یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
گناھان کبیرہ
مصنف: آیۃ اللہ شھید دستغیب شیرازی
آیة اللہ دستغیب کی مختصر سوانح حیات
شہید آیة اللہ دستغیب ایک پاکیزہ گھرانے کے کے پاکیزہ قلب انسان تھے۔ آپ نے آٹھ سو سالہ قدیم بزرگ علمی گھرانے دستغیب میں پیدا ہوئے۔ گھر کے مذہبی ماحول اور "اسلام" اور "روحانیت" سے قدرتی لگاؤ کی بنا پر ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے نجف اشرف کا رُخ کیا۔
وہاں آپ نے جوارِ حضرت مولیٰ الموحدین امیرالمومنین حضرت علی بن ابیطالب(علیہ السلام) (عراق) میں بزرگ اساتذہ کرام اور آیاتِ عظام کے حضور زانوئے ادب تہہ کیا، اس کے بعد اُس وقت کے بزرگ مراجع کرام سے اجازہ اجتہاد حاصل کر کے شیرازہ واپس لوٹ آئے۔ شیرازہ میں آپ نے جامع مسجد عتیق کی (جو کہ نہایت بوسیدہ حالت میں تھی )لاکھوں تومان خرچ کر کے تعمیرِ نو کرائی، اور پھر وہاں درسِ تفسیر واخلاق کا سلسلہ شروع کیا۔ لہٰذا آپ کی متواتر کوششوں کے سبب شیراز کے حورزہ عِلمیہ نے درسِ فقہ واصول اور اخلاقیات میں ممتاز حیثیت اختیار کر لی۔
ظالم شاہ کی بے دین حکومت سے مسلسل مبارزہ کی بناء پر آپ متعدد بار گرفتار ہوئے اور آپ کو گھر میں بھی نظربند رکھا گیا۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد آپ مجلسِ خیرگان کے رکن منتخب ہوئے اور اہلِ شیراز کی درخواست پر آپ کو اما خمینی کے نمائندہ اور امامِ جمعہ شیراز کے منصب پر فائز کیا گیا۔
شہید دستغیب نے متعدد علمی آثار چھوڑے ہیں جن میں "شرح حاشیہ کفایہ، رسائل ومکاسب، گناہانِ کبیرہ، قلبِ سلیم، صلوٰة الخاشعین، معاد، توبہ، زندگانی حضرت زہراء وزینب کبریٰ + ، استعاذہ اور ہزار سوال "کے علاوہ درجنوں اخلاقی فقہی اور تفسیر کی کتب شامل ہیں۔
الغرض آپ اخلاق ومحبت ، خلوص ومروت اور زہدوتقویٰ کے مکمل عملی نمونہ تھے۔ ۲۰/ آذر ماہ، سن ۱۳۶۰ ء ھ ش کو عین اس وقت جب آپ جمعہ کے طاغوت شکن اجتماع میں نماز کی اقتداء کرنے کی غرض سے مسجد کی جانب تشریف لے جا رہے تھے عالمی استکبار کے ایجنٹوں (منافقین) کے ہاتھوں بم کے دھماکے میں شہید ہو گئے۔
لَقَدْ عَاشَ سَعِیْد ادَمٰات شَهِیْداً
حقیر
سیّد محمد علی الحسینی بلتستانی
تقویٰ کی حقیقت
تقویٰ کا مصدر وقایہٰ ہے، جس کے معنی ہیں حفاظت اور پرہیزگاری۔ شرعی اصطلاح میں خود کو ہر اس چیز سے روکنا جو آخرت کے لیے نقصان دہ ہو، باالفاظِ دیگر اوامر و نواہی میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا تقویٰ ہے چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے جب تقویٰ کے معنی دریافت کیے گئے تو آپ نے فرمایا :
اَنْ َ لایَفْقُدُکَ حَیْثُ اَمَرَکَ وَ َ لا یَدَاکَ حَیْثُ نَهَاکَ
(سفینة البحار جلد ۳ ص ۶۷۸)
"جہاں حکمِ خدا ہے وہاں سرِ تسلیم خم کر دو اور جہاں نہی خداوندی ہے وہاں سے دُور رہو"۔
یعنی احکامِ خداوندی کو بجا لانے والے اور اُس کی منہیات سے بچنے والے بنو اس بناء پر تقویٰ کی دو قسمیں ہیں:
اوّل اطاعتِ الٰہی حاصل کرنا اور اُس کے احکامات کو بجا لانا یعنی اس طرح کہ کوئی واجب ترک نہ ہو۔واجب امور وہ ہیں جن کے انجام نہ دینے سے پروردگارِ عالم کے غیظ وغضب کا مورد قرار پائے گا ساتھ ہی جہاں تک ممکن ہو مستحبات کو بھی ترک نہ کرے۔ مستحب وہ اعمال ہیں جن کی بجا آوری میں ثواب ہے لیکن اُن کو ترک کرنے میں عذاب نہیں۔
تقویٰ کی دوسری قسم حرام چیزوں سے بچنا اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے اُن کو ترک کرنا ہے اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اور منع کی ہوئی باتوں سے کہ جو اس کے غیظ وغضب کا موجب ہیں بچتا رہے ۔حرام بندہ کا وہ عمل ہے جس کے ارتکاب سے وہ عذابِ الٰہی کا مستوجب ٹھہرے ۔ اس کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ وہ مکروہات کو بھی ترک کر دے ۔مکروہ بندہ کا وہ عمل ہے جس کا نہ کرنا بہتر ہے اور ترک کرنے میں شارع مقدس کی رضا ہے۔ لیکن اس کے کرنے پر عذاب نہیں۔ وہ شخص کہ جو سعادت اور تقویٰ کے بلند مقام کا طالب ہے اُسے چاہیئے کہ تقویٰ کے دوسرے مرتبے کو جو حرام چیزوں اور گناہوں سے پرہیز کرنا ہے زیادہ اہمیت دے۔ کیونکہ اگر حرام چیزوں سے پرہیز کر لیا تو اس کا عمل کتنا ہی حقیر اور کم ہی کیوں نہ ہو بارگاہِ خداوندی میں قبول پاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
( اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَقِّیْنَ ) (سورہ ۵ آیت ۲۷)
"خداصرف پرہیز گاروں سے (اعمال)قبول کرتا ہے "۔
اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے ارشاد فرمایا :
