؟

۳۔ مندرجہ ذیل میں سے کون صحیح ہے ؟

(الف) تجربی علوم انسانی میں ایک مکتب، انسان محوری ہے ؟( ب) تجربی علوم انسانی اور دینی انسان شناسی، موضوع ، دائرہ عمل اورروش کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ ( ج) حقوق بشر کا یقین اور اعتقاد ، انسانوں کی مشترکہ فطرت سے وابستہ ہے ۔ (د) موت کے بعد کی دنیا پر یقین کا انسان شناسی کے مسائل سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔

۴۔ انسان کی صحیح اور جھوٹی ضرورتوں کی شناخت کا معیار کیا ہے ؟

۵۔ آپ کے تعلیمی موضوع کا وجود و اعتبار کس طرح انسان شناسی کے بعض مسائل کے حل سے مربوط ہے ؟

۶۔ انسانوں کا جانوروں سے امتیاز اوراختلاف ، فہم اور انتقال مطالب کے دائرے میں زبان اور آواز کے حوالے سے کیا ہے ؟

۷۔ آیا انسان محوری ، انسان کی تعظیم و قدر دانی ہے یا انسان کی تذلیل اور اس کے حقیقی قدر و منزلت سے گرانا ہے ؟


مزید مطالعہ کے لئے

۱.دور حاضر میں انسان شناسی کے بحران کے سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو:

۔ارتگا ای گاست ، خوسہ ؛ انسان و بحران ترجمہ احمد تدین ؛ تہران : انتشارات علمی و فرہنگی

۔عارف ، نصر محمد ( ۱۹۱۷ ) قضایا المنھجیة فی العلوم النسانیة.قاہرہ : المعھد العالمی للفکر السلامی

۔کیسیرر،ارنسٹ (۱۳۶۹) رسالہای در باب انسان در آمدی بر فلسفہ و فرہنگ ، ترجمہ بزرگ نادرزادہ تہران : پژوہشگاہ علوم انسانی

۔گلدنر ، الوین (۱۳۶۸) بحران جامعہ شناسی غرب ، ترجمہ فریدہ ممتاز ، تہران : شرکت سہامی انتشار

۔ گنون ، رنہ ،بحران دنیای متجدد ، ترجمہ ضیاء الدین دہشیری تہران : امیر کبیر

۔والر اشتاین ، ایمانویل (۱۳۷۷)سیاست و فرہنگ در نظام متحول جہانی ، ترجمہ پیروز ایزدی تہران : نشرنی

۔ واعظی ، احمد ، ''بحران انسان شناسی معاصر''مجلہ حوزہ و دانشگاہ ، شمارہ ۹، ص ۱۰۹.۹۴، قم دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، زمستان ۱۳۷۵.

۲ معارف دینی اور تفکر بشری کے سلسلہ میں انسان شناسی کا اثر چنانچہ اس سلسلہ میں مزید مطالعہ کے لئے ملاحظہ ہو:

۔ دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ در آمدی بہ جامعہ شناسی اسلامی : مبانی جامعہ شناسی ص ۴۵.۵۵۔

۔ محمد تقی مصباح (۱۳۷۶)معارف قرآن (خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان

شناسی )قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ص ۱۵۔ ۳۵۔

۔ پیش نیازھای مدیریت اسلامی ، موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ،قم : ۱۳۷۹۔

۔ واعظی ، احمد ( ۱۳۷۷) انسان در اسلام ، دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، تہران : سمت ، ص ۱۴۔۱۷۔

۳. انسان شناسی کی کتابوں کے بارے میں معلومات کے لئے ملاحظہ ہو:

۔مجلہ حوزہ و دانشگاہ ، شمارہ ۹ ،ص۱۶۶۔ ۱۲۸ ، قم : دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، زمستان ۱۳۷۵


۴۔بعض وہ کتابیں جس میں اسلامی نقطہ نظر سے انسان کے بارے میں بحث ہوئی ہے :

۔ ایزوٹسوٹوشی ہیکو ( ۱۳۶۸) خدا و انسان در قرآن ، ترجمہ احمد آرام ، تہران : دفتر نشر فرہنگ اسلامی

۔ بہشتی ، احمد (۱۳۶۴ ) انسان در قرآن ، کانون نشر طریق القدس ۔

۔ جعفری ، محمد تقی ( ۱۳۴۹ ) انسان در افق قرآن ، اصفہان : کانون علمی و تربیتی جہان اسلام.

۔ جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۷۲ ) انسان در اسلام ، تہران : رجاء ۔

۔حائری تہرانی ، مہدی ( ۱۳۷۳) شخصیت انسان از نظر قرآن و عترت .قم : بنیاد فرہنگی امام مہدی ۔

۔حسن زادہ آملی ، حسن ( ۱۳۶۹) انسان و قرآن ، تہران:الزہراء

۔حلبی ، علی اصغر ( ۱۳۷۱ ) انسان در اسلام و مکاتب غربی تہران : اساطیر

۔دولت آبادی ، علی رضا (۱۳۷۵)سایہ خدایان نظریہ بحران روان شناسی در مسئلہ

انسان ،فردوس : ( ۱۳۷۵)

۔قرائتی ، محسن ( بی تا ) جہان و انسان از دیدگاہ قرآن ، قم : موسسہ در راہ حق ۔

۔قطب ، محمد ( ۱۳۴۱) انسان بین مادیگری و اسلام ، تہران : سہامی انتشار ۔

۔محمد تقی مصباح (۱۳۷۶) معارف قرآن ( جہان شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی )

قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۔ مطہری ، مرتضی ( بی تا ) انسان در قرآن ، تہران : صدرا ۔

۔ نصری ، عبد اللہ ( ۱۳۶۸) مبانی انسان شناسی در قرآن ، تہران : جہاد دانشگاہی ۔

۔ واعظی ، احمد ( ۱۳۷۷) انسان از دیدگاہ اسلام ، قم : دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ۔


دوسری فصل :

ہیومنزم یا عقیدہ ٔانسان

اس فصل کے مطالعہ کے بعدآپ کی معلومات :

ا۔ انسان کے بارے میں مختلف نظریوں کو مختصراً بیان کریں ؟

۲۔ہیومنزم کے معانی و مراد کی وضاحت کریں ؟

۳۔ ہیومنزم کے چار اہداف و مراتب کی مختصراً وضاحت پیش کریں ؟

۴۔ہیومنزم کے نظریہ کی تنقیدو تحلیل کریں ؟


جیسا کہ اشارہ ہوچکاہے کہ انسان ، بشری تفکر کا ایک محور ہے جس کے بارے میں وجود اور اہمیت شناسی کے مختلف نظریات بیان ہوئے ہیں ، بعض مفکرین نے انسان کو دوسرے موجودات سے بالاتر اور بعض نے اسے حیوانات کے برابر اور کچھ نے اس کو حیوان سے کمتر و ناتواں اور ضعیف بیان کیا ہے ، معرفت کی اہمیت کے اعتبار سے بھی بعض نے اس کو اشرف المخلوقات ، بعض نے معتدل (نہ بہتر اور نہ خراب ) اور بعض نے انسان کو برا ، ذلیل اورپست کہا ہے، آئندہ مباحث میں ہم بعض مذکورہ بالا نظریوں کو اجمالاً بیان کریں گے اور اس سلسلہ میں دینی نظریات کو بھی پیش کریں گے ۔

ایک دوسرے زاویہ سے انسان کی حقیقی شخصیت اور اس کی قابلیت ولیاقت کے بارے میں دو کاملاً متفاوت بلکہ متضاد نظریات بیان کئے گئے ہیں، ایک نظریہ کے مطابق انسان کاملاً آزاد اور خود مختار مخلوق ہے جو اپنی حقیقی سعادت کی شناخت اور اس تک دست رسی میں خود کفا ہے ،اپنی تقدیر کو خود بناتا ہے ، خود مختار، بخشی ہوئی قدرت مطلقہ کا مالک اور ہر طرح کی بیرونی تکلیف سے (خواہش و ارادہ سے خارج ) مطلقاً آزاد ہے ۔

دوسرے نظریہ کے مطابق انسان کے لئے قدرتِ شناخت کا ہونا لازم ہے نیز واقعی سعادت کے حصول کے لئے الٰہی رہنمائی کا محتاج ہے وہ خدائی قدرت کی ہدایت اور اس کی تدبیر کے زیر اثر اپنی سعادت کے لئے تکالیف اور واجبات کا حامل ہے جو خدا کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعہ اس کے اختیار میں قرار دی جاتی ہے ۔


یہ دونوں نظریات ، پوری تاریخ بشر میں نسبی یا مطلق طور پر انسانوں پر حاکم رہے ہیں، لیکن اس حاکمیت کی تاریخی سیر کے متعلق تجزیہ و تحلیل ہمارے ہدف کے پیش نظر ضروری نہیں ہے اور اس کتاب کے دائرہ بحث سے خارج ہے ۔لہٰذا پہلے نظریہ کی حاکمیت کے سلسلہ کی آخری کڑی کی تحقیق کریں گے جو تقریباً ۱۴سو سال سے ہیومنزم(۱) یا انسان مداری کے عنوان سے مرسوم ہے ،اور ۶سو سالوں سے خصوصاً آخری صدیوں میں اکثر سیاسی ، فکری اور ادبی مکاتب اس بات سے متفق ہیں کہ ہیومنزم نے مغرب کو اپنے اس نظریہ سے کاملاً متاثر کیا ہے اور بعض مذاہب الٰہی کے پیروکاروں کو بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر جذب کرلیا ہے۔

ہیومنزم کا مفہوم و معنی

اگرچہ اس کلمہ کے تجزیہ و تحلیل اور اس کے معانی میں محققین نے بہت ساری بحثوں اور مختلف نظریوں کو بیان کیا ہے اور اپنے دعوے میں دلیلیں اور مثالیں بھی پیش کی ہیں ،لیکن اس کلمہ کی لغوی تحلیل و تفسیر اور اس کا ابتدائی استعمال ہمارے مقصد کے سلسلہ میں زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ لہٰذا اس لغوی تجزیہ و ترکیب کے حل و فصل کے بغیر اس مسئلہ کی حقیقت اور اس کے پہلوؤں کی تحقیق کی جائے گی، اس لئے ہم لغت اوراس کے تاریخی مباحث کے ذکرسے صرف نظر کرتے ہیں ، اور اس تحریک کے مفہوم و مطالب کی تاریخی و تحلیلی پہلو سے بحث کرتے ہیں جو آئندہ مباحث کے محور کو ترتیب دیتے ہیں ۔(۲)

____________________

(۱) Humanism

(۲)کلمہ ہیومنزم کے سلسلہ میں لغت بینی اور تاریخی معلومات کے لئے ۔ملاحظہ ہو

. احمد ، بابک ؛ معمای مدرنیتہ ، ص ۸۳،۹۱۔ .لالانڈ آنڈرہ، فرہنگ علمی و انتقادی فلسفہ کلمۂ Humanism کے ذیل میں

. Lewis W, spitz Encyclopedia of Religion

Abbagnano, Nicola Encyclopedia of Philosophy


''ہیومنزم '' ہر اس فلسفہ کو کہتے ہیں جو انسان کے لئے مخصوص اہمیت و منزلت کاقائل ہو اور اس کو ہر چیزکے لئے میزان قرار دیتا ہو، تاریخی لحاظ سے انسان محوری یاہیومنزم ایک ادبی ، سماجی ، فکری اور تعلیمی تحریک تھی، جو چند مراحل کے بعد سیاسی ، اجتماعی رنگ میں ڈھل گئی تھی ، اسی بنا پراس تحریک نے تقریباً سبھی فلسفی ، اخلاقی ، ہنری اور ادبی اور سیاسی مکاتب کو اپنے ماتحت کرلیا تھا یا یوں کہا جائے کہ یہ تمام مکاتب (دانستہ یا نادانستہ ) اس میں داخل ہو گئے تھے ، کمیونیزم(۱) سودپرستی(۲) مغربی روح پرستی(۳) شخص پرستی(۴) وجود پرستی(۵) آزاد پرستی(۶) حتی پیرایش گری(۷) لوتھرمارٹن(۸) (مسیحیت کی اصلاح کرنے والے ) کے اعتبار سے سبھی انسان محوری میں شریک ہیں اوران میں ہیومنزم کی روح پائی جاتی ہے۔(۹) یہ تحریک عام طور پر روم اور یونان قدیم سے وابسطہ تھی ۰ ) اور اکثر یہ تحریک غیر دینی اور اونچے طبقات نیز روشن فکر حلقہ کی حامی و طرفدار رہی ہے ،(۱۱) جو ۱۳ویں صدی کے اواخر میں جنوب اٹلی میں ظاہر ہوئی، اور پورے اٹلی میں پھیل گئی،اس کے بعد جرمن ، فرانس ، اسپین اور انگلیڈ میں پھیلتی چلی گئی اور مغرب میں اس کوایک نئے سماج کے روپ میں شمار کیا جانے لگا ۔عقیدہ ٔ انسان مداری، اس معنی میں بنیادی ترین ترقی(۱۲) کا پیش خیمہ ہے اور ترقی پسندمفکرین، انسان کو مرکز ومحور بنا کر عالم فطرت اور تاریخ کے زاویہ سے

____________________

(۱) communism

(۲) pragmatism

(۳) spiritualism

(۴) Personalism

(۵) existentialism

(۶) Liberalism

(۷) protestantism

(۸) Luther,Martin

(۹)لالاند ، آندرہ ،گذشتہ حوالہ۔ (۱۰)پٹراک ( Francesco Petratch ) اٹلی کا مفکر و شاعر ( ۱۳۰۴۔ ۱۳۷۴) سوال کرتا تھا '' تاریخ روم کی تحلیل و تفسیرکے علاوہ تاریخ کیا ہوسکتی ہے ؟ملاحظہ ہو: احمدی ، بابک ؛ معمای مدرنیتہ ؛ ص ۹۲و ۹۳. بیوراکہارٹ ( Burackhardt Jacob )(۱۸۱۸۔۱۸۹۷)کہتا تھا :'' آتن''ہی وہ تنہادنیا کی سند تاریخ ہے جس میں کوئی صفحہ رنج آور نہیں ہے ،ہگل کہتا تھا : یورپ کے مدہوش لوگوں میں یونان کا نام ، وطن دوستی تھا۔ڈیوس ٹونی؛ ہیومنزم ؛ ترجمہ عباس فجر ؛ ص ۱۷،۲۱،۲۳۔(۱۱)مفکرین کی حکومت سے مراد لائق لوگوں کا حاکم ہونا نہیں ہے بلکہ معاشرہ کے اونچے طبقات کی حکومت ہے ۔(۱۲) Renaissance


انسان کی تفسیر کرنا چاہتے ہیں ۔

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان محوری کا رابطہ روم اور قدیم یونان سے تھا اور انسان کو محور قرار دے کر گفتگو کرنے والوں کا خیال یہ تھاکہ انسان کی قابلیت ، لیاقت روم او ر قدیمیونان کے زمانہ میں قابل توجہ تھی ، چونکہ قرون وسطی میں چشم پوشی کی گئی تھی ، لہٰذا نئے ماحول میں اس کے احیاء کی کوشش کی جانی چاہیئے ،ان لوگوں کا یہ تصور تھا کہ احیاء تعلیم و تعلم کے اہتمام اور مندرجہ ذیل علوم جیسے ریاضی ، منطق ، شعر ، تاریخ ، اخلاق ، سیاست خصوصاً قدیمیونان اور روم کی بلاغت و فصاحت والے علوم کے رواج سے انسان کو کامیاب و کامران بنایا جاسکتا ہے جس سے وہ اپنی آزادی کا احساس کرے ، اسی بنا پر وہ حضرات جو مذکورہ علوم کی تعلیم دیتے تھے یا اس کے ترویج و تعلیم کے مقدمات فراہم کرتے تھے انہیں''ہیومنیسٹ '' کہا جاتا ہے ۔(۱)

____________________

(۱)ملاحظہ ہو:ڈیوس ٹونی : ہیومنزم: ص ۱۷۱؛ Abbagnano Nicola lbid


ہیومنزم کی پیدائش کے اسباب

ہیومنزم کی پیدائش کے اسباب و علل کے بارے میں بحث و تحقیق مزید وضاحت کی طالب ہے لیکن یہاں فقط دو اہم علتوں کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے ۔

ایک طرف تو بعض دینی خصوصیات اور کلیسا ئی نظام کی حاکمیت مثلاً مسیحیتکے احکام اور بنیادی عقائد کا کمزور ہونا ،فہم دین او راس کی آگاہی پر ایمان کے مقدم ہونے کی ضرورت ، مسیحیت کی بعض غلط تعلیمات جیسے انسان کو فطرتاً گنہگار سمجھنا ،بہشت کی خرید و فروش ، مسیحیت کاعلم و عقل کے خلاف ہونا ، علمی و عقلی معلومات پر کلیسا کی غیر قابل قبول تعلیمات کو تحمیل کرنا وغیرہ نے اس زمانے کے رائج و نافذ دینی نظام یعنی مسیحیتکی حاکمیت سے رو گردانی کے اسباب فراہم کئینیز روم او رقدیم یونان کو آئیڈیل قرار دیا کہ جس نے انسان اور اس کی عقل کو زیادہ اہمیت دی ہے ۔


اور دوسری طرف بہت سے ہیومنیسٹ حضرات نے جو صاحب قدرت مراکز سے مرتبط تھے اور دین کو اپنی خواہشات کے مقابلہ میں سر سخت مانع سمجھ رہے تھے گذشتہ گروہوں کی حکومت کے لئے راہ حل مہیا کرنے میں سیاسی تبدیلی اور تجدد پسندی کی(۱) عقلی تفسیراور اس کے منفی مشکلات کی توجیہ کرنے لگے،'' ڈیوس ٹونی''(۲) کے بقول وہ لوگ ؛سات چیزوں کے ماڈرن پہلوؤں کی توجیہ ، دین اور اس کی عظمت و اہمت پر حملہ اور کلیسائی نظام کو اپنا طریقۂ کار قراردینا(۳) اور عوام کی ذہنیت کو دین اور دینی علماء سے خراب کرنا نیزدین کی سیاست اور اجتماع سے جدائی کی ضرورت پر کمربستہ ہوگئے ۔ مذکورہ دوسبب سے اپنی حفاظت کی تلاش میں کلیسا،اجتماع اور سیاست کے میدان سے دین کے پیچھے ہٹ جانے کا ذریعہ بنا ،اس تحریک میں دین اور خدا کے سلسلہ میں نئی نئی تفسیریں جیسے خدا کوماننالیکن دین اور تعلیمات مسیحیت کا انکار کرنا، دین میں شکوک وبدعتیں(۴) نیز کسی بھی دین اور اس کی عظمت و اہمیت میں تسامح و تساہل(۵) ، دینی قداست اور اقدار کے حوالے سے(۶) مختلف طریقۂ عمل اور نئے انداز میں تعلیمات دینی کی توضیح و تفسیر شروع ہوگئی ۔

ہیومنزم کے اجزا ئے ترکیبی اور نتائج(۷)

ہیومنزم کی روح اورحقیقت ،جو ہیومنزم کے مختلف گروہوں کے درمیان عنصر مشترک کو تشکیل دیتی ہے اورہر چیز کے محور و مرکز کے لئے انسان کو معیار قرار دیتی ہے(۸) اگر اس گفتگو کی منطقی ترکیبات

____________________

(۱) Modernity

(۲) Davis,Toni

(۳)ملاحظہ ہو: ڈیوس ٹونی ، ہیومنزم ص ۱۷۱

(۴) Religious Ploralism

(۵) Tolerance

(۶) Protestantism

(۷)ماڈرن انسان کے متنوع ہونے اور ہر گروہ کے مخصوص نظریات کی بناپر ان میں سے بعض مذکورہ امور ہیومنزم کے ائتلاف میں سے ہے اوربعض دوسرے امور اس کے عملی نتائج و ضروریات میں سے ہیں ۔ قابل ذکر یہ ہے کہ نتائج سے ہماری مراد عملی و عینی نتائج و ضروریات سے اعم ہے ۔

(۸)لالانڈ ، آنڈرہ ،گذشتہ مطلب ، ڈیوس ٹونی ،گذشتہ مطلب ،ص۲۸۔


اور ضروریات کو مدنظر رکھا جائے توجو معلومات ہمیں انسان محوری سے ملی ہے ہمارے مطلب سے بہت ہی قریب ہے ،یہاںہم ان میں سے فقط چار کی تحقیق و بررسی کریں گے ۔

عقل پرستی(۱) اور تجربہ گرائی(۲)

ہیومنزم کی بنیادی ترکیبوں میں سے ایک عقل پرستی ، خود کفائی پر اعتقاد، انسانی فکر کااپنی شناخت میں آزاد ہونا ، وجود ، حقیقی سعادت اور اس کی راہ دریافت ہے ۔(۳) معرفت کی شناخت میں ہیومنیسٹ افراد کا یہ عقیدہ تھا کہ ایسی کوئی چیزنہیں ہے جو فکری توانائی سے کشف کے قابل نہ ہواسی وجہ سے ہر وہ موجود کہ جس کی شناخت کے دو پہلو تھے ، ماوراء طبیعت جیسے خدا ، معاد ، وحی اور اعجاز وغیرہ (جس طرح دینی تعلیمات میں ہے ) اس کو وہ لوگ غیرقابل اثبات سمجھتے تھے ۔ اور اہمیت شناخت میں بھی یہ سمجھتے تھے کہ حقوقی ضرورتوں کو انسان کی عقل ہی کے ذریعہ معین کرنا چاہیئے۔ ہیومنزم ایک ایسی تحریک تھی جو ایک طریقہ سے اس سنتی آئین کے مد مقابل تھی جو دین و وحی سے ماخوذ تھے اسی بنا پر پہ ہیومنزم ، دین کو اپنی راہ کا کانٹا سمجھتاہے ۔(۴) انسانی شان و منزلت کے نئے نئے انکشافات سے انسان نے اپنی ذات کو خدا پرست کے بجائے عقل پرست موجود کا عنوان دیا، علم پرستی یا علمی دیوانگی(۵) ایسی ہی فکر کا ماحصل ہے ۔ ہیومنیسٹ حضرات اٹھارہویں صدی میں ہیوم(۶) (۱۷۱۱۔ ۱۷۷۶) کی طرح معتقد تھے کہ کوئی ایسا اہم سوال کہ جس کا حل علوم انسانی میں نہ ہو(۷) وجود نہیںرکھتا ہے ۔ اومنیسٹ حضرات کی قرون وسطی سے دشمنی اور یونان قدیم سے گہرا رابطہ بھی اسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے ، وہ لوگ یونان قدیم کو تقویتِ عقل اور قرون وسطی کو جہل و خرافات کی حاکمیت کا دور سمجھتے تھے ۔

____________________

(۱) Scientism

(۳) Empiricism

(۲) Rationalism

(۴) Abbagnano

(۵) lbid

Hume, David (۶ )

(۷)ڈیوس ٹونی؛ ہیومنزم ؛ ص ۱۶۶۔


یہ عقل اور تجربہ پرستی کی عظیم وسعت ، دین و اخلاق کے اہم اطراف میں بھی شامل ہے ۔ ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ سبھی چیز منجملہ قواعد اخلاقی، بشر کی ایجاد ہے اور ہونا بھی چاہئے۔(۱) والٹرلپمن(۲) کتاب ''اخلاقیات پر ایک مقدمہ ''(۳) میں لکھتا ہے کہ ہم تجربہ میں اخلاقی معیار کے محتاج ہیں اس انداز میں زندگی بسر کرنا چاہیئے جو انسان کے لئے ضروری اور لازم ہے۔ ایسانہ ہو کہ اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ سے منطبق کریں بلکہ شرائط سعادت کے اعتبار سے انسان کے ارادہ کواچھی شناخت سے منطبق ہو نا چاہیئے۔(۴)

استقلال

ہیومنیسٹ حضرات معتقد ہیں کہ : انسان دنیا میں آزاد آیا ہے لہٰذا فقط ان چیزوںکے علاوہ جس کووہ خود اپنے لئے انتخاب کرے ہر قید و بند سے آزاد ہونا چاہئے ۔ لیکن قرون وسطی کی بنیادی فطرت نے انسان کو اسیر نیزدینی اور اخلاقی احکام کو اپنے مافوق سے دریافت شدہ عظیم چیزوں کے مجموعہ کے عنوان سے اس پر حاکم کردیا ہے،(۵) ہیومنزم ان چیزوں کو ''خدا کے احکامات اور بندوں کی پابندی '' کے عنوان سے غیر صحیح اور غیر قابل قبول سمجھتے ہیں ۔(۶) چونکہ اس وقت کا طریقہ کار اور نظام ہی یہ تھا کہ قبول کیا جائے اور ان کی تغییر اور تبدیلی کا امکان بھی نہ تھا ۔(۷) لہٰذا یہ چیز یں ان کی نظر میں انسان کی آزادی اور استقلال

____________________

(۱)لالانڈ ، آنڈرہ ؛ گذشتہ حوالہ۔

(۲) Walter lippmann

(۳) A Preface to morals

(۴)لالانڈ ، آنڈرہ ؛ گذشتہ حوالہ ۔

(۵) Abbagnano, Nicola, lbid

(۶)آربلاسٹر لکھتا ہے : ہیومنزم کے اعتبار سے انسان کی خواہش اور اس کے ارادے کی اصل اہمیت ہے ، بلکہ اس کے ارادے ہی ، اعتبارات کا سر چشمہ ہیںاور دینی اعتبارات جو عالم بالا میں معین ہوتے ہیں وہ انسان کے ارادے کی حد تک پہونچ کر ساقط ہو جاتے ہیں ،(آربلاسٹر، آنتھونی ؛ ظہور و سقوط لبرلیزم ؛ ص ۱۴۰)

(۷)لالاند ، آندرہ ؛ گذشتہ حوالہ۔


کے منافی تھیں ۔ وہ لوگ کہتے تھے کہ انسان کو اپنی آزادی کوطبیعت و سماج میں تجربہ کرنا چاہیئے اور خود اپنی سرنوشت پر حاکم ہونا چاہیئے ،یہ انسان ہے جو اپنے حقوق کو معین کرتا ہے نہ یہ کہ مافوق سے اس کے لئے احکام و تکالیف معین ہوں۔ اس نظریہ کے اعتبار سے انسان حق رکھتا ہے اس لئیاس پرکوئی تکلیف عائد نہیں ہوتی ۔ بعض ہیومنزم مثلاً'' میکس ہرمان ''(۱) جس نے شخص پرستی کو رواج دیا تھا اس نے افراط سے کام لیا وہ معتقد تھا کہ : لوگوں کو اجتماعی قوانین کا جو ایک طرح سے علمی قوانین کی طرح ہیںپابند نہیں بنانا چاہیئے،(۲) وہ لوگ معتقد تھے کہ فقط کلاسیکل ( ترقی پسند) ادبیات نے انسان کی شخصیت کو پوری طرح سے فکری اور اخلاقی آزادی میں پیش کیا ہے۔(۳) اس لئے کہ وہ ہر شخص کو اجازت دیتا ہے کہ جیسا بھی عقیدہ ونظریہ رکھنا چاہتا ہے رکھ سکتا ہے اوردستورات اخلاقی و حقوقی کوایک نسبی امر، قابل تغییر اور ناپایدار بتایا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ سیاسی ، اخلاقی اور حقوقی نظام کو انسان اور اس کی آزادی کے مطابق ہونا چاہئے ۔ وہ نہ صرف دینی احکام کو لازم الاجراء نہیں جانتے تھے بلکہ ہر طرح کا تسلط اور غیر ہیومنزم چیزیں منجملہ قرون وسطی کے بنیادی مراکز (کلیسا ، شہنشاہیت(۴) ، اور قبیلہ والی حکومتیں یا حکام و رعیت ) کو بالکل اسی نقطۂ نگاہ کی بناپر بے اہمیت وبے اعتبار جانتے تھے ۔(۵)

____________________

(۱) Herman,Max

(۲)ڈیوس ٹونی؛ گذشتہ حوالہ ، ص ۳۴۔

(۳)لالاند ، آندرہ ؛ گذشتہ حوالہ۔

(۴) imperial

(۵) Feudaism


تساہل و تسامح

۱۶و ۱۷ ویں صدی کی دینی جنگوں کے نتیجہ میں صلح و آشتی کے ساتھ باہم زندگی گزارنے کے امکان پر مختلف ادیان کے ماننے والوں کے درمیان گفتگو او رتساہل و تسامح(سستی و چشم پوشی ) کی تاکید ہوئی ہے، اور دینی تعلیمات کی وہ روش جو ہیومنزم کا احترام کرتی تھیں تساہل و تسامح کی روش سے بہت زیادہ متاثر ہوئیں ، اس نظریہ میں تسامح کا مطلب یہ تھا کہ مذاہب ایک دوسرے سے اپنے اختلافات کو محفوظ رکھتے ہوئے باہم صلح و آتشی سے زندگی گذار سکیں ، لیکن جدید انسان گرائی کے تساہل و تسامح سے اس فکر کا اندازہ ہوتاہے کہ انسان کے دینی اعتقادات اسی کی ذات کا سر چشمہ ہیں اور اس کے علاوہ کوئی خاص چیز نہیں ہے ۔ ان اعتقادات کے اندر ،بنیادی اور اساسی چیز وحدت ہے کہ جس میں عالمی صلح کا امکان موجود ہے، ہیومنیسٹ اس دنیا کے اعتبار سے خدا کی یوں تفسیر کرتا ہے کہ : مسیح کا خدا وہی فلسفی بشر کی عقل ہے جو مذہب کی شکل میں موجود ہے۔(۱) اس زاویہ نگاہ سے مذاہب میں تساہل یعنی ، مسالمت آمیز زندگی گزارنے کے علاوہ فلسفہ اور دین کے درمیان میں بھی تساہل موجود ہے ، جب کہ یہ گذشتہ ایام میں ایک دوسرے کے مخالف تھے ۔ یہ چیز قدیم یونان اور اس کی عقل گرائی کی طرف رجوع کی وجہ نہیں تھی ۔ یہ نظریہ جو ہر دین اور اہم نظام کی حقانیت اور سعادت کے انحصاری دعوے پر مبنی ہے کسی بھی اہم نظام اور معرفت کو حق، تسلیم نہیں کرتا اور ایک طرح سے معرفت اور اہمیت میں مخصوص نسبت کا پیروکار ہے اسی بنا پر ہر دین اور اہم نظام کی حکمرانی فقط کسی فرد یا جامعہ کے ارادہ اور خواہش پر مبنی ہے ۔

سکولریزم(۲)

اگرچہ ہیومنزم کے درمیان خدا اور دین پر اعتقاد رکھنے والے افراد بھی ہیںاور انسان مداری (انسان کی اصالت کا قائل ہونا)کو مومن اور ملحد میں تقسیم کرتے ہیں لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہیومنزم کو بے دین اور دشمن دین نہ سمجھیں تو کم از کم خدا کی معرفت نہ رکھنے والے اور منکر دین ضرور ہیں، اور ہیومنزم کی تاریخ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ خدا کی اصالت کے بجائے انسان کو اصل قرار دینا ہی باعث بناکہ ہیومنزم افراد قدم بہ قدم سکولریزم اورالحادنیزبے دینی کی طرف گامزن ہو جائیں۔ خدا اور دینی تعلیمات کی جدید تفسیر کہ جس کو ''لوٹر ''جیسے افراد نے بیان کیاہے کہ خدا کو ماننا نیزخدا او ردین آسمانی کی مداخلت سے انکار

____________________

(۱) ibid

(۲) Secularism


منجملہ مسیحی تعلیم سے انکار ، طبیعی دین ( مادّی دین ) اور طبیعی خدا گرائی کی طرف مائل ہونا جسے ''ولٹر''(۲) (۱۷۷۸۔۱۶۹۴ )اور ''ہگل ''(۳) (۱۸۳۱۔۱۷۷۰ )نے بھی بیان کیا ہے،اور '' ہیکسلی ''(۴) جیسے افراد کی طرف سے دین اور خدا کی جانب شکاکیت کی نسبت دینااور'' فیور بیچ ''(۵) (۱۸۳۳۔۱۷۷۵) ''مارکس ''(۶) ( ۱۸۸۳۔۱۸۱۸)نیز ملحد اور مادہ پرستوں نے دین اور خدا کا بالکل انکار کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ یہ ایسے مراحل ہیں جنہیں ہیومنزم طے کرچکا ہے ۔البتہ غور و فکر کی بات یہ ہے کہ ہگل جیسے افراد کے نزدیک اس خدا کا تصورجو ادیان ابراہیمی میں ہے بالکل الگ ہے ۔دین اور خدا کی وہ نئی تفسیرجو جدید تناظر میں بیان ہوئی ہیں وہ ان ادیان کی روح سے سازگار نہیں ہے اور ایک طرح سے اندرونی طورپردینی افکارو اہمیت کی منکر اورانہیںکھوکھلا کرنے والی ہیں۔ بہر حال ہیومنزم کی وہ قسم جو مومن ہے اس کے اعتبار سے بھی خدا اور دین نقطہ اساسی اور اصلی شمار نہیں ہوتے بلکہ یہ انسانوں کی خدمت کے لئے آلہ کے طور پر ہیں،یہ انسان ہے جو اصل اور مرکزیت رکھتا ہے ،ڈیوس ٹونی لکھتا ہے : یہ کلمہ (ہیومنزم ) انگلیڈ میں یکتا پرستی(۷) حتی خدا شناسی سے ناپسندیدگی کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور یہ قطعا مسیحیوں اور اشراقیوں کی موقعیت سے سازگار نہیں تھا، عام طورپر یہ کلمہ الہی تعلیمات سے ایک طرح کی آزادی کا متضمن تھا ۔ ت.ھ. ہیکسلی(۸) ڈاروینزم کا برجستہ مفکر اور چارلز بریڈلیف(۹) قومی سکولریزم کی انجمن کے مؤسس نے روح یعنی اصل ہیومنزم کی مدد کی اور اس کو فروغ بخشا تاکہ اس کے ذریعہ

____________________

(۱) Deism

(۲) Voltaire

(۳) Hegel,Friedrich

(۴) Huxley,Julian

(۵) Feuerbach, von Anseim

(۶) Mark, karl .(۷)یکتا پرستی یا توحید ( Unitarianism )سے مراد مسیحیت کی اصلاح کرنے والے فرقہ کی طرف سے بیان کئے گئے توحید کا عقیدہ ہے جو کاٹولیک کلیسا کی طرف سے عقیدہ ٔ تثلیث کے مقابلہ میں پیش کیا گیا ہے اوریہ ایک اعتبار سے مسیحیت کی نئی تفسیر تھی جوظاہراً مقدس متون کی عبارتوں سے ناسازگار اور مسیحی مفکرین کی نظر میں دین کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف تھی ۔ اورعام طور پر یہ کلمہ الٰہی تعلیمات سے آزادی کا متضمن تھا ۔

(۸) Thomas,Henry,Hexley

(۹)وہ پارلیمنٹ کا ممبر اور National Reformer نشریہ کا مدیر اعلیٰ تھا جس نے قسم کھانے کی جگہ انجیل کی تائید کے سلسلہ میں مجلس عوام سے ۶۰ سال تک مقدمہ لڑا۔


سرسخت مسیحیت کے آخری توہمات کو بھی ختم کردے ۔(۱) نیز وہ اس طرح کہتا ہے کہ : ''ا گسٹ کانٹ''(۲) کے مادی اور غیر مادی افکار کے اقسام سے عناد، عوام پسند ہیومنزم کے مفہوم کا یکتا پرستی یا الحاد اور سکولریزم میں تبدیلی کا باعث ہوا ہے جو آج بھی موجود ہے ۔ اور اس کی تحریک کو ۱۹ویں صدی میں تاسیس انجمنوں کے درمیان مشاہدہ کیا جاسکتا ہے(۳) مثال کے طور پر عقل گرا(اصالت عقل کے قائل )مطبوعاتی ، اخلاقی اور قومی سکولریزم کی انجمنیں۔''ڈیوس ٹونی''اپنی کتاب کے دوسرے حصہ میں مسیحی ہیومنزم مومنین کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : مسیحیت اور ہیومنزم کا پیوند اختلافات سے چشم پوشی کرکے انجام پایا جس کی وجہ سے مسیحی ہیومنزم کی ناپایدار ترکیب میں فردی ہیومنزم کے نقش قدم موجود تھے ۔ یعنی خداوند متعال جوہر چیز پر قادر ہے اور کالون کی ہر چیز سے باخبرہے اور فردی ارادہ کی آزادی کے درمیان تناقض،ایسے تناقض ہیں جو ''فیلیپ سیڈنی(۴) ، اڈموند اسپنسر(۵) کریسٹو فرمارلو(۶) ، جان ڈان(۷) اور جان ملٹن''(۸) جیسے اصلاح گرہیومنیسٹ کی عبارتوں میں جگہ جگہ ملتاہے ۔(۹) محمد نقیب العطاس بھی لکھتا ہے : ''نظشے '' کا نعرہ ''کہ خدا مرگیا ہے '' جس کی گونج آج بھی مغربی دنیا میں سنی جاسکتی ہے اور آج مسیحیت کی موت کا نوحہ خصوصاً پروٹسٹوں یعنی اصلاح پسندوں کی طرف سے کہ جنہوں نے ظاہراً اس سر نوشت کو قبول کرتے ہوئے مزید آمادگی سے زمانے کے ساتھ ساتھ طریقۂ مسیحیت کی تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ اس کاعقیدہ ہے کہ اصلاح پسندوںنے ہیومنزم کے مقابلہ میں عقب نشینی کے ذریعہ مسیحیت کودرونی طور پر بدل دیا ہے۔ ۰ ) ''ارنسٹ کیسیرر ''دور حاضر میں اصلاحات (رسانس) پر جاری تفکر کی توصیف میں جو

____________________

(۱)ڈیوس ٹونی ، ہیومنزم ؛ ص ۳۷۔(۲) August,conte

(۳)گذشتہ حوالہ ، ص ۴۱۔(۴) Philip,sidney

(۵) Edmund, spenser

(۶) Chirs topher Marlowe

(۸) John,Don

(۹) John,Milton

(۱۰)العطاس ، محمد نقیب ، اسلام و دینوی گری ، ترجمہ احمد آرام ؛ ص ۳ و ۴۔


ہیومنزم سے لیا گیا ہے اور اس سے ممزوج و مخلوط ہے لکھتا ہے :ایسا لگتا ہے کہ تنہا وسیلہ جو انسان کو تعبداور پیش داوری سے آزاد اور اس کے لئے حقیقی سعادت کی راہ ہموار کرتا ہے وہ پوری طرح سے مذہبی اعتقاد اور اقدار سے دست بردار ہونا اور اس کو باطل قرار دینا ہے ، یعنی ہر وہ تاریخی صورت کہ جس سے وہ وابستہ ہے اور ہر وہ ستون کہ جس پر اس نے تکیہ کیا ہے اس کی حاکمیت کی تاریخ اور عملی کارکردگی کے حوالے سے اس کے درمیان بہت گہرا فاصلہ ہے کہ جس کو ہیومنزم کے نظریہ پر اساسی و بنیادی تنقید تصور کیا جاتا ہے اور دور حاضر میں اصلاحات کی عام روش ، دین میں شکوک اور تنقید کا آشکار انداز ہے ۔(۱)

ہیومنزم کے نظریہ پر تنقید و تحقیق

فکرو عمل میں تناقض

فکرو عمل میں تناقض یعنی ایک فکری تحریک کے عنوان سے ہیومنزم کے درمیان اورانسانی معاشرہ پر عملی ہیومنزم میں تناقض نے انسان کی قدر و منزلت کو بلند و بالا کرنے کے بجائے اس کو ایک نئے خطرے سے دوچارکردیا اور انسان پرستی کے مدعی حضرات نے اس کلمہ کو اپنے منافع کی تامین کے لئے غلط استعمال کیاہے۔ شروع ہی میں جب حق زندگی ، آزادی و خوشی اور آسودگی کے تحت ہیومنزم میں انسانی حقوق کے عنوان سے گفتگو ہوتی تھی تو ایک صدی بعد تک امریکہ میں کالوں کو غلام بنانا قانونی سمجھا جاتاتھا ۔(۲) اور معاشرہ میں انسانوں کی ایک کثیر تعداد ماڈرن انسان پرستی کے نام سے قربان ہوتی تھی۔(۳) ''نازیزم''(۴) ''فاشیزم''(۵) اسٹالینزم(۶) امپریالیزم(۷) کی تحریکیں،ہیومنزم کی ہم فکراور ہم خیال تھیں(۸) اسی بنا پر بعض مفکرین نے ضد بشریت ، انسان مخالف تحریک

____________________

(۱)کیسیرر ، ارنسٹ؛ فلسفہ روشنگری؛ ترجمہ ید اللہ موقن ، ص ۲۱۰۔

(۲)احمد ، بابک ؛ معمای مدرنیتہ ؛ ص ۱۱۱۔ ڈیوس ٹونی؛ گذشتہ حوالہ ص ۳۶۔

(۳)گذشتہ حوالہ ،ص ۲۰(۸)ڈیوس ٹونی،وہی مدرک ،ص ۹،۵۴،۶۴،۸۴۔

(۴) Nazism

(۵) Fascism

(۶) Stalinism

(۷) Imperialism


دھوکا دینے والی باتیں ، ذات پات کی برتری کی آواز جیسی تعبیروں کو نازیزم اور فاشیزم کی ایجاد جانا ہے اور ان کو انسان مخالف طبیعت کو پرورش دینے نیز مراکز قدرت کی توجیہ کرنے والا بتایا ہے ۔(۱) اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی جرم ایسا ہو جو انسانیت کے نام سے انجام نہ پایا ہو ۔(۲)

ہیومنزم کے ناگوار نتائج اور پیغامات ایسے تھے کہ بعض مفکرین نے اس کو انسان کے لئے ایک طرح کا زندان و گرفتاری سمجھا اور اس سے نجات پانے کے لئے لائحہ عمل بھی مرتب کیا ہے ۔(۳)

فکری حمایت کا فقدان

ہیومنزم کے دعوے کا اور ان کے اصول کا بے دلیل ہونا، ہیومنزم کا دوسرا نقطہ ضعف ہے ۔ ہیومنیسٹ ا س سے پہلے کہ دلیلوں و براہین سے جس کا دعویٰ کر رہے تھے نتیجہ حاصل کرتے، کلیسا کی سربراہی کے مقابلہ میں ایک طرح کے احساسات و عواطف میں گرفتار ہوگئے ،چونکہ فطرت پرستی سے بے حد مانوس تھے لہٰذا روم و قدیم یونان کے فریفتہ و گرویدہ ہوگئے ۔ ''ٹامس جفرسن''(۴) نے امریکا کی آزادی کی تقریر میں کہاہے کہ :ہم اس حقیقت کو بدیہی مانتے ہیں کہ تمام انسان مساوی خلق ہوئے ہیں ۔(۵)

''ڈیوس ٹونی '' لکھتا ہے کہ : عقلی دور(ترقی پسند زمانہ) کا مذاق اڑانے والی اور نفوذ والی کتاب جس نے محترم معاشرہ کو حتی حقوق بشر کی کتاب سے زیادہ ناراض کیا ہے، وہ مقدس کتاب ہے جو عالم آخرت کے حوادث اور سرزنش سے بھری ہوئی ہے،اس کا طریقہ اور سیاق و سباق تمام مسخروں اور مذاق اڑانے والوں کا مسخرا کرناہے ۔ بعض اومانٹسٹ حضرات نے بھی ہیومنزم کی حاکمیت کی توجیہ کی اوراسے اپنے منافع کی تامین کا موقع و محل سمجھا ۔

____________________

(۱)ملاحظہ ہو گذشتہ حوالہ ص ۲۷۔۳۶، ۴۵۔۴۶،۵۴۔۶۲،۶۴،۸۴۔۹۴،۱۴۷۔۱۷۸ واحدی ، بابک گذشتہ حوالہ ص ۹۱۔۹۳، ۱۱۰،۱۲۲.

(۲)احمدی ، بابک ، گذشتہ حوالہ ص ۱۱۲۔

(۳)ڈیوس ٹونی ، گذشتہ حوالہ ،۱۷۸۔

(۴) Thomas, Jeferson

(۵) گذشتہ حوالہ ، ص ۱۱۰۔


ہیومنیسٹ کی طرف سے بیان کئے گئے کلی مفاہیم کے بارے میں ''ڈیوس ٹونی ''یہ جانتے ہوئے کہ اس کو منافع کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے لکھتا ہے کہ : اس میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیشہ خود سے سوال کرے کہ : اس عظیم دنیا میں بلند مفاہیم کے پشت پردہ کون سا شخصی اور محلی فائدہ پوشیدہ ہے؟(۱) مجموعی طور پر ہیومنیسٹ، انسان کی قدر و منزلت اور فکری اصلاح کے لئے کوئی پروگرام یا لائحہ عمل طے نہیں کرتے تھے بلکہ گذشتہ معاشرہ کی سرداری کے لئے بہت ہی آسان راہ حل پیش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ...''لیونارڈو برونی ''(۲) نے لکھا تھا کہ : تاریخی تحقیق ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہے کہ کیسے اپنے بادشاہوں اور حاکموں کے حکم اور عمل کا احترام کریں اور بادشاہوں ، حاکموں کو اس بات کی تلقین کرتی ہے کہ کیسے اجتماعی مسائل کا لحاظ کریں تاکہ اپنی قدرت کو اچھی طرح سے حفظ کرسکیں،(۳) غرض کہ ہر وہ چیز جو قرون وسطی کی نفی کرے یہ لوگ اس کا استقبال کرتے تھے اور اس کی تاکید بھی کرتے تھے ۔ کلیسا کی حاکمیت ،خدا و دین کا نظریہ انسان کا فطرةً گناہگار اور بد بخت ہونا ، معنوی ریاضت نیز جسمانی لذتوں سے چشم پوشی اور صاحبان عقل و خرد سے بے اعتنائی یہ ایسے امور تھے جو قرون وسطی میں معاشرہ پر سایہ فکن تھے ۔ اورہیومنیسٹوں نے کلیسا کی قدرت و حاکمیت سے مقابلہ کرنے کے لئے ، خدا محوری اور اعتقادات دینی کو پیش کیااور انسان کی خوش بختی ،جسمانی لذتوںاور صاحبان خرد کو اہمیت دینے نیز حقوق اللہ اور اخلاقی شرط و شروط سے انسان کو آزاد کرنے کے لئے آستین ہمت بلند کی ۔(۴) وہ لوگ علی الاعلان کہتے تھے کہ : قرون وسطی کے زمانے میں کلیسا نے جو حقوق واقدار انسان سے سلب کر لئے تھے، ہم اس کو ضرور پلٹائیں گے ۔(۵)

____________________

(۱)ڈیوس ٹونی؛ گذشتہ حوالہ ص،۳۶۔(۲) Abagnano,Nicola,ibid (۳) احمد، بابک ، گذشتہ حوالہ؛ ص، ۹۱ و ۹۳ (۴)ویل ڈورانٹ لکھتا ہے کہ ہیومنیسٹوں نے دھیرے دھیرے اٹلی کی عوام کو خوبصورتی سے شہوت کے معنی سمجھائے جس کی وجہ سے ایک سالم انسانی بدن کی کھلی ہوئی تہذیب (خواہ مرد ہو یا عورت خصوصاً برہنہ ) پڑھے لکھے طبقوں میں رائج ہوگی ۔ویل ڈورانٹ ، تاریخ تمدن ، ج ۵ص ۹۷۔۹۸. جان ہرمان بھی لکھتا ہے کہ : قرن وسطی کے اواخر میں بھی بہت سی گندی نظموں کا سلسلہ رائج ہوگیا تھا جو زندگی کی خوشیوں سے بطور کامل استفادہ کی تشویق کرتی تھی ۔ رنڈل جان ہرمان ، سیر تکامل عقل نوین ، ص ۱۲۰۔

Leonardo Bruni(۵)


بہرحال انسان محوری ( اصالت انسان ) کے عقیدے نے ہر چیز کے لئے انسان کو میزان و مرکز بنایا اورہر طرح کی بدی اور مطلق حقائق کی نفی، نیز فطرت سے بالاتر موجودات کا انکار منجملہ خدا اور موت کے بعد کی دنیا (آخرت)کے شدت سے منکر تھے۔آخر وہ کس دلیل کی بنا پر اتنا بڑا دعویٰ پیش کرتے ہیں ؟ان کے پاس نہ ہی معرفتِ وجوداور نہ ہی انسانوں کی کاملا آزادی واختیار(۱) پر کوئی دلیل ہے اور نہ ہی خدا کے انکار اور اس کے قوانین اور وحی سے بے نیازی پر کوئی دلیل ہے اور نہ ہی شناخت کی اہمیت کے سلسلہ میں کوئی پروف ہے ۔ اور نہ ہی بشر کے افکار و خیالات ، آرزوؤں ، خواہشوں نیزحقوقی و اخلاقی اہمیتوںپر کوئی ٹھوس ثبوت ہے اور نہ ہی فلسفی اور عقلی مسائل کو بعض انسان پرست فلاسفہ کی نفسیاتی تحلیلوں سے ثابت کیا جا سکتاہے ۔ بلکہ عقلی اور نقلی دلیلیں نیز شواہد و تجربات اس کے خلاف دلالت کرتے ہیں، اگرچہ انسان اسلامی تعلیمات اورادیان ابراہیمی کی نگاہ میں مخصوص منزلت کا حامل ہے اور عالم خلقت اور کم از کم اس مادی دنیا کو انسان کامل کے توسط سے انسانوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے اوروہ اس کی تابع ہے ۔ لیکن جیسا کہ متعدد دلیلوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ انسان کا سارا وجود خدا سے وابستہ اور اس کے تکوینی اور تشریعی تدبیر کے ماتحت ہے اور اسی کا محتاج ہے اور اس کی مدد کے بغیر تکوینی اور تشریعی حیثیت سے انسان کی سعادت غیر ممکن ہے ۔

____________________

(۱)انسان محوری کا نظریہ رکھنے والوں میں سے بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان بہت زیادہ اختیارات کا حامل ہے ان کا کہنا ہے کہ انسان جس طریقہ سے چاہے زندگی گذار سکتا ہے ۔ ژان پل ، سارٹر کہتا ہے کہ : اگر ایک مفلوج انسان دوڑمیں ممتاز نہ ہوسکتا ہو تو یہ خود اس کی غلطی ہے ، اسی طرح وہ لوگ اعمال کے انجام دینے(عامل خارجی کو بغیر مد نظر رکھتے ہوئے خواہ حقوقی ، سنتی ، اجتماعی ، سیاسی ، غیر فطری افعال) میں انسان کی ترقی سمجھتے ہیں ۔


فطرت اور مادہ پرستی

قریب بہ اتفاق اکثرہیومنزم کے ماننے والوں نے فطرت پسندی کو انسان سے مخصوص کیا ہے

او ر اس کو ایک فطری موجود اور حیوانات کے ہم پلہ بتایا ہے۔ حیوانوں ( چاہے انسان ہو یا انسان کے علاوہ ) کے درجات کو فقط فرضی مانتے ہیں ۔(۱) انسان کے سلسلہ میں اس طرح کے فکری نتائج اور ایک طرف فائدہ کا تصور، مادی لذتوں کا حقیقی ہونا اور دنیائے مغرب کی تباہی اور دوسری طرف سے ہر طرح کی اخلاقی قدرو منزلت ، معنوی حقوق ، معنوی کمالات اور ابدی سعادت کی نفی کی ہے ۔

ہم آئندہ مباحث میں ثابت کریں گے کہ نہ تو انسان حیوانوں کے برابر ہے اور نہ ہی مادی اور فطری اعتبار سے منحصر ہے اور نہ ہی اس کی دنیا صرف اسی مادی دنیا سے مخصوص ہے ،انسان ایک جہت سے غیر مادی پہلو رکھتا ہے اور دوسری جہت سے انسان موت سے نابودنہیں ہوتااور اس کی زندگی مادی زندگی میں محدود نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا آخری کمال خدا سے قریب ہونااور خدا جیسا ہونا ہے جس کی کا مل تجلی گاہ عالم آخرت ہے جیسا کہ وجود شناسی کے مباحث میں ثابت ہو چکا ہے،خدا صرف ایک فرضی موجود اور انسان کی آرزو، خیالات اور فکری محصول نہیں ہے بلکہ اس کا ایک حقیقی و واقعی وجود ہے نیز وہ تمام وجود کا مرکز اور قدر و منزلت کی خواہشوں کی آماجگاہ ہے سارے عالم کا وجود اس سے صادر ہوا ہے اور اسی سے وابستہ ہے اور اس کی تکوینی و تشریعی حکمت و تدبیر کے ما تحت ہے ۔

ہیومنزم اور دینی تفکر

عقل و خرد ، خدائی عطیہ ہے اور روایات کی روشنی میں باطنی حجت ہے جو خداکی ظاہری حجت یعنی انبیاء کے ہمراہ ہے، لہٰذا ہیومنزم کی مخالفت کو، عقل و صاحبان خرد کی مخالفت نہیں سمجھنا چاہیئے،وہ چیزیں جو ہیومنزم کی تنقید کے سلسلہ میں بیان ہوتی ہیں وہ عقل کو اہمیت دینے میں افراط، خدا اور عقل کوبرابر سمجھنا یا عقل کو خدا پر برتری دینا اور عقل پرستی کو خدا پرستی کی جگہ قرار دینا ہے ۔ دین کی نگاہ میں عقل انسان کو خدا کی طرف ہدایت کرتی ہے اور اس کی معرفت و عبادت کی راہ ہموار

____________________

(۱)فولادوند، عزت اللہ ؛ ''سیر انسان شناسی در فلسفہ غرب از یونان تاکنون '' نگاہ حوزہ ؛ شمارہ ۵۳و ۵۴،ص ۱۰۴۔۱۱۱.


کرتی ہے ،امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ''العَقلُ مَا عُبدَ بِه الرَّحمٰن و اکتسِبَ بِه الجنَان ''(۱) عقل وہ ہے جس کے ذریعہ خدا کی عبادت ہوتی ہے اور بہشت حاصل کی جاتی ہے اور ابن عباس سے بھی نقل ہوا ہے کہ فرمایا :''رَبّنَا یعرفُ بالعقلِ و یُتوسل لَیه بالعَقلِ ''(۲) ہمارا خدا عقل کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اور عقل ہی کے ذریعہ اس سے رابطہ برقرار ہوتا ہے۔

عقل کا صحیح استعمال ،انسان کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ یوں ہی آزاد نہیں ہے بلکہ اللہ کی ربوبیت کے زیر سایہ ہے ۔نیز اخلاقی اقدار اور حقوقی اہمیت کے اصول ،عقل اور الٰہی فطرت کی مدد سے حاصل ہوسکتے ہیں ۔ لیکن عقل کی رہنمائی اورتوانائی کی یہ مقدار جیسا کہ وہ لوگ خود بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ نہ ہی ہیومنزم کی فرد پرستی کا مستلزم ہے اور نہ ہی انسان کی حقیقی سعادت کے حصول کے لئے کافی ہے، وہ چیزیںجو عقل ہمارے اختیار میں قرار دیتی ہے وہ کلی اصول اور انسان کی ضرورتوں کی مبہم تأمین اور افراد کے حقوق اور عدالت کی رعایت نیز انسان کی بلند و بالا قدر و منزلت ، آزادی اور آمادگی اور اس کی قابلیت کی سیرابی ہے ۔ لیکن حقیقی سعادت کے لئے بیان کئے گئے میزان و حدود اور اس کے مصادیق و موارد کا پہچاننا ضروری ہے ۔ وہ چیزیں جو عقل بشر کی دسترس سے دور ہیں وہ ہیومنزم نظریے خصوصاً ہیومنزم تجربی ( اومانیز کی ایک قسم ہے ) کے حامی اس سلسلہ میں یقینی معرفت کے عدم حصول کی وجہ سے مختلف ادیان و مکاتب کے ہر فرضی نظریہ کو پیش کرتے ہیں اور معرفت وسماجی پلورالیزم کے نظریہ کو قبول کرتے ہیں ۔(۳) تاریخی اعتبار سے اس طرح کے فلسفہ اور نظریات ،نوع بشر کو آزادی اور سعادت کی دعوت دینے کے بجائے خوفناک حوادث و مصائب کی سوغات پیش کرتے ہیں ۔(۴) اور ان نتائج کو فقط ایک امر اتفاقی اور اچانک وجود میں آنے والا حادثہ نہیں سمجھنا چاہیئے،

____________________

(۱)مجلسی ، محمد باقر ؛ بحار الانوار ج۱، ص ۱۱۶و ۱۷۰۔

(۲)گذشتہ مدرک ص ۹۳

(۴)ملاحظہ ہو؛ معمای مدرنیتہ ؛ فصل ہفتم۔

(۳)مومٹنگ کہتا ہے کہ : ''ہم کو تجربہ کے ذریعہ حقیقت تک پہونچنا چاہیئے ، لیکن دنیا حتی انسان کے بارے میں یقین حاصل کرنا مشکل ہے اور یہ تمام چیزیں منجملہ اخلاقی اصول خود انسان کے بنائے ہوئے ہیں۔ہمیں تمام آداب و رسوم کا احترام کرنا چاہیئے اور پلورالیزم معاشرہ کو قبول کرنا چاہیئے ''( فولادوند ، عزت اللہ ؛ گذشتہ مدرک )


اگر انسان کو خود اسی کی ذات پر چھوڑ دیا جائے اس طرح سے کہ وہ کسی دوسری جگہ سے رہنمائی اور زندگی ساز ضروری پیغام دریافت نہ کرے توقوت عاطفہ ، غضبیہ اور شہویہ جو فطری طور سے فعال رہتی ہیں اور ہمیشہ تکامل کی طرف گامزن ہیں ساتھ ہی ساتھ اس کی خواہش بھی اس پر حاکم ہوجائے گی اور اس کی عقل سلیم نہ فقط ان امور کے ماتحت ہوجائے گی بلکہ ناپسندیدہ اعمال کی انجام دہی کے لئے عقلی بہانے تراشتی پھرے گی ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ :( إنّ الاِنسَان لیَطغیٰ أن رَاهُ استَغنَی ) (۱) یقینا انسان سر کشی کرتا ہے اس لئے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے ۔

بے قید وشرط آزادی

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ ہیومنزم کے ماننے والے معتقد تھے کہ: انسانی اقدار،حمایت اور طرفداری کے لئے بس فلسفی قوانین ہیں، دینی عقاید و اصول اورانتزاعی دلیلیںانسانی اقدار اور اس کی اہمیت کو پیش کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں ۔(۲) انسان کو چاہیئے کہ خود اپنی آزادی کو طبیعت (مادہ) اور معاشرہ میں تجربہ کرے ایک نئی دنیا بنانے اور اس میں خاطر خواہ تبدیلی اور بہتری لانے کی صلاحیت انسان کے اندر پوری پوری موجود ہے۔(۳) ایسی بکھری ہوئی اور بے نظم آزادی جیسا کہ عملاً ظاہر ہے بجائے اس کے کہ انسان کی ترقی کی راہیں اور اس کی حقیقی ضرورتوں کو تامین کریں انسان پر ستم اور اس کی حقیقی قدر و منزلت اور حقوق سے چشم پوشی کا ذریعہ ہو گئی اورمکتب فاشیزم و نازیزم کے وجود کا سبب بنی۔ ''ہارڈی ''کتاب ''بازگشت بہ وحی'' کا مصنف اس کے نتیجہ کو ایک ایسے سانحہ سے تعبیر کرتا ہے کہ جس کا ہدف غیرمتحقق ہے۔ اس سلسلہ میں لکھتا ہے کہ :بے وقفہ کمال کی جانب ترقی اور پھر اچانک اس راہ میں شکست کی طرف متوجہ ہونا ۱۹ ویں صدی میں یہی وہ موقعہ ہے جس کو''سانحہ'' سے

____________________

(۱)سورۂ علق ۶و ۷.

(۲) Encyclopedia Britanica. (۳)Abbagnona, Nicola,ibid


تعبیر کیا گیا ہے جو ماڈرن ( ترقی پسند) ہونے کی حیثیت سے مشخص ہے ۔(۱)

حقیقی اور فطری تمایل کی وجہ سے وجود میں آئی ہوئی انسان کی خود پسندی میں تھوڑا سا غور و خوض ہمیں اس نتیجہ تک پہونچاتا ہے کہ اگر انسان کی اخلاقی اور حقوقی آزادی دینی تعلیمات کی روشنی میں مہار نہ ہو، توانسان کی عقل ، ہوس پرستی اور بے لگام حیوانی خواہشات کے زیر اثرآکرہر جرم کو انجام دی سکتی ہے۔(۲) قرآن مجید اوراسلامی روایات بھی اس نکتہ کی طرف تاکید کرتے ہیں کہ وحی سے دور رہ کرانسان خود اور دوسروں کی تباہی کے اسباب فراہم کرتا ہے ۔ نیز خود کو اور دوسروں کو سعادت ابدی سے محروم کرنے کے علاوہ اپنی دنیاوی زندگی کو بھی تباہ و برباد کرتا ہے(۳) یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کو (ان شرائط کے علاوہ جب وہ خود کو خدائی تربیت و تعلیم کے تحت قرار دیتا ہے ) خسارت والا اور شقی سے تعبیر کرتاہے( إنَّ النسَانَ لَفِی خُسرٍ لاّ الَّذِینَ آمنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالحَاتِ وَ تَوَاصَوا بِالحقِّ وَ تَواصَوا بِالصَّبرِ ) (۴) یقینا انسان خسارے میں ہے مگر وہ افراد جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح انجام دیا اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی وصیت کرتے ہیں '' اور دوسری طرف ہیومنزم کی بے حد و حصر آزادی کہ جس میں فریضہ اور عمومی مصالح کی رعایت اور ذمہ داری کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے، اس نظریہ میں ہر انسان کے حقوق ( واجبات کے علاوہ ) کے بارے میں بحث ہوتی ہے کہ انسان کو چاہیئے کہ اپنے حق کو بجالائے نہ کہ اپنی تکلیف اور ذمہ داری کو، اس لئے کہ اگر کوئی تکلیف اور ذمہ داری ہے بھی تو حق کے سلسلہ ادائگی میں اسے آزادی ہے ۔(۵)

____________________

(۱)ڈیوس ٹونی ؛ گذشتہ حوالہ، ص ۴۴و ۴۵۔ (۲)ڈیوس ٹونی کہتا ہے : ایسا لگتا ہے کہ جفرسون اور اس کے مددگار ۱۷۷۶کے بیانیہ میں مندرج عمومی آزادی کو اپنے غلاموں یا ہمسایوں میں بھی رواج دیتے تھے ۔ (۳)اس سلسلہ میں قرآن کے نظریہ کی وضاحت آئندہ مباحث میں ذکر ہوگی (۴) سورۂ عصر ۲و ۳۔ (۵)ہم یہاں اس مسئلہ کو ذکر کرنا نہیں چاہتے کہ انسان کا مکلف ہونا بہت ہی معقول اور فائدہ مند شی ہے یا اسی طرح حق بین اور حق پسند ہونا بھی معقول ہے .لیکن ہم مختصراً بیان کریں گے کہ اجتماعی تکالیف اور دوسروں کے حقوق کے درمیان ملازمت پائے جانے کی وجہ سے الہی اور دینی تکالیف مورد قبول ہونے کے علاوہ اسے مستحکم عقلی حمایت حاصل ہے دنیاوی فائدہ اور افراد معاشرہ کے حقوق کی تامین کے اعتبار سے ہیومنزم حق پرستی پر برتری رکھتا ہے ۔اس لئے کہ اس معتبر نظام میں جب کہ ہر فرد اپنا حق چاہتا ہے اس کے باوجود اگر کوئی دوسروں کے حقوق کی رعایت کے مقابلہ میں احساس مسئولیت کرتا ہے تووہ خود کو خداوند منان کی بارگاہ میں جواب گو سمجھتا ہے ۔


اجتماعی صورت میں ہیومنزم کے ماننے والوں کی آزادی یعنی جمہوریت نیز حقوقی، اجتماعی قوانین کے حوالے سے نسبی آزادی کے قائل ہیںجو دینی نظریہ سے مناسبت نہیں رکھتے ۔

ہمارے دینی نظریہ کے مطابق سبھی موجودات کا وجود خدا کی وجہ سے ہے اور تمام انسان مساوی خلق ہوئے ہیںنیز ہر ایک قوانین الہی کے مقابلہ میں ذمہ دار ہے اور حاکمیت کا حق صرف خدا کوہے ۔ پیغمبر، ائمہ اور ان کے نائبین ،ایسے افراد ہیں جن کو ایسی حاکمیت کی اجازت دی گئی ہے ۔ حقوقی اور اخلاقی امورجو اللہ کی طرف سے آئے ہیںاور معین ہوئے ہیں ثابت اور غیر متغیر ہیں۔دین کی نگاہ میں اگرچہ افراد کے حقوق معین و مشخص ہیں جس کو عقل اور انسانی فطرت کلی اعتبار سے درک کرتی ہے لیکن حد و حصر کی تعیین اور ان حقوق کے موارد اور مصادیق کی تشخیص خدا کی طرف سے ہے اور تمام افراد، الہٰی تکلیف کے عنوان سے ان کی رعایت کے پابند ہیں، ہیومنزم کی نظر میں انسانوں کی آزادی کے معنی اعتقادات دینی کو پس پشت ڈالنا اور اس کے احکام سے چشم پوشی کرنا ہے لیکن اسلام اورادیان آسمانی میں انسانوں کے ضروری حقوق کے علاوہ بعض مقدسات اور اعتقادات کے لئے بھی کچھ خاص حقوق ہیں جن کی رعایت لازم ہے مثال کے طور پر انسان محوری کا عقیدہ رکھنے والے کے اعتبار سے جس نے بھی اسلام قبول کیا ہے اسلام کو چھوڑکر کافرو مشرک ہونے یا کسی دوسرے مذہب کے انتخاب کرنے میں بغیر کسی شرط کے وہ آزاد ہے۔ لیکن اسلام کی رو سے وہ مرتد ہے (اپنے خاص شرائط کے ساتھ ) جس کی سزا قتل یا پھانسی ہے جیسا کہ پیغمبر اور معصومین علیھم السلام کو ناسزا (سب ) کہنے کی سزا پھانسی ہے لیکن ہیومنزم کی نگاہ میں ایسی سزا قابل قبول نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک پیغمبر و ائمہ معصومین اور دیگر افراد کے درمیان کوئی تفاوت نہیں ہے ۔


تسامح و تساہل

جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ انسان محوری کا عقیدہ رکھنے والے مطلقا تساہل و تسامح کی حمایت و طرف داری کرتے ہیں اور اس کو قرون وسطی کے رائج تہذیب سے مبارزہ کی نشانی اور قدیم یونان و روم کی طرف بازگشت نیز آزادی اور انسانی قدرو منزلت کا تقاضاجانتے ہیں۔ انہوں نے تمام کامیابیوں کو انسانی کارنامہ اور فکر بشر کا نتیجہ سمجھا ہے ، شناخت کے حوالے سے ، شکاکیت و نسبیت کے نظریہ سے وابستہ ہیں۔ وہ لوگ اعتبارات ، ضروریات اور افکار کے ایک خاص مجموعہ کی تائید نیز حاکمیت اور اس سے دفاع کو ایک غیر معقول بات تصور کرتے ہیں ۔

یہ نظریہ مذاہب آسمانی کی تعلیمات خصوصاً اسلام سے مختلف جہتوںمیں نہ صرف یہ کہ سازگار نہیں ہے بلکہ متضاد بھی ہے،ایک طرف تسامح و تساہل کے اصول (انسان اور اعتبارات و معرفتکے درمیان رابطہ ) دینی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے اور دینی تفکرمیں خداوند عالم کی ذات نقطۂ کمال ہے نہ کہ انسان کی ذات اور یہ اہمیت و منزلت یقینی معرفت کی حمایت سے مزین ہے اور دوسری طرف اسلام ہر دین کے ( حتی ادیان غیر الٰہی ) اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ تساہل و تسامح کو قبول نہیں کرتا بلکہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں صلح و آشتی کو ناقابل تسلیم جانتاہے ۔(۱) خاص طور سے دوسرے الٰہی ادیان کے ماننے والوں کے سلسلہ میں اسلام، نرمی کا برتاؤ بھی معقول اندازہی میں کرتا ہے ،اور اسلامی معاشرہ میں نیزمسلمانوں کے درمیان دوسرے مذاہب کی تبلیغ قابل قبول نہیں ہے، ان لوگوں کو حکومت اسلامی کے قوانین کے خلاف کسی عمل کے انجام دینے اور علنی طور پر محرمات اسلام کے مرتکب ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ ان قوانین کے حصار میں اسلام نہ فقط دوسرے ادیان کے ماننے والوں سے نرمی کے برتاؤ کی تاکید کرتا ہے بلکہ ان سے نیکی کی وصیت کرتا ہے اور قید و بند اور ظلم سے انسانوں کو رہائی دلانے کے لئے اپنی تلاش جاری رکھتاہے اور ان لوگوں کی فریاد رسی کرتا ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں انصاف چاہتے ہیں نیز یہ مسلمانوں کی علامتوں اور وظائف میں سے ہے کہ وہ مظلوموں کی فریاد رسی کریں۔

____________________

(۱)البتہ وہ فکر و اندیشہ جو ایک درونی اور غیر اختیاری فعل ہے ہماری بحث سے خارج ہے ، اور کسی ایمان و فکر سے وابستہ ہونا اور اس کا نشر کرنا یا بعض تفکرات کے لئے اختیار کا زمینہ فراہم کرنا یا اس کو باقی رکھنا یہ ہے کہ وہ امر اختیاری ہو۔


خلاصہ فصل

۱۔ انسان کی واقعی شخصیت اور اس کی قابلیت اور توانائی کے سلسلہ میں دو کاملاً متفاوت نظریے موجود ہیں : ایک نظریہ انسان کو پوری طرح سے مستقل ، مختار او ر ہر طرح کی ذمہ داری سے عاری موجود جانتا ہے اور دوسرا نظریہ اس کو خدا سے وابستہ نیز خدا کی طرف اس کے محتاج ہونے کا قائل ہے اور پیغمبروں کی مدد سے خدا کی مخصوص ہدایت سے برخوردار اور خدوند عالم کے قوانین کے انجام دینے کا اس کو ذمہ دار مانتا ہے ۔

۲۔ انسان محوری کا عقیدہ رکھنے والوں (نظریہ اول کے ماننے والوں) نے انسان کو ہر چیز کا معیار قرار دے کر کلیسا کی تعلیمات اور مسیحیت کے قدیمی دین کو خرافات تصور کیا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق فکری نمونہ تلاش کرنے کے لئے روم و قدیم یونان کے افکار کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔

۳۔ انسان محوری کا نظریہ رکھنے والے افرادقدیم یونان سے استفادہ کرتے ہوئے مسیحیت کی نفی کرنے لگے اور ''دین اور خدا کی نئی تفسیر ، دین اور تعلیمات مسیحیت کی نفی ، خدا کااقرار اور ہر خاص دین کی نفی ، دین میں شکوک اور آخر کار دین اور خداسے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے''۔

۴۔ انسان محوری اور انسان مداری جو شروع میں ایک ادبی ، فلسفی تحریک تھی آہستہ آہستہ فکری ، سماجی تحریک میں تبدیل ہوگئی جو سبھی علمی ، ہنری ، فلسفی ، اخلاقی حتی دینی نظام اور قوانین پر حاوی ہوگئی اور کمیونیزم ، پریگماٹیزم ، لبرلیزم اورپروٹسٹنٹ(اصلاح پسند مسیحیت )کو وجود میں لانے کا سبب بن گئی ۔ اسی بنا پر آج انسان مدار حضرات، ملحد انسان مداراور موحد انسان مدار میں تقسیم ہوچکے ہیں ۔

۵۔ ہیومنزم کے بنیادی خمیرکاعقل گرائی کی حد سے زیادہ تجربات پر اعتماد کرنا، نیز آزادی خواہی کے مسئلہ میں افراط سے کام لینا،تساہل و تسامح اور سکولریزم جیسے اجزاء تشکیل دیتے ہیں ۔

۶۔ ہیومنزم کے بنیادی اجزاء ،افراطی پہلوؤں کی وجہ سے میدان عمل میں ، فاشیزم اور نازیزم کے نظریات سے جا ملے ، جس کی وجہ سے یہ موضوع ، بشر دوستی اور مطلقا خواہشات انسانی کی اہمیت اور اس کی اصالت کے قائل ہونے نیز عقل کے خطا پذیر ہونے کا یہ طبیعی نتیجہ ہے ۔

۷۔ انسان کو خدا کی جگہ تسلیم کرنا ،مضبوط فکری تکیہ گاہ کا نہ ہونا ، حد سے زیادہ تجربہ اور انسانی عقل کو اہمیت دینا اور شناخت کی قدر و منزلت اور شناخت کی معرفت میں نسبیت کا قائل ہونا یہ ایسے سست ستون ہیں جن سے ہیومنزم دوچار ہے ۔


تمرین

اس فصل سے مربوط اپنی معلومات کو مندرجہ ذیل سوالات و جوابات کے ذریعہ آزمائیں:

۱۔ہیومنزم اور شخص پرستی کے درمیان نسبت کو بیان کریں ؟

۲۔ اسلام کی نظرمیں ایمان ، اعمال اور اعتبارات میں تساہل و تسامح کا کیا مقام ہے ؟ مثال کے ذریعہ واضح کریں ؟

۳۔ ''آتیتکم بالشریعة السهلة السّمحَة ''سے مراد کیا ہے اور سہولت اور سماحت کے درمیان کیا فرق ہے ؟

۴۔ ان آیات میں سے دو آیت جو خود ہمارے اور دوسرے الٰہی ادیان کے ماننے والوں سے مسلمانوں کے نرم برتاؤ کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں بیان کریں ؟

۵۔ حقیقی راہ سعادت کے حصول میں انسانی عقل کی ناتوانی پر ایک دلیل پیش کریں؟

۶۔ آزادی اوراستقلال ، تساہل ، بے توجہی اور نرمی کا برتاؤ ، مغربی عقل پرستی ، ہیومنزم اور دینی اصول میں عقل پر بھروسہ کرنے کے درمیان تفاوت کو بیان کریں ؟


مزید مطالعہ کے لئے :

۔احمدی ، بابک ( ۱۳۷۷) معمای مدرنیتہ ، تہران : نشر مرکز ۔

۔احمدی ، بابک ؛ مدرنتیہ و اندیشہ انتقادی ، تہران : نشر مرکز۔

۔بلیسٹر ، آر ( بی تا ) ظہور و سقوط لیبرالیزم ؛ ترجمہ عباس مخبر ، تہران : نشر مرکز ( بی تا)

۔بیوراکہارٹ ، جیکب ، ( ۱۳۷۶) فرہنگ رنسانس در ایتالیا، ترجمہ محمد حسن لطفی ، تہران ، انتشارات طرح نو

۔ڈیوس ٹونی ( ۱۳۷۸) لیبرالیزم ترجمہ عباس مخبر ، تہران : چاپ مرکز

۔رجبی ، فاطمہ ( ۱۳۷۵) لیبرالیزم ، تہران : کتاب صبح ۔

۔رنڈال ، جان ہرمن ( ۱۳۷۶) سیر تکامل عقل نوین ، ترجمہ ابو القاسم پایندہ ، تہران ، انتشارات علمی و فرہنگی ، ایران ۔

۔سلیمان پناہ ، سید محمد ؛ ''دین و علوم تجربی ، کدامین وحدت ؟''مجلہ حوزہ و دانشگاہ شمارہ ۱۹، ص ۱۱، ۵۲.

۔صانع پور ، مریم ( ۱۳۷۸) نقدی بر مبانی معرفت شناسی ہیومنیسٹی تہران : اندیشہ معاصر.

