یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)
مؤلف : آیةاللہ مصباح یزدی
تدوین : محمد مہدی نادری قمّی
مترجم : سید عترت حسین رضوی
مصحح : مرغوب عالم
نظر ثانی : ہادی حسن فیضی
پیشکش :معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ
کمپوزو گرافک : رضا عباس خان
ناشر : مجمع جہانی اہل بیت (ع)
طبع اول : ۱۴۲۷ھ ۲۰۰۶ ء
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علام آیة اللہ جناب محمد تقی مصباح یزدی مدظلہ کی گرانقدر کتابکاوشھا و چالشھا'' کو جناب مولاناسید عترت حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت
پیش گفتار
حوزئہ علمیہ اوریونیورسٹی کے درمیان ارتباط ایک مبارک شئے ہے جسکے نتیجے بہت ہی اچھے سامنے آرہے ہیں اسکے بر خلاف معاشرہ پراثرانداز ہونے والے ان دو رکنوں میں جدائی بہت ہی بڑے نقصان کا سبب بنتی ہے ۔اس طرف توّجہ دینے اور اس نیک ارتباط کو بر قرار رکھنے کے لئے انقلاب اسلامی سے پہلے حوزئہ علمیہ اور یونیورسٹی دونوں طرف کے بہت سے لوگ اس کام میں فعّال تھے اور اس مسئلہ کی اہمیت کو محسوس کرتے تھے اور اسکی اسٹراٹجی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ یہ وسیع اور مستحکم رابطہ برقرار رہے ۔
مختلف بے نظیر شخصیات جیسے شہید بہشتی؛شہید مطّہری؛شہید مفتّح؛ڈاکٹر باہنر اور دوسرے دور اندیش عالموں کا یونیورسٹی میں آنا انکی روشن بینی اور تیز نظری کی علامت اوراس ارتباط کو بڑھانے میں اہم قدم تھا،یونیورسٹیوں کے ایسے متعدداساتید کی بھی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن لوگوں نے اس ارتباط کی ضرورت اور اہمیت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اس ضمن میں بہت کوشش کی ہے یہ کوششیں انقلاب اسلامی کی کامیابی اوریونیورسٹی اور حوزہ کے درمیان اتحادکے نعرے کے بعدجوکہ انقلاب اسلامی کے معمار بزرگ حضرت امام خمینی کی طرف سے دیا گیا تھا بہت وسیع ہو گئیں، اگر چہ اس وقت بھی اس راستے میں بہت سی رکاوٹیں اور مشکلات ہیں نیز منزل مقصود تک پہونچنے کے لئے راستے میں بہت سے مشکلات پائے جاتے ہیں لہٰذا پہلے ان کو دور کیا جائے لیکن پھر بھی چشم دید تجربے اس بات کو بتاتے ہیں کہ ان دونوں صنفوںیعنی حوزہ اور یونیورسٹی کے درمیان نزدیکی اور رابطہ جتنا زیادہ ہوگا]کیونکہ یہ دونوں محکم قلعے ہیں [ اور جس قدر دونوں صنف کے افراد کے خیال اور تفکّر نتیجے تک پہونچانے والے ہونگے وہ قوم کے لئے مفید ہوگا اور معاشرہ انکے فوائدسے مستفید ہوگا اسکے بر خلاف ان کے درمیان جدائی خود انکے اور معاشرہ دونوں کیلئے نقصان دہ ہوگی ۔
منجملہ ان لوگوں کے جنھوںنے برسوںپہلے سے اس رابطہ کی ضرورت اور اہمیت پر بہت زور دیا ہے مفکّر یگانہ، فقیہ بزرگ ،حضرت آیت.. مصباح یزدی دام ظّلہ ہیں ، ثقافتی انقلاب کے سلسلے میں جو کہ انقلاب کے شروع ہی میں امام خمینی کے حکم سے انجام پایا تھا خود آقائے مصباح یزدی امام خمینی کے خاص معتمدین میں سے تھے اور اس تحریک اورپروگرام کو بنانے نیز اسے آگے بڑھانے کے لئے امام کی طرف سے آپ معےّن تھے ،یہ خود اس بات کی گواہی ہے کہ جناب استاد مصباح یزدی مختلف سالوں سے اس ارتباط پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ۔اسی رابطہ کے ذیل میں ایک سال یا کچھ زیادہ وقت سے یونیورسٹی کے بعض متعہّد اور متفکّراساتیدنے ایک شعبہ اسی مقصدسے قائم کیا ہے منجملہ اور کاموں کے ایک ماہانہ نششت بھی آقائے مصباح یزدی کی موجودگی میں منعقد ہوتی ہے ان نششتوں میں اساتید جوعنوان پیش کرتے ہیں ، استادمحترم انھیں عنوان پربحث اورگفتگوکرتے ہیں نششتوں کو منعقد کرنے والی تنظیم]شعبہ اساتید دانشگاہ علم وصنعت[کی یہ خوا ہش تھی کہ چونکہ یہ تقریریں علمی لحاظ سے بہت عمدہ ہیں نیز اس وقت معاشرہ کو اس کی ضرورت بھی ہے لہٰذا ن کو با الترتیب چھاپ کر لوگوں تک پہونچایا جائے خدا کا شکر ہے کہ اس وقت محمد مہدی نادری قمی ( جوکہ موسّسہ آموزشی اورپژوہشی امام خمینی کے رکن اور جناب استاد کے شاگرد بھی ہیں ) کی کوششوں سے نوتقریروں کو کتاب حاضر کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے امّیدہے کہ آئندہ بھی اس سلسلہ کوجاری رکھتے ہوئے ملک کے علمی ،ادبی ،اور ،وہ تمام افراد جو علم سے شغف رکھنے والے ہیں انکی خدمت میں یہ مطالب پیش کرتے رہیں گے۔
انتشارات موسّسئہ پزوہشی امام خمینی
تہذیب وثقافت کے سلسلے میں ہما ری ذمہ داری - ۱
خدا وند عالم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے محترم اساتید کے درمیان حاضر ہونے کی تو فیق عطافرمائی امید کرتا ہوں کہ یہ نیک اور مبارک قدم ہوگا ان عظیم اور سنگین ذمہ داریوں کو انجام دینے کی جو ذمہ داریاںاس خاص دور میں ہمارے اوپر عائدہیں سب سے پہلے میں اس بات کی اجازت چاہتا ہوں کہ ایک مختصر مقدّمہ جو اس ذمہ داری سے متعلّق ہے اسکو بیان کروں اسکے بعد اللہ کے فضل وکرم سے آئندہ جلسوں کے جو موضوعات دوستوں کے سامنے ہیں ان کے بارے میں تفصیل سے بحث کروں گا
مذہب اسلام مین ایک دستور(قاعدہ )ہےطاقت کے مطابق ذمہ داری'' یعنی خداوندعالم نے جسکو جتنی نعمت عطا کی ہے اور جس قوّت و استعداد کا اسکو مالک بنایا ہے اسی کے مطابق اسکو ذمہ داری عطاکی ہے (انسان کی ذمہ داری)یہ ایک ایسا اہم موضوع ہے جو بہت ہی زیادہ تفصیل چاہتا ہے اس سے پہلے کہ اصل موضوعقوت و طاقت کے اعتبار سے ذمہ داریکے بارے میں بحث ہو اس سلسلے میں مختصر وضاحت پیش کی جاتی ہے۔
انسان جواب دہ ہے یا حقوق طلب
اس بات کے علاوہ کہ انسان خودفطری طور پر اس بات کو محسو س کرتاہے کہ وہ جانوروں کی طرح آزادنہیں ہے کہ بغیر ذمہ داری کے جیسے چاہے ویسے زندگی بسر کرے ،مختلف ادیان بھی اس بات پر تاکید کرتے ہیں شاید آپ نے سنا ہوگا مشہور فلسفیاما نوئل کانٹ''کہتا ہے کہ دنیا میں دو چیزوں نے مجھکو بیحدمتأثر کیا ہے اور میرے لئے تعجب اور حیرانی کا باعث ہیں ایک آسمان میں ستاروںکا ہونا دوسرے انسان کے اندر اسکی فطرت کی آواز، اور فطرت بہت ہی خوبصورت آواز ہے جو انسان کے اندر موجود ہے بہر حال انسان اپنی اس فطرت اوّلیہ کے باعث کم و بیش اس بات کا احساس کرتا ہے کہ ایک طرح کی ذمہ داری اسکے اوپر ہے البتہ اس فطری احساس کا واضح اور ثابت ہونا یہ ایک علیحدہ بحث ہے جس کواس وقت بیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔
انسان فطرتاً جواب دہ اور ذمہ دارہے اس نظریہ کے مقابل ایک دوسرا قدیمی نظریہ جو پایا جاتا ہے اور آخری چند برسوں میں اسے خاص رونق وشہرت ملی ہے وہ یہ کہ انسان کو اپنے حقوق حاصل کرنے اور لینے کے لئے جہان ،طبیعت ،خدااورحکومت سے کوشش کرنی چا ہئیے یہ فکر پرانی ہو چکی ہے کہ انسان ذمہ دار اورمکلّف ہے یہ گذرے ہوئے زمانے کی باتیں ہیں اب وہ زمانہ ختم ہو چکا ہے کہ انسان کو سکھایا جائے کہ وہ بندہ ہے اور خداا اسکا مولا ہے بلکہ اب وہ زمانہ ہے کہ انسان ہی آقامولا ہے آج وہ دور نہیں رہاکہ انسان تکلیف اور ذ مہ داری کے پیچھے دوڑے بلکہ زمانے نے اسکے جن حقوق کو بھلا دیا یا ضا ئع کر دیا ہے ان کے لیٔے کوشش کرے ۔
بہرحال اس دوسرے نظریہ کے برخلاف، جیسا کہ اشارہ کیا گیا ہے عقل ووجدان اور انسانی فطرت گواہ ہیں کہ انسان ذمہ دار ہے اور ذمہ داریاں اسکو گھیر ے ہوے ہیں اور انسان ذمہ داریوں کا جواب د ینے والاہے تمام ادیان بھی اس بات پر اتّفاق رکھتے ہیں ، قرآن کریم کی اکثر آیات انسان کے ذمہ دار ہونے کو بتاتی ہیں قرآن مجیدمیں خدا فرماتا ہے :( فوربّک لنسئلنّهم اجمعین عمّا کانوا یعملون ) ( ۱ ) تمہارے خدا کی قسم جوکچھ وہ انجام دیتے ہیں اسکے بارے میں سوال کیا جائے گاپھر ارشاد ہورہا ہے:( ولتسئلنّ عماّتعملون ) ( ۲ ) یعنی تم جو کچھ بھی انجام دیتے ہو اس کے بارے میں ضرور ضرور سوال ہوگا ایک جگہ اور ارشاد ہوتا ہے:( انّ السمع والبصر و الفو اد کل اولٰیک کان عنه مسئولا ) ( ۳ ) یعنی آنکھ کان اور دل سب کے بارے میں سوال ہو گا ۔
____________________
(۱) سورہ حجر : آیہ ۹۲و ۹۳۔
(۲)سورہ نحل : آیہ ۹۳۔
(۳)سورہ اسرا :آیہ ۳۶
اور بندوں سے سوال کے بارے میں دوسری جگہ اسی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:( وقفوهم انهم مسئولون'' ) ( ۱ ) ان لوگوں کو روکو ان سے سوال کرناہے ایک جگہ اور قرآن میں فرماتا ہے :( وکان عهدالله مسئولا ) ( ۲ ) اور خدا کا عہدو پیمان ہمیشہ قابل سوال ہے''ایک جگہ اور فرماتا ہے( ثم لتسئلنّ یو مئذٍ عن النعیم ) ( ۳ ) اس دن (قیامت کے دن ) خدا کی نعمت کے بارے میں سوال ہوگا۔
____________________
(۱)سورہ صافات : آیہ ۲۴۔
.(۲)سورہ احزاب : آیہ ۱۵۔
(۳)سورہ تکاثر : آیہ ۶۔
طاقت اور ذمہ داری کا توازن
انسان اپنے اوپر ذمہ داری رکھتا ہے اس اصل میں کویٔ بحث نہیں ہے لیکن جس نکتہ کی طرف توّجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ یہ ذمہ داری ہر دور میں سبھی لوگوں پر برابر نہیں ہے بلکہ مختلف وجوہ کی بنا پرہر ایک پر علیحدہ طریقے سے عائدہوتی ہے اور سب پر الگ الگ طرح سے ہے ۔
ایک وجہ جو ایک شخص کے لیٔے ذمہ داری کو دوسرے سے جدا کرتی ہے وہ یہی طاقت و قوّت ہے جو ہر ایک میں الگ الگ پائی جاتی ہے یہ وہی قاعدہ(طاقت کے مطابق ذمہ داری) ہے جسکی طرف ہم نے شروع میں اشارہ کیا، چونکہ لوگوں کی طاقت و قوّت، انکی ذہنی استعداد، انکی جسمانی اور روحانی طاقت نیز انکا اجتماعی مقام وغیرہ ایک جیسا نہیں ہے لہٰذا ان افراد کی ذمہ داری بھی ایک جیسی نہیں ہے ،قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( لا یکلّف الله نفساً الاّ وسعها ) ( ۱ ) یعنی خدا کسی کو قدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک کام جو صدر یا وزیر اعظم اپنے منصب و مقام کے سبب انجام دے سکتا ہے وہ ایک معمولی عہدہ پر رہنے والا انجام نہیں دے سکتا اسی اعتبار سے ان لوگوں کی ذمہ داری بھی جدا جدا ہے اور سب کی ذ مہ داری ایک جیسی نہیں ہو سکتی ۔
____________________
(۱) سورہ بقرہ :آیہ ۲۸۶۔
ایک دوسری وجہ جو کہ ذمہ داری کے حوالے سے کمی یا زیادتی کا سبب بنتی ہے وہ ان خطرات کا شدید یا ضعیف ہونا ہے جو کہ ایک شخص یا پوری قوم کو در پیش ہوتا ہے جس قدر خطرات شدید ہونگے اسی اعتبار سے ذمہ داری بھی سخت ہوگی اگر ماحول پوری طرح سے پرامن ہے اور ساری چیزیں کنٹرول میں ہیں تو رات کے وقت بھی آپ سکون و آرام سے سوسکیںگے لیکن اگر قوم ومعاشرے کے اندر نا امنی پائی جاتی ہے اسکے محافظ اورچوکیدار کمزورہیں چور اوراوباش کا خطرہ زیادہ ہے توگھر،مال و اسباب،بیوی بچوّں کی حفاظت کے حوالے سے آپ کی ذمہ داری میں اضافہ ہو جائے گااگر یہ بات عام ہو جائے کہ بازار میں زہریلی غذا ئیںپائی جاتی ہیں تو انسان اس سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں غور و فکر کرے گا اور ایک خاص ذمہ داری کا احساس کرے گا ۔بہر حال خطرہ جتنا زیادہ بڑا ہو گا اتنا ہی انسان کے اندرذمہ داری کا احساس زیادہ ہوگا اور وہ سوچے گا کہ ایسی حکمت عملی اختیار کرے جسکی وجہ سے وہ خطرات سے دور رہ سکے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ قاعدہ مقام اثبات سے مربوط ہے یعنی جب ہم خطرہ کو لمس اور محسوس کریںیا احتمال ہوکہ خطرہ موجود ہے یا خطرہ کا امکان پایاجارہاہو یعنی خطرہ کا ہونا کسی بھی طرح ہمارے لیٔے ثابت ہو جائے، لیکن کبھی کبھی واقعاً اور حقیقتاً خطرہ موجود رہتا ہے مگر چونکہ ہم اس سے ناواقف ہیں یا خطرہ ہمارے لیٔے ثابت ہی نہیں ہوتا لہٰذا اس سے بچنے کی تدابیر نہیں کرتے چاہے یہ خطرہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جب ہم کو اطّلا ع ہی نہیں ہے تو اس سے نمٹنے کے لئے کچھ بھی نہیں کرینگے لہٰذا پہلے خطرہ کااحساس کریں پھر اسکے بعد اپنی ذمہ داریوں کو اس کے مقابلے میں درک کریں۔
حوزئہ علمیہ ا و ریونیورسٹی کے اساتذہ کی ذمہ داریاں
بہر حا ل جو کچھ اس تقریر میں آپ لوگوں سے مربوط ہے وہ یہ کہ مختلف لحاظ سے دوسروں کی بہ نسبت آپ لوگوں کی ذمہ داریاںسنگین اور زیادہ ہیں ۔ جن میں ایک وجہ یہ ہے کہ خدا وندعالم نے آپ کو ذاتی قوّت و استعداد عنایت کی ہے اگر یہ عنایت نہ ہوتی توآپ یونیورسٹی کے استاد نہ ہوتے یہی ہوش اور علمی صلاحیت نیزاعلیٰ تحقیق و تعلیم جو آپ کے پاس ہے اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ آپ کی صلاحیت دوسرے لوگوں سے زیادہ ہے ۔
دوسرے یہ کہ اجتماعی حیثیت کی وجہ سے جو اثر نوجوان افراد اور طالب علموں پر آپ ڈال سکتے ہیں اسکی وجہ سے آپ کی ذمہ داری زیادہ ہوجاتی ہے اس لئے کہ معمولی افراد حتیّٰ ادارے اور وزارتی امور کے ذمہ دار بھی نو جوانوں پروہ اثر نہیں ڈال سکتے جو آپ لوگوں کی ذات سے ممکن ہے آپ ہی حضرات نوجوانوں کی تربیت اور انکی فکروںکو پختہ کرکے در حقیقت ملک کومضبوط بناتے ہیں اور آئندہ کی تاریخ رقم کرتے ہیں یہی وہ نوجوان ہیں جو بہت جلد ملک کے عظیم عہدہ پر فائزہونگے رہبر سے لیکرصدر یا پارلیمانی امور کے ممبران اور دوسرے عہدوں پر متمکّن ہونے والے افراد سب کے سب اسی حوزئہ علمیہ اور یونیورسٹی کے جوانوں میں سے ہونگے اب استاد چاہے
یونیورسٹی کا ہو یا حوزئہ علمیہ کا اس کی ذمہ داری اس لحاظ سے عظیم اور دوسروں کی بہ نسبت زیادہ سنگین ہے تیسری بات جو ہماری اور آپ کی ذمہ داریوںکے زیادہ سنگین ہونے کا سبب ہے وہ درحقیقت زمانے کے خاص حالات کے تحت ہے اس وقت ہم ایسے ماحول اور شرایٔط میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں دشمن کا خطرہ خاص طور پر آداب و رسوم نیزتہذیب وتمدّن کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے اور ہم دشمن کے حملہ اور اسکے نفوذ کو اچھی طرح محسوس کر رہے ہیں ۔کل تک جو کہہ رہے تھے کہ یہ ایک کلچر اور تہذیب کا دوسرے کلچر اور تہذیب کے ساتھ معاملہ اور تبادلہ ہے اور اسے سازش کہنا ایک وہم ہے۔میں یہ نہیں سمجھتا کہ جو لوگ تھوڑی سی بھی عقل و فکر رکھتے ہیں یا ان کے اندر تھوڑی سی بھی سوجھ،بوجھ موجود ہے ان پر یہ حقیقت پوشیدہ ہوگی تہذیب اور کلچر کا خطرہ اس معاشرہ میں ، خاص طور پر نوجوانوں کے لیٔے بہت خطرناک ہے اگر ہم نے دیر کی اور دشمن کے نفوذ اورانکے اثرات کو نہیں روکا تو بہت جلد ہم اس بات کا مشاہدہ کرینگے کہ ہماری تہذیب اور ہماراکلچربالکل پوری طرح سے بدل چکا ہوگا آجکل دشمن کے ہاتھ میں نئے الکٹرانک وسائل، سٹلائٹ ،اینٹرنیٹ اور دوسرے امکانات پہلے سے زیادہ منظّم طریقے سے پائے جاتے ہیں اور دشمن اپنی کوشش اورفعالیت کو روز بروز بڑھا رہا ہے اور بہت تیزی سے کہ جس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا یکے بعد دیگرے تہذیب و تمدّن کے قلعے مسمار کئے جا رہا ہے۔
آ ج کی دنیا میں تہذیبی اور اخلاقی انحطاط
آج دنیا میں اخلاقی اور تہذیبی آلودگی اور پستی کا عالم یہ ہے کہ مغربی ممالک کے افراد بھی اس سے تنگ آگئے ہیں اور وہ لوگ خود اس کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں یقینا آپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہونگے یہاں صرف ایک مورد کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے(جو ہزاروں میں ایک ہے) ۔
قرآن کریم میں ایک واقعہ ذکر ہوا ہے جسکی اس نے سختی سے مذمّت کی ہے اور وہ قوم لوط کا واقعہ ہے۔ قوم لوط کے لوگ اس برے فعل کو انجام دیتے تھے اور وہ لوگ اس بری بیماری میں مبتلا تھے وہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کی آگ کو اپنی ہی جنس کے افراد سے بجھاتے تھے جبکہ جنسی خواہشات کی تسکین کے لئے صنف مخالف موجود تھیںانکے اس عمل کو بہت ہی بری صفت قرار دیا ہے۔
خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :ا نّکم لتاتون الفاحشةما سبقکم بھا من احدمن العالمین''( ۱ ) یعنی تم لوگ ایسا برا فعل انجام دیتے ہوکہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے کسی نے اس فعل کوانجام نہیں دیا۔ آخر کاروہ لوگ اسی برے کام پر مصررہے اور ان لوگوں نے حضرت لوط کے موعظہ اور نصیحت پر کوئی توّجہ نہیں دی پھر خدا وندعالم نے ان پر عذاب نازل کیا اوران لوگوں کوصفحہ ہستی سے مٹادیا ۔یہ قصّہ ایک
____________________
(۱)سورہ عنکبوت : آیہ ۲۸۔
چھوٹے شہرمیں وہ بھی دنیا کے ایک کنارے بسنے والے ہزاروں سال پہلے چندافرادسے متعلّق تھا لیکن آج آپ دنیامیں دیکھیںکہ کیاہورہاہے خودمغربی ممالک کے افرادجو عندیہ اوراشارہ دے رہے ہیں اسی اندازے کے مطابق دنیا کے تقریباًپچاس فیصدی سے زیادہ بڑے بڑے لوگ اس بری عادت میں مبتلا ہیں حتّیٰ بات یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ لوگ ہم جنسوں کی حمایت میں کھلے عام پر سڑکوں پرآکر مظاہرہ کرتے ہیں اور ریلی نکالتے ہیں بعض ممالک میں پارلیمانی امورکے ممبران نے سرکاری طورپراس قانون کو منظور کروا یاہے اورقانون بنا کراسکوجائزقراردیاہے آج دنیا کے بہت سے علاقوں میں ہم جنسوں نے تنظیم اورکلب کے ساتھ اپنے لئے مخصوص جگہیں بنا لی ہیں اسکے علاوہ بعض رسالے اورکتاب خانے بھی انھیں سے مخصوص ہیں ۔
اگرمیں اپنی آنکھ سے نہ دیکھتا تو یقین نہ کرتا ایک بار جب میں نے امریکہ کے شہرفیلاڈیفنا کاسفرکیا اورموقع ملنے پربعض شہروں کودیکھنے گیا انھیں میں سے ایک واشنگٹن شہربھی تھا ایک دوست ]جوکہ آجکل ایران میں نائب وزیر ہیں [انکے ساتھ گاڑی پرسوارہوکرجا رہا تھا راستے میں ایک چوراہے پر بہت بڑا کتب خانہ نظرآیا میں نے اپنے دوست سے کہا کہ بہترہے اس لائبریری کودیکھتے ہوئے چلیں انھوں نے جواب دیایہاں اترنا بہترنہیں ہے میں نے اسکا سبب پوچھا توکہنے لگے کہ یہ لائبریری ہم جنسوں کی ہے اگرہم یہاں اتر گئے توہمیں برائی سے متّہم کیا جائے گا۔ میں نے اسی چوراہے پربہت سے مردوں کوعورتوں کا مختصر لباس پہنے ہوئے دیکھا جواپنے کوسجا سنوارکر دوسروں کے لئے پیش کررہے تھے ۔یہ آج دنیا کی حالت ہے کس قدربے شرمی اورذلّت کا کام ہے !
اب آپ خودہی تصوّرکریں ذرائع ابلاغ اورانٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ کتنی جلدی اورآسانی کے ساتھ اخلاق کوخراب کرنے والے ان جراثیم کوپھیلایا جا سکتا ہے ایسے ہی نہیں مغربی ممالک کے ماہرین تعلیم اورنفسیات سے واقفیت رکھنے والے افرادنے خطرے کا اعلان کیا ہے انھوںنے بچوّں کے غیراخلاقی باتوںسے آگاہ ہونے اورانٹرنیٹ وغیرہ سے ہیجان انگیز تصاویرکے نہ دیکھنے پرسختی سے تاکیدکی ہے آج ہالیوڈجدیدقسم کے تکنیکی اورفنیّ وسائل سے ایسی جذّاب اورپرکشش فلمیں بنا کرساری دنیا میں نشرکررہا ہے جس میں اخلاق کے خلاف بہت ہی غلط تبلیغ کی جا رہی ہے۔ اے کاش یہ سلسلہ یہیں پرختم ہوجاتا مگرایسا نہیں ہے اس سے بڑا بھی خطرہ پایا جا رہا ہے اوروہ فکری انحراف کا خطرہ ہے جس طرح اخلاقی برائیاںآج کی دنیا میں بے نظیر ہیں ویسے ہی فکری انحراف بھی آج کل روزبروزبڑھتا جا رہا ہے کہ اب تک کسی شیطان کے ذریعہ یہ کام انجام نہیں پایا آج تک انسانی عقیدے کو خراب کرنے کا ذریعہ ابلیس تھا لیکن اگروہ بھی بعض انسان نما شیطانوںکی حرکت اوران کے کرتوت کو ملاحظہ کرلے تودانتوں تلے انگلی دبالے انھوں نے ایسا ماحول بنا لیا ہے اور وہ ایسا چھا گئے ہیں کہ اگر کوئی کہتا ہے میں فلاں چیزپریقین رکھتا ہوںتویہ کہتے ہیں کہ عجب بیوقوف اورناسمجھ انسان ہے! ہاں آجکل کے روشن فکروں کی اصطلاح میں انسان کو فخراسی بات پر ہے کہ وہ یہ کہے ہم کو تمام چیزوں میں شک و شبہ ہے اور کوئی بھی چیز دنیا میں یقینی اور ثابت نہیں ہے اورنہ کوئی چیزیقین کرنے کے قابل ہے۔
ہر زمانے میں اسباب ہدایت و گمراہی کے درمیان نسبی توازن کاتحفظ
وہ چیز جو جاننے کے قابل ہے یہ کہ خدا وندعالم کی وسیع حکمت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر زمانے میں جس قدر برائیاں اور اخلاق کو گمراہ کرنے والی چیزوں کی زیادتیاں اور انکے اسباب کی کثرت ہوگی اسی اعتبار سے انسانوں کو راہ راست اور ہدایت کی طرف لے جانے کے اسباب بھی فراہم ہونگے یعنی خدا وند عالم ہر زمانے میں ہدایت اور ضلالت دونوں طرف کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ گمراہی کاماحول معاشرہ پر اس قدرغالب ہو جائے کہ جو طالب ہدایت ہیں وہ اس سے محروم رہ جائیں۔ اگر آج اطّلاعات اورمواصلات کے نئے نئے ذرائع گمراہیوں کے لئے فراہم ہیں تو یہی نئی ایجادات اور وسائل انسان کی ہدایت اور اصلاح کا ذریعہ بھی بنتے ہیں جبکہ یہ اسباب پہلے نہیں پائے جاتے تھے ۔آج دنیا میں ایسے بہت سے افراد ہیں جنھوں نے اسلام کو انٹرنیٹ کے ذریعہ پہچانا ہے اور وہ مسلمان ہو گئے ہیں ۔ اگر ریڈیو ،ٹی وی ،سنیما ، انٹرنیٹ اور سٹلائٹ وغیرہ لوگوں کو گمراہ، فکروں کو خراب اور انکے ا خلاق کو پست کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو انہیں ذرائع کے ذریعہ بہت سے لوگ اسلام، انقلاب،ایران اور امام خمینی کے نام سے واقف اور آگاہ ہوئے ہیں اور انکی جانب متوجّہ ہو کر وہ مسلمان ہو گئے ہیں ۔دنیا میں بہت سے حصّوں کے مسلمانوں نے جب سٹلائیٹ اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ اما م خمینی کے پیغام کو سنا اور انکے راستے سے متعارف ہوئے تو ان لوگوںنے شیعہ مذہب کو اختیار کرلیا ۔
ایک بار میں سنگا پور میں ایک تاجر کا مہمان ہوا اسکی تجارت کمپیوٹر سے متعلّق تھی اس نے بتایا کہ شروع میں میں وہابی تھا لیکن جب میں نے امام خمینی کے متعلّق معلومات حاصل کی اور انکی باتوں کو سنا اور انکی تحریک کا مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ واقعی اسلام یہی ہے جسکو امام خمینی بتا رہے ہیں بہر حال اسکے بعد میں نے شعیہ مذہب قبول کر لیا ۔
میرا وہ سفر جو امریکہ کے چندجنوبی ممالک سے متعلّق تھا جیسا کہ مجھے یاد ہے ان میں ایک ملک شیلی بھی تھا اس ملک کے ذمہ داروں اور یونیورسٹی کے سر براہان نے مجھ سے کہا کہ ہم اپنے ملک کے جوان طبقہ اور انکے مستقبل کے سلسلے میں بہت فکر مند ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں؟ ہم ان نوجوانوں کو اس یونیورسٹی میں آپ کے حوالے کرتے ہیں آپ انکی تربیت اپنی روش کے مطابق انجام دیں ہم آپ کو تمام سہولیات دیتے ہیں آپ ایک پروگرام کے تحت انکی تربیت کریں اس لئے کہ ہم کو اطمینان ہے کہ دنیا میں تربیت کے جتنے ذرائع ہیں ان میں مسلمانوں کی روش سب سے بہتر ہے۔ اس یونیورسٹی کا نائب مختلف شعبوں کو پہچنوانے او ر اس کی راہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ تھا جب ظہر کا وقت ہوا تو ہم نے کہا ہم ظہر کی نماز پڑ ھنا چاہتے ہیں چنانچہ ایک جگہ ہمارے لئے معےّن ہوئی اور ہم لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے یونیورسٹی کا نائب جو کہ عیسائی تھا اس نے بھی ہم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی ہمیں بہت تعجّب ہوا اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم آپ لوگ نماز میں کیا پڑھتے اور کیا کہتے ہیں ؟ لیکن یہ سجدہ کی حالت مجھکو بہت اچھی لگی اور میرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی نماز پڑھوں ۔
ہاوانا ]یہ ایک ایسے ملک کی راجدھانی ہے جو پچاس سال تک کمیونزم کے زیر تسلّط رہ چکا ہے اورآج بھی ہے [وہاں کے ایک بزرگ پروفیسر جو کہ پیدائشی طور پر اسپین کے رہنے والے ہیں اوروہاں تاریخ کے استاد ہیں وہا ں جتنے بھی اساتید ہماری میزبانی کر رہے تھے ان لوگوں کے درمیان یہ شخص بلند ہوا اور تقریر کرتے ہوئے اس نے کہا کہ میں جوانی کے عالم میں اس بات کی خواہش رکھتا تھا کہ میں دو شخصیات کے بارے میں مطالعہ کروں اور تحقیقات کر کے تفصیلی معلومات حاصل کروںایک پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم ]جو کہ ایک عالمی شخصیت کے مالک تھے [دوسرے خےّام جوکہ ایک ایرانی دانشمند ہے لیکن آج کل کافی دنوں سے میرے اندر ایک نئی شخصیت کے بارے میں جستجو کرنے کی خواہش ہو گئی ہے جس خواہش نے ان دونوں پرانی خواہشوں کوبھلا دیا ہے آج میں چاہتا ہوں کہ ایک ایسی شخصیت کے بارے میں معلومات حاصل کروں جس نے دنیا میں انقلاب برپاکردیا ہے اور وہ ذات امام خمینی کی ہے یہاں پر وہہاواناکا ضعیف استاد جذباتی ہو گیا اس نے اپنے اندر عجیب کیفیت پیدا کر لی وہ دو بار میرے سامنے جھکا اور اس نے میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور خواہش کی کہ ایک اسپینی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن اسکو دوں کہاں''ہاواناجہاں نصف صدی تک کمیونسٹ کی حکومت تھی وہاںایک یونیورسٹی کا استاد جو کہ سب سے ضعیف تھا اسکی یہ خواہش؟
میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہ تصوّر نہ کریں کہ گمراہی کے وسائل بہت زیادہ ہو گئے ہیں اور گمراہی ہر طرف پھیل چکی ہے اب کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے پانی سر سے اوپر ہو چکا ہے چاہے ایک بالشت ہو یا سو بالشت، ڈومنے کے لئے کافی ہے یہ تصّور بالکل غلط ہے مایوسی اور ناامےّدی کی حالت ہمارے اندر کبھی بھی نہیں ہونا چاہئے، خدا وند عالم نے اس دنیا کو انسان کی ترّقی اور کمال کے لئے پیدا کیا ہے اس کی ذات اس بات سے منزّہ ہے کہ دنیا کو چھوڑ دے اور کچھ شیطان نماانسانوں کے حوالے کر دے اور لا پرواہ ہو جائے ایسا ہر گز نہیں ہے، اگر گمراہی اور انحرافات کے وسائل زیادہ ہیں تو ہدایت و اصلاح کے راستے بھی نئے نئے سامنے آرہے ہیں جو کسی بھی پیغمبر اور امام کے زمانے میں موجود نہیں تھے ۔
وہ اجتماعی حالات جو آج سماج اور قوم کو بدلنے کے لئے ہیں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں پائے جاتے تھے آپ اسکانمونہ ایرانی انقلاب اور آٹھ سالہ دفاع مقدّس کے تناظرمیں دیکھ سکتے ہیں ۔
یہی جوان جو کہ شاہ کے دور میں پلے بڑھے تھے انکے اندر ایسا انقلاب اور تحوّل آیا کہ وہ با ایمان اور صاحب عرفان ہو گئے کہ ان لوگوں نے ۸ سالہ جنگ کو بہت ہی افتخار اور سر بلندی کے ساتھ فتح کیا اسی دفاع مقدّس میں ایسی قربانی دیکھی گئی جسکی کوئی مثال نہیں ملتی ان لوگوں نے لاجواب اور بے نظیر قربانی پیش کی ، ان لوگوں نے انقلاب کو زندئہ جاویدکر دیا ۔اگر آپ اس زمانے میں اپنی کلاسوں میں ملاحظہ کریں گے تو آپ کو ایسے نوجوان مل جائیںگے جو عرفانی مطالب کو حاصل کرنے کے لئے اسی قدر والہانہ جذبہ رکھتے ہیں کہ گویاسو سال کی منزل کو ایک دن میں طے کر لیں اگر انکی ہدایت اور راہنمائی صحیح طریقے سے کی جائے تو ان میں صبرو ایثار،جذبہ و فدا کاری کی نیز دنیاوی لذّات سے اپنے کو بچانے کی قوت و صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کا ہم نے انقلاب کے دوران اور جنگی محاذ پر مشاہدہ کیا ہے اور ایسی مثالوں کو دیکھا ہے اس نوجوان نسل کی ہدایت ]جو کہ بہترین صلاحیت رکھتے ہیں اور انکی فطرت پاک وپاکیزہ ہے[اور ان کی راہنمائی آج ہم اورآپ اساتیدکے کاندھوں پر ہے۔
اکثر بڑے انقلابات صاحبان علم کی فکروں کا نتیجہ
ہماری بحث ذمہ داری اور مسئولیت کے بارے میں تھی جو مطالب میں نے پیش کئے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو اور زیادہ محسوس کریں، اگر آپ توّجہ کریں تو دیکھںگے کہ جولوگ مختلف شعبوں میں کامیاب ہوئے ہیں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں انقلاب لانے کا سبب واقع ہوئے ہیں نوے فیصد سے زیادہ افراد صاحبان علم ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ یونیورسٹی سے تعلّق رکھتے ہوں یادینی مدارس سے، اقتصادی،اجتماعی،سیاسی اوردینی نیزاسی طرح کے اور دوسرے شعبوں میں آپ اکثر دیکھں گے کہ شروع میں ایک شخص کی کوشش اورپلاننگ ہوتی ہے پھردھیرے دھیرے اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور آخر میں وہ بڑے انقلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ انقلاب اور تحوّل ہمیشہ مثبت اور مفید ہی رہا ہو ان میں منفی اور مضر تحوّلات بھی پائے جاتے ہیں بہت سے ایسے تحوّلات بھی ہیں جو کہ اپنے اندر بہت ہی وسیع پیمانے پر فکری اوراخلاقی انحرافات کے حامل ہیں اور وہ انحرافات بہت ہی خطرناک حد تک پہونچے ہوئے ہیں ، انھیں میں سے ایک انحراف جس کی طرف اشارہ کیا جا سکتاہے مغرب کاجنسی اور اخلاقی انحراف ہے جس کے قائل خود مغربی ممالک کے افراد ہیں کہ اس انحراف کا سبب جرمنی کا مشہور ماہر نفسیات ]زیگمونڈ فرویڈ[نے نفسیاتی بیماریوں کے اسباب و علل کو دیکھ کر نتیجہ نکالا کہ اس جنسی اور اخلاقی انحراف کا سبب جنسی خواہش کا کچلا جانا اور غریزئہ جنسی کا دبایا جانا ہے اور اس پر پہرے کے سبب یہ انحراف ہو رہا ہے اس نے تحلیل و تجزیہ کیا اور اس بیماری کی وسعت کو کم کرنے اور اس سے بچنے کے لئے یہ رائے پیش کی کہ سماج اور معاشرے میں پوری طرح سے جنسی آزادی ہونی چاہئے۔
اگر چہ خود (فرویڈ) اس نظریہ کو ظاہر کرنے میں کوئی قصد و غرض نہیں رکھتا تھا لیکن پھر بھی بہر حال یہ نظریہ اس جنسی اور اخلاقی تنزّلی اورپستی کا باعث بنا جسکا ہم مغربی ممالک میں مشاہدہ کر رہے ہیں البتہ شہوت پرستی اور لوگوں کی ہوس رانی نیزغلط فائدہ اٹھانے والوں کی منفعت طلبی اور وقت سے فائدہ اٹھانے والوں کی کار فرمائیاں بھی اس چیز کے پھیلائو کا سبب بنی ہیں لیکن بہر حال پہلا قدم اسکے پھیلانے میں فرویڈ'' کا تھا، آج کل دنیا میں سب سے زیادہ فائدہ مند صنعت سیکس اور جنسی مسائل سے متعلّق ہے دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی فلمیں سیکسی فلمیں ہیں اور ٹی وی پر جو چینل سیکسی فلمیں نشر کرتے ہیں وہی چینل دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں ان تمام انحرافات کی جڑ اسی ایک ماہر نفسیات کی فکر تھی۔
فکری فسادو انحطاط کے متعلق بھی مارکس ازم کے تفکرّات اور اسکے غم انگیز نتیجوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ستّر سال سے جو فلسفہ نصف کرئہ زمین پر حاکم تھا خود انھیں ملکوں اور جو لوگ ان ملکوں میں انکے پیرو تھے خود انھیں لوگوں کے اعتراف کے مطابق اسکے خطرناک نتائج سامنے آئے ،یہی مارکس ازم کانظریہ تھا جس نے لاکھوں بے دین اورر منکرین خدا کو پیدا کیا جو خدا اور دین سے شدّت جنگ کی ،نیز یہ نظریہ بھی ایک دوسرے جرمنی دانشور'' مارکسکا تھا یہ تو چند مضر اور نقصان دہ تحوّلات تھے،البتہ کچھہ مثبت اور فائدہ مند تحولات بھی علماء اور دانشوروں نے ایجاد کئے ہیں جن سے ہم کو غافل نہیں ہونا چاہئے انقلاب جمہوری اسلامی ایران بیسویں صدی کا مہم ترین تحوّل و انقلاب ہے جس کا دوست اور دشمن سبھی نے اعتراف کیا ہے یہ ایک مذہبی عالم آیت...امام خمینی کی فکروں کا نتیجہ تھا امام خمینی کی شخصیت ایک سے زیادہ نہیں تھی اور اسلحہ ،پیسہ وغیرہ کچھ بھی نہیں رکھتے تھے ان کے پاس صرف ایک بلند فکر تھی ایسی فکر کہ شروع میں تقریباً۹۹ فیصد خاص دوست ا ور احباب بھی یقین نہیں رکھتے تھے کہ یہ فکر عملی ہوجائے گی لیکن سبھی لوگ گواہ ہیں کہ اس شخص نے دنیا سے الگ ایک چھوٹے اور معمولی مکان میں بیٹھ کر مشرق و مغرب کی دو بڑی طاقتوں کو مبہوت کر دیا یہ ایسے عالم میں ہوا کہ امام نہ شہرت کے طالب تھے اور نہ ہی حکومت کے خواہاں، جبکہ یہ عام بات ہے کہ کوئی استاد درس پڑھا کر نکلتا ہے تو تمام شاگرد اسکے پیچھے پیچھے چلتے ہیں لیکن امام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی انکے پیچھے چلے امام خمینی اگر کسی کو دیکھتے تھے تو اسکو منع کرتے تھے کہ وہ راستے میں انکے پیچھے پیچھے چلے، امام خمینی ایسے مرجع تھے کہ جنھوں نے بہت زمانے تک اپنے رسالہ عملیہ کو چھاپنے کی بھی اجازت نہیں دی اور جب اجازت دی تو اس شرط کے ساتھ کہ ایک پیسہ بھی سہم امام علیہم السلام کا اس میں خرچ نہ ہو میں خود اس بات کو جانتا ہوں کہ آپ کا رسالہ عملیہ کن لوگوں کے تعاون سے چھپا تھاآپ ایسی شخصیت تھے جو نہ قدرت کے طالب تھے اور نہ ہی شہرت کے خواہاں ،بلکہ ان دونوں چیز سے گریزاں تھے ۔
آپ کے اندر ایک فکر تھی کہ جس پر بھروسہ کرکے آپ نے ایک بہت بڑا انقلاب برپا کر دیا ایسا تحوّل جس نے دنیا کے سیاسی حالات کو درہم برہم کر دیا یہ سب ایک مثبت فکر کا نتیجہ ہے۔
بہر حال میں اس بات کی تاکید کرنا چاہتا ہوں ایک آدمی،ایک استادخواہ وہ دینی مدرسے کا ہو یا یو نیورسٹی کا(چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) عالمی انقلاب برپا کر سکتا ہے ۔ اگر ہم اس مسئلہ کی کی طرف توجّہ کریں تو ان ذمہ داریوں کے بوجھ اور اسکی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں پھر اس بات کے لئے آمادہ ہونگے کہ اس کے لئے وقت صرف کریں درس اور کلاس کو تعطیل کریں اور بیٹھ کر اس اہم مسئلہ کے بارے میں بحث اور گفتگو کریں اور ملک کے نوجوانوں کے بارے میں فکر کریں، اسلام اور اسلامی معاشرہ سے متعلّق جو کام انجام دینا ہے اسکو پہچانیںاور ان کے متعلق اپنا فریضہ انجام دیں ان تمام مطالب کی طرف توجّہ کرتے ہوئے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فریضہ اور ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ہم کو کیا کرنا چاہئے اس کے جواب سے قبل ایک مقدمّہ بیان کرتا ہوں۔
تہذیبی انقلاب کی اہمیت
میں نہیں جانتا کہ آپ لوگوں کو کتنا یاد ہے لیکن انقلاب اسلامی کے شروع ہی میں مرحوم امام خمینی نے ثقافتی اورتہذیبی انقلاب کے مسئلہ کو پیش کیا اور بہت سے ملک کے تعلیمی ادارے بند ہوگئے تو مختلف ممالک سے لوگ آئے تاکہ اس بات کوملاحظہ کریں کہ امام خمینی نے جو ثقافتی انقلاب کی بات کو کہی ہے آخراس کاراز کیا ہے؟ کیونکہ اس سے پہلے بھی ثقافتی انقلاب فرہنگی کی بات آئی تھی جو کہ چین کے ثقافتی انقلاب سے متعلّق تھی جسکی بنیاد''مائو''نے رکھی تھی بہر حال ساری دنیا سے اہل فکر و نظر اور سیاسی لوگ ایران آئے تاکہ دیکھیں امام خمینی کیا کرنا چاہتے ہیں مجھکو خود یاد ہے کہ ایک یہودی استاد بھی آسٹریلیا سے قم آیا تھا میں نے خود جلسہ میں بیٹھ کر اس سے بحث و گفتگو کی وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر امام خمینی کا تہذیبی انقلاب کیا ہے؟ میں نے اس کو وضاحت کے ساتھ بتایا۔
لیکن افسوس کہ ایسے حالات سامنے آئے کہ امام خمینی اپنے ارمان کو صحیح طریقے سے بیان نہ کر سکے اور اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکے چونکہ نیا نیا انقلاب آیا تھا مختلف مسائل اور مشکلات سامنے تھے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ آٹھ سالہ جنگ ہم پر مسلّط کر دی گئی جو کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ بن گئی ہم کو اس پر بہت ہی امکانات اور قوت و طاقت صرف کرنی پڑی ،بہر حال ملک کے اندر اور باہر شیطان صفت افرادمتحد ہو گئے یہ بھی ایک سبب بنا کہ جو ثقافتی انقلاب امام خمینی کے ذہن میں تھا وہ حقیقی اور عملی صورت اختیار نہیں کر سکا لہٰذا اگر کوئی یہ نتیجہ نکالے کہ بیرونی دبائو اورفوجی محاصرہ اور اقتصادی پابندی اور طرح طرح کی مشکلات ہمارے لئے کھڑی کی گئیں وہ سب صرف اس لئے کیا گیاکہ امام خمینی کا ثقافتی انقلاب کامیاب نہ ہو سکے اس جملہ میں کچھ نہ کچھ ربط ضرور ہے اور اس کو بعید از امکان نہیں سمجھنا چاہیئے، آپ خود بو سینا میں دیکھیں کہ وہاں اتنے ظلم کیوں کئے گئے ؟اور بہت ہی بے رحمی اور پوری دشمنی کے ساتھ ہزاروں مردوں، عورتوں ،بوڑھوں جوانوںحتیّٰ بچوّں کو قتل کر کے انکے سر کیوں جدا کئے گئے؟اور جو لوگ حیوانات کی حفاظت کے لئے انجمن بناتے ہیں اور چند حیوانات کے لئے مظاہرہ کرتے ہیں وہ لوگ بھی انسانوں پر اتنے ظلم و ستم کے بعد بیٹھے دیکھتے رہے اور انکی زبان پر ذلّت و رسوائی کا تالا پڑا رہا اور ان سے کچھ نہ بولا گیا بلکہ اس کے بر خلاف ظالموں کی مالی اور جنگی مدد بھی کرتے رہے، کیا اس کا سبب ثقافتی اور تہذیبی مسئلہ کے علاوہ کچھ اور تھا ؟ کیا ان مسلمانوں کی تعداد دو تین ملین سے زیادہ تھی ؟ یہ نہ زمین رکھتے تھے اور نہ مکان نہ انکی تعداد زیادہ تھی نہ ہی انکے پاس دولت، ہتھیار ،ٹکنالوجی اور کوئی اہم چیز تھی تو ان لوگوں پر اتنا بھیانک حملہ اور ظلم و ستم کیوں ہوا ؟اس کا جواب صرف ایک چیز ہے وہ یہ کہ ان کے پاس صر ف ثقافت اور اسلام کا کلچر تھا وہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے مرکز میں ایک اسلامی ملک ظاہر ہو رہا ہے اور اپنے وجود کا بر ملااعلان کر رہاہے اس سے وہ لوگ خوف زدہ تھے کہ اسلامی فرہنگ اور کلچر دھیرے دھیرے پڑوسی ممالک اور پورے یورپ میں پھیل جائے گااور آگے چل کر پورے یورپ میں ہر چیز کو بدل دے گا لہٰذا ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ آغاز میں ہی اس تحریک کو ختم کر دیا جائے اور یہی کام الجزائر، ترکیہ اور دوسرے اسلامی ممالک میں انجام دیا گیا، آخر کیوں ؟ یہ لوگ اسلام سے خوف زدہ ہیں اسلام کیا ہے؟ اسلام ایک فکر اور فرہنگ ثقافت کا نام ہے تو گویا یہ لوگ ایک فکر اور فرہنگ سے ڈرتے ہیں
اس طولانی مقدّمہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم کو اس سوال کے جواب میں کہ کیا کرنا چاہئے؟ صرف یہی ہے کہ ہم کو ثقافتی کام کرنا ہے یہ ساری بحثیں اس بات کا سبب بنتی ہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنی ذمہ داری کو انجام دیں اور اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دیں کہ یہ فکری اور فرہنگی بحثیں بے فائدہ ہیں اور ملک میں جو کچھ بھی مشکل ہے اسکا تعلّق صرف اقتصاد اور خارجی سیاست وغیرہ جیسے مسائل سے ہے ۔
انقلاب کے ارتقاء میں ثقافتی تحریکوں کا کردار
اسلامی تہذیب وتمدن کو فروغ دینے کے لئے ہم کو اصول اور نظام کی ضرورت ہے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنی تحریک کی راہ و روش کو معین کریں جو حالات ہمارے سامنے ہیں ان کو محسوس کریں اپنے طریقہ کار کو پہچانیں اسی طرح اس تحریک سے متعلّق راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دیکھیں اور ان سے متعلّق جو لازمی تدابیر ہیں انکو اختیار کریں، اس راستے میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہم فکروں کو نئے انداز سے پیش کریں، اپنے مطالعہ کو وسیع اور مضبوط کریں ،فکروں کے اصول کو قائم کریں اصولی اور بنیادی طور پر محکم انداز سے اپنے کام کو شروع کریں۔
انقلاب کے شروع میں ہم لوگ ایک مختصر شناخت رکھتے تھے ہم کو ظالموں اور انکے پٹھّوئوں کے مقابلے میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے اسی مختصرشناخت پر ہم نے حرکت کی اور انقلاب اسلامی کامیاب ہوا اور یہاں تک پہونچا ہے آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی اصول اور قانون کی پابند ہے لیکن ہم کو اس بات پر توّجہ دینی ہوگی کہ اس انقلاب کو باقی رکھنے اور اس کے تحفظ کے لئے یہ تھوڑی سی شناخت کافی نہیں ہے اس حرکت کے آغاز اور انقلاب کی کامیابی کے لئے زیادہ تر احساسات اورجذبات پر بھروسہ تھا جو کہ اسی مختصر شناخت کے ساتھ تھا جس سے کچھ نتیجہ حاصل ہوا لیکن اس راستے کو جاری رکھنے کے لئے صرف اس پر عمل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ہم کو اب اصل میں احساس و عواطف سے ہٹ کر شناخت اوربصیرت کے اسباب پر زیادہ توجّہ دینی ہوگی۔ اب آج نوحہ و ماتم اور نعروں سے لوگوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا البتہ یہ سب چیزیں اپنی جگہ پر باقی رہیں اور محفوظ رکھی جائیں ،لیکن گفتگو اس بات میں ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اموراور تہذیبی مراکز میں کوئی رخنہ وارد نہ ہو اور ہم دشمن کے نفوذ سے محفوظ رہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم غورو فکر کے ساتھ فرہنگ و ثقافت کی طرف خاص توجّہ دیں ۔آج دشمن بھی چالاکی کے ساتھ اس نکتے کو پہچان گیا ہے اس نے اپنی قوی اور مستحکم حرکت کو اقتصادی اور فوج میدان سے ہٹاکر سارے امکانات کو ثقافتی مسائل میں صرف کر رہا ہے اور دشمن اس کوشش میں ہے کہ اس طرح سے انقلاب کے ثقافتی مراکز کو آلودہ اور خراب کرکے دھیرے دھیرے تمام میدان کو اپنے قبضہ و اختیار میں کر لے ،اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ثقافتی شگاف کو روکیں اور دشمن کو اس طرف سے داخل نہ ہونے دیں تو ہمیں چاہئے کہ اس پرا گندگی اور بے نظمی سے اپنے کو نکالیں، اگر ہم یونیورسٹی کے استاد کی حیثیت سے چاہتے ہیں کہ ثقافتی کاموں کو انجام دیں اور اسلام کی قدرو قیمت اور اسکی اہمیت کو نو جوانوں کے ذہن تک پہونچائیں تو سب سے پہلے ہم اپنے کو فکری اور ثقافتی اسلحہ سے لیس کریں
اور اسلامی فکر و ثقافت اور اسکے مبانی و اصول نیز مغربی فکر وثقافت اور وہ شبہات جو کہ وہ لوگ پیش کرتے ہیں اس کو جانیں اور پہچانیں تاکہ معاشرہ خاص طور سے نوجوان نسلوں کے مسائل اور مشکلات اور انکے فکری اور ثقافتی شبہات ومشکلات کو حل کر سکیں اور انکے سوالات کے جوابات دے سکیں ا لبتہ خدا وند عالم خود اپنے دین کا محافظ ہے قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے:( انّانحن نزّلناالذکر واناّ له لحافظون'' ) ( ۱ ) بیشک ہم نے قران کریم کو نازل کیا اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں ۔ اور بیشک خدا وند عالم ان تمام ظلمتوں اور تاریکیوں کے باوجود اسلام اور دین کی کشتی کو ساحل نجات تک پہو نچائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے( هوالذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق ) ۔۔.''( ۲ ) وہ خدا ہے جس نے پیغمبر کو ہدایت اور د ین حق کے ساتھ بھتجا تاکہ اسکو تمام ادیان پرغالب کر دے ہر چند کہ مشرکین اس بات کو نا پسند کریں ۔لیکن اس دین کی حفاظت کیوں نہ ہمارے ذریعہ ہو اور کیوں نہ ہم اس گروہ سے ہوں جن کوخدا وندعالم نے کلمہ حق کی بلندی کے لئے اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے چنا ہے۔ ؟
امید کرتا ہوں کہ خدا وند عالم ہم سبھی لوگوں کو یہ توفیق عنایت فرمائے اورآخر میں اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ آج ہم لوگ اپنی حسّاس اور تا ریخی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اس ذمہ داری کو انجام دینے اور اپنی فکری اور فلسفی خامیوں کو دور کرنے کے لئے ضروری تےّاریاں کریں اور اس بات پر توّجہ دیں کہ اگر خدا نخواستہ اس عظیم کام اور اس ذمہ داری کو انجام دینے میں کوئی کمی یا کوتاہی کی تو خدا وند عالم ، پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان شہداء کی بارگاہ میں جنھوں نے اپنا خون نچھاور کر کے اس پاک و پاکیزہ شجر کو محفوظ رکھا ہم لوگ اس کے جواب دہ ہونگے اور آسانی سے اس سے بچ نہیں سکتے ۔
____________________
(۱)سورہ حجر : آیہ ۹۔
(۲) سورہ صف : آیہ ۹۔
تہذیب و ثقافت کے سلسلے میں ہماری ذمہ داری-۲
خدا وند عالم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے توفیق عطا فرمائی کہ دوبارہ یونیورسٹی کے معظّم اساتید کے درمیان گفتگو کرنے کا موقع ملا اس کے پہلے جلسے میں گفتگو اس بارے میں تھی کہ ہمارے اوپر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ اس کو میں نے کچھ حد تک بیان کیا اور اس ضمن میں چند باتیں آپ کے سامنے پیش کیںاس جلسے میں میں نے بیان کیا تھا کہ تہذیب وثقافت سے متعلق امور کو انجام دینے کے لئے سب سے پہلے ہم کو کچھ بنیادی باتوں پر غورو فکر کرنی ہوگی منجملہ انکے موجودہ حالات کو جاننا اور انکی تجزیہ اور تحلیل شامل ہے ،اگر چہ ہم لوگ اجمالی اور مختصر طور پر اپنے اندر ایک ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں اور یہی احساس ہے جس نے ہم لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے پر مجبورکیا ہے اور ہم لوگ ایک اجتماعی تحریک کے لئے آمادہ ہیں لیکن اس ذمہ داری کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور بہتر طریقے سے جاننے کے لئے انقلاب اجتماعی اور سیاسی حالات اور اس کی گذشتہ تاریخ کو جاننا ضروری ہوگا تاکہ موجودہ حالات کی تصویر کو زیادہ واضح طریقے سے سمجھ سکیں اور زیادہ معلومات کے ساتھ مطلوبہ حالت کی طرف قدم بڑھا سکیں ،البتہ اس بارے میں مزید تفصیلی بحث ہونی چاہئے لیکن وقت کی کمی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس گفتگو کو زیادہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے مجبوراً اسی ایک جلسہ میں اس مسئلہ کو پیش کرکے ختم کیا جارہا ہے ۔
بہمن ۵۷ ۱۳ھجری شمشی سے پہلے ایران کی ایک تصویر
ہم سب کو معلوم ہے کہ اصل میں یہ تحریک ، انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پندرہ سال پہلے ۴۲ ہجری شمسی سے شروع ہو چکی تھی یہ پندرہ سال کاعرصہ ایرانی عوام پر بہت ہی سخت گذرا ہے افراتفری کی حالت پورے ملک میں پائی جاتی تھی۔ اقتصادی بحران، سرکاری خزانے کی غارت گری اور تمام شعبوںمیں گمراہی جو دربار شاہ سے وابستہ تھے ان میں اخلاقی برائیاں نیزسرکاری ملازمین میں غلط کاریاں ،بے انتہا رشوت خوری ،ہر جگہ نا قابل برداشت طبقاتی اختلاف نیز اسکے علاوہ اور بہت ساری خرابیاں جس نے لوگوں کو عاجز کر دیا تھا اس کے علاوہ اجتماعی معاملات میں غیروں ، خاص کر امریکا کا عمل دخل پوری طرح سے اتنا دکھائی دیتا تھا کہ بلند و بالا وزیر اور عہدہ دار بھی امریکی تسلّط کے زیر اثر تھے اور عملی طور سے امریکی سفارت خانہ تھا کہ جس کے ہاتھ میں ملک کی ساری حاکمیت تھی ، وہ لوگ ہماری عوام حتّی بزرگ شخصیتوں کی بے عزتی اور توہین کیا کرتے تھے اور بار بار کی حقارت و توہین سے ان لوگوںکے اندربہت حد تک احساس کمتری پیدا ہو گیا تھا اور عوام یہ تصّور کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ امریکی ہی متمدّن اور ترقی یافتہ ہیں اور ہم لوگ ان کے مقابلے میں بے حیثیت اور پس ماندہ ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسراسب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ لوگ دین سے مقابلہ و مبارزہ کی سیاست اپنائے ہوئے تھے اور یہ فکر دن بہ دن وسیع ہوتی جا رہی تھی اور ایک مضبوط صدا بن رہی تھی آخری دنوں میں بات یہاں تک پہونچ گئی تھی کہ ان لوگوں نے درمیان سے سارے پردوں کو ختم کر دیا تھا وہ لوگ عام طور سے دینی مقدّسات سے کھلواڑ کر رہے تھے ان تمام حالات کے ہوتے ہوئے ایک عام اور وسیع انقلاب کا ہونانا گزیر ہو گیا تھا ۔
شہنشا ہی دور کی سب سے بڑی آفت
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت کے حالات کا تجزیہ کریں تو سب سے بڑی آفت میری نظر میں یہ تھی کہ پچھلی استعماری سیاست کے ذریعہ خاص طور سے پہلوی نظام کے پچاّس ساٹھ سالہ دور میں ان لوگوں نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے گروہ اور دیندار افراد کو سیاست سے با لکل خارج کر دیا تھا، اس زمانے کی بہت سی چیزیں مجھکو یاد ہیں لیکن جس نکتہ کی طرف میں نے اشارہ کیا اس کی طرف بہت کم دوستوں کی توّجہ ہوگی یا انکو یاد نہ ہوگا ،یہ ایک بلا تھی اور بہت ہی اہم مسئلہ تھا جو ان لوگوں نے اس ملّت کے لئے ایجاد کر دیا تھا ۔اس طرح کی ان لوگوں نے سیاست گذاری کی تھی کہ اس ملک کے سیاسی اور اجتماعی کاموں کو کچھ ایسے افراد کے حوالے کر دیا تھا کہ جو ان کے مطابق تھے ایسے منتخب افراد کہ جن میں اسّی فیصد سے زیادہ امریکہ میں تعلیم حاصل کئے ہوئے تھے یا ایران میں ایسی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے جو امریکہ کے زیر اثر تھیں منجملہ ان یو نیورسٹیوں میں تہران کا'' د انشکدئہ مدیریت''(جو آجکل امام صادق یونیورسٹی ) اور شیراز کی یو نیورسٹی تھی شیراز کی یونیورسٹی کا جو مالک ہوتا تھا وہ سفارت امریکہ سے معےّن ہوتا تھا اور دوسری یونیورسٹیوں کے نظام اور نصاب بھی امریکی ہی معےّن کرتے تھے ،بہر حال ملک کی سیاست گذاری عملی طور سے انھیں منتخب اور چنندہ دانشوروں کے ہاتھ میں تھی جنکی اکثریت امریکہ کی تربیت یافتہ تھی،البتہ یہ سیاست اصل میں انگریزوں کی ہے جو بہت ہی باضابطہ اور منظّم انداز میں تھی،امریکہ نے سیاست کے اس طریقے کو انگریزوں سے سیکھا ہے تا کہ اس ذریعہ سے ان ممالک میں بہت دنوں تک اپنا تسلّط برقرار رکھ سکیں لہٰذا وہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ایسے دانشوروں کی خود انھیں ملک میں تربیت کریں جو بلا واسطہ طریقے سے انکی فکروں کو پروان چڑھائے اوروہ ان کے مطابق ہر کام کرنے کے لئے تیارہوں ۔اس سیاست کا نتیجہ یہ نکلاکہ ملک کے عام مسلمانوں کا ملک کی سیاست اور سرکاری امور میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا تھا صرف ایک پارلیمنٹ تھی جہاں عوام کی کسی حد تک دخالت نظر آرہی تھی وہ بھی اس طرح کہ ممبروں کی ایک لیسٹ اور فہرست دربار شاہ اور امریکی سفارت خانہ کے توسط سے پہلے ہی معےّن ہو جاتی تھی اور وہی نام انتخابات کے دن بکسوں سے باہر آتے تھے۔
