اہل بیت کے شیعہ

مؤلف: آیة اللہ محمد مہدی آصفی
ادیان اور مذاھب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: اہل بیت کے شیعہ

مولف: آیة اللہ محمد مہدی آصفی

مترجم: نثار احمد زین پوری

مصحح: کلب صادق اسدی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول : ۱۴۲۷ھ ۲۰۰۶ ء

تعداد : ۳۰۰۰

مطبع : اعتماد


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر(عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،فاضل علّامہ آیة اللہ محمد مہدی آصفی کی گرانقدر کتاب ''اہل بیت کے شیعہ ''کو فاضل جلیل مولانا نثار احمد زین پوری نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


بسم الله الرحمٰن الرحیم

( قل لا أسألُکُم عَلَیهِ أجرًا إلاَّ المُوَدَّةَ فِی القُربیٰ ) سورہ شوریٰ: ۲۳

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہہ دیجئے کہ میں تم سے تبلیغ کی کوئی اجرت نہیں چاہتا ہوں سوائے اس کے کہ تم میرے قرابتداروں سے محبت کرو۔

( إنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤتُونَ الزّکاةَ وَ هُم رَاکِعُونَ ) سورہ مائدہ : ۵۵

تمہارا ولی خدا ،اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکواة دیتے ہیں ۔

( یَا أیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا أُنزِلَ لَیکَ مِن رَّبِّکَ وَإن لَّم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲ ُیَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) سورۂ مائدہ : ۶۷

اے رسول اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ پر نازل کیا جا چکا ہے اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گو یا رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہ دیا خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔


اجمالی فہرست

۱۔ پیش گفتار''اہل بیت کے شیعہ کون ہیں ''

۲۔ اہل بیت سے محبت اور نسبت کا معیار

۳۔ اہل بیت سے محبت اور نسبت کے عام شرائط

۴۔ ولاء سے متعلق جملے اور اہل بیت سے نسبت

۵۔ مکتب اہل بیت سے وابستہ ہونے کے فوائد

۶۔استدراک و الحاق


پیش گفتار

اہل بیت کے شیعہ کون ہیں

''تشیع'' کے معنی نسبت، مشایعت، متابعت اور ولاء کے ہیں ، یہ لفظ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے:( وَ اِنَّ مِن شِیعَتِهِ لإبرَاهِیمَ إذ جَائَ رَبَّهُ بِقَلبٍ سَلِیم ) ( ۱ ) ان کے شیعوں میں سے ابراہیم بھی ہیں جب وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قلب سلیم کے ساتھ آئے۔

یعنی نوح کے پیروئوں میں سے ابراہیم بھی تھے جو خدا کی وحدانیت اور عدل کی طرف دعوت دیتے تھے ا ور نوح ہی کے نہج پر تھے۔

لیکن یہ لفظ علی بن ابی طالب اور آپ کے بعد آپ کی ذریت سے ہونے والے ائمہ سے محبت و نسبت رکھنے والوں کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ یہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ہیں کہ جن کی شان میں آیت تطہیر اور آیت مودت نازل ہوئی ہے ۔

تاریخ اسلام میں یہ لفظ اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت و نسبت اور ان کے مکتب سے تعلق رکھنے والوں کے لئے شہرت پا گیا ہے ۔ اس محبت و نسبت اور اتباع کے دو معنی ہیں :سیاسی اتباع و نسبت (سیاسی امامت) اورثقافتی و معارفی اتباع (فقہی و ثقافتی مرجعیت) یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعہ شیعیانِ اہل بیت پہچانے جاتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں سے ممتاز ہوتے ہیں ۔

اب آپ کے سامنے مذکورہ دونوں شقوں کی وضاحت کی جاتی ہے :

۱۔اہل بیت کی سیاسی امامت

رسول نے حجة الوداع سے واپس لوٹتے ہوئے ، غدیر خم میں (قافلہ کے) مختلف راستوں میں بٹنے سے پہلے یہ حکم دیا کہ جو لوگ آگے بڑھ گئے ہیں ان کو واپس بلایا جائے اور جو

____________________

(۱) سورۂ صافات ۸۳


پیچھے رہ گئے ہیں وہ آپ سے ملحق ہو جائیں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس لوگوں کا جم غفیر جمع ہو گیا۔ اس وقت شدید گرمی تھی اس سے پہلے وہ اتنی شدید گرمی سے دوچار نہیں ہوئے تھے۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے شامیانے لگائے گئے ان کے نیچے جھاڑو لگائی گئی، پانی چھڑکا گیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کپڑے سے سایہ کیا گیا۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز ظہر پڑھی پھر خطبہ دیا اور لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا کہ آپ کا وقت قریب ہے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑا ( اور اتنا بلند کیا کہ) آپ کی بغلوں کی سفیدی نمایاں ہو گئی اس کے بعد فرمایا:

اے لوگو! کیا میں تم سب سے اولیٰ نہیں ہوں ۔ سب نے کہا : ہاں! پھر فرمایا:جس کامیں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں ، اے اللہ جو ان کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو ان کو دشمن سمجھے تو اس کو دشمن سمجھ، جو ان کی نصرت کر ے تو اس کی مدد فرما اور جو ان کو چھوڑ دے تواس کو رسوا فرما۔

خدا نے اپنے رسول کو اس سے پہلے اس پیغام کو پہنچا نے کا حکم دیا تھا جیسا کہ ارشاد ہے :( یَا أیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا أُنزِلَ لَیکَ مِن رَّبِّکَ وَإن لَّم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲ ُیَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) ( ۱ )

اس آیت میں خدا نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ لوگوں کو اپنے بعد ہونے والے وصی اور ولی کا تعارف کرا دیں۔ یہ بات آیت میں بڑی تاکیدکے ساتھ کہی گئی ہے ، ہمیں قرآن مجید میں کوئی دوسری آیت ایسی نہیں ملتی جس میں رسول کو اس انداز میں مخاطب کیا گیا ہو

( وَإن لَّم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَه ) اس کے بعد رسول کو اطمینان دلانے کے انداز میں مخاطب کیا ہے کیونکہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود کو لوگوں کے شر سے محفوظ نہیں سمجھ رہے تھے لہذا خدا نے فرمایا:

____________________

(۱) سورۂ مائدہ ۶۷۔


( وَاﷲ ُیَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ )

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں کو ولایت اور وصایت کے بارے میں بتادیا اور تبلیغ دین کی تکمیل کردی تو اس سلسلہ میں خدانے فرمایا:

( ألیَومَ أکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَ أتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الإسلاَمَ دِینًا )

عہد صحابہ سے آج تک تاریخ کے اس عظیم واقعہ کی روایتیں ہر طبقہ اور سند کے اعتبار سے متواتر ہیں چنانچہ طبقہ اولیٰ میں ایک سو دس صحابہ سے زیادہ نے اس کو بیان کیا ہے اور دوسرے طبقہ میں ۸۴ تابعین نے اس کی روایت کی ہے ، اس کے بعد راویوں کے طبقات میں وسعت ہوتی رہی شیخ عبد الحسین امینی نے اپنی کتاب ''الغدیر'' کی پہلی جلد میں اس حدیث کے راویوں کی تعداد بیان کی ہے ،ہمارے ساتھی محقق سید عبد العزیزطباطبائی نے اس کی مستدرک لکھی ہے، جس میں موصوف نے کچھ صحابہ، تابعین ، تبع تابعین اور منابع و ماخذ کا اضافہ کیاہے ۔

اس حدیث کے طرق اتنے صحیح ہیں کہ اس میں شک نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ اس حدیث کو حفاّظ، محدثین ، مفسرین ، مورخین اور بہت سے لوگوں نے بیان کیا ہے کہ ان سب کابیان کرنا ہماری طاقت سے باہر ہے ، ترمذی اپنی صحیح میں ، ابن ماجہ نے سنن میں ،احمد بن حنبل نے مسندمیں ، نسائی نے خصائص میں ،حاکم نے مستدرک میں ، متقی ہندی نے کنز العمال میں ، مناوی نے فیض القدیر میں ، ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ، محب الطبری نے ریاض النضرة میں ، خطیب نے تاریخ بغداد میں ، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ، ابن اثیر جزری نے اسد الغابة میں ، طحاوی نے مشکل الآثار میں ، ابو نعیم نے حلیة الاولیاء میں ،ابن حجر نے صواعق محرقہ میں ، ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور بہت سے لوگوں نے حدیث غدیر کی روایت کی ہے کہ اس مقدمہ میں ان کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔


ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں بعض ان صحابہ کے اسماء تحریر کئے ہیں جنہوں نے حدیث غدیر کی روایت کی ہے اور لکھا ہے کہ ابن جریر طبری نے اپنی تالیف میں حدیث ولایت کو نقل کیا ہے ،اس میں اس حدیث کو نقل کرنے والوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے اور موصوف نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ پھر لکھتے ہیں : ابو العباس بن عقدہ نے اس حدیث کے طرق کو جمع کیا ہے اور سترّ یا سترّ سے زیادہ صحابہ سے اس کی روایت کی ہے ۔( ۱ )

فتح الباری میں لکھا ہے : لیکن، حدیث'' من کنت مولاہ فعلّ مولاہ'' کو ترمذی اور نسائی نے نقل کیا ہے اور اس کے طرق بہت زیادہ ہیں ۔ ان طرق کو ابن عقدہ نے ایک الگ کتاب میں جمع کیا ہے۔ اس حدیث کی زیادہ تر سندیں صحیح اور حسن ہیں ۔( ۲ )

لہذا اس کے متن و سند میں کوئی شک نہیں کرے گا اور اس کے جو قرائن ہیں وہ اتنے روشن ہیں کہ شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے ۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شدید گرمی میں صحابہ کے جم غفیر کو ، ان کے مختلف راستوں میں تقسیم ہونے سے قبل، جمع کرنا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کاانتظار کرنا اور جو آگے نکل گئے تھے ان کو پیچھے بلانا،امت کی سرنوشت میں اہمیت کے حامل ایک امر کے لئے تھا۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کا ہاتھ بلند کرنے اور'' من کنت مولاه فعلی مولاه'' کہنے سے پہلے صحابہ سے معلوم کیا: کیا میں تمہارے نفسوں پر خود تم سے زیادہ حق تصرف نہیں رکھتا ہوں ؟ سب نے کہا: بیشک ، آپ اولیٰ ہیں اور یہ تمام مسلمانوں پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حاکمیت و ولایت کے معنی ہیں - لہذا فرمایا:

''من کنت مولاه فهذا علّ مولاه''

____________________

(۱) تہذیب التہذیب: ج۷ ص ۳۳۹حالات علی بن ابی طالب

(۲) فتح الباری : ج ۸ ص ۷۶ب ۹ مناقب علی بن ابی طالب


پھربہت سے بزرگ صحابہ علی کو ولایت کی مبارک باد دینے کے لئے خدمت علی میں حاضر ہوئے ،ان میں ابوبکر و عمر بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ اس کی دلالت، شہرت، گواہی اور تصریح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ہونے والے خلیفہ اور امام کے لئے کافی ہے ۔ اس سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد تھا کہ علی کو اپنے بعدمسلمانوں کا امام بنا دیں مگر کیا کیاجائے کہ سیاسی امور آڑے آ گئے اور لوگ اس حدیث کی دلالت میں شک کرنے لگے جبکہ اس کی سند میں شک کرنا ان کے لئے آسان نہیں تھا۔شیعیان اہل بیت اس اور دوسری واضح و صحیح حدیثوں کی روشنی میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد علی کو اور ان کے بعد ان کی ذریت سے ہونے والے ائمہ کوسیاسی امام تسلیم کرتے ہیں ۔

۲۔ اہل بیت ، فقہی و ثقافتی مرجعیت

یہ نکتہ ان دو روشن شقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعہ اہل بیت کے شیعہ دوسرے مسلمانوں سے جدا ہوتے ہیں ۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اہل بیت کو اپنی حیات ہی میں مسلمانوں کا مرجع بنا دیا تھا کہ وہ حلال و حرام میں ان سے رجوع کریں گے وہ انہیں سیدھے راستہ کی ہدایت کریں گے اور ان کو گمراہی سے بچا ئیں گے : اور اہل بیت کو قرآن سے مقرون کیا تھا یہ بات حدیث ثقلین سے ثابت ہے جوکہ محدثین کے درمیان مشہور ہے اور فریقین کے نزدیک صحیح ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس کی روایت متواتر ہے اور یہ تواترہے اور شہرت اس لئے ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد اس کے پھیلانے کا اہتمام کیا تھا۔


جن لوگوں نے اس حدیث کی روایت کی ہے ان میں سے مسلم بن حجاج بھی ہے انہوں نے صحیح مسلم کے باب فضائل علی بن ابی طالب میں زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک روز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداایک تالاب کے کنارے ، جس کو خم کہتے ہیں اور مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے ، ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، پہلے خدا کی حمد و ثناء کی ، پھر لوگوں کووعظ و نصیحت کی اس کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ، قریب ہے کہ خداکا فرستادہ آئے اور میں اس کی آواز پر لبیک کہوں ، میں تمہارے درمیان دوگراں قدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں ان میں سے ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت و نور ہے ،لہٰذا کتاب خدا کو لے لو اور اس سے وابستہ ہو جائو، کتاب خدا کے بارے میں ترغیب کی۔ پھر فرمایا: اور میرے اہل بیت ہیں میں اپنے اہل بیت کے بارے میں خدا کو یاد دلاتا ہوں ۔ تین باریہی جملہ دہرایا۔( ۱ )

ترمذی نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے ۔ زید بن ارقم کہتے ہیں : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دوچیزیںچھوڑنے والا ہوں اگر تم اس سے وابستہ رہوگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک دوسری سے عظیم ہے ایک کتابِ خدا ہے جو رسی کی مانند آسمان سے زمین تک ہے، دوسری میری عترت ہے وہی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے ،دیکھنا یہ ہے کہ میرے بعد تم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔( ۲ )

ترمذی نے جابر بن عبد اللہ سے بھی اس کی روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : میں نے عرفہ کے روز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا وہ ناقہ قصویٰ پر سوارہیں اور خطبہ دے رہے ہیں ، میں نے سنا کہ فرماتے ہیں : اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اس سے وابستہ

____________________

(۱)صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ باب فضائل علی بن ابی طالب

(۲) سنن ترمذی : ج۲ ص ۳۰۸ کتاب المناقب اہل نبی ح ۳۷۸۸


ہو گئے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے کتاب خد اور میرے اہل بیت عترت۔( ۱ )

حاکم نے مستدرک الصحیحین میں اس حدیث کو اپنی سند سے زید بن ارقم سے متعدد طریقوں سینقل کیا ہے ۔( ۲ )

احمد بن حنبل نے مسند میں اس حدیث کو کئی طریقوں سے نقل کیا ہے : ابو سعید خدری سے( ۳ ) زید بن ارقم سے( ۴ ) اور زید بن ثابت سے اس کو دو طریقوں سے نقل کیا ہے۔( ۵ ) اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں ، اس کی سندیں صحیح ہیں لہذا یہ حدیث مستفیض ہے ۔ اور اس کی صحت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس کو مسلم و ترمذی نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔

علامہ میر حامد حسین لکھنوی نے (عبقات الانوار )میں اس حدیث کے طرق کو تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے وہ ایک بڑی کتاب ہے اس کی دوسری جلد میں حدیث کی دلالت سے بحث کی ہے ابھی کچھ عرصہ پہلے ان دونوں جلدوں کو دس جلدوں میں طبع کیا گیا ہے ۔خدا سید میر حامد حسین پر رحم کرے اور ان کی اس علمی کوشش کو قبول فرمائے۔ اس حدیث میں :

۱۔اہل بیت کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن کے برابر قرار دیاہے ۔

۲۔ دونوں کو خطا و گمراہی سے محفوظ قرار دیا ہے ۔

۳۔ اپنی امت کو دونوں سے تمسک کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تاکید کی ہے ۔

۴۔ امت کو یہ بھی بتایا ہے کہ یہ دونوں -قرآن و اہل بیت-ایک دوسرے سے ہرگزجدانہ ہوں گے، یہاں تک کہ حوض کوثر پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس وارد ہوں گے پس یہ دونوں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدہر چیز میں امت کے لئے مرجع ہیں ، اس دین کے حدود ، احکام اور اصول و فروع کی معرفت کے لئے انہیں سے رجوع کیا جائے گا۔

____________________

(۱) سنن ترمذی : ج ۲ ص ۳۰۸

(۲) مستدرک الصحیحین:ج ۳ ص ۱۰۹ ۱۴۸

(۳)مسند احمد ج۳ ص ۱۷

(۴) مسند احمد ج۴ ص ۳۷۱

(۵)مسند احمد ج ۵ ص ۱۸۱


صواعق میں ہیثمی لکھتے ہیں : جن حدیثوں میں امت کو اہل بیت ،سے تمسک کرنے کی ترغیب کی گئی ہے ان میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اہل بیت ،سب سے لائق و شائستہ افرد،کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاکہ امت ان سے وابستہ ہو سکے اسی طرح قرآن بھی قیامت تک باقی رہے گا، یہ زمین کے لئے باعثِ امان ہیں جیسا کہ اس حدیث: فی کل خلف من امت عد ول من اہل بیتی( ۱ ) میری امت کی ہر نسل میں میرے اہل بیت سے کچھ عادل ہوں گے۔( ۲ )

یہ تھا اس اہم نقطہ کا خلاصہ جس سے شیعہ ممتاز ہوتے ہیں ۔

اس بحث سے جو ہمارا مقصد ہے اس تک پہنچنے کے لئے یہی کافی ہے کیونکہ یہ کتاب شیعیان اہل بیت کے عقائد کو بیان کرنے کے لئے کافی نہیں ہے اسی لئے ہم نے محبتِ اہل بیت سے متعلق درج ذیل چار نکات سے بحث کرنے کے لئے مذکورہ دوکو تمہید کے طور پر اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، اوروہ نکات یہ ہیں :

۱۔ اہل بیت سے محبت و نسبت کی قدر و قیمت

۲۔ مکتبِ اہل بیت سے محبت کرنے اور اس سے منسوب ہونے کے عام شرائط

۳۔ محبت کے اجزا اور اس کے عناصر

۴۔ مکتب اہل بیت سے نسبت و محبت کے فوائد

اب ہم انشاء اللہ یکے بعد دیگرے ان نکات سے بحث کریں گے۔

____________________

(۱)الصواعق المحرقہ: ۱۵۱ طبع مصر ۱۹۶۵ئ

(۲)جو شخص اس مقدمہ کو پڑھتا ہے وہ یہ سوال کرتا ہے کہ اہل بیت کون ہیں اور کیا خصوصیات ہیں ،اس سوال کا جواب دینے کیلئے ہم کتاب کے آخر تک گفتگو جاری رکھیں گے تاکہ سلسلہ منقطع نہ ہو۔


اہل بیت سے نسبت اور محبت کی قدر و قیمت

محبت اہل بیت کی اہمیت خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں

ہم یہاںاہل بیت کی محبت کی اہمیت کے بارے میں کچھ آیتیں اور کچھ حدیثیں بیان کرتے ہیں :

علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں

سیوطی نے در منثور میں اس آیت:( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) ( ۱ ) کی تفسیر میں تحریر کیاہے کہ ابن عساکر نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ علی تشریف لائے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن یہ اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہیں ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) چنانچہ جب علی آتے تھے تو اصحابِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہتے تھے: خیر البریة آ رہے ہیں ۔

علامہ عبد الرئوف المناوی نے اپنی کتاب ''کنوز الحقائق'' کے صفحہ ۸۲ پر اس طرح روایت کی ہے:

''شیعة علّ ھم الفائزون''علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں ۔ پھر لکھتے ہیں اس حدیث

____________________

(۱)سورہ بینہ: ۷


کو دیلمی نے بھی نقل کیا ہے ۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد کی کتاب المناقب کے مناقبِ علی بن ابی طالب( ۱ ) میں ۔ علی سے روایت کی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میرے دوستصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی تم اور تمہارے شیعہ خدا کی بارگاہ میں اس حال میں پہونچو گے کہ تم اس سے راضی اور وہ تم سے خوش ہوگا اور تمہارا دشمن اس حال میں حاضر ہوگا کہ خد اس پر غضبناک ہو گا اور وہ جہنم میں جائے گا۔

اس حدیث کی طبرانی نے اوسط میں روایت کی ہے۔

ابن حجر نے ''صواعق کے ص ۹۶ پر روایت کی ہے اور لکھا ہے : دیلمی نے روایت کی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی : مبارک ہو کہ خدا نے تمہیں ، تمہاری ذریت ، تمہارے بیٹوں ، اہل ، تمہارے شیعوں اور تمہارے شیعوں کے دوستوں کو بخش دیا ہے ۔( ۲ )

ایوب سجستانی سے مروی ہے کہ انہوں نے ابو قلابہ سے روایت کی ہے کہ ا نہوں نے کہا: ام سلمہ نے کہا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے سنا کہ فرماتے ہیں : قیامت کے روز علی اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہوں گے۔( ۳ )

علی اور ان کے شیعہ بہترین خلائق ہیں

جریر طبری نے اپنی تفسیر میں خدا وند عالم کے اس قول( أوْلٰئِکَ خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) کی تفسیر کے سلسلہ میں اپنی سند سے ابو جارود سے انہوں نے محمد بن علی سے روایت کی ہے کہ

____________________

(۱) مجمع الزوائد : ج۹ ص ۱۳۱

(۲) فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ : ج۲ ص ۱۱۷ ص ۱۱۸

(۳)بشارت مصطفی : ص ۱۹۷


رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی تم اور تمہارے شیعہ ہی کا میاب ہیں ۔( ۱ )

اس کو سیوطی نے در منثور میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا ہے اور لکھا ہے :اس حدیث کو ابن عدی اور ابن عساکر نے علی سے مرفوع طریقہ سے نقل کیا ہے کہ : علی خیر البریة ہیں ۔

نیز تحریر کیا ہے : ابن عدی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَ عَمِلُواْ الصَّالِحاتِ أولئک هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) نازل ہوئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا: روز قیامت تم اور تمہارے شیعہ خدا سے خوش اور وہ تم سے راضی ہوگا۔( ۲ )

نیز لکھا ہے : ابن مردویہ نے علی سے روایت کی ہے کہ آپ نے کہا: مجھ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے خدا کا قول( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) نہیں سنا ہے ؟ تمہاری اورتمہارے شیعوں کی، میری اور تمہاری وعدہ گاہ حوض، کوثرہے جب امتیں حساب کے لئے آئیں گی تو تمہیں اور تمہارے شیعوں کو عزت کے ساتھ بلایا جائیگا اور بٹھایا جائیگا ۔

ابن حجر نے صواعق میں لکھا ہے:

گیارہویں آیت( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) جمال الدین زرندی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت

____________________

(۱) تفسیر طبری: ج۳ ص ۱۷۱ سورہ بینہ

(۲) در منثور : سیوطی تفسیر بینہ


نازل ہوئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے فرمایا: یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں کہ قیامت کے روز تم خدا سے راضی اوروہ تم سے راضی ہوگا۔ اور تمہارا دشمن اس حال میں آئیگا کہ وہ غصہ میں ہوگا اور اس کے ہاتھ گردن کے طوق میں پڑے ہوں گے۔( ۱ )

اس روایت کو شبلنجی نے نور الابصار میں نقل کیا ہے۔( ۲ )

اسلام میں محبت اہل بیت کا مقام

محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی اسناد سے ابو حمزہ ثمالی سے اور انہوں نے ابوجعفر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں ، نماز،زکواة، روزہ، حج اور ولایت ،پررکھی گئی ہے اورجس طرح ولایت کی طرف دعوت دی گئی ہے اس طرح کسی بھی چیز کی طرف نہیں بلایا گیا ہے ۔( ۳ )

محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی اسناد سے عجلان ابو صالح سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ امام صادق کی خدمت میں عرض کیا: مجھے ایمان کی حدود و تعریف سے آگاہ کیجئے فرمایا: یہ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، محمد اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ، جو چیزوہ خدا کی طرف سے لائے ہیں وہ بر حق ہے ، پانچ وقت کی نماز، ماہ رمضان کا روزہ، خانہ کعبہ کاحج ،ہمارے ولی کی ولایت اور ہمارے دشمن سے عداوت اور سچوں میں شامل ہونا۔( ۴ )

کلینی نے اپنی اسناد سے زرارہ سے انہوں نے ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اور وہ یہ ہیں ، نماز ، زکواة ، روزہ ، حج اور ولایت ۔(۵)

____________________

(۱)الصواعق المحرقہ: ۹۶

(۲) نور الابصار: ج۷ ص ۷۰ و ص ۱۱۰ ہم نے مذکورہ روایات کوفیروز آبادی کی کتاب فضائل الخمسہ من صحاب الستہ طبع مجمع جہانی اہل بیت: ج۱ ص ۳۲۸ و ۳۲۹سے نقل کیاہے

(۳) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۳۲۹ اصول کافی:ج۲ ص ۱۸

(۴) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۳۲۹ اصول کافی : ج ۲ ص ۱۸

(۵) بحار الانوار : ج۲: ص ۳۳۲ اصول کافی : ج۲ ص ۲۱


رافضی کون ہیں

روایت ہے کہ ایک روز عمار کسی گواہی کے سلسلہ میں کوفہ کے قاضی ابن ابی لیلیٰ کے پاس گئے۔ قاضی نے ان سے کہا: اے عمار تم اٹھو! حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہیں پہچان گئے ہیں تمہاری گواہی قبول نہیں کی جائیگی کیونکہ تم رافضی ہو، (یہ سن کر) عمار کھڑے ہو گئے اوران پر رقت طاری ہوگئی اور ان کا جوڑ جوڑ کانپنے لگا۔

ابن ابی لیلیٰ نے ان سے کہا: آپ تو عالم ومحدث ہیں اگر آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ کو رافضی کہا جائے تو رفض کو چھوڑ دیں، پھر تم ہمارے بھائی ہو۔ عمار نے اس سے کہا: جو تمہارا مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے، لیکن مجھے اپنے اور تمہارے اوپر رونا آ رہا ہے ، اپنے اوپر تو میں اس لئے رو رہا ہوں کہ جس عظیم رتبہ کی طرف تونے مجھے نسبت دی ہے میں اس کا اہل نہیں ہوں ، تم نے یہ گمان کیا ہے کہ میں رافضی ہوں وائے ہو تم پر،(امام جعفر صادق نے فرمایاہے : سب سے پہلے ان جادوگروں کو رافضی کہا گیا تھا جو عصا میں حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھ کر ان پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی اور فرعون کے حکم کو ٹھکرا دیااور اپنے فائدہ کی ہر چیز کو قبول کر لیا تو فرعون نے انہیں رافضی کا نام دیا کیونکہ انہوں نے فرعون کے دین کو ٹھکرا دیا تھا تو اس


دیا تھا تو اس لحاظ سے رافضی وہ شخص ہے جو ان تمام چیزوں کو ٹھکرا دے جن کو خدا پسند نہیں کرتا ہے اور جس چیز کا خدا نے حکم دیا ہے اس پر عمل کرے، تو اس زمانہ میں ایسا کون ہے ؟) اور اپنے اوپر اس لئے بھی رو رہا ہوں کہ مجھے خوف ہے اگر خدا کو میرے دل کی کیفیت کا علم ہو گیا جبکہ میں نے معزز لقب پایا ہے تو میرا پروردگار مجھے سرزنش کرے گا اور فرمائے گا: اے عمار کیا تم باطل چیزوں کو ٹھکرا ئے تھے اور طاعات پر عمل کرتے تھے جیسا کہ تمہیں لقب ملا ہے ؟ اگر اس مدت میں میں سہل انگاری سے کام لونگاتو اس سے میرے درجات کم ہو جائیں گے، اور میرے اوپر شدید عقاب ہوگا مگر یہ کہ ہمارے مولا و آقااپنی شفاعت کے ذریعہ ہماری مدد کریں۔

اورتمہارے اوپر اس لئے رو رہا ہوں کہ تم نے میرا ایسا نام رکھا ہے جس کا میں اہل نہیں ہوں مجھے ڈر ہے کہ تمہارے اوپر خدا کا عذاب نہ آجائے کہ تم نے شریف ترین نام رکھا ہے اور اس کو پست ترین خیال کیا ہے تمہارا بدن اس بات کے عذاب کو کیسے برداشت کرے گا؟

امام جعفر صادق فرماتے ہیں : اگر عمار کے اوپر آسمانوں اور زمینوں سے بھی زیادہ گناہ ہوتے تو ان کی اس گفتگو کے سبب ان سب کو محو کر دیا جاتا۔ یہ کلمات ان کے پروردگار کی بارگاہ میں ان کے حسنات میں اضافہ کریں گے ،یہاں تک کہ ان کے کلام کا معمولی حصہ بھی اس دنیا سے ہزار گنابڑا ہوگا۔( ۱ )

____________________

(۱) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۱۵۶ و ۱۵۷


ہرمحبت کا دعویدار شیعہ نہیں ہے

امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہم لوگوں کا گزر بازار میں اس شخص کے پاس سے ہوا جو یہ کہہ رہا تھا میں محمد و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مخلص شیعہ ہوں وہ اپنا کپڑا فروخت کرنے کی غرض سے یہ آواز دے رہا تھا کہ کون زیادہ مہنگا خریدے گا؟ امام موسیٰ کاظم نے فرمایا:

''ما جهل ولا ضاع امرؤ عرف قدر نفسه، أتدرون ما مثل هذا؟ هذا شخص قال أنا مثل سلمان ، و أبی ذر ، و المقداد، و عمّار، و هو مع ذلک یباخس فی بیعه و یدلس عیوب المبیع علیٰ مشتریه، و یشتری الشیء بثمن، فیزاید الغریب، یطلبه فیوجب له ثم اذا غاب المشتری قال لا أریده لا بکذا بدون ما کان طلبه منه ، أیکون هذا کسلمان و أبی ذر و المقداد و عمّار؟ حاش اللّٰه ان یکون هذا کهم، ولکن ما یمنعه من أن یقول نی من محبی محمد و آل محمد و من یوالی أولیائه و یعادی أعدائهم'' ۔

کیا تم جانتے ہو کہ اس کی مثال کیا ہے ؟ یہ شخص کہہ رہا تھامیں سلمان ، ابو ذر، مقداد اور عمار یاسر کے مثل ہوں اس کے با وجوداپنی چیز کو کم ناپتاہے اور خریدار سے اپنی اس چیز کا عیب چھپاتا ہے جس کو فروخت کر رہا ہے۔ اور معمولی قیمت میں ایک چیز خریدتا ہے اور اجنبی کو گراں قیمت پر فروخت کرتا ہے اور جب وہ چلا جاتا ہے تو اس کی برائی کرتا ہے ۔

کیا یہ شخص سلمان و ابو ذر اور مقداد و عمار جیسا ہو سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ، ان جیسا نہیں ہوسکتا ،وہ کیا چیز ہے جس نے اسے یہ کہنے سے باز رکھا کہ میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد کے شیعوں میں سے ہوں یا ان کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں ۔( ۱ )

مومنین اہل جنت کے لئے ایسے ہی درخشاں ہیں جیسے آسمان پر ستارے

امیر المومنین سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: یقیناً جنت والے ہمارے شیعوں کی طرف ایسے ہی دیکھیں گے جیسا کہ انسان آسمان کے ستاروں کو دیکھتا ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ و ۱۵۷

(۲) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۱۸ خصال الصدوق ۱۶۷۔


امام صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: آسمان والوں کے لئے مومنین کا نور ایسے ہی چمکتا ہے جیسے زمین والوں کے لئے آسمان کے ستارے روشن ہیں ۔( ۱ )

امام موسیٰ کاظم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: امام صادق کے چاہنے والوں کی ایک جماعت چاندنی رات میں آپ کی خدمت میں حاضر تھی ان لوگوں نے کہا: فرزندِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کتنا اچھا ہوتا کہ یہ آسمان اور یہ ستاروں کا نور ہمیشہ رہتا۔ امام صادق نے فرمایا: یہ نظم و نسق برقرار رکھنے والے چار فرشتے ، جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت زمین کی طرف دیکھتے ہیں تو تمہیں اور تمہارے بھائیوں کو زمین کے گوشہ و کنار میں دیکھتے ہیں جبکہ تمہارا نور آسمانوں میں ہوتا ہے اور ان کے نزدیک یہ نور ستاروں سے زیادہ اچھا ہے اور وہ بھی اسی طرح کہتے ہیں جیسے تم کہتے ہو: ان مومنوں کا نور کتنا اچھا ہے ۔(۲)

وہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں

ابن ابی نجران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو الحسن سے سنا کہ فرماتے ہیں : جو ہمارے شیعوں سے عداوت رکھتا ہے در حقیقت وہ ہم سے دشمنی رکھتا ہے اور جو ان سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ ہم سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ ہم میں سے ہیں وہ ہماری ہی طینت سے پیدا کئے گئے ہیں پس جو ان سے محبت کرے گا وہ ہم میں سے ہے اور جو ان سے عداوت رکھے گا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ہمارے شیعہ خدا کے نور سے دیکھتے ہیں اور خدا کی رحمت میں کروٹیں لیتے ہیں اور اس کی کرامت سے سرفراز رہتے ہیں اور ہمارے شیعوں

میں جس کو بھی کوئی غم ہوتا ہے اس کے غم میں ہم بھی غمگیں ہوتے ہیں اور اس کے خوش ہونے سے ہم بھی خوش ہو تے ہیں ۔(۳)

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۷۴ ص ۲۴۳ اصول کافی: ج ۲ ص ۱۷۰ سے منقول

(۲) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۲۴۳ عیون اخبار رضا سے منقول

(۳) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۷ صفات الشیعہ ص ۱۶۲ سے منقول


شیعہ اہل بیت کی نظر میں

اہل بیت اپنے شیعوں سے محبت کرتے ہیں

جس طرح اہل بیت کے شیعہ اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اسی طرح اہل بیت بھی اپنے شیعوں سے شدید طور پر محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ان کی خوشبو اور روحوں سے بھی محبت کر تے ہیں ان کے دیدار و ملاقات کو بھی دوست رکھتے ہیں وہ اسی طرح ان کے مشتاق رہتے ہیں جس طرح دو محبوب ایک دوسرے کے مشتاق رہتے ہیں اور یہ فطری بات ہے کیونکہ محبت کا تعلق طرفین سے ہوتا ہے ایک طرف سچی محبت ہوگی تو دوسری طرف بھی سچی محبت ہوگی۔