یَکْفِیْ مِنَ الدُّعَاءِ مَعَ البِرِّ مَایَکْفِیْ الطَّعَامِ مِنَ الْمِلْحِ
"دعا کی استجابت کے لیے پرہیز گار شخص کی مختصر سی دعا اس طرح سے کافی ہے جس طرح کھانے کو خوش ذائقہ بنانے کے لیے تھوڑا سا نمک کافی ہے۔" (عدة الداعی)
گناہ اچھے اعمال کو ضائع کر دیتا ہے
بعض گناہانِ کبیرہ اعمالِ صالح کو نابود کر دیتے ہیں جس کی تفسیر آگے بیان کی جائے گی۔ مختصر یہ کہ گناہ سے پرہیز کرنا اچھے اعمال بجا لانے سے زیادہ اہم ہے۔ اس مقصد کے ثبوت میں کچھ روایات نقل کی جاتی ہیں:
روایات میں ترکِ حرام کی اہمیت
پہلی روایت:
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :
تَرْکُ لُقْمَةِ الْحَرَامِ اَحَبُّ اِلٰی اللّٰهِ مِنْ صَلٰوةِ اَلْفَیْ رَکْعَةِ تَطَوَّعاً (عدةالدّاعی)
"لقمہ حرام کا نہ کھانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس کی خوشنودی کے لیے دو ہزار رکعت مستحبی نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے "۔
دوسری روایت:
رَزُدَانِقِ حَرَامٍ یَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰهِ سَبْعِیْنَ حَجَّةً مَّبْرُوْرَةً (عدة الداعی)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :"ایک درہم اس کے مالک کو واپس کر دینا خداوندِعالم کے نزدیک ستّر حج مقبول کے برابر ہے"۔
تیسری روایت:
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا :
جِدُّوْا وَاجْتَهِدُوْا وَاِن لَّمْ تَعْمَلُوْا فَلاَ تَعْصُوْا، فَاِنَّ مَنْ یَّبْنِیْ وَ َ لایَهْدِمُ یَرْتَفِعُ بِنَائَه وَاِنّ کانَ یَسِیْرًا وَمَنْ یَبْنِیْ وَ یَهْدِمُ یُوْشَکُ اَنْ َ لایَرتَفِع بِنَائَه
(عدة الداعی۔ ص ۲۳۵)
"اچھے اعمال کو بجا لا نے کی کوشش زیادہ کرو ، اگر نیک اعمال نہ بجا لا سکو تو کم از کم نافرمانی نہ کرو، کیونکہ اگر کوئی عمارت کہ بنیاد رکھے اور اُسے خراب نہ کرے تو اگرچہ کام کی رفتار کم بھی ہو وہ عمارت یقینا بلند ہوتی ہے اور ( اس کے برعکس) وہ شخص جو بنیاد رکھدے اور ساتھ خراب بھی کرتا رہے اس عمارت کی دیوار ہو سکتا ہے کہ کبھی بلند نہ ہو"۔
بہشت کے درخت کو جلانے والی آگ
چوتھی روایت:
قَالَ النَّبِیُّ (ص) مَنْ قَالَ سُبحَانَ اللّٰهِ غَرَسَ اللّٰهُ لَه شَجَرَةً فِی الْجَنَّةِ فَقَامَ رَجُلٌ مِّنْ قُرَیْشٍ وَقَالَ اِنَّ شَجَرَنَا فِی الْجَنَّةِ لَکَثِیْرَةٌ قَالَ (ص) نَعَمْ وَلٰکِنْ اِیَّاکُمْ اَنْ تُرْسِلُوْا اِلَیْهَا نِیْراناً فَتُحْرِ قُوْهَا (عدة الداعی ص ۲۳۵)
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے فرمایا:اگر کوئی سبّحان اللہ کہے تو خداوندِ عالم اس کے لیے بہشت میں ایک درخت لگاتا ہے "، یہ سنتے ہی قریش کاایک شخص کھڑا ہو گیا اور عرض کیا ؛ "اگر ایسا ہے تو ہمارے لیے بہشت میں بہت سے درخت ہو نگے" ، حضرت نے فرمایا؛" ہاں ، لیکن اس چیز سے ڈرنا کہ تم یہاں سے اُس کے لیے آگ بھیج کر کہیں سب کو خاکستر نہ کر دو"۔
پانچویں روایت:
الْحَسَدُ یَأکُلُ الْاِیْمَانَ کَمَا یَأکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ
"حسد ایمان کو کھا کر نابود کر دیتا ہے جیسا کہ آگ لکڑی کو"۔(اصول کافی وعدة الداعی)
حرام خوری عبادت کو جلا دیتی ہے
چھٹی روایت:
لَیَجِیْئَنَّ اَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَةِ لَهُمْ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَجبَالِ تَهَامَةَ فَیُوْمَرُ بِهِمْ اِلٰی النَّارِ، فَقِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ اَمْ مُّصَلُّوْنَ ؟ قَالَ (ص) کَانُوا مُصَلّوْنَ وَیَصُوْمُوْنَ وَیَاْخُذُوْنَ وَهْنًا مِّنَ اللَّیْلِ لٰکِنَّهُمْ کَانُوْا اِذَالاَحَ لَهُمْ شَی مِنْ الدُّنْیَا وَسَبُوْا اِلَیْهِ
"قیامت کے دن ایسی قومیں بھی ہو ں گی جن کے نیک اعمال تہامہ کے پہاڑوں کی طرح وزنی ہوں گے باوجود اس کے حکم ہو گاکہ انہیںآ تشِ جہنم میں جھونک دیاجائے"۔(یہ سن کر) کسی نے عرض کیا،" یارسول اللہ ! کیا یہ لوگ نماز گزار تھے "؟ فرمایا ،"ہاں؛ نماز پڑھتے تھے اور روزہ رکھتے تھے اور رات کا کچھ حصہ عبادت میں گزارتے تھے۔ لیکن جب بھی ان کو دنیا کی کوئی چیزملتی اس پر بے تحاشہ ٹوٹ پڑتے تھے ۔ (یعنی حلال و حرام میں فرق نہ رکھتے تھے)"۔
حق الناس قبولیت اعمال میں رکاوٹ ہے
ساتویں روایت:
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّیٰ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اَوْحَی اللّٰهُ تَعَالٰی اِلیَّ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَکَ، لاَ تَدْخُلُوا بَیْتاً مِّنْ بُیْوتِیْ وَلاَ حَدٍ مِّنْ عِبَادِیْ عِنْدَ اَحَدٍ مِّنْکُمُ مَظّلَمَةٌ فَاِنِی اَلْعَنُهُ مَادَامَ قَائِماً یُصَلِّیْ بَیْنَ یَدَیَّ حَتَیٰ یَرُد المظٰلَمَةَ (عدة الداعی ص ۲۳۶)
