۱۰۱ دلچسپ مناظرے

مؤلف: استاد محمدی اشتہاردی
مناظرے


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


۱۰۱ دلچسپ مناظرے

تالیف: استاد محمدی اشتہاردی

مترجم: اقبال حیدر حیدری

ناشر: موسسہ امام علی علیہ السلام ۔ قم


مقدمہ

اسلام میں مناظرہ کی اہمیت اور مقاصد کی تکمیل میں اس کا کردار

حقائق کی وضاحت اور واقعیت کی پہچان کے لئے مناظرہ اور آمنے سامنے بحث و گفتگو کرنا خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ فکری اور علمی ترقی اپنے عروج پر ہے ثقافتی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہترین اور مستحکم ترین راستہ ہے، اور اگر فرض کریں کہ تعصب، ہٹ دھرمی اور سرکشی کی بنا پر مناظرہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو کم سے کم اتمام حجت تو ہوہی جاتی ہے۔

کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ طاقت کے بل بوتہ پر اپنے عقیدہ اور آئیڈیل کو کسی پر نہیں تھونپاجاسکتا،اور اگر بالفرض کوئی زبردستی قبول بھی کرلے تو چونکہ بے بنیاد ہے جلد ہی ختم ہوجائے گا۔

خداوندعالم نے قرآن مجید میں اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، اور اس کو ایک ”عام قانون“ کے طور پر بیان کیا ہے، چنانچہ خداوندعالم نے چار مقامات پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس طرح فرمایا ہے:

( قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ )( ۱ )

”ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل لے آو“۔

جس وقت اسلام دوسروں کو دلیل ، برہان اور منطق کی دعوت دیتا ہے تو خود بھی اس کے لئے دلیل اور برہان ہونا چاہئے۔

چنانچہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

( اُدْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ )( ۲ )

”آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیںاور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے“۔

”حکمت“ سے مراد وہ مستحکم طریقے ہیں جو عقل وعلم کی بنیاد پر استوار ہوں، اور ”موعظہ حسنہ“ سے مراد معنوی و روحانی نصیحتیں ہیں جن میں عطوفت اور محبت کا پہلو پایا جاتا ہو، اور سننے والے کے پاک احساسات کو حق و حقیقت کی طرف اُبھارے، نیز ”مجادلہ“ سے مراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بحث میں تنقیدی گفتگو کرنا، اور یہ طریقہ کار اگر انصاف اور حق کی رعایت کرتے ہوئے ہو تو ہٹ دھرم مخالف کو خاموش کرنے کے لئے لازم اور ضروری ہے۔

وضاحت: بعض انسانوں میں حقائق سمجھنے کی فکری صلاحیت اور قوی استعداد پائی جاتی ہے ، ایسے لوگوں کو جذب کرنے کے لئے عقلی براہین و دلائل بہترین راستہ ہے، لیکن اگر بعض افراد میں کمتر درجہ صلاحیت پائی جاتی ہے ان میں تعصب، عادت اور احساس بہت زیادہ پایا جاتا ہے، ایسے افراد کو موعظہ اور اچھی نصیحت سے دین کی دعوت دی جاتی ہے۔

اور بعض لوگ ہٹ دھرم، اور غلط فکر رکھتے ہیں ، ہر راستہ سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں

تاکہ اپنے باطل خیالات کوصحیح طریقہ سے پیش کرسکیں، ان کے نزدیک دلیل اور نصیحت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تو ایسے لوگوں سے ”مجادلہ“ کرنا چاہئے، لیکن شائستہ انداز میں مجادلہ کرنا چاہئے یعنی اخلاق حسنہ اور انصاف کے ساتھ ان سے بحث و گفتگو کی جائے۔

اس بنا پر فن مناظرہ میں پہلے مناظرہ کرنے والوں کے حالات اور احساسات کو پرکھنا چاہئے اور انھیں کے پیش نظر مناظرہ کرنا چاہئے۔

جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی مختلف مواقع پر انھیں تینوں طریقوں کو بروئے کار لاتے تھے اور انھیں کے ذریعہ مختلف لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کہ جنھوں نے تقریباً چار ہزار شاگردوں کی تربیت کی ہے ان میں سے ایک گروہ علمی میدان میں مناظرہ کے فن کا ماہر تھا، جس وقت مخالف علمی بحث و گفتگو کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا تو اپنے شاگردوں کو حکم دیتے تھے کہ ان لوگوں سے بحث و مناظرہ کریں۔

مادہ پرست اور منکرین خدا جیسے ابن ابی العَوجاء، دیصانی اور ابن مقفّع وغیرہ نے بارہا حضرت امام صادق علیہ السلام اور آپ کے شاگردوں سے بحث و گفتگو کی ہے، امام علیہ السلام ان کی باتوں کو سنتے تھے اور پھر ایک ایک کرکے ان کا جواب دیتے تھے جیسا کہ ابن ابی العَوجاء کہتا ہے:

” حضرت امام صادق( علیہ السلام) ہم سے فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو بھی دلیل ہے اس کو بیان کرو، ہم آزادانہ طور پر اپنے دلائل پیش کرتے تھے اور امام مکمل طور پر سنتے تھے، اس طرح کہ ہم یہ خیال کربیٹھتے تھے کہ ہم نے امام پر غلبہ کرلیا ہے، لیکن جب امام کی باری آتی تھی تو بہت ہی متین انداز میں ہمارے ایک ایک استدلال کی تحقیق اور چھان بین کرتے تھے اور ان کو ردّ کرتے تھے اس طرح کہ بحث و گفتگو کے لئے کسی طرح کا کوئی بہانہ باقی نہیں بچتا تھا“۔( ۳ )

قرآن مجید میں جناب ابراہیم علیہ السلام کے مناظرے

قرآن مجید میں خدا کے عظیم الشان پیغمبر جناب ابراہیم علیہ السلام کے بہت سے مناظرے بیان ہوئے ہیں، قرآن مجید میں ان کا ذکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی راہ پر چلنے والے اعتقادی، اجتماعی اور سیاسی مسائل میں غافل نہیں ہیں، بلکہ مختلف مورچوں پر منجملہ دینی اور ثقافتی مورچہ پر حق اور دین کے دفاع کے لئے استدلال اور منطقی گفتگو کرتے ہیں۔

جناب ابراہیم علیہ السلام کے بت شکنی سے متعلق واقعہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ انھوں نے سب بتوں کو توڑ ڈالا لیکن بڑے بت کو صحیح و سالم چھوڑ دیا، اور جب نمرود کے سامنے معاملہ رکھا گیا تو آپ سے سوال کیا گیا: ”تم نے ہمارے بتوں کو کیوں توڑا؟“

جناب ابراہیم علیہ السلام نے ا ن کے جواب میں کہا:

( قَالَ بَلْ فَعَلَهُ کَبِیرُهُمْ هَذَا فَاسْاٴَلُوهُمْ إِنْ کَانُوا یَنطِقُونَ )( ۴ )

”ابراہیم نے کہا کہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے تم ان سے دریافت کر کے دیکھو اگر یہ بول سکیں“۔

جناب ابراہیم علیہ السلام نے در حقیقت اس استدلال میں بت پرستوں کے عقیدہ کو استدلال کا وسیلہ قرار دیا، اور ایک ایسا مستحکم حربہ استعمال کیا:

بت پرستوں نے کہا: ”اے ابراہیم! تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں؟!“

جناب ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا:

”پس تم ان گونگے بتوں کو کیوں پوجتے ہو، جو نہ کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ کوئی کام کرنے کی قدرت رکھتے ہیں؟! اُف ہو تم پر اور تمہارے پست و ذلیل معبودوں پر، کیا تم لوگ غور و فکر نہیں کرتے؟( ۵ )

قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: نمرود (جناب ابراہیم علیہ السلام کا ہمعصر طاغوت) نے جناب ابراہیم علیہ السلام سے کہا: ”تمہارا خدا کون ہے؟“

جناب ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ”میرا خداوہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں موت و حیات ہے، میں ایسے ہی خدا کے سامنے سجدہ کرتا ہوں“۔

نمرود نے سفسطہ (یعنی دھوکہ بازی) شروع کی جس کا سادہ لوح انسانوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے، اور چلانا شروع کیا: ”اے بے خبر! یہ کام تو میرے ہاتھ میںبھی ہے، میں زندہ بھی کرتا ہوں اور مارتا بھی ہوں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ سزائے موت ملنے والے کو رہا کردیتا ہوں اور عام قیدی کو سزائے موت دیدیتا ہوں“!!۔

اور پھر اس نے اپنے کارندوں سے کہا: سزائے موت پانے والے مجرم کو آزاد کردو، اور ایک عام قیدی جس کے لئے سزائے موت کا حکم نہیں ہے اس کو سولی پر لٹکادو۔

اس موقع پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے مغالطہ اور دھوکہ بازی کے مقابلہ میں اپنا استدلال شروع کرتے ہوئے یوں کہا:

”صرف موت وحیات ہی خدا کے قبضہ قدرت میں نہیں ہے بلکہ تمام عالم ہستی اسی کے فرمان کے تحت ہے، اسی بنیاد پر میرا خدا صبح سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور غروب کے وقت مغرب میں غروب کرتا ہے، اگر تو سچ کہتا ہے کہ میں لوگوں کا خدا ہے

تو تو مغرب سے سورج نکال کر مشرق میں غروب کرکے دکھا“۔

قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَبُهِتَ الَّذِی کَفَرَ وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ )( ۶ )

”تو کافر حیران رہ گیا اور اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا“۔

یہ تھے جناب ابراہیم علیہ السلام کے قرآن مجید میں بیان ہونے والے بہت سے نمونوں میں سے دو نمونے:

یہ نمونے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مناظرہ کے صحیح طریقوں کو سیکھنا چاہئے، اور دینی و ثقافتی سازشوں کے مقابلہ میں استدلال اور مناظروں سے مسلح ہونا چاہئے تاکہ موقع پڑنے پر حق و حقیقت کا دفاع ہوسکے۔

قرآن مجید کے سورہ نساء آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَکُمْ ) ۔۔۔“( ۷ )

” اے ایمان لانے والو! اپنے تحفظ کا سامان سنبھال لو“۔

یہ آیہ شریفہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کو دشمن کے تمام مورچوں پر اور سازشوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے، جن میں سے ایک مورچہ ثقافتی اور فکری مورچہ ہے، جس کا فائدہ دوسرے راستوں سے زیادہ اور عمیق تر ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ان میں سے ایک مسئلہ فکری اور ثقافتی پہلو کی شناخت اور علمی و استدلالی بحث و گفتگو میں مناظرہ اور جدل ہے جس کی شناخت کے بعد مناسب موقعوں پر حق کا دفاع کرنے کے لئے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام مخالفوں سے مناظرہ کی ضرورت کے پیش نظر فرماتے ہیں:

خَاصمُوهُم وَ بَیَّنُوا لَهُمُ الْهُدَی الَّذِی اَنْتُمْ عَلَیْهِ،وَ بَیَّنُوا لَهُمْ ضَلالَتَهُمْ وَ بَاهِلُوهُمْ فِی عَلیٍّ عَلَیْهِ السَّلام “۔( ۸ )

”مخالفین سے بحث و گفتگو کرو، اور راہ ہدایت جس پر تم ہو ان لوگوں پر واضح کرو اور ان کی گمراہی کو روشن کرو، اور حقانیت علی علیہ السلام کے بارے میں ان سے ”مباہلہ“ (ایک دوسرے پر لعنت اور باطل کے طرفداروں کے لئے خدا کی طرف سے بلا نازل ہونے کی درخواست) کرو“۔

اس بنیاد کی بنا پر خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور اسی طرح شیعوں کے عظیم الشان علماء ہمیشہ مناسب موقعوں پر بحث و گفتگو، جدل اور مناظرے کیا کرتے تھے، اور اس طریقہ سے بہت سے ا فراد کو راہ ہدایت کی راہنمائی فرماتے اور گمراہی سے نجات دیتے تھے۔( ۹ )

حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے:

علماء شیعتنا مرابطون فی الثغر الذی یلی ابلیس و عفاریته، یمنعونهم عن الخروج علی ضعفاء شیعتنا، و عن ان یتسلط علیهم ابلیس و شیعته النواصبُ، الا فمن انتصب کان افضل ممن جاهد الروم وا لترک والخزر، الف الف مرة، لانه یدفع عن ا دیان محبینا، و ذلک یدفع عن ابدانهم “۔( ۱۰ )

”ہمارے شیعہ علماء ان سرحدوں کے محافظوں کی فر ع ہیں جو شیطان اور اس کے لشکر والوں کے مقابلہ میں صف آراء ہیں، وہ ہمارے ضعیف شیعوں پر حملہ کرنے سے دشمن کو روکتے ہیں، نیز شیطان اور اس کے ناصبی پیروکاروں کے مسلط ہونے میں مانع ہوتے ہیں، آگاہ ہوجاؤ کہ اس طرح کا دفاع کرنے والے شیعوں کی قدر و قیمت ہزار ہزار درجہ زیادہ ہے ان سپاہیوں سے جو دشمنان اسلام ؛ روم، ترک اور خزر کے کفار سے جنگ میں شریک ہوئے ہیں، کیونکہ یہ (شیعہ علماء) اسلامی عقائد اور اسلامی ثقافت کے محافظ اور دینداروں کا دفاع کرنے والے ہیں،جبکہ مجاہدین صرف جغرافیائی اعتبار سے اسلامی سرحدوں کا دفاع کرنے والے ہیں“۔

الازہر یونیورسٹی کے ایک بزرگ استاد جناب شلتوت کا قول

”الازہر “ (مصر) یونیورسٹی کے استاد کبیر اور مفتی جناب شیخ محمود شلتوت جو اہل سنت کے ممتاز اور جیّد عالم دین تھے، اپنے ایک انٹریو میں اس طرح کہتے ہیں:

والباحث المستوعب المنصف، سیجد کثیراً فی مذهب الشیعة ما یقوی دلیله و یلتئم مع اهداف الشریعة من صلاح الاٴسرة والمجتمع، و یدفعه الی الاخذ و الارشاد الیه “۔

”وہ محقق جو انصاف کی بنیاد پر تمام پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے جب اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے تو بہت سے مقامات پر مذہب تشیع کے بارے میں تحقیق کرتا ہے تو اس کو ایسا لگتا ہے کہ ان کی دلیلیں بہت مستحکم، شریعت اسلام کے اہداف و مقاصد کے ہمراہ، نسل و معاشرہ کی اصلاح سے اس طرح ہم آہنگ ہیں، جس کی بنا پر انسان مذہب شیعہ اور ان کے اصول کی طرف مائل ہوجاتا ہے“۔

اور اس کے بعد نمونہ کے طور پر چند معاشرتی اور گھریلو( ۱۱ ) مسائل کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”جس وقت ان مسائل میں مجھ سے سوال ہوتا ہے تو میں شیعہ فتووں کی بنیاد پر جواب دیتا ہوں“۔( ۱۲ )

ایک عظیم الشان استاد جو قاہرہ الازہر یونیورسٹی کا مقبول استاد ہو اس کی زبان سے یہ اعتراف واقعاً بہت مفید اور امید بخش ہے، کیونکہ موصوف مذہب تشیع کو برہان و استدلال کی بنیاد پر اسلام ناب محمدی کے اہداف سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں، اور ان کا تاریخی فتویٰ اور مذہب تشیع کی پیروی کی صحت اور قاہرہ کے بڑے بڑے دانشوروں کی تائید کے بارے میں مناظرہ نمبر ۵۸ میں بیان ہوگا۔ (انشاء اللہ)

کتاب ھٰذا کے بارے میں:

اس کتاب میں اسلام کے عظیم الشان رہبروں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور گزشتہ اور دور حاضر کے دینی عظیم الشان علمائے کرام کے مختلف مناظرے ذکر کے گئے ہیں، جو اس چیز کو بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرات منکرین خدا اور جاہل لوگوں سے کس طرح کا طریقہ کار اپناتے تھے نیز ان کی منطق اور استدلال کے مقابلہ میں انسانوں پر کس طرح تاثیر ہوتی تھی، جو ہمارے لئے ایک درس ہے کہ کس طرح حق و حقیقت کا دفاع کریں؟ اور فن استدلال اور صحیح مناظرہ کا کردار لوگوں کے جذب کرنے اور ان کو قانع کرنے میں بہت زیادہ موثر ہے، اسی وجہ سے مناسب ہے کہ ہم ان طریقوں کو سیکھیں اور انھیں کے ذریعہ مختلف موقع و محل پر جاہل اور گمراہ لوگوں کی ہدایت کا سامان فراہم کریں۔

یہ کتاب ،دو حصوں پر مشتمل ہے:

پہلا حصہ: جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان حضرات کے شاگردوں کے ذریعہ مختلف افراد سے مختلف موضوعات پر کئے جانے والے مناظروں کے نمونے بیان ہوئے ہیں۔

دوسرا حصہ: ممتاز علماء اور اسلامی محققین کے مختلف گروہوں سے کئے جانے والے مناظرے۔

امید ہے کہ ”ایک سو ایک مناظروں کا یہ مجموعہ “ مناظرہ کی روش اور طریقہ کی پہچان کے لئے بہترین ناصر و مونس قرار پائے، جس کے پیش نظر ”اسلامی اہداف و مقاصد“ کی تکمیل کے لئے ثمر بخش نتائج برآمد ہوں، تاکہ مستحکم علمی مناظروں کے ذریعہ ”حقیقی اسلام “ کے مخالفوں کی ”دینی اور ثقافتی سازشوں“ کا سدّ باب کرسکیں۔

والسلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ

محمد محمدی اشتہاردی

حوزہ علمیہ ،قم المقدسہ

موسم سرما، ۱۳۷۱ ھ ش

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیت ۱۱۱۔

(۲) سورہ نحل آیت ۱۲۵۔

(۳) بحار الانوار، ج۳، ص۵۸۔

(۴) سورہ انبیاء، آیت۶۳۔

(۵) سورہ نساء، آیت ۶۵۔

(۶) سورہ بقرہ، آیت ۲۵۸۔

(۷) سورہ نساء، آیت ۷۱۔

(۸) بحار الانوار، ج۱۰، ص۴۵۲۔

(۹) اس طرح کے مناظروں کے بارے میں مزید آگاہی کے لئے کتاب ”احتجاج طبرسی“ (دو جلدیں) اور بحار الانوار ج۹، اور ۱۰ کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۱۰) احتجاج طبرسی، ج۱، ص ۱۵۵۔

(۱۱) مثال کے طور پر ایک ہی نشست میں تین طلاقوں کا مسئلہ، اور طلاق کو کسی چیز پر معلق کرنے کے جائز نہ ہونا، (مثلاً کوئی شوہر اپنی زوجہ سے کہے: میں نے اگر فلاں بلڈنگ کو بیچ دیا تو تو طلاق شدہ ہے) اور مسلسل ۱۵ دفعہ سے کم دودھ پینے پر رضاعی محرمیت کا واقع نہ ہونے کا مسئلہ۔۔۔۔

(۱۲) ”الیقظہ“ اخبار، بغداد ، سال ۳۵، نمبر ۹۶، بتاریخ ۷شعبان ۱۳۷۸ھ، ”فی سبیل الوحدة الاسلامیة“ ص۲۷، تا ۳۰ کی نقل کے مطابق۔


پہلا حصہ:

پیغمبر اکرم(ص)، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے شاگردوں کے مناظرے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چند مناظرے

۱۔ پانچ گروہوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ( ۱۳ )

۲۵ / افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مناظرہ کریں۔

ان گروہوں کے نام اس طرح تھے: یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔

یہ لوگ مدینہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چاروں طرف بیٹھ گئے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث کا آغاز کرنے کی اجازت دی۔

یہودی گروہ نے کہا:

”ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”عزیر“ نبی( ۱۴ ) خدا کے بیٹے ہیں، ہم آپ سے بحث و گفتگو کرنا چاہتے ہیںاور اگر اس مناظرہ میں ہم حق پر ہوں تو آپ بھی ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں کیونکہ ہم آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہماری موافقت نہ کی تو پھر ہم آپ کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے“۔

عیسائی گروہ نے کہا:

”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، اور خدا ان کے ساتھ متحد ہوگیا ہے، ہم آپ کے پاس بحث و گفتگو کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری پیروی کریں اور ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں (تو بہتر ہے) کیونکہ ہم اس عقیدہ میں آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہمارے اس عقیدہ میں مخالفت کی تو ہم (بھی) آپ کی مخالفت کریں گے“۔

مادّہ پرست (منکر خدا) گروہ نے کہا:

”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”موجوات عالَم“ کا کوئی آغاز اور انجام نہیں ہے، اور یہ ”عالَم“ قدیم اور ہمیشہ سے ہے، ہم یہاں آپ سے بحث و گفتگو کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری موافقت کریں گے تو واضح ہے کہ برتری ہماری ہوگی، ورنہ ہم آپ کی مخالفت کریں گے“۔

دو گانہ پرست آگے بڑھے اور کہا:

ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے دو مربی، دو تدبیر کرنے والے اور دو مبدا ہیں، جن میں سے ایک نور اور روشنی کا خلق کرنے والا ہے اور دوسرا ظلمت اور تاریکی کا خالق ہے، ہم یہاں پر آپ سے مناظرہ کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ اس بحث میں ہمارے ہم عقیدہ ہوگئے تو بہتر ہے اور اس میں ہماری سبقت اور برتری ہے، اور اگر آپ نے ہماری مخالفت کی تو ہم بھی آپ کی مخالفت کریں گے“۔

بت پرستوں نے کہا:

ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے بت ہمارے خدا ہیں، ہم آپ سے اس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرنے آئے ہیں، اگر آپ اس عقیدہ میں ہمارے موافق ہوگئے تو معلوم ہے کہ سبقت اور تقدم ہمارا ہے، ورنہ تو ہم آپ سے دشمنی کریں گے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے کلی طور پر جواب میں بیان فرمایا:

(تم نے اپنا عقیدہ بیان کردیا، اب میری باری ہے کہ میں اپنا عقیدہ بیان کروں) ”میرا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم وحدہ لاشریک ہے، میں اس کے علاوہ ہر دوسرے معبود کا منکر ہوں، اور میں ایسا پیغمبر ہوں جس کو خداوندعالم نے تمام دنیا کے لئے مبعوث کیا ہے، میں خداوندعالم کی رحمت کی بشارت اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں، نیز میں دنیا بھر کے تمام لوگوں پر حجت ہوں، اور خداوندعالم مجھے دشمنوں اور مخالفوں کے خطرہ سے محفوظ رکھے گا“۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان گروہوں کو باری باری مخاطب کیا تاکہ ہر ایک سے الگ الگ مناظرہ کریں، چونکہ یہودیوں کے گروہ نے چیلنج کیا تھا اس وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہودیوں کے گروہ کو مخاطب کیا:

ا۔ یہودیوں سے مناظرہ

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں تمہاری باتوں کو بغیر کسی دلیل کے مان لوں؟

یہودی گروہ: نہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بات پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ ”عزیر“ خدا کے بیٹے ہیں؟

یہودی گروہ: کتاب ”توریت “مکمل طور پر نیست و نابود ہوچکی تھی اور کوئی اس کو زندہ نہیں کرسکتا تھا، جناب عزیر نے اس کو زندہ کیا، اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اگر تمہارے پاس جناب عزیر کے خدا کے بیٹے ہونے پر یہی دلیل ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو توریت لانے والے اور جن کے پاس بہت سے معجزات تھے جن کا تم لوگ خود اعتراف کرتے ہو، وہ تو اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے یا اس سے بھی بالاتر ہوں ! پس تم لوگ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ عقیدہ کیوں نہیں رکھتے جن کا درجہ جناب عزیر سے بھی بلند و بالا ہے؟

اس کے علاوہ اگر خدا کا بیٹا ہونے سے تمہارا مقصود یہ ہے کہ عزیر بھی دوسرے باپ اور اولاد کی طرح شادی اور ہمبستری کے ذریعہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں تو اس صورت میں تم نے خدا کو ایک مادّی، جسمانی اور محدود موجودقرار دیدیا ہے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کے لئے کوئی خلق کرنے والا ہو، اور اس کو دوسرے خالق کا محتاج تصور کریں۔

یہودی گروہ: جناب عزیر کا خدا کا بیٹا ہونے سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ان کی اس طرح ولادت ہوئی، کیونکہ یہ معنی مراد لینا جیسا کہ آپ نے فرمایا کفر و جہل کے مترادف ہے، بلکہ ہماری مراد ان کی شرافت اور ان کا احترام ہے،جیسا کہ ہمارے بعض علماء اپنے کسی ایک ممتاز شاگرد کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کے لئے کہتے ہیں: ”اے میرے بیٹے!“ یا ”وہ میرا بیٹا ہے“، یہ بات تو معلوم ہے کہ ولادت کے لحاظ سے بیٹا نہیں ہے کیونکہ شاگرد ،استاد کی اولاد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے کوئی رشتہ داری ہوتی ہے، اسی طرح خداوندعالم نے جناب عزیر کی شرافت اور احترام کی وجہ سے ان کو اپنا بیٹا کہا ہے، اور ہم بھی اسی لحاظ سے ان کو ”خدا کا بیٹا“ کہتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تمہارا جواب وہی ہے جو میں دے چکا ہوں، اگر یہ منطق اور دلیل اس بات کا سبب ہے کہ جناب عزیر خدا کے بیٹے بن جائیں تو پھر جو شخص مثل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب عزیر سے بھی بلند و بالا ہوں اس بات کا زیادہ مستحق ہیں۔

خداوندعالم کبھی بعض لوگوں کو دلائل اور اپنے اقرار کی وجہ سے عذاب کرے گا، تمہاری دلیل اور تمہارا اقرار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تم لوگ جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس سے بڑھ کر کہو جو جناب عزیر کے بارے میں کہتے ہو، تم لوگوں نے مثال دی اور کہا: کوئی بزرگ اور استاد اپنے شاگرد سے کوئی رشتہ داری نہیں رکھتا بلکہ اس سے محبت اور احترام کی وجہ سے کہتا ہے:

”اے میرے بیٹے!“ یا ”وہ میرا بیٹا ہے“، اس بناء پر تم لوگ یہ بھی جائز سمجھو کہ وہ اپنے دوسرے محبوب شاگرد سے کہے: ”یہ میرا بھائی ہے“، اور کسی دوسرے سے کہے: ”یہ میرا استاد ہے“، یا ”یہ میرا باپ اور میرا آقا ہے“۔

یہ تمام الفاظ شرافت اور احترام کی وجہ سے ہیں، جس کا بھی زیادہ احترام ہواس کو بہتر اور با عظمت الفاظ سے پکارا جائے، اس صورت میں تم اس بات کو بھی جائز مانو کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بھائی ہیں، یا خدا کے استاد یا باپ ہیں، کیونکہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ جناب عزیر سے بلند و بالا ہے۔

اب میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ اس بات کو جائز مانتے ہو کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بھائی، یا خدا کے باپ یا خدا کے چچا، یا خدا کے استاد ، آقا اور ان کے سردار ہوں، اور خداوندعالم احترام کی وجہ سے جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے کہے: اے میرے باپ!، اے میرے استاد، اے میرے چچا اور اے میرے سردار۔۔۔؟

یہ سن کریہودی گروہ لا جواب ہوگیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پایا، اور وہ حیران و پریشان رہ گئے تھے،چنانچہ انھوں نے کہا: ”آپ ہمیں غور و فکر اور تحقیق کرنے کی اجازت دیں!“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : بے شک تم لوگ اگر پاک و صاف دل اور انصاف کے ساتھ اس سلسلہ میں غور و فکر کرو تو خداوندعالم تم لوگوں کو حقیقت کی طرف راہنمائی فرمادے گا۔

۲۔ عیسائیوں سے مناظرہ

عیسائیوں کی باری آئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا:

تم لوگ کہتے ہو کہ خداوندقدیم اپنے بیٹے حضرت عیسیٰ مسیح کے ساتھ متحد ہے، اس عقیدہ سے تمہاری مراد کیا ہے؟

کیا تم لوگوں کی مراد یہ ہے کہ خدانے اپنے قدیم ہونے سے تنزل کرلیا ہے، اور ایک حادث (جدید خلقت) موجود میں تبدیل ہوگیا ہے، اور ایک حادث موجود (جناب عیسیٰ) کے ساتھ متحد ہوگیا ہے یا اس کے برعکس، یعنی حضرت عیسیٰ جو ایک حادث اور محدود موجود ہیں انھوں نے ترقی کی اوروہ خداوندقدیم کے ساتھ متحد ہوگئے ہیں، یا اتحاد سے تمہارا مقصد صرف حضرت عیسیٰ کا احترام اور شرافت ہے؟!

اگر تم لوگ پہلی بات کو قبول کرتے ہو یعنی قدیم وجود حادث وجود میں تبدیل ہوگیا تو یہ چیز عقلی لحاظ سے محال ہے کہ ایک ازلی و لامحدود چیز، حادث اور محدود ہوجائے۔

اور اگر دوسری بات کو قبول کرتے ہو تو وہ بھی محال ہے، کیونکہ عقلی لحاظ سے یہ چیز بھی محال ہے کہ ایک محدود اور حادث چیز لامحدود اور ازلی ہوجائے۔

اور اگر تیسری بات کے قائل ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) دوسرے بندوں کی طرح حادث ہیں لیکن وہ خدا کے ممتاز اور لائق احترام بندہ ہیں، تو اس صورت میں بھی خداوندکا (جو قدیم ہے) جناب عیسیٰ (علیہ السلام) سے متحد اور برابر ہونا قابل قبول نہیں ہے۔

عیسائی گروہ: چونکہ خداوندعالم نے حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو خاص امتیازات سے نوازا ہے، عجیب و غریب معجزات اور دوسری چیزیں انھیں دی ہیں، اسی وجہ سے ان کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے، اور یہ خدا کا بیٹا ہونا شرافت اور احترام کی وجہ سے ہے!

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”بعینہ یہی مطلب یہودیوں سے گفتگو کے درمیان بیان ہوا ہے اور تم لوگوں نے سنا کہ اگر یہ طے ہو کہ خداوندعالم نے ان کو امتیاز اور (معجزات) کی بنا پر اپنا بیٹا قرار دیا ہو تو پھر جو شخص جناب عیسیٰ (علیہ السلام) سے بلند تر یا ان کے برابر ہو تو پھر اس کو اپنا باپ، یا استاد یا اپنا چچا قرار دے۔۔۔“۔

عیسائی گروہ یہ اعتراض سن کر لاجواب ہوگیا، نزدیک تھا کہ ان سے بحث و گفتگو ختم ہوجائے، لیکن ان میں سے ایک شخص نے کہا:

کیا آپ جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو ”خلیل خدا“ (یعنی دوست خدا) نہیں مانتے؟“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : جی ہاں، مانتے ہیں۔

عیسائی: اسی بنیاد پر ہم جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کو ”خدا کا بیٹا“ مانتے ہیں، پھر کیوں آپ ہم کو اس عقیدہ سے روکتے ہیں؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : یہ دونوں لقب آپس میں بہت فرق رکھتے ہیں،لفظ ”خلیل“ دراصل لغت میں ”خَلّہ“ (بروزن ذرّة) سے ہے جس کے معنی فقر و نیاز اور ضرورت کے ہیں، کیونکہ جناب ابراہیم( علیہ السلام) بی نہایت خدا کی طرف متوجہ تھے، اور عفت نفس کے ساتھ، غیر سے بے نیاز ہوکر صرف خداوندعالم کی بارگاہ کا فقیر اور نیاز مند سمجھتے تھے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے جناب ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا ”خلیل“ قرار دیا، تم لوگ جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا واقعہ یاد کرو:

جس وقت (نمرود کے حکم سے) ان کو منجنیق میں رکھا تاکہ ان کو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی آگ کے اندر ڈالا جائے، اس وقت جناب جبرئیل خدا کی طرف سے آئے اور فضا میں ان سے ملاقات کی اور ان سے عرض کی کہ میں خدا کی طرف سے آپ کی مدد کرنے کے لئے آیا ہوں، جناب ابراہیم( علیہ السلام) نے ان سے کہا: مجھے غیر خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مجھے اس کی مدد کافی ہے، وہ بہترین محافظ اور مددگار ہے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو اپنا ”خلیل“ قرار دیا، خلیل یعنی خداوندعالم کا محتاج اور ضرورت مند، اور خلق خدا سے بے نیاز۔

اور اگر لفظ خلیل کو ”خِلّہ“ (بروزن پِلّہ) سے مانیں جس کے معنی ”معانی کی تحقیق اور خلقت وحقائق کے اسرار و رموز پر توجہ کرنا ہے“، اس صورت میں بھی جناب ابراہیم( علیہ السلام) خلیل ہیں یعنی وہ خلقت اور حقائق کے اسرار اور لطائف سے آگاہ تھے، اور یہ معنی خالق و مخلوق میں شباہت کی باعث نہیں ہوتی، اس بنا پر اگر جناب ابراہیم( علیہ السلام) صرف خدا کے محتاج نہ ہوتے، اور اسرار و رموز سے آگاہ نہ ہوتے تو خلیل بھی نہ ہوتے، لیکن باپ بیٹے کے درمیان پیدائشی حوالہ سے ذاتی رابطہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر باپ اپنے بیٹے سے قطع تعلق کرلے تو بھی وہ اس کا بیٹا ہے اور باپ بیٹے کا رشتہ باقی رہتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر تمہاری دلیل یہی ہے کہ چونکہ جناب ابراہیم( علیہ السلام) خلیل خدا ہیں لہٰذا وہ خدا کے بیٹے ہیں، تو اس بنیاد پر تمہیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) بھی خدا کے بیٹے ہیں، بلکہ جس طرح میں نے یہودی گروہ سے کہا، اگر یہ طے ہو کہ لوگوں کے مقام و عظمت کی وجہ سے یہ نسبتیں صحیح ہوں تو کہنا چاہئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے باپ، استاد، چچا یا آقا ہیں۔۔۔ جبکہ تم لوگ کبھی بھی ایسا نہیں کہتے۔

عیسائیوں میں سے ایک شخص نے کہا: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کے حوالہ سے بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، لہٰذا اس جملہ کی بنا پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے!

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اگر تم لوگ کتاب انجیل کو قبول کرتے ہو تو پھر اس جملہ کی بنا پر تم لوگ بھی خدا کے بیٹے ہو، کیونکہ جناب عیسیٰ کہتے ہیں: ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ میں بھی خدا کا بیٹا ہوںاور تم بھی۔

دوسری طرف یہ عبارت تمہاری گزشتہ کہی ہوئی بات (یعنی چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خاص امتیازات، شرافت اور احترام رکھتے تھے اسی وجہ سے خداوندعالم نے ان کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے) کو باطل اور مردود قرار دیتی ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس جملہ میں صرف خود ہی کو خدا کا بیٹا قرار نہیں دیتے بلکہ سبھی کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔

اس بنا پر بیٹا ہونے کا معیار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص امتیازات (اور معجزات میں سے) نہیں ہے، کیونکہ دوسرے لوگوں میں اگرچہ یہ امتیازات نہیں ہیں لیکن خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے نکلے ہوئے جملہ کی بنا پر خدا کے بیٹے ہیں، لہٰذا ہر مومن اور خدا پرست انسان کے لئے کہا جاسکتا ہے: وہ خدا کا بیٹا ہے، تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول کو نقل کرتے ہو لیکن اس کے برخلاف گفتگو کرتے ہو۔

کیوں تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو میں بیان ہونے والے ”باپ بیٹے“ کے لفظ کو اس کے غیر معنی میں استعمال کرتے ہو، شاید جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مراد اس جملہ ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، سے مراد اس کے حقیقی معنی ہوں یعنی میں حضرت آدم و نوح (علیہما السلام) کی طرف جارہا ہوں جو ہمارے سب کے باپ ہیں، اور خداوندعالم مجھے ان کے پاس لے جارہا ہے، جناب آدم و نوح ہمارے سب کے باپ ہیں، اس بنا پر تم کیوں اس جملہ کے ظاہری اور حقیقی معنی سے دوری کرتے ہو اور اس سے دوسرے معنی مرادلیتے ہو؟!

عیسائی گروہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مستدل گفتگو سے اس قدر مرعوب ہواکہ کہنے لگے: ہم نے آج تک کسی کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس ماہرانہ انداز میں اس طرح بحث و گفتگو کرے جیسا کہ آپ نے کی ہے، ہمیں اس بارے میں غور و فکر کی فرصت دیں۔

۳۔ منکرین خدا سے مناظرہ

مادّیوں اور منکرین خدا کی باری آئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ اس موجودات عالم کا کوئی آغاز نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

منکرین خدا: جی ہاں، یہی ہمارا عقیدہ ہے، کیونکہ ہم نے اس دنیا کے آغاز اور حدوث کو نہیں دیکھا، اور اسی طرح اس کے لئے فنا اور انتہا کا مشاہدہ نہیں کیا، لہٰذا ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : میں بھی آپ لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا تم نے موجودات کے قدیم، ہمیشگی اور ابدی ہونے کو دیکھا ہے؟

اگر تم کہتے ہو کہ ہم نے دیکھا ہے تو تمہیں اسی عقل و فکر اور بدنی طاقت کے ساتھ ہمیشہ سے ابد تک رہنا چاہئے تاکہ تمام موجوات کی ازلیت اور ابدیت کو دیکھ سکو، جبکہ ایسا دعویٰ عقل اور عینی واقعیت کے برخلاف ہے ، اور دنیا کے سبھی عقلمند حضرات اس بات میں تمہیں جھٹلائیں گے۔

منکرین خدا: ہم نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم نے موجودات کے قدیم ہونے کو دیکھا ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تم کو ایک طرفہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ تم لوگوں نے خود اقرار کیا ہے کہ نہ ہم نے موجودات کو دیکھا ہے اور نہ ان کے قدیم ہونے کو، اور نہ ہی ان کی نابودی کو دیکھا ہے اور نہ ان کی بقاء کو، پس تم کس طرح ایک طرفہ فیصلہ کرسکتے ہو،اور تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ چونکہ ہم نے موجودات کے حدوث اور فنا کو نہیں دیکھا لہٰذا موجودات قدیمی اور ابدی ہیں؟

(اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے ایک سوال کیا جس میں ان کے عقیدہ کو مردود کرتے ہوئے ثابت کیا کہ تمام موجودات حادث ہیں) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

کیا تم نے دن اور رات کو دیکھا ہے جو ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور ہمیشہ آمد و رفت کرتے ہیں۔

منکرین خدا: جی ہاں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ دن و رات کو اس طرح دیکھتے ہو کہ ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہےں گے۔

منکرین خدا: جی ہاں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تمہاری نظر میں یہ ممکن ہے کہ یہ دن رات ایک جگہ جمع ہوجائیں اور ان کی ترتیب ختم ہوجائے؟

منکرین خدا: نہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : پس اس صورت میں ایک دوسرے سے جدا ہیں، جب ایک کی مدت پوری ہوجاتی ہے تب دوسرے کی باری آتی ہے۔

منکرین خدا: جی ہاں، اسی طرح ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تم لوگوں نے اپنے اس اقرار میں شب و روز میں مقدم ہونے والے کے حدوث کا اقرار کرلیا ہے بغیر اس کے کہ تم لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہو، لہٰذا تمہیں خدا کا بھی منکر نہیں ہونا چاہئے( ۱۵ )

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”کیا تمہاری نظر میں دن رات کا کوئی آغاز ہے یاان کا کوئی آغاز نہیں ہے اور ازلی ہے؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ آغاز ہے تو ہمارا مقصد ”حدوث“ ثابت ہوجائے گا اور اگر تم لوگ یہ کہتے ہو کہ اس کا کوئی آغاز نہیں ہے تو تمہاری اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ جس کا انجام ہو اس کا کوئی آغاز نہ ہو۔

(جب دن رات انجام کے لحاظ سے محدود ہیں تو یہاں پر عقل کہتی ہے کہ آغاز کے لحاظ سے بھی محدود ہے، شب و روز کے محدود ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہیں اور یکے بعد دیگرے گزرتے رہتے ہیں اور پھر ایک کے بعد دوسرے کی باری آتی ہے)

اس کے بعد فرمایا:

تم لوگ کہتے ہو کہ یہ عالم قدیم ہے، کیا تم نے اپنے اس عقیدہ کو خوب سمجھ بھی لیا ہے یا نہیں؟

منکرین خدا: جی ہاں، ہم جانتے ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ دیکھتے ہو کہ اس دنیا کی تمام موجودات ایک دوسرے سے تعلق اور پیوند رکھتے ہیں اور اپنی بقا ء میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، جیسا کہ ہم ایک عمارت میں دیکھتے ہیں کہ اس کے اجزاء (اینٹ، پتھر، سیمنٹ وغیرہ) ایک دوسرے سے پیوند رکھتے ہیں اور اپنی بقاء میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔

جب اس دنیا کے تمام اجزاء اسی طرح ہیں تو پھر کس طرح ان کو قدیم اور ثابت( ۱۶ ) تصور کرسکتے ہو، اگر حقیقت میں یہ تمام اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ پیوند رکھتے ہوں اور ضرورت رکھتے ہوں، قدیم ہیں اگر حادث ہوتے تو کیسے ہوتے؟

منکرین خدا لاجواب ہوگئے، اور حدوث کے معنی کو بیان نہیں کرسکے، کیونکہ جو کچھ بھی حدوث کے معنی میں کہہ سکتے تھے، اورجن چیزوں کو قدیم مانتے تھے ان پر یہ معنی صادق آتے تھے، لہٰذا بہت زیادہ حیران اور پریشان ہوگئے ، اور انھوں نے کہا: ہمیں غور و فکر کرنے کا موقع دیں۔( ۱۷ )

۴۔دوگانہ پرستوں سے مناظرہ

ان کے بعد دوگانہ پرستوں کی باری آئی جن کا عقیدہ یہ تھا کہ دنیا کے دو مبداء اور دو مدبر بنام ”نور“ اور ”ظلمت“ ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا: تم کس بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے ہو؟

دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دنیا دو چیزوں سے تشکیل پائی ہے،اس دنیا میں یا خیر و نیکی ہے، یا شرّ اور برائی، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسی وجہ سے ہمارا عقیدہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا خالق بھی الگ الگ ہے، کیونکہ ایک خالق دو متضاد چیزیں خلق نہیں کرتا، مثال کے طور پر: برف سے گرمی پیدا ہونا محال ہے، جیسا کہ آگ سے سردی پیدا ہونا بھی محال ہے، لہٰذا یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں دو قدیم خالق ہیں ایک نور کا خالق (جو نیکیوں کا خالق ہے) اور دوسرا ظلمت کا خالق (جو برائیوں کا خالق ہے)۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ اس دنیا میں مختلف رنگ موجود ہیں جیسے کالا، سفید، سرخ، زرد، سبز اور مائل بہ سیاہی جبکہ یہ رنگ ایک دوسرے کی ضد ہیں کیونکہ ان میں دو رنگ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، جیسا کہ گرمی اور سردی ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم تصدیق کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تو پھر تم لوگ ہر رنگ کے عدد کے مطابق اتنے ہی خدا کے معتقد کیوںنہیں ہو؟ کیا تمہارے عقیدہ کے مطابق ہر ضد کا ایک مستقل خالق نہیں ہے؟ اس پر تم ہر ضد کی تعداد کے مطابق خالق کا کیوں عقیدہ نہیں رکھتے۔؟!

دوگانہ پرست اس دندان شکن سوال کے جواب دینے سے حیران و پریشان ہوگئے، اور غور و فکر میں غرق ہوگئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: تمہارے عقیدہ کے مطابق نور اور ظلمت دونوں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس دنیا کو چلا رہے ہیں، جبکہ نور کی فطرت میں ترقی ہے اور ظلمت کی فطرت میں تنزلی ہوتی ہے، کیا دو شخص جن میں سے ایک مشرق کی طرف جارہا ہو اور دوسرا مغرب کی طرف جارہا ہو ، کیا یہ دونوں اسی طرح چلتے چلتے ایک جگہ جمع ہوسکتے ہیں؟!

دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: نہیں ، ایسا ممکن نہیں ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر کس طرح نور اور ظلمت جو ایک دوسرے کے مخالف اور متضاد ہیں آپس میں متحد ہوکر اس دنیا کی تدبیر کا کام انجام دے رہے ہیں؟ آیا اس طرح کی چیز ممکن ہے کہ یہ دنیا جو دو متضاد اور مخالف اسباب کی وجہ سے پیدا ہو؟ مسلّم طور پر ایسا ممکن نہیں ہے، پس معلوم یہ ہوا کہ یہ دونوں چیزیں مخلوق اور حادث ہیں اور خداوندقادر و قدیم کی تدبیر کے ماتحت ہیں۔

دوگانہ پرست مجبوراً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے لاجواب ہوگئے، اور انھوں نے اپنا سر جھکالیا، اور کہنے لگے: ہمیں غور و فکر کرنے کی فرصت عنایت فرمائیں!

۵۔ بت پرستوں سے مناظرہ

اب پانچویں گروہ یعنی بت پرستوں کی باری آئی ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”تم لوگ کیوں خدا کی عبادت سے روگرداں ہو اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہو؟“

بت پرست: ہم ان بتوں کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا یہ بت کچھ سنتے بھی ہیں؟ اور کیا یہ بت خدا کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اور کیا اس کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں؟ جس سے تم ان کے احترام کرنے کی بدولت خدا کا تقرب حاصل کرتے ہو؟

بت پرست: نہیں یہ تو نہیں سنتے اور نہ خداوندعالم کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں!

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگوں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے نہیں تراشا ہے اور ان کو نہیں بنایا ہے؟

بت پرست: کیوں نہیں، ہم نے ان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر تم لوگ ان کے صانع اور بنانے والے ہو، مناسب تو یہ ہے کہ یہ تمہاری عبادت کریں نہ کہ تم لوگ ان کی عبادت اور پرستش کرو، اس کے علاوہ جو خدا تمہاری مصلحت اور تمہارے انجام نیز تمہارے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اس کو چاہئے کہ بتوں کی پرستش کا حکم تمہیں دے، جبکہ خداوندعالم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔

جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو بت پرستوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔

ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: خدا نے ان بتوں کی شکل و صورت والے مردوں میں حلول کیا ہے اور ہم ان بتوں کی پرستش اور ان پر توجہ اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ ان شکلوں کا احترام کرسکیں۔

ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہم نے ان بتوں کو پرہیزگار اور خدا کے مطیع بندوں کی شبیہ بنایا ہے، ہم خدا کی تعظیم اور اس کے احترام کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے ہیں!

تیسرے گروپ نے کہا: جس وقت خداوندعالم نے جناب آدم کو خلق کیا، اور اپنے فرشتوں کو جناب آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، لہٰذاہم (تمام انسان) اس بات کے سزاوار ہیں کہ جناب آدم کو سجدہ کریں اور چونکہ ہم اس زمانہ میں نہیں تھے، اس وجہ سے ان کو سجدہ کرنے سے محروم رہیں، آج ہم نے جناب آدم کی شبیہ بنائی ، اور خدا کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں تاکہ گزشتہ محرومیت کی تلافی کرسکیں، اور جس طرح آپ نے اپنے ہاتھوں سے (مسجدوں میں) محرابیں بنائی اور کعبہ کی طرف منھ کرکے سجدہ کرتے ہیں، کعبہ کے مقابل خدا کی تعظیم اور اس کے احترام کی وجہ سے سجدہ اور عبادت کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان بتوں کے سامنے در حقیقت خدا کا احترام کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تینوں گروہوں کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: تم سبھی لوگ حقیقت سے دور غلط اور منحرف راستہ پر ہو، اور پھر ایک ایک کا الگ الگ جواب دینے لگے:

پہلے گروہ کی طرف رخ کرکے فرمایا:

تم جو کہتے ہو کہ خدا نے ان بتوں کی شکلوں کے لوگوں میں حلول کررکھا ہے اس وجہ سے ہم نے ان بتوں کو انھیں مردوں کی شکل میں بنایا ہے اور ان کی پوجا کرتے ہیں، تم لوگوں نے اپنے اس بیان سے خدا کو مخلوقات کی طرح قرار دیا ہے اور اس کو محدود اور حادث مان لیا، کیا خداوندعالم کسی چیز میں حلول کرسکتاہے اور وہ چیز (جو کہ محدود ہے) خدا کو اپنے اندر سما لیتی ہے؟ لہٰذا کیا فرق ہے خدا اور دوسری چیزوں میں جو جسموں میں حلول کرتی ہیں جیسے رنگ، ذائقہ، بو، نرمی، سختی، سنگینی اور سبکی، اس بنیاد پر تم لوگ کس طرح کہتے ہو کہ جس جسم میں حلول ہوا ہو وہ تو حادث اور محدود ہے لیکن جو خدا اس میں واقع ہوا ہو وہ قدیم اور نامحدود ہے، جبکہ اس کے برعکس ہونا چاہئے یعنی احاطہ کرنے والا قدیم ہونا چاہئے اور احاطہ ہونے والا حادث ہونا چاہئے۔

اس کے علاوہ کس طرح ممکن ہے جو خداوندعالم ہمیشہ سے اور تمام موجودات سے پہلے مستقل اور غنی ہو، نیز محل سے پہلے موجود ہو ، اس کو محل کی کیا ضرورت ہے کہ خود کو اس محل میں قرار دے!۔

اور تمہارے اس عقیدہ کے پیش نظر کہ خدا نے موجودات میں حلول کر رکھا ہے ، تم نے خدا کو موجودات کی صفات کے مثل حادث اور محدود فرض کرلیا ہے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کا وجود قابل تغییر و زوال ہے، کیونکہ ہر حادث اور محدود چیز قابل تغییر اور زوال ہوتی ہے۔

اور اگر تم لوگ یہ کہو کہ کسی موجود میں حلول کرنا تغییر اور زوال کا سبب نہیں ہے، تو پھر بہت سے امور جیسے حرکت، سکون، مختلف رنگ، سیاہ و سفیداور سرخ وغیرہ کو بھی ناقابل تغییر اورناقابل زوال کے سمجھو، اس صورت میں تمہارے لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ خدا کے وجود پر ہر طرح کے عوارض اور حالات پیدا ہوتے ہیں، جس کے نتیجہ میں خدا کو دوسرے صفات کی طرح محدود اور حادث سے توصیف کرو اور خدا کو مخلوقات کی شبیہ مانو۔

جب شکلوں میں خدا کے حلول کا عقیدہ بے بنیاد اور کھوکھلا ہوگیا، تو چونکہ بت پرستی کی بنیاد بھی اسی عقیدہ پر ہے تو پھر وہ بھی بے بنیاد اور باطل ہوجائے گی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان دلائل اور انداز بیان کے سامنے بت پرستوں کا پہلا گروہ لاجواب ہوگیا، اور سرجھکاکر غور و فکر کرنے لگا اور کہا: ہمیں مزید غور و فکر کی فرصت دیں۔

اس کے بعدپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوسرے گروہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے بتاؤ کہ جب تم نیک اور پرہیزگار بندوں کی شکل و صورت کو پوجتے ہو اور ان شکلوں کے سامنے نماز پڑھتے ہو اور سجدہ کرتے ہو، اور ان شکلوں کے سامنے سجدہ کے عنوان سے اپنے سربلند چہروں کو زمین پر رکھتے ہو، اور مکمل خضوع کے ساتھ پیش آتے ہو، تو پھر خدا کے لئے کیا خضوع باقی رہا، (واضح الفاظ میں سب سے زیادہ خضوع سجدہ ہے، اور تم ان شکلوں کے سامنے سجدہ کرتے ہو تو پھر تمہارے پاس اور کیا خضوع باقی ہے جس کو خدا کے سامنے پیش کرو؟) اگر تم لوگ کہتے ہو کہ خدا کے لئے بھی سجدہ کرتے ہیں تو پھر ان شکلوں اور خدا کے لئے برابر کا خضوع ہوجائے گا، تو کیا حقیقت میں ان بتوں کا احترام خدا کے احترام کے برابر ہے؟

مثال کے طور پر:

اگر تم لوگ کسی حاکم اور اس کے نوکر کا برابر احترام کرو، تو کیا کسی عظیم انسان کو چھوٹے انسان کے ساتھ قرار دینا عظیم انسان کی بے احترامی نہیں ہے؟

بت پرستوں کا دوسرا گروہ: کیوں نہیں، بالکل اسی طرح ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر تم لوگ ان بتوں (کہ تمہارے عقیدہ کی بنا پر خدا کے نیک اور پرہیزگار بندوں کی صورت پر ہیں) کی پوجا سے در حقیقت خدا کی عظمت اور اس کے مقام و مرتبہ کی توہین کرتے ہو۔

بت پرست ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے منطقی دلائل کے سامنے لاجواب ہوگئے، اور کہا ہمیں اس سلسلہ میں غور و فکر کی فرصت عنایت کریں۔

اس کے بعد بت پرستوں کے تیسرے گروہ کی باری آئی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا:

تم نے مثال کے ذریعہ خود کو مسلمانوں کے شبیہ قرار دیا ہے، اس بنیاد پر بتوں کے سامنے سجدہ کرناحضرت آدم (علیہ السلام) یا خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کی طرح ہے، لیکن یہ دو چیزیں مکمل طور پر فرق رکھتی ہیں اور قابل موازنہ نہیں ہیں۔

مزید وضاحت:

ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک خدا ہے، ہم پر فرض ہے کہ اس کی اس طرح اطاعت کریں جس طرح وہ چاہتا ہے،اس نے جس طرح حکم دیا ہے اسی طرح عمل کریں، اور اس کی حدود سے آگے نہ بڑھیں، ہمیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے حکم اور اس کی مرضی کے بغیر اس کے حکم کے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے (قیاس اور تشبیہ کے ذریعہ) اپنے لئے فرائض اور تکالیف معین کریں، کیونکہ ہم تمام پہلووں سے آگاہ نہیں ہیں، شاید خدا اس چیز کو چاہتا ہے اور اس چیز نہیں چاہتا، اس نے ہمیں آگے بڑھنے سے منع کیا ہے۔

اور چونکہ اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ خانہ کعبہ کے سامنے عبادت کریں، ہم بھی اس کی اطاعت کرتے ہیں، اور اس کے حکم سے تجاوز نہیں کرتے، اسی طرح اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں خانہ کعبہ کی سمت عبادت کریں،چنانچہ ہم اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اور جناب آدم (علیہ السلام) کے بارے میں اس نے اپنے ملائکہ کو حکم دیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کریں نہ کہ آدم کی شکل و صورت پر بنے کسی دوسرے کے سامنے، لہٰذا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ ان کی شکل و صورت کو اپنے سے مقائسہ کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ جو کام تم انجام دیتے ہو شاید وہ اس سے راضی نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے اس نے تمہیں اس کام کا حکم نہ دیا ہو۔

مثال کے طور پر: اگر کوئی شخص تمہیں کسی خاص دن میں کسی خاص اور معین مکان میں جانے کی اجازت دیدے، تو کیا تمہارے لئے کسی دوسرے دن بھی اس مکان میں جانے کی اجازت ہے، یا اس معین دن میں کسی دوسرے مکان میں چلے جاؤ؟ یا کوئی شخص تمہیں لباس، غلاموں، یا حیوانوں میں سے کوئی لباس، غلام یا حیوان تمہیں بخش دے۔

تو کیا تمہیں اس بات کا حق ہے کہ دوسرے لباس، یا دوسرے غلام یا دوسرے حیوان میں جوکہ اس کے مثل ہیں تصرف کر وجن میںاس کی اجازت نہیں ہے۔؟

بت پرستوں کا تیسرا گروہ: نہیں، ایسا ہمارے لئے جائز نہیں ہے، کیونکہ صرف ہمیں مخصوص کام میں اجازت دی گئی ہے کسی دوسرے میں نہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : مجھے بتاؤ کہ کیا خداوندعالم سزاوار تر ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف کریں یا دوسرے لوگ؟

بت پرستوں کا تیسرا گروہ: یقینی طور پر خدا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف نہ کیا جائے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : پس تم نے خدا کے حکم کے بغیر ہی ان بتوں کی پوجا کیوں شروع کردی، اور اس کی مرضی کے بغیر ہی ان بتوں کے سامنے سجدہ کرنے لگے؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہترین دلائل کے سامنے بت پرستوں کا تیسرا گروہ لاجواب ہوگیا اور وہ خاموش ہوگئے، اور انھوں نے بھی عرض کی: ہمیں اس سلسلہ میں غور و فکر کی اجازت دیں۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان پانچ گروہوں سے مناظرہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث برسالت کیا، کہ ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ یہ پانچوں گروہ کے تمام ۲۵/ افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے اور انھوں نے واضح طور پر اعلان کیا:

مَارَاٴَیْنَا مِثْلَ حُجَّتِکَ یَا مُحَمَّد! نَشْهَدُ اٴَنَّکَ رَسُوْلُ اللهِ( ۱۸ )

”اے محمد!ہم نے آپ جیسی مستدل گفتگو نہیں دیکھی ہے، ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے برحق پیغمبر ہیں“۔

۲ ۔ قریش کے سرداروں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مناظرہ

عجیب و غریب واقعات میں ایک واقعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قریش کے سرداروں کے درمیان ہونے والا درج ذیل مناظرہ( ۱۹ ) ہے:

ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چند اصحاب کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور قرآنی آیات اور اسلامی احکام کی تعلیم میں مشغول تھے، اس موقع پر قریش کے چند مشرک اور بت پرست سردار جیسے: ولید بن مغیرہ، ابو البختری ، ابو جہل ، عاص بن وائل، عبد اللہ بن حذیفہ، عبد اللہ مخزومی، ابوسفیان، عتبہ اور شیبہ وغیرہ، تمام لوگ جمع ہوکرکہنے لگے کہ روز بروز محمد (ص) کا کام ترقی پر ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے پاس جاکر پہلے ان کی سرزنش اور ملامت کریں اور پھر ان سے بحث و جدل کریں اور ان کی باتوں کو ردّ کرتے ہوئے ان کے کھوکھلے پن اور بے بنیاد ہونے کو ان کے اصحاب اور دوستوں کے سامنے واضح کریں، اگر انھوں نے ہماری باتیں سمجھ لیں اور اس انحراف اور کج روی سے باز آگئے تو ہم اپنے ہدف میں کامیاب ہوگئے، ورنہ تلوار کے ذریعہ ان کا کام تمام کردیں گے۔

ابوجہل نے کہا: ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جو ہماری طرف سے ان کے ساتھ جدل اور بحث و مناظرہ کرے؟

عبد اللہ مخزومی نے کہا: میں ان سے بحث کرنے کے لئے تیار ہوں، اگر مجھے کافی سمجھتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ابو جہل نے بھی اس کو پسند کیا، اور سب لوگ وہاں سے اٹھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گئے۔

عبد اللہ مخزومی نے گفتگو کا آغار کیا اور اپنی گفتگو میں اعتراض بیان کرنے شروع کئے، ہر دفعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے جاتے تھے: ”کیا ابھی تمہاری گفتگو باقی ہے؟“، اور وہ کہتا تھا: ہاں، اور اپنی باتیں بیان کرتا جاتا تھا، یہاں تک کہ اس نے کہا: ہاں بس اتنا کافی ہے، اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہے تو ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔

اس کی گفتگو میں دس عدد اعتراض درج ذیل ترتیب سے تھے:

۱ ۔ تم دوسرے لوگوں کی طرح کھانا کھاتے ہو، پیغمبر کو دوسرے لوگوں کی طرح کوئی چیز نہیں کھانا چاہئے۔

۲ ۔ تمہارے پاس کیوںمال و دولت نہیں ہے، حالانکہ تمہیں خدا کے نمائندے اور ایک طاقتور بادشاہ کی طرح صاحب جاہ و ثروت ہونا چاہئے۔

۳ ۔ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے جو تمہاری تصدیق کرے، اور وہ فرشتہ ہمیں بھی دکھائی دے بلکہ مناسب ہے کہ پیغمبر کو بھی ملائکہ کی جنس سے ہو۔

۴ ۔ تم پر جادو کا اثر ہے، اور تم جادو ہوئے افراد کی طرح ہو۔

۵ ۔ قرآن کریم کسی مشہور و معروف شخص جیسے ”ولید بن مغیرہ مکّی“ یا ”عروہ طائفی“پرکیوں نازل نہیں ہوا۔

۶ ۔ ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ سخت اور پتھریلی زمین سے پانی کا چشمہ جاری نہ کردیں! اور خرما اور انگور کا باغ تیار نہ کردیں تاکہ ہم لوگ اس چشمہ سے پانی پئےں اور اس باغ کے پھل کھائیں۔

۷ ۔ یا آسمان کو سیاہ بادلوں کی طرح ہمارے سروں پر نیچے لے آئیں۔

۸ ۔ یا خدا اور فرشتوں کو ہمیں اپنی آنکھوں سے دکھائیں۔

۹ ۔ یا سونے سے بھرا ہوا گھر آپ کے پاس ہو!

۱۰ ۔ یا آپ آسمان پر جائیں اور خدا کی طرف سے کوئی خط لے کرآئیں تاکہ ہم اس کو پڑھیں (یعنی خدا مشرکین کے لئے خط لکھے کہ محمد(ص) میرے پیغمبر ہیں لہٰذاان کی اطاعت کرو)

ان دس چیزوں کو انجام دینے کے بعد بھی ہم وعدہ نہیں کرتے کہ ہمارے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے کہ آپ پیغمبر ہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ تمام کام آپ جادو اور چشم بندی کے ذریعہ انجام دیں۔

مشرکین کے اعتراضات اور خواہشوں کے مقابل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جواب

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد اللہ مخزومی کی طرف رخ کرکے فرمایا:

۱ ۔ کھانا کھانے کے سلسلہ میں تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ صلاح اور اختیار خدا کے ہاتھوں میں ہے، وہ جس طرح چاہے حکومت کرے، اس پرکسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے، وہ بعض کو فقیر، بعض کو غنی، بعض کوعزیز اور محترم، بعض کو ذلیل و خوار، بعض و صحیح و سالم اور بعض کو بیمار کرتا ہے،(البتہ یہ تمام چیزیں انسان کی صلاحیت کی بنا پر ہیں) اس صورت میں ان میں سے کوئی شخص خدا پر اعتراض کا حق نہیں رکھتا۔

اور اگر کوئی شخص خدا پر اعتراض کرے تو وہ کافر ہے، کیونکہ خداوندعالم ہی تمام عالم کا صاحب اختیار ہے، وہی تمام چیزوں کی صلاح اور بھلائی کو بہتر جانتا ہے، جو انسان کے لئے خیر ہوتا ہے اس کو عطا کرتا ہے، اور سبھی کو اس کے حکم کے سامنے تسلیم رہنا چاہئے ، جس شخص نے خدا کے حکم کی اطاعت کی وہ مومن ہے اور جس نے اس کے حکم کی مخالفت کی وہ گناہگار ہے اور اس کے لئے سخت سزائیں معین ہیں۔

اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:

( قُلْ اِنَّمَا اٴَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحَی اِلَیَّ اِنَّمَا اِلٰهُکُمْ اِلٰهٌ وَاحِدٌ )( ۲۰ )

”(اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہوں مگر میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک اکیلا ہے“۔

جیسا کہ ہر انسان کو ایک خاص چیز سے مخصوص کیا ہے، جس طرح تمہیں فقیر، غنی، صحت مند، خوبصورت اور شریف وغیرہ کے بارے میں اعتراض کا حق نہیں ہے اور اس کا فرمانبردار رہنا ضروری ہے، اسی طرح نبوت اور رسالت کے سلسلہ میں بھی خدا کے فرمان کے سامنے سر تسلیم جھکانا چاہئے۔

۲ ۔ لیکن تم لوگوں کی یہ بات کہ ”کیوں تمہارے پاس مال و دولت نہیں ہے جبکہ تم خدا کے نمائندہ ہو، اور خدا کے نمائندہ کو بادشاہ روم و ایران کی طرح صاحب زر و سیم ہونا چاہئے اور سلطان روم اور سلطان ایران کی طرح صاحب جاہ و مقام اور مال و دولت ہوناچاہئے، بلکہ خدا کو اس سلسلہ میں سلاطین سے بھی زیادہ توجہ دینا چاہئے“، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا یہ اعتراض خدا پر ہے، اور یہ اعتراض بے جا اور غلط ہے، کیونکہ خداوندعالم عالِم اور خبیر ہے، وہ اپنی تدبیر اور اپنے کاموں کی اچھائی کو جانتا ہے، اس میں دوسروں کی دخالت کی ضرورت نہیں ہے، خدا کا لوگوں کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہئے۔

اس کے علاوہ انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دینا ہے، پیغمبر کو چاہئے کہ شب و روز لوگوں کی ہدایت کے لئے کوشاں رہے، اگر کوئی پیغمبر لوگوں کی طرح صاحب جاہ و مقام ہو (دوسرے مستکبروں اور صاحبان جاہ کی طرح) تو پھر عام انسان اور غریب عوام ان کے پاس نہیں آسکتے، کیونکہ مالدار افراد ہمیشہ اونچے محلوں میں رہتے ہیں اور اونچے اونچے محل غریب عوام کے درمیان فاصلہ کردیتے ہیں، اور سادہ انسان ان سے ملاقات بھی نہیں کرسکتے۔

اس صورت میں بعثت انبیاء کا ہدف پورا نہیں ہوسکتا، اور انبیاء کی تعلیم و تربیت رک جائے گی، اور نبوت کا معنی مقام ظاہری جاہ و مقام سے آلودہ ہوکر بے اثر ہوجائے گا، جی ہاں جس وقت بادشاہ اور رئیس عوام الناس سے دور ہوجائیں تو پھر ملکی نظام درہم و برہم ہوجائے گا، نیز معاشرہ میں جاہل اور ناچار لوگوں کے لئے پریشانیاں کھڑی ہوجائیں گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ خداوندعالم نے مجھے جاہ و مقام اور مال و دولت نہیں دی ہے تاکہ میں تمہارے سامنے اپنی قدرت و طاقت کا مظاہرہ کرو، جبکہ خداوندعالم نے اپنے رسول کی نصرت و مدد کی ہے، اور اس کو دشمنوں اور مخالفوں پر فتح دی ہے، یہ بات خود نبی کی نبوت کے صادق ہونے پر دلیل ہے، اور قدرت خدا اور تمہارے عاجزی کی حکایت کر رہی ہے، (کہ اس نے اپنے پیغمبر کو بغیر مال و دولت اور فوج و سلطنت کے تم پر غلبہ عطا کیا)اور خداوندعالم بہت جلد ہی مجھے تم پر غلبہ عنایت کرے گا، تم لوگ میری ترقی کو نہیں روک سکتے، اور نہ ہی مجھے قتل کرسکتے ہو، میں بہت جلد ہی تم پر غلبہ کرلوں گا،تمہارے شہر میرے اختیار میںہوں گے اور سبھی مخالف اور د شمن مومنین کے سامنے تسلیم اور شرمسار ہوں گے۔ (انشاء اللہ)

۳ ۔ اب رہی تمہاری یہ بات کہ ”میرے ساتھ کوئی فرشتہ ہو اور تم اس فرشتہ کو دیکھ کر میری تصدیق کرو بلکہ پیغمبر فرشتہ کے جنس سے ہو“تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ فرشتہ کا جسم ہوا کی مانند لطیف ہوتا ہے جو دید کے قابل نہیں ہوتا، اور اگر فرض کریں کہ تمہاری آنکھوں کی روشنی بڑھادی جائے تاکہ تم لوگ فرشتہ کو دیکھ سکو تو بھی تم لوگ کہو گے کہ یہ تو انسان ہی ہے نہ کہ فرشتہ، (یعنی وہ بھی انسان کی شکل میں ہوگا) تاکہ تم سے رابطہ برقرار رکھ سکے، تم سے گفتگو کرسکے، تاکہ اس کی باتوں اور اس کے ہدف کو سمجھ سکو، ورنہ تو تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ وہ فرشتہ ہے نہ کہ انسان، اور جو کچھ بھی کہہ رہا ہے وہ حق ہے۔

اس کے علاوہ خداوندعالم اپنے پیغمبر کو معجزہ دے کر بھیجتا ہے اور کوئی اس معجزہ کی مثل نہیں لاسکتا، اور یہی پیغمبر کے صادق ہونے کی نشانی ہے، لیکن اگر فرشتہ بھی معجزہ دکھائے تو پھر اس کو تم کیسے سمجھ سکتے ہو کہ اس فرشتہ نے جو اعجاز دکھایا ہے دوسرے فرشتے انجام دینے پر قادر نہیں ہیں؟! اس بنا پر فرشتہ کا نبوت کا دعویٰ کرنا خود اس کے معجزات کے ساتھ اس کے دعویٰ کی سچائی پر دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ فرشتوں کا معجزہ پرندوں کی پرواز کی مانند طرح پرواز کرنا ہے کہ جسے انسان انجام نہیں دے سکتا، لیکن یہی کام فرشتوں کے درمیان معجزہ نہیں ہے، اور اگر انسان بھی پرندوں کی طرح پرواز کرے تو یہ اس کے لئے معجزہ ہے۔

اور یہ بات بھی مدّ نظر رہے کہ خداوندعالم نے انسان کو نبی بنا نے میں تم لوگوں کی سہولت کو پیش نظر رکھا ہے کیونکہ انسان سے بغیر کسی زحمت کے رابطہ برقرار کرسکتے ہو تاکہ وہ تم پر اپنے دلائل اور برہان واضح کرسکے، جبکہ تم لوگ اس طرح کے اعتراضات سے اپنی مشکل میں اضافہ کررہے ہو ،لوگ اس صورت میں حجت اور برہان تک نہیں پہنچ سکتے۔

۴ ۔ اب رہا تمہارا یہ کہنا کہ ”مجھ پر سحر و جادو کا اثر ہوگیا ہے“، تو یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے جبکہ میں صحت عقل اور تشخیص کے لحاظ سے تم لوگوں پر برتری رکھتا ہوں، میں نے تمہارے درمیان اپنی عمر گزاری ہے شروع سے اب تک چالیس سال تمہارے درمیان زندگی بسر کی ہے، تم نے اس مدت میں چھوٹی سے چھوٹی غلطی، لغزش، جھوٹ، خیانت اور گفتگو و نظریہ میں ضعف نہیں دیکھا، کیا جو شخص تمہارے درمیان چالیس سال تک اپنے طاقت و قوت یا خدا کی طاقت و قوت سے صدق و صداقت اور صحیح راستہ پر قدم بڑھائے ہوں کیا اس کے لئے ایسی تہمت لگانا صحیح ہے؟! اسی وجہ سے خداوندعالم تمہارے جواب میں ارشاد فرماتا ہے:

( انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاٴَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلاَیَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا )( ۲۱ )

”ذرا دیکھو کہ انھوں نے تمہارے لئے کیسی مثالیںبیان کی ہیں اور اس طرح ایسے گمراہ ہوگئے ہیں کہ کوئی راستہ نہیں مل رہا ہے“۔

۵ ۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ ” قرآن کریم کسی مشہور و معروف شخص جیسے ”ولید بن مغیرہ مکّی“ یا ”عروہ طائفی“ پر کیوںنازل نہیں ہوا“، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خداوندعالم کے نزدیک جاہ و مقام کی کوئی قیمت اور اعتبار نہیںہے ، اور اگر دنیاوی لذتیں اور نعمتیں ایک مکھی کے پر کے برابر ارزش رکھتی ہوتیں تو پھر خداوندعالم ذرہ برابر بھی کافروں اور مخالفوں کو عطا نہ کرتا۔

اس کے علاوہ یہ تمام تقسیمات خداوندعالم کے قبضہ قدرت میں ہے ، اس سلسلہ میں کسی کو کوئی اختیار، اعتراض اور شکوہ اورشکایت کا حق نہیں ہے، خداوندعالم اپنی نعمتوں کو اپنے لحاظ سے اور اپنی مرضی سے تقسیم کرتا ہے جس کو وہ چاہے بغیر کسی خوف کے عطا کرتا ہے ، یہ تم لوگ ہو جو اپنے کاموں میں مختلف چیزوں کو مدّ نظر رکھتے ہو اور تمہارے کام ہواو ہوس اور لوگوں کے خوف سے ہوتے ہیں، نیز تمہارے کام حقیقت و عدالت کے بر خلاف ہوتے ہیں تم لوگ بلا وجہ دوسروں کا احترام کرتے ہو اور غلط راستہ پر چلتے ہو، لیکن خداوندعالم کے تمام کام حقیقت اور عدالت کے تحت ہوتے ہیں دنیاوی جاہ و مقام اس کے ارادہ میں ذرہ برابر بھی تاثیر نہیں رکھتے۔ یہ تم لوگ ہو کہ ظاہری لحاظ سے مشہور و معروف اور صاحبان حیثیت افراد کو پیغمبری کے لئے دوسروں سے زیادہ مستحق سمجھتے ہو، لیکن خداوندعالم نبوت و رسالت کو اخلاقی کمالات اور معنوی و روحی عظمت، حقیقت ، فرمانبرداری اور خدمت گزاری کی بنیاد پر قرار دیتا ہے۔

ان کے علاوہ جیسا کہ میں نے کہا کہ خداوندعالم اپنے کاموں میں خود مختار ہے، ایسا نہیں ہے کہ اگر اس نے کسی کو دنیاوی نعمت یا ظاہری منزلت عطا کی ہے تو مقام نبوت بھی اسی کو عطا کرے، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس کو خداوندعالم نے مال و دولت عطا کی ہے لیکن اس کو جمال اور خوبصورتی نہیں دی ہے اور اس کے برعکس اگر کسی کو جمال اور خوبصورتی دی ہے اس کو مال و دولت نہیں دی ہے۔۔۔ کیا ان میں سے کوئی خداوندعالم پر اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے؟!( ۲۲ )

۶ ۔اور تمہارا یہ کہنا: ” ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک سخت اور پتھریلی زمین سے پانی کا چشمہ جاری نہ کردیں! اور کھجوروں اور انگوروں کا باغ تیار نہ کردیں تاکہ اس چشمہ سے پانی پئےں اور اس باغ کے پھل کھائیں“، تو تمہارا یہ تقاضا جہل و نادانی کی بنا پر ہے، کیونکہ سر زمین مکہ میں پانی کا چشمہ جاری کرنے اور باغ اگانے کا تعلق پیغمبری سے نہیں ہے، جیسا کہ تم لوگ شہر طایف میں زمین اور باغ کے مالک ہو لیکن نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے ہو اور ایسے بہت سے لوگوں کو تم جانتے بھی ہو جنھوں نے زحمت اٹھاکر باغات لگائے اور چشمے بھی جاری کئے لیکن انھوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور اس طرح کے تمام کام معمولی کا موں میں شمار ہوتے ہیں اور اگر میں ایسا کروں بھی تب بھی یہ کام میری نبوت کے لئے دلیل نہیں بن سکتے۔

تمہارا یہ تقاضا اس طرح کا ہے کہ تم کہتے ہو ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ تم لوگوں کی طرح کھانا کھاتے ہو اور لوگوں کے ساتھ راستہ چلتے ہو اور اگر میں اپنی نبوت کے اثبات کے لئے اس طرح کے معمولی کام انجام دوں اور اس پر تکیہ کر لوں تو گویا میں نے لوگوں کو دھوکا دیا اور ان کی جہل ونادانی سے غلط فائدہ اٹھایا اور مقام نبوت کو ہیچ اور معمولی کام سمجھا جب کہ مقام نبوت فریب ، حیلہ اور دھوکہ دھڑی سے بالکل پاک و پاکیزہ ہے۔

۷ ۔اور تمہارا یہ کہناکہ ”آسمان کو بادل کی صورت میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے سروں پر لے آوں“تو تمہیں یہ جان لینا چاہئے کہ آسمان کا نیچے گرنا تمہارے لئے ہلاکت کا سبب بنے گا جب کہ بعثت اور پیغمبری کا ہدف لوگوں کی راہنمائی ،سعادت، خوشبختی اور خدا کی نشانیوں کی عظمت لوگوں واضح کرنا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حجت اور برہان کو خدا کے معین کرتاہے کیونکہ ممکن ہے کہ لوگ اپنی سطحی اور ظاہری فکر کی بنا پر ایسے تقاضے کریں جو نظام و مصلحت کے خلاف ہوں اس لئے کہ ہر شخص اپنی ہوا ھوس اور خواہش کی بنیاد پر تقاضے کرتا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اگر ہر انسان کے تقاضے ایک دوسرے کے برخلاف ہوتے ہیں۔

کیا تم نے کسی ڈاکٹر کو دیکھا ہے کہ وہ مریض کا علاج کرتے وقت مریض کی خواہش کے مطابق نسخہ لکھے؟ یا کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ وہ کسی بات کا دعویٰ کرے لیکن دلیل اس کے منکر کی خواہش کے مطابق لائے ؟یہ بات مسلم ہے کہ اگر علاج میں ڈاکٹر مریض کا پیرو ہو تو مریض کی بیماری کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتی اور اسی طرح اگر مدعی اس بات پر مجبور ہو کہ اپنے مخالفوں کی خواہش کے مطابق اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے دلیل لائے تو اس صورت میں کسی ایک کی بھی بات ثابت نہیں ہو گی،اور مظلوم وناچار اور سچے افراد کی بات کبھی ظالم اور جھوٹے انسان کے سامنے ثابت نہیں ہو سکے گی۔

۸ ۔اور تمہارا یہ کہنا کہ ”خدا اور فرشتوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ ہم انھیں دیکھ سکیں “تو تمہاری یہ بات بے بنیاد اور غیر منطقی ہے یہ چیز بالکل محال ہے کیونکہ خدا وندمتعال اس صفت سے پاک ہے جس کے ذریعہ اسے دیکھا جا سکتا ہے بلکہ وہ مخلوقات کی تمام صفات سے پاک وپاکیزہ ہے۔

تم خدا وند متعال کو ان بتوں سے تشبیہ دیتے ہو جن کی تم پرستش کرتے ہو اور ان سے اسی طرح کا تقاضا کرتے ہو ان بتوں میں بے حد نقص و ضعف پائے جاتے ہیں اور یہ(بت) تمہارے ان تقاضوں کے لئے مناسب ہیں نہ کہ خداوند پاک۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے لئے ایک ایسی مثال پیش کی جو بہت ہی واضح اور اچھی طرح مفہوم کو سمجھانے والی تھی کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ خدا کو دکھانا محال نہیں ہے تو بھی ان کی یہ بات معقول نہیں ہے ،وہ مثال یہ ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد اللہ مخزومی سے کہا: ”کیا مکہ میں تمہارے پاس زمین وجائداد اور باغ وغیرہ ہے؟اور اس کی دیکھ بھال کے لئے اپنی طرف سے کوئی نمائندہ بنایا ہے یا نہیں؟“

عبد اللہ: ”ہاں میرے پاس باغ وزمین اور نمائندہ ہے“۔

رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم : ”کیا تم خود باغ وزمین کی دیکھ بھال کرتے ہو یا نمائندے کے ذریعہ کراتے ہو“۔

عبد اللہ: نمائندہ کے ذریعہ“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”اگر ایک نمائندہ کو زمین اجارہ دو یا بیچ دو تو کیا دوسروں کایہ اعتراض کرنا اور یہ کہنا بجاہے کہ ہم خود مالک سے رابطہ کریں گے اور ہم تمہاری نمائندگی اس وقت قبول کریں گے جب تمہارا مالک خو د نہ آجائے اور تمہاری باتوں کی تصدیق نہ کرے ؟ “

عبد اللہ: ”دوسرے لوگ اس طرح کا اعتراض نہیں کر سکتے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ’ہاں یہ ضروری ہے کہ تمہارے نمائندہ کے پاس کوئی ایسی دلیل ہونا چاہئے کہ جس سے پتہ چلے کہ وہ واقعی تمہارا نمائندہ ہے، اب تم یہ بتاو کہ اس کے پاس کیا ہونا چاہئے جس سے اس کی نمائندگی ثابت ہو کیونکہ یہ بھی مسلم ہے کہ بغیر کسی دلیل کے اس کی نمائندگی کی لوگ تصدیق نہیں کریں گے“۔

عبد اللہ: ”بےشک اس کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ضرورہونا چاہئے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”اگر لوگ اس کی سچی دلیل کو قبول نہ کریں تو کیا وہ اس بات پر حق رکھتا ہے کہ اپنے مالک کو لوگوں کے سامنے حاضر کرے اور اس پر یہ فریضہ عائد کرے کہ تم ان کے سامنے حاضر ہو ؟سچ بتاو کیا کوئی عقلمند نمائندہ اس طرح اپنے مالک کے لئے کر سکتا ہے؟“

عبد اللہ: ”نہیں اسے چاہئے کہ وہ اپنے فرائض پر عمل کرے اور اسے یہ حق نہیں کہ وہ مولا پر کوئی حکم لگائے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”جب تم ان تمام باتوں کا اعتراف کر رہے ہو تو کس طرح خدا کے نمائندے اور رسول کے لئے انھیں باتوں پر اصرار پر کرتے ہو کہ رسول کو چاہئے کہ اپنے مولا کو ہم لوگوں کے سامنے پیش کرے ،میں بھی خدا وند متعال کے نمائندہ اور رسول سے زیادہ کچھ نہیں ہوں، میں کس طرح اپنے مولا (خدا)پر کوئی حکم لگا سکتا ہوں اور اس کے لئے کوئی فریضہ معین کر سکتا ہوں کیونکہ خداوند متعال پر کسی طرح کا کوئی حکم لگانا رسالت کی ذمہ داری کے خلاف ہے“۔

اور اس طرح تمہارے تمام سوالوں کے جوابات جیسے فرشتوں کو حاضر کرنا وغیرہ واضح ہو جاتے ہیں۔

۹ ۔اور تم نے جو یہ کہا کہ میرے پاس سونے سے بھرا ہوا گھر ہونا چاہئے تو یہ بھی بالکل بے بنیاد بات ہے کیونکہ دولت و ثروت ،سونا اور چاندی سے مقام رسالت کو کوئی تعلق نہیں ہے مثال کے طور پر بادشاہ مصر کے پاس سونے سے بھرا ہوا گھر ہے تو کیا وہ اسی دلیل سے نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے؟“

عبد اللہ: ”نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا ہے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : میرے پاس بھی سونا چاندی ہونا میری پیغمبری کے سچائی پر کوئی دلیل نہیں بن سکتا ہے میں خدا کی حجتوں اور نشانیوں کو چھوڑ کر ایسی بے بنیاد دلیل کے ذریعہ کم علم اور نادان لوگوں پر اپنی رسالت ثابت نہیں کر سکتا“۔

۱۰ ۔اور تمہارا کہنا کہ ”میں آسمان پر جاوں اور خدا کی طرف سے تمہارے لئے ایک خط لاوں“ تو اس طرح کی باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ تم لوگوں میں کوئی بھی ایسانہیں جو حق قبول کرے کیونکہ تم لوگ صرف آسمان پر جانے سے اکتفا نہیں کر رہے ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہو کہ ہمارے لئے آسمان سے خط بھی لایاجائے۔

یہ بات مسلم ہے کہ اگر میں خط بھی لادوں تو بھی تم اسے قبول نہیں کروگے اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر میں ان تمام کاموں کو انجام دے بھی دوں تب بھی یہ ممکن ہے کہ تم لوگ ایمان نہ لاو،لیکن یہ جان لو کہ اس بغض وعناد کا نتیجہ صرف عذاب ہے اور تم لوگ اپنے ان کا موں کی وجہ سے اس بات کے مستحق ہو کہ خداوند متعال تمہیں عذاب میں مبتلا کرے۔

تمہارے تمام سوالوں کے جواب خدا وند متعال کے صرف اس جملہ میں خلاصہ کے طور پر بیان ہوجاتے ہیں”میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں اور خدا کی طرف سے اس بات کے لئے معین کیا گیا ہوں کہ تم تک اس کے احکام پہنچاوں ،( ۲۳ ) اور میرے پاس یہی قرآن معجزہ اور میری نبوت کی دلیل ہے اور میں تمہارے بے جا تقاضوں کی وجہ سے خدا پر نہ کوئی حکم لگا سکتا ہوں اور نہ کسی بھی طرح کی اس پر تکلیف عائد کر سکتاہوں“۔

ابو جہل کا سوال

ابو جہل نے کہا: ”کیا تم یہ نہیں کہتے کہ جب قوم موسیٰ نے اس بات کی خواہش کی کہ موسیٰ انھیں اپنا خدا دکھائیںتو خداوند عالم ان پر غضبناک ہو ااور بجلی کے ذریعہ انھیں خاکستر کردیا۔؟“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”کیوں نہیں، ایسا ہی ہے“۔

ابو جہل: ”ہم قوم موسیٰ سے بلند اور بڑی خواہش رکھتے ہیں ہم ہر گز اس وقت تک نہیںا یمان نہیں لائیں گے جب تک تم اپنے خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضر نہیں کروگے ،اب تم ہماری اس خواہش کی بنا پر اپنے خدا سے کہو کہ وہ ہمیں جلادے یا نابود کردے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”کیا تم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں یہ نہیں سنا ہے کہ وہ مقام وعظمت میں بہت ہی بلند تھے اور خداوند متعال نے انھیں خاص بصیرت عطا کی تھی کہ وہ زمین پر لوگوں کے ظاہری اور باطنی اعمال کا مشاہدہ کرتے تھے ،اسی دوران جناب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک مرد اور عورت زنا کر رہے ہیں، آپ نے ان کے لئے بددعا کی وہ ہلاک ہو گئے، پھر دیکھا کہ دوسرے مر د و عورت زنا کر رہے ہیں ان کے لئے بھی بددعا کی وہ بھی ہلاک ہو پھر تیسرے مرد و عورت کو یکھا کہ یہ بھی زنا میں مشغول ہیں ان کے لئے بھی بددعا کی وہ بھی ہلاک ہوگئے ،اس کے بعد

خداوند عالم نے ان پر وحی کی کہ اے ابراہیم ! بددعا نہ کرودنیا ہمارے اختیار میں ہے تمہارے اختیار میں نہیں۔

گنہگار بندوں کی تین حالتوں سے زیادہ چوتھی حالت نہیں ہوتی ہے،یا توبہ کرتے ہیں اور میں انھیں بخش دیتا ہوں یا ان کی آئندہ آنے والی نسلوں میں کوئی بندہ مومن ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں انھیں مہلت دے دیتا ہوںاور پھر میرا عذاب انھیں گھیرلیتا ہے اور ان دوصورتوں کے علاوہ جتنے بڑے عذاب کا تم تصور کر سکتے ہو اسے میں نے ان کے لئے مہیا کر رکھا ہے“۔

اے ابو جہل !اسی وجہ سے خداوند عالم نے تجھے مہلت دی ہے کہ تیری نسل میں ایک مومن پیدا ہوگا جس کانام عکرمہ ہوگا۔( ۲۴ )

قارئین کرام! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ کرنے والے اسلام کے سخت ترین دشمن تھے، لیکن اس کے باوجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکمل صبر و حوصلہ سے ان کی تمام باتیں سنیں اور نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ان کا جواب دیا اور ایک تفصیلی اور استدلالی بحث کے ساتھ اپنی حجت تمام کر کے اسلام کی منطقی اور اخلاقی روش کا ثبوت دیا۔

۳۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا یہودی دانشوروں سے مناظرہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت سے پہلے یہودیوں کی مذہبی محفلوں میں آپ کی علامتوں کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ یہودی علماء توریت کی آیتوں کی بنیاد پر آنحضرت کے بارے میں پیشین گوئیاں کرتے تھے اور بڑے ہی اعتماد کے ساتھ اس طرح کے پیغمبر کے آنے کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے۔

اور یہ تمام علامتیں اور نشانیاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اور آپ کے کاموں سے مطابقت کر گئیں یہودیوں کے بزرگ مذہبی افراد اس فکر میں رہتے تھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدد کر کے انھیں اپنی طرف کھینچ لیں اور نتیجہ میں ان کے اطراف کی مذہبی قدرت کو حاصل کر لیں لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی توبڑی تیزی سے اسلام پھیلا اور یہودیوں کی طاقت سے زیادہ پیغمبر کو قدرت وطاقت حاصل ہوئی اور اسلام کے منتقل ہونے کی وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی بھی صورت میں اس بات پر راضی نہیں تھے کہ یہودیوں کے پرچم تلے اپنی زندگی گزاریں یہی بات یہودیوں کی محفلوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کا سبب بنی۔

یہودیوں نے طرح طرح سے اسلام کو نقصان پہنچانا چاہا جیسا کہ سورہ بقرہ اور سورہ نساء کی آیتوں میں ان کاا سلام سے بغض و عناد بیان ہوا ہے مثلاًان کے کاموں میں سے ایک کام یہ تھا کہ وہ ”اوس“ و”خزرج“کے درمیان ۱۲۰ سالہ پرانے اختلاف( ۱)(۲۵) کوپھر سے ابھاریں اور مسلمانوں کی متحد صفوں کو انتشار کا شکار بنائیں لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کی ہوشیاری نے ان کے اس عزم وارادہ کوخاک میں ملادیا اور اسی طرح ان کی بہت سی دوسری سازشوں کو بھی پورا نہیں ہونے دیا۔

ایک راستہ جس کے ذریعہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کو مغلوب کرنا چاہتے تھے وہ مناظرہ یا آزادانہ بحث( ۲۶ ) بھی تھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی اس پیش کش کو ہنسی خوشی قبول کر لیا وہ آئے اور پیغمبر سے مجادلہ اور پیچیدہ سوال کر کے انھیں لا جواب بنا دینا چاہتے تھے لیکن اس آزاد بحث سے خود انھیں ہی نقصان اٹھا نا پڑا، اور لوگوں کو پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے علمی مقام اور غیبی اطلاعات کی آگاہی حاصل

ہوئی جس کی وجہ سے بعض یہودی اور بت پرست اسلام کے گرویدہ ہوگئے۔

لیکن وہ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بحث سے قانع ہونے کے باوجود بڑی دلیری کے ساتھ کہنے لگے کہ ہم تمہاری باتوں کو نہیں سمجھ رہے ہیں: ”( قُلُوبُنَا غُلْفٌ )( ۲۷ ) ہمارے دلوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔

یہودیوں کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مناظرے اور مجادلے بہت ہیں جن کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی ہی ہمت کے ساتھ انجام دیا اور ان کی قضاوت و فیصلے نے پوری دنیا کو دعوت فکر دی۔

____________________

(۱۳) یہ واقعہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا لیکن اس کے اصلی راوی حضرت علی علیہ السلام ہیں، اور یہ واقعہ کتاب ”احتجاج طبرسی“، جلد اول صفحہ ۱۶ تا ۲۴ سے نقل ہوا ہے۔

(۱۴) جناب عزیر علیہ السلام، جناب موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ، جو بیت المقدس پر بخت النصر نامی حملہ میں اسیر کر لئے گئے اور شہر بابل (بغداد کے حدود میں) بھیج دئے گئے، جناب عزیر علیہ السلام تقریباًسو سال ”ہخامنشی بادشاہوں“ کے زمانہ میں بابل میں بنی اسرائیل کے لئے تبلیغ دین میں مشغول رہے ۔

یہاں تک کہ ۴۵۸ سال قبل از میلاد (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے ساتھ یروشلم میں گئے جہاں پر بنی اسرائیلیوں میں توریت اور اس کے احکام کو بالکل بھلادیا تھا لیکن جناب عزیر علیہ السلام نے ان کو دوبارہ زندہ کیا اور ان کی اصلاح کی، سر انجام ۴۳۰ سال قبل از میلاد میں ان کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل نے نہ جانے کیا کیا کہا یہاں تک کہ انھیں ”خدا کا بیٹا“ بھی کہہ ڈالا!!۔ لیکن آج یہ عقیدہ بالکل ختم ہوگیا ہے اور اس کا ماننے والا کوئی نہیں ہے۔

(۱۵) واضح عبارت میں یوں کہیں: دن رات کی جدائی کے پیش نظر پہلے مقدم ہونے والی چیز حادث ہے۔

(۱۶) یعنی ان کا ایک دوسرے کا محتاج ہونا ان کے حادث ہونے پر دلیل ہے۔

(۱۷) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مادّیوں سے مناظرہ کرتے ہوئے آرام آرام ،قدم بقدم کے طریقہ سے فائدہ اٹھایا اور درج ذیل چار چیزوں کی بنیاد پر ان کو مغلوب کیا:

۱۔ پہلے اس بنیاد پر کہ ”نہ ملنا ،نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے“، حدوث کا مشاہدہ نہ کرنا اس کے ازلیت پر دلیل نہیں ہے، جیسا کہ فناء کا مشاہدہ نہ کرنا اس کے ابدی ہونے پر دلیل نہیں ہے۔؟

۲۔ ممکن ہے کہ ہم حدوث فعلی کے ذریعہ حدوث غائب پر استدلال کریں جو حدوث فعلی کی قسم سے ہے ، جیسے شب و روز کا حدوث فعلی گزشتہ اور آئندہ میں بھی اس کے حدوث کی حکایت کرتا ہے۔

۳۔ حدوث کا حکم محدود ہوتاہے اگرچہ کے اس کے افراد بہت زیادہ ہوں۔

۴۔ اس دنیا کے تمام موجودات کے اجزاء ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں جو ان کے حادث ہونے پر دلیل ہے، کیونکہ قدیم چیز کا کسی چیز کا محتاج ہونامحال ہے۔

(۱۸) احتجاج طبرسی، ج۱، ص۱۶ تا ۲۴۔

(۱۹) قرآن مجید میں سورہ فرقان، آیت ۷، سورہ اسراء، آیت ۹۰ تا ۹۵ میں اور سورہ زخرف، آیت ۳۱ میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

(۲۰) سورہ کہف، آیت ۱۱۰۔

(۲۱) سورہ اسراء، آیت ۴۸۔

(۲۲) یہاں پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اضافہ فرمایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی اس گفتگو میں سورہ زخرف آیت ۳۲ کی طرف اشارہ فرمایا۔

(۲۳) سورہ کہف، آیت ۱۱۰، سورہ فصلت، آیت ۶۔

(۲۴) احتجاج طبرسی ج۱، ص۲۶ سے ۳۶ تک کا خلاصہ ،عکرمہ ابن ابو جہل شروع میں پیغمبر اسلام کا بہت سخت دشمن تھا،فتح مکہ کے وقت وہ بھاگ گیا تھالیکن آخر کارمدینہ میں وہ آپ کے ہاتھوں ایمان لایا اور اس نے اتنا بڑا مقام حاصل کر لیا تھا کہ آپ نے اسے قبیلہ ہوازن کے صدقات وزکات حاصل کرنے کے لئے اپنا نمائندہ مقرر کر دیا تھا،وہ ابوبکر کی خلافت کے زمانے میں جنگ ”اجنادین“ یا ”یرموک“میں شہید ہوا، (سفینة البحار ج۲ ص۲۱۶)

(۲۵) مدینے کے دوبڑے قبیلے جو اسلام کے بعد متحد ہوئے اور جنھیں انصار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

(۲۶) آزاد بحث اگر چہ ایک اسلامی موضوع ہے جس کے ذریعہ حق آشکار ہوتا ہے لیکن یہودیوں نے چاہا کہ اس بحث کی آڑ میں اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کو مجروح کریں لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

(۲۷) سوره بقره آیت ۸۸.