اگر چہ ملک کے دانشوروں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ملک کی موجودہ سیاست سے متّفق نہیں تھے اور کسی بھی طرح ان کے ساتھ رہنے کو آمادہ نہیں تھے بلکہ ان سے مقابلہ کے لئے تےّار تھے اس سلسلے میں ان لوگوں نے کئی جماعتیں تشکیل دی تھیں ان میں سے ایک حزب تودہ (تودہ پارٹی )تھی اگرچہ یہ لوگ بھی کسی حدتک مشرقی استعمار کا آلہ کار تھے اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو روس کی طرف جھکائو رکھتے تھے اور وہ لوگ چاہتے تھے کہ ایران ایک سو سلشٹ اور روسی فکر میں تبدیل ہو جائے ،بہر حال پھر بھی اس گروہ میں کچھ مخلص اور سچّے لوگ بھی پائے جاتے تھے جوحقیقت میں انگریزوں اور امریکہ کے تسلّط اور استعمار کے چنگل سے بچنے کے لئے اسکے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں سمجھتے تھے تھا کہ اپنے کو روسیوںکے حوالہ کر دیں یعنی انکے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ تیسری دنیا کے ممالک مثلاً ایران وغیرہ کے سامنے صرف دو ہی راستہ ہے یا وہ امریکی پرچم کے نیچے آجائیں یا روسی پرچم کے زیر سایہ تا کہ انکے لئے دوسرے لوگوں سے مقابلہ کرنا ممکن اورآسان ہو جائے اگر چہ یہ دوسرے گروہ والے زیادہ نہیں تھے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ اس خیال کے حامی ضرور تھے بہر حال ان دنوں دانشوروں کی ایک جماعت حزب تودہ کی شکل میں جمع ہو گئی تھی اور رسمی کاموں کو انجام دیتی تھی آج بھی ہم کو اس طرح کی تنظیم سے غافل نہیں ہونا چاہئے چونکہ یہ لوگ دوبارہ موقع کو غنیمت جان کر چوری چھپے اپنے کو پھر سے آمادہ کر رہے ہیں ۔اوراس بائیںبازو میں تودہ پارٹی کے علاوہ دوسرے گروہ جیسے فدائی خلق، کارگرپارٹی، رستگار پارٹی ، اور مختلف قسم کے مقامی گروہ مختلف علاقوںجیسے کردستان، آذربائیجان، ترکمنستان اور خوزستان وغیرہ میں موجود تھے ان تمام پارٹیوں کا مارکس ازم کی طرف جھکائو تھا ۔اس بات کا تذکرہ مناسب ہے کہ بہت سے گروہ جو کسی نام سے پائے جاتے تھے حقیقت میں اس کے اندر ممبران کی تعداد دس بیس افراد سے زیادہ نہیں تھی۔ ان بائیں بازو کی پارٹیوں کے مقابلہ میں اور دوسری پارٹیاں بھی پائی جاتی تھیں جن کا شمار داہنے بازو کی پارٹیوں میں ہوتا تھا جو کہ حکومت کی طرفدار اور اس پہلوی نظام کی موافق تھیں کہ مغربی بلاک سے تعلق رکھتی تھیں۔
اس درمیان جس بات کی کمی تھی وہ دیندار افراد کی فعّالیت اور ان کا متحرک نہ ہونا تھا مختلف چالوں اور حربوں سے ان لوگوں کو سیاست کے میدان سے جدا کردیا گیا تھااور اس طرح سے تبلیغ کی گئی تھی کہ اصلاًکوئی دینداراورمتدےّن سیاسی امور میں دخالت نہیں کرتا تھا۔
یہ بات مجھکو خود یاد ہے کہ جب کسی موقع پر کسی عالم دین کو بدنام کرنا چاہتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ ملاّسیاسی ہے گویا ایسا دور آ گیا تھا کہ سیاسی مولوی ہونا ایک گالی تصوّر کیاجاتاتھا اسی وجہ سے دیندارافراد خاص طور سے عالم دین حضرات سیاست کے میدان میں اترنے سے پرہیز کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ بعض اسلامی ممالک کی پیروی اور کچھ دوسرے اسباب کی بنا پر دینداروں کے درمیان بھی بعض سیاسی گروہ پیدا ہو گئے تھے مشہور تنظیمفدائیان خلقانھیں گروہوںمیں سے ایک تھی اگر چہ یہ ایک چھوٹی سی تنظیم تھی لیکن اپنی جگہ بہت ہی مصممّ اور مستحکم پارٹی تھی، ایک دوسرا گروہحزب ملل اسلامی'' تھا جو کہ ۲۸ مردادکے بعد عالم وجود میں آیا تھا یہ لوگ بھی معدودے چندافرادسے زیادہ نہیں تھے اور آخر کار گوشئہ گمنامی میں چلے گئے اسی دوران (جو کہ مرحوم آیت۔۔ کاشانی کے سیاسی کارناموں کی بلندی کا دور تھا )ایک دوسرا گروہمجاہدین اسلامبھی تھا جس کے بانی شمس قنات آبادی تھےسازمان مجاہدین خلقجس کو آجکل ہم گروہ منافقین کے نام سے جانتے ہیں حقیقت میں اسی گروہ کا ایک حصّہ تھا جس کے بانی یہی شمس تھے جیسا کہ آپ جانتے ہیں بعد میں چل کر اس گروہ نے مارکسی رجحان پیدا کر لیا اور آخر کار امریکہ اورمغرب کے دامن میں چلا گیابہر حال ملک کے سیاسی حالات کی یہ تصویر او ر یہ متحّرک تنظیمیں انقلاب کی کامیابی سے پہلے تھیں جو انھیںمذکورہ چند گروہوں میں منحصر تھیں اور ملک کے مخلص اورمعتقدمسلمانوں کی اکثریت ، جو کہ نوّے فیصدتھے اس میدان سے پوری طرح دور تھے سیاست میں آنے کے لئے انکے پاس کوئی ذریعہ اور راستہ نہیں تھا ان نوّے فیصد لوگوں میں حالات اور واقعات کی حقیقت سے آگاہی رکھنے والے افراد کم نہ تھے یہ لوگ حقیقت میں ملک کے حالات سے ناراض تھے اور خون دل پیتے تھے لیکن عملی طور سے کچھ نہیں کر سکتے تھے انکو کچھ امید بھی نہیں تھی اس زمانے میں چند اسلامی گروہوں کے درمیان جو کہ واقعا ًاسلام سے لگائو رکھتے تھ
ے اوروہ شاہ کی حکومت کو قبول نہیں کرتے تھے نیز بائیں بازو اور مارکس ازم کی طرف بھی ان کا رجحان نہیں تھا ایک گروہنہضت آزادیبھی تھااس گروہ میں چند نوجوان لڑکے تھے جنھوں نے اکٹھاہو کر ایک تنظیم بنا لی تھی اور دھیرے دھیرے اس تنظیم نے تحریک آزادی کی شکل اختیار کر لی تھی اس تنطیم کی بنیاد ڈالنے والے لوگوں میں انجینئر بازرگان اور ڈاکٹر ید ا... سحابی کا نام لیا جا سکتا ہے ،تہران یونیورسٹی کے شعبہ فنّی کی مسجد کی بنیاد ڈالنے والے یہی مہندس بازرگان تھے، اسی طرح آپ کئی رسالوں کو مختلف شکل میں چھاپتے تھے ان میں ایک رسالہ''گنج شایگاں''تھا ،تحریک آزادی والے بھی مجاہدین خلق کی طرح اسلام سے ربط رکھتے تھے نمازی اور روزہ دار بلکہ بعض عابدشب زندہ دار بھی تھے، اگرچہ تحریک آزادی والے بھی مجاہدین خلق کی طرح راستے سے بھٹک گئے اورخود کو سیاسی حیثیت سے محفوظ رکھنے کے لئے محاذملّی کے ان ممبران کے عنوان سے پیش کیا جو کہ سیاسی دانشوروں کے درمیان دوسروں سے بہتر تصوّر کئے جاتے تھے، اور ویسا ہی کام کرنے لگے سیاسی اعتبار سے ملک کی یہ حالت اس وقت، انقلاب کی کامیابی سے پہلے تھی ۔
سیاسی تغیراورانقلاب کے لئے امام خمینی کی حکمت عملی
ان حالات میں امام خمینی نے فہم و فراست اور سیاسی بصیرت کے ساتھ جو کہ شروع سے آپ رکھتے تھے یہ محسوس کیا کہ یہ سیاسی کارنامے جو دانشوروں کے مختلف گروہوں کی طرف سے انجام دئیے جارہے ہیں اگرنتیجہ کو پہونچ جائیں تو بھی اس سے اسلام کو کوئی فائدہ پہونچنے والا نہیں ہے حتیّٰ جو لوگ اسلام کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں اس سے بھی کچھ فائدہ ہونے والانہیں ہے، صرف ایک راستہ جو امام خمینی کی نظر میں فائدہ مند تھا اور اس کا ہونا ضروری تھا وہ یہ کہ عام مسلمانوں کو میدان میں لایا جائے امام خمینی کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ جماعتیں اور تنظیمیں ایک اسلامی انقلاب( جو کہ مضبوطی کے ساتھ تمام شعبوں میں حاکم ہو اور حکومت اسلامی کی شکل میں ہو ) نہیں لاسکتی ہیں ، اگرچہ امام خمینی کی تھیوری اس زمانے میں قابل قبول نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے وہ لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ جہاں بھی جس صورت میں سیاسی تحریک اور فعّالیت انجام پائے، اس کا نتیجہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی گروہ یا تنظیم کی شکل میں کسی خاص رابطہ اور قاعدہ کے ساتھ انجام پائے اسکے بر خلاف ایسی تحریک جو عمومی طور سے ہو اور اس میں سب کے سب لوگ دخالت رکھتے ہوں
اور سب کے سب اپنے کو ذمہ دار محسوس کرتے ہوں اور وہ تمام لوگ متحد ہو کر حرکت کرتے ہوں تو علوم سیاسی کے کلاسکی نظریات میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر امام خمینی یہ چاہتے کہ اپنے نظریات اور افکار کو علمی نظریہ کی شکل میں پیش کریں اور اس کے بارے میں بحث وگفتگو کریں تو کوئی بھی اس کو قبو ل نہیں کرتا امام خمینی نے اس سیاسی مطلب کو علمی نظریہ میں پیش کرنے کے بجائے اس کام کو عملی طور سے پیش کرنا شروع کیا اور آپ نے مصّمم ارادہ کر لیا کہ عام لوگو ںکو میدان میں لیکر آئیں اور اس احساس ذمہ دارری کو عام لوگوں کے ذہن میں ڈال دیا کہ مسلمان ہونے کے ناطے تمام لوگوں کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی امور میں حصّہ لیں، امام خمینی کی یہ فکر دوسری اور فکروں کی طرح ایک نئی فکر تھی اگر امام خمینی س راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتے تو کوئی خاطرخواہ انقلاب پیدا نہیں کر سکتے تھے امام خمینی نے عوامی طاقت اور ان کی حمایت سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کر لی اور اس تحریک کو جو کہ اس کے پہلے ہمیں نظر نہیں آتی تھی وجود بخشا ، اس کام کو کوئی بھی سیاسی گروہ چاہے بائیں بازو کی پارٹی ہو یا تنظیم ملّی ہو یا کوئی اور مذہبی گروہ ہو انجام دینے پر قادر نہیں تھا ،اس بات کادوست دشمن سب نے اعتراف کیا ہے ۔ یہ صرف امام خمینی کی ذات تھی جس نے عظیم ملّت کے گروہوں میں چھپی ہوئی طاقت کو مشخّص کرکے ان کے دینی اور اسلامی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نتیجہ خیز کام کو شروع کیا ۔ہم کویہ بات اچھی طرح یاد ہے اور میں خود اس بات کا قریب سے گواہ ہوں کہ وہ آوارہ اوربیکار جوان جو کہ سڑکوں اور گلیوں میں پھرا کرتے تھے امام خمینی نے ان کو ایسا بدل دیا اور ایسا بنا دیا کہ وہ انقلاب کے وقت دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے سینوں کو ڈھال بنا کر پیش کرتے تھے اورحکومت شاہ کے سپاہیوںسے کہتے تھے مارو جتنا مارنا ہے مار لو! امام خمینی نے لوگوں کے اندر ان کی دینی ذمہ داری کے احساس کو زندہ کر دیا آپ نے اپنی خالص نےّت سے ایسا کام کر دیا جس سے لوگوں میں محدود اور خشک گروہی رابطوں کے بجائے ایک گہرا اور صمیمانہ رابطہ پیدا ہوگیا لوگ امام خمینی سے محبّت کرتے تھے اور پروانہ کی طرح ارد گرد گھومتے تھے ۔یہ امام خمینی کی بے مثل اور بے نظیر رہبری اور قیادت تھی ہم آج بھی محبّت کے اس گہرے رشتے کو دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ آپکے انتقال کے سالوں بعد بھی آپ کا نام خاص احترا م کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
بہر حال امام خمینی کی یہ تحریک اس روز کے رائج فارمولے اور سیاست سے جدا تھی، اس وقت جب ۱۳۵۶ہجری شمسی میں لوگوں نے سڑکوں پر مظاہرہ شروع کیا تو اچھے اچھے لوگوں نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ بیس سال سے کم کی مدّت میں اس حرکت اور قیام کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے اور کامیابی حاصل ہوگی ایسے افراد سے میری مراد ڈاکٹر بہشتی وغیرہ جیسے لوگ ہیں یہ لوگ کوئی معمولی شخصیت کے مالک نہیں تھے بلکہ بلند سیاسی درجہ رکھتے تھے ان جیسے لوگوں کا بھی ( انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے اور آزادی کے آخری دنوں میں ) یہی نظریہ تھا کہ ابھی بیس سال اور انتظار کریں لیکن سبھی لوگوں نے دیکھا کہ امام خمینی کی تحریک نے ایک سال اور چند دنوں میں ہی نتیجہ دینا شروع کر دیا اور انقلاب کامیاب ہو گیا ،ایسی چیز جس پر میں خود ذاتی طور پر بھی یقین نہیں کرتا تھا اگر کوئی کہتا تھاتو مجھے خواب و خیال سا لگتا تھا میں تو ایک معمولی آدمی ہوں مجھ سے بڑے بڑے لوگوں کا بھی تصّور اور خیال یہی تھا ،بہر حال اگر یہ کہیں کہ ۱۳۵۷ میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی ایک خدائی معجزہ تھی تو میرے نزدیک یہ کوئی مبالغہ کی بات نہیں ہوگی۔
انقلاب کی کامیابی کے بعد بعض ایسے مفسد گروہ کہ جنکی لوگوں کے درمیان کوئی وقعت نہیں تھی اور ان کی بیہودہ حرکتیں، فریب کاریاںاور قتل و غارت گری ہی خود ان کے خاتمہ کا سبب بنی اور وہ ملک سے بھاگ گئے ان کے علاوہ کچھ دوسرے گروہ باقی رہ گئے جیسے تودہ پارٹی،دہشت گرد فدائی خلق ،پان ایرانیسٹ ،محاذملّی اورتحریک آزادی یہ لوگ پہلے کی طرح کام کرتے رہے انکے لئے کوئی چیز مانع بھی نہیں تھی اور انکے جان ومال محفوظ تھے ۔
یہاں تک تقریباًوہ مطالب تھے جن کو آپ سبھی لوگ جانتے تھے اور کوئی نئی بات نہیں تھی صرف ان مسائل اور واقعات پر جو انقلاب کی کامیابی سے پہلے تھے ایک سرسری نظر ڈالی گئی اور اکثر مطالب مقدّمہ کے عنوان سے تھے اصل بحث جس پر میری خاص تاکید ہے اس کے بعد ہے جس پر میں چاہتا ہوں کہ آپ خاص توجّہ دیں ۔
حقیقی اسلام کے افکار و اقدا ر سے متعلق اسلامی نظام کے کے ذمہ داروںکا اعتقاد
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد طبعی طور سے ملک کی سرپرستی اور حکومت بنانے سے متعلق بحث ہوئی؛ سب سے پہلی حکومت انجینئر بازرگان کی صدارت میں بنی؛ اسکے بعد بہت سے حکومتیں کئی لوگوں کی سر براہی میں بنیں؛بہت سی کمیاں اور فطری اشکالات جو کم تجربگی اور نئے ہونے کی وجہ سے لازمی تھے وہ سب پائے جاتے تھے جیسا کہ ہر انقلاب اور ہر نئی حکومت کی خصوصیت ہے لیکن اس کے علاوہ اس جگہ جو چیز قابل سوال ہے وہ یہ کہ کیا ارکان حکومت کے تمام لوگ امام خمینی کی طرح فکر رکھتے تھے اور کیا سبھی لوگ معاشرہ میں دین کے اثر کے متعلق وہی چیز سمجھتے تھے جومرحوم امام سمجھتے تھے ۔
اس وقت ملک کے بڑے لوگ جن کا شمار سیاسی طور پر بزرگوں اور فیصلہ کن لوگوں میں ہوتا تھا جیسے شہید بہشتی؛شہید مطّہری؛شہد باہنر اور ان جیسے دوسرے لوگ جو سالوں امام خمینی کے زیر سایہ تربیت پاچکے تھے یہ لوگ مکمل طور سے امام خمینی کی فکروں اور نظریوں سے واقف تھے اس کے علاوہ یہ لوگ خود بھی اچھّی صلاحیت کے مالک تھے اسلام کے معارف اور اصول کا وسیع اور گہرا مطالعہ رکھتے تھے اور اسلام کے اصول و احکام اور معارف کا بخوبی علم رکھتے تھے، ایسے لوگ امام خمینی کے راستوں کو پہچانتے تھے اور اس پر اعتماد اور یقین رکھتے تھے اور حقیقت میں وہی چاہتے تھے جس کی فکراور جستجو میں امام خمینی تھے؛ لیکن ذرا آپ غور کریں یہ لوگ کتنے سال زندہ رہے؟ انقلاب کے ایک دو سال کے شروع میں ہی اکثر کو شہید کر دیا گیا سب سے پہلے مرتضیٰ مطّہری کو شہید کیا گیا اس کے بعد ۷ تیر اور ۸شہریور کا واقعہ ہوا ؛جس میں بہشتی؛ باہنر وغیرہ شہید ہوگئے نیز اور دوسرے بہت سارے واقعات جس میں بہت سے ایسے لوگ جو امام خمینی کے افکار اور اصول سے اچھی طرح واقف تھے اور اسی اصول پر یقین رکھتے تھے ملک کے سیاسی عہدوں پر متمکّن تھے اور ملک کے قوانین بنانے میں اہم رول رکھتے تھے وہ لوگ ہمارے درمیان سے رخصت ہو گئے، دشمن جو کہ سارے حالا ت سے باخبر تھا اس سے پہلے کہ ہم ان شخصیات کو اچھی طرح پہچانیں اس نے ان تمام لوگوں کو ہم سے چھین لیا ؛وہ بعض افراد کہ جن کا نام ہم نے لیا اور دوسرے چند لوگوں کو چھوڑ کر وہ تمام لوگ جو کہ ۸شہریور کے واقعہ اور مرحوم باہنر کی حکومت کے بعد حکومت کے لئے آئے اور ملک کے ا ہم سرکاری عہدوں اور وزارتوں پر فائز ہوئے وہ لوگ نہ اس حد تک امام خمینی کو پہچانتے تھے
اورنہ انکی روحی اور معنوی نظر اس قابل تھی کہ وہ امام خمینی کے افکار کو پہچان سکیں ؛مختلف لوگ کم و بیش مغربی ثقافت اور تعلیمات سے متا ثر تھے وہ لوگ اسلامی معارف و ثقافت سے دور تھے یہ فاصلہ دن بہ دن ہر حکومت میں پچھلی حکومت اور اس کے مسئولین کی نسبت بڑھتا چلا گیا ؛لیکن جب تک امام خمینی زندہ تھے آپ کی روحانی عظمت اور الٰہی و معنوی شخصیت جس کا سایہ سارے ملک پر تھا بہت کم لوگ اپنی دلی خواہش کا اظہار کرتے تھے حتیٰ جو لوگ امام خمینی کی فکروں اور اصول کی مخالفت کرتے تھے وہ لوگ بھی مخالفت کے لئے راستے کو ہموار نہیں دیکھتے تھے اور پھر وہ عملی طور سے کوئی بات پیش نہیں کر سکتے تھے ۔بہر حال امام خمینی کے انتقال کے بعد آپ کے راستے اور افکار سے دوری کا راستہ ہموار ہوتا چلا گیا کیونکہ اب وہ مربی نہیں رہا اور وہ معنوی شخصیت ہمارے درمیان نہیں رہی ؛امام خمینی ایسی شخصیت تھے جنھوں نے ۸۰سال تک سیاسی اور اجتماعی تلخ وشیریں حادثوں کو ملاحظہ کیا نفسانی اور روحانی طور سے اپنے کو آمادہ کیا اورآپ دشمن سے مقابلہ کا ۳۰ سالہ گرانبہاتجربہ رکھتے تھے لہٰذا امام خمینی کے بعد کوئی کتنی ہی خود سازی کرے اور کتنا ہی با تجربہ اور با لائق ہو وہ امام خمینی جیسا نہیں ہو سکتا ،یہ خود ایک وجہ ہے جو دوسری مختلف وجہوں کے ساتھ فطری طور سے موجود ہے اور اس وقت ان کے بیان کی گنجائش نہیں ہیاور یہ سب وجہیں ایک ساتھ مل کر اس بات کا سبب بن گئی ہیں کہ اسلامی افکارو اقدار دن بہ دن کم سے کمتر ہوتے جا رہے ہیں اس وقت ہم یہ ذمہ داری رکھتے ہیں کہ حالات کو سمجھیں اور مناسب طریقہ کار اور حکمت عملی کے ذریعہ ا س چیزکو آگے بڑھنے سے روکیں ۔
اسلامی اقدار کو کم کرنے کے لئے اسلام دشمنوں کا منصوبہ
وہ عوامل اور اسباب جو ان باتوں کی حقیقت و ماہیت سے مربوط ہیں ان کے علاوہ بیرونی عوامل و اسباب بھی اسلامی رنگ کو پھیکا کرنے کے لئے موثر اور اہم ہیں ؛ انقلاب کے ابتدائی دنوں میں امریکہ اور دوسرے مشرقی اور مغربی ممالک، نے یہ سوچا تھا کہ یہ انقلاب بھی دوسرے دنیاوی انقلابوں کی طرح اپنے زمانے پر کچھ اثر نہیں ڈال پائے گا اور پھیل نہیں سکے گا؛ لیکن آج بیس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا دنیا میں کتنے تغّیرات ہوئے ان لوگوں نے یقین کر لیا کہ اسلام ایک بہترین اور ترقی دینے والا ،لوگوں کی زندگیاں بنانے ،دنیا کوچلانے اور معاشرہ کو بلندیوں کی طرف لے جانے کے لئے طاقت و قوت رکھتا ہے ؛آج ان لوگوں نے اس خطرہ کو پوری طرح سے محسوس کر لیا ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اسی وجہ سے عظیم سرمایہ اور وسیع پروگرام کے ساتھ اس تحریک کے مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور اس کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح سے آمادہ ہو گئے ہیں اور اس کے مٹانے کے در پے ہو گئے ہیں ۔آج دشمن کے تجزیہ کاروں نے ہمارے انقلاب کی قوتوں،کمزوریوں اور ان کے شگاف کو پہچان لیا ہے جن کے ذر یعہ وہ اس محکم قلعہ میں نفوذ کر سکتا ہے اور ایسے پلان اور کارناموں کے ساتھ جن کو ہم تصّور بھی نہیں کر سکتے انقلاب کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں لگا ہوا ہے۔ البتہ بعض باتوں اور ان سے متعلق پلانوں کا ظاہر ہونا مشکل بھی نہیں ہے ایک معمولی تجزیے اور تجربے سے مشخّص کیا جا سکتا ہے کہ انسان کی حرکتوں اور افعال کے اصلی عنصر اور قلب کو دو چیزوں سے یعنی اسکی شناخت و معرفت اور اس کے یقین و اعتقاد سے معلوم کیا جا سکتا ہے لہٰذا جب بھی کسی انسان کے بارے میں ارادہ ہو کہ اس کی حرکت اور رفتار کو بدلیں تو فقط اس کی شناخت اوراس کے اعتقاد کا جائزہ لیں ؛اسی وجہ سے اسلام اور اس ملّت کے دشمنوں نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ ایک طرف لوگوں کے اعتقادات دینی کو کمزور کریں اور دوسری طرف اس بات میں لگے ہوئے ہیں کہ مادّی اور مغربی چیزوں کی اہمیت کو دینی اہمیت کی جگہ پیش کریں اور لوگوں کے اعتقاد کو بدل دیں ؛یہ حکمت عملی یعنی لوگوں کے اعتقاد و معرفت کو بدلنے کی کوشش خاص طور سے نوجوان نسلوں میں بہت ہی موثر ہے
کیونکہ یہ نسل اعتقادی اور فکری اصول میں اتنی محکم اور مضبوط نہیں ہوئی ہے، زیادہ تر سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر استوار ہے اور سرسری طور سے صرف چند مسائل کو جانتی ہے اور ان پر اعتقاد رکھتی ہے ان کے پاس محکم تحقیقی اور استدلالی چیزیں نہیں ہیں ،اعتقادات کے اعتبار سے بھی جوانی کی عمر خاص خواہشیں رکھتی ہیں یہ انسانی زندگی کا بہت ہی بحرانی مرحلہ ہوتا ہے جب مختلف طرح کا انسانی جسم میں خواہشوں کا طوفان ہوتا ہے،فطری طور سے نوجوان اپنی زندگی کی ظاہری اور مادی چیزوں کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے ۔
ا لبتہ مغربی حکومتیں یہ حکمت عملی صرف مسلمان ملت وقوم اور تیسری دنیا کے لوگوں کے لئے استعمال نہیں کرتی بلکہ یہحکمت عملی اپنے ملک کے ا فراد کے لئے بھی استعمال کرتی ہیں وہ مغرب کے اکثر جوانوں کو سیکس، جنسی مسائل ، الکحل، شراب اوربیگ جوتے چپّل،لباس ،چہرہ اوربال وغیرہ کے ماڈلوںمیں لگا دیتے ہیں اور ان چیزوں کو نئے نئے انداز سے پیش کرتے ہیں نیز کھیل کود سنیما ،اسباب آرائش اور اسی طرح کے دوسرے لوازمات میں مشغول رکھتے ہیں ، ان لوگوں میں فقط کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہ اچھی صلاحیت رکھتے ہیں یہ لوگ ان کی تشخیص کرتے ہیں اور ان کو علمی و تحقیقی شعبوں میں لگا دیتے ہیں اور ان پر سرمایہ خرچ کرتے ہیں ان کے خیالات اور تفکّرات سے نئی چیزوں کی ایجادات میں (جو کہ مختلف میدانوں میں ترقی کا ذریعہ ہیں ) استفادہ کرتے ہیں ۔
لہٰذا جس ملک کا اساسی قانون اسلام کے فرامین پر استوار ہو اور اس میں اصل محور ولایت فقیہ ہو اور وہاں پر اسلامی اقدار حاکم ہو اور اس ملک کا سربراہ فقیہ، اسلام کو پہچاننے اور اس کے احکام کو جاننے والا،تقویٰ کے عظیم مرتبہ پر فائز اور الٰہی اقداراور انسانی کا حامل ہو، وہاں پر کیا کرنا چاہئے کہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوں ؛اس کا واضح سا جواب ہے کہ مختلف ثقافتی طریقوں جیسے کلاس، مدرسہ،یو نیورسٹی ، اخبارات ومطبوعات ، فلم ، سنیما، ریڈیو،کتاب ،کھیل کود اور ان جیسی دوسری چیزوں کے ذریعہ وارد ہونا چاہئے اور یہ روش اور طریقے انسان کی شناخت اوراس کے اعتقاد کو پوری طرح سے بدل دیتے ہیں اور حقیقت میں اس سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ شاید آپ کے ذہن میں وہ ریڈیوئی گفتگوہوگی کہ جس وقت کسی نامہ نگار نے ایک عورت سے سوال کیا کہ تمھارا آئیڈیل کون ہے تو اس نے جواب دیا کہاوشین''مرحوم امام خمینی نے فوراًریڈیو اسٹیشن کوٹیلی فون کیا اور اس ریکارڈینگ کے نشر ہونے پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ عورت مرتد ہونے والی ہے آپ خود ہی غور کریں اور دیکھیں کہ علی اور فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہماکے ملک میں خود امام خمینی کی زندگی میں کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شیعہ عورت کا آئیڈیل اور نمونہ زینب و زہرا علیہما السلام نہیں بلکہ اوشین ہو سب سے اہم وہی پہلا قدم ہے اگرمعرفت اور اعتقاد کی دیوار ٹوٹ گئی تو دشمن کے لئے پھر پورا راستہ آسان ہو جائیگا ۔
قانون اور اجراء قانون کے شعبے میں دشمن کی دخل اندازی
دشمن کا دوسرا سب سے اہم پلان لوگوں کے اعتقادات اور یقین کو کمزور کرنے کے لئے یہ ہے کہ ملک کی سیا ست کے شعبہ میں دخل اندازی کی جائے ایسے لوگوں کو حکومت اور عہدوں پر لایا جائے جن کے اعتقاد اور فکری اصول اور خیالات کچھ حد تک امام سے دور ہوں اور ان کے تفکرّات مغربی فرہنگ وتہذیب سے متاثرہوں ؛ اس لئے کہ دیوار کو توڑیںکچھ اخبارات میں با واسطہ یا بلا واسطہ اپنااثرو رسوخ جماتے ہیں اور پھر اسلام پر حملہ شروع کرتے ہیں اور اسلامی قوانین کو زیر سوال لاتے ہیں اور مقدّسات کی توہین کرتے ہیں جو لوگ اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اسلامی اقدار کے پیرو اور طرف دار ہیں ان کی شخصیتوں کو مخدوش اور مجروح کرتے ہیں اور اسلامی و دینی اقدار پر تاکید کے بجائے نیشنلزم اور قومی اقدار کو پیش کرتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اس کے علاوہ اور دسیوں باتیں ہیں جن کا ہم آج مشاہدہ کرتے ہیں ،دشمن دھیرے دھیرے تمام شعبوں میں آگے اپنا قدم بڑھا رہا ہے ایسا نہیں ہے کہ یکبارگی شروع ہی میں وہ اپنامدّعا اور ہدف بیان کر دے گااوراپنے مطالب کو پہلی ہی مرحلے میں پایہ تکمیل تک پہونچا دے گا۔
لیکن اگر اخبار والے چاہیں کہ ان تمام باتوں کو لکھیںتو ان کے سامنے قانونی مشکل ہے لہٰذا وہ قانونی مشکل کو حل کرنے کے لئے اور مطبوعات کی آزادی کے لئے قانون بدلنا چاہتے ہیں قانون بدلنے کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بقول اعتدال پسند حکومت وجود میں آئے، ابتدا ہی میں یہ ممکن نہیں ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں بے اسلامی کا نعرہ لگائیں؛ بلکہ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو لچکدار رویےّ کے حامل ہوں اور بہت ہی زیادہ سخت و متعصّب نہ ہوں اور بعض اسلامی مسائل میں سستی اور کوتاہی کا مظاہرہ کریں اعتدال پسندوں کو بر سر اقتدار لانے کے لئے وہ یہ کام کرتے ہیں کہ پچھلے جو متدّین عہدہ دار افرادگذرے ہیں ؛ ان کی معمولی غلطیوںکو ( جو کہ ابتدائے انقلاب یا اور دوسرے مشکلات کے سبب ہو گئی تھیں) بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں
اور ان س سوء استفادہ کر کے ان ذمہ داروں اور عہدہ داوں کی عوامی مقبولیت کو کمزور کر دیتے ہیں تاکہ وہ طاقتیں جو کسی حد تک اسلامی اقدار سے دور ہیں اور کم و بیش مصالحت پر آمادہ ہیں اوران کے اقتدار میں آنے کا راستہ صاف ہو جائے۔ اس درمیان ہم کو یونیورسٹی اور وہاں رہنے والوں سے کبھی بھی غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ لوگ ہر حال میں سماج کے موثر اور آئندہ کے ملک کی باگ ڈورسنبھالنے والے ذمہ دار افراد ہیں ان کے لئے ہم کو الگ سے سوچنا ہو گا اور علیحدہ نظام و پلان بنانا ہوگا، خلاصہ یہ کہ یہ مفصّل اورمنظّم طور پر بنائے ہوئے ایک فلمی ڈرامے کے مانند ہے کہ دشمن جس کے پردوں کو یکے بعد دیگرے اٹھا رہا ہے اس ڈرامے میں آپ اجنبی یا ان افرادکو جو کہ اسلام اور انقلاب کے دشمن ہیں یا ظاہری طور پر انقلاب یا اسلام کے مخالف ہیں بہت ہی کم دیکھئے گا اکثر آپ ڈرامہ میں ان لوگوں کو کھیلتے ہوئے دیکھئے گا جو اسلام کا اعتقاد رکھتے ہوں چاہے وہ ظاہری ہی کیوں نہ ہو، ضروری نہیں ہے کہ امریکہ کا ایک آدمی یا سی آئی اے تنظیم کا ایک جاسوس آئے اور وہ یہ کام انجام دے بلکہ آپ خود دیکھتے ہیں کہ ایک وزیر یا نائب وزیر جو نمازی اور روزہ دار بھی ہے کربلا اور سوریہ کی زیارت بھی کی ہے حج پربھی گیا ہے اکثر خمس و زکوٰة بھی ادا کرتا ہے اور یہاں تک کہ کبھی وہ حافظ قرآن بھی ہوتا ہے لیکن اس کی فکر اور چال ایک سو اسیّ درجہ امام خمینی سے مختلف ہوتی ہے ،یہاں تک کی آپ بعض ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کا نظریہ آج پہلے سے بہت حد تک بدلا ہوا دکھائی دیگا ،مثال کے طور پر ایک ایسا شخص جو امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرنے میں شریک تھا اور اس کام میں اس شخص نے اہم رول ادا کیا تھا لیکن آج وہی شخص اس کام کی مذمت کر رہا ہے اور مغربی مملک میں جاکر ایک ٹی وی کے پروگرام میں اسی جاسوس سے ہاتھ ملاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک میز پر بیٹھتا ہے اور سب کے سب ایک ساتھ کھاتے پیتے ہیں اور ہنسی مذاق کرتے ہیں ۔ وہی شخص جو دو تین سال پہلے اس بات پر معترض تھا کہ ایک پارلیمنٹ کا ممبرانگلینڈ کے سفرمیں نا مناسب باتیں کیوں کرتا ہے اور اس پر امریکی ہونے کا الزام لگارہا تھا آج وہی شخص امریکہ سے رابطہ اور گفتگو کے لئے مشورے دے رہا ہے، کل تک امریکہ مردہ باد کا نعرہ خود لگاتا تھا آج اس کے متعلّق کہتا ہے کہ چند سر پھرے لوگ ہیں جو یہ کام کرتے ہیں ۔ آج میں ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوںجو جنگ کے زمانے میں دوسرے لوگوں سے زیادہ جنگ کے حق میں تھے آج اسی جنگ پر اعتراض کرتے ہیں
البتہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں لوگوں میں بہت سے لوگ جو انقلاب کے ابتدائی دنوں میں سخت نعرے لگاتے تھے اس پر ان کا دلی اعتقاد نہیں تھا زیادہ تر جذبات اور ماحول کے زیر اثران نعرو کو وہ دہراتے تھے اس طرح کے لو گ خود اپنے بقول دلیلوں کے تابع ہو گئے ہیں اور اپنے تصور میں جذبات کی وادی سے نکل کر عقل کے مرحلہ میں داخل ہوگئے ہوں اور کہتے ہیں کہ ہماری پہلے کی حرکتیں اور باتیں غلط تھیں ۔میں مناسبت کی وجہ سے اسی جگہ اشارہ کررہا ہوںکہ اس حساب سے جو لوگ ماضی میں انقلابی کردار ادا کئے ہوں اور انقلاب کے سلسلے میں امام خمینی کے معین و مدد گار ہوں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ان کے عقاید اور نظریات کو پوری طرح سے قبول کر لیں ؛کیونکہ ہم امام خمینی کے بہت سے ساتھیوں اور دوستوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ امام خمینی کے افکار اور بنیادی اصول میں شک رکھتے ہیں اور امام خمینی کے افکار کو صحیح نہیں جانتے ہیں ، البتہ بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہین کہ ان کا اختلاف ہم سیزیادہ تر سلیقہ اور روش کی حد تک ہے اور یہ معمولی اختلاف اس چیز کا سبب نہ بننے پائے کہ ہم ان کو پوری طرح سے امام خمینی کے دوستوں سے جدا کر دیں اور ان کو دوسروں کا کارندہ و حامی تصور کریں اور ان سے سیاسی کشمکش اور اختلاف کو اختیار کریں ۔
پچھلی گفتگو کا خلاصہ
بہر حال اس جلسے اور پچھلے جلسے کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہے کہ انقلاب کے شروع میں شناخت و تفکّر کے اسباب بہت کم رکھتے تھیاور خاص سبب جو اس بات کا باعث ہوا کہ لوگ امام خمینی کے پیچھے حرکت کریں اور انقلاب لاکر اسکو محفوظ رکھیںوہ ان کے دینی احساسات اور جذبات تھے البتہ یہ صرف امام خمینی کا ہنر تھا کہ آپ نیان احساسات اور جذبات کو انقلاب کی سمت میں لا کر رہبری فر مائی اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیالیکن انقلاب کی تحریک کو باقی رکھنے اور اس کو جاری رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ فکری اور ثقافتی کام کرنا لازم ہے
آج یہ سوچنا غلط ہے کہ ہم اس تصوّر میں رہیں کہ جب چاہیں لوگوں کے دینی احساسات پر بھروسہ کرتے ہوئے ماتم اور حسین حسین کے ذریعہ اس انقلاب کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اس کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں وہ صرف امام خمینی کی ذات تھی جو کہ روحانی، عرفانی اور الٰہی شخصیت کی مالک تھی ؛اپنی اس عظیم شخصیت کے ذریعہ وہ دلوںپرحکومت کرتے تھے اور لوگوں کے احساسات اور جذبات کو اپنے تابع کر لیتے تھے ایسی بات اگر ہم کرنا چاہیں تو ممکن نہیں ہے ہم کو چاہئے کہ ہم اسلام کو اچھّی طرح پہچانیں اور دوسروں کو پہچنوائیں
آج بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی فکر و عمل میں غلطی اور انحراف رکھتے ہیں حقیقت میں یہ جان بوجھ کر اپنے کام میں غلطی نہیں کرتے ہیں یہ کمزوری صرف شناخت نہ ہونے کا نتیجہ ہے یہ ایسے لوگ ہیں کہ اپنی تعلیم کے دوران اگر بہت زیادہ مسلمان تھے تو بس اتنا کہ نمازی اور روزہ دار تھے ان چیزوں کا ان کے پاس وقت ہی نہیں تھا کہ وہ اسلام کے اصول ومبانی کی شناخت اور تحقیق کریں ؛اس کے بعد جب ملک کے کسی اہم عہدہ پر متمکن ہوئے تو اتنی فرصت کہاں ملتی ہے ؛اپنے ہی کام کے لئے وقت نہیں ملتا تو بھلا پھر کیسے وہ اسلام کے اصول و مبانی کے متعلق تحقیق کریں گے؟ آج ہی ہم کو یہ کام کرنا چاہئے اور اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ یہ لوگ اسلام کو بہتر طریقے سے پہچانیں یہ کوئی شرم کی بات نہیں ہے ہم کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ یہ تعلیمات صرف مدرسے کے بچوّں اوریونیورسٹی کے طالب علموں کے لئے ہے ایسا نہیں ہے بلکہ سماج کے ہر طبقے کے لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ہم وزیر یا اس کے نائب سے کہیں آؤ کلاس میں بیٹھ کریہاں پڑھو
ہاں یہ ممکن ہے کسی ذریعہ اور بالواسطہ طور سے ان کے کانوں تک یہ بات پہونچا دی جائے اور کسی نہ کسی طرح سے وہ لوگ ان باتوں سے واقف ہو جائیں؛ جو لوگ آج کل ملک کی سیاست میں اہم عہدہ رکھتے ہیں ان کے علاوہ ہم کو ان لوگوں کے بارے میں بھی فکر ہونی چاہئے جو آگے چل کر اس عہدے پر فائز ہونے والے ہیں اور وہ در اصل یہی طالب علم ہیں جو آج کل مدرسوں یا یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں ؛ مستقبل کے ذمہ داروں اور عہدے داروں کے متعلق ہم کو ابھی سے فکر کرنی ہوگی اور ہم کو اس کی پلاننگ کرنی ہوگی ،یہاں پر مناسب ہوگا کہ ان باتوں سے متعلق ایک مثال کو بیان کروں:
ایک بڑے اسلامی ملک جسکی آبادی ہمارے ملک سے زیادہ ہے وہاںکے صدر جمہوریہ سے پوچھا گیا کہ آپ اس طرح امریکہ پر کیوں منحصر ہیں انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ نے ہمارے ملک کے دو ہزار بڑے اور تعلیم یافتہ افراد کو مختلف حصّوں سے ذخیرہ کر لیا ہے او رانھیں میں سے ہر مرتبہ چالیس افراد ملک کے بڑے عہدوں پر بنے رہتے ہیں یہ ذخیرہ اندازی برابر جاری رہتی ہے آپ اس ملک سے جہاں کے دو ہزار لوگ سیاست کے بلند مقام پر ملک میں فائز ہوں اور ان لوگوں کی تعلیم اور تربیت امریکہ میں ہوئی ہو، کیا توقّع رکھتے ہیں ؟
امریکہ نے اس سیاست کو پچاس سال پہلے اپنایاتھا اور آج ا س کا فائدہ حاصل کر رہا ہے؛ اگر ہم آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں آگے پچاس سال تک اسلامی حکومت قائم رہے تو اس کے لئے آج ہی سے پلاننگ کرنی ہوگی اور آیندہ ہونے والے ذمہ دار افراد کے بارے میں فکری اورثقافتی کام کو انجام دینا ہوگا یہ نہیں کہ ہم بیٹھے رہیں اور جب کوئی مصیبت نازل ہو تو اس کو دور کرنے کے لئے نئے سرے سے غوروفکر کریں یہ عقلی اور منطقی کام نہیں ہے بلکہ اس کی فکر ہم کو پہلے سے کرنی ہوگی۔
اساتید کرام! میں نے اس گفتگو میں جو وقت لیا ہے اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کہ انھیں طالب علموں سے جو آپ کے ماتحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں آگے چل کر ملک کے ذمہ دار صدر جمہوریہ سے لیکر وزیر اور نائب وزیر ،پار لیمنٹ کے ممبر اور تعلیم و تربیت کے مدیر ہونگے ؛ لہذٰا آپ لوگوں کو خود اسلام کے اصول اورعقیدے کے بارے میں گہری نظر اور شناخت رکھنی چاہئے تا کہ آپ طالب علموں کو منتقل کر سکتے ہوں۔لیکن اگر کسی طالب علم نے آپ سے کوئی سوال کیا اور آپ اس کو مطمئن نہیں کر سکے تو وہ یہی کہے گا کہ جب یونیورسٹی کے بزرگ استاد سے جواب نہیں ہو سکا تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے اس کے بعد اگر ہم جیسے عالم دین سے پوچھا اور جواب اس نے بھی نہیں دیا تو اس کے لئے یقینی ہو جائے گا کہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے لہٰذایہ لوگ جو خدا، رسول، اسلاماور مسلمانوںکے متعلّق گفتگو کرتے ہیں اس کی کوئی اساس ا و ربنیاد نہیں ہے ۔
آخری نتیجہ یہ ہے کہ میں عالم دین ہونے کی وجہ سے اور آپ لوگ یونیورسٹی کے استاد ہونے کی حیثیت سے اہم ذمہ داری رکھتے ہیں جس کے ذریعہ سے ہم لوگ کلچر کی اصلاح نیز اس ملک کی آئندہ آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں دوسروں کے بہ نسبت ہم لوگوں کی ذمہ داری زیادہ سنگین اور عظیم ہے لہٰذاہم کو چاہئے کہ اپنے علم کو وسیع اور مضبوط کر کے اور اسلام کے اصول و مبانی کو پہچان کر اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے قدم آگے بڑھائیں۔
دینی پلورالزم-۱
ہمارے زمانے کا عظیم بحران
جس زمانے اور جس دور میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں خاص طور سے آخری دس سالوں کا عرصہ اگر اس کو بحران کے دور کے نام سے یاد کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ؛ انسانی تمدّن کی تاریخ میں مختلف زمانے دیکھے گئے ہیں جو کہ مختلف مناسبتوں کی وجہ سے الگ الگ ناموں سے یاد کئے گئے ہیں لیکن کسی بھی زمانے میں ایسا عظیم ثقافتی بحران نہیں دیکھا گیا کہ ایک اعتبار سے اسے بحرانی ہو ےّت کا نام دیا گیا ہے۔ اگر آج ہم ترقی یافتہ ممالک کے ثقافتی مسائل کے بارے میں توجہ کریں اور گفتگو کریں تو ایک عجیب آشفتگی،سرگردانی،ابہام اور شدید فکری شکّاکیت(شک پرستی)کو دیکھیں گے کہ ایسا شکّاکیت سے لبریز زمانہ کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
پہلے زمانے میں یونانی کلچر میں سوفسٹ'' نام سے گروہ پیدا ہوا تھا چند دنوں تک تو ان کا نام و نشان رہا ؛لیکن بہت جلد ہی ختم ہو گئے ۔پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں ایک مرتبہ پہر شک پرستی کا طوفانپیرناور اس کے چاہنے والوں کی طرف سے ظاہر ہوا ؛ اور وہ بھی بہت جلدی ختم ہو گیا ؛اس کے بعد شک پرستی کا تیسرا دوررنسانس'' کے بعد شروع ہوا ؛اس کا اثرپہلے کی بہ نسبت زیادہ رہا ؛لیکن اتنا بھی نہیں کہ دنیا کے تمام اسکولوں،یونیورسٹیوں اور ثقافتی جگہوں پرچھا جائے مگر آخر کے دس سالوں میں شک پرستی کی ایک نئی موج اٹھی ہے جس کی وسعت و شدت گذشتہ موجوں سے بہت زیادہ ہے وہ اس طرح کہ اس نے چند جگہوں کو چھوڑ کر دنیا کے تمام علمی اورتمدّنی مراکز کو خاص طور سے اسکولوں اور یو نیورسٹیوںکو پریشانی اور درد سر میں مبتلا کر دیا ہے؛ تمام طرح کے شکی مکاتب فکر اور فلسفے بہت زیادہ رواج پا گئے ہیں اگر چہ ممکن ہے کہ ظاہری طور پر وہ شکاکیت کا نام نہ رکھتے ہوں ،لیکن ان کے مطالب شک پرستی کے عناصر سے خالی نہیں ہیں ۔اور دنیا کا ثقافتی ماحول ایسا ہو گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلہ میں یقین اور حقیقت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کو برا اور ناسمجھ سمجھا جاتا ہے اور اگر کسی کو بے عزّت کرنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ یقین پرست اور ڈگما تیزم کا حامی ہے، آج کل یقین پرست ہوناایک علمی گالی شمار کیا جاتا ہے؛ اور شک پرستی، نسبیت اورمطلق انگاری کی نفی ، اس طرح سے دنیا کی فکری اور معاشرتی فضاوئں پر چھا گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں یقینی طور پر اعتقاد رکھتا ہے اور دعوے سے کہتا ہے کہ ہم اس چیز پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو پوری طرح سے صحیح سمجھتے ہیں تو اس آدمی کو ناسمجھ ،سادہ لوح اور علم وفہم سے خالی تصور کرتے ہیں اور اس کو جاہل افراد میں شمار کرتے ہیں ۔
ایک مرتبہ میں نے ایک جگہ پر کہا کہ اگر ہم اس زمانے کو نئی جاہلیت زمانہ کے نام سے یاد کریں تویہ اسم با مسّمیٰ ہوگا کیونکہ آج کل قابل فخر بات یہ کہناہے کہ ہم نہیں جانتے ہیں وہ لوگ کہتے ہیں آج ہمیں اس مقام پر پہونچنا چاہئے کہ اچھّی طرح سمجھ لیں کہ تمام چیزیں مشکوک ہیں اور کوئی چیز یقینی وجود نہیں رکھتی ہے یعنی یہ قابل فخر ہے کہ ہم ہر چیز میں شک و جہل کا اقرار کریں یہ ایک نئی جاہلیت ہے جس کا ہم کو آج کل سامنا ہے؛ یہ اس جاہلیت کے مقابل ہے جس کو قرآن کریم نےجاہلیت اولیٰکے نام سے یاد کیا ہے( ۱ )
بہر حال ان لو گوں کی نظر میںڈگماتیزم اور یقین پرستی'' انسان کی ناسمجھی اور کج فہمی کی دلیل ہے، البتہ ہمارے نظریہ کے مطابق تمام چیزوں میں بھی شک پرستی اور نسبیت کا اعتقادآج جس کا دفاع کیا جا رہا ہے، جہالت اور ناسمجھی کے علاوہ اور کوئی دوسری چیزنہیں ہے، ہم نے قرآن کریم سے سیکھاہے کہ یقین اور یقینی چیزوں کو حاصل کرو اور اس کو اختیار کرو اور شک وتردید کے پردوں کو اپنے سے دور کرو۔سورہ بقرہ کے شروع ہی میں اس جانب اشارہ ہوا ہےو باالآخرة ھم یوقنون''( ۲ ) یعنی مومنین وہ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہوں ؛ قرآن مجید کا دستور یہ ہے کہ جس جگہ وہ کسی کی سرزنش کرتا ہے یا اس کی مذّمت کرتا ہے اور غلط قسم کے لوگوں کا تذکرہ کرتا ہے تو کہتا ہے: یہ لوگ شک والے ہیں بالکل اس کے خلاف جو کہ آج کی دنیا میں پایا جا رہا ہے کہ اگر کسی کی طرف علمی اعتبار سے نامناسب نسبت دینا ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اہل یقین ہے۔
____________________
(۱) سورہ احزاب : آیہ ۳۳۔
(۲) سورہ بقرہ : آیہ ۴۔
پلورالزم تساہل تسامح ،بحران پیدا کرنیوالوں کے ہتھکنڈے
بہر حال ہماری نظر میں شک پرستی اور نسبیت کا اعتقاد انسانی معاشرہ کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت اور آفت ہے کم سے کم ہمارے سماج کے لئے اس بات کا سبب ہے کہ ہماریاعتقادات اورثقافت جن کے لئے ہم نے قربانی پیش کی ہے اور ان کے وجود کے لئے صدیوں ہم نے زحمت برداشت کی ہے تا کہ وہ عالم وجود میں آئیں ، وہ سب ختم ہو جائے ؛اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عالمگیر شک پرستی کی موج و آفت] جو کہ ایک فاجعہ اور خطرناک بیماری ہے [کے مقابلہ میں کیا کیا جائے؟ ہم ایک اسلامی ملک اور حکومت ہونے کی وجہ سے جس طرح دوسرے شعبوں اقتصاد و صنعت وغیرہ میں مختلف کارنامے انجام دیتے ہیں ان کے علاوہ اس ادبی اورثقافتی میدان میں کون سا کام انجام دیں ؟البتہ ثقافت سے ہماری مرادنئی اصطلاح میں ر قص و سرود نہیں ہے بلکہ دینی اصولاعتقادات اور اقدار ہیں ہماری نظر میں اسلام ایک قطعی اصول اور محکم اقدار کا نام ہے ہمارا وظیفہ اور ذمہ داری یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم انکی حفاظت کریں اس کے بعد دوسروں کو ان کی جانب دعوت دیں نہ یہ کہ سیکو لرازم،لیبرال ازم، پلو رل ازم اور دوسرے کئی ازم اور نظریوںکے مقابلہ میں پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے اثرات کو قبول کر لیں ۔آج اس ملّت کے دشمن کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف ثقافتی حیلوں کو وسیلہ بنا کرلوگوں خصوصاً جوانوںکے اعتقاد،اعتماد اوریقین ،کو زیر سوال لا کرمتزلزل کردیںاورانھیںحیلوں میں ایک حیلہپلو رالزم''نام کی ایک خطرناک فکر ہے جس کی وہ لوگ ترویج کرتے ہیں ؛ اس کی اہمیت کے اعتبار سے ضروری ہے کہ اس کے بارے میں کچھ عرض کروں۔
پلورالیسٹ کہتے ہیں انسان مختلف عقیدوں اور فکروں کے مجموعہ کا نام ہے اور وہ مختلف راہ و روش رکھتاہے اور ہر عقیدہ اور راہ وروشجو کسی بھی معاشرہ سے متعلق ہواور وہ اس کو پسندکرتا ہو تو وہ محترم ہے ہم کو چاہئے کہ ہم ان کی فکر و نظر کا احترام کریں البتہ دوسروں کو بھی ہماری فکر و نظر کا احترام کرنا چاہئے ۔ہم کو نہ تو کسی کی فکر ونظر سے چھیڑ چھاڑ کرنی چاہئے اورنہ تو اس بات کا انکار کرنا چاہئے کہ دوسروں کی فکریں ہماری فکروں کی جا نشین ہو جائیںکسی شخص کو بھی اپنی فکرکے حوالے سے مطلق تصوّرنہیں کرناچاہئے بلکہ اس بات کو نظر میں رکھنا چاہئے کہ دوسرے لوگ بھی الگ فکرونظرکے مالک ہیں اس پرکوئی دلیل نہیں ہے کہ ہماری فکرو نظر صحیح ہے اور دوسروں کی غلط ہے آپ کس اصول کی بناء پر دوسروں کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں اور فقط اپنی فکر کو صحیح جانتے ہیں ؟ اگر آپ مسلمان ہیں اور اسلام کو قبول کرتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی ہیں جو مسیحیت ، بودھ ایزم اور دوسرے مذاہب کو قبول کرتے ہیں اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ آپ کا اسلام ان سے افضل و برتر ہے؛ ہم سب کو چاہئے کہ ایک دوسرے کا بھی اور ان کے عقائد کا بھی احترام کریںاور تعصب و دشمنی نہ رکھیں اور اس بات کی کوشش میں نہ رہیں کہ دوسرے لوگوں کو بھی لازمی طور پر اپنے مذہب اور دین کے اندر داخل کریں ،ہم کو چاہئے کہ ہم دوسروں کے افکار و عقائد سے چشم پوشی کریں اور ان سے اتسامح و تساہل کے ساتھ برتاؤ کریں اور اس بات کا احتمال رکھیں کی شاید دوسرے لوگ بھی حق پر ہوں اور سچ کہتے ہوں ۔
جیسا کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے یہ فکر حقیقت میں وہ ہتھیار ہے جس کو دنیا کی استعماری طاقتیں اسلامی کلچر کو روکنے خاص طور پر اسلامی انقلاب کے اثرات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے استعمال کرتی ہیں اسکے ساتھ ساتھ مغرب کے مادی اور الحادی کلچر کو رواج دینے کے لئے بھی یہ کوششیں ہیں ؛آج ہم خود اس بات کے شاہد ہیں کہ بعض نشریات ،اور تقریروں، جلسوں میں اسی فکر کو رواج دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس کے نفوذو اثر کا دامن اتنا وسیع ہے کہ بعض ایسے افراد جن کے متعلق گمان بھی نہیں کیا جا سکتا ان کو بھی اس فکر سے متاثر ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔
جوانوں سے متعلق ہماری اہم ذمہ داری
حضرت امام خمینی کی زندگی میں آپ کی بزرگ شخصیت کا لوگو ں پر اتنا اثر تھا کہ وہ لوگ آپ سے والہانہ محبت کرتے تھے بے چون و چرا آپ کی باتوں کو قبول کرتے تھے اور آپ کے نظریہ اور رفتار و گفتار کو مانتے تھے تمام ذمہ دار افراد کے درمیان حتیّٰ عوام الناس کے درمیان آپ کی بات حرف آخر رکھتی تھی؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف آپ ہی کی شخصیت ایسی تھی ۔یہ حقیقت ہے کہ ایسی چیزیں ہمیشہ اور ہر نسل میں باقی نہیں رہتی ہیں لہٰذا ہم کو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ اگروہ راہ اور فکر حقیقت میں صحیح اور درست تھی تو ہم کومنطق اور دلیلوں کے ذریعہ اس کی حمایت کرنی چاہئے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنا چاہئے اور اس کو پھیلانا چاہئے ؛خاص طور پر آئندہ نسلوں کے لئے ہمارا صرف یہ کہنا (امام خمینی نے یہ کہا اور امام خمینی نے یہ کیا) کافی نہیں ہے،
وہ عشق و جذبہ جو کہ انقلاب کے شروع اور پہلی نسل میں پایا جاتا تھا اور ان کے اندر جو شہادت کا جذبہ تھا ،جس کو میدان جنگ میں دیکھتے تھے ظاہرہے آنے والی نسلوں (یا ان لوگوں میں جنھوں نے امام خمینی کے ملکوتی چہرے کو نہیں دیکھا ہے یا جو لوگ ہر ہفتے یا روز انہ امام خمینی کے حکیمانہ جملوں کو نہیں سنتے )کے اندر نہیں پایا جا سکتا لہذا ہم کو چاہئے کہ واضح دلیلوں اور منطقی باتوں سے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
حقیقت میں اگر ہم ان نوجوانوں کی جگہ پر ہوں جو کہ ابھی جلدی ہی رشد و کمال پر پہونچے ہیں اور وہ مختلف نظریات اورمکاتب فکر سے روبرو ہوں تو ہم دیکھیں گے کہ مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ ان جوانوں کے لئے جو چیز قابل سوال ہے وہ یہ کہ اتنے نظریات جو کہ اس دنیا میں ضد و نقیض کی صورت میں پائے جاتے ہیں کیا دلیل پائی جاتی ہے کہ امام خمینی کا نظریہ ہی صحیح اور درست ہو؟ کون سی دلیل پائی جاتی ہے کہ اسلام ہی سب سے اچھا دین ہے اور اس کا راستہ سب سے اچھا راستہ ہے کیا دنیا میں مسیحی دین اور دوسرے دین کے ماننے والے کثیر تعداد میں نہیں پائے جاتے ہیں آپ کو کہاںسے معلوم ہوا کہ انکا عقیدہ اسلام اور امام خمینی سے بہتر نہیں ہے ،میں کیوں اسلام، انقلاب اور امام خمینی کو قبول کروں؟یہ اور اس جیسے دوسرے سوالات اور مسائل ہیں جو کہ ہمارے جوانوںکے ذہن میں پائے جاتے ہیں اور انکے ذہنوں کو جھنجوڑ تے رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو واضح طریقہ سے ان باتوں کو زبان پر لاتے ہیں اور ان کا اظہار کرتے ہیں اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مناسب ذہنی میدان اور ماحول'' پلورا لیزمکی ترویج کے لئے دین وثقافت کے حدود میں میں پا یا جا رہا ہے۔
میں خود دنیا کے مختلف ملکوں میں ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو کہ مسیحی تھے لیکن کہتے تھے کہ اسلام بھی اچھا دین ہے لیکن جب میں نے ان سے سوال کیاکہ پھر کیوں نہیں مسلمان ہو جاتے تو جواب میں کہتے ہیں چونکہ مسیحیت بھی اچھا دین ہے۔حتیّٰ اس سے بھی بڑھ کر آج پاپ (مسیحیوں کا رہنما)بھی اعتراف کرتا ہے کہ اسلام ترقی یافتہ اور اچھا دین ہے لیکن کبھی یہ نہیں کہتا کہ مسیحیت برا دین ہے یا اسلام مسیحیت سے بہتر ہے جب مسیحیت کا راہبر یہ اعلان کرتا ہے کہ اسلام بہت سی خوبیوں کا دین ہے تویہ خودبخوداس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دو اچھے دین ہیں ایک اسلام اور ایک مسیحیت۔ اگر آپ بودھ مذہب کے رہبر(بودھ ایسا مذہب ہے جسکے ماننے والے کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں )سے ملاقات کریں گے تو ممکن ہے وہ بھی کہے کہ بودھ اچھا دین ہے اسلام بھی اچھا مذہب ہے یہ وہی دینی پلورالیزم ہے یعنی ہم ایک اچھا اور برحق دین نہیں رکھتے بلکہ حق پر کئی دین ہیں کسی کو بلاوجہ یہ ضدنہیں کرنی چاہئے کہ جنت میں جانے اور سعاد ت مند بننے کے لئے مسلمان ہونا ضروری اور شرط ہے بلکہ مسیحی ،زرتشتی،بودھ اور دوسرے لوگ بھی جنت میں جاسکتے ہیں اور سعا د تمند بن سکتے ہیں اسی طرح ایک دین کے اندر بھی مختلف مکاتب فکر کوبھی ایک دوسرے پر ترجیح نہیں دینی چاہئے ؛بلکہ سب کے سب اچھے اور حق پر ہیں جیسے اسلام مذہب میں سنی اورشیعہ ہیں یامسیحیت میں کیتھولک''پروتٹیسٹان اورارتڈوکس'' لہذا ایک دوسرے کے باطل یا غلط ہونے کانظریہ نہیں رکھنا چاہئے۔
پلورالیسٹ کیا کہتے ہیں
پلورالیسٹ دینی پلورالزم کی تائید کے لئے پلو رالیزم کے دوسرے مظاہر کے ذریعہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ دینی پلورالیزم بھی صحیح ہے مثلاً کہتے ہیں آج د ونیاکے مملک مختلف حکومتی روش اور سسٹم کے تحت چل رہے ہیں ؛بعض ترقی یافتہ ممالک مثلاًانگلینڈ، جاپان وغیرہ میں با دشاہی حکومت پائی جاتی ہے اور دوسرے کئی ملکوں میں جمہوری حکومت پائی جاتی ہے؛ جمہوری حکومتوں میں بھی بعض جگہوں پر ریاستی اور کہیں پر پارلیمانی طریقہ حکومت پایا جاتا ہے۔ جب سیاست کے میدان میں حکومت کے مختلف قسم کے سسٹم سے متعلق بحث ہوتی ہے اور اس سوال کے جواب میں کہ (ان تمام سسٹم میں کون سا سسٹم اچھا ہے؟ ) وہ لوگ کوئی آخری اور فیصلہ کن جواب نہیں دیتے ؛بلکہ کہتے ہیں کہ ان تمام سسٹم میں بعض اچھائیاں اور خوبیاںبھی پائی جاتی ہیں ؛اور بعض حد بندیاں اور کمیاں پائی جاتی ہے اور کسی سسٹم کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ برا ہے وہ تمام سسٹم اچھے ہیں یہ سیاسی پلو رالزم یعنی سیاسی حکومت کے انتخاب میں لازم نہیں ہے کہ ہم کہیں یہ طریقہ حکومت اچھا اور صحیح ہے اور بقیہ حکومت کے سسٹم اور طریقے غلط اور باطل ہیں اسی طرح ایک حکومت یا کابینہ کے بنانے اور تشکیل دینے میں کئی الگ الگ پارٹیاں ہوتی ہیں یہ بھی ایک سیاسی پلورالزم کا نمونہ ہے۔وہ مختلف پارٹیاں جو کہ ایک ملک میں پائی جاتی ہیں اور الگ الگ نظریات اور فکریں رکھتی ہیں بلکہ نظریاتی اعتبار سے ایک دوسرے کی مخالف ہوتی ہیں ان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف ایک پارٹی صحیح اور باقی دوسری غلط ہیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے۔