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:"مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ اپنی قوم کو ڈراؤ اور کہو کہ میرے گھروں (مساجد ) میں سے کسی گھر (مسجد) میں داخل نہ ہو نا اس حالت میں کہ میرے بندوں میں سے کسی بندے کا حق تمہارے ذمے ہو۔ اس حالت میں اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہو گا تو میں اس پر لعنت کرتا رہوں گا جب تک کہ وہ حق اس کے مالک کو واپس نہ کر دے"۔
آ ٹھویں روایت:
نیز آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
اِنَّ لِلّٰهِ مَلَکاً یُنَادِیْ عَلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ کُلَّ لَیْلَةٍ، مَنْ اَکَلَ حَرَاماً لَّمْ یَقْبَل اللّٰهُ مِنْهُ صَرْفاً وَلاَ عَدْلاً
"اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جو ہر رات بیت المقدس سے آواز بلند کر تا ہے جو کوئی حرام کھاتا ہے ، خدا اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا خواہ واجب ہو یا مستحب"۔
صرف پرہیز گاری کے ساتھ عمل قبول ہوتا ہے
نویں روایت:
لَوْصَلَّیْتُم حَتّٰی تَکُوْنوا کَالْاَوْتَادِ وَصُفتُمْ حَتّیٰ تَکُوْنُوا کَالْحَنَایَا لمْ یَقْبَلِ اللّٰهُ مِنْکُمْ اِلاَّ بِوَرَعٍ حاجِرْ (عدة الداعی)
"اگر تم اس طرح نماز میں کھڑے رہو جیسے زمین میں گڑی ہوئی میخ اور اس قدر روزہ رکھو کہ سوکھی ہوئی لکڑی کہ طرح کمزور ہو جاؤ اور تیر کمان کی طرح جھک جاؤ پھر بھی خدائے تعالیٰ تم سے کوئی عمل قبول نہیں کرتا جب تک تمہارے پاس گناہوں سے باز رکھنے والا زہد و تقویٰ نہ ہو"۔
گناہ دعا کی قبولیت میں مانع ہے
دسویں روایت:
وَعَنْهُ عَلَیْهِ السَّلام: مَرَّمُوْسٰی بِرَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَانْصَرَفَ مِنْ حَاجَتِهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَالَ لَوْکَانْتَ حَاجَتَکَ بِیَدِیْ لَقَضَیْتُهَالَکَ فَاَوْحیٰ اللّٰهُ اِلَیْهِ یَامُوْسٰی لَوْسَجَدَ حَتْیٰ اِنْقَطَعَ عُنُقُه مَاقَبِلْتُه اَوْیَتَحَوَّلُ عَمَّا اَکْرَهُ اِلٰی مَااُحِبُّ ۔(عدة الداعی ص ۱۲۵)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا گزر ایک شخص کی طرف سے ہوا جو ان کے اصحاب میں سے تھا، وہ سجدے کی حالت میں تھا ، پھر جب موسیٰ اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آئے تب بھی اُسے سجدے میں دیکھا تو آ پ نے فرمایا،" اگر تمہاری حاجت بر آوری میرے اختیار میں ہوتی تو میں خود تمہاری حاجت پوری کرتا"۔
خداوند تعالیٰ نے موسیٰ پر وحی نازل کی کہ اگر یہ شخص میرے لئے اتنے سجدے کرے کہ اس کی گردن کٹ جائے پھر بھی میں اس کے اعمال قبول نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ جو چیز مجھے نا پسند ہے اس سے روگردانی نہ کرے اور جو مجھے پسند ہے اُسے بجا لائے (یعنی گناہوں سے پرہیز کرے اور عبادات بجا لائے) ورنہ گناہ دعا کی قبولیت کو روک لیتا ہے۔
گناہ ترک کرنا حقیقی عبادت ہے
گیارہویں روایت:
اَصْلُ الدَیْن الْوَدَعُ کُنْ وَرِعاً تَکُنْ اَعْبَدَ النَّاسِ کُنْ بِالعَمَل بِالْتَّقْویٰ اَشَدَّ اِهْتِمَاماً مِنْکَ بِالعَمَلِ بِغَیْرِهِ فَاِنَّهُ لاَ یَقِلُّ عَمَلٌ یَتَقَبَّلُ لِقَوْلهٍ تَعَالٰی "اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنِ" (الداعی)
گناہوں سے پرہیز کرنا دین کی بنیاد ہے۔ اس لیے گناہ سے اجتناب کرو تاکہ سب سے زیادہ عبادت گزار متقّی ہو جاؤ اور سختی کے ساتھ اپنے آپ کو تقویٰ سے مزیّن کرنے کا اہتمام کرو۔ تقویٰ کے بغیر کوئی عمل بجا نہ لاؤ۔ یقیناوہ عمل مقبول ِالٰہی ہے ، جس کے ساتھ تقویٰ ہو اگرچہ عمل مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا صرف پرہیز گاروں کے (اعمال) قبول کرتا ہے۔
یعنی اگر تم نے گناہ سے دوری اختیار کی اگرچہ تمہارا عمل کم سے کم کیوں نہ ہو ، قبول ِ درگاہ ِ الہٰی ہو تا ہے اور مقبول عمل اس لحاظ سے جب کہ رب العالمین نے اسے شرف ِ قبولیت بخشا ہو کم عمل اور چھوٹا عمل نہیں کہا جا سکتا۔
گناہ سے بچنا چاہیئے
ان روایتوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے گناہ سے زیادہ ڈرنا چاہیئے اور بہت ہوشیارہنا چاہیئے، تب جا کر اس سے نیک کام صادر ہوتا ہے، اور ان نیک کاموں کو آل ِ محمد (علیہم السلام) کے قرب و جوار کے منازل اور اعلیٰ درجات تک پہنچانا چاہیئے۔ مبادا گناہ کے ارتکاب سے وہ ضائع اور برباد ہو جائے۔ ایسے خسارے اور نقصان سے بہت ہوشیار رہنا چاہیئے جس سے انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنے نیک اعمال کے ذخیرے کو ضائع کرتا ہے۔
