وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

مؤلف: ڈاکٹر سید محمد حسینی قزوینی
ادیان اور مذاھب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


وہابیت عقل وشریعت کی نگاہ میں

مولف : ڈاکٹر سید محمد حسینی قزوینی

مترجم : ناظم حسین اکبر


سخن مترجم

دنیاکے مسلمان آٹھویں صدی ہجری تک انبیاء واولیاء اورصالحین امت کے بارے میں وحدت کلمہ رکھتے وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کو مستحب اوران سے توسل کو حکم قرآن واسلام سمجھتے تھے۔

پہلی بارآٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نامی شخص نے زیارت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوحرام قراردے کر مسلمانوں کے درمیان پرچم مخالفت بلند کیا لیکن اہل سنت اورشیعہ علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے اس کے منحرف عقائد سپرد خاک ہوگئے ۔

بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نے ابن تیمیہ کے باطل عقائد کی ترویج کی اور مسلمانوں کو انبیاء واولیائے الھی سے توسل کے جرم میں مشرک قراردے کران کے کفر کا فتوی صادرکیا ، ان کا خون مباح، قتل جائزاوران کے مال کو غنیمت قراردیا ، اس کے اس فتوی کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا ناحق خون بہایاگیا۔

تاریخ وہابیت سے آشنائی رکھنے والے حضرات اس حقیقت سے بخو بی آگاہ ہیں کہ طول تاریخ میں وہابیوں کے مسلمانوںپر مظالم کامطالعہ کرتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اورقلم ان مظالم کو زیر تحریرلانے سے عاجز ہے ج نہیں اسلام کے نام پر مسلمانوں پر روا رکھاگیا ۔

آج تو اس وحشی قوم کے مظالم اپنی انتھاء کو پہنچ چکے ہیں پارہ چنار کے نہتے


مومنین کا مسلسل دس ماہ سے محاصرہ اورمظلوم کلمہ گوئوںکے ہاتھ پائوںکاٹ کرسڑکوں پرپھینک دینا وہابیوں کے تازہ ترین مطالم کا ایک نمونہ ہے ،لیکن افسوس کہ اکثر مسلمان اس فرقہ کے ناپاک عقائدوعزائم سے بے خبری کی بناپر اس وسیع ترنقصانات پربے توجہی برت رہے ہیں ۔

زیر نظر کتاب''وہابیت عقل وشریعت کی نگاہ میں ''معروف مناظراسلام عزت مآب جناب ڈاکٹر سید محمد حسنی قزوینی دام ظلہ العالی کی تالیف ہے جسے بندئہ حقیر نے اردو میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

اس کتاب میں مولف محترم نے وہابیوں کے عقائد کے قرآن وسنت اورعقل کی روشنی میں دندان شکن علمی جوابات دیئے ہیں جن کے مطالعہ سے باایمان افراد خاص طور پر نوجوان نسل اس فکری بیماری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے ۔

آخر میں ہم اپنے تمام معاونین کا صمیم قلب سے شکریہ اداکرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام پر آنے میں کسی بھی عنوان سے ہماری مدد فرمائی ہے ۔

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ناظم حسین اکبر(ریسرچ اسکالر )

ابوطالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور


مقدمۂ مؤلف

الحمد للّٰه ربّ العٰلمین و الصلاة والسلام علی سیدنا محمد و آله الطاهرین ۔

علمائے اہل سنت عرصہ دراز سے شیعہ عقائد و ثقافت پر پے در پے سوالات و اعتراضات کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن جزیرة العرب میں وہابیت کے ظہور سے اس فکر میں خاصی تبدیلی آئی ہے ، خاص طور پر انقلاب اسلامی ایران کی فتح کے بعد جدید ترین طرز اور ڈش و انٹرنیٹ کے استعمال سے اس فکر نے وسیع پیمانے پر وسعت پائی ہے۔

آخری سالوں میں تواس فکر نے اس قدر نمایاں وسعت پائی کہ عام افراد سے بڑھ کر کالج و یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اور اساتیذبلکہ کاروان حج کے معلمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اگرچہ ان میں سے اکثر شبہات تہمت، جھوٹ، جہل یا نادانی کا نتیجہ ہیں لیکن یہ امر اساتیذ و محققین کے جواب دینے کی ذمہ داری میں کمی کا باعث نہیں بنتا۔

چونکہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے دشمن ہرگز یہ تصوربھی نہیں کر سکتے تھے کہ ملت ایران شیعہ ثقافت کے بل بوتے پر اس قدر ابھر کر سامنے آجائے گی اور پھر خالی ہاتھ مگر دل میں اسلام و تشیع سے عشق و ایمان کا جذبہ لئے ہوئے ایک ایسی حکومت جو اسلحہ سے لیس اور جسے شرق و غرب کی حمایت حاصل ہو اس کا تختہ الٹ کر شیعہ فقہ کی بنیاد پر اسلامی حکومت قائم کرلے گی۔


وہابیوں کا شیعوں کی طرف جھوٹی نسبت دینا:

چونکہ دشمن مذہب اہل بیت علیہم السلام اور خواہان زر و زور شیعہ ثقافت کے پھیلنے کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں بنا برایں شیعوں کے خلاف جھوٹ اور تہمت پر مبنی کتب تالیف کر کے مذہب شیعہ کے نورانی چہرے کو دنیا میں مخدوش کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف عمل ہیں ۔

وہابیت کے بیان کردہ بے بنیاد اقوال میں سے چند ایک پر بطور نمونہ توجہ فرمائیں:

۱۔ وہابی افکار کا بانی ابن تیمیہ لکھتا ہے:

''الرافضة لم یدخلوا فی الاسلام رغبة ولارغبة ولکن مقتاً لاهل الاسلام''

شیعوں کے اسلام لانے کا مقصد مسلمانوں کو نابود کرنا تھا۔( ۱ )

____________________

(۱) منہاج السنة ۱:۲۳۔


''والیهود لا یرون علی النساء عدة و کذلک الرافضة'' .

شیعہ خواتین، یہودی عورتوں کی مانند عدت نہیں کاٹتی ہیں ۔( ۱ )

''و الیهود یستحلون أموال الناس کلهم و کذلک الرافضة''

یہودیوں کی طرح شیعہ بھی دوسرے لوگوں کے مال کو اپنے لئے حلال سمجھتے ہیں ۔( ۲ )

۲۔ مصری مؤلف ابراہیم سلیمان جبھان لکھتا ہے:

''ان نکاح الامّ عندم هومن البر بالوالدین، انه عندهم من اعظم القربات''

شیعہ اپنی ماں سے نکاح کو والدین سے نیکی اور اسے خداوند متعال سے قریب ہونے کا بہترین وسیلہ قرار دیتے ہیں ۔( ۳ )

ان الثورة الخمینیة مجوسیة ولیست اسلامیة،أعجمیة

و لیست عربیة، کسرویة و لیست محمدیة ۔

خمینی کی تحریک، مجوسی ،عجمی اور کسروی تحریک ہے نہ کہ اسلامی، عربی و محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( ۴ )

____________________

(۱) منہاج السنة ۱:۲۵۔ (۲) منہاج السنة ۱:۲۶۔

(۳) تبدید الظلام:۲۲۲۔

(۴) و جاء دور المجوس: ۳۵۷۔


نعلم ان حکّام الطهران اشد خطراً علی الاسلام من الیهود،ولا ننتظرخیراً منهم، و ندرک جیّداً انهم سیتعا و نون مع الیهود فی حرب المسلمین .( ۱ )

ہمیں معلوم ہے کہ اسلام کو یہودیوں کے خطرے سے بڑھ کر تہران کے حکمرانوں سے خطرہ ہے ان سے نیکی کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی اور ہمیں یہ بھی اچھی طرح علم ہے کہ وہ عنقریب مسلمانوں سے جنگ میں یہودیوں کی مدد کریں گے!

۴۔ ڈاکٹر ناصرقفاری اپنے پی ایچ ڈی کے رسالہ میں جسے اب مدینہ یونیورسٹی میں درسی کتاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔

لکھتا ہے:

أدخل الخمینی اسمه فی اذان الصلوات،قدم اسمه علی اسم النبی الکریم،فاذان الصلوات فی ایران بعد استلام الخمینی للحکم وفی کل جوامعها کما یعلی یلی :اللّٰه اکبر، اللّٰه اکبر، خمینی رهبر،ای الخمینی هو القائد،ثم اشهد ان محمد الرسول اللّٰه ،( ۲ )

خمینی نے نماز کی اذان میں اپنا نام داخل کر لیا ہے یہاں تک کہ اس نے نام

____________________

(۱) و جاء دور المجوس: ۳۷۴۔

(۲) اصول مذہب الشیعہ الامامیة ۳:۱۳۹۲۔


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بھی اپنے نام کومقدم رکھا ہے. ایران میں نماز کی اذان خمینی کے ایران اور تمام اسلامی معاشروں کے قائد و رہبر ہونے کے اعلان کے بعد یوں کہی جاتی ہے: ''اللہ اکبر خمینی رہبر'' اور اس کے بعد پھر کہتے ہیں اشہد ان محمدا رسول اللہ ۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جس قدر شیعوں کے خلاف کتب تالیف کی جاتی ہیں اس سے کئی گنا کم فلسطین پریہودیوں کے ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں لکھی جاتی ہیں ۔

۵۔ ۲۰۰۲ء میں حج پر جانے والے زائرین خانۂ خدا کے درمیان شیعوں کے خلاف دنیا کی بیس زندہ زبانوں میں دس ملین چھ ہزار پچاسی کتاب سعودی حکومت کی طرف سے تقسیم کی گئیں۔( ۱ )

مذہب شیعہ کا مستقبل:

وہابیوں کے مذہب اہل بیت علیہم السلام پر اس قدر وسیع حملات کی ایک وجہ ان کا اس مذہب کی ثقافت کے پڑھے لکھے نوجوانوں اور دانشوروں کے درمیان منتشر ہونے کا خوف ہے وہ ثقافت جو حقیقی سنت محمدی سے لی گئی اور قرآن کے عین مطابق ہے اس بات کے ثبوت کے لئے ہم مذہب شیعہ کی طرف جہکاؤ کے چند ایک نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

____________________

(۱) روزنامۂ عکاظ ۱۳۸۱۹۱۱ نقل از مجلہ میقات شمارہ ۴۳ صفحہ ۱۹۸۔


۱۔ ڈاکٹر عصام العماد ریاض کی '' الامام محمد بن سعود'' یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ، مفتی اعظم سعودی عرب عبد العزیز بن باز کے شاگرد صنعاء کی عظیم مسجد کے امام جمعہ و جماعت، یمن میں وہابیت کے مبلغ کہ جنھوں نے شیعوں کے کفر و شرک کے اثبات کیلئے ایک کتاب بنام ''الصلة بین الاثنی عشریة و فرق الغلاة'' لکھی اور تحقیق کے دوران شیعہ نورانی ثقافت سے جب آگاہ ہوئے تو وہابی فرقہ سے کنارہ کش ہو کر مذہب شیعہ سے مشرف ہوگئے، وہ لکھتے ہیں :

و کلما نقرئاکتابات اخواننا الوهابیین نزدادیقینابان المستقبل للمذهب الا ثنی عشری،لا نهم یتابعون حرکة الانتشار السریعة لهذاالمذهب فی وسط الوهابیین وغیرهم من المسلمین .( ۱ )

جب ہم اپنے وہابی بھائیوں کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں توہمارے یقین میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کہ مستقبل مذہب شیعہ ہی کا ہے اس لئے کہ وہ وہابیوں اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان بہت تیزی سے اس مذہب کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اور پھر ''الجامعة الاسلامیة'' مدینہ منورہ کے استاد شیخ عبد اللہ الغنیمان کا قول نقل کرتے ہیں :

____________________

(۱) المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین: ۱۷۸۔


ان الوهابیین علی یقین بان المذهب (الاثنی عشر)هوالذی سوف یجذب الیه کل اهل السنة وکل الوهابیین فی المستقبل القریب، ( ۱ )

وہابیوں کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ مستقبل قریب میں وہابیوں اور اہل سنت کو اپنی طرف جذب کرنے والا مذہب ،تنہا شیعہ امامیہ ہی ہوگا۔

مشہورسعودی مولف شیخ ربیع بن محمد لکھتا ہے :

و مما زاد عجبی من هٰذا الأمران اخوانالناومنهم ابناء احد العلماء الکبار المشهورین فی مصر، ومنهم طلاب علم طا لما جلسوا معنافی حلقات العلم،ومنهم بعض الاخوان الذین کنا نحسن الظن بهم،سلکواهذاالدرب، وهذا الاتجاه الجد ید هو (التشیع)، وبطییعةالحال ادرکت منذاللحظة الاولی ان هٰولاء الاخوةکغیرهم فی العالم الاسلامی بهرتهم اضواء الثورة الایرانیة ( ۲ )

اور اس بارے میں جو چیز میرے تعجب میں اضافے کا باعث بنی وہ یہ کہ ہمارے بعض بھائی جن میں کچھ تو مصر کے مشہور علماء کے فرزند ہیں ، کچھ ایسے طالب

____________________

(۱) المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین: ۱۷۸۔

(۲) الشیعة الامامیة فی میزان الاسلام: ۵۔


علم ہیں جو کتنی مدت تک ہماری علمی محافل میں شرکت کر تے رہے اور کچھ ایسے ہمارے بھائی بھی ہیں جن کے بارے میں ہم اچھا گمان رکھتے تھے وہ سب مکتب تشیع میں داخل ہو چکے ہیں ۔

اور میں نے پہلے ہی لمحہ میں جان لیا کہ یہ تمام افراد انقلاب اسلامی ایران کے نورکی روشنائی سے متا ثر ہوئے ہیں ۔

۳۔ معروف وہابی مؤلف شیخ محمد مغزاوی کہتا ہے:

بعد الانتشار المذهب الاثنی عشری فی مشرق العالم الاسلامی ، فخفت علی الشباب فی بلاد المغرب .( ۱ )

سرزمین مشرق میں مذہب شیعہ اثنا عشریہ کے پھیلنے کے بعد مجھے اس مذہب کے مغرب کے نوجوانوں کے درمیان بھی پھیلنے کا خوف ہے۔

۴۔ مدینہ یونیورسٹی کا استاد ڈاکٹر ناصر قفاری لکھتا ہے:

و قد تشیع بسبب الجهودالتی یبذلها شیوع الاثنی عشریة من شباب المسلمین،ومن یطالع کتاب عنوان المجد فی تاریخ البصرة ونجد یهوله الامر حیث یجد قبائل باکملها قد تشیّعت .

مسلمان نوجوانوں پر شیعہ علماء کی کوششوں کے باعث بہت زیادہ لوگ شیعہ ہوئے ہیں اور جو شخص کتاب '' المجد فی تاریخ البصرة و نجد'' کا مطالعہ

____________________

(۱)من سبّ الصحابة و معاویة فامه هاویة


کرے تو وحشت زدہ ہو کر رہ جائے کہ کس طرح پورے کے پورے قبائل شیعہ ہو گئے ۔( ۱ )

۵۔ برجستہ وہابی مؤلف شیخ مجدی محمد علی محمد نے بہت دلچسپ بات کہی ہے:

جاء نی شابّ من اهل السنةحیران ، وسبب حیرته انه قد امتدت الیه ایدی الشیعة...حتی ظن المسکین انهم ملائکة الرحمة وفرسان الحق .( ۲ )

ایک سنی نوجوان حیرت کے عالم میں میرے پاس آیا، جب اس سے حیرت کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ کوئی شیعہ اس تک پہنچ گیا ہے... یہاں تک کہ وہ بیچارہ یہ تصور کر بیٹھا کہ شیعہ ملائکہ رحمت اور حق کے شہسوار ہیں ۔

____________________

(۱) اصول مذہب ا لشیعة الامامیة الاثنی عشریة ۱:۹۔

(۲) انتصار الحق:۱۱ و۱۴۔


کتاب کے مطالب پر ایک اجمالی نظر

توفیقات الٰہی اور عنایت امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء سے ہم نے اس کتاب میں وہابی فرقہ کے فکری و اعتقادی مبنی کو معتبر تاریخی منابع سے تلاش کرکے طول تاریخ میں اس انحرافی تفکر سے پیدا ہونے والے امور کو سات فصلوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

فصل اول: وہابیت، امتوں کے درمیان تفرقہ کا باعث

فصل دوم: وہابیت کی تاریخی جڑیں

فصل سوم: وہابیت کا عملی کارنامہ

فصل چہارم: وہابیت اور خدا کی معرفت

فصل پنجم: وہابیت اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا

فصل ششم: وہابیت اور مسلمانوں پر بدعت کی تہمت

فصل ہفتم: انبیاء و اولیاء سے توسل کو حرام قرار دینا


اور اس کتاب کی دوسری جلد میں وہابیوں کے بنیادی شبہات کا جواب دیاجائے گاجیسے:

اولیائے الٰہی سے توسل کے بارے میں وہابیوں کے شبہات

اہل بیت علیہم السلام کی قبور کی زیارت

قبروں پر عمارت اور آئمہ علیہم السلام کے روضے بنانا

شفیعانِ الٰہی سے شفاعت کی درخواست کرنا

اولیائے الٰہی کے معنوی مقامات

اولیائے خدا کی ولادت منانا

امام حسین علیہ السلام اور دیگر اولیاء اللہ کی عزاداری


فصل اول

وہابیت، امتوں کے درمیان تفرقہ کا باعث

امت اسلام مذہبی تمائلات کی بنیاد پر تمام تر فکری اختلافات کے باوجود اسلام کے حیات بخش اصولوں سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنے درمیان اخوت اور بھائی چارے کو باقی رکھے ہوئے کلمۂ توحید کے سائے میں دشمنان اسلام کے مقابلے میں محکم و استوار کھڑی تھی لیکن افسوس کہ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری میں وہابی فکرکی بنیاد رکھے جانے سے یہ وحدت اور ہمدلی پارہ پارہ ہو گئی، مسلمانوں پر بدعت و شرک کی ناروا تہمتیں لگا کر صفوف مسلمین پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی جس کا جبران ممکن نہیں اورپھر بزرگان دین کے آثار کی نابودی، شعائر الہی سے ممانعت اور ابنیاء و اولیائے الٰہی سے لوگوں کی توجہ کو ہٹا کر اسلام کے دیرینہ دشمنوں کے ہدف کو عملی جامہ پہنا دیا۔


ابن تیمیہ اور امت اسلامی کے درمیان شگاف:

یورپ میں اسلام کی ترقی اور اندلس کی شکست مغربی عیسائیوں کے لئے سخت تلخ اور ناگوار تھی یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ انتقام کی فکر میں رہے یہاں تک کہ پانچویں صدی ہجری کے آخر میں روم کے عیسائیوں کے رہبر یعنی پاپ نے مسلمانوں سے انتقام لینے کی خاطر لاکھوں فوجیوں کو یورپ سے فلسطین روانہ کیا تا کہ مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو قتلگاہ بنائیںیہیں سے ان صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا جو تقریباً دو سو سال (۴۸۹۔۶۹۰ھجری) تک جاری رہیں جس کے نتیجہ میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔

اُس زمانہ میں جبکہ مصر اور شام صلیبیوں سے جنگ میں مصروف تھے اُمت مسلمہ کو ایک اور طوفان کا سامنا کرنا پڑااور وہ چنگیز خان کی قیادت میں مغلوں کا حملہ تھا جس نے اسلامی آثار کو غارت ونابود کردیا۔

اس کے پچاس سال بعد (۶۵۶ھ ق) چنگیز خان کے نواسے ہلاکو خان کے دستور پر بغداد کے لوگوںکاقتل عام کیا گیا جس سے عباسی خلافت کا شیرازہ بکھر گیا اور پھر حلب و موصل پر وہی مصیبت آئی جوبغداد پر آچکی تھی۔

مشہور مورخ ابن اثیر لکھتا ہے: '' مغلوں کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مصائب اس قدر سنگین تھے کہ مجھ میں ان کے لکھنے کی طاقت نہیں اے کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا. اے کاش! میں اس حادثے سے پہلے ہی مرگیا ہوتا اور اس دردناک مصیبت کو نہ دیکھتا''۔( ۱ )

____________________

(۱)ابن اثیر لکھتا ہے:''ذکرخروج التترالی بلاد الاسلام:لقد بقیت عدة سنین معرضا عن.


...ذکر هذ ه الحادثة، استعظامالهاکارهالذکرها فانااقدم الیه (رجلا)واوخراخری، فمن الذی یسهل علیه ان یکتب نعی الاسلام والمسلمین ومن الذی یهون علیه ذکر ذلک ، فیالیت امی لم تلد نی ویالیتنی مت قبل هذا وکنت نسیامنسیا ، الکامل فی التاریخ۲: ۳۵۸۔

کہا جاتا ہے کہ مغلوں کے دور حکومت میں حکمرانوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی کہ امت اسلام کے درمیان تفرقہ پیدا کر کے سلاطین کے نزدیک مقام حاصل کر سکیں. اس کے علاوہ ہلاکو خان کی ماں اور بیوی عیسائی تھیں اور شامات کا بڑا سردار کیتوبوقا بھی مسیحی تھا۔

اسی طرح اباقاخان (۶۶۳۔۶۸۰ھج) ہلاکو خان کے بیٹے نے مشرقی روم کی بیٹی سے شادی کر لی ، پاپ اور فرانس و برطانیہ کے حکمرانوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف اتحاد کر کے مصر اور شام پر لشکر کشی کر دی۔

اور اس سے بھی بدتر یہ کہ ہلاکو خان کے نواسے ارغون (۶۸۳۔۶۹۰ھج) نے اپنے یہودی وزیر سعد الدولہ ابہری کے مشورے پر مکہ کی تسخیر اور خانہ کعبہ کو بت خانہ میں تبدیل کرنے کا پکا ارادہ کر لیا تھااور اس سازش کے مقدمات بھی فراہم کر لئے تھے لیکن خوش قسمتی سے ارغون کے بیمار اور سعد الدولہ کے قتل ہوجانے کی وجہ سے یہ عظیم فتنہ ٹل گیا۔( ۱ )

ایسے حساس زمانہ میں کہ جب اسلامی ممالک تباہی و ویرانی کی آگ میں جل رہے تھے اور شرق و غرب کے حملوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے مؤسس افکار وہابیت ابن تیمیہ نے اپنے افکار کو منتشر کر کے امت اسلام کے درمیان ایک نیا شگاف ڈال دیا۔

____________________

(۱) وہابیت، مبانی فکری و کارنامۂ عملی،( تألیف حضرت آیت اللہ العظمیٰ سبحانی: ۲۱ و۲۴) اور اسلام کے مقابلے میں مغلوں کے صلیبیوں سے روابط اور ان کے مظالم کے بارے میں آگاہی کیلئے تاریخ مغول: ۱۹۱،۱۹۷،۳۲۶ تألیف،عباس اقبال آشتیانی کا مطالعہ فرمائیں۔


محمد بن عبد الوہاب اور اسلامی اتحاد پر ضرب:

بارہویں صدی ہجری میں بانی و مروج افکار وہابیت محمدبن عبد الوہاب نے مسلمانوں کو انبیاء و اولیائے خدا سے توسل کے جرم میں مشرک قرار دے کر ان کے کفر کا فتویٰ دیا، ان کا خون مباح، قتل جائز اور ان کے مال کو غنیمت قراردے دیا. اس کے اس فتویٰ کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔

ابن تیمیہ کے افکار کی تجدید محمد بن عبد الوہاب کے ہاتھوں تاریخی و سیاسی اعتبار سے سخت نامناسب حالات میں کی گئی. اس لئے کہ اس دور میں امت مسلمہ چاروں طرف سے صلیبی استعمار کے حملوں کا شکار بن چکی تھی اور اسلامی معاشرے کو سب سے زیادہ وحدت کلمہ کی ضرورت تھی۔

انگریز ہندوستان کا بہت زیادہ علاقہ مسلمانوں سے چھین کر تیموری مسلمانوں کی سلطنت کی شان و شوکت کو مٹا کر پنجاب، کابل اور خلیج فارس کے سواحل کا خواب دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ ایران کے جنوب و مغربی علاقے کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔

فرانسیسی نیپلن کی قیادت میں مصر، شام اور فلسطین پر زبردستی قبضہ کر کے دولت عثمانی کو آنکھیں دکھاتے ہوئے ہندوستان میں اپنا اثر جمانے کی سوچ رہے تھے۔

تزاری روس جوکہ مشرقی روم کے مسیحی سزاروں کی جانشینی کا دعویٰ کر رہے تھے ایران اور دولت عثمانی پرپے در پے حملے کر کے اپنی حکومت کا دائرہ ایک طرف سے قسطنطنیہ و فلسطین اور دوسری طرف سے خلیج فارس تک وسیع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے. اس مقصد کے حصول کیلئے انھوں نے اپنی فوجی کاروائیوں میں سب سے پہلے ایران، دولت عثمانی اور قفقاز کو نشانہ بنا رکھا تھا۔

یہاں تک کہ امریکائی بھی شمالی افریقہ کے اسلامی ممالک پر چشم طمع رکھے ہوئے لیبیا اور الجزائر کے شہروں پر گولہ باری کے ذریعے عالم اسلام میں نفوذ کی کوششیں کر رہے تھے۔

صربستان کے مسئلہ پر عثمانیوں اور اتریش کی جنگ اور ہالینڈ کے جنگی بحری بیڑوں کا برطانیہ کی مدد کر کے الجزائر کے دارالخلافہ کا فوجی محاصرہ کرنا بھی اسی بحرانی دور میں پیش آیا۔( ۱ )

____________________

(۱)وہابیت،مبانی فکری وکارنامہ عملی:۲۱


سعودی مفتیوں کاتفرقہ بازی کی راہ ہموار کرنا:

آج جبکہ اسلام کے بدترین دشمن یہودی، عیسائی، امریکہ اور صہیونزم اسلام اور مسلمانوں کی نابودی کی خاطر کمر بستہ ہو چکے ہیں اور ڈاکٹر مائیکل برانٹ امریکن سی آئی اے کی مفکر کے مطابق وائٹ ہاؤس کی مہم ترین سازش مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرناہے اس کے باوجود ہم اس بات پر شاہد ہیں کہ سعودی مفتی عملی طور پر غیروں کی خدمت کر رہے اور وہم و خیال پر مشتمل غلط فتوے صادر کر کے امت اسلام کے درمیان وحدت و اتحاد کی راہیں مسدود کر کے مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی راہیں زیادہ سے زیادہ ہموار کر رہے ہیں ۔

بن باز اور تقریب مسلمین کا ناممکن ہونا:

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز سے فتویٰ طلب کیا گیا:

'' شیعوں کے ماضی کے بارے میں جنابعالی کی آگاہی کو مد نظر رکھتے ہوئے شیعہ اور اہل سنت کے درمیان تقریب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟''(۱)

تواس نے جواب میں کہا:

التقریب بین الرافضةوبین اهل السنة غیرممکن،لان العقیدةمختلفة...فلایمکن الجمع بینهما، کماانه لایمکن الجمع بین الیهود والنصاری والوثنیین واهل السنة،فکذلک لایمکن التقریب بین الرافضةوبین اهل السنة ، لاختلاف العقیدة التی

____________________

(۱)من خلال معرفة سماحتکم بتاریخ الرافضة، ما هو موقفکم من مبدأ التقریب بین اهل السنة و بینهم ۔


اوضحناها ۔( ۱ )

شیعہ اور اہل سنت کے درمیان تقریب و ہم بستگی ممکن نہیں ہے اس لئے کہ دونوں کے عقائد ایک دوسرے سے سازگار نہیں ہیں اور جس طرح یہود و نصاریٰ اور بت پرستوں کو اہل سنت کے ساتھ ایک جگہ جمع نہیں کیا جا سکتا اسی طرح شیعہ اور اہل سنت کے درمیان ان عقائد کے اختلاف کی وجہ سے جن کی ہم نے وضاحت کر دی ہے ان کو بھی ایک جگہ جمع نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح کتاب'' مسئلة التقریب''( ۲ ) جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حکام کی حمایت سے چھپی ہے اس میں بھی شیعوں کے ساتھ تقریب کی پہلی شرط ان کا مسلمان ثابت ہونا بیان کی گئی ہے۔

امریکا ، یہود اور شیعہ اہل سنت کے مشترک دشمن

عبد العزیز قاری وعالم بزرگ مدینہ منورہ اپنے ایک انٹریو میں کہتا ہے :

نحن الآن فی زمن عصیب طوقنا العدو المشترک وهو ذوثلاث شعب : الیهود ، وامریکا، والروافض، وهذا العدونبت من احداث العراق الجسام وما وقع فی لبنان انه یستهدف اهل السنة جمیعا ً علی اختلاف مذاهبهم فهل یصح ان نتشاجر نحن

____________________

(۱) مجموعہ فتاویٰ و مقالات بن باز ۵:۱۵۶۔

(۲)مسئلة التقریب بین اہل السنّة و الشیعة ۲:۲۵۳ اشاعت پنجم۔


اهل الدائرة الواحدة المستهدفة دائرة اهل السنة والجماعة ، الا یجب ان ننتکاتف ضد الاخطار التی تتهددنا جمعیاً

...ان من یقول ان اهل السنة والجماعة مذهب واحد یلزمه ان یخرج هذه المذاهب الاربعة من دائرة اهل السنة والجماعة ، وهم فعلاً یعتقدون ذلک ویعتبرون تعدد هذه المذاهب الفقهیة مظهر انحراف ''( ۱ )

ہم لوگ اس وقت تین طرح کے دشمن کے مقابل میں ہیں : امریکا ، یہودی اور رافضی( شیعہ ) عراق اور لبنان کے واقعہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان دشمنوں کا اصلی مقصد ، اہل سنت والجماعت ہیں لہٰذا ہم کو چاہئے کہ ہم ان دشمنوں کے برابر متحد ہو جائیں ۔

جیسا کہ وہ کہتا ہے :جن کا نظریہ یہ ہے کہ اہل سنت ایک مذہب ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ کوشش کریں کہ جن یہ عقیدہ ہے کہ مذاہب چہار گانہ کو اہل سنت کے احاطہ سے خارج کریں ورنہ یہ مذاہب چہار گانہ فقہی ، معاشرہ کے انحراف کا وسیلہ ہو جائیں گے

مراجع تقلید اور وہابیت کا انحرافی تفکر

ایسی چیزجو ہر مسلمان کیلئے تکلیف کا باعث بنتی ہے وہ عقل و شریعت کے

مخالف فتوے ہیں جبکہ ایسے فتوے دینے والے حضرات کو یہ علم نہیں ہے کہ وہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ان لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلا کر اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

____________________

(۱)جریدة الرسالة الجمعة ، ۷ رجب ، ۱۳۴۶ ھ الموافق ۱۲ اگست ، ۲۰۰۵ ئ


امام خمینی کا نظریہ:

کیا مسلمان یہ نہیں دیکھ رہے کہ آج وہابیوں کے مراکز دنیا میں فتنوں اور جاسوسی کے اڈوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ایک طرف سے اسلام اشراف، اسلام ابوسفیان،... اور اسلام امریکائی کی ترویج کر رہے ہیں تودوسری طرف اپنے پیر و مرشد امریکہ کی دہلیز پر سر جھکائے نظرآتے ہیں ۔( ۱ )

اپنے سیاسی الٰہی وصیت نامے میں لکھتے ہیں :

ہم دیکھ رہے ہیں کہ شاہ فہد ہر سال لوگوں کی بے تحاشا ثروت میں سے بہت زیادہ مقدار قرآن کریم چھپوانے اور مخالف قرآن تبلیغات کرنے پر خرچ کررہا ہے اوربے اساس و خرافات پر مشتمل وہابی مذہب کی ترویج میں مصروف عمل ہے. اور غافل عوام و اقوام کو دنیا کی بڑی طاقتوں کے حوالے اور اسلام و قرآن کے نام پر اسلام و قرآن کی نابودی کیلئے سامان مہیا کر رہا ہے۔( ۲ )

____________________

(۱) صحیفۂ امام ۲۱:۸۰، شہدائے مکہ کی بر سی کی مناسبت پر امام خمینی کا پیغام۔

(۲) وصیت نامہ سیاسی و الہی امام خمینی، ۲۶ بہمن۳۶۱ا بمطابق یکم جمادی الاول ۱۴۰۳ ہجری ۔


آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی قدّس سرّہ کا نظریہ:

تمام اہل علم پر واضح ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اس پر اتفاق ہے کہ وہابی اسلام سے خارج اور مولود کفر و یہود ہیں ان کے وجود کا فلسفہ اسلام و قرآن کی مخالفت اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے کے سواکچھ اور نہیں ہے۔

یہ فرقہ نہ صرف شیعوں کے مقدسات کو نابود کرنا چاہتا ہے بلکہ تمام مقدسات اسلامی منجملہ روضۂ مبارک نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے اور ایک دن آئے گا کہ قرآن و خانہ خدا کو بھی نشانہ بنائے گا۔( ۱ )

رہبر معظم کا نظریہ:

رہبر معظم فرماتے ہیں :

ابتداء ہی سے وحدت اسلام پر ضرب لگانے اور اسلامی معاشرے میں اسرائیل کے مانند ایک مرکز قائم کرنے کے لئے وہابیوں کو وجود میں لایا گیا،جس طرح اسرائیل کو اسلام کے خلاف مرکز کے طور پر وجود میں لایا گیا اسی طرح اس وہابی اور نجدی حکومت کو وجود میں لایا گیا تاکہ عالم اسلام کے اندر اپنے امن کا ٹھکانہ بنا سکیں جو انھیں سے وابستہ ہو اور آج ہم ان کی اس وابستگی کو دیکھ رہے ہیں ۔

آج مرکز اسلام کے وہابی حکمران ،دشمن اسلام امریکہ کی سیاست سے اپنی حمایت، رفاقت اور وابستگی کا اظہار بڑے کھلے لفظوں میں کرتے ہیں اور اسے مخفی نہیں رکھتے۔(۲)

____________________

(۱) امام عسکری علیہ السلام کے روضۂ مبارک کی دوبارہ تخریب کے موقع پر پیغام ۳۲۳ ۱۳۸۶(۲۰۰۷ئ)۔

(۲) دفتر حفظ و نشر آثار رہبر معظم Farsi.khamenei.ir ۔


آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کا نظریہ:

آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی فرماتے ہیں :

دشمنان اسلام نے علاقے میں مسلمانوں سے سوء استفادہ اور ان کے درمیان تفرقہ پھیلانے کے لئے وہابیوں کو آمادہ کر رکھا ہے۔(۱)

طول تاریخ میں دین مبین اسلام جن مشکلات اور عظیم سازشوں سے دچار رہا ہے ان میں سے ایک فرقۂ وہابیت کی پیدائش ہے جس کی وجہ سے اسلام ترقی نہیں کر سکا۔(۲)

آیت اللہ العظمیٰ صافی کا نظریہ:

جب میں نے کتاب العواصم من القواصم کا مطالعہ کیا تو اس کے مؤلف کی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ بازی کی کوشش کو دیکھ کر حیران رہ گیا. خدا کی قسم! میں

____________________

(۱) Salaf.blogfa.compost_۴۰۶.aspx\:http نقل از خبر گذاری ایرنا، سوموار پنجم آذر ۱۳۸۶۔

(۲) جنت البقیع کی تخریب کی برسی کی مناسبت سے درس خارج کے ابتداء میں آپ کا بیان، ۸ شوال ۱۴۲۷ھ۔


نے کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ عصر حاضر میں بھی کوئی ایسا مسلمان ہو سکتا ہے جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے دوراور ان کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے کی کوشش کرے اور وحدت کے منادی و مصلح افراد پر نادانی، جھوٹ اور نفاق و حیلہ گری کی تہمت لگائے. اور سب سے بڑی مصیبت تو یہ ہے کہ یہ کتاب مدینہ منورہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی سے چھپی اور منتشر کی گئی ہے۔

ارے! جب تک الخطوط العریضہ، الشیعة و السنة اور العواصم من القواصم جیسی کتب مدینہ منورہ جیسی اسلامک یونیورسٹی سے لکھی جائیں اور اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے دشمنی کو آشکار، تاریخی حقائق کا انکار، وحدت مسلمین کو زیر سوال لایا جائے اور وحدت کے منادی حضرات کی مخالفت کی جائے تب تک کیسے مسلمانوں کے درمیان وحدت برقرار ہو سکتی ہے؟( ۱ )

اسی طرح آئمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں کی تعمیر کروانے والے ادارے کے ارکان سے ملاقات کے دوران فرمایا:

وہابی فقط اہل بیت علیہم السلام سے ہی دشمنی نہیں رکھتے بلکہ رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بھی دشمن ہیں یہ لوگ تاریخ و نام اسلام کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں آئمہ علیہم السلام کا نام اور ان کی یاد کبھی مٹنے والی نہیں ہے بلکہ جو چیز جلد صفحۂ ہستی سے محو ہونے والی ہے وہ فتنۂ وہابیت ہے اورپھر تاریخ میں تنہا ان کے مظالم ہی باقی رہ جائیں گے۔(۲)

تفرقہ بازی کو رواج دینے کے بارے میں تفکر وہابیت کے قرآن و سنت کے مخالف ہونے کو واضح کرنے کیلئے ہم سب سے پہلے وحدت واتحاد کو قرآن کی رو سے بیان کر رہے ہیں اور پھر اس کے بعد تفرقہ بازی کے اسباب اور اس کے بدترین اثرات کو بیان کریں گے۔

____________________

(۱) صوت الحق: ۱۷ تألیف آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی۔

(۲) www.farsnews.net-www.mazaheb.com ۔


قرآن و سنّت میں وحدت و اتحاد کا مقام

۱۔ وحدت، قوموں کی کامیابی کا راز:

اس میں شک نہیں ہے کہ قوموں کی کامیابی و کامرانی کا ایک راز ان کا آپس میں اتحاد و اتفاق رہا ہے. جس طرح پانی کے قطرات کے متحد ہونے سے بڑے بڑے ڈیم تشکیل پاتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کے ایک دوسرے سے مل جانے سے بہت بڑے دریا بنتے ہیں اسی طرح انسانوں کے اتحاد اور جمع ہونے سے ایسی صفیں تشکیل پاتی ہیں کہ جن پر نگاہ ڈالتے ہی دشمن وحشت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر کبھی بھی ان پر چڑھائی کرنے کا تصور تک نہیں کرتا:

( تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ ﷲ وَعَدُوَّکُمْ ) (۱)

ترجمہ:تم صف بندی کے ذریعہ اپنے اور خدا کے دشمنوں کو خوف زدہ کرو۔

____________________

(۱) انفال: ۶۰۔


قرآن مجید اقوام اسلام کو وحدت و اتحاد کے تنہا عامل حبل اللہ سے تمسک کی دعوت اور ہر طرح کی تفرقہ بازی سے بچنے کا حکم دیتا ہے:

( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ ﷲ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا ) ( ۱ )

ترجمہ:اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کروتمام مسلمانوں کو امت واحد، اور ان کے لئے ہدف واحد اور معبود واحد قرار دیا ہے:

( إ ِنَّ هَذِهِ أُمَّتُکُمْ ُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُونِی ) ( ۲ )

ترجمہ:بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔

قرآن نے پوری امت اسلام کو آپس میں بھائی بھائی شمار کیا ہے اور ان سے یہ تقاضا کیا ہے کہ ان کے آپس کے روابط و تعلقات دوستانہ اور بھائیوں کے مانند ہونا چاہئیں اور پھر چھوٹے سے چھوٹے اختلاف کی صورت میں بھی صلح کا دستور صادر فرمایا ہے:

( إ ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة فَأَصْلِحُوا بَیْنَ أَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا ﷲ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ) ( ۳ )

____________________

(۱)آل عمران: ۱۰۳۔

(۲) انبیائ:۹۲۔

(۳) حجرات: ۱۰۔


ترجمہ:مومنین ایک دوسرے کے دینی بھائی ہیں تم اپنے دوبھائیوںکے درمیان جنگ کے موقع پر صلح کروادیاکرواوراللہ سے ڈروتاکہ تم پر رحم کھایاجائے ۔

۲۔ تفرقہ بازی بدترین آسمانی عذاب:

دوسری جانب خداوند متعال نے اختلاف اور جنگ و جدل کو بدترین عذاب شمار کیا ہے:

( قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَی أ َنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ َوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ َوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ) ( ۱ )

ترجمہ:اے رسول!تم کہہ دو کہ وہی اس پر قابورکھتا ہے کہ (اگرچاہے تو)تم پرعذاب تمہارے سر کے اوپر سے نازل کرے یاتمہارے پائوں کے نیچے سے (اٹھاکر کھڑا کردے )یاایک گروہ کو دوسرے سے بھڑادے اورتم میں سے کچھ لوگوں کو بعض آدمیوں کی لڑائی کامزاچکھادے ذراغورتوکروہم کس کس طرح اپنی آیتوں کوالٹ پلٹ کے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں ۔

ابن اثیر کہتا ہے: ''شیعاً''سے مراد وہی امت اسلام کے درمیان تفرقہ بازی پھیلانا ہے۔( ۲ )

اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایسے لوگوں سے رابطہ نہ رکھنے کا حکم فرمایا جو آپس میں

____________________

(۱) انعام: ۶۵۔

(۲) النہایة فی غریب الحدیث۲: ۵۲۰۔


اختلاف ایجاد کرتے اور پھر اس پر اصرار کرتے ہیں :

( إ ِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِی شَیْئٍ إِنَّمَا َمْرُهُمْ إِلَی ﷲ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ ) ( ۱ )

ترجمہ:جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کاکوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ ا نہیں ان کے اعمال سے باخبر کرے گا۔

خداوند متعال نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ مشرکوں کے مانند آپس میں اختلاف اور اس پر فخر و مباہات مت کریں:

( ولاتَکُونُوا مِنْ الْمُشْرِکِینَ مِنْ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُونَ ) ( ۲ )

ترجمہ:اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہوجانا جنھوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست و مگن ہے۔

۳۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اختلاف امت کی وجہ سے پریشان ہونا:

امت مسلمہ کے درمیان ہر قسم کا اختلاف پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے پریشانی کا

____________________

(۱) انعام: ۱۵۹۔

(۲) روم:۳۱اور۳۲۔


باعث تھا سیوطی اور دیگر نے نقل کیا ہے کہ ''شاس بن قیس'' نامی شخص جو زمانہ جاہلیت کا پرورش یافتہ اور مسلمانوں کے بارے میں اس کے دل میں حسد و کینہ ٹھاٹھیں مارتا رہتا تھا اس نے ایک یہودی جوان کوتیارکیا تاکہ اسلام کے دو بڑے قبیلوں اوس و خزرج کے درمیان اختلاف ایجاد کرے۔

اس یہودی نے دونوں قبیلوں کے افراد کو زمانہ جاہلیت میں ان کے درمیان ہونے والی جنگوں کی یاد دہانی کروا کر ان کے درمیان آتش فتنہ روشن کردی یہاں تک کہ دونوں قبیلے ننگی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس واقعہ کی خبر ملی تو انصار و مہاجرین کے ایک گروہ کے ہمراہ لڑائی کے مقام پر پہنچے اور فرمایا:

یامعشرالمسلمین الله الله،ابدعوی الجاهلیة وانا بین اظهر کم ؟بعد اذهداکم الله الی الاسلام واکر مکم به ، وقطع به عنکم امر الجاهلیة،واستنقذکم به من الکفر، والف به بینکم ، ترجعون الی ما کنتم علیه کفارا،

اے مسلمانو!کیا تم نے خدا کو فراموش کر ڈالا اور جاہلیت کے شعار بلند کرنے لگے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں. خداوند متعال نے تمھیں نور اسلام کی طرف ہدایت کر کے مقام عطا کیا، جاہلیت کے فتنوں کو ختم کر کے تمھیں کفر سے نجات دی اور تمہارے درمیان الفت و برادری برقرار کی کیا تم دوبارہ کفر کی طرف پلٹنا چاہتے ہو؟


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس خطاب سے وہ لوگ سمجھ گئے کہ یہ ایک شیطانی سازش ہے اپنے اس عمل پر پشیمان ہوئے، اسلحہ زمین پر رکھ دیا اور آنسو بہاتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اظہار محبت کرنے لگے اور پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہمراہی میں اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس پلٹ گئے۔( ۱ )

۴۔ جاہلیت کے بُرے آثار میں سے ایک اختلاف کی دعوت دینا ہے :

جنگ بنو مصطلق میں مسلمانوں کی فتح کے بعد ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان اختلاف ایجاد ہو گیا، انصاری نے اپنے قبیلہ کو مدد کے لئے پکارا اور مہاجر نے اپنے قبیلہ کو. جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کی خبر ملی تو فرمایا:

ان بری باتوں سے کنارہ کشی اختیار کرو اس لئے کہ یہ جاہلیت کا طریقہ ہے جبکہ خداوند متعال نے مؤمنین کو ایک دوسرے کا بھائی اور ایک گروہ قرار دیا ہے. ہر زمان و مکان میں ہر طرح کی فریاد و مدد خواہی فقط اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کی خاطر ہونی چاہیے نہ کہ ایک گروہ کی خیر خواہی اور دوسرے کونقصان پہنچانے کی خاطر

انجام پائے .اس کے بعد جو بھی جاہلیت کے شعار بلند کرے گا اُسے سزادی جائے گی۔(۲)

____________________

۱ ((فعرف القوم انها نزعة من الشیطان وکید من عدوهم نهم فائقوا السلاح وبکواوعانق الرجال بعضهم بعضاثم انصرفوا مع رسول الله صلی الله علیه وسلم سامعین مطیعین قداطفاالله عنهم کید عدوالله شاس)) د رالمنثور۲:۵۷،جامع البیان۴:۳۲،فتح القدیر۱: ۶۸ ۳ ، تفسیر آلوسی ۴: ۱۴، واسد الغا به ۱: ۱۴۹،

(۲) دعوها فانها منتنة ...یعنی انهاکلمة خبیثة ، لانهامن دعوی الجاهلیة والله سبحانه جعل المومنین اخوة وصیرهم حزباواحدا، فینبغی ان تکون الدعوة فی کل مکان وزمان لصالح الاسلام و المسلمین عامة لالصالح قوم ضد الاخرین،فمن دعافی الاسلام بدعوی الجاهلیة یعزر، سیره نبویه ۳:۳۰۳،غزوة بنی المصطلق ومجمع البیان ۵:۲۹۳، رسائل ومقالات ۱:۴۳۱،


حضرت علی سب سے بڑے منادی و حدت

حضرت علی علیہ السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد خلافت و امامت کو اپنا مسلم حق سمجھتے تھے اور وہ معتقد تھے کہ خلافت کے غاصبوں نے ان کے حق میں جفا کی ہے:ما زلت مظلوماً منذُ قبض اللّٰه نبیّه صلی الله علیه وآله وسلم. (۱)

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی رحلت کے بعد ہمیشہ مجھ پر ظلم کیا گیا ۔

آپ نے اپنی حقانیت کے اثبات کے لئے کسی قسم کی کوشش سے دریغ نہ کیا اور اپنے مسلّم حق کے حصول کیلئے ہر ایک سے مدد طلب کی(۲) ، یہاں تک کہ اپنی

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید۲۰:۲۸۳؛ الشافی فی الامامة ۳:۱۱۰؛ الامامة و السیاسة، تحقیق الشیری ۱: ۶۸؛ تحقیق الزینی۱:۴۹؛ بحار الانوار۲۹:۶۲۸۔

(۲) ابن قتیبہ دینوری نقل کرتا ہے: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے دن ہی جب ابوبکر مسند خلافت پر بیٹھا تو علی علیہ السلام نے مہاجرین کو خطاب فرمایا، اپنی حقانیت اور مسند خلافت کی صلاحیت کو بیان فرمایا:


زوجہ محترمہ کو سوار کروا کر مہاجرین کے دروازوں پہ گئے اور ان سے مدد طلب کی۔( ۱ )

لیکن افسوس کہ کسی ایک نے مثبت جواب نہ دیا. جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیکھا کہ اہل بیت کے سوا نہ کوئی میرا مددگار ہے اور نہ دفاع کرنے والا تو اس وقت

>.......آنحضرت کے کلمات سے اس قدر تاثیر پذیر ہوئے کہ بشیر بن سعد کہنے لگا: یا علی ! اگر انصار نے ابوبکر کی بیعت سے پہلے آپ کی یہ گفتگو سنی ہوتی تو کبھی دو شخص بھی آپ کی خلافت کے حق میں اختلاف نہ کرتے۔

حضرت کا مشہور کلام اس طرح ہے :''الله الله یا معاشر المهاجرین ! لا تخرجوا سلطان محمد فی العرب عن داره و قعر بیته ، الی دورکم و قعور بیوتکم ولا تدفعوا اهله عن مقامه فی الناس وحقه ، فوالله یا معاشر المهاجرین ، لنحن احق الناس به. لانا اهل البیت ، ونحن احق بهذا الامر منکم ما کان فینا القاری ، لکتاب الله ،الفقیه فی دین الله ، العالم بسنن رسول الله ، المضطلع بامر الرعیة ، المدافع عنهم الامور السیئة، القاسم بینهم بالسویة، والله انه لفینا ، فلا تتبعوا الهوی فتضلوا عن سبیل الله ، فتتزدادوا من الحق بعداً''

بشیر بن سعد انصاری کہتا ہے :''لو کان هذا الکلام سمعته الانصار منک یاعلی قبل بیعتها لابی بکر، ما اختلف علیک اثنان ''.الامامة والسیاسة ، تحقیق الزینی۱:۱۹.

____________________

(۱) ابن قتیبہ کہتا ہے: و خرج علی کرم الله وجهه یحمل فاطمه بنت رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی دابةلیلاًفی مجالس الانصار تساء لهم النصرة ، فکانوں یقولون :یابنت رسول الله !قدمضت بیعتنا لهذاالرجل ولوان زوجک وابن عمک سبق الینا قبل ابی بکر ماعدلنابه ۔

فیقول علی کرم الله وجهه :افکنت ادع رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فی بیته لم ادفنه ، واخرج انازع الناس سلطانه ؟فقالت فاطمه :ماصنع ابوالحسن الاماکان ینبغی له ، ولقد صنعوا مالله حسیبهم وطالبهم ، الامامة والسیاسة،تحقیق الزینی۱:۹،


مصلحت یہی دیکھی کہ انھیں دشمن کے مقابلے میں نہ لایا جائے۔( ۱ )

حضرت علی علیہ السلام نے آنکھوں میں خس و خاشاک کے ہوتے ہوئے چشم پوشی کی اور گلے میں پھندے کے ہوتے ہوئے لعاب دہن نگل کر خانہ نشینی کا تلخ جام پی لیا۔( ۲ )

ارے! امیر المومنین علیہ السلام نے جب یہ احساس کیا کہ اپنے مسلم حق کے احقاق کے لئے راہ ہموار نہیں ہے اور قیام کرنے سے اُمت اسلام کے درمیان تفرقہ کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہو گا۔( ۳ )

تو اس وقت آنکھ میں کانٹے کا تحمل کرنا اور گلے میں ہڈی کے اٹکنے جیسے سخت

____________________

(۱) علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ ۲۱۷ میں فرماتے ہیں : ''فنظرتُ فاذا لیس لی معین الا اهل بیتی فضننت بهم عن الموت . ترجمہ: میں نے دیکھا کہ میرے پاس کوئی مددگار نہیں ہے سوا میرے گھر والوں کے تو میں نے انھیں موت کے منھ میں دینے سے گریز کیا۔

(۲) حضرت علی فرماتے ہیں :و اغضیت علی القذیٰ وشربت علی الشجاوصبرت علی اخذالکظم وعلی امرّمن طعم العلقم

ترجمہ: اور باالآخر آنکھوں میں خس وخاشاک کے ہوتے ہوئے چشم پوشی اور گلے میں پھندے کے ہوتے ہوئے لعاب دہن نگل لیا اور غصہ کو پینے میں حنظل سے زیادہ ذائقہ پرصبرکیا اور چھریوں کے زخموں سے زیادہ تکلیف دہ حالات پر خاموشی اختیار کر لی۔

(۳)حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ''و ایم اللّٰه لوکان مخافة الفرقة بین المسلمین... لکنا علی غیر ما کنّا لهم علیه'' ترجمہ: اگر مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا ڈر نہ ہوتا تو ہم ان سے اور رویہ اپناتے،(شرح نہج البلاغة ابن ابی الحدید۱:۳۰۷؛ ارشاد ۱:۲۴۵۔


ترین مصائب کو برداشت کیا لیکن امت اسلام کے درمیان اتحاد و وحدت کو گزند نہ پہنچنے دیا تا کہ کہیں منافقوں اور اسلام سے شکست خوردہ دشمنوں کی سازشوں سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تئیس سالہ زحمات ضائع نہ ہو جائیں. بلکہ جہاں کہیں بھی دیکھا کہ اسلام یا اسلامی معاشرہ کو فائدہ ہو رہا ہے وہاں پہ کسی قسم کی مدد سے گریز نہ کیا۔( ۱ )

ترجمہ: یہاں تک کہ یہ دیکھا کہ لوگ دین اسلام سے واپس پلٹ رہے ہیں اورآئین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برباد کردینا چاہتے ہیں تو مجھے یہ خوف پیدا ہوگیا کہ اگر اس رخنہ اور بربادی کو دیکھنے کے بعد بھی میں نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کی تو اس کی مصیبت روز قیامت اس سے زیادہ عظیم ہوگی جو آج اس حکومت کے چلے جانے سے سامنے آرہی ہے جو صرف چند دن رہنے والی ہے اور ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح سراب کی چمک دمک ختم ہوجاتی ہے یا آسمان کے بادل چھٹ جاتے ہیں تو میں نے ان حالات میں قیام کیا یہاں تک کہ باطل زائل ہوگیا اور دین مطمئن ہو کر اپنی جگہ پر ثابت ہوگیا۔

اگرچہ حضرت علی علیہ السلام خلیفہ اول و دوم کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھتے اور اہل سنت کی معتبر ترین کتاب صحیح مسلم کے مطابق حضرت علی علیہ السلام ان دونوں کو

____________________

(۱)نہج البلاغہ،نامہ:۶۲''حتی رأیت راجعة الناس قدرجعت عن الاسلام،یدعون الی محق دین محمدصلی الله علیه واله و سلم فخشیت ان لم انصرالاسلام واهله ان اری فیه ثلماً او هدما...فنهضت فی تلک الاحداث حتی زاح الباطل وزهق ، و اطمنان الدین وتنهنه ۔


کاذب، دھوکہ باز اور خائن سمجھتے تھے ۔( ۱ )

لیکن یہ چیز باعث نہ بنی کہ آنحضرت افرادی قوت کے کم ہونے کے باوجود ان کے خلاف قیام کر کے امت اسلام کی تباہی کا سامان مہیا کریں۔

حضرت علی کی نگاہ میں اختلاف کے برے اثرات

۱۔ فکری انحراف کا باعث:

حضرت علی علیہ السلام معتقد تھے کہ''الخلاف یهدم الرا ی'' .( ۲ )

ترجمہ:اختلاف رائے کو نابود کردیتاہے۔

انسان پر سکون ماحول میں درست نظریہ بیان کر سکتا ہے جبکہ اختلافات کی فضا میں انحراف واشتباہ سے دچار ہوجاتا ہے۔

۲۔ دو گروہ میں سے ایک کے یقینا باطل ہونے کی علامت:

امیر المومنین علیہ السلام کے عقیدہ کے مطابق اختلاف سے دچار ہونا وہی باطل کی پیروی کرنا ہے لہٰذا فرمایا :مااختلف دعوتان الا کانت احداهما ضلالة،

____________________

(۱)صحیح مسلم کے مطابق خلیفہ دوم حضرت عباس بن عبد اللہ اور حضرت علی علیہ السلام سے کہنے لگے: ((فملا توفی ...)) ترجمہ: رسول خدا نے صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی رحلت کے بعد جب ابوبکر نے اپنے خلیفہ رسول ہونے کا اعلان کیا تو تم دونوں اسے جھوٹا، دھوکے باز، عاصی اور خائن سمجھتے ...پھر ابوبکر کی وفات کے بعد جب میں خلیفہ رسول و خلیفہ ابوبکر بنا توتم مجھے بھی کاذب، دھوکہ باز اور خائن سمجھتے ہو...،صحیح مسلم ۵:۴۴۶۸۱۵۲، کتاب الجھاد، باب۱۵،حکم الفیئ...