۔فولادوند ، عزت اللہ ؛ ''سیر انسان شناسی در فلسفہ غرب از یونان تاکنون '' مجلہ نگاہ حوزہ ، شمارہ ۵۳و ۵۴۔

۔ کیسیرر ، ارنسٹ(۱۳۷۰) فلسفہ روشنگری ؛ ترجمہ ید اللہ موقن ، تہران : نیلوفر ۔

۔لبرلیزم سے مربوط کتابیں ، روشنگری ( رنسانس ) و پسامدرنیزم ، ہیومنزم کی ترکیبات و انسان مداران کی تالیفات ۔

۔گیڈنز ، انتھونی (۱۳۷۷) فرہنگ علمی انتقادی فلسفہ ترجمہ غلام رضا وثیق ، تہران : فردوسی ایران ۔

۔نوذری ، حسین علی ( ۱۳۷۹) صورتبندی مدرنیتہ و پست مدرنیتہ ، تہران ، چاپخانہ علمی و فرہنگی ایران ۔

۔نہاد نمایندگی رہبری در دانشگاہھا ، بولتن اندیشہ شمارہ ۲ و ۳۔

۔واعظی ، احمد ( ۱۳۷۷) ''لیبرالیزم ''مجلہ معرفت ، شمارہ ۲۵ ص ۲۵۔۳۰، قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۔ویل ڈورانٹ ( ۱۳۷۱) تاریخ تمدن ، ترجمہ صفدر تقی زادہ و ابو طالب صارمی ، جلد پنجم ، تہران ، انتشارات و آموزشی انقلاب اسلامی ، ایران ۔


ملحقات

ہیومنزم کے سلسلہ میں دانشمندوں کے مختلف نظریات، اس کے عناصر اوراجزاء میں اختلاف کی بناپر ہے جو ہیومنزم کے نتائج اور موضوعات کے درمیان موجود ہیں اور اس کے ماننے والوں کے نظریات میں نسبتاً زیادہ تنوع کی وجہ ان کی نظری،اجتماعی اورسماجی وضعیت نیز ہیومنزم کے سلسلہ میں دانشمندوں کی طرف سے متفاوت نظریات پیش ہوئے ہیں ۔

ایک طرف تو ایسے دانشمند ہیں جو اس نظریہ کو ایک ضد انسانی تحریک سمجھتے ہیں جو بشر کے لئے سوائے خسارے کے کوئی پیغام نہیں دیتی اور اس کے بارے میں ان کی تعبیرات یوں ہیں ''دھوکہ دینے والا مفہوم ، قوم کی برتری اور غیر قابل توجیہ فرد کی حکمرانی کی آواز ، سبعیت کی توجیہ اور تخفیف نیز ماڈرن دور کی آشکار انداز میں نابرابری ، شخصی آزادی خواہی اور فردی منافع کا متحقق ہونا ، نازیزم و فاشیزم کی بے ہودہ پیداواراور ان کا وجود ، محیط زیست کو ویران کرنے والی ضد انسانی عادتوں اور فطری قوتوں پر حملہ آور قوتوں کو پرورش دینا جو آخری کارانسان کی ویرانی پر ختم ہوتا ہے، خوفناک اور ویران کرنے والی قوت جو آرام و سکون کا برتاؤ نہیں کرتی ہیں ، خیالی اور جھوٹے دعوے ، امپریالیزم کے ہم رتبہ و ہم مرتبہ، اسٹالینزم کی ایک دوسری تعبیر اور مسیحیت کے بعد کے احوال کے لئے ایک خطرناک چیز ، آخری قرن میں ایک بناوٹی مفہوم جو ایک عظیم دستور کے عنوان سے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دینے کے لائق ہے ،معاشرے کے بلند طبقے نیز قدرت و اقتدار کے مرکز کی تاویل و توجیہ ، شاہانہ فکر جو ایک خاص طبقہ کے منافع کی تاکید کرتی ہے اور جس کو اپنی آغوش میں لے کر اس کا گلا گھونٹ دیتی ہے، ہر جرم کا نتیجہ ،متناقض معانی اورمختلف پیغامات سے پر ، ایسے سانحہ کا پیش خیمہ جس کا ہدف متحقق ہونے والا نہیں ہے ۔(۱)

____________________

(۱)ملاحظہ ہو: ڈیوس ٹونی؛ گذشتہ حوالہ ، ص ۲۷،۳۶،۴۵،۴۶،۵۴،۶۲،۶۴،۸۴،۹۴،۱۴۷،۱۷۸.احمدی ، بابک گذشتہ حوالہ، ص ۹۱، ۹۳، ۱۱۰، ۱۲۲۔


دوسری طرف ہیومنزم کا دفاع کرنے والے ہیں جن کی کوشش انسان اور اس کی صلاحیت کو کمال بخشنا ہے ، نیزفکری اور اخلاقی آزادی کو تامین کرنا ،انسان کی زندگی کو عقلانی بنانا، انسان کی آزادی اور شرافت کی حمایت کرنا اور اس کی ترقی کی راہ ہموار کرنا اور کاملاً مبارزہ کرنے والا اور جہل و خرافات کے مقابلہ میں کامیاب ہونے والابتایا ہے ۔(۱)

اگرچہ ہیومنزم کے بعض منفی پہلوؤں کو انسان مداری کا دعویٰ کرنے والوں کی غلط برداشت سمجھنا چاہیئے '' لیکن یہ تحریک جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ کم از کم اس طرح کی ناپسندیدہ حوادث کے واقع ہونے کے لئے ایک مناسب ذریعہ تھی اور اس کا دعویٰ کرنے والوں کی کثیر تعداد اور ان کی بعض تاریخ ،منفی پہلو سے آمیختہ تھی ۔

عوامی عقل کو محور قرار دینا اورایسے دینی و اخلاقی اقدار کی مخالفت جو معاشرے کے افراد کو معنوی انحرافات ، دوسروں کے حقوق پر تجاوز اور فساد پر کنٹرول کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ، جس کا نتیجہ ماڈرن اسباب و امکانات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ غیر شایستہ افراد کے وجود میں آنے کی راہ ہموار کرنا اور ناگوار حوادث کے جنم لینے کا سبب نیز ان حوادث کی عقلی توجیہ بھی کرناہے ۔

ہیومنزم کے نظریات میں اختلافات اور ہیومنزم کی تعریف میں مشکلات کا سبب اس کے ماننے والوں کے مختلف نظریات ہیں ،بعض افراد مدعی ہوئے ہیں کہ ان مختلف نظریات کے درمیان کوئی معقول وجہ ِاشتراک نہیں ہے اور ان نظریات کو ہیومنزم کے کسی ایک نمونہ یا سلسلہ سے نسبت نہیں دی جاسکتی ہے اسی بناء پر ہیومنزم کی تعریف کے مسئلہ کو ایک سخت مشکل سے روبرو ہونا پڑا اور وہ لوگ معتقد ہیں کہ ہمارے پاس ایک ہیومنزم نہیں ہے بلکہ وہ لوگ ہیومنزم کے مختلف انواع کو مندرجہ ذیلعناوین سے یاد کرتے ہیں :

____________________

(۱)ملاحظہ ہو: ڈیوس ٹونی ؛ گذشتہ حوالہ ، ص ۹۔


۱۵ویں صدی میں اٹلی کے مختلف شہری ریاستوں کا مدنی و معاشرتی ہیومنزم،۱۶ویں صدی میں یورپ کے پروٹسٹل فرقہ کا ہیومنزم، ماڈرن آزاد و روشن خیال انقلاب کا فردی ہیومنزم ، یورپ کے سرمایہ دار طبقے کارومینٹک ہیومنزم،انقلابی ہیومنزم جس نے یورپ کو ہلاکر رکھ دیا،لیبرل ہیومنزم جو انقلابی ہیومنزم کو رام کرنے کے درپے تھا، نازیوں کاہیومنزم ، نازیوں کے مخالفین کا ہیومنزم ، ہیڈگر ، انسان مخالف ہیومنزم ، فوکواور آلٹوسر کی انسان گرائی کے خلاف ہیومنزم وغیرہ ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان مختلف ہیومنزم کے مشترکات کو ایک نظریہ میں سمویا جا سکتا ہے کہ جس میں ہر ایک ،ہیومنزم کے مختلف درجات کے حامل ہیں اور ہم نے اس تحقیق میں ہیومنزم کے مشترکات اور ان کے مختلف نتائج اور آثار کو مورد توجہ قرار دیا ہے ۔


تیسری فصل :

خود فراموشی

اس فصل کے مطالعہ کے بعد آپ کی معلومات :

۱۔بے توجہی کے مفہوم کی اختصار کے ساتھ وضاحت کریں ؟

۲۔بے توجہی کے مسئلہ میں قرآن کریم کے نظریات کو بیان کریں ؟

۳۔بے توجہ انسان کی خصوصیات اور بے توجہی کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے کم از کم

پانچ موارد کی طرف اشارہ کریں ؟

۴۔فردی اور اجتماعی بے توجہی کے سد باب کے لئے دین اور اس کی تعلیمات کے کردار کو

بیان کریں ؟

۵۔بے توجہی کے علاج میں عملی طریقوں کی وضاحت کریں ؟


دوسری فصل میں ہم نے بیان کیاہے کہ چودہویں صدی عیسوی کے دوسرے حصہ میں اٹلی اور اس کے بعدیورپ کے دوسرے ملکوں میں ادبی ، ہنری ، فلسفی اور سیاسی تحریک وجود میں آئی جو انسان کی قدر و منزلت کی مدعی تھی جب کہ قرون وسطی میں انسان جیسا چاہیئے تھا مورد توجہ قرار نہیں پاسکا اور اس دور میں بھی انسان ایک طرح سے بے توجہی کا شکار ہوا ہے ،ان لوگوں نے اس دور کے (نظام کلیسائی)موجودہ دینی نظام سے دوری اور روم وقدیم یونان کے صاحبان عقل کی طرف بازگشت کو ان حالات کے لئے راہ نجات مانا ہے اور اس طرح ہیومنزم ہر چیز کے لئے انسان کو معیار و محور قرار دینے کی وجہ سے ایک کلی فکر کے عنوان سے مشہور ہوا ہے۔

گذشتہ فصل میں ہیومنزم کی پیدائش ،اس کی ترکیبات و ضروریات،مقدار انطباق اور اس کی دینی اور اسلامی تعلیمات سے سازگاری کی کیفیت کے سلسلہ میں گفتگو کی تھی اور اس فصل میں ہمارا ارادہ ہیومنزم کی بنیادی چیزوں میں سے ایک یعنی بے توجہی کے مسئلہ کو بیان کرناہے جو بعد کی صدیوں میں بہت زیادہ مورد توجہ رہا ہے یہ ایسا مسئلہ ہے جس کو ہیومنسٹوں نے نا درست تصور کیا ہے اور بعض نے اس مسئلہ کو اس دور کے ہیومنزم کی غلط تحریک کی ایجاد بتایا ہے ۔


مفہوم بے توجہی

ہماری دنیا کی ملموسات و محسوسات میں سے فقط انسان ہی کا وجود وہ ہے جو اپنی حقیقی شخصیت کو بدل سکتا ہے،چاہے توخود کو بلندی بخشے یا خود کو ذلت اور پستی میں تبدیل کر دے اس طرح فقط انسان کی ذات ہے جواپنی حقیقی شخصیت کو علم حضوری کے ذریعہ درک کرتا ہے یا اپنے سے غافل ہو کر خود کو فراموش کر دیتاہے اوراپنی حقیقی شخصیت یعنی اپنے ضمیر کو بیچ کر بیگانگی کا شکار ہوجاتا ہے ۔(۱)

انسان شناسی کے مہم ترین مسائل میں سے ایک انسان کا خود سے بے توجہ ہوجانا ہے جو علوم انسانی کے مختلف موضوعات میں بھی مورد توجہ رہا ہے، یہ مفہوم جویورپ کی زبانوں میں Alienation سے یاد کیا جاتا ہے جامعہ شناسی ، نفسیات ، فلسفی اعتبارات (اخلاقی اور حقوقی ) حتی ماہرین نفسیات کے مفہوم سے سمجھا جاتا ہے اورزیادہ تر علوم انسانی کے مختلف شعبوں میں اسی کے حوالے سے گفتگو ہوئی ہے ۔ کبھی اس مفہوم کا دائرہ اتنا وسیع ہوجاتا ہے کہ'' ڈورکھیم''کہتا ہے: انسان کی بے نظمی Anomic معرفت نفس اور اس کے مثل، شخصیت کے دونوں پہلوؤں کو شامل ہوتی ہے اور کبھی اس نکتہ کی تاکید ہوتی ہے کہ بے توجہی کے مفہوم کو ان مفاہیم سے ملانا نہیںچاہیئے ۔(۲)

یہ لفظ Alienation(۳) ایک عرصہ تک کبھی مثبت پہلو کے لئے اور زیادہ تر منفی اور مخالف پہلو

____________________

(۱)خود فراموشی کا مسئلہ انسان کی ثابت اور مشترک حقیقت کی فرع ہے اور جو لوگ بالکل انسانی فطرت کے منکرہیں وہ اپنے نظریہ اور مکتب فکرکے دائرے میں خود فراموشی کے مسئلہ کو منطقی انداز میں پیش نہیں کر سکتے ہیں ۔

(۲)اس کلمہ کے مختلف و متعدد استعمالات اور اس میں عقیدہ کثرت کی روشنی میں بعض مدعی ہیں کہ یہ مفہوم فاقد المعنی یامہمل ہوگیا ہے ۔

(۳)یہ کلمہ اور اس کے مشتقات انگریزی زبان میں مبادلہ ، جدائی ، دوری ،عقل کا فقدان ، ہزیان بکنا ،جن زدہ ہونا، خراب کرنا ،پراکندہ کرنا اور گمراہ کرنے کے معنی میں ہے اور فارسی میں اس کلمہ کے مقابلہ میں بہت سے مترادف کلمات قرار دیئے گئے ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں :

خود فراموشی ، ناچاہنا ،بے رغبتی ، خود سے بے توجہی ، بے توجہی کا درد ،خود سے غافل ہونا، سست ہونا،جن زدہ ہونا ، بیگانہ ہونا ، بیگانوں میں گرفتار ہونا ، دوسروں کو اپنی جگہ قرار دینا ، دوسروں کو اپنا سمجھنا اور خود کو غیر سمجھنا وغیرہ ؛ اس مقالہ میں رائج مترادف کلمہ ''خودکو بھول جانا '' انتخاب کیا گیاہے ، اگرچہ ہم ''دوسرے کو اپنا سمجھنا'' والے معنی ہی کو مقصود کے ادائگی میں دقیق سمجھتے ہیں ۔


کے مفہوم سے وابستہ تھا۔(۱) کلمۂ حقیقی(۲) '' ہگل'''' فیور بیچ'' اور'' ہس ''(۳) کے ماننے والوں کی وجہ سے ایک سکولریزم مفہوم سمجھا گیاہے ۔ وہ چیزیںجو آج سماجی اور علمی محافل میں مشہور ہے اور یہاںپر جو مد نظر ہے وہ اس کا منفی پہلو ہے ،اس پہلو میں انسان کی ایک حقیقی اور واقعی شخصیت مد نظر ہوتی ہے کہ جس کے مخالف راہ میں حرکت اس کی حقیقی ذات سے فراموشی کا سبب بن جاتی ہے اور اس حقیقی شخصیت سے غفلت انسان کو پرائی قوتوں کے زیر اثر قرار دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے سے ماسواء کو اپنا سمجھتاہے اور اس کی اپنی ساری تلاش اپنے غیر کے لئے ہوتی ہے ۔خود سے بے توجہی ، مختلف گوشوں سے دانشمندوں کی توجہ کا مرکز ہوگئی ہے ۔ جس میں اختیار یا جبر ، فطری یا غیر فطری ، مختلف شکلیں ، ایجاد کرنے والے عناصر اور اس کے نتائج کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے ۔ اس کے تمام گوشوں ، نظریات نیزاس کے دلائل کی تحقیق و تنقید کواس کتاب میں ذکر کرناممکن نہیں ہے اور نہ ہی ضروری ، لہٰذا ان موارد میں ایک سرسری اشارہ کرنے پر ہی اکتفاء کریں گے ۔

''خود فراموشی '' کے مسائل کو بنیادی طور پرادیان آسمانی کی تعلیمات میں تلاش کرنا چاہیئے ۔ اس لئے کہ یہ ادیان آسمانی ہی ہیں کہ جنھوں نے ہر مکتبہ فکر سے پہلے اس مسئلہ کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے نیز اس کے خطرے سے آگاہ کیا ہے اور اس کی علامتوں کو بیان کرتے ہوئے اس کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کی عملی حکمت پیش کی ہے ۔اس کے باوجود انسانی و اجتماعی علوم کے مباحث میں فنی علمی طریقہ سے ''خود فراموشی ''کے مفہوم کی وضاحت اور تشریح کو ۱۸ویں اور ۱۹ویں صدی عیسوی کے بعض

____________________

(۱)غنوصیوں نے میلاد مسیح سے پہلے قرن اول میں اور میلاد مسیح کے بعد قرن دوم میں نیز'' وون کاسٹل ''( ۱۔ ۱۱۳۷ .۱۰۸۸،م)نے اس کو نفس انسان کی گمراہی سے رہائی ، نیرنگی اور دوبارہ تولد کے معنی میں استعمال کیا ہے ۔ ہگل بھی مثبت و منفی خود فراموشی کا قائل ہے ، لیکن دوسرے مفکرین و ادیان الٰہی اور اس کے ماننے والے خود فراموشی کو منفی و غیر اخلاقی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو: بدوی ، عبد الحمن؛ موسوعة الفلسفة ، طہ فرج ، عبد القادر ؛ موسوعة علم النفس و التحلیل النفسی ۔

(۲) Pauer

(۳) Hess


دانشمندوں خصوصاً ''ہگل، فیور بیچ اور مارکس ''کی طرف نسبت دی گئی ہے(۱) دین اور ''خود فراموشی''کے درمیان رابطہ کے سلسلہ میں ان تینوں مفکروں کے درمیان وجہ اشتراک یہ ہے کہ یہ تینوں خود دین کو انسان کی خود فراموشی کی وجہ مانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ : جب دین کو درمیان سے ہٹادیاجائے توانسان ایک دن اپنے آپ کو درک کرلے گا ۔ اور کم از کم جب تک دین انسان کی فکر پر حاوی ہے انسان ''خود فراموشی''کا شکار ہے ۔(۲) یہ بات ٹھیک ادیان آسمانی کے تفکر کا نقطہ مقابل ہے خصوصاً خود فراموشی کے مسئلہ میں اسلام و قرآن کے خلاف ہے،بہر حال حقیقی طور پر دینی نقطہ نظر سے ''خود فراموشی ''کا مسئلہ ایک مستقل شکل میں مسلمان مفکرین کے نزدیک مورد توجہ قرار نہیں پایا ہے لہٰذا صاحبان فکر کی جستجو کا طالب ہے ۔

____________________

(۱)مذکورہ تین مفکروں کے علاوہ تھامسہابز( Thomas Hobbes ۱۶۷۹۔۱۵۸۸)بینڈکٹ اسپیونزا ( Benedict Spinoza ۱۶۷۷۔۱۶۳۲)جان لاک ( John locke ۱۷۰۴۔۱۶۳۲)ژان ژاک روسو ( Jean Jacquess Rousseau ۱۷۷۸۔۱۷۱۲)میکس اسکلر( Max Scheler ۱۸۰۹۔۱۰۸۵)جوہان فشے ( Johann Fichte ۱۸۴۱۔۱۷۶۲)ولفگیگ گوئٹے ( Wolfgang Goethe ۱۸۳۲۔۱۷۴۹)ویلیم وون ہمبولٹ( Wilhelm Von Humboldt ۱۸۳۵۔۱۷۶۷)سورن کیرکیگارڈ ( soren kier kegaard ۱۸۵۵۔۱۸۱۳)پال ٹیلیچ ( Paul Tillich ۱۹۶۵۔۱۸۸۶)منجملہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود فراموشی کے مسئلہ کو بیان کیا ہے ۔ملاحظہ ہو : زورنٹال و ...، الموسوعة الفلسفیة ؛ ترجمہ سمیر کرم ، بدوی ، عبد الرحمٰن ، موسوعة الفلسفة ۔ زیادہ ، معن ، الموسوعة الفلسفیة العربیة ۔

(۲)گرچہ ہگل نے دو طرح کے دین کی طرف اشارہ کیا ہے : ایک وہ دین جو انسان کو ذلیل و خوار کرکے خداؤں کے حضور میں قربانی کرتا ہے جیسے یہودیت اور دوسرا دین وہ ہے جو انسان کوحیات اور عزت دیتا ہے ۔ پہلے قسم کا دین خود فراموشی کی وجہ سے ہے لیکن دوسرے قسم کے دین کی خصوصیات حقیقی ادیان پر منطبق نہیں ہے ، صرف ایک عرفانی نظریہ اور معارف دینی کے ذریعہ ان دونوں کوایک حد تک ایک دوسرے سے منطبق سمجھا جاسکتا ہے ،اگرچہ ہگل ،خدااور روح و عقل کے بارے میں ایک عمومی بحث کرتا ہے لیکن ہگل کا خدا، عام طور پر ان ادیان کے خدا سے جس کا مومنین یقین رکھتے ہیں بالکل الگ ہے اوروہ خدا کو عالی و متعالی ، عظیم ، خالق ماسوا، انسان پر مسلط اور انسانوں کے اعمال کے بارے میں سوال کرنے والا موجود نہیں سمجھتا ہے ۔


قرآن کی روشنی میں ''خود فراموشی'' کے مسئلہ کو اس ارادہ سے بیان کیا گیا ہے تاکہ ہم بھی ایک ایساقدم بڑھائیںجو اسلام کے نظریہ سے اس کی تحلیل و تحقیق کے لئے نقطۂ آغاز ہو،اس لئے ہم بعض قرآنی آیات کی روشنی میں ''خود فراموشی''کے مسئلہ پرایک سرسری نظرڈالیں گے ۔

قرآن اور خود فراموشی کا مسئلہ

بحث شروع کرنے سے پہلے اس نکتہ کی یادآوری ضروری ہے کہ ''خود فراموشی''کا مسئلہ بیان کرنا ، اس خاکہ سے کاملاً مربوط ہے جسے انسان کی شخصیت و حقیقت کے بارے میں مختلف مکاتب فکر نے پیش کیا ہے اورمختلف مکاتب میں اس خاکہ کی تحقیق و تحلیل اس کتاب کے امکان سے خارج ہے اسی لئے فقط اشارہ ہو رہا ہے کہ قرآن کی روشنی میں انسان کی حقیقت کو اس کی ابدی روح ترتیب دیتی ہے جو خدا کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف واپس ہو جائے گی ،انسان کی حقیقت ''اسی سے '' اور ''اس کی طرف ''( إنّا لِلّٰهِ وَ نَّا لَیهِ رَاجعُونَ ) (۱) ہے ،اسلامی نکتہ نگاہ سے انسان کی صحیح و دقیق شناخت، خدا سے اس کے رابطہ کو مد نظر رکھے بغیر ممکن نہیں ہے ، انسان کا وجود خدا سے ملا ہوا ہے اس کو خدا سے جدا اور الگ کرنا گویااس کے حقیقی وجود کو پردۂ ابہام میں ڈال دینا ہے، اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے غیر الٰہی مکتب میں غفلت برتی گئی ہے یا اس سے انکار کیا گیا ہے دوسری طرف انسان کی حقیقی زندگی عالم آخرت میں ہے جسے انسان اس دنیا میں اپنی مخلصانہ تلاش اور ایمان کے ساتھ آمادہ کرتا ہے، لہٰذا قرآن کی نگاہ میں ''خود فراموشی'' کے مسئلہ کو اسی تناظر میں مورد توجہ قرار دینا چاہیئے ۔

اس سلسلہ میں دوسرا نکتہ جو قابل توجہ ہے وہ یہ کہ ''خود فراموشی'' کا نام دینے والوں نے انسان اور اس کی زندگی کو دنیاوی زندگی میں اور مادی و معنوی ضرورتوں کو بھی دنیاوی زندگی میں محصور کردیا ہے اور مسئلہ کے سبھی گوشوں پر اسی حیثیت سے نگاہ دوڑائی ہے ، مزید یہ کہ ان میں سے بعض دنیا پرستوں کے فلسفی اصولوں کو قبول کرکے ایک آشکار اختلاف میں گرفتار ہوگئے اور انسان کو دوسری غیر

____________________

(۱)سورۂ بقرہ ، ۱۵۶۔


مادی اشیاء کی حد تک گرکر مسئلہ کو بالکل نادرست اور غلط بیان کیاہے ،ایسی حالت میں جو چیز غفلت کا شکار ہوئی ہے وہ انسان کا حقیقی وجود ہے اور حقیقت میں اس کی ''خود فراموشی'' کا مفہوم ہی مصداق اور ''خود فراموشی'' کا سبب بھی ہے ۔

قرآن مجید نے بارہا غفلت اور خود کو غیر خدا کے سپرد کرنے کے سلسلہ میں انسان کو ہوشیار کیا ہے اور بت پرستی ، شیطان اورخواہشات نفس کی پیروی نیز آباؤ واجداد کی چشم بستہ تقلیدکے بارے میں سرزنش کی ہے ۔ انسان پر غلبہ ٔشیطان کے سلسلہ میں بارہا قرآن مجید میں آگاہ کیا گیا ہے ،اور جن و انس، شیاطین کے وسوسہ سے انسان کے خطرہ ٔانحراف کی تاکید ہوئی ہے ۔(۱) اسلامی نظریہ اور انسانی معاشرہ میں بیان کئے گئے مفاہیم سے آشنائی قابل قبول اور لائق درک وفہم ہیں، جب کہ اگر ان پر ''خود فراموشی'' کے مسئلہ کی روشنی میں توجہ دی جائے تومعلومات کے نئے دریچہ کھلیں گے، لیکن ''خود فراموشی'' خود فروشی اور ضرر جیسے مفاہیم جو بعض آیات میں ذکر ہوئے ہیں، ان کے علاوہ بھی مہم مفاہیم ہیں جن پر مزید توجہ کی ضرورت ہے اور انسان کو دقت کے لئے مجبور کرتے ہیں ،لیکن کیا ایسا ہوسکتاہے کہ انسان ''خود فراموشی'' کا شکار ہوجائے اور خود کو بھول جائے یا یہ کہ خود کو بیچ دے ؟ !کیا خود کو ضرر پہونچانا بھی ممکن ہے ؟ انسان ضرر اٹھاتاہے اور اس کا ضرر موجودہ امکانات کے کھو دینے کے معنی میں ہے ، لیکن خود کو نقصان پہونچانے کا کیا مفہوم ہوسکتا ہے اور کس طرح انسان اپنی ذات کے حوالے سے ضرر سے دوچار ہوتا ہے ؟ ! قرآن مجید اس سلسلہ میں فرماتا ہے کہ :

( وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰهَ فَأنسَاهُم أَنفُسَهُم )

اور ان جیسے نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھول بیٹھے تو خدا نے بھی ان کو انہیں کےنفسوں سے غافل کردیا ۔(۲)

____________________

(۱)یہ مفاہیم روایات میں بھی مذکور ہیں ، ان مفاہیم سے مزید آگاہی کے لئے نہج البلاغہ کی طرف رجوع کریں مطہری ، مرتضی ؛ سیری در نہج البلاغہ ، ص ۲۹۱۔ ۳۰۶۔

(۲)سورہ ٔ حشر ۱۹


اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے :( بِئسَمَا اشتَرَوا بِهِ أَنفُسَهُم ) کتنی بری ہے وہ چیز جس کے مقابلہ میں ان لوگوں نے اپنے نفسوں کوبیچ دیا ۔(۱)

سورہ ٔ انعام کی ۱۲ویں اور ۲۰ویں آیت میں فرماتا ہے :

( الَّذِینَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم فَهُم لَا یُؤمِنُونَ ) جنہوں نے اپنے آپ کوخسارے میں ڈال دیا وہ لوگ تو ایمان نہیں لائیں گے ۔

اس طرح کی آیات میں بعض مفسرین نے کوششیں کی ہیں کہ کسی طرح مذکورہ آیات کو انسان سے مربوط افعال ، خود فراموشی، خود فروشی اور خسارے میں تبدیل کردیا جائے تاکہ عرف میں رائج مفہوم کے مطابق ہوجائے ،لیکن اگر خود انسان کی حقیقت کو مد نظر رکھا جائے اور ''خود فراموشی'' کے زاویہ سے ان آیات کی طرف نظر کی جائے تو یہ تعبیریں اپنے ظاہر کی طرح معنی و مفہوم پیدا کرلیں گی ، بہت سے لوگوں نے دوسرے کو اپنا نفس سمجھتے ہوئے اپنی حقیقت کو فراموش کردیا یا خود کو غفلت میں ڈال دیا ہے اور اپنی حقیقت سے غفلت ، ترقی نہ دینا بلکہ اسے گرانا یعنی یہ اپنا نقصان ہے اور جو بھی اس عمل کو مثال کے طور پر کسی لالچ اور حیوانی خواہشات کے لئے انجام دیتا ہے اس نے خود کو بیچ دیا اور اپنے آپ کو حیوانوں سے مشابہ کرلیا ہے البتہ قرآن کی نظر میں مطلقاً خود فراموشی کی نفی کی گئی ہے لیکن خود فراموشی کی ملامت اس وجہ سے ہے کہ انسان خود کو تھوڑے سے دنیاوی فائدہ کے مقابلہ میں بیچ دیتاہے ۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ''خود فراموشی'' کے مسئلہ میں قرآن کا نظریہ اور اس کے موجدوں (ہگل ، فیور بیچ اور مارکس)کی نظر میں بنیادی تفاوت ہے ۔ جیسا کہ بیان ہوچکا ہے کہ ان تینوں نظریات میں ''خود فراموشی'' کے اسباب میں سے ایک ،دین ہے اور دین کو انسان کی زندگی سے الگ کرنا ہی

____________________

(۱)سورہ ٔ بقرہ ۹۰


اس مشکل کے لئے راہ نجات ہے ،لیکن قرآن کی روشنی میں مسئلہ بالکل اس قضیہ کے برخلاف ہے ۔ انسان جب تک خدا کی طرف حرکت نہ کرے اپنے آپ کونہیں پاسکتا ،نیز خود فراموشی میں گرفتار رہے گا۔ آئندہ ہم دوبارہ اس موضوع پرگفتگو کریں گے اور ایک دوسرے زاویہ سے اس مسئلہ پر غور کریں گے ۔

بہر حال قرآن کی روشنی میں خود فراموشی ایک روحی ، فکری ،اسباب و علل اور آثار و حوادث کا حامل ہے ۔بے توجہ انسان جو دوسروں کو اپنی ذات سمجھتا ہے وہ فطری طور پر دوسرے کے وجود کو اپنا وجود سمجھتا ہے اور یہ وجود جیسا بھی ہو ''خود فراموش'' انسان خود ہی اس کے لئے مناسب مفہوم مرتب کرلیتا ہے، اکثر جگہوں پر یہ دوسرا مفہوم ایک ایسا مفہوم ہے جو خود فراموش انسان کی فکر کے اعتبارسے مرتب ہے ۔(۱)

اس حصہ میں ہم خود فراموشی کے بعض نتائج پر گفتگو کریں گے :

خود فراموشی کے نتائج

غیرکو اصل قرار دینا

خود فراموش ، اپنے تمام یا بعض افعال میں دوسرے کو اصل قرار دیتا ہے۔(۲) اور آزمائشوں ، احساس درد ، مرض کی تشخیص ، مشکلات و راہ حل ، ضرورتوں اور کمالات میں دوسروں کو اپنی جگہ قرار دیتا ہے ۔ اور اپنے امور کو اسی کے اعتبار سے قیاس کرتا ہے اور اس کے لئے قضاوت و انتخاب کرتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے ، قرآن مجید سود خور انسانوں کے سلسلہ میں کہتا ہے کہ :

____________________

(۱)قرآن مجیداور روایات میں جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان کے خود اپنے نفس سے رابطہ کے سلسلہ میں متعدد و مختلف مفاہیم بیان ہوئے ہیں مثال کے طور پر خود فراموشی ، خود سے غافل ہونا ، اپنے بارے میں کم علمی و جہالت ، خود فروشی اور خود کو نقصان پہونچانا وغیرہ ان میں سے ہر ایک کی تحقیق و تحلیل اور ایک دوسرے سے ان کا فرق اور خود فراموشی سے ان کے روابط کو بیان کرنے کے لئے مزید وقت و تحقیقات کی ضرورت ہے ۔

(۲)کبھی انسان بالکل خود سے غافل ہوجاتا ہے اور کبھی اپنے بعض پہلوؤں اور افعال کے سلسلہ میں خود فراموش کا شکار ہوجاتا ہے اسی بنا پر کبھی مکمل اور کبھی اپنے بعض پہلوئوںمیں حقیقت کوغیروں کے حوالہ کردیتا ہے ۔


( الَّذِینَ یَأکُلُونَ الرِّبا لَایقُومُونَ لاّ کَمَا یَقُومُ الّذِی یَتخَبَّطُهُ الشَیطَانُ مِنَ المَسِّ ذٰلِکَ بِأنَّهُم قَالُوا ِنَّمَا البَیعُ مِثلُ الرِّبَا... ) ۱)

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہ ہوسکیں گے (کوئی کام انجام نہیں دیتے ہیں)(۲) مگر اس شخص کی طرح کھڑے ہوںگے جس کو شیطان نے لپٹ کے(ضررپہونچا کر)مخبوط الحواس بنا دیا ہو(اس کی استقامت کو ختم کردیا ہو ) یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ لوگ اس بات کے قائل ہوگئے کہ جس طرح خرید و فروش ہے اسی طرح سودبھی ہے

آیت شریفہ کے مفاد میں تھوڑی سی فکر بھی پڑھنے والے کو اس نتیجہ پر پہونچاتی ہے کہ آیت میں سود اور سود کھانے والوں کو محور بنانے کی بنیاد پر اس بحث کی فطری انداز کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کہا جائے : سود کھانے والوں کے لئے ایسے حالات پیدا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سود کھانے والے یہ کہتے تھے کہ سود ،خرید و فروش کی طرح ہے اور اگر خرید و فروش میں کوئی حرج نہیں ہے توسود میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن جیسا کہ ملاحظہ ہواہے کہ خدا وند عالم فرماتا ہے : سود کھانے والوں نے کہاخرید و فروش ربا کی طرح ہے ، اس سخن کی توجیہ و توضیح میں بعض مفسروں نے کہا ہے : یہ جملہ معکوس سے تشبیہ اور مبالغہ کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی گفتگو کا تقاضا یہ تھا کہ ربا کو خرید و فروش سے تشبیہ دی جاتی ، مبالغہ کی وجہ سے قضیہ اس کے برعکس ہوگیااور خرید و فروش کی ربا سے تشبیہ ہوگئی ہے ۔(۳) بعض مفسرین معتقد

____________________

(۱)بقرہ ۲۷۵۔

(۲)(لَایقُومُونَ لاّ کَمَا یَقُومُ ...)جملہ کے مراد میں دو نظریے ہیں :جیسا کہ اس مقالہ میں ذکر ہوا ہے،پہلا نظریہ یہ ہے کہ آیت دنیا میں ربا خوار انسان کے رفتار وکردار کو بیان کررہی ہے اور دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آخرت میں رباخواروں کے رفتار وکردار کی نوعیت کو بیان کرنا مقصود ہے ،اکثر مفسرین نے دوسرے نظریہ کو انتخاب کیا ہے لیکن رشید رضا نے ''المنار''میں اور مرحوم علامہ طباطبائی نے ''تفسیر المیزان ''میں پہلے نظریہ کو انتخاب کیا ہے .ملاحظہ ہو: رشید رضا ؛ تفسیر المنار ، ج۳ ص ۹۴، علامہ طباطبائی ؛ المیزان ج۲ ص ۴۱۲۔۴۱۳۔

(۳) آیہ شریفہ کے ذیل میں شیعہ و سنی تفاسیر منجملہ روح المعانی و مجمع البیان کی طرف رجوع کریں ۔


ہیں کہ چونکہ سود خور اپنے اعتدال کو کھو بیٹھا ہے لہٰذا اس کے لئے خرید و فروش اور ربا میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ کہہ سکتا ہے کہ ربا،خرید و فروش کی طرح ہے اسی طرح ممکن ہے یہ بھی کہے خرید و فروش ربا کی طرح ہے ۔ اس نے ان دو نوں کے درمیانمساوات برقرار کیا ہے۔(۱)

ان دو توجیہوں میں مناقشہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ توضیح و تبیین سے بہتر یہ ہے کہ خود سے بے توجہی اور دوسروں کو اصل قرار دینے کے اعتبار سے مطلب کی وضاحت کی جائے خود سے بے توجہ انسان جو دوسرے کو اصل قرار دیتا ہے دوسروں کے شان و احترام کے لئے بھی اصل کا قائل ہے اور سبھی فرعی مسائل اور گوشوں میں اصل دوسروں کو بناتاہے، سود خور انسان کی نگاہ میں سود خوری اصل ہے اور خرید و فروش بھی ربا کی طرح ہے جب کہ حقیقت میں وہ یہ سوچتا ہے کہ ربا میں نہ فقط کوئی حرج ہے بلکہ سود حاصل کرنے کا صحیح راستہ ربا خوری ہے نہ کہ خرید و فروش ہے، خرید و فروش کو بھی فائدہ حاصل کرنے میں ربا سے مشابہ ہو نے کی وجہ سے جائز سمجھا جاتا ہے ۔ سود خور انسان کو ایسا حیوان سمجھتا ہے جو جتنا زیادہ دنیا سے فائدہ اٹھائے اور بہرہ مند ہووہ کمال اور ہدف سے زیادہ نزدیک ہے اور سود خوری اس بہرہ مندی کا کامل مصداق ہے لہٰذا خرید و فروش کی بھی اسی طرح توجیہ ہوناچاہیئے!۔

روحی تعادل کا درہم برہم ہونا

اگر انسان اپنے آپ سے بے توجہ ہوجائے اور اپنے اختیار کی باگ ڈور دوسرے کے ہاتھ سپرد کردے تو وہ دو دلیلوں سے اپنے تعادل کو کھودے گا : پہلی دلیل یہ ہے کہ دوسرے کا طرز عمل چونکہ اس کے وجود کے مطابق نہیں ہے لہٰذا عدم تعادل سے دوچار ہوجائے گااور دوسری دلیل یہ ہے کہ دوسرا مختلف اور متعدد موجودات کا حامل ہے لہٰذااگر دوسرا موجودات کی کوئی خاص نوع ہو مثال کے طور پر انسانوں میں بہت سے مختلف افراد ہیں ،یہ مختلف موجودات یا متعدد افراد کم از کم مختلف و متضاد

____________________

(۱)ملاحظہ ہو: علامہ طباطبائی ، المیزان ج۲ ص ۴۱۵


خواہشات کے حامل ہیں جو اپنے آپ سے بے توجہ انسان کے تعادل کو درہم برہم کردیتے ہیں ۔ قرآن مجید مشرکین کو اپنے آپ سے بے توجہ مانتے ہوئے کہتا ہے :

( أ أَرباب مُتَفَرِّقُونَ خَیر أَمِ اللّٰهُ الوَاحِدُ القَهَّارُ )

کیا جدا جدا معبود اچھے ہیں یا خدائے یکتاو غلبہ پانے والا(۱)

مزیدیہ بھی فرماتا ہے:

( ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً رَّجُلاً فِیهِ شُرَکَآئُ مُتَشَاکِسُونَ وَ رَجُلاً سَلَماً لِّرَجُلٍ هَل یَستَوِیَانِ مَثَلاً... ) (۲)

خدا نے ایک مثل بیان کی ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (مالدار)جھگڑالو شریک ہیں اور ایک غلام ہے جوپورا ایک شخص کا ہے کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہو سکتی ہے ؟

( لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُم عَن سَبِیلِهِ ) (۳)

اور دوسرے راستوں(راہ توحید کے علاوہ جو کہ مستقیم راہ ہے) پر نہ چلو کہ وہ تم کو خدا کے راستہ سے تتر بتر کردیں گے ۔

سورۂ بقرہ کی ۲۷۵ ویں آیت بھی جیسا کہ ذکر ہو چکی ہے سود خور انسان کے اعمال کو اس مرگی زدہ انسان کی طرح بتاتی ہے جس میں تعادل نہیں ہوتا ہے اور اس کے اعمال میں عدم تعادل کو فکری استقامت اور روحی تعادل کے نہ ہونے کی وجہ بیان کیا ہے ۔(۴)

____________________

(۱)یوسف ، ۳۹

(۲)زمر، ۲۹

(۳)انعام ۱۵۳۔

(۴)رباخوار انسان کے رفتار و کردار کے متعادل نہ ہونے کے بارے میں اور اس کے تفکرات کے سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے .ملاحظہ ہو: علامہ طباطبائی ؛ المیزان ج۲ ص ۴۱۳و ۴۱۴۔


ہدف و معیار کا نہ ہونا

گذشتہ بیانات کی روشنی میں ، خود فراموش انسان بے ہدفی سے دوچار ہوتا ہے، وہ خود معقول اور معین شکل میں کسی ہدف کو انتخاب نہیں کرتا ہے اور اپنی زندگی اور اعمال کے سلسلہ میں متردد ہوتاہے ۔ قرآن منافقین کے بارے میں جو خود فراموش لوگوں کا ایک گروہ ہے اس طرح بیان کرتا ہے :

( مُذَبذَبِینَ بَینَ ذَالِکَ لَا لَیٰ هٰولآئِ وَ لآ لیٰ هٰولآئِ وَ مَن یُضلِلِ اللّٰهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِیلاً ) (۱)

ان کے درمیان کچھ مردّد ہیں، نہ وہ مومنین میں سے ہیں اورنہ ہی وہ کافروں میں سے ہیں جسے خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کی تم ہرگز کوئی سبیل نہیں کرسکتے۔(۲)

ایسے لوگ حضرت علی کے فرمان کے مطابق ''یَمِیلونَ معَ کُل رِیح' 'کے مصداق ہیں (جس سمت بھی ہوا چلتی ہے حرکت کرتے ہیں )اور دوسرے جزء کے بارے میں کہا گیا ہے کہ متعدد وپراکندہ ہیں ، ان کا کوئی معیار نہیں ہے بیگانوں کی کثرت بے معیاری اور بے ہدفی انسان کے لئے فراہم کرتی ہے ۔

حالات کی تبدیلی کے لئے آمادگی و قدرت کا نہ ہونا

خود فراموش انسان جو خود کوغیر سمجھتاہے وہ اپنی حقیقت سے غافل ہے یااپنی موجودہ حالت کو مطلوب سمجھتے ہوئے اپنی حالت میں کسی بھی تبدیلی کے لئے حاضر نہیں ہے ،اور اس کے مقابلہ میں مقاومت کرتا ہے یا اپنی اور مطلوب حالت سے غفلت کی بنا پر تبدیلی کی فکر میں نہیں ہے ۔

____________________

(۱)سورۂ نساء ۱۴۳۔ (۲)خداوند عالم کا انسان کوگمراہ کرنا اس کی خواہش کے بغیر جبری طور پر نہیں ہے بلکہ یہ انسان ہے جو اپنے غلط انتخاب کے ذریعہ ایسی راہ انتخاب کرتا ہے جس میں داخل ہونے سے ضلالت و گمراہی سے دچار ہوتا ہے اسی بنا پر دوسری آیات میں مذکور ہے کہ خداوند عالم ظالمین ( ۲۷ابراہیم ) فاسقین (۲۶بقرہ )، اسراف کرنے والے، بالکل واضح حقائق میں شک کرنے والوں ( ۳۴غافر) اور کافروں ( ۷۴غافر) کو گمراہ کرتا ہے ۔


نتیجتاً اپنی حالت کی تبدیلی پر قدرت نہیں رکھتا ہے ،چونکہ یہ سب اس کی دانستہ اختیار و انتخاب کی وجہ سے ہے لہٰذا ملامت کے لائق ہے ،بہت سی آیات جو کافروں اور منافقوں کی ملامت کرتے ہوئے ان کی راہ ہدایت کو مسدود اور ان کی دائمی گمراہی کو حتمی بتاتے ہیں مثال کے طور پر( وَ مَن یُضلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِن هَادٍ ) (۱) ''جس کو خدا گمراہ کردے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہے ''یہی واقعیت ہے کہ جس کی بنا پریہ لوگ پیغمبروں کی روشن اور قاطع دلیلوں کے مقابلہ میں اپنے تھوڑے سے علم پر خوش ہیں :

( فَلَمَّا جَائَ تهُم رُسُلُهُم بِالبَیِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِنَ العِلمِ )

پھر جب پیغمبر (الٰہی)ان کے پاس واضح و روشن( ان کی طرف) معجزہ لے کر آئے تو جو (تھوڑا سا )علم ان کے پاس تھا اس پر نازا ںہوگئے ۔(۲)

اور دوسری جگہ فرماتا ہے :

( وَ مَن أَظلَمُ مِمَّن ذُکِّرَ بِأیَاتِ رَبِّهِ فَأَعرَضَ عَنهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَت یَدَاهُ نَّا جَعَلنَا عَلیٰ قُلُوبِهِم أَکِنَّةً أن یَفقَهُوهُ وَ فِی ئَ اذَانِهِم وَقراً وَ ن تَدعُهُم لیٰ الهُدَیٰ فَلن یَهتَدُوا ِذاً أَبَداً ) (۳)

اوراس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس کو خدا کی آیتیں یاد دلائی جائیں اور وہ ان سے رو گردانی کرے اور اپنے پہلے کرتوتوں کو جو اس کے ہاتھوں نے کئے ہیں بھول بیٹھے ہم نے خود ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ (قرآن)کو نہ سمجھ سکیں اور

ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے ( تاکہ اس کو نہ سن سکیں )اور اگر تم ان کو راہ راست کی طرف بلاؤ بھی تو یہ ہرگز کبھی روبراہ ہونے والے نہیں ہیں۔

آئندہ ہم کہیں گے کہ گذشتہ اعمال کو فراموش کرنا اور ان سے استفادہ نہ کرنا ، خود فراموشی کااہم سبب ہے ، اس آیت میں بھی حالات کی اصلاح اور تبدیلی پر قادر نہ ہوناخود فراموشی کی نشانی کے عنوان سے بیان ہوا ہے ۔

____________________

(۱)سورہ رعد ،۳۳۔زمر، ۲۳و ۳۶۔غافر،۳۳۔

(۲)غافر، ۸۳

(۳)سورۂ کہف ، ۵۷


مادہ اور مادیات کی حقیقت

جیسا کہ بیان ہوچکا ہے کہ انسان کے حقیقی وجود کو اس کا روحانی اور معنوی پہلو مرتب کرتا ہے، لیکن اگر انسان خود کوغیر سمجھے گا تو ظاہر ہے کہ اس نے دوسرے فرد کے وجود کو اپنا وجود سمجھا ہے ۔ قرآن کے اعتبار سے بعض خود فراموش افراد ہمیشہ اپنی حقیقی جگہ ،حیوانیت کو بٹھاتے ہیں اور جب حیوانیت انسانیت کی جگہ قرارپاجائے تو یہی سمجھا جائے گا کہ جو بھی ہے یہی جسم اور مادی نعمتیں ہیں، تو ایسی صورت میں انسان مادی جسم اور حیوانی خواہشات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اس کی دنیا بھی مادی دنیا کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،ایسے حالات میں خود فراموش انسان کہے گا( و َمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً ) (۱) ''میں گمان نہیں کرتا تھا کہ قیامت بھی ہے ''اور کہے گا کہ :( مَا هِیَ لاّ حَیَاتُنَا الدُّنیَا نَمُوتُ وَ نَحیَا وَ مَا یُهلِکُنَا لاّ الدَّهرُ ) (۲) ''ہماری زندگی تو بس دنیا ہی ہے ،مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو تو بس زمانہ ہی مارتا ہے ''

اس فکر کے اعتبار سے اس انسان کی ضرورتیں بھی حیوانی ضرورتوں کی طرح ہو جائیں گی جیسے کھانا ،پینا،اوڑھنا، پہننا اور دوسرے دنیاوی لذتوں سے بہرہ مند ہونا( وَ الَّذِینَ کَفَرُوا یَتَمَتَّعُونَ وَ یَأکُلُونَ کَمَا تَأکُلُ الأَنعَامُ ) (۳) اورجو لوگ کافر ہوگئے ہیں جانوروں کی طرح کھاتے ہیں اور دنیاوی لذتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں جیسے کہ ان کا کمال اسی مادی بہرمندی و دنیاوی کمالات اور اسی مسرت بخش لذتوں کا حصول ہے ۔( وَ فَرِحُوا بِالحَیَاةِ الدُّنیَا ) (۴) ایسے انسان کے لئے ذرا سی جسمانی بیماری بہت ہی اہم اور بے تابی کا سبب بن جاتی ہے( إذَا مَسَّهُ الشَرُّ جَزُوعاً ) (۵) ''جب اسے تکلیف چھو بھی گئی تو گھبرا گیا''لیکن معنوی تنزل کی کثرت

____________________

(۱)کہف، ۳۶

(۲)جاثیہ ،۲۴

(۳)محمد ، ۱۲

(۴)رعد ،۲۶

(۵)معارج ، ۲۰۔


جس سے وہ دوچار ہوا ہے اور روحی و جسمانی بیماری کا پہاڑ جس سے وہ جاں بلب ہے درک نہیں کرتا ہے بلکہ وہ اعمال جو بیماری اور سقوط کا ذریعہ ہیں انہیں اچھا سمجھتا ہے اس لئے کہ اگر حیوان ہے تو یقینا یہ چیزیں اس کے لئے بہتر ہیں اور ہم کہہ چکے ہیں کہ وہ خود کو حیوان سمجھتا ہے ۔

( قُل هَل نُنَبِّئُکُم بِالأَخسَرِینَ أعمَالاً ٭ الَّذینَ ضَلَّ سَعیُهُم فِیالحَیاةِ الدُّنیَا وَ هُم یَحسَبُونَ أَنَّهُم یُحسِنُونَ صُنعاً ) (۱)

تم کہدو کہ کیا ہم ان لوگوں کا پتہ بتا دیں جو لوگ اعمال کی حیثیت سے بہت گھاٹے میں ہیں ،وہ لوگ جن کی دنیاوی زندگی کی سعی و کوشش سب اکارت ہوگئی اوروہ اس خام خیال میں ہیں کہ وہ یقینا اچھے اچھے کام کر رہے ہیں ۔

ایساانسان اگر کسی درد کو حیوان کا درد سمجھے ، تو علاج کو بھی حیوانی علاج سمجھتا ہے اور سبھی چیزوں کو مادی زاویہ سے دیکھتاہے ، حتی اگر خدا اس کو سزا دے توعبرت و بازگشت کے بجائے اس سزا کی بھی مادی تجزیہ و تحلیل کرتا ہے ۔

( وَ مَا أَرسَلنَا فِی قَریَةٍ مِن نَبِیٍّ لاّ أَخَذنَا أهلَهَا بِالبَأسَائِ وَ الضَّرَّائِ لَعَلَّهُم یَضَّرَّعُونَ ٭ ثُمَّ بَدَّلنَا مَکَانَ السَّیِّئَةِ الحَسَنَةَ حَتَّیٰ عَفَوا وَّ قَالُوا قَد مَسَّ ئَ ابَائَ نَا الضَّرَّائُ وَ السَّرَّائُ فَأَخَذنَاهُم بَغتَةً وَ هُم لا یَشعُرُونَ ) (۲)

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو سختی اور مصیبت میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوگ گڑ گڑائیں، پھر ہم نے تکلیف کی جگہ آرام کو بدل دیا یہاں تک کہ وہ لوگ بڑھ نکلے اور کہنے لگے کہ اس طرح کی تکلیف و آرام تو ہمارے آباء و اجداد کو پہونچ چکی ہے تب ہم نے بڑی بولی بولنے کی سزا میں گرفتار کیا اور وہ بالکل بے خبر تھے ۔

____________________

(۱)کہف ، ۱۰۳و ۱۰۴۔

(۲)اعراف ، ۹۴و ۹۵۔


عقل و دل سے استفادہ نہ کرنا

جو بھی خود فراموشی کا شکار ہوتا ہے وہ شیطان ، حیوان یا کسی دوسرے وجود کو اپنی ذات سمجھتا ہے اور اس کے زیر اثر ہو جاتا ہے اور خود کو اسی دنیا اور اس کی لذتوں میں منحصر کر لیتا ہے ،آخر کار اپنے انسانی عقل و قلب کی شناخت کے اسباب پر مہر لگا کر حقیقت کی راہوں کو اپنے لئے بند کرلیتا ہے ۔

( ذٰلکَ بِأنَّهُمُ استَحَبُّوا الحَیَاةَ الدُّنیَا عَلیٰ الآخِرَةِ وَ أنَّ اللّٰهَ لا یَهدِی القَومَ الکَافِرِینَ ٭ أولٰئِکَ الَّذِینَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلیٰ قُلُوبِهِم وَسَمعِهِم وَ أبصَارِهِم وَ أولٰئِکَ هُمُ الغَافِلُونَ ) (۱)

اس لئے کہ ان لوگوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اوروہ اس وجہ سے کہ خدا کافروں کو ہرگز منزل مقصود تک نہیں پونچایا کرتا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں،کانوں اور ان کی آنکھوں پر خدا نے علامت مقرر کردی ہے جب کہ وہ لوگ بے خبر ہیں۔

قلب و سماعت اور ان کی آنکھوں پر مہر لگانا حیوانی زندگی کے انتخاب اور اسی راہ پر گامزن ہونے سے حاصل ہوتا ہے ،اور یہ سب حیوانی زندگی کے انتخاب کا نتیجہ ہے اسی بنا پر ایسا انسان حیوان سے بہت پست ہے( أولٰئِکَ کَالأنعَامِ بَل هُم أضَلُّ أولٰئِکَ هُمُ الغَافِلُونَ ) (۲) اس لئے کہ حیوانات نے حیوانیت کا انتخاب نہیں کیا ہے بلکہ حیوان خلق ہوئے ہیں اور ان کی حیوانیت کی راہ میں خود فراموشی نہیں ہے لیکن انسان جوانسان بنایا گیا ہے اگر حیوانیت کو انتخاب کرے تویہ اس کے خود فراموش ہونے کی وجہ ہے ۔

____________________

(۱) نحل، ۱۰۷و ۱۰۸

(۲)اعراف ، ۱۷۹


خود فراموشی اور حقیقی توحید

ممکن ہے کہ کہا جائے کہ مومن انسان بھی خدا کو اپنے آپ پر حاکم قرار دیتا ہے ،اس کی خواہش کو اپنی خواہش سمجھتا ہے اور جو بھی وہ کہتا ہے عمل کرتا ہے اور توحید و ایمان کا نقطہ اوج بھی سراپا اپنے آپ کو خدا کے حوالہ کرنا اور خود کو فراموش کرنا ہے، اس طرح سے تو موحد انسان بھی خود فراموش ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا تھا کہ انسان کے لئے ایک الٰہی واقعیت و حقیقت ہے جس سے وہ وجود میں آیا ہے اور اسی کی طرف پلٹایا جائے گا ، تو اس کی حقیقت و شخصیت ، خود خدا سے مربوط اور اسی کے لئے تسلیم ہونا ہی اپنے آپ کو پالینا ہے ،خدا ہی ہماری حقیقت ہے اور ہم خدا کے سامنے تسلیم ہو کے اپنی حقیقت کو پالیں گے ۔

ع: ہر کس کہ دور ماند از اصل خویش

باز جوید روزگار وصل خویش

جو بھی اپنی حقیقت سے دور ہوگیا وہ ایک دن اپنی حقیقت کو ضرور پالے گا ۔

( إنَّا لِلّٰهِ وَ نَّا لَیهِ رَاجِعُونَ ) (۱) '' ہم خدا کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے'' اگر خود کو درک کر لیا تو خدا کوبھی درک کرلیں گے ،اگر اس کے مطیع ہوگئے اور خدا کو درک کرلیا تو خود کو گویاپالیاہے ۔ ''در دوچشم من نشستی کہ از من من تری ''اگر تم میری آنکھوں میں سما گئے ہو تو گویا تم میں مجھ سے زیادہ منیت ہے۔اس اعتبار سے حدیث ''مَن عَرفَ نَفسَہ فَقَد عَرفَ رَبَّہ''''جس نے خود کو پہچانا یقیناً اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ''اور آیت( وَ لا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰهَ فَأنسَاهُم أَنفُسَهُم ) (۲) کے لئے ایک نیا مفہوم اور معنی ظاہر ہوتا ہے ۔

یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ بعض آیات میں خود کو اہمیت دینے کی ملامت سے مراد اپنے نفس کو اہمیت دینا اور آخرت سے غافل ہونا اور خدا کے وعدوں پر شک کرنا ہے جیسے یہ آیت :

____________________

(۱)سورۂ بقرہ ۱۵۶

(۲)حشر، ۱۹


( وَ طَائِفَة قَد أهَمَّتهُم أَنفُسُهُم یَظُنُّونَ بِاللّٰهِ غَیرَ الحَقِّ ظَنَّ الجَاهِلِیَّةِ )

اور ایک گروہ جن کو (دنیاوی زندگی )اور اپنی جان کی فکر تھی خدا کے ساتھ زمانہ جاہلیت جیسی بد گمانیاں کرنے لگے ۔(۱)

اجتماعی اور سماجی بے توجہی (اجتماعیحقیقت کا فقدان )

خود فراموشی کبھی فردی ہے اور کبھی اجتماعی ہوتی ہے، جو کچھ بیان ہو چکاہے فردی خود فراموشی سے مربوط تھا ۔ لیکن کبھی کوئی معاشرہ یاسماج خود فراموشی کا شکار ہوجاتا ہے اور دوسرے معاشرہ کو اپنا سمجھتا ہے، یہاں بھی دوسرے معاشرہ کی حقیقت کو اپنی حقیقت سمجھتا ہے اور دوسرے معاشرہ کو اصل قرار دیتا ہے ۔

تقی زادہ جیسے افراد کہتے ہیں :ہمارے ایرانی معاشرہ کی راہ ترقی یہ ہے کہ سراپا انگریز ہوجائیں،ایسے ہی افراد ہمارے معاشرہ کو خود فراموش بنا دیتے ہیں ،اور اسی طرح کے لوگ مغربی معاشرہ کو اپنے لئے اصل قرار دیتے ہیں اورمغرب کی مشکلات کو اپنے سماج و معاشرہ کی مشکل اور مغرب کے راہ حل کو اپنے معاشرہ کے لئے راہ حل سمجھتے ہیںلیکن جب مغربی لوگ آپ کی مشکل کا حل پیش نہ کرسکے تو یہ کہدیا کہ یہ مہم نہیں ہے کیوں کہ مغرب میں بھی ایسا ہی ہے بلکہ ایسا ہونا بھی چاہیئے اور ایک ترقی یافتہ معاشرہ کا یہی تقاضا ہے اور ایسے مسائل تو ترقی کی علامت شمار ہوتے ہیں !۔

جب اجتماعی و سماجی مسائل و مشکلات کے سلسلہ میں گفتگو ہوتی ہے تو وہ چیزیں جومغرب میں اجتماعی مشکل کے عنوان سے بیان ہوئی ہیںانہیں اپنے معاشرہ کی مشکل سمجھتے ہیں اور جب کسی مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں تومغرب کے راہ حل کو تلاش کرتے ہیں اور اس کو کاملاً قبول کرتے ہوئے اس کی نمائش کرتے ہیں حتی اگر یہ کہا جائے کہ شاید ہمارا معاشرہ مغربی معاشرہ سے جدا ہے تو کہتے ہیں پرانی تاریخ نہ دہراؤ، وہ لوگ تجربہ اور خطا

____________________

(۱)آل عمران ، ۱۵۴۔


کے مرحلہ کو انجام دے چکے ہیں، ایسے افراداعتبارات ، خود اعتمادی ، دینی تعلیمات حتی کہ قومی اقدار کو معاشرہ کی شناخت میں اور اجتماعی مسائل اوراس کے بحران سے نکلنے کی راہ میں چشم پوشی سے کام لیتے ہیں ۔

جو معاشرے دوسرے معاشرہ کو اپنی جگہ قرار دیتے ہیں وہ دوسرے کے آداب و رسوم میں گم ہو جاتے ہیں، انتخاب و اقتباس نہیں کرتے ، کاپی کرتے ہیں، فعال نہیں ہوتے بلکہ فقط اثر قبول کرتے ہیں۔اقتباس وہاں ہوتا ہے جہاں اپنائیت ہو،اپنے رسم و رواج کو پیش کر کے موازنہ کیا گیا ہو اور اس میں بہترین کاانتخاب کیا گیا ہو، لیکن اگر کوئی معاشرہ خود فراموش ہو جائے تو اپنے ہی آداب و رسوم کو نقصان پہونچاتا ہے ، تمام چیزوں سے چشم پوشی کرتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ۔

استکباری معاشروں کا ایک کام یہی ہے کہ ایک معاشرہ کو خود فراموشی کا شکار بنا دیں ،جب کوئی معاشرہ خود فراموشی کاشکار ہوجائے تو اس کے آداب و رسوم پریلغار کی ضرورت نہیں ہے ۔ثقافتی تفاہم کی صورت میں بھی دوسروں کے آداب و رسوم اپنائے جاتے ہیں۔ وہ چیزیں جو آداب و رسوم پہ حملہ کا سبب واقع ہوتی ہیں وہ معاشرہ کے افراد ہی کے ذریعہ انجام پاتی ہیں ۔ چہ جائیکہ شرائط ایسے ہوں کہ دشمن فتح و غلبہ کے لئے یعنی آداب و رسوم کو منتقل کرنے کے لئے نہ سبھی عناصر بلکہ اپنے پست عناصر کے لئے منظم پروگرام اور پلان رکھتے ہوں توایسی صورت میں اس معاشرہ کی تباہی و نابودی کے دن قریب آچکے ہیں اور آداب و رسوم و اقتدارمیں سے کچھ بھی نہیں بچا ہے جب کہ اس کے افراد موجود ہیںاور وہ معاشرہ اپنی ساری شخصیت کھو چکا ہے اور مسخ ہو گیا ہے ۔(۱)

ابنای روزگار بہ اخلاق زندہ اند

قومی کہ گشت فاقد اخلاق مردنی است

دنیا کے لوگ اپنے اخلاق کی وجہ سے زندہ ہیں ، جو قوم اخلاق سے عاری ہووہ نابود ہونے والی ہے ۔

____________________

(۱)اقبال لاہوری ؛امام خمینی اور مقام معظم رہبری کی دینی اور اجتماعی دانشور کی حیثیت سے استقلال و پائداری کی تقویت کے حوالے سے بہت زیادہ تاکید نیز اپنی تہذیب و ثقافت کو باقی رکھنا بھی اسی کی ایک کڑی ہے ۔


اپنے نئے انداز کے ساتھ علم پرستی(۱) انسان پرستی(۲) مادہ پرستی(۳) نیز ترقی اور پیشرفت کو صرف صنعت اور ٹکنالوجی میں منحصر کرنا آج کی دنیا اور معاشرے میں خود فراموشی کی ایک جدید شکل ہے ۔(۴)

خود فراموشی کا علاج

خود فراموشی کے گرداب میں گرنے سے بچنے اوراس سے نجات کے لئے تنبیہ اور غفلت سے خارج ہونے کے بعد تقوی کے ساتھ ماضی کے بارے میں تنقیدی جستجو سود مند ہے، اگر فرد یا کوئی معاشرہ اپنے انجام دیئے گئے اعمال میں دوبارہ غور و فکر نہ کرے اور فردی محاسبہ نفس نہ رکھتا ہواور معاشرہ کے اعتبار سے اپنے اور غیر کے آداب و رسوم میں کافی معلومات نہ رکھتاہونیز اپنے آداب و رسوم میں غیروں کے آداب و رسوم کے نفوذ کر جانے کے خطرے سے آگاہ اور فکرمند نہ ہو تو حقیقت سے دور ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے اور یہ دوری اتنی زیادہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان خود کو نیز اپنی تہذیب کو فراموش کردے اور خود فراموشی کا شکار ہو جائے ایسے حالات میں اس کیلئے خود فراموشیسے کوئی راہ نجات ممکن نہیں ہے، قرآن مجید اس سلسلہ میں فرماتا ہے :

( یَأ أیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلتَنظُر نَفس مَا قَدَّمَت لِغَدٍ وَ اتَّقُوااللّٰهَ نَّ اللّٰهَ خَبِیر بِمَا تَعمَلُونَ ٭ وَ لا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰهَ فَأنسَاهُم أَنفُسَهُم أولٰئِکَ هُمُ الفَاسِقُونَ ) (۵)

اے ایماندارو! خدا سے ڈرو ، اور ہر شخص کو غور کرنا چاہیئے کہ کل کے واسطے اس نے

____________________

(۱) Scientism

(۲) Humanism

(۳) Materialism

(۴)اگرچہ معاشرتی تہذیب سے بیگانگی ، انسانی اقدار کے منافی ہے لیکن توجہ رکھنا چاہیئے کہ قومی اورمعاشرتی تہذیب خود بہ خود قابل اعتبار نہیں ہوتی بلکہ اسی وقت قابل اعتبار ہے جب اس کے اعتبارات اور راہ و روش انسان کی حقیقی سعادت اور عقلی و منطقی حمایت سے استوار ہوں۔

(۵)سورۂ حشر ، ۱۸و ۱۹۔


پہلے سے کیا بھیجا ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سےباخبر ہے، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے، یہی لوگ تو بدکردار ہیں۔

خود فراموشی کی مشکل سے انسان کی نجات کے لئے اجتماعی علوم کے مفکرین نے کہا ہے کہ : جب انسان متوجہ ہوجائے کہ خود فراموشی کا شکار ہوگیا ہے تو اپنے ماضی میں دوبارہ غور و فکر اور اس کی اصلاح کرے کیونکہ وہ اپنے ماضی پر نظر ثانی کئے بغیر اپنی مشکل کے حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ہے ،اور آیت میں یہ سلسلہ بہت ہی دقیق اور منظم بیان ہوا ہے جس میں تقوی کو نقطۂ آغاز مانا ہے( یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ) اگر زندگی کا محور تقوی الٰہی ہو تو خدا کے علاوہ انسان پر کوئی دوسرا حاکم نہیں ہوگا اور انسان خود فراموشی کے حوالے سے ضروری تحفظ سے برخوردار ہے ۔ دوسرا مرحلہ : ان اعمال میں دوبارہ غور فکر ہے جسے اپنی سعادت کے لئے انجام دیا ہے ۔ انسان اس وقت جب وہ کوئی کام خدا کے لئے انجام دیتا ہے ہوسکتا ہے کہ کوئی پوشیدہ طور پر اس پر حاکم ہوجائے لہٰذا ان اعمال میں بھی جس کو خیر سمجھتا ہے دوبارہ غور و فکر کرے اور کبھی اس غور و فکر میں بھی انسان غفلت اور خود فریبی سے دوچار ہو جاتا ہے، اسی بنا پر قرآن دوبارہ فرماتا ہے کہ : (و اتَّقُوا اللّٰہَ)''اللہ سے ڈرو '' قرآن مجیدکے مایۂ ناز مفسرین اس آیت کے ذیل میں کہتے ہیں کہ : آیت میں دوسرے تقوی سے مراد ، اعمال میں دوبارہ غور و فکر ہے، اگر انسان اس مرحلہ میں بھی صاحب تقوی نہ تو خود فریبی سے دوچار اور خود فراموشی کی طرف گامزن ہوجائے گا ،قرآن مجید فرماتا ہے کہ اے مومنو! ایسا عمل انجام نہ دو جس کی وجہ سے خود فراموشی سے دوچار ہوکر خدا کو بھول جاؤ، اس لئے فقط اعمال میں دوبارہ غور وفکر کافی نہیں ہے ،قرآن کی روشنی میں گذشتہ اعمال کا محاسبہ تقوی ٰ الٰہی کے ہمراہ ہونا چاہیئے تاکہ مطلوب نتیجہ حاصل ہوسکے ۔


آخری اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شاید ماضی میں افراد یا معاشرے خود اپنے لئے پروگرام بنایا کرتے تھے اور اپنے آپ کو خود فراموشی کی دشواریوں سے نجات دیتے تھے یا اپنے آپ کو فراموش کر دیتے تھے ،لیکن آج جب کہ انسانوں کا آزادانہ انتخاب اپنی جگہ محفوظ ہے تو معمولاً دوسرے لوگ انسانی معاشرے کے لئے پرو گرام بناتے ہیں، اور یہ وہی (اسلامی)تہذیب پر حملہ ہے جو ہمارے دور کا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ،یہ تصور نہ ہو کہ جب ہم اپنے آپ سے غافل و بے خبر ہیں تو ہمارے خلاف سازشیں نہیں ہورہی ہیں ہمیشہ اس عالمی ممالک کے اجتماعی گروہ ، سیاسی پارٹیاں ، استعماری عوامل اور جاہ طلب قدرتیں اپنے مادی اہداف کی وجہ سے اپنے مقاصد کے حصول اور اس میں مختلف معاشروں اور افراد سے سوء استفادہ کے لئے سازشیںرچتے ہیں ۔ یہ سمجھنا بھولے پن کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ انسان کی آرزوؤں ، حقوق بشر اور انسان دوستانہ اہداف کے لئے دوسرے انسانوں اور معاشروں سے جنگ یا صلح کرتے ہیں ،ایسے ماحول میں ان سازشوں اور غیروں کے پروگرام اور پلان سے غفلت ، خطرہ کا باعث ہے اور اگر ہم اس ہلاکت سے نجات پانا چاہتے ہیں تو ہمیں امیر المومنین علی کے طریقہ عمل کومشعل راہ بنانا چاہیئے آپ فرماتے ہیں :

فَما خَلقتُ لیشغلنِی أکل الطیّبات کَالبَهیمةِ المربُوطة همّهاعلفهَا ...وَ تلهو عمّا یراد بِها (۱)

''میں اس لئے خلق نہیں ہوا ہوں کہ مادی نعمتوں کی بہرہ مندی مجھ کو مشغول رکھےاس گھریلوجانور کی طرح، جس کا اہم سرمایہ اس کی گھاس ہے... اور جوکچھ اس کےلئے مرتب کیا گیا ہے اس سے غافل ہے ۔''

اسی بنا پرکبھی انسان خودبے توجہ ہوتا ہے اور کبھی یہ غفلت دوسروں کے پروگرام اوران کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔انسان کبھی خود کسی دوسرے کو اپنی جگہ قرار دیتا ہے اور خود سے بے توجہ اور غافل ہوجاتا ہے اور کبھی دوسرے افراد اس کی سرنوشت طے کرتے ہیں ، اور اس سے سوء استفادہ کی فکر

____________________

(۱)نہج البلاغہ ، کلام ۴۵۔


میں لگے رہتے ہیں اور اپنے اہداف کی مناسبت سے خودی کا رول ادا کرتے ہیں ۔ اجتماعی امور میں بھی جو معاشرہ خود سے غافل ہو جاتاہے، استعمار اس کے آداب و رسوم کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور اس کے لئے نمونہ عمل مہیا کرتا ہے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ جتنی مقدار میں فردی خود فراموشی ضرر پہونچاتی ہے اتنی ہی مقدار میں انسان کا اپنی تہذیبی اور معاشرتی روایات سے بے توجہ ہونابھی نقصان دہ ہے ان دو بڑے نقصان سے نجات پانے کے لئے اپنی فردی اور اجتماعی اہمیت و حقیقت کا پہچاننا اوراس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

( یَا أیُّهَا الَّذِینَ ئَ امَنُوا عَلَیکُم أَنفُسَکُم لا یَضُرُّکُم مَن ضَلَّ ذا اهتَدَیتُم )

اے ایمان والو! تم اپنی خبر لو جب تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ ہوا کرے تم کو نقصان نہیں پہونچا سکتا ہے۔(۱)

____________________

(۱)سورۂ مائدہ ، ۱۰۵۔


خلاصہ فصل

۱۔انسان کی خود فراموشی انسان شناسی کے مہم ترین مسائل میں سے ہے جو انسانی علوم کے مختلف موضوعات میں مورد توجہ رہی ہے ۔

۲۔انسانی اور اجتماعی علوم کے مباحث میں علمی اور فنی طریقہ سے خود فراموشی کی توضیح وتحلیل کو ۱۸ویں اور ۱۹ویں صدی عیسوی کے بعض مفکرین مخصوصاً ہگل ، فیور بیچ اور مارکس کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔

۳۔دین اور خود سے بے توجہی کے رابطہ میں ان تین مفکروں کا وجہ اشتراک یہ ہے کہ دین، بشر کی بے توجہی کی وجہ سے وجود میں آیا ہے ،یہ گفتگو خود فراموشی کے مسئلہ میں ادیان آسمانی مخصوصا اسلام اور قرآن کے تفکر کا نقطۂ مقابل ہے ۔

۴۔ قرآن کی روشنی میں انسان کی حقیقت کو اس کی دائمی روح ترتیب دیتی ہے جو خدا سے وجود میں آئی ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جائے گی ۔انسان کی حقیقی زندگی عالم آخرت میں ہے جسے اس دنیا میں اپنے ایمان اور سچی تلاش سے تعمیر کرتا ہے ۔ لہٰذا انسان کاخدا شناسی سے غفلت در حقیقت واقعیت سے غفلت ہے اور وہ انسان جو خدا کو فراموش کردے گویااس نے اپنے وجود کو فراموش کیا ہے اور اپنے آپ سے بے توجہ ہے ۔

۵۔قرآن کی نظر میں دوسرے کو اپنا نفس تسلیم کرتے ہوئے اسے اصل قرار دینا ، روحی تعادل کا درہم برہم ہونا ،بے ہدفی ، بے معیاری ، بیہودہ حالات کی تغییر ،پر قدرت اور آمادگی کا نہ ہونا ، مادہ اور مادیات کو اصل قرار دینا اور عقل و دل سے استفادہ نہ کرنا وغیرہ خود فراموشی کے اسباب ہیں ۔

۶۔ خود فراموش معاشرہ ؛ وہ معاشرہ ہے جو اپنے اجتماعی حقیقت کو فراموش کردے اور زندگی کے مختلف گوشوں میں اپنے سے پست معاشرہ کو یا اپنے غیر کو اپنے لئے نمونہ عمل بناتا ہے ۔

۷۔ خود فراموشی کے بحران سے بچنے کی راہ، اپنی حقیقت کو سمجھنا اور خود کو درک کرنا ہے ،اور خود فراموشی کا علاج ؛ ماضی کی تحلیل و تحقیق اور خود کو درک کرنے سے وابستہ ہے ۔


تمرین

۱۔وہ مختلف مفاہیم جو ہمارے دینی آداب و رسوم میں فردی اور اجتماعی خود فراموشی پر نظارت رکھتے ہیں ، کون کون سے ہیں اور ان کے درمیان کیا نسبت ہے ؟

۲۔بکواس، خرافات ، شکست خوردگی، دوسروں کے رنگ میں ڈھل جانا ، سیاسی بے توجہی ، بد نظمی غرب پرستی ، علمی نشر ، ٹکنالوجی ، اندھی تقلید وغیرہ کا فردی اور اجتماعی خود فراموشی سے کیا نسبت ہے ؟

۳۔فردی اور اجتماعی خود فراموشی سے بچنے کے لئے دین اور اس کی تعلیمات کا کیا کردار ہے ؟

۴۔چند ایسے دینی تعلیمات کا نام بتائیں جو خود فراموشی کے گرداب میں گرنے سے روکتی ہیں ؟

۵۔اعتبارات کے سلسلہ میں تعصب ، عقیدتی اصول سے نئے انداز میں دفاع ، خدا پر بھروسہ اور غیر خدا سے نہ ڈرنے وغیرہ کاخود فراموشی کے مسئلہ میں کیا کردار ہے اور کس طرح یہ کردار انجام پانا چاہیئے ؟

۶۔خود فراموشی کے مسئلہ میں خواص (برگزیدہ حضرات ) جوانوں ، یونیورسٹیوں اور مدارس کا کیارول ہے ؟

۷۔ ہمارے معاشرے میں اجتماعی و فردی خود فراموشی کو دور کرنے اور دفاع کے لئےآپ کا مور د نظر طریقۂ عمل کیا ہے ؟

۸۔ اگر یہ کہا جائے کہ : انسان مومن بھی خدا کو اپنے آپ پر حاکم قرار دیتا ہے لہٰذاخود فراموش ہے، اس نظریہ کے لئے آپ کی وضاحت کیا ہوگی ؟


مزید مطالعہ کے لئے

.آرن ریمن (۱۳۷۰) مراحل اساسی اندیشہ در جامعہ شناسی ؛ ترجمہ باقر پرہام ، تہران : انتشارات آموزش انقلاب اسلامی ۔

. ابراہیمی ، پریچہر( پاییز ۱۳۶۹) نگاہی بہ مفہوم از خود بیگانگی ؛ رشد آموزش علوم اجتماعی ، سال دوم ۔

. اقبال لاہوری ، محمد (۱۳۷۵) نوای شاعر فردا یا اسرار خودی و رموز بی خودی ؛ تہران : موسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی ۔

. پاپنہام ، فریتز( ۱۳۷۲ ) عصر جدید : بیگانگی انسان ؛ ترجمہ مجید صدری ، تہران : فرہنگ ، کتاب پانزدہم ، موسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی ۔

. جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۶۶)تفسیر موضوعی قرآن ؛ ج۵ تہران : رجاء

. دریابندی ، نجف ( ۱۳۶۹) درد بی خویشتنی ؛ تہران ، نشر پرواز ۔

. روزنٹال و ( ۱۳۷۸) الموسوعة الفلسفیة ؛ ترجمہ سمیر کرم ؛ بیروت : دار الطبیعہ ۔

. زیادہ معن ( ۱۹۸۶) الموسوعة الفسفیة العربیة ؛ بیروت : معھد الانماء العربی

.سوادگر ، محمد رضا ( ۱۳۵۷) انسان و از خود بیگانگی (بی نا )( بی جا)

. طہ فرج عبد القادر ( ۱۹۹۳) موسوعة علم النفس و التحلیل النفسی ؛ کویت : دار سعادة الصباح

. قائم مقامی ، عباس ؛ ( خرداد و تیر ۱۳۷۰ ) از خود آگاہی تا خدا آگاہی ؛ کیہان اندیشہ

.کوزر ، لویس (۱۳۶۸ ) زندگی و اندیشہ بزرگان جامعہ شناسی ؛ ترجمہ محسن ثلاثی ، تہران : انتشارات علمی

. مان ، ( ۱۴۱۴) موسوعة العلوم الاجتماعیہ ؛ ترجمہ عادل مختار الہواری و ...؛ مکتبة الفلاح ، الامارات العربیة المتحدة ۔

. محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۷) خود شناسی برای خود سازی ؛ قم : آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

. مطہری ، مرتضی ( ۱۳۵۴) سیری در نہج البلاغہ ؛ قم : دار التبلیغ اسلامی

. نقوی ، علی محمد ( ۱۳۶۱) جامعہ شناسی غرب گرایی ، تہران : امیر کبیر ۔


ملحقات

خود فراموشی کے موجدین کے نظریات خود فراموشی کے مسئلہ کو ایجاد کرنے والوں کے نظریات سے آشنائی کے لئے ہم ہگل ، فیور بیچ اور مارکس کے نظریات کو مختصراً بیان کریں گے ۔

فرڈریچ ویلیم ہگل(۱) ( ۱۸۳۱۔۱۷۷۰ )

ہگل معتقد ہے کہ یونانی شہر میں شہری (فرد )اور حکومت (معاشرہ ) کا جورابطہ ہے وہ افراد کی حقیقی شخصیت ہے، یہ وہ برابری اور مساوات کا رابطہ ہے جو خود فراموشی کے مسئلہ سے عاری ہے ۔ لیکن یونانی شہر و معاشرہ کے زوال کے ساتھ ہی اپنے اور دوسرے شہری رابطہ کا عقل سے رابطہ ختم ہوگیاہے، اس مساوات اور برابری کو دوبارہ متحقق کرنے کے لئے فردی و ذاتی آزادی سے چشم پوشی کرنے کے علاوہ کوئی راہ نہیں ہے اور یہ وہی خود فراموشی ہے ۔ہگل خود فراموشی کی حقیقت کو اس نکتہ میں پوشیدہ مانتا ہے کہ انسان احساس کرتا ہے کہ اس کی شخصی زندگی اس کی ذات سے خارج بھی ہے یعنی معاشرہ اور حکومت میں ہے۔وہ خود فراموشی کے خاتمہ کو زمانہ روشن فکری میں دیکھتا ہے کہ جس میں خود فراموشی کو تقویت دینے والے حقائق کی کمی ہو جاتی ہے ،خارجی انگیزہ ایک حقیقی چیز ہے جو سو فیصدی مادی، محسوس اور ملموس ہے ۔ دینی مراکز اور حکومت خوف و اضطراب پیدا کرنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ مادی دنیا کا بعض حصہ ہیں

____________________

(۱) Georg Wilhilm Friedrich


جس میں تحلیل اور علمی تحقیقہوتی ہے ۔ اس طرح وجود مطلق (خدا) صرف ایک بے فائدہ مفہوم ہوگا اس لئے کہ مادی امور میں علمی تحقیق کے باوجود کوئی وصف اس (خدا)کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی کشف کیا جاسکتا ہے اور خدائے آفرینش ، خدائے پدر ، اورخدائے فعال کا مرحلہ یہیں پرختم ہوجاتا ہے اور ایسی عظیم موجود میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کو کسی وصف سے متصف ہی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح انسان کی ذات ایک اہم حقیقت اور امور کا مرکز ہو جائے گی ۔ ہگل معتقد تھا کہ بادشاہی اور کلیسا ( حکومت و دین ) کو اپنے صحیح مقام پر لانے کے لئے اصلاحی افکار نے انسان کو حاکم بنایا کہ جس نے صحیح راستہ انتخاب کیاہے۔ لیکن انسان کی حقیقت سے برتر نفس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی اور خطا میں گرفتار ہوگئے ہیں ۔ لیکن اس بات کا یقین ہے کہ خود فراموشی اس وقت پوری طرح سے ختم ہوگی جب قدیم آداب و اخلاق نابود ہو جائیں گے ۔ ایسی انسانی شخصیت کو ہم نہ مانیں جو مسیحیت میں بیان ہوئی ہیں بلکہ ایسے سرمایہ داری والے معاشرہ کو ایجاد کریں جو انسانی حقوق کاعلمبردارہیں ۔(۱)

فیور بیچ(۲) (۱۸۳۲۔۱۷۷۵)

فیور بیچ معتقد تھا کہ انسان ،حق ،محبت اور خیر چاہتا ہے چونکہ وہ اس کو حاصل نہیں کرسکتا لہٰذا اس کی نسبت ایک بلند و برتر ذات کی طرف دیتا ہے کہ جس کو انسان خدا کہتا ہے،اوراس میں ان صفات کو مجسم کرتا ہے اور اس طرح خود فراموشی سے دوچار ہو جاتا ہے، اسی بنا پر دین انسان کی اجتماعی ، معنوی ، مادی

____________________

(۱)میدان اقتصاد میں بھی ہگل نے خود فراموشی کو مد نظر رکھاوہ معتقد تھا کہ عمل کی تقسیم اور اس کااختلاف ،اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے اوراس چیز کا وہ محتاج ہوتا ہے جس کو وہ ایجاد کرتا ہے اور اپنے غیر پر اعتماد کا سبب (غیروں کی صنعت و ٹکنیک)اور اس پر مسلط اور انسان سے بہترایسی قوت کے ایجاد کا سبب ہے جو اس کے حیز امکان سے خارج ہے اور اس طرح غیراس پر مسلط ہو جاتا ہے ۔مارکس نے اس تحلیل کو ہگل سے لیا ہے اور اس میں کسی چیز کا اضافہ کئے بغیر اپنی طولانی گفتگو سے واضح کیا ہے اور اس تحلیل سے فقط بعض اقتصادی نتائج کو اخذ کیا ہے .ملاحظہ ہو: زیاد معن ؛ الموسوعةالفلسفیة العربیة۔

(۲) Anselm Von FeuerBach


ترقی کی راہ میں حائل سمجھا جاتا ہے ،وہ معتقد ہے کہ انسان اپنی ترقی کی راہ میں دین اور خود فراموشی کی تعبیر سے بچنے کے لئے تین مرحلوں کو طے کرتا ہے یا طے کرنا چاہیئے ۔پہلے مرحلہ میں : خدا اور انسان دین کیحوالے سے باہم ملے ہوئے ہیں ۔ دوسرے مرحلہ میں : انسان خدا سے جدا ہونا جاتا ہے تاکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے اور تیسرے مرحلہ میں : کہ جس کے حصول کے لئے فیور بیچ سبھی کو دعوت دیتا ہے وہ انسانی علم کا مرحلہ ہے جس میں انسان اپنی حقیقت کو پا لیتا ہے اور اپنی ذات کا مالک ہو جاتا ہے ایک اعتبار سے انسان ، انسان کا خداہوتا ہے اور خدا و انسان کے رابطہ کے بجائے ایک اعتبار سے انسان کا انسان سے رابطہ بیان ہوتا ہے ۔(۱)

کارل مارکس(۲) (۱۸۱۸۔ ۳ ۱۸۸ )

کارل مارکس جو کسی بھی فعالیت کے لئے بلند و بالا مقام کا قائل ہے وہ کہتا ہے کہ انسان خدائی طریقہ سے یا عقل کے ذریعہ اپنی حقیقت کو نہیں پاتا ہے بلکہ نایاب فعل کے ذریعہ دنیا سے اتحاد برقرار رکھتے ہوئے ، کردار ساز افعال نیزہماہنگی و حقیقی اجتماعی روابط سے اپنی ذات کو درک کرتاہے، لیکن سرمایہ داری کے نظام میں مزدوروں کا کام ہر طرح کے انسانی احترام سے خالی ہے ۔ مزدور اپنے عمل کو بیچ کر فائدہ حاصل کرنے والے اسباب میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ نہ تو وہ اپنے فعل میں خود کو پاتا ہے اور نہ ہی دوسرے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس فعل کا موجد ہے ۔ اس طرح اس کے کام سے اس کی زندگی کے افعال اور اس کی انسانی حقیقت جدا ہے غرض یہ کہ خود فراموش ہو جاتا ہے ۔

____________________

(۱)فیوربیچ نے انسان کا ہدف معرفت، محبت اور ارادہ بیان کیا ہے اور بعض تحریف شدہ تعلیمات ِدین سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تحلیل میں کہتا ہے کہ کس طرح دین، انسان کے ارادہ ، محبت اور عقل کو صحیح راہ سے منحرف اور فاسد کردیتا ہے اور اس کو انسان کے مادی منافع کی تامین میں بے اثر بنادیتا ہے ،مارکس کے نظریہ میں دینی تعلیمات کے حوالے سے تحریف شدہ مطالب سے استفادہ کاایک اہم کردار ہے ۔

Karl marx.(۲ )


''فیور بیچ'' کی طرح مارکس کا یہ نظریہ ہے کہ انسان کی ساری ترقی و پیشرفت کی راہ میں دین بھی حائل ہے نیز انسان کی ناکامی کے علاوہ اس کی بے توجہی کا سبب بھی ہے، دین وہ نشہ ہے جو لوگوں کو عالم آخرت کے وعدوں سے منقلب اور ظالم حکومتوں کی نافرمانی سے روکتا ہے اور انسان کی حقیقی ذات کے بجائے ایک خیالی انسان کو پیش کرتا ہے اوراس طرح خود فراموش بنا دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ یہ انسان پرمنحصر ہے کہ دین کو نابود کرکے خود فراموشی سے نجات اور حقیقی سعادت کے متحقق ہونے کے بنیادی شرط کو فراہم کرے!(۱)

مذکورہ نظریوں کی تحقیق و تحلیل کے لئے جدا گانہ فرصت و محل کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نظریہ اپنے اصولوں کے لحاظ سے اور مذکورہ مسائل کی جو تحلیل پیش کی گئی ہے اس کے اعتبار سے اور ان نظریات میں پوشیدہ انسان شناسی کا تفکربھی اپنے اسباب و نتائج کے اعتبار سے سخت قابل تنقید ہے لیکن اس تھوڑی سی فرصت میں ان گوشوں کی تحقیق ممکن نہیں ہے البتہ یہاں صرف ایک نکتہ کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ یہ تینوں نظریے اور اس سے مشابہ نظریہ ایک طرف تو انسان کو فقط اس مادی دنیا کی زندگی میں محدود کرتے ہیں اور دوسری طرف خدا کو دانستہ یا نا دانستہ بشر کے ذہن کی پیداوار سمجھتے ہیں جب کہ یہ دونوں مسئلے کسی بھی استدلال و برہان سے خالی ہیں اور ان دونوں بنیادی مسائل کیختم ہونے کے بعد ان پر مبنی تحلیلیں بھی ختم ہو جاتی ہیں ۔

____________________

(۱)ملاحظہ ہو:

.بدوی ، عبد الرحمٰن ، موسوعة الفلسفة

.آرن ، ریمن ؛ مراحل اساسی اندیشہ در جامعہ شناسی ،ترجمہ باقر پرہام ، ج۱ ص ۱۵۱،۲۳۲۔

.زیادہ معن ،موسوعة الفلسفة العربیة

.ان ، مائکل ، موسوعة العلوم الاجتماعیة.