اسحق بن عمار نے علی بن عبد العزیز سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوعبد اللہ سے سنا کہ فرماتے ہیں : خدا کی قسم مجھے تمہاری خوشبو، تمہاری روحیں، تمہارا دیدار اور تمہاری ملاقات بھی محبوب ہے اور میں دینِ خدا اور دینِ ملائکہ پر ہوں پس اس سلسلہ میں تم ورع کے ذریعہ میری مدد کرو کیونکہ میں مدینہ میں شعیر کی مانند ہوں ۔ میں گھومتاہوں لیکن جب تم میں سے کوئی نظر آجاتا ہے تو مجھے سکون ہو جاتا ہے ۔(۱)

جس طرح کالے بالوں میں سفید بال قلیل ہوتے ہیں اسی طرح میں مدنیہ میں تنہا ہوں ، میں مدینہ میں گھومتا رہتا ہوں شاید تم میں سے کوئی نظر آجائے اور میں اس کے پاس آرام کروں ۔

____________________

(۱) المحاسن : ص ۱۶۳ بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۲۸


عبد اللہ بن ولیدسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ سے سنا کہ فرماتے ہیں :ہم ایک جماعت ہیں خدا کی قسم میں تمہارے دیدار کو پسند کرتا ہوں اور تمہاری گفتگو کا اشتیاق رکھتا ہوں ۔( ۱ )

نصر بن مزاحم نے محمد بن عمران بن عبد اللہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے جعفر بن محمدعلیہما السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: میرے والد مسجد میں داخل ہو ئے تووہاں ہمارے کچھ شیعہ بھی موجود تھے آپ ان کے قریب گئے انہیں سلام کیا اور ان سے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہاری خوشبو اور روحوں کو دوست رکھتا ہوں ، اور میں دینِ خدا پر ہوں ۔

پس ورع و کوشش کے ذریعہ میری مدد کرو اور تم میں سے جو کسی کو اپنا امام بنائے اس کو اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے، تم خدا کے سرباز ہوتم خدا کے اعوان ہو، تم خدا کے انصار ہو۔( ۲ )

محمد بن عمران نے اپنے والد سے انہوں نے ابو عبد اللہ، سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک روز میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ منبر و قبر -رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -کے درمیان آپ کے اصحاب کی ایک جماعت بیٹھی ہے میرے والد ان کے قریب گئے انہیں سلام کیا اور فرمایا: خدا کی قسم میں تمہاری خوشبو اور روحوں کو دوست رکھتا ہوں ۔ تو اس سلسلہ میں تم ورع و جانفشانی کے ذریعہ میری مدد کرو۔( ۳ )

یہ دو کلمات انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں :

۱۔ میں تمہاری خوشبو اورروحوں سے محبت کرتا ہوں ۔

۲۔ ورع و کوشش کے ذریعہ تم میری مدد کرو۔

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۲۹

(۲) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۴۳ و ۴۴ بشارت المصطفیٰ ص ۱۶۔

(۳) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۶۵ و ص ۱۱۸۔


پہلا جملہ محبت و شوق کے اعلیٰ مراتب کا غماز ہے کہ امام کو اتنا اشتیاق و عشق ہے کہ وہ اپنے شیعوں میں جنت کی خوشبو محسوس کرتے ہیں ۔میں نہیں سمجھتا کہ محبت کے بارے میں اس سے زیادہ بلیغ اور واضح تعبیر استعمال ہوئی ہوگی۔

دوسرا جملہ اس محبت کے ضوابط کو بیان کرتا ہے کیونکہ یہ محبت لوگوں کی ایک دوسرے سے محبت کے فرق سے بدلتی رہتی ہے یہ بھی محبتِ خدا میں سے ہے اوریہ محبت کا بلند ترین درجہ ہے لیکن طاعت وعبودیت اور ورع و تقوی میں اس کا پلہ بھاری رہے گا اور ورع و تقوے کے جتنے پلے بھاری ہوں گے اسی تناسب سے محبت میں استحکام و بلندی پیدا ہوگی۔ اسی لئے امام نے اپنے شیعوں سے یہ فرمایا ہے کہ مجھے تم سے جو محبت ہے اس میں ورع ، تقویٰ اور خدا کی طاعت و عبودیت کے ذریعہ میری مدد کرو۔

بیشک وہ لوگ امام کے شیعہ تھے اور اہل بیت جانتے ہیں کہ شیعہ ان سے کتنی محبت رکھتے ہیں اہل بیت اس محبت کے عوض ان کو اتنی ہی یا اس سے زیادہ محبت دینا چاہتے ہیں ، لہٰذا اہل بیت نے اپنے شیعوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نفسوں کو اس محبت کا اہل بنا لیںاوریہ اہلبیت ورع و تقویٰ اور طاعت و عبودیت سے پیدا ہوگی اور اس وقت اہل بیت کی اپنے شیعوں سے محبت خدا کی محبت ہی کی ایک کڑی ہوگی۔

اس طرح شیعوں سے اہل بیت کی محبت ایسی ہی ہوگی جیسے باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ بیٹا اپنے اخلاق و عادات اور کردار و آداب میں اس محبت کا اہل ہو اور وہ ایسا کام نہ کرے کہ جس سے باپ کی عزت پر حرف آئے اور اس کے دل سے بیٹے کی محبت نکل جائے اوروہ اسے عاق کر دے۔

جس نے ان کے شیعوں سے عداوت کی اس نے ان سے دشمنی کی اور جس نے ان کے شیعوں سے محبت کی اس نے ان سے محبت کی۔


جس طرح بغض و محبت کا تعلق طرفین سے ہوتاہے یعنی ایک طرف کی محبت اسی وقت سچی ہو سکتی ہے جب دوسری طرف بھی سچی محبت ہو اسی طرح تو لا و تبریٰ بھی ہے پس جس طرح ہم اہل بیت کے دشمنوں کو دشمن سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اسی طرح اہل بیت بھی اس شخص کو دشمن سمجھتے ہیں جو ان کے شیعوں سے عداوت رکھتا ہے اوراس شخص سے محبت کرتے ہیں جو ان کے دوستوں سے محبت کرتا ہے۔

ابن ابی نجران سے روایت ہے کہ انہوں کہا،میں نے ابو الحسن سے سنا ہے :

جس نے ہمارے شیعوں سے دشمنی کی در حقیقت اس نے ہم سے دشمنی کی اور جس نے ان سے محبت کی حقیقت میں اس نے ہم سے محبت کی، کیونکہ وہ ہم میں سے ہیں وہ ہماری طینت سے پیدا کئے گئے ہیں لہٰذاجو بھی ان سے محبت کرے گا وہ ہم میں سے ہے اور جو ان سے دشمنی رکھے گا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمارے شیعہ نورِ خداسے دیکھتے ہیں وہ خدا کی رحمت میں چلتے پھرتے ہیں اور اس کی کرامت سے سرفراز و کامیاب ہوتے ہیں ۔( ۱ )

ابو الحسن سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے شیعوں سے عداوت کی اس نے ہم سے عداوت کی اور جس نے ان سے محبت کی اس نے ہم سے محبت کی کیونکہ وہ ہم ہی میں سے ہیں وہ ہماری طینت سے خلق کئے گئے ہیں جس نے ان سے محبت کی وہ بھی ہم میں سے ہے اور جس نے ان سے دشمنی کی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ہمارے شیعہ نورِ خداسے دیکھتے ہیں اور اسکی رحمت میں چلتے پھرتے ہیں اور اس کی کرامت سے سر فراز ہوتے

____________________

(۱) بحار الانوار: ۶۸ ص ۱۶۸


ہیں اگر ہمارے شیعوں میں سے کسی کوکوئی مرض لاحق ہوتا ہے تو اس کے مرض سے ہم بھی متأثر ہوتے ہیں ۔

اور اگران میں سے کوئی غمگین ہوتا ہے تو اس کے غم سے ہمیں بھی رنج ہوتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی خوش ہوتا ہے تو اس کی خوشی سے ہم بھی خوش ہوتے ہیں اور ہمارا کوئی شیعہ ہماری نظروں سے غائب نہیں ہے خواہ وہ مشرق و مغرب میں کہیں بھی ہو اوراس کے اوپر کچھ قرض ہو تو ہمارے ذمہ ہے اور اگر اس نے مال چھوڑا ہو تو وہ اس کے وارث کا ہے ۔

ہمارے شیعہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں ، زکواة دیتے ہیں ، خانہ خدا کا حج کرتے ہیں ، ماہ رمضان کے روزے رکھتے ہیں ،اہل بیت سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزار رہتے ہیں یہی لوگ صاحبان ایمان و تقویٰ اور یہی اہل زہد و ورع ہیں ،جس نے ان کی بات کو رد کر دیا اس نے خدا کے حکم کو رد کر دیا اور جس نے ان پر طعن کیااس نے خدا پر طعن کیا کیونکہ یہی خدا کے حقیقی بندے ہیں ، یہی اس کے سچے دوست ہیں ،خدا کی قسم اگر ان میں سے کوئی ربیعہ و مضر کے قبیلے کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا تو خدا اس کی اس عظمت کی بنا پر جواس کی نظر میں ہے ا ن کے بارے میں اس کی شفاعت کو قبول کرے گا۔( ۱ )

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۸ صفات الشیعہ ۱۶۳


اہل بیت کے شیعوں پر اور شیعوں کے اہل بیت پر حقوق

صرف اہل بیت ہی اپنے شیعوں سے اور ان کے دوستوں سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت وبیزاری نہیں کرتے ہیں بلکہ جس طرح شیعوں پر اہل بیت کے حقوق ہیں کہ وہ خدا کی طرف ان کی ہدایت و راہنمائی کریں اور ان کو حدود خدا کی تعلیم دیں اور انہیں عبودیت کے آداب سکھائیں اسی طرح ان کے شیعوں پربھی لازم ہے کہ ان سے سیکھیں۔

ابو قتادہ نے امام جعفرصادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے شیعوں کے حقوق ہم پر زیادہ واجب ہیں بہ نسبت ہمارے حقوق کے جوان کے ذمہ ہیں ۔ عرض کیا گیا کہ فرزندِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: اس لئے کہ ان پر ہماری وجہ سے مصیبت پڑی ہے مگر ان کی وجہ سے ہم پر مصیبت نہیں پڑتی۔


اہل بیت سے محبت اور نسبت کے شرائط

اہل بیت سے محبت و نسبت کے عام شرائط اور ان کی محبت کی قیمت کے بارے میں کہ جس کو ہم نے بیان کیا ہے کچھ عام شرطیں ہیں اہل بیت سے یہ نسبت و محبت اسی وقت ثمر بخش ہوتی ہے جس وقت یہ شرائط پورے ہوتے ہیں ،ان شرائط میں سے ایک شرط تفقہ ، تعبد، تقویٰ، ورع، مومنوں اور مسلمانوں سے میل ملاپ ،نظم و ضبط ،لوگوں کے ساتھ نیک برتائو امانتداری اور سچ گوئی بھی ہے۔

ان شرائط کے بغیر محبت حقیقی نہیں ہو سکتی ، بیشک حقیقی محبت اہل بیت کے سچے اتباع ہی میں ہے ۔

یہ نکات اہل بیت کی ان تعلیمات سے ماخوذ ہیں جو انہوں نے اپنے شیعوں اور اپنی پیروی کرنے والوں کودی تھیں ملاحظہ فرمائیں:

''کونوا لنا زیناً ولا تکونوا علینا شیناً' 'ہمارے لئے باعث زینت بنو ننگ و عار کا سبب نہ بنو۔

ائمہ اہل بیت اپنے شیعوں سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کے لئے زینت کا باعث بنیں ننگ و عار کا سبب نہ بنیں کیونکہ جب وہ اسلامی اخلاق سے آراستہ ہوں گے اور اسلامی ادب سے سنور جائیں گے تو لوگ اہل بیت کی مدح کریں گے اور یہ کہیں گے انہوں نے اپنے شیعوں کی کتنی اچھی تربیت کی ہے اور جب لوگ شیعوں کے لین دین ،بد اخلاقی ان کے غلط برتائو، حدودِ خدا اور اس کے حلال و حرام سے ان کی لاپروائی کو دیکھیں گے تو ،ان کی وجہ سے وہ اہل بیت پر بھی نکتہ چینی کریں گے۔


سلیمان بن مہران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں جعفر بن محمد صادق کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ کے پاس کچھ شیعہ بھی موجود تھے اور آپ فرما رہے تھے: اے شیعو! ہمارے لئے باعثِ زینت بنو اور ننگ و رسوائی کا سبب نہ بنو لوگوں سے نیک بات کہو، اپنی زبان پر قابو رکھو اسے بری بات اور فضول کہنے سے باز رکھو۔( ۱ )

امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اے شیعو! تم کوہم سے نسبت دی جاتی ہے پس تم ہمارے لئے باعثِ زنیت بنو، ہمارے لئے ننگ و عار کا سبب نہ بنو( ۲ )

آپ ہی کا ارشاد ہے : خدا رحم کرے اس شخص پر جس نے لوگوں کے درمیان ہمیں محبوب بنا یااوران کے درمیان ہمیں مبغوض و منفور نہیں بنایا ۔ خدا کی قسم اگر وہ ہمارے کلام کے محاسن دیکھ لیتے تو اس کے ذریعہ انہیں اور عزت ملتی اور کوئی شخص کسی بھی چیز کے ذریعہ ان پر فائق نہ ہوتا۔( ۳ )

آپ ہی کا قول ہے : خدا رحم کرے اس شخص پر جس نے لوگوں کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کی اور ان میں ہماری طرف سے بغض نہیں پیدا کیا خدا کی قسم اگر وہ ہمارے کلام کے محاسن دیکھ لیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ باعث عزت ہوتا اور پھر کوئی بھی شخص کسی بھی چیز کے ذریعہ ان پر فوقیت حاصل نہ کر پاتا لیکن اگر ان میں سے کوئی شخص ہماری کوئی بات سن لیتا تو اس میں دس کا اور اضافہ ہوتا ۔( ۴ )

آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اے عبد الاعلیٰانہیں ( یعنی شیعوں کو) ہمار اسلام کہہ دیناخد ان پر رحم کرے اور یہ کہہ دینا کہ امام نے یہ کہا ہے : خدا رحم کرے اس

____________________

(۱)امالی طوسی : ج۲ ص ۵۵ بحار الانوار : ج ۶۸ ص ۱۵۱

(۲)مشکاة الانوار: ص ۶۷

(۳)مشکاة الانوار: ص ۱۸۰

(۴) روضة الکافی: ص ۲۹۳


بندے پر کہ جس نے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف بھی مائل کیا اور ہماری طرف بھی اور وہ ان کے سامنے ایسی ہی چیز کو بیان کرتاہے جس کو اچھا سمجھتے ہیں اور ان کے سامنے ایسی چیز کا اظہار نہیں کرتا جس کو برا سمجھتے ہیں ۔( ۱ )

امام جعفر صادق ہی فرماتے ہیں : اے شیعو! ہمارے لئے باعث زینت بنو، سببِ ذلت و رسوائی نہ بنو، لوگوں سے اچھی اور نیک بات کہو اور اپنی زبانوں کی حفاظت کرو اور اسے فضول وبری بات کہنے سے باز رکھو۔( ۲ )

اہل بیت خدا سے شفاعت کریں گے اور اس سے بے نیاز نہیں ہیں

بیشک اہل بیت خداکے ذریعہ بے نیاز ہیں ، خدا سے بے نیاز نہیں ہیں وہ خدا کے اذن سے خدا سے شفاعت کریں گے، اس کی اجازت کے بغیر وہ کسی کی شفاعت نہیں کرے گے۔

پس جو شخص اہل بیت کی محبت و ولایت اور ان سے نسبت کے ذریعہ خدا کی عبادت و طاعت اور تقویٰ و ورع سے بے نیاز ہوناچاہتا ہے وہ مسلکِ اہل بیت سے ہٹ گیا ہے اس نے غیروں کا مذہب اختیار کر لیا ہے اور اس کو اہل بیت کی محبت و مودت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

عمرو بن سعید بن بلال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام محمد باقر کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ہماری ایک جماعت تھی۔آپ نے فرمایا:تم معتدل بن جائو یعنی میانہ روی اختیار کر لو کہ اس سے آگے بڑھ جانے والا تمہاری طرف پلٹ آئیگا اور پیچھے

____________________

(۱) بحار الانوار: ج۲ ص ۷۷

(۲) بحار الانوار: ج ۷۱ ص ۳۱۰


رہ جانے والا تم سے ملحق ہوجائیگااور اے آل محمد کے شیعو! یہ جان لو کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ ہی خدا کے اوپر ہماری کوئی حجت ہے اور طاعت کے علاوہ کسی اور چیز کے ذریعہ خد اکا تقرب حاصل نہیں کیا جا سکتا پھر جو خدا کا مطیع و فرمانبردار ہوگا اس کو ہماری ولایت سے فائدہ پہنچے گا لیکن جو عاصی و نافرمان ہوگا اس کو ہماری ولایت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اس کے بعد ہماری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا: دھوکا نہ دو اور افتراء پردازی نہ کرو۔( ۱ )

اب جو بھی اہل بیت کو چاہتا ہے اور ان کے مکتب سے منسوب ہونا چاہتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے اسے یہ جان لینا چاہئے کہ خدا کے اذن کے بغیر اہل بیت کسی کوکوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں ، وہ بندے ہیں خدا کی مخلوق ہیں ۔ خدا کے مقرب ہیں ۔ پس جوبھی اہل بیت کو چاہتا ہے اور ان کی محبت کے ذریعہ خدا کا تقریب حاصل کرنا چاہتا ہے اور خدا کی بارگاہ میں شفاعت کا طلبگار ہے اسے خدا سے ڈرنا چاہئے، اور صالحین کے راستہ پر چلنا چاہئے۔

حضرت علی سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا سے ڈرو! تمہیں کوئی دھوکا نہ دے اور کوئی شخص تمہیں نہ جھٹلائے،کیونکہ میرا دین وہی دین ہے جو آدم کا دین تھا جس کو خدا نے پسند کیاہے اور میں بندہ و مخلوق ہوں خدا کی مشیت کے علاوہ میں اپنے نفع و ضرر کا بھی مالک نہیں ہوں اور میں وہی چاہتا ہوں جو خدا چاہتا ہے۔( ۲ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۷۸

(۲)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۸۹ محاسن برقی سے منقول ہے ۔


تقویٰ اور ورع

اہل بیت نے اپنے شیعوں کو جو وصیتیں کی ہیں ان میں سب سے زیادہ تقوے اور

ورع کی وصیتیں ہیں ،ان کے شیعہ وہی لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔ جس شیعہ کا تقویٰ اور ورع زیادہ ہوگا اہل بیت کے نزدیک اس کی قدر و منزلت بھی زیادہ ہوگی ،کیونکہ تشیع کا جوہر ، اتباع، تاسی اور اقتدا ہے اور جو شخص اہل بیت کی اقتدا کرنا چاہتا ہے ان کی اقتداء کے لئے طاعتِ خد ا ، تقویٰ اور ورع کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ملے گا۔

ابو الصباح کنانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ، میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کیا: ہم کوکوفہ میں آپ کی وجہ سے ذلیل سمجھا جاتا ہے لوگ ہمیں جعفری کہتے ہیں ، یہ سن کر امام جعفرصادق غضب ناک ہوئے اور فرمایا: تم میں سے جعفر کے اصحاب بہت کم ہیں ، جعفر کے اصحاب تو وہی ہیں کہ جن کی پاکدامنی زیادہ اور جن کا عمل اپنے خالق کے لئے ہے ۔( ۱ )

عمرو بن یحییٰ بن بسام سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفرصادق سے سنا کہ فرماتے ہیں : لوگوں کے درمیان آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوران کے شیعہ ورع و پاک دامنی کے زیادہ حقدار ہیں ۔( ۲ )

امام جعفرصادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے شیعہ ورع و جانفشانی کے اہل ہیں ، وہ وقار و امانتداری کے اہل ہیں ،وہ زہد و عبادت کے اہل ہیں ، شب و روزمیں اکیاون رکعت نما زپڑھتے ہیں ،راتوں کو عبادت کرتے ہیں ، دن میں روزہ رکھتے ہیں ، خانۂ خدا کا حج کر تے ہیں اور ہر حرام چیز سے پرہیز کرتے ہیں ۔( ۳ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۶

(۲)بشارت المصطفیٰ ص ۱۷۱

(۳)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۸


آپ ہی کا ارشاد ہے : خدا کی قسم علی کا شیعہ تو بس وہی ہے جس نے اپنے شکم و شرمگا ہ کو پاک رکھا ،اپنے خالق کے لئے عمل کیا ،اس کے ثواب کا امیدوار رہا اور اس کے عذاب سے ڈرتا رہا۔( ۱ )

آپ ہی سے مروی ہے : اے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شیعو! سن لو کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جوغیظ و غضب کے وقت اپنے نفس پر قابو نہ رکھے اور اپنے ہمنشین کے لئے اچھا ہمنشین ثابت نہ ہو اور جو اس کی ہمراہی اختیار کرے یہ اس کے لئے اچھا ساتھی ثابت نہ ہواور جو اس سے صلح کرے تو یہ اس سے بہترین صلح کرنے والا ثابت نہ ہو۔( ۲ )

امام جعفرصادق کاارشادہے :وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے جو کسی شہرمیں ہو اور اس شہر میں ہزاروں لوگ ہوں اور اس شہرمیں کوئی اس سے زیادہ پاک دامن ہو۔( ۳ )

کلیب بن معاویہ اسدی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے امام صادق سے سنا کہ فرماتے ہیں : خدا کی قسم تم خدااور فرشتوں کے دین پر ہو پس ورع و کوشش اور جانفشانی کے ذریعہ میری مدد کرو۔( ۴ )

کلیب اسدی ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام صادق سے سنا کہ فرماتے ہیں : خدا کی قسم تم لوگ خدا اور اس کے فرشتوں کے دین پر ہو پس اس سلسلہ میں تم ورع و کوشش کے ذریعہ میری مدد کرو، تمہارے لئے نمازِ شب اور عبادت ضروری ہے اور تمہارے لئے ورع لازم ہے ۔( ۵ )

____________________

(۱)گذشتہ حوالہ

(۲)بحار الانوار: ج ۷۸ ص ۲۶۶۔

(۳) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۴ ۔

(۴) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۴۔

(۵)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۷۸ بشارة المصطفیٰ ص ۵۵ ص ۱۷۴


صاحبِ بصائر الدرجات نے مرازم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا میں مدینہ گیا تھا، جس گھر میں میراقیام تھا اس میں میں نے ایک کنیز کو دیکھا وہ مجھے بہت پسند آئی لیکن اس نے میرے ساتھ نکاح کرنے سے انکار کر دیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے کے بعد واپس آیا، در وازہ کھٹکھٹا یاتو اسی کنیز نے دروازہ کھولا، میں نے اپنا ہاتھ اس کے سینہ پر رکھ دیا، اس نے بھی کچھ حرکت کی یہاں تک کہ میں گھر میں داخل ہو گیا، اگلے دن میں ابو الحسن کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: اے مرازم وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے جس نے تنہائی میں ورع سے کام نہیں لیا۔( ۱ )

ایک شخص نے رسول کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فلاں شخص اپنے ہمسایہ کی ناموس کو دیکھتا ہے اگر اسے مل جائے تو وہ پاک دامنی کا خیال نہیں کرے گا، یہ سن کر رسول کو غیظ آ گیا، تو دوسرے آدمی نے کہا: وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اور علی سے محبت رکھتا ہے اور آپ دونوں کے دشمنوں سے نفرت کرتا ہے،وہ آپ کاشیعہ ہے، تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہو کہ وہ ہمارا شیعہ ہے وہ جھوٹ کہتا ہے ہمارا شیعہ تو بس وہی ہے جو ہمارے اعمال میں ہمارا اتباع کرتا ہے اور جس شخص کا تم نے ذکر کیا ہے اس نے ہمارے اعمال میں ہمارا اتباع نہیں کیا ہے۔( ۲ )

ایک شخص نے امام حسن سے عرض کی: میں آپ کا شیعہ ہوں ، امام حسن نے فرمایا: اے خدا کے بندے اگرتم ہمارے اوامر میں ہمارے تابع ہواور جن چیزوں سے ہم نے روکا ہے ان میں ہمارے مطیع ہو تو تم سچے ہو اور اگر تمہارا عمل اس کے بر خلاف ہے توتمہارے گناہوں کے ساتھ اس دعوے سے تمہارے مرتبہ میں اضافہ نہ ہوگا تم اس کے اہل نہیں ہواور یہ نہ کہو کہ

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۵۳ بصار الدرجات ص ۲۴۷

(۲)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۵۵۔


میں آپ کا شیعہ ہوں ہاں یہ کہو: میں آپ کے دوستوں میں سے ہوں اور آپ کا محب ہوں اور آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں ۔( ۱ )

ایک شخص نے امام حسین سے عرض کی: فرزندِ رسول میں آپ کا شیعہ ہوں ،آپ نے فرمایا: ہمارے شیعہ وہ ہیں جن کے دل ہر قسم کے مکرو فریب اور خیانت وکینہ سے محفوظ ہیں ۔( ۲ )

ابو القاسم بن قولویہ کی کتاب سے اور انہوں نے محمد بن عمر بن حنظلہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: امام صادق نے فرمایا: جو اپنی زبان سے خود کو ہمارا شیعہ کہتا ہے اور ہمارے اعمال و احکام میں مخالفت کرتا ہے وہ ہماراشیعہ نہیں ہے، ہمارے شیعہ وہ ہیں جو اپنی زبان اور اپنے دل سے ہماری موافقت کرتے ہیں اور ہمارے احکام میں ہمارا اتباع کر تے ہیں اور ہمارے اعمال کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ یہی ہمارے شیعہ ہیں ۔( ۳ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۵۶ ۔

(۲)گذشتہ حوالہ ۔

(۳)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۴ج ۱۳ ۔


تعبدو بندگی

ابو المقدام سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھ سے امام محمد باقر نے فرمایا: اے ابو المقدام علی کے شیعہ تو بس وہی ہیں بھوک کے سبب جن کے چہرے مر جھائے ہوئے، بدن دبلے پتلے اورنحیف ولاغر، ہونٹ سوکھے ہوئے، شکم پشت سے چپکے ہوئے ،رنگ اڑے ہوئے اورچہرے زردہوتے ہیں ، رات ہوتی ہے تو وہ زمین ہی کو اپنا فرش و بستر بنا لیتے ہیں ،اپنی پیشانیوں کو زمین پر رکھتے ہیں ،ان کے سجدے زیادہ، اشک فشانی زیادہ،ان کی دعا زیادہ

اور ان کا رونا زیادہ ہوتاہے ، جب لوگ خوش ہوتے ہیں تو یہ مخزون ہوتے ہیں ۔( ۱ )

روایت ہے کہ ایک رات امیر المومنین مسجد سے نکلے ، رات چاندنی تھی آپ قبرستان میں پہنچے، آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک جماعت بھی آپ کے پاس پہنچ گئی آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا:

اے امیر المونین ہم آپ کے شیعہ ہیں آ پ نے ان کی پیشانیوں کوغو ر سے دیکھا اور فرمایا: مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں تمہارے اندر شیعوں کی کوئی علامت نہیں پاتا ہوں ؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین شیعوں کی علامت کیا ہے ؟ فرمایا: بیدار رہنے کی وجہ سے ان کے رنگ زرد، رونے کے سبب ان کی آنکھیں کمزور، مستقل کھڑے رہنے کے باعث کمر ٹیڑھی اور روزہ رکھنے کی وجہ سے ان کے شکم پشت سے چپکے ہوئے اور دعا کے سبب ہونٹ مرجھائے ہوتے ہیں اور ان پر خاشعین کی گرد پڑی ہوتی ہے۔( ۲ )

ابو نصیر سے اور انہوں نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے شیعہ پاک دامن، زحمت کش، وفادار و امین ، عابد و زاہد، شب و روز میں اکیاون رکعت نماز پڑھنے والے، راتوں میں عبادت میں مشغول ر ہنے والے، دنوں میں روزہ رکھنے والے اپنے اموال کی زکواة دینے والے خانہ کعبہ کا حج کرنے والے اور ہر حرام چیز سے پر ہیز کرنے والے ہیں ۔( ۳ )

شیخ صدوق نے ''صفات الشیعہ''میں اپنی اسناد سے محمد بن صالح سے انہوں نے ابوالعباس دینوری سے انہوں نے محمد بن حنفیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب علی

____________________

(۱) خصال : ج ۲ ص ۵۸ بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۴۹ و ۱۵۰

(۲)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۵۰ و ۱۵۱ امالی طوسی : ج ۱ ص ۲۱۹۔

(۳)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۷ صفات الشیعہ ۱۶۲ ۔ ۱۶۴


اہل جمل سے جنگ کے بعد بصرہ تشریف لائے تو احنف بن قیس نے آپ کی اور آپ کے اصحاب کی دعوت کی کھاناتیارکیااوراحنف نے کسی کو آپ کو اورآ پ کے اصحاب کوبلانے کے لئے بھیجاآپ تشریف لائے اورفرمایا:اے احنف میرے اصحاب سے کہدو اندر آجائں، تو آپ کے پاس خشک مشکیزہ کی طرح خاشع و انکسارپرور ایک گروہ آیا: احنف بن قیس نے عرض کی: اے امیر المومنین ! یہ ان کاکیا حال ہے؟ کیا کم کھانے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے؟یا جنگ کے خوف کی وجہ سے ان کی یہ کیفیت ہے ؟!

