شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
مناظرے


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


شیعہ جواب دیتے ہیں

(اہل سنت اور شیعہ کے ما بین دس اہم مورد بحث مسائل پر تحقیق)


نام کتاب: شیعہ جواب دیتے ہیں

مؤلف: حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: انتشارات نور مطاف

اشاعت: پہلی

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۲۹ ھ _ق

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہیں _


مقدمہ:

حمدہے اس ذات کے لیئے جس نے انسان کو قلم کے ساتھ لکھنا سکھایا اور درود و سلام ہواس نبی (ص) پر جسے اس نے عالمین کے لیئے سراپا رحمت بناکر مبعوث فرمایا اور سلام و رحمت ہو ان کی آل (ع) پر جنہیں اس نے پورے جہاں کے لیئے چراغ ہدایت بنایا _

اما بعد: آپ کے ہاتھوں میں موجود کتاب کے عظیم مصنف نے اس میں اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے دس اختلافی مسائل پر انتہائی مختصر ، عام فہم اور منصفانہ بحث کی ہے_

مصنف کی روش یہ ہے کہ ایک مسئلہ کوپیش کرکے اس پر طرفین کی ادلہ ذکر کرتے ہیں اور آخر میں نتیجہ قارئین محترم پر چھوڑ دیتے ہیں تا کہ قارئین کرام خود فیصلہ کرسکیں کہ حق کس کے ساتھ ہے_

اللہ تعالی نے اس عظیم کتاب کے ترجمہ کی سعادت و توفیق بھی معارف اسلام پبلشرز کو عنایت فرمائی ہے اور اس خوبصورت ترجمہ اور تصحیح کی زحمت فاضل برادر جناب آقای سید محسن علی کاظمی و آقای عمران سہیل نے اٹھائی ہے _ خدا انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے ،ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے درمیان وحدت کا باعث بنے گی_

معارف اسلام پبلشرز


مقدمہ

یہ راستہ وحدت کی طرف نہیں جاتا

اس دنیا کے موجودہ حالات پر ایک اجمالی نگاہ دوڑانے سے پتہ چلتاہے کہ شدیدطوفان چل رہے ہیں ،پردے ہٹ چکے ہیں، دلفریب باتوں،انسانی حقوق کے دعوے ،ڈیموکریسی اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے نعروں کی حیثیت واضح ہوچکی ہے _ عالمی طاقتوں نے دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے کے لئے خطرناک سازشیں آمادہ کررکھی ہیں اور وہ لگے لپٹے الفاظ میں اپنے دل کی باتوں کو بیان کررہے ہیں_

اور کتنا اچھا ہو ا کہ انہوں نے ان تمام باتوں کا اظہار کردیا ہے اور اپنے اوپر بے جا اعتماد کرنیوالوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹادیاہے_اور اب اللہ تعالی کے لطف و عنایت کے بعد قوموں کی اپنی قدرت و طاقت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ باقی نہیں رہی ہے_ہاں اپنے آپ کو طاقتور بنانا چاہیے کیونکہ دنیا کے اس نظام میں کمزور کو پایمال کیا جاتاہے_

ان شرائط میں اگر پوری دنیا کے مسلمان متحد ہوجائیں اور اپنی عظیم ثقافتی اور مادی طاقت کو استعمال کریں تو اسی صورت میں طاغوتی طاقتوں کے شر سے امان میں رہ سکتے ہیں_کئی سالوں سے ہر جگہ وحدت مسلمین کی باتیں زبانوں پر جاری ہیں_ ہفتہ وحدت کی تشکیل ، وحدت کے


سلسلہ میں کانفرنسوں اور سیمیناروں کے انعقادکی خبروں کا چرچاہے_

اگر چہ ان اقدامات کے سیاسی اور اجتماعی میدانوںمیں اچھے آثار سامنے آئے ہیں اور دشمن خوفزدہ ہوگئے ہیں _ لیکن ابھی تک ان اقدامات سے ایسی وحدت وجود میں نہیں آئی جس کا لازمہ ان عظیم طوفانوں کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور مقاومت کرنا ہو_

اس بات کے اسباب کو چند امور میں خلاصہ کیا جاسکتاہے:

۱_اس سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات بنیادی نہیں تھے جس کی وجہ سے مسئلہ وحدت اسلامی ،معاشروں کے عمق اور مسلمانوں کے افکار میں نفوذ نہیں کرسکاہے تا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک ہی راستے پر اکٹھا کرتا_

۲ _ دشمنوں نے بدگمانی ، سوء ظن، اختلاف اور نفاق ایجاد کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر کام کیاہے _ اور جسطرح خبروں سے اندازہ ہوتاہے انہوں نے ان مسائل کو عملی بنانے کے لیے مادی اعتبار سے بھی بہت بھاری سرمایہ مختص کیا ہوا ہے اور اپنے شوم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے دونوں طرف سے متعصب اور شدت پسند افراد کو استعمال کرتے ہیں _ من جملہ:

الف) ہمیں با وثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کے متعصب سلفیوں نے ایک کروڑ تفرقہ انگیز کتابیں چھپواکر حجاج کے درمیان تقسیم کی ہیں اور حج جو مسلمانوں کی وحدت کا ذریعہ تھا، کو نفاق کے وسیلہ میں تبدیل کردیا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اس قسم کے کام ہر سال کیے جاتے ہیں_

ب) حج اور عمرہ کے ایام میں متعصب وہابی خطیب نفاق پیداکرنے کے لیے زہر اگلنے کا کام کرتے ہیں اور ایران و سعودی عرب کے اچھے تعلقات کے باوجود انہوں نے شیعوں کے


خلاف حملے اور زیادہ کردیے ہیں _

ج) سپاہ صحابہ کے حملے اور مظلوم و بے گناہ افراد کا وحشیانہ قتل، اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک اس قتل و غارت اور دہشت گردی پر فخر کرناہے جسے آئے دن تھوڑے تھوڑے وقفی انجام دیا جاتاہے_ یہ بات سب لوگوں پرعیاں ہے_

د) طالبان جیسے انتہا پسندگروہوں کو اکسانا، شواہد کے مطابق یہ کام بھی امریکی ایجنسیوں کی طرف سے انجام پانے والا ایک خطرناک کام تھا تا کہ ایک طرف تو اسلام کے چہرے کو بدنما، بے رحم اور علم و دانش اور تہذیب و تمدن سے بے بہرہ ظاہر کریںاور دوسری طرف مسلمانوں کے درمیان تفریق کو زیادہ کریں_اگر چہ یہ مغربی سیاست کے سائے میں پلنے والا گروہ آخر کار انکے کنٹرول سے خارج ہوگیا تھا اور خود ان ہی کے خلاف برسرپیکار ہوگیا تھا _ اسطرح جب امریکہ کو اپنے نمک خواروں کے تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑا تووہ انکے ختم کرنے کے درپے ہوا_

۳_بعض اسلامی سیاستدانوں کی کوتاہ فکری بھی پائیدار وحدت کے اہداف کے حصول میں مانع ثابت ہوئی کیونکہ انہوں نے ۱پنے محدود اوروقتی منافع کو ،عالم اسلام کے طولانی منافع پر مقدم کیا _ مثال کے طور پر ہم بعض اسلامی ممالک کو جانتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے محدود اورکم اہمیت منافع کی خاطر اسرائیل کے ساتھ بہت زیادہ سیاسی اور اقتصادی تعاون کیا، یہاںتک کہ اس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کیں اور یہ بات آج سب پر آشکار ہوچکی ہے_

بہر حال جو چیز علمائے اسلام کے اختیار میں ہے وہ یہ کہ ضمناً ان غلطیوں کے برے نتائج کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اور اس جانب متوجہ کرتے ہوئے کہ کوئی ملک یا اسلامی گروہ ، ان


اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کی ظالمانہ اور بے رحم سیاست سے امان میں نہیں رہے گا ،یہ کریں کہ جہاں تک ممکن ہو مذہبی مسائل کو شفاف بنائیں تا کہ دشمنوں کو زہر اگلنے اور انتہا پسند و متعصب گروہوں کو سوء ظن پیداکرنے کا موقع نہ مل سکے_

اس نکتہ کے پیش نظر ہم نے اس کتاب میں کہ جو قارئین محترم کے ہاتھ میں ہے، مسلمانوں کی صفوں کو تقویت پہنچانے کے لئے ایک جدید اور دلکش روش سے استفادہ کیاہے_ اس روش میں یہ مسئلہ مکمل طور پر روشن ہوجائیگا کہ مکتب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں اور اہلسنت کے درمیان اہم اختلافی مسائل کی بنیاد خود انکی اپنی مشہور کتابیں ہیں اور ان مسائل میں شیعہ حضرات کے نظریات کی واضح اور روشن دلیلیں اہل سنت کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں_ اہلسنت کے ایک آزاد فکر عالم دین کے بقول ''شیعہ اپنے مذہب کے تمام اصول اور فروع کو ہماری کتب سے ثابت کرسکتے ہیں''_

اگر یہ بات ثابت ہوجائے ، کہ انشاء اللہ اس کتاب میں ثابت ہوجائیگی، تو پھر مکتب اہلبیت (ع) کے پیروکاروں کے عقائد کی نسبت کسی طرح کے تردد، مذمت یا شبہہ ایجاد کرنے کی گنجائشے باقی نہ رہے گی_بلکہ یہ بات یقینا منطقی اور منصف مزاج افراد سے سوء ظن کو برطرف کرنے اور مسلمانوں کی صفوںمیں اتحاد پیدا کرنے نیز حسن ظن رکھنے کا باعث بنے گی اور ایران جو ایک قدرتمند اسلامی ملک ہے اسی طرح اسلام کے مدافع کے اعتبار سے باقی رہے گا ، اور اسی طرح تمام شیعیان جہان بھی _اب حضور والایہ آپ اور یہ ہماری دلیلیں !


۱

قرآن ھر قسم کی تحریف سے منزہ ہے


عدم تحریف قرآن:

شیعوں کے خلاف ہونے والے جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ آج جو قرآن مجیدہمارے اور تمام مسلمانوں کے پاس ہے یہ بالکل وہی قرآن مجید ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوا اور اس میں حتی ایک لفظ کی بھی کمی و زیادتی نہیں ہوئی ہے _ ہم نے اس مسئلہ کو اپنی تفسیر ، اصول فقہ و غیرہ کی متعدد کتب میں وضاحت کے ساتھبیان کیا ہے اور عقلی و نقلی ادلّہ کے ذریعہ اسے ثابت کیا ہے _

ہم قائل ہیں کہ تمام مسلمان علماء اعم از شیعہ و سنی کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن مجید میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا ہے اور دونوں مذہب کے محققین کی اکثریت جو اتفاق کے قریب ہے اس بات کی قائل ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی بھی واقع نہیں ہوئی ہے _

دونوں طرف کے چند گنے چُنے افراد اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن مجید میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مشہور علماء اسلام ان کی اس بات کے طرفدار نہیں ہیں_

فریقین کی دو کتابیں:

ان گنتی کے چند علماء میں سے ایک اہل سنت عالم دین ''ابن الخطیب مصری'' ہیں جنہوں نے ''الفرقان فی تحریف القرآن''نامی کتاب لکھی جو ۱۹۴۸عیسوی بمطابق


(۱۳۶۷ ہجری قمری)میں نشرہوئی _ لیکن بروقت الازہر یونیورسٹی کے علماء اس کتاب کی طرف متوجہ ہوگئے اور انہوں نے،اس کتاب کے نسخوں کو جمع کرکے ضائع کردےالیکن اس کے چند نسخے غیر قانونی طور پر آس پاس کے لوگوں تک پہنچ گئے_

اسی طرح ایک کتاب (فصل الخطاب فی تحریف کتاب ربّ الا رباب) کے نام سے شیعہ محدث حاجی نوری کے توسط سے لکھی گئی جو ۱۲۹۱ہجری قمری میں شائع ہوئی_اس کتاب کے شائع ہوتے ہی حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بزرگ علماء نے اس کتاب کے مطالب سے اظہار برائت کیا اور اس کتاب کی جمع آوری کا حکم دیدیا_اور اس کے بعد کئی کتابیں اس کے رد میں لکھی گئیں_جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں_

۱_نامور فقیہ مرحوم محمود بن ابی القاسم المعروف بہ معرب طہرانی (متوفی سال ۱۳۱۳ھ_ق) نے (کشف الارتیاب فی عدم تحریف الکتاب)نامی کتاب لکھی جو کتاب فصل الخطاب کا ردّ تھا_

۲_مرحوم علامہ سید محمد حسین شہرستانی (متوفی۱۳۱۵ھ_ق )نے بھی ایک کتاب بنام (حفظ الکتاب الشریف عن شبہة القول بالتحریف)حاجی نوری کی کتاب فصل الخطاب کے جواب میں لکھی _

۳_مرحوم علامہ بلاغی (متوفی ۱۳۵۲ھ_ق ) حوزہ علمیہ نجف کے عظیم محقق نے بھی اپنی مشہور کتاب (تفسیر آلاء الرحمن )میں ایک قابل ملاحظہ باب ،فصل الخطاب کے رد میں لکھا ہے(۱)

____________________

۱) آلاء الرحمن ،جلد ۱ص ۲۵_


۴_ہم نے بھی اپنی کتاب (انوار الاصول )میں عدم تحریف قرآن مجید کے بارے میں انتہائی مفصل بحث کی ہے اور فصل الخطاب کے شبہات کا دندان شکن جواب دیا ہے_

مرحوم حاجی نوری اگر چہ عالم دین تھے لیکن بقول علامہ بلاغی انہوں نے ضعیف روایات پر اعتماد کیا ہے اور مذکورہ کتاب شائع ہونے کے بعد خود بھی نادم و پشیمان ہوئے_اور حوزہ علیمہ نجف اشرف کے تمام بزرگ علماء نے اس اقدام کو واضح طور پر ایک غلطی قرار دیاہے_(۱)

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب فصل الخطاب کے شائع ہونے کے بعد ہر طرف سے حاجی نوری کی مخالفت کا ایسا عظیم طوفان اٹھا کہ وہ خود اپنے دفاع میں ایک رسالہ لکھنے پر مجبور ہوگئے جس میں انہوں نے لکھا کہ میری مراد عدم تحریف قرآن مجید تھی لوگوں نے میری تعبیرات سے سوء استفادہ کیا ہے_(۲)

مرحوم علامہ سید ھبة الدین شہرستانی کہتے ہیں کہ میں اس وقت سامرا میں تھا اور میرزا شیرازی بزرگ نے اس وقت سامرا کو علم و دانش کا مرکز بنا دیا تھا _جس محفل میں بھی ہم جاتے ہر طرف سے حاجی نوری اور اُن کی کتاب کے خلاف صدائیں بلند ہوتی تھیں _اور بعض لوگ تو انتہائی نازیباالفاظ کے ساتھ انکو یا دکرتے تھے(۳)

کیااتنی مخالفت کے با وجود بھی حاجی نوری کی باتوں کو شیعہ عقیدہ شمار کرنا چاہیے؟ بعض

____________________

۱) آلاء الرحمن ،جلد ۲ ص ۳۱۱_

۲) الذریعہ ، جلد ۱۶ص ۲۳۱_

۳) برہان روشن،ص ۱۴۳_


متعصب وہابی اس کتاب (فصل الخطاب)کو بہانہ بنا کر تحریف قرآن کے نظریہ کو شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں حالانکہ :

۱_ایک کتاب کی تالیف اس مسئلہ میں شیعہ عقیدہ پر دلیل بن سکتی ہے تو پھراس تحریف قرآن والے نظریہ کو علمائے اہل سنت کی طرف بھی نسبت دینی چاہیے کیونکہ ابن الخطیب مصری نے بھی تو(الفرقان فی تفسیر القرآن)نامی کتاب لکھی تھی اور اگر جامعة الازہر کے علماء کی تردید اس کتاب کے مطالب کی نفی پر دلیل بن سکتی ہے تو علمائے نجف اشرف کا اظہار برائت بھی فصل الخطاب کے مفاہیم کی نفی پردلیل بن سکتاہے_

۲_اہل سنت کی دو مشہور تفاسیر ، تفسیر قرطبی،اور تفسیر در المنثورمیں حضرت عائشےہ (زوجہ رسول(ص) سے نقل کیا گیا ہے کہ :

(و انّها _ای سورة الاحزاب (۱۱) کانت ماتی آیة فلم یبق منها الّا ثلاثٌ و سبعین )(۱)

سورة الاحزاب کی ۲۰۰ آیات تھیں اور اب ۷۳ سے زیادہ باقی نہیں بچی ہیں

اس سے بڑھ کر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی ایسی روایات نظر آتی ہیں جن سے تحریف کی بُو آتی ہے(۲)

لیکن ہم ہر گز کسی ایک مصنف یا چند ضعیف روایات کی وجہ سے تحریف والے قول کو اہل سنت کی طرف نسبت نہیں دیتے ہیں_

اسی طرح انہیں بھی کسی ایک مصنف یا چند ضعیف روایات کی وجہ سے کہ جنکا جمہور علمائے

____________________

۱) تفسیر قرطبی،جلد ۱۴ص ۱۱۳و تفسیر الدر المنثور ،جلد ۵ ص ۱۸۰_

۲) صحیح بخاری ،جلد ۸ص ۲۰۸ تا ۲۱۱و صحیح مسلم ،جلد ۴، ص ۱۶۷و جلد ۵ ،ص ۱۱۶_


شیعہ نے انکار کیا ہے ،اس قول تحریف کو شیعوںکی طرف نسبت نہیں دینی چاہیے_

۳_حاجی نوری کی کتاب فصل الخطاب میں عام طور پر ان تین راویوں سے احادیث لی گئی ہیں کہ جو یا تو فاسد المذہب ،یا کذّاب اورجھوٹے یا مجہول الحال ہیں _(احمد ابن محمد السیاری ،فاسد المذهب ،علی ابن احمد کوفی، کذّاب،اور ابی الجارود مجهول یا مردود )(۱)

فرقہ و ارانہ دشمنی کی خاطر اسلام کی جڑوں کوکھوکھلانہ کیا جائے _

۴_جن لوگوں کا اصرار ہے کہ مذہب شیعہ کو تحریف قرآن کے عقیدہ سے متہم کیا جائے ، گویا وہ اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ فرقہ وارانہ خصومت کی خاطر وہ اسلام کی جڑیں کاٹ رہے ہیں _کیونکہ غیر مسلم لوگ کہیں گے کہ عدم تحریف کا عقیدہ مسلمانوں کے در میان مسلم اور متفقہ عقیدہ نہیں ہے _

کیونکہ ایک عظیم گروہ تحریف قرآن کا قائل ہے _ ہم ان بھائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ فرقہ واریت اور تعصب آمیز دشمنی کی خاطر قلب اسلام یعنی قرآن مجید کو نشانہ نہ بنائیں_آیئےسلام اور قرآن پر رحم کیجئے اور بے جا تحریف کی باتوں کو اُچھال کر دشمن کو موقع فراہم نہ کیجئے_

۵_شیعوں کے خلاف یہ تہمت اور افترا اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک مرتبہ ہم عمرہ کی خاطر بیت اللہ مشرف ہوئے _ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور سے ہماری ملاقات ہوئی اس نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا _لیکن کہنے لگا تمہارا قرآن ہمارے قرآن سے مختلف ہے (سمعت ان لکم مصحفا غیر مصحفنا )

____________________

۱) ان تین راویوں کے مزید حالات کے لیے رجال نجاشی،فہرست شیخ اور دیگر رجالی کتب کی طرف مراجعہ کیا جائے _


میں نے جواب میں کہا ،اس بات کو آزمانا انتہائی آسان ہے _آپ خود ہمارے ساتھ تشریف لے چلیے یا اپنا نمائندہ بھیج دیں(تمام اخراجات ہمارے ذمہ ہونگے )واپس تہران چلے چلتے ہیں_ قرآن مجید تمام مساجد اور گھروں میں موجود ہیں _تہرا ن میں ہزاروں مسجدیںاور لاکھوں گھر ہیں _مسجد یا گھر کا انتخاب آپکے نمائندے کے اختیار میں ہوگا _وہ جس گھر کا انتخاب کرے گا ہم اُس دروازے پر دستک دیکر قرآن مجید طلب کریں گے اس وقت آپ دیکھ لینا کہ شیعوں کے گھروں میں موجود قرآن مجید، دیگر مسلمان ممالک کے قرآن مجید کے ساتھ ایک لفظ کا بھی فرق نہیں رکھتا ہے _ آپ جیسے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو اس قسم کی جھوٹی افواہوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے

۶_ہمارے بہت سے قاری، انٹرنیشنل مقابلہ قرا ت میں اوّل نمبر پرآئے ہیں _ہمارے حافظ ، بالخصوص ہمارے کمسن حفاظ نے بہت سے اسلامی ممالک میں تعجب خیز اور قابل تحسین قرآنی منظر پیش کیئے ہیں_ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہمارے حفّاظ اور قاریوں میں اضافہ ہوتا ہے_ ہمارے وسیع و عریض ملک میں جگہ جگہ حفظ ،قرا ت،تفسیر قرآن کی کلاسیں اور علوم قرآن کے کالج و یونیورسٹیاں موجود ہیں _ان تمام چیزوں کا اثبات ،نزدیک سے مشاہدہ کے ذریعہ تمام لوگوں کے لئے آسان ہے _

ان تمام موارد میں صرف اسی قرآن مجید سے استفادہ کیا جاتا ہے جو تمام مسلمان ممالک میں متداول ہے اور ہمارا کوئی بھی باشندہ اس معروف قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کو نہیں پہچانتا ہے _ اور ہمارے ہاں کسی بھی مجلس یا محفل میں تحریف قرآن کی بات نہیںکی جاتی ہے_


عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں :

۷_ہمارے عقیدہ کے مطابق بہت سے عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں جو قرآن مجید کی عدم تحریف پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ ایک تو خود قرآن مجید فرماتا ہے :( انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحافظون ) (ہم نے قرآن مجید کو نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے(۱) ایک اور مقام پریوں ارشاد ہوتا ہے:

( و انه لکتاب عزیز_لایا تیه الباطل من بین یدیه و لا من خلفه تنزیل من حکیم حمید ) _(۲)

''یہ کتاب شکست ناپذیر ہے _اس میں باطل اصلا سرایت نہیں کر سکتا ہے نہ سامنے سے ا ور نہ پیچھے کی طرف سے کیونکہ یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے ''

کیا اس قسم کی کتاب جسکی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہو اس میں کوئی تحریف کرسکتا ہے ؟

اور ویسے بھی قرآن مجید کوئی متروک اور بھلائی گئی کتاب نہیں تھی کہ کوئی اس میں کمی یا زیادتی کرسکے _

کاتبان وحی کی تعدادچودہ سے لیکر تقریبا چار سو (۴۰۰) تک نقل کی گئی ہے _جیسے ہی کوئی آیت نازل ہوتی یہ افراد فورا اسے لکھ لیتے تھے _ علاوہ بر این سینکڑوں حافظ قرآن پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں تھے جو آیت کے نازل ہوتے ہی اس کو حفظکر لیتے تھے اور قرآن مجید کی

____________________

۱) سور ةحجر آیت ۹_

۲) سورة فصلت آیت ۴۱و ۴۲_


تلاوت کرنا اس زمانے میں انکی سب سے اہم عبادت شمار ہوتی تھی _ اور دن رات قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی تھی _

اس سے بڑھ کر قرآن مجید، اسلام کا بنیادی قانون اور مسلمانوں کی زندگی کا آئین و اصول تھا اور زندگی کے ہر شعبے میں قرآن مجید حاضر و موجود تھا _

عقل یہ حکم لگاتی ہے کہ ایسی کتاب میں تحریف اور کسی کمی اور زیادتی کا امکان نہیں ہے_

آئمہ معصومینسے جو روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی قرآن مجید کی عدم تحریف اور تمامیت پر تاکید کرتی ہیں _

امیر المومنین علی _ ،نہج البلاغہ میں واضح الفاظ میں فرماتے ہیں ;

(انزل علیکم الکتاب تبیانا لکل شی و عمر فیکم نبيّه ازمانا حتی اکمل له و لکم فیما انزل من کتاب، دینه الذی رضی لنفسه )(۱)

(اللہ تعالی نے ایسا قرآن مجید نازل کیا جو ہر شے کو بیان کرتا ہے پھراس نے اپنے پیغمبر (ص) کو اتنی عمر عطا فرمائی کہ وہ اپنے دین کوتمہارے لیے قرآن مجید کے وسیلہ سے کامل کردیں _

نہج البلاغہ کے خطبوں میں بہت سے مقامات پر قرآن مجید کا تذکرہ ہوا ہے لیکن کہیں بھی قرآن مجید کی تحریف سے متعلق زرہ برابراشارہ نہیں ملتا بلکہ قرآن مجید کے کامل ہونے کو بیان کیا گیا ہے_

____________________

۱) نہج البلا غہ خطبہ ۸۶_


۲۱ نویں امام حضرت امام محمد تقی _ اپنے ایک صحابی کو لوگوں کے حق سے منحرف ہو جانے کے بارے میں فرماتے ہیں _

(و کان من نبذهم الکتاب ان ا قامو حروفه و حرفو حدودهُ )(۱)

بعض لوگوں نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے ،وہ اس طرح کہ اس کے الفاظ کو انہوں نے حفظ کرلیا ہے اور اس کے مفاہیم میں تحریف کی ہے_

یہ اور اسکی مانند دیگر احادیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ اس کے معانی میں تحریف ہوئی ہے _ بعض لوگ اپنی خواہشات اور ذاتی منافع کی خاطر آیات کی خلاف واقع تفسیر و تو جیہ کرتے ہیں _یہاںسے ایک اہم نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر بعض روایات میں تحریف کی بات ہوئی بھی ہے تو اس سے تحریف معنوی اور تفسیر بالرائی مراد ہے نہ الفاظ و عبارات کی تحریف_

دوسری طرف سے بہت سی معتبر روایات جو ائمہ معصومینسے ہم تک پہنچی ہیں میں بیان کیا گیا ہے کہ روایات کے صحیح و ناصحیح ہونے کی تشخیص کے لئے بالخصوص جب انکے در میان ظاہراً تضاد و اختلاف پایا جارہاہو تو معیار ،قرآن مجید کے ساتھ تطبیق دینا ہے _ جو حدیث قرآن مجید کے مطابق ہو وہ صحیح ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو حدیث قرآن مجید کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے _

____________________

۱) کافی ،جلد۸ ص ۵۳_


(اعرضوا هما علی کتاب الله فما وافق کتاب الله فخذوه و ما خالف کتاب الله فردّوه )(۱)

یہ بالکل واضح دلیل ہے کہ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہوئی ہے_ کیونکہ اگر تحریف ہوجاتی تو قرآن مجید حق و باطل کی تشخیص کا معیار قرار نہیں پاسکتاتھا_

ان تمام ادلہ سے بڑھ کر مشہور حدیث ''حدیث ثقلین'' شیعہ و اہل سنت کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل ہوئی ہے(۱) جس میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

(انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلو )

میں تمہارے در میان دو یادگارگرانبہا چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت ہے اگر ان دونوں سے تمسک رکھا تو ہر گز گمراہ نہیں ہوگے _

یہ پر مغز حدیث شریف بالکل واضح کررہی ہے کہ قرآن مجید ،عترت پیغمبر(ص) کے ساتھ قیامت تک لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک انتہائی مطمئن پناہ گاہ ہے _ اب اگر قرآن مجید خود تحریف کا شکار ہو جا تا تو وہ کس طرح لوگوں کے لئے ایک مطمئن پناہ گاہ بن سکتا تھا اور انہیں ہر قسم کی گمراہی سے نجات دلا سکتا تھا_

اختتامیہ کلمات:

آخری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ گناہ کبیرہ ہے کہ کسی پر ایسی بات یا ایسے کام کی تہمت لگائی جائے جو اس نے نہ کہی ہو یا اُسے انجام نہ دیا ہو _

____________________

۱) وسائل الشیعہ ،جلد ۱۸ص ۸۰_


ہم نے ہر مقام پر کہا ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ کے علماء و محققین میں سے کوئی بھی (خود انکی اپنی کتابوں کی گواہی کے مطابق) تحریف کا قائل نہیں تھا اور نہ ہے _لیکن پھر بھی بعض تعصب اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ اس تہمت پر اصرار کرتے ہیں _پتہ نہیں قیامت والے دن وہ کیا جواب دیں گے کیونکہ ایک طرف تو تہمت لگا رہے ہیں اور دوسری طر ف قرآن مجید کی اہمیت کو کم کررہے ہیں _

اگر آپ کا بہانہ وہ بعض ضعیف روایات ہیں جو ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں تو اس قسم کی ضعیف روایات آپ کی حدیث و تفسیر کی کتابوں میں بھی موجود ہیں_ جنکی طرف پہلے اشارہ کیاجاچکا ہے_

کوئی بھی مذہب ضعیف روایات کی بنا پر استوارنہیں ہوتا ہے _

اور ہم نے کبھی بھی ابن الخطیب مصری کی کتاب (الفرقان فی تحریف القرآن ) کی خاطر یا آپ کی ان ضعیف روایات کی خاطر جو تحریف قرآن پر مشتمل ہیں آپ پر تحریف قرآن کی تہمت نہیں لگائی _ اور ہم کبھی بھی قرآن مجید کو تخریب کاری کرنے والے تعصّب کا شکار نہیں ہونے دیں گئے_

دن رات تحریف قرآن کی باتیں نہ کیجئے _ اسلام ،مسلمین اور قرآن مجید پر ظلم نہ کیجئے اور اپنے مذہبی تعصب کی وجہ سے بار بار تحریف قرآن کی رٹ لگا کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے اصلی سرمائے یعنی قرآن مجید کے اعتبار کو کم نہ کیجئے _دشمن کو بہانہ فراہم نہ کیجئے _تم اگر اس طریقے سے شیعوں اور اہل بیت (ع) کے پیروکاروں سے انتقام لینا چاہتے ہو تو جان لوتم جہالت


اور نادانی سے اسلام کی بنیادوں کو کھو کھلا کررہے ہو_کیونکہ تم کہتے ہو کہ مسلمانوں کا ایک عظیم گروہ تحریف قرآن کا قائل ہے اور یہ قرآن مجید پر ظلم عظیم ہے _

آخر میں پھر ایک دفعہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ شیعہ اوراہل سنت کا کوئی محقق بھی تحریف قرآن کا قائل نہیں ہے بلکہ سب علما ء اس قرآن مجید کو جو پیغمبر (ص) اکرم پر نازل ہوا اور جو آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے ایک ہی سمجھتے ہیں _اور خود قرآن مجید کی تصریح کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اُٹھایا ہے اور ہر قسم کی تحریف ،تبدیلی اور زوال سے اسے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی ہے _

لیکن دونوں طرف سے بعض بے خبر، نا آگاہ متعصب قسم کے لوگ ،ایک دوسرے کی طرف تحریف کی نسبت دیتے ہیں اور اس مسئلے کو اختلاف کے عروج تک پہنچادیتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو ہدایت فرمائے _(آمین)


۲

''تقیہ'' قرآن و سنت کے آئینہ میں


دوسرا مسئلہ جس پر ہمیشہ ہمارے متعصب مخالفین اور بہانہ تلاش کرنے والے افراد، مکتب اہلبیت کے پیروکاروں پر تشنیع کرتے ہیں ،''تقیہ''کا مسئلہ ہے _

وہ کہتے ہیں تم کیوں تقیہ کرتے ہو؟کیا تقیہ ایک قسم کا نفاق نہیں ہے ؟

یہ لوگ اس مسئلہ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ گویا تقیہ کوئی حرام کام یا گناہ کبیرہ یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی گناہ ہے _یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ کو مخصوص شرائط کے ساتھ جائز شمار کیا ہے _اور خود انکے اپنے مصادر میں منقول روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں _اور اس سے بڑھ کر تقیہ (اپنی مخصوص شرائط کے ساتھ)ایک واضح عقلی فیصلہ ہے _خود ان کے بہت سے لوگوں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس کا تجربہ کیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں _

اس بات کی وضاحت کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے _

۱-تقیہ کیا ہے ؟

تقیہ یہ ہے کہ انسان اپنے مذہبی عقیدہ کو شدیداور متعصب مخالفین کے سامنے کہ جو اس کے لئے خطرہ ایجاد کرسکتے ہوں چھپا لے_ مثال کے طور پر اگر ایک موحّد مسلمان،ہٹ دھرم بت پرستوں کے چنگل میں پھنس جائے، اب اگر وہ اسلام اور توحید کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس کا خون بہا دیں گے یا اسے جان ،مال یا ناموس کے اعتبار سے شدید نقصان پہنچائیں گے _ اس


حالت میں مسلمان اپنے عقیدہ کو ان سے پنہاں کر لیتا ہے تا کہ انکے گزند سے امان میں رہے یا مثلا،اگر ایک شیعہ مسلمان کسی بیابان میں ایک ھٹ دھرم وہابی کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے جو شیعوں کا خون بہانا مباح سمجھتا ہے _ اس حالت میں وہ مومن اگر اپنی جان،مال اور ناموس کی حفاظت کے لئے اُس وہابی سے اپنا عقیدہ چھپا لیتا ہے تو ہر عاقل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسی حالت میں یہ کام مکمل طور پر منطقی ہے اور عقل بھی یہاں یہی حکم لگاتی تھے _کیونکہ خواہ مخواہ اپنی جان کو متعصب لوگوں کی نذرنہیں کرنا چاہیئے

۲_تقیہ اور نفاق کا فرق:

نفاق بالکلتقیہ کے مقابلے میں ہے_ منافق وہ ہوتا ہے جو باطن میں اسلامی قوانین پر عقیدہ نہ رکھتا ہو یا انکے بارے میں شک رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کے در میان اسلام کا اظہار کر تا ہو_

جس تقیہ کے ہم قائل ہیں وہ یہ ہے کہ انسان باطن میں صحیح اسلامی عقیدہ رکھتا ہو، البتہ صرف ان شدت پسند وہابیوں کا پیروکارو نہیں ہے جو اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور انکے لیے کفر کا خط کھینچ دیتے ہیں اور انہیں دھمکیاںدیتے ہیں_ جب بھی ایسا با ایمان شخص اپنی جان،مال یا ناموس کی حفاظت کے لئے اس متعصب ٹولے سے اپنا عقیدہ چھپا لے اس کو تقیہ کہتے ہیں اور اسکے مقابل والا نکتہ نفاق ہے_

۳_تقیہ عقل کے ترازو میں :

تقیہ حقیقت میں ایک دفاعی ڈھال ہے_ اسی لیے ہماری روایات میں اسے (تُرس


المومن ) یعنی (باایمان لوگوں کی ڈھال)کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے _کسی انسان کی عقل اجازت نہیں دیتی کہ انسان اپنے باطنی عقیدہ کا خطرناک اور غیر منطقی افراد کے سامنے اظہار کرے اور خواہ مخواہ اپنی جان، مال یا ناموس کو خطرے میں ڈالے _کیونکہ بلاوجہ طاقت اوروسائل کو ضائع کرنا کوئی عقلی کام نہیں ہے _

تقیہ:اس طریقہ کار کے مشابہہ ہے جسے تمام فوجی ،میدان جنگ میں استعمال کرتے ہیں اپنے آپ کو دختوں ،سرنگوں اور ریت کے ٹیلوںکے پیچھے چھپا لیتے ہیں اور اپنا لباس درختوں کی شاخوں کے رنگ جیسا انتخاب کرتے ہیں تا کہ بلا وجہ ان کا خون ہدر نہ جائے _

دنیا کے تمام عقلاء اپنی جان کی حفاظت کے لئے سخت دشمن کے مقابلے میں تقیہ والی روش سے استفادہ کرتے ہیں_ کبھی بھی عقلائ، کسی کو ایسا طریقہ اپنا نے پر سرزنش نہیں کریںگے_آپ دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ڈھونڈسکتے جو تقیہ کو اس کی شرائط کے ساتھ قبول نہ کرتاہو_

۴_تقیہ کتاب الہی میں :

قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ کو کفار اور مخالفین کے مقابلہ میں جائز قراردیا ہے _ مثال کے طور پر چند آیات پیشخدمت ہیں_

الف)آل فرعون کے مؤمن کی داستان میں یوں بیان ہوا ہے _

( و قال رجل مومن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله و قد جاء کم


بالبینات ) (۱)

آل فرعون میں سے ایک باایمان مرد نے کہ جو (موسی کی شریعت پر) اپنے ایمان کو چھپا تا تھا کہا: کیا تم ایسے مرد کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اوروہ اپنے ساتھ واضح معجزات اور روشن دلائل رکھتا ہے_

پھر مزید مؤمن کہتا ہے (اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اگر جھوٹ کہتا ہے تو اسجھوٹ کا اثر اس کے دامن گیر ہوگا اور اگر سچ کہتا ہے تو ممکن ہے بعض عذاب کی جو دھمکیاں اس نے سنائی ہیں وہ تمہارے دامن گیر ہوجائیں)پس اس طریقے سے آل فرعون کے اس مومن نے تقیہ کی حالت میں (یعنی اپنے ایمان کو مخفی رکھتے ہوئے ) اس ھٹ دھرم اور متعصب ٹولے کو کہ جو حضرت موسی (ع) کے قتل کے درپے تھا ضروری نصیحتیں کردیں _

ب)قرآن مجید کے ایک دوسرے صریح فرمان میں ہم یوں پڑھتے ہیں _

( لایتخذ المومنون الکافرین اولیاء من دون المومنین و من یفعل ذلک فلیس من الله فی شئی الا ان تتقو منهم تقاة ً ) ___(۲)

مومنین کو نہیں چاہیے کہ کفار کو اپنا دوست بنائیں _ جو بھی ایسا کریگا وہ خدا سے بیگانہ ہے ہاں مگر یہ کہ تقیہ کے طور پر ایسا کیا جائے _

اس آیت میں دشمنان حق کی دوستی سے مکمل طور پر منع کیا گیا ہے مگر اس صورت میں اجازت ہے کہ جب ان کے ساتھ اظہار دوستی نہ کرنا مسلمان کی آزار و اذیت کا سبب بنے، اس وقت ایک دفاعی ڈھال کے طور پر ان کی دوستی سے تقیہ کی صورت میں فائدہ اٹھایا جائے_

____________________

۱)سورہ غافر آیت ۲۸_

۲)سورہ آل عمران آیت ۲۸_


ج) جناب عمار یاسر اور انکے ماں ،باپ کی داستان کو تمام مفسرین نے نقل کیا ہے _ یہ تینوںاشخاص مشرکین عرب کے چنگل میں پھنس گئے تھے _اور مشرکین نے انہیں پیغمبر اکرم (ص) سے اظہار براء ت کرنے کوکہا _جناب عمار کے والدین نے اعلان لا تعلقی سے انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے _لیکن جناب عمار نے تقیہ کرتے ہوئے انکی مرضی کی بات کہہ دی_ اور اس کے بعد جب گریہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں آئے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی _

( من کفر بالله من بعد ایمانه الا من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۱)

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائیں انکے لئے شدید عذاب ہے مگر وہ لوگ جنہیں مجبور کیا جائے_

پیغمبر اکرم (ص) نے جناب عمار کے والدین کو شہداء میں شمار کیا اور جناب عمار یاسر کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور فرمایا تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر پھر مشرکین تمھیں مجبور کریں تو انہی کلمات کا تکرار کرنا_تمام مسلمان مفسرین کا اس آیت کی شان نزول کے بارے میں اتفاق ہے کہ یہ آیت جناب عمار یاسر اور انکے والدین کے بارے میں نازل ہوئی اور بعد میں رسول خدا (ص) نے یہ جملات بھی ادا فرمائے_ تو اس اتفاق سے عیاں ہوجاتا ہے کہ سب مسلمان تقیہ کے جواز کے قائل ہیں_ ہاں یہ بات باعث تعجب ہے کہ قرآن مجید سے اتنی محکم ادلہ اور اہل سنت مفسرین کے اقوال کے با وجود شیعہ کو تقیہ کی خاطر مورد طعن قرار دیا جاتا ہے-_

____________________

۱) سورة النحل آیت ۱۰۶_


جی ہاں نہ تو جناب عمار منافق تھے نہ ہی آل فرعون کا وہ مومن منافق تھا بلکہ تقیہ کے دستور الہی سے انہوں نے فائدہ اٹھایا_

۵_تقیہ اسلامی روایات میں :

اسلامی روایات میں بھی تقیہ کاکثرت سے ذکر ملتا ہے_مثال کے طور پر مسند ابی شیبہ اہل سنت کی معروف مسند ہے _اس میں (مسیلمہ کذاب) کی داستان میں نقل ہوا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے رسو ل خدا (ص) کے دو اصحاب کو اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں گرفتار کرلیا اور دونوں سے سوال کیا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں خدا کا نمائندہ ہوں؟ ایک نے گواہی دے کر اپنی جان بچالی اور دوسرے نے گواہی نہیں دی تو اسکی گردن اڑادی گئی_ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو آپ(ص) نے فرمایا جو قتل ہو گیا اس نے صداقت کے راستے پر قدم اٹھایا اور دوسرے نے رخصت الہی کو قبول کرلیا اوراس پر کوئی گناہ نہیں ہے(۱)

ائمہ اہل بیت کی احادیث میں بھی بالخصوص ان ائمہ کے کلمات میں کہ جو بنوعباس اور بنو اُميّہ کی حکومت کے زمانہ میں زندگی بسر کرتے تھے اور اس دور میں جہاں کہیں محب علی ملتا اسے قتل کردیا جاتا تھا_تقیہ کا حکم کثرت سے ملتا ہے _ کیونکہ وہ مامور تھے کہ ظالم اور بے رحم دشمنوں سے اپنی جان بچانے کے لئے تقیہ کی ڈھالسے استفادہ کریں_

۶_کیا تقیہ صرف کفار کے مقابلے میں ہے؟

ہمارے بعض مخالفین جب ان واضح آیات اور مندرجہ بالاروایات کا سامنا کرتے ہیں تو اسلام میں تقیہ کے جواز کو قبول کرنے کے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا_ اس وقت وہ

____________________

۱) مسند ابی شیبہ ، ج۱۲ ص ۳۵۸_


یوں راہ فرار تلاش کرتے ہیں کہ تقیہ تو صرف کفار کے مقابلہ میں ہوتا ہے_ مسلمانوں کے مقابلے میں تقیہ جائز نہیں ہے _ حالانکہ مندرجہ بالا ادلہ کی روشنی میں بالکل واضح ہے کہ ان دو موارد میں کوئی فرق نہیں ہے_

۱_ اگر تقیہ کا مفہوم متعصب اور خطرناک افراد کے مقابلے میں اپنی جان ،مال اور ناموس کی حفاظت کرنا ہے، اور حقیقت میں بھی یو نہی ہے، تو پھر نا آگاہ اور متعصب مسلمان اور کافرکے در میان کیا فرق ہے ؟ اگر عقل و خرد یہ حکم لگاتی ہے کہ ان امور کی حفاظت ضروری ہے اور انہیں بیہودہ طور پر ضائع کرنا مناسب نہیں ہے تو پھر ان دومقامات میں کیا فرق ہے_

دنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انتہائی جہالت اور غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے کہتے ہیں کہ شیعہ کا خون بہانا قربت الہی کا ذریعہ بنتا ہے _ اب اگر کوئی مخلص شیعہ جو امیر المومنین _ کا حقیقی پیرو کار ہو اور اس جنایت کارٹولے کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے اور وہ اس سے پوچھیں کہ بتا تیرا مذہب کیا ہے ؟ اب اگر یہ شخص واضح بتادے کہ میں شیعہ ہوں تو یہ خواہ مخواہ اپنی گردن کو جہالت کی تلوار کے سپردکرنے کے علاوہ کوئی اور چیزہے؟ کوئی بھی صاحب عقل و خرد یہ حکم لگا سکتا ہے ؟

باالفاظ دیگر جو کام مشرکین عرب نے جناب عمار و یاسریا مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں نے دواصحاب رسول خدا کے ساتھ کیا اگر وہی کام بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء اور جاہل مسلمان، شیعوں کے ساتھ انجام دیں تو کیا ہم تقیہ کو حرام کہیں اور اہل بیتکے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مخلص پیروکاروں کی نابودی کے اسباب فراہم کریں صرف اس خاطر کہ یہ حاکم بظاہر مسلمان تھے ؟

اگر ائمہ اہل بیتتقیہ کے مسئلہ پربہت زیادہ تاکید نہ کرتے یہاںتک کہ فرمایا ہے


(تسعة اعشار الدین التقیه ) دس میں سے نو حصے دین تقیہ ہے _(۱)

تو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں شیعوں کے مقتولین کی تعداد شاید لاکھوں بلکہ کروڑوں تک پہنچ جاتی _ یعنی انکی بے رحمانہ اوروحشیانہ قتل و غارت دسیوں گنا زیادہ ہوجاتی_

آیا ان شرائط میں تقیہ کی مشروعیت کے بارے میں ذرہ برابر شک رہ جاتا ہے ؟ہم یہ بات فراموش نہیں کرسکتے کہ جب اہل سنت بھی سالہا سال مذہبی اختلافات کی خاطر ایک دوسرے سے تقیہ کرتے تھے _ من جملہ قرآن مجید کے حادث یا قدیم ہونے پر انکا شدید اختلاف تھا اور اس راہ میں بہت ساروں کا خون بہایا گیا (وہی نزاع کہ جو آج محققین کی نظر میں بالکل بیہودہ اوربے معنی نزاع ہے )کیا جو گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا اگر ان میں سے کوئی شخص مخالفین کے چنگل میں گرفتار ہوجاتا تو کیا اسے صراحت کے ساتھ کہہ دینا چاہیے کہ میرا یہ عقیدہ ہے چاہے اس کا خون بہہ جائے اور اس کے خون بہنے کا نہ کوئی فائدہ ہو اور نہ کوئی تاثیر؟

۲_جناب فخر رازی اس آیت( الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ آیت کا ظہور یہ ہے کہ تقیہ غالب کافروں کے مقابلے میں جائزہے (الا ان مذهب الشافعی _رض_ان الحالة بین المسلمین اذا شاکلت الحالة بین المسلمین و المشرکین حلّت التقیه محاماة علی النفس ) لیکن مذہب شافعی یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی کیفیت بھی ایک دوسرے کے ساتھ مسلمین و کفار جیسی ہوجائے تو اپنی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ جائزہے _

____________________

۱) بحارالانوار ، جلد ۱۰۹، ص ۲۵۴_

۲) سورة آل عمران آیة ۲۸_


اس کے بعد حفظ مال کی خاطر تقیہ کے جواز پر دلیل پیش کرتے ہیںکہ حدیث نبوی ہے (حرمة مال المسلم کحرمة دمہ ) مسلمان کے مال کا احترام اس کے خون کی مانند ہے ) اور اسی طرح دوسری حدیث میں ہے (من قتل دون مالہ فہو شہید) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے ماراجائے وہ شہید ہے(۱) _

تفسیر نیشاپوری میں کہ جو تفسیر طبری کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے یوں بیان کیا گیا ہے کہ قال الامام الشافعی :

(تجوز التقیه بین المسلمین کما تجوز بین الکافرین محاماة عن النفس )(۲)

امام شافعی فرماتے ہیں کہ جان کی حفاظت کی خاطر مسلمانوں سے تقیہ کرنا بھی جائز ہے _ جس طرح کفار سے تقیہ کرنا جائز ہے _

۳_دلچسب بات یہ ہے کہ بنی عباس کی خلافت کے دور میں بعض اہل سنت محدثین (قرآن مجید کے قدیم ہونے ) پر عقیدہ رکھنے کیوجہ سے بنو عباس کے حكّام کی طرف سے دباؤ کا شکار ہوئے انہوں نے تقیہ کرتے ہوئے اعتراف کرلیا کہ قرآن مجید حادث ہے اوراس طرح انہوںنے اپنی جان بچالی _

''ابن سعد'' مشہور مورخ کتاب طبقات میں اور طبری ایک اور مشہور مورخ اپنی تاریخ کی کتاب میں دو خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو مامون کی طرف سے اسی مسئلہ کے بارے میں بغداد کے پولیس افسر (اسحق بن ابراہیم) کی طرف ارسال کیے گئے _

____________________

۱) تفسیر کبیر فخر رازی، جلد ۸ ص ۱۳_

۲) تفسیر نیشابوری (تفسیر الطبری کے حاشیہ پر) جلد ۳، ص ۱۱۸_


پہلے خط کے بارے میں ابن سعد یوں لکھتا ہے کہ مامون نے پولیس افسر کو لکھا کہ سات مشہور محدثین ( محمد بن سعد کاتب واقدی _ابو مسلم_یحیی بن معین_زہیر بن حرب_ اسمعیل بن داوود_ اسمعیل بن ابی مسعود_ و احمد بن الدورقی ) کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ میری طرف بھیج دو_جب یہ افراد مامون کے پاس پہنچے تو اس نے ان سے آزمانے کے لیے سوال کیا کہ قرآن مجید کے بارے میں تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ تو سب نے جواب دیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے (حالانکہ اس وقت محدثین کے درمیان مشہور نظریہ اس کے برعکس تھا یعنی قرآن مجید کے قدیم ہونے کے قائل تھے اور ان محدثین کا بھی یہی عقیدہ تھا(۱) ہاں انہوں نے مامون کی سخت سزاؤں کے خوف سےتقیہ کیا اور قرآن مجید کے مخلوق ہونے کا اعتراف کرلیا اور اپنی جان بچالی _مامون کے دوسرے خط کے بارے میں کہ جسے طبری نے نقل کیا ہے اور وہ بھی بغداد کے پولیس افسر کے نام تھایوں پڑھتے ہیں کہ جب مامون کا خط اس کے پاس پہنچاتو اس نے بعض محدثین کو کہ جنکی تعداد شاید ۲۶چھبیس افراد تھی حاضر کیا اور مامون کا خط انکے سامنے پڑھا_پھر ہر ایک کو الگ الگ پکار کر قرآن مجید کے بارے میں اُسکا عقیدہ معلوم کیا_ ان میں سوائے چار افراد کے سب نے اعتراف کیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے ( اور تقیہ کرکے اپنی جان بچالی ) جن چار افراد نے اعتراف نہیں کیا انکے نام یہ تھے احمد ابن حنبل ، سجادہ ، القواریری، اور محمد بن نوح _ پولیس انسپکٹر نے حکم دیا کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر زندان میں ڈال دیا جائے _ دوسرے دن دوبارہ ان چاروںافراد کو بلایا اور قرآن مجید کے بارے میں اپنے سوال کا تکرار کیا _سجادة نے اعتراف کرلیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے وہ آزاد ہو

____________________

۱) طبقات ابن سعد، جلد ۷،ص ۱۶۷، چاپ بیروت_


گیا _ باقی تین نے مخالفت پر اصرار کیا ،انہیں دوبارہ زندان بھیج دیا گیا_ اگلے دن پھر ان تین افراد کو بلایا گیا اس مرتبہ (القواریری)نے اپنا بیان واپس لے لیا اور آزاد ہوگیا_لیکن احمد ابن حنبل اور محمد بن نوح اسی طرح اپنے عقیدہ پر مصّر رہے _ پولیس انسپکٹر نے انہیں (طرطوس )(۱) شہر میں جلا وطن کردیا_

جب کچھ لوگوں نے ان تقیہ کرنے والوں پر اعتراض کیا تو انہوں نے کفار کے مقابلے میں جناب عمار یاسر کے عمل کو دلیل کے طور پر پیش کیا(۲) ان موارد سے بالکل روشن ہوجاتا ہے کہ جس دقت انسان کسی چنگل میں گرفتار ہوجائے اور اس وقت ظالموں سے نجات پانے کا تنہا راستہ تقیہ ہوتو وہ یہ راستہ اختیار کر سکتا ہے خواہ یہ تقیہ کافر کے مقابلہ میں ہو یا مسلمان کے مقابلے میں ہو_

۷) حرام تقیہ:

بعض موارد میں تقیہ حرام ہے اور یہ اس وقت ہے کہ جب ایک فرد یا گروہ کے تقیہ کرنے اور اپنا مذہبی عقیدہ چھپا نے سے اسلام کی بنیاد کو خطرہ لاحق ہوتا ہو یا مسلمانوں کو شدید نقصان ہو تا ہو_ اس وقت اپنے حقیقی عقیدہ کو ظاہر کرنا چاہیے، چاہے ان کے لئے خطرے کا باعث ہی کیوں نہ ہو _اور جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے( ولا تلقو بایدیکم الی التهلکة ) یہ

____________________

۱) یہ شام میں دریا کے کنارے ایک شہر ہے (معجم البلدان جلد۴، ص ۳۰)_

۲) تاریخ طبری جلد ۷، ص ۱۹۷_


لوگ سخت خطاء سے دوچار ہیں کیونکہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ میدان جہاد میں حاضر ہونا بھی حرام ہو حالانکہ کوئی بھی عاقل ایسی بات نہیں کرتا ہے _یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ یزید کے مقابلے میں امام حسین _ کا قیام یقینا ایک دینی فریضہ تھا _ اسی لئے امام _ تقیہ کے طور پر بھی یزیدیوں اور بنو امیہ کے غاصب خلفاء کے ساتھ کسی قسم کی نرمی دکھانے پر راضی نہ ہوئے_ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے اسلام کی بنیاد کو شدید دھچکا لگے گا_ آپ (ع) کا قیام اور آپکی شہادت مسلمانوں کی بیداری اور اسلام کو جاہلیت کے چنگل سے نجات دلانے کا باعث نبی_