اصولی طور پر اگر آج دنیا میں تمام لوگ متفقہ طور پر صرف ایک پارٹی کے طرف دار ہوں تویہ لوگ اسکو عقب ماندگی کی نشانی اور اس پارٹی کی تنزّلی کا سبب سمجھتے ہیں یہ لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک اور متمدن معاشرہ ضروری طور پر مختلف سیاسی نظریات رکھتے ہوں اورلوگ الگ الگ گروہ کے طرف دار ہوتے ہیں بنیادی طور پر مختلف نظریوں کا پارٹیوں میں ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ آپس میں رقابت پیدا ہو،و پارٹی حکومت میں نہیں ہے وہ حکومتی پارٹی کے کارناموں کو دیکھے اور اس پر نظر رکھے نیز ہر پارٹی ایک دوسرے کی کمیوں اور کمزوریوں پر نظر رکھے اس طرح ہر پارٹی اپنے کاموں پر نظر رکھتی ہے اور کوشش کرتی ہے کوئی کمی اور غلطی نہ ہونے پائے اگر غلطیاں اور کمزوریاں ہیں تو اس کا ازالہ کیا جائے نیز اس بات کی ہر پارٹی کوشش کرتی ہے کہ سبھی کام کو اچھے طریقے سے انجام دیا جائے تاکہ لوگوں کے ووٹوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں؛ انھیں سب وجہوں سے ذمہ دار اور سیاسی افراد اپنے ملکوں میں ترقی دیتے ہیں کہ نتیجہ میں جس کا فائدہ اس معاشرہ کے تمام عوام کو پہونچتا ہے۔ اس بنیاد پر ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی پلورالزم اور چند پارٹیوں کا ہونا ایک پسندیدہ اور فائدہ مند بات ہے اور وہ سیاسی سسٹم اور طریقہ کارجو ایک ہی پارٹی میں محدود ہوسیاسی پلورالزم کے مقابلہ میں نامناسب اور بیکار ہے ۔
اسی طرح اقتصادی میدان میں بھی یہ بات بہت حد تک واضح ہے کہ مختلف اور متعدد نظریے اور کئی اقتصادی طاقتوںاور ذرائع کا ہونا ہی اچھا اور قابل قبول ہے اور ایک محور کا اقتصاد بہت زیادہ نقصاندہ اور عیب کا باعث ہے اور یہ قابل دفاع بھی نہیں ہے ۔ جس میدان میں کئی اقتصادی محور موجود ہونگے وہاں آپس میں رقابت پیدا ہو گی اور رقابت کے نتیجہ میں اچھی چیزیںبہتر صورت میں بہت کم قیمت پر استعمال کرنے والوں تک پہونچیں جائیں گی اور اقتصادی مارکیٹ میں اچھی طرح وسعت اور ترقی بھی اسی رقابت کے ذریعہ ہوتی ہے جبکہ ایک محوری اقتصاد میں محدودیت پیدا ہو جاتی ہے اور رقابت نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر چیزوں کی کیفیت اور بناوٹ اچھی بھی نہیں ہوتی اور قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس میں ترقی اور وسعت چند محوری اقتصاد کی بہ نسبت بہت کم ہوتی ہے لہٰذا ان سب باتوں کی وجہ سے اقتصادی پلورالزم قابل قبول اور فائدہ مند ہے ۔
پلورالیسٹ اس طرح کی باتیں ذکر کر کے نتیجہ نکالتے ہیں کہ جس طرح پلورالزم اور کثرت خواہی مختلف جگہوں جیسے سیاست، اقتصاد اور دوسری چیزوں میں اچھی چیز ہے اسی طرح دین اور کلچر میں بھی پلورالزم اور کثرت گرائی پائی جانی چاہئے؛ تاکہ اس طرح سے تمام اد یان کے معاشرہ اور سماج کے اندر پوری طرح سے فراہم ہو نا چاہئے اور اعتقادی نظریہ سے بھی اس بات کا یقین رکھیں کہ مختلف ادیان میں کوئی برتری نہیں پائی جاتی ہے اوران میں کسی ایک دین کو قبول کرنے کی حیثیت بقیہ تمام ادیان قبول کرنے کے برابر ہے لہٰذا دینوں میں حق و باطل کا قائل ہونا اور ان کو اچھے برے میں تقسیم کرنا یا ان کوا چھے اور برے عنوان سے یاد کرنا یہ سب پوری طرح بے بنیاد اور بے فائدہ ہے اور عیسائی، مسلمان ،شیعہ اورسنی،کیتھولیکاور پروٹیسٹ خلاصہ یہ کہ تمام ادیان نیز فرق و مذاہب حقیقت تک پہونچنے کے راستے اور منزل مقصود اور ساحل نجات تک پہونچانے والے صراط مستقیم ہیں ،اور ان میں سے کسی ایک پر تعصب کرنا بے عقلی اور غیر منطقی ہونے کی دلیل ہے عقلمند انسان جس طرح اقتصادی اور سیاسی پلورالزم کو قبول کرتا اسی طرح وہ اس کو دین کے بارے میں بھی قبول کرتا ہے اور دین میں کثرت کا ہونا پوری طرح سے فطری اعتبار سے قابل قبول اور معقول ہے۔
بہر حال آج کل یہ فکر ہمارے سماج میں مختلف طریقوں سے ترویج کی جارہی ہے ،جیساکہ پہلے اشارہ کیا جاچکاہے واقعاً ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں بھی یہ سوال پیداہوتا ہے کہ حقیقت میں جس طرح ہم لوگ اقتصاداورسیاست کے میدان میں کثرت کو قبول کرتے ہیں مثلاًاقتصاد کے میدان میں اہل اقتصاد صادرات کو وسیع یا واردات کو کم کرنے اور مکمل طرح سے رشد و وسعت میں کسی ایک ملک سے متعلق ایک خاص نظریہ نہیں رکھتے ہیں ان کے درمیان اختلاف کا ہونا فطری چیز ہے یہ ضروری نہیں کہ سب کے سب ایک نظریہ پر پہونچیں ؛پھر اب کیا مشکل ہے کہ دین اور ثقافت کے بارے میں بھی اسی چیز(پلورالزم اورکثرت گرائی) کو قبول کریں ؟سچ مچ اس بات پر کیوں ضد اور اصرار ہے کہ میں لازمی طور پر اسلام ہی کو نہ کہ مسیحیت کو قبول کروں ؟ حقیقت میں کیا یہ بھی ضروری ہے کہ ایک دین کا پابنداور خدا کے وجودکا اعتقاد رکھوں؟ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا کا انکار کرتے ہیں یا خدا کیوجود میں شک و شبہ رکھتے ہیں ،یہ بھی ایک عقیدہ دوسرے عقیدوںکے درمیان ہے اوردوسرے عقیدوں جیسا ہی ہے میں کیوں نہ اس عقیدے کو قبول کروں ؟
اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ پوری طرح سے بہت ہی اہم ہے اور ایک مضمون یا کتاب سے زیادہ مطالب کا حامل ہے یہ مسئلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ ہمآمادہ ہو کر منطقی اور استدلالی جواب کے ساتھ نوجوان نسلوں کے سوالات کے جواب دینے کے لئے حاضر ہوں اور اس شبہ کو حل کریں۔
پلورالسٹ کے پہلے بیا ن پرتنقید
مذکورہ بیان جو کہ پلورالزم کہ تائید کرتا ہے سب سے پہلے اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ منطقی لحا ظ سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر ہم اقتصاد و سیاست میں کثرت گرائی کو قبول کرتے ہیں تو دین اورکلچر میں بھی اس کو قبول کریں ؛پلورالزم کے مذکورہ بیان میں جو کچھ کہا گیا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہچونکہ سیاست و اقتصاد اور دوسرے امور میں کثرت گرائی فائدہ مند ہے اور لوگ اس کو پسند کرتے ہیں ؛لہٰذا دین و ثقافت کے مطالب میں بھی کثرت گرائی مفید و مطلوب ہے
ہماری اصلی بحث اسی میں ہے یہ مطلب صرف ایک دعویٰ ہے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی گئی ہے یہ مطلب ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی کہےچونکہ فٹ بال کے کھیل میں گیارہ کھلاڑیوں کا ہونا مفید و مطلوب ہے لہٰذا والی بال کے کھیل میں بھی گیارہ کھلاڑیوں کا ہونا مفید ومطلوب ہے
حقیقت میں جس طرح یہ دوسرا دعویٰ بغیر دلیل کے ہے اور تعجب انگیز ہے اسی طرح پہلا دعویٰ بھی ہے۔ اس کے بارے میں تھوڑی وضاحت اس طرح سے ملاحظہ ہویہ صحیح ہے کہ اقتصادی، سیاسی اور اس جیسے دوسرے بعض ایسے مسائل ہیں کہ ان کا جواب ایک نہیں ہے ان کے جواب میں کثرت اور زیادتی ممکن ہے بلکہ کبھی کبھی صحیح اور پسندیدہ بھی ہے لیکن بعض دوسرے مسائل ایسے بھی ہیں جن کا جواب صرف اور صرف ایک ہی ہے، ان کا جواب ایک سے زیادہ قابل قبول اور قابل تصّور نہیں ہے جیسے ریاضی،فزکس اور ہندسہ وغیرہ ،مثلاً حساب میں ۲ضرب ۲ کا جواب فقط ۴ ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا جواب صحیح نہیں ہے یا ہندسہ میں ۳ زاوئیے جو کہ مثلث اعتبار سے برابر ہوں جو کہ دلیل سے ثابت ہوتے ہیں اس کا جواب صرف ۱۸۰ درجہ ہی ہوگا اس کے علاوہ دوسرا کوئی جواب نہیں ہے یا ایک مسافت کا حساب لگایا جائے جو کہ ایک متحرک معین زمانہ میں مشخص رفتار کے ساتھ طے کرتاہو تو اس کا جواب ایک ہی ہوگا کہ جس d=v.t فارمولے کے ذریعہ حساب کیا جائے گا ،کیا کوئی یہاں پر یہ کہہ سکتا ہے کہ اقتصادی اور سیاسی مسائل میں جس طرح مختلف نظرئیے پائے جاتے ہیں
اور اس کا ایک جواب نہیں پایا جاتا اسی طرح دو ضرب دو کے بارے میں بھی ہے اور تمام علم ریاضی کے جاننے والے دوسروں سے علیحدہ جواب دے سکتے ہیں اور ان میں یہ بھی احتمال ہو کہ کوئی صحیح اور کوئی غلط ہو ؟ ہاں اس نکتہ کی جانب توجہ ضروری ہے کہ ممکن ہے ریاضی اور اس جیسے مسائل کے جواب دو یا اس سے زیادہ راہ حل رکھتے ہوں؛ مگرآخر میں سارے مختلف راہ حلایک جواب تک پہونچیں گےاور چند راہ حل کا ہونا کئی صحیح جواب کے ہونے سے الگ اور جدا چیزہے۔
لہذٰا ممکن ہے کہ انسانی وجودات اور معارف میں ہمارے سامنے بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کے جواب ایک سے زیادہ ہوں اور ایسے مسائل بھی ہوں؛ جن کے جواب فقط ایک ہوں اور ہمارا اصلی سوال ان لوگوں سے جو پلورالزم دینی کے قائل ہیں یہ ہے کہ آپ کو کہاں سے معلوم کہ دین ان مسائل سے ہے جن کے جواب ایک سے زیادہ نہیں ہے ؟ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ دین اقتصاد اور سیاست کی طرح ہے جس کے کئی جواب ہیں اور اس کے اندر کثرت فائدہ مند اور مطلوب ہے تو ہم بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ایسا نہیں ہے، دین کے مسائل فیزیکس اور ریاضی جیسے ہیں جن کے جواب ایک سے زیادہ صحیح نہیں ہیں ،ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہخدا ہے یا نہیں ؟کا سوال دو ضرب دو یعنی دو دو چارمسئلہ جیسا ہے کہ صرف اور صرف اس کے جواب میں ایک ہی بات صحیح ہے ۔
پلورالسٹوںکی دوسری دلیل
یہاں پر جو لوگ دینی پلورالزم اورکژت گرائی کے قائل ہیں وہ اپنے مدّعا کو ثابت کرنے کے لئے دوسری دلیل کا سہارا لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انسان سے متعلق جوامورہیں وہ دو طرح کے ہیں کچھ امور حقیقی اور واقعی ہیں جبکہ کچھ قرار دادی اور اعتباری ہیں ، واقعی اور حقیقی امور ایسے ہی ہیں جیسا آپ کہتے ہیں یعنی ان کے جواب صرف ایک ہی ہیں یہ ایسی چیزیں ہیں جو کہ حس اور تجربہ سے ثابت ہیں ؛ لیکن جو امور قرار دادی اور اعتباری ہیں جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے وہ امور انسان کے ذوق اور سلیقے اور قرار داد واعتبار کے علاوہ کوئی حقیقت اور واقعیت نہیں رکھتے اور اسی وجہ سے افراد اور معاشروں کے ذوق اور سلیقہ اور قرار دادو اعتبار کے اختلاف کے سبب بدلتے رہتے ہیں ؛ اس کے بر خلاف واقعی امور ہیں مثلاً ایک خاص کمرے کی مساحت انسان کے معاملہ اور ذوق وسلیقے سے معین نہیں ہو تی؛بلکہ حقیقی طور پر اس کمرہ کی پیمائش اتنی ہی ہوگی جتنے میں موزائیک پتھر لگے ہوئے ہیں ۔
امور اعتباری میں اصلاًاس طرح کے جملوں کو جیسے بہتر ہے یا بدتر ہے اچھا یا برا ہے صحیح یا غلط ہے یا اس سے ملتے جلتے جملوں کو استعمال نہیں کیا جاتا ؛ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان جیسے جملوں کو استعمال کریں تو ہم کو کہنا ہوگا کہ سب ہی صحیح، اچھے اور بہتر ہیں خراب ،غلط اور برے کایہاں وجود ہی نہیں ہے۔ اگر ایک شخص صورتی رنگ کو پسند کرتا ہے اور دوسرا ہرے رنگ کو تو اب کوئی بھی آدمی ایک دوسرے کو غلط نہیں کہہ سکتا ہے اور برے ،غلط یا باطل جیسے الفاظ کو استعمال نہیں کر سکتا ہے؛ بلکہ کہنا چاہئے کہ صورتی رنگ بھی اچھا ہے اور سبز رنگ بھی بہتر ہے خلاصہ یہ کہ جو اموراور مسائل اعتباری ہیں ان کا جواب ایک نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ ان کے جواب ایک سے زیادہ ہوں ۔
پلورالسٹ والے دعوی ٰ کرتے ہیں کہ دین ثقافت اور افکار واقداراعتباری امور میں سے ہیں اور ذوق وسلیقہ اور قرار داد واعتبار کے تابع ہیں ؛ جس طرح اس سوال کے جواب میں کہ( کون سا رنگ اچھا ہے؟ ) ایک جواب نہیں ہے اور خاص طور سے ایسے سوال بے معنی اور نا مناسب ہیں لہذٰا اس سوال کے جواب میں کہکون سا دین اور کلچر اور مکتب فکربہتر اور صحیح ہے؟) ممکن نہیں ہے کہ ایک ہی جواب کو اختیار کیا جائے ؛ایک لحاظ سے ایسا سوال ہی کرنا بے کار ہے اگر کوئی شخص اسلام کو پسند کرتا ہے اس کے لئے وہ اچھا ہے اگر کوئی مسیحیت کو پسند کرتا ہے تو اس کے لئے وہ بہتر ہے اگر کوئی یہ کہے کہ خدا ایک ہے تو ٹھیک ہے اگر کسی نے یہ کہا کہ خدا تین ہیں تو یہ بھی صحیح ہے اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر کسی نے کہا خدا ہے اور کسی نے کہا کہ خدا نہیں ہے تو دونوں کی بات صحیح ہے اور دونوں حق پر ہیں ،میں چاہتا ہوںکہ بیت المقدس یعنی قبلہ اوّل کی طرف رخ کر کے نماز پڑھوں اور آپ چاہتے ہیں کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں تو اس میں کوئی بھی مشکل نہیں ہے ،دونوں صحیح ہے ؛جس طرح آپ اس کھانے کو پسند کرتے ہیں ،اور میں اس کھانے کو پسند کرتا ہوں ؛ایسا ہی دین کا بھی معاملہ ہے میں اسلام کو پسند کرتا ہوں ،آپ بودھ کو پسند کرتے ہیں اورہم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر ترجیح نہیں رکھتا دونوں میں کوئی بھی دشمنی اور جنگ نہیں ہے بلکہ دونوں ہی بہتر اور اچھے ہیں ۔ مثلاً کامیابی اور جیت کے موقع پر مغربی کلچر میں انگلیوں کو ایک خاص شکل میں گھمایا جاتا ہے یعنی] v [ بنایا جاتا ہے جب کہ اس حرکت کو ایرانی کلچر مین ایک بے عزتی اور گالی شمار کیا جاتا ہے لیکن اس حرکت پر ہم مغربی ممالک کے لوگون کو غلط نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ ایک قرار دادی اور اعتباری چیز ہے بالکل ایسے ہی دینی امور بھی ہیں ۔
جس مسئلہ کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے اور پلورالیسٹدینی پلورالزم کی تائید کے لئے اسی طرف اشار ہ کرتے ہیں اصطلاح میں اس کو''افکار واقدار میں نسبیتکے نام سے یاد کیا جاتا ہے افکارو اقدار میں نسبیت کی بحث اس کا خلاصہ اور نتیجہ یہی ہے کہ اچھا اور برا ہونا نیز فائدہ مند مسائل اور اس کے علاوہ اخلاقی اقدارکی باتیں سلیقے اور قرار داد واعتبار کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں مختلف لوگوں کی نسبت ممکن ہے تفاوت واختلاف ہو، جس طرح کھانے اور رنگ کے متعلق الگ الگ پسندہوتی ہے اورمختلف افراد کی نسبت پسندوںمیں فرق ہوتا ہے اچھائی اور برائی اور اس کے علاوہ افکار واقداربھی اسی طرح سے ہیں ؛جس طرح کھانے اور رنگ کے بارے میں کسی ایک کو مطلق طور پر اچھا نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ ممکن ہے ایک رنگ یا غذا ایک آدمی کے نزدیک پسندیدہ ہے اور وہی چیزدوسرے کے نزدیک بری اور ناپسند ہے اسی طرح افکار و اقدار اور اخلاقی مسائل کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی ہر انسان اور سماج کی نسبت مختلف ہوتی ہے اوربدلتی رہتی ہے ۔
یہاں تک اس بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ صاحبان پلورالسٹوں نے پہلے تویہ کہا :
(۱) چونکہ اقتصاد اور سیاست میں پلورالزم اور کثرت گرائی صحیح اور فائدہ مندچیز ہے لہذا دینی امور میں بھی ہم اس بات کو قبول کریں کہ کثرت گرائی ایک اچھی اور مفید چیز ہے ،
اس بات کا جواب ہم نے یہ دیا کہ دینی مسائل بھی فیزیک اور حساب جیسے ہیں جو کہ ایک جواب رکھتے ہیں اس میں تکثر اورکثرت گرائی صحیح نہیں ہے۔
(۲)اس کے بعد پلورالسٹوں نے کہا کہ افکار واقدار میں نسبیت پائی جاتی ہے اور انھوں نے بعض اخلاقی و اجتماعی آداب و رسوم کو پیش کیا اور ثابت کرنا چاہا کہ عام فکری مسائل میں بھی نسبیت پائی جاتی ہے تاکہ بعد میں نتیجہ پیش کر سکیں کہ دین کے اموربھی نسبی ہیں ۔
پلورالزم کو ثابت کرنے کی تیسری کوشش
پلورالسٹ اس ذیل میں پچھلی باتوں سے بھی آگے بڑھ کر اس بات کا دعویٰ کر بیٹھے کہ حقیقت اور اصل میں تمام معارف اور مسائل چاہے وہ جس شعبہ کے ہوں ہر جگہ نسبیت پائی جاتی ہے اوراصولی طور پر کوئی شناخت اور معرفت بغیر نسبیت کے نہیں ہو سکتی ہیں بس فرق اتنا ہے کہ بعض جگہوں پر یہ نسبیت بالکل واضح اور روشن ہے اور سب لوگ اس کو جانتے ہیں لہذٰا آسانی سے قبول کر لیتے ہیں اور بعض جگہوں پر یہ نسبیت پوری طرح سے واضح نہیں رہتی ہے اور عام لوگوں کا نظریہ ایسی جگہوں پر یہ ہوتاہے کہ مطلق اورثابت معرفت کو حاصل کر لیا ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے یہ وہی چیزیں ہیں جن کی طرف ہم نے شروع میں اشارہ کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ معرفت و شناخت میں نسبیت کا قول اصل میں وہی شک پرستی ہے جو کہ آخری دس سالوں سے پہلے اور حضرت عیسیٰ سے پہلے اور ان کے بعدبھی دو تین بار فلسفیوں اور دانشوروں کے
یہاں پائی گئی تھی ،لیکن یہ نظریہ اس وسعت سے نہیں پھیلا تھا اور اتناموثرنہیں ہواتھا لیکن ادھر آخری دس سالوں میں بہت زیادہ پھیل گیا ہے اس نے آج دنیاکی اکثر فکری اور ثقافتی مراکز کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ،ایک عالم کو آج فخر اس بات پر ہے کہ وہ کہے میں اس بات کو نہیں جانتا اور اس چیز میں شک رکھتا ہوں ؛اگر کوئی شخص علم و یقین کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے دعوے کو نادانی کی علامت سمجھا جا تا ہے ۔
بہر حال اگر تمام معارف و شناخت نے نسبیت کے رنگ کو اختیار کر لیا تودین اور دینی معرفت بھی محفوظ نہیں رہ پائے گی اور وہ بھی نسبی اور تغیر پذیر بن جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا اور ہم کہہ سکتے ہیں مثلاً سماج ]الف [کے نزدیک اور ان کے نظریہ کے مطابق مسیحی دین صحیح اور بہتر ہے اور وہ حق پر ہے، سماج ] ب[ کے نزدیک اسلام دین اچھا اور حق پر ہے، بلکہ ممکن ہے کہ ایک ہی سماج کے نزدیک ایک وقت میں ایک دین بہتر اور حق پر ہو اور دوسرے زمانے میں دوسرا دین بہتر اور حق پر ہو اور معلوم نہیں کہ حقیقت اور سچاّئی کیا ہے؟ اصلاًحقیقت بھی ایک نسبی مسئلہ ہے اس سماج اور اس زمان کی نسبت حقیقت ایک چیز ہے اور دوسرے زمانے اورسماج کی نسبت دوسری چیز ہے ۔
مسلمان پلورالسٹ ( بہتر ہے کہ ہم ان کو وہ پلورالیسٹ کہیں جو کہ ظاہری طور پر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں )دینی پلورالزم کی تائید میں کبھی کبھی قرآنی آیات اور احادیث سے استناد کرتے ہیں اور کبھی مولوی،حافظ اور عطاّر وغیرہ کے اشعار پیش کرتے ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ،بت خانہ، مسجد،کلیسا یہ سب ظاہری طور پر اگر چہ الگ الگ ہیں لیکن سب کے سب ایک ہی خدا کی تلاش اور خدا پرستی کی ایک ہی حقیقت تک پہونچاتے ہیں جیسے یہ شعر بہت ہی شور و غل کے ساتھ پیش کیا جا تا ہے ۔
مقصود من از کعبہ و بت خانہ تویی تو
مقصود تویی کعبہ و بت خانہ بہانہ
اے خدامیری مراد کعبہ اور بت خانہ سے تو ہی ہے مقصود اور مراد تو ہی ہے کعبہ و بت خانہ تو ایک بہانہ ہے۔
اس طرح سے پلورالزم کی بحث اجتماعی مسائل میں کثرت پرستی سے شروع ہوتی ہے ا ور پھر آگے چل کرافکار واقدار میں نسبیت کی بحث پیش کی جاتی ہے اور آخر میں یہ بحث انسان کے تمام معارف میں نسبیت تک پہونچ جاتی ہے ۔یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ اگر پلورالزم کے نظریہ اور فکر کو قبول کر لیا جائے تو اسلام ، انقلاب ، امام خمینی اور اسلامی افکار واقدار کاپابند رہنا لازم و ضروری نہیں رہ جاتا ہے ؛اور ہر طرح کے اعتقاد ،اعمال اور رفتار نیز تمام اخلاقی برائیوں کی توجیہ آسانی سے کی جا سکتی ہے اور ان تمام چیزوں کو قبول کر سکتے ہیں اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے ان تمام مطالب اور باتوں کی تحقیق وتنقید کریں گے اور مسئلہ کی حقیقت کو روشن کریں گے۔
دینی پلورالزم-۲
پلورالزم کی بحث کو جاری رکھتے ہوئے مناسب ہے کہ اس جلسہ میں سب سے پہلے ان عقلی اسباب و علل کا ذکر کیا جائے جو کہ دینی پلورالزم کے پیدا ہونے میں دخالت رکھتے ہیں 'اس بات سے چشم پوشی کرتے ہوئے کہ ممکن ہے اس فکر کے ہونے میں سیاسی اسباب و علل بھی ہوں ،،کون سا (ان کی نظر میں )منطقی یا عقلی سبب ہے جو اس بات کا موجب اور سبب بنا کہ یہ مسئلہ پیدا ہو ؟ سیاسی اسباب کے علا وہ ممکن ہے یہاں پر کم سے کم دو سبب اس مسئلہ کے پیدا ہونے میں دخالت رکھتے ہوں۔
پلورالزم کی پیدائش میں نفسیاتی عوامل کا دخل
پہلا سبب ایک نفسیاتی سبب ہے جس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے: اس وقت دنیا میں تقریباًچھ ارب لوگ زندگی گذارتے ہیں ؛جوکہ مختلف دین و فرقہ کے پیرو اور تابع ہیں اور ان کااعتقاد بھی کسی ایک دین اور فرقے پر دوسرے ادیان کے ساتھ بغض و دشمنی اورعنادکی وجہ یا انکار حق کی وجہ سے نہیں ہے ، بہت سے لوگ کسی خاص فرقے اور مذہب پر صرف اس لئے ہیں کہ وہ جغرافیائی اعتبار سے کسی خاص ملک کے حصّہ میں پیدا ہوئے ہیں ،یا یہ کہ ان کے ماں اور باپ کسی خاص مذہب یا دین کے پیرو ہیں اوران لوگوں نے بھی اس مذہب کو اسی لئے قبول کر لیا ہے اور بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ واقعی طور پراپنے دین کے احکام اور دستورات کو قبول کرتے ہیں اور اس کی پابندی کرتے ہیں ؛اور اس پر عمل کرنے کو لازمی جانتے ہیں ایسی حالت میں اگر ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ اسلام کے علاوہ دوسرے تمام دین ناحق اور باطل ہیں اور ان کے ماننے والے جہنمی ہیں ، نیز اسلام میں بھی شیعہ اثنا عشری فرقے کے علاوہ جتنے فرقے ہیں سب کے سب باطل ہیں اوران کے معتقد اہل جہنم ہیں ،تو ہمیں کہنا چاہئے کہ بیس کروڑ افراد جو کہ شیعوں کی ایک تخمینی تعداد ہے اس کے علاوہ (وہ بھی ایمان اور عمل صالح کی شرط کے ساتھ ) سب کے سب پانچ ارب اسیّ کروڑ افرادگمراہی اور ضلالت میں ہیں اور وہ جہنمی ہیں
اور ان سبھی پر عذاب ہوگا ۔کیا سچ مچ اس چیز کو قبول کیا جا سکتا ہے؟ کیا صرف اس لئے کہ وہ لوگ ایک مسیحی ملک میں پیدا ہوئے ہیں یا یہ کہ ان کے ماں باپ عیسائی تھے، انھوں نے عیسائی دین کو قبول کر لیا اور اسی عیسائیت بہت ہی مومن اور معتقد بھی ہیں ان لوگوں نے کون سی غلطی یا گناہ کیا ہے کہ مستحق عذاب ہوں اور جہنم میں جائیں؟ اس مسئلہ کو بھی دیکھنا ہوگا شیعوںکے درمیان بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کہ گناہان کبیرہ کو انجام دیتے ہیں اور فسق و فجور میں مبتلا ہیں اگر چہ ان کا عقیدہ صحیح ہے لیکن برے کام اور غلط عمل کی وجہ سے ان پر عذاب ہوگا اور وہ جہنم میں جائیںگے؛ اگر حقیقت میں ایسا ہوا تو تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ سب کے سب جہنم ہی میں جائیں گے پھر وہ مشہور مثالعلی باقی رہیں گے اور ان کا حوض ،، تو پھر قیامت کے دن کون باقی رہے گا ؟جس کو ساقی کوثر جام پلائیں گے؟
اس طرح یہ نفسیاتی مسئلہ جو انسان کی روح اور ذہن کو جھنجھوڑتا ہے اور بہت اذیت دیتاہے اور وہ اس کو قبول کرنے میں پریشانی محسوس کرتا ہے جس کے سبب وہ سوچتا ہے تمام مذہب والے کیوں نہ حق پر ہوں ؟اور کیوں نہ ان کو بھی نجات حاصل ہو ؟ہم کو یہ بات ماننا چاہئے کہ بارہ امام کو ماننے والے شیعہ بھی حق پر ہیں اور دوسرے مذاہب والے بھی صحیح عقیدے اور حق پر ہیں بلکہ ممکن ہے کہ دوسرے مذاہب والے ہم سے زیادہ نجیب،پاک وپاکیزہ اوراپنے دین پر عمل کرنے والے ہوں اور دینی عقائد میں ان کا عقیدہ ہم سے زیادہ راسخ ہو بہر حال کثرت ادیان کو قبول کرنے اور ان کو حق پر جاننے سے انسان اپنے اندر جو روحی اذیت اورنفسیاتی ا ضطراب محسوس کرتا ہے اس سے نجات پا سکتا ہے۔
پلورالزم کی پیدائش میں اجتماعی عوامل کا دخل
دوسرا خاص سبب جولوگوں کے ذہن میں دینی پلورالزم کی فکر کے پیدا ہونے اور اس کی تقویت کا سبب ہے حقیقت میں وہ ایک اجتماعی اور کلی سبب ہے اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے :
ہم پوری تاریخ میں بہت سی جنگوں کو جو کہ گھروں کی بربادی اور اور ان کے جلنے کا سبب بنتی ہیں اکثردیکھا کرتے ہیں جن کا اصل سبب مذہب اور دین ہے اور انسان فقط دین اور فرقے کے اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتا اور جھگڑتا ہے اور قتل وغارت گری کرتا ہے اس کا واضح اور آشکار نمونہ صلیبی جنگ ہے؛ اس کے دوران ہزاروں مسلمان اور عیسائی مارے گئے اور کتنی بربادی ہوئی کس قدر ثروت اور جائیداد تباہ و برباد ہوئی اور بہت سی قوت و طاقت اس جنگ کی وجہ سے ضائع ہوگئی بہت سے امکانات جو کہ انسان کی آبادی اور رفاہ کے لئے استعمال ہو سکتے تھے وہ نیست و نابود ہو گئے ،آج بھی ایک ترقی پذیر ملک اور دنیاوی تعبیر میں ہم لوگ جس کو تمدن یافتہ ملک سمجھتے ہیں انگلستان ہے لیکن وہاں پر بھی عیسائیوں کے دو فرقے کاتھولیک اور پروٹسٹوں کے درمیان خونریزجھڑپ ہوا کرتی ہے، یا ہندوستان اور پاکستان اور افریقا کے بعض ممالک ہی میں دیکھ لیجئے اکیسویں صدی کے آغاز میں آج بھی فرقوں اور مذہبوں میں اکثر جنگیں اور قتل و غارت گری ہوتی رہتی ہے اور یہ سب مذہب و فرقہ کی وجہ سے ہے۔ اگر ہم اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیں تو بہت ہی آسانی کے ساتھ یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے وہ اس طرح کہ ہم اس بات کا اعتقاد رکھیں کہ اسلام بھی اچھا دین ہے اور مسیحی مذہب بھی اچھا ہے پروٹسٹ اور کاتھولیک دونوں فرقے حق پر ہیں ، شیعہ اور سنّی دونوں فرقے صحیح راستے پر ہیں ؛اس طرح سے لڑائی اور جھگڑے کرنے والے انسانی سماج سے خود بہ خود ختم ہو جائیں گے ۔سچ مچ کیا یہ مناسب نہیں ہے آج کا انسان جو کہ تمدن یافتہ ہے وہ دشمنی اور جنگ و جدال نیز قہر و غضب کو بر طرف کر دے اور اس کے بجائے صلح وصفائی ' بھائی چارہ ' میل و محبت کے ساتھ'' ڈگما تزم' اور یقین پرستی کو دور کر کے تمام مذاہب اور ادیان کا احترام کرے اور دوسرے کے اعتقاد اور نظریہ کو اپنے عقیدہ اور نظریہ کی طرح حق پر جانے ؟دشمنی اور جنگ جاہل اور غیر متمدن افراد کا کام ہے آج کا انسان متمدن اور سمجھدار ہے ۔
لہذانتیجہ اور خلاصہ یہ ہوا کہ سیاسی اسباب کے علاوہ کم سے کم دو سبب عقلی طور پر پلورالزم کے پیدا ہونے میں دخالت رکھتے ہیں ۔
ایک نفسیاتی تصوّرکہ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تمام انسان جہنم میں نہیں جا سکتے اور دوسرا یہ کہ جنگ اور خونریزی سے بچنے کے لئے ہم پلورالزم کو قبول کریں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنگ و خونریزی سے بچنے کے لئے صرف یہی ایک راہ حل ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مذہبی جنگ اور فرقوں کے اختلاف سے بچیں تو اس بات کے قائل ہوں کہ تمام دین صحیح اور حق پر ہیں ؟اور اگر بے شمار انسانوں کو ( جنکا گناہ کچھ بھی نہیں صرف بعض اجتماعی مسائل اور ان جیسے اختلاف کے سبب انھو ں نے راہ حق کو جو کہ ہماری نظر میں اسلام ہے نہیں پہچاناہے )جہنم میں جانے سے بچائیںتو کیا اس کا واحد راہ حل صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہو جائیں کہ ہندئوں کا بت پرست ہونا ،مسیحیوں کا تثلیث یعنی تین خدا کا قائل ہونا مسلمانوں کا توحید و یکتا پرست ہونا ؛یہ سب کا سب صحیح عقیدہ ہے ؟ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے؟
پلورالزم کے تصو ر میں نفسیاتی عوامل کا تجزیہ
نفسیاتی سبب کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہ نظریہ رکھنا کہ شیعہ اثنا عشری مذہب کے علاوہ دوسرے مذہب کے ماننے والے تمام افراد جہنمی ہیں ، ایسا نظریہ صحیح نہیں ہے اسلام ایسی کوئی بات نہیں کہتا ہے۔ ہمارا یہ کہنا صحیح ہے کہ حق مذہب صرف ایک ہی ہے لیکن جہنمی ہونااورعذاب کا مستحق ہونا صرف ان لوگوں سے وابستہ ہے جو اہل عناد ہیں یعنی باوجودیکہ حق ان پر روشن ہوچکا ہے لیکن باطل اغراض کی وجہ سے یا دشمنی کے سبب وہ حق کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور اگر کوئی کسی وجہ سے حق کو پہچان نہیں سکا ہے وہ ایسا نہیں ہے یعنی وہ جہنمی اور عذاب کا مستحق نہیں ہے ،اس مسئلہ کی بنیاد مستضعف فکری اور جاہل قاصر اورجاہل مقصّر سے متعلق ہے جو کہ ایک فقہی اور کلامی بحث ہے، اسکی مختصر توضیح اور وضاحت اس طرح سے ہے:
مستضعف کا لفظ کبھی ان لوگوں پر بولا جاتا ہے جو کہ اجتماعی اعتبارسے ظالم و جابرحاکموںکے زیر سایہ زندگی بسر کر تے ہیں اور اپنے حق و حقوق سے محروم ہیں ؛لیکن مستضعف کیایک دوسری اصطلاح علم کلام سے مربوط ہے کہ مستضعف اس شخص کو کہتے ہیں جو معرفت و شناخت کی کمزوری کے باعث صحیح اور حق راستہ تک پہونچنے سے محروم ہے؛ معرفت اور شناخت کی کمزوری کے بھی کئی عوامل اور اسباب ہو سکتے ہیں مثلاً اسلام کے بارے میں اسے بتایا نہ گیا ہو یا اس نے اسلام کے بارے میں کچھ سنا ہی نہ ہو، یا اسلام کے بارے میں اسے بتایا گیا ہو لیکن معرفت کی قوتیں کمزور ہونے کے سبب وہ ادلہ کو سمجھنے سے عاجز رہا ہو، یا یہ کہ دلیلوں کو سمجھتا ہو لیکن ایسے ماحول میں زندگی بسر کر رہا ہے کہ ان دلیلوں کے مقابل اس کے شبہات اور اشکالات وارد کرتے ہوں ؛جن کا اس کے پاس جواب نہیں ہے، یا اس کے حل کے لئے کسی کے پاس رجوع بھی نہیں کر سکتا ہے، یا اس کے علاوہ اور د وسرے عوامل و اسباب بھی ہو سکتے ہیں ۔
اسی طرح جہل کبھی جہل تقصیری ہوتا ہے اور کبھی جہل قصوری ہوتا ہے اور فطری اعتبار سے جاہل بھی دو قسم کے ہوتے ہیں جاہل مقصّر اور جاہل قاصر؛ جاہل مقصّراس کو کہتے ہیں کہ جس کے پاس تمام امکانات ہوں، منجملہ ان کے رشد فکری 'قدرت علمی' اجتماعی آزادی' اور اطلاعات تک دسترسی وغیرہ ،ان سب کے فراہم ہونے کے باوجود اس شخص نے کوتاہی اور سستی کی اور حق کی شناخت کے لئے تحقیق و مطالعہ نہیں کیا جس کے نتیجہ میں حق کو اس نے نہیں پہچانا ،جب کہ جاہل قاصر وہ ہے جس کے سامنے حق تک پہونچنے کے سارے راستے بند ہوں اور حقیقت کی تشخیص اس کے لئے ممکن نہ ہواس طرح حقیقت میں ہمارے سامنے تین قسم کے افراد ہیں :
(۱) وہ لوگ جو حق کو پہچانتے ہیں لیکن دشمنی اور تعصب یا اور دوسرے اسباب کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کرتے ۔
(۲) وہ لوگ ہیں جن کے پاس تمام امکانات حق کو پہچاننے کے لئے موجود ہیں ؛ لیکن وہ لوگ حق کو نہیں پہچانتے ہیں ۔
(۳) وہ لوگ ہیں جو حق کو نہیں پہچانتے ہیں اور اس تک پہونچنے اور اس کو پہچاننے کے لئے ان کے پاس کوئی ذریعہ اور وسیلہ بھی نہیں ہے ۔
اسلامی احکام اور معارف کے اعتبار سے جو چیز مسلّم ہے وہ یہ کہ پہلا گروہ عذاب کا مستحق ہے اور وہی ہمیشہ جہنم میں رہے گا ،جاہل مقصرنے جتنی تقصیراورغلطی کی ہے اتنا ہی اس پر عذاب ہوگا ؛ممکن ہے کہ اس پر ہمیشہ عذاب نہ ہو اور وہ ہمیشہ جہنم میں نہ رہے اس کے بر خلاف جاہل قاصرکہ فکری مستضعف بھی جاہل قاصر شمار ہوتا ہے اس کے ساتھ قیامت کے دن وہ خاص برتا ئو ہوگا جوبعض احادیث میں واردہواہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو سیدھے اور بغیر کسی مقدمہ کے جہنم میں ڈال دیا جائے۔ اس بنا پر یہ عقیدہ کہدنیا میں فقط ایک ہی دین حق ہےاس کا لازمہ یہ نہیں ہے کہدنیا کی اکثریت جہنّمی ہے
پلورالزم کے تصوّر میں اجتماعی عوامل کا تجزیہ
دوسرا سبب جو ذکر ہوا تھا وہ یہ کہ دنیا میں جو لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان کا سبب دین اور فرقے کا اختلاف ہے اس ذیل میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ مختلف ادیان و مذاہب اور فرقوں کے ماننے والوں کو مذہبی اور عقیدتی اختلاف کی وجہ سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے ؛بلکہ مل جل کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہئے ۔لیکن اس کا راہ حل صرف یہ نہیں ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہو جائیں کہ تمام دین حق پر ہیں بلکہ اور دوسرے راستے بھی پائے جاتے ہیں جن کودین اسلام نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پیش کیا ہے ؛اسلام نے خود سب سے پہلے مسلمانوں اور دوسرے ادیان کے ماننے والوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے عقیدوں سے متعلق ایک دوسرے سے علمی اور منطقی گفتگو کریں ؛ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے( و جادلهم با لتی هی احسن'' ) ( ۱ ) یعنی ان لوگوں سے اچھی روش اور بہتر طریقے سے بحث و جدال کرو ۔
دوسرے یہ کہ غیر مسلموں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور ان سے کیسے
____________________
(۱)سورہ نحل: ۱۲۵ ۔
ملنا چاہئے اس کے لئے بھی اس نے مسلمانوں کو چند گروہ میں تقسیم کیا ہے:
(الف)آسمانی اورتوحیدی ادیان کے ماننے والے
بعض ادیان کے ماننے والوں کی بہ نسبت جیسے مسیحی 'یہودی' زر تشت وغیرہ اگر چہ ان دینوں میں تحریف کر دی گئی ہے ؛لیکن انکی اصل و بنیاد صحیح ہے اسلام نے ان کے مقابلہ میں ایک خاص طریقہ اختیار کیا ہے اور ان لوگوں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ؛اور انکے جان ومال اور ناموس محترم ہیں ان لوگوں کو اجازت ہے کہ یہ لوگ اسلامی معاشرہ میں اپنے کلیسا اور عبادت خانہ بنا کر عبادت کریں نکاح طلاق اور دوسرے معاملات کو اپنی شریعت اور دین کے مطابق انجام دیںاور مالیات جو اسلام نے مسلمانوں کے لئے خمس و زکات کی صورت میں رکھا ہے ؛ان کے لئے ان کے عوض میں خاص مالیات رکھا ہے جس کو جزیہ اور مالیات کہتے ہیں ؛اس کے مقابلہ میں اسلام نے ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کا حکم دیا ہے اور تمام ضروری اجتماعی خدمات کو ان کے لئے قرار دیا ہے اور یہ لوگ بہت سے حقوق میں مسلمانوں کے برابر ہیں اور مسلمانوں سے کوئی فرق نہیں رکھتے ہیں ؛ہم نے یہ واقعہ سنا ہے کہ اسلام کے بے مثل و بے نظیر رہبر اسلامی عدالت کو پھیلانے والے حضرت علی نے جب یہ سنا کہ ایک غیر مسلم پر ظلم و ستم ہوا ہے تو آپ نے اس کی مذمت کی جس وقت معاویہ کی فوج کے ایک سپاہی نے ایک غیر مسلم عورت کے پیروں سے پا زیب چھین لیا توآپ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا :''اگر کوئی مسلمان شخص اس قضیہ پر افسوس کرتے ہوئے مر جائے تو مناسب ہے اور اس پر کوئی ملامت نہیں ہے
(ب)کفاّرمعاہد
غیر مسلموںکافروں کی ایک دوسری جماعت ہے جو دین توحیدی کے قائل نہیں ہیں لیکن وہ اسلامی حکومت سے معاہدہ اور معاملہ رکھتے ہیں ؛اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کے پڑو س حتیّٰ اسلامی معاشرہ کے اندر اور مسلمانوں کے درمیان بھی رہ سکتے ہیں ، عرف عام میں ایسے لوگوں کو کفاّر معاہد کہا جاتا ہے اگر چہ ان کے رہنے کے شرائط اور حقوق ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ جیسا معاملہ حکومت اسلامی کے ساتھ ہوتاہے اس کے اعتبار سے فرق رکھتے ہیں ؛لیکن بہر حال اسلام نے غیر مسلموں کے اس گروہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے اور اسلامی حکومت میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہے ۔
(ج)کفاّراہل حرب
غیر مسلموں کا تیسرا گروہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کہ مشہور قول کی بنا پر کسی طرح بھی سیدھے راستے پر نہیں ہیں اور کسی بھی صلح و معاہدہ کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں ؛ یااگر کوئی معاہدہ وغیرہ کرتے ہیں تو اس کو توڑ دیتے ہیں ارشاد خدا وند عالم ہو رہا ہے:
''( لا یرقبون فیکم الاّ ولا ذمة'' ) ( ۱ ) یعنی آپ کے بارے میں نہ تو اپنائیت کو اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی کسی معاہدہ کی رعایت کرتے ہیں
اسلام اس گروہ کے بارے میں کہتا ہیک کہ اگر یہ کسی بھی طرح بات چیت اور مناظرہ کے لئے حاضر نہیں ہیں اور کسی بھی معاہدہ اور اتفاق پر راضی نہیں ہیں تو ان سے جنگ کرو اور ان کو زبر دستی مجبور کرو کہ وہ تمھارے تابع ہو جائیں؛ لیکن اس مقام پر بھی اسلام یہ نہیں کہتا کہ ان کو مار ڈالو اور ان کی نسل کو ختم کر ڈالو بلکہ جنگ اس وقت تک ہو کہ یہ لوگ قبول کر لیں یا سیدھے راستے پر آجائیں اور فتنہ پھیلانے سے باز آجائیں۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام غیر مسلموں سے رابطہ کے متعلق پہلے تو ان کو بحث و مناظرہ کی دعوت دیتا ہے تا کہ اس منطقی اور استدلالی طریقے سے حقیقت کو سمجھ لیں اور معلوم ہو جائے کہ حق کس کے ساتھ ہے، اور دوسرے مرحلہ میں بھی اگر وہ لوگ حق کو قبول نہیں کرنا چاہتے تو بھی فردی یااجتماعی صورت میں ان سے جنگ و جدال نہیں کرتا بلکہ صلح و صفائی کے ساتھ رہنے کی دعوت دیتا ہے ۔
____________________
(۱) سورہ توبہ :آیہ ۸۔
غیر مسلموں کے ساتھ اسلام کے سلوک کا ایک تاریخی نمونہ
یہاں پر مناسب ہے کہ اس واقعہ کی جانب اشارہ کرتا چلوں جس میں پیامبر اسلا مصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ علمی مناظرہ کیا اور وہ لوگ مغلوب ہو گئے لیکن پھر بھی مسلمان ہونے پر آمادہ نہیں ہوئے تو رسول اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ ان کو مباہلہ کی دعوت دیںاور یہ طے ہوا کہ دوسرے دن وہ لوگ کسی معین اور مخصوص جگہ پر حاضر ہوں اور ایک دوسرے سے مباہلہ کریں تاکہ جو شخص باطل پر ہے اس پر خداکی لعنت ہو اور اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو۔ نجران کے عیسائیوں نے پہلے تو مباہلہ کو قبول کیا لیکن جب دوسرے دن مباہلہ کرنے آئے تو دیکھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے ساتھ اپنے سب سے زیادہ محبوب اور عزیز افراد یعنی بیٹی فاطمہ زہرا ،بھائی علی مرتضیٰ اور نواسے حسنین کو لے کر آئے ہیں تو وہ لوگ مباہلہ کرنے سے پیچھے ہٹ گئے اور مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوئے اور اس بات پر معاہدہ ہوا کہ اسلامی حکومت کو جزیہ دیں گے۔
بہر حال ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی جنگ سے بچنے کے لئے فقط یہی راستہ نہیں ہے کہ ہم سارے ادیان اور مذاہب کو حق جان لیں اور اس بات کو قبول کر لیں کہ ان تمام مذاہب میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ اوربھی کئی راستے ہیں اور اسلام نے خود ایک منطقی حل اور ایک بہت ہی اچھا راستہ اس کے لئے پیش کیا ہے ۔
اصل بحث کی طرف باز گشت
اب ہم اصل بحث کی طرف پلٹتے ہیں اور پلورالزم کی دلیلوں کی تحلیل وتنقید کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے شروع میں بھی اس جانب اشارہ کیا ،یہ بات ذہن نشین رہے کہ پلورالزم مختلف چیزوں میں قابل ذکر ہے لیکن فی الحال ہم یہاں پر صرف دینی پلورالزمم سے متعلق بحث و گفتگو کریں گے اور دوسری چیزیں جیسے سیاسی و اقتصادی پلورالزم وغیرہ سے بحث نہیں کریں گے اور کیا صحیح یا غلطہونا اور ان کی کمیت اور کیفیت ہماری گفتگو سے خارج ہے ۔اگر چہ اس زمانے میں دینی پلورالزم کی فکر پیش کرنے والا اور اس کا پرچم اٹھانے والاجان ہیکہیں اور اس کی چند کتابیں اس کے متعلق پائی جاتی ہیں ؛ لیکن دینی پلورالزم کی تفسیر کیا ہے اور اس سے کیا مراد ہے ؟ کوئی ایک خاص معنی مراد نہیں لیا گیا ہے بلکہ اس کی مختلف طرح سے وضاحت کی گئی ہے ؛کم سے کم تین طرح سے اس کے معنی کو ذکر کیا جا سکتا ہے ۔
دینی پلورالزم کی پہلی تفسیر
پہلا بیان اس طرح ہے کہتمام ادیان میں حق اور باطل پایا جاتا ہے ان کے درمیان فقط حق یا فقط باطل کا ہونا ناممکن ہے۔اس بیان کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ اگر آپ دنیا کے مختلف ادیان کو دیکھیں گے تو آپ کو مکمل طریقے سے کوئی بھی دین ایسا نہیں ملے گا جو کہ حق یا باطل ہوبہت سی باتیں سب میں مشترک پائی جاتی ہیں بہت سے احکام اور عقیدے نیزخصوصیات جو ایک دین میں ہیں ممکن ہے وہ دوسرے دین میں بھی حاصل ہو ں یعنی دوسرا دین بھی وہی خصوصیات رکھتا ہو مثلاً قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے کہ جو چیزیں ہم نے بنی اسرائیل کے لئے قرار دی ہیں وہی تمھارے لئے بھی قرار دی ہیں منجملہ انھیں احکام میں ایک حکم قصاص کا بھی ہے جس کے متعلق وضاحت سے فرمایا ہے 'یہ وہی حکم ہے جو ہم نے مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے قرار دیا تھا ۔( ۱ ) اسی طرح آپ بیہودہ عقیدے اور باطل باتیں تمام دین میں دیکھ سکتے ہیں تواب چاہے اعتقاد کی باتیں ہوں یا احکام یا افکارو اقدار کی باتیں ہوں، ان سب کے اندر دنیا میں بہت سے حق پائے جاتے ہیں لیکن ان کا مجموعہ ایک جگہ نہیں ملے گا؛
____________________
(۱) ملاحظہ ہو سورہ مائدہ : آیہ۴۵ تا ۴۸۔
بلکہ ہر دین میں حقیقت کا کچھ حصہ پایا جاتاہے لہٰذایہ لازم نہیں ہے کہ آپ صرف ایک خاص دین کا اعتقاد رکھیں بلکہ ممکن ہے کہ آپ یہودی بھی رہیں ، مسیحی بھی، مسلمان بھی یا کسی اورمذہب سے بھی تعلق رکھتے ہوںاس طرح کہ جس دین میں جو اچھا عنصر پایا جاتا ہو آپ اس کو اختیار کر لیں ؛یہاں تک کی بودھ مذہب جو کہ خدا کے وجود کا منکر ہے اس کے اندر بھی بعض اچھے عناصرہیں جیسے سکون روح، یکسوئی ، دنیا سے دوری وغیرہ آپ ان کو اختیار کر لیںالبتہ یہ بیان ایک افراطی رجحان رکھتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ تمام ادیان میں حق وبا طل کی آمیزش اس حد تک موجود ہے کہ ایک کو دوسرے سے بہتر نہیں کہا جا سکتا ؛بلکہ وہ سب ایک ہی جیسے ہیں ان میں ایک معتدل نظریہ یہ ہے کہ اگر چہ حق و باطل کاوجود تمام ادیان میں ہے لیکن حق و باطل کی مقدار ایک طرح نہیں ہے یعنی نسبی اعتبا ر سے تفاوت ہے جس کے ذریعہ ایک کو دوسرے پر فوقیت دی جا سکتی ہے، لیکن پھر بھی مطلق فوقیت نہیں پائی جاتی بلکہ تمام ادیان میں اچھائیاں اور برائیاں دوونوں ہی پائی جاتی ہیں ۔
دینی پلورالزم کی پہلی تفسیر کا تجزیہ
اس بیان کے جواب میں سب سے پہلے ہم یہ کہیں گے کہ ہر انصاف پسند شخص اگر تھوڑی سی بھی عقل اور ادیان سے متعلق سطحی معلومات بھی رکھتا ہوگا تو وہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ادیان کے درمیان ایک دوسرے پر کوئی ترجیح نہیں ہے اور سب کے سب برابر ہیں ،بعض دین ایسے بھی ہیں کہ ان کے اندر ایسی باتیں پائی جاتی ہیں کہ زبان و قلم ان کے بیان کرنے اور لکھنے سے شرم محسوس کرتے ہیں کیا سچ مچ جانور ،گائے اور کتّے کو پوجنا خدا پرستی کے برابر ہو سکتا ہے ؟ کیا بت پرستوں کا وہ یقین و اعتقاد جو کہ ہندوستان کے بعض لوگوں میں ہے اور وہ آلہ تناسل کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے سامنے زمین پر جھکتے ہیں اور بہت سے لا ولد افراد اپنے مرض کے علاج کے لئے اس پر پانی ڈال کر تبرکاًپیتے یا استعمال کرتے ہیں اس کا مقائسہ مذہب اسلام (جو کہ نجات دینے والا ہے اور اس کے اندر تمام کمالات اور لا تعداد اچھائییاں پائی جاتی ہیں اور جو خدا ئے وحدہ لا شریک کی عبادت کا حکم دیتا ہے ) سے کیا جا سکتا ہے اور ان دونوں مذہب کو ایک فہرست میں شمار کیا جا سکتا ہے ؟
بہر حال ہماری نظر میں یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ تمام ادیان کوجیسا ایک قرار دینا اور سبھی کی خصوصیات اور اوصاف کو ایک جیسا قرار دینا اور ان میں سے کسی ایک کو بھی منتخب کر لینا یہ ایسی باتیں ہیں جن کو کوئی بھی عقلمند انسان قبول نہیں کر سکتا ہے
دوسرے خاص کر ہمارے نظریہ میں کہ ہم مسلمان ہیں اور قرآن و اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یہ مطلب کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم قرآن کی بعض باتوں کو قبول کریں اور بعض کا انکار کریں اگر ہم نے بعض کا انکار کیا تو گویا سبھی کا انکار کیا اور قرآن کے بعض مطالب کا انکار کرکے کوئی بھی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا ہے۔ قرآن اس بارے میں واضح طور سے فرماتا ہے :( افتومنو ن ببعض الکتاب ) ۔۔۔( ۱ ) کیا تم لوگ قرآن کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو پس جو ایسا کرتا ہے وہ دنیا میں ذلت کے علاوہ کچھ بھی نہیں پائے گا اور قیامت کے روز سخت ترین عذاب دیکھے گا ۔دوسری جگہ ارشاد ہو رہا ہے: جو لوگ چاہتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کے درمیان جدائی ڈالیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اصل میں یہی لوگ کافر ہیں( ۲ ) بہر حال ہم مسلمانوں کی نظر میں اسلام اور قرآن کے عنوان سے جو کچھ بھی اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے لوگوں تک پہونچایا گیا ہے وہ سب کا سب صحیح اور حق ہے
____________________
(۱) سورہ بقرہ : آیت ۸۵.
(۲) سورہ نساء : آیت ۱۵ ۔
اور اس میں کچھ بھی باطل نہیں ہے( وانّه لکتاب عزیز لا یاتیه ) ........۔( ۱ ) بے شک یہ کتاب عالی مرتبہ ہے جس کے قریب سامنے یا پیچھے کسی طرف سے بھی باطل نہیں آسکتاہے۔
البتہ ان کا یہ کہنا کہ تمام ادیان میں حق کا عنصر پایا جاتاہے ہم اس کو قبول کرتے ہیں اور یہ بات کوئی مشکل بھی نہیں ہے مثلاً زر تشتیوں کا یہ مشہورمقولہ ہے 'نیک بات نیک سوچ نیک کردار ' یہ ایک اچھا مقولہ ہے اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ہے خاص کر یہودی ' مسیحی اور زرتشتی کہ خدائی اصل رکھتے ہیں ،اگر چہ ہمارے عقیدے کے مطابق ان ادیان میں تحریف اور کمی و بیشی ہوئی ہے لیکن پھر بھی حق اور صحیح عناصر اس میں پائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس بات کو قبول کر لیں کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح حق وباطل کا مجموعہ ہے اور ہم اس بات کے قائل ہو جائیں مسلمان ہو یا یہودی یا مسیحی اور زرتشتی سب کے سب برابر ہیں بلکہ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہمارے عقیدے کے مطابق وہ مذہب اسلام جس کو خدا وندعالم نے پیامبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ بھیجا وہ پورا کا پورا حق ہے اور اس میں کچھ بھی باطل نہیں ہے ۔
____________________
(۱) سورہ فصّلت : آیہ ۴۱ و ۴۲
دینی پلورالزم کی دوسری تفسیر
دوسرابیان جو کہ دینی پلورالزم کو واضح کرتا ہے وہ یہ ہے کہ''تمام ادیان اور ان کے راستے ایک ہی حقیقت کی طرف پہونچ کر منتہی ہوتے ہیں ۔
پہلا بیان یہ تھا کہ مختلف ادیان کے درمیان حقائق بٹے ہوئے ہیں اور ہر دین حقیقت کے کچھ حصّوں پر مشتمل ہے لیکن یہ بیان اس سے ہٹ کر اس چیز کو بتاتا ہے کہ حقیقت صرف ایک ہے ؛اور بہت سے راستے اس تک پہونچتے ہیں جو مختلف ادیان کی شکل میں پائے جاتے ہیں اس کی مثال اس طرح ہے مثلاً تہران تک پہونچنے کے لئے بہت سے راستے پائے جاتے ہیں اور لوگ مختلف راستوں سے تہران میں داخل ہو سکتے ہیں شمال، جنوب ،مشرق اورمغرب غرض کہ تہران جانے کے لئے ہر طرف سے راستہ ہے جس کوہر انسان چاہتا ہے وہ صرف ایک ہے لیکن مختلف راستوں سے جیسے اسلام ،مسیحیت ،یہودیت ،بودھ ازم،اور مختلف ادیان اس حقیقت تک پہونچا جا سکتا ہے۔
یہ بیان بھی پہلے بیان کی طرح دو طرح کا افراطی اور اعتدالی رجحان رکھتا ہے جو لوگ افراطی(شدت پسند)اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ تمام راستے کیفیت اور کمیت کے اعتبار سے برابر ہیں اور ان میں کوئی بھی فرق نہیں ہے۔ اعتدالی رجحان اس بات کا قائل ہے کہ اگر چہ راستے مختلف ہیں اور ایک حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں لیکن مختلف راستوں میں دوری اور نزدیکی پائی جاتی اور کچھ پیچ وخم بھی رکھتے ہیں اور ان کے درمیان کمی اور زیادتی پائی جاتی ہے ایک راستہ بہت لمبا ہے تو ایک بہت چھوٹا ہے ایک بالکل سیدھا ہے تا دوسرا ٹیڑھا ہے ؛مثلاً اسلام مسیحیت کی نسبت سیدھا اور بہت کم فاصلہ رکھتا ہے لیکن اگر کوئی مسیحیت اور اس کے دستورات و احکام پر عمل کرتا ہو اور اعتقاد رکھتا ہو تو وہ بھی حقیقت تک پہونچ سکتا ہے ۔
اس دوسرے بیان کو بھی ثابت کرنے کے لئے کبھی شعراء کے اشعار اور کبھی عرفاء کی مثالوں کا سہارا لیا جاتا ہے مثلاً شیخ بہائی کا یہ شعرپیش کیا جاتا ہے:
ہر جا کہ روم پر تو کاشانہ تو ئی تو
ہردر کہ زدم صاحب آنخانہ توئی تو
در میکدہ و دیر کہ جانانہ توئی تو
مقصود من از کعبہ و بتخانہ توئی تو
مقصود توئی کعبہ وبت خانہ بہانہ
یعنی میں جس جگہ بھی جاتا ہوں وہاں تیرا ہی جلوہ نظر آتا ہے جس گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں اس گھر کا مالک تو ہی ہے، بت خانہ اور میکدہ کے اندرمحبوب تو ہی ہے کعبہ اور بت خانہ سے میری مراد تو ہی ہے ؛ کعبہ اور بت خانہ تو ایک بہانہ ہے ورنہ حقیقت میں میرا مقصود تو ہی ہے خلاصہ یہ کہ اگرفکر و نظر کے پردہ کو چاک کیا جائے تو مسجد ، بت خانہ ، گرجا گھراور میکدہ ہر جگہ رخ محبوب کی تصویر دکھائی دیگیعباراتنا شتیّٰ وحسنک واحد''یعنی عبارتیں الگ الگ ہیں لیکن حسن سب کا ایک ہی ہے یعنی اگر چہ کلام سب کا الگ الگ ہے لیکن سب کے سب ایک ہی رخ زیبا کی تعریف کر رہے ہیں ۔
دینی پلورالزم کی دوسری تفسیر کاتجزیہ
کیا یہ بیان قابل قبول ہے اور اس کو سند قرار دیتے ہوئے ہم دینی پلورالزم کو قبول کر لیں ؟جو کہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام ہو یامسیحیت یا یہودیت و زر تشتی سب کے سب ایک ہی حقیقت اور سب کے سب انسان کو نیکی و کمال کی طرف پہونچاتے ہیں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ تصوّر اور ثبوت کے مرحلہ میں ایسا فرض کرنا ممکن ہے ،مثلاً ایک ایسے دائرہ کو فرض کیجئے کہ جس کے چاروں طرف سے مختلف شعائیںاس کے مرکز تک پہونچتی ہوں اور تمام شعاعیں ایک ہی نقطہ پر ختم ہوتی ہوں، لیکن کیا موجودہ ادیان کے بارے میں بھی ایسا کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسی طرح ہیں جیسا ان کا وہم و خیال ہے؟ تھوڑی سی بھی دقت اور توجہ کی جائے تو معلوم ہو جائیگا کہ ایسا نہیں ہے ( اور مختلف ادیان میں کوئی بھی یکسانیت نہیں ہے )۔سب سے پہلا مسئلہ جو کہ اسلام میں ہے وہ توحید اور خدا کو یکتا قبول کرنے کا ہے اسلام کی سب سے پہلی آواز ہے:قولوا لا اله ٰالاّ الله تفلحوا تم لوگ کہو کہ خدا ایک ہے تاکہ کامیاب ہو جائو !