آپ نے فرمایا: نہیں !اے احنف بیشک خدا وند عالم کچھ لوگوں کو دوست رکھتا ہے کہ وہ اس کیلئے اس دنیا میں عبادت کر تے رہیں ]کیونکہ ان کی عبادت[ان لوگوں کی عبادت کی طرح ہے کہ جن پرقیامت کے قریب ہونے کے علم کی وجہ سے ہیجانی کیفیت طاری ہے اورقبل اس کے کہ وہ قیامت کودیکھیں انہوں نے اسکے لئے مشقت اٹھاکرخودکوتیارکیاہے اورجب وہ اس صبح کویادکرتے ہیں کہ جس میں خداکی بارگاہ میں اعمال پیش کئے جائیںگئے تووہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کی آگ سے ایک بڑاشعلہ نکلے گااورتمام مخلوق کوان کے پروردگارکے سامنے اکٹھاکرے گااورلوگوں کے سامنے ان کے نامہ اعمال کوپیش کیاجائے گااوران کے گناہوں کی برائیاںآشکارہوجائیںگئی یہ سب سوچ کرقریب ہے کہ ان کی جانیںپگھل کرپانی پانی ہوجائیںاورانکے قلوب خوف کے پروں سے پروازکرنے لگیںاورجب خود کو بارگاہ الھی میں تنہا محسوس کرتے ہیں تودیگ کے کھولتے ہوئے پانی کی طرح کھولنے لگتے ہیں اورانکی عقلیں ان کاساتھ چھوڑدیتی ہیں ۔


وہ رات کی تاریکی میں مصیبت زدہ لوگوں کی طرح آواز بلند کرتے ہیں اور اپنے نفس کے کرتوت پر غمگین رہتے ہیں لہذا ان کے بدن لاغر، ان کے دل مغموم و مخزون، ان کے چہرے کرخت، ہونٹ مر جھائے ہو ئے اور شکم پتلے ہیں ، انہیں دیکھو گے تو ایسا لگے گا جیسے وہ نشہ میں ہوں ، رات کی تنہائی میں بیدار رہتے ہیں ، انہوں نے اپنے ظاہری و باطنی اعمال کو خدا کے لئے خالص کر لیا ہے ، ان کے دل اس کے خوف سے بے پروا نہیں ہیں اگر تم انہیں رات میں اس وقت دیکھو کہ جب آنکھیں سورہی ہوں ، آوازیں خاموش ہو گئی ہوں اور گردش رک گئی ہوتو اس وقت قیامت کاخوف انہیں سونے سے باز رکھتا ہے ، خدا وند عالم کا ارشاد ہے : کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر رات میں آ جائے جب سورہے ہوں ۔( ۱ )

اور وہ گھبرا کر اٹھتے ہیں اور بآواز بلند روتے ہوئے نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر کبھی گریہ کرنے لگتے ہیں اور کبھی تسبیح پڑھتے ہیں اورکبھی اپنے محراب عبادت میں چیخ مارکر روتے ہیں ،وہ تاریک رات کاانتخاب کرتے ہیں تاکہ صف باندھ کر خاموشی سے روئیں،اے اخنف اگر تم ان کو راتوں میں دیکھو کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں توتم ان کو اس حالت میں پائوگے کہ کمریں جھکی ہوئی ہیں اور اپنی نمازوں میں قرآن کے پاروں کی تلاوت کررہے ہیں ، ان کے رونے اور ہائے ویلا کرنے میں شدت پیدا ہو گئی ہے جب وہ سانس لیتے ہیں تم یہ گمان کرتے ہو کہ ان کے گلے میں آگ بھری ہوئی ہے اور جب وہ گریہ کرتے ہیں توتم یہ خیال کرتے ہو کہ ان کی گردنوں کو زنجیروں میں جکڑدیا گیا ہے۔

اگر تم انہیں دن میں دیکھو گے تو تم انہیں ایسا پائو گے کہ وہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور لوگوں سے اچھی بات کہتے ہیں : اور'' جب ان سے جاہل مخاطب ہوتے ہیں تووہ کہتے ہیں تم سلامت رہو''( ۲ ) ،اور'' جب وہ کسی لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو احتیاط و بزرگی سے گزر

____________________

(۱) سورہ اعراف: ۷ ۔

(۲)الفرقان۶۳۔


جاتے ہیں ''۔( ۱ )

اپنے قدموں کو انہوں نے تہمت والی باتوں کی طرف بڑھنے سے روک رکھا ہے اور اپنی زبانوں کو لوگوں کی عزت وآبرو پر حملہ کرنے سے گنگ بنا رکھاہے اور انہوں نے اپنے کانوں کو دوسروں کی فضو ل با توں کوسننے سے روک رکھا ہے ۔

اور اپنی آنکھوں میں گناہوں سے بچنے کا سرمہ لگا رکھا ہے اور انہوں نے دار السلام میں داخل ہونے کا قصدکررکھاہے اوریہ دارالسلام وہ جو اس میں داخل ہو گا وہ شک اور رنج و محن سے امان میں رہے گا۔( ۲ )

امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: امام زین العابدین اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ کچھ لوگوں نے دروازہ پر دستک دی۔ آپ نے ایک کنیز سے فرمایا: دیکھو دروازہ پر کون ہے؟ انہوں نے کہا: آپ کے شیعہ ہیں ، یہ سن کر آپ درواز کی طرف اتنی تیزی سے گئے قریب تھا کہ آپ گر پڑیں ،لیکن جب دروازہ کھول کر ان لوگوں کو دیکھا تو واپس لوٹ گئے اور فرمایا جھوٹ بولتے ہیں ،ان کے چہروں پرشیعہ کی علامت کہاںہے؟ عبادت کا اثر کہاں ہے؟ پیشانی پر سجدہ کا نشان کہاں ہے؟ ہمارے شیعہ تو بس اپنی عبادتوں اوراپنی پریشاں حالی سے پہچانے جاتے ہیں ، کثرت عبادت سے ان کی ناک زخمی ہو گئی ہے ان کی پیشانی اور اعضاء سجدہ پرگٹھے پڑ گئے ہیں ، ان کا پیٹ پتلا ہو گیا ہے، ہونٹ مرجھا گئے ہیں ، عبادت کی وجہ سے ان کے چہرے مرجھا گئے ہیں ، راتوں کی بیداری نے ان کی جوانی کو متغیرکردیا ہے اور دن کی گرمی نے ان کے بدن کو پگھلا دیا ہے ، یہ وہ ہیں کہ جب لوگ خاموش ہو تے ہیں تو یہ تسبیح کرتے ہیں اور جب لوگ سوتے ہیں تو یہ نماز پڑھتے ہیں اور جب لوگ خوش ہوتے ہیں تویہ

____________________

(۱)الفرقان:۷۲

(۲) بحار الانوار : ج ۶۸ ص ۱۷۰ و ۱۷۱ منقول از صفات الشیعہ ۱۸۳


محزون ہوتے ہیں ۔( ۱ )

نوف بن عبد اللہ بکائی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مجھ سے علی نے فرمایا: اے نوف ہم پاک طینت سے خلق کئے گئے ہیں اور ہمارے شیعہ ہماری ہی طینت سے پیدا ہوئے ہیں اور روز قیامت وہ ہم ہی سے ملحق ہو جائیں گے۔

نوف نے کہا:اے امیر المومنین مجھے اپنے شیعوں کے صفات بتایئے پس آپ اپنے شیعوں کو یاد کرکے روئے اور فرمایا: اے نوف خدا کی قسم ہمارے شیعہ حلیم و بردبار، خدااور اس کے دین کی معرفت رکھنے والے، اس کے حکم پر عمل کرنے والے ، اس کی محبت کی وجہ سے ہدایت یافتہ، عبادت کی وجہ سے نحیف و لاغر اور دنیا سے بے رغبتی کے سبب خرقہ پوش، نماز شب برپا رکھنے کے باعث ان کے چہروں کے رنگ زرد، رونے کے سبب آنکھیں چند ھیائی ہو ئیں اور ذکر خدا کی کثرت سے ہونٹ سوکھے ہوئے۔بھوکا رہنے کے باعث پیٹ کمر سے لگے ہوئے، ان کے چہروں سے ربّانیت اور ان کی پیشانیوں سے رہبانیت آشکار ہے وہ ہر تاریکی کا چراغ ہیں ، ہر اچھی جماعت کا پھو ل ہیں ، ان کی برائیاں ناپید، ان کے دل محزون، ان کے نفس پاک، ان کی حاجتیں کم ، ان کے نفس مشقت میں اور لوگ ان سے راحت میں ہیں وہ عقل کے جام اورنجیب و خالص، اگر وہ سامنے ہوتے ہیں تو پہچانے نہیں جاتے اور وہ لا پتا ہو جاتے ہیں تو کسی کو ان کی تلاش کی فکر نہیں ہوتی یہ ہیں میرے بہترین شیعہ اور معزز و محترم بھائی مجھے ان سے ملاقات کا بڑا اشتیاق ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۹ ح ۳۰

(۲) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۷۷ امالی طوسی: ج ۲ ص ۱۸۸


رات کے عابد دن کے شیر

نوف ایک رات کا قصہ بیان کرتے ہیں وہ حضرت علی کے ساتھ آپ کے گھر کی چھت پر سو رہے تھے، امام نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور ایک مشتاق کی طرح آسمان کے ستاروں کو دیکھا پھر فرمایا: اے نوف تم سو رہے ہو یا بیدار ہو۔؟انہوں نے کہا: بیدار ہوں ۔ فرمایا: اے نوف! کیا تم میرے شیعہ کو جانتے ہو؟ میرے شیعہ وہ ہیں کہ جن کے ہونٹ سو کھے ہوئے ، شکم کمر سے لگے ہوئے، ربانیت اور رہبانیت ان کے چہروں سے آشکار ہے ، وہ رات کے عابد اور دن کے شیر ہیں ۔ جب رات چھا جاتی ہے تو وہ ایک چادر کو لنگی کی طرح باندھ لیتے ہیں اور دوسری کو اوڑھ لیتے ہیں ۔

وہ صف بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں ، اپنی پیشانیوں کو زمین پر رکھ دیتے ہیں ، ان کی آنکھوں سے ان کے رخساروں پر آنسو بہتے ہیں اور وہ خدا سے اپنی نجات کی دعا کرتے ہیں اور دن میں وہ حلیم و بردبار، عالم و ابرار اور پرہیز گار ہیں ۔( ۱ )

مذکورہ حدیث میں رات کے راہب اور دن کے شیر بہترین تعبیر ہے جو ان کے رات دن کے حالات کو بیان کرتی ہے ،وہ شب کی سلطنت کے بادشاہ ہیں ، جب رات ہو جاتی ہے تو تم انہیں رکوع، سجود اور بارگاہِ خدا میں خشوع کرتے ہوئے دیکھوگے ،خدا کی بارگاہ میں جہنم سے نجات کیلئے تضرع و زاری کرتے ہوئے پائو گے۔ اور جب دن نکل آتا ہے تو وہ میدانِ مقابلہ میں علماء اوربردبار ومتقی ہوتے ہیں ، محکم، ثابت قدم ،صابراور مقاومت کرنے والے ہیں ۔

____________________

(۱)بحار الانوار : ج ۶۸ ص ۱۹۱۔


سمة العبید من الخشوع علیهم

للّه، أن ضمتهم الأسحار

فاذا ترجلت الضحی شهد لهم

بیض القواضب أنّهم احرار

ترجمہ: جب رات ان کو اپنے دامن میں لے لیتی ہے تو ان کے اندر خدا کے بندوں کی

علامت خشوع پیدا ہو جاتی ہے اور جب دن نکل آتا ہے تو تیز تلواروں کی چمک گواہی دیتی ہے کہ یہ آزاد ہیں ۔

رات میں ذکرخدااوردن میں تقوی انکی زندگی میں شب وروزکی روح کاشعار ہے۔

شب و روز میں اکیاون رکعت نماز پڑھتے ہیں

امام صادق سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے شیعہ ورع و جانفشانی سے کام لینے والے ہیں وہ با وفا، امانتدار اور زاہد و عبادت گزار ہیں ، شب وروز میں اکیاون رکعت نماز پڑھتے ہیں ، دن میں روزہ رکھتے ہیں ، اپنے اموال کی زکواة دیتے ہیں ، خانہ خدا کا حج کرتے ہیں اور ہر حرام چیزسے پرہیز کرتے ہیں ۔( ۱ )

امام محمد باقر فرماتے ہیں : ہمارے شیعہ تو وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ اپنی خاکساری، خشوع، امانت کی ادائیگی اور ذکرِ خدا کی کثرت سے پہچانے جاتے ہیں( ۲ )

امام صادق فرماتے ہیں : ہمارے شیعوں کے پیٹ خالی، ہونٹ مر جھائے ہوئے اور وہ نحیف و لاغر ہوتے ہیں ،جب رات ہو تی ہے تو وہ آہ و زاری کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں ۔( ۳ )

ابو حمزہ ثمالی نے یحییٰ بن ام الطویل سے روایت کی ہے کہ انہوں نے خبر دی اور انہوں نے نوف بکائی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت امیر المومنین سے کوئی کام تھا، لہٰذا میں ، جندب بن زہیر ربیع بن خیثم اور ان کے بھانجے ہمام بن عبادہ بن خیثم آپ

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۷

(۲) تحف العقول: ص ۲۱۵

(۳) بحار الانوار : ج۶۸ ص ۱۸۶۔


کے پاس گئے، دیکھا کہ آپ مسجد کی طرف جا رہے ہیں ۔ ہم اعتماد کے ساتھ آپ سے ملاقات کے لئے بڑھے۔

جب انہیں امیر المومنین نظر آئے تو وہ کھڑے ہو کر آپ کی طرف دوڑے، آپ کی خدمت میں سلام بجالائے آپ نے ان کا جواب دیا پھر فرمایا: یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا: اے امیر المومنین یہ آپ کے شیعہ ہیں ، آپ نے ان کے لئے نیک بات کہی پھر فرمایا: اے لوگو! مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں تم میں اپنے شیعوں کی کوئی علامت نہیں پاتا ہوں اور اہل بیت کے محبوں کی نشانی نہیں دیکھتا ہوں ، اس سے ان لوگوں کو شرم آ گئی۔

نوف کہتے ہیں : جندب اور ربیع آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں نے کہا: اے امیر المومنین آپ کے شیعوں کی علامت اور ان کی صفت کیا ہے ؟ آپ نے تھوڑی دیرکے بعد ان دونوں کا جواب دیا ،فرمایا: تم دونوں خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور نیکی کرو کیونکہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور نیکیاں انجام دیتے ہیں ۔

اس وقت ایک بڑے عبادت گزار، ہمام بن عبادہ نے کہا: میں آپ سے اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے آپ اہل بیت کو سر فراز کیا، آپ کو مخصوص قرار دیا۔ اور آپ کو بہت سی فضیلتوں سے نوازا، مجھے اپنے شیعوں کے صفات بتایئے، آپ نے فرمایا:قسم نہ دو میں تمہیں سارے صفات بتائوں گا آپ ہمام کا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں داخل ہوئے اوردو رکعت نمازمختصر و مکمل طور پر بجالائے پھربیٹھ گئے اورہماری طرف متوجہ ہوئے اس وقت بہت سے لوگ آپ کے چاروں طرف جمع ہو گئے تھے آپ نے خدا کی حمد و ثنا کی ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا:


امابعد: بیشک اللہ جلّ ثناؤہ و تقدّست أسماؤہ نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا اور ان کے لئے عبادت کو لازمی قرار دیا اور طاعت کو فرض کیا اور ان کے درمیان ان کی معیشت و روزی کو تقسیم کیا اور ان کے لئے دنیا میں ان کے مناسب حال ایک منزل قرار دی ،جبکہ وہ ان سے بے نیاز تھا ،نہ کسی طاعت کرنے والے کی طاعت اس کو فائدہ پہنچاتی ہے اور نہ کسی نافرمان کی نافرمانی اس کو نقصان پہنچاتی ہے ،لیکن خدا وند عالم کو یہ علم تھا کہ یہ لوگ اس چیز میں کوتاہی کریںگے جس سے ان کے حالات کی اصلاح ہو سکتی ہے اور دنیاوآخرت میں ان کے مصائب کم ہو سکتے ہیں ۔پس اس نے اپنے علم سے انہیں اپنے امر و نہی میں باندھ دیا، اختیار کے ساتھ انہیں حکم دیا اور تھوڑی سی تکلیف دی اور اس پر زیادہ ثواب دیا۔ خدا نے اپنے عدل و حکمت کی بنیاد پر اپنی محبت اور رضا کی طرف تیزی سے بڑھنے والے اور اس میں سستی کرنے والے اور اس کی نعمت سے گناہ میں مدد لینے کے درمیان میں فرق قائم کیا چنانچہ خدا وند عالم کا قول ہے :

( أمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئاتِ أنْ نَجعَلَهُم کَالَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَائً مَحْیَاهُم وَ مَمَاتُهُم سَآئَ مَا یَحْکُمُونَ ) ( ۱ )

کیا ان لوگوں نے کہ جنہوں نے گناہ کئے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کے برابر کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیئے کہ سب کی موت و حیات ایک جیسی ہو یہ ان لوگوں نے نہایت بدترین فیصلہ کیا ہے ۔

اس کے بعد امیر المومنین نے ہمام بن عبادہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:آگاہ ہو جائو !وہ شخص جس نے ان اہل بیت کے شیعوں کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اہل بیت کہ جن کو خدا نے اپنی کتاب میں اپنے نبی کے ساتھ اس طرح پاک رکھنے کا اعلان کیا ہے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے ، ان کے شیعہ، خدا کی معرفت رکھنے والے اس کے حکم پر عمل کرنے والے اوروہ فضائل و کمالات کے مالک ہیں اور ان کی گفتگو صحیح، ان کا لباس اوسط درجہ کاہوتا ہے اور

____________________

(۱) سورہ جاثیہ: ۲۱۔


وہ خاکساری کے ساتھ چلتے ہیں ، وہ خدا کی طاعت میں خود کوہلاک کر لیتے ہیں اور اس کی عبادت کر کے اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں ، خدا نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ ان سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں ، اپنے کانوں کو انہوں نے علم دین سننے کے لئے وقف کر دیا ہے، مصائب و آلام میں ان کے نفس ایسے ہی رہتے ہیں جیسے آرام و سکون میں ، وہ خدا کے فیصلہ پر راضی رہتے ہیں اگر خدا نے ان کی مدت حیات مقرر نہ کی ہوتی تو ثواب کے شوق میں اور عذاب کے خوف میں ان کی روحیں چشم زدن کے لئے بھی ان کے بدنوں میں نہ ٹھہرتیں۔

خالق ان کی نظر میں اس قدر عظیم ہے کہ دنیا کی ہر چیز ان کی نظر میں حقیر ہو گئی ہے، جنت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے گویا وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ جنت کی مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور جہنم کو اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ جیسے اس میں ان کو عذاب دیا جا رہاہے ، ان کے دل رنجیدہ اور( لوگ) ان کے شر سے امان میں ہیں ، ان کے بدن لاغر اور ان کی خواہشیں بہت کم اوران کے نفس پاک و پاکیزہ ہیں ، اسلام میں ان کی مدد بہت عظیم ہے، انہوں نے دنیا میں چند دن تکلیف اٹھائی ، یہ نفع بخش تجارت ہے جو ان کے خدا نے ان کے لئے میسر کرائی ہے، یہ ذہین ترین لوگ ہیں ۔دنیا نے انہیں بہت لبھا یا لیکن وہ اسے خاطر میں نہیں لائے، دنیا نے انہیں طلب کیا مگر انہوں نے اسے عاجز کر دیا۔

راتوں میں وہ مصلائے عبادت پر کھڑے رہتے ہیں ، ٹھہرٹھہرکر قرآن کی آیتوں کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور اس سے اپنے نفسوں کومحزون رکھتے ہیں اور اسی سے اپنا علاج کرتے ہیں جب کسی ایسی آیت پران کی نگاپڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی ہو تو اس کی طمع میں اُدھرجھک پڑتے ہیں اوراس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچتے ہیں اوریہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ]پرکیف [منظران کی نظروں کے سامنے ہے اور جب کسی ایسی آیت پران کی نظرپڑتی ہے کہ جس میں ]دوزخ سے[ڈرایاگیاہو تو اس کی جانب دل کے کانوں کوجھکادیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے شعلوں کی آوازاوروہاں کی چیخ پکاران کے کانوں میں پہنچ رہی ہے ،وہ رکوع میں اپنی کمریں جھکائے اورسجدہ میں اپنی پیشانیوں ، ہتھیلیوں اور گھٹنوں کو زمین پر رکھے ہوئے ہیں اورجبارِ عظیم کی تمجید کرتے ہیں اور پروردگار سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ ان کی گردنوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے یہ ہے ان کی رات


دن میں یہ بردبار، علماء ودانشور، نیک کردار اور پرہیزگار ہیں جیسے انہیں خوف خدا نے تیر وں کی طرح تراش دیا ہے ، دیکھنے والا انہیں دیکھ کر بیمار سمجھتا ہے حالانکہ وہ بیمار نہیں ہیں ، ان کی باتوں کو سن کر کہتا ہے کہ ان کی باتوں میں فتور ہے جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک عظیم چیز نے مدہوش بنا رکھا ہے اس کا تسلط و بادشاہت ایک عظیم شیٔ پرہے اس نے ان کے دلوں کو غافل اور ان کی عقلوں کو حیران کر رکھا ہے ۔

جب اس سے فرصت ملتی ہے تو خدا کی بارگاہ میں نیک اعمال بجالانے کی طرف بڑھتے ہیں یہ قلیل عمل سے خوش نہیں ہوتے اور نہ اس کا زیادہ اجر چاہتے ہیں ، ہمیشہ اپنے نفسوں کو متہم کرتے رہتے ہیں اور اپنے اعمال ہی سے خوف زدہ رہتے ہیں اور جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تو اس سے ڈرتے ہیں اورکہتے ہیں : میں اپنے نفس کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہوں اور میرا پروردگار مجھے سب سے بہتر جانتا ہے ۔ اے اللہ! مجھ سے ان کی باتوں کا حساب نہ لینا اور مجھے ان کے گمان و خیال سے بہتر قرار دینا اور میرے ان گناہوں کو بخش دینا جن کو یہ نہیں جانتے بیشک تو غیب کا عالم اور عیوب کو چھپانے والا ہے۔

اور ان میں سے ایک کی علامت یہ ہے کہ تم دیکھو گے، وہ دین میں قوی ہے اور نرمی میں شدید احتیاط ہے ،یقین میں ایمان ہے ، علم کے بارے میں حرص ہے، اپنی فقہ میں سمجھ دار ہے ، حلم علم ہے ، مالداری میں میانہ روی ہے ، محتاجی میں خود داری ہے ، سختی میں ثابت قدم و صابر ہے ، عبادت میں خاشع ہے ، عطا کرنے میں برحق ہے ۔ کمانے میں نرمی، حلال کی طلب، ہدایت میں نشاط، شہوت میں گناہ سے حفاظت اور استقامت میں نیک ہے ۔

جس چیز کو وہ نہیں جانتا وہ اسے دھوکا نہیں دے سکتی اور جس نیک کام کو انجام دے چکا ہے اس کو شمار میں نہیں لاتا، غلط کام میں اس کا نفس سست، بلکہ نیک کام بھی انجام دیتا ہے تو ڈرتے ہوئے۔


صبح میں وہ ذکرِ خدا کر تا ہے اور شام کے وقت توشکرِ خدا کی فکر ہوتی ہے ، غفلت کی اونگھ سے ڈرتے ہوئے رات بسر کرتے ہیں اور ملنے والے فضل و رحمت کی خوشی میں صبح کرتے ہیں اگر ان کا نفس کسی ناگوار چیز کے لئے سختی بھی کرتا ہے تو اس کے مطالبہ کو پورا نہیں کرتے ہیں ان کی رغبت باقی رہنے والی اور ان کا پرہیز فنا ہونے والی چیزوں میں ہے۔ اور عمل کو علم سے اور علم کو حلم سے متصل کیا گیا ہے ۔ اس کا نشاط دائمی اس کی سستی اس سے دور، اس کی امید قریب، اس کی لغزش کم ، اپنی اجل کا منتظر، اس کا دل خاشع، اپنے رب کو یاد کرنے والا، اس کا نفس قانع، اس کا جہل غائب ، اس کا دین محفوظ، اس کی شہوت بے جان، اپنے غصہ کو پینے والا، اس کی خلقت صاف ستھری، اس کا ہمسایہ اس سے محفوظ، اس کا کام آسان ، اس کا تکبر معدوم ،اس کا صبر آشکار، اس کا ذکر بے شمار، وہ دکھاوے کے لئے کوئی نیک کام نہیں کرتا ہے اور نہ شرم کی وجہ سے کسی نیک کام کو ترک کرتا ہے؛ (لوگ) اس سے نیکی کی امیدکرتے اور اس کے شر سے محفوظ رہتے ہیں اگر یہ غافلوں میں نظر آئیں تو بھی ذکر خدا کرنے والوں میں شمار ہوں گے اور اگر ذکر خدا کرنے والوں میں دیکھے جائیں تو غافلوں میں شمار نہیں ہوں گے، جو ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں اور جو انہیں محروم رکھتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں اور جس نے ان سے قطع رحمی کی یہ اس سے تعلقات رکھتے ہیں ۔ ان کی نیکی قریب، ان کا قول سچا ہے، ان کا فعل اچھا، خیر ان کی طرف بڑھتا ہوا، شر ان سے ہٹتاہوا، مکروہات ان سے غائب، زلزلوں میں باوقار، سختیوں میں صابر، آسانیوں میں شکر گزار، دشمنوں پر ظلم نہیں کرتے اور جوچیز ان کے خلاف ہوتی ہے اس کا انکار نہیں کرتے ہیں ، گواہی طلب کئے جانے سے پہلے ہی حق کا اعتراف کر لیتے ہیں اور امانتوں کو ضائع نہیں کرتے ہیں ،ایک دوسرے کو برے القاب سے نہیں پکارتے ہیں ، کسی پر زیادتی نہیں کرتے، ان پرحسد غالب نہیں آتا، ہمسایہ کو نقصان نہیں پہنچاتے، اورمصیبتوں میں کسی کو طعنہ نہیں دیتے، امانتوں کو ادا کرتے ہیں ، طاعت پر عمل کرتے ہیں ، نیکیوں کی طرف دوڑتے ہیں ، برا ئیوں سے بچتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے باز رہتے ہیں ، وہ نادانی کی وجہ سے کوئی کام انجام نہیں دیتے ہیں اور عجز کی وجہ سے حق سے خارج نہیں ہوتے۔ اگر خاموش رہتے ہیں تو ان کی خاموشی انہیں عاجز نہیں کرتی ہے اور بولتے ہیں تو ان کی گویائی انہیں عاجز نہیں کرتی ہے اور اگر ہنستے ہیں تو آواز بلند نہیں ہوتی جو ان کے لئے مقدر کر دیا گیا ہے


اسی پر قناعت کرتے ہیں ،نہ ان کو غصہ آتا ہے اور نہ خواہش نفس ان پرغلبہ کرتی ہے، ان پر بخل تسلط نہیں پاتا ہے ،وہ لوگوں سے علم کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں اور صلح و سلامتی کے ساتھ ان سے جدا ہوتے ہیں ، فائدہ رسانی کے لئے گفتگو کرتے ہیں ، سمجھنے کے لئے سوال کرتے ہیں ، ان کا نفس ان کی وجہ سے رنج و محن میں اور لوگ ان سے راحت و امن میں رہتے ہیں ، اپنے نفس سے لوگوں کو آرام پہنچاتے ہیں اور آخرت کے لئے اسے تھکاتے ہیں ۔

اگر کوئی ان پر زیادتی کرتا ہے تو وہ صبرکرتے ہیں تاکہ خدا اس سے انتقام لے، گذشتہ اہل خیر کی اقتداء کرتے ہیں پس وہ اپنے بعد والے کے لئے نمونہ ہیں ۔

یہی لوگ خدا کے کارندے ہیں اور اس کے امر و طاعت کے حامل ہیں ،یہی اس کی زمین اور اس کی مخلوق کے چرا غ ہیں ، یہی ہمارے شیعہ اور ہمارے محب ہیں ، یہ ہم میں سے ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں ۔ مجھے ان سے ملنے کا کتنا اشتیاق ہے ۔

یہ سن کر ہمام بن عبادہ نے ایک چیخ ماری اور ان پر بیہوشی طاری ہو گئی ، لوگوں نے انہیں حرکت دی تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا سے جا چکے ہیں خدا ان پر رحم کرے۔ ربیع نے روتے ہوئے کہا: اے امیر المومنین آپ کے وعظ نے میرے بھتیجے پر کتنی جلد اثر کیا ہے ، میں چاہتا تھا کہ اس کی جگہ میں ہوتا۔

امیر المونین نے فرمایا: نصیحت اپنے اہل پر اسی طرح اثر کرتی ہے خدا کی قسم مجھے اسی کا خوف تھا اس وقت کسی نے کہا:اے امیر المومنین اس نصیحت نے آپ پر کیوں نہ اثر کیا؟ آپ نے فرمایا: خدا تیرا برا کرے موت کا وقت معین ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا اوراس کا ایک سبب ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی، خبردار اب ایسی بات نہ کہنا، اصل میں تیری زبان پر شیطان نے اپنا جادو پھونک دیا ہے ۔( ۱ )

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۹۲ و ۱۹۵ سید رضی نے اس روایت کو نہج البلاغہ میں تھوڑے سے اختلاف سے نقل کیا ہے ۔


آپس میں ملاقات و محبت

ان شرطوں میں سے ایک دوسرے سے تعلق رکھنا اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنا اور ایک دوسرے کا تعاون کرنا بھی ہے ۔ ایک د وسرے کا جتنا زیادہ تعاون کریں گے اورآپس میں تعلق بڑھا ئیں گے اتنا ہی خدا ان کو دوست رکھے گا اور ان کو ان کے دشمنوں سے بچائے گا، ان کی حفاظت کرے گا اور ان کی مدد کرے گا، ان کے ہاتھ پراوران کے ہاتھ کے ساتھ خدا کا ہاتھ ہے بشرطیکہ ان کے ہاتھ جمع ہوں یعنی ان میں اتحاد ہو۔

سدیر صیرفی امام جعفرصادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کے کچھ اصحاب بھی آپ کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: اے سدیر ہمارے شیعوں کی اس وقت تک رعایت، حفاظت، پردہ پوشی کی جائے گی جب تک وہ ایک دوسرے کے بارے میں حسن نظر اور خدا کے بارے میں حسن ظن رکھیں گے اور اپنے ائمہ کے بارے میں صحیح نیت رکھیں گے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیکی کریں گے، اپنے کمزور افراد پر مہربانی کریں گے اور محتاجوں کی مالی مدد کریں گے کیونکہ ہم ظلم کرنے کا حکم نہیں دیتے ہیں لیکن تمہیں ورع اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں اور تمہیں اپنے بھائیوں کی مالی مدد کرنے کا حکم دیتے ہیں ، اس لئے کہ اولیاء خدا خلقت آدم سے آج تک کمزورہیں ۔( ۱ )

محمد بن عجلان سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام جعفر صادق کے ساتھ تھاکہ ایک شخص آیا اور سلام کیا آپ نے اس سے سوال کیا کہ تم نے اپنے بھائیوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ اس نے ان کی تعریف و توصیف کی، آپ نے فرمایا: ان کے مالدار اپنے ناداروں کی کتنی مدد کرتے ہیں ؟اس نے کہا: بہت کم پھر فرمایا: ان کے مالداروں کا ناداروں سے کیسا برتائو ہے ؟ اس نے کہا:آپ ایسے اخلاق کا ذکر کر رہے ہیں جو ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جو ہمارے یہاں ہیں ۔فرمایا: تو وہ اپنے کو ہمارا شیعہ کیسے سمجھتے ہیں ؟( ۲ )

امام حسن عسکری سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: علی کے شیعہ وہی ہیں جو اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ راہِ خدا میں موت ان پر آپڑے گی یا وہ موت پر جا پڑیں گے ، علی کے شیعہ وہ ہیں جو اپنے بھائیوں کو خود پر مقدم کرتے ہیں خواہ ان کو اس کی ضرورت ہی ہو، یہی وہ

____________________

(۱)المحاسن: ۱۵۸ بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۵۳ و ص ۱۵۴۔

(۲)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۶۸


ہیں جن کو خدا اس چیز میں ملوث نہیں دیکھتا جس سے اس نے ڈرایا ہے ، اوریہ اس چیز کو ترک نہیں کرتے ہیں جس کا خدا نے حکم دیا ہے، علی کے شیعہ وہی ہیں جو اپنے مومن بھائیوں کے اکرام میں علی کی اقتداء کرتے ہیں ۔( ۱ )

امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرواورایک دوسرے پر احسان کرو اور ایسے نیک بھائی بن جائو جیسے خدا نے تمہیں حکم دیا ہے ۔( ۲ )

آپ ہی کا ارشاد ہے: خدا سے ڈرو نیک بھائی بن جائو، ایک دوسرے سے خدا کے لئے محبت کرو، ایک دوسرے سے ربط و ضبط رکھو، آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرو ۔( ۳ )

علاء بن فضیل نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: امام محمد

باقر فرمایا کرتے تھے؛ اپنے دوستوں کی تعظیم کرو ایک دوسرے پر حملہ نہ کرو ،ایک دوسرے کو ضرر نہ پہنچائو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ،خبردار بخل نہ کرنا، خدا کے مخلص بندے بن جائو۔( ۴ )

ابو اسماعیل سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام محمد باقر کی خدمت میں عرض کیا : ہمارے یہاں شیعوں کی کثیر تعداد ہے ۔ آپ نے دریافت کیا: کیا مالدار نادار کا خیال رکھتا ہے؟ اس پر مہربانی کرتا ہے ؟ کیا نیکی کرنے والا گناہگار سے در گزر کرتا ہے اورکیا وہ لوگ ایک دوسرے کی مالی مدد کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا:نہیں ۔ آپ نے فرمایا: وہ شیعہ نہیں ہیں ۔ شیعہ وہ ہے جو مذکورہ افعال کو انجام دیتا ہے ۔( ۵ )

____________________

(۱)میزان الحکمة : ج ۵ ص ۲۳۱

(۲)اصول کافی: ج ۲ ص ۱۷۵

(۳)اصول کافی : ج ۲ ص ۱۲۰

(۴)اصول کافی: ج۲ ص ۱۷۳

(۵) بحار الانوار: ج ۷۴ ص ۲۵۴


ایک دوسرے پر مومنین کے حقوق

ثقة الاسلام کلینی نے ابو المامون حارثی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کیا: ایک مومن کا دوسرے مومن پر کیا حق ہے ؟ فرمایا: مومن کا مومن پر یہ حق ہے کہ وہ اپنے دل میں اس کی محبت رکھتا ہو اور اپنے مال سے اس کی مدد کرتا ہو اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل و عیال میں اس کا جانشین ہو، اس پر ظلم ہو تو اس کی مدد کرے ،اگر مسلمانوں میں کوئی چیز تقسیم ہو رہی ہو اور وہ موجود نہ ہو تو اس کے لئے اس کا حصہ لے اور مر جاے تو اس کی قبر پر جائے، اس پر ظلم نہ کرے اور اس کو دھوکا نہ دے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے اور اس کا ساتھ نہ چھوڑے، اس کی تکذیب نہ کرے اس کے سامنے اف بھی نہ کہے، اگر اف کہدیا تو ان کے درمیان ولایت کا رشتہ ختم ہو جائیگا اور اگر ایک نے دوسرے سے یہ کہہ دیا کہ تم میرے دشمن ہو تو ان میں سے ایک کافر ہو گیا اور اگر اس پر تہمت لگا دیتا ہے تو اس کے دل میں ایمان اس طرح گھل جاتا ہے جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے ۔( ۱ )

کلینی نے ہی ابان بن تغلب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام جعفر صادق کے ساتھ طواف کر رہا تھا کہ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص میرے سامنے آیا وہ یہ چاہتا تھا کہ اس کو جو کام ہے اس کے لئے میں بھی اس کے ساتھ جائوں ، اس نے مجھے اشارہ کیا ، مجھے یہ بات پسند نہ آئی کہ میں امام کو چھوڑ کر اس کے پاس جائوں ، میں ایسے ہی طواف میں مشغول رہا، اس نے مجھے پھر اشارہ کیا تو آپ نے اسے دیکھ لیا۔ فرمایا؛ اے ابان کیاوہ تمہیں بلا رہا ہے ؟ میں نے عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: وہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا: ہمارے اصحاب ہی میں

____________________.

(۱) اصول کافی :ج۲ ص ۱۷۱ بحار الانوار: ج۷۴ ص ۲۴۸


سے ایک شخص ہے آپ نے فرمایا: تو اس کے پاس جائو، میں نے عرض کیا: میں طواف کو قطع کردوں ؟ فرمایا: ہاں!میں نے عرض کیا خواہ طواف واجب ہی ہو، فرمایا: ہاں۔ راوی کہتاہے کہ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔

پھر میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے یہ بتائیے کہ مومن کا مومن پر کیا حق ہے؟ فرمایا: اے ابان اس کو واپس نہ لوٹائو، میں نے عرض کیا:میں آپ پر قربان ٹھیک ہے ۔ فرمایا: اے ابان اسے واپس نہ لوٹائو، میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ٹھیک ہے میں نے اسے کبھی واپس نہیں کیا ہے ۔ فرمایا: اے ابان اپنا نصف مال اسے دے دو ،راوی کہتا ہے کہ پھر امام نے میری طرف دیکھا اور میری حالت کو ملاحظہ کیا، پھر فرمایا: اے ابان کیا تمہیں نہیں معلوم اپنے اوپر دوسروں کو مقدم کرنے والوں کا خدا نے ذکر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا: میں آپ کا فدیہ قرار پائوں معلوم ہے ، فرمایا: اگر تم نے اس کو نصف مال دیدیا تو اس کو اپنے اوپر مقدم نہیں کیا اس کے لئے ایثار نہیں کیا بلکہ تم اور وہ دونوں برابر ہوگئے، ایثار تو اس صورت میں ہوگا جب تم اس کو باقی ماندہ نصف بھی دیدوگے۔( ۱ )

امام رضا سے سوال کیا گیا کہ مومن کا مومن پر کیا حق ہے ؟ فرمایا: مومن کا مومن پر یہ حق ہے کہ اس کے دل میں اس کی محبت ہو، اپنے مال سے اس کی مدد کرتا ہو، اس پر ظلم ہو تو اس کی مدد کرتاہو ،اگر مسلمانوں میں فئی تقسیم ہو رہی ہو اور وہ موجود نہ ہو تو اس کے لئے اس کا حصہ لے وہ مر جائے تو اس کی قبر پر جائے، اس پر ظلم نہ کرے، اس کو فریب نہ دے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے، اس کا ساتھ نہ چھوڑے ،اس کی غیبت نہ کرے،اس کی تکذیب نہ کرے اور اس کے سامنے اف تک نہ کہے اور اگر اف کہہ دیا تو ان دونوں کے درمیان سے ولایت و محبت