بطور نمونہ ان میں سے صرف دو یہ مناظرے ملاحظہ فرمائیں:

پہلا نمونہ

جب عبد اللہ بن سلام ایمان لے آیا:

یہودیوں کے بزرگ علماء میں سے ایک مشہور و معروف عالم دین جس کا نام ”عبد اللہ بن سلام“ اور یہودی قبیلہ بنی قینقاع سے تعلق رکھتا تھا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت کے پہلے سال ایک روز عبد اللہ بن سلام( ۲۸ ) آپ کی نشست میں حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ اپنے موعظہ میں اس طرح کی چیزیں بیان کر رہے ہیں۔

”اے لوگو! آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرو اوران تک کھانا پہنچاو،اپنے رشتہ داروں سے مل جل کر رہو،آدھی رات کو جب ساری دنیا سو جایا کرے تو اٹھ کر نماز شب پڑھو اور خداوند متعال سے راز ونیاز کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ خدا وند متعال کی بہشت میں داخل ہو سکو“۔

عبد اللہ نے دیکھا کہ آپ کی باتیں اچھی ہیں جس کہ وجہ سے وہ اس نشست کا گرویدہ ہو گیااور اس نے اس میں شرکت کا ارادہ کر لیا( ۲۹ ) ایک روز عبد اللہ نے مذہب یہود کے چالیس بزرگ علماء کے ساتھ مل کر یہ طے کیا کہ ہم پیغمبر کے پاس جا کر ان کی نبوت کے بارے میں بحث کریں اور انھیں زیر کریں۔

اس ارادے سے جب وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ نے عبد اللہ بن سلام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میں بحث کے لئے تیار ہوں“۔

یہودیوں نے موافقت کی اور بحث ومناظرہ شروع ہوا ،تمام یہودی پیغمبر پر پیچیدہ سوالوں کی بوچھار کررہے تھے ،آپ ایک ایک کرکے ان جواب کا دیتے،یہاں تک کہ ایک روز عبد اللہ بن سلام پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں تنہا حاضر ہوا اور کہنے لگا“۔میرے پاس تین سوال ہیں جن کا جواب پیغمبر کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا ،کیا اجازت ہے کہ میں انھیں بیان کروں؟ “

عبد اللہ نے سوال کیا: ”مجھے بتایئے کہ قیامت کی پہلی علامت کیا ہے؟جنت کی خاص غذا کیا ہے؟اس کی کیا وجہ ہے کہ بیٹا کبھی باپ کے اور کبھی ماں کے مشابہ ہوتا ہے؟“

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”ابھی جبرئیل تمہارے جوابات خدا کی طرف سے لارہے ہیں اور میں تمہیں بتاوں گا“۔

جیسے ہی جبرئیل کا نام درمیان میں آیا عبد اللہ نے کہا: ”جبرئیل تو یہودیوں کا دشمن ہے کیونکہ اس نے متعدد مقامات پر ہم سے دشمنی کی ہے بخت نصر جبرئیل کی فوج کی وجہ سے ہم پر غالب ہوا اور شہر بیت المقدس میں آگ لگا دی ۔۔۔۔وغیرہ“۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے جواب میں سورہ بقرہ کی ۹۷ ویں آیت کی تلاوت فرمائی جس کا مطلب یہ ہے:

”جبرئیل جنھیں تم اپنا دشمن سمجھتے ہو وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے اور انھوں نے قرآن کو خدا کے اذن سے قلب پیغمبر پر نازل کیا ہے وہ قرآن جو ان کتابوں سے مطابقت رکھتا ہے جن میں رسول خدا کی نشانیوں کا تذکرہ ہے ،وہ ان کی تصدیق کرنے والا ہے ،فرشتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اگر کوئی ان میں سے کسی ایک سے دشمنی رکھتا ہے تو گویا وہ تمام فرشتوں ،پیغمبروں اور خدا کا دشمن ہے کیونکہ فرشتے اور پیغمبر سب کے سب خدا کے فرمانبردارہوتے ہیں۔( ۳۰ )

اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد اللہ کے جواب میں فرمایا:

”قیامت کی پہلی علامت دھوئیں سے بھری ہوئی آگ ہے جو لوگوں کو مشرق ومغرب کی طرف لے جائے گی اور جنت کی خاص غذامچھلی کا جگر اور اس کا اضافی ٹکڑا ہے جو نہایت ہی اچھی اور لذیذ ترین غذا ہے،اور تیسرے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: ”انعقاد نطفہ کے وقت عورت یا مرد کے نطفہ میں جس کا نطفہ غلبہ پاجاتا ہے بچہ اسی کی شبیہ ہوتا ہے ، اگر عورت کا نطفہ مرد کے نطفہ پر غالب آگیا تو بچہ ماں کی طرح ہوگا اور اگر مرد کا نطفہ عورت کے نطفہ پر غالب آگیا تو بچہ باپ کی طرح ہوگا“۔

عبد اللہ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان جوابوں کی تطبیق جب توریت اور انبیاء سابق کی خبروں سے کی تو یہ تمام جوابات صحیح ثابت ہوئے ،جس کے نتیجہ میں اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور اپنی زبان پر کلمہ شہادتین جاری کیا۔

اس وقت عبد اللہ بن سلام نے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم سے عرض کیا: ”میں یہودیوں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا ہوں اور بہت ہی پڑھے لکھے شخص کا بیٹا ہوں اگر انھیں میرے اسلام قبول کرنے کی خبر ہوگئی تو وہ مجھ کو جھٹلائیں گے، لہٰذا ابھی آپ میرے ایمان کو پنہاں رکھئے تاکہ آپ یہ معلوم کر سکیں کہ یہودی میرے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں“۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس فرصت کو غنیمت جان کر کہ عبد اللہ کا اسلام لانا مجادلہ اور آزاد بحث کے لئے خود ایک طرح کی دلیل بن سکتا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن سلام کو وہیں قریب میں پردے کی آڑ میں بٹھا دیا یہودیوں سے گفتگو کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”میں پیغمبر ہوں خدا کو حاضر ناظر جانو اور ہواوہوس کو ترک کرکے اسلام قبول کر لو“۔

جواب میں کہا گیا: ”دین اسلام کے صحیح ہونے کے بارے میں ہم بالکل بے اطلاع ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”تمہارے درمیان عبد اللہ بن سلام کیسا شخص ہے ؟“

گروہ یہود: ”وہ ہمارا رہبر اور ہمارے رہبر کا بیٹا ہے وہ ہمارے درمیان ایک بہت ہی پڑھا لکھا شخص ہے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”وہ اگر مسلمان ہو جائے تو کیا تم لوگ اس بات پر تیار ہو کہ اس کا اتباع کرو؟“

گروہ یہود: ”وہ ہر گز مسلمان نہیں ہوگا“۔

رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے عبد اللہ کو آواز دی، عبد اللہ بن سلام پردے سے باہر لوگوں کے سامنے حاضر ہو کر کہنے لگا: ”اشھد ان لا الہ الااللہ وان محمد رسول الله“۔

اے گروہ یہود! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاوجب تم جانتے ہو کہ وہ پیغمبر خدا ہے تو تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟“

یہودیوں نے ابھی کچھ ہی دیر پہلے اس کی تعریف کی تھی مگر اب وہ اسے بد ترین شخص اور ذلیل آدمی کا بیٹا بتانے لگے۔

آپ کا یہ طرز استدلال نہایت عمدہ تھا جس کی وجہ سے وہ اپنا منہ چھپانے لگے لیکن در حقیقت وہ شکست کھا چکے تھے ،عبد اللہ کے لئے اگر چہ اسلام اس زمانہ میں بہت دشوار ثابت ہوا لیکن وہ حقیقتاً اسلام لایا تھا،اسی لئے آنحضرت نے اس کا نام عبد اللہ رکھا تھا( ۳۱ ) اس کا ایمان قبول کرنا بعد میں اور دوسرے ایمان لانے والوں کے لئے ہی موثر ثابت ہوا، ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک یہودی دانشور جس کانام ”مخَیرِق“ تھا وہ بھی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایمان لے آیا۔( ۳۲ )

دوسرا نمونہ

۴۔ قبلہ کے سلسلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کایہودیوں سے مناظرہ

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ میں بیت المقدس (یہودیوں کے قبلہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی آپ ۱۶ مہینے تک بیت المقدس ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔

اسلام دشمن ،یہودیوں نے اسلام کو بُرا بھلا کہنے اور اسے بے اہمیت کر نے کے لئے ایک اچھا بہانہ تلاش کر لیا اور کہنے لگے: ”محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماس بات کو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقل شریعت لائے ہیں جبکہ ان کا وہی قبلہ ہے جو یہودیوں کا قبلہ ہے“۔

اس طرح کے اعتراضات سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رنجیدہ خاطر ہوئے آنحضرت راتوں کو گھر سے باہر آتے اور آسمان کی طرف نگاہ کرکے وحی کے منتظر رہتے تھے یہاں تک کہ سورہ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت نازل ہوئی جس میں قبلہ کی جہت بیت المقدس سے بدل کر خانہ کعبہ کی طرف کردی گئی۔

ہجرت کے ۱۶ ماہ بعد نیمہ رجب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چند صحابیوں کے ساتھ مسجد بنی سلمہ (جو مسجد احزاب سے ایک کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے)میں ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے ،دو رکعت نماز تمام ہونے کے بعد جبرئیل سورہ بقرہ کی ۱۴۴ ویں آیت لے کر نازل ہوئے:

( قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَه )( ۳۳ )

”اے رسول ہم آپ کی توجہ کو آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو ہم عنقریب آپ کو اس قبلہ کی طرف موڑ دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں لہٰذا آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی جہت کی طرف موڑ دیجئے اور جہاں بھی رہئے اس طرف رخ کیجئے“۔

تو آپ حالت نماز ہی میں کعبہ کی طرف پلٹے اور دو رکعت نماز کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی، اسی طرح آپ کی اقتداء کرنے والوں نے بھی کیا ،اور اسی نماز کی وجہ سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد ”ذو قبلتین“ کہا جانے لگا“۔

اس واقعہ کے بعد یہودی ہر جگہ قبلہ بدلنے کے سلسلہ میں اعتراض اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور یہودیوں کے درمیان طے پایا کہ وہ ایک جلسے میں اس موضوع پر آزاد انہ طور پر بحث کریں ،اس جلسہ میں چند یہودیوں نے شرکت کی اور جلسہ کی شروعات یہودیوں نے کی اور سوال کی صورت میں انھوں نے اس طرح کہا:”آپ کو مدینہ آئے اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا لیکن اب آپ بیت المقدس سے رخ موڑ کر کعبہ کی طرف نماز پڑ ھ رہے ہیں آپ ہمیں اس کا جواب دیں کہ آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے جو نمازیں پڑھی ہیں وہ درست تھیں یا باطل؟ اگر وہ درست تھیں تو لا محالہ آپ کا دوسرا عمل باطل ہے اور اگر باطل تھیں تو ہم کس طرح آپ کے دوسرے اعمال (جو بدلنے کی صورت میں ہیں)پر مطمئن ہوں کہ اس طرح آپ کا یہ قبلہ بھی باطل نہ ہو؟“

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم : ”دونوں قبلے اپنے موقع کے لحاظ سے درست اور حق ہیں ان چند مہینوں میں بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا حق تھا اور اب ہم خدا کی طرف سے اس بات پر مامور کئے گئے ہیں کہ خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ قرار دیں“، اور خدا کے لئے مشرق ومغرب ہیں تم جس طرف بھی رخ کرو وہاں خدا ہے اور بیشک خدا بے نیاز اور دانا ہے“۔( ۳۴ )

گروہ یہود: ”اے محمد ! کیا خدا کے لئے بداء واقع ہوا؟(یعنی ایک کام گذشتہ زمانہ میں اس پر مخفی تھا اور اب ظاہر ہوگیا اور اس نے اپنے پہلے حکم سے پشیمان ہو کر ددوسرا حکم دیا ہے)اور اس بنا پر اس نے تمہارے لئے نیا قبلہ معین کیا؟اگر اس طرح کی بات کرتے ہو تو گویا تم نے خدا وند متعال کو عام انسانوں کی طرح نادان تصور کر لیا“۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم :خدا کے یہاں بداء اس معنی میں نہیں پایا جاتا ہے ،خدا ہر چیز سے آگاہ اور قادر مطلق ہے اس سے کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی جسکی وجہ سے وہ پشیمان ہو اور تجدید نظر کرے نیز اس کے راستہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی جس کی وجہ سے وہ اوقات میں تبدیلی کرے،میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ ”کیا مریض صحت یاب نہیں ہوتا یا تندرست آدمی غمگین اور مریض نہیں ہوتا؟ یا زندہ مرتا نہیں اور موسم گرما موسم سرما میں تبدیل نہیں ہوتا؟ کیا خداوندمتعال اس طرح کے تمام امور میں تبدیلی لاتا رہتا ہے تو اس کے یہاں بداء واقع ہوتا ہے؟ “

پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم : قبلہ کی تبدیل بھی انھیں چیزوں میں سے ہے خدا وند متعال ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اپنے بندوں کی فلاح وبہبود کے لئے خاص حکم رکھتا ہے جو شخص بھی اطاعت کرے گا جزاکا مستحق ہوگا ورنہ اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،اس کی تدبیر اور مصلحت میں کسی کو مخالفت کرنے کا حق نہیں۔( ۳۵ )

اور تم سے میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا تم سنیچر کے دن اپنے تمام کا موں کی چھٹی نہیں کرتے ہو اور پھر اتوار سے اپنے کاموں میںمشغول ہوجاتے ہواس میں سے تمہارا کون ساعمل صحیح ہے کیا پہلا درست ہے اور دوسرا باطل ہے یا دوسرا صحیح ہے اور پہلا باطل یا دونوں صحیح یا دونوں باطل ؟

گروہ یہود: ”دونوں صحیح ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”میں بھی اسی طرح کہتا ہوں کہ دونوں حق ہیں چند ماہ اور چند سال پہلے بیت المقدس کی طرف قبلہ قرار دینا صحیح تھا لیکن آج کعبہ کو قبلہ سمجھنا صحیح ہے۔

تم لوگ بیماروں کی طرح ہو اور تمہارا طبیب حاذق خدا ہے اور بیماروں کی صحت اور عافیت اس میں ہے کہ وہ طبیب حاذق کی پیروی کرےں اور اس کے حکم کو اپنے ہواو ھوس پر مقدم کریں“۔

اس مناظرہ کے ناقل امام حسن عسکری علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ روز اول سے ہی کعبہ مسلمانوں کا قبلہ کیوں نہیں ہوا؟“

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: ”خداوند متعال نے قرآن میں سورہ بقرہ کی ۱۴۳ ویں آیت میں اس کا جواب دیا ہے اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی:

”اور تحویل قبلہ کی طرح ہم نے تم کو درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو اور پیغمبر تمہارے اعمال کے گواہ رہیں اور ہم نے پہلے قبلہ کو صرف اس لئے قبلہ بنا یا تھا کہ دیکھیں کہ کون رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون پچھلے پاوں پلٹ جاتا ہے اگر چہ قبلہ ان لوگوں کے علاوہ سب پر گراں ہے جن کی اللہ نے ہدایت کردی ہے اور خدا تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرنا چاہتا ،وہ بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے“۔

اس آیت میں مومنین کے لئے یہ حکم آیا ہے کہ ہم مشرکین سے مومنین کو جدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پہچانے جائیں اور ان کی صفیں جدا اور الگ ہوں، خداوندمتعال نے بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ اس لئے قرار دیا تھا کیونکہ اس زمانہ میں خانہ کعبہ مشرکین کے بتوں کا مرکز تھا اور مشرکین جاکران کے سامنے سجدہ کرتے تھے لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب مدینہ ہجرت فرمائی اور وہاں ایک مستقل حکومت کی تشکیل دی تو مسلمانوں کی صفیں خود بخود مشرکوں سے الگ تھلگ ہوگئیں۔( ۳۶ ) اور اب اس چیز کی ضرورت نہیں رہی کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف سر جھکائیں، لہٰذا مسلمانوں نے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کردیا، یہ بات بھی واضح ہے کہ بیت المقدس کی طرف خداوندعالم نے سجدہ کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ نئے نئے مشرک جو مسلمان ہوئے تھے ان کے لئے اپنی عادتیں چھوڑنا ایک بہت ہی مشکل کام تھا کیونکہ ابھی ان میں پرانے رسوم باقی تھے اور جب تک انسان میں یہ قوت وصلاحیت نہ پیدا ہو کہ وہ اپنی عادت اور خرافات کو باآسانی ترک کرسکے وہ حق کی طرف مائل نہیں ہو سکتا لہٰذا جب انھیں پوری طرح آزمالیا گیا تو انھیں بیت المقدس کی طرف سے ہٹا کر کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ،اور در حقیقت شروع شروع میں بیت المقدس کو قبلہ قرار دینا اسلام کی ایک فکری اور معنوی تحریک تھی جس کے ذریعہ اسلام نے مشرکین کی پرانی عادتوں کو ختم کر دیا ،لیکن مدینہ میں اس طرح کی مصلحتیں نہیں پائی جاتی تھیں یا کعبہ کی طرف رخ کرنے میں زیادہ مصلحتیں تھیں۔( ۳۷ )

۵۔قرآن مجید پر اعتراض اور اس کا جواب

ایک روز کچھ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ”ہم قرآن کے سلسلہ میں چند اعتراضات لے کر حاضر ہوئے ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے اعتراضات بیان کرو“۔

ایک نے کہا: ”آیا آپ خدا کے رسول ہیں؟“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”ہاں“۔

گروہ: ”سورہ انبیاء کی ۹۸ ویں آیت میں خدا فرماتا ہے:

”إِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَہَنَّمَ“

”یاد رکھو کہ تم لوگ خود اور جن چیزوں کی تم پرستش کررہے ہو سب کو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔۔۔“۔

” ہمارا اعتراض یہ ہے کہ اس مفہوم کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اہل دوزخ ہوئے کیونکہ کچھ لوگ ان کی بھی عبادت کرتے ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سنجیدگی اور متانت سے ان کی باتیں سنیں اور فرمایا:

”قرآن عرب کی رائج زبان کے مطابق نازل ہوا ہے عربی زبان میں لفط ”من“ اکثر ذوالعقول (وہ افراد جو عقل رکھتے ہیں) کے لئے اور لفظ”ما“غیر ذوالعقول (حیوانات، جمادات اور اشجار) کے لئے استعمال ہوتا ہے تم جس آیت کے سلسلہ میں اعتراض کر رہے ہو اس میں لفظ ”ما“استعمال ہوا ہے جس سے مراد عقلا ء نہیں بلکہ وہ معبود ہیں جو عقل نہیں رکھتے جیسے بت جنھیں مٹی،لکڑی اور پتھر سے بنایا جاتا ہے ،اس طرح آیت کے معنی یہ ہوں گے:

”غیر خدا کی عبادت کرنے والے لوگ جنھیں تم نے اپنے ہاتھوں سے مختلف قسم کے معبود بنا رکھا ہے وہ سب کے سب جہنمی ہوں گے“۔

وہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جواب سے مطمئن ہوگئے اور آپ کی تصدیق کر کے رخصت گئے۔( ۳۸ )

۶۔ چوبیس منافقوں کی سازش اور آنحضرت کا ان سے مناظرہ

منافقوں کی ہر زمانہ میں یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوششیں حکومت واقتدار کے

حصول میں صرف کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی ہمدردی کی آڑ میں عوام کے درمیان مقبولیت پیدا کر کے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

اسی وجہ سے وہ ہمیشہ رہبری اور حکومت کے مسئلے میں بہت ہی چوکنا رہتے ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے زمانہ میں مناسب موقع دیکھ کر مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی رہبری کا اعلان کر دیا ،لیکن منافقوں کی کوشش یہ تھی کہ رہبری اور حکومت کے سلسلہ میں علی اور پیغمبر پر چند ایسے حملے کئے جائیں جس سے یہ عہدہ ان کے خاندان سے نکل کر کہیں اور چلا جائے۔

جنگ تبوک میں منافقوں کی ایک سازش یہ تھی کہ وہ اپنا خفیہ منصوبہ کے ذریعہ علی علیہ السلام اور پیغمبر کو قتل کر دیں۔

ملاحظہ فرمائیں:

منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی ایک خفیہ میٹنگ بلائی جس میں یہ طے پایا کہ اس وقت مسلمان جنگ میں سر گرم ہیں لہٰذا کچھ لوگ علی علیہ السلام کے قتل کے لئے مدینہ میں رک جائیں اور کچھ لوگ جنگ تبوک میں شرکت کریں اور مناسب موقع پر دیکھ کر وہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کردیں۔

پیغمبر کی قیادت میں ۱۰ ہزار سواروں اور ۲۰ ہزار پیادہ افرا د پر مشتمل لشکر اسلام تھا جنگ تبوک کے لئے روانہ ہو گیا،کچھ لوگ اپنی سازش کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے مدینہ ہی رک گئے اور بقیہ منافقین مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے روانہ ہوگئے یہ خبر پیغمبر تک پہنچ چکی تھی کہ رومی فوج پیادہ اور سوارملاکر چالیس ہزار افراد پر مشتمل ہے شام کی سرحد پر پہنچ چکی ہے اور اس فکر میں ہے کہ مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا جائے اگر چہ یہ جنگ مختلف جہات سے جیسے گرمی کی شدت، طویل مسافت دشمنوں کی کثرت ،پانی اور غذاکی قلت کی وجہ سے بہت ہی دشوار تھی اسی وجہ سے اس کو جیش العسرة کہا گیا ہے، لیکن مسلمان استقامت اور وہ ایمان توکل اور بلند ہمتی کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سپہ سالار ی میں آگے بڑھے اور مدینہ وتبوک کے درمیانی طویل راستہ طے کیا اور نویں ہجری کے ماہ شعبان کے اوائل میں سر زمین تبوک پہنچ گئے یہ دیکھ کر روم کی فوج خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئی اور جنگ نہ ہو سکی ایسے موقع پر حکومت واقتدارکے لالچی منافقین علی علیہ السلام اورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کرنے کی فکر میں لگے ہوئے تھے ،پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد علی علیہ السلام کو اس جنگ میں اپنے ساتھ لے جانا مناسب نہ سمجھا اور انھیں مدینہ میں چھوڑ گئے تھے ،تاکہ وہ پیغمبر کی غیر موجودگی میں مدینہ کی حفاظت کریں۔

حضرت علی علیہ السلام کی موجودگی کی وجہ سے جب منافقوں کی سازش تیس ہزار مسلمانوں کی غیر حاضری کے باجود کامیاب نہ ہوسکی تو انھوں نے افواہوں کی مدد سے فتنہ کھڑ ا کرنا چاہا وہ کہنے لگے کہ علی علیہ السلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان اختلاف ہوگیا اور پیغمبر ان کی ہم نشینی سے بیزار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انھیں اپنے ساتھ جنگ میں نہیں لے گئے وغیرہ۔۔۔

منافق اپنی اس بزدلانہ تہمت کے ذریعہ علی علیہ السلام کی قیادت و رہبری کی مجروح کرنا چاہتے تھے علی علیہ السلام اس غلط پروپیگنڈہ سے سخت ناراض ہوئے اور مدینہ چھوڑ کر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ کو مدینہ کے حالات سے مطلع کیا ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اما ترضی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لانبی بعدی “۔

”کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری منزلت میرے نزدیک وہی ہے جونسبت ہارون کو موسیٰ سے تھی صرف اتنا ہے کہ میرے بعدنبی نہیں ہے“۔

یہ سن کر علی علیہ السلام کے دل کو ٹھنڈک پہنچی اور وہ لوٹ آئے منافقین جو یہ چاہتے تھے کہ علی علیہ السلام کی قیادت اور رہبری کو مجروح کردیں نہ یہ کہ ان کی تمام تر کوششیں نقش بر آب ہوگئیں بلکہ ساتھ ساتھ علی علیہ السلام کی جانشینی اور نیابت ،مذکورہ حدیث کے ذریعہ واضح طور پر ثابت ہوگئی۔

منافقوں نے اپنی ایک خفیہ میٹنگ میں علی علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ بنا یا اور راستے میں ایک گڑھا کھوددیا اور اسے گھاس پھوس سے ڈھک دیا تاکہ علی علیہ السلام واپسی کے موقع پر اس گڑھے میں اپنے جان کھوبیٹھیں۔

خداوند متعال نے علی علیہ السلام کو اس گڑھے کے خطرے سے محفوظ رکھا اور وہ صحیح وسالم مدینہ واپس آگئے نتیجہ میں اس دن منافق اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اور وہاں منافقوں کا ۱۴ آدمیوں پر مشتمل دوسرا گروہ( ۳۹ ) جو اسلامی لشکر کے ساتھ تھا ان کے درمیان خفیہ طور پر یہ طے ہواکہ تبوک سے لوٹتے وقت مدینہ اور شام کے درمیان پہاڑ کی چوٹی پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اونٹ کو چھپ کر پتھروں کے ذریعہ بھڑکا دیا جائے تاکہ اونٹ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو درّہ کے اندر گرادے اور آپ کو اس بات کی اطلاع بھی نہ ہونے پائے کہ اونٹ کو بھڑکانے والا کون تھا۔

جب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کی اس چوٹی کے قریب پہنچے جہاں درہ تھا، تو جبرئیل نے آکر آپ کو منافقوں کی سازش سے مطلع کر دیا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو منافقوں کی ،بالخصوص حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں کی گئی سازش سے مطلع کیا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں چند باتیں کہیں۔

چودہ افراد پر مشتمل منافقوں کا گروہ جو یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی کو کچھ خبر نہیں ہے، لہٰذا یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے دوستی اور محبت کا دم بھرنے لگے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر علی علیہ السلام کی رہبری اور قیادت کے سلسلہ میں سوالات کرنے لگے وہ اپنے سوال کرنے سے یہ ظاہر کرنا چاہے تھے کہ ہم تفاہم اور معلومات کے لئے بحث کر رہے ہیں اور اطمینان بخش جواب ملنے کی صورت میں قانع ومطمئن ہوجائیں گے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اتمام حجت کے لئے ان کی گزارش کو قبول کیا اور ان کے سوالا ت کے جواب دیئے۔

منافقوں کے سوالات

منافقوں نے اپنی بحث کا آغاز اس طرح کیا:

ہمیں بتایئے کہ علی علیہ السلام بہتر ہیں یافرشتے؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”فرشتوں کا مقام اس وجہ سے افضل ہے کہ وہ محمد، علی علیہ السلام اور خدا کے انبیاء علیہم السلام سے محبت کرتے ہیں اور ان کی رہبری وقیادت کو قبول کرتے ہیں اور جو بھی انسان ان حضرات کی رہبری کو قبول کرے اور ان سے محبت کرے اس کا مقام فرشتوں سے افضل و برتر ہوگا ،کیا تم یہ نہیں جانتے کہ فرشتے اپنے آپ کو ہر جہت سے آدم علیہ السلام سے افضل سمجھتے تھے، لیکن جب خداوندعالم نے انھیں حضرت آدم کا علمی مرتبہ ظاہر کیا تو وہ اپنے کو پست سمجھ کر ان کے سامنے سجدہ کے لئے جھک گئے، اور سجدہ والے دن ہی کچھ عظیم اور نیک شخصیتیں (جیسے پیغمبر ،علی علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے تمام ائمہ علیہم السلام )آد م کے صلب میں موجود تھیں یعنی تمام مقدس شخصیتیں آدم کے پیچھے صف بنا ئے کھڑی رہیں ،فرشتوں نے آدم کے ساتھ ساتھ ان کی تمام ذریت کا سجدہ کیا۔

بے شک سجدہ بظاہر آدم کے لئے ہو الیکن حقیقت میں وہ سجدہ خدا وند عالم کا سجدہ تھا ،جناب آدم علیہ السلام صرف قبلہ (خانہ کعبہ) کی حیثیت رکھتے تھے ،لیکن ابلیس نے گھمنڈ اورتکبر میں چور ہونے کی وجہ سے جناب آدم علیہ السلام کا سجدہ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ بارگاہ خدا وندی سے نکال دیا گیا“، اس بات کا امکان پایا جاتاتھا کہ منافق جناب آدم علیہ السلام جیسے نبی پر گناہ اور ترک اولیٰ کا الزام لگا کر ان کی شخصیت کو مجروح کرتے لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے پہلے ان کے اس اعتراض کا دروازہ بند کردیا۔

اور آپ نے ان سے فرمایا: ”اگر آدم علیہ السلام نے بہشت کے اس درخت سے چند دانے کھائے جس کے لئے خداوندعالم نے نہی کی تھی تو بیشک انھوں نے ترک اولیٰ کیا لیکن ان کا ترک اولیٰ تکبر اور غرور کی وجہ سے نہیں تھا اسی لئے انھوں نے توبہ کی اور خداوند عالم نے ان کی توبہ کو قبول بھی کر لیا“۔( ۴۰ )

منافقوں کی سازش ناکام ہو گئی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مذکورہ نصیحتوں سے منافقوں کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ پوری طرح اپنے دل میں یہ ٹھانے ہوئے تھے کہ جیسے ہی پیغمبر کا اونٹ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تواس کو بھڑکا دیا جائے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خاص اور ماہر صحابی (حذیفہ)کو بلا کرفرمایا: ”تم پہاڑ کے نیچے کنارے کی طرف بیٹھ جا واور تمام آنے جانے والوں پر سخت نظر رکھو تاکہ مجھ سے پہلے کوئی بھی پہاڑ پر نہ جاسکے“۔

اس کے بعد پیغمبر نے عمومی اعلان کر دیا کہ تمام لوگ میرے پیچھے پیچھے آئیں اور کوئی بھی مجھ سے آگے جانے کی کوشش نہ کرے۔

حذیفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے حکم کے مطابق پہاڑ کے نیچے پہنچ کر اپنے کو ایک پتھر کی آڑ میںچھپالیا اور چوکنا ہو کر چاروں طرف دیکھتے رہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آگے کوئی پہاڑ کی جانب نہ جاسکے لیکن حذیفہ نے دیکھا کہ منافقوں کا وہی گروہ جو چودہ افراد پر مشتمل تھا بڑے ہی ماہرانہ انداز میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنے لگا اور وہاں پہنچ کر اپنے بنائے ہوئے منصوبہ کے تحت پتھر کی آڑ میں چھپ گیا۔

حذیفہ نے جب انکی یہ تمام حرکتیں دیکھیں اور باتیں بھی سنیں تو فوراً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس بات سے آگاہ کیا،رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم منافقوں کی سازش سے آگاہ ہونے کے باوجود شتر پر سوار ہوئے اور چل پڑے، حذیفہ ،سلمان و عمارپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت کے لئے ساتھ ساتھ چلے۔

آپ جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو منافقوں نے اوپر سے پتھر لڑھکانا شروع کیا تاکہ پیغمبر کا اونٹ بھڑک اٹھے اور وہ درے میں جاگریں۔

لیکن تمام پتھر درے کی طرف لڑھک گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بغیر نقصان کے نیچے اتر آئے پیغمبر اسلام نے عمار سے فرمایا: ”پہاڑ کے اوپر جاو اور اپنے ڈنڈے سے مار کر ان کی سواریوں کو دور بھگا دو“۔

عمار،پیغمبر کے حکم کی تعمیل کے لئے منافقوں کی تلاش میں نکلے اور پہاڑ پر پہنچ کر انھیں تتر بتر کر دیا اور ان کی سواریوں کو اپنے ڈنڈے سے مارا جس کے نتیجے میں چند منافق اپنی سواری کے ساتھ ساتھ خود بھی نیچے گرے اور ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ گئے۔( ۴۱ )

تاریخ اسلام کے یہ دقیق اور ظریف سبق آموز واقعات اور نصیحتیں ہیں جن کے ذریعہ ہم منافقوں کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان کی رنگ برنگی اور نئی نئی سازشوں کے نقاب،ان کے چہرے سے نوچ کر ان کی تمام تر سازشوں کو نقش بر آب کردیں،خاص بات یہ تھی کہ منافقوں نے اپنی سازش کو رات کی تاریکی میں انجام دیا اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات کی کوشش میں تھے کہ ان کا ہر کام پس پردہ رہے ،لیکن ہوشیار اور بیدار مسلمانوں نے ان کے پردے چاک کر کے ان کی سازش اور خفیہ ارادوں کو ناکام بنا دیا۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور حذیفہ کی تعریف چند جملوں میں اس طرح کی:

”علی علیہ السلام اور حذیفہ منافقوں کی سازشوں سے تمام لوگوں سے زیادہ واقف ہیں“۔

نتیجہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ساتھ رہنے والے منافقوں کی سازش آشکار ہونے سے پہلے ان سے مناظرہ کیا اور اس بات کو ملحوظ نظر رکھا کہ شاید وہ انھیں سمجھا بجھا کر راہ راست پر لے آئیں لیکن جب ان کی بزدلی اور سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا تو پیغمبر اسلام نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

۷۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاعلماء نجران سے مناظرہ

”نجران“مکہ اور یمن کے درمیان ایک شہر تھا جس میں ۷۳ بستیاں تھےں ،صدر اسلام میں وہاں عیسائی مذہب رائج تھا اور اس وقت وہاں بہت ہی پڑھے لکھے اور عظیم علماء رہتے تھے،خلاصہ کے طور پر یہ کہہ دینا بہتر ہوگا کہ اس وقت نجران ،آج کا ”ویٹکان“تھا۔

اس وقت شہر نجران کا بادشاہ ”عاقب“ نام کا ایک شخص تھا، جس کے ہاتھ میں مذہب کی باگ ڈور تھی اس کا نام ”ابو حارثہ“تھا،اور جو شخص ہر دل عزیز، محترم اور لوگوں کے نزدیک قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا اس کا نام ”ایہم“تھا۔

جب پورے عالم میںاسلام کی آواز گونجی تو عیسائی علماء جنھوں نے پیغمبر کے بارے میں جو بشارتیں توریت اور انجیل میں پڑھ رکھی تھیں اس کے سلسلہ میں ہمیشہ ہی بہت حساس رہتے تھے جب انھوں نے اسلام کی آواز سنی تو تحقیق کرنا شروع کر دیا۔

نجران کے عیسائی عوام نے اپنے نمائندوں کے ساتھ ایک خصوصی گروہ بنا کر تین مرتبہ پیغمبر اسلام کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ اچھی طرح اور قریب سے ان کی نبوت کی تحقیقکرسکیں۔

ایک دفعہ یہ گروہ ہجرت سے پہلے مکہ روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ کیا اور دو دفعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آکر اس گروہ نے آپ سے مناظرہ کیا۔

ہم ان کے تینوں مناظروں کا خلاصہ پیش کررہے ہیں۔

۱۔علمائے نجران سے پہلا مناظرہ

نجران کے عیسائی علماء کا ایک گروہ مکہ کی طرف اس قصد سے روانہ ہو اکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قریب سے دیکھے اور ان کی نبوت کے بارے میں تحقیق کرے ،یہ لوگ کعبہ کے نزدیک پہنچ کر پیغمبر کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور وہیں مناظرہ اور گفتگو شروع کر دی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی خوش اخلاقی سے ان کے سوالات سنے اور جواب دیئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن کریم کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں جنھیں سن کر ان لوگوں کے دل بھر آئے، اور فرط مسرت سے ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اور اپنی تحقیقات میں انھیں ایسی چیزیں معلوم ہوئیں جو توریت اور انجیل سے بالکل مطابق تھیں جب انھوں نے یہ تمام چیزیں پیغمبر کی ذات میں دیکھیں تو مسلمان ہوگئے۔( ۴۲ )

مشرکین بالخصوص ابو جہل اس مناظرہ سے بہت زیادہ ناراض ہوا اور جب نمائندہ نجران مناظرہ ختم کر کے واپس جانے لگے تو ابوجہل چند لوگوں کے ساتھ آیا اور راستے میں انھیں گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا کہ ہم نے تم لوگوں جیسا پاگل اور دیوانہ آج تک نہیں دیکھا تم لوگوں نے اپنی قوم وملت کے ساتھ خیانت کی اور اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام کے گرویدہ ہو گئے ان لوگوں نے بڑے ہی نرم لہجہ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ہم نے جو بھی کیا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دو۔( ۴۳ )

۲۔عیسائیوں کے اکابر علماء سے مناظرہ

دوسرا مناظرہ نجران کے عظیم سیاسی مذہبی راہنماوں سے مدینہ میں ہجرت کے نویں سال واقع ہوا جس کی نوبت مباہلہ تک پہنچ گئی اور وہ اس طرح ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو خطوط سر براہان مملکت کو روانہ کئے تھے ان کے ضمن میں ایک خط آپ نے نجران کے پوپ ابو حارثہ کو بھی لکھا تھا جس میں آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔

چار افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس خط کو لے کر نجران کے لئے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خط کو پوپ کی خدمت میں پیش کیا ،پوپ خط پڑھ کر بہت ناراض ہوا اور غصہ میں آکر اسے پھاڑ دالا اور آپ کے ان نامہ بروں کا کوئی احترام نہیں کیااور یہ ارادہ کیا کہ اس خط کے سلسلہ میں نجران کے پڑھے لکھے لوگ غور وفکر کریں ،نجران کے پڑھے لکھے اور مقدس لوگ جیسے شرحبیل، عبدا للہ بن جبّار بن فیض غور وفکر اور مشورہ کے لئے بلائے گئے۔

ان تینوں افراد نے کہا: ”چونکہ یہ بات نبوت سے متعلق ہے اس لئے ہم اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کا کوئی نظریہ نہیں دے سکتے ہیں“۔پوپ نے اس مسئلہ کو نجران کے عوام کے سامنے پیش کیا،ان کی رائے لینے پر بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ہماری قوم کی طرف سے کچھ ہو شمند اور علم وعقل کے لحاظ سے زبردست افراد مدینہ میں محمد بن عبد اللہ کے پا س جائیں اور ان سے اس سلسلہ میں بحث ومناظرہ کریں تاکہ حقیقت واضح ہو جائے۔

اس سلسلہ میں بحث وگفتگو بہت زیادہ ہوئی( ۴۴ ) لیکن آخر میں یہ طے پایا کہ نجران کے ساٹھ افراد جن میں سے چودہ عظیم علماء منجملہ عاقب ابو حارثہ اور ایہم بھی تھے مناظرے کے لئے مدینہ جائیں۔

ساٹھ آدمیوںپر مشتمل یہ قافلہ پیغمبر سے مناظرہ کے لئے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔

بیشک کسی بھی مذہب کے بارے میں بحث ومناظرہ جو بغیر دھوکا دھڑی اور فریب کے ہو اور اس میں منطقی بحث ہو تو بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ بحث ومناظرہ کو سازش اور فریب کا رنگ دے کر عوام کو دھوکا دے تو یقینا ایسے بحث و مناظرہ کو شدت سے روکنا چاہئے۔

نجران کے نمائندوں نے جان بوجھ کر بہت ہی زرق و برق لبا س زیب تن کیا اور بہت سے زیور پہنے تاکہ مدینہ پہنچ کر اہل مدینہ کو اپنی طرف جذب کرلیں اور کمزور عقیدہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیں۔( ۴۵ )

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی ہو شیاری سے ان کے اس فعل کی طرف توجہ کی اور ان کے اس فریب کو ناکارہ بنا نے کے لئے ایک طریقہ اپنایا کہ جب علمائے نجران پیغمبر کی خدمت میں اس زرق وبرق لباس میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کی طرف بالکل توجہ نہیں دی اور نہ ہی ان سے کوئی بات کی ،پیغمبر کی اتباع میں وہاں بیٹھے ہوئے مسلمانوں نے بھی ان سے کسی طرح کی کوئی بات نہیں کی۔

علمائے نجران تین دن تک مدینہ میں سرگرداں رہے اور عبد الرحمن اور عثمان سے پہلے کی جان پہچان کی بنا پر بے توجہی کا سبب معلوم کیا تو یہ لوگ انھیں حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے گئے اور تمام حالات سے انھیں آگاہ کیا حضرت علی علیہ السلام نے علمائے نجران سے فرمایا: ”تم اپنے زرق و برق لباس اتار کر پیغمبر کی خدمت میں عام لوگوں کی طرح جاو انشاء اللہ ضرور تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے۔

علمائے نجران نے مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اس حکم کا اتباع کیا اور کامیاب ہو ئے۔

مناظرہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ بحث وگفتگو میں ہر طرح کی آزادی ہو اور مناظرہ کی فضا بھی ہموار ہو،پیغمبر مسجد میں پنجگانہ نماز کو باجماعت ادا کرتے تھے اور تمام مسلمان آپ کے گرد جمع ہوجاتے تھے ،عیسائی گروہ مسلمانوں کے اس طرح کے اجتماع سے بہت ہی حیران تھا لیکن تمام عیسائی اپنے عقیدے کے مطابق ایک گوشے میں مشرق(بیت المقدس )کی طرف رخ کر کے نماز ادا کیا کرنے لگے،بعض مسلمانوں نے چاہا کہ ان کی اس آزادی میں مانع ہوں لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو روک دیا۔

ہمیں اس مختصر سی بات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی علماء مدینہ میں بالکل آزاد تھے اور ان پر کسی بھی طرح کی قید وبندش نہیں تھی اورنہ ہی وہ کسی کے تحت تھے۔

نتیجہ میں تین روز گزر جانے پر نماز جماعت کے بعد مسجد ہی میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔

علمائے نجران کے ۶۰/ افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے بیٹھ گئے اور بحث ومناظرہ کو سننے کے لئے تھوڑے فاصلہ پر مسلمان بھی بیٹھ گئے، قابل توجہ بات یہ تھی کہ چند یہودیوں نے بھی مسیحیوں اور مسلمانوں سے بحث کرنے کے لئے اس جلسہ میں شرکت کی تھی۔

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے محبت اور خلوص سے ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنی بات شروع کی اور آئے ہوئے علمائے نجران کو توحید واسلام کی دعوت دی اور فرمایا: ”آوہم سب مل کر وحدہ ٘ لا شریک کی عبادت کریں تاکہ ہم سب کے سب ایک زمرہ میں آجائیں اور خدا کے پرچم تلے اپنی زندگی گزاریں اس کے بعد آپ نے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔

پوپ: ”اگر اسلام کا مطلب خدا پر ایمان رکھنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے تو ہم تم سے پہلے ہی مسلمان ہیں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”حقیقی اسلام کی چند علامتیں ہیں اور تین چیزیں ہمارے درمیان ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تم لوگ اہل اسلام نہیں ہو،پہلی یہ کہ تم صلیب کی پوجا کرتے ہو،دوسری یہ کہ تم سور کے گوشت کو حلال جانتے ہو ،تیسری یہ کہ تم اس بات کے معتقد ہو کہ خدا صاحب اولاد ہے۔

علمائے نجران: ”ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح خدا ہیں کیونکہ انھوں نے مردوں کو زندہ کیا ہے اور لا علاج بیماروں کو شفا بخشی ہے حضرت مسیح نے مٹی سے پرندہ بنایا اس میںروح پھونکی اور وہ اڑ گیا وغیرہ وغیرہ اس طرح کے ان کے تمام کام ان کی خدائی پر دلالت کرتے ہیں“۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم : ”نہیں ایسانہیں ہے کوئی بھی ایسا کام خدائی پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ وہ خدا کے ایک بندہ ہی ہیں، جنھیں خداوندمتعال نے جناب مریم علیہ السلام کے رحم میں رکھا اور اس طرح کے تمام معجزات ا نہیں عنایت فرمائے۔وہ کھانا کھاتے تھے پانی پیتے تھے ان کے گوشت ،ہڈی اور کھال تھی اور اس طرح جو بھی ہوگا وہ خدا نہیں ہو سکتا ہے“۔

ایک نمائندہ: ”حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ ان کی ماں جناب مریم علیہ السلام نے بغیر کسی سے شادی کئے انھیں جنم دیا، یہی ہماری دلیل ہے کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خدا ان کا باپ ہے“۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وحی الٰہی سورہ آل عمران آیت ۶۱ کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم جیسی ہے جس طرح خداوند متعال نے جناب آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے خاک سے پیدا کیا اسی طرح جناب عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور اگر باپ کا نہ ہونا خدا کے بیٹے ہونے پر دلیل بن سکتا ہے تو جناب آدم کے لئے یہ زیادہ مناسب ہے کہ کیونکہ ان کے باپ اور ماں دونوں نہیں تھے“۔

علمائے نجران نے جب یہ دیکھا کہ جو بھی بات کہی جاتی ہے اس کا دندان شکن جواب ملتا ہے تو وہ حضرات جو ریاست دنیا کے چکر میں اسلام لانا نہیں چاہتے تھے انھوں نے مناظرہ کو ختم کر دیا اور کہنے گلے اس طرح کے جوابات ہمیں مطمئن نہیں کر رہے ہیں لہٰذا ہم آپ سے مباہلہ کرنے پر تیار ہیں یعنی دونوں طرف کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر خداوند عالم سے دعا اور راز ونیاز کریں اور جھوٹوں پر لعنت کریں تاکہ خدا جھوٹوں کو ہلاک کردے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورہ آل عمران کی ۶۱ آیت کے نازل ہونے پر انکی اس بات کو قبول کر لیا۔

تمام مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہو گئی اور جہاں دیکھئے وہیں لوگ بیٹھ کر چہ می گوئیاں کرنے لگے کہ دیکھئے مباہلہ میں کیا ہوتا ہے؟ لوگ بڑی بے صبری سے مباہلہ کا انتظار کررہے تھے کہ بڑے انتظار کے بعد ۲۴ ذی الحجة کا دن آہی گیا، علمائے نجران اپنے خاص جلسہ میں نفسیاتی طور پر یہ طے کر چکے تھے کہ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کثیر تعداد میں لوگ آئیں تو بغیر کسی خوف اور جھجھک کے ان کے ساتھ مباہلہ کے لئے تیار ہو جانا ، کیونکہ اس صورت میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو جمع کرکے دنیاوی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ دیکھو کہ پیغمبر اپنے چند خاص افراد کے ساتھ مباہلہ کے لئے آئے ہوئے ہیں تو ہر گز مباہلہ نہ کرنا کیونکہ نتیجہ بہت ہی خطرناک نکلے گا۔

علمائے نجران مباہلہ کی مخصوص جگہ پر پہنچے اور انجیل و توریت پڑھ کر خدا کی بارگاہ میں راز ونیاز کرکے مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتظار کرنے لگے۔

اچانک لوگوں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چار افراد یعنی اپنی بیٹی جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا اور اپنے داماد علی علیہ السلام اور اپنے دونوں بیٹوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ تشریف لارہے ہیں، شرحبیل (عیسائیوں کا ایک عظیم اور بڑا عالم )نے اپنے دوستوں سے کہا کہ خدا کی قسم !میں وہ صورتیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے چاہیں کہ پہاڑ اپنی جگہ ہٹ جائے تو یقینا وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا ان سے ڈرو اور مباہلہ نہ کرو،اگر آج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے مباہلہ کروگے تو نجران کا ایک بھی عیسائی اس روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا خدا کے لئے میری بات ضرور مان لو چاہے بعد میںکچھ ماننا یا نہ ماننا۔

شرحبیل کے اصرار نے نجران کے علماء کے دلوں میں عجیب اضطرابی کیفیت پیدا کر دی اور انھوں نے اپنے ایک آدمی کو پیغمبر کی خدمت میں بھیج کر ترک مباہلہ کی در خواست کی اور صلح کی التماس کی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے کرم اور رحمت خداوند سے ان کی اس گزارش کو قبول کیا اور صلح نامہ لکھا گیا جو چار نکات پر مشتمل تھا:

۱ ۔اہل نجران کی یہ ذمہ داری ہے(تمام اسلامی ممالک کی امنیت کے سلسلہ میں)کہ وہ ہر سال دو ہزار جوڑے کپڑے دو قسط میں مسلمانوں کو دیں۔

۲ ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے نمائندہ نجران میں ایک ماہ یا ایک ماہ سے زیادہ مہمان کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔

۳ ۔جب بھی کبھی یمن میں اسلام کے خلاف کوئی سازش بلند ہو تو اہل نجران کے لئے واجب ہے کہ وہ ۳۰ ڈھال ۳۰ گھوڑے اور ۱۳۰ اونٹ عاریہ کے طور پر حکومت اسلامی کی حفاظت کے لئے دیں۔

۴ ۔اس صلح نامہ کے بعد اہل نجران کے لئے سود کھانا حرام ہے۔

علماء نجران کی اس کمیٹی نے صلح نامہ کے تمام شرائط کو قبول کر لیا اور وہ لوگ شکست خوردہ حالت میں مدینہ سے نجران کی طرف روانہ ہوئے( ۴۶ ) ،ضمناً یہ بھی بتاتے چلیں کہ اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی عظمت ومنزلت کے لئے آیہ مباہلہ زندہ ثبوت ہے۔

۳۔ علمائے نجران کے تیسرے گروہ سے مناظرہ

نجران کے عیسائیوں کا تیسرا گروہ جو قبیلہ بنی الحارث سے تعلق رکھتا تھا اس نے نجران میں تحقیق کر کے اسلام قبول کر لیا تھا بعض ان کی نمائندگی کرنے کے لئے خالدبن ولید کے ساتھ مدینہ آئے اور پیغمبر کی خدمت میں مشرف ہو کر اظہار اسلام کیا اور کہا کہ ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ خداوند متعال نے آپ کے ذریعہ ہم لوگوں کو ہدایت کی۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے پوچھا: ”تم لوگ کیسے اپنے دشمنوں پر غالب ہوئے؟“

انھوں نے کہا: ”اول یہ کہ ہم لوگوں میں کسی طرح کاکوئی تفرقہ واختلاف نہیں تھا دوسرے یہ کہ ہم نے کسی پر ظلم کی ابتداء نہیں کی“۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”صدقتم “تم نے سچ کہا“۔( ۴۷ )

نتیجہ یہ ہے:

جیسا کہ پہلے بھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ نجران کے پہلے اور تیسرے گروہوں نے اسلام کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کی اور اس کے بعداسلام کو قبول کر لیا لیکن دوسرا گروہ وہ تھا جس کی مباہلہ کی نوبت پہنچ گئی اور آخر کار انھوں نے مباہلہ ترک کرنے کی خواہش کی انھوں نے بھی اسلام کے قوانین کے سلسلہ میں تحقیق کی اور اس کی حقانیت کو سمجھ گئے لیکن انھوںنے اپنے پہلے گروہ کی روش اختیار نہ کی اور مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ظاہر ًاسلام قبول نہیں کیا۔

۱ ۔پوپ نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کا خط پھاڑ ڈالا یہ اس کی ریاست طلبی اور تعصب کی دلیل تھی جو حق قبول کرنے میں مانع ہوا۔

۲ ۔وہ مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوئے کیونکہ اگر وہ اسلام اور محمد کی حقانیت کے سلسلے میں تحقیق نہ کی ہوتی تو مباہلہ کے ترک کرنے کی درخواست ہرگز نہ کرتے۔یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسلام اور محمد کے مکتب کے بارے میں اچھی خاصی تحقیق رکھتے تھے اور اس کی حقانیت کو سمجھ چکے تھے۔

۳ ۔تاریخ میں یہ ملتا ہے کہ نجران کے نمائندے جب مدینہ سے واپس جارہے تھے تو ایک نمائندہ نے راستہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برا بھلا کہا تو ابو حارثہ (پوپ)نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ پیغمبر کو کہیں بُرا بھلا کہتے ہیں؟یہی بات اس کا باعث ہوئی کہ اس شخص نے مدینہ واپس آکر اسلام قبول کر لیا۔

تاریخ کا یہ رخ بھی اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ علمائے نجران پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صداقت کو سمجھ گئے تھے۔

۴ ۔نجران کے علماء جب واپس پہنچے تو لوگوں کو اپنی روداد سنائی،ان کی روداد سن کر نجران کا ایک راہب اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے عبادت خانہ سے چیخ کر کہا: ”اے لوگو!جلدی آو اور مجھے نیچے لے چلو ورنہ میں ابھی اپنے آپ کو نیچے گرا کر اپنی زندگی تمام کر لوں گا“۔

لوگ اسے سہار ا دے کر عبادت خانہ سے نیچے لے آئے وہ دوڑا ہوا مدینہ کی طرف آیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں رہ کر اس نے کچھ مدت تک علمی استفادہ کیا اور قرآنی آیتیں سنیں ،کچھ دنوں بعد وہ نجران واپس گیا،واپس جاتے وقت وہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم سے یہ وعدہ کر کے گیا تھا کہ جب مدینہ دوبارہ آئے گا تو اسلام قبول کر لے گا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔( ۴۸ )

غرض تمام چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک حقیقت اسلام ثابت ہو چکی تھی اور وہ اچھی خاصی تحقیق بھی کر چکے تھے لیکن چند چیزیں جیسے ریاست طلبی، دنیا داری اور اہل نجران سے خوف وغیرہ ان کے اسلام قبول کرنے میں رکاوٹ بن رہیں تھیں۔

۸۔ معاویہ سے حضرت علی علیہ السلام کا تحریری مناظرہ

معاویہ بن ابو سفیان نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں جنگ صفین کی آگ بھڑکانے کے بعد ایک خط لکھا جس میں اس نے چار چیزوںکو عنوان قرار دیا:

۱) سر زمین شام میرے قبضہ میں دے دی جائے تاکہ اس کی رہبری خود میرے ذمہ ہو۔

۲) جنگ صفین جاری رکھنا عرب کی خونریزی اور نابودی کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اسے ختم کر دیا جائے۔

۳) ہم دونوں جنگ میں برابر ہیں ،دونوں طرف مسلمانوں ہیں اور دونوں طرف اسلامی شخصیات موجود ہیں۔

۴) ہم دونوں عبد مناف (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پردادا) کے بیٹے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے لہٰذا ابھی وقت باقی ہے کہ ہم لوگ اپنی گزشتہ باتوں پر پشیمان ہوں اور آئندہ کی اصلاح کریں۔( ۴۹ )

امام علی علیہ السلام نے اس کی ہربات کا بہترین جواب دیا اور لکھا:

۱) تونے جو کہا ہے کہ سر زمین شام تیرے قبضے میں دے دی جائے ،تو تجھے یہ جاننا چاہئے کہ کل جس چیز کے لئے میں نے تجھے منع کیا تھا آج تجھے ہر گز اسے نہیں دے سکتا (حکومت الٰہی کے لئے آج اور کل میں کوئی فرق نہیں ہے کہ آج وہ فاسد وں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے۔)

۲) اور تونے جو یہ لکھا ہے کہ جنگ عرب کی نابودی کا سبب بنے گی تو تجھے یہ جاننا چاہئے کہ جو بھی اس جنگ میں حق کی طرف سے قتل ہوا ہے اس کی جگہ بہشت ہے اور اگر باطل کا طرفدار تھا تو جہنم کی آگ میںجھلسے گا۔

۳) اور تیرایہ دعویٰ کہ جنگ میں ہم دونوں برابر ہیں تو ایسا نہیں ہے کیونکہ تو شک میں ہے ہمارے یقین کے درجہ تک نہیںپہنچااور اہل شام اہل عراق سے زیادہ آخرت کی خاطر کوشاں نہیں رہتے ہیں۔

۴) جو تونے یہ کہا کہ ہم سب عبد مناف کے بیٹے ہیں بیشک ایسا ہی ہے لیکن امیہ ،جو تیرا دادا ہے اور اس کے بھائی ہاشم جو میرے دادا ہیںبرابر نہیں ہو سکتے، تیرا دادا حرب میرے جد عبد المطلب کی طرح نہیں ہے اور تیرا باپ ابو سفیان میرے باپ ابو طالب کی طرح نہیں ہے،مہاجرین کبھی اسراء (وہ کفار جنھیں فتح مکہ کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آزاد کیا تھا)کی مانند نہیں ہو سکتے ،اپنے باپ کا صحیح النسب فرزند اور کسی کی نسل سے منسوب حرام زادہ کی طرح نہیں ہو سکتا اور نہ حق پرست اور باطل پرست ،مومن اور فاسق کو ایک زمرہ میں رکھا جا سکتا ہے کتنے بد تر ہیں وہ لوگ جو جہنم کی آگ میں جلنے والے اپنے آباء اجداد کی اطاعت کرتے ہیں!

تجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مقام نبوت کی برتری اور افتخار ہمارے اختیار میں ہے جس کے ذریعہ ہم نے عزیزوں کو ذلیل اور ذلیلوں کو عزیز بنادیا اور جس وقت لوگ جوق در جوق اسلام کے گرویدہ ہو رہے تھے اور اسلام قبول کر نے میں ایک دوسرے سے پر سبقت لے جارہے تھے اس وقت بھی تم نے سب کے بعد دنیا کی لالچ میں یا خوف کی وجہ سے اسلام قبول کیا (بس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے تم کسی بھی طرح کی فضیلت اسلام لانے کے سلسلہ میں نہیں رکھتے ہو)(لہٰذا تجھے ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں تیرے اندر شیطان نفوذ نہ کر جائے۔( ۵۰ )

۹۔ علی علیہ السلام کااپنے حق کے دفاع میں ایک مناظرہ

خلافت عثمان کے زمانہ میںمہاجرین اور انصار کا ایک گروہ مسجد نبوی میں جمع ہوا جن کی تعداد دو سو سے زیادہ تھی اور وہیں ٹولیوں میں تقسیم ہو کر ان لوگوں نے آپس میں گفتگو اور مناظرہ کیا۔

بعض لوگ علم و تقویٰ کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے کہتے تھے کہ قریش تمام دوسرے لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی فضیلت کے سلسلہ میں رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا تھا:

الائمة من قریش ،ائمہ قریش سے ہیں“۔

یا دوسری جگہ فرمایا:

الناس تبع لقریش وقریش ائمة العرب

”لوگ قریش کے پیروہیں اور قریش عرب کے امام ہیں“۔

اس طرح ہر گروہ اپنی اپنی صاحب افتخار شخصیتوں کو شمار کرنے لگا ،مہاجرین میں علی علیہ السلام سعد وقاص عبد الرحمن عوف ،طلحہ وزبیر، مقداد ، ہاشم بن عتبہ، عبد اللہ بن عمر،حسن وحسین علیہم السلام اور عمر بن ابوبکر عبد اللہ بن جعفر جیسے لوگ تھے۔

اور انصار میں ابی بن کعب ،زید بن ثابت ،ابو ایوب انصاری ،قیس بن سعد،جابر بن عبد اللہ انصاری انس بن مالک جیسے لوگ تھے یہ گفتگو اور مناظرہ صبح سے لے کر دو پہر تک اسی حالت میں ہوتا رہا، عثمان اپنے گھر میں تھے جب کہ علی علیہ السلام اور ان کے متعلقین سب کے سب خاموش بیٹھے تھے۔

اسی دوران کچھ لوگ امام علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا: ”آپ کیوں نہیں کچھ بول رہے ہیں؟“

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ”تم دونوں گروہوں نے اپنی اپنی عظمت بیان کی (اور رہبری کے لئے اپنی شائستگی کے متعلق باتیں کی)لیکن میں دونوں گروہ سے یہ پوچھتاہوں کہ تم لوگوں کو خدا وند متعال نے یہ فضیلت اور برتری کس کی وجہ سے عطا کی ہے؟“مہاجرین اور انصار نے کہا: ”یہ تمام امتیازات و فضیلتیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماور ان کے خاندان کی وجہ سے ہمیں حاصل ہوئی ہیں“، امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ”سچ کہا،آیا تم یہ نہیں جانتے کہ اس دنیا اور آخر ت کی تمام سعادتیں تمہیں ہمارے خاندان نبوت کی بدولت ملی ہیں اور میرے چچازاد بھائی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: ”میں اور میرا خاندان جناب آدم علیہ السلام کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے نور کی شکل میں خداوند عالم کی بار گاہ میں موجود تھا پھر خداوندمتعال اس نور کو ایک نسل کے بعد دوسری آنے والی نسل کے صلب اور پاک رحم میں منتقل ہوتا رہا جس میں ذرہ برابر بھی نجاست نہیں پائی جاتی ہے۔

اس کے بعد مولائے کائنات علی علیہ السلام نے اپنے فضائل کا ایک ٹکڑا بیان کیا اور لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کیا ایسا نہیں ہے؟تمام لوگوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ رسول اسلام نے آپ کے بارے میں یہ چیزیں بیان فرمائیں ہیں۔

منجملہ یہ بھی فرمایا: ”تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ جس شخص نے بھی پیغمبر کی زبان سے میری خلافت کے بارے میں سنا ہے وہ اٹھ کر گواہی دے“۔

اسی وقت سلمان ،ابوذر،مقداد، عمار ،زید بن ارقم، براء بن عازب جیسے لوگوں نے اٹھ کر کہا:

”ہم لوگ گواہی دیتے ہیں ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس روزکی بات آج بھی یاد ہے کہ جب رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمتشریف رکھتے تھے اور آپ منبر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”خدا وند متعال نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ علی میرے ،وصی ،جانشین اور میرے بعد میرے تمام کاموں کے ذمہ دار ہیں اور خداوند متعال نے ان کی اطاعت تمام مومنوں پر واجب قرار دی ہے ،اے لوگو! یہ میرا بھائی علی میرے بعد تمہارا امام مولا اور راہنما ہے:

وهو فیکم بمنزلتي فیکم فقلدوه دینکم واطیعوه فی جمیع امورکم “۔( ۵۱ )

”تمہارے درمیان جو مقام ومنزلت میرا ہے وہی علی کا بھی ہے تم دین خدا میں ان کی پیروی کرو اور اپنے تمام امور میں انھیں کی اطاعت کرو“۔

اس طرح مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے لوگوں کے درمیان اپنی امامت کو ثابت کیا اور اتمام حجت کر دیا۔

____________________

(۲۸) عبد اللہ کانام ”حُصین “تھا، یہودی ا س کا بڑا احترام کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا دیا تھا۔

(۲۹) اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبد اللہ ضدی ،سرکش،خود خواہ اور نفسانی خواہشات کا اسیر نہیں تھا بلکہ حق پسند وحق طلب تھا اسی وجہ سے وہ یقینی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا،حق طلبی کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان آزاد فکر اور ہر طرح کے تعصب سے دور ہو۔

(۳۰) بعض مفسروں نے ان آیتوں کی شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ یہ عبد اللہ بن صوریا کے بارے میں نازل ہوئی ہےں لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ عبد اللہ بن سلام نے اس طرح کی بحث نہ کی ہوگی ۔

(۳۱) جیسا کہ ہم نے عرض کیا اس کا نام حُصین تھا ۔

(۳۲) نا سخ التواریخ ج۱،ص ۳۹،سیرة ابن ہشام ج۱، ص۵۱۶اور احتجاج طبرسی ج۱۔

(۳۳) سورہ بقرہ، آیت ۱۳۹ ۔

(۳۴) ”وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاٴَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ “ (سورہ بقرہ، آیت ۱۱۵)

(۳۵) قبلہ کی تبدیلی میں چند مصلحتیں تھیں منجملہ:

۱۔عرب کے قبیلےکعبہ کو پسند کرتے تھے لہٰذا وہ اس کی وجہ سے اسلام کی طرف راغب ہوئے۔

۲۔کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنایاتھا حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریبا ًتمام مذاہب میں محترم تھے لہٰذا تمام مذاہب اسلام کی طرف مائل ہوئے ۔

۳۔یہودیوں کا اعتراض کہ مسلمانوں کا الگ قبلہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے قبلہ ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس تبدیلی سے بر طرف ہوگیا۔

۴۔مکہ مسلمانوں کے لئے نزدیک تھا اس کو قبلہ بنانا اس بات کا سبب بنا کہ مسلمان کعبہ اور مکہ کو بت پرستوں سے پاک کریں اور اپنے قبلہ کو اسلام کے پرچم تلے لے آئیں۔

۵۔اس تبدیلی سے پیغمبر کا احترام بھی مقصود تھا کیونکہ مکہ آپ کی جائے پیدائش تھا۔

۶۔ایک مقصد مومن اور غیر مومن کی شناخت تھا جیسا کہ آپ اس مناظرہ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔

(۳۶) یہ حکم یہودیوں کو اپنی طرف مائل کر سکتا تھا جیسا کہ منصف مزاج یہودی مائل ہوئے ۔

(۳۷) بحار الا انوار ، نیا ایڈیشن،ج۹،۳۰۳ ،تفسیر نمونہ ،ج۱،ص۲۵۶، ناسخ التواریخ ہجرت ، ج۱، ص۹۲،احتجاج طبرسی ج۱ ، ص۴۴ وغیرہ سے اقتباس ۔یہاں پر یہ بات بھی یادرہے کہ سمت قبلہ کی تبدیلی ایک طرح کی آزمائش تھی تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ تمام مسلمان اسلامی قوانین کے پوری طرح پابند ہیں یا نہیں؟ اوریہ بات بھی واضح ہے کہ خصوصاً ایسے مقامات پر منافقین غیر محسوس طریقہ اور نادانستگی کے عالم میں اپنے آپ کو پہچنوا دیتے ہیں ،ایسے ہی مواقع پر مومنین اور کمزور ایمان والے اشخاص کے درمیان ممتاز ہو جاتے ہیں اور ان کی شناخت نہایت آسان ہو جاتی ہے۔

(۳۸) بحار الانوار ، نیا ایڈیشن،ج۹،ص۲۸۲۔

(۳۹) بعض مورخین نے ان منافقوں کی تعداد ۱۲ بتائی ہے جن میں سے ۸ قریش کے اور ۴ مدینہ کے تھے۔

(۴۰) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس مناظرہ میں بھی اس وجہ سے کہ قدرت طلب منافقین رہبری کے مسئلہ پر اعتراض کر رہے تھے اور ان کا سارا ہم و غم رہبری اور امامت کو نقصان پہنچا نا تھا لہٰذا آنحضرت نے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی یہاں تک کہ فرشتوں کے سجدہ کو جو رہبری اور شائستہ انسانوں کو خداکی جانشینی کے بارے میں تھا آنحضرت نے ان لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا تاکہ ولایت واسلامی رہبری کے مسئلے کو اپنی ہوا ہوس کا بازار قرار نہیں نہ دے سکیں۔

(۴۱) احتجاج طبرسی ج۱ص۹۵ سیرہ ابن ہشام ج۳ ص۵۲۷ سے اقتباس۔

(۴۲) سورہ مائدہ کی ۸۳ ویں آیت ۔

(۴۳) سیرہ حلبی ج۱،ص۳۸۳۔

(۴۴) یہ مفصل گفتگو بحار الانوار ج۲۱ص۲۷۶پر ذکر ہوئی ہے۔

(۴۵) حالانکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی اس حرکت کا توڑ کر لیا تھا لیکن پھر بھی بعض ضعیف الاعتقاد لوگ متاثر ہو ئے بغیر نہ رہ سکے ،یہ لوگ حسرت سے کہتے تھے کہ اے کاش! ہم لوگ بھی ان عیسائیوں کی طرح مالدار ہوتے،یہاں تک کہ اس بارے میں سورہ آل عمران کی ۱۵ ویں آیت نازل ہوئی جس میں ارشاد ہوتا ہے: ”(اے پیغمبر !)کہہ دو کہ کیا میں تم کو ایسی چیز کا پتہ بتاوں جو اس مادی سرمایہ سے بہتر ہوان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک دوسرے جہان میں ایسے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ اس میں ہمیشہ اپنی پاکیزہ بیویوں کے ساتھ رہیں گے۔

(۴۶) (۴۶) بحار الانوار ج۲۱،ص۳۱۹۔سیرہ ابن ہشام ج۲،ص۱۷۵، فتوح البدان ص ۱۷۶ اور اقبال ابن طاووس ص۴۹۶۔

(۴۷) البدایہ ،ج۵،ص۹۸۔

(۴۸) البدایہ ،ج۵،ص۵۵۔

(۴۹) کتاب الصفین، مولفہ ابن مزاحم، ص۴۶۸ تا ۴۷۱سے اقتباس۔

(۵۰) نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر ۱۷ سے اقتباس۔

(۵۱) الغدیر ،ج۱،ص۱۶۳ سے ۱۶۶ تک کا خلاصہ ،فرائد السمطین ،باب ۷۸،سمط اول۔


۱۰۔ معاویہ کی سیاسی سازش کا جواب

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عظیم صحابی عمار یاسر جو آنحضرت کی رحلت کے بعدبھی مذہب اسلام کی پیروی میںعلی علیہ السلام کے ہر قدم پر ساتھ ساتھ تھے یہاں تک کہ جنگ صفین میں آپ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عمار یاسر سے فرمایا تھا: ”تقتلک الفئة الباغیة“تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا“۔

یہ بات تمام مسلمانوں کے درمیان مشہور ہو گئی کہ عمار کے سلسلے میں پیغمبر نے اس طرح فرمایا ہے۔ابھی چند سال گزرے تھے کہ امام علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں آپ کے اور معاویہ کے سپاہیوں کے درمیان جنگ کا بازار گرم ہوا جسے تاریخ میںجنگ صفین کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ اس جنگ میں عمار یاسر اما م علی علیہ السلام کے لشکر کے سپاہی تھے اس جنگ میں آپ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے آخر کار معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھ شہید ہو گئے۔

وہ لوگ جو جنگ صفین میں شک و شبہ میں تھے کہ آیا معاویہ حق پر ہے یا علی علیہ السلام ؟ان کے نزدیک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول سے اس کے لشکر کے حوصلے پست پڑ رہے ہیں کیونکہ پیغمبر اسلام نے یہ فرمایا تھا کہ عمار ایک ظالم وباغی گروہ کے ذریعہ قتل کئے جائیں گے اور عمار کو قتل کرنے والا گروہ معاویہ کا تھا لہٰذا معاویہ باطل پر ہے۔

معاویہ نے جب یہ دیکھا کہ پیغمبر کے اس قول سے اس کے لشکر کے حوصلے پست پڑ رہے ہیں تو اس نے ایک ڈھونگ رچا اورکہنے لگا کہ عمار یاسر کو میں نے قتل نہیں،بلکہ علی نے قتل کیا ہے کیونکہ اگر وہ ہمارے مقابلہ میں انھیں نہ بھیجتے تو وہ ہر گز قتل نہ کئے جاتے۔معاویہ کی اسی توجیہ نے بعض لوگوں کو بیوقوف بنا دیا۔

امام علی علیہ السلام نے اس ڈھونگ کا بہت کھل کر جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”اگر معاویہ کی یہ بات صحیح ہے تو یہ بھی کہنا صحیح ہوگا کہ جنگ احد میں جناب حمزہ علیہ السلام کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قتل کیا ہے نہ کہ مشرکوں نے، کیونکہ جناب حمزہ علیہ السلام کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھیجا تھا“۔

علی علیہ السلام کے اس جواب کو عبد اللہ بن عمر عاص نے معاویہ تک پہنچادیا جواب سن کر معاویہ اس قدر بوکھلا گیا کہ اس نے اپنے نہایت مکار و سازشی مشاور خاص کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔”اے احمق کے بیٹے جلدی یہاں سے بھاگ جا“۔

غرض کہ یہ بذات خود ایک ایسا مناظرہ تھا جس نے دشمن کی سازشوں کو خاک میں ملا کر ان کے سارے منصوبوں کی مٹی پلید کردی۔( ۵۲ )

۱۱۔ امام سجاد علیہ السلام کا ایک بوڑھے شخص سے مناظرہ اور اس کی نجات

امام سجاد علیہ السلام جب اپنے قافلے والوں کے ساتھ اسیر ہو کر وارد دمشق ہوئے تو شام کا رہنے والا ایک بوڑھا شخص امام سجاد علیہ السلام اور ان کے قافلے والوں کے پاس آکر کہنے لگا۔

”خدا کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کیا،تمہارے شہروں کو تمہارے مردوں کی وجہ سے آسودہ کیا اور امیر المومنین یزید کو تم پر مسلط کیا“۔

امام سجاد علیہ السلام نے اس بوڑھے سے ،جو مسلمانوں سے بالکل بے بہرہ تھا اس طرح مناظرہ کیا۔

امام علیہ السلام: ”کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟“

بوڑھا: ”ہاں“

امام علیہ السلام: ”کیا تم نے اس آیت کا معنی خوب اچھی طرح سمجھا ہے جس میں خداوندمتعال فرماتاہے:

( قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی )( ۵۳ )

”اے پیغمبر ان سے کہو کہ میں تم سے اجر رسالت کچھ نہیں چاہتا مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت کرو“۔

بوڑھامرد: ”ہاں میں نے اس آیت کو پڑھا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اس آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابتداروں سے مراد ہم لوگ ہیں، اے شخص! کیا تونے سورہ انفال کی ۴۱ ویں آیت پڑھی ہے:

( وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاٴَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی )

”اور جان لو کہ جو کچھ بھی تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے بلاشبہ اس کا خمس اللہ،اس کے رسول اور ذی القربی کے لئے ہے ۔۔۔“۔

بوڑھا مرد: ”ہاں میں نے پڑھا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اس آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت دار اس آیت میں ہم لوگ ہیں اے شخص ! کیا تونے اس آیت کو پڑھا ہے“۔

( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )( ۵۴ )

”بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔

بوڑھا مرد: ”ہاں پڑھا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”ہم ہیں وہ لوگ کہ جن کے لئے خداوند عالم نے آیہ تطہیر نازل کی ہے“۔

یہ سن کر بوڑھا خاموش ہو گیا اور اس کے نزدیک حقیقت واضح ہو گئی جس کی وجہ سے اپنے کہے ہوئے جملہ پر اس کے چہرہ سے پشیمانی ظاہر ہو رہی تھے۔

چند لمحوں بعد اس نے امام علیہ السلام سے کہا: ”خدا کی قسم کھاو کہ تم وہی جو تم نے کہا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”خدا کی قسم اور اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حق کا واسطہ دے کر کہا کہ میں انھیں کے خاندان سے ہوں“۔

یہ جملہ سنتے ہی بوڑھے مرد کی حالت غیر ہو گئی اور روتے ہوئے اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا: ”بار الہٰا ہم آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے تمام دشمنوں (جن وانس)سے برائت کا اظہار کرتے ہیں“، اسی وقت اس نے امام کی بارگاہ میں توبہ کی۔

اس واقعہ کی خبر یزید کے کانوں تک پہنچی۔یزید نے فوراً اس کے لئے پھانسی کا حکم صادر کیا اور اس ہدایت یافتہ بوڑھے کو شہید کر دیا۔( ۵۵ )

۱۲۔ ایک منکر خدا کاامام صاد ق علیہ السلام سے مناظرہ کے بعد مسلمان ہونا

سر زمین مصر میں عبد الملک نام کا ایک شخص رہتا تھا جس کے بیٹے کا نام عبد اللہ تھا ، اس بنا پر لوگ اسے ابو عبد اللہ کہتے تھے۔عبد الملک منکر خدا تھا اور اس کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ دنیا خود بخود وجود میں آگئی ہے اس نے یہ سن رکھا تھا کہ شیعوں کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام مدینہ میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے اس نے مدینہ کا قصد کیا تاکہ ان سے خداوند متعال کے بارے میں مناظرہ کرے۔

جب یہ شخص مدینہ پہنچ کر امام کا پتہ معلوم کرنے لگا تو اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ تشریف لے گئے ہیں۔

وہ مکہ کے طرف روانہ ہوا ،مکہ معظمہ پہنچ کر اس نے دیکھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام طواف میں مشغول ہیں عبد الملک طواف کرنے والوں کی صف میں داخل ہوا اور عناد کی وجہ سے اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو دھکا دیا لیکن امام علیہ السلام نے بڑی محبت سے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے ؟“

اس نے کہا: ”عبد الملک“۔

امام علیہ السلام: ”تمہاری کنیت کیا ہے ؟“

عبد الملک: ”ابو عبد اللہ“۔

امام علیہ السلام: ”وہ مالک کہ جس کے تم بندہ ہو(جیسا کہ تمہارے نام سے ظاہر ہوتا ہے)وہ زمین کا حاکم ہے یا آسمان کا؟جب (تمہاری کنیت کے مطابق)تمہارا بیٹا بندہ خدا ہے ؟ذرا بتاو وہ زمین کے خدا کا بندہ ہے یا آسمان کے ؟تم جو بھی جواب دوگے شکست کھاوگے“۔

عبد الملک لا جواب ہو گیا۔ہشام برمکی امام کے شاگرد وہاں موجود تھے انھوں نے عبد الملک سے کہا: ”کیوں نہیں امام کا جواب دیتے ؟“

عبد الملک کو ہشام کی بات بہت بری لگی اور اس کا چہرہ بگڑ گیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے بڑی نرمی سے عبد الملک سے کہا: ”طواف ختم ہونے تک صبر کرو اور طواف کے بعد تم میرے پاس آو تاکہ دونوں مل کر کچھ گفتگو کریں“۔

جب امام جعفر صادق علیہ السلام طواف سے فارغ ہوئے تو وہ ان کے پاس آکر برابر میں بیٹھ گیا۔اس وقت امام کے چند شاگرد بھی وہاں تشریف رکھتے تھے۔

اس وقت امام علیہ السلام اور اس کے درمیان اس طرح مناظرہ شروع ہوا۔

امام علیہ السلام: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ زمین تہ وبالا ہو تی ہے ، اورظاہر و باطن رکھتی ہے؟“

منکر خدا: ”ہاں“۔

امام علیہ السلام: ”آیا زمین کے نیچے گئے ہو؟“

منکر خدا: ” نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”بس تمہیں کیا معلوم کہ زمین کے نیچے کیا ہے ؟“

منکر خدا: ”زمین کے نیچے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن یہ گمان کرتا ہوں کہ زمین کے نیچے کسی چیز کا وجود نہیں ہے“۔

امام علیہ السلام: ” گمان اور شک ایک طرح کی لاچاری ہے جہاں تم یقین پیدا نہیں کر سکتے۔کیا تم آسمان کے اوپر گئے ہو ؟“

منکر خدا: ” نہیں“۔

امام علیہ السلام: ” کیا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ آسمان میں کیا ہے اور وہاں کون کون سی چیزیں پائی جاتی ہیں ؟“

منکر خدا: ”نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”عجیب !نہ تم نے مشرق دیکھا نہ مغرب دیکھا ہے نہ زمین کے نیچے گئے ہو اور نہ آسمان کے اوپر گئے تاکہ یہ معلوم کر سکو کہ وہاں کیا کیا ہے اور اس جہل ونادانی کے بعد بھی تم ان تمام چیزوں کے منکر ہو( تم اوپر اور نیچے کی موجودہ اشیاء اور اس کے نظم و ترتیب جو خداوند متعال کے وجود کی حکایت کرتی ہیں اس سے بالکل نا آشنا ہو پھر کیوں منکرخد اہو؟)کیا کوئی عاقل شخص جس موضوع میں جاہل ہوتاہے اس کا انکار کرتا ہے ؟!“

منکر خدا: ”آج تک مجھ سے کسی نے اس طرح کی باتنہیں کی“۔

امام علیہ السلام: ”غرض تم اس حقیقت پر شک کرتے ہو کہ آسمان کے اوپر اور زمین کے نیچے کچھ چیز موجود ہے ہی نہیں ؟“

منکر خدا: ”ہاں شاید اسی طرح ہو“۔(اس طرح منکر خدا آہستہ آہستہ مرحلہ انکار سے شک وتردید کے مرحلہ تک پہنچا)

امام علیہ السلام: ”جو شخص جاہل ہے وہ عالم کے لئے دلیل نہیں ہو سکتا ،اے مصری برادر ! میری بات سنو اور سمجھو ہم خدا کے وجود کے بارے میں ہر گز شک نہیں کرتے کیا تم سورج ،چاند اور دن ورات کو نہیں دیکھتے کہ وہ صفحہ افق پر آشکار ہوتے ہیں اور وہ مجبورا ً اپنے معین راستہ پر گردش کرکے واپس پلٹتے ہیں اور وہ اپنی معین مسیر میں مجبور وناچار ہیں؟

اب میں تم سے پوچھتا ہوںاگر چاند سورج کے پاس گردش کرنے کی ذاتی قوت ہے تو وہ کیوں پلٹتے ہیں اور اگر اپنے آپ کو مجبورنہیں سمجھتے ہیں تو کیوں رات دن نہیں ہو جاتی اور دن رات نہیںہو جاتا ہے ؟اے مصری برادر !خدا کی قسم یہ چاند وسورج اپنی گردش پر مجبور ہیں اور جس نے ان کو ان کی گردش پر مجبور کیا ہے وہ ان سے زیادہ حکومت کا اہل اور بہترین حاکم ہے۔

منکر خدا: ”سچ کہا“۔

امام علیہ السلام اے مصری برادر! تم یہ بتاو کہ تمہارے عقیدہ کے مطابق اگر زمانہ کے ہاتھوں میں موجودات کی زمام ہے اور وہی لوگوں کو لے جاتا ہے تو انھیں دوبارہ کیوں لوٹا تا اور اگر لوٹا دیتا ہے تو پھر انھیں کیوں نہیں لے جاتا؟

اے مصری برادر ! دنیا کی ہر چیز مجبور ہے کیوں آسمان اوپر اور زمین نیچے واقع ہے ؟آسمان زمین پرکیوں نہیں گر پڑتا یا زمین اپنی سطح سے بلند ہو کر آسمان سے کیوںچپک نہیں جاتی ؟اور زمین کی تمام موجودہ اشیاء آسمان سے کیوں نہیں چپک جاتی ہیں“۔

(امام علیہ السلام کا مضبوط استدلال یہاں تک پہنچا تو عبد الملک کا شک ختم کرکے ایمان کی منزل میں آپہنچا )وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں ایمان لے آیا اور اس نے وحدہ لاشریک کی گواہی دی اور اس نے اسلام کی حقانیت کی گواہی دیتے ہوئے بڑے ہی پر جوش انداز میں کہا: ”وہ خدا ہے جو زمین وا ٓسمان کا حاکم ہے اور جس نے انھیں روک رکھا ہے“۔

حمران: ”امام علیہ السلام کا ایک شاگرد بھی وہاں موجود تھا، اس نے امام علیہ السلام کی طرف دیکھ کر کہا: ”میری جان آ پ پر فدا ہو اگر منکرین خدا آپ کی وجہ سے ایمان لائے اور مسلمان ہو جائیں تو آپ کے جد کی وجہ سے کافروں نے بھی اسلام وایمان قبول کیا ہے“۔

عبد الملک نے جو ابھی ابھی مسلمان ہواتھا امام سے عرض کیا: ”آپ مجھے شاگرد کے طور پر قبول کر لیجئے“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے خاص شاگرد ہشام بن حکم سے فرمایا: ”عبد الملک کو اپنے ساتھ لے جاو اور اسے احکام اسلام کی تعلیم دو“۔ہشام بن حکم جو شام اور مصر کے عوام کے لئے بہترین معلم تھے، عبد الملک کو اپنے ساتھ لے گئے اور عقائد اور احکام اسلام کی تعلیم دی تاکہ وہ سچے اور مضبوط عقیدہ والے ہوجائیں، اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس مومن کے ایمان اور ہشام بن حکم کی تعلیمی روش کو بہت پسند کیا۔( ۵۶ )

۱۳۔ابن ابی العوجا ء کی بے انتہا لاچاری

”عبد الکریم “جو” ابن ابی العوجاء“کے نام سے مشہور تھا ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مناظرہ کے لئے حاضر ہوا اس نے دیکھا کہ چندگروہ امام کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کے قریب آکر خاموشی سے بیٹھ گیا۔

امام علیہ السلام: ”تو دوبارہ اس غرض سے آیا ہے کہ میرے اور تیرے درمیان جو باتیں ہوئی تھیں ان کے بارے میں تحقیق کرے“۔

ابن ابی العوجاء: ”ہاں، یابن رسول اللہ میں اسی لئے آیا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ” تجھ پر تعجب ہوتا ہے کہ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں پیغمبر کا بیٹاہوں اور خدا کا انکار کرتا ہے “!!

ابن ابی العوجاء: ”اس طرح بات کرنے پر ہماری عادتمجبور کرتی ہے“۔

امام علیہ السلام: ” تو خاموش کیوںہے؟“۔

ابن ابی العوجاء: ”آپ کی عظمت وجلالت کی وجہ سے میری زبان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے سامنے کچھ بولوں۔میں بہت سے دانشوروں اور مقرروں کے پاس جاکر باتیں کرتا ہوں لیکن آپ کی جلالت وعظمت جس طرح مجھے مرعوب کر دیتی ہے ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا“۔

امام علیہ السلام: ” جب تو خاموش ہے تو میں ہی بات شروع کرتا ہوں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ” ابن ابی العوجاء تو مجھے بتا کہ تومصنوع (بنایا گیا ) ہے یا نہیں“۔

ابن ابی العوجاء: ”نہیں ،میں نہیں بنا یا گیا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ’ اچھا تو یہ بتا اگر تومصنوع (بنایا ہو ا) ہوتا تو کیسا ہوتا“۔

ابن ابی العوجاء: بہت دیر تک اپنے گریبان میں جھانکتا رہا اس کے بعد اس نے اپنے پاس رکھی ہوئی لکڑی کو اٹھا کر ہاتھ میں دبایا اور مصنوعی شئے کے ساخت کی نوعیت اس طرح بیان کرنے لگا: ” لمبی، چوڑی، گہری (عمیق)،چھوٹی ، متحرک ،غیر متحرک وغیرہ ، یہ تمام چیزیں مخلوق اور منصوع ہونے کی خصوصیات ہیں۔

امام علیہ السلام: ”ہاں اگر اس کے علاوہ مصنوع چیز کی دوسری اور صفتیں نہیں جانتا تو تو خود بھی مصنوع ہے اور تجھے چاہئے کہ اپنے آپ کو مصنوع سمجھے کیونکہ یہ تمام صفات تو اپنے وجود میں پاتا ہے“۔

ابن ابی العوجاء: ”آپ نے جیسا سوال کیا ہے ابھی تک کسی نے مجھ سے ایسا سوال نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گا“۔

امام علیہ السلام: ”بالفرض کہ ابھی تک تجھ سے اس طرح کا کسی نے سوال نہیں کیا لیکن یہ کیسے معلوم ہو کہ آئندہ بھی ایسا سوال نہیں کیا جائے گا ؟!“

اس طرح تو اپنی بات سے اپنی ہی بات کی رد کر رہا ہے، کیونکہ تیرے عقیدہ کے مطابق ماضی ، حال اور آئندہ سب یکساں ہیں ، اب کس طرح تو کچھ چیزوں کو پہلے اور کچھ کو بعد میں تصور کرتا ہے، اور اپنی باتوں میں ماضی اور مستقبل کا ذکر کرتا ہے، اے عبد الکریم! اس سے زیادہ توضیح دوں اگر تیرے پاس سونے کے سکوں سے بھری ہوئی ایک تجوری ہو اور تجھ سے کوئی کہے کہ اس تجوری میں سونے کے سکے موجو ہیں اور تو اس کے جواب میں کہے کہ نہیں ، اس میں کچھ نہیں ہے اور وہ تجھ سے کہے کہ سونے کے اوصاف بیان کر، اور اگر تو سونے کے سکے اوصاف نہیں جانتا تو کیا یہ کہہ سکتے ہو کہ تجوری میں سونے کے سکے نہیں ہیں؟“

ابن ابی العوجاء: ”نہیں اگر میں نہیں جانتا تو ہر گز ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔

امام علیہ السلام: ” اس دنیا کی لمبائی اور چوڑائی اس تجوری سے کہیں زیادہ ہے اب تجھ سے میں یہ پوچھتا ہوں کہ اس پھیلی ہوئی دنیا میں جو مصنوع ہے تو مصنوعی اور غیر مصنوعی چیزوں کی خصوصیت نہیں جانتا“۔

جب بات یہاں تک پہنچی تو ابن ابی العوجاء مجبور ہو کر خاموش ہو گیا یہ دیکھ کر اس کے بعض ہم مسلک لوگ مسلمان ہو گئے اور بعض کفر پر باقی رہے۔( ۵۷ )

۱۴۔مناظرہ کا تیسرا دن

تیسرے دن بھی ابن ابی العوجاء امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں مناظرہ کی غرض سے یہ سوچ کر آیا کہ آج وہ پہل کرے گا۔ لہٰذا وہ آتے ہی کہنے لگا کہ آج میں مناظرہ کی ابتداء چند سوال سے کرتا ہوں:

امام علیہ السلام: ”جو چاہو پوچھو“۔

ابن ابی العوجاء: ”کس دلیل کی وجہ سے یہ دنیا حادث ہے (یعنی پہلے نہیں تھی اور بعد میں وجود میں آئی ؟)

امام علیہ السلام: ”تم جب بھی کسی چھوٹی چیز کا تصور کرتے ہو اگر چھوٹی چیز کو اسی جیسی کسی دوسری چیز سے ملا دو تو وہ مذکورہ شئے بڑی ہو جائے گی اسی کو انتقال کہتے ہیں یعنی پہلی حالت بدل کر دوسری حالت اختیار کرنا، اور حادث کے معنی بھی یہی ہیں، اب اگر وہ چیز قدیم تھی (اول سے تھی) تو دوسری حالت اختیار نہیں کرسکتی کیونکہ جو بھی چیز نابود اور متغیر ہوتی ہے وہ نابودی اور تبدیلی کو قبول کرتی ہے اور اس بنا پر کسی ہستی کا نابود ہونا اس کے حادث ہونے کی دلیل ہواکرتی ہے۔ اور اگر بالفرض وہ قدیم تھی بھی تو اب بڑی ہوجانے کی وجہ سے و ہ تغیر پذیر ہو گئی اور اس طرح وہ حادث ہو گئی ( یہی اشیاء کے قدیم نہ ہونے کی دلیل ہے ) اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ایک چیز حادث بھی ہو اور قدیم بھی، ازلی بھی ہو اور عدمی بھی“۔

ابن ابی العوجاء: ”جی ہاں! اگر یہ فرض کر لیں کہ چھوٹی چیز بڑی ہو جاتی ہے تو آپ کی بات درست ہے اور اس طرح انھیں حادث ماننا پڑے گا لیکن اگر کوئی چیز اپنے اصلی حالت پر یعنی چھوٹی ہی باقی رہے تو ان کے حادث ہونے پر آپ کی دوسری کیادلیل ہے ؟“

امام علیہ السلام: ” ہماری بحث کا محور یہی موجودہ کائنات ہے (جو تغیر و تبدیل کی حالت میں ہے ) اب اگر اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا کو تصور کریں اور اسے موضوع بحث بنائیں تو بھی ایک دنیا کا نابودہونا اور اس کی جگہ ایک دوسری دنیا کا وجود ثابت ہوگا اور یہی حادث ہونے کے معنی ہیں، اور تمہارے کہنے کے مطابق اگر ہر چھوٹی چیز اپنی حالت پرباقی رہتی تو کس طرح حادث ہو گی اس کا بھی جواب دیتا ہوں۔

اگر یہ فرض کر لیں کہ ہر چھوٹی چیز اپنی حالت پر باقی رہے تب بھی یہ فرض کرنا تو بہر حال صحیح ہوگا کہ اگر دو ہم مثل چھوٹی چیزوں کو آپس میں ملادیا جائے تو وہ چھوٹی چیز بڑی چیز ہو جائے گی، اس طرح کے فرض کا صحیح ہونا ہی ان کے حادث ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اس طرح کے فرض کی صحت سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ مفروض شئے تغیر و تبدیل کرتی ہے اور یہی تبدیلی اس کے حادث ہونے پر دلالت کرتی ہے اے عبد الکریم اس کے بعد تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا۔( ۵۸ )

۱۵۔ ابن ابی العوجاء کی ناگہانی موت

ابن ابی العوجاء اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے درمیان مکہ معظمہ میں مناظرہ کو ایک سال گزر گیا۔اور دوسرے سال پھر ابن ابی العوجاء کعبہ کے کنارے امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام علیہ السلام کے ایک شیعہ نے آپ سے دریافت کہ کیا ابن ابی العوجاء مسلمان ہوگیا؟

امام علیہ السلام: ” اسلام کے سلسلے میں اس کا دل ٹیڑھا ہے وہ ہر گز مسلمان نہیں ہوگا“۔

جب ابن ابی العوجاء کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کہا: ”اے میرے آقا ومولا !“۔

امام علیہ السلام نے کہا: ”کیوں یہاں آئے ہو؟ “

ابن ابی العوجاء: ”میں یہاں اس لئے آیا ہوں تاکہ اپنے وطن والوں کا بال مونڈنا پتھر پھینکنا یا اس طرح کی دوسری دیوانگی جو وہ حج میں انجام دیتے ہیں دیکھ سکوں“۔

امام علیہ السلام: ”تو ابھی تک اپنی گمراہی اور سرکشی پر باقی ہے“۔

ابن ابی العوجاء چاہتاہی تھاکہ کچھ بولے، امام نے اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ حج کے زمانہ میں بحث و مجادلہ صحیح نہیں ہے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی عبا کو جھٹکا دیا اور فرمایا: ” اگر وہ چیز حق ہے جس کا ہم عقیدہ رکھتے ہیں (اور ایسا ہی ہے تو ہم کامیاب ہیں)،نہ کہ تم اور اگر تو حق پر ہے،( جب کہ ایسا نہیں ہے ) تو تم اور ہم دونوں کامیاب ہیں بہر حال ہم دونوں صورتوں میں کامیاب ہیںلیکن تم دوصورتوں میں سے ایک صورت میں ہلاک ہونے والے ہو“۔

اسی وقت ابن ابی العوجاء کی حالت بدلنے لگی اور اس نے اپنے اطرافیوں سے کہا کہ میرے دل میں درد ہو رہا ہے مجھے واپس لے چلو۔ جب اسے اس کے اطرافی واپس لے گئے تو وہ دنیا سے جاچکا تھا، (خدا اسے معاف نہ کرے۔)( ۵۹ )

____________________

(۵۲) اعیان الشیعہ، ج ۴۲، ص ۲۱۵۔

(۵۳) سورہ شوریٰ آیت ۲۳۔

(۵۴) سورہ احزاب، آیت ۳۳۔

(۵۵) لہوف، سید بن طاووس، ص ۱۷۷ و ۱۷۸۔

(۵۶) اصول کافی، ج۱، ص۷۲۔۷۳۔

(۵۷) اصول کافی ، ج ۱ ، ص۷۶ و ۷۷ ۔

(۵۸) اصول کافی ، ج ۱ ص ۷۷ ۔

(۵۹) اصول کافی ج ۱ ص ۷۸۔


۱۶۔عبد اللہ دیصانی کا مسلمان ہونا

ہشام بن حکم امام جعفر صادق علیہ السلام کے بہترین شاگرد تھے۔ایک دن ایک منکر خدا نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا: ”کیا تمہارا خدا ہے“۔

ہشام: ”ہاں“۔

عبد اللہ: ”آیا تمہارا خدا قادر ہے ؟ “

ہشام: ”ہاں میرا خدا قادر ہے اور تمام چیزوں پر قابض بھی ہے“۔

عبد اللہ: ”کیا تمہارا خدا ساری دنیا کو ایک انڈے میں سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ ہی انڈا بڑا ہوا۔؟ “

ہشام: ”اس سوال کے جواب کے لئے مجھے مہلت دو“۔

عبد اللہ: ”میں تمہیں ایک سال کی مہلت دیتا ہوں“۔

ہشام یہ سوال سن کر امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: ”اے فرزند رسول !،عبد اللہ دیصانی نے مجھ سے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب کے لئے صرف خداوند متعال اور آپ کا سہارا لیا جا سکتا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اس نے کیا سوال کیا ہے ؟ “

ہشام: ”اس نے کہا کہ کیا تمہارا خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس وسیع دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈا بڑا ہو ؟ “

امام علیہ السلام: ”اے ہشام! تمہارے پاس کتنے حواس ہیں ؟ “

ہشام: ”میرے پانچ حواس ہیں“۔(سامعہ ،باصرہ، ذائقہ ،لامسہ اور شامہ )

امام علیہ السلام: ”ان میں سب سے چھوٹی حس کون سی ہے ؟ “

ہشام: ”باصرہ“۔

امام علیہ السلام: ”آنکھوں کا وہ ڈھیلا جس سے دیکھتے ہو، کتنا بڑا ہے ؟ “

ہشام: ”ایک چنے کے دانے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹا ہے“۔

امام علیہ السلام: ”اے ہشام ! ذرا اوپر اور سامنے دیکھ کر مجھے بتاو کہ کیا دکھتے ہو ؟“

ہشام نے دیکھا اور کہا: ”زمین، آسمان ،گھر، محل ،بیابان ،پہاڑ اور نہروں کو دیکھ رہا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”جو خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس پوری دنیا کو تمہاری چھو ٹی سے آنکھ میں سمو دے وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے اور نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈہ بڑا ہو۔

ہشام نے جھک کر امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہاتھ اور پیروں کا بوسہ دیتے ہوئے کہا: ”اے فرزند رسول ! بس یہی جواب میرے لئے کافی ہے“۔( ۱ )

ہشام اپنے گھر آئے اور دوسرے ہی دن عبد اللہ ان سے جاکر کہنے لگا:“۔میں سلام عرض کرنے آیا ہوں نہ کہ اپنے سوال کے جواب کے لئے“۔

ہشام نے کہا: ”تم اگر اپنے کل کے سوال کا جواب چاہتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے، اس کے بعد آپ نے امام علیہ السلام کا جواب اسے سنا دیا۔

عبد اللہ دیصانی نے فیصلہ کیا کہ خود ہی امام کی خدمت میں پہنچ کر اپنے سوالات پیش کرے۔

وہ امام کے گھر کی طرف چل پڑا، دروازے پر پہنچ کر اس نے اجازت طلب کی اور اجازت ملنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہوگیا۔اندر جانے کے بعد وہ امام کے قریب آکر بیٹھ گیا اورا پنی بات شروع کرتے ہوئے کہنے لگا:

”اے جعفر بن محمد مجھے میرے معبود کی طرف جانے کا راستہ بتا دو“۔

امام علیہ السلام نے پوچھا:

”تمہارا نام کیا ہے ؟ “

عبد اللہ باہر نکل گیا اور اس نے نام نہیں بتایا۔اس کے دوستوں نے اس سے کہا:

تم نے اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟“

اس نے جواب دیا:

”میں اگر اپنا نام عبد اللہ (خدا بندہ )بتاتا تو وہ مجھ سے پوچھتے کہ تم جس کے بندہ ہو ، وہ کون ہے ؟

عبد اللہ کے دوستوں نے کہا:

”امام علیہ السلام کے پاس واپس جاواور ان سے یہ کہو آپ مجھے میرے معبود کا پتہ بتائیں اور میرا نام نہ پوچھیں“۔

عبد اللہ واپس گیا اور جا کر امام علیہ السلام سے عرض کیا:

”آپ مجھے خدا کی طرف ہدایت کریں مگر میرا نام نہ پوچھیں“۔

امام علیہ السلام نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے فرمایا:

”وہاں بیٹھ جاو“۔

عبد اللہ بیٹھ گیا۔اسی وقت ایک بچہ ہاتھ میں ایک انڈا لئے کھیلتا ہوا وہاں پہنچ گیا ،امام علیہ السلام نے بچہ سے فرمایا:

لاو انڈہ مجھے دے دو“۔

امام علیہ السلام نے انڈہ کو ہاتھ میں لے کر عبد اللہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے دیصانی !اس انڈہ کی طرف دیکھ جو ایک چھلکے سے ڈھکا ہوا ہے اور چند جھلیوں میں مقید ہے۔

۱ ۔موٹی جھلی۔

۲ ۔موٹی جھلی کے نیچے نازک اور پتلی جھلی پائی جاتی ہے۔

۳ ۔اور نازک اور پتلی جھلی کے نیچے پگھلی ہوئی چاند ی(انڈہ کی سفیدی ) ہے۔

۴ ۔اس کے بعد پگھلا ہوا سونا (انڈے کی زردی)ہے مگر نہ یہ اس پگھلی ہوئی چاندی سے ملتا ہے اور نہ وہ پگھلی ہوئی چاندی اس سونے میں ملی ہوتی ہے بلکہ یہ اپنی اسی حالت پر باقی ہے نہ کوئی اس انڈے سے باہر آیا ہے جو یہ کہے کہ میں نے اسے بنایا ہے اور نہ ہی باہر سے کوئی اندر ہی گیا ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ میں نے اسے تباہ کیا ہے ،نہ یہ معلوم کہ یہ نر کے لئے ہے یامادہ کے لئے اچانک کچھ مدت کے بعد یہ شگافتہ ہوتا ہے اور اس میں سے ایک پرندہ مور کی طرح رنگ برنگ پروں کے ساتھ باہر آجاتا ہے کیا تیری نظر میں اس طرح کی ظریف وباریک تخلیقات کے لئے کوئی مدبر و خالق موجود نہیں ہے ؟ “

عبد اللہ دیصانی نے یہ سوال سن کر تھوڑی دیر تک سر جھکائے رکھا(اس کے قلب میں ایمان روشن ہو چکا تھا )اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا: ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے وہ وحدہ لاشریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماس کے رسول ہیں اور آپ خدا کی طرف سے لوگوں کے امام معین کئے گئے ہیں، میں اپنے باطل عقیدہ سے توبہ کرتا ہوں اور پشیمان ہوں۔( ۲ )

۱۷۔ایک ثنوی کو امام علیہ السلام کا جواب

ایک ثنوی (دو خدا کا عقیدہ رکھنے والا) امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آکر اپنے عقیدہ کے اثبات میں گفتگو کرنے لگا، اس کا عقیدہ یہ تھا کہ اس جہان ہستی کے دو خدا ہیں، ایک نیکیوں کا خدا ہے اور دوسرابرائیوں کا۔

اگر تو یہ کہتا ہے کہ خدا دو ہیں تو وہ ان تین تصورات سے خارج نہیں ہو سکتے:

۱ ۔یا دونوں طاقتور اور قدیم ہیں۔

۲ ۔یا دونوں ضعیف و ناتواں ہیں۔

۳ ۔یا ایک قوی و مضبوط اور دوسرا ضعیف و ناتواں ہے۔

پہلی صورت کے مطابق ،کیوں پہلا خدا دوسرے کی خدائی کو ختم نہیں کر دیتا تاکہ وہ اکیلا ہی پوری دنیا پر حکومت کرے ؟(یہ نظام کائنات جو ایک ہے اس بات کی حکایت کرتا ہے کہ اس کا حاکم بھی ایک ہے ،جو قوی و مطلق ہے)

تیسری صورت بھی اس بات کی دلیل بن رہی ہے کہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور ہماری بات ثابت ہوتی ہے کیونکہ ہم اسی کو خدا کہتے ہیں جو قوی ومضبوط ہے اور دوسرا اس لئے خدا نہیں کیونکہ وہ ضعیف و ناتواں ہے ،اور یہ اس کے خدا نہ ہونے کی دلیل ہے۔

دوسری صورت میں (اگر دونوں ضعیف وناتواں ہوں)یا دونوں کسی ایک جہت سے متفق ہوں اور دوسری جہت سے مختلف( ۳ ) تو اس صورت میں لازم آتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک (مابہ الامتیاز ہو) ( یعنی ان دونوں خداوں میں ایک خدا کے پاس کوئی ایک شئے ہے جو دوسرے کے پاس نہ ہو) اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ ( مابہ الامتیاز )ا مر وجودی قدیم ہو (یعنی وہ شئے اس میں ہمیشہ پائی جاتی ہو ) اور شروع سے ہی وہ ان دوخداوں کے ساتھ موجود رہے تاکہ ان کی ”دوئیت“ صحیح ہو۔

اس صورت میں ”تین خدا وجود میں آجائیں گے اور اسی طرح چار خدا پانچ خدا اور اس سے بھی زیادہ ،بلکہ بے انتہا خداوں کا معتقد ہونا پڑے گا۔

ہشام کہتے ہیں: اس ثنوی نے دوگانہ پر ستی سے ہٹ کر اصل وجود خدا کی بحث شروع کردی اس کے سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ اس نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے پوچھا: ”خدا کے وجود پر آپ کی کیا دلیل ہے ؟“

امام جعفرصادق علیہ السلام: ”دنیا کی یہ تمام چیزیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ ان کا کوئی بنانے والا ہے جیسے تم جب کسی اونچی اور مضبوط عمارت کو دیکھتے ہو تو تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا کوئی بنانے والا ہے بھلے ہی تم نے اس کے معمار کو نہ دیکھا ہو“۔

ثنویہ: ”خدا کیا ہے ؟ “

امام علیہ السلام: ”خدا ،تمام چیزوں سے ہٹ کر ایک چیز ہے اور دوسرے الفاظ میں اس طرح کہ وہ تمام چیزوں کے معنی ومفہوم کو ثابت کرتا ہے اوروہ تمام کی حقیقت ہے لیکن جسم اور شکل نہیں رکھتا اور وہ کسی حس سے نہیں سمجھا جا سکتا ،وہ خیالوں میں نہیں ہے اور زمانہ کے گزرنے سے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتااور نہ ہی وہ اسے بدل سکتا ہے۔( ۴ )

۱۸۔ منصور کے حضور میں امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا مناظرہ

ابن شہر آشوب ،مسند ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بن زیاد نے کہا: ابو حنیفہ (حنفی مذہب کے رہبر ) سے سوال کیا گیا کہ تم نے ابھی تک جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ عظیم فقیہ کون ہے ؟

ابو حنیفہ نے جواب میں کہا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ عظیم فقیہ جعفر بن محمد (امام جعفر صادق علیہ السلام )ہیں، منصور دوانقی (عباسی حکومت کا دوسر ا خلیفہ ) جب امام کو اپنے پاس لے گیا تھا تو اس نے میرے پاس اس طرح پیغام بھیجا:

اے ابو حنیفہ !جعفر بن محمد (امام جعفر صاد ق علیہ السلام ) کو لوگ بہت زیادہ چاہنے لگے ہیں تم کچھ سخت و پیچیدہ سوالات آمادہ کرو، اور ان سے مناظرہ کرو“۔ (تاکہ وہ ان کے جواب نہ دے پائیں اور اس طرح ان کی مبقولیت میں کمی ہو جائے ) میں نے چالیس سوالات تیار کئے جس کے بعد منصور نے شہر ”حیرہ“(بصرہ اور مکہ کے درمیان )میں مجھے حاضر ہونے کے لئے کہا ،میں ان کے پاس گیا تو دیکھا امام جعفر صادق علیہ السلام اس کے داہنے جانب بیٹھےے ہوئے ہیں ،جیسے ہی میری نظر امام جعفر صادق علیہ السلام پر پڑی میں ان کی عظمت وجلالت سے اتنا مرعوب ہوا کہ اتنا آج تک منصور سے نہیں ہوا تھا۔میں نے منصور کو سلام کیا ، اس نے مجھے بیٹھنے کا اشا رہ کیا، میں بیٹھ گیا پھر منصور نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف رخ کر کے کہا: ”اے ابا عبد اللہ !یہ ابو حنیفہ ہے“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں میں اسے پہچانتا ہوں“۔

اس کے بعد منصور نے میری طرف رخ کر کے کہا: ”اے ابو حنیفہ تو اپنے سوالات پیش کر“۔

میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنا ایک ایک سوال پوچھ ڈالا انھوں نے ان سب کا جواب دیا اور آپ جواب کے دوران فرماتے تھے“۔اس مسئلہ میں تم اس طرح کہتے ہو ،اہل مدینہ اس طرح کہتے ہیں ،ان کے بعض جوابات میرے نظریئے کے مطابق تھے اور بعض اہل مدینہ کے اور بعض دونوں کے مخالف تھے۔

یہا ں تک کہ میں نے اپنے چالیس سوالات کر ڈالے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہر سوال کا جواب بطور احسن واکمل دیا، اس کے بعد ابو حنیفہ کہتا ہے:

الیس اعلم الناس ،اعلمهم باختلاف الناس ۔“

”کیا سب سے زیادہ آگاہ اور دانشور شخص وہ نہیں ہے جو لوگوں کے مختلف نظریوں کو سب سے زیادہ جانتا ہو“۔( ۵ )

۱۹۔ایسا مناظرہ جس نے ایک ”خدا نما “کو بے بس کردیا

امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں”جعد بن درہم “نامی ایک شخص تھا جس نے اسلام کے خلاف بہت سی بدعتیں ایجاد کی تھیں اور اس نے چند لوگوں کو اپنا شاگرد بنا لیا تھا۔آخر کار اسے عید قربان کے دن سزائے موت دے دی گئی۔

اس نے ایک دن تھوڑی خا ک اور پانی لے کر ایک شیشی میں ڈالا چند دنوں بعد اس میں کیڑے مکوڑے پیدا ہو گئے۔وہ شیشی لے کر لوگوں کے درمیان آکر یہ دعویٰ کرنے لگا۔ان کیڑے مکوڑوں کو میں نے پیدا کیا ہے ،چونکہ ان کی پیدائش کا سبب میں بنا ہوں لہٰذا میں ہی ان کا خالق و خدا ہوں“۔

چند مسلمانوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے پوچھو کہ شیشی میں کیڑوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس میں نر و مادہ کتنے ہیں ،ان کا وزن کتنا ہے ؟اس سے کہو کہ ان کی شکل بدل دے ، کیونکہ جو ان کا خالق ہوگا وہ اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہوگا کہ ان کی شکل بدل دے“۔

ان چند مسلمانوں نے اس سے انھیں سوالات کے ذریعہ مناظرہ کیا اور وہ ان کے جوابات سے قاصر رہا اس طرح اس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا اور اس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔( ۶ )

۲۰۔تم یہ جواب حجاز سے لے آئے ہو

امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں بہت ہی مشہور و معروف ،ابو شاکر دیصانی نام کا ایک شخص تھا جو توحید کا انکار کرتا تھا اور اس بات کا معتقد تھا کہ ایک نور کا خدا ہے اور دوسرا ظلمت کا۔وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتا تھا کہ اپنی کلامی بحث چھیڑ کر اپنے عقیدے کو ثابت کرے اور اسلام کو نیچا دکھائے، اس نے عقیدہ دیصانیہ کی بنیا د ڈالی تھی اوراس کے کچھ شاگرد بھی تھے۔یہاںتک کہ ہشام بن حکم بھی کچھ دنوں تک اس کے شاگرد رہے تھے، ہم یہاں پر اس کے اعتراض کا ایک نمونہ نقل کرتے ہیں تو جہ فرمائیں:

ابو شاکر نے خود اپنی فکر کے مطابق قرآن کریم میں ایک قابل اعتراض بات ڈھونڈ نکالی۔ایک روز اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے خاص شاگرد ہشام بن حکم سے کہا: ”مجھے قرآن میں ایک ایسی آیت ملی ہے جو ہمارے عقیدے (ثنویہ) کی تصدیق کرتی ہے“۔

ہشام: ”کس آیت کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ “

ابو شاکر: ”سورہ زخرف کی ۸۴ ویں آیت پڑھتا ہوں:

( وَهُوَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِی الْاٴَرْضِ إِلَهٌ )

”اور جو آسمان میں خدا ہے اور زمین میں خدا ہے“۔

اس بنا پر ایک معبود آسما ن کا ہے اور دوسرا زمین کا ہے۔

ہشام کہتے ہیں: ”میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کا جواب کس طرح دوں، لہٰذا اسی سال میں جب خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تو میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں جا کر یہ مسئلہ پیش کردیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ ایک بے دین خبیث کی بات ہے جب تم واپس جاو تو اس سے پوچھو کہ کوفے میں تیرا کیا نام ہے ؟وہ کہے گا فلاں، ”تم پھر کہو “: تیرا بصرہ میں کیانام ہے؟ ”وہ کہے گا کہ فلاں، تب تم اس سے کہو ”ہمارا پروردگار بھی اسی طرح ہے ، آسمان میں اس کا نام ”الہ“ ہے اور زمین میں بھی اس کا نام ”الہ “ہے بیشک دریاوں صحراوں اور ہر جگہ کا وہی معبود الہ ہے“۔

ہشام کہتے ہیں: ”جب میں واپس لوٹا تو ابو شاکر کے پاس جاکر میں نے اسے یہ جواب سنا دیا۔

اس نے کہا: ”یہ تمہاری بات نہیں ہے، تم اسے حجاز سے لے آئے ہو“۔( ۷ )