لیکن مسیحیت کا نظریہ اس مسئلہ توحید میں کچھ اور ہے جس کی حکایت خدا وند عالم یوں کر رہا ہےا نّ اللہ ثالث ثلاثة'' یقیناً خدا تین میں سے ایک ہے ،یعنی ان کے یہاں تین خدا ہیں ؛ایک باپ کہ خدائے اصلی کہ جس کو خدائے اب کہتے ہیں ، ایک بیٹا کہ جو خدائے ابن ہے، اور تیسرا خدا روح القدس ہے ۔بعض عیسائی قائل ہیں کہ تیسرا خدا حضرت مریم ہیں ۔
یہ اعتقاد جس کو تثلیث کے نام سے جانا جاتا ہے یہ ایسا اعتقاد ہے جس کی خدا نے سختی کے ساتھ ممانعت کی ہے اور اس کو رد کیا ہے اس بات سے لوگوں کو روکا ہے اور اس کے ماننے والوں کو کافر کہا ہے،
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:( لقد کفرالذین قالو انّ الله ) ۔۔''( ۱ ) جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے یقیناًوہ لوگ کافر ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی بھی خدا نہیں ہے؛ اگر یہ لوگ اپنے قول سے باز نہیں آئینگے تو ان میں سے کفر اختیار کرنے والوں پر دردناک عذاب ہوگا ۔
مسیحیوں کے اس عقیدے کو (جو وہ لوگ حضرت عیسیٰ کے بارے میں رکھتے ہیں یعنی ان کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں ) خدا نے بہت ہی عجیب جانا ہے، قرآن کریم میں ارشادہورہاہے :وقالوااتخذالرحمٰن ولداً۔۔''( ۲ ) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمٰن نے ایک فرزند بنا لیا ہے یقیناًتم لوگوں نے بہت سخت بات کہی ہے قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑے اورزمین شگافتہ ہو جائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں؛
____________________
(۱) سورہ مائدہ: آیہ ۷۳۔
(۲) سورہ مریم :آیہ ۸۸تا ۹۰۔
سچ مچ قرآن کی یہ تعبیر کتنی سخت ہے ؟تثلیث کا اعتقاد اور یہ کہ عیسی خدا کے بیٹے ہیں اس حد تک غلط ہے اور بربادی کا سبب ہے کہ اس کے اثر سے قریب ہے کہ تمام آسمان اور زمین نیز پہاڑ تباہ و برباد ہو جائیں ۔کیا اس طرح کی تعبیر کے بعد بھی یہ کہنا صحیح ہے کہ تثلیث کا اعتقاد اور توحید کا اعتقاد دونوں ایک حقیقت کی طرف لے جانے والے ہیں ! ایک مذہب اسلام ہے جو کہتا ہے کہ سور کا گوشت کھانا حرام اور نجس ہے اور دوسرے مذاہب یہ کہتے ہیں کہ سور کا گوشت لذیذاور اچھا ہے اور اس کا کھانا جائز ہے؛ اسلام کہتا ہے کہ شراب اور الکحل نہایت بری چیز ہے اور شیطانی پھندے ہیں جب کہ مسیحیت کہتی ہے کہ بعض شراب کے کچھ حصہ میں خدا کا خون ہوتی ہے، کشیش (عیسائی عالم ) لوگ عشائے ربّانی کے مراسم میں روٹی کے ٹکڑے کو شراب میں ڈبوتے ہیں پھر سب منھ میں ڈالتے اور کہتے ہیں کہ شراب جب انسان کے خون میں جاتی ہے تو خدا کا خون بن جاتی ہے ؛عاقل اور بالغ انسان کوجانے دیجئے ایک معمولی بچہ بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ یہ دو دین اس حالت میں کسی بھی صورت میں ایک نقطہ اور منزل پر نہیں پہونچ سکتے ؛آپ خود دیکھیں ایک مذہب کہتا ہے کہ جب تک شراب نہیں پیوگے تم خدا کے ماننے والے نہیں ہو سکتے ہو جب کہ دوسرا مذہب یہ کہتا ہے کہ شراب پینا شیطانی عمل ہے ؛اب اس کے بعد بھی ہم کہیں کہ دونوں مذہب ایک مقصد تک لے جاتے ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ ایک احمقانہ بات ہے اور افسانہ و شعر سے مشابہ ہے نہ کہ واقعیت اور حقیقت سے ؛مگر یہ کہ خدا اور شیطان کو بھی ایک جانیں اور کہیں کہکعبہ اور بت خانہ سے مراد فقط تو ہی ہے
سچ مچ یہ بہت ہی تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ بہت سے لوگ اس کے باوجود'' بہت سے سیدھے راستوں'' کے قول پراصرار کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ سب اختلاف اور تعارض جو ادیان میں پایا جاتا ہے ان سب کا نتیجہ ایک ہی ہے ؛یعنی سب کے سب آخر میں ایک مقصد تک پہونچتے ہیں ؛آخر یہ کیسے ممکن ہے اسلام کا نظریہ کہخدا موجود ہےاور بودھ ازم کا نظریہ یہ کہکوئی بھی خدا موجود نہیں ہے' 'اور پھر بھی دونوں ایک حقیقت تک پہونچتے ہوں؟!یہ کیسے ہو سکتا ہے حضرت علی کو بھی مانا جائے اور معاویہ کو بھی ؛حضرت امام حسین کو بھی قبول کریں اور یزید و شمر ذی الجوشن کو بھی؟! اور یہ اعتقاد رکھیں کہ سب کے سب حق پر ہیں اور جس کے پیچھے بھی چلا جائے وہ سیدھا راستہ ایک ہے اور منزل مقصود تک پہونچانے والاہے؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک پورب کو جاتا ہے اور ایک پچھم کو، ایک اتر کو جاتا ہے اوردوسرا دکھن کو، اور ہر ایک کا الگ الگ راستہ ہے اور پھر بھی اسی بات پر اصرار ہے کہ سب کے سب سیدھے راستے پر ہیں اور ایک حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں ۔
شعر:
ترسم نہ رسی بہ کعبہ ای اعرا بی
این رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است
اے اعرابی !میں ڈرتا ہوں کہ تو کعبہ کو نہیں پہونچے گا اس لئے کہ جس راستے پر تو جا رہاہے وہ راستہ ترکستان کو جاتا ہے ۔
بہر حال پلورالزم دینی کی یہ دوسری تفسیر جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام ادیان اور مذاہب ہم کو ایک منزل مقصود تک لے جاتے ہیں اگر چہ اشعار کے لحاظ سے ایک اچھی چیز ہے ہے لیکن حقیقت اور واقعیت سے خالی ہے اور اس کا باطل ہوناسورج سے بھی زیادہ روشن ہے ۔
دینی پلورالزم کی تیسری تفسیر
تیسرابیان جو دینی پلورالزم کے لئے کیا جاتا ہے وہ اصل میں ایک معرفت شناسی پر منحصر ہے اس بنیاد پر وہ تمام چیزیں جو کہ غیر حسیّ اور غیر تجربی ہیں یعنی ان کو محسوس نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کا تجربہ کیا جا سکتا ہے ؛وہ بے معنی ہیں اور نفی اثبات کے لائق نہیں ہے اگر چہ اس کی تفصیل معرفتی شناخت سے مربوط ہے لیکن اس کی مختصر وضاحت یہاں پر کی جارہی ہے :
معرفت شناسی کی بحث میں بعض (پوزٹیوسٹ)کہتے ہیں کہ جو پہچان اور معرفت والی چیزیں ہیں وہ دو حصّوں میں منقسم ہوتی ہیں
پہلی قسم میں وہ چیزیں ہیں جو کہ محسوس کی جاسکتی ہیں اور ان کو دیکھا جا سکتا ہے جیسے ہم کہیں کہ چراغ روشن ہے یہ بات تجربہ اور محسوس کرنے کے قابل ہے آپ بٹن کو دبائیں گے تو پورا کمرہ تاریک ہو جائیگا اور کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا پھر آپ بٹن کو دبائیںگے تو پورا کمرہ جگمگااٹھّے گا اور آپ جس چیز کو بھی دیکھنا چاہیں دیکھ سکتے ہیں ،یا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آگ جلاتی ہے تو یہ تجربہ کرنے والی چیزہے ؛اور اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے؛ اگر آپ اپنے ہاتھ کو آگ کے قریب لے جائیں گے تو ہاتھ جل جائے گا۔ اس طرح کی چیزیں جو تجربہ کی جا سکتی ہیں اور ان کو محسوس کیا جا سکتا ہے تو ان کے متعلق یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ سچ ہے یا یہ جھوٹ ؟حق ہے یا باطل؟ صحیح ہیں یا غلط؟ کیونکہ معلوم کرنے کا راستہ یہی حس اور تجربہ ہے ۔
دوسری قسم میں وہ چیزیں ہیں جو کہ حس اور تجربے میں نہیں آسکتی ہیں یا وہ تجربے کے لائق نہیں ہیں ان چیزوںکا اقرار یا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے؛ یا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایسی چیزیں کچھ معنی نہیں رکھتی ہیں ، اوران میں سچ یا جھوٹ نہیں پایاجا تا ہے لہذٰا ایسی چیزوں کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جو افراطی (شدّت پسند) پوز یٹوسٹ ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی چیزیں اصلاً بے معانی ہیں ان کا ہونا اسی طرح ہے جیسے کہا جائے کہاس چراغ کی روشنی کا مزہ کھٹّا ہےیا یہ کہیں کہاس چراغ کا نور انگلینڈ کا بادشاہ ہےجس طرح یہ دونوں چیزیں بے معنی ہیں اور کچھ مطلب نہیں رکھتی ہیں اسی طرح وہ چیزیں جو کہ تجربہ کے لائق نہیں ہیں اور محسوس نہیں کی جا سکتی ہیں وہ بھی ایسی ہی ہیں ؛دین سے متعلق باتیں بھی یہی حکم رکھتی ہیں مثلاً یہ بات کہ خداموجود ہے، خدا ایک ہے یا خدا تین ہے یا خدا نہیں ہے یہ سب بھی بے معنی اور بے مفہوم باتیں ہیں کہ ان کے حق یا باطل ہونے یا سچے اور جھوٹے ہونے کا دعویٰ کرناغلط اوربیکارہے اور کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس ایک کو مانتے ہیں چاہے آپ یہ کہیں کہ خدا ایک ہے یا یہ کہیں کہ خدا تین ہے دونوں باتیں فائدہ کے اعتبار سے برابر ہیں اور کچھ بھی معنی و مفہوم نہیں رکھتی ہیں ،یہ سب باتیں نہ ہی پیٹ کی غذا بنتی ہیں اور نہ ہی جسم کا لباس اور نہ ہی انسانی زندگی کی کسی بھی مشکل کا حل پیش کرتی ہیں ۔
لیکن جو پوزیوٹیسٹ اعتدال پسند ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو چیزیں حس اور تجربہ کے قابل نہیں ہیں ؛جن کو اصطلاح میں ما وراء طبعت کہا جاتا ہے ؛اس طرح کی چیزیں بے معنی نہیں ہیں ؛ لیکن چونکہ ہماری پہونچ سے باہر ہیں اور ہم ان کو محسوس اور ان کا تجربہ نہیں کر سکتے لہذٰا ان کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ثابت ہیں یا نہیں اس نظریہ کا نتیجہ نسبیت اور شکاکیت ہے یعنی غیر حسی اور غیر تجربی چیزوں کے بارے میں دینی باتوں کا بھی شمار انھیں میں ہوتا ہے ،یا یہ کہیں گے کہ ان کے حق یا باطل ہونے کو ہم نہیں جانتے ہیں ؛کیونکہ وہ ہمارے تجربے میں نہیں ہیں ، یایہ کہیں گے کہ ان کا جھوٹ اور سچ ہونا معاشرہ اور زمانے کے اعتبار سے فرق کرتا ہے کبھی کبھی سارے حق بھی ہو سکتے ہیں اور کبھی کبھی سب کے سب باطل بھی ہو سکتے ہیں یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ان کو کس شخص ،کس زمانہ،کس معاشرہ اور کس ماحول کی نسبت دیکھتے ہیں ۔کبھی یہ کہا گیا ہے کہ افکار واقدار کے مفاہیم یا وہ چیزیں جن میں اچھائی اور برائی ہو سکتی ہے ان میں حق اور باطل نہیں پایا جاتا ہے اور اس طرح کی خبریں جیسے ' عدالت کے ساتھ انسان کو سلوک کرنا چاہئیے' ظلم نہیں کرنا چاہئیے' سچ کہنا اچھی بات ہے' جھوٹ بولنا بری بات ہے یہ سب باتیں احساس اور سلیقے اور جذبات وغیرہ سے متعلق ہیں ؛یہ اسی طرح ہے کہ جیسے ہر شخص اپنے اپنے ذوق و سلیقہ کے مطابق رنگ کو پسند کرتا ہے،
اگرچہ یہ باتیں معنی رکھتی ہیں لیکن ان پر کوئی دلیل اور برہان نہیں ہے ۔
بہر حال دینی پلورالزم کی تیسری تفسیرکے مطابق ادیا ن اور دینی باتوں میں اختلاف کی مثال یا رنگ جیسی چیز ہے کہ مطلق طور سے نہیں کہا جا سکتا کہ سبز یا زرد رنگ اچھا ہے یا ایک اچھا ہے اور دوسرا خراب ہے بلکہ ہم کو یہ کہنا چاہئے کہ دونوں اچھے اور بہتر ہیں ۔ یا یہ کہیں کہ ہم چونکہ ان کی حقیقت سے نا آشنا ہیں ؛اور ان کے قبول یا ردکرنے پر ہم کوئی دلیل بھی نہیں رکھتے لہذٰا ان کے بارے میں ہم کو جھگڑا نہیں کرنا چاہئیے بلکہ ہم کو اس بات کا اعتقاد رکھنا چاہئیے کہ سب کے سب برابر ہیں ان ادیان میں کوئی بھی فرق نہیں ہے اور جس کسی کو بھی چاہیں اختیار کر لیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
دینی پلورالزم کی تیسری تفسیر کاتجزیہ
اس تفسیرپر نقد وتبصرہ کے لئے جو راستہ ہمارے پاس ہے وہ یہ کہ اس کے معرفت شناسی ہی کے مبنیٰ اور اصول کو بحث کا موضوع قرار دیں اورا س میں غور وفکر کریں ؛اس کے لئے ہم کو سب سے پہلے اس بات پر توجہ کرنی چاہئے کہ معرفت شناسی کی بحث میں ہم کو مندرجہ ذیل سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
(۱) جیسا کہ افراطی''پوزیوٹیسٹدعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اشیاء جو کہ واقعی اعتبار سے حس اور تجربہ کے قابل نہیں ہیں وہ بے معنی ہیں ؟
(۲) کیا وہ باتیں جو کہ افکار واقدار کے مفاہیم پر مشتمل ہیں اور کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے یا ان کے اچھے یا برے ہونے کو بتاتے ہیں ؛ ان کو سچ یا جھوٹ سے متصف نہیں کیا جا سکتا اور ان کے بارے میں حق و باطل کو پیش نہیں کیا جا سکتا ؟
(۳)کیا عام طور پر ہر معرفت چاہے صحیح اورحق ہونے سے متعلق ہو یا غلط اور باطل ہونے سے، نسبی ہے اور کوئی بھی بات مطلق و پائدار اور یقینی نہیں ہے ؟ یا ایسا نہیں ہے بلکہ ہم ان تمام جگہوں پر یقینی باتوں کو جان سکتے ہیں ۔
(۴) خاص طور پر دینی معرفت کیا دینی معرفت کے متعلق، یقینی ، مطلق اندازمیں اور ثابت طریقے سے پائی جاتی ہے؟ یا یہ کہ تمام دینی معرفیتں خود ہماری فہم اور سمجھ کی تابع ہیں کہ جسے آج کی اصطلاح میں ہماریمختلف قرائتیںکہا جاتا ہے ۔ یہ بحث وہی ہرمنو ٹکاور دینی باتوں کی ہر منو ٹک تفسیر کی بحث ہے۔
دینی پلورالزم کا یہ تیسرا بیان آیا صحیح ہے یا غلط ؟پہلے ان مذکورہ سوالات کے جواب واضح ہوںکہ انشااللہ ہم آئیندہ بحث میں جن کو بیان کریں گے۔
دینی پلورالزم (۳)
پلورالزم نظریہ کی پیدائش میں نفسیاتی عوامل پر دوبارہ ایک سرسری نظر
پچھلے جلسہ میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ پلورالزم کی فکر پیدا ہونے میں جو اسباب و عوامل ہیں ان میں ایک نفسیاتی سبب بھی ہے جو کہ بہت سے لوگوں 'خاص کر جوانوں 'میں پایا جاتا ہے، جب وہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب پائے جاتے ہیں اور بہت سے لوگ خلوص اورسچائی کے ساتھ اس کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ سب لوگ جہنم میں جائیں گے؟ اور فقط ایک مختصر سی جماعت جو کہ مسلمانوںہیں وہ بھی مسلمانوں کا ایک خاص گروہ (شیعہ)ہی جنت میں جائیں ؟ اور یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ شیعوں میں بھی وہی لوگ جن سے کوئی گناہ نہ ہوا ہو یا اگر گناہ ہو گیا ہو تو انھوں نے توبہ کر لی ہو بس وہی جنت میں جائیں گے؛ چونکہ یہ بات عام طور سے لوگوں کے لئے ناممکن لگتی ہے اور وہ اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لہذا یہ مسئلہ ان کے ذہن میں تقویت کرجاتا ہے کہ تمام دین کے ماننے والے یا کم سے کم وہ لوگ جو کہ اپنے دین کے پابندبہیں اور ان کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ بھی نجات کے مستحق ہیں اور بہشت میں جائیں گے ۔
پہلے جلسہ میں ہم نے اس بات کی جانب اشارہ کیا تھا کہ اس شبیہ کو ذہن سے دور کرنے کے لئے اس نکتہ کی طرف توجہ دینا ہوگاکہ جس وقت ہم یہ کہتے ہیں :''دین حق فقط اسلام ہے اور اس کی پیروی انسان کے لئے کامیابی اور نجات کا سبب بنتی ہےاس کا نتیجہ اور لازمہ یہ نہیں ہے کہ دوسرے تمام انسان جہنم میں جائیں گے ۔بلکہ یہاں دوسرے تمام انسانوں کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے (البتہ ان دو گروہوں میں اکثریت کس گروہ میں ہیں اور کون لوگ اقلیت میں ہیں یہ ایک حسابی بحث ہے جو کہ ہماری گفتگو سے مربوط نہیں ہے)،وہ دونوں گروہ یہ ہیں :
( ۱ ) پہلے گروہ میں وہ لوگ ہیں جو حق کو تلاش کرتے ہیں اور اس کی جستجو میں محنت ومشقّت کرتے ہیں ؛ اور واقعی طور سے اس بات کی کوشش میں ہیں کہ حق کو حاصل کر لیں لیکن کسی بھی سبب سے اس کو نہیں پا سکے ہیں ۔
( ۲ ) دوسرے گروہ میں وہ لوگ ہیں جوتحقیق کے حالات اور اسباب فراہم ہونے کے باوجود حق کو تلاش نہیں کرتے ہیں یا یہ کہ ان کے نزدیک حق واضح تھا کہ فقط مذہب اسلام حق ہے،پھر بھی اس کو قبول نہیں کیا جو لوگ جہنم میں جائیںگے یہی دوسرے گروہ والے ہیں ؛ لیکن پہلے گروہ والے جنھوں نے حق کے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے یا اس کو پہچاننے میں غلطی کر بیٹھے ہیں اور حق تک پہونچنے سے رہ گئے ہیں ان کے ساتھ دوسری طرح سے سلوک کیا جائیگا ان افراد کو علم فقہ و کلام کی روشنی میں مستضعف] کہ جس سے مراد یہاں پر مستضعف فکری ہے[ کہا جا تا ہے اگر ان لوگوں نے انھیں حقائق پر عمل کیا ہے یا جو اپنی عقل سیایک خاص دین کی تعلیمات کے ذریعہ ان کو حاصل کیا ہے تو وہ لوگ اپنے نیک عمل کی جزا پائیں گے ۔
البتہ یہ بات کہ کیا یہ لوگ جہنم کے نچلے طبقہ میں جگہ پائیں گے ،یا جنت و جہنم کے درمیان ان لوگوں کے لئے کوئی بیچ کا حصّہ مخصوص ہو گا ،یا یہ کہ قیامت کے میدان میں ایسے لوگوں کے لئے سوال و جواب کا کوئی امتحان منعقد ہوگا ،یہ سب دوسرے مسائل ہیں ( جو کہ تفصیلی بحث چاہتے ہیں ) لیکن بہر حال یہ گروہ ابدی عذاب میں گرفتار اور مبتلا نہیں رہے گا ۔
آیہ''( ومن یبتغ غیرالاسلام دیناً ) کی توضیح
جو سوال اس جگہ سامنے آتا ہے ( در اصل گذشتہ مطالب کو مختصراً میں نے اس سوال کو پیش کرنے کے لئے بیان کیا تھا ) وہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں خدا وند عالم فرماتا ہے :( ومن یبتغ غیر الاسلام دیناًفلن یقبل منه ) ( ۱ ) اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی بھی دین کو تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ قیامت کے روز گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو گا ۔یہ آیہ کریمہ بالکل واضح انداز میں اس بات کو بتاتی ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین قابل قبول نہیں ہے جب کہ آپ کے بیان کے مطابق دوسرے ادیان بھی کم و زیادہ کچھ نہ کچھ قبول کئے جائیں گے اس مشکل کو کس طرح حل کیا جائے گا ؟
یہ آیہ ایک تفسیری بحث رکھتی ہے اگر اس کی تفصیل میں جائیں گے تو اصلی بحث سے خارج ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اس مطلب کو مختصراً عرض کرتے ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ آل عمران : آیہ ۸۵۔
وہ دین جو کہ حضرت ابراہیم کے زمانے میں لوگوں کے لئے آیا تھا ؛حقیقت میں وہ بھی دین اسلام تھا اور لوگوں کے لئے ضروری تھا کہ اس دین پر عمل کریں جب تک کہ کوئی
نئی شریعت نہ آجائے ۔جس وقت حضرت موسیٰ شریعت لیکر آئے تو حضرت ابراہیم کی شریعت منسوخ ہو گئی ؛لیکن حضرت موسیٰ کا دین بھی دین اسلام تھا فرق صرف اتنا تھا کہ بعض احکام جو حضرت ابراہیم کی شریعت میں تھے وہ منسوخ ہو گئے ؛حضرت موسیٰ کی شریعت بھی حضرت عیسیٰ کی شریعت آنے کے بعد منسوخ ہوگئی ؛اور لوگوں پر ضروری ہو گیا کہ وہ نئی شریعت کے مطابق جو کہ حضر ت موسیٰ سے کچھ فرق رکھتی تھی اس پر عمل کریںلیکن پھربھی حضرت عیسیٰ کا دین وہی تھا جو کہ حضرت موسیٰ کا دین تھا اور آخر کار پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آنے سے پچھلی شریعتیں منسوخ ہو گئی ؛اور لوگوں پر ضروری ہو گیا کہ لوگ شریعت محمدی پر عمل کریں ؛اور ہم جانتے ہیں کہ شریعت محمدی وہی دین اسلام ہے؛ لیکن یہ شریعت کچھ خاص اورا ہم قوانین و احکام لیکر آئی جو کہ اس شریعت کو دوسری شریعتوں ممتاز اور جدا کرتی ہے یہاں پر اسلام نے ایک خاص معنی پیدا کر لئے اور وہ وہی معنی ہیں جن کو ہم سمجھتے ہیں ۔ اس وضاحت سے یہ بات روشن ہو گئی کہ اسلام مختلف مصداق رکھتا ہے اسلام کا ایک مصداق شریعت ابراہیمی ہے ؛اس کا دوسرا مصداق حضرت موسیٰ کی شریعت ہے اسی طرح دوسرے اور مصداق بھی ہیں ؛ لہذااس آیہ کا مطلب اور مفہوم یہ ہوا کہ جو کوئی بھیان مصادیق اسلام سے جس مصداق کے زمانہ میں ہو تواس کو وہی قبول کرنا ہوگا اور دوسرا دین اس سے قبول نہیں کیا جائے گا؛ بہر حال اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ جس کسی نے بھی حضرت موسیٰ، عیسیٰ،یا ابراہیم کے دین کو قبول کیا ہے اس کا دین خدا کے یہاں قابل قبول ہے لہذا
اس آیت کا یہ مطلب کہ (اس زمانے میں جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ کسی بھی دین کو قبول کرے گا اس کو خدا قبول نہیں کرے گا )اس کے معنی یہ ہیں کہ اس زمانے میں بھی خدا نے جو دین پیغمبروں کے ذریعہ بھیجا تھا اس کو بھی قبول کرے اور ان خاص احکام کو بھی جن کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم لیکر آئیں ہیں قبول کرے۔البتہ ایک شریعت کے ذریعہ دوسری شریعت کے احکام کا نسخ ہونا مخصوص نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ ایک ہی شریعت اپنے کچھ پچھلے احکام کو نسخ کر دے ؛مثلاً شروع اسلام ،میں مسلمانوں کو حکم تھا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں اور یہ حکم یہاں تک مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے بعدتک باقی رہا؛ لیکن جب رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت کی اور مدینہ آئے تو خدا کے حکم سے قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی سمت ہو گیا۔ لہذٰا بعض احکام کا نسخ ہونا اصل دین کے بدلنے کا سبب نہیں ہوتا ہے؛ اصل دین توحید، نبوت ،قیامت کا اعتقاد ہے۔ تمام انبیاء پر ایمان رکھنا ہی نبوت کا اعتقاد ہے قرآن مجید میں ارشاد ہو رہا ہے :( آمن الرسول بما انزل الیه من ربّه'' ) ( ۱ ) رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس کے پرور دگار کی طرف سے نازل کی گئی ہیں اور مومنین بھی سب کے سب اللہ اور
____________________
(۱) سورہ بقرہ آیہ ۲۸۵
اس کے ملائکہ ،رسول اور ان کتابوں پر جو وہ لیکر آئے ان پر ایمان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم رسولوں کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہیں یعنی ہم کسی بھی پیامبر کی تکذیب
نہیں کرتے اور نہ ہی اس کا حق رکھتے ہیں اور سب کو واجب الا طاعت سمجھتے ہیں البتہ اگر موسیٰ، عیسیٰ بھی اس زمانے میں ہوتے تو وہ بھی شریعت محمدمصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم پرعمل کرتے۔
دین اختیار کرنے میں ہماری ذمہ داری اور دوسرے ادیان کے پیروکاروں کا حکم
لہذٰا اس زمانے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن ،پیغمبر اور ائمہ علیھم السلام کے احکام پر عمل کریں اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کے حکم پر عمل کریں گے تو وہ قبول نہیں ہوگا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ دین حقیقی طور پر پچھلے ادیان سے جدا ہے اگر چہ ادیان بعض احکام میں جدا ہیں اور اختلاف رکھتے ہیں لیکن کلی اصول اوربہت سے احکام میں سارے ادیان ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اوروہ سب اسلام میں ہیں ،لہذٰا اگر کوئی شخص حق کو پہچاننے یا مشخص و معین کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ مستضعف ہے اور اس نے جتنا پہچانا ہے اتنا ہی اس کو عمل کرنا چاہئے ،اسی پر اس کو ثواب ملے گا لیکن اگر کسی نے کسی زمانے میں حق کو پہچانا اور اس کے باوجود اس کی مخالفت کی اور دشمنی اختیار کی تو ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلے گا، یہ مطلب دعائے کمیل کے اس فقرے سے بھی ظاہر ہوتا ہے، مولا علی فرماتے ہیں :اقسمت ان تملاهامن الکافرین من الجنة والناس اجمعین وان تخلدفیها المعاندین ائے خدا ! تو نے قسم کھا کر کہا ہے کہ اس جہنم کو تمام جن و انس کہ جو کافر ہوںگے بھر دوں گا اور وہ لوگ جو تیرے دین سے دشمنی رکھتے ہیں
ان کو اس جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رکھے گا ، بہر حال جو لوگ بھی خدا کے دین سے دشمنی اور عناد رکھتے ہیں وہی لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، لیکن اگر کوئی شخص عناد و دشمنی نہیں رکھتا ہے اگر وہ عذاب میں مبتلا بھی ہوگا تو اسی مقدار میں جتنا اس نے گناہ اور کوتاہی کی ہے، مستضعفین بھی اسی مقدار میں عذاب سے معاف رہیں گے جتنا وہ حق کو نہیں پہچان سکے ہیں ۔ اس مقام پر جس مطلب کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ اگر مسلمانوں (شیعوں) کے علاوہ جو لوگ جہنم میں نہیں جائیںگے تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کا دین حق پر تھا بلکہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس عذر ہے ؛البتہ جیسا کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے جو لوگ پچھلی شریعت جیسے موسی یاٰ عیسیٰ کے دور میں زندگی بسر کر کر رہے تھے ان کی ذمہ داری اسی شریعت پر عمل کرنے کی تھی۔ بہر حال دین حق اور صراط مستقیم صرف ایک ہی ہے ،او رجو لوگ اس ایک صراط مستقیم یعنی اسلام کے علاوہ کسی دین پر رہ کر جہنم میں نہ جائیں گے تو اس کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ دین حق اور صراط مستقیم (سیدھے اور صحیح راستے) ایک سے زیادہ ہیں ۔
نفسیات سے متعلق ایک نکتہ
ایک نکتہ اس جگہ پر بہت اہم ہے وہ یہ کہ انسان ہمیشہ ایسا نہیں ہے کہ پہلے کسی چیز کی خوبی اور اچھائی کے بارے میں دلیل کو تلاش کرے اور جب دلیل مل جائے تو اس چیز کو اختیا رکر لے بلکہ کبھی کبھی مسئلہ اس کے بر خلاف ہوتا ہے یعنی پہلے کوئی چیز انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور اس کو اچھی لگتی ہے ،اس کے بعد اس کے اچھے ہونے یا صحیح ہونے پر دلیل لاتا ہے؛ اس طرح کے موقعوںپر انسان اپنے دل کی حرکت کا تابع ہوتا ہے
کبھی تو یہ اچھی اور صحیح چیز ہوتی ہے اور کبھی کبھی غلط ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ پہلے ان کا دل کسی چیز کو قبول کر لیتا ہے اس کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح بھی عقل کو دل کے ساتھ ہماہنگ کرلیں؛یعنی اس چیز کو ثابت کرنے کے لئے دلیل لاتے ہیں ۔یہ بات بہت سے ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لائے تھے؛ بہت سے لوگ ایسے نہیں تھے کہ پہلے تحقیق کریں اور اسلام کے اعتقاد کی تلاش و جستجو کریں اور جب تحقیق و جستجوکرلیا ہو اور توحید و خدا کی حقانیت ان کے لئے ثابت ہو گئی ہو تب ایمان لے آئے ہوں ؛بلکہ انھوں نے صرف رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رفتار اور ان کے اخلاق کو دیکھا تو ان کے دل نے کہا کہ وہ بھی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرح ان کے ساتھ ہوں لہٰذاوہ ان کے ساتھ ہوگئے ؛پہلے ان کے دل نے قبول کیا اس کے بعد پھر اس پر دلیل پیش کی ۔یہ بات باطل میں بھی پائی جاتی ہے ؛یعنی چونکہ انسان ایک غلط چیز کی طرف رجحان رکھتا ہے اور اس کا دل اس کو چاہتا ہے تو وہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کی توجیہ کرے؛ بہت سے لوگوں نے گناہ ،اور برائی کی عادت کر لی ہے ان کا دل چاہتا ہے کہ ہر طرح آزاد رہیں ؛اور جس چیز کا بھی دل چاہے اس کو انجام دیں ؛ظاہر سی بات ہے ایسے لوگ اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ حساب و کتاب اور قبر و قیامت ہو؛ان کا دل اس بات کو گوارانہیں کرتا اور نہ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ ان کی عمر کا ہر لمحہ اور ان کی زندگی کا چھوٹا سا عمل بھی کسی کے زیرنظر رہے، اور ہر چیز کے بارے میں سوال و جواب ہوگا اسی لئے ان کا دل چاہتا ہے کہ حساب و کتاب نہ ہو ؛اور ان خواہشوں کے لئے انسان کوشش کرتا ہے کہ قیامت اور آخرت کے انکار کے لئے دلیل تلاش کرے، قرآن میں اسی سے متعلق خدا فرماتا ہے :( ایحسب الانسان ان لن یجمع عظامه بلیٰ ) ( ۱ ) کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر پائیں
____________________
(۱) سورہ قیامت : آیہ ۳ الیٰ ۵ ۔
گے؟ یقیناًہم تو اس بات پر بھی قدرت رکھتے ہیں کہ ان کی انگلیوںکے پور کو بھی از سر نو ویسے ہی درست کر دیں؛ بلکہ انسان تو فقط یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے وہ انسان جو قیامت کا انکار کرتا ہے واقعاً کیا وہ فکر کرتا ہے کہ ہم اس کو دوبارہ زندہ نہیں کر پائیں گے ؟ اگر وہ تھوڑی سی بھی فکر کرے اور عقل وفہم سے کام لے تو اچھی طرح سمجھ سکتا
ہے کہ وہ خدا جس نے انسان کو عدم سے وجود بخشا کیا دوبارہ اسی انسان کو زندہ نہیں کر سکتا ہے یقیناًیہ کام پہلے سے زیادہ آسان ہے چونکہ شروع میں انسان کچھ بھی نہیں تھا اور خدا نے اس کو پیدا کیا اور اب تو کم سے کم گوشت اور ہڈیّ تو ہے اگرچہ بوسیدہ اورسڑ گل گئی ہیں لہذٰا انسان کی عقل اس بات کو آسانی سے قبول کر لیتی ہے کہ جس ہاتھ نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی قدرت دوبارہ اسی بوسیدہ اور سڑی گلی ہڈیوں اورگوشت کو جمع کر کے زندہ کر سکتا ہے، لہذٰا قیامت کے منکر اس حد تک اپنی بات پر کیوں اصرار کرتے ہیں ؟ وہ صرف اس لئے کہ''بل یرید الانسان لیفجر امامه ''یعنی انسان چاہتا ہے کہ آزاد رہے کسی کی قید و بند میں نہ رہے ،بلکہ اسکو اس بات کی بھی آزادی حاصل رہے کہ جس گناہ اوربرائی کو بھی اس کا دل چاہے اس کو انجام دے ؛اور اس کے کام میں کوئی بھی حساب و کتاب نہ ہو ،بس اس جگہ پہلے اس کے دل نے فتویٰ دیا کہ آخرت اور قیامت وغیرہ نہیں ہے اس کے بعد اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اس بات پر دلیل لائے اجتماعی مسائل اکثر ایسے ہی ہیں کہ جن میں بجائے اس کے کہ دل عقل کے پیچھے ہو ،عقل دل کے پیچھے چلتی ہے ۔
اس کا زندہ ثبوت ہمارے زمانہ میں پایا جارہا تھا وہ مرکس ازم کی طرف لوگوں کا رجحان اور اعتقاد تھا ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں نے پہلے جاکر ماٹریالزم اورڈیا للٹک کے اصول پر بحث اور جستجو کی ہو اور دلیل و برہان سے ان کے لئے ثابت ہوا ہو کہ مادہ کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں ہے اورمارکسی اقتصاد اور اس سے متعلق سارے مسائل صحیح اور درست ہیں ۔میں خود ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو کہ مسلمان نمازی اور روزہ دار تھے لیکن مارکسسٹ تھے اور ان کی فکر تھی کہ یہ دونوں چیزیں (اسلام اور مارکس ازم) جمع ہو سکتی ہیں ۔ آخر ان لوگوں نے مارکیزم کی طرف رجحان کیوں پیدا کر لیا تھا ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے سماج اور عوام کے درمیان ظلم و ستم اور دولت و ثروت کی ذخیرہ اندوزی کو دیکھا وہ اس بات کو دیکھ رہے تھے کہ کچھ لوگ دولت کی زیادتی کے سبب اس بات سے لا علم تھے کہ اس کو کس طرح سے خرچ کیا جائے ،اس کے مقابلے میں کچھ لوگ بہت ہی فقیری اور مفلسی میں زندگی بسر کر رہے تھے اس وقت ان لوگوں نے سوچا کہ یا تو سرمایہ داری کو قبول کر لیں یا مارکس ازم کو قبول کر لیں ،سرمایہ داری کا انجام معاشرہ میں یہی واضح اور افسوسناک طبقاتی فاصلہ تھا
لہذٰا ان لوگوں نے مارکس ازم کو قبول کر لیا ؛اس کے بعد مارکس ازم کو قبول کر لیتے تھے تو
رفتہ رفتہ علمی اصطلاح میں مارکس ازم کے لئے دلیل بھی تلاش کرنا شروع کر دیتے تھے اور آہستہ آہستہ ماٹریا لیزم اور مادہ کی اصالت کو قبول کر لیتے تھے پلورالزم کے بارے میں بھی بعض جگہوں پر اکثر لوگوں کی ا یسی ہی کہانی ہے پہلے ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو کس طرح قبول کریں کہ تمام کے تمام لوگ جہنم میں جائیں گے اور بہت کم ہی لوگوں کو نجات حاصل ہوگی ؟ ہم اس بات کو قبول نہیں کرسکتے ،ایک ایسا راستہ اختیار کریں کہ دوسرے لوگ بھی جنت میں جا سکیں۔ اس فکر کے پیچھے ان لوگوں نے اس نظریہ کو پیش کیا کہ' 'سارے دین حق پر ہیں اور اس بات کی کوشش کی کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دلیل بنائی جائے۔
کون سا فلسفی اور معرفت شناسی کا مبنیٰ پلورالزم کی طرف منتہی ہوسکتا ہے
لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ شروع میں ایک خاص فکری اور فلسفی مبنیٰ اختیار کرتے ہیں اور اسی مبنیٰ اور اصول کی بنیاد پر پلورالزم تک پہونچتے ہیں ، یہ نہیں کہ پہلے ان کے دل نے اس بات کو چاہا ہو پھرعقل نے دل کی بات کو مانا ہو اور عقل نے دل کے پیچھے حرکت کی ہو۔ اس جگہ ہم اس بات کا جائزہ لیںگے کہ وہ کون سے فلسفی مبنیٰ ہیں کہ اگر انسان ان سے شروع کرے تو پلورالزم تک پہونچ سکتا ہے؟
واقعیت کو جاننے اور حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ عقل ہر چیز کی حقیقت کو واضح اور کشف کر سکتی ہے توفطری طور سے ایک ہی مسئلہ میں وہ متعدد حقائق کو قبول نہیں کرے گا ؛ایسا شخص فطری طور پر حقیقت کو ایک ہی چیز جانتا ہے اور پھر چاہتاہے کہ اور اس ایک حقیقت کو دلیل و برہان سے حاصل کرلے۔ اگر اس کو ایک حساب یا فیزکس کا سوال دیں تو وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ اس کا صحیح جواب صرف ایک ہی ہوگا ؛اگر وہ شخص جواب حاصل کر لیتا ہے تو جانتا ہے کہ یہ جواب یا تو صحیح ہوگا یا غلط ؛یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کے کئی جواب صحیح پائے جاتے ہوں ۔
لیکن اگر کوئی حقیقت کی شناخت کے مسئلہ میں اس بات کا اعتقاد رکھتا ہو کہ انسان کے پاس واقعیت تک پہونچنے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے جس وسیلہ کو بھی ،چاہے وہ عقل ہو یا تجربہ ،استعمال کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ حقیقت سے قریب ہو سکتا ہے لیکن واقعیت تک نہیں پہونچ سکتا ،اسی جگہ پر مختلف قسم کے نظریوںجیسے نسبیت، شکّاکیت اورپلورالزم وغیرہ میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے۔ آج اس نظریے کے طرفدار اور حامی پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ حقیقت ، انسان کی معرفت وعقل اور اس کے علم سے بالاترہے، انسان جس قدر بھی کوشش کرے وہ واقعیت کے صرف چند آثار کو حاصل کر سکتا ہے اور حقیقت کے کچھ ہی پہلو اور وجہیں اس کے لئے واضح اور ظاہر ہوتی ہیں ،پوری حقیقت کو حاصل نہیں کر سکتا ۔دنیا کے مختلف مکاتب فکر جیسے مکتب کانٹ،نیو کانٹ،شکّاکیت اور نسبیت اس جہت میں مشترک نظریہ رکھتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہہم کبھی بھی واقعیت کو مکمل طور سے درک نہیں کر سکتے۔
اس فلسفی مبنیٰ کی بنیاد پرکہ جھوٹ اور سچ نسبی ہیں یعنی تمام خبریں واقعیت کے فقط کچھ حصّہ کو ہی بتاتی ہیں اور حقیقت کی ایک نسبت کو واضح کرتی ہیں اور جو خبریں سو فیصد حقیقت کو بتاتی ہوں وہ پائی ہی نہیں جاتی ہیں ۔تمام علمی خبریں بھی اسی خصوصیت کی حامل ہیں اور اصلاً علم کی ماہیت اس کے علاوہ کوئی اور چیزنہیں ہے ۔ہم یہ تصور نہ کریں کہ علم آکر کہے گا کہفقط یہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہےہر گز نہیں علم نہ ایسا دعویٰ کرتا ہے اورنہ ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ علمی نظریہ میں بات صرف تائید اور ابطال کی ہوتی ہے ،نہ کہ حقیقت کے کشف ہونے یا کشف نہ ہونے کی ۔ زیادہ سے زیادی علمی نظریہ کا دعویٰ اور ادّعا یہ ہوتا ہے کہ جب تک مجھ پر کوئی اشکال یا نقض نہ آجائے مجھ کو حق ہونے کی تائید حاصل ہے اور اگرکوئی اعتراض ہوگیا تو میں باطل ہو جائوں گا اور دوسرا نظریہ میری جگہ لے لے گا یہ سیر و روش اسی طرح آگے بڑھتی رہتی ہے اور علمی نظریات ایک کے بعد دوسرے مکمل ہوتے رہیں گے اور علم میں کوئی ایسا نظریہ ہی نہیں پایا جاتا جو کہ ہمیشہ باقی رہے اور قائم و ثابت رہ جائے۔
جو لوگ معرفت شناسی اور اس کے اقدار کی بحث میں اس فکر کی تائید کرتے ہیں اور اس کے طرفدار ہیں وہ لوگ منطق وفلسفہاور معقولات و الھٰیات کو ایک طرح حقارت کی نظر سے یاد کرتے ہیں اور اس بحث کو غیر علمی اور ہر طرح کے اعتبار سے خالی تصور کرتے ہیں ؛اور جس وقت ایسی بحثیںہوتی ہے تو ایک خاص حالت اور معنی دار اندازسے کہتے ہیں کہاس کو چھوڑئیے' یہ تو فلسفہ ہے'' یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم فقط علم کی عظمت و اہمیت کے قائل ہیں اور علم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ واقعیت کو سو فیصد واضح اور ظاہر کرے بلکہ ہر نظریہ واقعیت کی وجہوں میں سے کسی ایک وجہ کو نہ کہ سبھی کو بتاتاہے۔
نیوٹن کا قانونجاذبہ (کشش)''ہمارے لئے واقعیت کے صرف ایک حصہ کو بتاتا ہے ،اور انیشیٹن کا قانوننسبیتبھی واقعیت کی دوسری وجہ کو ہمارے لئے ظاہر کرتا ہے؛ اور کوئی بھی قانون ہمارے لئے ساری واقعیت کوظاہر نہیں کرتا لہذا با ت جب ایسی ہے تو دونوں صحیح ہیں یہ بھی اور وہ بھی۔اور اس طرح سے ہم معرفت شناسی میں ایک طرح کثرت پرستی تک پہونچ جاتے ہیں جو کہ واقع میں ایک نسبیت پرستی اور شکاّکیت ہے البتہ بعض لوگ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ اس نظریہ کو شکاکیت کی طرف پلٹائیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس نظریہ کا لازمہ نسبیت پرستی ہے، لیکن پھر بھی شکّاکیت اس میں پائی جاتی ہے بہر حال یہ چیز اہم نہیں ہے کہ اس کا کیا نام رکھا جائے شک گرائی یا نسبت گرائی ؛ہر حال میں اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ واقعیت کو ہم کبھی بھی نہیں حاصل کر سکتے ہیں یعنی علم ہم کو کبھی بھی (سو فیصد)اعتقادیقینی کی منزل تک نہیں پہونچا سکتا۔
بلّوری مثلث کی مثال کے ذریعہ پلورالزم کی وضاحت
جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے ممکن ہے کہ یہ نظریہ پلورالزم کی فکر کا مبنیٰ ہو کیونکہ علم کی اس تفسیر کی بنیا د پر جو ابھی پیش کی گئی ہے ہر علمی نظریہ ،بلّوری مثلث کے ایک زاویہ اور ایک رخ کے مانند ہے جو کہ واقعیت کے ایک حصّہ کو ظاہر کرتا ہے اور جو کوئی بھی جس زاویہ پر نگاہ ڈالتا ہے وہ واقعیت اور حقیقت کے اسی حصہ کو دیکھتا ہے پوری واقعیت کا نظارہ کرنا سب کے بس کی بات نہیں کیونکہ اور یہ واقعیت بلّوری مثلث کے مختلف حصّو ں میں پھیلی ہوئی ہے ۔
اگر پلورالزم کی اس طرح تفسیر کریں تو اس وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت ایک ہی ہے البتہ ایکا ایسی حقیقت جو ہر شخص کے لئے الگ الگ طرح سے جلوہ گر ہوتی ہے ،یعنی ایک حقیقت واقع میں وہی پور ابلّوری مثلث ہے جو کہ کئی سطوح اور مختلف حصّوں میں ہے اور ہر علمی نظریہ اس کی ایک سطح اور حصّہ جیسا ہے،
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی پوری حقیقت کو شامل نہیں ہوتا ہے اگربلّوری مثلث کی اسی مثال اورتشبیہ کو نگاہ میں رکھیں اور چاہیں کہ پلوالزم کے بارے میں زیادہ واضح طورسے گفتگو کریں تو اس کی ایک تفسیر یہ ہوگی کہ حقیقت ایک ہے لیکن اس تک پہونچنے کے راستے الگ الگ ہیں ؛جس طرح بلّوری مثلث کہ ایک چیز سے زیادہ نہیں ہے لیکن چونکہ جو شخص اس کی طرف ایک زاویہ سے دیکھتا ہے ممکن ہے اس کی نگاہ میں واقعیت کی تصویر دوسرے لوگوں کی بہ نسبت مختلف نظر آتی ہو؛ اس لئے کہ بلّوری مثلث کے کئی رخ اور زاویہ ہیں جو کہ ممکن ہے الگ الگ رنگ و خاصیت رکھتے ہوں ۔
ایک بلّوری مثلث کو اپنے سامنے رکھیئے اس کے ایک طرف محدّب (ابھرا ہوا ) آئینہ ہو دوسری جانب گہر ااور تیسری طرف مسطّح اور برابر آیئنہ ہواگر تین الگ الگ ایک ایک زاویہ سے اس بلّوری مثلث میں ایک شئے کی تصویر کو دیکھیں تو یقیناًوہ تین مختلف تصویروں کو دیکھیں گے جب کہ ہم الگ سے ناظر کے عنوان سے جانتے ہیں کہ یہ سب کے سب ایک ہی چیز کی تصویر کو دیکھ رہے ہیں جو کہ نظر کے زاوئیے مختلف ہونے اور الگ الگ جگہ کھڑے ہونے کی وجہ سے خود گمان کرتے ہیں کہ تین مختلف چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ۔ بہر حال یہ وہی پلورالزم کی بہت سے سیدھے راستوں والی تفسیر ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہم صرف ایک حقیقت رکھتے ہیں اور اس ایک حقیقت تک پہونچنے کے لئے کئی راستے پائے جاتے ہیں ۔ تمام دین دار بلکہ سبھی انسا نوں کا معبود اور مطلوب ایک ہے اور سب کے سب اس ایک حقیقت کے طالب ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ ایک اسلام کا راستہ ہے اور ایک یہودیت کا راستہ ہے لیکن آخرمیں سب ایک ہی مقصد اورمنزل پر جاکر تمام ہوتے ہیں پلورالزم کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہم یہ نہ کہیں کہ حقیقت ایک ہے بلکہ بلّوری مثلث کے اطراف اور زاویوں کے مانند متعدد اور الگ الگ ہیں
جو شخص جس زاویہ سے دیکھتا ہے اس کے لئے وہی حقیقت ہے چونکہ بلّوری مثلث کے اطراف اور اس کے رنگ جدا جدا ہیں جو کہ اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ ایک انسان حقیقت کو ہرا اورابھرا ہوا، دوسرا اسی کو نیلا اور گہرا اور تیسرا انسان اسی کو پیلا اور مسطّح دیکھتا ہے ؛حقیقت بھی ان تصویر وں کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور تصویر یںبھی واضح طور سے جدا جدا ہیں پس حقیقت بھی انھیں کی طبیعت میں مختلف ہوتی ہے ظاہر ہے کہ پلورالزم کی یہ تفسیراس تفسیر سے مختلف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بہت سے سیدھے راستے ایک حقیقت کی طرف ختم ہوتے ہیں پلورالزم کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ ہم ایک دین یا ایک علم کی ہر ایک بات کو الگ الگ نظر میں نہ رکھیں بلکہ ان تمام باتوں کے مجموعہ کے بارے میں یکجا صورت میں فیصلہ کریں؛ مثلاً جس وقت سوال کریں کہ شیعہ مذہب حق ہے یا باطل؛ تو تمام شیعی عقائدکے مجموعہ کو اپنی نگاہ میں رکھیں پلورالزم کی اس تفسیر کی بنا پر ہم کسی بھی مذہب کے حق یا باطل ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں ؛ کیونکہ تمام ادیان صحیح اور باطل دونوں اعتقادات و احکام سے مل کر بنے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ تمام ادیان حق بھی ہیں اور باطل بھی، حق اس اعتبار سے کہ اس کے بعض مطالب حق ہیں اور باطل اس اعتبار سے کہ اس کے بعض مطالب باطل ہیں ۔
لہذٰا جب ایسا ہے کہ ہر مذہب کے بعض عقائد و افکار اور اس کے احکام اور خصوصیا ت سچ اور جھوٹ ،حق اور باطل دونوں کا مجموعہ ہیں پس تمام ادیان برابر کی خصوصیات رکھتے ہیں اور جس دین کو بھی اختیار کر لیں کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔
دینی معرفت کے دائرہ میں وحدت حقیقت کا نظریہ
دینی پلورالزم کے نظریہ کے مقابلہ میں (اسکی مختلف تفسیروں کے ساتھ ) ایک دوسرا اعتقاد یہ بھی ہے کہ مکمل طور سے کچھ دینی اعتقادات ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو کہ سب کے سب حق اور صحیح ہیں اور اس کے مخالف اعتقادات باطل اور نا حق ہیں ؛یہ نظریہ اس بات کا معتقد ہے کہ حقیقت ایک ہے اور اس شخص اور اس شخص اس معاشرہ اوراس معاشرہ ،اس زمانے اور اْس زمانے میں کوئی بھی فرق نہیں ہے ۔اس اعتقاد کی بنیاد پر ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہم افکارواقدار احکام کا مجموعہ رکھتے ہوں جو کہ سب کے سب حقیقت رکھتے ہوں اور اس مجموعہ کے علاوہ دوسر ے بقیہ مجموعہ باطل اور ناحق ہیں یاان میں سے ہر ایک میں حق اور باطل دونوں پائے جاتے ہیں جو چیز ہم شیعوں کے ذہن میں پائی جاتی ہے وہ یہی ہے اگر آپ عام افراد کو دیکھئے تومعلوم ہوگا کہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ فقط شیعہ مذہب صحیح ہے اور یہی مذہب حق ہے؛ اوریہ وہ مذہب ہے کہ جس کامنبع اور سر چشمہ اھل بیت علیہم السلام اورچہاردہ معصومین ہیں اس کے علاوہ باقی جو مذہب اور ادیان پائے جاتے یا پوری طرح سے باطل ہیں ؛یا جس مقدار میں ان کے عقائد شیعہ مذہب کے مخالف ہیں اتنا وہ باطل ہیں ۔یہ ایسی چیز ہے جو ہماری اور آپ کی فکر میں پائی جاتی ہے۔اور پلورالزم کی فکر کے پیش ہونے سے پہلے کوئی بھی دین و مذہب کی حقاّنیت سے متعلق اس تصویر کے علاوہ کچھ اور نہیں خیال رکھتاتھا۔
مراجع تقلید کے فتوئوں میں اختلاف کا پلورالزم سے کوئی ربط نہیں ہے
جو سوال اس جگہ ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ مذہب شیعہ میں بھی چاہے وہ اعقادی مسائل ہوں یا فقہی احکام،بہت جگہوں پر کئی نظریات پائے جاتے ہیں ۔ ان اختلافات کے رہتے ہوئے کس طرح ممکن ہے کہ ان احکام و عقائد کے ایک مجموعہ کو شیعہ مذہب کی طرف (جو کہ حق ہوں ) نسبت دیا جائے؟ شیعہ علماء اور مراجع تقلید کے فتوئوں میں اختلاف یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو سبھی لوگ جانتے ہیں مثلاً ایک مرجع تقلید کا فتویٰ ہے کہ نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ایک مرتبہ تسبیحات اربعہ کہنا کافی ہے دوسرا مرجع یہ فتویٰ دیتا ہے کہ ۳ مرتبہ کہنا ضروری ہے، یا عالم برزخ کے مسائل سے بعض امورمثلاً پہلی رات مرنے کے بعد کیا سوال وجواب ہوگا اس کے علاوہ دوسرے مسائل جس میں اختلاف واضح ہے جو کہ قیامت سے مربوط ہیں ؛ان کی تفصیلات میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا نظریہ حق ہے اور کون سا باطل ہے ؟یہ شرعی مسئلہ ہے کہ اعلم کی تقلید کرنا چاہئے، لیکن اعلم کی تشخیص اور پہچان میں لوگوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے؛ اور ہر شخص مخصوص آدمی کو اعلم جانتا ہے اور اسی کی تقلید کرتا ہے ۔لیکن بہر حال ایسا نہیں ہے کہ فقط ایک ہی مرجع کے مقلدین جنت میں جائیں گے؛ بلکہ جس نے بھی کسی مجتہد کو واقعی طور پر اعلم سمجھا اور اس کی تقلید کی اس کو نجات ملے گی اور وہ جنت میں جائے گا ؛اس جگہ پر جو شبہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ اگرمختلف ادیان کے درمیان بہت سے سیدھے راستوں کو قبول نہ کیا جائے تو کم سے کم شیعہ مذہب کے اندر مختلف سیدھے راستوں کے ہونے کا اقرار کرنا پڑے گا؛ اور مختلف عقائد و احکام کے مجموعہ کو صحیح اور حق پر ہونے کا اقرار کرنا پڑے گا لہذٰا اس طرح سے بھی اس کی انتہا پلورالزم ہی کی طرف ہوگی۔
ا س کا جواب یہ ہے کہ یہاںمقام ثبوت اور مقام اثبات میں خلط ملط ہو گیا ہے؛ جنت میں جانے اور اسلام کے واقعی اور حقیقی حکم کو حاصل کرنے میں کوئی ملازمہ نہیں ہے۔ جو کچھ بھی علماء دین کی تقلید کے بارے میں پایا جاتا ہے وہ یہ کہ اگر آپ نے کسی مجتہداعلم کو مشخص کر لیا اور اس کی تقلید کرلی ؛تو اگر اس کے بعض فتوے خدا کے حکم واقعی کے مخالف بھی ہو جائیں تو آپ اس میں معذور ہیں اور حکم واقعی پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آپ جہنم میں نہیں جائیں گے ؛تسبیحات اربعہ کے مسئلہ میں حقیقت اور واقعیت ایک ہی ہے؛ حکم خدا وندعالم یا یہ ہے کہ ایک مرتبہ تسبیحات اربعہ کافی ہے یا یہ کہ ۳ مرتبہ واجب ہے ،جس فقیہ اور مجتہد کا فتویٰ خدا وندعالم کے حکم کے مطابق ہواسی فقیہ کا فتویٰ صحیح اور درست ہے اور بقیہ مجتہدین کا غلط ہوگا لیکن یہ غلطی ایسی ہے کہ اس سے مجتہد اور اس کے مقلدین دونوں معذور ہیں چونکہ ان لوگوں نے حکم خدا تک پہونچنے کی پوری کوشش کی؛ اور اپنے فریضہ کو انجام دیا ؛لیکن کسی بھی سبب سے وہ اس تک نہیں پہونچ سکے یہاںیہ مسئلہ مستضعف فکری جیسا ہے جس کی طرف اس سے پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے ۔
اسلام کے قطعی اور واضح احکام میں اختلاف کا نہ ہونا
ہم اسلام میں کچھ یقینی، پائدار، مطلق اور نہ بدلنے والے حقائق رکھتے ہیں جن کو عرف عام میں ضروریات اسلام''کہا جاتا ہے کبھی ان حقائق کا دامن اور میدان وسیع ہوتا ہے تو ان کو اسلام کے مسلمات اور قطعیات سے یاد کیا جاتا ہے، یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ تمام مسلمانوں کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ک۔مثلاً تمام مسلمان جانتے ہیں کہ صبح کی نماز دو رکعت ہے اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس کے لئے تقلید ضروری نہیں ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہم اس کی تحقیق و جستجو کریں بلکہ یہ واضح اور بدیہی ہے یہی وجہ ہے کہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اسلام کے واضحات میں تقلید نہیں ہے ؛یہاں تک کہ بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ قطعیات اور مسلمات دین میں بھی تقلید جائز نہیں ہے؛ تقلید صرف ظنےّات(جن کے بارے میں یقین نہ ہو )میں صحیح ہے۔ یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ صبح کی نماز ۲ رکعت ہے اور نماز کے واجب ہونے کا مسئلہ ایسی چیز ہے کہ اس کا صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کافر بھی (جو کہ اسلام اور نماز کو قبول نہیں کرتے ہیں )جانتے ہیں کہ اسلام نماز کا حکم دیتا ہے اور نماز اسی رکوع اور سجدے اور بقیہ تمام افعال واذکار کا نام ہے۔ آج کون ایسا ہے جو اس بات کو نہ جانتا ہو کہ مسلمانوں کا حج ذی الحجہ کے مہینہ میں مکہ جاکر کچھ اعمال کو انجام دینا کہلاتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ نماز اور حج اسلام کا جزنہیں ہے تو اس کی بات قبول نہیں کی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ یہ سب اسلام کے واضحات اور مسلمات سے ہیں ان کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اورہر زمان ومکان میں ان کا انجام دینا ضروری ہے اور وہ ناقابل تغییر ہیں یہاں تک کہ ان کے متعلق تقلید بھی صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ ہر مسلمان اس بات کو جانتا ہے اسی وجہ سے اسلام کے ضروریات اور واضحات سے انکار کرنا مرتد ہونے کا سبب بنتا ہے البتہ امام خمینی کا نظریہ یہ ہے کہ ضروریات اسلام کا انکار، ارتداد کا سبب اس وقت بنتا ہے جب اس کا انکار رسالت کے انکار کا باعث ہو لیکن بعض فقیہ اس شرط کو لازم نہیں جانتے ہیں ؛ اور کہتے ہیں کہ' ' اسلام کے واضحات کا انکار،مطلق طور پر ارتداد کا سبب بنتا ہے۔
دین اسلام کے ظنیات میں اختلاف اور اس کی وضاحت
اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام کے جو احکام و عقائد واضح اور قطعی ہیں ان میں کوئی بھی اختلاف نہیں ہے اور ان میں کوئی شک وشبہہ نہیں پایا جاتا ہے اور جو کوئی بھی ان کو قبول نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے ۔بعض احکام اسلام میں ایسے پائے جاتے ہیں جو کہ ظنیّ ہیں ، اسلام کے جو احکام ظنی ہیں ان کے بارے میں اہل نظر اور مجتہدین ممکن ہے الگ الگ نظریہ اور فتویٰ رکھتے ہوں اب جو لوگ مجتہد نہیں ہیں عقلی اور نقلی دلیل کی بنیاد پر ان کا وظیفہ یہ ہے کہ مجتہدین کی طرف رجوع کریں اوران کی تقلید کریں ،تقلید کا مطلب ہے غیر متخصّص کا متخصّص(اس فن کے ماہر) کی طرف رجوع کرنا جو کہ ایک عام قاعدہ ہے اور صرف دینی مسائل اور احکام سے متعلق نہیں ہے بلکہ ہر میدان اور شعبہ میں جو شخص نہیں جانتاوہ جاننے والے کی طرف رجوع کرتا ہے مثلاًاگر آپ بیمار ہیں تو بیماری اور اس کی تشخیص کے لئے ماہر ڈاکٹر کی جانب رجوع کرتے ہیں ، دینی احکام میں بھی لوگ متخصصّین و ماہرین جو کہ مراجع عظام ہیں ،ان کی جانب رجوع کرتے ہیں ؛ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے البتہ یہ طبعی اور فطری امر ہے کہ جب مراجع تقلید کے فتوے مختلف ہوتے ہیں تو جو لوگ ان کی تقلید کرتے ہیں ان کے عمل میں بھی اختلاف ہوتا ہے ؛لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ مراجع عظام کے فتووں میں اختلاف ڈاکٹروں کے نسخوں میں اختلاف جیسی بات ہے ؛اگر دو ڈاکٹر کسی ایک بیمار کے بارے میں الگ الگ تشخیص رکھتے ہوں تو اگر دونوں غلطی پر نہیں ہیں تو کم سے کم ایک ضرور غلطی پر ہے ؛اسی طرح سے ایک ڈاکٹرکے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس کے تمام نسخوں میں غلطی نہ ہو تو کم سے کم سیکڑوں نسخوں کے درمیان ایک میں غلطی ضرور ہوگی، مراجع تقلید بھی اگر کسی مسئلہ میں الگ الگ نظریہ رکھتے ہوں تواگر سب کے نظریات غلط نہ ہوں تو یقینی طور پر کسی ایک کا نظریہ صحیح ضرور ہوگا اور بقیہ کا غلط ہوگا ؛ اسی طرح ایک فقیہ کے سیکڑوں فتوے جو کہ وہ دیتا ہے ایک نہ ایک فتوے میں غلطی کا امکان رہتا ہے، اگر چہ ایسا ہے، لیکن پھر بھی کیا کیا جائے اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے جب ہماری رسائی اور پہونچ معصوم تک نہیں ہے اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں ہے کیا چند نسخے جو ڈاکٹر لکھتے ہیں ان میں غلطی ہونے کی وجہ سے پوری ڈاکٹری کے شعبہ کو بند کر دیا جائے ؟ظاہر سی بات ہے کوئی بھی عقلمند انسان اس سوال کا جواب ہاں میں نہیں دیگا ۔
لہذا اگر اسلام میں پلورالزم سے مراداسلام کے ظنّیات میں علماء ومجتہدین کے فتووں کا اختلاف ہو تو یہ چیز مسلم اور قابل قبول ہے۔ ظنیات کے حدود میں اہل نظرکے درمیان اختلاف ممکن ہے اور ہر شخص اس مجتہد کے فتوے پر جس کو اس نے اعلم سمجھا ہے عمل کر سکتا ہے ؛اور کسی بھی مجتہد سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کا نظریہ پوری طرح سے غلط ہے ؛چونکہ ہم نے یہ فرض کیاہے کہ یہ امور ظنی ہیں اور ہم اس کی واقعیت اورحقیقت کو نہیں جانتے ہیں ۔ البتہ اظہار نظر میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ شخص دینی مسائل میں متخصّصو ماہر اور صاحب نظر ہو؛ ایسا نہیں ہے کہ چونکہ مسئلہ ظنّی ہے لہذاجو کوئی بھی ہو اورتھوڑا بہت بھی جانتا ہووہ کہنے لگے کہ میرا نظریہ یہ ہے ۔کیا وزارت حفظان صحت کے افراد ہر شخص کو مطب اوردوا خانہ کھولنے اور ڈاکٹری کرنے کی اجازت دیتے ہیں ؟جواب نہیں میں ہوگا ۔
بہر حال اگر کوئی اس کا بھی نام پلورالزم رکھے تو ہم کہیں گے کہ ہاں دین اسلام میں بھی پلورالزم ہے؛ لیکن یہ بات یاد رہے کہ کسی نے بھی پلورالزم کی تفسیر اس معنی میں نہیں کی ہے ؛اس لئے کہ پلورالزم یعنی حقیقت یا اس تک پہونچنے کا راستہ متعدداور الگ الگ ہے ،جبکہ ہم نے مجتہدین کے نظریوں میں اختلاف کے متعلق کہا ہے کہ حقیقت اور حکم خدا وندعالم فقط ایک ہی ہے اب اگر کوئی مجتہد حکم خدا وند عالم کو جو کہ حقیقی حکم ہے حاصل کر لے تو اس کا نظریہ صحیح ہے اور اگر حکم واقعی کے علاوہ اس کا فتویٰ ہے تو یقینی طور پر وہ غلط اور نا درست ہے لیکن اس مقام پرجیسا کہ اس سے قبل کہہ چکا ہوں مرجع تقلید اوراس کے مقلدین اس طرح کے حکم میں معذور ہیں ؛ لہذٰا اس کا نام پلورالزم نہیں رکھا جا سکتا ۔
خبری باتوں میں پلورالزم کا انکار، اخلاقی اور اقداری مسائل میں اس کا اقرار
دوسری بات جو یہاں پر پائی جاتی ہے وہ یہ کہ قضایائے خبری اور انشائی کے درمیان فرق ہے ۔معرفت شناسی کی بحث میں کہا گیاہے کہ وہ قضایاکہ جن سے ہماراعلم تعلق رکھتا ہے وہ دو طرح کے ہیں ،کچھ وہ قضایائے خبری ہیں کہ میں ان کوموجود ومعدومسے تعبیر کیا جاتا ہے، دراصل اخبار کی یہ وہ قسمیں ہیں جو کسی شئے کے موجو دہونے یا نہ ہونے کی خبر دیتے ہیں ۔ دوسرے وہ قضایا ہیں اصطلاح میں جن کواوامرونواہی''سے پکارا اور یاد کیا جاتا ہے اور یہ ان قضایا کو شامل ہیں جو کہ کسی بات کے محقق ہونے یا نہ ہونے کی خبروں پر مشتمل نہیں ہیں ؛اس طرح کے قضایا کو انشائی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے جبکہ پہلے والے کو خبری کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ممکن ہے کوئی شخص ان قضایا میں کہ جنکے بارے میں خبر دی جا رہی ہے صدق و کذب پایا جاتا ہو اور یہ خبریں جھوٹ اور یا سچ پر مشتمل ہوں؛ ان میں کوئی بحث نہ کرے،لیکن قضایائے انشائی کے متعلق کہے کہ ان کی خبریں سچ اور جھوٹ سے متصف نہیں ہوتی ہیں اور ان میں صدق و کذب نہیں پایا جاتا ہے ؛جس طرح ہماری موجودہ بحث میں بھی کہا جاتا ہے کہدین کے اعتقادی مسائل میں سچ اور جھوٹ، صحیح یا غلط ہونا معنی رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ ایک نظریہ کو صحیح اور دوسرا نظریہ جو اس کے مقابل ہے اس کو باطل جانا جائے؛ لیکن جو دینی قضایا اخلاق اور اوامرو نواہی پر مشتمل ہیں وہ ایسا حکم نہیں رکھتے ہیں ؛ یہ قضایا کسی عینی واقعیت اور حقیقت کو کشف نہیں کرتے ہیں تا کہ ہم یہ کہیں کہ ایک نظریہ صحیح ہے اور بقیہ نظریئے باطل ہیں ۔ اسلام کی تمام اخلاقی باتیں
اور اس کے احکام و قوانین اسی طرح کے ہیں ؛اس طرح کی عبارتیں اور جملے کہنماز پڑھنا چاہئے،جھو ٹ نہیں بولنا چاہئے، دوسروں کے حقوق کو غصب نہیں کرنا چاہئےاور اسی طرح کی دوسری خبریں ایسی نہیں ہیں کہ ہم ان کے بارے میں کہہ سکیں یہ صحیح ہیں یا غلط، جھوٹ ہیں یا سچ ،چونکہ یہ ثابت حقیقت کی حکایت نہیں کرتے ہیں تاکہ ہم ان کے مفہوم کو دیکھیں اور ثابت حقیقتوں سے ان کا مقایسہ کریں، اور پھر دیکھیں کہ اگر مطابقت رکھتے ہیں تو ان کو صحیح جانیں اوراگر مطابقت نہیں رکھتے توان کو غلط جانیں۔ اصل میں اس طرح کی خبریں صرف ذوق و سلیقہ اور اعتبار و قرارداد کی نشاندہی کرتی ہیں ؛ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہرا رنگ اچھا ہے اور دوسرا یہ کہتا ہے کہ پیلا رنگ اچھا ہے تو ان دونوں کا یہ کہنا فقط اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ایک کا ذوق اوراس کی طبیعت سبز رنگ کو پسند کرتی ہے اور دوسرے کی طبیعت اور اس کا ذوق پیلے رنگ کی طرف مائل ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک صحیح کہہ رہا ہے اور دوسرا غلط کہہ رہا ہے یا ہرا رنگ حقیقت میں اچھا ہے اور پیلا رنگ واقعاًاچھا نہیں ہے؛ اس مورد میں حقیقت وخطا،صحیح وغلط کی بحث کرنا پوری طرح بے معنی ہے۔
اخلاقی باتوںکے متعلق معرفت شناسی کے اس مبنیٰ کی بنیادپر ایک ہی چیز میں نسبیت اور مختلف نظریوں کے قبول کرنے کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
جس طرح یہ ممکن ہے کہ کہا جائے سبز رنگ اچھا ہے اور زرد رنگ بھی اچھا ہے صورتی رنگ بھی اچھا ہے اور بنفشی رنگ بھی اچھا ہے یہ اس بات پر معلق ہے کہ کون کس رنگ کو پسند کرتا ہے، دین کے مورد میں بھی کم سے کم اس کے بعض حصّے جیسے احکام اور اس کے اخلاقی مسائل میں ہم اس نظریے کے قائل ہو سکتے ہیں جہاں پر ایسی باتیں ہوں کہ اوامر ونواہی سے تعلق رکھتی ہوںوہاں ممکن ہے کہ زمان و مکان اور افراد کے اختلاف وتعدد کے اعتبار سے ہم بہت سے قابل قبول مختلف نظریوںکو قبول کریں۔