____________________

(۱) اصول کافی: ج۲ ص ۱۷۱ بحار الانوار: ج ۷۴ ص ۲۴۹ ۔


ختم ہو جائے گی اور اس کے د ل میں ایمان ایسے ہی گھل جائیگا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔

جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلاتا ہے تو یہ غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے اور اگر کوئی کسی مومن کو پیاس میں پانی پلاتا ہے تو خدا اسے مہر بند جام سے سیراب کرے گا اور جو شخص مومن کو کپڑا پہناتا ہے اسے خدا جنت کے سند س و حریر کالباس عطا کرے گا اور جو شخص خدا کے لئے کسی مومن کو قرض دیتا ہے اسے صدقہ میں شمارکیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے اور جو مومن دنیا کے کرب و الم سے نجات دلاتا ہے خدا اسے آخرت کے کرب و الم سے نجات عطا کرے گا اور جو شخص مومن کی حاجت روائی کرے گا تو یہ اس کے روزہ اور مسجد الحرام میں اعتکاف کرنے سے بہتر ہے۔ مومن ( مومن کے لئے) ایسا ہی ہے جیسے بدن کے لئے پنڈلی ہوتی ہے۔

بیشک امام محمد باقرنے خانہ ٔ خدا کعبہ کا رخ کیا اور کہا: ساری تعریف اس خدا کے لئے ہے کہ جس نے تجھے عظمت و بزرگی عطا کی اور تجھے لوگوں کے جمع ہونے کی اور امن کی جگہ قرار دیا ۔ خدا کی قسم مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے۔

اہل جبل میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اورآپ کو سلام کیا، جب وہ جانے لگا تو اس نے عرض کیا کہ مجھے کچھ وصیت و نصیحت فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ خدا سے ڈروا! اپنے مومن بھائی کی مدد کرو اور اس کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور اگر وہ تم سے سوال کرے تو اسے پورا کرو اور اس کے لئے بازو بن جائو اگر وہ ستم ظریفی بھی کرے تو بھی اس سے جدا نہ ہونا یہاں تک کہ اس کے دل سے کینہ نکال دو۔ اگر وہ موجود نہ ہوتو اس کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرو اور موجود ہو تو اسے اپنے میں شامل کرو، اس کے بازو اور پشت کو مضبوط کرو اور اس کی عزت کرو، اس پر


مہربانی کرو کیونکہ وہ تم سے اور تم اس سے ہو، اور تمہارا اپنے مومن بھائی کو کھانا کھلانا اور اسے خوش کرنا روزہ رکھنے سے افضل ہے اور اس کا عظیم اجر ہے ۔( ۱ )

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: مومن شکم سیر نہیں ہوسکتا جبکہ اس کا بھائی بھوکا ہو اور وہ سیراب نہیں ہو سکتا جبکہ اس کا بھائی پیاسا ہو، وہ کپڑا نہیں پہن سکتا جب کہ اس کا بھائی برہنہ ہو ،اگر تمہیں کوئی حاجت در پیش ہو تو اس سے سوال کرو اور اگر وہ تم سے سوال کرے تو اسے عطا کرو ،تم اس سے نہ اکتائو وہ تم سے نہ اکتا ئے ، تم اس کے پشت پناہ بن جائو کیونکہ وہ تمہارا پشت پناہ ہے ۔ اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کی عدم موجودگی میں تم اس کی حفاظت کرو اور اگر وہ موجود ہو تو اس سے ملاقات کرو اور اس کی عزت و اکرام کرو کیونکہ وہ تم سے اور تم اس سے ہو۔ اگر وہ تمہیں سر زنش بھی کرے تو بھی اس سے جدا نہ ہونا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کا غصہ ختم ہو جائے اگر اسے کوئی فائدہ ہو تو تم خدا کا شکر ادا کرو اور اگر وہ کسی چیز میں مبتلا ہو جائے تو اس کی مدد کرو ،اگر اسے کسی چیز کی ضرورت و طلب ہو تو اس کی اعانت کرو کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے دینی بھائی یادوست سے اف کہتا ہے تو ان کے درمیان سے محبت و اخوت کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی دوسرے سے یہ کہتا ہے کہ تم میرے دشمن ہو تو ان میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں ایمان اس طرح گھل جاتا ہے جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔( ۱ )

معلی بن خنیس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کیا: مومن کا مومن پر کیا حق ہے ؟ فرمایا: سات حق واجب ہیں : ان میں سے ہر ایک حق اس پر واجب ہے اگر وہ اس کی مخالفت کرے گا تو خدا کی ولایت سے نکل جائیگا اور اس کی طاعت کو چھوڑ دے گا اور اس سے خدا کا تعلق نہیں رہے گا۔ میں نے عرض کیا: میں

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۷۴ ص ۲۳۴ ۔


قربان! بتائیے وہ حقوق کیا ہیں ؟ فرمایا: اے معلی مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم انہیں ضائع نہ کردو، اور معلوم کر کے ان پر عمل نہ کرو، میں نے عرض کیا: خدا کے علاوہ کوئی طاقت و قدرت نہیں ہے ۔

فرمایا: ان میں سے آسان ترین حق یہ ہے کہ اس کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور اس کیلئے اس چیز کو اچھا نہ سمجھو جس کو اپنے لئے اچھا نہیں سمجھتے ہو۔

دوسرا حق :یہ ہے کہ تم اس کی حاجت روائی کے لئے جائو اور اس کی رضا طلب کرو ، اس کی بات کی مخالفت نہ کرو۔

تیسرا حق: یہ ہے کہ تم اپنی جان و مال، ہاتھ، پیر اور زبان سے اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔

چوتھا حق :یہ ہے کہ تم اس کی آنکھ ، اس کے راہنما اور اس کا آئینہ بن جائو۔

پانچواں حق: یہ ہے کہ اگر وہ بھوکا ہے تو کھانا نہ کھائو ،اگر وہ ننگا ہے تو کپڑا نہ پہنو ،اگر وہ پیاسا ہے تو تم سیراب نہ ہو۔

چھٹا حق : ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تمہارے پاس بیوی ہو اور تمہارئے بھائی کے پاس بیوی نہ ہو اور تمہارے پاس نوکر و خادم ہو او ر تمہارے بھائی کے پاس نہ ہو، اگر ایسا ہے تو خدمتگار کو بھیج دیا کرو تاکہ وہ اس کے کپڑے دھوئے ، اس کا کھانا پکا دے ، اس کا بستر بچھا دے کہ یہ حق خدا نے تمہارے اور اس کے درمیان قرار دیا ہے ۔


ساتواں حق: اس کو اس کی قسم سے بری کر دو، اس کی دعوت کو قبول کرو ،اس کے جنازہ میں شرکت کرو، وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور اس کی حاجت روائی میں پوری کوشش کرو اور یہ نوبت نہ آنے دو کہ وہ تم سے سوال کرے اور اگر سوال کرے تو اس کی حاجت روائی کے لئے دوڑو! اگر تم نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا تو تم نے اپنی ولایت کو اس کی ولایت سے اور اس کی ولایت کو خدا کی ولایت سے متصل کر دیا۔( ۱ )

امیر المومنین سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: مومن کو جب اپنے بھائی کی حاجت کا علم ہو جاتا ہے تو وہ اسے یہ تکلیف نہیں دیتا ہے کہ وہ اس سے سوال کرے، ایک دوسرے سے ملاقات کرو، ایک دوسرے پر مہربانی کرو، ایک دوسرے پر خرچ کرو، منافق کی طرح نہ ہو جائو کہ جو وہ کہتا ہے انجام نہیں دیتا ہے ۔( ۲ )

محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس اہل جبل میں سے ایک شخص آیا میں اس کے ساتھ امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے رخصت ہوتے وقت امام سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت و وصیت فرما دیجئے تو آپ نے فرمایا: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ خداسے ڈرو! اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ نیکی سے پیش آئو اور اس کے لئے وہی چیز پسند کرو جوا پنے لئے پسند کرتے ہو اور اس کے لئے اس چیز کو پسند نہ کرو جس کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے اگر وہ سوال کرے تو اسے عطا کرو اگر وہ تمہیں دینے سے ہاتھ کھیچ لے تو تم اس کے سامنے پیش کرو تم اس کے ساتھ کاکرِ خیر کرتے رہو وہ بھی تمہارے ساتھ کار خیر کرے گا۔

اس کے بازو بن جائو کیونکہ وہ تمہارا بازو ہے اور وہ تمہارے خلاف ہو جائے توتم اس سے جدا نہ ہونا یہاں تک کہ اس کی کدورت بر طرف ہو جائے، اگر وہ کہیں چلا جائے تو اس کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرو اور اگر موجود ہو تو اس کی مدد کرو، اس کے بازو مضبوط کرو اس کی پشت پناہی کرو اس سے نرمی سے پیش آئو، اس کی تعظیم و تکریم کرو کیونکہ وہ تم سے اور تم اس سے ہو۔( ۳ )

جابر نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: تمہارے قوی کو تمہارے

____________________

(۱)الخصال: ج ۲ ص ۶

(۲) الخصال : ج ۲ ص ۱۵۷

(۳)امالی طوسی: ج۱ ص ۹۵


کمزور کی اعانت کرنا چاہئے اور تمہارے مالدار کو تمہارے غریب و نادار پر مہربانی کرنا چاہئے اور انسان کو چاہئے کہ وہ بھائی کا ایسا ہی خیر خواہ ہو جیسا کہ اپنے نفس کا خیر خواہ ہے اور دیکھو! ہمارے اسرار کو پوشیدہ رکھنا، لوگوں کو ہماری گردن پر سوار نہ کرنا۔( ۱ )

مومن کی حرمت اور اس کی محبت و خیر خواہی

امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: کسی چیز کے ذریعہ خدا کی عبادت نہیں کی گئی جو کہ مومن کا حق ادا کرنے سے افضل ہو۔ نیز فرمایا: بیشک خدا وند عالم کی بہت سی حرمتیں ہیں مثلاً کتابِ خدا کی حرمت، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حرمت، بیت المقدس کی حرمت اور مومن کی حرمت ۔( ۲ )

عبد المومن انصاری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں ابو الحسن موسیٰ بن جعفر کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کے پاس محمد بن عبد اللہ بن محمد جعفی بھی موجود تھے، میں انہیں دیکھ کر مسکرایا تو آپ نے فرمایا: کیا تم انہیں دوست رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی: ہاں، اور میں ان سے آپ ہی حضرات کی وجہ سے محبت کرتا ہوں ۔ فرمایا: یہ تمہارے بھائی ہیں ۔اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا اور انہیں بتا دو کہ خدا نے ان کو ان کی نیکیوں کی وجہ سے بخش دیا ہے اور ان کی برائیوں سے در گزر کیا ہے ، آگاہ ہو جائو جس شخص نے میرے دوستوں میں سے میرے کسی دوست کو اذیت دی یا پوشیدہ طریقہ سے اس کے خلاف سازش کی تو اس کو اس وقت تک نہیں بخشے گا جب تک کہ وہ اس سے معافی نہیں مانگے گا پھر اگر اس سے معانی مانگ لی تو

____________________

(۱)امالی طوسی: ج۱ ص ۲۳۶۔

(۲)بحار الانوار: ج۷۴ ص ۲۳۲۔


ٹھیک ہے ورنہ اس کے دل سے روح ایمان نکل جائے گی اور وہ میری ولایت و محبت سے خارج ہو جائیگا اور ہماری ولایت میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہے گا اور اس سے میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں ۔( ۱ )

صوری کی کتاب قضاء الحقوق میں روایت ہے کہ امیر المومنین نے شہر اہواز کے قاضی رفاعہ بن شداد بجلی کو ایک خط کے ذیل میں وصیت فرمائی : جہاں تک تم سے ہو سکے مومن کی مدارات کرو کہ خدا نے اس کی حمایت کی ہے اور اس کا وجود خدا کے نزدیک معزز ہے اس کے لئے خدا کا ثواب ہوتا اور اس پر ظلم کرنے والاخدا کا دشمن ہے اس لئے تم خدا کے دشمن نہ بنو۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : مومن کو جب اپنے بھائی کی حاجت معلوم ہو جاتی ہے تو وہ اپنے بھائی کو مانگنے کی تکلیف نہیں دیتا ہے ۔( ۲ )

مومن، مومن کے لئے ایک بدن کی مانندہے

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ہر چیز کے لئے کوئی چیز آرام کا باعث ہو تی ہے ، مومن اپنے مومن بھائی کے پاس اسی طرح آرام محسوس کرتا ہے جس طرح پرندے کو اپنی ہی جنس کے پرندے کے پاس آرام ملتا ہے ۔( ۳ )

امام محمد باقر سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: مومن نیکی ، رحم اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے کے لحاظ سے ایک بدن کی مانند ہیں ۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو بیدار رہنے اور حمایت کرنے کے لئے سارے اعضاء متفق ہو جاتے ہیں ۔( ۴ )

____________________

(۱)اختصاص : ص ۲۲۷ بحار الانوار: ج ۷۴ ص ۲۳۰

(۲)اختصاص: ص ۲۲۷

(۳)بحار الانوار: ج۷۴ ص ۲۳۴

(۴)گذشتہ حوالہ


معلی بن خنیس نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:اپنے مسلمان بھائی کے لئے اسی چیز کو پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہواور اگر تمہیں کوئی حاجت ہو تو اس سے سوال کرو اور اگر وہ تم سے سوال کرے تو اسے عطا کرو ،نہ تم اسے کار خیر میں ملول کرو اور وہ تمہیں کار خیر میں ملول نہیں کریگا، اس کے پشت پناہ بن جائو کہ وہ تمہارا پشت پناہ ہے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرو اور اگر موجود ہو تو اس سے ملاقات کرو اور اس کی تعظیم و توقیر کرو کیونکہ وہ تم سے ہے اور تم اس سے ہو اگروہ تم سے ناراض ہو جائے تو اس سے جدا نہ ہونایہاں تک کہ اس کی کدورت رفتہ رفتہ ختم ہو جائے۔ اگر اس کو کوئی فائدہ پہنچے تو اس پر خد اکا شکر ادا کرو اوراگر وہ کسی چیز میں مبتلا ہو تو اس کو عطا کرو اوراس کا بوجھ ہلکا کرو اور اس کی مدد کرو۔( ۱ )

عام مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک

اس بات پر اہل بیت نے بہت زور دیا ہے اوراپنے شیعوں کو یہ اجازت نہیں دی ہے کہ وہ خود کوملت اسلامیہ کے معتدل راستہ سے جدا کریں کیونکہ وہ اس امت کا ایسا جزء ہیں جس کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اصول و فروع اور محبت و نسبت میں اختلاف اس بات کو واجب قرار دیتا ہے کہ تمام مسلمانوں سے قطع تعلقی نہ کی جائے کیونکہ یہ امت اپنے عقائد و نظریات میں اختلاف کے باوجود ایک امت ہے :( إنَّ هٰذِهِ أمَّتُکُمْ أمَّةً وَاحِدَةً وَ أنَا رَبُّکُمْ فَاْعبُدُونِ ) بیشک یہ تمہاری امت ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔ اس امت کو روئے زمین پر عظیم ترین امت سمجھا جاتا ہے ، اس کے سامنے بڑے

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۷۴ ص ۲۳۴۔


بڑے چیلنج ہیں اور ان چیلنجوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب ساری امت ایک محاذ پر ایک صف میں کھڑی ہو جائے۔

ائمہ اہل بیت امت ہی کے ساتھ اور مسلمانوں کے درمیان زندگی گزارتے تھے۔ تمام مذاہب و مکاتب کے مسلمان ان کے پاس آتے تھے، ان کی مجلس و بزم میں حاضر ہوتے تھے، ان سے علم حاصل کرتے تھے اگر ہم ان علماء کے نام جمع کریں کہ جنہوں نے امام محمد باقر و امام جعفر صادق سے علم حاصل کیا ہے تو صاحبانِ علم کی عظیم تعداد ہو جائے گی، ائمہ اہل بیت کی مجلس و بزم مسلمانوں کے فقہاء و محدثین اور ہر شہر و دیار کے صاحبان علم سے بھری رہتی تھی۔

اس بات سے ہر وہ شخص آگاہ ہے جو ائمہ اہل بیت کی حدیث اور ان کی سیرت سے واقف ہے،یہ ہر قسم کے مذہبی اختلاف سے محفوظ باہم زندگی گزارنے کا مثبت طریقہ ہے،اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت اپنے شیعوں اور عام مسلمانوں کے لئے اصول و فروع میں پوری صراحت کے ساتھ صحیح فکری نہج کو بیان کرتے تھے۔

اہل بیت کی حدیثوں میں مسلمانوں کے ساتھ اس مثبت ، محبت آمیزاور تعاون کی زندگی بسر کرنے کی واضح دعوت موجود ہے اس سلسلہ میں اہل بیت کی چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں۔

محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی کتاب اصول کافی میں صحیح سند کے ساتھ ابو اسامہ زید شحام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: امام جعفر صادق نے فرمایا: ان شیعوں میں سے جس کو تم میری اطاعت کرتے اور میری بات پر عمل کرتے ہوئے دیکھو اسے میر اسلام کہنا۔ میں تمہیں خدا کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے دین میں ورع، خدا کے لئے جانفشانی کرنے، سچ بولنے ، امانت ادا کرنے،طویل سجدے کرنے اور نیک ہمسایہ بننے کی وصیت کرتا ہوں یہی چیز محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمائی ہے : اگر کسی شخص نے تمہارے پاس امانت رکھی ہے تواسے اس کی امانت واپس کر دو خواہ وہ نیک چلن ہو یا بدکار، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سوئی دھاگہ کو بھی واپس کرنے کا حکم دیتے تھے۔


اپنے خاندان والوں کے حقوق ادا کرو، کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے دین میں ورع سے کام لے گا اور سچ بولے گا اور امانت ادا کرے گا اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیگا تو کہا جائیگا یہ جعفری ہے، اس طرح وہ مجھے خوش کرے گا اور اس سے مجھے مسرت ہوگی۔ اور یہ کہا جائے گا یہ ہے جعفرکا اخلاق وادب ،اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو وہ مجھے بدنام کرے گا اورمجھے اپنی بلا میں مبتلا کرے گا اور پھر یہ کہا جائیگا یہ ہے جعفرکا اخلاق و ادب ،خدا کی قسم میرے والدنے مجھ سے بیان کیا ہے کہ قبیلہ میں اگر علی کا ایک شیعہ ہو تو وہ پورے قبیلہ و خاندان کی عزت و زینت ہے وہ ان میں زیادہ امانت ادا کرنے والا، سب سے زیادہ حقوق پورے کرنے والا۔ اور سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہوگااور لوگ اس کے پاس اپنی امانتیں رکھیں گے اس سے وصیتیں کریں گے جب اس کے بارے میں خاندان میں سوال کیا جائیگا تو کہا جائیگا ،ا س کے مثل کون ہے؟ وہ امانت دار اور ہم سب سے سچا ہے ۔( ۱ )

صحیح سند کے ساتھ معاویہ بن وہب سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کیا: ہم اپنے اور اپنی قوم کے اوپرکیسے احسان کریں اور اپنے ہمنشینوں سے کیسے پیش آئیں ؟ آپ نے فرمایا: ان کی امانتوں کو ادا کرو، ان کے حق میں اور ان کے خلاف گواہی دو، ان کے بیماروں کی عیادت کرو اور اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے جنازہ میں شرکت کرو۔( ۲ )

____________________

(۱)وسائل الشیعة : ج ۸ ص ۳۹۸ کتاب الحج آداب احکام العشیرة پہلا باب پہلی حدیث ۔

(۲)گذشتہ حوالہ دوسری حدیث ۔


نیز صحیح سند کے ساتھ معاویہ بن وہب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کیا: ہم اپنی قوم والوں اور ان ہمنشینوں کے ساتھ کیسے پیش آئیں جو کہ ہمارے مذہب پر نہیں ہیں ؟ فرمایا: اس سلسلہ میں تم اپنے ائمہ کا طریقہ دیکھو، جن کی تم اقتدا ء کرتے ہو، وہ جس کام کو انجام دیتے ہیں اسی کو تم بجالائو، خدا کی قسم وہ ان کے مریضوں کی عیادت کرے ہیں ، ان کے مرنے والوں کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں اور حق کے لحاظ سے ان کے موافق اور ان کے خلاف گواہی دیتے ہیں ۔( ۱ )

کلینی نے کافی میں صحیح سند کے ساتھ حبیب الحنفی سے ایک اور روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں :

میں نے امام جعفر صادق سے سنا کہ وہ فرماتے ہیں : تمہارے لئے لازم ہے کہ تم کوشش و جانفشانی سے کام لو اور ورع اختیار کرو، جنازوں میں شرکت کرو، مریضوں کی عیادت کرو اور اپنی قوم والوں کے ساتھ ان کی مسجدوں میں جائو اور لوگوں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو، کیا تم میں سے اس شخص کو شرم نہیں آتی کہ جس کا ہمسایہ اس کا حق پہچانتا ہے لیکن وہ اس کا حق نہیں پہچانتا ہے ۔( ۲ )

صحیح سند کے ساتھ مرازم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: امام صادق فرماتے ہیں : تمہارے لئے لازم ہے کہ تم مسجدوں میں نماز پڑھو، لوگوں کے لئے اچھے ہمسایہ بنو، گواہی دو، ان کے جنازوں میں شرکت کرو، تمہارے لئے لوگوں کے ساتھ رہنا ضروری ہے .تم میں سے کوئی بھی اپنی حیات میں لوگوں سے مستغنی و بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔ تمام لوگ ایک دوسرے کے محتاج ہیں ۔( ۳ )

____________________

(۱)وسائل الشیعہ: ج ۸ ص ۳۹۹ کتاب الحج آداب احکام العشیرة پہلا باب پہلی حدیث ۔

(۲) گذشتہ حوالہ چوتھی حدیث

(۳) گذشتہ حوالہ پانچویں حدیث ۔


اعتدال و میانہ روی اور موازنہ

اہل بیت کے شیعوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں اعتدال سے کام لیتے ہیں ، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے میانہ روی کو اپنا شعار بناتے ہیں ، عقل و فہم میں توازن رکھتے ہیں ، غلو و زیادتی اور افراط و تفریط سے پرہیز کرتے ہیں ان کے اندر محبت و ہمدردی کا جذبہ ہوتا ہے ۔

عمر بن سعید بن ہلال سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام باقر کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ہماری ایک جماعت تھی، آپ نے فرمایا: تمہیں میانہ رو ہونا چاہئے کہ حد سے آگے بڑھنے والا تمہاری طرف لوٹے گا اور پیچھے رہ جانے والا تم سے ملحق ہوگا ،اے اہل بیت کے شیعو! جان لو کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ خدا پر ہماری کوئی حجت ہے اور نہ طاعت کے بغیر خدا سے قریب ہوا جا سکتا ہے پھر جو خدا کا مطیع ہوگا اس کو ہماری ولایت فائدہ پہنچائے گی اور جو نافرمان ہوگا اسے ہماری ولایت کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی۔ اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ایک دوسرے کو دھوکا نہ دینا اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا۔( ۱ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج ۶۸ منقول از مشکوٰة الانوار: ص ۶۰


حفاظتی اور سیاسی ضوابط

اہل بیت کے شیعوں نے اموی اور عباسی عہد حکومت میں بہت سخت زندگی بسر کی ہے ،ان سخت حالات کا اقتضا یہ تھا کہ شیعہ ایک حفاظتی اورسیاسی نظم و ضبط کے بہت زیادہ پابند ہو جائیں اور حفاظتی تعلیمات کا بھرپور طریقہ سے خیال رکھیں۔

اہل بیت بھی اپنے شیعوں کو حفاظتی دستورات پر عمل کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔ اگر اہل بیت کی تعلیمات نہ ہو تیں اور اہل بیت ان تعلیمات کا التزام نہ کرتے تو بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومت اہل بیت کے مکتب فکر کو اسی وقت ختم کر دیتی اور یہ مکتب اپنی ثقافتی، فکری اور تشریعی میراث کے ساتھ اس عہدتک نہ آتا۔

ان ضوابط کی ایک اہم شق تقیہ ہے ، اور راز کو چھپانا ،گفتگو میں احتیاط سے کام لینا، خاموش رہنا ،تغافل سے کام لینا انہی تعلیمات کی اہم شقوں میں سے تھا۔

جو لوگ فردی و اجتماعی طور پر ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتے تھے ان کی وجہ سے مکتبِ اہل بیت اور ان کے شیعوں کو نقصان پہنچتا تھا۔

اہل بیت نے اپنے شیعوں کو جو سیاسی وحفاظتی تعلیمات دی تھیں ہم اس کے کچھ نمونے بیان کرنا چاہتے ہیں : امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے شیعوں کو نمازکے اوقات میں آزمائو کہ وہ کیسے اس کی پابندی کرتے ہیں ؟ اور ہمارے دشمن سے ہمارے راز کو کس طرح محفوظ رکھتے ہیں ۔( ۱ )

سلیمان بن مہران سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے پاس کچھ شیعہ موجود تھے اورآپ یہ فرما رہے تھے: ہمارے لئے باعث زینت بنو باعث ننگ و عار نہ بنو، اے شیعو! اپنی زبانوں پر قابو رکھو، فضول باتیں نہ کیا کرو۔( ۲ )

امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنے شیعوں کی دو خصلتوں کو ختم کرنے میں اپنے ہاتھ کا گوشت فدیہ میں دے دیتا۔

____________________

(۱)بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۴۹

(۲) گذشتہ حوالہ ص ۱۵۱۔


امام صادق ہی فرماتے ہیں : کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں ان کا امام ہوں ، خدا کی قسم میں ان کا امام نہیں ہوں کیونکہ میں نے جتنے پردے ڈالے تھے انہوں نے سب کو چاک کر دیاہے۔ میں کہتا ہوں ایسا ہے وہ کہتے ہیں ایسا ہے ۔( ۱ )

امام محمد باقر سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اے میسر! کیا میں تمہیں اپنے شیعوں کے بارے میں بتائوں ؟ میں نے عرض کیا: میں قربان ضرور بتائیے ؛فرمایا: وہ مضبوط قلعے ہیں ، محفوظ سر حدیں ہیں ، قوی العقل ہیں وہ رازوں کو افشا نہیں کرتے ہیں وہ کھرّے اور اجڈ نہیں ہیں ، شب کے راہب اور دن کے شیر ہیں ۔( ۲ )

امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا سے ڈرو! اور تقیہ کے ذریعہ اپنے دین کی حفاظت کرو۔( ۳ ) آپ ہی کا ارشاد ہے : خدا کی قسم کسی چیز سے خدا کی عبادت نہیں کی گئی کہ جو خبٹی سے زیادہ خدا کے نزدیک محبوب ہو، دریافت کیا گیا کہ خبٹی کیا ہے ؟ فرمایا: تقیہ۔( ۴ )

امام زین العابدین نے فرمایا: خدا کی قسم میری تمنا ہے کہ اپنے شیعوں کی دو خصلتوں کے لئے میں اپنے بازو کے گوشت کے برابر فدیہ کروں .ایک ان کا طیش اور دوسرے، راز کو کم پوشیدہ رکھنا۔( ۵ )

امام جعفر صادق نے فرمایا: لوگوں کو دو خصلتوں کا حکم دیا گیا تھا لیکن انہوں نے انہیں ضائع کر دیا۔ پس ان کے پاس کوئی چیز نہ رہی اور وہ ہیں صبر اور راز چھپانا۔( ۶ )

سلمان نے خالد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: امام جعفرصادق نے فرمایا:

اے سلمان تمہارے پاس ایک دین ہے جو اسے ( مخالفوں اور دشمنوں سے) چھپائے

____________________

(۱) بحار الانوار: ج ۲ ص ۸۰

(۲) بحار الانوار: ج ۶۸ ص ۱۸۰

(۳) امالی مفید: ص ۵۹

(۴) اصول کافی: ج۲ ص ۲۱۸

(۵)اصول کافی: ج۲ ص ۲۲۱ بحار الانوار: ج ۷۵ ص ۷۲ خصال صدوق: ص ۴۴

(۶)اصول کافی: ج۲ ص ۲۲۲


گا ، خدا اسے عزت عطا کرے گا اور جو اس راز کو فاش کرے گا خدا اسے ذلیل کرے گا۔( ۱ )

امام محمد باقر سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم مجھے اپنے اصحاب میں وہ بہت زیادہ محبوب ہے جو ان میں زیادہ پاک دامن ، زیادہ سمجھ دار اور فقہ کا زیادہ جاننے والا اور ہماری باتوں کو زیادہ چھپانے والا ہے ۔( ۲ )

امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم وہی کہو جو ہم نے بیان کیا ہے اور جس کے بارے میں ہم نے لب کشائی نہیں کی ہے اس کے بارے میں تم بھی زبان نہ کھولو۔

آپ ہی کا ارشاد ہے : جس شخص نے ہماری باتوں اور حدیثوں کا راز فاش کر دیا اس نے ہمیں غلطی و خطا سے قتل نہیں کیا ہے بلکہ ہمیں جان بوجھ کر قتل کیا ہے ۔یہ عجیب تعبیر ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔( ۳ )

جو لوگ دنیائے اسلام میں بسنے والے اہل بیت کے پیرئوں کے راز کو فاش کرتے تھے اور یہ کام وہ اس وقت انجام دیتے تھے جب بنی عباس کی حکومت کا ظلم اپنے عروج پر تھا گویا یہ جان بوجھکر حکومت کو شیعوں کی طرف متوجہ کرتے تھے۔اگر چہ یہ کام وہ غلط نیت سے انجام نہیں دیتے تھے بلکہ وہ لوگوں سے اہل بیت کی حدیثیں بیان کرتے تھے تاکہ لوگ اہل بیت سے وابستہ ہو جائیں اور ان کے مکتب کو تسلیم کر لیں اور شیعیت پھیل جائے ،یہ سب محبت و عقیدت ہی میں ہوتا تھا ،لیکن ان چیزوں کی نشر و اشاعت ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔

____________________

(۱)اصول کافی: ج ۲ ص ۲۲۶

(۲)بحار الانوار: ج۷۵ ص ۷۶

(۳) بحار الانوار: ج۲ ص ۷۴


اہل بیت کی محبت و عقیدت سے متعلق کچھ باتیں

انشاء اللہ ہم عنقریب اہل بیت کی محبت و عقیدت سے متعلق کچھ فقرے بیان کریں گے اور ان فقروں کو اہل بیت کی زیارت سے اخذ کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ جو زیارتیں اہل بیت سے مروی ہیں وہ ان کی محبت اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کے مفہوم سے بھری پڑی ہیں ۔ زیارت کے متن میں غور و فکر کر کے ہم محبت و بیزاری کے مکمل نظریہ کو ثابت کر سکتے ہیں ، لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ ہی اس مقالہ میں محبت و برات کی تحقیق اور ان سے متعلق نظریہ کی تشکیل کی گنجائش ہے، ہم تو یہاں زیارتوں اور اہل بیت کی دوسری حدیثوں سے کچھ ایسے فقرے پیش کرنا چاہتے ہیں جو محبت و عقیدت سے متعلق ہیں ۔

مفہوم ولاء

یہ عناصر ولاء کا پہلا عنصر ہے اور جتنی معرفت ہوتی ہے اسی تناسب سے ولاء کی قیمت ہوتی ہے اور انسان جس قدر مفہوم ولاء کو اچھے طریقہ سے سمجھتا ہے اسی لحاظ سے وہ ولاء میں قوی اور راسخ ہوگا۔

زیارت جامعہ میں آیا ہے :

''اُشهِد اللّٰه و أشهد کم أنی مؤمن بکم و بما آمنتم به، کافر بعدوّکم و بماکفرتم به، مستبصر بشأنکم، و بضلالة من خالفکم، مؤمن بسرکم و علانیتکم، و شاهدکم و غائبکم'' ۔

میں خدا کو گوا ہ قرار دیتا ہوں اور آپ حضرات -اہل بیت -کو گواہ بناتا ہوں کہ میں آپ پر اور ہر اس چیز پر ایمان لایا ہوں کہ جس پر آپ ایمان رکھتے ہیں ، میں آپ کے دشمن کا منکر ہوں اور ہر اس چیز کا دشمن ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا ہے ، آپ کی عظمت و شان کا اور آپ کی مخالفت کرنے والے کی گمراہی کی بصیرت رکھنے والا ہوں ، آپ کے پوشیدہ و عیاں اور آپ کے حاضر و غائب پر ایمان رکھتا ہوں ۔


ہم اس معرفت پراور اس اپنے اعتماد و ایمان پر خدا اور اہل بیت کو گواہ قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں ہمیں قطعاً شک نہیں ہوتا ہے ۔

مندرجہ بالا فقرہ میں ولاء کے دو پہلو ہیں :

ایک مثبت: میں آپ پر اور ہر اس چیز پر ایمان رکھتا ہوں جس پرآپ کا ایمان ہے ۔

دوسرا منفی: وہ ہے بیزاری، میں آپ کے دشمن کا منکر ہوں ا ور ہر اس چیز سے بیزار ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا ہے ، یہاں کفر کے معنی ٹھکرانے اور انکار کرنے کے ہیں تو اس لحاظ سے مذکورہ فقرے کے یہ معنی ہوں گے، میں نے آپ کے دشمنوں کو چھوڑ دیا ہے بلکہ ہر اس چیز کو چھوڑ دیا ہے جس کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرات نے چھوڑ دیا ہے ۔

اس سے پہلے والے جملہ میں اور اس جملہ میں ولاء کی قیمت اثبات و نفی کے ایک ساتھ ہونے میں ہے۔ ایک کو قبول کرنے میں اور دوسرے کو چھوڑنے میں ہے انسان کو اکثر صرف قبول کرنے کی زحمت نہیں دی گئی ہے بلکہ اس کے ساتھ کسی چیز کو چھوڑ نے کی بھی تکلیف دی گئی ہے۔

اور قبول و انکار کو بصیرت و ذہانت کے ساتھ ہونا چاہئے ،تقلید کی بنا پر نہیں جیسا کہ لوگ ایک دوسرے کی تقلید کرتے ہیں ،مستبصر بشأنکم و بضلالة من خالفکم ۔