نیک اعمال گردوغبار کی طرح پراگندہ ہو سکتے ہیں
عَنْ سُلَیْمَانِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَئَلْتُ اَبَاعَبْدِاللّٰهِ (ع) عَن قَوْلِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ "وَقَدِ منَا اِلٰی مَاعَمِلُوا مِنَ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنشُوْراً " قَالَ اَمَا وَاللّٰهُ وَاِنْ کَانَ اَعْمَالُهُمْ اَشَدَّ بَیَاضاً مِنَ الْقَبَاطِیْ وَلٰکِنْ کَانُوْا اِذا عَرَضَ لَهُمْ حَرَامٌ لَّمْ یَدْعُوْهُ (عدة الداعی)
"سلیمان بن خالد کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے اس قول ِ خدا کے بارے میں پوچھا، ٌہم نے قصد کیا اُس عمل کا جو خوبصورت شکل میں ہے پھر اس عمل کو ذروں کی طرح ہوا میں بکھیر دیتے ہیں تو حضرت نے فرمایا؛ خدا کی قسم اگرچہ ان کے اعمال مصری کپڑوں کے مانند زیادہ سفید ، چمکدار بھی ہوں گے مگر جب ان کے سامنے گناہ اور حرام نمودار ہوتا ہے تو وہ اسے چھوڑتے نہیں ہیں"۔ ٌ
بعبارت دیگر ان کے اعمال تقویٰ نہ ہونے اورحرام میں مرتکب ہونے کی بنا پرگردوغبار کی طرح فضا میں پراگندہ ہوتے ہیں ایسے اعمال کی قدروقیمت ہی نہیں ہوتی۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمة والرضوان اس حدیث کی شرح کے ضمن فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ عبادات واطاعات گناہ کی سبب سے فنا ہوتی ہیں ۔
بے شمار پرھیز گار لوگ جنت میں جائیں گے
قَالَ اَبُوْ عَبْداللّٰهِ (ع) اَوْحیٰ اللّٰهُ تَعالٰی اِلٰی مُوْسٰی اِنَّ عِبَادِیْ لَمْ یَتَقَرّبُوْا اِلیَّ بِشَی اَحبِّ اِلَیَّ مِنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ قَالَ مُوْسٰی یَارَبِّ وَمَاهُنَّ قَالَ تَعَالٰی یَامُوْسٰی الزُّهْدُ فِی الدُّنْیَا واَلْوَرَعُ عَنْ مَّعَاصیْ وَالبُکَاءُ مِنْ خَشْیَتِیْ قَالَ مُوْسٰی مَالِمَنْ صَنَعَ ذا؟ فَاَوْحیٰ اللّٰهُ اِلَیْهِ اَمَّا الزَّاهِدُوْنَ فِی الدُّنْیَا فَفِیْ الجَنَّةِ وَاَمََّا البَکَّاونَ مِنْ خَشْیَتِیْ فَفِیْ الرَّفِیْع اِلْاَعَْلٰی لاَ یُشَارِکُهُمْ فِیْهِ اَحَدٌ غَیْرُ هُمْ وَاَمَّا الْوَرِعُوْنَ عَنْ مَّعَاصِیْ فَاِنِّیْ اُفَتِشُ النَّاسَ وَلاَ اُفْتِیْشُهُمْ (عدة الداعی)
"حضرت صادق آلِ محمدعلیہ الصٰلوةوالسلام نے فرمایا:اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کی اور فرمایا یقینا میرا بندہ میرے نزدیک نہیں ہو سکتا مگر میری پسندیدہ تین چیزوں کے بغیر۔حضرت موسیٰ نے عرض کی میرے پالنے والے وہ تین چیزیں کونسی ہیں؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛اے موسیٰ وہ تین چیزیں دنیا میں زہد سے کام اور گناہوں سے پرہیز کرنا اور میرے خوف سے گریہ کرناہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:پروردگار !جو یہ چیزیں بجا لایا اس کے لیے کیا اجروثواب ہے؟فرمایا:دنیا میں زہد سے کام لینے والوں کے لیے بہشت ہو گی اور میرے ڈر سے گریہ کرنے والوں کے لیے ایسا بلند مقام ہو گا جہاں ان کے علاوہ اور کسی کو ٹھہرنے کی گنجائش نہیں ہو گی ۔لیکن میری نافرمانی سے پرہیز کرنے والوں کے لیے بے شک تمام مخلوق کے اعمال کی باز پرس ہو گی مگر ان کے اعمال کا حساب و کتاب نہیں ہو گا ااور بغیر حساب بہشت میں داخل ہوں گے"۔
گناہانِ ِ کبیرہ و صغیرہ کی تقسیم
کبیرہ سے اجتناب صغیرہ سے درگزر کا سبب بنتا ھے
اگر کوئی گناہانِ کبیرہ سے پرہیز کرے تو اس کے چھوٹے گناہوں کی باز پرس نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اُسے بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ سورة النساء کی آیت ۳۰ میں فرماتا ہے:
اِنْ تجتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَاتُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِرّ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَنُدْخِلَکُمْ مُّدْ خَلاً کَرِیْماً (سورہ ۴ ۔ آیت ۳۰)
"اگر ان میں سے تم گناہان ِکبیرہ سے بچتے رہو تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں سے بھی درگزر کریں گے اور تم کو بہت اچھی عزت کی جگہ پہنچا د یں گے اور تمہارا بڑے گناہوں سے اجتناب کرنا چھوٹے گناہوں کا کفّارہ قرار دیاجائے گا"۔
بہشت کے دروازے پرہیزگاروں کے سامنے کھلے ہیں
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے روایت ہے کہ آ پ نے فرمایا: قسم ہے اُس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ ایسا نہیں کہ دن میں پانچ مرتبہ واجب نماز بجا لائے ،ماہ ِ مبارک رمضان کا روزہ رکھے اور گناہان ِکبیرہ سے دوری اختیار کرلے مگر یہ کہ بہشت کے دروازے اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے گذشتہ آ یہ مبارکہ کو تلاوت فرمایا۔(تفسیر منہج الصادقین)