.کوزر ، لوئیس ؛ زندگی و اندیشہ بزرگان جامعہ شناسی ؛ ترجمہ محسن ٹلاثی ؛ ص ۷۵،۱۳۱۔


چوتھی فصل :

انسان کی خلقت

اس فصل کے مطالعہ کے بعدآپ کی معلومات :

۱ ۔ قرآن مجید کی تین آیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے خلقت انسان کی وضاحت کریں ؟

۲۔انسان کے دو بعدی ہونے پر دلیلیں ذکر کریں ؟

۳۔روح و جسم کے درمیان اقسام رابطہ کے اسماء ذکر کرتے ہوئے ہر ایک کے لئے ایک

مثال پیش کریں ؟

۴۔وہ آیات جو روح کے وجود و استقلال پر دلالت کرتی ہیں بیان کریں ؟

۵۔انسان کی واقعی حقیقت کو ( جس سے انسانیت وابستہ ہے ) واضح کریں ؟


ہم میں سے کوئی بھی یہ شک نہیں کرتا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں نہ تھا اور اس کے بعد وجود میں آیا جس طرح انسانوں کی خلقت کا سلسلہزاد و ولدکے ذریعہ ہم پر آشکار ہے اور دوسری طرف تھوڑے سے تامل و تفکر سے معلوم ہو جاتاہے کہ اس جسم و جسمانیات کے ماسواء کچھ حالات اور کیفیات مثلاًغور و فکر کرنا ، حفظ کرنا ، یاد کرنا وغیرہ جو ہمارے اندر پیدا ہوتی ہیں پوری طرح جسمانی اعضاء سے متفاوت ہیں، یہ عمومی و مشترک معلومات انسان کے لئے متعدد و متنوع سوالات فراہم کرتی ہیں جس میں سے بعض سوالات مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔موجودہ انسانوں کی نسل کا نکتہ آخر کہاں ہے اور سب سے پہلا انسان کس طرح وجود میں آیا ہے؟

۲۔ہم میں سے ہر ایک کی آفرینشکے مراحل کس طرح تھے ؟

۳۔ہمارے مادی حصہ کے علاوہ جو کہ سبھی دیکھ رہے ہیں کیا کوئی دوسرا حصہ بنام روح بھی موجود ہے ؟

۴۔اگر انسانوں میں کئی جہتیں ہیں تو انسان کی واقعی حقیقت کو ان میں سے کون سی جہت ترتیب دیتی ہے ؟

اس فصل کے مطالب اور تحلیلیں مذکورہ سوالات کے جوابات کی ذمہ دار ہیں:

انسان ،دوبعدی مخلوق

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جاندار انسان بے جان موجود سے متفاوت ہوتا ہے اس طرح کہ زندہ موجود میں کوئی نہ کوئی چیز بے جان موجود سے زیادہ ہے ۔ آدمی جب مرجاتا ہے تو مرگ کے بعد کا وہ لمحہ موت سے پہلے والے لمحہ سے مختلف ہو تا ہے، اس مطلب کو روح کے انکار کرنے والے بھی قبول کرتے ہیں ،لیکن اس کی بھی مادی لحاظ سے توجیہ کرتے ہیں۔ہم آئندہ بحث میں اس مسئلہ کی طرف اشارہ کریں گے کہ روح اور روحی چیزیں مادی توجیہ قبول نہیں کرتیں ہیں ۔ بہر حال روح کا انکار کرنے والوں کے مقابلہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ گذشتہ زمانہ سے ادیان الٰہی کی تعلیمات اور دانشوروں کے آثار میں انسان کا دوپہلو ہونا اور اس کا روح و بدن سے مرکب ہونا نیز روح نامی عنصر کا اعتقاد جو کہ بدن سے جداا ورایک مستقل حیثیت کا حامل ہے بیان کئے گئے ہیں۔ اس عنصر کے اثبات میں بہت سی عقلی و نقلی دلیلیں پیش کی گئی ہیں ،قرآن مجید بھی وجود انسانی کے دو پہلو ہونے کی تائید کرتا ہے اور جسمانی جہت کے علاوہ جس کے بارے میں گذشتہ آیات میں گفتگو ہو چکی ہے، بہت سی آیات میں انسان کے لئے نفس و روح کا پہلومورد توجہ واقع ہوا ہے ۔

اس فصل میں سب سے پہلے جسمانی پہلو اور اس کے بعد روحانی پہلو کی تحقیق کریں گے ۔


اولین انسان کی خلقت

ان آیات کی تحلیل جو انسان کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ان نتائج کو ہمارے اختیار میں قرار دیتی ہیں کہ موجودہ انسانوں کی نسل، حضرت آدم نامی ذات سے شروع ہوئی ہے ۔ حضرت آدم کی خلقت خصوصاً خاک سے ہوئی ہے۔ اور روئے زمین پر انسانوں کی خلقت کو بیان کرنے والی آیات کے درمیان مندرجہ ذیل آیات بہت ہی واضح اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ موجودہ نسل حضرت آدم اور ان کی زوجہ سے شروع ہوئی ہے ۔

( یَا أیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُم مِن نَفسٍ وَاحِدَةٍ وَ خَلَقَ مِنهَا زَوجَهَا وَ بَثَّ مِنهُمَا رِجَالاً کَثِیراً وَ نِسَائً ) (۱)

اے لوگو! اپنے پالنے والے سے ڈرو (وہ پروردگار)جس نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کی ہمسر (بیوی) کو پیدا کیا اور انھیں دو سے بہت سے مرد و عورت (زمین میں )پھیل گئے۔

اس آیت میں ایک ہی انسان سے سبھی لوگوں کی خلقت کو بہت ہی صراحت سے بیان کیاگیا ہے ۔(۲)

( وَ بَدَأَ خَلقَ الِنسَانِ مِن طِینٍ ثُمَّ جَعَلَ نَسلَهُ مِن سُلالَةٍ مِن مَّائٍ مَهِینٍ ) اور انسان کی ابتدائی خلقت مٹی سے کی پھر اس کی نسل گندے پانی سے بنائی۔(۳)

اس آیت میں بھی انسان کا نکتہ آغاز مٹی ہے اور اس کی نسل کو مٹی سے خلق ہوئے انسان کے نجس قطرہ سے بتایا ہے یہ آیت ان آیات کے ہمراہ جو حضرت آدم کی خلقت کو (سب سے پہلے انسان کے عنوان سے) خاک و مٹی سے بیان کرتی ہے موجودہ نسل کے ایک فرد ( حضرت آدم ) تک منتہی ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔

( یَا بَنِی آدَمَ لا یَفتِنَنَّکُمُ الشَّیطَانُ کَمَا أَخرَجَ أَبوَیکُم مِنَ الجَنَّةِ ) (۴)

اے اولاد آدم! کہیں تمہیں شیطان بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں،

____________________

(۱)سورۂ نساء ۱ (۲)یہی مفاد آیت دوسری آیات میں بھی مذکور ہے جیسے اعراف ۱۸۹۔ انعام ، ۹۸۔زمر،۶

(۳)سورۂ سجدہ ۷ و ۸۔ (۴)سورۂ اعراف ۲۷


باپ کو بہشت سے نکلوا دیا۔(۱)

یہ آیت بھی صراحت کے ساتھ حضرت آدم و حوا علیھما السلام کو نسل انسانی کا ماں ، باپ بتاتی ہے ۔خاک سے حضرت آدم کی استثنائی خلقت بھی قرآن کی بعض آیات میں ذکر ہے جن میں سے تین موارد کی طرف نمونہ کے طور پر اشارہ کیا جارہاہے ۔

ا۔( إنَّ مَثَلَ عِیسَیٰ عِندَ اللّٰهِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ کُن فَیَکُونُ )

خدا کے نزدیک جیسے حضرت عیسی کاواقعہ ہے(حیرت انگیز خلقت) ویسے ہی آدم کاواقعہ بھی ہے ان کو مٹی سے پیدا کیا پھر کہا ہوجا پس وہ ہوگئے ۔(۲)

حدیث ، تفسیر اور تاریخی منابع میں آیا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں نصاری نجران نے اپنے نمائندوں کو مدینہ بھیجا تاکہ پیغمبر اسلام سے گفتگو اور مناظرہ کریں ،وہ لوگ مدینہ کی مسجد میں آئے پہلے تو اپنی عبادت بجا لائے اور اس کے بعد پیغمبر سے بحث کرنے لگے :

۔جناب موسی کے والد کون تھے ؟

۔ عمران

آپ کے والد کون ہیں ؟

۔ عبد اللہ

۔ جناب یوسف کے والد کون تھے ؟

۔ یعقوب

۔ جناب عیسی کے والد کون تھے ؟

____________________

(۱)بعض لوگوںنے آیت''ذر''نیز ان تمام آیات سے جس میں انسانوں کو ''یابنی آدم ''کی عبارت سے خطاب کیا گیا ہے اس سے انسانی نسل کا نکتہ آغاز حضرت آدم کا ہونا استفادہ کیا ہے۔

(۲)سورۂ آل عمران ۵۹۔


پیغمبر تھوڑا ٹھہرے ، اس وقت یہ آیت( إنَّ عِیسَیٰ عِندَ اللّٰهِ کَمَثَلِ آدَمَ ) نازل ہوئی۔(۱)

مسیحی کہتے تھے چونکہ عیسی کا کوئی انسانی باپ نہیں ہے لہٰذا ان کا باپ خدا ہے ،آیت اس شبہ کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ کیا تم معتقد نہیں ہو کہ آدم بغیر باپ کے تھے ؟ عیسی بھی انہیں کی طرح ہیں ،جس طرح آدم کا کوئی باپ نہیں تھا اور تم قبول بھی کرتے ہو کہ وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں اسی طرح عیسی بھی بغیر باپ کے ہیں اور حکم خدا سے پیدا ہوئے ہیں ۔

مذکورہ نکات پر توجہ کرتے ہوئے اگر ہم فرض کریں کہ حضرت آدم ، انسان و خاک کے ما بین ایک درمیانی نسل سے وجود میں آئے مثال کے طور پر ایسے انسانوں سے جو بے عقل تھے تو یہ استدلال تام نہیں ہوسکتا ہے اس لئے کہ نصاری نجران کہہ سکتے تھے کہ حضرت آدم ایک اعتبار سے نطفہ سے وجود میں آئے جب کہ عیسی اس طرح وجود میں نہیں آئے ،اگر اس استدلال کو تام سمجھیں جیسا کہ ہے، تب ہم یہ قبول کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ حضرت آدم کسی دوسرے موجود کی نسل سے وجود میں نہیں آئے ہیں ۔

۲۔( وَ بَدَأَ خَلقَ النسَانِ مِن طِینٍ ٭ ثُمَّ جَعَلَ نَسلَهُ مِن سُلالَةٍ مِن مَائٍ مَهِینٍ )

ان دو آیتوں میں سے پہلی آیت حضرت آدم کی خاک سے خلقت کو بیان کرتی ہے اور دوسری آیت ان کی نسل کی خلقت کو نجس پانی کے ذریعہ بیان کرتی ہے ،حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی نسل کی خلقت کا جدا ہونا اور ان کی نسل کا آب نجس کے ذریعہ خلق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جناب آدم کی خلقت استثنائی تھی ورنہ تفکیک و جدائی بے فائدہ ہوگی ۔(۲)

____________________

(۱)مجلسی ، محمد باقر ؛ بحار الانوار ، ج۲۱ص ۳۴۴۔ (۲) منطق کی کتابوں میں کہا گیا ہے کہ تقسیم میں ہمیشہ فائدہ کا ہونا ضروری ہے یعنی اقسام کاخصوصیات اور احکام میں ایک دوسرے سے متفاوت ہونا چاہیئے ورنہ تقسیم بے فائدہ ہوگی ، آیہ شریفہ میں بھی تمام انسانوں کوسب سے پہلے انسان اور اس کی نسل میں تقسیم کیا ہے ، لہٰذا اگر ان دو قسموں کا حکم خلقت کے اعتبار سے ایک ہی ہے تو تقسیم بے فائدہ اور غلط ہوگی ۔


۳۔بہت سی آیات جو خاک سے حضرت آدم کی خلقت کا واقعہ اور ان پر گذشتہ مراحل؛یعنی روح پھونکنا ، خدا کے حکم سے فرشتوں کا سجدہ کرنا اور شیطان کا سجدہ سے انکار کو بیان کرتی ہیں جیسے :

( وَإذ قَالَ رَبُّکَ لِلمَلائِكَةِ إنِّی خَالِق بَشَراً مِن صَلصَالٍ مِن حَمَأٍ مَّسنُونٍ ٭ فَإِذَا سَوَّیتُهُ وَ نَفَختُ فِیهِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ )

اور (یاد کروکہ )جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک آدمی کوخمیر دی ہوئی مٹی سے جو سوکھ کر کھن کھن بولنے لگے پیدا کرنے والا ہوں تو جس وقت میں اس کو ہر طرح سے درست کرچلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو سب کے سب اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا۔(۱)

یہ بات واضح ہے کہ تمام انسان ان مراحل کو طے کرتے ہوئے جو آیات میں مذکور ہیں (خاک ، بدبودار مٹی ، چپکنے والی مٹی ، ٹھکرے کی طرح خشک مٹی ) صرف خشک مٹی سیخلق نہیں ہوئے ہیں اور فرشتوں نے ان پر سجدہ نہیں کیا ہے بلکہ مذکورہ امور فقط پہلے انسان سے مخصوص ہے یعنی حضرت آدم جو استثنائی طور پر خاک ( مذکورہ مراحل ) سے خلق ہوئے ہیں ۔(۲)

قرآن کے بیانات اور ڈارون کا نظریہ

نظریہ تکامل اور اس کے ترکیبی عناصر کے ضمن میں بہت پہلے یہ نظریہ بعض دوسرے متفکرین کی طرف سے بیان ہوچکا تھا لیکن ۱۸۵۹ میں ڈاروین نے ایک عام نظریہ کے عنوان سے اسے پیش کیا

____________________

(۱)سورۂ حجر، ۲۸و ۲۹ ۔

(۲)اس نکتہ کا ذکر کرنا ضروری ہے اس لئے کہ حضرت آدم کی خلقت کو بیان کرنے والی آیات بہت زیادہ ہیں اور چونکہ ان کی خلقت کے بہت سے مراحل تھے ، لہٰذا بعض آیات میں جیسے آل عمران کی ۵۹ویں آیت اس کی خلقت کے ابتدائی مرحلہ کو خاک ،اور دوسری آیات جیسے سورۂ انعام کی دوسری آیت ؛ ۱۱صافات؛ ۲۶حجراور ۱۴الرحمن کی آیتوں میں ایک ایک یا چند مرحلوں کے نام بتائے گئے ہیں ، جیسے کہ سورۂ سجدہ کی ۷و ۸ ویں آیت کی طرح آیات میں خاک سے حضرت آدم کی خلقت بیان کرتے ہوئے آدم کی نسل اور ذریت کی خلقت کو بھی بیان کیا گیاہے ۔


چارلزڈارون(۱) نے انسان کی خلقت کے سلسلہ میں اپنے نظریہ کویوں پیش کیاہے کہ انسان اپنے سے پست حیوانوں سے ترقی کرکے موجودہ صورت میں خلق ہوا ہے اور انسان کی خلقت کے سلسلہ میں اس کے نظریہ نے مسیحیت اور جدید علم کے نظریات کے درمیان بہت ہی پیچیدہ مباحث کو جنم دیا اور بعض نے اس غلط نظریہ کی بناپر علم اور دین کے درمیان اختلاف سمجھا ہے۔(۲) ڈارون کا دعویٰ تھا کہ مختلف نباتات و حیوانات کے اقسام اتفاقی اور دھیرے دھیرے تبدیلی کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں جو کہ ایک نوع کے بعض افراد میں فطری عوامل کی بنیاد پرپایاجاتا ہے، جو تبدیلیاں ان افراد میں پیدا ہوئی ہیں وہ وراثت کے ذریعہ بعد والی نسل میں منتقل ہوگئی ہیں اور بہتر وجود ، فطری انتخاب اور بقا کے تنازع میں محیط کے مطابق حالات ایک جدید نوعیت کی خلقت کے اسباب مہیا کرتے ہیں ۔ وہ اسی نظریہ کی بنیاد پر معتقد تھا کہ انسان کی خلقت بھی تمام ا قسام کے حیوانات کی طرح سب سے پست حیوان سے وجود میں آئی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انسان گذشتہ حیوانوں کے اقسام میں سب سے بہتر ہے ۔

ڈارون کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی یہ نظریہ سخت متنازع اور تنقید کا شکار رہا اور ''اڈوار مک کریڈی ''(۳) اور'' ریون ''(۴) جیسے افراد نے اس نظریہ کو بالکل غلط مانا ہے ۔(۵) اور ''الفریڈ رسل ویلیس ''(۶) جیسے بعض افراد نے اس نظریہ کو خصوصاً انسان کی خلقت میں نا درست سمجھا

____________________

(۱) Charles Robert Darwin

(۳) E.Mc Crady

(۴) Raven

(۶) Alfred Russel Wallace

(۲)ڈارون نے خود صراحتاً اعلان کیاہے کہ ''میں اپنے فکری تحولات میں وجود خدا کاانکار نہ کرسکا''،زندگی و نامہ ای چارلزڈارون؛ ج۱ ص ۳۵۴( پیرس ، ۱۸۸۸) بدوی عبد الرحمن سے نقل کرتے ہوئے ؛ موسوعة الفلسفة. ڈارون نے فطری قوانین کو ایسے اسباب و علل اور ثانوی ضرورت کے عنوان سے گفتگو کی ہے کہ جس کے ذریعہ خداوند عالم تخلیق کرتا ہے ۔گرچہ انسان کے ذہن نے اس باعظمت استنباط کو مشکو ک کردیا ہے ۔( ایان باربور ، علم و دین ؛ ص ۱۱۲)۔

(۵) ایان باربور ، علم و دین ؛ ص۴۱۸ و ۴۲۲۔


ہے(۱) یہ نظریہ ایک خاص جرح و تعدیل کے باوجود بھی علمی اعتبار سے نیز صفات شناسی اور ژنٹیک کے لحاظ سے ایک ایسے نظریہ میں تبدیل نہیں ہوسکا کہ جس کی بے چوں چرا تثبیت ہو جائے اور متفکرین نے تصریح کی ہے کہ آثار اورموجودات شناسی کے ذریعہ انسان کے حسب و نسب کی دریافت کسی بھی طریقہ سے صحیح وواضح نہیں ہے اور انسانوں جیسے ڈھانچوں کے نمونے اور ایک دوسرے سے ان کی وابستگی، نظریہ تکامل کے طرفداروں کے مورد استناد ہونے کے با وجود ان کے نظریات میں قابل توجہ اختلاف ہے ۔

''ایان باربور'' کی تعبیر یہ ہے کہ ایک نسل پہلے یہ رسم تھی کہ وہ تنہا نکتہ جو جدید انسانوں کے نسب کو گذشتہ بندروں سے ملاتا تھا ،احتمال قوی یہ ہے کہ انسان اور بندر کی شباہت ایک دوسرے سے ان کے اشتقاق پر دلالت کرتی ہو اور ہو سکتا ہے کہ نئا ندرتال انسان سے ایسی نسل کی حکایت ہو جو اپنے ابتدائی دور میں بغیر نسل کے رہ گئی ہونیزمنقطع ہو گئی ہو ۔(۲) اوصاف شناسی کے اعتبا رسے معمولی تبدیلیوں میں بھی اختلاف نظر موجود ہے بعض دانشمندوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اگرچہ معمولی تحرک قابل تکرارہے لیکن وہ وسیع پیمانہ پر تحرک و فعالیت جو نظریہ تکامل کے لئے ضروری

____________________

(۱)گذشتہ حوالہ: ص ۱۱۱۔۱۱۴،اگرچہ نظریہ ڈارویس پر وارد تنقیدوں کے مقابلہ میں اس کے مدافعین کی طرف سے متعدد جوابات دیئے گئے ہیں لیکن آج بھی بعض تنقیدیں قانع جوابات کی محتاج ہیں مثال کے طور پر'' والٹر'' جو ''ڈارون'' سے بالکل جدا، فطری طور پر سب سے پہلے انتخاب کو نظام سمجھتا ہے اس کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اور بندر کی عقل کے درمیان موجودہ فاصلہ کو جیسا کہ ڈارون نے اس سے پہلے ادعا کیا تھا ، بدوی قبائل پر حمل نہیں کرسکتے ہیں اس لئے کہ ان کی دماغی قوت ترقی یافتہ متمدن قوموں کی دماغی قوت کے مطابق تھی لہٰذا فطری انتخاب انسان کی بہترین دماغی توانائی کی توجیہ نہیں کر سکتا ہے ۔ اس کا عقیدہ ہے کہ بدوی قوموں کی عقلی توانائیاں ان کی سادہ زندگی کی ضرورتوں سے زیادہ تھی ، لہٰذا ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اس سے چھوٹا مغز بھی کافی تھا ۔ فطری انتخاب کے اعتبار سے بندر وں سے زیادہ انسان کو دماغ دینا چاہیئے جب کہ ایسے انسانوں کا دماغ ایک فلسفی کے دماغ سے چھوٹا ہے ۔ ( ایان باربور ؛ علم و دین ؛ ص ۱۴۴و ۱۱۵)

(۲)ایان باربور؛ گذشتہ حوالہ : ص ۴۰۲و ۴۰۳۔


ہیں بہت کم ہے۔ اور مردم شماری کے قوانین کے اعتبار سے قابل پیش بینی نہیں ہے، اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہتجربہ گاہوں کے مطالعات ایک طرح کی اندرونی تبدیلیوں کی تائید کریں، لیکن تدریجی تبدیلیوں کے زیر اثر جدید اقسام کے وسیع حلقوںکی تشکیل کے اثبات سے ناتواں ہیں،اور ایک متحرک فرد کا کسی اجتماعی حلقہ اور بڑے گروہ میں تبدیل ہو جانا، ایک سوالیہ نشان ہے اور اس وسیع افعال پر کسی بھی جہت سے واضح دلائل موجود نہیں ہیں ۔(۱) دوسری مشکل صفات کا میراثی ہونا ہے جب کہ ان کا اثبات معلومات و اطلاعات کے فراہم ہونے سے وابستہ ہے جس کو آئندہ محققین بھی حاصل نہیں کرسکیں گے یا موجودہ معلومات واطلاعات کی وضاحتوں اور تفاسیر سے مربوط ہے جس کو اکثر ماہرین موجودات شناسی نے قبول نہیں کیا ہے ۔(۲) بہر حال ان نظریات کی تفصیلی تحقیق و تنقید اہم نہ ہو نے کی وجہ سے ہم متعرض نہیں ہوںگے، مختصر یہ کہ انسان کے بارے میں ڈارون کا نظریہ تنقیدوں ، مناقشوں اور اس میں تناقض کے علاوہ صرف ایک ظنی اور تھیوری سے زیادہ ،کچھ نہیں ہے(۳) مزید یہ کہ اگر اس نظریہ کو قبول بھی کرلیا جائے تو کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس میں خدا کے ارادہ کے باوجود کسی ایک شی ٔمیں بھی فطری حرکت غیر عادی طریقہ سے نقض نہ ہوئی ہو، اور حضرت آدم فقط خاک سے خلق نہ ہوئے ہوں ،اس کے باوجود یہ نظریہ ڈاروین کی تھیوری کے مطابق فقط انسانوں کی خلقت کے امکان کو ثابت کرتا ہے، اس راہ سے موجودہ نسل کی خلقت کی ضرورت و التزام کو ثابت نہیں کرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ دوسرے انسان اس راہ سے وجود میں آئے ہوں اور نسل منقطع ہوگئی ہو ، لیکن موجودہ نسل جس طرح قرآن بیان کرتا ہے اسی طرح روئے زمین پر خلق ہوئی ہے ،قابل ذکر ہے کہ قرآن

____________________

(۱)گذشتہ حوالہ : ص ۴۰۳۔

(۲)گذشتہ حوالہ : ص ۴۰۴۔

(۳)کارل پاپر( Karl Raimond Popper ) '' جستجوی ناتمام '' کتاب میں لکھتا ہے : نئے نظریہ تکامل کے ماننے والوں نے زندگی کے دوام کو انطباق یا ماحول کی سازش کا نتیجہ بتایا ہے ، ایسے ضعیف نظریہ کے تجربہ کا امکان تقریباً صفر ہے ( ص ۲۱۱)


ایسے انسانوں کے خلق ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جن کی موجودہ نسل ان تک نہیں پہونچتی ہے نیز ان کی خلقت کی کیفیت کے بارے میں ،خاموش ہے ۔

جو کچھ بیان ہوچکا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے انسان کی خلقت سے مربوط آیات کے مفاہیم، انسان کے سلسلہ میں ڈاروین کی تھیوری کے مطابق نہیں ہے لہٰذا جن افراد نے قرآن کریم کے بیانات سے دفاع کے لئے مذکورہ آیات کی توجیہ کی ہے انہیں توجہ رکھنا چاہیئے کہ ایسی توجیہیں صحیح نہیں ہیں بلکہ'' تفسیر بالرای''ہے، اس لئے کہ ایسے نظریات جو ضروری اور صحیح دلیلوں نیزتائیدوں سے خالی ہوں وہ مذکورہ آیات کی توجیہ پر دلیل نہیں بن سکتے ہیں ،چہ جائے کہ توجیہ اور ظاہر آیات کے مفہوم سے استفادہ نہ کرنا فقط ایک قطعی اور مذکورہ آیات کے مخالف فلسفی یا غیر قابل تردید علمی نظریہ کی صورت میں ممکن ہے جب کہ ڈاروین کا نظریہ ان امتیازات سے خالی ہے ۔

تمام انسانوں کی تخلیق

نسل انسان کی آفرینش زاد و ولد کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ اس سلسلہ میں گذشتہ ادوار سے آج تک پانچ نظریات بیان ہوئے ہیں ۔

ارسطونے بچہ کی خلقت کو خون حیض کے ذریعہ تسلیم کیا ہے اور اس سے ماسبق فلاسفہ نے مرد کی منی سے متولد جنین کی رشد کے لئے شکم مادر کوفقط مزرعہ سمجھا ہے ۔

تیسرا نظریہ جو ۱۸ویں صدی عیسوی کے نصف تک رائج تھا ،خود بخود خلقت کا نظریہ تھا(۱) جس کے ویلیم حاروے جیسے ماہرینِ وظائف اعضائ، مدافع تھے ۔(۲) چوتھا نظریہ جو ۱۷ویں اور ۱۸ویں صدی میں بیان ہوا وہ نظریہ تکامل تھا(۳) جس کے لائب نیٹز ، ہالر اور بونہ جیسے افراد سر سخت طرفدار تھے ،یہ لوگ معتقد تھے کہ انسان کی اولاد بہت ہی چھوٹی موجود کی صورت میں انڈے یا

____________________

(۱) Spontaneous Generation. (۲)William Harvey. (۳)Evolution


نطفہ میں موجود رہتی ہے، ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ان چھوٹے اور متداخل موجودات کی کروروں تعداد اولین مرد یا عورت کے تناسلی اعضاء میں موجود تھی اور جب ان میں سے سب سے باریک اور آخری حصہ خارج ہو جائے گا تب نسل بشر ختم ہوجائے گی، اس نظریہ کے مطابق تناسل و تولد میں نئے اور جدید موجود کی خلقت و پیدائش بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ ایسے موجود کے لئے رشد و نمو،آغاز وجود ہی سے موجود ہے ۔

پانچواں نظریہ ۱۷ویں صدی میں ذرہ بین کے اختراع اور انسانی حیات شناسی کی آزمائشوں اور تحقیقوں کے انجام کے بعد خصوصاً ۱۸ ویں صدی میں نطفہ شناسی کے عنوان سے بیان ہوا جس کی وجہ سے مفکرین اس نکتہ پہ پہونچے ہیں کہ نطفہ کی خلقت میں مرد و عورت دونوں کا کردار ہے اور نطفہ کامل طور پر مرد کی منی اور عورت کے مادہ میں نہیں ہوتا ہے، مرد و عورت کے نطفہ کے ملنے کی کیفیت ۱۸۷۵صدی میں مشاہدہ سے واضح ہو چکی ہے کہ بچہ کے ابتدائی نطفہ کی تخلیق میں مرد و عورت دونوں موثرہیں۔ اور ۱۸۸۳ صدی میں نطفہ کی تخلیق میں دونوں کا مساوی کردار ثابت ہوچکا ہے ،مختلف تبدیلیوں کے مراحل سے مرتبط اور مختلف شکلوںمیں رحم کی دیواروں سے نطفہ کا معلق ہونااور اس کا رشد نیز نطفہ کا مخلوط ہونااور دوسری مختلف شکلیںجو نطفہ اختیار کرتاہے یہ وہ چیزیں ہیں جس کی تحقیق ہوچکی ہے ۔(۱)

قرآن مجید نے بہت سی آیات میں تمام انسانوں ( نسل آدم ) کے بارے میں گفتگو کی ہے اور ان کی خلقت کے مختلف مراحل بیان کئے ہیں اس حصہ میں ہم ان مراحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے ابتدائی دو مراحل کی تحقیق کریں گے ۔

بعض آیات میں خدا فرماتا ہے کہ : خدا وند عالم نے انسان کو خلق کیا جب کہ اس سے پہلے وہ

____________________

(۱)ملاحظہ ہو: شاکرین ، حمید رضا ، قرآن و روان شناسی ؛ ص ۲۲۔ ۲۵۔ طبارہ ، عبد الفتاح ، خلق الانسان دراسة علمیة قرآنیة ؛ ج۲ ، ص ۶۶۔ ۷۴۔


کچھ نہ تھا( أَوَ لا یَذکُرُ الإنسَانُ أَنَّا خَلَقنَاهُ مِن قَبلُ وَ لَم یَکُ شَیئاً ) (۱) کیا انسان بھولگیا کہ ہم نے اس وقت اسے خلق کیا جب وہ کچھ نہ تھا۔

یہ بات واضح ہے کہ آیت میں قبل سے مراد ابتدائی ( فلسفی اصطلاح میں خلقت جدید) مادہ کے بغیر انسان کی خلقت نہیں ہے اس لئے کہ بہت سی آیات میں ابتدائی مادہ کی بنا پر انسان کی خلقت کی تاکید ہوئی ہے ،اس آیت میں یہ نکتہ مورد توجہ ہے کہ انسان کا مادہ و خاکہ، انسانی وجود میں تبدیل ہونے کے لئے ایک دوسرے ( روح یا انسانی نفس و جان ) کے اضافہ کا محتاج ہے ،اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ابتدائی مادہ انسان کے مقابلہ میں روح کے بغیر قابل ذکر و قابل اہمیت نہیں ہے، اسی بنا پر ہم سورہ'' انسان'' کی پہلی آیت میں پڑھتے ہیں کہ (( هَل أَتَیٰ عَلیٰ النسَانِ حِین مِّنَ الدَّهرِ لَم یَکُن شَیئاً مَذکُوراً ) کیا انسان پر وہ زمانہ نہیں گذرا جس میں وہ قابل ذکر شی بھی نہ تھا ۔ دوسرے گروہ کی آیات میں انسان کی خلقت کے ابتدائی مادہ کو زمین(۲) خاک(۳) مٹی(۴) چپکنے والی مٹی(۵) بدبو دار مٹی ( کیچڑ )خمیر(۶) اور ٹھکرے کی طرح خشک مٹی بتایا گیا ہے ۔(۷)

وہ آیات جو انسان کے جسمانی خلقت کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کرتی ہیں اگرچہ اکثر مقامات پر انسان کو عام ذکر کیا ہے لیکن ان آیتوں کی روشنی میں جو اس کی ابتدائی خلقت میں گذر چکی ہیں اور موجودہ انسانوں کی خلقت کے عینی واقعات جو ان آیات میں بیان کئے گئے مذکورہ مراحل طے نہیں کرتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ابتدائی انسان کی جسمانی خلقت کے یہی مراحل اس کی خلقت کے اختتام میں بھیپائے جاتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورۂ مریم ۶۷

(۲)(هُو أنشَأَکُم مِنَ الأَرضِ )(ہود ۶۱)

(۳)(فنَّا خَلَقنَاکُم مِّن تُرَابٍ )(حج۵)

(۴)(وَ بَدَأَ خَلقَ النسَانِ مِن طِینٍ )( سجدہ ۷)

(۵)(نَّا خَلَقنَاهُم مِن طِینٍ لازِبٍ )(صافات۱۱)

(۶)(وَ لَقَد خَلَقنَا النسَانَ مِن حَمَأٍ مَسنُونٍ )( حجر ۲۶)

(۷)(خَلَقَ الِنسَانَ مِن صَلصَالٍ کَالفَخَّارِ )( الرحمن ۱۴)


آیات کا تیسرا گروہ ؛ انسان کے تخلیقی مادہ کو پانی بتاتاہے جیسے( وَ هُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنَ المَائِ بَشَراً فَجَعَلهُ نَسَباً وَ صِهراً ) (۱) وہی تو وہ (خدا)ہے جس نے پانی سے آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان اور سسرال والا بنایا۔

گرچہ ہوسکتا ہے کہ یہ آیت مصداق اور ان آیات کے موارد کو بیان کرنے والی ہو جو ہر متحرک یا ذی حیات کی خلقت کو پانی سے تسلیم کرتی ہیں(۲) اور پانی سے مراد وہی پانی ہے جو عرف عام کی اصطلاح میں ہے لیکن ان آیات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو انسان یا نسل آدم کی خلقت کونجس(۳) یاآب جہندہ(۴) سے بیان کرتی ہیں ان سے اس احتمال کو قوت ملتی ہے کہ اس آیت میں پانی سے مراد انسانی نطفہ ہے، اور آیت شریفہ نسل آدم کی ابتدائی خلقت کے نطفہ کو بیان کر رہی ہے ۔ لیکن ہر مقام پر اس کی خصوصیات میں سے ایک ہی خصوصیت کی طرف اشارہ کیاہے منجملہ خصوصیات میں سے جو قرآن میں اس نطفہ کو انسانی نسل کی خلقت کے نقطہ ٔ آغاز کے عنوان سے ذکر کیاہے وہ مخلوط ہونا ہے جسے علم بشر کم از کم ۱۸ ویں صدی سے پہلے نہیں جانتا تھا ۔

سورۂ دہر کی دوسری آیت میں خدا فرماتا ہے :

( إنَّا خَلَقنَاالنسَانَ مِن نُطفَةٍ أَمشَاجٍ نَبتَلِیهِ فَجَعَلنَاهُ سَمِیعاً بَصِیراً )

ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا کہ اسے آزمائیں (اسی لئے )تو ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والابنایا۔

اس آیت میں کلمہ ''امشاج ''کے ذریعہ بچہ آمادہ کرنے والے مخلوط نطفہ سے گفتگو ہوئی ہے یا اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امشاج ، مشیج کی جمع ہے جو مخلوط کے معنی میں ہے آیت اس بات

____________________

(۱)سورۂ فرقان ۵۴.

(۲) سورۂ نور ۴۵۔ سورۂ انبیاء ۳۰۔

(۳)(أ لَم نَخلُقکُم مِن مَائٍ مَّهِینٍ )(مرسلات ۲۰)(ثُمَّ جَعَلَ نَسلَهُ مِن سُلالَةٍ مِن مَّائٍ مَّهِینٍ )( سجدہ ۸)

(۴)(خُلِقَ مِن مَّائٍ دَافِقٍ )( طارق ۶)


پردلالت کرتی ہے کہ بچہ کو تشکیل دینے والا نطفہ مخلوط ہونے کے اعتبار سے مختلف اقسام کا حامل ہے، اور یہ مفہوم، موجودہ رشد شناسی میں ثابت ہوچکے مطالب سے مطابقت رکھتا ہے اور یہ قرآن مجید کے غیبی خبروں میں سے شمار ہوتا ہے ۔(۱) اور انجام پاچکی تحقیقوں کے مطابق انسانی نطفہ ایک طرف تو مرد و عورت کے نطفہ سے مخلوط ہوتا ہے اور دوسری طرف خود نطفہ مختلف غدود کے ترشحات سے مخلوط و مرکب ہوتا ہے ۔

علقہ ہونا بچہ کی خلقت کا دوسرا مرحلہ ہے جو قرآن کی آیتوں میں مذکور ہے ،سورۂ حج ۵ ؛ مومنون ۶۷؛ غافر ۳۸ کی آیات میں کلمہ ''علقہ ''اور سورۂ علق کی دوسری آیت میں کلمہ ''علق''بچہ کے رشد و نمو کے مراحل میں استعمال ہوا ہے، علق؛ علقہ کی جمع ہے اور علقہ ، علق سے لیا گیا ہے جس کا معنی چپکنااور پیوستہ ہوناہے چاہے وہ پیوستگی مادی ہو یا معنوی یا کسی اورچیز سے پیوستگی ہومثلا خون جامد (جاری خون کے مد مقابل ) کے اجزاء میں بھی چپکنے کی صلاحیت ہوتی ہے خلاصہ یہ کہ ہر وہ چیزجواس سے ملحق ہو اور چپک جائے اسے علقہ کہتے ہیں ۔(۲) جونک چونکہ خون یاخونی اجزاء کو چوسنے کے لئے بدن یا کسی دوسری چیز سے چپکتا ہے اس لئے اس کو بھی علقہ کہتے ہیں ،بہر حال یہ دیوار رحم سے نطفہ کی چسپیدگی کے مراحل اور مخلوط نطفہ کے مختلف اجزاء کے ایک دوسرے سے چسپیدگی کی حکایت

____________________

(۱)موریس بوکا لکھتا ہے : مادہ ٔ منویہ مندرجہ ذیل غدود کے ترشحات سے وجود میں آتا ہے :

۱۔ مرد کے تناسلی غدود کی ترشحات اسپرموٹزوید کے حامل ہوتے ہیں ۔ ۲۔انڈوں کی تھیلیوں کی ترشحات، حاملہ کرنے کے عناصر سے خالی ہیں ۔

۳۔پروسٹٹ ترشحات ، ظاہراً خمیر کی طرح ہوتے ہیں اور اس میں منی کی مخصوص بو ہوتی ہے ۔

۴۔ دوسرے غدود کی مخلوط و سیال ترشحات ،پیشاب کی رگوں میں موجود ہوتا ہے ۔( بوکائی ، موریس ؛ انجیل ، قرآن و علم ؛ ص ۲۷۱ و ۲۷۲)

(۲)طبرسی ؛ مجمع البیان ؛ ( سورہ علق کی دوسری آیت کے ذیل میں ) لغت کی کتابیں ۔


کرتی ہے، اور یہ حقیقت بھی قرآن کے غیبی اخبار اور نئی چیزوں میں سے ہے جسے آخری صدیوں تک علم بشر نے حل نہیں کیا تھا ۔(۱) مضغہ(۲) ہڈیوں کی خلقت(۳) ہڈیوں پر گوشت کا آنا(۴) اور دوسری چیزوں کی خلقت(۵) (روح پھونکنا )(۶) یہ وہ مراحل ہیں جو قرآن کی آیتوں میں نطفہ کے رشد کے لئے بیان ہوئے ہیں.

روح کا وجود اوراستقلال

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان کی روح کے سلسلہ میں متعدد و متفاوت نظریات بیان ہوچکے تھے بعض لوگ ایک سرے سے روح کے منکر تھے اور انسان کو مادی جسم میں منحصر سمجھتے تھے ۔بعض دوسرے لوگوں نے روح کو ایک مادی اور جسم سے وابستہ شئی اور انسان کے جسمانی خصوصیات اور آثار والی ذات شمار کیا ہے اور بعض لوگ روح کو غیر مادی لیکن جسم سے غیر مستقل وجود سمجھتے ہیں(۷) ان نظریات کو بیان کرنے اور ان کی دلیلوں پر تنقید و تحقیق کے لئے مزید فرصت درکار ہے

____________________

(۱)دوسرے اور تیسرے ہفتوں میں جنین کے پیوند ، ملاپ اور چپکنے کے مراحل کے بارے میں معلومات کے لئے ملاحظہ ہو: البار ؛ محمد علی ، خلق الانسان بین الطب و القرآن ؛ ص ۳۶۸و ۳۶۹۔ سلطانی ، رضا ؛ و فرہاد گرمی ، جنین شناسی انسان ، فصل ہفتم ۔ (۲)(فَخَلَقنَا العَلَقَةَ مُضغَةً )مومنون۱۴ (۳)(فَخَلَقنَا المُضغَةَ عِظَاماً )مومنون۱۴

(۴)(فَکَسَونَا العِظَامَ لَحماً )مومنون۱۴ (۵)(ثُمَّ أَنشَأنَاهُ خَلقاً آخَرَ )مومنون ۱۴۔

(۶)رحم میں نطفہ کے استقرار کی خصوصیت اور اس کے شرائط نیز تولد کے بعد رشد انسان کے مراحل کو بعض آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔ جیسے سورہ حج ۵۔ نوح ۱۴ ۔زمر ۶۔ مومن ۶۷ کی آیتیں ۔ (۷)روح کے بارے میں بیان کئے گئے نظریات کو چار عمومی دستوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :الف) وہ نظریات جو جسم کے مقابلہ میں ایک عنصر کے اعتبار سے روح اور روحانی حوادث کے بالکل منکر ہیں اور تمام روحانی حوادث میں مادی توجیہ پیش کرتے ہیں ،اس نظریہ کو '' ڈمکراٹیس ، رنو ، تھامس ہابز ، علاف ، اشعری ، باقلانی ، ابوبکر اصم اور عقیدہ رفتار و کردار رکھنے والوں کی طرف نسبت دیا گیا ہے ۔ ب)وہ نظریات ہیں جس میں روحی حوادث کو قبول کیا گیاہے ، لیکن روح مجرد کا انکار کیا گیاہے ۔ عقیدہ تجلیات ( Epiphenomenalism )روحی حوادث کو مادی حوادث سے بالکل جدا سمجھنے کے باوجود مادی اور جسمانی اعضاء کا نتیجہ سمجھتے ہیں نیز نظریہ فردی ( Parson Theory )روح کو ایسا حوادث روحی سمجھتا ہے جو ہمیشہ انسان کی راہ میں ایجاد اور ختم ہوتا رہتاہے ۔( T.H.Huxly )پی.اف.سراسن نے ( P.F.Srawson )مذکورہ بالادونوں نظریات کو ترتیب سے بیان کیا ہے ۔ج) وہ نظریات جو روح و جسم کو دو مستقل اور جدا عنصر بتانے کے باوجود ان دونوںکو ایک جنسی اور مادی خمیر سے تعبیر کیا ہے ۔ اس نظریہ کو ولیم جیمز اور راسل کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ د)بعض نظریات روح و جسم کے تاثرات کو قبول کرتے ہیں لیکن جسم کے علاوہ ایک دوسری شی بنام روح یعنی مجرد شی کا اعتقاد رکھتے ہیں جس سے تمام روحی حودث مربوط ہیں اور اسی سے حادث ہوتے ہیں ،مفکرین و فلاسفہ کی قریب بہ اتفاق تعداد اس نظریہ کی طرفدار ہے ۔رجوع کریں: ابوزید منی احمد ؛ الانسان فی الفلسفة الاسلامیة ؛ موسسہ الجامعیة للدراسات، ، بیروت ، ۱۴۱۴، ص ۸۸۔۱۰۰


لہٰذا ہم اس سلسلہ میں فقط قرآن کے نظریہ کو ذکر کریں گے نیز بعض عقلی اور تجربی دلیلوں اور قرآن کے نظریہ سے ان کی ہماہنگی کو بیان کریں گے ۔

وہ آیات جو قرآن مجیدمیں روح مجرد کے استقلال اوروجود کے بارے میں آئی ہیں دو گروہ میں تقسیم ہوتی ہیں: پہلے گروہ میں وہ آیات ہیں جو روح کی حقیقت کو بیان کرتی ہیں اور دوسرے گروہ میں وہ آیات ہیں جو حقیقت روح کے علاوہ استقلال اور موت کے بعد روح کی بقا کو بیان کرتی ہیں۔

من جملہ آیات میں سے جو روح کے وجود پر دلالت کرتی ہیں وہ سورہ مومنون کی بارہویں تا چودہویں آیت ہے جو انسان کی جسمانی خلقت کے مراحل کو ذکر کرنے کے بعد بیان کرتی ہیں کہ( ثُمَّ أنشَأنَاهُ خَلقاً آخَرَ ) یہ واضح رہے کہ انسان کے جسمانی تکامل کے بعد دوسری خلقت سے مراد کوئی جسمانی مرحلہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ انسانی روح پھونکے جانے کے مرحلہ کی طرف اشارہ ہے اسی بنا پراس جگہ آ یت کی عبارت ان عبارتوں سے جدا ہے جو جسمانی مراحل کو ذکر کرتی ہیں۔(۲)

____________________

(۱)مجرد و مادی شی کی خصوصیات اور تعریف کے بارے میں مزید اطلاعات کے لئے ۔ملاحظہ ہو: عبودیت ، عبد الرسول ؛ ہستی شناسی ؛ ج۱ ص ۲۵۶ تا ۲۸۷۔ (۲)ملاحظہ ہو: محمد حسین طباطبائی ؛ المیزان فی تفسیر القرآن ج۱۵، ص ۱۹. روایات میں بھی آیہ کریمہ کی اسی طرح تفسیر ہوئی ہے ۔ملاحظہ ہو: الحر العاملی محمد بن الحسن ؛ وسائل الشیعہ ج۱۹ ص ۳۲۴۔


سورہ سجدہ کی نویں آیت میں بھی انسان کے اندر روح کے حقیقی وجود کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور خاک سے حضرت آدم اور پانی سے ان کی نسل کی خلقت کے مسئلہ کوبیان کیا ہے کہ :

( ثُمَّ سَوَّاهُ وَ نَفَخَ فِیهِ مِن رُّوحِهِ ) (۱) پھر خدا نے اس کو آمادہ کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی ۔

اس آیہ شریفہ کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ جسمانی تکامل کے مراحل سے آمادگی و تسویہ کے مرحلہ کو طے کرنے کے بعد خدا کی طرف سے روح پھونکی جائے گی ۔(۲)

____________________

(۱)سورۂ سجدہ ؛ ۹، یہ بات قابل توجہ ہے کہ آیات و روایات سے روح انسان کے استقلال اور وجود کا استفادہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن نے کلمہ روح کو استعمال کرکے روح انسان کے استقلال و وجودکے مسئلہ کو بیان کیا ہے، قرآن کریم میں تقریباً ۲۰ مقامات میں کلمہ روح استعمال ہوا ہے ،اور اس کے معنی و مراد کے اعتبار سے بعض آیات میں اختلاف پایا جاتا ہے جیسے آیہ شریفہ (قُلِّ الرُّوحُ مِن أَمرِ رَبِّی ) لیکن کلمہ روح کے دو قطعی اور مورد اتفاق استعمالات ہیں :

پہلا یہ کہ خدا کے ایک برگزیدہ فرشتہ کے سلسلہ میں ''روح ، روح القدس ، روح الامین''کی تعبیریں مذکور ہیں جیسے (تَنَزَّلُ المَلائِکةُوَالرُّوحُ فِیهَابِأذنِ رَبِّهِم مِن کُلّ أَمرٍ )قدر۴۔

دوسرا مقام یہ ہے کہ اس انسانی روح کے بارے میں استعمال ہوا ہے جو اس کے جسم میں پھونکی جاتی ہے ؛ جیسے وہ موارد جس میں حضرت آدم اور عیسی کی خلقت کے سلسلہ میں روح پھونکے جانے کی گفتگو ہوئی ہے،مثال کے طورپر(فَذَا سَوَّیتُهُ وَنَفَختُ فِیهِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ ) (حجر۲۹)حضرت آدم کی خلقت کو بیان کیا ہے اور جیسے (وَ مَریَمَ ابنَتَ عِمرَانَ الَّتِی أحصَنَت فَرجَهَا فَنَفَخنَا فِیهِ مِن رُّوحِنَا ) (تحریم۱۲)

(۲)بعض مفسرین نے مذکورہ آیت میں روح پھونکے کے عمل کو حضرت آدم کی خلقت بیان کیا ہے، لیکن جو چیزیں متن کتاب میں مذکور ہے وہ ظاہر آیت سے سازگار نہیں ہے ۔


وہ آیات جو وجود روح کے علاوہ موت کے بعد اس کی بقا کوثابت کرتی ہیں بہت زیادہ ہیں۔(۱) اور ان آیات کو تین گروہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

۱۔ وہ آیات جو موت کو ''توفّی '' کے عنوان سے یاد کرتی ہیں خصوصاً سورہ سجدہ کی دسویں اور گیارہویں آیتں:

(( وَ قَالُوا أَئِ ذَا ضَلَلنَا فِی الأرضِ أَئِ نَّا لَفِی خَلقٍ جَدِیدٍ بَل هُم بِلِقَائِ رَبِّهِم کَافِِرُونَ قُل یَتَوَفَّاکُم مَّلَکُ المَوتِ الَّذِی وُکِّلَ بِکُم ثُمَّ ِلَیٰ رَبِّکُم تُرجَعُونَ )

اور ان لوگوں(کافرین)نے کہا کہ جب ہم (مرگئے بوسیدہ اورجسم کے ذرات) زمین میں ناپید ہوگئے تو کیا ہم پھر نیا جنم لیں گے بلکہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے حضور ہی سے انکار رکھتے ہیں ، تم کہدو کہ ملک الموت جو تمہارے اوپر تعینات ہے وہی تمہاری روحیں قبض کرے گا اس کے بعد تم سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤگے ۔

کلمہ ''توفی'' پر توجہ کرتے ہوئے کہ جس کا معنی کسی شی کو پوری طرح اور کامل طریقہ سے دریافت کرنا ہے، مذکورہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ موت کے وقت وہ چیزجو مشاہدہ ہوتی ہے اس کے علاوہ ( بے حرکت اور احساس و فہم سے عاری جسم )وہ چیز جو انسان کی اصل اور حقیقت ہے اور پوری طرح فرشتوں کے ذریعہ دریافت ہوتی ہے وہی روح ہے اس لئے کہ مرنے کے بعد اور

____________________

(۱)بدن سے روح کے استقلال کے مختلف تاثرات کی نفی اور بالکل بے نیازی کے معنی میں سمجھنا چاہیئے ،بلکہ روح اپنی تمام فعالیت میں تقریبا جسم کی محتاج ہے اور ان افعال کو جسم کی مدد سے انجام دیتی ہے ،مثال کے طور پر مادی دنیا کے حوادث کی معرفت بھی روح کی فعالیت میں سے ہے جو حسی اعضا سے انجام پاتے ہیں ، اسی طرح انسان کی روح اور اس کا جسم ایک دوسرے میں اثر انداز ہوتے ہیں ، مثال کے طور پرروح کی شدید تاثرات آنکھ کے غدود سے اشک جاری ہونے کے ہمراہ ہے اور معدہ کا خالی ہونا بھوک کے احساس کو انسان کے اندر ایجاد کرتا ہے ۔


مرنے سے پہلے جسم ہمارے درمیان اور اختیار میں ہے جسے فرشتہ وحی دریافت نہیں کرتا ہے اس آیت میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ منکرین معاد جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انسان در حقیقت وہی جسم ہے جو موت کی وجہ سے منتشرہوجاتا ہے اور اس کے ذرات زمین میں نابود ہو جاتے ہیں ، خداوند قدوس اس فکر کو نادرست مانتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہاری حقیقی اور واقعی حقیقت ایک دوسری شیٔ ہے جو کامل طور پر ملک الموت کے ذریعہ دریافت ہوتی ہے موت اور جسم کے پراکندہ ہو جانے سے نابود ہونے والی نہیں ہے بلکہ وہ جسم سے الگ اپنی حیات کو جاری رکھتی ہے ۔

۲.آیہ کریمہ :

( وَ لَو تَرَیٰ ِذِ الظَّالِمُونَ فِی غَمَرَاتِ المَوتِ وَ المَلائِکَةُ بَاسِطُوا أَیدِیهِم أَخرِجُوا أَنفُسَکُمُ الیَومَ تُجزَونَ عَذَابَ الهُونِ بِمَا کُنتُم تَقُولُونَ عَلَیٰ اللّٰهِ غَیرَ الحَقِّ وَ کُنتُم عَن آیَاتِهِ تَستَکبِرُونَ ) (۱)

اور کاش تم دیکھتے کہ یہ ظالم موت کی سختیوں میں پڑے ہیں اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ لپکا رہے ہیں(اور ان کے سروں کے اوپر کھڑے ہوئے ان سے کہیں گے ) خوداپنی جانیں نکالو آج ہی تو تم کو رسوائی کے عذاب کی سزا دی جائے گی کیونکہ تم خدا پر ناحق جھوٹ جوڑا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے اکڑا کرتے تھے ۔

''اپنے آپ کو خارج کریں''کی تعبیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان جسم کے علاوہ ایک عنصر اور رکھتا ہے جو انسان کی حقیقت کو تشکیل دیتا ہے اور موت کے وقت جسم سے خارج ہوجاتا ہے اوریہ ملک الموت کے ذریعہ روح انسان کے قبض ہونے کی دوسری تعبیر ہے ۔(۲)

____________________

(۱)سورۂ انعام ۹۳۔

(۲)یہ مسئلہ اپنی جگہ ثابت ہوچکا ہے کہ جس طرح روح کا بدن کے ساتھ اتحاد، مادی نہیں ہے اسی طرح بدن سے روح کا خارج ہونابھی مادی خروج نہیں ہے ،وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو: علامہ طباطبائی کی المیزان ج۷، ص ۲۸۵۔


۳. عالم برزخ کی حیات کو بیان کرنے والی آیت :

( حَتَّیٰ إِذَا جَائَ أَحَدَهُمُ المَوتُ قَالَ رَبِّ ارجِعُونَ٭ لَعَلِّی أَعمَلُ صَالِحاً فِیمَا تَرَکتُ کَلاّ ِنَّهَا کَلِمَة هوَ قَائِلُهَا وَ مِن وَرَائِهِم بَرزَخ إِلَیٰ یَومِ یُبعَثُونَ ) (۱)

یہاں تک کہ جب ان( کافروں )میں سے کسی کی موت آئی تو کہنے لگے پروردگارا! تو مجھے (دنیامیں ) پھر واپس کردے تاکہ میں اچھے اچھے کام کروں ہرگزنہیں(وہ اسی خواہش میں رہے ہیں ) یہ ایک لغو بات ہے جسے وہ بک رہا اور ان کے بعد (حیات) برزخ ہے دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے ۔

عالم برزح پر روشنی ڈالنے والی بہت سی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مرنے کے بعد اور قیامت برپا ہونے سے پہلے روح ایک دنیا میں باحیات ہوتی ہے اور پروردگار کی نعمت و عذاب میں مبتلا رہتی ہے ، اس کی آرزو و خواہش ہوتی ہے ، سرزنش ، عذاب ، نیکی اور بشارت سے مرنے والا دوچار ہوتاہے اورمرتے ہی وہ ان خصوصیات کے ساتھ اس عالم میں وارد ہوتا ہے یہ تمام چیزیں اس جسم کے علاوہ ہیں جسے ہم نے مشاہدہ کیا ہے یا نابودجاتاہے، اسی بنا پر موت کے بعد روح کا وجودا ور اس کی بقا واضح و روشن ہے ۔(۲)

____________________

(۱)مومنون ۹۹،۱۰۰۔

(۲)استقلال روح اور وجود کو بیان کرنے والی تمام آیات کی معلومات کے لئے .ملاحظہ ہو: محمد تقی مصباح ، معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) ص ۴۵۰۔ ۴۵۶۔


روح کے اثبات میں بشری معرفت اور دینی نظریہ کی ہماہنگی

گذشتہ بحث میں قرآن مجید کی آیات سے استفادہ کرتے ہوئے جسم اور جسمانی حوادث کے علاوہ انسان کے لئے روح نام کی ایک دوسرے مستقل پہلو کے وجود کو ثابت کیا گیا ہے ، اب ہم

روح کی خصوصیات اور روحی حوادث سے مختصر آشنائی اور عقلی مباحث اور تجربی شواہد کے تقاضوں سے دینی نظریہ کی ہماہنگی کی مقدار معلوم کرنے کے لئے انسان کی مجرد روح کے وجود پر مبنی بعض تجربی شواہد اور عقلی دلیلوں کی طرف اشارہ کریں گے ۔

الف) عقلی دلائل

شخصیت کی حقیقت

ہم میں سے کوئی بھی کسی چیز میں مشکوک ہوسکتا ہے لیکن اپنے وجود میں کوئی شک نہیںکرتا ہے ۔ ہر انسان اپنے وجود کو محسوس کرتا ہے اور اس پر یقین رکھتا ہے یہ اپنے وجود کا علم اس کی واضح ترین معلومات ہے جس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ دوسری طرف اس مطلب کو بھی جانتے ہیں کہ جس چیز کو ''خود ''یا ''میں '' سے تعبیر کرتے ہیں وہ آغاز خلقت سے عمر کے اواخر تک ایک چیز تھی اور ہے ، جب کہ آپ اپنی پوری زندگی میں بعض خصوصیات اور صفات کے مالک رہتے ہیںیا اسے کھو بیٹھتے ہیں لیکن وہ چیز جس کو ''خود ''یا ''میں '' کہتے ہیں اسی طرح ثابت و پایدار ہے، ہم مذکورہ امور کو علم حضوری سے حاصل کرتے ہیں ۔

اب ہم دیکھیں گے کہ وہ تنہا ثابت و پایدار شی ٔکیا ہے ؟ وہ تنہا ،بغیر کسی شک کے ، اعضاء یا اجرام یا بدن کا دوسرا مادی جزء یارابطوں کے تاثرات اور ان کے مادی آثار نہیں ہوسکتے اس لئے کہ ان کو ہم علم حضوری کے ذریعہ حاصل نہیں کرتے ہیں ؛ بلکہ ظاہری حواس سے درک کرتے ہیں ، اس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمیشہ متحول و متغیر ہوتے رہتے ہیں ، لہٰذا ''میں ''یا ''خود''ہمارے جسم اور اس کے آثار و عوارض کے علاوہ ایک دوسری حقیقت ہے اور اس کی پایداری و استحکام، مجرد اور غیر مادی ہونے پر دلالت کرتی ہے ،یہ بات قابل توجہ ہے کہ طریقۂ معرفت اور فلسفہ علم سے بعض ناآشنا حضرات کہتے ہیں کہ علم ؛روح مجرد کے وجود سے انکار کرتا ہے اور اس پر اعتقاد کو غلط تسلیم کرتا ہے۔(۱)

____________________

(۱)مارکس کے ماننے والے اپنے فلسفہ کو فلسفہ علمی کہتے ہیں اور روح کے منکرو معتقد بھی ہیں ۔ملاحظہ ہو: مجموعہ آثار ج۶ص۱۱۵


جب کہ علم کا کوئی ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ علم اس سے کہیں زیادہ متواضع ہے کہ اپنے دائرۂ اختیار سے باہر مجرد امور میں قضاوت کرے ،یہ بات گذر چکی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کسی شعبہ میں علم کا دعویٰ، انکاراور نہ ہونا نہیں ہے بلکہ عدم حصول ہے ۔

روح کا ناقابل تقسیم ہونا اور اس کے حوادث

مادی و جسمانی موجودات ، کمیت و مقدار سے سروکار رکھنے کی وجہ سے قابل تجزیہ وتقسیم ہیں مثال کے طور پر ۲۰ سینٹی میٹر پتھرکا ایک ٹکڑا یا ایک میڑ لکڑی چونکہ کمیت و مقدار رکھتے ہیں لہٰذا قابل تقسیم ہیں اسی طرح ۱۰ سینٹی میڑ پتھر کے دو ٹکڑے یا آدھے میڑ لکڑی کے دو ٹکڑے میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، اسی طرح ایک ورق کاغذ کی سفیدی جو کہ جو ہر کاغذ کی وجہ سے باقی اور اس میں داخل ہے ،کاغذ کو دوحصہ میں کر کے اس کی سفیدی کو بھی ( کاغذ کے دو ٹکڑے میں تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ ) تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن ہم سے ہر ایک جس وقت اپنے بارے میں غور و فکر کرتا ہے تو اس حقیقت کو پاتا ہے کہ نفس، مادی حقیقتوں میں سے نہیں ہے اور وہ چیز جس کو ''میں ''کہتا ہے وہ ایک بسیط اور ناقابل تقسیم شی ٔہے یہ تقسیم نہ ہونااس بات کی علامت ہے کہ ''میں ''کی حقیقت مادہ اور جسم نہیں ہے، مزید یہ کہ ہم سمجھ لیتے ہیں کہ نفس ،مادی چیزوں میں سے نہیں ہے ''میں ''اور روحی حوادث ، ہمارے جسم کے ہمراہ ، تقسیم پذیر نہیں ہیں یعنی اس طرح نہیں ہے کہ اگر ہمارے جسم کو دو نیم کریں تو ''میں ''یاہماری فکر یا وہ مطالب جن کو محفوظ کیا ہے دو نیم ہو جائیگی، اس حقیقت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ'' میں '' اور'' روحی حوادث'' مادہ پر حمل ہونے والی اشیاء و آثارمیں سے نہیں ہیں۔

مکان سے بے نیاز ہونا

مادی چیزیں بے واسطہ یا باواسطہ طور پر مختلف جہت رکھنے کے باوجود مکان کی محتاج ہیں اور فضا کو پُر کئے ہوئے ہیں لیکن روح اور روحی حوادث جس میں بالکل جہت ہی نہیں ہے لہٰذااس کے لئے کوئی مکان بھی نہیں ہے مثال کے طور پر ہم اپنی روح کے لئے جس کو لفظ ''میں '' کے ذریعہ یادکرتے ہیں اس کے لئے اپنے جسم یا جسم کے علاوہ کسی چیزمیں کوئی مکان معین نہیں کرسکتے ہیں، اس لئے کہ وہ نہ تو جسم کا حصہ ہے کہ جہت رکھتا ہو اور نہ ہی جسم میں حلول کرتا ہے اور نہ جسم کی خصوصیات کا مالک ہے جس کی وجہ سے جہت ہو اور نتیجتاً مکان رکھتا ہو ،روحی حوادث مثلاً غم ، خوشی ، فکر و نتیجہ گیری ، ارادہ اور تصمیم گیری بھی اسی طرح ہیں ۔


کبیر کا صغیر پر انطباق

ہم میں سے ہر ایک یہ تجربہ رکھتا ہے کہ بارہا وہ جنگل و صحرا کے طبیعی مناظر اوروسیع آسمان سے لطف اندوز ہواہے ،ہم ان وسیع مناظر کو ان کی وسعت و پھیلاؤ کے ساتھ درک کرتے ہیں ،کیا کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ وسیع و عریض مناظر اور دوسرے سینکڑوں نمونے جن کو پہلے دیکھا ہے اور اس وقت بھی حافظہ میں ہیں ، کہاں موجود رہتے ہیں ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ وسیع مناظر جو کئی کیلو میڑ وسیع مکان کے محتاج ہیں وہ مغز کے بہت ہی چھوٹے اجرام میں سما جائیں ؟ !اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مناظر ہمارے اندر محفوظ ہیں اور ہم ان کو اسی وسعت و کشادگی کے ساتھ محسوس کرتے ہیں لیکن ہمارے مادی اعضاء میں سے کوئی بھی مخصوصاً ہمارا دماغ جس کو مادہ پرست حضرات مرکز فہم کہتے ہیں ؛ ایسے مناظر کی گنجائش نہیں رکھتا ہے اور ایسے مناظر کا اس قلیل جگہ میں قرار پانا ممکن بھی نہیں ہے ،اور علماء کی اصطلاح میں '' صغیرپر کبیر کا انطباق'' لازم آئے گا جس کا بطلان واضح ہے ۔(۱)

ب) تجربی شواہد

بشر کے تجربیات میں ایسے مواقع بھی پیش آتے ہیں جو روح کے مجرد و مستقل وجود کی تائید کرتے ہیں ''روحوں سے رابطہ ''جس میں انسان ان لوگوں سے جو سیکڑوں سال پہلے مر چکے ہیں اور

____________________

(۱) ٹیلی ویژن یا مانیٹر کے صفحہ پر جس طرح ایک بہت ہی چھوٹی تصویر کودیکھتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ چھوٹی تصویر اس وسیع و عریض منظر کی تصویر ہے ،ایسا نہیں ہے بلکہ ہم ان مناظر اور وسیع و عریض مقامات کو ان کی بزرگی کے ساتھ درک کرتے ہیں۔


شاید ان کے اسماء کو بھی نہ سنا ہو ، ارتباط قائم کرتا ہے اور معلومات دریافت کرتا ہے ۔(۱) '' آتوسکپی''(تخلیہ روح ) میں جسم سے روح کی موقت جدائی کے وقت ان لوگوں سے معلومات کا مشاہدہ کیا گیاہے جو دماغی سکتہ یا شدید حادثہ کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے ہیں اور اچھے ہونے کے بعد بے ہوشی کے وقت کے تمام حالات کو یاد رکھتے ہیں،(۲) سچے خواب میں افراد نیند ہی کی حالت میں گذشتہ یا آئندہ زمانے میں

____________________

(۱)ایسے مفکرین کے سامنے جن کی باریک بینی،صداقت اور تقویٰ میں کوئی شبہہ نہیں کیا جاسکتاہے ایسے موارد بھی پیش آئے ہیں کہ انہوں نے کئی سال پہلے مرچکے افراد سے ارتباط برقرار کرکے گذشتہ آئندہ کے بارے میں معلومات دریافت کی ہیں ۔ اگر روح مجرد کا وجود نہ ہوتا تو ایسے جسم سے رابطہ بھی ممکن نہ ہوتا جو سالوں پہلے پراکندہ ہوچکا تھااور ان مفکرین سے کوئی معرفت و رابطہ بھی نہ تھا،مثال کے طور پر مرحوم علامہ طباطبائی سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: طالب علمی کے زمانہ میں جب میں نجف اشرف میں دینی علوم کی تعلیم میں مشغول تھا ، ایک بار میری اقتصادی حالت بہت نازک ہوگئی تھی، گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور زندگی کے اقتصاد یات نے میرے ذہن کو پریشان کررکھا تھا ؛ میں نے اپنے آپ سے کہا تم کب تک اس اقتصادی حالت میں زندگی گذار سکتے ہو؟ ناگاہ میں نے احساس کیا کہ کوئی دق الباب کر رہا ہے ،میں اٹھا اور جاکر دروازہ کھولا ، ایسے شخص کو دیکھا جس کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا ، ایک مخصوص لباس زیب تن کئے ہوئے تھا ، مجھے سلام کیا اور میں نے جواب سلام دیا ، اس نے کہا : میں سلطان حسین ہوں ۔ خداوند عالم فرماتا ہے : میں نے ان اٹھارہ سالوں میں کب تم کو بھوکا رکھا ہے جو تم درس و مطالعہ چھوڑ کر روزی کی تامین کے بارے میں سوچ رہے ہو ؟علامہ فرماتے ہیں کہ : اس شخص نے خدا حافظی کیا اور چلا گیا ، میں نے دروازہ بند کیا اور واپس آگیا اچانک میں نے دیکھا ، میں تو پہلے والے ہی انداز میں کمرے میں بیٹھا ہوا ہوں اور میں نے کوئی حرکت بھی نہیں کی ہے میں نے اپنے دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ یہ اٹھارہ سال کس وقت سے شروع ہوتا ہے؟میری طالب علمی کے آغاز کا دور تو اٹھارہ سالوں سے زیادہ ہے اور وقت ازدواج بھی، اٹھارہ سال سے مطابق نہیں رکھتا ہے میں نے غور کیا تو یاد آیا کہ جب سے میں نے روحانی لباس زیب تن کیا ہے ، ٹھیک اٹھارہ سال گذر چکے ہیں۔ چندسال بعد میں ایران آیا اور تبریز میں رہنے لگا ۔ ایک دن میں قبرستان گیا اچانک میری نظر ایک قبر پر پڑی دیکھا اسی شخص کا نام قبر کی تختی پر کندہ ہے، میں نے اس کی تاریخ وفات پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس واقعہ سے تین سو سال پہلے وہ اس دنیا سے جا چکا تھا اور میرا رابطہ اس کی روح سے تھا ۔ملاحظہ ہو: قاسم لو ، یعقوب؛ طبیب عاشقان ؛ ص ۴۵ و ۴۶۔ اسی مطلب کی طرح ، بیداری کی حالت میں اپنے اور دوسروں کے آئندہ کا مشاہدہ کرنا ہے جیسے وہ چیزیں جو حضرت آیة اللہ خوئی طاب ثراہ کے بارے میں نقل ہوئی ہیں کہ : آپ نے اپنی جوانی اور طالب علمی کے ابتدائی دور میں اپنی زندگی کے تمام مراحل کوحتی ہنگام موت اور اپنے تشییع جنازہ کے مراسم کو بھی عالم بیداری میں مکاشفہ کی شکل میں دیکھا تھا اور اپنی پوری زندگی کواسی انداز میں تجربہ بھی کیا تھا ۔ ملاحظہ ہو: حسن زادہ ، صادق ؛ اسوہ عارفان ؛ ص ۶۱۔

(۲)آٹوسکپی ( Autoscopy ) مغرب میں عالم تجربہ کا یہ نسبتاً جدید انکشاف ہے اور ایسے افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے جو تصادف یاشدید سکتہ مغزی کی وجہ سے ان کی روح ان سے دور ہوجاتی ہے ان کے حالات کے صحیح اورمعمول پر واپس آنے کے بعد اپنے بے ہوشی کے دوران کے سبھی حالات کو جانتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ : ہم اپنے جسم کونیز ان افراد کو جو ہمارے اردگرد تھے اورجو کام وہ ہمارے جسم پر انجام دیتے تھے اور اسی طرح مکان اورآواز کو ان مدت میں ہم نے مشاہدہ کیا ہے، ریمنڈمودی نام کے ایک مفکرنے اپنی کتاب Life after life ( زندگی، زندگی کے بعد )میں ان مشاہدات کے نمونوں کو ذکر کیا ہے مائکل سابون نام کے ایک دوسرے مفکر نے پانچ سال کے اندر ۱۱۶ افراد سے اس طرح کا بیان لیاہے جس میں سے تین چوتھائی افراد، سکتہ قلبی کے شکار ہوئے ہیں، ان میں سے ایک سوم افراد آٹوسکپی میں گرفتارتھے ۔ملاحظہ ہو: ہوپر ، جودیث و دیک ٹرسی ،جہان شگفت انگیز مغز ؛ ص ۵۵۷، ۵۶۹۔ انسان در اسلام ؛ کے ص ۸۸پر واعظی نے نقل کیا ہے۔توجہ ہونا چاہیئے کہ ایسے افراد کا جسم درک نہیں کرتا ہے اور حواس بھی تقریباًکام نہیں کرتا ہے لہٰذا ان حالات کی بہترین توجیہ ، مستقل اور مجرد روح کا وجود ہے ۔


نہ دیکھی نہ سنی جگہوں میں سفر کرتے ہیں، اور بیداری کے بعد خواب کے مطابق معلومات کو صحیح پاتے ہیں۔(۱) اور ٹیلی پیتھی میں دو یا چند آدمی بہت ہی زیادہ فاصلہ سے مثال کے طور پر دو شہروں میں ایک دوسرے سے مرتبط ہوتے ہیں

____________________

(۱)سچے خواب بھی بہت زیادہ ہیں جو روح کے وجود پر دلیل ہیں ۔ ان خوابوں میں انسان آئندہ یا گذشتہ زمانہ میں یا ایسی جگہوں میں سفر کرتا ہے جسے کبھی دیکھا نہ تھا حتی ان کے اوصاف کے بارے میں نہ پڑھا اور نہ ہی سنا تھا اور جووہ معلومات حاصل کرتا ہے واقعیت سے مطابقت رکھتا ہے اور مرور زمان کے بعد ان چیزوں کااسی طرح مشاہدہ کرتا ہے جیسا کہ اس نے خواب میں دیکھا تھا،چونکہ خواب کے وقت انسان کا بدن ساکت اور مخصوص مکان میں ہوتا ہے،لہٰذا یہ حرکت اور کسب اطلاعات ،روح مجرد کو قبول کئے بغیر قابل توجیہ ، اور منطقی نہیں ہے ۔


اور بغیر کسی مادی ارتباط کے ایک دوسرے سے معلومات منتقل کرتے ہیں ۔(۱)

یہ منجملہ تجربی شواہد کے موارد ہیں جو روح مجرد کے وجود کی تائید کرتی ہیں ۔ گذشتہ چیزوں پر توجہ کرتے ہوئے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ روحی حوادث کو شیمیائی ، مادی ، مقناطیسی لہروں یا شیمیائی الکٹرک کے فعل و انفعال سے توجیہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور انسانی خواہشات جیسے حوادث ، درد و احساسات خصوصاً ادراک ، تجربہ و تحلیل ، نتیجہ گیری اور استنباط ان میں سے کوئی بھی شی ٔقابل توجیہ نہیں ہے ۔

____________________

(۱)روح مجرد کے وجود کی دوسری دلیل ٹیلی پیتھی ( Telepathy ) اور راہ دور سے رابطہ ہے، بعض اوقات انسان ایسے افراد سے رابطہ کا احساس کرتا ہے جو دوسرے شہر میں رہتا ہے اور اس رابطہ میں ایک دوسرے سے معلومات منتقل کرتے ہیں ، حالانکہ اس سے پہلے ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے تھے ، یہ رابطہ ارواح سے رابطہ کی طرح ہے لیکن یہ زندہ لوگوں کی روحیں ہیں ۔


روح مجرداور انسان کی واقعی حقیقت

انسانی روح کے سلسلہ میں مجرد ہونے کے علاوہ دودوسرے مہم مسائل بھی ہیں جن کے سلسلہ میں قرآن کے نظریہ کوا ختصار اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے گا ۔ پہلی بات یہ کہ انسان کی روح ایک مجرد وجود ہے اور دوسرے یہ کہ انسان کی واقعی حقیقت ( وہ چیزیں جو انسان کی انسانیت سے مربوط ہیں)کو اس کی روح تشکیل دیتی ہے، یہ دو مطالب گذشتہ آیات کے مفہوم و توضیحات سے حاصل ہوئی ہیں ۔ اس لئے کہ انسان کی خلقت سے مربوط آیات میں اس کے جسمانی خلقت کے مراحل کے بیان کے بعد ایک دوسری تخلیق یا روح پھونکنے کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور یہ نکتہ روح کے غیر مادی ہونے کی علامت ہے ،جسم کے پراکندہ ہونے کے بعد انسان کی بقا اور عالم برزخ میں زندگی کا دوام نیز اس کا کامل اور پوری طرح دریافت ہونا بھی روح کے مادی و جسمانی نہ ہونے کی علامت ہے ۔ دوسری طرف اگر انسان کی واقعی حقیقت اس کے مادی جسم میں ہے تو مرنے اور جسم کے پراکندہ ہونے کے بعد نابود ہوجانا چاہیئے تھا جب کہ آیات قرآنی جسم کے پراکندہ ہونے کے بعد بھی انسان کی بقا کی تائید کرتی ہیں ،خداوند عالم نے انسان کی فرد اول کے عنوان سے حضرت آدم کی خلقت کے بارے میں فرمایا : '' روح پھونکے جانے کے بعد ؛سجدہ کرو '' یہ حکم بتا تا ہے کہ اس مرحلہ میں پہلے وہ خلیفة اللہ انسان جس کی خلقت کا خدا وند عالم نے وعدہ کیا تھا ابھی وجود میں نہیں آیا ہے انسان کی خلقت میں یہ کہنے کے بعد کہ( ثُمَّ أَنشَأنَاهُ خَلقاً آخَرَ ) ''پھرہم نے اس کو ایک دوسریشکلمیں پیدا کیا''اس جملہ کو بیان کیا( فَتَبارَکَ اللّٰهُ أحسَنُ الخَالِقِینَ ) (۱) ''پس مبارک ہے وہ اللہ جوبنانے والوں میں سب سے بہترہے''، یہ نکتہ بھی دلالت کرتا ہے کہ انسان کا وجود روح پھو نکنے کے بعد متحقق ہوتا ہے ،وہ آیات جو بیان کرتی ہیں کہ ہم تم کو تام اور کامل دریافت کرتے ہیں وہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان کی روح اس کی واقعی حقیقت کو تشکیل دیتی ہے ورنہ اگر جسم بھی انسان کے حقیقی وجود کا حصہ ہوتا تو موت کے وقت انسان ،تام اور کامل دریافت نہیں ہوتا اور جسم کے پراگندہ ہو تے ہی انسان کی واقعی حقیقت کا وہ حصہ بھی نابود ہو جاتا ۔

____________________

(۱)سورۂ مومنون ۱۴


خلاصہ فصل

۱.انسان دو پہلو رکھنے والا اور جسم و روح سے مرکب وجود ہے ۔

۲.اگرچہ نسل آدم علیہ السلام کے جسم کی بناوٹ کی کیفیت کے بارے میں کوئی خاص بحث نہیں ہے لیکن مفکرین، ابوا لبشرحضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں اختلاف نظررکھتے ہیں ۔

۳.جب ڈارون نے اپنے فر ضیہ کو بیان کیا اور مختلف مخلوقات کی بناوٹ کو (بہترین انتخاب اصل ہے )کی بنیاد پر پیش کیا تو بعض غربی مفکرین نے نسل آدم کے ماضی کو بھی اسی فرضیہ کی روشنی میں تمام حقیر حیوانات کے درمیان جستجو کرتے ہوئے بندروں کے گمشدہ واسطہ کے ساتھ پیش کیا ۔

۴.بعض مسلمان مفکرین نے کوشش کی ہے کہ خلقت آدم کو بیان کرنے والی آیات کوبھی

اسی فرضیہ کے مطابق تفسیر کریں لیکن اس طرح کی آیات (نَّ مَثَل عِیسیٰ عِندَ اللّٰہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ) گذشتہ درس کی عبارتوں میں دی گئی توضیحات کی بنا پر ایسے نظریہ سے سازگار نہیں ہے ۔

۵. آیات قرآن نہ صرف روح کے وجود پر دلالت کرتی ہیں بلکہ انسان کی موت کے بعد بقاء و استقلال کی بھی وضاحت کرتی ہیں ۔

۶. روح کا وجود و استقلال بھی آیات قرآن کے علاوہ عقلی دلیلوں اور تجربی شواہد سے بھی ثابت ہے ۔


تمرین

اس فصل سے مربوط اپنی معلومات کو مندرجہ ذیل سوالات و جوابات کے ذریعہ آزمائیں، اگر ان کے جوابات میں مشکلات سے دوچار ہوں تو دوبارہ مطالب کو دہرائیں :

۱. ''انسان کی خلقت'' کو قرآن کی تین آیتوں سے واضح کیجئے؟

۲. انسان کے دو پہلو ہونے سے مراد کیا ہے ؟

۳. مندرجہ ذیل موارد میں سے کون سا مورد ، ڈارون کے نظریہ ''اقسام کی علت ''انسان کے ضروری تکامل کے مطابق ہے ؟

الف) حضرت آدم کی مخصوص خلقت کو بیان کرنے والی آیات کی توجیہ کریں ۔

ب)انسان کے اندر، ذاتی کرامت و شرافت نہیں ہے ۔

ج)جس جنت میں حضرت آدم خلق ہوئے وہ زمین ہی کا کوئی باغ ہے ۔

د)جناب آدم کا نازل ہونا اور ان کے سامنے فرشتوں کا سجدہ کرنا ایک عقیدتی مسئلہ ہے ۔

۴.جو حضرات بالکل روح انسان کے منکر ہیںمن جملہ حوادث میں تفکر کی قدرت ، حافظہ اور تصورات وغیرہ کی کس طرح توجیہ کرتے ہیں اور انہیں کیاجواب دیا جاسکتا ہے ؟

۵. روح و جسم کے درمیان پانچ قسم کے رابطہ کو ذکر کریں اور ہر ایک کے لئے مثال پیش کریں ؟

۶. آپ کے اعتبار سے کون سی آیت بہت ہی واضح روح کے وجود و استقلال کو بیان کرتی ہے ؟ اور کس طرح ؟

۷. روح انسانی سے انکار کے غلط اثرات کیا ہیں ؟

۸.انسان و حیوان کے درمیان مقام و مرتبہ کا فرق ہے یا نوع و ماہیت کا فرق ہے ؟

۹.لیزری ڈیسکیںاورمانیٹر پر ان کی اطلاعات کی نمائش ، آیا صغیر پر کبیر کے انطباقی مصادیق و موارد میں سے ہے ؟

۱۰. ہم میں سے ہر ایک مخصوص زمان و مکان میں خلق ہوا ہے اور مطالب کو بھی مخصوص زمان و مکان میں درک کرتا ہے ،تو کیا یہ بات روح اور روحی حوادث کے زمان ومکان سے محدود ہونے کی علامت نہیں ہے ؟

۱۱.جسم و جسمانی حوادث اور روح و روحانی حوادث کی خصوصیات کیا ہیں ؟


مزید مطالعہ کے لئے

۱۔انسان کی خلقت میں علم و دین کے نظریات کے لئے ،ملاحظہ ہو:

۔البار ، محمد علی ،خلق الانسان بین الطب و القرآن ، بیروت ،

۔بوکای ، موریس ( ۱۳۶۸) مقایسہ ای تطبیقی میان تورات ، انجیل ، قرآن و علم ، ترجمہ ، ذبیح اللہ دبیر ، تہران : دفتر نشر فرہنگ اسلامی ۔

۔سبحانی ، جعفر ( ۱۳۵۲) بررسی علمی ڈاروینزم ، تہران : کتابخانہ بزرگ اسلامی ،

۔سلطانی نسب ، رضا ، و فرہاد گرجی ( ۱۳۶۸) جنین شناشی انسان ( بررسی تکامل طبیعی و غیر طبیعی انسان ) تہران : جہاد دانشگاہی ۔

۔شاکرین ، حمید رضا قرآن و رویان شناسی ، حوزہ و دانشگاہ کے مجلہ سے منقول ، سال دوم ، شمارہ ۸۔

۔شکرکن ، حسین ، و دیگران (۱۳۷۲) مکتبھای روان شناسی و نقد آن ج۲ ، تہران : سمت ، دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ۔

۔محمد حسین طباطبائی (۱۳۶۹) انسان از آغاز تا انجام ، ترجمہ و تعلیقات : صادق لاریجانی آملی ، تہران : الزہرا۔

۔ ( ۱۳۵۹) فرازھایی از اسلام تہران : جہان آرا.