میں آپ کی عظمت و رفعت اورآپ کے مخالف کی ضلالت اور گمراہی کی بصیرت رکھتا ہوں اس جملہ میں درجِ ذیل تین نکات ہیں ۔

۱۔ قبول عام ہے : ''مؤمن بسرکم و علانیتکم'' میں آپ کے پوشیدہ و ظاہر پر ایمان رکھتا ہوں ۔

۲۔ انکار و ترک، اہل بیت کے تمام دشمنوں اور ان کی ٹھکرائی ہوئی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ ''کافر بعدوکم و بما کفرتم بہ'' میں نے آپ کے دشمنوں اور آپ کی ٹھکرائی ہوئی تمام چیزوں کو ٹھکرا دیا ہے ۔

۳۔ یہ قبول وانکاربصیرت و معرفت ہی سے مکمل ہوتا ہے۔''مستبصر بشأنکم و بضلالة من خالفکم' 'میں آپ کی عظمت و رفعت کی اور آ پ کے مخالف کی ضلالت کی معرفت و بصیرت رکھتا ہوں ۔


تصدیق

ولاء تصدیق سے جدا نہیں ہو سکتی ، ولاء کے لئے شک و شبہ سے زیادہ تباہ کن کوئی چیز نہیں ہے ۔ خدا وند عالم نے راہِ ولاء میں کوئی پیچیدگی نہیں رکھی ہے ۔ بیشک رب کریم نے ولاء کو توحید سے جوڑا ہے اور ولاء کو فرد و امت کا محور قرار دیا ہے، چنانچہ توحید کے بعد اسی کی طرف لوگوں کی رغبت دلائی ہے ؛فرماتا ہے :( إنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰهُ وَ رُسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوْا ) اور فرماتا ہے :( أطِیْعُوْا اللّٰهَ وَ أطِیعُوْا الرَّسُولَ وَ أوْلِیْ الأمْرِ مِنْکُم ) اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔ ولاء تک پہنچنے کے راستہ کو واضح ہونا چاہئے تاکہ ولاء کے سلسلہ میں لوگوں کے پاس دلیل و حجت ہو ،اسی لئے ولاء تصدیق سے جدا نہیں ہے اور تصدیق یقین سے ہوتی ہے اور یقین دلیل و حجت سے ہوتا ہے ۔

اور زیارت جامعہ میں اہل بیت کو اس طرح مخاطب قرار دیا ہے:''سعد من والاکم ، و هلک من عاداکم ، و خاب من جحد کم و ضلّ من فارقکم و فاز من تمسّک بکم، و أمن من لجأ الیکم و سلم من صدقکم و هدی من اعتصم بکم''

جو آپ کی ولاء سے سر شار ہوا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے آپ سے عداوت کی وہ ہلاک ہو گیا۔ جس نے آپ کا اور آپ کے حق کا انکار کیا اس نے گھاٹا اٹھایا اور جس نے آپ کو چھوڑ دیا وہ گمراہ ہو گیا اور جس نے آپ سے تمسک کیا اس نے اپنے مقصد کو پا لیا۔ اور جس نے آپ کی طرف پناہ لی وہ امان میں رہا اور جس نے آپ کی تصدیق کی وہ صحیح و سالم رہا اور جو آپ سے وابستہ ہو گیا و ہ ہدایت پا گیا۔

عضوی نسبت

۱۔ ہم ان عناصر سے بحث کریں گے جن سے ولاء وجود میں آتی ہے اس کے لئے ضروری ہے پہلے اس لفظ کے حروف کی وضاحت کی جائے جیسا کہ اس عہد میں ہمارے ادبیات کا شیوہ ہے اور یہ بہت اہم بات ہے معمولی نہیں ہے۔ اجتماعی ربط و ضبط اور رسم و راہ سے ہمارے عہد کا ادب اس لفظ کے معنی کو بیان کرنے سے قاصر ہے کیونکہ ایک طرف تو ہم خط افقی کے نہج سے لوگوں کے درمیان بحث کا اس جیسا رشتہ نہیں پاتے اور دوسری طرف خط عمودی کے اعتبار سے سیاسی قیادت ،اور ثقافتی مرجعیت اور طاعت و پیروی ہے جیسے ولاء اوران دونوں خطوں کے لحاظ سے ولا کا تعلق امت سے منفرد ہے :


۱۔ خدا و رسول اور صاحبان امر سے امت کا ربط خط عمودی کے اعتبار سے ہے، جو کہ طاعت ، محبت ، مدد ، خیر خواہی اور اتباع کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اس ربط کااوپر سے سلسلہ شروع ہوتا ہے : جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :( أطِیْعُوْا اللّٰهَ وَ أطِیعُوْا الرَّسُولَ وَ أوْلِیْ الأمْرِ مِنْکُمْ ) اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کرو اور تم میں سے جولوگ صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو اور نیچے کی طرف سیادت و حاکمیت اور اطاعت ہے جیسا کہ خدا وند عالم فرماتا ہے :( إنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰهُ وَرُ سُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوْا الَّذِینَ یُقِیْمُونَ الصَّلٰاةَ وَ یُؤتُونَ الزَّکاةَ وَ هُم رَاکِعُونَ ) یہ خط عمودی ہے اس کا سلسلہ او پرسے شروع ہوتا ہے ۔

خط صعودی سے ہماری مراد امت کا اپنے صاحبان امر سے محبت کرنا ہے اور خط نزولی سے مراد صاحبان امر کا امت سے محبت کرنا ہے ، اس کے ایک سرے پر حاکمیت اور دوسرے پر رعایہ ہے

۲۔خط افقی، یعنی لوگوں کا اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے سے محبت کرنا۔ اسی کو قرآن مجید نے اختصار کے سا تھ اس طرح بیان کیا ہے ''نما المؤمنون اخوة'' امام حسن عسکری نے آبہ اور قم والوں کے سامنے اس لفظ کی وضاحت اس طرح فرمائی،''المؤمن أخو المؤمن لأمه و أبیه'' ( ۱ ) یعنی مومن، مومن کا مادری و پدری بھائی ہے ،یہ ایک ایسا لگائو اور محبت ہے کہ جس کی مثال دوسری امتوں ، اور شریعتوں میں نہیں ملتی ہے۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : مومنین بھائی بھائی ہیں ان کا خون برابر ہے اور وہ اپنے غیر کے لئے ایک ہیں ۔ اگر ان کا چھوٹا کسی کو پناہ دیتا ہے تو سب اس کا خیال رکھتے ہیں ۔( ۲ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج ۵ ص ۳۱۷

(۲)امالی مفید: ص ۱۱۰۔


امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ ''مومن ، مومن کا بھائی ہے دونوں ایک بدن کے مانند ہیں کہ اگر بدن کے کسی ایک عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اس کا دکھ پورے بدن کو ہوتا ہے ۔ ''( ۱ )

امام جعفرصادق مومنوں کو وصیت فرماتے ہیں : ایک دوسرے سے ربط و ضبط رکھو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کرو، ایک دوسرے پررحم کرو، اور بھائی بھائی بن جائو جیسا کہ خدا وند کریم نے تمہیں حکم دیاہے( ۲ ) یہ ہے ولاء کا خط افقی۔

اس سے قوی، متین اور مضبوط رشتہ میں دوسری امتوں میں کوئی نظر نہیں آتا ہے ۔ اس وضاحت کے اعتبار سے ولاء عبارت ہے اس عضوی نسبت سے جو کہ ایک رکن کو خاندان سے ہوتی ہے ایک رکن وستون پوری عمارت کو روکے رکھتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے سیسہ پلائی ہوئی عمارت ،جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، ایک خاند ان کے افراد کا آپس میں جو رشتہ ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک بدن کے اعضاء کا ہوتاہے،یہ اخوت کا رشتہ اس رشتہ سے کہیں مضبوط ہوتا ہے جو ایک خاندان کے افراد کے درمیان ہوتا ہے ۔

اس صورت میں یہ محبت اور لگائو ارتباط و علاقہ سے جدا ایک رشتہ ہے جوامت میں داخل ہے جس کو عضوی نسبت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ جیسے فرد کا رشتہ خاندان سے اور عضو کا بند سے ہوتا ہے ۔

اور جب ولاء کا دارومدار خط افقی میں تعاون، ایک دوسرے سے ربط و ضبط، خیر خواہی ، نیکی، بھائی چارگی، احسان و مودت، ایک دوسرے کی مدد، ایک دوسرے کی ضمانت اور

____________________

(۱)بحار الانوار: ج۷۴ ص ۲۶۸

(۲) اصول کافی: ج ۲ ص ۱۷۵


تکامل وغیرہ پر ہے ۔ تو خط عمودی میں ولا کا دار و مدار، طاعت، تسلیم و محبت ، نصرت و پیروی ، وابستگی، اتباع، تمسک اور ان سے اور ان کے دوستوں سے محبت اور ان کے دشمنوں سے قطع تعلقی اور برات و بیزاری کرنے پر ہے ۔

اس نکتہ کے آخر میں ہم یہ بیان کر دیں کہ، محبت کرنا اور بیزار ہونا کوئی تار یخی قضیہ نہیں ہے کہ جو ہماری سیاسی زندگی اور آج کی تہذیب سے جدا ہو۔

اور امام جعفر صادق نے ولاء کی جو تعریف کی ہے اس کے لحاظ سے وہ کوئی اعتقادی مسئلہ نہیں ہے جس کا ہماری اس سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے جس میں زندگی گزارتے ہیں ۔امام کا ارشاد یہ ہے : جتنی اہمیت ہم ولا کو دیتے ہیں اتنی کسی چیز کو نہیں دیتے ہیں ۔

ولاء یعنی طاعت، محبت، نسبت،بیزاری ، صلح و سلامتی اور جنگ اور ہماری موجودہ سیاسی و اجتماعی موقف ہے۔

جب تک کہ ولاء وبیزاری ہمارے عقائد کو حرکت و عمل کی طرف نہ بڑھائے اور شرعی ولایت کے طول میں سیاسی میدان میں جنگ و صلح میں نمایاں نہ ہواس وقت تک ولاء و بیزاری کی وہ اہمیت نہیں ہوگی جو کہ ہم اہل بیت سے وارد ہونے والی نصوص میں بیان ہوئی ہے ۔

اب ہم انشاء اللہ ولاء سے متعلق ان فقروں کو اختصار کے ساتھ بیان کریں گے جو زیارتوں میں اہل بیت سے نقل ہوئے ہیں یہ زیارات ولاء کے مفہوم سے معمور ہیں ۔


برات و بیزاری

ولاء و محبت کا ایک پہلو، برات و بیزاری ہے اور ولاء و برات ایک ہی قضیہ کے دو رخ ہیں اور وہ نسبت ہے اوراور یہ برات قضیہ کی نسبت میں بہت ہی دشوارپہلو ہے اور برات کے بغیر ولاء ناقص ہے ، ایک شخص نے امیر المومنین کی خدمت میں عرض کیا: میں آپ سے بھی محبت کرتا ہوں اور آپ کے دشمن سے بھی محبت کرتا ہوں ۔ ( یہی ناقص ولاء ہے جس کو ہم بیان کر چکے ہیں ) امیر المومنین نے اس سے فرمایا: تو اس صورت میں تم بھینگے ہو( بھینگے کو پوری چیز نظر نہیں آتی ہے) اگر تم اندھے ہو( اس صورت میں برات و بیزار ی کے ساتھ ولاء بھی ختم ہو جاتی ہے) یا تم دیکھتے ہو ( تو ولاء و برات جمع ہو جاتی ہیں )۔

زیارت جامعہ میں آیا ہے : میں خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں اور آپ حضرات کو گواہ بناتا ہوں کہ آپ پر ایمان لایا اور ہر اس چیز پر ایمان لایا ہوں جس پر آپ کا ایمان ہے ، آپ کے دشمن سے بیزار ہوں اور ہر اس چیز سے بیزار ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا ہے، میں آپ کی عظمت کی اور آپ کے مخالف کی گمراہی کی بصیرت رکھتاہوں ، میں آپ کا دوست اور آپ کے دوستوں کا دوست ہوں ،میں آپ کے دشمنوں سے بغض رکھنے والا ہوں اور ان کا دشمن ہوں ۔

زیارت عاشورہ میں تو خدا کے دشمنوں سے کھلم کھلا اور شدت کے ساتھ بیزاری کا اظہار ہوا ہے:

''لعن اللّٰه أمة قتلتکم ، و لعن اللّٰه الممهدین لهم بالتمکین لقتالکم برئت الیٰ اللّٰه و الیکم منهم و من أشیاعهم و أتباعهم و أولیائهم'' ۔

خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا، خدا لعنت کرے ان لوگوں پر کہ جنہوں نے جنگ کرنے کے لئے زمین ہموار کی، میں خدا کی بارگاہ میں اور آپ کی خدمت جناب میں ان سے ، ان کے پیروئوں ، ان کا اتباع کرنے والوں اور ان کے دوستوں سے بیزار ہوں ۔


اس زیارت میں صرف خدا کے دشمنوں ہی سے بیزاری کا اظہار نہیں ہوا ہے بلکہ خدا کے دشنوں کی پیروی واتباع کرنے والوں اور ان سے خوش ہونے والوں سے بھی بیزاری ہے اور جس طرح ہم اولیاء خدا کی محبت کے ذریعہ خدا سے قریب ہوئے ہیں اسی طرح ہم خدا کے دشمنوں اور ان کے دوستوں کی دشمنی سے بھی خدا سے قریب ہوتے ہیں ۔ زیارت عاشورہ ہی میں ہے :

''انی اتقرب الیٰ اللّٰه و الیٰ رسوله بموالاتکم وبالبرائة ممن قاتلک و نصب لک الحرب وبالبرائة ممن أسس أساس ذلک و بنیٰ علیه بنیانه''

میں آپ کی محبت و دوستی کے ذریعہ خدااور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تقرب حاصل کرتا ہوں اور ان لوگوں سے کہ جنہوں نے آپ سے قتال و جنگ کی ہے ان سے بیزارہوں اور جس نے اس کی بنیاد رکھی اور پھر اس کی عمارت بنائی اس سے بھی بیزاری کے ساتھ خدا کا تقرب چاہتا ہوں ۔

ولاء اور توحید کا ربط

ولاء توحید ہی کے تحت ہے اس کو ہم پہلے بھی کئی بار بیان کر چکے ہیں ،اسلام میں ولاء کی قیمت یہ ہے کہ اس کا سوتا توحید کے چشمہ سے پھوٹتا ہے اور توحید کے طول میں آتی ہے ، کسی غیرِ خدا سے کوئی محبت نہیں ہے مگر یہ کہ خدا کے اذن اور اس کے حکم سے کی جا سکتی ہے خدا وند عالم فرماتا ہے :( أللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا ) خدا ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور صاحبان امر کی ولایت خدا کے حکم سے واجب ہوتی ہے، جس نے خدا سے محبت کی اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کی اور جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کی اس نے صاحبان امر سے محبت کی، واضح رہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولایت کو خدا کی ولایت سے اور اہل بیت کی ولایت کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولایت سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔


خدا وند عالم فرماتا ہے :( إنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیمُوْنَ الصَّلاةَ وَ یُؤتُونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ رَاکِعُوْنَ ) ( ۱ )

تمہارا ولی صرف خدا ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکواة دیتے ہیں ۔

روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ''( یقیمون الصلٰوة و یؤتون الزکٰوة و هم راکعون ) ''سے حضرت علی ہی مراد ہیں ۔

یہ ولایت، خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان لوگوں کی ہے جو ایمان لائے ہیں اور جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکواة دیتے ہیں وہی مسلمانوں کے ولی امر ہیں ۔

اس لحاظ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت کی ولایت خدا کی ولایت ہی کی کڑی ہے جیسا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مسلمانوں کے ولی امر کی اطاعت بھی خدا کی اطاعت ہی کی کڑی ہے ۔ اور ولایت و طاعت ہی کی طرح محبت بھی ہے۔

____________________

(۱) سورہ مائدہ: ۵۵ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے اس کو فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں سورہ مائدہ کی آیہ انما ولیکم اللہ کے ذیل میں بیان کیا ہے اور شبلخجی نے نور الابصار ص ۱۷۰ پر زمخشری نے کشاف میں سورہ مائدہ میں مذکورہ آیت کے ذیل میں ابو السعود نے مذکورہ آیت کے ذیل میں اسی طرح بیضاوی نے اس کو متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے سیوطی نے در منثور میں اسی آیت کے سلسلہ میں متعدد طریقوں سے روایت کی ہے واحدی نے اسباب النزول ص ۱۴۸ پر ،متقی نے کنزل العمال ج۶ ص ۳۱۹ پر اور ج ۷ ص ۳۰۵ پر ہیثمی نے مجمع الزوائد: ج۷ ص ۱۷ پر، طبری نے ذخائر العقبیٰ ج۸ ص۱۰۲ پر اور فیروز آبادی نے فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ ج۲ ص ۱۸ و ۲۴ پر اس کی روایت کی ہے.


رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: خدا سے اس لئے محبت کرو کہ اس نے تمہیں اپنی نعمتوں سے سر شار کیا ہے اور مجھ سے خدا کی محبت کی بدولت محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کے باعث محبت کرو۔( ۱ )

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کا ارشاد ہے : خدا سے محبت کرو کہ اس نے تمہیں اپنی نعمت سے سرشار کیا ہے اور مجھ سے خدا کی محبت کی وجہ سے محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کے سبب محبت کرو۔( ۲ )

بنا بر ایں جو شخص خدا سے محبت کرے گا وہ ان حضرات سے بھی محبت کرے گا اور جو خدا کی اطاعت کرے گا وہ ان کی اطاعت کرے گا اور جو خدا سے محبت کرے گا وہ ان سے محبت کرے گا۔

یہ توحیدی میزان کا ایک پلہ اور دوسرا پلہ یہ ہے کہ جو ان سے تولیٰ کرے گا وہ خدا سے تولیٰ کرے گا اور جو ان کی اطاعت کرے گادر حقیقت وہ خدا کی اطاعت کرے گا اور جو ان سے محبت کرے گا وہ در حقیقت خدا سے محبت کرے گا۔ اس طرح یہ دوستی وولاء اور توحید کے پلے برابر ہو جائیں گے۔

اس سلسلہ میں درج ذیل روایتوں کو ملاحظہ فرمائیں جو کہ ترازو کے دوسرے پلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں :

____________________

(۱) صحیح ترمذی: ج ۱۳ ص ۲۶۱ تاریخ بغداد: ج۴ ص ۱۶۰ اور اس کو ان دونوں سے علامہ امینی نے اپنی گراں قیمت کتاب سیرتنا و سنتنا میں تحریر کیا ہے.

(۲)صحیح ترمذی کتاب المناقب باب مناقب اہل البیت مستدرک حاکم: ج۳ ص ۱۴۹ اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے.


زیارت جامعہ میں آیا ہے :

'' من والاکم فقد و ال اللّٰه ،و من عاداکم فقد عادی اﷲ''

جس نے آپ سے محبت کی در حقیقت اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپ سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی۔

اسی زیارت میں آیا ہے :

''من أطاعکم فقد أطاع اللّٰه و من عصاکم فقد عصی اﷲ''

جس نے آپ کی اطاعت کی در حقیقت اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے آپ کی نافرمانی کی در حقیقت اس نے خدا کی نافرمانی کی۔

اسی زیارت میں آیا ہے :

''من أحبکم فقد احب اﷲ و من أبغضکم فقد أبغض اللّٰه''

جس نے آپ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپ سے بغض رکھا اس نے خدا سے بغض رکھا۔

اور ہم ان کی محبت اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعہ خداسے قریب ہوتے ہیں ۔ چنانچہ زیارت عاشورہ میں ہے :

'' انی اتقرب الیٰ اللّٰه بموالاتکم و بالبرائة ممن قاتلک و نصب لک الحرب''

میں آپ کی محبت اور اس شخص سے بیزاری کے ساتھ خدا کاتقرب چاہتا ہوں کہ جس نے آپ سے قتال کیا اور آپ سے جنگ کی۔


رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''من أطاعنی فقد أطاع اللّٰه ومن عصانی فقد عصی اللّٰه و من عصی علیاً فقد عصانی'' ۔( ۱ )

جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی( اسی طرح ) جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔

ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے علی! میں دنیا و آخرت میں سید و سردار ہوں تمہارا دوست میرا دوست ہے اور میرا دوست خدا کا دوست ہے اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن خدا کا دشمن ہے۔( ۲ )

اسلام میں تولیٰ اور تبری کے مفہوم کے باریک نکات میں سے یہ بھی ہے کہ ہم ولایت خدا اور ولایت اہل بیت کے درمیان جومحکم توحیدی ربط ہے اسے دقیق طریقہ سے سمجھیں اور دونوں ولایتوں کے درمیان توحیدی توازن کو سمجھیں اور یہ جان لیں کہ اسلام میں جو بھی ولایت ہے وہ خد اکی ولایت کے تحت ہی ہوگی ورنہ وہ باطل ہے اور جو بھی اطاعت ہے اسے بھی خدا کی اطاعت ہی کے تحت ہونا چاہئے اور اگر خدا کی طاعت کے تحت نہیں ہے تو وہ باطل ہے اور ہر محبت کو خدا کی محبت کے تحت ہوناچاہئے ورنہ خدا کے میزان میں اس کی کوئی قیمت و حیثیت نہیں ہوگی۔

____________________

(۱) حاکم نے مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۱۲۱و ۱۲۸ پر بیان کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے. ریاض النضرة محب الطبری ج۲ ص ۱۶۷ فیروز آبادی کی فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ ج۲ ص ۱۱۸

(۲) مستدرک الصحیحین ج۳ ص ۱۲۷ اور حاکم نے اس حدیث کو شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے خطیب نے تاریخ بغداد: ج ۳ ص ۱۴۰ پر ابن عباس سے سے پانچ طریقوں سے اس کی روایت کی ہے. اور لکھتے ہیں :من احبک فقد احبنی و حبی حب اللہ جس نے تم سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور میری محبت خدا کی محبت ہے اور محب نے ریاض النضرة ج۲ ص ۱۶۶ پر فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ للفیروز آبادی ج۲ ص ۲۴۴ پر اور اس حدیث کے متعدد طرق نقل کئے ہیں


اس سیاق میں یہ بھی ہے کہ اہل بیت خدا کی طرف راہنمائی کرنے والے اور اس کی طرف بلانے والے ہیں اور اس کے امر سے حکم کرنے والے ہیں ، اس کے سامنے سراپا تسلیم ہیں اورخداکے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والے ہیں ۔

یہ قضیہ کا ایک پہلو ہے ، اس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ جو شخص خدا کو چاہتا ہے اور اس کے راستہ، اس کی مرضی اور اس کے حکم و حدود کو دوست رکھتا ہے اسے اہل بیت کے راستہ پرچلنا چاہئے اور انکے عمل کو اختیار کرنا چاہئے ،اس توحیدی معادلہ کے دونوں اطراف کو ملاحظہ فرمائیں:

زیارت جامعہ میں آیا ہے : الیٰ اللّٰہ تدعون و علیہ تدلون و بہ تؤمنون ولہ تسلمون و بأمرہ تعملون و الیٰ سبیلہ ترشدون و بقولہ تحکمون۔

آپ اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اسی کی طرف راہنمائی کرتے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی کے سامنے سراپا تسلیم ہیں اور اسی کے امر کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے راستہ کی طرف ہدایت کرتے ہیں اور اس کے قول کے مطابق حکم دیتے ہیں ۔

یہ قضیہ کا ایک سرا ہے اور اس کا دوسرا سرا یہ ہے :

''من اراد اللّٰه بدء بکم و من وحده قبل عنکم و من قصده توجه بکم''

اس کی تاکید ایک بار پھر کردوں کہ ہم ولاء کو خدا کی ولایت کے تحت اسی توحیدی طریقہ سے سمجھ سکتے ہیں ، اگر اہل بیت کی ولایت ، طاعت اور محبت ولایت خدا کے تحت نہیں ہے تو وہ اہل بیت کی تعلیم اور ان کے قول کے خلاف ہے ۔


سلام و نصیحت

یہ بھی ولاء کے دو رخ ہیں یعنی صاحبان امر کے ساتھ کس طرح پیش آئیں ،سلام اس لگائو کا سلبی رخ ہے اور نصیحت اس لگائو کا ایجابی رخ ہے ،اس کی تشریح ملاحظہ فرمائیں:

صاحبان امر(رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اہل بیت)پر سلام بھیجنا جیسا کہ زیارات کی نصوص میں وارد ہوا ہے یہ سلام مقولہ خطاب سے نہیں ہے بلکہ سلام کا تعلق مقولۂ ارتباط و علاقہ سے ہے اور خطاب کو علاقہ اور ارتباط سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

صاحبانِ امر پر جو سلام بھیجا جاتا ہے اس کے باریک معنی یہ ہیں کہ ہم انہیں اپنے افعال و اعمال کے ذریعہ اذیت نہ دیں کیونکہ وہ ہمارے اعمال کو دیکھتے ہیں جیساکہ سورۂ قدر اور دوسری روایات اس کی گواہی دے رہی ہیں ۔

ان کے دوستوں کے برے اعمال اور ان کا گناہوں اور معصیتوں میں آلودہ ہونا انہیں تکلیف پہنچاتا ہے اسی طرح ان دو فرشتوں کو رنجیدہ کرتا ہے جو ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کے دوستوں کے نیک و صالح اعمال انہیں خوش کرتے ہیں ،ہم صاحبان امر پر سلام والی بحث کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے ہیں ۔

ان پر سلام سے متعلق زیارتیں معمور ہیں ، زیارت جامعہ غیر معروفہ میں ،کہ جس کو شیخ صدوق نے ( کتاب من لا یحضرہ الفقیہ )میں امام رضا سے نقل کیا ہے ، سلاموں کا سلسلہ ہے ہم ان میں سے ایک حصہ یہاں نقل کرتے ہیں :

''السلام علیٰ أولیاء اللّٰه و أصفیائه ، السلام علیٰ أمناء اللّٰه و أحبّائه، السلام علیٰ أنصار اللّٰه و خلفائه، السلام علیٰ محالّ معرفة اللّٰه، السلام علیٰ مساکن ذکر اللّٰه، السلام علیٰ مظهر أمر اللّٰه و نهیه، السلام علیٰ الدعاة الیٰ اللّٰه، السلام علیٰ المستقرّین فی مرضاة اللّٰه، السلام علیٰ المخلصین فی طاعة اللّٰه، السلام علیٰ الأدلاّء علیٰ اللّٰه، السلام علیٰ الذین من والاهم فقد والیٰ اللّٰه، و من عاداهم فقد عادی اللّٰه، و من عرفهم فقد عرف اللّٰه، و من جهلهم فقد جهل اللّٰه، و من اعتصم بهم فقد اعتصم باللّٰه، و من تخلی عنهم فقد تخلیٰ عن اللّٰه ۔''


سلام ہو خدا کے دوستوں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر، سلام ہو خدا کے امین اور اس کے احباء پر ، سلام ہو خدا کے انصار اور اس کے خلفاء پر ، سلام ہو معرفتِ خداکے مقام پر سلام ہو، ذکرِ خدا کی منزلوں پر ،سلام ہو خدا کے امرو نہی کے ظاہر کرنے والوں پر، سلام ہو خدا کی طرف بلانے والوں پر، سلام ہو خدا کی خوشنودی کے مرکزوں پر، سلام ہو طاعتِ خدا میں خلوص کرنے والوں پر، سلام ہو خدا کی طرف راہنمائی کرنے والوں پر، سلام ہو ان لوگوں پر کہ جو ان سے محبت کرے تو وہ محبت در حقیقت خدا سے ہو اور جو ان سے دشمنی کرے تو اصل میں اس کی دشمنی خدا سے ہو، جس نے انکو پہچان لیا اس نے خد اکو پہچان لیا اور جس نے ان کو نہ پہچانا اس نے خدا کو نہ پہچانا ، جو ان سے وابستہ ہو گیا وہ خدا سے وابستہ ہو گیا اور جس نے ان کو چھوڑ دیا اس نے خدا کو چھوڑ دیا۔

نصیحت

نصیحت صاحبانِ امر سے محبت و عقیدت کا دوسرا رخ ہے صاحبانِ امر کا خیر خواہ ہونا مقولۂ توحید سے ہے یہ بھی خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخلصانہ محبت کے تحت آتا ہے، یہ ان تین سیاسی قضیوں میں سے ایک ہے جن کا اعلان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حجة الوداع کے موقعہ پر عام مسلمانوں کے سامنے مسجد خیف میں کیا تھا۔

شیخ صدوق نے اپنی کتاب خصال میں امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: حجة الوداع کے موقعہ پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منی کے میدان میں مسجدِ خیف میں خطبہ دیا پہلے خدا کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: خد ا شاداب و خوش رکھے اس بندے کو جس نے میری بات کو سنا اور محفوظ رکھا اور پھر اس بات کو اس شخص تک پہنچایا جس نے وہ بات نہیں سنی تھی کیونکہ بہت سے فقہ کے حامل فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے فقہ کے حامل اس شخص تک اسے پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتا ہے ،تین چیزوں سے مسلمان کا دل نہیں تھکتا ہے :


۱۔ خدا کے لئے خلوص عمل سے۔

۲۔ مسلمانوں کے ائمہ کی خیر خواہی سے۔

۳۔ اور اپنی جماعت کے ساتھ رہنے سے۔

اس لئے کہ ان کی دعوت انہیں گھیرے ہوئے ہے ۔

اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ،ان کا خون ایک ہی ہے اور ان کے ذمہ چیزوں کی ان کا چھوٹا بھی پابندی کرتا ہے اور وہ اپنے مخالف کے لئے ایک ہیں ۔( ۱ )

اور صاحبانِ امر اور مسلمانوں کے ائمہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ مسلمان ان کی مدد کرے، ان کی پشت پناہی کرے ،انہیں محکم و مستحکم کرے، ان کا دفاع کرنے کی کوشش کرے، انہیں خیر خواہانہ مشورہ دے ان کی حفاظت کرے ان کے سامنے مسلمانوں کی مشکلیںاور رنج و غم کو بیان کرے یہ اس کی محبت و لگائو کا مثبت پہلو ہے ۔

____________________

(۱) بحار الانوار: ج۲۷ ص ۶۷۔


نمونۂ عمل اور قیادت

ولاء کے مفردات میں سے اہل بیت کی تاسی کرنا بھی ہے۔

بیشک خد اوند عالم نے پہلے ابراہیم کو اور ان کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کے لئے بہترین نمونہ عمل قرار دیا تھا اور لوگ ان دونوں کی اقتداء کرتے تھے اور خود کو ان کے لحاظ سے دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ خداوند عالم کا ارشاد ہے :

( قَد کَانَتْ لَکُمْ أسْوَة حَسَنَة فِی بْراهِیمَ وَ الَّذِینَ مَعَهُ ) ( ۱ )

یقینا ابراہیم میں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں ان میں تمہارے لئے اچھا نمونہ ہے۔ نیز فرماتاہے:

( لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللّٰهِ أُسوَة حَسَنَة ) ( ۲ )

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلفاء ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں ، ہم اپنی زندگی میں ، اپنی محبت میں ،اپنی عائلی زندگی میں ، اپنے اہل و عیال سے محبت کرنے میں اور خود سے محبت کرنے میں اور ان سب سے پہلے خدا سے محبت کرنے میں ہم انہیں کی پیروی کرتے ہیں ۔

واضح رہے کہ تاسی، تعلم نہیں ہے ، اہل بیت ہمارے معلم اور نمونۂ عمل ہیں ، ہم ان کی توجیہات اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں ، ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ، ان کے راستہ پر گامزن ہوتے ہیں اور زندگی میں انہیں کی رسم و راہ اختیار کرتے ہیں ،ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسی انہوں نے گزاری ہے ، عام لوگوں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ ایسے ہی رہتے ہیں جیسے وہ رہتے تھے۔

بیشک ائمہ اہل بیت معصوم ہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انسانیت کے لئے کامل

____________________

(۱) سورہ ممتحنہ: ۴ (۲)سورہ احزاب: ۲۱


نمونہ ہیں ، خدا نے انہیں میزان و معیار قرار دیا ہے ، ہم خود کو انہیں کے معیار پر پرکھتے ہیں پس ہماری جو گفتار و کردار، ہماری خاموشی اور ہماری حرکت و سکون اور ہمارا اٹھنا بیٹھا ان کی گفتار و کردار اور ان کے حرکت و سکون کے مطابق ہوتا ہے وہ صحیح ہے اور جو ان سے مختلف ہے وہ غلط ہے ، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ اس میں کوئی فرق نہیں ہے ، اور زیارت جامعہ میں نقل ہونے والے درج ذیل جملے کے یہی معنی ہیں :

''المتخلف عنکم هالک و المتقدم لکم زاهق واللازم لکم لاحق''

آپ سے روگردانی کرنے والا فانی اور آپ سے آگے بڑھنے والا مٹ جائیگا اور آپ کا اتباع کرنے والا آپ سے ملحق ہوگا ۔

ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اہل بیت کی سیرت اورسنتوں کا مطالعہ کریں تاکہ ہمارا کرداران کے کردار کے مطابق ہو جائے ،حضرت امیر المومنین فرماتے ہیں : تم میں اس کی طاقت نہیں ہے لیکن تم ورع و کوشش سے میری مدد کرو۔

زیارت جامعہ میں ائمہ کی توصیف میں بیان ہوا ہے : وہ بہترین نمونے ہیں اور بہترین نمونے ہی معیار ہیں اور جہاں تک ہو سکے لوگ خود کو ان ہی معیاروں پر پرکھیں۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت نے حضرت ابراہیم اور خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اقدار و اخلاق، عبودیت و اخلاص اور طاعت و تقویٰ کی میراث پائی ہے ۔

جو شخص انبیاء کی ہدایت پانا اور ان کے راستہ پر چلنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اہل بیت کی اقتدا ء کرے اور ان کے نقش قدم پر چلے۔

زیارت جامعہ میں یہ دعا ہے :

''جعلنی اللّٰه ممن یقتصّ آثارکم و یسلک سبیلکم و یهتدی بهداکم''

خدا مجھے ان لوگوں میں قرار دے کہ جو آپ کے راستہ پر چلتے ہیں اور آپ کی ہدایت سے ہدایت پاتے ہیں ۔