شفاعت
جس سے گناہِ کبیرہ سر زد ہو اور توبہ نہ کرے تو وہ فاسق ہے۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اس کی گواہی قابل ِ قبول نہیں اور مرنے کے بعد عذاب ِ الٰہی کا مستحق ہوتا ہے۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اس کے شامل ِ حال ہو جائے اور فضل ِ الہٰی میں سے ایک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) و آلِ محمد (علیہم السلام) کی شفاعت ہے۔ چنانچہ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے:
اِدَّخَرْتُ شَفَاعَتِیْ لِاَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ
(ج ۳ بحارالانوار۔ عدة الداعی)
"میری شفاعت میری اُمّت کے گناہانِ کبیرہ کے مرتکب افراد کے لیے ذخیرہ کی گئی ہے"۔ اور فرمایا:
اِنَّمَا شَفَاعَتِیْ لِاَهْلِ الْکَبَائِر مِنْ اُمَتِیْ فَاَمَّا الْمُحسِنُوْنَ فَمَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْل (ج ۳ بحارالانوار۔ عدة الداعی)
"میری شفاعت میری اُمّت کے گناہانِ کبیرہ بجالانے والوں کے لیے (مخصوص) ہے لیکن گناہانِ کبیرہ کے ترک کرنے والوں ، یعنی نیکوکاروں کے لیے کوئی موأخذہ نہیں "۔
شفاعت معصیّت کرنے پر دلیری کا سبب نہیں ہونی چاہیئے
دراصل شفاعت کی حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ پیغمبر ِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آئمہ اطہار (علیہم السلام) کی عظمت اور شان و بزرگی اور دوسرے شفاعت کرنے والوں کے احترام کا اظہار ہے۔ کیونکہ گناہان ِ کبیرہ میں ملّوث افراد کو انہیں کے حوالہ کیا جا ئے گا بلکہ ان کی شفاعت کی برکت سے گناہ گاروں کو ان کے دوسرے دوستوں کی طرح بلند مقام اور مرتبے پر فائز کیا جائے گا۔ اور یہی قرآن ِ مجید اور صحیح خبروں میں اور متواتر و مسلّم احادیث سے ظاہر ہوتا ہے اور یہاں اس مختصر بحث میں ان سب کا ذکر طوالت کا سبب ہو گا۔ جو چیز یہاں ذکر کرنا لازم ہے وہ یہ ہے کہ شفاعت کا موضوع معصیّت پر جرأت کا سبب نہ بنے ، نہ توبہ سے غفلت کرے۔
نجات کی امید میں خودکشی کرنا
شفاعت کی امید میں گناہ کرنا اور توبہ نہ کرنا زہر کھانے اور اژدہے کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ یہ امید رکھنا کہ ڈاکٹر پہنچ جائے گا اور علاج کردیگاخلافِ عقل ہے۔کیونکہ زہرکھانے کے بعدیقین پیدانہیں ہوتاکہ ڈاکٹراور دوا میسرآجائیں گے ۔دوسری بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ڈاکٹر اور دوا دونوں فراہم ہو جائیں مگر زہر رگوں میں داخل ہو کر دل کو ناکارہ بنادے اور موت سے ہمکنار کر دے ۔اسی طرح جو شخص گناہ کرتا ہے وہ کس طرح یقین رکھتا ہے کہ مرنے کے بعد سفارش کرنے والے کی شفاعت فوراً حاصل ہوجائے گی۔
موت کی تین قسموں میں سے ایک قسم واقع ہوتی ہے
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام)نے اپنے اجدادکرام سے روایت نقل کی ہے :
قال قیل لامیرالمُومنین صِفْ لَنَااَلْمُوْتَ؟ فَقَالَ عَلَیْهِ السَّلاَم؛ عَلٰی الخَبِیْرِ سَقَطْتُمْ هُوَاَحَدُ ثَلاثَةِ اُمُورٍ یُرَدُّ عَلَیْهِ اِمَّا بَشَارَةٌ بِنَعِیْمِ الْاَبَدِ وَاِمَّا بَشَارَةٌ بِعَذَابِ الْاَبَدِ وَاِمَّا تَحزِیْنٌ وَتَهْوِیْلٌ وَاَمْرُه مُبْهَمٌ لاَ یَذرِیْ مِنْ اَیِّ الْفِرَاقِ هُوَ فَمُوَا الِیْنَا الْمُطِیْعُ لِاَمْرِنَا فَهُوَ الْبَشَرَّ بِنَعِیْم اِلْاَبَدِ وَاَمَا عَدُوَّنَا الْمُخَالِفُ عَلَیْنَا فَهُوَ الْمُبَشَرُ بِعَذابِ الْاَبَدِ وَاَمَّا الْمُبْهَمُ اَمْرُهُ الَّذِیْ لاَ یَدْرِیْ مَاحَالُهُ فَهُوَ الْمُومِنْ مِنَ الْمُسْرِفْ عَلٰی نفسِهِ لاَ یَدْرِیْ مَایَولُ اِلَیْهِ حَالُه یَاتیهِ الْخَبَرُ مُبْهَمًا تَخُوْفاً ثُمَّ لَنْ یُسَوِّیَهُ اللّٰهُ بِهِ اَعدَائَنَا لکِنْ یُخْرِجُه مِنَ النّارِ بِشَفَاعَتِنَا فَاعَمَلُوْا وَاطِیعُوْا وَلاَتَنْکِلُوْا وَلاَ تَسْتَصْغِرُوْا عُقُوْبَةَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ فَاِنَّ مِنَ الْمُسْرِفِیْنَ مَنْ لاَ تُلْحِقُهُ شَفَاعَتُنَا اِلاَّ بَعْدَ ثَلٰثمأةِ اَلْفِ سَنَةٍ (ج ۳ بحارالانوار نقل از معانی الاخبار)
"حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام)سے کسی نے موت کی تعریف پوچھی تو آپ نے فرمایا:تم عالم اور باخبرہستی کے پاس آئے ہو ، (اب سنو ):تین میں سے ایک حالت میں انسان کی موت واقع ہو تی ہے۔ ابدی نعمت کی خوشخبری دی جاتی ہے،یاابدی عذاب کی وعید سناتی ہے ،یا وہ ہمیشہ کے لئے وحشت اورخوف میں مبتلا رہتا ہے اور اس کا کام غیر یقینی اور تردد کی حالت میں رہتا ہے اور پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس قسم کی موت سے دو چار ہوتا ہے۔