(۲) نہج البلاغہ، حکمت۲۱۵۔


جب بھی دو نظریوں میں اختلاف ہو تو ان میں سے ایک یقینی طور پر باطل ہے۔( ۱ )

یعنی ہمیشہ حق باطل کے مد مقابل ہے اور یہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔

۳۔ شیطان کے غلبہ کا باعث:

علی علیہ السلام نے یہ سمجھانے کیلئے کہ تفرقہ بازی شیطان کو اپنے اوپر مسلط کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہے فرمایا:

والزمواالسواد الاعظم فان یدالله مع الجماعة ، وایاکم والفرقة !فان الشاذ من الناس للشیطان ، کماان الشاذ من الغنم للذئب ،( ۲ )

ترجمہ: اور سواد اعظم کے ساتھ رہو کہ خدا کا ہاتھ اسی جماعت کے ساتھ ہے اور خبردار تفرقہ کی کوشش نہ کرنا کہ جو ایمانی جماعت سے کٹ جاتا ہے وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہوجاتا ہے جس طرح ریوڑسے الگ ہوجانے والی بھیڑ بھیڑیئے کی نذر ہوجاتی ہے تو آگاہ ہوجاؤ کہ جو بھی اس انحراف کا نعرہ لگائے اسے قتل کردو چاہے وہ میرے ہی عمامہ کے نیچے کیوں نہ ہو ۔

____________________

(۱) نہج البلاغة، حکمت:۱۸۳۔

(۲) نہج البلاغہ۱۲۷۔


۴۔باطل کے نجس ہونے کی علامت:

حضرت علی علیہ السلام ذلت کواثبات کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وانما انتم اخوان علی دین الله ، مافرّق بینکم الا خبث السّرائروسوء الضمائر .( ۱ )

ترجمہ: تم لو گ آپس میں ایک دوسرے کے دینی بھائی ہو ، تم بری نیت اور برائی تم کو ایک دوسرے الگ نہیں کیا ہے ۔

۵۔فتنہ کاباعث:

حضرت علی علیہ السلام بخوبی آگاہ تھے کہ شیطان اختلاف کو ہوادے کر فتنہ ایجاد کرناچاہتا ہے لہٰذافرمایا:

ان الشیطان یسنی لکم طرقه ، ویرید ان یحل دینکم عقدة عقدةویعطیکم بالجماعة الفرقة ، وبالفرقة السفتنة ، ( ۲ )

ترجمہ :یقینا شیطان تمہارے لئے اپنی راہوں کو آسان بنا دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایک ایک کر کے تمھاری ساری گرہیں کھول دے۔ وہ تمھیں اجتماع کے بجائے افتراق دے کر فتنوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔

۶۔اختلاف ایجاد کرنے والے کی نابودی واجب ہے:

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

الامن دعاالی هذاالشعار فاقتلوه، ولوکان تحت عمامتی هذه، (۳)

ترجمہ :آگاہ ہوجائوکہ جو بھی اس انحراف کا نعرہ لگائے اسے قتل کروچاہے وہ میرے ہی عمامہ کے نیچے کیوں نہ ہو۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۱۳

(۲)نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۱

(۳)نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۷


عصر حاضر میں وحدت و اتحاد کی اہمیت

اس میں شک نہیں ہے کہ ہم ایک ایسے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں دشمنان اسلام، اسلام کی نابودی کے لئے آپس میں معاہدہ کرچکے ہیں اور اپنے تمام تر سیاسی و اقتصادی امکانات اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں ۔

اسی طرح امریکی سی آئی اے کے سابق معاون ڈاکٹر مائیکل برانٹ نے اپنی کتاب (مکاتب الہی کو جدا کرنے کا منصوبہ Aplan to divis and d noylt theiology میں لکھتا ہے:

جو لوگ شیعوں سے اختلاف رائے رکھتے ہیں انھیں شیعوں کے خلاف منظم و مستحکم کر کے شیعوں کے کافر ہونے کے نظریہ کو عام کر کے انھیں معاشرے سے جدا کیا جائے اور ان کے خلاف نفرت انگیز تحریریں لکھی جائیں۔(۱)

____________________

(۱) اخبار جمہوری اسلامی ۱۳۸۳۳۵ اور ہفت روزہ افق حوزہ ۱۳۸۳۲۲۸۔


Goldstone برطانوی سیاست دان اور سابق وزیر اعظم برطانیہ کہتا ہے:(یہ برطانوی سیاست دان ۸۰۹ا۔۱۸۹۸)چار بار اس ملک کا وزیر اعظم رہ چکا ہے۔

مادام هٰذاالقرآن موجوداًفی ایدی المسلمین،فلن تستطع أروباالسیطرة علی الشرق و لا أن تکون هی نفسها فی أمان .(۱)

جب تک مسلمانوں کے پاس قرآن موجود ہے تب تک نہ تو برطانیہ مشرق پر اپنا تسلط جما سکتا ہے اور نہ ہی خود امن کی سانس لے سکتا ہے۔

سابق اسرائیلی وزیر اعظم Ben Gurio(۲)

کہتا ہے:''انّ اخشی ما نخشاه أن یظهر فی العالم العربی، محمد جدید'' .(۳)

جس چیز نے ہمیں وحشت زدہ کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں عالم عرب میں کوئی نیا محمد نہ ظاہر ہوجائے۔

____________________

(۱) الاسلام علی مفترق الطرق:۳۹۔

(۲)یہی وہ شخص ہے جس نے اسرائیل کا نام تجویز کیا اور نو بار اس ملک کا وزیر اعظم بنا، اس نے اپنی زندگی کو صہیونزم کیلئے وقف کیا۔ ۱۹۴۸ئ میں فلسطین پر قبضہ کے لئے جنگ کی سر براہی اسی نے کی. اس کی وزارت کے دور میں جو واقعات رونما ہوئے وہ درج ذیل ہیں : ۱۔۱۹۴۸ئ کی جنگ ،۲۔ یہودیوں کی بے سابقہ ہجرت ،۳۔ یہودی آبادیوں کی افزائش ۴۔اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کا ۱۹۵۶ئ میں مصر پر مشترکہ حملہ۔

(۳) اخبار الکفاح الاسلامی ۱۹۵۵ئ۔


اگرچہ عیسائیوں کے مسلمہ اصول میں سے ایک حضرت عیسی علیہ السلام کا یہودیوں کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹکایا جانا ہے جس کے باعث بیس صدیوں تک ان کے درمیان بغض و کینہ اور دشمنی عروج پر رہی ہے لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں عیسائی و یہودی اتحاد کی خاطر حکومت واٹیکان نے سرکاری طور پر اس اصل سے چشم پوشی کا اعلان کر کے یہودیوں کو اس گناہ سے بری الذمہ قرار دے دیا ۔

اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ اعلان ۱۹۷۳ئ میں اسرائیل کی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے دوران کیا گیا تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی پوری طاقت مسلمانوں کے مقابلے میں صرف کر سکیں۔( ۱ )

مذکورہ بالا نکات سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس فرمان کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے:

''من اصبح و لم یهتم بأمور المسلمین فلیس بمسلم'' ( ۲ )

ترجمہ: جو شخص اپنے دینی بھائیوں کی مشکلات کی فکر نہ کرے وہ مسلمان بھی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ حالات میں کسی قسم کی مشکوک حرکت جو مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ و جدائی کا باعث بنتی ہو، اسلام کے نفع میں نہیں ہے۔

اور ہر طرح کی گالی گلوچ اور ناروا گفتگو مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد

____________________

(۱) مع رجال الفکر فی القاہرة ۱:۱۶۲۔

(۲) اصول کافی ۲:۱۶۳۔


اور تقریب مذاہب کونقصان پہنچانے سے بڑھ کر مکتب اسلام کے نورانی چہرے کو خدشہ دار کرنے اور اہل علم حضرات کے اسلام جیسے نورانی مکتب سے بدگمان ہونے کا باعث بنتی ہے۔

وحدت کے اہداف

وہ مسائل جن میں علمائے اسلام کے درمیان اختلاف پایاجاتاہے ان میں سے ایک وحدت کے اہداف کی جامع تعریف ہے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ وحدت کا مقصد تمام مذاہب کو ایک کرنا یا دوسرے مذاہب کو مٹانا نہیں ہے اور تقریب کے ادارے قائم کرنے و الو ں کی غرض بھی معتزلی کی جگہ اشعری ، سنی کو شیعہ، حنفی کو حنبلی بنانایا اس کے بر عکس نہیں تھی۔

اس لئے کہ یہ کام نہ تنہا دشوار بلکہ ناممکن ہے جب کہ ان کا مقصد تو مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو مشترک امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے نزدیک کرنا اور تمام مسلمانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں ایک صف میں لا کر کھڑا کرنا تھا۔

مرحوم شیخ محمد تقی قمی بانی ''دار التقریب بین المذاھب الاسلامیة'' اور مدرسہ فیضیہ میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے نمائندے فرمایا کرتے:

اس ادارے کی تأسیس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ شیعہ اپنے اصول و عقائد سے دوری اختیار کر لیں یا سنی اپنے عقائد کے مبانی سے دستبردار ہوجائیںمذاہب کے درمیان فاصلے کا سبب ان کا ایک دوسرے کے افکارو مبانی سے نا آشنا ہونا ہے. اس ادارے کی تأسیس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک مذہب کے صاحب فکر حضرات آئیں اور اپنے اپنے عقائد کے مبانی کا تحفظ اور دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے پرسکون فضا میں اختلافی مسائل کو بیان کریں تاکہ ایک دوسرے کے افکار اور مذاہب کے درمیان مشترک امور سے آشنائی کے ضمن میں زیادہ سے زیادہ تفاہم پیدا ہو کہ جس کا فائدہ یقینا مذہب شیعہ کو ہے۔


۲۴جنوری ۲۰۰۱ئ میں لندن کے اندر ایک ٹی وی چینل ANN نے وحدت مسلمین اور مذاہب اسلامی کے درمیان تقریب کے عنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں ایرانی، لبنانی، مصری اور برطانوی مفکرین نے شرکت کی. اس کانفرنس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے ''الازہر'' یونیورسٹی کے معاون اور مذاہب اسلامی کے درمیان گفتگوکا اھتمام کرنے والی کمیٹی کے چئر مین جناب شیخ محمد عاشور نے کہا:

فکرة التقریب بین المذاهب الاسلامیةلاتعنی توحید المذ اهب الاسلامیة ولاصرف ایّ مسلم مذهبه وصرف المسلم عن مذهبه تحت التقریب تضلیل فکرة التقریب...فان الاجتماع علی فکرة التقریب یجب ان یکون اساسه البحث والاقناع والاقتناع ، حتی یمکن لسلاح العلم والحجة محاربة الافکار الخرافیّة ...وان یلتقی علماء المذاهب ویتبادلون المعارف والدراسات لیعرف بعضهم بعضا فی هدوء العالم المتثبت الذی لاهم له الاان یدری یعرف ویقول فینتج .( ۱ )

مذاہب اسلامی کے درمیان تقریب کا مقصد تمام مذاہب کو ایک کرنا اور ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو قبول کرنا نہیں ہے اس لئے کہ ایسی فکرتو تقریب کو اس کے ہدف سے ہٹانا ہے. تقریب کی بنیاد علمی گفتگو اور دوسرے کو قانع کرنے پر ہونی چاہیے تاکہ علم کے اسلحہ اور دلیل کے ذریعہ سے منحرف افکار کا مقابلہ کیا جا سکے... اور یہ کہ علمائے مذاہب مل بیٹھیں اور معارف کا تبادلہ کریں تاکہ پر امن ماحول میں ایک دوسرے کو سمجھیں اور نتیجہ حاصل کریں۔

شہید مطہری کی نگاہ میں وحدت کا غلط مفہوم لینا

شہید مطہری وحدت مسلمین سے غلط مفہوم لینے کے بارے میں لکھتے ہیں :

''.... اس میں شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کی واضح ترین ضروریات میں سے ان کا آپس میں اتفاق و اتحاد ہے اور عالم اسلام کا اساسی ترین درد مسلمانوں کے درمیان وہی پرانے کینے ہیں دشمن بھی ہمیشہ انھیں سے فائدہ اٹھاتا ہے....

____________________

(۱)مطارحات فکریة فی القنوات الفضائیة، شمارۂ۳:۱۹سال۱۴۲۲ ھج؛ بازخوانی اندیشۂ تقریب:۳۱۔


اس آخری صدی میں اسلامی روشن فکر علماء و فضلاء کے درمیان اسلامی اتحاد کا جو مفہوم لیا جا رہا ہے کہ اعتقادی یا غیر اعتقادی اصول سے چشم پوشی اختیار کی جائے یا یہ کہ تمام فرقوں کے مشترک امور کو لے کر ان کے مختص امور کو ترک کردیا جائے یہ کام نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی عملی طور پر انجام پانے والا ہے۔

کیسے ممکن ہے کہ ایک مذہب کے پیروکاروں سے یہ تقاضا کیا جائے کہ وہ وحدت اسلام و مسلمین کے تحفظ کی خاطر فلاں اعتقادی یا عملی اصل کو چھوڑ دیں جبکہ وہ اصل ان کے نزدیک دین اسلام کا جزو شمار ہوتی ہو؟

یہ تو بالکل ویسے ہی ہے جیسے اُسے کہا جائے کہ اسلام کے نام پر اسلام کے ایک جزوسے روگردانی کر لیں...!( ۱ )

ہم خود شیعہ ہیں اور اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرنے پر افتخار کرتے ہیں چھوٹی سے چھوٹی چیز حتی ایک مستحب یا مکروہ عمل پر بھی معاملہ کرنے کو تیار نہیں ہیں اس بارے میں ہم نہ تو کسی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اصول میں سے فلاں اصل کو اسلامی اتحاد کی خاطر ترک کردے اور نہ ہی اس بارے میں کسی کی فرمائش کو قبول کرتے ہیں ۔

جس چیز کی ہم توقع رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ حسن تفاہم کا ماحول ایجاد کیا جائے تاکہ ہمارے پاس جو اصول و فروع، فقہ، حدیث، کلام، فلسفہ اور ادبیات ہیں انھیں ایک

____________________

(۱) امامت و رہبری: ۱۶، چاپ صدرا۔


بہترین چیز کے طور پر پیش کر سکیں اور شیعہ اس سے زیادہ زوال کی طرف نہ جائیں اسی طرح عالم اسلام کے بازاروںکو بھی شیعہ معارف کے لئے کھولا جائے( ۱ )

کیا مشترک امور پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے؟

شہید مطہری اپنی گفتگوکو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں :

اسلام کے مشترک امور کو لینا اور ہر فرقے کے مختصات کو ترک کرنا اجماع مرکب کی مخالفت کرنا ہے اور اس کا نتیجہ ایسی چیز ہے جو یقینا حقیقی اسلام سے ہٹ کر کچھ اور ہے. اس لئے کہ کسی بھی فرقے کے مختص امور اسلام کا حصہ ہیں اور ان مشخصات و مختصات سے خالی اسلام کا کوئی وجود نہیں ہے۔

علاوہ از یں اتحاد اسلامی کی بلند فکر پیش کرنے والی شخصیات شیعہ میں مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بروجردی قدّس سرّہ اور اہل سنت کے اندر علامہ شیخ عبد المجید سلیم اور علامہ شیخ محمود شلتوت نے بھی اس طرح نہیں سوچا تھا۔

جو چیز ان کے مدنظر رہی وہ یہ تھی کہ اسلامی فرقے در عین حال اگرچہ کلام و فقہ وغیرہ میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن مشترکات جو زیادہ بھی ہیں ان کے واسطے سے اسلام کے خطرناک دشمن کے مقابلے میں دست برادری بڑھائیں اور ایک صف تشکیل دیں ان بزرگان نے ہرگزوحدت اسلامی کے عنوان سے وحدت مذہبی

ایجاد کرنے کا تصور نہیں کیا اس لئے کہ ایسی سوچ کبھی بھی عملی طور پر انجام پانے والی نہیں ہے۔(۲)

____________________

(۱) امامت و رہبری: ۱۷۔

(۲) امامت و رہبری:۱۸۔


ایک گروہ یا ایک محاذ

شہید مطہری فرماتے ہیں :

عرف عام میں ایک گروہ اور ایک محاذ میں فرق پایا جاتا ہے ایک گروہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ شخصی مسائل کے علاوہ فکر، راہ و روش اور نظریات میں ہمرنگ ہوں۔

جبکہ ایک محاذ کا معنیٰ یہ ہے کہ مختلف گروہ اور تنظیمیں مسلک، نظریات اور راہ و روش میں اختلاف کے باوجود مشترک امور کی بناء پر مشترک دشمن کے مقابلے میں ملکر صف آرائی کریں۔

اوریہ واضح سی بات ہے کہ اپنے مسلک کا دفاع، دوسرے بھائیوں کے مسلک پر اعتراض اور محاذ آرائی میں موجود افراد کو اپنے مسلک کی دعوت دینا دشمن کے مقابلے میں صف واحد تشکیل دینے سے کسی قسم کی منافات نہیں رکھتا۔

خصوصاً مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بروجردی جس چیز کی فکر میں تھے وہ یہ تھی کہ برادران اہل سنت کے درمیان معارف اہل بیت علیہم السلام کو منتشر کرنے کی راہیں


ہموار کر سکیں اور وہ معتقد تھے کہ یہ کام حسن تفاہم کے بغیر ممکن نہیں شیعہ فقہی کتب کے مصر میں مصریوں کے ہاتھوں چھپوائے جانے کی جو کامیابی آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کو حاصل ہوئی یہ اسی حسن تفاہم کا نتیجہ تھا جو انہوں نے ایجاد کیا تھا اور علمائے شیعہ کے لئے یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھیجزاه اللّٰه عن الاسلام و المسلمین خیر الجزائ .( ۱ )

کیا مسئلہ امامت اختلاف انگیز ہے؟

شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ شیعہ و سنی یا شیعہ و وہابی کے درمیان اختلافی مسائل کو زیر بحث لانا وحدت مسلمین سے منافات رکھتا ہے اور بعض لوگوں کے لئے دل آزاری و تفرقہ کا باعث بنتا ہے۔

شہید مطہری کی رائے:

شہید مطہری اس بارے میں فرماتے ہیں :

بہر حال ''اسلامی اتحاد'' کی حمایت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ حقائق کو بیان کرنے میں کوتاہی برتی جائے جس چیز سے پرہیز کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ایسا عمل انجام نہ دیا جائے جو مخالف کے احساسات اور اس کے کینے کو ابھارنے کا باعث بنے. جبکہ علمی گفتگو کا تعلق عقل و منطق سے ہے نہ کہ عواطف و احساسات سے.(۲ )

____________________

(۱) ایضا: ۱۸۔

(۲) ایضا: ۱۹۔


آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کی رائے:

حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی فرماتے ہیں :

بعض افراد جیسے ہی مسئلہ امامت کی بات آتی ہے تو فوراً بول اٹھتے ہیں کہ آج ان باتوں کا دن نہیں ہے!

آج وحدت مسلمین کا دن ہے اور جانشین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں گفتگو کرنا اختلاف و انتشار کا باعث بنتا ہے۔

آج ہم مشترک دشمن صہیونزم و استعمار شرق و غرب کے مقابلے میں کھڑے ہیں ہمیں ان کے بار ے میں فکر کرنی چاہیے، لہٰذا اختلافی مسائل کو مت چھیڑیں. جبکہ اس طرح کا طرز تفکر یقینا غلط ہے اس لئے کہ:

اول: جو چیز اختلاف و انتشار کا باعث بنتی ہے وہ تعصب آمیز، غیر منطقی اور کینہ انگیز بحث و گفتگو ہے جبکہ منطقی، مستدل، تعصب سے پاک، ضد سے خالی دوستانہ انداز میں بحث و گفتگو کرنا نہ یہ کہ تنہا اختلاف کا باعث نہیں بنتی بلکہ آپس کے فاصلوں کو کم کر کے مشترک مسائل کو تقویت دینے کا موجب بنتی ہے۔

میں نے خانہ کعبہ کی زیارت کے دوران حجاز کے سفر میں بارہا علمائے اہل سنت سے بحثیں کی ہیں ہم نے بھی اور انھوں نے بھی یہی احساس کیا کہ ایسی بحثیں نہ صرف برا اثر نہیں رکھتی ہیں بلکہ تفاہم و خوش بینی کا باعث بنتی ہیں ، فاصلوں کو کم اور سینوں سے نفاق کو دور کرتی ہیں ۔

اس سے بھی اہم یہ کہ ان بحثوں میں ہمارے لئے واضح ہوجاتا ہے کہ ہمارے درمیان مشترکات بہت زیادہ ہیں کہ جن کی بناء پر ہم مشترک دشمن کے مقابلے میں متحد ہونے کی تاکید کریں۔( ۱ )

____________________

(۱) پنجاہ درس اصول عقائد:۲۲۷۔


آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی کی رائے:

حضرت آیت اللہ فاضل لنکرانی ۲۰۰۲ئ میں ایام فاطمیہ کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں فرماتے ہیں :

''راہ ولایت میں شہید ہونے والی اس سب سے پہلی اور عظیم شخصیت کی شہادت کی یاد منانا مقام ولایت سے تجدید عہد کرنا ہے جس کے ذریعے سے دین خدا کامل اور نعمت پروردگار انتہا تک پہنچی ہے.......

یہاں پہ میں اس نکتہ کا تکرار کرنا لازم سمجھتا ہوں کہ ان ایام کی تعظیم اور مجالس عزا برپا کرنا امام خمینی کی مسلّمہ اور عملی سیرت ہے جس کا مسئلہ وحدت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسئلہ وحدت جس کی امام خمینی اور آیت اللہ بروجردی قدس سرّھما نے تاکید فرمائی اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ شیعہ اپنے مسلمہ عقائد کے بارے میں سکوت یا ان سے چشم پوشی کر لیں. بلکہ تمام مسلمانوں کا عالمی استکبار کے مقابلے میں متحد ہونا ہے جو سپرپاور ہونے کا دعویٰ کر رہا اور صہیونیوں کی پیروی میں اسلام کی بنیادوںکو مسمار

کرنے کی فکر میں مشغول ہے۔

تین جمادی الثانی حکومت اسلامی کی طرف سے سرکاری چھٹی کا دن ہے اس دن شیعوں کو چاہیے کہ وہ عزاداری کے جلوس لے کر گلیوں اور سڑکوں پرنکلیں تاکہ یوں اس شہیدہ کا حق کسی حد تک ادا کر سکیں۔

اسی طرح ۲۰۰۱ئ میں ایام فاطمیہ کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں فرمایا: ''یہ درست ہے کہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی مسئلہ وحدت پر بہت زور دیتے تھے لیکن ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ شیعہ اپنے یقینی اور محکم عقائد سے دستبردار ہوجائیں۔

امام جمعہ زاہدان کی رائے:

مولوی عبد الحمید امام جمعہ زاہدان نے سترہ بہمن ۲۰۰۶ئ نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا: ''جس کسی کے پاس جو بھی استدلال ہے اسے عقل و منطق کی روشنی میں بیان کرے اور اس پر کسی کو شکوہ نہیں ہے لیکن مقدسات کی توہین کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے اور جو بھی اسے جائز سمجھے تو یہ نص قرآن و سنت کے خلاف ہے. ہمیں چاہیے کہ یہودو نصاریٰ کے مقدسات کی بھی توہین و بے احترامی نہ کریں۔


وحدت کے لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیان کیا ہوا راستہ

الف: امت اسلام کے درمیان اختلاف کی پیشینگوئی:

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امت مسلمہ کے مستقبل اور اس کے درمیا ن اختلا ف کے ایجاد ہونے سے باخبر تھے لہذا مسلمانوں کو تفرقہ بازی اور اختلاف کے تلخ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں فرمایا:

تفرقت الیهود علی احدی وسبعین فرقة او اثنین و سبعین فرقة و النصارٰی مثل ذٰلک و تفترق اُمّتی علی ثلاث و سبعین فرقة ۔

ترجمہ: جس طرح امت موسی وعیسی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئیں اسی طرح میری امت بھی تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔( ۱ )

اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

کلهم فی النار الا ملة واحدة . ایک فرقہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔( ۲ )

____________________

(۱) سنن ترمذی ۴:۲۷۷۸۱۳۴، ابواب الایمان، باب افتراق الامة؛ مسند احمد۲:۱۲۰۳۳۳۲؛ سنن ابن ماجہ ۲:۳۹۹۱۱۳۲۱. ترمذی نے کہا ہے: '' حدیث ابی ہریرة حسن وابو ہریرہ کی حدیث حسن ہے'' سنن ترمذی ۴:۲۷۷۸۱۳۴۔

وہابی عالم ناصر الدین البانی کہتا ہے: یہ حدیث صحیح ہے. سلسلة الاحادیث الصحیحة ۱:۲۰۴۳۵۸ اور ۳: ۱۴۹۲۴۸۰۔

حاکم نیشاپوری کہتا ہے:'' ہٰذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ''۔یہ حدیث مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے'' مستدرک حاکم ۱:۱۲۸ اور ۴:۴۳۰۔

نیز ہیثمی کہتا ہے: '' یہ حدیث صحیح ہے'' مجمع الزوائد ۱:۱۷۹ اور ۱۸۹۔

(۲) سنن ترمذی ۴:۲۷۷۹۱۳۵؛ مسند احمد ۳:۱۴۵؛ مستدرک حاکم ۱: ۱۲۹؛ مجمع الزوائد ۱: ۱۸۹ اور ۶:۲۳۳. مصنف عبد الرزاق صنعانی ۱۰: ۱۵۵؛ عمرو بن ابی عاصم، کتاب السنة: ۷؛ کشف الخفاء عجلونی ۱:۱۴۹ اور ۳۰۹۔


اوراس میں بھی کسی قسم کی تردید نہیں ہے کہ امت مسلمہ کااہم اختلاف امامت کے مسئلہ پرتھا جیسا کہ مشہور عالم اہل سنت شہر ستانی لکھتے ہیں :

واعظم خلاف بین الامة خلاف الامامة ، اذماسل سیف فی الاسلام علی قاعدة دینیة مثل ماسل علی الامامة فی کل زمان ( ۱ )

امت اسلام کے درمیان سب سے بڑااختلاف امامت کے بارے میں ہوااورکبھی بھی کسی دینی مسئلہ پراس قدر تلواریں میان سے نہ نکلیں جس قدر مسئلہ امامت پر۔

یہاں پہ یہ سوال پیش آتا ہے کہ وہ اسلامی حکومت جس کی تأسیس کیلئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلسل تئیس سال زحمتیں اٹھائیں کیااس کے مستقبل کے بارے میں کوئی اقدام نہ کیا؟

کیا امت مسلمہ کی سر پرستی اور ہدایت کیلئے اپنے جانشین کا انتخاب کیے بغیر دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہوگئے؟

کیا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تفرقہ بازی اور اختلاف سے بچنے کی کوئی راہ معین نہ فرمائی؟

یہ اور اس طرح کے سینکڑوں سوالات ایسے افراد سے صحیح جواب کے منتظر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد کسی کو جانشین معین نہیں فرمایا بلکہ یہ کام اُمت کے سپرد کرکے چلے گئے۔

____________________

(۱)ملل ونحل :۳۰


قرآن و عترت سے تمسک ہی وحدت کی تنہا راہ:

شیعہ و سنی کتب کی ورق گردانی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امت مسلمہ کو اختلاف سے بچنے اور وحدت ایجاد کرنے کی راہ دکھا کر ہر شخص کی ذمہ داری معین فرمادی۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن و اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے تمسک ہی کو وحدت کا تنہا سبب بیان فرمایا ہے۔

یہ کہا جاتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان وحدت اور تقریب مذاہب کا منحصر ترین راستہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت پر عمل پیرا ہونا ہے اور وہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے تمسک ہے جو ہدایت اور ہر طرح کی ضلالت و گمراہی سے بچانے کا ضامن ہے۔

رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بارہا لوگوں کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے متمسک رہنے کا حکم فرمایا:

انی تارک فیکم ماان تمسّکتم به لن تضلوا بعدی ، احدهما اعظم من الآخر ، کتاب الله حبل ممدودمن السماء الی الارض وعترتی اهل بیتی ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض ، فانظرواکیف تخلفونی فیهما ،( ۱ )

____________________

(۱)صحیح ترمذی۵:۳۲۹، درالمنثور۷۶و۳۰۶الصواعق المحرقہ۱۴۷و۲۲۶،اسدالغابہ ۲:۱۲وتفسیرابن کثیر۴ : ۱۱۳.


میں تمہارے درمیان دو گرانبہا چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر ان دونوں کا دامن تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہونے پاؤگے ان میں سے ایک دوسری سے عظیم ہے کتاب خدا آسمان سے زمین کی طرف معلق رسی ہے اور میرے اہل بیت. یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھے سے جا ملیں۔

بعض علمائے اہل سنت نے اس روایت کو صحیح شمار کیا ہے۔( ۱ )

____________________

(۱) ابن کثیر دمشقی کہتا ہے:'' و قد ثبت فی الصحیح ان رسول الله صلی علیه و آله و سلم قال فی خطبته بغدیر خم: انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی و انهما لم یفترقا حتیٰ یردا علی الحوض

صحیح روایت میں آیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خطبۂ غدیر میں فرمایا: میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور میرے اہل بیت یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملحق ہوں۔تفسیر ابن کثیر۴:۱۲۲. اور اسی طرح کہا ہے:''قال شیخنا ابو عبد الله الذهبی : ہذا حدیث صحیح میرے استاد ذہبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ بدایة و نہایة۵: ۲۲۸۔

وہابی عالم ناصر الدین البانی نے بھی حدیث ثقلین کے صحیح ہونے کی وضاحت کی ہے۔ صحیح الجامع الصغیر۲:۲۱۷ ۲۴۵۴ اور ۱:۲۴۵۷۴۸۲۔

حاکم نیشاپوری کہتے ہیں :''هٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین و لم یخرجاه بطوله''

یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن طولانی ہونے کی وجہ سے اسے ذکر نہیں کیاحاکم مستدرک ۳:۲۹۰۔

نیز ہیثمی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔مجمع الزوائد۱:۱۷۰۔

ابن حجر مکی شیعوںکے خلاف لکھی جانے والی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

'' روی هذا الحدیث ثلاثون صحابیاً و انّ کثیراً من طرقه صحیح و حسن''

یہ حدیث تیس صحابیوں نے نقل کی ہے ان میں اکثر احادیث کی سند صحیح اور حسن ہے۔الصواعق المحرقہ :۱۲۲۔


اور بعض روایات میں ثقلین کی جگہ دو جانشین سے تعبیر کیا گیا ہے:

انی تارک فیکم خلیفتین: کتاب اللّٰه و عترتی أهل بیتی، و انهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض .( ۱ )

میں تمہارے درمیان دو جانشین چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک کتاب خدا ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے جا ملیں گے۔

اور بعض روایات میں ذکر ہوا ہے:

فلا تقدموهما فتهلکوا، و لا تقصروا عنهما فتهلکوا، و لا تعلّموهم فانهم اعلم منکم .( ۲ )

ان پر سبقت مت لیں اور نہ ہی ان سے پیچھے رہیں ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور نہ ہی ان کو سکھانے کی کوشش کریں اس لئے کہ وہ تم سے دانا تر ہیں ۔

ج: اہلبیت علیہم السلام حبل اللہ ہیں :

بعض اہل سنت مفسرین جیسے فخر رازی نے یہ حدیث اس آیت مجیدہ( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ ﷲ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا ) ،( ۳ ) و( ۴ )

____________________

(۱) مسند احمد۵: ۱۸۲ اور ۱۸۹ دو صحیح واسطوں سے نقل ہوئی. مجمع الزوائد ۹:۱۶۲؛ الجامع الصغیر۱:۴۰۲؛ تفسیر در المنثور۲ :۶۰۔

(۲) معجم الکبیر طبرانی ۵:۴۹۷۱۱۶۶؛ مجمع الزوائد۹:۱۶۳؛ تفسیر در المنثور۲:۶۰۔

(۳) آل عمران:۱۰۳۔

(۴)فخر رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ''روی عن ابی سعید الخدری عن النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انه قال: انی تارک فیکم الثقلین، کتاب الله تعالیٰ حبل ممدود من السماء الی الارض و عترتی اهل بیتی (تفسیر فخر رازی ۸:۱۷۳)۔


اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو کے ذیل میں ذکر کی ہے۔

اسی طرح آلوسی اس آیت مجیدہ کی تفسیر میں یہی حدیث زید بن ثابت سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں : ''و ورد بمعنی ذلک اخبار کثیرة''

اس معنی میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ۔( ۱ )

ثعلبی (متوفی ۴۲۷ ھ) مفسر اہل سنت نے اسی آیت مجیدہ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:نحن حبل الله الذی قال الله :''واعتصموابحبل الله جمیعا ولاتفرقوا''

آج تو اس وحشی قوم کے مظالم اپنی انتھاء کو پہنچ چکے ہیں پارہ چنار کے نہتے ہم خدا کی وہ رسی ہیں جس کے بارے میں خداوند متعال نے فرمایا: خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو۔( ۲ )

حاکم حسکانی (متوفی ۴۷۰ھ تقریباً )اہل سنت عالم دین نے بھی رسول گرامیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:من احبّ أ ن یرکب سفینة النجاة و یتمسکبالعروة الوثقیٰ ویعتصم بحبل اللّٰه المتین فلیوال علیّاولیأتمّ بالهداة من ولده .(۳

____________________

(۱)تفسیر آلوسی ۴:۱۸. و اخرج احمد عن زید بن ثابت قال: قال رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : انی تارک فیکم خلیفتین کتاب الله عزو جل ممدود مابین السماء و الارض و عترتی اهل بیتی و انهما لن یفترقاحتی یردا علی الحوض و ورد بمعنی ذٰلک اخبار کثیره ۔

(۲) تفسیر ثعلبی۳:۱۶۳، شواہد التنزیل ۱:۱۷۷۱۶۸؛ ینابیع المودة۱:۳۵۶ اور ۲:۳۶۸ اور ۳۴۰؛الصواعق المحرقہ: ۱۵۱، باب ۱۱ فصل ۱۔

(۳)شواہد التنزیل۱: ۱۷۷۱۶۸۔


فصل دوم

وہابیت کی تاریخی جڑیں

اسلام کی پہلی صدی میں وہابیت کی بنیاد:

اگر آج ہم یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہابیوں کے عقائد میں سے محکم ترین عقیدہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کی قبور کی زیارت کا حرام قراردینا ہے تو ماضی پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کوئی جدید موضوع نہیں ہے بلکہ اسلام اور سیرت مسلمین کے مخالف یہ انحرافی تفکر پہلے ہی سے تاریخ میں موجود تھا کہ جس کے بعض نمونوں کی طرف اشارہ کیاجارہا ہے:

۱۔ معاویہ بن ابو سفیان متوفی ۶۰ھ :

مغیرہ بن شعبہ نے ایک ملاقات میں معاویہ سے کہا: بنو ہاشم اقتدار کو ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں اب ان کی طرف سے تیری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ ان پر سختی نہ کر اور ان سے دوستی قائم کرے۔

معاویہ نے جواب میں کہا:

ابوبکر، عمر ، عثمان آئے اور گزر گئے ان کا نام تک باقی نہیں ہے جبکہ ہر روز پانچ مرتبہ''اشهدانّ محمدا لرسول الله'' کی آواز کانوں تک پہنچتی ہے


'' فای عمل یبقیٰ مع هذا لا أم لک!؟ لا واللّٰه دفناً دفناً''

ایسے میں بنو امیہ کے لئے کیا باقی بچا ہے خدا کی قسم ! جب تک نام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دفن نہ کردوں تب تک چین سے نہ بیٹھوں گا۔( ۱ )

اسی طرح ایک دن معاویہ نے مؤذن کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہوئے سنا تو اعتراضانہ انداز میں کہنے لگا:

اے فرزند عبد اللہ تو نے بہت ہمت کی یہاں تک کہ اپنے نام کو نام خدا کے ساتھ ملانے سے کمتر پر راضی نہ ہوا۔( ۲ )

یہی وجہ تھی کہ اہل سنت کے بہت بڑے عالم محمد رشید رضا لکھتے ہیں :

ایک مغربی دانشور نے کہا تھا: '' کس قدر شایستہ تھا کہ ہم معاویہ کا مجسمہ سونے سے بنا کر اُسے اپنے ملک کے دارالخلافہ کے چوک میں نصب کرتے'' جب اس سے اس کا سبب پوچھا گیا تو جواب دیا:

____________________

(۱) موفقیات زبیر بن بکار:۵۷۶؛ مروج الذہب۳: ۴۵۴ شرح حوادث سال ۱۲۱ھ؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید۵:۱۳۰؛ النصائح الکافیة:۱۲۴۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید۱۰:۱۰۱۔


لانه هوالذی حوّل نظام الحکم الاسلامی عن قاعدته الدیمقراطیة الی عصبیة الغلب ، ولولاذلک لعم الاسلام العالم کله ، ولکنانحن الالمان، وسائر شعوب اروبةعربامسلمین ،( ۱ )

اس لئے کہ یہ معاویہ ہی تھا جس نے اسلامی حکومت کے جمہوری نظام کو شاہانہ نظام میں تبدیل کیا. اگر وہ یہ کام نہ کرتا تو اسلام سارے عالم پر غالب آجاتا اور ہم اہل جرمن اور یورپ کے تمام ممالک کے لوگ عربی مسلمان ہوتے۔( ۲ )

۲۔مروان بن حکم متوفی ۶۱ھ:

حاکم نیشاپوری اور (امام اہل سنت) احمد بن حنبل نقل کرتے ہیں :

مروان نے مسجد نبوی میں صحابی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابو ایوب انصاری کو دیکھا کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بیٹھا اپنا راز دل بیان کر رہا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہا ہے مروان نے ا نہیں گردن سے پکڑ ا اور کہا: أ تدری ما تصنع؟ جانتا ہے کیا کر رہا ہے؟

ابو ایوب انصاری نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا:

'' جئت رسول الله]صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم [ ولم آت الحجر ، سمعت رسول الله ]صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم [ یقول : لا تبکوا علی الدین اذا ولیه اهله ، ولکن ابکوا

____________________

(۱)تفسیر المنار ،۱۱:۲۶۰، الوحی المحمدی :۲۳۲، محمودابوریة :۱۸۵،، مع الرجال الفکر،۱:۲۹۹،

(۲)تفسیر المناد ۱۱:۲۶۰؛الوحی المحمدی:۲۳۲؛محمود ابوریہ:۱۸۵؛ مع رجال الفکرا:۲۹۹۔


علیه اذا ولیه غیر اهله '' .( ۱ )

میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا اور میں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرما رہے تھے: جب تک دین کی سرپرستی اسکے اہل افراد

کر رہے ہوں تب تک اس پرگریہ نہ کرنا بلکہ دین پہ گریہ اس وقت کرنا جب نا اہل اس کے سرپرست بن بیٹھیں۔

۳۔ حجاج بن یوسف متوفی ۹۵ ھ

ابن ابی الحدید معتزلی شافعی( ۲ ) متوفی ۹۵ھ لکھتا ہے:

جب حجاج بن یوسف مدینہ منورہ گیا تو دیکھا لوگ پروانہ وار قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اردگرد مشغول ہیں تو کہنے لگا:

تبالهم!انمایطوفون باعواد ورمة بالیة ، هلا طا فو ا بقصرامیرالمومنین عبدالملک؟ الایعلمون ان خلیفة المرء خیر من رسوله ؟!

افسوس ان لوگوں پر جو پوسیدہ ہڈیوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں (نعوذ باللہ)

____________________

(۱) مستدرک علی الصحیحین ، ج۴، ص ۵۱۵؛ مسند احمد ، ج۵، ص ۲۲. تاریخ مدینہ دمشق ، ج۵۷، ص ۲۴۹، ومجمع الزوائد ، ج۵، ص ۲۴۵.

(۲)ابن ابی الحدید کے مذہب کو جاننے کے لئے کتاب وفیات الاعیان ابن خلکان۷: ۳۷۲ اور فوات الوفیات ابن شاکر ۲:۲۵۹ کا مطالعہ فرمائیں۔


یہ لوگ امیر المؤمنین عبد الملک کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے؟ کیا انھیں یہ معلوم نہیں کہ خلیفہ کا مقام پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ ہے۔( ۱ )

ادبیات عرب کے ماہر مبرد متوفی ۲۸۶ھ لکھتے ہیں :

ان ذلک مماکفرت به الفقهاء الحجاج ،وانه انماقال ذلک والناس یطوفون بالقبر،

اسی بنا پر فقہاء نے حجاج کو کافر قرار دیا ہے چونکہ اس نے یہ بات اس وقت کہی جب لوگ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ارد گرد مشغول تھے۔( ۲ )

۴۔ بربہاری متوفی ۳۲۹ ھ:

سب سے پہلی بارحسن بن علی بربہاری معروف حنبلی عالم نے زیارت قبور، نوحہ خوانی اور امام حسین علیہ السلام کے مصائب کو پڑھنا حرام قرار دیا۔( ۳ )

۵۔ ابن بطّہ متوفی ۳۸۷ھ:

ابن تیمیہ کے بقول حنبلی فقیہ عبید اللہ بن محمد بن حمدان عکبری معروف ابن بطّہ نے زیارت و شفاعت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انکار کیا اور وہ معتقد تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے لہذا اس سفر میں پوری نماز پڑھی جائے۔( ۴ )

____________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ۱۵:۳۴۲،النصائح الکافیة :۱۰۶

(۲)الکامل فی الغةوالادب ۱:۲۲۲، طبع نہضت مصر،

(۳)نشورالمحاضرة ، ۲:۱۳۴

(۴)الرد علی الاخنائی ، ابن تیمیہ :۲۷،شفاء السقام :۲۶۳،


۶۔ ابن تیمیہ متوفی ۷۲۷ھ:

تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ مفکر وہابیت نے آٹھویں صدی ہجری میں مذکورہ بالا عقائد کو ایک جدید انداز میں بیان کر کے امت اسلام میں شدید تفرقہ ایجاد کیا۔

۷۔ محمد بن عبد الوہاب متوفی ۱۲۰۵ ھ:

بارہویں صدی ہجری میں بانی و رہبر وہابیت محمد بن عبد الوہاب نے شاہ فہد کے جد اعلی محمد بن سعود کے تعاون اور برطانوی فوجی مشیروں کی مدد سے سعودی عرب کے علاقے نجد اور درعیہ میں افکار ابن تیمیہ یا بالفاظ دیگر افکار بنو اُمیہ کی ترویج کا کام شروع کیا۔


وہابیت ایک نظر میں

الف: وہابی افکار کی بنیاد:

وہابی افکار کی تبلیغ باقاعدہ طور پر ۶۹۸ ھ میں شام میں ابن تیمیہ کے توسط سے عقائد میں شدید انحراف اور اسلامی فرقوں کے کفر و شرک کے اثبات کی بناء پر شروع ہوئی جسے اہل سنت اور شیعہ علماء کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا. ابن تیمیہ نے ۷۲۷ ھ میں دمشق کے ایک زندان میں وفات پائی اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے افکار بھی دفن ہو گئے۔

۱۱۵۸ ھ میں محمد بن عبد الوہاب نے حاکم درعیہ محمد بن سعود کے تعاون سے سرزمین نجد میں نئے سرے سے ابن تیمیہ کے افکار کو زندہ کیا جس کے نتیجہ میں سخت لڑائی ہوئی اور وہابیوں نے سواحل خلیج فارس اور حجاز کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

ب: سب سے پہلی سعودی حکومت:

خاندان سعود نے ۷۵ سال مسلسل ۱۲۳۳ ھ تک حکومت کی:

۱۔ محمد بن سعود، حاکم اور امام وہابیت ۱۱۵۷ھ میں ۱۱۷۹ھ تک

۲۔ عبد العزیز بن محمد اپنے باپ کے بعد وہابیوں کا حاکم۱۱۳۳ھ سے ۱۲۱۸ھ تک

۳۔سعود بن عبد العزیز متوفی ۱۲۲۹ھ

۴۔ عبد اللہ بن سعود ۱۲۳۳ھ میں استنبول میں قتل کردیا گیا۔

استنبول میں عبد اللہ بن سعود کے قتل اور عثمانی حکمران ابراہیم پاشا کے ہاتھوں حکومت نجد کے قلع و قمع ہونے سے سعودی خاندان قدرت کو ہاتھ سے دے بیٹھا اور پھر اسّی (۸۰) سال گوشہ نشینی میں گزارے۔


ج۔نابودی کے بعد وہابی قبیلوں کے سردار:

۱۔ترکی بن عبداللہ بن محمد بن سعود ۱۲۴۹ھ میں قتل کردیاگیا۔

۲۔فیصل بن ترکی بن عبداللہ ولادت۱۲۱۳ھ وفات۱۲۸۲ھ

۳۔عبدالرحمن بن فیصل بن ترکی متوفی۱۳۴۶ھ

د: دوسری سعودی حکومت:

ملک عبد العزیز بن عبد الرحمن ۱۳۱۹ھ میں کویت سے سعودیہ واپس پلٹا اور وہابی مسلک کے بچ جانے والے پیروکاروں اور برطانیہ و فرانس کی بے تحاشا مدد سے بیس سال کی جد و جہد کے بعد دوبارہ حجاز پر قبضہ کر لیا. حجاز کا نام سعودی میں تبدیل کر کے آل سعود کی حکومت کی بنیاد رکھی اور ۵۴ سال حکومت کرنے کے بعد ۱۳۷۳ھ میں مرا. اب بھی اسی کی اولاد اس ملک پر حکومت کر رہی ہے۔( ۱ )

____________________

(۱)تاریخ وھابیت ومجلہ ھفت آسمان سال اول شمارہ سوم وچھارم :۱۷۷


ھ۔عبدالعزیز کا حجاز پرقبضہ:

عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود ۱۸۸۰ئ میں پیدا ہوا، حاکم ریاض (الرشید) کی سختیوں سے تنگ آکر جوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ اپنی پیدائش گاہ ریاض کو ترک کرکے کویت چلا گیا. دسمبر ۱۹۰۱ئ اکیس سال کی عمر میں اپنے چالیس کے قریب حامیوں کے ہمراہ نجد پرقبضہ کرنے کی نیت سے ریاض واپس پلٹا. ۱۹۰۲ئ کے اوائل میں ریاض کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور (الرشید) کے اثر کو کم کرنے کی کوششیں کرنے لگا۔

۱۹۰۴ئ میں عثمانی فوجیوںکی حمایت سے پورے نجد کو (الرشید) سے چھین لیا اور پھر ۱۹۰۶ئ میں (الرشید) کی موت سے عبد العزیز کیلئے راستہ کھل گیا، آہستہ آہستہ (الرشید) کی حکومت کے تحت تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

۱۹۱۳ئمیں احساء کا علاقہ بھی اپنی حکومت میں شامل کر کے سواحل خلیج فارس تک پہنچ گیا۔

برطانوی حکومت نے جو عثمانیوں کو سر زمین عرب سے دور اور خود ان پر قبضہ کرنے کی تگ و دو کر رہی تھی ۱۹۱۶ئ پہلی جنگ عظیم کے اواسط میں نجد اور احساء پر


عبد العزیز کی حکومت کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا۔

عبد العزیز نے ۱۹۲۵ئ میں شریف مکہ اور برطانوی حکومت کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حجاز پر اپنا کنٹرول جما کر اپنے آپ کو نجد و حجاز کا بادشاہ ا علان کرد یا۔

سات جنوری۱۹۲۵ئ کو اپنی مملکت کا نام سعودی رکھ دیا. ۱۹۲۷ئ میں حکومت برطانیہ نے میثاق جدہ کے تحت پہلی عالمی جنگ کے دوران جو علاقہ عثمانیوں کے پاس تھا اُسے سعودی حکومت کا حصہ اعلان کر دیا. آٹھ شوال ۱۹۲۶ئ میں آل سعود نے جنت البقیع کو ویران کیاسعودی حکومت کی تاسیس کا باقاعدہ طور پر اعلان ۲۳ ستمبر۱۹۳۲ئ بمطابق ۲۳ جمادی الاول۱۳۵۱ ھ کو ہوا۔

ملک سعودبن عبدالعزیز:

۱۳۱۹ہجری میں پیداہوااوراپنے باپ کی وفات کے بعد ۱۳۷۷ھ سے ۱۳۸۸ھ تک گیارہ سال حکومت سنبھالی ۔

ملک فیصل بن عبد العزیز:

۱۳ھ میں پیدا ہوا اور اپنے بھائی ملک سعود کی وفات کے بعد سات سال سعودی عرب پر حکومت کی اور اپنی حکومت کے دوران حرمین شریفین کو وسیع کیا۔


ملک خالد بن عبد العزیز:

۱۳۳۱ھ میں پیدا ہوااور اپنے بھائی شاہ فیصل کی وفات کے بعد ۱۳۹۵ھ سے ۱۴۰۲ ھ سات سال حکومت کی۔

ملک فہد بن عبد العزیز: ۱۳۴۰ میں پیدا ہوا اور اپنے بھائی خالدکی وفات کے بعد ۱۴۰۲ھ سے ۱۴۲۶ ھ تک ۲۴ سال تک سعودی عرب پر حکومت کی۔( ۱ )

ملک عبد اللہ بن عبد العزیز:

۱۳۵۲ھ میں پیدا ہوا اور اپنے بھائی شاہ فہد کی وفات کے بعد ۱۴۲۶ھ میں ۷۶ سال کی عمر میں سعودی عرب کا بادشاہ بنا۔

____________________

(۱)رسائل ائمة الدعوة التوحید ، ڈاکٹر فیصل بن مشعل بن سعود بن عبدالعزیز ،


وہابی فرقہ کے بانی

افکار وہابیت کا بانی ابن تیمیہ:

احمد بن تیمیہ مفکر وہابیت سقوط بغداد کے پانچ سال بعد ۶۶۱ھ میں شام کے ایک علاقہ حرّان میں پیدا ہوا. ابتدائی تعلیم وہیں پہ حاصل کی اور پھر شام پر مغلوں کے حملے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ دمشق میں جاکر رہائش پذیر ہوگیا۔( ۱ )

۱۔ ابن تیمیہ کا سب سے پہلا انحراف:

۶۹۸ھ میں آہستہ آہستہ ابن تیمیہ کے منحرف عقائد ظاہر ہونے لگے. خاص طور پر حماة (دمشق سے ایک سو پچاس کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک شہر کا نام ہے) میں اس آیت شریفہ:( الرحمن علی العرش استویٰ ) ( ۲ )

ترجمہ:وہ رحمان عرش پر اختیار اور قدرت رکھنے والا ہے ۔

کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال آسمانوں کی بلندی میں تخت پر بیٹھا ہے یوں خدا کے لئے سمت کو معین کیا۔( ۳ )

____________________

(۱)الدررالکامنة۱:۱۴۴.