۔ ( ۱۳۶۱) آغاز پیدایش انسان ؛ تہران : بنیاد فرہنگی امام رضا

۔قراملکی ، فرامرز ( ۱۳۷۳) موضع علم و دین در خلقت انسان تہران : موسسہ فرہنگی آرایہ

۔محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۶) معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۔مطہری ، مرتضی ( ۱۳۶۸) مجموعہ آثار ج۱ ، تہران : صدرا

۔مکارم شیرازی ، ناصر، ڈاروینزم کے بارے میں بحث وتحقیق و تحلیل اور تکامل کے بارے میں جدید نظریات. قم : نسل جوان ۔

۔مہاجری ، مسیح ( ۱۳۶۳) تکامل از دیدگاہ قرآن تہران : دفتر نشر فرہنگی اسلامی واعظی ، احمد (۱۳۷۷) انسان در اسلام تہران : دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ( سمت )


اس فصل میں مذکورہ تفسیری کتابیں ۔

۲۔ کلمہ نفس و روح کے سلسلہ میں ، اس کے اصطلاحی معانی و استعمالات اور خدا وند عالم سے منسوب روح سے مراد کے لئے .ملاحظہ ہو:

۔حسن زادہ آملی ، حسن، معرفت نفس ، دفتر سوم ، ص ۴۳۷. ۴۳۸.

۔محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۶) معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیہان شناسی ، انسان شناسی ) قم : موسسہ ۔آموزشی و پژوہشی امام خمینی ص ۳۵۶.۳۵۷ و اخلاق در قرآن ج۲ ص ۲۰۰سے ۲۰۸ تک ۔

۳ ۔روح انسان اور نفس و بدن یا روح و جسم کے رابطہ میں مختلف نظریات کے لئے ملاحظہ ہو:

۔ بہشتی ، محمد (۱۳۷۵) ''کیفیت ارتباط ساحتھای وجود انسان ''مجلہ حوزہ و دانشگاہ ، دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، شمارہ نہم ، ص ۲۹۔ ۳۷.

۔دیونای ، امیر ( ۱۳۷۶) حیات جاودانہ .پژوہشی در قلمرو و معاد شناسی ، قم ؛ معاونت امور اساتید و دروس معارف اسلامی

۔رئوف ، عبید ( ۱۳۶۳) انسان روح است نہ جسد ، ترجمہ زین العابدین کاظمی خلخالی ، تہران : دنیای کتاب

۔شکر کن ، حسین و دیگران ( ۱۳۷۲) مکتبہای رواان شناسی و نقد آن تہران دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ( سمت ) ص ۲۰۶،۲۰۷و ۳۶۹،۳۸۶).

۔غروی ، سید محمد ( ۱۳۷۵ ) ''رابطہ نفس و بدن ''مجلہ حوزہ و دانشگاہ ، شمارہ نہم ص ۸۴تا ۸۸.

۔واعظی ، احمد( ۱۳۷۷) انسان در اسلام ، تہران : دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ( سمت )


پانچویں فصل :

انسان کی فطرت

اس فصل کے مطالعہ کے بعد آپ کی معلومات:

۱. انسانی مشترکہ طبیعت سے مراد کیا ہے وضاحت کریں ؟

۲. دینی اعتبار سے انسان کے مشترکہ عناصر کا بنیادی نقطہ بیان کریں ؟

۳. انسانی مشترکہ طبیعت کے وجود پر دلیلیں پیشکریں ؟

۴.انسانی تین مشترکہ طبیعت کی خصوصیات کے نام بتائیں اور ہر ایک کے بارے میں مختصر وضاحت پیش کریں ؟

۵. ان آیات و روایات کے مضامین جو انسان کی مشترکہ طبیعت کے وجود کی بہت ہی واضح طور پرتائید کرتی ہیں بیان کیجیئے ؟

۶. توحید کے فطری ہونے کے باب میں مذکورہ تین احتمال بیان کریں ؟

۷. سورۂ روم کی آیت نمبر ۳۰ کو ذکر کریں اور اس آیت کی روشنی میں فطرت کے زوال نا پذیر ہونے کی وضاحت کریں ؟


اپنے اور دوسروں کے بارے میں تھوڑی سی توجہ کرنے سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے اور ہم جیسے دوسرے افراد کے عادات و اطوار نیزظاہری شکل و شمائل کے درمیان اختلاف کے باوجود ایک دوسرے میں جسم و روح کے لحاظ سے بہت زیادہ اشتراک ہے ،اپنے اور دوسروں کے درمیان موجودہ مشترک چیزوں میں غور و فکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشترک علت کبھی تو ہمارے اور بعض لوگوں کے درمیان یا انسانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان ہے مثال کے طور پر زبان ، رنگ ، قومیت ، آداب و رسوم ، افعال،قد کا زیادہ اور کم ہونے وغیرہ میں اشتراک ہے۔اور کبھی یہ امور سبھی افراد میں نظر آتے ہیں جیسے حواس پنجگانہ رکھنا ،قد کا سیدھا ہونا ، خدا کا محتاج ہونا ، جستجو کی حس ، حقیقت کی خواہش اور آزاد خیال ہونا وغیرہ ۔

مشترک کی پہلی قسم، بعض افراد انسان میں نہ ہونے کی وجہ سے انسان کی فطری اور ذاتی چیزوں میں شمار نہیں ہوسکتی ہے لیکن مشترک کی دوسری قسم میں غور و فکر سے مندرجہ ذیل مہم اور بنیادی سوالات ظاہر ہوتے ہیں ۔

۱. گذشتہ فصل کے مباحث کی روشنی میں ان مشترکہ امور کا انسان کی واقعی حقیقت اور ذات سے کیا رابطہ ہے ؟ کیا یہ سبھی مشترکہ چیزیں انسان کی ذات سے وجود میں آتی ہیں ؟

۲. ذاتی مشترک چیزوں کی خصوصیات کیا ہیں اور غیر ذاتی چیزوں سے ذاتی مشترک چیزوں ( انسان کی مشترکہ فطرت )کی شناخت کا ذریعہ کیا ہے ؟

۳.انسان کے یہ مشترکہ اسباب اس کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں ؟

۴.ان ذاتی مشترک چیزوں کی قسمیں یا مصادیق و موارد کیا ہیں ؟


۵.انسان کی شخصیت اور بناوٹ اور الٰہی فطرت سے ذاتی مشترکہ چیزیں کیا رابطہ رکھتی ہیں ؟

۶.کیا انسان ان ذاتی مشترکہ چیزوں کی بنا پر خیر خواہ اور نیک مخلوق ہے یا پست و ذلیل مخلوق ہے یا ان دونوں کا مجموعہ ہے ؟

ان سوالات کے جوابات کا معلوم کرنا وہ ہدف ہے جس کے مطابق یہ فصل (انسان کی فطرت کے عنوان سے )مرتب ہوئی ہے ۔(۱)

انسانی مشترکہ طبیعت

انسان کی فطرت کے بارے میں گفتگوکو انسان شناسی کے مہم ترین مباحث میں سے ایک سمجھا جاسکتا ہے ، جو جاری چند صدیوں میں بہت سے مفکرین کے ذہنوں کو اپنی طرف معطوف کئے ہوئے ہے ۔

یہ مسئلہ متعدد و مختلف تعریفوں کو پیش کرنے کے باوجود ایک معتبر ومتیقن طریقۂ معرفت کے نہ ہونے اور ذات انسان کے پر اسرار و مخفی ہونے کی وجہ سے بہت سے دانشمندوں کی حیرت و پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے ان میں سے بعض جیسے ''پاسکال '' کو مجبور ہونا پڑا کہ انسان کی فطرت اور ذات کی معرفت کو غیر ممکن سمجھے(۲) اور بعض لوگوں کی اس گمان کی طرف رہنمائی کی ہے کہ انسانوں

____________________

(۱)اس بحث کو حجة الاسلام احمد واعظی زید عزہ نے آمادہ کیا ہے جو تھوڑی اصلاح اور اضافہ کے ساتھ معزز قارئین کی خدمت میں پیش ہو رہی ہے ۔

(۲)پاسکال منجملہ ان لوگوں میں سے ہے جو معتقد تھا کہ انسان کی معرفت کی عام راہیں کسی وقت بھی انسان کے سلسلہ میں صحیح معلومات فراہم نہیں کرسکتی ہیں ۔ اور دین جو انسان کی معرفت کا واحد ذریعہ ہے وہ بھی انسان کو مزید پر اسرار بنا دیتا ہے اور اس کو خدا وند عالم کی طرح پوشیدہ اور مرموز کردیتا ہے ۔ ملاحظہ ہو: کیسیرر ، ارنسٹ ؛ فلسفہ و فرہنگ ؛ ص ۳۴و ۳۶۔


کے درمیان مشترکہ فطرت و ذات کے وجود کے منکر ہوں(۱) مثال کے طور پر ''جوزارٹگا''(۲) اس سلسلہ میں کہتا ہے کہ'' فطری علوم، حیات انسانی کی حیرت انگیز حقیقت کے مقابلہ میں متحیر ہیں ۔انسان سے پردۂ اسرار کے نہ ہٹنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان کوئی شیٔ نہیں ہے اور انسان کی فطرت کے بارے میں گفتگو کرنا کذب محض ہے ۔ فطرت و طینت نامی کوئی بھی شیٔ انسان میں نہیں ہے ''۔(۳)

بہتر یہ ہوگا کہ انسان کی مشترکہ فطرت کی نفی یا اثبات کی دلیلوں کو پیش کرنے سے پہلے مشترکہ فطرت و طینت کے مقصود کو واضح کیا جائے ۔

مشترکہ فطرت سے مراد(۴)

حیوان کے مختلف اقسام میں مشترکہ جہتیں اور خصوصیات ہوتی ہیں ۔ فطری چیزوں کا وجود

____________________

(۱)ڈور کیم کی طرح جامعہ کو اصل سمجھنے میں افراط کرنے والے اور ژان پل سارٹر کی طرح عقیدۂ وجود رکھنے والے اور فرڈریچ ہگل ( Georg Wilhelm Friedrich Hegel )کی طرح عقیدہ ٔ تاریخ رکھنے والے نیزریچارڈ پالمر( Richard Palmer ) منجملہ ان لوگوں میں سے ہیں جومورد نظر معانی میں انسان کی مشترکہ فطرت کے منکر ہیں .ملاحظہ ہو: اسٹیونسن ، لسلی ؛ ہفت نظریہ در باب انسان ؛ ص ۱۳۶۔ ۱۳۸۔ محمد تقی مصباح ؛ جامعہ و تاریخ از دیدگاہ قرآن ؛ سازمان تبلیغیات اسلامی ، تہران ؛ ۱۳۶۸، ص ۴۷و ۴۸۔ (۳)کیسیرر ، ارنسٹ ،گذشتہ حوالہ؛ ص۲۴۲۔

Cjose Ortega Y Gasset .(۲)

(۴)کلمہ'' فطرت انسان''کے مختلف و متنوع استعمالات ہیں : مالینوفسکی کی طرح مفکرین اس کو مادی ضرورتوںمیں منحصر کردیتے ہیں کولی کی طرح بعض دوسرے مفکرین'' اجتماعی فطرت''خصوصاً اجتماعی زندگی میں جو احساسات اور انگیزے ابتدائی معاشرے میں ہوتے ہیں بیان کرتے ہوئے متعدد فطرت و سماج پر یقین رکھتے ہیں، بعض نے اجتماعی فطرت کوابتدائی گروہ( جیسے خاندان) اور سماجی طبیعت و اجتماعی کمیٹیوں سے وجود میں آنے کے بارے میں گفتگو کی ہے ،وہ چیز جو ان نظریات میں معمولاً مورد غفلت واقع ہوتی ہے وہ انسان کی مخصوص اور بلند و بالا فطرت ہے جو انسان و حیوان کی مشترکہ اور اس کی مادی و دنیاوی ضرورتوں سے بلند و بالا ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جو اس بحث میں شدید مورد توجہ واقع ہوئی ہے ۔


جیسے نفس کو بچانا اور حفاظت کرنا اور تولید نسل کرنا وغیرہ ان کی مشترکہ فطرت پر دلالت کرتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ فطری چیزیں سبھی حیوانوں کے درمیان مشترک ہیں لیکن حیوان کی ہر فرد ان مشترکہ فطرت کے علاوہ اپنے مطابق صفات وکردار کی بھی مالک ہوتی ہے ،چونکہ حیوانوں کے اندر نفوذ کرکے ان کی ذاتیات کو کشف کرنا انسان کے لئے خیال و گمان کی حد سے زیادہ میسر نہیں ہے، لہٰذا بیرونی افعال جیسے گھر بنانے کا طریقہ ، غذا حاصل کرنا ، نومولود کی حفاظت ، اجتماعی یا فردی زندگی گذارنے کی کیفیت اور اجتماعی زندگی میں تقسیم کار کی کیفیت کے عکس العمل کی بنیاد پر حیوان کی ایک فرد کو دوسری فرد سے جدا کیا جاسکتاہے ،مذکورہ خصوصیات کو حیوانوں کی فطرت و طینت کے فرق و تبدیلی کی وجہ سمجھنا چاہیئے ۔

انسان کا اپنی مخصوص فطرت و طینت والا ہونے سے مراد یہ بات ثابت کرنا نہیں ہے کہ انسان سبھی حیوانوں کی طرح ایک حیوان ہے اور حیوانوں کی ہی قسموں میں سے ہر ایک کی طرح یہ نوع بھی اپنی مخصوص امتیاز رکھتی ہے ،بلکہ مقصود اس نکتہ کا ثابت کرنا ہے کہ انسان حیوانی فطرت کے علاوہ بعض مشترکہ خصوصیات کا مالک ہے ۔حیوانی وکسبی چیزوں کے بجائے مشترکہ خصوصیات کامقام جستجو ،فہم خواہشات اور انسان کی توانائی ہے،اگر ہم یہ ثابت کرسکے کہ انسان ،مخصوص فہم و معرفت یا خواہشات و توانائی کا مالک ہے جس سے سبھی حیوانات محروم ہیں تو ایسی صورت میں انسان کی خصوصیت اور حیوانیت سے بالاتر مشترکہ فطرت ثابت ہوجائے گی ۔(۱)

____________________

(۱)فصل اول میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ انسان اور اس کی خصوصیات کی معرفت کے لئے چار طریقوں ؛ عقل ، تجربہ ، شہود اور وحی سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ اور ان کے درمیان طریقہ وحی ،کو مذکورہ خصوصیات کی روشنی میں دوسری راہوں پر ترجیح حاصل ہے اگرچہ ہر راہ و روش اپنے مخصوص مقام میں نتیجہ بخش ہے، فطرت انسان کی شناخت میں بھی یہ مسئلہ منکرین کے لئے مورد توجہ رہا ہے اورانھوں نے اس سلسلہ میں بحث و تحقیق بھی کی ہے۔ جو کچھ پہلی فصل میں بیان ہوچکا ہے وہ ہمیں مزید اس مسئلہ میں گفتگو کرنے سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے :ملاحظہ ہو؛ ازرائل شفلر ؛ در باب استعدادھای آدمی ، گفتاری در فلسفہ تعلیم و تربیت ، دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، سمت ، ۱۳۷۷ تہران : ص ۱۶۳


مشترکہ فطرت کی خصوصیات

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان کی مشترکہ فطرت کی پہلی خصوصیت اس کا حیوانیت سے بالاتر ہونا ہے اس لئے کہتمایل و رجحانات تفکرو بینش حیوانوں میں پائی ہی نہیں جاتی ہے مثال کے طور پر نتیجہ اور استدلال کی قدرت اور جاہ طلبی یا کم از کم انسان کے اندر و سعت کے مطابق ہی یہ چیزیںپائی جاتی ہیں جو باقی حیوانوں میں نہیں ہوتی ہیں مثال کے طور پر گرچہ حیوانات بھی معلومات رکھتے ہیں لیکن حیوانوں کی معلومات انسانوں کی معلومات کے مقابلہ میں نہ ہی اس میں وسعت ہے اور نہ ہی ظرافت و تعمق جیسے صفات کی حامل ہے ،اسی وجہ سے انسان اور حیوان میں معلومات کے نتائج و آثار بھی قابل قیاس نہیں ہیں ، علم و ٹیکنالوجی انسان سے مخصوص ہے ۔مشترکہ فطرت کی دوسری خصوصیت ، حضوری فطرت ہے ۔ تعلیم و تعلّم اور دوسرے اجتماعی عوامل اور مشترکہ فطرت کے عناصر کی پیدائش میں ماحول کا کوئی کردار نہیں ہے اسی بنا پر یہ عناصر انسان کی تمام افراد میں ہر ماحول و اجتماع اور تعلیم تعلّم میں (چاہے شدت و ضعف اور درجات متفاوت ہوں )وجود رکھتا ہے ۔

انسان کی مشترکہ فطرت کے عناصر کی تیسری خصوصیت ،لازوال ہونا ہے ،انسان کی مشترکہ فطرت چونکہ اس کی انسانیت کی ابتدائی حقیقت و شخصیت کو تشکیل دیتی ہے لہٰذا انسان سے جدا اور الگ نہیں ہوسکتی اور فرض کے طور پر اگر ایسے افراد ہوں جو ان عناصر سے بے بہرہ ہوں یا بالکل کھو چکے ہوں ان کی حیثیت حیوان سے زیادہ نہیں ہے اور ان کا شمارانسان کی صفوں میں نہیں ہوتابلکہ کبھی تو بعض عناصر کے نابود ہو جانے سے اس کی دائمی زندگی مورد سوال واقع ہوجاتی ہے مثال کے طور پر جو قدرت عقل و دانائی سے دور ہو یا عقل ہی نہ رکھتا ہو وہ گرچہ ظاہری شکل و صورت ، رفتار و کردار میں دوسرے انسانوں کی طرح ہے لیکن در حقیقت وہ حیوانیجہت سے اپنی زندگی گذار رہا ہے اور اس سے انسانی سعادت سلب ہوچکی ہے، مذکورہ خصوصیات میں سے ہر ایک انسان کی مشترکہ فطرت کے عناصر کی معرفت کے لئے معیار ہیں ۔ اور ان خصوصیات کا انسان کے ارادے اور تمایل ، فکری توانائی اور بینش کا ہونااس بات کی علامت ہے کہ یہ ارادے ،فکری توانائی اور بینش ،انسانی فطرت کا حصہ ہیں ۔


ماحول اور اجتماعی اسباب کا کردار

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان کی مشترکہ فطرت کے عناصر روز خلقت ہی سے تمام انسانوں کے اندرودیعت کر دیئے گئے ہیں جس کو ماحول اور اجتماعی عوامل نہ ہی مہیا کرسکتے ہیں اور نہ ہی نابود کرسکتے ہیں ۔ مذکورہ عوامل انسان کی فطرت میں قدرت و ضعف یا رہنمائی کا کردار ادا کرتے ہیں مثال کے طور پر حقیقت کی طلب اورمقام ومنزلت کی خواہش فطری طور پر تمام انسانوں میں موجود ہے البتہ بعض افراد میں تعلیم و تعلم اور ماحول و اجتماعی اسباب کے زیر اثر پستی پائی جاسکتی ہے یا بعض افراد میں قوت و شدت پائی جاسکتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں فطری خواہش کسی خاص اہداف کے تحت مورد استفادہ واقع ہوں جو تعلیم و تربیت اور فردی و اجتماعی ماحول کی وجہ سے وجود میں آئے ہوں۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مشترکہ فطرت کے ذاتی اور حقیقی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے سبھی عناصر فعلیت اور تکامل سے برخوردار ہیں بلکہ انسانوں کی مشترکہ فطرت کو ایسی قابلیت اور توانائی پر مشتمل سمجھنا چاہیئے جو وقت کے ساتھ ساتھ اور بیرونی شرائط کے فراہم ہوتے ہی استعمال اور انجام پاتے ہیں، یہ نکتہ ایک دوسرے زاویہ سے بعض مشترکہ فطری عناصر پر ماحول اور اجتماعی توانائی کے اسباب کے تاثرات کو بیان و واضح کرتا ہے ۔

انسانی مشترکہ فطرت پر دلائل

یہ ہم بتا چکے ہیں کہ انسان کی مخصوص خلقت اور حیوانیت سے بالا ترگوشوں کو اس کی فہم ، خواہش اور توانائی؛ تین پہلوؤں میں تلاش کرنا چاہیئے اور یہ جستجو دینی متون اور عقل و تجربہ ہی کی مدد سے ممکن ہے پہلے تو ہم غیر دینی طریقوں اوربغیر آیات و روایات سے استفادہ کرتے ہوئے انسانوں کی مشترکہ فطرت کو مورد تحلیل و تحقیق قرار دیں گے اور آخر میں دینی نظریہ سے یعنی دین کی نگاہ میں انسانوں کی مشترکہ فطرت (الٰہی فطرت)کے مرکزی عنصر کو آیات و روایات کی روشنی میں تجزیہ و تحلیل کریں گے ۔


انسانوں کی مشترکہ فطرت کے وجود پر پہلی دلیل یہ ہے کہ انسان ایک مخصوص فہم و معرفت کا مالک ہے ،انسان اس فہم و ادراک کی مدد سے قیاس اور نتیجہ اخذ کرتاہے اور اپنی گذشتہ معلومات کے ذریعہ نئی معلومات تک پہونچتاہے ۔ انسان کا نتیجہ حاصل کرنا، عقلی ادراک اور قواعد و اصول پر استوار ہے ،مثال کے طورپر ''نقیضین کا جمع ہونا محال ہے ، نقیضین کارفع بھی محال ہے ،سلب الشیٔ عن نفسہ ممکن نہیں ہے، کسی شیٔ کا اپنے آپ پر مقدم ہونا محال ہے '' یہ ایسے قضایا ہیں جن کو اصول و قواعد کا نمونہ سمجھا جاناچاہیئے،یہ قضایا فوراً فہم و حواس کے ادراک میں نہیں آتے ہیں بلکہ بشر کی اس طرح خلقت ہوئی ہے کہ اس کے ذہن کے آمادہ ہونے کے بعد یعنی جب اس کے حواس فعال ہوں اور اس کے لئے تصورات کے اسباب فراہم ہوں تو دھیرے دھیرے اس کی ذہنی قابلیت رونما ہوگی اور اس طرح سے بدیہی قضایا حاصل ہوں گے ۔ ان بدیہی قضایا کی مدد سے انسان کا ذہن اپنی تصدیقات اور مقدمات کو مختلف شکل و صورت میں مرتب کرتا ہے اور اقسام قیاس کو ترتیب دیتے ہوئے اپنی معلومات حاصل کرلیتا ہے ،ایسی بدیہی معلومات کو ''ادراکات فطری ''کہتے ہیں ،اس معنی میں کہ انسان فطری اور ذاتی طور پر اس طرح خلق ہوا ہے کہ حواس کے بے کار ہونے کے بعد بھی خود بخود ان ادراک کو حاصل کرلیتا ہے، اس طرح نہیں جیسا کہ مغرب میں عقل کو اصل ماننے والے ''ڈکارٹ''اور اس کے ماننے والوں کا نظریہ ہے کہ ادراکات بغیر کسی حواس ظاہری اور باطنی فعالیت کے انسان کی طبیعی فطرت میں ہمیشہ موجود ہیں ۔

انسان کے اخلاق و کردار کی معرفت بھی مشترکہ فطرت کی اثبات کے لئے موافق ماحول فراہم کرتی ہے ،فردی تجربہ و شواہد اور بعض مشترکہ اخلاقی عقائد کا گذشتہ افراد کے اعمال میں تاریخی جستجو،مثال کے طور پر عدالت اوروفاداری کا اچھا ہونا، ظلم اور


امانت میں خیانت کا برا ہوناوغیرہ کوبعض مفکرین مثال کے طور پر'' ایمانول کانٹ '' فقط عقل عملی کے احکام کی حیثیت سے مانتے ہیں اور کبھی اس کو'' حِسِّ اخلاقی '' یا ''وجدان اخلاقی ''سے تعبیر کرتے ہیں اس نظریہ کے مطابق تمام انسان ایک مخصوص اخلاقی استعداد کی صلاحیت رکھتے ہیں جو نکھرنے کے بعد بدیہی اور قطعی احکام بن جاتے ہیں ۔

البتہ ان اخلاقی احکام کا صرف'' عقل عملی ''نامی جدید قوت ، نیز'' وجدان یا حس اخلاقی'' سے منسوب ہونا ضروری نہیں ہے ۔بلکہ یہ اسی عقل کا کام ہوسکتا ہے جو نظری امور کو حاصل کرتی ہے بہر حال جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان ذاتی اور نظری طور سے ان اہم قضایا اور احکام کا مالک ہے ۔

مشترکہ فطرت کے وجود کی دوسری دلیل ، انسانوں کے درمیان حیوانیت سے بالا تمنا اور آرزوؤں کا وجود ہے ۔ علم طلبی اور حقیقت کی تلاش ، فضیلت کی خواہش ، بلندی کی تمنا ، خوبصورتی کی آرزو ، ہمیشہ باقی رہنے کی خواہش اور عبادت کا جذبہ یہ ساری چیزیں حقیقی اور فطری خواہشات کے نمونے ہیں اوران کے حقیقی اور فطری ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ہر انسان کی روح ان خواہشات کے ہمراہ ہے اور یہ ہمراہی بیرونی اسباب اور تربیت ، معاشرہ اور ماحول کے تصادم سے وجود میں نہیں آئی ہے بلکہ یہ انسانی روح کی خاصیت ہے اور ہر انسان فطری طور پر (خواہ بہت زیادہ ضعیف اور پوشیدہ طور پر ہو)ان خواہشات سے بہرہ مند ہے ۔


اور جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ ان کے استعمال اور ان کی نشو و نمامیں بیرونی عوامل ، اسباب و علل بھی ان خواہشات کی کمی اور زیادتی میں دخیل ہیں لیکن ان کی تخلیق اور حقیقی خلقت میں موثر نہیں ہیں مثال کے طور پر انسان کی فطری خواہش کاجاننا ، آگاہ ہونا اور دنیا کے حقائق کو معلوم کرنا صغر سنی ہی کے زمانے سے عیاں ہوتی ہے اور یہ چیزانسان سے آخری لمحات تک سلب نہیں ہوتی ہے، ذہن انسانی کی مختلف قوتیں اور طاقتیں اس فطری خواہش کی تسکین کے لئے ایک مفید وسیلہ ہیں ۔

فطری خواہشات کا ایک اور نمونہ خوبصورتی کی خواہش ہے جو انسان کی فطرت و ذات سے تعلق رکھتی ہے پوری تاریخ بشر میں انسان کی تمام نقاشی کی تخلیقات اسی خوبصورت شناسی کے حس کی وجہ سے ہے البتہ خوبصورت چیزوں کی تشخیص یا خوبصورتی کی تعریف میں نظریاتی اختلاف ہونا اس کی طرف تمایل کی حقیقت سے منافات نہیں رکھتاہے ۔

مشترکہ فطرت کی تیسری جستجو خودانسان کی ذاتی توانائی ہے، معتبر علامتوں کے ذریعہ سمجھنا اور سمجھانا ، زبان سیکھنے کی توانائی، عروج و بلندی کے عالی مدارج تک رسائی اور تہذیب نفس وغیرہ جیسی چیزیں انسان کی منجملہ قوتیں ہیں جو مشترکہ فطری عناصر میں شمار ہوتی ہیں اور روز تولد ہی سے انسان کے ہمراہ ہیں ،اور دوسرے عوامل فقط قوت و ضعف میں ان کی ترقی و رشد کا کردار ادا کرتے ہیں ،یہ قوتیں بھی انسان کی مشترکہ فطرت کے وجود کی دلیل ہیں ۔(۱) معارف اور خواہشات کے پائے جانے کے سلسلہ میں انسان کی آئندہ مشترکہ توانائی کے وجود کی آیات و روایات میں بھی تائید و تاکید ہوئی ہے مثال کے طور پر آیہ فطرت جس کے بارے میں آئندہ بحث کریں گے اور وہ آیات جو انسانوں کی مشترکہ فطری شناخت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اور آیہ شریفہ (وَ نَفسٍ وَ مَا سَوّیٰھَا فَألھَمَھَا فُجُورَھَا وَ تَقوَیٰھَا)(۲) (قسم ہے نفس انسانی کی اور اس ذات کی کہ جس نے اسے درست کیا پھر اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کوالہام کے ذریعہ اس تک پہونچایا )مشترکہ اخلاقی اور اعتباری فطرت کی تائید کرتی ہے اور بہت سی آیات انسان کو انسانیت کے بلند ترین مرتبہ تک پہونچنے میں تلاش اور ختم نہ ہونے والے

____________________

(۱)گذشتہ فصل میں ہم انسان شناسی کی ضرورت و اہمیت کے عنوان سے انسانی علوم میں انسانوں کی مشترکہ عقیدہ کو بیان کرچکے ہیں ،لہٰذا یہاں انسان کی مشترکہ فطرت کے آثارو عقائد پر بحث کرنے سے صرف نظر کرتے ہوئے اس نکتہ کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں کہ انسانی اور بین الاقوامی اقتصادی ،حقوقی ، تربیتی اور اخلاقی ہر قسم کا نظام، انسان کی مشترکہ فطرت کی قبولیت سے وابستہ ہے اور انسانی مشترکہ فطرت کے انکار کی صورت میں یہ نظام بے اہمیت ہو جائیں گے ۔

(۲)سورۂ شمس ۷و ۸۔


کمال کے حصول کی دعوت دیتی ہیں اور ضمنی طور پر اس راہ میں گامزن ہونے کے لئے انسان کی ذاتی قدرت کو مورد توجہ قرار دیتی ہیں ۔

فطرت(۱)

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ آیات و روایات میں وہ مطالب بھی مذکور ہیں جو وضاحت کے ساتھ یا ضمنی طور پر انسان کی مخصوص حقیقت ، مشترکہ فطرت اور معرفت کی راہ میں اس کے خصوصی عناصرنیز خواہشات اور قدرت کے وجود پر دلالت کرتے ہیں لیکن وہ چیز جس کی آیات و روایات میں بہت زیادہ تاکید و تائید ہوئی ہے وہ فطرت الٰہی ہے اور اس حقیقت پر بہت ہی واضح دلالت کرنے والی، سورۂ روم کی تیسویں آیہ ہے ۔

( فأَقِم وَجهَکَ لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطرَتَ اللّٰهِ الّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیهَا لا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّٰهِ )

تو تم باطل سے کترا کے اپنا رخ دین کی طرف کئے رہو، یہی خدا کی فطرت ہےجس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے خدا کی فطرت میں تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے ۔

یہ آیہ انسان میں فطرت الٰہی کے وجود پر دلالت کرتی ہے یعنی انسان ایک ایسی فطرت ، سرشت اور طبیعت کے ہمراہ خلق ہوا ہے کہ جس میں دین قبول کرنے کی صلاحیت ہے لہٰذاانبیاء علیھم السلام خداوند عالم کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف انسانوں کو دعوت دینے کے سلسلہ میں کسی بے توجہ مخلوق سے مخاطب نہیں تھے بلکہ انسان کی فطرت اور ذات میں توحید کی طرف میلان اور کشش پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان ذاتی طور پر خدا سے آشنا ہے ،اس آیت کے علاوہ بعض روایات میں بھی انسان کے اندر الٰہی فطرت کے وجودکی وضاحت ہوئی ہے ۔

____________________

(۱)کلمہ فطرت ؛لغت میں کسی شیٔ کے خلقت کی کیفیت کے معنی میں آیا ہے اور اصطلاح کے اعتبار سے مفکرین کے درمیان متعدد استعمالات ہیں جن کو ضمیمہ میں اشارہ کیا جائے گا ۔


امام محمد باقر نے پیغمبر سے منقول روایت کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ''کُل مَولودٍ یُولدُ عَلیٰ الفِطرَة ''(۱) ''ہر بچہ توحیدی فطرت پر متولد ہوتا ہے '' پھر آپ نے فرمایا:''یعنِی المَعرفَة بِأنّ اللّٰه عَزّو جلّ خَالقُه'' مراد پیغمبر یہ ہے کہ ہر بچہ اس معرفت و آگاہی کے ساتھ متولد ہوتا ہے کہ اللہ اس کا خالق ہے ۔

حضرت علی فرماتے ہیں کہ:''کَلمةُ الخلاص هِی الفِطرَة'' (۲) خداوند عالم کو سمجھنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے ۔

بعض مشترکہ فطری عناصر کا پوشیدہ ہونا

معرفت شناسی سے مرتبط مباحث میں اسلامی حکماء نے ثابت کیا ہے کہ انسان کی فکری معرفت اس کی ذات کے اندر ہی پوشیدہ اور قابلیت کے طور پر موجود ہے اور مرور ایام سے وہ ظاہر ہوتی ہے ۔ دینی متون کے اعتبار سے بھی انسان ،اپنی پیدائش کے وقت ہر قسم کے ادراک اور علم سے عاری ہوتا ہے ۔

( وَ اللّٰهُ أَخرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِکُم لا تَعلَمُونَ شَیئاً وَ جَعَلَ لَکُم السَّمعَ وَ الأبصَارَ وَ الأفئِدَةَ لَعَلَّکُم تَشکُرُونَ ) (۳)

اور خدا ہی نے تم کو مائوں کے پیٹ سے نکالاجب کہ تم بالکل نا سمجھ تھے اور تم کوسماعت ، بصارت اوردل عطا کئے تاکہ تم شکر کرو۔

ممکن ہے یہ توہّم ہو کہ اس آیت کا مفہوم انسان کے متولد ہونے کے وقت ہر طرح کی معرفت سے عاری ہونا ہے، لہٰذا یہ خداوند عالم کی حضوری و فطری معرفت کے وجود سے سازگار نہیں

____________________

(۱)کلینی ، محمد بن یعقوب ؛ اصول کافی ؛ ج۲ ص ۱۳۔

(۲)نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۱۰

(۳)سورہ نحل ۷۸۔


ہے، لیکن جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ مذکورہ آیہ انسان کی خلقت کے وقت تمام اکتسابی علوم کی نفی کرتی ہے لیکن یہ امکان ہے کہ انسان سے علم حضوری کے وجود کی نفی نہ کرتی ہو ،اس مطلب کی دلیل یہ ہے کہ کان اور قلب کو انسان کی جہالت بر طرف کرنے والے اسباب کے عنوان سے نام لیاہے اس لئے کہ اکتسابی علم میں ان اسباب کی ضرورت ہے ،گویا آیہ خلقت کے وقت آنکھ ،کان اور دوسرے حواس سے حاصل علوم کی نفی کرتی ہے لیکن انسان سے حضوری علوم کی نفی نہیں کرتی ہے۔

تقریباً یہ بات اتفاقی ہے کہ انسان کے اندر موجودہ فطری اور طبیعی امور چاہے وہ انسان کے حیوانی پہلو سے مرتبط ہوں جیسے خواہشات اور وہ چیزیں جو اس کی حیوانیت سے بالا تر اور انسانی پہلو سے مخصوص ہیں خلقت کے وقت ظاہر اور عیاں نہیں ہوتے ہیں ،بلکہ کچھ پوشیدہ اور مخفی صلاحیتیںہیں جو مرور ایام سے دھیرے دھیرے نمایاں ہوتی رہتی ہیں جیسے جنسی خواہش اور ہمیشہ زندہ رہنے کی تمنا ، لہٰذا وہ چیز جس کی واضح طور پرتائید کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ فطری امور انسان کی خلقت کے وقت موجود رہتے ہیں ،لیکن خلقت کے وقت ہی سے کسی بھی مرحلہ میں ان کے فعال ہونیکے دعوے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے ۔(۱)

____________________

(۱)وہ چیزیں جوفطری امور کے عنوان سے مورد تحقیق واقع ہوچکی ہیں وہ انسان کی فطری و ذاتی خصوصیات تھیں ۔ لیکن یہ جاننا چاہیئے کہ فطری وصف کبھی انسانی خصوصیات کے علاوہ بعض دوسرے امور پر صادق آتا ہے ، مثال کے طور پر کبھی خود دین اور شریعت اسلام کے فطری ہونے کے سلسلہ میں گفتگو ہوتی ہے اور اس سے مراد انسان کے وجودی کردار اور حقیقی کمال کی روشنی میں ان مفاہیم کی مناسبت و مطابقت ہے ،انسان کی فطری قابلیت و استعداد سے اسلامی تعلیمات اور مفاہیم شریعت کا اس کے حقیقی کمال سے مربوط ہونا نہیں ہے بلکہ یہ انسان کی مختلف فطری اور طبیعی قوتوں کی آمادگی ، ترقی اور رشد کے لئے ایک نسخہ ہے '' شریعت ، فطری ہے '' اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان اور اس کے واقعی اور فطری ضرورتوں میں ایک طرح کی مناسبت و ہماہنگی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ فطرت انسان میں دینی معارف و احکام بالفعل یا بالقوة پوشیدہ ہیں ۔


انسان کی فطرت کا اچھا یا برا ہونا

گذشتہ مباحث سے یہ نکتہ واضح ہوجاتاہے کہ ''سارٹر''جیسے وجود پرست ''واٹسن ''(۱) جیسے کردار و فعالیت کے حامی ''ڈورکھیم ''جیسے'' معاشرہ پرست ''اور''جان لاک''(۲) کی طرح بعض تجربی فلاسفہ کے اعتبار سے انسان کو بالکل معمولی نہیں سمجھنا چاہیئے کہ جو صرف غیر ذاتی عناصر و اسباب سے تشکیل ہواہے بلکہ انسان فکری اعتبار سے اور فطری عناصر میں طاقت و توانائی کے لحاظ سے حیوان سے فراتر مخلوق ہے ۔ چاہے بعض عناصر بالفعل یا بالقوت ہوں یا ان کے بالفعل ہونے میں بیرونی اسباب اورعوامل کے کار فرماہونے کی ضرورت ہو ۔ جو لوگ انسان کو معمولی سمجھتے ہیں انہوں نے اصل مسئلہ کو ختم کردیا اور خود کو اس کے حل سے محفوظ کرلیا ،بہر حال تجربی اور عقلی دلائل ، تعلیمات وحی اور ضمیر کی معلومات اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ انسان بعض مشترکہ فطری عناصر سے استوارہے ۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا انسانوں کی مشترکہ فطرت و طبیعت فقط نیک اور خیر خواہ ہے یا فقط پست و ذلیل ہے یا خیر و نیکی اور پستی و ذلت دونوں عناصر پائے جاتے ہیں ؟

''فرایڈ ''کے ماننے والوں کی طرح بعض مفکرین ''تھامس ہابز ''(۳) کی طرح بعض تجربی فلاسفہ اور فطرت پرست ، لذت پسند سود خور افراد انسان کی فطرت کو پست اور ذلیل سمجھتے ہیں ''اریک فروم'' جیسے فرایڈ کے جدید ماننے والے ''کارل روجرز''(۴) اور'' ابراہیم مزلو''(۵) کی طرح انسان پرست اور ''ژان ژاک روسو''(۶) کی طرح رومینٹک افراد ، انسان کی فطرت کو نیک اور خیر خواہ اور اس کی برائیوں کو نادرست ارادوں کا حصہ یا انسان پر اجتماعی ماحول کا رد عمل تصور کرتے ہیں ۔(۷)

____________________

(۱) Watson

(۲) John Loke

(۳) Thomas Hobbes

(۴) Kart Rogers

(۵) Abraham Maslow

(۶) Jean Jacques Rousseau

(۷)اسی فصل کے ضمیمہ میں ان نظریات کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔


ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ دونوں نظریوں میں افراط و تفریط سے کام لیا گیاہے ۔ انسان کی فطرت کو سراسر پست و ذلیل سمجھنا اور ''ہابز ''کے بقول انسان کو انسان کے لئے بھیڑیا سمجھنا نیزاکثر انسانوں کی بلند پروازی کی تمنا اور عدالت پسندی کی طرح اعلی معارف کی آرزو ، کمال طلبی اور الٰہی فطرت سے سازگار نہیں ہے، اور انسان کی تمام برائیوں کو افراد کے غلط ارادوں اور اجتماعی ماحول کی طرف نسبت دینا اور گذشتہ اسباب یا ہر علت کے کردار کا انکار کرنا بھی ایک اعتبار سے تفریط و کوتاہی ہے، یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ وجود شناسی کے گوشوںاور مسئلہ شناخت کی اہمیت کے درمیان تداخل نہیں ہونا چاہیئے، وجود شناسی کی نگاہ سے انسان کی مشترکہ فطرت کے عناصر کا مجموعہ چونکہ امکانات سے مالا مال اور بھر پور ہے لہٰذا کمالشمار ہوتا ہے اور منفی تصور نہیں کیا جاتا ،لیکن اہمیت شناسی کے اعتبار سے یہ مسئلہ مہم ہے کہ ان امکانات سے کس چیز میں استفادہ ہوتا ہے؟بدبین فلاسفہ اور مفکرین منفی پہلو کے مشاہدہ کی وجہ سے ان توانائی ، تفکر اور خواہشات کو ناپسندیدہ موارد میں استعمال کرکے انسان کو ایک پست اور بری مخلوق سمجھتے ہیں اور خوش بین فلاسفہ اور مفکرین اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے انسان کی فلاح و بہبود کی راہ میں مشترکہ فطری عناصر کے پہلوؤں سے بہرہ مند ہو کر دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ جب کہ یہ شواہد انسان کی فطرت کے اچھے یا برے ہونے پر حتمی طور پر دلیل نہیں ہیں بلکہ ہر دلیل دوسرے کی نفی کرتی ہے ۔

قرآن مجید انسان کی فطرت کوایک طرف تفکر ، خواہش اور توانائی کا مجموعہ بتا تا ہے، جس میں سے اکثر کے لئے کوئی خاص ہدف نہیں ہے اگرچہ ان میں سے بعض مثال کے طور پر خداوندعالم کی تلاش ، معرفت اور عبادت کے فطری ہونے کی طرف متوجہ ہیں ۔اور دوسری طرف خلقت سے پہلے اور بعد کیحالات نیزاجتماعی و فطری ماحول سے چشم پوشی نہیں کرتا ہے بلکہ منجملہ ان کی تاثیر کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور آگاہ انسان کے ہر ارادہ و انتخاب میں ،اثر انداز عنصر کو تسلیم کرتا ہے ۔


اس لئے انسان کی مشترکہ فطرت کو ایسے عناصر کا مجموعہ تشکیل دیتے ہیں جن میں سے بعض فلاح و خیر کی طرف متوجہ ہیں ،لیکن غلط تاثیر یا مشترکہ طبیعت سے انسان کی غفلت اور انسان کے افعال میں تمام موثر عوامل کی وجہ سے یہ حصہ بھی اپنے ضروری ثمرات کھو دیتا ہے اور پیغمبران الٰہی کا بھیجا جانا ، آسمانی کتابوں کا نزول ،خداوند عالم کے قوانین کا لازم الاجراء ہونا اور دینی حکومت کی برقراری ، یہ تمام چیزیں،انسان کو فعال رکھنے اور مشترکہ فطری عناصر کے مجموعہ سے آراستہ پروگرام سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں ہے، چاہے ہدف رکھتی ہوںیا نہ رکھتی ہوں، یا دوسرے اسباب کی وجہ سے ہوں۔ اور انسان کی برائی غلط اثر اور غفلت کا نتیجہ ہے اور انسان کی اچھائی اور نیکی، دینی اور اخلاقی تعلیمات کی روشنی میں دیدہ و دانستہ کردار کا نتیجہ ہے ،آئندہ مباحث میں ہم اس آخری نکتہ کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے ۔

سورۂ روم کی تیسویں آیت کے مفہوم کے سلسلہ میں زرارہ کے سوال کے جواب میں امام جعفر صادق نے فرمایا : ''فَطرھُم جَمِیعاً عَلیٰ التَّوحیدِ ''(۱) خداوند عالم نے سب کو فطرت توحید پر پیدا کیا ہے ۔

توحیدی اور الٰہی فطرت کی وجہ سے انسان یہ گمان نہ کرے کہ فطری امور اس کے توحیدی اور الٰہی پہلو میں منحصر ہیں جیسا کہ انسان کی فطرت کے بارے میں گذشتہ مباحث میں اشارہ ہوچکا ہے کہ بہت سی فطری اور حقیقی معارف کوخواہشات کے سپرد کردیا گیا ہے جو تمام مخلوقات سے انسان کے وجود کی کیفیت کو جدا اورمشخص کرتی ہے ۔ انسان کے تمام فطری امور کے درمیان اور اس کے الٰہی فطرت کے بارے میں مزید بحث ،اس عنصر کی خاص اہمیت اور الٰہی فطرت کے بارے میں مختلف سوالات کی وجہ سے ہے ۔ ان دونوں چیزوں کی وجہ سے یہ فطری شیٔ مزید مورد توجہ واقع ہوئی ہے ۔

انسانوں کے اندر الٰہی فطرت کے پائے جانے کا دعویٰ مختلف بحثوں کو جنم دیتا ہے ۔ پہلا

____________________

(۱)کلینی ؛ گذشتہ حوالہ ج۲ ،ص ۱۲۔


سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر الٰہی فطرت کے ہونے سے کیا مراد ہے ؟ کیا فطرت ِمعرفت مراد ہے یا فطرت ِانتخاب ؟ اگر فطرتِ معرفت مراد ہے تو خداوند عالم کے بارے میں ا کتسابی معرفت فطری ہے یا اس کی حضوری معرفت ؟ دوسرا سوال ،فطرت الٰہی کے فعال (بالفعل )اور غیر فعال (بالقوة)ہونے کے بارے میں ہے کہ کیا یہ انتخاب یا فطری معرفت تمام انسانوں کے اندر خلقت کے وقت سے بالفعل موجود ہے یا بالقوة ؟ اور آخری سوال یہ ہے کہ کیا یہ فطری شیٔ زوال پذیر ہے اور اگر زوال پذیر ہے تو کیا انسان اس کے زائل ہونے کے بعد بھی باقی رہے گا ؟ آخری دو سوال، انسان کی الٰہی فطرت سے مربوط نہیں ہیںبلکہ انہیں ہر فطری شیٔ کے بارے میں بیان کیا جاسکتا ہے ؟

انسان کی الٰہی فطرت سے مراد

توحید کے فطری ہونے کے سلسلہ میں تین احتمال موجو د ہیں :

پہلا احتمال یہ ہے کہ اکتسابی اور مفہومی معرفت کی صورت میں خداوند عالم کے وجود کی تصدیق کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ فطری ہونے سے مراد؛ فطرت عقل اور انسان کی قوت مدرکہ کا ایک دوسرے سے مربوط ہونا ہے ۔

دوسرا احتمال ؛ خداوند عالم کے سلسلہ میں انسان کی شہودی اور حضوری علم کے بارے میں ہے اس احتمال کے مطابق تمام انسانوں کے اندر خداوند عالم کی طرف سے مستقیم اور حضوری معرفت کے مختلف درجات موجود ہیں ۔

تیسرا احتمال ؛ انسان کی الٰہی فطرت کو اس کی ذاتی خواہش اور درونی ارادہ فرض کرتا ہے اس احتمال کی روشنی میں انسان اپنی مخصوص روحی بناوٹ کی بنیاد پرخدا سے متمنی اور طلب گار ہے ۔

پہلے احتمال کی وضاحت میں مرحوم شہید مطہری فرماتے ہیں:


بعض خدا شناسی کے فطری ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ اس سے مراد فطرت عقل ہے ، کہتے ہیں کہ انسان، فطری عقل کی روشنی میں مقدماتی استدلال کے حاصل کرنے کی ضرورت کے بغیر خداوند عالم کا وجود سمجھ لیتا ہے ،نظام عالم اور موجودات کی تربیت اور تادیب پر توجہ کرتے ہوئے خود بخود بغیر کسی استدلال کی ضرورت کے انسان کے اندر ایک مدبر اور غالب کے وجود کا یقین پیدا ہوجاتا ہے جیسا کہ تمام فطری امور کہ جس کو منطق کی اصلاح میں '' فطریات''کہا جاتا ہے ایسا ہی ہے۔(۱)

حق یہ ہے کہ ''خدا موجود ہے ''کے قضیہ کو منطقی فطریات میں سے نہیں سمجھنا چاہیئے یعنی ''چار کاعدد،زوج ہے'' اس طرح کے قضایا بدیہی ہیں اور ان چیزوں کااستدلال ذہن میں ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ جس میں ذہنی تلاش و جستجو کی ضرورت نہیں ہے ،حالانکہ فکر و نظر کی پوری تاریخ میں واضح طور پر خدا کے وجود پر حکماء ،فلاسفہ نیز دوسرے مفکرین کے دلائل و استدلال کے ہم شاید ہیں اور عقلی و نظری طریقہ سے یہ عظیم علمی تلاش، خداوند عالم کے عقیدہ کے بدیہی نہ ہونے کی علامت ہے، اسی بنا پر بعض دانشمندوں نے کہا ہے کہ خداوند عالم پر اعتقاد بدیہی نہیں ہے بلکہ بداہت سے قریب ہے ۔(۲)

دوسرا احتمال ؛ خداوند عالم کے بارے میں انسان کے علم حضوری کو بشر کی فطرت کا تقاضا سمجھنا چاہیئے۔ انسان کا دل اپنے خالق سے گہرا رابطہ رکھتا ہے اور جب انسان اپنے حقیقی وجود کی طرف متوجہ ہوگا تو اس رابطہ کو محسوس کرے گا ،اس علم حضوری اور شہود کی صلاحیت تمام انسانوں میں موجود ہے ۔لہٰذا اکثر لوگ خاص طور سے سادی زندگی کے ان لمحات میں جب وہ دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں اس قلبی اور اندرونی رابطہ کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں ۔

سورہ نحل کی ۵۳ویں آیہ اور سورۂ عنکبوت کی ۶۵ ویں آیہ کی طرح بعض دوسری آیتوں میں اضطراری مواقع اور اس وقت جب لوگ تمام اسباب سے قطع امید ہو جاتے ہیں اس فطرت کی

____________________

(۱)مطہری ؛ مرتضی ، مجموعہ آثار ، ج۶ ص ۹۳۴۔

(۲)ملاحظہ ہو: مصباح یزدی ، محمد تقی ، آموزش فلسفہ ج۲ ص ۳۳۰ و ۳۳۱۔


بیداری کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

( فَإِذَا رَکِبُوا فِی الفُلکِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخلِصِینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّیٰهُم لَیٰ البَرِّ ِذَا هُم یُشرِکُونَ ) (۱)

پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو نہایت خلوص سے خدا کو پکارتے ہیں اور جب ہم انہیں نجات دے کر خشکی میں پہونچا دیتے ہیں تو وہ مشرک ہوجاتے ہیں ۔

( وَ مَا بِکُم مِن نِّعمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ ِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُ فَلِیهِ تَجئَرُونَ ) (۲)

اور جتنی نعمتیں تمہارے ساتھ ہیں سب اس کی طرف سے ہیں پھر جب تم کو تکلیف پہونچتی ہے تو تم اسی کے آگے فریاد کرتے ہو ۔

اس احتمال کے مطابق خدا کی معرفت ، فطرت ، خداپرستی اور خدا سے رابطہ ،شہودی اور حضوری معرفت کی فرع ہے ،مشکل وقت میں معمولی لوگ بھی جب ان میں یہ شہودی رابطہ ایجاد ہوتا ہے تو خدا کی عبادت ،مناجات اور استغاثہ کرنے لگتے ہیں، اس لئے انسان کی الٰہی فطرت ، فطرت کی معرفت ہے، احساس و خواہش کا نام فطرت نہیں ہے ۔

تیسرا احتمال سورہ ٔ روم کی ۳۰ ویں آیہ کہ جس میں فطرت کو احساس و خواہش (فطرت دل) کہا گیا ہے ۔ اور معتقد ہے کہ خدا کی جستجو و تلاش اور خداپرستی انسان کی فطرت ہے اور خدا کی طرف توجہ تمام انسانوں میں پائی جاتی ہے چاہے اس کے وجود کی معرفت اور تصدیق خود فطری نہ ہو ۔

انسان کے اندر سوال کرنے کی خواہش کے عنوان سے ایک بہترین خواہش موجود ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنے آپ کو ایک حقیقت سے وابستہ اور ملا ہوا جانتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس حقیقت کے ذریعہ خدا سے نزدیک ہو کر اس کی تسبیح و تحلیل کرے ۔

____________________

(۱)عنکبوت ۶۵۔

(۲)نحل ۵۳


اگرچہ دوسرے اور تیسرے دونوں احتمالات ظاہر آیہ سے مطابقت رکھتے ہیںاوران میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دنیا مشکل لگتا ہے لیکن ان روایات کی مدد سے جو اس آیہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں اور ان میں سے بعض نقل بھی ہوئی ہیں دوسرا احتمال قطعاً مورد نظر ہے ،البتہ دونوں احتمالات کے درمیان اس طرح جمع اور دونوں کو ملا کر ایک دوسرے کا مُکمِل بنایا جاسکتا ہے کہ اگر فطری طور پر انسان کے اندر کسی موجود کی عبادت، خواہش اور عشق کاجذبہ پایاجائے تو یہ معقول نہیں ہے کہ عبادت مبہم و نامعلوم ہو لہٰذا قہری طور پر خدا کی معرفت و شناخت کا پایا جاناانسان کی فطرت میں ہونا چاہیئے تاکہ یہ تمایل اور خواہش مبہم اور نامعلوم نہ ہو، پس جب بھی فطری طور پر اپنے اندر عبادت اور خضوع و خشو ع کا ہم احساس کرتے ہیں تو یہ اسی کے لئے ہوگا جس کے بارے میں ہم اجمالی طور پر معرفت رکھتے ہوں، اور یہ معرفت حضوری اور شہودی ہے، دوسری طرف اگر انسان کے اندر خداوند متعال کے سلسلہ میں حضوری معرفت موجود ہو تو منعم کا شکریہ اور طلب کمال کیطرف ذاتی تمایل کی وجہ سے خداوند عالم کیجانب انسان کے اندر غیر قابل توصیف رغبت پیدا ہوجائے گی ۔

فطرت کا زوال ناپذیر ہونا

سورۂ روم کی ۳۰ ویں آیت کے آخر میں آیا ہے کہ( لا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّهِ ) اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یعنی ہم نے اس فطرت الٰہی کو انسان کے حوالہ کیا جو غیر قابل تغییر ہے یہ ممکن ہے کہ انسان فطرت الٰہی سے غافل ہو جائے لیکن فطرت الٰہی نابود نہیں ہوگی، انسان جس قدر اس فطرت الٰہی کو آمادہ کرنے کی کوشش کرے اور اپنی غیر حیوانی پہلوؤں کو قوت بخشے اتنا ہی بہتر انسان ہوگا انسان اپنی ابتدائی خلقت میں بالفعل حیوان ہے اور بالقوت انسان ہے ،اس لئے کہ حیوانیت اور خواہشات کی توانائی اس کے اندر سب سے پہلے رونما ہوتی ہیں اور زندگی کے نشیب و فراز میں جس قدر غیر حیوانی پہلوؤں کو تقویت دے گا اور اپنے وجود میں جس قدر فطرت الٰہی کو حاکم کرنے میں کامیاب ہوگا اتنا ہی زیادہ انسانیت سے بہرہ مند ہوگا ،بہر حال یہ بات قابل توجہ ہے کہ انسان میں فطری قابلیت اور اللہ کی طرف توجہ کا مادہ ہے چاہے پوشیدہ اور مخفی ہی کیوں نہ ہو لیکن یہ فطری قابلیت ختم نہیں ہوتی ہے اور انسان کی سعادت اور بد بختی اسی فطری حقیقت کو جلا بخشنے یا مخفی کرنے میں ہے :


( قَد أَفلَحَ مَن زَکَّیٰهَا وَ قَد خَابَ مَن دَسَّیٰهَا ) (۱)

یقینا جس نے اپنے نفس کو پاک رکھاوہ تو کامیاب ہوا اور جس نے اس کو آلودہ کیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں رہا۔

فطرت اورحقیقت

اس واقعیت سے انکار نہیں ہے کہ لوگ ایک جیسی خصوصیات لے کر اس دنیا میں نہیں آئے ہیں یہ تبدیلیاں چاہے بدن کے سلسلہ میں ہو چاہے عقل و خرد کی توانائی میں ہو،ظاہر ہو جاتی ہیں، اسی طرح حیات انسان کا فطری ماحول اور اجتماعی شرائط اور بیرونی تاثرات کی وجہ سے جوابات اور عکس العمل بھی برابر نہیں ہوتا مثال کے طور پر بعض لوگ ایمان کی طرف راغب اور حق کی دعوت کے مقابلہ میں اپنی طرف سے بہت زیادہ آمادگی اورخواہش ظاہر کرتے ہیں ،اور بعض حضرات پروردگار عالم کے حق اور بندگی سے یوں فرار کرتے ہیں کہ وحی الٰہی کو سننے ،آیات اور معجزات الٰہی کے مشاہدہ کرنے کے باوجود نہ فقط ایمان نہیں لاتے ہیں بلکہ ان کی اسلام دشمنی اور کفر دوستی میں شدت آجاتی ہے۔

( وَ نُنَزِّلُ مِنَ القُرآنِ مَا هُوَ شَفَائ وَرَحمَة لِلمُؤمِنِینَ وَ لا یَزِیدُ الظَّالِمِینَ لا خَسَاراً ) (۲)

''اور ہم تو قرآن میں سے وہی چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اوررحمت ہے اور ظالمین کے لئے سوائے گھاٹے کے کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا ''۔

____________________

(۱)سورۂ شمس ۹ تا ۱۰۔

(۲)اسراء ۸۲۔


اب یہ سوال درپیش ہے کہ یہ فرق و اختلاف کہاں سے پیدا ہوتا ہے ؟ آیااس کا حقیقی سببانسان کی فطرت و طبیعت ہے اور ماحول و اجتماعی اسباب کا کوئی اہم رول نہیں ہے یا یہ کہ خودماحول اس سلسلہ میں انسان کی سرنوشت معین کرتا ہے ورنہ انسان کی مشترکہ فطرت کا کوئی خاص کردار نہیں ہے یا یہ اختلافات، فطری عناصر اور ماحول کی دین ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیئے کہ : ہر فرد کی شخصیت میں اس کی فردی خصوصیت بھی شامل ہوتی ہے ، اورمتعدد فطری و اجتماعی اسباب کا بھی وہ معلول ہے ،وراثت ،فطری اختلافات ، اسباب تربیت ، اجتماعی ماحول اور دوسرے شرائط ، کامیابیاں اور ناکامیاں ، ملکی اور جغرافیائی حدود خصوصاً فردی تجربہ ، انتخاب اور قدرت اختیار میں سے ہر ایک کا انسان کی شخصیت سازی میں ایک خاص کردار ہے ۔ انسان کا اخلاق اور الٰہی فطرت کی حقیقت اور تمام انسانوں کے فطری اور ذاتی حالات بھی تمام مذکورہ عوامل کے ہمراہ مشترکہ عامل کے عنوان سے انسان کی کردار سازی میں موثر ہیں ،فردی اختلافات کا ہونا مشترکہ فطرت کے انکار اور بے اثر ہونے کے معنی میں نہیں ہے( قُل کُلّ یَعمَلُ عَلَیٰ شَاکِلَتِهِ ) (۱)

تم کہدو کہ ہر ایک اپنی شخصیت سازی کے اصول پر عمل پیرا ہے،آیہ شریفہ میں '' شاکلہ'' سے مراد ہر انسان کی شخصی حقیقت اور معنویت، فطرت الٰہی کے ہمراہ مذکورہ عوامل کے مجموعہ سے حاصل ہونا ہے ،قابل غور نکتہ یہ ہے کہ فطری امور تمام افراد میں ایک ہی انداز میں رشد و تکامل نہیں پاتے اسی بنا پر تمام عوامل کے مقابلہ میں فطری سبب کے لئے ایک ثابت ،مساوی اور معین مقدار قرار نہیں دی جاسکتی ہے انسانو ں کا وہ گروہ جن میں اخلاق اور الٰہی فطرت پوری طرح سے بارآور ہوچکی ہے اور بہترین اخلاقی زندگی اورکامل بندگی سے سرفراز ہے اس کی حقیقت اور شخصیت کو ترتیب دینے میں اسباب فطرت کانمایاں کردار ہے اور جن لوگوں نے مختلف اسباب کی وجہ سے

____________________

(۱)سورۂ اسراء ۸۴۔


اپنے حیوانی پہلوؤں کو قدرت بخشی ہے ان افراد کا شعلۂ فطرت خاموش ہوچکا ہے اور اثر انداز ہونے میں بہت ہی ضعیف ہے ۔(۱)

____________________

(۱)قرآن کی نظر میں مذکورہ اسباب کے کردار کی تاکید کے علاوہ نفسانی شہوتوں میں اسیر ہونا اور مادی دنیا کی زندگی اور شیطان کے پھندے میں مشغول رہنے کو انسان کے انحراف میں موثر اسباب کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور پیغمبروں ، فرشتوں اور خداوند عالم کی خصوصی امداد کو انسان کی راہ سعادت میں مدد کرنے والے تین اسباب و عوامل کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے ۔ ضمیمہ میں ان سب کے بارے میں مختصروضاحت انشاء اللہ آئے گی ۔


خلاصہ فصل

۱.ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان ظاہری شکل و صورت اور اخلاق و کردار میں متعدد اور گونا گوں اختلاف کے باوجود جسم و روح کے اعتبار سے آپس میں بہت زیادہ مشترک پہلو پائے جاتے ہیں ۔

۲.انسان کی فطرت کے بارے میں گفتگو ، انسان شناسی کے مہم ترین مباحث میں سے ایک ہے جس نے موجودہ چند صدیوں میں بہت سے مفکرین کے ذہنوں کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے ۔

۳.انسانی فطرت ، مشترکہ فطرت کے عناصر کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آغاز خلقت سے ہی تمام انسانوں کو عطا کی گئی ہے جب کہ ماحول اور اجتماعی عوامل نہ ہی فراہم اور نہ ہی اس کو نابود کرسکتے ہیں اور ان کی خلقت میں تعلیم و تربیت کا کوئی کردار نہیں ہے ۔

۴.انسان کی مشترکہ فطرت کے وجود پر منجملہ دلیلوں میں فہم و معرفت ہے نیز غیر حیوانی ارادے اور خواہشات کاانسانوں میں پایا جانااور ذاتی توانائی کا انسان سے مخصوص ہوناہے ۔

۵.انسان کے وجود میں خداوند عالم کی معرفت کے لئے بہترین خواہش ، سوالات کی خواہش کے عنوان سے موجود ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنے آپ کو ایک حقیقت سے وابستہ اور ملا ہوا سمجھتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اس حقیقت سے نزدیک ہو کر تسبیح و تحلیل بجا لائے اور یہ حقیقت وہی فطرت الٰہی ہے ۔

۶.آیات و روایات بہت ہی واضح یا ضمنی طور پر معرفت ،انسانی خواہش اور توانائی سے مخصوص حقیقت ، مشترکہ فطرت نیزعناصر اور ان کی خصوصیات پر دلالت کرتی ہیں ۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ مورد تائید اور تاکید قرار پائی ہے وہ فطرت الٰہی ہے ۔

۷.ہر انسان کی شخصیت سازی میں اس کا ماحول نیزرفتار و کردار ،موروثی اور جغرافیائی عوامل کے علاوہ فطرت کا بھی بنیادی کردار ہے ۔


تمرین

۱.فطری اور طبیعی امور سے غیر فطری امور کی شناخت کے معیار کیا ہیں ؟

۲.انسان کی شخصیت سنوارنے والے عناصر کا نام ذکر کریں؟

۳.انسان کا ارادہ ، علم ، خواہش اور قدرت کس مقولہ سے مربوط ہے ؟

۴.سورۂ روم کی ۳۰ ویں آیت کا مضمون کیا ہے ؟ اس آیت میں (لا تَبدِیل لخَلقِ اللّہِ ) سے مراد کیا ہے ؟ وضاحت کریں ؟

۵.انسان کی مشترکہ فطرت کی معرفت میں علوم تجربی ، عقلی اور شہودی میں سے ہر ایک علم کا کردار اور اس کی خامیاں بیان کریں ؟

۶.فطرت الٰہی کے تغییر نہ ہونے کی بنیاد پر جو افراد خدا سے غافل ہیں یا خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں یا شک رکھتے ہیں ان افراد میں فطرت الٰہی کس انداز میں پائی جاتی ہے ؟

۷.فطرت الٰہی کو قوی اور ضعیف کرنے والے عوامل بیان کریں ؟

۸.حقیقی و غیر حقیقی اورجھوٹی ضرورتوں سے مراد کیا ہے ؟ ان میں سے ہر ایک کے لئے دو مثالیں ذکر کرتے ہوئے واضح کریں ؟

۹.مندرجہ ذیل موارد میں سے انسان کی فطری اور حقیقی ضرورتیں کون سی ہیں ؟

عدالت خواہی، حقیقت کی جستجو ،آرام پسندی ، عبادت کا جذبہ اور راز و نیاز ، خود پسندی ، دوسروں سے محبت ، محتاجوں پر رحم کرنا ، بلندی کی تمنا ، حیات ابدی کی خواہش ، آزادی کی لالچ ۔


مزید مطالعہ کے لئے :

۱. علوم تجربی کے نظریہ کے مطابق شخصیت ساز عناصر کے لئے ملاحظہ ہو:

.ماہر نفسیات ، شخصیت کے بارے میں نظریات ،نفسیاتی ترقی ، اجتماعی نفسیات شناسی ، جامعہ شناسی کے اصول ،فلسفہ تعلیم و تربیت

۲. اسلام کی روشنی میں انسان کی شخصیت ؛کے لئے ملاحظہ ہو :

. مصباح یزدی ، محمد تقی ( ۱۳۶۸) جامعہ وتاریخ از دید گاہ قرآن ، تہران : سازمان تبلیغات اسلامی

. نجاتی ، محمد عثمان ( ۱۳۷۲) قرآن و روان شناسی ، ترجمہ عباس عرب ، مشہد ، بنیاد پژوہشھای آستان قدس رضوی ۔

۳. اسلامی نظریہ سے انسان کی فطرت ؛کے لئے ملاحظہ ہو:

. دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ (۱۳۷۲) در آمدی بہ تعلیم و تربیت اسلامی ، فلسفہ تعلیم و تربیت ، تہران : سمت .ص ۳۶۹.۵۱۴.

۴. انسان کی فطرت میں دانشمندوں کے نظریات؛ کے لئے ملاحظہ ہو:

. اسٹیونسن ، لسلی ( ۱۳۶۸) ہفت نظریہ دربارہ طبیعت انسان ، تہران ، رشد

. پاکارڈ ،ڈ وینس ( ۱۳۷۰) آدم سازان ؛ ترجمہ حسن افشار ؛ تہران : بہبہانی ۔

. دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ( ۱۳۶۳) درآمدی بر جامعہ شناسی اسلامی : مبانی جامعہ شناسی ، قم : سمت۔ شکر کن ، حسین ، و دیگران ( ۱۳۷۲) مکاتب روان شناسی و نقد آن ، ج۲ ، تہران : دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، سمت ۔


۵. انسانی فطرت کے لئے ملاحظہ ہو :

. جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۶۳) دہ مقالہ پیرامون مبدا و معاد تہران : الزہراء ۔

(۱۳۶۳)فطرت و عقل و وحی ، یادنامۂ شہید قدوسی ، قم : شفق

(۱۳۶۳)تفسیرموضوعی قرآن ، ج۵ ، تہران ، رجاء

.شیروانی ، علی ( ۱۳۷۶) سرشت انسان : پژوہشی در خداشناسی فطری ؛ قم : نہاد نمایندگی مقام معظم رہبری در دانشگاہ ھا ( معاونت امور اساتید و دروس معارف اسلامی ).

.محمد تقی مصباح؛ معارف قرآن : خدا شناسی ، قم : جامعہ مدرسین

.مطہری ، مرتضی ( ۱۳۷۰)مجموعہ آثار ج۳ ''کتاب فطرت''، تہران : صدرا ۔

(۱۳۷۱)مجموعہ آثار ج۵ ، ''مقالہ فطرت ''، تہران : صدرا ۔

.موسوی خمینی ، روح اللہ ( ۱۳۶۸) چہل حدیث ، تہران : مرکز نشر فرہنگی رجاء

۶. کلمہ فطرت کے استعمالات اور معانی کے لئے ملاحظہ ہو :

.یثربی ، یحیٰ '' فطری بودن دین از دیدگاہ معرفت شناسی ''، مجلہ حوزہ و دانشگاہ ، سال سوم ، ش نہم ، ص ۱۱۰. ۱۱۸.