۲۱۔امام علیہ السلام کے شاگردوں کا ایک مردشامی سے مناظرہ

امام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانہ میں شام کا ایک دانشور( ۸ ) (مکہ ) میںآپ کی خدمت میں پہنچا اور اپنا تعارف اس نے اس طرح کرایا: ”میں علم کلام،علم فقہ اور احکام الٰہی کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اور میں یہاں آپ کے شاگردوں سے بحث ومناظرہ کے لئے حاضر ہوا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”تیری باتیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث پر مبنی ہوں گی یا تیری خود کی ہوں گی؟“

شامی دانشور: ”پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیثیں بھی ہوں گی اور میری کچھ ذاتی باتیں بھی ہوں گی“۔

امام علیہ السلام: ”تو پھر تو پیغمبر کا شریک کار ہے ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں میں ان کا شریک نہیں ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”کیا تجھ پر وحی نازل ہوئی ہے ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”کیا تو جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت واجب جانتا ہے اسی طرح اپنی بھی اطاعت واجب جانتا ہے ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں میں اپنی اطاعت واجب نہیں جانتا“۔

اب امام جعفر صادق علیہ السلام انے ایک شاگرد (یونس بن یعقوب )کی طرف رخ کرکے فرمایا:

”اے یونس ! اس شخص نے بحث ومناظرہ شروع کرنے سے پہلے ہی شکست کھالی (کیونکہ اس نے بغیر کسی دلیل کے اپنی بات کو حجت سمجھا ،حجت جانا ) اے یونس ! اگر تم علم کلام( ۹ ) اچھی طرح جانتے تو اس شامی مرد سے مناظرہ کرتے“۔

یونس: ”افسوس کہ میں علم کلام سے آگاہی نہیں رکھتا میں آپ پر فدا ہوں آپ نے علم کلام سے منع فرمایا اور کہا ہے: ”قابل افسوس ہیں وہ لوگ جو علم کلام سے سروکار رکھتے ہیں اور کہتے ہیں “یہ صحیح ہے ،یہ غلط ہے۔یہ بات نتیجہ تک پہنچتی ہے ،یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور یہ چیز سمجھ میں نہیں آتی“۔

امام علیہ السلام: ”میں نے جو منع کیا تھا وہ اس صورت میں تھا کہ اسے اختیار کرنے والے ہماری باتوں کو چھوڑدیں اور جو خود جانتے ہیں اسی پر تکیہ کریں۔ اے یونس ! باہر جاو اور دیکھو اگر علم کلام جاننے والا میرا کو ئی شاگرد ہو تو اسے یہاں لے آو“۔

یونس: ”میں باہر گیا اور تین افراد (حمران بن اعین ،مومن الطاق احول اور ہشام بن حکم )جو علم کلام میں کافی مہارت رکھتے تھے انھیں لے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ ساتھ میں نے قیس بن ماصر کو بھی لے لیا جو میری نظر میں علم کلام میں ان تمام لوگوں سے زیادہ ماہر تھے اور انھوں نے امام سجاد علیہ السلام سے یہ علم حاصل کیا تھا۔جب سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ گئے تو امام جعفر صادق علیہ السلام خیمے سے باہر آئے یہ وہی خیمہ تھا جو کہ مکہ میں حرم کے بغل میں آپ کے لئے لگایاگیا تھا اور آپ حج شروع ہونے سے کچھ دن قبل ہی سے وہاں رہنے لگے تھے تبھی امام کی نظر ایک ایسے اونٹ پر پڑی جو دوڑتے ہوئے آرہا تھا امام نے فرمایا: ”خدا کی قسم اس اونٹ پر ہشام سوار ہو کر آرہے ہیں“۔

لوگوں نے سوچا کہ امام کی مراد عقیل کے بیٹے ہیں کیونکہ امام انھیں بہت چاہتے تھے اچانک لوگوں نے دیکھا کہ اونٹ نزدیک ہوا اور اس پر” ہشام بن حکم“سوار تھے (امام کے ایک بہترین شاگرد) وہ اس وقت نوجوان تھے اور ابھی جلدی ہی ان کی ڈارھی نکلی تھی موجودہ لوگوں میں ان کی عمر سب سے کم تھی تقریبا ً سبھی ان سے بڑے تھے۔امام نے ہشام کو جیسے ہی دیکھا بڑے پر جوش انداز میں ان کا استقبال کرتے ہوئے جگہ دی اور ان کی شان میں یہ حدیث فرمائی:

ناصرنا بقلبه ولسانه ویده “۔

ہشام قلب و زبان اور اپنے تمام اعضاء سے ہمارا ناصر ومددگار ہے“۔

اسی وقت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے تمام موجود شاگردوں میں سے ایک ایک سے فرمایا: ”اس شامی دانشور سے تم لوگ بحث ومناظرہ کرو“۔ آپ نے خصوصی طور پر حمران سے فرمایا: ”شامی مرد سے مناظرہ کرو“۔انھوں نے اس سے مناظرہ کیا ابھی چند لمحے نہیں گزرے تھے کہ شامی، حمران کے سامنے بے بس ہو گیا اس کے بعد امام علیہ السلا م نے مومن الطاق( ۱۰ ) سے فرمایا: ”طاق مرد شامی سے مناظرہ کرو“۔انھوں نے مرد شامی سے مناظرہ شروع کیا ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ طاق مرد شامی پر کامیاب و کامران ہوگئے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے ہشام بن سالم سے فرمایا: ”تم بھی شامی مرد سے باتیں کرو“، وہ بھی گئے اور اس سے باتیں کی لیکن ہشان بن سالم مرد شامی پر غالب نہیں آئے بلکہ دونوں برابر رہے“۔

اب امام علیہ السلام نے قیس بن ماصر سے فرمایا: ”تم جا کر اس سے مناظرہ کرو“۔قیس نے شامی سے مناظرہ شروع کیا امام علیہ السلام اس مناظرہ کو سن رہے تھے اور مسکرارہے تھے کیونکہ شامی مرد قیس کے مقابل بے بس ہو گیا تھا اور اس کی بے بسی کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے جسے اچھی طرح دیکھا جا سکتا تھا۔( ۱۱ )

۲۲۔شامی دانشورسے ہشام کا زبردست مناظرہ

امام جعفر صادق علیہ السلام نے مکہ میں شامی دانشور اور اپنے شاگردوں کے درمیان ہوئے مناظرہ میں (جس کی تفصیل اس سے پہلے مناظرہ میں گزرچکی ہے) ایک جوان نے (ہشام بن حکم) کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”اس سے مناظرہ کرو“۔شامی دانشور مناظرہ کے لئے تیار ہو گیا اس طرح ہشام بن حکم اورشامی دانشور کا مناظرہ شروع ہوا۔

شامی دانشور (ہشام کی طرف رخ کر کے )اے جوان! اس مرد (امام جعفر صادق علیہ السلام) کی امامت کے سلسلہ میں مجھ سے سوال کر(میں تجھ سے اس شخص کے بارے میں باتیں کرنا چاہتا ہوں )“

ہشام امام کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سے)اس قدر غصہ ہوئے کہ ان کابدن کانپنے لگا اور اسی حالت میں انھوں نے شامی دانشور سے کہا: ”کیا تیرا پروردگار اپنے بندوں کے بارے میں خیر و سعادت زیادہ چاہتا ہے یا خود بندہ اپنے بارے میں بہتر سمجھتے ہیں ؟ “

شامی دانشور: ”نہیں بلکہ پروردگار اپنے بندوں کے بارے میں ان سے زیادہ خیر وسعادت چاہتا ہے“۔

ہشام: ”خدا وند متعال نے انسانوں کی خیر وسعادت کے لئے کیا کیا ہے ؟ “

شامی دانشور: ”خدا وند متعال نے اپنی حجت کو ان پر معین کیا ہے تاکہ وہ منتشر نہ ہونے پائیں وہ اپنے بندوں میں اپنی حجت کے ذریعہ الفت ومحبت پیدا کرتا ہے تاکہ ان کی بے سرو سامانی اس دوستی اور الفت کی وجہ سے ختم ہو جائے اور اس طرح خداوند متعال اپنے بندوں کو قانون الٰہی سے آگاہ کرتا ہے“۔

ہشام: ”وہ حجت کون ہے ؟ “

شامی دانشور: ”وہ رسول خدا ہیں“۔

ہشام: ”رسول خدا کے بعد کون ہے ؟ “

شامی دانشور: ”پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد قرآن وسنت حجت خدا ہیں“۔

ہشام: ”کیا قرآن وسنت آج ہمارے اختلاف کو ختم کرنے میں سود مند ثابت ہو سکتے ہیں؟ “

شامی دانشور: ”ہاں“۔

ہشام: ”پھر ہمارے تمہارے درمیان کیوں اختلاف ہے جس کی وجہ سے تم شام سے یہاں مکہ آئے ہو ؟ “

شامی دانشوراس سوال کے جواب میں خاموش ہو گیا امام جعفرصادق علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ”کیوں نہیں کچھ بولتے ؟ “

شامی دانشور: ”اگر ہشام کے سوال کا جواب میں اس طرح دوں کہ قرآن وسنت ہمارے اختلاف کو ختم کرتے ہیں تو یہ بے ہودہ بات ہوگی کیونکہ الفاظ قرآن سے طرح طرح کے معنی مراد لئے جاتے ہیں۔اور اگر کہوں کہ ہمارا اختلاف قرآن و سنت کے سمجھنے میں ہے تو اس طرح میرے عقیدہ کو ضرر پہنچتا ہے اور اگر ہم دونوں کے دونوں دعویٰ کریں کہ ہم حق پر ہیں تو اس صورت میں بھی قرآن و سنت ہم دونوں کے اختلاف میں کسی طرح سود مند ثابت نہیں ہو سکتے ہیں لیکن یہی (مذکورہ دلیل) میرے عقیدہ کے لئے نفع بخش ہو سکتی ہے مگر ہشام کے عقیدہ کے لئے نہیں“۔

امام علیہ السلام: ”اس مسئلہ کو ہشام (جو علم وکمال سے سر شار ہے )سے پوچھو وہ تمہیں قانع کنندہ جواب دیں گے“۔

شامی دانشور: ”آیا خدا وند متعال نے کسی کو عالم بشریت کے لئے بھیجا ہے تاکہ لوگ آپس میں متحد و ہم آہنگ رہیں ؟اور وہ ان کے اختلاف کو ختم کرے اور انھیں حق وباطل کے بارے میں توضیح دے ؟

ہشام: ” رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں یا آج ؟ “

شامی دانشور: ”رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں تو وہ خو دتھے لیکن آج وہ شخص کون ہے ؟ “

ہشام نے ،امام علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”یہ شخص جو مسند پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر جگہ سے لوگ ان کے پاس آتے ہیں اور یہی حجت خدا اور ہمارے تمہارے اختلاف کو ختم کرنے والے ہیں کیونکہ یہ وارث علم نبوت ہیں جو ان کے باپ دادا سے انھیں ملا ہے اور یہی ہیں جو زمین وآسمان کی باتوں کو ہمیں بتاتے ہیں“۔

شامی دانشور: ”میں کس طرح سمجھوں کہ یہ شخص (امام جعفر صادق علیہ السلام )وہی حجت حق ہے“۔

ہشام: ”جو بھی چاہو پوچھ لوتاکہ ان کے حجت خدا ہونے پر تمہیں دلیل مل جائے“۔

شامی دانشور: ”اے ہشام ! تم نے یہ کہہ کر میرے لئے کسی طرح کا کوئی عذر نہیں چھوڑا ہے، اب مجھ پر واجب ہے کہ میں سوال کروں اور حقیقت تک پہنچوں“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام: ”کیا تم یہی جاننا چاہتے ہو کہ شام سے یہاں تک کہ سفر کے دوران تمہیں کیا کیا چیزیں پیش آئیں ؟ اور امام علیہ السلام نے اس کے سفر کی کیفیت کے بارے میں سب کچھ بیان کر دیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بیانات سے شامی دانشور حیرت زدہ ہو گیا تھا اور اب اس نے حقیقت کو پالیا تھا جس کی وجہ سے اسی وقت اس کے قلب میں ایمان کا چراغ روشن ہوگیا اور بڑی خوشی کے ساتھ اس نے کہا: ”آپ نے سچ کہا، خدا کی قسم میں اب (حقیقی) اسلام لایا ہوں“۔

امام علیہ السلام: ”بلکہ ابھی ابھی تو خدا پر ایمان لے آیااور اسلام ،ایمان سے پہلے ہے۔اسلام کے ذریعہ لوگ ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں اور آپس میں شادیاں کرتے ہیں لیکن ایمان کے ذریعہ لوگ خدا کے یہاں اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ اجر وثواب ایمان پر ہی ہے تو بھی مسلمان تھا لیکن ہماری امامت کو قبول نہیں کرتا تھا اور اب ہماری امامت کو قبول کرنے کی وجہ سے اپنے تمام نیک اعمال کے ثواب کے لائق ہو گیا ہے۔

شامی دانشور: ”آپ نے صحیح فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں اور آپ ان کے جانشین ہیں“۔

اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے شاگردوں سے ان کے مناظرہ کی کیفیت اس طرح بیان کی:

آپ نے حمران سے فرمایا: ”تم اپنی بات کو احادیث سے ہم آہنگ کرتے ہو اور اس طرح حق تک پہنچ جاتے ہو“۔اور ہشام بن سالم سے فرمایا: ”تم احادیث کو حاصل کرنے میں کافی جستجو اور سعی کرتے ہو لیکن اس کے حاصل کر نے اور اسے سمجھنے کی صحیح صلاحیت نہیں رکھتے“۔اسی طرح آپ نے مومن الطاق سے فرمایا: ”تم قیاس اور تشبیہ کے ذریعہ بحث شروع کرتے ہو اور موضوع بحث سے ہٹ جاتے ہو تم باطل کو باطل ہی کے ذریعہ ردّ کرتے ہو اور تمہارا باطلی استدلال بہت ہی زربردست ہوتا ہے۔اور آپ نے قیس بن ماصر سے فرمایا: ”تم اس طرح بات کرتے ہو کہ اپنی بات کو حدیث کے قریب کرنا چاہتے ہو لیکن دور ہو جاتے ہو، حق کو باطل کے ساتھ اس طرح مخلوط کردیتے ہو کہ تھوڑا سا حق بہت سی باطل چیزوں سے انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے، تم اور مومن طاق بحث کے دوران ایک طرف سے دوسری طرف بھا گتے ہو اور تم دونوں اس میں اچھی خاصی مہارت رکھتے ہو“۔

یونس کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ امام علیہ السلام نے جو قیس اور مومن کے سلسلہ میں کہا ہے وہی ہشام کے بارے میں بھی کہیں گے لیکن آپ نے ہشام کی بڑی تعریف کی اور ان کی شان میں فرمایا:

یا هشام لا تکاد تقع تلوی رجلیک إذا هممت بالارض طرت “۔

”اے ہشام ! تمہارے دونوں پیر کبھی زمین پر ٹکنے نہیں پاتے جیسے ہی تم شکست کے قریب پہنچتے ہو فورا ً اڑجاتے ہو“۔

(یعنی جیسے ہی تم اپنے اندر لا چاری اور شکست کے آثار محسوس کرتے ہو بڑی مہارت سے خود کو بچالیتے ہو۔)

اس کے بعد آپ نے ہشام سے فرمایا: ”تم جیسے لوگوں کو مقرروں سے مناظرہ کرنا چاہئے اور یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ بحث کے دوران لغزش نہ ہونے پائے کیونکہ خداوند متعال اس طرح کے مناظرہ اور بحث میں ہماری مدد کو پہنچتا ہے تاکہ ہم اس کے مسائل کو واضح کر سکیں۔( ۱۲ )

اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہشام بن حکم کے بارے میں فرمایا:

”ہشام ہمارے حق کا دفاع کرنے والے، ہمارے نظریات کو لوگوں تک پہنچانے والے، ہماری حقانیت کو ثابت کرنے والے اور بیہودہ باتیںاور لغو کلام کرنے والے دشمنوں کا دندان شکن جواب دینے والے ہیں ،جس نے ہشام بن حکم کی پیروی کی اور ان کے افکار میں غور خوض کیا اس نے گویا ہماری پیروی کی اور جس نے ان کی مخالفت کی اس نے ہماری مخالفت کی“۔( ۱۳ )

۲۳۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حضور ایک جاثلیق کا مسلمان ہونا

امام جعفر صادق علیہ السلام کے خاص شاگرد ہشام بن حکم وغیرہ سے شیخ صدوق علیہ الرحمةنے روایت کی ہے کہ ایک بہت ہی پڑھا لکھا عیسائی تھا جس کا نام ”بریھہ“تھا لیکن اسے لوگ ”جاثلیق“( ۱۴ ) کہا کرتے تھے۔وہ ستر سال سے مذہب عیسائیت پر باقی تھا اور وہ برابر اسلام اور حق کی تلاش میں جستجو اور کوشش کرتا رہتا تھا۔اس کے ساتھ ایک عورت رہتی تھی جو سالہا سال سے اس کی خدمت کرتی چلی آرہی تھی۔

بریھہ نے مذہب عیسائیت کے ہیچ اور گھٹیا استدلال کو اس عورت سے اس لئے چھپا رکھا تھا کہ وہ اس کے اس راز سے آگاہ نہ ہو سکے۔بریھہ برابر اسلام کے بارے میں سوالات کیا کرتا تھا اور اسلام کے راہبر علمائے صالح کی تلاش میں رہتا تھا اور اسلامی مفکروں کے حصول میں اس نے کافی جستجو اور تحقیق کی تھی ہر فرقہ اور ہر گروہ میں جا کر ان کے عقائد کے سلسلہ میں تحقیق کرتا رہتا لیکن حق اس کے ہاتھ نہ آتا تھا۔

جاثلیق ان لوگوں سے کہتاہے: اگر تمہارے راہنما حق پر ہوتے تو تم میں بھی تھوڑا بہت حق ضرور پایا جاتا۔

یہاں تک کہ اس نے اپنی جستجواور تحقیق کے درمیان شیعوں کے بارے میں اور ہشام بن حکم کا نام سنا۔

یونس بن عبد الرحمن (امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد )کہتے ہیں کہ ہشام نے کہا: ”ایک روز میں اپنی دکان (جو باب الکرخ میں واقع تھی) پر بیٹھا ہوا تھا اور کچھ لوگ مجھ سے قرآن پڑھ رہے تھے کہ نا آگاہ دیکھا کہ عیسائیوں کا ایک گروہ بریھہ کے ساتھ چلا آرہا ہے جس میں بعض پادری تھے اور بعض دوسرے مختلف مذہبی منصب دار تھے وہ تقریبا ً سو افراد تھے، کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سروں پر عیسائیت کی مخصوص لمبی ٹوپیاں لگائے تھے۔بریھہ جاثلیق اکبر بھی ان لوگوں کے درمیان موجود تھا وہ سب میری دوکان کے پاس اکٹھا ہو گئے اور بریھہ کے لئے ایک مخصوص کرسی لگائی گئی وہ اس پر بیٹھ گیا۔اس کے دوسرے ساتھی اپنے اپنے عصاو ں پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔

بریھہ نے کہا: ”مسلمانوں میں کوئی ایسا علم کلام کامشہور عالم نہیں ہے جس سے میں نے عیسائیت مذہب کی حقانیت کے بارے میں بحث نہ کی ہو مگر میں نے ان میں ایسی چیز نہیں پایا جس سے میں شکست کھا جاوں، اب میں تیرے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ اسلام کی حقانیت کے بارے میں تجھ سے مناظرہ کروں“۔

یونس نے ہشام اور جاثلیق کے درمیان ہونے والے پورے مناظرہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد کہا: ”تمام نصرانی ادھر ادھر بکھر گئے۔وہ آپس میں کہہ رہے تھے ”اے کاش !ہم ہشام کے سامنے نہ آئے ہوتے “بریھہ بھی واقعہ کے بعد بہت غم زدہ ہوا وہ اپنے گھر واپس آیا اور جو عورت اسکی خدمت کرتی تھی اس نے اس سے کہا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تجھے غمگین و پریشان دیکھ رہی ہوں ؟ “

بریھہ نے ہشام کے ساتھ ہوئے مناظرہ کی تفصیل اسے بتادی اور کہا کہ میرے غم زدہ ہونے کی وجہ یہی ہے۔

اس عورت نے بریھہ سے کہا: ”وائے ہو تم پر!!تم حق پر رہنا چاہتے ہو یا باطل پر ؟ “

بریھہ نے جواب دیا: ”میں حق پر رہنا چاہتا ہوں“۔

اس عورت نے کہا: ”تمہیں جہاں بھی حق نظر آئے وہیں چلے جاو اور ہٹ دھرمی سے دور رہو کیونکہ یہ ایک طرح کا شک ہے اور شک بہت ہی بری چیز ہے اور شک کرنے والے جہنمی ہوتے ہیں“۔

بریھہ نے اس عورت کی بات کو قبول کر لیا اور یہ ارادہ کرلیا کہ صبح ہوتے ہی ہشام کے پاس جائے گا۔ صبح ہوتے ہی وہ ہشام کے پاس پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ ہشام کا کوئی ساتھی موجود نہیں ہے اس نے کہا: ”اے ہشام ! کیا تمہاری نظر میں کوئی ایسا شخص ہے جس کی رائے کو تم بہتر جانتے ہو اور جس کی تم پیروی کرسکو؟“

ہشام نے کہا: ”ہاں اے بریھہ!“۔

بریھہ نے اس شخص کے اوصاف کے متعلق پوچھا اور ہشام نے امام جعفرصادق علیہ السلام کے اوصاف بتا دیئے، بریھہ امام جعفر صادق علیہ السلا م سے ملاقات کا مشتاق ہو گیا لہٰذا ہشام کے ساتھ اس نے عراق سے مدینہ کا سفر اختیار کیا ،وہ خادمہ بھی ان کے ساتھ تھی ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام سے ملاقات کریںمگر آپ کے گھر کے دالان ہی میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ملا قات ہو گئی۔

”ثاقب المناقب “کی روایت کے مطابق ہشام نے ان کو سلام کیا بریھہ نے بھی ان کی تقلید میں آپ کو سلام کیا اس کے بعد امام جعفرصاد ق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کی علت بتائی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اس وقت بہت کم عمر تھے(شیخ صدوق کی روایت کے مطابق ہشام نے بریھہ کی پورا واقعہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو سنادیا )

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے جاثلیق کی گفتگو

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اے بریھہ ! تو اپنی کتاب انجیل کے بارے میں کس حد تک معلومات رکھتا ہے ؟ “

بریھہ: ”میں اپنی کتاب سے پوری طرح آگاہ ہوں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اس کے باطنی معنی پر کتنا اعتماد رکھتا ہے ؟ “

بریھہ: ”اتناہی جتنا مجھے اس پر عبور ہے“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے انجیل کی آیتوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔

بریھہ امام سے اتنا مرعوب ہوگیا کہ وہ کہنے لگا: ”جناب مسیح آپ کی طرح انجیل کی تلاوت کیا کرتے تھے اس طرح کی تلاوت جناب عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں کرتا“۔اس کے بعد بریھہ نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف رخ کر کے عرض کیا: ”میں پچاس سال سے آپ یا آپ جیسے کسی شخص کی تلاش میں تھا“۔ اس کے بعد بریھہ وہیں مسلمان ہوگیا اور اس کے بعد بھی وہ راہ اسلام پر بڑے استحکام کے ساتھ ڈٹا رہا اس کے بعد ہشام بریھہ کو اس عورت کے ساتھ لے کر امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور ہشام نے پوری بات آپ کو بتائی اور اس خادمہ اور بریھہ کے مسلمان ہونے کا واقعہ بھی آپ کو سنا دیا۔

امام جعفرصادق علیہ السلام نے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( ذُرِّیَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ )( ۱۵ )

”وہ لوگ ایسے فرزندان تھے جو ایک دوسرے سے لئے گئے تھے اور خدا سمیع وعلیم ہے“۔

بریہہ کی امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ گفتگو

بریھہ: ”میں آپ پر فدا ہوں، توریت وانجیل اور دوسرے پیغمبر وں کی کتابیں آپ کے پاس کیسے اور کہاں سے آئیں ؟ “

امام جعفر صادق علیہ السلام: ”یہ کتابیں ان کی طرف سے ہمیں وراثت میں ملی ہیں جو ہم ان لوگوں کی طرح ہی ان کتابوں کی تلاوت کرتے ہیں خداوند عالم اس دنیا میں کسی ایسے کو اپنی حجت قرار نہیں دیتا کہ جب اس سے پوچھا جائے تو وہ یہ کہے: ”میں نہیں جانتا“۔

اس کے بعد بریھہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہی رہنے لگا اور آخر کار امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں وفات پا گیا امام جعفر صادق علیہ السلا م نے اسے خود اپنے ہاتھوں سے غسل وکفن دیا اور خود ہی اسے قبر میں لٹا کر فرمایا:

هذا حواری من حواری المسیح علیه السلام یعرف حق الله علیه

”یہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک تھا جو اپنے اوپر اللہ کے حق کو پہنچانتا تھا“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے اکثر اصحاب یہ آرزو کرتے تھے کہ اس کی طرح بلند مقام کے حامل ہو جائیں۔( ۱۶ )

۲۴۔امام مو سیٰ کاظم علیہ السلام کے سامنے ابو یوسف کی لاچاری

مہدی عباسی بنی عباس کا تیسرا خلیفہ ایک دن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، ابو یوسف بھی (جو اہل بیت علیہم السلام کا پکا مخالف تھا ) اس بزم میں حاضر تھا اس نے مہدی عباسی کی طرف رخ کر کے کہا کہ مجھے موسیٰ بن جعفر سے چند سوال کرنے کی اجازت دیجئے تاکہ میرے سوال کے جواب نہ دینے کی وجہ سے وہ مجبور و لاچار ہو جائیں۔

مہدی عباسی نے کہا: ”میں اجازت دیتا ہوں“۔

ابو یوسف نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کہا: ”اجازت ہے کہ میں ایک سوال کروں ؟ “

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”سوال کر“۔

ابو یوسف نے کہا: ”جس نے حج کاا حرام باندھ رکھا ہو آیا اس کا سائے میں چلنا جائز ہے ؟ “

امام علیہ السلام نے کہا: ”جائز نہیں ہے“۔

ابو یوسف نے کہا: ”اگر کسی محرم نے زمین میں خیمہ نصب کر رکھا ہو تو کیا اس میں اس کاجانا جائز ہے؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں جائز ہے“۔

ابو یوسف نے کہا: ”ان دونوں سایوں میں کیا فرق ہے کہ پہلے والے میں جائز نہیں اور دوسرے والے میں جائز ہے ؟ “

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ”عورت پر اپنی ماہواری کے زمانہ میں چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کرنا واجب ہے ؟ “

ابو یوسف نے کہا: ”نہیں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”کیا عورت پر عادت کے زمانہ میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہے ؟ “۔

ابو یوسف نے کہا: ”ہاں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اب تو یہ بتا کہ ان دونوں کے درمیان کیا فرق ہے کہ پہلے میں عورت پر قضاواجب نہیںہے اور دوسرے میں قضا واجب ہے؟“

ابو یوسف نے کہا: ”احکام میں اسی طرح آیا ہے ؟ “

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”حج کے زمانہ میں احرام باندھ لینے والے کے لئے بھی اسی طرح کا حکم آیا ہے جیسا کہ میں نے بتایا شرعی مسائل میں قیاس درست نہیں ہے“۔

ابو یوسف اس جواب سے پانی پانی ہو گیا،مہدی عباسی نے اس سے کہا: ”انھیں شکست دینا چاہتا تھا مگر کامیاب نہ ہو پایا“۔

ابو یوسف نے کہا: ”رمانی بحجر دامغ “موسیٰ بن جعفر نے مجھے ہلاکت خیز پتھر سے قتل کر دیا جس کی وجہ سے میں بے بس ولاچار ہو گیا۔( ۱۷ )

۲۵۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا ہارون کے ساتھ مناظرہ

ہارون رشید خلفائے بنی عباس میںسے پانچواںخلیفہ تھا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران اس نے امام علیہ السلا م کو مخاطب کر تے ہوئے کہا: ” آپ نے خاص و عام میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ آپ پیغمبر کی اولادہیں جب کہ آنحضرت کے کوئی بیٹا ہی نہیں تھا جس کے ذریعہ ان کی نسل آگے بڑھتی، اس کے ساتھ ہی آپ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نسل ہمیشہ بیٹے کی طرف سے آگے بڑھتی ہے اور آپ لوگ ان کی بیٹی کی اولاد میں سے ہیں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابھی ابھی حاضر ہو جائیں اور تیری لڑکی سے شادی کرنا چاہیں تو کیا تو انھیں مثبت جواب دے گا ؟ “

ہارون: ”میں صرف مثبت جواب ہی نہیں دوں گا“۔بلکہ ان سے رشتہ جوڑکر میں عرب و عجم کے درمیان فخر کروں گا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری بیٹی کو پیغام نہیں دیں گے اور میں اپنی لڑکی کو ان کی زوجہ نہیں بنا سکتا“۔

ہارون: ”کیوں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”اس لئے کہ میری ولادت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سبب سے ہے (کیونکہ میں ان کا نواسہ ہوں )لیکن تیری پیدائش میں وہ سبب نہیں بنے ہیں“۔

ہارون: ”واہ ! بہت اچھا جواب ہے، اب میرا یہ سوال ہے کہ آپ لوگ کیوں خود کو پیغمبر اکرم کی ذریت سے کہتے ہو جب کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کوئی نسل ہی نہیں تھی کیونکہ نسل لڑکے سے چلتی ہے نہ کہ لڑکی سے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کوئی لڑکا نہیں تھا اور آپ ان کی لڑکی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے ہیں اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نسل پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نہیں ہوگی ؟!

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”کیا میں جوا ب دوں ؟“

ہارون: ”ہاں“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”خدا وند متعال قرآن مجید میں سورہ انعام کی ۸۴ ویں آیت میں ارشادفرماتا ہے:

( وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِنْ الصَّالِحِینَ )( ۱۸ )

”اور اس کی ذریت سے دادو،سلیمان،ایوب،یوسف،موسیٰ اورہارون ہیں اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزادیا کرتے ہیں اور اسی طرح زکریا ویحیٰ و عیسیٰ والیاس یہ سب صالحین میں سے تھے“۔

اب میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کا کون باپ تھا ؟

ہارون: ”جناب عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں تھا“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”جس طرح خداوند متعال نے مذکورہ آیت میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کی طرف سے پیغمبروں کی ذریت میں قرار دیا ہے اسی طرح ہم بھی اپنی ماں جناب فاطمہ زہرا سلام للہ علیہا کی طرف سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذریت میں شامل ہیں“۔

اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”آیا میں اپنی دلیل اور آگے بڑھاوں؟“

ہارون نے کہا: ”ہاں بڑھایئے“۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام: ”خداوند متعال (مباہلہ کے متعلق )فرماتا ہے:

( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَائَنَا وَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ )( ۱۹ )

”اب تمہارے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر کوئی (نصاریٰ)کٹ حجتی کرے تو ا ن سے کہہ دوکہ آئیں ہم اپنے بیٹوں کو لے آئیں تم اپنے بیٹوں کو ،ہم اپنی عورتوں کو لے آئیں اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو لے آئیں اور تم اپنے نفسوں کو، پھرمباہلہ کرکے جھوٹوں پر لعنت کریں“۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: ”آج تک کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آنحضرت نے مباہلہ کے وقت حضرت علی ،اور فاطمہ زہرا،امام حسن اور امام حسین (سلام اللہ علیہم)کے علاوہ انصار یامہاجرین میں سے بھی کسی کو ساتھ لیا ہو، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ”انفسنا“ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور ”ابنائنا“سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں۔خداوند متعال نے حسنین علیہما السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بیٹے کہہ کر یاد کیا ہے۔

ہارون نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی واضح دلیل قبول کر لی اور کہا: بہت خوب اے موسیٰ۔( ۲۰ )

____________________

(۱) اس بات پر توجہ رہنا چاہئے کہ خدا کی قدرت محال چیزوں سے تعلق نہیں رکھتی۔اس جواب میں امام کا مقصد در اصل عوام کو قانع کرنا تھا جیسے اگر کسی سے پوچھا جائے کہ کیا انسان اڑسکتا ہے ؟اور وہ اس کے جواب میں کہے: ”ہاں اڑ سکتا ہے وہ ایک ہوائی جہاز بنائے اور اس میں بیٹھ کر فضا میں پرواز کر سکتا ہے“۔امام ،آنکھ کے ڈھیلے کی مثال سے یہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر تم قدرت خدا سمجھنا چاہتے ہو تو اس طرح سمجھو نہ کہ غیر معقول مثال کے ذریعہ کہ کیا خدا انڈہ میں پوری دنیا سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈہ بڑاہو یا یہ بھی کوئی محال کام نہیں ہے اور خدا اس بات پر قادر ہے اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت محال ہے اور خدا محالات عقلیہ پر قدرت نہیں رکھتا یہ توایسا ہی ہوگا کہ ہم سوال کریں کہ کیا خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ دو اور دو چار کے بجائے پانچ کر دے۔اس طرح کا سوال سراسر غلط ہے، اس مسئلہ کی مکمل تحقیق اور یہ کہ خدا کی قدرت محال چیزوں سے متعلق ہوتی ہے یا نہیں اس سلسلہ میں مختلف کلامی اور فلسفی بحثوں پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔

(۲) اصول کافی ، ص ۷۹ و۸۰۔

(۳) کیونکہ ان دونوں میں ہر جہت سے اختلاف کا فرض غلط ہے کیونکہ دو چیزیں بھلے (ایک ہی جہت سے )مانند و مثل ضرور رکھتی ہیں جیسے جہت وجود وہستی میں ہر موجود شئے ایک دوسرے کی مثل ومانند ہے ۔

(۴) اصول کافی ،حدیث ۵، ص۸۰و ۸۱ ج۱ ، تلخیص و توضیح اور مولف کی طرف سے نقل معنی کے ساتھ ۔

(۵) انوار البہیہ، ص ۱۵۲۔

(۶) سفینة البحار ،ج ۱،ص ۱۵۷۔

(۷) اصول کافی، ج۱، ص۱۲۸۔

(۸) شامی دانشور ایک سنّی عالم دین تھا ۔

(۹) علم کلام ایک ایسا علم ہے جو اصول عقائد میں عقلی ونقلی دلیلوں کے ذریعہ بحث کرتا ہے ۔

(۱۰) اس سے مراد ابو جعفر محمد بن علی بن نعمان کوفی ہیں جن کا لقب ”احول “تھا کوفہ کے محلہ طاق المحامل میں ان کی دکان تھی اسی لئے ان کو ”مومن طاق “کہتے تھے مگر ان کے مخالفین ان کو ”شیطان الطاق “کہا کرتے تھے (سفینة البحار ج۲، ص ۱۰۰)

(۱۱) اصو ل کافی ج۱، ص۱۷۱۔

(۱۲) اصول کافی ، ص ۱۷۲و ۱۷۳ ۔

(۱۳) الشافی سید مرتضی ،ص ۱۲۔تنقیح المقال ،ج ۳ ص۲۹۵۔

(۱۴) جاثلیق ،عیسائیت کی ایک بڑی شخصیت ہوتی ہے اس کے بعد ”مطران“کا درجہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ”اسقف “اور اسقف کے بعد” قیس“کا درجہ ہوتا ہے۔

(۱۵) سورہ آل عمران ، آیت ۳۴۔

(۱۶) انوار البھیہ ،ص۱۸۹ تا ۱۹۲۔

(۱۷) عیون اخبار الرضا ج۱، ص۷۸ سے اقتباس ۔

(۱۸) سورہ انعام، آیت ۸۴ و ۸۵۔

(۱۹) سورہآل عمران ، آیت ۶۱۔

(۲۰) احتجاج طبرسی ج۱،ص۱۶۳ سے ۱۶۵ سے اقتباس ،اسی بنا پر بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تمام اولادجو قیامت تک ان کی نسل سے وجود میں آئے گی سید ہوگی اور رسول اسلام کی ذریت میں شمار ہوگی، لہٰذا اگر کسی کا باپ سید نہ ہو لیکن اس کی ماں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسل سے ہو تو وہ سید ہوگا۔(غور کریں)، مولف۔


۲۶۔امام علی رضا علیہ السلام کا ابو قرة سے مناظرہ

ابو قرة(اسقف اعظم کے دوستوں میں تھا)امام علی رضا علیہ السلام کے زمانہ کے خبر پردازوں میں تھا۔

امام علی رضا علیہ السلام کے ایک شاگرد صفوان بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابو قرة نے مجھ سے خواہش کی کہ میں اسے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں لے جاوں۔

میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے اجازت لی ،آپ نے اجازت دے دی۔ابو قرة نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ کر احکام دین ،حلال وحرام کے سلسلے میں چند سوالات کئے۔یہ سوال طول پکڑتے پکڑتے مسئلہ توحید تک پہنچ گیا جس کے بارے میں ابو قرة نے اس طرح سوال کیا:

مجھ سے کچھ لوگوں نے روایت کی ہے کہ خداوند عالم نے اپنا دیدار اور اپنی بات چیت کو دو پیغمبروں کے درمیان تقسیم کر رکھا ہے (یعنی خد ا وند عالم نے دو پیغمبروں کا انتخاب کیا ہے تاکہ ایک سےگفتگو کرے اور دوسرے کو اپنا کو دیدار کرائے )۔لہٰذا اس نے ہم کلام ہونے کا مرتبہ جناب موسیٰ علیہ السلام کو دیا اور اپنے دیدار کا رتبہ اور منزلت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو عطا فرمایا: ”اس بنا پر خدا ایک ایسا وجود رکھتا ہے جسے دیکھا جا سکتا ہے“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اگر اس طرح ہوتو جس پیغمبر نے جن وانس کو یہ بتا یا ہے کہ آنکھیں خدا کو دیکھ نہیں سکتی ہیں اور اپنی مخلوقات کے سلسلے میں جو اسے آگاہی ہے اس کا احاطہ کرنا اور اس کی ذات کو سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہے وہ اپنا شبیہ اور مثل نہیں رکھتا ہے وہ کون پیغمبر تھا؟ کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی ذات گرامی نے اس طرح نہیں فرمایاہے؟

ابو قرة: ”ہاں انھوں نے ایسا ہی فرمایا“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ جولوگوں کے لئے خدا کی طرف سے آیا ہواور لوگوں کو دعوت حق دے اور لوگوں سے کہے کہ یہ آنکھیں اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ خداکو دیکھ سکیں ،اس کا کوئی شبیہ نہیں اور اس کے بعد خود ہی پیغمبر یہ کہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے خدا کو دیکھا ہے اور اس کے احاطہ علمی کو درک کیا ہے کیاوہ انسان کی طرح دیکھا جا سکتا ہے کیا تجھے شرم محسوس نہیں ہوتی ؟ “

بے دین اور ٹیڑھے دل والے افراد بھی اس طرح کی کوئی نسبت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں دے سکے کہ پہلے انھوں نے اس طرح فرمایا اور اس کے اس بر عکس کہنے لگے۔

ابو قرة: ”خدا وند متعال خود قرآن مجید کے سورہ نجم (آیت ۱۳ ) میں فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً اٴُخْرَی )

”اور سول خدا نے خدا کو دوبارہ دیکھا“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اسی جگہ سورہ نجم کی ۱۱ ویں آیت بھی ہے جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو دیکھا ہے اسے بیان کیا ہے۔

( مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٴَی )

”ان کے دل نے جو کچھ دیکھا اسے کبھی نہیں جھٹلایا“۔

اور اسی سورہ میں آیت نمبر ۱۸ میں خدا وند متعال نے اس چیز کا بھی پتہ بتا دیا جسے پیغمبر اکرم نے دیکھا ہے:

( لَقَدْ رَاٴَی مِنْ آیَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی )( ۲۱ )

”اس نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں“۔

پس وہ نشانیاں جنھیں رسول نے دیکھی وہ ذات خدا کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔

اس طرح خدا وند عالم (سورہ طہ کی ۱۱۰ ویں آیت میں )ارشاد فرماتا ہے:

( وَلاَیُحِیطُونَ بِهِ عِلْمًا )

”وہ خدا وند عالم سے آگاہی نہیں رکھتے“۔

اس بنا پر اگر آنکھیں خدا کو دیکھ سکتی ہیں اور سمجھ سکتی ہیں تو اس کے آگاہی اور علم کا احاطہ بھی کر سکتی ہیں (جب کہ مذکورہ آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس کے علم وآگاہی کا احاطہ نا ممکن ہے )

ابو قرة: ”توتم ان روایتوں کی تکذیب کر رہے ہو جن میں یہ کہا گیا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے خدا کو دیکھا ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ”اگر روایتیں قرآن کے مخالف ہوں گی تو میں ان کی تکذیب کروں گا اور تمام مسلمان جس رائے پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ نہ اس کے علم وآگاہی کا کوئی احاطہ کر سکتا ہے اور نہ ہی آنکھیں اسے دیکھ سکتی ہے وہ کسی بھی چیز سے شباہت نہیں رکھتا“۔( ۲۲ )

نیز صفوان کہتے ہیں: امام علی رضا علیہ السلام سے ملنے کی اجازت کے لئے ابو قرة نے مجھے واسطہ قرار دیا اور اجازت ملنے کے بعدوہ وہاں پہنچ کر اول چند سوال حرام اور حلال کے سلسلے میں دریافت کئے یہاں تک کہ ابو قرة نے پوچھا: آیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ خدا محمول ہے؟“

امام علی رضا علیہ السلام: ”محمول اس کو کہتے ہیں کہ جس پر کوئی فعل حمل ہو ا ہواور اس حمل کی نسبت کسی دوسرے کی طرف دی گئی ہو اور محمول ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی نقص اور دوسرے کے سہارے کے ہوتے ہیں جسے نسبت کہا جاتا ہے مثلاًتم کہتے ہو زیر ،زبر،اوپر نیچے جس میں زبر اور اوپر کا لفظ قابل تعریف اور اچھا سمجھا جاتا ہے اور زیر اور نچے کا لفظ ناقص سمجھا جاتا ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ خداوند متعال قابل تغیر ہو۔خدا خود حامل یعنی تمام چیزوں کی نگہداشت کرنے والاہے اور لفظ محمول بغیر کسی کے سہارے کے کوئی معنی ومفہوم نہیں رکھتا (اس بنا پر اس کے لئے لفظ محمول مناسب نہیں ہے) اور جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی عظمت کاقائل ہے، اس لئے تم نے کبھی یہ نہ سنا ہوگا کہ اللہ سے دعاکرتے وقت اسے ”اے محمول“کہہ کر پکارا جائے! “

ابو قرة: ”خدا وند متعال قرآن کریم (سورہ حاقہ ، آیت ۱۷) میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَةٌ )

”اور اس دن آٹھ لوگ تمہارے پروردگار کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے“۔

اور اسی طرح (سورہ غافر کی ساتویں آیت میں)فرماتا ہے:

( الَّذِینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ )

”جوعرش اٹھاتے ہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”عرش ،خدا کانام نہیں ہے بلکہ عرش علم اور قدرت کا نام ہے اور ایک ایسا عرش ہے کہ جس کے درمیان تمام چیزیں پائی جاتی ہیں اس کے بعد خدا وند متعال نے حمل اور عرش کی نسبت اپنے فرشتوں کی طرف دی ہے۔

ابو قرة: ”ایک روایت میں آیا ہے کہ جب بھی خداوند متعال غضبناک ہوتا ہے تو فرشتے اس کے غصہ کے وزن کو اپنے کاندھوں پر محسوس کرتے ہیں اور سجدہ میں گرجاتے ہیں جب خداکا غصہ ختم ہوجاتا ہے تو ان کے کاندھے ہلکے ہو جاتے ہیں اور اپنی عام حالت میں واپس آجاتے ہیں۔کیا آپ اس روایت کی بھی تکذیب کریں گے؟ “

امام علی رضا علیہ السلام نے اس روایت کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ”اے ابو قرة! تو یہ بتا کہ جب خدا وند عالم نے شیطان پر لعنت کی اور اپنے دربار سے نکالا تب سے لے کر آج تک کیا خدا شیطان سے خوش ہوا ہے ؟(ہرگز اس سے خوش نہیں ہوا)بلکہ ہمیشہ شیطان اور اس کے چاہنے والے اور اس کی پیروی کرنے والوں پر غضبناک ہی رہا ہے (اس طرح تیرے قول کے مطابق اس وقت سے لے کر آج تک تمام فرشتوں کو سجدہ کی حالت میں رہنا چاہئے جب کہ ایسا نہیں ہے اس سے ثابت ہوگیا کہ عرش خدا کانام نہیں ہے )

پس تو اس وقت کس طرح یہ جرائت کرتا ہے کہ اپنے پروردگار کو تغیر و تبدل جیسے صفتوں سے یاد کرے اور اسے مخلوق کی طرح مختلف حالات سے متصف کرے۔وہ ان تمام چیزوں سے پاک و پاکیزہ ہے اس کی ذات غیر قابل تغیرو تبدل ہے ،دنیا کی تمام چیزیں اس کے قبضے میں ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔( ۲۳ )

۲۷۔ ایک منکر خدا سے امام علی رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک منکرخداآیا،آپ نے اس سے فرمایا:

”اگر تو حق پر ہے (جب کہ ایسا نہیں ہے)تو اس صوت میں ہم اور تم دونوں برابر ہیں اور نماز، روزہ،حج،زکات اور ہمارا ایمان ہمیں کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر ہم حق پر ہیں(جب کہ ایسا ہی ہے ) تو اس صورت میں ہم کامیاب ہیں اور تو گھاٹے میں ہے اور اس طرح تو ہلاکت میں ہوگا“۔

منکر خدا: ”مجھے یہ سمجھائیں کہ خدا کیا ہے ؟کہاں ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ” وائے ہو تجھ پرکہ تو جس راستے پر چل رہا ہے وہ غلط ہے ،خدا کو کیفیتوں (وہ کیسا ہے اور کیسا نہیں ہے) سے متصف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسی نے اشیاء میں کیف و کیفیت کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی اسے مکان سے نسبت دی جا سکتی ہے کیونکہ اسی نے حقیقت مکان کو وجود بخشا ہے۔اسی بنا پر خدا وند متعال کو کیفیت اور مکان سے نہیں پہچاناجاسکتا اور نہ ہی وہ حواس سے محسوس کیاجا سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز کی شبیہ ہو سکتا ہے۔

منکر خدا: ”اگر خدا وند متعال کسی بھی حسی قوت سے در ک نہیں کیا جا سکتا ہے تو وہ کوئی وجود نہیں ہے“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”وائے ہو تجھ پر تیری حسی قوتیں اسے درک کرنے سے عاجز ہوں تو اس کا انکار کر دے گا لیکن میں جب کہ میری بھی حسی قوتیں اسے درک کرنے سے عاجز ہیں ،اس پر ایمان رکھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ وہ ہمارا پروردگار ہے اور وہ کسی کی شبیہ نہیں ہے“۔

منکر خدا: ”مجھے یہ بتائیں کہ خدا کب سے ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ”تو یہ بتا کہ خدا کب نہیں تھا تاکہ میں تجھے یہ بتاوں کے کہ خدا کب سے ہے ؟ “

منکر خدا: ”خدا کے وجود پرکیا دلیل ہے ؟ “

امام علی رضا علیہ السلام: ”میں جب اپنے پیکر کی طرف نگاہ اٹھاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ اس کے طول وعرض میں کسی طرح کی کوئی کمی و بیشی نہیں کر سکتا اس سے اس کا نقصان دور نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے فوائد اس تک پہنچا سکتا ہوں، اسی بات سے مجھے یقین ہو گیا کہ اس پیکر کا کوئی بنانے والا ہے اور اسی وجہ سے میں نے وجود صانع کا اقرار کیا۔اس کے علاوہ بادل بنانا، ہواوں کا چلانا ،آفتاب اور ماہتاب کو حرکت دینا، اس بات کی نشانی ہے کہ ان کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ضرور ہے۔( ۲۴ )

۲۸۔مشیت اور ارادہ کے معنی کے سلسلہ میں ایک مناظرہ

یونس بن عبدالرحمن ،امام علی رضا علیہ السلام کے شاگرد تھے، ان کے زمانہ میں ”قضا وقدر‘کی بڑی گرما گرم بحثیں ہو اکرتی تھیں لہٰذ یونس نے سوچا اس کے متعلق خود امام علی رضا علیہ السلام کی زبانی کچھ سننا چاہئے، یہ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور قضاو قدر کی بحث کے متعلق گفتگو کرنے لگے امام علی رضاعلیہ السلام نے فرمایا:

اے یونس ! قدر یہ کا عقیدہ قبول نہ کرو کیونکہ ان کا عقیدہ نہ تو دوزخیوں سے ملتا ہے اور نہ ہی شیطان سے اورنہ ۔۔۔۔( ۲۵ )

یونس: ”خدا کی قسم مجھے اس سلسلے میں قدریہ کا عقیدہ قبول نہیں ہے، بلکہ میرا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کے حکم اور ارداہ کے بغیر کوئی چیز وجود میں آتی ہی نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”اے یونس ! ایسانہیں ہے، بلکہ خدا کی مشیت یہ ہے کہ انسان بھی اپنے امور میں مختار رہے، کیا تم مشیت خدا کا مطلب جانتے ہو؟ “

یونس: ”نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”مشیت خدا،لوح محفوظ ہے۔کیا تم ارادہ کے مطلب جانتے ہو؟ “

یونس: ”نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”ارادہ یعنی وہ جو چاہے وہ ہو جائے۔کیا تم قدر کے معنی جانتے ہو؟ “

یونس: ”نہیں“۔

امام علی رضا علیہ السلام: ”قدر یعنی اندازہ،تخمینہ اور احاطہ ہے جیسے مدت حیات اورموت کا علم، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”قضا کا مطلب ہے مضبوط بنانا اور عینی وواقعی قراردینا“۔

یونس ،امام علی رضا علیہ السلام کی اس توضیح سے مطمئن اور خوش حال ہو کر چلنے کو تیار ہوگئے، انھوں نے امام کے سر اقدس کو بوسہ لیتے ہوئے آپ سے چلنے کی اجازت چاہی اور کہا: ”آپ نے میری وہ مشکل حل کر دی جن کے متعلق میں غفلت میں تھا۔( ۲۶ )

۲۹۔ امام علی نقی (ع) کی فضیلت میں مامون کا بنی عباس سے مناظرہ

شیخ مفید علیہ الرحمة کتاب ”ارشاد“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ عباسی دور کا ساتواں خلیفہ مامون رشید ،امام علی نقی علیہ السلام پر فریفتہ ہو گیا تھا کیونکہ اس نے امام کے علم و فضل اور کمال کا مشاہدہ ان کےبچپن میں ہی کر لیا تھا۔اس نے دیکھا کہ جو علم وکمال امام کی ذات میں پائے جاتے ہیں وہ اس دور کے بڑے بڑے علماء اور دانشوروں میں دکھائی نہیں پڑتے۔

انھیں کمالات کی بنا پر مامون نے اپنی لڑکی (ام فضل)کی شادی آپ سے کر دی اور مامون نے امام کو بڑی شان وشوکت سے مدینہ کی طرف روانہ کیا۔حسن بن محمد سلیمانی ،ریان بن شبیب سے روایت کرتے ہیں کہ جب مامون نے چاہا کہ اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام علی نقی علیہ السلام سے کرے اور یہ بات بنی عباس کے کانوں تک پہنچی تو انھیں یہ بات بہت گراں محسوس ہوئی اور وہ مامون کے اس ارادہ سے بہت ناراض ہوئے انھیں اس بات کا خوف لاحق ہوگیا کہ ولیعہدی کا منصب کہیں بنی ہاشم کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے۔

اسی وجہ سے بنی عباس کے تمام افراد نے ایک جگہ جمع ہوکر مامون سے کہا: ”اے امیر المومنین! ہم لوگ تجھے خدا کی قسم دیتے ہیں کہ تونے جو ام الفضل کی شادی امام علی نقی علیہ السلام سے کرنے کا ارادہ کیا ہے اسے ترک کردے ورنہ اس چیز کا امکان پایا جاتا ہے کہ خداوند متعال نے جو ہمیں منصب و تخت و تاج عنایت فرمایا ہے،وہ ہمارے ہاتھ سے چلا جائے اور جو مقام ومنزلت اور عزت و حشمت کا لباس ہمارے تن پر ہے وہ اتر جائے کیونکہ خاندان بنی ہاشم سے ہمارے آباء اجداد کی دشمنی سے تو اچھی طرح واقف ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گزشتہ تمام خلفاء نے انھیں شہر بدر کیا اور انھیں ہمیشہ جھوٹا سمجھتے رہے اس کے علاوہ تونے جو حرکت امام علی رضا علیہ السلام کے ساتھ کی تھی اس سے ہمیں بہت تشویش ہوئی تھی لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیاتجھے خدا کی قسم ہے کہ تو اپنے اس عمل میں ذرا غور وفکر کر جس نے ہمارے دلوں میں تکلیف پیدا کر دی ہے، تو اس ارادہ سے باز آجا اور ام فضل کا رشتہ خاندان بنی عباس کے کسی مناسب فرد سے کردے۔

مامون نے بنی عباس کے اعتراض کے جواب میں کیا: ”تمہارے اور ابو طالب کے بیٹوں کے درمیان کینہ پروری اور دشمنی کی وجہ خود تم لوگ ہو !!اگر انھیں انصاف سے ان کا حق دے دو تو اس منصب خلافت کے وہی حقدار ہوتے ہیں لیکن جیسا تم نے بیان کیا کہ ہمارے گزشتہ خلفاء نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیامیں ایسے کاموں سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں خدا کی قسم جو بھی میں نے امام علی رضا علیہ السلام کی ولیعہدی کے لئے کیا تھا اس پر میں ذرا بھی پشیمان نہیں ہوں۔میں نے تو یہی چاہاتھا کہ وہ خلافت کے امور کو سنبھال لیں مگر خود انھوں نے ہی اسے قبول نہیں کیا اس کے بعد خدا نے کیا کیا یہ تم لوگوں نے خود یکھا۔لیکن جس کی وجہ سے میں نے امام جواد کو اپنا داماد بنانا چاہا ہے وہ ان کا بچپن کا علم وفضل ہے وہ تمام لوگوں سے افضل وبرتر ہیں اور ان کی عقل کی بلندی اس عمر میں بھی تعجب خیز ہے، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری نظروں نے جو دیکھا ہے اس کا تم لوگوں نے بھی مشاہدہ کیا ہے اور بہت جلد ہی تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ میں نے جس راستہ کا انتخاب کیا ہے وہی درست ہے“۔

ان لوگوں نے مامون کے جواب میں کہا: ”بیشک اس کم عمر نوجوان کی رفتار و کردار نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے اور اس طرح اس نے تجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے لیکن جو بھی ہو وہ ابھی بچہ ہے اس کا علم و ادراک ابھی کم ہے اسے کچھ دن چھوڑ دے تاکہ وہ با عقل اور علم دین میں فقیہہو جائے اس کے بعد جو تیرا دل چاہے کرنا“۔

مامون نے کہا: ”تم لوگوں پر وائے ہو ،میں اس جوان کو تم سے زیادہ جانتاہوں اور اسے بہت اچھی طرح سے پہچانتا ہوں،یہ جوان اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جوخدا کی طرف سے علم لے کر آتا ہے اور اس کا علم لامحدود ہے کیونکہ اس کے علم کا تعلق امام سے ہوتا ہے اس کے تمام آباواجداد علم دین میں تمام لوگوں سے بے نیاز تھے اور دوسرے لوگ ان کے کمال کے سامنے بے حیثیت تھے اور ان کی ڈیوڑھی پر علم وکمال کے حصول کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے تھے اگر تم میری باتوں کی تصدیق کرنا چاہتے ہو تو ان کا امتحان لے لو تاکہ تمہارے نزدیک بھی ان کا فضل وکمال واضح ہو جائے“۔

ان لوگوں نے کہا: ”یہ اچھا مشورہ ہے اور اس بات پر ہم خوش بھی ہیں کہ اس بچہ کی آزمائش ہوجائے اب تو ہمیں اس بات کی اجازت دے کہ ہم کسی ایسے شخص کو لے آئیں جو اس نوجوان سے مسائل شرعیہ کے بارے میں بحث ومناظرہ کر سکے وہ چند سوالات کرے گا اگر انھوں نے اس کے سوالات کے صحیح جواب دیئے تو ہم تجھے اس کا م سے ہر گز نہیں روکیں گے اور اس طرح تجھ پر اپنے پرائے کا فرق بھی واضح ہو جائے گا اور اگر یہ نوجوان جواب دینے سے قاصر رہا تو تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہمارا یہ مشورہ مستقبل کے لئے کتنا مفید ہے“۔

مامون نے کہا: ”جہاں بھی تم چاہوان کا امتحان لے سکتے ہو میری طرف سے یہ اجازت ہے“۔

وہ لوگ مامون کے پاس سے چلے گئے اور بعد میں سب نے مل کر یہ پیش کش کر دی کہ مشہور زمانہ عالم اور قاضی یحییٰ بن اکثم کو امام کے مقابل لایاجائے۔

امام محمد تقی علیہ السلام میدان علم و دانش کے مجاہد

وہ سارے اعترض کرنے والے یحییٰ بن اکثم کے پاس گئے اور اسے ڈھیروں دولت کا لالچ دے کر امام علیہ السلام سے مناظرہ کرنے پر آمادہ کر لیا۔

ادھر کچھ لوگ مامون کے پاس تاریخ معین کرنے پہنچ گئے ،مامون نے تاریخ معین کر دی،معین دن اس دور کے بڑے بڑے علماء یحییٰ بن اکثم کے ساتھ موجود تھے ،مامون کے حکم کے مطابق امام محمد تقی علیہ السلام کے لئے مسند بچھائی گئی اور تھوڑی دیر بعد امام علیہ السلام تشریف لے آئے (اس وقت آپ کی عمر محض نو سال تھی)مامون کی مسند بھی آپ کے بالکل قریب بچھی ہوئی تھی وہ اس پر آکر بیٹھ گیا اور دوسروں کو جہاں جگہ ملی بیٹھ گئے۔یحییٰ بن اکثم نے مامون کی طرف رخ کر کے کہا: ”اے امیر المومنین ! کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں ابو جعفر سے سوال کروں؟“

مامون: ”خود ان سے اجازت لو“۔

یحییٰ بن اکثم نے آپ کی طرف مڑکر کہا: ”میں آپ پر قربان ہو جاوں کیا مجھے سوال کرنے کی اجازت ہے ؟ “

امام محمد تقی علیہ السلام: ”پوچھو“۔

یحییٰ: ”اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے حالت احرام میں شکار کیا ہو“۔

امام محمد تقی علیہ السلام: ”آیا حرم میں قتل کیا ہے یاحرم سے باہر ؟وہ مسئلہ اور حکم سے آگاہ تھا ہی نہیں؟جان بوجھ کر شکار کیا یابھول کر ؟پہلی دفعہ تھا یا اس سے پہلے بھی چند دفعہ ایسا کر چکا تھا؟وہ شکار پرندہ تھا یا اس کے علاوہ کچھ اور ؟وہ شکار چھوٹا تھا یا بڑا اور ساتھ ساتھ اس کام میں وہ بے باک تھا یا پشیمان ؟دن میں تھا یا رات میں؟احرام عمرہ میں تھایا احرام حج میں؟(ان بائیس ( ۲۲) قسموں میں سے کون سی قسم تھی کیونکہ ان سب کا حکم الگ الگ ہے )

یحییٰ ان سوالات کے سامنے حیرت زدہ ہو گیا اور اس کی بے بسی اور لاچاری کی کیفیت چہرہ سے ظاہرہونے لگی،اس کی زبان لکنت کرنے لگی۔اس کی یہ حالت دیکھ کر تمام لوگوں نے امام محمد تقی علیہ السلام کے سامنے اسے بے بس اور لاچار سمجھ لیا۔

مامون نے کہا: ”خدا وند عالم کی اس نعمت پر شکر ادا کرتا ہوں کہ جو میں نے سوچ رکھا تھا وہی ہوا، اس کے بعد اس نے تمام خاندان کے افراد کی طرف رخ کر کے کہا: ”تم لوگوں نے دیکھا“۔اس کے بعد امام محمد تقی علیہ السلام کا نکاح مامون کی بیٹی سے ہو گیا۔( ۲۷ )

۳۰۔ عراقی فلسفی کی حالت متغیر کردینے والا ایک مناظرہ

اسحاقِ کندی جو کافر تھا، عراق کا بہت بڑا عالم اور فلسفی مانا جاتا تھا ،اس نے قرآن کا مطالعہ کیا تو دیکھا کہ بعض آیتیں بعض کے خلاف ہیں تو اس نے ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کیا جس میں تناقض قرآن کوجمع کردیا گیا ہو،اس نے یہ کام شروع کردیا۔

اس کا ایک شاگرد امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو امام نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہارے درمیان کوئی عاقل و باشعور شخص نہیں ہے جو اسحق کو اس کے اس کام سے باز رکھے؟“

شاگرد نے کہا: ”میں اس کا شاگرد ہوں، اسے اس کام سے کیسے باز رکھ سکتا ہوں“۔

امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جسے تم اسحاق کندی سے کہنا ،تم اس کے پاس جاو اور چند دن تک اس کے اس کام میں اس کی مدد کرتے رہو جب وہ تمہیں اپنا قریبی دوست سمجھ لے اور تم سے مانوس ہو جائے تو اس سے کہو کہ میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں وہ کہے گا ”پوچھو“۔تو تم اس سے کہنا: ”اگر قرآن کا بھیجنے والا تمہارے پاس آئے اور آکر کہے کہ جس آیت کے معنی تم نے مراد لئے ہیں ، آیا اس کے معنی اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتے ؟“، اسحاق کندی کہے گا“، ہاں ،یہ امکان پایا جاتا ہے“۔تب تم اس سے کہنا کہ تمہیں کیا معلوم؟! ہوسکتا ہے کہ اس آیت سے جو معنی تم نے سمجھے ہیں خدا نے اس کے علاوہ کوئی دوسرے معنی مراد لئے ہوں“۔

شاگرد اسحاق کندی کے پاس پہنچا اور کچھ دن تک اس کی کتاب کی تالیف میں اس کی مدد کرتا رہا یہاں تک کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم کے مطابق اس نے اسحاق کندی سے کہا: ”آیا اس بات کا امکان ہے کہ خداوند متعال نے اس معنی کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب مراد لیا ہو جو تم نے سمجھا ہے؟“۔

استاد نے کہا: ”ہاں ممکن ہے کہ خداوند متعال نے ظاہری معنی سے ہٹ کر کوئی اور معنی مراد لئے ہوں“۔

اس کے بعد اس نے شاگرد سے کہا: ”یہ بات تجھے کس نے بتائی ؟ “

شاگرد نے کہا: ”یوں ہی میرے دل میں یہ سوال پیدا ہو گیا تھا“۔

اس نے کہا: ”یہ بہت ہی معیاری اور پائے کا کلام ہے،ابھی تووہاں تک نہیں پہنچ سکا ہے سچ بتا یہ کس کاکلام ہے ؟ “

شاگرد نے کہا: حضرت امام صادق علیہ السلام کا۔

اسحاق کندی نے کہا: ”ہاں تونے صحیح کہا، اس طرح کی باتیں اس خاندان اہل بیت علیہ السلام کے علاوہ کہیں اور کوئی فرد نہیں کہہ سکتا“۔

اس کے بعد اسحاق کندی نے آگ منگواکر وہ ساری چیزیں جلاڈالیں جو اس نے تناقض قرآن کے متعلق لکھی تھیں۔( ۲۸ )

____________________

(۲۱) سورہ نجم، آیت ۱۸۔

(۲۲) اصول کافی ، باب ابطال الرویة، حدیث۱، ص۹۵و ۹۶، ج ۱۔

(۲۳) اصول کافی ، جلد ۱، باب ابطال الرویة ،ص۱۳۰و ۱۳۱۔

(۲۴) اصول کافی ،ج۱،ص۷۸۔

(۲۵) قدریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ خدانے تمام امور بندوں پر چھوڑ دیئے ہیں۔

(۲۶) اصول کافی ج۱،ص۱۵۷و۱۵۸۔

(۲۷) ترجمہ ارشاد شیخ مفید ،ج۲،ص۲۶۹ سے لے کر ۲۷۳ تک۔

(۲۸) انو ار البھیہ، ص۳۴۹۔ ۳۵۰۔


دوسرا حصہ:

اکابر علمائے اسلام کے مختلف گروہوں کے ساتھ مناظرے

۳۱۔سبط ابن جوزی سے ایک ہوشیار عورت کا مناظرہ

سبط ابن جوزی اہل سنت کے ایک بہت ہی مشہور ومعروف عالم تھے ،اس نے بہت ہی اہم کتابیں بھی لکھی ہیں یہ بغداد کی مسجدوں میں وعظ کیا کرتے تھے اور لوگوں کی تبلیغ کرتے تھے ۱۲ رمضان المبارک ۵۹۸ ھ کو ان کی وفات ہوئی۔( ۲۹ )

حضرت علی علیہ السلام کی مشہور فضیلتوں میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر بھرے مجمع میں ” سلونی قبل ان تفقدونی“کہا کرتے تھے۔اس طرح کی باتیں آپ اور دوسرے معصوم ائمہ علیہم السلام سے مخصوص ہیں ان کے علاوہ جس نے بھی اس کا دعویٰ کیا وہ ذلیل ہوا،اب آپ ایک باہمت عورت کا سبط ابن جوزی کے ساتھ مناظرہ ملاحظہ فرمائیں:

سبط ابن جوزی نے بھی ایک دن منبر پر جانے کے بعد دعوائے سلونی کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ اے لوگو! تمہیں جو کچھ بھی پوچھنا ہے پوچھ قبل اس کے میں تمہارے درمیان نہ رہوں، منبر کے نیچے بہت سے شیعہ سنی مرد اور عورت بیٹھے ہوئے تھے۔یہ سنتے ہی ان میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے سبط ابن جوزی سے اس طرح سوال کیا۔

تم مجھے یہ بتاوکہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ جب عثمان کو قتل کر دیا گیا تو ان کا جنازہ تین دن تک پڑا رہا اور کوئی بھی انھیں دفن کرنے نہ آیا؟

سبط: ”ہاں ایسا ہی ہے ۔“

عورت: ”کیا یہ بھی صحیح ہے کہ جب جناب سلمان علیہ الرحمة نے مدائن میں وفات پائی تو حضرت علی علیہ السلام مدینہ (یا کوفہ) سے مدائن گئے اور آپ نے ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت کی اور ان کی نماز جناز ہ پڑھائی ؟“

سبط: ”ہاں صحیح ہے“۔

”لیکن علی علیہ السلام عثمان کی وفات کے بعد ان کے جنازے پر کیوں نہیں گئے جب کہ وہ خود مدینہ میں موجود تھے اس طرح دوہی صورت رہ جاتی ہے یا توحضرت علی علیہ السلام نے غلطی کی کہ ایک مومن کی لاش تین دن تک پڑی رہی اور آپ گھر ہی میں بیٹھے رہے یا پھر عثمان غیر مومن تھے جس کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تجہیز وتکفین میں کسی طرح کا کوئی حصہ نہیں لیا اور اپنے عمل کو اپنے لئے درست سمجھا۔”یہاں تک کہ انھیں تین روز بعد مخفی طور پر قبرستان بقیع کے پیچھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیاگیا جیسا کہ طبری نے اپنی تاریخ میں یہ ذکر کیا ہے (ج ۹ ،ص ۱۴۳ ۔)

ابن جوزی اس عورت کے اس سوال کے آگے بے بس ہو گیا کیونکہ اس نے دیکھا کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک کو بھی خطا کار ٹھہرا ئے گا تو یہ بات خلاف عقیدہ ہوجائے گی کیونکہ اس کے نزدیک دونوں خلیفہ حق پر تھے لہٰذا اس نے اس عورت کو مخاطب کر تے ہوئے کہا:

اے عورت !وائے ہوتجھ پر،اگر تو اپنے شوہر کی اجازت سے گھر کے باہر آئی کہ نامحرموں کے درمیان مناظرہ کررہی ہے، تو خدا تیرے شوہر پر لعنت کرے اور اگر بغیر اجاز ت آئی ہے تو خدا تجھ پر لعنت کرے“۔

اس ہو شمند عورت نے بڑی بے باکی سے جواب دیا:

”آیا عایشہ جنگ جمل میں مولائے کائنا ت علی ابن ابی طالب سے لڑنے اپنے شوہر رسول اکرم کی اجازت سے آئیں تھیں یا بغیر اجازت کے ؟“

یہ سوال سن کر سبط ابن جوزی کے رہے سہے ہوش بھی جاتے رہے اور وہ بوکھلا گیا کیونکہ اگر وہ یہ کہے کہ عائشہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ہی آئی تھیں تو عائشہ خطاکار ہوں گی اور اگر یہ کہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت سے باہر آئیں تھیں تو علی علیہ السلام خطاکار ٹھہرتے تھے، یہ دونوں صورت حال اس کے اس عقیدہ کے خلاف تھیں، لہٰذا وہ نہایت بے بسی کے عالم میں منبر سے اتر ا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔( ۳۰ )

۳۲۔ایک حملہ میں تین سوالوں کے جواب

بہلول بن عمرو کوفی امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم علیہما السلام کے زمانہ کے ایک زبردست عالم تھے انھوں نے ہارون کے سامنے پیش کئے جانے والے عہدہ قضاوت سے جان چھڑانے کے لئے خود کو دیوانہ بنا لیا تھا ، وہ مناظر ہ میں بڑی مہارت رکھتے تھے اور مخالف کے الٹے سیدھے اعتراضوں کا بڑا عمدہ جواب دیاکرتے تھے، انھوں نے سن رکھا تھا کہ ابو حنیفہ نے اپنے ایک درس میں کہا کہ جعفر بن محمد (امام صادق علیہ السلام )نے تین باتیں کہیں ہیں، لیکن میں ان میں سے کسی بھی بات کو قابل قبول نہیں سمجھتا اوروہ تین باتیں یہ ہیں:

۱ ۔ شیطان جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ان کی یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ خود آگ ہے لہٰذاآگ اسے کیسے جلا سکتی ہے؟

۲ ۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا دکھائی نہیں دیتا۔جب کہ جو چیز بھی موجود ہے اسے دکھائی دینا چاہئے۔

۳ ۔ بندے جو کام انجام دیتے ہیں وہ اپنے اختیار وارادے سے انجام دیتے ہیں ان کی یہ بات بھی سراسر ان احادیث و روایات کے مخالف ہے جو اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ بندوں کے تمام کام خدا کی طرف منسوب ہیں اور اس کے حکم کے بغیر کوئی کام انجام نہیںپایا۔

ایک دن ابوحنیفہ بہلول کو نظر آگئے انھوں نے زمین سے ایک ڈھیلااٹھایا اور ان کی پیشانی پر مار دیا ابو حنیفہ نے ہارون سے بہلول کی شکایت کی اور ہارون نے بہلول کو بلوالیا اور ان کی سرزنش کرنے لگا تو آپ نے ابو حنیفہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا:

۱ ۔ تمہیں جو درد ہو رہا ہے دکھاو ورنہ اس عقیدہ کو غلط کہو جو تم یہ کہتے ہو کہ ہر موجود چیز کا دکھائی دینا ضروری ہے۔

۲ ۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی چیز اپنی ہم جنس شئے کو نقصان نہیں پہنچاتی تو پھر تمہیں کیوں درد ہو رہا ہے جب کہ تم خود مٹی سے بنے ہوئے ہو(اور ڈھیلا بھی مٹی کا تھا)؟

۳ ۔ تم تو یہ کہتے ہو کہ بندوں کے سارے کام خدا کی طرف منسوب ہوتے ہیں تو پھر مجھ سے کیوں شکوہ کرتے ہو کیونکہ یہ ڈھیلا تو خدا نے مارا ہے۔

یہ سن کر ابو حنیفہ خاموشی سے اس بزم سے نکل گئے وہ سمجھ گئے کہ بہلول نے یہ ڈھیلا میرے اس عقیدہ کی وجہ سے مارا تھا۔( ۳۱ )

۳۳۔جناب بہلول کاوزیر کو بہترین جواب

ایک دن ہارون رشید کے درباری وزیر نے بہلول سے کہا: ”تم بڑے خوش نصیب ہو تمہیں خلیفہ نے سوروں اوربھیڑیوں کا سر پرست بنا دیا ہے“۔

بہلول نے بڑی بے باکی سے کہا: ”اب جب تو اس بات سے آگاہ ہوگیا ہے توآج سے تیرے اوپر میری اطاعت لازم ہوگئی ہے“۔بہلول کا یہ جواب سن کر وہ شرمندگی سے خاموش ہو گیا، اور وہاں پر موجود لوگ یہ سن کر ہنسنے لگے۔( ۳۲ )

۳۴۔جبر یہ کے ایک استاد سے شیعہ عالم کا مناظرہ

ایک دن اہل سنت کے ایک بزرگ عالم اور مذہب جبر کے استاد ضرار بن ضبی ہارون رشید کے وزیر یحییٰ بن خالد کے پاس آکر کہنے لگا “میں بحث و مناظرہ کرنا چاہتا ہوں تم کوئی ایسا آدمی لے آو جو مجھ سے بحث کر سکے۔“

یحییٰ: ”تم کسی شیعہ عالم سے بحث کروگے؟

ضرار: ”ہاں میں ہر ایک سے مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔“

یحییٰ نے ہشام بن حکم (امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رشید)کو یہ پیغام بھیجا ،جناب ہشام مناظرہ کے لئے آگئے اور مناظرہ اس طرح شروع ہوا:

ہشام: ”امامت کے سلسلہ میں انسان کی ظاہری صلاحتیں معیار ہیں یا باطنی صلاحیتیں؟“

ضرار: ”ہم تو ظاہری پر ہی حکم لگاتے ہیں کیونکہ کسی کے باطن کو صرف ”وحی“کے ذریعہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔“

ہشام: ”تو نے سچ کہا۔اب یہ بتاو کہ ابو بکر اور حضرت علی علیہ السلام میں ظاہری اور باطنی اعتبار سے کون رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زیادہ ساتھ رہا ،کس نے اسلا م کا زیادہ دفاع کیا اور بڑی بہادری سے اسلام کی راہ میں جہاد کیا،اسلام کے دشمنوں کو نیست ونابود کیا اور ان دونوں میں کون ہے جس کا تمام اسلامی فتوحات میں سب سے زیادہ اہم کرداررہا؟“

ضرار: ”علی علیہ السلام نے بہت جہادکیا اور اسلام کی بڑی خدمت کی لیکن ابو بکر معنوی لحاظ سے ان سے بلند تھے ۔“

ہشام: ”یہ تو باطن کی باتیں کیوں کرنے لگا جبکہ ابھی تونے یہ کہا کہ باطن کی باتیں صرف وحی کے ذریعہ معلوم ہو سکتی ہیں اور ہم نے یہ طے کیا تھا کہ ہم صرف ظاہر کی باتیں کریں گے اور تونے اس اقرار سے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اس بات کا بھی اعتراف کر لیاکہ وہ اور دوسرے لوگوں کے مقابل خلافت کے زیادہ حقدار تھے۔“

ضرار: ”ہاں ظاہر اً تو یہی بات صحیح ہے ۔“

ہشام: ”اگر کسی کا نیک ظاہر ،نیک باطن جیسا ہو تو کیا یہ چیز اس کے افضل اور برتر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی ۔“

ضرار: ”یقیناً یہ چیز انسان کے افضل وبرتر ہونے کی دلیل ہوگی۔“

ہشام: ”کیا تمہیں اس حدیث کے بارے میں معلوم ہے کہ جس کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرمائی اور جسے تمام اسلامی فرقوں نے قبول کیا ہے:

انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا لا نبی بعدی “۔

”اے علی ! تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

ضرار: ”میں اس حدیث کو قبول کرتا ہوں ۔“(اس بات کی طرف توجہ رہے کہ ضرار نے کہا تھا کہ کسی کا باطن صرف وحی کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تمام باتیں وحی الٰہی سے ہوا کرتی تھیں)۔

ہشام: ”کیا یہ صحیح ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی اس طرح کی تعریف اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باطنی طور پر بھی ایسی ہی صلاحیتیوں کے مالک تھے؟ ورنہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تعریف غلط ہو جائے گی۔“

ضرار: ”ہاں یہ اس بات کی دلیل ہے۔یقینا ً حضرت علی علیہ السلام باطنی طور پر بھی ویسی ہی صلاحیتوں کے مالک رہے ہوں گے تب ہی تو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ان کی تعریف کی ۔“

ہشام: ”بس اب اس طرح خود تمہارے قول سے حضرت علی علیہ السلام کی امامت ثابت ہو گئی کیونکہ تم نے خود ہی کہا ہے کہ باطن کی اطلاع وحی کے ذریعہ ممکن ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے آپ کی تعریف کی ہے اور وہ بغیر وحی کے کسی کی تعریف نہیں کرسکتے لہٰذا حضرت علی علیہ السلام دوسرے تمام لوگوں کے مقابل زیادہ خلافت کے حقدار ہوئے۔( ۳۳ )

۳۵۔جناب فضال کا ابو حنیفہ سے دلچسپ مناظرہ

امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا زمانہ تھا ایک دن مسجد کو فہ میں ابو حنیفہ درس دے رہاتھااس وقت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد ”فضال بن حسن “اپنے ایک د وست کے ساتھ ٹہلتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ابو حنیفہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ انھیں درس دے رہے ہیں، فضال نے اپنے دوست سے کہا: ”میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاوں گا جب تک ابو حنیفہ کو مذہب تشیع کی طرف راغب نہ کر لوں۔“

فضال اپنے اس دوست کے ساتھ اس جگہ پہنچے جہاں ابو حنیفہ بیٹھے درس دے رہے تھے، یہ بھی ان کے شاگرد وں کے پاس بیٹھ گئے۔تھوڑی دیرکے بعد فضال نے مناظرہ کے طور پر اس سے چند سوالات کئے۔

فضال: ”اے رہبر !میرا ایک بھائی ہے( ۳۴ ) جو مجھ سے بڑا ہے مگر وہ شیعہ ہے۔حضرت ابوبکر کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے میں جو بھی دلیل لے آتا ہوں وہ رد کردیتا ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے چند ایسے دلائل بتادیں جن کے ذریعہ میں اس پر حضرت ابوبکر ،عمراور عثمان کی فضیلت ثابت کر کے اسے اس بات کا قائل کر دوں کہ یہ تینوں حضرت علی سے افضل وبر تر تھے ۔“

ابو حنیفہ: ”تم اپنے بھائی سے کہنا کہ وہ آخر کیوں حضرت علی کو حضرت ابو بکر ،عمر اور عثمان پر فضیلت دیتا ہے جب کہ یہ تینوں حضرات ہر جگہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت میں رہتے تھے اور آنحضرت ،حضرت علی علیہ السلام کو جنگ میں بھیج دیتے تھے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ان تینوں کو زیادہ چاہتے تھے اسی لئے ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے انھیں جنگ میں نہ بھیج کر حضرت علی علیہ السلام کو بھیج دیا کرتے تھے ۔“

فضال: ”اتفاق سے یہی بات میں نے اپنے بھائی سے کہی تھی تو اس نے جواب دیا کہ قرآن کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام چونکہ جہاد میں شرکت کرتے تھے اس لئے وہ ان تینوں سے افضل ہوئے کیونکہ قرآن مجید میں خدا کاخود فرمان ہے:

( وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجَاهِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ اٴَجْرًا عَظِیمًا )( ۳۵ )

”خدا وند عالم نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے“۔

ابو حنیفہ: ”اچھا ٹھیک ہے تم اپنے بھائی سے یہ کہو کہ وہ کیسے حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل وبرتر سمجھتا ہے جب کہ یہ دونوں آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میںدفن ہیںاورحضرت علی علیہ السلام کا مرقد رسول سے بہت دور ہے ۔رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میں دفن ہونا ایک بہت بڑا افتخار ہے یہی بات ان کے افضل اور بر تر ہونے کے لئے کافی ہے ۔“

فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی اپنے بھائی سے یہی دلیل بیان کی تھی مگر اس نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا وند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( لاَتَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ اٴَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ )( ۳۶ )

”رسول کے گھر میں بغیر ان کی اجازت کے داخل نہ ہو“۔

یہ بات واضح ہے کہ رسو ل خدا کا گھر خود ان کی ملکیت تھا اس طرح وہ قبر بھی خود رسول خدا کی ملکیت تھی اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے انھیںا س طرح کی کوئی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ان کے ورثاء نے اس طرح کی کوئی اجازت دی۔“

ابو حنیفہ: ”اپنی بھائی سے کہو کہ عائشہ اور حفصہ دونوں کا مہر رسول پر باقی تھا، ان دونوں نے اس کی جگہ رسو ل خدا کے گھر کا وہ حصہ اپنے باپ کو بخش دیا۔

فضال: ”اتفاق سے یہ دلیل بھی میں نے اپنے بھائی سے بیان کی تھی تو اس نے جواب میں کہا کہ خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرما تا ہے۔

( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ إِنَّا اٴَحْلَلْنَا لَکَ اٴَزْوَاجَکَ اللاَّتِی آتَیْتَ اٴُجُورَهُنّ )( ۳۷ )

”اے نبی!ہم نے تمہارے لئے تمہاری ان ازواج کو حلال کیا ہے جن کی اجرتیں (مہر)تم نے ادا کر دی“۔

اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اپنی زندگی میں ہی ان کا مہر ادا کر دیا تھا“۔

ابو حنیفہ: ”اپنے بھائی سے کہو کہ عائشہ حفصہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بیویاں تھیں انھوں نے ارث کے طور پر ملنے والی جگہ اپنے باپ کو بخش دی لہٰذا وہ وہاں دفن ہوئے“۔

فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی یہ دلیل بیان کی تھی مگر میرے بھائی نے کہا کہ تم اہل سنت تو اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ پیغمبر وفات کے بعد کوئی چیز بطور وراثت نہیں چھوڑتا اور اسی بنا پر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو تم لوگوں نے فدک سے بھی محروم کردیا اور اس کے علاوہ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ خداکے نبی وفات کے وقت ارث چھوڑتے ہیں تب یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ جب رسول صلی الله علیه و آله وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔( ۳۸ ) اور وہ بھی ارث کی حقدار تھیں اب وراثت کے قانون کے لحاظ سے گھرکا آٹھواں کاحصہ ان تمام بیویوں کا حق بنتا تھا اب اگر اس حصہ کو نو بیویو ں کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ہر بیوی کے حصے میں ایک بالشت زمین سے زیادہ نہیں کچھ نہیں آئے گا ایک آدمی کی قد وقامت کی بات ہی نہیں“۔

ابو حنیفہ یہ بات سن کر حیران ہو گئے اور غصہ میں آکر اپنے شاگردوں سے کہنے لگے:

”اسے باہر نکالو یہ خود رافضی ہے اس کا کوئی بھائی نہیں ہے“۔( ۳۹ )

۳۶۔ایک شجاع عورت کا حجاج سے زبردست مناظرہ

عبد الملک ( اموی سلسلہ کا پانچواں خلیفہ)کی طرف سے تاریخ کا بد ترین مجرم حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر مقررکیا گیا تھا۔اس نے جناب کمیل ،قنبر ،سعید بن جبیرکو قتل کیا تھا کیونکہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت بغض رکھتا تھا۔

اتفاق سے ایک دن ایک نہایت شجاع و دلیر عورت جسے حلیمہ سعدیہ کی بیٹی کہا جاتا تھا اور جس کانام حرہ تھا حجاج کے دربار میں آئی یہ حضرت علی علیہ السلام کی چاہنے والی تھی۔

حجاج اور حرہ کے درمیان ایک نہایت پر معنی اور زبردست مناظر ہ ہوا جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

حجاج: ”حرہ کیا تم حلیمہ سعدیہ کی بیٹی ہو؟

حرہ: ”یہ بے ایمان شخص کی ذہانت ہے (یہ اس بات کی طر ف اشارہ تھا کہ میں حرہ ہوں مگر تونے بے ایما ن ہوتے ہوئے مجھے پہچان کر اپنی ذہانت کا ثبوت دیا ہے )؟

حجاج: ”تجھے خدا نے یہاں لا کر میرے چنگل میں پھنسادیا ہے میں نے سنا ہے کہ تو علی کو ابوبکر و عمر وعثمان سے افضل سمجھتی ہے ؟“

حرہ: ”تجھ سے اس سلسلہ میں جھوٹ کہا گیا ہے کیونکہ ان تینوں کی کیا بات میں حضرت علی علیہ السلام کو جناب آدم،جناب نوح،جناب ابراہیم ،جناب موسیٰ ،جناب عیسیٰ ،جناب داود ،جناب سلیمان علیہم السلام سے افضل سمجھتی ہوں“۔

حجاج: ”تیرا برا ہو، تو علی کو تمام صحابہ سے بر تر جانتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انھیں آٹھ پیغمبروں سے جن میں سے بعض اولوالعزم بھی ہیں افضل وبرتر جانتی ہے اگر تونے اپنے اس دعویٰ کو دلیل سے ثابت نہ کیا تو میں تیری گردن اڑاد وں گا۔“

حرہ: ”یہ میں نہیں کہتی کہ میں علی علیہ السلام کو ان پیغمبروں سے افضل وبر تر جانتی ہوں بلکہ خداوند متعال نے خود انھیں ان تمام پر برتری عطا کی ہے قرآن مجید جناب آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:

( وَعَصیٰ آدمُ رَبَّهُ فَغَویٰ“ ) (۴۰ )

”اور آدم اپنے رب کی نافرمانی کا نتیجہ میں اس کی جزا سے محروم ہو گئے“۔

لیکن خدا وند متعال علی علیہ السلام ،ان کی زوجہ اور ان کے بیٹوں کے بارے میں فرماتا ہے۔

( وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا )( ۴۱ )

”اور تمہاری سعی و کوشش مشکور ہے“۔

حجاج: ”شاباش لیکن یہ بتا کہ تونے حضرت علی علیہ السلام کو نوح و لوط علیہما السلام پر کس دلیل کے ذریعہ فضیلت دی “۔

حرہ: ”خداوند متعال انھیں ان لوگوں سے افضل و بر تر جانتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے:

( ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً لِلَّذِینَ کَفَرُوا اِمْرَاٴَةَ نُوحٍ وَاِمْرَاٴَةَ لُوطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنْ اللهِ شَیْئًا وَقِیلَ ادْخُلاَالنَّارَ مَعَ الدَّاخِلِینَ )( ۴۲ )

”خدانے کافر ہونے والے لوگوں کو نوح و لوط کی بیویوں کی مثالیں دی ہیں۔یہ دونوں ہمارے صالح بندوں کے تحت تھیں مگر ان دونوں نے ان کے ساتھ خیانت کی لہٰذا ان کا ان دونوں سے تعلق انھیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکا اور ان سے کہا گیا کہ جہنم میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاو“۔

لیکن علی علیہ السلام کی زوجہ ،پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں جن کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے اور جن کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔

حجاج: شاباش حرہ! لیکن یہ بتا تو کس دلیل کی بنا پر ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام پر حضرت علی علیہ السلام کو فضیلت دیتی ہے؟

حرہ: ”خدا وند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا:

( رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتَی قَالَ اٴَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِیَطْمَئِن قَلْبِي )( ۴۳ )

”ابراہیم نے کہا پالنے والے! تو مجھے یہ دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرتا ہے تو خدا نے کہا کیا تمہارا اس پر ایمان نہیں ہے تو انھوں نے کہا کیوں نہیں مگر میں اطمینان قلب چاہتا ہوں“۔

لیکن میرے مولا علی علیہ السلام ا س حد تک یقین کے درجہ پر فائز تھے کہ آپ نے فرمایا:

لوکشف الغطا ء ماازددت یقینا “۔

”اگر تمام پردے میرے سامنے سے ہٹا دئے جائیں تو بھی میرے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔“

اور اس طرح نہ پہلے کسی نے کہا تھا اور نہ اب کوئی ایسا کہہ سکتا ہے ۔“

حجاج: ”شاباش لیکن تو کس دلیل سے حضرت علی کو جناب موسیٰ کلیم اللہ پر فضیلت دیتے ہے؟“۔

حرہ: ”خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا یَتَرَقَّبُ )( ۴۴ )

”وہ وہاں سے ڈرتے ہوئے (کسی بھی حادثہ کی)تو قع میں (مصر)سے باہر نکلے“۔

لیکن حضرت علی علیہ السلام کسی سے نہیں ڈرے، شب ہجرت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بستر پر آرام سے سوئے اور خدا نے ان کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی:

( وَ مِنْ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ )( ۴۵ )

”اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے نفس کو اللہ کی رضا کے لئے بیچ دیتے ہیں“۔

حجاج: ”شاباش لیکن اب یہ بتا کہ داود علیہ السلام پر علی کو کس دلیل سے فضیلت حاصل ہے ؟“

حرہ: ”خداوند متعال جناب دادو علیہ السلام کے سلسلہ میں فرماتا ہے:

( یَادَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِی الْاٴَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَتَتَّبِعْ الْهَوَی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ )( ۴۶ )

”اے دادو! ہم نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنا یا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق سے فیصلے کرو اور اپنی خواہشات کو پیروی نہ کرو کہ اس طرح تم راہ خدا سے بھٹک جاو گے“۔

حجاج: ”جناب داود کی قضاوت کس سلسلے میں تھی؟”

حرہ: ”دو آدمیوں کے بارے میں کہ ان میں سے ایک بھیڑ وں کا مالک تھا اور دوسرا کسان، اس بھیڑ کے مالک کی بھیڑوں نے اس کے کھیت میں جاکر اس میں کھیتی چرلی، اور اس کی زراعت کو تباہ و برباد کردیا، یہ دونوں آدمی فیصلہ کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئے اور اپنی شکایت سنائی، حضرت داؤد نے فرمایا: بھیڑکے مالک کو اپنی تمام بھیڑوں کو بیچ کر اس کا پیسہ کسان کو دے دینا چاہئے تاکہ وہ ان پیسوں سے کھیتی کرے اور اس کا کھیت پہلے کی طرح ہو جائے لیکن جناب سلیمان نے اپنے والد سے کہا۔”آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ بھیڑوں کا مالک کسان کو دودھ اور اون دےدے تاکہ اس کے ذریعہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے“۔

اس سلسلہ میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ”ففہمنا سلیمان“( ۴۷ )

” ہم نے حکم (حقیقی) سلیمان کو سمجھا دیا“۔

لیکن حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

سلونی قبل ان تفقدونی “۔

”مجھ سے سوال کرلو قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو“۔

جنگ خیبر کی فتح کے دن جب حضرت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خد مت میں تشریف لے آئے تو آنحضرت نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:

اٴفضلکم و اٴعلمکم و اٴقضاکم علي “۔

”تم میں سے افضل اور سب اچھا فیصلہ کرنے والے علی ہیں“۔

حجاج: ”شاباش لیکن اب یہ بتاو کہ کس دلیل سے علی جناب سلیمان علیہ السلام سے افضل ہیں‘۔

( ۱) حرہ: ”قرآن میں جنا ب سلیمان کا یہ قول نقل ہوا ہے:

( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَهَبْ لِی مُلْکاً لاَیَنْبَغِی لِاٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِی )( ۴۸ )

” پالنے والے! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا کردے جو میرے بعد کسی کے لئے شائستہ نہ ہو“۔

لیکن میرے مولا علی علیہ السلام نے دنیا کو تین طلاق دی ہے جس کے بعد آیت نازل ہوئی:

( تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَیُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ )( ۴۹ )

”وہ آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے ہم قرار دیتے ہیں جو زمین پر بلندی اور فساد کو دوست نہیں رکھتے اور عاقبت تو متقین کے لئے ہے“۔

حجاج: ”شاباش اے حرہ اب یہ بتا کہ تو کیوں حضرت علی کو جنا ب عیسیٰ علیہ السلام سے افضل و برتر جانتی ہے؟“

حرہ: ”خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا:

وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَهَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ إِنْ کُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ # مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِهِ( ۵۰ )

”اور جب (روز قیامت) خدا کہے گا: اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا قرار دو، تو وہ کہیں گے تو پاک وپاکیزہ ہے میں کیسے ایسی بات کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے کہا ہوتا تو تو ضرور جان لیتا تو جانتا ہے میرے نفس میں کیا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ تیرے نفس میں کیا ہے تو عالم الغیب ہے میں نے ان سے صرف وہی کیا ہے جو تونے مجھے حکم دیا تھا“۔

اسی طرح جناب عیسی ٰ کی عباد ت کرنے والوں کا فیصلہ قیامت کے دن کے لئے ٹال دیا گیا مگر نصیروں نے حضرت علی علیہ السلام کی عبادت شروع کر دی تو آپ نے انھیں فوراً قتل کردیا اور ان کے عذاب و فیصلہ کو قیامت کے لئے نہیں چھوڑا ۔“

حجاج: ”اے حرہ! تو قابل تعریف ہے تو نے اپنے جواب میں نہایت اچھے دلائل پیش کئے اگر تو آج اپنے تمام دعووں میں سچی ثابت نہ ہوتی تو میں تیری گردن اڑادیتا ۔“

اس کے بعد حجاج نے حرہ کو انعام دیکر باعزت رخصت کردیا۔( ۵۱ )

۳۷۔ ابو الہذیل سے ایک گمنام شخص کا عجیب مناظرہ

ابو الہذیل اہل سنت کا ایک بہت ہی مشہور ومعروف عراقی عالم کہتا ہے کہ میں ایک سفر کے دوران جب شہر ”رقہ“(شام کا ایک شہر)میں وارد ہوا تو وہاں میں نے سنا کہ ایک دیوانہ بہت ہی خوش گفتار شخص ”معبدز کی“ میں رہتا ہے۔( ۵۲ )

میں جب اس کے دیدار کے لئے معبد گیا تو میں نے وہاں ایک نہایت خوبصورت اور چھی قدو قامت کا ایک بوڑھا شخص بوریہ پر بیٹھا ہوا دیکھا جو اپنے بالوں اور ڈاڑھی میں کنگھی کر رہا تھا میں نے داخل ہوتے ہی اسے سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اس کے بعد ہمارے درمیان اس طرح گفتگو ہوئی۔

گمنام شخص: ”تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟

ابو الہذیل: ”عراق کا رہنے والا ہوں۔“

گمنام شخص: ”اچھا یعنی تم بہت ماہر ہو اور زندگی کے آداب واطوار سے بخوبی آشنا ہو ااچھا یہ بتاو کہ تم عراق کے کس علاقہ سے تعلق رکھتے ہو؟“۔

ابو الہذیل: ”بصرہ سے“۔

گمنام شخص: ”بس علم وعمل سے آشنا ہو، تمہار نام کیا ہے ؟“

ابو الہذیل: ”مجھے ابو الہذیل علاف کہتے ہیں“۔

گمنام شخص: ”وہی جو بہت ہی مشہور کلامی ہے ؟“

ابو الہذیل: ”ہاں“۔

یہ سن کر اس نے ایک فرش کی طرف اشارہ کیا اور تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد اس نے مجھ سے سوال کیا: ”امامت کے بارے میں تیرا کیا نظریہ ہے؟“

ابو الہذیل: ”تیری مراد کون سی امامت ہے؟“

گمنام شخص: ”میری مرا د یہ ہے کہ تونے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد ان کے جانشین کے طور پر کسے دوسرے لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے خلیفہ تسلیم کیا ہے ؟“

ابو الہذیل: ”اسی کو جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ترجیح دی“۔

گمنام شخص: ”وہ کون ہے ؟“

ابو الہذیل: ”وہ ابو بکر ہیں“۔

گمنام شخص: ”تم نے انھیں کیوں مقدم جانا؟“

ابو الہذیل: ”کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے: ” لوگوں میں سب سے اچھے شخص کو مقدم رکھو اور اسے اپنا رہبر سمجھو“۔تمام لوگ ابو بکر کو مقدم سمجھنے کے لئے راضی ہوئے ہیں“۔

گمنام شخص: ”اے ابو الہذیل ! یہاں تونے خطا کی ہے۔کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے: ”اپنے میں سب سے اچھے شخص کو مقدم رکھو اور اسی کو اپنا رہبر جانو“، میرا اعتراض یہ ہے کہ خود ابو بکر نے منبر سے کہا: ”ولیتکم و لست بخیرکم،میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں“۔اگر لوگ ابو بکر کے جھوٹ کو بہتر سمجھتے ہیں اور انھیں اپنا رہبر بناتے ہیں تو گویا سب کے سب رسول اسلام کے قول کے مخالفت کر رہے ہیں اور اگر خود ابو بکر جھوٹ کہتے ہیں کہ ”میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں“، تو جھوٹ بولنے والے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ منبر رسول پر جائے اور تم نے جو یہ کہا تھا کہ ابو بکر کی رہبری پر سب راضی تھے تو یہ اس وقت درست ہوگا جب انصار ومہاجرین نے ایک دوسرے سے یہ نہ کہا ہوتا کہ “ایک امیر ہمارے قبیلے سے ایک تمہارے قبیلے سے“ لیکن مہاجرین کے درمیان زبیر نے کہا کہ میں علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کے ہا تھ پر بیعت نہیں کروں گا ان کی تلوار کو توڑ دیا گیا اور ابو سفیان نے حضرت علی علیہ السلام کے پا س آکر کہا ”اگر آپ علیہ السلام چاہیں تو مدینے کی گلیوں کو پیادہ اور سوار فوجیوں سے بھر دوں“۔جناب سلمان نے بھی باہر آکر کہا ”انھوں نے کیا اور نہیں بھی کیا انھیں معلوم ہی نہیں کہ کیا کیا“۔ ابوبکر کی بیعت کے سلسلہ میں خلاف اصول کام ہوا ،اسی طرح جناب مقداد اور ابوذر نے بھی اعتراض کیا ان سب سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ سب لوگ ابو بکر کی خلافت سے راضی نہیں تھے۔

اے ابو الہذیل! میں تجھ سے چند سوالات کرنا چاہتاہوں تو مجھے اس کا جواب دے“۔

۱ ۔مجھے بتا کیا یہ درست نہیں ہے کہ ابو بکر نے بالائے منبر یہ اعلان کیا:

ان لي شیطاناً یعترینی، فاذا رائیتمونی مغبضاً فاحذرونی “۔

”میرے لئے ایک شیطان ہے جو مجھے بہکادیا کرتا ہے لہٰذا میں غصہ میں رہا کروں تو مجھ سے دور ہو جایا کرو“۔

وہ در اصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ” میں پاگل ہوں“۔لہٰذا تم لوگوںنے آخر کیوں ایسے شخص کو اپنا رہبر معین کر لیا؟“

۲ ۔تویہ بتا کہ جو شخص اس بات کا معتقد ہو کہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے کسی کواپنا جانشین نہیں بنا یا مگر ابو بکر نے عمر کو اپنا جانشین معین کیا جب کہ اس کے بعد عمر نے اپنا جانشین کسی کو نہیں بنایا کیا اس کے اعتقاد میں ایک طرح کا تناقض نہیں پایا جاتا۔تیرے پاس اس کا کیا جواب ہے؟

۳ ۔مجھے یہ بتا جب عمر نے اپنی خلافت کے بعد ایک شوریٰ تشکیل دی تو یہ کیوں کہا کہ یہ چھ کے چھ جنتی ہیں اور اگر ان میں سے دوافراد چار کی مخالفت کریں تو انھیں قتل کر دو اور اگر تین تین افراد آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف رہے اس گروہ کو قتل کردینا۔ ذرا یہ بتا کہ یہ کس طرح صحیح ہوگا اور کہاں کی دیانت داری ہوگی کہ اہل بہشت کو قتل کرنے کا حکم صادر کیا جائے ؟

۴ ۔تو یہ بھی بتا دے کہ ابن عباس اور عمر کی ملاقات اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو تو کس کے عقیدہ کے مطابق سمجھتا ہے ؟

جب عمر بن خطاب زخمی ہونے کی وجہ سے بستر پر تھے اور عبد اللہ ابن عباس ان کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہ بستر پر تڑپ رہے ہیں ، ابن عباس نے پوچھا:کیوں تڑپ رہے ہو؟تو عمر نے کہا“۔میں اپنی تکلیف کی وجہ سے نہیں تڑپ رہا ہوں بلکہ اس لئے تڑپ رہا ہوں کہ میرے بعد رہبری نہ جانے کس کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اس کے بعد ابن عباس اور عمر کے درمیان اس طرح گفتگو ہوئی۔

ابن عباس: ”طلحہ بن عبید اللہ کو لوگوں کا رہبر بنا دو“۔

عمر: ”وہ سخت مزاج ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بارے میں ایسا ہی فرمایا کرتے تھے ،میں اس طرح کے تند خو شخص کے ہاتھ میں رہبری کی مہار نہیں دینا چاہتا“۔

ابن عباس: زبیر بن عوام کو رہبر بنا دو“۔

عمر: وہ کنجوس آدمی ہے میں نے خود اسے دیکھا ہے وہ اپنی بیوی کی مزدوری جو اس کے اُون بننے کی تھی اس کے بارے میں بڑی سختی سے پیش آتا تھا، میں کنجوس کے ہاتھ میں رہبری نہیں دے سکتا“۔

ابن عباس: ”سعد وقاص کو رہبر بنادو“۔

عمر: ”وہ تیر و تلوار اور گھوڑوں سے کام رکھتا ہے، ایسے افراد رہبری کے لئے مناسب نہیں ہوتے“۔

ابن عباس: ”عبد الرحمن بن عوف کو کیوں نہیں رہبر بنا دیتے ؟“

عمر: ”وہ اپنے گھر کو تو چلا نہیں سکتا“۔

ابن عباس: ”اپنے بیٹے عبد اللہ کو بنا دو“۔

عمر: ”نہیں خدا کی قسم نہیں۔جو شخص اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا اس کے حوالہ میں یہ رہبری نہیں کر سکتا“۔

ابن عباس: ”عثما ن کو رہبر بنا دو“۔

عمر: ”خدا کی قسم (تین بار کہا)اگر میں عثمان کو رہبر بنا دوں گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے ”طائفہ معیط“(بنی امیہ کی ایک شق )کو مسلمانوں کی گردن پر سوار کر دیا جس سے مجھے یہ بھی خطرہ ہے کہ لوگ کہیں عثمان کو قتل کر ڈالیں“۔

ابن عباس کہتے ہیں: ”اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور چونکہ حضرت علی علیہ السلام اور عمر کے درمیان عداوت تھی اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا لیکن عمر نے خود مجھ سے کہا: ”اے ابن عباس ! اپنے دوست کانام لو“۔

میں نے کہا: ”تو علی کو خلیفہ بنادو“۔

عمر: نے کہا: خدا کی قسم! میں صرف اس وجہ سے پریشان ہوں کہ میں نے حق کو حقدار سے چھین لیا ہے۔

و الله لئن ولیته لیحملنهم علی المحجة العظمیٰ، و ان یطیعوا یدخلهم الجنة “۔

خدا کی قسم! اگر میں علی علیہ السلام کو لوگوں کا رہبر بنا دوں تو وہ یقینا لوگوں کو شاہراہ حق وہدایت تک پہنچا دیں گے ، اور اگر لوگ ان کی پیروی کریں گے تو وہ انھیں جنت میں داخل کردیں گے“۔

عمر نے یہ سب کچھ کہا ، مگر پھر بھی اپنے بعد خلافت کے مسئلہ کو چھ نفری شوریٰ کے حوالہ کر دیا۔

ابو الہذیل کہتا ہے: ”جب وہ گمنام شخص یہاں تک پہنچا تو اس کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ نظر آنے لگا، (تقیہ کی وجہ سے خود کو دیوانہ بنالیا)، اس کا پورا واقعہ میں نے ساتویں اموی خلیفہ مامون سے بیان کیا ، اس نے اس شخص کو بلوا کر اس کا علاج کر ایا اور اسے اپنا ندیم خاص قرار دیا ، اور وہ اس کی منطقی بات کی وجہ سے شیعہ ہو گیا۔( ۵۳ )

۳۸۔مامو ن کا علماء سے مناظرہ

اہل سنت کے عظیم علماء کے لئے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مامون (عباسی دور کا ساتواں خلیفہ) صدر کی حیثیت سے بیٹھا ہوا تھا اس بزم میں ایک بہت ہی طویل مناظرہ ہوا جس کا ایک حصہ ہم پیش کرتے ہیں۔

اہل سنت کے ایک عالم نے کہا: ”روایت میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر اور عمر کی شان میں فرمایا:

ابوبکر و عمر سید ا کهول اهل الجنة “۔

”ابو بکر اور عمر جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔

مامون نے کہا: ”یہ حدیث غلط ہے۔کیونکہ جنت میں بوڑھوں کا وجود ہی نہیں ہے کیونکہ روایت میں ملتا ہے کہ ایک دن ایک بوڑھی عورت رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گے“۔بوڑھی عورت گریہ وزاری کرنے لگی تو آپ نے فرمایا: ”خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( إِنَّا اٴَنشَاٴْنَاهُنَّ إِنشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ اٴَبْکَارًا عُرُبًا اٴَتْرَابًا )( ۵۴ )

”بے شک ہم نے انھیں بہترین طریقہ سے خلق کیا اور ان سب کو باکرہ قرا ردیا وہ ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے شوہروں سے محبت کرتی ہوں گی خوش گفتار اور ان کی ہم سن سال ہوں گی“۔

اگر تمہارے مطابق ابوبکر و عمر جوان ہوں گے تو جنت میں جائیں گے۔تو کس طرح تم کہتے ہوکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

ان الحسن والحسین سیدا شباب اهل الجنة من الاولین والاخرین وابوهما خیر منهما “۔( ۵۵ )

”حسن اور حسین علیہما السلام جنت کے اول وآخر کے جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والد علی بن ابی طالب علیہما السلام کا مقام ان سے بالاو بر تر ہے“۔

۳۹۔ حدیث رسول کے سلسلہ میں بیٹے کے اعتراض پر ابو دُلف کا جواب

قاسم بن عیسیٰ عجلی جو”ابو دلف“کے نام سے مشہور تھا یہ نہایت باہمت ،سخی ،کشادہ قلب،عظیم شاعر،اپنے خاندان کا سربراہ اور محب علی ابن ابی طالب علیہما السلام تھا۔اس کی وفات ۲۲۰ ھ ق کوہوئی۔

ابو دلف کا ایک بیٹا تھا جس کانام ”دلف“تھا یہ بیٹا بالکل اپنے باپ کے بر عکس بہت ہی بد بخت اور بد زبان تھا۔

ایک روز اس کے بیٹے دلف نے اپنے دوستوں کے درمیان علی علیہ السلام کی محبت و عداوت کے سلسلہ میں بحث چھیڑ دی یہ بحث یہاں تک پہنچی کہ اس کے ایک دوست نے کہا کہ پیغمبر اسلام سے روایت ہے:

یا علی لا یحبک الا مومن تقی ولا یبغضک الاولدُ زنیَّةٍ اٴوحیضة

”اے علی علیہ السلام ! تم سے صرف متقی مومن محبت کرتا ہے اور تم سے وہی دشمنی و عداوت رکھتا ہے جو زنا زادہ ہو یا جس کا نطفہ حالت حیض میں منعقد ہوا ہو“۔

دلف،جو ان تما چیزوں کا منکر تھا اس نے دوست سے کہا میرے باپ ابو دلف کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟آیا کوئی شخص اس بات کی جرائت کر سکتا ہے کہ ان کی بیوی سے زنا کرے“۔

اس کے دوستوں نے کہا: ”نہیں ہر گز نہیں۔ابو دلف کے بارے میں ایسا سوچنا بھی غلط ہے“۔

دلف نے کہا: ”خدا کی قسم میں علی علیہ السلام سے شدید دشمنی رکھتا ہوں (جب کہ میں نہ ولد الزنا ہوں اور نہ ولد حیض)

اسی وقت ابو دلف گھر سے باہر نکل رہا تھا ان کی نظر اپنے بیٹے پر پڑی اور دیکھا کہ وہ چند لوگوں سے گفتگو میں مصروف ہے جب ابو دلف موضوع بحث سے آگا ہ ہو ا تو اس نے کہا۔”خدا کی قسم !دلف زنا زادہ بھی ہے اور ولد حیض بھی۔کیونکہ میں ایک روز بخار میں مبتلا تھا اور اپنے بھائی کے گھر جا کر سو گیا تھا دیکھا کہ ایک کنیز گھر میں وارد ہوئی نفس امارہ مجھے اس کی طرف کھینچ کر لے گیا تو اس نے کہا:

”میں اس وقت حالت حیض میں ہوں“۔

میں نے جماع کے لئے اس کو مجبور کیا نتیجہ میں وہ حاملہ ہو گئی جس سے دلف پیدا ہوا، اس طرح یہ ولد الزنابھی ہے اور ولد حیض بھی۔( ۵۶ )

تمام دوستوں نے یہ سمجھ لیا کہ علی علیہ السلام کی دشمنی دلف کے نطفہ کے وقت سے شروع ہوئی جو آج جڑ پکڑ گئی، جب بنیا د ہی غلط تھی تو عمارت کیوں نہ غلط ہوتی۔

۴۰۔ ایک غیرت مند جوان کا ابو ہریرہ سے دندان شکن مناظرہ

معاویہ نے پیسہ کے ذریعہ کچھ جھوٹے صحابہ اور تابعین کو خرید رکھا تھا تاکہ وہ علی علیہ السلام کے خلاف حدیث گڑھیں ان اصحاب میں سے ابو ہریرہ ،عمر وعاص،مغیرہ بن شعبہ ، اور تابعین سے عروہ بن زبیر وغیرہ شامل تھے۔

ابو ہریرہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفہ آیا اور عجیب مکرو فریب سے اس نے علی علیہ السلام کے بارے میں نامناسب باتیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب کردیں۔

راتوں میں وہ” با ب الکندہ “مسجد کوفہ کے پاس آکر بیٹھ جا تا تھااور لوگوں کو اپنے مکر و فریب سے منحرف کرتا رہتا تھا۔

ایک روز ایک غیور اور دانشور جوان نے اس کے اس حیلہ میں شرکت کی ،تھوڑی دیر تک وہ ابو ہریرہ کی بیہودہ باتیں سنتا رہا اس کے بعد اس نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:“تجھے خدا کی قسم، کیا تونے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کوحضرت علی علیہ السلام کے بارے میں یہ دعا کرتے ہوئے نہیں سنا ہے:

اللهم وال من والاه وعاد من عاداه “۔

خدا یا !”تو اسے دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھتا ہو اور اسے دشمن رکھ جو علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہو“۔

ابو ہریرہ نے جب یہ دیکھا کہ وہ اس واضح حدیث کی تردید نہیں کر سکتا ، تو کہا: ”اللھم نعم“ خدا یا!میں تجھے شاہد وناظر جانتا ہوں ،میں نے یہ سنا ہے۔ غیور نوجوان نے کہا: ”میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ تو دشمن علی کو دوست رکھتا ہے اور دوست علی کو دشمن رکھتا ہے ،اور رسول خد ا صلی الله علیه و آله وسلم کی لعنت کا مستحق ہے“، اس کے بعد یہ نواجوا ن بڑی متانت سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔( ۵۷ )

____________________

(۲۹) سفینة البحار ،ج۱ ص۱۹۳۔

(۳۰) الصراط الستقیم، بحار کی نقل کے مطابق ،ج۸، پرانا ایڈیشن ،ص۱۸۳۔

(۳۱) مجالس المومنین ،ج۲ ،ص۴۱۹،بہجة الآمال،ج۲، ص۴۳۶۔

(۳۲) بہجة الآمال،ج۲،ص۴۳۷۔

(۳۳) فصول المختار، سید مرتضیٰ ج۱،ص۹۔قاموس الرجال ،ج۹ص۳۴۲ سے اقتباس، تھوڑی وضاحت کے ساتھ، ۔

(۳۴) اگرچہ فضال شیعہ تھے اور ان کا کوئی بھائی نہیں تھا ، لیکن وہ اس طریقہ سے مناظرہ کرنا چاہتے تھے۔

(۳۵) سورہ نساء، آیت ۹۷۔

(۳۶) سورہ احزاب، آیت ۵۳۔

(۳۷) سورہ احزاب۔آیت ۴۹۔

(۳۸) جن کے نام یہ ہیں عائشہ ،حفصہ،ام سلمہ،ام حبیبہ ،زینب،میمونہ،صفیہ،جویریہ اور سودہ۔

(۳۹) خزائن نراقی،ص۱۰۹۔

(۴۰) سورہ طہ ، آیت ۱۲۱۔

(۴۱) سور انسان ، آیت ۲۲۔

(۴۲) سورہ تحریم آیت ۱۰۔

(۴۳) سورہ بقر آیت ۲۶۰۔

۴۴) سورہ قصص ، آیت ۲۱۔

(۴۵) سورہ بقرہ آیت ۲۰۷۔

(۴۶) سورہ ص۔آیت ۲۶۔

(۴۷) سورہ انبیاء، آیت ۷۹۔

(۴۸) سورہ ص آیت ۳۵ ۔

(۴۹) سورہ قصص ،آیت ۸۳۔

(۵۰) سورہ مائدہ آیت ۱۱۷۔۱۱۶۔

(۵۱) فضائل ابن شاذان ص۱۲۲۔بحارج۴،ص۱۳۴ سے ۱۳۶ تک۔

(۵۲) وہ درحقیقت ایک ہوشمند دانشور تھا لیکن تقیہ کے طور پر دیوانوں کی طرح زندگی بسر کررہا تھا۔

(۵۳) احتجاج طبرسی ،ج۲،ص۱۵۱ سے ۱۵۴ تک۔

(۵۴) سورہ واقعہ آیت۳۵۔۳۷۔

(۵۵) بحار،ج۴۹ ،ص۱۹۳۔

(۵۶) کشف الیقین علامہ حلی ،ص۱۶۶۔بحار ،ج۳۹ ،ص۲۸۷۔

(۵۷) شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ،ج۴ ص۱۶۳ اور ۶۸۔


۴۱۔ ناروا تہمتوں کا جواب

ایک دوست کاکہنا ہے کہ میں سعودی عرب میں تھا وہاں کی ایک مسجد میں ایک ادھیڑ عمر کا شخص میرے پاس آیاجس کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ یہ شام کا رہنے والا ہے اور اس نے بھی مجھے جان لیا کہ میں شیعہ اثنا عشری ہوں۔

چند سوال و جواب کے بعد اس نے کہا: ”تم شیعہ لوگ نماز کے آخر میں تین مرتبہ کیوں ”خان الامین ،خان الامین ،خان الامین “(جبرئیل نے خیانت کی) کہتے ہو؟“

یہ بات سن کر میں پریشان ہو گیا اور میں نے اس سے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو اور تم یہ اچھی طرح دیکھو کہ میںکس طرح نماز پڑھتا ہوں۔

اس نے کہا: ”ٹھیک ہے تم نماز پڑھو، میں کھڑا ہوں۔میں دو رکعت نماز آخر ی تین مستحبی تکبیروں کے ساتھ بجالایا ،اس کے بعد اس کا نظریہ معلوم کیا تو اس نے کہا: ”تم نے تو ایک ایرانی اور عجم ہوتے ہوئے بھی ہم عربوں سے اچھی نماز پڑھی ہے لیکن ”خان الامین ،خان الامین ،خان الامین “ کیوں نہیں کیا ؟“

میں نے کہا: ”یہ چیزیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے تم جیسے سادہ لوگوں کے دلوں میں ڈالی گئی ہیں اور یہ تہمت ہمارے دشمنوں کی طرف سے لگائی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہے“۔

وضاحت کے طور پر: ”خان الامین “سے ان کا مطلب یہ ہے کہ العیاذ باللہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ فرشتہ وحی جبرئیل امین کو علی علیہ السلام کے پاس قرآن لانا چاہتے تھا لیکن انھوں نے دھوکہ دیا اور آتے آتے راستہ بدل دیا اور قرآن پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں لے آئے اور قرآن آپ کے حوالہ کر دیا۔اسی وجہ سے شیعہ حضرات نماز کے بعد تین مرتبہ ”خان الامین“ (جبرئیل نے خیانت کی )کہتے ہیں۔

کتنی بے انصافی ہے ؟!ارے کون شیعہ ہے جو اس طرح کا عقیدہ رکھتا ہے ؟سچ مچ اگر دنیا کے مسلمان شیعوں کو (جو مسلمانوں کا ایک اٹوٹ حصہ ہے)اس عقیدہ سے پہچاننے لگیں تو کیا وہ کافر کہنے کا حق نہیں رکھتے ہیں ؟!( ۵۸ )

اسی طرح کی دوسری تہمت یہ ہے کہ ہمارے استاد کہتے ہیں کہ حجاز کے ایک درباری ملانے اپنے خطبہ میں اس طرح کہا:

”اگرشیعہ اتحاد کی دعوت دیں تو ان کے قریب نہ جانا وہ ہم سے کسی بھی چیز میں ایک نظریہ نہیں رکھتے،نہ توحید کے بارے میں، نہ صفات خدا، نہ قرآن کے بارے میں اور نہ دوسرے امور میں وہ ہمارے اور عالم اسلام کے لئے بہت ہی خطرناک ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔اس نے یہاں تک کہا کہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ خدا نہ عالم ہے نہ سمیع ہے نہ بصیر بلکہ یہ تمام صفات وہ اپنے امام سے منسوب کرتے ہیں اور جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ لوگ اسے قبول نہیں کرتے ۔۔۔اس سے زیادہ تعجب خیز بات تو یہ تھی کہ اس ملا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تمام باتیں اس نے شیعی کتب سے کہی ہیں !!