(مصلحت آمیز ) تقيّہ:

یہ تقیہ کی ایک دوسری قسم ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایک مذہب والے ،مسلمانوں کی صفوں میں وحدت برقرار رکھنے کے لئے ان باتوں میں جن سے دین و مذہب کی بنیادکو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، دوسرے تمام فرقوں کے ساتھ ہماہنگی اور یکجہتی کا ثبوت دیتے ہیں _ مثلا مکتب اہل بیت کے پیرو کار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کپڑے اور قالین پر سجدہ نہیں ہوتااورپتھریا مٹی و غیرہ پر سجدہ کرنا ضروری ہے _اور پیغمبر اکرم (ص) کی اس مشہور حدیث (جعلت لی الارض مسجداً و طهورا )(۱) ''زمین کو میرے لئے محل سجدہ اور وسیلہ تیمّم قرار دیا گیا ہے '' کو اپنی دلیل قرار دیتے ہیں اب اگر وہ وحدت برقرار رکھنے کیلئے دیگر مسلمانوں کی صفوں میں انکی مساجد میں یامسجد الحرام اور مسجد نبوی میں جب نماز پرھتے ہیں تو ناگزیر کپڑے پر سجدہ کرتے ہیں _ یہ کام جائز ہے اور ایسی نماز ہمارے عقیدہ کے مطابق

____________________

۱)صحیح بخاری جلد ۱ ص ۹۱و سنن بیہقی ،جلد ۲ ص ۴۳۳(اور بھی بہت سی کتب میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے )_


درست ہے اور اسے ہم مدارا کرنے والا ( مصلحت آمیز )تقیہ کہتے ہیں _کیونکہ اس میں جان و مال کا خوف درکار نہیں ہے بلکہ اس میں تمام اسلامی فرقوں کے ساتھ مدارا کرنے اورحسن معاشرت کا عنوان در پیش ہے _تقیہ کی بحث کا ایک بزرگ عالم دین کے کلام کے ساتھ اختتام کرتے ہیں _

ایک شیعہ عالم دین کی مصر میں الازہر کے ایک بزرگ استاد سے ملاقات ہوئی اس نے شیعہ عالم کو سرزنش کرتے ہوئے کہا-میں نے سنا ہے تم لوگ تقیہ کرتے ہو؟ شیعہ عالم دین نے جواب میں کہا(لعن الله من حملنا علی التقیة ) رحمت الہی سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں تقیہ پر مجبور کیا(۱)

____________________

۱) یعنی اگر دشمنوں کی طرف سے ہماری جان و مال کو خطرہ نہ ہوتا تو ہم کبھی بھی تقیہ نہ کرتے (مترجم)


۳

عدالت صحابہ

اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب خصوصی امتیازات سے بہرہ مند تھے _ وحی الہی اور آیات کو پیغمبر اکرم(ص) کی زبان مبارک سے سنتے تھے_ آنحضرت(ص) کے معجزات کا مشاہدہ کرتے تھے _اور آپکی قیمتی باتوں کے ذریعے پرورش پاتے تھے آنحضرت (ص) کے عملی نمونوں اور اسوہ حسنہ سے بہرہ مند تھے _

اسی وجہ سے انکے در میان ایسی بزرگ اور ممتاز شخصیات نے تربیت پائی کہ جہان اسلام جنکے وجود پر فخر و مباہات کرتا ہے _ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ کہ کیا تمام اصحاب بغیر کسی استثناء کے مومن،صالح،سچے،درستکار اور عادل افراد تھے یا ان کے در میان غیر صالح افراد بھی موجود تھے _

۱_ دو متضاد عقیدے :

صحابہ کے بارے میں دو مختلف عقیدے موجود ہیں : پہلا عقیدہ یہ کہ تمام اصحاب بغیر کسی استثناء کے پاکیزگی و طہارت کے نور سے منور ہیں اور سب ہی صالح، عادل ، باتقوی اور صادق تھے _ اسی وجہ سے ان میں سے جو بھی پیغمبر اکرم(ص) سے حدیث نقل کرے صحیح اور قابل قبول ہے _ اور ان پر کوئی چھوٹا سا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا ہے اور اگر ان سے غلط کام سرزد ہوجائے تو ان کی توجیہ کرنا چاہیئے_یہ اہل سنت کے اکثر گروہوںکا عقیدہ ہے _


دوسرا عقیدہ یہ ہے کہ اگر چہ ان کے در میان باشخصیت،فداکار،پاک اور باتقوی افراد موجود تھے لیکن منافق اور غیر صالح افراد بھی موجود تھے _اور قرآن مجید اور پیغمبر اکرم (ص) نے ان سے اظہار بیزاری کیا ہے _

با الفاظ دیگر اچھے اور برے کی تشخیص کا جو معیار ہر جگہ استعمال ہوتا ہے وہی معیار ہم یہاں بھی جاری کریں گے _ ہاں چونکہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب تھے اس لئے ان کے بارے میں ہمارا اصلی و بنیادی نظریہ یہ ہوگا کہ یہ نیک و پاک افراد ہیں ،لیکن اس کے با وجود ہم حقائق سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریں گے _اور عدالت و صدق سے منافی اعمال کے صدورپر غض بصر نہیں کریں گے _چونکہ یہ کام ،اسلام اور مسلمین پر ایک کاری ضرب لگا تا ہے اور اسلام کی چار دیواری میں منافقین کے داخلہ کا سبب بنتا ہے_

مذہب شیعہ اور اہلسنت کے روشن فکر علماء کے ایک گروہ نے اس عقیدہ کا انتخاب کیا ہے_

۲_تنزیہ کے سلسلہ میں شدّت پسندی:

تنزیہ صحابہ والے نظریہ کے طرفداروں کے ایگ گروہ نے اتنی شدت اختیار کی ہے کہ جو بھی اصحاب پر تنقید کر دے اسے فاسق اورکبھی ملحد اور زندیق شمار کرتا ہے اور یا اس کا خون بہانا مُباح سمجھتا ہے_

من جملہ ابو زرعہ رازی کی کتاب '' الاصابة'' میں یوں ملتا ہے:'' اگر دیکھو کوئی شخص اصحاب پیغمبر(ص) میں سے کسی پر تنقید کر رہا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق ہے_ یہ فتوی اس لئے ہے چونکہ رسولخدا(ص) حق اور قرآن حق ہے اور جو کچھ پیغمبر پر نازل ہوا حق ہے اور ان تمام چیزوں کو


صحابہ نے ہم تک پہنچایا ہے اور یہ ( مخالفین) چاہتے ہیں ہمارے شہود (گواہوں) کو بے اعتبار کردیں تا کہ کتاب و سنت ہاتھ سے چلی جائے''(۱)

'' عبداللہ موصلی '' اپنی کتاب '' حتی لا ننخدع '' میں یوں رقمطراز ہیں'' یہ اصحاب ایسا گروہ ہے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر(ص) کی ہم نشینی اور دین و شریعت کے قوام کے لیے چُن لیا ہے_ اور انہیں پیغمبر(ص) کا وزیر قرار دیا ہے_ انکی محبت کو دین و ایمان اور انکے بُغض کو کفر و نفاق شمار کیا ہے اور امت پر واجب کیا ہے کہ ان سب کو دوست رکھیں اور ہمیشہ انکی خوبیاں اور فضائل بیان کریں اور انکی آپس میں جو جنگیں اور جھگڑے ہوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کریں''(۲)

عنقریب روشن ہو جائیگا کہ یہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے_

۳_ لا جواب سوالات:

ہر عقلمند اور منصف مزاج انسان جو ہر بات کو بغیر دلیل اور آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتا اپنے آپ سے یہ سوالات کرتا ہے_

اللہ تعالی قرآن مجید میں ازواج پیغمبر(ص) کے بارے میں یوں فرماتا ہے کہ:

( '' يَانسائَ النّبی مَن يَات منكُنَّ بفاحشة: مبيّنة: يُضاعَفُ لَهَا العذابُ ضعفَین و کانَ ذلک علی الله یسیراً'' ) (۳)

____________________

۱) الاصابہ ، جلد ۱، ص ۱۷_

۲) حتی لاننخدع ، ص ۲_

۳)سورہ احزاب، آیت ۳۰_


اے ازواج رسول(ص) تم میں سے جس نے بھی کھلم کھلا گناہ کیا اس کی سزا دو برابر ہوگی اور یہ بات اللہ تعالی کے لیے انتہائی آسان ہے_

ہم صحابہ کی جو بھی تفسیر کریں ( عنقریب اصحاب کی مختلف تعریفیں بیان ہونگی) بلاشک ازواج نبی(ص) اصحاب کا روشن ترین مصداق ہیں_

قرآن مجید کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انکے گناہوں سے چشم پوشی نہیں کی جائے گی بلکہ انکی سزا دوبرابر ہوگی_

کیا ہم اس آیت پریا نظریہ تنزیہ کے طرفداروں کی بلا مشروط حمایت پریقین رکھیں؟

نیز قرآن مجید ،شیخ الانبیاء حضرت نوح _ کے فرزند کے بارے میں اس کی غلطیوں کی وجہ سے یوں فرماتا ہے ''( إنّه عملٌ غیرُ صالح ) :'' وہ غیر صالح عمل ہے _(۱)

اور جناب نوح (ع) کو خبردار کیا گیا کہ اس کی شفاعت نہ کریں

کیا ایک نبی(ع) کا فرزند اہم ہوتا ہے یا اس کے اصحاب و اعوان؟

حضرت نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کے بارے میں قرآن مجید یوں کہتا ہے:

''( وَ فَخَانَتاهُما فلم يُغنيَا عنهما من الله شَیئاً و قیلَ ادخُلا النّارَ مع الدَّاخلین'' ) (۲)

ان دو نے اپنے شوہروں ( نوح (ع) اور لوط(ع) کے ساتھ خیانت کی ( اور دشمنوں کا ساتھ دیا) اور وہ دو پیغمبر انکی شفاعت نہ کر سکے اور ان دونوں کو حکم دیا گیا کہ دوزخیوں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجاؤ_

____________________

۱) سورة ہود آیت ۴۶_

۲)سورة تحریم آیت ۱۰_


۴۷ کیا یہ آیات صراحت کے ساتھ بیان نہیں کر رہیں کہ افراد کی خوبی اور بدی کا معیار انکا اپنا ایمان اور عمل ہے_ حتی کہ اگر بُرے اعمال ہوں تو نبی(ع) کی بیوی یا بیٹا ہونا بھی جہنم میں جانے سے نہیں روک سکتا_

اس کے باوجود کیا صحیح ہے کہ ہم آنکھیں بند کرلیں اور کہیں کہ فلاں شخص چونکہ کچھ عرصہ کے لیئے بنی (ص) کا صحابی رہا ہے لہذا اس کی محبت دین و ایمان اور اس کی مخالفت کفر و نفاق ہے_ چاہے وہ صحابی بعد میں منافقین کی صف میں داخل ہوگیا ہو اور اس نے نبی اکرم(ص) کا دل دکھایا ہو اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہو_ کیا عقل و خرد اس بات کو قبول کرتی ہے؟

اگر کوئی کہے کہ طلحہ و زبیر ابتدائ-ے اسلام میں اچھے انسان تھے لیکن جس وقت حکومت کی ہوس اُن پر سوار ہوئی تو انہوں نے زوجہ رسول(ص) ( حضرت عائشےہ) کواپنے ساتھ لیا اور حضرت علی(ع) کے ساتھ اپنی بیعت و پیمان توڑ ڈالی حالانکہ تقریبا تمام مسلمانوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی_ پھر انہوں نے جنگ جمل کی آتش کو بھڑ کایا اور اس طرح سترہ ہزار مسلمان اس جنگ کا لقمہ بن گئے_ پس یہ لوگ راہ راست سے منحرف ہوگئے تھے اور اس عظیم تعداد کا خون انکی گردن پر ہے اور قیامت کے دن یہ جوابدہ ہونگے_

کیا یہ بات حقیقت کے خلاف ہے؟

یا اگر کوئی کہے چونکہ معاویہ نے حضرت علی (ع) کی بیعت کی خلاف ورزی کی اور جس خلافت کو تمام مسلمانوں نے قبول کر لیا تھا تو اس نے انکار کیا اور جنگ صفین کی آگ بھڑکائی جس میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان لقمہ اجل بن گئے_ لہذا معاویہ سمتگر آدمی تھا_ کیا یہ بات نا حق ہے؟


کیا تاریخ کے ان تلخ حقائق سے چشم پوشی کی جاسکتی ہیں_ یا ان غلط توجیہات کی خاطر کہ جنہیں کوئی بھی عقلمند آدمی قبول نہیں کرتا ان نہایت افسوس ناک حوادث سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ کیا '' عبداللہ موصلی کے بقول ایسے افراد کی محبت، دین و ایمان ہے اور انکا بغض کفر و نفاق ہے؟

کیا ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ان غلط کاموں کے سامنے جو ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے موجب بنے ہیں سکوت اختیار کریں؟ کونسی عقل یہ حکم لگاتی ہے؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے گرد جمع ہونے والوں میں منافق لوگ بھی تھے کیا ان آیات قرآن سے چشم پوشی کرلیں؟

قرآن مجید یوں فرماتا ہے :

''( و ممَّن حَولَکم من الأعراب مُنافقُونَ و من أهل المدینة مَرَدُوا علی النّفاق لا تَعلَمُهُم نَحنُ نَعلَمُهُم ) ''(۱)

کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس قسم کی منطق کو دنیا کے عقلمند انسان قبول کرلیں؟

۴: صحابہ کون ہیں؟

اس مقام پر ایک اور اہم نکتہ مفہوم '' صحابہ'' ہے_

صحابہ کہ جن کے بارے میں طہارت و پاکیزگی کی بات کی جاتی ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ صحابہ سے کون لوگ مراد ہیں _اس سلسلہ میں علمائے اہل سنت کی جانب سے مکمل طور پر مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں_

____________________

۱)سورہ توبہ آیت ۱۰۱_


۱_ بعض نے تو اس کے مفہوم کو بہت وسیع کردیا ہے _وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جس نے بھی آنحضرت (ص) کو دیکھا ہے وہ آپ (ص) کاصحابی ہے

اسی تعبیر کو '' بخاری'' نے ذکر کیا ہے وہ یوں لکھتے ہیں ''من صَحَبَ رسولُ الله او رآه من المسلمین فهو من أصحابه''

اہل سنت کے معروف عالم جناب احمد بن حنبل نے بھی صحابی کے مفہوم کو بہت وسیع بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں''أصحابُ رسول الله کلُّ منَ صَحَبه ، شَهراً أو يَوماً أو سَاعَةً أو رَآه''

''رسولخدا(ص) کا صحابی وہ ہے کہ جس نے رسولخدا(ص) کی صحبت اختیار کی ہو چاہے ایک ماہ ایک دن یا حتی ایک گھنٹے کیلئے بھی بلکہ اگر کسی نے آنحضرت(ص) کی زیارت کی ہو وہ بھی صحابی ہے''

۲_ بعض علماء نے صحابی کی تعریف کو محدود انداز میں پیش کیا ہے مثلا '' قاضی ابوبکر محمد ابن الطيّب'' لکھتے ہیں کہ اگرچہ صحابی کا لغوی معنی عام ہے لیکن اُمت کے عرف عام میں اس اصطلاح کا اطلاق صرف اُن افراد پرہوتا ہے جو کافی عرصہ تک آنحضرت(ص) کی صحبت میں رہے ہوں نہ ان لوگوں پرکہ جو صرف ایک گھنٹہ کی محفل میں بیٹھاہو یا آپ(ص) کے ساتھ چند قدم تک چلا ہو یا اُس نے ایک آدھ حدیث آنحضرت(ص) سے سُن لی ہو''_

۳_ بعض علماء نے صحابی کی تعریف کا دائرہ اس سے بھی زیادہ تنگ کردیا ہے جیسے'' سعید بن المسيّب'' لکھتے ہیں کہ '' پیغمبر (ص) کا صحابی وہ ہے جو کم از کم ایک یا دو سال آنحضرت(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دو غزووں میں اس نے آنحضرت(ص) کے ساتھ شرکت کی ہو''(۱)

____________________

۱) تفسیر قرطبی، جلد ۸، ص ۲۳۷_


ان تعاریف اور دیگر تعریفوں میں کہ جنہیں طوالت کے خوف کیوجہ سے ذکر نہیں کیا جا رہا ہے مشخّص نہیں ہے کہ اس قداست کے دائرے میں آنے والے افراد کون سے ہیں_ اکثر علماء نے اسی وسیع معنی کو اختیار کیا ہے_اگرچہ ہماری مدّ نظر ابحاث میں ان تعریفوں کے اختلاف سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے_ جیسا کہ عنقریب روشن ہوجائیگا کہ سیرت رسول(ص) کی خلاف ورزی کرنیوالے اکثروہ افراد ہیں جو کافی عرصہ تک آپ(ص) کے ہمنشین رہے ہیں_

۵:''عقیدہ تنزیہ کا اصلی سبب''

اس کے باجود کہ اصحاب کی اس حد تک پاکیزگی کا عقیدہ رکھنا کہ جو بعض لحاظ سے عصمت کے مشابہ ہے نہ تو قرآن مجید میں اس کا حکم آیا ہے نہ احادیث میں بلکہ قرآن ، سنت اور تاریخ سے اس کے برعکس مطلب ثابت ہے حتی کہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی میں اس قسم کا کوئی عقیدہ موجود نہیں تھا_ تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ بعد والی صدیوں میں یہ مسئلہ کیوں اور کس د لیل کی بناپرپیش کیا گیاہے؟

ہمارے خیال کے مطابق اس عقیدہ کے انتخاب کی چند وجوہات تھیں

۱_ اگر کمال حُسن ظن سے کام لیا جائے تو ایک وجہ تو یہی ہے جسے سابقہ ابحاث میں ذکر کیا گیا ہے کہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ اگر صحابہ کرام کا تقدس پائمال ہوجائے تو انکے اور پیغمبر(ص) کے درمیان حلقہ اتصال ٹوٹ جائے گا_کیونکہ قرآن مجید اور پیغمبر اکرم(ص) کی سنت انکے واسطہ سے ہم تک پہنچی ہے_

لیکن اس بات کا جواب بالکل واضح ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان معاذ اللہ تمام اصحاب کو غلط اور کاذب نہیں کہتا ہے کیونکہ انکے درمیان ثقہ اور مورد اطمینان افراد کثرت کے ساتھ


تھے،وہی بااعتماد افراد ہمارے اور پیغمبر اکرم(ص) کے درمیان حلقہ اتصال بن سکتے ہیں_ جس طرح ہم شیعہ، اہلبیت(ع) کے اصحاب کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں_

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد والی صدیوں میں بھی یہی مشکل موجود ہے کیونکہ آج ہم کئی واسطوں کے ذریعے اپنے آپ کو زمانہ پیغمبر(ص) کے ساتھ متّصل کرتے ہیں_ لیکن کسی نے دعوی نہیں کیا کہ یہ تمام واسطے ،ثقہ اور صادق ہیں اور ہر صدی کے لوگ بڑے مقدس تھے اور اگر ایسا نہ ہوتو ہمارا دین متزلزل ہوجائیگا_

بلکہ سب یہی کہتے ہیں کہ روایات کو ثقہ اور عادل افراد سے اخذ کرنا چاہیئے_

علم رجال کی کتب تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ثقہ کو غیر ثقہ سے ممتاز کیا جاسکے_

تواب کیا مشکل ہے کہ اصحاب کرام کے بارے میں بھی ہم وہیطریقہ عمل اختیار کریں جو ان سے بعد والوں کے بارے میں اختیار کرتے ہیں؟

۲: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بعض صحابہ کے بارے میں ''جرح'' یعنی انکے نقائص بیان کرنے اور ان پر تنقید کرنے سے پیغمبر اسلام(ص) کے مقام و منزلت میں کمی واقع ہوتی ہے_ اس لیے اصحاب پر تنقید جائز نہیں ہے_

جو لوگ اس دلیل کا سہارا لیتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے پیغمبر(ص) کے گرد جمع ہونے والے منافقین پر شدید ترین حملے نہیں کیے ہیں؟ کیا آنحضرت(ص) کے خالص اور صادق اصحاب کے درمیان منافقین کی موجودگی کی وجہ سے آپ(ص) کی شان میں کمی واقع ہوئی ہے؟ ہرگزایسا نہیں ہے

خلاصہ یہ کہ ہمیشہ اور ہر زمانے میں حتی تمام انبیاء کے زمانوں میں اچھے اور بُرے افراد


موجود تھے_ اور انبیاء کے مقام و منزلت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا_

۳_ اگر اصحاب کے اعمال پر جرح و تنقید کا سلسلہ شروع ہوجائے تو بعض خلفاء راشدین کی شخصیت پر حرف آتا ہے_اس لئے ان کے تقدس کی حفاظت کیلئے صحابہ کی قداست پر تاکید کرنا چاہئے تا کہ کوئی شخص مثلا حضرت عثمان کے اُن کاموں پر اعتراض نہ کرے جو بیت المال کے بارے میں اور اس کے علاوہ ان کے دور حکومت میں وقوع پذیر ہوئے اور یہ نہ کہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا_

یہاںتک کہ اس قداست کے قالب میں معاویہ اور اس کے اقدامات ;جیسے کہ اس نے خلیفہ رسول(ص) حضرت علی _ کی مخالفت کی اور اُن کے ساتھ جنگیں کیں اور مسلمانوں کے قتل عام کا موجب بنا;کی توجیہ کی جاسکے، اور اس ہتھیار کے ذریعے ایسے افراد کو تنقید سے بچایا جاسکے_ البتہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قداست والے مسئلہ کی بنیاد ابتدائی صدیوں کے سیاستدانوں نے رکھی_ جسطرح انہوں نے کلمہ '' اولی الامر'' کی تفسیر، ''حاکم وقت'' کی تا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے ظالم حکام کی اطاعت کو بھی ثابت کیا جاسکے نیز یہ حکام کا سیاسی پروگرام اور لائحہ عمل تھا_ ہمارا یہ خیال ہے کہ ایسی باتوں سے ان کا مقصدسب صحابہ کو بچانا نہ تھا بلکہ اپنے مورد نظر افراد کی حمایت مقصود تھی_

۴_ بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اصحاب کے تقدس کا عقیدہ قرآن مجید اور سنت نبوی(ص) کے فرمان کے مطابق ہے کیونکہ قرآن مجید کی بعض آیات اوربعض احادیث میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے_

اگرچہ یہ بہترین توجیہ ہے لیکن جب ہم ادّلہ کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات و روایات میں جس چیز کو وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں موجود نہیں ہے_سب سے اہم آیت


جس کو دلیل کے طور پر ذکر کیا گیا ہے مندرجہ ذیل آیت ہے:

''( و السابقون الاوّلون من المُهاجرینَ و الأنصار وَ الَّذین اتّبعُوهُم رَضی الله عنهم و رَضُو عنه و أعَدَّ لهم جَنّات: تَجری تَحتهَا الأنهارُ خالدین فیها أبداً ذلک الفَوزُ العظیم ) ''(۱)

مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ انکی پیروی کی اللہ تعالی ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں اور اللہ تعالی نے انکے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جنکے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے _

اہلسنت کے بہت سے مفسّرین نے اس آیت کے ذیل میں ( بعض صحابہ اور پیغمبر(ص) اکرم سے حدیث ) نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ ''جمیع أصحاب رسول الله فی الجنّة مُحسنهم ومُسیئهم'' اس حدیث میں مذکورہ بالا آیت سے استناد کیا گیا ہے_(۲)

دلچسپ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت کہتی ہے کہ تابعین اس صورت میں اہل نجات ہیں جب نیکیوں میں صحابہ کی پیروی کریں ( نہ برائیوں میں ) اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ کے لیے بہشت کی ضمانت دی گئی ہے _کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ گناہوں میں آزاد ہیں؟

جو پیغمبر(ص) ، لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے آیا ہے کیا ممکن ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو استثناء کر دے اور ان کے گناہوں سے چشم پوشی کرے_ حالانکہ قرآن مجید ،ازواج رسول(ص) کے بارے میں فرماتا ہے کہ جو سب سے نزدیک صحابیہ تھیں، اگر تم نے گناہ کیا تو تمہاری سزا دو

____________________

۱) سورة توبہ آیت ۱۰۰_

۲) تفسیر کبیر فخر رازی و تفسیر المنار ذیل آیت مذکورہ_


برابر ہے_(۱)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اگر اس آیت میں کسی قسم کا ابہام بھی ہو تو اسے سورة فتح کی آیت نمبر ۲۹ رفع کر دیتی ہے کیونکہ یہ آیت پیغمبر اکرم(ص) کے سچّے اصحاب کی صفات بیان کر رہی ہے_

''أشدَّاء عَلی الکفّار رُحَمَائُ بَینَهُم تراهُم رُكَّعاً سُجَّداً يَبتَغُونَ فَضلاً منَ الله و رضوَاناً سیمَاهُم فی وُجُوههم من أثَر السُجُود''

یہ لوگ کفار کے مقابلے میں شدید اور زبردست ہیں اور آپس میں مہربان ہیں انہیں ہمیشہ رکوع و سجود کی حالت میں دیکھو گے اس حال میں کہ مسلسل فضل و رضائے خدا کو طلب کرتے ہیں_ سجدہ کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہیں''_

جنہوں نے جمل و صفّین جیسی جنگوں کی آگ بھڑکائی اور امام وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا_ کیا وہ ان سات صفات کے مصداق تھے؟ کیا وہ آپس میں مہربان تھے؟ کیا انکے عمل کی شدت کفار کے مقابلے میں تھی یا مسلمانوں کے مقابلے میں ؟

اللہ تعالی نے اسی آیت کے ذیل میں ایک جملہ ارشاد فرمایا ہے جو مقصود کو مزید روشن کرتا ہے

( ''وَعَدَ الله الّذین آمَنُو و عَملُو الصّالحات منهم مَغفرَةً و أجراً عَظیماً'' ) (۲)

اللہ تعالی نے ( ان اصحاب میں سے) جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے

____________________

۱) سورہ احزاب آیہ ۳۰_

۲) سورہ فتح آیہ ۲۹_


رہے ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ دیا ہے_

پس واضح ہوگیا کہ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو با ایمان اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں_ جن لوگوں نے جنگ جمل میں مسلمانوں کو قتل کیا اور اس جیسی جنگوں کو بھڑکایا اور حضرت عثمان کے دور میں بیت المال کو ہڑپ کیا وہ کیا اعمال صالح انجام دینے والے تھے؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اولوالعزم پیغمبروں کا ایک ترک اولی کی خاطر مؤاخذہ کیاہے _ حضرت آدم(ع) کو ایک ترک اولی کی خاطر بہشت سے نکال دیا_ حضرت یونس (ع) کو ایک ترک اولی کی خاطر ایک عرصہ مچھلی کے پیٹ میں ،تین اندھیروں میں بند رکھا_

حضرت نوح (ع) کو اپنے گناہ گار بیٹے کی سفارش پر تنبیہ فرمائی_تو اب کیا یہ یقین کرنے کی بات ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) اس قانون سے مستثنی ہوں_

۶_ کیا تمام اصحاب بغیر استثناء کے عادل تھے؟:

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اکثر برادران اہلسنت اسی بات کے قائل ہیں کہ تمام صحابہ یعنی جو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں تھے یا جنہوں نے آپ(ص) کے زمانے کو پویا اور کچھ عرصہ تک آپ(ص) کے ساتھ رہے ہیں بغیر کسی استثناء کے مقام عدالت پر فائز تھے اور قرآن مجید اسی بات کی گواہی دیتا ہے_

مقام افسوس یہ ہے کہ ان بھائیوں نےقرآن کی کچھ اُن آیات کو جو ان کے نفع میں تھیں قبول کر لیا ہے لیکن دوسری آیات سے انہوں نے چشم پوشی کی ہے اُن آیات سے جن میں اس


بات سے استثناء موجود ہے ( جیسا کہ واضح ہے کہ ہر عموم کے لئے عام طور پر استثناء موجود ہوتا ہے)_

ہم عرض کریں گے:

کہ یہ کیسی عدالت ہے جس کے خلاف قرآن مجید نے بارہا گواہی دی ہے _ من جملہ سورة آل عمران کی آیت ۱۵۵ میں یوں بیان ہوا ہے_

'' انّ الّذین تَوَلَّوا منكُم يَومَ التقيَ الجَمعَان انّما إستَزَلَّهُم الشَیطانُ ببَعض مَا كَسَبُوا وَ لَقَد عَفاَ الله عنهم إنّ الله غفورٌ حَلیم''

اس آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو جنگ اُحد کے دن فرار کر گئے اور پیغمبر اکرم(ص) کو دشمن کے مقابلہ میں تنہا چھوڑ گئے تھے_ آیت فرماتی ہے '' جو لوگ دو لشکروں کے روبرو ہونے والے دن ( یعنی جنگ احد میں ) فرار کر گئے تھے_ شیطان نے انہیں انکے بعض گناہوں کی وجہ سے بہکا لیا اللہ تعالی نے انہیں معاف کردیا چونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور بردبار ہے''_

اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اُس دن ایک گروہ فرار کر گیا تھا اور تاریخ میں اس گروہ کی تعداد بہت زیادہ ذکر کی گئی ہے اور دلچسپ یہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے شیطان نے ان پر غلبہ کیا اور یہ غلبہ انکے اُن گناہوں کی وجہ سے تھا جس کے وہ پہلے مرتکب ہوچکے تھے_ اس سے پتہ چلا کہ سابقہ گناہ ایک بڑے گناہ یعنی غزوہ سے فرار اور میدان اور دشمنسے پشت کرکے فرار کرنے کا موجب بنے_ اگرچہ آیت کا ذیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں بخش دیا_


یہ بخشش پروردگارپیغمبر اکرم(ص) کی وجہ سے تھی_

اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عادل تھے اور انہوں نے گناہ نہیں کیا_ بلکہ صراحت کے ساتھ قرآن مجید فرما رہا ہے کہ انہوں نے متعدّد گناہ کیئے_

یہ کیسی عدالت ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں سورة حجرات کی آیة نمبر ۶ میں بعض کو فاسق کے عنوان سے یاد کر رہا ہے:

''یا ايّها الّذین آمَنُو إن جاء كُم فاسقٌ بنَبا فَتَبَيَّنُوا أن تُصیبُوا قوماً بجهالة فَتُصبحُوا علی مَا فَعَلتُم نَادمین''

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ لا علمی میں تم لوگ کسی کونقصان پہنچا بیٹھواور پھر بعد میں اپنے کیے پر پشیمان ہو''

مفسّرین کے درمیان مشہور ہے کہ یہ آیت '' ولید بن عُقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے_ پیغمبر اکرم' نے اسے ایک جماعت کے ساتھ '' بنی المصطلق'' قبیلہ کے پاس زکات کی جمع آوری کے لیئے بھیجا_ واپسی پر ولید نے کہا کہ وہ زکوة نہیں دیتے اور اسلام کے خلاف انہوں نے قیام کرلیا ہے مسلمانوں کے ایگ گروہ نے ولید کی بات پر یقین کرلیا اور اس قبیلہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہوگئے_ لیکن سورہ حجرات کی یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگر ایک فاسق آدمی خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرلیا کرو_ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جھوٹی خبر کی وجہ سے تم کسی قبیلہ کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیئے پر


پشیمان ہو_

اتفاقاً تحقیق کے بعد واضح ہوا کہ بنی المصطلق قبیلہ کے لوگ مؤمن ہیں اور ولید کے استقبال کے لیئے باہر آئے تھے نہ اسلام اوراس کے خلاف قیام کرنے کے لیے لیکن چونکہ ولید انکے ساتھ سابقہ ( قبل از اسلام ) دشمنی رکھتا تھا اسی امر کا بہانہ بنا کر واپس چلا آیا اور غلط خبر پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں پیش کردی_ ولید صحابی پیغمبر(ص) تھا_ یعنی اُن افراد میں سے تھا جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کوپایا اور آپ(ص) کی خدمت میں رہے_ جبکہ قرآن مجید اس آیت میں اُسے فاسق بتارہا ہے _کیا یہ آیت تمام اصحاب کی عدالت والے نظریہ کے ساتھ سازگار ہے؟

یہ کیسی عدالت ہے کہ بعض اصحاب زکاة کی تقسیم کے وقت پیغمبر اکرم(ص) پر اعتراض کرتے ہیں__ قرآن مجید انکے اعتراض کو سورہ توبہ آیہ۵۸ میں نقل فرماتا ہے :

'' و منهم مَن يَلمزُک فی الصّدقات فان اُعطُوا منها رَضُوا وَ إن لم يُعطُوا منها اذأ هم يَسخَطُون''

'' انکے درمیان ایے لوگ بھی ہیں جو غنائم کی تقسیم میں آپ(ص) پر اعتراض کرتے ہیں اگر انہیں اس میں سے عطا کیا جائے تو راضی ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو غصّے میں رہتے ہیں'' کیا اس قسم کے افراد عادل ہیں؟

یہ کیسی عدالت ہے کہ قرآن مجید سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۲ اور ۱۳ میں جنگ احزاب کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بعض منافقین او ر بیماردل لوگ جو پیغمبر اکرم' کی خدمت میں تھے اور انہوں نے جنگ میں شرکت کی لیکن پیغمبر اکرم(ص) پر فریب کاری کی تہمت لگائی_


'' ما وَعَدَنا الله و رسُولہ الاّ غُروراً'' خدا اور رسول(ص) نے ہمیں صرف اور صرف جھوٹے وعدے دیئے ہیں ان میں سے بعض یہ خیال رکھتے تھے کہ اس جنگ میں پیغمبر اکرم(ص) کو شکست ہوگی اور احتمالاً وہ قتل ہوجائیں گے اور اسلام کی بساط لپٹ جائیگی_

یا ان روایا ت کے مطابق جنہیں شیعہ و سنّی نے نقل کیا ہے یہ معلوم ہوتاہے کہ خندق کھودنے کے دوران ایک پتھر ملا جسے آپ(ص) نے توڑا اور مسلمانوں کو شام ، ایران اور یمن کی فتح کا وعدہ دیا تو ایک گروہ نے آنحضرت(ص) کی اس بات کا مذاق اڑایا_

کیا یہ اصحاب نہیں تھے؟اور اس سے زیادہ عجیب بات کو بعد والی آیت بیان کر رہی ہے کہ '' ان میں سے ایک گروہ نے ( مدینہ کے بعض لوگوں کو کہ جو جنگ میں حاضر ہوئے تھے مخاطب کر کے )کہا یہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ( ''و إذ قَالَت طائفةٌ منهم یا اَهلَ يَثربَ لا مُقَامَ لکم فَارجعُوا'' )

اور پھر ایک گروہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں آیا اور میدان احزاب سے فرار کرنے کے بہانے بنانے لگا_ اسی آیت میں یوں ارشاد ہے( ''وَ يَستَأذنُ فریقٌ منهم النّبی يَقُولُون إن بُيُوتَنَا عَورَة و مَا هی بعَورَة إن يُریدُونَ الا فراراً'' ) ان میں سے ایک گروہ پیغمبر اکرم(ص) سے واپسی کی اجازت مانگتا تھا اور کہتا تھا کہ ہمارے گھر اکیلے ہیں لہذا ہمیں اجازت دیجئے تا کہ اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے واپس مدینہ چلے جائیں_یہ لوگ جھوٹ بول رہے تھے ان کے گھر اکیلے نہیں تھے_ یہ صرف فرار کا بہانہ تلاش کر رہے تھے'' اب خود ہی فیصلہ کیجئے ہم کیسے ان تمام امورسے چشم پوشی کرلیں اور ان پر تنقید کو جائز نہ سمجھیں؟


ان سب سے بدتر بعض اصحاب کا پیغمبر اکرم(ص) کی طرف خیانت کی نسبت دینا ہے اور قرآن مجید نے سورة آل عمران کی آیت ۱۶۱ میں اسے منعکس کیا ہے( '' و ما كَانَ لنَبيّ أن يَغُلَّ و من يَغلُل يَأت بما غَلَّ يَومَ القیامَة ثُم تُوَفّی كُلّ نفس: مّا کسبَت و هُم لا يُظلَمُونَ'' )

''ممکن نہیں ہے کہ کوئی نبی خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا قیامت کے دن جس قسم کی خیانت کی ہوگی اسے اپنے ساتھ دیکھے گا_ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائیگا_ اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا'' یعنی اگر سزا ملے گی تو انکے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگی_

اس آیت کی دو شأن نزول بیان کی گئی ہیں_ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت ''عبداللہ بن جُبیر'' کے دوستوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ جنگ اُحد میں ''عینین'' نامی مورچہ میں تھے_ اور جب جنگ کی ابتداء میں اسلام کا لشکر دشمن پر فتح پاگیا تو عبداللہ کے ہمراہ تیرانداز تھے حالانکہ رسولخدا(ص) نے فرمایا تھا کہ تمہیںاپنی جگہ سے حرکت نہیں کرنی جبکہ اس گروہ نے اپنا مورچہ چھوڑ دیا اور غنائم لوٹنے کے پیچھے دوڑ پڑے_ اس سے بھی بُرا عمل انکی باتیں تھیں کہ کہتے تھے کہ ہمیں خطرہ ہے کہیں رسولخدا(ص) ہمارا حق ہمیں نہ دیں (اور اس قسم کے جملے کہے جنہیں لکھنے سے قلم شرم محسوس کرتی ہے)_

''ابن کثیر'' اور '' طبری'' نے اسی آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں ایک اور شان نزول کوذکر کیا ہے_ وہ یہ کہ جنگ بدر میں کامیابی کے بعد ایک سرخ رنگ کا قیمتی کپڑا گم ہوگیا_ بعض کم عقل لوگوں نے رسولخدا(ص) کو خیانت سے متہم کیا_ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کپڑا مل گیا اور معلوم ہوا کہ لشکر میں موجود فلاں شخص نے اٹھایا تھا_


پیغمبر اکرم(ص) کی طرف اس قسم کی ناروا نسبتیں دینے کے باوجود کیا عدالت باقی رہتی ہے؟ اگر ہم اپنے وجدان کے ساتھ قضاوت کریں تو کیا قبول کریں گے کہ اس قسم کے افراد عادل اور پاک و پاکیزہ تھے اور کسی کو انکے ایسے کاموں پر تنقید کرنے کا حق نہیں ہے؟

ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اکثر اصحاب و یاران با تقوی اور پاکیزہ انسان تھے_ لیکن سب کے لیے ایک ہی حکم لگا دینا اور سب پر تقوی اور عدالت کی قلعی چڑھا دینا اور ان پر کسی قسم کی تنقید کرنے کا حق سلب کردینا ایک انتہائی عجیب بات ہے_

یہ کیسی عدالت ہے کہ ایک انسان جو ظاہراً پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب میں سے ہے ( ہمارا مقصود معاویہ ہے ) نبی اکرم(ص) کے با عظمت صحابی حضرت علی _ پر سال ہا سال سبّ و لعن کرتا ہے اور تمام شہروں میں سب کواس کام کا حکم دیتا ہے_

ان دو احادیث کی طرف توجہ فرمایئے

۱_ صحیح مسلم میں کہ جو اہلسنت کی معتبر ترین کتاب ہے یوں بیان ہوا ہے_

کہ ''معاویہ'' نے ''سعد بن ابی وقاص''سے کہا کہ کیوں ابو تراب (علی ابن ابی طالب) پر سبّ و لعن سے پرہیز کرتے ہو؟ اس نے کہا میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے اُن کے بارے میں تین فضائل ایسے سنے ہیں کہ اگر وہ میرے بارے میں ہوتے تو میرے لیئے دنیا کی عظیم دولت سے زیادہ اہمیت رکھتے _ اس لیے میں اُن پر سَبّ و شتم نہیں کرتا ہوں_(۱)

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد ۴ ص ۱۸۷۱، کتاب فضائل الصحابہ اور اسی طرح کتاب فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، جلد ۷ ص ۶۰ پر بھی یہ حدیث بیان ہوئی ہے ( وہ تین فضلتیں یہ ہیں: ۱_ حدیث منزلت، ۲_حدیث لاعطین الرایة غداً ۳_ آیت مباہلہ)_


۲_ کتاب '' العقد الفرید'' میں کہ جسے اہلسنت کے بزرگ عالم دین ( ابن عبد ربّہ اندلسی ) نے تألیف کیا ہے یوں بیان ہوا ہے کہ جب امام حسن ابن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی، اس کے بعد معاویہ مكّہ کے بعد مدینہ آیا اُس کا ارادہ تھا کہ مدینہ میں منبر رسول (ص) سے حضرت علی _ پَر سبّ و لعن کرے_ لوگوں نے کہا کہ '' سعد بن ابی وقاص'' بھی مسجد میں ہے اورہمارے خیال کے مطابق وہ تیری اس بات کو تحمل نہیں کریگا اور شدید ردّ عمل کا اظہار کرے گا لہذا کسی کو اُس کے پاس بھیج کر اُس کی نظر معلوم کرلو_

معاویہ نے ایک آدمی کو سعد کے پاس بھیجا اور اس مطلب کے بارے میں استفسار کیا سعد نے جواب میں کہا کہ اگر معاویہ نے یہ کام کیا تومیں رسولخدا(ص) کی مسجد سے باہر چلا جاؤں گا اور پھر کبھی بھی مسجد نبوی میں داخل نہیں ہوں گا_

معاویہ نے یہ پیغام اور ردّ عمل سّننے کے بعد سب و شتم سے پرہیز کیا_ یہاں تک کہ سعد فوت ہوگئے _ سعد کی وفات کے بعد معاویہ نے منبر سے حضرت علی (ع) پر لعنت کی اور اپنے تمام اہلکاروں کو حکم دیا کہ منبروں سے حضرت پر لعن و سب کریں _ اُن سب نے بھی یہی کام کیا_ اس بات کا جب جناب ام سلمہ زوجہ پیغمبر(ص) کو پتہ چلا تو انہوں نے معاویہ کے نام ایک خط میں یوں لکھا کہ '' تم کیوں منبروں سے خدا و رسول(ص) پر سبّ و لعن کرتے ہو کیا تم یوں نہیں کہتے ہو کہ علی (ع) اور اسکے چاہنے والوں اور محبت کرنیوالوں پر لعنت، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالی ،حضرت علی(ع) سے محبت کرتا ہے اور رسولخدا(ص) بھی حضرت علی (ع) سے بہت محبت کرتے ہیں_ پس حقیقت میں تم خدا اور رسولخدا(ص) پر سبّ و لعن کرتے ہو'' معاویہ نے جناب ام سلمہ کا خط پڑھا لیکن اس کی کوئی پرواہ نہ کی(۱)

____________________

۱)العقد الفرید، جلد ۴ ص ۳۶۶ و جواہر المطالب فی مناقب الامام علی ابن ابی طالب، جلد ۲ ص ۲۲۸ تالیف محمد بن احمد الدمشقی الشافعی، متوفائے قرن نہم ہجری قمری_


کیا اس قسم کے بُرے کام عدالت کے ساتھ سازگار ہیں؟ کیا کوئی عاقل یا عادل انسان یہ جرا ت کرسکتا ہے کہ حضرت علی (ع) جیسی با عظمت شخصیت کو اس شرمناک انداز اور اتنے وسیع پیمانے پر گالیاں دے_

ایک عرب شاعریوں کہتا ہے:

اعلی المنابر تعلنون بسبّه و بسیفه نصبت لکم أعوادها؟

کیا منبر سے اس شخصیت پر لعن کرتے ہو جس کی تلوار کی برکت سے یہ منبرقائم ہوئے ہیں_

۷_اصحاب پیغمبر(ص) کی اقسام:

رسولخدا(ص) کے اصحاب کو _ قرآن مجید کی گواہی کے مطابق _ پانچ اصلی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے_

۱_ پاک و صالح:

یہ افراد مؤمن اور با اخلاص تھے_ ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نفوذ کرچکا تھا_ یہ لوگ راہ خدا میں اور کلمہ اسلام کی بلندی کے لیے کسی قسم کے ایثار اور قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے_ یہ وہی گروہ ہے جس کی طرف سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۰۰ میں اشارہ ہوا ہے کہ اللہ تعالی ان سے راضی تھا اور یہ بھی اللہ تعالی کے الطاف پر راضی تھے_'' رضی الله عنہم و رَضوُ عنہ''

۲_ مؤمن خطاکار:

یہ وہ گروہ ہے جو ایمان اور عمل صالح رکھنے کے باوجود کبھی کبھار لغزش کا شکار ہوجاتے تھے اور اعمال صالح اور غیر صالح کو آپس میں مخلوط کردیتے تھے_

اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے تھے_ ان کے عفو و بخشش کی امید ہے جیسا کہ سورہ توبہ


کی آیة ۱۰۲ میں پہلے گروہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اس گروہ کا تذکرہ کیا ہے_

''و آخَرُون اعتَرفُوا بذُنُوبهم خَلَطُوا عَمَلاً صَالحاً و آخَرَ سَيّأً عَسی الله أن يَتُوبَ علیهم''

۳_ گناہگار افراد:

یہ وہ گروہ ہے جس کے لیے قرآن مجید نے فاسق کا نام انتخاب کیا ہے_ کہ اگر فاسق تمہارے لئے خبر لائے تو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرنا_ سورہ حجرات کی آیت نمبر ۶ میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے:( '' یا ايّها الّذین آمنوا ان جاء كُم فاسقٌ بنباء فَتَبَيّنُوا'' ) اس آیت کا مصداق شیعہ و سنّی تفاسیر میں ذکر کیا گیا ہے_

۴_ ظاہری مسلمان:

یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کا دعوی کرتے تھے لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا_ سورہ حجرات کی چودھویں آیت میں اس گروہ کی طرف اشارہ ہوا ہے( ''قال الاعرابُ آمَنّا قُل لَم تُؤمنُوا و لکن قُولُوا أسلَمنا و لَمَّا يَدخُل الایمانُ فی قُلوبكُم'' )

۵_ منافقین:

یہ وہ گروہ ہے جو روح نفاق کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان چھپے ہوئے تھے کبھی ان کی شناخت ہوجاتی اور کبھی نہ ہوتی تھی_ یہ لوگ اسلام اور مسلمین کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں رہتے تھے_ سورہ توبہ میں ہی مؤمن و صالح گروہ کی طرف اشارہ کے بعد آیت ۱۰۱ میں ان منافقین کا تذکرہ کیا گیا ہے_

( '' و ممَّن حَولَكُم منَ الاعراب مُنافقُونَ و من اَهل المَدینَة مَرَدوا عَلی النّفاق'' ) بے شک ان تمام گروہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کا دیدار کیا تھا اور آنحضرت (ص) کے ساتھ مصاحبت اور معاشرت رکھتے تھے_ اور ان میں سے بہت ساروں نے غزووں مین شرکت کی


تھی_ اور ہم صحابہ کی جو تعریف بھی کریں ان پانچوں گروہوںپر صادق آتی ہے کیا سب کو اہل بہشت اور پاکیزہ شمار کیا جاسکتا ہے؟ کیا قرآن مجید کی صراحت کے بعد یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم راہ اعتدال کو اپنائیں اور اصحاب کو قرآن مجید میں بیان شدہ پانچ گروہوں میں تقسیم کریں اور ان میں سے نیک و باتقوی اصحاب کے لیے انتہائی احترام کے قائل ہوں اور دیگر گروہوں میں سے ہر ایک کو انکے مقام پر رکھیں_ اور غلّو، افراط اور تعصّب سے پرہیز کریں_( اور انصاف کے ساتھ قضاوت کریں)

۸_تاریخی گواہی:

تمام اصحاب کی قداست کے عقیدے نے اس کے طرفداروں کے لئے بہت سی مشکلات ایجاد کی ہیں_ ان عظیم مشکلات میں سے ایک تاریخی حقائق ہیں_ کیونکہ انکی معروف اور مورد اعتماد تاریخی کتب میں حتی صحاح ستّہ کی احادیث میں بعض صحابہ کی شدیدلڑائی اور جنگ کے تذکرے ہیں ایسی صورتحال میں ہم فریقین کو عادل، صالح اور مقدس شمار نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کام ضدّین کے درمیان جمع کرنا ہے اور ضدین کے درمیان جمع نہ ہوسکنا ایک واضح عقلی فیصلہ ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے_

جنگ جمل اور صفین کے علاوہ کہ جو طلحہ ، زُبیر اور معاویہ نے امام المسلمین حضرت علی _ کے مقابلہ میں لڑیں اگر ہم حقائق سے چشم پوشی نہ کریں تو حتماً جنگ بھڑکانے والوں کی غلطیوں اور جنایتوں کا اعتراف کریں گے_ اوراس سلسلہ میں بہت سے تاریخی شواہد موجود ہیں_اس مختصر کتاب میں ہم صرف تین نمونوں پر اکتفا کریں گے_

۱_ امام بُخاری اپنی کتاب صحیح میں کتا ب التفسیر میں مسئلہ افک کے بارے میں ( زوجہ پیغمبر(ص) کے بارے میں جو تہمت لگائی گئی تھی ) لکھتے ہیں: کہ ایک دن پیغمبر اکرم (ص) منبر پر تشریف


لے گئے اور فرمایا اے مسلمانو ں کون اس شخص کوسزادے گا ( مقصود عبداللہ بن سلول تھا جو منافقین کاایک سر غنہ تھا ) مجھے بتایا گیا ہے کہ اس نے میری بیوی پر تہمت لگائی ہے حالانکہ میں نے اپنی بیوی میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی سعد بن معاذ انصاری ( مشہور صحابی ) اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کی، میں اس کو سزا دوں گا اگر یہ '' اوس'' قبیلہ سے ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دونگا اور اگر یہ خزرج قبیلہ سے ہوا تو جو حکم آپ صادر فرمائیںگے ہم انجام دیں گے_ سعد بن عبادہ، خزرج قبیلہ کا سردار کہ جو اس سے پہلے صالح آدمی تھا قبائلی تعصب کی وجہ سے سعد بن معاذ کو کہنے لگا خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہا ہے تیری اتنی جرا ت نہیں ہے کہ تو یہ کام کرسکے اسید بن خُضیر ( سعد بن معاذ کا چچا زاد) کہنے لگا کہ خدا کی قسم تو جھوٹا ہے یہ شخص منافقین میں سے ہے ہم اسے ضرور قتل کریں گے_ نزدیک تھا کہ قبیلہ اوس و خزرج کی آپس میں جنگ چھڑ جائے_ رسولخدا(ص) نے انہیں خاموش کرایا(۱) کیا یہ سب افراد صالح صحابی تھے؟

۲: معروف دانشمند '' بلاذری'' اپنی کتاب '' الانساب'' میں لکھتے ہیں کہ '' سعد بن ابی وقاص'' کوفہ کے والی تھے، حضرت عثمان نے انہیں معزول کردیا اور '' ولید بن عقبہ'' کو انکی جگہ گورنر بنادیا_ عبداللہ بن مسعود اس دوران بیت المال کے خزانہ دار تھے جب ولید ،کوفہ میں داخل ہوا تو اس نے عبداللہ ابن مسعود سے بیت المال کی چابیاں طلب کیں_ عبداللہ نے چابیاں ولید کے سامنے پھینکتے ہوئے کہا کہ خلیفہ نے سنت ( رسول(ص) کو تبدیل کردیا ہے_ سعد بن ابی وقاص جیسے آدمی کو معزول کرکے ولید جیسے آدمی کو اپنا جانشین منتخب کر لیا ہے؟ ولید نے حضرت عثمان کو خط میں لکھا کہ عبداللہ بن مسعود آپ پر تنقید کرتا ہے خلیفہ نے جواب لکھا

____________________

۱) صحیح بخاری، جلد ۵ ص ۵۷_


کہ اسے حکومت کی نگرانی میں میرے پاس بھیج دیا جائے _جب عبداللہ بن مسعود مدینہ میں وارد ہوا تو خلیفہ منبر پر تھے جیسے ہی انکی نظر عبداللہ بن مسعود پر پڑی تو کہنے لگے بُرا جانورداخل ہوگیا ہے ( اور بہت سی گالیاں دیں قلم جنہیں لکھنے سے شرم محسوس کرتا ہے) عبداللہ بن مسعود کہنے لگے میں ایسا نہیں ہوں،میں رسولخدا(ص) کا صحابی ہوں_ جنگ بدر اور بیعت رضوان میں شریک تھا_

حضرت عائشےہ ،عبداللہ کی حمایت کے لیے اٹھیں لیکن حضرت عثمان کا غلام ،عبداللہ کو مسجد سے باہر لے گیا اور انہیں زمین پر پٹخا اور انکی پسلیاں توڑدیں(۱)

۳: بلاذری اپنی اُسی کتاب انساب الاشراف میں نقل کرتے ہیں کہ مدینہ کے بیت المال میں بعض جواہرات اور زیورات تھے حضرت عثمان نے ان میں سے کچھ زیورات اپنے گھروالوں کو بخش دیئےجب لوگوں نے دیکھا تو کھلے عام اعتراض شروغ کردیا اور انکے بارے میں سخت وگھٹیا باتیں کہیں حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور وہ منبر پر گئے اور خطبہ کے دوران کہا ہم غنائم میں سے اپنی ضرورت کے مطابق اٹھائیں گے اگرچہ لوگوں کی ناک زمین پر رگڑی جائے

اس پر حضرت علی _ نے کہا کہ '' مسلمان خود تمہارا راستہ روک لیں گے''

جناب عمّار یاسر نے کہا: سب سے پہلے میری ناک زمین پر رگڑی جائے گی

( اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں تنقید سے باز نہیں آؤنگا)

حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور کہنے لگے تو نے میری شان میں گستاخی کی ہے_ اس کو گرفتار

____________________

۱) انساب الاشراف، جلد ۶ ص ۱۴۷، تاریخ ابن کثیر، جلد ۷ ص ۱۶۳و ۱۸۳ حوادث سال ۳۲ ( خلاصہ)_


کر لو_ لوگوں نے جناب عمّار کو پکڑ لیا اور عثمان کے گھر لے گئے وہاں انہیں اسقدر ماراگیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے_ اس کے بعد انہیں جناب ام سلمہ ( زوجہ پیغمبر (ص) کے گھر لایا گیا وہ اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھے یہاںتک کہ انکی ظہر، عصر اور مغرب کی نماز قضاء ہوگئی_ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے وضو کرکے نماز ادا کی اور کہنے لگے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمیں خدا کی خاطر اذیت و آزار پہنچائی جارہی ہے_(۱) ( ان واقعات کی طرف اشارہ تھا جنکا زمانہ جاہلیت میں کفار کیطرف سے انہیں سامنا کرنا پڑا تھا)_

ہم ہرگز مائل نہیں ہیں کہ تاریخ اسلام کے اس قسم کے ناگوار حوادث کو نقل کریں ( ترسم آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است) اگر ہمارے بھائی تمام صحابہ اور انکے تمام کاموں کے تقدّس پر اصرار نہ کرتے تو شاید اتنی مقدارکے نقل کرنے میں بھی مصلحت نہیں تھی_ اب سوال یہ ہے کہ اصحاب رسول(ص) میں سے تین پاکیزہ ترین افراد ( سعد بن معاذ ،عبداللہ ابن مسعود اور عمار یاسر) کو گالیاں دینے اور مارنے پٹینے کی کیا تو جیہ ہوسکتی ہے؟ ایک باعظمت صحابی کو اتنا مارا جائے کے اسکی پسلیاں ٹوٹ جائیں اور دوسرے کو اتنا مارا جائے کہ بے ہوش ہوجائے اور اس کی نمازیں قضاہوجائیں_

کیا یہ تاریخی شواہد کہ جنکے نمونے بہت زیادہ ہیں ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم حقائق سے چشم پوشی کریں اور کہیں کہ تمام اصحاب اچھے اور انکے تمام کام صحیح تھے_ اور ایک سپاہ ''سپاہ صحابہ '' کے نام سے بنادیں اور انکے تمام کاموں کا بلا مشروط دفاع کریں_

کیا کوئی بھی عقلمند اس قسم کے افکار کو پسند کرتا ہے؟

____________________

۱) انساب الاشراف جلد ۶ ص ۱۶۱_


اس مقام پر پھر تکرار کرتے ہیں کہ رسولخدا(ص) کے اصحاب میں مؤمن ، صالح اور پارسا افراد بہت سے تھے لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جنکے کاموں پر تنقید کرنا چاہیے اور انکی تحلیل کرتے ہوئے انہیں عقل کے ترازو پر تولنا چاہیے اور اس کے بعد انکے بارے میں حکم لگانا چاہیے_

۹_ پیغمبر(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد بعض صحابہ پر حدّ کا جاری ہونا

صحاح ستّہ یا برادران اہلسنت کی دیگر معروف کتابوں میں کچھ موارد ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بعض اصحاب، رسولخدا(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد ایسے گناہوں کے مرتکب ہوئے جن کی حد وسزا تھی_ لہذا اُن پر حد جاری کی گئی _

کیا اس کے باوجود آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب عادل تھے؟ اور ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی؟ یہ کیسی عدالت ہے کہ ایسا گناہ کیا جائے جس پر حد جاری ہوتی ہو اور ان پرحد جاری ہونے کے بعد بھی عدالت اپنی جگہ محکم باقی رہتی ہے؟

ہم ذیل میں نمونہ کے طور پر چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف) ''نعیمان'' صحابی نے شراب پی، پیغمبر اکرم (ص) نے حکم صادر فرمایا اور اسے تازیانے مارے گئے(۱)

ب) ''بنی اسلم '' قبیلہ کے ایک مرد نے زنائے محصّن کیا تھا_ پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر اسے سنگسار کردیا گیا(۲)

____________________

۱)صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۱۳، حدیث نمبر ۶۷۷۵ ، کتاب الحدّ_

۲) صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۲۲ ، حدیث ۶۸۲۰_


ج) واقعہ افک میں پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر چند افراد پر حدّ قذف جاری کی گئی تھی(۱)

د) پیغمبر اکرم (ص) کے بعد عبدالرحمن بن عمر اور عقبہ بن حارث بدری نے شراب پی او ر مصر کے امیر عمر ابن عاص نے ان پر حدّ شرعی جاری کی _ اس کے بعد عمر نے دوبارہ اپنے بیٹے کو بلایا اور دوبارہ اس پر حدّ جاری کی(۲)

ہ) ولید بن عقبہ کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے شراب پی اور مستی کے عالَم میں صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی _ اُسے مدینہ حاضر کرکے شراب کی حد اس پر جاری کی گئی_(۳)

ان کے علاوہ اور بہت سے موارد ہیں، مصلحت کی خاطر جن کے ذکر سے اجتناب کیا جا رہا ہے_ اس کے باوجود کیا اب بھی ہم حقائق کے سامنے آنکھیں اور کان بند کرلیں اور کہہ دیں کہ سب اصحاب عادل تھے؟

۱۰_ نادرست توجیہات

۱_ تنزیہ او رہر لحاظ سے تقدّس کے نظریہ کے طرفدار جب متضاد حالات کے انبوہ سے روبرو ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو اس توجیہ کے ساتھ قانع کرتے ہیں کہ سب صحابہ ''مجتہد'' تھے اور ہر ایک نے اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کیا_یقیناً یہ تو ضمیر اوروجدان کو فریب دینا ہے کہ یہ برادران اس قسم کے آشکار اختلافات میں اس بوگس توجیہہ کا سہارا لیں_

____________________

۱) المعجم الکبیر، جلد ۲۳ ص ۱۲۸ و کتب دیگر_

۲) السنن الکبری ، جلد ۸ ص ۳۱۲ اور بہت سی کتب _

۳) صحیح مسلم، جلد ۵ ، ص ۱۲۶ حدیث نمبر ۱۷۰۷_


کیا بیت المال کو ہڑپ کرنے کے بارے میں ایک معمولی سی تنقید اور سادہ سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک مؤمن صحابی کو اتنا مارنا کہ وہ بے ہوش اور اس کی نمازیں قضا ہوجائیں، اجتہاد ہے؟ کیا ایک اور مشہور صحابی کی پسلیاں توڑ دینا صرف اس اعتراض کی خاطر جو اس نے کیاکہ کیوں ایک شرابی ( ولید ) کو کوفہ کا حاکم تعیین کیا گیا ہے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اس سے بڑھ کر امام المسلمین کے مقابلے میں کہ جو مقامات الہی کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کے منتخب کردہ اتّفاقی خلیفہ تھے، صرف جاہ طلبی اور حکومت حاصل کرنے کی خاطر جنگ کی آگ بھڑ کانا جس میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہہ جائے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اگر یہ موارد اور ان کی مثل ، اجتہاد کی شاخیس شمار ہوتی ہیں تو پھر طول تاریخ میں ہونے والی تمام جنایات کی یہی توجیہ کی جاسکتی ہے_

اس کے علاوہ کیا اجتہاد صرف اصحاب میں منحصر تھا یا کم از کم چند صدیوں بعد بھی امت اسلامی میں کثرت کے ساتھ مجتہد موجود تھے بلکہ بعض علمائے اہلسنت کے اعتراف اور تمام علمائے شیعہ کے مطابق آج بھی تمام آگاہ علماء کے لئے اجتہاد کا دورازہ کھلا ہے؟

جو افراد اس قسم کے بھیانک افعال انجام دیں کیا آپ انکے افعال کی توجیہہ کرنے کو حاضر ہیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے_

۲: کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارا فریضہ یہ ہے کہ انکے بارے میں سکوت اختیار کریں_

( '' تلک اُمةٌ قد خَلَت لَهَا ما كَسَبَت و لَكُم ما كَسَبتُم و لَا تُسأَلُونَ عَمّا كَانُوا يَعمَلُون'' ) (۱)

____________________

۱) سورة بقرہ آیت ۱۳۴_


وہ ایک اُمّت ہیں جو گزرچکے انکے اعمال انکے لیئےیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیئےاور آپ سے انکے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا_

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ہماری سرنوشت میں مؤثر نہ ہوتے تو پھر یہ بات اچھی تھی _ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی روایات کو انکے توسط سے دریافت کریں اور انہیں اپنے لیئے نمونہ عمل قرار دیں_ تو کیا اس وقت یہ ہمارا حق نہیں ہے کہ ثقہ اور غیر ثقہ اسی طرح عادل اور فاسق کی شناخت کریں تا کہ اس آیت( '' إن جاء کم فاسقٌ بنبائ: فَتَبَيَّنُوا'' ) اگر فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کیجئے ''(۱) پر عمل کرسکیں_

۱۱_ مظلوميّت علی (ع)

جو بھی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرے اس نکتہ کو با آسانی درک کرسکتا ہے کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حضرت علی _ جو علم و تقوی کا پہاڑ، پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک ترین ساتھی اور اسلام کے سب سے بڑے مدافع تھے، انہیں اسطرح ہتک حرمت، توہین اور سبّ و شتم کا نشانہ بنایاگیا_

انکے دوستوں کو اسطرح دردناک اذیتوں اور مظالم سے دوچار کیا گیا کہ تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی_ وہ بھی ان افراد کیطرف سے جو اپنے آپ کو پیغمبر اکرم (ص) کا صحابی شمار کرتے ہیں_

چند نمونے ملاحظہ فرمایئے

الف) لوگوں نے علی ابن جہم خراسانی کو دیکھا کہ اپنے باپ پر لعنت کر رہا ہے جب وجہ

____________________

۱) سورة حجرات آیة ۶_


پوچھی گئی تو کہنے لگا: اس لئے لعنت کر رہاہوں کیونکہ اس نے میرا نام علی رکھا ہے_(۱)

ب ) معاویہ نے اپنے تمام کارندوں کو آئین نامہ میں لکھا: جس نے بھی ابوتراب (علی _ ) اور انکے خاندان کی کوئی فضیلت نقل کی وہ ہماری امان سے خارج ہے (اس کی جان و مال مباح ہے ) اس آئین نامہ کے بعد سب خطباء پوری مملکت میں منبر سے علی الاعلان حضرت علی (ع) پر سبّ و شتم کرتے اور اُن سے اظہار بیزاری کرتے تھے_ اس طرح ناروا نسبتیں انکی اور انکے خاندان کی طرف دیتے تھے_(۲)

ج ) بنواميّہ جب بھی سُنتے کہ کسی نو مولود کا نام علی رکھا گیا ہے اسے فوراً قتل کردیتے_ یہ بات سلمة بن شبیب نے ابوعبدالرحمن عقری سے نقل کی ہے_(۳)

د) زمخشری اور سیوطی نقل کرتے ہیں کہ بنو اميّہ کے دور حکومت میں ستّر ہزار سے زیادہ منابر سے سبّ علی (ع) کیا جاتاتھا اور یہ بدعت معاویہ نے ایجاد کی تھی_(۴)

ہ) جس وقت عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ اس بُری بدعت کو ختم کیا جائے اور نماز جمعہ کے خطبوں میں امیرالمؤمنین علی _ کو بُرا بھلانہ کہا جائے تو مسجد سے نالہ و فریاد بلند

ہوگئی اور سب عمربن عبدالعزیز کو کہنے لگے '' ترکتَ السُنّة ترکتَ السُنّة'' تونے سنت کو ترک کردیا ہے_ تونے سنّت کو ترک کردیا ہے_(۵)

____________________

۱) لسان المیزان ، جلد ۴ ص ۲۱۰_

۲) النصائح الکافیہ ص ۷۲_

۳) تہذیب الکمال ، جلد ۲۰، ص ۴۲۹ و سیر اعلام النبلاء ، جلد ۵، ص ۱۰۲_

۴) ربیع الابرار ، جلد ۲، ص ۱۸۶ و النصائح الکافیہ، ص ۷۹ عن السیوطی_

۵) النصائح الکافیہ ، ص ۱۱۶ و تہنئة الصدیق المحبوب، تالیف سقاف ص ۵۹_


یہ سب اس صورت میں ہے کہ برادران اہلسنت کی معتبر اور صحیح کتب کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ '' مَن سَبَّ عليّاً فَقد سَبّنی و مَن سبّنی فقد سبَّ الله '' جس نے علی (ع) کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو گالی دی ''(۱)

۱۲: ایک دلچسپ داستان

حُسن اختتام کے طور پر شاید اس واقعہ کو نقل کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہو کہ جو خود ہمارے ساتھ مسجد الحرام میں پیش آیا ہے_

ایک دفعہ جب عمرہ پر جانے کا اتفاق ہوا تو ایک رات ہم مغرب و عشاء کی نماز کے درمیان مسجد الحرام میں بیٹھے تھے کہ کچھ علماء حجاز کے ساتھ تمام اصحاب کے تقدّس کے بارے میں ہماری بحث شروع ہوگئی، وہ معمول کے مطابق اعتقاد رکھتے تھے کہ اصحاب پر معمولی سی بھی تنقید نہیں کرنا چاہیے _یایوں کہہ دیجئے کہ پھول سے زیادہ نازک اعتراض بھی ان پر نہیں کرنا چاہئے _ ہم نے اُن کے ایک عالم کو مخاطب کرکے کہا : آپ فرض کیجیئے کہ اس وقت'' جنگ صفین '' کا میدان گرم ہے_ آپ دو صفوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟ صف علی (ع) کا یا صف معاویہ کا؟

کہنے لگے: یقیناً صف علی (ع) کا انتخاب کروں گا_

میں نے کہا: اگر حضرت علی (ع) آپ کو حکم دیں کہ یہ تلوار لے کر کر معاویہ کو قتل کردیں تو آپ کیا کریں گے؟

____________________

۱)اخرجه الحاکم و صَحَّهُ و ا قرّه الذهبی ( مستدرک الصحیحین ، جلد ۳، ص ۱۲۱)_


کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے کہ معاویہ کو قتل کردوں گا لیکن اس پر کبھی بھی تنقید نہیں کرونگا

ہاں یہ ہے غیر منطقی عقائد پر اصرار کرنے کا نتیجہ کہ اس وقت دفاع بھی غیر منطقی ہوتا ہے اور انسان سنگلاخ میں پھنس جاتا ہے_

حق یہ ہے کہ یوں کہیں: قرآن مجید اور تاریخ اسلام کی شہادت کے مطابق، اصحاب پیغمبر اکرم (ص) ایک تقسیم کے مطابق چند گروہوں پر مشتمل تھے_ اصحاب کا ایک گروہ ایسا تھا جو شروع میں پاک، صادق اور صالح تھا اور آخر تک وہ اپنے تقوی پر ثابت قدم رہے_ ''عاشُوا سعداء و ماتوا السعدائ'' انہوں نے سعادت کی زندگی گذاری اور سعادت کی موت پائی_

ایک گروہ ایسا تھا جو آنحضرت(ص) کی زندگی میں تو صالح اور پاک افراد کی صف میں تھے لیکن بعد میں انہوں نے جاہ طلبی اور حبّ دنیا کی خاطر اپنا راستہ تبدیل کر لیا تھا_اور ان کا خاتمہ خیر و سعادت پر نہیں ہوا ( جیسے جمل و صفین کی آگ بھڑ کانے والے)

اور تیسرا گروہ شروع سے ہی منافقوں اور دنیا پرستوں کی صف میں تھا_ اپنے خاص مقاصد کی خاطر وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے جیسے ابوسفیان و غیرہ یہاں پر پہلے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم یوں کہیں گے_

( '' ربّنا اغفر لنا و لإخواننا الّذین سَبَقُونَا بالإیمان و لا تجعَل فی قلوبنا غلّاً للّذین آمَنُوا رَبّنا إنّک رَء وفٌ رَّحیم'' ) (۱)

____________________

۱) سورہ حشرآیت ۱۰_


۴

بزرگوں کی قبروں کا احترام


اجمالی خاکہ

اس مسئلہ میں ہمارے مخاطب صرف شدت پسند وہابی ہیں_کیونکہ اسلام کے بزرگوں کی قبور کی زیارت کو مسلمانوں کے تمام فرقے (سوائے اس چھوٹے سے گروہ کے ) جائز سمجھتے ہیں_ بہرحال بعض وہابی ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم کیوں مذہبی رہنماؤں کی زیارت کے لیے جاتے ہو؟

اور ہمیں '' قبوريّون'' کہہ کر پکارتے ہیں_حالانکہ پوری دنیا میں لوگ اپنے گذشتہ بزرگوں کی آرام گاہوں کی اہمیت کے قائل ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے ہیں_

مسلمان بھی ہمیشہ اپنے بزرگوں کے مزاروں کی اہمیت کے قائل تھے اور ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے تھے اور جاتے ہیں_ صرف ایک چھوٹا سا شدت پسند وہابی ٹولہ انکی مخالفت کرتا ہے اور اپنے آپ کو پوری دنیا کے مسلمان ہونے کا دعویدار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے_

البتہ بعض مشہور وہابی علماء نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کرنا مستحب ہے، لیکن زیارت کی نيّت سے رخت سفر نہیں باندھنا چاہیے _ یعنی مسجد النبی (ص) کی زیارت کے قصد یا اس میں عبادت کی نيّت سے یا عمرہ کی نیت سے مدینہ آئیں اور ضمناً پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت بھی کرلیں_ لیکن خود زیارت کے قصد سے بار سفر نہیں باندھنا چاہیئے_

'' بن باز'' مشہور وہابی مفتی کہ جو کچھ عرصہ قبل ہی فوت ہوئے ہیں_ الجزیرہ اخبار کے مطابق وہ یہ کہتے تھے'' جو مسجد نبوی(ص) کی زیارت کرے اس کے لیے مستحب ہے کہ روضہ رسول(ص)


میں دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر آنحضرت(ص) پر سلام کہے اور نیز مستحب ہے کہ جنت البقیع میں جا کر وہاں مدفون شہداء پر سلام کہے''(۱)

اہلسنت کے چاروں ائمہ '' الفقہ علی المذاہب الاربعہ'' کی نقل کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کو بغیر ان قیود اور شروط کے مستحب سمجھتے ہیں_

اس کتاب میں یوں نقل ہوا ہے'' پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت اہم ترین مستحبّات میں سے ہے اور اس بارے میں متعدّد احادیث نقل ہوئی ہیں'' اس کے بعد انہوں نے چھ احادیث نقل کی ہیں_(۲)

یہ وہابی ٹولہ اس مسئلہ میں مجموعی طور پر تین نکات میں دنیا کے باقی مسلمانوں کے ساتھ اختلاف رکھتا ہے_

۱_ قبروں پر تعمیر کرنا

۲_ قبور کی زیارت کے لیئے سفر کا سامان باندھنا ( شدّ رحال )

۳_ خواتین کا قبروں پر جانا

انہوں نے بعض روایات کے ذریعے ان تین موارد کی حرمت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان روایات کی یا تو سند درست نہیں یا اس مطلب پر ان کی دلالت مردود ہے ( انشااللہ عنقریب ان روایات کی تشریح بیان کی جائے گئی) ہمارے خیال کے مطابق یہ لو گ اس غلط حرکت کے لیے کچھ اور مقصدرکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ توحید و شرک والے مسئلہ میں وسوسے میں گرفتار ہیں_ شاید خیال کرتے ہیں کہ قبروں کی زیارت کرنا انکی پوجا کرنے کے مترادف ہے اس لیے انکے علاوہ پوری دنیا کے مسلمان انکے نزدیک مشرک اور ملحد ہیں

____________________

۱) الجزیرہ اخبار شمارہ ۶۸۲۶( ۲۲ ذی القعدہ ۱۴۱۱ ق)_

۲) الفقہ علی المذاہب الاربعہ، جلد ۱ ،ص ۵۹۰_


زیارت قبول کی گذشتہ تاریخ:

گذشتہ لوگوں کی قبروں کا احترام ( بالخصوص بزرگ شخصيّات کی قبروں کا احترام ) بہت قدیم زمانے سے چلا آرہاہے_ ہزاروں سال پہلے سے لوگ اپنے مردوں کا احترام کرتے تھے اور انکی قبروں اور بالخصوص بزرگان کی قبروں کی تکریم کرتے تھے_ اس کام کا فلسفہ اور مثبت آثار بہت زیادہ ہیں_

۱_ گذشتہ لوگوں کی تکریم کا سب سے پہلا فائدہ، ان بزرگوں کی حرمت کی حفاظت ہے اور ان کی قدردانی انسانی عزت و شرافت کی علامت ہے_ اسی طرح جوانوںکے لیے ان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کے لیئےشویق کا باعث بنتی ہے_

۲_ دوسرا فائدہ ان کی خاموش مگر گویا قبروں سے درس عبرت حاصل کرنا اور آئینہ دل سے غفلت کے زنگ کو دور کرکے دنیاوی زرق و برق کے مقابلے میں ہوشیاری اور بیداری پیدا کرنا ہے اور ہوا و ہوس پر قابو پانا ہے_

جیسا کہ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا کہ مُردے بہترین وعظ و نصیحت کرنے والے ہیں_

۳_ تیسرا فائدہ پسماندگان کی تسلی کا حصول ہے کیونکہ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر سکون کا احساس کرتے ہیں_ گویا وہ انکے ساتھ ہمنشین ہیں_ اسطرح قبروں پر جانے سے انکے غم کی شدت میں کمی آجاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جو جنازے مفقود الاثر ہوجاتے ہیں انکے وارث انکے لیے ایک قبر کی علامت اور شبیہ بنا لیتے ہیں اور وہاں پرانہیں یاد کرتے ہیں_

۴_ چوتھا فائدہ یہ کہ گذشتہ شخصیات کی قبروں کی تعظیم و تکریم ہر قوم و ملت کی ثقافتی میراث کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ شمار ہوتی ہے اور ہر قوم اپنی قدیمی ثقافت کے ساتھ زندہ رہتی ہے_ پوری دنیا کے مسلمان ایک عظیم اور بے نیاز ثقافت رکھتے ہیں جس کا ایک اہم حصہ


شہدائ، علمائے سلف اور سابقہ دانشوروں کی آرامگاہوں کی صورت میں ہے اور بالخصوص بزرگان دین اور روحانی پیشواؤں کے مزاروں میں نہفتہ ہے_ ایسے بزرگوں کی قبور کی یادمنانا اور انکی حفاظت و تکریم اسلام اور سنّت پیغمبر(ص) کی حفاظت کا موجب بنتی ہے_

وہ لوگ کتنے بے سلیقہ ہیں جنہوں نے مکہ ، مدینہ اور بعض دوسرے شہروں میں بزرگان اسلام کے پر افتخار آثار کو محو کر کے اسلامی معاشرے کو عظیم خسارے سے دوچار کردیا ہے_

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نادان اور محدود فکر رکھنے والے سلفیوں نے غیر معقول بہانوں کی آڑ میں یہ کام کرکے پیکر اسلام کی ثقافتی میراث پر ایسی شدید ضربیں لگائی ہیں جنکی تلافی نا ممکن ہے_

کیا یہ عظیم تاریخی آثار صرف اس ٹولے کے ساتھ مخصوص ہیں کہ اسقدر بے رحمی کے ساتھ انہیں نابود کیا جارہا ہے_ کیا ان آثار کی حفاظت و پاسداری پوری دنیا کے اسلام سے آگاہ دانشوروں کی ایک کمیٹی کے ہاتھ میں نہیںہونی چاہیے؟

۵_ پانچواں فائدہ یہ کہ دین کے عظیم پیشواؤں کی قبروں کی زیارت اور بارگاہ الہی میں ان سے شفاعت کا تقاضا کرنا عند اللہ، توبہ اور انابہ کے ہمراہ ہوتا ہے_ اور یہ چیز نفوس کی تربيّت اور اخلاق و ایمان کی پرورش میں انتہائی مؤثر ہے بہت سے گناہوں میں آلودہ لوگ جب انکی بارگاہ ملکوتی میں حاضری دیتے ہیں تو توبہ کر لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیئے ان کی اصلاح ہوجاتی ہے_ اور جو نیک و صالح افراد ہوتے ہیں انکے روحانی ومعنوی مراتب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے _

قبور کی زیارت کے سلسلہ میں شرک کا توہّم:

کبھی کمزور فکر لوگ ائمہ اطہار کی قبو ر کے زائرین پر '' شرک'' کا لیبل لگادیتے ہیں یقینا اگر


وہ زیارت کے مفہوم اور زیارت ناموں میں موجود مواد سے آگاہی رکھتے تو اپنی ان باتوں پر شرمندہ ہوتے_

کوئی بھی عقلمند آدمی پیغمبر اکرم (ص) یا آئمہکی پرستش نہیں کرتا ہے_ بلکہ یہ بات تو انکے ذہن میں خطور بھی نہیں کرتی ہے_ تمام آگاہ مؤمنین احترام اور طلب شفاعت کے لیئےیارت کو جاتے ہیں_

ہم اکثر اوقات زیارت نامہ پڑھنے سے پہلے سو مرتبہ '' اللہ اکبر'' کہتے ہیں اور اسطرح سو مرتبہ توحید کی تاکید کرتے ہیں اورشرک کے ہر قسم کے شبہہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں_

معروف زیارت نامہ '' امین اللہ '' میں ہم آئمہ کی قبروں پر جا کر یوں کہتے ہیں:

''أشہَدُ أنّک جَاہَدتَ فی الله حقَّ جہادہ و عَملتَ بکتابہ و اتَّبَعتَ سُنَنَ نبيّہ حتی دَعاک الله إلی جَوارہ''

'' ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا اور جہاد کا حق ادا کردیا_ کتاب خدا پر عمل کیا اور سنت پیغمبر(ص) کی پیروی کی یہانتک کہ اللہ تعالی نے آپ کو اس جہان سے اپنی جوار رحمت میں بُلالیا_''

کیا اس سے بڑھ کر توحید ہوسکتی ہے؟

اسی طرح مشہور زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم يُوں پڑھتے ہیں کہ:

'' الی الله تدعُون و علیه تَدُلُّون و به تؤمنوُن و لَه تُسلّمُونَ و بأمره تَعمَلُون و إلی سَبیله


تَرشُدُونَ''

( ان چھ جملوں میں سب ضمیریں اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوٹتی ہیں، زائرین یوں کہتے ہیں)'' کہ آپ آئمہ، اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے اور اس کی طرف راہنمائی کرتے ہیں_ اور آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سامنے تسلیم ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف ارشاد و ہدایت کرتے ہیں''

ان زیارت ناموں میں ہر جگہ اللہ تعالی اور دعوت توحید کی بات ہے کیا یہ شرک ہے یا ایمان؟ اسی زیارت نامہ میں ایک جگہ یوں کہتے ہیں:

'' مستشفعٌ إلی الله عزّوجل بکم'' میں آپ کے وسیلہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت کو طلب کرتا ہوں_

اور اگر بالفرض زیارت ناموں کی بعض تعبیروں میں ابہام بھی ہو تو ان محکمات کیوجہ سے کاملاً روشن ہوجاتا ہے_

کیا شفاعت طلب کرنا توحید ی نظریات کے ساتھ سازگار ہے؟

ایک اور بڑی خطا جس سے وہابی دوچار ہوئے ہیں یہ ہے کہ وہ بارگاہ ربّ العزت میں اولیاء الہی سے شفاعت طلب کرنے کو بتوں سے شفاعت طلب کرنے پر قیاس کرتے ہیں (وہی بُت جو بے جان اور بے عقل و شعور ہیں)

حالانکہ قرآن مجید نے کئی بار بیان کیا ہے کہ انبیاء الہی، اسکی بارگاہ میں گناہگاروں کی شفاعت کرتے تھے_ چند نمونے حاضر خدمت ہیں:

۱_ برادران یوسف نے حضرت یوسف(ع) کی عظمت اور اپنی غلطیوں کو سمجھنے کے بعد حضرت


یعقوب(ع) سے شفاعت کا تقاضا کیا اور انہوں نے بھی انہیں مُثبت وعدہ دیا_

( '' قالُوا یا أبَانَا استغفر لنا ذُنوبَنا إنّا كُنّا خَاطئین، قال سَوفَ أستغفرُ لکم رَبّی إنَّه هُو الغفورُ الرّحیم'' ) (۱)

کیا ( معاذ اللہ ) یعقوب مشرک پیغمبر(ص) تھے؟

۲_ قرآن مجید گنہگاروں کو توبہ اور پیغمبر اکرم (ص) سے شفاعت طلب کرنے کی تشویق کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے:

''و لَو انّهم إذ ظَّلَموا أنفسَهُم جَاء وک فاستغفروا الله و استغفر لَهُم الرَّسُولّ لَوَجَدُوا الله تَوّاباً رحیماً''

'' جب بھی وہ اگراپنے آپ پر ( گناہوں کی وجہ سے ) ظلم کرتے اور آپ (ص) کی خدمت میں آتے اور توبہ کرتے اور رسولخدا(ص) بھی انکے لیے استغفار کرتے_ تو وہ اللہ تعالی کو توبہ قبول کرنیوالا اور مہربان پاتے ''(۲)

کیا یہ آیت شرک کی طرف تشویق کر رہی ہے؟

۳_ قرآن مجید منافقین کی مذمّت میں یوں کہتا ہے:

( '' و إذا قیلَ لَهُم تَعَالَوا يَستَغفر لکم رَسُولُ الله لَوَّوا رُئُوسَهُم و رأیتَهُم يَصُدُّونَ وَ هُم مُستَکبرُون'' ) (۳)

____________________

۱) سورة یوسف آیات ۹۷ ، ۹۸_

۲) سورة نساء آیت ۶۴_

۳) سورة منافقون آیت ۵_


جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ تا کہ رسولخدا(ص) تمہارے لیئے مغفرت طلب کریں تو وہ (طنزیہ ) سر ہلاتے ہیں اور آپ(ص) نے دیکھا کہ وہ آپکی باتوں سے بے پرواہی برتتے اور تکبّر کرتے ہیں''

کیا قرآن مجید، کفار اور منافقین کو شرک کی طرف دعوت دے رہا ہے؟

۴_ ہم جانتے ہیں کہ قوم لوط بدترین امت تھی لیکن اس کے باوجود حضرت ابراہیم _ شیخ الانبیاء نے انکے بارے میں شفاعت کی ( اور خداوند سے درخواست کی کہ انہیں مزید مہلت دی جائے شاید توبہ کرلیں ) لیکن یہ قوم چونکہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی بد اعمالیوں کی وجہ سے شفاعت کی قابلیت کھوچکی تھی _ اس لیے حضرت ابراہیم (ع) کو کہاگیا کہ انکی شفاعت سے صرف نظر کیجئے _

( '' فلمَّا ذهَبَ عن إبراهیمَ الرّوعُ و جَاء تهُ البُشری يُجادلُنا فی قوم لُوط، إنّ إبراهیمَ لَحلیمٌ أواهٌ مُنیبٌ يَا إبراهیمُ أعرض عَن هذا إنَّه قد جَاء أمرُ رَبّک و أنهم آتیهم عذابٌ غَیرُ مَردُود'' ) (۱)

'' جس وقت ابراہیم کا خوف ( اجنبی فرشتوں کی وجہ سے ) ختم ہوگیا اور ( بیٹے کی ولادت کی ) بشارت انہیں مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں ہم سے گفتگو کرنے لگے (اور شفاعت کرنے لگے) کیونکہ ابراہیم (ع) بردبار، دلسوز اور توبہ کرنے والے تھے (ہم نے ان سے کہا ) اے ابراہیم(ع) اس (درخواست ) سے صرف نظر کیجئے کیونکہ آپ کے پروردگار کا فرمان پہنچ چکا ہے اور یقینی طور پر ناقابل رفع عذاب انکی طرف آئیگا ''

____________________

۱) سورة ہود آیات ۷۴ تا ۷۶_


دلچسب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس شفاعت کے مقابلے میں حضرت ابراہیم (ع) کی عجیب تمجید فرمائی اور کہا '' إنّ ابراہیم لَحلیم اواہُ مُنیبٌ'' لیکن اس مقام پر انہیں تذکر دیا ہے کہ پانی سر سے گذر چکا ہے اور شفاعت کی گنجائشے باقی نہیں رہی ہے_

اولیا ء الہی کی شفاعت اُنکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے:

بہانہ تلاش کرنے والے جب ایسی آیات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جن میں صراحت کے ساتھ انبیائے الہی کی شفاعت کی قبولیت کا تذکرہ ہے اور ان آیات کو قبول کرنے کے سواء کوئی چارہ بھی نہیں ہے تو پھر ایک اور بہانہ بناتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ آیات انبیاء کرام کی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں_ ان کی وفات کے بعد شفاعت پر کوئی دلیل نہیں ہے اسطرح شرک والی شاخ کو چھوڑ کر دوسری شاخ کو پکڑ تے ہیں_

لیکن اس جگہ یہ سوال سامنے آئیگا کہ کیا پیغمبر اکرم(ص) اپنی رحلت کے بعد خاک میں تبدیل اور مکمل طور پر نابود ہوگئے ہیں یا حیات برزخی رکھتے ہیں؟ ( جسطرح بعض وہابی علماء نے ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کیا ہے)

اگر حیات برزخی نہیں رکھتے تو اولاً کیا پیغمبر اکرم (ص) کا مقام شہداء سے کم ہے جنکے بارے میں قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ ''( بل أحیائٌ عند ربّهم يُرزَقُون ) ''(۱)

ثانیاً : تمام مسلمان نماز کے تشہدّمیں آنحضرت(ص) پر سلام بھیجتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: ''السلام علیک ايّہا النبيّ ...'' اگر آنحضرت (ص) موجود نہیں ہیں تو کیا یہ کسی خیالی شے کو سلام کیا جاتا ہے؟

____________________

۱) سورہ آل عمران آیت ۱۶۹_


ثالثاً: کیا آپ معتقد نہیں ہیں کہ مسجد نبوی میں پیغمبر اکرم (ص) کے مزار کے قریب آہستہ بولنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ ''( یا ايّها الذین آمنوا لا ترفَعُوا أصواتکم فَوقَ صوت النّبی ) ...''(۱) اور اس آیت کو تحریر کر کے آپ لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی ضریح پر نصب کیا ہوا ہے؟

ہم ان متضاد باتوں کو کیسے قبول کریں

رابعاً: موت نہ فقط زندگی کا اختتام نہیں ہے بلکہ ایک نئی ولادت اور زندگی میں وسعت کا نام ہے_'' الناس نیامٌ فإذا ماتُوا إنتبهوا'' (۲) لوگ غفلت میں ہیں جب مریں گے تو بیدار ہونگے_

خامساً: ایک معتبر حدیث میں جسے اہلسنت کی معتبر کتب میں ذکر کیا گیا ہے_ عبداللہ بن عمر نے رسولخدا(ص) سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا''من زارَ قبری وَجَبَت له شفاعتی'' (۳) جس نے میری قبر کی زیارت کی اسکے لیے میری شفاعت یقینی ہوگئی_

ایک اور حدیث میں یہی راوی پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کرتا ہے'' مَن زَارنی بَعدَ مَوتی فَانّما زارنی فی حیاتی'' (۴) جس نے میری رحلت کے بعد میری زیارت کی وہ ایسا ہی

____________________

۱) سورة حجرات آیت ۲_ اے صاحبان ایمان ،اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیجئے_

۲) عوالی اللئالی، جلد ۴ ص ۷۳_

۳) دار قطنی مشہور محدث نے اس حدیث کو اپنی کتاب '' سنن'' میں نقل کیا ہے ( جلد ۲ ص ۲۷۸) دلچسپ یہ ہے کہ علامہ امینی نے اسی حدیث کو اہلسنت کی ۴۱ مشہور کتابوں سے نقل کیا ہے ملاحظہ فرمائیں الغدیر ج ۵ ص ۹۳

۴) (سابقہ مدرک) علامہ امینی نے اس حدیث کو ۱۳ کتابوں سے نقل کیا ہے_


ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ہو''

لہذا حیات اور ممات کے درمیان فرق ڈالنا صرف ایک موہوم خیال ہے_ اور اس کے ساتھ ساتھ اس حدیث کے اطلاق سے یہ بھی بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ(ص) کی قبر کی زیارت کے قصد سے '' شدّ رحال'' سامان باندھنے اور سفر کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے_

خواتین اور قبور کی زیارت

خواتین زیادہ عطوفت اور رقّت قلب کی وجہ سے اپنے عزیزوں کی قبروں پر جانے کی زیادہ ضرورت محسوس کرتی ہیں تا کہ انہیں صبر اور تسلّی حاصل ہوسکے_ اور تجربے کے ذریعے یہ بات ثابت ہے کہ اولیاء الہی کی قبور کی زیارت کے لیے بھی وہ زیادہ مشتاق ہوتی ہیں_

لیکن مقام افسوس ہے کہ یہ وہابی ٹولہ ایک مشکوک حدیث کی خاطر، خواتین کو ان قبور کی زیارت سے شدت سے منع کرتے ہیں_ حتی کہ جنوب ایران میں انکی عوام کی زبانوں پریہ بات مشہورہے کہ اگر کوئی عورت کسی کی قبر پر جائے تو وہ مُردہ اس خاتون کو بالکل برہنہ حالت میں دیکھتا ہے

ایک عالم کہہ رہے تھے میں نے وہابیوں سے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص) اور خلیفہ اوّل و دوّم کی قبریں حضرت عائشےہ کے کمرے میں تھیں اور وہ کافی عرصہ تک اُسی کمرہ میں رہتی رہیں یا کم از کم کمرہ میں آمد و رفت رکھتی تھیں_

بہرحال ( خواتین کے لیئےیارت قبور کی حرمت پر ) ان کے پاس دلیل کے طور پر ایک مشہور حدیث ہے جسے وہ رسولخدا(ص) کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا '' لعن الله زائرات القبور'' '' اللہ تعالی قبروں کی زیارت کرنے والی خواتین پر لعنت کرے''


بعض کتابوں میں '' زائرات'' کے لفظ کی بجائے ''زوّارات القبور'' نقل کیا گیا ہے کہ جو مبالغہ کےلیے استعمال کیا جاتا ہے_

اہلسنت کے بعض علماء جیسے ترمذی(۱) و غیرہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس زمانے کے ساتھ مخصوص ہے جب آنحضرت(ص) نے اس بات سے منع فرمایا تھا_ بعد میں یہ حکم نسخ ہوگیا تھا اور آپ(ص) نے اجازت فرمادی تھی

بعض دیگر علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث ان خواتین کے ساتھ مخصوص ہے جو اپنا زیادہ وقت زیارت قبور کے لیے صَرف کرتی تھیں اور اس طرح انکے شوہروں کے حقوق ضائع ہوتے تھے اور لفظ '' زوّارات'' و الانسخہ کہ جو مبالغے کا صیغہ ہے اس بات کی دلیل ہے_

یہ برادران چاہے سب چیزوں کا انکار کردیں لیکن حضرت عائشےہ کے کام کاتو انکار نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) اور پہلے و دوسرے خلیفہ کی قبریں انکے گھر میں تھیں اور وہ ہمیشہ ان قبروں کے نزدیک تھیں_

'' شدّ رحال'' فقط تین مساجد کے لیے

تاریخ اسلام میں صدیوں سے مسلمان، پیغمبر اکرم(ص) اور بزرگان بقیع کی قبور کی زیارت کے لیے شدّ رحال کرتے تھے ( یعنی اس زیارت کے قصد سے سامان باندھتے ) اور سفر کرتے تھے اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا_

____________________

۱) سنن ترمذی ، جلد ۳ ص ۳۷۱ ( انہوں نے باب کا عنوان یہ رکھا ہے ''باب ما جاء من الرخصة فی زیارة القبور'' یعنی وہ باب جس میں زیارت قبور کی اجازت دی گئی ہے_


یہاںتک کہ ساتویں صدی میں ابن تیميّہ کا زمانہ آیا اور اس نے اپنے پیروکاروں کو اس بات سے منع کیااور کہا کہ '' شدّ رحال'' صرف تین مسجدوں کی زیارت کے لیے جائز ہے اور بقیہ مسجدوں کے لیے حرام ہے اور اس بارے میں دلیل کے طور پر ابوہریرہ کی اس حدیث کو نقل کیا کہ ابوہریرہ نے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا :

'' لا تشد الرحال الا الی ثلاثة مساجد، مسجدی هذا و مسجد الحرام و مسجد الاقصی ''(۱)

صرف تین مساجد کے لیئے رخت سفر باندھا جاتا ہے ایک میری مسجد اور دوسری مسجد الحرام اور تیسری مسجد الاقصی(۱)

حالانکہ اولاً اس حدیث کا موضوع مساجد کے ساتھ مخصوص ہے نہ دوسرے مقامات کی زیارت کے ساتھ _ لہذا اس حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ تین مساجد کے علاوہ دیگر مسجدوں کے لیے سامان سفر نہیں باندھا جاتا ہے_

ثانیاً: یہ حدیث ایک اور طر ح بھی نقل ہوئی ہے اور اس نقل کے مطابق انکے مقصود پر اصلاً دلالت نہیں کرتی ہے وہ اسطرح کہ''تشدّ الرحال الی ثلاث مساجد'' تین مساجد کے لیئے سامان سفر باندھا جاتا ہے''(۱) اور یہ در حقیقت اس کام پر تشویق کرنا ہے_ اس تشویق سے دوسرے مقامات کی زیارت کی نفی نہیں ہوتی ہے کیونکہ ایک شے کے ثابت کرنے سے دوسری شے کی نفی نہیں ہوتی _ اور چونکہ معلوم نہیں ہے کہ اصل حدیث کا متن پہلی طرح یا دوسری طرح تھا اس لیے حدیث مجمل ہوجائیگی اور استدلال کے قابل نہیں رہے گی_

____________________

۱) صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۲۶_

۲) مصدر سابق_


ممکن ہے کوئی کہے کہ اسی کتاب میں دوسرے مقام پر یوں نقل کیا گیا ہے کہ '' انّما یسافر الی ثلاثة مساجد'' سفر صرف تین مساجد کے لیے جائز ہے''

لہذا شدّ رحال صرف تین مساجد کے لیے جائز ہے

اس سوال کا جواب واضح ہے اولاً: امّت کا اس بات پر اجماع ہے کہ بہت سے دینی اور غیر دینی سفر مختلف مقاصد کے لیے جائز ہیں_ سفر صرف تین مساجد کے لیے منحصر نہیں ہے لہذا یہ حصر اصطلاحاً '' حصر اضافی '' ہے یعنی مساجد میں سے یہ تین مسجدیں ہیں جنکے لیے شدّ رحال کیا جاتا ہے _ ثانیاً : حدیث کا متن مشکوک ہے معلوم نہیں ہے کہ پہلا متن درست ہے یا دوسرا یا تیسرا_ اور یہ انتہائی بعید ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اس مطلب کو تین مرتبہ مختلف الفاظ میں بیان کیا ہو_ ظاہراً یہ لگتا ہے کہ راویوں نے نقل بہ معنی کیا ہے لہذا اس حدیث میں ابہام پایا جاتا ہے اور جب کسی حدیث کا متن مبہم ہوتو اس کے ساتھ کیا گیا استدلال معتبر نہیں ہوتا ہے_

کیا قبور پر عمارت بنانا ممنوع ہے؟

صدیوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ مسلمان بزرگان اسلام کی قبور پر تاریخی اور عام عمارتیں تعمیر کرتے تھے اور ان کی قبور کی زیارت کے لیے آتے اوران سے متبرک ہوتے تھے اور اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا_ حقیقت میں اس عمل پر مسلمانوں کا اجماع تھا اور اس سیرت عملی کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں تھا_

مورخین نے تاریخ میں جیسے مسعودی نے مروّج الذہب میں ( کہ جنہوں نے چوتھی صدی میں زندگی گذاری ہے) او ر سيّا حوں جیسے ابن جُبیر اور ابن بطوطہ نے ساتویں اور آٹھویں صدی میں اپنے سفر ناموں میں اس قسم کی عظیم عمارتوں کا تذکرہ کیا ہے_

____________________

۱)صحیح مسلم، ج۴ ص ۱۲۶_


یہاںتک کہ ساتویں صدی میں ابن تیميّہ اور بارہویں صدی میں انکے شاگرد محمد ابن عبدالوہاب پیدا ہوئے اور انہوں نے قبور پر ان عمارتوں کو بدعت، شرک اور حرام قرار دیا_

وہابیوں کے پاس چونکہ اسلامی مسائل کی تحلیل کے لیے علمی قدرت کم تھی اس لیے بالخصوص توحید اور شرک کے مسئلہ میں وسواس کا شکار ہوگئے _ انہیں جہاں بھی کوئی دستاویز ملی اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے_ اسی لیے زیارت ، شفاعت ، قبروں پر عمارات اور دیگر مسائل کو انہوں نے شریعت کے خلاف شمار کرتے ہوئے شرک اور بدعت کے ساتھ تعبیر کیا_ اور ان میں سے اہم ترین مسئلہ بزرگان دین کی قبروں پر تعمیرات کرانے کامسئلہ ہے آج بھی سوائے حجاز کے پوری دنیا میں سابقہ انبیاء اور بزرگان دین کی قبور پر عظیم تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو بہت سی تاریخی یادوں کو تازہ کرتی ہیں_

مصر سے لیکر ہندوستان تک اور الجزائر سے لیکر انڈونیشیا تک سب لوگ اپنے ملک میں موجود اسلامی آثار کا احترام کرتے ہیں اور بزرگان دین کی قبروں کے لیئےیک خاص اہمیت کے قائل ہیں_ لیکن حجاز میں ایسی بات نظر نہیں آتی ہے_ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اسلامی مفاہیم کی صحیح تحلیل نہیں کر پائے ہیں_

وہابیت کے ہاتھوں ثقافتی میراث کی نابودی

گذشتہ صدی میں سرزمین وحی پر ایک تلخ واقعہ رونما ہوا جس نے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیئےسلامی تاریخ کے آثار سے محروم کردیا اور وہ حادثہ وہابیت کا بر سر اقتدار آنا تھا_ تقریباً یہی (۸۰) سال پہلے ( ۱۳۴۴ ھ ق) جب حجاز کیحکومت وہابیت کے ہاتھوں آئی تو انہوں نے ایک بے بنیاد سازش کے تحت تمام اسلامی تاریخ کی عمارتوں کو شرک یا بدعت کے بہانے سے


ویران کرکے خاک کے ساتھ یکساں کردیا_

البتہ انکی یہ جرا ت نہ ہوئی کہ پیغمبر(ص) گرامی اسلام کی قبر مطہر کو خراب کریں_ اس خوف سے کہ کہیں پوری دنیا کے مسلمان انکے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں اور حقیقت میں ان تقیہ کے مخالفین نے دوسرے سب مسلمانوں سے تقیہ کیا

مکہ مکرّمہ کے بعض سفروں کے دوران ہم نے دوستانہ ماحول میں وہابیت کے بزرگان سے یہ دریافت کیا کہ آپ نے سوائے روضہ رسول(ص) کے باقی سب قبور کو ویران کردیا ہے اس قبر کے باقی رکھنے کا راز کیا ہے؟ تو اس سوال کے جواب میں انکے پاس کوئی عذر و بہانہ نہیں تھا_

بہرحال قوموں کی حیات مختلف امور کے ساتھ وابستہ ہے جن میں سے ایک انکی ثقافتی میراث اوراپنے دینی و علمی آثار کی حفاظت ہے_ جبکہ نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ سرزمین وحی بالخصوص مکہ اور مدینہ میں مسلمانوں کی غلط تدبیر کی وجہ سے ایک پسماندہ ذہنیت رکھنے والے کج سلیقہ اور متعصّب ٹولے نے اسلام کی انتہائی قیمتی میراث کو بوگس بہانوں کے ذریعہ برباد کر دیا ہے_ ایسی میراث جس کی ہر ایک عمارت اسلام کی پر افتخار تاریخ کو یاد دلاتی تھی_

صرف آئمہ اطہار (ع) اور جنت البقیع میں مدفون دوسرے بزرگوں کی قبروں کو ویران نہیں کیا گیا بلکہ اس ٹولے نے جہاں بھی کہیں اسلامی تاریخ کا کوئی اثر پایا اسے ویران کردیا_ اور اس سے ایک بہت بڑا ناقابل تلافی خسارہ مسلمانوں کے دامن گیر ہوا_

یہ تاریخی آثار ایک عجیب جاذبيّت رکھتے تھے_ اور انسان کو اسلامی تاریخ کی گہرائیوںسے آشنا کرتے تھے_ جنت البقیع ایک وقت انتہائی با عظمت جلوہ رکھتا تھا اور اس کا ہر گوشہ ایک اہم تاریخی حادثہ کی یاد دلاتا تھا لیکن آج ایک ویران بیابان میں تبدیل ہوچکا ہے،


جو انتہائی عجیب لگتا ہے اور وہ بھی بڑے بڑے خوبصورت ہوٹلوں اور زرق برق والی عمارتوں کے درمیان اور زیاہ عجیب لگتا ہے_ اس کے لوہے کی سلاخوں کے دروازے صرف ایک دو گھنٹے کے لیئے وہ بھی فقط مرد زائرین کیلئے کھولے جاتے ہیں _

بہانے:

۱_ قبروں کو مسجد نہیں بنانا چاہیے:

کبھی کہتے ہیں کہ قبروں پر عمارت بنانا انکی پرستش کا باعث بنتا ہے_ اور بنی اکرم(ص) کی یہ حدیث اس کے جائز نہ ہونے پر دلیل ہے'' لعن الله الیھود اتّخذوا قبور انبیائہم مساجد'' '' اللہ تعالی نے یہودیوں پر لعنت کی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا تھا''(۱)

سب مسلمانوں پر واضح ہے کہ کوئی بھی اولیائے الہی کی قبروں کی پوجا نہیں کرتا ہے_ اور زیارت اور عبادت کے درمیان واضح فرق ہے_ ہم جس طرح زندہ لوگوں کی زیارت و ملاقات کے لیے جاتے ہیں بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور اُن سے التماس دُعا کرتے ہیں ایسے ہی مردوں کی زیارت کے لیئے بھی جاتے ہیں اور بزرگان دین اور شہداء فی سبیل اللہ کا احترام کرتے ہیں اور اُن سے التماس دعا کہتے ہیں_

کیا کوئی بھی عاقل یہ کہتا ہے کہ زندگی میں بزرگوں کی زیارت اس طرح کرنا جس طرح کہ بتایا گیاہے عبادت یا کفر و شرک ہے؟ مرنے کے بعد بھی انکی زیارت اسی طرح ہے_

____________________

۱) صحیح بخاری، جلد۱، ص ۱۱۰ یہی حدیث '' و النصاری '' کے لفظ کے اضافہ کے ساتھ صحیح مسلم میں بھی آئی ہے (جلد ۲، ص ۶۷)_


پیغمبر اکرم (ص) جنت البقیع میں قبروں کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور کتب اہلسنت میں بھی بہت سی روایات پیغمبر اکرم (ص) کی قبراور دیگر قبور کی زیارت کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں_ اگر اللہ تعالی نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ ( سجدہ کا مقام ) قرار دیا تھا_ جبکہ کوئی بھی مسلمان کسی قبر کو اپنا سجدہ کا مقام قرار نہیں دیتا ہے_ قابل توجہ بات یہ ہے کہ آج بھی پیغمبر اسلام (ص) کا روضہ مبارک، مسجد نبوی کے ساتھ موجود ہے اور تمام مسلمان حتی کہ وہابی بھی اس روضہ مقدسہ ( مسجد نبوی کے اس حصے میں جو آنحضرت(ص) کی قبر مبارک سے متّصل ہے ) کے ساتھ پانچ وقت واجب نمازیں اور اس کے علاوہ مستحبی نمازیں پڑھتے ہیں اور آخر میں پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت کرتے ہیں _ کیا یہ کام قبروں کی پوجا شمار ہوتا ہے اور حرام ہے؟ یا یہ کہ پیغمبر اکرم(ص) کی قبر اس حرمت سے مستثنی ہے؟ کیا غیر خدا کی پوجا کی حرمت کی دلیلیں بھی قابل استثناء ہیں؟

یقینا قبروں کی زیارت انکی عبادت شمار نہیں ہوتی ہے اور پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کے ساتھ یا دیگر اولیاء الہی کی قبروں کے نزدیک نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور مندرجہ بالا حدیث ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو واقعاً قبروں کی پوجا اور پرستش کرتے تھے _جو لوگ شیعوں کی اپنے آئمہ اطہار کی قبور کی زیارت کے ساتھ آشنا ہیں وُہ جانتے ہیں کہ جب واجب نمازوں کے اوقات میں مؤذن اذان دیتا ہے تو سب رو بہ قبلہ کھڑے ہو کر ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ انجام دیتے ہیں_ اور زیارت کرتے وقت سب سے پہلے سو مرتبہ تکبیر کہتے ہیں اور زیارت کے بعد دو رکعت نماز زیارت رو بہ قبلہ انجام دیتے ہیں تا کہ ابتدا اور انتہاء میں روشن ہوجائے کہ پرستش صرف اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے_


لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ کچھ خاص مقاصد کی خاطر تہمت، افتراء اور جھوٹ کے دروازے کھول دیئےے ہیں اور وہابی حضرات جوکہ اقلّیت میں ہیں اپنے تمام مخالفین پر قسم قسم کی تہمتیں لگاتے ہیں_ انکی باتوں کی بہترین توجیہہ ہم یہی کرسکتے ہیں کہ یہ لوگ کم علمی کی وجہ سے مسائل کی درست تحلیل نہیں کر سکتے اور توحید و شرک کی حقیقت کو خوب سمجھ نہیں پائے ہیں اور انہیںعبادت و زیارت میں واضح طور پر فرق معلوم نہیں ہوسکا ہے_

۲_ایک اور بہانہ:

صحیح مسلم سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ ابوالھيّاج نے پیغمبر اکرم(ص) سے اسطرح حدیث نقل کی ہے:

'' قال لی علی ابن ابی طالب ا لا ابعثک علی ما بعثنی علیه رسول الله ا ن لا تدع تمثالاً الّاطمسته و لا قبراً مشرفا الا سوّیته'' (۱)

'' حضرت علی نے مجھے فرمایا کیا تجھے وہ ذمہ داری سونپوں جو مجھے رسول خدا(ص) نے سونپی تھی: کہ جہاں ( ذی روح) کی تصویر دیکھو مٹادو او ر جہاں کہیں اُبھری ہوئی قبر دیکھو اسے صاف کردو''

اس حدیث سے غلط مفہوم نکالنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے بیلچے اٹھالیے اور تمام بزرگان دین کی قبریں ویران کردیں_ صرف پیغمبر اکرم(ص) اور پہلے و دوسرے خلیفہ کی قبریں باقی رہنے دیں اور ایسے استثناء کے قائل ہوئے جس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے_

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد ۳ ص ۶۱ یہ روایت اہلسنت کے بعض دیگر مصادر میں بھی نقل ہوئی ہے_


لیکن اولا: اس حدیث کی سند میں کئی افراد ایسے ہیں جو رجال اہلسنت کے مطابق بھی مورد تائید نہیں ہیں اور ان میں سے بعض دھوکہ و فریب دینے والے شمار ہوتے ہیں جیسے بالخصوص '' سفیان ثوری '' اور '' ابن ابی ثابت''

ثانیاً: بالفرض اگر یہ حدیث صیح ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ قبر کی پشت صاف ہونی چاہئے (مچھلی کی پشت کی طرح ابھری ہوئی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ کفار کی رسم تھی ) اور بہت سے اہل سنت فقہاء نے فتوی دیا ہے کہ قبر کی پشت صاف اور مسطّح ہونی چاہیے اور یہ بات مذکورہ بحث کے ساتھ مربوط نہیں ہے_

ثالثاً: فرض کرلیتے ہیں کہ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قبر زمین کے ساتھ ہم سطح ہونی چاہیے اور بالکل اُبھری ہوئی نہیں ہونی چاہیے _ لیکن اس مسئلہ کا قبروں پر عمارت بنانے سے کیا تعلق ہے؟ فرض کیجئے پیغمبر اکرم(ص) کی قبر مبارک کا پتھر زمین کے ساتھ ہم سطح اور اس کے ساتھ ساتھ یہ روضہ گنبد اور بارگاہ جو آجکل موجود ہے یہ بھی باقی ہو ان دونوں کے درمیان کیا منافات ہے؟

جسطرح قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ جس وقت اصحاب کہف کا راز فاش ہوگیا تو لوگوں نے کہا کہ ان کی قبروں پر عمارت بنائیں گے_ قرآن مجید یوں فرماتا ہیں'' قال الذین غَلبُوا علی أَمرهم لنتّخذّن علیهم مسجداً'' جو لوگ انکے واقعہ سے آشنا تھے کہنے لگے ان کے مقام پر مسجد بنائیں گے _(۱)

قرآن مجید نے مثبت اندازمیں اس داستان کو نقل کیا اور اس پر اعتراض نہیں کیاہے_ اس کا مطلب یہ ہے کہ بزرگان کی قبروں کے ساتھ مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے_

____________________

۱) سورة کہف آیت ۲۱_


بزرگان دین کی قبور کی زیارت کے مثبت آثار

اگر لوگوں کو صحیح تعلیم دی جائے کہ ہر قسم کے افراط وتفریط سے پرہیز کرتے ہوئے ان مزاروں کے پاس یاد خدا میں رہیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اولیائے الہی کی افکار سے الہام لیں تو یقیناً یہ قبریں تعلیم و تربیت کا مرکز اور اللہ تعالی کی طرف توبہ اور تہذیب نفوس کا محور بن جائیں گیں_

یہ بات ہمارے لیے تجربہ شدہ ہے کہ ہر سال آئمہ اطہار اور شہدائے راہ حق کی قبور کی زیارت کو جانے والے لاکھوں زائرین، بہتر جذبہ اور نورانی، صاف اور پاکیزہ دل کے ساتھ واپس آتے ہیں اور اس زیارت کی نوارنیت ،کافی عرصہ تک انکے عمل سے نمایاں ہوتی ہے_ اور جب یہ لوگ ان بزرگان کو درگاہ ربُّ العزّت میں شفاعت کے لیے پکارتے ہیں اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی توبہ اور دینی و دنیوی حاجات طلب کرتے ہیں تو روحانی اورمعنوی رابطہ برقرار کرنے کی خاطرانکے لیے ضروری ہوتا ہے کہ حتماً گناہوں سے دوری اختیار کریں اور نیکی و پاکی کے راستے پر چلیں_ اسطرح یہ توسّل انکی نیکی کا باعث بنتا ہے_

علاوہ بر این بزرگان کی طرف یہ توجّہ اور توسّل اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان سے شفاعت طلب کرنا انسان کو مشکلات کے مقابلے میں باہمت بناتا ہے اور مایوسی و ناامیدی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور اس کے جسمانی و روحانی درد و غم کا مداوا بنتا ہے_ اس کے علاوہ اور بہت سی برکتوں کا موجب بنتا ہے_

ہم زیارت، شفاعت اور توسّل والے مسائل میں کج فہمی کی وجہ سے کیوں لوگوں کو ان روحانی وجسمانی اور معنوی برکتوں سے محروم کریں؟ کونسی عقل سلیم اس بات کی اجازت دیتی


ہے؟ ان روحانی و معنوی منزلوں کو طے کرنے سے روکنا عظیم خسارے اور نقصان کا موجب بنے گا_ لیکن کیا کریں افسوس یہ ہے بعض لوگوں کے توحید و شرک کے مسئلہ میں بے جا وسواس نے بہت سے لوگوں کو اس عظیم فیض سے محروم کردیا ہے_

۳:تبرّک کو چاہنا اور طلب کرناممنوع ہے_

بہانہ دیگر : جو لوگ بزرگان کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں اور ان قبور سے متبرک ہوتے ہیں اور کبھی قبر یا ضریح کو چومتے ہیں_ اس سے شرک کی بو آتی ہے_ اس لیئےاجی صاحبان نے دیکھا ہوگا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کے نزدیک ہر طرف سرسخت سپاہی کھڑے ہوتے ہیں اور نبی(ص) کے عاشقوں کو ان کی ضریح اور قبر مطہّر کی طرف کھلنے والی جالی کے نزدیک جانے سے روکتے ہیں _کبھی اس حرمت کو '' ابن تیمیہ'' اور '' محمد ابن عبدالوہاب'' کی طرف نسبت دیتے ہیں_ ہمیں یقین ہے کہ اگر یہ دو افراد کہ جو وہابیت کے بانی ہیں رسولخدا(ص) کے زمانے میں ہوتے اور صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے موقع پر اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ جب آنحضرت(ص) وضو کرتے تو اصحاب کرام ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر وضو کا پانی لینے کی کوشش کرتے تا کہ ایک قطرہ بھی زمین پر نہ گرے(۱)

ایسا منظر دیکھ کر اگریہ افراد زبان سے اعتراض نہ کرسکتے تو دل ہی دل میں ضرور کڑھتے اور یوں کہتے کہ یہ کام پیغمبر اکرم (ص) اور صحابہ کرام کی شان کے مطابق نہیں ہے اس سے تو شرک کی بو آتی ہے

____________________

۱) یہ مسئلہ پیغمبر اکرم(ص) کی زندگی میں کئی مرتبہ وقوع پذیر ہوا ( صحیح مسلم، جلد ۴ ، ص ۱۹۴۳ اور کنز العمال ،جلد ۱۶ ص ۲۴۹ کی طرف رجوع کیاجائے)_


اور یا اگریہ لوگ نبی اکرم (ص) کی رحلت کے بعد مدینہ میں ہوتے تو اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ آنحضرت(ص) کے سب سے پہلے میزبان جناب ابوایوب انصاری قبر مبارک پر رخسار رکھ کے تبرک حاصل کرتے تھے_(۱) یا حضرت بلال مؤذّن آنحضرت (ص) کی قبر کے نزدیک بیٹھ کر شدید گریہ کرتے تھے اور شدت غم کیوجہ سے اپنا چہرہ قبر مبارک پر رگڑ تے تھے_(۲) وہابی حضرت، بلال اور ابو ایوب انصاری کا گریبان پکڑ کر انہیں دور دھکیلتے کہ یہ کام شرک ہے_ وہی کام کہ جو آجکل اس مکتب کے پیروکار رسولخدا(ص) کے زائرین کے ساتھ کرتے ہیں_

حالانکہ تبرک حاصل کرنے کا پرستش و پوجا کے ساتھ ذرہ بھر بھی کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس تبرک کا مطلب ایک قسم کا احترام و ادب ہے_ اس امید کے ساتھ کہ جس خدا نے اپنے رسول(ص) کو مبعوث فرمایا ہے اس ادب و احترام کی خاطر زیارت کرنیوالے پر اپنی رحمت و برکت نازل فرمائے_

علمائے اسلام کی اہم ذمہ داری:

اس وجہ سے کہ عوام الناس کے بعض کاموں کی وجہ سے مخالفین کو بہانہ مل جاتا ہے اس لیے تمام علماء اعلام اور دانشمند حضرات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو پیغمبر اکرم(ص) ، آئمہ بقیع اور دیگر آئمہ اطہار و شہدائے اسلام کی قبور مبارکہ کے نزدیک غیر سنجیدہ حرکات کرنے سے روکیں اور انہیں زیارت، توسّل ، تبرک اور شفاعت کے حقیقی مفہوم کی تعلیم دیں_

____________________

۱) مستدرک الصحیحین ، جلد ۴ ، ص ۵۶۰_

۲) تاریخ ابن عساکر، جلد ۷ ص ۱۳۷_


تمام لوگوں پر یہ واضح کردیں کہ تمام امور اللہ تعالی کے اختیار میں ہیں اور وہی ذات مسبّب الاسباب ،قاضی الحاجات، کاشف الکربات اور کافی المہمات ہے_ اگر ہم پیغمبر اکرم (ص) اورآئمہ اطہار کے ساتھ توسل کرتے ہیں تو یہ ذوات مقدّسہ بھی اذن پروردگار اور اس کی مدد کے ساتھ ہر کام انجام دیتے ہیں_ یا اس کے حضور ہماری شفاعت اور اس سے ہماری حاجات کے برآنے کا تقاضا کرتے ہیں_

عوام میں سے بعض لوگوں کا ان قبور مقدسہ کے سامنے سجدہ کرنا یا ایسے جملے ادا کرنا جن سے انکی الوہيّت کی بو آتی ہو یا ضریح پر کسی چیز سے گرہ لگانا و غیرہ یہ تمام ناشائستہ امور ہیں اور ان سے مشکل ایجاد ہوتی ہے_ اور ایک مثبت اور انتہائی تعمیری کام ( زیارت) کا چہرہ مسخ ہوجاتا ہے اور تجھ مجھ کو بہانہ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کو زیارت کی برکتوں سے محروم کردیتے ہیں_


۵

نکاح موقّت (مُتعہ )


متعہ یا ازدواج موقت

تمام علمائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ متعہ پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں ایک عرصہ تک رائج تھا_ ایک گروہ قائل ہے کہ یہ خلیفہ ثانی کے دور میں خود اس کے توسط سے اور دوسرا گروہ قائل ہے کہ خودپیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں متعہ کو دوبارہ حرام کردیا گیا تھا_ اور ہم مکتب اہلبیتکے پیروکاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ متعہ ہرگز حرام نہیں ہوا ہے اور اس کا جواز باقی ہے ( البتہ مخصوص شرائط کے ساتھ)

اس عقیدہ میں بہت کم اہلسنت ہمارے ساتھ متفق ہیں جبکہ انکی اکثریت اس مسئلہ میں ہمارے مخالف ہے _ بلکہ ہمیشہ ہمیں اس بات کا طعنہ دیتے اور اعتراض کرتے ہیں حالانکہ اس مسئلہ میں نہ صرف اعتراض کا مقام نہیں بلکہ یہ بہت سی اجتماعی مشکلات کے حل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے_

اس مطلب کی وضاحت آئندہ ابحاث میں بیان کی جائیگی_

ضرورت اور نیاز

بہت سے لوگ ( بالخصوص جوان لوگ) دائمی نکاح اور شادی کی قدرت نہیں رکھتے ہیں کیونکہ عام طور پر شادی کرنے کے لیئے مقدمات، اخراجات اور بہت سی ذمہ داریوں کو قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک بڑی تعداد کے لیے شرائط ابھی آمادہ اور میسر نہیں ہیں_


مثال کے طور پر :

۱_ بہت سے جوان اپنے تعلیمی دور میں شادی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں (بالخصوص ہمارے زمانے میں تو تعلیمی دورانیہ طولانی ہوچکا ہے) کیونکہ نہ تو ان کی کوئی ملازمت و غیرہ ہے اور نہ ہی رہائشے کے لیئے کوئی مناسب مکان اور نہ دیگر اخراجات، جس قدر بھی سادگی کے ساتھ شادی کرنا چاہیں پھر بھی بنیادی وسائل فراہم نہیں ہیں_

۲: بعض افراد شادی شدہ ہیں لیکن بیرون ممالک سفر پر جاتے ہیں اور انکے سفر لمبے ہوجاتے ہیں_ وہاں وہ جنسی محروميّت کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ نہ تو اپنی بیویوں کو ساتھ لے جاسکتے ہیں اور نہ ہی اس ملک میں دوسری شادی کر سکتے ہیں_

۳: بعض لوگ ایسے ہیں جنکی بیویاں مختلف بیماریوں یا مشکلات کا شکار ہوجاتی ہیں اور اس وجہ سے وہ اپنے شوہروں کی جنسی خواہشات کو پورا نہیںکرسکتی ہیں_

۴: بہت سے فوجی ایسے ہیں جو بارڈر و غیرہ کی حفاظت کے لیے یا کسی اور مناسبت سے لمبی ڈیوٹی پر اپنے گھر سے دور چلے جاتے ہیں اور وہاں جنسی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں_

اور جیسا کہ آئندہ بیان کیا جائیگاپیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں بھی بہت سے اسلامی فوجیوں کے لیئےہی مشکل پیش آئی اور اسی وجہ سے متعہ کو حلال کیا گیا_

۵: بعض اوقات حمل کے دوران یا بعض دیگر وجوہات کی بناء پر انسان مجبور ہوجاتا ہے کہ کچھ عرصہ کے لیئےپنی بیوی کے ساتھ جنسی روابط ترک کردے اور ممکن ہے شوہر جو ان بھی ہو اور اس محرومیت میں گرفتار ہو_

اس قسم کی اجتماعی ضروریات اور مشکلات ہمیشہ تھیں اور ہمیشہ رہیں گی اور یہ مسائل صرف


پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے کے ساتھ مخصوصنہیں ہیں بلکہ ہمارے زمانے میں تحریک جنسی کے عوامل کی زیادتی کی وجہ سے یہ مسائل شدت اختیار کرچکے ہیں_

ایسے موقع پر لوگوں کے سامنے دو راستے کھلے ہیں_ یا تو معاذ اللہ بدکاری اور گناہوں میں آلودہ ہو جائیں یا ایک سادہ سے نکاح یعنی متعہ سے استفادہ کریں کیونکہ اس میں شادی کی مشکلات و مسائل بھی نہیں ہیں اور دوسری طرف یہ وقتی طور پر انسان کی جنسی ضروریات کو پورا کرتا ہے _پارسائی کا مشورہ دینا اور دونوں راستوں سے چشم پوشی کرنا اگرچہ اچھا مشورہ ہے لیکن بہت سے مقامات پر قابل عمل نہیں ہے اور کم از کم بعض افرادکیلئے صرف ایک خیالی راستہ ہے_

نکاح مسیار:

دلچسپ بات یہ ہے کہ حتی متعہ کے منکر علماء ( یعنی اکثر اہلسنت برادران) جب جوانوں اور دیگر محروم لوگوں کی طرف سے دباؤ کا شکار ہوئے تووہ تدریجاً ایک نکاح کے قائل ہوگئے جو متعہ کے مشابہ ہے اور اسے وہ '' ازدواج مسیار'' کا نام دیتے ہیں _ گرچہ اس نکاح کا نام نکاح موقت یعنی متعہ نہیں ہے لیکن عمل میں یہ متعہ کے ساتھ کوئی فرق نہیں کرتا ہے_

پس اسطرح وہ علماء بھی اجازت دیتے ہیں کہ یہ ضرورت مند انسان اس عورت کے ساتھ دائمی نکاح کر سکتا ہے حالانکہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ کچھ مدت کے بعد اسے طلاق دے دے گا اور اس کے ساتھ یہ شرط کرتا ہے کہ وہ نفقہ کا حق نہیں رکھے گی اور نہ ہی رات ساتھ سونے اور وراثت کا حق رکھے گی یعنی بالکل متعہ کے مشابہ ہے_ فرق صرف اتنا ہے کہ اس نکاح مسیار میں طلاق کے ذریعہ دونوں جدا ہوتے ہیں جبکہ متعہ میں باقی ماندہ مدت کو بخشنے کے ذریعے یا


نکاح کی مدت ختم ہوجانے کے ذریعے مرد و عورت ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے ابتداء سے ہی عقد میں ایک محدود مدت معین کی تھی_

اوراس سے بڑھ کر بھی دلچسپ یہ ہے کہ ماضی قریب میں ہی بعض اہلسنت جوانوں نے کہ جنہیں شادی کی مشکل تھی اور وہ مسائل سے دوچار تھے، انٹرنیٹ کے ذریعے ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہے اور سوال کیا کہ کیا ہم متعہ کے مسئلہ میں شیعہ مجتہد کے فتوی پر عمل کر سکتے ہیں؟ ہم نے جواب دیا جی ہاں آپ اس مسئلہ میں شیعہ مسلک کے مطابق عمل کر سکتے ہیں_

جو لوگ متعہ کا انکار کرتے ہیں اور نکاح'' مسیار'' کو اختیار کرتے ہیں در حقیقت وہ متعہ پر عمل کر رہے ہیں صرف اس کا نام نہیں لینا چاہتے ہیں

ہاں '' ضروریات'' انسان کو '' حقائق'' کے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں اگرچہ اس کا نام زبان پر نہ لائیں_

پس یوں نتیجہ لیتے ہیں کہ جو لوگ متعہ کی مخالفت پر اصرار کرتے ہیں وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر برائیوں اور بدکاریوں کے لیئےاہ ہموار کر رہے ہیں مگر یہ کہ متعہ کے مشابہ '' نکاح مسیار'' کا فتوی دیں_ اسی لیے آئمہ اطہار (ع) کی روایات میں یہ بات بیان ہوئی ہے '' کہ بعض لوگ اسلامی طریقہ کے مطابق نکاح موقت '' کی مخالفت نہ کرتے تو کوئی بھی زنا سے آلودہ نہ ہوتا''(۱)

____________________

۱) امام صادق (ع) فرماتے ہیں '' لو لا ما نہی عنہا عمر ما زنی الاشقيّ'' (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۴۲۰ حدیث ۲۴) اہلسنت کی کتاب میں بھی یہ حدیث کثرت کے ساتھ بیان ہوئی ہے_ قال علی _ '' لو لا انّ عمر نہی عن المتعة ما زنی الا شقيّ'' ( تفسیر طبری ،جلد ۵ ،ص ۱۱۹ ; تفسیر در المنثور، جلد ۲ ،ص ۱۴۰ و تفسیر قرطبی ،جلد ۵ ،ص ۱۳۰)_


اسی طرح جولوگ اس متعہ سے سوء استفادہ کرتے ہیں ( حالانکہ یہ محروم لوگوں کی ضروریات اور مسائل کے حل کے لیئےریعت کی طرف سےتجویز ہوا ہے) اور لوگوں کی نظروں میں اس کا چہرہ مسخ کرتے ہیں اور اسے اپنی ہوس رانی کے لیئے استعمال کرتے ہیں وہ بھی اسلامی معاشروں میں برائی اور زنا کی راہ ہموار کرنے میں مدد کر رہے ہیں اور گناہ میں آلودہ لوگوں کے ساتھ شریک ہیں کیونکہ یہ لوگ عملا متعہ کے صحیح استعمال کی راہ میں رکاوٹ ہیں_

بہرحال اسلام کہ جو الہی قانون ہے اور انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان کی تمام ضروریات کو احاطہ کیے ہوئے ہےممکن نہیں ہے کہ متعہکا مسئلہ اسلام کے احکام میں بیان نہ ہوا ہو جیسا کہ بعد میں بیان کیا جائیگا_ نکاح موقت پر قرآن مجید بھی شاہد ہے اور احادیث نبوی میں بھی یہ مسئلہ بیان ہوا ہے اور اصحاب کی ایک جماعت کا عمل بھی اس پر رہاہے_ ہاں بعض لوگ اس اسلامی حکم کے منسوخ ہوجانے کے قائل ہیں اور جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ نسخ کے قائلین کے پاس کوئی معقول اور قانع کنندہ دلیل موجود نہیں ہے_

متعہ کیا ہے؟

بعض ناآگاہ لوگ '' نکاح موقت '' کو انتہائی مسخ چہرے کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور اسے '' گناہ، فحشاء اور جنسی آزادی کو قانونی شکل دینے'' کے مترادف شمار کرتے ہیں

اگر اس قسم کے لوگ سب کے سب عوام الناس میں سے ہوتے تو کوئی مشکل نہیں تھی لیکن افسوس یہ ہے کہ اہلسنت کے بعض علماء بھی اس قسم کی نازیبا نسبتیں دیتے ہیں_ یقیناً شدید مذہبی تعصب انہیں اپنے مد مقابل کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور شاید


بعض علماء نے تو اس مسئلہ میں شیعوں کی کتب کی ایک سطر کا بھی مطالعہ نہ کیا ہو اور اسی بات پر ہمیں افسوس ہے_

اس لیے ہم اس مختصر سی کتاب میں نکاح موقت کی شرائط اور اس کا نکاح دائم کے ساتھ فرق واضح الفاظ میں بیان کریں گے تا کہ سب پر حجت تمام ہوجائے_

نکاح موقت اکثر شرائط و احکام میں نکاح دائم ہی کی طرح ہے_

۱_ مرد و عورت دونوں مکمل رضایت اور اختیار کے ساتھ بغیر کسی جبر کے ایک دوسرے کو میاں بیوی بننے اور شادی کے لیئے قبول کریں_

۲_ عقد کا صیغہ لفظ''نکاح'' '' ازدواج'' یا '' متعہ'' کے ذریعے جاری کیا جائے اس کے علاوہ دوسرے الفاظ کافی نہیں ہیں_

۳_ اگر لڑکی باکرہ ہو تو ولی کی اجازت ضروری ہے اگر باکرہ نہ ہو تو اجازت شرط نہیں ہے_

۴_ عقد کی مدّت اور حق مہر دقیق اور واضح طور پر معین کیا جائے_ اگر مدت کو نکاح کے درمیان بیان کرنا بھول جائے تو بہت سے فقہاء کے فتوی کے مطابق یہ عقد، نکاح دائم میں تبدیل ہوجائیگا ( اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہر دو نکاح کی حقیقت ایک ہی ہے صرف مدت کے ذکر کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے فرق ہے) ( توجہ فرمایئے

۵_ مدت کا اختتام، طلاق کی مثل ہے بلافاصلہ عورت کو عدّت گزارنا ہوگی ( البتہ اگر آمیزش واقع ہوئی ہے)

۶: عقد دائم کی عدت تین مرتبہ ماہواری کا دیکھنا ہے یعنی تیسری مرتبہ ماہواری دیکھنے کے بعد عدت تمام ہوجائیگی_ لیکن عقد موقّت کی عدت دو مرتبہ ماہواری کا دیکھنا ہے_


۷: عقد متعہ سے پیدا ہونے والے بچے شرعی حوالے سے اولاد شمار ہوتے ہیں_ انکے لیئےمام وہی احکام ہیں جو عقد دائم سے پیدا ہونے والے بچوں کے احکام ہیں_ اور اسی طرح یہ بچے ماں، باپ، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں سے وراثت بھی پائیںگے_ ان بچوں اور دائمی شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ہے_

یہ بچے بھی ماں،باپ کی کفالت میں رہیں گے ان کے تمام اخراجات اور نفقہ نکاح دائمی سے ہونے والے بچوں کی طرح لازمی ہے کہ ادا کئے جائیں_

بعض لوگ یہ شرائط سُن کر شاید حیران ہوں _ انکا حق بنتا ہے کیونکہ متعہ کے بارے غلط اور عوامانہ ذہنیت بنائی گئی ہے _شاید لوگ اسے مخفی ، ناجائزاور غیر قانونی شادی تصوّر کرتے ہیں ، یعنی ایک لفظ میں کہا جائے تو اسے جو زنا کے مشابہ خیال کرتے ہیں_ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے_

ہاں ان دو نکاحوں کے درمیان میاں بیوی کے حقوق کے لحاظ سے کچھ فرق ہے_ اس نکاح میں عقد دائم کی نسبت آپس کے تعہد اور ذمہ داریاں بہت کم ہیں_ کیونکہ اس نکاح کا مقصد ہی سہولت اور قوانین کا بہت سخت نہ ہونا ہے_ من جملہ :

۱_ بیوی عقد متعہ میں نفقہ اور وراثت کی حقدار نہیں بنتی_ البتہ بعض فقہاء قائل ہیں کہ یہ اُس صورت میں ہے جب نکاح میں نفقہ اور وراثت کی شرط نہ لگائی جائے یعنی اگر نکاح میں یہ شرط رکھ دی ہے تو پھر اس شرط کے مطابق عمل کرنا ہوگا_

۲_ اس نکاح میں عورت آزاد ہے کہ گھر سے باہر جاکر کام ( ملازمت) کرسکتی ہے _اس کے لیے شوہر کی اجازت شرط نہیں ہے جب تک یہ کام شوہر کے حقوق کو تلف نہ کرتا ہو_ لیکن عقد دائم میں بیوی کیلئے شوہر کی رضایت کے بغیر باہر ملازمت کرنا جائز نہیںہے_

۳: اس نکاح میں مرد پر واجب نہیں ہے کہ رات کو اپنی بیوی کے پاس رہے_


مذکورہ احکام میں غور و فکر کرنے سے بہت سے سوالات، غیر منصفانہ قضاوت، شبہات اور تہمتوں کا جواب روشن ہوجائیگا_اور اسلام کے اس حکیمانہ اور مقدس حکم کے بارے میں بنائی گئی غلط ذہنیت خودبخود ختم ہوجائیگی_ اور اس گفتگو سے یہ بات بھی بالکل واضح و روشن ہوجاتی ہے کہ اس نکاح موقّت کا زنا اور دیگر عفت کے منافی اعمال کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے_ جو لو گ ان دونوں کا آپس میں قیاس کرتے ہیں وہ یقیناً ناآگاہ ہیں اور انہیں نکاح متعہ کی حقیقت اور شرائط کے بارے میں بالکل معلومات نہیں ہیں_

سوء استفادہ:

ہمیشہ مثبت امور سے سوء استفادہ بد زبان لوگوں کی زبان کھولتا اور بہانہ گروں کو بہانہ فراہم کرتا ہے تا کہ اسے بہانہ بنا کر مثبت امور کے خلاف کام کریں اور اپنا زہر اگلیں_

نکاح متعہ بھی اس قسم کی بحثوں کا ایک روشن مصداق ہے_

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض ہوس پرستوں نے اس نکاح متعہ کو جو کہ حقیقت میں ضروریات کی گرہ کھولنے اور اجتماعی مشکلات کو حل کرنے کے لیئے تشریع کیا گیا تھا، بازیچہ بنادیا ہے اور بے اطلاع لوگوں کے سامنے اس کا چہرہ مسخ کرکے مخالفین کو بہانہ فراہم کیا ہے_ جس کی وجہ سے یہ حکیمانہ حکم تنقید کا نشانہ بن گیا ہے_

لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کونسا حکم ہے جس سے ایک دن ضرور سوء استفادہ نہ کیا گیا ہو اور وہ کونسا نفیس سرمایہ ہے جس سے نا اہل غلط طور پربہرہ مندنہ ہوئے ہوں؟

اگر لوگوں نے ایک دن جھوٹ اور دھوکے سے قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کیا تا کہ اپنی ظالم حکومت کا دفاع کرسکیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم قرآن مجید کو چھوڑ دیں؟


یا اگر ایک دن منافقین نے مسجد ضرار بنادی جس کے ویران کرنے اور جلانے کا حکم خود پیغمبر اسلام(ص) نے صادر فرمایا تو کیا اس کامطلب یہ ہے کہ ہم مسجد سے کنارہ کشی اختیار کرلیں؟

بہرحال ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بعض نادان لوگوں نے اسلامی حکم سے سوء استفادہ کیا ہے لیکن چند بے نمازیوں کی وجہ سے مسجد کو تالا نہیں لگایا جاسکتا ہے_

اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہوس پرستوں کے لیئے راستہ بند کیا جائے اور اس نکاح متعہ کے لیئےحیح راہ حل نکالا جائے_

بالخصوص ہمارے زمانے میں یہ کام منظّم اور دقیق راہ حل کے بغیر ممکن نہیں ہے_ لہذا ضروری ہے کہ بعض شائستہ اور ماہر شخصیات اور اہل خبرہ لوگ اس مسئلہ کے لیئےیک کار آمد اور قابل اجراء قانون نامہ لکھ کرشیاطین کے ہاتھ قطع کردیں اور اس حکیمانہ حکم کے خوبصورت چہرہ کو آشکار کردیں_ تا کہ دو گروہوں کے لیئےاستہ بند ہوجائے_ ایک ہوس پرست گروہ اور دوسرا تنقید کرنے والا کینہ توزٹولہ_

نکاح متعہ، قرآن و سنّت اور اجماع کی روشنی میں :

قرآن مجید میں نکاح موقّت کو '' متعہ'' کے عنوان کے ساتھ سورہ نساء کی آیت نمبر ۲۴ میں بیان کیا گیا ہے_ ارشاد باری تعالی ہے '' فَمَا استَمتَعتُم بہ منہُنَّ فَآتُوہُنَّ أُجورَہُنَّ فَریضَةً'' پس جن خواتین کے ساتھ تم متعہ کرو انکا حق مہر انہیں ادا کرو''

اور اہم نکتہ یہ ہے کہ رسولخدا(ص) سے نقل شدہ بہت سی احادیث میں '' متعہ'' کا لفظ، نکاح موقت کے لیئےستعمال کیا گیا ہے ( جیسا کہ آئندہ ابحاث میں یہ روایات قارئین کی نظروں سے گزریں گی) اس کے علاوہ فقہاء اسلام کی کتابوں میں چاہے وہ شیعہ ہوں یا سُنّی ہر جگہ نکاح


موقت کو '' متعہ'' کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے_ پس اس بات کا انکار مسلّمات کا انکار شمار ہوگا ( فقہاء کے بعض کلمات بھی آئندہ اوراق میں آپکی خدمت میں پیش کیے جائینگے)

اس کے باوجود بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ اس آیت میں '' استمتاع'' کا لفظ '' لذت اٹھانے'' اور ہمبستری کرنے'' کے معنی میں استعمال ہوا ہے_ اور کہتے ہیں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس وقت تم بیویوں سے جنسی استفادہ کرو تو انکا حق مہر ادا کیا کرو_اس بات میں دو واضح اعتراض ہیں:

اولاً: حق مہر کی ادائیگی کا وجوب، عقد اور نکاح پر موقوف ہے_ یعنی نکاح ہونے کے فوراً بعد عورت اپنے پورے حق مہر کی ادائیگی کا مطالبہ کرسکتی ہے چاہے ہمبستری نہ ہی کی ہو حتی خوش فعلی بھی واقع نہ ہوئی ہو ( ہاں اگر ہمبستری سے پہلے طلاق واقع ہوجائے توطلاق کے بعد حق مہر آدھا ہوجاتا ہے) (غور فرمایئے

ثانیا: جیسا کہ کہا ہے کہ متعہ کی اصطلاح شریعت کی عرف میں ، شیعہ اور سنّی فقہاء کے کلمات اور احادیث کی زبان میں '' نکاح موقّت'' کے معنی میں استعمال ہوتی ہے_ اس بات کی ادلّہ مفصل طور پر آپ کے سامنے پیش کی جائیں گی_

مشہور مفسّر مرحوم طبرسی، تفسیر مجمع البیان میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں وضاحت فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بارے میں دو نظریے ہیں، ۱_ ایک اُن لوگوں کا نظریہ ہے جو استمتاع کو '' لذت اٹھانے'' کے معنی میں تفسیر کرتے ہیں_ اس کے بعد انہوں نے بعض اصحاب یا تابعین وغیرہ کو اس نظریہ کے قائلین کے طور پر پیش کیا ہے ۲_ دوسرا اُن لوگوں کا نظریہ ہے جو قائل ہیں کہ یہ آیت عقد متعہ اور نکاح موقت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسے انہوں نے ابن عباس و سدی و ابن مسعود اور تابعین کے ایک گروہ کا نظریہ قرار دیا ہے_


اس کےبعد وہتفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دوسرا نظریہ واضح ہے کیونکہ متعہ اور استمتاع کا لفظ شریعت کی عرف میں نکاح موقّت کے لیے استعمال ہوتا ہے_ ۱ ور اس کے علاوہ دوسری دلیل یہ ہے کہ حق مہر کا وجوب لذت اٹھانے کے ساتھ مشروط نہیں ہے_(۱)

قرطبی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:کہ جمہور کے عقیدہ کے مطابق اس آیت سے مراد وہی نکاح موقت ہے جو صدر اسلام میں رائج تھا_(۲)

اس کے علاوہ سیوطی نے تفسیر در المنثور میں اور ابوحیان، ابن کثیر اور ثعالبی نے اپنی تفاسیر میں اس معنی کی طرف اشارہ کیا ہے_

یہ مسئلہ تمام علمائے اسلام ( شیعہ ، سنّی) کے نزدیک مسلّم ہے کہ نکاح موقّت ( متعہ) پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود تھا_ لیکن فقہائے اہلسنت کی ایک بڑی جماعت قائل ہے کہ یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا تھا_ البتہ کس زمانے میں منسوخ ہوا؟ اس بارے میں انکا شدید اختلاف ہے_ اور یہ بات توجہ طلب ہے_

من جملہ مشہور عالم '' جناب نووی'' صحیح مسلم کی شرح میں یوں اقوال نقل کرتے ہیں:

۱_ بعض کہتے ہیں کہ ( متعہ کو) غزوہ خیبر میں پہلے حلال کیا گیا پھر حرام کردیا گیا_

۲_ صرف عمرة القضاء میں حلال تھا_

۳_ فتح مکہ کے دن پہلے حلال اور پھر حرام کردیا گیا_

۴_ غزوہ تبوک ( سنہ ۹ ہجری ق) میں حرام کیا گیا_

۵_ صرف جنگ اوطاس ( سنہ ۸ ہجری ق) میں حلال کیا گیا_

____________________

۱) تفسیر مجمع البیان، جلد ۳ ،ص ۶۰_

۲) تفسیر قرطبی ، جلد ۵ ،ص ۱۲۰ وفتح الغدیر ، جلد ۱ ص ۴۴۹_


۶_ حجة الوداع ( سنہ ۱۰ ہجری ق) میں حلال کیا گیا_(۱)

دلچسپیہ ہے کہ اس بارے میں متضاد روایات نقل کی گئی ہیں بالخصوص جنگ خیبر میں اس کی تحریم اور حجة الوداع میں اس کی تحریم والی روایات مشہور ہیں_ بعض اہلسنت فقہاء نے ان دو احادیث کو جمع کرنے کے لیئےہت کوشش کی ہے لیکن کوئی مناسب راہ حل پیش نہیں کرسکے ہیں_(۲)

اور اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جناب شافعی کا یہ جملہ ہے: وہ فرماتے ہیں''لا اَعلَمُ شَیئاً اَحَلَ الله ثم حرَّمّہ ثم اَحَلَّہ ، ثم حرَّمَہ الا المُتعة'' مجھے متعہ کے علاوہ کس اور چیز کا علم نہیں ہے کہ اسے پہلے اللہ تعالی نے حلال کیا ہو پھر حرام کردیا ہو پھر دوبارہ حلال کیا ہو اور اس کے بعد پھر حرام کردیا ہو''(۳)

دوسری طرف سے ابن حجر، سھیلی سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ خیبرکے دن متعہ کی تحریم ایسی چیز ہے جسے راویوں اور ارباب تاریخ میں سے کسی نے نقل نہیں کیا_(۴)

۷: ایک اور قول یہ ہے کہ متعہ رسولخدا(ص) کے زمانے میں حلال تھا، بعد میں حضرت عمر نے اس سے منع کیا ہے_ جیسا کہ اہلسنت کی معتبرترین کتاب صحیح مسلم میں یوں آیا ہے '' ابن ابی نضرة'' کہتے ہیں میں جناب جابر ابن عبداللہ انصاری کی خدمت میں تھا، وہ کہنے لگے کہ ابن زبیر اور ابن عباس کے درمیان عورتوں کے ساتھ متعہ اور متعہ حج ( حج تمتع یعنی عمرہ اور حج کے

____________________

۱) شرح صحیح مسلم جلد ۹ ص ۱۹۱_

۲) ایضاً_

۳) المغنی ابن قدامہ، جلد ۷ ص ۵۷۲_

۴) فتح الباری، جلد ۹ ص ۱۳۸_


درمیان فاصلہ ہو) کے مسئلہ میں اختلاف تھا (میں نے کہا آپ کی کیا نظر ہے؟) کہنے لگے: ہم نے ہر دو مسئلوں پر رسولخدا(ص) کے زمانے میں عمل کیا ہے یہانتک کہ حضرت عمر نے ہر دو سے منع کردیا اس کے بعد ہم نے پرہیز کیا''(۱)

اس صریح نص کے بعد اور وہ بھی صحیح مسلم جیسی کتاب میں ، کیا اب بھی کہا جاسکتا ہے کہ متعہ رسولخدا(ص) کے دور میں حرام ہوگیا تھا_

کس نے متعہ کو حرام کیا؟

جس بات کو ہم نے اوپر جناب جابر ابن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے وہ اس مشہور حدیث کی طرف اشارہ ہے جسے اہلسنت کے بہت سے محدّثین ، مفسّرین اور فقہاء نے اپنی کتابوں میں خلیفہ دوم سے نقل کیا ہے_ حدیث کا متن یوں ہے:

'' متعتان کانتا مشروعتین فی عَهد رسول الله و أنا اَنهی عَنهما: متعة الحج و متعه النسائ''

دو قسم کے متعے ،رسولخدا(ص) کے زمانے میں جائز اور حلال تھے میں اُن دونوں سے منع کرتا ہوں ایک حج متعہ اور دوسرا متعة النساء ( نکاح موقت )

بعض کتابوں میں یہ حدیث اس جملہ کے اضافہ کے ساتھ نقل ہوئی ہے'' و اُعاقبُ علیهما'' اور میں ان دونوں پر سزا دوں گا_

متعہ حج سے یہ مُراد ہے کہ حاجی پہلے عمرہ بجالائے اور احرام کھول دے اس کے بعد حج کے دنوں میں دوبارہ حج کا احرام باندھ لے_

____________________

۱) صحیح مسلم جلد ۴، ص ۵۹ حدیث ۳۳۰۷ ، دارالفکر بیروت_


یہ حدیث اُن مشہور احادیث میں سے ہے جو تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ حضرت عمر سے نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے منبر سے یہ بات لوگوں کے سامنے بیان کی _ ہم ذیل میں اہلسنت کی حدیث ، فقہ اور تفسیر کی کتب میں سے اس حدیث کے سات حوالے ذکر کرتے ہیں_

۱ _ مسند احمد، جلد ۳ صفحہ ۳۲۵_

۲ _ سنن بیہقی، جلد ۷ صفحہ ۲۰۶_

۳ _ المبسوط سرخسی ، جلد ۴ صفحہ۲۷_

۴ _ المغنی ابن قدامہ، جلد ۷، صفحہ ۵۷۱_

۵_محلی ابن حزم ، جلد ۷، صفحہ ۱۰۷_

۶_کنز العمّال، جلد ۱۶ صفحہ ۵۲۱_

۷_تفسیر کبیر فخر رازی جلد ۱۰ صفحہ ۵۲_

یہ حدیث متعدّد مسائل سے پردہ اٹھاتی ہے_

الف) خلیفہ اول کے دور میں متعہ کا حلال ہونا:

متعہ ( نکاح موقت) رسول اکرم(ص) کی طول حیات میں بلکہ خلیفہ اول کے دور حکومت میں بھی حلال تھا اور خلیفہ دوم نے بعد میں اس سے منع کیا_

ب) اجتہاد در مقابل نصّ:

خلیفہ اپنی اتنی اتھارٹی سمجھتے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی صریح نص کے مقابلے میں نیا قانون اور اسلامی حکم جعل کریں حالانکہ قرآن مجید واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ:


( '' و ما آتاکم الرّسول فَخُذُوهُ و ما نَهاكُم عنه فانتَهُوا'' ) (۱)

پیغمبر (ص) جو کچھ آپ کو دیں اسے لے لیں اور جس چیز سے منع کریں اس سے پرہیز کریں''

کیا پیغمبراکرم(ص) کے علاوہ کسی اور کو احکام الہی میں تصرّف کرنے کا حق حاصل ہے؟

کیا کوئی بھی شخص یوں کہہ سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ایسا کیا لیکن میں یوں کرتا ہوں؟

کیا پیغمبر اکرم(ص) کی صریح نص کے مقابلے میں کہ جو وحی سے اخذ شدہ ہے اجتہاد کرنا جائز ہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ رسولخدا(ص) کے احکام کو اتنی لاپرواہی کے ساتھ ردّ کرنا واقعاً تعجب آور ہے اور اس سے بڑھ کر اگر نصّ کے مقابل میں اجتہاد کا دروازہ کھول دیا جائے تو کیا ضمانت ہے کہ دوسرے لوگ ایسا کام نہیں کریں گے؟ کیا اجتہاد صرف ایک آدمی کے ساتھ مخصوص تھا اور دوسرے لوگ مجتہد نہیں ہوسکتے ہیں؟

یہ بہت حسّاس مسئلہ ہے کیونکہ نص کے مقابلے میں اجتہاد کا دروازہ کھل جانے کے بعد احکام الہی میں سے کچھ بھی محفوظ نہیں رہے گا; اور اسلام کے جاودانہ احکام میں عجیب ہرج پیدا ہوجائیگا اور اس طرح تمام اسلامی احکام خطرے میں پڑ جائیں گے_

حضرت عمر کی مخالفت کا سبب:

کیوں حضرت عمر،ان دو احکام الہی کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے؟ حج تمتّع کے

____________________

۱) سورہ حشر آیہ ۷_


بارے میں انکا خیال یہ تھا جو مسلمان حج کے لیے آتے ہیں انہیں حج اور عمرہ ختم کرنے کے بعد احرام کھولنے چاہئیں اور بعد میں مثلاً اپنی بیویوں کے ساتھ آمیزش کرنی چاہیئےاور یہ کہ عمرہ تمتع انجام دینے کے بعد حاجی چند دن کے لیئے احرام کھول دے اور آزاد ہوجائے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے اور روح حج کے ساتھ سازگار نہیں ہے

یہ خیال درست نہیں ہے، کیونکہ حج اور عمرہ دو علیحدہ عمل ہیں اور ممکن ہے ان دو اعمال کے درمیان ایک ماہ سے زیادہ فاصلہ ہو_ مسلمان ماہ شوال یا ذی قعدہ میں مکہ مشرّف ہوتے ہیں اور عمرہ بجالاتے ہیں اس کے بعد آٹھ ذی الحجّہ تک آزاد ہوتے ہیں پھر حج کے موسم میں دوبارہ احرام باندھتے ہیں اور عرفات چلے جاتے ہیں اس بات پر کیا اشکال ہے جسکی وجہ سے حضرت عمر نے اَپنے سخت ردّ عمل کامظاہرہ فرمایا اور بہرحال متعہ اور نکاح موقّت کے بارے میں ( بعض لوگوں کے عقیدہ کے مطابق ) انکا خیال یہ تھا کہ اگر متعہ جائز ہو تو پھر نکاح اور زنا کے درمیان شناخت مشکل ہوجائیگی_ کیونکہ اس صورت میں اگر کسی مرد اور عورت کو اکٹھا دیکھا جائے تو وہ کہہ دیں گے کہ ہم نے آپس میں متعہ کیا ہوا ہے اس طرح زنا کی شرح بڑھ جائیگی

یہ خیال تو اس پہلے خیال سے زیادہ بوگس ہے، چونکہ اتفاقاً مسئلہ الٹ ہے کیونکہ عقد متعہ سے منع کرنا، زنا اور بے عفتی کے بڑھاؤ کا موجب ہے_ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیاہے کہ بہت سے ایسے جوان جو دائمی ازدواج کی قدرت نہیں رکھتے ہیں یا ایسے لوگ جو اپنی بیویوں سے دور ہیں اور زنا یا نکاح موقت کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے واضح سی بات ہے کہ انہیں صحیح راستے اور عقد موقت سے روکنا گناہوں اور بے عفتی کی وادی میں دھکیلنا ہے_

یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی _ کی مشہور حدیث میں یوں نقل ہوا ہے کہ اگر


جناب عمر متعہ سے منع نہ کرتے تو سوائے شقی اور بدبخت کے کوئی بھی انسان دنیا میں زنا سے آلودہ نہ ہوتا''لو لا ا نّ عمر نهی النّاس عن المتعة ما زنی الَّاشقی'' (۱)

متعہ کی تحریم کے بعد لوگوں کا ردّ عمل:

مذکورہ بالا روایت سے کہ جسے اہلسنت کے بہت سے محدّثین،مفسّرین اور فقہاء نے نقل کیا ہے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ متعہ کی تحریم حضرت عمر کے زمانے میں تھی نہ پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں ، اس کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات جو انہی کتب میں نقل ہوئی ہیں اس بات کی تائید کرتی ہیں_ نمونہ کے طور پر چند ایک روایات ذکر کرتے ہیں:

۱_ مشہور محدّث جناب ترمذی نقل کرتے ہیں کہ اہل شام کے ایک آدمی نے جناب عبداللہ بن عمر سے متعہ نساء کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا _حلال ہے_ سائل نے کہا آپ کے والد حضرت عمر نے اس سے منع کیا ہے_ جناب عبداللہ بن عمر نے کہا :

'' ا را یت إن کان ا بی قد نهی عنها و قد سَنَّها رسولُ الله ، ا نترک السنّة و نَتبعُ قولَ ا بی؟'' (۲)

____________________

۱)تفسیر کبیر فخر رازی جلد ۱۰، ص ۵۰_

۲) یہ حدیث آجکل کی شائع شدہ صحیح ترمذی میں اس طرح نہیں ہے بلکہ اس میں متعة النساء کی جگہ متعة الحج آیا ہے _ لیکن جناب زین الدین المعروف شہید ثانی نے کہ جو دسویں صدی کے علماء میں سے تھے کتاب شرح لمعہ میں اور مشیر ابن طاؤوس نے کہ جو ساتویں صدی کے علماء میں سے تھے کتاب الطرائف میں اسی حدیث کو متعہ النساء کے ساتھ نقل کیا ہے ایسا لگتاہے کہ صحیح ترمذی کے قدیمی نسخوں میں یہ حدیث اسی طرح تھی لیکن بعد میں اس میں تبدیلی کردی گئی ہے ( اس قسم کی مثالیں بہت زیادہ ہے)_


اگر میرے والد ایک چیز سے منع کریں لیکن رسولخدا(ص) نے اسے سنت قرار دیا ہو تو کیا ہم آنحضرت(ص) کی سنت کو ترک کرکے اپنے باپ کی بات پر عمل کریں گے؟

ایک اور حدیث ( صحیح مسلم) میں جناب جابر ابن عبداللہ انصاری سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسولخدا(ص) کے زمانے میں تھوڑی سی کجھوروں یا آٹے کے حق مہر پر چند دن کے لیئے متعہ کر لیا کرتے تھے اور یہ سنت حضرت ابوبکر کے زمانے میں بھی جاری تھی یہاں تک کہ حضرت عمر نے '' عمروبن حریث'' والے واقعہ کی وجہ سے اس کام سے منع کردیا_(۱)

۳_ اسی کتاب میں ایک اور حدیث میں یوں آیا ہے کہ ابن عباس اور ابن زُبیر کا متعة النساء اور متعة الحج کے بارے میں اختلاف ہوگیا ( اور انہوں نے جناب جابر ابن عبداللہ انصاری کو ثالث بنایا) تو جابر نے کہا ہم نے ان دونوں پر رسولخدا(ص) کے زمانے میں عمل کیا ہے، اس کے بعد حضرت عمر نے منع کیا اور ہم نے پرہیز کیا(۲)

۴_ ابن عباس کہ جنہیں ''حبر الامّة'' ( امت کے عالم) کا لقب دیا گیا ہے ، رسولخدا(ص) کے زمانے میں حکم متعہ کے منسوخ نہ ہونے کے قائل تھے اس بات کی دلیل انکے اور جناب عبداللہ بن زُبیر کے درمیان ہونے والی بحث ہے جسے صحیح مسلم میں نقل کیا گیا ہے: عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں رہائشے رکھی ہوئی تھی ایک دن ( کچھ لوگوں کے سامنے جن میں جناب ابن عباس بھی تھے) کہنے لگے بعض ایسے لوگ کہ خداوند نے انکے دل کی آنکھوں کو اُنکی ظاہری آنکھوں کی طرح اندھا کردیا ہے،وہ فتوی دیتے ہیں کہ متعہ جائز ہے_ انکا مقصد ابن عباس کو سنانا تھاجو کہ اس زمانے میں نابینا ہوچکے تھے_ ابن عباس نے جب یہ بات سُنی تو کہنے لگے

____________________

۱)صحیح مسلم ، جلد ۲،ص ۱۳۱_

۲) صحیح مسلم ، جلد ۲،ص ۱۳۱_


کہ تو ایک بے وقوف اور نادان آدمی ہے، مجھے اپنی جان کی قسم ہم نے رسولخدا(ص) کے زمانے میں اس سنت پر عمل کیا ہے_ ابن زبیر نے ( رسولخدا(ص) کے نام سے لاپرواہی کرتے ہوئے) کہا: تو آزما کر دیکھ لے، خدا کی قسم اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھے سنگسار کردوں گا_(۱)

یعنی منطقی بات کا جواب زور اور دھمکی کے ساتھ دیا

احتمالاً یہ بات اس زمانے کی ہے جب عبداللہ بن زبیرنے مکہ میں حکومت حاصل کرلی تھی اسی لیے تو اس نے ابن عباس جیسے دانشمند اور عالم کے مقابلے میں ایسی بات کرنے کی جسارت کی_ حالانکہ ابن عباس، سن کے اعتبار سے اس کے باپ کے برابر تھے اور علم کے اعتبار سے تو یہ انکے ساتھ قابل قیاس ہی نہیںتھا_ بالفرض اگر علم میں انکے برابر بھی ہوتا تو اس قسم کی دھمکی کا حق اسے نہیں پہنچتا تھا_ کیونکہ اس قسم کے احکام میں اگر کوئی اپنے فتوی پر عمل کرے اور بالفرض اس کا فتوی غلط بھی ہو تب بھی '' وطی بالشبہہ'' شمار ہوگی اور معلوم ہے کہ وطی بالشبہہ میں حد جاری نہیں ہوتی ہے لہذا سنگسار کرنے کی دھمکی دینا ایک بے معنی اور جاہلانہ سی بات ہے_

البتہ اس قسم کی بے ہودہ دھمکی عبداللہ بن زبیر جیسے ایک نادان اور گستاخ جوان کی طرف سے بعید نہیں ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ راغب نے کتاب محاضرات میں نقل کیا ہے کہ عبداللہ ابن زبیر نے سرزنش کے لہجہ میں ابن عباس کو کہا کہ تو کیوں '' متعہ'' کو حلال سمجھتا ہے_ ابن عباس نے کہا جا کر اپنی ماں سے پوچھ لے وہ اپنی ماں کے پاس آیا_ ماں نے اس سے کہا '' ما ولدتک الّا فی المتعہ'' تو اس زمانے میں پیدا ہوا تھا جب میں تیرے باپ کے متعہ میں

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد۴، ص ۵۹، حدیث ۳۳۰۷_ چاپ دار الفکر_


تھی''(۱)

۵_ مسند احمد میں '' ابن حصین'' سے نقل کیاگیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں متعہ کی آیت نازل ہوئی اور اس پر ہم نے عمل کیا اور اس کو نسخ کرنے والی آیت نازل نہیں ہوئی یہاںتک کہ رسولخدا(ص) کی رحلت ہوگئی_(۲)

یہ ان روایات کے بعض نمونے ہیں جو صراحت کے ساتھ حکم متعہ کے منسوخ نہ ہونے کو بیان کرتے ہیں_