پس جاننا چاہیئے کہ ہمارا دوست ہمارا فرمانبردار ہوتا ہے ۔وہ معصیت کار نہیں ہوتا ۔اسے ابدی نعمتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے لیکن ہمارا بد خواہ جو ہماری مخالفت کرتا رہا ہے ہمیشہ کے عذاب میں گرفتار رہے گا۔
لیکن وہ شخص جو غیر یقینی حالت میں ہے اور معلوم نہیں کہ اس کا انجام کیا ہو گاجبکہ وہ ایسا مومن ہے کہ جس اپنے نفس پر ظلم اور اسراف کیا ہے یعنی وہ گنہگار اور اس کی موت ڈراور خوف وہراس اور مبہم حالت میں آتی ہے ۔پس اللہ تعالیٰ اس کو اور ہمارے دشمن کو مساوی نہیں دیکھتا بلکہ ہماری شفاعت کی وجہ سے وہ جہنم سے نکالا جائیگا۔
پس (میرے دوست) عمل کرو ۔اور احکامات الہٰی کی اطاعت کرو ۔خداوند کے عذاب کو چھوٹا اور حقیر شمار نہ کرو۔ اور بے شک کچھ ایسے گناہ گار بھی ہیں جن کو ہماری شفاعت نصیب نہیں ہوتی مگر تین لاکھ سال گزر جانے کے بعد"۔
میں تمہارے بارے میں برزخ سے ڈرتا ہوں
قُلْتُ لِاَبِیْ عَبْداللّٰهِ عَلَیْهِ السَّلاَمْ اِنِّیْ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ کُلُّ شِیْعَتِنَا فِی الْجَنَّةِ عَلٰی مَاکَانَ فِیْهِمْ
قَالَ عَلَیْهِ السَّلاَمُ صَدَّقْتُکَ؛ کُلُّهُمْ وَاللّٰهِ فِیْ الجَنَّةِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاکَ اَنَّ الذُّنُوْبَ کثیرةٌ کَبَائِرٌ
قَالَ عَلَیْهِ السَّلاَمُ اَمَّا فِیْ الْقِیٰمَةِ فَکُلُّکُمْ فِیْ الجَنَّةِ بِشفاعَةِ نَبِیّ المُطَاعِ اووصِیّ النَّبِیِّ وَلٰکِنْ وَاللّٰهِ اَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ فِیْ البَرْزَخِ
قُلْتُ وَمَا البْرَزَخُ قَالَ عَلَیْهِ السَّلاَم القَبْرُ منْذُحِیْنَ مَوْتِهِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ (کافی)
"عمر بن یزید کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر سے دریافت کیا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوے سنا تھا کہ ہمارے تمام شیعہ خواہ کتنے بھی گنہگار ہوں بہشتی ہوں گے۔
فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے سچ کہا ہے ! وہ سب کے سب بہشتی ہوں گے ۔
پھر میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان ہو جاؤں؛بے شک گناہ زیادہ اور بڑا ہو ( پھر بھی کیا بہشت میں ہوں گے؟)، فرمایا، " قیامت کے دن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) یا ان کے کسی بھی وصی کی شفاعت سے تم سب بہشت میں داخل ہو ں گے۔ لیکن خداوندِعالم کی قسم تمھارے بارے میں برزخ سے ڈرتا ہوں۔میں نے عرض کیا؛"مولا برزخ کیاچیزہے؟"جوابافرمایا؛برزخ قبر ہےاس کی مدت مرنے کے وقت سے لیکر قیامت کے دن تک ہوتی ہے"۔
کل خون کے آنسو بہائے گا
حضرت رسول ِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ابنِ مسعود کو مخاطب کر کے کچھ نصیحتیں فرمائیں۔ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا:
لاَتَحْقِرَنْ ذَنْباً وَّلاَ تَصْغِرَنَّهُ وَاجْتَنِبِ الْکَبَائِرَ فَاِنَّ الْعَبْدَ اِذَا نَظَر اِلٰی ذُنُوبِهِ دَمِعَتْ عَیْنَاهُ دَمًا وَقِیْحًا یَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی یَوْمَ تَجِدْکُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خیْرٍ مُحْضَرًا وَّمَا عَمَلَتْ مِنْ سُوْءٍ تَوَدُ لَوْ اَنَّ بَیْنَها وَبَیْنَه اَمَدًا بَعِیْداً (جلد ۱۷ ۔ بحارالانوار)
"ہر گز کسی گناہ کو چھوٹا اور حقیر تصوّر نہ کرو اور بڑے گناہوں سے پرہیز کرو کیونکہ قیامت کے دن جب بندہ اپنے گناہ پر نظر کرے گا تو بے اختیار اس کی آنکھوں سے خون اور پیپ کے آنسو بہیں گے ، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ قیامت وہ دن ہے کہ ہر ایک اپنے نیک و بد اعمال اپنے سامنے پائے گا اور آ رزو کرے گا کہ خود اس کے اور گناہوں کے درمیان بہت دور کا فاصلہ ہو جائے۔ "، اور حضرت رسول ِ اکر م (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقول ہے کہ فرمایا:
اِنَّ الْعَبْدَ لَیُجْسُ عَلٰی ذَنْبٍ مِّنْ ذُنُوْبِهِ مِأةَ عَامٍ (کافی)
"بے شک بندے کے ہر ایک گناہ کی سزا میں اسے ایک سو سال جہنم میں قید رکھا جائے گا"۔
نماز کو حقیر شمار کرنے والوں کے لیے شفاعت نہیں
نماز کا استخفاف گناہانِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔ بعض روایتوں میں واضح طور پر بیان ہے کہ نماز کو حقیر سمجھنے والا شفاعت سے محروم ہے۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