اس زر خرید ملا ّسے کہنا چاہئے “اگر تو غرض پر ست نہیں ہے تو ذرا انصاف سے فیصلے کر۔شیعوں کی حقیقی کتابیں ہر جگہ دستیاب ہیں اور شیعوں کا قرآن بھی لاکھوں لوگوں کے پاس موجود ہے اور تفاسیر علماء شیعہ بھی لوگوں کے ہے

تمہارے لئے مناسب ہے کہ ایران کا ایک سفر کر و اورشیعوں کے حوزہائے علمیہ کو قریب سے دیکھ لو تب تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ تمہاری بیہودہ تہمتیں کتنی بے بنیاد ہیں۔

۴۲۔دلائل کے مقابل ایک وہابی عالم کی لاچاری

ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا، مسجد نبی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمقبر منورکے پاس کھڑاہوا تھاکہ ناگاہ ایک ایرانی شیعہ آیا اور مرقد رسول اکرم کے درو دیوار کا بوسہ دینے لگا۔

مسجد کا امام جماعت جو ایک وہابی عالم تھا اس نے ایرانی کو بوسہ دیتے دیکھ کر چلانا شروع کیا ”کیوں ان بے شعور پتھر اور کھڑکی کا بوسہ دیتا ہے اور شرک کا مرتکب ہو تا ہے، یہ دیوار پتھر کی اور کھڑکی لوہے کی ہے، کیوں بے شعور پتھر اور کھڑکی کا بوسہ لیتا ہے؟“( ۵۹ )

اس وہابی اما م جماعت کی چیخ سن کر ایرانی شیعہ کے لئے میرے دل میں محبت پیدا ہوئی میں نے امام جماعت کے سامنے جاکر اس سے کہا: ”درو دیوار کا بوسہ دینا اس بات کی علامت ہے کہ ہم رسول اکرم سے محبت کرتے ہیں جس طرح ایک باپ اپنے چھوٹے بچہ کو محبت کی وجہ سے اس کا بوسہ دیتا ہے (اس کا م میں کسی بھی طرح کا کوئی شرک نہیں ہے)

اس نے کہا: ”نہ یہ شرک ہے“۔

میں نے اس سے کہا: ”آیا قرآن میں سورہ یوسف کی ۹۶ ویں آیت پڑھی ہے جس میں خداوند عالم فرماتا ہے:

( فَلَمَّا اٴَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ اٴَلْقَاهُ عَلَی وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا )

”پس جب بشیر (یوسف کی زندگی کی بشارت لے کر یعقوب کے پاس)آیا اور اس (قمیص)کوان کے چہرے پر ڈال دیا گیا تو ان کی آنکھوں کی بینائی لوٹ آئی“۔

تم سے میرا سوال یہ ہے کہ یہ پیرا ہن تو ایک کپڑا تھا اس کپڑے نے کس طرح جنا ب یعقوب علیہ السلام کی بینائی عطا کی، آیا اس کے علاوہ کوئی اوربات ہے کہ یہ کپڑا جنا ب یوسف علیہ السلام کے پاس رہنے سے ان خصوصیتوں کا مالک ہو گیا تھا؟

وہابی امام جماعت میرے اس سوال کے جواب میں بے بس ہو گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔

سورہ یوسف کی ۹۴ ویں آیت میں بھی آیا ہے۔

جس وقت قافلہ سر زمین مصر سے جدا ہوا (اور کنعان کی طرف روانہ ہوا)تو یعقوب علیہ السلام (کنعان مصر سے تقریباً ۸۰ فرسخ پر واقع ہے )نے کہا: ”انی لاجد ریح یوسف“ میں بوئے یوسف سونگھ رہا ہوں“۔

پتہ چلا اولیا علیہم السلام معنوی طاقت کے مالک ہوتے ہیں اور ان کی اس نامرئی طاقت سے بہرہ مند ہونا نہ صرف یہ کہ شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے کیونکہ ایسے آثار ان کے پاک اور منزہ عقیدہ توحید سے ہی وجود میں آئے ہیں۔

وضاحت: قبور اولیاعلیہم السلام پر ہم دل کی گہرائی سے ان سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں اور انھیں ہم خانہ خدا کے دروازے قرار دیتے ہیں کیونکہ ہماری زبان اس چیز کی صلاحیت نہیں رکھتی کہ بغیر کسی وسیلہ کے خدا سے رابطہ پیدا کر سکیں۔

اس لئے ہم انھیں اپنے اورخدا کے درمیان واسطہ قرا ردیتے ہیں۔

جیسا کہ سورہ یوسف کی آیت ۹۷ میں آیا ہے:

( قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ )

” انھوں نے (یعنی برادران یوسف نے)کہا اے بابا! آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں بے شک ہم گنہگار تھے“۔

اس طرح اولیاء علیہم السلام سے توسل کرنا جائز ہے اور جو لوگ اسے توحید کے خلاف جانتے ہیں وہ یا تو قرآن کی تعلیمات سے آگاہ نہیں ہیں یا انھوں نے اپنے آنکھوں پر تعصب کی عینک چڑھا رکھی ہے۔

ہم سورہ مائدہ کی ۲۵ ویں آیت میں پڑھتے ہیں:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ )

”اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈروا اور اس کے لئے وسیلہ تلاش کرو“۔

اس آیت میں وسیلہ سے مراد صرف انجام واجبات اور ترک محرمات نہیں ہے بلکہ مستحبات منجملہ اولیاء خداعلیہم السلام سے توسل کرنا بھی وسیلہ شمار ہوگا۔

روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ منصور دوانقی (عباسی سلسلہ کا دوسرا خلیفہ )نے مفتی اعظم(مالک بن انس مذہب مالکی کے بانی )سے پوچھا ”حرم پیغمبر میں آیا روبہ قبلہ کھڑے ہوکر دعا مانگو ں یا روبہ پیغمبر ؟

مالک نے جواب میں کہا:

لم تصرف وجهک عنه وهو وسیلتک و وسیلة اٴبیک آدم علیه السلام یوم القیامة بل استقبله واستشفع به فیشفعک الله ،قال الله تعالیٰ ،ولوانهم اذ ظلموا انفسهم

”تو کیوں اپنا چہرہ ادھر سے گھمانا چاہتا ہے جب کہ وہ تیرے وسیلہ ہیںقیامت تک کے لئے تیرے باپ آدم علیہ السلام کے وسیلہ ہیں بلکہ ان کی طرف رخ کر کے دعا مانگ اور ان سے شفاعت طلب کر تو اللہ تیری شفاعت کرے گا“۔

خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا ہے:

( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَهُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا )( ۶۰ )

”اور اگر وہ ظلم کرنے کے بعد تمہارے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت کرتے اور رسول اکرم بھی ان کے لئے مغفرت کرتے تو وہ یقینا خدا کو تواب ورحیم پاتے“۔( ۶۱ )

شیعہ اور سنی روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ تو بہ کے وقت حضرت آدم علیہ السلام نے خانہ خدا میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کو واسطہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا:

اللهم اسئلک بحق محمد الاغفرت لی “۔( ۶۲ )

”خدا یا ! تجھے محمد کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں کہ تو مجھے بخش دے“۔

اس بات کی تائید میں کہ اولیائے خدا علیہم السلام کی قبروں کا بوسہ دینا شرک نہیں ہے ،مندرجہ ذیل اہل سنت کی تین احادیث پر توجہ فرمائیں:

۱ ۔ایک شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں آکر پوچھا: ”اے رسول خدا میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جنت کے دروازے اور حورالعین کی پیشانی کا بوسہ دوں، اب میں کیا کروں ؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”ماں کا پیر اور باپ کی پیشانی کا بوسہ دو(یعنی اگر ایسا کروگے تو اپنی آرزو حورعین کی پیشانی کا بوسہ دینا اور جنت کے دروازے کا بوسہ دینے تک پہنچ سکتے ہو)

اس نے پوچھا: ”اگر ماں باپ مر گئے ہوں تو کیا کروں ؟“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ‘”ان کی قبروں کا بوسہ دو“۔( ۶۳ )

۲ ۔جس وقت جنا ب ابراہیم علیہ السلام، اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے دیدار کے لئے شام سے مکہ آئے تو دیکھا اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں ہیں ابراہیم علیہ السلام واپس چلے گئے جب اسماعیل علیہ السلام اپنے سفر سے واپس آئے تو ان کی زوجہ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی آمد کی اطلاع دی اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کے قدم کی جگہ کو معلوم کر کے احترام کے طور پر قدم کے نشان کا بوسہ دیا۔( ۶۴ )

۳ ۔سفیان ثوری ( اہل سنت کا صوفی)نے امام جعفرصادق علیہ السلام کے پاس آکر عرض کیا: ”کیوں لوگ کعبہ کے پردے کا دامن پکڑتے ہیں جب کہ وہ پردہ بالکل پرانا ہو چکا ہے جو کسی طرح کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے ؟“

امام جعفر صادق علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”یہ اس کام کے مانند ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے بارے میں گناہ کا مرتکب ہوا ہو(مثلاً اس کا حق ضائع کر دیا ہو ) اور اس کے دامن سے چپکے ،لپٹے اور اس کے اطراف اس امید سے گھومے کہ اس کا گناہ معاف کردے گا“۔( ۶۵ )

۴۳۔ایک مرجع کا وہابی پلس سے مناظرہ

آیت اللہ العظمیٰ عبد اللہ شیرازی(علیہ الرحمة ) کتاب ”الاحتجاجات العشرة“ میں فرماتے ہیں: ”ایک روز میں مدینہ میں قبر رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس گیا تو دیکھا کہ حوزہ علمیہ قم کا ایک طالب علم ضریح پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی طرف بڑھا اور اس نے جب دیکھا کہ شرطی (امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے کارکن جو ضریح مقدس کا بوسہ دینے والوں کو روکتے ہیں )اس سے غافل ہے تو اس نے قریب پہنچ کر ضریح مقدس کا کئی بار بوسہ لیا۔

شرطی نے جب دیکھا تو بہت ناراض ہوا اور مجھے دیکھ کر میرے پاس آکر اس نے بڑے احترام سے کہا: ”اے آقا! اپنے چاہنے والوں کو ضریح چومنے سے منع کیوں نہیں کرتے یہ درو دیوار کو جو بوسہ دیتے ہیں یہ لوہے کے علاوہ کچھ بھی نہیں جسے استامبول سے لایا گیا ہے انھیں چومنے سے منع کریں کیونکہ یہ تمام شرک ہے“۔

میں نے کہا: ”تم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہو؟“

شرطی نے کہا: ”ہاں“۔

میں نے کہا: ”پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی قبر پر بھی پتھر ہے اگر اس پتھر کا چومنا شرک ہے تو حجر اسود کا بھی چومنا شرک ہے“۔

اس نے کہا: ”حجر اسود کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چوما ہے“۔

میں نے کہا: ”اگر کسی چیز کا ”تیمناً و تبرکاً“ چومنا شرک ہے تو پیغمبر اور غیر پیغمبر میں کوئی فرق نہیں ہے“۔

اس نے کہا: ” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اس لئے چوما کہ وہ جنت سے آیا ہے“۔

میں نے کہا: ”ہاں حجر اسود جنت سے لایا گیا ہے اس لئے وہ محترم ومقدس ہو گیا ہے اور اسے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے چوما ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے چوما جائے کیونکہ بہشت کا ایک حصہ ہے“۔

اس نے کہا: ہاں ”یہی وجہ ہے“۔

میں نے کہا: ”بہشت اور اجزاء بہشت کا مقدس اور محترم ہونا وجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے“۔

اس نے کہا: ”ہاں“۔

میں نے کہا: ”جب بہشت اور اجزاء بہشت، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وجود کی وجہ سے مقدس اور محترم ہو جاتے ہیں اور ان کا بوسہ دینا ”تیمناً و تبرکا ً“جائز ہوجاتا ہے تو یہ لوہا(جو قبر پیغمبر اکرم کے اطراف میں لگا ہوا ہے)اگر چہ استامبول سے آیا ہے لیکن قبر پیغمبر میں لگنے کی وجہ سے مقدس اور محترم ہو گیا ہے اس وجہ سے ان کا بھی چومنا جائز ہے“۔

توضیح کے لئے بات آگے بڑھاوں۔ قرآن کی جلدچمڑے سے بنائی جاتی ہے۔کیا یہ چمڑا صحرا اور دریا کی گھاس کھانے والے حیوانوں سے نہیں لیاجاتا ہے جس کا نہ پہلے احترام کر ناضروری تھا اور نہ نجس کرنا حرام تھا لیکن اسی چمڑے سے جلد قرآن بننے سے وہ محترم ہو جاتا ہے اور اس کی توہین کرنا حرام ہے اور ہم اسے بوسہ دیتے ہیں جس طرح صدر اسلام سے اب تک مسلمانوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ جلد قرآن کا چومناجیسے ایک باپ اپنے بیٹے کا بوسہ لیتا ہے،آج تک کسی نہیں کہا کہ یہ شر ک اور حرام ہے، اسی طرح ضریح پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم اور تمام ائمہ علیہم السلام کی ضریحوں کا بوسہ دینا نہ شرک ہے نہ بت پرستی۔

مولف کا قول: لیلیٰ ومجنوں کی تاریخ حیات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ لیلیٰ کے محلہ کا ایک کتا مجنوں کے محلہ تک پہنچ گیا مجنوں نے جب اسے دیکھا تو اسے اپنی آغوش میں لے کر بوسہ دینے لگا ، ایک شخص نے اس سے کہا: ”لیس علی المجنون حرج“مجنوں کے لئے یہ کوئی حرج نہیں ہے یعنی تم دیوانہ ہو اس لئے کتے کا بوسہ دینے پر میں کوئی اعتراض نہیں کروں گا۔

مجنوں نے جواب میں کہا: ”لیس علی الاعمیٰ حرج“اندھے کے لئے کوئی بات نہیں ہے ، یعنی تم اندھے ہو اور تم ہمارے اس بوسہ لینے کو درک نہیں کر سکتے ہو“۔

یہ قطعہ بھی مجنوں کے لئے منسوب ہے:

اٴمر علی الدیار دیار لیلی اُقبل ذالجدارو ذالجدار

وما حب الدیار شغفن قلبي ولکن حب من سکن الدیار

”میں لیلیٰ کے گھر کی طرف سے گزرتا ہوں تو اس کے درودیوار کو چومتا ہوں۔ اس گھر کی محبت نے مجھے پاگل نہیں کیا بلکہ اس کی محبت نے مجھے دیوانہ بنا دیا جو اس گھر میں رہتا ہے“۔( ۶۶ )

علی بن میثم کے چند دلچسپ مناظرے

اشارہ:

تاریخ شیعہ کے ایک جید اور زبردست متکلم جنا ب میثم تمار کے پوتے جن کا نام علی ابن اسماعیل بن شعیب بن میثم تھا لیکن انھیں علی بن میثم کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ امام رضا علیہ السلام کے صحابیوں میں سے تھے اوراپنے مخالف سے بحث ومناظرہ کرنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔

ہم یہاں پر نمونہ کے طور پر ان کے چند مناظرے تحریر کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

۴۴۔علی بن میثم کاایک عیسائی سے مناظرہ

ایک روز آپ نے ایک عیسائی سے اس طرح مناظرہ کیا:

علی بن میثم: ” تم لوگوں نے اپنی گردن میںصلیب کی شکل کیوں لٹکا رکھی ہے “؟

عیسائی: ”کیونکہ یہ شکل اس چیز سے شباہت رکھتی ہے جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لٹکا کر پھانسی دی گئی تھی“۔

علی بن میثم: ”کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود اس طرح کی چیز کا اپنی گردن میں لٹکا نا پسند کریں گے ؟“

عیسائی: ”ہر گز نہیں“۔

علی بن میثم: ”کیوں؟“۔

عیسائی: ”کیونکہ وہ جس چیز پر قتل کئے گئے ہیں اس کو ہر گز نہیں پسند کریں گے“۔

علی بن میثم: ”مجھے یہ بتاو کہ کیا جناب عیسیٰ علیہ السلام اپنے کاموں کے لئے گدھے پر سوار ہوتے تھے ؟“۔

عیسائی: ”ہاں“۔

علی بن میثم: ”کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ا س چیز کو پسند کرتے کہ وہ گدھا باقی رہے اور ان کی ضرورت کے وقت انھیں ان کی منزل مقصود تک لے جائے؟“

عیسائی: ”ہاں“۔

علی بن میثم: ”تم نے اس چیز کو تر ک کر دیا جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چاہتے تھے کہ باقی رہے اور جس چیز کو وہ پسند نہیں کرتے تھے تم لوگوں نے اسے باقی رکھا ہے اور اسے اپنی گردن میں لٹکا رکھا ہے جب کہ تمہارے نظریہ کے مطابق تو تمہارے لئے بہتر یہ تھا کہ گدھے کی شکل کی کوئی چیز گردن میں لٹکاتے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے باقی رکھنا چاہتے تھے، تم صلیب کو دور پھینکو ورنہ اس سے تمہاری جہل و نادانی ثابت ہوگی“۔( ۶۷ )

۴۵۔ علی بن میثم کا ایک منکر خدا سے بہترین مناظرہ

ایک روز علی بن اسماعیل مامون کے وزیرحسن بن سہل کے پا س گئے تو دیکھا ایک ہواو ہوس پرست منکر خدا لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہے اور وزیر مامون اس کا بہت احترام کر رہا ہے اور دیگر تما م بڑے بڑے اور عظیم دانشور حضرات اس کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ منکر خدا بڑی گستاخی کے ساتھ اپنے مذہب کی حقانیت کے بارے میں باتیں کر رہا ہے۔

علی بن میثم یہ دیکھ کر ٹھہر گئے اور اپنے مناظرہ کی شروعات کی۔

علی بن میثم نے حسن بن سہل سے اس طرح کہا: ”اے وزیر! آج میں نے تمہارے گھر کے باہر ایک بہت ہی عجیب چیز دیکھی ہے ؟

وزیر: ”کیا دیکھا ؟“

علی بن میثم : ”دیکھا کہ ایک کشتی بغیر کسی ناخدا اور رسی کے ادھر سے ادھر چل رہی ہے“۔

اس وقت وہ منکر خدا جو وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے وزیر سے کہا: ”یہ (علی بن میثم)دیوانہ ہے کیونکہ عجیب الٹی سیدھی بات کرتا ہے“۔

علی بن میثم: ”نہیں صحیح بات کر رہاہوں میں دیوانہ کیوں ہونے لگا؟“

منکر خدا: ”لکڑی سے بنی کشتی بغیر ناخدا کے کیسے ادھر سے ادھر جائے گی؟“

علی بن میثم: ”یہ میری بات تعجب آور ہے یا تمہاری کہ یہ عالم ہستی جو عقل وجان رکھتی ہے یہ مختلف گھاس اور دیگر نباتات جو زمین سے اگتے ہیں، یہ باران رحمت جو زمین پر نازل ہوتی ہے تیرے عقیدہ کے مطابق بغیر کسی خالق و مدبر کے ہے جب کہ تو ایک چھوٹی سی چیز کے لئے کہتا ہے کہ بغیر کسی ناخدا اور راہنما کے ادھر سے ادھر نہیں چل سکتی؟“

یہ منکر خدا علی بن میثم کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور سمجھ گیا کہ یہ کشتی والی مثال صرف مجھے شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔( ۶۸ )

۴۶۔ علی بن میثم کاابو الہذیل سے مناظرہ

ایک روز علی بن میثم نے ابو الہذیل سے پوچھا: ”کیا یہ صحیح ہے کہ ابلیس نوع انسان کو ہر نیکی سے روکتا ہے اور ہر بدی کا حکم دیتا ہے ؟“

ابو الہذیل: ”ہاں یہ صحیح ہے“۔

علی بن میثم: ”چونکہ نیک کام کو نہیں پہچانتا لہٰذا اس کے انجام دینے سے لوگوں کو منع کرتا ہے یا برائی کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس کو نہیں جانتا“۔

ابو الہذیل: ”نہیں بلکہ وہ جانتا ہے“۔

علی بن میثم: ”یعنی یہ ثابت ہے کہ ابلیس ہر نیکی اور ہر بدی کو جانتا ہے“۔

ابو الہذیل: ”ہاں“۔

علی بن میثم: ”مجھے یہ بتاو کہ رسو ل خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد تمہارا امام کون تھا؟کیا وہ تمام نیکی اور بدی کو جانتا تھا یا نہیں؟“

ابو الہذیل: ”نہیں تمام نیکی اور بدی کو نہیں جانتا تھا“۔

علی بن میثم: ”بس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابلیس تمہارے امام سے زیادہ عقلمند اور عالم ہے“۔

ابو الہذیل اس بات کو جواب دینے سے قاصر رہا اور وہ بری طرح پھنس گیا۔( ۶۹ )

ایک روز ابو الہذیل نے علی بن میثم سے پوچھا کہ رسول صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد علی علیہ السلام کی امامت اور حضرت ابو بکر سے افضل ہونے پر کیا دلیل ہے؟

علی بن میثم: ”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد تمام مسلمانوں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ علی علیہ السلام ایک کامل مومن اور عالم ہیں جب کہ اس وقت ابو بکر کے سلسلہ میں اس طرح کا اجماع نہیں تھا“۔

ابو الہذیل: ”استغفر اللہ ، خدا معاف کرے کس شخص نے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد ابو بکر کے علم وایمان پر اجما ع نہیں کیا تھا؟!“

علی بن میثم: ”میں اور مجھ سے پہلے والے اور حالیہ زمانے میں میرے ساتھی“۔

ابو الہذیل: ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اورتمہارے ہمنواگمراہی کی زندگی گزار رہے ہیں“!۔

علی بن میثم: ”اس طرح کا جواب گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں یعنی تو منطقی جواب نہ دے کر برا بھلا کہہ رہا ہے اور مجھے گمراہ جانتا ہے، تیرا بھی جواب گالی گلوچ ہی ہے“( ۷۰ )

(کیونکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے تو بہتر ہے)۔

۴۷۔ عمر بن عبد العزیز کا مناظرہ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی برتری کا اعلان

عمر بن عبد العزیز (اموی سلسلہ کا آٹھواں خلیفہ )کے دور خلافت میں ایک سنی نے اس طرح قسم کھائی :

ان علیا ًخیر هذه الامة والاامراتی طالق ثلاثا “۔

یقینا علی علیہ السلام اس امت کی بہترین فرد ہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو میری بیوی کوتین طلاق ہو۔

وہ شخص اس بات کا معتقد تھا کہ حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص علی ابن ابی طالب علیہماالسلام ہیں بس اس وجہ سے اس کی طلاق باطل ہے۔

اہل سنت حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ایک نشست میں تین مرتبہ طلاق طلاق کہہ دیا جائے تو طلاق صحیح ہے اس شخص کی بیوی کا باپ اس طلاق کو صحیح جانتا تھا کیونکہ اس کے عقیدہ کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد علی علیہ السلام تمام مسلمانوں سے افضل وبرتر نہیں تھے۔

اس عورت کے شوہر اور اس کے باپ میں بحث ہو گئی۔

شوہر کہتا تھا: ”یہ عورت میری بیوی ہے اور طلاق باطل ہے کیونکہ شرط طلاق علی علیہ السلام کا تمام امت میں برتر نہ ہونا ہے جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ علی علیہ السلام تمام لوگوں سے افضل و برتر ہیں تو طلاق کہاں واقع ہوئی ؟“

باپ کہتا تھا: ”طلاق واقع ہوگئی کیونکہ علی علیہ السلام تما م لوگوں سے افضل و برتر نہیں ہیں نتیجہ میں یہ عورت اپنے شوہر پر حرام ہے“۔

یہ بحث آگے بڑھ گئی اور کچھ لوگ باپ کے طرفدار ہوگئے اور کچھ شوہر کے اور یہ مسئلہ ایک مشکل بن گیا۔

میمون بن مہران نے اس واقعہ کو عمر بن عبد العزیز کے پاس لکھ بھیجا تاکہ وہ اسے حل کرے۔یہ مسئلہ ایک مشکل بن گیا۔

عمر بن عبد العزیزنے ایک نشست بلوائی جس میں بنی ہاشم ،بنی امیہ اور قریش کے چند بزرگوں کو شرکت کی دعوت دی اور ان سے کہا کہ اس مسئلہ کا حل پیش کریں۔

اس جلسہ میں بات چیت تو بہت زیادہ ہوئی، بنی امیہ اس کا جوا ب دینے سے بے بس تھے، اس لئے انھوں نے سکوت اختیار کیا۔

آخر میں بنی ہاشم کے ایک شخص نے کہا:

”طلاق صحیح نہیں ہے کیونکہ علی علیہ السلام تمام امت میں سب سے افضل و برتر ہیں۔اور طلاق کی شرط عدم برتری ہے لہٰذ ا طلاق واقع نہیں ہوئی“۔

اس شخص نے اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے عمر بن عبد العزیزی سے کہا:تجھے خدا کی قسم ہے کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے بیمار پڑنے پر ان کی عیادت کے لئے گئے تھے اور اس وقت علی علیہ السلام کی زوجیت میں تھیں۔

آپ نے فرمایا: ”بیٹی کیا کھانا چاہتی ہو؟“

جنا ب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: ”بابا انگور کھا نے کو دل چاہتا ہے“۔

حالانکہ یہ انگور کا موسم نہیں تھا اور حضرت علی علیہ السلام بھی سفر پر تھے مگر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے یوں دعا کی:

اللهم آتنا به مع اٴفضل اٴمتی عندک منزلة “۔

”پالنے والے ! انگو ر کو میرے پاس اس شخص کے ذریعہ پہنچا جس کی منزلت تیرے نزدیک سب سے زیادہ ہو“۔

ناگاہ علی علیہ السلام نے دق الباب کیا اوراپنے ہاتھوں میں عبا سے ڈھکی ٹوکری کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔

پیغمبر خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”علی علیہ السلام یہ کیا ہے ؟“

علی علیہ السلام نے کہا: ”یہ انگور ہے جس کی فاطمہ الزہرا سلا م اللہ علیہا نے خواہش کی ہے“۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر ،اللہ اکبر،خدایا تو نے جس طرح علی کو اس امت کا بہترین شخص قرا دے کر مجھے خوش کیا اسی طرح ان انگور کو میری بیٹی فاطمہ کے شفا قرار دے“۔

اس کے بعد آپ نے انگور کو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس رکھ دئے اور فرمایا: ”بیٹی اسے بسم اللہ کہہ کر کھاو“۔

ابھی رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر سے باہر نہیں نکلے تھے کہ آپ صحت یاب ہوگئیں۔

عمر بن عبد العزیز نے ہاشم مرد سے کہا: ”سچ کہا اور اچھی طرح بیان کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس حدیث کو میں نے سنا ہے اور کئی جگہ دیکھا ہے اور میں اس کو ماتنا ہوں“۔

اس کے بعد عبد العزیز نے اس عورت کے شوہر سے کہا: ”عورت کا ہاتھ پکڑ اور اپنے گھر لے جا،یہ تیری بیوی ہے اگر اس کا باپ روکے تو مار مار کر اس کا چہرہ بگاڑدے“۔( ۷۱ )

اس طرح اس اہم جلسہ میں عمر بن عبد العزیز (اموی دور کے آٹھویں خلیفہ ) نے قانونی طور پر تمام امت پر امام علی علیہ السلام کی برتری کا اعلان کر ادیا جس کی وجہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وہ عورت اس اہل سنت شخص کی زوجیت میں باقی ہے۔

۴۸۔ مخالف کی رسوائی کے لئے شیخ بہائی کا ایک عجیب مناظرہ

دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کے عالم تشیع کے ایک بہت ہی جلیل القدر عالم دین محمد بن حسین بن عبد الصمد گزرے ہیں جنھیں لوگ ”شیخ بہائی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

شیخ بہائی نے ۱۰۳۱ ھ قمری میں اس دنیا کو خیر آباد کہا، آپ کی قبر امام رضا علیہ السلام کے مرقد مقدس کے جوا ر میں واقع ہے۔

ایک سفر کے دوران آپ کی ملاقات ایک شافعی مذہب عالم دین سے ہوئی ، آپ نے بھی اس کے سامنے اپنے آپ کو شافعی ظاہر کیا۔جب اس شافعی کو یہ معلوم ہوا کہ شیخ بہائی شافعی مسلک ہیں اور مرکز تشیع (ایران) سے آئے ہیں تو اس نے شیخ بہائی سے کہا:

”یہ شیعہ حضرات اپنی باتوں کے اثبات کے لئے کوئی دلیل و شاہد بھی رکھتے ہیں؟

شیخ بہائی نے کہا: ”میرا کبھی کبھی ان سے سامنا ہوا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنے مطلب و مقصد کے ثبوت میں بہت ہی محکم دلائل رکھتے ہیں“۔

شافعی عالم نے کہا: ”اگر ممکن ہوتو ان میں سے کوئی دلیل نقل کرو“۔

شیخ بہائی نے کہا: ”مثلاًوہ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایاہے:

فاطمة بضعة منی من آذاها فقد آذانی و من اغضبها فقد اغضبنی

”فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا“۔( ۷۲ )

اور اس کے چار ہی ورق کے بعد یہ لکھا ہے:

وخرجت فاطمة من الدنیا و هی غاضبة علیهما “۔( ۷۳ )

”فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا اس دنیا سے عمر و ابوبکر سے ناراض رخصت ہوئیں“۔

ان دونوں روایتوں کو جمع کرنے کے بعد اہل سنت کے مطابق ان کا کیا جواب ہو سکتا ہے ؟“

شافعی مذہب فکر میں ڈوب گیا، کیونکہ ان روایتوں پر غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں عادل نہیں تھے اور رہبری کی لیاقت نہیں رکھتے تھے )اور تھوڑے تامل کے بعد ان سے کہنے لگا: ”کبھی کبھی شیعہ جھوٹ بھی بول لیتے ہیں ہوسکتا ہے یہ بھی جھوٹ ہو مجھے کچھ وقت دو تاکہ میں صحیح بخاری کا مطالعہ کرو ں اور اس روایت کے صدق وکذب کا پتہ لگاوں اور سچ ہونے کی صورت میں اس کا جواب بھی معلوم کرلوں“۔

شیخ بہائی کہتے ہیں:

”دوسرے دن جب میں نے اس شافعی کو دیکھا تو میں نے اس سے کہا: ”تمہاری تحقیق کہا ں تک پہنچی ؟“

اس نے کہا: ”وہی ہو جو میں کہتا تھا کہ شیعہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ میں نے ان دونوں روایتوں کو صحیح بخاری میں دیکھالیکن شیعہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان چار ورق کا فاصلہ ہے لیکن میں نے جب گنا تو پانچ ورق کا فاصلہ پایا“!!( ۷۴ )

کتنا بہترین جواب ہے ؟! کتنی بڑی حماقت ہے ! صحیح بخاری میں ان دونوں روایتوںکا موجود ہونا مقصود ہے خواہ وہ پانچ ورق کے فاصلہ پر ہو یا پچاس ورق کے فاصلہ پر ؟!

۴۹۔ سید موصلی سے علامہ حلی کا مناظرہ

آٹھویں صدی ہجری کے اوائل میں شاہ خدا بندہ ،ایل خانیان کا گیارہواں بادشاہ سنی المذہب تھا مگر ۷۰۹ ہجری میں علامہ حلی (شیعوں کے بزرگ دینی مرجع متوفی ۲۶ ۷ ھ) کی زبردست مناظروں کی وجہ سے وہ شیعہ ہوگیا تھا اس نے مذہب جعفری کا قانونی طور پر اعلان کر دیا اور پورے ایران میں اسی وجہ سے شیعہ مذہب رائج ہوا۔

ایک دن اس کے پاس اہل تسنن کے بڑے بڑے علماء بیٹھے ہوئے تھے، علامہ حلی بھی شاہ کی دعوت پر وہاں موجود تھے اس بزم میں شیعہ و سنی کے درمیان مختلف مناظرے ہوئے ان میں ایک مناظرہ یہ بھی تھا:

اہل سنت کے ایک عظیم عالم دین سید موصلی نے علامہ حلی سے کہا: ”پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے علاوہ دوسرے لوگوں (یعنی ائمہ علیہم السلام ) پر صلوات بھیجنے کا کیا جواز ہے ؟“

علامہ حلی نے یہ آیت پڑھ دی:

( وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ الَّذِینَ إِذَا اٴَصَابَتْهُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ اٴُوْلَئِکَ عَلَیْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ )( ۷۵ )

”اور ان صابروں کو بشارت دیں جن کے اوپر جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم خدا کے لئے ہیں اور اسی کی طرف واپس پلٹ کے جائیں گے ان لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے صلوات ورحمت ہو“۔

سید موصلی نے بڑی اعتنائی سے کہا: ”پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے علاوہ اور کن لوگوں (ائمہ معصومین علیہم السلام ) اور کس پر ایسی مصیبت نازل ہوئی کہ وہ صلوات کے مستحق ہوجائیں؟“

علامہ حلی نے فوراً کہا: ”سب سے بڑی مصیبت تو یہ ہے ان کی نسل میں ایک تیرے جیسا آدمی بھی ہے جو منافقوں کو آل رسول پر ترجیح دیتا ہے! “

علامہ کی اس حاضر جوابی پر سارا مجمع ہنس پڑا۔( ۷۶ )

____________________

(۵۸) ”خان الامین “والی تہمت بعض سنی فرقوں میں بہت زیادہ مشہور ہے جب بھی شیعوں پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں تو یہ جملہ ان کی زبانوں پر ہوتاہے۔لہٰذا ڈاکٹر تیجانی سماوی نے اپنی کتاب ”پھر میں ہدایت پاگیا “میں دو جگہ اس تہمت کا ذکر کیا ہے ۔

(۵۹) اس طرح کا اعتراض حضرت امام صادق علیہ السلام کی زندگی میں منکر خدا ابی العوجاء نے بھی کیا تھا کہ کیوں حجر اسود کو بوسہ لیتے ہو، یہ پتھر ہے اور فہم و شعور نہیں رکھتا، جس کے جواب میں ابی العوجاء مسلمان ہوگیا تھا۔

(۶۰) سورہ نساء آیت ۶۴۔

(۶۱) وفاء الوفاء، ج۲، ص۱۳۷۶، الدرر السنیہ، ذینی دحلان، ص۱۰۔

(۶۲) الدر المنثور ،ج۱ص ۵۹۔مستدرک حاکم ،ج۲ ،ص ۶۱۵۔مجمع البیان ج۱،ص۸۹۔

(۶۳) الاعلام ، قطب الدین حنفی، ص۲۴۔

(۶۴) الاعلام قطب الدین حنفی ،ص۲۴۔

(۶۵) انوا ر البہیہ ،امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانحیات کے بیان میں۔

(۶۶) کشکول شیخ بہائی ،ج۱ ص۹۱۔

(۶۷) الفصول المختار، سید مرتضیٰ ،ج۱ ص۳۱۔

(۶۸) الفصول المختار ،سید مرتضیٰ ، ص۴۴۔

(۶۹) الفصول امختار سید مرتضیٰ ،ج۱ ص۵۔بحار ج۱۰، ص۳۷۰۔

(۷۰) مذکورہ حوالہ ،ج۱، ص۴۴۔

(۷۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،احقاق الحق کی نقل کے مطابق ،ج۴،ص۲۹۲ سے لے کر ۲۹۵ تک ۔

(۷۲) صحیح بخار ی، طبع دارالجبل بیروت ج۷ ص۴۷۔

(۷۳) مذکورہ حوالہ، ج۹ ص۱۸۵ ، اور دوسرے مصادر، کتاب”فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ“، ج۳ ، ص۱۹۰ میں دیکھئے ۔

(۷۴) روضات الجنات (شیخ بہاء الدین عاملی کی سوانح حیات کے بیان میں)

(۷۵) سورہ بقرہ آیت۱۵۵ سے ۱۵۷۔

(۷۶) بہجة الامال ، ج۳ ص ۲۳۴ ، شرح من لایحضرہ الفقیہ سے نقل ،مزید وضاحت کے لئے مناظرہ ۷۰ سے رجوع کریں۔


دوسراحصہ و تیسراحصہ

۵۰۔ایک شیعہ عالم کا امر بالمعروف کمیٹی کے صدر سے مناظرہ

ایک شیعہ عالم دین سعودی حکومت کے مرکز امر با لمعروف اور نہی عن منکر میںپہنچ گئے وہاں انھوں نے اس کے سر پرست سے کچھ گفتگو کی جو ایک مناظرہ کی شکل اختیار کر گئی ہم اسے یہاں نقل کر رہے ہیں:

سرپرست: ”رسو ل اکرم صلی الله علیه و آله وسلم دنیا سے چلے گئے اور جو مرجاتا ہے وہ کسی کو نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتا تو تم لوگ قبر رسول سے کیا چاہتے ہو۔؟“

شیعہ عالم دین: ”رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم اگر چہ اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں مگر در حقیقت وہ زندہ ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ )( ۱ )

”اور اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو تم ہرگز مردہ نہ سمجھنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی طرف سے رزق پاتے ہیں“۔

نیز بہت سی روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زندگی میں احترام کرنا واجب تھا اسی طرح مرنے کے بعد بھی احترام کرنا چاہئے“۔

سرپرست: ”اس آیت میں جو زندگی مراد لی گئی ہے کیا وہ ہماری اس زندگی سے مختلف اور اس کے علاوہ کوئی اور زندگی ہے ؟“

شیعہ عالم: ”اس میں کیا حرج ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم رحلت کے بعد ایک دوسری زندگی کے مالک ہوں اور ہماری باتیں سنیں اور اسی عالم میں خدا کے حکم سے ہم پر لطف کریں ہماری مشکلات حل کریں؟ میں تم سے پوچھتا ہوں ”جب تمہارا باپ مر جاتا ہے تو کیا تم اس کی قبر پر نہیں جاتے اور اس کے لئے خداسے مغفرت کی دعا نہیں کرتے ؟“

سرپرست: ”کیوں نہیں ہم جاتے ہیں“۔

شیعہ عالم: میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں نہیں تھا کہ اس طرح ان کی زیارت سے مشرف ہو جاتا لہٰذا اب ان کی قبر کی زیارت کے لئے آیا ہوں“۔

اس سے واضح الفاظ میں یوںکہا جائے:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم اطہر کی وجہ سے قبر کے اطراف کا حصہ یقینا مبارک ہو گیا ہے اگر ہم اس قبر مقدس کی خاک کا بوسہ لیتے ہیں یا اسے تبرک سمجھتے ہیں تو یہ بالکل اس کے مانند ہے کہ جیسے ایک شاگرد یا بیٹا اپنے استاد یا باپ کی محبت کی وجہ سے اس کے پیر کی خاک اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگاتا ہے۔

مولف کا قول: مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب امام خمینی کو ملک بدر کیا گیا تھا تو اس وقت میرے ایک نہایت بزرگ استاد نے کہا تھا: ”میں چاہتاہوں کہ اپنے عمامہ کے تحت الحنک کو امام خمینی کے نعلین سے مس کروں اور اس خاک آلود تحت الحنک کے ساتھ نما ز پڑھوں“۔

اس طرح کی باتیں در اصل شدید محبت اور تعلق کی عکاسی کرتی ہیں ان میں کسی طرح کے کسی شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا قرآن کریم نے اولیائے خداسے توسل کرنا جائز قرار دیتے ہوئے اسے بخشش و مغفرت کا ذریعہ قرار دیا ہے جیسا کہ سورہ نساء کی ۶۴ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں۔

( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَهُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا )

” اور جب انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا تو اگر تمہارے پاس آکر اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو وہ اللہ کو تو اب ورحیم پاتے“۔

۵۱۔علامہ امینی کا قانع کنندہ جواب

علامہ امینی شیعوں کے عظیم عالم دین کتاب ”الغدیر “کے مولفنے اپنے ایک سفر کے دوران ایک جلسہ میں شر کت کی تو وہاں ایک سنی عالم دین نے آپ سے کہا: ”تم شیعہ حضرات علی کے سلسلہ میں غلو کرتے ہو اور انھیں حد سے زیادہ بڑھاتے ہو مثلاً”ید اللہ، عین اللہ “جیسے القاب سے یاد کرتے ہو، صحابہ کی اس حد تک توصیف کرنا غلط ہے“۔

علامہ امینی نے برجستہ جواب دیا:

”اگر عمر بن خطاب نے علی علیہ السلام کو ان القاب سے یاد کیا ہو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ؟“

اس نے کہا: ”حضرت عمر کی بات ہمارے لئے حجت ہے“۔

علامہ امینی نے اسی بزم میں اہل سنت کی ایک کتاب منگوائی وہ کتاب لائی گئی علامہ نے چند ورق پلٹنے کے بعد اس صفحہ کو کھو ل دیا جہا ں یہ عبارت نقل ہوئی تھی:

”ایک شخص خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھا اسی وقت اس نے ایک نامحرم پر غلط نظر ڈالی تو امام علی علیہ السلام نے وہیں اس کے چہرہ پر ایک طمانچہ مارا وہ اپنے چہرہ پر ہاتھ رکھے عمر ابن خطاب کے پاس شکایت کرنے آیااورپورا واقعہ بیان کیا۔

عمر نے اس کے جوا ب میں کہا:

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله “۔

”بے شک خدا کی آنکھ نے دیکھا اور خدا کے ہاتھ نے مارا“۔

سوال کرنے والے نے جب اس حدیث کو دیکھا تو قانع ہو گیا۔

اس طرح کے الفاظ و القاب در اصل احترام و تعظیم کی خاطر ہوا کرتے ہیں مثلاً”روح اللہ“ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ کے روح بھی ہوتی ہے بلکہ یہ ان کی عظمت و بلندی کے بیان کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔

۵۲۔کیا سجدہ گاہ اور پتھر پر سجدہ کرنا شرک ہے؟

ایک مرجع تقلید کہتے ہیں کہ میں ایک روز مسجد نبوی میں نماز صبح انجام دینے کے بعد روضہ مقدس میں بیٹھا ہوا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول تھا۔اسی دوران میں نے دیکھا کہ ایک شیعہ آیا اور روضہ کے بائیں طرف کھڑا ہوکر نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا اس کے قریب ہی دوآدمی مصری روضہ کے ستون سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے جب انھوں نے اس شیعہ کو نماز کے دوران اپنی جیب سے سجدگاہ نکالتے دیکھاتو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”اس عجمی کو دیکھو یہ پتھر پر سجدہ کرنا چاہتا ہے“۔

شیعہ مرد رکوع میں گیا، رکوع کے بعد سجدہ کرنے کے لئے ایک پتھر پر اپنی پیشانی رکھ دی یہ منظر دیکھ کر ان میں سے ایک دوڑتا ہوا اس کی طرف جانے لگا لیکن قبل اس کے وہ وہاں تک پہنچتا میں نے اس کا ہا تھ پکڑ کر کہا: ”تم کیوں ایک مسلمان کی نماز باطل کرنا چاہتے ہو جو اس مقدس جگہ پر نماز ادا کررہا ہے“۔

اس نے کہا: ”وہ پتھر پر سجدہ کرنا چاہتا ہے“۔

میں نے کہا: ”پتھر پر سجدہ کرنے میں کیا اشکال ہے میں بھی پتھر پر سجدہ کرتا ہوں“۔

اس نے کہا: ”کیوں اور کس لئے“۔

میں نے کہا: ”وہ شیعہ ہے اور مذہب جعفری کا پیرو ہے میں بھی مذہب جعفری کا معتقد ہوں کیا جعفر بن محمد امام جعفر صادق علیہ السلام کو پہنچانتے ہو؟“

اس نے کہا: ”ہاں“

میں نے کہا: ”کیا وہ اہل بیت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم میں سے ہیں ؟“

اس نے کہا: ”ہاں“۔

میں نے کہا: ”وہ ہمارے مذہب کے پیشوا ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ فرش اور قالین پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ایسی چیز پر سجدہ کرنا چاہئے جو زمین کے اجز امیں سے ہو“۔

اس سنی شخص نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: ”دین ایک ہے نماز بھی ایک ہے“۔

میں نے کہا: ”ہاں دین ایک ہے نماز ایک ہے تو اہل سنت بھی نماز میں قیام کے وقت مختلف طریقوں سے نماز کیوں ادا کرتے ہیں تمہارے مذہب میں کچھ لوگ ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں اور کچھ ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں دین ایک ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک ہی طریقہ سے نماز ادا کی تھی پھر یہ اختلاف کیوں؟تم کہوگے کہ ابو حنیفہ یا شافعی یا مالک یا احمد بن حنبل نے اس طرح کہا ہے ۔(ہاتھ کے اشارے سے بتایا )

اس نے کہا: ”ہاں ان لوگوں نے اسی طرح کہا ہے“۔

میں نے کہا: ”جعفر بن محمد امام جعفر صادق علیہ السلام ہمارے مذہب کے پیشوا ہیں جن کے لئے تم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ خاندان رسالت سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

اس بات پر بھی توجہ رہے کہ ”اہل البیت ادری بما فی البیت“ گھر والے گھر کی باتیں دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔”لہٰذا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے اہل بیت احکام الٰہی سے دوسروں کے مقابل زیادہ آگاہ ہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کا علم بہر حال ابو حنیفہ سے کئی گنا زیادہ ہے ان کا قول ہے کہ ”زمین کے اجزاء پر سجدہ کرنا چاہئے لہٰذا اون اور روئی پر سجدہ کرنا درست نہیں ہے ہمارے اور تمہارے درمیان اختلاف کی نوعیت بالکل وہی ہے جو خود تمہارے مذہب میں پائے جانے والے مختلف مسالک میں ہاتھ باندھنے اور کھولنے کے سلسلے میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف فروع دین کا اختلاف ہے نہ کہ اصول دین کا اور فروع دین کا اختلاف کسی بھی طرح سے شرک سے تعلق نہیں رکھتا۔

جب میری بات یہاں تک پہنچ گئی تو وہاں بیٹھے ہوئے تمام اہل سنت حضرات نے میری بات کی تصدیق کی اور تب میں نے غصہ میں اس سے (جو شیعہ کی سجدہ گاہ چھیننے کے لئے دوڑا تھا)کہا:

کیا تجھے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے شرم نہیں آتی کہ ایک شخص ان کی قبر کے سامنے نماز پڑھتا ہے اور تو اس کی نماز باطل کررہا ہے جب کہ وہ خود اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھ رہا ہے اور یہ شخص اس مذہب سے تعلق رکھتا ہے جو مذہب یہ صاحب قبر لے کر آیا ہے ؟

( الذین اذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )

وہ (اہل بیت)جن سے (خدا نے) ہر برائی کو دور رکھا اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔

تمام حاضرین نے اس کی لعنت و ملامت کی اور اس سے کہا: ”جب وہ اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھ رہا ہے تو اس سے کیوں لڑائی جھگڑا کرتا ہے “، اور اس نے اس کے بعد سب لوگوں نے مجھ سے معافی مانگی۔( ۲ )

مختصر وضاحت

واقعی وہابیوں اور سنیوں کے علماء کا کام کتنا حیر ت انگیز ہے کہ وہ عوام کو فریب دیتے ہیں اور انھیں یہ بات ذہن نشین کراتے ہیں کہ خاک شفاء پتھر یا لکڑی پر سجدہ کرنا حرام اور شرک ہے میں ان سے پوچھتا ہوں سجدہ خاک شفا،لکڑی پتھر یا فرش اور ٹاٹ پر کرنے میں کیا فرق پایا جاتا ہے ؟تم ٹاٹ اور چٹائی پر سجدہ کرتے ہو اسے شرک نہیں قراردیتے ہو لیکن شیعہ حضرات اگرپتھر اور خاک شفا پر سجدہ کریں تو یہ شرک ہے ؟

کیا جو شخص فرش اور چٹائی پر سجدہ کرتا ہے تو گویا اس کی عبادت کرتا ہے ؟تم لوگ شیعہ حضرات کو شرک کی نسبت دیتے ہو کیا انھیں سجدہ کرتے وقت نہیں دیکھتے کہ سجدہ میں وہ تین بار ”سبحان اللہ“ کہتے ہیں یا ایک بار ”سبحان ربی الاعلیٰ“ (پاک وپاکیزہ ہے وہ ذات)اور اس کی حمد وستائش پر غور نہیں کرتے ؟تم لوگوں کی زبان بھی عربی ہے تمہیں عربی الفاظ سے زیادہ وا قف ہونا چاہئے تمہیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جس پر سجدہ کیا جاتا ہے اور جس کے لئے سجدہ کیا جاتا ہے ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟

اگر ہم کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ ہم اس کی عبادت کرنے لگے ہیں بلکہ سجدہ کی حالت میں ہم نہایت ہی خضوع اور خشوع کے ساتھ اپنے خدا وند متعال کے سامنے سر نیازخم کرتے ہیں، کیا تم نے یہ دیکھا ہے کہ بت پرست اپنے سر کے نیچے بتوں کو رکھ کر ان کا سجدہ کرتے ہوں؟ نہیں بلکہ وہ اپنے بتوں کو اپنے سامنے رکھتے ہیں پھر ان کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر ٹیکتے ہیں، یہاں پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں نہ کہ ان چیزوں کی جس پر وہ اپنی پیشانیوں کورکھتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ پتھر پر سجدہ یا فرش پر سجدہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہے کہ ہم ان کا سجدہ کرتے ہیں بلکہ یہ تمام صرف خداوند عالم کے لئے ہوتے ہیں، ہاں فرق یہ ہے کہ ہمارے مذہب کے پیشوا اور رہبر امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ زمین کی اجزاء (پتھر یا ایسی سجدہ گاہ جو مٹی یا پتھر سے بنی ہو )پر سجدہ کرو لیکن اہل سنت کے مذہب کے رہبر اور پیشوا (مثلاً ابوحنیفہ، امام شافعی وغیر ہ)کہتے ہی کہ اگر فرش پر نماز پڑھ رہے ہو تو اسی پر سجدہ کرو۔

یہاں پر اہل سنت حضرات یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگ فرش پر سجدہ کیوں نہیں کرتے بلکہ خاک یا خاک کی انواع میں سے کسی ایک پر سجدہ کرتے ہو ؟

اس کا جواب یہی ہے: ”رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم فرش پر سجدہ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ریت اور خاک پر سجدہ کیا کرتے تھے اور اس زمانہ کے تمام مسلمان بھی ریت اور مٹی پر سجدہ کرتے تھے آج ہم انھیں کی پیروی میں ریت اور مٹی پر سجدہ کرتے ہیں۔( ۳ )

ہاں بعض روایات کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے لباس پر سجدہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ انس بن مالک سے ایک روایت نقل ہوئی ہے۔

کنا نصلي مع النبی صلی الله علیه و آله و سلم فیضع احدنا طرف الثوب من شدة الحر فی مکان السجود “۔( ۴ )

”ہم لوگ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو بعض لوگ شدید گرمی کی وجہ سے سجدہ کے وقت مقام سجدہ پر اپنے لباس کا دامن رکھ دیا کرتے تھے“۔

اس روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ضرورت کے وقت فرش پر سجدہ کرنے میں کوئی قباحت نہیںہے لیکن آیا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے بھی وقت ضرورت گرمی کی شدت کی وجہ سے فرش پر سجدہ کیا تھایا نہیں۔؟اس طرح کی کوئی روایت اس موضوع پر آپ کے سلسلے میں نہیں پائی جاتی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر زمین کے اجزاء پر سجدہ کرنا شرک ہے تو ہمیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ خدا کے حکم سے فرشتوں کا سجدہ جوان لوگوں نے آدم کے سامنے کیا تھا وہ بھی شر ک ہی تھا یا کعبہ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھنا بھی شرک ہے ،بلکہ ان دونوں موارد پر تو شرک میں خاصی شدت پائی جاتی ہے کیونکہ فرشتوں نے تو جناب آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا تھا نہ کہ حضرت آدم پر اور اس طرح تمام مسلمان بھی کعبہ پر سجدہ نہیں کرتے بلکہ کعبہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔

اس کے باوجود کسی مسلمان نے یہ نہیں کہا کہ جناب آدم علیہ السلام کے سامنے یا کعبہ کی سمت سجدہ کرنا شرک ہے کیونکہ حقیقت سجدہ یعنی نہایت خضوع وخشوع کے ساتھ خداوند متعال کے حکم کے سامنے سر نیاز خم کرنا ہے اسی وجہ سے کعبہ کی سمت سجدہ کرنا خدا کے حکم سے خدا کا سجدہ کرنا ہے اور جناب آدم علیہ السلام کے سامنے بھی جناب آدم کا سجدہ اولا ً توحکم خدا تھا جس کی اطاعت کے لئے فرشتوں نے اپنی پیشانیاں خم کی تھیں دوسرے یہ کہ یہ سجدہ شکر الٰہی کے طور پر تھا اور اس بنیاد پر ہم سجدہ گاہ خاک شفایا لکڑی پر سجدہ تو کرتے ہیں لیکن یہ سجدہ خدا کے حکم کی بجاآوری کے لئے ہے اور ہمارا یہ سجدہ اس چیز پر ہے جو زمین کے اجزاء میں سے ہے جیسا کہ ہمارے مذہب کے راہنما وپیشوا نے فرمایا ہے کہ خدا کے سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کو زمین کے اجزاء میںسے کسی چیز پررکھو۔

۵۳۔امر بالمعروف کمیٹی کے صدر سے ایک شیعہ دانشور کا مناظرہ

ایک شیعہ عالم دین مدینہ میںامر بالمعروف کے رئیس کے پاس اپنے کسی کام سے گیا تو وہاں کمیٹی کے رئیس اور شیعہ عالم دین میں بعض شیعہ امور کے سلسلہ میں اس طرح بحث ہوئی:

رئیس: ”تم لوگ قبر پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے قریب نماز زیارت کس لئے پڑھتے ہو جب کہ غیر خدا کے لئے نماز پڑھنا شرک ہے ؟“

شیعہ مفکر: ”ہم پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے لئے نماز نہیں پڑھتے بلکہ نماز خدا کے لئے پڑھتے ہیں اور اس کا ثواب رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی روح کے لئے ہدیہ کرتے ہیں“۔

رئیس: ”قبروں کے پاس نماز پڑھنا شرک ہے“۔

شیعہ مفکر: ”اگر قبروں کے پاس نماز پڑھنا شرک ہے تو کعبہ میں بھی نماز پڑھنا شرک ہے کیونکہ حجر اسماعیل علیہ السلام میں بھی جناب ہاجرہ ،اسماعیل اور بعض دوسرے پیغمبروں کی قبریں پائی جاتی ہیں، اور یہ بات اہل سنت اور اہل تشیع دونوں سے منقول ہے کہ بعض انبیاء کی قبریں وہاں پر موجود ہیں تمہارے کہنے کے مطابق حجر اسماعیل میں نماز پڑھنا شرک ہے جب کہ تمام مذاہب کے علماء (حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی وغیرہ)سب کے سب حجر اسماعیل میں نماز پڑھتے ہیں۔لہٰذا اس بنا پر قبروں کے قریب نماز پڑھنا شر ک نہیں ہے“۔( ۵ )

اس کمیٹی کے ایک شخص نے کہا: ”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبروں کے پاس نماز پڑھنے سے نہی فرمایا ہے۔

شیعہ مفکر: ”یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر سرار تہمت لگائی گئی ہے اگر قبروں کے پاس نماز پڑھنے سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہی کیا ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے تو لاکھوں اور کروڑوں زائرین کیوں ان کی مخالفت کرتے ہیں اور مسجد نبوی میں آپ کی قبر اور عمر و ابوبکر کی قبروں کے سامنے اس فعل کے مرتکب ہوتے ہیں؟“( ۶ )

اس سلسلہ میں چند روایتیں بھی نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے چند صحابیوں نے قبروں کے قریب نماز پڑھی ہے۔منجملہ صحیح بخاری( ۷ ) میں نقل ہوا ہے کہ عید قربان کے دن آنحضرت نے بقیع میں نماز پڑھی اور اس کے بعد آپ نے فرمایا:

”آج کے دن کی خاص عباد ت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں اور اس کے بعد واپس ہوں اور قربانی کریں اور جس نے اس طرح کیا اس نے گویا میری سنت پر عمل کیا“۔

اس روایت کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے قبروں کے قریب نماز پڑھی ہے لیکن تم لوگوں کو قبروںکے پاس نماز پڑھنے سے روکتے ہو کہ اسلام میں یہ چیز جائزنہیں ہے اگر اسلام سے تمہارا مطلب شریعت محمدی ہے تو صاحب شریعت حضرت محمد صلی الله علیه و آله وسلم نے خود بقیع میں نماز پڑھی ہے ہاں اس بات کی طرف توجہ رہے کہ آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم جب مدینہ میں وارد ہوئے تھے تو اس وقت بقیع قبرستان تھا اور اب بھی ہے۔

اس بنا پر پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے نزدیک اور ان کی پیروی کرنے والوں کے نزدیک قبروں کے پاس نماز پڑھنا جائز ہے۔لیکن تم لوگ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی رائے کے خلاف قبروں کے نزدیک نماز پڑھنے سے منع کرتے ہو۔

اس سلسلہ میں ایک غم انگیز واقعہ

ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی اہل سنت کے ایک ایسے مفکر ہیں جنھوں نے شیعیت اختیار کرلی وہ لکھتے ہیں:

”میں بقیع زیارت کے لئے گیا ہوا تھا اوروہاںکھڑا ہو کر اہل بیت علیہم السلام پر درود پڑ ھ رہا تھا کہ دیکھا ایک بوڑھا ضعیف اور ناتوان شخص رورہا ہے میں نے ا س کے گریہ سے سمجھ لیا کہ وہ شیعہ ہے تھوڑی ہی دیر بعد یہ شخص قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا کہ ناگہاں دیکھا ایک سعودی فوج کا آدمی اس کے پاس دوڑا ہوا آیا جس سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ بہت ہی دیر سے وہ اس شیعہ کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا آتے ہی اس نے اپنی اونچی ایڑی کے جوتے سے اسے اس طرح مارا کہ فوراًہی وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑ ا اور کچھ دیر کے لئے وہ بے ہوش ہو گیا اور اسی بے ہوشی کی حالت میں فوج کا آدمی اسے کچھ دیر تک مارتا اور برا بھلا کہتا رہا۔

اس بوڑھے کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور خیال کیا کہ وہ مر چکا ہے ، میری غیرت جوش میں آئی اور میں نے اس فوجی سے کہا:

”خدا خوش نہیں ہوگا اسے نماز پڑھنے کی حالت میں کیوں مار رہے ہو؟“

اس نے جھلاّ کر مجھ سے کہا: ”خاموش ہو جا ورنہ تیرا بھی یہی حشر ہوگا جو اس کا ہوا ہے“۔

میں نے اسی جگہ بعض زائرین کو دیکھا وہ کہہ رہے تھے۔”وہ جوتے ہی کا مستحق ہے کیونکہ اس نے قبر کے پاس نماز پڑھی ہے“۔

میں نے غصہ میں کہا: ”قبر کے پاس نماز پڑھنا کس نے حرام قرار دیا ہے ؟اور طویل گفتگو کے بعد میں نے کہا:

”اگربالفرض قبر کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے تو نرمی سے منع کرنا چاہئے نہ کہ غصہ سے“۔

میں ایک بادیہ نشین کا واقعہ تمہارے لئے نقل کرتا ہوں۔

پیغمبر اسلام کا زمانہ تھا ایک بے حیا اور بے شرم بادیہ نشین نے آکر پیغمبر اسلام کے سامنے مسجد میں پیشاب کر دیا یہ دیکھ کر ایک صحابی اپنی شمشیر لے کر اسے قتل کرنے کے لئے بڑھا لیکن پیغمبر اسلام نے اسے سختی سے روکا اور کہا: ”اسے اذیت نہ دو ایک بالٹی پانی لا کر اس کے پیشاب پر ڈال دو تاکہ مسجد پا ک ہو جا ئے تم لوگوں کے امور کو آسان کرنے لئے بھیجے گئے ہو نہ کہ اذیت دینے کے لئے(تم میں جاذبیت ہونی چاہئے نہ کہ نفرت)

اصحاب نے پیغمبر کے حکم پر عمل کیا اس کے بعد آنحضرت نے بادیہ نشین کو بلایا اور اپنے قریب بٹھا کر بڑے ہی نرم لہجے میں اس سے کہا: ”یہ خدا کا گھر ہے اسے نجس نہیں کرنا چاہئے“۔

چنانچہ یہ سب دیکھ کر وہ بادیہ نشین اسی وقت مسلمان ہو گیا۔

کیا واقعی حرمین کے خدام کا اسی طرح سلوک ہونا چاہئے جس طرح وہ ایک بوڑھے اور نابینا سے پیش آتے ہیں اور کیا اس طرح اپنے اخلاق کو پیغمبر کا اخلاق کہہ کر لوگوں کے لئے اپنے کو نمونہ قرار ددے سکتے ہیں ؟( ۸ )

۵۴۔مظلومیت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کیوں؟

امر بالمعروف کمیٹی کے ساتھ شیعہ علماء کے چند مناظرے بیان کئے جا چکے اور اب ہم چند دوسرے حصے بیان کر رہے ہیں توجہ فرمائیں۔

رئیس: ”قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس اذکار کے درمیان تم لوگ”السلام علیک ایھا المظلومة“کیوں کہتے ہو(اے مظلومہ تم پر سلام ہو)کس شخص نے فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا پر ظلم کیا ہے؟

شیعہ مفکر: ”فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں غم انگیز ستم کا واقعہ تمہاری کتابوں میں پایا جاتا ہے“۔

رئیس: ”کس کتاب میں؟“

شیعہ مفکر: ”کتاب ”الامامة والسیاسة“کے صفحہ نمبر ۱۳ پر جس کے مولف ابن قتیبہ دینوری ہیں۔

رئیس: ”ہمارے پاس اس طرح کی کوئی کتاب نہیں ہے“۔

شیعہ: ”میں اس کتاب کو دکان سے خرید کر تمہارے لئے لاوں گا“۔

رئیس نے میر ی اس پیش کش کو قبول کر لیا میں بازار جا کر کتاب ”الامامہ والسیاسة“خرید لا یا اور اس کے سامنے ج اول ، ص ۱۹ کھول کر رکھ دیا اور کہا اسے پڑھو اس صفحہ پر اس طرح لکھا ہوا تھا۔

”اس وقت ابو بکر ان لوگوں کی جستجو میں تھا جنھوں نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کیااورعلی علیہ السلام کے گھر میں پناہ لی تھی۔ابو بکر نے عمر کو ان لوگوں کے پاس بھیجا عمر علی علیہ السلام کے گھر کے پا س آکر بلند آواز سے علی علیہ السلام اور ان کے گھر میں جو بھی لوگ تھے انھیں بلایا اور کہا ابو بکر کی بیعت کے لئے گھر سے باہر نکل آو مگر وہ لوگ گھر سے باہر نہیں آئے تو عمر نے آگ لکڑی منگوائی اور کہا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے تم لوگ جلد سے جلد باہر آو ورنہ تم لوگوں کے ساتھ اس گھر کو آگ لگادوں گا۔

عمر کے بعض ساتھیوں نے کہا اس گھر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔

عمر نے کہا: ”ہوا کریں“۔

مجبور ہو کر حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ تمام لوگ گھر سے باہر نکل آئے۔( ۹ )

اسی صفحہ ( ۱۹) کے ذیل میں لکھا ہوا ہے کہ مرتے وقت ابو بکر نے بستر علالت پر کہا:

”کاش علی علیہ السلام کے گھر پر حملہ نہ ہوا ہوتااگر چہ انھوں نے ہم سے اعلان جنگ کیا تھا“۔

یہاں شیعہ نے وہابی رئیس سے کہا: ”ابو بکر کی بات پر خوب توجہ کرو مرتے وقت انھوں نے کس طرح افسوس اور پشیمانی کا اظہار کیا“۔

رئیس اس کتاب کے استدلال سے تلملا اٹھا اور کہنے لگا۔”اس کتاب کا مولف ابن قتیبہ شیعوں کی طرف مائل ہے“۔( ۱۰ )

شیعہ مفکر: ”اگر ابن قتیبہ مذہب تشیع کی طرف مائل ہے تو صحیح مسلم اور صحیح بخاری کے مولفین کے بارے میں کیا کہتے ہو جب کہ دونوں نے روایت کی ہے:

فهجرته فاطمة و لم تکلمه فی ذلک حتی ماتت( ۱۱ )

”حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مرتے وقت ابوبکر سے ناراض تھیں اور نفرت کرتی تھیں یہاں تک کہ دنیا کو خدا حافظ کیا“۔

اس سلسلہ میں صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۵۳ طبع مصر۔صحیح بخاری ج ۵ ص ۱۷۷ طبع الشعب (باب غزوة خبیر) ملاحظہ فرمائیں۔( ۱۲ )

۵۵۔خاک شفا اور سجدہ گاہ پر سجدہ کے بارے میں ایک مناظرہ

مصر کی ”الازہر “یونیور سٹی کے فارغ التحصیل اہل سنت کے یک عالم دین جن کا نام ”شیخ محمد مرعی انطاکی “تھا اور یہ شام کے رہنے والے تھے انھوں نے اپنی بہت ہی عظیم تحقیق کے بعد مذہب تشیع اختیار کر لیا، وہ اپنی کتاب ”لما ذا اخترت مذہب الشیعة“میں اپنے مذہب شیعہ اختیار کرنے کے سلسلہ میں تمام علل واسباب کے مدارک لکھتے ہیں۔

یہاں پر اہل سنت سے ان کا ایک مناظرہ نقل کر رہے ہیں جو خاک شفا پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں ہوا تھا ملاحظہ فرمائیں:

محمد مرعی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے چند اہل سنت ان کے گھر پر ان سے ملاقات کے لئے آئے جن میں ان کے کچھ جامعہ ازہر کے پرانے دوست بھی تھے۔گھر پر گفتگو کے دوران بات چیت یہاں تک پہنچ گئی۔

علماء اہل سنت: ”تمام شیعہ حضرات خاک شفا پر سجدہ کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ مشرک ہیں“۔

محمد مرعی: ”خاک شفا پر سجدہ کرنا شرک نہیںہے کیوںکہ شیعہ خاک شفا پر خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نہ کہ مٹی کا سجدہ کرتے ہیں البتہ تمہارے فکر میں اگر اس میں کوئی چیز ہے اور شیعہ اس کا سجدہ کرتے ہیں تو وہ شرک ہے لیکن شیعہ اپنے معبود خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نتیجہ میں وہ خدا کے سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے ہیں۔اس سے واضح یہ کہ حقیقت سجدہ، خدا کے سامنے خضوع وخشوع کا آخری درجہ ہے نہ کہ خاک شفا کے سامنے خضوع وخشوع ہے۔

ان میں سے ایک حمید نامی شخص نے کہا تمہیں اس چیز کی میں داد دیتا ہوں کہ تم نے بہت ہی اچھا تجزیہ کیا لیکن ہمارے لئے ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے، اور وہ یہ کہ تم لوگ (شیعہ)کیوں اس چیز پر مصر ہو کہ خاک شفا پر ہی سجدہ کیا جائے اور جس طرح مٹی پر سجدہ کرتے ہو اسی طرح دوسری تمام چیزوں پر سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟

محمد مرعی: ”ہم لوگ اس بنیاد پر خاک پر سجدہ کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک حدیث جو تمام فرقوں میں پائی جاتی ہے فرمایاہے:

جعلت لی الارض مسجدا وطهورا

”زمین میرے لئے سجدہ گا ہ اور پاک وپاکیزہ قرار دی گئی ہے“۔

حمید:کس طرح تمام مسلمان اس نظریہ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں ؟“

محمد مرعی: ”جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اسی وقت آپ نے مسجد بنا نے کاحکم دیا کیا اس وقت اس مسجد میں فرش تھا؟“

حمید: ”نہیں فرش نہیں تھا“۔

محمد مرعی: ”بس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس وقت کے تمام مسلمانوں نے کس چیز پر سجدہ کیا تھا؟“

حمید: ”مسلمانوں نے اس زمین پر سجدہ کیا تھا جس کا فرش خاک سے بنا ہوا تھا“۔

محمد مرعی: ”بعد رحلت پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم ابو بکر ،عمر اور عثمان کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں نے کس چیز پر سجدہ کیا؟کیا اس وقت مسجد میں فرش تھا؟“

حمید: ”نہیں فرش نہیں تھا۔ان لوگوں نے بھی مسجد کی زمین پر سجدہ کیا تھا“۔

محمد مرعی: ”تمہارے اس اعتراض کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام نمازوں کے سجدے زمین پر کئے ہیں اس طرح تمام مسلمان نے آنحضرت کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی زمین پر ہی سجدہ کیا بس انھیں وجوہ کی بنا پر خاک پر سجدہ کرنا صحیح ہے“۔

حمید: ”ہمارا اعتراض یہ ہے کہ شیعہ صرف خاک پر سجدہ کرتے ہیں اور خاک زمین سے لی گئی ہے اسے سجدہ گاہ بنا دیا اور جس پر وہ اپنی پیشانیوں کو رکھتے ہیں اور سجدہ کے وقت اسی کو دوسری زمین پر رکھتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں“۔

محمد مرعی: ”اولاًیہ کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق ہر طرح کی زمین پر سجدہ کرنا جائز ہے خواہ پتھر کا فرش ہو یا خاک کا فرش ہو۔ثانیا ً یہ کہ جہاں سجدہ کیا جائے وہ پاک ہو بس نجس زمین یا خاک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے اسی وجہ سے وہ مٹی کا ایک ٹکڑا جو سجدہ گا ہ کی شکل کا بنا یا جاتا ہے وہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں تاکہ اس بات کا اطمینان رہے کہ یہ پاک ہے اور اس پر سجدہ ہو سکتا ہے۔

حمید: ”اگر شیعوں کی مراد صرف پاک اور خاص مٹی پر سجدہ کرنا ہے تو کیوں اپنے ساتھ سجدہ گاہ رکھتے ہیں کیوں نہیں تھوڑی سے خاک اپنے پاس رکھتے ؟

محمد مرعی: ”اپنے ساتھ خاک رکھنے سے کپڑے وغیرہ گندے ہو سکتے ہیں کیونکہ خاک کی طبیعت ہے کہ اسے جہاں بھی رکھا جائے گا وہ اسے آلودہ کر دے گی شیعہ حضرات اسی وجہ سے اس خاک کو پانی میں ملا کر ایک خوبصور ت شکل کی سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اپنے ساتھ رکھنے میں زحمت نہ ہوا اور لباس گندہ نہ ہونے پائے۔

حمید: ”خا ک کے علاوہ بورئے اور قالین وغیر پر سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟

محمد مرعی: ”جیسا کہ میں نے کہا کہ سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے سامنے آخری درجہ کا خشوع و خضوع کیا جائے، میں کہتا ہوں کہ خاک پر سجدہ کرنا خواہ وہ سجدہ گاہ ہو یا نرم خاک ہو خدا کے سامنے زیادہ خشوع و خضوعپر دلالت کرتا ہے کیونکہ خاک سب سے زیادہ حقیر چیز ہے اور ہم اپنے جسم کا سب سے عظیم حصہ (یعنی پیشانی)کوسب سے حقیر اور پست چیز پر سجدہ کے وقت رکھتے ہیں تاکہ خدا کی عبادت نہایت خشوع و خضوعسے کریں۔اسی وجہ سے مستحب ہے کہ جائے سجدہ ،پیر اور اعضائے بدن سے نیچی ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ خضوع وخشوع پردلالت کرے اور اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ ناک کی نوک خاک میں آلودہ ہوتاکہ زیادہ سے زیادہ خضوع وخشوع کا اظہار ہو۔خاک کے ایک ٹکڑے (سجدہ گاہ)پر سجدہ کرنا اسی وجہ سے تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر کوئی انسان اپنی پیشانی کو ایک بہت ہی قیمتی سجدہ گاہ پر سونے چاندی کے ٹکڑے پرسجدہ کرے تو اس سے اس کے خضوع وخشوع میں کمی آجاتی ہے ، اور کبھی بھی ایسابھی ہوسکتا ہے کہ بندہ خدا کے سامنے اپنے کو چھوٹا اور پست شمار نہیں کرے گا۔

اسی وضاحت کے ساتھ کہ آیا کسی شخص کے خشک مٹی (سجدہ گاہ) پر سجدہ کرنے سے تاکہ اس کا خضوع وخشوع خدا کے نزدیک زیادہ ہو جائے وہ مشرک اور کافر ہوجائے گا؟لیکن قالین ،سنگ مرمر اور قالین و فرش وغیرہ پر سجدہ کرنا خضوع وخشوع میں زیادتی کرتا ہے اور تقرب خدا کا سبب بنتا ہے ؟ اس طرح کا تصور کرنے والا شخص غلط اور گھٹیا فکر کامالک ہے“۔

حمید: ”یہ کیاہے جو شیعوں کی سجدہ گاہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے؟“

محمد مرعی: ”اولاً یہ تمام سجدہ گاہوں پر لکھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایسی ہیں جن پر کچھ نہیں لکھا ہوتا ہے ثانیاً بعض پر لکھا بھی ہوتا ہے تو وہ ”سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ‘ ‘ہے جو ذکر سجدہ کی طرف اشارہ کرتاہے اور بعض سجدہ گاہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ مٹی کربلا سے لی گئی ہے تمہیں خدا کی قسم ہے آیا یہ لکھے ہوئے کلمات موجب شرک ہیں؟اور آیا یہ لکھے ہوئے کلمات مٹی کو مٹی ہونے سے خارج کردیتے ہیں؟

حمید: ”نہیں یہ ہرگز موجب شرک نہیں ہے اور اس پر سجدہ کرنے میں عدم جواز پر کوئی دلیل بھی نہیںہے لیکن ایک دوسرا سوال یہ کہ خاک شفا کیا خصوصیت رکھتی ہے کہ اکثر شیعہ خاک شفا پر ہی سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟“

محمد مرعی: ”اس کا راز یہ ہے کہ ہمارے ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے روایت ہے کہ خاک شفا ہر خاک سے افضل و برتر ہے۔امام جعفر صاد ق علیہ السلام نے فرمایا ہے:

السجود علی تربة الحسین یخرق الحجب السبع “۔( ۱۳ )

”خاک شفا پر سجدہ کرنے سے ساتھ حجاب ہٹ جاتے ہیں“۔

یعنی نماز قبولیت کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے اور آسمان کی طرف جاتی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ آپ خدا کی بارگاہ میں تذلل اور انکساری کی وجہ سے صرف خاک شفا پر سجدہ کرتے تھے۔( ۱۴ ) اس بنا پر خاک شفا میں ایک ایسی فضیلت ہے جو دوسری خاک میں نہیں پائی جاتی ہے“۔

حمید: ”آیا خاک شفا پر سجدہ کرنے سے نماز قبول ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اور کسی مٹی پر سجدہ کرنے سے نماز قبول نہیں ہوگی ؟

محمد مرعی: ”مذہب شیعہ کہتا ہے اگر آپ نماز کے شرائط صحت سے کوئی بھی شرط فاقد ہو جائے تو نمازباطل ہے اور قبول نہیں ہوگی لیکن اگرنماز کے تمام شرائط پائے جاتے ہیں اور اس کا سجدہ خاک شفا پر کیا گیا ہو تو نماز قبول بھی ہوگی اور ساتھ ساتھ وہ اہمیت کی بھی حامل ہوگی اور اس کا ثواب زیادہ ہو جائے گا۔

حمید: ”کیا زمین کربلا تمام زمینوں حتی مکہ اور مدینہ کی زمینوں سے بھی افضل وبرتر ہے تاکہ یہ کہا جائے کہ خاک شفا پر نماز پڑھنا تمام خاک سے افضل و برتر ہے؟“

محمد مرعی: ”اس میں کیا اعتراض ہے کہ خدا وند عالم نے خا ک کربلا ہی میںاس طرح کی خصوصیت قرار دی ہو“۔

حمید: ”زمین مکہ جو جناب آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک مقام کعبہ ہے اور مدینہ کی زمین جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جسم مبارک مدفون ہے کیا ان کا مقام ومنزلت کربلا کی زمین سے کمتر ہے؟ یہ بڑی عجیب بات ہے کیا حسین علیہ السلام اپنے جد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے افضل و برتر ہیں؟

محمد مرعی: ”نہیں ہر گز نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کی عظمت ومنزلت ان کے جد رسول کی وجہ سے ہے لیکن خاک کربلا کو فضیلت حاصل ہونے کے سلسلے میں یہ راز ہے کہ امام حسین علیہ السلام اس سر زمین پر اپنے نانا کے دین کی راہ میں شہید ہوئے ہیں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اور خاندان کے لوگوں نے شریعت محمد ی کی حفاظت اور اس کی نشر واشاعت کے سلسلہ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں اس وجہ سے خداوند عالم نے انھیں تین خصوصیتیں عنایت فرمائی ہیں۔

۱ ۔آپ کے مرقد شریف میں گنبد کے نیچے قبولیت دعا کی ضمانت۔

۲ ۔تمام دیگر ائمہ علیہم السلام آپ کی نسل سے ہیں۔

۳ ۔آپ کی خاک (خاک کربلا)میں شفا ہے۔

آیا اس طرح خاک کربلا کو خصوصیتیں عطا کرنا کوئی اعتراض کا مقام ہے؟ کیا زمین کربلا کو زمین مدینہ سے افضل کہنے کا یہ مطلب ہوا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے نانا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے افضل وبرتر ہیں؟اور تمہیں اس طرح اعتراض کرنے کا موقع مل جائے؟نہیں بلکہ مطلب اس کے بر عکس ہے یعنی امام حسین علیہ السلام کا احترام ان کے جد رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام ہے اور رسول اکرم کا احترام خدا کا احترام ہے“۔

جب یہ بات یہاں تک پہنچی تو انھیں میں سے ایک شخص جو قانع ہو چکا تھا وہ خوش ہو کر وہاں سے اٹھا اور میری تعریف و تمجید کرنے لگا اور اس نے شیعوں کی کتابوں کی درخواست کرتے ہوئے مجھ سے کہا:

”تمہاری باتیں نہایت سنجیدہ اور مستحکم ہیں ابھی تک میں خیال کررہا تھا کہ شیعہ امام حسین علیہ السلام کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے افضل وبرتر سمجھتے ہیں۔آج مجھے حقیقت معلوم ہوئی، تمہارے اس حسین بیان پر تمہار ا بہت شکر گزار ہوں۔آج کے بعد سے میں بھی خاک شفا کی سجدہ گاہ اپنے ساتھ رکھو ںگا اور اس پر نماز پڑھوں گا۔( ۱۵ )

۵۶۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اگر کوئی رسول ہوتا تو وہ کون ہوتا؟

ایک مرجع تقلید (مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی ) نے فرمایا: ”جب میں مکہ میں تھا تو ”باب السلام“کے نزدیک کتاب خریدنے ایک کتاب کی دوکان پر گیا تو وہاں بہت ہی پڑھے لکھے اہل سنت کے عالم سے میری ملاقات ہوگئی جب اس نے مجھے پہچان لیا کہ میں ایک شیعہ عالم ہوں تو اس نے میرا بہت ہی اچھی طرح احترام کیا اور مجھ سے چند سوالات کئے جن میں سے چند خاص خاص سوالات عرض کرتا ہوں۔اس نے مجھ سے یہ سوال کیا:

تم اس حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:

لوکان نبی غیری لکان عمر “۔

”اگر میرے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“۔

میں نے کہا: ”پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے ہر گز اس طرح کی کوئی حدیث نہیں بیان کی ہے یہ حدیث جھوٹی اور جعلی ہے“۔

اس نے کہا: ”کیا دلیل ہے ؟“

میں نے کہا: ”تم حدیث منزلت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟آیا یہ حدیث ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے یا نہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:

یا علی انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی( ۱۶ )

”اے علی علیہ السلام !تمہارے نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا“۔

اس نے کہا: ”ہماری نظر میں اس حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے“۔

میں نے کہا: ”اس حدیث کی دلالت التزامی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر پیغمبر اکرم کے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو وہ قطعی اور یقینی طور پر علی علیہ السلام ہوتے اس حدیث کی بنا پر جس کا تم اعتراف کرتے ہو کہ یہ یقینی اور قطعی ہے دوسری حدیث خود بخود بے بنیاد اور محض جھوٹ ثابت ہو جاتی ہے“۔

وہ اس بات کے سامنے بے بس اور لاچار ہو گیا اور حیرت زدہ ہو کر خاموشی اختیار کر لی۔( ۱۷ )

۵۷۔متعہ (وقتی شادی) کے جواز پر ایک مناظرہ

مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی فرماتے ہیں: ”اس نے اپنا دوسرا سوال اس طرح پیش کیا:“

کیا تم شیعہ حضرات متعہ کو جائز جانتے ہو؟

میں نے کہا: ”ہاں“۔

اس نے کہا: ”کس دلیل کی بنا پر؟“

میں نے کہا: ”عمر ابن خطاب کی بات کی بنا پرکہ عمر ابن خطاب نے کہا تھا:

”متعتان محللتان فی زمن الرسول وانا احرمھما“

”دو متعہ رسول خدا کے زمانہ میں حلال تھے اور میں ان دونوں کو حرام قرار دیتا ہوں“۔

اور بعض عبارتوں میں اس طرح آیا ہے۔

متعتان کانتا علی عهد رسول الله وانا انهی عنهما واعاقب علیهما متعة الحج ومتعة النساء “۔( ۱۸ )

”رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ میں دو متعہ پائے جاتے تھے لیکن میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں اور ان دونوں کے انجام دینے والوں کی سزادوں گا وہ دومتعہ ۔۔۔متعہ حج اور متعہ نساء ہے“۔

حضرت عمر کی اس بات (روایت وقرآن کے دلائل کو چھوڑ تے ہوئے )سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں متعہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں جائز تھے لیکن اسے عمر نے حرام قرار دیا ہے۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ عمر نے کس وجہ سے ان کو حرام قرار دیا آیا وہ رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد پیغمبر تھے اور انھیں خدا وند متعال نے حکم دیا کہ تم ان دونوں کوحرام کر دو یا عمر پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی؟ کسی دلیل سے انھوں نے متعہ کو حرام قرار دیا جب کہ یہ بھی ہے:

حلال محمد حلال الی یوم القیامة وحرامه حرام الی یوم القیامة “۔

”حلال محمد قیامت تک کے لئے حلال اورحرام محمد قیامت تک کے لئے حرام ہے“۔

آیا اس طرح کی تبدیلی ایک قسم کی بدعت نہیں ہے جب کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی کی وجہ سے انسان جہنم میں جھونکا جائے گا “اس وجہ سے اب مسلمان کس دلیل سے عمر کی بدعت کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی بات کو چھوڑ دیتے ہیں؟“( ۱۹ )

وہ اس طرح کی باتوں کے سامنے بے بس و لاچار ہو کر خاموش ہو گیا۔

مولف کا قول: ”اس سلسلہ میں بہت سی باتیں ہیں کہ لیکن اس بات کا اصلی مقام فقہی کتابیں ہیں۔

سورہ نساء کی ۲۴ ویں آیت متعہ کے جائز ہونے پر ایک دلیل ہے صرف یہاں پر متعہ کے بارے میں امام علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔

ان المتعة رحمةٌ رحم الله بها عباده ولولانهی عمر مازنی الا شقی “۔( ۲۰ )

”یقینا متعہ ایک ایسی رحمت ہے جس کے ذریعہ خدا وند عالم نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے اور اگر اسے عمر حرام نہ کرتے تو کسی بد بخت کے علاوہ زنا کا کوئی مرتکب نہ ہوتا۔

۵۸۔ایک شیعہ دانشور کا عیسائی دانشورسے مناظرہ

قرآن کے سورہ ”عبس“کی پہلی اور دوسری آیت میں آیا ہے:

( عَبَسَ وَتَوَلَّی اٴَنْ جَائَهُ الْاٴَعْمَی )

”اس نے منھ بسور لیا اور پیٹھ پھیر لی کہ ان کے پاس ایک نابینا آگیا“۔

کتب اہل سنت میں ایک روایت اس آیت کے شان نزول کے بارے میں نقل ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم قریش کے سرداروں سے باتیں کررہے تھے تاکہ انھیں اسلام کی طرف دعوت دے سکیں ان کے درمیان ایک نابینا مومن فقیر بھی تھا جس کانام ”عبد اللہ بن مکتوم“تھا اس نےپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب آکر چند بار کہا کہ یا رسول اللہ مجھے بھی قرآنی آیات کی تعلیم دیجئے۔پیغمبر اس پرناراض ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا تو خداوند متعال نے سورہ عبس کے شروع کی آیت کے ذریعہ پیغمبر کی اس فعل پر سر زنش کی۔( ۲۱ )

لیکن شیعہ روایت کے مطابق سورہ عبس کی شروع کی آیتیں عثمان کے لئے نازل ہوئی ہیں اور انھیں خدا کی طرف سے ڈانٹا گیا ہے کہ نابینا فقیر سے کیوں بے اعتنائی کی ہے۔( ۲۲ )

مذکورہ بات کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل اس مناظرہ کو ملاحظہ فرمائیں جو ایک شیعہ مفکر اور عیسائی عالم کے درمیان ہوا ہے۔

عیسائی عالم: ”ہمارے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام تمہارے پیغمبر محمد صلی الله علیه و آله وسلم سے بہتر ہیں اس لئے کہ تمہارے پیغمبر تھوڑے سے بد اخلاق تھے کیونکہ انھوں نے ایک نابینا فقیر سے جھنجھلا کر اسے ڈانٹا اور اس کی طرف سے منہ موڑ لیا جیسا کہ سورہ عبس کی شروع کی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس قدر خوش اخلاق تھے کہ جب بھی کبھی کسی مبروص کو دیکھ لیتے تھے تو اس پرناراض نہیں ہوتے تھے بلکہ اسے شفا دے دیتے تھے“۔

عیسائی عالم: ”ہم شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ سورہ عثمان کی بد اخلاقی پر نازل ہوا ہے کیونکہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کا فروں کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے ہدایت یافتہ مومنین کی تو الگ بات ہے جیسا کہ تم نے قرآن کا نام لیا اسی قرآن میں خدا وند متعال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں ارشادفرماتا ہے:

( انک لعلی خلق عظیم )( ۲۳ ) ”بلا شک تم عظیم اخلاق کے درجہ پر فائز ہو“۔

دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:

( وما ارسلناک الا رحمة للعالمین )( ۲۴ )

”اور ہم نے تمہیں صرف عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے“۔

عیسائی عالم: ”یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ بات میں نے بغداد کے ایک مسلمان خطیب سے سنا ہے“۔

شیعہ مفکر: ”ہم شیعوں کے نزدیک یہی مشہور ہے جو میں نے کہا آیت سورہ عبس عثمان کے لئے نازل ہوئی ہیں لیکن بعض پست اور بنی امیہ کے زر خرید راویوں نے عثمان کی عزت محفو ظ رکھنے کے لئے ان آیتوں کی نسبت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی طرف دیدی ہے۔بعبارت دیگر سورہ عبس کی آیت میں تصریح نہیں ہوئی ہے کہ جس نے اس نابینا سے منہ موڑا تھا وہ شخص کون تھا؟ایک قرینہ کے مطابق جیسے سورہ قلم کی چوتھی آیت اور سورہ انبیاء کی ۱۰۷ ویں آیت میں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ سورہ عبس کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”سورہ عبس بنی امیہ کے ایک شخص کے سلسلے میں نازل ہوا جو آنحضرت کے ساتھ ساتھ رہا اور اس نے جب ابن ام مکتوم نابینا کو دیکھا تو اس پر ناراض ہو ا اور اس سے دور بھاگنے لگا اور اس نے اپنا منہ موڑ لیا۔( ۲۵ )

یہ سن کر عیسائی عالم بے بس ہو گیا اور اس کے بعد کچھ نہیں کہا۔

۵۹۔شیخ مفید کا قاضی عبد الجبار سے مناظرہ

شیعوں کے بہت ہی برجستہ اور مشہور معروف عالم دین محمد بن محمد نعمان جو لوگوں کے درمیان شیخ مفید کے نام سے مشہور ہوئے۔

وہ ذی الحجہ میں ۳۳۶ یا ۳۳۸ ھ ق میں ”سوبقہ“نام کے ایک دیہات (جو بغداد سے دس فرسخ شمال میں واقع”عکبرا“کے علاقہ میں واقع ہے ) میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے باپ (جو معلم تھے) کے ساتھ بغداد آئے وہاں آکر تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھایا،یہاں تک کہ عظیم علماء میں شما ر کئے جانے لگے اور مسلمانوں کے تمام فرقوں میں مقبول ہوگئے۔

علامہ حلی، شیخ مفید کے بارے میں کہتے ہیں: ”وہ شیعوں کے ایک جلیل القدر عالم اور بڑے بڑے علماء کے استاد ہیں۔ان کے بعد آنے والے تمام لوگوں نے ان کے علم سے استفادہ کیا۔( ۲۶ )

ابن کثیر شامی کتاب ”البدایة النہایة“میں کہتے ہیں: ”شیخ مفید شیعوں کے رہبر ،مصنف اور شیعیت کا دفاع کرنے والے تھے ان کے درس میں طرح طرح کے مذاہب کے علماء شرکت کرتے تھے“۔( ۲۷ )

شیخ مفید نے مختلف فرقوں پر دوسو سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں معروف نسب شناس نجاشی ان کی ۱۷۰ کتابوں سے زیادہ کانام لکھتے ہےں( ۲۸ ) ،شیخ مفید کی وفات شب جمعہ میں ماہ مبارک رمضان سال ۴۱۳ ھ ق کو بغداد میں ہوئی اور آپ کی قبر کاظمین میں امام محمد تقی علیہ السلام کی قبر کے قریب مسلمانوں کے ایک قبر ستان میں واقع ہے۔

شیخ مفید فن مناظرہ میں بہت ہی مستحکم اور مضبوط تھے، ان کے مناظروں میں سے کچھ ٹھوس اور مستدل مناظرے جو کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ان میں سے ایک مناظرہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسی مناظرہ کی وجہ سے شیخ مفید کویہ لقب ملا ہے۔( ۲۹ )