(۲)طہ:۲۰۔

(۳)اس نے عقدہ الحمویہ ص: ۴۲۹لکھا ہے :ان الله تعالی فوق کل شئی وعلی کل شئی وانه فوق العرش وانه فوق السمائ ...،


یہ تفسیر ان قرآنی آیات کے مخالف ہے جن میں فرمایا:( لیس کمثله شئی ) اور( ولم یکن له کفوااحد، )

ان آیات میں خداوند متعال کو مخلوقات کی صفات کے ساتھ تشبیہ سے منزہ قرار دیا گیا ہے۔

۲۔ ابن تیمیہ کے افکار کا عکس العمل:

ابن تیمیہ کے باطل افکار نے دمشق اور اس کے اطراف میں غوغا مچا دیا. کچھ فقہا ء نے اس کے خلاف قیام کیا اور قاضی وقت جلال الدین حنفی سے ابن تیمیہ کا محاکمہ کرنے کا تقاضا کیا لیکن اس نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کردیا۔

ابن تیمیہ ہمیشہ اپنے منحرف عقائد کے ذریعہ سے عمومی افکار کو آلودہ کرتا رہتا یہاں تک کہ ۸ رجب ۷۰۵ ھ کو شہر کے تمام قاضی ابن تیمیہ کو لے کر نائب السلطنة کے قصر میں حاضر ہوئے اور اس کی کتاب ''الواسطیة'' پڑھی گئی، کمال الدین بن زملکانی( ۱ ) کے ساتھ دوبار مناظرہ کرنے کے بعد جب ابن تیمیہ کے عقائد وافکار کے منحرف ہونے کا یقین ہوگیا تو اسے مصرجلاوطن کردیا گیا ۔

____________________

(۱) ابن زملکانی محمد بن علی کمال الدین متوفی ۷۲۷ھ اپنے دور کا شافعی فقیہ اور مذہب شافعی کا لیڈر تھا(الاعلام۶:۲۸۴) یا فعی کہتا ہے: وہ امام، علامہ اور منطقہ شامات کا تنہا مفتی تھا اپنے زمانہ میں مذہب شافعی کا استاد، قاضی القضاة، روایات کے متن، مذہب اور اس کے اصول کے بارے میں آشنائی میں نابغہ تھا.(مرآة الجنان۴؛۱۷۸)

ابن کثیر کہتے ہیں : اپنے زمانہ میں مذہب شافعی کا استاد تھا تدریس، فتویٰ اور مناظرہ کا عہدہ اسی کے سپرد کیا گیا وہ اپنے ہم شافعی علماء سے برتری پا گیا (البدایة و النہایة ۱۴ :۱۵۲ ) ۔


وہاں پہ بھی اپنے غلط عقائد کو پھیلانے کے سبب قاضی وقت ابن محلوف مالکی کے دستور پر زندان میں ڈال دیا گیا اور پھر ۲۳ ربیع الاول ۷۰۷ھ کو زندان سے آزاد ہوا۔

۳۔ ابن تیمیہ کا محاکمہ:

ابن کثیر لکھتے ہیں :

شوال ۷۰۷ھ میں ابن عربی کے خلاف جسارت کرنے کی بناء پر صوفیوں نے حکومت مصر سے ابن تیمیہ کے خلاف شکایت کی. شافعی قاضی کوفیصلے کا حکم دیا گیا مجلس محاکمہ تشکیل پائی لیکن ابن تیمیہ کے خلاف کوئی خاص بات ثابت نہ ہو سکی. اس نے اسی مجلس میں کہا:

استغاثہ فقط خدا ہی سے جائز ہے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مدد طلب نہیں کی جا سکتی ہاں ان سے توسل اور شفاعت طلب کی جا سکتی ہے۔

لیکن قاضی بدر الدین کو احساس ہوا کہ اس نے مسئلہ توسل میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احترام کو مد نظر نہیں رکھا لہذا شافعی قاضی کو نامہ لکھا کہ اسے شریعت کے مطابق سزا دی جائے۔


شافعی قاضی نے کہا: میں نے ابن تیمیہ کے بارے میں بھی وہی بات کہی جو دوسرے منحرف لوگوں کے بارے میں کہتا ہوں. اس وقت حکومت مصر نے ابن تیمیہ کو دمشق، اسکندریہ یا زندان میں سے ایک کو انتحاب کرنے کا حکم دیا جس پر ابن تیمیہ نے زندان کو انتحاب کیا اور زندان روانہ کردیا گیا۔( ۱ )

بالآخر ۷۰۸ھ میں زندان سے باہر آیا لیکن دوبارہ انہی عقائد کی تبلیغ کی وجہ سے ۷۰۹ھ ماہ صفر کے آخرمیں اسے اسکندریہ مصر جلاوطن کردیا گیا وہاں سے آٹھ ماہ کے بعد دوبارہ قاہرہ آگیا ابن کثیر لکھتے ہیں :

۲۲رجب ۷۲۰ھ ابن تیمیہ کو دارالسعادة میں حاضر کیا گیا اور مذاہب اسلامی (حنفی ، مالکی ، شافعی اورحنبلی )کے قاضیوں اور مفتیوں نے مذاہب اسلامی کے خلاف فتوی صادر کرنے کی بناء پر اس کی مذمت کی اوراسے زندان میں ڈالنے کا حکم دے دیا یہاں تک کہ دومحرم۷۲۱ھکو زندان سے رہائی ملی ۔( ۲ )

____________________

(۱)(ابن کثیر البرزاسیسے نقل کرتے هوئے کهتے هیں :(وفی شوال منها شکی الصوفیه بالقاهره علی الشیخ تقی الدین وکلموه فی ابن عربی وغیره الی الدولة فردواالامر فی ذلک الی القاضی الشافعی فعقد له مجلس وادعی علیه ابن عطاء باشیا ء فلم یثبت علیه منها شئی لکنه قال :(لایستغاث الا بالله لا یستغاثة بمعنی العبادة ، ولکن یتوسل به ویتشفع به الی الله )فبعض الحاضرین قال لیس علیه فی هذا شئی

ورای القاضی بدرالدین بن جماعة ان هذا فیه قلّة ادب فحضرت رسالة الی القاضی ان یعمل معه ما تقتضیه الشریعة ، فقال القاضی قد قلت له مایقال لمثله ، ثم ان الدولة خیروه بین اشیاء اما ان یسیر الی دمشق اوالاسکندریة بشروط اوالحبس ، فاختار الحبس ، بدایة النهایه ۱۴:۵۱،)

(۲)( وفی یوم الخمیس ثانی عشرین رجب عقد مجلس بدار السعادة الشیخ تقی الدین بن تیمیه بحضرة نائب السلطنة وحضر فیه القضاة والمفتیون من المذاهب وحضر الشیخ وعاتبوه علی العود الی الافتاء بمسالة الطلاق ثم حبس فی القلعة فبقی فیها خمسه اشهر وثمانیة یوما ، ثم ورد مرسوم من السلطان باخراجه یوم الاثنین یوم عاشوراء من سنة احدی وعشرین ) البدایه والنهایه ۱۴:۱۱۱، حوادث سال ۷۲۶هجری


ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں :

ابن تیمیہ کو محاکمہ کے لئے مالکی قاضی کے سامنے پیش کیاگیا لیکن اس نے قاضی کے سامنے جواب دینے سے انکار کردیا اورکہا:یہ قاضی مجھ سے دشمنی رکھتا ہے قاضی نے جس قدر اصرار کیا اس نے جواب نہ دیا ، اس پر قاضی نے اسے ایک قلعہ میں بندکردینے کا حکم صادر کیا ۔

جب قاضی کو خبر ملی کہ کچھ لوگ ابن تیمیہ کے پاس آجارہے ہیں تو اس نے کہا: اس کفر کی وجہ سے جو اس سے ثابت ہوا ہے اگر اسے قتل نہ کیاجائے تو اس پر سختی ضرورکی جائے اورپھر اسے ایک الگ زندان میں منتقل کرنے کا حکم دیا ۔

جب قاضی اپنے شہر واپس پلٹا تو دمشق میں ایک عام اعلان کیاگیا :

(من اعتقد عقیدة ابن تیمیة حل دمه وماله ، خصوصا الحنابلة ) جو بھی ابن تیمیہ کا عقیدہ رکھے اس کا خون اورمال مباح ہے خاص طور پر حنبلی لوگوں کا ۔

دمشق کی جامع مسجد میں اہل سنت کے ایک بہت بڑے عالم نے یہ اعلان لوگوں کو سنا یا کہ جس کے بعد حنبلی اوروہ لوگ جو ابن تیمیہ کی پیروی میں متہم تھے جمع ہوئے اور شافعی مذہب کے پیروکا رہونے کا اعلان کیا ۔( ۱ )

____________________

(۱)(فادعی علی ابن تیمیه عندالمالکی فقال :عدوّی ولم یجب عن الدعوی ، فکرر علیه فاصر، فحکم المالکی بحسبه فاقیم من المجلس وحبس فی برج، ثم بلغ المالکی ان الناس یتر دد ون الیه ، فقال :یجب التضیق علیه ان لم یقتل والا فقد ثبت کفره فنقلوه لیلة عید الفطر الی الجب وعاد القاضی الشافعی الی ولایه ونودی بدمشق من اعتقد عقیدة ابن تیمیة حل دمه وماله ، خصوصا الحنابلة ، فنودی بذلک وقری ء المرسوم وقراها ابن الشهاب محمود فی الجامع ثم جمعو ا الحنابلة من الصالحیة وغیرها واشهد وا علی انهم علی معتقد الامام الشافعی )الدررالکامنه ۱:۱۴۷


علماء اہل سنت اورابن تیمیہ کی مخالفت

۱۔ذہبی،ابن تیمیہ کے پیروکاروں کوپست،ذلیل اور مکار سمجھتا :

ذہبی متوفی ۷۷۴ھاہل سنت کا بلند پایہ عالم ، علم حدیث ورجال کا ماہر زمانہ اور خود بھی ابن تیمیہ کے مانند حنبلی مذہب کا پیروکار تھا اس نے ابن تیمیہ کو ایک خط میں لکھا :''یاخیبة !من اتبعک فانه معرض للذند قة والا نحلال ...فهل معظم اتباعک الا قعید مربوط،خفیف العقل ، اوعامی ، کذاب ، بلید الذهن ، اوغریب واجم قوی المکر ، اورناشف صالح عدیمالفهم فان لم تصدقنی ففتشهم وزنهم بالعدل ...،

اے بیچارے !جو لوگ تیری پیروی کررہے ہیں وہ کفر ونابودی کے ٹھکا نے پر کھڑے ہیں ...کیایہ درست نہیں ہے کہ تمہارے اکثر پیروکار عقب ماندہ ، گوشہ نشین ، کم عقل ، عوام ، دروغ گو، احمق ، پست ، مکار ، خشک ، ظاہر پسند اورفاقد فہم وفراست ہیں ، اگر میری اس بات پر یقین نہیں تو ان کا امتحان لے لو اورا نہیں عدالت کے ترازوپر پرکھ کے دیکھ لو۔


یہاںتک کہ لکھا :

فما اظنک تقبل علی قولی وتصغی الی وعظی ، فاذا کان هذا حالک عندی وانا الشفوق المحب الواد ، فکیف حالک عند اعدائک ، واعداء ک والله فیهم صلحاء وعقلاء وفضلاء کماان اولیاء ک فیهم فجرة کذبة جهلة .( ۱ )

میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تومیری بات قبول کرے گا !اورمیری نصیحتوں پرکان دھرے گا !تومیرے ساتھ دوست ہونے کے باوجود ایسا سلوک کررہا ہے تو پھر دشمنوںکے ساتھ کیسا سلوک کرے گا ؟

خدا کی قسم ! تیرے دشمنوں میں نیک ، شائستہ ، عقل مند اوردانشورافراد موجود ہیں جیسا کہ تیرے چاہنے والوں میں اکثر آلودہ ، جھوٹے ، نادان اورپست لوگ دکھا ئی دیتے ہیں ۔( ۲ )

۲۔ابن حجر کا ابن تیمیہ کی طرف نفاق کی نسبت دینا :

ابن حجرعسقلانی( ۳ )

اہل سنت میں حافظ علی الاطلاق اورعلمی شخصیت شمار ہوتے ہیں وہ ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا :

تفرق الناس فیه شیعا ، فمنهم من نسبه الی التجسیم ، لما ذکر فی العقیده الحمویة والواسطیة وغیرهما من ذلک کقوله:ان

____________________

(۱)الاعلان بالتوبیخ :۷۷وتکملة السیف الصیقل :۲۱۸.

(۲)الاعلان بالتوبیخ :۷۷اورتکملة السیف الصیقل :۲۱۸

(۳)(سیوطی کہتاہے:ابن حجر شیخ الاسلام والامام الحافظ فی زمانه،وحافظ الدیا ر المصر یة ، بل حافظ الدنیا مطلقا ، قاضی القضاة ، ابن حجر شیخ الاسلام ، پیشوا، اپنے زمانہ میں مصر بلکہ پوری دنیا کے حافظ شمار ہوتے ۔طبقات الحفاظ :۵۴۷)


الید والقدم والساق والوجه صفات حقیقیة لله ، وانه مستوعلی العرش بذاته...،

ابن تیمیہ کے بارے میں علماء اہل سنت کے مختلف نظرئے ہیں بعض معتقد ہیں کہ وہ تجسیم کا قائل تھا اس لئے کہ اس نے اپنی کتاب (العقیدة الحمویة) اور(واسطیہ )وغیرہ میں خدا وندمتعال کے لئے ہاتھ ، پائوں ، پنڈلی اورچہرے کا تصورپیش کیا ہے۔

ومنهم من ینسبه الی الزندقة ، لقوله :النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لایستغاث به،وان فی ذلک تنقیصا و منعا من تعظیم النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ...،

بعض نے اسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات سے توسل اوراستغاثہ کی مخالفت کرنے کے باعث زندیق اوربے دین قراردیا ہے اس لئے کہ یہ مقام نبوت کو کم کرنا اورآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عظمت کی مخالفت کرنا ہے ۔


ومنهم من ینسبه الی النفاق ، لقوله فی علی ماتقدم ای انه اخطافی سبعة عشرشیئا ولقوله :ای علیّ کان مخذولا حیثماتوجه ، وانه حاول الخلافة مرارافلم ینلها ، وانماقاتل للرئاسة لا للدیانة ، ولقوله :وانه کان یحب الرئاسة ، ولقوله :اسلم ابوبکر شیخایدری مایقول ، وعلی ّاسلم صبیا ، والصبی لایصح اسلامه وبکلامه فی قصةخطبة بنت ابی جهل ...فانه شنع فی ذلک ، فالزموه بالنفاق ، لقوله صلی الله علیه واله وسلم :ولایبغضک الامنافق ،( ۱ )

اوربعض نے اسے علی (علیہ السلام )کے بارے میں نازیبا کلمات بیان کرنے کی وجہ سے منافق قرار دیا ہے ، اس لئے کہ اس نے کہاہے :علی بن ابیطالب نے خلافت حاصل کرنے کے لئے بارہا کوشش کی لیکن کسی نے مدد نہ کی ، ان کی جنگیں دین کی خاطر نہ تھیں بلکہ ریاست طلبی کی خاطر تھیں ۔اسلام ابوبکر ، اسلام علی (علیہ السلام )سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے اس لئے کہ بچپن کا اسلام درست نہیں ہے ۔ اسی طرح کہاہے کہ علی (علیہ السلام)کا ابوجہل کی بیٹی کی خواستگار کے لئے جانا ان کے لئے بہت بڑا عیب شمار ہوتا ہے ۔

یہ تمام کلمات اس کے نفاق کی علامت ہیں اس لئے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا:منافق کے علاوہ کوئی آپ سے بغض نہیں رکھے گا ۔

۳۔سبکی متوفی ۷۵۶ ھ:( ۲ )

معروف عالم اہل سنت اور معاصر ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

____________________

(۱)الدرالکامنة فی اعیان المائة الثامنة ۱:۱۵۵.

(۲)(سیوطی اس کے بارے لکھتا ہے :شیخ الاسلام ، امام العصر و تصانیفہ تدل علی تبحرہ فی الحدیث ، وہ شیخ الاسلام ، امام عصر اور اس کی تصانیف علم حدیث میں اس کی علمی مہارت کی نشاندہی کررہی ہیں ، طبقات الحفاظ :۵۵،ابن کثیر لکھتا ہے :الامام العلامة ....قاضی دمشق ...برع فی الفقه والاصول والعربیة وانواع العلوم ...انتهت الیه رئاسة العلم فی وقته ،

سبکی امام ، علامہ ، قاضی دمشق ، علم فقہ ، اصول ، عربی اور دیگر علوم میں ماہر زمانہ تھے اس زمانہ میں علمی ریاست انہیں میں منحصر تھی ۔البدا یة والنھایة ۱:۵۵۱


اس نے قرآن وسنت کی پیروی کے ضمن میں اسلامی عقائد میں بدعت ایجاد کی ، ارکان اسلام کو درہم برہم کردیا ، اجماع مسلمین کی مخالفت کی اورایسی بات کہی جس کا لازمہ خدا کا مجسم ہونا اور اس کی ذات کا مرکب ہونا ہے یہاں تک کہ عالم کے ازلی ہونے کا دعوی کیا اور یوں تہتر(۷۳)فرقوں سے خارج ہوگیا ۔( ۱ )

۴۔حصنی دمشقی:( ۲ )

لکھتے ہیں جس ابن تیمیہ کو دریائے علم توصیف کیا جاتا ہے بعض علماء اسے زندیق مطلق (ملحد )شمار کرتے ہیں ۔

ان علماء کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ابن تیمیہ کے تمام علمی آثار کا مطالعہ کیا

____________________

(۱)لما احدث ابن تیمیه ما احدث فی اصول العقائد،ونقض من دعائم الاسلام الارکان والمعاقد ، بعد ان کان مستترا بتبعیة الکتاب والسنة مظهر اانه داع الی الحق ، هاد الی الجنة فخرج عن الاتباع الی الاتباع،وشذ عن جماعة المسلمین بمخالفة الاجماع ، وقال بما یقتضی الجسمیة والترکیب فی الذات المقدسة ، وان الافتقارالی الجزء لیس بمحال وقا ل بحلول الحوادث بذات الله تعالی ...فلم یدخل فی فرقة من الفرق الثلاثة والسبعین التی افترقت علیها الامة ، ولاوقفت به مع امة من الامم همة) طبقات الشافعیه ۹:۳۵۳، السیف الصیقل:۱۷۷والدرة المضیئة فی الردعلی ابن تیمیّة ۵.

(۲) (خیرالدین زرکلی وھابی ،حصنی دمشقی کے شرح حال میں لکھتا ہے :وہ امام ، پیشوا ، فقیہ ، باتقوی ، پرہیز گار اوربہت زیادہ کتب کے مئولف ہیں جن میں سے ایک (دفع الشبھة من شبہ وتمرد )ہے ۔الاعلام ۲، :۶۹

شوکانی کہتا ہے :اگر چہ بہت سے لوگ اس کی تشیع جنازہ سے باخبر نہ ہو سکے لیکن پھر بھی شرکت کرنے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ خدا کے سواکوئی نہیں جانتا ، البدرالطالع ۱:۱۶۶)


لیکن کوئی صحیح عقیدہ نظر نہیں آیا مگر یہ کہ اس نے متعدد مقامات پر بعض مسلمانوں کو کافر اوربعض کو گمراہ قرار دیا ہے ۔

اس کی کتب خدا وندمتعال کو مخلوقات سے تشبیہ ، ذات باری تعالی کی تجسیم ، رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ابوبکر عمر کی توہین اورعبداللہ بن عباس کی تکفیر سے بھرپڑی ہیں ۔

وہ عبد اللہ بن عباس کو ملحد ، عبداللہ بن عمر کو مجرم ، گمراہ اوربدعت گزار سمجھتا ہے یہ ناروا مطالب اس نے اپنی کتاب ''الصراط المستقیم ''میں ذکر کئے ہیں ۔( ۱ )

حصنی دمشقی دوسری جگہ لکھتا ہے :(وقال (ابن تیمیه )(من استغاث بمیت اوغائب من البشر ...فان هذا ظالم ، ضال ، مشرک )هذا شئی تقشعرمنه الابدان ، ولم نسمع احدا فاه ، بل ولارمز الیه فی

____________________

۱(وان ابن تیمیة الذی کان یوصف بانه بحرفی العلم ، لایستغرب فیه ما قاله بعض الائمة عنه :من انه زندیق مطلق وسبب قوله ذلک انه تتبع کلامه فلم یقف له علی اعتقاد، حتی انه فی مواضع عدید ة یکفر فرقة ویضللها، وفی آخر یعتقد ماقالته اوبعضه ،مع انه کتبه مشحونة بالتشبیه والتجسیم ، والاشارة الی الازدراء بالنبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم والشیخین ، وتکفیر عبدالله بن عباس وانه من الملحدین ، وجعل عبدالله بن عمر رضی الله عنهما من المجرمین ، وانه ضال مبتدع ، ذکر ذلک فی کتاب له سماه الصراط المستقیم والرد علی اهل الجحیم )دفع الشبه عن الرسول ، تحقیق جماعة من العلماء :۱۲۵.


زمن من الازمان ، ولابلد من البلدان قبل زندیق حرّان قاتله الله ، عزوجل ، وقد جعل الزندیق الجاهل الجامد ، قصة عمردعامة للتوصل بها الی خبث طویته فی الازدراء بسید الاولین والآخرین واکرم السابقین واللاحقین ، وحط رتبته فی حیاته ، وان جاه وحرمته ورسالته وغیر ذلک زال بموته ،وذلک منه کفر بیقین وزندقة محققة ۔( ۱ )

ابن تیمیہ نے کہاہے :جو شخص بھی مردہ یا غایب سے استغاثہ کرے ...وہ ظالم ، گمراہ اورمشرک ہے ۔

اس کی اس بات سے انسان کا بدن لرز اٹھتا ہے ، یہ ایک ایسی بات ہے جو زندیق حرّ ان سے پہلے کسی زمان ومکان میں کسی شخص کی زبان سے نہ نکلی اوراس نادان اور خشک زندیق نے عمر رضی اللہ عنہ اوریہ ادعا کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ان کی رسالت وحرمت ختم ہوچکی ہے اس کا یہ عقیدہ یقینا اسکے کفر والحاد کی علامت ہے۔

۵۔شافعی قاضی کا ابن تیمیہ کے پیروکاروں کا خون مباح قراردینا :

ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھاورشوکانی متوفی ۱۲۵۵ھ اہل سنت کے یہ دونوں عالم لکھتے ہیں : دمشق کے شافعی قاضی نے دمشق میں یہ اعلان کرنے کا حکم

دیا: (من اعتقد ة ابن تیمیه حل دمه وماله )جو شخص ابن تیمیہ کے عقیدہ کی پیروی کرے اس کا خون اورمال حلال ہے ۔(۲)

____________________

(۱)دفع الشبھات عن الرسول :۱۳۱.

(۲)الدررالکامنة۱: ۱۴۷، البدرالطالع ۱:۶۷. مرآة الجنان ۲:۲۴۲.


۶۔ابن حجر مکی کا ابن تیمیہ کو گمراہ اورگمراہ کن قراردینا :

اہل سنت کے بہت بڑے عالم ابن حجر مکی متوفی ۹۷۴ھ ابن تیمیہ کے بارے میں لکھتے ہیں : (ابن تیمیة عبد خذله الله ، واصله واعماه ، واصمه واذله ، وبذلک صرح الائمة الذین بینوا فساد احواله وکذب اقواله ...واهل عصرهم وغیرهم من الشافعیة والمالکیة والحنفیة ...والحاصل انه مبتدع ،ضال، مضل ، غال ، عاملها الله بعد له واجارنا من مثل طریقته )

علماء اہل سنت کے نزدیک ابن تیمیہ ایسا شخص ہے جسے خدا وندمتعال نے ذلیل ، گمرا ہ ، اندھا اورپست قراردیاہے ، اس کے معاصر اورغیر معاصر شافعی ، مالکی اورحنفی پیشوائوں نے اس کے فاسد احوال اورجھوٹے اقوال کو بیان کیا ہے ...نتیجہ یہ کہ اس کے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں اوروہ ایک بدعت گزار ، گمراہ کن اور غیر معتدل انسان تھا خدا اس سے عادلانہ سلوک کرے اور ہمیں اس کے عقیدہ اوراس کے راہ ورسم کے شرسے محفوظ رکھے۔(۱)

____________________

(۱)الفتاوی الحدیثہ ص:۸۶


۷۔ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہنا کفر ہے :

اہل سنت کے بزرگ عالم شوکانی کہتے ہیں : (صرح محمد بن محمد البخاری الحنفی المتوفی سنة ۸۴۱بتبدیعه ثم تکفیر ه ، ثم صار یصرح فی مجلسه :ان من اطلق القول علی ابن تیمیة انه شیخ الاسلام فهو بهذاالاطلاق کافر )( ۱ )

محمد بن محمد بخاری حنفی متوفی ۸۴۱ھنے ابن تیمیہ کے بدعت گزار اورکافر ہونے کی وضاحت کی ہے یہاں تک کہ ایک مجلس میں آشکارا طور پر کہا :جو شخص ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے وہ کافر ہے ۔

۸۔ابن بطوطہ کا ابن تیمیہ کو مجنون قرار دینا :

مراکش کا مشہور سیاح ابن بطوطہ اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے : (وکان بدمشق من کبار الفقها ء الحنابلة تقی الدین بن تیمیة کبیر الشام یتکلم فی الفنون الا ان فی عقله شیء )

دمشق میں حنبلیوں کے ایک بڑے عالم کو دیکھا جو مختلف فنون کے بارے میں گفتگو کرتا مگر یہ کہ اس کی عقل سالم نہیں ہے۔( ۲ )

____________________

(۱)البدر الطالع ۲:۸۶۔

(۲)رحلة ابن بطوطہ ۱:۵۷


ابن تیمیہ کی گوشہ نشینی کے عوامل اوراس کے افکار کے دوبارہ رشد کے اسباب

منطقہ شامات جو ابن تیمیہ کے علم کا گہوارہ تھا وہاں پر مختلف مذاہب کے علماء ودانشوروں کی ابن تیمیہ کے باطل افکار کی مخالفت اوراعتراضات اس کے گوشہ نشین ہونے کا باعث بنے اوراسی کے باعث اس کے عقائدو نظریات خاموشی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔

لیکن بارہویں صدی ہجری میں منطقہ نجد میں محمد بن عبدالوھاب کے توسط سے مختلف اسباب کے تحت اس کے عقائد نے دوبارہ رشد پائی :

۱۔منطقہ نجد تمدن وثقافت سے بے بہرہ اورایسی علمی شخصیات سے خالی تھا جو محمد بن عبدالوھاب کے منحرف عقائد کا مقابلہ کرسکتیں ۔

۲۔منطقہ نجد میں حکومت کے مسئلہ پر قبیلوں میں شدید اختلاف پایاجاتا تھا ، محمد بن عبدالوھاب نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد بن سعود شاہ فھد کے جد اعلی سے فوجی اورثقافتی عہدوپیمان باندھا کہ محمد بن سعود اس کے افکار کی حمایت کرے گا اوروہ اپنے فتووں کے ذریعے اس کی حکومت کے وسیع ہونے کے لئے راہ ہموار کرے گا ۔

۳۔استعمار ی طاقت اورخصوصا برطانوی فوجی مشیروں کی حمایت نے وھابی ثقافت کے پھیلانے میں بہت زیادہ کردار ادا کیا ۔

محمد بن عبدالوھاب کی زندگی پر ایک مختصر نظر

۱۔ابن تیمیہ کے افکا رکاباقاعدہ پر چار :

محمد بن عبدالوھاب ۱۱۵۵ھمیں نجد کے ایک شہر عیینہ میں پیدا ہوا وہیں پہ فقہ حنبلی کی تعلیم حاصل کی اور پھر مزید علوم کی تحصیل کے لئے مدینہ منورہ کا رخ کیا ۔

وہ طالب علمی کے دور میں ہی ایسے ایسے مطالب زبان پر لاتا جو اس کے فکری انحراف کی نشاندہی کرتے تھے یہاں تک کہ اس کے بعض اساتذہ اس کے مستقبل کے بارے میں پر یشانی کا اظہار کرتے ۔


کہا جاتا ہے کہ وہ فرقہ وھابیت کا بانی ومئوسس نہیں ہے بلکہ ایسے عقائد صدیوں پہلے حنبلی علماء مانند ابن تیمیہ اوراس کے شاگردوں کی جانب سے بیان ہوچکے تھے لیکن علماء اہل سنت اورشیعہ کی مخالفت کی وجہ سے خاموشی کا شکار ہوگئے ، اہم ترین کام جو محمد بن عبد الوھاب نے کیا وہ یہ تھا کہ اس نے ابن تیمیہ کے عقائد کو ایک جدید فرقہ یا مذہب کی صورت میں پیش کیا جو اہل سنت کے چاروں مذاہب اور مذہب شیعہ سے بالکل الگ تھا ۔

۲۔محمد بن عبدالوھاب کا نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے لگائو :

وہ شروع میں نبو ت کے جھوٹے دعویداروںمانند مسیلمہ کذاب ، سجاج ، اسود عنسی اورطلیحہ اسدی کے زندگی ناموں کامطالعہ کرنے سے بہت لگائو رکھتا تھا ۔( ۱ )

۳۔آغاز ترویج وہابیت اور لوگوں کی مخالفت :

محمد بن عبدالوھاب اپنی تبلیغ کے آغاز میں بصرہ گیا اوروہاں پہ اپنے عقائد کا اظہار کیا تو بصرہ کے سرداروںنے سخت مخالفت کی ۔

ڈاکٹر منیر عجلانی لکھتا ہے :

(وتجمع علیه اناس فی البصرة من رئوساء ها وغیرهم بآذوه اشدالاذی واخرجو ه منها )بصرہ کے سرداروں اورعوام نے اس کے خلاف وقیام کیا اوراسے شہر سے نکال ڈالا۔( ۲ )

وہاں سے بغداد ، کردستان ، ہمدان اوراصفہان روانہ ہوا ۔( ۳ )

اوربالآخر اپنی پیدایش گاہ کی طرف واپس پلٹ گیا ، وہ اپنے باپ کی زندگی میں اپنے عقائد کے اظہار کی جرئت نہیں رکھتا تھا

____________________

(۱)کشف الارتیاب :۱۲، نقل از خلاصة الکلام

(۲)تاریخ العربیة السعودیة :۸۸.

(۳)وہ چار سال بصرہ ، پانچ سال بغداد ، ایک سال کردستان ، دوسال ہمدان میں رہا اورکچھ عرصہ اصفہان اورقم میں گذارا اس کے بعد اپنے والد کی رہائش گاہ حریملہ جاپہنچا ، (وھابیت مبانی فکری وکارنامہ عملی :۳۶)


لیکن ۱۱۵۳ھ میں باپ کی وفات کے بعد اس نے اپنے عقائد کے اظہار کے لئے راہ ہموار دیکھی اورلوگوں کو جدید آئین کی دعوت دی۔( ۱ )

لیکن لوگوں کے اعتراضات بلکہ اس کے قتل کا پروگرام باعث بنا کہ وہ مجبوراً اس جگہ کو ترک کرے اوراپنی پیدائش گاہ عیینہ جائے ، وہاں کے امیر عثمان بن معمر سے پیمان باندھا کہ دونوں ایک دوسرے کا زور بازوبنیں گے لہٰذا اس کی حمایت سے اپنے عقائد کی برملا تبلیغ کرنے لگا لیکن زیادہ عرصہ نہ گزراکہ حاکم عیینہ نے احساء کے فرمانرواکے دستور پر اسے شہر سے نکال دیا ۔

محمد بن عبدالوھاب نے مجبور ہوکر درعیہ میں رہائش رکھی اورمحمد بن سعود حاکم درعیہ کے ساتھ جدید پیمان باندھا کہ حکومت محمد بن سعود کی ملکیت ہوگی اورتبلیغ کی ذمہ داری محمد بن عبدالوھاب کے ہاتھ ہوگی۔

۴۔زیارت گاہ صحابہ اورخلیفہ دوم کے بھائی کی قبر کا خراب کرنا :

سب سے پہلا کام جو محمد بن عبدالوھاب نے انجام دیا وہ عیینہ کے اطراف میں صحابہ واولیاء کرام کی قبروں کو ویران کرنا تھا جن میں سے ایک قبر خلیفہ دوم کے بھائی زید بن خطاب کی تھی ۔( ۲ )

____________________

(۱)زعماء الاصلاح فی عصرالحدیث :۱۰تاریخ العربیة السعودیة :۹، تاریخ نجد آلوسی : ۱ ۱ ۱

(۲)عنوان المجد فی تاریخ نجد :۹، براھین الجلیة فی رفع تشکیکات الوھابیة :۴،ھذہ ھی الوھابیة :۱۲۵،السلفیة بین اھل السنة والامامیة :۳۰۷


علماء ورئو سا کی شدید مخالفت کی نباء پر حاکم عیینہ نے ناچار ہو کر اسے شہر سے نکال دیا جیسا کہ پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ بارہویں صدی ہجری میں مسلمان انتہا ئی نامناسب اورسخت حالات سے گزررہے تھے اسلامی ممالک چاروں طرف سے استعمار ی طاقتوں کے حملوں کا شکار بنے ہوئے تھے اور مرکز اسلام کو برطانیہ ، فرانس ، روس اورامریکہ کی طرف سے خطرات لاحق تھے ۔

ایسے زمانہ میں کہ جب مسلمانوں کو مشترک دشمن کے مقابلہ میں بے حداور وحدت اتحاد کی ضرورت تھی لیکن افسوس کہ محمد بن عبدالوھاب نے مسلمانوں کو انبیاء واولیائے الھی سے توسل کے جرم میں مشرک اور بت پرست قراردے کرا ن کے کفر کا فتوی دیا ، ان کا خون حلال ، قتل جائز اوران کے مال کو جنگی غنیمت شمار کیا ، اس کے پیروکاروں نے اس فتوی کی پیروی کرتے ہوئے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو خون میں لت پت کیاکہ جس کا تذکرہ بعد والی فصل میں کیاجائے گا ۔


محمد بن عبدالوھاب اورعلماء اہل سنت

۱۔اس کے اساتذہ کی طرف سے اس کی گمراہی کی پیش بینی :

مفتی اعظم مکہ مکرمہ احمد زینی دحلان متوفی ۱۳۰۴ھج لکھتے ہیں :

فاخذ عن کثیر من علماء المدینه منهم الشیخ محمد بن سلیمان الکردی الشافعی والشیخ محمد حیاة السندی الحنفی وکان الشیخان المذکوران وغیر هما من اشیاخه یتفرسون فیه الالحادوالضلال، ویقولون :سیضل هذا ، ویضل الله به من ابعد ه واشقاه ، وکان الامر کذلک ، وما اخطات فراسهم فیه )( ۱ )

محمد بن عبدالوھاب نے بہت سے علمائے مدینہ مانند شیخ محمد سلیمان کردی شافعی اور شیخ محمد حیات سندی حنفی سے علمی استفادہ کیا ، یہ دونوں استاد ابتدا ء ہی سے اس کے اندر بے دینی اورگمراہی کے آثار محسوس کررہے تھے اورکہا کر تے تھے کہ وہ گمراہ ہوجائے گا اورا س کے ہا تھوں رحمت خدا سے دور اورشقی لوگ بھی گمراہ ہوں گے ان کی یہ پیش گوئی بالکل درست ثابت ہوئی ۔

۲۔محمد بن عبدالوھاب کا باپ بھی اس کی گمراہی کاگمان کرتا :

احمد زینی دحلان لکھتے ہیں :

(وکان والده عبدالوهاب من العلماء الصالحین فکان ایضا یتفرس فی ولده المذکور الالحادویذمه کثیراویحذرالناس منه ).( ۲ )

محمد بن عبدالوھاب کا باپ نیک علماء میں سے تھا اور وہ بھی دوسرے علماء کے مانند اپنے بیٹے میں الحادوبے دینی کے آثار کو محسوس کرتا اوراس کی شدید مذمت اورلوگوں کو اس سے بچنے کا حکم دیتا تھا۔

____________________

(۱)الدررالسنیة فی الرد علی الوھابیة :۴۲

(۲) حوالہ سابق


۳۔محمد بن عبدالوھاب کے بھائی کا اس سے سخت رویہ :

مفتی مکہ مکرمہ زینی دحلان لکھتے ہیں :(وکذا اخوه سلیمان بن عبد الوهاب فکان ینکر مااحد ثه من البدع والضلال والعقائد الذائغة ، وتقدم انه الف کتابا فی الردعلیه ).( ۱ )

محمد بن عبدالوھاب کا بڑا بھائی سلیمان بھی اس کی بدعات ، گمراہی اورمنحرف عقائد کا انکار کرتا اوراس نے اس کے عقائد کی رد میں ایک کتاب بھی لکھی ۔( ۲ )

دوسرے مقام پر لکھا ہے :(کان محمد بن عبد الوهاب الذی ابتدع هذه البد عة یخطب للجمعة فی مسجد الدرعیة ویقول فی کل خطبة :ومن توسل بالنبی فقد کفر ، وکان اخوه الشیخ سلیمان بن عبد الوهاب من اهل العلم فکان ینکر علیه انکارا شدید ا فی کل مایفعله ، او یامربه ولم یتبعه فی شئی مما ابتدا عه،وقال له اخوه سلیمان یوما : کم ارکان الاسلام یامحمد بن عبدا لوهاب ؟!فقال :

____________________

(۱)ایضا

(۲)]اس کتاب کا نام (الصواعق الالھیة فی الرد علی الوھابیة )ہے جو ابوطالب علیہ السلام اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور کی کاوشو ں سے اردو زبان میں ترجمہ وتحقیق کے ساتھ شائع ہوچکی ہے ، یہ وھابیت کے خلاف لکھی جانے والی سب سے پہلی کتا ب ہے (مترجم)[


خمسة ، فقال :انت جعلتها ستة ، السادس من لم یتبعک فلیس بمسلم ، هذا عندک رکن سادس للاسلام ۔( ۱ )

محمد بن عبدالوھاب درعیہ میں جمعہ کا خطبہ دیا کرتااورہر مرتبہ خطبے میں کہاکرتا :پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کفر ہے ، اس کا بھائی شیخ سلیمان بھی اہل علم تھا اس کی ہر ہر بات اورہرہر عمل کی سخت مخالفت کرتا اوراس کی بدعات میں سے کسی ایک میں بھی اس کی پیروی نہ کرتا ۔

ایک دن سلیمان نے اپنے بھائی محمد سے سوال کیا اسلام کے ارکان کتنے ہیں ؟محمد نے جواب دیا پانچ ،اس وقت سلیمان نے کہا:تونے تو چھ بنارکھے ہیں اور چھٹا یہ کہ جو تیری پیروی نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں ۔

۴۔محمد بن عبدالوھاب کے بھائی کا قتل سے خوفزدہ ہونا :

احمد زینی دحلان کہتے ہیں :

ولما طال النزاع بینه وبین اخیه خاف اخوه ان یامر بقتله فارتحل الی المدینه المنورة والّف رسالة فی الرد علیه وارسلها له فلم ینته والّف کثیر من علماء الحنابلة وغیر هم رسائل فی الرد علیه وارسلوها له فلم ینته ( ۲ )

____________________

(۱)الدررالسنیة فی الردعلی الوھابیة :۳۹

(۲)ایضا


جب سلیمان اوراس کے بھائی محمد کے درمیان اختلاف حد سے تجاوز کرگیا تو سلیمان اس خوف سے مدینہ منورہ ہجرت کرگیا کہ کہیں اس کا بھائی اس کے قتل کا حکم نہ دے دے وہاں پہ اس نے اس کی رد میں ایک رسالہ لکھا اوراسے بھیج دیا ، اسی طرح بہت سے حنبلی اورغیر حنبلی علماء نے بھی اس کی رد میں رسالے لکھے اوراسے بھجوائے لیکن کسی ایک نے بھی اسے فائدہ نہ دیا ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ظہور وہابیت کی پیشگوئی

اہل سنت کی معتبر کتب کے اندر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایسی روایات نقل کی گئی ہیں جن میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وھابی فرقہ کے ظاہر ہونے کی طرف اشارہ فرمایا:جیسا کہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر سے نقل کیاگیا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

ذکر النبی صلی الله علیه وسلم ، اللهم بارک لنا فی شامنا ، اللهم بارک لنا فی یمننا قالوا:وفی نجدنا،قال اللهم بارک لنا فی شامنا، اللهم بارک لنا فی یمننا،قالوا :وفی نجدنا ، قال اللهم بارک لنا فی شامنااللهم بارک لنا فی یمننا ، قالوا یارسول الله وفی نجدنا ؟فاظنه قال فی الثالثة :هناک الزلازل والفتن وبها یطلع قرن الشیطان .( ۱ )

____________________

(۱)کتاب الفتن ،باب ۱۶، باب قول النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :الفتنُ من قبل المشرق


ترجمہ: آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اے اللہ !ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں ؟ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر فرمایا: اے اللہ!ہمیں ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں ؟ میرا خیال ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: وہاں زلزلے اور فتنے ایجاد ہوں گے اور وہیں سے شیطان کی سینگ طلوع ہوگی۔( ۱ )

اہل سنت کے بہت بڑے عالم عینی جس نے صحیح بخاری کی شرح لکھی وہ کہتے ہیں : شیطان کی شاخ سے مراد اس کا گروہ اورٹولہ ہے ۔( ۲ )

اسی طرح بخاری نے اپنی صحیح میں ابو سعید خدری کے واسطے سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان نقل کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

یخرج ناس من قبل المشرق ویقرء ون القرآن لا یجاوز تراقیهم یمرقون من الدین کما یمرق السهم من الرمیة ثم لا یعودون فیه حتی یعود السهم الی فوقه ، قیل ما سیما هم ، قال سیما هم التحلیق اوقال : التسبید .( ۳ )

____________________

(۱)صحیح بخاری۸:۷۰۹۴۹۵۔کتا با لفتن،باب۱۶،باب قول النبی صلی الله علیه وآله و سلم:؛الفتنة من قبل المشرق ،

(۲)عمدة القاری شرح صحیح بخاری ۷:۵۹۔وبنجد یطلع قرن الشیطان ایء :امتہ وحزبہ ،

(۳)صحیح بخاری ج۸ :۲۱۹۔۷۵۶۲۔


ترجمہ: مشرق سے کچھ لوگ قیام کریں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نہ اترے گا، یہ لوگ دین سے اسی طرح خارج ہوجائیں گے جس طرح تیر کمان سے خارج ہوتا ہے اور پھر دین کی طرف پلٹ کرنہ آئیں گے جس طرح تیر پلٹ کر نہیں آتا۔

عرض کیاگیا: ان کی نشانی کیا ہوگی؟ فرمایا: وہ اپنے سر کے بال صاف کرتے ہوں گے۔

زینی دحلان مفتی مکہ مکرمہ اس حدیث کی طرف اشارہ کرنے کے ضمن میں لکھتے ہیں :

(ففی قوله سیماهم التحلیق تصریح بهذه الطائفة لانهم کانوا یامرون کل من اتبعهم ان یحلق راسه ولم یکن هذا الوصف لاحد من طوائف الخوارج والمبتدعة الذین کانوا قبل زمن هئولاء )( ۱ )

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمان میں اس گروہ کی آشکار ترین نشانی (سرمنڈوانا) ہے اوریہ فرقہ وھابیت کی طرف واضح اشارہ ہے ، اس لئے کہ یہی وہ تنہا فرقہ ہے جو اپنے پیروکا روں کو سرمنڈوانے کا حکم دیتا ہے اوریہ صفت وہابیوں سے پہلے خوارج یا بدعت گزار فرقوں میں سے کسی ایک کے اندر نہیں دیکھی گئی ہے ۔

وہ آگے چل کرلکھتے ہیں :

____________________

(۱)فتنة الوھابیة ۱۹


(وکان السیدعبدالرحمن الاهدل مفتی زبید یقول :لاحاجة الی التالیف فی الرد علی الوهابیة بل یکفی فی الرد علیهم قوله صلی الله علیه وسلم سیما هم التحلیق ، فانه لم یفعله احد من المبتدعة غیرهم )

مفتی منطقہ زبید سید عبدالرحمن اہدل کہا کرتے کہ وہابیوں کے عقائد کو رد کرنے کے لئے کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہی حدیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس میں اس فرقہ کی پہچان (سرمنڈوانا )بیان کی گئی ہے ان کے عقید ہ کے باطل ہونے پر کافی ہے اس لئے کہ وہابیوں کے سواکسی بھی بدعت گزار فرقے میں یہ صفت نہیں پائی جاتی۔

(واتفق مرة ان امراة اقامت الحجة علی بن الوهاب لمااکر هو ها علی اتباعهم ففعلت،امرها ابن عبد الوهاب ان تحلق راسها فقالت له حیث انک تامرالمراة بحلق راسها ینبغی لک ان تامر الرجل بحلق لحیته ، لان شعر راس المراة زینتها وشعر لحیة الرجل زینته فلم یجد لها جوابا )( ۱ )

ایک دن محمد بن عبدالوھاب نے ایک عورت کو سرکے بال منڈوانے کا حکم دیا تو اس عورت نے اس سے کہا : تو جو عورتوں کو سرمنڈوانے کا حکم دیتا ہے تو مردوں کو

____________________

(۱)فتنة الوھابیة :۱۹


ڈاڑھی منڈوانے کا حکم دے اس لئے کہ جس طرح مرد کی زینت اس کی ڈاڑھی ہے اسی طرح عورت کی زینت اس کے سرکے بال ہیں محمد بن عبدالوھاب کوئی جواب نہ دے پایا۔

ابن تیمیہ کی عقائد کے رد میں لکھی جانے والی کتب اہل سنت

ابن تیمیہ کے ہم عصر اہل سنت کے بعض بڑے بڑے علماء نے اپنی اپنی کتب میں اس کے عقائد پر اعتراض کیا ہے اور بعض نے اس کے عقائد کی رد میں مستقل کتب تالیف کی ہیں جیسے :

تقی الدین سبکی متوفی ۷۵۶ھ نے ابن تیمیہ کے عقائد کی رد میں دوکتابیں لکھیں ایک کا نام (الدرة المضیةفی الرد علی ابن تیمیہ )اوردوسری کانام (شفاء السقام فی زیارة خیرالانام )ہے ۔

اس کتاب کی شرح معروف حنفی فقیہ ملاعلی قاری متوفی ۱۰۱۴ھ مقیم مکہ نے انتہائی محققانہ انداز میں لکھی اوراس کانام (شرح شفاء السقام )رکھا۔

محمد بن ابوبکر اخنائی متوفی ۷۶۳ھ نے ایک کتاب بنام (المقالة المرضیة فی الرد علی ابن تیمیه )لکھی جس میں معتبر احادیث اورمحکم ادلہ کے ساتھ ابن تیمہ کے عقائد کو رد کیا۔

جب ابن تیمیہ نے یہ کتاب پڑھی تو اس کی رد میں ایک کتاب لکھی جس کانام (رداخنائی )ہے ۔

شیخ الاسلام مدینہ علی بن محمد سمہودی شافعی مصری متوفی ۹۱۱ ھ نے ایک گراںبہا کتاب لکھی جس کانام (وفاء الوفاء باخبار دارالمصطفی )رکھا ، اس نے اس کتاب میں زیارت پیغمبر ، شفاعت ، توسل اورآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے استغاثہ پر تفصیل کے ساتھ محققانہ بحث کی ہے ۔


مذکورہ بالاکتب کے علاوہ بھی علمائے اہل سنت نے ابن تیمیہ کے عقائد کی رد میں کئی ایک کتب تالیف کی ہیں جن میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کررہے ہیں : (خیرالحجة فی الرد علی ابن تیمیہ فی العقائد ۔ تالیف : احمد بن حسین بن جبرئیل شھاب الدین شافعی )(الدره المضیئة فی الرد علی ابن تیمیه )تالیف :محمد بن علی شافعی دمشقی کمال الدین معروف ابن زملکانی متوفیٰ ۷۲۷.

(دفع الشبّه من شبّه وتمرّد )تقی الدین ابوبکر حصنی دمشقی متوفی ۸۲۹ھ کی لکھی ہوئی ۔یہ کتاب مکتبة الازھر یة للتراث سے شائع ہوئی اورپھر ۱۴۱۸ھ میں تحقیق اورفہرست کے ساتھ (دفع الشبه عن الرسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )کے نام سے دوبارہ شائع ہوچکی ہے ۔

(الرد علی ابن تیمیه )تالیف :عیسی بن مسعود منکاتی۔

(الرد علی ابن تیمیه فی الاعتقادات )تالیف : محمد حمید الدین حنفی دمشق فرغانی (ردعلی الشیخ ابن تیمیہ )تالیف :شیخ نجم الدین بن ابوالدربغدادی

(الرد علی ابن تیمیه فی الاعتقادات )تالیف : محمد حمید الدین حنفی دمشقی فرغانی ۔(ردعلی الشیخ ابن تیمیہ )تالیف: شیخ نجم الدین بن ابوالدربغدادی ،


(رسالة فی الرد علی ابن تیمیه فی التجسیم والاستواء والجهة )تالیف :شیخ شھاب الدین احمد بن یحیی کلابی حلبی متوفی ۷۳۳، معاصر ابن تیمیہ ۔

(رسالة فی الرد علی ابن تیمیه فی مسالة حودث لااول لها ) تالیف :شیخ بہاء الدین عبدالوھاب بن عبدالرحمن اخمینی شافعی معروف مصری متوفی ۷۶۳ ھ،یہ کتاب ۱۹۹۸ئ میں دارالسراج عمان اردن سے سعید عبدالطیف کی تحقیق اورعبارات کی شرح کے ساتھ چھپ ہوچکی ہے ۔

(رسالة فی مسئلة الزیارة فی الرد علی ابن تیمیه )تالیف : محمد بن علی مازنی (سیف الصیقل فی رد ابن تیمیه وابن قیم )تالیف : تقی الدین سبکی متوفی ۷۵۶ھ یہ کتاب بھی مصر میں چھپ ہوچکی ہے ۔

(شرح کلمات الصوفیه اوالردعلی ابن تیمیه )تالیف: محمود غراب۔

اس کتاب میں ابن عربی اورصوفیوں کے بارے میں ابن تیمیہ کے اقوال کو رد کیاگیاہے ۔

(فتاوی الحدیثة )تالیف : احمد شھاب الدین بن حجرھیثمی مکی متوفی ۹۷۴ھ اس کتاب کا اصلی نسخہ ۱۹۹۶ئ میں استنبول سے چھپ چکا ہے ۔

اس کتاب کی رد میں نعمان بن محمود آلوسی بغدادی متوفی ۱۳۱۷ھ نے ایک کتاب بنام (جلاء العینین فی محاکمة الاحمد ین )لکھی (المقالات السنیة فی کشف ضلالات ابن تیمیة )تالیف :شیخ عبداللہ بن محمد بن یوسف ہروی معروف حبشی مفتی ہرو(صومالیہ کا ایک منطقہ )متوفی ۱۳۲۸ھ ۔یہ کتاب دارالمشاریع بیروت سے چوتھی بار ۱۹۹۸ء میں شائع ہوئی ہے ۔

(نجم المهترین برجم المعتدین فی رد ابن تیمیة )تالیف: فخربن معلم قرشی۔


ابن تیمیہ کے عقائد کی ردمیں لکھی جانے والی کتب شیعہ

علامہ تہرانی نے اپنی مایہ نازکتا ب(الذریعه )میں ابن تیمیہ کی کتاب منہاج السنة کے جواب میں لکھی جانے والی علماء شیعہ کی کئی ایک کتب کانام ذکر کیا ہے جیسے: (الانصاف فی الانتصاف لا هل الحق من الاسراف )یہ کتاب آٹھویں صدی ہجری کے ایک عالم بزرگوار کی لکھی ہوئی ہے جو ۷۵۷ھ میں مکمل ہوئی لیکن اس پر مولف کا نام درج نہیں کیا گیا ہے ۔( ۱ )

اس کتاب کا ایک نسخہ کتابخانہ بزرگ ایران میں موجود ہے ۔( ۲ )

(اکمال المنة فی نقض منهاج ا لسنة ) تالیف :شیخ سراج الدین حسن یمانی معروف فداحسین ۔

(منهاج الشریعة )تالیف :دانشور مجاہد سید مھدی موسوی قزوینی متوفی ۱۳۵۸م (البراهین الجلیة فی کفر ابن تیمیة )تالیف :سید حسن صدر کاظمی متوفی ۱۳۵۴۔ (الامامة الکبری والخلافة العظمی )تالیف :سید محمد حسن قزوینی متوفی ۱۳۸۰۔یہ کتاب آٹھ جلد وں پرمشتمل ہے ۔

اوران کی دوسری کتاب (البراهین الجلیة فی رفع تشکیکات الوهابیة )اس کتاب کا ترجمہ مولف توانمند جناب آقائے دوانی رضوان اللہ علیہ نے کیا اوراس کانام (فرقہ وھابی وپاسخ بہ شبہات آنھا )رکھا۔

تقریبا بیس ۲۰مستقل کتابیں علمائے شیعہ کی جانب سے ابن تیمیہ کے عقائد کی رد میں تالیف ہوچکی ہیں ۔

____________________

(۱)(آقا بزرگ تہرانی لکھتے ہیں:(لم یذکر المولف اسمه بل ذکر فی اوله ابن تیمیه تعصب فی القول والخطاب فی نقضه لمنهاج الکرامة وقال بالهوی المحض وهو داب المفلس العادم للجحة، الذاهب التایة عن المحجة ، الذریعه ۱۱:۱۲۲

(۲)کتابخانہ آستانہ قدس رضوی مشہد ،شمارہ کتاب ۵۶۴۳، کتاب کانہ ملی تہران شمارہ ۴۸۵، کتاب خانہ ادانشکدہ حقوق تہران شمارہ ۱۳۰، نقل از مجلہ تراثنا شمارہ ۱۷:۱۵۳)


فصل سوم

وہابیوں کا عملی کارنامہ

طول تاریخ میں وھابیوں کے مظالم

۱۔نجد میں وھابیوں کا قتل وغارت کرنا:

محمد بن عبدالوھاب نے مسلمانوں پرکفر ، شرک اوربدعت کی تہمت لگاکر عرب بادیہ نشینوں کو ان کے خلاف جہاد پراکسایا اورمحمد بن سعود کی مدد سے لشکرآمادہ کیاجس نے مسلمانوں کے شہروں اوردیہاتوں پرحملے کرکے لوگوں کا قتل عام کیا اوران کے اموال کوجنگی غنیمت کے نام پرغارت کیا ۔( ۱ )

اس فصل میں نجدکے علاقہ میں اورریاض کے اطراف میں وھابیوں کے ظالمانہ قتل عام کے چندنمونوں کی طرف اشارہ کریں گے ۔

____________________

(۱)تاریخ نجد :۹۵فصل سوم غزوات ، تاریخ آل سعود۱:۳۱؛تاریخچہ نقد وبررسی وھابی ھا :۱۳۔۷۶


الف۔مسلمانوں کا قتل عام، درختوںکاکاٹنااوردکانوں کی لوٹ مار:

مورخ آل سعود ابن بشرعثمان بن عبداللہ نے نجدکے علاقہ میں آغاز دعوت وھابیت اورشرک کے اتہام میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کے بارے میں لکھا ہے۔

عبدالعزیز ایک گروہ کے ہمراہ اہل ثادق سے جہاد کے قصد سے نکلا، وہاں کا محاصرہ کیا کچھ نخلستانوں کو قطع کیا اوران کے کچھ افراد کو قتل کردیا ،( ۱ )

اس کے بعد عبدالعزیز جہاد کی نیت سے(خرج)کی طرف چلااورمنطقہ دلم میں آٹھ۸مردوں کوقتل کیا، مال سے بھری دکانوں کولوٹا اورپھر سرزمین لعجان ، ثرمدا، دلم اورخرج کی طرف بڑھا ، کچھ لوگوں کو قتل کیا اوربہت زیادہ تعداد میں اونٹ غنیمت کے طور پر لے گئے۔( ۲ )

____________________

(۱)سار عبد العزیز رحمة الله غازیا بجمیع المسلمین وقصد بلد ثادق ونازلهم وحاصر هم ووقع بینهم قتال وقطع شیئا من نخیلهم فاقام علی ذلک ایاما، وقتل من اهل البلد ثمانیةرجال ،وقتل من المسلمین ثمانیة رجال عنوان المجد :۳۴

(۲)غذا عبدالعزیز الی الخرج فاوقع باهل الدلم وقتل من اهلها ثمانیة رجال ونهبوا بهادکاکین فیهااموال ، ثم اغاروا علی اهل بلد نفجان وقتلواعودة بن علی ورجع الی وطنه، ثم بعد ایام سارعبدالعزیز بجیوشه الی بلد (ثرمدا )وقتل من اهلها اربعة رجال واصیب من الغزومبارک بن مزروع ، ثم ان عبدالعزیز کرراجعا وقصد (الدولم) و (الخرج)فقاتل اهلها وقتل من فزعهم سبعة رجال وغنم علیهم ابلاکثیرا عنوان المجد :۴۳


ب۔کھیتوں کوآگ لگانا:

ابن بشر آگے چل کرلکھتا ہے :

عبدالعزیز جہاد کے قصد سے (منفوحہ )میں داخل ہوا ، ان کے کھیتوں کو آگ لگادی اوربہت زیادہ مقدار میں جواہرات ، گوسفند اور اونٹ غنیمت بنائے اوردس افراد کو بھی قتل کردیا۔( ۱ )

ج۔حاملہ عورتوں کے بچوں کا ساقط ہونا:لشکر عبدالعزیز رات کے وقت منطقہ (حرمہ )میں داخل ہوا اورعبداللہ بن عبدالعزیز کے فرمان پرطلوع فجر کے بعد توپچیوں نے ایک ساتھ ملکر شہرکی طر ف گولہ باری شروع کی ،گولہ باری کی خوفناک آواز سے شہرپرلرزہ طاری ہوگیا یہاں تک کہ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط اورلوگ وحشت زدہ ہوگئے ،شہر کا محاصرہ کرلیاگیالوگ نہ تو مقابلے کی توان رکھ سکتے تھے اورنہ ہی فرارکاکوئی امکان تھا ۔( ۲ )

د۔اہل ریاض کا بھوک اورپیاس سے مرجانا:

ابن بشرریاض پروہابیوں کے حملے کے بار ے میں لکھتا ہے :

____________________

(۱)غذاعبدالعزیز منفوحة واشعل فی زروعهاالنار؟!واخذکثیرا من حللهم وغنم منهم ابلاکثیراوقتل من الاعراب عشرة رجال عنوان المجد:۴۳.

(۲)اتوابلاد حرمة فی اللیل وهم هاجعون ...فلماانفجر الصبح امرعبدالله علی صاحب بندق یثورها فثورواالبنادق دفعة واحدة فارتجت البلد باهلها وسقط بعض الحوامل ، ففزعواواذاالبلاد قدضبطت علیهم ولیس لهم قدرة ولامخرج عنوان المجد:۶۷.


ففراهل الریاض فی ساقته الرجال والنساء والاطفال لایلوی احد علی احد ، هربوا علی وجوههم الی البریة فی السهباء قاصدین الخروج وذلک فی فصل الصیف ، فهلک منهم خلق کثیرجوعا وعطشا.