رنج و مسرت

رنج و مسرت ولاء کی دو حالتیں ہیں اور یہ دونوں محبت کی نشانیاں ہیں کیونکہ جب انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے غمگین ہونے سے غمگین ہوتا ہے اور اس کے خوش ہونے سے خوش ہوتا ہے ۔ امام صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے شیعہ ہم ہی میں سے ہیں انکو وہی چیز رنجیدہ کرتی ہے جو ہمیں رنجیدہ کرتی ہے اور انہیں وہی چیز خوش کرتی ہے جو ہمیں خوش کرتی ہے ۔( ۱ )

صحیح روایت میں ریان بن شبیب معتصم عباسی کے ماموں سے نقل ہوا کہ امام رضا نے اس سے فرمایا: اے شبیب کے بیٹے اگر تم جنتوں کے بلند درجوں میں ہمارے ساتھ رہنا پسند کرتے ہو تو ہمارے غم میں غم اور ہماری خوشی میں خوشی منائو اور ہماری ولایت سے متمسک ہو جائو کیونکہ اگر کوئی شخص پتھر سے بھی محبت کرے گا تو خدا قیامت کے دن اسے اسی کے ساتھ محشور کرے گا۔( ۲ )

____________________

(۱)امالی طوسی: ج ۱ ص ۳۰۵

(۲) امالی صدوق: ص ۷۹ مجلس ۲۷


مسمع سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: امام جعفر صادق نے مجھ سے فرمایا: اے مسمع! تم عراقی ہو! کیا تم قبرِ حسین کی زیارت کرتے ہو؟ میں نے عرض کی: نہیں ، میں بصری مشہور ہوں ، ہمارے یہاں ایک شخص ہے جو خلیفہ کی خواہش کے مطابق عمل کرتا ہے اورناصبی اور غیر ناصبی قبائل میں سے بہت سے لوگ ہمارے دشمن ہیں مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ لوگ سلیمان کے بیٹے سے میری شکایت نہ کر دیں او روہ میرے در پے ہو جائیں، آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں یاد ہے کہ اس پر کیا احسان کیا ہے ؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: کیا تم اس پر غم کا اظہار کرتے ہو؟ میں نے عرض کی : جی ہاں۔

میں اس پر اس قدر آنسو بہاتا ہوں کہ میرے اہل و عیال میرے چہرہ پر اس کا اثر دیکھتے ہیں ۔ میں کھانا نہیں کھاتاخدا آپ کے آنسوئوں پر رحم کرے

جو ہماری خوشی میں خوشی اور ہمارے غم میں غم مناتے ہیں اور ہمارے خوف میں خوف زدہ ہوتے ہیں اور جب ہم امان میں ہوتے ہیں تو وہ خودکوامان میں محسوس کرتے ہیں ۔ تم مرتے دم دیکھوگے کہ تمہارے پاس میرے آباء و اجدادآئے ہیں اور تمہارے بارے میں ملک الموت کو تاکید کر رہے ہیں اور تمہیں ایسی بشارت دے رہے ہیں کہ جس سے مرنے سے پہلے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ نتیجہ میں ملک الموت تمہارے لئے اس سے زیادہ مہربان ہو جائے گا کہ جتنی شفیق ماں بیٹے پر مہربان ہوتی ہے۔( ۱ )

ابان بن تغلب سے مروی ہے انہوں نے امام جعفرصادق سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

____________________

(۱) کامل الزیارات: ص ۱۰۱


ہمارے اوپر ہونے والے ظلم پر رنجیدہ ہونے والے کی سانس تسبیح ،ہمارے لئے اہتمام کرنا عبادت اور ہمارے راز کو چھپانا راہِ خدا میں جہاد ہے ۔( ۱ )

ہم اسی خاندان سے ہیں ،ہم عقیدہ ، اصول، محبت، بغض ، ولاء اور برأت میں ان کی طرف منسوب ہوتے ہیں ۔ اور اس محبت و ولاء کی علامت ان کی خوشی و غم میں خوش اور غمگین ہونا ہے ۔لیکن ہم اپنے اس رنج و مسرت کو کیوں ظاہر کرتے ہیں اور اس کو دل و نفس کی گہرائی سے نکال کر نعرہ زنی کی صورت میں کیوں لاتے ہیں اور اس کو معاشرہ میں دوستوں اور دشمنوں کے در میان کیوں ظاہر کرتے ہیں ۔

اور اہل بیت کی حدیثوں میں اس رنج و بکا خصوصاً مصائب حسین کے اظہار کی کیوں تاکید کی گئی ہے ۔

بکر بن محمد ازدی نے امام جعفرصادق سے روایت کی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فضیل سے فرمایا: تم لوگ بیٹھتے اور گفتگو کرتے ہو؟ عرض کی: میں آپ پر قربان، ہاں ہم ایسا ہی کرتے ہیں ۔ فرمایا: میں ان مجلسوں کو پسند کرتا ہوں لہٰذا تم ( ان مجلسوں میں ) ہمارے امر کو زندہ کرو، خدا رحم کرے اس شخص پر جس نے ہمارے امرکو زندہ کیا۔( ۲ )

یہ اظہارغم اور نعرہ زنی ہماری ایمانی کیفیت کا اعلان ہے ( یہ ہماری تہذیبی، سیاسی اور ثقافتی وابستگی کا اظہار ہے ) یہ اعلان و اظہار اور نعرہ زنی اہل بیت سے ہماری وابستگی کا اعلان ہے۔یہ وہ چیز ہے جس کی ہم نے مرور زمانہ میں حفاظت کی ہے جس کو ہم نے سیاسی و ثقافتی حملوں سے آج تک بچایا ہے ۔

____________________

(۱)امالی مفید: ص ۲۰۰ بحار الانوار: ج ۴۴ ص ۲۷۸

(۲)بحار الانوار: ج ۴۴ ص ۲۸۲


ہمراہی اور اتباع

شاید لفظ ہمراہی و معیت مکتب اہل بیت سے منسوب ہونے کے لئے بہترین لفظ ہے، خوشحالی و بدحالی ،تنگی و کشادگی،اور صلح و جنگ میں ہم انہیں کے ساتھ ہیں ،یہ لفظ زیارت جامعہ میں وارد ہوا ہے گویا ترانۂ ولاء کا ایک جملہ ہے ''معکم معکم لا مع عدوکم..'' میں آپ کے ساتھ ہوں آپ کے ساتھ، آپ کے دشمن کے ساتھ نہیں ہوں زیارت کا یہ ٹکڑا بعض روایاتوں میں وارد ہوا ہے : لا مع غیرکم -اوریہ جملہ لا مع عدوکم '' کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے ۔

ثقافتی اتباع

ولاء میں اتباع کا مفہوم زیادہ وسعت رکھتا ہے ۔

یہ مفہوم جنگ و صلح، محبت و عداوت، فکر و ثقافت اور معرفت و فقہ میں اتباع کو شامل ہے۔

ہم اس سلسلہ میں آزاد ہیں کہ مشرق و مغرب میں جہاں بھی ہمیں علم ملے اسے حاصل کریں لیکن یہ بات جائز ہے اور نہ صحیح ہے کہ ہم سر چشمہ وحی کو چھوڑ کر معرفت و ثقافت دو سرے مرکز سے حاصل کریں اور اہل بیت نے معرفت و ثقافت کو وحی کے چشمے سے حاصل کیا ہے، کیوں نہ ہو وہ نبوت کے اہل بیت اور رسالت کی منزل ہیں ، فرشتوں کی آمد و رفت کامرکز ہیں ،وحی کے اترنے کی جگہ ہیں اور علم کے خزینہ دار ہیں جیسا کہ زیارت جامعہ میں وارد ہوا ہے ۔

ثقافت اور علم کے درمیان فرق ہے علم براہ راست انسان کے چال چلن، عقیدہ ، طرز فکر، طریقہ ٔ عبادت، محبت، معاشرت، تحرک، اجتماعی و سیاسی سر گرمی و فعالیت وغیرہ پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے ،لیکن ثقافت انسان کے چال چلن اس کے افکار، طریقۂ معیشت و معاشرت اور عبادت، خدا، کائنات اور انسان سے متعلق نظریہ و تصور پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے ۔


اورعلوم بے پناہ ہیں ، جیسے ، دوا سازی و دوا فروشی ،تجارت، اقتصاد یات، محاسبہ، ریاضیات، انجینئری و معماری، الکٹرون ، ایٹم ، جراحت، طبابت ، میکانک، فزکس وغیرہ، لوگ آزاد ہیں کہ جہاں بھی انہیں علم ملے اسے حاصل کر لیں، یہاں تک کہ کافر سے بھی حاصل کر سکتے ہیں ، کیونکہ علم ایک قسم کا اسلحہ اور طاقت ہے اور مومنین کو چاہئے کہ وہ کافروں اور اپنے دشمنوں سے اسلحہ و طاقت لے لیں ۔

ثقافت جیسے اخلاق ، عرفان، فلسفہ، فقہ و عقیدہ، دعا، تربیت، تہذیب، طرزمعاشرت اجتماعی معیشت و کردار کے زاوئے اور ادب وغیرہ۔

ثقافت علم کی مانند نہیں ہے اور نہ ہمارے لئے یہ جائز ہے کہ ہم ثقافت (معرفت) وحی کے سرچشمہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ حاصل کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ثقافت انسان کے چال چلن اور کردار، اس کے طرز فکر، اس کی معیشت ، خدا اور لوگوں اوراپنے نفس اور دوسری چیزوں سے محبت و لگائو کی کیفیت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے ۔ ثقافت علم کو محدود رکھتی ہے خصوصاً جب علم صالح ثقافت سے متصل نہ ہو۔ ممکن ہے علم تخریب و فساد کا آلۂ کار بن جائے۔ جبکہ ہدایت کرنے اور راہ دکھانے والی ثقافت علم کو لگام لگاتی ہے اور اس سے انسان کی خدمت کے لئے مفید و نفع بخش کام لیتی ہے۔

قرآن مجید، انسان کی زندگی میں ،کتاب( ثقافت و معرفت) ہے ، جس کو خدا نے انسان کی فکر و کردار کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے ۔ یہ کتاب علم نہیں ہے، اگر چہ علماء نے قرآن مجید میں فلک ، نجوم ، نباتات ، حیوانات، طب اور فلسفہ سے متعلق بے پناہ علوم پائے ہیں ۔ اس کے باوجود قرآن کتابِ ثقافت و ہدایت ہی رہا ۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ہم قرآن کے ساتھ کتاب علم کا سا سلوک کریں گو یا وہ علم کی کتاب ہے جس کو خدا نے اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگ اس کے ذریعہ فزکس، کیمیا اور نباتات وغیرہ کا علم حاصل کریں۔ بلکہ وہ ثقافت و معرفت کی کتاب ہے ، جس کو خدا نے اس لئے نازل کیا ہے کہ وہ ہمیں طرز زندگی ، خدا، کائنات اور انسان کی معرفت کا طریقہ، تصور خدا اور تصور کائنات و انسان کی کیفیت بتائے کہ ہم خدا، لوگوں ،اپنے نفسوں اور دوسری اشیاء کے ساتھ کس طرح پیش آئیں اور اشیاء کی بلندیوں اور افکار و افراد کا کیسے اندازہ لگائیں۔


خداوند عالم فرماتاہے :

( شَهرُ رَمَضَانَ، الَّذِی أُنزِلَ فِیهِ القُرآنُ، هُدًی لِلنَّاسِ، وَ بَیِّنَاتٍ مِّنَ الهُدیٰ وَ الفُرقَانِ ) ( ۱ )

رمضان کا مہینہ ہی ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے ، جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کے ساتھ حق و باطل کے امتیاز کی نشانیاں بھی ہیں ۔

دوسری جگہ فرماتا ہے :

( وَاذْکرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیکُمْ ، وَمَا أنْزِلَ عَلَیکُمْ مِنَ الْکِتَابِ وَ الْحِکْمَةِ، یَعِظُکُمْ بِهِ ) ( ۲ )

اور تمہارے اوپر خدا نے جو نعمتیں نازل کی ہیں ان کو یاد کرو اور تمہارے اوپر کتاب و

____________________

(۱)البقرة : ۱۸۵

(۲)البقرة: ۲۳۱


حکمت نازل کی ہے جس کے ذریعہ وہ تمہیں نصیحت کرتاہے۔

نیز فرماتا ہے :

( هٰذا بَیَان لِلنَّاسِ وَ هُدیً وَّ مَوعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ ) ( ۱ )

یہ لوگوں کیلئے ایک بیان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے ۔

نیزفرماتا ہے :

( یَا أیُّهَا النَّاسُ قَد جَائَ کُم بُرهَان مِّن رَّبِّکُم، وَ أنزَلنَا لَیکُم نُورًا مُبِینًا ) ( ۲ )

اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے اورہم نے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا ہے ۔

نیز فرماتا ہے:

( وَ لَقَد جِئْنَاهُم بِکِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلیٰ عِلْمٍ، هُدیً وَّ رَحْمَةً لِقَومٍ یُؤمِنُونَ ) ( ۳ )

ہم تمہارے پاس ایسی کتاب لائے جس کی ہم نے علم کے لحاظ سے تفصیل کی ہے اور یہ ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے ۔

پھر فرماتا ہے :

( هٰذا بَصَائِر مِن رَّبِّکُمْ وَ هُدیً وَّ رَحْمَة لِقَومٍ یُؤمِنُونَ ) ( ۴ )

یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے دلائل اور ایمان لانے والوں کے لئے

____________________

(۱) آل عمران : ۱۳۸

(۲)سورة النسائ: ۱۷۴

(۳)سورہ الاعراف: ۵۲(۴)سورہ الاعراف: ۲۰۳


ہدایت و رحمت ہے۔تو قرآن کتاب ثقافت ہے اور لوگوں کی زندگی میں نور ہے، لوگوں کے لئے دلائل ، ہدایت اور نصیحت ہے اور ہمارے لئے یہ صحیح ہے کہ ہم کسی بھی سر چشمہ سے علم حاصل کر سکتے ہیں اور کسی بھی ذریعہ سے علم حاصل کر سکتے ہیں یہاں تک کہ اپنے دشمنوں سے بھی علم حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہمارے لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم معصوم کے سر چشمہ کے علاوہ کسی اور سے ثقافت لیں کہ وہ اس ثقافت کو ہماری طرف وحی کے سر چشمہ سے نقل کرتا ہے کیونکہ ثقافت میں ذرہ برابر بھی خطا مشقت کا باعث ہے جبکہ علم ایسا نہیں ہے ۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معصوم، سر چشمہ ہیں ان پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ اسے ہم تک پہنچاتے ہیں ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدوحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اہل بیت کے خلفاء کو ، جو کہ قرآن کے ہم پلہ ہیں ، ہمارے درمیان اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے ، اہل بیت نے ثقافت و معرفت کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی سے لیا ہے اور معرفت و ثقافت، خدا کے حدود و احکام، حلال و حرام، سنن آداب و اخلاق اور اصول و فروع کی میراث آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی سے پائی ہے اور ان چیزوں میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انہیں اپنے بعد نسلاً بعد نسل مسلمانوں کا مرجع اور قرآن کا ہم پلہ قرر دیا ہے یہاں تک کہ خدا وند عالم انہیں زمین اور روئے زمین کی تمام چیزوں کا وارث بنا ئیگا اور اس کا ثبوت حدیث ثقلین ہے جو فریقین کے نزدیک صحیح ہے۔ اس حدیث میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ میرے بعد تم قیامت تک قرآن اور اہل بیت سے رجوع کرنا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں سے تمسک کرنے کو گمراہی و ضلالت سے امان قرار دیا ہے ۔( ۱ )

____________________

(۱) مسلم نے اپنی صحیح میں فضائل صحابہ کے ذیل میں یہ حدیث نقل کی ہے اور ترمذی نے اپنی صحیح میں ج ۲ ص۳۰۸ احمد نے اپنی مسند میں متعدد مقامات پر اس حدیث کو نقل کیا ہے دارمی نے اپنی سنن کی ج۲ ص۴۳۱ پر کئی سندوں سے نقل کیا ہے حاکم نے مستدرک میں اسے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے اور شیخین کی شرط پر اسے صحیح قرار دیا ہے. ج۳ ص ۱۰۹ سنن بیہقی ج۲ ص ۱۴۸ ج۷ ص۳۰ صواعق محرقہ ص ۸۹ اس نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اصحاب اسد الغابہ ج۲ ص ۱۲ وغیرہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے اس حدیث کی سند بیان کر کے ہم اپنی بات کو طول نہیں دینا چاہتے کیونکہ امر اس سے کہیں زیادہ اہم ہے. اس سلسلہ میں صحیح مسلم و ترمذی ہی کافی ہیں


نص حدیث یہ ہے:

''نی تارک فیکم الثّقلین کتاب اللّٰہ و عترتی أہل بیتی، و أنّھما لن یفترقا، حتی یردا علیّ الحوض، ما ن تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی''۔

میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک کتاب خدا، دوسری میری عترت جو کہ میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جد انہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہوگے اس وقت تک میرے بعد ہر گز گمراہ نہ ہوگے۔

کتابوں میں اس حدیث کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ، جن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں اختلاف ہے اس حدیث کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بہت سے موقعوں پر بیان فرمایا ہے انہیں میں سے غدیر خم بھی ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں زید بن ارقم سے نقل ہے،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''مثل أهل بیت مثل سفینة نوح من رکبها نجا، و من تخلّف عنها غرق'' ۔

میرے اہل بیت کی مثال کشتیِ نوح کی سی ہے جو اس پر سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ ڈوب گیا۔( ۱ )

نیز فرمایا:''اهل بیت امان لأمتي من الإختلاف'' ۔

____________________

(۱) اس کو حاکم نے مستدرک ج۲ ص ۳۴۳ پر نقل کیا ہے اور مسلم کی شرط پر اسے صحیح قرار دیا ہے کنز العمال ج۶ ص ۲۱۶ مجمع الزوائد ہیثمی ج ۹ ص ۱۸ حلیة الاولیاء ابو نعیم ج۴ ص ۳۰۶ تاریخ بغداد خطیب : ج ۱۲ ص ۱۹ درمنثور سیوطی سورہ بقرہ کی درج ذیل آیت: و اذ قلنا ادخلوا ہذہ القریة فکلوا منہا حیث شئتم، کشف الحقائق مناودی ص ۱۳۲ صواعق محرقہ طبری فضائل الخمسہ فیروزآبادی ج۲ ص ۶۷ تا ۷۱


میرے اہل بیت میری امت کے لئے اختلاف سے امان میں رہنے کا باعث ہیں ۔( ۱ )

اس کے علاوہ اوربہت سی حدیثیں ہیں جن کی صریح اور واضح دلالت اس بات پر ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں کو یہ وصیت فرماتے تھے کہ میرے بعد تم میرے اہل بیت سے رجوع کرنا اور اپنے دین کے دستور و معارف انہیں سے لینا، اسی طرح خداکے بیان کردہ حدود، اس کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت اور حلال و حرام انہیں سے معلوم کرنا۔

فیروز آبادی نے اپنی گرانقدر کتاب''فضائل الخمسة من الصحاح الستة'' میں ان حدیثوں میں سے کچھ حدیثیں بیان کی ہیں ، بحث طویل ہو جانے کے خوف سے ہم ان سے چشم پوشی کرتے ہیں ۔

بیشک اہل بیت، مرکز رسالت، ملائکہ کی جائے آمد و رفت، وحی اترنے کی منزل ، علم کے خزینہ دار ،تاریکی میں چراغ، تقوے کی نشانیاں، ہدایت کے امام، انبیاء کے وارث اور دنیا والوں پر خدا کی حجت ہیں ۔ زیارت جامعہ میں وارد ہوا ہے : وہ معروف خدا کے مرکز، حکمتِ خداکے معادن، کتاب خدا کے حامل ، اس کی حجت، اس کی صراط اور اس کا نور و برہان ہیں جیساکہ زیارت جامعہ میں وار دہواہے ۔

اس صورت میں جو بھی ان سے جدا ہوگا وہ لا محالہ بھٹک جائیگا،خواہ وہ ان سے آگے بڑھ جائے یا ان سے پیچھے رہ جائے کیونکہ خدا کی صراط ایک ہے متعدد نہیں ہے، پھر جو ان کے راستہ پر چلے گا وہ خدا کی طرف ہدایت پائے گا اور جو را ہ میں ان سے اختلاف کرے گا وہ اس

____________________

(۱)مستدرک صحیحین ج ۳ ص ۱۴۹ اور انھوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے صواعق محرقہ: ص ۱۱۱۱ مجمع الزوائد ہیثمی: ج ۹ ص ۱۷۴ فیض القدیر مناوی ج۶ ص ۲۹۷ کنز العمال متقی: ج۷ ص ۲۱۷ فیروز آبادی فضائل الخمسة من الصحاح الستہ ج۲ ص ۷۱ تا ۷۳ اس کو بہت سے طریقوں سے نقل کیا ہے.


منزل تک نہیں پہونچ پائیگا جس کو خدا چاہتا ہے، اس بات کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کئی موقعوں پر اعلان فرمایا ہے ان میں سے ہم نے ایک حدیث ثقلین میں بیان کیا ہے۔ جب تک تم ان دونوں سے متمسک و وابستہ رہوگے اس وقت تک گمراہ نہ ہوگے۔

یہ کوئی اجتہادی مسئلہ نہیں ہے کہ جس میں بعض لوگ ہدایت پا جاتے ہیں اور بعض لوگ بھٹک جاتے ہیں ،ہدایت یافتہ کو دوہرا ثواب دیتا ہے اورخطا کرنے والے کو ایک ہی دیتا ہے جیسا کہ لوگ کہتے ہیں ۔

نص کے ہوتے ہوئے اجتہاد کرنا صحیح نہیں ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سلسلہ میں نص فرمائی ہے کہ میرے بعد جس چیز میں تمہارے درمیان اختلاف ہو اس میں تم میرے اہل بیت سے رجوع کرنا۔ زیارت جامعہ میں آیا ہے ۔

''فالراغب عنکم مارق و اللازم لکم لاحق ، و المقصّر ف حقّکم زاهق، و الحقّ معکم و فیکم و منکم والیکم و أنتم معدنه و فصل الخطاب عندکم، و آیات اللّٰه لدیکم، و نوره و برهانه عندکم'' ۔

آپ سے رو گردانی کرنے والا دین سے خارج ہے اور آپ کا اتباع کرنے والا آپ سے ملحق ہے اور آپ کے حق میں کو تاہی کرنے والا مٹ جانے والا ہے، حق آپ کے ساتھ، آپ کے درمیان ، آپ سے اور آپ کے لئے ہے ، اورآپ حق کے معدن ہیں ، فصل خطاب آپ کے پاس ہے ، ..خدائی آیتیں آپ کے پاس ہیں ، اور اس کا نور و برہان آپ کے پاس ہے ۔

پس جو شخص خدا کی رضا، اس کا طریقہ ، اس کی ہدایت اور اس کا راستہ چاہتا ہے وہ لامحالہ انہیں سے لے گا اور انہیں کے راستہ پر چلے گا، کیونکہ اہل بیت خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نہیں بلاتے ہیں اور نہ غیر کی طرف راہنمائی کرتے ہیں اسی زیارت میں وارد ہوا ہے :

''الیٰ اللّٰه تدعون، و علیه تدلون و به تؤمنون، و له تسلمون، و بأمره تعملون، والیٰ سبیله ترشدون، و بقوله تحکمون، سعد من والاکم، و هلک من عاداکم، و خاب من جحدکم، و ضلّ من فارقکم، و فاز من تمسک بکم، و امن من لجأ الیکم، و سلم من صدقکم، و هدی من اعتصم بکم'' ۔


آپ خد اکی طرف دعوت دیتے ہیں ، اسی کی طرف راہنما ئی کرتے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سامنے سراپا تسلیم ہیں اور اس کے امر کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے راستہ کی طرف ہدایت کرتے ہیں اور اس کے قول کے موافق حکم دیتے ہیں ، جس نے آپ سے محبت کی اس کی قسمت سنور گئی اور جس نے آپ سے دشمنی کی وہ ہلاک ہو گیا، جس نے آپ کا انکار کیا وہ گھاٹے میں رہا اور جس نے آپ کو چھوڑ دیا وہ گمراہ ہو گیا اور جس نے آپ سے تمسک کیاوہ کامیاب ہو گیا اور جس نے آپ کے پاس پناہ لے لی وہ محفوظ رہا، جس نے آپ کی تصدیق کی و ہ صحیح وسالم رہا اور جس نے آپ کا دامن تھام لیا وہ ہدایت پاگیا۔


طاعت و تسلیم

طاعت و تسلیم ولاء کا جوہر ہے ۔اگر بر محل طاعت ہوتی ہے تو اس کی بڑی قیمت ہے اور اگر اپنی جگہ نہ ہو تو اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، عصیان و سرکشی اورانکارکی بھی قیمت ہوتی ہے جب کہ ان کا تعلق شیطان سے ہے ،لیکن اگر ان کا تعلق خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اہل بیت اور مسلمانوں کے صاحبانِ امر سے ہو تو یہ قیمت کی ضد قرار پائیں گے۔چنانچہ سورۂ زمر کی آیت ۱۷ میں ان دونوں قیمتوں کو جمع کر دیا گیاہے ۔ ارشاد ہے :

( وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُواْ الطَّاغُوتَ أن یَعبُدُوهَا ، وَ أنَابُوا لیٰ اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشریٰ )

اور جو لوگ طاغوت کی پرستش کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور خدا سے لولگاتے ہیں ان کے لئے بشار ت ہے، اور سورۂ نحل میں ارشاد ہے:

( أنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الْطَّاغُوتَ ) ( ۱ )

تم خدا کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔

طاعت و عبادت، انکار و اجتناب ایک چیز ہے اور خدا نے ہمیں اپنی ، اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اولی الامر کی طاعت کا حکم دیا ہے :

( أطِیعُوا اللّٰهَ وَأطِیعُوا الرَّسُولَ وَ أولِی الأمرِ مِنکُم )

دوسری طرف ہمیں شیطان وطاغوت کی نافرمانی کرنے اور اس کے انکار کرنے کا حکم دیا ہے ۔

( یُرِیدُونَ أن یَّتَحَاکَمُوا لیٰ الطَّاغُوتِ وَقَد أمِرُوا أن یَکفُرُوا بِهِ ) ( ۲ )

وہ لوگ طاغوت کو اپنا حاکم بنانا چاہتے ہیں جبکہ انہیں اس کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ائمہ اہل بیت ہی اولی الامر ہیں لہذا ان کی طاعت واجب ہے اور جو وہ حکم دیں اس کو بجالانا فرض ہے :

''فهم ساسة العباد و أرکان البلاد و هم حجّج اللّٰه علیٰ هل الدنیا''

وہ بندوں کے سر براہ اور شہروں کے ارکان اور وہ دنیا والوں پر خدا کی حجتیں ہیں ۔

____________________

(۱)النحل: ۳۶

(۲)النسائ: ۶۰


توحید میں طاعت

ہم ہر طریقہ سے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ طاعت صرف خدا سے مخصوص ہے اور اس کے اذن و حکم کے بغیر کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہل بیت کی طاعت در حقیقت خد اہی کی طاعت ہے ۔

''من أطاعکم فقد أطاع اللّٰه و من عصاکم فقد عصی اللّٰه''

جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے خد اکی اطاعت کی اور جس نے آپ کی نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔

تسلیم

طاعت کے مصداق میں سے ایک تسلیم ہے، یعنی مکمل طور پر خود کو سپرد کر دینا، کسی بات کا انکار نہ کرنااور کسی بات پر اعتراض نہ کرنا۔ اورتسلیم کا بلند ترین مرتبہ دلوں کا جھکنا ہے ۔

''مسلم فیه معکم و قلبی لکم مسلم و رائ لکم تبع'' سر تسلیم کرنے والا ہوں میرا دل آپ کے لئے جھکا ہوا ہے اور میری رائے آپ کی تابع ہے ۔

''سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم''

میں اس سے صلح کرو ںگا جس سے آپ کی صلح ہے اور اس سے جنگ کروں گا جس سے آپ کی جنگ ہوگی۔ صلح و جنگ تولا و تبرا کے دورخ ہیں ، صرف تولا کرنا صاحبان امر کے سامنے تسلیم ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے دو پہلو ہیں اور وہ یہ ہیں : میں اس سے صلح کروں گا جس سے آپ کی صلح ہوگی اوراس کا تعلق صرف آپ ہی سے نہیں ہے اور اس سے جنگ کروں گا جس سے آپ کی جنگ ہوگی۔

یہ جملہ تولا اور تبرا کا بہت ہی نازک و دقیق مفہوم ہے۔


''سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم''

ولاء و برائت کا قیق جملہ صلح اور جنگ کے بارے میں معاشرہ کے سامنے ایک نیا سیاسی نقشہ پیش کرتا ہے ، حرب یعنی جدائی اور بیزاری، اس کو جنگ نہیں کہہ سکتے کیونکہ افتراق وبیزاری اور قتال میں فرق ہے۔

کیونکہ ہمارا اجتماعی لگائو سیاسی و مادی مصلحتوں کی بنا پر وجود میں نہیں آ سکتا وہ تو بس تولا و تبرا ہ سے منظم ہو سکتا ہے ، کبھی ہم اپنے خاندان اور ہمسایوں سے قطع تعلقی کر لیتے ہیں اور ان لوگوں سے اتصال و روابط رکھتے ہیں جو کہ زمان و مکان کے اعتبار سے بہت دور ہیں ۔

زیارت عاشورہ میں آیا ہے :

''إنّی سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم و والّ لمن والاکم و عدولمن عاداکم''

میں اس سے صلح کروں گا جس سے آپ صلح کریں گے اور اس سے جنگ کروں گا جس سے آپ کی جنگ ہوگی میں اس سے دوستی کروں گا جو آپ کا دوست ہوگا اور اس سے دشمنی کروں گا جو آپ کا دشمن ہوگا۔

عمار کی سند سے علی کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول نقل ہوا ہے :

''إنه منی و أنا منهحربه حربی وسلمه سلمی و سلمی سلم اللّه''

وہ مجھ سے ہے اورمیں اس سے ہوں اس کی جنگ میری جنگ ہے ، اس کی صلح میری صلح ہے اور میری صلح خدا کی صلح ہے ۔


ترمذی نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے روایت کی ہے: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن و حسین سے فرمایا:

''أنا حرب لمن حاربتم و سلم لمن سالمتمُ'' ۔( ۱ )

میں اس سے جنگ کروں گا جس سے تمہاری جنگ ہوگی اور اس سے صلح کروں گا جس سے تمہاری صلح ہوگی۔

ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''أنا سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربتم '' ۔( ۲ )

میں اس سے صلح کروں گا جس سے تمہاری صلح ہوگی اور میں اس سے جنگ کروں گا جس سے تمہاری جنگ ہوگی۔

اسی کو حاکم نے مستدرک الصحیحین میں اورابن اثیر جزری نے اسد الغابہ میں نقل کیا ہے ۔( ۳ )

متقی نے کنز العمال میں( ۴ ) نقل کیا ہے ۔

سیوطی نے در منثور میں آیۂ تطہیر-سورۂ احزاب-کی تفسیر میں اور ہیثمی نے مجمع

الزوائد میں اس کو نقل کیا ہے ۔(۵)

یہ جنگ و صلح، یا قطع تعلقی اور رسم و راہ باقی رکھنے میں اتحاد کے معنی ہیں کیونکہ اہل بیت کی جنگ در حقیقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگ ہے اور ان کی صلح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صلح ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگ و صلح خدا کی جنگ اور صلح ہے اسی طرح تولا اور تبرا کے تمام مفردات توحید کے تحت آتے ہیں ۔

____________________

(۱)صحیح ترمذی: کتاب المناقب باب ۱۶ فضل فاطمہ بنت محمد: ج۲ ص ۳۱۹ طبع ۱۲۹۲

(۲)سنن ابن ماجہ مقدمہ باب ۱۱ ص ۱۴۵

(۳)مستدرک حاکم نیشاپوری: ج ۱۳ ص ۱۴۹ کتاب معرفة الصحابہ مبغض اہل البیت یدخل النار و لوصام و صلی. اہل بیت سے دشمنی رکھنے والا جہنم میں جائے گا خواہ اس نے روزہ رکھا ہو اور نماز پڑھی ہو.