پہلی صدی ہجری میں ایک بات کو لوگ اچھا جانتے تھے لیکن ممکن ہے کہ چودہویں صدی ہجری میں لوگ اسی بات کو خراب اور معیوب سمجھتے ہوں یہ دونوں اپنے اپنے زمانے کے اعتبار سے صحیح ہیں ؛یہ ممکن ہے کہ جاپانیوں کے لئے ایک چیز اچھی ہے تو انگریزوں کے لئے دوسری چیز اچھی ہے اور دونوں باتیں صحیح ہیں ۔جس معاشرہ میں ہم رہتے ہیں اس بات کو جانتے ہیں کہ پوری طرح سے ننگے اور برہنہ ہونا اور اس حالت میں عام لوگوں کے سامنے جانا ،ایک برا کام ہے اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں ؛لیکن ممکن ہے کہ یہی چیزایک دن ایک معاشرہ میں ایک عام چیز ہو اور لوگ اسی کو پسند کرتے ہوں اور ننگے رہنا مفید جانتے ہوں ؛یہ سب ایسے مسائل ہیں جو کہ اجتماعی عرف اور اعتبار وقرار دادسے متعلق ہیں اور جو کچھ بھی ہو فرق نہیں کرتا ہے۔ اچھائی اور برائی چاہے اسلام میں ہو یا کسی دوسرے مذہب میں اسی طرح سے ہیں اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ احکام و اخلاق جو مسیحیت کے ہیں وہ درست ہیں یا اسلام کی باتیں یا بس یہودیت کی تعلیمات صحیح ہیں بلکہ ان میں سے جو جس کو پسند کر لے وہی اس کے لئے صحیح ہے ۔
اس بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم اعتقادات اور دین کے وہ مسائل جو کہموجودومعدومپر مشتمل ہیں ان اس میں پلورالزم کو قبول نہ کریں لیکن دین کے احکام اور اخلاقی مسائل میں لازمی طور پر اس کو قبول کریں اور کثرت و تکثر کو مانیں۔
جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا معرفت شناسی کے مسئلہ میں بعض لوگ سبھی انسانی علوم ومعارف چاہے کسی بھی شعبہ میں ہوان، نسبی جانتے ہیں لیکن بعض لوگ فقط احکام اور اخلاق کے مسائل میں نسبیت کے قائل ہیں یا سرے سے ہی مفید خبروں اخلاقی باتوں کو سچ اور جھوٹ ہونے یا صحیح اور غلط ہونے کے قابل نہیں جانتے ہیں ۔
اب ہم کو اس بات کو دیکھنا ہوگا کہ اخلاقی مسائل میں نسبیت صحیح ہے یا نہیں ؟
اخلاق کے دائرہ میں پلورالزم کے نظریہ پربحث
ا س میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سی چیزیں ایسی پائی جاتی ہیں جن کی اچھائیاں اور برائیاں بدلتی رہتی ہیں ؛ کسی زمانے میں اچھی اور کسی زمانے میں بری ہوتی ہیں کسی ماحول میں ایک چیز اچھی ہوتی ہے اور کسی ماحول میں وہی چیز خراب ہوتی ہے اسی طرح ایک چیز بعض حالات کے تحت اچھی ہے اوربعض حالات کے پیش نظربری ہوتی ہے یہاں تک کہ جھوٹ اور سچ بولنا بھی ایسا ہی ہے ایسا نہیں ہے کہ سچ بولنا ہمیشہ اچھا اور جھوٹ بولنا ہمیشہ خراب رہا ہو اگر چہکانٹاس بات کا معتقد تھا کہ سچ بولنا ہمیشہ اچھا اور جھوٹ بولنا ہمیشہ برا ہے اور اس میں کوئی بھی استثناء نہیں ہے؛ لیکن ہم سبھی لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے ؛مثلاً اگر ایک مومن کی جان بچانا اس بات میں منحصر ہو کہ جھوٹ بولیں تو اس جگہ صرف سچ بولنا حرام ہی نہیں ہے بلکہ لازمی طور سے جھوٹ بولنا بھی واجب ہو جاتا ہے؛ تاکہ مومن کی جان بچ جائے، اگر ظالم شاہ کے زمانے میں ساواکی (پولیس والے ) آتے اور آپ سے کسی ایک کا پتہ پوچھتے توکیا آپ سچ بولتے ؟ اور اس صورت میں وہ اس کو جاکر گرفتار کر لیتے اور اس کو زندان میں ڈال دیتے ،شکنجہ میں کستے یا پھانسی دیدیتے ،یہ بات بالکل واضح اور روشن ہے کہ آپ کو چاہئے تھا کہ ساواکی سے جھوٹ بولتے اور کسی کا پتہ نہ بتاتے ،یا مثلاًاسلامی احکام میں یہ دستور ہے کہ اگر کوئی کام مومن کی بے عزتی اور حقارت کا سبب بن رہا ہے تو اس کام کو انجام نہیں دینا چاہئے اس دستور کا نتیجہ یہ ہے کہ مومن کو چاہئے کہ ہر ماحول میں اسی ماحول کے آداب و رسوم کے مطابق عمل کرے( البتہ صرف اسی حد تک کہ شرعی واجبات اور محرمات کے خلاف کوئی عمل نہ ہو) اور ایسا کام جو اس معاشرہ کے آداب و رسوم کے خلاف ہو اور اس مومن کی بے عزتی اور حقارت کا سبب ہو اس کو انجام نہیں دینا چاہئے
بہرحال ان دو نمونے کے علاوہ بہت سے ایسے نمونے پائے جاتے ہیں جن سے ظاہری طور پرایسا لگتا ہے کہ ان کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے خلاقی و اجتماعی احکام و اصول میں ایک طرح کی نسبیت اور پلورالزم قابل قبول ہے ۔سچ بولنا اور جھوٹ بولنا دونوںباتیں اچھی بھی ہیں اور بری بھی ہیں ؛یہ حالات اور شرائط سے متعلق ہیں اور انھیں پر منحصر ہیں البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ اس بات کا نتیجہ صرف نسبیت ہے شکاکیت ہر گز نہیں یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہم شک کرتے ہوں کہ سچ بولنا اچھا ہے یا جھوٹ بولنا؛ اچھا ہے بلکہ ہم یقینی طور پر ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ سچ بولنا ان حالات میں اچھا ہے اور دوسرے حالات میں برا ہے بہر حال بعض لوگ اس طرح کے مواقع اور موارد سے استدلال کرنا چاہتے ہیں کہ اخلاقی نسبیت اسلامی تفکرمیں بھی پائی جاتی ہے اور قابل قبول ہے۔ لبتہ اس بیان کی وضاحت میں بہت زیادہ علمی اور فنی شرح و تفصیل ہے جو کہ ہماری گفتگوسے خارج ہے ۔
یہان پر جو کچھ بیان کرنا ممکن ہے وہ یہ کہ : حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ہر جز و قضیہ کے پورے شرائط اور قیود کو نظر میں رکھیں تو تمام قضیے ہمیں مطلق دکھائی دیں گے اور کسی میں کوئی بھی نسبیت نظر نہیں آئے گی۔ مثلاً اگرسائنس یا فیزیک کے مسائل میں آپ سے سوال کیا جائے کہپانی کس درجہ حرارت میں کھولتا اور پکتا ہےتو اس کا جواب یہ ہوگا سو درجہ حرارت میں ۔اس کے بعد ایک بہت ہی کھارا پانی لیکر آئیں یا پانی کو ایسی جگہ کھولائیںجہاں پر ہوا کا دبائو زیادہ ہو یا کم ہو تو آپ دیکھیں گے کہ پانی سو درجہ میں نہیں کھولے گا بلکہ سو سے کم یا زیادہ درجہ حرارت میں کھولے گا یہاں پر نتیجہ نسبیت کے سبب نہیں ہے بلکہ آپ نے قضیہ کو دقیق اور صحیح طریقے سے بیان کرنے میں غلطی کی ہے اور اس کو پوری طرح سے تمام شرائط اور قیو د کے ساتھ بیان نہیں کیا ہے مکمل اورصحیح نپا تلاقضیہ یہ ہے کہ مثلاً آپ کہیں (پانی اس درجہ حرارت میں جب کہخالص ہو تو جوش میں آئے گااور اس خاص درجہ حرارت میں کھولے گاجب کہ ہوا کا دبائو ہو ) تمام وہ لوگ جو کہ فیزیک اور سائنسی علم سے واقف ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ پانی خاص شرائط کے ساتھ سو درجہ حرارت میں کھولتا ہے لیکن بولنے اور لکھنے میں عام طور سے ایسی غلطی اور مسامحہ کرتے ہیں
اور ان شرائط ا و رقیود کو حذف کر دیتے ہیں اور مختصراً کہتے ہیں کہ پانی سو درجہ حرارت میں کھولتا ہے اس طرح کے قضایا بہت سے علوم میں پائے جاتے ہیں ؛جیسا کہ پہلے اس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ اس طرح کے قضیوں کا ہونا نسبیت یا ان کے کلی ہونے کی دلیل نہیں ہے؛ بلکہ مکمل طور سے تمام شرائط اورقیود کے بیان کرنے میں غلطی اورمسامحہ کا نتیجہ ہے؛ اخلاقی قضیے بھی ایسے ہی ہیں اگر کسی بھی قضیہ کو پورے قیود اور شرائط کے ساتھ بیان کیا جائے تو حکم کبھی بھی نہیں بدلے گا؛ اگر کوئی چیز اچھی ہے تو ہمیشہ اچھی رہے گی اگر بری ہے تو ہمیشہ بری رہے گی ۔اور جو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ سچ بولنے یا جھوٹ بولنے کا حکم کبھی اچھا یا کبھی برا ہوتا رہتا ہے اور بدلتا رہتا ہے تو وہ صرف اس لئے کہ ہم نے ان کے تمام شرائط اور قیود کو بیان کرنے میں لا پرواہی کی ہے۔
لیکن اخلاقیپوزٹیویسٹاور جو لوگ اخلاق واحکام میں نسبیت کے موافق ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر اخلاقی قضیہ کے تمام قیود اور شرائط کو بیان بھی کر دیا جائے تو بھی ان میں مطلق طورپر اچھائی اور برائی فقط نہیں پائی جاتی ہے بلکہ یہ اچھائی اور برائی ذوق و سلیقہ اور لوگوں کی پسند سے بدلتی رہتی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اخلاقی مسائل اصل میں کسی واقعیت اور حقیقت کو ظاہر نہیں کرتے ہیں ؛بلکہ جس طرح پہلے بیان کیا جا چکا ہے یہ سب ہرے رنگ کی اچھائی یا پیلے رنگ کی اچھائی جیسے ہیں ؛ اور لوگوں کے ذوق و سلیقہ پر منحصر ہیں کہ جو جیسا پسند کرے اور اس کے پیچھے کوئی حقیقت اور واقعیت پوشیدہ نہیں ہے ۔
یہیں پر ایک مبنائی اور اصولی بحث ہمارے اور دوسروں کے درمیان پائی جاتی ہے اور ہم کو اس بارے میں بحث کرنی چاہئے کہ کیا اخلاق و احکام اس معنی کے اعتبار سے کثرت پذیر ہیں یعنی کیا کسی خاص مسئلہ میں ہم ا یسے مختلف حکموں کو صحیح اور حقیقت سمجھیں جو ایک دوسرے کے خلاف اور بر عکس ہوں یا یہ کہ قضیہ کے تمام شرائط و قیود کو بیان کریں تو اس کا حکم ہر زمانے اور ہرجگہ میں ایک ہی اور ثابت ہوگا ؟
اسلام کے احکام،حقیقی اور واقعی مصلحتوں اور مفسدوں کے تابع ہیں
جو کچھ ہم اسلام کی تعلیمات سے سمجھتے ہیں اور جس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں وہ دینی بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے عقلی دلیل کے ذریعہ بھی قابل اثبات ہے، وہ اس طرح کہ اخلاق واحکام اور اوامر و نواہی کے متعلق بھی موجودات اور معدومات پر مشتمل اشیاء اور خبری قضیوں کے مانندصرف ایک ہی حقیقت پائی جاتی ہے اوراس اعتبار سے وہتعددو تکثر کے قابل نہیں ہیں ۔
البتہ بعض ایسی برائیاں یا اچھائیاں ہیں جو کہ قرار دادی اور اعتباری ہیں اور وہ حقیقی اور واقعی بنیاد نہیں رکھتیں لیکن تمام اچھائیاں یا برائیاں ایسی نہیں ہیں ۔ اخلاقی اچھائیاں اور برائیاں جو کہ اسلام میں معتبر ہیں وہ سب کی سب مصالح اور مفاسد کی تابع ہیں جیسے جھوٹ بولنا ا س لئے برا اور ممنوع ہے کہ اس سے لوگوں کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ جاتاہے اور نتیجہ میں اجتماعی نظام میں خلل پڑ تا ہے اور انسان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے کہ ایسے ماحول میں زندگی بسر کرے؛ ایک ایسے معاشرہ کو فرض کریں جہاں تمام لوگ جھوٹے ہوں اور عام طور سے جھوٹ بولتے ہوں ایسی جگہ پر تمام کاموں کا شیرازہ بکھر جائے گا اور زندگی کا نظام درہم برہم نظر آئے گا ۔اجتماعی زندگی کی بنیاد ایک دوسرے پر اعتماد سے قائم ہوتی ہے اگر یہ بات طے ہو جائیکہ جھوٹ عام ہو جائے اور سب کے سب جھوٹ بولیں تو آپ چاہے و ہ بیوی ہو یا اولاد، اپنے دوست، اعزا، احباب اور پڑوسی کسی پر بھی بھروسہ نہیں کریں گے اور زندگی ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گی اوراسی نا قابل تلافی اجتماعی نقصان کی وجہ سے اسلام نے جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے اور جھوٹ کو بہت بڑا گناہ سمجھا ہے اس کے بر خلاف سچ بولنا لوگوں کے اعتمادکا سبب بنتا ہے اور لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں تا کہ لوگ اس سچ کی وجہ سے اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کریں۔
اگر طالب علم اور استاد اسکول یا یونیورسٹی میں ایک دوسرے پر بھروسہ نہ رکھتے ہوں مثلاً شاگرد اگر استاد پر اعتماد نہ رکھتا ہو کہ استاد صحیح کہہ رہے ہیں اور جو کتاب میں لکھا ہے وہ صحیح اور حقیقت ہے تو مدرسے کے تمام درس اور یونیورسٹی کے تمام کلاس اور ان کی کتابیں بے فائدہ ہو جائیں گی لہذاسچ اور جھوٹ کی اچھائی اور برائی، مصلحت یا مفسدہ پرموقوف ہیں اوران پر مترتب ہونے والے مفاسد اور مصالح کے اعتبار اسلام نے سچ بولنے کو اچھا اور جھوٹ بولنے کو برا اور معیو ب جانا ہے۔ اس جگہ پر ایک بات کا بیان کرناضروری ہے کہ اسلام کی نظر میں صرف وہی مصالح اور مفاسد جو کہ مادیات اور دنیاوی چیزوں سے مربوط ہیں ،نہیں ہے بلکہ کچھ ایسے مصالح اور مفاسد بھی پائے جاتے ہیں جو کہ معنوی امور سے مربوط ہیں اور انسان کی اخروی زندگی سے ربط رکھتے ہیں اسلام نے جس اچھائی یا برائی کو بیان کیا ہے اس میں دنیاوی مصالح اور مفاسد کے علاوہ اخروی اور معنوی مصالح ومفاسد کا بھی لحاظ کیا ہے۔
پلورالزم کی بحث اور اس کا خلاصہ
اس حصہ کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی معارف چاہے وہ عقائد سے متعلق ہوں یا احکام سے ان کا تعلق ہویاپھر اخلاق کے مسائل ہوںیہ سب کے سب واقعیت کے تابع ہیں ،ان سب میں حقیقت فقط ایک ہے اور دین حق فقط ایک ہی ہے اس میں کثرت اور تعدد ممکن نہیں ہے؛ ہاں احکام اور اخلاق سے متعلق امور میں کبھی کبھی اس بات کو دیکھا گیا ہے کہ حکم بدل جاتا ہے؛ مثلاً سچ بولنا کبھی اچھا ہے اور کبھی سچ بولنا برا اور معیو ب سمجھا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے موضوع کو پورے قیود و شرائط کے ساتھ نظرمیں نہیں رکھاہے اور ان کو بیان نہیں کیا ہے ورنہ اگر سچ بولنے کو تمام شرطوں اور قیدوں کے ساتھ نظر میں رکھا جائے تو یہ ہمیشہ اچھا ہو گا یا برا ہو گااور کبھی فلسف بھی نہیں بدلے گا۔فلسفی اور معرفت شناسی کے اعتبار سے بھی اگر دیکھیں تو جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ پلورالزم کا تفکرپیدا ہونے کی وجہ ان تین وجہوں میں سے ایک وجہ ہو سکتی ہےپوزیٹوزم''شکاکیتاورنسبیت'' اگر منطقی پوزیٹیسٹ کی طرح ہم نے الھٰیاتی اور غیر تجربی قضایاجیسے خدا ہے، یا قیامت پائی جاتی ہے، وغیرہ کے متعلق ہم نے کہا کہ اصلاًیہ باتیں بے معنی ہیں
،یا اگر ہم انسانی معرفت میں کلّی طور سے یا صرف اخلاق و احکام کے قضیوں میں نسبیت کے طرف دار ہوں ،یا اگر ہم شکّاکیت کی مواقفت کریں اور کہیں کہ انسانی معارف میں سے کوئی چیز بھی قطعی اور یقینی نہیں ہے اوران تمام چیزوں میں شک و شبہ پایا جاتا ہے توان تینوں فلسفی اور معرفت شناسی میں سے ہر ایک کے مبنیٰ اور اصول کے لحاظ سے اس نتیجہ پر پہونچ سکتے ہیں کہ پلورالزم کا وجود ہے اورانسانی معارف(کہ دینی معرفت بھی انھیں میں سے ہے )میں حقیقت کا تکثرقبول کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ ہم نے جیسا کہ آغاز جلسہ میں بھی عرض کیا تھا کہ یہ بات دین اس معنی میں نہیں ہے کہ جو بھی پہلے پلورالزم کا حامی ہوا ہے ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس نے پوزٹیوزم، نسبیت یا شکاکیت کو اس نے قبول کیا ہو اور اس کے بعد وہ پلورالزم تک پہونچا ہو؛ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے پہلے پلورالزم کی طرف رجحان پیدا کیا ہو اور اس نے اس کو پسند کر کے اس کو قبول کر لیا ہو اور اس کے بعد اس کو ثابت کرنے یا اس کی توجیہ کے لئے اس پر دلیل لانے کی کوشش کی ہو، لیکن بہر حال اگر کوئی چاہتا ہے کہ منطقی روش پر چلے تواس چاہئے کہ شروع میں معرفت شناسی کے ان تینوں مبنیٰ کو قبول کرے ،اس کے بعد ان سے نتیجہ نکال کر پلورالزم کو قبول کرے۔ اصل میں اس بات کی طرف متوجہ رہیں کہ منطقی روش اس طرح ہے کہ تمام علمی مسائل، اصولی اور فلسفی مسائل پر منحصر ہیں اور فلسفی مسائل بھی معرفت شناسی کے مسائل پر مبنی اور منحصر ہیں یعنی منطقی نظام کے اعتبار پہلے معرفت شناسی کی بحثیں، اس کے بعد فلسفی بحثیں اور پھر اس کے بعد علمی مسائلً قرار پاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جس وقت ایک ڈاکٹر یا محقق
ایک بیماری کے علاج کے لئے کسی دوا کی تحقیق کرنا چاہتاہے تو شروع میں وہ فلسفہ نہیں پڑھتا ہے کہ پہلے وہ فلسفہ پڑھے اور فلسفی اصول و قواعد کودلیل سے ثابت کرے ،لیکن اس کی یہ تحقیق ایک فلسفی اصول پر مشتمل ہے، اور وہ اصل علےّت ہے کہ وہ محقق لیبارٹیری(جانچ گھر)میں آکر گھنٹوں اپنے وقت کو ایک دوا کی تحقیق کے لئے صرف کرتا ہے کہ یہ دوا کسی خاص مرض کے لئے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ بیماری خود بہ خود بغیر کسی علت اورسبب کے نہیں آئی ہے؛ اس بیماری کے آنے کا کچھ نہ کچھ سبب ضرور ہے اسی طرح وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ ممکن ہے ایسا دوسرا سبب بھی ہوجو اس کے لئے موثر ہو اس سے وہ بیماری دور ہو جائے اور اس مرض کا علاج بن جائے لہذٰا اسی وجہ سے کوئی بھی محقق بغیر اصل علیت (سبب) کو قبول کئے ہوئے تحقیق کے لئے نہیں آگے بڑھتا ہے، لیکن اس گفتگو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شروع میں اس نے فلسفہ پڑھا ہو اور اصل علیت کو اس نے قطعی اور یقینی دلیلوں سے ثابت کیا ہو پھر اس کے بعد وہ جانچ گھر میں تحقیق کے لئے آیا ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل علیت کا اعتقاد اس کے دل و دماغ میں دانستہ یا نادانستہ طورپر پہلے سے پایا جاتا ہے ۔
دینی پلورالزم(۴)
اس سے قبل کے جلسے میں جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ اس جلسہ میں اس بات کی وضاحت پیش کروں گا کہ پلورالزم اور لیبرالزم میں کیا ربط ہے اور اس کے بعد جو چند سوال پیش ہوئے ہیں ان کا جواب دوں گا۔
پلورالزم اور لیبرالزم کا رابطہ
''لیبرالزم'' اور'' پلورالزم'' میں رابطہ کی وضاحت کے لئے سب سے پہلے ان دونوں لفظوں کے معنی کو واضح اور معین کیا جائے، پلورالزم کے معانی سے متعلق پچھلے جلسوں میں وضاحت بہت ہی تفصیل سے کی گئی ہے یہاں پر لیبرالزم سے متعلق وضاحت پیش کی جاتی ہے ۔
لغت کے اعتبار سےلیبرالزم'' آزادی چاہنے کے معنی میں ہے اصطلاح میں اس کے معنی سے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ'' لیبرالزم'' ایک طرح کی آئیڈیو لوجی ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنی مرضی کے متعلق جس طرح چاہے عمل کرے اور جیسے چاہے زندگی بسر کرے ،کوئی بیرونی سبب یا شرط اس کے عمل کو محدود نہ کرے ؛مگر یہ کہ اس کا یہ عمل اور اس کی یہ رفتار دوسروں کی آزادی میں مخل ہو اور دوسروں کی آزادی میں رخنہ کا سبب بنے؛ لیبرالزم عام طور سے زندگی کے تین شعبوں اقتصاد، سیاست اور دین و ثقافت میں زیادہ بیان ہوتا ہے
''اقتصادی لیبرالزم'' اس معنی میں ہے کہ اقتصادی کام کاج اور فعالیت معاشرہ میں پوری آزادی کے ساتھ ہو اور جو شخص جو انسان جو چیز بنانا یا ایجاد کرنا چاہے اس کو وہ بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرے اور اس کی خرید و فروخت کرے ؛ خلاصہ یہ
کہ' ' اقتصادی لیبرالزم'' کی بنیاد پر چاہے وہ اشیاء کا بنانا ہو یا ان کا پیدا کرنا ؛چاہے و ہ معدنیات کی چیزیں ہوںیاکھانے پینے کی چیزیں ہوں یا تبلیغ اور پرچار کی ،حتیّٰ کہ سرمایہ گزاری سے متعلق ہر وہ چیز کہ جو اقتصاد کے زمرے میں آتی ہو ان میں کسی بھی طرح کی کوئی پابندی کوئی محدودیت نہ ہو ؛مگر یہ کہ دوسرے کی آزادی میں رخنہ ہو ۔
سیاست کے میدان میں لیبرالزم کے معنی یہ ہیں کہ لوگ انتحاب اور چنائو کے طریقے اور حکومت کی تشکیل نیز حاکم کی تعیین اور قوانین کے بنانے اور اس کے نفاذنیز تمام سیاسی امورمیں پوری طرح سے بالکل آزاد ہیں اور وہ لوگ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ جس طرح چاہیں عمل کریں مگر صرف اس بات کا خیال رہے کہ دوسروں کی آزادی میں خلل اور رخنہ نہ پڑنے پائے ۔
لیبرالزم کی اصطلاح کبھی ثقافت اور دین و مذہب سے متعلق استعمال ہوتی ہے، سب سے پہلے جس شخص نے دین و مذہب میں لیبرالزم کے لفظ کو استعمال کیاشلایرماخر''ہے اس نے عرف عام میں پروٹسٹانزم لیبرالکے لفظ کو استعمال کیا ؛اس کے بعد یہ لفظ'' لیبرالزم'' کم وبیش دین کے بارے میں استعمال ہونے لگا ؛ بہر حا ل لیبرالزم دینی سے مراد یہ ہے کہ لوگ جس دین کو چاہیں پسند کریں؛اصل دین اور اس کے احکام کے قبول کرنے یا قبول نہ کرنے میں بالکل آزاد ہیں اور اس کے لئے ان پر کوئی بھی حد بندی اور پابندی نہیں ہونی چاہئے ۔اگر لیبرالزم کو فقط سیاست اور اقتصاد کے میدان میں پیش کریں تو اس صورت میں یہ دینی پلورالزم سے براہ راست کوئی ربط نہیں رکھتا ہے؛ لیکن اگر سیاسی اور اقتصادی لیبرالزم کے علاوہ دینی لیبرالزم کو بھی قبول کر لیں تو اس وقت لیبرالزم اور پلورالزم کے درمیان ربط پیدا ہو جائیگا ؛اور وہ اس طرح کہ انسان ایک دین کو چننے یا اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہے(یہ دینی لیبرالزم )یہ ہے کہ چند دین کو ان کے حق اور سچ ہونے کے اعتبار سے قبول کر لیا جائے (یہ دینی پلورالزم ہے) اس صورت میں ان دونوں کے درمیان منطقی لحاظ سے جو ربط پایا جاتا ہے وہ عام خاص مطلق ہے ]یاد رہے نسبتیں چار طرح کی ہوتی ہیں ]تساوی ، تباین ،عام خاص مطلق ، عام خاص من وجہ''ان میں سے ان دونوں کے درمیان عام خاص مطلق کا رابطہ ہے [دینی پلورالزم ہمیشہ لیبرالزم کا مصداق ہے؛ لیکن ہرلیبرالزم'' دینی پلورالزم کا مصداق نہیں ہے مثال کے طور پر لیبرالزم سیاسی لیبرالزم کا مصداق ہے لیکن دینی پلورالزم کا مصداق نہیں ہے البتہ پلورالزم اگر دوسرے میدانوں میں ] جیسا کہ پچھلے جلسات میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے [بھی ہو جیسے پلورالزم سیاسی ، اقتصادی اور معرفت شناسی پلورالزم بھی ہو تو اس وقت لیبرالزم اور پلورالزم کے درمیان رابطہ میں فرق ہو جائے گا ۔
بہر حال اگر تاریخی سیر سے ہٹ کر ہم دیکھیں گے تو ان دونوںمفہوموں کے درمیان وہی رابطہ ہے جیسا کہ وضاحت کی گئی ہے لیکن تاریخی اعتبار سے اگردیکھیںتو پتہ چلتا ہے کہ ظاہراً''لیبرالزمکی فکرپلورالزمیہاں تک کہسیکولرزمپر بھی مقدم ہے ۔
دینی پلورالزم کی پیدائش کے اسباب پر دوبارہ ایک سرسری نظر
پچھلے جلسات میں پلورالزم کے نظریہ کے پیدا ہونے میں جو اسباب و علل ذکر ہوئے ہیں ان کی طرف اشارہ کیا گیا؛ ان وجوہات میں جن کو ذکر کیا گیا تھا سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ اختلافات دینی کے سبب جو فساد اور خون ریزیاں ہوتی ہیں اس کودینی پلورالزم کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے؛ اور یہ فکر سب سے پہلے مسیحی مذہب میں پیدا ہوئی ۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں جب ایک جرمن کشیشمارٹن لوتھر''نے مسیحی مذہب میں پروٹسٹان فرقے کو ایجاد کیا اور بہت سے عیسائیوں نے اس میں اس کی اتباع اور پیروی کی تو اس کے بعد کاتھولیک اور پروٹسٹان میں بہت ہی شدید لڑائی چھڑگئی اور یہ سلسلہ جاری رہا اور آج بھی بہت سے ممالک جیسے ایرلینڈ وغیرہ میں یہ فساد ہوتا رہتا ہے؛ اس سے قبل بھی عیسائی مذہب کے دو فرقوں ارٹڈوکس اور کاتھولیک میں جھگڑا پایا جاتا تھا بہت سے مسیحی علماء اور متکلمیں نے ان فرقوں کے درمیان جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے مسیحیت میں پلورالزم نظریہ کو پیش کیا ؛اور ان لوگوں نے کہا کہ بس صرف مسیحی ہونانجات کے لئے کافی ہے اور ارٹڈوکس،کاتھولیک،پروٹسٹان وغیرہ میں کوئی بھی فرق نہیں ہے۔
اس کے بعد مسیحیوں اور یہودیوں کے درمیان جودیرینہ جنگ اور دشمنی پائی جاتی تھی اس کو ختم کرنے کے لئے دینی پلورالزم کا نظریہ پیش ہوا ؛اور اس بات کی کوشش کی گئی کہ یہ دشمنیاں ختم کی جائیں مثلاً مسیحی مناسک و اعمال خاص کر کاتھولیک مذہب میں ایک رسم پائی جاتی ہے جس کوعشائے ربانیکہتے ہیں ؛اس کو گویا مسیحیوں کی نماز کہاجائے تو زیادہ بہتر ہوگااس میں خاص دعا اور ذکر ، پڑھا جاتا ہے وہ چیز جو اس پروگرام یعنیعشائے ربانی'' میں پڑھی جاتی تھی یہ تھی کہ یہودیوں پر اس اعتبار سے کہ وہ حضرت مسیح کے قاتل ہیں لعنت کی جاتی تھی ۔جس وقت یہودی خاص طور سے صہیونی لوگ بعض سیاست کے سبب اس بات میں کامیاب ہوئے کہ ان لوگوں نے یورپ میں طاقت حاصل کی تو واٹیکان اس بات پر مجبور ہوا کہ کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ رسمی اور قانونی طور پر اس بات (بعنوا ن قاتل مسیح یہودیوں پر لعنت ) مسیحیوں کی نماز،عشائے ربانی سے حذف کردیا جائے اور مسیحی علماء نے فتویٰ دیا ؛کہ اب اس کے بعد'' عشائے ربانیکے مراسم میں یہودیوں پر لعنت نہیں کی جائے گی ؛اگر چہ کچھ مدت تک عشائے ربانی میں یہودیوں پر لعنت بندرہی لیکن پھر بھی مسیحی ،یہودی قوم کو حضرت مسیح کا قاتل سمجھتے رہے یہاں تک کہ شاید آپ نے ان آخری دنوں میں اس بات کو سنا ہوگا کہ پاپ نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ مسیحی اس اعتقاد کو اپنے ذہن اور دل سے بھی نکال دیں؛ اور اس کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم یہودیوں سے صلح و دوستی کرنا چاہتے ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں رہ گیاہے کہ جناب پاپ سرکاری طور پر مقبوضہ فلسطین( اسرائیل) میں جاکروہاں یہودیوں کے سربراہوںسے ملاقات کرنے والے ہیں ۔
بہر حال آگے چل کر مسیحیوں نے اس سیاست کو دنیا کے تمام مذاہب میں جاری کرنا چاہا؛ اور کہا کہ ہم کسی بھی ملک میں کسی بھی مذہب سے دینی اعتقادات کے مسئلہ میں جنگ و خونریزی نہیں کریں گے اور ہم سبھی مذہب کو قبول کرتے ہیں ؛ یہاںتک کہ بہت سے عیسائیوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ اسلام مسیحیت سے اچھا دین ہے اور کھلے عام اس کا اعلان بھی کیا ؛لیکن کہا کہ بہر حال مسیحیت بھی ایک اچھا دین ہے ۔
یہاں تک زیادہ تاکید آپس میں مل جل کر رہنے اور دینی اعتقادات اور مذہبی اختلاف کے سبب جنگ و خونریزی سے پرہیز کرنے پر تھی ؛ہم نے اس بات کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا کہ اسلام نے اس طرح کے عملی پلورالزم کو تمام آسمانی مذاہب اور اہل کتاب حتیٰ بعض غیر اہل کتاب کے درمیان قبول کیا ہے اور اس کو رسماًپہچانا ہے اور ان تمام لوگوں کے جان و مال عزت و آبرو کو مسلمانوں کی طرح قابل احترام جانا ہے لیکن جیسا کہ ہم نے اس کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا تھاکہ'' پلورالزمفقط عملی پلو رالزم میں منحصر نہیں ہے بلکہ ا س نظریہ کی معتقدین نے اس کو نظری اور فکری پلورالزم تک وسعت دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم کو نہ فقط عمل میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے بلکہ نظری اور فکری اعتبار سے بھی اس بات کو قبول کریں کہ تمام دین صحیح اور حق ہیں اور جو کوئی بھی ان میں سے کسی دین کا معتقد ہو اور اس کے دستورات اور احکام پر عمل کرے وہ کامیابی حاصل کرے گا اور اس کا اعتقاد و عمل قابل قبول ہوگا؛ البتہ اس بات کو ہم کس طرح قبول کر سکتے ہیں ؟جب کہ ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ سارے ادیان میں تناقض اور تضاد پایا جاتا ہے ہم کس طرح ان سبھی کو حق اور صحیح جانیں؟ اس کی مختلف تفسیر پچھلے جلسوں میں میں نے پیش کی اور ان کے بارے میں مفصّل بحث و گفتگو کی یہیں سے میں چاہتا ہوں کہاس جلسہ کی بحث کے دوسرے حصہ کوشروع کروںیہ اسسوال کا جواب ہوگا جو کہ چند جلسہ پہلے پیش کیاگیا تھا ۔
ایک عالمی دین کی بنیاد
سوال یہ ہے کہ کون چیزاس بات سے مانع ہے کہ ہم کہیں تمام دینوں میں کچھ چیزیں مشترک پائی جاتی ہیں ہم پہلے ان مشترکات کو پہچانیں پھر ان کو منظّم کر کے ایک عالمی دین کی صورت میں پیش کریں اور کہیں کہ دین کی حقیقت یہی مشترک مجموعہ ہے جو تمام ادیان میں مشترکہ طورسے پایا جاتا ہے اور جو اختلافات ان کے درمیان ہیں وہ فرعی اور ذوق و سلیقہ کاپہلو رکھتے ہیں اور ان کاہونا اور نہ ہونا اصل دین میں کوئی نقصان نہیں پہونچاتا ہے دین کی اصل یہی مشترکات ہیں اور اختلافات تو شاخ اور پتے کے مثل ہیں جن کو انسان اپنے ذوق اور سلیقے اور پسند کے مطابق اختیار کرتا ہے گویا یہ دینی پلورالزم کی چوتھی تفسیر ہے نظری اور فکری اعتبارسے یہ ان تینوں تفسیر کے علاوہ ہے جس کوہم نے پہلے جلسے میں پیش کیا تھا یہاں پر اس کی تھوڑی تفصیل اور وضاحت پیش کی جاتی ہے اور اس کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے ۔
ایک واحدعالمی دین کی تاسیس کی تحقیق
ہماری نظر میں یہ فرضیہ و خیال بھی متن اور مطلب کے لحاظ سے متناقض ہے اور صحیح نہیں ہے علاوہ اسکے یہ نظریہ اپنے ثبوت پر دلیل نہیں رکھتا۔علمی اور فنی اصطلاح میں یہ خیال ونظریہ ثبوتی اور اثباتی دونوں لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔
خود نظریہ کے مطلب اور ثبوتی اعتبار سے اعتراض یہ ہے کہ ایسے مشترکات یا تو دینوں کے درمیان پائے نہیں جاتے یا اگر ان مشترکات کو تلاش کر بھی لیا جائے تو اس قدر پیچیدہ وکلی اور اتنے مختصر ہیں کہ ان کو دین کا نام نہیں دیا جاسکتا، اسکی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ موجودہ جو ادیان یا مذاہب پائے جاتے ہیں ؛ان میں چار مذہب اسلام، مسیحیت، یہودیت ،اورزرتشتی کو ہم آسمانی دین جانتے ہیں اورہم اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ مسیحیت ،یہودیت اورزرتشتی مذہب میں بہت سی تحریفات (کمی وزیادتی)ہوئی ہیں ا وریہ موجودہ دین خداکے نازل کئے ہوئے دین کے علاوہ ہیں اور ان میں فرق پایاجاتا ہے؛ بہر حال شروع میں یہ تصورپیداہوتا ہے کہ ان چاروں ادیان کے درمیان مشترکات پائے جاتے ہیں کہ جن کو اخذ کیا جا سکتا ہے جیسے ایسا لگتا ہے کہ خداوندعالم کا اعتقاد تمام ادیان میں مشترک ہے لیکن تھوڑا سا غور و فکرکرنے کے بعدپتہ چلتا ہے کہ ایسا نہیں ہے اور یہاں تک کہ وہ موارد جن میں ایسا لگتاہے کہ وہ سارے ادیان کااتفاقی مسئلہ ہیں ان میں بھی بنیادی اختلاف پائے جاتے ہیں ؛مثلاً وجود خدا وند عالم کے اصل اعتقادکے متعلق شروع میں یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ تمام ادیان کا مسلم اور مشترک اصول ہے لیکن اگر تھوڑا سا بھی غور و فکر کریں توہمارے لئے اس کے خلاف ہی بات ثابت ہوتی ہے۔
وہ خدا جو کہ مسیحی دین میں پیش کیا جاتا ہے ؛اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ انسان کی صورت میں آئے اور سولی پر چڑھے اور دوسرے انسانوں کا فدیہ اور اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے اور ان کی نجات اور چھٹکارے کا سبب بن جائے؛ مسیحیت میں خدا کی اس طرح تعریف کرتے ہیں کہ خدائے پدر، خدا ئے پسرکی صورت میں حضرت مریم کے بطن میں آیا اور ان سے پیدا ہوا اور کئی سال تک انسانوں اور مخلوقات کے درمیان اس نے زندگی بسر کی ، یہاں تک کہ اس کو سولی دے دی گئی اور پھر وہ دوبارہ آسمان پر چلا گیا ،یہودیوں کا خدا شاید اس سے بھی عجیب ہو، ان کا خدا ایسا ہے جس کے رہنے کی جگہ آسمان ہے اور کبھی کبھی وہ زمین پر آتا ہے او رتفریح کرتا ہے اور کبھی کبھی اس کو کشتی لڑنے کا شوق ہوتا ہے اور وہ یعقوب پیغمبر سے کشتی لڑتا ہے یعقوب اس کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں ؛ اور اس کے سینے پر بیٹھتے ہیں مختصر یہ کہ یعقوب اس کے سینے پر سوا ررہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے ؛خدا کہتا ہے کہ پیارے یعقوب مجھکو چھوڑ دو صبح ہونے والی ہے، لوگ دیکھ لیں گے کہ تم نے مجھے زمین پر پٹخ دیا ہے (اور میری آبرو چلی جائے گی )یعقوب کہتے ہیں :جب تک مجھ کو برکت نہیں دو گے نہیں چھوڑوں گا ،خدا بھی یعقوب کے ہاتھوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ان کو برکت دیتا ہے تب جاکر یعقوب اس کو چھوڑتے ہیں ؛ اور خدا دوبارہ آسمان کی طرف چلا جاتا ہے!!! العیاذ بااللہ
در آنحالیکہ اسلام کے مطابق خدا جسم وجسمانیات نہیں رکھتا ہے نہ زمین پر آتا ہے اور نہ آسمان پر جاتا ہے؛ زمین اور آسمان، آج اور کل اس کے لئے برابر ہے اور اس کے لئے کوئی بھی فرق نہیں رکھتاہے ؛وہ زمین اور آسماناور زمان ومکان کا پیدا کرنے والا ہے وہ زمانے اور جگہ میں قید ہونے والا نہیں ہے ،وہ دیکھنے کے قابل نہیں ہے، تمام مخلوقات اس کے قبضئہ قدرت اور اختیار میں اور اس کی محکوم ہیں ،نہ اس کو کسی نے پیدا کیا ہے، اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے ،اور جو نا مناسب و بیہودہ باتوں کی نسبت یہود و نصاریٰ اس کی طرف دیتے ہیں ؛ خدا وند عالم ان تمام باتوں سے پاک و پاکیزہ ہے ۔
یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ ان تینوں خدا میں فقط لفظ اور نام کا اشتراک پایا جاتا ہے؛ ورنہ وجود کے لحاظ سے ان کے درمیان کوئی بھی اشتراک نہیں پایا جاتا ہے اس کی مثال شیر اور شیر کی طرح ہے، پہلا دودھ کے معنی میں ہے اور دوسرادرندے (جانور)کے معنی میں ہے : آن یکی شیر است کہ اندر بادیہ وآن دگر شیر است اندر بادیہ
آن یکی شعر است آدم می خورد
وآن دگر شیر است کہ آدم می خورد
وہ بھی شیر ہے بادیہ(جنگل ) کے اندر اور وہ دوسرا بھی شیر ہے بادیہ (پیالے ) کے اندر وہ بھی شیر ہے جو آدمی کو کھاتا ہے اور وہ بھی شیر ہے جس کو آدمی کھاتا ہے۔
اگرجنگل کا شیر اور ناشتہ کا شیر(دودھ) ایک ہی ہے تواسلام اور یہودیت و مسیحیت کا خدا بھی ایک ہی ہے ؛حقیقت میں اسلام کے خدا اور یہودیت و مسیحیت کے خدا میں کون سی مشترک چیز پائی جاتی ہے ؟ ایک کہتا ہے کہ خدا جسم رکھتا ہے اور آسمان سے نیچے آتا جاتا ہے جب کہ اسلام کہتا ہے خدا جسم و جسمانیات سے مبراّہے؛آخر جسم ہےاورجسم نہیں ہےکے درمیان کیسے اشتراک ہو سکتا ہے ؟
یہ تو ان محدود ادیان کی بات تھی جن کو ہم نے آسمانی دین میں محصور کیا ہے، لیکن اگر اس سے آگے بڑھ کر دیکھیں جس کو آج کی اصطلاح میں دنیا والے دین کا نام دیتے ہیں ؛ تو حالت اس سے نھی زیادہ خراب نظر آئے گی ۔دنیا کا ایک بہت پرانا دین بدھشٹ ہے جسکے ماننے والے بہت زیادہ ہیں بودھ ازم اصلاً خدا کا اعتقاد نہیں رکھتے جو کچھ یہ دین کہتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو اس دنیاوی و مادی قید وبند اور لگائو سے دور رہنا چاہئے تاکہ وہ بلند وبالا مقام حاصل کر کے کمال پر پہنچ جائے، صرف اسی صورت میں وہ سارے رنج وغم سے چھٹکارا پا سکتا ہے اور مطلق طور پرخوشی اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
اس اعتقاد (خدا نہیں ہے)اور آسمانی ادیان کے نظریہ میں (خدا موجود ہے)کون سی اشتراک کی وجہ ہے ؟جس کو ہم اختیار کریں اور اسکو ایک عالمی دین کے عنوان سے انسانوں کے سامنے پیش کریں؟
اگر اس سے بھی آگے بڑھیں اوراگوسٹ کانٹ''کی طرح انسان کیخدا ہونے کے قائل ہوں؛ تو حالت اس سے بھی بدتر نظرآئے گی ،اگوسٹ کانٹ کہتا ہے''ہاں انسان دین چاہتا ہے لیکن وہ دین نہیں جو خدا،پیغمبر،وحی اورماوراء الطبیعت کی چیزیں رکھتا ہو؛ بلکہ وہ دین جسکا خدا خود انسان ہو، اور پیامبرعقل ہو، تمام موجودات کا محور انسان ہے اور تمام چیزوں کا قبلہ و معبودومسجود یہی انسان ہے اور تمام ہستی اور عالم وجود کو انسان کی چاہت اور خواہش کے مطابق ہونا چاہئے۔
اب ہم دوبارہ سوال کریں گے کہ وہ دین جس کا معبود خود انسان ہویا وہ دین جس کا معبود جسمانی اعتبار سے محدود ہو او ر یعقوب کے ہاتھوں گرفتار ہو یا وہ دین جس میں گائے کو پوجا جاتاہویا وہ دین جو کہ اصلاً خدا کا اعتقاد نہیں رکھتا اور اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا دین جس کا معبود اللہ ہو ،جو لامحدود ہے اس کا کوئی ثانی نہیں اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے، اب ان میں کس عالمی اور دنیاوی دین کو اختیار کیا جائے؟ اور اس حالت میں مشترک عالمی دین کی بات کرنا اور اس سلسلہ میں گفتگو کرنا خود ساختہ افسانے جیسا ہے ہے جو کہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا ہے ؛اور اس کا کہنے والا مستی کے عالم میں ہے اور بے عقلی سے نزدیک ہے اور عالم عقل و ہو شیاری سے بہت دور ہے ] افلا یتدبرون [ کیا وہ لوگ غور و فکر نہیں کرتے؟سب سے پہلا اعتقاد جو کہ اصل دین ہے وہ خدا وند عالم کا اعتقاد ہے جب ہم اس پہلے ہی قدم پر اتنے واضح تناقضات اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں اس وقت کیسے ہم ادیان کے درمیانذاتی مشترکات کے وجود کو قبول کریں(اور اختلافات کو عرضی سمجھیں )اور ایک عالمی دین کے عنوان سے اس کا اعلان کریں؟ یقینی طور پر ایسے ہی لاجواب اعتراضات کے موجود ہونے کی وجہ سے بعض ایرانی اہل قلم جو کہ اس نظریہ (عالمی دین کی طرف )رجحان رکھتے ہیں انھوں نے اپنے مضمون میں ' 'ذاتی وعرضی دین''عنوان کے تحت دعویٰ کیاہے کہ خدا کا بھی اعتقاد دین کے لئے جوہری اور ذاتی نہیں ہے؛ بلکہ دین کے عرضیات سے ہے، ممکن ہے کوئی دیندار ہو، لیکن خدا کے وجود کا معتقد نہ ہو ! میں عرض کروں گا کہ اگر خدا نہ ہو تو فطری طور سے کوئی پیغمبر بھی نہ ہوگا ،جس کو وہ لوگوں کے لئے بھیجے گا ؛لہذاٰ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ خدا اور پیغمبر کا اعتقاد نہ رکھے اس کے باوجود وہ دین بھی رکھتا ہو۔ اسی طرح چونکہ عبادات کے باب میں بھی واضح ہے کہ جو عبادت تمام ادیان میں مشترکہ طور سے پائی جاتی ہو اسکو ہم نہیں رکھتے ہیں ؛ اگرچہ مثلاًنماز تمام آسمانی ادیان میں پائی جاتی ہے ؛لیکن اس کی ماہیت اور طریقے میں پوری طرح سے فرق پایا جاتا ہے ؛لہذٰا نہ مشترک خدا باقی رہ جاتا ہے اور نہ مشترک پیامبر و عبادت باقی رہ جاتی ہے۔ پس وہ مشترک عناصر سارے ادیان میں کہاں ہیں جن پر ایک عالمی دین کے اعتبار سے ایمان لائیں اور ان کو اختیار کر کے ہم نجات حاصل کر لیں ؟
مشترکہ اخلاقی اصول کو ایک عالمی دین کے عنوان سے پیش کرنا
اس بات کے لئے کہ اس نظریہ کا پست اور باطل ہونا اچھی طرح واضح اور روشن ہو جائے، ہم بالفرض قبول کرتے ہیں کہ باوجودیکہ خدا ،نبوت اور امامت کے بارے میں ایک مشترک نتیجہ تک نہیں پہونچ سکے لیکن ممکن ہے کہ ایک عالمی دین کو ادیان کے اخلاقی مشترکات کی بنیادپر پیش کریں ،دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ممکن ہے کوئی کہے کہ ایک عالمی دین اور ادیان کے درمیان مشترکات سے ہماری مراد یہ ہے کہ ایک قسم کے اخلاقی اصول جیسے عدالت اچھی چیز ہے ، سچ بولنا ، امانت داری ،وغیرہ یہ سب اچھی چیز یںہے جھوٹ بولنااور ظلم کرنا قبیح اور بری چیز ہے ان باتوں پر تمام ا دیان اور ان کے ماننے والے متفق ہیں ؛ اور یہ تمام مشترکہ اخلاقی اصول ایک عالمی دین ہو سکتے ہیں کہ جس کی ہم کو تلاش ہے لہذا اس نظریہ پر کون سا اعتراض ہو سکتا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس تصّور کی بنیاد پر دین ،اخلاق کے مترادف ہو جائے گا یعنی دین و اخلاق ایک معنی میں ہو جائیں گے اورچند خالص اخلاقی اصول کے مجموعہ کو دین کا نام دینا یہ رائج اصطلاح کے خلاف ہے نیز عرف عام اور عقلاء کے نظریہ سے مختلف ہے؛ تمام لغت میں یہ وضاحت کے ساتھ تصریح کی گئی ہے کہ اخلاق، دین سے اور دین ،اخلاق سے جدا اورالگ ہے اور یہ دونوں لفظ الگ الگ معنی میں پائے جاتے ہیں ؛اور کسی بھی لغت اور زبان میں دین و اخلاق کو ایک معنی میں نہیں لیا گیا ہے؛ اس مطلب کی اور زیادہ وضاحت کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے بے دین اور لا مذہب افراد جو کہ کسی مذہب اور دین کا اعتقاد نہیں رکھتے ،ہم ان کو دیکھتے ہیں کہ بہت سے اخلاقی اصول جیسے عدالت ،سچ ،امانتداری کے اچھے ہونے اور ظلم، خیانت،جھوٹ وغیرہ کے برے ہونے پراعتقاد رکھتے ہیں اور اس کے پابند ہیں ؛ بہر حال سب سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ اخلاقی اصول کو قبول کرنے اور دین کے قبول کرنے میں کوئی ملازمہ نہیں ہے اورکسی کے لئے ممکن ہے کہ چند اصول اخلاقی کو قبول کرتا ہو ۔
دوسرے یہ کہلیکن کسی بھی دین و مذہب کا اعتقاد نہ رکھتا ہو؛ اگر ہم اس کو قبول بھی کرلیں کہ خدا ، نبوت ، قیامت کا اعتقاد اور عبادت وغیرہ کو انجام دینا یہ سب دین کی ماہیت اور شکل میں کوئی دخالت نہیں رکھتے ہیں اور دین فقط چند اخلاقی اصول کا نام ہے، تو اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین صرف چند اخلاقی اصول کے اعتقاد کا نام ہے یا اعتقاد کے علاوہ ان اصول پرعمل اور ان کی پابندی کا بھی نام ہے ؟ کیا دیندار وہی ہے جو کتاب ،مضمون اور تقاریر میں ان اخلاقی اصول کا دفاع اور ان کی حمایت کرے اگر چہ عملی طور پر اان کا پابند نہ ہو، یا اس ایک عالمی دین دینداراور متدین وہی لوگ ہیں جو کہنے کے ساتھ عمل کے میدان میں بھی ان اصول کی رعایت و پابندی کرتے ہوں ؟اگر یہ ایک عالمی دین صرف اعتقاد کا نام ہو اور اس پر عمل کرنا ضروری نہ ہو؛آیا ایسا دین انسان کی زندگی پر کچھ اثر ڈال سکتا ہے؟ ایسے دین کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ اگر صرف گفتگو اور زبان سے کہنے کا نام ہے تو ہر ظالم اور خطاکارسچاّئی، امانت داری اور عدالت کے بارے میں اچھا مضمون لکھ سکتا ہے اور بہترین تقریر کر سکتا ہے؛ کیا دینداری کی حقیقت یہی ہے ؟ یہ بات بالکل واضح ہے کہ بغیر عمل کے اعتقاد کا نام دین نہیں ہوسکتا ہے اور ضروری ہے کہ اعتقاد کے علاوہ عمل کو بھی لازم قرار دیا جائے تاکہ اس اصطلاح کے مطابق اس کو دیندار کہنا ممکن ہو سکے ۔
یہیں پرایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص خدا، پیغمبر ، وحی اور حساب و کتاب کا یقین اور اعتقاد نہیں رکھتا توکون سی وجہ ہے جو اس کو جھوٹ بولنے سے روکتی ہے ،اور کس بات کی ضمانت ہے کہ وہ خیانت نہ کرے اور عدالت کو اختیار کرے ؟
ایک بحث جو کہ آخری صدیوں میں سامنے آئی ہے اور بعض لوگوں نے اس کی حمایت کی ہے یہی اخلاق اور دین کے درمیان جدائی کا مسئلہ ہے یعنی بغیردین کے اخلاق ہونا چاہئے۔ اس نظریہ کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جو چیز انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے یہی اخلاق اور اس کے فوائد ہیں ؛ دین ہماری زندگی پر کچھ بھی اثر نہیں ڈالتا ہے ،لہذٰا ہم اخلاق اور اس کے اصول کو جو کہ مقام عمل میں اثر رکھتا ہے، قبول کرتے ہیں لیکن دین سے کوئی بھی واسطہ نہیں رکھتے ہیں ۔ یہی وہ طریقہ فکر ہے جو کہ بعض لوگوں کے ذہن میں پایا جاتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کو انسان ہونا چاہئے ا کون سے دین پر ہیں یا اصلاً دیندار ہیں بھی کہ نہیں ؟ یہ بات کچھ اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ میں خود اسی تہران میں دو آدمیوں کے درمیان بات چیت کا گواہ ہوں کہ ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ فلاں آدمی بہت اچھا ہے نماز پڑھتا ہے (یعنی نمازی ہے ) اس کے دوست نے جواب دیا کہ میرا عقیدہ اور نظریہ یہ ہے کہ آدمی کو اچھا ہونا چاہئے چاہے نمازی ہو یا بے نمازی ؛یہ نظریہ اسی فکر کا نتیجہ ہے جو اخلاق کو بغیر دین کے قبول کرتا ہے ؛اس کی بنیاد پر اچھا ہونا یعنی اخلاقی اقدار کی رعایت کرنا ،اچھا ہونا یعنی باادب، باوقار اور سنجیدہ ہوناہے، دیندار ہونا یا بے دین ہونا یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ صحیح نہیں ہے اور اس نظریہ پر بہت سے اعتراض پیش آتے ہیں ؛جس کی طرف فلسفہ اخلاق کے مباحث میں تفصیل کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے ۔
مثلاً ایک اعتراض یہ ہے کہ فلسفہ اخلاق کے ایک مکتب فکر اورنظریہ کے مطابق اچھا ہونا لذت آفرینی کے مترادف ہے یعنی ہر وہ چیز جس سے انسان لذّت حاصل کرے وہ اچھی اور پسندیدہ چیزہے۔ اب اس نکتہ کی جانب توجہ کرتے ہوئے فرض کیجئے کہ بندہ (صاحب کتاب فلسفہ اخلاق) میں اسی نظریہ کا قائل ہوں اور اس بات کا اور معتقد ہوں کہ اچھا ہونا لذت پہونچانے کے مترادف ہے ؛جس چیز میں لذت زیادہ ہو وہی چیز زیادہ اچھی ہے اوراب اگر جھوٹ بولنے کی وجہ سے مجھ کو لذت حاصل ہورہی ہو تو کون سی دلیل کہتی ہے کہ میں جھوٹ نہ بولوں؟ظاہر ہے اس فکری قاعدہ کی بنیاد پر ایسی حالت میں میں جھوٹ ضرور بولوں گا کیونکہ جھوٹ بولنے میں لذت ہے؛ اگر کہیں پر سچ بولنا میرے لئے مصیبت اور رنج و غم کا سبب ہو تو وہاں پر مناسب نہیں ہے کہ میں سچ بولوں اور سچ بولنے کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے ؛اسی طرح ان تمام چیزوں میں جن کو اخلاقی قدرو قیمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں اس مبنیٰ اور قاعدہ کی بنیاد پر اس کی رعایت کرنا لازم نہیں ہوگا ؛بلکہ بہت سی جگہوں پر اس اصول اور نظریہ کو پیروں سے روندنا بہتر سمجھا جائے گاکیونکہ اس سے لذت حاصل ہوتی ہے ؛اگر ہم کو چوری، خیانت ،رشوت اور ظلم کرنے میں لذت حاصل ہوتی ہو تو یہ ساری چیزیں اچھی ہیں یہ لذت طلبی کے مبنیٰ کا فطری نتیجہ ہے ۔
لہذٰا یہ کہ اصول اخلاقی کے اس مجموعہ کو جو سبھی کو قابل قبول ہو واحد عالمی دین کے عنوان سے پیش کرنے میں ایک اعتراض ہے کہ کیا واقعاًایسا مجموعی اصول پایا بھی جاتا ہے یا نہیں ؟ اور اس کے علاوہ دوسرابنیادی اعتراض یہ ہے کہ لوگوں کو کس طرح ان اصول کا پابندکیا جا سکتا ہے؛ اگر خدا،قیامت ، اور حساب وکتاب کی بحث نہ ہو تو پھر اپنے کو کیوں ان اخلاقی اصول کے قید و بند میں جکڑا جائے اور انھیں کا پابند رہا جائے ؟ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور قیامت سے چشم پوشی کی صورت میں کوئی بھی وجہ ان اصول کی رعایت اور ان پر عمل کرنے کے لئے نہیں پائی جاتی ہے :ہاں: یہ ممکن ہے کہ شوق و تنبیہ اور بار بار یاددلانے اور لازم قرار دینے نیز اجتماعی آداب و رسوم کے ذریعہ بچوں پر اتنا کام کیا جائے کہ ان اصول کی رعایت اور پابندی کرنا ان کے لئے ایک عادت کی شکل اختیار کر لے ،لیکن پھر بھی ممکن نہیں ہے کہ ایک قابل استدلال اورمنطقی نظریہ کے عنوان سے ان باتوں کا دفاع کیا جائے، یعنی آپ کے لئے ممکن ہے کہ کسی کو ان اخلاق کا پابند کر دیں ؛لیکن آپ کا کام منطقی ہے اس کو کیسے ثابت کیجئے گا ؟جس طرح سے یہ ممکن ہے کہ شوق، تنبیہ اور مشق و یاد دہانی کے ذریعہ بچوں میں سچ بولنے کا ملکہ پیدا کردیں؛اور ان کواس کاعادی بنا دیں اسی طرح انھیں وسائل و ذرائع سے آپ بچے کو جھوٹ بولنا بھی سکھا سکتے ہیں ،اب جب ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہم بچوں کے جھوٹ بولنے کو عادت میں تبدیل کر سکتے ہیں تو کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جھوٹ بولنا اچھا ہے ؟
''کانٹ' 'اس اعتراض سے اچھی طرح واقف تھا اور اس بات کو سمجھ گیا تھاکہ اگر انسان اپنے اعمال کے بدلے ثواب و عذاب کا معتقد نہ ہو توان اعمال کو انجام دینے کے لئے اس کے پاس کوئی بھی ضمانت نہیں ہے؛ لہذٰا اگرچہ وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا تھا کہ اخلاقی اقداراور اخلاقی اچھائیاں وہ ہیں کہ ہم کاموں کو صرف ضمیر اور عقل کے حکم کی وجہ سے انجام دیں ؛لیکن اگر ثواب و عذاب کی امید سے ان کو انجام دیں تو ان میں اخلاقی قدرو قیمت نہیں پائی جائے گی؛ پھر بھی وہ کہتا ہے کہ اگر اخلاق چاہتا ہے کہ اس عمل کو انجام دینے کے لئے الگ سے کوئی ضامن ہو تو ہم کو کچھ اصول کو قبول کرنا ہوگا ؛اوروہ تقریباً وہی اصول ہیں جن کو ہم مسلمان قبول کرتے ہیں ۔ کانٹ کہتا تھا کہ میں خدا کے وجود اور اسی طرح روح اور انسانی نفس کے ہمیشہ قائم و دائم رہنے کواسی بات سے ثابت کرتا ہوں ۔
چونکہ اگر وہ خدا جو حساب و کتاب رکھتا ہے اور ثواب و عذاب دیتا ہے اس کا اعتقاد نہ رکھیں تو اچھے کام کو انجام دینے کا کوئی سبب نہیں پایا جائے گا؛ اسی طرح اگر انسان کی روح و نفس کے ہمیشہ رہنے کے معتقد نہ ہوں اور کہیں کہ انسان مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں رہتا اور جزا و سزا بھی اگر ہے توصرف اسی دنیا تک ہے پھر بھی ان اصول وقواعد کی رعایت کا کوئی باعث اور سبب نہیں ہوگااس بنیاد پر اگرچہ کانت معتقد تھا کہ خدا کو برہان نظری سے ثابت نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ کہتا تھا کہ میں عقل عملی کے ذریعہ اس بات کا معتقد ہوں کہ خدا کا وجود ہونا چاہئے تا کہ اخلاق کسی سہارے اور ضمانت کے بغیرنہ رہ جائے ۔
گذشتہ بحث کا خلاصہ
اس جلسے کی بحث کاخلاصہ یہ ہوا کہ جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ادیان میں اختلافات فرعی اور ذوق و سلیقے کے مطابق ہیں لہذٰا ہم ان کے مشترکات کو لیکر ایک عالمی دین کی شکل میں پیش کریں، ان کے جواب میں ہم کہیں گے کہ سب سے پہلے بنیادی طور پر تمام دین کے اصول خدا، نبوت اور عبادت کے اعمال ہیں اور تحقیق سے یہ معلوم ہے کہ یہ اصول کسی بھی صورت سے تمام ادیان میں مشترک نہیں ہیں ۔
دوسرے یہ کہ اگر خدا، نبو ت پر اعتقاد اور عبادات کی بات کو چھوڑ دیں اور اس بات کو قبول کریں کہ وہ واحد عالمی دین ان چند اخلاقی اصول کے مجموعہ کا نام ہے جو کہ تمام ادیا ن میں مشترکہ طور سے پائے جاتے ہیں ؛سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیافقط ان اصول کے اعتقاد کا نام دین ہے یا اس کے ساتھ ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے ؟ اگر صرف اعتقاد اور لفظ کا نام دین ہے تو واضح سی بات ہے صرف کہنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے اور اس پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا ہے بلکہ قول کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، اگر ہم عمل کے بھی قائل ہوں تو سوال یہ ہے کہ خدا، نبوت اور قیامت کا انکار کر کے ان اعمال کو انجام دینے کے لئے کون سی ضمانت پائی جاتی ہے ؟ خاص طور پر اس جانب توجہ کرتے ہوئے کہ فلسفہ اخلاق میں دوسرے مکاتب فکر جیسے لذت طلبی وغیرہ والے بھی پائے جاتے ہیں ؛ جو کہ اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ اچھے اخلاق وہ چیزیں ہیں جو کہ انسان کے لئے لذت بخش ہوںجو شخص ایسا اعتقاد رکھتا ہو اس کے لئے 'سچ بولنا اورسچ بولنے پر اسے مجبور کرنا جب کہ یہ کام اس کے لئے مصیبت اور نارا حتی کا سبب ہو اور جھوٹ ، خیانت سے اس کو باز رکھنا جب کہ یہ اس کے لئے لذت بخش ہو، کس طرح ممکن ہے؟ یہ نکتہ بھی پوشیدہ نہ رہے کہ ادیان میں مشترکات نہیں پائے جاتے ہیں ،اس بات کے علاوہ اگر تمام ادیان کو نہ بھی کہیں تو کم سے کم بہت سے ادیان ایسے ہیں جو کہ بہت ہی سختی کے ساتھ ایک دوسرے کے اعتقادات کی نفی کرتے ہیں ،اور اس کے لئے ایک دوسرے سے جنگ و جدال کرتے ہیں ؛خدا پر اعتقاد کی ہی بات کو لے لیجئے اسلام خدائے وحدہ لا شریک پر اعتقاد کو لازم قرار دیتا ہے اس کے علاوہ شرک یعنی ایک خدا کے علاوہ دوسرے خدا کے انکار کو لازم قرار دیتا ہے ؛بلکہ اسلام کی ابتدا ء ہی تنہا خدا کے علاوہ دوسرے خدائوں کے انکار سے ہوتی ہے پھر توحید تک بات پہونچتی ہے، سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے لا الہٰ(کوئی خدا نہیں ) پھر اس کے بعد ہے الاّاللہ (سوائے اللہ کے ) اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان سب سے پہلے مسیحیت کے تین خدا کا انکار کرے پھر وہ اسلام کی وحدانیت تک پہونچ سکتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ادیان کے مشترکات تک پہونچنا انسانکے لئے ممکن نہیں ہے۔
بہر حال آخری نتیجہ یہ ہے کہ یہ فرضیہ (واحدعالمی دین ) ثبوتی اعتبار سے اور اپنے معنی ومطلب کے اعتبار سے ناممکن ہے۔اور اثباتی اعتبار سے بھی کوئی دلیل اس کے ثابت ہونے پر نہیں پائی جاتی ہے اور ہمارے نظریہ کے اعتبار سے یہ بات پوری طرح سے مردود اور قابل رد ہے اورہم اس کو قبول نہیں کرتے۔
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۱
جس موضوع کے بارے میں گفتگو کی فرمائش کی گئی ہے وہ ہے'' اسلام کی نظر میں جاذبہ اور دافعہ کے حدودہر موضوع پر گفتگو کرنے یا اس بحث میں داخل ہونے سے قبل ضروری ہے کہ پہلے اس کا موضوع اور عنوان واضح ہوجائے پھر اس کے بعد اس کیمتعلق باتوں کی وضاحت کی جائے۔ یہاں پر سب سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے کیا مراد ہے ؟پھر اس کے بعد اس کی حدوں کو معین کریں گے۔
جاذبہ ،دافعہ اوراسلام کے مفاہیم کی وضاحت
ہم سبھی لوگ جاذبہ اور دافعہ کے مفہوم سے واقف ہیں ؛ہم جس وقت اس اصطلاح کو سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں عام طور سے وہ جذب اور دفع آتا ہے جو کہ مادی اور طبعیی چیزوں میں بیان ہوتا ہے ؛خاص طور سے آپ اساتیدکے لئے جو کہ انجینئرنگ شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں معمولاًنیوٹنکا عام قانون جاذبہ ذہن میں آتا ہے؛ دافعہ کا مصداق بھی طبیعی علوم میں وہ طاقت ہے جو مرکز سے علیحدہ اور جدا کرنے والی یا وہ دافعہ جو دو ہمنام مقناطیسی قطب کے درمیان پایا جاتا ہے؛ لیکن جب یہ مفہوم انسانی اور اجتماعی علوم میں آتا ہے تو فطری طور سے وہ بدل جاتا ہے اس وقت اس سے مرادیہ طبیعی اور مادی جذب و دفع نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی اور معنوی جذب و دفع مراد ہوتا ہے، یعنی جیسے انسا ن احساس کرتا ہے کہ کوئی چیز اس کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور وہ چاہتا ہے اس کے نزدیک ہو جائے ،یہاں تک کہ اگر ممکن ہو تو اس سے مل کر ایک ہو جانا چاہتا ہے، یا اس کے بر خلاف بعض انسانوں کو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بعض چیزوںیا بعض لوگوں سے قریب ہونا نہیں چاہتے ہیں ،ان کا وجود اس طرح ہوتا ہے کہ وہ ان سے دور رہنا چاہتے ہیں ۔اس روحی اور نفسیاتی جذب و دفع کا سبب ممکن ہے ایک مادی چیز،ایک شخص یا ایک عقیدہ یا فکرونظر ہو ۔کبھی کوئی منظر اتنا اچھا اور دلکش ہوتا ہے کہ بے اختیار آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اگر چہ جسمانی لحاظ سے آپ اس کے نزدیک نہیں ہوتے ہیں اور اپنی جگہ پر کھڑے رہتے ہیں ؛ لیکن آپ کی پوری توجہ اور حواس کو اپنی طرف معطوف کرلیتاہے، اور آپ اس کو دیکھنے میں غرق ہو جاتے ہیں ؛ اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کانپھاڑنے والی آواز یا ناقابل برداشت منظرکو دیکھ کرچاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس سے دور ہو جائیں۔
ایک انسان کی شخصیت کا جاذب ہونابھی اس معنی میں ہے کہ ظاہری اور جسمانی خصوصیات کے علاوہ اس کے اندر اخلاقی اور روحانی صفات بھی موجو د ہوں جو کہ اس کی طرف دوسرے لوگوں کی رغبت اور کشش کا سبب بنیں ؛ جولوگ با ادب چال ڈھال رکھتے ہیں اورلوگوں سے خوش اخلاقی سے ، ہنستے ہوئے چہرے اور خلوص و محبت کے ساتھ ملتے ہیں وہ لوگوں کے دلوں میں بس جاتے ہیں اور سبھی لوگ ان کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ ملنا جلنا اور ان سے قریب رہنا چاہتے ہیں ؛ لیکن جو لوگ بے ادب ،برے اخلاق کے مالک اور خود خواہ ہوتے ہیں ایسے افراد گویا اپنے کو لوگوں سے دور رکھتے ہیں اور اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ لوگ ان سے دور رہیں ؛لیکن جس وقت جاذبہ اور دافعہ کی بات کسی انسان سے متعلق ہو تو اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ اس وقت یہ مسئلہ کلچر اورماحول کے تابع ہوتا ہے یعنی ممکن ہے کہ بعض خصوصیات کو کسی ایک سماج یا معاشرہ میں اچھی نظر سے دیکھاجاتاہولیکن وہی خصوصیات دوسرے معاشرہ میں کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں بلکہ انھیں بری نظر سے دیکھاجاتاہے اب ظاہر ہے کہ جو شخص ان خصوصیات کا مالک ہوگا وہ پہلے معاشرہ کے نزدیک ایک جاذب وپر کشش شخصیت شمار کیا جائے گا نیزلوگوں کی نظروں میں پسندیدہ ہوگا اور لوگ اس کا احترام کریں گے لیکن وہی شخص دوسرے کلچر اور سماج میں معمولی انسان بلکہ قابل نفرت ہوگا ؛بہر حال میرے عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک انسان کی شخصیت میں جو جاذبہ یا دافعہ ہوتاہے وہ سماج کے ماحول اورتہذیب و ثقافت کے اعتبار سے فرق رکھتا ہے ۔بہر حالیہ مسئلہ ایک جدا گانہ اور مستقل بحث ہے جس کو اس وقت ہم بیان نہیں کریں گے ۔
یہاں تک ہم نے جو توضیحات پیش کیںان سے جاذبہ اور دافعہ کا مفہوم کسی حد تک روشن ہوگیا ؛لیکن ہماری بحث کا موضوعاسلام میں جاذبہ اور دافعہ ہے'' لہذٰا ہماری مراداسلامسے جو کچھ بھی ہے اس کو واضح ہونا چاہئے، ہماری نظر میں عقائد اور قواعد و احکام کے مجموعہ کا نام اسلام ہے اس میں اعتقادی اور اخلاقی مسائل بھی اور فردی قوانین اور اجتماعی قوا نین بھی شامل ہیں ؛ جس وقت ہم کہتے ہیں کہ اسلام ایسا ہے اور اسلام ویسا ہے توہماری مراد اسلام سے یہی اعتقادات اور اس کے قواعد و احکام ہیں ؛ اس بحث میں جب ہم یہ کہتے ہیںاسلام میں جاذبہ اور دافعہ'' تو اس وقت ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جاذبہ اور دافعہ جو کہ اسلام کے اعتقادی اور اخلاقی قواعد و اصول میں نیز اس کے تمام احکام قوانین میں پائے جاتے ہیں ۔ عقائد کے حصہ میں اسلام کا جاذبہ رکھنا اس معنی میں ہے کہ اسلامی عقائد انسان کی حقیقت پسند فطرت کے موافق ہیں یعنی وہ عقائد جو کہ حقائق ہستی کی بنیاد پر استوار ہیں چونکہ انسان کی فطرت حقیقت کو چاہتی ہے اور یہ عقائد انسانی فطرت کے مطابق ہیں لہذا یہ انسان کے لئے جاذبہ ہو سکتے ہیں ۔ بہر حال وہ جاذبہ اور دافعہ جو کہ اسلامی عقائد سے مربوط ہیں فی الحال ہماری بحث میں شامل نہیں ہیں یہاں پراس جاذبہ اور دافعہ کی بحث زیادہ اہم ہے جو کہ اسلامی احکام اور اخلاق سے مربوط ہیں خاص کر وہ جاذبہ اور دافعہ جو اسلام کے دستوری اور تکلیفی احکام سے مربوط ہیں ،اور ہم زیادہ تر اس بات کو دیکھیں گے کہ کیا تمام قواعد و احکام اسلامی انسان کے لئے جاذبہ رکھتے ہیں یا دافعہ؟
کیا اسلام کے بارے میں دافعہ کا تصوّرممکن ہے ؟
ممکن ہے یہ سوال ذہن میں آئے کہ اگر تمام اسلامی معارف و احکام؛ انسانی فطرت اور طبیعت کے مطابق بنائے گئے ہیں لہذ اٰ طبعی طور پر اس کے لئے جاذبہ ہونا چاہئے پس اس کے لئے دافعہ فرض کرنا کیسے ممکن ہے ؟ !