اہل ریاض نے جیسے ہی لشکر وھابیت کے حملے کی خبر سنی تو مرد، عورتیں اوربچے سب صحرا کی طرف بھاگ نکلے لیکن چونکہ گرمی کاموسم تھا لہٰذا بہت زیادہ لوگ بھوک اورپیاس کی وجہ سے ہی جان دے بیٹھے ۔( ۱ )

ھ۔بھاگ نکلنے والوں کوقتل کرنا :

ابن بشرمزید لکھتاہے :

فلمادخل عبدالعزیزالریاض وجدها خالیة من اهلها الاقلیلافساروافی اثرهم یقتلون ویغنمون ، ثم ان عبدالعزیز جعل فی البیوت ضبّاطاً یحفظون ما فیها و حاز جمیع ما فی البلد من الاموال والسلاح والطعام والامتاع وغیرذلک وملک بیوتها ونخیلها الاقلیلا .( ۲ )

جب عبدالعزیز ریاض میں داخل ہواتو دیکھا کہ بہت کم لوگ شہرمیں باقی بچے ہیں تو اس وقت اس نے بھاگ جانے والوں کاپیچھا کرکے کچھ لوگوں کو قتل

____________________

(۱)عنوان المجد:۶۰ (۲)حوالہ


کردیا اوران کے پاس جو مال تھا اسے غنیمت بنالیا ۔

اورسپاہیوں کو حکم دیا کہ خالی گھروں کاخیال رکھیں اورتمام اموال اسلحہ ، کھانے پینے کی اشیاء اورگھر یلو استعمال کی چیز وں کو غنیمت کے طور پرجمع کیا اوراکثر گھروں اورکھجورکے باغات پرقبضہ جمالیا۔( ۱ )

و۔ موذن کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پردرودبھیجنے کے جرم میں قتل کردینا:

زینی دحلان مفتی مکہ مکرمہ لکھتے ہیں :

ویمنعون من الصلاة علیه صلی الله علیه وسلم علی المنابر ، بعد الاذان ، حتی ان رجلاصالحا کان اعمی ، وکان موذنا وصلی علی النبی صلی الله علیه وسلم بعد الاذان ، بعد ان کان المنع منهم ، فاتو ابه الی ابن عبدالوهاب فامربه ان یقتل فقتل ، ولو تتبعت لک ماکانوایفعلونه من امثال ذلک،لملات الدفاتر والاوراق ، وفی هذا القدرکفایة والله سبحانه وتعالی اعلم ،

وہابی منبروں پراور اذان کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پردرود بھیجنے سے منع کیاکرتے ایک دن نابینا موذن نے اذان کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرصلوات پڑھی تو اسے محمد بن عبدالوھاب کے پاس پیش کیاگیا ، اس نے اس نابینا شخص کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرصلوات بھیجنے کے جرم میں قتل کا حکم سنادیا۔

____________________

(۱)عنوان المجد :۶۰


زینی دحلان مزید لکھتے ہیں :

اگر وہابیوں کے ایسے قبیح اعمال کو لکھنا چاہیں تو کتابیں بھرجائیںگی ۔( ۱ )

جب کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی پردرود بھیجنے پرنص قرآن اوردستورالہی موجود ہے خدا وندمتعال فرماتاہے :

( ان الله وملائکته یصلون علی النبی یاایهاالذین آمنواصلواعلیه وسلموا تسلیما ) ( ۲ )

ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجتے ہیں تو اے صاحبان ایمان تم بھی ان پر صلوات بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو ۔

اس آیت شریفہ میں آنحضرت پردرود بھیجنے کے لئے کسی قسم کے زمان یامکان کی کوئی قید نہیں لگائی گئی یعنی کسی بھی وقت اورکہیں بھی پیغمبر پردرود بھیجا جاسکتاہے ۔

۲۔کربلاکے شیعوں کا مظلومانہ قتل :

۱۳۱۶ھ میں کربلائے معلی میں وہابیوں کے قتل عام نے تاریخ کے اوراق کوسیاہ کردیا جس سے ہرمطالعہ کرنے والے کا دل کانپ اٹھتا ہے ۔

ڈاکٹر منیر عجلانی لکھتے ہیں :

دخل اثنی عشرالف جندی ولم یکن فی البلد ة الاعدة قلیل من الرجال المستضعفین لان رجال کربلاء کانوا قد خرجوا یوم

____________________

(۱)فتنة الوھابیة :۲۰

(۲) سورہ احزاب :۵۶


ذلک الی النجف الاشرف لزیارت قبرالامام امیرالمومنین یوم الغدیر ،فقتل الوهابیون کل من وجدوهم ، فقدرعددالضحایافی یوم واحدبثلاثة آلاف ، واماالسلب فکان فوق الوصف ویقال ان مائتی بعیرحملت فوق طاقتها بالمنهوبات الثمینة ۔( ۱ )

بارہ ہزار وھابی فوجی سعودبن عبدالعزیز کی سپہ سالاری میں کربلامیں وارد ہوئے جب کہ کربلاکے اکثر لوگ اس دن عید غدیر کی مناسبت سے امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کے لئے نجف اشرف گئے ہوئے تھے اوربہت ہی کم بوڑھے اورناتوان لوگ باقی رہ گئے تھے انہوں نے جس کسی کو وہاں پایا قتل کیا یہاں تک کہ اس دن مارے جانے والوں کی تعدادتین ہزار پانچ ہزار پہنچ گئی اور دوسو اونٹ ایسے قیمتی مال سے لادکر لے گئے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

محمد قاری غروی تاریخ نجف میں مجموعہ شیخ خضر سے نقل کرتے ہیں :

وہابیوں نے حبیب ابن مظاہر کی قبر کے لکڑی سے بنے ہوئے صندوق کو توڑا اورروضہ کے قبلہ کی جانب والے صحن میں اسی سے قہوہ بنایا ، انہوں نے حسین کی قبرشریف کے صندوق کو بھی توڑنا چاہالیکن چونکہ اس کے اردگرد لوہے کی سلاخیں لگی ہوئی تھیں لہٰذا اسے توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔( ۲ )

____________________

(۱)تاریخ العربیہ السعودیہ :۱۲۶.

(۲)نزھة الغری فی تاریخ النجف الغری السری:۵۲.


نجد کاوھابی مورخ شیخ عثمان بن بشرلکھتاہے :

(سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قبرکے )گنبد کوویران کیااورقبرکا صندوق جس میں یاقوت ،زمرد اورجواہرات جڑے ہوئے تھے اٹھاکرلے گئے اورشہر میں جتنا مال ، اسلحہ ، لباس ، فرش ، سونا ، چاندی اورقرآن کے عمدہ نسخے ملے لوٹ لئے اورظہر سے پہلے شہر کوترک کرگئے ۔( ۱ )

صلاح الدین وھابی لکھتاہے :

۱۲۱۶ھج میں امیرسعود نجد ، جنوبی قبائل ، حجاز اوردوسرے علاقوں کے افراد پرمشتمل ایک بہت بڑا لشکر لیکر عراق کے قصد سے چلا ،ذیعقدہ کے مہینہ میں کربلا پہنچا اس نے شہر کے تمام برج خراب کردیئے ، گلیوں اوربازاروں میں جتنے لوگ موجود تھے سب کو قتل کردیا اورظہر سے پہلے بہت زیادہ مال غنیمت جمع کرکے شہر سے خارج ہوگیا۔

مال غنیمت کا پانچواں حصہ خود امیرسعودنے لیا اورباقی مال میں سے ہرپیادہ کو ایک حصہ اورسوارکودوحصے تقسیم کئے ۔( ۲ )

شیخ عثمان نجدی لکھتاہے :

وہابی ایسی حالت میں کربلامیں وارد ہوئے کہ وہاں کے لوگ غافل تھے بہت

____________________

(۱)عنوان المجد فی تاریخ نجد ۱:۱۲۱

(۲)تاریخ مملکة السعودیة ۳:۷۳


سے لوگوں کو گلی کوچوں ، بازاروں اورگھروں میں قتل کیا، قبرحسین علیہ السلام کوویران کردیا اورقبہ میں جوکچھ تھا اسے غارت کیا اورشہر کے اندر جتنا مال ، اسلحہ ، لباس ، فرش ، سونا، چاندی اورقرآن کے نفیس نسخے ملے اٹھاکر لے گئے ، ظہر کے نزدیک جب اہل کربلا میں سے دوہزار کے قریب لوگ مارے جاچکے تھے شہر کوترک کرگئے ۔( ۱ )

بعض نے لکھا ہے کہ وہابیوں نے ایک ہی رات میں بیس ۲۰ہزار افراد کو قتل کیا۔( ۲ )

مرزاابوطالب اصفہانی اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں :

لندن سے واپسی پر کربلاونجف سے گزرتے وقت میں نے دیکھا کہ پچیس ۲۵ ہزا ر و ہابی کربلامیں وارد ہوئے اور(اقتلوا المشرکین واذ بحوا الکافرین )مشرکوں کوقتل کر ڈالو اور کافر و ں کوذبح کردو۔

کی فریاد بلند کررہے تھے ، انہوں نے پانچ ہزارلوگوں کوقتل کیا اورزخمی ہونے والوں کی کوئی تعداد نہ تھی ، حرم امام حسین علیہ السلام کا صحن مبارک لاشوں سے بھرگیااورسربریدہ لاشوں سے خون جاری تھا ۔

گیارہ ماہ بعد دوبارہ کربلاگیاتودیکھا کہ لوگ اس دل خراش حادثہ کونقل کرکے گریہ کررہے ہیں جس کے سننے سے بدن کانپ اٹھتاتھا ۔( ۳ )

____________________

(۱)عنوان المجد فی تاریخ نجد ۱:۱۲۱، حوادث سال ، ۱۲۱۶ ھ

(۲)تاریخچہ نقد وبررسی وھابی ھا:۱۶۲

(۳)مسیرطالبی:۴۰۸


۳۔نجف اشرف پرحملہ :

عراق پروہابیوں کے حملے ۱۲۱۴ھج ہی سے شروع ہوچکے تھے چونکہ اسی سال انہوں نے نجف اشرف پرحملہ کیالیکن خزاعل کے عربوںنے انکاراستہ روکا اوران میں سے تین ۳سوافراد کوقتل کرڈالا،۔۱۳۱۵ھ میں پھر ایک گروہ حضرت علی کے روضہ کو گرانے کی خاطر نجف اشرف روانہ ہوا لیکن راستے میں موجود دیہاتیوں سے ٹکراؤ میں شکست کھا گیا۔( ۲ )

تقریبا دس سال تک کربلا اورنجف اشرف پرکئی بارشدیدحملے کئے ۔( ۳ )

۱۲۱۶ھ میں وہابی لشکر اہل کربلا کے مظلومانہ قتل عام اورروضہ امام حسین علیہ السلام کی بے حرمتی کے بعد سیدھا نجف اشرف کی طرف بڑھا لیکن نجف کے لوگ کربلا میں ہونے والے قتل وغارت سے باخبر ہوچکے تھے لہٰذا دفاع کے لئے تیار ہوگئے یہاں تک کہ عورتیں گھروں سے باہرنکل آئیں اوراپنے مردوں کو دفاع کرنے پرتشویق دلانے لگیں تاکہ وہابیوں کے قتل وکشتار کانشانہ نہ بنیں ،جس کے نتیجہ میں وہابی لشکر نجف اشرف میں داخل نہ ہوسکا ۔( ۴ )

۱۲۲۰ ھ یا ۱۲۲۱ ھ وہابیوں نے سعودکی قیادت میں دوبارہ نجف اشرف

____________________

(۱)وہابیان :۳۳۷

(۲)ماضی النجف و الحاضرھا۱:۳۲۵.

(۳)تاریخ المملکة السعودیة ا:۹۲(۴)ماضی النجف وحاضرھا ۱:۳۲۵


پرحملہ کیالیکن چونکہ شہر برجوں پرمشتمل تھا اورباہر سے دفاع کے لئے خندق کھودی ہوئی تھی علاوہ ازیں دوسوکے قریب طالب علم اورعام افراد شیخ جعفر نجفی (کاشف الغطائ)کی قیادت میں دن رات شہر کے دفاع میں مشغول رہے ، شیخ کاشف الغطا ء خود مرجع اعلم اورانتہائی بہادر انسان تھے جس کی وجہ سے وہابی کچھ حاصل نہ کرپائے

شیخ جعفر کاشف الغطا ء کاگھر اسلحہ کاانبار بناہواتھا اورانہوں نے شہر کے ہردروازہ اورہربرج پرکچھ طالبعلموں اوردوسرے افراد کو دفاع کے لئے تیار کررکھاتھا ۔

شیخ حسین نجف ،شیخ خضر شلال ،سیدجواد عاملی صاحب مفتاح الکرامة،اور شیخ مھدی جیسی عظیم شخصیا ت شہر کا دفاع کرنے والے علماء میں موجود تھی ۔

اس حملہ میں وہابی لشکر کی تعداد پندرہ ہزار تھی لیکن نجف اشرف کے لوگوں نے ا نہیں سر سخت کوشش کے باوجود شہر میں داخل نہ ہونے دیا ۔

ایک دن بعض وہابی سپاہی شہر کی دیوار پر چڑھے اور نزدیک تھاکہ شہر کو کنٹرو ل میں لے لیں لیکن دفاع کرنے والے مسلح افراد سے آمنا سامنا ہوا اور مجبور ہوکر واپس پلٹ گئے ، محاصرہ نجف کے دوران چونکہ دفاع کرنے والے لوگ برجوں اور شہر کی دیوار کے اوپر سے وہابی لشکر کونشانہ بنارہے تھے لہٰذا ان کے سات سوافراد کوقتل کردینے میں کامیاب ہوئے ، سرانجام سعود اپنی بچ جانے والی فوج کو لیکر نجف اشرف سے ناامید واپس پلٹ گیا ۔

اہل نجف نے لشکر سعود کے پہنچنے سے پہلے ہی خزانہ امیرالمومنین علیہ السلام کو بغداد اوروہاں سے کاظمین منتقل کرکے وہاں پہ امانت کے طور پر رکھ دیا یوںخزانہ اس وحشی غارتگر قوم کے ہاتھ لگنے سے محفوظ رہ گیا ۔


نجدی مورخ ابن بشرتاریخ نجد میں سعود کے نجف اشرف پرحملہ کے بارے میں لکھتا ہے :

۱۲۲۰ھ میں سعودنجد اوراس کے نواح سے ایک بہت بڑالشکر لے کر عراق کے مشہور شہر (نجف اشرف)پہنچا ، سپاہ اسلام (وہابیوں )کوشہر کے اطراف میں پھیلادیا اورشہر کے برج ودیوار کو خراب کرنے کا حکم دیا ۔

جیسے ہی اس کے ساتھی شہر کے نزدیک پہنچے تو بہت گہری اورچوڑی خندق کوپایا جس سے عبور نہ کرسکے ، فریقین کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں شہر کے بر جوں اور دیوار سے ہونے والی گولہ باری کے اثر میں مسلمانوں (وہابیوں) کے کچھ لوگ مارے گئے جس کی وجہ سے انہوں نے شہر سے عقب نشینی کی اورگرد ونواح کولوٹ مار کاشکاربنایا۔( ۱ )

اگلے سال ۱۲۲۲ ھ میں پھر سعودنے بیس ۲۰ہزارکا لشکر لیکر نجف اشرف پرحملہ کردیا لیکن جب دیکھاکہ لوگ کاشف الغطاء کی قیادت میں تو پوں اوربندوقوں سے دفاع کے لئے آمادہ ہیں تونجف کوچھوڑکرحلہ کارخ کرلیا ۔( ۲ )

____________________

(۱)عنوان المجد فی تاریخ نجد ۱:۱۳۷.

(۲)مفتاح الکرامة ۵:۵۱۲محقق توانمندعلی دوانی کاکتاب فرقہ وہابی ، سیدمحمد حسن قزوین کے شروع میں مقدمہ ملاحظہ فرمائیں ۔


۴۔مکہ مکرمہ میں بزرگان دین کے آثار کو ویران کرنا:

وہابیوں نے ۱۲۱۸ ھ میں مکہ مکرمہ پرمسلط ہونے کے بعد بزرگان دین کے تمام آثا رکو ویران کردیا ۔(معلی )میں محل ولادت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قبہ اوراسی طرح حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام ، حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا )اوریہاں تک کہ ابوبکر کے محل ولادت کو بھی ویران کرکے سطح زمین کے برابر کردیا.

خانہ کعبہ کے اردگرداورزمزم کے اوپر جتنے آثار موجود تھے سب کو خراب کردیا اورجن جن علاقوں میں قابض ہوتے جاتے وہاں پہ صالحین کے آثار کو نابود کرتے جاتے اورپھر خراب کرتے وقت طبل ، رقص اورموسیقی کا اہتمام کرتے ۔( ۱ )

اہل سنت کویت کے بہت بڑے عالم رفاعی وہابی علماء کو خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :(رضیتم ولم تعارضواهدم بیت السید ة خدیجة الکبری ام المومنین والحبیبة الاولی لرسول رب العالمین صلی الله علیه وآله المکان الذی هومهبط الوحی الاول علیه من رب العزة والجلال وسکتم علی هذاالهدم راضین ان یکون المکان بعد هدمه دورات میاه وبیوت خلاء ومیضات ، فاین الخوف من الله ؟واین الحیاء من وسوله الکریم علیه الصلاة والسلام ۔( ۲ )

____________________

(۱)کشف الارتیاب :۲۷نقل از تاریخ جبرتی.

(۲)نصیحة لاخوانناعلماء نجد :۵۹تالیف :یوسف بن السید ھاشم الرفاعی ہمراہ مقدمہ ڈاکٹرمحمد سعید رمضان البوطی۔


حبیبہ اول رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ام المومنین حضرت خدیجہ کاگھرویران ہوتا رہا اورتم دیکھتے رہے کوئی عکس العمل انجا م نہ دیا جبکہ وہ وحی قرآنی کے نزول کا محل تھا ان مظالم کے سامنے خاموشی اختیار کرکے تم اس پرراضی رہے کہ اس مقدس مکان کوبیت الخلاء بنادیاجائے ،پس کہاں ہے تمہاراخوف خدا ؟اورکہاں ہے تمہارا پیغمبر سے حیا؟

رفاعی مزیدلکھتے ہیں :رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے محل ولادت کو ویران کرکے حیوانوں کی خرید وفروش کی جگہ میں تبدیلی کردیا یہاں تک کہ نیک اورمخیر حضرات نے وہابیوں کے چنگل سے نکال کراسے کتابخانہ میں تبدیل کردیا

ان آخری سالوں میں تم وہابیوں نے تہدید وانتقام کے ذریعہ سے اپنی ناپاک نیتوں کو عملی جامہ پہنانے کاپکا ارادہ کررکھاہے اوررسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے محل ولادت کو نابود کرنے کی پوری پوری کوشش کی یہاں تک کہ سعودی عرب کے بڑے بڑے علماء سے اس مقدس مکان کوویران کرنے کی اجازت بھی لے لی لیکن شاہ فہد نے اس کے برے اثرات کو بھانپ لیا اوراس قبیح عمل سے روک دیا ۔


یہ کیسی بے احترامی ہے جس کو انجام دے رہے ہو ؟ !

اور یہ کیسی بے وفائی ہے جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق میں روارکھے ہوئے ہو۔؟!

جب کہ خداوند متعال نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہمیں آپ اورہمارے آبائو اجداد کو شرک کی تاریکیوں سے نکال کرنور اسلام کی طرف ہدایت کا وسیلہ قراردیا ۔

آگاہ ہوجائو! جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حوض کوثر پر پہنچوگے توسوابے حیائی کے تمہیں کچھ نصیب نہ ہوگا اوریہ بھی یقین کرلو کہ نبی مکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقدس آثار کو نابود کرنے کی شقاوت کانتیجہ دیکھ لوگے جس کے ذریعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ناراضگی کا باعث بنے ہو۔( ۱ )

رفاعی ایک اورمقام پرلکھتا ہے :

صحابہ ، امہات المومنین اوراہل بیت کی قبور کے آثار کو نابود کیا ، مادرگرامی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آمنہ بنت وہب کی قبر مبارک پرپٹرول چھڑک کراسے آگ لگاکراس کااثر تک باقی نہ چھوڑا۔(۲)

____________________

(۱)(حاولتم ولازلتم تحاولون وجعلتم دابکم هدم البقعة الباقیة من آثاررسول الله صلی الله تعالی علیه واله وسلم الا وهی البقعة الشریفة التی ولد فیها )،التی هدمت ، ثم جعلت سوقا للبهائم ، ثم حولها بالحیلةالصالحون الی مکتبة هی (مکتبة مکة المکرمة ) فصرتم یرمون المکان بعیون الشروالتهدید والانتقام ، وتتربصون به الدوائروطالبتم صراحة بهدمه واستعد یتم السلطة وحرضتموها علی ذلک بعد اتخاذ قراربذلک من هیئة کبار علمائکم قبل سنوات قلیلة (وعندی شریط صریح بذلک )غیران خادم الحرمین الشریفین الملک فهد العاقل الحکیم العارف بالعواقب تجاهل طلبکم وجمده

فیاسوء الادب وقلة الوفاء لهذا لنبی الکریم الذی اخرجناالله به ایاکم والاجداد من الظلمات الی النور !ویاقلة الحیاء من یوم الورود علی حوضه الشریف !ویابوس وشقاء فرقة تکره نبیها سواء بالقول اوبالعمل وتحقره وتسعی لمحواثاره!نصیحة لاخواننا علماء نجد ۶۰.

(۲)هد متم قبور الصحابة وامهات المومنین وآل بیت الکرام رضی الله عنهم وترکتموها قاعا صفصفا وشواهدا حجارة مبعثرة لایعلم ولایعرف قبر هذا من هذا،بل وسکب علی بعضها البنزین فلاحول ولاقوة الابالله ، ثم ذکر فی الهامش ، قبرالسیدة آمنه بنت وهب ام الحبیب المصطفی نبی هذه الامة صلی الله علیه وسلم ۳۸ نصیحة لاخواننا علماء نجد :


۵۔بڑے بڑے کتب خانوں کوآگ لگانا:

افسوس ناک ترین کام جو وہابیوں نے انجام دیا جس کے بدترین آثار اب بھی باقی ہیں وہ ایک عظیم کتاب خانہ (المکتبة العربیة )کو آگ لگانا تھا جس میں ساٹھ۶۰ہزارسے زیادہ انتہائی قیمتی اورکم نظیر کتب موجود تھیں اس کے علاوہ چالس ۴۰ہزارخطی نسخے ایسے تھے جو کہیں اورموجود نہ تھے جن میں زمانہ جاہلیت ،یہود، کفار قریش اوراسی طرح علی علیہ السلام ، ابوبکر ، عمر ، خالد بن ولید ، طارق بن زیاداوربعض دیگر اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خطی آثار اورعبداللہ بن مسعود کے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن مجید تھا ۔

اسی طرح اس کتاب خانہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مختلف قسموں کا اسلحہ اورظہور اسلام کے وقت پرستش کئے جانے والے بت مانند لات ، عزی ، مناة ، اورہبل موجود تھے ۔

(ناصر السعید)نے ایک مورخ کے قول کو نقل کیا ہے کہ جب وہابی نے جب قابض ہوئے تو انہوںنے یہ بہانہ بناکر اس کتاب خانہ کو راکھ کردیا کہ اس کے اندرکفریات موجود ہیں ۔( ۱ )

۶۔مدنیہ منورہ پرقبضہ :

سعود نے ۱۲۲۰ھ یا۱۲۲۱ھمیں مدینہ منور ہ پرحملہ کیا اورڈیڑھ سال کے محاصرہ کے بعد سرانجام اس شہر مقدس پرقبضہ کرلیا روضہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں موجود تمام قیمتی اشیاء کو لوٹ لیافقط مسلمانوں کے خوف سے قبر مقدس پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرتجاوز کرنے سے پرہیزکیا۔

انہوں نے الماس ، یاقوت اورگرانبہاجواہرات سے بھرے چارصندوق غنیمت بنائے جن میں زمرد سے بنے ایسے چار شمعدان تھے جن میں شمع کے بجائے الماس کے دمکتے ہوئے ٹکڑے رکھے جاتے اورایک سوشمشیر جن کے غلاف خالص سونا اورالماس ویاقوت سے اوردستے زمرد سے مرصع تھے جن کی قیمت کااندازہ نہیں لگایاجاسکتا ۔( ۲ )

____________________

(۱)تاریخ آل سعود ،۱:۱۵۸کشف الارتیاب :۵۵،۱۸۷و۳۲۴ اعیان الشیعہ ۲:۷،

الصحیح من سیرة النبی الاعظم ۱:۸۱ آل سعود من این الی این :۴۷.

(۲)فرقہ وھابی وپاسخ بہ شبہات آنھا۔مقدمہ علی دوانی :۴۰.


دولت عثمانی میں نیوی کالج کے انچارج میجر (ایوب صبری)لکھتے ہیں :سعود

بن عبدالعزیز نے مدینہ منورہ پرقبضہ کے بعد تمام اہل مدینہ کو مسجد نبوی میں جمع کیا اورمسجد کے تمام دروازے بندکرکے اپنی تقریر کا آغاز یوں کیا :

اے اہل مدنیہ !اس آیت شریفہ (الیوم اکملت لکم دینکم) آج کے دن میں نے تمہارادین کامل کردیا) کے مطابق آج تم لوگ نعمت اسلام سے مشرف ہوئے ہو، خدا تم سے راضی اورخوشنود ہوگیا ۔

اپنے بڑوں کے باطل ادیان کوترک کردواورہرگز ا نہیں نیکی سے یاد نہ کرنا ، ان کے لئے طلب رحمت کی دعا سے پرہیز کرو اس لئے کہ وہ سب شرک پرمرے ہیں ۔( ۱ )

۷۔مکہ مکرمہ اورطائف میں قبروں کاویران کرنا:

ایک بارپھر ۱۳۴۳ھجری میں وہابیوں نے عبداللہ بن عباس ،جناب عبدالمطلب،جناب ابوطالب اورزوجہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت خدیجہ کی قبوراورطائف کی دیگر قبورکے اوپربنی ہوئی عمارات ، حضرت زہراسلام اللہ علیہا کامحل ولادت اورمکہ مکرمہ کے اندر موجود تما م شعائر اسلامی کو ویران کرڈالا۔( ۲ )

۸۔جنت البقیع میں ائمہ علیہم السلام کی قبروں کو خراب کرنا:

۱۳۴۴ہجری میں وہابیوں نے مکہ مکرمہ پرقبضہ کے بعد مدینہ منورہ کارخ کیا ،

شہرکا محاصرہ کیا اورجنگ کے بعد اس پربھی قبضہ کرلیا ، جنت البقیع میں آئمہ علیہم

____________________

(۱)تاریخ وھابیان :۱۰۷، تاریخ الوھابیة :۱۲۶طبع مصر

(۲)کتاب فرقہ وہابی پرعلامہ دوانی کا مقدمہ :۵۵.


السلام کی قبور اوراسی طرح باقی قبروںمانند قبرابراھیم فرزندپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ازواج آنحضرت کی قبور ، قبرحضرت ام البنین مادرحضرت عباس ، قبہ جناب عبداللہ والد گرامی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، قبہ اسماعیل بن جعفرصادق علیہ السلام اور تمام اصحاب وتابعین کی قبور پرموجود قبوں کوخراب کرڈالا۔( ۱ )

اسی طرح مدینہ منورہ میں امام حسن اورامام حسین علیہماالسلام کے محل ولادت ، شہدائے بدرکی قبور نیز بیت الاحزان جسے حضرت علی علیہ السلام نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لئے تعمیر کروایا تھا اسے بھی ویران کرد یا۔( ۲ )

____________________

(۱)کتاب فرقہ وہابی ، مقدمہ دوانی :۵۶

(۲)مرکز اطلاع رسانی اسناد انقلاب اسلامی www.irdc_ir


۹۔اہل طائف کاقتل عام:

بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہابیوں نے فقط شیعہ آبادی کے علاقوں کو تاراج کیا جب کہ حجاز اورشام میں ان کے کارناموں کامشاہدہ کرنے سے روشن ہوجاتا ہے کہ اہل سنت آبادی کے علاقے بھی ان کے حملات سے محفوظ نہ رہ سکے ۔

زینی دحلان مفتی مکہ مکرمہ لکھتے ہیں :

(ولما ملکواالطائف فی الذیقعدة سنة ۱۲۱۷، الف ومائتین وسبعة عشرقتلوا الکبیر والصغیر والمامور والامر ولم ینج الامن طال عمره ، وکانوایذبحون الصغیر علی صدرامه ونهبوا الاموال وسبواالنساء( ۱ )

۱۲۱۷ہجری میں جب وہابیوں نے طائف پرقبضہ کیاتو چھوٹے ، بڑے ، سرداروغلام سب کوقتل کرڈالا ،بوڑھے افراد کے علاوہ کوئی ان کے ہاتھوں سے نجات نہ پاسکا ، یہاں تک مائوں کی آغوش میں ان کے شیرخواربچوں کے سرتن سے جداکردیئے ، لوگوںکامال لوٹا اورعورتوں کوقیدی بنالیا۔

حنفی مورخ جبرتی لکھتے ہیں :

(وفی اواخر سنة ۲۱۷ا اغارالوهابیون علی الحجاز ، فلماقاربواالطائف خرج الیهم الشریف غالب فهذموه ، فرجع الی الطائف واحرقت داره وهرب الی مکة ، فحاربوا الطائف ثلاثة ایام حتی دخلوهاعنوة ، وقتلو االرجال واسرواالنساء والاطفال ، وهذا دابهم فی من یحاربهم ، وهدمواقبة ابن عباس فی الطائف )( ۲ )

۱۲۱۷ہجری میں وہابیوں نے حجاز پردھاوابولاجب طائف کے قریب پہنچے توحاکم طائف شری غالب ان کامقابلہ کرنے کے لئے شہر سے باہرنکل آیالیکن جب شکست ہوئی تووہ شہر واپس پلٹ گیاانہوں نے اس کے گھر کو نذر آتش کردیاجب کہ وہ خود مکہ بھاگ گیااس کے بعدتین دن تک اہل طائف سے جنگ

____________________

(۱)الدررالسنیة :۴۵.

(۲)عجائب الآثار ، ۲:۵۵۴، اخبارالحجاز ، غالب محمدادیب ، تاریخ جبرتی :۹۳


کی ان کے مردوںکوقتل کردیا عورتوں اوربچوں کوقیدی بنالیاوہابیوں کا طریقہ کارہرجگہ یہی تھا اورطائف میں عبداللہ بن عباس کی قبر کوبھی ویران کردیا ۔

عراق کے ایک سنی عالم جمیل صدقی زہاوی طائف پروہابیوں کے حملہ کے بارے میں لکھتے ہیں :وہابیوںکے بدترین کارناموں میں سے ایک ۱۲۱۷ہجری میں اہل طائف کاقتل عام کرنا ہے ،جہاں کسی چھوٹے بڑے پررحم نہ کیا ، شیر خوا ر بچوںکوان کی مائوں کی گود میں ذبح کیا، کچھ لوگ قرآن مجیدحفظ کرنے میں مشغول تھے ان کوقتل کردیایہاں تک کہ کچھ کوتوحالت نماز میں ہی مارڈالااوران کے پاس موجود قرآن مجید ، صحیح بخاری ، صحیح مسلم اوردیگر حدیثی وفقہی کتب کو اٹھاکر گلیوں اوربازاروں میں پھینک کرپائوں سے روندڈالا۔( ۱ )

____________________

(۱)(ومن اعظم قبائح الوهابیة اتباع ابن عبدالوهاب قتلهم الناس حین دخلوا الطائف قتلاعاماحتی استاصلوا الکبیروالصغیر ، واودوبالمامورالامیر، والشریف والوضیع ، وصاروایذبحون علی صدرالام طفلهاالرضیع،ووجدوا جماعة یتدارسون القرآن فقتلوهم عن آخرهم ، ولماابادوامن فی البیوت جمیعاخرجواالی الحودانیت والمساجد وقتلوا من فیها وقتلواالرجل فی المسجد وهوراکع اوساجد ، حتی افنواالمسلمین فی ذلک البلد ولم یبقی فیه الاقدرنیف وعشرین رجلاتمنعوا فی بیت الفتنی بالرصاص ان یصلوهم وجماعة فی بیت الفعر قدرالمئتانی وسبعین قاتلوهم یومهم ثم قاتلوهم فی الیوم الثانی والثالث حتی راسلوهم بالامان مکراوخدیعة فلمادخلوا علیهم واخذوامنهم السلاح قتلوهم جمیعا ، واخرجواغیرهم ایضا، بالامان والعهود الی وادی (وج)وترکوهم هناک فی البرد والثلج حفاة عراة مکشوفی السوات ، هم ونسائوهم من مخدرات المسلمین ونهبواالاموال والنقود والاثاث ، وطرحوا الکتب علی البطاح وفی الازقة والاسواق تعصف بهاالریاح ، وکان فیهاکثیر من المصاحف ومن نسخ البخاری ومسلم وبقیة کتب الحدیث والفقه وغیرذلک تبلغ الوفامولفة فمکثت هذا الکتب ایاماوهم بطئوونها بارجلهم ولایستطیع احد ان یرفع منها ورقة ، ثم اخربوالبیوت وجعلوها قاعاصفصفاوکان ذلک سنة ۱۲۱۷، (۳)


وہابیوں نے اہل طائف کے قتل عام کے بعد مکہ مکرمہ کے علماء کوایک خط لکھا جس میں ا نہیں اپنے دین کی دعوت دی اہل مکہ خانہ کعبہ کے پاس جمع ہوئے تاکہ وہابیوں کے نامے کا جواب دیں لیکن اچانک دیکھا کہ اہل طائف کا ایک ستم دیدہ گروہ مسجد الحرام میں داخل ہوا اوراپنے اوپر ہونے والے مظالم کوبیان کیا، جس سے لوگ اس قدروحشت زدہ ہوگئے کہ گویا قیامت برپاہوگئی ہو۔

اس وقت مکہ مکرمہ اورحج پرگئے ہوئے چاروں مذاہب اہل سنت کے علماء وفقہاء نے وہابیوں کے کفر کا فتوی دیا اورامیرمکہ پرواجب قراردیا کہ وہ ان کے خلاف قیام کرے اورساتھ یہ بھی فتوی دیاکہ مسلمانوں پرواجب ہے کہ وہ اس جہاد میں شرکت کریں اورجو ماراجائے گاوہ شہید شمار ہوگا۔( ۱ )

۱۰۔علمائے اہل سنت کا قتل عام :

نیوی کے میجرایوب صبری لکھتے ہیں :سعود بن عبدالعزیز جو کہ محمد بن عبدالوھاب سے متاثر ہوچکا تھا اس نے قبائل کے سردار وں سے اپنے پہلے خطاب میں کہا:ہمیں چاہئے کہ تمام شہروں اورآبادیوں پرقبضہ کریں اورا نہیں اپنے عقائدکی تعلیم دیں...( ۲ )

____________________

(۱)سیف الجبرالمسلول علی الاعداء :۲

(۲)تاریخ وھابیان :۳۳،اور طبع مصر میں یوں ہے :هااناذاامرحامیة فاستطیع الان ان افصح عمااضمره فی خلدی ان هدفی من حشدهذاالجیش هوان انطلق من دارالخلافة ، وهی الدرعیة ونجد ، بجحفل اشوس لایقهر فاحتل جمیع الدیار والقفارواعلم الناس الاحکام والشرائع ، واضم بغداد وبجمیع توابعها الی فتنهم فی ظل العدل الذی نتصف به ،

تاریخ الوهابیه :۵۴. (۳) الفجر الصادق ۲۲


یہاں تک کہ کہنے لگا:اپنی اس آرزوکو پروان چڑھانے کے لئے ہمیں مجبورا علمائے

اہل سنت کوروئے زمین سے نابود کرناہوگا جوسنت نبویہ اورشریعت محمدیہ کی پیروی کے مدعی ہیں ،دوسرے لفظوں میں یہ مشرک جو اپنے کو اہل سنت کے علماء کہلواتے ہیں ان کو تہہ تیغ کرناہوگا خاص طور سے بااثر اورمعروف علماء کو ، اس لئے کہ جب تک یہ لوگ زندہ ہیں تب تک ہمارے پیروکاروں کوخوشی نصیب حاصل نہیں ہوسکتی ، لہٰذا سب سے پہلے اپنے کوعالم ظاہر کرنے والوں کو ختم کرناہوگا اوراس کے بعد بغداد پرقبضہ کرناہوگا ۔( ۱ )

دوسرے مقام پرلکھتے ہیں :

۱۲۱۸ہجری میں سعودبن عبدالعزیز نے مکہ مکرمہ پرقبضہ کے دوران بہت سے اہل سنت علماء کو بغیر دلیل کے شہید کیا اوربہت سے بااثر سرداروں کو بغیر کسی جرم کے تختہ دارپرلٹکا یا ، اورجس کسی کو عقائد پرثابت قدم دیکھتے اسے طرح طرح کی اذیتیں اور شکنجے کرتے ، اورپھر گلیوں اوربازاروں میں منادی چھوڑے جو یہ ندا

____________________

(۱)تاریخ وهابیان :۳۳،طبع مصر میں یوں هے :ولاجل تحقیق هذاالامل فلابد من ان نجت دابر علماء العامة الذین یدعونهم یتبعون السنة النبویة السنیة الشریعة المحمد یة العلیة وبعبارة اخری نستاصل شافة المشرکین الذین یسمون انفسهم باسم علماء اهل السنة ولاسیما من یشارالیه بالبنان منهم

اذمادام هئولاء فی قیدالحیاة فسوف لایرون لاتباعنا بلغة من العیش ، فلذاینبغی ان نبید من یظهر بعنوان عالم اولا، ثم نحتل بغداد ثانیا تاریخ الوهابیة ، ص۵۵، ط، الهدف للاعلام والنشر ،قاهره سال ۲۰۰۳م


د ے رہے تھے (ادخلو افی دین سعود ، وتظلّوابظله الممدود ) لوگو! دین سعود میں داخل ہوجائو اوراس کے وسیع سایہ میں پناہ لو ۔( ۱ )

۱۱۔غیروہابی ممالک سے تجارتی بائیکاٹ:

روسی مستشرق فاسیلیف لکھتے ہیں :

وقدبلغ تعصب الوهابیین الی حد حملهم علی قطع العلاقات التجاریة مع غیرهم ، وکانت التجارة الی عام۱۲۶۹مع الشام والعراق محرمة .( ۲ )

وہابیوں کاتعصب اس قدربڑھ گیاکہ سعودی تاجروں کوغیر وہابی ممالک سے تجارتی تعلقات ختم کرنے پرآمادہ کیا اور۱۲۶۹ہجری تک شام اورعراق کے ساتھ تجارت کرنا حرام تھا۔

وہابی مورخ ابن بشرلکھتاہے :

(وکانوا اذااوجدواتاجرافی طریق یحمل متاعا الی

____________________

(۱)تاریخ وہابیان :۷۴،طبع مصرمیں یوں لکھا ہے :قتل سعود الوخیم العاقبة کثیرامن علماء العامة بدون ذنب واعدم شنقاکثیر امن الاعیان والاشراف دون ای همة ، وهددبانواع العذاب کل من یبدی تمسکا بماعلیه من عقائد دینیة وحینئذ ارسل وجالاینادون بغایة الوقاحة فی الازقة والاسواق باعلی اصواتهم (ادخلوافی دین سعود ، وتظله الممدود ، وبهذا النداء المسعودد عوالناس عملاالی اعتناق دین محمد بن عبدالوهاب تاریخ الوهابیه:۹۵.

(۲)تاریخ العربیة السعودیة :۱۰۵.


المشرکین صادرواماله )وہابی اگرکسی تاجر کو مشرکوں (غیروہابیوں )کی طرف مال لے جاتے راستے میں دیکھ لیتے تو اس سے وہ مال چھین لیتے۔( ۱ )

۱۲۔بیت اللہ کے حاجیوں کاقتل :

الف ۔یمنی حاجیوں کاقتل :۱۳۴۱ہجری میں خالی ہاتھ یمنی حجاج کرام کاراستہ روکا پہلے تو ا نہیں پناہ دی لیکن جب پہاڑکے اوپر پوزیشن لے لی تونیچے موجود حاجیوں پرتوپوں کے دہانے کھول دیئے جس سے فقط دوحاجی جان بچاکر نکلے اورلوگوں کو اس وحشیانہ حملے کی خبردی ۔

ب۔منٰی میں مصری حاجیوں کا قتل:۱۳۴۴ہجری میں وہابیوں نے منی میں مصری حاجیوں کے بعض اعمال کو حرام قراردیتے ہوئے ان میں سے کئی ایک کومارڈالا۔

ج۔ایرانی حجاج کا قتل: چارذی الحجہ ۱۴۰۷ہجری کو آل سعود کے وہابی خدام نے ہزاروں حاجیوں کو مکہ میں مشرکین سے برائت کی صدابلند کرنے کے جرم میں خون میں لت پت کیا یہاں تک کہ ان کے درمیان موجودملاںیہ فریاد بلند کررہے تھے: مشرکوں اورمجوسیوں کوقتل کرڈالو، اس تلخ واقعہ کے ایک عینی شاہد یوں نقل کرتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ سعودی ہاتھ میں لاٹھیاںلئے اپنے دونوںہاتھوںسے زور زورسے عورتوں کے سروں پہ مارکرا نہیں زمین پرگرا

____________________

(۱)عنوان المجد فی تاریخ نجد ۱:۱۲۲


تے جارہے تھیاے کاش!کہ اسی مارنے پرہی اکتفاکیاہوتا لیکن جب کوئی خاتون گرتی تو پیچھے سے آنے والااس کے سرمیں ڈنڈامارکراسے جان سے ماردیتا۔( ۱ )

د۔بحرینی حجاج پر حملہ: مہرماہ ۱۳۸۶بمطابق ۲۰۰۷مسجدالحرام کے اطراف میں گلیوں میں چھپے ہوئے متعصب وہابیوں نے جیسے ہی بحرینی شیعوں کوبس سے اترتے دیکھاتو تیزدھارکاٹنے والے شیشے کے ٹکڑوں سے ان پرحملہ کردیا اورطرح طرح کی گالیاں ، جیسے شیعہ کتے ، کافروغیرہ دینے لگے ،( ۲ )

۱۳۔اردن کے بے دفاع لوگوں کاقتل :

۱۳۴۳ھ میں وہابیوں کے ایک گروہ نے اچانک اردن پردھاوابول دیا اورام العمد اوراس کے اطراف میں بے خبر لوگوں پرحملہ کیا ، بے گناہ عورتوں اورمردوں کوقتل اوران کے اموال کوغارت کیالیکن تھوڑی ہی دیر بعد بعض کے راند ے جانے اور بعض کے اسیر ہوجانے سے باقی پیچھے ہٹ گئے البتہ گرفتار ہوجانے والے وہابیوں کو برطانیہ کے حکم پررہاکردیاگیا ، ۱۳۴۶ھ میں وہابیوں نے دوبارہ تیس ہزارکالشکر لے کر اردن پرحملہ کردیا جس کے نتیجہ میں بہت زیادہ قتل وغارت اورخونریزی ہوئی ۔( ۳ )

____________________

(۱)روزنامہ جمہوری اسلامی ایران ، ۱۶آذر۱۳۶۶، سید رضاسوی کاظمی محمدی نا ئنی کے واقعات ۔

(۲) www. shin_ news.com

(۳) www.salaf_ blogfa.com


۱۴۔امام موسی کاظم علیہ السلام کے عزادروںکاقتل :

۲۵رجب ۲۰۰۶ء میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے دن وہابیوں نے امام علیہ السلام کے روضہ مبارک کے اطراف میں مسموم غذا تقسیم کرکے اورنیزکاظمین میں عزاداروں کے دستوںمیں متعدد بم دھماکے کرکے پندرہ سوشیعہ عزاداروں کوشہید کردیا۔

۱۵۔افغانستان میں وھابی طالبان کے مظالم :

۱۹۹۶ء میں وہابیوں کاایک گروہ طالبان کے نام سے افغانستان میں میدان جنگ میں اتراجسے سعودی عرب اورامریکہ کی حمایت حاصل تھی ۱۹۹۶ء میں انہوں نے کابل پرقبضہ کرکے شیعوں کاقتل عام کیا ، ۱۹۹۹ء میں مزارشریف کے لوگوں کو تہہ تیغ کیا اورپھر ہسپتالوں پرحملہ کرکے شیعہ بیمار وں کوتختوں پرہی شہید کردیا۔

روز عاشورہ جب قند ھارکے شیعہ امام بارگاہومیں عزاداری میں مشغول تھے تو ظالم وہابیوں نے اچانک حملہ کرکے دردناک طریقے سے کئی ایک کو شھید کردیا ۔( ۲ )

____________________

(۲)شبہائے پیشاور ،۱:۳۴۶،تحقیق عبدالرضادرایتی۔


فصل چہارم

وہابیت اورخداکی شناخت

۱۔ابن تیمیہ مروج افکارتجسیم :

بانی افکاروہابیت ابن تیمیہ نے جن عقائد کوپھیلانے کی کوشش کی ان میں سے ایک خداوندمتعال کے جسم ہونے اورجسم وجسمانیت کے لوازم جیسے کرسی پربیٹھنا ، ہنسنااورچلنا وغیرہ پرعقیدہ رکھنا ہے ۔

ابن تیمیہ کہتاہے :''لیس فی کتاب الله ولاسنة رسوله ولاقول احد من سلف الامة وائمتها انه لیس بجسم وان صفاته لیست اجساما واعراضا ؟!فنفی المعانی الثابتة بالشرع والعقل بنفی الفاظ لم ینف معناها شرع ولاعقل، جهل وضلال '' ( ۱ )

____________________

(۱)التأسیس فی رد اساس التقدیس ۱:۱۰۱


کتاب خدا ،سنت رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اسی طرح آئمہ سلف کے اقوال میں سے کسی میں یہ نہیں ہے کہ خداجسم نہیں رکھتا اور جسم وعرض ہو نے سے منزہ ہے لہذاایک ایسے معنی کا انکار کرنا جسے عقل وشریعت نے رد نہیں کیا ایک طرح کی نادانی اور گمراہی ہے ۔

اور پھر لکھتا ہے:

''والکلام فی وصف الله بالجسم نفیاواثباتا بدعة ، لم یقل احد من سلف الامة وائمتها ان الله لیس بجسم ، کمالم یقولوا ان الله جسم '' ( ۱ )

خدا وند متعال کے جسم ہو نے کی نفی واثبات کے بارے میں بحث کرنا بدعت ہے آئمہ امت اور سلف میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ خدا جسم نہیں رکھتا جیسا کہ یہ بھی نہیں کہا کہ وہ جسم رکھتا ہے ۔ایک اور مقام پر لکھا ہے :( ۲ )

قرآن وسنت اور صحابہ وتابعین کے کلام میں کہیں پہ مشبہ (جو خدا کو مخلوقات سے تشبیہ دیتے ہیں ) کی مذمت نہیں کی گئی ہے ۔( ۳ )

____________________

(۱)الفتاوی ۵:۱۹۲

(۲)فاسم المشبهة لیس له ذکر بذم ، فی الکتاب والسنة ولاکلام احد من الصحابة والتابعین

(۳)بیان تلبیس الجھمیة فی تاسیس بدعھم الکلامیة ۱:۱۰۹


۲۔جسمانیت خدا وند متعال اور سعودی عرب کی فتوی دینے والی اعلی کمیٹی :

خدا وند متعال کی جسمانیت کے بارے میں ہو نے والے سوال کے جواب میں سعودی عرب کی فتوی دینے والی اعلی کمیٹی نے یوں لکھا ہے :( ۱ )

چونکہ جسمانیت خدا کی نفی واثبات کے بارے میں روایات میں بیان نہیں کیا گیا بنا بر ایں مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اسکی نفی یا اثبا ت کے بارے میں بحث کرے اسلئے کہ صفا ت خدا توقیفی ہیں (یعنی جو کچھ آیات وروایات میں بیان ہوا اسکے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے )۔

۳۔وہابیوں کے خداکا مسکرانا :

ابن تیمیہ اپنے رسالئہ عقیدہ الحمویةمیں لکھتا ہے :

خدا مسکراتا ہے اور روزقیامت مسکراتے ہوئے اپنے بندوں پر تجلی کرے گا۔( ۲ )

۴۔وہابیوں کے خدا کا عرش سے زمین پر آنا :

ابن تیمیہ کہتا ہے :خدا ہر رات آسمان سے زمین پر اتر کر صدا دیتا ہے کہ ہے کوئی جو مجھے پکارے تاکہ میں اسکی حاجت پوری کروں ؟ہے کوئی جو مجھ سے بخشش

____________________

(۱)ونظراً الی ان التجسیم لم یرد فی النصوص نفیه ولااثباته فلا یجوز للمسلم نفیه ولااثباته لان الصفات توقیفیة (فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳:۲۲۷.

(۲)مجموعہ الرسائل الکبری :۴۵۱، رسالہ ۱۱


طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں ...؟اور یہ کام طلو ع فجر تک انجا م دیتا ہے اسکے بعد لکھتا ہے :

''فمن انکرالنزول اوتاول فهو مبتدع ضالّ ''( ۱ ) جو بھی خداکے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کا انکار کرے یا اسکی توجیہ کرے وہ بدعت گزار اور گمراہ ہے ۔

ابن بطوطہ اپنے سفر نامہ میں لکھتاہے :

جب میں دمشق کی جا مع مسجد میں تھا تو ابن تیمہ نے منبر پہ کہا :

ان الله ینزل الی السماء الدنیا کنزولی هذا .خداعالم دنیا کی طرف ایسے ہی اتر تا ہے جیسے میں اتر رہا ہو ں اور پھر منبر سے ایک زینہ نیچے اترا ۔

مالکی فقیہ ابن الزہراء نے اس پر اعتراض کیا اور اس کے عقائد کو ملک ناصر تک پہنچایا ۔اس نے اسے زندان میں ڈالنے کا حکم صادر کیا اور وہ زندان میں ہی مرگیا ۔( ۲ )

۵۔وہابیوں کا خدا آنکھ سے دیکھا جا سکتاہے ۔

ابن تیمیہ علامہ حلی کی کتاب منھاج الکرامہ کے رد میں لکھی گئی اپنی کتاب منھاج السنةمیں لکھتا ہے :

____________________

(۱)مجموعہ الرسائل الکبری :۴۵۱، رسالہ ۱۱

(۲)رحلة ابن بطوطہ :۱۱۳


آئمہ سلف و گزشتگان اور مذاہب اربعہ کے تمام مسلمانوں کا قول یہی ہے کہ آخرت میں خدا کو آنکھو ں سے دیکھا جاسکتا ہے اور علماء حدیث نے اس بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث کو تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے ۔( ۱ )

۶۔وہابیو ں کا خدا ہر جگہ نہیں ہوسکتا :

سعودی عرب میں فتوی جاری کرنے والی اعلی کمیٹی سے سوال کیا گیا :

ایسا شخص جو خدا وند متعال کے ہر جگہ موجود ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے اسکا شرعی حکم کیا ہے ؟اور اسے کیسے جواب دیا جاسکتا ہے ؟

تواس کمیٹی نے یوں جواب دیا:

اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ خداعرش پر ہے اور دنیا میں نہیں ہے بلکہ اس عالم سے خارج ہے خدا کے مخلوقات سے بلندی پر ہونے کی دلیل وہی اسکی طرف سے قرآن کا نزول ہے اور واضح ہے کہ نزو ل ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجیدمیں بیان ہوا :( وانزلناالیک الکتاب بالحق ) ۔( ۲ )

ترجمہ: ہم نے قرآن کو آپکی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ۔

____________________

(۱)امااثبات رویةالله بالابصار فی الآخر ة فهو قول سلف وائمتها وجماهیر المسلمین من اهل المذاهب الاربعة وغیرها وقد تواترت فیه الاحادیث عن النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عندعلماء الحدیث ۔منھاج السنہ۳:۳۴۱

(۲)مائدہ، ۵: ۴۸


رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب ایک کنیز کو آزاد کروانا چاہا تو اس سے پوچھا :خدا کہا ں ہے ؟کہنے لگی :آسمانوں میں ،فرمایا : میں کون ہوں ؟عرض کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ۔

اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسکے مالک سے فرمایا :یہ خاتو ن صاحب ایمان ہے اور تو اسے آزاد کرسکتا ہے ۔

اسی طرح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :میں اس ذات کا امین ہوں جو آسمانوں میں ہے اور آسمانوں کی خبریں ہر صبح وشام مجھ تک پہنچتی رہتی ہیں ۔

اور پھر سعودی فتوٰی کمیٹی لکھتی ہے :

(من اعتقد ان الله فی کل مکان فهو من الحلولیة ویرد علیه بما تقدم من الادلة علی ان الله فی جهة العلو، وانه مستوعلی عرشه ، بائن من خلقه ، فان انقاد لمادل علیه الکتاب والسنة والاجماع ، والافهوکافر مرتدعن الاسلام ،( ۱ )

جو بھی یہ عقیدہ رکھے کہ خدا وندمتعال ہرجگہ موجود ہے تو وہ دنیا میں خدا کے حلول کا قائل ہوا ایسے شخص کوسابقہ ادلة سے بیان کرنا چاہئے کہ خدا بلندی میں عرش پر موجود ہے اوراس عالم سے خارج ہے ، اگر قبول کرلے توصحیح ورنہ کافر ،مرتد اوراسلام کے دائرہ سے خارج ہے ۔

____________________

(۱)فتاوی اللجنة للبحوث العلمیة والافتاء ۳ :۲۱۶و۲۱۸.


۷۔وہابیوں کے خدا کا مچھر پر بیٹھنا:

ابن تیمیہ کہتا ہے :(ولوقد شاء لاستقرعلی ظهر بعوضة فاستقلت به بقدرته ولطف ربوبیته فکیف علی عرش عظیم ، اگرخدا چاہے تو مچھر کی پشت پربھی بیٹھ سکتا ہے تو پھر عرش عظیم پرکیوں نہیں ؟( ۱ )

۸۔وہابیوں کا خدا نوجوان اورگھنگھریالے بالوںوالاہے :

ابویعلی نے عبداللہ بن عباس سے نقل کیاہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: (رایت ربی عزوجل شاب امردجعدقطط ، علیہ حلیة حمرائ،

میں نے اپنے رب کودیکھا وہ نوجوان اورابھی اس کی ڈاڑھی کے بال نہیں آئے تھے سر کے بال گھنگریالے اورسرخ زیور سے مزین تھا۔

ابویعلی اپنی دوسری کتاب میں لکھتا ہے :

ابوزرعہ دمشقی نے اس روایت کو صحیح قرار دیاہے ...اوراحمد بن حنبل نے کہاہے (هذاحدیث رواه الکبری عنالکبر عن الصحابة عن النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فمن شک فی ذلک اوفی شئی منه فهو جهمی لاتقبل شهادته ولایسلم علیه ولایعادفی مرضه ، اس حدیث کو بزرگان نے اکابر صحابہ کے واسطے سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے اورجو بھی اس کے صحیح ہونے میں شک کرے وہ جہنمی ہے اس کی شہادت قبول نہیں ہوگی نہ اس پرسلام کیاجائے گا اورنہ ہی بیمار ہونے کی

صورت میں اس کی عیادت کی جائے گی۔(۲)

____________________

(۱)التاسیس فی رداساس التقدیس ۱:۵۶۸

(۲)طبقات الحنابلة ۳:۸۲۸۱، ابطال التاویلات ،۱:۱۴۱، تالیف ابویعلی


۹۔وہابیوں کے خدا کا آنکھ کے دردمیں مبتلاہونا :

شہر ستانی متوفی ۵۴۸ہجری مشبھہ کے خرافات کو نقل کرنے کے بعد لکھتاہے :

وزادوافی الاخبار اکاذیب وضعوها ونسبوها الی النبی علیه الصلاة والسلامواکثر ها مقتبسة من الیهود فان التشبیه فیهم طباع حتی قالوا :شتکت عیناه فعادته الملائکة وبکی علی طوفان نوح حتی رمدت عیناه )(۱)

مشبہہ نے جھوٹی احادیث جعل کرکے ا نہیں پیغمبر علیہ الصلاة والسلام کی طرف نسبت دے دی ان میں سے اکثر روایات یہودیوں سے لی گئی ہیں اس لئے کہ آئین یہود کی اساس تشبیہ ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں :خدا کی آنکھوں کے دردمیں مبتلاہواتو ملائکہ عیادت کے لئے گئے اورطوفان نوح میں ہونے والی نابودی کی وجہ سے خدا نے اتناگریہ کیا کہ آنکھوں کے دردمیں مبتلاہوگیا ۔(۲)

۱۰۔وہابیوں کے خدا کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مصافحہ کرنا :

شہرستانی کے مطابق مشبہہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

____________________

(۱)ملل ونحل ۱:۱۵۳

(۲)ملل ونحل ۱:۱۵۳


لقینی ربی فصافحنی ووضع یده بین کتفیی حتی وجدت بردانامله ،

میں نے اپنے رب سے ملاقات کی تواس نے مجھ سے مصافحہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو میرے شانوں کے درمیان رکھاتو میں نے اس کے ہاتھوں کی ٹھنڈک کومحسوس کیا۔( ۱ )

۱۱۔وہابیوں کا خدا فقط ڈاڑھی اورشرمگاہ نہیں رکھتا :

ابوبکر عربی کہتا ہے :ایک معتبرشخص نے مجھ سے نقل کیا کہ ابویعلی (ابن تیمیہ کاامام)کہتاہے :

(اذاذکر الله تعالی وماورد من هذه الظواهر فی صفاته ، یقول: الزمونی ماشئتم فانی التزمه، الااللحیة والعورة .( ۲ )

جب بھی خدا کی صفات کے بارے میں بات ہوجو روایات میں بیان ہوئیں تووہ کہتا ہے :اس میں میری پیروی کرو اورمیں ڈاڑھی اورشرمگاہ کے علاوہ اس کے تمام اعضاء کا قائل ہوں ۔

۱۲۔ وہابیوں کے نبی کاان کے خدا کے پاس بیٹھنا :

ابن تیمیہ کاشاگردابن قیم لکھتاہے :

____________________

(۱)ملل ونحل ۱:۱۰۰

(۲)العواصم من القواصم : ۲۱۰، الطبعة الحدیثة ۲:۲۸۳، و دفع شبہ التشبیہ باکف التنزیہ :۹۵و۱۳۰(حاشیہ)


(ان الله یجلس علی العرش ویجلس بجنبه سید نا محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وهذا هوالمقام المحمود )

خدا عرش پربیٹھتا ہے اوررسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پہلو میں بیٹھتے ہیں اوریہی وہ مقام محمود ہے ۔( ۱ )

۱۳۔وہابیوں کاخدا عرش سے چار انگلیاں بڑاہے:

ابن عربی اس آیت شریفہ ،علی العرش استوی ، (طہ ،۵)کی تفسیر میں لکھتاہے :

انه جالس علیه ، متصل به ،وانه اکبرباربع اصابع ، اذلایصح ان یکون اصغرمنه ، لانه العظیم ، ولایکون مثله لانه (لیس کمثله شئی )فهواکبر من العرش باربع اصابع،

خدا عرش پربیٹھا ہے اور اس سے ملاہواہے وہ عرش سے چارانگلوں کی مقدار چوڑاہے اورممکن نہیں کہ وہ عرش سے چھوٹا ہو اس لئے کہ خدا عظیم ہے اور یہ بھی صحیح نہیں کہ وہ اس کے برابر ہوکیونکہ وہ بے مثل ہے لہٰذا وہ عرش سے چار انگلیاں بڑاہے۔( ۲ )

طبری اپنی تفسیر میں اس آیت شریفہ( وسع کرسیه السموات والارض ) ( ۳ )

____________________

(۱)بدائع الفوائد۴:۳۹.