(۴)کنز العمال: ج۶ ص ۲۱۶

(۵)مجمع الزوائد : ج۹ ص ۱۶۹ مذکورہ حوالے فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ فیروزآبادی: ج۱ ص ۳۹۶ تا ۳۹۹ سے نقل کئے گئے ہیں


مدد اور انتقام

ولاء بہت سخت مسئلہ ہے ،صلح میں ، ناچاقی میں ، کشائش و تنگی میں ساتھ رہنا بہت دشوار ہے اگر صرف کشائش میں ہوتا تو ولاء کا مسئلہ آسان ہو جاتا اور پھر اس سخت ولاء کا اقتضا مدد کرنا اور انتقام لینا بھی ہے اور اگر مدد نہ کی جائے تو ولا ء ہی ختم ہو جائے گی خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

( وَالَّذِینَ آوَوْا وَ نَصَرُوا أولٰئِکَ بَعضُهُم أولِیَائُ بَعضٍ ) ( ۲ )

اور جن لوگوں نے پناہ دی اور نصرت کی وہ ایک دوسرے کے سرپرست و ولی ہیں ۔

اسی طرح ولاء ایک حق ہے جو خون خواہی اور انتقام سے جدا نہیں ہو سکتا۔ بیشک جو ولاء اپنے حامل کو جنگ و قتل ،قطع تعلقی ،روابط اور نفع وضرر پر نہ ابھارے در حقیقت وہ ولاء نہیں ہے بلکہ وہ ولاء کی صورت ہے ۔

زیارت عاشورہ میں ہم یہ تمنا کرتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں پاک خونوں کا انتقام لینے والوں میں قرار دے جو کہ ظلم و ستم سے کربلا میں بہائے گئے۔

____________________

(۲) انفال: ۷۲۔


''فأسأل اللّٰہ الذی اکرم مقامک و اکرمن بک ان یرزقن طلب ثارک مع امام منصور من اہل بیت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''۔

پس میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ جس نے آپ کے مرتبہ کوبلند کیا اور آپ کے ذریعہ مجھے عزت بخشی کہ وہ مجھے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت میں امام منصور کے ساتھ آپ کے خون کا بدلہ لینے والا قرار دے۔

زیارت عاشورہ ہی میں ہے :

''واسأله أن یبلِّغنی المقام المحمود لکم عند الله، و أن یرزقن طلب ثارکم مع مام هدی ظاهر ناطق بالحقّ منکم''

میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس مقام محمود تک پہنچا دے جو خدا کے نزدیک آپ کا مقام و مرتبہ ہے اور مجھے آپ میں سے ہادی ، ظاہر اور حق کے ساتھ بولنے والے امام کے ساتھ انتقام لینے والا قرار دے۔

اور زیارت جامعہ میں مکمل طور پر مدد کرنے کی طاقت کا اعلان کرتے ہیں ، و نصرتی لکم معدَّة، اور میری مدد آپ کے لئے تیار و حاضر ہے ۔


محبت و مودت

یہ ولاء اہل بیت کی بنیاد ہے۔

اس سلسلہ میں قرآن مجید میں آیت نازل ہوئی ہے جو ہر زمانہ میں لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہے ۔

( قُل لاَ أسئَلُکُم عَلَیهِ أجرًا لاَّ الْمُوَدَّةَ فِی الْقُربیٰ ) ( ۱ )

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان سے کہدیجئے کہ میں تم سے تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم میرے قرابتداروں سے محبت کرو۔

قرابتداروں سے مراد، بلا اختلاف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ہی ہیں ۔

اس واجب محبت کی طرف زیارت جامعہ میں وارد نص بھی اشارہ کر رہی ہے :

''ولکم المودة الواجبة و الدرجات الرفیعة''

آپ کے لئے واجب محبت اور آپ کے لئے بلند درجات ہیں ۔

طاعت اور محبت ہی ولاء کی روح یا اور اس کا جوہر ہیں ، امام جعفر صادق سے دریافت کیا گیا :کیا محبت دین کا جزء ہے ؟امام نے فرمایا:کیا دین محبت کے علاوہ کچھ اور ہے ، اگر انسان پتھر سے بھی محبت کرے گا تو خدا اس کو اسی کے ساتھ محشور کرے گا۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ محبت کا تعلق مقولۂ توحید سے ہے۔

پس جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھی محبت کرتا ہے اور ان کے اہل بیت سے بھی محبت کرتا ہے اور جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے اہل بیت سے محبت کرتا ہے وہ خدا سے بھی محبت کرتا ہے ۔

پہلے جملہ کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے:

____________________

(۱) سورہ شوریٰ آیت ۲۳ دلائل الصدق ج۲ ص ۱۲۰ تا ۱۲۶ طبع قاہرہ میں ہے کہ یہ آیت اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے، نیز الغدیر ج ۲ ص ۳۰۶ تا ۳۱۰ اور ج ۳ ص تہران.


''أحبونی بحب اللّٰه و احبوا أهل بیتی بحبی''

خدا کی محبت کے سبب مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کے سبب میرے اہل بیت سے محبت کرو۔

دوسرے جملہ کے بارے میں زیارت جامعہ میں وارد ہوا ہے :

''من أحبکم فقد أحب اللّٰه و من أبغضکم فقد أبغض اللّٰه '' ( ۱ )

جس نے آپ سے محبت کی در حقیقت اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپ سے عداوت رکھی اس نے خدا سے عداوت کی ۔

اسی طرح جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ مومنوں سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں اور جو مومنین سے محبت کرتا ہے وہ لا محالہ خدا سے محبت کرتا ہے ۔

خدا کی محبت اس بات کا باعث ہوتی ہے کہ نفسِ انسان میں محبت کے درجات کو بلند و قوی کردے، ضروری ہے کہ انسان کی حیات میں یہی محبت حاکم رہے تاکہ انسان خداکے علاوہ اور راہ خدا کے علاوہ کسی سے محبت نہ کرے۔

پہلے نکتہ کے بارے میں خدا فرماتا ہے:

( قُل إن کَانَ آبَاؤُکُم وَ أبناؤکُم أحَبَّ إلَیکُم مِنَ اللّٰهِ وَ رَسُولِهِ وَ جِهَادٍ فِ سَبِیلِهِ، فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَأتِیَ اللّٰهُ بِأمْرِهِ، وَاللّٰهُ لا یَهدِ الْقَومَ الفَاسِقِینَ ) ( ۲ )

اے رسول کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے تمہیں خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

(۱) یہ فقرہ زیارت جامعہ میں دوبار واردہوا ہے.

(۲)توبہ: ۲۴۔


سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب و عزیزہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ خدا کا حکم آجائے اور خدا بدکاروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

( وَ الَّذِینَ آمَنُوا أشَدُّ حُباً لِلّٰهِ ) )( ۱ )

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ خدا سے محبت میں شدید ہیں ۔

اور دعا میں وارد ہوا ہے :

''اللهم اجعل حبک أحب الأ شیاء ل، و اجعل خشیتک أخوف الأشیاء عند، و اقطع عنحاجات الدنیا بالشوق الی لقائک''

اے اللہ! اپنی محبت کو میرے نزدیک تمام اشیاء کی محبت سے زیادہ کر دے اور اپنی خشیت کو میرے نزدیک ہر چیز سے زیادہ خوفناک قرار دے اور اپنی ملاقات کے شوق کے ذریعہ دنیا کی حاجتوں کو مجھ سے بر طرف کر دے۔

دوسرے نکتہ کے بارے میں تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہل بیت سے وارد ہونے والی بہت سی حدیثوں میں نص وارد ہوئی ہے ۔ ان ہی میں سے وہ حدیث بھی ہے جس کو امام محمد باقر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیاہے :

''ألا و احب فی اللّٰه و ابغض فی اللّٰه و أعطیٰ فی اللّٰه ، و منع ف الله، فهو من أصفیاء اللّٰه المؤمنین عند الله، ألا و أن المؤمنین ذا تحابا فی اللّٰه عز و

____________________

(۱)بقرہ: ۱۶۵


جل، و تصافیا فی اللّٰه کانا کالجسد ذا اشتکی أحدهما من جسده موضعا، وجد الآخر أ لم ذلک الموضع''

دیکھو! جس نے خدا کے لئے محبت کی اور جس نے خدا کے لئے دشمنی کی اور خدا کے لئے دیا اور خدا کے لئے منع کیا تووہ خدا کے برگزیدہ و منتخب بندوں میں سے ہے جو خدا کے نزدیک مومن ہیں اور دیکھو جب دو مومن خدا کے لئے محبت کرتے ہیں اور خدا کے لئے ایک دوسرے سے خلوص رکھتے ہیں تو وہ دونوں ایک بدن کی مانند ہو جاتے ہیں اگر دونوں میں سے کسی کے بدن میں کہیں تکلیف اور درد ہوتا ہے تودوسرا اپنے بدن میں اسی جگہ درد محسوس کرتا ہے ۔

محبت کی دو قسمیں ہیں ، ایک سادہ اور ہلکی پھلکی محبت اوردوسری سوچ و سمجھ کر محبت کرنا یہ خدا کی محبت کے تحت ہوتی ہے ، پہلی محبت کا تاریخ میں کوئی وقار نہیں اور نہ ہی انسان کی زندگی اور اس کی سر نوشت میں اس کاکوئی اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک قسم کی خواہش ہوتی ہے جو انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے ،ہاں وہ محبت جو خدا کی محبت کے تحت ہوتی ہے یہ وہی محبت ہے جس کو مودت اہل بیت کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں ان کی محبت دوسری ہی چیز ہے وہ سادہ محبت نہیں ہے ، یہ ایسی محبت نہیں ہے جس کا انسان اپنی زندگی میں تجربہ کرتا ہے یہ وہ محبت ہے جوخدا کی محبت کے تحت ہوتی ہے، اس محبت کی علا متیں اور خصلتیں مشہور اور نمایاں ہیں ۔

اس محبت کی پہلی خصلت یہ ہے کہ یہ تبریٰ سے جدا نہیں ہوتی ہے ہر محبت کے ساتھ کچھ عداوت و بغض بھی ہوتا ہے اور ہر خوشی کے ساتھ ناراضگی و غضب بھی ہوتا ہے اور ہر تولا کے ساتھ تبریٰ ہوتا ہے اور جو محبت عداوت و بغض کے ساتھ جمع ہوتی ہے وہ سادہ اور ہلکی پھلکی محبت ہے ۔


ایک شخص امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں آپ سے بھی محبت کرتا ہوں اور آپ کے مخالف و مد مقابل سے بھی محبت کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: اس صورت میں تم کانے ہو ( تمہیں آدھا نظر آتا ہے) یا تم اندھے ہو یا دیکھتے ہو۔ زیارت میں وارد ہوا ہے''موال لکم ولأولیائکم و مبغض لأعدائکم و معاد لهم'' میں آپ کا دوست ہوں اور آپ کے دوستوں کا دوست ہوں آپ کے دشمنوں سے نفرت کرتا ہوں اور ان کا دشمن ہوں ۔

اس محبت کی دوسری خصلت: یہ محبت لوگوں کی محبت کے تحت ہوتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے پہلی محبت خدا کی محبت کے تحت ہوتی ہے کیونکہ راہ خد امیں محبت کرنے کادائرہ وسیع ہوتا ہے اس میں خود اہل بیت سے بھی محبت ہوتی ہے اور ان کے دوستوں سے بھی محبت ہوتی ہے۔''موال لکم ولأولیائکم'' یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان کسی سے خدا کے لئے محبت کرے اور اس سے محبت نہ کرے کہ جس سے محبوب خدا کے لئے محبت کرتا ہے۔

اس محبت کی تیسری خصلت : یہ جنگ و صلح کے موقعہ پر عملی صورت اختیار کر لیتی ہے ،''سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم''

چوتھی خصلت: محبت خدا کے لئے ہوتی ہے اور عداوت بھی خدا کے لئے ہوتی ہے ،یہ دونوں اجتماعی لگائو کا کامل نقشہ کھینچتے ہیں ۔


اثبات و ابطال

اہل بیت سے محبت کرنے میں یہ واجب ہے کہ ہم ان کی ثقافت اور ان کے معارف سے دفاع کریں، جس کا انہوں نے اثبات کیا ہے اس کا ہمیں اثبات کرنا چاہئے اور جس کا انہوں نے ابطال کیا ہے ہمیں ا س کا ابطال کرنا چاہئے کیونکہ تاریخِ اہل بیت میں ثقافتی اور علمی روایتوں پر دشمنوں نے ہر چیز سے زیادہ حملے کئے ہیں چنانچہ فقہائے اہل بیت اور ان کے مکتب کے علماء نے ان کے معارف و ثقافت، ان کی فقر اور ان کی اسلام شناسی سے دفاع کیا ہے ۔

اس دائرہ میں اثبات و ابطال بھی ہے جو کہ جہاد و جنگ اور صلح و قطع تعلقی کے میدان میں ہوتا ہے ، زیارت جامعہ میں آیا ہے :

''سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم ، محقق لما حققتهم، مبطل ما أبطلتم'' ۔

جس سے آپ کی صلح ہوگی میں اس سے صلح کروں گا اور جس سے آپ کی قطع تعلقی ہوگی میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جو آپ نے ثابت کیا ہے میں اسی کو ثابت کروں گا اور جس کو آپ نے باطل قرار دیا ہے میں اس کو باطل قرار دونگا۔

میراث و انتظار

کوئی زمانہ ایسا نہیں تھا جس میں ولاء نہ رہی ہو اور یہ مستقبل میں بھی رہے گی، تاریخ کے آغاز سے، حضرت آدم اور حضرت نوح سے لے کر،تاریخ کی انتہاء تک ولاء رہے گی یہاں تک کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ظہور فرمائیںگے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے اور زمین کو ظالموں کے تسلط سے آزاد کرا لیں گے تاکہ خدا کا وہ وعدہ پورا ہو جائے جو اس نے تو ریت و زبور میں کیا ہے۔

( وَلَقَد کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِأنَّ الأرضَ یَرِثُهَا عِبَادَِ الصَّالِحُونَ ) ( ۱ )

____________________

(۱)انبیاء: ۱۰۵


ہم نے توریت کے بعد زبور میں یہ لکھ دیا ہے کہ زمین خدا کی ہے ہم اس کو اپنے نیک بندوں کو عطا کریں گے۔

یہ توریت و زبور میں خدا کا وعدہ ہے اور تاریخ میں ہے کہ اہل بیت نے انبیاء اور صالحین سے میراث پائی ہے ، ان سے نماز و ذکر، زکواة ، حج اور خدا کی طرف بلانے کی میراث پائی ہے ۔

زیارت امام حسین ( زیارت وارث) میں اس علمی و ثقافتی اور جہادی میراث کو امام حسین سے مخصوص کیا گیا ہے جو کہ آپ کو انبیاء سے ملی ہے،یہ زیارت تہذیبی اور علمی مفاہیم کی حامل ہے ۔

''السلام علیک یا وارث آدم صفوة اللّٰه ، السلام علیک یا وارث نوح نب اللّه، السلام علیک یا وارث براهیم خلیل اللّه، السلام علیک یا وارث موسیٰ کلیم اللّٰه، السلام علیک یا وارث عیسیٰ روح اللّٰه ''

اے آدم کے وارث آپ پر سلام، اے نبیِ خد انوح کے وارث آپ پر سلام، اے خلیلِ خدا ابراہیم کے وارث آپ پر سلام ، اے کلیمِ خدا موسیٰ کے وارث آپ پر سلام اے روحِ خدا عیسیٰ کے وارث آپ پر سلام

یہ میراث طول تاریخ میں آدم و نوح سے لے کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور علی مرتضیٰ تک جاری رہی۔

امام حسین نے کربلا میں روز عاشورہ اس علمی ،ثقافتی، تہذیبی اور جہادی میراث کو مجسم کر دیا ،ولایت کی تاریخ بہت عمیق ہے ، تاریخ میں اس کی جڑیں گہری ہیں ، اہل بیت نے انبیاء سے نیک و طویل راستہ میراث میں پایا ہے اور ہم نے ان سے ان کی میراث پائی ہے ۔

ہم نے ان سے نماز، روزہ، حج، زکوٰة ، نیکیوں کی ہدایت کرنا، برائیوں سے روکنا، جہاد، خدا کی طرف بلانا، اور ان سے ذکر و اخلاص اور توحید کے تمام اقدارکی میراث پائی ہے ،چنانچہ ہم خدا کے اس قول( فَخَلَّفَ مِن بَعدِهِم خَلف أضَاعُوا ْالصَّلاةَ ) پس ان کے بعد وہ لوگ جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا، ہم نماز کی حفاظت کرتے ہیں اور اسے قائم کرتے ہیں ، لوگوں کو اس کی طرف بلاتے ہیں ، بالکل اس طرح جیسا کہ پہلے ہمارے بزرگوں نے حفاظت کی ہے ، انشاء اللہ ہم ان لوگوں میں قرار پائیں جو خدا کے اس قول پر عمل کرتے ہیں :( وَأمُر أهلَکَ بِالصَّلاةِ وَ اصْطَبِر عَلَیْهَا ) اپنے خاندان والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی ادا کرتے رہو۔ چنانچہ ہم اپنے معاشرہ اور اپنے خاندان میں خدا کی اس عظیم میراث کی حفاظت کرتے ہیں کہ جس کو ہم نے اپنے بزرگوں سے نسلا ً بعد نسل میراث میں پایا ہے۔


یہ ہے طول تاریخ میں ولاء کا سلسلہ اور زمانۂ آئندہ میں ولایت کا سلسلہ ہے، جس کے لئے ہم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے امام مہدی کے ظہور کے منتظر ہیں اور ان کے ظہور کے ساتھ کشائش و کامیابی کے منتظر ہیں اور اس عالمی انقلاب کے منتظر ہیں جس کی خدا نے ہمیں اپنی کتاب میں اور اس سے پہلے توریت و زبور میں خبر دی ہے ۔

( وَلَقَد کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِ أنَّ الأرضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ )

ہم نے توریت کے بعد زبور میں یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کی میراث صالح بندے پائیں گے۔

انتظار کے معنی منفی و سلبی نہیں ہیں جیسا کہ لوگ چاند و سورج گہن لگنے کا انتظار کرتے ہیں بلکہ انتظار کے معنی مثبت ہیں جیسا کہ انتظار سے متعلق حدیثوں سے سمجھ میں آتا ہے ، اور وہ سیاسی، ثقافتی اور عملی تیاری تاکہ ظہور مہدی اور روئے زمین پر آنے والے عظیم انقلاب کے لئے راہ ہموار کریں۔

انتظار کے معنی اس مثبت مفہوم کے لحاظ سے ، نیک باتوں کا حکم دینا، بری باتوں سے روکنا، خدا کی طرف بلانا، ظالموں سے جہاد کرنا، کلمة اللہ کو بلند کرنا اور روئے زمین پر خدائی تہذیب و ثقافت کو نشر کرنا، نماز قائم کرنا اور بہت سی چیز یں ہیں جو کائنات میں آنے والے انقلاب کی راہ ہموار کرتی ہیں ۔

یہ ہے ولاء کا مستقبل اسی کی طرف زیارت جامعہ میں اشارہ کیا گیا ہے ، منتظر''لأمرکم مرتقب لدولتکم حتی یحیی اللّٰه تعالیٰ دینه بکم، و یردّکم فی أیامه، و یظهرکم لعدله، و یمکنکم فی أرضه'' ۔

آپ کے امر کا منتظر ہوں ، آپ کی حکومت کی طرف آنکھ لگائے ہوئے ہوں یہاں تک کہ خدا آپ کے ذریعہ اپنے دین کو زندہ کر دے اور آپ کو اپنے زمانہ میں واپس لائے اور اپنے عدل کے لئے آپ کو غالب کر دے اور اپنی زمین پر آپ کو قدرت عطا کر دے۔

آخری لفظ سورہ قصص کی ابتدائی آیتوں کی طرف اشارہ ہے:

( وَ نُرِیدُ أن نَمُنَّ عَلیٰ الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الأرضِ وَ نَجعَلَهُم أئِمَّةً، وَ نَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ، وَ نُمَکِّنَ لَهُم فِی الأرضِ )

ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جن کو زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے اور انہیں امام بنا ئیں اور انہیں وارث قرار دیں اور زمین پر انہیں قدرت عطا کر دیں۔


اور یہ انتظار، عمل، جد و جہد، صبر و مقاومت، تعمیر، دین ِ خدا کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوشش، روئے زمین پر حکومت خدا کے قائم کرنے کے لئے لوگوں کو حاضر کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے نیز:

لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیں، نیک باتوں کا حکم دیں،بری باتوں سے روکیں ، باطل سے جنگ کریں اور کفر کے سر غنائوں سے جہاد کریں۔

اب ہم آپ کے سامنے دعائے ندبہ کے کچھ جملے پیش کرتے ہیں ،جس کو پڑھ کر مومنین اپنے امام کے فراق اور ان کی کشائش کے انتظار میں آہ و زاری کرتے ہیں ۔

''أین بقیة اللّٰه التی لا تخلو من العترة الهادیة؟

کہاں ہے وہ بقیة اللہ جس سے ہدایت کرنے والی عترت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دنیاخالی نہیں ہو سکتی ۔

أین المعدّ لقطع دابر الظلمة؟

کہاں ہے وہ جس کو ظلم کی جڑکاٹنے کے لئے مہیا کیا گیا ہے ۔

أین المنتظر لاقامة الامت و العوج؟ این المرتجیٰ لازالة الجور و العدوان؟

کہاں ہے وہ جس کا انتظار کجی نکالنے اور انحراف کو درست کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے ۔ کہاں ہے وہ جس سے ظلم و جور کو دفع کرنے کی امیدیں کی جارہی ہیں ۔

أین المدخر لتجدید الفرائض و السنن؟

کہاں ہے وہ جس کو فرائض و سنن کی تجدید کے لئے ذخیرہ کیا گیا ہے۔

أین المتخذ( ۱ ) لعادة الملّة و الشریعة؟

کہاں ہے وہ جس کو مذہب و شریعت کو لوٹانے کے لئے منتخب کیا گیا ہے ۔

____________________

(۱) اکثر نسخوں میں (أین المتخیّر) آیا ہے.


أین المؤمّل لأحیاء الکتاب و حدوده؟

کہاں ہے وہ کہ جس سے کتاب خدا اور اس کے حدود کو زندہ کر نے کی امید ہے۔

أین محی معالم الدین و أهله؟

کہاں ہے دین اور دینداروں کو زندگی دینے والا۔

أین قاصم شوکة المعتدین؟

کہاں ہے ستمگاروں کی کمر توڑنے والا۔

أین هادم أبنیة الشرک و النفاق؟

کہاں ہے شرک و نفاق کی بنیادیں اکھاڑنے والا۔

أین مبید أهل الفسوق و العصیان و الطغیان؟

کہاں ہے فاسق و عاصی اور سر کشوں کو ہلاک کرنے والا۔

أین قاطع حبائل الکذب و الفترائ؟

کہاں ہے جھوٹ و افتراء کی رسیوں کو کاٹنے والا ۔

أین مبید العتاة و المردة، و مستأصل أهل الفساد والتّضلیل و اللحاد؟

کہاں ہے اختلاف کی شاخیں تراشنے والا، کہاں ہے انحراف و خواہشات کے آثار کو مٹانے والا، ، کہاں ہے سر کشوں اور باغیوں کو ہلاک کرنے والا، کہاں ہے عناد و الحاد و گمراہی کے سر غنائوں کو جڑ سے اکھاڑنے والا۔

أین معزّ الأولیاء و مذلّ الأعدائ؟

کہاں ہے دوستوں کو عزت دینے والا اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا۔

أین جامع الکلمة علیٰ التقویٰ؟

کہاں ہے سب کو تقوے پر جمع کرنے والا۔


أین باب اللّٰه الذی منه یؤتیٰ؟

کہاں ہے وہ باب خدا کہ جس سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوا جاتا ہے۔

أین صاحب یوم الفتح و ناشر رایة الهدیٰ؟

کہاں ہے چہرۂ خدا کہ جس کی طرف دوست رخ کر تے ہیں ،کہاں ہے وہ سبب جو زمین و آسمان کا اتصال قائم کرتا ہے ،کہاں ہے وہ جوروز فتح کا مالک اور پرچمِ ہدایت کا لہرانے والا.

أین مؤلف شمل الصلاح و الرضا؟

کہاں ہے وہ جو نیکی و رضا کے منتشر اجزا کو جمع کرنے والا ہے۔

أین الطالب بذحول الأنبیاء و أبناء الأنبیائ؟

کہاں ہے انبیاء اور اولاد انبیاء کے خون کا بدلہ لینے والا۔

أین الطالب بدم المقتول بکربلا ؟

کہاں ہے شہید کربلا کے خون کا مطالبہ کرنے والا۔

أین المنصور علیٰ من اعتدی علیه و افتریٰ؟

کہاں ہے وہ کہ جس کی ہر ظالم اور افترا پر داز کے مقابلہ میں مدد کی جائے گی۔

أین المضطر الذی یجاب اذا دعیٰ؟

کہاں ہے وہ مضطر کہ جس کی دعا مستجاب ہے خواہ جب بھی کرے۔


أین صدر الخلائق ذو البرّ و التقویٰ؟

کہاں ہے ساری مخلوقات کا سر براہ، صاحب صلاح و تقویٰ۔

أین ابن النبیّ المصطفیٰ و ابن علّ المرتضیٰ و ابن خدیجة الغراء و ابن فاطمة الکبریٰ؟

کہاں ہے فرزندرسول مصطفی ، پسر علی مرتضیٰ، نور نظر خدیجہ اور لخت جگرفاطمہ۔( ۱ )

انتظار،آہ و زاری ،نالہ و شیون اورامر بالمعروف، نہی عن المنکر، اور امام مہدی کے ظہور و قیام اور آپ کی کشائش کے لئے زمین ہموار کرنے کے لئے ظالموں سے جہاد کی نہایت کوشش کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔

یہ بین اور آہ و زاری مومنین کے دلوں کو کام و کوشش، قیام و انقلاب، ثابت قدمی و مقاومت ،محاذ لینے، جہاد کرنے، اسلام کی طرف بلانے، بنانے بگاڑنے اور امام زمانہ کے ظہور اور آپ کی آفاقی حکومت کے قیام و تشکیل کے لئے زمین ہموار کرتی ہے کہ جس کا خدا نے اپنی کتاب میں وعدہ کیا ہے :

( وَلَقَد کَتَبنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِ )

اس میں شک نہیں ہے کہ امام مہدی کا ظہور اس نسل کے گزر جانے کے بعد ہوگا جو آپ کے ظہور و قیام کے لئے زمین ہموار کرے گی کیونکہ اس سلسلہ میں اسلامی نصوص تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں ، یہی وہ نسل ہے کہ امام مہدی کے ظہور و قیام کے لئے زمین ہموار کرے گی، اس صورت میں انتظار کے یہ معنی ہوں گے کہ امر بالمعروف، کوشش و عمل میں جلدی اور تیزی کے ساتھ زمین ہموار کی جائے۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ، ولاء میراث اور انتظار ہی ہے ، میراث ہمیں انبیاء و صالحین کے راستہ پر چلنے کی ترغیب کرتی ہے اور انتظار ہمیں امیدکی اس درخشاں کرن کو کھولنے پر ابھارتی ہے کہ جس کو خدا ہمارے لئے مستقبل میں کھولے گا۔

لیکن اس امید کے لئے واجب ہے کہ وہ ہمیشہ کوشش وجانفشانی اور تگ ودو سے متصل ہو، یہا ں تک کہ خدا کے اذن سے یہ وعدہ پورا ہو جائے، انتظار و امیدعلامات کانام نہیں ہے ۔

____________________

(۱) دعائے ندبہ


زیارت

زیارت ولاء کا مظہر اور اس کے آثار میں سے ہے:

زیارت ایک واضح حالت ہے جوہماری اہل بیت سے محبت کے لئے مشہور ہے ہم اس کی پابندی کرتے ہیں ،اس کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ولاء کے دائرہ میں زیارت کی ایک تہذیب و ثقافت ہے ، اس کے کچھ آداب ہیں ، کچھ نصوص ہیں جن کی تلاوت کرتے ہیں یہ ولاء کے ثقافتی افکار و مفاہیم سے معمور ہیں اور زندگی میں ا س کا ایک اثر ہے ۔

زیارت کی غرض ، تاریخ میں صالح و ہدایت سے مالامال راستہ کے ذریعہ عضوی و ثقافتی استحکام ہے۔ہم اس کارواںکا جز ہیں جو توحید، اخلاص، تقویٰ، نماز، جہاد، زکواة، امر بالمعروف، ذکر، شکر اور صبر و قوت کے اقدار سے مالا مال ہے ۔ہم اس مبارک راستہ یا قافلہ کا جز لا یتجزا ہیں کہ جس کا سلسلہ تاریخ میں اہل بیت سے لیکر انبیاء کی تحریک تک پھیلا ہوا ہے، آدم سے نوح وابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ وغیرہ تک ہے ، ہم اس راستہ کا جز ہیں اور اس تاریخی جنگ و کشمکش کا جز ہیں جو اس کے راستہ کے ہر مرحلہ میں اسلام و جاہلیت اور توحیدو شرک کے درمیان ہوتی رہی ہیں ، ہم اس شجر طیبہ کا جز ہیں کہ جس کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں اتری ہوئی ہیں ۔

ہم اس شجر کی شاخیں ہیں ، اس درخت سے ہمیں نسبت ہے ،اس کی ہمیں حفاظت کرنا چاہئے:

( ألَم تَرَ کَیفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً کَلِمَةً طَیِّبَةً، کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ، أصلُهَا ثَابِت وَ فَرعُهَا فِی السَّمَائِ )

کیا تم نے غور نہیں کیا کہ خدا نے پاک کلمہ کی مثال پاک درخت سے دی ہے، اس کی جڑ ثابت و محکم ہے اور اس کی شاخیں آسمانوں میں ہیں ۔


اس درخت سے ہمارا رشتہ ہے، اس کے بارے میں ہمیں اپنے ضمیر و وجدان اور عقل و دل میں غور کرنا چاہئے اور جب ہمیں اس شجر طیبہ اور تاریخ کے اس مبارک خاندان سے نسبت کا گہرا احساس ہوگاتو اسی تناسب سے چیلنج کے مقابلہ میں ہماری قوت، صبر و صلابت زیادہ ہوگی اور خوفناک راستوں اور لغزشگاہوں جو راہ زندگی میں ہمارے سامنے آتی ہیں ، ان کے خلاف ہمارے اندر ثبات و استقلال میں اضافہ ہوتا ہے ۔

زیارت اس استحکام کا اہم عامل ہے

زیارت سے ایک قوی پر شفقت فضا پیدا ہوتی ہے جس میں اس مبارک خاندان اور تاریخ کے اس صالح راستہ سے تہذیبی ، ثقافتی اورتحرک کی نسبت کی تاکید کی گئی ہے۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا، امیر المومنین ، فاطمہ زہرا، حسن و حسین ، تمام اہل بیت ، انبیاء ،اولیاء خدا اور صالح مومنین کے لئے جو زیارتیں اہل بیت سے نقل ہوئی ہیں وہ اس تہذیبی اور ثقافتی میراث سے معمورہیں اور اس راستہ پر چلنے اور اس مبارک خاندان سے نسبت ا وران کے دشمنوں اور ان سے جنگ کرنے والوں سے اعلانِ برأت کے مفہوم سے بھری ہوئی ہیں ۔

میں نے اپنی کتاب ''الدعا عند اہل البیت'' کی آخری فصل میں زیارت کے بارے میں ایک تحقیق پیش کی ہے، لہٰذا ہم نے جو بات وہاں بیان کی ہے اسی پر اکتفاء کرتے ہیں یہاں اس کی تکرار نہیں کریں گے۔


مکتب اہل بیت سے منسوب ہونے کے طریقے

اب ہم اس بحث کے آخری نقطہ کو بیان کرتے ہیں اور یہ ولاء و برائت اور اس کے حصول کے طریقوں کی بلندی ہے۔

بیشک ولاء و میراث -تولیٰ و تبرّیٰ-انسان کے لئے معراج ہیں ، تولیٰ و تبریٰ کے ذریعہ انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے اور اس کی رضا حاصل کر لیتا ہے۔

تولا و تبریٰ کے بغیر انسان خدا کا تقرّب اور اس کی رضا حاصل نہیں کر سکتا ۔

ذیل میں ہم تولیٰ و تبریٰ کی بلندی کے بارے میں ائمہ اہل بیت سے وارد ہونے والی بعض حدیثوں کا ذکر کر رہے ہیں ۔

دنیا و آخرت میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ

عبد اللہ بن ولید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مروان کے زمانہ میں ہم امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے دریافت کیا: آپ لوگ کون ہیں ؟ ہم نے کہا: اہل کوفہ ہیں ، آپ نے فرمایا: اہل کوفہ ہمیں سب سے زیادہ دوست رکھتے ہیں خصوصاً یہ گروہ، بیشک خد انے تمہاری اس چیز کی طرف راہنمائی کی ہے جس سے لوگ جاہل ہیں ، تم نے ہم سے دوستی کی جبکہ دوسروں نے ہم سے عداوت کی، تم نے ہمارا اتباع کیا اور لوگوں نے ہماری مخالفت کی ، تم نے ہماری تصدیق کی، لوگوں نے ہمیں جھٹلایا، خدا تمہیں اس طرح زندہ رکھے جس طرح ہمیں زندہ رکھتا ہے اور اس طرح موت دے جس طرح ہمیں موت دیتا ہے ،میں شاہد ہوں میرے باپ کہتے تھے۔ تم میں سے کسی شخص اور اس چیز کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے یاجس پر غبطہ کیا جاتا ہے مگر یہ کہ اس کا نفس یہاں تک پہنچ جاتا ہے ۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا:


خداوند عالم نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا:

( وَلَقَد أرسَلنَا رُسُلاً مِن قَبلِکَ وَ جَعَلنَا لَهُم أزوَاجاً وَ ذُرِّیَّةً )

و نحن ذریة رسول اللّه ۔( ۱ )

''اور ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے ہیں ان کے لئے بھی ہم نے بیویاں اور ذریت قرار دی تھی'' اور ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذریت ہیں ۔

زیارت معروفۂ عاشورہ میں ہے:

''واحینا محیا محمد و آل محمد و امتنا ممات محمد و آل محمد''

ہمیں محمد و آل محمد کی حیات عطا فرما اور ہمیں محمد و آل محمدکی موت دے۔

خدا ان پر کرم کرتا ہے

رسول اللہ سے روایت ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

____________________

(۱) بحار الانوار: ج۶۵ ص ۲۰ ۔ ۲۱ ح ۳۴


''یقول اللّٰه عزّ و جلّ لشیعتی و شیعة أهل بیت یوم القیامة هلمّ یا عبادی لیّ لأنشر علیکم کرامتی، فقد أوذیتم فی الدنیا'' ۔

روز قیامت خدا وند عالم میرے اور میرے اہل بیت کے شیعوں سے فرمائیگا، میرے بندو! میرے پاس جلدی آئو تاکہ میں تمہیں اپنے کرم سے سر فراز کروں ، یقینا تمہیں دنیا میں اذیت دی گئی ہے۔( ۱ )

وہ ہم سے اور ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تمسک رکھتے ہیں

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:میرے والدفرمایا کرتے تھے:

''ان شیعتنا آخذون بحجزتنا، و نحن آخذون بحجزة نبینا، و نبینا آخذ بحجزة الله'' ۔( ۲ )

ہمارے شیعوں نے ہمارا دامن ، ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دامن اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا کا دامن تھام رکھا ہے، مجلسی لکھتے ہیں :

''اخذت بحجز الرّحمان '' کا مطلب یہ ہے کہ میں خدا سے وابستہ ہوں ۔( ۳ )

امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

''اذا کان یوم القیامة أخذ رسول اللّٰه بحجزة ربه (اعتصم به) و أخذ علـ بحجزة رسول اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،، و أخذنا بحجزة عل، و أخذ شیعتنا بحجزتنا، فأین ترون یوردنا رسول الله''

____________________

(۱)بحار الانوار: ج۶۵ ص ۱۹ ح۲ عیون اخبار الرضا سے مختلف ہے، ج ۲ ص ۶۰

(۲)بحار الانوار: ج۶۵ ص ۳۰ ح ۶۰ محاسن ۱۸۳

(۳)بحار الانوار: ج۶۵ ص ۳۰


جب قیامت کا دن ہوگا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،خدا سے لولگا ئیں گے اور علی رسول کے دامن سے وابستہ ہوں گے اور ہم علی کا دامن تھام لیں گے اور ہمارے شیعہ ہمارے دامن سے وابستہ ہوں گے پس دیکھنا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیں کہاں پہنچائیں گے۔( ۱ )