اس کا جواب یہ ہے کہ انسان فطری طور پر حقیقت کا متلاشی اور بلندیوں کا خواہاں نیز اچھی چیزوں کا طالب ہے ؛لیکن اس کے علاوہ بہت سے شہوانی اور فطری امور بھی انسان میں پائے جاتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر ان مختلف فطری اور شہوانی امور کے درمیان تزاحم اور اختلاف پیدا ہوتا ہے یاایک دوسرے کو دور کر دیتا ہے۔یااس بحث کے خلط اور اشتباہ سے بچنے کے لئے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ انسان کی مادی اور حیوانی خواہشات کو جذبہ شہوت وخواہش کا نام اور اس کی دوسری تما م خواہشوں کو فطرت کا نام دیا گیا ہے ،بہت سے مقامات پرفطرت اور خواہشوں کے درمیان نا ہماہنگی پائی جاتی ہے، شہوت اور خواہش صرف اپنی تکمیل چاہتی ہے انصاف و عدالت کو نہیں دیکھتی ہے، بھوکا پیٹ آدمی صرف روٹی کھانا چاہتا ہے حلال و حرام ، اچھا ،برا ،اپنا مال ہے یا غیر کا ،اس سے اس کو مطلب نہیں ہے چاہے اس کو حلال و جائز روٹی دیں یا حرام و نا جائز اس کو پیٹ بھر نے سے مطلب ہے، انسان کی آرام پسند طبیعت پیسیے اور اپنی آرام دہ زندگی کی تکمیل کے پیچھے لگی رہتی ہے یہ پیسہ چاہے حلال طریقے سے حاصل ہو یا حرام ذریعہ سے اس کے لئے سب برابر ہے۔
لیکن انسان کی فطرت انصاف کی طالب اور امانت و عدالت کے موافق ہے نیز حق کو غصب کرنے اور ظلم و خیانت سے بیزار ہے ،اس عدالت طلب اور ظلم سے گریزاں فطرت کے بر خلاف کبھی کبھی ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل اور مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے صرف خیانت اور ظلم و ستم کا سہارا لینا پڑتا ہے؛ یہی وہ مقام ہے جہاں پر انسان اگر حقیقی کمال کو چاہتا ہے تو اس کو مجبوراً ان خواہشات اور لذتوں سے اپنے کو بچانا ہوگا ؛بعض چیزوں کو نہ کھائے ،نہ پئے،نہ اوڑھے پہنے،نہ دیکھے اورنہ سنے ؛خلاصہ یہ کہ اپنے کو محدود و مقید رکھے ۔ اسلام بھی انسان کو حقیقی کمالات تک پہونچانا چاہتا ہے؛ لہذا ان جگہوں پر فطری پہلو کو اختیار کرتا ہے اور خواہشات نفسانی اور مادی ضروریات کو محدود کرتا ہے؛ ان مقامات پر جو لوگ اپنی خواہشات نفسانی پر کنٹرول نہیں رکھتے ہیں ؛یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ حیوانیت ان پر غالب رہتی ہے تو طبعی اور فطری بات ہے کہ بعض اسلامی احکام ان کے لئے جاذبہ نہیں رکھتے ہیں بلکہ دافعہ رکھتے ہیں ،اسلام نے ایک مکمل دستور دیا ہے جو کہ فطرت اور خواہش دونوں کے مطابق ہے اور اس مفہوم کی آیات اور روایات بہت کثرت سے پائی جاتی ہیں ، اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
( کلوا من الطیبات ما رزقناکم'' ) ( ۱ ) یعنی جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو رزق میں دی ہیں ان میں سے کھائو پیونیزیہ بھہ ارشاد فرماتا ہے:( کلوا و اشربوا ) ( ۲ ) کھائو اور پیو ایسے احکام اور دستور انسان کے لئے مشکل نہیں رکھتے ہیں لیکن جس وقت اسلام کہتا ہے کہ شراب نہ پیوسور کا گوشت نہ کھائو وغیرہ تویہ دستور ہر ایک کے لئے جاذبہ نہیں رکھتے اور بہت سے ایسے ہیں جن کو یہ احکام اچھے نہیں لگتے۔
____________________
(۱) سورہ اعراف : آیہ ۱۶۰ ۔
(۲) سورہ اعراف :آیہ ۳۱۔
اسلامی احکام میں دافعہ کا ایک تاریخی نمونہ
یہاں پر مناسب ہوگا کہ تاریخ اسلام کے ایک واقعہ کی جانب اشارہ کرتا چلوں؛ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اکرم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں نجران کے عیسائی رسو لصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس توحیدی عقائد سے متعلق بحث و مناظرہ کے لئے آئے؛ لیکن علمی بحث میں ان لوگوں کوشکست ہوئی، اس کے بعدبھی ان لوگوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان لوگوں کو مباہلہ کی دعوت دی ؛ان لوگوں نے اس مباہلہ کو قبول کیا ؛جس وقت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے محبوب اور سب سے خاص لوگوں یعنی امام علی ، حضرت فاطمہ اور امام حسن و امام حسین کو ساتھ لیکر مباہلہ کے لئے گئے اور نصاریٰ کے علماء کی نگاہ ان پانچ نورانی چہروں پر پڑی ؛تو ان لوگوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ان حضرات سے مباہلہ کرے گا اس کے حصّہ میں دنیا و آخرت کی رسوائی اور ذلت ہوگی؛ لہذٰا وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور مباہلہ نہیں کیا ؛ان عیسائیوں نے علمی گفتگو میں بھی شکست کھائی اور مباہلہ بھی نہیں کیا لیکن پھربھی مسلمان ہونے کو تیار نہیں ہوئے اور کہا کہ ہم جزیہ (ٹیکس ) دیں گے لیکن عیسائی رہیں گے ۔
جب اصحاب نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا کہ آخر وہ لوگ اسلام قبول کرنے پر تیار کیوں نہیں ہوئے؟ تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :کہ جو عادت اور چاہت ان کو سور کے گوشت کھانے اور شراب پینے کی تھی ،ان چیزوں نے اس سے ان کو مانع رکھا،چونکہ اسلام نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے لہذٰا ان لوگوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا
یہ ایک تاریخی نمونہ ہے کہ اسلام کی حقانیت ایک گروہ اور جماعت کے لئے ثابت اور واضح تھی لیکن بعض اسلامی احکام ان کے لئےدافعہ''رکھتے تھے جو اس بات سے مانع ہوا کہ وہ لوگ اسلام کو قبول کریں ؛یعنی ان کی انسانی فطرت ، حیوانی خواہشات سے مقابلہ کیا ،اس تعارض و ٹکرائو میں انھوں نے نفسانی خواہشات کو مقدم کیا ۔یہ مسئلہ صرف نجران کے عیسائیوں سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں سے متعلق ہے جنھوں نے الٰہی اور خدائی تربیت سے اپنے کو مزین اور آراستہ نہیں کیا ہے ،یا جو لوگ جسمانی اور حیوانی خواہشوں سے مغلوب ہیں ۔ وہ احکام اور دستورات جو کہ انسان کے مادی خواہشات کو محدود کرتے ہیں وہ ہی لوگوں کے لئےدافعہ'' ہیں اور جیسا کہ اشارہ ہوا اسلام میں ایسے بہت سے قوانین پائے جاتے ہیں قانوں اسلامی جو یہ کہتا ہے کہ ۴۰ درجہ گرمی میں ۱۶ گھنٹے اپنے کو کھانے پینے سے روکے رکھو؛اور روزہ رکھو یہ انسانی خواہشات سے میل نہیں کھاتا، ان کے لئے یہ کام مشکل ہے خاص طور سے نان وائیوں کے لئے( جو کہ روٹیاں وغیرہ پکاتے ہیں ) اس لئے کہ وہ مجبوراًآگ کے قریب رہتے ہیں ، پھر بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کہ چلچلاتی دھوپ یا شعلہ ور آگ کے قریب رہ کر بھی ان احکام پر خوشی سے عمل کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ،لیکن ایسے تربیت شدہ بہت کم نظر آئیں گے۔یا مثلاًخمس ہی کا قانون ممکن ہے ہمارے اور آپ جیسے لوگوں کے لئے کہ شاید سال میں ہزارروپیہ سے زیادہ نہ ہو اس ہزارروپئے کے نکالنے میں کوئی مشکل اورپریشانی نہیں ہے ،ہو لیکن جن لوگوں کے ذمہ لاکھوں روپئے خمس نکالنا ہو ان کے لئے بہت ہی مشکل کام ہے، اسلام کے اوائل میں بہت سے لوگوں نے صرف اسی حکم زکواة کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ دیا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف ہو گئے؛ اور جس وقت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ایلچی ان کے پاس زکواة لینے کے لئے جاتاتھا تو ان لوگوں نے کہا کہ رسول بھی ٹیکس لیتے ہیں ؛ ہم کسی کو بھی خراج اور ٹیکس نہیں دیں گے ؛یہ قانون ان کے لئے دافعہ تھا اور یہی سبب بنا کہ ان لوگوں نے اسلام سے دوری اختیار کر لی یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ لوگ خلیفہ مسلمین سے جنگ کرنے کو تیار ہو گئے ۔
یا مثلاً اسلام جنگ و جہاد کا حکم دیتا ہے یہ فطری بات ہے کہ جنگ میں حلوا، روٹی کھانے کو نہیں ملتی بلکہ مارے جانے ، قید ہونے ،اندھے ہونے،ہاتھ پیر کٹنے اور دوسرے بہت سارے خطروں کا امکان رہتا ہے، بہت سے لوگ ان خطروں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور حکم جنگ یا میدان جنگ میں جانے کے مخالف ہیں ؛اس کے بر خلاف بہت سے مجاہد (سپاہی ) ایسے بھی ہیں جو میدان جنگ میں جانے کے لئے ہر طرح سے آمادہ دکھائی دیتے ہیں اور بہت ہی شوق سے ان خطرات کو قبول کرتے ہیں ؛پھر بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ حکم بہت سے لوگوں کے لئے جنھوں نے اپنے کو ایسا نہیں بنایا ہے کوئی جاذبہ نہیں رکھتا ہے؛ اور کسی بھی بہانے سے اپنی جان چراتے ہیں اور اس کام سے فرار اختیار کرتے ہیں ۔
لہذا اس سوال کا جواب کہ اسلام کے احکام و قوانین جاذبہ رکھتے ہیں یا دافعہ؟ یہ ہے کہ عام لوگوںکے لئے بعض اسلامی دستورات جاذبہ رکھتے ہیں اور بعض احکام دافعہ رکھتے ہیں ۔
عملی میدان میں جاذبہ اور دافعہ کے سلسلے میں اسلامی حکم
اب یہ سوال کہ مسلمانوں کا برتائو اور ان کا طور طریقہ آپس میں ایک دوسرے کے متعلق بلکہ غیر مسلمانوں کے ساتھ کیسا ہوناچاہئے؟اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد جاذبہ پر ہے او ر اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں اوراسلامی معاشرہ کو سعادت اور کمال تک پہونچائے لہذٰ ااسلامی معاشرہ کا برتائو ایسا ہونا چاہئے کہ دوسرے افراد جو لوگ اس ماحول اور سماج سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں ان کی جانب متوجہ ہوں اور اسلام ان کے لئے واضح ہوجائے اور وہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔ اگر لوگ اسلامی ماحول اور اسلامی مرکزسے دور رہیں گے تو ان تک اسلام نہیں پہونچایا جا سکتا اور وہ لوگ ہدایت نہیں پا سکتے۔ لہذٰا اہم اور اصل یہ ہے کہ مسلمان ایسی زندگی بسر کریں کہ وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے جاذبہ رکھتے ہوں اور روز بروز ان کے درمیان اپنائیت اور یکجہتی بڑھتی رہے اور غیرمسلم جو کہ اس ماحول سے الگ اور جدا ہوں ان کے متعلق بھی جاذبہ رکھنا چاہئے تا کہ ان کی بھی ہدایت ہو سکے اگر چہ اسلام کی اصل جاذبہ کی ایجادپر ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم ہر حالت میں ایک ہی رفتار رکھیں ؛بلکہ بعض مواقع پر دافعہ کی چاشنی اور مٹھاس سے بھی فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے اس جلسہ میں جو وقت باقی رہ گیا ہے اسی اعتبار سے کچھ باتوں کو پیش کررہا ہوں اور بقیہ باتوں کو بعد میں عرض کروں گا، ا ن شاء للہ ۔
جاذبہ رکھنے والے اسلامی کرداروں کے بعض نمونے
مذہب اسلام میں عدل و انصاف،احسان ، لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک اور لوگوں کو خوش رکھنے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے ؛اسلام کی بڑی عبادات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک انسان دوسرے کو خوش کرے اور اگر دوسرا غمگین و رنجیدہ ہو تو اس کے رنج وغم کوکسی نہ کسی طرح دور کرے ۔بعض روایتوں میں ایک مومن کو خوش رکھنے اور اس سے رنج و غم کو دور رکھنے کا ثواب سالوںکی عبادت سے بہتر ہے یہاں تک کہ اگر یہ کام صرف اتنا ہو کہ اس کے ساتھ محبت آمیز برتائو کرے یا ایسی بات کہے جس سے اس کو امید ہوجائے اور اس کو سکون دل پیدا ہو جائے مثلاً مومن کو دیکھ کر مسکرانا ،اس سے ہاتھ ملانا اور اس کو گلے لگانا ، بیماری کے وقت اس کی عیادت کرنا ، اس کے کاموں میں اس کی مدد کرنا جو کہ مسلمانوں کے درمیان ہماہنگی دوستی اور جاذبہ کا سبب ہیں ان سارے کاموں کا ثواب اسلامی ر و ا یات میں بہت کثرت کے ساتھذکر کیا گیا ہے؛ اسلام صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے علاوہ ان میں سے بہت سارے احکام اور دستورات کو غیر مسلموں سے متعلق بھی بتاتاہے اور اس کے متعلق بہت ہی تاکید کرتا ہے ؛اسلام کہتا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم تمھارا پڑوسی ہے یا تم اس کے ساتھ سفر کر رہے ہو تووہ تم پرحق پیدا کر لیتا ہے کہ اگر بیچ راستے سے کسی مقام پر وہ تم سے الگ ہو رہا ہے
تو جب وہ اپنے راستے پر جانے لگے تو خدا حافظی کے لئے چند قدم اس کے ساتھ جا ئو اور اس کے بعد رخصت کر کے اس سے جدا ہوئواور اپنا راستہ اپنائو،اسلام عدل و انصاف کی ہر ایک کے ساتھ تاکید کرتا ہے حتیّٰ کافروں کے ساتھ بھی ؛نیز کافر وں پر ظلم و ستم کو ناجائز سمجھتا ہے ،اگر کوئی کافر ہے تب بھی تم اس پر ظلم و ستم کا حق نہیں رکھتے ہیں :''( ولایجرمنکم شنٰان قوم علیٰ الاّ تعدلوااعدلواهواقرب للتقویٰ ) ( ۱ ) اور خبر دار کسی قوم کی عداوت تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف کو ترک کر دو انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے حتیّٰ کفّار کے متعلق صرف عدل و انصاف ہی کرنا کافی نہیں ہے بلکہ احسان (اچھا سلوک ) جس کا مرتبہ عدل سے بڑھ کر ہے اس کے متعلق بھی خدا کا حکم ہے کہ اس کوبھی کرنا چاہئے ، ارشاد ہوتا ہے( لا ینهاکم الله عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبرّوهم و تقسطوا الیهم ) ( ۲ ) اللہ ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے تم کو نہیں روکتا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو، بعض موقعوں پر اس سے بڑھ کر حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ مسلمان
____________________
(۱) سورہ مائدہ آیہ ۸.
(۲) سورہ ممتحنہ آیہ ۸.
اسلامی حکومت میں جوٹیکس دیتے ہیں تو اس ٹیکس میں سے کچھ ان کفار کودو جو کہ اسلامی حکومت کی سرحداور اس کے پڑوس میں زندگی بسر کرتے ہوں تا کہ وہ لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہوں اور اسلام میں گھل مل جائیں(۱) بلکہ ان کو تھوڑا بہت صرف اس لئے دو تاکہ ان کا دل مسلمانوں کے حوالے سے نرم ہو اور وہ لوگ مسلمانوں پر مہر بان ہوں اور ان کے دلوں میں مسلمانوںاور اسلام کی محبت پیدا ہو؛ ایسا سلوک کرنے سے دھیرے دھیرے ایسا ماحول بن جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تم سے قریب ہوں اور وہ تم سے مانوس ہو جائیں؛ پھر وہ تمھاری زندگی کا قریب سے جائزہ لیںگے اور تمھاری باتوں کو سنیںگے؛ ممکن ہے کہ وہ متاثرہو کر مسلمان ہو جائیں ؛ایسی مثالیں تاریخ میں کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ کفّار مسلمانوں سے رابطہ رکھنے ، اسلام کی منطقی باتیں سننے اور پیروان اسلام کی رفتارو گفتار اور ان کی سیرت و اخلاق کا مشاہدہ کرنے کی وجہ سے اسلام کو قبول کر لیابہر حال یہ چند نمونے تھے جنکو اسلام نے جاذبہ کے لئے اپنے دستورات اور احکام میں جگہ دی ہے ۔
____________________
(۱) مفہوم سورہ توبہ : آیہ ۶۰۔
کیا اسلام کردار میں ہمیشہ جاذبہ کی تاکید کرتا ہے؟
جس بات کی جانب توجہ دینا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسلام جس جاذبہ کی سیاست کو اپنانے کا حکم دیتا ہے چاہے وہ مسلمانوں سے متعلق ہو یا کفار سے یہ حکم کلیت نہیں رکھتا ہے؛ بلکہ کبھی کبھی یہی دافعہ کا بھی حکم رکھتا ہے اور اس کو اپنانے کا حکم دیتا ہے؛ کبھی کبھی محبت و احسان، روحی رشد و تکامل اور ہدایت کا سبب نہیں بنتے اس کے بر خلاف اس کے مقابل میں ایک دیوار کھڑی کر دیتے کبھی کبھی حیوانی خواہشات اور مادی شہوات کے اثر سے اور دوسرے اجتماعی عوامل یا گھریلو تربیت اور اس جیسے اثرات کی وجہ سے انسان کے اندر ستم گری آوارگی اور درندگی کی عادت پیدا ہو جاتی ہے؛ اور اس حال میں اگر اس کو نہ روکا جائے تو وہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ دھیرے دھیرے اور دن بہ دن برائیوں اور بد بختیوں کی دلدل میں دھنستا جاتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کر دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی تکلیف و اذیت اور ان کے حقوق کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔
ایسی جگہوں پر خود اپنی اورمعاشرہ کی اصلاح کے لئے اس کو متنبہ کرنا چاہئے تا کہ وہ برائیوں سے باز آ کر اچھائی اور نیکی کے راستے پر وا پس آجائے یعنی اس تنبیہ کے اندر رحمت بھی ہے اور یہ تنبیہ خود اس کو زیادہ گمراہ ہونے سے بھی روکتی ہے او ردوسروں تک اس کی برائی پہونچنے سے ھی مانع ہوتی ہے۔ البتہ ظاہری تنبیہ چاہے مالی اعتبار سے جرمانہ کی شکل میں ہو، چاہے کوڑے کی سزا ہویا قتل یا قیدیا دوسری اور سزائیں ،بہر حال یہ سب انسان کے لئے تکلیف اور زحمت کا سبب ہوتا ہے اور فطری طور پر کوئی بھی اس سے خوش نہیں ہوتا ہے بہر حال اسلام کہتا ہے کہ خاص حالات میں تمھاراسلوک خشونت اور سختی کے ساتھ ہونا چاہئے اور دافعہ رکھنا چاہئے ،کیونکہ ہر جگہ پر جاذبہ مطلوب اور پسندیدہ نہیں ہے ۔
پچھلی بحث کا خلاصہ
یہاں تک کی گفتگو کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہوا کہ سب سے پہلے ہم نے اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی تعریف بیان کی ؛جیسا کہ ہم نے کہا کہ اسلام میں جاذبہ اور دافعہ ممکن ہے کسی چیز یا انسان یا پھر عقیدہ و فکر سے مربوط ہو، اسلام کے متعلق ہم نے بیان کیا کہ وہ عقیدے اور احکام اور اخلاق کے مجموعہ کا نام ہے جاذبہ اور دافعہ، اسلام میں ان تینوں میں کسی سے بھی مربوط ہو سکتا ہے اس کے بعد اسلام کے احکام وقوانین سے مربوط جاذبہ اور دافعہ کے متعلق بحث کی اس بحث کے ذیل میں ہم نے عرض کیا کہ اسلام میں کچھ احکام ہیں جو کہ لوگوں کو پسند ہیں اور اکثر لوگ اس کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور بہت سے ایسے احکام بھی ہیں جو لوگوں کو پسند نہیں ہیں اور اس کی جانب رجحان نہیں رکھتے ہیں اور وہ ان کے لئے دافعہ ہیں عطر لگانا ،مسواک کرنا،صاف ستھرے رہنا ،اچھا اخلاق ، سچّائی، امانت داری، انصاف اور احسان یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ اسلام ان کا حکم دیتا ہے اور یہ سب لوگوں کے لئے جاذبہ رکھتی ہیں ۔روزہ رکھنا ، جہاد کرنا ،میدان میں جانا ،مالیات جیسے خمس و زکواة کا ادا کرنا یہ سب ایسے احکام ہیں جو کہ اسلامی قوانین کے زمرہ میں آتے ہیں لیکن اکثر لوگوں کو یہ سب اچھا نہیں لگتا ہے، اور ان کے لئے دافعہ رکھتا ہے؛ اس کے بعد اصل موضوع کو پیش کیا کہ اسلام کا دستور مسلمانوں کے لئے دوسروں کے ساتھ برتائو کے سلسلے میں کیا ہے ؟
کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھیں اور مسکرا کر بولیں اور صرف جاذبہ سے استفادہ کریں یا بعض جگہوں پر خشونت وسختی اور دافعہ کا بھی حکم دیتا ہے ؟ جو وضاحت ہم نے پیش کی اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیمات میں دونوں کا حکم ہے اگر چہ ایسے موارد بہت کم ہیں کہ جن میں دوسروں کے ساتھ مسلمانوں کا برتائوخشونت آمیز ہو۔لیکن پھر بھی ایسے مواقع پائے جاتے ہیں ان کے نمونے ان شاء للہ آ ئندہ جلسوں میں پیش کئے جائیں گے ۔
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود (۲ )
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے بارے میں تین طرح کے سوالات
پچھلے جلسے کے مطالب کے ذیل میں اگر ہم جاذبہ اور دافعہ کے حدود کے بارے میں اسلام کے مطابق گفتگو کرنا چاہیں جو کہ تمام جہتوں کو شامل ہو تو اس بارے میں کم سے کم تین طرح سے گفتگو ہو سکتی ہے۔
گفتگو کا پہلا عنوان اور محور یہ ہے کہ ہم بحث اس طریقے سے کریں کہ اصولی طور پر اسلام کے تمام معارف چاہے وہ عقیدہ سے متعلق ہوں یا اخلاق و احکام سے خواہ وہ ایک انسان سے مربوط ہوں یا ُپورے معاشرے سے عبادتی ہوں یا حقوقی یا سیاسی ہے یا....،یہ مسائل اس بات کا سبب ہوتے ہیں کہ انسان بعض امور کو اپنے اندر جذب کرے اور بعض امور کو دفع کرے وہ امور مادی ہوں یا معنوی؛ اس صورت میں جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام جاذبہ رکھتا ہے ؛یعنی اس کے معارف اور احکام اس طرح ہیں کہ وہ انسان کو اس بات پر ابھارتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو اپنے اندر جذب کرے ،اور اسلام کے دافعہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں وہ ان چیزوں سے پرہیز کرے اور ان کو اپنے سے دور رکھے ؛یہ دافعہ اور جاذبہ کے پہلے معنی ہیں کہ جس کا اسلام میں تصّورہے؛او ر اسی کی بنیاد پر سوال پیش کیا جا سکتا ہے، اس کا مختصر جواب بھی یہ ہے کہ ہم چار فرض تصور کریں :
(۱) اسلام صرف جاذبہ رکھتا ہے
(۲)اسلام صرف دافعہ رکھتا ہے
(۳) اسلام نہ جاذبہ رکھتا ہے اور نہ ہی دافعہ
(۴) اسلام جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتا ہے ،کہ ان چاروں میں سیچوتھا فرض صحیح ہے۔
دوسرا معنی جو اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے لئے لیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ ہم اس بات کے قائل ہوں کہ اسلام کے معارف اور احکام اس طرح ہیں کہ بعض افراد کے لئے جاذبہ رکھتے ہیں اور بعض افراد کے لئے دافعہ رکھتے ہیں ،جاذبہ یعنی وہ لوگوںکو اپنی طرف کھیچنتے ہیں اور دافعہ یعنی وہ ان کے لئے اسلام سے دوری کا سبب بنتے ہیں یا تمام اسلامی معارف میں بعض عناصر ایسے ہوتے ہیں اور وہ ان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور بعض عناصر ایسے بھی ہیں جن کو بعض افراد پسند نہیں کرتے ہیں اور ان کے لئے دفع اور دوری کا سبب بنتے ہیں تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہم اس بات کو دیکھیں کہ اسلام غیر مسلموں کو اسلام کی طرف بلانے میں یا وہ لوگ جو کہ مسلمان ہیں انکی تربیت اور رشد و کمال کے لئے کس طریقے کو اپناتا ہے اور کون سے عمل انجام دینے کو کہتا ہے؟ کیا صرف جاذبہ کے طریقے کو اپناتا ہے یا دافعہ کے طریقے کو اختیار کرتا ہے یا دونوں طریقوںکو استعمال کرتا ہے ؟
انسان کاتکامل جاذبہ اور دافعہ کارہین منّت ہے
اس سے قبل کہ ہم ان تینوں معانی پر تفصیلی گفتگو اور بحث کریں اس سوال کو پیش کریں گے کہ انسانکے لئے ایک متحرک مخلوق کے عنوان سے جو کہ اپنے تکامل کے راستے میں ایک مقصد کو نظر میں رکھتا ہے اور اس تک پہونچنے کی کوشش کرتا ہے کیا اصلاً کوئی قوت جاذبہ ہے جو زیادہ سے زیادہ اور بہتر طریقے سے اس راستے میں اس کی مدد کرتی ہے یا کوئی قوت دافعہ ہے یا دونوں قوتیں پائی جاتی ہیں ؟
اس سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں ہے تھوڑے سے غور و فکر اور دقت کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اگر زندہ رہنے والی چیزیںجو کہ دنیا میں پائی جاتی ہیں ان کو دیکھا جائے؛ چاہے وہ حیوان ہوں یا انسان؛ پیڑ پود ے ہوں یا کچھ اور؛سب کے سب جاذبہ اور دافعہ دونوں کے محتاج ہیں ؛ہر زندہ رہنے والی چیز کے لئے سب سے اہم اور پہلی چیز جو اس کے لئے خصوصیت رکھتی ہے، وہ غذا ہے۔ تمام زندہ موجودات اپنے نشو نما نیز اپنی زندگی کو باقی رکھنے کے لئے کھانے اور غذا کی احتیاج رکھتے ہیں غذا اور کھانا بغیر جاذبہ کے نہیں ہو سکتا ؛یعنی غذا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے باہر سے کوئی چیز جسم کے اندر داخل ہوکر جذب ہو جائے اسی طرح ہر چیز کا جذب تمام زندہ موجودات کے لئے فائدہ مند نہیں ہے بلکہ بعض چیزوں کا جذب،زندہ شے کی نشوو نما اور اس کے تحرک میں خلل پیدا ہونے کا باعث ،اس کے متوقف ہونے،یہاں تک کی اس کی موت کا باعث ہوجاتا ہے لہذٰا ضروری ہے کہ ان چیزوں کی نسبت دافعہ بھی رکھتا ہو تاکہ ان کو اہنے بدن سے دور رکھے۔ لہذٰا تمام زندہ موجودات اپنے وجود کے باقی رکھنے کے لئے اور اپنے رشد وکمال کے لئے جاذبہ اور دافعہ دونوں کے محتاج ہیں ۔ اس جگہ پر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بعض چیزوں کو جذب کرے اور بعض چیزوں کو دفع کرے تو جو بات سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ مادی جذب و دفع ہوتی ہے یعنی ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ تمام جگہوں پر جو کچھ جذب یا دفع ہے ایک مادی اور محسوس ہونے والی چیز ہے ؛ لیکن ہم کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ اسلامی معارف کے اعتبار سے انسان کی زندگی صرف اسی بیو لوجک اور مادی زندگی تک محدود نہیں ہے ؛بلکہ انسان ایک معنوی زندگی بھی رکھتا ہے جو کہ روح سے مربوط ہے یعنیایک وہ زندگی،نشو و نما اور تکامل ہے جو کہ انسان کے جسم سے مربوط ہے اورایک وہ زندگی،نشو و نما اور تکامل ہے جو انسان کی روح سے مربوط ہے۔ خدا وند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا استجیبوا لله وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو ایمان لائے ہو جب خدا و رسول تم
____________________
(۱) سورہ انفال آیہ ۲۴
کو کسی چیز کی طرف بلائیں جو کہ تم کو زندگی بخشنے والی ہو تو تم اس پر لبےّک کہو ؛یہ بات مسلم ہے کہ اس آیہ کریمہ میں خدا نے جن لوگوں کو مخاطب کیا ہے؛ وہ صاحبان ایمان ہیں اور حیوانی زندگی رکھتے ہیں ؛ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتوں کو سنتے ہیں ، تو خدا اور رسول کیوں ان لوگوں کو اس چیز کی طرف بلارہے ہیں جو ان کو زندگی بخشتی ہو؛ یقیناً یہ حیات جسمانی اور مادی زندگی نہیں ہے بلکہ اس سے دوسری زندگی مراد ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے( و ما علمّناه الشعر وما ینبغی له ان هو الّاذکر و قرآن مبین لینذر من کان حيّاً ) ( ۱ ) ہم نے اس (رسول )کوشعر نہیں سکھایا اور نہ ان کے لئے یہ مناسب ہے یہ صرف نصیحت اور روشن قرآن کے علاوہ کچھ نہیں ہے تا کہ جو زندہ ہوں ان کو ڈرائیں۔ اب یہ کہ قرآن اس شخص کی ہدایت کرتا ہے جو زندہ ہے اس کا مطلب کیا یہی جسمانی اور مادی زندگی ہے ؟ اگر مراد یہی مادی زندگی ہے تو ایسی زندگی تو سارے انسان رکھتے ہیں ؛ لہذٰا قرآن کو سب کی ہدایت کرنی چاہئے لیکن ہم دیکھتے اور جانتے ہیں کہ قرآن نے ابولہب ،ابو جہل جیسوں کی اگر چہ یہ لوگ ظاہری اور جسمانی زندگی رکھتے تھے، کوئی ہدایت نہیں کی اور قران ایسے لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا ،تو معلوم ہوا کہ اس حیات سے مراد قران میں کوئی دوسری حیات ہے حیات یعنی زندہ دلی ،روحی زندگی جو کہ انسان کو'' سننے والا کاندیتی ہے تاکہ خدا کے
____________________
(۱) سوررہ ےٰسین : آیہ ۶۹ اور ۷۰ ۔
کلام کو سن کر ہدایت حاصل کر سکے( فانّک لا تُسمع الموتی'' ) ( ۱ ) اے رسول آپ مردوں کو نہیں سناسکتے ،اس آیہ میں مردوں سے مرادمردہ دل افرادہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے جسم تو زندہ ہیں لیکن ان کی روحیں مردہ ہیں روح اور دل کی زندگی کی کیا نشانی ہے ؟ اس کی علامت اور نشانی ،خشیت و خوف الٰہی ہے( انما تنذرالذین یخشون ربّهم بالغیب'' ) ( ۲ ) اے رسول ! تم صرف انھیں لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جواز غیب خدا سے ڈرتے ہیں ؛ دل کے زندگی کی نشانی یہ ہے کہ جب ان کو متوجہ کریں اور بتائیںکہ تمھارا ایک خالق ہے اس کا تم پر حق ہے اور اس نے تم کو کسی مقصد کے تحت خلق کیا ہے اور تمھارے اوپراس نے کچھ ذمہ داری قراردی ہے تو اسکا دل کانپ اٹھتا ہے اور پھر کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہو تا ہے،دل میں خوف خدا اور ایمان آنے کا نتیجہ یہ ہے کہ'( 'یئوتکم کفلین من رحمته ویجعل لکم نوراًتمشون به ) ( ۳ ) یعنی خدا وند عالم اپنی رحمت سے تم کودوہرے حصے عطا فرماتا ہے اور ایسا نور قرار دیتا ہے کہ اس کے سبب اور اس کی برکت سے تم چل سکتے ہو؛ یہ نور، مادی اور محسوس کرنے والا نور نہیں ہے ،بلکہ وہی نور ہے جو کہ روح اور دل کی زندگی سے مربوط ہے، ایسی زندگی جس کی طرف خداوند عالم نے قران مجید میں مختلف مقامات پراشارہ
____________________
(۱)سورہ روم :آیہ۵۲۔
(۲) سورہ فاطر: آیہ ۱۸۔
(۳) سورہ حدید: آیہ ۲۸۔
کیا ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے( فا نها لا تعمی الابصار و لٰکن تعمی القلوب التیّ فی الصدور'' ) ( ۱ )
حقیقت میں آنکھیں اندھی نہیں ہیں بلکہ وہ دل جو کہ سینے میں ہیں وہ اندھے ہیں ،مادی اور جسمانی آنکھ زندہ ہے اور دیکھتی ہے، لیکن روحانی اور باطنی آنکھ نہیں رکھتے ہیں ،وہ صنوبری دل جو کہ سینے کے اندر دھڑکتا ہے اور زندہ ہے لیکن ایک دوسرا جو دل بھی ہے کہ عیب ونقص اسی میں ہے( ثمّ قست قلوبکم من بعدذالک فهی کالحجارة او اشدّ قسوة ) ( ۲ ) پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے پتھر کی، طرح بلکہ اس بھی زیادہ سخت وہ دل پتھر جیسا بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے کہ کوئی چیز اس میں اثر نہیں کر سکتی ؛بلکہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو چکا ہے( وانّ من الحجارة لما یتفجّرمنه الانهار وانّ منها لما یشقّق فیخرج منه المائ'' ) ( ۳ ) اور بعض پتھروں سے نہریںنکلتی ہیں اور بعض شگافتہ ہوتے ہیں تو اس سے پانی نکلتا ہے بہر حال قران مجید میں ایسی بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن اس جسمانی آنکھ، کان اوردل کے علاوہ حیاتی آنکھ،کان،دل کا قائل ہے، اور جس طرح سے جسم کی زندگی،نشو ونما اس کے تکامل کے لئے جذب و دفع کی ضرورت ہے ویسے ہی روحی حیات کو بھی جذب و دفع کی احتیاج ہے۔ جس طرح سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو کہ جسمانی زندگی پر اثر ڈالتی ہیں اور اس جسم کے لئے مفید یا مضر ہیں ایسے ہی بہت سے عوامل ایسے بھی پائے
____________________
(۱)سورہ حج؛آیہ ۴۶۔
(۲)اور (۳)سورہ بقرةآیة۷۴.
جاتے ہیں جو کہ اس روحانی زندگی کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ ہیں ۔جس طرح جسمانی زندگی کئی مرتبے اوردرجے رکھتی ہے اور اس میں نقص و کمال ، اور شدت وضعف پایا جاتا ہے، روحانی زندگی بھی اسی طرح کئی درجے اور مرتبے رکھتی ہے ؛روحانی زندگی کا سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان انبیاء کی پہلی دعوت جو ایمان اور توحید سے متعلق ہے اس کو قبول کرے اور اس کو جذب کرسکے ۔ البتہ انبیاء کی اس ہدایت کے اثر اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کے بعد انسان دھیرے دھیرے روحانی زندگی کے بلند مرتبہ کو حاصل کر سکتا ہے؛ اسی جگہ پرتزکیہ و تہذیب نفس کی بحث آتی ہے۔
تزکیہ نفس یعنی روح کے کمال کے لئے لازمی جذب اور دفع
نفس کو پاک و صاف کرنے (تزکیہ نفس )کی بحث اصل میں وہیروح سے مربوط جذب و دفعبحث ہے۔ ایک درخت کے لئے جب یہ چاہیں کہ وہ خوب تناور اورپھولے پھلے توضروری ہے کہ وہ مٹی اور ہوا سے مواد کو جذب کرے اور اس کی چھٹائی کی جائے اور مضر نباتی زہروں اور آفتوں کو او سے دور رکھا جائے۔اور یہ دونوں چیزیں یعنی جذب و دفع ضروری ہے ؛انسان کے لئے بھی یہ چیزیں ضروری ہیں یعنی وہ ایسا کام کرے کہ اس کی روح صیقل ہو۔اس کا مقدمہ یہ ہے کہ وہ چیزیں جو انسان کی روح اور زندگی کے لئے ضروری اور مفید ہو ںان کو جذب کرے اور وہ چیزیں جو انسان کی روح کے لئے مضر اور نقصان دہ ہیں اس کو اپنے سے دور کرے ، لہذٰا سب سے پہلاقدم یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو پہچانے اور ان کی معرفت حاصل کرے اور غفلت و جہالت سے باہر آئے؛ انسان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی روح ایسی ہے کہ( بذکر الله تطمئنّ القلوب ) (۱) خدا وند عالم کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے، روح کی غذا خدا کا ذکر اور اس کی یاد ہے، دل کی زندگی اور خدا کی یاد کے درمیان ربط پایا جاتا ہے؛ یہی دل ایسا ہے کہ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے،
____________________
(۱) سورہ رعد: آیہ ۲۸۔
اوراس کو آفتوں اور زہریلے گناہوں سے نہ بچایاجائے اور ان کو دل سے دور نہ کیا جائے ؛تو ایسا بگڑ جاتا ہے کہ خدا وند عالم اس بیزار ہو جاتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( واذا ذکر الله وحده اشمازت قلوب الّذین لا یومنون با لآخرة'' ) ( ۱ ) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں ؛ اگر چہ خدا کو پہچاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے ؛اور انسان کی طبیعت اولیٰ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھتی ہے اور اس کو پہچانتی ہے لیکن برائیاں اور غلط کام اس کو اس طرح خراب کر دیتے ہیں کہ جب خدا کا نام آتا ہے تو وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔ جس طرح انسان کی پہلی طبیعت اس طرح بنی ہے کہ جب دھواں اس کے حلق اور پھپھڑے میں جاتا ہے تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس کی وجہ سے کھانسنے لگتا ہے لیکن جب سگریٹ پینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے جسم کو ایسا عادی بنا لیتا ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں اپنے حلق میں نہیں ڈال لیتا اس کو آرام اور سکون نہیں ملتا ہے حتیٰ اگر سگریٹ پئے بھی رہتا ہے اور اس کا اس سے دل بھی بھرا رہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ سگریٹ گھرمیں نہیں ہے تو اس کو نیند نہیں آتی ہے ؛وہی تلخ اور کڑوادھواںجو کہ پہلی فطرت کے خلاف تھا اوراس کوتکلیف دیتا تھا اب اس کی عادت کی وجہ سے اس کا مزاج ایسا بدل گیا ہے کہ وہی
____________________
(۱) سورہ زمر : آیہ ۴۵۔
دھواں اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا ہے اور اس سے ایسی وابستگی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آتی ہے۔
منجملہ ان چیزوں کے جو انسان کی معنوی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں خدا وند عالم کی محبت ، اس کے دوستوں کی محبت ،اس کے دوستوں کے دوستوں کی محبت ہے کہ جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہئے؛ اس کے بر خلاف گناہ ،شیطان اور دشمنان خدا اور دشمنان دین کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ انسان کی معنوی زندگی کے لئے صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کا تصّور بھی نقصان پہونچانے کا سبب بنتا ہے؛ اگر مومن یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو اور اس کی روح بلند سے بلند تر ہو تو اس کو اپنے ذہن میں گناہ کا خیال بھی نہیں لانا چاہئے؛ شاید یہ بات ہمارے زمانے اور دور میں ]کیونکہ ہمارا ماحول ایسا ہے[ افسانہ لگتی ہو اور اس کا تصور بھی کرنا ہمارے لئے مشکل ہو تصدیق تو بعد کی بات ہے ؛لیکن یہ بات واقعیت اور حقیقت رکھتی ہے ؛اگر چہ میں ان بعض داستانوں پر جو لوگ بیان کرتے ہیں ذاتی طور سے یقین نہیں رکھتا اور عام طور پرمیری عادت بھی نہیں ہے کہ میں بحث کو قصّہ اور کہانی سے ثابت کروں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ذہن کو مطالب سے قریب کرنے کے لئے بعض داستانوں کا نقل کرنا مفید ہوتا ہے لہٰذامیں انھیں داستانوں میں سے ایک کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں جو کہ اس سے (بحث ) مربوط ہے ۔
روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ
یہ داستان سید رضی اور سید مرتضیٰ سے متعلق مشہور ہے یہ دونوں بھائی تھے سید رضی وہی ہیں جنھوں نے نھج البلاغہ کو جمع کیا ہے؛ سید مرتضیٰ بھی صف اول کے علماء سے ہیں اور بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ،جب ان دونوں بھائیوں نے پہلی مرتبہ اپنے استاد شیخ مفید کے پاس جانا چاہا مرحوم مفید نے اس سے پہلے رات کو خواب میں دیکھا کہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیھا اپنے دونوں فرزند امام حسن اور امام حسین کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہیا شیخ علّمهما الفقه یعنی اے شیخ ان کو فقہ کی تعلیم دو شیخ خواب دیکھ کر اٹھے تعجب کیا یہ کیا ماجرا ہے؟میری کیا حیثیت ہے کہ میں امام حسن اورامام حسین کو تعلیم دوں، صبح ہوئی اور درس کے لئے مسجد گئے ابھی درس دے ہی رہے تھے کہ ایک معظمہ خاتون کو دیکھا دو بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائیں اور فرماتی ہیں یا شیخ علّمھما الفقہ اے شیخ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو یہ دونوں بچّے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سید رضی اور سید مرتضیٰ تھے ۔بہر حالم میرا مقصد یہ واقعہ ہے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے: ایک دن ان دونوں بھائیوں نے سوچا جماعت سے نماز پڑھی جائے؛ مستحب ہے کہ امام جماعت ماموم سے افضل ہو اور یہ دونوں بھائی علم کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ نہ صرف واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرتے تھے؛ سید مرتضیٰ چاہتے تھے کہ اس مستحب (جماعت سے نماز پڑھنے )پر بھی عمل کریں دوسری جانب واضح اور صریحی طور پر اپنے بھائی سے یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ اے بھائی !میں تم سے افضل ہوں لہذٰا مجھ کو امام جماعت ہونا چاہئے تا کہ جماعت کااور زیادہ ثواب ہم دونوں کو مل جائے،لہذا انھوں نے چاہا کہ اشارے میں اپنے بھائی کو اس مطلب کی جانب متوجہ کریں اور کہا کہ ہم میں سے وہ امامت کرے جس سے آج تک کوئی گناہ سرزدنہ ہوا ہو گویا سید مرتضیٰ اشارةًیہ بتاناچاہتے تھے کہ جس وقت سے میں حد بلوغ کو پہونچا ہوں، تب سے آج تک مجھ سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہے؛ لہذا بہتر یہ ہے کہ میں امامت کے فرائض انجام دوں۔سید رضی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ ہم دونوں سے وہ امام ہو جس نے آج تک گناہ کا خیال بھی نہ کیا ہو، گویایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب سے میں سن بلوغ کو پہونچا ہوں تب سے میں نے گناہ کا خیال بھی نہیں کیا بہر حال یہ واقعہ کتنی حقیقت رکھتا ہے یہ بات اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کا سب سے بہترین اور بلند درجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں گناہ کا تصور بھی نہ آئے۔ قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشادفرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان
____________________
(۱)سورہ حجرات : آیہ ۱۲ ۔
لائے ہو بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو بیشک بعض گمان اور شک گناہ ہیں ، لہذٰا مومن کو چاہئے کہ برے گمان سے بھی دافعہ رکھتا ہو اور اس گمان کو اپنے سے دور رکھے؛ گنا ہ کا خیال رکھنا اور اس کے مناظر کو سوچنا اور اس کی فکر کرنا ممکن ہے انسان کے اندر دھیرے دھیرے وسوسہ کو جنم دے اور اس کو گناہ کی طرف کھینچ لے جائے مومن کو چاہئے کہ ہر حال میں خدا کو یاد رکھے قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:( الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً وعلیٰ جنوبهم ) ( ۱ ) وہ لوگ ہر حال میں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے یا کروٹ کے بل ہوں خدا کو یاد رکھتے ہیں ؛اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یا سونے کے لئے آنکھوں کو بند کرلئے ہوں ؛اس حال میں بھی خدا کو یاد رکھو؛ اوراس بات کی کو شش کرو کہ خدا کی یاد میں تم کو نیند آ ئے تاکہ تمہاری روح بھی سونے کے عالم میں خدا کے عرش اور ملکوت کی سیرکرے ؛بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جوسونے کے وقت دوسری فکروںکو اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور اس سے اپنی فکر کو گندہ کرتے ہیں اورجس وقت سوتے ہیں توشیاطین کی دنیا کی سیر کرتے ہیں اور خواب بھی گناہ کا دیکھتے ہیں ۔
یہ وہ اثرات ہیں جو انسان کی معنوی زندگی میں پیش آتے ہیں ۔ جس طرح مادی اور دنیاوی زندگی میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا جسم نشو ونما کرے
____________________
(۱)سورہ آل عمران: آیہ، ۱۲۵
اور صحیح اورسالم رہے تو اسکوچاہئے کی اچھی غذا کھائے اور خراب وزہریلے کھانے سے جوکہ نقصان دہ ہے پرہیز کرے ،اسی طرح روحی زندگی کے شعبہ میں بھی جو چیز اسکی روح کے لئے فائدہ مندہے اسکو جذب یعنی حاصل کرے اور جو چیزنقصان دہ اور مضر ہے اسکو دفع یعنی دور کرے ۔
آیہ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه ) ( ۱ ) کی تفسیر
یعنی انسان اپنی خوراک اور غذا کی طرف دیکھے ،البتہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات کے قرینے سے یہ بات کی ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں طعام، مادی اورجسمانی غذاسے مربوط ہے،کیوںکہ گفتگو اس اندازسے ہے کہ اے انسان دیکھ یہ غذا کہاں سے آرہی ہے؟ ہم نے پانی کو آسمان سے کیسے نازل کیا،اور کس طر ح پودوں اورسبزوں کو اگایا؛پھر یہ سبزے کس طرح جانوروں کی غذا بنے اور پھر تم کس طرح ان جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کرتے ہو؛ یہ سب نعمتیں ہیں جن کو خدا نے تمھارے لئے مہّیا کی ہے ؛خلاصہ یہ کہ آیہ اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ ظاہراًیہاں طعام سے مراد جسمانی غذا ہے؛ لیکن اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جو در حقیقت تاویل کی منزل میں ہے اس آیت کی باطنی تفسیر ہے کہ( 'فلینظر الانسان الیٰ علمه من یتّخذ'' ) انسان اپنے علم کو دیکھے کہ وہ کہاں سے حاصل کررہا ہے ؟کیونکہ علم روح کی غذا ہے اور اس کے مصرف میں انسان کو خاص توجہ دینی چاہئے ؛یعنی جس طرح انسان باہر سے غذا اور کھانا
____________________
(۱) سورہ عبس: آیہ ۲۴۔
لاناچاہتا ہے تو وہ اس بات کی سعی کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون سا ہوٹل صفائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور کس کا کھانا اچھا اور بہتر رہتا ہے،اس کے بعد وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح علم بھی آپ کے روح کی غذا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب اور جس سے چاہا علم حاصل کر لیا ؛بلکہ آپ جس استاد سے علم حاصل کر رہے ہیں اس کو دیکھنا چاہئے کیا وہ معنوی اور روحی پاکیزگی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ہر وہ علم جو کسی بھی صورت میں پیش ہو چاہے کلا س میں ہو یا کتاب میں ، تقریر ہو یا تحریر یاکسی اور طریقہ سے اس پر بھروسہ نہ کریں ؛بلکہ دیکھیںکہ یہ علم کس طرح اور کہاں سے آرہا ہے؛ اس لئے کہ علم کا اثرروح پر،اس غذا کے اثرات سے جو کہ جسم و بدن پر ہوتا ہے کم نہیں ہے ؛جس طرح آپ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آپ کی جسمانی غذا صاف اور پاک و پاکیزہ ہو؛ پھل، سبزی وغیرہ کو خود آپ دھو کر استعمال کرتے ہیں اور ان چیزوں کو اس کے بعد کھاتے ہیں ، علم بھی آپ کی روح کی غذا ہے اس سے بھی باخبر ر ہیں کہ جو علم حاصل کر رہے ہوں وہ خراب اور آلودہ تو نہیں ہے، اس مقام پر بھی جاذبہ اور دافعہ ضروری ہے۔
وہ چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور ہمارے عقیدہ ا ور یقین کو متزلزل کرتی ہیں یا ان کے خراب کرنے کا سبب ہیں ان سے ہم کو بچنا چاہئے اور ایسے علم کو حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو حاصل نہیں کرنا چاہئے، مگر صرف اس صورت میں کہ ہمارا علم اتنا مستحکم ہو کہ وہ غلط باتیں ہمارے اوپر اثر نہ ڈال سکیںاور ان کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔
جس طرح ٹیکوں اور انجکشن کے ذریعہ ہم اپنے بدن کو بعض بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انجکشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیماریوں اوروبائوں کے جراثیم کو ہمارے جسم پر موثر ہونے نہیں دیتا؛ اسی طرح محکم اور متقن دلائل خاص کر اسلامی علوم کو حاصل کرکے ہم اپنی روحانی فکر کو بھی بعض غلط فکروں اور گمراہ کن شبہات سے محفوظ کر لیں تاکہ وہ غلط شبہے اور فاسد فکریں ہمارے اوپر اثر انداز نہ ہو سکیں ؛اگر کوئی شخص مصئونیت اور علمی کمال کے اس درجہ پر پہونچا ہو تو اس کے لئے غلط مطالب کا پڑھنا اور اس طرح کے شبہات کا مطالعہ کرناحرج نہیں رکھتاہے؛ لیکن جو شخص اس مرتبہ کمال پر نہیں پہونچا ہے اس کو چاہئے کہ ان مطالب سے اپنے کو دور رکھے ۔ خدا وند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے :( اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهزابه فلا تقعدوامعهم حتیّ یخوضوا فی حدیث غیر ه انکم اذا مثلهم ) ( ۱ ) جس وقت تم دیکھو یا سنو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اوراس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو،یہاں تک کہ وہ لوگ اس کے علاوہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انھیں میں سے ہو جائوگے یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہیں اور خدا و رسول کو
____________________
(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۴۰۔
مانتے ہیں لہذاان کافروںکی باتیں ہمارے اندر اثر نہیں کریں گی۔ جب تک تم ہر طرح سے محکم اورمحفوظ نہ ہو جائو اس وقت تک اس بات کا خوف ہے کہ اگر تم ان کے جلسوں میں جائو گے، تقریروں کو سنو گے تو یہ فکری جراثیم دھیرے دھیرے تمھارے اندر بھی سرایت کر جائیں گے اور تمھارے اعتقاد و ایمان کو خراب کر دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( اذا رایت الذین یخوضوا فی آیا تنا فا عرض عنهم حتیّٰ یخوضوا فی حد یث غیره ) ( ۱ ) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جائو یہاں تک کی وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں ۔خدا کا دستور جو کہ ہماری اور آپ کی روح کا معالج ہے اور جو دوا تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لازمی علم ومعرفت کے ٹیکے کے ذریعہ محفوظ ہونے سے پہلے ایسی محافل وجلسات میں کہ جہاں فکری شبہات اور باطل خیالات پیدا کئے جاتے ہیں شرکت نہ کرو، وہ اخبار، مقالہ اور ڈائجسٹ نیز ایسی کتابیں جو کہ مذہبی مقدسات کا مسخرہ کرتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور دین کے اصول اور احکام میں شک و شبہ کا سبب واقع ہوتے ہیں تو ان کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ اگر ایسی جگہوں پر جائیں گے یا ایسی چیزوں کو پڑھیں گے تو کیا ہوگا ؟ قرآن میں اس کے جواب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:( انکم اذاًمثلهم انّ اللّه جامع الکافرین و المنافقین فی جهنم جمیعاً ) ( ۲ )
____________________
(۱) سورہ انعام : آیہ ۶۸۔
(۲)سورہ نساء :آیہ ۱۴۰۔
اور اس صورت میں تم بھی انھیں کے مثل ہو جائو گے ،بیشک خدا کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔'' اگر تم نے ہماری نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے کانوں سے سن کر اس پر عمل نہیں کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے تو تم بھی دھیرے دھیرے مقدسات کی اہانت کرنے اور دینی عقائدو احکام کو کمزور کرنے والوں میں شمار کئے جائوگے اور آخر کار تم بھی جہنم میں جائوگے ۔
جس طرح کوئی پھیلنے والی بیماری میں مبتلا ہو تو آپ اس سے بچتے اور دور رہتے ہیں تا کہ اس کی بیماری کی زد میں آپ بھی نہ آجائیںاسی طرح آپ کو ان لوگوں کے جلسات اور خود ان لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہئے جو فکری بیماریوں کو اٹھائے پھرتے ہیں یا نقل کرتے ہیں ، لہذٰا ان سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ کہ آپ محفوظ رہنے والے اسباب و وسائل سے مجہّز ہوں ،جو کہ پھیلنے والے جراثیم کو آپ کے اندر آنے سے روک سکیں، اس حالت میں صرف ان سے بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو اس بیماری سے نجات دلانا چاہئے جس طرح ڈاکٹر اور نرس ،محافظ وسائل او ر سسٹموںکے ذریعہ جراثیم اور اس کے اثرات کے داخل ہونے سے ر وکتے ہیں نیز جسمانی بیماریوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔
اگرچہ ڈاکٹر کا فریضہ ہے کہ وہ بیمار کے قریب آئے اور اس سے ربط رکھے پھر بھی وہ یہ کام بہت احتیاط سے کرتا ہے اور تمام حفاظتی چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتا ہے اور دوسرے لوگ علم و وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ بیماری سے متعلق کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بیمار کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی بیمار ہو جاتے ہیں ،انھیںکسی بھی صوورت سے ایسی حالت میں مریض سے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی روح اورفکر بھی پھیلنے والی خطرناک بیماریاں رکھتی ہوں اور لازمی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیماریاں ہمارے اندر سرایت کر جائیں۔
روح کی بیماری اور سلامتی
روح کی مکمل سلامتی کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھے، اس کے اندر خدا کی یاد، اس کے ذکر سے لذت اور خوشی کا احساس ہونیز ہر وہ چیز اور ہر وہ شخص جو اس کی سچی اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرتا ہواس سے عشق اور والہانہ محبت کرتا ہو۔ روح کے بیمار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جب نماز ،دعااور دینی محافل و مجالس سے متعلق گفتگو ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اور بہت ہی نا گواری اور بے توجہی کے ساتھ اس کے لئے آمادہ ہوتا ہو؛ اگر کوئی انسان کئی گھنٹوں سے کھانا نہ کھائے ہو اور اس کے بعد بھی اس کو بھوک نہ لگے اور بہترین اچھی غذا ئوںکو کھانے کے لئے تیار نہ ہو تو یہ بیماری اور مزاج کے خراب ہونے کی نشانی ہے ۔
ہم کو یہ جاننا چاہئے اور اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ دل بھی بیماریاں رکھتا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :( فی قلوبهم مرض ) ( ۱ ) یعنی ان کے دلوں میں مرض ہے، اگر دل میں بیماری ہو اور اس کا علاج نہ ہو تو بیماری بڑھتی جاتی ہے ،( فزادهم الله مرضاً ) ( ۲ ) اور اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کر دیتا ہے؛ اگرہم اس بیماری کو بڑھنے سے نہ
____________________
(۱۔۲) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۔
روکیں اور وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے تو پھر کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے اچھا ہونے کی امید باقی نہیں رہتی؛ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی آدمی نہایت ڈھالو اور گہری کھائی میں جا پڑا ہو اور اپنے کو اس کی تہ تک گرنے سے نہ روک سکتا ہو۔قرآن مجیدمیں ارشاد ہوتا ہے( طبع الله علیٰ قلوبهم و سمعهم وابصارهم اولٰئک هم الغافلون ) ( ۱ ) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں نیز ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے وہی لوگ غافل اور لا پروا ہ ہیں ۔
کبھی اس حال میں کہ ہماری بیماری کینسراور لاعلاج بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے، ہم اس سے غافل رہتے ہیں اورکبھی کبھی تو بہت خوش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دن بہ دن ترقی حاصل کر رہے ہیں اور منزل کمال سے نزدیک ہو رہے ہیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :( قل هل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلّ سعیهم فی الحیوٰةالدّنیاوهم یحسبون انهم یحسنون صنعا ) ( ۲ ) اے پیغمبر! آپ کہ دیجئے کہ کیا ہم تم لوگوں کو ان لوگوںکے بارے میں اطلاع دیںجو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں ؛یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۰۸۔
(۲) سورہ کہف : آیہ ۱۰۳ اور ۱۰۴۔
ہماری روح جذب وودفع کی محتاج ہے اوراس با ت کا انتخاب کہ کون چیزدفع کریں؟ اورکون چیز جذب کریں ؟یہ ہمارے اوپر چھوڑدیا گیا ہے ۔ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ نوشوں اور گانجا،بھنگاور چرس پینے والوں کے مانند دھوئیںاور زہریلی چیز کو اپنی روح میں داخل کریںاور یہ بھی ممکن ہے کھلاڑیوں ، کوہ نوردوں(پہاڑ پر سفر کرنے والوں )کی طرح پاک اور صاف وشفاف ہوا کو دل اور روح کے لئے انتخاب کریں ؛( من کان یر ید العاجلةعجّلنا له فیها ما نشاء لمن یرید ) ( ۱ ) جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اسکے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں پھر اسکے بعد اسکے لئے جہنم ہے جسمیں وہ ذلت ورسوائی کے ساتھ داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور وہ اسکے لئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اسکی سعی یقینا مقبول ہے ہم آپ کے پروردگار کی عطا وبخشش سے ان سب کی مدد کرتے ہیں اور پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ وہ لوگ جو کہ جلد ختم ہونے زندگی اوروالی لذتوں کے طلبگارہیں اور اسکے علاوہ کوئی غوروفکر نہیں کرتے اور طبعی طور سے اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی تمام توقعات ا و رخواہشات تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انسان کی خواہشیں بے انتہاہیں جوکچھ اسکو عطا کیا جاتا ہے اسکے بعدبھی وہ اس سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے، بہر حال خدا انکی اس طرح مددکرتا ہے کہ انکی بعض خواہشوں کو پورا کرتا ہے لیکن انجام اور نتیجہ میں
____________________
(۱) سورہ اسراء آیہ ۱۸ الیٰ ۲۰.