(۲)العوصم من القواصم :۲۰۹.

(۳)بقرہ :۲۵۵۔


کے ذیل میں عبداللہ بن خلیفہ سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاقول نقل کرتاہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:وانہ لیقعد علیہ فمایفضل منہ مقدار ربع اصابع ، ثم قال باصابعہ ،

خدا عرش پربیٹھا ہے اوراس کے چاروں طرف چارچارانگلوں کی مقداربڑھا ہواہے اس کے بعد پھر فرمایا:خدا اپنی چارانگلیوں کی مقدار ،( ۱ )

دیلمی نے عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے :

ان الله ملاعرشه یفضل منه کمایدورالعرش اربعة اصابع باصابع الرحمن عزوجل ( ۲ )

خداوند متعال عرش پراس طرح چھایاہواہے کہ اس کے چاروں طرف اپنی چارانگلیوں کی مقدار بڑھاہواہے ۔

۱۴۔ کرسی کا خدا کے بوجھ سے چیخنا:

سیوطی نے مختلف اسناد کے ساتھ عمر سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

ایک عورت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کرنے لگی میرے لئے دعافرمائیں کہ خدا مجھے جنت میں داخل کرے ، رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا کی عظمت بیان کی اورپھر فرمایا:ان کرسیہ وسع السموات والارض وان لہ اطیطاکاطیط الرحل الجدید اذا رکب من ثقلہ.

خدا کی کرسی نے تمام زمین وآسمان کوگھیراہوا ہے اورجب خدا اس پربیٹھتا

____________________

(۱)جامع البیان ۳، :۱۶۔

(۲)فردوس الاخبار ۱:۲۱۹


ہے تووہ اسی طرح چیختی ہے جس طرح اونٹ کے بچے پر سوار ہوں تو وہ چیختا ہے۔( ۱ )

ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔( ۲ )

۱۵۔وہابیوں کے خدا کا تیز تیز چلنا :

سعودی عرب میں فتویٰ صادر کرنے والی اعلیٰ کمیٹی سے سوال کیا گیا : ''ھل للہ صفة الھرولة؟'' کیا خدا میں تیز تیز چلنے کی صفت پائی جاتی ہے ؟ توا نھوں نے یوں جواب دیا :

''نعم ! صفة الهرولة علی نحو ما جاء فی الحدیث القدسی الشریف علی مایلیق به قال تعالیٰ : اذا تقرب الی العبد شبرا تقربت الیه ذراعا ، واذا تقرب الیه ذراعا تقربت منه باعا ، واذا اتانی ماشیا اتیته هرولة؛ رواه البخاری ومسلم '' .( ۳ )

____________________

(۱)قال السیوطی :واخرج عبدبن حمید وابن ابی عاصم فی السنة والبزار وابو یعلی وابن جریر ابوالشیخ والطبرانی وابن مردویه والضیاء المقدسی فی المختار ة عن عمر، ان امراة اتت النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فقالت :ادع الله ان یدخلنی الجنة ، فعظم الرب تبارک وتعالی وقال :ان کرسیه وسع السماوات و الارض ،ان له اطیطاً کأطیط الرحل الجدید اذا رکب من ثقله ، درالمنثور ۱:۳۲۸.

(۲) مجمع الزوائد ۱: ۸۳ پہ لکھتا ہے : ''راوہ البزار ورجالہ رجال الصحیح دوسری جگہ لکھتا ہے((رواه ابو یعلیٰ فی الکبیر و رجاله الصحیح )) عبد اللہ بن خلیفة الہمذانی وھو ثقةمجمعالزوائد ۱۰:۱۵۹''.

(۳)فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء ۳: ۱۹۶، فتویٰ شمارہ ۶۹۳۲.


ہاں ! صحیح بخاری اور مسلم نے خدا کے تیز تیز چلنے کی صفت کے بارے میں حدیث قدسی میں لکھا ہے کہ خد ا فرماتا ہے : جو کوئی ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں ایک قدم اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ چل کر میری طرف آئے تو میں تیز چل کر اس کی طرف بڑھتا ہوں۔

سابق سعودی مفتی اعظم عبد العزیز بن باز ایک سوال کے جواب میں لکھتا ہے :

''اما الوجه والیدان والعینان والساق والاصابع فقد ثبتت فی النصوص من الکتاب والسنة الصحیحة وقال بها اهل السنة والجماعة واثبتوها لله سبحانه علی الوجه اللائق به سبحانه وهکذا النزول والهرولة جاء ت بها الاحادیث الصحیحة ونطق بها الرسول ]صلی الله علیه و آله وسلم [واثبتها لربه عزوجل علی الوجه اللا ئق به سبحانه ''.( ۱ )

البتہ خدا کے چہرہ ، ہاتھ، آنکھ اور انگلیوں کے بارے میں کتاب اور سنت صحیح میں بیان ہوا ہے اور اہل سنت الجماعت کا عقیدہ اسی پر استوار ہے اسی طرح خدا کا عالم مادہ کی طرف نزول اور تیز تیز چلنے کی صفت بھی صحیح احادیث میں ذکر ہوئی ہے اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے ان صفات کو خدا کی شان کے مطابق ثابت کیا ہے ۔

____________________

(۱) فتاویٰ بن باز ۵: ۳۷۴.


افکار وہابیت انصاف کے ترازو پر

۱۔ ابن تیمیہ اور وہابیوں کے اقوال قرآن و سنت کے مخالف ہیں :

جسمانیت خدا کے اثبات کے بارے میں ابن تیمیہ اور اس کے وہابی پیروکاروں کے اقوال قرآن و سنت کے مخالف ہیں اس لئے کہ آیت شریفہ:( لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئ ) ( ۱ )

ترجمہ :اس کے مثل کوئی شیء نہیں ۔

واضح طور پر بیان کر رہی ہے کہ خدا کا کوئی مثل نہیں ، اور نیز آیت شریفہ( قُلْ هُوَ ﷲ أَحَد ) ( ۲ )

خداوند متعال کے بے مثل ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔

حاکم نیشاپوری متوفیٰ ۴۰۵ ہجری نے ایک روایت میں ابی ابن کعب سے نقل کیا ہے :

مشرکین نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )سے خدا کا نسب بیان کرنے کا تقاضا کیا توخدا وند متعال نے سورۂ توحید نازل کی اور فرمایا :

اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! ان مشرکین سے کہہ دے :( قُلْ هُوَ ﷲ أحَد ﷲ

____________________

(۱) سورۂ شوریٰ: ۱۱.

(۲) سورۂ اخلاص : ۴.


الصَّمَدُ ) خدا یکتا و بے نیاز ہے( لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ ) اس لئے کہ جو پیدا ہوگا وہ مرے گا اور جومرے گا وہ میراث چھوڑے گا جب کہ خدا موت و میراث کی صفت سے منزہ ہے( وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُوًا أَحَد )

حاکم نیشاپوری اور ذہبی نے کہاہے : یہ روایت صحیح ہے ۔( ۱ )

۲۔ احمد بن حنبل کا نظریہ تجسیم کو باطل قرار دینا :

معروف عالم اہل سنت بیہقی متوفیٰ ۴۵۸ ہجری کہتے ہیں :

امام احمد بن حنبل نے خدا کے جسم ہونے کے نظریہ کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے : اسماء کو شریعت اور لغت سے لیا جاتا ہے اور اہل لغت کلمہ ''جسم ''کو ایسی چیز پر اطلاق کرتے ہیں جو طول ، عرض ،ارتفاع، ترکیب اور شکل وصورت پر مشتمل ہو جب کہ خداوند متعال ان تمام اشیاء سے منزہ ہے لہٰذا شائستہ نہیں کہ ہے اسے جسم کہاجائے اس لئے کہ وہ جسم کے ہر طرح کے معنی و مفہوم سے خارج ہے اور شریعت میں بھی یہ لفظ بیان نہیں ہوا ۔ بنابرایں عقیدہ جسمانیت ( خدا ) باطل ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱)مستدرک الصحیحین ۲: ۵۴۰.

(۲) وانکر احمد علی من قال بالجسم وقال: ان الاسماء ماخوذة من الشریعة واللغة، واهل اللغة وضعوا هذا الاسم علی ذی طول وعرض وسمک وترکیب وصورة و تالیف ، والله سبحانه خارج عن ذلک کله ،فلم یجز ان یسیّ جسماً؛ لخروجه عن معنی الجسمیة ولم یجئی فی الشریعة ذلک فبطل طبقات الحنابله ۲: ۲۹۸؛ اعتقاد الامام ابن حنبل : ۲۹۸. العقیده احمد بن حنبل :۱۱۰ وتهنئة الصدیق المحبوب :۳۹


۳۔ علمائے اہل سنت کا مجسمہ کو کافر قراردینا :

اما م قرطبی متوفیٰ ۶۷۱ ہجری مجسمہ ( جو خدا کوجسم قرا ردیتے ہیں ) کے بارے میں ایک عالم کا قول نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :''والصحیح القول بتکفیرهم ؛ اذلا فرق بینهم وبین عباد الاصنام الصور '' .( ۱ )

صحیح قول یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں اس لئے کہ ان کے اور بت پرستوں و چہرہ پرستوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

عالم برجستہ اہل سنت نووی متوفیٰ ۶۷۶ ہجری لکھتے ہیں :

''فممن یکفر ، من یجسم تجسیما صریحا ومن ینکر العلم بالجزئیات'' ( ۲ )

جن لوگوں کا کفر ثابت ہے ان میں سے جسمانیت خد اکے قائل اور جزئیات کے بارے میں خدا کے علم کا انکارکرنے والے ہیں ۔

عبد القاہر بغدادی متوفی ۴۲۹ ہجری مشہور متکلم اہل سنت لکھتے ہیں :

''واما جسمیة خراسان من الکرامیة فتکفیرهم واجب؛لقولهم: بان الله تعالیٰ له حد نهایة من جهة السفل ومنها یماس عرشه ولقولهم: بان الله تعالیٰ محل للحوادث '' .( ۳ )

____________________

(۱) تفسیر قرطبی ۴: ۱۴ و تذکار: ۲۰۸.

(۲) المجموع ۴: ۲۵۳.

(۳) اصول الدین ، ۳۳۷ ؛التندید بمن عدد التوحید : ۵۲.


خراسان کے کرامیہ فرقہ کو جو جسمانیت خدا کا قائل ہے اسے کافر قرار دینا واجب ہے اس لئے کہ وہ خد اوند متعال کے لئے حد قرار دیتے ہیں اور پستی کی نسبت اس کے انتہاکے قائل ہیں چونکہ کہتے ہیں وہ عرش سے ملا ہوا اور محل حوادث ہے ...۔

''وقالوا بنفی النهایة والحد عن صانع العالم '' .( ۱ ) اور علمائے اہل سنت خد اکے بارے میں ہر طرح کی حدو حدود کی نفی کرتے ہیں :

واجمعوا علی ان لا یحویه مکان ولا یجری علیه زمان ، خلاف قبول من زعم من الشهامیة والکرامیة انه مما س لعرشه، وقد قال امیر المومنین رضی الله عنه : ان الله تعالیٰ خلق العرش اظهارا لقدرته لا مکانا لذاته '' .( ۲ )

اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ خداوند متعال نہ تو مکان میں سماتا ہے اور نہ ہی زمان کا اس پر گذر ہے شہامیہ اور کرامیہ کے باطل نظریہ کے بر عکس کہ وہ کہتے ہیں : خدا کی ذات عرش سے ملی ہوئی ہے جب کہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : خدا نے عرش کو اپنی قدرت کے اظہار کے لئے خلق کیا نہ کہ اپنے لئے مکان کے طور پر ۔

نجیم متوفیٰ ۵۷۰ ہجری مصر میں اہل سنت کے معروف فقیہ کہتے ہیں :

____________________

(۱)الفرق بین الفرق ، تحقیق لجنة احیاء التراث العربی : ۴۰.

(۲) الفرق بین الفر ق : ۴۱.


''والمشبهة ان قال: ان للّه یدااو رجلا کما للعباد فهو کافر،وان قال:انه جسم ،لاکاالاجسام فهو مبتدع'' .( ۱ )

مشبہ ( جو خدا کو بندوں سے تشبیہ دیتے ہیں ) اگر کہیں کہ خدا بھی بندوں کے مانند ہاتھ پاؤں رکھتا ہے تو وہ کافر ہیں اور اگر کہیں کہ خد اجسم رکھتا ہے لیکن باقی اجسام کے مانند نہیں تووہ بدعت گذارہیں ۔

اسی طرح عالم اہل سنت غزالی متوفیٰ ۵۰۵ ہجری لکھتے ہیں :

''فان خطر بباله ان الله جسم مرکب من اعضاء فهو عابد صنم ؛ فان کل جسم فهو مخلوق ، وعبادة المخلوق کفر، وعبادة الصنم کفر؛ لانه مخلوق وکان مخلوقا ؛ لانه جسم، فمن عبد جسما فهو کافر باجماع الائمةالسلف منهم والخلف '' .( ۲ )

اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ خدا وند متعال جسم رکھتا ہے جو متعدد اعضاء پر مشتمل ہے تو وہ بت پرست ہے اس لئے کہ ہر جسم مخلوق ہے اور آئمہ سلف و خلف کا اس پر اجماع ہے کہ مخلوق کی پرستش کفرو بت پرستی ہے ۔

۴۔ یہودیوں کے ذریعہ تجسیم کا داخل ہونا :

شہر ستانی کہتے ہیں :''وضع کثیر من الیهود الذین اعتنقوا الاسلام

____________________

(۱)البحر الرائق ۱: ۶۱۱.

(۲)الجام العوام عن علم الکلام :۲۰۹و دراسات فی منھاج السنة : ۱۴۵ ۔ الرسالة التدمریہّ : ۹۲.


احادیث متعددة فی مسائل التجسیم والتشبیه وکلها مستمدة من التوراة'' .( ۱ )

اسلام میں داخل ہونے والے یہودیوں نے تجسیم و تشبیہ کے بارے میں بہت سی احادیث جعل کیں جو سب تورات سے لی گئی ہیں ۔

۵۔ کتب اہل سنت میں اسرائیلیات کا داخل ہونا :

ماضی کے حالات اور تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت کی حدیثی ، تاریخی اور تفسیری کتب میں اسرائیلیات کے وارد ہونے سے تاریخی واقعات کاحقیقی چہرہ مسخ ہو گیا اس حقیقت کو تشخیص دینا انتہائی مشکل و دشوار کام ہے اس لئے کہ یہ چیز محققین کے لئے ایک تاریخی واقعہ کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے مشکل سے دچاری بلکہ بسا اوقات تو ناکامی کا باعث بنتی ہے ۔

ابن خلدون لکھتا ہے :

صدر اسلام کے عرب علم و کتابت سے بے بہرہ تھے لہٰذا کائنات کی خلقت اور اس کے اسرار کے بارے میں یہودی علماء اور اہل تورات یا نصاریٰ مانند کعب الاحبار ، وہب بن منبہ اور عبد اللہ بن سلام سے پوچھا کرتے :

یہاں تک کہ لکھتا ہے :

''فامتلات التفاسیر من المنقولات عندهم وتساهل

____________________

(۱) ملل ونحل ۱: ۱۱۷.


المفسرون فی مثل ذلک وملاوا کتب التفسیر بهذه المنقولات، واصلهاکلها کما قلنا من التوراة او مما کانوا یفترون'' .( ۱ )

تفاسیر اہل سنت یہود و نصاریٰ کے اقوال سے بھر گئیں ، مفسرین نے بھی اس مسئلہ میں سستی سے کام لیا اور ان جیسی روایات سے تفاسیر کو بھر کر دیا جب کہ ان تمام روایات کا سرچشمہ جیسا کہ ہم نے بیان کیا تورات اور یہودیوں کے خود ساختہ جھوٹ ہیں ۔

افسوس کہ اہل سنت کی دو معتبر کتب صحیح بخاری اور صحیح مسلم بھی اس مصیبت سے محفوظ نہ رہ سکیں ۔ ان کے اندر بھی ایسی روایات کثرت سے دکھائی دیتی ہیں جن میں سے ایک خود ساختہ حدیث مندرجہ ذیل ہے جو یہودیوں کے افکار سے مسلمانوں کے درمیان رواج پاگئی :

ابو ہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے فرمایا :

''ینزل الله الی السماء الدنیا کل لیلة حین یمضی ثلث اللیل الاول فیقول انا الملک انا الملک من ذاالذی یدعونی فاستجیب له من ذاالذی یسالنی فاعطیه من ذا الذی یستغفرنی فاغفرله فلایزال کذلک حتی یضی ء الفجر '' .( ۲ )

____________________

(۱)تاریخ ابن خلدون ( مقدمہ ) ۱: ۴۳۹.

(۲)صحیح مسلم ۲: ۱۷۵ ۱۶۵۷ و صحیح بخاری ۲: ۱۱۴۵۴۷ و ۷: ۱۴۹ ۶۳۲۱.


بعض روایات میں ہے :''فا ذا طلع الفجر صعد الی عرشه'' .( ۱ ) جب طلوع فجر ہوتی ہے تو عرش کی طرف واپس پلٹ جاتا ہے ۔

شاید ایک زمانہ میں سادہ لوح لوگوں کو ان جیسی بے بنیادباتوں سے بہلانا آسان تھا لیکن آج جب کہ علم اتنی ترقی کر چکا ہے اور انسان کی عقل کمال کی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو ایسی باتیں تمسخر کا باعث بنتی ہیں اس لئے کہ کرہ ٔ زمین کا کوئی ایسا حصہ نہیں کہ جہاں ہر وقت دن یا رات نہ ہو یعنی کہیں دن ہے تو کہیں رات۔ جب تک زمین باقی ہے تب تک دن اور رات گردش میں ہیں لہٰذا اگر خدا زمین پرآئے گا تو پھر کبھی عرش پر پلٹ کے نہ جا سکے گا اسی لئے تو بعض علمائے اہل سنت اس روایت کی توجیہ کرنے میں حیرت و سرگردانی کا شکار ہو گئے ہیں ۔( ۲ )

____________________

(۱) فتح الباری ۱۳:۳۹۰ و عمدة القاری ۲۵ :۱۵۹.

(۲) تفسیر قرطبی ۴: ۳۹؛ فتح الباری ۱۳: ۳۹۰.


ابن تیمیہ کے دیگر اقوال پر ایک نظر

قرآن و احادیث اور علمائے اہل سنت کے بیان کردہ اقوال کی روشنی میں ابن تیمیہ کی عبارت پر ایک بار پھر نگا ہ ڈالتے ہیں :

''لیس فی کتاب الله ولا سنة رسوله ولا قول احد من سلف الامة وائمتها انه لیس بجسم '' (۱)

____________________

(۱) التاسیس فی رد اساس التقدیس ۱: ۱۰۱.


کتاب خدا، سنت رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، صحابہ اور دینی پیشواؤں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ خد اجسم نہیں رکھتا

کیا( لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئ ) ( ۱ ) اور( وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُوًا أَحَد ) ( ۲ ) قرآن کی آیات نہیں ہیں ؟

یا ابی بن کعب کی نقل کی ہوئی حدیث جس کے صحیح ہونے کی گواہی حاکم نیشاپوری اور ذہبی نے دی ہے کیا وہ سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خارج ہے ؟!یا یہ کہ احمدبن حنبل ، بیہقی، قرطبی ، عبد القاہر بغدادی اور شہرستانی و...اہل سنت کے علماء نہیں ہیں ؟!

کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ابن تیمیہ کے تجسیم کے بارے میں باطل عقیدہ کی بناء پر اس کے ہم عصر علماء نے اسے زندان میں ڈالنے کا فتویٰ دیا ؟

جیسا کہ ابو الفداء اپنی تاریخ میں لکھتا ہے :

''استدعی تقی الدین احمد بن تیمیه من دمشق الی مصر و عقد له مجلس وامسک واودع الاعتقال بسبب عقیدته ؛ فانه کان یقول بالتجسیم...'' ( ۳ )

ابن تیمیہ کو دمشق سے مصر طلب کیا گیا محاکمے کے بعد اس کے عقیدہ کی وجہ

____________________

(۱)سورۂ شوریٰ : ۱۱.

(۲) سورۂ اخلاص : ۴.

(۳) تاریخ ابو الفداء ۲: ۳۹۲ حوادث ۷۰۵وکشف الارتیاب : ۱۲۲.


سے اسے گرفتار کرکے زندان میں ڈال دیا گیا اس لئے کہ وہ خدا کے بارے میں جسم ہونے کا عقیدہ رکھتا تھا ۔

ابن حجر عسقلانی کے مطابق مالکی قاضی نے اعلان کیا :''فقد ثبت کفره'' .( ۱ ) کہ ابن تیمیہ کا کافر ہونا ثابت ہو چکا ہے ۔

اسی طرح اہل سنت کے دو عظیم عالم دین ابن حجر عسقلانی اور شوکانی لکھتے ہیں :

شافعی قاضی نے دمشق میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا :

''من اعتقد عقیدة ابن تیمیه حل دمه وماله '' .( ۲ )

جو بھی ابن تیمیہ کا عقیدہ اپنائے اس کا جان و مال مباح ہے ۔

____________________

(۱)الدرر الکامنہ ۱:۱۴۵.

(۲)الدرر الکامنہ:۱۴۷ و البدر الطالع ۱: ۶۷.


فصل پنجم

وہابی اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا

۱۔ ابن تیمیہ کا مسلمانوں کو کافر اور انھیں قتل کرنے کا حکم دینا :

خطرناک ترین کا م جو بانیٔ افکار وہابیت ابن تیمیہ نے اپنی دعوت کے آغاز میں کیا اور جس سے عمومی افکار کوآلودہ اور عوام الناس کے عقائد کو مجروح کیا وہ مسلمانوں پرکفر و شرک کی تہمت لگانا تھا اس نے با قاعدہ طو ر پر اعلان کیا :

''من یاتی الی قبر نبی او صالح، ویساله حاجته ویستنجده ...فهذاشرک صریح ، یجب ان یستتاب صاحبه ، فان تاب والا قتل '' .( ۱ )

جو شخص بھی قبر پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) یا صالح افراد میں سے کسی کی قبر کے پاس آئے اور اس سے حاجت طلب کرے وہ مشرک ہے اسے تو بہ کا حکم دیا

____________________

(۱)زیارة القبور والاستنجاد بالمقبور: ۱۵۶ و الہدیہ السنیہ :۴۰.


جائے اگر توبہ کرلے تو صحیح ورنہ قتل کر دیا جائے ۔

۲۔محمد بن عبد الوہاب کا مسلمانوں کوکافر اور ان سے جہاد کا حکم دینا :

محمد بن عبد الوہاب مجدد افکار ابن تیمیہ کہتا ہے :

''وان قصد هم الملائکة والانبیاء والاولیاء ، یریدون شفاعتهم والتقرب الی الله بذلک ، هو الذی احل دماء هم واموالهم '' .( ۱ )

ان کا مقصد ملائکہ ، انبیاء اور اولیاء سے شفاعت طلب کرنا اور ا نہیں خد ا سے تقرب کا وسیلہ قرار دینا ہے ۔یہی چیز ان کے جان ومال کے حلال ہونے کا باعث بنی ہے ۔

یہاں تک کہ کہتا ہے :

''ان هذا الذی یسمیه المشرکون فی زماننا ( کبیر الاعتقاد ) هو الشرک الذی نزل فی القرآن وقاتل رسول الله ]صلی الله علیه و آله وسلم [ الناس علیه فاعلم ان الشرک الاولین اخف من شرک اهل زماننابامرین :

احدهما : ان الاولین لایشرکون ولا یدعون الملائکة والاولیاء والاوثان مع الله الا فی الرخاء ، واما فی الشدة

فیخلصون لله الدعائ...

____________________

(۱) کشف الشبہات :۵۸؛ مجموع المولفات الشیخ محمد بن عبد الوہاب ، ۶ رسالة کشف الشبہات :۱۱۵.


الامر الثانی : ان الاولین یدعون مع الله اناسا مقربین عند الله، اما انبیاء واما اولیاء ، واما الملائکة، او یدعون اشجارا او احجارا مطیعة لله لیست عاصیة .واهل زماننا یدعون مع الله انا سا من افسق الناس ان الذین قاتلهم رسول الله اصح عقولا واخف شرکا من هؤلاء ''.( ۱ )

محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے : یہ ( توسل ) جس کے معتقد ہمارے زمانہ کے مشرکین ہیں یہ وہی شرک ہے جسے قرآن میں بیان کیا گیا اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )نے اس کی خاطر لوگوں سے جنگ کی ۔

اس سے آگاہ رہنا چاہئے کہ زمانۂ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشرکین کا شرک ہمارے زمانے کے مسلمانوں کے شرک سے دو دلیلوں کی بناء پر کمتر ہے :

۱۔ اس زمانہ کے مشرک فقط خوشحالی کی صورت میں ملائکہ اور بتوں کو صدا کرتے لیکن جب کسی مشکل میں مبتلا ہوتے تو مخلصانہ طور پر خدا کو پکارتے ۔جب کہ ہمارے زمانہ کے مشرک مسلمان خوشی اور مصیبت دونوں صورتوں میں غیر خدا کو پکارتے ہیں ۔

____________________

(۱)مجموع مولفات محمد بن عبد الوہاب :۶:۱۲۴،'' رسالة کشف الشبہات'': ۱۲۴.


۲۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کے زمانہ کے مشرک وبت پرست خدا کے

مقرب بندوں کو اس کی اطاعت کے لئے پکارتے تھے جیسے انبیاء ، اولیاء اور ملائکہ یا درخت و پتھر جب کہ ہمارے زمانہ کے مشرک ( مسلمان) ان افراد کو پکارتے ہیں جو فاسق ترین انسان ہیں ۔

پس اس سے واضح ہو گیا کہ جن لوگوں سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ کی ان کی عقل ہمارے زمانہ کے مشرکوں سے کامل اور ان کا شرک ان سے کمتر تھا ۔

۳۔ مسلمانوں کو مشرک ، کافر اور بت پرست کہنا :

محمد بن عبد الوہاب نے رسالہ ''کشف الشبہات''میں چوبیس سے بھی زیادہ بار مسلمانوں کو مشرک اور پچیس مقامات پر مسلمانوں کو کافر ، بت پرست ، مرتد ، منافق ، منکر توحید ، دشمن توحید، دشمن خدا ، مدعیان اسلام ، اہل باطل ، نادان اور شیاطین کہاہے اسی طرح کہا ہے کہ نادان کا فرو بت پرست ان مسلمانوں سے دانا تر ہیں ان کا امام اور پیشوا شیطان ہے( ۱ )

____________________

(۱) سید محسن امین فرماتے ہیں :''وقد اطلق محمد بن عبد الوهاب فی رسالة ''کشف الشبهات'' اسم الشرک والمشرکین علی عامة المسلمین عدی فیما یزید عن اربعة و عشرین موضعا واطلق علیهم اسم الکفر والکفار وعباد الاصنام والمرتدین والمنافقین وجاحدی التوحید واعدائه واعداء الله ومدعی الاسلام واهل الباطل والذین فی قلوبهم زیغ والجهال والجهلة والشیاطین وان جهال الکفار عبد الاصنام اعلم منهم ان ابلیس امامهم ومقدمهم ، الی غیر ذلک من الالفاظ الشنیعة فیما یزید عن خمسة وعشرین موضعا ''.کشف الارتیاب :۱۴۷ نقل از کشف الشبهات : ۵۷۷۲.

رجوع کریں : مجموع مولفات محمد بن عبد الوہاب ،۶: ۱۱۴؛ رسالة کشف الشبہات ، ۱۴۳ و رسالة القواعد الاربع


۴۔ وہابی مذہب میں داخل ہونے کی شر ط مسلمانو کے کفر کی گواہی دینا ہے :

مفتی مکہ مکرمہ احمد زینی دحلان لکھتے ہیں :

کان محمد بن عبد الوهاب اذا تبعه احد وکان قد حج حجة الاسلام ، یقول له : حج ثانیا! فان حجته الاولی فعلتها وانت مشرک ، فلا تقبل ، لا تسقط عنک الفرض

واذا اراد احد الدخول فی دینه ، یقول له بعد الشهادتین : اشهد علی نفسک انک کنت کافرا ، وعلی والدیک انهما ماتا کافرین ، وعلی فلان و فلان ، ویسمی جماعة من اکابر العلماء الماضین انهم کانوا کفارا ، فان شهد قبله ، والا قتله ،وکان یصرح بتکفیر الامة منذ ستمائة سنة ، ویکفر من لایتبعه، ویسمیهم المشرکین ، ویستحل دماء هم واموالهم ''.( ۱ )

جب کوئی شخص وہابی مذہب قبول کرتا اور اس نے حج واجب بجالایا ہوتا تو محمد بن عبد الوہاب اسے کہتا دوبارہ حج بجالاؤ اس لئے کہ پہلے والا حج تونے شرک کی

____________________

(۱) الدرر السنیہ ۱: ۴۶ ؛ الفجر الصادق لجمیل صدقی زہاوی : ۱۷ وکشف الارتیاب : ۱۳۵ نقل از خلاصة الکلام دحلان : ۲۲۹۔ ۳۳۰.


حالت میں انجام دیالہٰذا وہ قبول نہیں ہے اور فریضہ ساقط نہیں ہوا ۔

اور اگر کوئی شخص وہابی ہونا چاہتا تو محمد بن عبد الوہاب اسے کہتا : شہادتین کے بعد کہے کہ وہ پہلے کافر تھا اور اس کے ماں باپ بھی کفر پر مرے ہیں اور اسی طرح گواہی دے کہ سابقہ اکابر علماء کفر پر مرے ہیں اور اگر وہ یہ گواہی نہ دیتا تو اسے قتل کر دیا جاتا ۔

ہاں ! وہ معتقد تھا کہ گذشتہ بارہ صدیوں کے مسلمان کا فرتھے اور جو شخص وہابی مکتب کی پیروی نہ کرتا اسے مشرک سمجھ کر اس کا مال و جان مباح قرا ر دے دیتا.

۵۔ امت مسلمہ کے کفر وارتداد کا حکم :

محمدبن عبد الوہاب کا بھائی سلیمان لکھتا ہے :

یہ امور (آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سے توسل )جنھیں تو کفرو شرک کا باعث سمجھتا ہے امام احمد بن حنبل کے زمانہ سے بھی پہلے موجود تھے۔ بعض علماء نے انھیں قبیح جانا ہے لیکن یہ اعمال تمام اسلامی سر زمینوں میں موجود ہونے کے باوجود ائمہ اربعہ میں سے کسی نے ان اعمال کے بجالانے کی وجہ سے لوگوں کو کافر قرار نہیں دیا اور نہ ہی انھیں مرتد کہا ہے اور نہ ہی ان کی سرزمین کو سر زمین شرک قرار دے کر ان سے جنگ کا حکم دیا ہے ۔

یہ وہ باتیں ہیں جو تم ہی کرتے ہو ! یہاں تک کہ ان اعمال کے انجام دینے والوں کو اگر کوئی کافر نہ کہے تو تم اسے بھی کافر سمجھتے ہو ۔


کیا واقعاً !تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ وہی واسطے ہیں جنھیں ابن تیمیہ نے اپنی عبارت میں ذکر کیا ہے ؟

ائمہ اربعہ سے لے کر آج تک آٹھ سو سال گذر چکے ہیں لیکن علمائے اسلام میں سے کسی نے ان اعمال کو کفر نہیں جانا اور کوئی عاقل ایسا گمان بھی نہیں کرسکتا ۔

''والله ! لازم قولکم : ان جمیع الامة بعد زمان الامام احمدرحمة الله علماء ها ، امراؤها ، وعامتها کلهم کفار، مرتدون ...''،

خدا کی قسم ! تمہاری اس بات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ کے بعد ساری امت چاہے علماء ہوں یا حکام و عوام سب کے سب کافر و مرتد ہیں( انا للّٰه وانا الیه راجعون ) خدا سے پناہ چاہتاہوں ، خدا سے پناہ چاہتا ہوں ۔

یا تم یہ گمان کرتے ہو جیسا کہ تم میں سے بعض نے کہا هے''ان الحجة ما قامت الابکم ، والا قبلکم لم یعرف دین الاسلام ''. کہ تمہارے سوا حجت تمام نہیں ہوتی ؟ا ور سلف نے اسلام کو نہ پہچانا ؟( ۱ )

____________________

(۱)الصواعق الالهیة فی الرد علی الوهابیة: ۳۸. یه کتاب اردو زبان ابو طالب علیه السلام اسلامک انسٹی ٹیو ٹ لاهور کی جانب سے شائع هو چکی هے اور اس کی عربی عبارت یوں هے : ان هذه الامور حدثت من قبل زمن الامام احمد فی زمان ائمة الاسلام وانکرها من انکرها منهم ولا زالت حتی ملات بلاد الاسلام کلها وفعلت هذه الافاعیل کلها التی تکفرون بها، ولم یرو عن احد من ائمه المسلمین انهم کفروا بذلک ولا قالوا : هؤلاء مرتدون ولا امروا بجهادهم ، ولا سموا بلاد المسلمین بلاد شرک و حرب ، کما قلتم انتم ؛ بل کفرتم من لم یکفر بهذه الافاعیل ، وان لم یفعلها

.ایظنون ان هذه الامور من الوسائط التی فی العبارة الذی یکفرفاعلها اجماعا ، وتمضی قرون الائمة من ثمان مائة عام ومع هذا لم یرو عن عالم من علماء المسلمین انها کفر؛بل مایظن هذا عاقل ؛بل والله لازم قولکم : ان جمیع الامة بعد زمان الامام احمد ، علماء ها، وامراؤ ها ، وعامتها ، کلهم کفار، مرتدون ، فانا لله وانا الیه راجعون ، واغوثاه الی الله ثم واغوثا، ام تقولون کما یقول بعض عامتکم ان الحجة ما قامت الا بکم ، والا قبلکم لم یعرف دین الاسلام ''


۶۔ آیت اکمال کی وہابی مذہب پر تطبیق:

دولت عثمانی میں نیوی کالج کے میجر ایوب صبری لکھتے ہیں : سعود بن عبد العزیز نے مدینہ منورہ پر قبضہ کے بعد تمام اہل مدینہ کو مسجد النبی میں جمع کیا اور مسجد کے دروازے بند کروانے کے بعد یوں اپنی گفتگو کاآغاز کیا :

''یا اهالی المدینة ! ان دینکم الیوم قد کمل وغمرتکم نعمة الاسلام ورضی الله عنکم طبق قوله تعالیٰ(الیوم اکملت لکم دینکم ) فذرو ادیان آبائکم الباطلة ولا تذکروهم باحسان ابداً، واحذرو ان تترحموا علیهم؛لانهم ماتوا علی الشرک باسرهم''.( ۱ )

اے اہل مدینہ ! اس آیت شریفہ( الیوم اکملت لکم دینکم ) ( ۲ )

____________________

(۱)تاریخ الوہابیة :۱۲۶.

(۲)مائدہ ۵: ۳.


کے مطابق آج تمہارا دین کامل ہوگیا اور تم نعمت اسلام سے مشرف ہو گئے ، خدا وند متعال تم سے راضی و خوشنود ہو گیا ۔ پس اپنے آباؤ اجدا دکے باطل ادیان کو چھوڑ دو اور انھیں ہر گز نیکی سے یاد نہ کرو اور نہ ہی ان کے لئے رحمت کی دعا کرواس لئے کہ وہ سب مشرک مرے ہیں ۔( ۱ )

۷۔ ابن جبرین کا شیعوں کے کفر کا فتویٰ دینا :

سعودی عرب کے ایک مفتی سے پوچھا گیا: کیا شیعہ فقراء کو زکوٰة دی جاسکتی ہے ؟

تو اس نے یوں جواب دیا: علماء اسلام کا کہنا ہے کہ کافر کو زکوٰة نہیں دے سکتے اور شیعہ چار دلیلوں کی بناء پر کافر ہیں :

۱۔وہ قرآن پر تہمت لگاتے ہیں اور معتقد ہیں کہ قرآن میں تحریف واقع ہوئی ہے او ر کہتے ہیں کہ قرآن کا ۲۳ حصہ حذف ہو گیا ہے ۔ لہٰذا جو بھی قرآن پر تہمت لگائے وہ کافر اور اس آیت شریفہ :( وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ( ۲ ) (ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں )کا منکر ہے ۔

۲۔ سنت رسول اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث پر بھی تہمت لگاتے ہیں اور ان دونوں کتابوں کی احادیث پر عمل نہیں کرتے اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان

____________________

(۱) تاریخ وہابیان : ۱۰۷.

(۲) سورۂ حجر : ۹


دونوں کتابوں کی احادیث صحابہ سے نقل ہوئی ہیں اور صحابہ کو کافر سمجھتے ہیں نیز معتقد ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدعلی ، ان کی اولاد اور چند ایک صحابہ مانند سلمان و عمار وغیرہ کے سوا سب کافرو مرتد ہو گئے تھے ۔

۳۔ شیعہ ، اہل سنت کو کافر سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے اوراگر پڑھ بھی لیں تو اس کو دوبارہ پڑھتے ہیں بلکہ وہ معتقد ہیں کہ اہل سنت نجس ہیں لہٰذا اگر کسی سنی سے مصافحہ کرتے ہیں تو ہاتھوں کو پانی سے پاک کرتے ہیں ۔ جو مسلمانوں کو کافر قرار دے وہ خود کفر کا سزا وار ہے جس طرح وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں اسی طرح ہم بھی انھیں کافر سمجھتے ہیں ۔

۴۔ شیعہ علی اور اولاد علی کے بارے میں غلو کرتے ہیں اور انھیں خدا وند متعال کی صفات سے متصف کرتے ہیں اور انھیں خدا کے مانند پکارتے ہیں ۔

وہ اہل سنت کے اجتماعات میں شرکت نہیں کرتے اور نہ ہی سنی فقراء کو صدقہ دیتے ہیں اگر دیں بھی سہی تو ان کے دل میں ہمارے فقراء کا کینہ موجود ہے اور یہ سب کچھ تقیہ کی بناء پر انجام دیتے ہیں ۔


یہاں تک کہ کہتا ہے :''من دفع الیهم الزکاة فلیخرج بدلها ؛ حیث اعطاها من یستعین بها علی الکفار، وحرب السنه '' .( ۱ )

____________________

( ۱)یہ وہابی مفتی کے تعصب اور مذہب شیعہ کے عقائد سے نا آشنائی کی واضح علامت ہے اس لئے کہ شیعہ عقائد سے آشنائی رکھنے والے افراد بخوبی آگاہ ہیں کہ ان چاروں میں سے کسی ایک عقیدہ کابھی شیعہ عقائدسے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مزید معلومات کے لئے شیعہ عقائد کی کتب کا مطالعہ فرمائیں (مترجم) ۱

۱۔ سوال :''ماحکم دفع زکاة اموال اهل السنة لفقراء الرافضة ''الشیعة ''و هل تبرأ ذمة المسلم الموکل بتفریق الزکاة اذا دفعها للرافضی الفقیر ام لا ؟

جواب :'' لقدذکر العلماء فی مولفاتهم فی باب اهل الزکاة انها لا تدفع لکافر ، ولا مبتدع، فالرافضة بلا شک کفارلاربعة ادلة:

الاول: طعنهم فی القرآن ، وادعاؤهم انه حذف منه اکثر من ثلثیه ، کما فی کتابهم الذی الفه النوری وسماه فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب وکما فی کتاب الکافی ، وغیره من کتبهم ، ومن طعن فی القرآن فهو کافر مکذب لقوله تعالیٰ :(وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُون )حجر(۱۵) آیت ۹.

الثانی : طعنهم فی السنة واحادیث الصحیحین ، فلا یعملون بها؛ لانها من روایة الصحابة الذین هم کفار فی اعتقادهم ، حیث یعتقدون ان الصحابة کفروا بعد موت النبی ]صلی الله علیه و آله وسلم [الا علی و ذریته ، وسلمان و عمار، ونفر قلیل ، اما الخلفاء الثلاثة، وجماهیر الصحابه الذین بایعوهم فقد ارتدوا فهم کفار، فلا یقبلون احادیثهم ، کما فی کتاب الکافی وغیره من کتبهم

الثالث : تکفیر هم لا هل السنة ، فهم لا یصلون معکم ، ومن صلی خلف السنی اعاد صلاته ؛ بل یعتقدون نجاسة الواحد منا، فمتٰی صافحنا هم غسلوا ایدیهم بعدنا ، من کفر المسلمین فهو اولی بالکفر ، فنحن نکفرهم کما کفرونا و اولیٰ

الرابع: شرکهم الصریح بالغلو فی علی و ذریته ، ودعاؤهم مع الله ، وذلک صریح فی کتبهم وهکذا غلوهم ووصفهم له بصفات لا تلیق الابرب العالمین ، وقد سمعنا

ذلک فی اشرطتهم

.ثم انهم لا یشترکون فی جمعیات اهل السنة، ولا یتصدقون علی فقراء اهل السنة ، ولو فعلوا فمع البغض الدفین ، یفعلون ذلک من باب التقیة ، فعلی هذ ا من دفع الیهم الزکاة فلیخرج بدلها ؛ حیث اعطاها من یستعین بها علی الکفر، وحرب السنة ، ومن وکل فی تفریق الزکاة حرم علیه ان یعطی منها رافضیا ، فان فعل لم تبرا ذمته، وعلیه ان یغرم بدلها ، حیث لم یؤد الامانة الی اهلها ، ومن شک فی ذلک فلیقراء کتب الرد علیهم ، ککتاب القفاری فی تفنید مذهبهم ، وکتاب الخطوط العریضة الخطیب وکتاب احسان الهی ظهیر وغیرها والله الموفق'' اللؤ لؤ المکین من فتاوی فضلیة الشیخ ابن جبرین: ۳۹.


اگر کوئی شخص کسی شیعہ کو زکوٰة دے تو اسے چاہئے کہ دوبادرہ ادا کرے اس لئے کہ اس نے ایسے شخص کو زکوٰة دی ہے جو کفر کو تقویت دے رہا اور سنت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ کر رہا ہے ۔

۸۔ شیعوں کے خلاف جہاد کا کھلا اعلان :

سعودی عرب کے ایک اور مفتی شیخ عبد الرحمان برّاک سے فتویٰ طلب کیا گیا: '' ھل یمکن ان یکون ھناک جھادبین فئتین من المسلمین ''السنة مقابل الشیعة ''؟کیا شیعہ اور سنی کے درمیان جہاد ممکن ہے ؟

اس نے جواب میں لکھا :''..ان کان لاهل السنة دولت وقوةواظهر الشیعة بدعهم ، وشرکهم واعتقاداتهم ،فان علی اهل السنة ان یجاهدوهم با لقتال .( ۱ )

____________________

(۱) المنجد سائٹ سوال نمبر ۲۷۲ ۱۰اور سائٹ ( edaa. net )


اگر اہل سنت کے پاس طاقت حکومت ہو اور شیعہ اپنی بدعات ، شرک اور عقائد کا اظہار کریں تو اہل سنت پر واجب ہے کہ ان سے جہاد کرکے انھیں قتل کر ڈالیں ۔

بالکل اسی طرح کا فتویٰ شیخ عبد اللہ بن جبرین نے بھی صادر کیا ہے (و talal-sm.maktoobblog.com.forum. maktoob. com )

۹۔ سعودی عرب میں فتویٰ کی اعلیٰ کمیٹی کا شیعوں کے کفر کا فتویٰ :

سعودی عرب میں فتویٰ صادر کرنے والی اعلیٰ کمیٹی نے شیعوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھا :

''ان کان الامر کما ذکر السائل من ان الجماعة الذین لدیه من الجعفریة یدعون علیا والحسن والحسین وسادتهم فهم مشرکون مرتدون عن الاسلام '' ۔( ۱ )

جیسا کہ سوال کیا گیا کہ وہ ( یا علی ) اور ( یاحسن ) اور (یاحسین ) کہتے ہیں تو وہ مشرک اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔

اور اس فتویٰ پر اعلیٰ کمیٹی کے مندرجہ ذیل چار ارکان نے دستخط کئے ۔

چئرمین کمیٹی: عبد العزیز بن عبد اللہ بن بازارکان کمیٹی : عبد الرزاق عفیفی ،

عبد اللہ بن غدیان اور عبد اللہ بن قعود

____________________

(۱) فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳: ۳۷۳، فتویٰ نمبر ۳۰۰۸.


۱۰۔ زرقاوی کا شیعوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ :

عراق میں وہابیوں کے لیڈر نے انٹر نیٹ پر ایک اشتہار دیا :

ہمارے مخالف ( شیعہ ) آستین کا سانپ اور حیلہ گر بچھو ہیں اب ہم اپنے کافر و حیلہ گر دشمن سے جہاد کریں گے جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر اتحاد کی دعوت دیتے ہیں جب کہ اختلاف اور شر انھیں میراث میں ملا ہے ۔

ایک تحقیق کرنے والا شخص بآسانی در ک کرسکتا ہے کہ شیعہ ایک خطرہ ہیں اور تاریخ اس بات کی تائید کررہی ہے کہ شیعہ اسلام کے علاوہ دوسرادین ہے ۔ یہ لوگ اہل کتاب کا شعار بلند کر کے یہود ونصاریٰ سے ملاقات کرتے ہیں ۔ شیعوں کا شرک اس قدر واضح ہے کہ قبروں کی پرستش اور اپنے آئمہ کی قبور کا طواف کرتے ہیں اور اس قدر تجاوز کا شکار ہو چکے ہیں کہ یاران پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کو کافر ، امہات المومنین کو گالیاں اور قرآن کریم کو جعل کرتے ہیں ۔

شیعہ کتب میں جو ابھی چھپ رہی ہیں اس گروہ نے اپنے لئے نزول وحی کا دعویٰ کیا ہے یہ بھی ان کے کفر کی ایک علامت ہے ۔

جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ شیعہ اپنا موروثی کینہ فراموش کردیں گے تو یہ لوگ وہم و خیال کی زندگی بسر کررہے ہیں اس لئے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے عیسائیوں سے کہا جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ کے صلیب پر لٹکائے جانے کو بھول جائیں ۔ کون عاقل ہے جو ایسا کام کرے گا ؟


یہ قوم اپنے کفر کے علاوہ حکومتی بحران اور حکومت میں اپنی تعداد بڑھا کر سیاسی مکر وحیلہ کے ذریعے اپنے ہم پیمانوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں ۔

اس خیانت کا رقوم نے طول تاریخ میں اہل سنت سے جنگ کی اور صدام کے زوال کے بعد ''انتقام ، تکریت سے انبار تک انتقام '' کا نعرہ بلند کیا جو اہل سنت سے ان کے کینہ پر دلالت کر رہا ہے ۔( ۱ )

۱۱۔ وہابی مفتیوں کا حزب اللہ کے لئے دعانہ کرنے کا فتویٰ دینا :

اسرائیل کے لبنان پر وحشیانہ حملے اور حزب اللہ کے شجاعانہ دفاع کے دوران متعصب وہابی مفتی شیخ عبد اللہ بن جبرین نے اسلام کے دشمنوں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حمایت کا اظہار کرنے کی خاطر یہ فتویٰ دیا :

حز ب اللہ کی کسی قسم کی حمایت جائز نہیں ہے اور ان کی فتح کی دعا کرنا حرام ہے ۔ نیز تمام اہل سنت پر واجب ہے کہ وہ اس گروہ سے بیرازی کا اعلان کریں اور جو لوگ ان کے ساتھ ملنے کی فکر میں ہیں ان کی مذمت کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ شیعہ اسلام کے پرانے دشمن ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اہل سنت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱)ویب سائٹ BAZTAB. COM تاریخ ۴۸ ۱۳۸۴ بمطابق ۲۰۰۴ ئ۔

(۲) سوال : ''ھل یجوز نصرة ( ما یسمّی ) حزب اللہ الرافضی ؟ وھل یجوز ۔


انٹر نیشنل سروس ''بازتاب'' کی آسوشیٹد پریس سے نقل کی گئی رپورٹ کے مطابق وہابی مفتی شیخ صفر الحوالی نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا :

'' حز ب اللہ جس کا معنی خداکاشکر ہے درحقیقت حزب الشیطان ہے '' اسی طرح یہ بھی کہا ہے : حزب اللہ کے لئے ہر گز دعا نہ کریں ۔

یہ فتویٰ وہابیوں نے اس نظریہ کی بناء پر دیا ہے کہ شیعہ رافضیہ ہیں اور یہ فتویٰ اس فتویٰ کی پیروی میں صادر کیا گیا ہے جو تین ہفتے پہلے ایک مشہور سعودی مفتی شیخ عبد اللہ بن جبرین نے دیا تھا ۔

آسو شٹڈ پریس نے اس بات کا اضابھی فہ کیا ہے :

یہ فتویٰ اس وقت صادر کیا گیا ہے جب عرب ممالک کے روڈ اور سڑکیں حزب اللہ کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کے بارے میں نکالے جانے والے جلوسوں

____________________

الا نضوا ء تحت امرتهم وهل یجوز الدعاء لهم بالنصر والتمکین ؟ وما نصیحتکم للمخدعین بهم من اهل السنة؟''

جواب : ''لایجوز نصرةهذا الحزب الرافضی ، ولایجوز الانضواء تحت امرتهم ، ولا یجوز الدعاء لهم بالنصر والتمکین ، نصیحتنا لاهل السنة ان یتبروا منهم، وان یخذلوا من ینضموا الیهم ، وان یبینوا عداوتهم للاسلام والمسلمین وضرر هم قدیما وحدیثا علی اهل السنة ، فان الرافصة دائما یضمرون العداء لاهل السنة ، ویحاولون بقدر الاستطاعة اظهار عیوب اهل السنة والطعن فیهم و المکرهم ، واذاکان کذلک فان کل من والاهم دخل فی حکمهم لقول الله تعالیٰ (ومن یتولهم منکم فانه منهم )'' ودعوا الی نصرة الحزب بالدعاء والنصرة المادیة ، کما تسببت فتویٰ بن جبرین فی تصادم مواقف رجال الد ین السلفین والوهابیین ''سائٹ ( www. watan. com ) الریاض، الاسلام الیوم، ۱۲ ۲۷۷ ۱۴ ، م ۸۶ ۲۰۰۶

شیخ عبد الله بن جبرین ، شماره فتوی، ۱۵۹۰۳ تاریخ فتوی ۱۴۲۷۶۲۱ ه (۵۲۶ ۸۵) بمطابق۱۷۷۲۰۰۶ شبکه نور الاسلام ( www.islamlight. net )


سے بھری ہوئی ہیں یہاں تک کہ اردن جیسے ملک میں بھی لوگوں نے ان جلوسوں میں شرکت کی ہے جہاں کی اکثر آبادی یورپ سے متاثر اہل سنت پر مشتمل ہے ۔

کہا گیا ہے کہ اب جب جنگ اپنے انتہائی مراحل کو پہنچ چکی ہے تو ایسی حالت میں اس طرح کافتویٰ دینے کا مقصد فقط وہابی لیڈروں کا عالم اسلام کے اتحاد اور حزب اللہ کے نقش قدم پر چل کر کسی بھی غیر مسلم آزاد ی خواہ شہری سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا ہے ۔( ۱ )

____________________

(۱) اس مطلب کو الوطن سائٹ پر یوں بیان کیا گیا ہے :''قالالحوالی عصر یوم الخمیس امام تجمع استقبله فی مدینة النماص الجنوبیة القریبة من قریة الحولة مسقط راسه علی حدود منطقة عسیر والباحة: انه لایجوز الدعاء لحزب الله بالنصر علی اسرائیل ؛ کما هاجم الحوالی الشیعة فی السعودیة ووصمهم بالشرک

ورغم معاناة الحوالی من جلطة دماغیة اصابته العام الماضی وسببت له اعاقة دائمة وشلل جزئی الا انه مستمر فی اصدار الفتاوی

واکد موقع ( امة الاسلام ) الذی یشرف علیه الشیخ علی بن مشعوف احد منظمی زیارة الحوالی ، ان الفتوی صدرت بحضور قاضی محافظة النماص الشیخ محمد المهنا، وعدد کبیر من مشائخ المحافطة وطلاب العلم فیها ولا قت تاییدهم

وتاتی فتوٰی الحوالی بعد ثلاثة اسابیع من فتویٰ مشابهة اصدرها الشیخ عبد الله بن جبرین ، الرجل الثانی فی الهرم الدینی للحرکة الوهابیة، یحرم فیها الدعا ، لحزب الله اللبنانی، ویطلب فیه ممن یعتبرهم من المسلمین السنة بختذیل من ینضم الیهم

وسبب فتویٰ ابن جبرین رد ة فعل عنیفة من علماء المسلمین السنة فی العالم حیث فرضها غالبیة علماء مصر و فلسطین والجزائز و سوریا والاخوان المسلمین،


سعودی عرب کے ایک اور وہابی مفتی شیخ ناصر عمر نے بھی کہا ہے :

حزب اللہ سے دشمنی سب پر واجب ہے اس لئے کہ وہ ہمیشہ اہل سنت کے دشمن رہے ہیں :( ۱ )

۱۲۔ سعودی مفتی اور ابن تیمیہ کی مخالفت:

متعصب وہابیوں کا یہ فتویٰ ان کے مذہب کے مفکرابن تیمیہ کے فتویٰ کے خلاف ہے بلکہ کاسۂ داغ تراز آش ہے۔

اس لئے کہ ابن تیمیہ نے شیعوں سے اپنی تمام تر دشمنی اور مخالفت کے باوجود ایک شخص جو یہود ونصاری کو شیعوں پر ترجیح دیتا ہے اس کے سوال کے جواب میں واضح طورپر کہا:

''جو لوگ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کی شریعت پر ایمان رکھتے ہیں اگرچہ بدعت گذار ہی کیوں نہ ہوں مانند خوارج ، شیعہ ، مرجئہ ، اور قدریہ یہودیوں سے بہترہیں جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے منکر ہیں ''

اور مزید کہا: ''یہودو نصاری کا کفر روشن ہے لیکن اہل بدعت اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

(۱) ( www. watan. com )


کی پیروی کریں تو یقینا کافر نہیں ہیں اور اگر اہل بدعت کو کافر سمجھ بھی لیا جائے پھر بھی ان کا کفر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کی تکذیب کرنے والوں کے کفر کے مانند نہیں ہے ۔( ۱ )

____________________

(۱)جواب ابن تیمیه : ''الحمد لله کل من کان مومنا بما جاء محمد فهو خیر من کل من کفر به وان کان فی المومن بذلک نوع من البدعةسواء کانت بدعة الخوارج والشیعة و المرجئه والقدریةاو غیرهم ؛ فان الیهود والنصاریٰ کفار کفرا معلوما بالاضطرار من دین الاسلام ، المبتدع اذاکان یحسب انه موافق للرسول لا مخالف له لم یکن کافر ابه ولقد قدر انه یکفر فلیس کفره مثل کفر من کذب الرسول ]صلی الله علیه و آله وسلم [''. مجموع الفتاوی ،۳۵:۲۰۱.