۷. انسان کی فطری توانائی نیز معلومات و نظریات کے لئے ملاحظہ ہو:

.جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۶۶) تفسیر موضوعی ، ج۵، نشر فرہنگی رجاء ، تہران ۔

.شیروانی ، علی ( ۱۳۷۶) سرشت انسان پژوہشی در خدا شناسی فطری ؛ قم :نہاد نمایندگی مقام معظم رہبری در دانشگاہھا ، معاونت امور اساتید و دروس معارف اسلامی

.محمد تقی مصباح (۱۳۷۷) اخلاق در قرآن ؛ قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

( ۱۳۷۷) خود شناسی برای خود سازی ؛ قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

.(۱۳۷۶)معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) قم : مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

.مطہری ، مرتضی ( ۱۳۶۹) مجموعۂ آثار ، ج۲ ، انسان در قرآن ، تہران : صدرا ۔


ملحقات

لفظ'' فطرت ''کے اہم استعمالات

لفظ فطرت ، کے بہت سے اصطلاحی معنی یا متعدد استعمالات ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل سب سے اہم ہیں :

۱.خواہش اور طبیعت کے مقابلہ میں فطرت کا ہونا :بعض لوگوں نے لفظ فطرت کو اس غریزہ اور طبیعت کے مقابلہ میں جو حیوانات ، جمادات اور نباتات کی طینت کو بیان کرتے ہیں ، انسان کی سرشت کے لئے استعمال کیا ہے ۔

۲.فطرت، غریزہ کا مترادف ہے :اس استعمال میں فطری امور سے مراد طبیعی امور ہیں البتہ اس استعمال میں کن مواقع پر غریزی امور کہا جاتا ہے ،اختلاف نظر ہے، جس میں سے ایک یہ ہے کہ جو کام انسان انجام دیتا ہولیکن اس کے نتائج سے آگاہ نہ ہواورنتیجہ بھی مہم ہو مثال کے طور پر بعض وہ افعال جو بچہ اپنے ابتدائی سال میں آگاہانہ انجام دیتا ہے اسے غریزی امور کہا جاتا ہے ۔

۳.فطرت یعنی بدیہی : اس اصطلاح میں ہر وہ قضیہ جو استدلال کا محتاج نہ ہو جیسے معلول کے لئے علت کی ضرورت اور اجتماع نقیضین کا محال ہونا فطرت کہا جاتا ہے ۔

۴.فطرت ، منطقی یقینیات کی ایک قسم ہے : استدلال کے محتاج وہ قضایا جن کا استدلال پوشیدہ طور پر ان کے ہمراہ ہو (قضایا قیاساتھا معھا)''فطری ''کہا جاتا ہے جیسے چار زوج ہے ، جس کا استدلال (چونکہ دو متساوی حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے )اس کے ہمراہ ہے ۔

۵.کبھی لفظ فطرت ،بدیہی سے نزدیک قضایا پر اطلاق ہوتا ہے : جیسے ''خدا موجود ہے '' یہ قضیہ استدلال کا محتاج ہے اور اس کا استدلال اس کے ہمراہ بھی نہیں ہے لیکن اس کا استدلال ایسے مقدمات کا محتاج ہے جو بدیہی ہیں (طریقہ علیت )چونکہ یہ قضیہ بدیہیات کی طرف منتہی ہونے کا ایک واسطہ ہے لہٰذا بدیہی سے نزدیک ہے ،ملاصدرا کے نظریہ کے مطابق خدا کی معرفت کے فطری ہونے کو بھی (بالقوة خدا کی معرفت)اسی مقولہ یا اس سے نزدیک سمجھا جاسکتا ہے ۔


۶.فطرت، عقل کے معنی کے مترادف ہے : اس اصطلاح کا ابن سینا نے استفادہ کیاہے اور کہا ہے کہ فطرت وہم خطا پذیر ہے لیکن فطرت عقل خطا پذیر نہیں ہے ۔

۷.فطرت کاحساسیت اور وہم کے مرحلہ میں ذہنی صورتوں کے معانی میں ہونا : ''ایمانول کانٹ''(۱) معتقد تھا کہ یہ صورتیں خارج میں کسی علت کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ ذہن کے فطری امور میں سے ہے اور اس کو فطری قالب میں تصور کیا جاتا ہے جیسے مکان ، زمان ، کمیت ، کیفیت ، نسبت اور جہت کو معلوم کرنے والے ذہنی قضایا میں کسی معلوم مادہ کو خارج سے دریافت کرتے ہوئے ان صورتوں میں ڈھالتا ہے تاکہ قابل فہم ہو سکیں ۔

۸.فطرت، عقل کے خصوصیات میں سے ہے :حِس کی تخلیق میں حس اور تجربہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے بلکہ عقل بالفعل اس پر نظارت رکھتی ہے ''ڈکارٹ''کے نظریہ کے اعتبار سے خدا ، نفس اور مادہ ( ایسا موجود جس میں طول ،عرض ، عمق ہو ) فطری شمار ہوتا ہے، اور لفظ فطری بھی اسی معنی میں ہے ۔

۹.فطرت یعنی خدا کے بارے میں انسان کا علم حضوری رکھنا، خدا شناسی کے فطری ہونے میں یہ معنی فطرت والی آیات و روایات کے مفہوم سے بہت سازگار ہے ۔

۱۰.فطرت یعنی ایک حقیقت کو پورے اذہان سے درک کرنا ، اصل ادراک اور کیفیت کی جہت سے تمام افراد اس سلسلہ میں مساوی ہیں جیسے مادی دنیا کے وجود کا علم ۔

____________________

(۱) Imanuel Kant


۲ ہدایت کے اسباب اور موانع

قرآن مجید نے انسان کے تنزل کے عام اسباب اور برائی کی طرف رغبت کو تین چیزوں میں خلاصہ کیا ہے:

۱. ہوائے نفس : ہوائے نفس سے مراد باطنی ارادوں کی پیروی اور محاسبہ کرنے والی عقلی قوت سے استفادہ کئے بغیر ان کو پورا کرنا اور توجہ کرنا اور انسان کی سعادت یا بدبختی میں خواہشات کو پورا کرنے کا کردار اور اس کے نتائج کی تحقیق کرنا ہے ۔ اس طرح خواہشات کو پورا کرنا ، حیوانیت کو راضی کرنا اور خواہشات کے وقت حیوانیت کو انتخاب کرنے کے معنی میں ہے ۔

۲. دنیا: دنیاوی زندگی میں انسان کی اکڑ اور غلط فکر اس کے انحراف میں سے ایک ہے دنیاوی زندگی کے بارے میں سونچنے میں غلطی کے یہ معنی ہیں کہ ہم اس کو آخری و نہائی ہدف سمجھ بیٹھیںاور دائمی سعادت اور آخرت کی زندگی سے غفلت کریں، یہ غلطی بہت سی غلطیوں اور برائیوں کا سر چشمہ ہے ،انبیاء کے اہداف میں سے ایک ہدف دنیا کے بارے میں انسانوں کی فکروں کو صحیح کرنا تھا اور دنیاوی زندگی کی جو ملامت ہوئی ہے وہ انسانوں کی اسی فکر کی بنا پر ہے ۔

۳. شیطان : قرآن کے اعتبار سے شیاطین (ابلیس اور اس کے مددگار) ایک حقیقی مخلوق ہیں جو انسان کو گمراہ کرنے اور برائی کی طرف کھینچنے کا عمل انجام دیتے ہیں ۔ شیطان برے اور پست کاموں کو مزین اور جھوٹے وعدوں اور دھوکہ بازی کے ذریعہ اچھے کاموں کے انجام دینے کی صورت میں یا ناپسندیدہ کاموں کے انجام نہ دینے کی وجہ سے انسان کو اس کے مستقبل سے ڈراتے ہوئے غلط راستہ کی طرف لے جاتا ہے ۔ شیطان مذکورہ نقشہ کو ہوائے نفس کے ذریعہ انجام دیتا ہے اور خواہش نفس کی تائید کرتا ہے نیزاس کی مدد کرتا ہے ۔

قرآن کی روشنی میں پیغمبروں ، فرشتوں کے کردار اور خدائی امداد سے انسان نیک کاموں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس راہ میں وہ سرعت کی باتیں کرتاہے ۔


انبیاء انسان کو حیوانی غفلت سے نجات دے کر مرحلہ انسانیت میں وارد کرتے ہیں اور دنیا کے سلسلہ میں اپنی نصیحتوں کے ذریعہ صحیح نظریہ کو پیش کرکے انسان کی حقیقی سعادت اور اس تک پہونچنے کی راہ کو انسان کے اختیار میں قرار دیتے ہیں ۔

اور خوف و امید کے ذریعہ صحیح راستہ اور نیکیوں کی طرف حرکت کے انگیزہ کو انسان کے اندر ایجاد کرتے ہیں بلکہ صحیح راہ کی طرف بڑھنے اور برائیوں سے بچنے کے لئے تمام ضروری اسباب اس کے اختیار میں قرار دیتے ہیں ۔

جو افراد ان شرائط میں اپنی آزادی اور اختیار سے صحیح استفادہ کرتے ہیں ان کے لئے مخصوص شرائط میں بالخصوص مشکلات میں فرشتے مدد کے لئے آتے ہیں اور ان کو صحیح راہ پر لگادیتے ہیں۔ سعادت کی طرف قدم بڑھانے ، اہداف کو پانے اور مشکلات کو حل اور موانع کو دور کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔

خدا کی عام اور مطلق امداد کے علاوہ اس کی خصوصی امداد بھی ان فریب زدہ انسانوں کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی خصوصی امداد کے ذریعہ شیطان کی تمام قوتوں پر غلبہ پاکر قرب الٰہی کی طرف راہ کمال کو طے کرنے میں مزید سرعت پیدا ہوجاتی ہے وہ سو سال کی راہ کو ایک ہی شب میں طے کرلیتے ہیں،یہ امداد پروپگنڈوں کے ختم کرنے کا سبب بھی ہوتی ہے جو اپنی اور دوسروں کی سعادت میں صالح انسانوں کے بلند اہداف کی راہ میں دشمنوں اور ظالم قوتوں اور شیطانی وسوسوں کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں ۔(۱)

مغربی انسان شناسوں کی نگاہ میں انسان کی فطرت

''ناٹالی ٹربوویک ''دور حاضر کا امریکی نفس شناس نے انسان کے بارے میں چند اہم سوالوں اور

____________________

(۱)اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو: علامہ محمد حسین طباطبائی کی المیزان فی تفسیر القرآن ، محمد تقی مصباح کی اخلاق در قرآن ؛ ج۱ ص ۱۹۳۔۲۳۶۔


ان کے جوابات کو فلسفی اور تجربی انسان شناسوں کی نگاہ سے ترتیب دیا ہے جس کو پروفیسر ''ونس پاکرڈ''نے ''عناصر انسان ''نامی کتاب میں پیش کیا ہے ،ہم ان سوالات میں سے دو مہم سوالوں کو جو انسان کی فطرت سے مربوط ہیںیہاں نقل کر رہے ہیں ۔(۱)

پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کی فطرت کیا ذاتاً اچھی ہے یا بری ہے یا نہ ہی اچھی ہے اور نہ ہی بری ؟

منفی نظریات

فرایڈ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ : انسان ایک منفی اور مخالف سرشت کا مالک ہے اور وہ ایسے غرائزسے برانگیختہ ہوتا ہے جس کی جڑیں زیست شناسی سے تعلق رکھتی ہیں ۔ خاص طور سے جنسی خواہشات(۲) اور پر خاش گری کو(۳) فقط اجتماعی معاملات سے قابو میں کیا جاسکتا ہے ۔

نظریہ تجربہ گرا کے حامی(۴) : (ہابز )کے لحاظ سے انسان فقط اپنی منفعت کی راہ میں حرکت کرتا ہے ۔

نظریہ سود خوری(۵) : (بنٹام ہیل) کے مطابق انسان کے تمام اعمال اس کی تلاش منفعت کا نتیجہ ہیں ۔

نظریہ لذت گرا کے نمائندے کہتے ہیں کہ(۶) : انسان لذت کے ذریعہ اپنی ضرورت حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے اور رنج سے دوچار ہونے سے فرار کرتا ہے ۔

____________________

(۱) Vance Pakard,The People Shapers,PP.۳۶۱,Biston,Toronto,۱۹۷۷

اس کتاب کو جناب حسن افشار نے ''آدم سازان '' کے عنوان سے ترجمہ اور انتشارات بہبہانی نے ۱۳۷۰میں منتشر کیا ہے اور ہم نے جناب حسن افشار کے ترجمہ کو تھوڑی تبدیلی کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔

(۲) sex

(۳) aggression

(۴) empiricists

(۵) utillitarians

(۶) hedonists


نظریہ افعال گرایان کے حامی(۱) : (لورنز ) کا کہنا ہے انسان ذاتی طور پر برا ہے یعنی اپنے ہی ہم شکلوں کے خلاف ناراضگی کی وجہ سے دنیا میں آیا ہے ۔

آرتھونلک کا ماہر نفسیات(۳) : (نیوبلڈ(۴) ): انسان کی ناراضگی کے سلسلہ میں اس گروہ کا نظریہ بھی عقیدہ افعال گرایان کے مشابہ ہے ۔

دوسرا سوال اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کا حیوانات سے جدا ہونا ماہیت کے اعتبار سے ہے یا مرتبہ حیوانیت کے اعتبار سے ہے ؟اس سلسلہ میں مختلف نظریات بیان کئے گئے ہیں جن میں سے بعض نظریات کو ''ناٹالی ٹربوویک '' نے سوال و جواب کی صورت میں یوں پیش کیا ہے :

انسان و حیوان ایک مخصوص طرز عمل کی پیروی کرتے ہیں یا انسان میں ایسے نظری ارادے ہیں جو حیوانی ضرورتوں سے بہت بالا ہیں ؟

صلح پسندی کے مدعی (ہیوم ، ہارٹلی)کا کہنا ہے:انسان کے طریقہ عمل میں دوسرے تمام حیوانات کے طریقہ عمل کی طرح کچھ ضدی چیزیں ہیں جو خود بخود حساس ہوجاتی ہیں ۔

عقیدہ ٔ تجربہ گرائی کے ہمنوا( ہابز)کے مطابق:انسان کی فطرت بالکل مشینی انداز میں ہے جو قوانین حرکت کی پیروی کرتا ہے ،انسان کے اندر روح کے عنوان سے کوئی برتری کی کیفیت نہیں ہے ۔

____________________

(۱)" ethologists "کردار شناسی ( ethology )ایسا کردار و رفتاری مطالعہ ہے جو جانور شناسی کی ایک شاخ کے عنوان سے پیدا ہوا ہے اور بہت سی انواع و اقسام کی توصیفِ رفتار اور مشاہدہ کی مزید ضرورت کی تاکید کرتا ہے ۔ تفسیر رفتار بہ عنوان نتیجہ، تکامل انسان کے طبیعی انتخاب کا سرچشمہ ہے ، لیکن بعد میں اس کا اطلاق انسان و حیوان کے انتخابی پہلو پر ہونے لگا اور اس وقت حضوری گوشوں پر اطلاق ہوتا تھا اور آج کل علم حیات کی طرف متمائل ہوگیا ہے

(۲) Lorenz

(۳) orthonoleculer Psychiatrists

(۴) Newbold


فرایڈ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ : انسان تمام حیوانوں کی طرح فقط غریزی خواہشوں کے فشار(۱) کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔ اس خواہش کو شرمندۂ تعبیر حیاتی ضرورتیں وجود میں لاتی ہیں ۔ انسان کا طریقۂ عمل، لذت کی طرف میلان اور رنج و الم سے دوری کی پیروی کرنا ہے حتی وہ طریقۂ عمل جو ایسا لگتا ہے کہ بلند و بالا اہداف کی بنیاد پر ہے حقیقت میں وہ بہت ہی پست مقاصد کو بیان کرتا ہے ۔

عقیدہ کردار و افعال کے علمبردار(ا سکینر)کے مطابق : طریقۂ عمل چاہے انسان کاہو، چاہے حیوان کاسبھی شرائط کے پابند ہیں کبھی انسان کے طریقۂ عمل پر نگاہ ہوتی ہے لیکن اس چیز پر نگاہ نہیں ہوتی جو انسان کے طریقۂ عمل کو حیوان کے طریقہ عمل سے جدا کردے جیسے ''آزادنہ ارادہ ، اندرونی خواہش اور خود مختار ہونا''اس طرح کے غلط مفاہیم ،بے فائدہ اور خطرناک ہیں چونکہ انسان کی اس غلط فکر کی طرف رہنمائی ہوتیہے کہ وہ ایک خاص مخلوق ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔

عقیدہ عقل ( ڈکارٹ ) : پست حیوانات مشین کی طرح ہیں یعنی ان کا طریقۂ عمل بعض مادی قوانین کے تحت ہے اور انسان حیوانی فطرت کے علاوہ عقلی فطرت بھی رکھتا ہے جو اسے قضاوت ، انتخاب اور اپنے آزاد ارادہ کے انجام دینے کی اجازت دیتی ہے ۔

فرایڈ کے جدید ماننے والے ( فروم ، اریکسن) کے مطابق: انسان ایسی توانائی رکھتا ہے جو زندگی کی سادہ ضرورتوں پر راضی ہونے سے بالا تر ہے اور وہ اچھائیاں تلاش کرنے کے لئے فطری توانائی رکھتا ہے ۔ لیکن یہ بات کہ وہ انہیں کسب کرسکے گا یا نہیں ، اجتماعی اسباب پر منحصر ہے، انسان کے اچھے کام ہوسکتے ہیں کہ بلند و بالا ارادے سے آغاز ہو ںلہٰذا وہ فقط پست اہداف سے منحرف نہیں ہوتے ہیں ۔

انسان محوری کے شیدائی( مازلو، روجرز ) کے مطابق: انسان کی فطرت حیوان کی فطرت سے بعض جہتوں میں برتر ہے، ہر انسان یہ قابلیت رکھتا ہے کہ کمال کی طرف حرکت کرے اور خود کو نمایاں

____________________

(۱) Tensions


کرے، نامناسب ماحول کے شرائط وغیرہ مثال کے طور پر فقیر آدمی کا اجتماعی ماحول، جو اپنے تہذیب نفس کی ہدایت کو غلط راستہ کی طرف لے جاکر نابود کردیتاہے یہ ایسی ضرورتیںہیں جو انسان کے لئے اہمیت رکھتی ہیں۔ لیکن حیوان کے لئے باعث اہمیت نہیں ہیں مثال کے طور پر محبت کی ضرورت ، عزت اعتبار ، صحت ، احترام کی ضرورت اور اپنی فہم کی ضرورت وغیرہ ۔

عقیدۂ وجود کے پرستار( سارٹر) کے بہ قول : انسان اس پہلو سے تمام حیوانوں سے جدا ہے کہ وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کے اعمال کی ذمہ داری فقط اسی پر ہے ،یہی معرفت انسان کو تنہائی اور ناامیدی سے باہر لاتی ہے اور یہ چیزانسان ہی سے مخصوص ہے ۔

مبہم نظریات

نظریہ افعال گرائی کے حامی(۱) (واٹسن(۲) ، ا سکینر(۳) )کے مطابق : انسان ذاتاً اچھا یا برا نہیں ہے بلکہ ماحول اس کو اچھا یا برا بناتا ہے ۔

معاشرہ اور سماج گرائی نظریہ (بانڈورا(۴) ، مائکل(۵) )کے مطابق :اچھائی یا برائی انسان کو ایسی چیز کی تعلیم دیتے ہیں جو اس کے لئے اجر کی سوغات پیش کرتے ہیںاور اس کو سزا سے بچاتے ہیں ۔

وجود گرائی کا نظریہ (سارٹر)کے بہ قول : انسان ذاتاً اچھا یا برا نہیں ہے بلکہ وہ جس عمل کو انجام دیتا ہے اس کی ذاتی فطرت پر اثر انداز ہوتا ہے ،لہٰذا اگر تمام لوگ اچھے ہوں تو انسان کی فطرت بھی اچھی ہے اور اسی طرح بر عکس۔

____________________

(۱) Behaviorists

(۲) Watson

(۳) Skinner

(۴) Bandura

(۵) Mischel


مثبت نظریات

فرایڈ کے جدید ماننے والے ( فروم ، اریکسن ) :

انسان کے اچھے ہونے کے لئے اس کے اندر مخصوص توانائی موجود ہے لیکن یہ کہ وہ اچھا ہے یا نہیں ، اس معاشرہ سے مربوط ہے جس میں وہ زندگی گذاررہا ہے اور ان دوستوں سے مربوط ہے جس کے ساتھ خاص طور سے بچپنے میں رابطہ رکھتا تھا فرایڈ کے نظریہ کے برخلاف اچھے اعمال فطری زندگی کی ضرورتوں سے وجود میں نہیں آتے ہیں ۔

انسان محوری(۲) ( مازلو(۳) ، روجرز(۴) ):

انسان کے اندرنیک ہونے اور رہنے کی قابلیت موجود ہے اور اگر اجتماعی ضرورتیں یا اس کے غلط ارادہ کی دخالت نہ ہو تو اس کی اچھائی ظاہر ہو جائے گی ۔

رومینٹکس افراد(۵) ( روسو) انسان اپنی خلقت کے وقت سے ایک اچھی طبیعت کا مالک ہے اور جو وہ براعمل انجام دیتا ہے وہ اس کی ذات میں کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ برے معاشرہ کی وجہ سے ہے ۔

____________________

(۱) Erikson.(۲)humanists.(۳)Maslow.(۴)Rogers

(۵) romanticists رومانی انداز، فنون اور بین الاقوامی عقیدہ فلسفہ میں غالباً (نئے کہن پرستی کے مقابلہ میں اور مکانیزم و عقل پرستی سے پہلے)مغربی یورپ اور روس میں ۱۸ویں صدی کے آخراور ۱۹ویں صدی کے آغاز تک چھا گیا تھا ۔رومانیزم فطرت کی طرف سادہ انداز میں بازگشت کے علاوہ غفلت یعنی میدان تخیل اور احساس تھا ،نفسیات شناسی کے مفاہیم اور موضوعات سے مرتبط، بیان ، سادہ لوحی ، انقلابی اور بے پرواہی اور حقیقی لذت ان کے جدید تفکر میں بنیادی اعتبار رکھتا ہے۔ رومانیزم ،ظاہر بینی ،ہنر و افکاراور انسان کے مفاہیم میں محدودیت کے خلاف ایک خاص طغیان تھا اوراپنے فعل میں تاکید بھی کرتے تھے کہ جہان کو درک کرنے والا اس پر مقدم ہے ، یہیں سے نظریۂ تخیل محور و مرکز قرار پاتا ہے ۔


چھٹی فصل :

نظام خلقت میں انسان کا مقام

اس فصل کے مطالعہ کے بعد آپ کی معلومات

۱.خلافت ، کرامت اور انسان کے امانت دار ہونے کے مفاہیم کی وضاحت کریں ؟

۲.آیات قرآن کی روشنی میں انسان کے خلیفة اللہ ہونے کی وضاحت کریں؟

۳.خلافت کے لئے ،حضرت آدم کے شایستہ و سزاوار ہونے کا معیار بیان کریں ؟

۴.کرامت انسان سے کیا مراد ہے اس کو واضح کریں نیزقرآن کی روشنی میں اس کے اقسام

کو ذکرفرمائیں ؟

۵.ذاتی اور کسبی کرامت کی وضاحت کریں ؟


دو فصل پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ قرآن مجید انسان کی موجودہ نسل کی تخلیق کو حضرت آدم کی خلقت سے مخصوص جانتا ہے اور انسانوں کے تفکر ، خواہشات اور غیر حیوانی توانائی سے استوار ہونے کی تاکید کرتا ہے ،حضرت آدم اور ان کی نسل کی آفرینش سے مربوط آیات گذشتہ دو فصلوں میں بیان کی گئی آیات سے زیادہ ہیںجس میں حضرت آدم کی خلافت و جانشینی نیزدوسرے موجودات پر انسان کی برتری و کرامت اور دوسری طرف انسان کی پستی ، تنزلی دوسری مخلوقات سے بھی گر جانے کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے ،انسان کی خلافت کے مسئلہ اور اس کی کرامت کے بارے میں قرآن مجید نے دو اعتبار سے لوگوںکے سامنے متعدد سوالات اٹھائے ہیں ،جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں ۔

۱.حضرت آدم کی جانشینی سے مراد کیا ہے اور وہ کس کے جانشین تھے ؟

۲.آیا خلافت اور جانشینی حضرت آدم سے مخصوص ہے یا ان کی نسل بھی اس سے بہر مند ہو سکتی ہے ؟

۳.حضرت آدم کا خلافت کے لئے شایستہ و سزاوار ہونے کا معیارکیا ہے اور کیوں دوسری مخلوقات خلافت کے لائق نہیں ہیں ؟

۴. انسان کی برتری اور کرامت کے سلسلہ میں قرآن میں دو طرح کے بیانات کا کیا راز ہے؟ کیا یہ بیانات ، قرآن کے بیان میں تناقض کی طرف اشارہ نہیں ہیں ؟ اسی فصل میں ہم خلافت الٰہی اور کرامت انسان کے عنوان کے تحت مذکورہ سوالات کا جائزہ و تحلیل اور ان کے جوابات پیش کریں گے ۔


خلافت الٰہی

اولین انسان کی خلقت کے سلسلہ میں قرآن مجید کی آیات میں ذکر کئے گئے مسائل میں سے ایک انسان کا خلیفہ ہونا ہے ،سورۂ بقرہ کی ۳۰ ویں آیہ میں خداوند عالم فرماتا ہے :

( وَإذ قَالَ رَبُّکَ لِلمَلائِکَةِ إِنِّی جَاعِل فِی الأرضِ خَلِیفَةً قَالُوا أ تَجعَلُ فِیهَا مَن یُفسِدُ فِیهَا وَ یَسفِکُ الدِّمَائَ وَ نَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَعلَمُ مَا لا تَعلَمُونَ )

اور( یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک نائب زمین میں بنانے والا ہوں تو کہنے لگے: کیا تو زمین میں ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو زمین میں فساد اور خونریزیاں کرتا پھرے حالانکہ ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی ثابت کرتے ہیں، تب خدا نے فرمایا :اس میں تو شک ہی نہیں کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔

خلیفہ اور خلافت ، ''خلف''سے ماخوذہے جس کے معنی پیچھے اور جانشین کے ہیں ،جانشین کا استعمال کبھی تو حسی امور کے لئے ہوتاہے جیسے( وَ هُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّیلَ وَ النَّهَارَ خِلفَةً... ) (۱) ''اور وہی تو وہ(خدا) ہے جس نے رات اور دن کو جانشین بنایا ...''اور کبھی اعتباری امور کے لئے جیسے( یَا دَاودُ إِنَّا جَعَلنَاکَ خَلِیفَةً فِی الأرضِ فَأحکُم بَینَ النَّاسِ بِالحَقِّ ) اے داوود !ہم نے تم کو زمین میں نائب قرار دیا تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹھیک فیصلہ کیا کرو،(۲) اور کبھی غیر طبیعی حقیقی امور میں استعمال ہوتا ہے جیسے حضرت آدم کی خلافت جو سورہ

____________________

(۱)فرقان ۶۲۔

(۲)ص۲۶۔


بقرہ کی ۳۰ ویں آیہ میں مذکور ہے ۔

حضرت آدم کی خلافت سے مراد انسانوں کی خلافت یا ان سے پہلے دوسری مخلوقات کی خلافت نہیں ہے بلکہ مراد ، خدا کی خلافت و جانشینی ہے ،اس لئے کہ خداوند عالم فرماتا ہے کہ : '' میں جانشین قرار دوںگا'' یہ نہیں فرمایا کہ '' کس کا جانشین '' مزید یہ کہ فرشتوں کے لئے جانشینی کا مسئلہ پیش کرنا ، ان میں آدم کا سجدہ بجالانے کے لئے آمادگی ایجاد کرنا مطلوب تھا اور اس آمادگی میں غیر خدا کی طرف سے جانشینی کا کوئی کردار نہیں ہے،اس کے علاوہ جیسا کہ فرشتوں نے کہا : کیا اس کو خلیفہ بنائے گا جو فساد و خونریزی کرتا ہے جب کہ ہم تیری تسبیح و تحلیل کرتے ہیں، اصل میں یہ ایک مؤدبانہ درخواست تھی کہ ہم کو خلیفہ بنادے کیوں کہ ہم سب سے بہتر و سزاوار ہیں اور اگر جانشینی خدا کی طرف سے مد نظر نہ تھی تو یہ درخواست بھی بے وجہ تھی ،اس لئے کہ غیر خدا کی طرف سے جانشینی اتنی اہمیت نہیں رکھتی ہے کہ فرشتے اس کی درخواست کرتے ،نیز غیرخدا سے جانشینی حاصل کرنے کے لئے تمام اسماء کا علم یا ان کو حفظ کرنے کی توانائی لازم نہیں ہے ،پس خلافت سے مراد خداوند عالم کی جانشینی ہے ۔

دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ خداوند عالم کی جانشینی صرف ایک اعتباری جانشینی نہیں ہے بلکہ تکوینی جانشینی ہے جیسا کہ آیہ کے سیاق و سباق سے یہ نکتہ بھی واضح ہوجاتا ہے، خداوند عالم فرماتا ہے:( وَ عَلّمَ آدمَ الأسمَائَ کُلَّهَا ) ''اور خدا وند عالم نے حضرت آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی''فرشتوں کو خدوند عالم کی طرف سے جناب آدم کے سجدہ کرنے کا حکم ہونااس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ خلافت ،خلافت تکوینی (عینی حقائق میں تصرف)کو بھی شامل ہے۔(۱) خلافت تکوینی کاعالی رتبہ ، خلیفة اللہ کو قوی بناتا ہے تاکہ خدائی افعال انجام دے سکے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ ولایت تکوینی کا مالک ہو جائے ۔

____________________

(۱)تشریعی خلافت سے مراد ، لوگوں کی ہدایت اور قضاوت کے منصب کا عہدہ دار ہونا ہے ۔اور خلافت تکوینی سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص خدا کے ایک یا چندیا تمام اسماء کا مظہر بن جائے اور صفات باری تعالی اس کے ذریعہ مرحلۂ عمل یا ظہور میں واقع ہوں۔


خلافت کے لئے حضرت آدم کے شائستہ ہونے کا معیار

آیت کریمہ کے ذریعہ( وَ عَلَّمَ آدمَ الأسمَائَ کُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُم عَلَیٰ المَلائِکَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِی بِأَسمَآئِ هٰؤُلآئِ إن کُنتُم صَادِقِینَ ) (۱) ''اور حضرت آدم کو تمام اسماء کا علم دے دیا پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان اسماء کے نام بتاؤ ''یہ اچھی طرح سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خلافت خدا کے لئے حضرت آدم کی معیار قابلیت ،تمام اسماء کا علم تھا۔ اس مطلب کو سورۂ بقرہ کی ۳۳ ویں آیہ بھی تائید کرتی ہے ۔

لیکن یہ کہ اسماء سے مراد کیا ہے اور خدا وند عالم نے کس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی تعلیم دی اور فرشتے ان اسماء سے کیونکر بے خبر تھے اس سلسلہ میں بہت زیادہ بحث ہوئی ہے جس کو ہم پیش نہیں کریں گے فقط ان میں سے پہلے مطلب کو بطور اختصار ذکر کریں گے ،آیات قرآن میں وضاحت کے ساتھ یہ بیان نہیں ہوا ہے کہ ان اسماء سے مراد کن موجودات کے نام ہیں اور روایات میں ہم دو طرح کی روایات سے رو برو ہیں، جس میں سے ایک قسم نے تمام موجودات کے نام اور دوسری قسم نے چہاردہ معصومین کے نام کو ذکر کیا ہے ۔(۲) لیکن حضرت آدم کی خلافت تکوینی کی وجہ اور اس بات پر قرآن کی تائید کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم علیہ السلام کو اسماء کا علم دیا سے مراد یہ ہے کہ موجودات، فیض خدا کا وسیلہ بھی ہوں اور خدا وند عالم کے اسماء بھی ہوںاور کسی چیز سے چشم پوشی نہ ہوئی ہو ۔

مخلوقات کے اسماء سے حضرت آدم کا آگاہ ہونا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی طرف سے خلافت اور جانشینی کے حدود کو ان کے اختیار میں قرار دیاجائے ۔اور اسماء خداوند عالم کے جاننے کا مطلب ، مظہر اسماء الہٰی ہونے کی قدرت ہے یعنی ولایت تکوینی کا ملنا ہے اور اسماء کا جاننا ، فیض الہی کا ذریعہ ہے ،یہ ان کو خلافت کے حدود میں تصرف کے طریقے بتاتا ہے اور اس وضاحت سے ان دو

____________________

(۱)بقرہ ۳۱۔

(۲)ملاحظہ ہو: مجلسی ، محمد باقر ؛ بحار الانوار ، ج۱۱ ص ۱۴۵۔ ۱۴۷، ج ۲۶، ص ۲۸۳۔


طرح کی روایات کے درمیان ظاہری اختلاف اور ناہماہنگی بر طرف ہو جاتی ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسماء سے مراد اس کا ظاہری مفہوم نہیں ہے جس کو ایک انسان فرض ، اعتبار اور وضع کرتا ہے، اسی طرح ان اسماء کی تعلیم کے معنی بھی ان الفاظ و کلمات کا ذہن میں ذخیرہ کرنا نہیں ہے ،اس لئے کہ مذکورہ طریقہ سے ان اسماء کا جاننا کسی بھی صورت میں خلافت الٰہی کے لئے معیار قابلیت اور خلافت تکوینی کے حصول کے لئے کوئی اہم رول نہیں ادا کرسکتا ہے ،اس لئے کہ اگر علم حصولی کے ذریعہ اسماء وضعی اور اعتباری حفظ کرنا اور یاد کرنا مراد ہوتا توحضرت آدم کے خبر دینے کے بعد چونکہ فرشتہ بھی ان اسماء سے آگاہ ہوگئے تھے لہٰذا انھیں بھی خلافت کے لائق ہونا چاہیئے تھا بلکہ اس سے مراد چیزوں کی حقیقت جاننا ان کے اور اسماء خداوند عالم کے بارے میں حضوری معرفت رکھنا ہے جو تکوینی تصرف پر قدرت کے ساتھ ساتھ حضرت آدم کے وجود کی برتری بھی ہے ۔(۱)

حضرت آدم کے فرزندوں کی خلافت

حضرت آدم کے تخلیق کی گفتگو میں خداوند عالم کی طرف سے خلافت اور جانشینی کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے ۔ اور سورۂ بقرہ کی ۳۰ ویں آیت نے بہت ہی واضح خلافت کے بارے میں گفتگو کی ہے ۔ اب یہ سوال در پیش ہے کہ کیا یہ خلافت حضرت آدم سے مخصوص ہے یا دوسرے افراد میں بھی پائی جاسکتی ہے ؟

____________________

(۱)بعض مفسرین نے احتمال دیا ہے کہ ''اسمائ''کا علم مافوقِ عالم و ملائکہ ہے ؛ یعنی اس کی حقیقت ملائکہ کی سطح سے بالاترہے کہ جس عالم میں معرفت وجودمیں ترقی اور وجود ملائکہ کے رتبہ و کمال سے بالاتر کمال رکھنا ہے اور وہ عالم ، عالم خزائن ہے جس میں تمام اشیاء کی اصل و حقیقت ہے اور اس دنیا کی مخلوقات اسی حقیقت اور خزائن سے نزول کرتے ہیں (وَ إِن مِّن شَییٍٔ ِلا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَ مَا نُنَزِّلُهُ ِلا بِقَدَرٍ مَّعلُومٍ )(حجر ۲۱)''اور ہمارے یہاں تو ہر چیز کے بے شمار خزانے پڑے ہیں اور ہم ایک جچی،تلی مقدار ہی بھیجتے رہتے ہیں ''ملاحظہ ہو: محمد حسین طباطبائی کی المیزان فی تفسیر القرآن ؛ کے ذیل آیہ سے ۔


جواب یہ ہے کہ :مذکورہ آیہ حضرت آدم کی ذات میں خلافت کے انحصار پر نہ فقط دلالت نہیں کرتی ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جملہ( أَ تَجعَلُ فِیهَا مَن یُفسِدُ فِیهَا وَ یَسفِکُ الدِّمَائَ ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خلافت حضرت آدم کی ذات سے منحصر نہیں ہے ، اس لئے کہ اگر صرف حضرت آدم سے خلافت مخصوص ہوتی تو چونکہ حضرت آدم معصوم ہیں اور معصوم فساد و خونریزی نہیں کرتا ہے لہٰذا خداوند عالم فرشتوں سے یہ فرما سکتا تھا کہ : آدم فساد اور خونریزی نہیں کرے گا ،البتہ یہ شبہ نہ ہو کہ تمام افراد بالفعل خدا کے جانشین و خلیفہ ہیں ،اس لئے کہ یہ کیسے قبول کیا جاسکتا ہے کہ مقرب الٰہی فرشتے جس مقام کے لائق نہ تھے اور جس کی وجہ سے حضرت آدم کا سجدہ کیا تھا ، وہ تاریخ کے بڑے بڑے ظالموں کے اختیار میں قرار پائے اوروہ خلافت کے لائق بھی ہوں ؟!پس یہ خلافت حضرت آدم اور ان کے بعض فرزندوں سے مخصوص ہے جو تمام اسماء کا علم رکھتے ہیں ،لہٰذا اگرچہ نوع انسان خدا کی جانشینی اور خلافت کا امکان رکھتا ہے لیکن جو حضرات عملی طور پر اس مقام کو حاصل کرتے ہیں وہ حضرت آدم اور ان کی بعض اولادیں ہیں جو ہر زمانہ میں کم از کم ان کی ایک فرد سماج میں ہمیشہ موجود ہے اور وہ روئے زمین پر خدا کی حجت ہے اور یہ وہ نکتہ ہے جس کی روایات میں بھی تاکید ہوئی ہے ۔(۱)

____________________

(۱)ملاحظہ ہو: کلینی ، محمد بن یعقوب ؛ الاصول من الکافی ؛ ج۱، ص ۱۷۸ و ۱۷۹۔


کرامت انسان

انسان کی کرامت کے سلسلہ میں قرآن مجیدکا دو پہلو بیان موجود ہے :قرآن مجید کی بعض آیات میں انسان کی کرامت ، شرافت اور دوسری مخلوقات پر اس کی برتری کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اور بعض آیات میں انسان کی تذلیل اور اس کو حیوانات سے پست بیان کیا گیاہے مثال کے طورپر سورۂ اسراء کی ۷۰ویں آیت میں خداوند عالم نے بنی آدم کی تکریم کی ہے اور بہت سی دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں اس کی برتری بیان ہوئی ہے ۔(۱) سورۂ تین کی چوتھی آیہ اور سورۂ مومنون کی ۱۴ ویں آیہ میں انسان کی بہترین اندازمیں خلقت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے(۲) اور دوسری بہت سی آیات میں یوں مذکور ہے کہ جو کچھ بھی زمینوں و آسمانوں میں ہے انسان کے لئے مسخر یا اس کے لئے پیدا کی گئی ہے(۳) اور ملائکہ نے اس کا سجدہ کیا ہے، وہ تمام اسماء کا جاننے والا، مقام خلافت(۴) اور بلند درجات(۵) کاحامل ہے، یہ تمام چیزیں دوسری مخلوقات پر انسان کی برتری ، شرافت اور کرامت کی طرف اشارہ ہے،اور دوسری طرف ضعیف ہونا(۶) ، لالچی ہونا(۷) ، ظالم و ناشکرا(۸) اور جاہل ہونا(۹) ، چوپائے کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہونا ۰ ) اور پست ترین

____________________

(۱)(وَ لَقَد کَرَّمنَا بَنِی آدمَ وَ حَمَلنَاهُم فِی البَرِّ وَ البَحرِ وَ رَزَقنَاهُم مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَ فَضَّلنَاهُم عَلَیٰ کَثِیرٍ مِّمَّن خَلَقنَا تَفضِیلاً )(اسراء ۷۰)اورہم نے یقینا آدم کی اولاد کو عزت دی اور خشکی اور تری میں ان کو لئے پھرے اور انہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں اور اپنے بہتیرے مخلوقات پر ان کو فضیلت دی ۔(۲)(لَقَد خَلَقنَا الِنسَانَ فِی أَحسَنِ تَقوِیمٍ )(تین۴)یقینا ہم نے انسان کو بہت اچھے حلیے (ڈھانچے)میں کا پیدا کیا ۔(فَتَبَارَکَ اللّٰهُ أَحسَنُ الخَالِقِینَ )(مومنون۱۴)تو خدا بابرکت ہے جو سب بنانے والوں میں بہتر ہے ۔(۳)(أ لَم تَرَوا أَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَکُم مَا فِی السَّمَٰوَاتِ وَ مَا فِی الأرضِ وَ أَسبَغَ عَلَیکُم نِعمَهُ ظَاهِرةً وَ بَاطِنَةً )( لقمان ۲۰) کیا تم لوگوں نے اس پر غور نہیںکیا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا ہی نے یقینی تمہارا تابع کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردیں ۔(هُوَ الَّذِی خَلَقَ لَکُم مَّا فِی الأرضِ جَمِیعاً )(بقرہ ۲۹)اور وہی تو وہ (خدا)ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزوں کو پیدا کیا۔ (۴)یہ آیات خلافت الٰہی کی بحث میں بیان ہوچکی ہیں ۔(۵)اس حصہ کی آیتیں بہت زیادہ ہیں اور ان کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔(۶)(وَ خُلِقِ الإنسَانُ ضَعِیفاً )(نساء ۲۸)اور انسان کمزور خلق کیا گیا ہے ۔(۷)(إنَّ النسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً )(معارج ۱۹)یقینا انسان بہت لالچی پیدا ہوا ہے (۸)(إنَّ النسَانَ لَظَلُوم کَفَّار )(ابراہیم،۳۴) یقینا انسان بڑاناانصاف اور ناشکرا ہے ۔(۹)(إِنَّهُ کَانَ ظَلُوماً جَهُولاً )( احزاب ۷۲)یقینا انسان بڑا ظالم و جاہل ہے۔(۱۰)(أُولٰئِکَ کَالأنعَامِ بَل هُم أَضَلُّ )(اعراف ۱۷۹)وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔


درجہ میں ہونا(۱) یہ وہ امور ہیں جو قرآن مجید کی بعض دوسری آیات میں بیان ہوا ہے ۔ اور دوسری مخلوقات پرانسان کی عدم برتری کی علامت ہے بلکہ ان کے مقابلہ میں انسان کے پست تر ہونے کی علامت ہے،کیا یہ دوطرح کی آیات ایک دوسرے کی متناقض ہیں یا ان میں سے ہر ایک کسی خاص مرحلہ کو بیان کررہی ہے یا مسئلہ کسی اور انداز میں ہے ؟

مذکورہ آیات میں غور و فکر ہمیں اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان قرآن کی نظر میں دو طرح کی کرامت رکھتا ہے :

کرامت ذاتی یا وجود شناسی اور کرامت اکتسابی یا اہمیت شناسی ۔

کرامت ذاتی

کرامت ذاتی سے مراد یہ ہے کہ خداوند عالم نے انسان کو ایسا خلق کیا ہے کہ جسم کی بناوٹ کے اعتبار سے بعض دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں زیادہ امکانات و سہولت کا حامل ہے یا اس کے امکانات کی ترکیب و تنظیم اچھے انداز میں ہوئی ہے، بہر حال بہت زیادہ سہولت اور توانائی کا حامل ہے اس طرح کی کرامت ، نوع انسان پر خداوند عالم کی مخصوص عنایت کا اشارہ ہے جس سے سبھی مستفیض ہیں، لہٰذا کوئی یہ حق نہیں رکھتا ہے کہ ان چیزوں سے مزین ہونے کی بنا پر دوسرے مخلوق کے مقابلہ میں فخر کرے اور ان کو اپنا انسانی کمال اور معیار اعتبار سمجھے یا اس کی وجہ سے مورد تعریف قرار پائے ،بلکہ اتنی سہولت والی ایسی مخلوق تخلیق کرنے کی وجہ سے خداوند عالم کی حمد و تعریف کرنا چاہیئے ۔ جس طرح وہ خود فرماتا ہے( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ أحسَنُ الخَالِقِینَ ) اور سورۂ اسراء کی ۷۰ ویں آیہ( وَ لَقَد کَرَّمنَا بَنِی آدمَ وَ حَمَلنَاهُم فِی البَرِّ وَ البَحرِ وَ رَزَقنَاهُم مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَ فَضَّلنَاهُم عَلیٰ کَثِیرٍ مَمَّن خَلَقنَا تَفضِیلاً ) (۲) اور بہت سی آیات جو دنیا اورمافیہا کو انسان کے لئے

____________________

(۱)(ثُمّ رَدَدنَاهُ أَسفَلَ سَافِلِینَ )(تین۵)پھر ہم نے اسے پست سے پست حالت کی طرف پھیردیا۔

(۲)سورۂ اسراء ۷۰


مسخر ہونے کوبیان کرتی ہیں جیسے ''( وَ سَخَّرَ لَکُم مَا فِی السَّمَٰوَاتِ وَ مَا فِیالأرضِ جَمِیعاً مِنهُ ) (۱) اور جیسے (خَلَقَ لَکُم مَا فِی الأرضِ جَمِیعاً)وغیرہ تمام آیات صنف انسان کی کرامت تکوینی پر دلالت کرتی ہیں ۔ اور( خُلِقَ الِإنسَانُ ضَعِیفاً ) (۲) جیسی آیات اور سورہ ٔ اسراء کی ۷۰ ویں آیہ جو کہ بہت سی مخلوقات (نہ کہ تمام مخلوقات)پر انسان کی برتری کو پیش کرتی ہے یعنی بعض مخلوقات پر انسان کی ذاتی عدم برتری کی یاد آوری کرتی ہے ۔(۳)

کرامت اکتسابی

اکتسابی کرامت سے مراد ان کمالات کا حاصل کرنا ہے جن کو انسان اپنے اختیاری اعمال صالحہ اور ایمان کی روشنی میں حاصل کرتا ہے ،کرامت کی یہ قسم انسان کے ایثار و تلاش اور انسانی اعتبارات کا معیار اور خداوند عالم کی بارگاہ میں معیار تقرب سے حاصل ہوتا ہے، یہ وہ کرامت ہے جس کی وجہ سے یقینا کسی انسان کو دوسرے انسان پر برتر جانا جاسکتا ہے ،تمام لوگ اس کمال و کرامت تک رسائی کی قابلیت رکھتے ہیں ، لیکن کچھ ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ اس سے بے بہرہ رہتے ہیں ، گویا اس کرامت میں نہ تو تمام لوگ دوسری مخلوقات سے برتر ہیں اور نہ تمام لوگ دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں پست یا مساوی ہیں ،لہٰذا وہ آیتیں جو انسان کی کسبی کرامت کو بیان کرتی ہیں دو طرح کی ہیں :

الف) کرامت اکتسابی کی نفی کرنے والی آیات

اس سلسلہ کی موجودہ آیات میں سے ہم فقط چار آیتوں کے ذکر پر اکتفا کررہے ہیں :

____________________

(۱)سورہ جاثیہ ۱۳۔ (۲)سورۂ نساء ۲۸۔(۳)گذشتہ بحثوں میں غیر حیوانی استعداد کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے اور انسان کی دائمی روح بھی معرفت انسان کی ذاتی اور وجودی کرامت میں شمار ہوتی ہے، ہوسکتا ہے کہ سبھی یا ان میں سے بعض انسان کی عالی خلقت سے مربوط آیات جو متن کتاب میں بھی مذکور ہیں مد نظر ہوں ۔


۱۔( ثُمَّ رَدَدنَاهُ أَسفَلَ سَافِلِینَ ) (۱)

پھر ہم نے اسے پست سے پست حالت کی طرف پھیردیا۔

بعض انسانوں سے اکتسابی کرامت کی نفی اس بنا پرہے کہ گذشتہ آیت میں انسان کی بہترین شکل و صورت میں خلقت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور بعد کی آیت میں اچھے عمل والے اور مومنین اسفل السافلین میں گرنے سے استثناء ہوئے ہیں اگر ان کا یہ گرنااور پست ہونا اختیاری نہ ہوتا تو انسان کی خلقت بیکار ہوجاتی اور خداوند عالم کا یہ عمل کہ انسان کو بہترین شکل میں پیدا کرے اور اس کے بعد بے وجہ اورانسان کے اختیار یا اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہوتے ہوئے بھی سب سے پست مرحلہ میں ڈالنا غیر حکیمانہ ہے مزید یہ کہ بعد والی آیت بیان کرتی ہے کہ ایمان اور اپنے صالح عمل کے ذریعہ، انسان خود کو اس حالت سے بچا جاسکتا ہے ،یا اس مشکل میں گرنے سے نجات حاصل کرسکتا ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نزول انسان کے اختیاری اعمال اور اکتسابی چیزوں کی وجہ سے ہے ۔

۲۔( أُولٰئکَ کَالأنعَامِ بَل هُم أَضَلُّ أُولٰئِکَ هُمُ الغَافِلُونَ ) (۲)

یہ لوگ گویا جانور ہیں بلکہ ان سے بھی کہیں گئے گذرے ہیں یہی لوگ غافل ہیں

۳۔( إنّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللّٰهِ الصُّمُّ البُکمُ الَّذِینَ لا یَعقِلُونَ ) (۳)

بیشک کہ زمین پر چلنے والے میں سب سے بد تر خدا کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے ہیں ۔

۴۔( إنّ الِإنسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً وَ إِذَا مَسَّهُ الخَیرُ مَنُوعاً ) (۴)

بیشک انسان بڑا لالچی پیدا ہوا ہے جب اسے تکلیف پہونچتی ہے تو بے صبر ہو جاتا ہے اور جب اس تک بھلائی اور خیر کی رسائی ہوتی ہے تو اترانے لگتا ہے ۔

____________________

(۱)تین۵

(۲)اعراف ۱۷۹ (۳)انفال ۲۲

(۴)سورہ معارج ۱۹۔۲۱.


مذکورہ دو ابتدائی آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ عقل و فکر کو استعمال نہ کرنے اور اس کے مطابق عمل نہ کرنے کی وجہ سے انسانوں کی مذمت کی گئی ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ اس میں کرامت سے مراد کرامت اکتسابی ہے چونکہ بعد والی آیت نماز پڑھنے والوں کو نماز پڑھنے اور ان کے اختیاری اعمال کی بنا پر استثناء کرتی ہے لہٰذا تیسری آیہ اکتسابی کرامت سے مربوط ہے۔

ب) کرامت اکتسابی کو ثابت کرنے والی آیات

اس سلسلہ میں بھی بہت سی آیات موجود ہیں جن میں سے ہم دو آیتوں کونمونہ کے طور پر ذکرکرتے ہیں ۔

۱.( نَّ أَکرَمَکُم عِندَ اللّٰهِ أَتقَٰکُم ) (۱)

۲.ان آیات کا مجموعہ جو کسبی کرامت کی نفی کے بعد بعض انسانوں کو اس سے استثناء کرتی ہیں جیسے( إنَّ الِإنسَانَ لَفِی خُسرٍ إلا الَّذِینَ آمَنُوا ) (۲) ( ، ثُمَّ رَدَدنَاهُ أَسفَلَ سَافِلِینَ إلا الَّذِینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) (۳) ( ، إنّ النسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً إلا المُصَلِّینَ ) (۴)

جیسا کہ اشارہ ہوا کہ اکتسابی کرامت انسان کے اختیار سے وابستہ ہے اور اس کو حاصل کرنا جیسا کہ گذشتہ آیتوں میں آچکا ہے کہ تقویٰ ، ایمان اور اعمال صالحہ کے بغیر میسر نہیں ہے ۔

گذشتہ مطالب کی روشنی میں وسیع اور قدیمی مسئلہ ''انسان کا اشرف المخلوقات ہونا''وغیرہ بھی واضح و روشن ہو جاتا ہے ،اس لئے کہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے سے مراد دوسری مخلوقات خصوصاً مادی دنیا کی مخلوقات کے مقابلہ میں مزید سہولت اور بہت زیادہ توانائی کا مالک ہونا ہے ( چاہے قابلیت،بہتراوربہت زیادہ امکانات کی صورت میں ہو ) اپنے اور قرآنی نظریہ کے مطابق انسان

____________________

(۱)حجرات ۱۳۔

(۲)عصر ۲و ۳۔

(۳)تین ۵و ۶۔

(۴)معارج ۱۹۔


اشرف المخلوقات ہے ۔ اور وہ مطالب جو انسان کی غیر حیوانی فطرت کی بحث اورکرامت ذاتی سے مربوط آیتوں میں بیان ہو چکے ہیں ہمارے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں ،اگرچہ ممکن ہے کہ بعض دوسری مخلوقات جیسے فرشتے بعض خصوصیات میں انسان سے بہتر ہوں یا بعض مخلوقات جیسے جن ، انسانوں کے مقابلہ میں ہوں(۱) لیکن اگر تمام مخلوقات پر انسان کی فوقیت و برتری منظور نظر ہے تب بھی کسی صورت میں ہو تو یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ خداوند عالم کی تمام مخلوقات پر تمام انسان فوقیت اور برتری رکھتے ہیں، البتہ انسانوں کے درمیان ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو خداوند عالم کی ہر مخلوق بلکہ تمام مخلوقات سے برتر ہیں اور اکتسابی کرامت کے اس درجہ و مرتبہ کو حاصل کرچکے ہیں جسے کوئی حاصل ہی نہیں کرسکتا، یہ وہی لوگ ہیں جو ولایت تکوینی اور لا محدود خلافت الٰہی کیحامل ہیں ۔

اس مقام پر ایک اہم سوال یہ در پیش ہے کہ اگر کرامت اکتسابی انسان سے مخصوص ہے تو قرآن مجید میں کرامت اکتسابی نہ رکھنے والے انسانوں کو کیونکر چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے پست سمجھا گیا ہے ؟ اور کس طرح ایک مہم اور معتبر شیٔ کو ایک امر تکوینی سے تقابل کیا جاسکتا ہے اور ان دونوں مقولوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟!

اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی کرامت اکتسابی اگرچہ اقدار شناسی کے مقولہ میں سے ہے لیکن یہ ایک حقیقی شیٔ ہے نہ کہ اعتباری ، دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہر قابل اہمیت شیٔ ضروری نہیں ہے کہ اعتباری اور وضعی ہو، جب یہ کہا جاتا ہے کہ : شجاعت ، سخاوت ، ایثار و قربانی اعتباری چیزوں میں سے ہیں ،اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سخی ، ایثار کرنے والے ، فداکار شخص کو صرف اعتبار اور وضع کی بنیاد پر اچھا اورلائق تعریف و تمجید سمجھا گیا ہے بلکہ ایسا شخص واقعاً سخاوت ، ایثار اور فداکاری نامی حقیقت

____________________

(۱)ایک دوسرے زاویہ سے جس طرح فلسفہ و عرفان اسلامی میں بیان ہوا ہے نیزروایات میں مذکورہے کہ پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین کا نورانی وجود، تمام مخلوقات کے لئے فیضان الٰہی کا واسطہ اور نقطہ آغازو علت ہے ۔اورعلم حیات کے اعتبار سے سب سے رفیع درجات و کمالات کے مالک اور خداوند عالم کی عالی ترین مخلوق میں سے ہیں ۔


کا حامل ہے جس سے دوسرے لوگ دور ہیں بس کرامت اکتسابی بھی اسی طرح ہے انسان کی اکتسابی کرامت صرف اعتباری اور وضعی شیٔ نہیں ہے بلکہ انسان واقعاً عروج و کمال پاتا یا سقوط کرتا ہے ۔ لہٰذا مزید وہ چیزیں جن سے انسانوں کو اکتسابی اور عدم اکتسابی کرامت سے استوارہونے کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنا چاہیئے اور ایک کو بلند اور دوسرے کو پست سمجھنا چاہیئے، اسی طرح انسانوں کو حیوانات اور دوسری مخلوقات سے بھی موازنہ کرنا چاہیئے اور بعض کو فرشتوں سے بلند اور بعض کو جمادات و حیوانات سے پست سمجھنا چاہیئے اسی وجہ سے سورۂ اعراف کی ۱۷۹ویںآیہ میں کرامت اکتسابی نہ رکھنے والے افرادکو چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ بتایاگیاہے ۔ سورہ انفال کی ۲۲ ویں آیہ میں ''بد ترین متحرک '' کا عنوان دیاگیا ہے اور قیامت کے دن ایسے لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش مٹی ہوتے(( وَ یَقُولُ الکَافِرُ یَا لَیتَنِی کُنتُ تُرَاباً ) (۱) اور کافر (قیامت کے دن )کہیں گے اے کاش میں مٹی ہوتا ۔

____________________

(۱)سورہ ٔ نبا ۴۰۔


خلاصہ فصل

۱.گذشتہ فصل میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ انسان بعض مشترکہ خصوصیات کا حامل ہے بعض مغربی مفکرین نے مثال کے طور پروہ افراد جو انسان کی فعالیت کو بنیادی محور قرار دیتے ہیں یا افراط کے شکار معاشرہ پرست افراد بنیادی طور پر ایسے عناصر کے وجود کے منکر ہیں اوروہ انسان کی حقیقت کے سادہ لوح ہونے کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔

ان گروہ کے علاوہ دوسرے لوگ مشترکہ فطرت کو قبول کرتے ہیں لیکن انسان کے اچھے یا برے ہونے میں اختلاف نظررکھتے ہیں بعض اس کو برا اور بعض فقط اچھا سمجھتے ہیں ، بعض نے انسان کو دوپہلو رکھنے والی تصویر سے تعبیر کیا ہے۔

۲.قرآن کریم نے اس سوال کے جواب میں جو انسانوں کو بنیادی طور پر اچھے اور برے خواہشات کا حامل جانتے ہیں، ان کے معنوی و مادی پہلوؤں کو جدا کرکے تجزیہ و تحلیل کی ہے۔

۳.انسان کے خلیفة اللہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ ایک تکوینی شیٔ ہے یعنی انسان کائنات میں تصرف اور ولایت تکوینی کے مقام کو حاصل کر سکتا ہے اس مقام کو حاصل کرنے کی راہ اور حضرت آدم کی صلاحیت کا معیار تمام اسماء کے بارے میں ان کی حضوری معرفت ہے ،اسماء مخلوقات اس کی جانشینی کے اختیارات پر استوار ہے ۔اسماء الہٰی ،قدرت اور ولایت تکوینی کو فراہم کرتا ہے اور وسیلہ فیض کے اسماء اس کے لئے اشیاء میں طریقہ تصرف مہیا کرتے ہیں ۔

۴.حضرت آدم کی اولادوں میں بعض ایسے افراد بھی ہیں جو مقام خلافت کو حاصل کر چکے ہیں اور روایتوں کے مطابق ہر زمانے میں کم از کم ایک فرد زمین پر خلیفة اللہ کے عنوان سے موجودہے ۔

۵.انسان دو طرح کی کرامت رکھتا ہے : ایک کرامت ذاتی جو تمام افراد کو شامل ہے اور باقی مخلوقات کے مقابلہ میں بہتر اور بہت زیادہ امکانات کا حامل ہے اور دوسرا کرامت اکتسابی کہ اس سے مراد وہ مقام و منزلت ہے جس کو انسان اپنی تلاش و جستجو سے حاصل کرتا ہے اوراس معنوی کمال کے حصول کی راہ، ایمان اور عمل صالح ہے اور چونکہ افراد کی آزمائش کا معیار و اعتبار اسی کرامت پر استوار ہے اور اسی اعتبار سے انسانوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے لہٰذا قرآن کبھی انسان کی تعریف اور کبھی مذمت کرتا ہے ۔


تمرین

۱.گذشتہ فصول کے مطالب کی بنیاد پر کیوں افراد انسان مشترکہ فطرت و حقیقت رکھنے کے باوجود رفتار، گفتار، اخلاق و اطوار میں مختلف ہیں۔ ؟

۲.عالم ہستی میں انسان کی رفعت و منزلت اور الٰہی فطرت کے باوجود اور اس کے بہترین ترکیبات سے مزین ہونے کے باوجود اکثر افراد صحیح راستہ سے کیوں منحرف ہو جاتے ہیں ۔؟

۳.اگر جستجو کا احساس انسان کے اندر ایک فطری خواہش ہے تو قرآن نے دوسروں کے کاموں میں تجسس کرنے کی کیوں مذمت کی ہے ؟ آیا یہ مذمت اس الٰہی اور عام فطرت کے نظر انداز کرنے کے معنی میں نہیں ہے ؟

۴.خدا کی تلاش ، خود پسندی اور دوسری خواہشوں کو کس طرح سے پورا کیا جائے تاکہ انسان کی حقیقی سعادت کو نقصان نہ پہونچے ؟

۵.قرآنی اصطلاح میں روح ، نفس ، عقل ، قلب جیسے کلمات کے درمیان کیا رابطہہے ؟

۶.انسان کے امانت دار ہونے سے مراد کیا ہے نیز مصادیق امانت بھی ذکر کریں ؟

۷.غیر دینی حقوقی قوانین میں ،انسان کی کرامت اکتسابی مورد توجہ ہے یا اس کی غیر اکتسابی کرامت ؟

۸.اگر حقیقی اہمیت کا معیار انسان کی کرامت اکتسابی ہے تو مجرم اور دشمن افراد کے علاوہ ان انسانوں کا ختم کرنا جو کرامت اکتسابی کے حامل نہ ہوں کیوں جائز نہیں ہے ؟

۹.آیا جانشینی اور اعتباری خلافت ، جانشین اور خلیفہ کی مہم ترین دلیل ہے ؟


مزید مطالعہ کے لئے

۱۔ انسان کا جانشین خدا ہونے کے سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے رجوع کریں:

۔ جوادی آملی ، عبداللہ ( ۱۳۶۹) زن در آئینہ جلال و جمال تہران : مرکز نشر فرہنگی ،رجاء

۔ (۱۳۷۲) تفسیر موضوعی قرآن ، ج۶ ، تہران : رجاء

۔ صدر ، سید محمد باقر ( ۱۳۹۹) خلافة الانسان و شہادة الانبیاء ،قم : مطبعة الخیام ۔

۔ محمد حسین طباطبائی ( ۱۳۶۳) خلقت و خلافت انسان در المیزان گرد آورندہ : شمس الدین ربیعی ، تہران : نور فاطمہ

۔ محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۶) معارف قرآن ( خداشناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی )قم : موسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینی ۔

۔ مطہری ، مرتضی ( ۱۳۷۱) انسان کامل ، تہران : صدرا ۔

۔ موسوی یزدی ، علی اکبر ، و دیگران ( ۱۳۹۹) الامامة و الولایة فی القرآن الکریم ، قم : مطبعة الخیام

۔ تفاسیر قرآن ، سورہ بقرہ کی ۳۰ ویں آیت کے ذیل میں ۔

۲۔ انسان کی کرامت کے سلسلہ میں :

۔ جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۷۲) کرامت در قرآن ، تہران : مرکز نشر فرہنگی رجاء ۔

۔مصباح ،محمد تقی(۱۳۶۷)معارف قران(خدا شناسی،کیہان شناسی،انسان شناسی)قم موسسہ در راہ حق

۔واعظی،احمد(۱۳۷۷)انسان از دیدگاہ اسلام ۔قم:دفترہمکاری حوزہ ودانش گاہ۔


ساتویں فصل :

آزادی اور اختیار

اس فصل کے مطالعہ کے بعد آپ کی معلومات:

۱ ۔انسان کے سلسلہ میں تین مہم نظریوں کو بیان کریں ؟

۲ ۔مفہوم اختیار کی وضاحت کریں اور اس کے مفہوم کے چار موارد استعمال ذکر کریں ؟

۳ ۔قرآن مجید کی ان آیات کی دستہ بندی اور تفسیرکریں جو انسان کے مختار ہونے پر دلالت کرتی ہیں ؟

۴۔انسان کے اختیار کو مشکوک کرنے والے شبہات کی وضاحت کریں ؟

۵۔انسان کے جبر سے متعلق ، شبہات کے اقسام نیز اس کی تجزیہ و تحلیل کریں ؟


جو افعال انسان سے صادر ہوتے ہیں ایک عام تقسیم کے اعتبار سے دو گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں:

جبری افعال جو بغیر ارادے اور قصد کے انجام پاتے ہیں اور اختیاری افعال جوانتخاب اور انسان کے ارادوں کے نتیجہ میں عالم وجود میں آتے ہیں ، دوسرے گروہ کے متعلق ، فعل کا انجام دینے والا خود اس فعل کی علت اور اس فعل کا حصہ دار سمجھا جاتا ہے، اسی بنا پراس انجام دیئے گئے فعل کے مطابق ہم اس کو لائق تعریف یا مذمت سمجھتے ہیں ،تمام اخلاقی ، دینی ، تربیتی اور حقوقی قوانین اسی یقین کی بنیاد پر استوار ہیں ۔ کسی فعل کو انجام دے کر خوش ہونا یا افسوس کرنا ، عذر خواہی یا دوسرے سے مربوط فعل کے مقابلہ میں حق طلب کرنا بھی اسی سچائی پر یقین اور بھروسہ کیبنیاد پر ہے ۔ دوسری طرف یہ بات قابل قبول ہے کہ انسان کے اختیاری طریقہ عمل میں مختلف تاریخی ، اجتماعی ، فطری ، طبیعی عوامل موثر ہیں اس طرح سے کہ وہ اس کی انجام دہی میں اہم رول ادا کرتے ہیں اور انسان ہر پہلو میں بے قید و شرط اور مطلقاً آزادی کا حامل نہیں ہے ۔

دینی تعلیمات میں قضا و قدر اور الٰہی ارادے اور غیب کا مسئلہ انسان کے اختیاری افعال سے مربوط ہے اور مذکورہ امور سے انسان کا ارادہ و اختیار ، نیز اس کا آزاد ہونا کس طرح ممکن ہے؟ اس کو بیان کیا گیا ہے۔


مذکورہ مسائل کو انسان کے بنیادی مسئلہ اختیار سے مربوط جاننا چاہیئے اور زندگی سنوارنااس کرامت کو حاصل کرناہے جس کے بارے میں گذشتہ فصل میں گفتگو ہوچکی ہے(۱) انہیں چیزوںکی وجہ سے انسان کے اختیار کا مسئلہ مختلف ملتوں اور مختلف علمی شعبوں کے دانشمندوں اور ادیان و مذاہب کے مفکرین اور ماننے والوں کے درمیان ایک مہم اور سر نوشت ساز مسئلہ کے عنوان سے مورد توجہ قرار پایا ہے لہٰذااس کے بارے میں مختلف سوالات اور بحث و مباحثہ کے علاوہ مزید تحقیقات کی ضرورت ہے ۔

مندرجہ ذیل سوالات وہ ہیں جن کے بارے میں ہم اس فصل میں تجزیہ و تحلیل کریں گے ۔

۱.اختیار سے مراد کیا ہے ؟ آیا یہ مفہوم ، مجبوری ( اضطرار ) اور ناپسندیدہ ( اکراہ ) کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے ؟

۲.انسان کے مجبور یا مختار ہونے کے بارے میں قرآن کا کیا نظریہ ہے ؟

۳. انسان کے اختیاری افعال میں قضا و قدر ، اجتماعی قوانین ، تاریخی ، فطری نیز طبیعی عوامل کا کیا کردار ہے اور یہ سب باتیں انسان کے آزاد ارادہ سے کس طرح سازگار ہیں ؟

۴. کیا علم غیب اور خدا کا عام ارادہ ( ارادۂ مشیت ) جو انسان کے اختیاری افعال میں بھی شامل ہے انسان کے مجبور ہونے کا سبب ہے ؟

____________________

(۱)گذشتہ فصل میں انسان کی کرامت اکتسابی کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے اور ہم نے ذکر کیا ہے کہ انسان کی کرامت اکتسابی اس کی اختیاری تلاش کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی جو کچھ اس فصل میں اور آئندہ فصل میں بیان ہوگا، اس کا شمار کرامت اکتسابی کے اصول میں ہوگااور انسان کے مسئلہ اختیار کے حل کے بغیر کرامت اکتسابی کا کوئی معنی و مفہوم نہیں ہے۔


انسان کی آزادی کے سلسلہ میں تین مہم نظریات

انسان کے اختیار اور جبر کا مسئلہ بہت قدیمی ہے اور شاید یہ کہا جاسکتا ہے انسان کی آخرت کے مسئلہ کے بعد جبر و اختیار کی بحث سے زیادہ انسان شناسی کے کسی مسئلہ کے بارے میں یوں گفتگو

مختلف ملتوں اور مذاہب کے ماننے والوں اور معاشرہ کے مختلف قوموں کے درمیان چاہے وہ دانشمند ہوں یا عوام ، رائج نہ تھی ، پہلے تو یہ مسئلہ کلامی ، دینی اور فلسفی پہلوؤں سے زیادہ مربوط تھا لیکن علوم تجربی کی خلقت و وسعت اور علوم انسانی کے باب میں جو ترقی حاصل ہوئی ہے اس کی وجہ سے جبر و اختیار کی بحث علوم تجربی سے بھی مربوط ہوگئی ، اسی لئے علوم تجربی کی بحث میں مفکرین خصوصاً علوم انسانی کے ماہرین نے اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا ہے۔ایک طرف تو اختیار ،انسان کا ضمیر رکھنا اور بہت سی دلیلوں کا وجود اور دوسری طرف اختیاری افعال اور اس کے اصول میں بعض غیر اختیاری افعال کا موثر ہونا اور بعض فلسفی اوردینی تعلیمات میں سوء تفاہم کی بنا پر مختلف نظریات بیان ہوئے ہیں، بعض نے بالکل انسان کے اختیار کا انکار کیا ہے اور بعض لوگوں نے اختیار انسان کو تسلیم کیاہے اور بعض لوگوں نے جبر و اختیار کے ناکارہ ہونے کا یقین رکھنے کے باوجود دونوں کو قبول کیا ہے حالانکہ کوئی معقول توجیہ اس کے متعلق پیش نہیں کی ہے ۔

رواقیان وہ افراد ہیں جو انسان کے اچھے یا برے ہونے کی ذمہ داری کو خود اسی کے اوپر چھوڑ دیتے ہیں ۔اور دنیا کے تمام حوادث منجملہ انسان کے اختیاری افعال کو بھی انسان کے ذریعہ غیر قابل تغییر، تقدیر الٰہی کا ایک حصہ سمجھتے ہیں ۔

اسلامی سماج و معاشرہ میں اشاعرہ نے جبر کے مسلک کو قبول کیا ہے ۔(۱) اور معتزلہ نے

____________________

(۱)اشاعرہ ، جہمیہ کے برخلاف انسان کو اس کے اختیاری افعال میں جمادات کی طرح سمجھتے تھے اس یقین پر کہ انسان کا فعل، قدرت و ارادۂ خدا سے مربوط ہونے کے باوجود خداوند عالم اپنے ارادہ اور قدرت کے ساتھ انسان کے اندر قدرت و ارادہ ایجاد کرتا ہے اور اس فعل سے انسان کا ارادہ مربوط ہوتا ہے ۔ اور اس حقیقت ( فعل سے انسان کے ارادہ کے مربوط ہونے ) کو کسب کہا ہے ۔ لیکن ہر اعتبار سے انسان کے لئے تحقق فعل میں کسی تاثیر کے قائل نہیں ہیں ملاحظہ ہو: تھانوی ، محمد علی ؛ کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم؛ مکتبة لبنان ناشرون ، بیروت : ۱۹۹۶۔


تفویض کو قبول کیا ہے اور ان لوگوں نے کہا ہے کہ انسان کے اختیاری افعال خداوند عالم سے الگ اس کی قدرت و انتخاب کی وجہ سے انجام پاتے ہیں(۱) اس نظریہ کے مشابہ دنیا کی تمام مخلوقات کے سلسلہ میں بعض مسیحی اور مغربی دانشمندوں کے نظریے بیان ہوئے ہیں ۔(۲)

اسلامی سماج اور معاشرہ میں تیسرا نظریہ ، اہل بیت اور ان کے ماننے والوں کا نظریہ ہے ۔ اس نظریہ میں انسان اپنے اختیاری فعل میں نہ مجبور ہے اور نہ ہی آزاد بلکہ ان دونوں کے درمیان کی ایک حقیقت ہے : ''لا جَبرَ وَ لا تَفوِیضَ بَل أمر بَینَ الأمرَین'' اس نظریہ کے مطابق انسان کے افعال میں نہ تنہا انسان کا خدا کے ساتھ فعال ہونے میں منافات نہیں ہے بلکہ خدا اور انسان کی صحیح شناخت کا تقاضا اور واقعی و اختیاری فعل کی حقیقت کو دقیق درک کرنا ہے ۔

عقیدۂ جبر، اسلام سے پہلے عرب کے جاہل مشرکوں کے یہاں بھی موجود تھا اور قرآن مجید ایک غلط نظریہ کے عنوان سے نقل کرتے ہوئے اس فکر کے فرسودہ ہونے کی طرف اشارہ کررہا ہے اور فرماتا ہے :

( سَیُقُولُ الَّذِینَ أَشرَکُوا لَوشَائَ اللّٰهُ مَا أَشرَکنَا وَ لا آبَاؤُنَا وَ لا حَرَّمنَامِن شَییٍٔ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِهِم ) (۳)

عنقریب مشرکین کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ، دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گذرچکے ہیں جھٹلاتے رہے

____________________

(۱)کہا گیا ہے کہ بعض معتزلہ کے علماء جیسے ابو الحسن بصری اور نجار ، تفویض کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے ۔

(۲)سنت مسیحیت میں خداوند عالم نے دنیا کو چھہ روز میں خلق کیا ہے اور ساتویں روز آرام کیا ہے ۔ اس عقیدہ کی بنیاد پر دنیا اس گھڑی کے مانند ہے جس میں خداوند عالم نے آغاز خلقت ہی میں چابھی بھر دیا ہے اور اس کے بعد دنیا خدا سے جدا اور مستقل ہوکر اپنی حرکت پر باقی ہے ۔

(۳)سورہ انعام ۱۴۸۔


دوسری آیت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مشرکین کا اعتقاد ہر طرح کی علمی حمایت سے دور ہے اور یہ نظریہ فقط نصیحت پر مبنی ہے ، یوں فرماتا ہے :

( وَ قَالُوا لَو شَائَ الرَّحَمٰنُ مَا عَبَدنَاهُم مَا لَهُم بِذٰلِکَ مِن عِلمٍ ن هُم ِلا یَخرُصُونَ ) (۱)

اور کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو ہم ان کی پرستش نہ کرتے ان کو اس کی کچھ خبر ہی نہیں یہ لوگ تو بس الٹی سیدھی باتیں کیا کرتے ہیں ۔

اسلامی معاشرہ میں جاہل عرب کے عقیدہ ٔ جبر کا قرآن کے نازل ہونے اور اسلام کی سر سخت مخالفت کے بعد اس کا کوئی مقام نہیں رہا ۔اگرچہ کبھی کبھی اس سلسلہ میں بعض مسلمان، بزرگان دین سے سوالات کرکے جوابات حاصل کیاکرتے تھے(۲) لیکن حکومت بنی امیہ کے تین اموی خلفاء نے اسلامی شہروں میں اپنے ظلم کی توجیہ کیلئے عقیدہ ٔ جبر کو رواج دیا اور اس نظریے کے مخالفین سے سختی سے پیش آتے رہے ،ان لوگوں نے اپنے جبری نظریہ کی توجیہ کے لئے بعض آیات و روایات سے بھی استفادہ کیا تھا،تفویض کا نظریہ جو معتزلہ کی طرف سے بیان ہوا ہے عقیدہ جبر کے ماننے والوں کی سخت فکری و عملی مخالفت نیز عقیدۂ جبر کے مقابلہ میں یہ ( تفویض کا نظریہ) ایک طرح کا عکس العمل تھا ۔ جب کہ آیات و روایات اور پیغمبرنیز ان کے سچے ماننے والوں کی زندگی کا طرز عمل بھی مذکورہ دونوں نظریوں کی تائید نہیں کرتا ہے بلکہ اہل بیت کے نظریہ ''الأمر بین الأمرین'' سے مطابقت رکھتا ہے ۔

____________________

(۱)سورہ زخرف ۲۰۔(۲) مثال کے طور پر امام علی اس شخص کے جواب میں جس نے قضا و قدر الٰہی کو جبر سے ملادیا تھا آپ نے فرمایا ..........کیا تم گمان کررہے ہو کہ ( جو کچھ جنگ صفین میں اور دوران سفر میں ہم نے انجام دیا ہے ) ہمارے اختیار سے خارج ، حتمی اور جبری قضا و قدر تھا ؟ اگر ایسا ہی ہے تو سزا و جزا ، امر و نہی سب کچھ غلط اور بے وجہ ہے۔صدوق ، ابن بابویہ، التوحید ، مکتبة الصدوق ، تہران : ۱۳۷۸م ، ص ۳۸۰۔


بہر حال اگرچہ عقلی ، نقلی اوردرونی ( ضمیر ) تجربہ کے ذریعہ انسان کے اختیار کا مسئلہ ایک غیر قابل انکار شیٔ ہے جس پر بہت سے تجربی دلائل گواہ ہیں لیکن سیاسی اور بعض دینی و فلسفی تعلیمات سے غلط استفادہ اور اس سلسلہ میں بیان کئے گئے شبہات کے جوابات میں بعض فکری مکاتب کی ناتوانی کی بنا پر اسلامی معاشرہ کا ایک گروہ عقیدۂ جبر کی طرف مائل ہو گیااوروہ لوگ اس کے معتقد ہوگئے(۱) البتہ یہ شیٔ اسلامی معاشرہ سے مخصوص نہیں ہے دوسرے مکاتب فکرکے دانشمندوں کے درمیان اور متعدد غیر مسلم فرق و مذاہب میں بھی اس عقیدے کے حامی افراد موجود ہیں ۔(۲)

مفہوم اختیار

لفظ اختیار مختلف جہات سے مستعمل ہے یہاں انسان کے اختیار کے معنی کو روشن کرنے کے لئے جو کرامت اکتسابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے چار موارد ذکرکئے جا رہے ہیں۔

۱۔اضطرار اور مجبوری کے مقابلہ میں اختیار

کبھی انسان کسی خاص شرائط اور ایسے حالات و مقامات میں گھر جاتا ہے جس کی بنا پر مجبور ہو کر کسی عمل کو انجام دیتا ہے مثال کے طور پر ایک مسلمان بیابان میں گرفتار ہو جاتا ہے اور راستہ بھول جاتا ہے بھوک اور پیاس اسے اس حد تک بے چین کردیتی ہے جس کی وجہ سے اس کی جان خطرہ میں پڑجاتی ہے لیکن ایک مردار کے علاوہ اس کے سامنے کوئی غذا نہ ہو تو وہ اپنی جان بچانے کے لئے مجبوراً اس حیوان کے گوشت کو اتنی ہی مقدار میں استعمال کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ موت سے نجات حاصل کرسکے ،اس مقام پر کہا جائے گا کہ اس شخص نے اپنی خواہش اور اختیار سے مردار گوشت نہیں کھایا ہے بلکہ وہ مجبور تھا اور اضطرار کی وجہ سے مردار کے گوشت کو مصرف کیا ہے جیسا کہ قرآن مجید اس کی غذا

____________________

(۱)اس سلسلہ میں مغربی مفکرین و فلاسفہ کے نظریات کوہم ''ضمائم'' میں بیان کریں گے ۔

(۲)انسانی علوم تجربی کے بعض غیر مسلم مفکرین و فلاسفہ کے نظریات ''ضمائم ''میں بیان ہوں گے ۔


کے جائز ہونے کے بارے میں فرماتا ہے :

( إنَّمَا حَرَّمَ عَلَیکُمُ المَیتَةَ وَ... فَمَنِ اضطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَ لا عَادٍ فَلا ِثمَ عَلَیهِ ) (۱)

اس نے تو تم پر بس مردہ جانور اور ...لہٰذا جو شخص مجبور ہو اور سرکشی کرنے والا اورزیادتی کرنے والا نہ ہو تو اس پر گناہ نہیں ہے ۔

۲.اکراہ کے مقابلہ میں اختیار

کبھی خود انسان کسی کام کے انجام دینے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے یا کسی کام سے نفرت کرتا ہے لیکن ایک دوسرا شخص اس کو ڈراتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق اس کام کو انجام دینے کے لئے مجبور کرتا ہے اس طرح کہ اگر اس شخص کا خوف نہ ہوتا تو وہ اس فعل کو انجام نہ دیتا اس مسلمان کی طرح جو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے قتل ہوجانے کے خوف کی بنا پر ظاہر میں زبان سے اظہار کفر کرتا ہے ، اس مقام پر کہا جاتا ہے کہ اس نے بااختیار اس عمل کو انجام نہیں دیا ، جیسا کہ سورہ نحل کی ۱۰۶ ویں آیہ میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں :

( مَن کَفَرَ بِاللّٰهِ مِن بَعدَ ِیمَانِهِ لا مَن أُکرِهَ وَ قَلبُهُ مُطمَئِنّ بِالِیمَانِ )

جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے سوائے اس شخص کے جو اس عمل پرمجبورکردیاجائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو۔(۲)

اضطرار سے اکراہ کا فرق یہ ہے کہ اکراہ میں دوسرے شخص کا خوف زدہ کرنا بیان ہوتا ہے جب کہ اضطرار میں ایسا نہیں ہے بلکہ خارجی حالات اور وضعیت اس عمل کی متقاضی ہوتی ہے۔

____________________

(۱)سورہ بقرہ ۱۷۳۔

(۲)سورہ نحل۱۰۶۔


۳.اختیار یعنی انتخاب و آزمائش کے بعد ارادہ

جب بھی انسان کے سامنے کسی کام کے انجام دینے کے لئے متعدد راہیں ہوں تو وہ اس کا تجزیہ کرتا ہے اسے خوب پرکھتا ہے اس کے بعد ایک راہ کو انتخاب کرتا ہے اور اسی کے مطابق اس فعل کے انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ کام اختیار کے ساتھ انجام پایا ہے لیکن اگر کوئی کام سوچے سمجھے بغیر انتخاب اور اس کا ارادہ کرلیا گیاتو کہا جائے گا کہ یہ فعل غیراختیاری طور پر سرزد ہواہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس شخص کے ہاتھ میں رعشہ ہو اور اس کا ہاتھ حرکت دینے کے ارادہ کے بغیر ہی لرزرہا ہو ۔

۴.اختیار یعنی رغبت ، محبت اور مرضی کے ساتھ انجام دینا

اس استعمال میں آزمائش اور انتخاب کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کسی فعل میں صرف اکراہ اور مجبوری نہ ہو اور وہ فعل کسی کی رضایت اور خواہش کے ساتھ انجام پائے تو اس فعل کو اختیاری کہا جاسکتا ہے، خدا اور فرشتوں کے افعال میں اسی طرح کا اختیار ہے، اس معنی کے مطابق خداوند عالم اور فرشتوں کے افعال، اختیاری ہیں البتہ ان کی طرف سے کسی کام کے انجام پانے کے لئے آزمائش اور انتخاب کا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے مثال کے طورپر خداوند عالم اپنے کام کے انجام دینے میں تجزیہ و تحلیل اور انتخاب کی حاجت نہیں رکھتا ہے اوراس کیلئے کسی بھی شی ٔمیں ایسا ارادہ جو پہلے نہ رہا ہو تصور نہیں ہوتا ہے چنانچہ مختار ہونے کا یہ معنی ہے کہ خواہش ، رغبت اور فاعل کی خود اپنی مرضی سے وہ فعل انجام پائے ۔(۱)

____________________

(۱) افعال انسان کے اختیاری ہونے کو اس کے ارادہ سے ملانا نہیں چاہیئے، کسی فعل کے ارادی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس ارادہ سے پہلے ایک ارادہ ہو اور وہ فعل بھی ارادہ سے پہلے ہو لیکن اختیاری ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس فعل کے صدور میں حقیقی عامل کوئی اور نہیں ہے بلکہ خود وہ شخص ہے ۔ اس بیان کے مطابق خود ارادہ انسان کے لئے بھی ایک اختیاری فعل موجود ہے اگرچہ وہ ایک ارادی فعل نہیں ہے یعنی ارادہ کرنے کے لئے کسی سابق ارادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔


بھی ایک ارادہ ہونا چاہیئے اور یہ تسلسل باقی رہے گا اور یہ محال ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ارادہ کوئی ارادی فعل نہیں ہے اور ضروری نہیں ہے کہ اس کے پہلے بھی ایک ارادہ ہو بلکہ یہ ایک اختیاری فعل ہے اور ارادہ و اختیار میں بہت فرق ہے ،چونکہ حقیقی عامل و سبب نفس انسان ہے اور اس میں کوئی اضطرار و مجبوری نہیں ہے لہذا فعل اختیاری ہے چاہے اس کے پہلے کوئی ارادہ نہ رہا ہو ۔

اس وضاحت سے ارادہ و اختیار میں موجود اہم اعتراض کا جواب واضح ہوجاتا ہے ، اس اعتراض میں کہا جاتا ہے کہ اگر ہر اختیاری فعل سے پہلے ایک ارادہ کا ہونا ضروری ہے تو خود ارادہ کرنا بھی تو ایک نفسیاتی فعل ہے لہٰذا اس سے پہلے...