انکے لئے ذلت اور عذاب جہنم ہے بعض دوسرے گروہ ہیں جو کہ آخرت کے طلبگار اور اسکی نعمتوں کی لذ ت چاہتے ہیں ؛ قرآن کی عبارت میں یہ گروہ توجہ کے لائق ہے ارشاد ہو رہا ہے :سب سے پہلے ارادالآخرة آخرت کے چاہنے والے ہیں ؛ لیکن ایسی چاہت نہیں کہ اسکو حاصل کرنے کیلئے کچھ خرچ نہیں کرتے ؛بلکہوسعیٰ لهاسعیها وہ اسکے لئے کوشش کرتے ہیں اور مناسب چیزوں کو اپنی اس خواہش پر صرف کرتے ہیں ؛ لیکن صرف اسی پر اکتفا ء نہیں کرتے بلکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ و ھو مومن یعنی ایمان کے مزہ کو بھی اپنی کوشش اور عمل کے ساتھ شامل کرتے ہیں ،ایسے لوگ صرف اپنی خواہشوں کو ہی نہیں پہنچتے؛ بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہم (خدا) ایسے لوگوں کی محنت اور کوشش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکان سیعهم مشکوراً ان کی کوششیں لائق شکرہیں البتہ خدا وند عالم کا شکر کیاہے؟ وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔
جو بات اس آیت میں اہم اور توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے :( کلاًنمد هٰولاء من عطا ء ربک ) ہم دونوں گروہ کو ان کی خواہشوں تک پہونچتے میں مدد کرتے ہیں اور دونوں کے لئے وسائل و اسباب کو مہےّا کرتے ہیں یعنی ان چیزوں کا انتخاب جو جذب و دفع سے متعلق ہے خود انسان کے اوپر ہے انسان کا انتخاب اچھا ہو یا برا ؛اس سے فرق نہیں پڑتا ہے ،ہماری طرف سے اس کو اپنی خواہش تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے؛اس ضمن میں ایک دوسری الھٰی سنت بھی پائی جاتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :( من جاء با لحسنة فله عشر امثالها ومن جاء بالسّئية فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۱ ) جو کوئی اچھا کام کرتا ہے اس کو اس کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو اتنا ہی ملتا ہے جوشخص غلط اور زہریلی چیزوں کا انتخاب کرتا ہے تو جتنی وہ چیز اور مادہ خراب کرنے کی قوت اورطاقت رکھتا ہے اتنا ہی ہم اس کو موثر بناتے ہیں ؛لیکن جب وہ اچھی چیز اور اچھے مادہ کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اس کی تاثیر کو دس گنا بڑھا دیتے ہیں ۔
____________________
(۱)سورہ انعام آیہ ۱۶۰.
بحث کا خلاصہ
اس جلسہ میں ہماری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان جسمانی زندگی میں جس طرح جاذبہ اور دافعہ کی ضروت رکھتا ہے اسی طرح روحانی اور معنوی زندگی میں بھی جاذبہ اور دافعہ کی ضرورت رکھتا ہے یعنی اس کو ضرورت ایسی قوت و طاقت کی ہے جو اس کے ایمان ، خدا کی محبت اور مفید علم کی راہ میں اس کی مدد کرسکے جو کہ اس کے دل اور قلب کے لئے فائدہ مند ہو، اس کی انسایت کو بڑھائے اور اس کو مضبوط کرے اور اس کو ایسی قوت و طاقت کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ شیطان ،گناہ اور دشمنان خدا کی محبت 'جو اس کے دین اور معنوی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے 'کو اپنی روح سے دور کردے ۔
البتہ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری اصل بحث جیسا کہ میں نے اس کو شروع میں بھی عرض کیا اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق تھی اور میں نے عرض بھی کیا کہ اس کو تین طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے :
(۱) یہ کہ اسلام کے مجموعی عقائد واخلاق، احکام ا ور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کو صرف کچھ چیزوں کے جذب کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا فقط دفع کرنے پریا یہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔
(۲) اسلام کے احکام اور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کے لئے صرف جاذبہ رکھتے ہیں یا صرف دافعہ یاپھر جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے ہیں ۔
(۳) اسلام لوگوں کوجب اپنی طرف اور ان کی تربیت کی دعوت دیتا ہے تو صرف جذبی راستوں کا انتخاب کرتا ہے یا فقط دفعی راستوں اور طریقوں کو، یا دونوں راستوں کو اختیار کرتا ہے۔ ہم نے اس جلسے میں جو کچھ کہا اصل میں وہ اس بحث کا مقدمہ تھا اور تینوں سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کے بارے میں آئندہ جلسوں میں بحث اور گفتگو ہو گی۔
سوال اور جواب
سوال :
جسم کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اس کے اندر معین مقدار میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اگر اس سے زیادہ وہ کھانا کھائے گا تو اس کے لئے نقصان کا سبب بنے گا اور وہ دافعہ کی حالت کوپیدا کرے گا۔ کیا روح اور اس کی غذا کے بارے میں بھی یہی محدودیت اور حد بندی ہے ؟
جواب :
سوال بہت اہم ہے اور یہ سوال فلسفہ اخلاق کے مشہورمکتب فکرسے جس کا نام'' مکتب اعتدالہے تعلق رکھتا ہے اس مکتب فکر کے طرف دار لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اخلاقی فضائل کے باب میں فضیلت کا معیار اعتدال ہے؛ زیادہ بڑھ جانا یا کم ہونا نقصان دہ ہے۔ فطری اور طبعی طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں کوئی خاص حد نہیں رکھتی ہیں ؛ جتنی زیادہ ہو ںبہترہے جیسے خدا کی محبت ،عبادت ،علم اور بہت سی ایسی چیزیںہیں ان جیسی چیزوں میں اعتدال کے کیا معنی ہیں ؟؛جو سوال یہاں پر پیش ہوا ہے وہ بھی اسی جیسا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ فضائل کا حاصل کرنا کوئی حد اور انتہا نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ انسان دنیا میں محدود طاقت کا مالک ہے ۔اگر وہ صرف کسی ایک چیز کے لئے اپنی پوری طاقت کو صرف کر دے گا تو دوسری چیزوں سے محروم ہو جائے گا ؛اگر ہم صرف عبادت کرنے لگیں اور کھانے ، آرام اور اپنے بدن کی سلامتی کی فکرنہ کریں تو ہمارا جسم بیکار ہو جائے گا اور عبادت کی طاقت و ہمت بھی ہم سے چھن جائے گی ؛یعنی ہماری عبادت میں بھی خلل پڑے گا اور ہمارا جسم بھی بیمار پڑ جائے گا ۔
یا یہ کہ خدا کا ارادہ انسان کی نسل کو باقی رکھناہے اور یہ مسئلہ بھی اس بات پر منحصر اورمتوقف ہے کہ ہم شادی بیاہ کریں ،ازدواجی رابطہ کو برقرار رکھیں ؛بچوں کی تربییت کریں خلاصہ یہ کہ ایک خاندان کو چلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یقینی طور پر بہت سی قوتوں اور اپنے وقت کو خرچ کرنا پڑے گا؛ اگر انسان صرف معنوی اور اخلاقی مرتبے کی بلندی کی فکر میں رہے گا اور کوئی بھی اہتمام خاندان اور بیوی بچے سے متعلق نہ کرے تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی یا برباد ہو جائے گی ۔یا مثلاً اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میدان جنگ میں حاضر رہے تو وہ زیادہ عبادات اور مستحبات کو انجام نہیں دے سکتا ۔لہذٰاچونکہ انسان دنیا میں کئی قسم کے وظائف اور ذمہ دااریوں کو رکھتا ہے اس کی قوت و طاقت بھی محدود ہے ؛لہذٰا اپنی طاقت و قوت کو ان کے درمیان تقسیم کرے اور ہر حصّہ میں ضرورت بھراس طرح صرف کرے کہ بعض دوسری چیزوں سے مزاحمت کا سبب نہ بنیں ان کے لئے خرچ کرے؛ البتہ یہ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسا کام کرے کہ اس کی پوری زندگی نماز و قرآن سے لیکر کھانے پینے اور روز انہ کے معمولی کاموںتک بھی لمحہ بہ لمحہ خدا وند عالم سے قریب ہونے کا باعث بنے اور وہ بلندی کے درجات کو حاصل کرتا جائے ۔
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳
پچھلی بحثوں پر سرسری نظر
پچھلے دو جلسوں میں اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق اور اس کے حدود کے بارے میں مطالب کو پیش کیا گیا اگر چہ وہ مطالب اصل بحث کے لئے مقدمہ کا جنبہ رکھتے تھے وہ اہم نکتہ جس کے متعلق پچھلے جلسے میں خاص تاکید ہوئی وہ یہ تھی کہ انسان تکامل حاصل کرنے والی ایک مخلوق کے عنوان سے تکامل کے راستے کی تکمیل میں دو طرح کے عوامل کا سامنا کرتا ہے:
(۱) ایک وہ عوامل و اسباب جو کہ فائدہ مند ہیں
(۲) دوسرے وہ عوامل جو کہ نقصان دہ ہیں ؛ انسان کو چاہئے کہ دوسرے زندہ موجودات کی طرح مفید عوامل کو جذب کرے اور مضر عوامل کو دفع کرے ؛اس کام کے لئے سب سے پہلا قدم اور مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں طرح کے عوامل کو پہچانے اور ایک دوسرے کو علیحدہ اور جداکرے؛ لہذٰا پہلا قدم ان عوامل کی پہچان ہے چونکہ یہ جذب و دفع جبری اوور زبر دستی نہیں ہے بلکہ خود انسان کے ارادہ و اختیار سے متعلق ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی انجام پاتا ہے لہذادوسری منزل یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کومضبوط کرے تاکہ اچھے کاموں کو انجام دے سکے اور برے کاموں کو ترک کر سکے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی اور مفید ہے انسان اس سے لگائو رکھتا ہو اور اس سے لذت حاصل کرتا ہو یا ہر وہ چیز جو کہ اس کے لئے بری اور نقصان دہ ہے اسے نا پسندکرتا ہو اور اس میں رغبت نہ رکھتا ہو؛ بلکہ بہت سی جگہوں میں مسئلہ اس کے بر خلاف ہے مثلاً وہ سبب جو کہ بہت نقصان دہ ہے اسی چیز کو انسان خاص طور سے بہت ہی لگائو کے ساتھ اختیار کرتا ہے مثلاً بعض لوگ سگر یٹ اور شراب وغیرہ کو بہت دوست رکھتے ہیں ،پیش کی جا سکتی ہے لہذا جذب و دفع کے مسئلہ میں شناخت اور پہچان کے علاوہ انسان کے ارادہ کی طاقت بھی بنیادی کردارادا کرتی ہے ۔
انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع
لیکن مفید اور مضر اسباب کے پہچاننے کے متعلق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مرجع اس بات کومشخص ومعےّن کرے اور کہے کہ فلاں سبب ہمارے معنوی کمال اور روح کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو جذب کرنا چاہئے اور کون سا عامل نقصان دہ ہے کہ اس کو دفع کرنا چاہئے ؟ اسی طرح ارادہ کی تقویت کے متعلق، کون سے عوامل ہیں جو اس ارادہ کو قوی بناتے ہیں ؟
ہم مسلمان اور دیندار لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مرجع خدا ہے اور اسی کو اس مشکل کو حل کرنا چاہئے کیوںکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی مکمل طور سے انسان کی روح وجسم کے خواص وقوانین نیز ان کے ایک دوسرے پر اثرات سے واقف ہے' اور وہی خدا یہ جانتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے مفید ہے اور کون سی چیز مضر ہے اور کون سے کام روحی و معنوی جذب اور دفع کا باعث ہے ؛خدا وند عالم نے اس کام کو پیغمبروں کے ذریعہ سے انجام دیا ہے انبیاء کے بھیجنے کا بنیادی فلسفہ یہی تھادین اور اس کے تمام دستورات اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں یعنی اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ روحی و معنوی کمال اوربلندی پر پہونچے اور مفید و مضر اسباب جو کہ اس راستے میں ہیں ، ان کو پہچانے تو اس کودین و انبیاء کو تلاش کرنا چاہئے یعنی انبیاء اور دین سے متمسک ہونا چاہئے ۔
دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست
اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تا کہ لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں ؟صرف یہ کہ انبیاء نے روحی اور معنوی تکامل کا نسخہ انسان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور ان لوگوں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے ،یہی کافی ہے؟ بلکہ اس کے علاوہ ایسی تدبیر کرنی ہوگی کہ لوگ اس نسخہ کو قبول کرلیں اور اس پر عمل کریں ؛اب اس جگہ پر پھر جاذبہ اور دافعہ کی بحث آتی ہے ؛لیکن جاذبہ اور دافعہ اس معنی میں کہ انبیاء نے لوگوں کو دین کی طرف بلانے اور ان لوگوں کو اس کے قبول کرنے اور اس پر مطمئن کرنے کے لئے کس راستے اور طریقے کو اختیار کیا ہے؟یعنی اس کے لئے آیاقوت جاذبہ کے طریقے کو اپنایا اور نرمی و مہربانی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی کہ لوگ دین کی طرف جذب ہو ں یا یہ کہ ان حضرات نے سختی اور جبری طور سے لوگوں سے چاہا کہ لوگ اس نسخہ پر عمل کریں ؟یا یہ کہ ان دونوں طریقوں کو استعمال کیا؟ خلاصہ یہ کہ کوئی خاص قانون او رقاعدہ اس کے متعلق پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ ان تین سوالوں میں ایک سوال ہے جس کے لئے ہم نے پچھلے جلسے میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے بارے میں بحث کریں گے البتہ اگر اس مسئلہ میں تفصیل اور جامع و مکمل طریقے سے بحث کی جائے تو کئی جلسوں کی ضرورت ہو گی جس کی گنجائش فی الحال ہمارے جلسے اور پروگرام میں نہیں ہے ، لہذٰا کوشش اس بات کی ہوگی کہ جو کچھ اس سے مربوط ہے اس کو مختصر طور سے یہاں بیان کردیا جائے۔
(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ
انبیاء کا سب سے پہلا کام لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا ہے؛ ان کو سب پہلا کام یہ کرنا تھا کہ لوگ ان کی باتوں کو سنیں اور اس بات کو محسوس کریں کہ انبیاء کیا کہتے ہیں اس کے بعد کا مرحلہ یہ تھا کہ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟
اس پہلے مرحلے یعنی دعوت تبلیغ اور پیغام پہونچانے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ انبیاء لوگوں کے لئے منطق اور برہان و استدلال لیکر آئے تھے اور قرآن مجید کی آیہ اس پر دلالت کرتی ہے( ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة والموعظة الحسنة ) ( ۱ ) یعنی لوگوں کو پرور دگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو ؛دعوت تبلیغ ، حکمت اور منطق و دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے تاکہ اس میں جاذبہ پیدا ہو؛ اس مرحلہ میں دافعہ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔
لیکن واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں کہ حکمت ودلیل اچھی طرح سمجھ لیں؛ اگر ہم خود اپنے کو دیکھیں جس دن سے ہم نے اپنے کو پہچانا
____________________
(۱) سورہ نحل :آیہ۱۲۵۔
ہے ہم نے سنا ہے کہ ایک دین اسلام اور ایک مذہب شیعہ نام کا پایا جاتا ہے اور ہم نے اس کو قبول کیا ہے؛ لیکن کیا ہم نے حقیقت میں کبھی اس بات پر غور کیا اور سوچا کہ اس کی عقلی دلیل کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اجتماعی اسباب اور عوامل سے متاثر ہو کر شیعہ مذہب کو قبول کیا ہے؛ اور اصلاً ان لوگوں نے اس سلسلہ میں کوئی تحقیق اور جستجو نہیں کی ہے اور نہ اس کی کوئی دلیل تلاش کی ہے ؛ہاں مجلس ،اسکول اور مدرسے میں کبھی اس سلسلے میں کچھ پڑھا اور سنا ہے لیکن خود سے اپنے اندر ابتدائی طور پر یہ جذبہ اور خواہش نہیں ہوئی کہ اس بارے میں جاکر تحقیق اور جستجو کریں ، اگر ہے بھی تو بہت کم لوگوں میں ۔اکثر لوگ جذبات اور احساسات سے متاثر ہوکر یا مادی اور معنوی جذبوں کے تحت حرکت کرتے ہیں منطق اور دلیل کے ساتھ بہت کم لوگ متوجہ ہوتے ہیں ؛ عام انسانوں کے اندر جو چیز اصلی محرّک ہے وہ فائدہ یا نقصان اور خوف یاامیدہے وہی چیز جو کہ اسلامی تہذیب میں خوف ورجا کے نام سے پائی جاتی ہے یعنی انسان کسی چیز سے خوف رکھتا ہے یا اس چیز میں اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہیتو وہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا یہ کہ اس چیز میں دولت ، بلندی اور شہرت تو اس کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا پھر یہ کہ بھوک ، بیکاری، تازیانہ، قید خانہ اور سزا کے خوف کی وجہ سے مجبور ہو کر اس کام کو کرتا ہے،
یہ مثل بہت مشہور ہے کہ انسان خوف و امید کی وجہ سے زندہ ہے ؛عام طور سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر سبق اور درس پڑھے گا تو اس کی وجہ سے دوستوں اور ساتھیوں سے پیچھے نہیں رہ جائے گا یا تعلیم اس لئے حاصل کرتا ہے کہ اس کے بعد کوئی مفید کام کرے گا اور پیسہ وغیرہ کما سکے گا یا اس لئے کہ سبق پڑھ کر ماں باپ کی ڈانٹ پھٹکار اور دوسروں کے طعنہ سے محفوظ رہے گا کیونکہ اکثر لوگ ایسے ہی ہیں ،لہذٰا جیسا کہ آیہ کریمہ میں ہے کہ پہلے حکمت کا لفظ ہے اور اس کے بعد موعظہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے '( 'ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة و الموعظةالحسنة''یعنی ) برہان و دلیل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اس کام کو انجام دو گے اور کرو گے تو اس سے یہ فائدہ حاصل ہو گا اور اگر اس کام کو نہیں کروگے تو یہ نقصان ہو گا یا اس کے بر عکس اگر اس کام کو کروگے تویہ نقصان ہوگا اور اس کو چھوڑ دو گے تو تم کو یہ فائدہ ہوگا ۔
اگر قرآن کریم میں انبیاء کے اوصاف کا ہم غور سے مطالعہ کریں تو ان کی صفتوں میں بہت سی جگہوں پر مبشر اور منذر کالفظ آیا ہے کہ انبیاء بشارت اور انذار کے لئے آئے ہیں ، خدا وند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے( وما نرسل المرسلین الاّ مبشرین و منذرین ) ( ۱ ) ہم نے پیامبروں کو صرف مبشر اور منذر بنا کر بھیجا ہے یعنی وہ صرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں ۔
انبیاء نے دعوت اور تبلیغ کے مرحلے میں صرف برہان و دلیل (حکمت )پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ ،جس کو میں نے پہلے بیان کیا او ر شروع میں مختصر طور سے اس کی
____________________
(۱) سورہ انعام آیہ ۴۸.
وضاحت کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں سے یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری باتوں کو تم لوگ قبول کرو گے اور ان پر عمل کرو گے تو اس کے بدلے تمھارے حصّہ بے پناہ نعمتیں اور ہمیشہ رہنے والی بہشت آئے گی اور اگر تم نے ہماری باتوں کو قبول نہیں کیا اور مخالفت کی تو جہنم اور اس کا عذاب تمھارا منتظر رہے گا ؛اب اس جگہ پر لوگ مواقفت یا مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
اس کی تاثیر اس وقت زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے جب اس کے عملی نمونے یا وہ واقعے جو کہ پہلے زمانے میں ہو چکے ہیں ان کے کانوں تک پہونچتے ہیں ؛ اسی لئے آپ قرآن مجید میں دیکھیں گے کہ پچھلی امتوں کے واقعات اور جو عذاب ان پر نازل ہوئے ہیں ان کا تذکرہ ہے اور اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ہرگز تم بھی ایسا کام نہ کرنا ورنہ تمھارا حشر بھی ویسا ہی ہوگا ؛اس جگہ انسان کے ضمیر کے اندر ایک بیچینی اوراضطرابی کیفیت اور تحریک پیدا ہوتی ہے؛ البتہ نفع اور فائدہ کی امیداورنقصان کے خوف ،ان دونوں میں نقصان کا خوف انسان کوکام پر زیادہ ابھارتاہے ؛ یعنی اگر کچھ حد تک دنیاوی اور مادی نعمتوں کو حاصل کر لیتے ہیں اور پھر ا س سے کہا جائے اگر ایسی کوشش اور ز حمت کرو گے تو دولت و نعمت اور شہرت اس سے زیادہ حاصل ہو گی؛ممکن ہے کہ اگر وہ جذبہ و حوصلہ نہ رکھتا ہو تو یہی کہے گا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہی کافی ہے ؛لیکن اگر اس سے کہا جائے کہ اگر کوشش نہیں کروگے تو تمھاری دولت اور ثروت کم ہو جائے گی اور رتبہ کم ہو جائے گا ؛چونکہ نقصان کا خوف ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ نقصان نہ ہونے پائے، اور شاید اسی لئے قران کریم میں بشارت اور انذار ساتھ ساتھ ذکرہوئے ہیں لیکن پھر بھی انذار سے متعلق زیادہ تاکید ہے ، خدا وندتباک وتعا لیٰ کا ارشادہوتا ہے:( و ان من امّةٍ الّاخلا فیها نذیر ) ( ۱ ) یعنی کوئی امت ایسی نہیں گذری ہے جس میں نذیر ( ڈرانے والے )نہ ہوںاسی وجہ سے دعوت و تبلیغ کے آغاز میں جاذبہ اور دافعہ دونوں ایک ساتھ ہونے چاہئیں کیونکہ اس میں حکمت اور استدلال بھی ے اور جنت کا وعدہ اور جہنم سے ڈرانا بھی ہے اور جہنم کے سلسلے میں جو روایات ہیں ان میں دلچسپ اور نہایت ہی وحشتناک طریقے سے ڈرانے والے کے وصف کو بیان کیا گیا ہے ۔
____________________
(۱) سورہ فاطر : آیہ ۲۴۔
(ب) موعظہ حسنہ ]نیک اور درست[ ہونا چاہئے
جو نکتہ یہاں پایا جاتا ہے وہ یہ کہ جب حکمت کے بعد موعظہ کا موقع آئے تو موعظہ حسنہ ہو نا چاہئے یعنی اگر چہ موعظہ بشارت اور انذار دونوں پر مشتمل ہوتاہے اور اس کے معانی و مطالب اچھے نہیں لگتے لیکن اسکے بیان کی کیفیت اوراندازاچھا اور دلپذیر ہونا چاہئے یہاں تک کہ اگر انذار کا مخاطب فرعون جیسا گمراہ انسان بھی کیوں نہ ہو ؟بھی خداوند عالم موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون سے کہتا ہے:( اذهباالیٰ فرعون انه طغیٰ وقولاله قولا لینا ) ۔۔( ۱ ) فرعون کی طرف جائو اس نے سرکشی کی ہے اس سے نرم لہجہ میں گفتگو کرو ،شاید کہ وہ قبول کرے یا خوف ا ختیار کرلے ،یعنی فرعون سرکش ہے پھر بھی تمہارے ا لفاظ اور ڈرانے کاطریقہ ایسا ہو کہوہ ڈر جائے؛ لیکن ڈرائیں تو اپنے الفاظ کونرمی اور ملائمت کے ساتھ بیان کروپہلے سختی اورخشونت کے ساتھ اسکے سامنے نہ جائو۔ دعوت اور تبلیغ کے وقت اگر شروع ہی میں چیخ اور تند کلامی سے اسکو متوجہ کروگے تو وہ اصلاًتوجہ نہیں کرے گا کہ تم کیا کہہ رہے ہو لیکن اگر اس دافعہ والے الفاظ اور اسکے مطلب کو نرمی اورخوش اخلاقی کے ساتھ کہو گے تو ممکن ہے تمھاری بات اس پر اثر کرے ۔
____________________
(۱) سورہ طٰہ : آیہ۴۲ الیٰ ۴۴۔
(ج)مناظرہ
اس آیہ شریف میں موعظہ کے بعد مجادلہ کو بیان کیا گیا ہے( ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظةالحسنة وجادلهم بالتی هی احسن ) ( ۱ ) یعنی اچھی نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو اپنے پروردگار کی طرف بلائو اور ان سے بہترین طریقہ سے مجادلہ کرو اس لئے کہ ان کی ہدایت کی طرف راہنمائی کرو تو اچھی طرح سے بحث ومناظڑہ کرو ،مناظرہ کے موقع پر اگر سامنے والا مغلوب بھی ہوجائے اور اسے علمی حیثیت سے شکست دیدو لیکن پھر بھی انصاف وعدالت اور ادب سے باہر نہ نکلو اسکو شکست دینے کے لئے مغالطہ کا سہارا نہ لواس بات کی کوشش کرو کہ اسکو قانع اور مطمئن کردو تاکہ حقیقت اسکو معلوم ہوجائے ؛ساری کوشش اس بات میں صرف نہ کرو کہ چاہے جیسے بھی ممکن ہو ہر قیمت پر اسکو میدان مناظرہ سے خارج کر دو۔
____________________
(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۲۵۔
دعوت وتبلیغ میں دافعہ کے استفادہ نہ کرنے کی وجہ
لہٰذایہ کہا جاسکتاہے کہ دعوت و تبلیغ کے ہر مرحلہ حکمت ،موعظہ ، مجادلہ میں سے کسی میں بھی خشونت ودشمنی اور دافعہ مناسب نہیں ہے اگرچہ مجموعہ کلام و گفتگومین ممکن ہے کہ بات جہنم، اسکی آگ اور عذاب سے متعلق ہو ،لیکن گفتگو کا اندازایسا دلپذیر اور شیرین ہو کہ سامنے والا اس کو سننے اوراس پر غوروفکر کرنے پر آمادہ ہوجائے جب آپ اس انداز سے بات کریں گے کہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہو جائے تو وہ اس کے متعلق فکر کرے گا اور خود سے یہ کہے گاکہ اگر یہ جہنم اور عذاب واقعاً صحیح ہیں تو میں ہمیشہ کے لئے اس عذاب میں گرفتارہو جائوںگا پس بہتر یہ ہے کہ تحقیق اور جستجو کی جائے اور حقیقت ماجرا سے آگاہی حاصل کی جائے، خاص طور سے جب اس طرف متوجہ ہو کہ نفع اور نقصان کی تعیین میں صرف احتمال کی مقدار کافی نہیں ہے احتمال کا نتیجہ ، محتمل (جس چیز کا احتمال ہو )میں ہے کیونکہ محتمل ہی آخری نتیجہ کو مشخّص و معےّن کرتا ہے یعنی ممکن ہے کہ احتمال کے مواقع اور مواردمیں اگرچہ نفع یا نقصان کا احتمال بہت کم ہولیکن اگر محتمل قوی ہے تو وہ ہمارے لئے حرکت کا سبب ہوگا مثلاًاگر پانچ سال کا بچہ آپ سے کہے کہ اس سیڑھی پر جس سے آپ اوپر جارہے ہیں ایک بجلی کا تارٹوٹ گیا ہے احتیاط سے کام لیجئے گا آپکا پیر اس پرنہ پڑے، یہاں پرمسئلہ،احتمال کے اعتبار سے بہت کمزور ہے کیونکہ پانچ سال کا بچہ کیسے بجلی کے تار کو پہچان سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے ٹیلی فون کا تار یا رسّی تا اور کوئی دوسری چیز ہو، اسے کہاں سے معلوم کہ تارمیں بجلی ہے ؟شاید کوئی ایک تار ہے جو ایسے ہی سڑھیوں پر پڑا ہو ،خلاصہ یہ کہ یہ پانچ سال کے بچے کی بات کوئی خاص احتمال آپ کی نظر میں پیدا نہیں کرتی لیکن پھر بھی یہ مسئلہ موت اور زندگی سے متعلق ہے بجلی سے کوئی مذاق نہیں کرسکتا ، لہذااگرچہ احتمال بہت ضعیف اور کم ہے لیکن محتمل بہت قوی ہے، آپ سیڑھی سے اوپر جانے میں بہت محتاط اور ہوشیار رہیں گے، اگر تار مل جائے تو بہت ہی احتیاط کے ساتھ اس سے بچ کر وہاں سے گذریں گے ۔
ہماری بحث میں بھی محتمل بہت مضبوط اور قوی ہے یہ مسئلہ موت اور زندگی سے بھی بڑھ کر ہے، مسئلہ عذاب اورجہنم میں ہمیشہ رہنے کا ہے وہ عذاب اور جہنم جس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے اگر اسی آگ اور جہنم کو نرم وآسان زبان، دردمند احساس اور مخلصانہ اندازکے ساتھ بیان کیا جائے تو اس بات کا احتمال زیادہ ہے کہ میری بات کو سنیں گے بلکہ اس سے متا ثر بھی ہوں گے۔
انسان کے شخصی اور خصوصی افعال کے سلسلے میں اسلام کا طرزعمل
لیکن اگر دعوت وتبلیغ کے مرحلہ سے آگے بڑھ کر قوم ،معاشرہ اور عوام کے عمل نیز معاشرہ پر اس کے اثر کے متعلق بحث ہوتو بات جدا ہوگی اور مسئلہ یہاں پر فرق کرتا ہے ،کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک پوشیدہ کام ہے اور اس کا فائدہ یا نقصان پوری طرح سے ایک خاص شخص سے مربوط ہے اور اس کا اثر سماج اورمعاشرہ پر کچھ بھی نہیں ہے مثلاً ایک انسان نماز شب پڑھنے کے لئے آدھی رات کو بستر سے اٹھتا ہے اور بغیر کسی کو اطلاع دئیے ہوئے نمازمیں مشغول ہو جاتاہے، یا العیاذ باللہ ایک بوتل شراب نکال کر گھر کے کسی گوشہ میں چھپ کرپینا شروع کر دیتاہے، ان جیسے موارد میں جاذبہ سے استفادہ کرنابہت اچھا ہے یعنی اس کے لئے نماز شب کے فوائد کو بیان کیا جائے تا کہ اس کے اندر حوصلہ اور جذبہ پیدا ہو اور وہ نماز شب پڑھے ، یامخلصانہ اور دوستانہ طریقے نیز اچھے اور نرم لہجے میں شراب کے نقصانات کو اس کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ وہ اس برے کام سے باز آجائے ،لیکن اسلام میں ایسے مسائل ( جو کہ پوری طرح ایک خاص فرد سے مربوط ہوں ) میں طاقت و قوت اور سختی و عناد کے ساتھ منع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ،یہاں تک کہ اگر آپ کسی شخص کے ایسے کام سے مطلع ہوتے ہیں تو آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ اس بات کو اس کے سامنے بیان کریں اور کہیں کہ ہاں میں نے تم کو یہ برا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر کیسے صحیح ہے کہ آپ اس کے غلط کام کو دوسرے کے سامنے بیان کریں ؟
یہ مومن کا راز ہے اس کو چھپانا چاہئے اور کوئی بھی اس کو ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی انسان تنہائی میں گناہ کرنے میں مصروف تھا اور آپ نے اس کو دیکھ لیا اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس سے یہ کہیں کہ میں نے تم کو یہ برا کام کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے تو ممکن ہے آپ کا یہی کہنا اس بات کا سبب ہو کہ وہ فکر کرے اب تو میرا گناہ عام ہو ہی چکا ہے چھپا کر کروں یا ظاہری طور،پراب کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ،اس کے بعد کھل کر گناہ کروں گاکیونکہ گناہ تو ظاہر ہو چکا ہے لہذٰا ایسے گناہ کو ظاہرکرنااسلام کی نظر میں جائز نہیں ہے ؛پھر کیا حق بنتا ہے کہ جبری اور قہری طور پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ؟ہا ںاگر ایک ایسے بالواسطہ طور پر کہ وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ آپ اس کے برے کام سے واقف ہو گئے ہیں تو ایسی جگہ پر ممکن ہے اس کو نصیحت کی جائے، تا کہ وہ اس برے کام سے باز آجائے، توپھر ایسا کرناصحیح ہے۔
اجتماعی افعال کے ساتھ اسلام کا برتائو
بہت سے اعمال ایسے پائے جاتے ہیں کہ اس کا نفع یا نقصان ایک شخص سے کر پورے معاشرہ پر پڑتا ہے البتہ یہ تاثیر کبھی بلا واسطہ (ڈائریکٹ)ہوتی ہے اور کبھی بالواسطہ ہوتی ہے،بلا واسطہ تاثیر اس طرح کہ مثلاً کسی کو مارا پیٹا جا رہا ہو یا اس پر ظلم ہو رہا ہو؛ معاشرہ پر لوگوں کے عمل کی بالواسطہ تاثیر کے مصداق اور اس کے دائرہ کے متعلق اختلاف رائے کا ہونا ممکن ہے لیکن جو چیز مسلّم ہے اور اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے وہ یہ کہ اگر چہ اس عمل کا اثر ظاہراً بعض جگہوں پرمعاشرہ کے تمام افراد پر نہ پڑتا ہو لیکن غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے مثلاً برے کام کو اگر کوئی لوگوں کے سامنے انجام دے، تو یہ ایک بالواسطہ طور پر سکھانے کا طریقہ ہے اور یہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ دھیرے دھیرے اس کا برا ہونا ختم ہو جاتا ہے، اگر ماں اور باپ بچوں کے سامنے جھوٹ بولیں تو گویا یہ بالواسطہ طور پر ان کو سکھاتے ہیں کہ جھوٹ بولنا کوئی قباحت نہیں رکھتا ہے اسی بالواسطہ تاثیر کی وجہ سے( جوکہ معاشرہ پر پڑتی ہے) اسلام نے تجاہر بہ فسق یعنی علی الاعلان گناہ کرنے کو منع کیا ہے اور بعض افعال کے متعلق یہ کہا ہے کہ اسکو علانیہ لوگوں کے سامنے انجام نہیں دے سکتے؛ یعنی اگر ایسے اعمال کو کسی نے تنہائی مین چھپ کر انجام دیا ہے تو صرف گناہ کیا ہے؛ لیکن حقوقی طور پراس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے اور حکومت اسلامی بھی اسکو کچھ کہنے والی نہیں ہے؛ لیکن اگر اسی عمل کو وہ لوگوں کے سامنے کھل کر انجام دیتا ہے تو وہ مجرم شمار کیا جائیگا اور اسکو سزا ہو گی ۔
بہر حال وہ اعمال جو کہ اجتماعی تاثیر رکھتے ہیں اور انکے انجام دینے سے لوگوں کے حقوق پر تجاوز ہوتا ہے انکی نسبت اگر انکی تاثیر بلا واسطہ ہوتی ہے تو اس صورت میں دنیا کے تمام عقلاء کہتے ہیں کہ ایک اجتماعی قوت یعنی حکومت تا کہ ان غلط کاموں کو جن کو دوسرے کے حقوق پر تجاوز کہا جاتا ہے، روک سکے ،یہ مطلب اسلام اور دین الہیٰ سے مخصوص نہیں ہے۔ ان موارد کے علاوہ اگر کسی جگہ کوئی عمل سماج کے لئے معنوی ضرر کا باعث ہو تو اسلام نے حکومت کو اجازت دی ہے بلکہ اس کو مکلف کیا ہے کہ اس میں دخل دے اور اس کام کو روکے؛ اور اسلام کا یہ کام ایک بنیادی اور جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے بر خلاف دوسرے نظاموں جو کہ ڈموکراسی اورلیبرل نظام پر قائم ہیں جمہوری اور لیبرل نظام حکومت میں مثلاً اگر کوئی نیم عریاں یا نا مناسب لباس پہن کر سڑک پر آتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس انسان کی خاص رفتارہے اور اس کا ذاتی معاملہ ہے اوراس کو کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا ، اس میں وہ پوری طرح سے آزاد ہے ؛لیکن اسلام نے اس عمل سے منع کیا ہے اس نے کہا کہ یہ عمل معنوی و تربیتی اعتبار سے تباہ کن اثرات کا حامل ہے ،اگر کوئی شخص ایسے عمل انجام دیتا ہے تو اسلام نے اس کو خطا کار کہا ہے اور اس کے ساتھ مجرم کے عنوان سے سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ۔
جزائی اورکیفری قوانین، اجتماعی نظم قائم کرنے کا سبب
وہ اعمال جو کہ اجتماعی خرابیاں رکھتے ہیں اور دوسروںکے حقوق کی پامالی کا سبب بنتے ہیں ان کو ہر حالت میں روکا جانا چاہئے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ظاہر سی بات یہ ہے کہ حکومت ان کاموں کو انجام دینے کے لئے قانون بنانے کی محتاج ہے وہ قوانین جو کہ ایک معاشرہ اور سماج میں ہوتے ہیں ، ا ن کی دو قسم ہے: (۱) مدنی قانون (۲) جزائی قانون
مدنی قانون (مدنی حقوق )
لوگوں کے حقوق اور ان کی آزادیوں کو بیان کرتا ہے جیسے تجارت،شادی بیاہ،طلاق،میراث اور ان جیسے قانون ۔
جزائی قانون(کیفری قانون)
اس حکم کو بیان کرتا ہے جو مدنی قانون کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتا ہے یعنی جب مدنی قانون نے لوگوں کی آزادی اور حقوق کو بیان کر دیا ؛اگر کوئی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو جزائی قانون اس کی سزا کو بیان کرتا ہے اور تمام حکومتوں کا ایک اہم قا نون یہی جزائی قانون ہے ؛حکومت اس قانون کو بناتی ہے اور اس کو لاگو بھی کرتی ہے؛ اس کی اصل وجہ اجتماعی نظم کو برقرار رکھنا اور اس کو جاری رکھنا ہے اور وہ سب اسی جزائی قانون سے مربوط ہے؛ اگر حکومت صرف مدنی قانون کے بنانے پر اکتفا کرے اور صرف لوگوں کے حقوق کو بیان کرے اور جب لوگ اس قانون کی خلاف ورزی کریں،ان کے لئے کوئی قانون نہ ہو تو ہم بہت سے مواقع اس مدنی قانون کی مخالفت اور خلاف ورزی کا مشاہدہ کریں گے ۔ہم خود اپنی آنکھوں سے اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ اگرراہنما پولیس وغیرہ اور جرما نہ نہ ہو تو بہت کم ہی لوگ لال بتیّ،ممنوعہ جگہ پر گاڑیوںکا پارک کرنا ، یک طرفہ راستے سے نہ گذرنا ان سب قوانین کی رعایت کوئی بھی نہیں کرے گا، جو چیز چوروں اور قاتلوںکو ان کے کام سے خوف زدہ کرتی ہے زندان اور قتل کا ڈر ہے اگر یہ ڈر نہ ہو تو لوگوں کے مال و دولت کو آرام سے لوٹ لیں اور ان لوگوں کو قتل کردیں ،بس اسی وجہ سے حکومتوں کا ایک سب سے اہم اور بنیادی کام جزائی قانون کا بنانا اور اس کو جاری کرنا ہے اس قانون کے بغیر اجتماعی نظم اور حکومت کا نظم و نسق کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔
دافعہ، جزائی قوانین کی فطری ماہیت ہے
یہ فطری بات ہے کہ جزائی قانون کے لاگو ہونے کے لئے دافعہ کا ہونا ضروری ہے ؛کیونکہ کوئی بھی قید،کوڑے اور جرمانے سے خوش نہیں ہوتا ہے اور یہ سب کام سخت اور درشت ہیں چاہے یہ سب مسکراہٹ اور کشادہ روئی کے ساتھ انجام دیئے جائیں؛ اگر کوئی انسان غلط کام کئے ہو اس سے بہت ہی ادب اور مسکراہٹ کے ساتھ کہا جائے مہربانی کرکے پندرہ سال اس قید خانہ میں محبوس ہوجایئے؛ یا یہ کہیں کہ ذرا مہربانی کرکے اپنے جسم سے کپڑے کو ہٹایئے تاکہ اس جسم پر سو کوڑے لگائے جائیں، یا یہ کہا جائے مہربانی کر کے اپنی گردن کو آگے بڑھائیے تا کہ اس کو کاٹا جائے تویہ مسکراہٹ اور احترام کسی چیز کو نہیں بدلے گا اور جن کاموں میں ذاتی طور پر خشونت اور نفرت موجود ہے ان کے اثر کو نہیں بدلے گا ؛کس کو یہ آرزو ہے کہ پندرہ سال بیوی،بچے اور دوستوں سے دور قید خانوں میں جاکر زندگی بسر کرے؟ اگر ایک پولیس افسربہت ہی اچھے اخلاق،نہایت ادب اور عزت و احترام کے ساتھ ہم کو صرف لال بتی سے گذرنے کی وجہ سے نا قابل معافی پانچ ہزارروپئے کا جر مانہ کر دے تو ہم اس بات پر ناخوش ہوتے ہیں ؛ اگر چہ ہم زبان سے کچھ نہ کہیں لیکن دل ہی دل میں ضرور اس کو برا بھلا کہیں گے اب اگرجرمانہ پانچ لاکھ روپئے ہو یا قید خانہ کی سزا ،کوڑے اور جسمی اذیت کے ساتھ ہو تو ایسی جگہوں پر دافعہ کا پایا جانا لازمی ہے؛ بہر حال کوئی بھی انسان جزائی قوانین میں خشونت اور ذاتی دافعہ کا انکارنہیں کر سکتا ہے اور جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی عرض کیا ان جیسے قوانین کے بغیر حکومت کا ہونا بھی ناممکن ہے؛ لہذٰاساری حکومتیں لازمی اورفطری طور پر دافعہ اور خشونت رکھتی ہیں ۔
البتہ ممکن ہے یہ کہا جائے کہ عرف عام میں خشونت کا اطلاق اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں جسمانی اذیت اور تکلیف ہو مثلاً کسی کا ہاتھ کاٹا جائے؛ یا کسی کو مارا جائے لیکن پھر بھی ہر حال میں جہاں جرمانہ، قید خانہ اور اس جیسی سزائیں ہیں ،اگروہاں خشونت کا اطلاق نہ ہوتا ہو تو کم سے کم تھوڑا بہت دافعہ ضرورپایا جاتا ہے اور اکثر لوگ اپنے متعلق اس طرح کی سزائوں سے راضی اور خوش نہیں ہوتے ہیں ؛ لہذٰا حکومت، جزائی قانون کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جزائی قوانین ہمیشہ خشونت اور دافعہ کا پہلواپنے دامن میں رکھتے ہیں ۔ اور حکومت بغیر دافعہ کی طاقت کے ،صرف قوت جاذبہ رکھتی ہو ایسا نہیں ہو سکتا ہے اور بغیر اس کے حکومت بیکار ہے، کیونکہ حکومت کا ایک اصلی اور اہم مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی انسان قانون کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو اس کو زبر دستی اس کام کے لئے مجبور کیا جائے، تاکہ وہ قانون پر عمل کرے؛ البتہ یہ زبر دستی اور سختی بہت سے مراحل اور مراتب رکھتی ہے کبھی جر مانہ ہے ،کبھی قید خانہ، کبھی جلا وطنی اور کبھی کو ڑے مارنا ہے اور سب سے آخری حد قتل اور پھانسی ہے۔
عمل کے شخصی اور اجتماعی پہلو کے درمیان فرق پر توجہ
اس بنا پر دافعہ اس جگہ فائدہ مند ہے جہاں پر اجتماعی قوانین کی مخالفت پیش آتی ہو اور جب تک کوئی برا کام شخصی، فردی اورخصوصی پہلورکھتا ہو اور اس میں کوئی بھی اجتماعی پہلو نہ پایا جاتا ہو، حکومت کو سزا دینے یا دافعہ کا کوئی حق حاصل نہیں ہے؛ البتہ اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی شخص اکیلے میں گناہ انجام دے رہا ہے اور وہ یہ چاہتا ہو کہ کوئی بھی اس کے گناہ سے واقف نہ ہو اوریہ حقوق مدنی قانون کے اعتبار سے بھی مجرم ہے اگر کسی صورت سے یہ گناہ قاضی کے نزدیک عدالت میں ثابت ہو جائے تواس انسان پر اسلامی دستور کے مطابق سزا اور حد جاری ہوگی ؛اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ اس نے یہ گناہ تنہائی میں انجام دیا ہے اور اس نے اس بات کی کوشش کی کہ کوئی اس کے گناہ سے مطلع نہ ہو؛ لیکن چونکہ کسی طریقے سے لوگ اس کے اس گناہ سے واقف ہو گئے ہیں اور یہ بات عام ہو گئی ہے اور اس صورت میں اس گناہ نے اجتماعی رخ اختیار کر لیا ہے تواس لحاظ سے کہ ممکن ہے اس کے اجتماعی اثرات تباہ کن ہوں،اس وجہ سے اس پر سزا ہوگی ؛یہاں تک کہ اگر ایک انسان بھی اس کے اس غلط کام سے واقف ہوگیا ،اس وقت بھی اس پر( اشاعہ فاحشہ )برے عمل کو پھیلانے کا عنوان صدق کر رہا ہے جوکہ اسلامی قانون کے مطابق حرام اور ممنوع ہے ؛ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے( ان الّذین یحبّون ان تشیع الفاحشة فی الّذین آمنوا لهم عذاب الیم فی الدّنیا والآخرة'' ) ( ۱ ) جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں کے درمیان برے کام کو پھیلائیں ؛ان کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہوں پر سخت دردناک عذاب ہے ۔
____________________
(۱) سورہ نور : آیہ ۱۹۔
غیراسلامی ممالک اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ اسلام کابرتائو
وہ لوگ جو کہ اسلامی ممالک اور اس کی حدوں سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے متعلق جاذبہ اور دافعہ کا کیا حکم ہے، یہ ایک تفصیلی اور تفصیلی بحث ہے جس کے لئے بہت زیادہ وقت چاہئے؛ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، چونکہ آئیندہ جلسے سے ایک نئی بحث شروع کرنے کا ارادہ ہے، لہذٰا اس بحث کو مکمل کرنے کے لئے یہاں پر مختصر طور پر] جو اس بحث سے مربوط ہے[ اس کو پیش کیا جا رہا ہے۔
جو لوگ اسلامی مملکت کے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں وہ دو حال سے خالی نہیں ہیں ؛ یا وہ لوگ ہیں جو کہ اسلام کے خلاف سازش اور تخریب کرتے ہیں اور اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کی چال چلتے رہتے ہیں ؛یا ایسے نہیں ہیں ؛دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ایسے لوگ ہیں جو کہ اسلامی ممالک اور وہاںکے لوگوں سے دشمنی رکھتے ہیں اور ان کے لئے اذیت کا سبب بنتے ہیں یا ایسے لوگ نہیں ہیں ۔ اگر باہری ممالک کے لوگ مسلمانوں کی اذیت اور ان کو کمزور اورنابودکرنے ارادہ نہ رکھتے ہوں تو اس صورت میں مسلمان ان کے خلاف کو ئی بھی تجاوز کا حق نہیں رکھتے ہیں
اور مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے ساتھ عدل و احسان کا برتائو رکھیں ،قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:( لا ینهاکم اللّه عن الّذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبرّوهم و تقسطوا الیهم'' ) ( ۱ ) وہ تمھیں ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو ، جب تک وہ لوگ تم سے دشمنی اختیار نہ کریں اور تمھارے خلاف سازش نہ رچیں؛ تم کو چاہئے کہ ان کے ساتھ احسان کرو ؛یہاں تک کہ اپنے ملک میں رہنے والے افراد سے بھی زیادہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، تا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوں۔ ان جگہوں میں جہاں زکواة خرچ کی جاسکتی ہے ان میں ایک وہ جگہ بھی ہے کہ اصطلاح میں جس کومولّفة القلوبکہا جاتا ہے یعنی وہ کفار جو کہ اسلامی ملک کے اطراف میں رہتے ہیں ؛ صرف اس لئے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں اور اسلام کی دوستی اور محبت داخل ہو زکواة کے مد سے ان کو ہدیہ وغیرہ دیاجائے لہذٰا کفار کے اس گروہ کی بہ نسبت نہ صرف یہ کہ خشونت اور دافعہ نہ رکھنے کا حکم ہے؛ بلکہ انکے متعلق جاذبہ بھی اختیار کرنا چاہئے۔
لیکن وہ لوگ جو کہ مسلمان اور اسلام کے خلاف دشمنی اور سازش اختیار کرتے ہیں ؛ ان کے ساتھ تو خدا وند عالم نے فیصلہ کن انداز اختیار کرنے کا حکم دیا ہے،
____________________
(۱) سورہ ممتحنہ: آیہ ۸۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:( انّما ینهاکم الله عن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاهروا علیٰ اخراجکم ان تولوهم ) ( ۱ ) وہ تمھیں صرف ان لوگوںکی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین میں جنگ کی ہے اور تمھیں وطن سے نکال باہر کیا ہے اور تمھارے نکالنے پر دشمنوں سے مدد کی ہے۔
پہلے گروہ کے لئے جاذبہ رکھو، لیکن یہ گروہ کہ جو اسلام اور مسلمان کے دشمن ہیں ان کے ساتھ پوری طرح سے دافعہ رکھو، ان کی زندگی کو قید کیے رہو اور ان کوہلنے کی مہلت نہ دو اس بات کی پھر تاکید کروں گا کہ دافعہ کا سہارا فقط ان کے لئے استعمال کر لینا چاہئے جو لوگ کھلے طور اور عام طریقے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرتے ہیں اور اس گروہ کے علاوہ کسی کے متعلق ایسا حکم نہیں ہے؛ یہاں تک کہ قران میں حکم ہے کہ جنگ کا عالم ہو اور کفار کا لشکر ایک طرف اور مسلمانوں کا لشکردوسری جانب اوراگرجنگ بھی ہو رہی ہو؛ اگر مشرکین میں سے کوئی ایک شخص سفید پرچم اٹھائے]جو کہ صلح اور جنگ بندی کی نشانی ہے [ یا کسی طرح بھی آپ تک پیغام پہونچائے کہ میں ایک علمی سوال کرنا چاہتا ہوں اور یہ بات میرے نزدیک ظاہر نہیں ہو پارہی ہے کہ اسلام حق ہے یا نہیں اور میری آپ سے جنگ حق اور صحیح ہے یا غلط ہے ؟اسلام یہاں پر کہتا ہے مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ اس شخص کوحفاظت کے ساتھ اسلامی کیمپ میں لایا
____________________
(۱) سورہ ممتحنہ: آیہ ۹۔
جائے، اور وہاں بیٹھا کر اس کے سوال کا جواب دیا جائے اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ دلیل وبرہان سے اس کو مطمئن کیا جائے اور اس کے بعدبھی اگر وہ واپس ہونا چاہے تو اس کو اسی طرح پوری حفاظت کے ساتھ بغیر کسی اذیت کے اس کی پہلی جگہ جو کہ اسلامی لشکر کی پہونچ سے باہر ہو وہاں تک پہونچا دیا جائے؛ پھراگر وہاں اس نے جنگ کا ارادہ کیا تواس کے ساتھ جنگ کی جائے؛ ورنہ اس کوچھوڑ دیں اور وہ جہاں جانا چاہے وہاں چلا جائے، قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے( و ان احد من المشرکین استجارک فا جره حتیٰ یسمع کلام الله ثم ّابلغه ما منه ) ( ۱ ) اگر مشرکوں میں سے کوئی تم سے پناہ کا طلب گار ہوتو اس کو پناہ دے دو تا کہ وہ خدا کے کلام کو سنے؛پھر اس کے بعد اس کو امن کی جگہ پر واپس کردو ۔آپ دنیا کے کسی حقوقی نظام میں ایسی چیزوں کا سراغ اور نشان رکھتے ہیں ؟اسلام یہ کہتا ہے مسلمان طالب علم تو اپنی جگہ اگر کوئی دشمن کافر کہ جس کے ہاتھ میں تلوارہے اور وہ تم سے جنگ کر رہا ہے اوراسی جنگ کی حالت میں وہ تم سے کوئی سوال کرنا چاہتا ہے تو اسلام کا حکم یہ ہے کہ تم اس کا جواب دو ۔ہم ایسے مکتب و مذہب کے پیرو ہیں ۔کون کہتا ہے کہ اسلام اور اس کا نظام حکومت سوالوں کے جواب نہیں دیتااور سوال کا جواب تلوار سے دیتا ہے ؟ وہ اسلام جو کہ کافر( اس حال میں بھی کہ تلوار اس کے ہاتھ میں ہو اور جنگ کاعالم ہو)
____________________
(۱) سورہ توبہ آیہ ۶.
کے ساتھ اس طرح کے سلوک کا حکم دیتا ہے وہ خودمسلمانوں کے درمیان آپس میں اس کے برخلاف کیسے دستور اور حکم دے گا؟
اسلام کی پہلی سیاست یہ ہے کہ وہ پہلے دلیل ،موعظہ اور جدال احسن کا حکم دیتا ہے ؛لیکن اگر بات دشمنی اور تخریب تک پہونچ جائے اور اس بحث کا کوئی علمی جواب نہ ہو اور وہ لوگ اسلام اور اس حکومت کے خلاف سازش میں لگے ہوں اور اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش میں لگے ہوں تو ان کے مقابلہ میں سوئی برابر بھی نہیں جھکنا چاہئے اور ان پر ذرہ برابر بھی رحم و کرم نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ان کا پوری سختی اور فیصلہ کن انداز میں سامنا کرنا چاہئے ۔
قوت دافعہ یا سختی کے استعمال کے سلسلے میں اسلام کا نظریہ
لہٰذااسلام صرف دو جگہوں پر خشونت کو اختیار کرنے اورقوت دافعہ کا سہارا لینے کا حکم دیتا ہے۔ پہلی وہ جگہ جہاں مسلمان یا غیر مسلمان اسلامی معاشرہ میں دوسرے کے حقوق غصب کررہے ہوں اور کسی بندئہ خدا پر ظلم و ستم ہوتا ہو یا کسی کے ساتھ خیانت کی جارہی ہو دوسری وہ جگہ جہاں اسلامی مملکت کے باہراسلام اور اسلامی ملکوں کے خلاف دشمنی کی جا رہی ہو۔اور سازش رچی جارہی ہو۔ البتہ ان سزائوں کی حد اور حدود کیا ہیں ،اورکتنے اور کیسے ہیں ؟ جوکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں یا دوسرے کے حقوق کو غصب کرنے والوں کے متعلق ہوتی ہیں ، عقل بہت سی جگہوں پر ان کو سمجھنے سے قاصر ہے اور یہ سزا ئیں براہ راست خود خدا وند عالم کی طرف سے اور صاحب شریعت کی طرف سے معین ہوئی ہیں ، لیکن سزا جو بھی ہو جب سزا معین ہو جائے تویہ سزا پوری سختی کیخلاف ورزی کرنے والوں کے متعلق جاری کرنا چاہئے۔ جو لوگ غلط اور برے کام انجام دیتے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( الزانية والزانی فا جلدوا کل واحد منهما مائة جلدة ولا تاخذکم بهما را فة فی دین الله ان کنتم تومنون بالله والیوم الآخر )
( ولیشهد عذابهماطائفة من المومنین' ) ( ۱ ) زنا کرنے والے مرد اور عورت کو سو سو تازیانے مارو؛ اگر تم خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو احکام الہیٰ میں ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ کرو؛ اور جس وقت ان کو یہ سزا دو تو مومنین کا گروہ گواہ کے طور پر وہاں حاضر رہے ایسا خلاف اور غلط کام کرنے والے کے ساتھ جتنی بھی سختی ممکن ہو سکے اسے انجام دیاجائے اور کوئی بھی مسلمان جو واقعی طورسے خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو ذرہ برابر بھی اس کواس خطا کار پر رحم اور مہربانی نہیں کرنی چاہئے ، اس سزاکی شدّت و سختی اس وقت اور زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ یہ کوڑے لوگوں کے سامنے مارے جائیں اور عوام ان دونوںکی سزا پر گواہ ہوں تو یہ بات فطری ہے کہ اس کڑی اور سخت سزا کے برداشت کے ساتھ ساتھ وہ بے آبرو بھی ہوجاتے ہیں لہذا ان کو اس طرح سے سزا دی جائے کہ کوئی دوسرا شخص اس طرح کے کام کی جرائت نہ کر سکے ۔
____________________
(۱) سورہ نور آیہ ۲.