شیخ مفید کے زمانہ میں اہل سنت کا ایک بہت ہی عظیم عالم دین جسے لوگ قاضی ”عبد الجبار“ کے نام سے جانتے تھے جو بغداد میں در س دیا کرتے تھے، ایک روز قاضی عبد الجبار در س کے لئے بیٹھے تھے اور تمام شیعہ سنی شاگرد بھی اس کے اس درس میں موجود تھے اس دن شیخ مفید بھی درس میں حاضر ہوئے اور آکر چوکھٹ پر بیٹھ گئے۔

قاضی نے شیخ مفید کو اب تک نہیں دیکھا تھا لیکن انھوں نے ان کے اوصاف سن رکھے تھے۔کچھ وقت گزرنے کے بعد شیخ مفید نے قاضی کی طرف دیکھ کر کہا:

”آیا مجھے ان دانشوروں کے سامنے اجازت دیتے ہو کہ میں آپ سے ایک سوال کروں؟“

شیخ مفید: یہ حدیث جس کے بارے میں شیعہ حضرات روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر نے صحرائے عرب غدیر میں علی علیہ السلام کے لئے فرمایا:

من کنت مولاه فهذا علی مولاه “۔

جس کا میں مولا ہوں پس اس کے علی مولا ہیں“۔

کیا یہ صحیح ہے یاشیعوں نے گڑھ لی ہے ؟

قاضی: ”یہ روایت صحیح ہے“۔

شیخ مفید :اس روایت میں کلمہ مولا سے کیا مراد ہے ؟“

قاضی: ”مولا سے مطلب سر پرست اور اولویت ہے“۔

شیخ مفید: اگر اسی طرح ہے تو پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے فرمان کے مطابق علی علیہ السلام دوسرے لوگوں کے سرپرست اور سب پر اولویت رکھتے ہیں“۔

اب اس حدیث کے بعد شیعہ اور سنی کے درمیا ن اختلاف اور دشمنی کیوں ہے ؟“

قاضی: ”اے بھائی ! یہ حدیث” غدیر“ روایت ہے لیکن خلافت ابو بکر ”درایت“اور امر مسلم ہے اور عاقل شخص روایت کی خاطر درایت کو ترک نہیں کرتا“۔

شیخ مفید: تمام حدیث کے بارے میں کہتے ہو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

یا علی حربک حربی وسلمک سلمی “۔

”اے علی علیہ السلام ! تمہاری جنگ میری جنگ اور تمہاری صلح میری صلح ہے“۔

قاضی: ”یہ حدیث صحیح ہے“۔

شیخ مفید:اس حدیث کی بنیاد پر جن لوگوں نے جنگ جمل شروع کی جیسے ،طلحہ،زبیر ،عائشہ وغیرہ علی علیہ السلام سے جنگ کی اس حدیث کی رو سے (جب کہ تمہارا یہ بھی اعتراف ہے کہ حدیث صحیح ہے) تو ان لوگوں نے گویا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے جنگ کی اور یہ لوگ کافر ہوئے“۔

قاضی: ”اے بھائی!طلحہ وزبیر وغیرہ نے توبہ کر لی تھی“۔

شیخ مفید:جنگ جمل درایت اور قطعی ہے لیکن یہ جنگ کرنے والوں نے توبہ کی یہ روایت اور ایک سنا ہوا قول ہے اور تم نے خود ہی کہا ہے کہ درایت کو روایت پر قربان نہیں کرنا چاہئے او ر عاقل شخص درایت کو روایت کی وجہ سے ترک نہیں کرتا ہے“۔

قاضی: ”اس سوال کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور ایک لمحہ بعد اس نے چونک کر اپنا سر اٹھا یا اور کہا ”تم کون ہو“

شیخ مفید : ”میں آپ کا خادم محمد بن محمد نعمان ہوں“۔

قاضی ، اس وقت اپنی جگہ سے اٹھے اور شیخ مفید کا ہاتھ پکڑ کر اس نے اپنی جگہ بٹھا کر ان سے کہا:

”انت المفید حقاً “تم حقیقت میں مفید ہو“۔

بزم کے تمام علماء قاضی کی اس بات سے رنجیدہ ہوئے اور کافی شور وغل مچایا ،قاضی نے ان لوگوں سے کہا: ”میں اس شیخ مفید کا جواب دینے میں بے بس ہو گیا تم میں سے جو بھی ان کا جواب دے سکے وہ اٹھے اور بیان کرے“۔

ایک آدمی بھی نہیں اٹھا اس طرح شیخ مفید کامیاب ہوگئے اور اسی بزم سے ان کا لقب مفید ہوگیا جو تمام لوگوں کی زبان پر آج تک جاری ہے۔( ۳۰ )

۶۰شیخ مفید کا عمر بن خطاب سے (عالم خواب میں) مناظرہ

ہم قرآن میں سورہ توبہ کی ۴۰ ویں آیت میں پڑھتے ہیں:

( إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ اٴَخْرَجَهُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَیْهِ وَاٴَیَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا )

”اگر تم رسول کی مدد نہیں کروگے تو اللہ نے ان کی مدد کی جب کفار نے انھیں مکہ سےنکال دیا، حالانکہ وہ دو میں سے ایک تھے جب وہ دونوں غار میں تھے اوروہ اپنے ہم سفر سے کہہ رہے تھے غم زدہ نہ ہو، خدا ہمارے ساتھ ہے اس وقت خدا نے اپنے سکینہ (سکون)کو ان (رسول )پر نازل کیا اور ان کی ایسے لشکر سے تائید کی جسے تم نے نہیں دیکھا“۔

علمائے اہل سنت اس آیت کو فضائل ابو بکر کے لئے دلیل مانتے ہیں اور ابو بکر کو رسول اکرم کا یار وفادار جانتے ہیں اور ان کی خلافت کی تائید کے لئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں۔

نیز اہل سنت کے شعراء بھی اسی آیت کا سہارا لیتے ہوئے ابو بکر کی ستائش کرتے ہیں۔

مثلاًسعدی کہتا ہے:

ای یار غار سید و صدیق وراھبر

مجموعہ فضائل و گجنینہ صفا

مردان قدم بہ صحبت یاران نھادہ اند

لیکن نہ ھمچنان کہ تو در کام اژدھا( ۳۱ )

(”اے یار غار !سردار و صدیق و رہبر! اے مجموعہ فضائل اور پاکیزگی و صفا کے مرکز! لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں لیکن نہ اس طرح کہ آپ نے ازدہا کے منھ اپنا ہاتھ رکھ دیا ہے“)

اب مذکورہ بالا مطلب کی طرف توجہ رکھتے ہوئے ذیل میں شیخ مفید علیہ الرحمة کا (جن کی زندگی کے حالات گزر چکے) ایک مناظرہ نقل ہوا ہے ۔ملاحظہ فرمائیں:

علامہ طبرسی کتاب ”احتجاج “میں اور کراجکی ”کنزالفوائد“میں شیخ ابو علی حسن بن محمد رقی سے نقل کرتے ہیں کہ شیخ مفید نے فرمایا: ”ایک شب میں نے خواب میں دیکھا کہ راستہ چل رہا ہوں چلتےچلتے میری نظر لوگوں پڑی تو دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے گرد جمع ہیں اور وہ ان لوگوں کو قصہ سنا رہا ہے میں نے پوچھا وہ مرد کون ہے؟”لوگوں نے کہا عمر بن خطاب ہیں“۔

میں حضرت عمر کے قریب گیا تو دیکھا ایک شخص ان سے بات کر رہا ہے لیکن میں ان کی باتوں کو نہیں سمجھ پارہا ہوں ان لوگوں کی بات کاٹ کر میں نے کہا: ”مجھے بتاو کہ آیہ غار(ثانی اثنین إذھما فی الغار)سے ابو بکر کی برتری کی کیا دلیل ہے“۔

عمر نے کہا: ”اس آیت میں ایسے چھ نکات ہیں حضرت ابو بکر کی فضیلت کی حکایت کرتے ہیں“، ان چھ نکتوں کو شمار کر نا شروع کیا:

خدا وند متعال نے قرآن میں (سورہ توبہ، آیت ۴۰ ) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خطاب کیا ہے اور ابو بکر کو ان کے بعد دوسرا شخص قرار دیا ہے۔(ثانی اثنین)

۲ ۔خدا وند متعال نے ان دونوں (پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم اور ابوبکر)کو ایک ساتھ اور ایک جگہ خطاب کیا ہے یہ خود ان دونوں کے تعلقات کی حکایت ہے۔ (( اذهما فی الغار ) )

۳ ۔خدا وند متعال نے مذکورہ آیت میں ابو بکر کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رفیق کہہ کر خطاب کیا ہے جو خود ابو بکر کے رتبہ اور منزلت کی حکایت کرتا ہے۔ (( اذیقول لصاحبه ) )

۴ ۔خدا وند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عشق ومحبت کی وجہ سے ابو بکر کو خبر دی کہ مذکورہ آیت کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابوبکر سے کہا:(( ولا تحزن ) )غمگین نہ ہو۔

۵ ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر سے کہا: ”خدا وند متعال ہم دونوں کا برابر کا ہمدرد ہے اور ہماری طرف سے دفاع کرنے والا ہے۔ (( ان الله معنا ) )

۶ ۔خداوند متعال نے اس آیت میں ابو بکر کے لئے سکینہ (سکون قلب) نازل ہونے کی خبر دی ہے کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ چین و سکون میں تھے وہ سکینہ کے نازل ہونے کے محتاج نہیں تھے: (( فانزل الله سکینته علیه ) )

یہ چھ نکتے ابو بکر کی فضیلت کو ثابت کررہے ہیں کہ کوئی شخص ان کے رد کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔

شیخ مفید کہتے ہیں: ”سچ مچ تم نے ابوبکر سے اپنی رفاقت اور دوستی کا حق ادا کیا لیکن اب میں خدا کی مدد سے ان چھ نکتوں کا جواب اس طرح دے رہا ہوں جیسے آندھی کی تیز ہوا راکھ کو اُڑا لے جاتی ہے۔

۱ ۔ابوبکر کو اس آیت میں دوسرا شخص قرا رد ینا ان کی فضیلت نہیں ہے کیونکہ مومن مومن کے ساتھ اور اسی طرح مومن کافر کے ساتھ ایک جگہ رہ سکتے ہیں اور جب انسان ان دونوں میں سے کسی ایک کا ذکر کرنا چاہتا ہے تو کہے گا ان دونوں میں دوسرا (ثانی اثنین)

۲ ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ابوبکر کا ایک ساتھ ذکر کرنا بھی ابوبکر کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتا ہے جیسا کہ پہلی دلیل میں کہا کہ ایک جگہ اکٹھا ہونا اچھائی پر دلیل نہیں ہے بہت سے مواقع پر مومن اور کافر ایک جگہ اکٹھا ہوتے ہیں جیسے مسجد پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم جو غار ثور سے نہایت ہی بافضل ہے وہاں پر بھی مومن اور منافق ایک ساتھ جمع ہوتے تھے۔اسی لئے ہم قرآن میں سورہ معارج کی ۳۶ ویں اور ۳۷ آیت پڑھتے ہیں۔

( فَمَالِ الَّذِینَ کَفَرُوا قِبَلَکَ مُهْطِعِینَ عَنْ الْیَمِینِ وَعَنْ الشِّمَالِ عِزِینَ )

”پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے جو تمہارے پاس جلدی جلدی داہنے بائیں سے گروہ در گروہ آتے ہیں اور اسی طرح کشتی نوح میں پیغمبر ،شیطان اور تمام جانورایک جگہ جمع ہو گئے تھے“۔

غرض ایک جگہ جمع ہونا دلیل فضیلت نہیں ہے۔

۳ ۔لیکن مصاحب ہونے کے بارے میں یہ بھی فضیلت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ یہاں پر مصاحب ہمراہ کے معنی میں ہے بہت سے موقع پر کافر مومن کے ہمراہ ہوتا ہے جیسا کہ خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ یُحَاوِرُهُ اٴَکَفَرْتَ بِالَّذِی خَلَقَکَ مِنْ تُرَاب )( ۳۲ )

”اس سے (کافر)اس کے (مومن)دوست نے بات کے درمیان کہا کیا تو اس کا انکار کررہا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا؟“

۴ ۔یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر سے فرمایا: ””لا تحزن “غمگین نہ ہو “یہ ابو بکر کی خطا پر دلیل ہے نہ کہ ان کی فضیلت پر کیونکہ یہ حزن یا اطاعت کی وجہ سے تھا یا گناہ تھا اگر اطاعت تھا تو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کبھی اس کے لئے منع نہ کرتے پس پتہ چلا گناہ تھا جس سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منع کیا۔

۵ ۔یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”ان اللہ معنا“(خدا ہمارے ساتھ ہے )اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دونوں کے لئے فرمایا ہے نہیں بلکہ اس سے مراد خود تنہا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود اپنے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے جیسا کہ خدا وند متعال نے اپنے لئے لفظ جمع استعمال کیا ہے۔

( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُون )( ۳۳ )

”ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں“۔

۶ ۔یہ کہ تم نے کہا کہ سکینہ اور آرام ابو بکر پر نازل ہوا آیت کا ظاہری سیاق اس کا مخالف ہے کیونکہ سکینہ اس شخص پر نازل ہوا جس کی مدد کے لئے خداوند متعال نے نامرئی (نہ دکھائی دینے والا) لشکر روانہ کیا اور یہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات ہے۔

اور اگر تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ دونوں(سکینہ اور نامرئی لشکر)ابو بکر کے لئے تھا تو یہاں چاہئے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نبوت سے خارج کردو۔

بس اس سے معلوم ہوا کہ سکینہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوا تھا کیونکہ تنہا رسول ہی تھے جو غار میں اس چیز کے لئے مناسب تھے لیکن دوسری جگہوں پر پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ ساتھ مومنین پر بھی سکینہ نازل کیا گیا ہے ان کا الگ الگ ذکر پایا جاتا ہے۔جیسا کہ سورہ فتح آیت ۲۶ پڑھتے ہیں:

( فَاٴَنْزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَی رَسُولِهِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ )

بہتر ہے کہ اس آیت سے اپنے دوست کی فضیلت ثابت نہ کرو تو بہتر ہے۔

شیخ مفید کہتے ہیں اس کے بعد عمر میرا جواب نہ دے سکا اور لوگ اس سے دور بھاگے اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔( ۳۴ )

____________________

(۱) سورہ آل عمران آیت ۱۶۹۔

(۲) الاحتجاجات العشرة، مع العلماء ،فی المکة والمدینة از مرجع فقید آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی ص ۱۳ و ۱۵ ۔

(۳) مزید معلومات کے لئے کتاب”التاج الجامع “ج ۲ ص ۱۹۲ اور احادیث صحاح ستہ ، ج ۱ ، باب سجود کی طرف رجوع کریں۔

(۴) مزید معلومات کے لئے کتاب”التاج الجامع “ج ۲ ص ۱۹۲ اور احادیث صحاح ستہ ، ج ۱ ، باب سجود کی طرف رجوع کریں۔

(۵) مناظرات فی الحرمین الشریفین۔سید علی بطحائی ،مناظرہ پنجم۔

(۶) مناظرات فی الحرمین الشریفین۔سید علی بطحائی ،مناظرہ پنجم۔

(۷) صحیح بخاری ج، ۸ ،ص ۲۶ ۔( مطبوعہ مطابع الشعب)

(۸) ڈاکٹر تیجانی کی کتاب”ثم اهتدیت “سے اقتباس ص ۱۱۱ تا ۱۱۳ ۔

(۹)و انّ ابابکر تفقّد قوماً تخلّفوا عن بیعته عند علي کرم الله وجهه فبعث الیهم عمر، فجاء فناداهم و هم فی دار عليّ، فاَبَوا ان یخرجوا، فدعا بالحَطَب، و قال: و الذي نفس عمر بیده لتخرجنَّ اولا حرقنّها علی مَن فیها، فقیل له یا اباحفص ان فیها فاطمة؟

فقال: و اِن، فخرجوا فبایعوا الا علیّاً “( الامامة والسیاسة مطبوعہ موسسہ حلبی ص ۱۹ ۔ )

(۱۰) مناظرات فی الحرمین الشرفین مناظرہ ۹ ۔

(۱۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص ۴۶)

(۱۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص ۴۶)

(۱۳) بحار ،ج ۸۵ ، ص ۱۵۳ ۔

(۱۴) وہی مصدر ،ص ۱۵۸ ، ارشاد القلوب ،ص ۱۴۱ ۔

(۱۵) محمد مرعی انطاکی کی کتاب”لماذا اخترت مذہب التشیع“ص ۳۴۱ سے ۳۴۸ تک سے اقتباس ۔

(۱۶) صحیح مسلم ،ج ۳ ، ص ۲۳۶ ،صحیح بخاری ،ج ۲ ، ص ۱۸۵ ، مسند حنبل ج ۱ ، ص ۹۸ ، ۱۱۸ ، وغیرہ۔

(۱۷) الاحتجاجات العشرة ،ص ۱۶ ۔

(۱۸) تفسیر فخر رازی ،سورہ نساء کی ۲۴ ویں آیت کے ذیل میں ۔

(۱۹) الاحتجاجات العشرة،ص ۷ ۔

(۲۰) تفسیر ثعلبی و تفسیر طبری ،سورہ نساء کی ۲۴ ویں آیت کے ذیل میں ۔

(۲۱) اسباب النزول ، سیوطی ،سورہ عبس کے ذیل میں۔

(۲۲) تفسیر برہان و تفسیر نور الثقلین ،اسی آیت کے ذیل میں۔

(۲۳) سورہ القلم آیت ۴ ۔

(۲۴) سورہ الانبیا ء آیت ۱۰۷ ۔

(۲۵) یہ حدیث مجمع البیان ج ۱۰ ص ۴۳۷ میں بھی آئی ہے جو لوگ اسے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے متعلق خیال کرتے ہیں انھوں نے اس اعتراض کا کہ یہ بات رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی بد اخلاقی کی دلیل ہے اس طرح جواب دیا ہے:

ابن ام مکتوم نے آداب مجلس کا خیال نہیں کیا لہٰذا اس کی سز ایہی تھی کہ اسے اسی لحظہ سزادی جائے اور اس سے بے توجہی برتی جائے اور خدانے جو اس عمل کے متعلق سرزنش کی ہے وہ اس لئے کہ بھلے ہی اس وقت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا منہ موڑنا درست تھا مگر پھر بھی اس بات کا امکان موجود تھا کہ دشمن یہ خیال کریں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اس سے فقیر ہونے کی وجہ سے منہ موڑ اور پیسے والوں کی طرف متوجہ رہے لہٰذا خدا وند عالم نے اس آیت کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کو یہ سمجھایا ہے کہ بھلے ہی کوئی کام درست ہو لیکن اگر اس کی وجہ سے دشمن سوء ظن میں مبتلا ہو جائیں تو اس عمل کو انجام نہ دیا اور اگر انجام دے بھی دیا تو ترک اولی ہوگا۔

(۲۶) رجال نجاشی ،ص ۳۱۱ ۔

(۲۷) البدایة والنہایة،ج ۱۲ ،ص ۱۵ ۔

(۲۸) مقدمہ اوائل المقالات ،طبع تبریز سال ۱۳۷۱ ھ ۔ق۔

(۲۹) شیخ مفید کا مناظرہ کے متعلق ایسا عقیدہ تھا کہ وہ کہا کرتے تھے ۔بےشک شیعہ اثنا عشری فقیہ اور عالم دین ہمیشہ اہل مناظرہ تھے اور اس کی اہمیت کا عقیدہ رکھتے تھے آنے والے علماء بھی مناظرے میں گذشتہ علماء کی پیروی کریں گے اور مناظرے کرتے رہیں گے اور مناظروں کو مخالفین کے قانع کنندہ جواب کے لئے بہترین طریقہ مانیں گے(الفصول المختار ج ۲ ، ص ۱۱۹)

(۳۰) مجالس المومنین ،ج ۱ ،ص ۲۰۰ و ۲۰۱( پانچویں مجلس)۔

(۳۱) بوستان سعدی آواز قصائد فارسی۔

(۳۲) سورہ کہف آیت ۳۷ ۔

(۳۳) سورہ حجرآیت ۹ ۔

(۳۴) احتجاج طبرسی ،ج ۲ ،ص ۳۲۶ سے لے کر ۳۲۹ تک۔


۶۱۔مامون کا آیہ غار کے متعلق سنی عالم سے مناظرہ

مامون (عباسی دور کا ساتواں خلیفہ )نے یحییٰ بن اکثم (قاضی وقت)کو حکم دیا کہ تمام مشہور ومعروف علماء کو فلاں روز فلاں وقت پر میری بزم میں حاضر کیا جائے۔

یحییٰ بن اکثم نے اس زمانہ کے تمام مشہور معروف علماء اور راویوں کو ایک جگہ جمع کیا ،مامون اس بزم میں حاضر ہوا اور احوال پرسی کے بعد اس نے کہا: ”میں نے تمہیں یہاں اس لئے بلایا ہے کہ ساتھ بیٹھ کر آزاد طریقہ سے اور بغیر کسی قید وبند کے امامت کے بارے میں باتیں کریں تاکہ تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جائے“۔

اس بزم میں ہر عالم نے ابوبکر و عمر کی برتری اور فضیلت کو ثابت کیا تاکہ وہ خلیفہ رسول سمجھے جائیں لیکن مامون ہر ایک کو اچھی طرح جواب دیتا رہا اور ان کی دلیلوں کو رد کرتا رہا یہاں تک اسحاق نامی ایک عالم میدان مناظرہ میں آیا اور تھوڑی دیر بحث کے بعد اس نے کہا:

”خداوند متعال قرآن کریم میں سورہ توبہ آیت ۴۰ میں ابو بکر کے بارے میں فرماتا ہے:

( ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَیْهِ“ )

”اور وہ ایک شخص کے ساتھ نکلے اور دونوں غار میں تھے تو اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ رنج نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے پھر خدا نے اپنی طرف سے (اپنے پیغمبر) پر سکون (سکینہ) نازل کردیا“۔

خدا وند متعال نے اس آیت میں ابو بکر کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا مصاحب اور دوست کہہ کر تعارف کرا رہا ہے۔

مامون: ”عجیب بات ہے لغت اور قرآن سے تم کتنی کم آگاہی رکھتے ہو کیا کبھی کافر مومن کا مصاحب اور رفیق نہیں ہوتا؟ایسی صورت میں یہ مصاحب کافر کے لئے کس افتخار کا سبب بنے گی؟ جیسا کہ قرآن میں سورہ کہف آیت ۳۷ میں خدا وند متعال فرماتا ہے:

( قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ یُحَاوِرُهُ اٴَکَفَرْتَ بِالَّذِی خَلَقَکَ مِنْ تُرَاب )

”اس کے ایک ساتھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تو اس کا انکار کردیا ہے جس نے تجھے خاک سے پیدا کیا ہے“۔

اس آیت کے مطابق مومن کافر کا ساتھی شما ر کیا گیا ہے۔

بہت سے فصحائے عرب کے اشعار بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ کبھی کبھی انسانوں کے ساتھی حیوان بھی ہوتے ہیں، لہٰذا ساتھی ہونا کسی بھی طرح کی دلیل وافتخار نہیں ہے“۔

اسحاق: ”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مذکورہ آیت کے مطابق ابو بکر کو اطمینان دلایا اور دل جوئی کی اور ان سے فرمایا:”لا تحزن“ (یعنی غمگین نہ ہو)

مامون: ”مجھے بتاو کیا ابو بکر کا حزن وملال گناہ تھا یا اطاعت ؟اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اطاعت تھا تو اس صورت میں تم نے گویا فرض کر لیا کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے اطاعت سے منع کیا(جب کہ اس طرح کی نسبت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق بالکل غلط ہے)اور اگر کہتے ہو کہ وہ عمل گناہ تھا تو اب گناہ کے لئے تم کون سی فضیلت اور افتخار کو ثابت کرتے ہو؟“

اسحاق: ”خدا وند متعال نے مذکورہ آیت میں اپنا سکون اور آرام (سکینہ) ابو بکر پر نازل کیا یہ خود ان کے لئے فضیلت اور افتخار ہے اور یہ خدا کا آرام وسکون ابو بکر سے مخصوص ہے نہ کہ پیغمبر اکرم سے کیونکہ وہ راحت وسکون کے محتاج نہیں ہیں“۔

مامون: ”خداوند متعال قرآن کریم میں ( سورہ توبہ کی ۲۵ ۔ ۲۶ ویں آیت ) فرماتا ہے-:

( َیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اٴَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ # ثُمَّ اٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَی رَسُولِهِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ )

”خدا نے تمہاری بہت سی جگہوں میں مد د کی اور حنین کے دن جب تمہیں تمہاری کثرت نے تعجب میں ڈال دیا تھا مگر اس کثرت نے تمہاری کوئی مدد نہ کی اور زمین تمہارے اوپر تنگ ہو گئی پھر تم میدان سے پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے پھر خداوند متعال نے اپنا سکینہ اپنے رسول اور مومنین پر نازل کیا“۔

اے اسحاق ! کیا تو جانتا ہے کہ جن مومنوں نے فرار نہیں اختیار کیا تھا اور جنگ حنین میں پیغمبر کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں رہے وہ کون لوگ تھے؟

اسحاق: ”نہیں میں نہیں جاتنا“۔

مامون:جنگ حنین ( جو سرزمین مکہ اور طائف کے درمیان ہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی)تمام اسلامی لشکر شکست کھا کر میدان سے فرار ہو چکا تھا اور میدان جنگ میں صرف پیغمبر اور ان کے ساتھ بنی ہاشم کے سات افراد باقی رہ گئے تھے جن میں علی علیہ السلام تلوار سے جنگ کرتے تھے عباس (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا) نے آنحضرت کو گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں تھام رکھی تھی اور پانچ دوسرے افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے تاکہ کافروں سے انھیں کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے( ۳۵ ) نتیجہ میں خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فتح و کامرانی عطا کی (یہاں تک کہ خداوند متعال نے اپنے آرام وسکون (سکینہ) کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مومنین پر نازل کیا)

اس سے ثابت ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی الٰہی آرام وسکون کے محتاج تھے اور مومنین سے مراد اس آیت میں علی علیہ السلام اور چند لوگ بنی ہاشم کے ہیں جو میدان جنگ میں حاضر تھے اس بنا پر کون افضل ہے ؟آیا وہ لوگ جو میدان جنگ حنین میں پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے اور الٰہی آرام وسکون پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم اور ان لوگوں پر نازل ہوا وہ لوگ برتر ہیں یا وہ شخص جو پیغمبر اکرم کے ساتھ غار میں تھا اور اس کے لئے سکون وراحت نازل کرنا مناسب بھی نہیں تھا؟

اے اسحاق!کون شخص بہتر ہے آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ غار میں رہنے والا یا آنحضرت پر جان فدا کرکے ان کے بستر پر چین کی نیند سونے والا؟ کیونکہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے جا رہے تھے تو خدا کے حکم کے مطابق حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ”تم میرے بستر پر سو رہو۔

حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا: ”اے رسول خدا !اگر میں آپ کے بستر پر سوجاوں تو آپ کی جان بچ جائے گی ؟“

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”جی ہاں“۔

حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا: ”( سمعاً و طاعةً )

اس کے بعد آپ بستر رسول پر آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کی چادر تان کر سوگئے۔مشرکین تمام رات انتظار کرتے رہے اور وہ شک بھی نہ کر سکے کہ اس بستر پر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے علاوہ کوئی اور سو رہا ہے۔

یہ منصوبہ تمام مشرکین کی اتفاق رائے سے وجود میں آیا تھا کہ ہر قبیلہ کا ایک شخص آپ کے پاس جا کر ایک ایک ضربت لگائے تاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قتل ہو جائیں اور ان کا قاتل کوئی ایک شخص نہ ہو تاکہ بنی ہاشم پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کا انتقام نہ لے سکیں۔

حضرت علی علیہ السلام مشرکوں کی تمام باتیں سن رہے تھے لیکن انھوں نے ذرا بھی بیتابی کا اظہار نہیں کیا جب کہ ابو بکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ غار میں رہتے ہوئے بھی بے تابی کا اظہار کر رہے تھے اور علی علیہ السلام نے تنہا ہوتے ہوئے بھی مکمل خلوص سے استقامت کی اور خداوند متعال نے علی علیہ السلام کے پاس فرشتے بھیجے تاکہ وہ مشرکوں سے ان کی حفاظت کریں۔

حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اس طرح کی فداکاری اور ایثار کیا اور وہ اپنی طویل حیات میں بہت ہی عظیم فضائل ومناقب کے حامل تھے یہاں تک کہ خداوند متعال کے نزدیک بہت ہی محبوب اور مقبول حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔( ۳۶ )

۶۲۔ مولف کاابن ابی الحدید سے غائبانہ مناظرہ

اہل سنت کا ایک بہت ہی مشہورو معروف اور نہایت پڑھا لکھا عظیم مورخ عبد المجید بن محمد بن حسین بن ابی الحدید مدائنی گزرے ہیں جسے عام لوگ ”ابن ابی الحدید “کے نام سے جانتے ہیں ان کی تالیفات و تصنیفات میں ایک بہت ہی اہم اور مشہور ۲۰ جلدوں پر مشتمل ”شرح نہج البلاغہ “ہے۔

۶۵۵ ھ کومیں بغداد میں انھوں نے دنیا کو ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہا وہ اپنی شرح نہج البلاغہ کی چھٹی جلد میں پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد پرآشوب حالات کو لکھتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے چند آدمیوں کے ساتھ آکر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا گھر گھیر لیا جنا ب فاطمہ زہرا سلا م اللہ علیہا کی آواز بلند ہوئی کہتم لوگ میرے گھر سے بھاگ جاو۔۔۔

اور صحیح بخاری و صحیح مسلم سے بھی نقل کرتے ہوئے واضح طور پر لکھتے ہیں:

فهجرته فاطمه ولم تکلمه فی ذلک حتی ماتت فد فنها علی لیلاولم یوذن بها ابو بکر “۔( ۳۷ )

” پھر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ابو بکر سے دوری اختیار کر لی تھی اور مرتے وقت تک ان سے بات نہیں کی، یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام نے آپ کو رات کی تاریکی میں دفن کیا اور ابوبکر کو اس بات کی خبر بھی نہ دی۔

ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے ابن ابی الحدید عمر و ابوبکر کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے طرح طرح کی توجیہ کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ہیں:

فان هذالوثبت انه خطالم یکن کبیرة بل کان من باب الصغائر التی لا تقتضی التبری ولا توجب زوال التولی “۔

”اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ ابوبکر کی رفتار اس طرح تھی تو ان کی طرف سے یہ خطا اور گناہ تو تھا لیکن گناہ کبیرہ نہیں ہے بلکہ ایک گناہ صغیرہ ہے جو ان سے بیزاری اور ولایت کے زوال کا موجب نہیں بن سکتا ہے“۔

مولف: ”کیا سچ مچ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کرنا اوراس کا حکم دنیا اور آپ کو اس حد تک ناراض کرنا کہ آخر عمر تک ابو بکر و عمر سے منہ پھیرے رہیں اور ان سے بات بھی نہیں کی، گناہ صغیرہ ہے ؟!

اگر ابن ابی الحدید کہتے کہ اصل حادثہ ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہے تو اس پر مجھے تعجب نہ ہوتا لیکن وہ اس حادثہ کا اقرارکرتے ہوئے کس طرح ایسی باتیں کرتے ہیں؟کیا وہ گناہ کبیرہ اور صغیرہ کے فرق کو نہیں جانتے ؟ایسا بھی نہیں ہے کہ ابن ابی الحدید نے صرف خود نقل کیا ہے بلکہ دوسرے علمائے اہل سنت نے بھی اس کو نقل کیا ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرمایا ہے۔

ان الله یغضب لغضب فاطمة ویرضیٰ لرضاها “۔( ۳۸ )

”بے شک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا (میرے جگر کا ٹکڑا ہے ) جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی“۔

پس اس حدیث کی بنیاد پر ان دونوں نے یقینی طور پر جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اذیت دی اور فاطمہ سلا م اللہ علیہا کو اذیت دینا خدا و رسول کو اذیت دینا ہے ان چیزوں کو جانتے ہوئے کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اذیت دینا گناہ صغیرہ ہے؟ہاں اگر یہ گناہ صغیرہ ہے تو پھرگناہ کبیرہ کیا ہے؟کیا خدا وند متعال قرآن مجید میں نہیں فرماتا:

( إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمْ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاٴَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِینًا )( ۳۹ )

”بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اس نے ان کے لئے اہانت آمیز عذاب تیار کررکھا ہے“۔

کیا گناہ صغیرہ انجا م دینے والا شخص خدا اور رسول کی لعنت کا مستحق نہیں ہے؟

۶۳۔نص کے مقابل اجتہاد کے متعلق ایک مناظرہ

اشارہ:

شریعت اسلام میں جو چیز آیات قرآن اورسنت پیغمبر سے صریحی اور واضح ہے اس چیز کی پیروی کرنا چاہئے اگر ہم اس کے مقابلہ میں کوئی توجیہ کریں تو ایسا اجتہاد نص کے مقابلہ میں ہوگا اور نص کے مقابلہ میں اجتہاد یقینا باطل ہے اور اس طرح کا اجتہاد ہی بدعت ہے جو کفر اور گمراہی پیدا کرتا ہے۔لیکن صحیح اجہتاد وہ ہے کہ کسی موضوع کے حکم کی صحیح دلیل سند یا دلالت کے لحاظ سے واضح نہ ہو،مجتہد قواعد اجتہاد کے ذریعہ اس موضوع کے حکم کے بارے میں استنبا ط کرتا ہے اس طرح کا اجتہاد اور اس طرح کے مجتہد جامع الشرائط مقلدین حضرات کے لئے حجت قرار دیئے گئے ہیں اسی بات کی طرف توجہ دیتے ہوئے ذیل کا مناظرہ کو ملاحظہ فرمائیں:

ملک شاہ سلجوقی نے ایک جلسہ بلا یا اس میں خود اس کا وزیر بھی موجود تھا۔اس جلسہ میں اہل سنت کے ”عباسی “نام کے ایک بہت ہی جلیل القدر اور شیعوں کے ایک بہت ہی مشہور اور عظیم عالم (علوی) کے درمیان اس طرح مناظرہ شروع ہوا:

علوی: تمہاری معتبر کتابوں میں آیا ہے کہ بعض احکام جو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ میں قطعی مناسب اور یقینی تھے عمر نے اس میں تصرف کیا ہے اور اسے بدل ڈال ہے“۔

عباسی: ”کن احکام کو انھوں نے بدل دیا؟“

علوی: ”مثال کے طور:

الف: نماز تراویح ماہ رمضان میں پڑھی جاتی ہے اور مستحب ہے، عمر نے کہا: ”اسے با جماعت پڑھو “( ۴۰ ) جب کہ مستحب نمازیں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہئے۔جیسا کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں اسی طرح تھا کہ تمام مستحبی نمازیں فرادیٰ پڑھی جاتی تھیں لیکن بعض مستحبی نمازیں جیسے نماز استقاء پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں بھی جماعت سے پڑھی گئی۔

ب: یا حضرت عمر نے حکم دیا کہ اذان میں”حی علی خیر العمل “کی جگہ ”الصلوة خیر من النوم “کہا جائے۔( ۴۱ )

ج: حج تمتع اور متعة النساء کو حرام قرار دیا۔( ۴۲ )

د:مولفة القلوب کے حصہ کو ختم کر دیا جب کہ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۶۰ میں ان کے حصے کی وضاحت ہوتی ہے اس کے علاوہ اور بہت سے احکام ہیں۔

ملک شاہ: کیا سچ مچ عمر نے ان احکام کو بدل ڈالا؟“

خواجہ نظام الملک: ”ہاں واقعی یہ چیزیں سنیوں کی معتبر کتابوں میں ذکر ہوئی ہیں“۔

ملک شاہ: ”بس ہم کس طرح ان لوگوں کی پیروی کریں جنھوں نے بدعت پھیلارکھی ہے ؟“

قوشچی: ”اگر عمر نے حج تمتع یا متعہ سے روکا ،یا اذان میں”حی علی خیر العمل“کی جگہ”الصلوة خیر من النوم“کا اضافہ کیا تو انھوں نے اجہتاد کیا ہے اور اجتہاد بدعت نہیں ہے۔( ۴۳ )

علوی: ”کیا قرآن کے واضح اور صریحی آیت یا رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی صریحی احادیث کے مقابلہ میں دوسری باتیں پیش کی جا سکتی ہیں؟ کیانص کے مقابلہ میں اجتہاد جائز ہے ؟اگر اس طرح ہو تو ہر مجتہد اس چیز کا حق رکھتا ہے اور ایسے ہی کچھ دنوں کے بعد اسلام کے بہت سے احکام بدل جائیں گے اور اسلام کی حقیقت اور جاویدانی ہوناہمارے درمیان سے جاتی رہے گی کیا قرآن یہ نہیں فرمارہا ہے:

( وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا )( ۴۴ )

”جو کچھ رسول تم کو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اسے ترک کردو“۔

اسی طرح سورہ احزاب میں خدا کا ارشاد ہے:

( وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَمُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَی اللهُ وَرَسُولُهُ اٴَمْرًا اٴَنْ یَکُونَ لَهُمْ الْخِیَرَةُ مِنْ اٴَمْرِهِمْ )( ۴۵ )

”کسی مومن یا مومنہ کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد (کس شئے پر) اختیار رکھے“۔

آیا پیغمبر (ص) نے یہ نہیں فرمایا:

حلال محمد حلال الی یوم القیامة وحرام محمد حرام الی یوم القیامة “۔( ۴۶ )

”حلال محمد قیامت تک کے لئے حلال ہے اور حرام محمد قیامت کے لئے حرام ہے“۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے صریحی احکام کو بدلنا نہیں چاہئے کہ یہ کام تو پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم بھی نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں قرآن میں پڑھتے ہیں۔( ۴۷ )

( وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاٴَقَاوِیلِ لَاٴَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِینِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِینَ فَمَا مِنْکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِینَ )( ۴۸ )

”اور اگر وہ (پیغمبر) ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے تو ہم انھیں قوت سے پکڑ لیتے پھر ان کی رگ قلب کو قطع کر دیتے اور تم لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا تھا“۔

____________________

(۳۵) وہ پانچ افراد یہ ہیں:،ابو سفیان بن حارث (رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے چچا زاد بھائی) نوفل بن حارث ،ربیعہ بن حارث ،فضل بن عباس ،عبد اللہ بن زیبر ، بعض نے عتبہ و معتب (ابولہب کے بیٹے) کانام بھی ذکر کیا ہے ، (اعلام الوریٰ ،ص۱۱۹،کامل ابن اثیر، ج۲، ص۲۳۹۔ )

(۳۶) بحار الانوار سے اقتباس ،ج۴۹ ، ص۱۹۴۔ ۲۰۰۔

(۳۷) شرح نہج البلاغہ ،ج۶،ص۴۶ و۴۷۔

(۳۸) صحیح بخاری، مطبوعہ دار الجیل ، بیروت ،ج۷ ص۴۷ ،اور ج۹،ص۱۸۵ ،و دوسرے مدارک، کتاب ”فضائل الخمسہ‘ ‘ ج ۳ ، ص ۱۹۰سے ۔

(۳۹) سورہ احزاب آیت۵۷۔

(۴۰) صحیح بخاری ، ج ۲ ، ص ۲۵۱،کامل ابن اثیر ، ج ۲، ص ۳۱۔

(۴۱) شرح زرقانی بر موطا مالک ج ۱ ص ۲۵۔

(۴۲) تفسیر فخر رازی سورہ نساء آیت ۲۴ کے ذیل میں۔

(۴۳) شرح تجرید ، قوشچی، ص۳۷۴،قوشچی اہل سنت کے ایک نہایت مشہور عالم دین ہیں جنھیں (امام المتقین )کہا جاتا تھا ۔

(۴۴) سورہ حشر، آیت ۷۔

(۴۵) سورہ احزاب، آیت ۳۶۔

(۴۶) مقدمہ سنن دارمی، ص۳۹ ، اصول کافی ،ج۱ ،ص۶۹۔

(۴۷) کتاب ”جستجوئے حق در بغداد “سے اقتباس (مقاتل بن عطیہ بکری) ص۱۲۷ سے ۱۲۹ تک۔

(۴۸) سورہ حاقہ آ یت ۴۴۔۴۶۔


تیسراحصہ

ڈاکٹرسید محمد تیجانی کے مناظرے

اشارہ:

ڈاکٹر محمد تیجانی سیماوی ”تیونس“کے رہنے والے ہیں وہ اپنے شہریوں اور خاندان والوں کے دین کے مطابق اہل سنت میں مالکی مسلک کے پیروکارتھے، علمی منازل طے کرنے کے بعد پڑھےلکھے مفکروں میں ان کا شمار ہونے لگا ڈاکٹر محمد تیجانی نے اسلامی مذاہب میں مذہب حقہ کی تحقیق میں بڑے ہی ہوش وحواس کے ساتھ انتھک کوشش کی اس سلسلہ میں انھوں نے متعدد سفر بھی کئے جیسے نجف اشرف میں آیت اللہ خوئی اور شہید باقر الصدر اعلی اللہ مقامہم کے پاس پہنچے اور نہایت ہی عمیق تحقیق کے بعد مذہب تشیع کو قبول کیا اوراپنے شیعہ ہونے کا قانونی طور پر اعلان کر دیا اور اپنے اس تحقیق کو اپنی قیمتی کتاب ”ثم اھتدیت “میں بیان کیا ہے۔( ۴۹ )

۶۴۔ توسل کے بارے میں ڈاکٹر تیجانی سے آیت اللہ شہید صدر کا مناظرہ

ڈاکٹر تیجانی پہلے مالکی مذہب کے پیروکار تھے انھوں نے تیونس سے نجف اشرف کا سفر کر کے اپنے دوست کے ذریعہ آیت العظمیٰ سید شہید صدر( ۵۰ ) کی خدمت میں پہنچے انھوں نے وہاں پہنچ کر تحقیق اور مناظرہ شروع کیا۔

ڈاکٹرتیجانی نے پہلے اس طرح سوال شروع کئے:

سعودی علماء کہتے ہیں:

”قبر پر ہاتھ رکھنا (چومنا)صالحین کو وسیلہ قرار دینا ان سے متبر ک ہونا شرک ہے، اس بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟“۔

آیت اللہ صدر نے فرمایا: ”اگر کوئی انسان اس عقیدہ سے قبر چومے یا انھیں وسیلہ قرار دے کہ وہ (بغیر اذن خدا کے )مستقل طور پر ہمیں ضرر و نفع پہنچا سکتے ہیں تو یہ شرک ہے، لیکن مسلمان خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے والا جانتا ہے کہ صرف اور صرف خدا ہی وہ ہے جو ضررونفع پہنچا سکتا ہے اور یہ اولیائے خدا اور اس کے درمیان واسطہ اور وسیلہ ہیں انھیں اس طرح واسطہ و وسیلہ قرار دینا ہرگز شرک نہیں ہے تمام سنی اور شیعہ مسلمان رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک اسی نظریہ پر متفق ہیں۔

یہ صرف وہابیت اور سعودی علماء ہیں جو اسی صدی میں پیدا ہوئے ہیں انھوں نے ہم مسلمانوںکے خلاف ایک ڈھونگ رچ رکھا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے خون کو مباح بھی جانتے ہیں اور ان کے درمیان فتنہ انگیزی کرتے ہیں یہ لوگ قبر کو چومنا اور ائمہ اعلیہم لسلام کو وسیلہ قرار دینا شرک سمجھتے ہیں۔

اس کے بعد شہید نے فرمایا:سید شرف الدین (شیعوں کے ایک عظیم محقق )صاحب کتاب ”المراجعات “”عید غدیر“کے موقع پر خانہ خدا کی زیارت کے لئے مکہ تشریف لے گئے۔وہاں دستور کے مطابق عبد العزیز( ۵۱ ) کو مبارک باد پیش کرنے کے لئے عید قربان کے روز تمام سعودی علماء ۱۱۵۳ ء ھ میں اس نے خود ساختہ وہابی عقائد کا اعلان کر دیا کچھ لوگوں نے ا س کی پیروی کی اور ۱۱۶۰ ھ میں یہ نجد کے ایک دوسرے مشہور و معروف شہر ”درعیہ“چلا گیا جہاں اس نے شہر کے حاکم ”محمد بن سعود “سے راہ رسم پیدا کی اور پھر ان دونوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ مل جل کر اس نئے عقیدہ کی ترویج کریں گے (آئین وہابیت ،ص ۲۶،۲۷) لہٰذا جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں یہ منحرف مذہب ۱۲ صدی ہجری میں پیدا ہوا اور آل سعود کے ہاتھوں پھلتا پھولتا رہا ۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب ۱۲۰۶ ہجری میں مر گیا مگر اس کے بعد بھی اس کے ماننے والوں نے اس کے مذہب کو قائم رکھا البتہ اس

کے ساتھ ساتھ ان کی بھی دعوت ہوئی تمام علماء کے ساتھ ساتھ وہ بھی محل میں داخل ہوئے ،لوگ مبارک باد دیتے رہے لیکن جب آپ کی باری آئی توآپ نے پہنچ کر عبد العزیز کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے ہدیہ کے طور پر ایک بہت ہی پرانا قرآن دیا، اس نے قرآن لے کر اس کا بوسہ دیا اور مارے احترام وتعظیم کے اسے اپنی پیشانی سے مس کیا، سید شرف الدین نے فرصت غنیمت جان کر اچانک اس سے کہا: ”اے بادشاہ! اس جلد کو بوسہ کیوں لے رہے ہو ؟یہ تو بکری کی کھال سے بنائی گئی ہے“۔اس نے کہا: ”میں کھال کا نہیں بلکہ جو قرآن اس کے اندر ہے اس کا بوسہ لے رہا ہوں۔

جناب شرف الدین نے فوراً فرمایا:

”بہت اچھا بادشاہ ہم شیعہ بھی جب رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے روضہ کے دروازہ اور کھڑکی کا بوسہ لیتے ہیں تو یہ جانتے ہیں کہ یہ صرف لوہا ہے یہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے ہماری غرض کھڑکی اور دروازہ سے نہیں بلکہ اسے ماوراء چیز یعنی ہماری غرض رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام اور تعظیم ہوتی ہے یہ تعظیم و تکریم بالکل اسی طرح ہے جس طرح تم بکری کی کھال چوم کر قرآن کی تعظیم و تکریم کر رہے ہو۔

یہ سن کر تمام حاضرین نے تکبیر کہی اور ان کی تصدیق کی اس کے بعد ملک عبد العزیز نے مجبور ہو کر حاجیوں کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے روضہ کو بوسہ دینے کی اجازت دے دی۔لیکن اس کے بعد جو بادشاہ آیا اس نے اس گزشتہ قانون کی کوئی رعایت نہیں کی۔

یہ سب دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں شرک نہیں ہیں بلکہ وہابیوں نے لوگوں

کے تمام عقائد ۶۶۱ ھ کی منحرف شخصیت ”احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ “کے مرہون منت ہیں اگر یہ کہا جائے کہ تقریبا ً چھ سو سال کے عرصہ تک مردہ پڑے ابن تیمیہ کے منحرف عقائد اور مختلف بدعتوں کو عبد الوہاب نے نئے سرے سے اجاگر کیا اور لوگوں کے درمیان پھر سے زندہ کیا تو قطعا غلط نہ ہوگا۔کیونکہ تحقیق کرنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج کی وہابیت ابن تیمیہ کے خود ساختہ عقائد و نظریات کی بنیادوں پر استوار ہے۔ (ابن تیمیہ صائب عبد الحمید ) ۱۲۲۶ ھ میں وہابی شاہ سعود نے بیس ہراز سپاہیوں کے ساتھ کربلاپر حملہ کیا اور پانچ ہزار یا اس سے زیادہ افراد کو تہہ تیغ کر ڈالا۔ (تاریخ کربلا ،ص ۱۷۲)

کے درمیان اس لئے یہ پروپیگنڈہ پھیلایا ہے تاکہ وہ اس سیاست کی بنیاد پر مسلمانوں کا خون مباح قرار دیں اور مسلمانوں پر اپنی حکومت باقی رکھیں۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ وہابیوں نے امت محمد پر مصائب کے کتنے پہاڑ توڑے ہیں( ۵۲ ) ۔

۶۵۔ اذان میں حضرت علی علیہ السلام کا نام کی گواہی

ڈاکٹر تیجانی: ”شیعہ حضرات اذان واقامت میں اس بات کی گواہی کیوں دیتے ہیں کہ علی علیہ السلام خدا کے ولی ہیں؟“

آیت اللہ باقر الصدر: ”کیونکہ حضرت علی علیہ السلام خدا کے بندوں میں ایک منتخب بندہ ہیں اور خدا وند متعال نے انھیں لوگوں پر فضیلت و برتری عطا کی ہے تاکہ انبیاء کے بعد رسالت کے بار سنگین کو وہ اپنے دوش مبارک پر اٹھا سکیں ، اور تمام ائمہ علیہم السلام پیغمبروں کے اوصیاء اور جانشین ہوتے ہیں اور جس طرح ہر پیغمبر کے پاس اس کا ایک جانشین ہوتا تھا اسی طرح پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله وسلم کے جانشین مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ہم لوگ انھیں تمام اصحاب پر مقدم قرار دیتے ہیں کیونکہ خداوند متعال اور اس کے رسول نے انھیں تمام لوگوں سے افضل و برتر جاناہے اور ان کی فضیلت و برتری کے لئے ہمارے پاس قرآن اور احادیث سے عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں اور ان دلیلوں میں کسی طرح کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ دلیلیں صرف ہمارے لحاظ سے متواتر نہیں ہیں بلکہ اہل سنت حضرات کی کتابوں میں بھی تواتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔( ۵۳ )

اس سلسلے میں ہمارے علماء نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں کیونکہ بنی امیہ کی حکومت کے زمانہ میں مولائے کائنات کی خلافت کو نابود کرنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے پر سارے حکمراں تلے ہوئے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ مسلمان منبر سے آپ پر لعن وطعن کرتے تھے اور معاویہ ان مسلمانوں کی اپنی طاقت کے بل بوتے پر اس کے لئے ترغیب کرتا تھا۔

اسی لئے شیعہ اور علی علیہ السلام کے تمام پیرو کار اذان و اقامت میں گواہی دیتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ولی خدا ہیں اور یہ چیز مناسب نہیں ہے کہ کوئی مسلمان ولی خدا پر لعنت بھیجے۔در اصل شیعوں کی یہ روش اس زمانے کے حکام سے ایک طرح کا اعلان جنگ تھا تاکہ خدا اس کے رسول اور مومنوں کی عزت کو قائم و دائم رکھے اور یہ تاریخی حوصلہ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں میں باقی رہے اور حضرت علی علیہ السلام کی حقانیت اور ان کے دشمنوں کی سازشوں سے پوری طرح آگاہ رہیں۔اسی وجہ سے ہمارے فقہاء نے اس روش کو باقی رکھا کہ ولایت علی علیہ السلام کی گواہی اذان واقامت کے دوران مستحب جانا نہ کہ اسے اذان و اقامت کا جزء قرار دیا ہے۔

اب اس وجہ سے اگر کوئی شخص ولایت علی علیہ السلام کی گواہی اذان اور اقامت کا جزء (واجب)سمجھ کر دے تو اس کی اذان واقامت باطل ہے۔( ۵۴ )

۶۶۔آیت اللہ العظمیٰ آقائی خوئی طاب ثراہ سے گفتگو

ڈاکٹر تیجانی سماوی کہتے ہیں:

جب میں سنی تھا اور نیا نیا نجف اشرف میں وارد ہوا تو اپنے دوست کے ذریعہ آیت اللہ العظمیٰ آقائے خوئی کی خدمت میں جانے کا شرف حاصل ہوا میرے دوست نے آقائے خوئی کے کانوںمیں کچھ کہا اور مجھ سے اشارہ کیا کہ آپ کے قریب آکر بیٹھ جاوں،میں جا کربیٹھ گیا تو میرے دوست نے اس بات پر بہت اصرار کیا کہ میں تیونس کے شیعوں کے متعلق اپنا اور وہاں کے لوگوں کا نظریہ بیان کروں۔میں نے کہا:

”شیعہ ہمارے یہاں یہود ونصاریٰ سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہود ونصاریٰ خداوند متعال کی عبادت کرتے ہیں اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے عقیدت رکھتے ہیں لیکن جو میں شیعوں کے بارے میں جانتا ہوں وہ یہ کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں اور انھیں پاک وپاکیزہ اور مقدس قرار دیتے ہیں۔ان کے درمیان ایک اور گروہ بھی ہے جو خداوند متعال کی عبادت کرتا ہے لیکن علی علیہ السلام کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی منزلت ومقام سے بہت ہی ارفع واعلیٰ سمجھتا ہے اور یہاں تک کہتا ہے کہ پہلے یہ طے تھا کہ جبرئیل علیہ السلام قرآن کریم کو حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے آئیں لیکن انھوں نے خیانت کی اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس لے کر چلے گئے “!!

آقائے خوئی نے تھوڑی دیر اپناسر جھکائے رکھا اس کے بعد فرمایا:

”میں گواہی دیتا ہوں کہ خداوند متعال کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی الله علیه و آله وسلم اس کے رسول ہیں: ”اللھم صل علی محمد آل محمد “ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی علیہ السلام خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف نظر کی اور میری طر ف اشارہ کر کے کہا: ”اس بے چارے کو دیکھو کس طرح فریب اور چھوٹی تہمتوں کا شکار ہوا ہے یہ عجیب بات نہیں ہے بلکہ میں نے تو اس سے بھی بدتر باتیں دوسرے لوگوں سے سنی ہیں ”لا حول ولا قوة الا بالله “اس کے بعد میری طرف رخ کر کے فرمایا:

”کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟“

میں نے کہا: ”ابھی میری عمر کے دس سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ میں نے آدھا قرآن حفظ کر لیا تھا“۔

انھوں نے فرمایا: ”کیا تم یہ جانتے ہو کہ اسلام کے تمام گروہ آپس میں مذہبی اختلاف کو چھوڑ کر قرآن کی حقانیت کے بارے میں اتفاق رکھتے ہیں؟اور جو قرآن ہمارے پاس ہے وہی قر آن تمہارے پاس بھی ہے“۔

میں نے کہا: ”ہاں میں جانتا ہوں“۔

انھوں نے کہا-: ”کیا تم نے اس آیت کو پڑھا ہے“۔

( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ )( ۵۵ )

”اور محمد (ص) تو صرف ایک رسول ہیں، جن سے پہلے بہت رسول گزر چکے ہیں“۔

اور خدا وند عالم فرماتا ہے:

( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ اٴَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّار )( ۵۶ )

” محمد(ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین ہیں“۔

پھر یہ بھی ملتا ہے۔

( مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ )( ۵۷ )

” محمد (ص) تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں“۔

کیا تم نے ان آیتوں کا مطالعہ کیا ہے ؟

میں نے کہا: ”ہاں میں ان آیتوں سے واقف ہوں“۔

انھوں نے فرمایا: ”ان آیتوں میں حضرت علی علیہ السلام کہاں ہیں ؟تم دیکھتے ہو کہ یہ باتیں رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے لئے ہیں نہ کہ حضرت علی علیہ السلام کے لئے اور ہم اور تم دونوں گروہ کے لوگ قرآن کومانتے ہیں۔تم کس طرح ہم لوگوں پر تہمت لگاتے ہو کہ ہم پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کو افضل وبرتر سمجھتے ہیں؟“۔

یہ سن کر میں نے سکوت اختیار کیا اور کوئی جواب نہیں دیا

اس کے بعد انھوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”جبرئیل کی خیانت کے بارے میں تم لوگ جو تہمت لگاتے ہوئے کہ ہم شیعہ کہتے ہیں کہ جبرئیل نے خیانت کی ہے یہ تہمت پہلے والی تہمت سے بھی زیادہ سخت ہے۔کیا ایسا نہیں ہے کہ جب جبرئیل علیہ السلام پیغمبر اسلام پر (آغاز بعثت میں) نازل ہوئے تو علی علیہ السلام دس سال سے بھی کم عمر تھے تو کس طرح جناب جبرئیل نے غلطی کی اور محمد (ص)،اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان فرق نہ کو سمجھ پائے ؟“

تھوڑی دیر خاموش رہ کر میں نے ان کی باتوں پر غور کیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ تمام باتیں سچ ہیں۔

انھوں نے فرمایا: ”ضمناً یہ بھی کہہ دوں کہ اسلام کے تمام گروہوں میں صرف شیعوں کا الگ گروہ ہے جو پیغمبر(ص) اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی عصمت کا معتقد ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہمارا ہی عقیدہ ہے کہ جبرئیل علیہ السلام ہر طرح کی غلطی اور شبہ سے محفوظ ہیں“۔

میں نے کہا: ”یہ سب جو مشہور ہے وہ کیا ہے ؟“

انھوں نے فرمایا: ”یہ سب تہمت اور غلط افواہیں ہیں جو مسلمانوں کے درمیان جدائی پیدا کرنے کے لئے گڑھ لی گئی ہیں ،تم تو الحمد للہ ایک عاقل انسان ہو اور ان مسائل کو اچھی طرح سے سمجھتے ہو، اب تمہیں چاہئے کہ شیعوں اور ان کے علمی اداروںکو قریب سے دیکھو اور غور و فکر کرو کہ کیا اس طرح کی چیزیں ان کے درمیان پائی جاتی ہیں“۔

میں جب تک نجف اشرف میں رہا شیعوں کے سلسلہ میں جتنی بھی نامناسب سن رکھی تھیں ان سب کے بارے میں تحقیق کرتا رہا۔

۶۷۔نماز ظہرین اور مغربین کو ایک ساتھ پڑھنا

اشارہ:

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اہل سنت حضرات نما ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو ایک ہی وقت میں انجام دینا باطل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر نماز کو جداگانہ اس کے وقت میں پڑھنا چاہئے اور جس طرح نماز ظہر وعصر کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا اسی طرح مغرب وعشاء کے درمیان بھی فاصلہ رکھنا چاہئے۔

ڈاکٹر تیجانی سماوی کہتے ہیں کہ جب میں سنی تھا تو اس بنیاد پر نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو ایک وقت میں انجام دینا باطل سمجھتا تھا لیکن جب میں نجف اشرف میں وارد ہوا اوراپنے دوست کی رہنمائی میں حضرت آیت اللہ صدر کی خدمت میں پہنچا تو ظہر کا وقت ہو گیا جب آپ مسجد کی طرف روانہ ہوئے تو ساتھ ساتھ میں اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تمام افراد مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر نماز میں مشغول ہوگئے۔

میں نے دیکھا کہ آیت اللہ باقر الصدر نے نماز ظہر کے چند منٹ بعد نماز عصر بھی بھی پڑھ لی اور میں اس وقت ایسی میں حالت اور ایسی جگہ پر تھا کہ صف سے باہر نہیں نکل سکتا تھا ، یہ پہلا موقع تھا جب میں نے نماز ظہر وعصر ایک ہی قت میں پڑھی لہٰذا میں بڑے شش وپنج میں مبتلا تھا کہ آیا میری نماز عصر صحیح ہے یا نہیں؟

اس دن میں شہید صدر کا مہمان تھا مجھے جیسے ہی موقع ہاتھ آیا میں نے ان سے پوچھ لیا:

”کیا یہ صحیح ہے کہ مسلمان دو نمازوں کو بغیرضرورت کے وقت ایک ساتھ انجام دیں ؟“

شہید صدر: ”ہاں دو فریضوں کو یکے بعد دیگرے انجام دینا جائز ہے خواہ ضرورت کے وقت ہویانہ“۔

میں نے پوچھا: ”اس فتوے پر آپ کی دلیل کیا ہے ؟“

شہید صدر: ”چونکہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلمنے مدینہ میں بغیر کسی ضرورت کے خواہ وہ سفر ہویا خوف یا بارش ہو رہی ہو نماز ظہر وعصر اور اسی طرح مغرب وعشاء کو یکے بعد دیگرے انجام دی ہے اور آپ کا یہ عمل اس لئے تھا تاکہ ہم سے مشقت کم ہو جائے اور اسی طرح یہ عمل ہمارے عقیدہ کے مطابق ہمارے ائمہ علیہم السلام سے بھی ثابت ہے۔

اور ہم لوگوں کی طرح تم اہل سنت حضرات کے نزدیک بھی روایت سے یہ چیز ثابت ہے، مجھے تعجب ہواکہ کس طرح ہمارے نزدیک ثابت ہے کیونکہ آج تک نہ میں نے کہیں سنا تھا اور نہ کسی اہل سنت کو دیکھا تھا کہ کسی نے اس طرح انجام دیا ہو بلکہ وہ لوگ اس کے بر خلاف کہتے ہیں کہ اگر نماز اذان سے ایک منٹ بھی پہلے واقع ہو جائے تو نماز باطل ہے چہ جائیکہ کوئی شخص نماز عصر کو ایک گھنٹہ پہلے نماز ظہرکے فوراً بعد یا نماز عشاء کو نما مغرب کے بعد فوراً پڑھے ان چیزوں سے ابھی تک میں بالکل ناآشنا تھا اور میرے نزدیک یہ چیزیں باطل بھی تھیں۔

آیت اللہ صدر نے میرے چہرہ سے معلوم کرلیا کہ میں اس بات پر تعجب کر رہاہوں کہ ظہر کے بعد عصر اور مغرب کے بعد عشاء بغیر کسی فاصلہ کے کیسے پڑھنا صحیح ہے؟اسی وقت انھوں نے اپنے ایک طالب علم کی طرف اشارہ کیا اور اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ایک کتاب کی دو جلدیں میرے پاس لاکر رکھ دیں میں نے دیکھا اس میں ایک صحیح مسلم ہے اور دوسری صحیح بخاری تھی۔

آیت اللہ صدر نے اس طالب علم سے کہا کہ مجھے وہ حدیث دکھادےں جس میں دونوں فریضوں کو ایک وقت میں پڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے میں نے ان دونوں کتابوں میںپڑھا کہ رسول اکرم نے نمازظہر وعصر اور مغرب وعشاء خوف بارش اور بغیر کسی ضرورت کے ایک ساتھ پڑھاہے اور کتاب صحیح مسلم میں مجھے اس سلسلہ میں پورا ایک باب ملا۔یہ دیکھ کر میں کافی حیران و پریشان ہو ا اور سوچ رہا تھا کہ خدایا اس وقت میں کیا کروں اسی وقت میرے دل میں ایک شک پیدا ہوا کہ شاید یہ دوکتابیں (صحیح مسلم اور صحیح بخاری )جو میں نے یہاں دیکھی ہیں تحریف شدہ ہوں یا نقلی ہوں اور دل ہی دل میں کہنے لگا کہ جب میں اپنے وطن تیونس واپس جاوں گا تو ان دونوں کتابوں کا بغور مطالعہ کر کے اس موضوع پر تفصیلی طور پر تحقیق کروں گا۔

اسی وقت شہید صدر نے مجھ سے پوچھا: ”اب ان دلیلوں کے بعد تمہاری کیا رائے ہے؟“

میں نے کہا: ”آپ حق پر ہیں اور حق کہنے والے ہیں“۔

اس کے بعد میں نے آیت اللہ کا شکریہ اداکیا لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہو اتھا یہاں تک کہ جب میں اپنے وطن واپس پہنچا تو صحیح مسلم اور صحیح بخاری کو لے کر پڑھا اور تفصیلی طور پر تحقیق کی تو اچھی طرح قانع ہو گیا کہ نماز ظہر وعصر اور اسی طرح مغرب وعشاء ملاکر پڑھنا بغیر کسی ضرورت کے اشکال نہیں ہے کیونکہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلمنے اس کام کو انجام دیا ہے۔میں نے دیکھا کہ امام مسلم اپنی کتاب”سفر“کے علاوہ ”دونمازوں کے اجتماع“( ۵۸ ) کے باب میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے نمازظہر وعصر اور مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھی تھی۔اسی طرح انھوں نے یہ بھی نقل کیاہے کہ آنحضرت نے مدینہ میں نماز ظہر عصر اور مغرب وعشاء کو بغیر خوف یا بارش کے ایک ساتھ پڑھی ہے۔ابن عباس سے سوال کیا گیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کیوں ایسا کیا تو ابن عباس نے جواب میں کہا:

کی لایحرج امته( ۵۹ )

تاکہ امت کو دشواری نہ ہو“۔

اور کتاب صحیح بخاری میں بھی(ج ۱ ص ۱۴۰) باب ”وقت مغرب“میں میں نے دیکھا اور پڑھا کہ ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سات رکعت نماز(نماز مغرب وعشاء)ایک ساتھ پڑھی اور آٹھ رکعت( ظہر وعصر)نما ز ایک ساتھ پڑھی اور اسی طرح کتاب ”مسند احمد“( ۶۰ ) میں دیکھا کہ اس موضوع پر روایت ہے اسی طرح کتاب”الموطا“( ۶۱ ) میں میںنے دیکھا کہ ابن عباس روایت کرتے ہیں:

صلی رسول الله الظهر والعصر جمیعا والمغرب والعشاء جمیعا فی غیر خوف ولاسفر

”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے بغیر کسی خوف وسفر کے نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھی“۔

نتیجہ یہ ہے کہ جب یہ مسئلہ اس طرح واضح اور روشن ہے تو اہل سنت کیوں تعصب اور بغض کی وجہ سے اسی موضوع کو لے کرشیعہ پر بڑے بڑے اعتراض کرتے ہیں؟

اس چیز سے غافل کہ خود ان کی کتاب میں اس چیز کا جواز ثابت ہے۔( ۶۲ )

۶۸۔اہل سنت کے امام جماعت سے (ایک ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق) بہترین مناظرہ

ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں:

”میں نے دونمازوں کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا واقعہ اہل سنت کی کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے روایت کے مطابق تیونس میں اپنے بعض دوستوں اور بعض علماء کے درمیان بیان کردیا، چند لوگوں نے اس چیز کے صحیح ہونے کے سلسلہ میں معلومات حاصل کر لی اور اس بات کی خبر جب شہر ”قفصہ“(تیونس کا ایک شہر)کی ایک مسجد کے امام جماعت کے کانوں تک پہنچی تو وہ سخت ناراض ہو ا اور اس نے کہا جو اس طرح کی فکر رکھتے ہیں وہ نہایت بے دین ہیں اور قرآن کے مخالف ہیں کیونکہ قرآن فرما تا ہے:

( الصَّلاَةَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ کِتَابًا مَوْقُوتًا ً )( ۶۳ )

”بلا شبہ مومنوں پر معین وقت پر نماز فرض کی گئی ہے“۔

ہدایت پانے والوں میں سے میرا یک دوست بھی تھا جس کا علمی معیاربہت ہی بلند و بالا تھا اور وہ بہت ہی ذہین وچالاک بھی تھا۔اس نے بہت ہی غصہ کی حالت میں میرے پاس آکر امام جماعت کے قول کو نقل کیا۔میں نے دو کتاب صحیح مسلم اور صحیح بخاری اسے لا کر دی اور اس سے کہا کہ نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو ایک ساتھ پڑھنے والے باب کا مطالعہ کرو۔مطالعہ کے بعد اس کے نزدیک بھی یہ مسئلہ ثابت ہو گیا۔یہاں تک کہ میرا یہ دوست جو ہر روز اسی امام جماعت کی نما ز میں شرکت کرتا تھا ایک دن نماز جماعت کے بعد اس کے در س میںجاکر بیٹھ گیا اور امام جماعت سے پوچھا: ”نماز ظہر وعصر اور مغرب وعشاء ایک ساتھ پڑھنے کے بارے میں آپ کا خیال ہے ؟“

امام جماعت: ”یہ شیعوں کی ایک بدعت ہے“۔

میرے دوست نے کہا: ”ایسا نہیں ہے بلکہ یہ بات صحیح مسلم اور صحیح بخاری سے بھی ثابت ہے“۔

امام جماعت: ”نہیں ثابت نہیں ہے۔اس طرح کی چیز کا ہونا اس کتاب میں مشکل ہے“۔

میرے دوست نے وہ دونوں کتابیں اس کے حوالہ کر دیں اس نے وہی باب پڑھا۔جب اس کے درس میں شریک ہونے والے دوسرے نماز گزاروں نے اس سے دو نمازوں کوایک ساتھ پڑھنے کے متعلق پوچھا تو اس نے کتابیں بند کر کے مجھے دیتے ہوئے انھیں جواب دیا: ”دونمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا جواز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خصوصیت میں سے ہیں جب تم رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم ہو جانا اس وقت تمہارے لئے بھی یہ جائز ہو جائے گا“!!

میرے دوست نے کہا: ”اس کی بات سے میری سمجھ میں آگیا کہ یہ ایک متعصب جاہل ہے اور اس دن میں نے قسم کھالی کہ آج سے اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا“۔

یہاں ایک حکایت کا نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں ، وہ یہ کہ دو شکاری شکا ر کرنے صحرا کی طرف روانہ ہوئے صحرا میں پہنچ کر دور سے انھوں نے کالے رنگ کی ایک چیز دیکھی تو ان میں سے ایک نے کہا: ”یہ کوا ہے“۔دوسرے نے کہا:نہیں یہ بکری لگ رہی ہے“۔

دونوں میں بحث ہونے لگی اور دونوں اپنی اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔جب دونوں اس کالی چیز کے قریب پہنچے تو اچانک دیکھا کہ کوا تھا جو اڑگیا۔

پہلے نے کہا: ”میں نے کہا تھا نہ کہ کواہے کیا اب تم مطمئن ہوگئے ؟

لیکن دوسرا اپنی بات پر اڑا ہو ا تھا یہ دیکھ کر دوسرے نے کہا:

”کتنے تعجب کی بات ہے ، بکری بھی اڑتی ہے ؟!!

ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں:

”اس کے بعد میں نے اپنے دوست کو بلا کر اس سے کہا: ”اس امام جماعت کے پاس جاو اور اسے صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں وہ روایت دکھاو جہاں یہ نقل ہوا ہے کہ ابن عباس و انس ابن مالک اور دوسرے بہت سے اصحاب نے نماز ظہر ین و مغربین کو ایک ساتھ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی اقتدا میں پڑھی ہے اس طرح کی نماز وں کو ایک ساتھ پڑھنا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے خصائص میں سے ہر گز نہیں ہے کیا ہم رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کو اپنا نمونہ عمل نہیں سمجھتے؟ مگر میرے دوست نے معذرت کرتے ہوئے کہا: ”کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے پاس اگر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم بھی آکر یہ حکم بتائیں تو بھی وہ قانع نہیں ہوگا۔( ۶۴ )

۶۹۔قاضی مدینہ کی بے بسی(آیہ تطہیر کی تحقیق)

ڈاکٹر محمدتیجانی کہتے ہیں:

جب میں مدینہ میں مسجد نبوی کی زیارت سے مشرف ہوا تو وہاں دیکھا کہ ایک خطیب کچھ نمازیوں کے درمیان بیٹھ کر درس دہے رہا ہے میں نے اس کے در س میں شرکت کی وہ چند آیتوں کی تفسیر کر رہا تھا لوگوں کی باتوں سے یہ معلوم ہو گیا کہ یہ مدینہ کا قاضی ہے جب اس کا درس ختم ہوگیا تو وہ اٹھ کر جانے لگا ابھی مسجد سے باہر نکلنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے آگے جا کر اسے روکا اور اس سے کہا:

”مہربانی کر کے مجھے یہ بتائیں کہ اس آیت تطہیر میں اہل بیتعلیہ السلام سے مراد کون ہیں؟“

( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )( ۶۵ )

”بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔

قاضی نے بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا:

”یہاں اہل بیت سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیویاں ہیں کیونکہ اس سے پہلے والی تمام آیتوں میں ازواج نبی کو خطاب کیا گیا ہے جیسا کہ خدا وند عالم نے فرمایا:

( وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاٴُولَی ) ۔۔۔“( ۶۶ )

”۔۔۔ اور تم اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگار نہ کرو۔۔۔“

میں نے کہا: شیعہ کہتے ہیں کہ یہ آیت علی ، فاطمہ ، حسن وحسین علیہم السلام سے مخصوص ہے میں نے ان سے کہا کہ آیت کی ابتدا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی ازواج سے متعلق ہے یعنی آیت کے شروعات ہی اس جملے سے ہوتی ہے۔

”یا ایھا النبی “

تو ان لوگوں نے جواب میں کہا:

”جو بھی اس آیت کے شروع میں آیا ہے وہ خصوصی طور پر لفظ مونث اور صیغہ کے ساتھ ذکر ہوا ہے جیسے ”لستن، فلا تخضعن، و قرن فی بیوتکن، لا تبرجن، اقمن، آتین، اطعن“ وغیرہ لیکن آیت کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے اس کا انداز بدل گیا ہے اور اس کی ضمیر میں جمع مذکر کے طور پر ذکر ہوئی ہیں جیسے ”عنکم“ ”لیطھرکم“ وغیرہ“۔

قاضی نے اپنی عینک اوپر اٹھا ئی اور مجھے کوئی استدلالی جواب دینے کے بجائے کہنے لگا:

”خبردار !شیعوں کی زہر آلود فکر جو آیت وقرآن کی تاویل نفسانی خواہشات کی بنا پر کرتے ہیں ان کے چکر میں نہ آنا“۔( ۶۷ )

یہاں پر ہم اس بحث کی تکمیل کے لئے ”تفسیر المیزان“سے استفادکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سب کے علاوہ بھی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ آیت تطہیر جو سورہ احزاب کے آخر میں ذکر ہوئی ہے وہ اپنے سے پہلے والی آیات کے ساتھ نازل ہوئی ہے بلکہ روایتوں سے اچھی طرح یہ پتہ چلتا ہے کہ آیت کا یہ حصہ الگ سے نازل ہوا ہے لہٰذا جب رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد قرآن جمع کیا گیا تو اس آیت کوان آیات کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔( ۶۸ )

اس کے علاوہ اہل سنت حضرات سے متعددروایات اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں کہ مذکورہ آیت میں اہل بیت سے مراد علی وفاطمہ حسن وحسین علیہم السلام ہیں اور یہاں تک کہ ازواج پیغمبر اکرم جیسے ام سلمہ ،عائشہ وغیرہ سے بھی نقل ہوا ہے کہ آیت تطہیر میں اہل بیت سے مراد علی وفاطمہ حسن حسین علیہم السلام ہیں۔( ۶۹ )

۷۰۔آل محمد پر صلوات سے متعلق ایک مناظرہ

اشارہ:

اہل سنت حضرات جب حضرت علی علیہ السلام کا نام لیتے ہیں تو علیہ السلام کی جگہ ”کرم اللہ وجھہ “ کہتے ہیں۔جب کہ دیگر تمام صحابہ کو”رضی اللہ عنہ“کہتے ہیں کیونکہ خود وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امام علی علیہ السلام نے کوئی گناہ نہیں کیا (جس کی وجہ سے وہ انھیں رضی اللہ عنہ کہیں بلکہ ان کے لئے کرم اللہ وجھہ کہنا چاہئے کہ خداوندمتعال ان کے مرتبہ کو بلند قرار دے)

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام کے نام کے ساتھ وہ لوگ علیہ السلام کیوں نہیں کہتے ؟

اسی سوال کے جواب کے سلسلہ میں آنے والے مناظرہ کی طرف توجہ فرمائیں۔

ڈاکٹر تیجانی سماوی جو پہلے اہل سنت سے تعلق رکھتے تھے، قاہرہ سے عراق کے سفر میں کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں ان کو ایک عالم دین ”استاد منعم“ سے دوستی ہوگئی، جو یونیورسٹی کے استاد اور عراقی شیعہ عالم دین تھے، چنانچہ ان دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی ، اور اس کے بعد بھی عراق میں ان دونوں کے درمیان بہت سی گفتگو اور مناظرے ہوئے ہیں جن میں سے ایک مناظرہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ، جو بغداد میں استاد منعم کے مکان پر ہوا تھا، ملاحظہ فرمائیں:

ڈاکٹر تیجانی: ”تم شیعہ حضرات ، علی علیہ السلام کے مقام کو اس حد تک بڑھا دیتے ہو کہ انھیں پیغمبروں کی صفت میں لا کر کھڑا کر دیتے ہو کیونکہ تم لوگ ان کے نام کے بعد کرم اللہ وجھہ کہنے کے بجائے علیہ السلام یا علیہ الصلوة والسلام کہتے ہو جب کہ صلوات وسلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخصوص ہے جیسا کہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں۔

( إِنَّ اللهَ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا )( ۷۰ )

” بے شک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلوات بھیجتے ہیں ، اے صاحبان ایمان ان پر صلوات بھیجتے رہو اور ان کے سامنے تسلیم رہو“۔

استاد منعم: ”ہاں تم نے سچ کہا: ”ہم جب بھی حضرت علی علیہ السلام یا ان کے علاوہ دیگر ائمہ کے نام لیتے ہیں تو علیہ السلام کہتے ہیں لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ ہم انھیں پیغمبر یا ان کے رتبہ کے برابر جانتے ہیں“۔

ڈاکٹر تیجانی: ”تو پھر کس دلیل سے ان پر سلام وصلوات بھیجتے ہو“۔

استاد منعم: ”اسی آیت کی دلیل سے کہا جاتا ہے ”( إِنَّ اللهَ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا ) ۔۔۔“کیا تم نے اس کی تفسیر پڑھی ہے ؟شیعہ اور سنی دونوں متفقہ طور پر یہ نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو چند صحابیوں نے آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم سے پوچھا:

”یا رسول اللہ ! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جانتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلو م کہ آپ پر صلوات کس طرح بھیجی جائے گی؟“

رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو:

اللهم صلی علی محمد وآل محمد کما صلیت علی ابراهیم وآل ابراهیم فی العالمین انک حمید مجید “۔( ۷۱ )

”خدایا محمد وآل محمد پر اسی طرح درود ورحمت نازل فرما جس طرح تونے ابراہیم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی ہے بلاشبہ تو قابل حمد اور بزرگ ہے“۔

اور یہ بھی فرمایا:

لا تصلوا علي الصلاةُ البتراء (مجھ پر دم بریدہ صلوات نہ بھیجو)“

اصحاب نے آپ سے اس کا مطلب دریافت کیا توآپ نے فرمایا:

صرف ”اللھم صل علی محمد “ کہنا ناقص صلوات ہے بلکہ تمہیں اس طرح کہنا چاہئے: ”اللھم صل علی محمد وآل محمد“یہ پوری صلوات ہے۔( ۷۲ )

اس کے علاوہ متعدد روایتوں میں آیا ہے کہ پوری صلوات پڑھو اور آخر کے جملہ میں آل محمد حذف نہ کرو یہاں تک نماز کے تشہد میں تمام فقہاء نے اہل بیت علیہم السلام پر صلوات بھیجنے کو واجب قرار دیا ہے اور اہل سنت کے فقہاء میں امام شافعی نے واجبی نمازوں کے دوسرے تشہد میں اسے واجب جانا ہے۔( ۷۳ )

اسی بنیاد پر شافعی اپنے مشہورو معروف شعر میں ا س طرح کہتے ہیں:

یا اهل بیت رسول الله حبکم

فرض من الله فی القرآن انزله

کفاکم من عظیم القدر انکم

من لم یصل علیکم لا صلوة له

”اے اہل بیت رسول ! تمہاری محبت اللہ کی طرف سے نازل کردہ قرآن میں فرض قرار دی گئی ہے تمہاری عظیم منزلت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ جس نے تم پر صلوات نہ بھیجی اس کی نماز ہی نہ ہوگی“۔( ۷۴ )

ٖٓڈاکٹر تیجانی یہ سب سن کر بہت متاثر ہوئے کیونکہ استاد منعم کی یہ باتیں ان کے دلنشین ہو رہی تھیں، انھوں نے کہا:

”میں قبول کرتاہوں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم پر صلوات بھیجتے وقت ان کی آل کو بھی شامل کرنا چاہئے ، چنانچہ جب ہم جب ان پر صلوات بھیجتے ہیں تو ان کے آل کے علاوہ اصحاب وازواج کو بھی شامل کرلیتے ہیں مگر یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ جب علی علیہ السلام کا ذکر ہوتو ان کے نام کے ساتھ صلوات بھیجی جائے یا ”علیہ السلام“ کہا جائے“۔( ۷۵ )

استاد منعم: ”کیا تمہارے نزدیک کتاب صحیح بخاری معتبر ہے ؟“

ڈاکٹر تیجانی: ”ہاں یہ کتاب تو اہل سنت کے اماموں میں سے ایک بلند پایہ کے امام ”امام بخاری“ کی تالیف کردہ ہے جو ہمارے نزدیک قرآن کے درجہ رکھتی ہے“۔

اس وقت استاد منعم نے اپنے کتاب خانہ سے صحیح بخاری کا ایک نسخہ لا کر مجھے پڑھنے کے لئے دیا میں نے جب ان کے نکالے ہوئے صفحہ کو پڑھا تو مجھے اس پر یہ عبارت نظر آئی:

”فلاں نے فلاں سے روایت کی اور اس نے علی علیہ السلام سے روایت کی ہے ”میں نےیہاں تک کہ اس بات کا اعتراف اہل سنت کے ان علماء نے بھی کہا ہے جبکہ وہ نئے اعتراض گڑھنے کے عادی ہیں ، مخصوصاً اس طرح کے اعتراضات میں مشہور سنی عالم دین ”ابن روزبہان“ جیسے لوگ بھی یہ قبول کرتے ہیں کہ یہاں پر”آل یاسین“سے مراد آل محمد ہیں۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ اسی سورہ صافات میں جناب نوح (آیت ۷۹) جناب ابراہیم (آیت ۱۰۹) جناب موسیٰ وہارون( ۱۲۰) اور دوسرے مرسلین پر سلام بھیجا گیا ہے(آیت ۱۸۱) اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آل محمد انبیاء کے زمرہ میں آتے ہیں اور مذکورہ آیت آل محمد کی افضل ہونے کی واضح دلیل ہے (دلائل الصدق ،ج ۲ ،ص ۳۹۸ ۔)

جب بخاری میں یہ جملہ ”علیہ السلام“ دیکھا تو مجھے بڑا تعجب ہوا مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ صحیح بخاری کا نسخہ ہے میں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور اس کے بعد بڑے غور سے پڑھا تو بھی وہی عبارت نظر آئی اب میرا شک و شبہ جاتا رہا۔

استاد منعم نے صحیح بخاری کا دوسرا صفحہ کھول کر دکھایا جس پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی کہ ”علی ابن الحسین علیہ السلام “سے روایت ہے۔اس کے بعد مجھے کوئی راستہ نظر نہ آیا اور میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا البتہ تعجب سے یہ میں نے ضرور کہا ”سبحان اللہ !لیکن تھوڑ ا شک اب بھی میرے ذہن میں موجود تھا لہٰذا میں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ نسخہ” مصر کی پریس ،حلبی اینڈسنس“ سے چھپاہے بہر حال قبول کر لینے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا۔( ۷۶ )

____________________

(۴۹) اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے فارسی میں ”آنگاہ۔۔۔ہدایت شدم)کے نام سے اس کا ترجمہ لوگوں نے بہت پسند کیا اور دیکھتے دیکھتے اس کا آٹھواں ایڈیشن بھی چھپ گیا ،

(۵۰) حضرت آیت اللہ شہید سید محمد صدر رحمة اللہ علیہ ۱۳۵۳ ھ ق میں کاظمین میں متولد ہوئے اور جوانی ہی میں مجتہد مسلم ہو گئے آپ نے مختلف موضوعات مثلاً فقہ، اصول،منطق،فلسفہ،اور اقتصاد پر تقریبا ً ۲۴ کتابیں لکھی ہیں۔۲۰ سال اپنے قلم اور بازوں سے عراق کی بعثی حکومت سے مسلسل جہاد کرنے کے بعد آخر کار ۴۷ سال کی عمر میں اپنی مجتہدہ بہن ”بنت الہدیٰ“ کے ساتھ یزید صفت عراق کی بعثی پارٹی کے ہاتھوں شہید ہوگئے ۔

(۵۱) مسلک وہابیت ”شیخ محمد بن عبد الوہاب “کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ ۱۱۱۵ ء ھ میں نجد کے شہر ”عنیہ “میں پیدا ہوااس کا باپ اس شہر میں قاضی تھا۔

(۵۲) ”آنگاہ ہدایت شدم“(پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۹۲تا ۹۳۔

(۵۳) اتنی زیادہ نقل ہوئی ہے کہ جس سے انسان کو یہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی حدیث ہے ۔

(۵۴) ”آنگاہ ہدایت شدم“(پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۸۸ تا ۸۹۔

(۵۵) سورہ آل عمران آیت ۱۴۴۔

(۵۶) سورہ فتح آیت ۲۹۔

(۵۷) سورہ احزاب آیت ۴۰۔

(۵۸) صحیح مسلم ،ج۲ ،ص ۱۵۱(باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر)

(۵۹) صحیح مسلم ،ج۲ ،ص ۱۵۱(باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر)

(۶۰) مسند امام احمد حنبل ،ج۱، ص۲۲۱۔

(۶۱) موطا االامام مالک (شرح الحوالک )ج،۱،ص۱۶۱۔

(۶۲) لاکون مع الصادقین ،ڈاکٹر تیجانی سماوی، مطبوعہ بیروت ،ص۲۱۰ سے ۲۱۴ تک سے خلاصہ کے ساتھ اقتباس ۔

(۶۳) سورہ نساء آیت ۱۰۳۔

(۶۴) لاکون مع الصادقین سے اقتباس ،ص۲۱۴و ۲۱۵۔

(۶۵) سورہ احزاب، آیت ۳۳۔

(۶۶) سورہ احزاب، آیت ۳۳۔

(۶۷) ”آنگاہ ہدایت شدم“(پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۱۱۴تا ۱۱۵۔

(۶۸) المیزان ،ج۱۶،ص۱۱۴۔

(۶۹) شواہد التنزیل ،ج۲ ،ص۱۱،اور ۲۵ کے بعد (اس بحث کا ماخذ”احقا ق الحق “کی ج۲ میں بھی آیا ہے ۔

(۷۰) سورہ احزاب آیت ۵۶۔

(۷۱) صحیح بخاری ،ج۶،ص۱۵۱۔صحیح مسلم ،ج۱ ص۳۰۵۔

(۷۲) الصواعق المحرقہ، ص۱۴۴۔

(۷۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۶ ،ص۱۴۴۔

(۷۴) المواہب زرقانی ،ج۷ ص۷۔تذکرہ علامہ ،ج۱،ص۱۲۶۔

(۷۵) مولف کا قول:قرآن میں سورہ ”صافات “کی ۱۳۰ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں ”سلام علی آل یاسین“(آل یاسین پر سلام ہو )ابن عباس سے منقول ہے کہ یہاں ”آل یاسین“ سے مراد آل محمد ہیں لہٰذا س بنا پر قرآنی اعتبار سے بھی آل محمد میں سے کسی کے نام کے ساتھ ”علیہ السلام“کہنا درست ہے ۔

(۷۶) آنگاہ ہدایت شدم، (پھر میں ہدایت پاگیا )سے اقتباس ،ص۶۵ تا ۶۷۔


۷۱۔حدیث غدیر سے متعلق ایک مناظرہ

ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں:

اپنے وطن تیونس میں،میں نے ایک سنی عالم دین سے ایک مناظرہ میں اس طرح کہا:

”تم حدیث غدیر کو قبول کرتے ہو“؟

تیونسی عالم: ”ہاں میں اس حدیث کو قبول کرتا ہوں یہ صحیح ہے“۔

میں نے خود قرآن کی تفسیرلکھی ہے جس میں سورہ مائدہ کی ۶۷ ویں آیت کی تفسیر کے ذیل میں حدیث غدیر کو پیش کیا ہے اس کے بعد اس نے اپنی تفسیر میرے سامنے لا کر رکھ دی اور جہاں اس نے حدیث غدیر کا تذکرہ کیا تھا وہ مجھے دکھایا۔

میں نے اس کتاب میں دیکھا حدیث غدیر کے باب میں اس طرح عبارت درج ہے:

”شیعہ حضرات اس بات کے معتقد ہیں حدیث غدیر صریحی طور پر علی کی خلافت بلا فصل پر دلالت کرتی ہے لیکن اہل سنت حضرات کے نزدیک یہ عقیدہ باطل ہے کیونکہ یہ حدیث ابو بکر وعمر وعثمان کی خلافت سے منافات رکھتی ہے اس وجہ سے ہمارے لئے یہ لازم ہو گیا کہ اس روایت کی صراحت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کی تاویل کریں( ۷۷ ) یعنی ہم یہ کہیں کہ یہاں مولیٰ کے معنی دوست اور یاور ہیں جیسا کہ قرآن میں یہ لفط دوست اور یاور کے معنی میں آیا ہے اور خلفائے راشدین اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عظیم صحابیوں نے بھی لفظ مولا سے یہی مراد لیا ہے اس کے بعد ان کے تابعین اور علمائے مسلمین نے بھی اسی بات کی تائید کی ہے اور اسی صورت کو مقبول بتایا ہے۔اس طرح شیعوں کے اس عقیدہ کا کوئی اعتبار نہیں“۔

ڈاکٹر تیجانی: ”کیا خود واقعہ غدیر تاریخ میں پایا جاتا ہے یا نہیں؟“

تیونسی عالم: ”ہاں کیوں نہیں اگر واقعہ غدیر نہ ہوا ہوتا تو علماء ومحدثین اسے نقل ہی نہ کرتے“۔( ۷۸ )

ڈاکٹر تیجانی: ”کیا یہ مناسب ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم حج سے واپسی کے وقت غدیر خم کے تپتے ہوئے صحراء میں ہزاروں مرد،عورتوں اور بچوں کے مجمع میں سب کو روک کر ایک طویل خطبہ دیں اور اس کے بعد یہ اعلان کریں کہ علی تمہارے دوست اور مدد گار ہیں کیا تم اس طرح کی تاویل کو پسند کرتے ہو؟“

تیونسی عالم: ”بعض صحابہ کرام نے جنگ کے دوران حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں نقصان اٹھا یا تھا اس میں بہت سے ایسے تھے جن کے دلوں میں ان کی طرف سے کینہ پرورش پا رہا تھا لہٰذا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے میدان غدیر میں یہ اعلان کیا کہ جو علی سے کینہ رکھتے ہیں وہ اپنے کینوں کو دور کریں اور انھیں اپنا دوست اور مددگار سمجھیں؟“( ۷۹ )

ڈاکٹر تیجانی: ”علی علیہ السلام کی دوستی کا مسئلہ اس بات کا تقاضہ نہیں کرتا کہ پیغمبر اکرم ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے درمیان تپتے ہوئے صحراء میں روکیں اور نماز جماعت ادا کریں اور ایک طولانی خطبہ دیں اور اس خطبہ کے دوران بعض ایسے مطالب بیان کریں جو علی علیہ السلام کی رہبری اور خلافت کے لئے مناسب ہوں نہ کہ دوستی اور یاوری کے لئے مثلاًاسی خطبے کا ایک ٹکڑا یہ ہے جس میں آنحضرت نے لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے ان سے سوال کیا”الست اولی بکم من انفسکم “کہ میں تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟“

تمام لوگوں نے اقرار کیا ہاں کیوں نہیں یا رسول اللہ“۔

یہ تمام باتیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ یہاں پر مولا سے مراد رہبر وآقا کے ہیں اور اس سے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت ثابت ہوتی ہے“۔

اسی وجہ سے خود ابوبکر نے بھی لفظ مولی سے امام علی علیہ السلام کی رہبری اور خلافت جانا ہے اور اسی صحرا کی تپتی ہوئی دھوپ میں امام علی علیہ السلام کے پاس آکر انھیں اس طرح مبارک باد پیش کیا۔

”بخ بخ لک یابن ابی طالب اصبحت مولای ومولا کل مومن ومومنة“

”مبار ک مبارک ہو ؛اے ابو طالب کے بیٹے !اب تم میرے اور تمام مومن اور مومنہ کے مولا ہوگئے “

یہ مبارک باد دینا بہت ہی مشہور حدیث ہے جسے اہل سنت اور اہل تشیع سبھی نے نقل کیا ہے۔( ۸۰ )

اب تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اگر یہ اعلان صرف دوستی اور یاوری کے لئے ہوتا تو ابو بکر و عمر حضرت علی علیہ السلام کو اسی طرح مبارک باد پیش کرتے ؟اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم اپنے خطبے کے بعد اس طرح اعلان کرتے:

”سلّموا علیہ بامرة المومنین“۔

”اے مسلمانو! علی کوامیر المومنین کہہ کر سلام کرو“۔

اس کے علاوہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورہ مائدہ کی ۶۷ ویں آیت کے نزول کے بعد یہ عمل انجام دیا اور آیت میں ہم یہ پڑھتے ہیں:

( ” یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ )( ۸۱ )

”اے رسول وہ چیز پہنچا دو جو تمہارے رب کی طرف سے پہلے ہی تم پر نازل کی جا چکی ہے اور اگر تم نے اسے نہ پہنچایا تو گویا تم نے کار رسالت انجام ہی نہیں دیا“۔

کیا حضرت علی علیہ السلام کی دوستی کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ہو گیا تھا کہ اگر اسے لوگوں کےدرمیان بیان نہ کیا جائے تو آنحضرت کی رسالت کو خطرہ لاحق ہوجائے ؟“

تیونسی عالم: ”تو اس بارے میں تم کیا کہو گے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد مسلمانوں نے علی علیہ السلام کی بیعت نہ کرتے ہوئے ابوبکر کی بیعت کر لی، کیا ان کا یہ عمل گناہ تھا ؟کیا انھوں نے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی نا فرمانی کی؟“

ڈاکٹر تیجانی: ”جب خود اہل تسنن اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ بعض اصحاب نے رسول اکرم کے زمانہ میں خود آپ کی مخالفت کی تو اس بنا پر یہ کوئی ایسی تعجب کی بات نہیں کہ آپ کے بعد اصحاب نے ان کی مخالفت کی۔( ۸۲ )

جیسے شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے یہ ثابت ہے کہ جب رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک نواجوان صحابی (اسامہ بن زید)کو سپہ سالار بنایا تو اکثر مسلمانوں نے آنحضرت کی مخالفت کی جب کہ آنحضرت نے انھیں تھوڑی سی مدت کے لئے بہت تھوڑے سے لشکر کا سردار بنایا تھا تو یہی لوگ حضرت علی علیہ السلام کی رہبری کو کس طرح طرح قبول کر لیتے کیونکہ وہ بھی دوسروں کے مقابلہ میں کم عمر تھے (اس وقت آپ کی عمر ۳۳ سال تھی)اور خود یہ لوگ علی علیہ السلام کو ان کی پوری زندگی تک رہبر کیسے قبول کرلیتے اور تم نے خود ہی پہلے یہ اقرار کیا کہ بعض لوگ علی علیہ السلام سے بغض و عناد رکھتے تھے“۔

تیونسی عالم: ”اگر علی علیہ السلام جانتے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے مجھے اپنا خلیفہ بنایا ہے تو رسول اکرم کے بعد وہ خاموش نہ بیٹھے رہتے بلکہ اپنی بے انتہا شجاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی حق کا دفاع کرتے“۔

ڈاکٹر تیجانی: ”یہ تو دوسری بحث ہے جس میں ہم ابھی وارد نہیں ہونا چاہتے جب تم واضح حدیث کی تاویل کرتے ہو تو امام علیہ السلام کے خاموش رہنے پر بحث کرنے میں کس طرح قانع ہو سکتے ہو؟“

تیونسی عالم نے تھوڑا مسکرا تے ہوئے کہا: ”خدا کی قسم میں ان لوگوں میں سے ہوںجو علی علیہ السلام کو دوسروں سے افضل جانتے ہیں اور اگر یہ بات میرے بس میں ہوتی تو میں علی علیہ السلام پر کسی کو مقدم نہ کرتا کیونکہ وہ مدینة العلم اور اسد اللہ الغالب ہیں لیکن خدا نے اسی طرح چاہا کہ بعض کو مقدم اور بعض کو موخر رکھے اس کی مشیت کے بارے میں کیا کہیں“۔

میں نے بھی مسکراتے ہوئے اسے جواب دیا: ”قضاو قدر “کی بحث دوسری ہے جس کے متعلق ابھی ہم بحث نہیں کر رہے ہیں“۔

تیونسی عالم: ”میں اپنے عقیدہ پر باقی رہوں گا اور اسے بدل نہیں سکتا“۔

ڈاکٹر تیجانی کہتے ہیں : وہ اسی طرح ادھر ادھر بھاگتا رہا یہ خود اس کی بے بسی اور عاجزی کی دلیل تھی۔( ۸۳ )

۷۲ ۔شاگرد اور استاد کے درمیان مناظرہ

شاگرد: ”خالد بن نوفل نام کا ایک استاد ، اردن کی ”شریعت یونیورسٹی “میں درس دینے آتا تھا، میں اس کے شاگردوں سے تھا، میں شیعی مسلک کا تابع تھا“۔

چونکہ یہ استاد خود سنی تھا اس لئے اسے جب بھی موقع ملتا شیعوں پر کچھ نہ کچھ الزام تراشی کرتا رہتا تھا، ایک دن میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جانشینوں کے متعلق گفتگو کرنے لگا آپ بھی اس گفتگوکو سنیں اور فیصلہ کریں۔

استاد: ”ہم حدیثوں کی کتابوں میں قطعی طور پر یہ حدیث نہیں پاتے کہ آنحضرت کے بارہ ہی خلیفہ ہوں گے ، لہٰذا یہ حدیث تم شیعوں کی گڑھی ہوئی ہے“۔

شاگرد: ”اتفاق سے اہل سنت کی معتبر کتابوں میں متعدد مقامات پر متعدد سندوں سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے مثلاًرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

الخلفاء بعدی اثنا عشر بعدد نقباء بنی اسرائیل وکلهم من قریش ۔“( ۸۴ )

”میرے بعد بنی اسرائیل کے نقباء کے برابر میرے بارہ خلیفہ ہوں گے اوروہ سب کے سب قریش سے ہوں گے“۔

استاد: ”اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح بھی ہے تو تمہاری نظر میں ان بارہ سے کون لوگ مراد ہیں؟“

شاگرد: ”اس سلسلے میں سیکڑوں روایات موجود ہیں جن میں ان کے نام اس طرح بتائے گئے ہیں۔

۱ ۔امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام۔

۲ ۔حسن بن علی علیہ السلام۔

۳ ۔ حسین بن علی علیہ السلام۔

۴ ۔علی بن الحسین علیہ السلام۔

۵ ۔محمد بن علی الباقر علیہ السلام۔

۶ ۔جعفر بن محمد علیہ السلام۔

۷ ۔موسیٰ بن جعفر علیہ السلام۔

۸ ۔علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام۔

۹ ۔محمد بن علی الجواد علیہ السلام۔

۱۰ ۔علی محمد الہادی علیہ السلام

۱۱ ۔حسن بن علی العسکری علیہ السلام۔

۱۲ ۔حجة القائم (عجل اللہ فرجہ الشریف)۔

استاد: ”کیا حضرت مہدی علیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟“

شاگرد: ”ہاں وہ زندہ ہیں اور کچھ وجوہات کی بنا پر ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں جب اس دنیا میں ان کے ظہور کی راہیں ہموار ہوجائیں گی تو وہ ظہور کریں گے اور پوری دنیا کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں گے“۔

استاد: ”یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان ایک ہزار سال سے زیادہ زندہ رہے جب کہ ایک انسان کی طبیعی عمر زیادہ سے زیادہ سو سال ہوتی ہے“۔

شاگرد: ”ہم مسلمان ہیں اور قدرت خداوند متعال پر یقین رکھتے ہیں اس میں کیا برائی ہے کہ خداوند متعال کی مشیت سے ایک انسان ایک ہزار سال سے زیادہ زندہ رہے ؟“

استاد: ”قدرت خدااپنی جگہ پر ہے لیکن اس طرح کی چیزیں سنت خدا سے خارج ہیں“۔

شاگرد: ”تم بھی قرآن کو قبول کرتے ہو اور ہم بھی اسے مانتے ہیں قرآن مجید کے سورہ عنکبوت آیت ۱۴/ میں خدا وند متعال ارشاد فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَی قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِیهِمْ اٴَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِینَ عَامًا ) “۔

”اور بلا شبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طر ف بھیجا جہاں وہ پچاس سال چھوڑ کے ایک ہزار سال رہے“۔

اس آیت کے مطابق جناب نوح علیہ السلام طوفان سے پہلے اپنی قوم کے درمیان ساڑھے نو سو سال زندہ رہے اسی طرح اگر خدا چاہے تو دوسرے کو بھی اتنی یا اس سے زیادہ عمر دیدے“۔

رسول خدا نے متعدد مقامات پر حضرت مام مہدی علیہ السلام کا تعارف دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینے والے کی صورت میں کرایا ہے اس سلسلہ میں سیکڑوں کیا بلکہ ہزاروں حدیثیں ،سنی اور شیعہ دونوں طرف سے نقل ہوئی ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہے۔

مثال کے طور پرحضرت رسول اسلام نے فرمایا ہے:

المهدی من اهل بیتی یملاالارض قسطا و عدلا کماملئت ظلما و جوراً “۔( ۸۵ )

مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوں گے جو دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔

جب بات یہاں تک پہنچی تو وہ استاد چپ ہو گیا کیونکہ اس شاگرد کی تمام باتیں منطقی اور اہل سنت کے معتبر حوالوں سے مدلل تھیں۔

شاگرد نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”چلئے ہم اپنی بات کی طرف واپس پلٹتے ہیں آپ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا ہے: ”میرے خلیفہ بارہ ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے“۔

آپ نے مجھ سے پوچھا کہ وہ بارہ افراد کون لوگ ہیں میں نے ان کا نام حضرت علی علیہ السلام سے لے کر امام مہدی علیہم السلام تک سنا دیا اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وہ بارہ خلفاء یہ لوگ نہیں ہیں تو پھر ان کے علاوہ کون لوگ ہیں؟“

استاد: ”ان بارہ لوگوں میں چار خلفاء راشدین (ابو بکر،عمر،عثمان، اور حضرت علی علیہ السلام) کا نام لیا جاتا ہے اس کے بعد حسن علیہ السلام، معاویہ ،ابن زبیر و عمر بن عبد العزیز(کہ یہ سب ملا کر آٹھ ہوگئے)اور یہ بھی ممکن ہے کہ مہدی عباسی(بنی عباس کا تیسرا خلیفہ)کو بھی شمار کر لیا جائے اس کے علاوہ ابن طاہر عباسی بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے خلاصہ کے طور پر ہماری نظر کے مطابق یہ بارہ آدمی معین نہیں ہیں ان کے متعلق ہمارے علماء کے مختلف اقوال ہیں“۔

شاگرد: ”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ثقلین کے متعلق تم لوگوں کا کیا خیال ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا ہے:

انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی اهل بیتی ۔۔۔“۔( ۸۶ )

یہ بات واضح رہے کہ عمر وابوبکر ،معاویہ ،عباسی اور عبد العزیز عترت رسول میں شمار نہیں کئے جا سکتے لہٰذا اس صورت میں ہمارے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارہ خلیفہ کو پہچاننا ممکن نہیں ہوگا جب کہ حدیث ثقلین کے معیار کو سامنے رکھ کر ہم بڑی آسانی سے ان کا پتہ لگا سکتے ہیںذرا سی غور وفکر کے بعد یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ وہ خلفاء وہی ہیں جن کو شیعہ مانتے ہیں کیونکہ یہی عترت اور اہل بیت کے مصداق ہیں“۔