مذکورہ چار معانی میں سے جو انسان کے اختیاری کاموں میں مورد نظر ہے نیز کرامت اکتسابی کے حاصل کرنے کا طریقۂ عمل بھی ہے وہ تیسرا معنی ہے ۔ یعنی جب بھی انسان متعدد موجودہ راہوں اور افعال کے درمیان تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ کسی کام کو انتخاب کرلے اور اس کے انجام کا ارادہ کرلے تو اس نے اختیاری فعل انجام دیا ہے اور اپنی اچھی یا بری سرنوشت کی راہ میں قدم بڑھایا ہے ،اس لئے تجزیہ و تحلیل ، انتخاب اور ارادہ ، اختیار انسان کے تین بنیادی عنصر شمار ہوتے ہیں ،البتہ منتخب فعل لازمی طور پر انسان کے رغبت اور ارادہ کے مخالف نہیں ہے یہ ہوسکتا ہے کہ خود بخود وہ فعل انسان کے لئے محبوب و مطلوب ہو اس شخص کی طرح جو خدا کی عبادت اور راز و نیاز کا عاشق ہے اور نیمۂ شب میں با اشتیاق بستر خواب سے بلند ہوتا ہے اور نماز شب پڑھتا ہے یا اس شخص کی طرح جس کے پاس موسم گرما میں تھوڑا سا ٹھنڈا اور میٹھا پانی موجود ہے جس سے ہاتھ اور چہرہ دھلنا اس کے لئے لذت بخش ہے لیکن ظہر کے وقت اسی پانی سے وضو کرتا ہے ،مطلوب اور اچھا فعل اگر معرفت اور ارادہ کے ہمراہ ہو تو ایک اختیاری فعل اور کرامت اکتسابی کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ، قدرت انتخاب نہ رکھنے والے جمادات اور فرشتوں میں جن کے سامنے متعدد راہیں نہیں ہوتیں اورغیر ترقی یافتہ انسان میں جو ابھی قدرت انتخاب سے مزین نہیں ہے،اس کے لئے ایسے انتخاب کا تصور نہیں کیاجاسکتا ہے ۔(۱)

____________________

(۱) اختیار کی تعریف کے اعتبار سے ،چاہے بہت کم مقدار ہی میں کیوں نہ ہو کیا حیوانات اختیار رکھتے ہیں ؟ اس میں اختلاف نظر ہے لیکن بعض آیات کے ظواہر اور بعض تجربی شواہد بہت معمولی مقدار میں ان کے اختیار کے وجود پر دلالت کرتی ہیں ۔


انسان کے مختار ہونے پر قرآنی دلیلیں

گذشتہ مفہوم کے مطابق انسان کا اختیار قرآن کی نظر میں بھی مورد تائید ہے اور بہت سی آیات بھی اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں ،ان میں سے چار طرح کی آیات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے

۱۔وہ آیات جو بہت ہی واضح طور پر انسان کے اختیار کو بیان کرتی ہیں :

( وَ قُلِ الحَقُّ مِن رَّبِّکُم فَمَن شَائَ فَلیُؤمِن وَ مَن شَائَ فَلیَکفُر ) (۱)

اور تم کہدو کہ سچی بات(قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے پس جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے ۔

۲۔ وہ آیات جو اتمام حجت کے لئے پیغمبروں کے بھیجنے اور آسمانی کتب کے نزول کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں :

( لِیَهلِکَ مَن هَلَکَ عَن بَیِّنَةٍ وَ یَحیَیٰ مَن حَیَّ عَن بَیِّنَةٍ ) (۲)

تاکہ جو شخص ہلاک ہو وہ حجت تمام ہونے کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ ہدایت کی حجت تمام ہونے کے بعد زندہ رہے ۔

( رُسُلاً مُّبَشِّرِینَ وَ مُنذِرِینَ لِئَلا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَیٰ اللّٰهِ حُجَّة بَعدَ الرُّسُلِ )

بشارت دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبر (بھیجے)تاکہ لوگوں کی خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہ جائے ۔(۳)

۳۔ وہ آیات جو انسان کے امتحان اور مصیبت میں گرفتار ہونے پر دلالت کرتی ہیں :

( إِنَّا جَعَلنَا مَا عَلَیٰ الأرضِ زِینَةً لَّهَا لِنَبلُوَهُم أَیُّهُم أَحسَنُ عَمَلاً )

جو کچھ روئے زمین پر ہے ہم نے اسے زینت قرار دیاہے تاکہ ہم لوگوں کا امتحان لیں کہ ان میں سے کون سب سے اچھے اعمال والا ہے ۔(۴)

____________________

(۱)سورہ کہف ۲۹(۲)سورہ انفال ۴۲

(۳)سورہ نساء ۱۶۵

(۴)سورۂ کہف ۷


۴. وہ آیات جو بشیرو نذیر ، وعد و وعید ، تعریف و مذمت اور اس کے مثل کی طرف اشارہ کرتی ہیں اسی وقت فائدہ مند اور مفید ہوں گی جب انسان مختار ہو ۔

( وَعَدَ اللّٰهُ المُنَافِقِینَ وَ المُنَافِقَاتِ وَ الکُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیهَا )

منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے خدا نے جہنم کی آگ کا وعدہ کرلیا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔(۱)

____________________

(۱)سورۂ توبہ ۶۸


عقیدہ ٔ جبر کے شبہات

جیسا کہ کہا گیا ہے کہ انسان کا مختار اور وجدانی ہونا عقلی نقلی دلیلوں کے علاوہ تجربی شواہد سے بھی ثابت اور مورد تائید ہے لیکن کسی بنا پر ( منجملہ بعض شبہات کی وجہ سے جو انسان کے اختیار کے بارے میں بیان ہوئے ہیں ) بعض لوگ جبر کے قائل ہیں یہاں ہم ان شبہات کا تجزیہ کریں گے ۔

جبر الٰہی

مذکورہ شبہات میں سے ایک شبہہ جبر الٰہی ہے ،تاریخ اسلام میں ایک گروہ کو ''مجبرہ'' کہتے ہیں یہ گروہ معتقد تھا کہ دینی تعلیمات کے ذریعہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان اپنے اختیاری افعال میں مجبور ہے ، جبر الٰہی کے ماننے والوں کی استناد اور ان کے دینی بیانات کو تین دستوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

پہلا گروہ

وہ آیات و روایات جو علم غیب کے بارے میں ہیں، ان میں مذکور ہے کہ خداوند عالم، انسان کے افعال اختیاری کے انجام پانے سے پہلے ان افعال اور ان کے انجام پانے کی کیفیت سے آگاہ ہے اور انسانوں کی خلقت سے پہلے وہ جانتا تھا کہ کون انسانِ صالح و سعادت مند ہے اور کون برا و بدبخت ہے اور یہ حقائق لوح محفوظ نامی کتاب میں ثبت ہیں جیسے :


( وَ مَا یَعزُبُ عَن رَّبِّکَ مِن مِّثقَالِ ذَرَّةٍ فِی الأرضِ وَ لا فِی السَّمَائِ وَ لا أَصغَرَ مِن ذٰلِکَ وَ لا أَکبَرَ ِلا فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ ) (۱)

اور تمہارے پروردگار سے ذرہ بھر بھی کوئی چیز غائب نہیں رہ سکتی نہ زمین میں اور نہ ہی آسمان میں چھوٹی ، بڑی چیزوں میں سے کوئی ایسی نہیں ہے مگر وہ روشن کتاب میں ضرور ہے ۔

دوسرا گروہ

وہ آیات و روایات جو یہ بیان کرتی ہیں کہ انسان کے افعال خدا کے ارادہ اور اس کی طرف سے معینہ حدود میں انجام پاتے ہیں جیسے وہ آیات جو ہرشیٔ کے تحقق منجملہ انسان کے اختیاری اعمال کو خدا کی اجازت ، مشیت ، ارادہ نیزقضا و قدر الہٰی کا نتیجہ سمجھتی ہیں جیسے یہ آیات :

( وَ مَا کَانَ لِنَفسٍ أَن تُؤمِنَ لا بِِذنِ اللّٰهِ ) (۲)

کسی شخص کو یہ اختیار نہیں ہے کہ بغیر اذن خدا ایمان لے آئے

( مَن یَشَأِ اللّٰهُ یُضلِلهُ وَ مَن یَشَأ یَجعَلهُ عَلَیٰ صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ ) (۳)

اللہ جسے چاہے اسے گمراہی میں چھوڑ دے اور جسے چاہے اسے سیدھے راستہ پر لادے

( وَ مَا تَشَائُ ونَ ِلا أَن یَشَائَ اللّهُ ) (۴)

اور تم لوگ وہی چاہتے ہو( انجام دینا)جو خدا چاہتا ہے ۔

پس انسان اس وقت ایمان لاتا ہے اور صحیح و غلط راستہ اختیار کرتا ہے یا کسی کام کو انجام دے

____________________

(۱)سورۂ یونس ۶۱

(۲)یونس۱۰۰

(۳)انعام ۳۹

(۴)تکویر ۲۹۔


سکتا ہے جب خدا کی مرضی شامل حال ہو ایک روایت میں امام علی رضا سے بھی منقول ہے کہ :''لا یکُون لا مَاشَاء اللّه وَ أرَاد وَ قدّر وَ قضیٰ '' (۱) کوئی بھی چیز بغیر خدا کی مرضی و ارادہ نیز قضا و قدر کے متحقق نہیں ہوتی ہے ۔

تیسرا گروہ

وہ آیات و روایات جو بیان کرتی ہیں کہ : انسانوں کی اچھی اور بری فطرت پہلے ہی سے آمادہ ہے فقط طبیعت مختلف ہے ۔بعض انسانوں کی فطرت اچھی ہے اور وہ اسی اعتبار سے ہدایت پاتے ہیں اور بعض دوسرے انسانوں کی فطرت بری ہے جس کی بنا پر گمراہ ہوجاتے ہیں جیسے دو آیتیں( کَلاّ إِنَّ کِتَابَ الفُجَّارِ لَفِی سِجِّینٍ ) (۲) ( کَلاّ إِنَّ کِتَابَ الأبرَارِ لَفِی عِلِّیِّینَ ) (۳) بیان کرتی ہیں کہ : اچھے لوگوں کی سرنوشت بلند مقام( عِلِّیِّینَ ) اور برے افراد کی سرنوشت پست مقام( سِجِّینِ ) بتائی گئی ہے جیساکہ مختلف احادیث بیان کرتی ہیں کہ : اچھے انسانوں کی فطرت میٹھے پانی اور برے افراد کی فطرت تلخ پانی سے تخلیق ہوئی ہے نیزان احادیث میں سے بعض احادیث میں آیا ہے کہ : ''الشَقِی مَن شقیٰ فِی بطنِ أمهِ و السعِید مَن سَعد فِی بطنِ أمهِ ''(۴) بد بخت وہی ہے جو شکم مادر میں بد بخت ہے اور سعادت مند وہی ہے جو شکم مادر ہی سے سعادت مند ہے ۔

جبر الٰہی کی تجزیہ و تحلیل

پہلے گروہ کے شبہہ کا جواب یہ ہے کہ خداوند عالم کا کسی شخص کے اچھے یا برے فعل کے انجام

____________________

(۱)کلینی ، محمد بن یعقوب ؛ اصول کافی ، ج۱ ، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران :۱۳۴۸، ص ۱۵۸۔

(۲)مطففین ۷۔

(۳)مطففین۱۸

(۴)مجلسی ، محمد باقر ؛ بحار الانوار ؛ دار الکتب الاسلامیہ ، تہران :۱۳۶۳۔


دینے کا علم، اس فعل کے عالم خارج میں بغیر کسی قید و شرط کے انجام پانے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس فعل کو تمام قیود اور شرائط کے ساتھ انجام دینے کے معنی میں ہے ، منجملہ انسان کے اختیاری افعال میں یہ قیود، فعل کو پرکھنا ، انتخاب کرنا اور ارادہ کے ذریعہ انجام دینا ہے،دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ کسی کام کے انجام پانے کے بارے میں خدا کا علم ، جبر اور اختیار دونوں سے سازگار ہے اس لئے کہ اگر خدا جانتا ہے کہ یہ کام جبر کی بنا پر اور فاعل کے ارادہ کے بغیر انجام اور صادر ہوا ہے جیسے اس شخص کے ہاتھ کی لرزش جسے رعشہ ہو ، تو ظاہر ہے وہ فعل جبری ہے لیکن اگر خدا یہ جانتا ہے کہ فاعل نے اس کام کو اپنے اختیار اور ارادہ سے انجام دیا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ فعل اختیاری ہے اور فاعل مختار ہے جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان کے اختیاری افعال میں کام کے انجام پانے کی ایک شرط اور قید، انسان کا اختیار ہے ، اسی بنا پر خدا جانتا ہے کہ انسان مختار ہے اور اس کام کو اپنی مرضی اور اختیار سے انجام دے رہا ہے ۔

یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ جبر الٰہی کے معتقدین نے یہ تصور کیا ہے کہ چونکہ خداوند عالم فعل کے صادر ہونے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ ہم کیا کریں گے لہٰذا ہم مجبور ہیں ، جب کہ یہ تصور بھی غلط ہے اور ہمیں خود سے خدا کا تقابل نہیں کرنا چاہیئے ،خداوند عالم لامحدود اور زمان و مکان سے بالاتر ہے اس کے لئے ماضی ، حال و مستقبل کا تصور نہیں ہے۔ مادی مخلوقات اگرچہ زمانہ کے ہمراہ ہیں اور اپنے اور دوسرے کے ماضی و مستقبل کے حالات سے جاہل و بے خبر ہیں اور دھیرے دھیرے ان کے لئے حوادث واقع ہوتے ہیں، لیکن اس خدا کے بارے میں جو زمان و مکان سے بالاتر ہے اس کے لئے حرکت و زمان کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اور یہ کائنات اس کے لئے پوری طرح سے آشکار ہے ، گذشتہ اور آئندہ کے حوادث کے بارے میں خدا وند عالم کا علم ہمارے حال اور موجودہ حوادث کے بارے میں علم رکھنے کی طرح ہے وہ کاروان ہستی اور سلسلۂ حوادث کو ایک ساتھ اور ایک ہی دفعہ میں مشاہدہ کرتا ہے ، غرض یہ کہ کسی چیز کے متحقق ہونے سے پہلے اور متحقق ہونے کے وقت ، اور متحقق ہونے کے بعد کا علم اس کے لئے متصور نہیں ہے ،بہر حال جس طرح اس شخص کے بارے میں ہمارا علم جو ہمارے ہی سامنے اچھا کام کرتا ہے اس کے مجبور ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے اسی طرح خدا کا علم ( ہمارے اعتبار سے اس اچھے کام کے متحقق ہونے سے پہلے ) بھی اس شخص کے مجبور ہونے کا سبب نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے گروہ کی وضاحت میں (قدر،قضا ،مشیت اور ارادۂ خدا کی آیات وروایات میں )قابل ذکر یہ ہے کہ قدر چاہے انسان کے اختیاری افعال یا غیر اختیاری افعال میں ہو ضروری شرائط فراہم ہونے کے معنی میں ناکافی ہے اور قدر کے متحقق ہونے سے فعل حتمی اور قطعی متحقق نہیں ہوتا ہے


بلکہ تمام شرائط کے فراہم ہونے کی بنا پر حتماً متحقق ہوتاہے اس لئے انسان کے اختیاری افعال میں قدر یعنی کسی فاعل سے فعل کا حتمی صادر ہونا اور واقع ہونا ، جبر کالا زمہ نہیں ہے اس لئے کہ اگر کسی فعل کے صدور کے لئے علت ناقصہ (نہ کہ تامہ)فراہم ہوئی ہے تو صدور فعل حتمی نہیں ہے کہ اس فعل کے سلسلہ میں اختیاری یا جبری ہونے کے بارے میں بحث کیا جائے اور اگر صدور فعل کے تمام شرائط فراہم ہوں اور فقط فاعل نے قصد نہ کیا ہو تو معلوم ہوا کہ فاعل کا قصد ایک دوسری شرط ہے جو فعل کے حتمی متحقق ہونے کے لئے ضروری ہے اور اس صورت میں فعل اختیاری ہوگا۔

قضائے الٰہی

جو قدر کے مقابلہ میں ایک فعل کے متحقق ہونے کے لئے کافی اور ضروری شرائط کے فراہم ہونے کے معنی میں ہے وہ بھی انسان کے اختیارسے منافات نہیں رکھتا ہے اس لئے کہ قضائے الہی اس وقت متحقق ہوتی ہے جب کسی کام کے تحقق پانے کے تمام شرائط جن میں سے ایک انسان کا ارادہ بھی ہے فراہم ہوجائے. اور اختیاری افعال میں انسان کے قصد وارادہ کے بغیر قضائے الہی انسان کے اختیاری افعال میں متحقق نہیں ہوتا ہے.لہذا قضاء الٰہی بھی انسان کے اختیار سے سازگار ہے.

مشیت ، ارادہ اور اذن خدا کو بیان کرنے والی آیات وروایات جو دلالت کرتی ہیں کہ جو بھی فعل انسان انجام دیتا ہے اس کی اجازت اور ارادہ سے متحقق ہوتا ہے اور جس کا خدا نے ارادہ کیا ہے انسان اس کے علاوہ انجام نہیں دیتا ہے یہ مطلب بھی انسان کے اختیار سے سازگار ہے ، اس لئے کہ ان آیات وروایات میں مراد یہ نہیں ہے کہ انسان کا ارادہ خدا کے ارادہ کے مقابلہ میں اور خدا کے ارادہ اور اجازت کے سامنے قرار پاتا ہے یعنی ہمارے ارادہ کرنے اور اپنے کام کو انجام دینے کے بجائے خدا ارادہ کرے اور اسے انجام دے اور ہم نے کوئی ارادہ نہ کیا ہو یا فعل کے تحقق میں ہمارا ارادہ مؤثر نہ ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم اپنے کاموں کے انجام میں مستقل اور خداسے بے نیاز نہیں ہیں اور مزید یہ کہ کسی بھی فعل کے انجام دینے میں ہمارا قصد اورارادہ مؤثر ہے ، اور طول میں خدا کی اجازت ، قصد اور ارادہ موثر ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہمارے افعال ہمارے ہی اختیار سے انجام پائیں اس لئے کہ اگر وہ نہ چاہے تو ہم کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتے یا ہمارا ارادہ اثر انداز نہیں ہوتا ہے(۱)

____________________

(۱)مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو:محمد حسین طباطبائی ؛ المیزان فی تفسیر القرآن ؛ ج۱، ص۹۹، محمد تقی مصباح؛ معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) ص ۲۸۱،۲۸۲


خدا کے فعاّل ہونے کا راز

قرآن نے( تفویض ) نام کے غلط نظریہ کی نفی کے لئے خدا کے ارادے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے اس نظریہ والوں کا یقین یہ تھا کہ خدا نے دنیا کو خلق کیا اور اسکو اسی کے حال پر چھوڑ کر خود آرام کررہا ہے یادنیا خلق ہونے کے بعد اس کی قدرت اختیار سے خارج ہوگئی ہے اور اس میں خدا کا کوئی نقش و کردار نہیں ہے انسان کے سلسلہ میں یعنی خدا وند عالم فقط آغاز آفرینش میں اپناکردار ادا کرتا ہے اور جب انسان کی تخلیق ہوگئی تو پھر انسان پوری طرح خلاق و فعال ہے اور خدا وند عالم ( نَعُوذُ بِاللّہِ) بیکار ہے۔خدا یہ کہنا چاہتا ہے کہ: ایسا نہیں ہے بلکہ تم اپنے ارادہ سے جو یہ کام انجام دے رہے ہو یہ بھی میری خواہش سے ہے قرآن مجیدمیں فرماتا ہے:

( وَقَالَتِ الیَهُودُ یَدُ اﷲِ مَغلُولَة ) یہودی کہتے ہیں خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے خدا وند عالم فرماتا ہے ایسا نہیں ہے (بَل یَدَاہُ مَبسُوطَتَانِ)(۱) اﷲکے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں یعنی خدا پوری طرح سے اختیار رکھتا ہے اور فعاّل ہے آیات تاکید کرتی ہیں کہ یہ گمان نہ کرنا کہ اگر انسان اپنے اختیار سے فعل انجام دے رہا ہے تو خدا وند عالم بیکار ہے.

دنیا اور خدا کا رابطہ گھڑی اوراس شخص کے رابطہ کی طرح ہے جو گھڑی کو چابی دیتا ہے ایسا نہیں ہے کہ دنیا گھڑی کی طرح چابی دینے کے بعد خود حرکت کرے اور کسی چابی دینے والے کی محتاج نہ ہو بلکہ یہ خدا وند عالم ہے جو دنیا کو ہمیشہ چلانے والا ہے (کُلَّ یَومٍ ھُوَ فِی شَأنٍ)(۲) کہ وہ ہر وقت فعاّل ہے انسان بھی دنیا کے حوادث سے مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ مشمول تدبیر وتقدیر الہی ہے. حتی کہ انسان آخرت میں بھی مشیت وارادۂ خدا سے خارج نہیں ہے جیسا کہ سورہ ہود کی ۱۰۸ویں آیہ جو ظلم کرکے ظالمانہ طور پر جہنم میں اور خوش بختی کے ساتھ بہشت میں ورود کو بیان کرنے کے بعد دونوں گروہوں کے بارے میں فرماتی ہے :

( خَالِدِینَ فِیهَا مَا دَامَتِ السَّمَٰوَاتُ وَ الأرضُ ِلا مَاشَائَ رَبُّکَ )

جب تک آسمان و زمین ہے وہ ہمیشہ اسی (جنت یا جہنم )میں رہیں گے مگر جب تیرا پروردگار چاہے ۔

ان دو عبارتوں میں '' لوگ ہمیشہ ہونگے''اور''جب تک دنیا باقی ہے''پر توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ مراد یہ نہیں ہے کہ کسی وقت خداوند عالم خوشبختوں یا ظالموں کو بہشت اور جہنم سے نکالے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ کہیں یہ تصور نہ ہوکہ یہ موضوع قدرت خدا کے حدود سے خارج ہوگیا ہے خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے کیونکہ اگر ایسا ہی ہوگا توخدا وند عالم اپنی مخلوق کا محکوم واقع ہوجائے گا۔

____________________

(۱)سورہ مائدہ ۶۴۔

(۲)سورۂ رحمٰن ۲۹۔


تیسرے گروہ کی روایات کے سلسلہ میں یعنی وہ روایات جو فطرت انسان کو بیان کرتی ہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ روایات تقاضوں کو بیان کررہی ہیں علت تامہ کو بیان نہیں کررہی ہیں یعنی جو لوگ پیدا ہو چکے ہیں ان میں سے بعض کی فطرت گناہ اور ویرانی کی طرف رغبت کا تقاضا کرتی ہے اور بعض افراد کی فطرت اچھائی کی طرف رغبت رکھتی ہے جیسے وہ نوزاد جو زنا سے متولد ہواہو اس بچہ کے مقابلے میں جو صالح باپ سے متولد ہوا ہے گناہ کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے لیکن کسی میں بھی جبر نہیں ہے.

دوسرا جواب : یہ ہے کہ اچھے یا برے ہونے میں فطرت کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ خدا وند عالم پہلے سے جانتا ہے کہ کون اپنے اختیار سے صحیح راہ اور کون بری راہ انتخاب کرے گا اسی لئے پہلے گروہ کو اچھی طینت اور دوسرے کو بری طینت سے خلق کیا ہے۔

اس کی مثال ایک باغبان کی طرح ہے جو تمام پھولوں کو اسکی قیمت اور رشد وبالیدگی کے مطابق ایک مناسب گلدان میں قرار دیتا ہے .گلدان پھولوں کے اچھے یا برے ہونے میں تاثیر نہیں رکھتا ہے اسی طرح طینت بھی فقط ایک ظرف ہے جو اس روح کیمطابقہے جسے اپنے اختیار سے اچھا یا براہوناہے طینت وہ ظرف ہے جواپنے مظروف کے اچھے یابرے ہونے میں اثر انداز نہیں ہوتا دوسرا جواب بھی دیا جا سکتا ہے لیکن چونکہ اس کے لئے فلسفی مقدمات ضروری ہیں لہٰذا اس سے صرف نظر کیا جارہا ہے ۔(۱)

____________________

(۱)''ضمائم ''کی طرف رجوع کریں۔


ب) اجتماعی اور تاریخی جبر

اجتماعی اور تاریخی جبر کا عقیدہ بعض فلاسفہ اور جامعہ شناسی کے ان گروہ کے درمیان شہرت رکھتا ہے جو جامعہ اور تاریخ کی اصالت پرزور دیتے ہیں ان کے عقیدہ کے مطابق کسی فرد کی معاشرے اور تاریخ سے الگ کوئی حقیقت نہیں ہے .معاشرہ اور تاریخ ایک با عفت وجود کی طرح اپنے تمام افراد کی شخصیت کو مرتب کرتے ہیں لوگوں کا تمام فکری (احساس )اور افعالی شعور، تاریخ اور معاشرے کے تقاضہ کی بنیاد پر مرتب ہوتے ہیں اور انسان اپنی شخصیت کوبنانے میں ہر طرح کے انتخاب اور اختیار سے معذور ہے نمونہ کے طور پرہگل مارکس ، اور ڈورکھیم کے نظریوں کو ذکر کیا جا سکتا ہے ہگل جو تاریخ کے لئے ایک واقعی حقیقت کا قائل ہے معتقد تھا کہ تاریخ صرف تاریخی حوادث یاسادہ سلسلۂ عبرت کے لئے ہے کہ جس کی نظری اور فکری تجزیہ وتحلیل نہیں ہوتی ،اس کی نظر میں گوہر تاریخ ،عقل ہے(اس کا نظریہ اسی مفہوم کے اعتبار سے ہے) اور تاریخی ہر حادثہ اس کے مطابق انجام پاتا ہے، تاریخ ساز افراد ، مطلق تاریخ کی روح کے متحقق ہونے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور بغیر اس کے کہ خود آگاہ ہوں اس راہ میں قدم بڑھاتے ہیں۔(۱) مارکس کا نظریہ تھا کہ انسان کا ہر فرد تاریخ اور معاشرہ کا نتیجہ ہے. تمام انسانی افعال تہذیت و ثقافت ، مذہب،ہنر،اجتماعی افراد کے علاوہ تمام چیزیں معاشرہ پر پھیلے ہوے اقتصادی روابط پر مبنی ہیں.(۲) اس لئے انسان کے ہر فرد کی آمادگی کا تنہا حاکم اس کے معاشرے پرحاکم اقتصادی روابط کو سمجھنا چاہیئے اس لئے کہ اقتصادی روابط زمانہ کے دامن میں متحول ہوتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں معاشرہ متحول ہوتا ہے اور معاشرے کے معقول ہونے سے انسانوں کی شخصیت ،حقیقت ،تہذیب و ثقافت اور اس کے اعتبارات بھی متحول ہوجاتے ہیں. ڈورکھیم اس جبر کی روشنی میں ''نظریہ آئیڈیا'' کی طرف مائل ہوا ہے کہ انسان ایک فردی واجتماعی کردار رکھتا ہے اوراس کا اجتماعی نقش ارادوں ،خواہشوں ، احساسات اور تمام افراد کے عواطف کے ملنے اور ان کے ظاہر ہونے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی روح معاشرہ ہے۔

____________________

(۱) بعض فلاسفۂ تاریخ بھی معمولاًتاریخ کے لئے ایسے اعتبارات ، قوانین اور مراحل مانتے ہیں جو غیر قابل تغیر ہیں اور انسانوں کے ارادے ، خواہشات ،جستجو اور معاشرے انہیں شرائط و حدود میں مرتب ہوتے ہیں

(۲)البتہ مارکس کا ''اجتماعی جبر '' فیور بیچ اور ہگل کے تاریخی جبر کی آغوش سے وجود میں آیا ہے ۔


اور یہ روح اجتماعی بہت قوی ہے جو افراد کے وجودی ارکان پرمسلط ہے شخصی اور فردی ارادہ اس کے مقابلے میں استادگی کی توانائی نہیں رکھتا ہے. وہ افراد جو اس روح اجتماعی کے تقاضوں کے زیر اثر ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو چیز یں سماج ا ورمعاشرہ نے انسان کو دیا ہے اگر وہ اس کو واپس کردے تو حیوان سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔

اجتماعی اور تاریخی جبر کی تجزیہ وتحلیل

پہلی بات: سماج اور تاریخ کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے بلکہ یہ مرکب اعتباری ہیں جو افراد کے اجتماعی اور زمان ومکان کے دامن میں انکے روابط سے حاصل ہوتے ہیں اور وہ چیزیں جو وجود رکھتی ہیں وہ ہرفرد کے روابط اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں عمل و رد عمل کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

دوسری بات: ہم اجتماعی و تاریخی عوامل،اقتصادی روابط جیسے ، اعتبارات ، آداب و رسوم اور تمام اجتماعی و تاریخی عناصر کی قدرت کے منکر نہیں ہیں اور ہمیں افراد کی شخصیت سازی کی ترکیبات میں ان کے نقش و کردار سے غافل بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن اجتماعی اور تاریخی عوامل میں سے کوئی بھی انسان کے اختیار کو سلب کرنے والے نہیں ہیںاگر چہ معاشرہ زمان ومکان کی آغوش میں اپنے مخصوص تقاضے رکھتا ہے اور انسان سے مخصوص اعمال و رفتار کا خواہاں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس سے اختیار سلب ہوگیا ہے جبکہ انسان ان تمام عوامل کے مقابلہ میں مقاومت کرسکتا ہے حتی معاشرہ کی سر نوشت میں اثر انداز ہو سکتا ہے. جیسا کہ اس طرح کے اثرات کے نمونوں کو معاشروں کی تاریخ میں بہت زیادہ دریافت کیا جا سکتا ہے


ج)فطری جبر

فلسفۂ مادی اور مادہ پرستی کے ہمراہ ارثی صفات کے سلسلہ میں علمی ارتقاء انسان کی جبری زندگی کا عقیدہ پیش کرتاہے .جو لوگ انسان کے اندر معنوی جوہر کے وجود کے منکر ہیں اور اس کو صرف اپنی تمام ترقدرتوں سے مزین ایک پیکر اور جسم سے تعبیر کرتے ہیں .اور اس کی بہت سی توانائیاں انسانی خصوصیات کے ارثی و وراثتی عوامل کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں اور انسان کے تمام نفسیاتی و ذہنی حالات کی مادی توجیہ کرتے ہیں اور لذت ،شوق ،علم،احساس اور ارادہ کو مغز کے اندر سلسلۂ اعصاب اور الکٹرانک حرکتوں کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں لہٰذا طبیعی طور پر عقیدہ جبر کی طرف گامزن ہیں(۱) ایسی صورت میں انسان کو اخلاقاً اس کے اعمال کے مقابلے میں ذمہ دار نہیں سمجھا جاسکتا ہے .کیونکہ ایسی حالت میں جزا و سزا اپنے معنی و مفہوم کھو دیں گے اس لئے کہ ان سوالوں کے مقابلہ میں کہ کیوں فلاں شخص مرتکب جرم ہوا ہے ؟ تو جواب دینا چاہئے کہ اس کے ذہن میں مخصوص الکٹرانک اشیا کا تحقق اس کے تحریک کا باعث ہوا ہے اور یہ حادثہ وجود میں آیا ہے اور اگر سوال یہ ہو کہ کیوں یہ مخصوص اشیاء اس کے ذہن اور اعصاب میں حاصل ہوئیں؟ تو جواب یہ ہے کہ فلاں حادثہ بھی فلاں فطری اور الکٹرانک حوادث کی وجہ سے تھا اس تحلیل کی روشنی میں مغز کے مادی حوادث انسان کے خارجی افعال و حوادث کے اسباب ہیں مغز کے مادی حوادث میں سے کوئی بھی ارادی ، اختیاری افعال اور انسانوں میں تبدیلی وغیرہ اُن ارثی صفات اور فطری بناوٹ میں تبدیلی کی بنا پر ہے جن کا ان کی ترکیبات میں کوئی کردار نہیں ہے. یعنی لوگوں نے ترقی کرتے ہوئے کہا ہے کہ : بیرونی فطرت کے قوانین کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان سے مخصوص افعال سرزد ہوں اور یہ عوامل جدا ہونے والے نہیں ہیں وہ افعال جو انسان سے سرزد ہوتے ہیں نہ مخصوص نفسیاتی مقدمات (فہم وخواہشات ) ہیں جو فطری اور بیرونی طبیعی حوادث سے بے ربط نہیں ہیں مثال کے طور پر ہمارا دیکھنا ،اگر چہ یہ فعل ہے جو نفس انجام دیتا ہے. لیکن نفس کے اختیار میں نہیں ہے. عالم خارج میں فطری بصارت کی شرطوں کا متحقق ہونا موجب بصارت ہوتا ہے اور یہ بصارت ایک ایسا عنصر ہے جو ہمارے اختیاری فعل میں موثر ہے۔

____________________

(۱) ا سکینر ،کتاب ''فراسوی آزادی و منزلت''میں کہتا ہے کہ : جس طرح بے جان اشیاء کوجاندار سمجھنا ( بے جان چیزوں سے روح کو نسبت دینا ) غلط ہے اسی طرح لوگوں کو انسان سمجھنا اور ان کے بارے میں فکر کرنا اور صاحب ارادہ سمجھنا بھی غلط ہے،ملاحظہ ہو: اسٹیونسن، لسلی؛ ہفت نظریہ دربارۂ طبیعت انسان ؛ ص ۱۶۳۔


اس تاثیر کی دلیل یہ ہے کہ انسان جب تک کسی چیز کو نہیں دیکھے گا اس کی طرف احساس تمایل بھی نہیں کرے گا لیکن جب اس کو دیکھتا ہے تو اس کا ارادہ مورد نظر فعل کے انجام سے مربوط ہوجاتا ہے۔(۱) دیکھنا ،ایک غیر اختیاری شیٔ ہے اور طبیعی قوانین کے تابع ہے. پس جو بھی چیز اس پر مرتب ہوگی اسی قوانین کیتابع ہوگی۔

انسان بھی اگر چہ خواہشات سے وجود میں آتا ہے جو ہمارے اندر موجود ہے لیکن فطرت سے بے ربط نہیں ہے. نفسیاتی علوم کے ماہرین نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ عوامل طبیعی خصوصاً انسان میں خواہشات کے بر انگیختہ کرنے کا موجب ہوتا ہے ہم لوگوںنے بھی تھوڑا بہت آزمایا ہے اور معروف بھی ہے کہ زعفران خوشی دلاتا ہے اور مسور کی دال قلب میں نرمی پیدا کرتی ہے قانون وراثت کی بنیاد پر انسان اپنے اباء و اجداد کی بہت سی خصوصیات کا وارث ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے.

یہ تمام چیزیں طبیعی وفطری عوامل کے مطابق انسان کے مجبور ہونے کی دلیل ہے اور ان کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا ارادہ ،فطری اور طبیعی عوامل کے ذریعہ حاصل ہوتاہے گر چہ ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ

____________________

(۱) بابا طاہر کہتے ہیں :

ز دست دیدہ و دل ہر دو فریاد

کہ ہرچہ دیدہ بیند دل کند یاد

بسازم خنجری نیشش ز پولاد

زنم بر دیدہ ، تا دل گردد آزاد

میں چشم و دل ، دونوں سے رنجیدہ ہوں کہ جو کچھ آنکھ دیکھتی ہے اسے دل محفوظ کرلیتا ہے ۔میں ایسا خنجر بنانا چاہتا ہوں جس کی نوک فولاد کی ہواور اسی سے آنکھ پھوڑ دوں گا تاکہ دل آزاد ہوجائے ۔


اور اس کا عکس بھی صادق ہے کہ کہا گیا ہے :

از دل برود ، ہر آن کہ از دیدہ برفت

جو کچھ آنکھ سے پوشدہ ہو جاتا ہے دل سے بھی رخصت ہو جاتا ہے ۔

بغیر کسی مقدمہ کے ارادہ کیا ہے۔(۱)

____________________

(۱)قابل ذکربات یہ ہے کہ حیاتی اور مادی جبر میں انسان کے معنوی جوہر اور روحانی حالات کی نفی پر تاکید ہوئی ہے اور انسان کو ہمیشہ ایک مادی مخلوق سمجھا جاتا ہے لیکن فطری شبہہ کا جبر میں کوئی اصرار پایا نہیں جاتا ہے بلکہ فطری اسباب و علل اور ان پر حاکم قوانین کے مقابلہ میں فقط انسان کے تسلیم ہونے کی تاکید ہوئی ہے یعنی اگر انسان میں روح اور حالات نفسانی ہیں تو یہ حالات فطری علتوں کی بنیاد پر مرتب ہوتے ہیں اور اس میں انسان کے ارادہ و اختیار کا کوئی دخل نہیں ہے


فطری جبرکی تجزیہ و تحلیل

اس طرح کے جبر کا عقیدہ انسان کے کردار وشخصیت سازی اور طبیعی ،فکری اورموروثی عوامل کے کردار میں افراط ومبالغہ سے کام لیناہے انسانوں کی متفاوت ومتفرق زندگی اور وراثت کے عنصر کا کسی طرح سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن انسان کے کردار وشخصیت سازی کے سلسلہ میں تمام موثرعوامل سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف ارثی علت میں منحصر کرناکسی طرح صحیح نہیں ہے. انسان کو اس زاویہ سے نگاہ کرنے میں بنیادی اشکال اس کے معنوی اور روحانی جہت سے چشم پوشی کرناہے. جبکہ گذشتہ فصلوں میں قرآنی آیات اور فلسفی براہیں سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے انسانوں کے فہم واحساسات کے مرکز ، معنوی اور غیر مادی جوہر کے وجود کو ثابت کیا ہے. نفس مجرد کے وجود کو ثابت کرنے کے بعد اس قسم کے جبر پر اعتقاد کے لئے کوئی مقام نہیں ہے اس لئے کہ ارادہ کا آزاد ہونا انسان کے روح مجرد کی قابلیتوں میں سے ایک ہے اور انسان کے آزاد ارادے کو مورد نظر قرار دیتے ہوئے ،اگر چہ مادی ترکیبات کے فعل و انفعالات اور فطری عوامل کا کردار قابل قبول ہے لیکن ہم اس نکتہ کی تاکید کررہے ہیں کہ ان امور کا فعال ہونا اختیار انسان کے سلب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے.مادی ترکیبات کے فعل وانفعالات کے حصول اور بعض خواہشات کے بر انگیختہ ہونے میں خارجی عوامل اور ان کی تاثیروں کے باوجود کیا ہم ان عوامل کے مقابلہ میں مقاومت کرسکتے ہیں ؟اس سلسلہ میں اپنی اور دوسروں کی روز مرہ زندگی میں بہت زیادہ نمونوں سے روبرو ہوتے رہے ہیں۔

قانون وراثت کا بھی یہ تقاضا نہیں ہے کہ جو فرزند اپنے آباء واجداد سے بعض خصوصیات کا وارث ہواہے وہ کسی بھی انتخاب کی قدرت نہیں رکھتا ہے. اگرمذکورہ امور کو بعض انسانی اعمال کا نتیجہ فرض کرلیا جائے تو یہ جزء العلة ہوں گے لیکن آخر کار ، انسان بھی اختیار استعمال کرسکتا ہے اور تمام ان عوامل کے تقاضوں کے بر خلاف دوسرے طریقہ کار کے انتخاب کی بنا پر انسان کے بارے میں مادی فعل وانفعال اور وراثت کی صحیح پیش بینی ،فطری عوامل کے اعتبار سے نہیں کی جا سکتی ہے۔


خلاصہ فصل

۱۔ گذشتہ فصل میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کرامت اکتسابی ، انسان کے اختیار و ارادہ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہے. ہم اس فصل میں مسئلہ اختیار اور اس کے حدود کے اعتبار سے تجزیہ و تحلیل کریںگے ۔۲۔ انسان ایسی مخلوق ہے جو آزمائش ،انتخاب اور قصد وارادے سے اپنے افعال کو انجام دیتا ہے عقلی ونقلی دلیلیں انسان کے اندرپائے جانے والے عنصر (اختیار) کی تائید کرتی ہیں. لیکن اس کے باوجودکچھ شبہات بیان کئے گئے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے.۳۔مسلمانوں کے درمیان ایک گروہ (مجبرہ)ہے جو بعض آیات وروایات سے استفادہ کرتے ہوئے انسان کو ارادۂ الہی کے زیر اثر، فاقداختیار سمجھتا ہے۔ وہ آیات وروایات جو خدا کے علم مطلق اور وہ آیات وروایات جو یہ بیان کرتی ہیں کہ کوئی بھی چیز خدا کے اذن وارادے سے خارج نہیں ہے اور وہ دلیلیں جو بیان کرتی ہیں کہ انسانوں کا مقدر پہلے سے ہی آراستہ ہے. اس گروہ (مجبرہ) نے ایسی ہی دلیلوں سے استناد کیا ہے۔۴۔ اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ تمام مورد نظر دلیلیں عقیدہ ٔ تفویض کی نفی کررہی ہیں اور اس نکتہ کو ثابت کررہی ہیں کہ خداوندعالم ابتداء خلقت سے تاابددنیاکاعالم و نگراں نیزمحافظ ہونے کے باوجود انسان سے اختیار سلب نہیں کرتا ہے اور یہ کہ تمام چیزیں اس کے قضاء وقدر سے مربوط ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ ہر واقعہ کے متحقق ہونے کے لئے کافی ووافی شرائط کا ہونا ضروری ہے منجملہ شرائط ، انتخاب کے بعد قصد کا ہونا ہے اور یہ کہ تمام اشیاء خداوند عالم کے ارادے اور اذن کے حدود میں ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اﷲکاارادہ انسان کے ارادے کے مقابلہ میں ہے.بلکہ ہمارا ارادہ بھی ارادۂ پروردگار کے ہمراہ اور طول میں موثر ہے۔۵۔ دوسرا شبہ اجتماعی وتاریخی جبر کے نام سے معروف ہے اور کہا جاتا ہے کہ انسان قدرت مقاومت نہ رکھنے کے باوجود تاریخی واجتماعی عوامل اور تقاضوں سے متاثر ہے''. ہگل ،ڈورکھیم اور مارکس'' فرد واجتماع کے درمیان رابطہ کے سلسلہ میں ایسا ہی نظریہ رکھتے تھے.علم جنٹک کی پیشرفت کے ساتھ یہ شبہ ایجاد ہوتا ہے کہ انسان کا انتخاب در اصل دماغ کے شیمیائی فعل و انفعالات کا نتیجہ ہے اور انسان کا ایک دوسرے سے متفاوت ہونا اس کے جسمی اور موروثی تفاوت کی وجہ سے ہے ، لہٰذا انسان اپنی جسمی اور طبیعی خصلتوں سے مغلوب و مقہور ہے ۔

۶۔ ان دو شبہوں کے جواب میں مذکورہ عوامل کے وجود کا منکر نہیں ہونا چاہے حقیقت یہ ہے کہ انسان کی شخصیت کی تکمیل میں سیاسی ،اقتصادی اور اجتماعی روابط بھی بہت زیادہ اثر انداز ہیں اور انسانوں کی زندگی کے تفاوت میں عنصر وراثت بھی دخیل ہے. لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس نظریہ کے ماننے والوں نے ان عوامل کی تاثیر کے مقدار میں مبالغہ کیا ہے اور درونی و معنوی عوامل کی تاثیر کو بھول بیٹھے ہیں. انسان کا نفس ایک غیر مادی عنصر ہے اورارادہ اس کی قوتوں میں سے ہے جو مادی اور ضمنی محدودیتوں کے باوجود بھی اسی طرح فعالیت اور مقاومت انجام دے رہا ہے.


تمرین

۱۔انسان کے فردی اور اجتماعی حالات وکردار کے چند نمونے جو اس کے مختار ہونے کی علامت ہیں ذکر کریں؟

۲۔مفہوم اختیار کے استعمال کے چار موارد کی وضاحت کریں؟

۳۔(امر بین الامرین) سے مراد کیا ہے جو اہل بیت علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں کے نظریہ کو بیان کرتا ہے؟

۴۔بعض لوگوں نے خدا وند عالم کے علم غیب سے متعلق شبۂ جبر کے جواب میں کہا ہے کہ: جس طرح بہت ہی صمیمی اور گہرے دوست کی اپنے دوست کے آئندہ کاموں کے سلسلہ میں پیشن گوئی اس کے دوست کے مجبور ہونے کا سبب نہیں بنتے اسی طرح خداوند عالم کا علم غیب بھی انسان کے مجبور ہونے کا سبب نہیں ہوتا ہے. آپ کی نظر میں کیا یہ جواب متقن اور قانع کرنے والا ہے؟

۵۔ کیا انسان کے افعال میں خدا کو فعّال سمجھنا اس بات کا مستلزم نہیں ہے کہ ہم انسان کے برے کاموں، تمام گناہوں اور ظلم کو اﷲکی طرف نسبت دیں؟اور کیوں؟

۶۔ کیا آیة شریفہ (ومارمیت ذ رمیت ولکن اﷲ رمی) عقیدۂ جبر کی تائید نہیں کررہی ہے؟ اور کیوں؟

۷۔انسان کا مختار ہونا ،انسانی حوادث کے قانون مند ہونے سے کس طرح سازگار ہے؟

۸۔ وہ اختیار جو حقوقی اور فقہی مباحث میں تکلیف ، ثواب اور عقاب کے شرائط میں سے ہے اور وہ اختیار جو کلامی وفلسفی اور انسان شناسی کے مباحث میں مورد نظر ہے ان دونوں کے درمیان کیا نسبت ہے؟

۹۔ اختیاری کاموں کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل توضیحات میں سے کون سی توضیح صحیح ہے؟

اختیاری فعل وہ فعل ہے جو انسان کے قصد کے تحت ہو۔اور

(الف) اچانک ظاہرہوتا ہے اور انجام پاتاہے۔

(ب) صاحب علت ہے اور انجام پاتا ہے۔


مزید مطالعہ کے لئے :

۱.جبرو تفویض اور اس کے غلط ہونے کے بارے میں ملاحظہ ہو :

۔حسن زادہ آملی ، حسن (۱۳۶۶)خیر الاثر در رد جبر و قدر : قم : انتشارات قبلہ ۔

۔سبحانی ، جعفر( ۱۴۱۱)الٰہیات علی ھدی الکتاب و السنة و العقل ج۲، قم : المرکز العالمی للدراسات الاسلامیہ ۔

۔کاکایی ، قاسم (۱۳۷۴)خدامحوری ( اکازیونالیزم ) در تفکر اسلامی و فلسفہ مالبرانچ، تہران : حکمت ۔

۔مجلسی ، محمد باقر ( ۱۳۶۸) جبر و تفویض ، تحقیق مہدی رجائی ؛ مشہد : بنیاد پژوہش ھای اسلامی ۔

۔مرعشی شوشتری ، محمد حسن ( ۱۳۷۲) ''جبر و اختیار و امر بین الامرین ''مجلہ رہنمون ، ش۶۔

۔ملا صدرا شیرازی ، صدر الدین ( ۱۳۴۰) '' رسالہ جبر و اختیار ، خلق الاعمال ، اصفہان : بی نا۔

۔موسوی خمینی ، روح اللہ ( امام خمینی ) (۱۳۶۲)طلب و ارادہ ، ترجمہ و شرح سید احمد فہری ، تہران : مرکز انتشارات علمی و فرہنگی ۔

۲. جبر کے شبہات اور اس کی تحقیقات کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو :

۔جعفر ،محمد تقی ؛ جبر و اختیار ، قم : انتشارات دار التبلیغ اسلامی ۔

۔ جعفر سبحانی( ۱۳۵۲) سرنوشت از دیدگاہ علم و فلسفہ، تہران : غدیر۔

۔سعید مہر ، محمد (۱۳۷۵)علم پیشین الٰہی و اختیار انسان ، تہران : پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی ۔

۔صدر ، محمد باقر ( ۱۳۵۹) انسان مسؤول و تاریخ ساز ، ترجمہ محمد مہدی فولادوند، تہران : بیناد قرآن ۔

۔محمد حسین طباطبائی ( ۱۳۶۱) نہایة الحکمة ، تعلیق : محمد تقی مصباح یزدی ، ج۲ ، ص ۳۴۶، تہران : انتشارات ، الزہرائ۔

۔طوسی ، نصیر الدین ( ۱۳۳۰) جبر و قدر ، تہران : دانشگاہ تہران۔

۔محمد تقی مصباح؛ آموزش فلسفہ ، تہران : سازمان تبلیغات اسلامی ۔

۔محمد تقی مصباح (۱۳۷۶)معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی و انسان شناسی ) قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۔مطہری ، مرتضی ( ۱۳۴۵)انسان و سرنوشت ، تہران : شرکت سہامی انتشار۔

۔مجموعہ آثار ، ج۱ ، تہران : صدرا ۔

۔ احمدواعظی ( ۱۳۷۵)انسان از دیدگاہ اسلام ، قم : دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ۔


ملحقات

۱۔ مغربی انسان شناسی کے منکرین اور مسئلہ اختیار

ناٹالی ٹربوویک نے انسان کے اختیار یا جبر کے باب میں مغربی منکرین کے نظریوں کو دوسوالوں کے ضمن میں یوں بیان کیا ہے:

الف)کیا انسان کے اعمال وکردار، اس کے آزاد ارادے کا نتیجہ ہیں یا تقریباً بہ طور کامل ماحول ، وراثت ، طفلی کے ابتدائی دور یا خدا کی طرف سے تعیین ہوتا ہے؟مختلف فکری مکاتب کے ابتدائی نظریوں کو عقیدۂ جبر کے کامل جنون سے لے کر اس کے کامل ضدیت کو مندرجہ ذیل انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے:

عقیدہ تجربہ (ہابز) عقیدۂ جبرتام(۱) عقیدہ ہمبستگی(۲) (ہار ٹلی(۳) ہیوم) آزاد ارادہ کا نسبی یا کامل طور پر انکار عقیدہ نفع (بنٹام ،میل)

فرایڈ کے ماننے والے عقیدہ کردار (واٹسن،ا سکینر) فرایڈکے نئے ماننے والے (فروم،اریکسن) عقیدۂ جبر معتدل انسان محوری(مازلو،روجرز) معمولی آزادیۂ ارادہ عقیدہ خرد (وکارسٹ) وجود پسند، انسان محوری(۴) (می(۵) ،فرینکل(۶) ) خدا کو قبول کرنے والوں کا عقیدہ وجود(۷)

____________________

(۱) Total determinism

(۲) associationists

(۳) Hartley

(۴) existential humanists

(۵) May

(۶) Farnkl

(۷) theistic Existentialists


عقیدہ ٔجبر یا ضدیت (ببر(۱) ،ٹلیچ(۲) ، فورنیر(۳) )تمام ارادہ کی آزادی عقیدہ عروج وبلندی(۴) (کانٹ)عقیدہ وجود (سارٹر)

(ب)عقیدۂ جبر کے اصول کیا ہیں؟

فطری خواہشات

فرایڈ کے ماننے والے : انسان اپنی معرفت زندگی (جنسیت ،بھوک، دور کرنا(۵) اور ان کے مثل چیزوں) اور فطری خواہشات کے زیر نظرہے انسان کے تمام رفتار وکردار صرف ان سازشوں کا نتیجہ ہیںجو فطری ضرورتوں اور مختلف اجتماعی تقاضوں کے درمیان حاصل ہوتی ہیں.فطری خواہشیں غالباً بے خبرضمیر میں موثر ہیں.اس طرح کہ انسان نہ صرف ان کے زیر اثر قرار پاتا ہے بلکہ اکثر خود بھی اس کنٹرول سے بے خبر ہے. آرتھونلک کے اعصابی اطباء : (نیوبلڈ) اس گروہ کا نظریہ ،عقیدۂ اخلاق کے نظریہ کی طرح ہے انسان محوری (روجرز، مازلو)انسان مادر زاد خواہشات کا حامل ہے جو اسے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے لئے پیش کرتا ہے۔

موروثی وجود

وراثت سے استفادہ کا مکتب :(۶) (جنسن(۷) ،شاکلے(۸) ہرنشٹائن(۹) )اکثر انسان

____________________

(۱) Buber

(۲) Tillich

(۳) Fournier

(۴) transcendentalists

(۵) Elimination

(۶) Inherited L.O.School

(۷) Jensen

(۸) Shockley

(۹) Hernstien


کا شعورمیراثی ہوتا ہے عقل وخرد سے مربوط تمام رفتار وکردار، ایسے حصہ میں قرار پاتے ہیںجو مخصوص طریقے سے وارث کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں۔(۱) نظریۂ علم حیات کے مطابق اکثر انسان کے رفتار و کردار اوراس کی افسردگی ،بیرونی درونی ارثی توجہ کا نتیجہ ہیں۔

ماحول کی توانائیاں

افعال گرائی کے نظریہ کے حامی :( واٹسن) کے مطابق انسان کے رفتار و کردار کو ماحول ہی معین کرتا ہے۔

اصول پسندی کے حامی :(ا سکینر) کا کہنا ہے اسباب ماحول ،رفتار وکردار کے مہم ترین معین کرنے والوں میں سے ہیں.اگر چہ فطری عوامل بھی موثر ہیں۔

اجتماعی محافظت کا نظریہ پیش کرنے والے :(بانڈرا،برکوٹز(۲) )اکثررفتار وکردار ، مخصوصاً اجتماعی رفتار وکردار، ماحول کی دینہے نہ کہ فطری خواہشات کا میلان۔

فرایڈ کے نئے ماننے والے : (فردم،اریکسن)کا کہنا ہے فرہنگی اور اجتماعی ماحول ،انسان کے رفتار وکردار کو ترتیب دینے والی بہت ہی مہم قوت ہے. علم حیات کی فطری خواہشات کم اہمیت کی حامل ہے ۔

کارل مارکس کے عقیدہ کے حامی کہتے ہیں : اسباب صنعت یا اقتصادی نظام انسان کے اعتباری چیزوں اور یقینیات کو ترتیب دینے میں اہم کردارادا کرتے ہیں اور اس کے رفتار وکردار کے ایک عظیم حصہ کو بھی معین کرتے ہیں۔

انسان محوری کے دعویدار :(روجرز،مازلو) کے مطابق رفتار وکردار کو اجتماعی عوامل اور معین ماحول ترتیب دے سکتا ہے ۔

____________________

(۱) Eysenck

(۲) Berkowitz


اگر معنوی احترام اور جسمانی آسودگی کی ابتدائی ضرورت حاصل نہ ہوں تو ماحول ومحیط کے اسباب انسان کو منحرف کرسکتے ہیں اورتکامل و ارتقاء کی راہ میں مانع ہوسکتے ہیں لیکن اگر یہ ابتدائی ضرورت حاصل ہو تو انسان ترقی کرسکتا ہے اور اپنے ہی طرح(۱) دوسرے اہداف کو متحقق کرسکتا ہے جو بیرونی ماحول کے زیر اثر نہیں ہیں.

معنوی قوتیں(۲)

اکثرمفکرین ایسی طاقتوں سے چشم پوشی کرلیتے ہیں جوکسی اندازے یا وضاحت سے روشن نہیں ہوتی ہیں ۔لیکن اکثر بزرگ علماء انسان کے رفتار وکردار میں خدا یا خداؤںکی دخالت کے معتقد ہیں،پوری تاریخ میں حتیٰ گذشتہ چند سالوں میں بھی اکثر معاشروں نے مادیات کے مقابلہ میں معنویات کی زیادہ تاکید کی ہے.

۲۔ خداوند عالم کی عالم گیر خالقیت اور مسئلہ اختیار

خداوند عالم کی عالم گیر خالقیت جو کہ انسان کے اختیاری اعمال میں بھی شامل ہے اور قرآن کی آیات میں بھی اسکی وضاحت ہوئی ہے جیسے (قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَی ٍٔ)(۳) (وَ اﷲُخَلَقَکُم ومَا تَعمَلُونَ)(۴) یہ آیات عقیدۂ جبر رکھنے والوں کے لئے ایک دلیل وسند بھی ہوسکتی ہے.لیکن قرآن مجید کی دوسری آیات میں غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بھی اس کی فعالیت کی نفی نہیں کررہی ہیں بلکہ حقیقی توحید اور انسان کے اختیار ی کاموں میں خدا وند عالم کے مقابلہ میں انسان کی فعالیت کے برابر نہ ہونے کو بیان کررہی ہیں.اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب کسی فعل کو دو یا چند فاعل کی طرف نسبت دی جاتی ہے تو مذکورہ فعل کا متعدد فاعل سے انجام پانا مندرجہ ذیل چار صورتوں میں سے ایک ہی صورت میں ہوگا۔

____________________

(۱) self-actualization

(۲) spiritual forces

(۳)رعد ۱۶

(۴)صافات ۹۶۔


الف)ایک حقیقی فاعل ہے اور دوسرا مجازی فاعل شمار ہوتا ہے اور فعل کے انجام دینے میں کوئی کردار نہیں رکھتا ہے۔

ب) ایک فاعل حقیقی ہے اور دوسرا اس کا مددگار ہے

ج) متعدد فاعل نے ایک دوسرے کی مدد سے کام کو انجام دیا ہے اور کام کا بعض حصہ ہر ایک سے منسوب ہے.

د) دو یا چند فاعل فعل کو انجام دینے میں حقیقی کردار ادا کرتے ہیںاور یہ فعل ان میں سے ہر ایک کا نتیجہ ہے. لیکن ہر ایک کی علت فاعلی دوسرے سے بالا تر اور طول میں واقع ہے.

قرآن مجید کی آیات فقط چوتھی صورت سے مطابقت رکھتی ہے اور خدا وند عالم کی فاعلیت کو انسان کی فاعلیت کے طول میں بیان کرتی ہیں لہذا انسان کا اختیاری فعل درحقیقت فعل خدا بھی ہے اور فعل انسان بھی، مخلوق خدا بھی ہے اور مخلوق انسان بھی اس لئے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے طول میں واقع ہیں اور فعل کو ان دونوں کی طرف نسبت دینے میں بھی کوئی عقلی مشکل نہیں ہے.(۱)

____________________

(۱)اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے رجوع کریں : جوادی آملی، عبد اللہ ؛ تفسیر موضوعی قرآن کریم ، توحید و شرک ، مصباح یزدی ، محمد تقی ؛ معارف قرآن ( خداشناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) ص ۱۰۶، ۱۲۴۔


۳۔ طینت کی روایات کا دوسرا جواب

ایک فلسفی مقدمہ قرآن میں موجود ہے جس کے بہت ہی دقیق ہونے کی وجہ سے ہم آسان لفظوں میں اشارہ کرتے ہوئے اس مقدمہ کو پیش کریںگے۔البتہ یہ مقدمہ بہترین جواب اور روایات طینت کے لئے بہترین توجیہ ہے :

عالم مادی کے علاوہ عالم برزخ ،عالم قیامت اور عالم آخرت جیسے دوسرے جہان بھی ہیں اور روایات ،مذکورہ عالم میں سے عالم آخرت کو بیان کررہی ہے. عالم آخرت میں زمان ومکان وجود نہیں رکھتا ہے جو کچھ اس دنیا میں زمان ومکان کے دامن میں واقع ہوتا ہے اس عالم میں اکٹھا اور بسیط انداز میں ذخیرہ ہوتا رہتا ہے اس دنیا کے ماضی ،حال اور آئندہ، اس دنیا میں یکجا ہوںگے .پوری یہ دنیا جس میں ایک طولانی زمان ومکان موجزن ہے ، اس دنیا میں صرف ایک وجود کی طرح بسیط اور بغیر اجزا کے ہوںگے .لہذا وہ چیزیں جو اس دنیا میں موجود ہیں وہاں بھی ہیں.(۱) روایات طینت اُس دنیا اور اس نکتہ کو بیان کرنا چاہتی ہیں کہ یہ انسان جو پوری زندگی بھرترقی کرتا ہے اور بعد میں اپنے اختیار سے ایسے اعمال انجام دیتا ہے جس کی وجہ سے اچھا یا برا ہوجاتا ہے.یہ تمام چیزیںاس دنیا میں یکجا موجود ہیں اور انسان کا اچھا یا برا ہونا اس کے دنیا میں آنے سے پہلے اس عالم میں معلوم ہے.اس لئے کہ اس دنیا کے یا اسی کے تمام مراحل وہاں موجود ہیں آیا اب یہ گفتگو یعنی اس دنیا میں اچھا یا برا معلوم ہونے کا معنی جبر ہے؟ نہیں، اگر لوگ اس دنیا میں بااختیار عمل انجام دیتے ہیں تو اس دنیا میں بھی اسی طرح یکجا ہوںگے اور اگر مجبور ہیں تووہاں بھی یکجا جبر ہی ہوگا قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید انسان کو اس دنیا میں مختار بتارہاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا یکجا اور بسیط وجود بھی مختار ہے ایسے عالم کا ہونا ،اس میں انسان کا حاضر ہونا اور وہاں اچھاا ور برا معلوم ہونا انسان کے مختار ہونے سے منافات نہیں رکھتا ہے. پس روایات طینت ،انسان کے مجبور ہونے کا سبب نہیں ہیں۔

۴۔ فلسفی جبر

بعض فلسفی قواعد بھی انسان کے اختیاری افعال میں جبر کے توہم کا سبب بنے ہیں اسی بنا پر بعض لوگوں نے ان قواعد کو غلط یا قابل استثناء کہا ہے اور بعض لوگوں نے انسان کے اختیاری افعال کو جبری قرار دیا ہے .منجملہ قاعدہ (الشَیٔ مَالم یجِب لم یُوجد) ہے (ہر وہ چیز جب تک سرحد ضرورت ووجوب تک نہ پہونچے وجود میں نہیں آئے گی ) جبر ایجاد کرنے میں اس قاعدہ کو یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ قاعدہ انسان کے اختیاری افعال کو بھی شامل ہے اختیاری افعال بھی جب تک سر حد ضرورت ووجوب تک نہ پہونچیں متحقق نہیں ہوںگے چونکہ ایساہی ہے لہٰذا ہر اختیاری فعل جب تک سرحد

____________________

(۱) اس عالم میں ''ابھی ''کی تعبیر مجبوری کی وجہ سے ہے ورنہ اس دنیا میں حال ، گذشتہ اور آئندہ نہیں ہے ۔


وجوب تک نہیں پہونچا ہے محقق نہیں ہوگا اور جب سر حد ضرورت ووجوب تک پہونچ جائے گا تو انسان چاہے یا نہ چاہے قطعاً وہ فعل محقق ہوگا .اسی لئے انسان محکوم ومجبور ہے اور اس کے ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔

اس شبہہ کے جواب میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ قاعدہ عقلی اور کلی ہے اور قابل استثناء نہیں ہے اور یہ بات اپنی جگہ ثابت اور مسلم ہے لیکن اس قاعدہ سے جبر کا استخراج اس سے غلط استفادہ کرنے کا نتیجہ ہے. اس لئے کہ یہ قاعدہ یہ نہیں بتاتا ہے کہ انسان کے اختیاری افعال کن شرائط میں مرحلہ وجوب وضرورت تک پہونچتے ہیں بلکہ صرف مرحلہ ضرورت ووجوب تک پہونچنے کی صورت میں اختیاری فعل کے حتمی متحقق ہو نے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور اختیاری افعال میں یہ وجوب وضرورت ارادہ کے تحقق ہونے سے وابستہ ہے اور جب تک ارادہ متحقق نہ ہووہ مرحلہ ضرورت ووجوب تک نہیں پہونچے گا لہذا اگر چہ اس قاعدہ کے مطابق جس وقت اختیاری فعل مرحلہ ضرورت تک پہونچے گا تحقق حتمی ہے لیکن اسکا مرحلہ ضرورت تک پہونچنا ارادہ کے تحقق سے وابستہ ہے اور ایسی صورت میں یہ قاعدہ نہ صرف انسان کے اختیار سے کوئی منافات نہیں رکھتا ہے بلکہ اس کے معنی انسان کا حقیقی مختار ہونا ہے۔

دوسرا قاعدہ جو جبر کے توہم کاباعث ہوا ہے وہ قاعدہ (ارادہ کا بے ارادہ ہونا )ہے. اس شبہہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر اختیاری فعل ارادہ سے پہلے ہونا چاہیئے اور خود ارادہ بھی انسان کے درونی اختیاری افعال میں سے ہے لہٰذا اسکے اختیاری ہونے کے لئے دوسرے ارادہ کا اس کے پہلے ہونا ضروری ہے اورپھر تیسرے ارادہ کا بھی دوسرے ارادہ سے پہلے ہونا ضروری ہوگا ، اور یہ سلسلہ لا محدود ہونے کی وجہ سے متوقف ہوجاتا ہے جس کا یہ معنی ہے کہ وہ ارادہ اب اختیاری نہیں رہا بلکہ جبر ہوگیا ہے اور جب وہ ارادہ جبری ہوگیا تو اختیاری فعل بھی جو اس سے وابستہ ہے جبری ہو جائے گا۔

اس کا جواب جو کم از کم فارابی کے زمانے سے رائج ہے متعدد ومتنوع جوابات سے مزین ہیں جن میں سے سب سے واضح جواب ذکرکیا جا رہا ہے ۔

اختیاری فعل کا معیار یہ نہیں ہے کہ ارادہ سے پہلے ہو،تا کہ اختیاری فعل کے لئے کوئی ارادہ نہ ہو ، بلکہ اختیاری فعل کا معیار یہ ہے کہ ایسے فاعل سے صادر ہو جو اپنے کام کو رضایت اور رغبت سے انجام دیتا ہے.ایسا نہ ہوکہ ایک دوسرا عامل اس کو اس کی رغبت کے خلاف مجبور کرے.انسان کے تمام اختیاری افعال منجملہ انسان کا ارادہ اسی طرح ہے اور ہمیشہ انسان کی خواہش سے انجام پاتا ہے اور انسان ان کے انجام دینے میں کسی جبر کا شکار نہیں ہے ۔


تیسرا قاعدہ جو فلسفی جبر کے توہم کا موجب ہواہے وہ قاعدہ (ایک معلول کے لئے دو علت کا محال ہونا )(استحالةُ تواردِ العلّتین علیٰ معلولٍ واحدٍ ) ہے ، اس شبہہ میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کی تمام مخلوقات منجملہ انسان کے اختیاری افعال خداوند عالم کی مخلوق اور معلول ہیں اور یہ موضوع متعدد عقلی ونقلی دلیلوںپر مبنی ہے جسے ہم مناسب مقام پر بیان کریں گے اس وقت اگر انسان کے اختیاری افعال کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حوادث انسان کے اختیاروارادہ سے وابستہ ہیں تو اس کا معنی یہ ہیں کہ انسان بھی ان حوادث کے رونما ہونے کی علت ہے اور اس کا لازمہ ،ایک معلوم کے لئے (انسان کا اختیاری فعل ) دو علت (خدا وانسان )کا وجود ہے اور اس کو فلسفہ میں محال مانا گیا ہے کہ ایک معلوم کے لئے دوعلتوں کا ایک دوسرے کے مقابلہ میں اورہم رتبہ ہونالازم آتاہے ،لیکن طول میں دو علتوں کا وجود اس طرح کہ ایک دوسرے سے بالا تر ہوں یہ فلسفی اعتبار سے نہ فقط محال نہیں ہے بلکہ فلسفی مباحث کے مطابق دنیا کی خلقت اسی اصول پر استوار ہے اور انسان کے اختیاری افعال کے سلسلہ میں صورت یوں ہے کہ انسان کے اختیاری افعال سے منسوب خدا وند عالم کی علت اور اس کی فاعلیت بالاتر ہے اور انسان اور اس کا اختیار ارادۂ خدا کے طول میں واقع ہے اسی بنا پر خداوند عالم کی علیت ،انسان اوراس کے اختیار کی علیت بھی قابل قبول ہے اوریوں کسی طرح کا کوئی جبر لازم نہیں آتا ہے۔(۱)

____________________

(۱)اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: سبحانی ؛ الالٰہیات علی ھدی الکتاب و السنة و العقل ج۲ ص ۲۰۳، ۲۰۴؛ محمد تقی مصباح ؛ معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) ص ۳۷۸، ۳۸۹۔


آٹھویں فصل

مقدمات اختیار

اس فصل کے مطالعہ سے اپنی معلومات کو آزمائیں :

۱۔ان عناصر کا نام بتائیں جن کا انسان ہر اختیاری عمل کے تحقق میں محتاج ہے؟

۲۔ انسان کے اختیاری اعمال میں تیں عناصر میں سے ہر ایک کی وضاحت کریں؟

۳۔معرفت انسان کے اسباب کو آیات قرآنی سے استدلال کرتے ہوئے بیان کریں ؟

۴۔ درونی کشش(خواہشات)کی تقسیم کرتے ہوئے ہر ایک کے بارے میں مختصر سی وضاحت کریں؟

۵۔ انتخاب اعمال کے معیار کی وضاحت کریں؟

۶۔ عالم آخرت کے کمالات ولذتوں کے چار امتیاز اور برتری کو بیان کریں؟


گذشتہ فصل میں ہم نے انسان کے متعلق اختیاری رفتار وافعال کو مرتب کرنے والے مختلف اسباب کے بارے میں گفتگو کی ہے اور ذکر کیا ہے کہ ان اسباب کے درمیان انسان کا اختیار بہت ہی اہم رول ادا کرتا ہے اور انسان کا قصدوانتخاب اس کے اختیاری افعال ورفتار میں سرنوشت ساز ہیں. اس طرح اختیاری رفتار وکردار میں دقت وتوجہ ، حقیقت و اختیارکی ساخت و ساز میں معاون و مددگار ہیں. اسی بنا پر خصوصاً اختیار کی کیفیت کی ترتیب میں قدیم الایام سے متنوع ومتعدد سوالات بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض اہم سوالات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔کیا انسان کا اختیار بے حساب و بہت زیادہ ہے اور کیا کسی قاعدہ واصول پرمبنی نہیں ہے یا اختیارکی ترتیب بھی دوسرے عوامل واسباب کے ماتحت ہے؟

۲۔اختیار کوفراہم کرنے والے اسباب کون ہیں اور انسان کی توانائی ، خواہش اور معلومات کا اس سلسلہ میں کیا کردار ہے ؟

۳۔ اختیاری افعال میں انتخاب و تعیین کا معیار کیا ہے اور فعاّل وعقلمندانسانوں اور بہت زیادہ متاثر افراد کہ جو اپنے انتخاب کی باگ ڈ ور معاشرے کے حالات وماحول کے شانے پرڈال دیتے ہیں اور غفلت یا کسی جماعت کے ساتھ اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں.اس سلسلہ میں کون سے تفاوت واختلاف موجودہیںبیان کریں ؟

۴۔ کیا انسان کی معرفت کے عام اسباب اورطرز عمل (تجربہ اور تعقل وتفکر)صحیح راہ کے انتخاب ومعرفت کے لئے تمام مراحل میں کفایت کرتے ہیں؟

۵۔ خصوصاً وحی کے ذریعہ استفادہ کی بنیادپر اور گذشتہ سوالات کے جوابات کے منفی ہونے کی صورت میں حقیقی سعادت کے حصول اور صحیح راستہ کے انتخاب اور اس کی معرفت میں (خصوصاً طریقہ وحی)اور (عام طریقہ معرفت )میں سے ہر ایک کا کیاکردارہے؟ اورکیااس موضوع میں دونوں طریقہ ایک دوسرے سے ہماہنگ ہیں؟ اس فصل میں ہم مذکورہ بالاسوالات کے بارے میں تجزیہ وتحلیل کریں گے.


اختیار کو مہیا کرنے والے عناصر

ہر اختیاری عمل کا تحقق کم از کم تین عنصروں کا محتاج ہے۱۔ معلومات ومعرفت ۲۔خواہش وارادہ۳۔قدرت وتوانائی

معرفت

اختیاری افعال میں معرفت ایک چراغ کے مانند ہے جو امور اختیاری میں واضح اور روشن کردینے والا کردار ادا کرتی ہے ، چونکہ ہمارے لئے طریقۂ انجام اور افعال کو پہچاننا اور ان کی اچھائی اور برائی کو جدا کرنا ضروری ہے تاکہ ہم سب سے بہتر کو انتخاب کرسکیں اور ہمارا یہ اختیاری فعل حکیمانہ اور عقل پسندی پر مبنی ہو.لیکن افعال کے اچھے اور برے کی معرفت ، حقیقی کمال کے سلسلہ میں صحیح معلومات اور اس کی راہ حصول پر مبنی ہے. جب تک ہم اپنے حقیقی اور نہائی کمال اور اس کے راہ حصول کو نہیں سمجھ سکیں گے اس وقت تک افعال کی اچھائی اور برائی کو صحیح طرح مشخص نہیں کرسکتے اور نہ ہی معقول ودرست انتخاب کرسکتے ہیں۔ حقیقی کمال اور اس کے راہ حصول کی معرفت بھی تین دوسری معرفت پر مبنی ہے، اور وہ مبداء ،معاد، دنیا اور آخرت کی شناخت ہے اس لئے کہ جو نہیں جانتا کہ اس کا اور موجودات کا وجود مستقل اور کافی ہے یا خالق دو عالم سے وابستہ ہے وہ حقیقی اور نہائی کمال اور اپنے وجود کے بارے میں صحیح فیصلہ نہیں کرسکتا ہے اور دوسری طرف جواﷲپر عقیدہ نہیں رکھتا اس کے لئے یہ فرضیہ واضح نہیں ہے کہ وہ خدا تک پہونچ سکتا ہے یا خدا سے قریب ہوسکتا ہے یا اس کی آخری آرزو لقاء اللہ ہے تو کیااس تک دست رسی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟!لہٰذا ایسے انسان کا طریقۂ عمل اس شخص سے جدا ہوگا جو اپنے وجود اور تمام موجودات کو خدا کی ملکیت جانتا ہے ، اور اپنا کمال خدا سے نزدیک ہونے کو سمجھتا ہے ان دونوں افراد میں کمال کے حصول کی راہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے.

معاد کا موضوع بھی کچھ اسی طرح کا ہے اگر زندگی ، مادی دنیا کی زندگی میں منحصر نہ ہوتو قابل حصول معنوی کمالات، دنیاوی لذتوں سے کہیں بالاتر ہوں گے اور انسان کو اپنے طریقۂ عمل میں اس معرفت کو حاصل کرنا چاہئیے کہ کس طرح اپنے اختیاری تلاش سے اس کمال کو حاصل کرے اور ضرورت کے وقت بہت ہی جلد ختم ہونے والی دنیا وی لذتوں کو آخرت کی برتر اور پایدار لذت پر قربان کردے ،پس مرحلۂ معرفت میں مسئلہ مبدا، معاد ، دنیا وآخرت کا رابطہ اور کمال نہائی کی راہ افعال اختیاری کے انجام میں عقلائی اور ضروری ہے اور یہ مسئلہ یعنی قرآن مجیدکا مبدا و معاد اور اِس کے بارے میں معلومات نیز دنیاوی و اخروی زندگی کی خصوصیات اور ان دونوں کے درمیان رابطہ پر تاکید کرنا اس قضیہ کے اہم رازوں میں سے ایک راز ہے ۔


انسان کے امکانات اور ضروری معرفت

اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ اختیاری فعل کے انجام میں معرفت ایک مہم کردار ادا کرتی ہے اورشناخت میں ہم نہائی کمال کی معرفت اور اس کی راہ حصول کے محتاج ہیں دوسرا مہم سوال جو بیان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کن راہوں سے اس ضروری معرفت کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور کیا معرفت کے عام اسباب وامکانات اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کافی ہیں؟

قرآن مجید نے حواس ،عقل اور دل کو اسباب کے عنوان سے ذکر کیا ہے جن کو خداوند عالم نے راہ کمال طے کرنے کے لئے انسان کے اختیار میں قرار دیا ہے اور اس راہ میں ان سے استفادہ کی تاکید کی ہے ، اور کافروں اورمنافقوں کی ان اسباب کے استعمال نہ کرنے یا ان کے تقاضوں کے مطابق عمل نہ کرنے پر مذمت وملامت کی ہے .سورہ دھر کی دوسری آیہ میں حواس کو قابو میں رکھنے کو انسان کے لئے آزمائش قرار دیاہے اور فرمایا ہے :

( إِنَّا خَلَقنَا الِنسَانَ مِن نُطفَةٍ أَمشَاجٍ نَّبتَلِیهِ فَجَعَلنَاهُ سَمِیعاً بَصِیراً )

ہم نے انسان کو مخلوط نطفے ( مختلف عناصر)سے پیدا کیا کہ اسے آزمائیں ( اسی وجہ

سے ) ہم نے اسے سننے والا اوردیکھنے والا بنایا ۔

یہ آیہ مواقع آزمائش کے فراہم ہونے میں انسان کی سماعت وبصارت اور آخر کار اسکے صعود یا نزول کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتی ہے سورہ نحل کی ۷۸ویںآیہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ اللّٰهُ أَخرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِکُم لا تَعلَمُونَ شَیئاً وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمعَ وَ الأبصَارَ وَ الأفئِدَةَ لَعَلَّکُم تَشکُرُونَ )

اور خدا ہی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا ، تم بالکل ناسمجھ تھے اور تم کو کان دیا اور آنکھیں دیں اور دل عطا کئے تاکہ تم شکر کرو۔

یہ آیت بھی انسان کی سعادت میں عمومی (حواس ودل) اسباب معرفت کے کردار اور خداوند عالم سے تشکر کے بارے میں بیان ہوئی ہے.


اس آیہ کریمہ کے سلسلہ میں متعدد ومختلف سوالات کئے گئے ہیں یہاں ہم ان دو سوالوں کے بارے میں تجزیہ وتحلیل کریں گے جو ہمارے موضوع سے بہت زیادہ مربوط ہیں.