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی بحث کا خلاصہ
اس حصّہ کی بحث کا نتیجہ اور خلاصہ یہ ہوا کہ اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی حدیہ ہے کہ اگر کسی کے حق پر اسلامی معاشرہ میں چاہے وہ مادی حق ہو یا معنوی ،بالواسطہ یا بلا واسطہ طریقے سے تجاوز کیا جائے یا اسلامی حکومت کی حدود سے باہر رہ کر اسلام اور اسلامی حکومت کے خلاف سازش ہو؛ تو ان دو صورتوں میں ایسا کرنے والے کے ساتھ خشونت اور سختی کرنی چاہئے ،اس کے علاوہ بقیہ جگہوں پر صرف جاذبی رخ اختیار کرنا چاہئے یا پھر نرم لہجہ اور رفتار کے ساتھ جس قدر کم سے کم امکان ہو جاذبہ کے ساتھ دافعہ کی قوت کو استعمال کرنا چاہئے ؛جس جگہ دافعہ اور خشونت کی اجازت ہے اس کی حد اور اس کے طریقہ کو بہت سی جگہوں پر خدا وند عالم نے خود براہ راست معین فرما دیا ہے یا ایک کلی قانون کو اس نے بتا دیا ہے( کہ اسی قانون کے تحت سزا دی جانی چاہئے )لہذا کسی بھی حال میں خشونت کو اختیار کرتے وقت ان حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( تلک حدود الله فلا تعتدوها ومن یتعدّ حدود الله فاو لٰئک هم الظالمون'' ) ( ۱ ) یہ احکام اللہ کے حدود ہیں
____________________
(۱) سورہ بقرہ آیہ ۲۲۹
لہذٰا اس سے تجاوز نہ کرنا اور جو لوگ اللہ کے حد ودسے آگے بڑھ جاتے ہیں وہی للوگ ظالم ہیں ۔
آخر میں ایک مرتبہ پھر پچھلے جلسے کی باتوں کو دہرائوں گا ۔اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی بحث تین شکل اور تین عنوان سے قابل تصور ہے :
(۱)اسلام کے سارے احکام اور معارف ایسے ہیں کہ دیندار افراد کے لئے صرف بعض چیزوںکے جذب کا سبب بنتے ہیں یا ایسے ہیں کہ ان کے لئے صرف بعض چیزوںکے دفع کا سبب بنتے ہیں یاان میں دونوں صورتیں ہیں ؟
(۲)اسلام کے تمام معارف مسائل ایسے ہیں کہ عام انسانوں کے لئے جاذبہ رکھتے ہیں یا ایسے ہیں کہ ان کے لئے دافعہ رکھتے ہیں ؟
(۳)اسلام مسلمانوں اورغیر مسلمانوں کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے جاذبہ رکھنے والے طریقے کا سہارا لیتا ہے یا پھردافعی روش کو استعمال کرتا ہے یا ان دونوں طریقوں کا سہارا لیتا ہے ؟جو کچھ ہم نے اس بحث میں زیادہ توجہ کا مرکز بنایا حقیقت میں وہ تیسرے سوال کا جواب تھا اور اسی تیسری قسم پر زیادہ بحث رہی اور پہلے دو سوالوں سے متعلق زیادہ بحث نہیں ہوئی ،چونکہ اور دوسرے موضوعات کی اہمیت کی بنا پر آئندہ جلسوں سے ایک نئے موضوع کو شروع کرنے کا ارادہ ہے؛ لہذٰا جاذبہ اور دافعہ کی بحث کو یہیں پر ختم کرتے ہیں ؛ بعدمیں کبھی اس بحث کو مکمل کریںگے ۔ انشاء اللہ۔
سوال اور جواب
سوال :
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ دونوں پائے جاتے ہیں اس سلسلہ میں کوئی بحث نہیں ہے لیکن لفط خشونت کے مفہوم کے بارے میں د و پہلو سے دقت کرنے کی ضرورت ہے ۔پہلے یہ کہ کیا یہ مفہوم ایک دینی اصطلاح ہے اور قرآن و حدیث میں یہ استعمال ہواہے ؟ میری نگاہ میں ایسا نہیں ہے ؛کیونکہ قرآن میں مطلق طور سے یہ لفظ استعمال نہیں ہوا ہے اور روایات میں بھی تقریباًیہ لفظ نہیں آیا ہے یعنی بہت ہی کم استعمال ہوا ہے خلاصہ یہ کہ ایسا نہیں ہے کہ قرآن و روایات کے الفاظ میں خشونت کو فضیلت کے طور پر پیش کیا گیا ہو، فارسی زبان میں بھی کلمہ خشونت اچھی نظرسے نہیں دیکھا جاتا؛اس کے مساوی جو لفظ استعمال ہوتاہے وہ بے رحمی کاہے اور یہ قاطعیت سے جدا ہے قاطعیت(قانون کی سخت پاندی) لفظ ایک اچھا عنوان رکھتا ہے لہذاخشونت کو اس کے مترادف نہیں سمجھنا چاہئے۔ ایک فوجی افسر ممکن ہے قاطع ہو اور کبھی ممکن ہے کہ بہت ہی خشن (درشت)ہو اور یہ دونوں لفظ ایک نہیں ہیں ،ممکن ہے انسان ایک جذباتی کام مثلاً چومنے کو بھی خشونت کے ساتھ انجام دے۔
دوسرا نکتہ جو لفظ خشونت سے متعلق ہے وہ یہ کہ فرضاًہم اس بات کو قبول کر بھی لیں کہ یہ اصطلاح قرآن و روایات اور اسلامی الفاظ میں استعمال ہوئی ہے اور اس کو بھی قبول کر لیں کہ خشونت کا مفہوم قاطع کے مترادف ہے اور ایک اچھا پہلو بھی رکھتا ہے لیکن حالات اور مسائل کو دیکھتے ہوئے عقل و نقل دونوں کے اعتبار سے اس لفظ کو استعمال کرنا صحیح نہیں ہے؛ لہذٰا ہم کو اس کے عوض دوسرے الفاظ کو استعمال کرنا چاہئے؛ عقلی لحاظ سے اس بنا پر کہ عقل یہ کہتی ہے کہ جس سماج اور ماحول میں آپ گفتگو اور کلام کر رہے ہیں وہاں پر خشونت کے معنی اچھے نہیں سمجھے جاتے ہیں اور اس سے بے رحمی کے معنی سمجھے جاتے ہیں ؛ اس معنی کو یہاں استعمال کرکے دافعہ کو بلا وجہ نہیں لانا چاہئے ؛جب کہ دوسرے لفظ کو ہم اسی معانی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور اس طرح آسانی سے اس مشکل کو حل کر سکتے ہیں ۔
اور نقل ]قرآن وحدیث [کے اعتبار سے اس طرح کہ قران میں ارشاد ہو رہا ہے:( یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا'' ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان لائے ہو'' راعنانہ کہو بلکہ'' انظرناکہا کرو۔ کیونکہ دشمن راعنا کہہ کے غلط معنی مراد لیتے تھے، اسی مراد کو دوسرے لفظ کے ذریعہ لے سکتے ہیں لہذٰ اانظرنا کہو تاکہ دشمن جو غلط معنی مراد لے رہا ہے اس کا سد باب کیا جا سکے ۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ خشونت کی بحث کبھی فعلی اعتبار سے حسن وقبح رکھتی ہے اور کبھی فاعلی اعتبار سے حسن و قبح رکھتی ہے مثلاًقتل کرنا یہ قتل ،ایک کام اور فعل ہے جو کہ ماہیت کے اعتبار سے خشن اور سخت ودرشت ہے ،ایک مرغے یا بھیڑ کا سر جدا
____________________
(۱) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۴۔
کرنا ماہیت کے لحاظ سے سخت اور خشن کام ہے لیکن کبھی بحث فاعل سے مربوط ہوتی ہے فاعل وہ ہے جو کہ اس مرغ یا بھیڑکا سر جدا کرنا چاہتا ہے، اب اس کام کو ممکن ہے وہ بے رحمی اور خشونت کے ساتھ انجام دے؛ یا یہی کام وہ بغیر خشونت کے انجام دے ہماری اس وقت بحث فاعلی خشونت میں ہے نہ کہ فعلی خشونت میں ؛یعنی احکام اسلامی کو جاری کرنے میں ہمیں سخت اور خشن چہرہ ظاہر نہیں کرنا چاہئے؛ ہم کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت دیکھنا چاہئے آپ عالمین کے لئے رحمت تھے اور اخلاق حسنہ رکھتے تھے آپ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز تھے لیکن پھر بھی آپ اپنی جگہ پر کفاّر اور دشمنوں کے مقابلہ میں شدّت وقاطعیت اختیار کرتے تھے ؛لیکن کبھی بھی آپ کے فعل میں خشونت کو نہیں دیکھا گیا ۔
خلاصہ ، سوال یہ ہے کہ جب لفظ خشونت تمام زبانوں میں بے رحمی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے منفی اثر پڑتا ہے تو بے وجہ ہم اس کے استعمال پر زور دیتے ہیں اور دافعہ ایجاد کرکے دشمن کے لئے غلط فائدہ اٹھانے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں ؛جب کہ اس کی جگہ پر دوسرا لفظ استعمال کر کے ہم اس مشکل کو حل کر سکتے ہیں ۔
جواب :
البتہ اس سوال کے جواب میں جو مطالب بیان کئے جائیںگے وہ اسی خشونت کے سلسلے میں جو ٹیلیویژن پر مناظرہ ہوا تھا اس میں بیان کئے جا چکے ہیں ،اور جو دوست ان مباحث کا مطالعہ کرناچاہتے ہیں وہ ہفتہ نامہ'' پرتومیں ملاحظہ کر سکتے ہیں اس میں یہ مطالب چھپ چکے ہیں ، اور یہاں پر جتنا ممکن ہے اس کی توضیح کچھ اس طرح ہے :
کبھی بحث اس میں ہے کہ یہ لفظ ہماری تہذیب اور کلچر میں کیا معنی رکھتا ہے اور کبھی بحث اس میں ہے کہ یہ لفظ مختلف عرف، سماج او رتہذیب میں کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؛ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہمارے کلچر میں خشونت کا لفظ بے رحمی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ پہلے رحم کے معنی کو واضح کریں تاکہ اس کے مقابلہ میں جو لفظ بے رحمی اور خشونت کاہے اس کے معنی و مفہوم واضح ہوجائے۔ اگر چہ ہماری تہذیب میں ممکن ہے کہ خشونت کامفہوم اکثر بے رحمی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن عرف اور دوسرے کلچر میں ایسا نہیں ہے جیسے حقوقی اور سیاسی اصطلاح میں خشونت کے معنی یہ نہیں ہیں یہ لفظ بنیادی طور پر عربی ہے عربی کی کسی لغت میں بھی کسی نے خشونت کے معنی میں بے رحمی نہیں لکھا ہے، بلکہ خشن یعنی سخت ودرشت کے معنی میں ہے خشونت یعنی سختی اوردرشتی، اس کے مقابلہ میں لےّن کالفظ استعمال ہوتا ہے جو کہ نرم کے معنی میں ہے لہذٰا عربی لغت کے مطابق خشونت رحم کے مقابل نہیں ہے تا کہ بے رحمی کے معنی میں ہو ،بلکہ یہ محکم اور سخت کے معنی میں ہے جو کہ لینہ اور نرمی کے مقابل ہے۔ البتہ عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ جب مفہوم طبیعی اور مادی علوم سے انسانی اور اجتماعی علوم کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس کے نئے مصداق ہو جاتے ہیں ، لیکن ہر حال میں پھر بھی لغوی معنی کی اصل اسی طرح باقی رہتی ہے ۔
اور جو سوال میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ لفظ اصلاً قرآن میں استعمال نہیں ہوا ہے اور روایات میں بھی بہت کم آیا ہے اور ہر حال میں قرآنی اور روائی اعتبار سے اس کے لئے کوئی فضیلیت بیان نہیں کی گئی ہے تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ اگر چہ خود قرآن میں مادہخ ش نا ور خشونت کا لفظ نہیں آیا ہے لیکن اس کے ہم معنی لفظ استعمال ہوا ہے اور ادبیات اور زبان کے دستور کے مطابق ہم اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ہم معنی اور مرادف لفظ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر سکتے ہیں ؛ لہذٰا اگرلفظ خشونت کے مترادف اگر کوئی لفظ قرآن میں آیا ہو تو یہ دعویٰ کہ قرآن میں خشونت کے مفہوم کو بیان نہیں کیا گیا ہے ،صحیح نہیں ہے؛ خشونت کے مترادف (ہم معانی )لفظ جو قرآن کریم میں آئے ہیں وہ لفظغلظت'' اوراس کا مادہ ((غ ل ظ ))ہے، سورہ توبہ میں ارشاد ہو رہا ہے :( ولیجدوا فیکم غلظة'' ) ( ۱ ) اور وہ (کفاّر ) تم میں خشونت اور غلظت کا احساس کریں، یا قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے :( یا ایها النبیّ جاهد الکفاّر والمنافقین و اغلظ علیهم و ماوٰهم جهنّم ) ( ۲ ) اے نبی !کافروں اور منافقوںسے جہاد کیجئے اور ان کے لئے سخت رویہ اپنائیے اور ان لوگوں کی جگہ جہنم ہے ۔ یہ آیہ قرآن مجید میں دو بار، سورہ توبہ اور سورہ تحریم میں آئی ہے۔ یا دوسری جگہ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے :( فبما رحمة من الله لنت لهم ولو کنت فظّاً غلیظ القلب لانفضّوا من حولک ) ( ۳ ) اے پیغمبر! یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان( ۱ ) سورہ توبہ :آیہ۱۲۳۔
____________________
(۲)سورہ تحریم :آیہ ۹۔
(۳)سورہ آل عمران :آیہ ۱۵۹۔
لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تویہ تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔
اور پھریا اسی قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے :( علیها ملائکة غلاظ شداد ) ( ۱ ) یعنی اس (جہنم کی آگ )پر سخت اور خشن فرشتے معین ہیں ؛پورے طور سے (غ ل ظ )کامادہ ۱۳ بار قران میں استعمال ہوا ہے اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا غلظت اور خشونت مترادف یعنی ہم معنی ہیں اور پورے طور پرایک معنی رکھتے ہیں اور جب لفظ غلظت قران مجید میں استعمال ہوا ہے تو یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خشونت کا مفہوم قرآن میں نہیں آیا ہے؛ اسی طرح ایک جگہ پر رحم کا مفہوم شدّت کے مفہوم کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :محمد( رسول الله والذین معه اشدّاء علی الکفّار رحماء بینهم'' ) ( ۲ ) محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں مہربان اور رحم دل ہیں ۔
روایات میں بھی خشن لفظ استعمال ہوا ہے اور کئی جگہوں پر فضیلت کے طور پر استعمال ہوا ہے مثلاً حضرت علی کے بارے میں ہے کہ آپ اللہ کی ذات میں یعنی اس کے حقوق ادا کرنے میں خشن تھےخشن فی ذات الله'' ( ۳ ) اس اعتبار سے لغت ، آیت اور روایات سے یہ بات واضح ہوجا تی ہے کہ سوال میں جس چیز کا دعویٰ کیا گیا
____________________
(۱) سورہ تحریم :آیہ ۶۔
(۲) سورہ فتح :آیہ ۲۹۔
(۳) بحار الانوار :جلد ۲۱ ،روایت دہم ،باب ۳۶۔
ہے وہ صحیح نہیں ہے لیکن پھر بھی لغوی بحث اور استعمال کے موارد سے صرف نظر کرتے ہوئے
یہ سوال کہ خشونت کے معنی بے رحمی ہیں یا نہیں ؟ میں آپ سے سوال کروں گا :جیسا کہ اسلام کے جزائی قانون میں ہے ؛اگر کوئی کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے اور اس کے بدلے اس کا داہنا ہاتھ قطع کیا جائے ،اور اس کے بائیں پیر کو بھی کاٹا جائے اور برادری سے اس کا بائیکاٹ بھی کیا جائے اور کوئی اس کا احترام نہ کرے ، یہ بے رحمی ہے یا رحم ؟یا اگر جیسا کہ اسلام کے جزائی قا نون میں ہے ،آگ روشن کرکے کسی کو سزا کے طور پر اس آگ میں ڈالا جائے اور اس کو اس میں جلایا جائے، یا اس کے ہاتھ اور پیر کو باندھ کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیاجائے ؛یا ایک دینار طلا کے برابر چوری کے سبب کسی کی چار انگلیاں کاٹی جائیں؛ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام رحم ہے یا بے رحمی ہے ؟
سوال میں فعلی اور فاعلی خشونت اور فعلی اور فاعلی حسن و قبح میں تفریق وتفکیک کی گئی ہے اور اسی طرح قاطعیت اور خشونت میں فرق کو قبول کیا گیا ہے، لیکن مثلاً اگر کوئی لال بتّی جلنے کے بعدعبورکرے اور پولیس اس کو گرفتار کرلے اور سلام و احوال پرسی کے بعدمسکراتے ہوئے ادب کے ساتھ اس سے کہے کہ آپ نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے لہذٰا پانچ ہزار روپئے آپ پر جرمانہ کیا جاتا ہے ،یہاں پر قاطعیت ہے خشونت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، لیکن بحث اس میں ہے کہ جس خشونت کے ہم اسلام میں قائل ہیں وہ صرف قاطعیت نہیں ہے؛ بعض اعمال ماہیت کے اعتبار سے خشن ہیں اور ان کو قاطعیت کے ساتھ انجام دینے میں ہمیشہ ایک طرح کی خشونت پائی جاتی ہے ؛ جس وقت جلّادشمشیر اور تلوار کے ساتھ آتا ہے اور کسی کا سر جدا کرتا ہے اور خون کا فوّارہ جاری ہوتا ہے ، اس کام کی ماہیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ اس کو ہنسی خوشی اور کشادہ روئی کے ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا ؛یہ منظر ہی ایسا ہے کہ بہت سے لوگ اس کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے؛ اور اس منظر کو دیکھنے سے ہی ان کے چہرہ کا رنگ اڑ جاتا ہے،ہنسنا ،مسکرانا بھول جاتے ہیں یہاں تک کی بعض لوگ اس کو دیکھ کر بیہوش ہو جاتے ہیں ، اس وقت یہ کہنا کیسے ممکن ہے کہ خود اس کام کو انجام دینے والا صرف قاطعیت کے ساتھ لیکن مسکراہٹ اور مہربانی سے اس کو انجام دے ؟یہ فعل ہی در حقیقت خشن ہے اور جو شخص یہ انجام دیتا ہے وہ فطری طور پرخشن اور خشونت کا طرفدار شمار کیا جاتا ہے اور ان جگہوں پر فعلی اور فاعلی خشونت میں فرق پیدا کرنا نا ممکن ہے۔
اس کے علاوہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں اس کا مورد اور مقام خشونت فاعلی نہیں ہے ( یعنی یہ بحث کام کرنے والے کی خشونت سے متعلق نہیں ہے )بلکہ ان کا اعتراض خشونت فعلی سے متعلق ہے ؛وہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کام تم لوگ انجام دیتے ہو وہ کام خشن ہے اور اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہم اس کام کو ہنسی خوشی اور کشادہ روئی کے ساتھ انجام دیں تو بھی مشکل حل نہیں ہونے والی ہے ؛بحث قاطعیت میں اور خشن نہ ہونے میں نہیں ہے بلکہ سارے اعتراضات انھیں مجازات اور سزائوں پر ہیں ۔اصل میں یہ سارے مطالب عالمی انسانی حقوق کے بیانیہ کی طرف پلٹتے ہیں ؛وہ حقوق جو عالمی انسانی حقوق کے منشور میں ہے اس کا ایک بند یہ ہے کہ جتنی سزائیں بھی خشونت کا سبب بنتی ہیں ان سب کو ختم ہونا چاہئے۔ ان سزائوں میں سب سے واضح او رظاہر ی سزا جو ہے اور اس پر بہت زیادہ تاکید ہو رہی ہے قتل اور پھانسی کی سزا ہے اور اس جیسی سزائیں مثلاًہاتھ کاٹنا ،کوڑے مارنا اور دوسری سزائیں جو کہ جسمانی تکلیف کے ساتھ ہوں؛ آج جب انسانی حقوق کی گفتگو ہوتی ہے اور دنیا کے ممالک خاص طور پران کا سرغنہ امریکہ ہم مسلمانوں پر انسانی حقوق پامال کرنے کا الزام لگاتے ہیں ؛ ان لوگوں کا اعتراض یہ نہیں ہے کہ مجرموں کو پھانسی دیتے وقت یا ان کو کوڑا مارتے وقت مسکراتے کیوں نہیں اور سختی کیوں کرتے ہو ،بلکہ بات اصل میں ایسی سزائوں کے وجودکے بارے میں ہے کہ ایسی سزائیں کیوں پائی جاتی ہیں ؟وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ سزائیں اصل میں اس وقت تھیں جب انسان تمدن اور کلچر نہیں رکھتا تھا؛ لوگ ہمیشہ جنگ کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو قتل و غارت کرنے میں مشغول رہتے تھے؛ لیکن آج انسان تمدن یافتہ ہو چکا ہے اور سب کے سب با ادب ہیں ؛ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور فرض کیجئے اگر کسی شہر پر ایٹمی بم بھی گرائیں تو بہت ہی باادب خاموشی کے ساتھ بغیر شور و غل کے وہ لوگ اتٹمی بم گراتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں !! آج کے دور میں ،یہ خشونت آمیز سزائیں پھانسی اور کوڑے وغیرہ نہیں ہونے چاہئیں، اس طرح کی تبلیغات کی ہوا اتنی مضبوط اور موثر ہے کہ افسوس صد افسوس، بعض وہ لوگ جو کہ روحانی (مولانا )ہیں اور سر پر عمامہ بھی رکھتے ہیں وہ بھی اس سے متائثرہو جاتے ہیں اور واضح طور پر اخبارات میں لکھتے ہیں کہ ایسی سزائیں جو کہ انسانیت کے خلاف اور خشونت آمیز ہیں ان کو ختم ہونا چاہئے؛ البتہ یہ اظہار کوئی نئی بات نہیں ہے، انقلاب کے شروع میں بھی ہم کو یاد ہے جبہہ ملّی کے جو حقوق دان تھے انھوںنے بیانیہ دیا تھا کہ اسلامی قصاص کے قانون خشونت آمیز اور انسانیت کے خلاف ہیں اور ان کو ختم ہونا چاہئے، ان دنوں حضرت امام خمینی ان باتوں کے مقابلہ میں سختی کے ساتھ کھڑے ہوئے اور آپ نے ان کے مرتد ہونے کا حکم دیا، اور امام خمینی کے فتوے سے وہ اتنا خوف زدہ ہو گئے کہ وہ سالوں اپنے سوراخوں میں چھپے رہے؛ لیکن آج پھر یہ پست اور جسارت سے مملو باتیں اٹھائی جارہی ہیں اور کھلے عام عمومی جگہوں اور اخبارات میں پیش کی جاری ہیں ۔
لہذٰ ا بات اس کام کو انجام دینے والے (فاعل )سے مربوط نہیں ہے کہ کیوں وہ مسکراتا نہیں اور با ادب نہیں ہے بلکہ اعتراض ان سزائوں پر ہے کہ یہ ا نسانیت کے خلاف اور خشونت آمیز ہیں ،سوال یہ ہے کہ یہ سزائیں جن کووہ لوگ خشونت آمیز جانتے ہیں ،ا ن کو ہونا چاہئے یا نہیں ہونا چاہئے ؟ وہ لوگ کہتے ہیں کہ خشونت نہیں ہونا چاہئے ان کی مرا د خشونت سے یہی پھانسی، قتل ،قصاص اورکوڑے وغیرہ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ان کی باتوں کو غلط ثابت کریں ، لہذا ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا ہے کہ ہم اسی لفظ کو استعمال کریںاور کہیں کہ ہماری نظرمیں خشونت کو ہونا چاہئے؛ البتہ ہماری مراد خشونت سے پھانسی ،قتل ، قصاص و تازیانہ مارنے کا حکم ہے ۔ہم کو اس بات پر کوئی ضد نہیں ہے کہ ہم لفظ خشونت کو درمیان میں لائیں؛ لیکن چونکہ انسانی حقوق کے بیانیہ اور منشور میں ایسا آیا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ حقوق انسانی کے بیانیہ کی رد کریں اور اس کو غلط ثابت کریں اور اس کے مقابل کھڑے ہو جائیں؛ اس لئے مجبوراً ہم لفظ خشونت کو استعمال کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ باتیں جو تآپ کی نگاہ میں خشونت آمیز ہیں ان کا ہونا ضروری ہے؛ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ واضح طور سے قران میں بیان ہوا ہے اور اس پر قرآن کی نص اور دلیل موجود ہے اور ہم ، العیاذ با اللہ ، قرآن کا انکار کریں یا عالمی انسانی حقوق کے بیانیہ کا ، اور ایک مسلمان واقعاًکبھی بھی انسانی حقوق کے بیانیہ کی خاطر قرآن کی مذمت نہیں کر سکتا اور قرآن کوچھوڑ نہیں سکتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:( الزانية والزانی ) ..۔''( ۱ ) ہر زنا کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت اس کو سو کوڑے لگائواور اگر تم لوگ خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اس خدا کے کام میں ان دونوں کی نسبت کوئی رحم اور دل سوزی نہ کرو ۔اس آیہ کے واضح اعلان کے بعد اگر کوئی خدا اور قیامت پر حقیقی ایمان رکھتا ہے تو اس کو ان دونوں زنا کرنے والوں کی نسبت جنھوں نے زنا جیسے برے فعل کو انجام دیا ہے تھوڑا سا بھی رحم نہیں ہونا چاہئے؛ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب رحم نہیں
____________________
(۱)سورہ نور : آیہ ۲۔
ہوگا توبے رحمی پائی جائے گی ۔قرآن میں ارشاد ہو رہا ہے مومن وہ ہے جو ایسی جگہوں پر رحم نہ کرتا ہو؛ البتہ ایسی بے رحمی نہیں جو کہ ظالمانہ بے رحمی کہی جائے ۔بہر حال مسلمان یا قران کی اس آیت کو قبول کرتے ہوئے اس پر عمل کرے یا عالمی انسانی حقوق کے بیانیہ کے پیچھے جائے اور اس کی حمایت کرے قرآن مجید میں پھر خدا وند عالم ارشاد فرماتاہے( و السّارق والسّارقة فا قطعوا ایدیهما جزائً بما کسبا'' ) ( ۱ ) مرد اور عورت نے جو چوری کی ہے اس کی سزا میں ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دئے جائیں۔ اور عالمی انسانی حقوق کا بیانیہ کہتا ہے کہ یہ حکم وحشیانہ اور انسانیت کے خلاف ہے۔ مسلمان کو چاہئے کہ یہاں قرآن اور عالمی حقوق انسانی کے بیانیہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرے۔
اسی طرح قرآن کا یہ نظریہ بھی ہے کہ( ولکم فی القصاص حیوٰة یا اولی الالباب'' ) ( ۲ ) ائے عقلمندو! تمھارے لئے قصاص اور بدلہ لینے میں زندگی ہے؛ قرآن کی نگاہ میں معاشرہ کی سلامتی اور زندگی اس وقت ضمانت پائے گی جب قاتل انسان سزا قتل ہے؛ لیکن عالمی انسانی حقوق کابیانیہ یہ کہتا ہے کہ قتل کی سزا ایک غیر انسانی کام ہے اور اس کو ختم ہونا چاہئے۔
____________________
(۱) سورہ مائدہ :آیہ ۳۸ ۔
(۲)سورہ بقرہ آیہ ۱۷۹
یہ ایک سازش ہے اور اس شور و غل اوروسیع تبلیغات کے ذریعہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسا کام کریں کہ وہ ہم کواتنامنفعل اور متاثر کر دیں کہ ہمارے مراجع تقلید بھی یہ بات کہنے کی جرائت نہ کر پائیںکہ ہمارے یہاں ایسا قانون پایا جاتا ہے۔ لہذٰااس کے مقابلہ میں ہم کو مضبوطی اور فیصلہ کن انداز میں سختی کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہئے، اور کہنا چاہئے کہ ہاں اسلام میں سزا، قتل ،ہاتھ کاٹنا ،جلانا اور آگ میں ڈالنا ہے اگر آپ ان سب کا نام خشونت رکھتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ ہاں اسلام میں خشونت ہے اور ہم کو اس سے کوئی ڈر بھی نہیں ہے کہ ہم کو خشونت طلبی سے متہم کیا جائے ، ہم کسی سے تکلّف نہیں کر تے ہیں اور الفاظ سے کھیلنا نہیں چاہتے ہیں ؛ اگر ہم قرآن کے ماننے والے ہیں تو قرآن نے ان چیزوں کو جس کو عالمی انسانی حقوق کا بیانیہ خشونت جانتا ہے، جائز قرار دیا ہے بلکہ قرآن نے ان سب کو لازم اور واجب جانا ہے، قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے:( ولیجدوا فیکم غلظة ) ( ۱ ) اور وہ کافر تمھارے اندر خشونت کو پائیں [ قران نے یہ نہیں کہا( ولیجدوا فی عملکم ) بلکہ اس نےفیکم''کہا ہے یعنی خشونت کو تمھارے اندر لمس کریں اور تمھارا برتائو ان کے ساتھ ایسا ہو کہ وہ سمجھیں اور کہیں کہ یہ ایسے افراد ہیں جو احساسات اور جذباتسے متاّثر نہ ہوں گے اور اگر ہم کوئی کام بھی خلاف کریں گے تو وہ رحم نہیں کریں گے ہم اگرقرآن
____________________
(۱) سورہ توبہ : آیہ ۱۲۳۔
کو قبول کرتے ہیں اور مسلمان ہیں تو ہم کو چاہئے کہ ہم کہیں یہ چیزیں قرآن اور اسلام میں ہیں اور اس سلسلہ میں کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے:( الذین یبلّغون رسالات الله و یخشونه ولا یخشون احداً الّالله ) ( ۱ ) جو لوگ اللہ کے پیغام کو پہونچاتے ہیں وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتے ہیں صرف خدا سے ڈرتے ہیں ۔لہذاہم اگرخدا سے ڈرتے ہیں تو قرآن اور خدا کے حکم کو بیان کریں؛ کم از کم ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ان کی باتوں کی تائید کریں اور ان کی باتوں کی موافقت اور تائید میں مقالہ لکھیں اور یہاں وہاں تقریر کرتے پھریں۔ البتہ ہر انسان اس میدان میں داخل ہونے اور ایسی شجاعت و ہمت دکھانے کی طاقت و ہمّت نہیں رکھتا ہے ؛ صرف وہ لوگ اس میدان میں قدم رکھ سکتے ہیں جو دوست ودشمن کی ملامت اورسرزنش کا کوئی ڈر نہ رکھتے ہوں۔قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشاد فرماتا ہے :( یجاهدون فی سبیل الله ولا یخافون لومة لائم'' ) ( ۲ ) وہ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ۔
اگر ہم کہیں اسلام قاطعیت رکھتا ہے ،یہ عالمی انسانی حقوق کے اعلامیہ کا جواب نہیں ہے انسانی حقوق کا بیانیہ کہتا ہے کہ اسلامی سزائیں خشن اور سخت ہیں اور اس کو ختم ہونا چاہئے؛ ہم کو بھی یہ کہنا چاہئے کہ یہ سخت سزائیں اسلام میں ہیں اور ان کو
____________________
(۱) سورہ احزاب : آیہ ۳۹۔
(۲) سورہ مائدہ :آیہ ۵۴۔
ختم ہونا چاہئے۔ ہم کو نہیں چاہئے کہ دوسروں کی خوشی اور چاپلوسی کے لئے بعض قرآنی اور اسلامی احکام و قوانین کو قبول کریں اور بعض کا انکار کریں۔ بعض کا انکار اور بعض کا اقرار بھی حقیقی کفر ہے ، اسی کی حکایت خدا وندعالم قرآن مجید کر رہاہے :( انّ الّذین ویقولون نومن ببعض و نکفر ببعض اولٰئک هم الکافرون حقاّ ) ً ''( ۱ ) یعنی جو لوگ .....اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کا انکارکریں گے .....تو حقیقت میں یہی لوگ کافر ہیں ۔مسلمان اگر واقعاً مسلمان ہے اور قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے تو وہ عالمی حقوق انسانی کی خاطر قرآن کریم کے واضح حکم سے چشم پوشی کرے اور اپنے دین کو انسانی عالمی حقوق کے بیانیہ کے بدلے میں بیچ ڈالے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ہے ۔
اگریہ ہوکہ جو کام لوگوں کو اچھا نہ لگتا ہو وہ انجام نہ دیا جائے تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم لات و عزّی کو برا نہ کہتے اور مکہ کے بتوں کو نہ توڑتے؛ قرآن مجید کادستور یہ ہے کہ تم کھلے عام خدا اور اس کے دین کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرو اور زبان وکلام سے بھی دافعہ رکھتے رہو۔ اس ضمن میں قرآن کریم حکم دیتا ہے تم عمل میں حضرت ابراہیم کی ذات کو نمونہ عمل قراردو :( و قد کانت لکم اسوةحسنة فی ابراهیم و الذین معه ) '( ۲ ) یقیناًتمھارے لئے ابراہیم کی ذات اور ان کے ساتھیوں
____________________
(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۵۰و۱۵۱۔
(۱) سورہ ممتحنہ :آیہ ۴۔
میں بہترین نمونہ عمل ہے حضرت ابراہیم اور ان کے ماننے والوں کا عمل اور فعل کیا تھا کہ وہ ہم لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہے ؟ اس کا جواب اسی کے بعد فوراً خود قرآن مجید نے ذکر کیا ہے :( اذ قالوا لقومهم انّا برآوا منکم و ممّا تعبدون من دون الله و کفرنابکم ) ( ۱ ) جب انھوں نے اپنی قوم والوں سے کہا کہ ہم تم سے اور تمھارے معبودوں سے بیزار ہیں اورہم نے تمھارا انکار کر دیا ہے قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ ابراہیم کی پیروی کرو ؛ جب وہ لوگوں کے مقابل بہت ہی واضح انداز سے کھڑے رہے اور کہا کہ میں تم لوگوں سے بیزار ہوں اور تمھارے خدائوں سے بھی بیزار ہوں ؛یہ قرآن کا دستور اور اس کا حکم ہے ، نہ یہ کہ ہم کو لچکدار رویہ اختیار کرنا چاہئے اور یہ کہیں کہ ہم کو لوگوں کی سنت اور روش کا احترام کرنا چاہئے اور ان کے بتوں کے سامنے جاکر احترام کرنا چاہئے چونکہ ان کے نزدیک بت قابل احترام ہیں !!!قرآن اس کی اجازت کسی کو نہیں دیتا ہے ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ واضح انداز سے کہے بت کچھ بھی نہیں ؛ اسی آیہ میں اس نے آگے بڑھ کر کہا صرف اسی پر خاموش نہیں رہنا چاہئے ؛بلکہ اس سے بھی زیادہ سختی اور تلخی کے ساتھ یہ کہو:( وبدا بیننا وبینکم العداوة والبغضاء ابداً حتیّٰ تومنوا بالله وحده ) ( ۲ ) اور ہمارے تمھارے درمیان ہمیشہ کی عداوت اور
____________________
(۱) اور (۲)سورہ ممتحنہ: آیہ ۴۔
دشمنی ہو گئی ہے جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہیں لاتے ہم کو یہ کہنا چاہئے کہ جب تک تمھارا ایسا عمل اور ایسی فکر رہے گی ؛ہم تمھارے دشمن ہیں اور یہ دشمنی کبھی ختم نہیں ہوگی ؛ہم کو یہ کہنا چاہئے :تم پر لعنت اور تمھارے بتوں پر لعنت ہو ؛اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا وندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرمارہا ہے: اف لکم و لما تعبدون تم پر اور جو کچھ تم پوجتے ہو ان سب پر تف اور وائے ہو؛ یہ نظریات اور با تیں ایک سر پر عمامہ رکھنے والے یزدی بندہ کی نہیں ہیں ،بلکہ یہ قرآن کا واضح حکم ہے کہ ان دشمنوں سے کہہ دو ہم تمھارے ہمیشہ دشمن رہیں گے اور تم سے کینہ و دشمنی ہمیشہ رکھیں گے ، مگر یہ کہ تم لوگ خدا کی طرف آئو ؛مسئلہ اس وقت اور دلچسپ نظر آتاہے، جب ہم آیہ کے بعد کے حصّہ کو دیکھتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کو ابرہیم کا اتباع کرنا چاہئے اور ان کے عمل کو نمونہ عمل قرار د ینا چاہئے یہاں پر ایک چیز کو اس سے جدا کیا گیا ہے کہ ابراہیم کے اس کام کو تم نہ کرو :الّااقول ابراهیم لا بیها لا ستغفرنّ لک '' ،صرف ابراہیم کا یہ کہنا اپنے چچاسے کہ میں تمھارے لئے خدا سے ضرور آمرزش طلب کروں گا ،ابراہیم جو کہ دشمن کے مقابلہ میں پوری قاطعیت کے ساتھ تھے لیکن اپنے چچا
____________________
(۱) سورہ انبیاء : آیہ ۶۷۔
آزر سے متعلق تھوڑا رحم و مروت سے پیش آئے اور انھوں نے کہا کہ میں خدا سے چاہوں گا کہ وہ تم کو بخش دے؛ قرآن میں خدا وند عالم فرماتا ہے ابراہیم کے اس کام کو
اختیار نہ کرو اور کسی بھی مشرک سے یہ وعدہ نہ کرو کہ میں تمھارے لئے خدا وند عالم سے مغفرت طلب کروں گا اور یہ چا ہوں گا کہ وہ تم کو بخش دے؛ اگر ہم قرآن کو قبول کرتے ہیں تو بسم اللہ؛ یہ قرآن کا دستور اور تعلیم ہے جو وہ اپنے ماننے والوں کو دیتا ہے۔ اس آیت کا معنی اور مفہوم بھی بالکل واضح اور روشن ہے اس میں کوئی دوسری قرائت بھی نہیں پائی جاتی ہے ؛بس دوسری قرائت یہ ہے کہ ہم قرآن میں تحریف کریں یا اس کے معانی کو پامال کردیں اور دنیا کی خوشی اور عالمی اداروں کی خوشنودی کے لئے اس کے مطالب کو قبول نہ کریں ؛ہم کو اپنی ذمہ داریوں کو واضح کرنا چاہئے یا ہم قرآن کے ماننے والے ہیں ؛ یا یہ کہ عالمی انسانی حقوق کے اعلامیہ کے پیرو ہیں ؟ ہم کو چاہئے کہ جو کچھ قرآن میں ہے اس کو قبول کریں نہ یہ کہ فقط ان موارد کو قبول کریں جو حقوق انسانی کے بیانیہ سے میل کھاتے ہوں ؛ اور چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم اور زنا کرنیوالے کو تازیانہ مارنے کا حکم یا پھر قاتل کو قتل کرنے کا حکم یہ سب قرآن میں آیا ہے؛ لہذٰا حقوق انسانی کے بیانیہ کے بعد بھی ہمیں ان سب کو قبول کرنا ہوگا ۔اگر آیہ شریفہ:' '( ادع الیٰ سبیل ربّک بالحکمة و الموعظة الحسنة'' ) ( ۱ ) آیہ:( و قاتلوهم حتیّٰ لا )
____________________
(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۲۵۔
( تکون فتنة ً ) ( ۱ ) اور ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک کہ فتنہ ختم نہ ہو جائے، قرآن آیا ہے اور ہم کو چاہئے کہ ہم ان دونوں پر عمل کریں؛ اگر کوئی انسان خدا کوارحم الرّٰحمین'' کے طور پہچانتا ہے تو اس کو چاہئے کہشدید العقاب''کے عنوان سے بھی اس کو جانے ،یہ نہیں ہو سکتا کہ جہاں قرآن میں خدا کہے کہ میں ارحم الراحمین یعنی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں وہاں تو انسان بہت خوشی سے اس کو قبول کرے لیکن جہاں وہ اپنے کو'' شدید العقابکہے یعنی بہت سخت عذاب دینے والاہوں تو وہاں پر کہے کہ یہ تو خشونت ہے اور ہم اس کو قبول نہیں کرتے ہیں ۔ خدا وندعالمارحم الرٰحمین فی موضع العفو و الرّحمة بھی ہے اورا شّد المعاقبین فی موضع النکال و النقمه ( ۲ ) بھی ہے یہ ہماری کمزوری ہے
____________________
(۱) سورہ انفال : آیہ ۳۹۔
(۲) ارحم الرٰحمین کا لفظ سورہ اعراف : آیہ ۱۵۱، اور اشدّالمعاقبین کا لفظ سورہ مائدہ :آیہ ۲ میں آیا ہے اس کے علاو ہ روایات اور اددعیہ میں بھی یہ دونوںلفظ استعمال ہوئے ہیں ملاحظہ ہو مفاتیح الجنان (دعائے افتتاح) مولفہ مرحوم شیخ عبّاس قمّی۔
کہ ہم نے اسلام کے حقائق کو ظاہر نہیں کیا ہے اور نص قرآن کے اعتبار سے اسلام کے حقائق بیان کرنے کی شجاعت ہمارے اندر نہیں ہے؛ ہم ان حقائق کو بیان کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ مرحوم امام خمینی جس وقت فرماتے تھے تم ان لوگوں کی اس بات سے نہ ڈرو کہ یہ تم کو خشونت اور سنگدلی سے متہم کریں توآپ کا اشارہ ایسی ہی باتوںکی طرف تھا ۔جس اسلام کی طرف ہم لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ ایک مجموعہ کا نام ہے جس کے اندر یہ سزائیں بھی ہیں جن کا،عالمی حقوق انسانی کا بیانیہ انکار کرتا ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم لوگوں کوقرآن مجید کی طرف اس کی دس آیہ یا سو آیہ یا تمام آیتوں سے ایک ہی آیت چھوڑ کردعوت دیں۔
دوسراسوال اور اس کا جواب
سوال : ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ قرآن اور دین اسلام یکبارگی نازل نہیں ہوا ہے بلکہ دھیرے دھیرے معاشرہ اور ماحول کی مناسبت سے اور لوگوں کے فہم و رشدکے اعتبارسے جو پیغمبرکے مخاطب تھے،لایا گیاہے؛ اسی طرح اس بات کے پیش نظرکہ ہم ایک اسلامی ملک میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور نوّے فیصدی سے زیادہ یہاں کے لوگ مسلمان ہیں ،لہذٰ اہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اسلام کے تمام مطالب کو بغیر کمی اور زیادتی کے قبول کریں اور بعض کا اقرار یا بعض کا انکار نہ کریں؛ اس میں کوئی بھی بحث نہیں ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ آج ہم نے انقلاب برپا کیا ہے اور ہمارے انقلاب کے اثر کی وجہ سے اسلام کو ،جس کی حقیقت دھیرے دھیرے مٹتی جارہی تھی،دوسری حیاتم مل گئی ہے، اس وقت ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو دنیا والوں کے سامنے پیش کریں، اس کو پہچنوائیں اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیں۔دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مغربی اور سامراجی ذرائع ابلاغ اس بات میں مصروف ہیں کہ وہ اسلام کو ایک خشن اورسنگدل دین کے طور پر پیش کریں اور مسلمانوں خاص کر ایرانی مسلمانوں کو دہشت گرد ،بے منطقی اور خشونت طلب کے عنوان سے پیش کریں ؛اب اگر ان حالات میں ہم یہ چاہیں کہ چور کے ہاتھ کاٹنے یا زنا کار کو سنگسار کرنے جیسے احکام کو جاری کریں تو لازمی طور پر دنیا کے لوگوں کے ذہن میں اس کا منفی اثر ہوگا اور مغربی رسالے اور جرائد ان کی تصویر کشی کرکیاسلام اور مسلمانوں کے چہروں کو بہت ہی بری اور نفرت انگیز انداز سے دنیا والوں کے سامنے پیش کریںگے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ اگر دنیا کے سامنے اسلام اس طرح پیش ہوا تو ہم اسلام اور قرآن کے پیغام کو دنیا والوں تک نہیں پہونچا پائیں گے اور کوئی شخص اسلام کی طرف مائل نہ ہوگاسوال یہ ہے کہ کیا ہم مذکورہ مسائل کے سبب ایک بڑی اوراہم مصلحت (یعنی اسلام کی ترویج اور تبلیغ ) کی خاطر بعض اسلامی احکام میں تغیر و تبدل انجام دے سکتے ہیں ؟ جیسے قتل کے بارے میں اسلام کا پہلا حکم یہ ہے کہ سو اونٹ دیت میں دئیے جائیں؛ لیکن آج ہم نے اس کے برابر دوسری چیز کو بنا لیا ہے اور وہ ستر لاکھ نقد روپیہ دیا جانا ہے اسی طرح کیا ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم چند جگہوں پر اس کے برابر کوئی دوسری چیز معین کرکے اسلام کی جو کریہہ صورت پیش کی جاتی ہے اس کو دور کر دیں اور لوگوں کو اسلام کے دائرہ میں داخل کریں۔
جواب : البتہ اس کا جواب دینے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر جملہ پر بحث کی جائے؛ لیکن پھر بھی جس قدر یہاں ممکن ہوگا وہ مطلب بیان کروں گا ۔
یہ بات جو سوال میں بیان کی گئی کہ ہم اس وقت اسلامی ملک میں اسلام کو بیان کر رہے ہیں اور تقریباً نوّے فیصد ی سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کو قبول کرتے ہیں اور یہاں پر کسی انحراف اور پریشان ہونے کی گنجائش نہیں ہے ، اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ افسوس کے ساتھ ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ آج جبکہ ابھی انقلاب کو زیادہ وقت نہیں گذرا ہے اور ہرروز ریڈیو اور ٹیلیویژن سے امام خمینی کی تقریریں نشر ہوتی ہیں ؛ لیکن پھر بھی ہم اپنی آنکھوں سے اس بات کو دیکھتے ہیں کہ بعض تقریروں اور مضامین میں امام خمینی کی باتوں کو کم یا زیادہ کرد جاتا ہے آپ خود اسی ملک میں ایک اخبار کو دیکھتے ہیں کہ اس کا سرپرست ایک عالم دین ہے لیکن پھر بھی اسلام اور قرآن کے واضح احکام کے خلاف مطلب اس میں چھپتا ہے ، خلاصہ یہ کہ مختلف بہانوں سے اس بات کی کوشش ہو رہی ہے کہ جوانوںپر اثر انداز ہوا جائے اور ان کے دل میں شک و شبہ پیدا کیا جائے لہذٰا ہم کو خود اپنے ملک میں اسلام کو پہچنوانے کے سلسلے میں بہت تشویش ہے۔
اور جو یہ کہا گیا کہ ابھی مغربی لوگوں نے اسلام کے متعلق کچھ نہیں سنا ہے اور وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ انھیں اسلام کوپہچنوائیں، تو اس کے جواب میں بھی ہم کہیں گے کہ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے ۔آج دنیا کی بولی جانے والی تمام اہم زبانوں میں قرآن کا ترجمہ ہو چکا ہے اور دنیا کے لوگ اس وسعت کے ساتھ جو کہ تمام اخبارات ،ریڈیو ،ٹیلی ویژن،سٹلائیٹ اور، انٹر نیٹ وغیرہ رکھتے ہیں ، حقیقت میں تمام چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں اور ہمارے لئے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ ہم کہیں وہ لوگ اسلام سے ناواقف ہیں ؛خاص طور سے وہ وسیع تبلیغ جو آج کے اخبار اور رسالے خصوصاً دنیا کے صہیونی اور یہودی لوگ اسلام کے خلاف کر رہے ہیں ؛ آج آپ دنیا کے کسی حصّہ میں چلے جائیں اسلام کو اس عنوان سے پیش کرتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کے حق کا خیال نہیں کیا ہے اور اسلام مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق کا قائل ہے؛ میں خود دنیا کے بہت سے ملکوں میں گیا ہوں
اور جنوب مغرب میں ایک ملک چیلی ہے وہاں بھی گیا ہوں اور یہی بحث جس کی طرف اشارہ کیا گیاہے پیش ہوئی تھی ا و ر میں نے خود اس کے بارے میں ریڈیو ا و ر ٹیلی ویژن پر انٹر ویو دیا تھا ۔خلاصہ یہ کہ اگر ہم یہ کہیں کہ آج دنیا میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ہم نئے سرے سے ان کے سامنے اسلام کو پیش کریںتو یہ کہنا صحیح نہیں ہے ؛لیکن پھر بھی اگر ایسے لوگ پائے جاتے ہوں تو ایسا نہیں ہے کہ ہم سب سے پہلے ان سے یہ کہیں کہ اسلام کہتا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹے جائیں یا یہ کہ زنا کرنے والے کو تازیانہ مارا جائے یا کبھی اس کوسنگسار کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس جیسے مسائل کو اس کے سامنے بیان کریں ،بلکہ یہ فطری بات ہے کہ سب سے پہلے اسلام کے مبانی اور اصول جیسے توحید ،نبوت اوور قیامت وغیرہ کو پیش کریں جب دھیرے دھیرے ان کا ایمان محکم ہو جائے تو ایک کے بعد ایک اس کے سامنے دوسرے مسائل کی وضاحت کریں ۔ یہاں تک کہ شروع میں ہم اسی بات پر اکتفا کریں کہ وہ کلمہ شہادتین کو پڑھ لیں اور مسلمان ہو جائیں یا تمام اسلامی احکام میں ان سے کہیں کہ وہ صرف نمازکی پابندی کرے ۔خلاصہ، شروع میں اس بات کی کوشش کریں کہ اسی قدران کو اسلام سے قریب کریں اور پھر دھیرے دھیرے جتنا ان کے لئے عمل کرنا ممکن ہو ان سے کہیں کہ اس پر عمل کرے، البتہ یہ تدریجی تبلیغ کی سیاست دوسرے ملک اور وہاںکے لوگوں سے متعلق ہو سکتی ہے لیکن تہران،اصفہان اور شیراز کے لوگوں سے مربوط نہیں ہے ۔
جو کچھ مختصر طور پر یہاں کہا جا سکتا ہے وہ یہ کہ ہم اس بات سے قطع نظر کہ ایسے حالات اور واقعات پائے جاتے ہوں تو کلی حکم یہ ہے کہ اگر کسی جگہ یا کسی وقت خاص حالات میں ایک حکم کا جاری کرنا اسلام اوراسلامی معاشرہ کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہو تو یہاں پر ولی امر مسلمین اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اپنی ولایت کو استعمال کرتے ہوئے عنوان ثانوی (جو کہ احکام اسلامی میں پایا جاتا ہے ) کے مطابق حکم دے، کہ کچھ دنوں کے لئے یہ پہلا حکم اٹھا لیاجا رہا ہے۔ البتہ یہ چیز صرف ولی امر مسلمین کے اختیار میں ہے اور کوئی دوسرا اس کام کو انجام نہیں دے سکتا ہے ۔لیکن جس نکتہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ یہ حکم جو وقتی طور پر کسی مصلحت کی بنا پراٹھا لیا جا رہا ہے اس میں اوراس بات میں فرق ہے کہ کسی اسلامی حکم کے سرے ہی سے منکرہو جائیں اور یہ کہا جائے کہ یہ حکم اسلام میں پایا ہی نہیں جاتا یا یہ کہیں کہ یہ حکم آج تک اسلام میں تھا لیکن ہم آج سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اسلام کا حصّہ نہیں ہے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے ایک حکم کا کچھ دنوں کے لئے معطّل ہونا اسلام کے جزائی احکام سے مخصوص نہیں ہے ؛ مثلاً ہم خود اس بات کے گواہ ہیں کہ حضرت امام خمینی نے کچھ مصلحتوں کی بنیاد پر حج کو(جو کہ اسلام کی ایک اہم عبادت ہے) تعطیل کیا تھا، کسی حکم کی وقتی تعطیل ایک چیز ہے اور اس حکم سے اصلاً انکار ایک دوسری چیز ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کہا جائے یہ حکم کچھ مصلحتوں کی بنا پرفی الحال جاری نہیں ہوگا ؛لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اسلام سنگ ساری کا حکم ہی نہیں رکھتا اور یہ حکم فقط عرب کے اس زمانہ کے غیر متمدن نیم وحشی انسانوں کے لئے تھا توایسی بات اسلام کے ایک حتمی حکم سے انکار اور اس کانسخ کرنا ہے کہ جس کا کسی کو یہاں تک کہ رسول اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی حق حاصل نہیں ہے ۔
یہاں پر ایک تاریخی نمونہ کا ذکر جو کہ مطلب کو واضح اور ثابت کرنے میں مفید ہے مناسب ہوگا۔
اسلام کے ابتدائی ایام میں جب کہ مسلمان بہت ہی تنگی اور سختی میں زندگی بسر کررہے تھے ، طائف کے لوگ آئے اور ان لوگوں نے پیغمبر اسلام سے ایک پیشکش کی اور کہا ہم مسلمان ہونے کو تیار ہیں اور آپ کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ تعاون کریں گے ،لیکن ایک شرط ہے ۔ہم اس بات کے لئے حاضر ہیں کہ شہادتین (کلمہ ) پڑھیں ؛بتوں کو نہ پوجیں حتیّٰ زکواة بھی دیں؛ لیکن ہم کو صرف ایک کام سے معاف کر دیجئے اور وہ سجدہ کرنا ہے۔ ہم اس کام کو جو آپ لوگ کرتے ہیں اور زمین پر جھکتے اور سجدے کرتے ہیں ، نہیں کر سکتے ہیں ، اگر آپ ہم لوگوں کو سجدہ کرنے سے معاف کر دیجئے تو ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ بت پرستی کو چھوڑ دیں اور اس کے علاوہ دوسرے برے کام کو بھی ترک کردیں گے اور آپ کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ جنگوں میں آپ کا ساتھ دیں گے ۔
آپ ذرا شرائط کو ملاحظہ کریں ؛ مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے اور ان کو طاقت کی ضرورت ہے؛ ان کی مالی قوت کمزور ہے اور انھیں مالی تعاون کی ضرورت ہے اور طائف کے لوگ اکثر امیر اور دولت مند ہیں ؛ خلاصہ یہ کہ ایک بھاری تعداد خود اپنی مرضی اور خوشی سے اس بات کے لئے حاضر ہے کہ ایک قدم نہیں بلکہ سو قدم اسلام سے قریب ہو جائیں گے لیکن صرف ایک بات کہ ظاہری طور پر معمولی سی چیز ہے اس کو قبول نہ کریں گے ۔
قرآن اس جگہ فرماتا ہے:( لو لا ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم شئیاً قلیلا ) ( ۱ ) یعنی اگرہماری توفیق خاص نے آپ(بشری طور پر) کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ضرور ہو جاتے؛ اگر ان کی طرف جھک جاتے توکیا ہوتا؟اس کا جواب بہت ہی سخت لہجہ کے ساتھ اس کے فوراً بعد ہے :( اذاً لا ذقناک ضعف الحیواة و ضعف الممات ثم لا تجد لک علینا نصیراً ) ( ۲ ) اور پھر ہم زندگانی دنیا اور موت دونوں مرحلوں پر دہرا مزہ چکھاتے اور آپ ہمارے خلاف کوئی مدد گار اور نصرت کرنے والا نہیں پاتے ۔ اگر تھوڑا سا بھی جھکائو اور تمایل پیدا ہوتا ، تو دنیا اور آخرت میں دوسروں کے مقابلے دو گنا عذاب کرتے اور آپ کسی کو اپنی مدد کے لئے نہیں پاتے۔
میں اور آپ تو اپنی جگہ، دین کے انکار کا مسئلہ اور اس کے احکام میں کوتا ہی اور سستی ایک ایسی چیز ہے کہ پیغمبر کی طرف سے بھی ممکن نہیں ہے اور اگربفرض محال ایسی چیز انحضرت کی طرف سے ہو بھی جائے تو خدا وندعالم کی طرف سے اس کی باز پرس بہت ہی سخت ہے اور اللہ اس مسئلہ میں کسی سے کوئی تکلف نہیں کرتا۔
____________________
(۱) سورہ اسریٰ :آیہ ۷۴۔
(۲) سورہ اسریٰ :آیہ ۷۵۔
اور وہ چیز جو کہ سوا ل میں دیت کے برابر کوئی دوسری چیز معین کرنے کی تھی اس کے بارے میں
بھی ہم کہیں گے کہ اس چیز کو ہم نے اپنی جانب سے نہیں بنایا ہے ، بلکہ یہ مسئلہ خود روایتوں
میں آیا ہے اور شروع سے ہی روایتوں میں اس کوبیان کیا گیا ہے؛ اس زمانے میں بھی صرف
ا و نٹ معین نہیں تھا بلکہ او نٹ کے بدلے ، سونا چاندی جوکہ اس وقت کے پیسے تھے اور وہ لوگ اس کو دے سکتے تھے۔
فہرست
حرف اول ۴
پیش گفتار ۷
تہذیب وثقافت کے سلسلے میں ہما ری ذمہ داری - ۱ ۹
انسان جواب دہ ہے یا حقوق طلب ۱۰
طاقت اور ذمہ داری کا توازن ۱۳
حوزئہ علمیہ ا و ریونیورسٹی کے اساتذہ کی ذمہ داریاں ۱۵
آ ج کی دنیا میں تہذیبی اور اخلاقی انحطاط ۱۷
ہر زمانے میں اسباب ہدایت و گمراہی کے درمیان نسبی توازن کاتحفظ ۲۰
اکثر بڑے انقلابات صاحبان علم کی فکروں کا نتیجہ ۲۴
تہذیبی انقلاب کی اہمیت ۲۶
انقلاب کے ارتقاء میں ثقافتی تحریکوں کا کردار ۲۸
تہذیب و ثقافت کے سلسلے میں ہماری ذمہ داری-۲ ۳۱
بہمن ۵۷ ۱۳ھجری شمشی سے پہلے ایران کی ایک تصویر ۳۲
شہنشا ہی دور کی سب سے بڑی آفت ۳۳
سیاسی تغیراورانقلاب کے لئے امام خمینی کی حکمت عملی ۳۶
حقیقی اسلام کے افکار و اقدا ر سے متعلق اسلامی نظام کے کے ذمہ داروںکا اعتقاد ۳۹
اسلامی اقدار کو کم کرنے کے لئے اسلام دشمنوں کا منصوبہ ۴۱
قانون اور اجراء قانون کے شعبے میں دشمن کی دخل اندازی ۴۳
پچھلی گفتگو کا خلاصہ ۴۵
دینی پلورالزم-۱ ۴۸
ہمارے زمانے کا عظیم بحران ۴۸
پلورالزم تساہل تسامح ،بحران پیدا کرنیوالوں کے ہتھکنڈے ۵۰
جوانوں سے متعلق ہماری اہم ذمہ داری ۵۲
پلورالیسٹ کیا کہتے ہیں ۵۴
پلورالسٹ کے پہلے بیا ن پرتنقید ۵۸
پلورالسٹوںکی دوسری دلیل ۶۰
پلورالزم کو ثابت کرنے کی تیسری کوشش ۶۳
دینی پلورالزم-۲ ۶۶
پلورالزم کی پیدائش میں نفسیاتی عوامل کا دخل ۶۶
پلورالزم کی پیدائش میں اجتماعی عوامل کا دخل ۶۸
پلورالزم کے تصو ر میں نفسیاتی عوامل کا تجزیہ ۷۰
پلورالزم کے تصوّر میں اجتماعی عوامل کا تجزیہ ۷۲
(الف)آسمانی اورتوحیدی ادیان کے ماننے والے ۷۳
(ب)کفاّرمعاہد ۷۴
(ج)کفاّراہل حرب ۷۵
غیر مسلموں کے ساتھ اسلام کے سلوک کا ایک تاریخی نمونہ ۷۶
اصل بحث کی طرف باز گشت ۷۷
دینی پلورالزم کی پہلی تفسیر ۷۷
دینی پلورالزم کی پہلی تفسیر کا تجزیہ ۷۸
دینی پلورالزم کی دوسری تفسیر ۸۱
دینی پلورالزم کی دوسری تفسیر کاتجزیہ ۸۳
شعر: ۸۷
دینی پلورالزم کی تیسری تفسیر ۸۷
دینی پلورالزم کی تیسری تفسیر کاتجزیہ ۹۰
دینی پلورالزم (۳) ۹۱
پلورالزم نظریہ کی پیدائش میں نفسیاتی عوامل پر دوبارہ ایک سرسری نظر ۹۱
آیہ'' ( ومن یبتغ غیرالاسلام دیناً ) کی توضیح ۹۳
دین اختیار کرنے میں ہماری ذمہ داری اور دوسرے ادیان کے پیروکاروں کا حکم ۹۶
نفسیات سے متعلق ایک نکتہ ۹۷
کون سا فلسفی اور معرفت شناسی کا مبنیٰ پلورالزم کی طرف منتہی ہوسکتا ہے ۱۰۱
بلّوری مثلث کی مثال کے ذریعہ پلورالزم کی وضاحت ۱۰۳
دینی معرفت کے دائرہ میں وحدت حقیقت کا نظریہ ۱۰۶
مراجع تقلید کے فتوئوں میں اختلاف کا پلورالزم سے کوئی ربط نہیں ہے ۱۰۷
اسلام کے قطعی اور واضح احکام میں اختلاف کا نہ ہونا ۱۰۹
دین اسلام کے ظنیات میں اختلاف اور اس کی وضاحت ۱۱۰
خبری باتوں میں پلورالزم کا انکار، اخلاقی اور اقداری مسائل میں اس کا اقرار ۱۱۲
اخلاق کے دائرہ میں پلورالزم کے نظریہ پربحث ۱۱۵
اسلام کے احکام،حقیقی اور واقعی مصلحتوں اور مفسدوں کے تابع ہیں ۱۱۸
پلورالزم کی بحث اور اس کا خلاصہ ۱۱۹
دینی پلورالزم(۴) ۱۲۲
پلورالزم اور لیبرالزم کا رابطہ ۱۲۲
دینی پلورالزم کی پیدائش کے اسباب پر دوبارہ ایک سرسری نظر ۱۲۴
ایک عالمی دین کی بنیاد ۱۲۷
ایک واحدعالمی دین کی تاسیس کی تحقیق ۱۲۷
مشترکہ اخلاقی اصول کو ایک عالمی دین کے عنوان سے پیش کرنا ۱۳۳
گذشتہ بحث کا خلاصہ ۱۳۸
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۱ ۱۴۰
جاذبہ ،دافعہ اوراسلام کے مفاہیم کی وضاحت ۱۴۰
کیا اسلام کے بارے میں دافعہ کا تصوّرممکن ہے ؟ ۱۴۳
اسلامی احکام میں دافعہ کا ایک تاریخی نمونہ ۱۴۵
عملی میدان میں جاذبہ اور دافعہ کے سلسلے میں اسلامی حکم ۱۴۸
جاذبہ رکھنے والے اسلامی کرداروں کے بعض نمونے ۱۴۹
کیا اسلام کردار میں ہمیشہ جاذبہ کی تاکید کرتا ہے؟ ۱۵۲
پچھلی بحث کا خلاصہ ۱۵۳
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود (۲ ) ۱۵۴
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے بارے میں تین طرح کے سوالات ۱۵۴
انسان کاتکامل جاذبہ اور دافعہ کارہین منّت ہے ۱۵۵
تزکیہ نفس یعنی روح کے کمال کے لئے لازمی جذب اور دفع ۱۶۰
روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ ۱۶۳
آیہ ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه )( ۱ ) کی تفسیر ۱۶۵
روح کی بیماری اور سلامتی ۱۷۰
بحث کا خلاصہ ۱۷۴
سوال اور جواب ۱۷۵
سوال : ۱۷۵
جواب : ۱۷۵
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳ ۱۷۷
پچھلی بحثوں پر سرسری نظر ۱۷۷
انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع ۱۷۸
دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست ۱۷۹
(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ ۱۸۰
(ب) موعظہ حسنہ ]نیک اور درست[ ہونا چاہئے ۱۸۴
(ج)مناظرہ ۱۸۵
دعوت وتبلیغ میں دافعہ کے استفادہ نہ کرنے کی وجہ ۱۸۶
انسان کے شخصی اور خصوصی افعال کے سلسلے میں اسلام کا طرزعمل ۱۸۷
اجتماعی افعال کے ساتھ اسلام کا برتائو ۱۸۸
جزائی اورکیفری قوانین، اجتماعی نظم قائم کرنے کا سبب ۱۸۹
مدنی قانون (مدنی حقوق ) ۱۹۰
جزائی قانون(کیفری قانون) ۱۹۰
دافعہ، جزائی قوانین کی فطری ماہیت ہے ۱۹۱
عمل کے شخصی اور اجتماعی پہلو کے درمیان فرق پر توجہ ۱۹۳
غیراسلامی ممالک اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ اسلام کابرتائو ۱۹۴
قوت دافعہ یا سختی کے استعمال کے سلسلے میں اسلام کا نظریہ ۱۹۸
اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی بحث کا خلاصہ ۲۰۰
سوال اور جواب ۲۰۲
سوال : ۲۰۲
جواب : ۲۰۵
دوسراسوال اور اس کا جواب ۲۱۹