ان روایات کے مقابلے میں کچھ روایات نقل کی گئی ہیں جو کہتی ہیں کہ یہ حکم رسولخدا(ص) کے زمانے میں منسوخ ہوچکا تھا_ اے کاش یہ روایات آپس میں متفق ہوتیں اور ایک ہی زمانے کی نشاندہی کرتیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ہر روایت نے دوسری روایت سے جداگانہ زمانے کو بیان کیاہے_

۱_ ان روایات میں سے بعض میں ذکر ہوا ہے کہ متعہ کی تحریم کا حکم جنگ خیبر والے دن ۷ ہجری میں ) صادر ہوا_(۳)

۲_ بعض دوسری روایات میں آیا ہے کہ رسولخدا(ص) نے عام الفتح ( فتح مکہ والے سال ۸ ہجری) میں مکہ کے اندر متعہ کی اجازت فرمائی اور کچھ عرصہ کے بعد اسی سال منع فرمادیا_(۴)

۳_بعض دیگر روایات میں آیا ہے کہ غزؤہ اوطاس میں (فتح مکہ کے بعد )ہوازن کی

____________________

۱) محاضرات، جلد ۲، ص ۲۱۴ و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ۲۰ ،ص ۱۳۰_

۲) مسند احمد، جلد۴ ،ص ۴۳۶_

۳) درّ المنثور جلد ۲،ص ۴۸۶_

۴) صحیح مسلم ، جلد۴ ، ص ۱۳۳_


سرزمین پر (مکہّ کے نزدیک) تین دن کے لیے اجازت فرمائی اس کے بعد منع فرمادیا(۱) اگر کوئی مختلف اقوال کی تحقیق انجام دے تو معلوم ہو گا کہ اس مسئلہ میں اختلاف اس سے کہیںزیادہ ہے کیونکہ اہلسنت کے مشہور فقیہ (جناب نووی )نے صحیح مسلم کی شرح میں اس مسئلہ کے بارے میں چھ قول نقل کیے ہیں اورہر قول کسی نہ کسی روایت کے ساتھ سازگار ہے :

۱_متعہ جنگ خیبر میں حلال کیا گیا اور پھر (اس کے چند دن بعد )تحریم ہوگیا

۲_عمرة القضاء میں حلال ہوا (پھر حرام ہوگیا )

۳_فتح مکہ کے دن حلال ہوا اس کے بعد حرام ہو گیا

۴_رسولخدا -(ص) نے اسے غزوہ تبوک کے دن حرام کیا

۵_جنگ ہوازن میں (سرزمین اوطاس پر )حلال کیا گیا

۶_حجة الوداع میں پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کے آخری سال میں اسے حلال قرار دیا گیا ہے(۲)

ان سب اقوال سے تعجب آور امام شافعی کا کلام ہے وہ کہتے ہیں''مجھے متعہ کے علاوہ کوئی چیز ایسی نہیں ملی جسے اللہ تعالی نے پہلے حلال کیا ہو پھر حرام کردیا ہو اس کے بعد دوبارہ حلال کیا ہو اور پھر حرام کردیا ہو ''(۳)

ہر محققّ ان متضاد روایات کا مشاہدہ کرکے اس بات کا اطمینان حاصل کرلیتا ہے کہ یہ روایات جعلی اورایک سیاسی منصوبہ بندی کے تحت جعل کی گئی ہیں _

بہترین راہ حل

حقیقت یہ ہے کہ ان مختلف اور متضاد اقوال کو دیکھ کو ہر انسان اس مسئلہ میں تحقیق و جستجو کی

____________________

۱)مصدر سابق، ص ۱۳۱_

۲) شرح صحیح مسلم از نووی ، جلد ۹، ص ۱۹۱_

۳)المغنی ابن قدامہ، جلد ۷ ، ص ۵۷۲_


طرف مائل ہو تا اور سوچتا ہے کہ ایسا کونسا واقعہ رونما ہو اہے کہ مسئلہ میں اسقدر متضاد و متناقض روایات بیان کی گئی ہیں اور ہر محدث یا فقیہ نے کیوں اپنا جدا گانہ راستہ اختیار کیا ہے؟

ان متضاد روایات کے در میان کس طرح جمع کیا جا سکتاہے ؟

کیا یہ سَب اختلاف اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس مقام پر کو ئی نازک سیاسی مسئلہ درپیش تھا جس نے حدیث گھڑ نے والوں کو اس بات پر ابھاراکہ روایات جعل کریں اور اصحاب رسول (ص) کے نام سے سوء استفادہ کرتے ہوئے ان روایات کوانکی طرف نسبت دیں کہ انہوں نے آنحضر ت (ص) سے اس طرح نقل کیا ہے_ اور وہ سیاسی مسئلہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ خلیفہ دوم نے کہا تھا ''دوچیزیں رسولخدا (ص) کے زمانے میں حلال تھیں اور میں انہیں حرام کر رہا ہوں ان میں سے ایک ''متعة النساء ہے '' _اس بات کا ایک عجیب منفی اثر تھا کیونکہ اگر امّت کے افراد یا خلفاء ،اسلام کے احکام کو اس صراحت کے ساتھ تبدیل کردیں تو پھر یہ کام صرف خلیفہ ثانی کے ساتھ مخصوص نہ رہتا بلکہ دوسروںکو بھی یہ حق مل جاتا کہ رسولخدا(ص) کی نصّ کے مقابلے میں اجتہاد کریں _اور اس صورت میں احکام اسلام یعنی واجبات اور محرّمات کے در میان ہر ج و مرج پیدا ہوجاتا اور زمانہ گزر نے کے ساتھ ساتھ اسلام کے دامن میں کچھ باقی نہ رہتا _

اس منفی اثر کوختم کرنے کے لیے ایک گروہ نے یہ کام شروع کیا کہ کہنے لگے: ان دو احکام کی حرمت خود رسولخد(ص) اکے زمانے میں واقع ہوئی تھی _ ہر ایک نے نئی حدیث گھڑلی اور اسے

اصحاب رسول(ص) کی طرف نسبت دے دی _کیونکہ کوئی بھی حدیث واقعيّت نہیں رکھتی تھی اس لیے ایک دوسرے سے متضاد بن گئیں

ورنہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی احاد یث ایک دوسرے کے مخالف ہوں حتی کہ بعض فقہاء کو انکے در میان جمع کرنے کے لیے کہنا پڑا کہ متعہ ایک زمانے میں مباح تھا پھر حرام ہو گیا پھر مباح


ہوگیا پھر حرام ہوگیاکیااحکام الہی کھیل ہیں کہ جو ہر روز تبدیل ہوتے رہیں_

ان سب باتوں سے قطع نظررسولخدا(ص) کے زمانے میں متعہ کا مباح ہونا حتماً ایک ضرورت کی وجہ سے تھا اور وہ ضرورت دو سرے زمانوں میں بھی موجود ہے _ با لخصوص ہمارے زمانے میں مغربی ممالک کی طرف طولانی سفر کرنے والے بعض جوانوں کے لیے یہ ضرورت شدّت کے ساتھ موجودہے پس متعہ کیوں حرام ہو ؟

اس زمانے میں اسلامی معاشر ے میں جذبات بھڑ کانے کے عوامل اتنے زیادہ نہیں تھے _بے پردہ عورتیں 'فلمیں ،ٹیلی وین ،انٹرنیٹ،ڈش، فسا د والی محفلیں اور فاسدلٹریچر و غیرہ جو سب کچھ آج کے زمانے میں بہت سے جوانوں کے دامن گیر ہو تے ہیں اُس زمانے میں نہیں تھے_ اُس زمانے میں متعہ کو ایک احتیاج اور ضرورت کے عنوان سے جائزقرار دیا گیا اور اس کے بعد ہمیشہ کے لیے اس سے منع کردیا گیا ہے ؟ کیا یہ بات قابل قبول ہے ؟

ان سب ادلہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے فرض کرلیتے ہیں کہ بہت سے فقہائے اسلام اس کو حرام شمار کرتے ہیں اور فقہاء کا ایک گروہ اس کوجائز سمجھتاہے_ اور یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے_ پس اس صورت میں یہ سزاوار نہیں ہے کہ حلال کے طرفدار لوگ اسے حرام سمجھنے والوں پراحکام دین کی پابندی نہ کرنے کی تہمت لگائیں_ اسی طرح اسکی حرمت کے قائل افراد کیلئے یہ سزاوار نہیں کہ اسے مباح سمجھنے والوں پر معاذ اللہ زنا کے طرفدار ہونے کی تہمت لگائیں _ اگر ایسا کریں تو قیامت والے دن اللہ تعالی کے حضور کیا جواب دیں گے؟ پس پتہ چلتا ہے کہزیادہ سے زیادہ یہ ایک اجتہادی اختلاف ہے_

جناب فخر رازی اس قسم کے مسائل میں ایک خاص تعصّب رکھنے کے باوجود اپنی تفسیر میں


فرماتے ہیں کہ ''ذهب السواد الاعظم من الاُمة الی انّها صارت منسوخة و قال السواد منهم ا نّها بقیت کما کانت'' امت کی اکثریت قائل ہے کہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے لیکن ایک گروہ قائل ہے کہ یہ حکم اسی طرح باقی ہے''(۱) یعنی یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے_

ہم اس جگہ نکاح موقّت کی بحث کو تمام کرتے ہیں _ اور سب لوگوں سے امید کرتے ہیں کہ تہمتیں لگانے اور بغیر علم کے قضاوت کرنے کی بجائے ایک بار پھر اس مسئلہ پر تحقیق اور اس کے بعد قضاوت کریں_ یقیناً انہیں اطمینان ہوجائیگا کہ متعہ آج بھی ایک حکم الہی ہے اور شرائط کی پابندی کرتے ہوئے یہ آج بھی بہت سی مشکلات کو حل کرتا ہے_

____________________

۱) تفسیر کبیر فخر رازی ، جلد ۱۰، ص ۴۹_


۶

زمین پر سجدہ


عبادات میں سجدہ کی اہمیت:

اسلام کی نظر میں سجدہ، اللہ تعالی کی سب سے اہم یا اہم ترین عبادات میں سے ایک ہے_ اور جیسا کہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے، کہ انسان سجدہ کی حالت میں دیگر تمام حالات کی نسبت سب سے زیادہ اللہ تعالی کے نزدیک ہوتا ہے_ تمام بزرگان دین بالخصوص رسو ل اکرم(ص) اور اہلبیت بہت طولانی سجدے کیا کرتے تھے_ خدا کی بارگاہ میں طولانی سجدے انسان کی روح اور جان کی نشو ونما کرتے ہیں_ اور یہ اس لم یزل کی بارگاہ میں خضوع اور عبودیت کی سب سے بڑی علامت شمار ہوتے ہیں_ اسی لیے نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے بجالانے کا حکم دیا گیا ہے_

اسی طرح سجدہ شکر اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران مستحب اور واجب سجدے بھی اسی سجدہ کا واضح ترین مصداق شمار ہوتے ہیں_

انسان سجدہ کی حالت میں سوائے خدا کے ہر چیز کو بھول جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے بہت نزدیک پاتا ہے اور گویا وہ اپنے آپ کو بساط قرب پر پاتا ہے_

یہی وجہ ہے کہ سیرو سلوک و عرفان کے اساتید اور اخلاق کے معلم حضرات ،سجدہ کے مسئلہ پر انتہائی تاکید فرماتے ہیں_


مذکورہ بالا مطالب اس مشہور حدیث پر ایک روشن دلیل ہیں کہ انسان کا کوئی عمل بھی شیطان کو اتنا پریشان نہیں کرتا جتنا سجدہ اسے پریشان کرتا ہے_

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ '' جناب ختمی مرتبت نے اپنے ایک صحابی کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اگرچاہتے ہو کہ قیامت کے دن میرے ساتھ محشور ہو تو خداوند قہار کے حضور طولانی سجدے انجام دیا کرو''

و اذا اَرَدتَ ا ن یحشُرَک الله معی يَومَ القیامة فأطل السّجودَ بین يَدَی الله الواحد القهّار'' (۱)

غیر خدا کے لیے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے:

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس واحد و یکتا پروردگار کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ سجدہ انتہائی عاجزی اور خضوع کی علامت اور پرستش کا روشن مصداق ہے اور پرستش و عبوديّت صرف ذات خدا کے ساتھ مخصوص ہے_

قرآن مجید کی اس آیت ''( وللّه يَسجُد مَن فی السموات و الارض'' ) (۲) میں کلمہ '' اللہ '' کو مقدم کیا گیا ہے اور یہ تقدیم حصر پر دلالت کر رہی ہے یعنی زمین اور آسمان کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ تعالی کو سجدہ کرتی ہے

اسی طرح سورہ اعراف کی ۲۰۶ نمبر آیت( '' و له یسجدون'' ) بھی اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ سجدہ صرف اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے_

____________________

۱) سفینة البحار ، مادہ سجدہ_

۲) سورة رعد، آیہ ۱۵_


حقیقت میں سجدہ خضوع کا آخری درجہ ہے اور یہ درجہ خداوند عالم کے ساتھ مخصوص ہے_ لہذا کسی اور شخص یا چیز کے لیے سجدہ کرنا گویا خداوند عالم کے برابر قرار دینا ہے اور یہ درست نہیں ہے_

ہمارے نزدیک توحید کے معانی میں سے ایک معنی '' توحید در عبادت'' ہے یعنی پرستش اور عبادت صرف اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے بغیر توحید کامل نہیں ہوتی ہے_

دوسرے الفاظ میں : غیر خدا کی عبادت کرنا شرک کی ایک قسم ہے اور سجدہ عبادت شمار ہوتا ہے_ اس لیے غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے_

اور جو سجدہ ملائکہ نے حضرت آدم کو کیا تھا ( اور اسکا قرآن مجید میں کئی مقامات پر تذکرہ ہے ) مفسرین کے بقول یا تو یہ حضرت آدم(ع) کی تعظیم ، تکریم اور احترام کا سجدہ تھا نہ عبادت کا سجدہ، بلکہ اسی سجدہ سے ملائکہ کی مراد یہ تھی کہ چونکہ یہ سجدہ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل ہے لہذا اس ذات حق کی عبودیت ہے _ اور یا یہ شکر خدا کا سجدہ تھا_اسی طرح جو سجدہ حضرت یعقوب(ع) اورانکے بیوی بچّوں نے حضرت یوسف _ کے لیے کیا تھا اور اسے قرآن مجید نے ''خرَّ و له سُجَّداً'' اور سب انکے سامنے سجدہ میں گر پڑے'' کے الفاظ کے ساتھ یاد کیا ہے_ یہ بھی اللہ تعالی کے سامنے سجدہ شکر تھا_ یا ایک قسم کی تعظیم، تکریم اور احترام کے معنی میں سجدہ تھا_

اور قابل توجہ یہ ہے کہ '' وسائل الشیعہ'' کہ جو ہماری کتب حدیث کاایک مصدرشمار ہوتی ہے، میں سجدہ نماز کے ابواب میں ایک مکمل باب ''عدم جواز السجود بغیر الله '' کے عنوان سے ذکر ہوا ہے اور اس میں پیغمبر اکرم(ص) اور آئمہ معصومینسے سات احادیث نقل کی گئی ہیں کہ غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے_(۱)

____________________

۱)وسائل الشیعہ، جلد ۴، ص ۹۸۴_


اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین فرما لیجئے کیونکہ آئندہ اسی گفتگو سے ہم نتیجہ اخذ کریںگے_

کس چیز پر سجدہ کرنا چاہیے:

مکتب اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زمین کے علاوہ کسی چیز پر سجدہ نہیں ہوسکتا ہے، ہاں البتہ جو چیزیں زمین سے اُگتی ہیں اور کھانے و پہننے کے کام نہیں آتیں جیسے درختوں کے پتے اور لکڑی و غیرہ اسی طرح حصیر و بوریا و غیرہ_ ان پر سجدہ کیا جاسکتا ہے_ جبکہ علماء اہلسنت عام طور پر معتقد ہیں کہ ہر چیز پر سجدہ کیا جاسکتا ہے_ ہاںان میں سے صرف بعض علماء نے لباس کی آستین اور عمامہ وپگڑی کے گوشے کو مستثنی کیا ہے کہ اُن پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے_

اس مسئلہ میں مکتب اہلبیت(ع) والوں کی دلیل، رسولخدا(ص) اور آئمہ اطہار(ع) سے نقل ہونے والی احادیث اور اصحاب کا عمل ہے_ ان محکم ادلّہ کی وجہ سے وہ اس عقیدہ پر اصرار کرتے ہیں اور اس لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی(ص) میں اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ قالین و غیرہ پر سجدہ نہ کریں بلکہ پتھر پر سجدہ کریں اور کبھی حصیر اور مصلی و غیرہ اپنے ساتھ لاتے ہیں اور ا س پر سجدہ کرتے ہیں_

ایران، عراق اور دیگر شیعہ نشین ممالک کی تمام مساجد میں چونکہ قالین بچھے ہوئے ہیں، اس لیے خاک سے ''سجدہ گاہ'' بنا کر اسے قالین پر رکھتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں تاکہ پیشانی کو کہ جو تمام اعضاء میں اشرف و افضل ہے اللہ تعالی کے حضور، خاک پر رکھا جاسکے_ اور اس ذات احديّت کی بارگاہ میں انتہائی تواضع و انکساری کا مظاہرہ کیا جاسکے_ کبھی یہ '' سجدہ گاہ''


شہداء کی تربت سے بنائی جاتی ہے تا کہ راہ خدا میں ان کی جانثاری کی یاد تازہ ہو اور نماز میں زیادہ سے زیادہ حضور قلب حاصل ہوسکے_اور پھر شہدائے کربلا کی تربت کو دوسری ہر قسم کی خاک پر ترجیح دی جاتی ہے لیکن شیعہ ہمیشہ اس تربت یا دوسری خاک کے پابند نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے مساجد کے صحنوں میں لگے ہوئے پتھروں ( جیسے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے صحن والے سنگ مرمر) پر بھی با آسانی سجدہ کر لیتے ہیں ( غور کیجئے)

بہرحال مکتب اہلبیت(ع) کے پاس زمین پر سجدہ کے وجوب کے بارے میں بہت سی ادلّہ ہیں من جملہ پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث ، صحابہ کی سیرت جو آئندہ بحث میں بیان ہوگی اور آئمہ اطہار سے نقل ہونے والی روایات کہ جنہیں ہم عنقریب نقل کریں گے_

ہمیں تعجب یہ ہے کہ بعض اہلسنت برادران ہمارے اس فتوی کے مقابلے میں کیوں اسقدر شدید ردّعمل کا مظاہرہ کرتے ہیںاور کبھی اسے بدعت سے تعبیر کرتے ہیں حتی بعض اوقات اسے کفر اور بُت پرستی شمار کرتے ہیں_

اگر ہم خود ان کی اپنی کتابوں سے ثابت کردیں کہ رسولخدا(ص) اور انکے اصحاب، زمین پر سجدہ کرتے تھے تو کیا پھر بھی یہ عمل بدعت ہوگا؟

اگر ہم ثابت کردیں کہ آنحضرت(ص) کے بعض اصحاب جیسے جناب جابر ابن عبداللہ انصاری وغیرہ جب شدید گرمی کی وجہ سے پتھر اور ریت گرم ہوجاتی تھی تو وہ کچھ مقدار ریت کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں تبدیل کرتے تھے تا کہ کچھ ٹھنڈی ہوجائے اور اس پر سجدہ کیا جاسکے''(۱) تو کیا اس صورت میں جناب جابر ابن عبداللہ کو بت پرست یا بدعت گزار شمار کریں گے؟

____________________

۱) مسند احمد ، ج ۳، ص ۳۲۷و سنن بیہقی جلد ۱ص ۲۳۹_


پس جو شخص حصیر پر سجدہ کرتا ہے یا ترجیح دیتا ہے کہ مسجد الحرام یا مسجد نبوی(ص) کے فرش پر سجدہ کرے تو کیا وہ حصیر کی پرستش کرتا ہے یا مسجد کے فرش کی پوجا کرتا ہے؟

کیا ضروری نہیں ہے کہ یہ برادران اس موضوع پر مشتمل ہماری ہزاروں فقہی کتابوں میں سے کم از کم ایک کتاب کا مطالعہ کریں تا کہ انہیں پتہ چل جائے کہ ان ناروا نسبتوں میں ذرّہ برابر بھی حقیقت کی جھلک نہیں ہے؟

آیا کسی پر بدعت یا کفر و بت پرستی کی تہمت لگنا،کم گناہ ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالی اسے آسانی سے معاف کردیگا؟

اس بات کو جاننے کے لیے کہ کیوں شیعہ زمین پر سجدہ کرتے ہیں، امام صادق _ کی اس حدیث کی طرف توجہ کافی ہے_ ہشام بن حکم نے کہ جو امام کے خصوصی اصحاب میں سے تھے سوال کیا، کہ کس چیز پر سجدہ کیا جاسکتا ہے اور کسی چیز پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے؟ امام (ع) نے جواب میں فرمایا''السجود لا یجوز الا علی الارض او ما انبتت الارض الا ما أکل اَو لبس'' کسی چیز پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے مگر صرف زمین پر یا ان چیزوں پر جو زمین سے اگتی ہیں اور کھانے اور پہننے کے کام نہیں آتیں ہشام کہتا ہے میں نے عرض کی آپ(ع) پر قربان ہوجاؤں اس کی حکمت کیا ہے ؟

آپ(ع) نے فرمایا:''لانّ السّجُودَ هُو الخضوع للّه عزّوجل فلا ینبغی أن یکونَ علی ما يُؤكَلُ و يُلبس لانّ أَبناء الدُّنیا عَبید ما یا کلون و یلبسون و الساجدُ فی سُجوده فی عبادة الله فلا ینبغی أن يَضَعَ جَبهَتَهُ فی سُجوده علی معبود أبناء الدُّنیا الذین اغتَرُّ وا بغرورها'' کیونکہ سجدہ اللہ تعالی کے سامنے خضوع اور انکساری ہے اس لیے مناسب نہیں ہے کہ انسان کھانے اور پہننے کی چیزوں پر سجدہ کرے_


کیونکہ دنیا پرست لوگ کھانے اور پہننے والی چیزوںکے بندے ہوتے ہیں_ جبکہ وہ شخص جو سجدہ کر رہا ہے سجدہ کی حالت میں اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہے پس مناسب نہیں ہے کہ انسان اپنی پیشانی کو سجدہ کی حالت میں ایسی چیزوں پر رکھے جو دنیا پرستوں کے معبود ہیںاور انکی زرق و برق کے وہ فریفتہ ہیں_

اس کے بعد امام _ نے اضافہ فرمایا: ''و السّجودُعلی الارض أفضلُ لانّه أبلغ للتواضع و الخُضوع للّه عزوجل ''کہ زمین پر سجدہ کرنا افضل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالی کے حضور بہتر طور پرخضوع وتواضع اور انکساری کی علامت ہے_(۱)

۴_ مسئلہ کی ادلّہ:

اب ہم اس مسئلہ کی ادلّہ بیان کرتے ہیں _سب سے پہلے رسول اکرم(ص) کے کلام سے شروع کرتے ہیں:

الف) زمین پر سجدہ کے سلسلہ میں معروف حدیث نبوی:

اس حدیث کو شیعہ و اہل سنت نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا''جُعلت لی الارضُ مسجداً و طهوراً'' کہ زمین میرے لیے محل سجدہ اور طہارت ( تیمم) قرار دی گئی ہے''(۲)

بعض علماء نے یہ خیال کیا ہے کہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ پوری روئے زمین اللہ کی عبادت کا مقام ہے_ پس عبادت کا انجام دینا کسی معيّن مقام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ یہود

____________________

۱) علل الشرائع، جلد ۲، ص ۳۴۱_

۲) صحیح بخاری جلد ۱، ص ۹۱و سنن بیہقی، جلد ۲_ ص ۴۳۳ (ا ور بہت سی دوسروی کتابوں میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے)_


و نصاری گمان کرتے تھے کہ عبادت کو حتماً کلیساؤں اور عبادت خانوں میں انجام دینا چاہیے''_

لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفسیر حدیث کے حقیقی معنی کے ساتھ سازگار نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرما یا'' زمین طہور بھی ہے اور مسجد بھی'' اور ہم جانتے ہیں کہ جو چیز طہور ہے اور جس پر تیمّم کیا جاسکتا ہے وہ زمین کی خاک اور پتھر ہیں پس سجدہ گاہ کو بھی وہی خاک اور پتھر ہونا چاہیے_

اگر پیغمبر اکرم(ص) اس معنی کو بیان کرنا چاہتے کہ جسکا بعض اہلسنت کے علماء نے استفادہ کیا ہے تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ ''جُعلت لی الارض مسجداً و ترابُها طهوراً'' پوری سرزمین کو میرے لیے مسجد قرار دیا گیا اور اس کی خاک کو طہارت یعنی تیمم کا وسیلہ قرار دیا گیاہے'' لیکن آپ(ص) نے یوں نہیں فرمایا_ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں مسجد سے مراد جائے سجدہ ہے لہذا سجدہ گاہ کو بھی اسی چیز سے ہونا چاہیے جس پر تیمم ہوسکتا ہے_

پس اگر شیعہ زمین پر سجدہ کرنے کے پابند اور قالین و غیرہ پر سجدہ کو جائز نہیں سمجھتے تو یہ کوئی غلط کام نہیں کرتے بلکہ رسولخدا(ص) کے دستور پر عمل کرتے ہیں_

ب) سیرت پیغمبر(ص) :

متعدّد روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) بھی زمین پر سجدہ کرتے تھے، کپڑے یا قالین و غیرہ پر سجدہ نہیں کرتے تھے_

ابوہریرہ کی ایک حدیث میں یوں نقل ہوا ہے وہ کہتا ہے ''سجد رسول الله (ص) فی یوم مطیر حتی أنّی لانظر الی أثر ذلک فی جبهته و ارنبته'' میں نے رسولخدا(ص) کو ایک


بارانی دن زمین پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا _ سجدہ کے آثار آپ کی پیشانی اور ناک پر نمایاں تھے_(۱)

اگر سجدہ کپڑے یا دری و غیرہ پر جائز ہوتا تو ضرورت نہیں تھی کہ آنحضرت(ص) بارش کے دن بھی زمین پر سجدہ کریں_

حضرت عائشےہ نیز فرماتی ہیں ''ما رأیتُ رسول الله متقیاً وجهه بشیئ''میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آنحضرت(ص) ( سجدہ کے وقت ) اپنی پیشانی کسی چیز سے ڈھانپ لیتے ہوں''(۲)

ابن حجر اسی حدیث کیتشریح میں کہتے ہیں: کہ یہ حدیث اس بات کیطرف اشارہ ہے کہ سجدہ میں اصل یہ ہے کہ پیشانی زمین پر لگے لیکن اگر قدرت نہ ہو تو پھر یہ واجب نہیں ہے_(۳)

ایک دوسری روایت میں جناب میمونہ ( رسول اکرم(ص) کی ایک دوسری زوجہ) سے یوں نقل ہوا ہے کہ ''و رسول الله یصّلی علی الخُمرة فیسجد'' پیغمبر اکرم حصیر (چٹائی) پر نماز پڑھتے اور اس پرسجدہ کرتے تھے_

اہلسنت کی معروف کتب میں متعدّد روایات نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) '' خمرہ'' پر نماز پڑھتے تھے ( خُمرہ اس چھوٹے سے مصلی یا حصیر کو کہتے ہیں جو کجھور کے پتوں سے بنایا جاتا تھا)تعجب یہ ہے کہ اگر شیعہ اسی طرح عمل کریں اور نماز پڑھتے وقت کوئی مصلی بچھالیں تو ان پر بعض متعصب لوگوں کی طرف سے بدعت کی تہمت لگائی جاتی ہے_ اور غصے کے ساتھ انہیں

____________________

۱) مجمع الزوائد، جلد ۲، ص ۱۲۶_ ۲) مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد ۱ ، ص ۳۹۷_

۳) فتح الباری ، جلد۱، ص ۴۰۴_


دیکھا جاتا ہے_

حالانکہ یہ احادیث بتاتی ہیں کہ یہ کام پیغمبر اکرم(ص) کی سنت ہے_

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ سنّت کو بدعت شمار کیا جائے

مجھے نہیں بھولتا کہ ایک مرتبہ حج کے موقع پر مدینہ میں ، میں مسجد نبوی(ص) میں ایک چھوٹی سی چٹائی پر نماز پڑھنا چاہتا تھا تو ایک متعصّب وہابی عالم دینآیا اور اس نے بڑے غصّے کے ساتھ چٹائی اٹھاکر کونے میں پھینک دی گویا وہ بھی اس سنت کو بدعت سمجھتا تھا_

ج) صحابہ اور تابعین کی سیرت

اس بحث میں دلچسپ موضوع یہ ہے کہ اگر ہم اصحاب اور انکے بعد آنے وال-ے افراد (یعنی تابعین) کے حالات کا غور سے مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے وہ بھی زمین پر سجدہ کرتے تھے مثال کے طور پر:

۱_ جابر ابن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں''کنتُ اُصلّی مع النّبی الظهر فآخذ قبضة من الحصی فاجعلها فی کفّی ثُم احولها الی الکفّ الاُخری حتی تبرد ثم اضعها لجبینی حتی اسجد علیها من شّدة الحرّ''میں پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ نماز ظہر پڑھتا تھا_ شدید گرمی کی وجہ سے کچھ سنگریزے ہاتھ میں لے لیتا تھا اور انہیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں تبدیل کرتا رہتا تھا تا کہ وہ کچھ ٹھنڈے ہوجائیں اور ان پر سجدہ کرسکوں یہ کام گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا''(۱)

____________________

۱) مسند احمد ، جلد ۳، ص ۳۲۷ ، سنن بیہقی ، جلد۱ ، ص ۴۳۹_


اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) زمین پر سجدہ کرنے کے پابند تھے، حتی کہ شدید گرمی میں بھی اس کا م کے لیے راہ حل تلاش کرتے تھے_ اگر یہ کام ضروری نہ ہوتا تو اتنی زحمت کی ضرورت نہیں تھی_

۲_ انس بن مالک کہتے ہیں ''كُنّا مع رسول الله (ص) فی شدّة الحرّ فیأخذأحدنا الحصباء فی یده فإذا برد وضعه و سجّد علیه '' ہم شدید گرمی میں رسولخدا(ص) کے ساتھ تھے ہم میں سے بعض لوگ کچھ سنگریزے ہاتھ میں لے لیتے تھے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں پھر انہیں زمین پر رکھ کر اُن کے اوپر سجدہ کرتے تھے_(۱)

یہ تعبیر یہی بتاتی ہے کہ یہ کام اصحاب کے درمیان رائج تھا_

۳_ ابوعبیدہ نقل کرتے ہیں ''انّ ابن مسعود لا یسجد _ أو قال لا یصلّی _ الا علی الارض'' کہ جناب عبداللہ ابن مسعود صرف زمین پر سجدہ کرتے تھے یا یوں کہا کہ صرف زمین پر نماز پڑھتے تھے_(۲)

اگر زمین سے قالین یا دری و غیرہ مراد ہوتی تو کہنے کی ضرورت نہیں تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ زمین سے وہی خاک: ریت اور سنگریزے و غیرہ مراد ہیں_

۴_ عبداللہ ابن مسعود کے ایک دوست مسروق بن اجدع کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ'' کان لا یرخص فی السجود علی غیر الارض حتی فی السفینة وکان یحمل فی السفینة شیئاً یسجدعلیه'' وہ سوائے زمین کے کسی شے پر سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتی اگر کشتی میں سوار ہونا ہوتا تو کوئی چیز اپنے ساتھ کشتی میں رکھ لیتے تھے جس

____________________

۱) السنن الکبری بیہقی ، جلد ۲، ص ۱۰۶_

۲) مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد ۱، ص ۳۹۷_


پر سجدہ کرتے''(۱)

۵_ جناب علی ابن عبداللہ ابن عباس نے '' رزین '' کو خط میں لکھا''ابعث اليّ بلوح من أحجار المروة علیه اسجُد'' کہ مروہ کے پتھروں میں سے ایک صاف سا پتھر میرے لیے بھیجنا تا کہ میں اس پر سجدہ کرسکوں''(۲)

۶_ کتاب فتح الباری ( شرح صحیح بخاری) میں نقل ہوا ہے کہ ''کان عمر ابن عبدالعزیز لا یکتفی بالخمرة بل یضع علیها التراب و یسجد علیه'' عمر ابن عبدالعزیز نماز کے لیے صرف چٹائی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس پر مٹی رکھ لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے_(۳)

ان تمام روایات سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟ کیا یہی سمجھ میں نہیں آتا کہ اصحاب اور انکے بعد آنے والے افراد کی ( ابتدائی صدیوں میں ) یہی سیرت تھی کہ زمین پر یعنی خاک ، پتھر، ریت اور سنگریزوں و غیرہ پر سجدہ کرتے تھے_

اگر آج ہمارے زمانے میں کچھ مسلمان اس سنت کو زندہ رکھنا چاہیں تو کیا اسے بدعت کے عنوان سے یاد کیا جائے؟

کیا فقہائے اہلسنت کو نہیں چاہیے کہ قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس سنّت نبوی (ص) کو زندہ کریں، وہی کام جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں انتہائی خضوع، انکساری اور عاجزی سے حکایت کرتا ہے اور سجدہ کی حقیقت کے ساتھ زیادہ سازگار ہے_ ( ایسے دن کی امید کے ساتھ)_

____________________

۱) طبقات الکبری ، ابن سعد، جلد ۶، ص ۵۳_

۲) اخبار مكّہ ازرقی، جلد ۲ ،ص ۱۵۱_

۳) فتح الباری ، جلد ۱ ، ص ۴۱۰_


۷

جمع بین صلاتین


بیان مسئلہ:

نماز، خالق اور مخلوق کے درمیان ایک اہم ترین رابطہ اور تربيّت کے ایک اعلی ترین لائحہ عمل کا نام ہے_ نماز خودسازی اور تزکیہ نفوس کا ایک بہترین وسیلہ اور فحشاء و منکر سے روکنے والے عمل کا نام ہے_ نماز قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے_

اور با جماعت نماز مسلمانوں کی قوّت و قدرت اور انکی صفوف میں وحدت کا مظہر اور اسلامی معاشرے کے لیے با افتخار زندگی کا باعث ہے_

نماز اصولی طور پر دن رات میں پانچ مرتبہ انجام دی جاتی ہے جس سے انسان کے دل و جان ہمیشہ فیض الہی کے چشمہ زلال سے دُھلتے رہتے ہیں_

نماز کو رسول خدا(ص) نے اپنی آنکھوں کا نور قرار دیا اور اس کے لیے ''قرةُ عینی فی الصلاة ''(۱) ارشاد فرمایا اور اسے مؤمن کی معراج شمار کرتے ہوئے_''الصلوة معراج المؤمن'' (۲) کی صدا بلند کی اور اسے متّقین کے لیئے قرب الہی کے وسیلہ کے عنوان سے

____________________

۱) مکارم الاخلاق ، ص ۴۶۱_

۲) اگرچہ یہ جملہ کتب احادیث میں نہیں ملا لیکن اسقدر مشہور ہے کہ علامہ مجلسی نے اپنے بیانات کے دوران اس جملہ سے استشہاد فرمایا ہے ( بحار الانوار ، جلد ۷۹ ص ۲۴۸، ۳۰۳)_


متعارف کرایا''الصلاة قربان کلی تقّی'' (۱)

اس مقام پر موضوع سخن یہ ہے کہ کیا پانچ نمازوں کا پانچ اوقات میں علیحدہ علیحدہ انجام دینا ایک واجبی حکم ہے؟ اور اس کے بغیر نماز باطل ہوجاتی ہے ( جسطرح وقت سے پہلے نماز پڑھ لینا ،اس کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے ) یا اسے تین وقتوں میں انجام دیا جاسکتا ہے؟

( یعنی ظہر و عصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز کو جمع کر کے ادا کیا جائے) علمائے شیعہ _ مکتب اہلبیت(ع) کی پیروی کرتے ہوئے _ عموماً اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ پانچ نمازوں کو تین وقتوں میں انجام دینا جائز ہے اگرچہ افضل و بہتر یہ ہے کہ نماز پنچگانہ کو پانچ وقتوں میں انجام دیا جائے_

لیکن علمائے اہلسنت کی اکثریت _ سوائے چند ایک کے _ اس بات کی قائل ہے کہ نماز پنچگانہ کو علیحدہ علیحدہ پانچ اوقات میں انجام دینا واجب ہے ( صرف عرفہ کے دن میدان عرفات میں ظہر و عصر کی نماز وں کو اکٹھا پڑھا جاسکتا ہے اور عید قربان کی رات مشعر الحرام میں مغرب و عشاء والی نماز کواکٹھا بجالایا جاسکتا ہے البتہ بہت سے علماء نے سفر اور بارش کے اوقات میں کہ جب نماز جماعت کے لیے مسجد میں رفت وآمد مشکل ہو دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کی اجازت دی ہے)_

شیعہ فقہاء کی نظر میں _ جیسا کہ بیان ہوا _ نماز پنچگانہ کے جدا جدا پڑھنے کی فضیلت پر تاکید کے ساتھ _ نمازوں کو تین اوقات میں بجالانے کی اجازت اور ترخیص کو ایک عطیہ الہی شمار کیا جاتا ہے جسے امر نماز میں سہولت اور لوگوں کے لیے وسعت کی خاطر پیش کیا گیا ہے_

____________________

۱) کافی جلد ۳، ص ۲۶۵ ، حدیث ۲۶_


اور اس اجازت کو روح اسلام کے ساتھ سازگار سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسلام ایک ''شریعة سمحة و سہلة'' (آسان و سہل) ہے_

تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ نماز کے لیے پانچ وقتوں پر علیحدہ علیحدہ تاکید کبھی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اصل نماز بالکل فراموش ہوجائے اور بعض لوگ نماز کو ترک کردیں_

اسلامی معاشروں میں پانچ اوقات پر اصرار کے آثار:

اسلام نے کیوں عرفہکے دن ظہر و عصر کی نماز اور مشعر الحرام میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی ہے؟

کیوں بہت سے اہلسنت فقہائ، روایات نبوی(ص) کی روشنی میں سفر کے دوران اور بارش کے اوقات میں دو نمازوں کے اکٹھا پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں؟ یقیناً امت کی سہولت کی خاطر یہ احکام نازل ہوئے ہیں_

یہ تسہیل تقاضا کرتی ہے کہ دیگر مشکلات میں بھی چاہے سابقہ زمانے میں ہوں یا اس دور میں _ نماز کے جمع کرنے کی اجازت دینی چاہیے_

ہمارے زمانے میں لوگوں کی زندگی تبدیل ہوچکی ہے_ کارخانوں میں بہت سے مزدوروں، دفتروں میں بہت سے ملازمین اور کلاسوں میں بہت سے طالب علموں کو پانچ وقت نماز کی فرصت نہیں ملتی ہے یعنی انکے لیےکام کرنا کافی دشوار اور پیچیدہ ہوجاتا ہے_

پس ان روایات کے مطابق جو پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ہوئی ہیں اور آئمہ طاہرین نے ان پر تاکید کی ہے اگر لوگوں کو دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو اس اعتبار سے


انکے کام میں سہولت حاصل ہوگی_ اور نماز پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ جائیگی_

اگر ایسا نہ کیا جائے تو ترک نماز میں اضافہ ہوگا اور تارک صلوة لوگوں کی تعداد بڑھتی جائیگی شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہلسنت کے جوان نماز کو چھوڑ تے ہیں اور اہل تشیع میں تارکین نماز کی تعداد بہت کم ہے_

انصاف یہ ہے کہ'' بُعثتُ الی الشریعة السمحة السهلة'' (۱) اور رسولخدا(ص) سے نقل ہونے والی متعدد روایات کی روشنی میں لوگوں کو تین اوقات میں نماز پڑھنے کی اجازت دینی چاہیے اسی طرح فرادی نماز کی بھی اجازت دینی چاہیے تا کہ زندگی کی مشکلات، ترک نماز کا موجب نہ بنے _ اگرچہ اسلام میں پانچ وقت نماز کی فضیلت پر تاکید ہوئی ہے اور وہ بھی جماعت کے ساتھ_

دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کے جواز پر روایات:

اہلسنت کی معروف کتب جیسے صحیح مسلم ، صحیح بخاری ، سنن ترمذی ، مؤطّاء مالک، مسند احمد، سنن نسائی، مصنف عبدالرّزاق اور دیگر مشہور کتابوں میں تقریباً تیس ۳۰ روایات نقل کی گئی ہیں جن میں بغیر سفر اور مطر ( بارش) کے، بغیر خوف اور ضرر کے ، نماز ظہر و عصر یا نماز مغرب و عشاء کے اکٹھا پڑھنے کو نقل کیا گیا ہے_ ان میں سے اکثر روایات کو ان پانچ مشہور اصحاب نے نقل کیا ہے_

۱_ ابن عباس، ۲، جابر ابن عبداللہ انصاری، ۳_ ابو ايّوب انصاری ، ۴_ عبداللہ ابن عمر ، ۵_ ابوہریرہ ، ان میں سے بعض کو ہم قارئین محترم کے لیئے نقل کرتے ہیں_

____________________

۱)مُجھے ایک سہل اور آسان شریعت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے ( ترجمہ)_


۱_ ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے ، انہوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ '' صلّی رسول اللہ(ص) الظہر و العصر جمیعاً بالمدینة فی غیر خوف و لا سفر'' رسولخدا(ص) نے مدنیةمیں بغیر کسی خوف اور سفر کے نماز ظہر او ر عصر کو اکٹھا انجام دیا_

ابو الزبیرکہتے ہیں میں نے سعید ابن جبیر سے پوچھا کہ پیغمبراکرم(ص) نے ایسا کیوں کیا؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہی سوال میں نے ابن عباس سے کیا تھا تو انہوں نے جواب میں کہا تھا ''أراد أن لا يَحرجَ أحداً من أمّته '' آنحضرت(ص) کا مقصد یہ تھا کہ میری امت کا کوئی مسلمان بھی زحمت میں نہ پڑے''(۱)

۲_ایک اور حدیث میں ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے ''جَمع رسول اللّه بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء فی المدینة فی غیر خوف و لا مطر'' ''پیغمبر اکرم(ص) نے مدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا انجام دیا''_

حدیث کے ذیل میں آیا ہے کہ جب ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ پیغمبر اکرم(ص) کا اس جمع بین صلاتین سے کیا مقصد تھا تو انہوں نے جواب میں کہا''أراد أن لا یحرج'' آنحضرت(ص) کا یہ مقصد تھا کہ کوئی مسلمان بھی زحمت و مشقت سے دوچار نہ ہو_(۲)

۳_ عبداللہ ابن شقیق کہتے ہیں:

' ' خطبنا ابن عباس یوماً بعد العصر حتی غربت الشمس و بدت النجوم و جعل الناس یقولون الصلاة، الصلاة قال فجائه، رجل من بنی تمیم لا

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد ۲،ص ۱۵۱_

۲) صحیح مسلم، جلد ۲،ص ۱۵۲_


یفتر و لا یتنی: الصلوة ، الصلوة فقال ابن عباس أتعلّمنی بالسّنّة لا اَمّ لک ثمّ قال: رایت رسول الله جمع بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء قال عبدالله بن شقیق: فحاک فی صدری من ذلک شیء فأتیتُ ابا هریره فسألته ، فصّدق مقالتَه'' (۱)

کہ ایک دن ابن عباس نے نماز عصر کے بعد خطبہ پڑھنا شروع کیا یہاںتک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے ، لوگوں نے نماز، نماز کی آوازیں لگانا شروع کردیں_ ایسے میں بنو تمیم قبیلہ کا ایک آدمی آیا وہ مسلسل نماز، نماز کی صدائیں بلند کر رہا تھا اس پر ابن عباس نے کہا ، تو مجھے سنت رسول(ص) سکھانا چاہتا ہے اے بے حسب و نسب میں نے دیکھا ہے کہ رسولخدا(ص) نے نماز ظہر و عصر کو ،اسی طرح نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھا ہے عبداللہ بن شقیق کہتا ہے میرے دل میں شک سا پیدا ہوگیا، میں ابوہریرہ کے پاس آیا اور اُن سے یہی بات دریافت کی انہوں نے ابن عباس کے کلام کی تصدیق کی_

۴_ جابر ابن زیدلکھتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا کہ : ''صلّی النّبی(ص) سبعاً جمیعاً و ثمانیاً جمیعاً'' پیغمبر اکرم(ص) نے سات رکعتیں اور آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھیں'' (مغرب اور عشاء کی نماز اسی طرح ظہر اور عصر کی نماز کے اکٹھا پڑھنے کی طرف اشارہ ہے)(۲)

____________________

۱) سابقہ مدرک_

۲) صحیح بخاری ، جلد ۱، ص ۱۴۰ ( باب وقت المغرب)_


۵_ سعید بن جُبیر، ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ:

'' جَمع رسولُ الله (صلی الله علیه و آله و سلم ) بین الظهر و العصر و بین المغرب و العشاء بالمدینة من غیر خوف و لا مطرً قال: فقیل لأبن عباس : ما أراد بذلک؟ قال أراد أن لا یحرج أمتّه'' (۱)

'' پیغمبر اکرم (ص) نے مدینہ میں بغیر دشمن کے خوف اور بارش کے ، ظہر و عصر کی نماز، اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا کہ آنحضرت(ص) کا اس کام سے کیا مقصدتھا؟ تو انہوں نے کہا آپ(ص) چاہتے تھے کہ انکی امت مشقّت میں نہ پڑے''

۶_ امام احمد ابن حنبل نے بھی اسی کے مشابہ حدیث اپنی کتاب مسند میں ابن عباس سے نقل کی ہے_(۲)

۷_ امام مالک نے اپنی کتاب '' مؤطا'' میں مدینہ کا تذکرہ کیے بغیر ابن عباس سے یہ حدیث نقل کی ہے:

'' صلَّ رسولُ الله (ص) الظهر و العصر جمیعاً و المغرب و العشاء جمیعاً فی غیر خوف و لا مطر'' (۳)

____________________

۱) سنن ترمذی ، جلد ۱۲۱ حدیث ۱۸۷_

۲) مسند احمد، جلد ۱ ، ص ۲۲۳_

۳) مؤطا مالک، جلد ۱ ، ص ۱۴۴_


'' رسولخدا(ص) نے ظہر و عصر کی نماز کو اسی طرح مغرب و عشاء کی نماز کو اکٹھا پڑھا حالانکہ نہ تو دشمن کا خوف تھا اور نہ ہی بارش کا خطرہ''

۸: '' مصنف عبدالرزاق'' نامی کتاب میں جناب عبداللہ ابن عمر سے نقل کیا گیا ہے کہ:

'' جَمع لنا رسولُ الله صلَّی الله علیه و آله و سلم مقیماً غیر مسافربین الظهر و العصرفقال رجلٌ لأبن عمر : لم تری النّبی (ص) فعل ذلک؟ قال لأن لا یحرج اُمّته أن جمع رجل'' (۱)

پیغمبر اکرم (ص) نے بغیر سفر کے یعنی قیام کی حالت میں ظہر و عصر کی نمازوں کو اکٹھا پڑھایا، کسی نے ابن عمر سے پوچھا آپ کے خیال کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے یہ کام کیوں کیا؟ اس پرانہوں نے کہا آپ(ص) نے یہ کام اس لیے انجام دیا کہ اگر امت میں سے کوئی ان دو نمازوں کو اکٹھا پڑھ لے توزحمت میں مبتلا نہ ہو( لوگ اس پراعتراض نہ کریں)_

۹_ جابر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ:

'' جَمع رسولُ الله (ص) بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء فی المدینة للرّخص من غیر خوف: و لا علّة'' (۲)

'' رسولخدا(ص) نے مدینہ میں بغیر دشمن کے خوف اوربغیر کسی عذر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا تا کہ امت کے لیے اجازت اور رخصت شمار ہو _

____________________

۱) مصنف عبدالرزاق ، جلد ۲ ، ص ۵۵۶_

۲) معانی الآثار، جلد ۱ ، ص ۱۶۱_


۱۰_ ابوہریرہ نیز نقل کرتے ہیں کہ:

'' جمع رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم ) بین الصلوتین فی المدینة من غیر خوف:'' (۱)

رسولخدا(ص) نے مدینہ میں بغیر دشمن کے خوف کے دو نمازوں کو اکٹھا پڑھا _

۱۱_ عبداللہ بن مسعود بھی نقل کرتے ہیں کہ:

'' جمع رسول الله (ص) بین الاولی و العصر و المغرب و العشاء فقیل له فقال(ص) : صنعته لئلّا تکون أمتی فی حرج'' (۲)

رسولخدا(ص) نے مدینہ میں ظہر و عصر کی نماز، اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا_ کسی نے آپ (ص) سے اس کے سبب کے بارے میں سوال کیا تو آپ(ص) نے فرمایا کہ یہ کام میں نے اس لیے کیا ہے تا کہ میری امّت مشقّت میں نہ پڑے_

اسی طرح اور بہت سی احادیث موجود ہیں جو اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں_

یہاںپر دوسوال پیش نظر ہیں:

۱_ مذکورہ احادیث کا نتیجہ :

مذکورہ بالا تقریباً تمام احادیث میں '' کہ جو اہلسنت کی مشہور اور درجہ اول کی کتب میں ذکر ہوئی ہیں اور ان کی سند بعض بزرگ اصحاب تک پہنچتی ہے'' د و نکات پر تاکید کی گئی ہے:

____________________

۱) مسند البزّاز، جلد ۱ ، ص ۲۸۳_

۲) المعجم الکبیر طہرانی، جلد ۱۰، ص ۲۱۹ ، حدیث ۱۰۵۲۵_


ایک تو یہ کہ رسولخدا(ص) نے دو نمازوں کو اس حال میں اکٹھا انجام دیا کہ کسی قسم کی مشکل جیسے دشمن کا خوف، سفر ، بارش و غیرہ، در پیش نہیں تھی_

اور دوسرے یہ کہ آپ(ص) کا مقصد '' امت کو رخصت دینا'' اور '' عسر و حرج سے نجات دلانا'' تھا_

آیا ان نکات کی روشنی میں سزاوار ہے کہ بعض لوگ اعتراض تراشی کریں اوریوں کہیں کہ یہ اکٹھا پڑھنا اضطراری موارد میں تھا؟ہم کیوں حقائق سے چشم پوشی کریں، اور اپنے خام نظریات کو رسولخدا(ص) کے صریح فرامین پر ترجیح دیں؟

خدا اور اس کے رسول(ص) نے اجازت دی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ امّت کے بعض متعصّب لوگ اجازت نہیں دیتے آخر کیوں ؟

یہ لوگ کیوں نہیں چاہتے ہیں کہ مسلمان جوان ہر حال میں اور ہر جگہ پر ، اسلامی ممالک کے اندر اور باہر، یونیور سٹیوں، دفتروں اور کارخانوں میں اس اہم ترین اسلامی فریضہ (یعنی یومیہ نمازیوں) پر عمل کریں؟

ہمارا نظریہ ہے کہ اسلام قیامت تک ہر زمان اور ہر مکان کے لیے ہے_

پیغمبر اکرم (ص) یقینا اپنی وسعت نظری کے ذریعہ تمام دنیا کے مسلمانوں اور تمام زمانوں اور صدیوں کے لوگوں کو مدنظر رکھے ہوئے تھے وہ جانتے تھے کہ اگر تمام لوگوں کو پانچ وقت میں نماز پڑھنے پر مقيّد کریں گے تو اس کے نتیجے میں بعض لوگ تارک الصلاة ہوجائیں گے ( جیسا کہ ہم آجکل دیکھ رہے ہیں) اسی لیے انہوں نے اپنی امت پر احسان کیا اور کام کو آسان


کردیا تا کہ سب لوگ ہر زمان و مکان میں آسانی کے ساتھ روزانہ کی نمازوں کو بجالا سکیں_

قرآن مجید فرماتا ہے:

( '' و مَا جَعَل عَلیكُم فی الدّین من حَرَج:'' ) (۱)

۲_ قرآن مجید اور نماز کے تین اوقات:

اسی مسئلہ میں تعجب کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی دو آیات میں جب نماز کے اوقات کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہاں یومیہ نمازوں کے لیے صرف تین اوقات ذکر کیے گئے ہیں_ تعجب یہ ہے کہ کیوں ان بھائیوں میں سے ایک گروہ پانچ اوقات کے وجوب پر اصرار کرتا ہے_

پانچ اوقات میں نماز کی زیادہ فضیلت کے بارے میں کسی کو انکار نہیں ہے_ ہمیں بھی اگر توفیق الہی شامل حال رہے تو پانچ اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں_

اختلاف صرف ان پانچ اوقات کے وجوب کے بارے میں ہے_

۱_ پہلی آیت سورہ ہود میں ہے:( ''و أقم الصلوة طَرَفی النهار و زلفاً من اللّیل'' ) دن کے دو اطراف میں اور رات کے کچھ حصّے میں نماز ادا کرو ...''(۲)

'' طرفی النہار'' نماز صبح کی طرف جو دن کی ابتداء میں انجام دی جاتی ہے، اور نماز ظہر و عصر کی طرف اشارہ ہے کہ جن کا وقت سورج غروب ہونے تک باقی ہے_ بالفاظ دیگر نماز ظہر و عصر کے وقت کا غروب آفتاب تک باقی رہنا اس آیت سے با آسانی استفادہ ہوتا ہے اور ''زُلفاً من اللیل'' کہ جس میں لفظ '' زُلف'' استعمال ہوا ہے جس کے بارے میں '' مختار