استاد: ”ٹھیک ہے اس کے جواب کے لئے مجھے کچھ موقع درکار ہے کیونکہ اس وقت ان باتوںکا کوئی قانع کنندہ جواب میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے“۔

شاگرد: ”بہت خوب اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ آپ تحقیق کریں گے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارہ جانشین قیامت تک کون ہیں؟“

کچھ ہی دنوں بعد پھرشاگرد کی استاد سے ملاقات ہوئی مگر ابھی تک وہ استاد اپنے عقیدہ کے اثبات کے لئے کوئی دلیل نہیں ڈھونڈ پایا تھا۔

اسی طرح ایک دوسرے مناظرہ میں جب ایک طالب علم نے اپنے ایک استاد سے سوال کیا کہ آیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے ؟

استاد: ”ہاں ہماری معتبر کتابوں میں اس طرح کی روایتیں موجود ہیں“۔

طالب علم: ”وہ بارہ کون سے لوگ ہیں؟“

استاد: ”وہ ابو بکر ،عمر،عثمان،علی علیہ السلام، معاویہ اور یزید بن معاویہ“۔

طالب علم: ”یزید کو کس طرح خلیفہ رسول سمجھا جا سکتا ہے جب کہ وہ علی الاعلان شراب پیتا تھا اور واقعہ کربلا اسی کی کارستانی ہے اور اسی نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے صحابیوں کو قتل کیا ہے ؟“

اس کے بعد طالب علم نے اس سے کہا: ”بقیہ کا نام بتاو“۔

استاد نے جو اس کے اس سوال سے بے بس ہو چکا تھا موضوع بدل لیا اور کہنے لگا۔تم شیعہ حضرات اصحاب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برا بھلا کہتے ہو“۔

طالب علم: ”ہم ان کے تمام اصحاب کو بر ابھلا نہیں کہتے، تم یہ کہتے ہو کہ وہ تمام عادل تھے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے زمانہ میں ہی سارے منافقوں کے بارے میں آیتیں اتری ہیں اگر ہم یہ کہیں کہ آنحضرت کے زمانے میں سارے اصحاب عادل تھے تو ہمیں قرآن کی بہت سی آیتوں کو رد کرنا پڑے گا جو اس کا ایک عظیم حصہ ہیں“۔

استاد: ”تم گواہی دو کہ ابو بکر عمر اور عثمان سے خوش ہو“۔

طالب علم: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اصحاب میں سے جو بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے راضی تھا میں بھی اس سے راضی ہوں اور جس سے بھی آنحضرت اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا راضی نہیں تھیں میں بھی اس سے راضی نہیں ہوں“۔

۷۳۔قبر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بلند آواز میں زیارت پڑھنا

ایک شیعہ عالم کہتے ہیں: ”ہم تقریبا ً پچاس آدمیوں کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ مسجد النبی میں گئے اور وہاں جا کر آنحضرت کی زیارت پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔

حرم کا منتظم (شیخ عبد اللہ بن صالح )میرے قریب آیا اور اعتراض کے طور پر اس نے کہا: ”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے مرقد کے قریب اپنی آواز بلند نہ کرو“۔

میں نے اس سے کہا: ”کیا وجہ ہے؟“

منتظم: ”خدا وند متعال قرآن (سورہ حجرات آیت ۲) میں فرماتا ہے:

( ” یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَرْفَعُوا اٴَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَتَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اٴَنْ تَحْبَطَ اٴَعْمَالُکُمْ وَاٴَنْتُمْ لاَتَشْعُرُونَ ) “۔

”اے ایمان لانے والو! نبی کی آواز کے اوپر اپنی آواز بلند نہ کرو اور نہ ہی ان کے سامنے چیخوچلاو جس طرح تم ایک دوسرے کے سامنے چیختے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بیکار نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہونے پائے“۔

میں: ”امام جعفر صادق علیہ السلام “کے اسی جگہ پر چار ہزار شاگرد تھے اور تدریس کے وقت باآواز بلند درس دیتے تھے تاکہ ان کی آواز ان کے شاگردوں تک پہنچ جائے کیا انھوں نے حرام کام کیا؟ابو بکرو عمر اسی مسجد میں بلند آواز سے خطبہ دیا کرتے تھے اور تکبیر کہتے تھے کیاا ن سب لوگوں نے حرام کا م انجام دیا؟اور ابھی ابھی تمہارے خطیب نے بلند آواز سے خطبہ دیا تم لوگ مل کر با آواز بلند تکبیر کہہ رہے تھے کیا یہ لوگ قرآن کے خلاف کر رہے تھے؟ کیونکہ قرآن اس سے منع کرتا ہے ؟

منتظم: ”اچھا تو پھر آیت کاکیا مطلب ہوا؟“

میں: ”اس آیت سے مراد ہے بے فائدہ اور بے جا شور و غل نہ کرو جو آنحضرت کی حرمت و احترام کے خلاف ہو جیسا کہ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں روایت ہے:

قبیلہ ”بنی تمیم“کے کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کے پیچھے سے چیخ کر کہنے لگے یا محمد باہر نکلو اور ہم سے ملاقات کرو۔( ۸۷ )

دوسری بات یہ کہ ہم تو نہایت ہی تواضع و احترام سے زیارت پڑھنے میں مشغول ہیں اور مذکورہ آیت میں غور وفکر کرنے سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اس آیت میں وہ لوگ شامل ہیں جو رسول اکرم کی اہانت کی غرض سے چیخ کر آواز لگاتے تھے کیونکہ اس آیت میں اعمال کے بیکار ہونے کی بات آئی ہے اور یقینا اس طرح کی سزا کافر یا گناہ کبیرہ انجام دینے والے اور توہین کرنے والے کے لئے ہوگی نہ کہ ہمارے لئے کیونکہ ہم تو نہایت ادب واحترام سے ان کی زیارت پڑھ رہے ہیں اگر چہ ذراسی آواز بلند ہوگئی تو کیا ہوا اس لئے روایت میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ثابت بن قیس (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خطیب )جن کی آواز بہت ہی موٹی تھی نے کہا کہ اس آیت سے مراد میں ہوں اور میرے نیک اعمال حبط ہو گئے۔جب اس بات کا علم آنحضرت کو ہوا تو آپ نے فرمایا: ”نہیںایسانہیں ہے ثابت بن قیس جنتی ہے“۔(کیونکہ وہ اپنے وظیفہ پر عمل کرتا ہے نہ کہ توہین کرتا ہے)۔( ۸۸ )

۷۴۔علمائے اہل سنت سے شیخ بہائی کے پدربزرگوار کے مناظرے

دسویں صدی کے بہت ہی مشہور ومعروف عالم علامہ شیخ حسن بن عبد الصمد عاملی علیہ الرحمة (شیخ بہائی کے پدر بزرگوار)گزرے ہیں۔

موصوف محرم ۹۱۸ ھ جبل عامل میں پیدا ہوئے ۸ / ربیع الاول ۹۸۴ ھ میں ۶۶/ سال کی عمر میں رحلت فرماگئے وہ زبردست محقق ، تجربہ کار دانشور اور ایک عظیم شاعر تھے موصوف ۹۵۱ ھ میں شہر ”حلب“ (سوریہ کا ایک شہر )میں سفر کیا وہاں ان کی ملا قات ایک صاحب علم و دانش اہل سنت عالم کے سے ہوئی اور شیعہ کے مذہب کے بارے میں چند جلسہ اور مناظرے ہوئے سر انجام وہ سنی عالم شیعہ ہو گیا،( ۸۹ ) یہاں پر ہم ان مناظروں کا خلاصہ چار مناظروں میں پیش کرتے ہیں:

امام جعفر صادق علیہ السلام کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟

حسین بن عبد الصمد کہتے ہیں: جب میں شہر حلب میں وارد ہوا تو وہاں پر ایک حنفی عالم جو بہت سے علوم وفنون میں ماہر تھا اور اس کا شمار محققین میں ہوتا تھا اور وہ دھوکا دھڑی سے پاک تھا۔اس نے مجھے اپنے گھر پر ہی ٹھہرا لیا۔

بات چیت ہوتے ہوتے تقلید کی بات چھڑ گئی اور پھر ہوتے ہوتے یہی موضوع ہمارے مناظرہ کا محور ہوگیا۔

حسین: ”تم لوگوں کے نزدیک کیا قرآن ،احادیث یا سنت میں سے کوئی ایسی دلیل موجود ہے جس کے ذریعہ ثابت ہو سکے کہ ابو حنیفہ کی تقلید اور پیروی ہم پر واجب ہے ؟“

حنفی: ”نہیں اس طرح کی کوئی آیت یا روایت وارد نہیں ہوئی ہے“۔

حسین: ”کیا مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہم ابو حنیفہ کی پیروی کریں ؟“

حنفی عالم: ”نہیں اس طرح کی کوئی آیت یا روایت وارد نہیں ہوئی ہے“۔

حسین: ”تو پھر کس دلیل کی بنا پر تمہارے لئے ابو حنیفہ کی تقلید جائز ہے ؟“

حنفی عالم: ”ابو حنیفہ مجتہد اور میں مقلد ہوں اور مقلد پر واجب ہے کہ وہ کسی ایک مجتہد کی تقلید کرے“۔

حسین: ”جعفر بن محمد علیہ السلام جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟“

حنفی عالم: ”جعفر بن محمد علیہ السلام کا مقام اجتہاد میں بہت اونچا ہے اور وہ علم و تقویٰ میں سب سے زیادہ بلند تھے ان کی توصیف ممکن نہیں ہمارے بعض علماء نے ان کے جن چارسو شاگردوں کے نام گنا ئے ہیں وہ سب کے سب نہایت پڑھے لگے اور قابل اشخاص تھے انھیں لوگوں میں سے ابو حنیفہ بھی تھے“۔

حسین: ”تم اس بات کا اعتراف کر رہے ہو کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجتہد تھے ،پائے کے عالم دین اور صاحب تقویٰ تھے ہم شیعہ اسی لئے ان کی تقلید کرتے ہیں ان باتوں کے باوجود تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم گمراہ ہیں اور تم ہدایت کی راہوں پر گامزن ہو؟

جب ہمارا عقیدہ یہ بھی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام معصوم تھے اور غلطی نہیں کر سکتے ، ان کا حکم خدا کا حکم ہوتا ہے اور اس بارے میں ہم بہت سے دلائل متفقہ بھی رکھتے ہیں وہ ابو حنیفہ کی طرح قیاس اور استحسان کی بنیاد پر فتویٰ نہیں دیتے تھے، ابو حنیفہ کے فتوے میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کے فتوی میں ایسا کوئی امکان نہیں پایا جاتا تھا،بہر حال امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کے متعلق بحث چھوڑتے ہوئے اس وقت میں صرف آپ کی ایک بات پر کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے خود کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجتہد تھے لیکن ہمارے پاس ایسے دلائل موجو دہیں جن کے ذریعے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مجتہد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تھے“۔

حنفی عالم: ”اس انحصار کے لئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ مجتہد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تھے۔

حسین: ہماری چند دلیلیں ہیں:

۱ ۔ ہماری پہلی دلیل یہ ہے کہ اس بات کا تو آپ نے بھی اعتراف کیا ہے اور آپ کے علاوہ اسلام کے چاروں مشہور فرقے یہ بات قبول کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام علم و تقویٰ اور عدالت میں تمام لوگوں سے افضل و برتر تھے میں نے اس بات میں کسی کو اعتراض کرتے ہوئے نہیں سنا،تمام اسلامی ادیان کی احادیث وروایات کی کتابوں میں کوئی کہیں یہ نہیں دکھا سکتا کہ کسی نے امام علیہ السلام کے کسی عمل پر اعتراض کیا ہو جب کہ وہ لوگ شیعوں کے حد درجہ دشمن تھے اور حکومت وقت ہمیشہ ان کے ہاتھوں میں رہنے کے باوجود کسی دشمن نے بھی آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسو ب نہیں کی( ۹۰ ) یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو ان کے علاوہ کسی اور مسلک کے امام میں موجود نہیں ہے۔

لہٰذا بغیر کسی تردید کے تقلید اس کی واجب ہو گی جو علم و فضل و تقویٰ اور عدالت میں سے افضل و برتر ہو، اور محققین اس بات پر اجماع رکھتے ہیں کہ اچھے اور مدلل فتووں کی موجودگی میں کمزور اور غیر مستند فتاوی پر عمل کرنا جائز نہیںہے۔

اس بنا پر یہ کیونکر جائزہوسکتا ہے کہ اس شخص کی تقلید ترک کریں جس کی سبھی اسلامی علماء افضلیت کا اقرار کرتے ہیں، اور ایسے شخص کی تقلید کریں جس کے یہاں شک و تردید پایا جاتا ہو!،اور چونکہ مسئلہ تقلید میں شک و تردید کا نہ ہونا عدالت سے بھی زیادہ اہم ہے، چنانچہ یہ بحث اپنے مقام پر کی گئی ہے۔

علمائے حدیث میں سے تمہارے ایک امام ”امام غزالی“ ہیں جنھوں نے ابو حنیفہ پر تنقید کرتے ہوئے ”المنخول“ نامی کتاب لکھی ہے، اسی طرح شافعی کے بعض شاگردں نے بھی ”النکت الشریفه فی الردّ علی ابی حنیفه “ نامی کتاب لکھی ہے۔

اس بنا پر اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تقلید اسی شخص کی جائز ہے جس کے علم و تقویٰ اور عدالت پر سبھی کا اتفاق ہو، اور تمام اہل تحقیق کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب راجح (افضل) فتویٰ موجود ہے تو پھر مرجوح (غیر افضل) فتویٰ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

۲ ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام ہم شیعوں کے عقیدہ کے مطابق اہل بیت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک فرد سے ہیں جس کی آیہ تطہیر نے صراحت کی ہے اور اس بنا پر وہ ہر طرح کی نجاست اور پلیدی سے پاک ہیں جیسا کہ لغوی علامہ ابن فارس صاحب کتاب ”معجم مقاییس اللغة“نے خود اپنی کتاب ”مجمل اللغة“میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت میں شامل ہیں جب کہ ابن فارس اہل تسنن کے مشہورو معروف عالم دین ہیں اور یہ وہی مقام طہارت ہے جس کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کے متعلق شیعوں کا اعتقاد ہے لیکن ابو حنیفہ کے بارے میں اجماع ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام میں سے نہیں ہے لہٰذا قرآن کے مطابق ہمیں ایسے افراد کی تقلید کرنا چاہئے جو تمام خطا اور نجاست سے پاک اور منزہ ہوں تاکہ مقلدین یقین کی منزل تک پہنچیں اور نجات یافتہ ہوں۔

حنفی عالم: ”ہم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت رسول میں ہیں بلکہ ہمارے لحاظ سے آیہ تطہیر صرف پانچ افراد(پنجتن) ہی کو شامل کرتی ہے“۔

حسین: ”بالفرض اگر ہم قبول بھی کرلیںکہ امام جعفر صادق علیہ السلام ان پانچ میں سے نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان کا حکم اور ان کی پیروی تین دلیلوں سے انھیں پانچ افراد کی مانند ہوگی“۔

۱ ۔جو شخص بھی پنجتن کی عصمت کا معتقد ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کو بھی قبول کر تا ہے اور جو بھی پنجتن کی عصمت کا قائل نہیں ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کا بھی قائل نہیں ہے۔پنجتن کا معصوم ہونا قرآن کی آیہ تطہیر سے ثابت ہے بس اسی وجہ سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی بھی عصمت ثابت ہوتی ہے کیونکہ علمائے اسلام اس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام کی عصمت میں کوئی فرق نہیں ہے اور امام جعفرصادق علیہ السلام کی عصمت کا قائل نہ ہو کر پنجتن کی عصمت کا قائل ہونا یہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔

۲ ۔راویوں اور مورخین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور ان کے آبائے اجداد نے تحصیل علم کے لئے کسی کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیا اور یہ بھی کہیں پر نقل نہیں ہوا کہ ان لوگوں نے علماء اور مصنفین کے دروس میں شرکت کی ہو بلکہ تمام لوگوں نے یہ نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد (امام محمد باقر علیہ السلام)سے اور امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام سے علم حاصل کیا اور اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ امام حسین علیہ السلام اہل بیت نبی میں سے ہیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی باتیں اور اقوال اجتہاد کا نتیجہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی ان کے پاس سوال کرنے گیا تو وہ جواب لے کر واپس آتا تھا، اور جواب دینے میں کسی چیز کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس سلسلہ میں خود آپ نے تصریح کرتے ہوئے فرمایاہے: ہم لوگوں کی تمام باتوں کا منبع ہمارے بزرگ آباء واجداد ہیں اور ہمارے پاس جو بھی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا قول ہے اور یہ بات صحیح طریقہ سے ثابت ہے۔

پس نتیجہ یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اقوال وہی ہیں جو اقوال ان ذوات مقدسہ کے ہیں جن کے لئے آیہ تطہیر نے پاک وپاکیزہ ہونے کی ضمانت لی ہے۔

۳ ۔تمہاری صحیح روایتوں میں متعدد طریقوں سے حدیث ثقلین نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا ہے:

انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی الثقلین کتاب الله و عترتی ، اهل بتی ۔۔۔“( ۹۱ )

”میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں اور جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے کبھی میرے بعد گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت میرے اہل بیت“

یہ حدیث واضح طور پر یہ بیان کر رہی ہے کہ قرآن و عترت سے تمسک موجب ہدایت ہوتا ہے اور تمام اسلامی فرقوں میں صرف مذہب شیعہ ہی ایسا فرقہ ہے جس نے ان دونوں سے تمسک اختیار کیا کیونکہ شیعوں کے علاوہ دوسرے لوگوں نے دوسرے لوگوں سے تمسک اختیار کیا۔

حدیث ثقلین میں یہ نہیں آیا ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان قرآن اور ابو حنیفہ یا قرآن اور شافعی کو چھوڑا ہے ، پس ممکن ہے کہ عترت رسول کے علاوہ دوسرے لوگوں سے تمسک کیا جائے

۲۔مذہب تشیع کی عدم شہرت اور اہل سنت کی شہرت کے متعلق ایک مناظرہ

اس سے پہلے والے مناظرہ میں جب امام جعفر صادق علیہ السلام کی برتری کی بات آئی تو حنفی عالم نے کہا:

یہ بات صحیح ہے اور اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ امام جعفر صاق علیہ السلام اور ان کے آباء واجداد سب کے سب بہت ہی پڑھے لکھے اور مجتہد تھے ان کا علم دوسرے لوگوں سے بہت بالاتر تھا اور ان کی تقلید ان کے مقلدوں کے لئے نجات کی ضمانت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کا مذہب اتنا زیادہ نہیں پھیلا کہ عالم کے گوشے گوشے میں ہر شخص اس سے واقف ہو جائے جب کہ مذاہب اربعہ پوری دنیا میں مشہور ہیں اور سبھی ان سے واقف ہیں اور تمام مسلمان اسی پر عمل پیرا ہیں“۔

حسین: ”اگر تمہارا مطلب یہ ہے کہ مذہب شافعی اور مذہب حنفی وغیرہ نے ہمارے مذہب کو نقل نہیں کیا تو بات صحیح ہے ، لیکن اس سے ہمارے مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ ان کی طرح ہم نے بھی ان کے مذہب کی کوئی تبلیغ نہیں کی ، اسی طرح خود مذہب شافعی نے مذہب حنفی و مذہب مالکی کو نقل نہیں کیا اور اسی طرح مذہب مالکی نے حنفی و شافعی مذہب کو نقل نہیں کیا، اسی طرح اسلام کے تمام مذاہب کا حال ہے ، لہٰذا کسی مذہب کا دوسرے مذہب کا نقل نہ کرنا کسی مذہب کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوگی۔

لیکن اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی مذہب تشیع نقل ہی نہیں کیا ، تو تمہارا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کیونکہ خود شیعہ اور بہت سے اہل سنت اور دوسرے اسلامی فرقوں نے جعفری مذہب کے آداب واخلاق کو نقل کیا ہے، اس کے علاوہ خود شیعوں نے بھی اپنے مذہب کی ترویج و نشر کے لئے بہت اہتمام کیا ہے، سلسلہ روات کے متعلق تو شیعوں نے حددرجہ تحقیق کی ہے، اور اس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔

حالانکہ علمائے شیعہ ،سنی علماء کے مقابل کم ہیں لیکن اگر ان کا موازنہ اہل تسنن کے مختلف دیگر مسلکوں سے الگ الگ کیا جائے تو یہ ان کے مقابل کم ہرگز نہیں ہو سکتے خاص طور پر حنبلی اور مالکی علماء سے یہ بالکل کم نہیں ہیں بلکہ ان سے زیادہ خود شیعہ علماء ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ علمائے شیعہ ہر دور میں اپنے زمانہ کے دوسرے مذہب کے علماء کے مقابل تقویٰ وعلم میں آگے ہی رہے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ بارہ اماموں کے زمانہ میں کسی بھی عالم کی علمی اور عملی سطح ان لوگوں کے برابر نہیں تھی اور ا ن کے شاگردوں کی علمی سطح اور بحث و استدلال کی صلاحیت بلا شبہ دوسرے تمام مذاہب کے علماء سے کئی گنا زیادہ تھی جیسے ہشام بن حکم،ہشام بن سالم ،جمیل بن دراج،زرارہ بن اعین ،محمد بن مسلم اور ان کے جیسے بہت سے لوگ جن کی تعریف ان کے مخالفین یہ کہہ کر کرتے تھے کہ ”یہی پایہ کے اور حقیقی عالم ہیں“۔

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ کے بعد شیعہ فرقہ میں ایک سے ایک جید علماء گزرے ہیں جیسے شیخ صدوق ،شیخ کلینی ،شیخ مفید،شیخ طوسی ،سید مرتضیٰ اور ان کے بھائی سید رضیٰ ،ابن طاووس، خواجہ نصیر الدین طوسی،میثم بحرانی،علامہ حلی،ان کے بیٹے فخر المحققین اور ان جیسے سیکڑوں علماء نے اپنی تالیفات اور علمی مناظروں سے مشرق ومغرب کو علم وحکمت سے بھر دیا ان کا انکار صرف تعصب اور جہالت کے نتیجہ میں ہی ہو سکتا ہے۔

لہٰذا ب تمہیں چاہئے کہ تم ہمارے اسی مذہب کی پیروی کرو جس کی ہم تقلید کرتے ہیں کیونکہ ہمارے امام تمام لوگوں سے افضل وبرتر ہیں اور جو بھی حقیقتاً سچے راستے کی تلاش میں ہوگا اسے آخر کا ر ہماری روش ہی اختیار کرنا پڑے گی تمہارے لئے لازم ہے کہ تم مذہب حق کے بارے میں تحقیق کرو کیونکہ تم غیر معصوم کے پیرو ہو جب کہ ہمارے لئے اس طرح کی کوئی حاجت نہیں ہے کیونکہ ہم ایسے کی تقلید کرتے ہیں جو معصوم ہے یوں بھی ہمارے یہاں امام کے لئے معصوم ہونا شرط ہے لہٰذا وہ فرقہ ناجیہ ہمیں ہیں اگر چہ ابھی تمہاری زبان ہمارے مذہب کی حقانیت کی گواہی نہیں دے رہی ہے مگر اس کے باوجود تمہارے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جو تمہیں مذہب تشیع اختیار کرنے پر اکسا رہے ہیں کیونکہ تمہا ر اخود اعتراف ہے کہ ایسے مجتہد کی تقلید سبب نجات ہے وہ مجتہد صرف اور صرف ہمارے ہی مذہب میں پایا جاتا ہے۔

جب بات یہاں تک پہنچی تو حنفی عالم لا جواب ہوگیا اور خود اپنے اس سوال کو چھوڑ کر دوسرے مختلف سوالات کی پنا ہ ڈھونڈنے لگا۔

۷۵۔اصحاب کو برا بھلا کہنے کے سلسلہ میں ایک مناظرہ

حنفی عالم: ”اب بھی میرے لئے ایک موضوع تشنہ رہ گیا ہے وہ یہ کہ اصحا ب پیغمبر کو بر ابھلا کہنا تمہاری نظر میں کیسا ہے؟ وہ اصحاب جنھوں نے آنحضرت کی جان ومال سے مدد کی اور تلواروں کو نیام سے نکال کر اپنے زور بازو سے مدد کی ، اور خدا کی توفیق سے نہ جانے کتنے شہروں کو قبضے میں کر کے اس پر پر چم توحید لہرا دیا مثال کے طور پر وہ فتوحات جوعمر بن خطاب کے زمانہ میں ہوئی ہیں وہ کسی بھی خلیفہ کے زمانہ میں نہیں ہوئیں کیونکہ ان کی قدرت وحشمت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا میں جب بھی تمہارے دلائل پرغور کرتا ہوں تو یہی سوچتاہوںکہ مذہب شیعہ میں سچائی اور حقانیت ہے لیکن جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ تمہارے مذہب میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقرب اصحاب کو بر ابھلا کہنا صحیح ہے تو یہ مجھے بہت غلط عمل محسوس ہوتا ہے اور اسی سے میری سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ مذہب باطل اور بے بنیاد ہے“۔

حسین: ”ہمارے مذہب میں ایسا نہیں ہے کہ اصحاب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برابھلا کہنا واجب ہے بلکہ عوام انھیں برابھلا کہتے ہیں اور ہمارے علماء میں کسی نے بھی یہ فتویٰ نہیں دیا کہ انھیں برابھلا کہنا واجب ہے ان کی فقہی کتابیں دستیاب ہیں تمہیں ان میں کہیں نہیں مل سکتا ہے کہ ان اصحاب کو برا بھلا کہنا واجب ہے۔

اس کے بعد میں نے اس کے سامنے بہت ہی سخت قسم کھائی کہ ”اگر کوئی شخص مذہب تشیع پر ہزار سال زندہ رہے اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کو بھی دل وجان سے قبول کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرے لیکن اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو برابھلا کہے تو وہ گنہگار ہوگا اور اس کا ایمان ناقص مانا جائے گا“۔

حنفی عالم نے جب میری یہ بات سنی تو اس کا چہرہ کھل اٹھا اور وہ نہایت خوش وخرم ہو گیا کیونکہ میں نے اس کی بات کی تصدیق کر دی تھی۔

اس کے بعد میں نے اس سے کہا: ”جب تم پر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام ہر لحاظ سے دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں تو پھر تم کیوں انھیں کا مذہب نہیںاختیار کرتے ؟“

حنفی عالم: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اہل بیت علیہم السلام کا پیرو کار ہوں لیکن میں صحابہ کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا“۔

حسین: ”تم کسی بھی صحابی کو برانہ کہو لیکن جب تمہیں اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ اہل بیت، اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک خاص مرتبہ کے حامل ہیں تو پھر ان کے دشمنوں کے ساتھ تمہارا سلوک کیا ہونا چاہئے ؟

(ہدایت یافتہ )حنفی عالم: ”میں اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے بیزار ہوں“۔

حسین: ”تمہاری شیعیت کے درست ہونے کے لئے میرے نزدیک اتناہی کافی ہے“۔

اسی دوران اس نے کہا : ”میں خدا اس کے رسول اور اس کے فرشتوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میں ان کا چاہنے والا اور پیرو ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہوں“۔

اس کے بعد اس نے مجھ سے چند شیعی عقائد اور فقہ کی کتابیں مانگی میں نے اسے ”مختصر النافع“ (شرح شرایع الاسلام، ”محقق حلی (متوفی ۶۷۶ ھ)دیدی۔

اور اس طرح کا تمسک اختیار کرنے والا بھی نجات پائے ؟ہماری یہ بات یہ تقاضا کرتی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تقلید کی جائے اور اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی پیروی ابو حنیفہ کی شک آمیز تقلید پر ہزار فوقیت رکھتی ہے۔

____________________

(۷۷) یہ اس بات پر ایک ضمنی اقرار ہے کہ حدیث غدیر حضرت علیعلیہ السلام کی خلافت پر واضح بیان ہے لیکن ہم مجبور ہیں کہ اس کی وضاحت سے دست بردار ہوجائیں اور اس کی تاویل کریں (غور کریں !)۔

(۷۸) اس حدیث کے مختلف مآخذ اور مدارک کے لئے ”الغدیر “کی پہلی جلد سے رجوع کریں۔

(۷۹) اس ٹیونسی دانشور سے کہنا چاہئے اگر علی کو دوست رکھتے ہو تو ان کی دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی باتوں کو قبول کیا جائے اور ان کی باتوں کو قبول کرکے ان کو خوش کیاجائے حالانکہ آپ نے رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد خلافت کا دعویٰ کیا لیکن ان کی بات کو نہیں ماناگیا اور ان کو زبردستی بیعت کے لئے لے جایا گیااور آپ کے اصحاب کوآزار واذیت دی گئی اور جناب سلمان کو مارا پیٹا گیا ۔

(۸۰) مسند احمد بن حنبل ،ج۴ ،ص۲۸۱، علامہ امینی نے الغدیر کی جلد اول میں اسے اہل سنت کے ساٹھ علماء سے نقل کیا ہے ۔

(۸۱) سورہ مائدہ ، آیت ۶۷۔

(۸۲) صحیح بخاری وصحیح مسلم ،صلح حدیبہ کے متعلق بعض صحابہ کی مخالفت ،اور عمر کا قول بھی نقل کیا ۔

(۸۳) جناب تیجانی سماوی کے کتاب”لا کون مع الصادقین “سے اقتباس ص۵۸ سے ۶۱۔ مولف کی جانب سے خلاصہ اور اضافہ کے ساتھ۔

(۸۴) صحیح مسلم، کتاب الامارة، جلد۴، ص ۴۸۲، (مطبوعہ دار الشعب)، مسند احمد ، ج ۵، ص۸۶، ۹۰، ۹۲، مستدرک صحیحین، ج ۴، ص۵۰۱، مجمع ہیثمی، ج ۵، ص ۱۹۰۔

(۸۵) مسند احمد احنبل ،ج۳،ص۲۷۔

(۸۶) مسند حنبل ،ج۴،ص۳۶۷۔صحیح مسلم ،ج۲،ص۲۳۸۔صحیح ترمذی، ج۷، ص۱۱۲۔ کنز العمال،ج۷،ص۱۱۲اس کے علاوہ دوسری بہت سی کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے۔

(۸۷) تفسیر قرطبی ،ج۹،ص۶۱۲۱۔صحیح بخاری ،ج۶،ص۱۷۲۔

(۸۸) مجمع البیان ،ص۹،ص۱۳۰۔تفسیر فی ظلال ومراغی ،اسی آیت کے ذیل میں۔

(۸۹) یہ مناظرے چند سال قبل عربی زبان میں ”مناظرة الشیخ حسین بن عبد الصمد“ نامی کتاب میں ”موسسہ قائم آل محمد (ص)“ سے چھپ چکی ہے۔

(۹۰) امام جعفر صادق علیہ السلام (متوفی ۱۴۸ھ)فقہ تشیع کے مروج، ابو حنیفہ (متوفیٰ ۱۵۰ھ)اور مالک بن انس (متوفیٰ ۱۷۹ھ)کے استادہیں اس طرح سے آپ سنی مذہب کے دو معروف مسلک ،حنفی ومالکی کے اماموں کے استاد رہے اسی لئے ابو حنیفہ کا یہ کہنا تھا ”لولا السنتان لھلک النعمان“اگر وہ دو سال (جو میں نے امام جعفر صادق علیہ السلا م کی خدمت میں گزارے ہیں)نہ ہوتے تو نعمان (ابو حنیفہ )ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح مالک بن انس کا کہنا ہے ”مارایت افقہ من جعفر بن محمد “میں نے جعفر بن محمد(امام صادق علیہ السلام ) سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ، (فی سبیل الوحدة الاسلامیة ص۶۳و۶۴)۔

(۹۱) یہ حدیث مشہور و معروف ہے اور شیعہ و سنی کتابوں میں موجود ہے۔


تیسرا حصہ و چوتھاحصہ

۷۶۔صحابہ کو برا بھلا کہنے کے سلسلہ میں دوسرا مناظرہ

شیخ حسین بن عبد الصمد کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد میں نے اس حنفی عالم دین کو دیکھا جواب شیعہ ہو چکا تھا مگر وہ حد درجہ پریشان تھا کیونکہ یہ بات اس کے دل میں رسوخ کر گئی تھی کہ اصحاب پیغمبر کی اتنی قدر و منزلت ہونے کے باوجود شیعہ انھیں برا بھلا کہتے ہیں، میں نے اس سے کہا: ”اگر تم اس بات کا وعدہ کرو کہ انصاف سے فیصلہ کرو گے اور میری بات کو راز میں رکھو گے تو میں اصحاب کو بر ابھلا کہنے کا راز بتادوں گا جب اس نے بہت ہی سختی سے قسم کھائی اور وعدہ کیا کہ خدا کی قسم انصاف سے فیصلہ کروں گا اور جب تک زندہ رہوں گا اس وقت تک تمہاری بات تقیہ کے طور پر راز میں رکھوں گا“۔

تب میں نے کہا: ”جن لوگوں نے عثمان کو قتل کیا ہے ان کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟‘

اس نے کہا: ”ان صحابیوں نے یہ کام اپنے اجتہاد کی بنا پر انجام دیا ہے لہٰذا وہ گنہگار نہیں ہوں گے جیسا کہ ہمارے علماء نے اس بات کی وضاحت کی ہے“۔

حسین: ”عائشہ ،طلحہ ،زبیر اور ان کے پیرو کار وں کے بارے میں تمہار ا کیا نظریہ ہے جنھوں نے جنگ جمل برپا کی اور نتیجہ میں دونوں طرف سے سولہ ہزار افراد قتل ہو گئے“۔

اور اسی طرح معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں کیا نظریہ ہے جنھوں نے جنگ صفین بھڑکائی، اور حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کی جس کے نتیجہ میں دونوں طرف سے ساٹھ ہزار افراد قتل ہوئے۔

(ہدایت یافتہ )حنفی عالم: ”یہ تمام جنگیں بھی عثمان کے قتل کی طرح اجتہاد کی بنیاد پر تھیں“۔

حسین: ”کیا اجتہاد مسلمانوں کے ایک گروہ سے صرف مخصوص ہے اور دوسرا گروہ اجتہاد کا حق نہیں رکھتا ؟“

(ہدایت یافتہ )حنفی عالم: ”نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہر گروہ اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے“۔

حسین: ”جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگ صحابہ اور مومنوں کے خلیفہ کے قتل اور آنحضرت کے چچا زاد بھائی ،جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے شوہر حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنے کے سلسلہ میں اجتہاد جائز ہے، یعنی جب اجتہاد کی رو سے اس شخصیت سے جنگ کرنا جائز ہے جو علم و تقویٰ، فضل و زہد میں سب سے زیادہ نمایاں اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سب سے زیادہ قریبی ہو جن کی شمشیر کے ذریعہ اسلام استوار ہو ا اور جن کی تعریف ہمیشہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا کرتے ہوں، جنھیں آپ نے مسلمانوں کا رہبر قرار دیا ہو کیونکہ خدا وند متعال کا قول ہے:

( إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ )( ۱ )

”تمہارا ولی صرف اللہ اور اس کا رسول ہے اور مومنین (جو حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں) ہیں“۔

یہ بات علماء کے نزدیک مسلم الثبوت ہے کہ یہاں مومنین سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں،( ۲ ) اس کے علاوہ بھی بہت سی روایتوں میں اس طرح کی باتیں ملتی ہیں۔اب تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ایسے باعظمت اشخاص کے خلاف اجتہاد ہو سکتا ہے ؟اور اگر ان کے خلاف اجتہاد ہو سکتا ہے تو پھر ایسا ہی اجتہاد کر کے کیا ۔۔۔کوئی مسلمان رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ”بعض صحابہ“کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا؟ ہم صرف ان صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ انھوں نے اہل بیت رسول کے ساتھ برا سلوک کیا ہے انھیں ستا یا ہے اور ان کے اوپر ظلم کیا ہے لیکن جو لوگ اہل بیت رسول اکرم کو دوست رکھتے تھے ہم بھی انھیں دوست رکھتے ہیں جیسے سلمان ،مقداد،عمار،ابوذروغیرہ اور ہم ان لوگوں کی دوستی کے ذریعہ خدا کا قرب چاہتے ہیں۔اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق ہمارا یہی عقیدہ ہے اور سب و شتم کرنا ایک طرح کی لعنت وملامت ہے جسے خدا چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو نہ قبول کرے مگر یہ اصحاب کا خون بہانے کی طرح ہر گز نہیں ہو سکتا یہ معاویہ ہی تھا جس نے حضرت علی علیہ السلام کو برا بھلا کہنے کے لئے ستر ہزار منبر مخصوص کر رکھے تھے اور یہ روش ۸۰ سال تک جاری رہی لیکن اس کے باوجودبھی وہ حضرت علی علیہ السلام کی منزل میں کسی طرح کی کمی نہ کر سکا اسی طرح شیعہ بھی خاندان رسالت کے دشمنوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور اسے از روئے اجتہا د جائز سمجھتے ہیں با لفرض اگر ان لوگوں نے اپنے اس اجتہاد میں غلطی کی ہوگی تو ان پر گناہ نہیں ہوگا۔ توضیح کے طور پر یہ کہیں کہ اصحاب پیغمبر کئی طرح کے تھے بعض قابل تعریف اور بعض منافق صفت تھے اور بعض اصحاب کی تعریف قرآن میں آجانے سے دوسرے بعض صحابہ کا فسق وفجورختم نہیں ہوتا، اصحاب کو برا بھلا کہنے کے سلسلے میں ہمارا اجتہاد ان لوگوں کے نیک اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیرو اصحاب کے لئے ہمارا یہ اعتقاد ہر گز نہیں ہے۔

حنفی عالم نے بڑے تعجب سے کہا: ”کیا بغیر کسی دلیل کے اجتہاد جائز ہے ؟“

حسین: ”ہمارے مجتہدین کی دلیلیں بڑی واضح ہیں“۔

حنفی عالم: ”ان میں سے کوئی ایک بتاو“۔

حسین بن عبد الصمد نے بہت سی دلیلیں بیان کیں جن میں جناب فاطمہ زہرا سلام علیہا پر ہوئے مظالم کا بھی ذکر کیا اور سورہ احزاب کی ۵۷ ویں آیت بھی پڑھی جس میں آیا ہے:

( إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمْ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ ) “۔( ۳ )

”بلا شبہ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا وآخرت میں لعنت کرتا ہے“۔( ۴ )

۷۷۔آیہ ”رضوان“ کے بارے میں ایک مناظرہ

مجھے یاد ہے کہ ایک شافعی عالم سے میری ملاقات ہوئی جو قرآن کی آیات و احادیث سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا تھا اس نے شیعوں پر اس طرح اعتراض کرنا شروع کردیا۔

شیعہ لوگ اصحاب پیغمبر پر لعن وطعن کرتے ہیں یہ کام قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کے مطابق خدا وند متعال ان سے خوش و راضی ہے جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کر چکے ہوں ان پر لعن و طعن کرنا صحیح نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں سورہ فتح کی ۱۸ ویں آیت میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنْ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِهِمْ فَاٴَنْزَلَ السَّکِینَةَ عَلَیْهِمْ وَاٴَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیبًا ) “۔

”بالتحقیق خدا وند متعال ان مومنوں سے راضی ہوا جو اس درخت کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے خدا کو ان کے دل کی بات معلوم تھی لہٰذا اس نے ا ن پر سیکنہ نازل کیا اور انھیں فتح قریب سے نوازا“۔

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہجرت کے آٹھویں سال ماہ ذی الحجة میں چودہ ہزار مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے مکہ عمرہ کرنے کی خاطر روانہ ہوئے تھے ان لوگوں میں عثمان، ابو بکر ،عمر اور طلحہ وزبیر جیسے لوگ بھی شامل تھے لیکن جیسے ہی یہ لوگ ”عسفان نامی “ایک مقام پر پہنچے تو انھیں خبر ملی کہ مشرکوں نے مسلمانوں کو روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے لہٰذا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ حدیبیہ (جو مکہ سے بیس کلیو میٹر کے فاصلہ پر ہے اور وہاں آب و غذا اور درخت موجود ہیں)کے پاس کوئی حتمی بات طے نہ ہونے تک ٹھہرے رہیں۔

پھر آپ نے عثمان اور چند دوسرے لوگوں کو قریش کے پاس بات چیت کے لئے روانہ کر دیا اچھی خاصی دیر ہوجانے کے بعد بھی جب ان کے بارے میں کچھ اطلاع نہ ملی تو یہ خبر اڑ گئی کہ عثمان کوقتل کر دیا گیا ہے یہ سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر مسلمانوں سے تجدید بیعت کرائی اور اسی بیعت کو ”بیعت رضوان “کے نام سے جانا جاتا ہے۔رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے مسلمانوں سے عہد لیا کہ آخری وقت تک مشرکوں سے لڑیں گے مگر کچھ ہونے سے پہلے یہ لوگ واپس آگئے مکر اس بیعت کی خبر سے مشرک بڑے مرعوب ہوگئے اور انھوں نے سہیل بن عمر کو آنحضرت کی خدمت میں بھیجا اور آخر کار اس بات پر صلح ہو گئی کہ مسلمان اگلے سال مکہ آئیں لیکن اِس سال واپس چلے جائیں۔( ۵ )

مولف:

پہلی بات تو یہ کہ یہ آیت ان لوگوں کے لئے ہے جو اس وقت وہاں موجود تھے۔

دوسری بات یہ کہ یہ آیت بیعت میں شامل ہونے والے منافقوں جیسے عبد اللہ ابی اور اوس بن خولی وغیرہ کو شامل نہیں کرتی، کیونکہ آیت میں مومن کی شرط ہے اور یہ لوگ ہر گز مومن نہیں تھے۔

تیسری بات یہ کہ مذکورہ آیت کہتی ہے کہ خداوند عالم اس وقت ان لوگوں سے راضی ہوا جب انھوں نے بیعت کی نہ کہ ہمیشہ ان سے راضی رہے گا۔

اسی دلیل کے لئے ہم قرآن مجید کے اسی سورہ میں پڑھتے ہیں:

( فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِهِ وَمَنْ اٴَوْفَی بِمَا عَاهَدَ عَلَیْهُ اللهَ فَسَیُؤْتِیهِ اٴَجْرًا عَظِیمًا ) “۔

”جو بھی اپنا عہد توڑتا ہے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے اور جو اللہ سے کئے گئے عہد کو پورا کرتا ہے تو اللہ اسے عظیم اجر دے گا“۔

اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نکث یعنی بیعت توڑنے کا امکان موجود تھا جیسا کہ بعد میں چند جگہوں پر یہ بات آشکار ہوئی۔اسی طرح یہ آیت ابدی رضایت پر دلالت نہیںکرتی بلکہ انھیں میں سے ممکن ہے کہ دو گروہ ہو جائیں جن میں ایک وفادار ثابت ہو اور دوسر عہد شکن۔اس کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ اس آیت سے خارج ہو گئے جنھوں نے وفا نہیں کی اور اسی کی وجہ سے ہماری لعن وطعن ان پر پڑتی ہے اور اس بات میں آیت کی رو سے کوئی اشکال بھی نہیں ہے۔

قبروں کے پاس بیٹھنے کے سلسلہ میں ایک مناظرہ

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی کے سر پرست نے ایک شیعہ عالم پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا: ”تم لوگ کیوں قبر کے پاس بیٹھتے ہو جب کہ اس طرح کا کام حرام ہے“۔

شیعہ عالم: ”اگر قبروں کے پاس بیٹھنا حرام ہے تو مسجد الحرام میں حجر اسماعیل کے قریب جہاں بہت سے پیغمبروں اور جناب ہاجرہ کی قبریں موجود ہیں بیٹھنا بھی حرام ہوگا لیکن ابھی تک کسی مفتی نے اس کا فتویٰ نہیں دیا۔

بہت سی ایسی روایتیں اور احادیث ملتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کے پاس بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے کتاب بخاری جو تم لوگوں کے نزدیک قرآن کی طرح معتبر ہے اس میں علی علیہ السلام سے روایت موجود ہے:

”میں بقیع میں بیٹھا ہوا تھا کہ پیغمبر میرے پاس آئے اور بیٹھ گئے اور میں بھی ان کے قریب جاکر بیٹھ گیا تو آنحضرت نے قبر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:

”ہر انسان کے لئے دو گھروں میں سے ایک گھر ہوتا ہے ایک گھر جنت ہے اور دوسرا دوزخ۔۔“( ۶ )

اس آیت کی بنا پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قبر کے پاس بیٹھے اور وہاں جو دوسرے لوگ موجود تھے ان کو آپ نے اس سے منع بھی نہیں کیا۔( ۷ )

۷۸۔ ”عشرہ مبشرہ “کے سلسلہ میں ایک مناظرہ

اہل سنت کے میں احمد اپنی کتاب مسند (ج ۱ ، ص ۱۹۳) میں اپنی سند کے ساتھ عبد الرحمن بن عوف سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

ابو بکر فی الجنة وعمر فی الجنة وعلی فی الجنة ۔۔۔الخ“۔

”ابو بکر ،عمر ،علی ،عثمان ،طلحہ ،وزبیر،عبد الرحمن بن عوف،سعد بن ابی وقاص،سعید بن زید ابو عبیدہ جراح“۔( ۸ )

اہل سنت حضرات اس گڑھی ہوئی حدیث کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور ان دس آدمیوں کے نام ”عشرہ مبشرہ“کے عنوان سے تختیوں پر کندہ کر کے مقدس، مقامات جیسے مسجد نبوی وغیرہ میں نصب کرتے ہیں۔یہ اتنی مشہور بات ہے جس کے متعلق تقریبا ًسبھی کو علم ہے اسی سلسلہ میں ذیل کے مناظرہ کو ملاحظہ فرمائیں:

ایک شیعہ عالم دین کہتے ہیں: ”ایک روز میں کسی کام سے مدینہ میں نہی عن المنکر کے ادارہ میں گیا تو وہاں موجود اس کے سر پرست سے میری بات چیت ہونے لگی جو آخر کا عشرہ مبشرہ تک جا پہنچی“۔

میں نے کہا: ”میں تم سے ایک سوال کر نا چاہتا ہوں“۔

سر پرست: ”پوچھو“۔

میں: ”یہ کس طرح جائز ہے کہ ایک جنتی دوسرے جنتی سے جنگ کرے طلحہ اور زبیر عائشہ کے پر چم تلے بصرہ آکر حضرت علی علیہ السلام سے جنگ لڑیں جب کہ یہ لوگ جنتی تھے اور یہ جنگ جمل بہت سے لوگوں کے قتل کا سبب بنی اور قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَ مَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِیهَا )( ۹ )

”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی جزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا“۔

اس آیت کے پیش نظر جو لوگ بھی جنگ جمل میں لوگوں کے قتل کا سبب بنے ہیں انھیں جہنمی ہونا چاہئے اور اب یہ چاہے علی علیہ السلام ہوں یا طلحہ وزبیر ہوں لہٰذا اس جنگ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ حدیث صحیح معلوم نہیں ہوتی۔

سر پرست: ”اس جنگ میں شرکت کرنے والے وہ افراد جن کا تم نے نام لیا ہے مجتہد تھے انھوں نے اپنے اجتہاد کی بنا پر یہ کام انجا م دیا ہے لہٰذا وہ گنہگار نہیں ہوں گے“۔

شیعہ عالم: ”نص کے مقابلہ میں اجتہاد جائز نہیں ہے کیا تمام کے تمام مسلمانوں نے یہ نقل نہیں کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:

”یا علی حربک حربی وسلمک سلمی“۔( ۱۰ )

”اے علی !تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور تمہاری صلح میری صلح“۔

اور اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے:

”من اطاع علیاً فقد اطاعنی ومن عصا علیا ً فقد عصانی ۔“( ۱۱ )

”جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی“۔

اور اسی طرح آپ نے فرمایا:

علی مع الحق والحق مع علی ،یدور الحق معه حیثما دار “۔( ۱۲ )

”علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے حق ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ جیسے بھی چلیں“۔

اس بنا پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسمائے مذکورہ میں ایک طرف حق ہے اور وہ علی علیہ السلام کی ذات ہے اور حدیث ”عشرہ مبشرہ “محض جھوٹ ہے کیونکہ باطل کے طرفداروں کو جنت نصیب نہیں ہو سکتی۔

دوسری بات یہ کہ عبد الرحمن بن عوف خود اس حدیث کا راوی ہے جو خود ان دس جنتی افراد میںشامل ہے اور یہ وہی عبد الرحمن ہے جس نے عمر کی وفات کے بعد شوریٰ تشکیل ہونے کے دن علی علیہ السلام پر تلوار تان لی تھی اور ان سے کہا تھا: ”بیعت کرو ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا“، یہی وہ عبدالرحمن ہے جس نے عثمان کی مخالفت کی اور عثمان نے اسے منافق کہہ کر یاد کیا ، کیا یہ تمام چیزوں مذکورہ روایت سے مطابقت رکھتی ہیں؟ اور کیا عبد الرحمن ان دس افراد میں سے ہو سکتا ہے جنھیں جنت کی بشارت دی گئی ہو؟

کیا ابو بکر و عمر کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جب کہ یہ دونوں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب بنے ؟اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ان سے آخری عمر تک ناراض رہیں ہوں؟

کیا عمر نے حضرت علی کو ابو بکر کی بیعت کے لئے رسی باندھ کر کھینچتے ہوئے یہ نہیں کہا تھا کہ بیعت کرو نہیں تو قتل کر دئے جاوگے؟

کیا طلحہ و زبیر عثمان کے قتل پر مصر نہ تھے ؟کیا یہ دونوں اس امام کی اطاعت سے خارج نہیں ہو گئے جس کی اطاعت واجب قرار دی گئی تھی؟کیا ان دونوں نے جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کے مقابل تلوار نہیں چلائی ؟

اس کے علاوہ ان دس لوگوں میں صرف سعد بن وقاص نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے اور جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ عثمان کو کس نے قتل کیا تو وہ جواب میں کہتا ہے۔”عثمان اس تلوار سے قتل کئے گئے جسے عائشہ نے غلاف سے باہر نکالا طلحہ نے اسے تیز کیا اور علی نے زہر میں بجھا یا تھا“۔

کیا آپس کی ان تمام مخالفت اور منافقت کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب لوگ جنتی ہیں؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔

اور خود یہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی مخدوش اور مردود ہے کیونکہ اس کی سند عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن وقاص میں سے کسی ایک پر تمام ہوئی ہے اور روایات میں عبد الرحمن کی سند کا سلسلہ بھی متصل نہیں ہے لہٰذا یہ اپنے اعتبار سے گر جاتی ہے اور سعید بن زید کے بارے میں یہ روایت معاویہ کے دور خلافت میں کوفہ میں نقل کی گئی ہے اور معاویہ کے دور سے پہلے کبھی کسی نے یہ حدیث نہیں سنی تھی جس کی بنا پر صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاویہ کا کارنامہ ہے۔( ۱۳ )

۷۹۔قبروں پر پیسے ڈالنا

قبرستان بقیع میں ایک بورڈ پر لکھا ہوا ہے ”لا یجوز رمی النقود علی القبور“قبروں پر پیسہ ڈالنا جائز نہیں ہے“۔

ایک روز امر بالمعروف کمیٹی کا سر پرست بقیع میں آیا تو اس نے دیکھا کہ کچھ قبروں پر پیسے پڑے ہوئے ہیں اس نے مجھے دیکھا تو مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا: ”یہ پیسے زائروں کو دے دو ان کا قبروں پر ڈالنا حرام ہے“۔

شیعہ عالم: ”کس دلیل سے قبروں پر پیسے ڈالنا حرام ہے کیا قرآن اور سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اس بات کی نہی ہوئی ہے ؟جب کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ تمہارے لئے ہر وہ چیز جائز ہے جس سے تمہیں منع نہ کیا گیا ہو“۔

سر پرست: ”قرآن میں آیا ہے ”اِنَّمَا الصَّدْقَةُ لِلْفُقْرَاءِ( ۱۴ ) صدقہ صرف فقراء کے لئے ہے“۔

شیعہ عالم: ”یہ پیسے بھی قبر کے فقیر مجاوراٹھاتے ہیں“۔

سرپرست: ”قبر کے مجاور فقیر نہیں ہیں“۔

شیعہ عالم: ”کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ فقیر ہی ہوں کیونکہ مدد اور بخشش کے لئے یہ قطعاً حرام نہیں ہے اگر کوئی شخص کسی مقصد کے تحت خدا کی راہ میں اپنا تمام مال کسی دولت مند کو بھی دیدے تو کیا کوئی حرج ہے جیسا کہ شادیوں میں دولہا اور دلہن کے سر سے پیسے نچھاور کرتے ہیں اور غیر فقیر بھی یہ پیسے اٹھا تے ہیں اور جس آیت کو تم نے پڑھاہے اس میں صدقہ کے لئے آٹھ مصرف ذکر ہوئے ہیں جس میں سے ایک اللہ کی راہ بھی ہے اور جب مسلمان اولیاء خدا کی قبروں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں ”ہماری جان ومال آپ پر فدا ہو“، اب اگر ایک شخص اپنی دوستی اور محبت کی وجہ سے اپنا تمام مال یا اس کا کچھ حصہ اسے بخش دے تو عرفا ًاس میں کیا برائی ہے خداوند متعال نے اپنی دلیل اورذاتی رائے سے کسی حلال کو حرام کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ ہم سورہ نحل کی ۱۱۶ ویں آیت میں پڑھتے ہیں:

( وَلاَتَقُولُوا لِمَا تَصِفُ اٴَلْسِنَتُکُمْ الْکَذِبَ هَذَا حَلاَلٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَی اللهِ الْکَذِبَ ) “۔

”اور اپنی زبان سے نکلنے والے جھوٹ کی وجہ سے یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ تم خدا پر جھوٹ باندھ سکو“۔

کیا خداوند متعال نے تمہیں اپنی طرف سے قانون گڑ ھنے کی اجازت دی ہے اور ہر چیز جو تمہارے ذوق کے مطابق نہ ہو تم اسے حرام اور شرک قرار دے دو، تم بدعت کے مقابلہ کی آڑ میں ہرحلال کو حرام قرار دے دیتے ہو کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ حلال کو حرام کرنا خود ایک بدعت ہے اور جو لوگ اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ خود جان لیں کہ انھوں نے صراط مستقیم کو چھوڑ دیا ہے جیسا کہ ہم اس آیت میں پڑھتے ہیں :

( ان الذین یفترون علی الله الکذب لا یفلحون )

”جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے“۔

۸۰۔ ہر طرف سے شرک کی آواز

سعودی منڈیوں میں بہت ہی سستی شئے ہے ، یہ سودا ہر جگہ دستیاب ہے، وہاں کی امر بالمعروف کمیٹی جھوٹی سی بات کو لے کر مومن کو مشرک بنا دیتی ہے! گویا ان کی تھیلوں میں شرک اور شرک کی تہمت لگانے کے علاوہ اور کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے یہ لوگ اس سلسلہ میں صرف زبانی باتوں ہی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ شیعوں کی مختلف مشہور کتابوں پر بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں مثال کے طور پر شیعوں کے مشہور ومعروف محقق و عالم استاد شیخ رضا مظفر کی یہ عبارت:

”فکانت الدعوة للتشیع لا بی الحسن علیہ السلام من صاحب الرسالة تمشی منہ جنبا لجنب مع الدعوة للشھادتین“۔

”حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کی طرف دعوت توحید و رسالت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہے“۔

ایک وہابی مولف نے اپنی کتاب ”الشیعہ والتشیع“ میں جو سعودی عرب میں چھپ چکی ہے لکھا ہے:

ان النبی حسب دعویٰ المظفّری کان یجعل علیّاً شریکاً له فی نبوته و رسالته “۔( ۱۵ )

”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مظفر کے دعوے کے مطابق علی علیہ السلام کو اپنے نبوت و رسالت میں شریک قرار دیتے تھے“۔

____________________

(۱) سورہ مائدہ ، آیت ۵۵۔

(۲) تمام مفسروں کے اتفاق رائے سے یہ آیت امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے جب آپ نے رکوع کے عالم میں انگوٹھی فقیر کو دی تھی اہل سنت کی جن کتابوں میں یہ بات ذکر ہوئی ہے ان کی تعداد تیس سے زائد ہے جیسے ذخائر العقبی،ٰ ص۸۸،فتح القدیر، ج۲،ص۵۰، اسباب النزول واحدی،ص۱۴۸، کنز العمال ،ج۶ ص۳۹۱ وغیرہ مزیدمعلومات کے لئے کتاب” احقاق الحق“ج۲، ص ۳۹۹ سے ۴۱۰ کا مطالعہ کریں۔

(۳) سورہ احزاب آیت ۵۷۔

(۴) المناظرہ، تالیف شیخ حسین بن عبد الصمد ،طبع موسسہ قائم آل محمد (خلاصہ اور وضاحت کے ساتھ)

(۵) تاریخ طبری ،۲،ص ۲۸۱ کا خلاصہ۔

(۶) صحیح بخاری ،ج۲،ص۱۳۰ (مطبع الشعب ، ۱۳۷۸ھ۔

(۷) مناظرات فی الحرمین الشریفین ، مناظرہ نمبر ۱۳۔

(۸) صحیح ترمذی ،ج۱۳،ص۱۸۲ ، سنن ابی داود ،ص۲،ص۲۶۴ ، وغیرہ میں یہی حدیث تھوڑے سے فرق کے ساتھ “سعید بن زید ”سے بھی نقل ہوئی ہے (الغدیر ،ج۱۰،ص۱۱۸)

(۹) سورہ نساء، آیت ۹۳۔

(۱۰) مناقب ابن مغازلی ،ص۵۰۔مناقب خوارزمی ،ص۷۶۶و۲۴۔

(۱۱) کنز العمال ،ج۶،ص۱۵۷ ۔الامامة ولسیاسة ،ص۷۳۔مجمع الزوائد ،ہیثمی ،ج۷،ص۲۳۵ وغیرہ ۔

(۱۲) کنز العمال ،ج۶،ص۱۵۷ ۔الامامة والسیاسة ،ص۷۳۔مجمع الزوائد ،ہیثمی ،ج۷،ص۲۳۵ وغیرہ ۔

(۱۳) شرح در الغدیر ،ج۱۰، ص۱۲۲ تا ۱۲۸ ۔

(۱۴) سورہ بقرہ ، آیت ۶۰۔

(۱۵) الشیعہ و التشیع، ص ۲۰۔


چوتھاحصہ

اس مصنف سے مناظرہ

اگر یہ ہوا وہوس میں اپنے دین کو بیچ کھانے والا وہابی ذرا بھی شیعوں کے عقائد سے واقفیت رکھتا تو شیخ رضا المظفر پر اس طرح کا احمقانہ اعتراض نہ

کرتا۔

اگر اس طرح کی بات شرک ہوتیں تو قرآن میں یہ آیت کبھی ذکر نہ ہوتی:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ )( ۱۶ )

”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اس کے رسول کی اور تم میں سے جو اولی الامر ہو“۔

اس آیت میں اولی الامر ، اللہ اور رسول کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں اور سب نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اولی الامر کے واضح ترین مصادیق ہیں۔

کیا اس صورت حال میں یہ کہنا ممکن ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر توحید کی طرف دعوت دینے کے بجائے شرک کی دعوت دی ہے ؟

جہاں تک رسالت کی دعوت کے ساتھ امامت کی دعوت کا ہر جگہ ہونا ہے تو یہ ایک حتمی بات ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت کے بعد امامت علی اور آپ کی خلافت کی تبلیغ کرنا ہے اسی لئے آپ جس طرح اپنی رسالت اور توحید خداوندی کی تبلیغ کرتے تھے اسی طرح علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کرتے اور انھیں اس طرف دعوت دیا کرتے تھے اس کا شرک سےکوئی ربط نہیں ہے۔

مزید وضاحت کے لئے ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جب سورہ شعراء کی یہ آیت نازل ہوئی:

( وَاٴَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاٴَقْرَبِینَ )( ۱۷ )

”اور اپنے رشتہ داروں کو ڈراو“۔

تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے رشتہ داروں کو دعوت دی اور اس میں آپ نے یہ اعلان کیا:

کون شخص ایسا ہے جو اس کام میں میری مدد کرے اور اس کے بدلے وہ میرا بھائی ،وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہو جائے ؟“

اس وقت کوئی بھی علی علیہ السلام کے علاوہ نہیں اٹھا تھا اور جب کئی دفعہ دہرانے کے بعد بھی علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہ اٹھا تو آپ نے فرمایا:

ان هذا اخی ووصي وخلیفتي فیکم فاسمعوا له واطیعوه “۔( ۱۸ )

”بلاشبہ یہی میرا بھائی ،وصی اور میرے بعد تم لوگوں میںمیراجانشین ہے لہٰذا تم لوگ اس کی باتیں سنو اور اس کی اطاعت کرو“۔

شیعہ اسی بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جب بھی پیغمبر اپنی رسالت اور خدا کی وحدانیت کی دعوت دیا کرتے تھے تو علی علیہ السلام کی امامت کو بھی بتا دیتے تھے کیا وفات کے بعد علی کی خلافت کی طرف دعوت دینا شرک ہے کیا نبوت کی دعوت کے ساتھ ساتھ امامت کی دعوت دینا شرک ہے؟( ۱۹ ) اور کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کو اصل نبوت میں اپنا شریک بنا لیا ؟

ہائے رے بے انصافی۔

۸۱۔ حج کے (سیاسی پہلو کے) بارے میں دو علماء کا مناظرہ

اسلامی انقلاب (ایران)کی کامیابی کے بعد پید اہوئے اہم مسائل کے بانی حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ نے اپنے بیانیہ میں یہ اعلان کیا:

”حج کی دو قسمیں ہیں:حج ابراہیمی اور حج بو جہلی! حج صرف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ ایک مکتب اور بہترین جامع یونیور سٹی ہے۔

لہٰذا ایرانیوں اور حضرت امام خمینی کے مقلدین کے نظر میں حج کی اہمیت مزید واضح ہو گئی اور ”مشرکین سے برائت“ کا مسئلہ پیش آیا ،جس کے بہت سے مثبت آثار پائے جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے حجاز کے درباری ملاو ں اور بعض پرانے نام نہاد علماء نے اشکال و اعتراض کرنا شروع کر دیا ، چنانچہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ حج میں کسی طرح کی سیاست اور شور شرابہ نہیں ہونا چاہئے ،اور گذشتہ کی طرح صرف خشک عبادت کے طور پر حج کے اعمال بجالانا چاہئے جب کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

( جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاسِ ) “۔( ۲۰ )

”اللہ نے کعبہ کو جو بیت الحرام ہے اس کو لوگوں کے قیام اور صلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے“۔

”مومنین کے قیام “کے وسیع معنی کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ خانہ کعبہ کے زیر سایہ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کو دور کریں ،اور اپنی زندگی کے معنوی ومادی مختلف پہلووں کو بہتر بنا نے کے لئے کوشش کرتے ہوئے سعادت کی منزلوں کو طے کریں۔

اس بنیاد پر دو عالموں (نام نہاد عالم اور دانشور عالم )کے درمیان ایک مناظرہ ہوا:

عالم نما: یہ کیا شور شرابہ اور بدعتیں ہیں جو حج میں داخل کر دی گئی ہیں ،حج کے دوران کسی بھی طرح کی سیاست اور جنگ وجدال نہیں ہونا چاہئے اور بالکل چین وسکون کے ساتھ حج کے اعمال انجام دینا چاہئے ،حج خود سازی اور رو ح کی پاکیزگی کے لئے ایک بہترین عبادت ہے ،اس میں کسی طرح کے نعرے زندہ باد یا مردہ باد نہیں ہونا چاہئے ،حج ابراہیمی اور حج بوجہلی ،واقعا ً ایک نئی چیز ہے اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں سنا!

عقلمندعالم: ہمارے عقیدہ کے مطابق جس طرح ہم علوی اسلام اور لعنتی معاویہ کا اسلام رکھتے ہیں، اسی طرح حج کی بھی دو قسمیں ہیں ابراہیمی ومحمدی حج ،اور بوجہلی ویزیدی حج۔

عالم نما: حج؛ نماز و روزہ کسی طرح ایک عبادت ہے لہٰذا اس میں سیاست اور غیر خدائی کاموں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔

عقلمندعالم: سیاست صحیح معنی میں عین دین ہے، یہ دین سے ہرگز جدا نہیں ہے بعض عبادتیں باوجود اس کے کہ عبادت ہیں اور گناہوں کے دور ہونے اور صفائے نفس کے لئے پاکیزہ ترین اور خالص ترین سبب ہیں۔

لیکن یہی عبادتیں سیاسی مقاصد تک پہنچنے کا سب سے بہترین وسیلہ بھی ہیں کیونکہ روح عبادت خدا کی طرف توجہ دینا ہے اور سیاست کی روح مخلوق خداپر توجہ کرنے کا نام ہے ،اور یہ دونوں حج کے مسائل میں اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دیا جائے تو پھر حج،حج نہیں رہے گا۔

واضح الفاظ میں یوں سمجھئے کہ حج کے لئے ایک جھلکا ہے اور ایک مغز ،جو لوگ صرف حج کے ظاہری عبادتی پہلو پر توجہ کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ انھوں نے حج کو حقیقت سے خالی کر لیا ہے اور مغز کو دور پھینک دیا ہے اور صرف ظاہری جھلکے کو لے لیا ہے ،مکہ معظمہ کا ایک نام ”ام القریٰ“یعنی دیہات اور شہروں کی ماں ہے۔( ۲۱ ) جس طرح ماں اپنے بچوں کو کھانا دیتی ہے ،اور ان کوپرورش اور تربیت کرتی ہے اسی طرح مکہ معظمہ پر لازم ہے کہ وہ فکری ،سیاسی اور معنوی لحاظ سے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو غذا فراہم کرے ،اور ان کی اسلامی رشد و نموکے لحاظ سے تربیت کرے۔

عالم نما: ہم مسلمان ہیں ،قرآن اور حدیث کو مانتے ہیں کیا قرآن کریم کا ارشا د نہیں ہے؟:

( ولا جدال فی الحج )( ۲۲ )

”حج میں کوئی جنگ وجدال نہیں ہونا چاہئے “؟

لہٰذا حج کے اعمال میں ایک حاجی کو جنگ وجدال اور تو تومیں میں نہیں کرنا چاہئے ،جس حج میں مظاہرہ ،نعرہ بازی اور شور شرابہ ہو تو ایسا حج جدا ل ہے جس سے قرآن نے روکا ہے۔

عقلمندعالم: مذکورہ آیت میں جس جدل سے روکا گیا ہے اس سے مراد مومنین کے درمیان تو تو میں میں ہے ،کہ قسم بخدا ایسا نہیں ہے یا قسم بخدا ایسا ہے۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام منقول احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ”جدال کے معنی جھوٹی قسم کھانا ہے۔یا جو کام گناہ سے متعلق ہو، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلا م فرماتے ہیں:

”جس مجادلہ میں قسم کھائی جائے ،لیکن اس سے مراد کسی مومن کا احترام ہو ،تو ایسے جد ل سے آیت میں ممانعت نہیں کی گئی ہے:بلکہ آیت میں نہی شدہ جدال سے مراد وہ جدال ہے جس میں گناہ کا تصور پایاجائے اور انسان اپنے ایمانی برادر پر غلبہ کرنا چاہئے( ۲۳ ) لیکن اگر دین کے استحکام اور اس کے دفاع کے لئے ہو تو نہ صرف گناہ نہیں ہے بلکہ بہترین عبادت اور عظیم اطاعت ہے۔

علامہ فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں مذکورہ آیت (سورہ بقرہ آیت ۱۹۷) کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں: ”تمام علمائے علم کلام اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ دینی امور میں جدال کرنا عظیم اطاعت ہے“۔اس کے بعد اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہیں،منجملہ سورہ نحل کی ۱۲۵ ویں آیت جس میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( اُدْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ ) “۔

”آپ اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیں اور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے“۔

اسی طرح سورہ ہود کی آیت نمبر ۳۲ میں پڑھتے ہیں جہاں کفار کی باتوں کو بیان کرتے ہوئے خداوند عالم فرماتا ہے:

( یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا ) “۔

”(اور ان لوگوں نے کہا:) اے نوح ! آپ نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا“۔

اس آیہ شریفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے جدال کرتے تھے، اور یہ بات واضح ہے کہ جناب نوح علیہ السلام کا جدال صرف دعوت الٰہی ،یکتا پرستی اور دینی استحکام کے لئے ہوتا تھا۔

لہٰذا جس جدال سے حج میں نہی کی گئی ہے ،اس سے باطل اور بے ہودہ کاموں میں جدال ہے، نہ کہ وہ جدال جو حق وحقیقت کو ثابت کرنے کے لئے ہو۔

عالم نما:قرآن مجید کی بہت سی آیات میں جدال کی مذمت کی گئی ہے اور اس کوغیر مومن کا کام قرار دیا گیا ،مثلاً سورہ غافر کی آیت نمبر ۴ میں ارشاد ہوتا ہے:

( مَا یُجَادِلُ فِی آیَاتِ اللهِ إِلاَّ الَّذِینَ کَفَرُوا ) “۔

”اللہ کی نشانیوں میں صرف وہ جھگڑا کرتے ہیں جو کافر ہوگئے ہیں۔۔۔“۔

سورہ حج آیت نمبر ۶۸ میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِنْ جَادَلُوکَ فَقُلْ اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ )

”اور اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے“۔

اسی طرح سورہ انعام آیت ۱۲۱ میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلاَتَاٴْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی اٴَوْلِیَائِهِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ اٴَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ )

”اور دیکھو جس پر نام خدا نہ لیا گیا ہو ا سے نہ کھانا کہ یہ فسق ہے اور بے شک شیاطین تو اپنے والوں کی طرف خفیہ اشارہ کرتے ہی رہتے ہیں تاکہ یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت کرلی تو تمہارا شمار بھی مشرکین میں ہوجائے گا“۔

عقلمندعالم: قرآن مجید میں لفظ”جدال“کے مختلف استعمال سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جدال کے وسیع معنی ہیں،جس کی مجموعی طور پر دوقسم ہیں:

۱) پسندیدہ۔

۲) نا پسند۔

جس وقت بحث و گفتگو اور دوسروں کی بات پر اعتراض حق وحقیقت روشن ہونے اور صحیح راستہ کی ہدایت کے لئے ہو تو یہ ایک مناسب اور پسندیدہ عمل ہے اور بہت سے مقامات پر یہ جدال واجب ہے ،نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک حصہ ہے، لیکن اگر باطل کو ثابت کرنے اور ناحق بات کو ثابت کرنے کے لئے ہو تو واقعا ً ایسا جدال مذموم اور ناپسند ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ حج کے دوران ہر جدال کو ناپسند قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عالم نما:میری باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادت کو سیاست سے نہیں ملانا چاہئے ،حج جیسی مقدس عبادت اور بلند مقام ،سیاست ،نعرہ بازی اور مظاہرہ کرنے کے لئے نہیں ہے ،یہ مقام مخصوص عبادت یعنی حج کے لئے ہے ،کسی دوسری جگہ پر سیاست کی باتیں کریں۔

عقلمندعالم: اسلامی عبادت میں عبادی پہلو کے علاوہ دیگر پہلو بھی پائے جاتے ہیں ، چنانچہ حج میں عبادی پہلو کے ساتھ ساتھ اجتماعی، سیاسی، اخلاقی، اقتصادی اور ثقافتی پہلو بھی پائے جاتے ہیں کامل اور حقیقی حج وہی ہے جس میں تمام پہلووں سے فیض حاصل کیاجائے،اوراگر حج میں سیاسی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو ا یسا حج ناقص ہوگا۔

ہم یہاں پر اس مطلب کی مزید وضاحت کے لئے حضرت امام خمینی کے بہترین کلام کو نقل کرتے ہیں:

”حج اکبر فلسفوں میں سے ایک فلسفہ اس کا ایک سیاسی پہلو ہے جس کو ختم کرنے کے لئے ہر طرف سے ظالم کوشش کر رہے ہیں ،اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے پروپیگنڈہ کا اثر مسلمانوں پر بھی ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں کا سفر حج صرف خشک عبادت بنتا جا رہا ہے جس میں مسلمانوں کی مصلحتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ،جس وقت سے فریضہ حج قرار دیا گیا ہے اسی وقت سے اس کا سیاسی پہلو عبادی پہلو سے کم نہیں رہا ہے ،سیاسی پہلو اپنی سیاست کے علاوہ خود بھی عبادت ہے“۔( ۲۴ )

موصوف ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”لبیک لبیک “کے ذریعہ تمام بتوں کی نفی کریں اور ”لا“کے نعروں کے ذریعہ تمام سرکش و طاغوت نمالوگوں کے خلاف آواز بلند کریں،خانہ کعبہ کے طواف میں(کہ جو عشق الٰہی کی نشانی ہے)دل کو دوسروں سے خالی کریں،اور دل میںغیر حق کے خوف کو نکال پھینکیںاور خدا کے عشق کے برابر چھوٹے بڑے بتوں اور سرکشوں نیز طاغوت سے وابستہ لوگوں سے برائت کریں،کیونکہ خداوند عالم اور اولیائے الٰہی ان سے بیزار ہیں“۔( ۲۵ )

لہٰذا حج،عبادت اور سیاست دونوں کامجموعہ ہے ،اور چونکہ اسلامی سیاست بھی عین عبادت ہے ،لہٰذا ہم اسلامی سیاست کو حج سے کیسے دور کرسکتے ہیں،مثال کے طور پر اگر کسی سیب سے ا س کے پانی کو نکالیں تو کیا باقی بچے گا ؟ کیا کوڑے کو سیب کہا جا سکتا ہے؟

عالم نما: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام نیز ان کے ممتاز شاگرد ہمارے لئے نمونہ عمل اور حجت ہیں،یہ حضرات حج کے دوران صرف اعمال حج انجام دیتے تھے،ان کو سیاست سے کوئی مطلب نہ تھا۔

عقلمندعالم: یہ بات بغیر دلیل کے ہے ،اتفاقا ً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے شاگرد مناسب موقع پر خانہ کعبہ کے نزدیک سیاسی ،اجتماعی اور ثقافتی مسائل بیان کر تے تھے اور ان مختلف پہلووں پر اہمیت دیتے تھے ،ہم یہاں پر نمونہ کے طور پر چند چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱۔پیغمبر اکرم اور آپ کے ساتھیوں کا طواف کرتے وقت تو حیدی مظاہرہ

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہجرت کے ساتویں سال (یعنی فتح مکہ سے ایک سال قبل)”صلح حدیبیہ “ کے تحت اس بات کا حق رکھتے تھے کہ عمرہ کرنے کے لئے مکہ معظمہ جائیں اور تین دن مکہ میں ہیں،چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ،احرام باندھ کر بہت ہی شان و شوکت کے ساتھ میںمکہ داخل ہوئے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگے ،پیغمبر اکرم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھنے کئے لئے کفار قریش کے مرد وعورت چھوٹے بڑے سبھی آئے تھے، آنحضرت اور آپ کے اصحاب کی ہیبت ان کی آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئے تھی ،اس سیاسی اہم اور حساس موقع پر آنحضرت نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:

”اپنے شانوں کو کھول دو اور شکوہ مند طور پر طواف کرو،تاکہ مشرکین تمہاری ضخیم کھال اور طاقتور بازوں کو دیکھ لیں“

آپ کے اصحاب نے آپ کے فرمان کی پیروی کی اور مشرکین خانہ کعبہ کے چاروں طرف صف لگائے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب کے عظم الشان طواف کو دیکھ رہے تھے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس وقت ”لبیک اللهم لبیک “کے نعروں کی آواز بلند ہوتی تھی ”عبد اللہ بن رواحہ“(اسلامی لشکر کے سرداروں میں سے ایک شخص)جنھوں نے اپنی تلوار کو حمائل کیا ہوا تھا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلند آوازمیں بجلی کی کڑک کی طرح اس طرح ”رجز“پڑھتے تھے اور یہ نعرہ لگاتے تھے:

خلو بنی الکفار عن سبیله

خلو فکل الخیر فی قبوله

یا رب انی مومن لقیله

انی رایت الحق فی قبوله

”اے کافر زادو!پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے راستہ سے ہٹ جاو،راستہ چھوڑ دو اور جان لو کہ تمام خیرو سعادت رسول اللہ کی رسالت کو قبول کرنے میں ہیں“۔

پالنے والے! میں آنحضرت کے قول پر ایمان رکھتا ہوں ،اور حق کو آپ کے فرمان کو قبول کرنے پاتا ہوں“۔( ۲۶ )

اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کے لئے طواف کعبہ، شان وشوکت اوراظہار قدرت کا مظہر بن گیا جس کا تماشہ مشرکین کر رہے تھے ،حالانکہ عبادت تھی لیکن مشرکین کو مغلوب کرنے کے لئے سیاست اور اسلامی شان وشوکت کا ایک نمونہ تھا۔

۲۔امام حسین علیہ السلام کا حج کے زمانہ میں معاویہ پر شدید اعتراض

۵۸ ہجری (یعنی مرگ معاویہ سے دو سال پہلے )کا زمانہ تھا معاویہ طغیانی اور سرکشی پر کمر باندھے علویوں اور اما م علی علیہ السلام کی شیعوں کے قتل کا در پہ تھا اور ان کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کرتا تھا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام بھی اس سال حج کے لئے تشریف لے گئے، مناسک حج کے دوران سر زمین منیٰ میں بنی ہاشم ،شیعوں اور انصار کے ممتاز افراد کو ایک اجتماع کی دعوت دی، جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد جمع ہوئے جن میں کچھ تابعین اور اصحاب رسول کے فرزند ان بھی تھے، حضرت امام حسین علیہ السلام اس اجتماع میں کھڑے ہوئے اور ایک پر جوش تقریر کی ،چنانچہ حمد وثناء الٰہی کے بعد فرمایا:

اما بعد !بے شک پس طاغوت (معاویہ) نے ہمارے اور ہمارے شیعوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کو آپ تمام حضرات اسے جانتے ہیں، آپ لوگوں نے دیکھا ہے اور اس کے گواہ ہیں، اس کی خبریں تم تک پہنچی ہیں میں تم سے کچھ چیز وں کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں اگر صحیح ہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ بولوں تو مجھے جھٹلادینا، میری باتوں کو سنو اور ذہن نشین کرلو اور اعمال حج کےبعد جب اپنے وطن جاؤ تو اپنے قابل اطمینان لوگوں تک یہ میرا پیغام پہنچا دینا، اور ان کو معاویہ کے ظلم و ستم کے مقابلہ کی دعوت دینا، مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو ”حق“ نیست و نابود ہوجائے گا، لیکن خداوندعالم اپنے نور کو کامل کرے گا اگرچہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ لگے“۔

اس موقع پر امام حسین علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت اور ان کے فرزندوں کی امامت پر قرآن مجید کی آیات اور احادیث رسول بیان کی، جب آپ کی گفتگو کا ایک حصہ ختم ہو جاتا تھا تو حاضرین یہ کہتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرتے تھے:

اللهم نعم، قد سمعناه و شهدناه “ ۔

”ہم خداکو گواہ قرار دیتے ہیں کہ اس کلام کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے سنااور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں“۔

آخر کلام میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے ان سے فرمایا:

” تمہیں خدا کی قسم! جس وقت اپنے وطن پہنچو تو اپنے قابل اطمینان افراد تک میرا یہ پیغام پہنچادینا اور ان کو میرے پیغام سے آگاہ کردینا“۔( ۲۷ )

یہ واقعہ بھی حج کے درمیان سیاسی فائدہ کا ایک نمونہ ہے، جس میں امام علیہ السلام نے حج کے دوران مسلمانوں کے اجتماع سے ظالم و طاغوت معاویہ کے خلاف اقدام فرمایا۔

اس لحاظ سے اس واقعہ میں ہم ابراہیمی حج کو دیکھتے ہیں جو صرف خشک عبادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی مسائل بھی بیان ہوئے ہیں، سخت حالات میں حق کی رہبری کا مسئلہ ظالم اور طاغوت کی رہبری سے نفرت جیسے مسائل پر گفتگو ہوئی ہے جو مکمل طور پر سیاسی مسائل ہیں۔

۳۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام کا اپنے ہم عصر طاغوت سے خانہ کعبہ میں مقابلہ

ایک مشہور و معروف تاریخی واقعہ جس میں حج کے مراسم کے ساتھ سیاسی مسائل بھی پائے جاتے ہیں، امام سجاد علیہ السلام کا خانہ کعبہ میں مراسم حج کے دوران اموی طاغوت ہشام بن عبد الملک کے ساتھ مقابلہ ہے جس کا خلاصہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں:

عبد الملک کی خلافت کا زمانہ (اموی سلسلہ خلافت کا پانچواں خلیفہ) تھا اس کا فرزند ہشام حج کے لئے شہر مکہ میں داخل ہوا، وہ طواف کے وقت حجر اسود کو چومنا چاہتا تھا لیکن کثیر ازدحام کی وجہ سے قریب نہ جاسکتا، چنانچہ حجر اسود کے قریب ہشام کے لئے ایک منبر رکھا گیا، وہ منبر پر گیا، ہشام کے پاس کچھ لوگ جمع ہوگئے اور وہ طواف کرنے والوں کو دیکھنے لگا، اچانک دیکھا کہ امام سجاد علیہ السلام بھی طواف میں مشغول ہیں، امام علیہ السلام جب حجر اسود کو چومنا چاہتے تھے تو لوگوں نے راستہ دیا اور آپ نے بہت ہی آرام سے نزدیک جاکر حجر اسود کو بوسہ لیا۔

اس موقع پر ایک شامی مرد نے ہشام سے کہا:

”یہ شخص کون ہے جس کا اتنا احترام ہورہا ہے؟“

ہشام نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: ” میں نہیں جانتا“۔

اس حساس موقع پر خاندان رسالت کا انقلابی شاعر فرزدق جو ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں میں تھا اس نے اس شامی مرد سے کہا:

”ولکنی اعرفہ“(لیکن میں ان کو پیچانتا ہوں“۔)

شامی نے کہا:تو پھر بتاو کہ یہ شخص کون ہے؟

فرزدق نے اما م سجاد علیہ السلام کی شان میں وہ مشہور ومعروف اور عظیم الشان قصیدہ پڑھا، جس کہ ۴۱ شعر ہیں اور جس کا مطلع یوں آغاز ہوتا ہے:

هذاالذی تعرف البطحاء و طاٴته

والبیت یعرفه والحل و الحرم

”یہ وہ شخص ہے کہ مکہ معظمہ کے سنگریز ہ اس کے پیروں کے نشانوں کو پہنچانتے ہیں، خانہ کعبہ اور حجاز کے بیابان، داخل حرم اور بیرون حرم اس کو پہچانتے ہیں“۔

یہ سنتے ہی ہشام کو غصہ ہو آگیا اور فرزدق کو قیدکرنے کا حکم دیدیا ،جس وقت امام سجاد علیہ السلام کو فرزدق کے قیدی بنائے جانے کی خبر ملی تو ان کے لئے دعا کی اور ان کی دلجوئی کی ،ان کے لئے بارہ ہزار درہم بھیجے،لیکن فرزدق نے ان درہموں کو قبول نہ کیا جس کے بعد امام علیہ السلام نے ان کو پیغام بھجوایا:

”تمہیں اس حق کی قسم جو ہم تم پر رکھتے ہیں ،اس مبلغ (ہدیہ)کو ہماری طرف سے قبول کر لو ،خدا وند عالم تمہاری کی پاک نیت اور تمہارے مقام سے واقف ہے “اس موقع پر فرزدق نے اس مبلغ کو قبول کر لیا،اور قید میں ہشام کی مذمت میں اشعار کہے۔( ۲۸ )

اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام خانہ کعبہ کے طواف کے وقت ہشام کی شان و شوکت پر کوئی توجہ نہیں کرتے اور فرزدق کے کلام کی تائید کرتی ہیں جو مکمل طور پر سیاسی پہلو رکھتی تھی اور ان کی احوال پرسی کی،ا ن کے لئے دعاکی اور ۱۲۰۰۰/ درہم ان کے لئے بھیجے ، نیز ان کی پاک وپاکیزہ نیت کی قدر دانی کی،اور بھر پور طریقہ سے ان کی تائید کی۔

کیا یہ واقعہ اور امام علیہ السلام کی تائید اس چیز کی عکاسی نہیں کرتی کہ حج کے عظیم الشان موقع پر سیاسی مسائل کا بیان کرنا ائمہ معصومین علیہم السلام کے نزدیک مقبول اور محبوب کام تھا؟!

۴۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی سیاسی وصیت

جلیل القدر محدث ثقة الاسلام شیخ کلینی علیہ الرحمة موثق سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:ہمارے پدر بزرگوار(امام محمد باقر علیہ السلا م)نے وصیت فرمائی کہ میرے مال کا ایک حصہ وقف کرنا تاکہ سر زمین منیٰ میں د س سال تک مجھ پر گریہ کیا جائے اور میرے مظلومیت پر آنسو ں بہائے جائیں“۔( ۲۹ )

یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے یہ وصیت کیوں نہ فرمائی کہ مدینہ میں ان کی قبر پر عزاداری کی جائے! اور یہ کیوں نہ وصیت فرمائی کہ حج کے موسم کے علاوہ مکہ یا منیٰ میں ان پر عزاداری کریں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام علیہ السلام چاہتے تھے کہ جب حج کے موسم کے دوران لوگ منیٰ میں جمع ہو جائیں اس وقت ان کے لئے عزاداری ہو ،مجلس برپا ہوتا کہ ظالموں کا پتہ چل جائے اور لوگوں پر بنی امیہ کا ظالمانہ کردار مسلمانوں کے بارے میں ان کی حق تلفی اور ظلم وستم واضح ہو جائے ،نیز اس طرح کے دوسرے مسائل بیان کئے جائیں،پس معلوم یہ ہوا کہ موسم حج میں ضروری سیاسی مسائل کا بیان کرنااس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ جس کے بارے میں امام محمد باقر علیہ السلام وصیت فرماتے ہیں، اور اپنے مال کا ایک حصہ وقف کرتے ہیں۔

احکام حج عبادت وسیاست دونوں کا مجموعہ ہے

جب ہم حج کے احکام کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے علاوہ عین سیاست ہیں، مثال کے طور پر درج ذیل چند نمونے:

جب انسان، حج کے لئے احرام پہنتا ہے تو لباس کے دو حصوں سے اپنے بدن کو چھپاتا ہے، تمام لوگ چاہے غریب ہو یا امیر ،حاکم ہو یا ریاعا، سب ایک طرح کے بن جاتے ہیں ،لہٰذایہ بھی ذات پات اور طبقہ بندی کا مقابلہ ہے جو کہ سیاسی لحاظ سے ایک اہم مسئلہ ہے۔

۲ ۔احرام کے احکام میں سے ایک حکم یہ ہے کہ انسان کسی کو یہاں تک جانوروں اورگھاس کو بھی نقصان نہ پہنچائے،حشرات کو مارنا بھی حرام ہے ،حرم میں درخت اور گھاس کا اکھاڑنا بھی حرام ہے ،بدن سے بال اکھاڑنابھی حرام ہے ،اسلحہ ساتھ لینا بھی حرام ہے ،۔۔۔یہ تمام احکام ہمیں امنیت اور امن وامان کا درس دیتے ہیں جو حکومت کے سیاسی پہلو وںمیں ایک اہم مسئلہ ہے۔

۳ ۔طواف کعبہ کے وقت جب سات چکر پورے ہو جائیں تو مستحب ہے کہ حجر اسودپر ہاتھ پھیریں ،امام جعفر صادق علیہ السلام ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:

وهو یمین الله فی ارضه یبایع بها خلقه( ۳۰ )

”حجر اسود زمین پر دست خدا ہے خداوند عالم اس کے ذریعہ اپنی مخلوق سے بیعت کرتا ہے“۔

یعنی مسلمان اس پر اپنا ہاتھ رکھ کرخدا سے بیعت کرتے ہیں۔

اصولی طورپر ”بیعت “مکمل طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے ،خدا سے بیعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تیری راہ میں قدم بڑھاتے ہیں اور تیرے دشمنوں جیسے امریکہ اور اسرائیل نیز دیگر تمام مشرکین وکفار سے دشمنی کرتے ہیں۔

۴ ۔منیٰ کے میدان میں ”رمی جمرات“کرتے ہیں اور ان کی طرف جو شیطان کا محاذ ہے پتھر مارتے ہیں اس عمل کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ امریکہ ،اسرائیل اور دیگر شیطانی طاقتوں کے مظہر کی طرف پتھر پھینکنا چاہئے ہمیں دشمن کی پہچان اس طرح ہو کہ پتھر اس نشانہ پر ماریں جو ”جمرہ“پر جا کر لگے ،اگر تھوڑا بھی ادھر ادھر لگے تو وہ صحیح نہیں ہے۔

۵ ۔منیٰ کی قربان گاہ میں،اونٹ ،گائے یا بکرا قربانی کریں جو ایثار اور فدا کاری کا درس اور شیطانیت کے مظہر سے مقابلہ کے لئے سیاست کا اہم رکن ہے۔

یہاں پریہ چیز ذکر کردینا ضروری ہے کہ جس وقت امام مہدی (عج)ظہور فرمائیں گے ،تو خانہ کعبہ کے پاس ظہور ہوگا ،وہیں پر آپ کے ۳۱۳/ انصار آپ کی بیعت کریں گے۔( ۳۱ )

اس بنا پر ہے کہ حضرت فا طمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا:

جعل الله الحج تشییداً للدین “۔( ۳۲ )

”خدا وند عالم نے حج کو دینی بنیاد کے استحکام کے لئے واجب قرار دیا ہے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

لا یزال الدین قائما ما قامت الکعبة( ۳۳ )

”جب تک خانہ کعبہ پا بر جا ہے اسلام بھی پا برجا ہے“۔

واقعاً یہ حقیقت ہے کہ جب حج میں صرف اس کے عبادی پہلو پر اکتفاء کی جائے اور حج کے اہم ترین پہلو یعنی سیاسی پہلو کو نظرانداز کر دیا جائے تو کیا پھر کیا دینی بنیادیں مستحکم اور مضبوط ہو سکتی ہیں؟!

۸۲۔ عبد المطلب اور ابو طالب کی قبروں کی زیارت اور ان کے ایمان کے بارے میں ایک مناظرہ

اشارہ:

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جناب ”عبد المطلب“ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کے دادا کی قبر اور ”ابو طالب“حضرت علی علیہ السلام کے پدر بزرگوار کی قبر ”قبرستان حجون“میں ایک جگہ ہیں،اورجب شیعہ حضرات مکہ معظمہ مشرف ہوتے ہیں تو حتی الامکان ان دونوں بزرگو کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں، لیکن اہل سنت اس سلسلہ میں کوئی اہمیت نہیں دیتے ،بلکہ اس کو جائز نہیں مانتے۔

اس چیز کے پیش نظر درج ذیل مناظرہ پر توجہ فرمائیں:

ایک شیعہ عالم نقل کرتے ہیں: میرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی کے سرپرست کے درمیان حضرت عبد المطلب اور جناب ابوطالب کی قبروں کی زیارت کے حوالہ سے گفتگو ہوئی۔

اس نے کہا: آپ شیعہ لوگ عبد المطلب اور ابوطالب کی قبروں کی زیارت کے لئے کیوں جاتے ہیں؟

میں نے کہا:کیاکوئی مشکل ہے؟

سر پرست: عبد المطلب ”فَتْرت“(خدا کی طرف سے پیغمبر نہ ہونے کا زمانہ)میں زندگی کرتے تھے ،کیونکہ جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آٹھ سال کے تھے اور مبعوث بر سالت نہیں ہوئے تھے اس وقت عبد المطلب کا انتقال ہوا،لہٰذا دین توحیدی اس زمانہ میں نہیں تھا ،اس بنا پر آپ حضرات کسی بنیاد پر ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں؟!

اور ابو طالب (نعوذ باللہ)مشرک دنیا سے گئے ہیں،لہٰذا مشرک کی زیارت کے لئے جانا جائز نہیں ہے؟!

میں نے کہا:کوئی بھی مسلمان جناب عبد المطلب کو مشرک کہنے کے لئے تیار نہیں ہے،وہ اسی زمانہ میں خدا پرست اور یکتا پرست تھے،وہ دین ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرتے تھے ،یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوصیاء میں سے تھے وہ اہل سنت کی کتابوں میں وارد ہونے والی روایات کے مطابق ابرہہ کے حملہ کے وقت جو خانہ کعبہ کو ویران کرنے آیا تھا ،اور سورہ فیل کے مطابق وہ خود ہلاک ہو گیا ،جس وقت عبد المطلب اپنے اونٹ کے لئے ابرہہ کے پاس گئے تو ابرہہ نے کہا:میرے لحاظ سے آپ بہت پست آدمی ہیں اپنے اونٹ لینے کے لئے توآگئے لیکن اپنے دین اور دینی عبادتگاہ ”کعبہ“ کے بارے میں کچھ نہیں کہتے “!

جناب عبد المطلب نے جواب دیا:

انا رب الابل ،وان للبیت ربا سیمنعه “۔

”میں اونٹوں کا مالک ہو،اور اس گھر کا بھی ایک مالک (خدا)ہے جو عنقریب خود اس کا دفاع کرے گا“۔

اس کے بعد جناب عبد المطلب خانہ کعبہ کے پاس آئے اور خانہ کعبہ کے دروازہ کا حلقہ پکڑ کر دعا کی ،نیز چند اشعار پڑھے۔جن میں سے ایک شعر کا مضمون یہ ہے:

”پالنے والے !ہر شخص اپنے اہل خانہ کا دفاع کرتا ہے ،توبھی اپنے حرم امن میں رہنے والوں کا دفاع فرما“( ۳۴ )

یہی موقع وہ تھا کہ عبد المطلب کی دعا قبول ہوئی ،خداوند عالم نے ابابیلوں کے گروہ کو بھیجاجنھوں نے ابرہہ کے لشکر کو نابود کردیا ،سورہ فیل اس سلسلہ میں نازل ہوا۔

اور شیعہ روایات میںبیان ہوا ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:خدا کی قسم،میرے پدر گزرگوار ابو طالب ،دادا عبد المطلب اور ہاشم بن عبد مناف نے ہر گز بتوںکی پرستش نہیں کی۔

یہ حضرات کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے ،اور جناب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے مطابق عمل کرتے تھے“۔( ۳۵ )

اب رہی بات ایمان ابو طالب کی بات تو:

اولاً: ائمہ اہل بیت علیہم السلام اور شیعہ علماء کے اجماع کی بناپر وہ مسلمان اور مومن اس دنیا سے گئے ہیں۔

ابن ابی الحدید (جو اہل سنت کے مشہور ومعروف عالم دین ہیں)نقل کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت امام سجاد علیہ السلام سے سوال کی: ”کیا جناب ابو طالب مومن تھے؟“امام علیہ السلام نے فرمایا: ”جی ہاں“

ایک دوسرے شخص نے امام سجاد علیہ السلام سے سوال کیا: ”یہاں کے کچھ لوگ جناب ابوطالب کو کافر کہتے ہیں“۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: واقعا ً تعجب ہے اس بات پر کہ یہ لوگ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم اور جناب ابو طالب کو ناجائز نسبت دیتے ہیں ،پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے مومن عورت کا کافر مرد سے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے ،جب کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ فاطمہ بنت اسد اسلام میں سبقت کرنے والوں میں تھیں،اور جناب ابو طالب کی آخری عمر تک فاطمہ بنت اسد ان کی زوجیت پر باقی رہیں“( ۳۶ )

ثانیاً: اہل سنت کے علماء اور بہت سے راویوںنے نقل کیا ہے:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عقیل بن ابو طالب سے فرمایا:

انی احبک حبین ،حبا لقرابتک منی وحبا لما کنت اعلم من حب عمی ابی طالب ایاک “۔( ۳۷ )

”میں تم سے دہری محبت کرتا ہوں ایک رشتہ داری کی بنا پر دوسرے اس وجہ سے کہ میرے چچا ابو طالب تمہیں دوست رکھتے تھے “۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گفتگو بہترین گواہ ہے کہ آنحضرت ایمان ابو طالب پر عقیدہ رکھتے تھے، ورنہ تو کافر کی دوستی کوئی اہمیت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عقیل سے محبت کریں۔( ۳۸ )

مزید وضاحت:

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ برادران اہل سنت اپنے آباء واجداد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ابو طالب کے ایمان نہ لانے کو نسل بہ نسل نقل کرتے چلے آئے ہیں،لیکن اس چیز سے غافل ہیں کہ ان کی معتبر اور مستند کتابوں میں دسیوں بلکہ سیکڑوں روایت موجود ہیں جو ایمان ابوطالب پر بہترین دلیل اور گواہ ہیں ،لیکن حقیقت میں حضرت ابو طالب کو مشرک کہنے کا راز متعصب اور ہٹ دھرم لوگوںکی ان کے فرزند امام علی علیہ السلام سے عداوت اور دشمنی ہے اور یہ تعصب بنی امیہ کے زمانہ سے آج تک جاری ہے خود حضرت علی علیہ السلام کی قسم کہ اگر ابو طالب آپ کے باپ نہ ہوتے تو حضرت ابو طالب کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مخلص مومن اور پاکیزہ ترین چچا اور قریش کی سب سے زیادہ مومن شخصیت کے عنوان سے پہچنواتے۔

حقیر کی ملاقات علامہ امینی مرحوم صاحب کتاب ”الغدیر “کے فرزند ارجمند سے ہوئی ،جناب ابو طالب کے بارے میں گفتگو ہونے لگی تو موصوف نے فرمایا:جس وقت ہم نجف اشرف میں تھے ،تو ہم نے سنا کہ ”احمد خیری“مصری دانشور حضرت ابو طالب کے بارے میں کوئی کتاب لکھ رہے ہیں ،ہم نے ان کو ایک خط لکھا کہ آپ اس کتاب کو اس وقت تک نہ چھپوائیں کہ جب تک الغدیر کی ساتویں جلد (جو ابھی تک نہیں چھپی اور چھاپ خانہ میں ہے)آپ تک نہ پہنچچائے جس وقت الغدیر کی ساتویں جلد چھپ گئی (جس کا آخری حصہ حضرت ابو طالب کے بارے میں ہے)فوراً ہی ان کے لئے کتاب بھیجی کچھ مدت کے بعد جناب ”احمدخیری“کا خط آیا جس میں شکریہ کے بعد تحریر تھا کہ الغدیر کی ساتویں جلد مجھے ملی،میں نے اس کتاب کو بغور مطالعہ کیا،اس کتاب نے ابو طالب کے بارے میں میرا عقیدہ بالکل بدل دیا ،اور میں نے ابوطالب کے بارے میں جو کچھ لکھا تھا بالکل بر عکس ہو گیا اور میرا نظریہ بالکل بد ل گیا ہے اور مجھے ایک نئی فکر مل گئی ہے۔

آخر میں موصوف نے لکھا تھا:حضرت ابو طالب کا دفاع اور ان کا جہاد و کوشش (اسلام کے ثبات اور اسلام کی نشر واشاعت میں)اس قدر زیادہ ہیں کہ تمام مسلمانوں کے ایمان میں ان کا حصہ ہے اور تمام مسلمان ان کے مقروض ہیں“

سر پرست: اگرا یمان ابو طالب اتنا واضح و روشن ہے تو پھرہمارے علماء ابو طالب کے بارے میں کیوںمختلف باتیں کہتے ہیں اور بعض نے تو ان کے کفر کی وضاحت کی ہے ،اس مشکل کا راز کیا ہے؟!

میں نے کہا: جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ معاویہ کی حکومت کے زمانہ میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے نامناسب الفاظ یہاں تک کہ نماز کی قنوت میں بھی لعنت کی جاتی تھی، اور تقریبا ً ۸۰ سال منبر کے اوپر سے (نعوذ باللہ) آپ پر لعنت کی جاتی تھی ،زر خرید قلموں نے جھوٹی اور بے بنیاد روایات گڑھ کر جناب ابوطالب کو کافر بتادیا، تاکہ حضرت علی علیہ السلام کو کافر زادہ کے عنوان سے لوگوں میں مشہور کیا جائے،اور قطعی طور پر آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہی جعلی روایات آپ لوگوں کی کتابوں میں داخل ہوگئیں جس نے ذہنوں میں یہ چیز ڈال دی ہے ،ورنہ ایمان ابو طالب مکمل طور پر واضح ہے۔

ایک دوسرا راز یہ ہے کہ جناب ابو طالب راہ اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دفاع میں خاص طریقہ سے تقیہ کے عالم میں رفتار کرتے تھے، تاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بہتر طور پر حمایت کر سکیں،اور اگر وہ علنی طور پر ایمان کااظہار فرماتے تو آغاز بعثت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت بہتر اور شائستہ طور پر نہیں کر سکتے تھے۔

اس لحاظ سے بہت سی روایات کے مطابق حضرت ابو طالب کی مثال ”مومن آل فرعون“اور ”اصحاب کہف“کی طرح ہے جو دین کی ترقی و سر فرازی کے لئے اپنے ایمان کو مخفی رکھتے تھے ،تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام میں ایک طولانی روایت کی ضمن میں بیان ہوا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ”خداوندعالم نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کی کہ میں آپ کی دو گروہوں کے ذریعہ مدد کروںگا ،ایک گروہ مخفی طور اور دوسرا گروہ ظاہری طور پر مدد کرے گا، پہلے گروہ کے سب سے بہترین رئیس جناب ”ابواطالب “اور دوسرے گروہ کے سب سے بہتر سر پرست ان کے فرزند حضرت علی علیہ السلام ہیں“( ۳۹ )

اہل علم پر یہ بات واضح ہے کہ یہ دونوں گروہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ دشمنوں سے مقابلہ کرتے رہے ہیں، مخفیانہ مقابلہ ظاہری مقابلہ سے کم نہیں ہوتا ہے۔

ایمان ابو طالب کے بارے میں ایک اور مناظرہ

ایک مدرسہ میں میرے اور اہل سنت کے عالم کے درمیان حضرت علی علیہ السلام کے پدر بزرگوار جناب ابوطالب کے ایمان کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ہوا:

سنی عالم:ہماری معتبرکتابوں میں ابو طالب کے بارے میں روایات مختلف بیان ہوئی ہیں ،بعض میں ان کی مدح و ثنا کی گئی ہے اور بعض میں ان کی مذمت کی گئی ہے۔

مولف:(ائمہ معصومین علیہم السلام جو عترت پیامبر صلی الله علیه و آله وسلم ہیں کی پیروی کرتے ہوئے) شیعہ علماء کا اتفاق اس بات پر ہے کہ جناب ابو طالب ایک ممتاز شخصیت ،مومن اور راہ اسلام میں بہت زیادہ کوشش کرنے والے فرد ہیں۔

سنی عالم:اگر ایسا ہے تو پھر(جناب )ابو طالب کے ایمان نہ لانے پر بہت سی روایات موجود ہیں؟

مولف:جناب ابو طالب کا جرم یہ ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے پدر بزرگوار ہیں، حضرت علی علیہ السلام کے سرسخت دشمن جن میں سر فہرست معاویہ ہے (علیہا الہاویہ) سب نے بیت المال سے دین فروشوں کو ہزار وں دینار دئے تاکہ جعلی اور جھوٹی روایتیں گڑھیں اور ان روایت گڑھنے والے سیم و زر کے غلاموں کی بے شرمی نے اتنا کام کیا کہ ابو ہریرہ (جو جھوٹی روایت گڑھنے میں مشہور ہے)سے نقل کیا گیا کہ اس نے کہا:

”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رحلت کے وقت وصیت کی کہ علی کے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے“!( ۴۰ )

لہٰذامعاویہ اور دیگر بنی امیہ خلفاء کے زمانہ میں شکم پرست اور بے شرم وذلیل لوگوں نےجناب ابوطالب کے مشر ک ہونے پر جعلی احادیث گڑھی ظاہر سی بات تھی ،ان لوگوں نے جناب ابوطالبعلیہ السلام کے سلسلہ میں اس قدر غلط پروپیگنڈہ کیا جس کا ہزاروں حصہ بھی ابو سفیان کے بارے میں بھی نہیں کیا اس کا باطن پلید تھا اور پوری زندگی کے کارنامے سیاہ تھے۔

چنانچہ اس گندی سیاست کے تحت ہی جناب ابو طالب پر مشرک ہونے کی تہمت لگائی گئی ہے۔

سنی عالم:قرآن مجید کے سورہ انعام آیت ۲۶ میں ارشاد خداوندی ہے:

( وَهُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَیَنْاٴَوْنَ عَنْه )

”اور دوسروں کو اس سے روکتے ہیں ،اور خود بھی اس سے دوری کرتے ہیں“

اس آیت سے مر اد(بعض ہمارے مفسرین کے قول کے مطابق) یہ ہے کہ ”بعض لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دفاع کرتے تھے ،لیکن پھر بھی خود پیغمبر سے دوری کرتے تھے “

یہ آیت ابو طالب جیسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو دشمنوں کے مقابلہ میں پیغمبر کا دفاع کرتے تھے لیکن ایمان کے لحاظ سے ان سے دوری کرتے تھے !