۱۔فلسفی مباحث میں کہا گیا ہے کہ ہر موجود مجرد اپنے آپ سے آگاہ ہے اور انسان کا نفس ایک موجود مجرد ہے لہٰذا اپنی ذات کے بارے میں معلومات رکھنا چاہئے البتہ انسان بھی ابتدائی بدیہی چیزوں کو فطری طور پر جانتا ہے اور فطرت کی بحث میں ہم نے بیان بھی کیاہے کہ انسان فطری طور پر خدا سے آشناہے جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ بعض انبیاء اور ائمہ معصومین شکم مادر ہی میں صاحب دانش تھے تو کیوں آیہ شریفہ میں بالکل انسان کو ولادت کے وقت کسی بھی طرح کی معلومات سے عاری بتایا گیاہے

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیہ اس ظاہری علوم کو بیان کررہی ہے جو انسان عام طور پر حاصل کرتا ہے اور انبیاء وائمہ کے استثنائی علوم نیز انسان کے نامعلوم اور نصف معلوم علوم(۱) کو بیان نہیں کررہی ہے ،لہٰذا اپنے سلسلہ میں نفس کی معلومات اور ابتداء خلقت کے تمام فطری معارف میں خدا کے بارے میں نامعلوم حضوری معرفت اور معصوم رہبروں کے علوم بھی (لاتعلمون شیئاً کی عبارت سے) کوئی منافات نہیں رکھتے ہیں اسکے علاوہ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ عبارت معلوم اور نامعلوم تمام بشری علوم کو شامل ہے تویہ جملہ عام ہے جو قابل تخصیص ہے اور ہم عقلی یا نقلی دلائل سے مذکورہ موارد کو تخصیص دیں گے اور آیہ ان موارد کو شامل نہیں ہوگی

۲۔لفظ'' فؤاد'' اور اس کی جمع ''افئدہ'' سے مراد اور قرآن کی اصطلاح میں قلب اور فلسفہ کی اصطلاح میں '' نفس'' سے کیا مراد ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں فواد لفظ قلب کے مترادف ہے اسی بنا پر ہم حضرت موسیٰ کی داستان میں پڑھتے ہیں:

____________________

(۱)جب لفظ علم ، عرف میں استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد معلومات ہے لیکن دقیق فلسفی اعتبار سے علم کی تین قسمیں ہیں : ''بے خبری ''، ''نصف معلومات '' ، ''پوری معلومات '' ۔''بے خبری ''وہ علم ہے جس کے بارے میں انسان کوئی درک و فہم نہیں رکھتا ہے حتی اس سے متعلق سوال کے مقابلہ میں کہتا ہے کہ: میں نہیں جانتا ہوں ! لیکن تجربیات اور عقلی دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ایسی بے خبری کا علم انسان میں بہت زیادہ ہے،'' نصف آگاہی ''وہ علم ہے جس میں انسان اس بات سے باخبر ہے کہ وہ نہیں جانتا ہے ،لیکن یہ ممکن ہے کہ باخبر ہوجائے ،جس طرح ہم بہت سی چیزوں کے بارے میں جانتے ہیں لیکن فعلاً ہم غافل ہیں ،لیکن کسی انگیزۂ معانی یا اس کے متناسب محرک سے روبرو ہونے یا انسان کو متوجہ کرنے والے دوسرے عوامل کے ذریعہ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم اسے جانتے ہیں ،''پوری معلومات ''یہ ہے کہ ہمارے پاس علم ہے اور اس بات کابھی علم ہے کہ ہم جانتے ہیں ،جب عرف میں کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں مسئلہ کا علم رکھتا ہے تو یہی تیسرا معنی مراد ہوتا ہے ۔


( وَ أَصبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَیٰ فَارِغاً ن کَادَت لَتُبدِی بِهِ لَو لا أَن رَّبَطنَا عَلَیٰ قَلبِهَا لِتَکُونَ مِنَ المُؤمِنِینَ ) (۱)

اور موسیٰ کی ماں کا دل ایسا بے چین ہوگیا اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کردیتے تو قریب تھا کہ راز کو فاش کردیتی تا کہ مومنوں میں سے ہوجائے ۔

اس آیہ میں فواد اور قلب کا ایک ہی چیز پر اطلاق ہوا ہے اور حالت اضطراب (دل کا متیحیر ہونا) اور احساس آرام کو دل کی طرف نسبت دی گئی ہے

حقیقت میں یہ دولفظیں انسان یا حیوان کے بدن میں ایک مخصوص عضو کے معنی میں ہیں کہ جن کا کام خون کو صاف کرنا اور اس کو گردش دینا ہے اور عام طورپر سینہ کے بائیں حصہ میں ہے لیکن عرف میں احساسات ، عواطف اور مرکز ادراکات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس لفظ کے لغوی وعرفی معنی کے درمیان رابطہ شاید اس طرح سے ہو کہ عرف عام تصور کرتا تھا کہ ادراک و احساس اس مخصوص اعضا سے مربوط ہیں اور انہیں کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں ۔(۲)

____________________

(۱) سورہ قصص آیت :۱۰۔

(۲)قرآن میں بھی کبھی لفظ قلب اسی عرفی اصطلاح میں استعمال ہوتا ہے جیسے (فَإِنّهَا لا تَعمَی الأبصَارُ وَ لَٰکِن تَعمَی القُلُوبُ الَّتِی فِی الصُدُورِ )حج ۴۶(کیونکہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں بلکہ وہ دل جو ان سینہ میں ہے وہی اندھا ہوجایا کرتاہے )ممکن ہے کہاجائے کہ یہ رابطہ ایک خیالی رابطہ ہے تو کیوں قرآن اشارتاً اس کی تائید کرتا ہے ؟ جواب میں کہا جاسکتا ہے : چونکہ قرآن مجید انسانوں کی زبان میں نازل ہوا ہے لہٰذا اس حصہ میں ان کی اصطلاحات کے مطابق گفتگو کی ہے اور مراد یہ ہے کہ تمہارے چہرے کی آنکھوں کے بارے میں نہیں کہا ہے بلکہ تمہارے دل کی آنکھیں اندھی ہیں ،اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ صدور سے مراد جسمانی سینہ نہیں ہے بلکہ دل سے مراد درک کرنے والی قوت ہے اور صدر سے مراد انسان کا باطن ہے ؛ اس لئے کہ عرف میں معمولاً جب باطن کی طرف اشارہ کیاجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ : ''میرے سینہ میں راز ہے ''۔ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے : (إنّ اللّهَ عَلِیم بِذَاتِ الصُّدُورِ )لقمان ۲۳.خداوند عالم سینوں کے اندر کے حالات کو بھی جانتا ہے ، اس لئے کہ بدن کی سب سے چھپی اور مخفی جگہ سینہ ہے ۔لہٰذا قلب یعنی مرکز ادراک اور صدر یعنی انسان کے باطن کا ایک حصہ ہے .حتی اگر ہم یہ قبول نہ کریں کہ قلب مرکز احساس و ادراک ہے تو کم از کم ایک ایساعضو ہے جو ہر عضو کے مقابلہ میں بہت زیادہ روح سے مربوط ہے اور ایسا عضو ہے جو بدن سے روح کی جدائی کے وقت سب سے آخر میں بیکار ہوتا ہے روح کا بدن کے تمام اعضا سے رابطہ مساوی نہیں ہے .اور بعض اعضا جیسے قلب و مغز میں یہ رابطہ سب سے پہلے اور قوی ہوتاہے اور شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ : قلب سے روح کا رابطہ سب اعضاپرمقدم ہے ۔


بہرحال قرآن میں فواد وقلب کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد سینہ کے اندر مادی عضو یا کوئی روح نہیں ہے بلکہ متعدد قوتوں کا مالک ہوناہے اس لئے کہ آیات قرآن میں مختلف امور کو قلب اور فواد کی طرف نسبت دی گئی ہے جوہر قسم کی روحی توانائی سے مربوط ہے ،مثال کے طور پر مندرجہ ذیل آیتوں میں ''فقہ''جو دقیق فہم کے معنی میں ہے اور ''عقل'' جو حقیقی دریافت کے معنی میں ہے قلب کی طرف نسبت دی گئی ہے

( أَ فَلَم یَسِیرُوا فِی الأرضِ فَتَکُونَ لَهُم قُلُوب یَعقِلُونَ بِهَا )

کیا یہ لوگ روئے زمین پر چلتے پھرتے نہیں(اور غور و فکر نہیں کرتے ) تاکہ

ان کے ایسے دل ہوتے جس سے حق باتوں کو سمجھتے ۔(۱)

( وَ لَقَد ذَرَأنَا لِجَهَنَّمَ کَثِیراً مِنَ الجِنِّ وَ الِنسِ لَهُم قُلُوب لا یَفقَهُونَ بِهَا وَ لَهُم أَعیُن لا یُبصِرُونَ بِهَا وَ لَهُم آذَان لا یَسمَعُونَ بِهَا. ) (۲)

اور گویا ہم نے بہت سے جنات اور آدمیوں کو(اپنے اختیار سے عمل انجام دیں چونکہ غلط راستہ کو انتخاب کیا ہے )جہنم ہی کے واسطے پیدا کیا ان کے پاس دل تو ہیں مگر اسسے سمجھتے نہیں ہیں اور ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر

____________________

(۱) سورہ حج ۴۶۔

(۲) سورہ اعراف ۱۷۹۔


اس سے دیکھتے نہیںاور انکے پاس کان تو ہیں مگر اس سے سنتے ہی نہیں ۔

دوسری طرف احساسات اور عواطف چاہے مثبت ہوں یا منفی مثال کے طور پر اچھا لگنے اور برا لگنے کو دل کی طرف نسبت دی گئی ہے جیسے

( إِنَّمَا المُؤمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَت قُلُوبُهُم ) (۱)

سچے ایماندار تو بس وہی لوگ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کاپنے لگتے ہیں ۔

( وَ إِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَحدَهُ ِشمَأَزَّت قُلُوبُ الَّذِینَ لا یُؤمِنُونَ بِالآخِرَةِ )

اور صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جولوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل متنفر ہوجاتے ہیں ۔(۲)

دوسری آیات میں قلب کو، مکان ایمان(۳) مرکز انحراف(۴) بیماری(۵) اور مہرزدہ(۶) سمجھا گیا ہے ،بعض آیات کے ذریعہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ قلب علم حضوری بھی رکھتا ہے جیسے

( کَلاّ بَل رَانَ عَلَیٰ قُلُوبِهِم مَّا کَانُوا یَکسِبُونَ کَلاّ ِنَّهُم عَن رَّبِّهِم یَومَئِذٍ لَّمَحجُوبُونَ ) (۷)

ہرگزنہیں بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو اعمال کرتے ہیں ان کا انکے دلوںپر زنگ بیٹھ گیا ہے بیشک اس دن اپنے پروردگار سے روک دیئے جائیںگے۔

____________________

(۱)انفال ۲۔

(۲)زمر ۴۵۔

(۳)حجرات ۷

(۴)آل عمران ۷

(۵)بقرہ ۱۰

(۶)بقرہ۷۔

(۷) مطففین ۱۴،۱۵۔


ان لوگوں کو روز قیامت خدا وند عالم کا جلوہ دیکھنا چاہیئے لیکن ان کے اعمال آئینہ دل پر تصویر کے مانند ہوگئے ہیں جو مانع ہے کہ انوار الہی اس میں جلوہ گر ہو اس لئے دل وہ شیٔ ہے جو خداوند عالم کا مشاہدہ کرتا ہے اور یہ معنی روایات میں بھی آیا ہے :

''لا تدرکُهُ العُیُون بِمشاهدةِ العیان ولکِن تُدرکُه القلُوب بحقَائقِ الیمان''

ظاہری آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتی ہیں لیکن قلوب اس کو حقائق ایمان کے ذریعہ درک کرتے ہیں.(۱)

قرآن میں انتخاب واختیار کو بھی دل کی طرف نسبت دیا گیا ہے :

( لا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰهُ بِاللَّغوِ فِی أَیمَانِکُم وَلٰکِن یُؤَاخِذُکَُم بِمَا کَسَبَت قُلُوبُکُم ) (۲)

تمہاری لغو قسموں پر خدا تم سے گرفت نہیں کرے گا مگر ان قسموں پر ضرور تمہاری گرفت کرے گا جو تم نے قصداً دل سے کھائی ہو۔

( وَ لَیسَ عَلَیکُم جُنَاح فِیمَا أَخطَأتُم بِهِ وَلٰکِن مَّا تَعَمَّدَت قُلُوبُکُم وَ کَانَ اللّٰهُ غَفُوراً رَحِیماً ) (۳)

اور ہاں اگر بھول چوک ہو جائے تو اس کا تم پر کوئی الزام نہیں ہے مگر جب تم دل سے (انتخاب کیا ہے )جان بوجھ کر کرو(مواخذہ کیا جائے گا) اور خدا تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ قلب قرآن مجید میں ایسی شی ٔہے جو علم حضوری اور علم حصولی بھی رکھتا ہے

____________________

(۱)نہج البلاغہ ، خ۱۷۹۔

(۲)سورہ بقرہ ۲۲۵۔

(۳) سورہ احزاب ۵۔


اور احساس ،ادراک ، ہیجان ، عواطف ،انتخاب اور اختیارکو بھی اسی کی طرف نسبت دی جاتی ہے تنہا وہ چیز جس کو نفس کی طرف نسبت دی جاتی اور قلب کی طرف نسبت نہیں دی جاتی ہے وہ افعال بدن ہیں.اس لئے کہ'' قلب وفؤاد'' ایک مخصوص قوت نہیں ہیں(۱) قرآن مجید میں ان کے موارد استعمال کے اعتبار سے اس چیز کے مترادف ہے جسے فلسفہ میں روح یا نفس کہا جاتا ہے۔ بہر حال بعض آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے معرفت کے لئے اسباب خلق کئے جن میں سب سے مہم آنکھ ،کان اور دل ہیں.(۲)

____________________

(۱)فلسفی بحثوں میں انسان سے سرزد ہونے والے ہر کام کے لئے ایک مخصوص مبدا ہے ۔ جب ہم مختلف اقسام کے ادراکات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ اور مختلف ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ان سب چیزوں کے لئے ایک قوت ہے جیسے حس مشترک ، خیال ، حافظہ اور عقل لیکن نفسیاتی کیفیات اور انفعالات کے لئے کسی فاعلی مبدا کے قائل نہیں ہیں اور اس کو نفس کی طرف نسبت دیتے ہیں ۔

(۲)قرآن مجید مختلف وسائل سے معرفت و دانش کے حصول کے سلسلہ میں ایک خاص اہمیت و احترام کا قائل ہے لیکن انسان کے لئے بعض ایسے علم کو بھی شمار کیا ہے جو معمولی راہوں سے حاصل نہیں ہوتے ہیں ، ان میں سے منجملہ وہ علوم ہیں جو وحی کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں :(الرَّحمٰنُ عَلَّمَ القُرآنَ )رحمٰن ۲۔ہم معمولی راہوں سے عالم قرآن ہوتے ہیں ، لیکن پیغمبر علم حضوری سے حقیقت و ذات وحی کو حاصل کرکے عالم قرآن ہوتا ہے ۔ انبیاء پر وحی کے علاوہ ،'' علم لدنی'' نیز غیر انبیاء کے لئے وحی سے حاصل ہونے والے علوم غیر معمولی راہوں کو بیان کرتے ہیں۔ لفظ لدنی قرآن میں نہیں آیا ہے لیکن ایسے علم کا نام لیا گیا ہے جو خدا وند قدوس کی طرف ( لدنی) سے ہے : (وَ عَلَّمنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلماً ) کہف ۶۵۔ہم نے اسے اپنے پاس سے علم دیا ۔ اور حضرت مریم اور مادر موسی کے سلسلہ کی وحی میں آیا ہے کہ: (وَ أَوحَینَا لَیٰ أُمِّ مُوسَیٰ أَن أَ رضِعِیهِ فَِذَا خِفتَ عَلَیهِ فَأَلقِیهِ فِی الیَمِّ وَ لاتَخَافِی وَ لا تَحزَنِی ِنَّا رَادُّوهُ ِلَیکِ وَ جَاعِلُوهُ مِنَ المُرسَلِینَ ) قصص۷ ۔ (اور ہم نے موسی کی ماں کے پاس یہ وحی بھیجی کہ تم اس کو دودھ پلا لو پھر جب اس کی نسبت کوئی خوف ہو تو اس کو دریا میں ڈال دو اور تم بالکل نہیں ڈرنا اور نہ ہی سہمنا ہم اس کو پھر تمہارے پاس پہونچا دیں گے اور اس کو رسول بنائیں گے ۔) مادر موسی نے اسی وحی کے ذریعہ اپنے فرزند کے مستقبل کے بارے میں علم وخبر حاصل کیاتھا۔ اور حضرت مریم کے بارے میں فرماتا ہے : (إِذ قَالَتِ المَلائِکَةُ یَامَریَمُ ِنَّ اللّهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِّنهُ اسمُهُ المَسِیحُ عِیسَیٰ ابنُ مَریَمَ ..)آل عمران ۴۵۔(جب فرشتوں نے کہا اے مریم خداتم کو صرف اپنے حکم کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام عیسی ٰ مسیح ابن مریم ہوگا )


مذکورہ اسباب انسان کو صحیح راہ کی طرف متوجہ اور راہ معرفت میں گمراہی سے بچانے نیز مبدأ ومعاد اور کمال کے حصول کی راہ کے بارے میں عمومی معارف کے درک میں مدد پہونچانے کے لئے مہم کردار ادا کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کو استعمال کرے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرے تو مبدا ،معاد اور راستہ کی راہنمائیوں کو پہچان لے گا لیکن یہ اسباب، کمال کے حصول کی راہ کو لمحہ بہ لمحہ اور دقیق انداز میں بتانے سے ناتواں ہیں اور یہ کہ کون سا کام سعادت لاتا ہے اور کون سا کام برائی پیدا کرتا ہے و...کے لئے بالکل صحیح راہ عمل کی تعیین کے سلسلہ میں ان پراکتفا ء نہیں کیا جا سکتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ دنیا وآخرت کے درمیان لمحہ بہ لمحہ اور بالکل صحیح رابطہ کے تعیین کو کشف کرنا ان اسباب کی توانائی سے باہر ہے اسی لئے وحی کی ضرورت ہے اوراس طرح معارف وحی کی اہمیت ہم پر آشکارہوجاتی ہے البتہ یہ وہی مخصوص راہ ہے جسے خداوند عالم نے بشر کی حقیقی اور نہائی سعادت حاصل کرنے کے لئے انسان کے اختیار میں قرار دیا ہے اسی لئے عمومی اسباب معرفت ،راہ سعادت کے عمومی طریقے بیان کرنے میں بہت کارساز ہیں لیکن خطا کا احتمال اور متاثر ہونے کا امکان نیز ان کی محدودیت وغیرہ کی وجہ سے راہ سعادت کی تفصیلی معرفت میں ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے ، لہذا ایک اور راہ کی ضرورت ہے اور وہ راہ وحی و نبوت ہے ۔


خواہش اورارادہ

خواہش و اراد ہ جو اختیار ی کاموں میں توانائی کا کردار ادا کرتا ہے اختیاری فعالیت میں دوسرا ضروری عنصر ہے جو معرفت انسان کو قصد وحرکت عطا نہیں کرتی ہے بلکہ صرف راستہ بتاتی ہے یہ تو خواہشات ہیں جو راہ کی شناخت کے بعد انسان کو جستجو میں ڈال دیتے ہیں خواہش وارادہ کا رابطہ ایک مہم بحث ہے جس کے بارے میں دو مختلف نظریے بیان ہوئے ہیں. بعض لوگوں نے ارادہ کو شدید خواہش کہا ہے اور بعض لوگوں نے شدید شوق یا شدید خواہش کو ارادہ کے تحقق کی شرط مانا ہے دونوں صورتوں میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ انسان اور اس کے مشابہ مخلوق کسی بھی مقام پر ارادہ نہیں کرسکتی ہے مگر یہ کہ اس میں خواہش موجود ہو انسان کے اندر حیوانی اور پست نیز انسانی ومتعالی وبلند خواہشات ہیں جن سے انسان ،جنسی یا غذا اور دوسرے جسمانی امور کی خواہش کرتا ہے اس سلسلہ میں بہت زیادہ بحث ہوئی ہے اور متعدد ومختلف تقسیم بندی ہوئی ہے جن میں سے مہم مندرجہ ذیل ہیں

خواہشات کی تقسیم بندی

سب سے اہم تقسیم بندی میں سے ایک تقسیم اندرونی رغبتوں کو چار قسم غرائز ،عواطف انفعالات اور احساسات میں منقسم کرنا ہے

غرائز

انسان کی حیاتی ضرورتوں کو بیان کرنے والی اور جسم کے کسی ایک اعضاء سے مربوط باطنی رغبت کو غریزہ کہا جاتاہے جیسے کھانے اور پینے کی خواہش جو انسان کی طبیعی ضرورت کو بھی دور کرتی ہے اور معدہ سے مربوط ہے یا جنسی خواہش نسل کی بقا کا ضامن ہے ا ور مخصوص عضو سے مربوط ہے


عواطف

عواطف .وہ خواہش ہے جو دوسرے انسان کیلئے ظاہرہوتی ہے جیسے بچوں کے لئے والدین کی محبت اور اسکے بر عکس یا کسی دوسرے انسان کے لئے ہماری مختلف رغبتیں اجتماعی ، طبیعی یا معنوی رابطہ جس قدر زیادہ ہوگا محبت بھی اتنی ہی شدید تر ہوگی جیسے والدین اور فرزند کے رابطہ میں ایک فطری حمایت موجود ہے اور استاد و شاگرد کے رابطہ میں معنوی حمایت موجود ہے

انفعالات

انفعالات یامنفی میلان جو عواطف کے مقابلہ میں ہے اور اس کے بر عکس یعنی ایک روحی حالت ہے جس کی بنیاد پر انسان ناپسند یدگی یا احساس ضرر کی وجہ سے کسی سے دوری کرتا ہے یا اس کو ترک کردیتا ہے اسی وجہ سے نفرت ، غصہ ، کینہ وغیرہ کا انفعالات میں شمار ہوتا ہے

احساسات

بعض اصطلاحات کے مطابق احساسات ایسی کیفیت ہے جو مذکورہ تینوں موارد سے بہت شدید ہے اور فقط انسان سے مربوط ہے گذشتہ تینو ں کیفیات کم وبیش حیوانات میں بھی موجود ہیں لیکن احساسات جیسے احساس تعجب ، احساس احترام ، احساس عشق وعبادت، یہ درونی رغبتیں کبھی سبھی چیزوںمیں موثرہوتی ہیں اور کبھی ایک دوسرے سے منضم اور ملکر اثر انداز ہوتی ہیں .اوریہ ادراک ومعرفت کے اسباب سے مربوط ہیں اور ان پر ادراکی قوتیں بھی موثر ہیں اورا نھیں سے بعض خواہشات جنم لیتی ہیں ۔

خواہشات کی دوسری تقسیم فردی واجتماعی خواہشات کی تقسیم ہے فطری خواہشات معمولاً فردی اور عواطف کی طرح ہیں اور دوسری خواہشات غالباً اجتماعی ہیں۔


دوسرے اعتبار سے خواہشات کو مادی وروحی اور پھر روحی خواہشات کو پست اور بلند خواہشات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے خواہشات اوراس کے مانند غرائز کی تامین سے بدن کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے یہ مادی خواہشات ہیں اور وہ خواہشات جو بدن کی ضرورت کے پورا ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں انہیں روحی خواہشات کہا جاتا ہے جیسے اس وقت خوشی کی ضرورت جب جسم تو سالم ہے لیکن روح مسرور نہیں ہے اس لئے اس تقسیم بندی کے اعتبار سے خواہشات تین طرح کی ہیں :

(۱) وہ خواہشات جو مادی اور جسمانی پہلو رکھتی ہیں

(۲) وہ خواہشات جو مادی اور روحی پہلو رکھتی ہیں لیکن وہ روح کی پست خواہشات میں سے ہیں جیسے خوشی اور سکون

(۳) وہ خواہشات جو مادی اور روحی پہلورکھتی ہیں اور روح کی عالی خواہشات میں سے ہیں جیسے ہدف تک رسائی اور آزادی کی خواہش اسی لئے بعض لوگوں نے عالی ضرورتوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے :

(۱) حق کی تلاش اور حقائق کی معرفت

(۲) فضیلت کی خواہش نیزعدالت ، حریت کی آرزو۔

(۳) مطلق خوبصورتی کی خواہش، اس لئے کہ وہ خوبصورتیاں جن سے انسان کی خواہش مربوط ہوتی ہے بہت زیادہ اور مختلف ہیںبعض بصارت سے مربوط ہیں تو بعض سماعت سے اور بعض شعر وشاعری کی طرح خیالات سے مربوط ہیں لیکن مطلقاً خوبصورتی کی خواہش بلند وبالاآرزؤںمیں سے ہے


بعض لوگوں نے چوتھی قسم کا بھی اضافہ کیا ہے اور اس کو''مذہبی حس'' کا نام دیاہے اور بعض لوگوں نے ان تینوں کوبھی اسی چوتھی قسم کے زیر اثر قرار دیا ہے

ایک دوسرے اعتبارسے خواہشات دو گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں:

۱۔ وہ خواہشات جن کی حفاظت،انسان کی موجودیت اور بقا میں مددگار ہے ؛جیسے کھانا پینا لباس اور حفاظت ذات کی خواہش

۲۔ وہ خواہشات جو کسی کی حفاظت کے لئے نہیں ہیںبلکہ تکامل کے لئے ہیں

اس سلسلہ میں بھی تجزیہ وتحلیل ہوئی ہے کہ خواہشات میں سے حقیقی کون ہیں اور غیر حقیقی کون سی ہیںتحقیق وتحلیل کی روشنی میں انسان کے لئے ۲سے لیکر ۱۲ حقیقی خواہشیں تسلیم کی گئی ہیں مذکورہ خواہشات کبھی ایک طرف اور ایک جہت میں ہیں تو کبھی ایک دوسرے کے مقابلہ میں ہیں مثال کے طور پر اکثر حیوانی اور انسانی خواہشات کے درمیان تعارض اور نا ہماہنگی پائی جاتی ہے اورجب انسان دونوں خواہشوں کو بطور کامل انجام نہیں دے پاتاہے تو مجبورا ًایک کو انتخاب کرکے دوسرے پر ترجیح دیتاہے اور دوسرے کو محدود یا اس سے چشم پوشی کرلیتا ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں مسئلہ انتخاب اور ایک خواہش کو دوسری خواہش یا بہت سی خواہشوں پر ترجیح دینے اور اسکے معیار کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے۔


خواہشات کا انتخاب

معمولاً انسان کہ جس طرح نفسیات کے ماہرین نے کہا ہے؛ خواہشات کے ٹکراؤ کے وقت ایسی خواہش کی طرف حرکت کرتاہے اور ایسی خواہشات کے زیر اثر آجاتا ہے جو جذباتی ہوتی ہیں یا اس خواہشات سے بار بار سیر ہونے کی وجہ سے ایک عادت سی ہوگئی ہو یا بہت زیادہ تبلیغ کی بنا پر لوگوں کی توجہ اس کی طرف مائل ہوگئی ہو اور تمام خواہشات کے سلسلہ میں ایک قسم کی غفلت اور بے توجہی برتی گئی ہو ۔ بہت ہی اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہماہر نفسیات کی یہ گفتگو متائثر انسانوں کے بارے میں ہے لیکن ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ فعّال ہو منفعل نہ ہوتو کن معیاروں کی بنا پر بعض خواہشات کو بعض پر ترجیح دے گا؟

قرآن مجید ایک عام نگاہ میں عالی خواہشات کو مادی اور پست خواہشات پر ترجیح کی تاکید کرتا ہے .قرآن مجید میں بعض حیوانی خواہشات حقارت ومذمت کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں .سورہ معارج کی ۱۹ویں آیہ میں فرماتا ہے :

( إِنَّ الِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً، ِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً وَ ِذَا مَسَّهُ الخَیرُ مَنُوعاً ِلا المُصَلِّینَ )

بیشک انسان بڑا ہی لالچی پیدا ہوا ہے جب اسے تکلیف اور ناگواری کا سامنا ہوتا ہے تو گھبرا جاتاہے اور جب اسے بھلائی اور آسودگی حاصل ہوئی تو بخیل بن جاتا ہے مگر جو لوگ نمازیں پڑھتے ہیں ۔

آیہ شریفہ یہ ماننے کے بعد کہ انسان کو اس طرح خلق کیا ہے کہ اس کے اندر بعض پست خواہشات موجود ہیںآگاہ کرتی ہے کہ اگر اپنے اختیار سے بہت ہی بلند کمالات کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو ان خواہشات کا اسیر نہیں ہونا چاہئیے بلکہ انہیں عظیم کمالات کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئیے چونکہ کمال ،ایثار کے دامن میں جنم لیتاہے اسی لئے شہوت پرستی اور شکم پُری اور اس کے مثل چیزیںاس کی سد راہ نہیں ہونا چاہیئے اور جس وقت کمال فدا کاری سے مربوط ہو تو مادی حیات کو اس کے شہادت کے فیض سے روکنا نہیں چاہئیے. مذکورہ حقیقت مندرجہ ذیل دو آیتوں میں بھی مورد توجہ اور تاکید ہے ۔


( زُیَّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَ البَنِینَ وَ القَنَاطِیرِ المُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الفِضَّةِ وَ الخَیلِ المُسَوَّمَةِ وَ الأنعَامِ وَ الحَرثِ ذَٰلِکَ مَتَاعُ الحَیٰوةِ الدُّنیَا وَ اللّٰهُ عِندَهُ حُسنُ المَئَابِ ) ...)(۱)

لوگوں کو ان کی مرغوب چیزیں بیویوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوے ڈھیروں اور عمدہ عمدہ گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتی کے ساتھ الفت بھی کرکے دکھادی گئی ہے یہ سب دنیاوی زندگی کے فائدہ ہیں اور اچھا ٹھکاناتو خدا ہی کے یہا ں ہے ۔

( اعلَمُوا أَنَّمَا الحَیَٰوةَ الدُّنیَا لَعِب وَلَهو وَ زِینَة وَ تَفَاخُر بَینَکُم وَ تَکَاثُرفِی الأموَالِ وَ الأولادِ کَمَثَلِ غَیثٍ أَعجَبَ الکُفَّارَ نَبَٰاتُهُ ثُمَّ یَهِیجُ فَتَرَیٰهُ مُصفَرّاً ثُمَّ یَکُونُ حُطَاماً وَ فِی الآخِرَةِ عَذَاب شَدِید وَ مَغفِرَة مِنَ اللّٰهِ وَ رِضوَان وَ مَا الحَیَٰوةُ الدُّنیَا لا مَتَاعُ الغُرُورِ ) (۲)

جان لو کہ دنیاوی زندگی محض کھیل اور تماشا اور ظاہری زینت اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ خواہش یہ اس بارش کی سی طرح ہے(جو سبزہ اگاتی ہے ) جس کی ہریالی کسانوں کو خوش کردیتی ہے اور پھر وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے اور اس کی ہریالی زردپڑجاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور خداکی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیاوی زندگی تو بس غرور کا ساز و سامان ہے۔

____________________

(۱)سورہ آل عمران ۱۴۔

(۲)سورہ حدید ۲۰ ۔


دوسری طرف بلند وبالا خواہشوں کی بہتری وتقویت کی قرآن مجید میں بھی تاکید ہوئی ہے مثال کے طور پر قرآن کی روشنی میں مقام و منزلت(۱) اور ہمیشہ با حیات رہنے کی خواہش اور خدا وند عالم کی طرف تمایل کی خواہش کو مورد توجہ قراردیاگیاہے اس سلسلہ میں بعض آیتیںقرآن مجید میں مذکور ہیں سورہ فاطر کی ۱۰ویں آیت میں انسان کے مقام و منزلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے ذریعہ متعالی اور بلندمعارف کی نشاندہی کی گئی ہے۔

( مَن کَانَ یُرِیدُ العِزَّةَ فَلِلّٰهِ العِزَّةُ جَمِیعاً )

جو شخص عزت کا خواہاں ہے (تو جان لے) ساری عزت تو خدا ہی کیلئے ہے

سبھی مقام وعزت چاہتے ہیں.(۲) حقیقت میں عزت واحترام اور آبرو کا حاصل کرنا برا نہیں ہے لیکن یہ جاننا چاہئے کہ عزت فقط معاشرہ میں پائی جانے والی اعتباری عزتوں سے مخصوص نہیں ہے مذکورہ آیہ اسی خواہش کو بیان کر رہی ہے کہ :اگر تم فقیر اور محتاج لوگوں میں عزیز ہونا چاہتے ہو تو غنی وبلند پروردگار کے نزدیک کیوں عزیز نہیں ہونا چاہتے ؟جبکہ عزت حقیقی فقط خداوند عالم کے لئے ہے۔

____________________

(۱) قدر و منزلت چاہنا ان خواہشات میں سے ہے جو اصل میں فطری ہے اور غالباً اس کی ابتدائی تجلیات نوجوانی میں ظاہر ہوتی ہے ۔اور نفسیات شناسی میں بلوغ ، انسان کا نقطۂ الفت شمار ہوتا ہے ۔ اس کے پہلے بچے اکثر بزرگوں کی تقلید کرتے ہیں ،اس زمانے میں بچہ چاہتا ہے کہ''خود مختار ہو ''دوسروں کی باتوں پر عمل نہ کرے ، جو خود سمجھتا ہے اس پر عمل کرے اور امرو نہی سے حساس ہو جاتا ہے ۔ یہ حالت بھی اپنی جگہ انسان کے تکامل میں مفید و موثر ہے، یہ حکمت خداوند قدوس ہے کہ جس کی حقیقت حب کمال ہے لیکن معرفت کے نقص کی بنیاد پر محدود شکلوں میں جلوہ گر ہوتی ہے، قدر و منزلت چاہنا ، بزرگوں میں اور اجتماع میں دھیرے دھیرے مقام و مرتبہ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۔ وہ شخص چاہتا ہے کہ حاکم ہوجائے اور دوسرے اس کی بات کو سنیں اور مانیں ، اس کی بھی مختلف شکلیں ہیں جن میں سے منجملہ شہرت ، ریاست ، مقام و مرتبہ اور مشہور ہونے کی خواہش ہے ۔

(۲) قرآن کہتا ہے کہ حتی بعض بت پرست عزت و احترام حاصل کرنے کے ارادہ سے بتوں کی پوجا کرتے تھے ۔ (وَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللّٰهِ آلِهَةً لِّیَکُونُوا لَهُم عِزّاً )مریم ۸۱۔ اور ان لوگوں نے خدا کے علاوہ دوسرے معبود انتخاب کرلئے ہیں تاکہ ان کی عزت کا سبب ہوں ۔


بقا کی خواہش بھی انسان کی فطری خواہشوں میں سے ہے انسان کبھی مرنا نہیں چاہتا ہے اس لئے کہ وہ سوچتا ہے کہ مرنا ، نابود ہونے کے معنی میں ہے یا یہ چاہتا ہے کہ ا س کی عمر طولانی ہو قرآن مجید بنی اسرائیل کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ لوگ ہزار سال زندہ رہنا چاہتے ہیں :

(( یَوَدُّ أَحَدُهُم لَو یُعَمَّرُ أَلفَ سَنَةٍ ) (۱)

ہر شخص چاہتا ہے کہ کا ش اس کو ہزار برس کی عمر دی جاتی ۔

ہزار کثرت کی علامت ہے ورنہ ایسا نہیں ہے کہ وہ ایک ہزار ایک سال نہیں چاہتا ہے یہ خواہش تمام انسانوں میں ہے حتی ہمارے جد ،حضرت آدم میں بھی موجود تھی اسی خواہش کی بنا پر شیطان نے ان کو دھوکا دیا ہے :

( هَل أَدُلُّکَ عَلیٰ شَجَرَةِ الخُلدِ وَ مُلکٍ لایَبلَیٰ ) (۲)

کیا میں تمہیں ہمیشگی کا درخت اور وہ سلطنت جو کبھی زائل نہ ہوبتادوں ۔

یہ آیہ بھی بقا اور مقام ومنزلت کی خواہش کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس نکتہ کو بھی بیان کررہی ہے کہ انسان میں یہ خواہش فطری ہے اس کو منفی عنصر نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ معرفت میں موجودہ نقص کو بر طرف کرنا چاہیے اور متوجہ رہیں کہ یہ دنیا بقا کے قابل نہیں ہے اور ابدی حکومت خدا کے پاس ہے انسان کو دنیا کے بجائے آخرت سے علاقہ مند ہونا چاہئے :

( وَ الآخِرَةُ خَیر وَ أَبقَیٰ ) (۳)

اور آخرت کہیں بہتر اور دیر پا ہے ۔

____________________

(۱)بقرہ ۹۶۔

(۲)طہ ۱۲۰

(۳)اعلیٰ ۱۷


آخر کار تمام خواہشات پر نہائی خواہش برترہے خصوصاً انسان کا عمیق ووسیع وجود قرب خدا کے لئے اور اسی کی طرف موجزن ہے، ا فسوس ! کہ جس سے اکثر ماہرنفسیات نا واقف ہیں۔یہ خواہش احساسات وعواطف کی طرح نہیں ہے بلکہ ان دونوں سے بہت زیادہ لطیف اور پوشیدہ ہے ، چونکہ انسان کا نہائی کمال اسی سے وابستہ ہے لہذا اس کو فعال کرنا بھی خود انسان کے ہاتھ میں ہے

غرائز اور طبعی خواہشات ، خود بخود فعال ہوتے ہیں مثال کے طور پر خلقت کے وقت ہی سے بچہ کے اندر بھوک کا احساس ہوتاہے نیز جنسی خواہش بالغ ہونے کے وقت فعال ہوتی ہے اور انسان اس کو پورا کرنے کے راستہ بھی تعیین کرتا ہے لیکن معنوی کمالات اولاً خود بخود فعال نہیں ہوتے ان کو فعال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے .دوسرے موضوع اور اس کے متعلق کو پہچاننے کے بعد اختیاری انداز میں اس کوانجام دیاجاتا ہے یعنی جب کوئی خواہش انسان کے اندر فعال ہوتو دھیرے دھیرے قدم بڑھانا چاہئے تاکہ نہائی مراحل سے نزدیک ہوسکیں ،اس سلسلہ میں حضرت ابراہیم کی داستان سے مربوط آیتیں رہنمائی کرتی ہیں ، حضرت ابراہیم نے ستاروں کے ڈوبنے کے بعد فرمایا:

( لا أُحِبُّ الأفِلِینَ ) (۱)

غروب ہونے والی چیز کو میں پسند نہیں کرتا ۔

یعنی تمام انسان غروب نہ کرنے والے وجود کی طرف متمایل ہوجاتے ہیں خواہش اور عبادت کی رغبت کوایسی چیز سے مرتبط ہونا چاہئے جو ہمیشہ موجود ہو ایسا محبوب ہو جو ہمیشہ اسکے پاس رہ سکتا ہو اور وہ خدا وند عالم کے علاوہ کوئی نہیں ہے خدا وند عالم سے محبت کے لئے جو چیز خدا سے مربوط ہے (منجملہ ایمان ) انسان کے لئے بھی محبوب ہو جانا چاہئے :

( وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ ِلَیکُمُ الِیمَانَ ) (۲)

____________________

(۱)انعام ۷۶

(۲)حجرات۷


لیکن خدا نے تو تمہیں ایمان کی محبت دی ہے ۔

خداوند عالم پر ایمان کی وجہ سے انسان محبوب ہوتا ہے اور یہ قرب الہی کے لئے ایک راہ ہے اور اس راہ میں اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب انسان اپنی زندگی میں خدا اور اس کی رضا کے علاوہ کوئی خواہش نہ رکھتا ہو :

( إلا ابتِغَائَ وَجهِ رَبِّهِ الأعلَیٰ )( ) ۱)

( کوئی بھی نعمت خدا کی بارگاہ میں جزا کے لئے سزاوارنہیں ہے) مگر یہ کہ

صرف اپنے عالیشان پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انجام دیا ہو۔

____________________

(۱)سورہ لیل آیت ۲۰۔


خواہشات کے انتخاب کا معیار

یہاں یہ سوال در پیش ہے کہ مادی خواہشات پر عالی خواہشات کی ترجیح کے لئے قرآن مجید کا کیا معیار ہے ؟ ایک آسان تجزیہ وتحلیل کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک خواہش کے دوسری خواہش پر ترجیح کے لئے انسان کے پاس حقیقی معیار ، لذت ہے انسان ذاتاً یوں خلق ہوا ہے کہ اس چیز کی جستجو میں رہے جو اس کی طبیعت کے لئے مناسب اور لذیذ ہو اور ہر رنج والم کا باعث بننے والی شیٔ سے گریزاں ہو اور وہ فوائد جو بعض نظریات میں خواہشات کے معیار انتخاب کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں وہ ایک اعتبار سے لذت کی طرف مائل ہیں ۔

اب یہ سوال در پیش ہے کہ اگر دو لذت بخش خواہشوںکے درمیان تعارض واقع ہو تو ہم کس کو ترجیح دیں اور کس کا انتخاب کریں ؟ جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں میں سے جس میں زیادہ لذت ہو یاجوزیادہ دوام رکھتی ہو یا زیادہ کمال آفرین ہو اسی کو مقدم کیا جائے گا لہذا کثیر پائدار یا زیادہ کمال کا جو باعث ہو، اسے انتخاب کا معیار قرار دیا جائے گا ۔

بعض خواہشات کی تامین بہت زیادہ لذت بخش ہے لیکن کمال آفرین نہیں ہے بلکہ کبھی تو نقص کا باعث ہوتی ہے یا دوسری خواہشات کی بہ نسبت اس میں بہت کم لذت ہوتی ہے اور بہت کم کمال کا سبب بنتی ہے ایسی حالت میں انتخاب کے لئے ایجاد کمال بھی مد نظر ہونا چاہیئے۔بہت زیادہ لذت ،بادوام اور ایجاد کمال کو مد نظر قرار دینے سے انسان مزید سوالات سے دوچار ہوتا ہے، مثال کے طور پر اگر دو خواہشیں زمان یا بہت زیادہ لذت کے اعتبار سے برابر ہوں تو کسے مقدم کیا جائے ؟ اگر ایک مدت کے اعتبار سے اور دوسرا بہت زیادہ لذت کے اعتبار سے برتری رکھتا ہو توایسی حالت میں کسے انتخاب کیا جائے ؟ آیا جسمانی اور مادی لذتیں بھی برابر ہیں ؟اورکون سی جسمانی لذت کس روحی لذت پر برتری رکھتی ہے ؟آپ نے مشاہدہ کیا کہ یہ تینوں معیار ،مقام عمل ونظر دونوں میں مشکلات سے روبرو ہیں اور گذشتہ دلیلوں کے اعتبار سے تمام انسانوں کے لئے بعض خواہشات کو بعض پرمقدم کرنا اور انتخاب کے سلسلہ میں صحیح قضاوت کرنا ممکن نہیں ہے۔

ایک بار پھر یہاں مسئلہ معرفت کی اہمیت اور مبدا ومعاد کی عظمت واضح ہوجاتی ہے۔ گذشتہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے انسان کی حقیقت اور دوام وپایداری کی مقدار نیز اس کمال کے ساتھ رابطہ اورحد کو جسے حاصل کرنا چاہتاہے ،معلوم ہوناضروری ہے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیئے کہ کیا انسان موت سے نابود ہوجاتا ہے اور اسکی زندگی اسی دنیاوی زندگی سے مخصوص ہے یاکوئی دائمی زندگی بھی رکھتا ہے .اس کے بعد یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ کون سے کمالات انسان حاصل کرسکتا ہے اور بالخصوص کمال نہائی کیا ہے ؟


اگر یہ دو مسئلے حل ہوجا ئیں اور انسان اس نتیجہ پر پہونچ جائے کہ موت سے نابود نہیں ہوتا ہے اور اس کی ایک دائمی زندگی ہے نیز اسکا حقیقی کمال قرب الہٰی ہے اور اس کے لئے کوئی حد نہیں ہے تو معیار انتخاب واضح ہوجائے گا جو چیز انسان کو اس دائمی کمال تک پہونچائے اسے فوقیت دیتے ہوئے اسی کے مطابق عمل انجام دیا جائے یہی عام معیار ہے لیکن رہی یہ بات کہ کون سی خواہش کن شرائط کے ساتھ اس نقش کو انجام دے گی اور کون سی حرکت ہمیں اس دائمی اور بے انتہا کمال سے نزدیک یا دور کرتی ہے ،ہمیں اس راہ کو وحی کے ذریعہ دریافت کرناہوگااس لئے کہ وحی کی معرفت وہ ہے جو اس سلسلہ میں اساسی اور بنیادی رول ادا کرے گی لہٰذا سب سے پہلے مسئلہ مبدأومعاد کو حل کرنا چاہیئے اور اسکے بعد وحی ونبوت کو بیان کرنا چاہئے تاکہ حکیمانہ اور معقول انتخاب واضح ہوجائے۔ اس نقطۂ نظر میں انتخاب کو سب سے زیادہ اور پایدار لذت اور سب سے زیادہ ایجاد کمال کے معیاروں کی مدد سے انجام دیا جا سکتا ہے انسان کی پوری زندگی کے مشخص ومعین نہ ہونے اور اس کمال کی مقدار جسے حاصل کرنا چاہتاہے اور سب سے بہتر خواہش کی تشخیص میں اس کی معرفت کے اسباب کی نارسائی کی بناپرمذکورہ مشکلات جنم لیتے ہیں اور یہ تمام چیزیں اس (وحی کے ) دائرہ میں حل ہوسکتی ہیں ۔

اخروی لذتوں کی خصوصیات

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ قرآن کی روشنی میں دنیاوی لذتوں کے علاوہ اخروی لذتوں کے موارد ذکرہیں۔ اور انسان کو لذتوں کے انتخاب میں انھیں بھی مورد توجہ قرار دینا چاہیئے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ لذت بخش اور سب سے زیادہ پائدار اورجوایجاد کما ل کا باعث ہو اسے انتخاب کرنا چاہیئے اسی بنا پر قرآن مجید نے آیات ( نشانیاں ) کے بیان کرنے کا ہدف دنیا وآخرت کے بارے میں تفکر اور دونوں کے درمیان موازنہ بتایا ہے :

( کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَکُمُ الآیَاتِ لَعَلَّکُم تَتَفَکَّرُونَ٭فِی الدُّنیَا وَ الآخِرَةِ )

یوں خداوند عالم اپنے احکامات تم سے صاف صاف بیان دیئے ہیں تاکہ تم دنیا و آخرت

کے بارے میں غور و فکر کرو۔(۱)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اخروی کمالات ولذتوں کو بیان کرنے والی آیات کی تحقیق وتحلیل ہمیں یہ نتیجہ عطا کرتی ہیں کہ یہ لذتیں اور کمالات، دنیاوی لذتوں کے مقابلہ میں فزونی،پایداری ، برتری اور

____________________

(۱)سورہ بقرہ ۲۱۹۔


خلوص کی حامل ہیں لہٰذا انسان کو چاہیئے کہ اپنی زندگی میں ایسی خواہشوں کو انتخاب کرے جو اخروی لذت وکمال کو پوراکرسکتی ہوں ان آیتوں میں چار خصوصیات اور اخروی کمالات ولذتوں کی برتری کے بارے میں مندرجہ ذیل انداز میں گفتگو ہوئی ہے :

۱۔پایدار ی اور ہمیشگی

قرآن کی نظر میں دنیاوی زندگی نا پایدار ومحدود ہے اور اخروی زندگی دائمی اور محدودیت زمانی سے عاری ہے :

( بَل تُؤثِرُونَ الحَیَاةَ الدُّنیَا ٭ وَ الآخِرَةُ خَیر وَ أَبقَیٰ ) (۱)

مگر تم لوگ دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور دیرپا ہے ۔

( مَا عِندَکُم یَنفَذُ وَ مَا عِندَ اللّٰهِ بَاقٍ... ) (۲)

جو کچھ تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو خدا کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہے گا

۲۔اخلاص اور رنج و الم سے نجات

دنیاوی زندگی میں نعمتیں اور خوشی ،رنج وغم سے مخلوط ہیں لیکن اخروی زندگی سے خالص خوشی اور حقیقی نعمت حاصل کرسکتے ہیں .قرآن مجید بہشتیوں کی زبان میں فرماتا ہے :

( الَّذِی أحَلَّنَا دَارَ المُقَامَةِ مِن فَضلِهِ لا یَمَسُّنَا فِیهَا نَصَب وَ لا یَمَسُّنَا فِیهَا لُغُوب ) (۳)

جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشگی کے گھر میں اتارا جہاں ہمیں نہ تو کوئی تکلیف پہونچے گی اور نہ ہی کوئی تکان آئے گی۔

____________________

(۱)سورہ اعلیٰ۱۶،۱۷۔

(۲)سورہ نحل ۹۶۔(۳)سورہ فاطر ۳۵۔


۳۔ وسعت و فراوانی

اخروی نعمتیں ،دنیاوی نعمتوں کے مقابلہ میں جو کم وکیف کے اعتبار سے محدود اور بہت کم ہیں بہت زیادہ اور فراوان ہیں قرآن مجید فرماتا ہے :

( وَ سَارِعُوا ِلَیٰ مَغفِرَةٍ مِّن رَّبِّکُم وَ جَنَّةٍ عَرضُهَا السَّمَٰوَاتُ وَ الأرضُ )

اور اپنے پروردگار کے بخشش اور جنت کی طرف دوڑ پڑو جس کی وسعت سارے

آسمان اور زمین کے برابر ہے ۔(۱)

ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَ فِیهَا مَا تَشتَهِیهِ الأنفُسُ وَ تَلَذُّ الأعیُنُ ) (۲)

اور وہاں ( بہشت میں )جس چیز کا جی چاہے اور جس سے

آنکھیں لذت اٹھائیں (موجود ہیں)۔

۴۔ مخصوص کمالات اورلذتیں

اخروی دنیا میں ان نعمتوں کے علاوہ جو دنیاوی نعمتوں کے مشابہ ہیں مخصوص نعمتیں بھی ہیں جو دنیا کی نعمتوں سے بہت بہتر اور عالی ہیں قرآن مجید دنیاوی نعمتوں سے مشابہ نعمتوں کو شمار کرتے ہوئے فرماتا ہے :

( وَ رِضوَان مِنَ اللّٰهِ أَکبَرُ ذٰلِکَ هُوَ الفَوزُ العَظِیمُ ) (۳)

اور خدا کی خوشنودی ان سب سے بالاتر ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے ۔

____________________

(۱)سورہ آل عمران ۱۳۳۔

(۲)سورہ زخرف۷۱ ۔

(۳)سورہ توبہ آیت ۷۲۔


ایک روایت میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :''فیُعطهم ﷲ مَالا عین رأت ولا أُذن سمعت ولم یخطر علیٰ قلب بشر'' (۱)

خدا وند عالم انہیں (اپنے صالح بندوں ) ایسی نعمتیں عطا کرے گا جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ ہی کسی قلب نے محسوس کیا ہوگا مذکورہ خصوصیات پر توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتاہے کہ قرآن مجید فقط اخروی زندگی کو زندگی سمجھتا ہے اور دنیا کی زندگی کو مقدمہ اور اس کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے اور جب دنیاوی زندگی اخروی زندگی کے حصول کا ذریعہ نہ ہوتو اسے کھیل بے خبری وغفلت کی علت ،فخر کا ذریعہ نیز ظاہری آرائش اورجاہلانہ عمل شمار کرتا ہے اور اسکی فکر وجستجو میں ہونا اور اس کو پورا کرنے والی خواہشوں کو انتخاب کرنا ایک غیر عقلی فعل کہا ہے اور ایسی زندگی کو حیوانات کی زندگی اور انسان کے حیوانی پہلو کو پورا کرنا بتا یا ہے۔

( وَ مَا هٰذِهِ الحَیَوٰةُ الدُّنیَا ِلا لَهو وَ لَعِب وَ نَّ الدَّارَ الآخِرَةَ لَهِیَ الحَیَوَانُ لَو کَانُوا یَعلَمُونَ ) (۲)

اور یہ دنیاوی زندگی تو کھیل تماشا کے سوا کچھ نہیں اگر یہ لوگ سمجھیںبوجھیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ابدی زندگی تو بس آخرت کا گھر ہے ۔

____________________

(۱)نوری ، میرزا حسین ؛ مستدرک الوسایل ج۶ ص ۶۳۔

(۲)سورہ عنکبوت ۶۴۔


قدرت :

اختیاری افعال میں تیسرا بنیادی عنصر قدرت ہے جو اس سلسلہ میں امکانات واسباب کا رول ادا کرتا ہے انسان جن خواہشات کو اپنے لئے حقیقی کمال کا ذریعہ سمجھتا ہے اور اسکے مقدمۂ حصول کو تشخیص دیتا ہے انھیں معارف کی روشنی میں حاحل کرنا چاہیئے اور وہ افعال جو اس کو اُس کمال نہائی کے حصول سے روکتے ہیں یا دور کرتے ہیںاس سے پرہیزکرنا چاہیئے. یہ قدرت اندرونی اعمال پر

محیط ہے جیسے نیت ، ایمان لانا ، رضایت ، غصہ، محبت ،دشمنی، قصد اور ارادہ خارجی، عمل پراثر انداز ہوتے ہیں۔اور قرآن کی نظر میں ،انسان ان تمام مراحل میں قدرت کونافذ کرنے کے لئے ضروری امکانات سے استوارہے قدرت کے مختلف اقسام ہیں جسے ایک نظریہ کے اعتبار سے چار حصوںمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

الف۔قدرت طبعی : یعنیطبیعت سے استفادہ کرتے ہوئے چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان ہو اپنے مقاصد کو حاصل کیاجاتا ہے

ب۔قدرت علمی: یعنی وہ قدرت جو ٹکنیکل آلات سے استفادہ کرکے اپنے اہداف کو حاصل کرلے اور اپنے مورد نظر افعال کو انجام دے۔

ج: قدرت اجتماعی:ہماہنگی وتعاون کے ذریعہ یا طاقت و قبضہ اور اجتماعی مرکز کے حصول ، مشروع یا غیر مشروع طریقہ سے اپنے جیسے افراد کو ہی اپنے فائدہ کے لئے اپنی خدمت میں استعمال کرتاہے اور ان کی توانائی سے استفادہ کرکے اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے۔

د: قدرت غیرطبیعی: اپنی روحی قدرت سے استفادہ یا غیبی امداد اور الٰہی عنایت ،انسانوں کی جاندار بے جان طبیعت میں تصرف کرکے یا جن وشیاطین کی مدد سے جس چیز کوچاہتا ہے حاصل کرلیتا ہے ۔


اختیار کی اصل وبنیاد کے عنوان سے جو باتیں قدرت کی وضاحت میں گذر چکی ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ قدرت کو جسمانی توانائی ،اعضاء وجوارح کی سلامتی اورافعال کے انجام دہی میں بیرونی شرائط کے فراہم ہونے سے مخصوص نہیں کرناچاہیئے بلکہ توجہ ہونا چاہئیے کہ ان کے نہ ہونے کی صورت میں بھی اندرونی اختیاری عمل کا امکان موجود رہتا ہے جیسے محبت کرنا ،دشمنی کرنا ، نیت کرنا ، کسی کام کے انجام کا ارادہ کرنا یا کسی شخص کے عمل سے راضی ہونا وغیرہ۔ البتہ انسان اندرونی اعمال کے ذریعہ خود کو خدا سے نزدیک کرسکتا ہے اور اختیاری اصول مثال کے طور پر معرفت ، خواہشات اور مذکورہ درونی امور کا ارادہ خصوصاً جو چیزیں حقیقی عمل کو ترتیب دیتی ہیں یعنی نیت ،ان شرائط میں بھی فراہم ہیں اور جس قدر نیت خالص ہوگی اعتبار اور اس کے قرب کا اندازہ بھی زیادہ ہوگا لہٰذا انسان اعمال ظاہری کے انجام پر بھی مامور ہے اور افعال باطنی کے انجام کا بھی ذمہ دار ہے البتہ اگر کوئی ظاہر ی عمل انجام دے سکتا ہے تو اس کے لئے صرف باطنی عمل کی نیت کافی نہیں ہے اسی بنا پر ایمان وعمل صالح ہمیشہ باہم ذکر ہوئے ہیں اور دل کے صاف ہونے کا فائدہ ظاہری اعمال میں ہوتا ہے اگرچہ اعمال ظاہری سے نا توانی اس کے اعمال کے سقوط میں ، باطنی رضایت کا نہ توسبب ہے اور نہ ہی باطنی رفتارسے اختلاف، ظاہری عمل میں اعلان رضایت کے لئے کافی ہے مگر یہ کہ انسان عمل ظاہری کے انجام سے معذور ہو۔


خلاصہ فصل

۱۔افعال اختیاری کو انجام دینے کے لئے ہم تین عناصر (معرفت ،انتخاب اورقدرت) کے محتاج ہیں۔

۲۔ اچھے اور برے کا علم، حقیقی کمال کی شناخت اورمعرفت نیز اس کی راہ حصول کے بارے میں اطلاع اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم مبدا ، معاد اور دنیا وآخرت کے رابطہ کو پہچانیں

۳۔ قرآن مجید اگر چہ آنکھ اورکان (حواس ) اور قلب (عقل ودل ) کومعرفت اور سعادت کی عام راہوں میں معتبر مانتا ہے لیکن یہ اسباب محدودہونے کے ساتھ ساتھ امکان خطاء سے لبریز نیز تربیت وتکامل کے محتاج ہیں اس لئے ایک دوسرے مرکز کی ضرورت ہے تاکہ ضروری مسائل میں صحیح وتفصیلی معرفت کے ذریعے انسان کی مدد کرسکے اور وہ منبع و مرکز، وحی الہٰی ہے جو ہمارے لئے بہت ضروری ہے

۴۔خواہش یا ارادہ، اختیار و قصدکے لئے ایک دوسرا ضروری عنصر ہے البتہ یہ کوئی ایسا ارادے والا فعل نہیں ہے جس میں خواہش اور چاہت کا کردار نہ ہوحالانکہ بعض لوگوں نے ارادہ کو شدید خواہش یا مزید شوق کہا ہے۔

۵۔ بہت سی جگہوں میں جہاںچند ناہماہنگ خواہشیں باہم ہوتی ہیں اور انسان مجبور ہوتاہے کہ کسی ایک کو ترجیح دے تواس سلسلہ میں قرآن مجید کی شفارش یہ ہے کہ انسان اپنے کمال کو مد نظر قرار دے اور اس کو معیارانتخاب سمجھے ۔

۶۔ قرآن مجید ایسے بلند و بالا خواہشات کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس میں شخصیت و منزلت کی خواہش اور ایک معبود کی عبادت فقط خداوند عالم کی عبادت کے سایہ میں پوری ہوسکتی ہے ۔

۷۔ قرآن مجید اعلی خواہشوں کو ایجاد کمال ،پائدار اور زیادہ لذت بخش ہونے کے معیار پر ترجیح دیتا ہے اور اس بات کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مذکورہ امور فقط آخرت میں حاصل ہونگے جس کی نعمتیں پائدار ،حقیقی ، رنج وغم سے عاری اور باکمال ہیں۔

۸۔ قدرت ،مقدمات اختیار کے ایک مقدمہ کے عنوان سے کسی بھی عمل کے لئے درکار ہے مثلا شناخت اور معرفت کے لئے انتخاب اور ارادے کی قدرت۔البتہ قرآن کی نظر میں ان تمام موارد کے لئے انسان ضروری قدرت سے آراستہ ہے ۔


تمرین

۱۔اصول اختیار کی تین قسمیں ہیں جواختیاری افعال میں ایک ہی طرح کا کردار ادا کرتی ہیں یا بعض کا کردار دوسرے سے زیادہ ہے ،اس اختلاف کا کیا سبب ہے ؟

۲۔ مقتضائے معرفت کے لئے کون سے امور معرفت سے انحراف کا سببہیں اور کس طرح یہ عمل انجام دیتے ہیں ؟

۳۔معرفت کے اہم کردار کی روشنی میں انسان کے حقیقی کمال کے حصول کے لئے قرآن مجید میں ہر چیز سے زیادہ کیوں ایمان وعمل صالح کی تاکید ہوتی ہے ؟

۴۔ ایمان وتقویٰ سے معرفت کا کیا رابطہ ہے ؟

۵۔ ایمان ،عقل و انتخاب اور کردار کے مقولوں میں سے کون سا مقولہ ہے ؟

۶۔ اگر خواہشات کا انتخاب انسان کی عقل کے مطابق سب سے زیادہ پائدار ، حقیقی لذت اور سب سے زیادہ ایجاد کمال کی بنیاد پر ہو تو کیا یہ معیار غیر دینی ہوگا ؟ کیوں اور کیسے ؟

۷۔ اگر ایمان کے حصول اور قرب الہی میں معرفت کا اہم رول ہے تو میدان عمل میں کیوں بعض مفکر ین بالکل ہی خدا اور معادکے منکرہیں یا اس کے مطابق عمل نہیں کرتے ہیں؟ اور کیوں علم بشر کی ترقی دینداری اور ایمان کی وسعت سے بلا واسطہ تعلق نہیں رکھتی ہے ؟


مزید مطالعہ کے لئے :

۱۔شناخت کے تمام گوشوںکے اعتبار سے انسان کی سعادت کے لئے ملاحظہ ہو :

۔ جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۶۵) تفسیر موضوعی قرآن کریم ، تہران : رجاء ۱۳۶۵، ج۴ ص ۹۳۔ ۱۱۱

۔جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۷۰) شناخت شناسی در قرآن ، تنظیم و پیش کش ، حمید پارسانیا، قم : مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم ۔

۔محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۶) معارف قرآن ( راہ و راہنماشناسی ) قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی

۲۔ قرآن کی نظر میں انسان کے مختلف خواہشات کے بارے میں ملاحظہ ہو :

۔ جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۷۸) تفسیر موضوعی قرآن ، ج۱۲( فطرت در قرآن ) قم : اسراء ۔

۔ جوادی آملی ، عبد اللہ (۱۳۶۶) تفسیر موضوعی قرآن ، ج ۵، تہران : رجاء

۔شیروانی ، علی ( ۱۳۷۶) سرشت انسان پژوہشی در خدا شناسی فطری، قم : نہاد نمایندگی مقام معظم رہبری در دانشگاہ ہا( معاونت امور اساتید و دروس معارف اسلامی ).

۔محمد تقی مصباح (۱۳۷۷) اخلاق در قرآن ، قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۔ (۱۳۷۷)خود شناسی برائے خودسازی ، قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۔ نجاتی ، محمد عثمان (۱۳۷۲) قرآن و روان شناسی ، ترجمہ عباس عرب ، مشہد : بنیاد پژوہش ھای آستانہ قدس۔


نویں فصل :

کمال نہائی

اس فصل کے مطالعہ کے بعد آپ کی معلومات:

۱۔ (کمال ) کا معنی ذکر کرتے ہوئے اس کی تشریح کریں ؟

۲۔ انسان کے کمال نہائی سے مراد کیا ہے ؟ وضاحت کریں ؟

۳۔ قرب الٰہی کے حصول کی راہ کو آیات قرآن سے استدلال کرتے ہوئے بیان کریں ؟

۴۔ ایمان اور مقام قرب کے رابطے کی وضاحت کریں ؟


کمال خواہی اور سعادت طلبی ہر انسان کی ذاتی وفطری خواہشات میں سے ہے اور انسان کی پوری کوشش اسی خواہش کو پوراکرنا اور نقائص کو دورکرناہے البتہ یہ بات کہ کمال کی خواہش اور سعادت طلب کرنا خود ایک حقیقی اور مستقل رغبت وخواہش ہے ، یا ایک فرعی خواہش ہے جو دوسری خواہشوں کا نتیجہ ہے جیسے خود پسندی وغیرہ میں یہ مسئلہ اتفاقی نہیں ہے اگر چہ نظریہ کمال کو مستقل اور حقیقی سمجھنا ہی اکثر لوگوں کا نظریہ ہے ۔

انسان کی سعادت وکمال کی خواہش میں ایک مہم اور سر نوشت ساز مسئلہ ،کمال اور سعادت کے مراد کو واضح کرنا ہے جو مختلف فلسفی ودینی نظریوں کی بنیاد پر متفاوت اورمختلف ہے اسی طرح کمال وسعادت کے حقیقی مصداق کو معین کرنا اور ان کی خصوصیات نیز کیفیت اور اس کے حصول کا طریقہ کاران امور میں سے ہے جس کے بارے میں بہت زیادہ تحقیق وتحلیل اور بحث ہوچکی ہے اور مزید ہوگی ظاہر ہے کہ مادی مکاتب جو معنوی اور غیر فطری امور کے منکرہیں ، ان تمام مسائل میں دنیاوی پہلو اختیار کرتے ہیں اور کمال وسعادت کے معنی ومفہوم اور ان دونوں کا حقیقی مصداق اور اس کے راہ حصول کو مادی امور ہی میں منحصرجانتے ہیں لیکن غیر مادی مکاتب خصوصاً الہی مکاتب فکر، مادی و دنیاوی اعتبار سے بلند اور وسیع و عریض نظریہ پیش کرتے ہیں اس فصل میں ہماری کوشش یہ ہوگی کہ قرآنی نظریہ کے مطابق مذکورہ مسائل کا جواب تلاش کریں


مفہوم کمال اور انسانی معیار کمال

دنیا کی باحیات مخلوق جن سے ہمارا سرو کار ہے ،ان میں سے نباتات نیز حیوان و انسان گوناگوں صلاحیت کے حامل ہیں ، جس کے لئے مناسب اسباب و علل کا فراہم ہونا ظاہر وآشکار اور پوشیدہ توانائیوں کے فعال ہونے کا سبب ہیں اور ان صلاحیتوں کے فعال ہونے سے ایسی چیزیں معرض وجود میں آتی ہیں جواس سے قبل حاصل نہیں تھیں اس طرح تمام با حیات مخلوق میں درونی قابلیتوں کو پوری طرح سے ظاہر کرنے کے لئے طبیعی تلاش جاری ہے البتہ یہ فرق ہے کہ نباتات موجودات کے ان طبیعی قوانین کے اصولوں کے پابند ہیں،جو ان کے وجود میں ڈال دی گئی ہیں جانوروں کیسعی و کوشش حب ذات جیسے عوامل پر مبنی ہے جو فطری الہام وفہم کے اعتبار سے اپنے امور انجام دیتے ہیں لیکن انسان کی جستجو، اختیار وعلم کی روشنی میں ہوتی ہے ۔

اس وضاحت کے مطابق جو اختیار اور اس کے اصول کی بحث میں گذرچکا ہے اس کے کمال نہائی کا مقصد دوسری مخلوق سے بالکلعلیحدہ اور جدا ہے ۔

گذشتہ مطالب کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ''کمال'' ایک وجودی صفت ہے جو ایک وجود کا دوسرے وجود کے مقابلہ میں حقیقی توانائی وقوت کی طرف اشارہ کرتا ہے .اور کامل وجود اگر فہم وشعور کی نعمت سے مالامال ہو تو کمال سے مزین ہونے کی وجہ سے لذت محسوس کرتا ہے گذشتہ مفہوم کی بنیاد پر کمال اگر طبیعی اور غیر اختیاری طور پر حاصل ہو جائے جیسے انسان کی حیوانی توانائی کا فعال ہونا (جیسے جنسی خواہش )تو اسے غیر اکتسابی وغیر طبیعی کمال کہا جاتا ہے اور اگر دانستہ اور اختیاری تلاش کی روشنی میں حاصل ہوتو کمال اکتسابی کہا جاتا ہے پس جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہر موجود کا کمال منجملہ انسان کا کمال ایک قسم کی تمام قابلیت کا ظاہر اورآشکار ہونا ہے توبنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انسان کا حقیقی کمال کیا ہے اور کون سی قابلیت کا ظاہر ہونا انسانی کمال سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ؟ بے شک انسان کی قابلیتوں اور خواہشوں کے درمیان حیوانی اور مادی خواہشوں کے ظاہر ہونے کو انسانی کمالات میں شمار نہیں کیا جاسکتااس لئے کہ یہ خواہشیں انسان اور حیوان کے درمیان مشترک ہیں اور حیوانی پہلو سے ان قابلیتوں کے فعال ہونے کا مطلب انسان کا تکامل پانا ہے ۔


ایسے مرحلہ میں انسان کی انسانیت ابھی بالقوہ ہے اور اس کی حیوانیت بالفعل ہوچکی ہے اور یہ محدود ،ناپایدار اور سریع ختم ہونے والی صلاحیتیں انسان کی واقعی حقیقت یعنی نا قابل فنا روح ، اور ہمیشہ باقی رہنے والی لامحدود خواہش سے سازگار نہیں ہے انسان کی انسانیت اس وقت بالفعل ہوگی جب اس ناقابل فناروح کی قابلیت فعال ہواور کمال وسعادت اور ختم نہ ہونے والی خالص اور ناقابل فنا لذت بغیر مزاحمت ومحدود یت کے حاصل ہو ۔

انسان کا کمال نہائی

انسانی کمال اور اس کی عام خصوصیات کے واضح ہونے کے بعد یہ بنیاد ی سوال در پیش ہوتا ہے کہ انسانی کمال کا نقطۂ عروج اور مقصد حقیقی جسے ہر انسان اپنی فطرت کے مطابق حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنی تمام فعالیت جس کے حصول کے لئے انجام دیتا ہے وہ کیا ہیں ؟ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ انسان کا کمال نہائی کیا ہے ؟

اس سوال کے جواب کے وقت اس نکتہ پر توجہ ضروری ہے کہ حوادث زندگی میں انسان کی طرف سے جن مقاصد کی جستجو ہوئی ہے وہ ایک جیسے مساوی اور برابر نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بعض اہداف، ابتدائی اہداف ہیں جو بلند وبالا اہداف کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اور بعض نہائی اور حقیقی اہداف شمار ہوتے ہیں اور بعض درمیانی ہیں جو مقدماتی اور نہائی اہداف کے درمیان حد وسط کے طور پر واقع ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں ، یہ تین طرح کے اہداف ایک دوسرے کے طول میں واقع ہیں. انسان کے نہائی کمال وہدف سے مراد وہ نقطہ ہے جس سے بڑ ھ کر کوئی کمال، انسان کے لئے متصور نہیں ہے اور انسان کی ترقی کا وہ آخری زینہ ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے یہ تلاش وکوشش جاری ہے قرآن مجید نے اس نقطۂ عروج کو فوز (کامیابی ) ،فلاح (نجات ) اور سعادت (خوشبختی )جیسے ناموں سے یاد کیا ہے اور فرماتا ہے :


( وَ مَن یُطِعِ اللّٰهَ و رَسُولَهُ فَقَد فَازَ فَوزاً عَظِیماً ) (۱)

اور جس شخص نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ تو اپنی مراد کوبہت اچھی طرح پہونچ گیا ۔

( أُولٰئِکَ عَلَیٰ هُدًی مِن رَّبِّهِم وِ أُولٰئِکَ هُمُ المُفلِحُونَ ) (۲)

یہی لوگ اپنے پروردگار کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ اپنی دلی مرادیں پائیں گے

( وَ أَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیهَا )

اور جو لوگ نیک بخت ہیں وہ تو بہشت میں ہوں گے ۔(۳)

قرآن مذکورہ مفاہیم کے نقطۂ مقابل کو ناکامی :( إِنَّهُ لا یُفلِحُ الظَّالِمُونَ ) (۴) (اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہوںگے )ناامیدی اور محرومی :( وَ قَد خَابَ مَن دَسَّیٰهَا ) (اور یقینا جس نے اسے بنا دیا وہ نامراد رہا ) شقاوت اور بد بختی سے تعبیر کرتا ہے:( فَأَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِ لَهُم فِیهَا زَفِیر وَشَهِیق ) (۵) (تو جو لوگ بدبخت ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے اور اسی میں ان کی ہائے وائے اور چیخ پکار ہوگی)

گذشتہ مطالب کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی توانائیوں میں سے ہر ایک کو کمال اور فعلیت کے مرحلہ میں پہونچنے کے لئے فقط اتنی ہی مقدار معتبر ہے جس میں ایجاد کمال نیز دائمی اورلازوال کمال کے تحقق کے اسباب فراہم ہوسکیں اور کمال نہائی کے حصول کا مقدمہ بن سکیں دوسرے لفظوں میں ان کا رشد وکمال ایک مقدمہ ہے اور اگرمقدماتی پہلو کا فقدان ہوجائے توانسان اپنی مطلوبیت اور اعتبار کو کھودیتا ہے ۔

____________________

(۱)سورہ احزاب ۷۱۔

(۲)سورہ بقرہ ۵۔

(۳)سورہ ھود ۱۰۸۔

(۴)سورہ قصص ۳۷۔

(۵)سورہ ھود ۱۰۶۔


قرب الٰہی

اہم گفتگو یہ ہے کہ اس کمال نہائی کا مقام ومصداق کیا ہے ؟ قرآن کریم اس کمال نہائی کے مصداق کو قرب الہی بیان کرتا ہے جس کے حصول کے لئے جسمانی اور بعض روحی کمالات صرف ایک مقدمہ ہیں اور انسان کی انسانیت اسی کے حصول پرمبنی ہے اور سب سے اعلی ،خالص ، وسیع اور پایدار لذت ،مقام قرب کے پانے سے حاصل ہوتی ہے .قرب خدا کا عروج وہ مقام ہے جس سے انسان کی خدا کی طرف رسائی ہوتی ہے اور رحمت الہیسے فیضیاب ہوتاہے اس کی آنکھ اور زبان خدا کے حکم سے خدائی افعال انجام دیتی ہیں۔ منجملہ آیات میں سے جو مذکورہ حقیقت پر دلالت کرتی ہیں درجہ ذیل ہیں :

۱۔ِ( إنَّ المُتَّقِینَ فِی جَنّاتٍ وَ نَهَرٍ فِی مَقعَدِ صِدقٍ عِندَ مَلِیکٍ مُقتَدرٍ )

بے شک پرہیزگار لوگ باغوں اور نہروں میں پسندیدہ مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہوں میں ہوں گے ۔(۱)

۲.( فَأَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللّٰهِ وَ اعتَصَمُوا بِهِ فَسَیُدخِلُهُم فِی رَحمَةٍ مِّنهُ وَ فَضلٍ وَ یَهدِیهِم ِلَیهِ صِرَاطاً مُّستَقِیماً ) (۲)

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اسی سے متمسک رہے تو خدا بھی انھیں عنقریب ہی اپنی رحمت و فضل کے بیخزاں باغ میں پہونچا دیگا اور انھیں اپنی حضوری کا سیدھا راستہ دکھا دے گا ۔

اس حقیقت کو بیان کرنے والی روایات میں سے منجملہ حدیث قدسی ہے :

''ما تقرب لیّ عبد بشیٍٔ أحبّ لیّ ممّا فترضت علیه و أنّه لیتقرب

____________________

(۱) سورہ قمر ۵۴،۵۵۔

(۲) سورہ نسائ ۱۷۶۔


لی بالنافلة حتیٰ أحبه فذا أحببته کنت سمعه الذی یسمع به وبصره الذی یبصر به و لسانه الذی ینطق به و یده التی یبطش بها'' (۱)

کوئی بندہ واجبات سے زیادہ محبوب شیٔ کے ذریعے مجھ سے نزدیک نہیں ہوتا ہے بندہ ہمیشہ (درجہ بہ درجہ ) مستحب کاموں سے (واجبات کے علاوہ) مجھ سے نزدیک ہوتا ہے حتی کہ میں اس کو دوست رکھتا ہوں اور جب وہ مرا محبوب ہوجاتا ہے تواسکا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ گفتگو کرتا ہے اور اسکا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ اپنے امور کا دفاع کرتا ہے ۔

قربت کی حقیقت

اگر چہ مقام تقرب کی صحیح اور حقیقی تصویر اور اس کی حقیقت کا دریافت کرنا اس مرحلہ تک پہونچنے کے بغیر میسر نہیں ہے لیکن غلط مفاہیم کی نفی سے اس کو چاہے ناقص ہی سہی حاصل کیا جاسکتا ہے

کسی موجود سے نزدیک ہونا کبھی مکان کے اعتبار سے اور کبھی زمان کے لحاظ سے ہوتاہے یہ بات واضح ہے کہ قرب الٰہی اس مقولہ سے نہیں ہے اس لئے کہ زمان ومکان مادی مخلوقات سے مخصوص ہیںاور خداوند عالم زمان و مکان سے بالاتر ہے .اسی طرح صرف اعتباری اور فرضی تقرب بھی مد نظر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اس طرح کا قرب بھی اسی جہاں سے مخصوص ہے اور اس کی حقیقت صرف اعتبار کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اگر چہ اس پر ظاہر ی آثار مترتب ہوتے ہیں کبھی قرب سے مراد دنیاوی موجودات کی وابستگی ہے منجملہ انسان خدا وند عالم سے وابستہ ہے اور اسکی بارگاہ میں تمام موجودات ہمیشہ حاضر ہیں جیسا کہ روایات و آیات میں مذکور ہے :

____________________

(۱)کلینی ، محمد بن یعقوب ؛ اصول کافی ؛ ج۲ ص ۳۵۲۔


( وَ نَحنُ أَقرَبُ إِلَیهِ مِن حَبلِ الوَرِیدِ ) (۱)

اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔

قرب کا یہ معنی بھی انسان کے لئے کمال نہائی کے عنوان سے ملحوظ نظر نہیں ہے اس لئے کہ یہ قرب تو تمام انسانون کے لئے ہے

دوست ،نزدیک تراز من بہ من است

وین عجیب ترکہ من از وی دورم

''دوست مرے نفس سے زیادہ مجھ سے نزدیک ہے لیکن اس سے زیادہ تعجب کی یہ بات ہے کہ میں اس سے دورہوں''

بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان اس شائستہ عمل کے ذریعہ جو اس کے تقویٰ اور ایمان کا نتیجہ ہے اپنے وجود کوایک بلند ی پر پاتاہے اور اسکا حقیقی وجود استحکام کے بعد اور بھی بلند ہوجاتاہے. اس طرح کہ اپنے آپ کو علم حضوری کے ذریعہ درک کرتا ہے اور اپنے نفسانی مشاہدے اور روحانی جلوے نیز خدا کے ساتھ حقیقی روابط اور خالص وابستگی کی بنا پر الہٰی جلوے کا اپنے علم حضوری کے ذریعہ ادراک کرتا ہے:

( وُجُوه یَومَئِذٍ نَاضِرَة ٭ لَیٰ رَبِّهَا نَاظِرَة ) ۔(۲)

اس روز بہت سے چہرے حشاش و بشاش اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے ۔

قرب الٰہی کے حصول کا راستہ

گذشتہ مباحث میں بیان کیا جا چکا ہے کہ انسانی تکامل ،کرامت اکتسابی اور کمال نہائی کا حصول اختیاری اعمال کے زیر اثر ہے.لیکن یہ بات واضح رہے کہ ہر اختیاری عمل ،ہرانداز اورہرطرح کے اصول کی بنیادپر تقرب کا باعث نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اشارہ ہواہے کہ اس سلسلہ میں وہ اعمال، کار ساز ہیں جو خدا،معاد اور نبوت پر ایمان رکھنے سے مربوط ہوں اور تقوی کے ساتھ انجام دیئے گئے

____________________

(۱)سورہ ق ۱۶۔

(۲)سورہ قیامت ۲۲، ۲۳۔


ہوں۔ عمل کی حیثیت ایمان کی حمایت کے بغیر ایک بے روح جسم کی سی ہے اور جو اعمال تقویٰ کے ساتھ نہ ہوں بارگاہ رب العزت میں قابل قبول نہیں ہیں:( إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ المُتَّقِینَ ) (۱) (خدا تو بس پرہیزگاروں سے قبول کرتا ہے )لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ خدا وند عالم سے تقرب کے عام اسباب وعلل ،ایمان اور عمل صالح ہیں.اس لئے کہ جو عمل تقوی ز کے ہمراہ نہ ہو خدا وند عالم کے سامنے پیش ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اسے عمل صالح بھی نہیں کہا جاسکتاہے۔

گذشتہ مطالب کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ جوچیز حقیقت عمل کو ترتیب دیتی ہے وہ در اصل عبادی عمل ہے یعنی فقط خدا کے لئے انجام دینااور ہر عمل کا خدا کے لئے انجام دینا یہ اس کی نیت سے وابستہ ہے''إنّما الأعمال بالنیات'' (۲) آگاہ ہو جاؤ کہ اعمال کی قیمت اس کی نیت سے وابستہ ہے اور نیت وہ تنہا عمل ہے جو ذاتاً عبادت ہے لیکن تمام اعمال کا خالصةً لوجہ اللہ ہونا ، نیت کے خالصةً لوجہ اللہ ہونے کے اوپر ہے ، یہی وجہ ہے تنہا وہ عمل جو ذاتاً عبادت ہوسکتا ہے وہ نیت ہے اور تمام اعمال، نیت کے دامن میں عبادت بنتے ہیں اسی بنا پرنیت کے پاک ہوئے بغیر کوئی عمل تقرب کا وسیلہ نہیں ہوسکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ تمام با اختیار مخلوقات کی خلقت کا ہدف عبادت بنایا گیا ہے:( وَ مَا خَلَقتُ الجِنَّ وَ النسَ ِلا لِیَعبُدُونَ ) (۳) (اور میں نے جنوں اور آدمیوں کو اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔)

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کی زبان میں مقام قرب الٰہی کو حاصل کرنا ہر کس و ناکس ، ہر قوم و ملت کے لئے ممکن نہیں ہے اور صرف اختیاری ہی عمل سے (اعضاو جوارح کے علاوہ )اس تک رسائی ممکن ہے ۔

مذکورہ تقریب کے عام عوامل کے مقابلہ میں خداوندعالم سے دوری اور بد بختی سے مراد ؛

____________________

(۱)سورہ مائدہ ۲۷۔

(۲)مجلسی، محمد باقر ؛ بحار الانوار؛ ج۷۶،ص۲۱۲۔

(۳)ذاریات ۵۶۔


خواہش دنیا ، شیطان کی پیروی اور خواہش نفس(ہوائے نفس) کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ہے.حضرت موسی کے دوران بعثت ،یہودی عالم'' بلعم باعور'' کے بارے میں جو فرعون کا ماننے والا تھا قرآن مجید فرماتا ہے:

( وَاتلُ عَلَیهِم نَبَأَ الَّذِی آتَینَاهُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنهَا فأَتبَعَهُ الشَّیطَانُ فَکَانَ مِنَ الغَاوِینَ وَ لَوشِئنَا لَرَفَعنَاهُ بِهَا وَ لٰکِنَّهُ أَخلَدَ ِلَیٰ الأرضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ )

اور تم ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنادو جسے ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا پکڑااور آخر کار وہ گمراہ ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو ہم اسے انہی آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے مگر وہ تو خود ہی پستی کی طرف جھک پڑا اور اپنی نفسانی خواہش کا تابعدار بن بیٹھا ۔(۱)

تقرب خدا کے درجات

قرب الہی جو انسان کا کمال نہائی اور مقصود ہے خود اپنے اندر درجات رکھتا ہے حتی انسان کا سب سے چھوٹا اختیاری عمل اگر ضروری شرائط رکھتا ہوتو انسان کو ایک حد تک خداسے قریب کردیتا ہے اس لئے انسان اپنے اعمال کی کیفیت ومقدار کے اعتبار سے خداوند قدوس کی بارگاہ میں درجہ یا درجات رکھتا ہے. اور ہر فرد یا گروہ کسی درجہ یا مرتبہ میں ہوتا ہے:( هُم دَرَجَات عِندَ اللّٰهِ ) (۲) (وہ لوگ (صالح افراد)خدا کی بارگاہ میں (صاحب)درجات ہیں۔)اسی طرح پستی اور انحطاط نیز خداوند عالم سے دوری بھی درجات کا باعث ہے اورایک چھوٹا عمل بھی اپنی مقدار کے مطابق انسان کو پستی میں گراسکتا ہے اسی بنا پر انسان کی زندگی میں ٹھہراو ٔاور توقف کا کوئی مفہوم نہیں ہے .ہر عمل انسان کویا خدا سے قریب کرتا ہے یا دور کرتاہے، ٹھہراؤ اس وقت متصور ہے جب انسان مکلف نہ ہو. اور خدا کے ارادہ کے مطابق عمل انجام دینے کے لئے جب تک انسان اختیاری تلاش و جستجو میں ہے مکلف

____________________

(۱) سورہ اعراف ۱۷۵،۱۷۶۔

(۲)سورہ آل عمران ۱۶۳۔


ہے چاہے اپنی تکلیف کے مطابق عمل کرے یا نہ کرے ، تکامل یا تنزل سے ہمکنار ہوگا۔

( وَ لِکُلِّ دَرَجَات مِمَّا عَمِلُوا وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعمَلُونَ )

اور جس نے جیسا کیا ہے اسی کے موافق (نیکوکاروں اور صالحین کے گروہ میں سے) ہر ایک کے درجات ہیں اور جو کچھ وہ لوگ کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس سے بے خبر نہیں ہے ۔(۱)

انسان کے اختیاری تکامل وتنزل کاایک وسیع میدان ہے؛ایک طرف تو فرشتوں سے بالا تر وہ مقام جسے قرب الہٰی اورجوار رحمت حق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ مقام جو حیوانات و جمادات سے پست ہے اور ان دونوں کے درمیان دوزخ کے بہت سے طبقات اور بہشت کے بہت سے درجات ہیںکہ جن میں انسان اپنی بلندی و پستی کے مطابق ان درجات وطبقات میں جائے گا۔

ایمان ومقام قرب کا رابطہ

ایمان وہ تنہا شیٔ ہے جو خدا کی طرف صعود کرتی ہے اور اچھا ونیک عمل ایمان کو بلندی عطا کرتا ہے:

( إِلَیهِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ العَمَلُ الصَّالِحُ یَرفَعُهُ ) (۲)

اس کی بارگاہ تک اچھی باتیں پہونچتی ہیں اور اچھے کام کو وہ خوب بلند فرماتا ہے ۔

انسان مومن بھی اپنے ایمان ہی کے مطابق خدا وند عالم سے قریب ہے.اس لئے جس قدر انسان کا ایمان کامل ہوگااتناہی اس کا تقرب زیادہ ہوگا.(۳) اور کامل ایمان والے کی حقیقی توحیدیہ ہے کہ قرب الہٰی کے سب سے آخری مرتبہ پر فائز ہواور اس سے نیچا مرتبہ شرک و نفاق سے ملاہوا ہے جو تقرب

____________________

(۱)سورہ انعام۱۳۲۔

(۲)سورہ فاطر۱۰۔

(۳)مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو: محمد تقی مصباح ؛ خود شناسی برای خودسازی۔


کے مراتب میں شرک اورنفاق خفی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے نیچے کا درجہ جو مقام قرب کے ماسواء ہے شرک اور نفاق جلی کا ہے اور کہا جا چکا ہے کہ یہ شرک ونفاق صاحب عمل وفعل کی نیت سے مربوط ہیں پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :

''نیّة الشرک فی أمتی أخفی من دبیب النملة السودائِ علیٰ صخرة الصّاً فی اللیلة الظلمائ'' (۱)

میری امت کے درمیان نیت ِشرک، تاریک شب میں سیاہ سنگ پر سیاہ چیونٹیوں کی حرکت سے زیادہ مخفی ہے ۔(۱)

____________________

(۱)طوسی ، خواجہ نصیر الدین ؛ اوصاف الاشراف ۔


خلاصہ فصل

۱۔ انسان کی تمام جستجو وتلاش کمالات کو حاصل کرنے اور سعادت کو پانے کے لئے ہے۔

۲۔ وہ مادی مکاتب جو معنوی اور غیر فطری امور کے منکرہیںدنیاوی فکر رکھتے ہیں نیز کمال وسعادت اور اس کے راہ حصول کے معانی ومفاہیم کو مادی امور میں منحصر جانتے ہیں.

۳۔ہرموجودکا کمال منجملہ انسان، اس کے اندر موجودہ صلاحیتوں کا فعلیت پانا نیز اس کا ظاہر وآشکار ہوناہے

۴۔ قرآن مجید انسان کے کمال نہائی کو فوز(کامیابی)فلاح(نجات)اور سعادت (خوشبختی ) جیسے کلمات سے تعبیرکرتا ہے.اور کمال نہائی کے مصداق کو قرب الٰہی بتاتاہے

۵۔ اچھے لوگوں کے لئے مقام قرب الہی ایمان کے ساتھ ساتھتقویٰ اور شائستہ اختیاری عمل ہی کے ذریعہ ممکن ہے.