____________________

۱) سورة حج آیت ۷۸_ اور اللہ نے تم پر دین کے مسئلے میں کوئی حرج اور مشقت نہیں رکھی_

۲) سورة ہود آیت ۱۱۴_


الصحاح'' اور راغب نے کتاب المفردات میں لکھا ہے کہ یہ '' زلفة'' کی جمع ہے اور اسے رات کے ابتدائی حصوں کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے_ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ''زلفاً من اللیل'' مغرب اور عشاء کے وقت کی طرف اشارہ ہے_

بنابراین اگر پیغمبر اکرم (ص) نمازوں کو عام طور پر پانچ وقتوں میں انجام دیتے تھے تووہ یقینا ان پانچ اوقات کی فضیلت کے اعتبار سے تھا کہ جس کے ہم سب معتقد ہیں ہم کیوں قرآن مجید کی آیت کے ظہور سے چشم پوشی کریں اور دوسری تاویلوں کو تلاش کریں؟

۲_ دوسری آیت سورہ اسراء میں ہے; ''( أقم الصلوة لدُلُوک الشمس إلی غَسَق اللیل و قرآن الفجر إنّ قرآن الفجر کانَ مشهوداً ) '' نماز کوزوال آفتاب کے آغاز سے رات کی تاریکی تک ادا کرو اسی طرح قرآن فجر ( نماز صبح) ادا کرو ...''(۱)

'' دلوک'' متمایل ہونے اور جھکنے کے معنی میں آتا ہے_ یہاں نصف النہار سے سورج کے تمایل کی طرف اشارہ ہے یعنی زوال کا وقت_

'' غسق اللیل'' رات کی تاریکی کے معنی میں ہے، بعض نے اسے رات کی ابتداء سے تعبیر کیا ہے اور بعض نے آدھی رات کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے_ جیسا کہ راغب نے ''مفردات'' میں لکھا ہے کہ '' غسق'' رات کی و تاریکی کی شدّت کے معنی میں ہے اور یہ وہی آدھی رات کے وقت ہوتی ہے _

ان معانی کے مطابق دلوک شمس سے نماز ظہر و عصر کے وقت کی ابتداء کی طرف اشارہ ہے اور غسق اللیل سے نماز مغرب و عشاء کے وقت کی انتہا کی طرف اشارہ ہے اور قرآن فجر سے

____________________

۱) سورة اسرائ، آیت ۷۸_


نماز صبح کی طرف اشارہ ہے_

جناب فخر رازی نے اس آیت کی بہترین تفسیر بیان کی ہے، وہ یوں رقمطراز ہیں کہ :

''إن فَسّرنا الغسق بظهور اوّل الظلمة_ و حکاه عن ابن عباس و عطا و النضر بن شمیل_ کان الغسق عبارة عن أول المغرب و علی هذا التقدیر یکون المذکور فی الآیة ثلاث اوقات وقت الزّوال ووقت أول المغرب و وقت الفجر، و هذا یقتضی أن یکون الزوال وقتا، للظُهر و العصر فیکون هذا الوقت مشترکاً بین الصلوتین و أن یکون أول المغرب وقتاً للمغرب و العشاء فیکون هذا الوقت مشترکاً ایضاً بین هاتین الصلوتین فهذا یقتضی جواز الجمع بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء مطلقاً'' (۱)

اگر ہم کلمہ غسق کو رات کی تاریکی کے آغاز کے معنی میں تفسیر کریں ( جیسا کہ ابن عباس عطا اور نضر بن شمیل بھی اسی کے قائل ہیں) تو اس وقت غسق سے مغرب کے ابتدائی وقت کی طرف اشارہ ہوگا_ اور اس بناء پر آیت میں تین اوقات ذکر

____________________

۱) تفسیر کبیر فخر رازی ، ج ۲۱، ص ۲۷_


ہوئے ہیں زوال کا وقت_ غروب کا وقت اور فجر کا وقت_ اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ تین اوقات تقاضا کرتے ہیں کہ زوال نماز ظہر و عصر کا مشترکہ اورغروب نماز مغرب و عشاء کا مشترکہ وقت ہو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نماز ظہر اور عصر کو ،اسی طرح نماز مغرب اور عشاء کو بغیر کسی قید وشرط کے اکٹھا پڑھا جاسکتا ہے''

جناب فخر رازی نے یہاںتک تو بالکل صحیح بات بیان کی تھی اور آیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھا اور سمجھایا_ لیکن اس کے بعد کہتے ہیں کہ چونکہ ہمارے پاس دلیل موجود ہے کہ دو نمازوں کے درمیان بغیر عذر و سفر کے جمع کرنا جائز نہیں ہے، اس لیئےم آیت کو عذر کی حالت میں محدود کریںگے_(۱)

موصوف کو یاد دہانی کرانی چاہیے کہ نہ صرف یہ کہ ہمارے پاس آیت کو صرف حال عذر میں محدود کرنے پر دلیل موجود نہیں ہے بلکہ متعدّد روایات موجود ہیں ( جنکی طرف اشارہ ہوچکا ہے ) کہ رسولخدا(ص) نے بغیر عذر اور بغیر سفر کے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھا تا کہ امّت کو سہولت دی جاسکے اور وہ اس رخصت سے بہرہ مند ہوسکیں_

علاوہ بر این آیت کے اطلاق کو کس طرح انتہائی محدود موارد کے ساتھ مختص کیا جاسکتا ہے حالانکہ علم اصول میں یہ بات مسلّم ہے کہ تخصیص اکثر جائز نہیں ہے_

بہرحال آیت نے بالکل وضاحت کے ساتھ نماز کے جو تین اوقات ذکر کیے ہیں اُن سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے_

سابقہ بیان سے ہم مندرجہ ذیل نتائج اخذ کرتے ہیں_

____________________

۱) سابقہ مدرک_


۱_ قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ پانچ نمازوں کی تین اوقات میں بجا آوری کو جائز قرار دیا ہے_

۲_ فریقین کی کتب میں بیان کی جانے والی اسلامی احادیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے کئی مرتبہ دو نمازوں کو اکٹھا پڑھا حالانکہ نہ ہی سفر میں تھے اور نہ ہی کوئی اور عذر تھا_ اور اس کام کو انہوں نے مسلمانوں کے لیئے رخصت شمار کیا تا کہ وہ مشقتسے دوچار نہ ہُوں_

۳_ اگرچہ پانچ اوقات میں نماز پڑھنا فضیلت ہے، لیکن اس فضیلت پر اصرار کرنے اور ترخیص کی راہ میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے بہت سے لوگ بالخصوص جوان نسل اصل نماز سے فرار کر جاتے ہیں _ اور اس بات کی تمام ذمہ داری ترخیص کے مخالفین کے دوش پر آتی ہے_

کم از کم اہلسنت علماء اتنا قبول کرلیں کہ اس مسئلہ میں انکے جوان بھی مکتب اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کے فتوی پر عمل کرلیں جیسا کہ بزرگ عالم دین شیخ الازہر '' جناب شیخ محمد شلتوت'' نے مذہب جعفریہ کے تمام فتاوی پر عمل کرنے کو جائز قرار دیاہے_

آخر میں پھر ہم دوبارہ تاکید کرتے ہیں _ کہ ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ آج کل دنیا میں بہت سے مزدوروں ، ملازمین ، سکول و کا لجز کے طلاب اور دیگر طبقات کے لوگوں کے لیے پانچ اوقات میں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنا بہت مشکل کام ہے_ کیا ہمیں نہیں چاہیئے کہ رسولخدا(ص) کی دی گئی اس سہولتسے استفادہ کریں جو آجکل کے معاشرے کو مد نظر رکھتے ہوئے عنایت کی گئی ہے تا کہ نسل جوان اور دیگر لوگ نماز ترک کرنے کے بہانے نہ بنائیں_

کیا '' سنت '' پر اس حد تک اصرار کرنا صحیح ہے کہ جو '' فریضہ'' کے ترک کرنے کا سبب بنے؟


۸

وضو میں پاؤں کا مسح


قرآن مجید اور پاؤں کا مسح:

وضو میں پاؤں کا مسح ایک اور ایسا اعتراض ہے جسے اہلسنت کے بعض علماء ، شیعوں پر کرتے ہیں _ چونکہ اُن کی اکثریت پاؤں دھونے کو واجب سمجھتی ہیں اور پاؤں کے مسح کو کافی نہیں سمجھتی _

حالانکہ قرآن مجید نے بالکل واضح الفاظ میں پاؤں کے مسح کا حکم دیا ہے_ اس طرح مکتب اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کا عمل قرآن مجید کے بالکل مطابق ہے_ اس کے علاوہ پیغمبر اکرم(ص) کی بہت سی احادیث جن کی تعداد تقریباً تیس (۳۰) سے بھی زیادہ ہے پاؤں کے مسح کو بیان کر رہی ہیں_ اور اس کے علاوہ بہت سے اصحاب اور تابعین ( وہ لوگ جو اصحاب کے بعد والے زمانے میں تھے) کا عمل پاؤں کے مسح کے بارے میں موجود ہے نہ پاؤں دھونے کے بارے میں _

لیکن مقام افسوس ہے کہ بعض مخالفین نے ان تمام ادلّہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے، بغیر کسی غور و فکر کے، ہم پر حملہ کرنا شروع کردیا اور تند و تیز الفاظ کے ذریعے، حق و عدالت سے دُوری اختیار کرتے ہوئے اس مذہب حقہ کے پیروکاروں کی سرزنش شروع کردی ہے_ ابن کثیر ، مذہب اہلسنت کے معروف عالم دین اپنی کتاب '' تفسیر القرآن العظیم'' میں کہتے ہیں:


'' روافض ( ان کا مقصود اہلبیت(ع) کے پیروکار ہیں) نے وضو میں پاؤں دھونے کے مسئلہ میں مخالفت کی ہے اور جہالت و گمراہی کی وجہ سے بغیر کسی دلیل کے مسح کو کافی سمجھ لیا ہے_ حالانکہ قرآن مجید کی آیت سے پاؤں دھونے کا وجوب سمجھا جاتا ہے_ اور رسولخدا(ص) کا عمل بھی آیت کے مطابق تھا_ حقیقت میں اُن کے پاس اپنے نظریہ پر کوئی دلیل نہیں ہے(۱)

بعض دیگر علماء نے بھی اسکی اندھی تقلید کرتے ہوئے اسکی بات کو اخذ کر لیا ہے اور اس مسئلہ پر تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور اپنی دلخواہ نسبت شیعوں کی طرف دی ہے_

شاید وہ اپنے تمام مخاطبین کو عوام تصوّر کر رہے تھے اور انہوں نے یہ نہ سوچا کہ ایک دن محققین انکی باتوں پر تنقید کریں گے اور( انہیں باطل ثابت کریں گے )اس طرح انہیں اسلامی تاریخ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا_

اس وقت ہم سب سے پہلے قرآن مجید کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اس مسئلہ کا فیصلہ دریافت کرتے ہیں_ سورة مائدہ ( کہ جو پیغمبر اکرم(ص) پر نازل ہونے والی سب سے آخری سورت ہے ) کی آیت نمبر ۶ میں یوں ارشاد باری تعالی ہے:

''یا ايّها الذین آمنوا إذا قمتم إلی الصلوة فاغسلوا وُجوهکم و أیدیکم إلی المرافق و اَمسَحُوا برُء وسکم و أرجلکم إلی الکعبین''

اے صاحبان ایمان جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور اپنے سر اور پاؤں کا ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرو''

____________________

۱) تفسیر القرآن العظیم، جلد ۲، ص ۵۱۸_


واضح ہے کہ کلمہ ''ارجلکم'' ( اپنے پاؤں)کا کلمہ '' روسکم'' ( اپنے سر) پر عطف

ہے اور اس وجہ سے دونوں کا مسح کرنا واجب ہے نہ کہ دھونا_ چاہے '' ارجلکم'' کو نصب کے ساتھ پڑھا جائے یا جر کے ساتھ ( غور کیجئے)(۱)

____________________

۱) اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ کلمہ '' ارجلکم'' کے اعراب کے بارے میں دو مشہور قرا تیں ہیں ایک جر کے ساتھ قرا ت کہ جسے بعض مشہور قرّاء جیسے حمزہ ، ابوعمرو، ابن کثیر اور حتی عاصم نے ( ابوبکر کی روایت کے مطابق ) لام کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسری طرف بعض مشہور قرّاء نے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور آجکل قرآن مجید کے تمام رائج نسخوں میں اسی دوسری قرا ت کے مطابق اعراب لگایا گیا ہے_

لیکن دونوں اعراب کے مطابق یقینا معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے_ کیونکہ اگر زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو بالکل واضح ہے کہ ''ارجلکم'' کا '' رؤس'' پر عطف ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وضو میں پاؤں کا مسح کرو (جسطرح سر کا مسح کرتے ہو)اگر شیعہ اس قرا ت کے مطابق عمل کریں کہ جس کے اور بھی بہت سے طرفدار ہیں تو اس میں کیا عیب ہے؟

اور اس سے بڑھ کر اگر فتح ( زبر) کے ساتھ بھی پڑھا جائے پھر بھی ''ارجلکم ''کا عطف ''برو سکم'' کے محل پر ہوگا اور واضح ہے کہ برؤسکم محل کے اعتبار سے منصوب ہے کیونکہ '' و امسحوا'' کا مفعول ہے _ پس دونوں صورتوں میں آیت کا معنی یہی بنے گا کہ پاؤں کا مسح کرو_

ہاں بعض لوگوں نے یوں خیال کیا ہے کہ اگر ''ارجلکم '' کو فتح ( زبر) کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا '' وجوہکم'' پر عطف ہوگایعنی ہاتھ اور منہ کو دھویئےس طرح پاؤں کو دھولیجئے حالانکہ یہ بات ادبیات عرب کے قواعد کے بھی خلاف اور قرآن مجید کی فصاحت کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے_

بہرحال یہ بات ادبیات عرب کے اس لئے خلاف ہے کیونکہ معطوف اور معطوف علیہ کے در میان کبھی اجنبی جملہ واقع نہیں ہوتا ہے_ بلکہ ایک معروف اہلسنت عالم کے بقول محال ہے کہ '' ارجلکم '' کا ''وجوہکم'' پر عطف ہو کیونکہ ہرگز فصیح عربی میں ایسا جملہ نہیں بولا جاتا ہے کہ مثلا کوئی کہے '' ضربتُ زیداً و مررتُ ببکر و عمراً'' کہ ''میں نے زید کو مارا اور بکر کے قریب سے گزرا اور عمر کو'' یعنی عمرو کو بھی مارا ( شرح منیة المصلی ص ۱۶)


بہرحال قرآن مجیدنے پاؤں کے بارے میں مسح کا حکم دیا ہے_

عجیب توجیہات

بعض لوگوں نے جب قرآن مجید کے حکم کو اپنے پہلے سے معین کردہ مفروضہ کے خلاف دیکھا تو توجیہات کرنا شروع کردیں_ ایسی توجیہات کہ جو انسان کو حیران کر دیتی ہیں_ من جملہ:

۱_ یہ آیت سنت پیغمبر (ص) کی وجہ سے اور جو احادیث آپ(ص) سے نقل ہوئی ہیں انکی خاطر منسوخ ہوگئی ہو ابن حزم نے اپنی کتاب '' الاحکام فی اصول الاحکام'' میں لکھا ہے کہ ''چونکہ سنت میں پاؤں دھونے کا حکم آیا ہے اس لیے ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ مسح والا حکم منسوخ ہوگیا ہے''_

جبکہ اولا ً:تمام مفسرین نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ سورہ مائدہ وہ آخری سورہ ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوئی ہے اور اس کی کوئی بھی آیت منسوخ نہیں ہوئی ہے_

حتی کہ عام افراد بھی اس قسم کا جملہ نہیں بولتے ہیں چہ جائیکہ قرآن مجید جو فصاحت کا اکمل و اتم نمونہ ہے اس قسم کا جملہ بیان کرے_

پس جس طرح اہلسنت کے بعض محققین نے کہا ہے کہ بلاشک و شبہہ نصب کی صورت میں کلمہ '' ارجلکم'' کا عطف '' بر ء ؤسکم'' کے محل پر ہوگا اور ہرحال میں آیت کا مفہوم یہی بنے گا کہ وضو کرتے وقت سر اور پاؤں کا مسح کرو_


ثانیاً : جس طرح عنقریب بیان کیا جائیگا کہ جہاں پیغمبر اکرم (ص) سے وضو میں پاؤں دھونے والی روایات نقل ہوئی ہیں اُن کے مقابلے میں آپ(ص) سے ہی متعدد روایات پاؤں کے مسح کے بارے میں بھی نقل ہوئی ہیں کہ آپ(ص) وضو میں پاؤں کا مسح کیا کرتے تھے_

کس طرح ممکن ہے کہ ہم قرآن مجید کے دستور کو اس قسم کی روایات کے ذریعے نسخ کردیں_

علاوہ بر این ،تعارض روایات کے باب میں ثابت کیا گیا ہے کہ جب بھی روایات کے درمیان تضاد ہو تو قرآن مجید سے ان کی مطابقت کرنی چاہیے ، جو روایات قرآن مجید کے مطابق ہوں انہیں قبول کر لینا چاہیے اور جو قرآن مجید کے مخالف ہوں ان پر عمل نہیں کرنا چاہیے_

۲_ دوسرے کچھ افراد جیسے '' جصاص'' نے '' احکام القرآن'' نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ''وضو والی آیت مجمل ہے اور ہم احتیاط پر عمل کرتے ہوئے پاؤں دھو لیتے ہیں تا کہ دھونا بھی صادق آجائے اور مسح بھی''(۱)

حالانکہ سب جانتے ہیں کہ (غَسل) '' دھونا'' اور '' مسح کرنا'' دو مختلف اور متباین مفہوم ہیں اور دھونا ہرگز مسح کو شامل نہیں ہوتا ہے_

لیکن کیاکیا جائے انکی پہلے سےقضاوت انہیں قرآن مجید کے ظہور پر عمل نہیں کرنے دیتی_

____________________

۱) احکام القرآن ، جلد ۲ ، ص ۴۳۴_


۳_ جناب فخر رازی کہتے ہیں کہ حتی اگر '' جرّ'' کے ساتھ بھی قرا ت کی جائے یعنی ''ارجلکم'' کا '' روؤسکم'' پر عطف کیا جائے تو بالکل واضح طور پر یہ پاؤں کے مسح پر دلالت کرتا ہے، لیکن پھر بھی اس کا مقصد پاؤں کا مسح کرنا نہیں ہوگا، بلکہ پاؤں کے مسح سے مُراد یہ ہوگی کہ پاؤں دھوتے وقت پانی استعمال کرنے میں اسراف نہ کرو''(۱)

حالانکہ اگر آیات قرآن میں اس قسم کے اجتہاد اور تفسیر بالرا ی کا دروازہ كُھل جائے تو پھر ظواہر قرآن پر عمل کرنے کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی_ اگر ہمیں اجازت ہو کہ ہم ''مسح'' کو '' دھوتے وقت اسراف نہ کرنے'' کے معنی میں لے لیں تو پھر تمام آیات کے ظواہر کی دوسری طرح تفسیر کی جاسکتی ہے_

نص ّ کے مقابلے میں اجتہاد اور تفسیر بالرا ی:

بہت سے قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ جسطرح ہمارے زمانے میں اجتہاد در مقابل نص ایک قبیح اور غیر قابل قبول امر سمجھا جاتا ہے ، اسلام کے ابتدائی زمانے میں اسطرح نہیں تھا_ با الفاظ دیگر جسطرح آج ہم احادیث پیغمبر(ص) اور آیات قرآن کے مقابلے میں تعبّد اور تسلیم محض رکھتے ہیں_ اُس زمانے میں یہ تعبّد اس شدّت و قوت کے ساتھ نہیں تھا_

مثلا جب حضرت عمر نے اپنے معروف جملے میں یوں کہا کہ ''متعتان کانتا محللتان فی زمن النبی(ص) و ا نا أحرمهما و اعاقب علیهما متعة النساء و متعة الحج'' دو

____________________

۱) تفسیر کشّاف ، جلد ۱ ، ص ۶۱۰_


متعے رسولخدا(ص) کے زمانے میں حلال تھے میں اُن دونوں کو حرام کرتا ہوں اور جو بھی اس حکم کی مخالفت کریگا میں اسے سزا دونگا، ایک متعة النساء اور دوسرا متعہ حج(۱) ( یعنی حج تمتع اپنے خاص احکام کے ساتھ'' تو بہت کم یا اصلاً دیکھنے میں نہیں آیا ہے کہ اصحاب میں سے کسی نے اُن پر تنقید کی ہو اور کہا ہو کہ نص کے مقابلے میں اجتہاد جائز نہیں ہے ( اور وہ بھی اس شدت کے ساتھ ) _

حالانکہ اگر ہمارے زمانے میں کوئی بڑے سے بڑا مسلمان فقیہہ یا دانشمند کہہ دے کہ ''فلان عمل رسولخدا(ص) کے زمانے میں حلال تھا اور میں اسے حرام کر رہا ہوں'' سب اس پر تعجّب کریں گے اور اس کی بات کو فضول اور غیر قابل قبول سمجھیں گے اور جواب میں کہیں گے کہ کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ حرام خدا کو حلال یا حلال خدا کو حرام کر سکے کیونکہ احکام کو منسوخ کرنا یا نص ّکے مقابلے میں اجتہاد کرنا کسی کے لیئے جائز نہیں ہے_

لیکن اسلام کے ابتدائی زمانے میں اسطرح نہیں تھا_ اسی لیے بعض موارد دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جس میں فقہائ، احکام الہی کے مقابلے میں مخالفت کی جرا ت کرتے تھے_

شاید پاؤں پر مسح کے انکار اور اسے دھونے میں تبدیل کرنے کامسئلہ بھی اسی اجتہاد کا شکار ہوا ہوگا_ شاید بعض لوگوں نے سوچا ہوگا کہ پاؤں چونکہ آلودگی کے نزدیک رہتے ہیں بہتر ہے کہ انہیں دھولیا جائے چونکہ ان کے مسح کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

بالخصوص اُس زمانے میں تو بعض لوگ ننگے پاؤں رہتے تھے اور بالکل جوتے نہیں پہنتے تھے اسی وجہ سے آداب احترام مہمان میں سے ایک یہ تھا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت اس کے پاؤں دھلواتے تھے

____________________

۱) اس حدیث کے مصادر ،نکاح موقّت کی بحث میں بیان ہوچکے ہیں_


ہماری اس بات پر گواہ صاحب تفسیر المنارکا کی کلام ہے جسے انہوں آیت وضو کے ذیل میں پاؤں دھونے کے قائل افراد کی توجیہ میں بیان کیا ہے _ وہ کہتے ہیں کہ '' پاؤں پر تر ہاتھ کھینچ دینے سے ، کہ جو اکثر اوقات غبار آلود اور کثیف ہوتے ہیں نہ صرف کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ پاؤں زیادہ کثیف ہوجاتے ہیں اور ہاتھ بھی آلودہ اور کثیف ہو جاتا ہے_

اور اہلسنت کے معروف فقیہ ابن قدامہ ( متوفی ۶۲۰ ھ ق) بعض علماء سے نقل کرتے ہیں کہ پاؤں چونکہ آلودگی کے نزدیک ہیں جبکہ سر اس طرح نہیں ہے لہذا مناسب ہے کہ پاؤں کو دھو لیا جائے اور سر کا مسح کر لیا جائے(۱) اسطرح انہوں نے اپنے اجتہاد اور استحسان کو ظاہر قرآن پر ترجیح دیتے ہوئے مسح کو چھوڑ دیا ہے اور آیت کی غلط توجیہ کردی ہے_

اس گروہ نے شاید اس بات کو بُھلا دیا ہے کہ وضو نظافت اور عبادت دونوں کا مركّب ہے، سر کا مسح کرنا وہ بھی بعض کے فتوی کے مطابق صرف ایک انگلی کے ساتھ ، نظافت کا فائدہ نہیں دیتا ہے اس طرح پاؤں کا مسح بھی_

حقیقت میں سر اور پاؤں کا مسح اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ وضو کرنے والا آدمی سر سے لیکر پاؤں تک اللہ تعالی کا مطیع ہو_ ورنہ نہ تو سر کا مسح نظافت کا موجب بنتا ہے اور نہ ہی پاؤں کا مسح_

بہرحال ہم اللہ تعالی کے فرمان کے تابع ہیں اور ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ اپنی قاصر عقول کے ساتھ احکام الہی میں تبدیلیاں کریں_ جس وقت قرآن مجید نے پیغمبر(ص) پر نازل ہونے والی آخری سو رت میں حکم دے دیا ہے کہ اپنے ہاتھ اور منہ کو دھولو اور سر اور پاؤں کا مسح کرلو تو

____________________

۱)المغنی ابن قدامہ ، جلد ۱ ، ۱۱۷_


ہمیں اپنی ناقص عقلوں کے ذریعے فلسفہ چینی کر کے اس حکم کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے اور اپنی مخالفتوں کی توجیہ کے لیے کلام خدا کی نامعقول توجیہات نہیں کرنی چاہئیں_

تفسیر بالرا ی اور نص ّکے مقابلے میں اجتہاد دو ایسی عظیم مصیبتیں ہیں جنہوں نے بعض مقامات میں فقہ ا سلامی کے چہرے کو مخدوش کردیا ہے_

جوتوں پر مسح کرنا

واقعاً یہ عجیب بات کہ جس نے ہر غیر جانبدار محقق کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ یہی برادران کہ جو وضو میں پاؤں پر مسح کے جائز نہ ہونے پر اتنا اصرار کرتے ہیں اور پاؤں دھونے کو واجب سمجھتے ہیں _ اکثر وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ پاؤں دھونے کی بجائے جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے وہ بھی مجبوری کے عالم میں نہیں بلکہ اختیار کی حالت میں اور صرف سفر میں نہیں بلکہ حضر میں بھی اور ہر حال میں جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے_

واقعاً انسان اس قسم کے احکام پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ پاؤں کا دھونا واجب تھا اور یا پھر جوتوں کے اوپرسے مسح جائز ہوگیا ہے

البتہ ایک گروہ کہ جو فقہ اہلسنت کی نظر میں اقليّت شمار ہوتے ہیں جوتوں پر مسح کو جائز نہیں سمجھتے ہیں جیسے حضرت علی ابن ابی طالب _ ، جناب ابن عباس اور امام مالک کہ جو اہلسنت کے ایک امام ہیں ( انکے فتوی کے مطابق جوتوں پر مسح جائز نہیں ہے)_

دلچسپ یہ ہے کہ حضرت عائشےہ، کہ اہلسنت برادران جنکے فتاوی اور روایات کے لیے خاص اہمیت کے قائل ہیں، ایک مشہور حدیث میں فرماتی ہیں کہ ''لئن تقطع قدمایی أحبّ إليّ من أن أمسح علی الخفّین''اگر میرے دنوں پاؤں کاٹ دیے جائیں میرےلیے


اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں ( وضو میں ) جوتوں پر مسح کروں''(۱)

جبکہ وہ دن رات پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ تھیں اور آپ(ص) کا وضو دیکھ چکی تھیں_

بہرحال اگر یہ برادران اہل بیت رسولکی احادیث کی پیروی کرتے کہ جو ظاہر قرآن کے مطابق ہیں تو کبھی بھی پاؤں کے مسح کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہ کرتے_

پیغمبر اکرم(ص) ، نے معتبر اور صحیح حدیث میں فرمایا کہ '' میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں ایک کتاب خدا اور دوسری میری عترت اور اہلبیت کہ اگر ان دونوں سے تمسک کروگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے_

امام محمد باقر _ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں میں ، میں کسی سے تقيّہ نہیں کرتا ہوں ۱_ مسکرات کے نہ پینے میں ( چونکہ بعض فقہاء نبیذ کو جائز سمجھتے تھے) ۲_ جوتوں پر مسح والے مسئلہ میں اور ۳_ حج تمتع میں _ ''ثلاثةٌ لا أتّقی فیهنّ أحداً شُربُ المُسکر و مسحٌ الخُفّین و مُتعة الحجّ'' (۲)

پاؤں پر مسح اور احادیث اسلامی :

امامیہ فقہاء اس بات پر متّفق ہیں کہ وضو میں پاؤں کے مسح کے علاوہ کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے_ اور اس مسئلہ میں اہلبیت کے واسطہ سے منقول روایات بھی بالکل واضح ہیں_

آپ نے امام باقر _ سے نقل کی گئی مذکورہ بالا روایت کو ملاحظہ فرمایا کہ جو بالکل واضح ہے، اسی قسم کی اور بہت سی روایات موجود ہیں_

____________________

۱) مبسوط سرخسی ، جلد ۱، ص ۹۸_

۲) کافی ، جلد ۳، ص ۳۲_


لیکن جو احادیث اہلسنت کی کتب میں بیان ہوئی ہیں وہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر اختلاف رکھتی ہیں_ دسیوں احادیث پاؤں پر مسح کی طرف اشارہ یا اسے بیان کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) سر کے مسح کے بعد پاؤں پر مسح کرتے تھے، جبکہ بعض دوسری احادیث میں پاؤں دھونے کو پیغمبر (ص) کی طرف نسبت دی گئی ہے_ اور بعض میں جوتوں پر مسح کرنے کی نسبت دی گئی ہے

احادیث کی پہلی قسم کہ جو صرف مسح کا حکم دیتی ہیں اہل سنت کی معروف کتب میں موجود ہیں جیسے:

۱_ صحیح بخاری

۲_ مسند احمد

۳_ سنن ابن ماجہ

۴_ مستدر ک حاکم

۵_ تفسیر طبری

۶_ درّ المنثور

۷_کنزل العمال

و غیرہ کہ ان کتب کا معتبر ہونا اہلسنت کے نزدیک مسلم ہے_

اور ان روایات کے راوی بھی مشہور اصحاب میں سے ہیں_ جیسے:

۱_ امیرالمؤمنین علی (ع)

۲_ جناب ابن عباس

۳_ انس بن مالک ( پیغمبر اکرم(ص) کے مخصوص خادم)

۴_ جناب عثمان بن عفّان

۵_ بسر بن سعید

۶_ رفاعہ

۷_ ابوظبیان و غیرہ

ہم یہاں ان روایات میں سے صرف پانچ کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں_


ہمیں تعجب تو آلوسی جیسے مشہور مفسّر کی بات پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ پاؤں پر مسح کے بارے میں صرف ایک روایت ہے جو شیعوں کے لیے ثبوت بن گئی ہے(۱)

۱_عن عليّ ابن ابی طالب (ع) قال: کنتُ أری أن باطنَ القَدَمَین أحقّ بالمسح من ظاهر هما حتيّ رأیتُ رسولُ الله (ص) یمسح ظاهرَهُما:

'' امیرالمؤمنین علی _ فرماتے ہیں کہ میں خیال کرتا تھا کہ پاؤں کے تلولے ان کی پُشت کی نسبت مسح کرنے کے زیادہ سزاوار ہیں یہانتک کہ میں نے رسولخدا(ص) کو دیکھا کہ پاؤں کی پشت پر مسح کرتے ہیں''(۲)

۲_عن ابی مطر قال: بینما نحن جلوس مع علی _ فی المسجد، جاء رجلٌ إلی عليّ ّ _ و

قال: أرنی وضوء رسول الله (ص) فدعا قنبر فقال أتیتنی بکوز من مائ، فغسل یده و وجههه ثلاثاً فأدخَل بعض أصابعة فی فیه و استنشق ثلاثاً و غسل ذارعیه ثلاثاً و مسحَ رأسه واحدة ____ و رجلیه إلی الکعبین'' (۳)

____________________

۱) روح المعانی ، جلد ۶، ۸۷_

۲) مسند احمد جلد ۱ ص ۱۲۴_

۳) کنز العمال، جلد ۹، ص ۴۴۸_


ابی مطر کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ حضرت علی (ع) کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور آپ(ع) کی خدمت میں عرض کرنے لگا کہ مجھے رسولخدا(ص) جیسا وضو کرکے دکھا یئےآپ(ع) نے قنبر کو آواز دی اور فرمایا کہ پانی کا ایک برتن لے آؤ، اس کے بعد آپ(ع) نے ہاتھ اور منہ کو تین مرتبہ دھویا _ انگلی کے ذریعے دانت صاف کیے اور تین مرتبہ استنشاق کیا ( ناک میں پانی ڈالا) اور پھر ( چہرے ) اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور ایک مرتبہ سر کا مسح اور ایک مرتبہ اُبھری ہوئی جگہ تک پاؤں کا مسح کیا''

اگرچہ دونوں حدیثیں امیرالمؤمنین علی _ کے توسط سے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ہوئی ہیں لیکن دو مختلف واقعات کو حکایت کرتی ہیں _ اور ان میں قدر مشترک یہ ہے کہ رسولخدا(ص) وضو کے دوران پاؤں پر مسح کیا کرتے تھے_

۳: عن بسربن سعید قال: أتی عثمان المقاعد فدعا بوضوء فتمضض و استنشق ، ثم غسل وجهه ثلاثاً و یدیه ثلاثاً ثلاثاً ثم مسح برأسه و رجلیه ثلاثاً ثلاثاً ، ثم قال : رأیتُ رسول الله هکذا توضّأ، یا هؤلائ أکذلک ؟ قالوا: نعم لنفر من أصحاب رسول الله (ص) عنده:(۱)

بسر بن سعید نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بیٹھک میں ( جہاں لوگ مل بیٹھتے ہیں) آئے اور وضو کے لیے پانی مانگا اور کلّی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اس کے بعد

____________________

۱) مسند احمد، جلد ۱ ، ص ۶۷_


چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں ہاتھوں کو بھی تین تین مرتبہ دھویا اور سر اور پاؤں کا تین مرتبہ مسح کیا، اس کے بعد کہنے لگے میں نے پیغمبر اکرم(ص) کو دیکھا ہے کہ اس طرح وضو فرماتے تھے ( اس کے بعد حاضرین محفل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جواصحاب رسول تھے ) اے لوگو کیا اسی طرح ہے ؟ سب نے کہا جی ہاں''

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف حضرت عثمان بلکہ دیگر اصحاب بھی صراحت کے ساتھ گواہی دیتے تھے کہ پیغمبر اکرم(ص) وضو کے وقت پاؤں پر مسح کیا کرتے تھے ( اگرچہ اس روایت میں سر اور پاؤں کا مسح تین مرتبہ ذکر کیا گیا ہے _ممکن ہے بعض اصحاب کی نظر میں یہ مستحب ہو یا راوی کا اشتباہ ہو)

۴:عن رفاعة بن رافع أنه، سمع رسول الله (ص) یقول: أنّه لا تتمّ صلوة لأجد حتی یسبغ الوضوئ، کما أمره الله عز وجلّ یغسل وجهه و یدیه إلی المرفقین و یمسح برأسه و رجلیه إلی الکعبین;

رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے رسولخدا(ص) سے سُنا فرما رہے تھے تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک اس طرح وضو نہ کرے جسطرح اللہ تعالی نے حکم دیا ہے: کہ چہرے کو اور ہاتھوں کوکہنیوں تک دھوئے اور سرکا اور پاؤں کا اُبھری ہوئی جگہ تک مسح کرے ''(۱)

____________________

۱) سنن ابن ماجہ ، جلد ۱ ، ص ۱۵۶_


۵:عن ابی مالک الاشعری أنّه قال لقومه : اجتمعوا اصلّی بکم صلوة رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم فلمّا اجتمعوا قال : هل فیکم أحد من غیرکم؟ قالوا لا الّا ابن أخت لنا، قال : ابن أخت القوم منهم ، فدعا بجفنة فیها ماء فتوضّا و مضمض و استنشق و غسل وجهه ثلاثاً و ذراعیه ثلاثا ثلاثاً و مسح برأسه و ظهر قدمیه ثم صلّی بهم ،(۱)

ابومالک اشعری سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ جمع ہو جاؤ تا کہ میں تمہارے سامنے رسولخدا(ص) جیسی نماز پڑھوں_ جب سب جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا تمہارے درمیان کوئی غیر تو نہیں ہے؟ سب نے کہا نہیں صرف ایک ہمارا بھانجا ہے ( کہ ہماری اس بہن کی شادی دوسرے قبیلے میں ہوئی تھی) کہنے لگے ، کوئی بات نہیں _بھانجا بھی قبیلہ کا فرد ہوتا ہے ( اس عبادت سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور کی حکومت کی طرف سے _ بعض سیاسی مسائل کی وجہ سے _ رسولخدا(ص) کی نماز یا وضو کی وضاحت کرنا ممنوع تھا) اس کے بعد انہوں نے پانی کا برتن مانگا اور اس طرح

وضو کیا_ کلّی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اسی طرح ہاتھوں اور بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا اس کے بعدسرکا اور پاؤں کی پشت کا مسح کیا اس کے بعد اپنے قبیلہ کے ساتھ نماز پڑھی''_

____________________

۱) مسند احمد، جلد ۵ ، ص ۳۴۲_


مندرجہ بالا نقل ہونے والی روایات، اُن روایات کا مختصر سا حصہ ہیں جو اہلسنت کی معروف کتب میں مشہور راویوں کے توسط سے نقل ہوئی ہیں_ لہذا جو لوگ کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی روایت نقل نہیں ہوئی یا صرف ایک روایت نقل ہوئی ہے وہ ناآگاہ اور متعصّب قسم کے لوگ ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ شاید حقائق سے چشم پوشی کرنے یا ان کا انکار کرنے کی وجہ سے انہیں ختم کیا جاسکتا ہے_

یہ وہی لوگ ہیں جو سورہ مائدہ کی آیت کے مسح کے وجوب پر دلالت کرنے سے انکار کرتے ہیں اور حتی کہ کہتے ہیں کہ یہ آیت صراحت کے ساتھ پاؤں دھونے پر دلالت کرتی ہے جس کی وضاحت سابقہ صفحات پر گذر چکی ہے_

مخالف روایات:

ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ سابقہ روایات کے مقابلے میں دو قسم کی دوسری روایات بھی اہلسنت کی معروف کتب میں نقل ہوئی ہیں_

ان میں سے ایک گروہ وہ روایات ہیں جو کہتی ہیں کہ رسولخدا(ص) وضو کے وقت پاؤں دھوتے تھے_ اور دوسرا گروہ ان روایات کا ہے جو کہتی ہیں کہ آپ(ص) وضو کے وقت نہ پاؤں کو دھوتے تھے اور نہ مسح کرتے تھے بلکہ جوتوں پر مسح کرتے تھے

ایسے وقت میں ہمیں علم اصول کے مسلّم قاعدہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اگر ایک مسئلہ کے بارے میں روایات کے دو گروہ آپس میں متضاد اور متعارض ہوں تو سب سے پہلے دلالت کے لحاظ سے جمع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یعنی ان روایات کی اس طرح تفسیر کرنی چاہیے کہ تضاد ختم ہوجائے اور روایات آپس میں جمع ہوجائیں ( البتہ یہ تفسیر اور جمع ،عرفی فہم


کے معیاروں کے مطابق ہونی چاہیے)_

اور اگر یہ جمع دلالی ممکن نہ ہو تو پھر روایات کی قرآن مجید کے ساتھ تطبیق کرنا چاہیے_ یعنی دیکھنا چاہیے کہ کونسی روایت قرآن مجید کے مطابق ہے اسے اخذ کرنا چاہیے اور دوسری روایت کو ترک کرنا چاہیے_ یہ ایسا قانون ہے جو معتبر ادلّہ کے ذریعے ثابت ہے_

اب اس قاعدہ کے مطابق ان دو قسم کی( مسح اور دھونے والی ) روایات کے درمیان جمع یوں کیا جاسکتا ہے کہ رسولخدا(ص) وضو کے دوران مسح والے حکم پر عمل کرتے تھے اور بعد میں نظافت کے لیے کبھی پاؤں کودھولیا کرتے تھے اور یہ دھونا وضوکا حصّہ نہیں تھا_ بعض راوی جو اس منظر کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے خیال کرتے کہ یہ پاؤں دھونا، وضو کا جزء ہے_

اتفاق سے شیعوں میں بھی بہت سے افراد اکثر یہی کام کرتے ہیں یعنی وضو میں مسح والے فریضےپر عمل کرنے کے بعد صفائی کی خاطر اپنے دونوں پاؤں کو اچھی طرح دھولیتے ہیں_

اور اس زمانے میں اس کام کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی تھی کیونکہ گرمی کی وجہ سے کھلے جوتے پہنے جاتے تھے نہ کہ بند جوتے، اور کھلے جوتے میں پاؤں جلدی آلودہ ہوتے ہیں_

بہرحال پاؤں کا مسح ایک واجبی فریضہ تھا جو عام طور پر دھوئے جانے والے پاؤں سے جُدا تھا_

یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ بعض فقہاء کو نص ّ کے مقابلہ میں اجتہاد نے اُکسایا ہوکہ مسح کے مقابلے میں پاؤں دھونے کا فتوی دیں کیونکہ انہوں نے سوچا ہوگا کہ پاؤں کی آلودگی صرف دھونے سے ہی دور ہوسکتی ہے_ اس لیے انہوں نے سورہ مائدہ کے ظہور کو ترک کردیا جو واضح طور پر مسح کا حکم دیتا ہے جیسا کہ علمائے اہلسنت کے بعض کلمات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہتر یہ ہے کہ آلودگی کو دور کرنے کیلئے پاؤں کو دھولیا جائے اور مسح کافی نہیں ہے_


سہل اور آسان شریعت:

یقیناً اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو روئے زمین کے تمام علاقوں اور تمام زمانوں کے لیئے ہے_ اس کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر آسان اور سہل شریعت ہے _ ذرا سوچئے دن رات میں پانچ مرتبہ پاؤں کو دھونا، دنیا کے مختلف علاقوں میں کتنی مشکلات ایجاد کریگا_ اس سختی کی وجہ سے ممکن ہے بعض لوگ وضو اور نماز سے بیزار ہوجائیں_

اور یہ نص ّ کے مقابلے میں اجتہاد اور مسح کی روایات کو چھوڑنے کا نتیجہ ہے_

یہ احتمال بھی منتفی نہیں ہے کہ پاؤں دھونے کی بعض احادیث (نہ ساری احادیث ) بنواميّہ کے دور میں کہ جب احادیث گھڑنے کا بازار گرم تھا اور معاویہ جعلی احادیث گھڑنے کے لیے بہت سی رقم خرچ کرتا تھا، جعل کی گئی ہوں_ کیونکہ سب لوگ جانتے تھے کہ حضرت علی (ع) ، وضو میں پاؤں کے مسح کے قائل ہیں اور معاویہ کا اصرار تھا کہ ہرچیزمیں علی (ع) کی مخالفت کی جائے اور برعکس عمل کیا جائے_ مندرجہ ذیل دو احادیث پر غور کیجئے_

۱_ صحیح مسلم میں بیان ہوا ہے کہ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا کہ امیرالمومنین علی (ع) پر سب و شتم کرے اور لعنت کرے( کیونکہ سعد بن ابی وقاص سختی کے ساتھ اس کام سے پرہیز کرتے تھے) سعد نے کہا میں نے رسولخدا(ص) کی زبان سے تین فضیلتیں علی (ع) کے بارے میں ایسی سنی ہیں جنہیں میں کبھی نہیں بُھلا سکتا ہوں ، اے کاش اُن میں سے ایک فضیلت میرے لیے بھی ہوتی تو میں اسے عظیم ثروت پر ترجیح دیتا_ اس کے بعد انہوں نے جنگ تبوک کا واقعہ اور ''اما ترضی أن تکون لی بمنزلة هارون من موسی '' کا جملہ نقل کیا_ اسی طرح جنگ خیبر کاواقعہ اور حضرت علی (ع) کی شان میں رسولخدا(ص) کا مشہور جملہ جو آپ(ص) نے حضرت علی (ع) کے بارے


میں فرمایا تھااور واقعہ مباہلہ کونقل کیا_(۱)

اس حدیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ معاویہ ، امیرالمؤمنین علی _ کی مخالفت پر کتنا اصرار کرتا تھا_

۲: بہت سی روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں دو گروہوں نے جعل حدیث کا سلسلہ شروع کیا تھا_

ایک گروہ_ بظاہر صالح اور زاہد ( مگر سادہ لوح) افراد پر مشتمل تھا جو قصد قربت کے ساتھ احادیث گھڑتا تھا_ ان میں سے بعض ایسے دیندار لوگ تھے جو لوگوں میں تلاوت قرآن کی رغبت ایجاد کرنے کے لیے اس کی سورتوں کے فضائل کے بارے میں عجیب و غریب احادیث بناتے تھے اور پیغمبر اکرم(ص) کی طرف نسبت دیتے تھے اور مقام افسوس یہ ہے کہ ان کی تعداد بھی کم نہیں تھی

اہلسنت کے معروف عالم جناب قرطبی اپنی کتاب تذکار کے ( ص ۱۵۵) پر لکھتے ہیں: کہ ان احادیث کا کوئی اعتبار نہیں جنہیں جھوٹی احادیث گھڑنے والوں نے قرآن مجید کی سورتوں کے فضائل کے بارے میں جعل کیا ہے_ کیونکہ یہ کام ایک بڑی جماعت نے قرآن کی سورتوں کے فضائل میں بلکہ تمام اعمال کے بارے میں انجام دیا ہے انہوں نے قصد قربت کے ساتھ احادیث گھڑی ہیں _وہ خیال کرتے تھے کہ اس انداز میں لوگوں کو نیک اعمال کی طرف دعوت دیتے ہیں ( وہ لوگ جھوٹ کو جو کہ ایک بدترین گناہ ہے زہد و فقاہت کے ساتھ بالکل مُنافی نہیں سمجھتے تھے)

____________________

۱) صحیح مسلم ، جلد ۷، ص ۱۲۰_


یہی دانشمند ( قرطبی) اپنی کتاب کے بعد والے صفحہ پر خود '' حاکم'' سے اور بعض شیوخ محدّثین سے نقل کرتے ہیں کہ ایک زاہد نے اپنی طرف سے قربة الی اللہ قرآن مجید اور اس کی سورتوں کے فضائل کے بارے میں احادیث جعل کیں جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ کام تم نے کیوں کیا ہے؟ تو کہنے لگے میں نے دیکھا ہے کہ لوگ قرآن مجید کی طرف کم توجہ کرتے ہیں انہیں رغبت دلانے کے لیئے میں نے یہ کام کیا ہے_ اور جب ان کو کہا گیا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے خود فرمایا ہے کہ ''من کذّب عليّ فلیتبوء مقعده من النّار '' جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے_ تو جواب میں کہنے لگے پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے کہ '' من کذب عليّ ...'' جس نے میرے خلاف جھوٹ بولا_ اور میں نے تو آپ(ص) کے فائدے میں جھوٹ بولا ہے

اس قسم کی احادیث نقل کرنے میں قرطبی تنہا نہیں ہیں بلکہ اہلسنت کے بعض دیگر علماء نے بھی انہیں نقل کیا ہے ( مزید وضاحت کے لیے کتاب '' الغدیر'' کی پانچویں جلد میں ''کذّابین اور وضّاعین'' کی بحث کیطرف رجوع کیجئے) _

دوسرا گروہ: ان لوگوں کا تھا جو بھاری رقم لے کر معاویہ اور بنو امیہ کے حق اور امیرالمؤمنین(ع) کی مذمت میں احادیث گھڑتے تھے_ ان میں سے ایک سمرة ابن جندب تھا جس نے چار لاکھ درہم معاویہ سے لیے اور یہ حدیث امیرالمؤمنین (ع) کی مذمت اور انکے قاتل کی شان میں گھڑی اور کہا کہ یہ آیت شریفہ''( و من الناس من یشری نفسه ، ابتغاء مرضات الله ) ''(۱) علی (ع) کے قاتل عبدالرحمن ابن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے_

____________________

۱) سورہ بقرة آیت ۲۰۷_


اور یہ آیت ''و من الناس من يُعجبک قوله فی الحیاة الدنیا ...''(۱) علی(ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے_(۲)

نعوذ بالله من هذه الاکاذیب_

اس بناء پر تعجب نہیں ہے کہ علی _ کی مخالفت میں کچھ روایات وضو میں پاؤں دھونے کے لیئے جعل کردی گئی ہوں_

جوتوں پر مسح، عقل و شرع کے ترازو میں :

جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ جو لوگ پاؤں پر مسح کے مسئلہ کی شدّت کے ساتھ نفی کرتے ہیں اور پاؤں دھونے کو واجب سمجھتے ہیں_ وہی لوگ اجازت دیتے ہیں کہ وضو میں جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے اور دلیل کے طورپر پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ہونے والی بعض روایات کو پیش کرتے ہیں حالانکہ اہلبیت کے توسط سے نقل ہونے والی احادیث عموماً اس بات کی نفی کرتی ہیں اور خود اہلسنت کے واسطہ سے نقل ہونے والی متعدد معتبر احادیث صریحاً اس کے خلاف ہیں_

اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ احادیث اہل بیت (ع)کی پیروی کرتے ہوئے شیعہ فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جوتوں پر مسح کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے_ لیکن بہت سے اہلسنت فقہاء نے اس کام کو سفر اور حضر میں بطور مطلق جائز قرار دیا ہے اگرچہ بعض علماء نے اسےضرورت کے مقامات میں منحصر کیا ہے_

____________________

۱) سورة بقرة آیة ۲۰۴_

۲)ابن ابی الحدید معتزلی طبق نقل منتهی المقال شرح حال ''سمرة '' _


یہاں پر چند سوالات سامنے آتے ہیں ، من جملہ:

۱_ پاؤں پر مسح کرنا تو جائز نہیںتھا کسی طرح جوتوں پر مسح کرنا جائز ہوگیا ہے حالانکہ جب پاؤں دھونے کی بات آتی تھی تو دلیل یہی تھی کہ پاؤں چونکہ آلودہ ہوتے ہیں اس لیے انہیں دھونا بہتر اور مسح کرنا کافی نہیں ہے_

کیا آلودہ جوتوں پر مسح کر لینا پاؤں دھونے کا قائم مقام بن سکتا ہے_

جبکہ بہت سے علماء اہلسنت اس بات کے قائل ہیں کہ پاؤں دھونے اور جوتوں پر مسح کرنے میں اختیار ہے_

۲: کیوں علماء نے قرآن مجید کے ظہور کو ترک کردیا ہے جس میں سر اور پاؤں کے مسح کا حکم تھا اور جوتوں پر مسح کو ترجیح دی ہے؟

۳: کیوں علمائے اہلسنت، روایات اہلبیت(ع) سے چشم پوشی کرتے ہیں جس میں بالاتفاق جوتوں پر مسح کرنے سے منع کیا گیا ہے _ اور پیغمبر اکرم(ص) نے اہلبیت (ع) کو ہی قرآن مجید کے ساتھ باعث نجات شمار کیا ہے؟

۴: درست ہے (برادران کی کتب میں )بعض روایات نقل ہوئی ہیں جن میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے جوتوں پر مسح کیا ہے لیکن اس کے مقابلے میں دیگر معتبر ورایات بھی موجود ہیں جن میں ذکر کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) پاؤں پر مسح کیا کرتے تھے_ روایات کے تعارض اور تضاد کے وقت کیوں علمائے اہلسنت قرآن مجید کی طرف رجوع نہیں کرتے اور روایات کے اختلاف کے حل کیلئے اسے حاکم قرار دیتے ہوئے اسے اپنا مرجع قرار نہیں دیتے ہیں_

اس مسئلہ میں ہم جتنا زیادہ غور و فکر کرتے ہیں ہمارے تعجب میں اضافہ ہوتا ہے_


کتاب '' الفقہ علی المذاہب الاربعہ'' میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ ضرورت اور اضطرار کے وقت جوتوں پر مسح کرنا واجب اور بغیر ضرورت کے جائز ہے اگرچہ پاؤں کا دھونا افضل ہے_

اس کے بعد '' حنابلہ'' سے نقل کیا گیا ہے کہ جوتوں پر مسح کرنا اُن کو باہر نکالنے اور پاؤںدھونے سے افضل ہے_ کیونکہ اس میں رخصت کا اخذ کرنا اور نعمت کا شکر بجا لانا ہے_ امام ابوحنیفہ کے بعض پیروکاروں نے بھی اس بات کی تائید کی ہے_(۱)

اس کے بعد اسی کتاب میں دعوی کیا گیا ہے کہ جوتوں پر مسح کرنا بہت سی روایات کے ذریعہ ثابت ہے جو تواتر کے قریب ہیں_(۲)

قابل توجہ یہ ہے کہ اس کتاب میں جوتوں کے بارے میں مفصّل بحث کی گئی ہے کہ ایسے جوتوں کی شرائط کیا ہیں، مسح کی مقدار کیا ہے، مسح کی مدت کتنی ہے ( یعنی کتنے دن تک لگاتار جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے) جوتوں پر مسح کرنے کے مستحبّات ، مکروہات اور مُبطلات کیا ہیں_ اس طرح اگر ایک جوتے پر دوسرا جوتا پہنا ہو اس کا کیا حکم ہے، جوتے کی جنس کیا ہونی چاہیے کیا ضروری ہے کہ جوتا حتماً چمڑے کا ہو یا اگر چمڑے کے علاوہ کسی اور چیز سے بنایا گیا ہو تو کافی ہے_

اسی طرح شگاف دار جوتوں اور بے شگاف جوتوں کا کیا حکم ہے؟ الغرض اس کتاب میں بہتمفصّل گفتگو انہی جوتوں کے بارے میں کی گئی ہے_(۳)