مسلمانوں کی تکفیر کے بارے میں وہابیوں کے نظریہ پر اعتراض

۱۔ مسلمانوں کی تکفیر قرآنی آیات کی مخالفت کرنا ہے

ماضی اور حال میں ایک گروہ باکمال ِ جرأت: بغیر کسی شرعی دلیل کے کچھ فرقوں کے کفر کا فتویٰ دے رہا ہے ۔ نہ جانے کس عقلی اور شرعی معیار کی بناء پر یوں لوگوں کی عزت وآبرو سے کھیلا جا رہاہے ؟

اس موضوع کے روشن ہونے کے لئے ایک نکتہ کا بیان کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ ''مسلمان کسے کہتے ہیں ؟'' یا دوسرے لفظوں میں ''دین اسلام میں داخل اور اس سے خارج ہونے کی کیا حد ہے ؟''۔

بے شک مسلمان ہونے کا کمترین درجہ خد اکی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و نبوت کی گواہی دینا ہے اگر چہ یہ شہادت وگواہی زبانی ہی کیوں نہ ہو ۔

قرآن کریم ، تمام مفسرین اور علماء و فقہاء کی آراء کے مطابق ایسے شخص کا جان ومال محفوظ ہے اور کوئی مسلمان اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔

مفسرین کے نزدیک اسلام اور مسلمان کی تعریف کو واضح کرنے کے لئے ہم یہاں پہ دو قرآنی آیات کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔


پہلی آیت :

خداوند معال بادیہ نشین عربوں کے اسلام کے بارے میں فرماتا ہے :

( قَالَتْ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِکُمْ وَإِنْ تُطِیعُوا ﷲ وَرَسُولَهُ لاَیَلِتْکُمْ مِنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْئًا إِنَّ ﷲ غَفُور رَحِیم ) ( ۱ )

ترجمہ:یہ بدو عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لائے ہیں کیونکہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے ۔

____________________

(۱)سورۂ حجرات :۱۴.


ایمان اور اسلام میں فرق

اس آیت شریفہ میں ایمان کو اسلام کے بعد کا مرحلہ شمار کیا گیا ہے یعنی ایمان خاص ہے اور اسلام عام ہے ۔

راغب اصفہانی مفردات میں لکھتے ہیں :

''الاسلام : الدخول فی السلم ، وهو ان یسلم کل واحد منهما ان یناله من الم صاحبه '' .( ۱ )

اسلام ، سلامتی میں داخل ہونا ہے یعنی تو حید و رسالت کے اقرار سے انسان ایک دوسرے کے ضرر سے محفوظ ہوجاتا ہے ۔

ابن جریر اس آیت شریفہ کی تفسیر میں زہری سے نقل کرتا ہے :

اسلام خدا کی وحدانیت کی شہادت و گواہی دینا ہے اور ایمان قول کے ساتھ عمل کا نام ہے ۔( ۲ )

اسلام سلامتی میں داخل ہونا اور شہادتین کے اظہار سے مسلمانوں کے ساتھ جنگ سے بچنا ہے خدا وند متعال کا یہ قول جو نئے مسلمانوں کے ایک گروہ سے فرمایا:( وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِکُمْ ) ( ۳ ) ابھی ایمان تمہارے دلوں میں

داخل نہیں ہوا ہے ۔

____________________

(۱) مفردات راغب ، مادہ سلم

(۲) زہری سے نقل ہوا ہے :''الاعراب آمنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا قال : ان الاسلام الکلمة والایمان العمل، ''جامع البیان ۲۶: ۱۸۲ شماره ۲۴۶۰۷. (۳) سورهٔ حجرات : ۱۴.


درحقیقت زبانی اقرار اگر دل کو مسخر نہ کرے تو وہ اسلام ہے اور اگر زبان و دل دونوں اسے قبول کر لیں تو ایمان ہے اس لئے کہ ایمان اطمینان قلب کے ساتھ محکم عقیدے کا نام ہے ۔( ۱ )

بنابر ایں مسلمان مفسرین کے نزدیک خدا کی توحید اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی رسالت و نبوت کے اقرار سے اسلام کا پہلا مرحلہ محقق ہوجاتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں انسان کا مال وجان اور عزت وناموس محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی کو اسے چھیڑنے کا حق نہیں ہوتا ۔

قرطبی کہتا ہے :

حقیقت ایمان وہی تصدیق قلب ہے جب کہ اسلام پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لائے ہوئے احکامات کو ظاہری طور پر قبول کرنا ہے اور یہی مقدار انسان کی جان کے محفوظ ہونے کے لئے کافی ہے ۔( ۲ )

ابن کثیر کہتا ہے :

____________________

(۱)الدخول فی السلم و الخروج من ان یکون حربا للمومنین باظهار الشهادتین ، الا تری الی قوله تعالیٰ (وَلَمَّا یَدْخُلْ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِکُم ) الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل۳: ۵۶۹.

(۲)وحقیقة الایمان التصدیق بالقلب ، واما الاسلام فقبول ما اتی به النبی]صلی الله علیه وآله وسلم [فی الظاهر، وذلک یحقن الدم ، تفسیر قرطبی۱۶:۲۹۹.


اس آیت سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ایمان اسلام کی نسبت خاص ہے اور اہل سنت کا عقیدہ بھی یہی ہے اور یہ آیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ یہ بدو عرب منافق نہیں تھے بلکہ ایسے مسلمان تھے جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا اور انھوں نے ایک ایسے مقام کا دعویٰ کیا جس تک پہنچے نہیں تھے لہٰذا خدا وند متعال نے انھیںخبر دار کیا۔

اور اگر وہ لوگ منافق ہوتے تو انھیں رسواکیا جاتا جس طرح سورۂ برائت میں منافقین کا تذکرہ فرمایا :( ۱ )

دوسری آیت :

خدا وند متعال میدان میں اسلام لانے والے کفار کے بارے میں فرماتا ہے :

( یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا ِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ ﷲ فَتَبَیَّنُوا وَلاَتَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ ﷲ مَغَانِمُ کَثِیرَة کَذَلِکَ کُنتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ ﷲ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا إِنَّ ﷲ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا ) ( ۲ )

____________________

(۱)وقد استفید من هذه الآیة الکریمة ان الایمان اخص من الاسلام ، کما هو مذهب اهل السنة والجماعة ...فدل هذا علی ان هؤلاء الاعراب المذکورین فی هذه الآیة لیسوا بمنافقین وانما هم مسلمون لم یستحکم الایمان فی قلوبهم ، فادّعوا لانفسهم مقاما اعلیٰ مما وصلو ا الیه ، فادّبوا فی ذلک ولو کانوا منافقین لعنفوا وفحهوا ، کما ذکر المنافقون فی سورة برأة تفسیر ابن کثیر۴:۲۳۴.

(۲) سورۂ نسائ: ۹۴.


ترجمہ : اے ایمان والو! جب تم راہ ِ خدا میں جہاد کے لئے سفر کرو تو پہلے تحقیق کرلو اور خبردار جو اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تو مومن نہیں ہے کہ اس طرح تم زندگانی دنیا کا چند روزہ سرمایہ چاہتے ہو اور خدا کے پاس بکثرت فوائد پائے جاتے ہیں آخر تم بھی تو پہلے ایسے ہی کافر تھے خد انے تم پر احسان کیا کہ تمہارے اسلام کو قبول کرلیا ( اور دل چیر نے کی شرط نہیں لگائی ) تو اب تم بھی اقدام سے پہلے تحقیق کرو کہ خدا تمہارے اعمال سے خوب با خبر ہے ۔

سیوطی لکھتا ہے :

بزار ، دار قطنی اور طبرانی نے عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ایک گروہ کو جہاد کے لئے بھیجا جن میں مقداد بھی تھے جب یہ گروہ اس قبیلے کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ سب لوگ بھاگ گئے ہیں مگر ایک شخص مال و ثروت زیادہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ کر نہ بھاگا ۔ جب اس نے مسلمان مجاہدین کو دیکھا تو شہادتیں پڑھنا شروع کیں مقداد نے تلوار کھینچی اور اس کی گردان اڑادی ۔


ان میں سے ہی ایک مسلمان نے کہا : تم نے خدا کی گواہی کے بعد اسے قتل کیا؟ میں تمہارے اس عمل کی خبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوں گا ۔ جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں واپس پہنچے تو عرض کیا: یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک شخص نے توحید کا اقرار کیا لیکن مقداد نے اسے قتل کر ڈالا ۔ فرمایا: مقداد کو بلایا جائے ۔ جب مقداد آئے تو فرمایا: تو نے ''لا الہ الا اللہ '' کا اقرار کرنے کے بعد اس شخص کو قتل کیا ہے ؟ روز قیامت کیا جواب دوگے ؟ اتنے میں خدا وند متعال نے یہ آیت نازل فرمائی ۔( ۱ )

قابل غور نکتہ:

اس دوسری آیت میں ایمان سے مراد اس کا لغوی معنی امن ہے ۔، یعنی اگر کوئی شخص شہادتین پڑھ لے تو اسے یہ نہ کہا جائے کہ تجھے امان نہیں ملے گی بلکہ شہادتین کے اقرار سے انسان مسلمان اور اس کا مال وجان محفوظ ہو جاتا ہے ۔

جیسا کہ ابن جوزی نے حضرت علی علیہ السلام ، ابن عباس ، عکرمہ ، ابو العالیہ ، یحییٰ بن یعمر اور ابو جعفر سے نقل کیا ہے کہ وہ ''مومناً'' میم کے فتحہ کے ساتھ قرائت کرتے کہ جس کا معنی امان ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱)بعث رسول الله صلی الله علیه آله وسلم سریة فیها المقداد بن الاسود ، فلما اتوا القوم وجدوهم قد تفرقوا وبقی رجل له مال کثیر لم یبر ح، فقال :''اشهد ان لا اله الا الله '' فاهوی الیه المقداد فقتله فقال له رجل من اصحابه : اقتلت رجلا شهد ان لا اله الا الله؟ لا ذکرن ذلک النبی صلی الله علیه آله وسلم، فلما قدموا علی رسول الله صلی الله علیه آله وسلم قالوا: یا رسول الله ، ان رجلا شهد ان لا اله الا الله فقتله المقداد فقا ل: ادعواا لی المقداد ، فقال : یا مقداد! اقتلت رجلا یقول لا اله الا الله ؟ فکیف لک بلا اله الا الله غدا ؟ فانز ل الله یا ایها الذین آمنوا اذا ضربتم فی سبیل الله الی قوله کذلک کنتم من قبل.درالمنثور۲:۲۰۰ تفسیر ابن کثیر۱:۵۵۲ و مجمع الزوائد ۷: ۹

(۲)وقرا علی وابن عباس وعکرمه وابو العالیة ویحیی بن یعمر وابو جعفر : بفتح المیم الست مومنا من الامان زاد المسیر۲:۱۷۵.


۲۔مسلمانوں کی تکفیر سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کرنا ہے:

جس طرح مسلمانوں کے کفر کا فتویٰ دینا قرآن مجید کے مخالف ہے اسی طرح سنت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی مخالف ہے اس بارے میں ہم یہاں پہ اہل سنت کی معتبر ترین کتب کے اندر موجود احادیث میں سے فقط چند ایک کی طرف اشارہ کریں گے ۔

الف) مسلمانوں کی تکفیر سے شدید ممانعت :

حضرت علی علیہ السلام اور حضرت جابر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

''...اهل لا اله الا الله لاتکفروهم بذنب ولا تشهد وا علیهم بشرک ''( ۱ )

لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کو گناہ کی وجہ سے مت تکفیر کرو اور ان پر شرک کی تہمت نہ لگاؤ۔

حضرت عائشہ کہتی ہیں : میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا آپ نے فرمایا:

''لا تکفروا احدا من اهل القبلة بذنب وان عملوا بالکبائر''

اہل قبلہ میں سے کسی کو گناہ کے سبب تکفیر نہ کرو اگر چہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو ۔( ۲ )

____________________

(۱)المعجم الاوسط ۵:۹۶ ؛ مجمع الزوائد ۱: ۱۰۶.

(۲)مجمع الزوائد ۱: ۱۰۶و۱۰۷.


ب: دوسروں کو تکفیر کرنے والے کا کفر

بخاری نے ابو ذر سے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے سنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''لا یرمی رجل رجلا بالفسوق ولایرمیه بالکفر الا ارتدت علیه ، ان لم یکن صاحبه کذلک ''( ۱ )

اگر کوئی شخص دوسرے کو گناہ یا کفر سے متہم کرے جب کہ وہ شخص گنہگار یا کافر نہ ہو تو وہ گناہ و کفر خود تہمت لگانے والے کی طرف پلٹے گا ۔

عبد اللہ بن عمر نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''ایما رجل مسلم کفر رجلا مسلما فان کان کافرا والا کان هو الکافر ''.( ۲ )

جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہے اور وہ مسلمان کافر نہ ہوتو کہنے والا خود کافر ہو جائے گا ۔

نیز عبد اللہ بن عمر نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

____________________

(۱)صحیح بخاری ۷:۶۰۴۵۸۴، کتاب الادب ، باب ماینھیٰ من السباب واللعن.

(۲)کنز العمال ۳:۶۳۵از سنن ابی دادؤو مسند احمد ۲:۲۲.تھوڑے سے فرق کے ساتھ


''کفوا عن اهل لا اله الا الله لا تکفروهم بذنب من اکفر اهل لا اله الا الله فهوا لی الکفر اقرب '' ۔( ۱ )

لا الہ الا اللہ کہنے والوں سے دست بردار ہو جاؤ اور انھیں گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو۔ جو شخص اہل توحید کی طرف کفر کی نسبت دیتا ہے وہ خود کفر سے نزدیک تر ہے ۔

ج:اہل قبلہ کے قتل کی حرمت

صحیح بخاری نے انس بن مالک کے واسطے سے رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''من صلی صلاتنا ، واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی له ذمة الله وذمة رسوله فلا تخفرواالله فی ذمته ''.( ۲)

جو ہماری طرح نماز پڑھے، قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارے ذبح شدہ حیوانات کا گوشت کھائے تو وہ مسلمان اور خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پناہ میں ہے پس عہد خدا کو نہ توڑو۔

د: خوف سے اسلام لانے والے کے قتل کی حرمت

صحیح مسلم نے اسامنہ بن زید سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

(۱)معجم الکبیر۱۲: ۲۱۱ ؛ مجمع الزوائد ۱:۱۰۶ ؛ فیض القدیر شرح جامع الصغیر ۵: ۱۲ ؛ جامع الصغیر ۲ : ۲۷۵؛ کنز العمال ۳: ۶۳۵.

(۲) صحیح بخاری ۱:۳۹۱۱۰۲، کتاب الصلاة ، باب فضل استقبال القبلة


نے ہمیں ایک قبیلہ کے ساتھ جنگ کے لئے بھیجا ، صبح کے وقت ہم اس قبیلہ کے پاس پہنچے ۔ میں نے ایک شخص کا پیچھا کیا تو اس نے کہا : ''لا اله الا الله ''مگر میں نے نیزہ مار کر اسے قتل کر ڈالا ۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلط کام کیا ہے ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا:''اقال لا اله الا الله وقتلته ''کیا تونے اسے''لا اله الا الله ''کہنے کے باوجود قتل کردیا ؟

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !اس نے اسلحہ کے خوف سے کلمہ پڑھا۔ آنحضرت نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا ؟ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات کا اس قدر تکرار کیا کہ میں آرزو کرنے لگا کہ اے کاش! آج ہی کے دن پیدا ہوا ہوتا ( اوراس عظیم گناہ کا ارتکاب نہ کرتا )

سعد بن وقاص کہتاہے : میں اس وقت تک کسی مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک اسامہ اسے قتل نہ کرے ایک شخص نے کہا : کیا خداوند متعال نے یہ نہیں فرمایا:( وقاتلوهم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کله الله ) اور کافروں کو قتل کر و یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین فقط خد اہی کا رہ جائے ۔

سعد نے کہا: ہم اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ فتنہ ختم ہو جب کہ تم اور تمہارے ساتھی اس لئے لڑتے ہوتاکہ فتنہ برپاکرسکو ۔( ۱ )

____________________

(۱)صحیح مسلم ۱: ۱۸۰۶۷ ،کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا اله الا الله.


ھ: کسی مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام لانے والے کے قتل کی حرمت :

ایک اور روایت میں نقل ہوا ہے کہ اسامہ بن زید نے ایک مشرک کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد قتل کر دیا جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کی خبر ملی تو اسامہ کو طلب کیا اور فرمایا: اسے کیوں قتل کیا ہے ؟ میں نے کہا:''یا رسول الله اوجع فی المسلمین وقتل فلانا وفلا وسمی له نفرا وانی حملت علیه فلما رای السیف قال لا اله الا الله '' . یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! اس نے مسلمانوں کو اذیت پہنچائی ، فلاںو فلاں کو قتل کیا لیکن جب میں نے اس پر حملہ کیا تو تلوار کو دیکھ کر اس نے کلمہ پڑھ لیا ۔

پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: اس کے باوجود تو نے اسے قتل کر دیا؟ عرض کیا : جی ہاں.( ۱ )

فرمایا: روز قیامت لا الہ الا اللہ کا کیاجواب دوگے؟اس کے بعد لکھا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کئی بار اس جملہ کو تکرار فرمایا : ''فکیف تصنع بلا اله الا الله اذا جاء ت یوم القیامة ''( ۲ ) روز قیامت کلمہ توحید کا کیا کروگے ؟ عرض کرنے لگے : یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! میرے لئے مغفرت طلب کریں۔

۳۔ مسلمانوں کی تکفیر سیرت پیغمبر کے مخالف ہے

جس طرح مسلمانوں کو کافر کہنا سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے

____________________

(۱)صحیح مسلم ۱:۱۸۰۱۶۷،

(۲)صحیح مسلم ۱:۱۸۱۶۷، کتاب الایمان ، باب ۴۰،باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا اله الا الله


مخالف ہے اسی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کے بھی مخالف ہے جیسا کہ صحیح بخاری نے انس بن مالک کے واسطے سے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا اله الا الله فاذا قالوها وصلوا صلاتنا ، واستقبلوا قبلتنا، وذبحوا ذبیحتنا، فقد حرمت علینا دماؤهم واموالهم الا بحقها ، حسابهم علی الله '' .( ۱ )

مجھے لوگوں سے جنگ کر نے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں ، ہماری طرح نماز پڑھیں ، قبلہ کی طرف رخ کریں اور ہمارے ذبح شدہ حیوانات کو کھائیں تو ان کا مال وجان ہم پر حرام ہو جائے گا سوا خدا کے حق کے اور (باقی رہا ان کے دل کا حال تو ) اس کاحساب ( کتاب ) اللہ کے ذمہ ہے ۔

عبد اللہ ابن عباس کہتے ہیں : عقبہ بن ابی معیط جب بھی سفر سے واپس آتا تو مکہ کے لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتا ۔

وہ پیغمبر کے پاس اکثر بیٹھا کرتا اور آپ کی باتوں سے خوش ہوتا ۔ ایک مرتبہ جب سفر سے واپس آیا تو کھانا بنایا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی دعوت دی ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا '':ما انا بالذی اکل من طعامک حتی تشهد ان لا اله الا الله وانی رسول الله ''جب تک تولا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا

____________________

(۱)صحیح بخاری ۱:۳۹۲۱۰۲، کتاب الصلاة ،باب فضل استقبال القبلة.


اقرار نہیں کرے گا تب تک تیرا کھانا نہیں کھاؤں گا ۔

عقبہ کہنے لگا : میرے بھتیجے کھالے !

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''ما انا الذی افعل حتی تقول! فشهد بذلک وطعم من طعامه '' جب تک تو اسلام نہیں لاتا تب تک میں یہ کام نہیں کر سکتا !عقبہ نے خدا اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گواہی دی ۔ تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے ہاں کھانا کھایا( ۱ )

اسی سے ملتی جلتی حدیث ابن شہر آشوب نے مناقب میں نقل کی ہے ۔( ۲ )

۴۔ مسلمانوں کی تکفیرصحابہ کی روش کے مخالف

بخاری اپنی صحیح میں میمون بن سیاہ سے نقل کرتا ہے کہ از انس بن مالک سے سوال کیا :''مایحرم دم العبد وماله فقال من شهد ان لااله الا الله ، واستقبل قبلتنا ،و صلی صلاتنا ، واکل ذبیحنتنا ، فهو المسلم ، له ماللمسلم ، وعلیه ما علی المسلم '' ( ۳ ) کس چیز نے خون اور مال کو حرام کیا ہے ، تو اس نے کہا : خدا کی وحدانیت کی گواہی قبلہ رخ ہونا اور ہماری طرح نماز پڑھنا اور گوشت کھانا اس حیوان کا کہ جس کو ہم نے ذبح کیا ہے پس جو بھی ایسا کرے مسلمان ہے اور جو حقوق مسلمان رکھتا ہے وہ بھی رکھتا ہے.

____________________

(۱)تفسیر در المنثور ۵: ۶۸ ؛ تفسیر آلوسی ۱۹: ۱۱ (۲)مناقب آل ابی طالب ۱: ۱۱۸.

(۳)صحیح بخاری ۱ :۱۰۳۔ ۳۹۳، کتاب الصلاة ، باب فضل استقبال القبلہ


۵۔ مسلمانوں کی تکفیر علمائے اہل سنت کے عقیدہ کے مخالف

امام شافعی کا نظریہ : امام شافعی متوفیٰ ۲۰۴ ہجری کہتے ہیں :

''اقبل شهادة اهل الا هواء الا الخطابیة ؛ لانهم یشهدون بالزورلموافقیهم '' ( ۳ )

میں تمام اہل بدعت کی شہادت قبول کروں گا سوا خطابیہ کے کہ وہ اپنے حامیوں کے لئے جھوٹی قسم جائز سمجھتے ہیں ۔

____________________

(۳) مجموع نووی ۴: ۲۵۴؛ شرح صحیح مسلم ۱: ۶۰؛ البحر الرائق ۱: ۶۱۳ ؛ حاشیہ رد المختار ابن عابدین ۴: ۴۲۲.


ابو الحسن اشعری کا نظریہ :

مؤسس مذہب اشاعرہ ابو الحسن اشعری متوفیٰ ۳۲۴ ھ لکھتے ہیں :

''اختلف المسلمون بعد نبیهم صلی الله علیه وسلم فی اشیاء ضلّل بعضم بعضا، وبرء بعضهم من بعض فصاروا فرقا متباینین واحزابا متشتتین الا ان الاسلام یجمعهم ویشتمل علیهم '' ( ۱ )

پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مسلمانوں میں بہت زیادہ مسائل پر اختلاف ایجاد ہوا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو گمراہ اور برائت کااظہار کرنے لگے۔ اگر چہ مخالف فرقوں میں تقسیم ہو گئے لیکن اسلام ان سب کو اپنے دامن میں اکٹھا کر لیتا ہے ۔

زاہربن احمد سرخسی متوفیٰ ۳۸۹ ہجری ابو الحسن اشعری کا قریبی دوست تھا وہ نقل کرتا ہے کہ ابو الحسن اشعری نے اپنی وفات کے وقت اپنے اصحاب و پیرو کاروں کو جمع کیا اور ان سے کہا :

''اشهد وا علی اننی لا اکفر احدا من اهل القبلة بذنب، لانی رایتهم کلهم یشیرون الی معبود واحد والاسلام یشملهم ویعمهم'' .( ۲ )

گواہ رہنا کہ میں نے اہل قبلہ میں سے کسی کو گناہ کی وجہ سے تکفیر نہیں کیا اس لئے کہ میں نے دیکھا یہ سب معبود واحد کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور اسلام ان سب کو اپنے اندر شامل کر لیتا ہے ۔

تکفیر ایمان سے سازگار نہیں :

اہل سنت کے معروف عالم دین شیخ الاسلام تقی الدین سبکی متوفیٰ ۷۵۶ ہجری کہتے ہیں :

''ان الاقدام علی تکفیر المومنین عسر جدا ، وکل من کان فی قلبه ایمان یستعظم القول بتکفیر اهل الاهواء والبدع ، مع قولهم لا اله الا الله ، محمد رسول الله ، فان التکفیر امر هائل

____________________

(۱)مقالات الاسلامیین ۱:۲.

(۲)الیوقیت والجواہر : ۵۸.


عظیم الخطر '' .( ۱ )

مومنین کی تکفیر کا اقدام انتہائی سخت امرہے اور ہر باایمان شخص شہادتین کا اقرار کرنے والے اہل بدعت اور خواہشات پرست افراد کی تکفیر کو بہت مشکل کام سمجھتا ہے اس لئے کہ تکفیر انتہائی خطرناک کام ہے ۔

جمہور فقہاء و متکلمین کا نظریہ :

قاضی عضد الدین ایجی متوفیٰ ۷۵۶ ہجری لکھتا ہے :

''جمهور متکلمین والفقهاء علی ان لا یکفر احد من اهل القبلة...لم یبحث النبی عن اعتقاد من حکم باسلامه فیها ولا الصحابة ولا التابعون ، فعلم ان الخطا فیها لیس قادحا فی حقیقة الاسلام '' .( ۲ )

جمہور فقہاء و متکلمین کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کو تکفیر نہیں کیا جا سکتا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہر گز مسلمان ہونے والے کے عقیدہ کے بارے میں سوال نہ فرماتے اور صحابہ و تابعین کا طریقہ بھی یہی رہا ۔ بنابرایں عقیدہ میں خطا و اشتباہ حقیقت اسلام کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صحابہ کرام عقائد کی تحقیق کرتے : تفتازانی متوفیٰ ۷۹۱ ہجری کہتے ہیں :

____________________

(۱) الیواقیت والجواہر :۵۸ (۲) المواقف ۳:۵۶۰؛شرح المواقف ۸: ۳۳۹.


''ان مخالف الحق من اهل القبلة لیس بکافر مالم یخالف ما هو من ضروریات الدین کحدوث العالم و حشر الاجساد ، واستدل بقوله ان النبی ومن بعده لم یکونوا یفتشون عن العقائد وینبهون علی ماهو الحق '' .( ۱ )

حق کے مخالف اہل قبلہ کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ ضروریات دین مانند حدوث عالم اور قیامت وغیرہ کا انکار نہ کرے اس لئے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور صحابہ کرام لوگوں کے عقائد کے بارے میں تحقیق نہ کیا کرتے بلکہ جو بظاہر حق ہوتا اسے لوگوں سے قبول کرتے ۔

صحابہ سے بغض اور انھیں گالی دینا کفر نہیں :

حنفی عالم ابن عابدین متوفیٰ ۲۵۲ ۱ ہجری کہتے ہیں :

''اتفق الائمة علی تضلیل اهل البدع اجمع وتخطئتهم ، وسبّ احد من الصحابة وبغضه لا یکون کفرا ، لکن یضلل الخ.وذکر فی فتح القدیر : ان الخوارج الذین یستحلون دماء المسلمین واموالهم ویکفّرون الصحابة ، حکمهم عند جمهور الفقهاء واهل الحدیث ، حکم البغاة ، وذهب بعض اهل الحدیث الی انهم مرتدون قال ابن المنذر : ولا اعلم احدا وافق اهل

____________________

(۱) شرح المقاصد ۵: ۲۲۷ ؛ البحرا لحرائق ۱: ۶۱۲ تالیف ابن نجیم


الحدیث علی تکفیرهم وهذا یقتضی نقل اجماع الفقهاء '' .( ۱ )

تمام آئمہ اہل بدعت کی گمراہی پر متفق ہیں لیکن کسی صحابی کو گالی دینا یا اس سے بغض رکھنا کفر نہیں ہے البتہ گمراہی کی نشانی ہے ۔

شوکانی نے( متوفیٰ ۱۲۵۰ ہجری ) فتح القدیر میں لکھا ہے : خوارج جو مسلمانوں کا مال وجان مباح اور صحابہ کو کافر قرار دیتے تھے وہ بھی اکثر فقہاء اور اہل حدیث کے نزدیک باغی ہیں اگر چہ بعض اہل حدیث نے انھیں مرتد کہا ہے ۔ ابن منذر کہتے ہیں : فقہاء میں سے کوئی بھی اس مسئلہ تکفیر میں اہل حدیث سے موافقت نہیں رکھتابنابر ایں اجماع فقہاء ثابت ہے ۔

مجتہد خطاء کی صورت میں اجر کا مستحق ہے :

اہل سنت کے معروف عالم ابن حزم متوفیٰ ۴۵۶ ہجری لکھتے ہیں :

''وذهبت طائفة الی انه لا یکفر ولا یفسق مسلم بقول فی اعتقاد، اوفتیا! ، وان کل من اجتهد فی شئی من ذلک فدان بما رای انه الحق فانه ماجور علی کل حال ، ان اصاب فأجران و اِن اخطافاجر واحد، قال: وهذا قول بن ابی لیلیٰ وابی حنیفه وشافعی وسفیان الثوری وداود بن علی وهو قول کل من عرفنا له قولا فی هذه المسالة من الصحابة ( رضی الله عنهم )لا نعلم منهم خلافا فی

____________________

(۱ )حاشیہ رد المختار ۴: ۴۲۲


ذلک اصلاً ''( ۱ )

بعض علماء کا نظریہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کو غلط عقیدہ یا غلطی سے فتویٰ دینے کی بناء پر کافر یا فاسق نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ اگر مجتہد اپنے اجتہاد کے نتیجہ میں ایک نظریہ پر پہنچتا ہے اور اسے حق سمجھتا ہے تو وہ اجر کا مستحق ہوگا ۔ا گر اس کا اجتہاد درست ہواتو دو اجر کا مستحق قرار پائے گا اور اگر خطا کر بیٹھا تو ایک اجر کا مستحق قرار پائے گا ۔ یہ نظریہ ابن لیلیٰ ، ابو حنیفہ ،شافعین ، سفیان ثوری اور داؤد بن علی جیسے فقہاء کا ہے اسی طرح جن صحابہ نے اس مسئلہ کو بیان کیا ہے ان میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔

محمد رشید رضا متوفیٰ ۱۳۵۴ ہجری لکھتے ہیں :

''ان ما اعظم ما بلیت به الفرق الاسلامیة رمی بعضهم بعضابالفسق والکفر مع ان قصد کل الوصول الی الحق بما بذلوا جهدهم لتاییده واعقتاده والدعوة الیه ، فالمجتهد وان اخطا معذور '' .( ۲ )

امت مسلمہ جس عظیم ترین مصیبت میں مبتلا ہوئی وہ ایک دوسرے کو فسق و کفر سے متہم کرنا ہے جب کہ سب کے اجتہاد کا مقصد حق تک پہنچنااور اس کی دعوت دینا ہے لہٰذا مجتہد اگر خطا کا ر ہو تو اجر کا مستحق ہے ۔

____________________

(۱) الفصل ۳: ۲۴۷ ، باب من یکفرو لا یکفر

(۲) تفسیر المنار ۱۷: ۴۴.


مفکر و ہابیت ابن تیمیہ متو فی ۷۲۸ ہجری لکھتا ہے :

''کان ابو حنیفه والشافعی وغیرهما یقبلون شهادة اهل الاهواء الا الخطابیة ویصححون الصلاة خلفهم ...ائمة الدین لا یکفّرون ولا یفسقون ولا یوثمون احداً من المجتهدین المخطئین ، لا فی مسائل علمیة ولا عملیة... کتنازع الصحابة : هل رآی محمد ربه واهل السنة لا یبتدعون قولا ولا یکفّرون من اجتهد فاخطا کما لم تکفر الصحابة الخوارج مع تکفیرهم لعثمان وعلی ومن والاهما '' .( ۱ )

ابو حنیفہ ، شافعی اور دیگر علماء خطابیہ کے علاوہ باقی اہل بدعت کی گواہی قبول کرتے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دیتے ۔ آئمہ دین کسی مجتہد کو علمی مسائل میں خطاکی وجہ سے فاسق یا کافر قرار نہ دیتے اور یہ صحابہ کے اس آیت میں اختلاف کے مانند ہے کہ : کیا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا ؟

اور اہل سنت، صحابہ کے مخالف کوئی بدعتی بات نہیں کرتے اور نہ ہی مجتہد ین کو خطا کی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے خوارج کو تکفیر نہ کیا جب کہ وہ عثمان،علی اور ان کے پیروکاروںکوکافرسمجھتے تھے۔

____________________

(۱) مجموع فتاویٰ ابنی تیمیہ ۴: ۲۰۹ و۱۵: ۲۰۷فتاویٰ الالبانی: ۲۹۲.


خود وہابیوں کا تکفیر میں گرفتار ہونا

وہابی ۲۷۰ سال حکومت اور بے گناہ مسلمانوں کو تکفیر اور ان کے قتل عام کے بعد اب خود اسی دامن تکفیر میں گرفتار ہو چکے ہیں جسے انھوں نے مسلمانوں کے لئے پھیلا رکھا تھا ۔

مجلس کبار العلماء کا تکفیر کی مذمت کرنا

مجلس ( کبار العلمائ) نے اپنی انچاسویں کا نفرنس میں جو ۱۴۱۹۴۲ ہجری قمری بمطابق ۱۹۹۸ ء میں طائف میں تشکیل پائی ، اس میں اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں تکفیر اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل مانند قتل و غارت ، بم دھماکے ، مختلف اداروں کو نیست ونابود کرنے جیسے امور کو زیر غور لایا گیا ۔ اس موضوع اور اس کے آثار ۔ چاہے وہ بے گناہ لوگوں کا قتل ہو یا ان کے اموال کو نابود کرنا یا خوف وہراس پھیلا کر معاشرے میں بدا منی ایجاد کرنا ہو ۔ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مجلس نے خیرخواہی ، ادائیگی وظیفہ اور اسلامی مفاہیم میں اشتباہ کا شکار ہونے والے افراد سے در گذر کے عنوان سے ایک اعلان کیا جس میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف توجہ دلا تے ہوئے خدا وند متعال سے توفیق کی تمنا کی ہے ۔


تکفیر بھی حلال و حرام کے مانند حکم شرعی ہے :

اولا:التکفیرحکم شرعی ، مدّده الی الله ورسوله ، فکما ان التحلیل والتحریم والایجاب الی الله ورسوله ، فکذلک التکفیر، ولیس کل ما وصف بالکفر من قول او فعل ، یکون کفرا اکبر مخرجاعن الملة .ولما کان مردّ حکم التکفیر الی الله ورسوله لم یجز ان نکفّر الا من دل الکتاب والسنة علی کفره دلالة واضحة ، فلا یکفی فی ذلک مجرد الشبهة والظن ، لما یترتب علی ذلک من الاحکام الخطیرة ، واذا کانت الحدود تدرء بالشبها ت ، مع ان ما یترتب علیها اقل مما یترتب علی التکفیر ، فالتکفیر اولی ان یدرء بالشبهات ؛ ولذلک حزر النبی من الحکم بالتکفیر علی شخص لیس بکافر ، فقال: '' ایّما امریء قال لاخیه: یا کافر ، فقد باء بها احدهما ، ان کان کما قال والا رجعت علیه ''.

۱۔ تکفیر ایک حکم شرعی ہے جس کا معیار خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے بیان ہونا چاہئے جس طرح حلال و حرام اور واجب کا خد اکی طرف سے بیان ہونا ضروری ہے ۔اور ضروری نہیں کہ قول و فعل میں ہر طرح کے کفر سے مراد کفر اکبر ہو جس سے انسان دین سے خارج ہو جاتا ہے ۔

جب کفر کا حکم خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب سے ہونا چاہئے تو پھر قرآن وسنت سے واضح دلیل کے بغیر کسی شخص کو کافر کہنا جائز نہیں ہے اور شک وا حتمال کی بناء پر کفر ثابت نہیں ہو تا اس لئے کہ اس پر بہت سخت احکام جاری ہوتے ہیں ۔

جب شبہ کے ہوتے ہوئے حدود جاری نہیں ہو سکتیں اگر چہ وہ تکفیر سے کمتر ہی کیوں نہ ہوں تو پھر شبہ کی صورت میں بدرجہ اولیٰ تکفیر کی حد جاری نہیں ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے کسی ایسے شخص کو تکفیر نہیں فرمائی ہے جو کافر نہ ہو اور فرمایا : جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کو کہے : اے کافر ! اگر اس نے درست کہا تو دوسرا شخص عذاب الٰہی میں مبتلا ہو جائے گا اور اگر جھوٹ بولا تو وہ عذاب خود اس کی طرف پلٹے گا ۔


''و قد یرد فی الکتاب والسنة مایفهم منه ان هذا القول او العمل او الاعتقاد کفر، ولا یکفر من اتصف به ، لوجود مانع یمنع من کفره ، وهذا الحکم کغیره من الاحکام التی لا تتم الا بوجود اسبابها وشروطها ، وانتفاء موانعها کمافی الارث سببه القربة قد لا یرث بها لوجود مانع کاختلاف الدین ، وهکذا الکفر یکره علیه المومن فلا یکفر به .وقد ینطق المسلم بکلمة الکفر لغلبة فرح او غضب او نحوهما فلا یکفر بها لعدم القصد ، کما فی قصة الذی قال : ''اللهم انت عبدی وانا ربک '' اخطأ من شدة الفرح.

کبھی کبھار قرآن و سنت میں ایسی تعبیر دکھائی دیتی ہے کہ فلاں بات ، فلاں عمل یا فلاں عقیدہ کفر کا موجب بنتا ہے جب کہ مانع کی وجہ سے ایسے عمل کے مرتکب شخص کو کافر نہیں کہا جاسکتا ۔ اس لئے کہ تکفیر بھی باقی احکام کے مانند ہے جس کے اثبات کے لئے اسباب و شرائط کا موجود ہونا اور موانع کا نہ ہونا ضروری ہے جیسے میراث کا سبب قرابت و رشتہ داری ہے لیکن دین میں اختلاف کی وجہ سے انسان میراث سے محروم ہو جاتا ہے ( جیسے بیٹا کافر اورباپ مسلمان ہو )

اسی طرح اگر کسی مسلمان کو کفر آمیز کلمات ادا کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ اس کے کفر کا موجب نہیں بنیں گے ۔ نیز اگر کوئی مسلمان حد سے زیادہ خوشی یا غصہ کی وجہ سے کفر آمیز کلمہ کہہ بیٹھتا ہے تو وہ اس کے کفر کا سبب نہیں بنے گا اس لئے کہ اس نے اس کا ارادہ نہیں کیا اور یہ ویسا ہی ہے جیسے ایک شخص نے بے حد خوشی کی حالت میں کہہ دیا :''اللھم انت عبدی وانا ربک '' اے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں ۔


''والتسرع فی التکفیر یترتب علیه امور خطیرة من استحلال الدم والمال ،و منع التوارث وفسخ النکاح ،و غیرها مما یترتب علی الردة ، فکیف یسوغ للمومن ان یقدم علیه لا دنی شبهة ...وجملة القول ان التسرع فی التکفیر له خطره العظیم ؛ لقول الله عزوجل :( قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِکُوا بِﷲ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَی ﷲ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ( ۱ )

تکفیر میں جلد بازی پر بہت زیادہ نقصانات مترتب ہوتے ہیں جیسے خون و مال کامباح ہونا، میراث سے محرومی ، میاں بیوی کے درمیان جدائی وغیرہ بنا بر ایں کیسے ممکن ہے کہ کوئی مومن چھوٹے سے شبھہ کی وجہ سے کسی کی طرف ایسی نسبت دے ؟( اور اتنی بڑی ذمہ داری اٹھائے ؟)

خلاصہ یہ کہ تکفیر میں جلد بازی کے انتہائی خطرناک اثرات ہیں اسی لئے خداوند متعال فرماتا ہے :

کہہ دیجئے کہ ہمارے پروردگار نے صرف بد کاریوں کو حرام کیا ہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی اور گناہ نا حق ظلم اور بلا دلیل کسی چیز کو خدا کا شریک بنا نے اور بلا جانے بوجھے کسی بات کو خدا کی طرف منسوب کرنے کو حرام قراردیا ہے ۔

اس آیت مجیدہ کے مطابق ہر طرح کی بدکاری ، ظلم و شرک ، نا روا نسبت اور بغیر دلیل کے کسی بات کے خدا کی طرف منسوب کرنے کو حرام شمار کیا ہے ۔

تکفیر کے سبب ہونے والے قتل عام کی حرمت :

''ثانیاً :ما نجم من هذ االاعتقاد الخاطیء من استباحة الدماء وانتهاک الاعراض ، وسلب الاموال الخاصة والعامة، وتفجیر المساکن والمرکبات ، وتخریب المنشأت ، فهذه الاعمال

____________________

(۱) سورۂ اعراف: ۳۳.


وامثالها محرمة شرعا باجماع المسلمین ؛ لما فی ذلک من هتک لحرمة الانفس المعصومة ، وهتک لحرمة الاموال ، وهتک لحرمات الامن والاستقرار ، وحیاة الناس الآمنین المطمئنین فی مساکنهم ومعایشهم ، وغدوهم و رواحهم ، وهتک للمصالح العامة التی لا غنی للناس فی حیاتهم عنها ''.

۲۔ اس باطل عقیدہ کے نتیجہ میں خون ، مال اور ناموس کا مباح ہونا ، قتل وغارت ، گھروں، گاڑیوں اور تجارتی و دفتری مراکز کودھماکوں سے اڑانا اور ان جیسے باقی امور کے حرام و گناہ ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اس لئے کہ یہ امور مال وجان کی بے حرمتی اور صبح و شام دفاتر میں کام کے لئے آنے جانے والے افراد کی زندگی کے سکون کونابود کرنے کا باعث بنتے ہیں اور اسی طرح معاشرے کی عمومی مصلحت کی تباہی کا موجب ہیں جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں ۔

''و قد حفظ الاسلام للمسلمین اموالهم واعراضهم وابدانهم، وحرّم انهتاکها ، وشدّد فی ذلک ، وکان من آخر ما بلغ به النبی امته فقال فی خطبة حجة الوداع :''ان دماء کم واموالکم واعراضکم علیکم حرام کحرمة یومکم هذا فی شهرکم هذا، فی بلدکم هذا'' ثم قال:''لأ هل بلغت ؟ اللهم فاشهد ''. متفق علیه وقال :''کل المسلم علی المسلم حرام دمه و ماله وعرضه ''.وقال علیه الصلاة والسلام : '' اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامة ''.


جب کہ اسلام نے مسلمانوں کے مال وجان اور ناموس کو محترم قرار دیا ہے اور کسی کو ان کی بے حرمتی کا حق نہیں دیا ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے حجة الوداع کے موقع پر جو امور ابلاغ فرمائے ان میں سے آخری امریہ تھا کہ آپ نے فرمایا:

تمہارا مال و جان اور ناموس ایک دوسرے کے لئے اسی طرح محترم ہے جس طرح آج کا دن ( عید قربان کا دن ) یہ مہینہ اور یہ مقدس مکان ( مکہ معظمہ ) محترم ہیں اور پھر فرمایا: خدا یا ! گواہ رہنا میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے

اسی طرح فرمایا: ہر مسلمان کا مال وجان اور ناموس دوسرے پر حرام ہے نیز یہ بھی فرمایا: ظلم سے پرہیز کرو اس لئے کہ ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ہے ۔

''وقد تو عّد الله سبحانه من قتل نفساً معصومةً باشدّ الوعید ، فقال سبحانه فی حق المومن :( وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِیهَا وَغَضِبَ ﷲ عَلَیْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِیمًا ) ( ۱ )

اور فرمایا : ''جو بھی کسی مومن کو قصداً قتل کر دے گا تو اس کی جزا جہنم ہے اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اور اس پر خدا کا غضب بھی ہے اور خدا لعنت بھی کرتا ہے اور اس نے اس کے لئے عذاب عظیم بھی مہیاکر رکھا ہے ۔''

____________________

(۱) سورۂ نسائ: ۹۳.


وقال سبحانه فی حق الکافر الذی له ذمة ، فی حکم قتل الخطاء : ( إ لاَّ أَنْ یَصَّدَّقُوا فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَهُوَ مُؤْمِن فَتَحْرِیرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ... ) ( ۱ )

اسی طرح مسلمانوں کی پناہ میں زندگی بسر کرنے والے کافر کے غلطی سے قتل ہوجانے کے بارے میں فرمایا: ''اس کی دیت اور کفارہ ادا کرو ''

''فاذا کان الکافر الذی له امان اذا قتل خطاّ ، فعلیه الدیة والکفارة، فکیف اذا قتل عمداً، فان الجریمة تکون اعظم ، والاثم یکون اکبر وقد صح عن رسول الله انه قال : '' من قتل معاهداّ لم یرح رائحة الجنة ''.

خدا وند متعال نے کسی بے گناہ کا غلطی سے خون بہانے پر بہت سخت سزا رکھی ہے ۔اگر یہی قتل قصداً ہوتو یقینا اس کا گناہ اور جرم سنگین تر ہوگا ۔

رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے صحیح حدیث میں فرمایا : اگر کوئی ایسے غیر مسلم کو قتل کرے جو مسلمانوں سے پیمان باندھ چکا ہوتو وہ جنت کی خوشبوتک نہیں سونگھ سکے گا ۔

____________________

(۲)سورۂ نسائ: ۹۲.


تکفیر کے بدترین آثار سے اسلام کی بیزاری :

ثالثاً :''ان المجلس اذ یبین حکم تکفیر الناس بغیر برهان من کتاب الله وسنة رسوله وخطورة اطلاق ذلک ، لما یترتب علیه من شرور وآثام ، فانه یعلن للعام ان الاسلام بری ء من هذا المعتقد الخاطی ء ، وان مایجری فی بعض البلدان من سفک الدماء البریئة، وتفجیر المساکن والمرکبات والمرافق العامة وخاصة، وتخریب المنشآت هو عمل اجرامی ، والاسلام بری ء منه ''.

۳۔ قرآن و سنت سے دلیل کے بغیر کی جانے والی تکفیر اور اس کے بد ترین آثار اور گناہ کے مذکورہ بالا حکم کو مد نظر رکھتے ہوئے مجلس پوری دنیا کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ اسلام اس طرح کے ہر قسم کے عقیدہ سے بیزار ہے اور بے گناہوں کا خون بہانا ، عمارتوں، گاڑیوں اور عمومی وخصوصی مراکز کا تباہ کرنا وغیرہ یہ ایک مجرمانہ عمل ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

''وهکذا کل مسلم یومن بالله والیوم الآخر بری ء منه ، وانما هو تصرف من صاحب فکر منحرف، وعقیدة ضالة، فهو یحمل اثمه وجرمه ، فلا یحتسب عمله علی الاسلام ، ولا علی المسلمین المهتدین بهدی الاسلام ، المعتصمین بالکتاب والسنة ، والمستمسکین بحبل الله المتین ، وانما هو محض افساد واجرام تاباه الشریعة والفطرة؛ ولهذا جاء ت نصوص الشریعة قاطعة بتحریمه، محذرة من مصاحبة اهله''.

اسی طرح ہر مسلمان جو خدا و روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ ان کاموں سے بیزار ہے اور یہ کام تنہا منحرف اور گمراہ لوگوں کا ہے جس کا گناہ بھی انھیں کی گردن پر ہے اور اسے اسلام اور قرآن و سنت کی پیروی کرنے والے ہدایت یافتہ مسلمانوں کے حساب میں شمار نہیں کرنا چاہئے اس لئے کہ یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے جسے شریعت اسلام اور فطرت سلیم قبول کرنے کو تیار نہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات نے ان امور کو یقینی طور پر حرام قرار دیا ہے اور ان امور کے مرتکب افراد کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے منع فرمایا ہے

اور پھر اس اعلان میں ان آیات و روایات کو ذکر کیا گیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ اسلام ، محبت و دوستی ،نیکی میں ایک دوسرے سے تعاون ، منطقی و عقلی گفتگوکا حکم دیتا ہے اور تعصب و غصہ سے ممانعت فرماتاہے ۔


اور اس اعلان کے آخر میں خدا وند متعال کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا واسطہ دیتے ہوئے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں سے اس مصیبت کو دور کرے اور اسلامی ممالک کے سر براہوں کو ملک و ملت کو فائدہ پہنچانے کی توفیق دے تاکہ اس فساد کی جڑیں کاٹ سکیں ۔ اور خدا وند متعال اپنے دین کی مدد اور کلمہ ٔ حق کی سر بلندی کے لئے ان کی نصرت اور مسلمانوںکے امور کی اصلاح اور ان کے ذریعے سے حق کی مدد فرمائے اس لئے کہ خدا اس پر ولی و قادر ہے ۔ خدا کا درود و سلام ہو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی آل اور اصحاب پر۔( ۱ )

اس اعلان پر دستخط کرنے والی شخصیات :

مجلس کے چئرمین مفتی اعظم سعودی عرب عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز، صالح بن محمد بن اللحیان ، راشد بن صالح بن خنین ، محمد بن ابراہیم ابن جبیر، عبد اللہ بن سلیمان المنیع ،عبد اللہ بن عبد الرحمن الغدیان،صالح بن فوزان الفوزان، محمد بن صالح العثیمین ، عبد اللہ بن عبد الرحمن البسام ، حسن بن جعفر العتمی، عبد العزیزبن عبد اللہ بن محمد آل الشیخ،(یہ بن باز کے فوت ہونے کے بعد سعودی عرب کا مفتی ہوگا )ناصر ابن حمد الراشد، محمد بن عبد اللہ السبیل ، عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ ، محمد بن سلیمان البدر، عبد الرحمن بن حمزة المرزوقی، عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی، محمد بن زید آل سلیمان، بکر بن عبد اللہ ابو زید، عبد الوہاب بن ابراہیم ابو سلیمان ، صالح بن عبدا لرحمان الاطرم،

سعودی بادشاہ کا تکفیر کرنے والے وہابی مفتیوں پر حملہ

سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبد اللہ نے تکفیر کرنے والے مفتیوں کو گمراہ ،

____________________

(۱)اس اعلان کی اصلی کاپی بندہ (۲۰۰۴ ء میں سعودی عرب سے لے کر آیا تھا جسے فقیہ گرانقدر استاد محترم حضرت آیت العظمیٰ سبحانی کی خدمت میں پیش کیا اور انھوں نے اسے اپنی چار جلدوں پر مشتمل کتاب ( معجم طبقات المتکلمین ) کے صفحہ نمبر ۱۰۰ پر نقل کیا ہے اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اسے اپنی کتاب (وہابیت بر سر دوراہی) میں ذکر کیا ہے ۔چونکہ ان کا ترجمہ انتہائی سلیس تھا لہٰذا ہم نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسی کو نقل کیا ہے ۔


گمراہ کنندہ اور ان کے اس ارتکاب کو شرک سے بھی عظیم گناہ قرار دیا ہے ۔

ابناء سے نقل کرتے ہوئے شیعہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق (المجمع الفقھی برابطة العالم الاسلامی)کی انیسویں کانفرنس جو بارہ سے ۱ ٹھارہ آبان ۱۳۸۶ بمطابق ۲۰۰۷ ء میں تشکیل پائی اس میں شاہ عبد اللہ نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو ان گمراہ اور گمراہ کنندہ مفتیوں کے خلاف قیام کرنے کی دعوت دی ہے جنھوں نے امت مسلمہ کو قتل دھماکوں اور تکفیر جیسے عظیم فتنہ میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

شاہ عبداللہ نے تکفیر ی فتوی جاری کرنے والے وہابی شیوخ کو سیٹلائٹ اورانٹرنیٹ کے شیوخ کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ نادانی میں خدا پر بھی افتراء باندھتے ہیں اوران کا یہ کام عظیم ترین مصائب کا باعث اورکبیر ترین گناہوں بلکہ شرک باللہ سے بھی بدتر وبالاتر ہے ۔

شاہ عبد اللہ نے اپنے اس پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ بعض مفتی جو پلک جھپکنے کی دیر میں فتویٰ صادر کردیتے ہیں اگر چہ ان کو اپنی خطا کا علم بھی ہو جائے پھر بھی اپنا فتویٰ واپس لینے کو تیار نہیں ہوتے جب کہ یہ ان کے تکبر اور شیطان کے سامنے تسلیم ہونے کی علامت ہے ۔

کہا گیا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد ڈش اور انٹر نیٹ پر صادر کئے جانے والے فتوی کو باضابطہ بنایا تھا ۔( ۱ )

____________________

(۱)شیعہ نیوز ۵ آبان ۱۳۸۶ شمسی.


مفتی اعظم سعودیہ کا عراق میں ہونے والے خود کش دھماکوں کی مذمت کرنا

خبر گزاری مہر سے نقل کرتے ہوئے شیعہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مفتی شیخ عبد العزیز آل شیخ نے سعودی عرب میں منتشر ہونے والے ایک بیان میں عراق کے اندر ہونے والے مسلحانہ اور خود کش حملوں میں سعودی باشندوں کی شرکت کے بارے میں اظہار ناراحتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چہ یہ حملے قابض فوجوں سے مقابلہ کے بہانہ سے انجام دیئے جاتے ہیں لیکن اس کی قربانی عراق کی اکثریتی آبادی شیعہ لوگ بنتے ہیں ۔

اور کہا ہے :''کئی سالوں سے سعودی نوجوان خدا کی راہ میں جہاد کے بہانہ سے ملک سے خارج ہو رہے ہیں یہ نوجوان دین سے عشق و محبت تو رکھتے ہیں لیکن حق و باطل میں تشخیص کی قدر ت نہیں رکھتے ''

انہوں نے مزید کہا: یہ چیز باعث بن رہی کہ غیر ملکی طاقتیں جہاد کے بہانہ سے انھیں اپنا آلہ ٔ کار بناکر اپنے نجس اہداف تک پہنچ سکیں : یہاں تک کہ ہمارے نوجوان شرق و غرب کی تجارت کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں جس کا اسلام اور مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے ۔

اسی طرح اس سعودی مفتی نے یہ بھی کہا ہے : یہ نوجوان فریب کاری اور دھوکہ بازی کے نتیجہ میں ایسے کام انجام دیتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

شیخ عبد العزیز آل الشیخ نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کے سرمایہ دار لوگ عراق کے دہشت گردوں کی مالی حمایت کررہے ہیں اپنے ملک کے سرمایہ داروں سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ ان دہشت گردگروہوں کی مدد نہ کریں ۔

نیز کہا ہے کہ میں ان سرمایہ داروں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنا پیسہ خرچ کرنے میں احتیاط سے کام لیں تاکہ کہیں ان کا پیسہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث نہ بنے ۔( ۱ )

____________________

(۱)شیعہ نیوز ۱۰ مہر ۱۳۸۶ از خبر گزاری مہر.مطابق ۲۰۰۷ئ۔


فصل ششم

وہابی اور مسلمانوں پر بدعت کی تہمت

آئین وہابیت کی بدکاریوں میں سے بد ترین برائی یہ ہے کہ جو چیز ان کے افکار سے مطابقت نہ رکھتی ہو اسے بدعت اور شرک سمجھ بیٹھے ہیں کہ جس کی طرف اس فصل میں اشارہ کر رہے ہیں ۔

۱۔ میلاد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بدعت قراردینا :

سابق مفتی اعظم سعودی عرب لکھتا ہے :

''لا یجوز الاحتفال بمولد الرسول صلی الله علیه وسلم ولا غیره ؛ لان ذلک من البدع المحدثة فی الدین ، لان الرسول ]صلی الله علیه وسلم [لم یفعله ولاخلفاؤ ه الراشدون ولا غیرهم من الصحابة رضی الله عنهم ولا التابعون لهم باحسان فی القرون المفضلة '' .( ۱ )

____________________

(۱) مجموع فتاویٰ ومقالات متنوعة۱: ۸۳فتاویٰ اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳: ۱۸.


پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور کسی دوسرے شخص کا میلاد مناناجائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ دین میں ایجاد کی جانے والی بدعات میں سے ہے چونکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خلفائے راشدین ، دوسرے صحابہ یا تابعین میں سے کسی نے اسے انجام نہیں دیا ۔

۲۔ مدئن کے شروع میں مدئیِں:

سعودی عرب میں مجلس دائمی فتویٰ نے سوگواری کے مراسم کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے :

''لایجوز الاحتفال بمن مات من الانبیاء والصالحین ولا احیاء ذکراهم بالموالدو...لان جمیع ما ذکر من البدع المحدثة فی الدین ومن وسائل الشرک '' .( ۱ )

انبیاء و صالحین کی مجالس سوگواری اور ان کے یوم ولادت کی محافل بر پا کرناجائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ بدعت اور شرک کا وسیلہ ہیں ۔

۳۔ اذان سے پہلے یا بعد میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجنا:

سعودی عرب میں مجلس دائمی فتوی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجنے کے سوال کے جواب میں لکھا ہے :

''ذکر الصلاةوالسلام علی الرسول صلی الله علیه وسلم قبل الاذان ، وهکذا الجهر بها بعد الاذان ، مع الاذان ، من البدع

____________________

(۱) مجموع فتاویٰ ومقالات متنوعة۳: ۵۴ فتویٰ نمبر ۱۷۷۴


المحدثة فی الدین ، وقد ثبت عن النبی صلی الله علیه وسلم انه قال: ''من احدث فی امرنا هذا، مالیس منه فهو رد ''متفق علیه .و فی روایة : ''من عمل عملاً لیس علیه امرنا فهو رد''.راوه مسلم من فعل تلک البدعة ومن اقرها ومن لم یغیرها وهو قادر علی ذلک فهو آثم''.( ۱ )

اذان سے پہلے یا اس کے بعدپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )پر درود بھیجنا بدعت ہے جسے دین میں ایجاد کیا گیا ہے ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا:

اگر کوئی شخص ہمارے بیان کر دہ احکام میں کسی چیز کا اضافہ کرے تو وہ مردود ہے ۔

اسی طرح فرمایا اگر کوئی شخص ایسا عمل انجام دے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو اس کا یہ عمل قبول نہیں ہوگا ۔

سابق مفتی اعظم سعودی عرب بن باز نے بھی اسی طرح کا فتویٰ دیا ہے ۔(۲ )

وہابیوں کے مظالم کی فصل میں گذرچکا کہ مفتی مکہ مکرمہ زینی دحلان لکھتے ہیں :

وہابی منبر پر اور اذان کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )پردرود بھیجنے سے

____________________

(۱)مجموع فتاویٰ ومقالات متنوعة۲:۵۰۱ فتویٰ نمبر ۹۶۹۶.

(۲)فتاوٰی اسلامیة ۱: ۲۵۱.


منع کرتے ہیں ایک نابینا شخص نے اذان کے بعد درود پڑھا تو اسے محمد بن عبد الوہاب کے سامنے پیش کیا گیا اس نے درود بھیجنے کے جرم میں اس نابینا موذن کے قتل کا فتویٰ دے دیا ۔

زینی دحلان مزید لکھتے ہیں : اگر وہابیوں کی اس جیسی بد کاریوں کو زیر قلم لایا جائے تو کتابیں بھر جائیں۔( ۱ )

۴۔ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قبولیت کے قصد سے دعا کرنا :

سعودی عرب کی مجلس فتویٰ کا رکن شیخ صالح فوزان لکھتا ہے :

''من البدع التی تقع عند قبة الرسول صلی الله علیه وسلم کثرة التردد علیه ، کلما دخل المسجد ذهب یسلم علیه ، و کذلک الجلوس عنده ، ومن البدع کذلک ، الدعا ء عند قبر الرسول صلی الله علیه وسلم او غیره من القبور ، مظنة ان الدعاء عندها یستجاب '' .(۲ )

قبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس زیادہ رفت وآمد ، وہاں بیٹھنا ، آنحضرت پر سلام بھیجنا بدعت شمار ہوتا ہے اسی طرح قبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یاکسی اورکی قبرکے پاس اس نیت سے دعا کرناکہ شاید وہاں پہ قبول ہو جائے یہ بھی بدعت ہے.

____________________

(۱) فتنة الوہابیة :۲۰.

(۲)مجلة الدعوة :۳۷،شمارہ ۱۶۱۲.


۵۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قرآن یا نماز کا ثواب ہدیہ کرنا :

سعودی عرب کی مجلس دائمی فتوی نے لکھا ہے :

''لا یجوز اهداء الثواب للرسول صلی الله علیه وسلم ، لا ختم القرآن ولا غیره ، لان السلف الصالح من الصحابة رضی الله عنهم ، ومن بعدهم ، لم یفعلوا ذلک ، والعبادات توقیفیة '' .( ۱)

پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو ختم قرآن وغیرہ کا ثواب ہدیہ کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ صحابہ اور تابعین نے یہ کام نہیں کیا اور عبادات توقیفی ہیں ۔

۶۔قل خوانی :

سعودی عرب کے ایک مفتی شیخ عثیمین نے لکھا ہے :

''واما الاجتماع عند اهل المیت وقرائة القرآن ، وتوزیع التمر واللحم ، فکله من البدع التی ینبغی للمرء تجنّبها، فانه ربما یحدث مع ذلک نیاحة وبکاء وحزن ، وتذکر للمیت حتی تبقی المصیبة فی قلوبهم لا تزول وانا انصح هولاء الذین یفعلون مثل هذا ، انصحهم ان یتوبوا الی الله عزوجل '' .( ۲)

میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونااور اسی طرح میت کے لئے قرآن کی

____________________

(۱)فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء ۹: ۵۸ ، فتویٰ نمبر ۲۵۸۲.

(۲)فتاویٰ منا رالاسلام۱: ۲۷۰.


تلاوت کرنا ، کھجوریں اور گوشت تقسیم کرنا بدعت ہے جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے چونکہ یہ کام پسماندگان کے لئے غم و اندوہ ، گریہ اور نوحہ کا باعث بنتا ہے جس سے وہ اس مصیبت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ اور میں ایسے افرا دکو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسے کاموں سے دوری اختیارکریں اور خداوند متعال سے توبہ طلب کریں ۔

۷۔مردوںکو نماز کا ثواب ہدیہ کرنا :

سعودی عرب کی مجلس دائمی فتویٰ نے لکھا ہے :

''لا یجو زان تهب ثواب ما صلیت للمیت ؛ بل هو بدعة؛ لانه لم یثبت عن النبی صلی الله علیه وسلم ولاعن الصحابة رضی الله عنهم '' .( ۱ )

میت کو نماز کا ثواب ہدیہ کرنا بدعت ہے چونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے نقل نہیں ہوا ۔

۸۔ تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز:

سعودی مفتی شیخ عثیمین لکھتا ہے :

''اتخاذ الندوات والمحاضرات بآیات من القرآن دائماً کانها سنّة مشروعة ، فهذالا ینبغی'' (۲)

ہمیشہ تلاوت قرآن سے سنت سمجھ کر مجالس و محافل کا آغاز کرنا جائز نہیں ہے ۔

____________________

(۱)فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث الافتاء ۴: ۱۱ ؛ فتویٰ نمبر ۷۴۸۲.

(۲) نور علی الدرب :۴۳.


۹۔مل کر تلاوت قرآن یا دعاء کرنا

سعودی عرب کی مجلس دائمی فتویٰ نے لکھا ہے :

''ان قرأة القرآن جماعة بصوت واحد بعد کل من صلاة الصبح والمغرب او غیرهما بدعة، وکذا التزام الدعا ء جماعة بعد الصلاة'' .(۱)

ایک جگہ جمع ہو کر صبح یا مغرب کی نماز کے بعد ایک آواز میں مل کر قرآن کی تلاوت اور دعا کرنا بدعت ہے ۔

۱۰۔تلاوت قرآن کے بعد صد ق اللہ العظیم کہنا:

سعودی عرب کی مجلس دائمی فتویٰ نے لکھا ہے :

''قول صد ق الله العظیم بعد الانتها من قراء ة القرآن بدعة'' (۲)

تلاوت قرآن کے بعد''صدق اللّٰه العظیم '' کہنا بدعت ہے ۔

سعودی مفتی شیخ عثیمین نے بھی اسی طرح کافتویٰ دیا ہے:(۳ )

____________________

(۱)فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث و الافتاء ۳: ۴۸۱، فتویٰ نمبر ۴۹۹۴.

(۲)فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء ۴: ۱۴۹ ، فتویٰ نمبر ۳۳۰۳.

(۳)ختم التلاوة به ای بقول (صدق الله العظیم ) غیر مشروع ولا مسنون ، فلایسن للانسان عند انتهاء القرآن الکریم ان یقول : (صد ق الله العظیم ) فتاوی اسلامیہ۴: ۱۷


۱۱۔خانہ کعبہ کے غلاف کو مس کرنا :

سعودی مفتی شیخ عثیمین لکھتا ہے :

''التبرک بثوب الکعبة والتمسح به من البدع ؛ لان ذلک لم یرد عن النبی صلی الله علیه وسلم '' .(۱)

خانہ کعبہ کے غلاف کو متبرک سمجھنا اور اس کو مس کرنا بدعت ہے چونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے اس بارے میں نقل نہیں ہوا ۔

۱۲۔ تسبیح کے ساتھ ذکر کرنا :

سابق مفتی اعظم سعودی عرب بن باز نے لکھا ہے :

''لا نعلم اصلا فی الشرع المطهّر للتسبیح بالمسبّحة ، فالاولیٰ عدم التسبیح بها، والاقتصار علی المشروع فی ذلک ، وهو التسبیح بالانامل '' .(۲)

____________________

(۱) مجموع الفتاویٰ ابن عثیمین ، فتویٰ ۳۶۶.

(۲) فتاویٰ الاسلامیة ۲: ۳۶۶.


تسبیح کے ساتھ ذکر کرنا شریعت میں بیان نہیں ہوا لہٰذا بہتریہ ہے کہ شرعی طریقہ کو اپنا جائے اور وہ ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح پڑھنا ہے ۔

اے کاش! اس سے یہ بھی سوال کیا جاتا کہ چمچہ کے ساتھ کھانا کھانا، گاڑی اور جہاز میں سفر کرنا بھی شریعت میں بیان ہوا ہے یا نہیں ؟

۱۳۔ سالگرہ منانا:

وہابی مفتی شیخ عثیمین لکھتا ہے :

''ان الاحتفال بعید المیلاد للطفل ، فیه تشبه باعداء الله ؛ فان هذه العادة لیست من عادات المسلمین ،وانما ورثک من غیرهم وقد ثبت عنه صلی الله علیه وسلم :'' ان من تشبه بقوم فهو منهم'' .(۱)

بچوں کا برتھ ڈے منانا اسلامی عادات میں سے نہیں ہے بلکہ یہ دشمنوں سے میراث میں ملا ہے ۔ اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے فرمایا ہے : جو کسی قوم سے شباہت اختیار کرے گا وہ انھیں کے ساتھ محشور ہوگا ۔

دوسری جگہ لکھا ہے :

''واما اعیاد المیلاد للشخص او اولاده او مناسبة زواج ونحوها، فکلها غیر مشروعة وهی البدعة اقرب من الاباحة'' .(۲)

____________________

(۱) فتاویٰ منار الاسلام ۱: ۴۳. (۲)مجموع فتاویٰ ورسائل ابن عثیمین ۲: ۳۰۲.


اگر کوئی شخص اپنا یا اپنے بچوں کا بر تھ ڈے منائے یا شادی کی سالگرہ منائے تو اس نے خلاف شریعت کام کیا اور یہ کام بدعت سے نزدیک تر ہے ۔

سعودی عرب کی مجلس دائمی فتویٰ نے بڑتھ ڈے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے :

''اعیاد الموالد نوع من العبادات المحدثةفی دین الله فلا یجوز عملها لای من الناس مهما کان مقامه او دوره فی الحیاة '' (۱ )

برتھ ڈے ایک طرح کی عبادت ہے جسے دین میں اضافہ کیا گیا ہے لہٰذا کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے چاہے وہ معاشرے کی کتنی ممتاز شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔

____________________

(۱)فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء ۳ ۸۳ ،فتوٰی نمبر ۲۰۰۸.


بدعت کے بارے میں وہابی افکار کی رد

بدعت کے صحیح مفہوم کا درک نہ کرنا :

بدعت کے بارے میں وہابیوں کا جو نظریہ بیان کیا گیا اس کے متعلق حسن ظن رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے بدعت کے صحیح مفہوم کو نہ سمجھا جس کی وجہ سے تو ہم کا شکار ہو گئے اور ہروہ چیز جو ان کے افکار کے مخالف ہو اسے بدبینی کی عینک سے دیکھتے ہوئے بدعت قرار دے دیتے ہیں ۔ لہٰذا پہلے ہم بدعت کے لغوی معنی کو بیا ن کریں گے اور اس کے بعد قرآن و سنت کی رو سے بدعت کے بارے میں تحقیق کریں گے ۔

بدعت کالغوی معنیٰ:

جوہری لکھتا ہے :

''انشاء الشیء لا علی مثال السابق ، واختراعه وابتکاره بعد ان لم یکن ...'' .( ۱ )

بدعت کا معنی ایک بے سابقہ چیز کا اختراع کرنا ہے جس کا نمونہ پہلے موجود نہ ہو

یقینا آیات و روایات میں بدعت کے اس معنی کو حرام قرار نہیں دیا گیا اس لئے کہ اسلام انسانی زندگی میں نئی ایجادات کا مخالف نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کی تائید کرتا ہے جو ہمیشہ انسان کو اس کی انفرادی واجتماعی زندگی میں نئی ایجادات کی راہنمائی کرتی ہے ۔

بدعت کا شرعی معنیٰ :

دین میں بدعت کے جس معنی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے وہ دین میں کسی شے کو دین سمجھ کر کم یا زیادہ کرنا ہے اور یہ معنیٰ اس لغوی معنیٰ سے بالکل جدا ہے جسے بیان کیا گیا ۔

راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

''والبدعة فی المذهب : ایراد قول لم یستن قائلها وفاعلها فیه

____________________

(۱) الصحاح ۳: ۱۱۳ ؛ لسان العرب ۸: ۶؛ کتاب العین ۲: ۵۴


بصاحب الشریعة واماثلها المتقدمة واصولها المتقنة '' .( ۱ )

دین میں بدعت ہر وہ قول و فعل ہے جسے صاحب شریعت نے بیان نہ کیا ہو اور شریعت کے محکم و متشابہ اصول سے بھی نہ لیا گیا ہو ۔

ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں :

''والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة ، والمراد بها : ما احدث ولیس له اصل فی الشرع ویسمیه فی عرف الشرع بدعة ، وماکان له اصل یدل علیه الشرع فلیس ببدعة '' .( ۲ )

ہر وہ نئی چیز جس کی دین میں اصل موجود نہ ہو اسے شریعت میں بدعت کہا جاتا ہے اور ہر وہ چیز جس کی اصل پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو اسے بدعت نہیں کہا جائے گا ۔

یہی تعریف عینی نے صحیح بخاری کی شرح( ۳ ) ،مبارکپوری نے صحیح ترمذی کی شرح( ۴ ) ، عظیم آبادی نے سنن ابی داؤد کی شرح( ۵ ) اور ابن رجب حنبلی نے جامع العلوم میں ذکر کی ہے۔( ۶ )

____________________

(۱) مفردات الفاظ القرآن :۳۹.

(۲) فتح الباری ۱۳: ۲۱۲.

(۳) عمدة القاری ۲۵: ۲۷.

(۴)تحفة الاحوذی ۷: ۳۶۶

(۵)عون المعبود ۱۲: ۲۳۵

(۶) جامع العلوم والحکم :۱۶۰طبع ہند


شیعہ متکلم و فقیہ نامور سید مرتضیٰ بدعت کی تعریف میں لکھتے ہیں :

''البدعة زیادة فی الدین أو نقصان منه ،من اسناد الی الدین'' ( ۱ )

بدعت ،دین میں کسی چیز کا دین کی طرف نسبت دیتے ہوئے کم یا زیادہ کرناہے ۔

طریحی کہتے ہیں :

''البدعة: الحدث فی الدین ، ومالیس له اصل فی کتاب ولا سنة ، وانما سمیت بدعة؛ لان قائلها ابتدعها هو نفسه '' ( ۲ )

بدعت، دین میں ایسا نیا کام ہے جس کی قرآن و سنت میں اصل موجود نہ ہو اور اسے بدعت کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ بدعت گذار اسے اپنے پاس سے اختراع کرتا ہے ۔

بدعت کے ارکان

گذشتہ مطالب کی بناء پر بدعت کے دو رکن ہیں :

۱۔ دین میں تصرف:

دین میں کسی بھی قسم کا تصرف چاہے وہ اس میں کسی چیز کے زیادہ کرنے سے

____________________

(۱)رسائل شریف مرتضیٰ ۲: ۲۶۴، ناشر دار القرآن الکریم قم

(۲)مجمع البحرین ۱: ۱۶۳ ، مادہ بَدَع َ.


ہو یا اس میں کسی چیز کے کم کرنے سے مگر اس شرط کے ساتھ کہ تصرف کرنے والا اپنے اس عمل کو خدا یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف نسبت دے۔

لیکن انسانی طبیعت کے تنوع کی خاطر نئی ایجادات جیسے فٹ بال ، والی بال ، باسکٹ بال وغیرہ بدعت نہیں کہلائیں گے ۔

۲۔ کتاب میں اس کی اصل کا نہ ہونا :

بدعت کی اصطلاحی و شرعی تعریف کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی ایجادات اس صورت میں بدعت قرار پائیں گی جب منابع اسلامی میں ان کے بارے میں کوئی دلیل خاص یا عام موجود نہ ہو ۔

جب کہ ایسی نئی ایجادات جن کی مشروعیت کو بطور خاص یا عام قرآن و سنت سے استنباط کرنا ممکن ہو انھیں بدعت کا نام نہیں دیا جائے گا جیسے اسلامی ممالک کی افواج کوجدید اسلحہ سے لیس کرنا کہ جس کے جواز پر بعض قرآنی آیات کے عموم سے استنباط کیا جا سکتا ہے مانند :

( وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ ﷲ وَعَدُوَّکُمْ... ) ( ۱ )

ترجمہ : اور ( مسلمانو!) ان کفار کے ( مقابلہ کے ) واسطے جہاں تک تم سے ہو سکے ( اپنے بازو کے ) زور سے اور بندھے ہوئے گھوڑوں سے ( لڑائی کا )

سامان مہیا کرو اس سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن پر دھاک بٹھا لو گے ۔

اس آیت شریفہ میں( ( وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ) جہاں تک ہو سکے اپنی طاقت بڑھاؤ ) کے حکم عام سے اسلامی افواج کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کرنے کا جواز ملتا ہے ۔(۲)

____________________

(۱)سورۂ انفال : ۶۰.

(۲) وہابیت ، مبانی فکری وکارنامۂ عملی :۸۳، تالیف آیت اللہ سبحانی ، خلاصہ اور تصرف کے ساتھ


بدعت قرآن کی رو سے

۱۔ قانون گذاری کا حق فقط خدا ہی کو ہے :

قرآن کی رو سے تشریع اور قانون گذاری کا حق فقط اور فقط خدا وند متعال کو ہے اور کوئی دوسرا اس کے اذن کے بغیر قانون وضع کر کے اس کے اجراء کرنے کا حکم نہیں دے سکتا ۔

( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ َأکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ) (۱)

ترجمہ : حکم تو بس خدا ہی کے واسطے خاص ہے اس نے تو حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔یہی سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں ۔

( أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ ِیَّاهُ ) کے قرینہ سے پتہ چلتا ہے کہ لفظ ( الحکم ) سے مراد قانون گذاری ہے ۔

____________________

(۱) سورۂ یوسف :۴۰


۲۔ انبیاء کو بھی شریعت میں تبدیلی کا حق نہیں :

رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا وظیفہ شریعت الٰہی کو لوگوں تک پہنچا نا اور اسے اجراء کرنا ہے وگرنہ احکام اسلام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کفار کی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے اس درخواست کہ۔ آپ اپنے دین میں تبدیلی لائیں یا ایسا قرآن لے کرآئیں جو ہماری مرضی کے مطابق ہو ۔ کے جواب میں خد اوند متعال نے اپنے نبی کوحکم دیا :

( قُلْ مَا یَکُونُ لِی أَنْ ُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِی إِنْ َتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ إِنِّی أَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ ) ( ۱ )

ترجمہ( اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !) تم کہہ دو کہ مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں اسے اپنے جی سے بدل ڈالوں ۔ میں تو بس اسی کا پابند ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے میں تو اگر اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو بڑے ( کٹھن کے )دن سے ڈرتاہوں ۔

۳۔ قرآن میں رہبانیت کی بدعت کی مذمت :

خداوند متعال نے عیسائیوں کی رہبانیت جسے انھوں نے بندگا ن خدا کی راہ پر جال کے طور پر بچھا رکھا ہے اسے بدعت اور خلاف شریعت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت فرمائی ہے :

( رَهْبَانِیَّةً ابْتَدَعُوهَامَا کَتَبْنَاهَا عَلَیْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَائَ رِضْوَانِ ﷲ

____________________

(۱)سورۂ یونس : ۱۵.


فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا فَآتَیْنَا الَّذِینَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَکَثِیر مِنْهُمْ فَاسِقُونَ ) ( ۱ )

ترجمہ : اور رہبانیت ( لذت سے کنارہ کشی ) ان لوگوں نے خو دایک نئی با ت نکالی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر ( ان لوگوں نے ) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ( خو دایجاد کیا) تو اس کو بھی جیسا نبھانا چاہئے تھا نہ نبھا سکے ۔ تو جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے اجر دیا ور ان میں بہت سے بد کار ہیں ۔( ۲ )

۴۔بدعت ، خدا کی ذات پر تہمت لگانا ہے :

خداوند متعال نے مشرکین کو دین میں بدعت ایجاد کرنے اور اسے خدا کی طرف نسبت دینے کی وجہ سے سخت مذمت کرتے ہوئے فرمایا :

( قُلْ َرَأَیْتُمْ مَاأ َنْزَلَ ﷲ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ أَﷲ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی ﷲ تَفْتَرُونَ ) ( ۳ )

ترجمہ ( اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! ) تم کہہ دو کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ خدا نے تم پر روزی نازل کی تو اب اس میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال بنانے لگے ۔ (اے

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !) تم کہہ دو کہ کیا خد انے تمہیں اجازت دی ہے یا تم خداپر بہتان باندھتے ہو

____________________

(۱) سورۂ حدید: ۲۷.

(۲) تفسیر نمونہ ۲۳: ۳۸۲.

(۳) سورۂ یونس : ۵۹.


۵۔ بدعت ، خدا کی ذا ت پر جھوٹ باندھنا ہے :

ایک اور آیت شریفہ میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

( وَلاَتَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ هَذَا حَلاَل وَهَذَا حَرَام لِتَفْتَرُوا عَلَی ﷲ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی ﷲ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُونَ ) ( ۱ )

ترجمہ : او رجھوٹ موٹ جو کچھ تمہاری زبان پرآئے ( بے سمجھے بوجھے ) نہ کہہ بیٹھا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ اس کی بدولت خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو ۔ اس میں شک نہیں کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے ۔

____________________

(۱) سورۂ نحل : ۱۱۶.


بدعت ، روایات کی روشنی میں

جس طرح قرآن مجید نے بدعت گذاروں کی شدید مذمت کی ہے اور ان کے اقوال کو حقیقت سے دور ، جھوٹ اور تہمت پرمبنی قرا ردیا ہے اسی طرح شیعہ و سنی کتب کے اندر موجودہ روایات میں بھی بدعت گذارکی مذمت اور ا سے فاسق وبدکار انسان قرار دیا گیا ہے ، نمونہ کے طور پر چند ایک روایات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

۱۔ہر بدعت مردود ہے :

اہل سنت کی دو معتبر کتب صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا قول نقل کیا گیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''من احدث فی امرنا هذا، مالیس فیه فهو رد'' .( ۱ )

جو شخص ہماری لائی ہوئی شریعت میں ایسی چیز کا اضافہ کرے جو اس میں نہ ہو تو وہ مردود ہے ۔

''...من عمل عملا لیس علیه امرنا فهو رد'' .( ۲ )

جو شخص ایسا عمل کرے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ۔

صحیح مسلم میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا فرمان نقل کیا گیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

بہترین کلام ، کلام خدا ہے اور بہترین ہدایت ، ہدایت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے اور بد ترین کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

۲۔ہر بدعت گمراہی ہے :

صحیح مسلم میں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا فرمان بیان کیا گیا ہے :

____________________

(۱)صحیح بخاری ۳:۱۶۷ ؛ کتاب الصلح ، باب قول الامام لا صحابہ ...؛ صحیح مسلم ۵: ۱۳۲ ، کتاب الاقضیة ، باب بیان خیر الشھود

(۲)صحیح بخاری ۳: ۲۴ ،کتاب البیوع ، باب کم یجوز الخیار؛ صحیح مسلم ۵:۱۳۲، کتاب الاقضیة ، باب بیان خیر الشھود


''فان خیر الحدیث کتاب الله وخیر الهدیٰ هدی محمد و شر ا لا مور محدثا تها وکل بدعة ضلالة '' .( ۱ )

بہترین کلام ، کلام خدا ہے اور بہترین ہدایت ، ہدایت پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے اور بد ترین امور بدعات ہیں جو دین میں ایجاد کی جاتی ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

سنن نسائی میں ہے :

''کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار '' ( ۲ ) ہربدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا راستہ جہنم ہے ۔

ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں :پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا یہ فرمان :'' کل بدعة ضلالة'' ہر بدعت گمراہی ہے ۔

منطوق و مفہوم یعنی ظاہر اور دلالت کے اعتبار سے ایک قاعدہ ٔ کلی ہے اس لئے کہ اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جہاں بھی بدعت پائی جائے وہ گمراہی ہے اور شریعت سے خارج ہے اس لئے کہ پوری کی پوری شریعت ہدایت ہے اس میں گمراہی کا کوئی امکان نہیں ۔

اگر ثابت ہو جائے کہ فلاں حکم بدعت ہے تو منطق کے اعتبار سے یہ دو

____________________

(۱)صحیح مسلم ۳: ۱۱ کتاب الجمعة ، باب تخفیف الصلاة والجمعة.

(۲)سنن نسائی ۳: ۱۸۸ ؛ جامع الصغیر سیوطی ۱:۲۴۳؛ صحیح ابن خزیمہ ۳: ۱۴۳ ؛ دیباج علی مسلم ۱: ۵.


مقدمے (یہ حکم بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ) صحیح ہیں جن کا نتیجہ یہ حکم گمراہی اور دین سے خارج ہے ۔ خود بخود ثابت ہو جائے گا ۔

اورا س جملہ ''کل بدعة ضلالة '' سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد ہر وہ نیا کام ہے جس پر شریعت میں کوئی دلیل خاص یا عام موجود نہ ہو ۔( ۱ )

روایات شیعہ کی روشنی میں بدعت

کتب شیعہ میں بھی بدعت کی مذمت اور اس سے جنگ کرنے کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

۱۔ بدعت ،سنت کی نابودی کا باعث :

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :''ما احدثت بدعة الا ترک بها سنة (۲) جب بھی کوئی بدعت ایجا د ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ایک سنت نابود ہو جاتی ہے ۔

۲۔ بدعت گذار پر خدا ، ملائکہ اور لوگوں کی لعنت ہے :

امام محمد باقر علیہ السلام پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

____________________

(۱)کل بدعت ضلاله ،قاعدة شرعیه کلیة بمنطوقهاومفهومهااما منطوقها فکان یقال حکم کذابدعة وکل بدعةضلالة فلاتکون من الشرع لان الشرع کله هدی فان ثبت ان الحکم المذکوربدعة صحت المقدمات وانتجتاالمطلوب والمرادبقوله ،کل بدعة ضلالة ، مااحدث ولادلیل له من الشرع بطریق خاص ولاعام ، فتح الباری ۱۳:۲۱۲

(۲)نہج البلاغہ ، خطبہ :۱۴۵ ؛ مستدرک الوسائل ۱۲: ۳۲۴؛ بحار الانوار۲: ۲۶۴.


''من احدث حدثا ، او آوی محدثا ، فعلیه لعنة الله ، والملائکة ، والناس اجمعین ، لا یقبل منه عدل ولا صرف یوم القیامة ...'' (۱ )

جو شخص بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعت گزار کو پناہ دے ( اس کے لئے امکانات فراہم کرے ) اس پر خدا ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے او ر اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا

۳۔ بدعت گزار کے ساتھ ہم نشینی کی ممانعت :

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

''لا تصبحوا اهل البدع ولاتجالسوهم فتصیروا عند الناس کواحد منهم ، قال رسول الله ( صلی الله علیه وسلم ) : المرء علی دین خلیله وقرینه'' ( ۲ )

بدعت گزار وں کے ساتھ مت اٹھو بیٹھو کہ کہیں تمہیں بھی لوگ انھیں میں شمار نہ کرنے لگیں چونکہ انسان اپنے دوست کا ہم مذہب ہوتا ہے ۔

۴۔ اہل بدعت سے بیزاری واجب ہے :

امام جعفر صادق علیہ السلام نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے نقل

____________________

(۱)وسائل الشیعہ ۲۹: ۲۸؛ بحار الانوار۲۷: ۶۵؛ سنن ابو داؤد ۲: ۲۷۵، طبع دار الفکر للطباعة بیروت ؛ سنن نسائی ۸:۲۰ ، طبع دار الفکر للطباعة بیروت ۔

( ۲)اصول کافی ۲: ۳۷۵ ۳، باب مجالسة اہل المعاصی۔


کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''واذا رائیتم اهل الریب والبدع من بعدی فاظهروا البراء ة منهم واکثروا من سبهم والقول فیهم والوقیعة..'' ( ۱)

اگر میرے بعد اہل شک اور بدعت گزاروں کو دیکھو تو ان سے بیزاری و نفرت کا اظہار کرو ان پر سب وشتم کرو اور ان کی برائی کو بیان کرو ( تاکہ معاشرے میں ان کا مقام گر جائے اور ان کی بات کی اہمیت نہ رہے )

۵۔بدعت گذار کا احترام ، دین کی نابودی:

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

''من تبسم فی وجه مبتدع فقد اعان علی هدم دینه '' ( ۲ )

جو شخص بدعت گذار کے سامنے اظہار تبسم کرے اس نے دین کی نابودی میں اس کی مدد کی ہے ۔

نیز فرمایا:''من مشیٰ الی صاحب بدعة فوقره فقد مشی فی هدم الاسلام '' .( ۳ )

جو شخص بدعت گذار کی ہمراہی اور ا س کا احترام کرے درحققیت اس نے دین اسلام کی نابودی کی طرف ایک قدم بڑھایا ۔

____________________

(۱)اصول کافی ۲: ۴۳۷۵، باب مجالسة اہل المعاصی

(۲) بحار الانوار۴۷: ۲۱۷،مناقب ابن شہر آشوب ۳: ۳۷۵ ؛ مستدرک الوسائل ۱۲: ۳۲۲.

(۳)محاسن برقی ۱: ۲۰۸ ؛ ثواب الاعمال شیخ صدوق : ۲۵۸؛ من لا یحضرہ الفقیہ ۳: ۵۷۲؛ بحار الانوار۲:۳۰۴.


۶۔ بدعت کا مقابلہ کرنے کاحکم :

مرحوم کلینی (رحمة اللہ علیہ )نے محمد بن جمہور کے واسطے سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''اذا ظهرت البدع فی امتی فلیظهر العالم علمه ، فمن لم یفعل فعلیه لعنة الله '' ۔( ۱ )

ترجمہ: جب میری امت میں بدعات ظاہر ہونے لگیں تو علماء پر واجب ہے کہ وہ اپنے علم کا اظہار کریں ( اور اس بدعت کا راستہ روکیں ) پس جو ایسا نہ کرے اس پر خدا کی لعنت ہے ۔

کیا بزرگان دین کی یاد منانا بدعت ہے ؟

اس فصل کے شروع میں بیان کر چکے کہ وہابی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے میلاد اور انکی وفات کے سوگ منانے کو بدعت قرار دیتے ہیں ۔

سابق سعودی مفتی اعظم بن باز کا فتویٰ بھی نقل کرچکے کہ وہ کہتا ہے :

میلاد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جائز نہیں ہے چونکہ دین میں بدعت شمار ہوتا ہے اس لئے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ و تابعین نے یہ کام انجام نہیں دیا :( ۲ )

اسی طرح سعودی عرب کی مجلس دائمی فتویٰ نے مراسم سوگواری کے بارے میں سوال کے جواب میں لکھا ہے :

انبیاء و اولیاء کی وفات کی یاد مانا جائز نہیں ہے چونکہ یہ دین میں بدعت اور شرک کا وسیلہ ہے ۔(۳)

____________________

(۱)اصول کافی ۱: ۲۵۴،باب البدع.

( ۲)لایجوز الاحتفال بمولد الرسول الله صلی الله علیه وسلم ولا غیره ؛ لان ذلک من البدع المحدثة فی الدین ، لان الرسول (ص)لم یفعله ولاخلفاؤه الراشدون ولا غیرهم من الصحابة رضی الله عنهم والتابعون لهم باحسان فی القرون المفضلة ''مجموع فتاوی ومقالات متنوعة ۱:۱۸۳ وفتاوی اللجنة الدایمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳: ۱۸.

(۳)لا یجوز احتفال بمن مات من الانبیاء والصالحین والاحیاء ذکراهم بالموالد و...لان جمیع ماذکر من البدع المحدثة فی الدین ومن وسایل الشرک ''.فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳:۵۴ ، فتوای شماره ۱۷۷۴


انبیاء کے میلاد کا قرآن سے اثبات

گذشتہ مطالب سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی یاد منانے پر قرآن و سنت میں ایسے اطلاقات و عمومات موجود ہیں جو اس کی مشروعیت کو ثابت کرتے ہیں ۔

۱۔یہ درحقیقت تعظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے :

خداوند متعال فرماتا ہے :

( فَالَّذِینَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی أُنزِلَ مَعَهُ أوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ ) ( ۲ )

ترجمہ : ...پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کا حترام کیا اس کی مدد کی اور

____________________

(۲) سورۂ اعراف: ۱۵۷.


اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی درحقیت فلاح یافتہ اورکامیاب ہیں ۔

جب جملہ (وَعَزَّرُوہُ )سے بطور کلی تعظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ثابت ہوتی ہے تومیلاد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جشن اور اس کی خوشی بھی تعظیم و تکریم نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک مصداق ہے ۔

۲۔ یہ اجر رسالت ہے :

( قُلْ لاَأَسْأَلُکُمْ عَلَیْها َجْرًا ِالاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی ) ( ۱ )

ترجمہ : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! ان سے کہہ دو کہ میں تم سے اجر رسالت نہیں چاہتا مگر یہ کہ میرے اہل بیت سے محبت کرو ۔

خداوند متعال نے اس آیت شریفہ میں اہل بیت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے محبت ودوستی کو اجر رسالت قرار دیا ہے تو اہل بیت علیہم السلام کی ہر طرح کی تعظیم و تکریم چاہے وہ ان کی ولادت کے دن خوشی مناکر ہویا ان کی شہادت کے ایام میں عزاداری کی مجالس برپا کرکے یہ سب حکم خدا پر لبیک کہتے ہوئے ان سے محبت و مودت کا اظہار کرنا ہے ۔

۳۔ میلاالنبی بھی جشن نزول مائدہ کے مانند:

قابل غور نکتہ آسمانی دسترخوان کے نزول کی مناسبت سے بنی اسرائیل کی

____________________

(۱) سورۂ شوریٰ:۲۳.


سالانہ عید کے جشن کی داستان ہے جس کے بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے :

( اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَائِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ ) ( ۱ )

ترجمہ: پروردگار ! ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل کردے کہ ہمارے اول وآخر کے لئے عید ہو جائے اور تیری قدرت کی نشانی بن جائے اور ہمیں رزق دے کہ تو بہترین رزق دینے والا ہے ۔

جب نزول مائدہ جیسی عارضی نعمت سالانہ عیدبن سکتی ہے تو پھر ولادت وبعثت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )جو بشریت کے لئے نعمت جاودانہ ہے وہ کیسے عید اور خوشی کا باعث نہیں بن سکتی ۔

سعودی عرب کی قومی عیدیں

تعجب آور بات تو یہ ہے کہ اسی مجلس نے سعودی عرب کی سرکاری عیدوں کے بارے میں لکھا ہے :

''وماکان المقصود منه ( العید ) تنظیم الاعمال مثلا لمصلحة الامة وضبط امورها ؛ کاسبوع المرور ، وتنظیم مواعید الدراسیة والاجتماع الموظفین للعمل ونحوذلک ، مما یفضی به الی

____________________

(۱)سورۂ مائدہ: ۱۱۴.


التقرب والعبادة والتعظیم بالاصالة ، فهو من البدع العادیة التی لا یشملها قوله صلی الله علیه وسلم احدث فی امرنا ما لیس منه فهو رد ، فلا حرج فیه ؛ بل یکون مشروعاً '' ( ۱ )

اگر ان عیدوں کے منانے کا مقصد قوم کی مصلحت اور ان کے امور کی تنظیم ہو جیسے ہفتہ پولیس ، تعلیمی سال کا آغاز ، سر کاری ملازموں کا اجتماع وغیرہ جن میں عبادت اور تقرب خدا کا قصد نہیں کیا جاتا تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور یہ نہی پیغمبر میں شامل نہیں ہوں گی ۔

واضح ہے کہ ایسا تفکر ، فکری جمود کی انتہاء ہے اس لئے کہ اگر چہ جشن ولادت کی مخالفت ایک فطری امر کی مخالفت کرنا ہے بلکہ جشن ولادت اور سرکاری جشن میں کوئی فرق نہیں ہے چونکہ اپنی اولاد کی ولادت کی خوشی منانے والا شخص ہر گز عبادت یا تقرب خداکا ارادہ نہیں کرتا ( تاکہ اس کا یہ جشن منانا بدعت قرار پائے )۔

____________________

(۱) فتاویٰ اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳: ۸۸، فتویٰ ۹۴۰۳.


فصل ہفتم

انبیاء واولیاء سے توسل کا حرام قراردینا

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کے بارے میں وہابیوں کے نظریات

۱۔ ابن تیمیہ کانظریہ

مسلمانوں پر وہابیوں کے اعتراضات میں سے بنیادی ترین اعتراض ان کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور اولیائے خدا سے توسل کرنے کے بارے میں ہے جسے بہانہ بناکر وہ مسلمانوں پر شرک کی تہمت لگاتے ہیں ۔

مفکر وہابیت ابن تیمیہ کہتا ہے :

''من یاتی الی قبر نبی او صالح، ویساله حاجته ،ویستنجده ، مثل ان یساله ان یزیل مرضه ، او یقضی دینه ، او نحو ذلک مما لا یقدر علیه الا الله فهذا شرک صریح ، یجب ان یستتاب صاحبه، فان تاب والاقتل .وقال: قول کثیر من الضلال: هذااقرب الی الله منی :. وانا بعید من الله لایمکننی ان ادعوه الا بهذه الواسطة ونحو ذلک من اقوال المشرکین ''.( ۱ )

اگر کوئی شخص قبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )یا کسی ولی کی قبر کے پاس اس سے حاجت طلب کرے مثلاً اپنی بیماری کی شفا یا قرض کی ادائیگی کی درخواست کرے جس پر خدا کے سوا کوئی قادر نہیں تو یہ واضح شرک ہے لہٰذا ایسے شخص کو توبہ پرآمادہ کیا جائے اگر توبہ کرلے تو صحیح ورنہ اسے قتل کر دیا جائے ۔نیز کہا ہے :جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم فلاں کو اس لئے واسطہ بناتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ خدا کے قریب ہے تو یہ بات شرک اور اس کا کہنے والا مشرک ہے ۔

۲۔ نظریہ محمد بن عبد الوہاب:

مجدد افکار ابن تیمیہ محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے :

''وان قصدهم الملائکة والانبیاء ، والاولیاء یریدون شفاعتهم والتقرب الی الله بذلک ، هو الذی احل دماء هم واموالهم '' .( ۲ )

____________________

(۱) زیارة القبور والاستنجادبالمقبور :۱۵۶؛ الھدیة السنیة : ۴۰؛کشف الارتیاب :۲۱۴.

(۲)کشف الشبہات ، ص ۵۸، ط، دار العلم بیروت و مجموع مؤلفات الشیخ محمد بن الوہاب ۶: ۱۱۵، رسالة کشف الشبہات


یہ لوگ ملائکہ ، انبیاء اورا ولیاء سے شفاعت طلب کرتے ہیں اور انھیں تقرب خدا کا وسیلہ قرار دیتے ہیں یہی چیز ان کے مال کے حلال اور قتل کے جائز ہونے کا باعث بنی ہے ۔

محمد بن عبد الوہاب نے شاہ فہد کے دادا محمد بن سعود سے کئے ہوئے معاہدہ کو پورا کرنے کی خاطریہ اعلان کیا :

جو شخص انبیاء و اولیاء کو واسطہ قرار دے اور ان سے شفاعت طلب کرے اس کا مال و جان مباح ہے ۔(..)

دوسری جگہ لکھا ہے :

''من ظن ان بین الله وبین خلقه وسائط ترفع الیهم الحوائج فقد ظن بالله سوء الظن '' .( ۱ )

جو شخص یہ گمان کرے کہ خدا اور مخلوق کے درمیان واسطے موجود ہیں جو ان کی حاجات کو خدا تک پہنچاتے ہیں تو اس نے خد اکے بارے میں سوء ظن کیا ۔

''ان محمداصلی الله علیه وسلم ، لم یفرّق بین من اعتقد فی الاصنام ومن اعتقد فی الصالحین ؛ بل قاتلهم کلهم وحکم بکفرهم '' ( ۲ )

____________________

(۱) مجموعہ مولفات شیخ محمدبن عبد الوہاب ۵: ۲۴۱.

(۲)حوالہ سابق ۶: ۱۴۶.


محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )بت پرستوں اور اولیاء کو وسیلہ قرار دینے والوں میں فرق نہ کرتے بلکہ ان سب کوکافر قرار دے کرا ن سے جنگ کا حکم صادر فرمایا:

''لا یصح دین الاسلام الا بالبرأة ممن یتقرب الی الله بالصلحاء و تکفیر هم '' ( ۱ )

کسی شخص سے اس وقت تک اسلام قبول نہ ہو گا جب تک وہ صالحین کو تقرب خدا کا واسطہ بنانے والوں سے بیزاری کا اعلان اور انھیں کافر نہ سمجھ لے ۔

''من عبد الله لیلا ونهارا ثم دعا نبیاً او ولیاً عند قبره ، فقد اتخذ الهین اثنین ، ولم یشهد ان لا اله الا الله ؛ لان الا له هو الموعد '' .( ۲ )

اگر کوئی شخص دن رات عبادت کرے اور پھر قبر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا ولی کے پاس آکر اسے پکارے تو اس نے دو معبودوں کی پرستش کی اور اس نے توحید کی گواہی نہیں دی اس لئے کہ معبود وہی ہوتا ہے جسے انسان پکار تا ہے ۔

مرتد کے حکم کے بارے میں کہتا ہے :

''اجماع المذاهب کلهم علی ان من جعل بینه وبین الله وسائط یدعوهم انه کافر مرتد حلال المال والدم '' ( ۳ )

____________________

(۱)حوالہ سابق.

(۲)حوالہ سابق

(۳) حوالہ سابق


تمام مذاہب اسلامی کا اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے تو وہ کافرو مرتد ہے اور ا س کامال وجان مباح ہے ۔

ارے، محمدبن عبد الوہاب نے اپنے جھوٹے خیالات کے ذریعہ مسلمانوں کے کفر کو ثابت کر کے جہاد کا اعلان کر تے ہوئے بدو عربوں کے احساسات کو ابھارا اور پھر محمدبن سعود کی مدد سے لشکر آمادہ کر کے مسلمانوں کے شہروں اور دیہاتوں پر حملہ کر کے خون کی ندیاں بہائیں اور ان کے اموال کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا ۔( ۱)

۳۔ سعودی مجلس فتویٰ کا نظریہ :

سعودی عرب کی مجلس دائمی فتویٰ نے شیعہ کے ساتھ شادی کے بارے میں سوال کا جوا ب دیتے ہوئے اس کے حرام ہونے کی علت یوں بیان کی ہے :

''لایجوز تزویج بنات اهل السنة من ابناء الشیعة ولا من الشیوعیین ، واذا وقع النکاح فهو باطل، لا ن المعروف عن الشیعة دعاء اهل البیت،والا ستغاثة بهم ، وذلک شرک اکبر '' .( ۲ )

اہل سنت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی شیعہ یا کیمونسٹ بچوں سے کریں اگر ایسا نکاح واقع ہو جائے تو باطل ہے اس لئے کہ مشہور یہ ہے کہ شیعہ اہل بیت سے تو سل کرتے ہیں اور یہ شرک اکبر ہے ۔

____________________

(۱) تاریخ نجد :۹۵ ، فصل الثالث ، الغزوات ؛ تاریخ آل سعود۱:۳۱؛تاریخچۂ نقد وبررسی وہابی ہا :۱۳۔ ۷۶.

(۲)فتاویٰ اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۱۸: ۲۹۸.


ایک اور سوال کے جواب میں یوں فتویٰ دیا:

''اذاکان الواقع کما ذکرت من دعائهم علیا والحسن والحسین ونحوهم فهم مشرکین شرکا اکبر یخرج من ملة الاسلام فلا یحل ان نزوجهم المسلمات ، ولا یحل لنا ان نتزوج من نسائهم ، ولا یحل لنا ان ناکل من ذبائحهم '' .( ۱ )

اگر یہ حقیقت ہے جیسا کہ سوال میں بیان ہو اہے کہ وہ لوگ (یاعلی ) (یاحسن) (یا حسین )کہتے ہیں تو وہ مشرک اور دین اسلام سے خارج ہیں ان سے اپنی بیٹیوں کی شادی کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی ان کے ذبح کئے ہوئے حیوان کا گوشت کھانا جائز ہے جب کہ اسی مجلس نے یہودی اور مسیحی کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سوال کے جواب میں لکھا ہے :

یجوز للمسلم ان یتزوج کتابیة یهودیة او نصرانیة اذا کانت محصنة وهی الحرة العفیفة '' ( ۲ )

مسلمان کا اہل کتاب یہودی یا مسیحی لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے مگر یہ کہ وہ بدکار نہ ہو ۔

افسوس اور تعجب کا مقام تو یہ ہے کہ یہی مجلس اسلام کے نام پر یہود ونصاریٰ

____________________

(۱)حوالہ سابق۳: ۳۷۳فتویٰ نمبر ۳۰۸.

(۲) حوالہ سابق ۱۸:۳۱۵.


کے ساتھ تو نکاح کو جائز قرار دے رہی جن کے شرک آلود چہرے کو قرآن نے آشکار کرتے ہوئے فرمایا:

( وَقَالَتْ الْیَهُودُ عُزَیْر ابْنُ ﷲ وَقَالَتْ النَّصَارَی الْمَسِیحُ ابْنُ ﷲ ذَلِکَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ یُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ ﷲ أَنَّی یُؤْفَکُونَ ) ( ۱ )

ترجمہ: اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں ان باتوں میں یہ بالکل ان کے مثل ہیں جو ان کے پہلے کفار کہا کرتے تھے ۔

لیکن شیعوں کے ساتھ نکاح کو باطل وحرام قرار دے رہی جب کہ شیعہ شہادتین کاا قرار کرتے ہیں قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں تمام احکام خد اکو بجا لاتے ہیں اور اپنے مذہب کو اہل بیت علیہم السلام سے لیا ہے ۔

۴۔ سعودی مفتی اعظم کا نظریہ :

طائف میں سعودی عرب کے مفتی اعظم جنا ب شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اس نے توسل اور وسیلہ کے حرام ہونے کے بارے میں جو دلیل بیان کی وہ یہ تھی کہ وفات کے بعد پیغمبر کا رابطہ اس عالم سے منقطع ہو چکا ہے اور وہ کسی چیز پر قادر نہیں یہاں تک کہ وہ کسی کے حق میں دعا بھی

نہیں کر سکتے ۔ بنا بر ایں عاجز سے توسل کرنا اور اسے وسیلہ بنا نا عقلی طور پر باطل اور موجب شرک ہوگا ۔(۲)

____________________

(۱) سورۂ توبہ: ۳۰.

(۲)۲۴ جمادی الثانی ۱۴۲۴ ہجری بمطابق ۲۰۰۳ ء کوطے شدہ پروگرام کے مطابق حجة الاسلام والمسلمین جناب نواب صاحب ( مکہ مکرمہ میں رہبر معظم کے نمائندے ) کے ہمراہ طائف کا سفر کیا جہاں مفتی اعظم سعودی عرب جناب شیخ عبد العزیز عبد اللہ آل الشیخ سے ملاقات کی اور تقریبا ایک گھنٹہ نکاح متعہ ، سجدہ اور توسل و وسیلہ کے موضوع پر بحث کی ۔ یہ ساری بحث ریکارڈ شدہ ( valiasr - aj. com )پر موجود ہے ۔


توسل کے بارے میں وہابیوں کے نظریات کی رد

الف:انبیاء سے توسل قرآن میں ثابت ہے

۱۔ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل پر حکم قرآن :

انبیاء علیہم السلام سے ان کی زندگی میں شفاعت طلب کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا شیعہ عقائد سے کسی قسم کاکوئی تضاد نہیں پایاجاتا ۔ جیساکہ خداوند متعال کا فرمان ہے :

( وَلَوْأ َنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّابًا رَحِیمًا ) (۱)

ترجمہ : اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ان کے حق

____________________

(۱) سورۂ نساء : ۶۴.


میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ۔

۲۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی زندگی اور اس کے بعد توسل کا ثابت ہونا :

اردن کے اہل سنت عالم دین محمود سعید ممدوح توسل کے جوازکے بارے میں علمائے اہل سنت کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

اس آیت شریفہ( إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ... )

میں گناہگاروں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بخشش کے لئے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو واسطہ اور شفیع قرار دیں ۔ یہ حکم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حیات اور اس کے بعد دونوں حالتوں کو شامل ہے اور اگر کوئی اسے فقط آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات تک محدود کرنا چاہے تو وہ غلطی کا شکار ہوا اور راستہ سے اتر گیا اس لئے کہ جب بھی کوئی فعل حرف شرط کے بعد آتا ہے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے اور کسی عبارت کے مفہوم کے عام اور کلی ہونے کی سب سے واضح ترین صورت یہی ہے جیساکہ کتاب ( ارشاد الفحول ) کے صفحہ نمبر ۲۲ پر اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

استاد محترم علامہ محقق سید عبد اللہ صدیق غماری لکھتے ہیں : یہ آیت شریفہ عموم رکھتی ہے اور حیات وممات دونوں کو شامل ہوگی اور ان دونوں حالتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ معین کرنا دلیل کا محتاج ہے جوموجود نہیں ہے ۔


قرآنی آیات کی شرح اور اس مقدس کتاب کی تفسیر کرنے والے حضرات نے بھی اس آیت شریفہ سے عموم ہی سمجھا ہے اس لئے کہ تمام مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں عتبیٰ سے ایک اعرابی شخص کے قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آنے کی داستان نقل کی ہے ۔

ابن کثیر دمشقی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : بعض بزرگان مانند شیخ ابو نصر صباغ نے اس مشہور داستان کو عتبی سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے : میں قبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی داخل ہوا اور کہا: ''السلام علیک یا رسول اللہ... ''.( ۱ )

۳۔ مالک کا توسل کے جواز پر قرآن سے استدلال

ایک مرتبہ جب عباسی خلیفہ منصور دوانقی مسجد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں زیارت میں مشغول تھا اور بلند آواز سے سلام اور دعا پڑھ رہا تھا تو اہل سنت کے امام مالک سے پوچھا :

''استقبل القبلة وادعوا ام استقبل رسول الله (صلی الله علیه وسلم ) و ادعو'' .

کیا زیارت کے بعد قبلہ کا رخ کرکے خد اکو پکاروں یا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی طرف منہ کر کے دعا کروں ؟

امام مالک نے کہا :

____________________

(۱)رفع المنارةفی تخریج احادیث التوسل و الزیارة : ۵۷.


''ولم تصرف وجهک عنه وهو وسیلتک ووسیلة ابیک آدم الی الله تعالیٰ ؟ بل استقبل واستشفع به فیشفعه الله فیک ''

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنا چہرہ کیوں موڑنا چاہتے ہو جب کہ وہ تو آپ اور آپ کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی وسیلہ ہیں بلکہ قبر آنحضرت کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو اور ان سے شفاعت طلب کروخدا وند متعال ان کی شفاعت کو قبول کرتا ہے اس لئے کہ اس نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

( وَلَوْأ َنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّابًا رَحِیمًا ) ( ۱ )

ترجمہ : اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ۔( ۲ )

۴۔ برادران یوسفصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت یعقوب علیہ السلام سے توسل :

قرآن مجید نے جناب یوسف علیہ السلام کی داستان میں ان کے بھائیوں کے قول کو نقل کرتے ہوئے فرمایا:

( یَاَأبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ ) ( ۳ )

____________________

(۱) سورۂ نساء : ۶۴. (۲) الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ۱: ۲۸.

(۳) سورۂ یوسف: ۹۷.


بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ۔

حضرت یعقوب علیہ السلام نے جواب میں فرمایا :( قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی ) ( ۱ )

میں عنقریب تمہارے حق میں دعا کروں گا ۔

ب: بعثت سے پہلے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل

۱۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلقت سے پہلے ان سے توسل :

رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی خلقت سے پہلے گذشتہ انبیاء علیہم السلام کا ان سے توسل اور انھیں وسیلہ قرار دینا ایک مسلم اور غیر قابل انکار مسئلہ ہے چونکہ کتب اہل سنت کے اندر اس موضوع پر اس قدر صحیح روایات موجو دہیں جو انبیاء وا ولیاء سے کسی بھی قسم کے توسل کے شرک ہونے کے وہابی نظریہ کی ہر طرح کی توجیہ و تاویل کا راستہ مسدود کر دیتی ہیں جن میں سے چند ایک روایات کو بطور نمونہ پیش کر رہے ہیں :

اہل سنت کے بزرگ عالم دین حاکم نیشاپوری اپنی کتاب( ۲ ) میں عمر بن خطاب سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا:

''لما اقترف آدم الخطیئة قال: یا رب اسئلک بحق محمد

____________________

(۱) سورۂ یوسف: ۹۸

(۲) المستدرک علی الصحیحین .۲:۶۷۲۔۴۲۲۷اور۲:۶۱۵تحقیق ڈاکٹر یوسف مرعشلی ، طبعہ دارالمعرفت بیروت


لما غفرت لی فقال الله تعالیٰ : یا آدم وکیف عرفت محمد ا ً ولم اخلقه ؟ قال: یا رب لانک لما خلقتنی بیدک ، ونفخت فی من روحک ، رفعت راسی ، فرایت علی قوائم العرش مکتوبا لا اله الا الله ، محمد رسول الله ، فعرفت انک لم تضف الی اسمک الا احب الخلق الیک ؛'' .

جب حضرت آدم علیہ السلام مصیبت میں مبتلاہوئے تو خد اوند متعال کو رسول اکرم کا واسطہ دے کر بخشش طلب کی ۔

خداوند متعال نے فرمایا : اے آدم ! تو نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کیسے پہچانا جب کہ ابھی تو ہم نے اسے خلق ہی نہیں کیا ؟

حضرت آدم نے عرض کیا: جب تونے مجھے خلق کیا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا میری نظر عرش پر پڑی تو دیکھا کہ عرش کے ستونوں پر لکھا ہے :

''لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ '' میں سمجھ گیا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کی محبوب ترین ہستی ہیں اسی لئے تو ان کا نام اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے

''فقال الله: صدقت یا آدم انه لا حب الخلق ، اذا سئالتنی بحقه فقد غفرت لک ، ولولا محمد ما خلقتک''.