لاَ تَنَالُ شَفَاعَتُنَا مَنْ اِسْتَخَفَّ بِصَلَا تِه
"ہماری شفاعت ان لوگوں کو نہیں ملتی جنہوں نے نماز کو حقیر سمجھا "۔
حضرت رسول ِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
"لَیْسَ مِنِّیْ مَنْ اِسْتَخَفَّ بِالصَّلوٰةِ لاَیَرِدُ عَلَیَّ الحَوْضَ لاَوَاللّٰهِ " (بحارالانوار)
"جو کوئی نماز کو حقیر شمار کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں۔ اللہ کی قسم وہ مجھ سے نہیں ، اللہ کی قسم وہ حوض ِکوثر پر میرے نزدیک نہیں پہنچ سکتا"۔ (بحار الانوار)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گناہوں سے نہ بچنا اور دلیری سے گناہوں میں ملّوث ہونا اور شفاعت کی امید میں توبہ کرنے میں تاخیر کرنا جہالت ، گھمنڈ اور لاپروائی کی علامت ہے۔
زیادہ گناہ ایمان کو ختم کر دیتا ہے
جو کچھ شفاعت کے بارے میں ذکر کیا گیا اس وقت کام آتا ہے جب کہ کوئی شخص ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گناہوں میں زیادہ ملّوث ہونے اور توبہ میں تاخیر کرنے سے ایمان کا نور دل سے ختم ہو جاتا ہے اور وہ شک میں پڑ کر انکار کی حد تک پہنچ جاتا ہے، اور ایسی حالت میں پھر وہ موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے اس قدر مہلک زہر کھا لیا ہو کہ ڈاکٹر کے پہنچنے سے پہلے وہ مر جائے۔ اس صورت میں ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ اسی طرح شفاعت کرنے والے کی سفارش اسے فائدہ نہیں دیتی۔
( فَمَاتَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِیْنِ ) (سورہ ۷۴ ۔آیت ۴۹)
میں اس دعوے کے ثبوت کے لیے ایک آیت شریفہ اور دو روایتیں ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں ۔ چنانچہ سورہ روم، آیت ۱۰ میں ارشاد ہوتا ہے:
( ثُمَّ کانَ عَاقِبَةُ الَّذیْنَ اَسَاوا السُّوٰٓیْ اَنْ کَذَّبُوْا بِٰآیٰاتِ اللّٰهِ وَکَانُوْا بِهَایَسْتَهْزِون ) ۔
"پھر جن لوگوں نے بُرائی کی تھی ان کا انجام بُرا ہی ہوا کیونکہ ان لوگوں نے خدا کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کے ساتھ مسخرہ پن کیا تھا"۔
گناہ دل کو سیاہ کر د یتا ہے
پہلی حدیث حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
مَا مِنْ عَبْدٍ اِلاَّ وَفِیْ قَلْبِهِ نُکْتَةٌ بَیْضَاءٌ فَاِذا اَذْنَبَ ذَنْباًخَرَجَ مِن نُکتِهِ نُکْتَةٌ سَوْدٰٓاءٌ فَاِذَاتَابَ ذَهَبَ ذٰلِکَ السَّوٰادُ وَاِنْ تَمَادیٰ فِی الذُّنُوْبِ زَادَذٰلکَ السَّوَادُ حَتٰی یغَطْیِ البَیَاضَ فَاِذَا غَطٰی البَیَاضُ لَمْ یَرْجِعْ صَاحِبُهُ اِلٰی الْخَیرِ اَبَداً وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالٰی کَلاَّبَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ مَاکانْوا یَکْسِبُوْنَ (کتاب کافی)
"کوئی بندہ نہیں مگر اس کے دل میں ایک سفید نقطہ ہوتا ہے۔ جب گناہ کرتا ہے اس نقطے سے سیاہ نقطہ نکل آتا ہے۔ اگر توبہ کرے تو وہ سیاہی مٹ جاتی ہے ، اگر وہ گناہوں میں ڈوب گیا اور لگاتار آلودہ رہا تو دل کی سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ دل کی پوری سفیدی کو گھیر لیتی ہے۔ جب سفیدنقطہ پر مکمل طور پر کالا پردہ چھا جاتا ہے تو ایسے دل کے مالک کبھی بھی خیر کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔ یہ روایت فرمان ِ الٰہی کے عین مطابق ہے ۔ جیسا کہ ارشاد ہے:"نہیں ، نہیں بات یہ ہے کہ جو لوگ اعمال (بد) کرتے ہیں ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے"۔
قلب ِسیاہ پر وعظ و نصیحت کا اثر نہیں ہوت
یعنی ان کے دل میں گناہوں سے زنگ آلود ہو کر تاریکی چھا گئی ہے۔ حقیقی آنکھ سے محروم ہو کر نہ حق کا چہرہ دیکھ سکتا ہے نہ حق کی پہچان باقی رہتی ہے، نہ نصیحت قبول کرنے اور خیرو خوبی کا راستہ نظر آتا ہے۔ اسی لیے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کا ارشاد ِ گرامی ہے:
"کوئی شخص کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے مگر اس کو عملا ً بنا نہیں لاتا۔ کبھی بندہ گناہ کا کام کرتا ہے اور خدا اُسے دیکھتا ہے اور فرماتا ہے میری عزّت کی قسم اس کے بعد میں تجھے ہر گز نہیں بخشوں گا"۔
بعبارت ِ دیگر وہ اس گناہ کی وجہ سے حق تعالیٰ کے الطاف کے استحقاق اور قابلیت سے کلیّتہ ً محروم رہتا ہے اور نہ اُسے توبہ کرنے کی توفیق ہو تی ہے جس کے نتیجہ میں اُس کا گناہ بخشا نہیں جاتا۔
علّامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے تمام گناہوں سے ڈرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ ہر گناہ سے یہی گُمان ہوتا ہے کہ شاید یہ درگزر کرنے کے قابل نہ ہو۔
گذ شتہ گناہوں سے ڈرنا