____________________

۱) الفقہ علی المذاہب الاربعہ، جلد ۱ ، ص ۱۳۵_

۲) ایضاً، ص ۱۳۶_

۳) ایضاً، از ص ۱۳۵ تا ص ۱۴۷_


۵: علماء اہلسنت کیوں جوتے پر مسح والی روایات کو ضرورت ، سفر اور جنگ کے موارد اور جہاں جوتوں کا اتارنا ممکن نہیں یا بہت ہی مشکل ہے، حمل نہیں کرتے یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب نہیں ہے اور صرف پہلے ہی سےقضاوت کرلینا اس سادہ سے مسئلہ میں شور و غل کا باعث بنا ہے _

میں نے خود جدّہ ائیر پورٹ پر مشاہدہ کیا کہ برادران اہلسنت میں سے ایک آدمی وضو کے لیے آیا اس نے وضو کے دوران اچھی طرح اپنے پاؤں کو دھویا_ اس کے بعد دوسرا شخص آیا اس نے ہاتھ ، منہ دھونے کے بعد جوتوں پر ہاتھ پھیر لیا اور نماز کے لیے چلا گیا میں حیرت میں ڈوب گیا اور سوچنے لگا کہ کیا ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) جیسے حکیم کی طرف سے ایسا حکم دیا گیا ہو جس کی توجیہ ممکن نہیں ہے_

ان سوالات کے بعد ضروری ہے کہ ہم اس مسئلہ کے اصلی مدارک کی تلاش میں جائیں_ اور روایات کے درمیان سے اس فتوی کے اصلی نکتہ اور اسی طرح ایک عقلی راہ حل کو تلاش کریں_

روایات چند اقسام پر مشتمل ہیں:

الف) جو روایات اہلبیتکے منابع میں نقل ہوئی ہیں وہ عام طور پر بلکہ بالاتفاق جوتے پر مسح کرنے سے منع کرتی ہیں_ مثال کے طور پر :

۱_ شیخ طوسی نے ابوالورد سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر _ کی خدمت میں عرض کیا کہ ابوظبیان نقل کرتا ہے کہ میں نے حضرت علی _ کو دیکھا کہ انہوں نے پانی پھینک دیا اور جوتوں پر مسح کرلیا_ آپ(ع) نے فرمایا ابوظبیان جھوٹ بولتا ہے_


'' أما بلغکم قول عليّ (ع) فیکم : سبق الکتابُ الخُفّین؟ فقلتُ : هل فیهما رُخصةٌ؟ فقال إلا من عَدُوّ تقيّةً اُو ثُلج: تخاف علی رجلیک'' (۱)

کیا تم نے نہیں سُناہے کہ علی _ نے فرمایا ہے کتاب خدا ( سورة مائدہ کی آیت جو پاؤں کے مسح کا حکم دیتی ہے) جوتوں پر مسح کرنے والے حکم پر مقدم ہے میں نے عرض کی کیا جوتوں پر مسح کرنے کے بارے میں کوئی رخصت ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ دشمن کے خوف سے تقيّہ کرنا مقصود ہو یا برف باری کی وجہ سے تمہارے پاؤں کو خطرہ ہو_

اس حدیث سے چند نکات کا استفادہ ہوتا ہے_

اولاً: حالانکہ اہلسنت کی روایات میں مشہور یہ ہے کہ حضر ت علی (ع) جوتے پر مسح کو جائز نہیں سمجھتے تھے_ پھر کس طرح ابوظبیان و غیرہ نے جرا ت کی ہے کہ آپ(ع) کی طرف جھوٹی نسبت دیں، کیا یہ کوئی سازش تھی؟ اس سوال کا جواب ہم بعد میں دیں گے_

ثانیاً: حضرت علی (ع) نے راستہ دکھایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید ہر چیز پر مقدم ہے، کوئی چیز قرآن مجید پر مقدم نہیں ہوسکتی ہے_ اگر کوئی روایت ظاہری طور پر قرآن مجید کے خلاف ہو تو اس کی توجیہ و تفسیر کرنی چاہیے_

بالخصوص اگر کوئی روایت سورة مائدہ ( وہ سورة جس میں وضو کا حکم بیان ہوا ہے) کے خلاف ہو کہ اس کی کوئی بھی آیت نسخ نہیں ہوئی ہے_

____________________

۱)تہذیب الاحکام، جلد ۱، حدیث ۱۰۹۲_


ثالثاً: امام محمد باقر _ نے بھی رہنمائی کی ہے کہ اگر جوتوں پر مسح کے بارے میں کوئی روایت وارد ہوئی ہو تو اسے ضرورت و اضطرار ، جیسے شدید سردی کہ جسکی وجہ سے پاؤں کو خطرہ ہو، پر حمل کیا جائیگا_

۲: مرحوم شیخ صدوق نے '' من لا یحضرہ الفقیہ'' میں ایک حدیث میں امیرالمؤمنین (ع) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا :

'' إنّا اهلُ بیت: لا نمسح علی الخفّین فمن کان من شیعتنا فلیقتد بنا وليَستنَّ بُسنتنا'' (۱)

کہ ہم خاندان اہلبیت جوتے پر مسح نہیں کرتے ہیں پس جو بھی ہمارا پیروکار ہے ہماری اقتداکرے اور ہماری سنت کے مطابق عمل کرے_

۳: ایک حدیث میں امام جعفر صادق _ سے عجیب تعبیر نقل ہوئی ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:

'' مَن مَسح علی الخفّین فقد خالف الله و رؤسولَه و کتابَهُ و وضوئه لم یتمّ و صلاتُه غیرُ مُجزیة'' (۲)

جس نے جوتے پر مسح کیا، اس نے خدا، رسول(ص) اور قرآن مجید کی مخالفت کی، اس کا وضو درست نہیں ہے اور اس کی نماز کفایت کرنے والی نہیں _

حضرت علی _ سے جو روایت جوتوں پر مسح کی ممنوعيّت کے بارے میں نقل ہوئی ہے،

____________________

۱) من لا یحضرہ الفقیہ ، جلد ۴، ص ۴۱۵_

۲) وسائل الشیعہ ، جلد ۱، ص ۲۷۹_


ہمیں جناب فخر رازی کی اُس بات کی یاد دلاتی ہے جو انہوں نے بسم اللہ کے جہر و اخفاء والے مسئلہ میں بیان کی ہے_ بسم اللہ کے بارے میں کچھ لوگ قائل تھے کہ اس کا آہستہ پڑھنا واجب ہے جبکہ حضرت علی _ بسم اللہ کو بالجہر پڑھنا ضروری سمجھتے تھے تو اس پر جناب فخر رازی کہتے ہیں کہ:

'' من اتخذّ عليّا إماماً لدینه قد استمسک بالعروة الوثقی فی دینه و نفسه'' (۱)

جس نے دین میں حضرت علی (ع) کو اپنا پیشوا بنایا تو وہ اپنے دین اور نفس میں عروة وثقی (مضبوط سہارے) سے متمسک ہوگیا ہے _

لیکن اس کے باوجود ہم دیگر روایات کو بھی ذکر کر دیتے ہیں تا کہ کسی کو اعتراض نہ رہے

ب) جو روایات جوتوں پر مسح کرنے کی اجازت دیتی ہیں دو قسم کی ہیں:

قسم اول : وہ روایات ہیںجو مطلق طور پر اس مسح کی اجازت دیتی ہیں جیسے سعد بن ابی وقاص کی مرفوعہ حدیث جو انہوں نے رسولخدا(ص) سے جوتوں پر مسح کے بارے میں نقل کی ہے کہ''أنه لا یأس بالوضوء علی الخفّین'' (۲)

ایک دوسری حدیث میں کہ جو بیہقی کی نقل کے مطابق صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حذیفہ سے منقول ہے_ یوں آیا ہے کہ:

'' مشی رسول الله إلی سباطة قوم فبال قائماً ثم

____________________

۱)تفسیر کبیر فخر رازی جلد۱، ص ۲۰۷_

۲)السنن الکبری ، جلد ۱، ص ۲۶۹_


دعا بمائ: فجئتُه بماء فتوضّأ و مسح علی خُفّیه'' (۱)

انتہائی معذرت اور شرمندگی کے ساتھ مجبوراً اس حدیث کا ترجمہ کر رہے ہیں ''رسولخدا(ص) ایک قوم کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ گئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا_ اس کے بعد پانی مانگا، میں ( حذیفہ) ان کے لیے پانی لیکر گیا_ آپ(ص) نے وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا''

ہمیں اطمینان ہے کہ یہ حدیث جعلی ہے اور بعض منافقین کی طرف سے رسولخدا(ص) کے تقدس کو داغدار کرنے کے لیے جعل کی گئی ہے_ اور اس کے بعد صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی کتب میں ( مصنفین کی سادگی کی وجہ سے) شامل ہوگئی ہے_

جو شخص تھوڑی سی بھی شخصيّت کا مالک ہو، کیا اس قسم کا کام کرتا ہے کہ جس کے بہت سے نامطلوب لوازم ہوں؟ مقام افسوس ہے کہ صحاح ستّہ میں اس قسم کی روایات نقل کی گئی ہیں اور آج تک علماء ان روایات سے استدلال کرتے ہیں_

بہرحال ان روایات اور اس قسم کی دوسری روایات میں جوتوں پر مسح کو بغیر کسی قید و شرط کے ذکر کیا گیا ہے_

قسم دوم:

ان روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جوتوں پر مسح ( اگر جائز ہے) تو صرف ضرورت کےمقامات کے ساتھمخصوصہے_ جیسے مقدام بن شریح کی روایت جو انہوں نے حضرت عائشےہ سے نقل کی ہے_ وہ کہتا ہے میں نے حضرت عائشےہ سے جوتوں پر مسح کے بارے میں

____________________

۱) ایضاً ، ص ۲۷۰_


سوال کیا ، انہوں نے کہا حضرت علی _ کے پاس جاؤ وہ سفر میں رسولخدا(ص) کے ہمراہ جاتے تھے میں انکی خدمت میں آیا اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا

''کنّا إذا سافرنا مع رسول الله (ص) یأمرنا بالمسح علی خفافنا'' (۱)

جب ہم رسولخدا(ص) کے ہمراہ سفر پر جاتے تھے تو آپ(ص) ہمیں جوتوں پر مسح کرنے کا دستور دیتے تھے''

اس تعبیر سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جوتوں پر مسح کرنے کا مسئلہ ضرورت کے موارد کے ساتھ مربوط تھا_ اس لیئے فرمایا ہے کہ رسولخدا(ص) سفر میں یوں دستور دیتے تھے_اور اس قسم کی دیگر روایات_

اہلسنت کے معروف منابع میں ذکر ہونے والی تمام روایات میں ( پہلے سے کی جانے والی قضاوت سے چشم پوشی کرتے ہوئے) غور فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ :

اولا: علم اصول کے مشہور قاعدہ ( قاعدہ جمع یعنی مطلق کو مقید کے ذریعے تقیید لگائی جائے) کے مطابق ان روایات کو جو بغیر قید و شرط کے جوتوں پر مسح کوجائز قرار دیتی ہیں، موارد ضرورت و اضطرار پر حمل کیا جائے جیسے سفر یا میدان جنگ میں یا اس قسم کے دیگرمقامات میں _ اور دلچسپ یہ ہے کہ سنن بیہقی میں ایک مفصّل باب جوتوں پر مسح کرنے کی مدت کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور چند روایات کے ذریعے اس مدت کو سفر میں تین دن اور حضر وغیرہ میں ایک دن، بیان کیا گیا ہے_(۱)

____________________

۱) ایضاً ، ص ۲۷۲_

۲) السنن الکبری ، جلد ۱ ، ص ۲۷۵، ۲۷۶_


کیا یہ ساری روایات ، اس حقیقت کیلئے روشن دلیل نہیں ہیں کہ جوتوں پر مسح کے بارے میں جو کچھ روایات میں بیان کیا گیا ہے وہ ضرورت اور اضطرار کے حالات کے ساتھ مخصوص ہے_ اور عام حالات میں جوتے نہ اتارنے اور پاؤں پر مسح نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے_

اور یہ جو بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ اجازت امت سے عُسر و حرج کو دور کرنے کیلئے ہے _ یہ بات قابل قبول نہیں ہے_ کیونکہ عام جوتوں کے اتارنے میں ذرہ بھر زحمت نہیں ہے_

ثانیاً: اہلبیت اور اہلسنت کے معروف منابع میں حضرت علی (ع) سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں کہ وہ فرماتے تھے یہ مسح سورہ مائدہ کی چھٹی آیت کے نزول سے پہلے تھا_اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر اجازت تھی بھی تو آیت کے نزول سے پہلے تھی_ آیت کے نزول کے بعد حتی جنگ اور سفر میں بھی جوتوں پر مسح جائز نہیں تھا_ کیونکہ جوتے نہ اتار سکنے کی صورت میں اصحاب تیمّم کرتے تھے، چونکہ تیمّم کا حکم بھی بطور کلی اس آیت کے ذیل میں آیا ہے_

ثالثاً: اگر بعض اصحاب نے پیغمبر اکرم(ص) کو حضر میں جوتوں پر مسح کرتے دیکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے جوتوں پر شگاف تھا جس میں سے پاؤں پر مسح کرنا ممکن تھا_

مشہور شیعہ محدّث مرحوم صدوق اپنی شہرہ آفاق کتاب '' من لا یحضرہ الفقیہ'' میں لکھتے ہیں کہ : نجاشی نے پیغمبر اکرم(ص) کو جوتے ہدیہ میں دیے تھے جنکے اوپر شگاف تھا، پیغمبر اکرم(ص) نے ایک مرتبہ جوتے پہنے ہوئے اپنے پاؤں پر مسح کیا، بعض ناظرین نے گمان کیا کہ آپ(ص) نے جوتوں پر مسح کیا ہے_(۱)

معروف محدث جناب بیہقی نے اپنی کتاب '' السنن الکبری '' میں ایک باب''باب الخفّ

____________________

۱) من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۱، ص ۴۸_


الذی مسح علیه رسول الله(ص) '' ( وہ مخصوص جوتے جن پر رسولخدا(ص) نے مسح کیا) کے عنوان سے ذکر کیا ہے_ اس باب کی بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مہاجرین اور انصار کے جوتے بھی اسی طرح اوپر سے کھلے تھے''و کانت کذلک خفاف المہاجرین و الأنصار مخرقة مشققة''(۱)

اس بناء پر قوی احتمال ہے کہ وہ اصحاب بھی اپنے پاؤں پر مسح کرتے ہوں_ اس بحث کے تعجّب آور مراحل میں سے ایک یہ ہے کہ جن راویوں نے جوتوں پر مسح والی روایات کو نقل کیا ہے انہیں کبھی کبھار رسولخدا(ص) کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا تھا_ لیکن حضرت علی (ع) کہ جو ہمیشہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں موجود رہتے تھے; اہلسنت کی مشہور ورایات کے مطابق; اس مسح کے مخالف تھے_

اس سے زیادہ تعجب آور یہ ہے کہ حضرت عائشےہ کہ جو اکثر اوقات آنحضرت(ص) کے ہمراہ تھیں، فرماتی ہیں :

'' لئن تقطع قدمایی أحبّ إليّ من أن أمسح علی الخفّین'' (۱)

اگر میرے دونوں پاؤں کٹ جائیں یہ میرے لیئےس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اپنے جوتوں پر مسح کروں''

____________________

۱) السنن الکبری ، جلد ۱، ص ۲۸۳_

۲) مبسوط سرخسی ، جلد ۱، ص ۹۸_


بحث کا آخری نتیجہ:

۱_ قرآن مجید نے وضو میں اصلی فریضہ پاؤں کے مسح کو قرار دیا ہے ( سورہ مائدہ آیت ۶) اس طرح اہلبیت کی تمام روایات اور انکی اتباع کرنے والے تمام امامیہ فقہاء کا فتوی بھی اسی آیت کے مطابق ہے_

۲: اہلسنت کے فقہاء ،وضومیں اصلی فریضہ غالباً پاؤں دھونے کو قرار دیتے ہیں لیکن ان میں اکثر اجازت دیتے ہیں کہ اختیاری صورت میں جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے البتہ ان میں سے بعض اس مسح کو ضرورت کے موارد میں منحصر کرتے ہیں_

۳: جو روایات اہلسنت کے منابع میں جوتوں پر مسح کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں اس قدرمتضاد و متناقض ہیں کہ ہر محقق کو شک میں ڈال دیتی ہیں_ بعض روایات بغیر کسی قید و شرط کے جوتوں پر مسح کی اجازت دیتی ہیں، بعض کلی طور پر منع کرتی ہیں جبکہ بعض ضرورت کے مواقع کے ساتھ مختص کرتی ہیں اور اس کی مقدار سفر میں تین دن اور حضر میں ایک دن بیان کرتی ہیں_

۴: روایات کے درمیان بہترین جمع کا طریقہ یہ ہے کہ اصلی حکم پاؤں پر مسح کرنا ہے (اور انکے عقیدہ کے مطابق پاؤں دھونا ہے) اور ضرورت و اضطرار کے وقت جیسے جنگ اور دشوار سفر کہ جس میں نعلین کے بجائے بند جوتے (انکی تعبیر کے مطابق خُفّ) پہنتے تھے اور اُن کا اتارنا بہت مشکل تھا جوتوںپر ( مسح جبیرہ کی مثل) مسح کرتے تھے_


۹

بسم الله سورة الحمد کا جزء ہے


ایک تعجب آور نکتہ :

جب شیعیان اہلبیت (ع) خانہ خدا کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں تو اس وحدت کو محفوظ رکھنے کے لیے جس کا حکم ائمہ اہلبیت(ع) نے دیا ہے وہ اہلسنت برادران کی نماز جماعت میں شرکت کرتے ہوئے مسجدالحرام اور مسجد النبّی(ص) میں با جماعت نماز کا ثواب حاصل کرتے ہیں_ تو اس وقت سب سے پہلی چیز جو انکی توجہ کو اپنی طرف جلب کرتی ہے یہ ہے کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ امام جماعت سورة الحمد کی ابتداء میں یا تو بالکل بسم اللہ پڑھتے نہیں ہیں یا اگر پڑھتے ہیں تو آہستہ اور مخفی انداز میں پڑھتے ہیں حتی کہ مغرب و عشاء کی نماز میں جنہیں با آواز بلندپڑھا جاتا ہے _

حالانکہ دوسری طرف وہ اس بات کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ موجودہ قرآن مجید کے تمام نسخوں میں کہ جو اکثر مکہ مکرّمہ سےشائع ہوتے ہیں سورة حمد کی سات آیات ذکر کی گئی ہیں جن میں سے ایک بسم اللہ ہے_ یہ بات سب کے لیے تعجب کا باعث بنتی ہے کہ قرآن مجید کی سب سے اہم ترین آیت '' بسم اللہ'' کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ او رجس وقت لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں اور ہم انکے سامنے اس بارے میں اہلسنت کے مذاہب و روایات کے اختلاف کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کے تعجب میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے_

اس مقام پر ضروری ہے کہ پہلے ہم اس مسئلہ میں موجود فتاوی اور اس کے بعد بحث میں وارد ہونے والی مختلف روایات کی طرف رجوع کریں_


اس مسئلہ میں مجموعی طور پر اہلسنت کے فقہاء تین گروہوں پر مشتمل ہیں_

۱_ بعض علما کہتے ہیں کہ سورہ حمد کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھنا چاہیے_

جہری نمازوں میں بلند آواز کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور اخفاتی نمازوں میں آہستہ پڑھنا چاہیے_ یہ امام شافعی اور انکی پیروی کرنے والے علما ہیں _

۲_ بعض علما کہتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھی چاہیے لیکن ہمیشہ دل میں یعنی آہستہ پڑھنی چاہیے_ یہ حنبلی علماء ( امام احمد ابن حنبل کے پیروکاروں) کا نظریہ ہے_

۳_ ایک گروہ بسم اللہ پڑھنے کو اصلاً ممنوع سمجھتا ہے_ یہ امام مالک کے پیروکار ہیں_ امام ابوحنیفہ کے پیروکاروں کی نظر بھی مالکی مذہب والوں کے قریب ہے_

اہلسنت کے مشہور فقیہ ''ابن قدامہ'' اپنی کتابمغنی میں یوں رقمطراز ہیں:

'' انّ قراء ة بسم الله الرحمن الرّحیم مشروعةً فی اوّل الفاتحة و اوّل کلّ سورة فی قول ا کثر ا هل العلم و قال مالک و الا وزاعی لایقرؤها فی اول الفاتحة و لا تختلف الروایة عن احمد ان الجهر بها غیر مسنون و یروی عن عطاء و طاووس و مجاهد و سعید بن جبیر الجهر بها و هو مذهب الشافعی ...، (۱)

سورہ حمد اور ہردوسری سورت کے آغاز میںبسم الله الرحمن الرحیم کا پڑھنا اکثر

____________________

۱) المغنی ابن قدامہ، جلد ۱ ص ۵۲۱_


اہلسنت کے نزدیک جائز ہے لیکن مالک اور اوزاعی ( اہلسنت کے فقہائ) نے کہا ہے کہ سورة حمد کی ابتداء میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے ( اور بسم اللہ کے بالجہر پڑھنے کے بارے میں ) جتنی روایات بھی امام احمد بن حنبل سے نقل ہوئی ہیں سب کی سب کہتی ہیں کہ بسم اللہ کو بالجہر( بلند آواز کے ساتھ) پڑھنا سنت نہیں ہے اور عطا، طاووس، مجاہد اور سعید بن جبیر سے روایت نقل ہوئی ہے کہ بسم اللہ کو بالجہر پڑھنا چاہیے اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے''

اس عبارت میں انکے تینوں اقوال نقل ہوئے ہیں :

تفسیر ''المنیر'' میں وھبہ زحیلی نے یوں لکھا ہے_

''قال المالکيّة و الحنفيّه لیست البسملة بآیة من الفاتحة و لا غیرها الّا من سورة النمل

الّا ا ن الحنفيّة قالوا یقرء المنفرد بسم الله الرحمن الرّحیم مع الفاتحة فی کلّ رکعة: سرّاً

و قال الشافعيّة و الحنابلة البسملة آیة من الفاتحة یجب قرائتها فی الصلوة الّا ا ن الحنابلة قالوا کالحنفيّة یقرؤ بها سرّاً و لایجهر بَها و قال الشافعيّة: یسّرّ فی الصلوة السرّیة و یجهر بها فی الصلاة الجهريّة(۱)

____________________

۱)تفسیر المیز، جلد ۱، ص ۴۶_


امام مالک اور ابوحنیفہ کے پیروکار کہتے ہیں کہ بسم اللہ سورہ حمد اور قرآن مجید کی دیگر سورتوں کی جزء نہیں ہے صرف سورہ نمل میں ذکر ہونے والی آیت جو بسم اللہ پر مشتمل ہے سورت کا جزء ہے

لیکن امام ابوحنیفہ کے پیروکار کہتے ہیں کہ جو شخص فرادی نماز پڑھ رہا ہے وہ ہر رکعت میں صرف سورہ حمد کے ساتھ آہستہ آواز میں بسم اللہ پڑھے لیکن امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے پیروکار کہتے ہیں:

کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کی ایک آیت ہے اور نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے اس فرق کے ساتھ کہ حنبلی کہتے ہیں کہ بسم اللہ کو آہستہ پڑھا جائے، بالجہر پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن شافعی مذہب والے کہتے ہیں کہ اخفاتی نمازوں ( ظہر و عصر کی نماز) میں آہستہ پڑھا جائے اور بالجہر نمازوں ( مغرب، عشا اور صبح کی نماز) میں بلند آواز سے پڑھا جائے ''

ان اقوال میں شافعی مذہب والوں کا قول: شیعہ فقہا کے نظریہ سے نزدیک ہے_ اس فرق کے ساتھ کہ ہمارے علماء تمام نمازوں میں بسم اللہ کو بالجہر پڑھنا مستحب سمجھتے ہیں اور سورہ حمد میں بسم اللہ پڑھنے کو متفقہ طور پر واجب سمجھتے ہیں اور دیگر سورتوں میں مشہور و معروف قول بسم اللہ کا جزء سورہ ہونا ہے_

سچ تو یہ ہے کہ ایک غیرجانبدار محقق واقعاً حیرت میں ڈوب جاتاہے_

چونکہ وہ دیکھتاہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے پورے ۲۳ سال اپنی اکثر نمازوں کو جماعت کے ساتھ اور سب کے سامنے پڑھا_ اور سب اصحاب نے آنحضرت(ص) کی نمازوں کو اپنے کانوں


سے سنا لیکن تھوڑا سا عرصہ گزرنے کے بعد اتنا شدید اختلاف پیدا ہوگیا ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ بسم اللہ کا پڑھنا اصلا ممنوع ہے جبکہ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ اسکا پڑھنا واجب ہے، ایک گروہ کہتاہے کہ آہستہ پڑھا جائے جبکہ دوسرا گروہ کہتاہے کہ جہری نمازوں میں بلند آواز سے پڑھنا چاہیے_

کیا اس عجیب اور ناقابل یقین اختلاف سے اس بات کا اندازہ نہیں ہوتاہے کہ یہ مسئلہ عادی نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ کی پشت پر ایک سیاسی گروہ کا ہاتھ ہے جس نے متضاد احادیث کو جعل کیا اور انہیں رسالتمآب کی طرف نسبت دے دی ہے_

امام بخاری نے صحیح بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے جو اس راز سے پردہ اٹھاتی ہے وہ کہتے ہیں ; مطرف نے '' عمران بن حصین'' سے نقل کیا ہے کہ جب اس نے بصرہ میں حضرت علی (ع) کے پیچھے نماز پڑھی، تو کہا

'' ذکرنا هذا الرجل صلاة کنّا نصلیها مع رسول الله ''

اس مرد نے اپنی نماز کے ذریعے ہمیں رسولخدا(ص) کی اقتداء میں پڑھی ہوئی نمازوں کی یاد دلا دی ہے_(۱)

اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر چیز حتی نماز بھی تبدیل ہوگئی تھی امام شافعی مشہور کتاب''الام'' میں ''وہب بن کیسان'' سے نقل کرتے ہیں کہ '' کل سنن رسول الله (ص) قد غیرّت حتی الصلاة'' پیغمبر اکرم(ص) کی تمام سنتوں حتی نماز کو تبدیل کردیا گیا(۲)

____________________

۱) صحیح بخاری ج ۱ ص ۱۹۰_

۲) الامّ، جلد ۱ ص ۲۶۹_


بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں احادیث نبوی

اس مسئلہ کے بارے میں اہلسنت کی معروف کتب میں مکمل طور پر مختلف اقسام کی احادیث نقل ہوئی ہیں_ یہی احادیث انکے فتاوی میں اختلاف کا سبب بنی ہے اور عجیب یہ ہے کہکبھی ایک ہی مشخص راوی نے متضاد روایات نقل کی ہیں_ جنکے نمونے آپ آئندہ احادیث میں ملاحظہ فرمائیںگے_

پہلی قسم کی احادیث:

اس قسم میں وہ روایات ہیں جو نہ صرف بسم اللہ کو سورہ حمد کا جزء شمار کرتی ہیں بلکہ بلند آواز میں پڑھنے کو بھی مستحب (یا ضروری) قرار دیتی ہیں اس گروہ میں ہم پانچ مشہور راویوں کی پانچ احادیث پر اکتفاء کرتے ہیں:

۱_ یہ حدیث امیر المؤمنین علی (ع) سے نقل ہوئی ہے _ انکا مقام و منزلت سب پر عیاں ہیں کہ وہ جلوت و خلوت اور سفر وحضر میں رسول خدا(ص) کے ساتھ رہے ہیں_دار قطنی نے اپنی کتاب سنن میں آ پ (ع) سے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ

'' کان النبی (ص) یجهر ببسم الله الرحمن الرحیم فی السورتین جمیعاً'' (۱)

پیغمبر اکرم(ص) دو سورتوں (حمد اور بعد والی سورت) میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھتے تھے''

____________________

۱) سنن دار قطنی، جلد ۱ ص۳۰۲، اسی حدیث کو سیوطی نے درّ المنثور میں جلد ۱ ص ۲۲ پر نقل کیا ہے _


۲_ یہ روایت انس بن مالک سے نقل ہوئی ہے کہ جو پیغمبر اکرم(ص) کے خصوصی خادم اور جوانی سے ہی آپ(ص) کی خدمت میں پہنچ گئے تھے_ حاکم نے مستدرک میں اس روایت کو نقل کیا ہے _ وہ کہتے ہیں :

'' صلّیت خلف النبی و خلف ابی بکر و خلف عمر و خلف عثمان و خلف علی کلَّهم کانوا یجهرون بقرائة بسم الله الرحمن الرحیم'' (۱)

۳ _ حضرت عائشےہ عام طور پر شب و روز پیغمبر اکرم(ص) کے ہمراہ تھیں _دارقطنی کی روایت کے مطابق وہ فرماتی ہیں کہ :

''ان رسول الله (ص) کا ن یجهر ببسم الله الرحمن الرحیم'' (۲)

رسول خدا(ص) بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بلند آواز کے ساتھ پڑھتے تھے''

۴_ اہلسنت کے معروف راوی جناب ابوہریرة کہ جن کی بہت سی روایات کو صحاح ستّہ میں نقل کیا گیا ہے یوں کہتے ہیں'' کان رسول الله صلی الله علیه و آله یجهر ببسم الله الرحمن الرّحیم فی الصلوة'' کہ رسولخدا(ص) نماز میں بسم اللہ الرحمن الرّحیم بلند آواز کے ساتھ پڑھا کرتے تھے_

____________________

۱) مستدرک الصحیحین، جلد ۱ ،ص ۲۳۲، میں نے رسولخدا(ص) حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی کے پیچھے نمازیں پڑھیں سب کے سب بسم اللہ کو بلند آواز کے ساتھ پڑھتے تھے_مترجم

۲) الدّر المنثور جلد ۱ ص ۲۳_


یہ حدیث تین معروف کتب '' السنن الکبری''(۱) '' مستدرک حاکم''(۲) اور ''سنن دار قطنی''(۳) میں نقل ہوئی ہے_

۵_ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جبرائیل امین نے بھی پیغمبر اکرم(ص) کو نماز کی تعلیم دیتے وقت بسم اللہ کو بلند آواز کے ساتھ پڑھا_ دار قطنی کی نقل کے مطابق نعمان بن بشیر یوں کہتے ہیں''اَمَّنی جبرئیل عند الکعبة فجهر ببسم الله الرحمن الر ّحیم'' جبرائیل امین نے خانہ کعبہ کے پاس میری امامت کی ( مجھے نماز پڑھائی) اور بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھا(۴)

دلچسپ یہ ہے کہ بعض معروف علماء نے بسم اللہ بالجہر پڑھنے والی احادیث کو نقل کرنے کے ساتھ یہ تصریح کی ہے کہ ان احادیث کے راوی عام طور پر ثقہ ہیں جیسے حاکم نے مستدرک میں اس بات کی تصریح کی ہے_

یہاں ہمیں اس بات کا اضافہ کرنا چاہیے کہ مکتب اہلبیتکی فقہ و حدیث کی کتب میں بسم اللہ کو سورة حمد کی ایک آیت شمار کیاگیا ہے اور اس بارے میں احادیث تقریباً متواتر ہیں اور اسی طرح بہت سی احادیث میں بسم اللہ کو بالجہر پڑھنے کے بارے میں تصریح کی گئی ہے_

ان روایات کے بارے میں مزید آگاہی کے لیئے کتاب ''وسائل الشیعہ'' میں ''نماز میں قراء ت'' والے ابواب میں سے باب نمبر ۱۱ ،۱۲،۲۱ ،۲۲ کی طرف رجوع کیا جائے_ وہاں دسیوں

____________________

۱) السنن الکبری جلد ۲ ، ص ۴۷_

۲) مستدرک الصحیحین، جلد ۱، ص ۲۰۸_

۳) دار قطنی،جلد ۱ ،ص ۳۰۶ _

۴) سنن دار قطنی، جلد ۱، ص ۳۰۹_


روایات آئمہ اہلبیت (ع) سے نقل کی گئی ہیں اور دیگر معتبر کتب جیسے کافی، عیون اخبار الرّضا(ع) ، اور مستدرک الوسائل میں ( نماز میں قرائت قرآن کے مربوطہ ابواب میں ) بھی بہت سی روایات ذکر کی گئی ہیں_

حدیث ثقلین کی روشنی میں کہ جسے فریقین نے نقل کیا ہے اور اس میں حکم دیا گیا ہے کہ میرے بعد قرآن مجید اور میرے اہلبیت(ع) کا دامن تھام کر رکھنا تا کہ گمراہی سے بچے رہو_ کیا ہمیں اس قسم کے اختلاف انگیر مسئلہ میں مذہب اہلبیت کی پیروی نہیں کرنا چاہیے (تا کہ گمراہی سے محفوظ رہیں )؟

دوسری قسم کی احادیث:

یہ قسم ان احادیث پرمشتمل ہے جو بسم اللہ کو سورہ حمد کا جزء شمار نہیں کرتیں یا بسم اللہ کوبلند آواز کے ساتھ پڑھنے سے منع کرتی ہیں_

۱_ یہ حدیث صحیح مسلم میں قتادہ سے نقل ہوئی ہے جس میں انس کہتے ہیں کہ:

'' صلّیت مع رسول الله (ص) و ابی بکر و عمر و عثمان فلم اسمع احداً منهم یقرء بسم الله الرحمن الرّحیم'' (۱)

میں نے رسولخدا (ص) ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ نماز پڑھی میں نے کسی سے نہیں سنا کہ انہوںنے نماز میں بسم اللہ الرحمن الرّحیم پڑھی ہو''

____________________

۱)صحیح مسلم، جلد ۲، '' باب حجة من قال لا یجہر بالبسملة'' ص ۱۲_


توجہ کرنی چاہیےکہ اس حدیث میں حضرت علی (ع) کی قراء ت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے

واقعاً تعجب آور ہے کہ ایک معّین شخص جیسے انس ایک مرتبہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولخدا(ص) ، خلفائے ثلاثہ اور حضرت علی (ع) کے پیچھے نماز پڑھی_ سب کے سب بسم اللہ کو بلند آواز کے ساتھ پڑھتے تھے_ دوسری جگہ وہی کہتے ہیں کہ میں نے رسولخدا(ص) اور خلفائے ثلاثہ کے پیچھے نماز پڑھی کسی نے بھی نماز میں بسم اللہ نہیں پڑھی چہ جائیکہ بلند آواز سے پڑھنا_

کیا ہرصاحب فہم یہاں یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہوتا کہ پہلی حدیث کو بے اثر کرنے کے لیئے جاعلین حدیث نے ( جیسا کہ عنقریب بیان کیا جائیگا) اس دوسری حدیث کوجعل کیا ہے اور اسے انس کی طرف نسبت دی ہے اور چونکہ حضرت علی (ع) کا بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنا مشہور ہے اور انکے پیروکار جہاں کہیں بھی ہیں یہی کام کرتے ہیں اس لیے ان کا نام نہیں لیا گیا ہے تاکہ ڈھول کاپول نہ کھل جائے؟

۲_ سنن بیہقی میں عبداللہ بن مغفل سے نقل ہوا ہے، وہ کہتے ہیں:

''سمعنی ا بی و ا نا ا قرا بسم الله الرحمن الرّحیم فقال; ا ی بنيّ محدث؟ صلَّیتُ خلف رسول الله صلی الله علیه و آله و ا بی بکر و عمر و عثمان فلم ا سمع ا حداً منهم جهر بسم الله الرّحمن الرّحیم'' (۱)

____________________

۱) السنن الکبری، جلد ۲ ، ص ۵۲_


میرے والد نے مجھے نماز میں بسم اللہ پڑھتے سنا توکہنے لگے: کیا بدعت ایجاد کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے رسولخدا(ص) حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے پیچھے نماز پڑھی ان میں سے کسی کو میں نہیں دیکھا کہ بسم اللہ کوبلند آواز کے ساتھ پڑھتا ہو'' _

اس حدیث میں بھی حضرت علی _ کی نماز کا تذکرہ نہیں ہوا ہے

۳_ جناب طبرانی کی کتاب'' المعجم الوسیط'' میں ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ :

'' کان رسول الله صلی الله علیه و آله اذا قرء بسم الله الرّحمن الرّحیم هزء منه المشرکون و قالوا محمد یذکرا له الیمامة_ وکان مسیلمة یسمی ''الرّحمن'' فلمّا نزلت هذه الآیة امر رسول الله صلی الله علیه و آله ان لا یجهر بها؟

کہ رسولخدا(ص) جب نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے تو مشرکین تمسخر کرتے تھے_ کیونکہ یمامہ کی سرزمین پر خدائی کا دعوی کرنے والے مسیلمہ کا نام رحمن تھا_ اس لیئے مشرکین کہتے تھے کہ محمد(ص) کی مراد وہی یمامہ کا خدا ہے_ اس وجہ سے پیغمبر اکرم(ص) نے حکم دے دیا تھا کہ اس آیت کو بلند آواز سے نہ پڑھا جائے ''

اس حدیث میں جعلی ہونے کے آثار بالکل نمایاں ہیں کیونکہ :

اولّا: رحمن کاکلمہ قرآن مجید میں صرف بسم اللہ الرّحمن الرّحیم میں نہیں آیا ہے بلکہ اور بھی ۵۶ مقامات پر ذکر ہوا ہے_ صرف سورہ مریم میں ہی اس کا سولہ۱۶ مرتبہ تکرار ہوا ہے_ اگر


یہی وجہ ہے تو قرآن مجید کی دوسری سورتوں کو بھی نہیں پڑھنا چاہیے، کہیں مشرکین مسلمانوں کامذاق نہ اڑائیں _

ثانیاً : مشرکین تو قرآن مجید کی تمام آیات کا تمسخرکرتے تھے جیسا کہ متعدد آیات میں اس بات کا تذکرہ کیاگیاہے من جملہ سورہ نساء کی چالیس نمبر آیت ''اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و يُستهزا بها فلا تقعدوا معهم''

مشرکین نماز کے لیے دی جانے والی اذان کا بھی مذاق اڑاتے تھے جیسے سورہ مائدہ کی ۵۸ نمبر آیت میں تذکرہ ہوا ہے''و اذا نادیتم الی الصلوة اتخذوها هُزُواً '' کیا پیغمبر اکرم(ص) نے اذان کے ترک کرنے کا بھی حکم دیا ہے_ یا اذان آہستہ کہنے کا حکم دیا ہے کہ کہیں مشرکین مذاق نہ اڑائیں _

بنیادی طور پر مشرکین خود پیغمبر اکرم(ص) کا استہزاء کرتے تھے جیسا کہ اس آیت میں تذکرہ ہوا ہے''و اذا آک الذین کفروا ان یتّخذونک الّا هُزُواً'' (۱)

اگر یہی دلیل ہے تو خود پیغمبر اکرم(ص) کو لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہوجانا چاہیے تھا_

ان سب ادلّہ سے قطع نظر اللہ تعالی نے اپنے حبیب کو بڑی صراحت کے ساتھ وعدہ دیا تھا کہ آپ(ص) کو استہزا کرنے والون کے شر سے محفوظ رکھے گا'' انّا کفیناک المستهزئین'' (۲)

ثالثاً: مسیلمہ کوئی ایسی شخصیت نہیں تھا جس کو اسقدر اہمیت دی جاتی کہ پیغمبر اکرم(ص) اس کا نام

____________________

۱) سورة انبیاء آیت ۳۶_

۲) سورة حجرات آیت ۹۵_


رحمن ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی آیات کو مخفی کرتے یا آہستہ پڑھتے_ خاص طور پر اس بات کیطرف بھی توجہ رہے کہ مسیلمہ کے دعوے ہجرت کے دسویں سال منظر عام پر آئے تھے اوراس وقت اسلام مکمل طور پر قوت اور قدرت پیدا کرچکا تھا_

ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث گھڑنے والے اپنے کام میں مہارت نہیں رکھتے تھے اور نا آگاہ تھے_

۴: ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب '' مصنف'' میں ابن عباس سے نقل کیا ہے '' الجہر ببسم الله الرحمن الرّحیم قرائة الا عراب'' بسم اللہ کو بلند آواز کے ساتھ پڑھنا عرب کے بدّووں کی عادت تھی''(۱)

حالانکہ ایک اور حدیث میں علی ابن زید بن جدعان نے بیان کیا ہے کہ ''عبادلہ'' ( یعنی عبداللہ ابن عباس، عبداللہ ابن عمر اور عبداللہ ابن زبیر) تینوں بسم اللہ کوبلند آواز کے ساتھ پڑھتے تھے''(۲)

اس سے بڑھ کر حضرت علی _ بسم اللہ کو ہمیشہ بالجہر پڑھتے تھے_ یہ بات تمام شیعہ و سنی کتب میں مشہور ہے کیا علی _ بیابانی اعراب میں سے تھے؟ کیا ان متضاد احادیث کا وجود انکے سیاسی ہونے کی دلیل نہیں ہے؟

ہاں حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی _ ہمیشہ بسم اللہ کو بالجہر پڑھتے تھے_ جب امیرالمؤمنین کی شہادت اور امام حسن _ کی مختصر سی خلافت کے بعد معاویہ کے ہاتھ میں حکومت

____________________

۱) مصنف ابن ابی شیبة ، جلد ۲ ص ۸۹_

۲) الدر المنثور ،جلد ۱ ص ۲۱_


کی باگ ڈور آگئی، تو اس کی پوری کوشش یہ تھی کہ تمام آثار علوی کو عالم اسلام کے صفحہ سے مٹا دے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مسلمانوں میں آپ(ع) کے فکری اور معنوی افکار کا نفوذ اس کی سلطنت کے لیے خطرہ ہے_

اس بات کا منہ بولتا ثبوت اس حدیث میں ملتا ہے جسے حاکم نے مستدرک میں نقل کیا اور معتبر قرار دیا ہے (پیغمبر اکرم(ص) کے خصوصی خادم ) جناب انس بن مالک فرماتے ہیں کہ معاویة مدینہ میں آیا اس نے جہری نماز ( مغرب، عشاء ویا صبح کی نماز) میں سورة الحمد سے پہلے بسم اللہ کو پڑھا لیکن بعد والی سورت میں نہیں پڑھا_ جب نماز ختم کی تو ہر طرف سے مہاجرین و انصار کی ( کہ جو شاید جان بچانے کی خاطر نماز میں شریک ہوئے تھے) صدائیں بلند ہوگئیں '' اسرقت الصلوة ام نسیت؟ '' کہ تو نے نماز میں سے چوری کی ہے یا بھول گیاہے ؟ معاویہ نے بعد والی نماز میں سورہ حمد سے پہلے اور بعد والی سورت سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھی''(۱)

معاویہ گویا اس بات کے ذریعے مہاجرین و انصار کو آزمانا چاہتا تھا کہ یہ لوگ بسم اللہ اور اس کے بالجہر پڑھنے کے سلسلہ میں کتنی توجہ و سنجیدگی رکھتے ہیں_ لیکن اس نے اپنا کام شام اور دیگر علاقوں میں جاری رکھا_

ما بین الدّفتین قرآن ہے:

یقینا جو کچھ قرآن کی دو جلد کے درمیان ہے وہ قرآن مجید کا جزء ہے_ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ بسم اللہ قرآن مجید کا جز نہیں ہے صرف سورتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے

____________________

۱) مستدرک الصحیحین، جلد ۱ ص ۲۳۳_


کے لیے ہے_ اوّلاً یہ بات سورہ حمد کے بارے میں صحیح نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ قرآن مجید کے تمام نسخوں میں آیات کے نمبر لگائے گئے ہیں_ بسم اللہ کو سورہ حمد کی آیت شمار کیا گیا ہے_

ثانیاً: یہ سورتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے والا کام کیوں سورہ براء ة میں نہیں کیا گیاہے_ اور اگر جواب میں کہا جائے کہ چونکہ اس سورت کا سابقہ سورہ ( سورة انفال) کے ساتھ رابطہ ہے تو یہ بات کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اتفاقاً سورہ انفال کی آخری آیات اور سورہ براء ة کی ابتدائی آیات کے درمیان کوئی مفہومی رابطہ نہیں ہے_ حالانکہ قرآن مجید میں اور کئی سورتیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ارتباط رکھتی ہیں لیکن بسم اللہ نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کردیا ہے_

حق یہ ہے کہ کہا جائے بسم اللہ ہر سورہ کا جزء ہے_ جیسا کہ قرآن مجید کا ظاہر بھی اس بات کی خبر دیتا ہے _ اور اگر سورہ توبہ میں بسم اللہ کو ذکر نہیں کیاگیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے اس سورت کا آغاز پیمان شکن دشمنوں کے ساتھ اعلان جنگ کے ذریعے ہوتا ہے اور اعلان جنگ ، رحمن اور رحیم کے نام کے ساتھ سازگاری نہیں رکھتا ہے کیونکہ یہ نام رحمت عامّہ اور رحمت خاصہ الہی کی حکایت کرتا ہے _

بحث کا خلاصہ :

۱_ پیغمبر اکرم(ص) سورہ حمد اوردیگر تمام سورتوں کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھتے تھے( ان کثیر روایات کے مطابق جو آپ(ص) کے نزدیک ترین افراد سے نقل ہوئی ہیں ) اور متعدد روایات کے مطابق آپ(ص) بسم اللہ کو بالجہر پڑھا کرتے تھے_

۲_ سابقہ روایات کے مقابلے میں جو روایات کہتی ہیں کہ بسم اللہ اصلاً قرآن مجید کا جزء


نہیں ہے یا آنحضرت(ص) ہمیشہ اسے بالاخفات پڑھتے تھے_ مشکوک ہیں بلکہ خود ان روایات میں ایسے قرائن موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ روایات جعلی اور ان کے پیچھے بنو اميّہ کی پر اسرار سیاستیں ہیں _ کیونکہ یہ بات مشہور تھی کہ حضرت علی _ بسم اللہ کو بالجہر پڑھتے ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ جو کچھ بھی حضرت علی (ع) کی خصوصیت یا علامت شمار ہوتی تھی ( اگر چہ وہ پیغمبر اکرم(ص) سے حاصل کی ہوئی ہوتی تھی) بنو اميّہ اس کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے تھے یہ موضوع اس شدید اعتراض کے ذریعے آشکار ہو جاتا ہے کہ جو اصحاب نے معاویہ پر کیا _ اور اس کے علاوہ بھی قرائن و شواہد موجود ہیں جنہیں ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے _

۳_ ائمہ ا ہلبیتکا امیرالمؤمنین(ع) ( کہ انہوں نے سالہا سال پیغمبر اکرم(ص) سے بسم اللہ کو بالجہر ادا کرنے کا درس لیا تھا) کی پیروی کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق ہے_ یہاںتک کہ امام جعفر صادق _ فرماتے ہیں :

''اجتمع آلُ محمّد صلی الله علیه و آله علی الجهر ببسم الله الرّحمن الرّحیم '' (۱)

کہ آل محمّد (ص) کا بسم اللہ کے بلند پڑھنے پر اتفاق ہے ''

حداقل اس قسم کے مسائل میں حدیث ثقلین پر عمل کرتے ہوئے روایات اہلبیت (ع) کیطرف توجّہ کرنی چاہیے اور تمام اہلسنت فقہاء کو چاہیے کہ امام شافعی کی طرح حداقل جہری نمازوں میں بسم اللہ کو بالجہر پڑھنا واجب قرار دیں_

۴_ حسن اختتام کے عنوان سے اس بحث کے آخر پر دو باتیں جناب فخررازی صاحب''تفسیر الکبیر'' سے نقل کرتے ہیں :

____________________

۱) مستدرک الوسائل ، جلد ۴ ص ۱۸۹_


وہ کہتے ہیں کہ:

''انّ عليّا _ کا ن یبالغ فی الجهر بالتسمیة فلما وصلت الدولة الی بنی اميّه بالغوا فی المنع من الجهر سعیاً فی ابطال آثار علّی _ '' (۱)

حضرت علی _ بسم اللہ کے بالجہر پڑھنے پر اصرار کرتے تھے، جب حکومت، بنوامیہ کے ہاتھ آئی تو انہوں نے بسم اللہ کے بلند پڑھنے سے منع کرنے پر اصرار کیا تا کہ حضرت علی _ کے آثار کو مٹایا جاسکے''

اہلسنت کے اس عظیم دانشمند کی گواہی کے ذریعے بسم اللہ کے آہستہ پڑھنے یا اس کے حذف کرنے والے مسئلہ کا سیاسی ہونا اور زیادہ آشکار ہوجاتا ہے _اسی کتاب میں ایک اور مقام پر جناب فخررازی، مشہور محدث بیہقی سے اس بات کونقل کرنے کے بعد کہ حضرت عمر ابن خطاب، جناب ابن عباس، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سب کے سب بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھتے تھے اس بات کا اضافہ کرتے ہیں:

'' اَمّا ا نَّ علی ابن ابی طالب کان یجهر بالتسمیة فقد ثبت بالتواتر و من اقتدی فی دینه بعلّی ابن ابی طالب فقد اهتدی، و الدلیل علیه قول رسول الله اللّهم ا در الحق مع علی حیث دار، (۲)

____________________

۱) تفسیر کبیر فخررازی ، جلد ۱، ص ۲۰۶_

۲) ایضاً ص ۲۰۴ و ۲۰۵_


بہر حال حضرت علی (ع) بسم اللہ کو بالجہر پڑھتے تھے یہ بات تواتر کے ذریعہ ثابت ہے اور جو بھی دین میں حضرت علی (ع) کی پیروی کریگا یقینا ہدایت پاجائیگا_ اس بات کی دلیل رسولخدا(ص) کی یہ حدیث ہے کہ بارالہا حق کو ہمیشہ علی (ع) کے ساتھ رکھ اور حق کو اسی طرف پھیر دے جس طرف علی (ع) رخ کرے''


اَولیائے الہی سے توسّل


''توسّل'' قرآنی آیات اور عقل کے آئینہ میں :

بارگاہ الہی میں اولیائے الہی سے توسّل کے ذریعہ مادّی اور معنوی مشکلات حل کرانے کا مسئلہ، وہابیوں اور دیگر مسلمانوں کے درمیان ایک اہم ترین اور متنازعہ مسئلہ ہے_ وہابی صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ نیک اعمال کے ذریعے توسّل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اولیائے الہی کے ساتھ توسّل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ لوگ اسے ایک قسم کا شرک سمجھتے ہیں_ جبکہ دنیا کے دوسرے مسلمان اس توسّل کو ( جس کے مفہوم کی ہم وضاحت کریں گے ) جائز سمجھتے ہیں_

وہابیوں کا گمان یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اس توسّل سے منع کرتی ہیں اور اسے شرک قرار دیتی ہیں _ من جملہ یہ آیت کریمہ

'' ما نعبد هم الّا لیقرّبُونا الی الله زُلفی '' (۱)

یہ آیت فرشتوں کی مانندمعبودوں کے بارے میں ہے کہ جن کے لیے مشرکین کہتے تھے '' کہ ہم اس لیے ان کی پوجا کرتے ہیں تا کہ یہ ہمیں خدا کے نزدیک کریں'' اور اس بات کو

____________________

۱) سورة زمر آیة ۳_


قرآن مجید نے شرکقرار دیا ہے _ ایک اور آیت میں یوں ارشاد ربُ العزّت ہے '' فلا تدعوا مع اللہ ا حداً'' خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو''(۱)

ایک دوسری روایت میں یوں بیان کیا گیا ہے ''والّذین يَدعُونَ من دُونه لا یستجیبون لهم بشیئ :،'' جو غیر خدا کوپکارتے ہیں ، وہ انکی کوئی حاجت پوری نہیں کرسکتے ہیں''(۲)

وہابیوں کا توہّم اور خیال یہ ہے کہ یہ آیات اولیائے الہی کے ساتھ توسّل کرنے کی نفی کر رہی ہیں_

اس کے علاوہ وہ ایک اور بات بھی کرتے ہیں وہ یہ کہ بالفرض اگر بعض روایات کی روشنی میں پیغمبر اکرم(ص) کی زندگی میں اُن سے توسّل جائز ہو لیکن وفات کے بعد ان سے توسّل کے جواز پر کوئی دلیل نہیں ہے_

یہ وہابیوں کے دعووں کا خلاصہ تھا لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ اسی قسم کی بے دلیل باتوںکی خاطر وہابیوں نے بہت سے مسلمانوں پر شرک اورکفر کی تہمتیں لگائیں اور ان کے خون بہانے کو مباح قرار دیا ہے ، اسی طرح انکے مال کو مباح جانا ہے _ اسی بہانے بہت سا خون بہایا گیا اور بہت سا مال غارت کیا گیا ہے _

اس وقت جبکہ ہم انکے عقیدہ کو سمجھ چکے ہیں بہتر ہے کہ اصل مسئلہ کی طرف لوٹ کر اسی توسّل کے مسئلہ کو بنیادی طور پر حل کریں_

____________________

۱) سورہ جن ، آیة ۱۸_

۲) سورة رعد، آیہ ۱۴_


سب سے پہلے ہم '' توسل'' کو لغت، آیات اور روایات کی روشنی میں دیکھتے ہیں: سب میں '' توسّل'' وسیلہ کے انتخاب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور وسیلہ اس چیز کو کہاجاتا ہے جو انسان کوکسی دوسرے سے قریب کرے