مولف کا قول:اولاً: جیسا کہ ہم بیان کریںگے:آیت کے معنی اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ نے کئے ہیں۔

ثانیا ً: بالفرض اگر ہم مان بھی لیں کہ یہی معنی صحیح ہیں تو بھی کس دلیل کے تحت یہ آیہ شریفہ جناب ابوطالب کے بارے میں صادق آتی ہے ؟!

سنی عالم: دلیل یہ ہے کہ ”سفیان ثوری حبیب ابن ابی ثابت“ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا: ”یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، چونکہ لوگوں کو پیغمبر اکرم کے آزار و اذیت پہنچانے سے روکتے تھے ،لیکن خود اسلام سے دور رہے “( ۴۱ )

مولف: آپ کے جواب میں مجبوراً چند چیزوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں:

۱ ۔آیت کے معنی اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ نے کئے ہیں بلکہ آیت کے قبل وبعد کے پیش نظر کفار ومشرکین کے بارے میں ہے جس کے ظاہر ی معنی یہ ہیں: ”وہ لوگ (کفار)لوگوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے روکتے تھے اور خود بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دور ی کرتے تھے“( ۴۲ ) لہٰذا آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دفاع کی کوئی بات نہیں ہے۔

۲ ۔لفظ ”ینئون “دوری کے معنی میں ہے ،جب کہ جناب ابو طالب ہمیشہ پیغمبر اکرم کے ساتھ رہے اور کبھی بھی آپ سے دور ی نہیں کی۔

۳ ۔سفیان ثوری کی روایت جس میں ابن عباس کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ انھوں نے کہا:مذکورہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ روایت چند لحاظ سے قابل تردید ہے:

الف:سفیان ثوری ،یہاں تک کہ خود بزرگ علمائے اہل سنت کے اعتراف کی بنا پر جھوٹا اور غیر موثق ہے۔( ۴۳ )

اور ابن مبارک سے منقول ہے کہ سفیان (ثوری) تدلیس کرتا تھا یعنی جھوٹ بولتا تھا اورحق کو ناحق اور ناحق کو حق کر کے پیش کرتا تھا۔( ۴۴ )

اس مذکورہ روایت کا دوسرا راوی ”حبیب بن ابی ثابت “ہے اور یہ بھی ابو حیان کے قول کے مطابق تدلیس سے کام لیتا تھا۔( ۴۵ )

ان تمام چیزوں کے علاوہ مذکورہ روایت ،مرسل ہے یعنی حبیب اور ابن عباس کے درمیانی راوی حذف ہیں۔

ب: ابن عباس ان مشہور ومعروف افراد میں سے ہیں جو ایمان ابو طالب کا عقیدہ رکھتے تھے، لہٰذا کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس طرح کی روایت نقل کریں؟!

اس کے علاوہ جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا کہ جناب ابن عباس نے مذکورہ آیت کے معنی اس طرح کئے ہیں: ”کفار لوگوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے روکتے تھے ،اور خود بھی آنحضرت سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے“۔

ج: مذکورہ روایت کہتی ہے:یہ آیت صرف ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کہ لفظ ”ینھون“اور ”ینئون“جمع کے صیغے ہیں۔

اس بنا پر بعض تفسیر کے مطابق مذکورہ آیت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچاوں کو شامل ہے کیونکہ آنحضرتکے دس چچا تھے، لیکن ان میں سے تین مومن چچا یعنی حمزہ، عباس اور ابو طالب کو شامل نہیں ہے۔

مزید وضاحت:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مشرکین سے دوری کرتے تھے جیسا کہ اپنے چچا ابو لہب سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے لیکن جناب ابوطالب کے ساتھ ان کی آخری عمر تک خصوصی رابطہ تھا، چنانچہ آنحضرت نے آپ کی وفات کے سال کو ”عام الحزن“(غم کا سال )نام رکھا اور ان کے جنازہ کی تشییع کے وقت فرماتے جاتے تھے:

”وابتاہ واحزناہ! علیک کنت عندک بمنزلة العین من الحدقة والروح من الجسد“( ۴۶ )

”اے پدر بزرگوار!آپ کی موت میرے نزدیک کس قدر غمناک ہے ،میں آپ کے نزدیک آنکھ میں پتلی کی مانند اور بدن میں روح کی طرح تھا“( ۴۷ )

کیا واقعاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایسی ناجائز تہمت لگائی جا سکتی ہے کہ آپ کسی مشرک کی اس طرح تعریف کریںاور اس کی وفات پر اس قدر غم و اندوہ کا اظہار کریں جب کہ قرآن مجید میں متعدد آیات یہ اعلان کرتی ہیں کہ مشرکین سے بیزاری اختیار کرو؟!

۸۳۔ کیا حضرت علی علیہ السلام بہت قیمتی انگوٹھی پہنچتے تھے

اشارہ

ہم سورہ مائدہ کی ۵۵ ویں آیت میں پڑھتے ہیں۔

( إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ )

”تمہارا ولی صرف خدا ،اس کا رسول اور وہ صاحب ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰةدیتے ہیں“۔

شیعہ اور سنی دونوںسے متواتر روایت نقل ہوئی ہے کہ یہ آیت امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آپ کی رہبری اور ولایت کی دلیل ہے۔

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مولائے کائنات علی بن ابی طالب علیہ السلام مسجد میں نمازپڑھ رہے تھے ایک سائل نے آکر سوال کیا تو کسی نے اسے کچھ نہیں دیا۔ حضرت علی علیہ السلام اس وقت رکوع میں تھے اور اسی رکوع کی حالت میں آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کی انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا اور سائل نے آکر آپ کی انگلی سے وہ انگو ٹھی اتارلی۔ اس طرح آپ نے نماز میں صدقہ کے طور پر اپنی انگوٹھی فقیر کو دے دی، اس کے بعد آپ کی تعریف و تمجید میں یہ آیت نازل ہوئی۔( ۴۸ )

اب آپ ایک یونیورسٹی کے طالب علم کاایک عالم دین سے مناظرہ ملاحظہ فرمائیں:

طالب علم: ”میں نے سنا ہے کہ جو انگوٹھی علی علیہ السلام نے فقیر کو دی تھی وہ بہت ہی قیمتی تھی اور بعض کتب جیسے تفسیر برہان(ج ۱ ،ص ۴۸۵) میں ملتا ہے کہ اس انگوٹھی کا نگینہ ۵ مثقال سرخ یاقوت تھا جس کی قیمت شام کے خزانہ کے برابر تھی، حضرت علی علیہ السلام یہ انگوٹھی کہاں سے لائے تھے ؟کیا علی علیہ السلام حُسن وتزئین پسند تھے ؟کیا اتنی قیمتی انگوٹھی پہننا فضول خرچی نہیں ہے؟تصویر کے دوسرے رخ سے امام علی علیہ السلام کی طرف یہ نسبت دینا بالکل غلط ہے کیونکہ وہ لباس ،کھانے اور دوسری دنیوی اشیاء میں حد درجہ زہد سے کام لیتے تھے جیسا کہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:

فوالله ما کنزت من دنیا کم تبراً ولاادخرت من غنائمها وفراً ولا اعددت لبالی ثوبی طمر ا ولا حزت من ارضها شبرا ولا اخذت منه الا کقوت اتان دبرةٍ “۔

”خدا کی قسم !میں تمہاری دنیا سے سونا چاندی جمع نہیں کرتا اور غنائم اور ثروتوں کا ذخیرہ نہیں کرتا اور اس پرانے لباس کی جگہ کوئی نیا لباس نہیں بنواتا اور اس کی زمین سے ایک بالشت بھی میں نے اپنے قبضہ میں نہیں کیا اور اس دنیا سے اپنی تھوڑی سی خوراک سے زیادہ نہیں لیا ہے۔( ۴۹ )

عالم دین: ”یہ گراں قیمت انگوٹھی کے بارے میں فالتوبات ہے جو بالکل بے بیناد ہے اور متعدد روایتوں کے ذریعہ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں ہرگز اس طرح کی انگوٹھی کا ذکر نہیں ہوا ہے اور صرف تفسیر برہان میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ اس انگوٹھی کی قیمت ملک شام کے خزانہ کے برابر تھی یہ روایت ”مرسلہ“ہے اور ممکن ہے کہ اس کے راویوں نے مولائے کائنات کی اہمیت کو کم کرنے کی خاطر اس روایت کو گڑھا ہو“۔

طالب علم: ”بہر حال انگوٹھی قیمتی تھی یہ بات تویقینی ہے ورنہ پھر فقیر کا پیٹ کیسے بھرتا؟“

عالم دین: ”شاعر کے قول کے مطابق اگر ہم فرض کر لیں کہ یہ انگوٹھی بہت قیمتی تھی جیسا کہ شاعر کہتا ہے:

بر وای گدای مسکین درخانہ علی زن

کہ نگین پادشاہی دھد از کرم ،گدا را

تاریخ میں ملتا ہے کہ یہ انگوٹھی ”مروان بن طوق “نامی ایک مشرک کی تھی امام علیہ السلام جنگ کے دوران جب اس پر کامیاب ہوگئے تو اسے قتل کر کے غنیمت کے طور پر اس کے ہاتھ سے یہ انگوٹھی اتارلی اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی خدمت میں لے کر آئے تو آپ نے فرمایا: ”اس انگوٹھی کو مال غنیمت سمجھ کر تم اپنے پاس رکھو“، ساتھ ساتھ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ جانتے تھے کہ اگر علی علیہ السلام اس انگوٹھی کو لے بھی لیں گے تو کسی امین کی طرح اس کی حفاظت کریں گے اور مناسب مو قع پر اسے کسی محتاج و فقیر کو دے دیں گے۔

اس طرح یہ انگوٹھی آپ نے خریدی نہیں تھی اور ابھی یہ انگوٹھی حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں میں چند دن ہی رہی ہوگی کہ صرف ایک محتاج کی آواز سن کر آپ نے اسے دے دیا۔( ۵۰ ) طالب علم: ” لوگ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نماز کے وقت خشوع و خضوع میں اس حدتک غرق ہوجاتے تھے کہ امام حسن علیہ السلام کے حکم کے مطابق جنگ صفین میں ان کے پیر میں لگے تیر کو نماز کی حالت میں نکال لیا گیا تھا لیکن انھیں احساس تک نہ ہوا اب اگر اس طرح ہے تو حالت رکوع میں انھوں نے اس فقیر کی آوازکیسے سن لی اور انگوٹھی اسے دےدی؟“

عالم دین: ” جو لوگ اس طرح کا اعتراض کرتے ہیں وہ یقینا غفلت میں ہیں کیونکہ محتاج وفقیر کی آواز سننا اپنی ذات کی طرف متوجہ کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تو جہ خدا کی طرف عین توجہ ہے۔علی علیہ السلام نماز میں اپنے سے بیگانہ تھے نہ کہ خدا سے ، واضح طور پر نماز کی حالت میں زکوٰة دینا عبادت کے ضمن میں عبادت ہے اور جو روح عبادت کے لئے غیر مناسب ہے وہ مادی اور دنیاوی چیزیں ہیں لیکن جو توجہ خدا وند متعال کی راہ میں ہو وہ یقینا روح عبادت کے موافق ہے اور تقویت کرنے والی ہے۔

البتہ یہ جاننا چاہئے کہ خدا کی توجہ میں غرق ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا احساس بے اختیاری طور پر اس کے ہاتھ سے جاتا رہا ہے بلکہ اس سے مرادیہ ہے کہ جو چیز خداکی مرضی کے مطابق نہیں ہے اس سے اپنی توجہ ہٹالے۔

۸۴۔ کیوں علی علیہ السلام کا نام قرآن میں نہیں ؟

علمائے اہل سنت اور اہل تشیع کی ایک بہت ہی گرماگرم مجلس تھی جس میں تمام افراد اس بات پر متقق تھے کہ بغیر کسی تعصب کے اور حسن نیت کے ساتھ مذاہب اسلام کے مذہب حقہ کے متعلق مذاکرہ کریں ،چنانچہ اس مناظرہ کا آغازاس طرح ہوا:

سنی عالم: ”اگر علی علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بلا فصل خلیفہ ہیں تو یہ ضروری تھا کہ قرآن مجیدمیں اس چیز کا ذکر ہوتا تاکہ مسلمان اختلاف کا شکار نہ ہوتے“۔

شیعہ عالم: ”زید بن حارثہ کے علاوہ قرآن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے کسی صحابی کا نام نہیں آیا ہے اور زید بن حارثہ کا نام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیدکی سابق بیوی”زینب“کے ساتھ شادی کے سلسلہ میں آیا ہے“۔( ۵۱ )

سنی عالم: ”جس طرح ایک جزئی اور فرعی حکم کی مناسبت کی وجہ سے زید کا نام قرآن میں آیا ہے اسی طرح یہ بھی ضروری تھا کہ علی علیہ السلام کا نام ان کی امامت کے سلسلہ میں آئے“۔

شیعہ عالم: ”اگر علی علیہ السلام کا ذکر قرآن میں ہوتا تو آپ کے دشمن کی کثرت سے وہ لوگ قرآن ہی کو تحریف کر دیتے لہٰذا مناسب یہی تھا کہ خدا آپ کی رہبری اور ولایت کا ذکر اوصاف سے کرے کیونکہ قرآن کی یہ روش رہی ہے کہ اس نے کلیات بیان کئے ہیں اور اس کا مصداق پیغمبر اکرم نے معین کیا“۔

سنی عالم: ”قرآن میں علی علیہ السلام کے اوصاف کہاںپر بیان ہوئے ہیں؟“

شیعہ عالم: ”سیکڑوں آیات میں علی علیہ السلام کا ذکر موجود ہے اور بہت سی آیتیں تو حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئیں ()جیسے آیت ولایت (سورہ مائدہ ۵۵) آیت اطاعت (سورہ نساء ۵۹) آیت مباہلہ(سورہ آل عمران ۶۶۱) آیہ تطہیر (سورہ احزاب ۲۳) غدیر خم میں آیہ بلّغ(سورہ مائدہ ۷) آیت انذار(سورہ شعراء) آیت مودت (سورہ شوریٰ ۲۳) آیت اکمال (سورہ مائدہ ۳۰) وغیرہ۔( ۵۲ )

مذکورہ آیتوں میں ہر ایک آیت کی شان نزول کے ساتھ ساتھ شیعہ اور سنی روایتوں میں یہ نقل

( وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا )( ۵۳ )

”اور رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کردے اسے چھوڑ دو“

اور حدیث ثقلین کے مطابق جسے تمام مسلمان قبول کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا ہے: ”میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن اور دوسری میری عترت۔۔۔“اور اسی طرح تمہاری متعدد روایتوں کے مطابق آنحضرت نے یہ فرمایا: ”میں دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں ،قرآن اوراپنی سنت “اس وجہ سے ہمیں چاہئے کہ سنت یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی باتوں پر غور کریں اور ان پر عمل کریں اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ مذکورہ آیات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کی بیناد پر علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے قرآن مجید نے امام علی علیہ السلام کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین اور بلا فصل خلیفہ بتایا اگر چہ مصلحت کی بنا پر آپ کا قرآن میں نام نہیں آیا ہے۔قرآن میں صرف چار جگہوں پر سول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام آیا ہے لیکن ان کے اوصاف سیکڑوں مرتبہ ذکر ہوئے ہیں۔(( ۵۴ ) )

۸۵۔ شیعہ مذہب کی پیروی (ہی) صحیح ہے

مذکورہ نشست میں بقیہ مناظرہ اس طرح آگے بڑھا:

سنی عالم نے اپنی بات بدل کر کہا: ”اب اگر یہ بنا رکھی جائے کہ پانچ مذہب میں سے کسی ایک کی پیروی کریں تو کس مذہب کی پیروی کرناہمارے لئے بہتر ہے ؟“

شیعہ عالم: ” اگر انصاف سے دیکھیں تو مذہب جعفری کی پیروی کرنا چاہئے کیونکہ مذہب جعفری مکتب امام جعفر صادق علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لیا گیا ہے اور جو بھی اسلامی احکام امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے بیان ہوئے ہیں وہ یقینا قرآن اور سنت نبوی سے اخذ کئے گئے ہیں کیونکہ بہر حال ”گھر کی بات ، گھر والے زیادہ بہتر جانتے ہیں“۔(جس کی تفصیل مناظرہ ۷۴ میں گزر چکی ہے)

اس بحث کی تکمیل کے لئے”الازہریونیورسٹی“ کے مشہور و عظیم استاد مفتی ”شیخ محمود شلتوت“ کے فتوے کو نقل کرتے ہیں جو دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیة“کے لئے انھوں نے دیا تھا اور ۱۳۷۹ ھ میں ”رسالة الاسلام “ داراالتقریب میں یہ فتویٰ چھپ چکا ہے۔

”جو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا اتباع کیا جائے یاوہ جو بغیر ہدایت کئے ہدایت پاہی نہیں سکتا(تمہیں کیا ہوگیا ہے) تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟

اس بنا پر اصلح اور متقی کا انتخاب سو فیصد اسلامی اور عقلی طریقہ ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:

من تقدم علی المسلمین وهو یری ان فیهم من هو افضل منه فقد خان الله ورسوله والمومنین

”جو مسلمانوں کے کام کے لئے آگے بڑھے جب کہ وہ دیکھ رہا ہو کہ ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو اس سے افضل ہے تو بلا شبہ اس نے اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی“۔(الغدیر،ج ۷)

شیخ محمود شلتوت کا تاریخی فتوی

شیخ شلتوت اپنے اس عظیم فتوے کے ایک حصہ میں لکھتے ہیں:

انّ مذهب الجعفریه المعروف بمذهب الشیعة الامامیة الاثنا عشریه، مذهب یجوز التعبد به شرعاً، کسائر مذاهب اهل السنة، فینبغی للمسلمین ان یعرفوا ذلک، و اَن یتخلّصوا من العصبیة بغیر الحق لمذاهب معینة، فما کان دین الله و ما کانت شریعته بتابعة لمذهب، او مقصورة علی مذهب، فالکلّ مجتهدون مقبولون عند الله تعالیٰ یجوز لمن لیس اهلاً للنّظر و الاجتهاد تقلیدهم و العمل بما یقرّرونه فی فقههم، و لا فرق فی ذلک بین العبادات و المعاملات( ۵۵ )

”مذہب جعفری جو شیعہ اثنا عشری کے نام سے مشہور ہے اس کی پیروی اور اس پر اعتقاد رکھناسنی مذہب کے دوسرے تمام مسلکوں کی طرح جائز ہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اس کے متعلق آگاہی پیدا کریں اور بے جا تعصب اور عنادسے باز رہیں اس مذہب کے تمام علماء مجتہد ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کے فتاوے مقبول ہیں۔

لہٰذا جو خود مجتہد نہ ہو اس کے لئے ان کے تقلید کرنا جائز ہے اور انھوں نے اپنی فقہ میں جو احکام درج کئے ہیں ان پر عمل کریں اس سلسلے میں عبادات اور معاملات میں کوئی فرق نہیں ہے“۔

اہل سنت کے اساتذہ اور عظیم مفکرین جیسے محمود فخام جامعة الازہر کے سابق استاد ،عبد الرحمن البخاری، قاہرہ کی مساجد کے متولی اور عبد الفتاح عبد المقصود مصر کے زبردست مولف و غیرہ نے شیخ محمود کے اس فتوے کی تائید کی ، چنانچہ شیخ فخام کہتے ہیں۔

”خدا وند متعال شیخ شلتوت پر رحمت نازل کرے کہ انھوں نے اس عظیم اور اہم بات پر توجہ دی اور نہایت بہادری سے ہمیشہ زندہ رہنے والا فتویٰ دیا کہ مذہب شیعہ اثنا عشری ایک فقہی اور اسلامی مذہب ہے اور یہ قرآن و سنت کے دلائل کی بنیاد پر استوار ہوا ہے لہٰذا اس پر عمل جائز ہے“۔

عبد الرحمن بخاری کہتے ہیں:

”میں آج بھی اپنا فتوی مذہب اربعہ میں منحصر نہ سمجھتے ہوئے شیخ محمود شلتوت کے فتوے کی بنیاد پر فتویٰ دیتا ہوں کہ شیخ شلتوت امام ومجہتد ہیں اور ان کی رائے عین حقیقت ہوا کرتی ہے“۔

عبد الفتاح عبد المقصود لکھتے ہیں:

”مذہب شیعہ اثنا عشری اس لائق ہے کہ سنی مذہب میں موجود تمام مسالک کے ساتھ اس کی بھی پیروی کی جائے، سنی مذہب میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ عمل صرف اس وقت صحیح ہوگا جب ایسے مسلک کی پیروی کی جائے جو سب سے افضل وبرتر ہو ،جب ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ شیعہ مذہب کے اصل منبع حضرت علی علیہ السلام ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد وہ سب سے زیادہ احکام دین جاننے والے تھے“۔( ۵۶ )

____________________

(۱۶) سورہ نساء آیت ۵۹۔

(۱۷) سورہ شعراء آیت ۲۱۴۔

(۱۸) یہ حدیث ”یوم الانذار “کے نام سے معروف ہے ،اس کے بہت سارے مدارک ہیں منجملہ: تاریخ طبری،ج۲،ص۶۳، تاریخ ابن اثیر ،ج۲، ۔تاریخ ابو الفداء ،ج۱، وغیرہ، مزید وضاحت کے لئے کتاب احقاق الحق ،ج۴،ص ۶۲ کے بعد رجوع کریں۔

(۱۹) کتاب ”آہین وہابیت“ سے اقتباس، ۱۲ تا ۱۴۔

(۲۰) سورہ مائدہ ، آیت ۹۷۔

(۲۱) ”لِتُنذِرَ اٴُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَهَا “(سورہ انعام آیت ۹۲ سورہ شوریٰ آیت۷۔)

(۲۲) سورہ بقرہ آیت ۱۹۷۔

(۲۳) مجمع البیان ،ج۲ ،ص۲۹۴۔

(۲۴) صحیفہ نور ،ج۱۸ ،ص۶۶،۶۷۔

(۲۵) صحیفہ نور ،ج۲، ص۱۸۔

(۲۶) کحل البصر سے اقتباس ،ص۱۱۹ ،مجمع البیان ،ج۹،ص۱۲۷۔

(۲۷) احتجاج طبرسی، ج۲، ص ۱۸، ۱۹۔

(۲۸) بحار الانوار ،ج۴۶،ص۱۲۷۔

(۲۹) منتہی الامال ،۲ ص۷۹۔

(۳۰) وسائل الشیعہ ،ج۹ ،ص۴۰۶۔

(۳۱) سنن ابن ماجہ ،ج۲،ص۱۸ ،۱۹ ۔بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۱۶۔

(۳۲) اعیان الشیعہ،چاپ جدید ،ج۱ ،ص۱۴۔

(۳۳) وسائل الشیعہ ،ج۸،ص۱۴۔

(۳۴) شرح سیرہ ابن ہشام ،ج۱، ص۳۸ تا ۶۲، بلوغ الارب ،آلوسی ،ج۱ ،ص۲۵۰ تا۲۶۳۔

(۳۵) کمال الدین ،ص۱۰۴۔تفسیر برہان ج۲،ص۷۹۵۔

(۳۶) شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ،ج۳ ،ص۳۱۲۔

(۳۷) استیعاب ،ج۲، ص۵۰۹،ذخائر العقبیٰ،ص۲۲۲۔

(۳۸) اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے کتاب الغدیر ،ج۷ ص۳۳۰ تا ۴۰۹ ملاحظہ کریں۔

(۳۹) الحجة علی الذاھب ،ص۳۶۱۔

(۴۰) شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ،ج۱، ص ۳۵۸، ۳۶۰۔

(۴۱) تفسیر ابن کثیر ،ج ۲، ص ۱۲۸۔

(۴۲) جیسا کہ ابن عباس نے مذکورہ آیت کے یہی معنی کئے ہیں ۔(الغدیر ،ج۸)

(۴۳) میزان الاعتدال ،ص۳۹۸۔

(۴۴) تہذیب التہذیب ،ج۴،ص۱۱۵۔

(۴۵) تہذیب التہذیب ،ج۳،ص۱۷۹۔

(۴۶) تاریخ طبری ،نقل از کتاب ابو طالب مومن قریش۔

(۴۷) یہاں پر گفتگو بہت ہے ،کتاب الغدیر ،ج۷،اور ابو طالب مومن قریش ، ص۳۰۳ تا ۳۱۱ پر رجوع فرمائیں۔

(۴۸) کتاب غایة المرام میں اس سلسلہ میں اہل سنت کے ۱۲۴ اور اہل تشیع سے ۱۹ روایتیں نقل ہوئی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی (منہاج البراعة، ج ۲، ص ۳۵۰)

(۴۹) نہج البلاغہ، نامہ ۴۵، اس خط کے مطابق آپ کے لئے اس طرح کی انگوٹھی پہننے کی بات ایک تہمت ہے ۔

(۵۰) وقایع الایام، خیابانی (صیام) ص ۶۲۷۔

(۵۱) ”فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَهَا “سورہ احزاب، آیت ۳۷۔

(۵۲) ان آیات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب دلائل الصدق ج ۲، ص ۷۳ تا ۳۲۱ کی طرف رجوع کریں کہ جہاں اس سلسلہ میں ۸۲ آیت ذکر ہوئی ہیں۔

ہوا ہے کہ یہ آیتیں سب کی سب امام علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل اور ان کی ولایت و رہبری کے لئے نازل ہوئی ہیں اور خداوند عالم کا رشاد ہے۔

(۵۳) سورہ حشر، آیت ۷۔

(۵۴) اصولا اگر عقلی اور احساساتی پہلووں کو مد نظر رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ قرآن مجید میں جو کچھ بھی اچھائیوں کا ذکر ہوا جیسے تقویٰ، علم، جہاد، ہجرت اور سخاوت ان کا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد حقیقی مصداق کون ہے جو سب پر برتری رکھتا ہے تو حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں نظرآئے گا کیونکہ جب تک بزرگی کے اسباب فراہم نہ ہوں اس وقت تک بڑی جگہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا لہٰذا قرآن کی آیت ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد ہدایت کے لئے حضرت علی کا دروازہ دکھاتی ہے مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن فرماتا ہے:

اٴَ فَمَنْ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَیَهِدِّی إِلاَّ اٴَنْ یُهْدَی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ “ (سورہ یونس، آیت ۳۵)

(۵۵) مجلہ رسالہ الاسلام ،ارکان رسمی ”دارالتقریب بین المذاہب الا سلامیة بالقاہرة ،سال ۱۱، نمبر ۳،سال ۱۳۷۹ ھ۔

(۵۶) فی سبیل الوحدة الاسلامیة، سید مرتضی الرضوی، ص۵۲،۵۴،و۵۵۔


۸۶۔قبروں کی عمارتوں کو ویرانی کے بارے میں ایک مناظرہ

اشارہ

جب میں مدینہ گیا تو وہاں اسلام کی عظیم شخصیتوں جیسے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ،امام سجاد علیہ السلام ، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی قبروں کو زمین کے برابر اور خاک آلود دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوا حالانکہ ان تمام قبروں پر پہلے قبے اور منیاریں تھی مگر وہابیوں نے شرک اور حرام کے بہانے سے ۱۳۴۴ ھ میں انھیں مسمار کر دیا۔

اسی سلسلہ میں ایک شیعہ اور وہابی عالم کے درمیان ایک مناظرہ ہوا جو مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ پیش خدمت ہے:

شیعہ عالم: ”تم لوگ کیوں ان مزاروں کو ویران کر کے ان کی اہانت کرتے ہو؟“

وہابی: ”کیا تم حضرت علی علیہ السلام کو مانتے ہو؟“

شیعہ عالم: ”کیوں نہیں وہ تو رسول کے بلا فصل خلیفہ اور ہمارے پہلے امام ہیں“۔

وہابی: ”ہماری معتبر( ۵۷ ) کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے“۔

حدثنا یحیيٰ بن یحیيٰ ،وابو بکر ابی شیبه وزهیر بن حرب قال یحیيٰاخبرنا ،وقال الآخرون ،حدثنا وکیع عن سفیان عن حبیب ابن ابی الهیاج الاسدی قال لی علی ابن ابی طالب ”الا ابعثک علی ما بعثنی علیه رسول الله ان لا تدع تمثالا الاطمسته ولا قبراً مشر فاً الا سویته ۔“

”تین آدمی یحی بن یحی، ابو بکر اور زہیر بن حرب وغیرہ نقل کرتے ہیں کہ وکیع نے سفیان اور اس نے حبیب اور اس نے ابی وائل اور اس نے ابی الہیاج اسدی سے نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام نے ابی الہیاج سے فرمایا:

کیا میں تمہیں اس بات پر ترغیب دلاوں جس کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے ترغیب کی ہے کوئی تصویر بھی بغیر محو کئے نہ چھوڑو اور کوئی بھی بلند قبر بغیر زمین کے برابر کئے نہ چھوڑو“۔

شیعہ عالم: ” یہ حدیث سند اور دلالت دونوں اعتبار سے مخدوش ہے سند کی رو سے اس کہ لئے اس کے راویوں میں وکیع ،سفیان ،حبیب بن ابی ثابت ،ابی وائل جیسے لوگ ہیں کہ جن کی حدیث قابل اطمینان نہیں ہے جیسا کہ احمد بن حنبل نے ”وکیع“کے بارے میں نقل کیا ہے”اس نے پانچ سو حدیثوں میں غلطی کی ہے“۔( ۵۸ )

اسی طرح” سفیان “کے بارے میں ابن مبارک سے نقل ہوا ہے کہ ”سفیان حدیث نقل کرتے وقت تدلیس کرتا تھا لیکن جب مجھے دیکھتا تو شرماجاتا تھا، تدلیس: یعنی حق وناحق کو مخلوط کردینا“۔( ۵۹ ) حبیب بن ثابت کے بارے میں ابن حیان نے نقل کیا ہے کہ وہ بھی حدیثوں میں تدلیس کرتا تھا۔( ۶۰ )

ابو وائل کے بارے ملتا ہے کہ وہ ناصبی اور امام علیہ السلام کے دشمنوں میں سے تھا۔( ۶۱ )

قابل توجہ بات یہ ہے کہ تمام صحاح ستہ میں ابو الہیاج سے صرف یہی ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ راویوں میں سے نہیں تھا اور قابل اعتماد بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے مذکورہ حدیث سند کے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں سمجھی جا سکتی۔

لیکن دلالت اور معنی کے لحاظ سے:

الف: ”مشرف“جو مذکورہ حدیث میں آیا ہے کہ اس کے معنی لغت میں ایک ایسا بلند مقام جو دوسرے مکانوں سے اونچا ہو اس کی وجہ سے تمام بلندی اس میں شامل نہیں ہوگی۔

ب: ”لفظ”سویة“کے معنی لغت میں برابر قرار دینے کے ہیں اور اسی طرح اس کے دوسرے معنی ٹیڑھی چیز کو سیدھا کرنا ہے۔

اب اس حدیث کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ ہر اونچی قبر کو ویران کر دو جب کہ قبروں کو زمین کے برابر کرنا اسلامی احکامات کے خلاف ہے کیونکہ تمام اسلام فقہاء نے قبر کو زمین سے ایک بالشت بلند کر نا مستحب قرار دیا ہے۔( ۶۲ )

دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”سویة “کا مطلب قبر کے بالائی حصہ کو ایک سطح میں برابر کر دیا جائے نہ یہ کہ اسے اونٹ کے کوہان یا مچھلی کی پشت کی طرح کر دیا جائے جیسا کہ اہل سنت کے علماء نے اس حدیث کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ان تین احتمالات ،قبر ڈھادینا قبر کو زمین کے برابر کر دینا اور اس کے بالائی حصہ کو مسطح کرنے میں پہلا اور دوسرا احتمال غلط ہے اور تیسرا صحیح ہے، اس بنا پر یہ حدیث دلالت کے اعتبار سے بھی اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ قبروں کا ویران کرنا جائز ہے۔( ۶۳ )

یہاں ہم تھوڑا سا اضافہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر امام علی علیہ السلام مزار اور قبور کو ویران کرنا واجب اور ضروری جانتے تو ان کی خلافت کے زمانہ میں اولیاء خدا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبریں موجود تھیں انھیں کیوں نہیں ویران کیا کیونکہ تاریخ میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ملتی کہ آپ نے کسی قبر کو مسمار کیا ہو کہ یہ اونچی ہے۔

اور اگر عصر حاضر میں وہابی مزاروں کو ویران کرنا واجب جانتے ہیں تو ابھی تک پیغمبر اکرم ، ابوبکر وعمر کے مزاروں کو کیوں نہیں ویران کیا؟

وہابی: ”ان کے مزاروں کو اس لئے خراب اور ویران نہیں کیا کیونکہ ان کے اور نماز گزاروں کے درمیان دیوار حائل ہوتی ہے جس کی وجہ سے نماز گزار انھیں اپنا قبلہ قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی ان پر سجدہ کر سکتے ہیں“۔

شیعہ عالم: ”یہ کام تو صرف ایک دیوار کی وجہ سے قابل قبول تھا لیکن اس پر گنبد خضرا اور اس کے قریب گلدستہ کی کوئی ضرورت نہ تھی“۔

وہابی: ”میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کیا تمہارے پاس قرآن سے کوئی دلیل ہے کہ تم اولیائے خدا کی قبروں کے لئے خوبصورت مقبرہ بنوائیں؟“

شیعہ عالم: ”اول تو یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر چیز یہاں تک کہ مستحبات کا بھی ذکر قرآن میں موجود ہو اور اگر ایسا ہوتا تو قرآن مجید اپنے موجودہ حجم سے کئی گنا زیادہ ہوتا۔

دوم یہ کہ قرآن میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے جیسے سورہ حج کی ۳۲ ویں آیت میں آیا ہے۔

( وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ )

”اور جو شعائر خدا کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے“۔

لفظ”شعائر“شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں اس آیت میں خدا کے وجود اور اس کی علامت نہیں بلکہ اس کے دین کی علامتوں کا ذکر ہے۔( ۶۴ )

سورہ شوری کی ۲۳ ویں آیت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اقرباء کی مودت اجر رسالت کہی گئی ہے۔

کیا اگر ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اقرباء کے مقبروں کو ان کی محبت اور احترام میں خوبصورت بنائیں اور ان کو صاف ستھرا رکھیں تو یہ کوئی غلط کام ہوگا؟“

مثال کے طور پر اگر قرآن کو ایک دھول سے اٹی ہوئی جگہ پر زمین ہی پر رکھ دیا جائے تو کیا یہ قرآن کی بے ادبی نہیں ہو گی؟ اور یہ مان بھی لیں کہ یہ توہین نہ ہوگی تب بھی اگر اسے صاف ستھری جگہ پر نہایت ادب واحترام کے ساتھ رکھیں تو کیا یہ کام اچھا نہ ہوگا؟“

وہابی: ”یہ جو تم کہہ رہے ہو لوگوں کے پسند کی باتیں ہیں کیا تمہارے پاس قرآن کی کوئی دلیل بھی موجود بھی ہے ؟“

شیعہ عالم: ”قرآن میں اصحاب کہف کے ذکر میں آیا ہے۔

”جب ان لوگوں نے غار میں پناہ لی اور وہیں ایک نہ جاگنے والی گہری نیند میں سوگئے تو لوگوں نے انھیں ڈھونڈنکالا ان لوگوں کے دمیان اس جگہ کے بارے میں نزاع ہو گیا کچھ لوگوں نے کہا:

ابنوا علیهم بنیانا “یہاں ایک عمارت بنادو“۔

لیکن دوسرے گروہ نے کہا: ”لنتخذن علیهم مسجدا “ہم یہاں مسجد بنائیں گے“۔

قرآن مجید نے دونوں نظریوں کوذکر کیا ہے لیکن اس نے اس پر کسی طرح کی کوئی تنقید نہیں کی اگر ان دونوں نظریوں میں سے کوئی رائے حرام اور ناجائز ہوتی تو قرآن ضرور اس بات کا ذکر کرتا لیکن بات تو یہ تھی کہ یہ دونوں گروہ اصحاب کہف کے احترام کے لئے اپنی صواب دید کے مطابق کام کرنا چاہتے تھے۔ا س طرح تین مذکورہ آیتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اولیاء کے قبروں کو شاندار بنا نا مستحب ہے۔( ۶۵ )

آخری بات یہ کہ جو بعض تاریخی اور حدیث کتابوں میں دیکھا گیا ہے کہ قبروں پر مزار اور قبہ نہ بنا یا جائے تو وہ اس لئے ہے کہ کہیں خود قبور اولیاء ،عبادت گاہ اور سجدہ گاہ نہ بن جائے لیکن اگر مومن وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرنے والا کمال خلوص سے مزار اور مقبروں کو مقامات مقدسہ ہونے کی وجہ سے یہاں اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اس میں شرک کی کیا بات ہے بلکہ اس طرح تو اس کی توحید اور اخلاص میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

۸۷۔ خانہ کعبہ میںحضرت علی علیہ السلام کی ولادت پر ایک مناظرہ

اشارہ

امام علی علیہ السلام کے امتیازات اور افتخارات میں سے ایک عظیم افتخار یہ بھی ہے کہ آپ دنیا کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور یہ چیز شیعہ اور سنی دونوں طرح سے ثابت اوریقینی ہے۔

علامہ امینی ،صاحب الغدیر نے اپنی کتاب کی چھٹی جلد میں اس بات کو اہل سنت کی ۱۹/ معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔

یہ بات خود امام علی علیہ السلام کی افضلیت کے لئے ایک اہم اور زندہ ثبوت ہے جو دوسروں میں نہیں پائی جاتی اور اس بات سے ان کی رہبری اور ولایت بھی منحرف لوگوں پر ثابت ہوتی ہے۔

حاکم نے اپنی کتاب مستدرک (ج ۲ ،ص ۴۸۳) میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے۔

چنانچہ اسی کے متعلق ایک شیعہ اور سنی عالم کے مناظرہ پر توجہ فرمائیں:

سنی عالم: ”تاریخ میں آیا ہے کہ حکیم بن حزام بھی کعبہ میں پیدا ہوا ہے“۔

شیعہ عالم: ”اس طرح کی چیز تاریخ میں ثابت نہیں ہے جیسا کہ بڑے علماء ،جیسے ابن صباغ مالکی( ۶۶ ) ،گنجی شافعی( ۶۷ ) شبلنجی( ۶۸ ) اور محمد بن ابی طلحہ شافعی( ۶۹ ) کہتے ہیں:

لم یولد فی الکعبة احد قبله “۔

”حضرت علی علیہ السلام سے پہلے کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔

(اس بات پر توجہ رہے کہ حکیم بن حزام حضرت علی سے عمر میں بڑا تھا )یہ گڑھی ہوئی روایت بھی حضرت علی علیہ السلام کے دشمنوں کی کارستانی ہے۔انھوں نے اس طرح اس عظیم افتخار کی اہمیت کو ختم کرنا چاہا ہے“۔

سنی عالم: ”کعبہ میں ولادت ہونا مولود کے لئے کون سا افتخار ہے ؟“

شیعہ عالم: ”ایک وقت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اتفاق سے ایسی جگہ پہنچ جائے اور وہاں ولادت ہو جائے تو اس یقینا اس میں کوئی افتخار نہیں ہے، لیکن اگر کوئی عورت اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہو کہ خدا اس کے لئے خاص انتظام کرے اور وہاں پہنچ کر بچہ کی ولادت ہوتو یہ بات یقینا دونوں کے لئے افتخار کا باعث ہوگی۔حضرت علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت خدا وند متعال کی خاص عنایتوں میں ہے جیسا کہ دیوار کاشق ہونا اور جناب فاطمہ بنت اسد کا اندر جانا سب کرامت ولطف خداوند کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے ؟“( ۷۰ )

سنی عالم: ” جب علی علیہ السلام پیدا ہوئے تو وہ بعثت سے ۱۰ سال پہلے کا واقعہ ہے اس وقت کعبہ میں بت بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی بلکہ وہ بت کدہ تھا اور حضرت علی علیہ السلام جب ایک بت کدہ میں پیدا ہوئے تو بھلا ان کے لئے کون سی فضیلت کی بات ہوگی“۔

شیعہ عالم: ” کعبہ وہ پہلی عبادت گاہ ہے جو دنیا میں بنائی گئی ،جسے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا اور جہاں جنت سے حجر الاسود لا کر نصب کیا گیا تھا اس کے بعد طوفان نوح کے بعد جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں دوبارہ اس کی تعمیر کی کعبہ پوری تاریخ میں تمام انبیاء اور اولیاء خدا اور فرشتوں کا جائے طواف رہا ہے، اب اگر اس مقدس جگہ پر کچھ دنوں کے لئے بت پرست قابض ہوجائیں اور اسے بت کدہ بنا دیں تو اس کی عظمت ومنزلت میں کمی نہیں آئے گی مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مسجد میں ایک بوتل شراب لے جائے تو کیا اس مسجد کی عظمت ختم ہو جائے گی ؟

اگو کوئی شخص حالت جنابت میں یاشراب لئے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ حرام کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا لیکن جب فاطمہ بنت اسد خدا کے حکم اور مشیت سے کعبہ میں داخل ہوئیں تو یہ ان کی فضیلت و طہارت کی دلیل ہے اور وہ اس طرح سے خدا کی مہمان ہوئیں۔چنانچہ اس طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے افتخار کا سبب ہے۔

اسی وجہ سے اوائل اسلام میں شاعروں نے خاص طور سے اس کرامت اور عنایت کو اپنے شعروں میں بیان کیا ہے اور خود اس بات کو ایک عجیب وغریب واقعہ سے قرار دیا گیا ہے۔

عبدالباقی عمری اس کے متعلق حضرت علی علیہ السلام سے خطاب کر کے کہتا ہے:

انت العلی الذی فوق العلی رفعا

ببطن مکة وسط البیت اذ وضعا ( ۷۱ )

”تم وہی ہو جو بلندیوں سے بھی بلند ہو گئے ،جب کہ تم مکہ کے درمیان ،خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

اسی طرح فارسی شاعر کہتا ہے:

درکعبہ تولد وز محراب شد شہید

نازم بہ حسن مطلع وحسن ختام او

”کعبہ میں ولادت اور محراب میں شہادت، ان کے آغاز و انجام ناز کرتا ہوں“۔

سنی عالم نے ہار مان کر مناظرہ کے اختتام کا اعلان کردیا۔

۸۸۔امامت اور حدیث ”اصحابی کالنجوم “سے متعلق مناظرہ

شیعہ استاد: ”ہم اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت ،خلافت ،پیغمبر کی جانشینی دنیا وآخرت دونوں کی ایک عظیم زعامت و ریاست ہے کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین شریعت کی حفاظت و احکام خدا کی نشر و اشاعت، حدودا لٰہی کا نفاذ اور دنیاسے تمام فتنہ کی نابودی میں رسول کا نمائندہ ہوتا ہے، ہرکس و ناکس اس عظیم منصب پر فائز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس منصب کا حقدار وہی ہے جو اسلام میں تقویٰ ،جہاد ،علم ،ہجرت،ذہانت ،سیاست ،عدالت،شجاعت اوراخلاق کے لحاظ سے تمام لوگوں سے افضل و برتر ہو اور ان تمام صفات کو دیکھنے کے بعد تاریخ اس بات کی شاہد ہے اور شیعہ و سنی روایتیں بھی اس کا اثبات کرتی ہیں کہ مولائے کائنات علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسا شخص تاریخ اسلام میں موجود نہیں ہے جسے ان تمام صفات سے ایک ساتھ متصف دیکھا گیا ہو“۔

سنی استاد: ”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اصحابی کالنجوم بایهم اقدیتم اهتدیتم ۔“( ۷۲ )

”میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ،ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کروگے ہدایت پا جاوگے“۔

اس حدیث کی بنا پر ہم بھی صحابی کی پیروی کرکے نجات حاصل کر سکتے ہیں“۔

شیعہ استاد: ” اس حدیث کی سند کو چھوڑتے ہوئے چند دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جعلی اور گڑھی ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس طرح کی کوئی حدیث بیان نہیں کی“۔

سنی استاد: ”کن دلائل سے ؟“

شیعہ استاد: اس حدیث کے جعلی ہونے کے بہت سے دلائل ہیں:

۱ ۔رات کے مسافر جب اپنا اصل راستہ بھول جاتے ہیں تو وہ لاکھوں اور کروڑوں ستاروں کو آسمان میں چمکتے ہوئے دیکھتے ہیں اب اگر یہ مسافر اس میں سے اپنی خواہش کے مطابق کسی بھی ایک ستارے کو معین کر لیں تو وہ ہر گز اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتے بلکہ کچھ مخصوص ستارے ہیں جنھیں سب جانتے ہیں کہ اگر مسافران ستاروں کا سہارا لے کر اپنی منزل کی طرف آگے بڑھیں گے تو ضرور اپنی منزل تک جا پہنچ جائے گا۔

۲ ۔ مذکورہ حدیث رسول خدا کی دوسری حدیثوں مثلاً حدیث ثقلین،حدیث خلفائے قریش، حدیث علیکم بالائمة من اھل بیتی اور حدیث اہل بیتی کالنجوم وغیرہ کے مخالف ہے۔

جیسے آنحضرت نے فرمایاہے:

النجوم امان لاهل الارض من الغرق واهل بیتی امان من الاختلاف “۔( ۷۳ )

”ستارے زمین والوں کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں اور میرے اہل بیت اختلاف سے نجات دیتے ہیں“۔

اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ حدیث”اصحابی کالنجوم“کو مسلمانوں کے ایک خاص گروہ نے نقل کیا ہے لیکن اس کی مخالف حدیثوں کو مسلمانوں کے تمام گروہوں نے نقل کیا ہے۔

۳ ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اصحاب میں جو کشمکش اور اختلافات وجود میں آئے وہ اس حدیث سے موافقت نہیں کرتے کیونکہ آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے بعد بعض اصحاب مرتد ہوگئے اور بعض نے بعض پر اعتراض اور طعنہ زنی کی اور یہ اختلاف و اعتراض اس حد تک پہنچا کہ عثمان کو قتل کر ڈالا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی اس حدیث کے ساتھ موافق نہیں جو بعض نے بعض کو لعن وطعن کیا مثلاًمعاویہ نے حضرت علی علیہ السلام پر لعن وطعن کرنے کا حکم دیا اور بعض اصحاب نے بعض صحابہ سے جنگ کی جیسے طلحہ وزبیر نے حضرت علی علیہ السلام سے جنگ جمل میں مقابلہ کیا اور معاویہ نے جنگ صفین میں ان کے سامنے صف آرائی کی۔بعض اصحاب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے اور شراب خوری اور زنا کی وجہ سے ان پر حد جاری کی گئی۔(جیسا کہ ولید بن عقبہ ،اور مغیرہ بن شعبہ کے متعلق ملتا ہے۔)

کیا ”بسر بن ارطاة “جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے اصحاب میں تھا اور جس نے ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کرنے سے مسلمان ہدایت پاجائےں؟

کیا مروان بن حکم جس نے طلحہ کو قتل کیا اس کی پیروی سے ہدایت مل جائے گی؟

کیا مروان کے باپ حکم کی پیروی ہدایت دے دے گی جو اصحاب رسول میں تھا اور آنحضرت کا مذاق اڑایا کرتا تھا ان تمام باتوں پر توجہ رکھتے ہوئے اس جعلی حدیث کو صحیح ماننا واقعا ً مضحکہ خیز ہے!!“۔

سنی استاد: ”اصحابی کا مطلب یہ ہے کہ جو حقیقت میں آنحضرت کے اصحاب تھے نہ کہ وہ لوگ جو یوں ہی اصحاب بنے بیٹھے تھے۔

شیعہ استاد: ”اس طرح کے اصحاب تو صرف، سلمان ،ابوذر،مقداد،اور عمارجیسے ہی لوگ تھے مگر تم لوگ ان کے بجائے دوسرے لوگوں کو ان کی جگہ شمار کرتے ہوئے لہٰذا اب بھی اختلاف ختم نہیں ہوگا ، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم ان حدیثوں کے بارے میں بحث کریں جو کسی طرح سے بھی قابل اعتراض نہیں ہیں جیسے حدیث ثقلین ،حدیث سفینہ یا وہ روایتیں جن کے بارے میں ائمہ علیہم السلام نے تصریح کی ہے۔

روایت میں آیا ہے کہ جب جنا ب سلمان مدائن کی طرف روانہ ہوئے تو اشعث اور جریر نامی دو افراد نے ان سے ملاقات کی مگر انھیں یقین نہ آیا کہ یہی سلمان ہیں لیکن جناب سلمان نے خود ہی اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں وہی سلمان اور صحابی رسول ہوں، پھر فورا ً آپ نے فرمایا: ”لیکن یہ جان لو کہ آنحضرت کا حقیقی صحابی وہی ہے جو ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائے“۔( ۷۴ )

واضح الفاظ میں یہ کہیں کہ صحابی وہی ہے جو اپنی پوری زندگی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام کی پابندی کرے اور اس پر آخری عمر تک قائم رہے اس بنا پر جناب سلمان علیہ السلام سے نقل ہوئی حدیث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس طرح کے صحابیوں کی پیروی کرکے ہم جنت وہدایت پا سکتے ہیں لیکن میں یہ پوچھتا ہوں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کتنے لوگ ایسے تھے جنھوں نے اپنی راہ نہیں بدلی اور آنحضرت کے بتائے ہوئے راستہ پر باقی رہے ؟

ہماری روایتوں کے مطابق تو صرف تین یا چار اصحاب ہی ایسے تھے جو اپنے دین پر باقی رہے جیسے سلمان ،مقداد، عمار یاسر ،لیکن ان کے علاوہ بقیہ سب مرتد ہوگئے تھے“۔

۸۹۔علی علیہ السلام ، راہ عدالت کے شہید

حقجو اور حمید نامی دو اسلامی دانشوروںنے اس طرح مناظرہ کیا:

حمید: ”ہم جب امام علی علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی زندگی کا اکثر حصہ جنگ و جہادمیں پاتے ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ان کی جنگ آنحضرت کے حکم سے ہوا کرتے تھی جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے لیکن علی علیہ السلام نے اپنی خلافت (جسے عمر نے غصب کر لیا تھا) کے زمانہ میں جو جنگیں لڑیں جیسے جنگ جمل ،جنگ صفین اور جنگ نہروان ان سب میں مناسب تو یہی تھا کہ وہ قوم کے بزرگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر مصالحت کر لیتے اور اس قدر خوریزی سے پر ہیز کرتے“۔

حق جو: ”ہم امام علی علیہ السلام کو ایک حق پرست مخلص اور کامل انسان کے عنوان سے جانتے ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مشرکوں او ر اسلام کے مخالفوں سے جنگ کی اور اپنے دور خلافت میں بھی انھیں لوگوں سے جنگ کی جنھوں نے اسلام کے ظاہر کو لے لیا اور باطن کو چھوڑ دیا تھا یہ وہی منافق تھے جو اسلام کے نام پر اسلام کو بے عزت کر رہے تھے اور اسلام کو اس کی حقیقت سے دور کر کے اسے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کر رہے تھے،اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کو کافروں کے مقابلہ میں منافقوں سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

حمید: ”حضرت علی اگر چاہتے تو ناکثین (اصحاب جمل)قاسطین (جنگ صفین کی آگ بھڑکانے والے)اور مارقین(خوارج)کے سرداروں کو اقتدار اور بیت المال سے خاموش کر دیتے اور اس طرح وہ لوگوں کو اپنی طرف ملا لیتے“۔

حق جو: ” تمہاری بات کا انداز بتا رہا ہے کہ تم ایک عام حاکم اور خدائی رہنما جو اپنے ذاتی فائدہ پر خدا کے احکام کو ترجیح دیتا ہے دونوں کے درمیان فرق کو نہیں سمجھتے، یہ بہت بڑی غلطی ہے۔

بہتر یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ہوئی جنگوں کا ہم اچھی طرح سے جائزہ لیں تاکہ یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو جائے۔

جنگ جمل کے وجود میں آنے کے اسباب معاشرتی برتری اور نا انصافی تھے ان تمام باتوں کو جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والے اسلام کے نام پر اسلامی حکومت میں یہی نا انصافیاںنافذ کرنا چاہتے تھے طلحہ وزبیر جیسے لوگ حضرت علی علیہ السلام سے اپنے لئے بڑے بڑے عہدہ کا مطالبہ کر رہے تھے یہ لوگ صاف صاف آپ سے عہدوں کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کرتے تھے فلاں عہدہ ہمیں دے دیں ،بیت المال کا اتنا حصہ ہمارا ہونا چاہئے۔

اس بیکار خواہش کی بنا پر یہ اسلامی احکام کے خلاف باتیں حضرت علی علیہ السلام کی حکومت میں رائج کرانا چاہتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام اس بات پر تیار نہیں ہوئے کہ خود غرض لوگوں کو ان کے ذاتی مفاد کی وجہ سے عوام کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیںن اور انھیں ان پر مسلط کر دیں۔

امام علی علیہ السلام ایک خدا پرست انسان تھے نہ کہ ایک خود خواہ اور خود غرض حاکم جو اپنے ذاتی مفاد کے لئے خدائی احکامات کو پس پشت ڈال دیتے۔

جنگ صفین میں بھی معاویہ حضرت علی علیہ السلام سے قانونی طور پر حکومت شام کے تمام اختیارات لینا چاہتا تھا اور یہ بات بھی واضح ہے کہ معاویہ ان اختیارات کے ذریعہ اپنے خاندان اور اپنی تعریف کرنے والے شکم پر ستوں کو عوام کی جان ومال پر مسلط کرنا چاہتا تھا اور اس طرح اس کی حکومت یقینا اسلامی اقدار کے برخلاف اونچ نیچ اور طبقاتی تفریق کی بنیادوں پر استوار ہوتی۔

لیکن کیاحضرت علی علیہ السلام ایسا کرنے کا موقع دیتے ؟!!کیا اس جیسے بے دین شخص کو اسلامی حکومت کی باگ ڈور پکڑا دیتے؟نہیںیہ ہرگز نہیں ہو سکتا تھا۔

اسی دوران مغیرہ بن شعبہ جیسے لوگوں نے بھی ”النصیحة لامر اء المسلمین“، (مسلمانوں کے حاکموں کے لئے نصیحت )کی نقاب اوڑھ کر حضرت علی علیہ السلام سے اس قسم کے مطالبے کئے لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اس کا سخت جواب دیتے ہوئے فرمایا:

ولم یکن الله یرانی اتخذت المضلین عضدا “۔( ۷۵ )

-”خدا مجھے اس حالت میں کبھی نہیں دیکھ سکتا کہ میں گمراہوں کو اپنا مددگار بناوں“۔

اس طرح کے مطالبے اور اس کے نتیجہ میں حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے بعض حضرت علی علیہ السلام کے مخلص اصحاب جیسے عمار یاسر ،ابو الہیثم تیہان وغیرہ نے آپ کو مشورہ بھی دیا کہ وقتی طور پر آپ ان لوگوں سے محبت اور رغبت کا اظہار کریں اور ان قوم کے لٹیروں کو امتیازی مقامات دے دیں تاکہ وہ آپ کی حکومت کے خلاف قیام نہ کریں اور بعض حکام اور گورنروں میں اہلیت نہ پاتے ہوئے بھی انھیں ان کے مقام پر باقی رکھیں کیونکہ یہ لوگ بہر حال قوم کے بڑے ہیں لہٰذا آپ ان کا خیال کریں“۔

امام علی علیہ السلام نے ان کے جواب میں کہا:

اتامرونی ان اطلب النصر بالجور ،فیمن ولیت علیه ،والله لا اطور به ما سمر سمیرو ما ام نجم فی السماء نجماً ۔“( ۷۶ )

”کیا تم مجھے اس بات کا حکم دیتے ہو کہ میں محکوم لوگوں پر ظلم وجور کے ذریعہ غلبہ حاصل کروں خدا کی قسم جب تک دنیا موجود ہے اور جب تک آسمان میں کوئی ستارہ دوسرے ستارے کے پیچھے پیچھے چلتا رہے گا میں اس طرح کا کام نہیں کر سکتا“۔

اس طرح حضرت علی علیہ السلام کا بے انصافی اور طبقاتی تفریق کرنے والوں سے سختی سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے اس تحریک کے حامی آپ کے مخالف ہوگئے اور جنگ جمل اور صفین میں دو محاذوں پر وہ سامنے آگئے اس کے ساتھ ہی جنگ صفین میں ہی جنگ نہروان کی داغ بیل پڑ گئی تھی، اس جنگ میں روباہ صفت معاویہ کی طرف سے نیزوں پر قرآن بلند کرنا اس کے دھوکہ بازی کے ذریعہ صلح کی خواہش نے حضرت علی علیہ السلام کے فوجیوں کو سست کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ کہنے لگے کہ یہ دوحاکموں کی جنگ ہے اور جوکل تک حضرت علی علیہ السلام کے سا تھی تھے جذبات میں آکر آپ کو کافر کہنے لگے نتیجہ میں جنگ نہروان عمل میں آئی جس میں شرکت کرنے والے حضرت علی علیہ السلام کے وہ ساتھی تھے جنھوں نے صفین میں آپ کی طرف سے تلوار چلائی تھی۔اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں سے بھاگ نکلنے والوں نے مل کر آپ کے قتل کامنصوبہ بنایا اور اس طرح ”ابن ملجم اشقی الاولین والاخرین “کے ذریعہ آپ شہید کر دیئے گئے جیسا کہ آپ کے لئے لوگوں نے کہا۔”قتل علی لشدةعدلہ۔“علی اپنے عدل وانصاف میں شدت کی وجہ سے قتل کر دیئے گئے“۔

اسی وجہ سے جب آپ کے سر مبارک پر ضربت لگی تو آپ نے فرمایا:

فزت ورب الکعبة( ۷۷ )

”کعبہ کے پروردگار کی قسم میں کامیاب ہوگیا“۔

علی علیہ السلام کی کامیابی اس وجہ سے نہیں تھی کہ آپ نے ذاتی اہداف کو اہمیت نہیں دی بلکہ اس وجہ سے تھی کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک عدالت قائم کرنے اور طبقاتی نظام کو ختم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔حضرت علی علیہ السلام یہ چاہتے تھے کہ ذاتی اور شخصی مفاد کو اسلام کے سیاسی اور معاشرتی مفاد پر قربان کردیں تاکہ آئندہ آنے والے مسلمان ظالموں اور ستمگروں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں مثال کے طور پر ظالم اسرائیل سے مذاکرے کے لئے تیار نہ ہوں اور سامراجی طاقتوں سے دوستی کے لئے کبھی ہاتھ نہ بڑھائیں اور محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے اسلام کو ایک اجنبی اسلام سمجھ کر معاویہ اور یزید کے اسلام کو نہ اپنالیں۔

۹۰۔ استاد اور شاگرد کے درمیان ائمہ کی سخاوت کے بارے میں مناظرہ

شاگرد: ”بہت سی اسلامی روایات میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ فلاں امام نے فلاں شاعر یا محتاج کو پیسہ دیا یا اس طرح کی مختلف روایات ائمہ علیہم السلام کے عطیوں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کیایہ روایتیں صحیح ہیں؟“

استاد: ”ممکن ہے بعض روایتوں کی سند صحیح نہ ہو لیکن اس طرح کی اتنی زیادہ روایتیں موجود ہیں کہ جن کا انکار نہیں کی جاسکتا اور قطعی طور پر ان سب میں کچھ روایتیں تو ہر لحاظ سے صحیح ہیں“۔

نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل چار روایتوں پر توجہ فرمائیں:

۱ ۔عبد الرحمن سلمی نے امام حسین علیہ السلام کے بیٹے کو سورہ حمد پڑھایا تو آپ نے اسے ہزار دینار دیا اور اس زمانہ کے ہزار حُلے (جو اس وقت کا بہترین لباس ہوا کرتا تھا) انعام کے طور پر دئے اور اس کامنہ موتیوں سے بھر دیا۔( ۷۸ )

۲ ۔ایک بھٹکاہوا مسافر امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں آکر کہنے لگا میرے پاس زاد راہ ختم ہوگیا ہے آپ مجھے کچھ پیسے دے دیں تاکہ میں اپنے وطن واپس جا سکوں میں وطن پہنچ کر اتنی ہی مقدار میں آپ کی طرف سے صدقہ دے دوں گا۔

امام علی رضا علیہ السلام اٹھ کر اپنے گھر کے اندر گئے اور دو سودرہم کی تھیلی لا کر اسے دی اور فرمایا: ”یہ پیسہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے لہٰذا یہ لازم نہیں ہے کہ تم میری طرف سے اتنی مقدار میں صدقہ دو“۔( ۷۹ )

۳ ۔امام سجاد علیہ السلام نے ”فرزدق“کے لئے قید میں بارہ ہزار درہم یہ کہہ کر بھیجے کہ تمہیں ہمارے حق کی قسم ہے تم اسے قبول کر لو اور فرزدق نے قبول کر لیا“۔( ۸۰ )

۴ ۔دعبل نے اہل بیت علیہم السلام کے مصائب پر ایک مرثیہ پڑھا تو امام رضا علیہ السلام نے انھیں ایک تھیلی بھیجی جس میں سو دینار تھے۔ دعبل نے ان تمام سکوں کو جن پر امام کا نام لکھا تھا عراقی شیعوں میں بانٹ دیا اور ایک ایک سکے کے بدلے سو دینا ر لے کر اپنی زندگی آسودہ کر لی۔( ۸۱ )

اس سلسلہ میں اس طرح کی اور بہت سی روایتیں پائی جاتی ہیں۔

شاگرد: ”اگر یہ تمام روایتیں صحیح ہیں تو حضرت علی علیہ السلام بیت المال کوخرچ کرنے میں اتنی سختی کیوں کرتے تھے ؟اور لوگوں میں برابر سے تقسیم کرتے تھے جیسے ان کے بھائی عقیل نے جب اپنی ضرورت کے تحت اپنا حصہ بڑھانے کے لئے کہا تو حضرت علی علیہ السلام نے لوہے کی ایک سلاخ گرم کر کے عقیل کے ہاتھ پر رکھ دی جس کے بعد جناب عقیل نے ایک بلند چیخ ماری تو امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

”عورتیں تمہارے سوگ میں بیٹھیں تم ایک انسان کی جلائی ہوئی آگ سے چیختے ہو لیکن مجھے اس آگ کی طرف بھیج رہے ہو جسے خدا نے اپنے غیظ و غضب سے جلا رکھا ہے تم ایک چھوٹی سی اذیت سے ڈرتے ہو تو کیا میں ہمیشہ بھڑگنے والے آگ سے نہ ڈروں؟“( ۸۲ )

استاد: ”یہی تمہاری غلطی ہے کہ تم یہ تصور کرتے ہو کہ تمام ائمہ علیہم السلام کی در آمد صرف بیت المال ہی تھی اسی وجہ سے ان کے عطیہ و بخشش اور علی علیہ السلام کی بیت المال میں سختی کو ایک طرح کاتضاد سمجھ رہے ہو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی در آمد کے مختلف ذرائع تھے اور حضرت علی علیہ السلام کام کیا کرتے تھے۔

جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے جب عمر ، ابوبکر اور عثمان کے دور خلافت میں شیعوں کو بڑی سخت زندگی گزارتے دیکھا تو پچیس سال کے دور میں آپ نے بہت سی زمینوں کو قابل کا شت بنایا اور پھر اسے اپنے شیعوں کے درمیان تقسیم کر دیا تا کہ وہ آرام سے رہ سکیں۔

آپ نے اس کے لئے ایک وقف تشکیل دے رکھاتھا جو ان زمینوں کی مجموعی در آمد کو فقراء میں تقسیم کرتے اور فقراء وپریشان حال شیعوں میں بانٹ دیا کرتے تھے۔

اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام ،امام محمد باقر علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام نے زراعت کی اور جانوروں کے ذریعہ تجارت کی ہے آپ ان کاموں کے لئے کچھ افراد کو معین کر دیا کرتے تھے کیونکہ انھیں اس با ت کا خیال تھا کہ مذہب حق کے پیروکار کہیں غربت کی وجہ سے دوسری طرف مائل نہ ہو جائیں اسی لئے ائمہ علیہم السلام اپنے اصحاب اور خاص خاص دوستوں اور خود اپنی زمینوں اور غلوں سے ہونے والی درآمد کو اپنے غریب شیعوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے اور اسی مال سے ان کا خیال رکھتے تھے اور ان کی حفاظت کرتے تھے ان کے عطیات اور بخششیں اسی دولت سے ہوا کرتی تھی نہ کہ بیت المال سے۔

شاگرد: ”میں آپ کی اس منطقی گفتگو سے قانع ہوں لیکن میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ ائمہ علیہم السلام کی در آمد کے ذرائع کے دوچار نمونے بھی ذکر کردیں“۔

استاد: ”بہت ہی اچھا سوال ہے۔میں چند نمونے ذکرکرتا ہوں“۔

۱ ۔امام علی علیہ السلام نے اپنے دوباغ جس میں کنواں بھی تھا ”ابو نیزر“ نامی ایک مسلمان کو دے رکھا تھا جن میں سے ایک کانام ”ابو نیزر“ تھا اور دوسرے کا ”بغیبغہ“ان دونوں باغوں میں کاشتکاری بھی ہوتی تھی۔

”ابو نیزر“ کا بیان ہے کہ ”ایک روز میں باغ میں تھا اسی دوران علی علیہ السلام باغ میں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟“

میں نے کہا: ”اسی باغ کے ایک کدو کو میں نے پکایا ہے“، آپ نے جا کر وہ کھانالیا اور کھانا کھانے کے بعد بیلچہ اٹھا کر اس کھیت میں داخل ہوگئے۔تھوڑی دیر تک کھودنے کے بعد جب آپ پسینے میں شرابور ہو گئے تو گڑھے سے باہر آئے اور تھوڑا آرام کرنے کے بعد پھر آپ کام میں مشغول ہو گئے گڑھے کے اندر سے میں بیلچہ کی آواز کے ساتھ آپ کی زیر لب آواز بھی سن رہا تھا آپ نے گڑھے کو کھودا اور اس کی گھاس پھوس صاف کر دیا یہاں تک کہ اونٹ کی گردن کے اتنا اس میں پانی بڑھ گیا اس کے بعد آپ اس گڑھے سے باہر آئے اور فرمایا: ” خدا کی قسم !میں نے اس چشمے کو وقف کر دیا“، اس کے بعد آپ نے کاغذ وقلم مانگا، میں نے لا کر دیا تو آپ نے وہیں وقف نامہ تحریر کردیا۔

روایت میں ہے کہ ایک دفعہ امام حسین علیہ السلام مقروض ہو گئے تو معاویہ نے آپ کے پاس دولاکھ درہم بھیجے اور اس چشمہ کو خرید نے کی خواہش کا اظہار کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اسے جواب دیا: ”میرے بابا نے اس کھیت اور چشمہ کو وقف کردیا ہے تاکہ قیامت میں جہنم کی آنچ سے محفوظ رہیں،میں اسے کسی قیمت پر نہیں بیچ سکتا“۔( ۸۳ )

۲ ۔امام محمد باقر علیہ السلام اپنے کھیت میں پھاوڑا چلانے میں مشغول تھے کہ اس موقع ”محمد بن منکدر “نام کا ایک زاہد نما شخص آپ کو دنیا کا لالچی سمجھ کر کہنے لگا، اگر تم اسی حالت میں مر جاو تو بڑی سخت حالت ہوگی“۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ” خدا کی قسم اگر اس حالت میں میری موت آجائے جب کہ میں اطاعت خدا میں مشغول ہوں تو بڑی اچھی بات ہوگی کیونکہ میں تمہاری دنیا کے کسی بھی شخص کا محتاج نہیں رہوں گا میں تو گناہ کے عالم میں موت آنے سے ڈرتاہوں“۔( ۸۴ )

اسی طرح کی ایک روایت امام جعفرصادق علیہ السلام کے بارے میں بھی نقل ہوئی ہے۔( ۸۵ )

۳ ۔ ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے کہا کہ میں ایک روز ایک کھیت میں گیا تو دیکھا کہ امام کاظم علیہ السلام پھاوڑا چلانے میں مشغول ہیں اور ان کا بدن پسینے میں ڈوبا ہوا ہے میں نے کہا: ” آپ کے غلام اور دوسرے لوگ کہاں ہیں کہ آپ پھاوڑا چلا رہے ہیں ؟ “

آپ نے فرمایا: ”جو لوگ مجھ سے اور میرے باپ سے افضل تھے انھوں نے اپنا کام اپنے ہاتھوں سے کیا ہے“۔

میں نے سوال کیا: ”وہ کون لوگ تھے ؟ “

آپ نے فرمایا:

رسول الله وامیر المومنین وآبائی کلهم کانوا قد عملوا بایدیهم وهو من عمل النبیین والمرسلین والاوصیاء و الصالحین “۔( ۸۶ )

”رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت علی علیہ السلام اور میرے آباو اجداد سب کے سب اپنے ہاتھوں سے اپنا کام کیا کرتے تھے یہ انبیاء اور صالح اوصیاء کاکام ہے“۔

شاگرد: ”میں آپ کے اس قانع کنندہ جواب کے لئے بہت شکر گزار ہوں اس طرح کی اور باتیں ہوں تو آپ بیان فرمائیں،تاکہ میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکوں“۔

استاد: ”ضروری بات یہ کہ ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں شیعہ جو حقیقی اسلام پر عمل پیرا تھے ان کی حالت نہایت ابتر تھی اور روز بروزان پر سختیاں بڑھتی رہتی تھیں کیونکہ ان کے حقوق اور وظیفے بند کر دیئے جاتے تھے جس کی وجہ سے وہ نہایت فقیرانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے تھے،اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ شیعوں کی حفاظت اسلام ارکان کی حفاظت تھی اور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کانٹنے کی مترادف تھا، اس لئے ان لوگوں کو خمس و زکوٰة اور بیت المال میں سے دینا بھی جائز تھا، (البتہ اس طرح کہ ان کے اندر تبعیض نہ ہوسکے) تاکہ ان کے ذریعہ ناپاک لوگوں کے شر سے حقیقی اسلام بچارہے کیونکہ بیت المال کے مصرفوں میں سے ایک مصر ف اسلام کی استواری اور اس کے استحکام کے لئے خرچ کرنا بھی ہے۔( ۸۷ )

____________________

(۵۷) صحیح مسلم ،ج۳،ص۶۱۔سنن ترمذی ،ج۲، ص۲۵۶، سنن نسائی ، ج۴ ،ص۸۸۔

(۵۸) تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۱۲۵، ج۴، ص۱۱۵، ج۳، ص۱۷۹۔

(۵۹) تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۱۲۵، ج۴، ص۱۱۵، ج۳، ص۱۷۹۔

(۶۰) تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۱۲۵، ج۴، ص۱۱۵، ج۳، ص۱۷۹۔

(۶۱) شرح حدیدی ،ج۹،ص۹۹۔

(۶۲) الفقہ علی مذاہب الاربعة ،ج ۱، ص۴۲۰۔

(۶۳) ”آئین وہابیت“سے اقتباس ص۵۶ سے ۶۴ تک۔

(۶۴) مجمع البیان ،ج۴ ،ص۸۳(معالم دین اللہ )

(۶۵) آئین وہابیت سے اقتباس ص۴۳ سے ۴۶ تک۔

(۶۶) الفصول المہمہ ،ص۱۴۔

(۶۷) کفایة الطالب ،ص۳۶۱۔

(۶۸) نور الابصار، ۷۶۔

(۶۹) مطالب السول ،ص۱۱۔

(۷۰) دلائل الصدق ،ج۲،ص۵۰۸و۵۰۹۔

(۷۱) دلائل الصدق ،ج۲،ص۵۰۹و۵۱۰۔

(۷۲) صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابہ ، مسند احمد،ج۴، ص۳۹۸۔

(۷۳) مستدرک حاکم ، ج ۳، ص۱۴۹۔

(۷۴) فتاوی صحابی کبیر ،ص۶۷۷۔

(۷۵) وقعة الصفین ،طبع مصر، ص۵۸۔

(۷۶) نہج البلاغہ صبحی صالح، خطبہ ۱۲۶۔

(۷۷) نہج البلاغہ صبحی صالح، خطبہ ۱۲۶۔

(۷۸) مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۶۶۔

(۷۹) فروع کافی، ج۴، ص۲۳و۲۴ سے اقتباس۔

(۸۰) انو ار البہیہ، ص۱۲۵۔

(۸۱) عیون اخبار الرضا،ج ۲، ص۲۶۳و۲۶۶۔

(۸۲) نہج البلاغہ، خطبہ۲۲۴۔

(۸۳) معجم البلدان ، ج ۴، ص ۱۷۶۔

(۸۴) ارشاد شیخ مفید ، ص۲۸۴۔مستدرک الوسائل ، ج ۲، ص ۵۱۴۔

(۸۵) فروع کافی ،ج ۵، ص ۷۴۔ اسی سے مشابہ دوسری مثالیں اسی کتاب میں موجود ہیں۔

(۸۶)

(۸۷) خمس کی بحث طولانی ہے لیکن یہاں خلاصہ کے طور پر ہم عرض کرتے ہیں ۔

خمس کا اصل مسئلہ سورہ انفال آیت ۴۳ میں ذکر ہوا ہے اور اس کے فرعی مسائل کے متعلق تقریبا ۸۰/روایتیں (وسائل الشیعہ،جلد۶ وغیرہ )میں ذکر ہوئی ہیں خمس ایک حکومتی خزانہ ہے (زکات کے بر خلاف جو عمومی دولت ہے ) نصف خمس حاکم (اگر اسلامی حکومت ہو ورنہ مراجع تقلید اسی حکم میں ہیں )کے اختیار میں ہوتا ہے اور دوسرا حصہ مستحق سادات کا ہوتا ہے۔ائمہ معصومین علیہم السلام ولی بھی تھے اور سادات بھی لہٰذ خمس انھیں کے ہاتھوں میں رہتا تھا لہٰذ ا انھیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ اس کو شیعوں کی زندگی گزارنے بھر ان کو دے دیں کیونکہ ان شیعوں کی حفاظت ایک طرح سے اسلام کی حفاظت تھی کیونکہ ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں شیعوں کی حفاظت سے زیادہ بڑھ کر اسلام کو محفوظ رکھنے کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا ۔


۹۱۔حضرت علی علیہ السلام کی عظمت اور مسئلہ وحی کے بارے میں مناظرہ

مسجد لوگوں سے چھلک رہی تھی اور ایک عالم دین نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں تقریر کرتے کرتے مندرجہ ذیل روایت کو نقل کیا:

”ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی مانگا تو اس وقت آپ کے پاس صرف علی ،جناب فاطمہعلیہ السلام اور امام حسن وامام حسین علیہم السلام موجود تھے۔آپ کو پانی لاکر دیا گیا آپ نے پہلے اسے امام حسن علیہ السلام کی طرف بڑھا دیا اس کے بعد امام حسین علیہ السلام اور آخر میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف بڑھا یا تو آپ نے فرمایا: ”ھنیئا ًمریئا لک، آپ کے لئے گوارا رہو“۔

لیکن جب علی علیہ السلام کی طرف پانی بڑھا یا اور آپ نے پانی پیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

هنیئا مریئا لک یا وليّ وحجتی علی خلقی “۔

” اے میرے ولی اور میری امت پر میری حجت آپ کے لئے گوارا رہو“۔

اور آپ سجدہ میں چلے گئے، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے پوچھا: ”آپ کے سجدہ کا کیا راز تھا ؟ “، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”جب تم لوگوں نے پانی پیا اور میں نے کہا: ”ھنیئا مریئا “تو میرے کانوں میں آوازا ٓئی کہ میرے ساتھ ساتھ فرشتے بھی یہی کہہ رہے ہیں لیکن جب علی علیہ السلام نے پانی پیا اور ان کے لئے میں نے ”هنیئا مریئا لک “کہا تو میرے کانوں میں خدا کی آواز پہنچی کہ وہ بھی یہی کہہ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی نعمت پر سجدہ شکر بجالایا“۔( ۸۸ )

سامع: ”کیا خدا بولتا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم نے اس کی آواز سنی ؟ “

مقرر: ”خدا وند متعال مکان یا فضا میں آواز پیدا کردیتا ہے جسے اس کا پیغمبر سنتا ہے بالفاظ دیگر: انبیاء اور خدا میں تین طرح سے ارتباط ہوتا ہے۔

۱) قلب پر القاء کرنا جو بہت سے انبیاء پر وحی نازل ہونے کے بارے میں پایاجاتا ہے۔

۲) جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ جو وحی خدا لانے والے ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ آیت ۹۷ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

۳) حجاب کے پیچھے سے یاکسی چیز میں آواز ایجاد کرنا جیسا کہ خد اوند متعال نے جنا ب موسیٰ علیہ السلام سے بات کی۔

وَکَلَّمَ اللهُ مُوسَی تَکْلِیمًا( ۸۹ )

”اور (اللہ نے) موسیٰ سے با قاعدہ گفتگو کی ہے“۔

اسی طرح سورہ طہ کی ۱۱ ویں اور ۱۲ ویں آیت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ کے اندر سے خدا کی ا ٓواز سنی۔

فَلَمَّا اٴَتَاهَا نُودِی یَامُوسَی إِنِّی اٴَنَا رَبُّکَ

” جب وہ اس (آگ )کے پاس آئے تو ندادی گئی اے موسیٰ !بلا شبہ میں تمہارا پروردگار ہوں“۔

سورہ شوریٰ کی ۵۱ ویں آیت میں ان تین طریقوں کی وحی کی وضاحت کی گئی ہے اس طرح خداوند عالم فضایا کسی ایک چیز میں آواز پیدا کرتا ہے جسے اس کے انبیا سنتے ہیں۔

سامع: ”معاف کرنا میں خیال کررہا تھا کہ وحی کی صرف ایک قسم ہے جو صرف جناب جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ آتی ہے لیکن آپ کے بیان سے معلومات میں اضافہ ہو ا اور ساتھ ساتھ میں یہ بھی سمجھ گیا کہ خدا وند متعال کے نزدیک علی علیہ السلام کی منزلت کیا ہے جیسا کہ خداوند متعال نے اپنے پیغمبر کے ساتھ ہم زبان ہو کر فرمایا: ”هنیئا مریئا “۔

لیکن میرادوسرا سوال یہ ہے کہ کیاقرآن کی آیتوں کے علاوہ بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کے طور پر کچھ چیزیں نازل ہوئی ہیں؟ “

مقرر: ”ہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرآنی آیات کے علاوہ احکام وغیرہ کے بارے میں بہت سی باتیں بتاتے تھے جو تمام کی تمام وحی الٰہی ہوتی تھیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے معارف اور احکام الٰہی کو صرف وحی کے ذریعہ لوگوں کو بتایا جیسا کہ سورہ نجم کی دوسری اور تیسری آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

( وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْهَوَی إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحَی )

”اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتاوہ وہی کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے“۔

۹۲۔ایک طالب علم اور عالم دین کے درمیان ایک مناظرہ

ایک جگہ کچھ مومنین بیٹھے ہوئے جن میں ایک طالب علم اور ایک عالم دین کے درمیان اس طرح مناظرہ ہوا۔

طالب عالم: ”قرآن میں چند جگہوں( ۹۰ ) میں منجملہ سورہ اعراف کی ۱۴۳ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا:

( رَبِّ اٴَرِنِی اٴَنظُرْ إِلَیْکَ )

”پالنے والے توخود کو دکھا دے تاکہ میں تجھے دیکھ سکوں“۔

لیکن خداوند متعال نے فرمایا:

( لن ترانی )

”تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے“۔

میرا سوال یہ ہے کہ خدا وند متعال نہ جسم رکھتا ہے نہ کوئی مکان رکھتا ہے اور نہ دیکھنے والی چیز ہےحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اولو العزم پیغمبر ہوتے ہوئے بھی کیسے اس طرح کا سوال کیا جب کہ اگر کوئی عام آدمی بھی اس طرح کا سوال کرے تو لوگ اسے اچھا نہیں کہیں گے ؟ “

عالم دین: ”احتمال پایا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ سوال دل کی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے ہونہ کہ ان ظاہری آنکھوں سے ،جناب موسیٰ علیہ السلام اپنے دل کے ذریعہ روحی اور فکری شہود تک پہنچنا چاہتے تھے یعنی ”خدا یا مجھے ایسا بنا دے کہ میرے قلب میں تیرا یقین کوٹ کوٹ کر بھر جائے گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں“( ۹۱ ) اور بہت سی جگہوں پر لفظ ”رویت“اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاًہم کہتے ہیں ”میں اپنے اندر ایسی طاقت دیکھ رہا ہوں کہ میں یہ کام باآسانی انجام دے سکتا ہوں: جب کہ قدرت دیکھنے والی چیز نہیں ہے“۔

طالب علم: ”اس طرح کی تفسیر آیت کے ظاہری لفظ کے خلاف ہے کیونکہ ظاہر لفظ ”ارنی“ اپنے کو مجھے دکھا،آنکھ سے دیکھنے پر دلالت کرتاہے جیسے خدا کے جواب ”لن ترانی“سے سمجھا جا سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا سوال انھیں آنکھوں سے دیکھنے کے لئے تھا اور اگر رویت اور شہود سے مراد فکری، روحی اور باطنی رویت ہوتی تو خدا وند متعال ہر گز منفی جواب نہ دیتا اس طرح کا شہود خداوندمتعال اپنے خاص بندوں کو یقینی طور پر عطا کر تا ہے“۔

عالم دین: ”فرض کریں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی خواہش کی تھی جیسا کہ ظاہری الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر ہم تاریخ میں اس واقعہ کی تحقیق کریں تو ہمیں ملتا ہے کہ یہ سوال ان کی قوم کی طرف سے تھا جسے جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان سے ادا کیا تھا کیونکہ ان کی قوم والے اس بات پراصرار کر رہے تھے کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اس لئے انھیں مجبور اً یہ جملہ ادا کرنا پڑا“۔

تو ضیح کے طور پر یہ عرض کیا جائے کہ فرعونیوں کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے درمیان دوسری بہت سی باتیں وجود میں آئیں ان میں سے ایک یہ کہ بنی اسرائیل کے کچھ افراد جناب موسیٰ علیہ السلام سے ضد کررہے تھے کہ ہم خدا کو دیکھیں گے بغیر دیکھے خدا پر ایمان نہیں لاسکتے۔جناب موسیٰ علیہ السلام آخر میں مجبور ہو کر بنی اسرائیل کے ۷۰ افراد کو لے کر کوہ طور پر گئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے کی خداکی بارگاہ میں ان کے سوال کو بیان کیا، خداوندعالم نے جناب موسی علیہ السلام کو وحی کی ”لن ترانی۔۔۔“ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے، (سورہ اعراف، آیت ۱۴۳) ، جواب نے اس بارے میں بنی اسرائیل کے لئے تمام چیزوں کو روشن کردیا۔

لہٰذا موسی علیہ السلام نے سوال رویت کواپنی قوم کی زبان سے کیا تھا کیونکہ

آپ نے اپنی قوم کی ضد پر خدا سے اس طرح کا سوال کرنے پر مجبور تھے، لیکن جب زلزلہ آیا تو جناب موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ تمام ۷۰ افراد ہلاک ہوگئے اور جناب موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا:

( اتهلکنا بما فعل السفهاء منّا )( ۹۲ )

”کیا تو ہمیں اس کام کے لئے ہلاک کر رہا ہے جو ہمارے بیوقوفوں نے انجام دیا ہے ؟ “

جس کے بعد خداوند متعال نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ”تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ پاوگے لیکن کوہ طور پر چکر لگاو اگر یہ خود اپنی جگہ پر باقی رہ گیا تو مجھے دیکھ لو گے “، جب خدا وند متعال کی کوہ طورپر تجلی ہوئی توکوہ طورٹکڑے ٹکڑے ہو گیا جناب موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے اورجب ہوش آیاتو خدا وند متعال سے کہا:

( سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَاٴَنَا اٴَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ )( ۹۳ )

”پاک پاکیزہ ہے تو، میں نے توبہ کی اور میں سب سے پہلا مومن ہوں“۔

پہاڑ پرالٰہی جلوہ (جیسے گرج، چمک اوربجلی) کے ظاہر ہونا اپنے آثار ظاہر کرنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو خدا وند متعال نے اپنی قدرت نمائی سے ایسا بے ہوش کیا کہ تم لوگ سمجھ لو کہ جب خدا کی ایک قدرت کا اثر کا تحمل نہیں کر سکتے تو اس کے پورے وجود کو سمجھنے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ تم ہر گز اپنی ان مادی آنکھوں سے خداوند متعال کے مجرد وجود کو نہیں دیکھ سکتے ہو اس طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے خداوند متعال کو قلب کی آنکھوں سے دیکھا اور ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اسے ان ظاہری آنکھوں سے ہر گز نہیں دیکھا جا سکتا ہے“۔

طالب علم: ”آپ کے اس مفصل بیان کا بہت شکریہ میں اس موضوع پر مطمئن ہو گیا اور اس چیز کی امید رکھتا ہوں کہ اسی طرح آپ منطقی استدلال سے میرے باقی دوسرے شبہات کوبھی جنھیں میں انشاء اللہ کسی دوسرے وقت بیان کروں گا بیان فرمائیں گے“۔

عالم دین: ”قابل توجہ بات تو یہ کہ اہل سنت کے اکثر مفسرین آیت الکرسی کی تفسیر کرتے ہوئے جنا ب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے مشابہ دوسرایک واقعہ نقل کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے:

”جناب موسیٰ علیہ السلام نے عالم خواب (یا بیداری کی حالت میں) میں فرشتوں کو دیکھا تو ان سے سوال کیا کہ ”کیا ہمارا خداسوتاہے ؟خداوند متعال نے اپنی فرشتوں پر وحی کی کہ موسیٰ علیہ السلام کو سونے نہ دو فرشتوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو تین بار نیند سے بیدار کیا اور ان کے ساتھ وہ لگے رہے تاکہ وہ سونے نہ پائیں جناب موسیٰ علیہ السلام تھک کر چور ہو گئے اور نیند کا احساس کیا تو خداوند متعال کی وحی کے مطابق ان کے دونوں ہاتھوں میں پانی بھری دو شیشیاں تھما دی گئیں۔ جناب موسیٰ علیہ السلام اپنے دونوں ہاتھوں میں ان دونوں شیشیوں کو لئے ہوئے ان کی حفاظت کر رہے تھے یہ دیکھ فرشتے چلے گئے اور ابھی چند لمحے بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ نیند کا اثر غالب آیااور اسی وقت ان کے ہاتھ سے شیشیاں چھوٹ کر گر گئیں اور وہ چور چور ہو گئیں۔خدا وند متعال نے جناب موسیٰ علیہ السلام پر وحی کی میں زمین وآسمان کو اپنی قدرت سے بچائے ہوئے ہوں ”فلو اخذنی نوم اونعاس لزالتا( ۹۴ ) اگر نیند یا ہلکی سی جھپکی بھی مجھ پر غالب آجائے تو زمین وآسمان فنا ہو جائیں۔

یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے کیسے فرشتوں سے اس طرح کا سوال کیا جب کہ وہ پیغمبر تھے اور جانتے تھے کہ خداوند متعال جسم کی تمام ضرورتوں جیسے نیند وغیرہ سے پاک وپاکیز ہے؟

فخر رازی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں: ”اگر ہم فرض کریں کہ مذکورہ روایت صحیح ہے تو ہمیں مجبورا ً کہنا پڑے گا کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ سوال نہ تھا بلکہ ان کی جاہل اور ہٹ دھرم قوم کا سوال تھا“۔( ۹۵ )

واضح طور پر یوں کہا جائے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے اصرار اور ضد سے پریشان ہوکر خدا وند متعال کی بارگاہ میں اس طرح کا سوال کرتے تھے تاکہ خدا وند متعال انھیں اپنی واضح نشانیوں کے ذریعہ ہدایت کردے اور جناب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے شیشیوں کا ٹوٹنا اگر چہ ایک بہت ہی معمولی سا حادثہ ہے لیکن عام لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ بہت ہی اہم اور ضروری تھا۔

ممکن ہے یہ بھی کہا جائے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں اس طرح کے پس وپیش والے لوگ تھے جو اس طرح کی باتیں کیا کرتے تھے جناب موسیٰ علیہ السلام نے ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے خداوند عالم سے اس طرح سوال کیا تاکہ اس کے واضح جواب میں اپنی قوم کو گمراہی سے نجات دے سکیں۔

۹۳۔طالب علم اور عالم دین کے درمیان مہر کے مسئلہ میں دوسرا مناظرہ

طالب علم: ”میں نے مکرر یہ بات سنی ہے کہ اسلام نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عورتوں کی مہر کم سے کم رکھی جائے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:

شوم المراٴة غلاء المهر “ ۔( ۹۶ )

منحوس عورت وہ ہے جس کی مہر زیادہ ہو“۔

افضل نساء امتی اصبحن وجهاواقلهن مهرا “( ۲)(۹۷)

”میری امت کی بہترین عورتیں وہ ہیں جو سب سے زیادہ خوبصورت اور ہنس مکھ ہوں اور جن کا مہر سب سے کم ہو“۔

لیکن قرآن کریم میں دوجگہ ایسی آیتیں پائی جاتی ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ مہر قرار دینا بہتر کہا گیا ہے اور قرآن نے بھی اس بات پر رضایت کا اظہار کیا ہے“۔

عالم دین: ”قرآن میں کہاں اس طرح کی باتیں آئی ہیں ؟ “

طالب علم: ”پہلی جگہ سورہ نساء کی بیسویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

( وَإِنْ اٴَرَدْتُمْ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَکَانَ زَوْجٍ وَآتَیْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلاَتَاٴْخُذُوا مِنْهُ شَیْئًا ) “۔

”اور اگر تم نے اپنی بیوی کے بجائے کسی اور عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو جو تم نے اسے مال کثیر دیا تھا اس میں سے کچھ واپس نہ لو“۔

لفظ ”قنطار “کے معنی بہت سے مال ہو تے ہیں۔جو ہزاروں درہم ودینا رکے لئے کہاجا تا ہے۔قرآن کی اس آیت میں لفظ قنطار لایا گیا ہے جس پر قرآن نے کسی طرح کہ تنقید بھی نہیں کی ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ان سے کچھ واپس نہ لو، اس طرح اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی مہر زیادہ قرار دینا بری بات نہیں ہے ورنہ قرآن اس بری بات پر ضرور کچھ نہ کچھ کہتا۔

اسی بنا پر روایت میں آیا ہے کہ عمربن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جب دیکھا کہ لوگ عورتوں کی مہر زیادہ سے زیادہ رکھ رہے ہیں تو وہ منبر پر گئے اور لوگوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: ”تم لوگ کیوں زیادہ مہر رکھتے ہو“۔اور خبردار کیا کہ اب اگر میں نے سن لیا کہ کسی نے اپنی بیوی کی مہر چار سو درہم سے زیادہ رکھی ہے تو اس پر حد جاری کروں گا اور چار سو درہم سے زیادہ رقم کو بیت المال میں جمع کردوں گا“۔

ایک عورت نے منبر کے نیچے سے کہا:

”کیا تم مجھے چار سو درہم سے زیادہ مہر رکھنے سے منع کرتے ہو اور اگر کسی نے زیادہ رکھی تو اس سے لینے کو کہتے ہو ؟ “

عمر نے کہا: ”ہاں“۔

عورت نے کہا: ”کیا قرآن کی یہ آیت تم نے نہیں سنی ہے جس میں خدا وند متعال فرماتا ہے:

( وَآتَیْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلاَتَاٴْخُذُوا مِنْهُ شَیْئًا )( ۹۸ )

”اور اگر تم کسی زوجہ کو مال کثیر بھی (بعنوان مہر) دے چکے ہو تو خبردار اس میں سے کچھ واپس نہ لینا“۔

عمر نے اس عورت کی بات کی تصدیق کی اور استغفار کرتے ہوئے کہا:

کل الناس افقه من عمر حتی المخدرات فی الحجال “۔( ۹۹ )

”تمام لوگ یہاں تک کہ پردہ میں رہنے والی عورتیں بھی عمر سے زیادہ فقیہ ہیں۔

عالم دین: ”مذکورہ آیت کی شان نزول یہ ہے کہ اسلام سے پہلے،زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ اگر کوئی شخص اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیکر دوسری شادی کرنا چاہتا تھا تو اس پر بری بری تہمتیں لگاتا تھا تاکہ وہ پریشان ہو کر اپنی وصول شدہ مہر کو واپس دے کر طلاق لے لے اور بعد میں اسی مہر کو وہ اپنی دوسری بیوی کے لئے معین کر دے۔

اسلام کی نظر میں مہر کا کم قرار دینا بہتر ہے لیکن اگر کسی سے یہ فعل سرزد ہوگیا اور اس نے عورت کی زیادہ مہر معین کر دی تو بعد میں بغیر عورت کی رضامندی کے اس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔اسی بنا پر مذکورہ آیت مہر کو کم رکھنے کے حکم سے کسی طرح بھی منافات نہیں رکھتی اور حضرت عمر اور عورت کے بحث میں یہ کہنا چاہئے کہ عورت کا جواب بالکل صحیح تھا کیونکہ عمرنے کہا تھا کہ اگر کسی نے چار سو درہم سے زیادہ مہر معین کی تو اضافی رقم لے کر بیت المال میں جمع کر دی جائے گی، عورت نے مذکورہ آیت پڑھ کر عمر سے کہا مہر،معین کرنے کے بعد تم بقیہ رقم واپس لینے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔عمر نے بھی عورت کی اس بات کو قبول کرلیا۔

نتیجہ یہ کہ اسلام میں کم مہر رکھنا مستحب موکد ہے لیکن اگر اس سنت کو کسی نے ترک کیا اور زیادہ مہر رکھ دیا تو بغیر عورت کی رضایت کے اسے کم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

طالب علم: ”آپ کے اس مفصل بیان کا شکریہ جو بہت ہی منطقی تھا اورمیں اس سے قانع ہو گیا۔۔۔ اب مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کی خدمت میں دوسرا سوال پیش کروں“۔

عالم دین: ”فرمائیں“۔

طالب علم: ”قرآن کریم میں جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب شعیب علیہ السلام کا واقعہ ملتا ہے جب جناب موسیٰ علیہ السلام فرعونیوں کے ڈر سے بھاگ کر مدائن شہر پہنچے اور آخر میں جناب شعیب علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوئے تو جناب شعیب علیہ السلام نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے کہا:

( قَالَ إِنِّی اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴُنکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ هَاتَیْنِ عَلَی اٴَنْ تَاٴْجُرَنِی ثَمَانِیَةَ حِجَجٍ فَإِنْ اٴَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ وَمَا اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴَشُقَّ عَلَیْکَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللهُ مِنْ الصَّالِحِین )( ۱۰۰ )

”میں اپنی ان دونوں بیٹیوں (صفورا ولعیا)میں سے کسی ایک کی شادی تمہارے ساتھ اس شرط پر کرنا چاہتاہوں کہ تم آٹھ سال تک میرے یہاں کام کرو اور اگر تم نے اسے دس کردیا تو یہ تمہاری مرضی ہے ،میں تمہیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پاوگے“۔

جناب موسیٰ علیہ السلام نے جناب شعیب کی اس خواہش کی قدر کی اور ان کی درخواست قبول کیا۔

یہ واضح سی بات ہے کہ آٹھ سال کا م کرنا بہت ہی زیادہ مہر ہے جسے خدا کے دو نبیوں نے قبول کیا ہے اور قرآن نے بھی بغیر کسی تنقید کے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔

قرآن مجیدکی تنقید نہ کرنا زیادہ مہر قرارد ینے کی اجازت دیتا ہے۔

عالم دین: ”جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب شعیب علیہ السلام کے واقعہ کے بارے میں یہ معلوم ناچاہئے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی جناب شعیب علیہ السلام کی لڑکیوں کے ساتھ شادی معمولی شادی نہیں تھی بلکہ یہ ایک مقدمہ تھا تاکہ موسیٰ علیہ السلام شہر مدائن کے ”شیخ “جناب شعیب علیہ السلام کے مکتب میں کافی دن تک رہ کر علم وکمال حاصل کریں۔

اگر چہ درست ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کے یہاں کئی سال کام کر کے مہر ادا کی لیکن شعیب علیہ السلام نے بھی موسیٰ علیہ السلام اور ان کی بیوی کا خرچ چلا یا اور اگر موسیٰ علیہ السلام اور ان کی بیوی کی زندگی کا خرچ موسیٰ علیہ السلام کی مزدوری سے کم کر دیا جائے تو بہت کم مال باقی بچتا ہے اور اس لحاظ سے مہر کی مقداربہت کم قرار پائے گی۔

لہٰذا اس طرح جناب شعیب کی بیٹی کا بھاری مہر در اصل جنا ب موسیٰ کی مادی ومعنوی زندگی کے تحفظ کے لئے ایک مقدمہ تھا جو جناب شعیب نے اپنی بیٹی کی مرضی سے انجام دیا تھا۔

واضح اور روشن عبارت میں یہ عرض کیا جائے کہ جناب شعیب علیہ السلام ظاہری طور پر بھاری اور زیادہ مہر قرار دے کر مقصد موسیٰ علیہ السلام کی تنہائی ختم کرنا چاہتے تھے نہ کہ ان کا مقصد انھیں اس مہر سے پریشان کرنا تھا بلکہ ان کا مقصد موسیٰ علیہ السلام کی زندگی سہل اور آسان بنانا تھا جیسا کہ انھوں نے فرمایا: ”ماارید ان اشق علیک “ ،”میں تمہیں زحمت میں نہیں ڈالنا چاہتا“۔

طالب علم: ”آپ کے دل کش اور استدلالی بیان کا بہت شکریہ، سچ مچ جناب شعیب علیہ السلام نے ذہانت اور ہوشمند انہ تدبیر سے جناب موسیٰ علیہ السلام کی بہت اچھی خدمت کی“۔

۹۴۔معاویہ پر لعنت کے جواز سے متعلق ایک مناظرہ

عظیم مرجع مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد اللہ شیرازی فرماتے ہیں: ”اہل سنت کے تقریبا ً بیس افراد جو خراسان کے اطراف و نواح جیسے’ ’تربت جام“وغیرہ سے حج کے لئے مدینہ منورہ آئے ہوئے تھے وہاں پر میں بھی انھیں کے ساتھ باغ صفا میں رہتا تھا۔

ایک روز میرے قریب ہی رہنے والے کچھ اصفہانی حجاج کے ساتھ یہ طے پایا کہ مجلس عزا منعقد کی جائے کیونکہ عزاداری اور محرم کے دن بھی قریب ہیں خراسان کے اطراف تربت وغیرہ کے سنی کے حجاج جو باغ صفا کے ایک بڑے ہال میں رہتے تھے جگہ کے لحاظ سے وہ بہت ہی وسیع وعریض جگہ تھا لہٰذا ہم لوگوں نے ان سے باغ صفا میں کے اس ایوان عزاداری کی در خواست کی تو ان لوگوں نے ہماری درخواست کو قبول کرلیا اور کافی مدد بھی کی۔

اسی دوران مدینہ کے رہنے والے کچھ سنی اہل علم حضرات اُن ایرانی سنیوں سے ملاقات کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔میرے اور ان کے درمیان حضرت علی علیہ السلام کی عظمت ومنزلت کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی اور وہ ہماری بات کی تصدیق کررہے تھے، اور اس گفتگو کے درمیان انھوں نے بہت سی حدیثیں حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نقل کیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام کے لئے فرمایا:

لحمک لحمی و دمک دمی “۔

”تمہارا گوشت میرا گوشت تمہارا خون میرا خون ہے“۔

اور اسی طرح کی دوسری بہت سی روایتیں بھی نقل ہوئی ہیں جو علی علیہ السلام کی دوستی، پیغمبر اکرم کی دوستی اور علی علیہ السلام کی دشمنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دشمنی پر دلالت کرتی ہیں۔

یہاں تک کہ ہماری گفتگو کا سلسلہ لعن معاویہ تک بات پہنچا تو ان لوگوں نے کہا: ”معاویہ پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے لیکن یزید پر لعنت کرنا چاہئے کیونکہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا ہے“۔

میں نے کہا: ”تمہارے مذہب کے مطابق پر لعنت کرنا جائز ہونا چاہئے کیونکہ اس پر لعنت کرنے کا جواز تمہاری ابھی حال میں کہی ہوئی باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

اللهم عاد من عاداه “۔

(خدایا تو اسے دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے )

یہ بات مسلم ہے کہ معاویہ حضرت علی علیہ السلام کا سخت ترین دشمن تھا یہاں تک کہ مرتے وقت تک آپ سے دشمنی روارکھی اور توبہ و استغفار بھی نہیں کیا اور اس طرح اس نے آپ کی دشمنی کی وجہ سے آخری عمر تک آپ کو برا بھلا کہنا نہیں چھوڑا جب کہ اس چیز کو وہ آسانی سے چھوڑا سکتا تھا۔اس دلیل کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کے دشمنوں کے لئے بددعا کی ہے اور معاویہ حضرت علی علیہ السلام کا جانی دشمن تھا لہٰذا اس پر لعنت کرنا جائز ہے۔( ۱۰۱ )

یہاں پر توضیح کے طور پر اس بات پر توجہ رہے کہ اہل سنت کی معتبر کتابوں کے مطابق رسول اسلام نے خود ابو سفیان، معاویہ اور یزید پر لعنت کی ہے،( ۱۰۲ ) یہاں تک کہ فرمایا: ”جب بھی معاویہ کو منبر کے پر دیکھو،اسے قتل کردو۔( ۱۰۳ )

اورا گر یہ کہا جائے (جیسا کہ معاویہ کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں)کہ معاویہ نے اجتہاد کی رو سے علی علیہ السلام سے دشمنی کی تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ نص کے مقابلہ میں ہر گز اجتہاد جائز نہیں ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی باطنی خباثت سے اچھی طرح آگاہ تھے جس کی وجہ سے آپ نے اس کو اس طرح بددعا دی۔اہل سنت کی روایات کے مطابق رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک دن اس پر اس طرح لعنت کی:

”خدایا معاویہ اور عمر وعاص کو جہنم میں ڈال دے“۔( ۱۰۴ )

اہل سنت حضرات کے یہاں جو اصحاب محترم اور قابل قبول سمجھے جاتے ہیں انھوں نے بھی معاویہ کے بارے میں سخت باتیں کہیں ہیں، (اس کی مزید وضاحت کے لئے آپ کتاب الغدیر جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۹ سے ۱۷۷ کا مطالعہ کریں)

شیخ حر عاملی (متوفی ۱۱۰۴ ھ ) غزالی صاحب کتاب ”احیاء العلوم “کی بات کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: غزالی نے صراحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ یزید اور حجاج پر لعن وطعن کرنا جائز نہیں ہے“!!