۶۔ قرب الہی جس انسان کا کمال نہائی اور مقصود ہے خود اپنے اندر درجات کا حامل ہے حتی کہ انسان کا سب سے چھوٹا اختیاری عمل اگر ضروری شرائط کے ہمراہ ہو تو انسان کو ایک حد تک خدا سے قریب کردیتا ہے.اس لئے اپنے اعمال کی کیفیت ومقدار کی بنیاد پر لوگوں کے مختلف درجات ہوتے ہیں .جس قدر انسان کا ایمان کامل ہوگا اسی اعتبار سے اس کا تقرب الہی زیادہ ہوگا اور ایمان کامل اورتوحید خالص، قرب الہی کے آخری مرتبہ سے مربوط ہے۔


تمرین

۱۔صاحب کمال ہونے اور کمال سے لذت اندوز ہونے کے درمیان کیا فرق ہے ؟

۲۔ انسان کی انسانیت اور اس کی حیوانیت کے درمیان کون سا رابطہ برقرار ہے؟

۳۔کمال نہائی کے حاصل ہونے کا راستہ کیا ہے؟

۴۔آیات وروایات کی زبان میں اعمال نیک کو عمل صالح کیوں کہا گیا ہے؟

۵۔ اسلام کی نظر میں انسان کامل کی خصوصیات کیا ہیں؟

۶۔اگرہرعمل کااعتبار نیت سے وابستہ ہے تو اس شخص کے اعمال جو دینی واجبات کو خلوص نیت کے ساتھ لیکن غلط انجام دیتا ہے کیوں قبول نہیں کیا جاتا ہے؟


مزید مطالعہ کے لئے

۔ آذر بائجانی ، مسعود (۱۳۷۵) ''انسان کامل از دیدگاہ اسلام و روان شناسی '' مجلۂ حوزہ و دانشگاہ ، سال نہم ، شمارہ پیاپی۔

۔بدوی ، عبد الرحمٰن (۱۳۷۶) الانسان الکامل فی الاسلام ؛ کویت : وکالة المطبوعات ۔

۔جبلی ، عبد الکریم ؛ ( ۱۳۲۸)الانسان الکامل فی معرفة الاوایل و الاواخر؛ قاہرہ : المطبعة الازہریة المصریة ۔

۔جوادی آملی ، عبد اللہ (۱۳۷۲) تفسیر موضوعی قرآن ، ج۶، تہران : رجائ۔

۔حسن زادہ آملی ، حسن (۱۳۷۲) انسان کامل از دیدگاہ نہج البلاغہ ؛ قم : قیام ۔

۔زیادہ ، معن ، (۱۳۸۶)الموسوعة الفلسفیة العربیة ؛ بیروت : معھد الانماء العربی ۔

۔ سادات ، محمد علی ، (۱۳۶۴)اخلاق اسلامی ، تہران : سمت۔

۔سبحانی ، جعفر (۱۳۷۱) سیمای انسان کامل در قرآن ؛ قم : دفتر تبلیغات اسلامی ۔

۔شولٹس ، ڈوال ( بی تا) روان شناسی کمال ؛ ترجمہ ، گیتی خوشدل ، تہران : نشر نو ۔

۔محمد تقی مصباح ( بی تا) خود شناسی برای خود سازی ؛ قم : موسسہ در راہ حق ۔

۔ مطہری ، مرتضی ( ۱۳۷۱) انسان کامل ؛ تہران : صدرا۔

۔نصری ، عبد اللہ؛ سیمای انسان کامل از دیدگاہ مکاتب ؛ تہران : انتشارات دانشگاہ علامہ طباطبائی۔


ملحقات

ناٹالی ٹربوویک، انسان کے نہائی ہدف اور اس کے راہ حصول کے سلسلہ میں علماء علوم تجربی کے نظریات کو جو کہ صرف دنیاوی نقطہ نگاہ سے ہیں اس طرح بیان کرتا ہے۔

مغربی انسان شناسی کے اعتبار سے کمال نہائی

انسان کو بہتر مستقبل بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیئے ؟انسان کی ترقی کے آخری اہداف کیا ہیں ؟ فرایڈ کے ماننے والے کہتے ہیں : انسان کا مستقبل تاریک ہے ، انسان کی خود پسند فطرت اس کے مشکلات کی جڑ ہے اور اس فطرت کی موجودہ جڑ وں کو پہچاننا اور اس کی اصلاح کرنا راہ تکامل(۱) کے بغیر دشوار نظر آتا ہے، فرایڈ کا دعویٰ ہے کہ زندگی کے نیک تقاضوں کو پورا کرنا ( جیسے جنسی مسائل) اور برے تقاضوں کو کمزور بنانا ( جیسے لڑائی جھگڑے وغیرہ ) شاید انسان کی مدد کرسکتا ہے جب کہ فرایڈ خود ان اصول پر عمل پیرا نہیں تھا ۔

ڈاکٹر فرایڈ کے نئے ماننے والے (مارکس، فروم ):انسان کی خطائیں معاشرے کے منفی آثار کا سر چشمہ ہیں لہٰذا اگر سماج اور معاشرہ کو اس طرح بدل دیا جائے کہ انسان کا قوی پہلو مضبوط اور ضعیف پہلو نابود ہوجائے تو انسان کی قسمت بہتر ہو سکتی ہے ، انسان کی پیشرفت کا آخری مقصد ایسے معاشرے کی ایجاد ہے جو تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ نیک کاموں کو انجام دینے کے لئے اپنی قابلیت کا مظاہرہ کریں ۔

مارکسیزم مذہب کے پیروی کرنے والے ( مارکس ، فروم ) : جن کا مقصدایسے اجتماعی شوسیالیزم کا وجود میں لانا تھا جس میں معاشرے کے تمام افراد ، ایجادات اور محصولات میں شریک

____________________

(۱) Evolution


ہوں، جب کہ انسان کی مشکلوں کے لئے راہ حل اور آخری ہدف اس کی ترقی ہے، معاشرے کے افراد اس وقت اپنے آپ کو سب سے زیادہ خوشنود پائیں گے جب سب کے سب اجتماعی طور پر اہداف کو پانے کے لئے ایک دوسرے کے مددگار ہوں ۔

فعالیت اور کردار کو محور قرار دینے والے افراد مثلا ا سکینر کا کہنا ہے: انسان کی ترقی کا آخری ہدف ، نوع بشر کی بقاء ہے اور جو چیز بھی اس ہدف میں مددگار ہوتی ہے وہ مطلوب و بہتر ہے ۔ اس بقا کے لئے ماحول بنانا ، بنیادی اصول میں سے ہے ، اوروہ ماحول جو تقاضے کے تحت بنائے جاتے ہیں وہ معاشرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں نیز اس میں بقاکا احتمال زیادہ رہتا ہے (جیسے زندگی کی بہتری ، صلح ، معاشرہ پر کنٹرول وغیرہ )

نظریہ تجربیات کے حامی ( ہابز) کا کہنا ہے : انسان کے رفتار و کردار کو کنٹرول اور پیشن گوئی کے لئے تجربیات سے استفادہ کرنا اس کی ترقی کی راہ میں بہترین معاون ہے ۔

سود خوری کرنے والے ( بنٹام ، میل ) کا کہنا ہے : معاشرے کوچاہیئے کہ افراد کے اعمال و رفتار کو کنٹرول کرے اس طرح کہ سب سے زیادہ فائدہ عوام کی کثیر تعداد کو ملے ۔

انسان محوری کا عقیدہ رکھنے والے ( مازلو، روجر ) :مازلو کے مطابق ہر شخص میں ایک فطری خواہش ہے جو اس کو کامیابی و کامرانی کی طرف رہنمائی کرتی ہے لیکن یہ اندرونی قوت اتنی نازک و لطیف ہے جو متعارض ماحول کے دباؤسے بڑی سادگی سے متروک یا اس سے پہلو تہی کرلیتی ہے ۔ اسی بنا پر انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کلید، معاشرے کو پہچاننے اور پوشیدہ قوتوں کی ہلکی جھلک، انسان کی تشویق میں مضمر ہے ۔


روجر کا کہنا ہے :جملہ افراد دوسروں کی بے قید و شرط تائید کے محتاج ہیں تاکہ خود کو ایک فرد کے عنوان سے قبول کریں اور اس کے بعد اپنی انتہائی صلاحیت کے مطابق ترقی و پیش رفت کریں ، اسی لئے تائید کی میزان ِ افزائش انسان کی وضعیت کے بہتر بنانے کی کلید ہے اور ہر انسان کی اپنی شخصیت سازی ہی اس کی ترقی کا ہدف ہے ۔

انسان گرائی کا عقیدہ رکھنے والے ( می، فرینکل )کے مطابق :

می:کا کہنا ہے کہ دور حاضر کے انسان کو جاننا چاہیئے کہ جب تک وہ صاحب ارادہ ہے اپنے اعمال کے لئے مواقع کی شناخت کرناچاہیئے اوراپنے حسِ ارادہ کو حاصل کرکے اپنی وضعیت بہتر بنانی چاہیئے ۔

فرینکل کہتا ہے کہ : ہروہ انسان جو کسی چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے یا کسی کے واسطے زندگی گذارنا چاہتا ہے ،اس کو چاہیئے کہ وہ اس کی حیات کو اہمیت دے ۔ یہ معنی اور نظریہ ہر ارادہ کرنے والے کو ایک مبنیٰ فراہم کراتا ہے اور انسان کو مایوسی اور تنہائی سے نجات دلاتا ہے ۔

خدا کا یقین رکھنے والے( ببر ، ٹلیچ ، فورنیر) :کا کہنا ہے کہ ہمارا خدا اور اس کے بندے سے دوگانہ رابطہ ہمارے آزادانہ افعال کے لئے ہدایت کا سر چشمہ ہے اور انسانی ترقی کا پیش خیمہ ہے ۔


دسویں فصل :

دنیا وآخرت کا رابطہ

اس فصل کے مطالعہ کے بعد آپ کی معلومات :

۱۔ قرآن مجید میں کلمہ دنیا وآخرت کے استعمالات میں سے تیں موارد بیان کریں؟

۲۔دنیا وآخرت کے باری میں مختلف نظریات کی تجزیہ وتحلیل کریں؟

۳۔ رابطہ دنیا وآخرت کے مہم نکات کو ذکر کریں؟

۴۔ آخرت میں دنیاوی حالت سے مربوط افراد کے چار دستوں کانام ذکر کریں؟


گذشتہ فصلوں میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ انسان مادی اور حیوانی حصہ میں منحصر نہیں ہے اور نہ ہی اس کی دنیا اس کی دنیاوی زندگی میں منحصر ہے.انسان ایک دائمی مخلوق ہے جو اپنے اختیاری تلاش سے اپنی دائمی سعادت یا بد بختی کے اسباب فراہم کرتی ہے اوروہ سعادت وبد بختی محدود دنیا میں سمانے کی ظرفیت نہیں رکھتی ہے. دنیا ایک مزرعہ کی طرح ہے جس میں انسان جو کچھ بو تا ہے عالم آخرت میں وہی حاصل کرتاہے اس فصل میں ہم کوشش کریں گے کہ ان دو عالم کا رابطہ اور دنیا میں انسان کی جستجو کا کردار ، آخرت میں اس کی سعادت وبد بختی کی نسبت کو واضح کریں ،ہم قرآن مجید کی آیتوں کی روشنی میں اس رابطہ کے غلط مفہوم ومصادیق کومشخص اورجدا کرتے ہوئے اس کی صحیح وواضح تصویر آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

قرآن مجید میں کلمہ ٔدنیا کے مختلف استعمالات

چونکہ قرآن مجید میں لفظ دنیا وآخرت کا مختلف ومتعدد استعمال ہوا ہے.لہٰذا ہم دنیا وآخرت کے رابطے کو بیان کرنے سے پہلے ان لفظوںکے مراد کو واضح کرنا چاہتے ہیں.قرآن میں دنیا وآخرت سے مراد کبھی انسان کی زندگی کا ظرف ہے جیسے( فَأُولٰئِکَ حَبِطَت أَعمَالُهُم فِی الدُّنیَا وَ الآخِرَةِ ) (۱) ان لوگوں (مرتد افراد)کا انجام دیا ہوا سب کچھ دنیا و آخرت میں اکارت ہے ۔

____________________

(۱)بقرہ ۲۱۷۔


ان دو لفظوںکے دوسرے استعمال میں دنیا وآخرت کی نعمتوں کا ارادہ ہواہے.جیسے( بَل تُؤثِرُونَ الحَیَاةَ الدُّنیَا ٭ وَ الآخِرَةُ خَیر وَ أَبقَیٰ ) (۱) مگر تم لوگ تو دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور دیر پا ہے ۔

ان دولفظوں کا تیسرا استعمال کہ جس سے مراد دنیاوآخرت میں انسان کا طریقۂ زندگی ہے، اور جو چیز اس بحث میں ملحوظ ہے وہ ان دو لفظوں کا دوسرا اور تیسرا استعمال ہے یعنی اس بحث میں ہم یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں کہ طریقۂ رفتار وکردارنیز اس دنیا میں زندگی گذارنے کی کیفیت کاآخرت کی زندگی اور کیفیت سے کیا رابطہ ہے۔؟

اس سلسلہ میں تجزیہ وتحلیل کرنا اس جہت سے ضروری ہے کہ موت کے بعد کے عالم پر صرف اعتقاد رکھنا ہمارے اس دنیا میں اختیاری کردارورفتار پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ اسی وقت فائدہ مند ہے جب دنیا میں انسان کی رفتار وکردار اور اس کے طریقۂ زندگی اور آخرت میں اس کی زندگی کی کیفیت کے درمیان ایک مخصوص رابطہ کے معتقد ہوں .مثال کے طور پر اگر کوئی معتقد ہو کہ انسان کی زندگی کا ایک مرحلہ دنیا میں ہے جو موت کے آجانے کے بعد ختم ہوجاتا ہے اور آخرت میں زندگی کا دوسرا مرحلہ ہے جو اس کی دنیاوی زندگی سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا ہے تو صرف اس جدید حیات کا عقیدہ اس کے رفتار وکردار پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے ان مراحل کے درمیان کوئی رابطہ ہے یا نہیں ہے؟ اور اگر ہے تو کس طرح کا رابطہ ہے؟

دنیا و آخرت کے روابط کے بارے میں پائے جانے والے نظریات کا تجزیہ

ان لوگوں کے نظریہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے جو آخرت کی زندگی کو مادی زندگی کا دوسرا حصہ سمجھتے ہیں اسی لئے وہ اپنے مرنے والوں کے قبروں میں مادی امکانات مثال کے طور پر کھانا

____________________

(۱)سورہ اعلی ۱۶ و ۱۷ ۔


اور دوسرے اسباب زینت رکھنے کے قائل ہیں،تاریخ انسانیت میں دنیا وآخرت کے درمیان تین طرح کے رابطے انسانوں کی طرف سے بیان ہوئے ہیں.

پہلا نظریہ یہ ہے کہ انسا ن اور دنیا وآخرت کے درمیان ایک مثبت اور مستقیم رابطہ ہے جو لوگ دنیا میں اچھی زندگی سے آراستہ ہیںوہ آخرت میں بھی اچھی زندگی سے ہم کنار ہوں گے ۔قرآن مجید اس سلسلہ میں فرماتاہے :

( وَ دَخَلَ جَنَّتَهُ وَ هُوَ ظَالِم لِّنَفسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِیدَ هٰذِهِ أَبَداً٭وَ مَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَ لَئِن رُّدِدتُّ لَیٰ رَبِّی لَأَجِدَنَّ خَیراً مِنهَا مُنقَلَباً )

وہ کہ جس نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا تھا جب اپنے باغ میں داخل ہوا تو یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے تو اس کا گمان بھی نہیں تھا کہ کبھی یہ باغ اجڑ جائے گا اور میں تو یہ بھی خیال نہیں کرتا تھاکہ قیامت برپاہوگی اور جب میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جاؤں گا تو یقینا اس سے کہیں اچھی جگہ پاؤں گا ۔(۱)

سورہ فصلت کی ۵۰ویں آیہ میں بھی ہم پڑھتے ہیں :

( وَ لَئِن أَذَقنَاهُ رَحمَةً مِنَّا مِن بَعدِ ضَرَّائَ مَسَّتهُ لَیَقُولَنَّ هٰذَا لِی وَ مَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَ لَئِن رُّجِعتُ ِلَیٰ رَبِّی ِنَّ لِی عِندَهُ لَلحُسنَیٰ )

اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہونچ جانے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو یقینی کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ہی ہے اور میں نہیں خیال کرتا کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف پلٹایا بھی جاؤں تو بھی میرے لئییقینا اس کے یہاں بھلائی ہے ۔

____________________

(۱)سورہ کہف ۳۵و۳۶۔


بعض لوگوں نے بھی اس آیہ شریفہ( و َمَن کَانَ فِی هٰذِهِ أَعمَیٰ فَهُوَ فِی الآخِرَةِ أَعمَیٰ وَ أَضَلُّ سَبِیلاً ) ''اور جو شخص اس دنیامیں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اور راہ راست سے بھٹکا ہوا ہوگا''(۱) کو دلیل بنا کر کہا ہے کہ: قرآن نے بھی اس مستقیم ومثبت رابطہ کو صحیح قرار دیا ہے کہ جو انسان اس دنیا میں اپنی دنیاوی زندگی کے لئے تلاش نہیںکرتا ہے اور مادی نعمتوں کو حاصل نہیں کرپاتا ہے وہ آخرت میں بھی آخرت کی نعمتوںسے محروم رہے گا.

بعض لوگوں نے اس رابطے کے برعکس نظریہ ذکر کیا ہے ان لوگوںکاکہنا ہے کہ ہر قسم کی اس دنیا میں لطف اندوزی اور عیش پرستی، آخرت میں غم واندوہ کا باعث ہے اور اس دنیا میں ہر طرح کی محرومیت،آخرت میں آسودگی اور خوشبختی کاپیش خیمہ ہے،یہ لوگ شاید یہ خیال کرتے ہیںکہ ہم دو زندگی اور ایک روزی و نعمت کے مالک ہیں اور اگر اس دنیا میں اس سے بہرہ مند ہوئے تو آخرت میں محروم ہوں گے اور اگریہاں محروم رہے تو اس دنیا میں حاصل کرلیں گے۔

یہ نظریہ بعض معاد کا اعتقاد رکھنے والوں کی طرف سے مورد تائید ہے اور وہ اس آیہ سے استدلال کرتے ہیں:

( أَذهَبتُم طَیِّبَاتِکُم فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنیَا وَ استَمتَعتُم بِهَا فَالیَومَ تُجزَونَ عَذَابَ الهُونِ ) (۲)

تم تو اپنی دنیا کی زندگی میں خوب مزے اڑا چکے اور اس میں خوب چین کر چکے تو آج (قیامت کے روز) تم پر ذلت کا عذاب کیا جائے گا ۔

دو نوں مذکورہ نظریہ قرآن سے سازگار نہیں ہے اسی لئے قرآن مجید نے سینکڑوں آیات میں اس مسئلہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

____________________

(۱)سورہ اسرائ۷۲۔

(۲)سورہ احقاق ۲۰۔


پہلے نظریہ کے غلط اور باطل ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ قرآن نے ایسے لوگوں کو یاد کیا ہے جو دنیا میں فراوانی نعمت سے ہمکنار تھے لیکن کافر ہونے کی وجہ سے اہل جہنم اور عذاب الہی سے دوچار ہیں. جیسے ولید بن مغیرہ ،ثروت مند اور عرب کا چالاک نیز پیغمبر اکرم کے سب سے بڑے دشمنون میں سے تھا اوریہ آیہ اس کے لئے نازل ہوئی ہے.

( ذَرنِی وَ مَن خَلَقتُ وَحِیداً٭وَ جَعَلتُ لَهُ مَالاً مَمدُوداً٭وَ بَنِینَ شُهُوداً٭وَ مَهَّدتُّ لَهُ تَمهِیداً٭ثُمَّ یَطمَعُ أَن أَزِیدَ ٭ کَلاّ ِنَّهُ کَانَ لِآیَاتِنَا عَنِیداً٭ سَأُرهِقُهُ صَعُوداً ) (۱)

مجھے اس شخص کے ساتھ چھوڑ دو کہ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا اور اسے بہت سا مال دیا اور نظر کے سامنے رہنے والے بیٹے اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی پھر اس پر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اور بڑھاؤں یہ ہرگز نہ ہوگا یہ تو میری آیتوں کا دشمن تھا تو میں عنقریب اسے سخت عذاب میں مبتلا کروں گا ۔

قارون کی دولت اور اس کی بے انتہا ثروت ، دنیاوی سزا میں گرفتارہونا اور اس کی آخرت کی بد بختی بھی ایک دوسرا واضح نمونہ ہے جو سورہ قصص کی ۷۶ویں آیہ اور سورہ عنکبوت کی ۳۹ویں آیہ میں مذکور ہے.دوسری طرف قرآن مجید صالح لوگوں کے بارے گفتگو کر تا ہے جو دنیا میں وقار وعزت اور نعمتوں سے محروم تھے لیکن عالم آخرت میں ،جنت میں ہیںجیسیصدر اسلام کے مسلمین جن کی توصیف میں فرماتاہے :

( لِلفُقَرَائِ المُهَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخرِجُوا مِن دِیَارِهِم وَ أَموَالِهِم یَبتَغُونَ فَضلاً مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضوَاناً وَ یَنصُرُونَ اللّٰهَ وَ رَسُولَهُ أُولٰئِکَ هُمُ )

____________________

(۱)سورہ مدثر ۱۱تا۱۷۔


( الصَّادِقُونَ٭...فَأُولٰئِکَ هُمُ المُفلِحُونَ ) (۱)

ان مفلس مہاجروں کا حصہ ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے خدا کے فضل و خوشنودی کے طلبگار ہیں اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ سچے ایماندار ہیں ...تو ایسے ہی لوگ اپنی دلی مرادیں پائیں گے ۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ آخرت میں شقاوت وسعادت کا معیار ایمان اور عمل صالح نیز کفر اور غیر شائستہ اعمال ہیں، دنیاوی شان و شوکت اور اموال سے مزین ہونا اور نہ ہونانہیں ہے۔

( وَ مَن أَعرَضَ عَن ذِکرِی فَِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنکاً وَ نَحشُرُهُ یَومَ القِیَامَةِ أعمَیٰ ٭ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرتَنِی أَعمَیٰ وَ قَد کُنتُ بَصِیراً ٭ قَالَ کَذٰلِکَ أَتَتکَ آیاتُنَا فَنَسِیتَهَا وَ کَذٰلِکَ الیَومَ تُنسَیٰ ) (۲)

جو بھی میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کے لئے سخت و ناگوار زندگی کا سامنا ہے اور اس کو ہم قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے ، تب وہ کہے گا الٰہی میں تو آنکھ والا تھا تونے مجھے اندھا کیوں اٹھایا خدا فرمائے گاجس طرح سے ہماری آیتیں تمہارے پاس پہونچیں تو تم نے انھیں بھلادیااور اسی طرح آج ہم نے تمہیں بھلا دیا ہے ۔

یہ آیہ دلالت کرتی ہے کہ نامطلوب دنیاوی زندگی اگر کفر وگناہ کے زیر اثر ہو تو ہوسکتا ہے کہ آخرت کی بد بختی کے ہمراہ ہو. لیکن بری زندگی خود معلول ہے علت نہیں ہے جو گناہ و کفراور مطلوبہ نتائج (ایک دنیاوی امر دوسرا اخروی )کاحامل ہے،دوسرے نظریہ کے بطلان پر بھی بہت سی آیتیں دلالت کرتی ہیں جیسے:

( قُل مَن حَرَّمَ زِینَةَ اللّٰهِ الَّتِی أَخرَجَ لِعِبَادِهِ وَ الطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزقِ قُل هِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الحَیَاةِ الدُّنیَا خَالِصَةً یَومَ القِیامَةِ )

____________________

(۱)سورہ حشر ۸و۹۔ (۲) طہ۱۲۴تا۱۲۶۔


(اے پیامبر کہدو) کہ جو زینت اور کھانے کی صاف ستھری چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے واسطہ پیدا کی ہیں کس نے حرام قرار دیں تم خود کہدوکہ سب پاکیزہ چیزیں قیامت کے دن ان لوگوں کے لئے ہیں جو زندگی میں ایمان لائے ۔(۱)

حضرت سلیمان جن کو قرآن مجید نے صالح اور خدا کے مقرب بندوں میں شمار کیا ہے اورجو دنیاوی عظیم امکانات کے حامل تھے اس کے باوجود ان امکانات نے ان کی اخروی سعادت کو کوئی نقصان نہیں پہونچایا ہے۔

آیہ( أَذهَبتُم طَیِّبَاتکُم ) بھی ان کافروں سے مربوط ہے جنہوں نے دنیا وی عیش و آرام کو کفر اور انکار خدا نیز سرکشی اور عصیان کے بدلے میں خریدا ہے جیسا کہ ابتداء آیہ میں وارد ہوا ہے:( وَقِیلَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا... ) جن آیات میں ایمان اورعمل صالح اوراخروی سعادت کے درمیان نیزکفر وگناہ اوراخروی بد بختی کے درمیان رابطہ اتنا زیادہ ہے کہ جس کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے اور یہ مطلب مسلم بھی ہے بلکہ اسلام وقرآن کی ضروریات میں سے ہے۔

رابطۂ دنیا وآخرت کی حقیقت

ایمان اورعمل صالح کا اخروی سعادت سے رابطہ اور کفر وگناہ کا اخروی شقاوت سے لگاؤایک طرح سے صرف اعتباری رابطہ نہیں ہے جسے دوسرے اعتبارات کے ذریعہ تبدیل کیا جاسکتا ہو اور ان کے درمیان کوئی تکوینی و حقیقی رابطہ نہ ہو اور ان آیات میں وضعی واعتباری روابط پر دلالت کرنے والی تعبیروں سے مراد، رابطہ کا وضعی واعتباری ہونا نہیں ہے بلکہ یہ تعبیریں انسانوں کی تفہیم اور تقریب ذہن کے لئے استعمال ہوئی ہیں جیسے تجارت(۲) ، خرید وفروش(۳) سزا(۴) جزا(۵) اور اس کے مثل ، بہت سی آیات کے قرائن سے معلوم ہوتا ہے جو بیان کرتی ہیں کہ انسان نے جو کچھ

____________________

(۱)سورہ اعراف ۳۲۔

(۲) (یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا هَل أَدُلُّکُم عَلَیٰ تِجَارَةٍ تُنجِیکُم مِّن عَذَابٍ أَلِیمٍ )(صف ۱۰ )

( اے صاحبان ایمان! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتادوں جو تم کو درد ناک عذاب سے نجات دے ) (۳)(إنَّ اللّهَ اشتَرَیٰ مِنَ المُؤمِنِینَ أَنفُسَهُم وَ أَموَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ )(توبہ ۱۱۱) (اس میں تو شک ہی نہیں کہ خدا نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات پر خرید لئے ہیں کہ ان کے لئے بہشت ہے )

(۴)(وَ ذٰلِکَ جَزَائُ مَن تَزَکَّیٰ )(طہ۷۶)(اور جس نے اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ رکھا اس کا یہی (جنت)صلہ ہے )

(۵)(فَنِعمَ أَجرُ العَامِلِینَ )(زمر۷۴) (جنہوں نے راہ خدا میں سعی و کوشش کی ان کے لئے کیاخوب مزدوری ہے )


بھی انجام دیا ہے وہ دیکھے گا اور اس کی جزا وہی عمل ہے.

اچھے لوگوں کی جزا کاان کے اچھے کاموںسے رابطہ بھی صرف فضل ورحمت کی بنا پر نہیں ہے کہ جس میں ان کے نیک عمل کی شائستگی اور استحقاق ثواب کا لحاظ نہ کیا گیا ہو کیونکہ اگر ایسا ہوگا تو عدل وانصاف ، اپنے اعمال کے مشاہدہ اور یہ کہ عمل کے مطابق ہی ہر انسان کی جزا ہے جیسی آیات سے قطعاً سازگار نہیں ہے ۔

مذکورہ رابطہ کو ایک انرجی کا مادہ میں تبدیل ہونے کی طرح سمجھنا صحیح نہیں ہے اور موجودہ انرجی اور آخرت کی نعمتوںکے درمیان مناسبت کا نہ ہونااور ایک انرجی کا اچھے اور برے فعل میں استعمال کا امکان نیز وہ بنیادی کردار جو آیات میں عمل ونیت کے اچھے اور برے ہونے سے دیاگیا ہے اس نظریہ کے باطل ہونے کی دلیل ہے.

گذشتہ مطالب کی روشنی میں ایمان وعمل صالح کا سعادت اور کفر وگناہ کا اخروی بد بختی سے ایک حقیقی رابطہ ہے اس طرح کہ آخرت میں انسان کے اعمالملکوتی شکل میں ظاہر ہوںگے اور وہی ملکوتی وجود، آخرت کی جزا اور سزا نیز عین عمل قرار پائے گا۔

منجملہ وہ آیات جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

( وَ مَا تُقَدِّمُوا لِأنفُسِکُم مِن خَیرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّٰهِ ) (۱)

اور جو کچھ بھلائی اپنے لئے پہلے سے بھیج دوگے اس کو موجود پاؤ گے۔

( یَومَ تَجِدُ کُلُّ نَفسٍ مَّا عَمِلَت مِن خَیرٍ مُّحضَراً وَ مَا عَمِلَت مِنٍ

) ____________________

(۱)سورہ بقرہ۱۱۰ ۔


سُوء تَوَدُّ لَو أَنَّ بَینَهَا وَ بَینَهُ أَمَداً بَعِیداً) (۱)

اس دن ہر شخص جو کچھ اس نے نیکی کی ہے اور جو کچھ برائی کی ہے اس کو موجود پائے گا آرزو کرے گا کہ کاش اس کی بدی اور اس کے درمیان میں زمانہ دراز ہوجاتا

( فَمَن یَعمَل مِثقَالَ ذَرَّةٍ خَیراً یَرَهُ٭وَ مَن یَعمَل مِثقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ )

جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہے اسے بھی دیکھ لے گا ۔(۲)

( إِنَّمَا تُجزَونَ مَا کُنتُم تَعمَلُونَ ) (۳)

بس تم کو انھیں کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے ۔

( إِنَّ الَّذِینَ یَأکُلُونَ أَموَالَ الیَتَامَیٰ ظُلماً ِنَّمَا یَأکُلُونَ فِی بُطُونِهِم نَاراً )

بے شک جو لوگ یتیم کے اموال کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے شکم میں آگ کھارہے ہیں۔(۴)

دنیا اور آخرت کے رابطہ میں دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ آخرت کی زندگی میں لوگ فقط اپنا نتیجۂ اعمال دیکھیںگے اور کوئی کسی کے نتائج اعمال سے سوء استفادہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کسی کے برے اعمال کی سزا قبول کر سکے گا۔

( أَلا تَزِرُ وَازِرَة وِزرَ أُخرَیٰ وَ أَن لَّیسَ لِلِإنسَانِ ِلا مَا سَعَیٰ )

کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔(۵)

دوسرا نکتہ یہ ہے کے آخرت میں لوگ اپنی دنیاوی حالت کے اعتبار سے چار گروہ میں تقسیم ہونگے

____________________

(۱)سورہ آل عمران ۳۰۔

(۲)سورہ زلزال ۷،۸۔

(۳)طور ۱۶ ۔

(۴)سورہ نساء ۱۰ ۔

(۵)سورہ نجم ۳۸،۳۹۔


الف)وہ لوگ جو دنیا وآخرت کی نعمتوں سے فیض یاب ہیں۔

( وآتَینَاهُ أَجرَهُ فِی الدُّنیَا وَ ِنَّهُ فِی الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِینَ )

اور ہم نے ابراہیم کو دنیا میں بھی اچھا بدلہ عطا کیا اور وہ تو آخرت میں بھی یقینی نیکو کاروںمیں سے ہیں۔(۱)

ب)وہ لوگ جودنیا وآخرت میں محروم ہیں۔

( خَسِرَ الدُّنیَا وَ الآخِرَةَ ذٰلِکَ هُوَ الخُسرَانُ المُبِینُ )

اس نے دنیا و آخرت میں گھاٹا اٹھایا صریحی گھاٹا۔(۲)

ج)وہ لوگ جو دنیا میں محروم اور آخرت میں بہرہ مند ہیں.

د) وہ لوگ جو آخرت میں محروم اور دنیا میں بہرہ مندہیں.

آخری دو گروہ کے نمونے بحث کے دوران گذرچکے ہیں ۔ دنیا وآخرت کے رابطے (ایمان وعمل صالح ہمراہ سعادت اور کفر وگناہ ہمراہ شقاوت )میں آخری نکتہ یہ ہے کہ قرآنی نظریہ کے مطابق انسان کاایمان اورعمل صالح اس کے گذشتہ آثار کفر کو ختم کردیتا ہے اور عمر کے آخری حصہ میں کفر اختیار کرناگذشتہ ایمان وعمل صالح کو برباد کردیتا ہے۔( کہ جس کو حبط عمل سے تعبیر کیا گیا ہے )

( وَ مَن یُؤمِن بِاللّٰهِ وَ یَعمَل صَالِحاً یُکَفِّر عَنهُ سَیِّئَاتِهِ ) ۔(۳)

اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اور عمل صالح انجام دیتا ہے وہ اپنی برائیوںکو محو کردیتا ہے

( وَ مَن یَرتَدِد مِنکُم عَن دِینِهِ فَیَمُت وَ هُوَ کَافِر فَأُولٰئِکَ حَبِطَت أَعمَالُهُم فِی الدُّنیَا وَ الآخِرَةِ ) (۴)

____________________

(۱)سورہ عنکبوت ۲۷۔

(۲)سورہ حج ۱۱۔

(۳)سورہ تغابن ۹۔

(۴)سورہ بقرہ ۲۱۷۔


اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرگیا اور کفر کی حالت میں دنیا سے گیا ،

اس نے اپنے دنیا و آخرت کے تمام اعمال برباد کردیئے ۔

دوسری طرف اگر چہ اچھا یابرا کام دوسرے اچھے یابرے فعل کے اثر کو ختم نہیں کرتاہے .لیکن بعض اچھے افعال ،بعض برے افعال کے اثر کو ختم کردیتے ہیں اور بعض برے افعال بعض اچھے افعال کے آثار کو ختم کردیتے ہیں مثال کے طور پر احسان جتانا، نقصان پہونچانا، مالی انفاق(صدقات) کے اثر کو ختم کردیتا ہے.

( لا تُبطِلُوا صَدَقَاتِکُم بِالمَنِّ وَ الأذَیٰ ) (۱)

اپنی خیرات کو احسان جتانے اور ایذا دینے کی وجہ سے اکارت نہ کرو۔

اور صبح وشام اور کچھ رات گئے نماز قائم کرنا بعض برے افعال کے آثار کو ختم کردیتا ہے قرآن مجید فرماتاہے:

( وَ أَقِمِ الصَّلَٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفاً مِّنَ اللَّیلِ إنَّ الحَسَنَاتِ یُذهِبنَ السَّیِّئَاتِ )

دن کے دونوں طرف اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کروکیونکہ نیکیاں بیشک گناہوں کو دور کریتی ہیں۔(۲)

شفاعت بھی ایک علت وسبب ہے جو انسان کے حقیقی کمال وسعادت کے حصول میں موثر ہے.(۳)

____________________

(۱)سورہ بقرہ ۲۶۴۔

(۲)ھود۱۱۴۔

(۳) قرآن مجید کی آیات میں ایمان اور عمل صالح ، ایمان اور تقویٰ، ہجرت اور اذیتوں کا برداشت کرنا، جہادنیز کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا ، پوشیدہ طور پر صدقہ دینا ، احسان کرنا ، توبۂ نصوح اور نماز کے لئے دن کے ابتدا اور آخر میں نیزرات گئے قیام کرنا منجملہ ان امور میں سے ہیں جن کو بعض گناہوں کے آثار کو محو کرنے کی علت کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو: محمد ۲؛مائدہ ۱۲؛ عنکبوت ۷؛ مائدہ ۶۵؛ آل عمران ۱۹۵؛ نساء ۳۱؛ بقرہ۲۷۱ ؛انفال ۲۹؛ زمر۳۵؛ تحریم ۸؛ ھود ۱۴۴۔اچھے اور برے اعمال کا ایک دوسرے میں اثرانداز ہونے کی مقدار اور اقسام کی تعیین کو وحی اور ائمہ معصومین کی گفتگو کے ذریعہ حاصل کرنا چاہیئے اور اس سلسلہ میں کوئی عام قاعدہ بیان نہیں کیا جاسکتا ہے ۔


اچھے اور برے اعمال ،حبط و تکفیر ہونے کے علاوہ اس دنیا میں انسان کی توفیقات اور سلب توفیقات ، خوشی اور ناخوشی میں موثر ہیں ، مثال کے طور پر دوسروں پر احسان کرنا خصوصاً والدین اور عزیزو اقربا پر احسان کرنا آفتوں اور بلاؤں کے دفع اور طول عمر کا سبب ہوتا ہے اور بزرگوں کی بے احترامی کرنا توفیقات کے سلب ہونے کا موجب ہوتا ہے ۔ لیکن ان آثار کا مرتب ہونا اعمال کے پوری طرح سے جزا و سزا کے دریافت ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ حقیقی جزا و سزا کا مقام جہان اخروی ہے ۔

(۴) شفاعت کے کردار اور اس کے شرائط کے حامل ہونے کی آگاہی اور اس سلسلہ میں بیان کئے گئے شبہات اور ان کے جوابات سے مطلع ہونے کے لئے ملحقات کی طرف مراجعہ کریں ۔


خلاصہ فصل

۱ ۔دنیا میں انسان کی تلاش و کوشش آخرت میں اس کی بدبختی و خوشبختی میں بہت ہی اہم رول ادا کرتی ہے.

۲۔ دنیا وآخرت کے رابطے کے سلسلہ میں گفتگو کرنا اس جہت سے ضروری ہے کہ موت کے بعدکی دنیا پرعقیدہ رکھنا صرف اس دنیا ہی میں ہمارے اختیاری اعمال ورفتار پرموثر نہیں ہے بلکہ اس وقت یہ عقیدہ ثمر بخش ہے جب انسان کے اعمال ورفتار اور دنیا میں اس کے طریقۂ زندگی اور آخرت میں اس کی کیفیت زندگی کے درمیان رابطہ کا یقین رکھتے ہوں.

۳۔ ایمان وعمل صالح کی سعادت اور کفر وگناہ کااخروی بد بختی کے درمیان ایک حقیقی رابطہ ہے.اس طرح کہ آخرت میں انسان کے اعمال ملکوتیصورت میں ظاہری ہوتے ہیں اوراس کا وجود ملکوتی ہی آخرت میں حقیقی عمل نیزسزا اور جزا ہے۔

۴۔ آخرت کی زندگی میں لوگ فقط اپنے اعمال کے نتائج دیکھتے ہیں اور کوئی کسی کے نتائج

اعمال سے سوء استفادہ نہیں کرسکتاہے اور کسی کے برے اعمال کی سزا بھی نہیں قبول کرسکتا ہے .(و ان لیس للانسان الا ماسعی) ۔

۵۔آخرت میں لوگ اپنی دنیا وی حالت کے اعتبار سے چار گروہ میں تقسیم ہیں:

الف) وہ لوگ جو دنیا وآخرت کی نعمتوں سے مستفیض ہیں

ب) وہ لوگ جو دنیا وآخرت میں محروم ہیں.

ج)وہ لوگ جو دنیا میں محروم اور آخرت میں بہرہ مند ہیں.

د)وہ لوگ جو آخرت میں محروم اور دنیا میں بہرہ مند ہیں.

۶۔ ایمان وعمل صالح اس وقت فائدہ مند ہیں جب انسان، آخری عمر تک اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔


تمرین

۱۔ عمرکے آخری حصہ میں کافر ہوجانے کی وجہ سے کیاکسی انسان کے تمام اعمال صالحہ کے تباہ وبرباد ہوجانے کی کوئی عقلی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے؟اور کس طرح؟

۲۔ انسان کا حقیقی کمال نیز بد بختی اور خوشبختی کے مسئلہ میں معاد کو تسلیم کرنے والوں کے نظریات اور منکرین معاد کے نظریات کا اختلاف کس چیز میں ہے ؟ مفہوم ومصداق میں یا دونوں میں یا کسی اور چیز میں ہے وضاحت کریں؟

۳۔ اگر ہر انسان عالم آخرت میں فقط اپنے اعمال کا نتیجہ پاتا ہے تو سورہ نحل کی ۲۵ویںآیہ سے مراد کیا ہے ؟

۴۔دنیاوی زندگی میں مندرجہ ذیل اقسامِ رابطہ میں سے کون سارابطہ مفید ہے ؟ اورکو ن سا آخرت میں مفید نہیں ہے؟

۔الف ۔ خاندانی رابطہ .ب۔ دوستی کا رابطہ. ج۔ اعتباری اور وضعی رابطہ (اعتباری اور وضعی قوانین ) (تکوینی رابطہ)(علّی قوانین)۔

۵۔ مرے ہوے لوگوں کی اخروی زندگی میں ،زندہ لوگوں کی دعاؤں کا کیا اثرہے اور کس طرح اس حقیقت (کہ ہر انسان فقط اپنے نتیجہ اعمال کو پاتا ہے)سے سازگار ہے؟


مزید مطالعہ کے لئے :

۔حسینی طہرانی ، محمد حسین ؛ ( ۱۴۰۷)معاد شناسی ؛ ج۹، تہران : حکمت ۔

۔جوادی آملی ، عبد اللہ ؛ ( ۱۳۶۳) دہ مقالہ پیرامون مبدأ و معاد ؛ تہران : الزہراء

۔محمد حسین طباطبائی ؛ ( ۱۳۵۹) فرازھای از اسلام ؛ تہران : جہان آراء

۔ محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۰) آموزش عقاید ؛ ج۳ ، تہران : سازمان تبلیغات اسلامی

۔ (۱۳۶۷) معارف قرآن ( جہان شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) ؛ قم : موسسہ درراہ حق ۔

۔مطہری ، مرتضی (۱۳۶۸) مجموعہ آثار ؛ ج۱، تہران : صدرا ۔

۔مطہری ، مرتضی (۱۳۶۹)مجموعہ آثار ؛ ج۲ تہران : صدرا ۔

۔ مطہری ، مرتضی (۱۳۵۴) سیری در نہج البلاغہ ؛قم : دار التبلیغ اسلامی ۔


ملحقات

۱۔ شفاعت

شفاعت ، شفع (جفت ،زوج ) سے لیا گیا ہے.اور عرف میں یہ معنی ہے کہ کوئی عزت دار شخص کسی بزرگ سے خواہش کرے کہ وہ اس کے (جس کی شفاعت کر رہا ہے )جرم کی سزا معاف کردے. یا خدمت گذار فرد کی جزا میں اضافہ کردے ۔

شفاعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان، شفیع کی مدد کے بغیر سزا سے بچنے یا جزا کے ملنے کے لائق نہیں ہے لیکن شفیع کی درخواست سے اس کے لئے یہ حق حاصل ہوجائے گا۔

شفاعت ،برائیوں سے توبہ وتکفیر کے علاوہ ہے گنہگاروں کی امید کی آخری کرن اور خداوندعالم کی رحمت کا سب سے عظیم مظہر ہے. شفاعت کامعنی شفیع کی طرف سے خدا وند عالم پر اثر انداز ہونا نہیں ہے .شفاعت کا انکار کرنے والی آیات سے مراد جیسے(لا یُقبَلُ مِنھَا شَفَاعَة)''سورہ بقرہ ۴۸و۱۲۳''کی آیہ کے یہی معنی ہے.لفظ شفاعت کبھی وسیع تر معنی یعنی دوسرے انسان کے ذریعہ کسی انسان کے لئے کسی طرح سے اثر خیر ظاہر ہونے میں استعمال ہوتا ہے.جیسے فرزندوں کے لئے والدین کا موثر ہونا اور اس کے برعکس یعنی والدین کے لئے بچوں کا موثر ہونایا اساتید اور رہنما حضرات کاشاگردوں اور ہدایت پانے والوں کے حوالے سے حتی مؤذن کی آواز ان لوگوں کے لئے جو اس کی آواز سے نماز کو یاد کرتے ہیں اور مسجد جاتے ہیں .شفاعت کہا جاتاہے .وہی اثر خیر جو دنیا میں تھا آخرت میں شفاعت کی صورت میں ظاہر ہوگا جس طرح گناہوں کے لئے استغفارنیزدوسرے دنیاوی حاجات کے پورا ہونے کے لئے دعا کرنے کو شفاعت کہا جاتاہے۔

شفاعت کے مندرجہ ذیل قوانین ہیں:

الف) خداوند عالم کی طرف سے شفیع کو اجازت

ب) شفاعت پانے والوں کے اعمال نیز اس کی اہمیت و عظمت سے شفاعت کرنے والوں کا آگاہ ہونا۔

ج) دین وایمان کے حوالے سے شفاعت پانے والوں کا ممدوح اورپسندیدہ ہونا.


حقیقی شفاعت کرنے والے خداوند عالم کی طرف سے ماذون ہونے کے علاوہ معصیت کار اور گنہگارنہ ہوں اہل اطاعت ومعصیت کے مراتب کو پرکھنے کی ان کے اندر صلاحیت ہونیز شفاعت کرنے والوں کے ماننے والے بھی کم ترین درجہ کے شفیع ہوں ،دوسری طرف وہی شفاعت پانے کے قابل ہیں جو خدا وند کریم کی اجازت کے علاوہ خدا، انبیاء حشر اور وہ تمام چیزیں جو خدا وند عالم نے اپنے انبیاء پر نازل فرمائی ہیں منجملہ ''شفاعت''پر حقیقی ایمان رکھتے ہوں اور زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے ایمان کو محفوظ رکھے ہوں اور جو لوگ نماز کو ترک کریںاور فقرا کی مدد نہ کریں نیزروز قیامت کی تکذیب کریںاور خود شفاعت سے انکار کریں یااس کو ہلکا سمجھیں توایسے لوگ شفاعت سے محروم ہیں.

اس دنیا میں شفیع کی شفاعت کا قبول کرنا شفیع کی ہمنشینی اور محبت کی لذت کے ختم ہوجانے کاخوف یا شفیع کی طرف سے ضرر پہونچنے کا اندیشہ یا شفیع سے شفاعت کے قبول کرنے کی ضرورت کی وجہ سے شفاعت انجام پاتی ہے لیکن خداوند عالم کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والوںکی شفاعت کے قبول ہونے کی دلیل مذکورہ امور نہیں ہیں بلکہ خدا وند عالم کی وسیع رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ دائمی رحمت کے حاصل کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتے ہیں ان کے لئے شرائط وضوابط کے ساتھ کوئی راستہ فراہم کرنے کا نام شفاعت ہے ۔


۲۔ شفاعت کے بارے میں اعتراضات و شبہات

شفاعت کے بارے میں بہت سے اعتراضات و شبہات بیان کئے گئے، یہاں پرہم ان میں سے بعض اہم اعتراضات و شبہات کا تجزیہ کریں گے۔

پہلا شبہہ :پہلا شبہہ یہ ہے کہ بعض آیات قرآنی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ روز قیامت کسی کی بھی شفاعت قبول نہیںکی جائے گی جیسا کہ سورہ بقرہ کی ۴۸ویں آیہ میں فرماتا ہے:

( وَ اتَّقُوا یَوماً لا تَجزِی نَفس عَن نَّفسٍ شَیئاً وَ لا یُقبَلُ مِنهَا شَفَاعَة وَ لا یُؤخَذُ مِنهَا عَدل وَ لا هُم یُنصَرُونَ )

جواب: اس طرح کی آیات بغیر قاعدہ وقانون کے مطلقاًاور مستقل شفاعت کی نفی کرتی ہیں بلکہ جو لوگ شفاعت کے معتقد ہیں وہ مزیداس بات کے قائل ہیں کہ مذکورہ آیات عام ہیں جو ان آیات کے ذریعہ جو خدا کی اجازت اور مخصوص قواعد وضوابط کے تحت شفاعت کے قبول کرنے پر دلالت کرتی ہیں تخصیص دی جاتی ہیں جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے۔

دوسرا شبہہ: شفاعت کے صحیح ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم شفاعت کرنے والوں کے زیر اثر قرار پائے یعنی ان لوگوں کی شفاعت فعل الہی یعنی مغفرت کا سبب ہوگی.

جواب : شفاعت کا قبول کرنا زیر اثر ہونے کی معنی میں نہیں ہے جس طرح توبہ اور دعا کا قبول ہونا بھی مذکورہ غلط لازمہ نہیں رکھتا ہے. اس لئے کہ ان تمام موارد میں بندوں کے افعال کا اس طرح شائستہ و سزاوار ہونا ہے کہ وہ رحمت الہٰی کو جذب کرنے کا باعث بن سکیں، اصطلاحاًقابل کی شرط قابلیت اور فاعل کی شرط فاعلیت نہیں ہے۔

تیسرا شبہہ : شفاعت کا لازمہ یہ ہے کہ شفاعت کرنے والے خدا سے زیادہ مہربان ہوں ، اس لئے کہ فرض یہ ہے کہ اگر ان کی شفاعت نہ ہوتی تویہ گنہگار لوگ عذابمیں مبتلا ہوجاتے ،یا ہمیشہ معذّب رہتے

جواب:شفاعت کرنے والوں کی مہربانی اور ہمدردی بھی خداوند عالم کی بے انتہا رحمت کی جھلک ہے دوسرے لفظوں میں ، شفاعت وہ وسیلہ اور راہ ہے جسے خداوند عالم نے خود اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشنے کے لئے قرار دیا ہے اور جیسا کہ اشارہ ہو ا کہ اسکی عظیم رحمتوں کا جلوہ اور کرشمہ اس کے منتخب بندوں میں ظاہر ہوتا ہے اسی طرح دعا اور توبہ بھی وہ ذرائع ہیں جنہیں خداوند عالم نے گناہوں کی بخشش اور ضروتوں کو پورا کرنے کے لئے قرار دیا ہے.


چوتھا شبہہ : اگر خداوند عالم کا گنہگاروں پرعذاب نازل کرنے کا حکم مقتضاء عدالت ہے تو ان کے لئے شفاعت کا قبول کرنا خلاف عدل ہوگا اور اگر شفاعت کو قبول کرنے کے نتیجہ میں عذاب الہی سے نجات پاناعادلانہ ہے تواس کے معنی یہ ہوئے کہ شفاعت کے انجام پانے سے پہلے عذاب کا حکم، غیر عادلانہ تھا۔

جواب : ہر حکم الٰہی (چاہے شفاعت سے پہلے عذاب کا حکم ہو یاشفاعت کے بعد نجات کا حکم ہو) عدل وحکمت کے مطابق ہے ایک حکم کا عادلانہ اور حکیمانہ ہونا دوسرے حکم کے عادلانہ اور حکیمانہ ہونے سے ناسازگار نہیں ہے،اس لئے کہ اس کاموضوع جداہے ۔

وضاحت : عذاب کا حکم ارتکاب گناہ کا تقاضا ہے. ان تقاضوں سے چشم پوشی کرنا ہی گنہگارکے حق میں شفاعت اور قبول شفاعت کے تحقق کا سبب ہوتا ہے. اور عذاب سے نجات کا حکم شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی وجہ سے ہے، یہ موضوع اس طرح ہے کہ بلا کا دعا یا صدقہ دینے سے پہلے مقدر ہونا یا دعا اور صدقہ کے بعد بلا کا ٹل جانا ہی حکیمانہ فعل ہے۔

پانچواں شبہہ: خداوند متعال نے شیطان کی پیروی کوعذاب دوزخ میں گرفتارہونے کا سبب بتایاہے جیسا کہ سورہ حجر کی ۴۲و۴۳ویں آیہ میں فرماتا ہے:

( إِنَّ عِبَادِی لَیسَ لَکَ عَلَیهِم سُلطَان ِلا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الغَاوِینَ ٭ وَ نَّ جَهَنَّمَ لَمَوعِدُهُم أَجمَعِینَ )

جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تجھے کسی طرح کی حکومت نہ ہوگی مگرصرف گمراہوں میں سے جو تیری پیروی کرے اور ہاں ان سب کے واسطے وعدہ بس جہنم ہے ۔

آخرت میں گنہگاروںپر عذاب نازل کرنا ایک سنت الہی ہے اور سنت الہی غیر قابل تغیر ہے جیسا کہ سورہ فاطرکی ۴۳ویں آیہ میں فرماتا ہے کہ:

( فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبدِیلاً وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحوِیلاً )

ہرگز خدا کی سنت میں تبدیلی نہیں آئیگی اور ہرگز خدا کی سنت میں تغیر نہیں پیدا ہوگاجب یہ بات طے ہے تو کیسے ممکن ہے کہ شفاعت کے ذریعہ خدا کی سنت نقض ہوجائے اور اس میں تغیر پیدا ہو جائے ۔

جواب : جس طرح گنہگاروں پر عذاب نازل کرنا ایک سنت ہے اسی طرح واجد شرائط گنہگاروں کے لئے شفاعت قبول کرنا بھی ایک غیر قابل تغیر الٰہی سنت ہے لہٰذا دونوں پر ایک ساتھ توجہ کرنا چاہئیے ، خدا وند عالم کی مختلف سنتیں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں ان میں جس کا معیار و اعتبار زیادہ قوی ہوگا وہ دوسرے پر حاکم ہوجاتی ہے۔

چھٹا شبہہ : وعدۂ شفاعت ، غلط راہوں اور گناہوں کے ارتکاب میں لوگوں کی جرأت کا سبب ہوتا ہے۔


جواب : شفاعت ومغفرت ہونا مشروط ہے بعض ایسی شرطوں سے کہ گنہگار اس کے حصول کا یقین پیدا نہیں کرسکتا ہے. شفاعت کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اپنے ایمان کو اپنی زندگی کے آخری لمحات تک محفوظ رکھے اور ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی شرط کے تحقق پر یقین (کہ ہمارا ایمان آخری لمحہ تک محفوظ رہے گا)نہیںرکھ سکتا ہے. دوسری طرف جو مرتکب گناہ ہوتا ہے اگر اس کے لئے بخشش کی کوئی امید اور توقع نہ ہو تووہ مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوجائے گا اور یہی نا امیدی اس میں ترک گناہ کے انگیزے کو ضعیف کردے گی اور آخر کار خطاو انحراف کی طرف مائل ہوجائے گا اسی لئے خدائی مربیوں کا طریقۂ تربیت یہ رہاہے کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو خوف و امید کے درمیان باقی رکھتے ہیں. نہ ہی رحمت خدا سے اتنا امید وار کرتے ہیں کہ خدا وند عالم کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں اور نہ ہی ان کو عذاب سے اتنا ڈراتے ہیں کہ وہ رحمت الٰہی سے مایوس ہوجائیں. اور ہمیں معلوم ہے کہ رحمت الٰہی سے مایوس اور محفوظ ہونا گناہ کبیرہ شمار ہوتا ہے.

ساتواںشبہہ: عذاب سے بچنے میں شفاعت کی تاثیر یعنی گنہگار شخص کو بد بختی سے بچانے اور سعادت میں دوسروں (شفاعت کرنے والے) کے فعل کا موثر ہونا ہے. جبکہ سورہ نجم ۳۹ویںآیہ کا تقاضا یہ ہے کہ فقط یہ انسان کی اپنی کوشش ہے جو اسے خوشبخت بناتی ہے۔

جواب : مننرل مقصود کو پانے کے لئے کبھی خود انسان کی کوششہوتی ہے جو آخری منزل تک جاری رہتی ہے اور کبھی مقدمات اور واسطوں کے فراہم کرنے سے انجام پاتی ہے. جو شخص مورد شفاعت قرار پاتا ہے وہ بھی مقدمات سعادت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے. اس لئے کہ ایمان لانا اور استحقاق شفاعت کے شرائط کا حاصل کرنا حصول سعادت کی راہ میں ایک طرح کی کوشش شمار ہوتی ہے چاہے وہ تلاش ایک ناقص و بے فائدہ کیوں نہ ہو. اسی وجہ سے مدتوں برزخ کی سختیوں اور غموں میں گرفتار ہونے کے بعد انسان میدان محشر میں وارد ہوگا لیکن بہر حال خودہی سعادت کے بیج (یعنی ایمان ) کو اپنے زمین دل میں بوئے اور اس کو اپنے اچھے اعمال سے آبیاری کرے اس طرح کہ اپنی عمر کے آخری لمحات تک خشک نہ ہونے دے تویہ اس کی انتہائی سعادت و خوشبختی ہے جو خود اسی کی تلاش و کوشش کا نتیجہ ہے. اگر چہ شفاعت کرنے والے بھی ایک طرح سے اس درخت کے ثمر بخش ہونے میں موثر ہیں جس طرح اس دنیا میں بھی بعض لوگ بعض دوسرے افراد کی تربیت و ہدایت میں موثر واقع ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ تاثیر اس شخص کے تلاش و جستجو کی نفی کا معنی نہیں دیتی ہے.(۱)

____________________

(۱)ملاحظہ ہو: محمد تقی مصباح ؛ آموزش عقاید ؛ ج۳ سازمان تبلیغات ، تہران ۱۳۷۰۔


فہرست منابع

۱۔قرآن کریم ۔

۲۔آرن ،ریمن ( ۱۳۷۰) مراحل اساسی اندیشہ در جامعہ شناسی ، ترجمہ باقر پرھام ، تہران : انتشارات آموزش انقلاب اسلامی ۔

۳۔آلوسی ، سید محمود ( ۱۴۰۸) روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی ، بیروت : دار الفکر۔

۴۔ابوزید ، منیٰ احمد (۱۴۱۴) الانسان فی الفلسفة الاسلامیة ، بیروت : مؤسسة الجامعیة للدراسات ۔

۵۔احمدی ، بابک ( ۱۳۷۳) مدرنیتہ و اندیشہ انتقادی ، تہران : مرکز ۔

۶۔احمدی بابک ( ۱۳۷۷)معمای مدرنیتہ ، تہران : مرکز۔

۷۔اسٹیونسن ، لسلی( ۱۳۶۸) ہفت نظریہ دربارہ طبیعت انسان ، تہران : رشد

۸۔ایزوٹسو،ٹوشی ہیکو ( ۱۳۶۸)خدا و انسان در قرآن ، ترجمہ احمد آرام ، تہران : دفتر نشر فرہنگ اسلامی ۔

۹۔باربور، ایان (۱۳۶۲) علم و دین ، ترجمہ بہاء الدین خرمشاہی ، تہران : مرکز نشر دانشگاہی ۔

۱۰۔بارس ، بولک ،و دیگران (۱۳۶۹)فرہنگ اندیشہ تو، ترجمۂ ع، پاشایی ، تہران : مازیار ۔

۱۱۔بدوی ، عبد الرحمٰن ( ۱۹۸۴) موسوعة الفسلفة ، بیروت : الموسسة العربیة للدراسات و النشر ۔

۱۲۔بوکای ، موریس ( ۱۳۶۸) مقایسہ ای تطبیقی میان تورات ، انجیل ، قرآن و علم ، ترجمہ ذبیح اللہ دبیر ، تہران : نشر فرہنگ اسلامی ۔


۱۳۔پاکر ، ڈوینس ( ۱۳۷۰) آدم سازان ، ترجمہ حسن افشار ، تہران : بہبہارنی ۔

۱۴۔پاپر، کارل ( ۱۳۶۹)جستجوی ناتمام ، ترجمہ ایرج علی آبادی ، تہران ۔

۱۵۔تہانوی ، محمد علی (۱۹۹۶)کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم ، بیروت : مکتبة لبنان ناشرون ۔

۱۶۔ڈیوس ٹونی ( ۱۳۷۸)ہیومنزم ، ترجمہ عباس مخبر ، تہران : مرکز ۔

۱۷۔جوادی آملی ، عبد اللہ (۱۳۶۶)تفسیر موضوعی قرآن کریم : توحید و شرک، قم : نہاد نمایندگی رہبری در دانشگاہ ھا۔

۱۸۔جوادی آملی ، عبد اللہ ( ۱۳۷۸)تفسیر موضوعی قرآن کریم ، قم : اسرائ۔

۱۹۔الحر العاملی ، محمد بن الحسن ( ۱۴۰۳) وسایل الشیعہ ج۱۹، تہران : المکتبة الاسلامیة ۔

۲۰۔دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ( ۱۳۷۲) درآمدی بہ تعلیم و تربیت اسلامی : فلسفہ تعلیم و تربیت ، تہران : سمت ۔

۲۱۔حسن زادہ ، صادق ( ۱۳۷۸) اسوۂ عارفان ، قم : انتشارات امیر المومنین ۔

۲۲۔دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ (۱۳۶۹)مکتبھای روان شناسی و نقد آن ، ج۱، تہران : سمت ۔

۲۳۔دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ (۱۳۷۲)مکتبھای روان شناسی و نقد آن ، ج۲، تہران : سمت ۔

۲۴۔ڈورانٹ ، ویل ( ۱۳۷۱) تاریخ تمدن ، ترجمہ صفدر تقی زادہ و ابو طالب صارمی ، ج۵، تہران ، انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی ، ایران ۔


۲۵۔ڈورکھیم ، امیل (۱۳۵۹)قواعد روش جامعہ شناسی ، ترجمہ علی محمد کاردان ، تہران : دانشگاہ تہران ۔

۲۶۔رشید رضا ، محمد، المنار فی تفسیر القرآن ، بیروت : دار المعرفة ۔

۲۷۔رضی موسوی ، شریف محمد ( ۱۴۰۷)نہج البلاغہ ، مصحح صبحی صالحی ، قم : دار الہجرة۔

۲۸۔رنڈل ، جان ہرمان ( ۱۳۷۶) سیر تکامل عقل نوین ، ترجمہ ابو القاسم پایندہ ، تہران ، انتشارات علمی و فرہنگی ، ایران ۔

۲۹۔روزنٹال ، یودین ، و دوسرے افراد ( ۱۹۷۸)الموسوعة الفلسفیة ، ترجمہ سمیر کرم ، بیروت: دار الطبیعة ۔

۳۰۔زیادہ ، معن (۱۹۸۶) الموسوعة الفلسفیة العربیة ، بیروت : معہد الانماء العربی ۔

۳۱۔سبحانی ، جعفر ( ۱۴۱۱) الالہٰیات علی ضوء الکتاب و السنة و العقل ، قم : المرکز العالمی للدراسات الاسلامیة

۳۲۔شفلر ، ایزرائل (۱۳۷۷)در باب استعداد ھای آدمی ( گفتاری در فلسفہ تعلیم و تربیت ) تہران : جہاد دانشگاہی ۔

۳۳۔سلطانی نسب ،رضا ، و فرہاد گرجی ( ۱۳۶۸)جنین شناسی انسان ( بررسی تکامل طبیعی و غیر طبیعی انسان ، تہران : جہاد دانشگاہی ۔


۳۴۔شاکرین ، حمید رضا ''قرآن و رویان شناسی ''مجلہ حوزہ و دانشگاہ ، شمارہ ۸، ص ۲۲، ۲۵۔

۳۵۔صانع پور ، مریم ( ۱۳۷۸)نقدی بر مبانی معرفت شناسی ہیومنیسٹی ، تہران : دانش و اندیشہ معاصر ۔

۳۶۔صدوق ، ابو جعفر حسین ( ۱۳۷۸)التوحید ، تہران : مکتبة الصدوق ۔

۳۷۔طبارہ ، عبد الفتاح ،خلق الانسان ، دراسة علمیة قرآنیة ، ج۲ بیروت۔

۳۸۔طباطبایی ، محمد حسین ( ۱۳۸۸)المیزان فی تفسیر القرآن ، ج۱،۲، ۷، ۱۵، تہران : دار الکتب الاسلامیة ۔

۳۹۔طوسی ، خواجہ نصیر الدین (۱۳۴۴) اوصاف الاشراف ، تہران : وزارت فرہنگ و ہنر ۔

۴۰۔طبرسی ، ابو علی فضل ( ۱۳۷۹)مجمع البیان لعلوم القرآن ، تہران : مکتبة العلمیة الاسلامیة ۔

۴۱۔طہ، فرج عبد القادر ( ۱۹۹۳) موسوعة علم النفس و التحلیل النفسی ، کویت : دار السعادة الصباح ۔

۴۲۔عبودیت ، عبد الرسول (۱۳۷۸)ہستی شناسی ، ج۱ ، قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۴۳۔العطاس ، محمد نقیب (۱۳۷۴)اسلام و دنیوی گروی ، ترجمہ احمد آرام ، تہران : موسسہ مطالعاتی اسلامی دانشگاہ تہران ۔

۴۴۔فرینکل ، ویکٹور امیل (۱۳۷۵)انسان در جستجوی معنی ، ترجمہ اکبر معارفی ، تہران : دانشگاہ تہران

۴۵۔فرینکل ، ویکٹور امیل (۱۳۷۲) پزشک روح ، ترجمہ فرخ سیف بہزاد ، تہران : درسا۔

۴۶۔فرینکل ، ویکٹور امیل (۱۳۷۱)ریاد ناشنیدہ معنی ، ترجمہ علی علوی نیا و مصطفی تبریزی ، ( بی جا ) یادآوران ۔

۴۷۔فولادوند ، عزت اللہ ''سیر انسان شناسی در فلسفہ غرب از یونان تاکنون ''نگاہ حوزہ ، شمارہ ۵۳، ۵۴۔

۴۸۔قاسم لو ، یعقوب ( ۱۳۷۹)طبیب عاشقان ، قم : نسیم حیات ۔


۴۹۔کیسیرر، ارنسٹ ( ۱۳۶۰) فلسفہ و فرہنگ ، ترجمہ بزرگ نادر زادہ ، تہران : موسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی ۔

۵۰۔کیسیرر، ارنسٹ (۱۳۷۰)فلسفہ روشنگری ، ترجمہ ید اللہ موقن ، تہران : نیلوفر ۔

۵۱۔کلینی ، محمد بن یعقوب ( ۱۳۸۸)اصول کافی ، ج۱ و ۲، تہران : دار الکتب الاسلامیہ ۔

۵۲۔کوزر ، لوئیس ( ۱۳۶۸) زندگی و اندیشہ بزرگان جامعہ شناسی ، ترجمہ محسن ثلاثی ، تہران : علمی ۔

۵۳۔لالانڈ ، اینڈریو ( ۱۹۹۶) موسوعة لالاند الفلسفیہ ، ترجمہ خلیل احمد خلیل بیروت : منشورات عویدات

۵۴۔لالانڈ ، اینڈریو (۱۳۷۷)فرہنگ علمی انتقادی فلسفہ ، ترجمہ غلام رضا وثیق ، تہران : فردوسی ایران ۔

۵۵۔مان ، مائکل ( ۱۴۱۴)موسوعة العلوم الاجتماعیة ، ترجمہ عادل مختار الھواری ، مکتبة الفلاح الامارات العربیة المتحدة۔

۵۶۔مجلسی ، محمد باقر ( ۱۳۶۳)بحار الانوار ج۱، ۵، ۱۱، ۲۱، ۷۶، تہران : دار الکتب الاسلامیہ ۔

۵۷۔محمد تقی مصباح ( ۱۳۶۵)آموزش فلسفہ ج۲ ، تہران : سازمان تبلیغات ۔

۵۸۔محمد تقی مصباح ( ۱۳۷۵)اخلاق در قرآن ، ج۱ قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔

۵۹۔محمد تقی مصباح (۱۳۷۶)معارف قرآن ( خدا شناسی ، کیھان شناسی ، انسان شناسی ) قم : موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی ۔


۶۰۔محمد تقی مصباح ،خود شناسی برای خود سازی ، قم : موسسہ در راہ حق ۔

۶۱۔محمد تقی مصباح (۱۳۷۰)آموزش عقاید ، ج۳ تہران : سازمان تبلیغات اسلامی ۔

۶۲۔محمد تقی مصباح (۱۳۶۸)جامعہ و تاریخ از دیدگاہ قرآن ، تہران : سازمان تبلیغات اسلامی ۔

۶۳۔محمد تقی مصباح ،راہنما شناسی ، قم : حوزہ علمیہ قم ۔

۶۴۔مطہری ، مرتضی ( ۱۳۷۰)مجموعہ آثار ، ج۳ ، تہران : صدرا۔

۶۵۔مطہری ، مرتضی (۱۳۷۱)مجموعہ آثار ، ج۶ ، تہران : صدرا۔

۶۶۔مطہری ، مرتضی ( ۱۳۷۱)انسان کامل ، تہران : صدرا۔

۶۷۔مطہری ، مرتضی (۱۳۴۵)سیری در نہج البلاغہ ، قم : دار التبلیغ اسلامی ۔

۶۸۔ملکیان ، مصطفی (۱۳۷۵)اگزیستانسیالیزم ، فلسفہ عصیان و شورش ، محمد غیاثی ، قم ۔

۶۹۔نوذری ، حسین علی ، صورتبندی مدرنیتہ و پست مدرنیتہ ، تہران : چاپخانہ علمی و فرہنگی ، ایران ۔

۷۰۔نوری ، میرزا حسین ( ۱۴۰۸)مستدرک الوسائل ، ج۶ ، بیروت : موسسہ آل البیت لاحیاء التراث

۷۱۔واعظی ، احمد ( ۱۳۷۷)انسان در اسلام ، سمت ( دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ )۔


(۷۲) Webster Mariam,(۱۹۸۸)Webster's Ninth collegiate Dictionary,U.S.A

(۷۳) Kupet Adam,(۱۹۵۸)the social sciences Encyclopedia, Rotlage and Kogan paul

(۷۴) Theodorson,George,(۱۹۶۹)and Acilles,G;A modern Dictionary of sociology,NEW YORK,Thomas. Y.Prowerl

(۷۵) Lw,R,I,Z Encyclopedia of Religion,(۱۹۷۴)the NEW (۱۵th ).

(۷۶) Paul,Edward,(۱۹۷۶)Encyclopedia of Philosophy,NEW YORK,Macmillan

قابل ذکر بات یہ کہ بہت سے مذکورہ منابع ،'' مزید مطالعہ ''کے عنوان سے اس کتاب کے ہرفصل کی تالیف میں مور د استفادہ واقع ہوئے ہیں ۔لیکن چونکہ ان کی معلومات اسی موضوع فصل کے تحت تھیں اور اس منابع سے ان کے استفادہ کی مقداربھی کم ہونے کی بناپر دوبارہ ذکر کرنے سے پرہیز کیا جارہا ہے ۔


خود آزمائی

۱.انسان شناسی سے خداشناسی ، نبوت و معاد کے رابطہ کی وضاحت کیجئے ؟

۲.دور حاضر میں انسان شناسی کے بحران کی چار مرکزی بحثوں کو بیان کیجئے ؟

۳.ہیومنزم کے چارنتائج وپیغامات کو بیان کرتے ہوئے ہر ایک کی اختصار کے ساتھ وضاحت کیجئے ؟

۴.ہیومنزم کے تفکرات کو بیان کرتے ہوئے تبصرہ و تنقید کیجئے ؟

۵.خود فراموش انسان کی خصوصیات اور خود فراموشی کے نتائج کو بیان کرتے ہوئے کم از کم پانچ موارد کی طرف اشارہ کیجئے ؟

۶.خود فراموشی کے علاج کے عملی طریقوں کی تحلیل کیجئے ؟

۷.قرآن مجید کی تین آیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے خلقت انسان کی وضاحت کیجئے ؟

۸.انسان کے دوبعدی ہونے کی دلیلیں پیش کیجئے ؟

۹.دینی اعتبار سے انسان کی مشترکہ فطرت کا سب سے مرکزی عنصر کیا ہے ؟

۱۰.فطرت کے لازوال ہونے کی سورۂ روم کی تیسویں آیہ سے وضاحت کیجئے اور مذکورہ آیہ میں (لا تبدیل لخلق اللہ )سے مراد کیا ہے وضاحت کیجئے ؟

۱۱.قرآنی اصطلاح میں ان کلمات، روح ، نفس ، عقل و قلب کا آپس میں کیا رابطہ ہے وضاحت کیجئے ؟

۱۲.کرامت انسان سے کیا مراد ہے وضاحت کرتے ہوئے قرآن کی روشنی میں اس کے اقسام کو ذکر کیجئے ؟

۱۳.کیا آیۂ شریفہ ( و ما رمیت اذ رمیت و لٰکن اللہ رمی)عقیدۂ جبر کی تائید نہیں کرتی ہے ؟ اور کیوں؟

۱۴.جبر الٰہی کے سلسلہ میں جو شبہات پیدا ہوئے ہیں اس کا جواب دیجئے ؟

۱۵.ان تین عناصر کو بیان کیجئے جن کا انسان ہر اختیاری عمل کے انجام دینے میں محتاج ہے ؟

۱۶.افعال ا نسان کے انتخاب کے معیار کی وضاحت کیجئے ؟

۱۷. قرآن و روایات کی زبان میں کیوںاچھے اعمال کو ''عمل صالح ''کہا گیا ہے ؟

۱۸.اسلام کی نظر میں انسان کامل کی خصوصیات کیا ہیں ؟

۱۹.قرآن میں ذکر کئے گئے کلماتِ دنیا اور آخرت کے تین موارد استعمال کو بیان کیجئے ؟

۲۰. اواخرعمر میں کفر کی وجہ سے کسی شخص کیتمام اچھے اعمال برباد ہو جانے کے بارے میں مناسب توجیہ پیش کیجئے ؟


فہرست

حرف اول ۴

مقدمہ: ۶

مطالعہ کتاب کی کامل رہنمائی ۹

پہلی فصل : ۱۳

مفہوم انسان شناسی ۱۳

۱۔انسان شناسی کی تعریف ۱۶

۱۔روش اور نوعیت کے اعتبار سے انسان شناسی کے اقسام ۱۶

۲۔انسان شناسی کے اقسام ۱۷

تجربی،عرفانی،فلسفی اور دینی ۱۷

انسان شناسی خردو کلاں یا جامع و اجزاء ۱۹

انسان شناسی کی ضرورت اور اہمیت ۲۰

الف: انسان شناسی ،بشری تفکر کے دائرے میں باہدف زندگی کی تلاش ۲۰

اجتماعی نظام کا عقلی ہونا(۱) ۲۱

علوم انسانی کی اہمیت اورپیدائش ۲۲

اجتماعی تحقیقات اور علوم انسانی کی وجہ تحصیل ۲۲

ب)انسان شناسی، معارف دینی کے آئینہ میں ۲۳

خدا شناسی اور انسان شناسی ۲۳

نبوت اور انسان شناسی ۲۵

معاد اور انسان شناسی ۲۶


انسان شناسی اوراحکام اجتماعی کی وضاحت ۲۷

دور حاضر میں انسان شناسی کا بحران اور اس کے مختلف پہلو ۲۸

الف) علوم نظری کی آپس میں ناہماہنگی اور درونی نظم و ضبط کا نہ ہونا ۳۰

ب) فائدہ مند اور مورد اتفاق دلیل کا نہ ہونا ۳۱

ج) انسان کے ماضی اور مستقبل کا خیال نہ کرنا ۳۱

د) انسان کے اہم ترین حوادث کی وضاحت سے عاجز ہونا ۳۲

دینی انسان شناسی کی خصوصیات ۳۳

جامعیت ۳۳

استوار اور محکم ۳۴

مبدا اور معاد کا تصور ۳۴

بنیادی فکر ۳۴

خلاصہ فصل ۳۵

تمرین ۳۶

مزید مطالعہ کے لئے ۳۷

دوسری فصل : ۳۹

ہیومنزم یا عقیدہ ٔانسان ۳۹

ہیومنزم کا مفہوم و معنی ۴۱

ہیومنزم کی پیدائش کے اسباب ۴۴

ہیومنزم کے اجزا ئے ترکیبی اور نتائج(۷) ۴۵

عقل پرستی(۱) اور تجربہ گرائی(۲) ۴۶


استقلال ۴۷

تساہل و تسامح ۴۹

سکولریزم(۲) ۴۹

ہیومنزم کے نظریہ پر تنقید و تحقیق ۵۲

فکرو عمل میں تناقض ۵۲

فکری حمایت کا فقدان ۵۳

فطرت اور مادہ پرستی ۵۶

ہیومنزم اور دینی تفکر ۵۶

بے قید وشرط آزادی ۵۸

تسامح و تساہل ۶۱

خلاصہ فصل ۶۲

تمرین ۶۳

مزید مطالعہ کے لئے : ۶۴

ملحقات ۶۵

تیسری فصل : ۶۸

خود فراموشی ۶۸

مفہوم بے توجہی ۷۰

قرآن اور خود فراموشی کا مسئلہ ۷۳

خود فراموشی کے نتائج ۷۶

غیرکو اصل قرار دینا ۷۶


روحی تعادل کا درہم برہم ہونا ۷۸

ہدف و معیار کا نہ ہونا ۸۰

حالات کی تبدیلی کے لئے آمادگی و قدرت کا نہ ہونا ۸۰

مادہ اور مادیات کی حقیقت ۸۲

عقل و دل سے استفادہ نہ کرنا ۸۴

خود فراموشی اور حقیقی توحید ۸۵

اجتماعی اور سماجی بے توجہی (اجتماعیحقیقت کا فقدان ) ۸۶

خود فراموشی کا علاج ۸۸

خلاصہ فصل ۹۲

تمرین ۹۳

مزید مطالعہ کے لئے ۹۴

ملحقات ۹۵

فرڈریچ ویلیم ہگل(۱) ( ۱۸۳۱۔۱۷۷۰ ) ۹۵

فیور بیچ(۲) (۱۸۳۲۔۱۷۷۵) ۹۶

کارل مارکس(۲) (۱۸۱۸۔ ۳ ۱۸۸ ) ۹۷

چوتھی فصل : ۹۹

انسان کی خلقت ۹۹

انسان ،دوبعدی مخلوق ۱۰۰

اولین انسان کی خلقت ۱۰۱

قرآن کے بیانات اور ڈارون کا نظریہ ۱۰۴


تمام انسانوں کی تخلیق ۱۰۸

روح کا وجود اوراستقلال ۱۱۳

۲.آیہ کریمہ : ۱۱۷

۳. عالم برزخ کی حیات کو بیان کرنے والی آیت : ۱۱۸

روح کے اثبات میں بشری معرفت اور دینی نظریہ کی ہماہنگی ۱۱۹

الف) عقلی دلائل ۱۱۹

شخصیت کی حقیقت ۱۱۹

روح کا ناقابل تقسیم ہونا اور اس کے حوادث ۱۲۰

مکان سے بے نیاز ہونا ۱۲۰

کبیر کا صغیر پر انطباق ۱۲۱

ب) تجربی شواہد ۱۲۱

روح مجرداور انسان کی واقعی حقیقت ۱۲۵

خلاصہ فصل ۱۲۶

تمرین ۱۲۷

مزید مطالعہ کے لئے ۱۲۸

اس فصل میں مذکورہ تفسیری کتابیں ۔ ۱۲۹

پانچویں فصل : ۱۳۰

انسان کی فطرت ۱۳۰

انسانی مشترکہ طبیعت ۱۳۲

مشترکہ فطرت سے مراد(۴) ۱۳۳


مشترکہ فطرت کی خصوصیات ۱۳۵

ماحول اور اجتماعی اسباب کا کردار ۱۳۶

انسانی مشترکہ فطرت پر دلائل ۱۳۶

فطرت(۱) ۱۴۰

بعض مشترکہ فطری عناصر کا پوشیدہ ہونا ۱۴۱

انسان کی فطرت کا اچھا یا برا ہونا ۱۴۳

انسان کی الٰہی فطرت سے مراد ۱۴۶

فطرت کا زوال ناپذیر ہونا ۱۴۹

فطرت اورحقیقت ۱۵۰

خلاصہ فصل ۱۵۳

تمرین ۱۵۴

مزید مطالعہ کے لئے : ۱۵۵

ملحقات ۱۵۷

لفظ'' فطرت ''کے اہم استعمالات ۱۵۷

۲ ہدایت کے اسباب اور موانع ۱۵۹

مغربی انسان شناسوں کی نگاہ میں انسان کی فطرت ۱۶۰

منفی نظریات ۱۶۱

مبہم نظریات ۱۶۴

مثبت نظریات ۱۶۵

چھٹی فصل : ۱۶۶


نظام خلقت میں انسان کا مقام ۱۶۶

خلافت الٰہی ۱۶۸

خلافت کے لئے حضرت آدم کے شائستہ ہونے کا معیار ۱۷۰

حضرت آدم کے فرزندوں کی خلافت ۱۷۱

کرامت انسان ۱۷۳

کرامت ذاتی ۱۷۴

کرامت اکتسابی ۱۷۵

الف) کرامت اکتسابی کی نفی کرنے والی آیات ۱۷۵

ب) کرامت اکتسابی کو ثابت کرنے والی آیات ۱۷۷

خلاصہ فصل ۱۸۰

تمرین ۱۸۱

مزید مطالعہ کے لئے ۱۸۲

ساتویں فصل : ۱۸۳

آزادی اور اختیار ۱۸۳

انسان کی آزادی کے سلسلہ میں تین مہم نظریات ۱۸۶

مفہوم اختیار ۱۸۹

۱۔اضطرار اور مجبوری کے مقابلہ میں اختیار ۱۸۹

۲.اکراہ کے مقابلہ میں اختیار ۱۹۰

۳.اختیار یعنی انتخاب و آزمائش کے بعد ارادہ ۱۹۱

۴.اختیار یعنی رغبت ، محبت اور مرضی کے ساتھ انجام دینا ۱۹۱


انسان کے مختار ہونے پر قرآنی دلیلیں ۱۹۳

عقیدہ ٔ جبر کے شبہات ۱۹۵

جبر الٰہی ۱۹۵

پہلا گروہ ۱۹۵

دوسرا گروہ ۱۹۶

تیسرا گروہ ۱۹۷

جبر الٰہی کی تجزیہ و تحلیل ۱۹۷

قضائے الٰہی ۱۹۹

خدا کے فعاّل ہونے کا راز ۲۰۰

ب) اجتماعی اور تاریخی جبر ۲۰۲

اجتماعی اور تاریخی جبر کی تجزیہ وتحلیل ۲۰۳

ج)فطری جبر ۲۰۴

فطری جبرکی تجزیہ و تحلیل ۲۰۷

خلاصہ فصل ۲۰۸

تمرین ۲۰۹

مزید مطالعہ کے لئے : ۲۱۰

ملحقات ۲۱۱

۱۔ مغربی انسان شناسی کے منکرین اور مسئلہ اختیار ۲۱۱

(ب)عقیدۂ جبر کے اصول کیا ہیں؟ ۲۱۲

فطری خواہشات ۲۱۲


موروثی وجود ۲۱۲

ماحول کی توانائیاں ۲۱۳

معنوی قوتیں(۲) ۲۱۴

۲۔ خداوند عالم کی عالم گیر خالقیت اور مسئلہ اختیار ۲۱۴

۳۔ طینت کی روایات کا دوسرا جواب ۲۱۶

۴۔ فلسفی جبر ۲۱۶

آٹھویں فصل ۲۱۹

مقدمات اختیار ۲۱۹

اختیار کو مہیا کرنے والے عناصر ۲۲۱

معرفت ۲۲۱

انسان کے امکانات اور ضروری معرفت ۲۲۲

خواہش اورارادہ ۲۳۰

خواہشات کی تقسیم بندی ۲۳۰

غرائز ۲۳۰

عواطف ۲۳۱

انفعالات ۲۳۱

احساسات ۲۳۱

خواہشات کا انتخاب ۲۳۴

خواہشات کے انتخاب کا معیار ۲۴۰

اخروی لذتوں کی خصوصیات ۲۴۱


۱۔پایدار ی اور ہمیشگی ۲۴۲

۲۔اخلاص اور رنج و الم سے نجات ۲۴۲

۳۔ وسعت و فراوانی ۲۴۳

۴۔ مخصوص کمالات اورلذتیں ۲۴۳

قدرت : ۲۴۵

خلاصہ فصل ۲۴۷

تمرین ۲۴۸

مزید مطالعہ کے لئے : ۲۴۹

نویں فصل : ۲۵۰

کمال نہائی ۲۵۰

مفہوم کمال اور انسانی معیار کمال ۲۵۲

انسان کا کمال نہائی ۲۵۳

قرب الٰہی ۲۵۵

قربت کی حقیقت ۲۵۶

قرب الٰہی کے حصول کا راستہ ۲۵۷

تقرب خدا کے درجات ۲۵۹

ایمان ومقام قرب کا رابطہ ۲۶۰

خلاصہ فصل ۲۶۲

تمرین ۲۶۳

مزید مطالعہ کے لئے ۲۶۴


ملحقات ۲۶۵

مغربی انسان شناسی کے اعتبار سے کمال نہائی ۲۶۵

دسویں فصل : ۲۶۸

دنیا وآخرت کا رابطہ ۲۶۸

قرآن مجید میں کلمہ ٔدنیا کے مختلف استعمالات ۲۶۹

دنیا و آخرت کے روابط کے بارے میں پائے جانے والے نظریات کا تجزیہ ۲۷۰

رابطۂ دنیا وآخرت کی حقیقت ۲۷۵

خلاصہ فصل ۲۸۱

تمرین ۲۸۲

مزید مطالعہ کے لئے : ۲۸۳

ملحقات ۲۸۴

۱۔ شفاعت ۲۸۴

۲۔ شفاعت کے بارے میں اعتراضات و شبہات ۲۸۶

فہرست منابع ۲۸۹

خود آزمائی ۲۹۶


انسان شناسی

انسان شناسی

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محمود رجبی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 307