علی بن الحسین سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ورع و اجتہاد کا زیادہ حقدار وہ ہے جو خدا کیلئے محبت کرتا ہے اور خدا کیلئے راضی ہوتا ہے اوصیاء اور ان کا اتباع کرنے والا ہے کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ اگر آسمان سے کوئی خوفناک چیز ظاہر ہو تو ہر گروہ اپنی پناہ کی طرف دوڑتا ہے اور تم ہماری طرف پناہ لیتے ہو اور ہم اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پناہ لیتے ہیں ، ہم اپنے نبی کے دامن کو تھام لیتے ہیں اور ہمارے شیعہ ہمارے دامن سے وابستہ ہو جاتے ہیں ۔

____________________

(۱)بحار الانوار: ج۶۸ ص ۳۰ ح ۶۱ محاسن ۱۸۳


جو چیز خدا انہیں آخرت میں عطا کرے گا

جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک روز میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی بن ابی طالب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے ابو الحسن ! کیا میں تمہیں بشارت دوں ؟ عرض کی: اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ضرور دیجئے ،فرمایا: یہ جبریل ہیں جو خدا کی طرف سے یہ خبر لائے ہیں کہ اس نے تمہارے شیعوں اورمحبوں کو نو خصلتیں عطا کی ہیں :

۱۔ موت کے وقت، نرمی و شفقت

۲۔ وحشت و تنہائی میں ، انس

۳۔ تاریکی میں نور

۴۔ خوف و خطر کے وقت امن

۵۔ اعمال تولتے وقت وافر حصہ

۶۔ صراط سے گزرنا

۷۔ تمام لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہونا

۸و۹۔ ان کے نور کا ان کے سامنے اور دائیں طرف چمکنا

علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:


ہماری ولایت کے قائل لوگ روزِ قیامت اپنی قبروں سے اس حال میں اٹھیں گے کہ ان کے چہرے درخشاںہوں گے، ان کی شرم گاہیں چھپی ہوئی ہوں گی، ان کے دل مطمئن ہوں گے، سختیاں ان سے برطرف کر دی جائیں گی، ان کے وارد ہونے کو آسان کر دیا جائیگا، لوگ خوف زدہ ہوں گے لیکن انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا ،لوگ رنجیدہ ہوں گے لیکن انہیں کوئی غم نہیں ہوگا۔( ۱ )

ابن عباس سے روایت ہیکہ انہوں نے کہا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کے اس قول( وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أولٰئِکَ الْمُقَرَّبُونَ فِ جَنَّاتِ النَّعِیمٍ ) کے معنی دریافت کئے تو آپ نے فرمایا: جبریل نے کہا ہے کہ وہ علی اور ان کے شیعہ ہیں وہی جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور وہ خدا سے اس کرامت کے ذریعہ قریب ہوں گے جو خدا نے انہیں عطا کیا ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج۶۸ ص ۱۵ ح ۱۷(۲)بحار الانوار: ج۶۸ ص ۲۰ ح ۳۳


ہمارے ساتھ اور ہم میں سے

امام رضا سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں اور یہ یعنی علی ان دو انگلیوں کی مانند ایک ساتھ ہوں گے اور اپنی دونوں انگلیوں کو متصل کر لیا، اور ہمارے شیعہ ہمارے ساتھ رہیں گے اور اس طرح وہ شخص بھی ہمارے ساتھ رہے گا جس نے کسی مظلوم کی مدد کی ہوگی۔( ۱ )

عمر بن یزید سے روایت ہے کہ اس نے کہا: امام جعفر صادق فرماتے ہیں ۔ اے یزید کے بیٹے! خدا کی قسم تم ہم اہل بیت میں سے ہو، راوی کہتا ہے ، قربان جائوں !میں آل محمد میں سے ہوں ؟ فرمایا: ہاں خدا کی قسم انہیں میں سے ہو۔ کیا تم نے خدا کا یہ قول نہیں پڑھا ہے :

( إنَّ أولیٰ النَّاسِ بِإبرَاهِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوهُ وَ هٰذا النَّبِی ) ( ۲ ) یا خدا کا یہ قول نہیں پڑھا( فَمَن تَبِعَنِی فَإنَّهُ مِنِّی ) ۔( ۳ )

ابراہیم سے ملحق ہونے کے وہ لوگ زیادہ حقدار ہیں کہ جنہوں نے ان کا اور اس نبی کا اتباع کیا۔ پھر جس نے میرا اتباع کیا وہ مجھ سے ہے۔

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

ہمارے شیعہ ہمارا جز ہیں ، انہیں وہی چیز غمگین کرتی ہے جو ہمیں رنجیدہ کرتی ہے اور انہیں اسی چیز سے مسرت ہوتی ہے جس سے ہمیں مسرت ہوتی ہے پھر اگر ان میں سے کوئی ہمیں چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ان کے پاس جائے کیوں کہ وہ اس کے ذریعہ ہم سے وابستہ ہے۔( ۴ )

____________________

(۱)بحار الانوار: ج۶۸ ص ۱۹ عیون اخبار الرضا: ج ۲ ص ۵۸ امالی طوسی: ج ۱ ص ۷۰

(۲)آل عمران: ۶۸

(۳)ابراہیم: ۳۶

(۴)بحار الانوار: ج۶۸ ص ۲۴ امالی طوسی: ج ۱ ص ۳۰۵


امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کی اور ان کو اس طرح تمام لوگوں پر مقدم کیا جس طرح خدا نے انہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قرابت کے سبب سب پر مقدم کیا ہے تووہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہے کہ اسے آل محمد سے نسبت ہے ، وہ ان سے تولا رکھتا ہے اور ان کا اتباع کرتا ہے خدا وند عالم نے اپنی کتاب میں اسی طرح حکم فرمایا ہے :

( وَ مَن یَّتَوَلَّهُ مِنکُم فَنَّهُ مِنهُمْ ) ( ۱ )

فلاح و کامیابی

جابر بن یزید سے انہوں نے امام محمد باقر سے اور آپ نے زوجۂ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے :( ''إ ) ن علیّاً و شیعته هم الفائزون'' ( ۲ ) علی اور ان کے شیعہ کامیاب ہیں ۔

تولیٰ و تبریٰ کے سبب شہیدوں میں شرکت

معتصم کے ماموں ریان بن شبیب سے صحیح حدیث میں آیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں پہلی محرم کو ابو الحسن امام رضا کی خدمت میں حاضر ہواآپ نے -ایک طویل حدیث کے بعد-مجھ سے فرمایا: اے شبیب کے بیٹے اگر تم کسی چیز پر رونا چاہو تو حسین بن علی بن ابی طالب پر روئوکیونکہ انہیں بے دردی سے ذبح کیا گیا ہے اور ان کے اہل بیت سے ایسے اٹھارہ مرد قتل ہوئے ہیں جن کی مثال روئے زمین پر نہیں ہے ۔

____________________

(۱) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۳۵ تفسیر عیاشی: ج ۲ ص ۳۲

(۲) ارشاد: یہ روایت ہم پہلے سیوطی کی درمنثور سے نقل کرچکے ہیں


اے شبیب کے بیٹے اگر تم جنت میں بنے ہوئے محل میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو قاتلان حسین پر لعنت کرو۔

اے شبیب کے بیٹے اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم کو اس شخص کے برابرثواب ملے جو امام حسین کے ساتھ شہید ہوئے ہیں تو جب بھی تمہیں حسین کی یاد آئے تو یہ کہنا:''یا لیتنی کنت معهم فافوز فوزاً عظیماً'' ۔

اے شبیب کے بیٹے اگر تم جنت کے بلند درجوں میں ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو ہمارے غم میں غم منائو اور ہماری خوشی میں خوشی منائو اور ہماری دوستی و ولایت سے تمسک رکھو کیونکہ اگر کوئی شخص پتھر سے محبت کرے گا تو قیامت کے روز خدا اسے اسی کے ساتھ محشور کرے گا۔( ۱ )

یہ حدیث صحیح ہے ، اس چیز پر انسان کو ٹھہر جانا چاہئے اور اگر اس حدیث کی سند صحیح بھی نہ ہو تو ہم اس کوایک قسم کے مبالغہ پر حمل کریں گے جو کہ مرسل و ضعیف حدیثوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے ۔

آپ کے سامنے ہم حدیث کا ایک عجیب فقرہ پھر پڑھتے ہیں :

''یابن شبیب أن سرّک أن یکون لک من الثواب مثلها لمن استشهد مع الحسین، فقل متیٰ ما ذکرته: (یا لیتن کنت معهم فأفوز فوزاً عظیماً )''۔

اے شبیب کے بیٹے اگر تم اس شخص کے برابر ثواب حاصل کرنا چاہتے ہو کہ جو امام حسین کے ساتھ شہید ہوا ہے تو جب تم انہیں یاد کرو تو یہ کہو: اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا اور عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوتا۔

____________________

(۱)امالی صدوق: ص ۷۹ مجلس ۲۷


بیشک جب یہ آرزوسچی اور حقیقی ہوگی اور امام حسین اور آپ کے اصحاب کے فعل سے خوشی اور بنی امیہ اور ان کے طرف داروں سے ناراضگی کے ساتھ ہوگی تو سچی ہوگی اور راضی و نا راضگی کی تمنا کرنے والے کو ، امام حسین کے محبوں میں قرار دے گی اور اسے ان لوگوں کے ثواب میں شریک قرار دے گی جو آپ کے ساتھ شہید ہو ئے ہیں نتیجہ میں نیت خداوند کے نزدیک عمل میں بدل جائیگی اور جب نیت صحیح اور عزم محکم ہوگا تو خدا کے نزدیک قیامت کے دن یہی نیت عمل سے ملحق ہو جائیگی ،یہ نیت و عمل کے درمیان لگائو میں عجیب ترین انقلاب ہے اور نیت کے عمل سے بدل جانے میں اجر و ثواب ہے ، اور یہ ایک قانون ونظام ہے ، بالکل ایسے ہی جیسے مادہ طاقت میں بدل جائے فزکس میں اس کا نظام و قانون ہے، یہ ایجاب و سلب اور اثبات و نفی میں عجب قانون ہے ایسے ہی اجر و ثواب میں ہے۔

جس طرح نیک عمل کی نیت صاحب نیت کو صالحین کے ثواب میں شریک کر دیتی ہے ، اسی طرح ظلم کرنے کی نیت یا ظالم کے عمل سے خوش ہونا انسان کو عذاب و ظلم میں شریک کر دیتا ہے۔

محمد بن الارقط کہتے ہیں : میں مدینہ میں امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا:

کیاتم کوفہ سے آئے ہو؟ عرض کی : ہاں!

فرمایا: تم حسین کے قاتلوں کو دیکھتے ہوگے۔

میں نے عرض کیا: میں قربان، ان میں سے میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے۔

فرمایا: اگر تم ان کے قاتل کو نہیں دیکھتے تو کیا قتل کے ذمہ دار کو بھی نہیں دیکھتے ؟


کیا تم نے خدا کا قول نہیں سنا :( قَد جَائَ کُم رُسُل مِن قَبلِی بِالبَیِّنَاتِ وَ بِالَّذِی قُلتُم فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُم إن کُنتُم صَادِقِینَ ) ( ۱ )

ان لوگوں نے کسی رسول کو قتل کیا تھا کہ جن کے درمیان محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رہتے تھے جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی رسول نہیں تھا یہاں یہ لوگ رسول کے قتل سے راضی تھے اس لئے ان کو قاتل و ظالم کا نام دیا گیا ہے ۔

آیتوں میں سے جس آیت کی طرف امام جعفر صادق نے اشارہ فرمایا ہے وہ ہے سورہ آل عمران کی ۸۳ ۱ویں آیت:

( اَلَّذِینَ قَالُوا نَّ اللّٰهَ عَهَدَ اِلَینَا إلاَّ نُؤمِنَ بِرَسُولٍ حَتَّی یَأ تِیَنَا بِقُربَانٍ تَأکُلُهُ النَّارُ قُل قَد جَائَ کُم رُسُلُ مِن قَبلِی بِالبَیِّنَاتِ وَ بِالَّذِی قُلتُم فَلِمَ قَتَلتُمُوهُم إن کُنتُم صَادِقِینَ ) )

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم سے خدا نے یہ عہد لیا ہے کہ کسی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کر دے کہ جس کوآگ کھا جائے، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ ان سے کہہ دیجئے مجھ سے پہلے بھی واضح دلیلوں اور تمہاری مطلوب قربانی کے ساتھ تمہارے پاس رسول آئے تھے اگر تم سچے ہو تو پھر تم نے انہیں کیوں قتل کر دیا؟

اس میں شک نہیں ہے کہ اس آیت( فَلِمَ قَتَلتُمُوهُم إن کُنتُم صَادِقِین ) میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معاصر یہودی مخاطب ہیں اور اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ان یہودیوں نے کسی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل نہیں کیا تھا اور ان یہودیوں اور ان قاتلوں کے درمیان چھہ سو سال کا فاصلہ ہے لیکن قرآن اس کے باوجود حقیقت میں ان کی طرف قتل کی نسبت دیتا ہے ۔اور یہ نسبت مجازی طریقہ سے نہیں جیسے:( فَسألُوا اْلقَرْیَةَ )

____________________

(۱)آل عمران: ۱۸۳


قتل کی اس نسبت کی کوئی توجیہ و تفسیر بھی نہیں ہے سوائے یہ کہ ہم اس قاعدہ کلیہ کو جانتے ہیں کہ نیت کے لحاظ سے راضی و ناراض ہونے سے نیت عمل سے بدل جاتی ہے ۔

بیشک سچی نیت و آرزو اور صداقت پر مبنی رضا و ناراضگی عمل کی قیمت رکھتی ہے اور اس نیت کے حامل کی طرف عمل کی نسبت دینا صحیح ہے ، اس نے خلوص کے ساتھ اس کی تمنا کی تھی اور خلوص کے ساتھ اس سے خوش ہوا تھا جیسا کہ کتاب خدا میں وارد ہوا ہے ۔

سید رضی نے نہج البلاغہ میں روایت کی ہے:

جب خدا نے آپ کو جمل والوں پر فتح عطا کی تو آپ کے کسی صحابی نے آپ کی خدمت میں عرض کی میں اس بات کو دوست رکھتا تھا کہ میرا فلاں بھائی موجود ہوتااور وہ آپ کی اس فتح کو دیکھ لیتاجو خدا نے آپ کے دشمنوں پر آپ کو عطا فرمائی ہے ۔

فرمایا: کیا تمہارا بھائی ہمیں دوست رکھتا ہے ؟

اس نے کہا: ہاں

فرمایا: وہ ہمارے پاس موجود تھا ، وہ تنہا نہیں تھا، ہمارے اس لشکر میں وہ بھی موجود تھے جو ابھی مردوں کے صلب اور عورتوں کے رحموں میں ہیں ، عنقریب زمانہ انہیں ظاہر کرے گا اور ان سے ایمان کو تقویت ملے گی۔

یہ قانون اور سنت الٰہی ہمیں صالحین کے اعمال میں شریک کر دیتی ہے اور ثواب میں ہمیں ان سے ملحق کر دیتی ہے اس اعتبار سے ہم انبیاء، اولیاء اور صالحین کے اعمال میں شریک ہیں ، کیونکہ ہم نے ان اعمال کی نیت کی تھی اور اس سے راضی تھے اور اس کو دوست رکھتے تھے اور سچے دل سے اس کی تمنا کرتے تھے ، جیسا کہ اس کے بر عکس بھی صحیح ہے۔

پس جو شخص ظالموں کے اعمال سے راضی ہوگا اور انکے ظلم و جور اور برے اعمال سے خوش ہوگا اور ان کی تمنا کرتا ہوگا ان کی نیت رکھتا ہوگااور ان سے دفاع کرتا ہوگا تو خدا اسے انہیں کے ساتھ محشور کرے گا اگر چہ وہ وہاں موجود بھی نہیں تھا اور اس کو انہیں کا عذاب دیا جائیگا۔


یہ روایت جو وارد ہوئی ہے کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حضرت مہدی ظہور فرمائیں گے تو حسین کے قاتلوں کو قتل کریں گے ان سب کو جمع کریں گے اور انہیں ان سے ملحق کریں گے اور قتل کر دیں گے اس کے معنی یہ ہیں کہ امام مہدی اس شخص کو قتل کریں گے ، جو امام حسین کے قاتلوں کو دوست رکھتا ہے ، تاکہ ان کے رجس و ظلم سے زمین کو پاک کر دیں۔

زیارت امام حسین ،جو کہ زیارت وارث کے نام سے مشہور ہے ، میں اس قانون کی دقیق تشخیص ہوئی ہے ۔ جو امام حسین کے قاتلوں اوران پر ظلم کرنے والوں اور ان کے قتل سے خوش ہونے والوں پر لعنت کرتا ہے ۔

زیارت کے جملے یہ ہیں :''لعن اللّٰه أمة قتلتکم و لعن اللّٰه أمة ظلمتکم، و لعن اللّٰه أمة سمعت بذلک فرضیت به''

خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا، خد العنت کرے اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم کیا ، خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے یہ سب کچھ سنا اور اس سے راضی ہوا۔

اس میں پہلا گروہ قتل کاذمہ دار ہے ۔

دوسر ے گروہ نے پہلے گروہ کی تائید و تقویت کی ہے ۔

تیسرا گروہ وہ ہے جو قتل حسین سے خوش ہوا ، یہ گروہ پہلے گروہ سے زیادہ بڑا ہے ۔

اس کا حلقہ تاریخ و جغرافیہ سے زیادہ وسیع ہے۔

مجھے یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس گفتگو کو عطیہ عوفی کی اس روایت پر ختم کردوں جو انہوں نے جلیل القدر صحابی جابر بن عبد اللہ انصاری سے کی ہے ، جب جابر نے سانحہ

کربلا کے بعد امام حسین کی قبر کی زیارت کی۔

بشارت مصطفیٰ میں عطیہ عوفی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:


میں جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ قبرِ حسین بن علی بن ابی طالب کی زیارت کیلئے گیا، جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات پر گئے اور غسل بجالائے پھر ایک چادر کو لنگی کی طرح باندھ لیا اور دوسری کو اوڑھ لیا ایک خوشبو کی تھیلی نکالی اور اس کو اپنے بدن پر ملا اور قدم قدم پر ذکرِ خدا کرتے ہوئے چلے جب قبرِ حسین کے قریب پہنچے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے قبر سے مس کرو تو میں نے انہیں قبر سے مس کیا ، جابر بیہوش ہو کر قبر پر گر پڑے میں نے ان پر پانی چھڑکا جب وہ ہوش میں آئے تو تین مرتبہ کہا: یا حسین! دوست، دوست کا جواب نہیں دیتا؟

پھر کہا: آپ کیسے جو اب دیں گے جب کہ آپ کو پسِ گردن سے ذبح کیا گیا ہے آپ کے سر کو بدن سے جد اکر دیا گیا ہے ۔ اے سید النبیین کے بیٹے، اے سید المومنین کے فرزند، اے حلیف تقویٰ کے پسر، ہدایت کی نسل اور اے خامس آل عبا ،اے سید النقباء کے لخت جگر، اے فاطمہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور نظر، آپ ایسے کیوں نہ ہوں ،جب کہ آپ کو سید المرسلین نے کھانا کھلایا، سید المتقین کے سایہ میں تربیت ہوئی، ایمان کا دودھ پلایا گیا ،اسلام کے ذریعہ دودھ بڑھائی ہوئی آپ زندگی میں بھی طیب وطاہر رہے اور موت کے بعد بھی پاک و پاکیزہ رہے لیکن آپ کے فراق میں مومنوں کے دلوں کو سکون نہیں ہے اور آپ نے جو راستہ اختیار کیا اس کی شکایت نہیں کی جا سکتی،آپ پر خدا کا سلام اور اس کی رضا ہو۔

آپ نے وہی راستہ اختیار کیا جس کو آپ کے بھائی یحیٰی بن زکریا نے اختیار کیاتھا۔

پھر جابر بن عبد اللہ انصاری نے قبر کے چاروں طرف دیکھا اور کہا: سلام ہو تم پر اے روحو! کہ جو بارگاہ امام حسین میں پہنچیں اور میں نے اپنا سامان سفر اتار دیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی زکواة ادا کی، نیکی کا حکم دیا، برائیوں سے روکا، آپ نے ملحدوں سے جہاد کیا اور آخری سانس تک خد اکی عبادت کی، قسم اس ذات کی جس نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق کے ساتھ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنا کر بھیجا ،یقینا ہم بھی اس چیز میں آپ کے شریک ہیں جس میں آپ داخل ہوئے ہیں ۔


عوفی نے کہا: میں نے کہا: کیسے !نہ ہم کسی وادی میں اترے نہ کسی پہاڑ پر چڑھے اور نہ ہم نے تلوار چلائی اور ظالموں نے ان کے سر و بدن میں جدائی کر دی، ان کی اولاد کو یتیم کر دیا او ران کی بیویوں کو بیوہ کر دیا ۔

جابر نے کہا: اے عطیہ! میں نے اپنے حبیب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے: جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ محشور ہوگا اور جو شخص کسی قوم کے عمل کو دوست رکھتا ہے اس کو اس کے عمل میں شریک کیا جائیگا۔ قسم اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ محمد کو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنا کر بھیجا میری نیت اورمیرے ساتھیوں کی نیت وہی راستہ ہے جس سے امام حسین اور انکے اصحاب گزرے ہیں مجھے کوفیوں کے گھروں کی طرف لے چلو۔

ہم راستہ طے کر رہے تھے کہ جابر نے کہا: اے عطیہ! کیا میں تمہیں وصیت کروں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس سفر کے بعد تم سے میری ملاقات نہیں ہوگی، دیکھو، ان لوگوں سے محبت کرنا جو آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں کو دشمن سمجھنا جو آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دشمن سمجھتے ہیں خواہ کتنے ہی نماز اور روزہ دار ہوں ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے محب کے رفیق بن جائو، کیونکہ اگر کسی گناہ میں لغزش ہو جائیگی تو ان کی محبت کی وجہ سے وہ صحیح ہو جائیگا بیشک آپ کا محب اور دوست جنت میں اور ان کا دشمن جہنم میں جائیگا۔


استدراک و الحاق

اہل بیت کون ہیں

اس گفتگو کے آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ سوال پیش کئے جائیں جو کہ گذشتہ بحث سے پید اہوتے ہیں ۔

اور وہ یہ کہ اہل بیت کون ہیں کہ جن کو سیاسی امامت اور فقہ و ثقافت کی مرجعیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قیامت تک کیلئے میراث ملی ہے؟

جواب: مسئلہ اس سے کہیں واضح ہے کہ انسان اس کے بارے میں غور و فکر کرے، بیشک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ حلال و حرام، اصول و فروع میں امت کی مرجعیت قیامت تک کے لئے غیر معین جماعت کے حوالے کر دیں ا س جماعت کو معین ، واضح اور مشہور ہوناچاہئے اور ہمیں پوری تاریخ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت میں سے ائمہ اثنا عشر، کہ جن کو شیعہ امام مانتے ہیں ،کے علاوہ کوئی ایسی مشہور جماعت نہیں ملتی کہ جس نے تاریخ میں اپنی امامت اور مسلمانوں کی مرجعیت کا اعلان کیا ہو اور تاریخ اسلام میں ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت مشہور ہیں ، انہیں کا علم و جہاداورفہم و میراث ہم تک سینکڑوں جلدوں میں پہنچی ہے ، جس کو اس مکتب کے بلند مرتبہ علما ء ایک دوسرے سے نسلاً بعد نسل میراث میں لیتے رہے ہیں ، یہی سیاسی و فقہی امامت میں خود کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا وارث سمجھتے ہیں اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد یہی معصوم ہیں ۔


رسول کے بارہ امام ہوں گے

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایسے صحیح طریقوں سے کہ جن میں شک نہیں کیا جا سکتا یہ بیان ہوا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد امامت راشدہ بارہ امیروں میں منحصر ہوگی اور وہ سب قریش سے ہوں گے اور یہ روایتیں محمد بن اسماعیل بخاری کے نزدیک صحیح ہیں ۔( ۱ ) اورمسلم بن حجاج نیشاپوری نے بھی اپنی صحیح میں( ۲ ) ترمذی نے اپنی صحیح میں ۔( ۳ ) حاکم نے مستدرک الصحیحین( ۴ ) اور احمد بن حنبل نے مسند میں متعدد مقامات پر اور بہت سے حدیث نبوی کے حفاظ نے بھی ان حدیثوں کو نقل کیا ہے اور تاریخ اسلام میں ہمیں ایسے بارہ عادل امام و امیر نہیں ملتے ہیں کہ جو ایک دوسرے کے بعد ہوئے ہیں :

یہ امر ختم نہیں ہوگا یہاں تک کہ ان کی تعداد مکمل ہو جائیگی اور دین ایسے ہی قائم رہے گا ، یہاں تک کہ ان میں سے بارہ ہوں گے، ان کی تعداد اتنی ہی ہوگی کہ جتنی بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد تھی اس کے علاوہ اور بھی صحیح روایتیں وارد ہوئی ہیں ۔

میں کہتا ہوں کہ تاریخ اسلام میں اس واضح صفت کے حامل ہمیں بارہ امام و امیر، ائمہ اہل بیت کے ان مشہور بارہ اماموں کے علاوہ نہیں ملتے ہیں کہ جن کی امامت سے شیعیان اہل بیت وابستہ ہیں ،اگر ہم ان کی امامت کا انکار کر دیں تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث صحیح نہیں رہے گی اور اس کا کوئی مصداق نہیں ملے گا اور ایسی بات قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والا نہیں کہے گا۔

آیت تطہیر

ہماری اس بات کا دوسرا ثبوت سورۂ احزاب کی آیت تطہیر ہے:( اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲ ُ ُلِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَهلَ البَیتِ وَ یُطَهِّرَکُم تَطهِیرًا ) ( ۵ )

____________________

(۱)صحیح بخاری: کتاب الاحکام

(۲)صحیح مسلم: کتاب الامارة : ج۱۲ ص ۲۰۱ ۲۰۴ شرح نووی طبع ۱۹۷۲

(۳)صحیح ترمذی: ج۷ ص ۳۵ کتاب الفتن

(۴)مستدرک الصحیحین: ج۴ ص ۵۰۱ (۵)احزاب: ۳۳


اہل بیت خدا کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم کوہر رجس سے پاک رکھے اور ایسے پاک رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے۔

اس میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی ، فاطمہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حسن و حسین کو کساء کے نیچے جمع کیا ان کے علاوہ کسی غیر کو آنے کی اجازت نہیں دی، تو یہ آیت:( اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲ ) نازل ہوئی۔( ۱ )

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیثیں اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں کو اہل بیت قرار دیا ہے ،چنانچہ آیت تطہیر کے نزول کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی، فاطمہ ، حسن و حسین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا:''اللّهم هولاء أهل بیتی، فاذهب عنهم الرّجس و طهّر هم تطهیرً '' اے اللہ یہی میرے اہل بیت ہیں ، ان سے رجس کو کثافت کو دور رکھ اور ان کو اس طرح پاک رکھ جیسے پاک رکھنے کا حق ہے ۔ ام سلمہ نے کہا: اے اللہ! کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بھی ان میں سے ہوں ۔تو آپ نے فرمایا: تم اپنی جگہ پر رہو، تم خیر پر ہو۔( ۲ )

جو روایتیں اہل بیت کو پنج تن پاک میں محدود و منحصر کرتی ہیں ان کے غیر کو نہیں ، ان روایات میں بہت سی صحیح بھی ہیں ، ان میں چون و چرا کی گنجائش نہیں ہے، ان کو ترمذی ، طہاوی، ابن اثیر جزری نے اور حاکم نے مستدرک میں اور سیوطی نے در منثور میں بہت سے طریقوں سے نقل کیا ہے، یہ صحیح روایات ان اہل بیت کی تعیین و تشخیص میں ہیں جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جن کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کساء کے نیچے جمع کیا تھا۔

اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب صبح کی نماز کیلئے نکلتے تو فاطمہ زہرا کے دروازہ پر جاتے اور فرماتے تھے:

____________________

(۱) صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل الحسن و الحسین، مستدرک الصحیحین: ۳ سنن بیہقی:۱۴۹۲ وغیرہ

(۲)صحیح ترمذی: ۲ ۲۰۹


''الصلوٰة یا أھل البیت،( اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲ ُلِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَهلَ البَیتِ وَ یُطَهِّرَکُم تَطهِیرًا ) ''۔( ۱ )

سیوطی نے اپنی کتاب در منثور میں اس آیت:( وَأمُر أهلَکَ بِالصَّلوٰةِ ) ) کی تفسیر کے سلسلہ میں ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت :( اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲ ) نازل ہوئی تو حضرت رسالت مآب آٹھ ماہ تک نماز صبح سے پہلے حضرت علی کے دروازہ پر آتے اور کہتے تھے:''الصلاة رحمکم اللّہ''۔

نماز، خد اتم پر رحم کرے:( إنَّمَا یُرِیدُ اﷲ ُلِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَهلَ البَیتِ وَ یُطَهِّرَکُم تَطهِیرًا ) ( ۲ ) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عمل کو اصحاب دیکھ رہے تھے۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ چاہتے تھے کہ وہ اہل بیت معین ہو جائیں کہ جن سے خد انے رجس کو دور رکھا اور ایسے پاک رکھا جیسا پاک رکھنے کا حق ہے ، چنانچہ جب ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ اہل بیت کون ہیں ؟اور ان سے خد انے رجس کو دور رکھا ہے اور اس طرح پاک رکھا ہے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے ،تو ہمیں یہ معلوم ہوجائیگاکہ اہل بیت کون ہیں اور امامت اور فقہی مرجعیت آخری زمانہ تک انہیں میں محدود رہی، یہی پنجتن ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے جیسا کہ قرآن گواہ ہے وہ حق اور سچ کہتے ہیں جیسا کہ قرآن گواہ ہے اور امامت اور فقہی و ثقافتی مرجعیت ان سے ہی متصل رہے گی، جیسے زنجیر کی کڑیاں ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں ، امام سابق کی وصیت سے، یہاں تک کہ اس کا سلسلہ پہلے امام حضرت علی تک پہنچ جائیگا ۔ اس سے بارہ ائمہ معین ہو جاتے ہیں جن کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث میں اشارہ ہو اہے۔

____________________

(۱)صحیح ترمذی: ۲ ۲۰۹

(۲) تفسیر درمنثور میں سورہ طٰہٰ ، آیت: ۱۳۲ کے ذیل میں


فہرست

حرف اول ۴

اجمالی فہرست ۸

پیش گفتار ۹

اہل بیت کے شیعہ کون ہیں ۹

۱۔اہل بیت کی سیاسی امامت ۹

۲۔ اہل بیت ، فقہی و ثقافتی مرجعیت ۱۳

اہل بیت سے نسبت اور محبت کی قدر و قیمت ۱۷

محبت اہل بیت کی اہمیت خدا و رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں ۱۷

علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں ۱۷

علی اور ان کے شیعہ بہترین خلائق ہیں ۱۸

اسلام میں محبت اہل بیت کا مقام ۲۰

رافضی کون ہیں ۲۱

ہرمحبت کا دعویدار شیعہ نہیں ہے ۲۳

مومنین اہل جنت کے لئے ایسے ہی درخشاں ہیں جیسے آسمان پر ستارے ۲۳

وہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں ۲۴

شیعہ اہل بیت کی نظر میں ۲۵

اہل بیت اپنے شیعوں سے محبت کرتے ہیں ۲۵

اہل بیت کے شیعوں پر اور شیعوں کے اہل بیت پر حقوق ۳۰

اہل بیت سے محبت اور نسبت کے شرائط ۳۱


اہل بیت خدا سے شفاعت کریں گے اور اس سے بے نیاز نہیں ہیں ۳۳

تقویٰ اور ورع ۳۵

تعبدو بندگی ۳۹

رات کے عابد دن کے شیر ۴۴

شب و روز میں اکیاون رکعت نماز پڑھتے ہیں ۴۵

آپس میں ملاقات و محبت ۵۲

ایک دوسرے پر مومنین کے حقوق ۵۴

مومن کی حرمت اور اس کی محبت و خیر خواہی ۶۰

مومن، مومن کے لئے ایک بدن کی مانندہے ۶۱

عام مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک ۶۲

اعتدال و میانہ روی اور موازنہ ۶۶

حفاظتی اور سیاسی ضوابط ۶۷

اہل بیت کی محبت و عقیدت سے متعلق کچھ باتیں ۷۰

مفہوم ولاء ۷۰

تصدیق ۷۲

عضوی نسبت ۷۲

برات و بیزاری ۷۶

ولاء اور توحید کا ربط ۷۷

سلام و نصیحت ۸۳

نصیحت ۸۴


نمونۂ عمل اور قیادت ۸۶

رنج و مسرت ۸۸

ہمراہی اور اتباع ۹۱

ثقافتی اتباع ۹۱

طاعت و تسلیم ۱۰۰

توحید میں طاعت ۱۰۱

تسلیم ۱۰۱

مدد اور انتقام ۱۰۴

محبت و مودت ۱۰۶

اثبات و ابطال ۱۱۱

میراث و انتظار ۱۱۱

زیارت ۱۱۸

زیارت اس استحکام کا اہم عامل ہے ۱۱۹

مکتب اہل بیت سے منسوب ہونے کے طریقے ۱۲۰

دنیا و آخرت میں محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ ۱۲۰

وہ ہم سے اور ہم رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تمسک رکھتے ہیں ۱۲۲

جو چیز خدا انہیں آخرت میں عطا کرے گا ۱۲۴

ہمارے ساتھ اور ہم میں سے ۱۲۶

فلاح و کامیابی ۱۲۷

تولیٰ و تبریٰ کے سبب شہیدوں میں شرکت ۱۲۷


استدراک و الحاق ۱۳۵

اہل بیت کون ہیں ۱۳۵

رسول کے بارہ امام ہوں گے ۱۳۶

آیت تطہیر ۱۳۶


اہل بیت کے شیعہ

اہل بیت کے شیعہ

مؤلف: آیة اللہ محمد مہدی آصفی
زمرہ جات: ادیان اور مذاھب
صفحے: 142