اس کے شیخ حر عاملی فرماتے ہیں: ”خاندان رسالت سے دشمنی و عداوت رکھنا کیا اس سے بھی زیادہ ممکن ہے جو غزالی ان سے رکھتا تھا؟ جب کہ شیعہ اور سنی دونوں روایتوں سے نقل ہو ا ہے کہ ایک روز ابو سفیان اونٹ پر سوار تھا معاویہ اس کی مہار پکڑے ہوئے اسے کھینچ رہا تھا اور یزید پیچھے سے ہانک رہا تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان تینوں کو دیکھ کر فرمایا:

لعن الله الراکب والقائد والسائق “۔

”خدا! سوار ،مہارپکڑنے والے اور ہانکنے والے تینوں پر لعنت کرے“۔

اس کے بعد شیخ حر عاملی کہتے ہیں: ”کیا خدا وند متعال نے قرآن مجید (کے سورہ نساء میں آیت ۹۳) میں یہ نہیں فرمایا ہے:

( وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِیهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَیْهِ وَلَعَنَهُ وَاٴَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِیماً )

”اور جو بھی مومن کو عمداً قتل کرتا ہے اس کی جزا جہنم ہوتی ہے وہ وہاں ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے اور اس پر لعنت بھیجتا ہے اور اس کے لئے درد ناک عذاب تیار رکھتا ہے“۔

کیا غزالی اس بات کا معتقد ہے کہ امام حسین علیہ السلام مومن نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کے قاتل یزید پر لعنت جائزنہیں سمجھتا ہے ، کیا بے انصافی ہے!!؟( ۱۰۵ )

۹۵۔ امام حسین علیہ السلام پر گریہ سے متعلق واعظ اور سامع کے درمیان مناظرہ

ایک بہت ہی پڑھے لکھے واعظ نے منبر پر تقریر کے دوران امام حسین علیہ السلام پر رونے کے سلسلے میں بہت سی روایتیں نقل کیں جن میں ایک یہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

کل عین باکیة یوم القیامة الاعین بکت علی مصائب الحسین فانها ضاحکة مستبشرة بنعیم الجنة “۔( ۱۰۶ )

”روز قیامت ہر آنکھ گریہ کنا ں ہوگی لیکن امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر رونے والی آنکھیں خدا کی نعمت دیکھ کر ہشاش وبشاس ہوں گی“۔

منبر سے اترنے کے بعد ایک سامع اور واعظ کے درمیان حسب ذیل طریقہ سے مناظرہ ہوا:

سامع: ”یہ تمام اجر وثواب گریہ امام حسین علیہ السلام پر کیوں ہے ؟ جب کہ امام حسین علیہ السلام دنیا میں عظیم انقلاب لا کر کامیاب و سربلند ہوئے اور اپنے خون سے یزیدیوں کو رسوا کیا اور ان کے چہرے ہمیشہ کے لئے کالے کر دیئے اور آخرت میں اس کے بدلے آپ کو بہترین مقام دیا گیا ہے اور آج بھی آپ برزخ اور جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔اور اسلامی نظریہ کے مطابق امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید سورہ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُون )( ۱۰۷ )

”اور اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں“۔

واعظ: ”میں نے ایسی متعدد روایتیں دیکھی ہیں جن میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری اور عزاداری کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اس گریہ و زاری کو برابر زندہ رکھنے کے بارے میں کہا گیا ہے اور شیعہ وسنی دونوں روایتوں میں آیا ہے کہ روز قیامت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خداوند متعال کی بارگاہ میں اس طرح عرض کریں گی:

اللهم اقبل شفاعتی فیمن بکی علی ولدی الحسین “۔

”پالنے والے میرے بیٹے حسین پر گریہ کرنے والوں کے لئے میری شفاعت قبول کر“۔

اسی روایت کے ذیل میں آیا ہے:

فیقبل الله شفاعتها ویدخل الباکین علی الحسین علیه السلام فی الجنة “۔( ۱۰۸ )

”خدا وند عالم فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شفاعت قبول کرے گا اور امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنے والوں کو جنت میں داخل کرے گا“۔

متعدد روایتوں کے مطابق انبیاء علیہم السلام اورپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام حسین علیہ السلام پر گریہ کیا ہے اور عزاداری برپا کی ہے۔

کیا اگر ہم اولیائے خدا اور بارگاہ خدا وندی کے مقرب بندوں کی پیروی میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ کریں توکوئی اعتراض کا مقام ہے ؟نہیں قطعاً نہیں، بلکہ اس عظیم سنت کو زندہ کرنے اور ائمہ علیہم السلام کی اس چیزکی اقتداء میں بہت ہی اجر وثواب ہے یہاں پر ائمہ معصومین علیہم السلام نے گریہ امام حسین علیہ السلام کو کتنی اہمیت دی ہے اس کے بارے میں سے دو عجیب واقعے نقل کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

۱ ۔ایک روز امام سجاد علیہ السلام نے سنا: ایک شخص بازار میں یہ کہہ رہا ہے: میں ایک مسافر ہوں مجھ پر رحم کرو۔(انا الغریب فارحمونی )

امام سجاد علیہ السلام اس کے پاس گئے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر آپ نے فرمایا:

”اگر تیری قسمت اسی (شہر مدینہ میں)مرنا ہوگی تو کیا یہاں تیری لاش کو بے گوروکفن چھوڑ دیا جائے گا ؟“

اس غریب مرد نے کہا: ”اللہ اکبر کس طرح میرے جنازہ کو دفن نہیں کریں گے جب کہ میں مسلمان ہوں اور اسلامی امت کی آنکھوں کے سامنے ہوں“۔

امام سجاد علیہ السلا م نے روتے ہوئے فرمایا:

وا اسفاه علیک یا ابتاه تبقی ثلاثة ایام بلادفن وانت ابن بنت رسول الله “۔( ۱۰۹ )

”کتنے افسوس کی بات ہے اے میرے بابا!رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے ہوتے ہوئے بھی آپ کی لاش تین روز تک بے گوروکفن زمین پر پڑی رہی“۔

۲ ۔تاریخ میں آیا ہے کہ منصور دوانقی (دوسرا عباسی خلیفہ)نے مدینہ میں اپنے والی کو حکم دیا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے گھر میں آگ لگا دو۔

والی مدینہ نے حکم پانے کے بعد آگ اور لکڑی جمع کروائی اور امام جعفرصادق علیہ السلام کے گھر میں آگ لگادی اور گھر کے دالان سے جب شعلے بھڑکنے لگے تو مخدرات عصمت گھر میں رونے یٹنے لگیں یہاں تک کہ ان کی آواز گھر سے باہر پہنچ گئی امام جعفر صادق علیہ السلام نے بڑی مشکل سے آگ بجھا ئی اس کے دوسرے دن کچھ شیعہ حضرات آپ کی احوال پرسی کے لئے گئے تو دیکھا کہ آپ محزون ہیں اور گریہ فرمارہے ہیں ان لوگوں نے کہا: ”کیا دشمنوں کے اس عمل اور ان کی گستاخی پر آپ گریہ کر رہے ہیں جب کہ آپ کے خاندان کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے؟ “

امام جعفر صادق علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”میںکل کے واقعہ پر نہیں روہا ہوں بلکہ اس بات پر رورہا ہوں کہ جب گھر میں آگ کا شعلہ بھڑکنے لگا تو میں نے دیکھا کہ میرے ہوتے ہوئے عورتیں اور بچیاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ بھاگ کر پناہ لے رہی تھیں تاکہ انھیں آگ کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔

فتذکرت عیال جدی الحسین یوم عاشوراء لما هجم القوم علیهم ومنادیهم ینادی احرقوا بیوت الظالمین “۔( ۱۱۰ )

تو اس وقت مجھے روز عاشورہ اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے مصیبت زدہ اہل حرم کی یا د آگئے جب ایک منادی ندا دے رہا تھا کہ ظالموں کے گھروں کو جلا دو“۔

دو مذکورہ واقعے اور اس کے علاوہ بہت سے قرائن سے سمجھا جا سکتا ہے کہ تمام ائمہ علیہم السلام ہمیشہ چاہتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور ان کی عزاداری برابر لوگوں کے دلوں میں تازہ دم رہے اسی بنیاد پر ہم ان کی پیروی میں امام حسین علیہ السلام کی مصیبت زندہ رکھنے کے لئے ان پر گریہ کرتے ہیں اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس عمل پرہمیں عظیم اجر وثواب عطا ہوگا۔

امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ کرنا اور غمگین ہونا اتنا عظیم اور مقدس عمل ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام زیارت امام حسین علیہ السلام کے ضمن میں فرماتے ہیں:

السلام علی الجیوب المضرجات “۔( ۱۱۱ )

”سلام ان گریبانوں پر جو امام حسین علیہ السلا کے غم میں چاک ہوئے ہوں“۔

سامع: ”آپ کی اس راہنمائی کا بہت بہت شکریہ ،بیشک ہمیں اپنی زندگی میں چاہئے کہ ہم ائمہ علیہم السلام کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں، لیکن یہاں میرا مطلب یہ ہے کہ تمام احکام حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہیں تمام احکام اپنے ساتھ ایک ہدف لئے ہوئے ہیں اور کتنا بہتر ہے اگر ہم ان تمام احکام کو با معرفت انجام دیں نہ کہ اندھی تقلید کرتے ہوئے۔

اسی بنا پرمیرا سوال یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام پر گریہ کا کیا مقصد اور کیا سبب ہے ؟ “

واعظ: ”امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور اس کے مقصد کی وضاحت کے سلسلے میں چند باتیں کہی جاسکتی ہیں:

۱ ۔شعائر اللہ کی تعظیم: مرحوم مومن پر گریہ کرنا ایک طرح کا احترام ہے اور یہ گریہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ معاشرہ میں اس کے چلے جانے سے ایک خلا واقع ہو گیا ہے اور وہ اب موجود نہیں ہے تاکہ لوگ اس کے وجود سے فائدہ اٹھائیں۔یہ گریہ اس کے باطنی احساسات ہیں جو مومن کے دنیا سے چلے جانے پر وجود میں آتے ہیں کیونکہ جب وہ مومن اس دنیا میں تھا لو گ اس سے مختلف طرح سے مستفید ہوتے رہتے تھے، گریہ ایک فطری عمل ہے اور جو شخص جتنا عظیم ہوگا دنیا والے اس پر اسی حساب سے زیادہ گریہ کریں گے۔جو دنیا سے جاتا ہے اور اس کے اوپر کوئی گریہ نہیں کرتا تو گویا یہ اس کی ایک طرح کی بے احترامی ہے۔

ایک شخص نے امام علی علیہ السلام سے پوچھا: ”نیک اخلاق کیا ہے ؟ “آپ نے جواب دیا:

ان تعاشروا الناس معاشرة ان عشتم حنواالیکم وان متم بکوا علیکم “۔( ۱۱۲ )

”لوگوں سے اس طرح سلوک کرو کہ جب تک زندہ رہو وہ تمہارے اشتیاق میں تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں اور جب تم مر جاو تو تم پر گریہ کریں“۔

ہر قوم وملت میں یہ رسم پائی جاتی ہے کہ جب بھی اس کے درمیان سے کوئی بزرگ شخصیت اٹھ جاتی ہے تو لوگ اس کے انتقال پر گریہ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی دین محمد ی پر شہادت بھی ایک عظیم اور ہمیشہ باقی رہنے والا واقعہ ہے جس پر گریہ کرنا ان کے ہدف و مقصد کوزندہ رکھنا دینی شعائر کی تعظیم سمجھا جاتا ہے۔

اور قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ مَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ( ۱۱۳ )

”اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی۔--“

۲ ۔عاطفی گریہ: امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی ایک روز (عاشورا) میں جگر سوز شہادت ہر انسان کے دل کو کباب کر دیتی ہے اور ہر انسان کا دل ظالم و ستمگر کے خلاف بر انگیختہ ہوجاتا ہے کربلا کا الم ناک واقعہ اس قدر دل ہلا دینے والا ہے کہ اسے زمانہ نہ کبھی بھلا سکتا ہے اور نہ ہی اسے پرانا بنا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر: عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق جنا ب عیسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں نےانھیں پھانسی دے کر قتل کر دیا اب تم معلوم کر سکتے ہو کہ عیسائی اس یاد کو دنیا کے چپہ چپہ میں لوگوں کے دلوں میں تازہ کرتے ہیں اور غم کا اظہار کرتے ہیں یہاں تک کہ صلیب اپنے لباس اور اپنے کلیسا وغیرہ پر نصب کرکے اسے اپنی علامت قرار دیتے ہیں۔

جب کہ قتل عیسیٰ (عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق)واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے بہت ہی کم اہمیت کا حامل ہے۔

اسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور ان کی عزاداری لوگوں کی محبت کو بر انگیختہ ہونے اور ان کے عظیم اہداف تک پہنچنے کا سبب بنتی ہے۔

ایک استاد کے بقول: ”عقل کی ترجمان ہمیشہ زبان رہی ہے لیکن عشق کا ترجمان آنکھ ہے جہاں احساس اور درد ہوں اورآنسو گریں وہاں عشق ضرور پایا جاتا ہے لیکن جہاں لفظوں کو ترتیب دے کر جملہ چھانٹے وہاں عقل پائی جاتی ہے“۔

اس بنا پر جس طرح مقرر کے زبردست دلائل اور پر زور خطابت اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ اس خاص مذہب سے وابستہ ہے اسی طرح آنکھوں سے گرنے والا آنسو کا ایک قطرہ دشمنوں کے خلاف اعلان جنگ کی طرح ہوتا ہے۔( ۱۱۴ )

مقاصد کی تکمیل اور دشمن کی مغلوبیت کے لئے احساساتی پہلوایک اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا ان کو یکسر نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے کیونکہ یہ بھی کسی انقلاب کی آہٹیں ہوا کرتے ہیں۔

۳ ۔گریہ تائید ہے: امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنا ایک طرح سے ان کے قیام اور ان کے اہداف کی تائید ہے یہ گریہ عمیق ترین شعور و احساسات کو دشمنوں اور ستمگروں کے خلاف ابھارتا ہے جس کے معنی یہ ہیں: اے امام حسین علیہ السلام! آپ ہمارے قلب و جان اور احساسات کے گھروں میں پ موجود ہیں“:

زندہ در قبر دل ما بدن کشتہ تو است

جان مائی و تورا قبر حقیقت دل است

یہ زبان حال شیعہ ہے جو ہر زمان ومکان میں تین ستونوں پر استوار ہے۔

۱ ۔ہمارا قلب اس مبداء ایمان کی خاطر تلاش کرتا ہے جس کے لئے امام حسین علیہ السلام قتل کئے گئے۔

۲ ۔ہمارے کان ان کی سیرت و گفتار کو سنتے ہیں۔

۳ ۔ہماری آنکھیں آنسو بہا کر کربلا کے درد ناک واقعہ کو لوگوں کے دلوں پر نقش کرتی ہیں۔

اگر مذکورہ اسباب میں سے کسی ایک سبب کی وجہ سے گریہ ہواتو یہ سو فی صد ایک سالم فطرت تقاضہ کے تحت عمل میں آیا ہے اس طرح کے گریہ میں کوئی حرج کی بات کیا بلکہ یہ تو امام حسین علیہ السلام کے قیام و انقلاب کے لئے بہت سے فوائد کا حامل بھی ہے۔

۴ ۔ پیام آور اور رسواگر گریہ: ہر انسان جب امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی کیفیت شہادت سنتا ہے کہ وہ بھوکے پیاسے عورتوں اور بچوں کے سامنے جلتی ہوئی زمین پر شہید کر دئیے گئے تو بے اختیا ر اس کے قلب و دماغ میں انقلاب پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے پورے وجود سے یزید کی پلیدی اور قساوت قلبی پر لعنت وملامت کرتا ہے۔

اسی طرح امام حسین علیہ السلام پر گریہ ہر زمان مکان میں ظلم اور ظالم کے خلاف ایک آواز اور ایک طرح کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور کبھی کبھی یہی گریہ دشمن کو کچلنے کا بہترین ذریعہ بن ہوجاتا ہے۔لہٰذ جہاں بھی گریہ بے رحم دشمنوں کی رسوائی کا سبب بنے اور الٰہی پیغام لوگوں تک پہنچ جائے تو اسے ایک قسم کا نہی عن المنکر دین کے راستے کو استوار کرنے اور ظلم و ستم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں عملی اقدام کہا جاسکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ گریہ کی چند قسمیں ہیں جیسے خوف خدا سے گریہ ،شوق کا گریہ، محبت کا گرم وپیام آور گریہ وغیرہ اگر اس گریہ کا صحیح اور مناسب مقصد ہو تو یہ گریہ اپنی تمام قسموں میں سب سی زیادہ اچھا ہے۔

ہاں ایک گریہ مایوسی ،لاچاری،عاجزی اور شکست کی وجہ سے ہوتا ہے جسے گریہ ذلت کہتے ہیں اور اس طرح کا گریہ ان عظیم ہستیوں سے بہت دور ہے اور اولیائے خدا اور اس کے آزاد بندے اس طرح کا گریہ کبھی نہیں کرتے۔

اسی طرح گریہ اور عزاداری کی دو قسم ہے ”مثبت اور منفی“منفی گریہ قابل مذمت اور نقصان دہ ہے لیکن مثبت گریہ اپنے ساتھ بہت سے اصلاحی فوائد لئے ہوئے ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ گریہ کبھی کبھی نہی عن المنکر اور طاغوتیوں کے خلاف قیامت برپاکرنے اور جہاد کی صف میں کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا سب سے اچھا اسلحہ ثابت ہوتا ہے۔

سامع: ”میرے سوال کے جواب میں آپ کے منطقی جامع اور مانع بیان کا بہت شکریہ“۔

واعظ: ”یہاں پر اس مناظرہ کی تکمیل میں کچھ اور باتیں بتاتا چلوں:

اسلام کے بعض دستور العملمیں سیاسی پہلو بھی لایا جاتا ہے ، چنانچہ عزاداری کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ گریہ کرنے یہاں تک کہ رونے والوں جیسی صورت بنانے (تباکی) میں ایک سیاسی پہلو پوشیدہ ہے، (جیسا کہ مناظرہ نمر ۸۱ میں آپ نے امام محمد باقر علیہ السلام کی اپنے اوپر دس سال تک گریہ کرنے کی وصیت میں پڑھا۔)

ائمہ علیہم السلام واقعہ کربلا کے سبب عزاداری کے ضمن میں حق وباطل کے چہرہ کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے اور لوگوں کو غفلت سے نکالنا چاہتے تھےے، لہٰذا انھوں نے ہر موقع اور مناسبت سے واقعہ عاشورہ کو زندہ رکھا، یہاں تک کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:

”امام سجاد علیہ السلام کی انگوٹھی کے نگینہ پر یہ لکھا تھا“:

خزیٰ و شقی قاتل الحسین بن علی علیه السلام “۔( ۱۱۵ )

”حسین بن علی علیہ السلام کا قاتل ذلیل اور رسوا ہوا“۔

حقیقتاً امام سجاد علیہ السلام نے اپنی انگوٹھی پر اس جملہ کو صرف اس لئے کندہ کروارکھا تھا کہ شہادت امام حسین علیہ السلام لوگوںکے دلوں میں تازہ دم ہوتی رہے اور لوگوں کی نظر جب بھی میری اس انگوٹھی پر پڑے توانھیں بنی امیہ کے مظالم یاد آجائیں اور سیاسی لحاظ سے بیدا ررہیں۔

ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور گریہ دو طرح کا ہے۔ مثبت ومنفی، اب اس میں منفی اور قابل مذمت وہ گریہ ہے جو رونے والوں کے عجز وناتوانی اور شکست کو ثابت کرے لیکن مثبت وہ گریہ ہے جو لوگوں کی عزت، شجاعت ،صلاحیت اور بیداری کا سبب بنے۔

____________________

(۸۸) مشارق الانوار سے اقتباس ، بحار الانوار، ج ۷۶ ،ص ۵۷ کی نقل کے مطابق۔

(۸۹) سورہ نساء آیت ۱۶۴۔

(۹۰) سورہ بقرہ آیت ۵۵۔۵۶سورہ نساء آیت ۱۵۳ سورہ اعراف آیت ۱۵۵کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۹۱) جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے قیامت کے سلسلہ میں اسی طرح کا سوال کیا تھا سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔

(۹۲) سورہ اعراف آیت ۱۵۵۔

(۹۳) سورہ اعراف آیت ۱۴۳۔

(۹۴) تفسیر روح البیان ،ج ۱،ص۴۰۰ ،تفسیر قرطبی ،ج ۲،ص۱۰۱۸۔تفسیر فخر رازی ،ج۷،ص۹۔

(۹۵) تفسیر فخر رازی ،ج۷، ص۹۔

(۹۶) وسائل الشیعہ ،ج۱۵ ،ص۱۰۔

(۹۷) وسائل الشیعہ ،ج۱۵ ،ص۱۰۔

(۹۸) سورہ نساء آیت ۲۰۔

(۹۹) تفسیر در منثور ،ج۲،ص۱۳۳۔تفسیر ابن کثیر ،ج۱ص۴۶۸۔تفسیر قرطبی ،کشاف ،غرائب القرآن ،اسی آیت کے ذیل میں ۔

(۱۰۰) سورہ قصص، آیت ۲۷۔

(۱۰۱) الاحتجاجات العشرہ سے اقتباس ،احتجاج ۵۔

(۱۰۲) تاریخ طبری ،ج۱۱،ص۱۳۵۷۔تذکرة الخواص ،ص۲۰۹۔کتاب صفین ،ص۲۲۰۔

(۱۰۳) تاریخ بغداد ج۱۲، ص۱۸۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴، ص۳۳۔

(۱۰۴) کتاب صفین ابن مزاحم ،ص۲۱۹۔مسند بن حنبل ج۴،ص۲۴۸میں ان کے نام کے جگہ ”فلاں فلاں “آیا ہے ۔

(۱۰۵) الاثنی عشریہ فی الرد علی الصوفیہ،تالف شیخ حرعاملی ،ص۱۶۴۔

(۱۰۶) بحار ،ج۴۴،ص۲۹۳۔

(۱۰۷) سورہ آل عمران آیت ۱۶۹۔

(۱۰۸) الاحتجاجات العشرة،ص۲۰۔

(۱۰۹) ماساة الحسین ،تالیف:الخطیب شیخ عبد الوہاب الکاشی ،ص۱۵۲۔

(۱۱۰) ماساة الحسین ،تالیف:الخطیب شیخ عبد الوہاب الکاشی ،ص۱۳۵،۱۳۶۔

(۱۱۱) الوقایع والحوادث،ج۳،ص۳۰۷۔

(۱۱۲) ماساة الحسین علیہ السلام ،ص۱۳۷۔

(۱۱۳) سورہ حج آیت ۳۲۔

(۱۱۴) انگیزہ پیدائش مذہب ،ص۱۵۰۔

(۱۱۵) منتہی الآمال ،ج۲،ص۳۔


۹۶۔پیغمبراسلام آخری نبی ہیں، اس سلسلہ میں ایک مناظرہ

اشارہ

ضروریات دین میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری پیغمبر ماننا ہے جس کے بعد خدا وند متعال کی طرف سے نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ کوئی شریعت ،اس بات کے اثبات میں قرآن میں بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جیسے سورہ احزاب آیت ۴۰ ،سورہ فرقان آیت ۱ ، سورہ فصلت آیت ۴۱ ۔ ۴۲ ۔سورہ انعام آیت ۱۹ ،سورہ سبا ، آیت ۲۸ وغیرہ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ علیہم السلام کی بہت سی روایتیں آپ کے خاتم الانبیاء ہونے پر صریحی ور سے دلالت کرتی ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد آنے والے زمانوں میں فریبی اور چالباز لوگوں نے نیا نیا پیغمبر بنا کر آپ کی خاتمیت کو مخدوش بنانا چاہا۔تاکہ اس طرح سے خود ساختہ ادیان جیسے قادیانیت، بابی گری اور بہائیت معاشرہ میں اپنا اثر ورسوخ پید ا کرسکیں۔

اب درج ذیل مناظرہ جو ایک مسلمان اور بہائی کے درمیان ہوا ملاحظہ فرمائیں:

مسلمان: ”تم اپنی کتابوں اور تقریروں میں اسلام اور قرآن کو اس فرق کے ساتھ قبول کرتے ہو کہ اسلام نسخ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ دوسری شریعت آگئی ہے اب میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن نے تو اپنی متعدد آیتوں میں اسلام کو ایک عالمی اور قیامت تک باقی رہنے والا مذہب کہا ہے اور ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خاتمیت کا اعلان کرتے ہوئے آنے والے نئے دین کا باطل قرار دیا ہے۔

بہائی: ”مثلاًکون سی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری پیغمبر ہیں ؟“

مسلمان: ”سورہ احزاب کی ۴۰ ویں آیت میں۔

( مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اٴَبَا اٴَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا )

”محمد ، تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر شئے کا علم رکھنے والا ہے“۔

آیت میں جملہ ”خاتم النبیین “ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمآخری پیغمبر ہیں،کیونکہ لفظ خاتم کو جس طرح بھی پڑھا جائے اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے ،لہٰذا اس آیت سے صریحی طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد کوئی بھی پیغمبر اور شریعت نہیں آئے گی“۔

بہائی: ”خاتم انگوٹھی کے معنی میں بھی آیا ہے جو زینت کے لئے استعمال ہوتی ہے اس طرح اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انبیاء کی زینت ہیں“۔

مسلمان: ”لفظ خاتم کا رائج اور حقیقی معنی ختم کرنے والے کے ہیں اور کہیں پر یہ نہیں آیا کہ لفظ خاتم کسی انسان کے لئے آیا ہو جس سے زینت مراد لی گئی ہو اور اگر ہم لغات کی طرف رجوع کریں تو پتہ چلے گا کہ خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہی ہیں اب اگر کوئی لفظ اپنے معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ سیاق وسباق رکھتا ہو،ہم اس لفظ کے ساتھ کوئی قرینہ یا کسی طرح کی کوئی دلیل نہیں پاتے ہیں جس کی وجہ سے اصلی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لئے جائیں۔

یہاں پر لفظ خاتم کے بارے میں چند لغات آپ ملاحظہ فرمائیں فیروز آبادی ”قاموس اللغة“ میں کہتے ہیں ”ختم“مہر کرنے کے معنی میں آتا ہے اور ”ختم الشئی“یعنی کسی چیز کا آخر۔

جوہری ”صحاح“میں کہتے ہیں کہ ختم یعنی پہنچنا اور ”خاتمة الشئی“ یعنی اس چیز کاآخر۔

ابو منظور ”لسان العرب“میں کہتے ہیں کہ” ختام القوم“ یعنی قوم کی آخری فرد اور ”خاتم النبیین“ یعنی انبیاء کی آخری فرد۔

راغب ”مفردات“میں کہتے ہیں کہ خاتم النبیین یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود آکر سلسلہ نبوت کو منقطع کر دیا اور نبوت کو تمام کر دیا۔( ۱۱۶ )

نتیجہ یہ ہو اکہ لفظ خاتم سے زینت معنی مراد لینا ظاہر کے خلاف ہے جس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے اور یہاں پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے“۔

بہائی: ”لفظ خاتم کے معنی خط پر آخری مہرہے جس کے معنی تصدیق شدہ کے ہیں لہٰذا اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے سے پہلے کے انبیاء کی تصدیق کرنے والے تھے۔

مسلمان: ”غرض پہلے سوال کے جواب سے یہ واضح ہو گیا کہ خاتم کے اصلی اور رائج معنی تمام اور اختتام کے ہیں اور یہ کہیں پر نہیں سنا گیا ہے لفظ خاتم سے استعمال کے وقت تصدیق مراد لی گئی ہو،اتفاق سے اس سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خاتم یعنی آخر میں مہر لگانا یعنی خاتمہ کا اعلان کرنا“۔

بہائی: ”آیت کہتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاتم النبیین،یعنی پیغمبروں کے سلسلہ کوختم کرنے والے ہیں ،آیت یہ نہیں کہتی کہ مرسلین کے ختم کرنے والے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد رسول کے آنے کی نفی ہوتی ہے“۔

مسلمان: ”اگر چہ قرآن میں رسول اور نبی میں فرق پایا جاتا ہے مثلاًخداوند متعال نے قرآن میں جناب اسماعیل علیہ السلا م کو رسول اور نبی دونوں کہا ہے (سورہ مریم آیت ۵۴) اور اسی طرح جناب موسیٰ کو بھی رسول اور نبی بھی کہا ہے (سورہ مریم آیت ۵۱) لیکن یہ چیز کسی بھی طرح لفظ خاتم میں شبہ نہیں پیدا کرتی ہے کیونکہ نبی یعنی ایسا پیغمبر جس پر خدا وند متعال کی طرف سے وحی ہوتی ہے خواہ وہ لوگوں کی تبلیغ کرنے والا ہو یا نہ ہو، لیکن رسول وہ ہے جو صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہو لہٰذاہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے۔

نتیجہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خاتم انبیاء کہاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اس فرض کے ساتھ کہ ہر رسول پیغمبر ہے بس رسول بھی نہیں آئے گا مثال کے طور پر نبی اور رسول کی مثال انسان اور عالم دین (منطق کی زبان میں عموم خصوص مطلق )کی نسبت پائی جاتی ہے جب بھی ہم کہیں کہ آج ہمارے گھر کوئی انسان نہیں آیا یعنی عالم دین انسان بھی نہیں آیا، اور ہماری بحث میں اگر کہا جائے گیا کہ کوئی پیغمبر ،رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد نہیں آئے گا یعنی کوئی رسول بھی نہیں آئے گا“۔

بہائی: ”نبی اور رسول کے درمیان تباین (جدائی )پایا جاتا ہے جو نبی ہوگا وہ رسول نہیں ہوگا اور جو رسول ہوگا وہ نبی نہیں ہوگا لہٰذا ہمارا اعتراض بجا ہے“۔

مسلمان: ”لفظ رسول ونبی میں اس طرح کا فرق ،علماء اور مفکرین اور آیات وروایات کے خلاف ہے اور یہ ایک مغالطہ ہے کیونکہ تمہارا یہ مسئلہ خود آیت میں ذکر ہوا ہے“۔

وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ( ۱۱۷ )

”اور لیکن وہ رسول خدا اور خاتم النبیین ہیں“۔

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے:”وکان رسولا ”نبیا““موسیٰ علیہ السلام رسول بھی تھے اور نبی بھی (سورہ نساء آیت ۱۷۱)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی (سورہ نساء آیت ۱۷۱ میں)رسول کہہ کر پکارے گئے اور سورہ مریم آیت ۳۰ ،میں نبی کہہ کر پکارے گئے ہیں اگر لفظ نبی اور رسول آپس میں ایک دوسرے کے متضاد لفظ ہوتے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام جیسے انبیاء ان دو متضاد صفتوں کے حامل نہ ہوتے، اس کے علاوہ اور بہت سی روایتیں اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں جس میں پیغمبر اکرم کو خاتم المرسلین کہا گیا ہے جن میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہی ختم الرسل ہیں“۔

بہائی: ”جملہ خاتم النبیین سے ممکن ہے خاص پیغمبر مراد لئے گئے ہوں اس طرح تمام کے تمام پیغمبر اس آیت میں شامل نہیں ہوں گے“۔

مسلمان: ”اس طرح کا اعتراض دوسرے اعتراضوں سے زیادہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ جو شخص بھی عربی قواعدسے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہوگا وہ اس طرح کے جملے میں ہر جگہ ”ال“سے مراد عموم لے گا اور یہاں اس الف اور لام سے مراد ”عہد“ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا اس سے عموم ہی مراد لیا جائے گا“۔

۹۷۔امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی حقیقت کے سلسلے میں ایک مناظرہ

وہابی: ” شیعہ لوگ جو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور ان پر گریہ کرتے ہیں وہ اس لئے کہ اپنے اباء واجداد کے گزشتہ ظلم کا جبران کریں کیونکہ انھیں کے باپ داداوں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو قتل کیا ، اور پھر ان لوگوں نے توبہ کی اور اس طرح انھوں نے توابین (زیادہ توبہ کرنے والوں) کے عنوان سے اپنے گزشتہ ظلم و ستم کا جبران کرنا چاہا “۔

شیعہ: ”تم شیعوں پر یہ تہمت کس ماخذاور حوالہ سے پر لگار ہے ہو؟ “

وہابی: ”جو لوگ کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے آئے تھے وہ شام و حجاز اور بصرہ کے نہیں تھے بلکہ سب کے سب کوفہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت کوفہ میں اکثر شیعہ ہی رہتے تھے، انھیں لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا“۔

شیعہ: ”اولاً اگر بفرض محال شیعوں ہی میں سے کچھ لوگ خوف و فریب سے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مقابلہ میں جنگ کے لئے آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب شیعہ اور اس کے تمام ماننے والوں نے امام حسین علیہ السلام سے منحرف ہو کر یزید کے راستہ کو اختیار کر لیا تھا ،عموما ً یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مذہب وملت میں کچھ نہ کچھ لوگ اپنے مذہب سے منحرف ہوجاتے ہیں لیکن ان کا عمل مذہب کے بے بنیاد ہونے پر دلیل نہیں بن سکتا ہے ،ثانیا ً یہ کہ حقیقت میں یہ سب باتیں محض تہمتیں ہیں جو بالکل بے بنیاد اور جھوٹی ہیں“۔

وہابی: ”کیوںاور کس دلیل سے ؟ “

شیعہ: ”سپاہیوں کا وہ لشکر جو کوفہ سے کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام سے لڑنے آیا تھا ان میں اکثر خوارج ، بنی امیہ اور وہ منافق تھے جو حضرت علی علیہ السلام حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس سے بھگائے گئے تھے اور اس لشکر کے تمام سردار حکومت علی علیہ السلام کے مخالفین میں سے تھے جن کو حضرت علی علیہ السلام نے معزول کر دیا تھا اور وہ لوگ خاندان رسالت علیہم السلام کے معتوب شمار کئے جاتے تھے جن سے ابن زیاد نے نا جائز فائدہ اٹھا یا۔

اور زیادہ تر اس گروہ مرتزقہ(خریدے ہوئے غیر عرب افراد)سے تعلق رکھتے تھے ،جنھیں بنی امیہ نے اپنی داخلی شورش کے کارکنوں کی سرکوبی کے لئے محفوظ کر رکھا تھا اس بنیاد پر کربلا میں جنگ کرنے والے شیعہ ہر گز نہیں تھے۔( ۱۱۸ )

وضاحت: اگرچہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں کوفہ میں شیعوں کی اکثریت تھی لیکن آپ کی شہادت کے بعد معاویہ کی حکومت کے زمانہ میں اس کے جلادوں کی اذیت اور سزاوں کے خوف کی وجہ سے وہ بھاگ گئے اور ادھر ادھر بکھر گئے تھے اور معاویہ کے خریدے ہوئے ظالموں نے اکثر کو قتل کر دیا تھا اور بہت سے بچے ہوئے لوگوں کو کوفہ سے نکال دیا تھا یہاں تک کہ زیاد ابن ابیہ (عراق میں معاویہ کا گورنر) کے زمانہ میں تمام شیعوں کو قتل کر دیا گیا یا زندان میں ڈال دیا گیا تھا اور یا تو وہ لوگ کوفہ سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے، معاویہ کے زمانہ میں اگر کسی پر کفر والحاد اور شرک کا جرم عائد ہوتا تو اس کے لئے نہ کوئی سزا تھی اور نہ کوئی خوف تھا لیکن کسی کو شیعہ کہنا اس کے جان ومال اور اس کے گھر کو ویران کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ،زیاد ابن ابیہ ”سمیہ روسپی“کا بیٹا تھا جب یہ کوفہ کے دار الامارة میں مقرر ہو گیا تو معاویہ نے اسے لکھا: ”اے زیاد ! جو لوگ علی( علیہ السلام) کے مذہب پر زندگی گزار رہے ہیں انھیں قتل کردو اور قتل کے بعد ان کے ناک کان کاٹ لو“۔زیادنے مسجد میں اہل کوفہ کو بلوا کر کہا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کریں اگر کوئی ان پر لعنت نہیں کرے گا تو اس کی گردن اڑادی جائے گی۔( ۱۱۹ )

منقول ہے کہ زیاد ابن ابیہ ”سعد بن سرح “نامی شخص کے قتل کے کے درپے تھا ،امام حسن علیہ السلام نے زیاد کو اپنے خط کے آخر میں لکھا کہ سعد بن سرح بے گناہ مسلمان ہے اس کا پیچھا چھوڑ دے۔

زیاد نے امام حسن علیہ السلام کے خط کے جو اب میں لکھا: ”کہیں نہ کہیں وہ میرے ہاتھ لگ ہی جائے گا اور اسے میں اس لئے قتل کردوں گا کہ وہ تمہارے (نعوذ باللہ )فاسق باپ سے محبت کرتا ہے“۔( ۱۲۰ )

زیاد ابن ابیہ کی ایک ظلم یہ تھا کہ اس نے” سمرہ بن جندب “کو کوفہ اور بصرہ میں اپنا جانشین بنا دیا تھا اور زیاد ابن ابیہ کے مرنے کے بعد معاویہ نے سمرہ کو اس کے عہدہ پر باقی رکھا ،سمرہ کی خونخوار ی کی انتہا یہ تھی کہ اس نے ایک مرتبہ ۸۰ ہزار افراد کو نہایت دردناک طریقہ سے موت کے گھاٹ اتا ر دیا تھا۔( ۱۲۱ )

عدوی کہتے ہیں: سمرہ نے ایک دن صبح کو ہمارے ۱۴۷/ افراد کو بے رحمی سے قتل کردیا جو سب کے سب حافظ قرآن تھے۔( ۱۲۲ )

سر فہرست افراد جیسے حجر بن عدی اور ان کے ساتھی ،مالک اشتر، محمد بن ابی بکر ،عمر بن حمق وغیرہ معاویہ کے خرید ہوئے مزدوروں کے سبب شہید کردیئے گئے۔

معاویہ کی بھیانک اور خطرناک حکومت ایسی تھی کہ عمربن حمق کا کٹا ہو اسر زندان میں ان کی بیوی کے لئے بھیجا گیا،( ۱۲۳ ) اور کوفہ کی فضا اتنی خطرناک حد تک دل ھلا دینے والی تھی کہ لوگ اپنے نزدیک ترین افراد پر بھی اس وجہ سے اطمینان نہیں رکھتے تھے کہ کہیں یہ معاویہ کا جاسوس نہ ہو۔

علامہ امینی لکھتے ہیں: ”اس بات کی طرف توجہ رہے کہ زیاد بن ابیہ کوفہ کے تمام افراد کو پہچانتا تھا کیونکہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانہ میں وہ انھیں لوگوں کا جزء تھا اور وہ تمام شیعوں کو جانتا تھا جس کہ وجہ سے اگر کسی شیعہ نے پتھر کی آڑ میں یا کسی بل میں بھی پناہ لے رکھی تھی تو وہ اسے تلاش کروا کر قتل کردیتا اور ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیتا اور ان کی آنکھوں کو پھوڑ کر پھانسی پر چڑھا دیتا اور بعض کو شہر بدر کروا دیتاتھا نتیجہ میں شیعہ نام کا ایک شخص بھی کوفہ میں باقی نہیں رہ گیا تھا۔( ۱۲۴ )

مختصر یہ کہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ امام حسین علیہ السلام کے زمانہ میں چار ہزار یا پانچ ہزار شیعہ کوفہ میں نہیں بچے تھے اور ابن زیاد جب تخت پر آیاتو ان افراد کو بھی پکڑوا لیا اور امام حسین علیہ السلام کے عراق میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ان سب کو جیل میں ڈال دیا شیعوں کی تعداد اس زمانہ میں بس انھیں افراد پر مشتمل تھی جو یزید کے مرنے اور زیاد ابن ابیہ کے بصرہ جانے کے بعد زندان کے دروازوں کو توڑ کر باہر نکل آئے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کے لئے قیام کیا تھا لیکن اس وقت تک امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو چار سال گزر چکے تھے اور جناب مختار کا قیام اس وقت تک عمل میں نہیں آیا تھا۔

زندان سے نکلے ہوئے یہ تمام شیعہ ۹۳ سالہ ”سلیمان بن صرد خزاعی “کی قیادت میں سپاہ شام سے جنگ کے لئے روانہ ہوگئے نتیجہ میں سلیمان اور اس کے بہت سے ساتھی اس دلیرانہ جنگ میں شہید ہوگئے۔

علامہ مامقانی لکھتے ہیں:

”امام حسین علیہ السلام کے عراق میں وارد ہونے سے پہلے ابن زیادہ نے ۴۵۰۰ شیعوں کو جیل میں ڈال دیا تھا جن میں سلیمان بن صرد خزاعی تھے جنھوں نے چار سال تک جیل کے کوٹھڑیوں میں زندگی گزاری ،اس طرح جو مشہور ہے اور ابن اثر سے نقل ہوا ہے کہ شیعہ اپنی جان کے خوف سے امام حسین علیہ السلام کی حمایت میں نہیںکھڑے ہوئے لیکن وہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد کافی شرمندہ ہوئے اور سلیمان بن صرد کی قیادت میں توابین نامی ایک گروہ کو تشکیل کیا تاکہ گزشتہ گناہ کی تلافی کر سکیں، یہ سراسر جھوٹ بات ہے۔( ۱۲۵ )

اس طرح پتہ چلتا ہے کہ قاتلین امام حسین علیہ السلام کو فہ کے شیعہ نہیں تھے بلکہ خوارج، مرتدین اور منافقین تھے جو حضرت علی علیہ السلام کے دور حکومت میں معزول کردئے گئے تھے اور یہ امام حسین علیہ السلام کی حکومت کے بھگوڑے اور غیر عرب کے خریدے ہوئے پٹھو تھے۔

۹۸۔آیہ ہلاکت سے متعلق میں مناظرہ

اشارہ:

قرآن کی آیتوں میں سے سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۵ آیت ہلاکت کے نام سے مشہور ہے۔

( وَاٴَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَتُلْقُوا بِاٴَیْدِیکُمْ إِلَی التَّهْلُکَةِ وَاٴَحْسِنُوا إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ )

”اور راہ خدا میں خرچ کرو اور اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالو، نیک برتاؤ کرو تاکہ خدا نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

یہاں ہم مذکورہ آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے استاد و شاگرد کے درمیان ہونے والے مناظرہ کو نقل کرتے ہیں:

شاگرد: ”اس آیت میں آیا ہے کہ ”اپنے ہاتھ سے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو، لہٰذا آیت کے مطابق ایسا قیام جس میں جان کا خطرہ ہو یا ایسی نہی عن المنکر جو ضرر و نقصان کا سبب بنے اس کا اقدام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ضررونقصان ایک قسم کی ہلاکت ہے اور انسان کو اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہئے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیام امام حسین علیہ السلام آپ کی جنگ اور آپ کے دوستوں کی شہادت اس آیت سے کس طرح سازگار ہے ؟

استاد: ”اس آیت کے ابتدائی حصہ پر توجہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کی راہ میں مال کا انفاق کرنا جہاد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی راہ میں انفاق کرنے یا حد سے زیادہ انفاق کرنے سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور انفاق کرنے میں افراط و تفریط سے کام نہ لو۔

اسی وجہ سے تفسیر درّمنثور میں اس آیت کے ذیل میں ”اسلم بن ابی عمران“سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا: ”ہم قسطنطنیہ (ترکیہ میں آج کا استامبول) میں تھے تو دیکھا عقبہ بن سالم مصر والوں کے ساتھ اور فضال بن عبید بھی شام والوں کے ساتھ وہاں موجود تھے اور جب روم کا ایک بہت ہی عظیم لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لئے میدان میں آگیا تو میں نے بھی ان کے مقابلہ کے لئے صفوں کو منظم کیا اس اثنا میں ایک مسلمان شخص نے روم کے قلب لشکر پر اس طر ح حملہ کیا کہ وہ لشکر میں داخل ہوگیا یہ دیکھ کر بعض مسلمانوں نے چیخ کر کہا: ”یہ شخص اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے“۔

اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشہور صحابی ابو ایوب انصاری نے کھڑے ہوکر کہا: ”تم لوگ اس آیت ”ولا تلقوابایدیکم ۔۔۔“کے معنی اپنی طرف سے غلط کر رہے ہویہ آیت ہم گروہ انصار کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب خداوند متعال نے اپنے دین کو کامران و کامیاب کیا اور اس کے چاہنے والے بہت زیادہ ہوگئے تو ہم بعض لوگوں نے چھپ چھپ کے آپس میں کہا کہ ہمارا مال ضائع ہو گیا خداوند متعال نے اسلام کو سر فراز کیا اور اس کے ماننے والے بھی زیادہ ہوگئے اگر ہم لوگ اپنے مال کو بچائے ہوئے رہتے تو ہمارا مال ضائع نہ ہوتا اس وقت ہمارے اس بیہودہ اور منفی عمل کی رد میں خدا وند متعال نے یہ آیت نازل کی ۔”اس طرح اس آیت میں ہلاکت سے مراد اپنے مال کی حفاظت اور جہاد کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے ہیں۔( ۱۲۶ )

شاگرد: ”اس بات میں کیا مضائقہ ہے کہ اصل آیت انفاق کے بارے میں ہو لیکن اس کا آخری ٹکڑا ایک قاعدہ کلیّہ کے طور پر آیاہو؟“

استاد: ”کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس صورت میں اس قاعدہ کی اس طرح وضاحت ہوگی“، وہ جگہیں جو ہلاکت میں شمار کی جاتی ہیں وہاں اپنے سے نہ جاو یعنی ایسے مقامات پر جہاں بلا وجہ جان جانے کا خطرہ ہو اور جہاں جان دینے سے کوئی فائد ہ نہ ہو“۔

لیکن اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر ”اہم اور اہم ترین“ کا قاعدہ نافذ ہوگا یعنی اگر جان کا خطرہ مول لے کر کوئی بہت بڑا دینی فائدہ حاصل ہو اور اسلام کو ضرورت ہو تو اس وقت اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنا صرف یہی نہیں کہ کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ بعض اوقات واجب وضروری ہوجاتا ہے، اسلام کے اکثر احکام جیسے جہاد ،نہی عن المنکر اور امر بالمعروف میں خطرہ پایا جاتا ہے لیکن چونکہ اس طرح کے خطرے سعادت و کامرانی تک پہنچنے کے ذرائع ہوا کرتے ہیں لہٰذا ان میں کوئی حرج نہیں۔

اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں کہا جائے کہ ”ہلاکت“کے معنی وہ خطرات ہیں جو بد بختی اور ذلت کا سبب بنیں لیکن اگر جہاد جیسے خطرناک کام انجام دیئے جائیں تو یہ عین سعادت اور کامرانی ہے ،امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے قیام اور انقلاب میں بھی یہی مقصد کار فرما تھا ان لوگوں نے ایسے خطرے اور ایسی موت کو خود سے اختیار کیا تھا جس کے واضح اور روشن نتائج اس زمانہ میں اور روز قیامت تک ہر زمانہ میں دکھائی دیتے رہیں گے، لہٰذا ایسا قدم سعادت کا وسیلہ ہوتا ہے نہ کہ بدبختی کا۔

مثال کے طور پر اگر کوئی ایسے خطر ے میں کو دپڑے جس میں کچھ لوگوں کی جان چلی جائے اور سیکڑوں دیناروں کا نقصان ہو لیکن اس کے بدلے لاکھوں انسانوں کی جان بچ جائے اور ہزاروں دینار کا فائدہ حاصل ہو تو کیا یہ کام اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

اگر کسان گیہوں کے دانوں کو زمین میں ڈالتا ہے تاکہ اس سے ہزاروں من گیہوں حاصل کرسکے تو کیا ا سے یہ کہنا درست ہے ”تم کیوں ان دانوں کو بیکار کر رہے ہو اور مٹی میں ملارہے ہو؟“

اسی بنیاد پر قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔

( لَوْلاَدَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتْ الْاٴَرْضُ )

” اگر خدا کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں کے وسیلہ سے دفع نہ کرے تو زمین پر فتنہ و فساد پھیل جائے“۔( ۱۲۷ )

۹۹۔ ایرانیوں کی شیعت کے سلسلہ میں ایک مناظرہ

اشارہ

اگرچہ ملک ایران میں اسلام حضرت عمر کے دور خلافت میں پہنچا مگر اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ یہاں شیعوں کی اکثریت ہے؟

تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی عوام پہلی صدی سے لے کر ساتویں ہجری صدی تک آہستہ آہستہ اسلام لے آئے ،ہر دفعہ ایک مخصوص کیفیت اور مخصوص واقعہ کی بنا پر ایسا ہوتا تھا جس کے اثرات کافی متاثر کن ہوا کرتے تھے ،اب آپ درج ذیل کے مناظرہ پر توجہ فرمائیں:

زر تشتی: ”میری نظر میں ایرانیوں نے چار وجوہات کی بنا پر شیعیت کو اختیار کیا“۔

۱ ۔ایرانیوں کے یہاں چونکہ موروثی سلطنت پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے انھوں موروثی امامت کو پسند کیا۔

۲ ۔ایرانی قوم پہلے ہی سے اس بات کی معتقد تھی کہ سلطنت وحکومت الٰہی تحفہ ہوتا ہے ان کا یہ عقیدہ شیعوں کے عقیدہ سے میل کھاتا تھا۔

۳ ۔ایرانیوں کے آخری بادشاہ تیسرا ”یز د گرد “کی بیٹی ’شہر بانو“سے امام حسین علیہ السلام کی شادی بھی ایرانیوں کے شیعہ ہونے میں کافی اثرانداز رہی۔

۴ ۔عربوں کے مقابلہ میں ایرانیوں کا نفسیاتی رد عمل شیعیت تھا تاکہ وہ اس کے زیر پردہ اپن زرتشی اعمال کو انجام دے سکیں، لہٰذا تشیع ایرانیوں کا ایجاد کردہ مذہب ہے۔( ۱۲۸ )

شیعہ: ”ایرانیوں کے شیعہ ہونے میں ان چاروں اسباب میں سے ایک بھی سبب درست نہیں ہے ،کیونکہ ایران میں تشیع کی بنیاد سب سے پہلے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانہ میں پڑ چکی تھی رسول اسلام کی وفات کے بعد بنی ہاشم اور کچھ اصحاب جیسے سلمان فارسی ،ابوذر،مقداد وغیرہ کا ایران سے رابطہ تھا۔

ساسانیوں کے ظلم وستم کی تاریخ او ر اس زمانہ کے حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایرانی عوام اس موروثی سلطنت سے پریشان ہو چکے تھے اور وہ ایک جامع اور عادلانہ نظام کی تلاش میں تھے جو انھیں ان نا انصافیوں سے چھٹکارا دلا سکے۔

ممکن ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور جناب شہر بانو کی شادی ایرانی تشیع پر تھوڑا بہت اثر انداز ہوئی ہو مگر اسے اساسی سبب قرار دینا غلط ہے۔

زرتشی: ”اگر ایران میں تشیع کے یہ چار اسباب نہ تھے تو وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنا پر ایران میں تشیع کی جڑیں اتنی گہری اور مضبوط ہو گئیں؟“

شیعہ: ”اسکی بڑی لمبی داستان ہے خلاصہ کے طور پر درج ذیل گیارہ مرحلوں میں اس کی توضیح کی جاسکتی ہے:

۱ ۔پہلی ہجری صدی کے دوسرے حصہ میں ایرانی ،اسلام سے آشنا ہوئے کیونکہ وہ ساسانی حکمرانوں کے ظلم وجور سے تنگ آگئے تھے اور ایک مکمل اور عادلانہ نظام کے منتظر تھے۔

اس مرحلہ میں جناب سلما ن کا کردار نبیادی حیثیت کا حامل تھا جنھوں نے ساسانیوں کے سابق دارالحکومت مدائن کو اسلام کی نشر و اشاعت اور تشیع کا مرکز قرادے دیا تھا ،جناب سلمان نے اسلام کے تعارف کے لئے حضرت علی علیہ السلام کو اختیار کیا تاکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو گم نہ کردیں اور ایرانیوں نے اسلام کی صحیح شناخت کے لئے جناب سلمان کا انتخاب کیا تاکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلماور حضرت علی علیہ السلام کو گم نہ کر دیں۔

۲ ۔حضرت علی علیہ السلام کی کوفہ میں عادلانہ حکومت جہاں ایرانیوں کا آناجانا ہوتا رہتا تھا آپ کے عدل پسند انہ طرز حکومت اور مساوات کے طریقوں نے ان ایرانیوں کو محبت آل رسول کی طرف جذب کر لیا اور وہ اس طرح سے حقیقی اسلام سے آشنا ہوگئے۔

۳ ۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام اور ان کے پیغامات بھی ایسے اسباب تھے جن کی وجہ سے ایرانیوں نے بنی امیہ کو اپنے ساسانی حکمرانوں سے الگ نہ پایا اور انھوں نے یہ جان لیاکہ یہ بھی ویسی ہی ظالم وجابر حکومت ہے لہٰذاوہ خود بخود اہل بیت علیہم السلام کی طرف کھینچتے چلے گئے اس کے بعد غم انگیز واقعہ کربلا ایک ایسے نور کی جھلک تھی جو ان کے دلوں کو اہل بیت علیہم السلام کی محبت سے منور کر گئی۔

۴ ۔امام جعفرصادق علیہ السلام کی عظیم علمی اور ثقافتی تحریک کہ جس میں چار ہزار شاگرد شامل تھے اور سب کے سب شیعیت کے عظیم مبلغ تھے ،یہ ایک اور مرحلہ تھا جس کی بنا پر ایرانیوں کے دلوں میں شیعیت کی بنیادیں مزید مضبوط ہوتی چلی گئیں کیونکہ کوفہ،مدائن سے نزدیک تھا اور بصرہ ،ایران کی سرحد تھی لہٰذ ا حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے بہت سے شاگرد انھیں اطراف کے تھے جو کوفہ کی عظیم مسجد میں بیٹھ کر شیعی طرز تفکر کی تبلیغ کرتے تھے اور اس کی نشر واشاعت میں بڑی محنت کرتے تھے۔

۵ ۔قم وہ مرکز بن چکا تھا جہاں عراق کے جابر حکمرانوں سے بھاگ کر شیعہ پناہ لیتے تھے، ایران میں شیعیت کے پھیلاو میں اس کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔

۶ ۔امام علی رضا علیہ السلام کا مدینہ سے خراسان کا سفر اور ان کی علمی و ثقافتی تحریک بھی انھیں اسباب میں سے تھی کیونکہ مامون شیعہ ہو چکا تھا اور اس نے امام علی رضا علیہ السلام کو سنیوں کو بڑے بڑے علماء سے بحث ومناظرہ کرنے کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب امام علی رضا علیہ السلام نے اسلامی بنیادوں کے بیان میں حدیث ”سلسلة الذہب “بیان کی تو بیس ہزار یا ایک روایت کے مطابق چوبیس ہزار راویوں نے یہ حدیث سنی اور اسے لکھا۔( ۱۲۹ )

جب کہ اس زمانہ میں پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد نہ پڑھنے لکھنے والوں کے مقابلہ میں بہت کم تھی جب وہاں موجود مجمع میں ۲۴ ہزار افراد لکھنے پر قدرت رکھتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عام مجمع اس سے کئی گنا زیادہ تھا۔

۷ ۔حجاز سے مختلف امام زادے اور امام علی رضا علیہ السلام کے خاص احباب کا سفر بھی انھیں اسباب میں سے ہے ،یہ لوگ امام علی رضا علیہ السلام کے عشق میں مدینہ وغیرہ سے ہجرت کر کے ایران آگئے تھے اور بعد میں ایران کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے تھے، اور ان لوگوں کا دوسرے لوگوں سے حسن رابطہ تھا، ایران میں اس طرح بھی شیعیت بہت تیزی سے پھیلی۔

۸ ۔ایران میں شیعوں کے بزرگ علماء کا وجود جیسے شیخ کلینی ،شیخ طوسی،شیخ صدوق،شیخ مفیدوغیرہ یہ سب اسلام حقیقی یعنی شیعیت کی بنیادوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسے پھیلانے میں پورے خلوص اور جدوجہد سے عملی اقدامات کرتے تھے جس کی وجہ سے ایران میں مذہب جعفری کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئیں، اس کے علاوہ حوزہ علمیہ نجف کی تشکیل نے بھی شیعیت کو کافی فروغ دیا۔

۹ ۔آل بابویہ (دیالمہ)کی حکومت نے جو شیعہ تھا چوتھی اور پانچویںصدی کے دوران سیاسی اعتبار سے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اس کی حکومت نے ایران میں شیعیت کو استحکام بخشا اور اس مذہب کے لئے بڑے نفع بخش کا م انجام دیئے۔

۱۰ ۔آٹھویں صدی کے اوائل میں سلطان خداوند کا علامہ حلی کے ہاتھوں شیعہ ہو جانا بھی ایران میں قانونی طور پر شیعیت رائج ہو نے کا سبب بنا ،اسی زمانہ میں شیعیت نے اپنے استحکام کی طرف ایک نہایت مضبوط قدم بڑھایا۔

اسی زمانے میں علامہ حلی کا حوزہ علمیہ اور ان کی مختلف کتابیں بھی اس مذہب کی تبلیغ میں حصہ دار تھیں ان کے اس اہم کردار کو فراموش کرنا ممکن نہیں ہے۔

۱۱ ۔دسویں اور گیارویں صدی میں صفوی حکومت کا ظہور اور ان کے ساتھ شیعہ کے مختلف بزرگ علماء کا وجود جیسے علامہ مجلسی ،میرداماد،شیخ بہائی ،یہ بھی شیعیت کے لئے ایک سنہرا زمانہ گزرا ہے۔

یہ تمام عوامل اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کی وجہ سے ایران میں شیعیت کی بنیاد پڑی اور دیکھتے دیکھتے پورے ایران کو اس نے اپنے اثر میں لے لیا۔( ۱۳۰ )

زرتشتی: ”ایرانیوں کے تشیع میں صرف بیرونی عوامل کا ر فرما تھے یاا ندورونی یا دونوں؟“

شیعہ: ”ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ دونوں عوامل اس میں شریک ہیں کیونکہ ایک طرف سے تو ایرانی عوام ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے بے چین تھی اور مختلف بادشاہوں کے ظلم وجور سے وہ پریشان ہو کر ایک عادلانہ نظام کے خواہاں تھے ،ایک ایسا نظام ،جس میں استحصال و غارت گری کا وجود نہ ہو۔

لہٰذاان وجوہات کی بنا پر ایرانی ،اندورونی طور سے اس طرح کے نظام کے خواہاں تھے دوسری طرف خارجی طور سے انھوں نے عدل وپاکی سے آراستہ اور نہایت عالم ومقدس رہبروں کے سائے میں مذہب شیعیت دیکھا لہٰذا وہ اس کی طرف کھنچتے چلے گئے۔

ایرانی قوم ایک مکمل آئین اور ایک مکمل عادلانہ نظام کو امام علی علیہ السلام اور ان کے اہل بیت کے سائے میں دیکھتے تھے اور ان کے مخالفین کے پاس آئین ونظام کے خلاف نیا آئین پاتے تھے۔

لہٰذا اس بنا پر اندورونی اور بیرونی عوامل نے ایک ساتھ مل کر ایرانیوں کے درمیان ایک عظیم الٰہی انقلاب برپا کردیا اور ان لوگوں نے اسلام کی بہترین راہ یعنی شیعیت کو اختیار کیاچنانچہ پیغمبر نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

اسعد العجم بالاسلام اهل فارس “۔( ۱۳۱ )

”اسلام کے ذریعہ سب سے زیادہ کامیاب ہونے والے عجم اہل فارس ہیں“۔

اسی طرح آپ نے فرمایا ہے:

اعظم الناس نصیبا فی الاسلام اهل فارس “۔( ۱۳۲ )

”مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ اسلام میں حصہ دار اہل فارس ہیں“۔

۱۰۰۔بعض قرآنی آیتوں کے درمیان ظاہری اختلاف کے متعلق ایک مناظرہ

شاگرد: ”میں جب قرآن پڑھتا ہوں تو اس کی آیتوں کو دوسری بعض آیتوں کے ساتھ مقائسہ کرتا ہوں لیکن میںان کے درمیان تضاد پاتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا ممکن ہے کہ کلام خدا میں اختلاف پایا جائے؟“

استاد: ”خدا کے کلام میں اختلاف ناممکن ہے اور قرآن کی تمام آیتوں کے درمیان کسی طرح کا تضاد نہیں پایا جاتا( ۱۳۳ ) لہٰذا ہم خود سورہ نساء کی ۸۲ ویں آیت میں پڑھتے ہیں۔

( وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِیهِ اخْتِلاَفًا کَثِیراً )( ۱۳۴ )

”اگر قرآن غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو وہ لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے“۔

یہ قرآن کی حقانیت کی ایک دلیل ہے کہ اس کی تمام آیتوں میں کسی طرح کا کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا اور یہی اختلاف کا نہ پایا جانا اس کے معجزہ ہونے کی سند ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کسی بشر کی فکری صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

شاگرد: ”تو پھر میں کیوں بعض آیتوںکو پڑھتے وقت اس طرح کا احساس کرتا ہوں جب کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس میں اختلاف ممکن نہیں ہے؟ “

استاد: ”تم ان آیتوں کے ایک دونمونے بتاوجن میں تمہارے خیال میں تضاد اور اختلاف پایاجاتا ہے تاکہ ان پر غور وفکر کیا جا سکے اور بات واضح ہوجائے“۔

شاگرد: ”مثال کے طور پر میں دو نمونے ذکر کرتا ہوں۔

۱ ۔قرآن نے بعض مقامات پر انسان کی قدر منزلت کو اتنا بڑھا یا ہے کہ اس نے کہا ہے:

( فَإِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِین )( ۱۳۵ )

”پس جب میں اسے برابر کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم لوگ سجدہ ریزہوجانا“۔

لیکن بعض آیتوں میں قرآن نے اس طرح انسانوں کے مقام کو پست بتایا ہے کہ جانوروں کو بھی ان سے بلند مقام دیا ہے جیسا کہ ہم سورہ انعام میں پڑھتے ہیں:

( وَلَقَدْ ذَرَاٴْنَا لِجَهَنَّمَ کَثِیرًا مِنْ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لاَیَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ اٴَعْیُنٌ لاَیُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لاَیَسْمَعُونَ بِهَا اٴُوْلَئِکَ کَالْاٴَنْعَامِ بَلْ هُمْ اٴَضَلُّ اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْغَافِلُونَ )( ۱۳۶ )

”اور بتحقیق ہم نے بہت سے جن وانس کے گروہوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو دل رکھتے ہیں مگر اس سے کچھ سمجھتے نہیں،یہ لوگ چوپائے بلکہ اس سے بھی بد تر ہیں اور وہی لوگ غافل ہیں“۔

استاد: ”ان دونوں آیتوں کے درمیان کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ ان دونوں آیتوں نے انسانوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے،اچھے، بُرے ،جو لوگ اچھے ہیں وہ اتنے زیادہ مقرب بارگاہ ہیں کہ اللہ ان کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیتا ہے مگر ان کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو جانوروں سے بھی بد تر ہیں اور عقل جیسی گراں بہا نعمت کی موجودگی میں چوپایوں جیسی حرکت کرتے ہیں“۔

لہٰذا اس بنا پر جو پہلی آیت میں انسانوں کی اتنی قدرومنزلت بیان کی گئی ہے وہ مثبت استعداد رکھنے والوں کی بات ہے،جو اپنی عقل کو صحیح طور سے کار فرما کرکے سعادت وبلند سے بلند ترین مقامات پر پہنچ جاتے ہیں ،اور دوسری آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو اپنے اندر موجود شہوتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں جو اپنے اندر اتنی ساری صلاحیتوں اور خصوصیتوں کے باوجود خود کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور چوپایوں کے طور طریقے اپنا لیتے ہیں“۔

شاگرد: ”میں آپ کے قانع کنندہ بیان کا بہت شکر گزار ہوں اگر آپ اجازت دیں تو دوسرا نمونہ بھی عرض کروں؟“

استاد: ‘”کہو کوئی بات نہیں“۔

شاگرد: ”سورہ نساء کی تیسری آیت میں ہم پڑھتے ہیں“۔

فَانکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً

”پس پاک عورتوں سے نکاح کرو،دوکے ساتھ تین کے ساتھ یا چار کے ساتھ لیکن اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ تم عدالت نہیں کر پاوگے تو ایک سے نکاح کرو“۔

اس آیت کے مطابق اسلام میں عدالت کی مراعات کرنے کی صورت میں ایک ساتھ چار عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے لیکن ہم اسی سورہ کی ۱۱۹ ویں آیت میں پڑھتے ہیں۔

وَلَنْ تَسْتَطِیعُوا اٴَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُم( ۱۳۷ )

”اور تم کبھی بھی عورتوں کے درمیان عدالت نہیں کر سکتے بھلے ہی تم کوشش ہی کیوں نہ کرو“۔

لہٰذا پہلی آیت کے مطابق کئی بیویاں رکھنا جائز ہے البتہ بشرط عدالت ،مگر دوسری آیت کے مطابق چونکہ متعدد بیویوں کے درمیان عدالت ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا ان دونوں آیتوں کے درمیان ایک طرح کا اختلاف پایا جاتا ہے؟“

استاد: ”اتفاق سے یہی بات امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں منکرین خدا ،جیسے ابن ابی العوجاء جیسے لوگوں کی جانب سے اٹھائی گئی تھی،ہشام بن حکم نے امام سے اس اعتراض کا جواب حاصل کیا اور ان اعتراض کرنے والوں کو اس کا جواب دیا( ۱۳۸ ) وہ جواب یہ ہے۔

پہلی آیت میں عدالت سے مراد رفتار وکردار میں انصاف کرنا ہے یعنی تمام بیویوں کے حقوق برابر ہیں اورانسان سب سے ظاہرا ً ایک جیسا برتاو کرے لیکن دوسری آیت میں عدالت سے مراد قلبی لگاو اور محبت میں عدالت قائم کرنا ہے (جو نا ممکن سی بات ہے) لہٰذا ان دونوں آیتوں میں تضاد نہیں ہے اگر کوئی ظاہری طور سے اپنی باتوں اور اپنے کردار سے چار بیویوں کے درمیان عدالت قائم کر سکتا ہو لیکن محبت اور دلی لگاو میں عدالت کی رعایت نہ کرسکےتو اس کے لئے چار بیویوں کا رکھنا جائز ہوگا“۔

شاگرد: ”ہم ان دونوں آیتوں میں کیوں عدالت کے دومعنی مراد لیں جب کہ عدالت کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں؟“

استاد: ”عربی قانون کے لحاظ سے اگر کسی معنی کے لئے قرینہ موجود ہو تو اس کے ظاہری معنی مراد نہ لیتے ہوئے دوسرے مجازی اور باطنی معنی مراد لے سکتے ہیں، اور ان دونوں آیتوں میں واضح شواہد موجود ہیں کہ پہلی آیت میں عدالت سے مراد ظاہر رفتار وکرادر اور دوسری میں باطنی ،جیسا کہ ظاہر آیت سے یہی بات واضح ہوتی ہے لیکن دوسری آیت میں جملے اس طرح ہیں۔

فَلاَتَمِیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوهَا کَالْمُعَلَّقَةِ( ۱۳۹ )

”اپنے تمام میلان کو ایک ہی بیوی کی طرف متوجہ نہ کردو کہ اس کے نتیجے میں دوسری بیویوں کو یوں ہی بلا وجہ چھوڑ دوگے۔

اس جملہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس آیت میں جو یہ کہا گیا ہے کہ تم عورتوں کے درمیان عدالت نہیں قائم کرسکتے اس سے مراد وہ عدالت ہے جو قلبی لگاو اور رجحانات میں ہوتی ہے اور ظاہرسی بات ہے کہ اس طرح کی عدالت ناممکن ہے یعنی کوئی شخص اگر چار بیویوں کا شوہر ہوگا تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ چاروں کوایک مقدارمیںچاہے اور ان سب سے برابر کی محبت کرے البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ چاروں سے ایک جیسا سلوک کرے۔

لہٰذ اان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں پایاجاتا۔

شاگرد: ”میں آپ کے اس قانع کنندہ اور مدلل بیان سے مطمئن ہو گیا،آپ کا شکریہ“۔

کیونکہ ظاہر سی بات ہے اسلامی احکام صرف وہاں تک قابل نفاذ ہوتے ہیں جہاں تک انسان کا اختیار ہو اور عمل یا عدم عمل پر اسے قابو ہو جہاں تک محبت اور دلی تعلق کا سوال ہے تو یہ ایک اضطراری عمل ہے اور اس کا تعلق احساساتی پہلووں سے ہوتا ہے اور انسان اپنے احساس اور قلبی محسوسات پر قادر نہیں ہوتا،لہٰذا اسلام میں چار بیویوں کے درمیان ظاہری طور پر عدالت کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اس طرح فساد اور لڑائی کا امکان پایا جاتا ہے ۔

۱۰۱۔امام زمانہ (عج ) اور آپ کے مخصوص ۳۱۳ناصروں کے متعلق ایک مناظرہ

اشارہ:

مختلف روایتوں کے فرق کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ امام کے وہ اصحاب جو ظہور کے وقت خانہ کعبہ میں آپ کے ہاتھوں پر بیعت کریں گے جب دنیا میں آجائیں گے تو امام ظہور کریں گے اورانھیں کے انتظار میں ہیں،وہ اپنے زمانے کے پہلے انسان ہوں گے جو اپنے امام کے ہاتھوں پر بیعت کریں گے ان کی بیعت امام کے ظہو ر کے ساتھ ہی ہوگی وہ امام کے علمدار ہوں گے اور پوری زمین پر حضرت حجت کی طرف سے منصوب شدہ حاکم ہوں گے۔

اب آپ اسی کے سلسلہ میں در ج ذیل مناظرہ پر توجہ فرمائیں:

جستجو گر: ”براہ کرم مجھے امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ۳۱۳ / اصحاب کے متعلق وارد ہونے والی حدیث بتائیں؟“

محقق: ”یہ حدیث مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے یہ کوئی ایک حدیث نہیں ہے بلکہ دسیوں حدیث ہیں جو سب کی سب امام کے تین سو تیرہ اصحاب کے بارے میں منقول ہوئی ہیں ،ان کے نقل کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تواتر معنوی کی حد تک پہنچ چکی ہیں یعنی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے وقت ۳۱۳ افراد کا ان سے ملحق ہونا اس قدر مشہور ہے کہ جس کی شہرت سے اس کا علم پیدا ہوجاتا ہے اور یہ بات ممکن ہوجاتی ہے کہ اتنے سارے لوگوں نے جھوٹ بول کر اسے نقل کیا ہو اور اس حدیث کے لئے اتنی بڑی سازش رچی ہو۔

جستجو گر: ”کوئی بات نہیں جیسا کہ مولانا کی مثنوی میں ہے“۔

آب دریا ر ا گر نتوان کشید

پس بہ قدر تشنگی باید چشید

(اگر دریا کے پانی کو نہیں بھر سکتے تو پیاس بجھانے کی مقدار کو پینا ہی چاہئے)۔

لہٰذا ان احادیث کے ایک دو نمونے ہی پیش کردیں۔

محقق: ”سورہ ہود کی آیت ۸۰ کی تفسیر میں بیان ہوا کہ جناب لوط علیہ السلام نے اپنی سر کش قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

( لَوْ اٴَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً اٴَوْ آوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِیدٍ )

”اے کاش تمہارے مقابل میرے پاس قدرت ہوتی یا میرے پاس کوئی مضبوط پشت پناہ ہوتا“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”یہاں ”قوة“سے مراد وہی قائم عجل اللہ فرجہ الشریف ہیں اور ”رکن شدید“سے مراد ان کے ۳۱۳/ اصحاب ہیں“۔( ۱۴۰ )

دوسری روایت میں بیان ہوا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے:

لکانّی انظر الیهم مصعدین مِن نجف الکوفة ثلاث مائة وبضعة عشر رجلا کاٴن قلوبهم زُبر الحدید “۔( ۱۴۱ )

”جیسے میں ان تین سو اور کچھ آدمیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جو نجف و کوفہ سے اوپر جارہے ہیں گویا ان کے دل فولاد کے ہیں“۔

جستجو گر: ”کیا پوری دنیا میں ابھی امام کے ۳۱۳ / اصحاب پیدا نہیں ہوئے جو امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ظہور کریں اور لوگوں کو دنیا کے ظلم و جور سے نجات حاصل ہو جائے ؟ “

محقق: ”یہ ۳۱۳ / افراد روایت کے مطابق بہت سی خصوصیتوں کے حامل ہوں گے جس کی طرف توجہ دینے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں ابھی اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پیدا کر سکے“۔

جستجو گر: ”مثلاًکون سی خصوصیتیں؟“

محقق: ”جیسے ہم امام سجاد علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں پڑھتے ہیں کہ جب امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف مکہ میں موجود جم غفیر کے سامنے اپنا تعارف کرئیں گے اور لوگوں کو اپنی طرف بلائیں گے تو کچھ لوگ آپ کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے۔

فیقوم ثلاثمائة ونیف فیمنعونه منه “۔( ۱۴۲ )

”تین سو کچھ افراد کھڑے ہو کر انھیں روک لیں گے“۔

یجمعهم الله بمکة قزعاً کقزع الخریف “۔( ۱۴۳ )

”خدا انھیں برسات کے بادلوں کی طرف مکےہ میں اکٹھا کرے گا“۔

وکانی انظر الی القائم علی منبر الکوفة وحوله ثلاثمائة وثلاث رجلا عدة اهل البدر وهم اصحاب الالویة وهم حکام الله فی ارضه علی خلقه “۔( ۱۴۴ )

”گویا قائم(عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)کو کوفہ کے منبر پر دیکھ رہاہوں اور ان کے اطراف بدر میں شریک ہونے والوں کی تعداد کے برابر مرد کھڑے ہیں یہ ان کے پرچم دار اصحاب اور اللہ کی طرف سے زمین پر حکومت کرنے والے لوگ ہوں گے“۔

اس حدیث کی بنا پر ان افراد کا علم و تقویٰ میں ایسا ہونا ضروری ہے کہ اگر پوری دنیا کو ۳۱۳ حصوں میں بانٹ دیا جائے تو وہ سب ایک ایک حصے پر حکومت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں بعض بزرگوں کے قول کے مطابق تین سو تیرہ افراد امام خمینی کی طرح جنھوں نے ایران کی رہبری سنبھالی لہٰذا ایسے تین سو تیرہ افراد ہونے چاہئے کہ جن کے اندر ایک ملک کو چلانے کی صلاحیت موجود ہو۔

جستجو گر: ”اب میں سمجھ گیا کہ دنیا میں ان خصوصیات کے ساتھ ابھی تین سو تیرہ افراد موجود نہیں ہیں اس کے لئے ایک وسیع منصوبہ کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے افراد تیار کئے جاسکیں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی راہیں ہموار ہو سکیں جس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے مقصد کی تکمیل اور اسلام کی ترقی کے لئے باتقویٰ اور مضبوط وسیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے باایمان اصحاب کی ضرورت محسوس کرتے تھے اسی طرح امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی اپنے ظہور کے لئے ایسے ہی افراد کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

کیا آپ ان تین سو تیرہ افراد کی کچھ خصوصیات بتا سکتے ہیں؟ “

محقق: ”سورہ بقرہ کی ۱۴۸ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

( اٴَیْنَ مَا تَکُونُوا یَاٴْتِ بِکُمْ اللهُ جَمِیعًا )

”تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں یکجا کر دے گا“۔

امام جعفرصادق علیہ السلام نے مذکورہ آیت کو پڑھنے کے بعد فرمایا:

”اس سے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اصحاب مراد ہیں جن کی تعداد ۳۱۳/ ہوگی خدا کی قسم !امت معدودوہی لوگ ہیں خدا کی قسم!سب ایک ساعت میں اکٹھے ہو جائیں گے جیسے موسم خزاں کے بادل تیز ہوا کے وجہ سے جمع ہوجائیں،چنانچہ وہ سب ایک دوسرے کے پاس جمع ہو جائیں گے“۔( ۱۴۵ )

اسی طرح ان کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دور دراز شہروں اور ملکوں سے مکہ آئیں گے“۔( ۱۴۶ )

اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ذی طوی (مکہ سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر )ان ۳۱۳/ افراد کے انتظار میں توقف کریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہنچ جائیں گے اور امام علیہ السلام ان کے ساتھ کعبہ تک آئیں گے( ۱۴۷ ) وہ لوگ پہلے انسان ہوں گے جو امام علیہ السلام کی بیعت کریں گے۔( ۱۴۸ )

وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ ساتھ غیبی امداد سے مالا مال ہوںگے اور دست خدا اور اور امام علیہ السلام کا سایہ ان کے سروں پر سایہ فگن ہوگا۔

جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایاہے:

”گویا میں تمہارے صاحب(امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)کو دیکھ رہا ہوں جو تین سو اور کچھ افراد کے ساتھ کوفہ کے پیچھے سے نجف آرہے ہیں داہنے طرف جبرئیل اور بائیں طرف میکائیل ہیں اور اسرافیل ان کے سامنے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پرچم کو اٹھا ئے ہیں اور اس پرچم کو مخالفوں کے جس گروہ کی طرف جھکادیتے ہیں اللہ انھیں ہلا ک کردیا ہے۔( ۱۴۹ )

جستجو گر: ”امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اصحاب کے بارے میں کیوں ”رجال“ یعنی مردوں کا لفظ استعمال ہوا ہے کیا ان کے اصحاب میں عورتیں نہیں رہیں گی؟کیا عورتیں اس تحریک میں بالکل حصہ نہیں لیں گی؟ “

محقق: ”اکثر مردوں کی بات اس لئے آتی ہے کیونکہ ظہور کے ابتدائی ایام میں صرف جنگ وجہاد کی باتیں ہوں گی لہٰذا مردوں ہی کی بات ہوتی ہے، اور چونکہ جنگ میں جائیں گے لیکن عورتیں محاذ کے علاوہ محنت کریں گی اور مجاہد وں کی خدمت کر کے وہ بھی جہاد کریں گی۔

اور جہاں تک ان ۳۱۳ / اصحاب کا سوال ہے تو بعض روایتوں کے مطابق ان میں عورتیں بھی ہوں گی جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاہے:

”۔۔۔ویجی والله ثلاث مائة وبضعة رجلا فیهم خمسون امراة بمکة علی غیر میعاد قزعا کقزاالخریف “۔( ۱۵۰ )

”خدا کی قسم ! تین سو اور کچھ آفراد آئیں گے جن میں سے پچاس عورتیں ہوگی جو سب مکہ کے پاس فصل خزاںکے بادلوں کی طرح بغیر کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت جمع ہو جائیں گے۔

مفضل سے نقل ہوا ہے کہ امام جعفر صاق علیہ السلام نے فرمایاہے: ”اما م مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ تیرہ عورتیں ہوں گے“۔

میں نے کہا: ”یہ عورتیں امام علیہ السلام کے پاس کیوں ہوں گی“۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ زخمیوں کا علاج کریں گی اور جنگی مریضوں کی تیمارداری کریں گی جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مختلف جنگوںمیں عورتیں اس طرح کا م انجام دیا کرتی تھیں“۔( ۱۵۱ )

جستجو گر: ”امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے عالمی قیام کی نسبت سے یہ تعداد بہت کم ہے؟“

محقق: ”یہ اصحاب ابتداہی میں امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ملحق ہو جائیں گے لیکن اس کے بعد دھیرے دھیرے آپ کے اصحاب کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا“۔

واضح عبارت میں یوں کہا جائے کہ یہ امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وہ خاص اصحاب ہوں گے جو آپ کی عالمی حکومت کے مرکزی ارکان ہوں گے مثلاً ایک روایت میں آیا ہے۔

” ۳۶۰ / الٰہی وکامل اشخاص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے وہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وزراء اور آپ کے عالمی حکومت کے خاص ارکان ہوں گے“۔

اس کے بعد آپ نے یہ بھی فرمایا:

”روم کو فتح کرنے میں امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ستر ہزار اصحاب تکبیر کہتے ہوئے شرکت کریں گے پہلی ہی تکبیر کی گرج کے ساتھ وہ ایک تہائی روم کو فتح کرلیں گے اور دوسری تکبیر کی گرج کے ساتھ دوسرا ایک تہائی حصہ فتح ہو جائے گا تیسری تکبیر کے ساتھ ہی پورا روم فتح ہو جائے“۔( ۱۵۲ )

یا دوسری روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا: ”ستر ہزار سچے اور مخلص اصحاب کوفہ سے امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی مدد کے لئے اٹھیں گے“۔( ۱۵۳ )

اس مناظرہ کی مکمل کرنے کی غرض سے اور کتاب کے حسن ختام کے طور پر حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے متعلق چند روایتیں پیش خد مت ہیں:

۱ ۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

ان القائم صلوات الله علیه ینادی باسمه لیلة ثلاث و عشرین، ویقوم یوم عاشوراء یوم قتل فیه الحسین “۔( ۱۵۴ )

”بلا شبہ قائم صلوات اللہ علیہ کو ان کے نام سے (رمضان کی) ۲۳/ ویں شب کو ندادی جائے گی اور یوم عاشورہ امام حسین علیہ السلام کے شہادت کے روز آپ کا قیام ہوگا“۔

۲ ۔امام سجاد علیہ السلام نے فرمایاہے:

اذا قام قائمنا اذهب الله عزوجل عن شیعتنا العاهة،وجعل قلوبهم کزبر الحدید وجعل قوة الرجل منهم قوة اربعین رجلا ویکونون حکام الارض وسنامها “۔( ۱۵۵ )

”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو خدا وند عالم تمام آفتیں اور وحشتیں ہمارے شیعوں سے دور کر دے گا اور ان کے دلوں کو فولاد کی طرف مضبوط کر دے گااس وقت ایک آدمی کی طاقت چالیس آدمیوں کے برابر ہو جائے گی وہ لوگ تمام دنیا کے حاکم اور سردارہوں گے“۔

۳ ۔امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاہے:

فاذا وقع امرنا وخرج مهدینا ،کان احدهم اجری من اللیث، وامضی من السنان ،ویطاٴ عدونا بقدمیه و یقتله بکفه “۔( ۱۵۶ )

”جب ہمار اقائم ظہور کرے گا تو ہمارا ہر شیعہ شیر سے زیادہ جرات مند ہو جائے گا کہ نیزہ سے زیادہ تیز ہوجائے گا وہ اپنے پیروں سے ہمارے دشمن کو پامال کردے گا اوراپنی ہتھیلیوں سے انھیں مار ڈالے گا“۔

۴ ۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

لیعدن اٴحدکم لخروج القائم و لو سهما “۔( ۱۵۷ )

”تم لوگوں کو اپنے آپ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے تیاری کرنا چاہئے بھلے ہی ایک ایک تیر کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو“۔

آپ نے اسی سلسلے میں یہ حدیث بھی فرمائی:

یذل له کل صعب “۔( ۱۵۸ )

”تمام مشکلات اس کے لئے آسان ہو جائیں گی“۔

الحمد لله رب العالمین

____________________

(۱۱۶) مذکورہ لغت ناموں لفظ ”ختم“

(۱۱۷) سورہ احزاب آیت ۴۰۔

(۱۱۸) اسی وجہ سے امام حسین علیہ السلام نے ان لشکریوں کو عاشورا کے دن ”شیعیان آل ابی سفیان“کہہ کر بلایا تھا جب دشمن خیموں پر حملہ کر نے لگے تو آپ نے فرمایا: ”ویلکم یا شیعة آل ابی سفیان“تمہارا برا ہواے ابو سفیان کے اولاد کے پیروکارو! اگر تم دین نہیں رکھتے اور تمہیں آخرت کا کوئی خوف نہیں تو کم از کم اس دنیا میں ہی آازاد زندگی گزارو،”اللہوف“سید ابن طاووس ص۱۲،

لہٰذا اس بنا پر یہی نہیں کہ وہ حقیقتاً شیعیان علی نہیں تھے بلکہ وہ ظاہراً بھی شیعان علی نہیں تھے ۔

(۱۱۹) مروج الذہب ج۲، ص۶۹، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳، ص۱۹۹، الغدیر ج۱۱، ص۲۳و۳۹۔

(۱۲۰) تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔

(۱۲۱) تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔

(۱۲۲) تاریخ طبری،ج۶،ص۱۳۲۔کامل بن اثیر ،ج۳،ص۱۸۳۔۔

(۱۲۳) الغدیر ج۱۱، ص۴۴۔

(۱۲۴) الغدیر ج۱۱، ص۲۸۔

(۱۲۵) تنقیح المقال ،ج۲،ص۶۳۔اور اگر فرض کریں اس کے درمیان کچھ لوگ برائے شیعہ تھے بھی تب بھی انھیں شیعہ کہنا کسی طرح درست نہ ہوگا البتہ ممکن ہے کہ کچھ افراد ایسے رہے ہوں جن کو سیاسی اور حکومتی حالات کا بالکل اندازہ نہ رہا ہو اور اعتقاد میں بھی وہ ضعیف رہے ہوں لہٰذا یزید کی دھمکیوں سے ڈر گئے ہوں اور پیسے کی لالچ میں آگئے ہوں مگر اس طرح کے چند افراد کی موجودگی سے یہ کہنا کہ امام حسین کو شیعوں نے قتل کیا ہے ہر گز درست نہ ہوگا جو واقعاً شیعہ تھے وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ سارے حالات ان کے سامنے تھے سیاسی حکومتی تغیرات سے وہ پوری طرح آگاہ تھے ،اس وقت کوفہ میں موجود سارے شیعہ اسی نوعیت کے تھے ،اس طرح کی تمام باتیں بکے ہوئے راویوں اور درباری ملاوں کے دین ہیں۔جس کی اصلاح ہونا چاہئے۔

(۱۲۶) تفسیر المیزان،ج۲،ص۷۴۔

(۱۲۷) سورہ بقرہ آیت ۲۵۱۔

(۱۲۸) اس طرح کی باتیں دو گروہ کرتے ہیں ،متعصب سنی جو شیعوں کو ایرانی سیاسی گروہ بتانا چاہتا ہے اور ،ایرانی نیشنلزم ، جنھوں نے اس مذہب کی آڑ میں اپنے قدیم عقائد کو محفوظ کرلیا تھا۔

(۱۲۹) اعیان الشیعہ ج۲، ص۱۸ ، نیا ایڈیشن۔

(۱۳۰) اس چیز کی تفصیل کتاب ”ایرانیان مسلمان در صدر اسلام و سیر تشیع در ایران“ تالیف مولف میں پڑھیں۔

(۱۳۱) کنز العمال،حدیث ۳۴۱۲۵۔

(۱۳۲) کنز العمال،حدیث ۳۴۱۲۶۔

(۱۳۳) اس بات کی وضاحت کے لئے مناظرہ نمبر ۳۰/ کا مطالعہ کریں۔

(۱۳۴) سورہ نساء، آیت۲ ۸۔

(۱۳۵) سورہ ص،۷۲و سورہ حجر۲۹۔

(۱۳۶) سورہ اعراف آیت ۱۷۹۔

(۱۳۷) سورہ نساء آیت ۱۲۹۔

(۱۳۸) تفسیر برہان ،ج۱،ص۲۲۰۔

(۱۳۹) سورہ نساء آیت ۱۲۹۔

(۱۴۰) تفسیر برہان ،ج۲،ص۲۲۸۔اثبات الہداة،ج۷ ص۱۰۰۔

(۱۴۱) بحار،ج۵۲،ص۳۴۳۔

(۱۴۲) بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰۶۔

(۱۴۳) اعیان الشیعہ ، نیا ایڈیشن،ج۲،ص۸۴۔

(۱۴۴) بحار ،ج۵۲،ص۳۲۶۔

(۱۴۵) نور الثقلین ،ج۱،ص۱۳۹۔

(۱۴۶) اثبات الہداة،ج۷،ص۱۷۶۔

(۱۴۷) اثبات الہداة،ج۷، ص۹۲۔

(۱۴۸) بحار،ج۵۲،ص۳۱۶۔

(۱۴۹) اثبات الہداة،ج۷،ص۱۱۳۔اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج۲،ص۸۲۔

(۱۵۰) بحار ،ج۵۲،ص۲۳۳۔اعیان الشیعہ ، نیا ایڈیشن،ج۲،ص۸۴۔

(۱۵۱) اثبات الہداة،ج۷،ص۱۵۰و۱۷۱۔

(۱۵۲) المجالس السنیہ، سید محسن جبل عاملی،ج۵،ص۷۱۱و۷۲۳و۷۲۴۔

(۱۵۳) بحار ،ج۵۲،۳۹۰۔

(۱۵۴) ارشاد مفید ،ص۳۴۱، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۹۰۔

(۱۵۵) بحار،ج۵۲،ص۳۱۷۔

(۱۵۶) اثبات الہداة،ج۷،ص۱۱۳۔

(۱۵۷) غیبة النعمانیة،ص۱۷۲۔

(۱۵۸) بحار ج۵۲،ص۲۸۳۔


فہرست

مقدمہ ۴

اسلام میں مناظرہ کی اہمیت اور مقاصد کی تکمیل میں اس کا کردار ۴

قرآن مجید میں جناب ابراہیم علیہ السلام کے مناظرے ۶

الازہر یونیورسٹی کے ایک بزرگ استاد جناب شلتوت کا قول ۸

کتاب ھٰذا کے بارے میں: ۹

پہلا حصہ: ۱۱

پیغمبر اکرم(ص)، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے شاگردوں کے مناظرے ۱۱

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چند مناظرے ۱۱

۱۔ پانچ گروہوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ( ۱۳ ) ۱۱

ا۔ یہودیوں سے مناظرہ ۱۲

۲۔ عیسائیوں سے مناظرہ ۱۴

۳۔ منکرین خدا سے مناظرہ ۱۷

۴۔دوگانہ پرستوں سے مناظرہ ۱۹

۵۔ بت پرستوں سے مناظرہ ۲۰

مثال کے طور پر: ۲۲

مزید وضاحت: ۲۳

ابو جہل کا سوال ۳۱

۳۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا یہودی دانشوروں سے مناظرہ ۳۲

پہلا نمونہ ۳۵


جب عبد اللہ بن سلام ایمان لے آیا: ۳۵

دوسرا نمونہ ۳۷

۴۔ قبلہ کے سلسلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کایہودیوں سے مناظرہ ۳۷

۵۔قرآن مجید پر اعتراض اور اس کا جواب ۴۰

۶۔ چوبیس منافقوں کی سازش اور آنحضرت کا ان سے مناظرہ ۴۱

منافقوں کے سوالات ۴۳

منافقوں کی سازش ناکام ہو گئی ۴۴

۷۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاعلماء نجران سے مناظرہ ۴۵

۱۔علمائے نجران سے پہلا مناظرہ ۴۶

۲۔عیسائیوں کے اکابر علماء سے مناظرہ ۴۶

۳۔ علمائے نجران کے تیسرے گروہ سے مناظرہ ۵۰

نتیجہ یہ ہے: ۵۱

۸۔ معاویہ سے حضرت علی علیہ السلام کا تحریری مناظرہ ۵۲

۹۔ علی علیہ السلام کااپنے حق کے دفاع میں ایک مناظرہ ۵۳

۱۰۔ معاویہ کی سیاسی سازش کا جواب ۵۷

۱۱۔ امام سجاد علیہ السلام کا ایک بوڑھے شخص سے مناظرہ اور اس کی نجات ۵۸

۱۲۔ ایک منکر خدا کاامام صاد ق علیہ السلام سے مناظرہ کے بعد مسلمان ہونا ۵۹

۱۳۔ابن ابی العوجا ء کی بے انتہا لاچاری ۶۲

۱۴۔مناظرہ کا تیسرا دن ۶۳

۱۵۔ ابن ابی العوجاء کی ناگہانی موت ۶۴


۱۶۔عبد اللہ دیصانی کا مسلمان ہونا ۶۶

۱۷۔ایک ثنوی کو امام علیہ السلام کا جواب ۶۸

۱۸۔ منصور کے حضور میں امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا مناظرہ ۶۹

۱۹۔ایسا مناظرہ جس نے ایک ”خدا نما “کو بے بس کردیا ۷۰

۲۰۔تم یہ جواب حجاز سے لے آئے ہو ۷۱

۲۱۔امام علیہ السلام کے شاگردوں کا ایک مردشامی سے مناظرہ ۷۲

۲۲۔شامی دانشورسے ہشام کا زبردست مناظرہ ۷۴

۲۳۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حضور ایک جاثلیق کا مسلمان ہونا ۷۷

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے جاثلیق کی گفتگو ۷۸

بریہہ کی امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ گفتگو ۷۹

۲۴۔امام مو سیٰ کاظم علیہ السلام کے سامنے ابو یوسف کی لاچاری ۸۰

۲۵۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا ہارون کے ساتھ مناظرہ ۸۱

۲۶۔امام علی رضا علیہ السلام کا ابو قرة سے مناظرہ ۸۵

۲۷۔ ایک منکر خدا سے امام علی رضا علیہ السلام کا مناظرہ ۸۸

۲۸۔مشیت اور ارادہ کے معنی کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ۸۹

۲۹۔ امام علی نقی (ع) کی فضیلت میں مامون کا بنی عباس سے مناظرہ ۹۰

امام محمد تقی علیہ السلام میدان علم و دانش کے مجاہد ۹۱

۳۰۔ عراقی فلسفی کی حالت متغیر کردینے والا ایک مناظرہ ۹۲

دوسرا حصہ: ۹۵

اکابر علمائے اسلام کے مختلف گروہوں کے ساتھ مناظرے ۹۵


۳۱۔سبط ابن جوزی سے ایک ہوشیار عورت کا مناظرہ ۹۵

۳۲۔ایک حملہ میں تین سوالوں کے جواب ۹۶

۳۳۔جناب بہلول کاوزیر کو بہترین جواب ۹۷

۳۴۔جبر یہ کے ایک استاد سے شیعہ عالم کا مناظرہ ۹۷

۳۵۔جناب فضال کا ابو حنیفہ سے دلچسپ مناظرہ ۹۹

۳۶۔ایک شجاع عورت کا حجاج سے زبردست مناظرہ ۱۰۱

۳۷۔ ابو الہذیل سے ایک گمنام شخص کا عجیب مناظرہ ۱۰۵

۳۸۔مامو ن کا علماء سے مناظرہ ۱۰۸

۳۹۔ حدیث رسول کے سلسلہ میں بیٹے کے اعتراض پر ابو دُلف کا جواب ۱۰۹

۴۰۔ ایک غیرت مند جوان کا ابو ہریرہ سے دندان شکن مناظرہ ۱۱۰

۴۱۔ ناروا تہمتوں کا جواب ۱۱۳

۴۲۔دلائل کے مقابل ایک وہابی عالم کی لاچاری ۱۱۴

۴۳۔ایک مرجع کا وہابی پلس سے مناظرہ ۱۱۷

علی بن میثم کے چند دلچسپ مناظرے ۱۱۸

اشارہ: ۱۱۸

۴۴۔علی بن میثم کاایک عیسائی سے مناظرہ ۱۱۹

۴۵۔ علی بن میثم کا ایک منکر خدا سے بہترین مناظرہ ۱۱۹

۴۶۔ علی بن میثم کاابو الہذیل سے مناظرہ ۱۲۰

۴۷۔ عمر بن عبد العزیز کا مناظرہ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی برتری کا اعلان ۱۲۱

۴۸۔ مخالف کی رسوائی کے لئے شیخ بہائی کا ایک عجیب مناظرہ ۱۲۳


۴۹۔ سید موصلی سے علامہ حلی کا مناظرہ ۱۲۴

دوسراحصہ و تیسراحصہ ۱۲۷

۵۰۔ایک شیعہ عالم کا امر بالمعروف کمیٹی کے صدر سے مناظرہ ۱۲۷

۵۱۔علامہ امینی کا قانع کنندہ جواب ۱۲۸

۵۲۔کیا سجدہ گاہ اور پتھر پر سجدہ کرنا شرک ہے؟ ۱۲۹

مختصر وضاحت ۱۳۱

۵۳۔امر بالمعروف کمیٹی کے صدر سے ایک شیعہ دانشور کا مناظرہ ۱۳۳

اس سلسلہ میں ایک غم انگیز واقعہ ۱۳۴

۵۴۔مظلومیت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کیوں؟ ۱۳۵

۵۵۔خاک شفا اور سجدہ گاہ پر سجدہ کے بارے میں ایک مناظرہ ۱۳۶

۵۶۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اگر کوئی رسول ہوتا تو وہ کون ہوتا؟ ۱۴۰

۵۷۔متعہ (وقتی شادی) کے جواز پر ایک مناظرہ ۱۴۱

۵۸۔ایک شیعہ دانشور کا عیسائی دانشورسے مناظرہ ۱۴۲

۵۹۔شیخ مفید کا قاضی عبد الجبار سے مناظرہ ۱۴۴

۶۰شیخ مفید کا عمر بن خطاب سے (عالم خواب میں) مناظرہ ۱۴۶

۶۱۔مامون کا آیہ غار کے متعلق سنی عالم سے مناظرہ ۱۵۲

۶۲۔ مولف کاابن ابی الحدید سے غائبانہ مناظرہ ۱۵۵

۶۳۔نص کے مقابل اجتہاد کے متعلق ایک مناظرہ ۱۵۶

اشارہ: ۱۵۶

تیسراحصہ ۱۶۰


ڈاکٹرسید محمد تیجانی کے مناظرے ۱۶۰

اشارہ: ۱۶۰

۶۴۔ توسل کے بارے میں ڈاکٹر تیجانی سے آیت اللہ شہید صدر کا مناظرہ ۱۶۰

۶۵۔ اذان میں حضرت علی علیہ السلام کا نام کی گواہی ۱۶۲

۶۶۔آیت اللہ العظمیٰ آقائی خوئی طاب ثراہ سے گفتگو ۱۶۳

۶۷۔نماز ظہرین اور مغربین کو ایک ساتھ پڑھنا ۱۶۵

اشارہ: ۱۶۵

۶۸۔اہل سنت کے امام جماعت سے (ایک ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق) بہترین مناظرہ ۱۶۸

۶۹۔قاضی مدینہ کی بے بسی(آیہ تطہیر کی تحقیق) ۱۶۹

۷۰۔آل محمد پر صلوات سے متعلق ایک مناظرہ ۱۷۱

اشارہ: ۱۷۱

۷۱۔حدیث غدیر سے متعلق ایک مناظرہ ۱۷۶

۷۳۔قبر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بلند آواز میں زیارت پڑھنا ۱۸۲

۷۴۔علمائے اہل سنت سے شیخ بہائی کے پدربزرگوار کے مناظرے ۱۸۴

۲۔مذہب تشیع کی عدم شہرت اور اہل سنت کی شہرت کے متعلق ایک مناظرہ ۱۸۷

۷۵۔اصحاب کو برا بھلا کہنے کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ۱۸۹

تیسرا حصہ و چوتھاحصہ ۱۹۲

۷۶۔صحابہ کو برا بھلا کہنے کے سلسلہ میں دوسرا مناظرہ ۱۹۲

۷۷۔آیہ ”رضوان“ کے بارے میں ایک مناظرہ ۱۹۴

مولف: ۱۹۵


قبروں کے پاس بیٹھنے کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ۱۹۵

۷۸۔ ”عشرہ مبشرہ “کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ۱۹۶

۷۹۔قبروں پر پیسے ڈالنا ۱۹۸

۸۰۔ ہر طرف سے شرک کی آواز ۱۹۹

چوتھاحصہ ۲۰۱

اس مصنف سے مناظرہ ۲۰۱

۸۱۔ حج کے (سیاسی پہلو کے) بارے میں دو علماء کا مناظرہ ۲۰۲

۱۔پیغمبر اکرم اور آپ کے ساتھیوں کا طواف کرتے وقت تو حیدی مظاہرہ ۲۰۶

۲۔امام حسین علیہ السلام کا حج کے زمانہ میں معاویہ پر شدید اعتراض ۲۰۷

۳۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام کا اپنے ہم عصر طاغوت سے خانہ کعبہ میں مقابلہ ۲۰۹

۴۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی سیاسی وصیت ۲۱۰

۸۲۔ عبد المطلب اور ابو طالب کی قبروں کی زیارت اور ان کے ایمان کے بارے میں ایک مناظرہ ۲۱۲

اشارہ: ۲۱۲

مزید وضاحت: ۲۱۴

ایمان ابو طالب کے بارے میں ایک اور مناظرہ ۲۱۶

مزید وضاحت: ۲۱۸

۸۳۔ کیا حضرت علی علیہ السلام بہت قیمتی انگوٹھی پہنچتے تھے ۲۱۸

اشارہ ۲۱۸

۸۴۔ کیوں علی علیہ السلام کا نام قرآن میں نہیں ؟ ۲۲۰

۸۵۔ شیعہ مذہب کی پیروی (ہی) صحیح ہے ۲۲۲


شیخ محمود شلتوت کا تاریخی فتوی ۲۲۲

۸۶۔قبروں کی عمارتوں کو ویرانی کے بارے میں ایک مناظرہ ۲۲۷

اشارہ ۲۲۷

۸۷۔ خانہ کعبہ میںحضرت علی علیہ السلام کی ولادت پر ایک مناظرہ ۲۳۰

اشارہ ۲۳۰

۸۸۔امامت اور حدیث ”اصحابی کالنجوم “سے متعلق مناظرہ ۲۳۲

۸۹۔علی علیہ السلام ، راہ عدالت کے شہید ۲۳۴

۹۰۔ استاد اور شاگرد کے درمیان ائمہ کی سخاوت کے بارے میں مناظرہ ۲۳۷

۹۱۔حضرت علی علیہ السلام کی عظمت اور مسئلہ وحی کے بارے میں مناظرہ ۲۴۳

۹۲۔ایک طالب علم اور عالم دین کے درمیان ایک مناظرہ ۲۴۴

۹۳۔طالب علم اور عالم دین کے درمیان مہر کے مسئلہ میں دوسرا مناظرہ ۲۴۷

۹۴۔معاویہ پر لعنت کے جواز سے متعلق ایک مناظرہ ۲۵۰

۹۵۔ امام حسین علیہ السلام پر گریہ سے متعلق واعظ اور سامع کے درمیان مناظرہ ۲۵۲

۹۶۔پیغمبراسلام آخری نبی ہیں، اس سلسلہ میں ایک مناظرہ ۲۶۰

اشارہ ۲۶۰

۹۷۔امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی حقیقت کے سلسلے میں ایک مناظرہ ۲۶۳

۹۸۔آیہ ہلاکت سے متعلق میں مناظرہ ۲۶۵

اشارہ: ۲۶۵

۹۹۔ ایرانیوں کی شیعت کے سلسلہ میں ایک مناظرہ ۲۶۸

اشارہ ۲۶۸


۱۰۰۔بعض قرآنی آیتوں کے درمیان ظاہری اختلاف کے متعلق ایک مناظرہ ۲۷۱

۱۰۱۔امام زمانہ (عج ) اور آپ کے مخصوص ۳۱۳ناصروں کے متعلق ایک مناظرہ ۲۷۴

اشارہ: ۲۷۴

۱۰۱ دلچسپ مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے

مؤلف: استاد محمدی اشتہاردی
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 29