خدا وند متعال نے فرمایا: ہاں! تونے سچ کہا کہ وہ پوری مخلوق میں سب سے زیادہ مجھے محبوب ہے اور اب جب تو نے مجھے اس کا واسطہ دیا ہے تو میں نے تجھے معاف کر دیا اور اگر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خلق نہ کیا ہوتا تو تجھے بھی خلق نہ کرتا ۔


حاکم نیشاپوری اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے :ھذا حدیث صحیح الاسناد''( ۱ ) اس حدیث کی سندصحیح ہے :

بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوة میں اس حدیث کونقل کیا ہے۔( ۲ )

ذہبی اس کتاب کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ پوری کتاب ہدایت اور نور ہے اسی طرح طبرانی نے اپنی کتاب معجم صغیر( ۳ ) اور سبکی نے شفاء السقام( ۴ ) میں اس حدیث کے صحیح ہونے کی گواہی دی ہے ، سمہودی نے وفاء الوفاء( ۵ ) اور قسطلانی نے بھی المواہب نیة( ۶ ) میں اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔

۲۔ آنحضر تصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شیر خوارگی میں جناب عبد المطلب کا ان سے توسل :

اہل سنت کے معروف عالم شہرستانی اپنی کتاب ملل ونحل میں لکھتے ہیں :

جب سرزمین مکہ کو قحط نے اپنی لپیٹ میں لیا اور بادلوں نے برسنے سے انکار

____________________

(۱)مستدرک علی الصحیحین ۲: ۴۲۲۷۶۷۲و۲: ۶۱۵، تحقیق ڈاکٹر یوسف مرعشلی ، دار المعرفة بیروت

(۲) دلائل النبوة ۵: ۴۸۹.

(۳)معجم صغیر۲:۸۲.

(۴)شفاء السقام فی زیارة خیر الانام :۱۲۰

(۵) وفاء الوفاء ۴: ۳۷۱.

(۶) المواہب اللدنیة ۴: ۵۹۴.


کر دیا تو اہل مکہ کے لئے زندگی کرنا ناگزیر ہوگیا ۔ جناب عبد المطلب نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا :

''یارب !بحق هذا الغلام ورماه ثانیا وثالثا وکان یقول : بحق هذا الغلام اسقنا غیثا ، مغیثا، دائما، هاطلا، فلم یلبث ساعة ان طبق السحاب وجه السماء ، وامطر حتی خافوا علی المسجد '' .( ۱ )

خدا یا اس بچے کا واسطہ اپنی رحمت کا نزول فرما: ابھی تھوری ہی دیر گذری تھی کہ مکہ پر بادل چھانے لگے اور اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ ڈرگئے کہ کہیں خانہ کعبہ سیلاب میں ہی نہ بہہ جائے ۔

ابن حجرکہتا ہے :

جب عبد المطلب نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا واسطہ دے کر بارش طلب کی تو سرداران مکہ عبد اللہ بن جد عان اور حرب بن امیہ حضرت عبد المطلب کے پاس آئے اور کہنے لگی :''ھنیائً لک ! ابا البطحاء ''( ۲ ) اے حجاز کے باپ تجھے یہ بچہ مبارک ہو ۔

اسی طرح ابن حجر یہ بھی لکھتا ہے :

____________________

(۱)الملل والنحل ۲: ۲۴۹.

(۲) الاصابة فی تمییز الصحابة۸:۱۳۶ ، ترجمہ رقیقة بنت ابی صیفی بن ہاشم


ابو طالب کا یہ شعر اسی داستان سے متعلق ہے :

وابیض یستسقی الغمام بوجهه

نمال الیتامی عصمة للارامل( ۱ )

وہ سفید چہرے والے جس کے صدقے میں بادل یتیموں ، بیواؤں اور بے چاروں پرر حمت برساتے ہیں ۔

۳۔جناب ابو طالب کا آنحضرت کے بچپن میں ان سے توسل

ابن عساکر اور دیگر نے ابو عرفہ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے :

جب مکہ پر قحط سالی چھائی تو لوگ ابو طالب کے پاس جمع ہوئے اور ان سے کہنے لگے :اب پورے مکہ پر قحط طاری ہو چکا ہے لوگوں کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے خدا سے رحمت طلب کریں !

ابو طالب نے ایک چھوٹے سے بچے کو ہمراہ لیا جو وہی پیغمبر گرامیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے آفتاب کی مانند چمکتے ہوئے بچوں کے حلقے میں باہر نکلے خانہ کعبہ کے پاس پہنچے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا واسطہ دے کر باران رحمت طلب کی ۔ یہاں تک کہ بادل اکٹھے ہوئے اور بارش برسنے لگی جس سے صحراؤں میں بھی پانی جمع ہو گیا ۔ اس وقت ابو طالب نے اپنا مشہور شعر پڑھا:

وابیض یستسقی الغمام بوجه

ثمال الیتامی عصمة للارامل( ۲ )

____________________

(۱) فتح الباری ۲: ۴۱۲ و دلائل النبوة ۲: ۱۲۶.

(۲) مختصر تاریخ دمشق ابن منظور .۱: ۱۶۲ خصائص الکبریٰ سیوطی۱: ۸۶ وسیرہ نبویہ زینی دحلان ۱: ۴۳.


۴۔ یہودیوں کا بعثت سے پہلے آنحضرت سے توسل :

اہل سنت مفسرین و محدثین نے سورہ ٔ بقرہ کی آیت نمبر ۸۹( ۱ ) کے ذیل میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے :

خیبر کے یہودی قبیلہ غطفان کے ساتھ جنگ میں جب شکست کا احساس کرتے تو نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے توسل کرتے اورکہا کرتے :''انا نسئلک بحق النبی الامی الذی وعدتنا ان تخرجه لنا فی آخر الزمان لا تنصرنا علیهم ''.( ۲ )

خدا یا! تجھے نبی امی کا واسطہ دیتے ہیں جس کی بعثت کی بشارت تونے ہمیں دی بشارت توبت ہمیں دی ہے کہ ہمیں فتح نصیب فرما۔

وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو وسیلہ قرار دیتے لیکن جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )رسالت پر مبعوث ہوئے تو انھوں نے انکار کر دیا ۔

____________________

(۱) (وَلَمَّا جَائَهُمْ کِتَاب مِنْ عِنْدِ ﷲ مُصَدِّق لِمَا مَعَهُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَهُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ ﷲ عَلَی الْکَافِرِینَ )

ترجمہ : اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے کتاب آئی ہے جو ان کی توریت وغیرہ کی تصدیق بھی کرنے والی ہے اور اس سے پہلے وہ دشمنوں کو مقابلہ میں اسی کے ذریعہ طلب فتح بھی کیا کرتے تھے لیکن اس کے آتے ہی منکر ہو گئے حالانکہ اسے پہچانتے بھی تھے تو اب کافروں پر خد اکی لعنت ہے ۔)

(۲) تفسیر طبری ۱:۳۲۴؛ تفسیر قرطبی ۲: ۲۷؛ العجاب بی ابیان الاسباب ابن حجر عسقلانی ۱:۲۸۲، تفسیر در المنثور ۱: ۸۸؛ البدایة والنہایة ۲: ۳۷۸؛ مستدرک الصحیحین ۲: ۲۶۳.


ج: بعثت کے بعد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل :

۱۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دستور پر ایک نابینا کا ان سے توسل کرنا :

ترمذی شریف نے عثمان بن حنیف سے نقل کیا ہے کہ ایک نابینا شخص پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا :''ادع الله ان یعافینی'' خدا سے میرے لئے سلامتی طلب کریں ۔

آپ نے فرمایا:'' ان شئت دعوت ، وان شئت صبرت فهو خیر لک قال فادعه قال:فامره ان یتوضا فیحسن وضوء ه ویدعوه بهذا الدعاء ؛

اگر چاہو تو دعا کروں اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے عرض کیا : آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے لئے دعا فرمائیں ۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : جاؤ اچھے طریقے سے وضوکر و اور پھر یہ دعا پڑھو :''اللهم انی اسالک واتوجه الیک بنبیک محمد نبی الرحمة یا محمد! انی توجهت بک الی ربی فی حاجتی هذه لتقضی لی ، اللهم فشفعه فی ''.( ۱ )

خدا یا تجھے تیرے نبی رحمت کا واسطہ دیتا ہوں میری حاجت پوری فرما۔ اے محمد ! تجھے وسیلہ بنا کر خدا کی بارگاہ میں پیش ہو ا ہوں تاکہ میری حاجت روا ہو خدا یا ! تو اسے میری شفاعت کرنے والا قرار دے ۔

____________________

(۱) صحیح ترمذی ۵: ۳۶۴۹۲۲۹ ، دار الفکر بیروت ، تحقیق عبد الرحمن محمد عثمان ، سنن ابن ماجہ ۱: ۴۴۸.


صحاح ستہ میں سے دو کتابوں ترمذی اور ابن ماجہ کے مولفوں نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد ا سکے صحیح ہونے کی شہادت دی ہے ۔

حاکم نیشاپوری نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب مستدرک میں متعدد مقامات پر نقل کیا اور اس کے صحیح ہونے کی گواہی دیتے ہوئے لکھا ہے :

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی شرائط کے مطابق ہے ۔( ۱ )

اسی طرح اہل سنت کے دو بزرگ عالموں طبرانی اور ہیثمی نے اس حدیث مبارک کے صحیح ہونے کو واضح طور پر بیان کیا ہے ۔( ۲ )

ابن تیمیہ کہتا ہے :

''وفی النسائی والترمذی وغیرهما حدیث الاعمیٰ الذی صححه الترمذی '' .( ۳ )

سنن نسائی ، صحیح ترمذی اور دیگر کتب میں نابینا شخص والی حدیث موجود ہے

جسے ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے ۔

۲۔ اہل مدینہ کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل :

بخاری نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے :

____________________

(۱) مستدرک الصحیحین ۱: ۳۱۳ ، ۵۱۹، ۵۲۶.

( ۲)کتاب الدعاء :۳۲۰؛ معجم الکبیر ۹:۳۱؛ امجمع الزوائد ۲: ۲۷۹.

(۳) اقتضاء الصراط المستقیم :۴۰۸.


جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں قحط پڑا تو ایک مرتبہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نما زجمعہ کا خطبہ دینے میں مشول تھے کہ ایک اعرابی اٹھا اورعرض کرنے لگا :

''یا رسول الله هلک المال وجاع العیال فادع الله لنا ''یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! مال تباہ ہو گیا ہے اور بیوی بچے بھو ک سے مررہے ہیں خداوند متعال سے ہمارے لئے دعا کریں ۔

''فرفع یدیه ومانری فی السماء قزعة فوالذی نفسی بیده ما وضعها حتی ثار السحاب امثال الجبال ثم لم ینزل عن منبره حتی رایت المطر یتحادر علی حیته صلی الله علیه وسلم فمطرنا یومنا ذلک من الغدو بعد الغد والذی یلیه حتی الجمعة الاخری'' ( ۱ )

پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنے مبارک ہاتھوں کو بلند کیا جب کہ بادلوں کے آثار تک نہ تھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میر ی جان ہے ابھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے نہ کئے تھے کہ پہاڑ کی مانند بادل جمع ہوئے اور اس قدر بارش برسائی کہ منبر سے اتر نے سے پہلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ریش مبارک سے پانی بہہ رہا تھا اور یہ بارش مسلسل ایک ہفتہ تک برستی رہی یہاں تک کہ آپ نے

____________________

(۱)صحیح بخاری ۱: ۲۲۴۔۹۳۳، کتاب الجمعة ، باب ۳۵، باب الاستسقاء فی الخطبة یوم الجمعة اور حدیث ۱۰۱۳ و ۱۰۱۴؛ صحیح مسلم ۳:۱۹۶۲۲۵، کتاب صلاة الاستسقاء ، باب ۲، باب الدعاء فی الاستسقاء


ہے ابھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے نہ کئے تھے کہ پہاڑ کے مانند بادل جمع ہوئے اور اس قدر بارش برسائی کہ منبر سے اتر نے سے پہلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ریش مبارک سے پانی بہہ رہا تھا اور یہ بارش مسلسل ایک ہفتہ تک برستی رہی یہاں تک کہ آپ نے دوبارہ دعا کی تب رکی ۔

۳۔عمربن خطاب کا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل

صحیح بخاری میں انس سے نقل ہوا ہے :

جب کبھی قحط پڑتا تو عمر بن خطاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے چچا حضرت عباس سے متوسل ہوتے اور کہتے :''اللهم اناکنا نتوسل الیک بنبینا فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون ''.(۱ )

خدایا! تیرے پیغمبر کے زمانہ میں ہم ان کو واسطہ قرا ردیتے تو تو باران رحمت نازل فرمایا کرتا اور اب ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا کو وسیلہ بنا رہے ہیں تو ہم پر اپنی رحمت کا نزول فرما۔اسی وقت بارش برسنا شروع ہو گئی۔

____________________

(۱) صحیح بخاری ۲:۱۰۱۰۱۶،کتاب الاستسقاء ، باب سواالناس الامامة استسقاء اذاقحطوا


د: آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ان سے توسل

۱۔ ابوبکر کا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل :

جب مدینہ منورہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی وفات کی خبر پھیلی اور ابو بکر اس سے مطلع ہوئے تو اپنی رہائش گاہ سنح سے نکلے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے گھر پہنچے ، مسجد میں داخل ہوئے اور کسی سے بات کئے بغیر سیدھے حضرت عائشہ کے پاس گیے ۔ دیکھا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا بدن مبارک ایک چادر میں لپٹا ہوا ہے بدن مبارک کے پاس بیٹھے اور چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹا یا اور اپنے کو اس پر گرا کر بوسے لیتے ہوئے گریہ کرنا شروع کیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

یانبی اللہ !خدا نے آپ کے مقدرمیں دوبارموت نہیں لکھی بلکہ ایک ہی بارلکھی تھی جو آگئی اورآپ اس دنیا سے گزرگئے۔

''با بی انت یا نبی الله، لا یجمع الله علیک موتتین ، اما الموتة التی کتبت علیک فقد متها'' .( ۱ )

مفتی مکہ مکرمہ زینی دحلان نے اس حدیث کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھا ہے :

''قال ابو بکر: طبت حیا ومیتا، وانقطع بموتک مالم ینقطع للانبیاء قبلک ، فعظمت عن الصفه ، وجللت عن البکاء ، ولو ان موتک کان اختیاراً لجدنا لموتک بالنفوس ، اذکرنا یا محمد ! عند ربک ولنکن علی بالک'' .( ۲ )

____________________

(۱ )صحیح بخاری ۲:۷۰، کتاب الجنائز ، باب االدخول علی المیت بعد الموت ۵: ۱۴۳ ، کتاب المغازی ، باب مرضی النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

(۲) الدرر السنیة فی الرد علی الوہابیة:۳۴ ، طبع استنبول ، سیرۂ زینی دحلان ۳: ۳۹۱ ، طبع مصر


ابو بکر نے کہا : یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! آپ کی زندگی و موت پاک و طاہر اور بابرکت تھی آپ کی موت سے وحی کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا ہے ۔ آپ کا مقام و منزلت اس قدر عظیم ہے کہ ناقابل توصیف ہے اور ہمیں رونے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر آپ کی موت ہمارے اختیار میں ہوتی تو ہم اپنی جانیں قربان کرکے آپ کو بچالیتے ۔یامحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! اپنے رب کے پاس ہمیں یاد رکھنا اور ہمیں فراموش نہ کرنا ۔

۲۔حضرت علی علیہ السلام کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل :

جب امیر المومنین علیہ السلام رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے جسم اطہر کو غسل دے رہے تھے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خطاب کرتے ہوئے عرض کیا :

بأبی انت وامی یا رسول الله ! لقد تقطع بموتک مالم ینقطع بموت غیرک من النبوة ، والانباء ، واخبار السماء ، الی ان قال: بابی انت وامی اذکرنا عند ربک واجعلنا من بالک ''.( ۱ )

یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال سے نبوت الٰہی ،احکام اور آسمانی اخبار کا سلسلہ منقطع ہو گیا جوا پ کے علاوہ کسی کے مرنے سے منقطع نہیں ہوا تھا

میرے ماں باپ آپ پر قربان۔خدا کی بارگاہ میں ہمارا بھی ذکر کیجئے گا اور اپنے دل میں ہمارا بھی خیال رکھئے گا ۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ ۲۳۵.


۳۔ بادیہ نشین عرب کا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک سے توسل :

تمام مذاہب اسلامی کے مولفین نے اعرابی کے قبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی زیارت سے مشرف ہونے کی داستان کو اپنی کتب میں لکھا اور اسے عظمت و احترام سے یاد کیا ہے اور اسے زیارت کا عالی ترین نمونہ شمار کیا ہے ۔

یہ داستان ابن عساکر نے تاریخ دمشق ، ابن جوزی نے میثر الغرام الساکن میں اور دوسرے مولفین نے محمد بن حرب ہلالی سے نقل کی ہے کہ وہ کہتا ہے :

میں مدینہ منورہ گیا تو آنحضرت کی قبر مبارک پہ پہنچا زیارت کے بعد قبر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، اتنے میں ایک بادیہ نشین عرب وارد ہوا اور قبر رسول کی زیارت کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خطاب کرکے کہنے لگا :

اے خدا کے بہترین پیغمبر ! خدا وند متعال نے وہ کتاب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل فرمائی جس میں حق اور سچ کے سوا کچھ اور نہیں اور اس میں فرمایا :

( وَلَوْأ َنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّابًا رَحِیمًا ) ( ۱ )

ترجمہ : اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ان کے حق

____________________

(۱) سورۂ نساء : ۶۴.


میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ۔

اورمیں اب آیا ہوں کہ تجھے واسطہ قرار دے کر خد اوند متعال سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کروں اور پھر گریہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا :

یا خیر من دفنت بالقاع اعظمه

فطاب من طیبهن القاع والاکم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنه

فیه العفاف وفیه الجود والکرم

اے وہ بہترین ذات جو زمین کی تہہ میں دفن ہو چکی ہے زمین اور اس کے اطراف کے پہاڑ تیرے وسیلہ سے پاک وپاکیزہ ہوگئے ہے ۔

میری جان قربان اس قبر پر جس کے ساکن آپ ہیں وہ قبر جس میں عفت و پاکیزگی اور جود وکرم مدفون ہیں ۔

اس کے بعد خدا سے مغفرت طلب کی اور مسجد سے باہر چلا گیا ۔

محمد بن حرب ہلالی کہتا ہے :

میں نے خواب میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو دیکھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس اعرابی شخص کو تلاش کرکے یہ بشارت دے کہ خداوند متعال نے میری شفاعت کی وجہ سے اسے بخش دیا ہے ۔

میں نیند سے اٹھا اور اس کے پیچھے گیا لیکن اسے ڈھونڈنہ سکا ۔( ۱ )

____________________

(۱) دفع الشبة عن الرسول ، حصنی : ۱۴۳ ؛ الاحکام السلطانیة ماوردی : ۱۰۹ ؛ شفاء السقام فی زیارة خیر الانام :۱۵۱؛ الدرر السنیة ۱: ۲۱.


۴۔حضرت ابو ایوب انصاری کا قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر آنا:

حاکم نیشاپوری اور احمد بن حنبل نے داؤد بن ابو صالح سے حضرت ابو ایوب انصاری کے قبر رسول کی زیارت کے لئے آنے اور مروان اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی داستان کو یوں بیان کیا ہے :

اموی خلیفہ مروان بن حکم( ۱ ) متوفیٰ ۶۳ ہجری نے دیکھا کہ ایک شخص قبر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر بیٹھا اپنا چہرہ اس پر رکھے ہوئے ہے مروان نے اس کو گردن سے پکڑ اور کہا : تجھے معلوم ہے کہ کیاکر رہا ہے؟ جب غور کیا تو دیکھا بو ایوب انصاری ہیں ۔

انھوںنے جواب دیا :''نعم جئت رسول الله ]صلی الله علیه وسلم ولم آت الحجر ، سمعت رسول الله ]صلی الله علیه وسلم [ یقول: لا تبکوا علی الدین اذا ولیه اهله ، ولکن ابکوا علیه اذا ولیه غیراهله'' ( ۲ )

ہاں ! میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ۔ میں نے

____________________

(۱) مروان بن حکم بن ابو العاص بن امیہ ہجرت کے دوسال بعدپیدا ہوا عثمان کی حکومت میں دفتری امور اس کے حوالے تھے معاویہ کے دور حکومت میں مدینہ کا حاکم بنا اور معاویہ بن یزید کی وفات کے بعد خلیفہ بنا نوماہ حکومت کی اور ۶۱ یا ۶۳ ہجری میں مر ا۔ تہذیب الکمال مزی ۲۷: ۳۸۹.

(۲) مستدر ک علی الصحیحین ۴: ۵۱۵؛ مسند احمد ۵: ۴۲۲؛ تاریخ مدینہ دمشق ۵۷: ۲۴۹؛ مجمع الزوائد ۵: ۲۴۵.


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جب اہل لوگ دین کی سر پرستی کریں تو اس وقت پر مت رونا بلکہ اس وقت رونا جب نااہل اس کی سر پرستی کرنے لگیں ۔

۵۔ حضر ت بلال بن حارث کا قبر پیغمبر سے توسل :

بیہقی اور دیگر نے نقل کیا ہے :

''اصاب الناس قحط فی زمن عمر رضی الله عنه ، فجاء رجل الی قبر النبی صلی الله علیه وسلم ، فقال: یا رسول الله ! هلک الناس ، استسق لامتک ، فاتاه رسول صلی الله الیه وآله وسلم الله علیه وسلم فی المنام ، فقال: ائت عمر فاقراه منی السلام ، واخبره انهم مسقون ، قل له : علیک الکیس .قال: فاتی الرجل فاخبر ه، فکبی عمر رضی الل هعن ه، وقال: یا رب ما آلوا الا ما عجزت عن ه'' ( ۱ )

عمر کے زمانہ میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوئے تو ایک شخص قبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )پر آیا ور عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ ! لوگ مر رہے ہیں اپنی امت کے لئے طلب باران فرمائیں ۔ اس شخص نے خواب میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا

____________________

(۱) دلائل النبوة بیہقی ۷: ۴۷ باب ماجاء فی رویة النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فی المنام، المصنف ابن ابی شبیہ ۷: ۴۸۲ تاریخ دمشق ۴۴: ۳۴۶ و ۵۶ : ۴۸۹ ، الاستیعاب ۳: ۱۱۴۹ ، تاریخ اسلام ۳: ۲۷۳ ،ا لبدایة والنہایة ۷: ۱۰۵، وحوادث سال ۱۸ ، الاصابہ۶: ۲۱۶ ؛ فتح الباری ۲: ۴۱۲ ، باب سوال الناس الامام الاستسقاء ، اذا قحطوا کنز العمال۸: ۴۳۱.


آپ نے اس سے فرمایا : عمر کے پاس جاؤ اسے جا کرمیرا سلام پہنچاؤ اور کہو کہ بہت جلد سیراب ہوگے اور اس سے یہ بھی کہہ دو کہ اپنی سخاوت کو بڑھا دو ۔

وہ شخص عمر کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا : عمر نے سن کر رونا شروع کیا اور کہا: خدایا! میں نے کوشش کی لیکن عاجز رہا ۔

ابن حجرلکھا ہے :'' وروی ابن ابی شیبة باسناد صحیح'' ابن ابی شبیہ نے اس روایت کو صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے ...اور جس شخص نے یہ خواب دیکھا تھا وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے صحابی بلال بن حارث تھے ۔( ۱ )

نیز ابن کثیر نے لکھا ہے : ''وھذا اسناد صحیح ''اس روایت کی سند صحیح ہے ۔( ۲ )

مفتی اعظم مکہ مکرمہ زینی دحلان لکھتے ہیں :

بیہقی اور ابن ابو شبیہ نے سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے :

عمر کی خلافت کے زمانہ میں لوگ قحط سا لی میں مبتلا ہو ئے تو ایک شخص بنام بلال بن حارث صحابی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس گئے اور ان سے خطاب کر کے عرض کیا :

یا رسول اللہ ! آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت ہلاک ہو رہی ہے ان کے لئے باران رحمت کی

____________________

(۱)فتح الباری ۲: ۴۱۲، باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذاقحطوا

(۲)البدایة والنہایة ۷: ۱۰۵ ، وقائع سال ۱۸


دعا فرمائیں ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو خواب میں دیکھا کہ فرمایا : لوگوں سے کہہ دو باران رحمت کا نزول ہوگا ۔

اس روایت میں خواب سے آنحضرت کی دنیوی زندگی کے بعد ان سے توسل کے جائز ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ حکم شرعی کے اثبات کے لئے خواب کافی نہیں چونکہ ممکن ہے خواب دیکھنے والا اس میں اشتباہ کر بیٹھے اور اسے اچھے طریقے سے یاد نہ رکھ سکے ۔

بلکہ اس روایت میں ایک صحابی کے عمل سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کا قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر آنا اور طلب رحمت کی درخواست کرنا یہ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی رحلت کے بعد توسل کے جائز ہونے کی دلیل ہے اور شرعی معیار کو بیان کر رہا ہے کہ خدا وند متعال سے تقرب کا سب سے بہترین طریقہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے بھی ان کی خلقت سے پہلے انھیں وسیلہ قرار دیا ۔( ۱ )

۶۔ عثمان بن حنیف کی راہنمائی سے ایک پریشان شخص کا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کرنا :

طبرانی اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص اپنی مشکل کو حل کرنے کی خاطر تیسرے خلیفہ عثمان کے پاس آتا جاتا رہتا لیکن اس نے اس پر توجہ نہ کی تو وہ عثمان

____________________

(۱) الدرر السنیة ۱: ۹.


بن حنیف کے پاس گیا اور اس سے شکایت کی ۔ عثمان بن حنیف نے اس سے کہا :

وضو کر کے مسجد میں جاؤ اور نماز پڑھنے کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے توسل کرو اور کہو :''اللھم انی اسالک واتوجہ الیک بنیبک محمد نبی الرحمة ، یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی فیقضی لی حاجتی ، وتذکر حاجتک''.

خدایا ! میں تجھے تیرے نبی رحمت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا واسطہ دیتا ہوں اور اے محمد ! میں آپ کے وسیلے سے اپنی حاجت خداسے طلب کر ر ہاہوں اور پھر اپنی حاجت بیان کر ۔

اس شخص نے عثمان بن حنیف کی نصیحت پر عمل کیااور پھر عثمان بن عفان خلیفہ مسلمین کے پاس گیا جیسے ہی اس کے خادم کی نظر پڑی تو ا سے انتہائی احترام سے عثمان کے پاس لایا ۔ خلیفہ نے اسے اپنے پاس بتھایا اور اس کی مشکل بر طرف کردی

وہ خلیفہ کے پا س سے سیدھا عثما ن بن حنیف کے پاس پہنچا اسے ساری داستان سنائی اور اس کا شکریہ اداکیا ۔

عثمان بن حنیف نے کہا:

خدا کی قسم ! یہ تو سل میں نے اپنے پاس سے بیان نہیں کیا بلکہ ایک مرتبہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس موجود تھا تو ایک نابنیا شخص آیا اور دعا کا تقاضا کیا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے یہی توسل تعلیم فرمایا جس کی برکت سے اس نابینا کی بینائی پلٹ آئی ۔( ۱ )

____________________

(۱)معجم صغیر طبرانی ۱: ۱۸۳، طبع المکتبة السلیفة.


مبارکپوری متوفیٰ ۱۳۵۳ ہجری اپنی کتاب تحفة الاحوذی جو کہ صحیح ترمذی کی شرح ہے اس میں لکھتا ہے :

شیخ عبد الغنی دہلوی متوفیٰ ۱۲۹۶ ہجری نے ''انجاح الحاجة علی سنن ابن ماجہ ''میں لکھا ہے :

ہمارے استاد شیخ محمد عابد سندھی متوفیٰ ۱۲۵۷ ہجری نے اپنا رسالہ ''طوالع الانوار علی الدر المختار ''میں کہا ہے :

نابینا شخص والی حدیث آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے ان کی حیات میں توسل کے جائز ہونے کی دلیل ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے ان کی رحلت کے بعد توسل کے جائز ہونے کی دلیل اس شخص کی داستان ہے جو عثمان بن عفان کے پاس اپنی حاجت کے لئے رفت آمد کرتا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی برکت سے اس کی حاجت پوری ہوگئی ۔( ۱ )

شوکانی متوفی ۱۲۵۵ ہجری لکھتا ہے :

یہ حدیث رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے توسل کے جائز ہونے پر دلالت کررہی ہے لیکن بشرطیکہ معتقد ہوں کہ تمام کام خدا وند متعال کے وسیلہ سے انجام پاتے ہیں اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے نہیں چاہتا مانع ایجاد کردیتا ہے ۔ جس چیز کا وہ ارادہ کرتا ہے وہی محقق ہو تی ہے اور جس چیز کا ارادہ نہ کرے وہ

کبھی وقوع پذیر نہ ہوگی ۔(۲)

____________________

(۱)تحفة الاحوذی ۱۰: ۳۴. (۲)تحفة الذاکرین : ۱۶۲.


۷۔حضرت بلال مؤزن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آپ کی قبر سے توسل :

حضرت بلال مؤذن رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) عمر کے دور خلافت میں شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت پذیر ہوگئے ایک رات خواب میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو دیکھا کہ وہ فرمارہے ہیں :

''ماهذه الجفوةیا بلال ؟!اما آن لک ان تزورنی یا بلال ؟ فانتبه حزینا وجلا خائفا ، فرکب راحلته وقصدالمدینة فاتی قبر النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، فجعل یبکی عنده ویمرغ وجهه علیه،فاقبل الحسن والحسین ]علیهماالسلام [فجعل یضمهماویقبلهما'' .(۱)

اے بلال ! یہ کیسی جفا تو نے ہمارے حق میں روا رکھی ہے ؟ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ تو میری زیارت کرے ؟

حضرت بلال خوف اور گھبراہٹ کی حالت میں نیند سے اٹھے جلدی سے اپنی سواری آمادہ کی اور مدینہ منورہ قبر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف حرکت کی ۔

جب مدینہ منورہ میں قبر رسول کے پاس پہنچے تو گریہ کرتے ہوئے اپنی

____________________

(۱) اسد الغابة فی معرفة الصحابة ۱: ۲۸.


صورت کو قبر پر ملنا شروع کیا اتنے میں حسن وحسین (علیہما السلام)کو دیکھا کہ وہ اپنے نانا کی قبر مبارک کی طرف آرہے ہیں انھیں آغوش میں لیا اور بوسے دینے لگے ۔

۸۔ حنبلیوں کے بزرگ کا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر سے متوسل ہونا :

اہل سنت کے بہت بڑے عالم دین خطیب بغدادی لکھتے ہیں :

ابو علی خلال متوفیٰ ۲۴۲ ہجری کہتا ہے :( ۱ )

''ماهمتنی امر فقصدت قبر موسیٰ بن جعفر فتوسلت به الا سهل الله تعالیٰ لی ما احب '' .( ۲ )

مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی قبر پر جاکر متوسل ہوتااور مشکل برطرف ہو جاتی۔

۹۔ قبر امام علی رضا علیہ السلام ، بزرگان اہل سنت کی زیارت گاہ :

محمد بن مومل کہتا ہے :

اہل حدیث کے امام ابن حزیمہ اور بہت سے اساتیذ و بزرگان کے ہمراہ طوس

____________________

(۱)مزی نے یعقوب بن شیبہ کا قول نقل کیا ہے کہ''کان ثقة، ثبتا ، متقنا'' ابو علی خلال ثقہ ، محکم اور قابل اعتماد شخص تھا اسی طرح اس نے اس کی وثاقت کو نسائی اور خطیب بغدادی سے بھی نقل کیا ہے تہذیب الکمال ۶: ۲۶۳.

(۲) تاریخ بغداد ۱: ۱۳۳ ، طبع الکتب العلمیة ، بیروت ، تحقیق مصطفی عطا


میں علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کی قبر پہ گئے'' فرایت من تعظیمہ یعنی ابن خزیمة لتلک البقعة ، تواضعہ لھا و تضرعہ عندھا ماتحیرنا '' میں نے دیکھا کہ ابن خزیمہ نے اس روضہ کی انتہائی تعظیم کی ، اس کی اس تواضع اور عاجزی کو دیکھ کر ہم حیرت زدہ رہ گئے ۔( ۱ )

طوس میں علی بن موسیٰ رضا (علیہما السلام )کی قبر مبارک ہارون الرشید کی قبر کے پاس ہے وہ ایک مشہور زیارت گاہ ہے جس کی میں نے کئی بار زیارت کی ہے ۔

''وما حلت بی شدة فی وقت مقامی بطوس فزرت قبر علی بن موسیٰ الرضا صلوات الله علی جده وعلیه ، ودعوت الله ازا لتها عنی الا استجیب لی وزالت عنی تلک الشدة، وهذا شیء جربته مرارا فوجدته کذلک '' ( ۲ )

میں جتنی مدت طوس میں رہا جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو علی بن موسیٰ رضا ( علیہماالسلام ) کی قبر کی زیارت کرتا اور خداوند متعال سے مشکل کے دور ہونے کی دعا کرتا ۔ بہت جلد وہ مشکل حل ہو جاتی میں نے اسے کئی بار تجربہ کیا ۔

خداوند متعال ہمیں محمد اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کی محبت پر موت دے ۔

۱۰۔امام شافعی کا ابو حنیفہ کی قبر سے توسل :

حنفیوں کے امام ابو حنیفہ کی قبر بغداد کے علاقہ اعظمیہ میں عام و خاص کے

____________________

(۱)تہذیب التہذیب ۷: ۳۳۹. (۲)الثقات ۸: ۴۵۷.


لئے زیارت گاہ بن ہوئی ہے خطیب بغدادی اور اہل سنت کے بزرگ علما علی بن میمون سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نے امام شافعی سے سنا :

''انی لاتبرک بابی حنیفة واجیء الی قبره فی کل یوم یعنی زائرا ، فاذا عرضت لی حاجة صلیت رکعتین وجئت الی قبره وسالت الله تعالیٰ الحاجة عنده فما تبعد عنی حتی تقضی '' .( ۱ )

میں ہر روز ابو حنیفہ کی قبر پہ جاتا اور اس سے تبرک حاصل کرتا ہوں جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھ کر اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا کرتا ہوں بلا فاصلہ حاجت پوری ہو جاتی ہے ۔

والسلام علیکم ورحمة اللہ برکاتہ

۱۱ذی الحجة ۲۰۰۸ء دن گیارہ بج کر ۲۵ منٹ پر کتاب مکمل ہوئی

____________________

(۱)تاریخ بغداد ۱: ۱۳۵ ؛ وخوارزمی ،در مناقب ابی حنیفہ ۲: ۱۹۹ و منتظم ابن جوزی۱۶: ۱۰۰.


فہرست

سخن مترجم ۴

مقدمۂ مؤلف ۶

وہابیوں کا شیعوں کی طرف جھوٹی نسبت دینا: ۷

مذہب شیعہ کا مستقبل: ۱۰

کتاب کے مطالب پر ایک اجمالی نظر ۱۵

فصل اول ۱۷

وہابیت، امتوں کے درمیان تفرقہ کا باعث ۱۷

ابن تیمیہ اور امت اسلامی کے درمیان شگاف: ۱۸

محمد بن عبد الوہاب اور اسلامی اتحاد پر ضرب: ۲۰

سعودی مفتیوں کاتفرقہ بازی کی راہ ہموار کرنا: ۲۱

بن باز اور تقریب مسلمین کا ناممکن ہونا: ۲۱

امریکا ، یہود اور شیعہ اہل سنت کے مشترک دشمن ۲۲

مراجع تقلید اور وہابیت کا انحرافی تفکر ۲۳

امام خمینی کا نظریہ: ۲۴

آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی قدّس سرّہ کا نظریہ: ۲۵

رہبر معظم کا نظریہ: ۲۵

آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کا نظریہ: ۲۶

آیت اللہ العظمیٰ صافی کا نظریہ: ۲۶

قرآن و سنّت میں وحدت و اتحاد کا مقام ۲۸


۱۔ وحدت، قوموں کی کامیابی کا راز: ۲۸

۲۔ تفرقہ بازی بدترین آسمانی عذاب: ۳۰

۳۔ پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اختلاف امت کی وجہ سے پریشان ہونا: ۳۱

۴۔ جاہلیت کے بُرے آثار میں سے ایک اختلاف کی دعوت دینا ہے : ۳۳

حضرت علی سب سے بڑے منادی و حدت ۳۴

حضرت علی کی نگاہ میں اختلاف کے برے اثرات ۳۸

۱۔ فکری انحراف کا باعث: ۳۸

۲۔ دو گروہ میں سے ایک کے یقینا باطل ہونے کی علامت: ۳۸

۳۔ شیطان کے غلبہ کا باعث: ۳۹

۴۔باطل کے نجس ہونے کی علامت: ۴۰

۵۔فتنہ کاباعث: ۴۰

۶۔اختلاف ایجاد کرنے والے کی نابودی واجب ہے: ۴۰

عصر حاضر میں وحدت و اتحاد کی اہمیت ۴۱

وحدت کے اہداف ۴۴

شہید مطہری کی نگاہ میں وحدت کا غلط مفہوم لینا ۴۵

کیا مشترک امور پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے؟ ۴۷

ایک گروہ یا ایک محاذ ۴۸

کیا مسئلہ امامت اختلاف انگیز ہے؟ ۴۹

شہید مطہری کی رائے: ۴۹

آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کی رائے: ۵۰


آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی کی رائے: ۵۱

امام جمعہ زاہدان کی رائے: ۵۱

وحدت کے لئے پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بیان کیا ہوا راستہ ۵۲

الف: امت اسلام کے درمیان اختلاف کی پیشینگوئی: ۵۲

قرآن و عترت سے تمسک ہی وحدت کی تنہا راہ: ۵۴

ج: اہلبیت علیہم السلام حبل اللہ ہیں : ۵۶

فصل دوم ۵۸

وہابیت کی تاریخی جڑیں ۵۸

اسلام کی پہلی صدی میں وہابیت کی بنیاد: ۵۸

۱۔ معاویہ بن ابو سفیان متوفی ۶۰ھ : ۵۸

۲۔مروان بن حکم متوفی ۶۱ھ: ۶۰

۳۔ حجاج بن یوسف متوفی ۹۵ ھ ۶۱

۴۔ بربہاری متوفی ۳۲۹ ھ: ۶۲

۵۔ ابن بطّہ متوفی ۳۸۷ھ: ۶۲

۶۔ ابن تیمیہ متوفی ۷۲۷ھ: ۶۳

۷۔ محمد بن عبد الوہاب متوفی ۱۲۰۵ ھ: ۶۳

وہابیت ایک نظر میں ۶۴

الف: وہابی افکار کی بنیاد: ۶۴

ب: سب سے پہلی سعودی حکومت: ۶۴

ج۔نابودی کے بعد وہابی قبیلوں کے سردار: ۶۵


د: دوسری سعودی حکومت: ۶۵

ھ۔عبدالعزیز کا حجاز پرقبضہ: ۶۶

ملک سعودبن عبدالعزیز: ۶۷

ملک فیصل بن عبد العزیز: ۶۷

ملک خالد بن عبد العزیز: ۶۸

ملک عبد اللہ بن عبد العزیز: ۶۸

وہابی فرقہ کے بانی ۶۹

افکار وہابیت کا بانی ابن تیمیہ: ۶۹

۱۔ ابن تیمیہ کا سب سے پہلا انحراف: ۶۹

۲۔ ابن تیمیہ کے افکار کا عکس العمل: ۷۰

۳۔ ابن تیمیہ کا محاکمہ: ۷۱

علماء اہل سنت اورابن تیمیہ کی مخالفت ۷۴

۲۔ابن حجر کا ابن تیمیہ کی طرف نفاق کی نسبت دینا : ۷۵

۳۔سبکی متوفی ۷۵۶ ھ:( ۲ ) ۷۷

۴۔حصنی دمشقی:( ۲ ) ۷۸

۵۔شافعی قاضی کا ابن تیمیہ کے پیروکاروں کا خون مباح قراردینا : ۸۰

۶۔ابن حجر مکی کا ابن تیمیہ کو گمراہ اورگمراہ کن قراردینا : ۸۱

۷۔ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہنا کفر ہے : ۸۲

۸۔ابن بطوطہ کا ابن تیمیہ کو مجنون قرار دینا : ۸۲

ابن تیمیہ کی گوشہ نشینی کے عوامل اوراس کے افکار کے دوبارہ رشد کے اسباب ۸۳


محمد بن عبدالوھاب کی زندگی پر ایک مختصر نظر ۸۳

۱۔ابن تیمیہ کے افکا رکاباقاعدہ پر چار : ۸۳

۲۔محمد بن عبدالوھاب کا نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے لگائو : ۸۴

۳۔آغاز ترویج وہابیت اور لوگوں کی مخالفت : ۸۴

۴۔زیارت گاہ صحابہ اورخلیفہ دوم کے بھائی کی قبر کا خراب کرنا : ۸۵

محمد بن عبدالوھاب اورعلماء اہل سنت ۸۷

۱۔اس کے اساتذہ کی طرف سے اس کی گمراہی کی پیش بینی : ۸۷

۲۔محمد بن عبدالوھاب کا باپ بھی اس کی گمراہی کاگمان کرتا : ۸۷

۳۔محمد بن عبدالوھاب کے بھائی کا اس سے سخت رویہ : ۸۸

۴۔محمد بن عبدالوھاب کے بھائی کا قتل سے خوفزدہ ہونا : ۸۹

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ظہور وہابیت کی پیشگوئی ۹۰

ابن تیمیہ کی عقائد کے رد میں لکھی جانے والی کتب اہل سنت ۹۴

ابن تیمیہ کے عقائد کی ردمیں لکھی جانے والی کتب شیعہ ۹۷

فصل سوم ۹۸

وہابیوں کا عملی کارنامہ ۹۸

طول تاریخ میں وھابیوں کے مظالم ۹۸

۱۔نجد میں وھابیوں کا قتل وغارت کرنا: ۹۸

الف۔مسلمانوں کا قتل عام، درختوںکاکاٹنااوردکانوں کی لوٹ مار: ۹۹

ب۔کھیتوں کوآگ لگانا: ۱۰۰

د۔اہل ریاض کا بھوک اورپیاس سے مرجانا: ۱۰۰


ھ۔بھاگ نکلنے والوں کوقتل کرنا : ۱۰۱

و۔ موذن کو پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پردرودبھیجنے کے جرم میں قتل کردینا: ۱۰۲

۲۔کربلاکے شیعوں کا مظلومانہ قتل : ۱۰۳

۳۔نجف اشرف پرحملہ : ۱۰۷

۴۔مکہ مکرمہ میں بزرگان دین کے آثار کو ویران کرنا: ۱۱۰

۵۔بڑے بڑے کتب خانوں کوآگ لگانا: ۱۱۳

۶۔مدنیہ منورہ پرقبضہ : ۱۱۳

۷۔مکہ مکرمہ اورطائف میں قبروں کاویران کرنا: ۱۱۴

۸۔جنت البقیع میں ائمہ علیہم السلام کی قبروں کو خراب کرنا: ۱۱۴

۹۔اہل طائف کاقتل عام: ۱۱۶

۱۰۔علمائے اہل سنت کا قتل عام : ۱۱۸

۱۱۔غیروہابی ممالک سے تجارتی بائیکاٹ: ۱۲۰

۱۲۔بیت اللہ کے حاجیوں کاقتل : ۱۲۱

۱۳۔اردن کے بے دفاع لوگوں کاقتل : ۱۲۲

۱۴۔امام موسی کاظم علیہ السلام کے عزادروںکاقتل : ۱۲۳

۱۵۔افغانستان میں وھابی طالبان کے مظالم : ۱۲۳

فصل چہارم ۱۲۴

وہابیت اورخداکی شناخت ۱۲۴

۱۔ابن تیمیہ مروج افکارتجسیم : ۱۲۴

۲۔جسمانیت خدا وند متعال اور سعودی عرب کی فتوی دینے والی اعلی کمیٹی : ۱۲۶


۳۔وہابیوں کے خداکا مسکرانا : ۱۲۶

۴۔وہابیوں کے خدا کا عرش سے زمین پر آنا : ۱۲۶

۵۔وہابیوں کا خدا آنکھ سے دیکھا جا سکتاہے ۔ ۱۲۷

۶۔وہابیو ں کا خدا ہر جگہ نہیں ہوسکتا : ۱۲۸

۷۔وہابیوں کے خدا کا مچھر پر بیٹھنا: ۱۳۰

۸۔وہابیوں کا خدا نوجوان اورگھنگھریالے بالوںوالاہے : ۱۳۰

۹۔وہابیوں کے خدا کا آنکھ کے دردمیں مبتلاہونا : ۱۳۱

۱۰۔وہابیوں کے خدا کا پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مصافحہ کرنا : ۱۳۱

۱۱۔وہابیوں کا خدا فقط ڈاڑھی اورشرمگاہ نہیں رکھتا : ۱۳۲

۱۲۔ وہابیوں کے نبی کاان کے خدا کے پاس بیٹھنا : ۱۳۲

۱۳۔وہابیوں کاخدا عرش سے چار انگلیاں بڑاہے: ۱۳۳

۱۴۔ کرسی کا خدا کے بوجھ سے چیخنا: ۱۳۴

۱۵۔وہابیوں کے خدا کا تیز تیز چلنا : ۱۳۵

افکار وہابیت انصاف کے ترازو پر ۱۳۷

۱۔ ابن تیمیہ اور وہابیوں کے اقوال قرآن و سنت کے مخالف ہیں : ۱۳۷

۲۔ احمد بن حنبل کا نظریہ تجسیم کو باطل قرار دینا : ۱۳۸

۳۔ علمائے اہل سنت کا مجسمہ کو کافر قراردینا : ۱۳۹

۴۔ یہودیوں کے ذریعہ تجسیم کا داخل ہونا : ۱۴۱

۵۔ کتب اہل سنت میں اسرائیلیات کا داخل ہونا : ۱۴۲

ابن تیمیہ کے دیگر اقوال پر ایک نظر ۱۴۵


فصل پنجم ۱۴۸

وہابی اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا ۱۴۸

۱۔ ابن تیمیہ کا مسلمانوں کو کافر اور انھیں قتل کرنے کا حکم دینا : ۱۴۸

۲۔محمد بن عبد الوہاب کا مسلمانوں کوکافر اور ان سے جہاد کا حکم دینا : ۱۴۹

۲۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کے زمانہ کے مشرک وبت پرست خدا کے ۱۵۱

۳۔ مسلمانوں کو مشرک ، کافر اور بت پرست کہنا : ۱۵۱

۴۔ وہابی مذہب میں داخل ہونے کی شر ط مسلمانو کے کفر کی گواہی دینا ہے : ۱۵۲

۵۔ امت مسلمہ کے کفر وارتداد کا حکم : ۱۵۳

۶۔ آیت اکمال کی وہابی مذہب پر تطبیق: ۱۵۵

۷۔ ابن جبرین کا شیعوں کے کفر کا فتویٰ دینا : ۱۵۶

۸۔ شیعوں کے خلاف جہاد کا کھلا اعلان : ۱۵۹

۹۔ سعودی عرب میں فتویٰ کی اعلیٰ کمیٹی کا شیعوں کے کفر کا فتویٰ : ۱۶۰

۱۰۔ زرقاوی کا شیعوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ : ۱۶۱

۱۱۔ وہابی مفتیوں کا حزب اللہ کے لئے دعانہ کرنے کا فتویٰ دینا : ۱۶۲

۱۲۔ سعودی مفتی اور ابن تیمیہ کی مخالفت: ۱۶۵

مسلمانوں کی تکفیر کے بارے میں وہابیوں کے نظریہ پر اعتراض ۱۶۷

۱۔ مسلمانوں کی تکفیر قرآنی آیات کی مخالفت کرنا ہے ۱۶۷

پہلی آیت : ۱۶۸

ایمان اور اسلام میں فرق ۱۶۹

دوسری آیت : ۱۷۱


قابل غور نکتہ: ۱۷۳

۲۔مسلمانوں کی تکفیر سنت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کرنا ہے: ۱۷۴

الف) مسلمانوں کی تکفیر سے شدید ممانعت : ۱۷۴

ب: دوسروں کو تکفیر کرنے والے کا کفر ۱۷۵

ج:اہل قبلہ کے قتل کی حرمت ۱۷۶

د: خوف سے اسلام لانے والے کے قتل کی حرمت ۱۷۶

ھ: کسی مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام لانے والے کے قتل کی حرمت : ۱۷۸

۳۔ مسلمانوں کی تکفیر سیرت پیغمبر کے مخالف ہے ۱۷۸

۴۔ مسلمانوں کی تکفیرصحابہ کی روش کے مخالف ۱۸۰

۵۔ مسلمانوں کی تکفیر علمائے اہل سنت کے عقیدہ کے مخالف ۱۸۱

ابو الحسن اشعری کا نظریہ : ۱۸۲

تکفیر ایمان سے سازگار نہیں : ۱۸۲

جمہور فقہاء و متکلمین کا نظریہ : ۱۸۳

صحابہ سے بغض اور انھیں گالی دینا کفر نہیں : ۱۸۴

مجتہد خطاء کی صورت میں اجر کا مستحق ہے : ۱۸۵

خود وہابیوں کا تکفیر میں گرفتار ہونا ۱۸۸

مجلس کبار العلماء کا تکفیر کی مذمت کرنا ۱۸۸

تکفیر بھی حلال و حرام کے مانند حکم شرعی ہے : ۱۸۹

تکفیر کے سبب ہونے والے قتل عام کی حرمت : ۱۹۱

تکفیر کے بدترین آثار سے اسلام کی بیزاری : ۱۹۵


اس اعلان پر دستخط کرنے والی شخصیات : ۱۹۶

سعودی بادشاہ کا تکفیر کرنے والے وہابی مفتیوں پر حملہ ۱۹۶

مفتی اعظم سعودیہ کا عراق میں ہونے والے خود کش دھماکوں کی مذمت کرنا ۱۹۸

فصل ششم ۱۹۹

وہابی اور مسلمانوں پر بدعت کی تہمت ۱۹۹

۱۔ میلاد النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بدعت قراردینا : ۱۹۹

۲۔ مدئن کے شروع میں مدئیِں: ۲۰۰

۳۔ اذان سے پہلے یا بعد میں پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجنا: ۲۰۰

۴۔ قبر پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس قبولیت کے قصد سے دعا کرنا : ۲۰۲

۵۔ رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قرآن یا نماز کا ثواب ہدیہ کرنا : ۲۰۳

۶۔قل خوانی : ۲۰۳

۷۔مردوںکو نماز کا ثواب ہدیہ کرنا : ۲۰۴

۸۔ تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز: ۲۰۴

۹۔مل کر تلاوت قرآن یا دعاء کرنا ۲۰۵

۱۰۔تلاوت قرآن کے بعد صد ق اللہ العظیم کہنا: ۲۰۵

۱۱۔خانہ کعبہ کے غلاف کو مس کرنا : ۲۰۶

۱۲۔ تسبیح کے ساتھ ذکر کرنا : ۲۰۶

۱۳۔ سالگرہ منانا: ۲۰۷

بدعت کے بارے میں وہابی افکار کی رد ۲۰۹

بدعت کے صحیح مفہوم کا درک نہ کرنا : ۲۰۹


بدعت کالغوی معنیٰ: ۲۰۹

بدعت کا شرعی معنیٰ : ۲۰۹

بدعت کے ارکان ۲۱۱

۱۔ دین میں تصرف: ۲۱۱

۲۔ کتاب میں اس کی اصل کا نہ ہونا : ۲۱۲

بدعت قرآن کی رو سے ۲۱۳

۱۔ قانون گذاری کا حق فقط خدا ہی کو ہے : ۲۱۳

۲۔ انبیاء کو بھی شریعت میں تبدیلی کا حق نہیں : ۲۱۴

۳۔ قرآن میں رہبانیت کی بدعت کی مذمت : ۲۱۴

۴۔بدعت ، خدا کی ذات پر تہمت لگانا ہے : ۲۱۵

۵۔ بدعت ، خدا کی ذا ت پر جھوٹ باندھنا ہے : ۲۱۶

بدعت ، روایات کی روشنی میں ۲۱۷

۱۔ہر بدعت مردود ہے : ۲۱۷

۲۔ہر بدعت گمراہی ہے : ۲۱۷

روایات شیعہ کی روشنی میں بدعت ۲۱۹

۱۔ بدعت ،سنت کی نابودی کا باعث : ۲۱۹

۲۔ بدعت گذار پر خدا ، ملائکہ اور لوگوں کی لعنت ہے : ۲۱۹

۳۔ بدعت گزار کے ساتھ ہم نشینی کی ممانعت : ۲۲۰

۴۔ اہل بدعت سے بیزاری واجب ہے : ۲۲۰

۵۔بدعت گذار کا احترام ، دین کی نابودی: ۲۲۱


۶۔ بدعت کا مقابلہ کرنے کاحکم : ۲۲۲

کیا بزرگان دین کی یاد منانا بدعت ہے ؟ ۲۲۲

انبیاء کے میلاد کا قرآن سے اثبات ۲۲۳

۱۔یہ درحقیقت تعظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے : ۲۲۳

۲۔ یہ اجر رسالت ہے : ۲۲۴

۳۔ میلاالنبی بھی جشن نزول مائدہ کے مانند: ۲۲۴

سعودی عرب کی قومی عیدیں ۲۲۵

فصل ہفتم ۲۲۷

انبیاء واولیاء سے توسل کا حرام قراردینا ۲۲۷

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کے بارے میں وہابیوں کے نظریات ۲۲۷

۱۔ ابن تیمیہ کانظریہ ۲۲۷

۲۔ نظریہ محمد بن عبد الوہاب: ۲۲۷

۳۔ سعودی مجلس فتویٰ کا نظریہ : ۲۳۰

ایک اور سوال کے جواب میں یوں فتویٰ دیا: ۲۳۱

۴۔ سعودی مفتی اعظم کا نظریہ : ۲۳۲

توسل کے بارے میں وہابیوں کے نظریات کی رد ۲۳۳

الف:انبیاء سے توسل قرآن میں ثابت ہے ۲۳۳

۱۔ رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل پر حکم قرآن : ۲۳۳

۲۔ پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی زندگی اور اس کے بعد توسل کا ثابت ہونا : ۲۳۴

۳۔ مالک کا توسل کے جواز پر قرآن سے استدلال ۲۳۵


۴۔ برادران یوسف صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حضرت یعقوب علیہ السلام سے توسل : ۲۳۶

ب: بعثت سے پہلے آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل ۲۳۷

۱۔ آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلقت سے پہلے ان سے توسل : ۲۳۷

۲۔ آنحضر ت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شیر خوارگی میں جناب عبد المطلب کا ان سے توسل : ۲۳۹

۳۔جناب ابو طالب کا آنحضرت کے بچپن میں ان سے توسل ۲۴۱

۴۔ یہودیوں کا بعثت سے پہلے آنحضرت سے توسل : ۲۴۲

ج: بعثت کے بعد رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل : ۲۴۳

۱۔ آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دستور پر ایک نابینا کا ان سے توسل کرنا : ۲۴۳

۲۔ اہل مدینہ کا پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل : ۲۴۴

۳۔عمربن خطاب کا رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل ۲۴۶

د: آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ان سے توسل ۲۴۷

۱۔ ابوبکر کا آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل : ۲۴۷

۲۔حضرت علی علیہ السلام کا پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل : ۲۴۸

۳۔ بادیہ نشین عرب کا رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک سے توسل : ۲۴۹

۴۔حضرت ابو ایوب انصاری کا قبر پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر آنا: ۲۵۱

۵۔ حضر ت بلال بن حارث کا قبر پیغمبر سے توسل : ۲۵۲

۶۔ عثمان بن حنیف کی راہنمائی سے ایک پریشان شخص کا آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کرنا : ۲۵۴

۷۔حضرت بلال مؤزن پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آپ کی قبر سے توسل : ۲۵۷

۸۔ حنبلیوں کے بزرگ کا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر سے متوسل ہونا : ۲۵۸

۹۔ قبر امام علی رضا علیہ السلام ، بزرگان اہل سنت کی زیارت گاہ : ۲۵۸


۱۰۔امام شافعی کا ابو حنیفہ کی قبر سے توسل : ۲۵۹


وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

مؤلف: ڈاکٹر سید محمد حسینی قزوینی
زمرہ جات: ادیان اور مذاھب
صفحے: 274