لغت کی مشہور کتاب '' لسان العرب'' میں توسّل کو یوں بیان کیا گیا ہے _

''وصَّل الی الله وسیلةً اذا عَمل عملاً تقرب الیه والوسیلة ما یتقرّب به الی الغیر; خدا کی طرف توسّل کرنا اور وسیلہ منتخب کرنا یہ ہے کہ انسان ایسا عمل انجام دے جس سے اسے خدا کا قرب نصیب ہو ، اور وسیلہ اس چیز کے معنی میں ہے جس کے ذریعے انسان دوسری چیز سے نزدیک ہوتا ہے ''

مصباح اللغة میں بھی یوں ہی بیان کیا گیا ہے : ''الوسیلة ما یتقرّب به الی الشیء و الجمع الوسائل'' وسیلہ اس شے کوکہتے ہیں جس کے ذریعے، انسان دوسری شے یا شخص کے نزدیک ہوتا ہے اور وسیلہ کی جمع ''وسائل '' ہے_

مقاییس اللغة میں یوں بیان کیا گیا ہے : ''الوسیلة الرغبة و الطلب'' وسیلة رغبت اور طلب کے معنی میں ہے'' _

ان لغت کی کتب کے مطابق، وسیلہ، تقرب حاصل کرنے کے معنی میں بھی ہے اور اس چیز کے معنی بھی ہے جس کے ذریعے انسان دوسری شے کا قرب حاصل کرتا ہے _ اور یہ ایک وسیع مفہوم ہے

اب ہم قرآن مجید کی آیات کی طرف رجوع کرتے ہیں_

قرآن مجید میں وسیلہ کی اصطلاح دو آیات میں استعمال ہوئی ہے_


۱_ سورہ مائدہ کی ۳۵ویں آیت میں یوں ارشاد ہے :

'' یا ايّها الّذین آمنو اتقوا الله و ابتغوا الیه الوسیلة و جاهدُوا فی سبیله لعلکم تفلحون''

اس آیت میں تمام اہل ایمان کو مخاطب قرار دیاگیا ہے اورتین دستور بیان کیے گئے ہیں _

اوّل تقوی کا حکم، دوّم، وسیلہ منتخب کرنے کا حکم ، وہ وسیلہ جو ہمیں خدا سے نزدیک کرے_ سوّم : راہ خدا میں جہاد کرنے کا حکم، ان مجموعہ صفات ( تقوی ، توسّل اور جہاد) کانتیجہ وہی چیز ہے جسے آیت کے آخر میں بیان کیاگیا ہے: '' لعلکم تفلحون'' یعنی یہ صفات تمہاری فلاح اور رستگاری کا باعث ہیں''

۲_ سورة اسرا کی آیت ۵۷ میں وسیلہ کا تذکرہ کیاگیا ہے _ آیت ۵۷ کے معنی کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے آیت ۵۶ کامطالعہ کرنا چاہیے جس میں یوں ارشاد ہے

''قل ادعوا الّذین زَعمتم من دُونه فَلا یملکونَ کشفَ الضُرّ عنکم و لا تحویلاً''

اے پیغمبر: کہہ دیجئے کہ خدا کے علاوہ تم جنہیں پکارتے ہو اور انہیں اپنا معبود تصوّر کرتے ہو انہیں پکار کر دیکھ لوکہ وہ تمہاری مشکل کوحل کریں، وہ تمہاری کوئی مشکل حل نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تبدیلی لاسکتے ہیں''

( ''قُل ادعوا الّذین' ) ' والے جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں معبودوں سے مراد بت یا اس قسم کی کوئی اور چیزنہیں ہے ، کیونکہ کلمہ الذین صاحب شعور اور صاحب عقل افراد کے


لیے استعمال کیاجاتا ہے_ لہذا اس آیت میں وہ فرشتے مراد ہیں جنہیں لوگ پوجتے تھے یا حضرت عیسی مراد ہیں کہ ایک گروہ معبود کے عنوان سے انکی پرستش کرتا تھا_ یہ آیت بیان کررہی ہے کہ نہ فرشتے اور نہ ہی حضرت عیسی (ع) تمہاری مشکل کو حل کرسکتے ہیں _

بعد والی آیت میں یوں ارشاد ہے ''( اولئک الّذین يَدعُون یبتغون الی ربّهم الوسیلة ) ; خود یہ لوگ ( فرشتے اور حضرت عیسی (ع) وہ ہیں جو خداوند کی بارگاہ میں وسیلہ کے ذریعہ تقرب حاصل کرتے ہیں وہ وسیلہ کہ ایہم اقرب جو سب سے زیادہ نزدیک ہو '' و یرجون رحمة'';اور اللہ تعالی کی رحمت کی امید رکھتے ہیں'' '' و یخافون عذابہ '' اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ '' انّ عذاب ربک کان محذوراً ; تیرے پروردگار کاعذاب ایسا ہے جس سے سب ڈرتے ہیں''_

وہابیوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ اولیائے الہی کے ساتھ توسّل کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں ( کاشف الضر) سمجھا جائے یعنی انہیں مستقل طور پر مشکلات کا حل کرنے والا سمجھا جائے اور قضائے حاجات اور دفع کر بات کا سرچشمہ سمجھا جائے حالانکہ توسّل کا یہ معنی نہیں ہے _

جن آیات کو وہابیوں نے پیش کیا ہے وہ عبادت کے بارے میں بیان کرتی ہیں _ حالانکہ کوئی بھی اولیائے الہی کی عبادت نہیں کرتا ہے _

ہم جس وقت پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ توسّل کرتے ہیں کیا انکی عبادت کرتے ہیں؟ کیا ہم پیغمبر اکرم(ص) کو اللہ تعالی کے علاوہ مستقل طور پر مؤثر اور کاشف ضر سمجھتے ہیں؟

جس توسّل کی طرف قرآن مجید نے دعوت دی ہے وہ یہ ہے کہ اس وسیلہ کے ذریعے خدا


کے نزدیک ہوں، یعنی یہ ذوات مقدّسہ، بارگاہ خدا میں شفاعت کرتی ہیں_ وہ چیز جو ہم نے شفاعت کے بارے میں بیان کی ہے_

در حقیقت توسّل کی واقعيّت اور شفاعت کی واقعيّت ایک ہی ہے_ بہت سی آیات شفاعت کو ثابت کرتی ہیں اور دو آیات توسل کو بیان کرتی ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ سورة مائدہ کی ۵۷ نمبر آیت '' ایہم اقرب'' کے ذریعے توسّل کو بیان کرتی ہے یعنی فرشتے اور حضرت عیسی (ع) بھی اپنے لیے وسیلہ منتخب کرتے ہیں وہ وسیلہ جو زیادہ نزدیک ہے ''ہم'' جمع کی ضمیر ہے جو صاحب عقول کے لیے استعمال کیجاتی ہے_ یعنی اولیائے الہی اور صالحین کے ساتھ توسّل کرتے ہیں، ان صالحین میں سے ہر ایک خدا کے نزدیک تر ہیں_

بہرحال سب سے پہلے واضح ہونا چاہیے کہ اولیائے الہی کے ساتھ توسّل کیا ہے؟

کیا یہ توسّل ان کی عبادت اور پوجا کرنا ہے؟ ہرگز ایسا نہیں ہے_

کیا انہیں مستقل طور پر مؤثر جاننا ہے؟ ہرگز ایسا نہیں ہے_ کیا انہیںمستقل طور پر قاضی الحاجات اورکاشف الکربات جاننا ہے؟ ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ذوات مقدّسہ اس شخص کے لیے جس نے انکے ساتھ توسّل کیا ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں شفاعت اور سفارش کرتی ہیں_ اس کی مثال ایسے دی جاسکتی ہے کہ میں کسی بڑی شخصيّت کے گھر جانا چاہتا ہوں وہ مجھے نہیں جانتا ہے ، میں ایک ایسے شخص کوواسطہ بناتا ہوں کہ جو مجھے بھی جانتا ہے اور اس کے اس شخصیت کے ساتھ بھی تعلقات ہیں_ اسے کہتاہوں کے آپ میرے ساتھ چلیں اور اس شخصیت کے ساتھ میرا تعارف کرادیں اور سفارش کردیں_ یہ کام نہ تو عبادت ہے اور نہ ہی تاثیر میں اسے مستقل سمجھنا ہے_


یہاں مناسب یہ کہ ہم '' ابن علوی'' کا کلام نقل کریں جو انہوں نے اپنی مشہور کتاب ''مفہوم یجب ان تصحّح'' میں بیان کیا ہے_ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے توسّل کی حقیقت کے سمجھنے میں غلطی کی ہے_ اس لیے ہم (اپنی نظر کے مطابق) توسّل کا صحیح مفہوم پیش کرتے ہیں_ اور اسے بیان کرنے سے پہلے محترم قاری کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کراتے ہیں_

۱_ توسّل دعا کا ایک انداز ہے اور حقیقت میں اللہ تبارک و تعالی کی طرف توجّہ کرنے کا ایک دروازہ ہے، پس ہدف اور اصلی مقصد اللہ تعالی ہے، اور جس شخصيّت کے ساتھ آپ توسّل کر رہے ہیں وہ واسطہ اور تقرب بہ خدا کا وسیلہ ہے، اگر کوئی توسّل میں اس کے علاوہ کوئی عقیدہ رکھتا ہوتو وہ مشرک ہے_

۲_ جو انسان کسی شخصيّت کے وسیلہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری دیتا ہے حقیقت میں یہ انسان کا اسی شخصيّت کے ساتھ اظہار محبّت ہے اوروہ اس شخصیت کے بارے میں اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے ہاں مقرّب ہے اور بالفرض اگر مسئلہ الٹ ثابت ہوجائے تو وہی انسان اس شخصيّت سے مکمل طور پر دوری اختیار کرلیتا ہے بلکہ اس کی مخالفت کرنے لگتا ہے_ تو ہمیں یہاں تک معیار کا علم ہوگیا ہے کہ توسّل کا معیار خداوند کے نزدیک اس شخصيّت کا مقربّ ہونا ہے_

۳_ اگر توسّل کرنے والا انسان اس بات کا عقیدہ رکھتا ہو کہ ( متوسّلٌ بہ) جس شخصيّت کے ساتھ اس نے توسّل کیا ہے، وہ ذاتی اور مستقل طور پر نفع ونقصان پہنچانے میں اللہ تعالی کی طرح ہے، تو ایسا انسان مشرک ہے _


۴_ توسّل کوئی واجب یا ضروری چیز نہیںہے اور نہ ہی یہ دعا قبول ہونے کا منحصر راستہ ہے، اہم چیز دعا ہے اور خداوند کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جس صورت میں بھی ہو_ جیسا کہ خود خداوند نے ارشاد فرمایا ہے کہ( ''واذا سا لک عبادی عنّی فانّی قریبٌ'' ) (۱)

''ابن علوی مالکی'' اس مقدمہ کو بیان کرنے کے بعد، توسّل کے بارے میں اہلسنت کے علما، فقہاء اور متکلمین کے نظریات بیان کرتا ہے_ اور کہتا ہے کہ اعمال صالحہ کے ذریعے توسّل الی اللہ کی مشروعيّت ( جواز) کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے یعنی انسان نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرے، یہ اختلافی مسئلہ نہیں ہے_ مثلاً کوئی روزہ رکھتا ہے، نماز پڑھتا ہے، قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے، صدقہ دیتا ہے اور ان اعمال کے ذریعے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے_ یہ چیز مسلّماً صحیح ہے_

اس قسم کے توسّل کو حتی کہ سلفیوں نے بھی قبول کیا ہے _ من جملہ ''جناب ابن تیميّہ نے اپنی مختلف کتب میں بالخصوص اپنی کتاب'' القاعدة الجلیلة فی التوسّل و الوسیلة'' میں اس قسم کے توسّل کو قبول کیا ہے_

ابن تیميّہ نے اس قسم کے توسّل یعنی نیک اعمال کے ذریعے توسّل کے جواز کے بارے میں تصریح کی ہے_ پس اختلاف کہاں ہے؟

کیا اختلاف ، اعمال صالحہ کے علاوہ توسّل کے بارے میں ہے؟ مثلاً اولیائے الہی کے ساتھ توسّل کیا جائے اور یوں کہا جائے :اللّهم انّی اتوسّل الیک بنبیک محمّد(ص) ;

____________________

۱) سورہ بقرة آیہ ۱۸۶ (ترجمہ )جب میرے بندے مجھ سے سوال کرتے ہیں تو میں قریب ہوں'' _


بارالہا میں تیری بارگاہ میں تقرب کے لیے تیرے نبی محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات کو وسیلہ بناتا ہوں_ اس کے بعد ابن علوی اضافہ کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں کہ اس معنی میں اختلاف اور وہابیوں کا اولیائے الہیسے توسّل کا انکار کرناحقیقت میں صرف ظاہری اور لفظی اختلاف ہے، واقعی اورحقیقی اختلاف نہیں ہے_

باالفاظ دیگر صرف لفظوں کا نزاع ہے_کیونکہ اولیائے الہی کے ساتھ توسّل حقیقت میں انکے نیک اعمال کے ساتھ توسّل ہے اور یہ ایک جائز امر ہے_

پس اگر مخالفین بھی انصاف اور بصیرت کی نگاہ سے دیکھیں تو انکے لیے مطلب واضح اور اعتراض ختم ہوجائیگا، اسطرح فتنہ خاموش جائیگا_ اورمسلمانوں پر مشرک اور ضلالت کی تہمت لگانے کی نوبت نہیں آئیگی_

اس کے بعد موصوف اس مطلب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جوانسان بھی اولیائے الہی کے ساتھ توسّل کرتا ہے اس لیے ہے کہ وہ ان سے محبّت کرتاہے_

اور کیوں اس کے ساتھ محبت کرتا ہے؟ اس لیے کہ اس انسان کا عقیدہ ہے کہ وہ شخص اللہ کا نیک بندہ ہے، یا اس لیئےہ وہ شخص اللہ کے ساتھ محبت کرتا تھا_ یا اللہ تعالی اس کے ساتھ محبّت کرتا ہے_ یا یہ کہ انسان اس وسیلہ کو پسند کرتا ہے اور اس کے ساتھ محبت کرتا ہے_ جب ہم ان تمام امور میں غور و فکر کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان سب کے باطن میں عمل پوشیدہ ہے یعنی حقیقت میں یہ خدا کی بارگاہ میں نیک اعمال کے ذریعے توسّل ہے_ اور یہ وہی چیز ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے_(۱)

____________________

۱) کتاب مفاہیم یجب ان تصحّح ص ۱۱۶، ۱۱۷_


البتہ ہم بعد میں بیان کریں گے کہ اولیائے الہی کے ساتھ توسّل اگر چہ انکی شان اور مقام کی خاطر ہو نہ انکے نیک اعمال کی خاطر اس اعتبار سے کہ یہ ذوات مقدسہ خداوند کی بارگاہ میں آبرومند ، عزیز اور سربلند ہیں یا کسی بھی خاطر یہ توسّل ہو، تو جب تک انہیں تاثیر میں مستقل نہ سمجھیں بلکہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں انہیں شفیع سمجھیں تو ایسا توسّل نہ کفر ہے اور نہ خلاف شرع_

قرآن مجید میں متعدّد مقامات پر اس قسم کے توسّل کی طرف اشارہ کیا گیاہے شرک تو تب ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو اللہ تعالی کے مقابلے میں مستقل طور پر مؤثر سمجھیں_ وہابیوں کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اس آیت ''( ما نعبدهم الّا لیقرّبونا الی الله زلفی'' ) (۱) میں ''عبادت اور ''شفاعت'' کو آپس میں مخلوط کردیا ہے_ اور یہ گمان کیا ہے کہ شفاعت بھی شرک ہے_ حالانکہ ان واسطوں کی عبادت کرنا شرک ہے نہ انکی شفاعت اور انکے ساتھ توسل کرنا شرک ہے _ (غور کیجیئے

توسل، اسلامی احادیث کی روشنی میں :

آیات توسّل ،کے اطلاق کے علاوہ ،جوہر اس توسل کو جو اسلام کے صحیح اعتقادی اصولوں کے خلاف نہ ہو، جائز بلکہ مطلوب قرار دیتی ہیں، ہمارے پاس توسل کے بارے میں بہت سی روایات بھی ہیں جو متواتر یاتواتر کے نزدیک ہیں _

ان میں سے بہت سی روایات خود پیغمبر اکرم(ص) کی ذ ات کے ساتھ توسّل سے مربوط ہیں_ کہ وہ توسل کبھی آپ(ص) کی ولادت سے پہلے کبھی ولادت کے بعد، آپ کی حیات میں یا آپ(ص) کی رحلت کے بعد، کیا گیاہے_

____________________

۱) سورہ زمر، آیت ۳_


البتہ کچھ روایات پیغمبر اکرم(ص) کے علاوہ دیگر دینی شخصیات سے توسّل کے ساتھ مربوط ہیں_

ان میں سے بعض روایات ،در خواست اور دعا کی صورت ،بعض بارگاہ الہی میں شفاعت کے تقاضا کی صورت میں ہیں، بعض میں اللہ تعالی کو پیغمبر اکرم(ص) کے مقام کا واسطہ دیاگیا ہے_ خلاصہ یہ کہ توسّل کی تمام اقسام ان روایات میں دیکھنے کو ملتی ہیں_ اور اس انداز میں ہیں کہ بہانے تلاش کرنے والے تمام وہابیوں پر راستہ بند کردیتی ہیں_

اب ان روایات کے چند نمونوں کو ملاحظہ فرمایئے

۱_ پیغمبر اکرم(ص) کی ولادت سے پہلے حضرت آدم(ع) کا آپ(ص) سے توسّل کرنا

''حاکم'' نے ''مستدرک'' اور دیگر محدثین نے اپنی کتب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا: کہ جس وقت حضرت آدم (ع) سے خطا سرزد ہوئی تو آپ (ع) نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے عرض کیا: '' یا ربّ اسئلک بحقّ محمّد: لمّا غفرت لی'' پروردگارا میں تجھے حضرت محمد(ص) کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے'' اللہ تعالی نے فرمایا کہ تو نے محمد(ص) کو کہاں سے پہچانا حالانکہ ابھی میں نے اسے خلق نہیں کیا ہے ؟

حضرت آدم (ع) نے عرض کی: پروردگارا اس معرفت کا سبب یہ ہے کہ جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے خلق کیا اور مجھ میں روح پھونکی، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو یہ جملہ عرش کے پائے پر لکھا ہوا تھا: '' لا الہ الّا الله محمّد رسول الله '' اس عبارت سے میں سمجھ گیا کہ یہ جو محمّد کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے وہ تمام مخلوقات میں سے تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اللہ تعالی نے فرمایا: اے آدم تو نے سچ کہا''انه لاحب الخلق الَّی'' وہ


میرے نزدیک تمام مخلوقات سے زیادہ محبوب ہے:

''''ادعونی بحقّه فقدغفرت لک'' (۱)

اس کے حق کا واسطہ دے کر مجھے سے مانگ میں تجھے معاف کردونگا''

دوسری حدیث حضرت ابوطالب کے توسّل کے ساتھ مربوط ہے جو انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے بچپن کے زمانے میں آپ(ص) کے ساتھ کیا_ حدیث کا خلاصہ یوں ہے کہ جسے ''ابن عساکر'' نے ''فتح الباری'' میں نقل کیا ہے:

کہ ایک مرتبہ مکہ میں خشک سالی ہوگئی، تمام قریش جمع ہوکر حضرت ابوطالب(ع) کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ سارے کھیت خشک ہوچکے ہیں، قحط نے ہر جگہ تباہی مچا رکھی ہے_ آؤ خداوند کے حضور چلیں اور بارش کے لیے دعا کریں_

حضرت ابوطالب(ع) ساتھ چلے اور انکے ساتھ ایک بچہ بھی تھا ( بچے سے مراد پیغمبر اکرم(ص) ہیں جو ابھی طفوليّت کا زمانہ گزار رہے تھے ) اس بچے کا چہرہ آفتاب کی طرح درخشاں تھا_ جناب ابوطالب(ع) نے اس بچے کو گود میں لیا ہواتھا _ اسی حالت میں اپنی کمر کو خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگایا اور اس بچے سے توسل کیا; اسی وقت آسمان پر بادل اُمڈ آئے اور ایسی بارش برسی کہ جس کے نتیجے میں خشک بیابان سرسبز ہوگئے_ اس وقت جناب ابوطالب(ع) نے پیغمبر(ص) کی شان میں ایک شعر کہا جویوں ہے_

____________________

۱) حاکم نے مستدرک ، جلد ۲ ص ۶۱۵ پر اورحافظ سیوطی نے ''الخصائص النبويّة'' میں اسے نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے اور بیہقی نے اسے ''دلائل النبوة'' میں نقل کیا ہے کہ عام طور پر اس کتاب میں وہ ضعیف روایت نقل نہیں کرتے ہیں اور قسطلانی اور زرقانی نے مذاہب اللدنيّہ میں اس حدیث کونقل کیا اور صحیح قرار دیا ہے اور دیگر علماء نے بھی اسے نقل کیا ہے _ مزید توضیح کے لیئےتاب '' مفاہیم یجب ان تصحّح ص ۱۲۱ اور اسکے بعد رجوع فرمائیں''_


''و ابیض یستسقی الغمام بوجهه

ثمال الیتامی عصمة للا رامل ''(۱)

کہ پیغمبر اکرم(ص) کے نورانی چہرے کے صدقے یہ بادل برس رہے ہیں_ یہ بچہ یتیموں کا ملجا اور بیوہ عورتوں کی پناہ گاہ بنے گا ''

ایک نابینا مرد نے پیغمبر اکرم(ص) کی ذ ات سے توسّل کیا_ وہ آپ(ص) کی نبوّت کے زمانے میں آپکی خدمت میں پہنچا، توسّل کر کے شفا پالی اور اسکی آنکھیں واپس لوٹ آئیں

یہ روایت صحیح ترمذی، اسی طرح سنن ابن ماجہ ، مسند احمد اوردیگر کتب میں نقل ہوئی ہے(۱) اس سے پتہ چلتا ہے کہ سند کے اعتبار سے حدیث محکم ہے_ بہرحال حدیث یوں ہے_

''کہ ایک نابینا آدمی آنحضرت(ص) کی خدمت میں پہنچا اورعرض کرنے لگا:

اے رسول(ص) خدا اللہ تعالی سے دُعا کیجئے کہ وہ مجھے شفا دے اور میری آنکھوں کی بینائی مجھے لوٹا دے _

پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: اگر تو کہتا ہے تو میں تیرے لیے دعا کرنے کو تیار ہوں اور اگر صبر کرتا ہے تو یہ صبر تیرے لیئے بہتر ہے( اور شاید تیری مصلحت اسی حالت میں ہو) لیکن اس بوڑھے آدمی نے اپنی حاجت پر اصرار کیا_ تو اس پر پیغمبر اکرم(ص) نے اس بوڑھے آدمی کو حکم دیا کہ مکمل اور اَچھے اندازمیں وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھو ، نماز کے بعد یہ دعا پڑھو:

'' اللّهم انّی اسئلک و ا توجّه الیک بنبیک محمّد (ص)

نبّی الرّحمة یا محمّد (ص) انّی اتوجّه بک الی

____________________

۱) فتح الباری، جلد ۲ ص ۴۹۴ و اسی طرح سیرہ حلبی، جلد ۱ ص ۱۱۶_


ربّی فی حاجتی لتُقضی ، اللّهم شَفعّه، فيَّ'' (۱)

بار الہا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی محمد مصطفی(ص) کے واسطے کہ جو نبی رحمت ہیں_ اے محمد(ص) میں آپ(ص) کے وسیلہ سے اپنے پروردگار کی طرف اپنی حاجت طلب کرنے چلا ہوں تا کہ میری حاجت پوری ہوجائے اور اے اللہ انہیں میرا شفیع قرار دے_

وہ نابینا آدمی چلاتا کہ وضو کرے، نماز پڑھے اور پیغمبر اکرم(ص) کی تعلیم دی ہوئی دعاپڑھے_ اس حدیث کا راوی عثمان بن عمیر کہتا ہے کہ ہم بہت سے افراد اسی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے اور باتیں کررہے تھے_ کچھ دیر بعد وہی بوڑھا آدمی مجلس میں داخل ہوا اس حال میں کہ اس کی آنکھیں بینا ہوچکی تھیں اور نابینائی کا کوئی اثر اس پر باقی نہیں تھا _

دلچسپ یہ ہے کہ بہت سے اہلسنت کے اکابر نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے_ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے _ ابن ماجہ نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے_ رفاعی نے بھی کہا ہے کہ بلاشک و شبہہ یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے _(۲)

پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد اُن سے توسل''

اہلسنت کے معروف عالم دین '' دارمی'' نے اپنی مشہور کتاب ''سنن دارمی'' میں ایک

____________________

۱) صحیح ترمذی ، ص ۱۱۹، حدیث ۳۵۷۸، اور سنن ابن ماجہ، جلد ۱، ص ۴۴۱، حدیث ۱۳۸۵ ، ومسند احمد، جلد ۴، ص ۱۳۸_

۲) مزید وضاحت کے لیے آپ کتاب مجموعة الرسائل و المسائل ، جلد ۱ ص ۱۸ طبع بیروت ، کیطرف رجوع فرمائیں_ ابن تیميّہ کی عین عبارت یہ ہے ''ان النسائی و الترمذی رویا حدیثاً صحیحاً ان النّبی علّم رجلاً ان یدعو فیسال الله ثم یخاطب النبی فیوسّل به ثم یسال الله قبول شفاعته''


باب اس عنوان سے قرار دیاہے کہ ''باب ماحکم الله تعالی نبيّه (ص) بعد موته'' ( یہ باب اس کرامت اور احترام کے بارے میں ہے جو اللہ تعالی نے پیغمبر(ص) کے ساتھ مختص کیا ہے ان کی رحلت کے بعد) اس باب میں وہ یوں رقمطراز ہیں_

'' ایک مرتبہ مدینہ میں شدید قحط پڑ گیا_ بعض لوگ حضرت عائشےہ کی خدمت میں گئے اور ان سے چارہ جوئی کے لیے کہا_ حضرت عائشےہ نے فرمایا جاؤ پیغمبر اکرم(ص) کی قبر پر چلے جاؤ_ اور قبر والے کمرے کی چھت میں سوارخ کرو، اس انداز میں کہ آسمان اندر سے نظر آئے اور پھر نتیجہ کی انتظار کرو_ لوگ گئے انہوں نے اسی انداز میں سوراخ کیا کہ آسمان وہاں سے نظر آتا تھا; بارش برسنا شروع ہوگئی اسقدر بارش برسی کہ کچھ ہی عرصہ میں بیابان سرسبز ہوگئے اور اونٹ فربہ ہوگئے _(۱)

''پیغمبر اکرم(ص) کے چچا حضرت عباس سے توسل'':

امام بخاری نے صحیح بخاری میں نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں قحط تھا تو حضرت عمر ابن خطاب نے اللہ تعالی کو حضرت عباس بن عبدالمطلب کا واسطہ دیتے ہوئے باران رحمت طلب کی انکی دعا کی عبارت یہ تھی ''اللّهم انّاکنّا نتوسّل الیک بنبيّنا و تسقینا و انّا نتوسّل الیک بعمّ نبيّنا فاسقنا'' بارالہا ہم اپنے پیغمبر (ص) کے ساتھ توسل کرتے تھے تو توہم پر باران رحمت نازل فرماتا تھا_ آج ہم تجھے اپنے نبی(ص) کے چچا کاواسطہ دے کر دعا کرتے ہیں کہ ہم پر باران رحمت نازل فرما''

راوی کہتا ہے، اس دعا کے بعد فراوان بارش نازل ہوئی(۲)

____________________

۱) سنن دارمی، جلد ۱ ص ۴۳_

۲) صحیح بخاری، جلد ۲ ص ۱۶، باب صلاة الاستسقائ_


۶_ ابن حجر مكّی نےصواعق محرقہ میں امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ امام شافعی ہمیشہ اہلبیت(ع) رسول(ص) کے ساتھ توسّل کرتے تھے انہوں نے یہ مشہور شعر، ان سے نقل کیا ہے:

آل النّبی ذریعتی

و هم الیه وسیلتی

ا َرجوا بهم ا عطی غداً

بید الیمین صحیفتی

رسولخدا(ص) کاخاندان میرا وسیلہ ہیں، خداوند کی بارگاہ میں وہی میرے تقرب کا ذریعہ ہیں _ میں امید کرتا ہوں کہ کل قیامت کے دن انکی برکت سے میرا نامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں تھمایا جائے

اس حدیث کو ''رفاعی'' نے اپنی کتاب ''کتاب التوصل الی حقیقة التوسّل'' میں بیان کیا ہے(۱)

اسی مصنف نے کہ جو توسّل کے بارے میں بہت سخت عقیدہ رکھتا ہے_ اہلسنت کے مختلف منابع سے ۲۶ احادیث توسّل کے بارے میں نقل کی ہیں اگر چہ اس کی کوشش یہی رہی ہے کہ بعض احادیث کے بارے میں خدشہ ظاہر کرے لیکن احادیث تواتر کی حد تک یاتواتر کے قریب ہیں اور اہلسنت کی مشہور کتب میں نقل کی گئی ہیں_لہذا ان احادیث پر اتنی جلدی اعتراض نہیں کیا جاسکتا ہے _ اور ہم نے تو یہاں پر اس باب سے صرف چند احادیث کا تذکرہ کیا ہے ورنہ اس بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں _

____________________

۱)التوصل إلی حقیقة التوسّل ، ص ۳۲۹_


چند قابل توجّہ نکات

۱_ وہابیوں کے بہانے:

متعصّب وہابی اپنے ہدف کو ثابت کرنے کیلئے، یعنی ان مسلمانوں پر فسق اور کفر کی تہمت لگانے کے لیے کہ جو اولیاء کے سا تھ توسّل کرتے ہیں، مندرجہ بالا آیات اور روایات کے مقابلے میں کہ جو مختلف شکلوں میں توسّل کوجائز قراردیتی ہیں بہانے بناتے ہیں اور یہ بہانہ جوئی ایسے ہی ہے جیسے بچے بہانے بناتے ہیں

کبھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان صالحین اور بزرگان کی ذات سے توسّل کرنا حرام ہے، ان کے مقام کے ساتھ توسّل کرنا حرام نہیں ہے_ اسی طرح انکی دعا اور شفاعت میں بھی کوئی حرج نہیں ہے صرف انکی ذات کے ساتھ توسّل کرنا حرام ہے_

کبھی کہتے ہیں کہ انکی زندگی میں توسّل کرنا تو جائز ہے لیکن وفات کے بعد توسّل کرنا جائز نہیں ہے_ چونکہ جب وہ اس دنیا سے منتقل ہوجاتے ہیں توان کا ہمارے ساتھ رابطہ منقطع ہوجاتا ہے_ قرآن مجید فرماتا ہے ''انّک لا تُسمع الموتی '' اے پیغمبر آپ(ص) مردوں تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتے ہیں ''(۱) یعنی آپ(ص) کا رابطہ انکے ساتھ منقطع ہوچکا ہے_

لیکن اس قسم کی بہانہ تراشیاں واقعاً شرمناک ہیں کیونکہ :

اوّلاً: قرآن مجید نے ایک عامّ حکم بیان کیا ہے ہم اس آیت کے عموم یا اطلاق کے ساتھ تمسک کرتے ہوئے توسّل کی ان تمام اقسام کو جائز سمجھتے ہیں جو '' توحید عبادی'' اور توحید افعالی'' کے ساتھ منافی نہ ہوں_

____________________

۱) سورة نمل آیة ۸۰_


قرآن مجید میں ہے '' وابتغوا الیہ الوسیلہ'' جیسا کہ بیان کیا ہے وسیلہ اس چیز کو کہتے ہیں جو خدا کے تقرّب کا ذریعہ بنے_ پس جو شے بھی آپ کو خدا کے قریب کرنے کا وسیلہ بن سکتی ہے آپ اسے انتخاب کرسکتے ہیں_ چاہے وہ پیغمبر(ص) کی دعا ہو یا شفاعت، مقام پیغمبر(ص) ہو یا ذات پیغمبر(ص) کہ وہ اللہ تعالی کی بندگی، اطاعت، عبودیت اور دیگر صفات حسنہ کی وجہ سے اس کی بارگاہ میں محبوب و مقرّب ہے_

اللہ تعالی نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ ان امور کے ذریعے بارگاہ خدا میں تقرّب حاصل کرو_ پس وسیلہ کو صرف انسان کے اپنے نیک اعمال میں منحصر کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے جس کا وہابی دعوی کرتے ہیں_

وسیلہ کی جو اقسام ہم نے بیان کی ہیں نہ تو یہ توحید در عبادت میں رخنہ پیدا کرتی ہیں کیونکہ ہم صرف خدا کی عبادت کرتے ہیں نہ پیغمبر اکرم(ص) کی اور نہ ہی توحید افعالی میں خدشہ ایجاد کرتی ہیں، کیونکہ صرف اللہ تعالی نفع و نقصان کا مالک ہے، اس کے علاوہ جس کسی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اسی کے واسطہ سے ہے _

آیات میں اس قسم کے عموم کے بعد اب کس چیز کا انتظار ہے؟

یہ بہانہ تراشی تو ایسے ہے جیسے قرآن مجید فرماتا ہے''فاقرء وا ما تیسَّر من القرآن'' جتنا قرآن مجید کی تلاوت کرسکتے ہو کرو ''(۱) اب ا گر کوئی بہانہ بنائے اور شک کرے کہ کھڑے ہوکر قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ لیٹ کر تلاوت کرنا کیسے ہے؟ آیت کا عموم کہہ رہا ہے تلاوت قرآن کی تمام اقسام جائز ہیں_ تلاوت سفر میں ہو یا حضر میں _ وضو کے ساتھ ہو یا بغیر وضو کے اس وقت تک جائز ہے جب تک کوئی دلیل اس عموم کے خلاف قائم نہ ہوجائے _


قرآن مجید کے عمومات اور اطلاقات اس وقت تک قابل عمل ہیں، جب تک کوئی مانع اور رکاوٹ در پیش نہ آئے_ توسّل والی آیات بھی عام ہیں اور آیات قرآن کے عموم پر عمل کیاجاسکتا ہے جب تک کوئی مانع نہ ہو_ پس ہم بھی ان عمومات پر عمل کریں گے اور یہ بہانے تراشیاں قبول نہیں کریںگے_

ثانیاً: توسّل کے مسئلہ میں بیان ہونے والی روایات کہ جن میں سے بعض کو ہم نے اوپرپیش کیا ہے اس قدر متنوّع ہیں کہ توسّل کی تمام اقسام کی اجازت دیتی ہیں_ خود پیغمبر اکرم(ص) کی ذات کے ساتھ توسّل جیسے نابینا والے واقعہ میں بیان ہوا_ پیغمبر اکرم(ص) کی قبر مبارک کے ساتھ توسّل جیسا کہ بعض واقعات میں بیان ہوا_ اسی طرح پیغمبر کی دعا سے توسّل، انکی شفاعت سے توسّل جیسا کہ دیگر واقعات میں بھی بیان کیاگیا ہے _ ان متنوّع اور مختلف روایات کی روشنی میں بہانہ تراشیوں کی کوئی گنجائشے باقی نہیں رہتی ہے_

ثالثاً: پیغمبر اکرم(ص) کی ذات سے توسل سے کیا مراد ہے؟ ہماری نظر میں کیوں پیغمبر اکرم(ص) کی ذات کااحترام ہے اور ہم انہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفیع بناتے ہیں؟ یہ اس لیے کہ پیغمبر اکرم(ص) اطاعت اور عبوديّت کی اعلی ترین منزل پر فائز تھے_ پس حقیقت میں پیغمبر(ص) کی ذات کے سا تھ توسّل انکی اطاعات، عبادات اور افعال حسنہ کے ساتھ توسّل ہے او ریہ وہی چیز ہے جسے متعصب وہابی بھی جائزقرار دیتے ہیں_ کیونکہ وہ بھی قائل ہیں کہ طاعات کے ساتھ توسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے_

پس صرف الفاظ کا جھگڑا ہے _

تعجّب کی بات تو یہ ہے کہ بعض وہابی پیغمبر اکرم(ص) کی برزخی زندگی کا انکار کرتے ہیں اور انکی وفات کو (معاذ اللہ )کفار کی وفات جیسا سمجھتے ہیں _ حالانکہ قرآن مجید شہداء کے لیے حیات


جاوید کا تذکرہ کرتا ہے ''( بل احیائٌ عند ربّهم یرزقون'' ) (۱)

کیا پیغمبر اکرم(ص) کا مقام شہداء کے مقام سے کم ہے، جبکہ آپ سب لوگ اپنی نمازوں میں ان پر درودبھیجتے ہیں_ اگر رسولخدا(ص) وفات کے بعد توسل کرنے والوں کے توسّل کو نہیں سنتے توپھر آپ کا سلام بھیجنا بے فائدہ ہے ( خدا سے پناہ مانگتے ہیں اس اندھے تعصب سے کہ جو انسان کو کہاں سے کہاںتک پہنچادیتا ہے) _

البتہ ان میں سے بعض علماء آنحضرت کی حیات برزخی کے قائل ہیں انہیں اپنے اس نظریہ کے مطابق اپنا اعتراض واپس لے لینا چاہیے_

۲_ ''افراطی اور غالی افراد''

ہم افراط اور تفریط کرنے وا لے دونوں گروہوں کے درمیان میں ہیں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو توسّل کے مسئلہ میں مقصّر ہیں اور اعتراض تراشی کرتے ہیں اور جس توسّل کی قرآن و حدیث نے اجازت دی ہے وہ اسے جائز نہیں سمجھتے ہیں_ اور گمان کرتے ہیں کہ ان کا یہ نظریہ انکی توحیدکے کمال کا باعث ہے حالانکہ وہ سراسر غلطی پر ہیں_ کیونکہ اولیائے الہی کے ساتھ انکی اطاعت ، عبادت، اعمال اور بارگاہ الہی میں انکے تقرّب کیوجہ سے توسّل کرنا، مسئلہ توحید پر تاکید ہے اور ہر شے کا خدا سے طلب کرنا ہے_

دوسری طرف ایک افراطی گروہ ہے جو توسّل کی آڑ میں غلّو کا راستہ اختیار کرتے ہیں_ ان غالیوں کا خطرہ اور نقصان اس پہلے گروہ سے کم نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ بعض اوقات ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جو توحید افعالی کے ساتھ سازگار نہیں ہیں_ یا بعض اوقات ایسی باتیں

____________________

۱)سورة آل عمران آیت ۱۶۹_


کرتے ہیں جو عبادت میں توحید کے ساتھ منافی ہیں_ چونکہ''لامؤثر فی الوجود الّا اللّه'' اس عالم وجود میں مؤثّر واقعی صرف اللہ تعالی کی ذات ہے اور جو کچھ بھی موجود ہے اس کی بدولت ہے_

لہذا جس طرح ہمیں صحیح توسّل کے منکر افراد کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے یا انہیں ارشاد کرنا چاہیے اور غلطیوں سے روکنا چاہیے، اسی طرح افراطی گروہ اور غالیوں کو بھی ارشاد کرنا چاہیے اور انہیں راہ راست کی طرف لوٹانا چاہیے_

در واقع یہ کہا جاسکتا ہے کہ توسّل کے منکرین کی پیدائشے کا ایک سبب توسّل کے قائل افراد میں سے بعض کا افراط اور غلّو ہے جب انہوں نے افراط سے کام لینا شروع کیا تو فطرتی سی بات تھی کہ تفریطی ٹولہ انکے مقابلے میں ایجاد ہوجائیگا_ یہ ایک ایسا قانون ہے جو تمام اعتقادی، اجتماعی اور سیاسی مسائل میں پایا جاتا ہے اور انحرافی گروہ ہمیشہ ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہوتے ہیں اور دونوں گروہ غلط راستے پر ہٹ دھرمی کے ساتھ گامزن رہتے ہیں_

۳: تنہا توسّل کافی نہیں ہے _

لوگوں کو اس بات کی تلقین کرنی چاہیے کہ صرف اولیائے الہی اور صالحین کے ساتھ توسّل پر اکتفانہ کریں_ کیونکہ توسّل تو ہمارے لیئے ایک درس ہے_ وہ اسطرح کہ ذہن میں سوال اٹھتا ہے، کہ ہم ان اولیاء کے ساتھ کیوں توسّل کرتے ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ اس لیے توسّل کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں آبرومند ہیں، کیوں آبرومند ہیں؟اپنے نیک اعمال کی وجہ سے آبرومند ہیں پس ہمیں بھی نیک اعمال کی طرف جانا چاہیے_ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ توسّل ہمیں درس دیتا ہے کہ اللہ تعالی کا قرب نیک اعمال کے ذریعے


حاصل کیا جاسکتا ہے_

اور اولیائے الہی کے ساتھ توسّل بھی انکے نیک اعمال کیوجہ سے ہی کیا جاتا ہے_ وہ اپنے اعمال صالح کیوجہ سے خدا کا قرب حاصل کرچکے ہیں اور ہم توسّل میں ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ہاں ہماری بھی شفاعت کریں ، لہذا ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ جس راستے کو انہوں نے طے کیا ہے ہم بھی اس راستے پر عمل پیرا ہوں_ توسّل کو ایک انسان ساز اور تربیت کرنے والے مکتب میں تبدیل ہونا چاہیے_ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم توسّل پر ہی رک جائیں اور اس کے بلند مقاصد کو فراموش کردیں_ یہ ایک اہم بات تھی جس کی طرف ہم سب کو متوجہ رہنا چاہیے_

۴: امور تکوینی میں توسّل:

ایک اور نکتہ جس کی طرف توجہ ضروری ہے، یہ ہے کہ عالم اسباب کے ساتھ توسّل جسطرح امور تشریعی میں موجود ہے اسی طرح امور تکوینی میں بھی موجود ہے اور ان میں سے کوئی سا توسل بھی توحید کی راہ میں مانع نہیں ہے_ ہم جس وقت اپنے مطلوبہ نتائج تک پہنچنا چاہتے ہیں تو اپنی عادی زندگی میں اسباب کے پیچھے جاتے ہیں، زمین میں ہل چلاتے ہیں، بیج بوتے ہیں آبیاری کرتے ہیں_ فصل کی حفاظت کرتے ہیں، اور پھر موقع پر فصل کاٹتے ہیں اور اس سے اپنی زندگی میں استفادہ کرتے ہیں کیا یہ اسباب کے ساتھ توسّل کرنا ہمیں اللہ تعالی سے غافل کردیتا ہے؟ کیا اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ زمین سبزہ اگاتی ہے_ اور سورج کانور اور بارش کے حیات بحش قطرے بیج، گل و گیاہ اور پھلوں کی پرورش میں مددگار ثابت ہوتے ہیں_ یا کلّی طور پر عالم اسباب کے وسیلہ ہونے کے بارے میں عقیدہ رکھنا کیا توحید افعالی کے منافی


ہے؟ یقینا منافی نہیں ہے_ کیونکہ ہم عالم اسباب میں صرف اسباب مہيّا کرتے ہیں اور مسبب الاسباب اللہ تعالی کی ذات کو جانتے ہیں _

پس جس طرح طبیعی اسباب کے ساتھ توسّل کرنا توحید کے ساتھ منافی نہیں ہے اسی طرح عالم تشریع میں انبیائ، اولیاء اور معصومین (ع) کے ساتھ توسّل کرنا اور ان سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت کا تقاضا کرنا بھی توحید کے ساتھ منافی نہیں ہے_

البتہ اس عالم تکوین کے بارے میں بھی ایک افراطی گروہ موجود ہے جو اصلاً عالم اسباب کا انکار کرتے ہیں_ وہ گمان کرتے ہیں کہ عالم اسباب پر عقیدہ رکھنا توحید افعالی کے ساتھ منافی ہے_ اسی لیے وہ قائل ہیں کہ آگ نہیں جلاتی ہے بلکہ جس وقت آگ کسی شے کے نزدیک ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس شے کو جلاتا ہے، اسی طرح پانی آگ کو نہیں بجھاتا ہے بلکہ جس وقت آگ پر پانی ڈالا جاتا ہے تو اللہ تعالی اس آگ کو بجھادیتا ہے_ یہ لوگ اس انداز میں علّت اور معلول کے درمیان پائے جانے والے تمام واضح اور بدیہی روابط کا انکار کرتے ہیں_

حالانکہ قرآن مجید واضح انداز میں عالم اسباب کو قبول کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہم بادلوں کو بھیجتے ہیں اور یہ بادل تشنہ زمینوں کو سیراب کرتے ہیں اور انکے ذریعے مردہ زمینیں زندہ ہوجاتی ہیں'' فيُحیی به الارض بعد موتها'' (۱)

''يُحیی بہ '' یعنی یہ بارش کے قطرے زمین کو حیات بخشتے ہیں_ اس کے علاوہ بہت سی آیات عالم اسباب کے وسیلہ ہونے کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں لیکن بہرحال یہ اسباب ذاتی طور پر کوئی قدرت نہیں رکھتے ہیں بلکہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہے اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ ہے_ یہ آثار اللہ تعالی نے انہیں عطا فرمائے ہیں_ جس طرح اسباب طبیعی کے منکر،

____________________

۱) سورة روم آیة ۲۴_


غافل خطاکار ہیں اسی طرح عالم تشریع میں بھی اسباب کا انکار کرنے والے غلطی پر ہیں_

ہم امید کرتے ہیں کہ گذشتہ سطور کی روشنی میں یہ لوگ تعصّب سے ہاتھ کھینچ لیں اور صحیح راستہ کا انتخاب کرلیں اور اسطرح بے جا تکفیر اور تفسیق کا خاتمہ ہوجائے اورپوری دنیا کے مسلمان آپس میں اتحادّ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دشمنوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جائیں جنہوں نے قرآن، اسلام اور خدا کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہوا ہے_ اور اسطرح اسلامی تعلیمات کو ہر قسم کے شرک ، غلو و زیادتی اور کوتاہی و نقصان سے پاک کر کے پوری دنیا کے سامنے پیش کریں _

والسلام

شعبان ۱۴۲۶ ھ ق

ناصر مکارم شیرازی


فہرست

مقدمہ: ۵

مقدمہ ۶

یہ راستہ وحدت کی طرف نہیں جاتا ۶

۱ ۱۰

قرآن ھر قسم کی تحریف سے منزہ ہے ۱۰

عدم تحریف قرآن: ۱۱

فریقین کی دو کتابیں: ۱۱

فرقہ و ارانہ دشمنی کی خاطر اسلام کی جڑوں کوکھوکھلانہ کیا جائے _ ۱۵

عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں : ۱۷

اختتامیہ کلمات: ۲۰

۲ ۲۳

''تقیہ'' قرآن و سنت کے آئینہ میں ۲۳

۱-تقیہ کیا ہے ؟ ۲۴

۲_تقیہ اور نفاق کا فرق: ۲۵

۳_تقیہ عقل کے ترازو میں : ۲۵

۴_تقیہ کتاب الہی میں : ۲۶

۵_تقیہ اسلامی روایات میں : ۲۹

۶_کیا تقیہ صرف کفار کے مقابلے میں ہے؟ ۲۹

۷) حرام تقیہ: ۳۴


(مصلحت آمیز ) تقيّہ: ۳۵

۳ ۳۷

عدالت صحابہ ۳۷

۱_ دو متضاد عقیدے : ۳۷

۲_تنزیہ کے سلسلہ میں شدّت پسندی: ۳۸

۳_ لا جواب سوالات: ۳۹

کیا یہ بات حقیقت کے خلاف ہے؟ ۴۱

۴: صحابہ کون ہیں؟ ۴۲

۵:''عقیدہ تنزیہ کا اصلی سبب'' ۴۴

۶_ کیا تمام اصحاب بغیر استثناء کے عادل تھے؟: ۴۹

۷_اصحاب پیغمبر(ص) کی اقسام: ۵۷

۱_ پاک و صالح: ۵۷

۲_ مؤمن خطاکار: ۵۷

۳_ گناہگار افراد: ۵۸

۴_ ظاہری مسلمان: ۵۸

۵_ منافقین: ۵۸

۸_تاریخی گواہی: ۵۹

۹_ پیغمبر(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد بعض صحابہ پر حدّ کا جاری ہونا ۶۳

۱۰_ نادرست توجیہات ۶۴

۱۱_ مظلوميّت علی (ع) ۶۶


۱۲: ایک دلچسپ داستان ۶۸

۴ ۷۰

بزرگوں کی قبروں کا احترام ۷۰

اجمالی خاکہ ۷۱

زیارت قبول کی گذشتہ تاریخ: ۷۳

قبور کی زیارت کے سلسلہ میں شرک کا توہّم: ۷۴

کیا شفاعت طلب کرنا توحید ی نظریات کے ساتھ سازگار ہے؟ ۷۶

کیا ( معاذ اللہ ) یعقوب مشرک پیغمبر(ص) تھے؟ ۷۷

کیا قرآن مجید، کفار اور منافقین کو شرک کی طرف دعوت دے رہا ہے؟ ۷۸

اولیا ء الہی کی شفاعت اُنکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے: ۷۹

ہم ان متضاد باتوں کو کیسے قبول کریں ۸۰

خواتین اور قبور کی زیارت ۸۱

'' شدّ رحال'' فقط تین مساجد کے لیے ۸۲

کیا قبور پر عمارت بنانا ممنوع ہے؟ ۸۴

وہابیت کے ہاتھوں ثقافتی میراث کی نابودی ۸۵

بہانے: ۸۷

۱_ قبروں کو مسجد نہیں بنانا چاہیے: ۸۷

۲_ایک اور بہانہ: ۸۹

بزرگان دین کی قبور کی زیارت کے مثبت آثار ۹۱

۳:تبرّک کو چاہنا اور طلب کرناممنوع ہے_ ۹۲


علمائے اسلام کی اہم ذمہ داری: ۹۳

۵ ۹۵

نکاح موقّت (مُتعہ ) ۹۵

متعہ یا ازدواج موقت ۹۶

ضرورت اور نیاز ۹۶

نکاح مسیار: ۹۸

متعہ کیا ہے؟ ۱۰۰

سوء استفادہ: ۱۰۳

نکاح متعہ، قرآن و سنّت اور اجماع کی روشنی میں : ۱۰۴

کس نے متعہ کو حرام کیا؟ ۱۰۸

الف) خلیفہ اول کے دور میں متعہ کا حلال ہونا: ۱۰۹

ب) اجتہاد در مقابل نصّ: ۱۰۹

حضرت عمر کی مخالفت کا سبب: ۱۱۰

متعہ کی تحریم کے بعد لوگوں کا ردّ عمل: ۱۱۲

بہترین راہ حل ۱۱۶

۶ ۱۲۰

زمین پر سجدہ ۱۲۰

عبادات میں سجدہ کی اہمیت: ۱۲۱

غیر خدا کے لیے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے: ۱۲۲

کس چیز پر سجدہ کرنا چاہیے: ۱۲۴


۴_ مسئلہ کی ادلّہ: ۱۲۷

الف) زمین پر سجدہ کے سلسلہ میں معروف حدیث نبوی: ۱۲۷

ب) سیرت پیغمبر(ص) : ۱۲۸

ج) صحابہ اور تابعین کی سیرت ۱۳۰

۷ ۱۳۳

جمع بین صلاتین ۱۳۳

بیان مسئلہ: ۱۳۴

اسلامی معاشروں میں پانچ اوقات پر اصرار کے آثار: ۱۳۶

دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کے جواز پر روایات: ۱۳۷

۱_ مذکورہ احادیث کا نتیجہ : ۱۴۲

۲_ قرآن مجید اور نماز کے تین اوقات: ۱۴۴

۸ ۱۴۹

وضو میں پاؤں کا مسح ۱۴۹

قرآن مجید اور پاؤں کا مسح: ۱۵۰

عجیب توجیہات ۱۵۳

نص ّ کے مقابلے میں اجتہاد اور تفسیر بالرا ی: ۱۵۵

جوتوں پر مسح کرنا ۱۵۸

پاؤں پر مسح اور احادیث اسلامی : ۱۵۹

مخالف روایات: ۱۶۵

سہل اور آسان شریعت: ۱۶۷


جوتوں پر مسح، عقل و شرع کے ترازو میں : ۱۷۰

روایات چند اقسام پر مشتمل ہیں: ۱۷۳

قسم دوم: ۱۷۷

بحث کا آخری نتیجہ: ۱۸۱

۹ ۱۸۲

بسم الله سورة الحمد کا جزء ہے ۱۸۲

ایک تعجب آور نکتہ : ۱۸۳

پہلی قسم کی احادیث: ۱۸۸

دوسری قسم کی احادیث: ۱۹۱

ما بین الدّفتین قرآن ہے: ۱۹۶

بحث کا خلاصہ : ۱۹۷

اَولیائے الہی سے توسّل ۲۰۱

''توسّل'' قرآنی آیات اور عقل کے آئینہ میں : ۲۰۲

توسل، اسلامی احادیث کی روشنی میں : ۲۱۱

۱_ پیغمبر اکرم(ص) کی ولادت سے پہلے حضرت آدم(ع) کا آپ(ص) سے توسّل کرنا ۲۱۲

پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد اُن سے توسل'' ۲۱۵

''پیغمبر اکرم(ص) کے چچا حضرت عباس سے توسل'': ۲۱۶

چند قابل توجّہ نکات ۲۱۸

۱_ وہابیوں کے بہانے: ۲۱۸

۲_ ''افراطی اور غالی افراد'' ۲۲۱


۳: تنہا توسّل کافی نہیں ہے _ ۲۲۲

۴: امور تکوینی میں توسّل: ۲۲۳


شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232