اہلِ ایمان کو اپنے گذشتہ گناہوں سے ڈرتے اور روتے رہنا چاہیئے کیونکہ ہمیں اطمینان و یقین نہیں کہ کونسا گناہ ہماری شامت کا سبب بنے گا۔ چونکہ امام (علیہ السلام) نے ہمیں نشاندہی نہیں فرمائی کہ پروردگار ِ عالم کی نظروں سے گرانے والا وہ کانسا گناہ ہے جس سے ہم مغفرت ِ الٰہی اور اس کے درگذر سے محروم ہو جائیں۔ البتہ اس قسم کے گناہ کی نشاندہی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس گناہ کے سر زد ہو نے کے بعد توبہ نہیں کی اور پشیمان نہیں ہوئے وہی گناہ ہمیں عفو و مغفرت ِ پروردگار سے محروم کرتا ہے۔ اس لیے بارگاہ ِ خداوندی میں تضّرع و زاری کرتے ہوئے توبہ کے دروازے سے داخل ہو جائیں۔ اُن گناہوں سے جو ہمیں یاد ہیں خصوصا ً اور ایسے گناہوں سے جو بھول گئے ہیں عموماً توبہ کر کے ان کی تلافی کریں۔ اور توبہ کرنے کا طریقہ اس کے بعد ذکر کیا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
شفاعت امید کا موجب ہے نہ مغرور ہونے کا سبب
گذشتہ بیان سے معلوم ہو ا کہ موضوع ِ شفاعت غرور اور نافرمانی کی جرأت کا سبب نہیں بننا چاہیئے بلکہ گناہ گار کے لیے شفاعت مایوسی کے عالم میں اُمید کو تقویّت دیتی ہے اور بندے کو توبہ و انابہ کی طرف شوق اور رغبت پیدا کراتی ہے تاکہ وہ بلند مراتب پر فائز ہو جائے اور ربُّ العالمین کے قرب و جوار کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائے۔
پھر بھی خوف و ہراس ہونا چا ہیئے
ایک طرف شفاعت کی امید اور دوسری طرف لا پروائی نہیں ہونا چاہیئے ۔ شفاعت کی امید کے ساتھ دل میں خوف ِ خدا بھی ضروری ہے۔ چونکہ خوف شفاعت کے منافی نہیں یعنی جو شخص پروردگار ِ عالم کے لطف و کرم اور شفاعت کا امیدوار ہے تو ممکن ہے عین اسی حالت میں اُسے خوف و ہراس محسوس ہو جائے ورنہ خدا نہ کرے اپنے آقاؤں کی شفاعت اُسے بہت طویل زمانہ گزر جانے کے بعد حاصل ہو۔ بعبارت ِ دیگر وہ لمبی مدت تک عالم ِ برزخ کے عذاب میں گرفتار رہنے کے بعد اُسے شفاعت نصیب ہو اور اس دوران جو خوف و ترس اُسے حاصل ہو رہا ہے وہی اہل ِ بیت ِ اطہار (علیہم السلام) کی شفاعت حاصل کرنے اور سختی سے اُن کا دامن پکڑنے کا موجب ہو جائے۔
شیعیان ِ اہل ِ بیت علیہم السّلام
شیعوں کے مقام اور اہل ِ بیت (علیہم السلام) کے دوستداروں کی نجات کے بارے میں جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو جہنم کی آگ نہیں جلا سکتی۔ پس ایسی روایات ہماری امید کو تقویت بخشنے والی ہیں اور ہمارے آقاؤں کی محبت ہمارے لیے باعث ِ اطمینان ضرور ہے لیکن یہ امید و اطمینان نہ بنادیں نیز معصیّت پر دلیری کا باعث نہ بنیں۔
شیعہ اور محبّ
اس موضوع سے متعلق روایات دو عنوانات پر مشتمل ہیں ۔ پہلی شیعہ اور دوسری محب ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) ۔ تاہم اُن شیعوں کا مقام و مرتبہ بلند ہے کیونکہ انہوں نے علم وعمل کے میدان میں سبقت حاصل کی ہے اور پھر بھی وہ اپنے آپ کو شیعہ اہل ِ بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کہنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ مثلاً جناب محمد بن مسلم ثقفی ، جو حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق + کے جلیل القدر اصحاب میں شمار ہوتے تھے ، ان کے متعلق ان دونوں بزرگوں نے شیعوں کو حکم دیا تھا کہ دینی مسائل میں ان کی طرف رجوع کریں۔ اس کے علاوہ علم ِ رجال کی کتب میں لکھا ہو اہے کہ اپنے زمانے میں محمد بن مسلم سے بڑھ کر کوئی فقیہ موجود نہ تھا۔
محمد بن مسلم کی قاضی شریک سے گفتگو
ایک مرتبہ یہ بزرگوار ابو کریبةُالاٰزدی کے ساتھ قاضی شریک کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شریک نے غصّے سے ان کی طرف دیکھا اور کہا : "یہ دونوں جعفری اور فاطمی ہیں"۔ یعنی اہل ِ بیت اطہار (علیہم السلام) کے شیعہ ہیں۔ یہ سنتے ہی دونوں زاروقطار رونے لگے۔ قاضی نے اُن سے گریہ کا سبب دریافت کیا تو بولے کہ آپ نے ہمیں ایک عظیم شخصیّت (حضرت جعفر بن محمد الصادق ) کی طرف نسبت دی ہے۔ ہم جیسے کم زہد و تقویٰ اور اتنی عظیم نسبت !( چہ نسبت خاک را با عالم پاک)۔ آپ ازراہِ کرم ہماری اس درخواست کی پذیرائی فرمائیں تو ہم آپ کے رہین ِ منّت ہوں گے۔
امام کی پیروی کرنے والے حقیقی شیعہ ہیں
ہاں ہم شیعہ حقیقی کا خطاب اس شخص کو دے سکتے ہیں کہ تمام کردار و گفتار میں اُن کا پیروکار ہو۔ چنانچہ باب الحوائج حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
اِنَّمَا شِیْعَتُنَا مَنْ شَیّعَنَا وَاتَبَعَ آثارَنا وَ اقْتَدَیٰ بِاَعْمَالِنَا (بحارالانوار)
"اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہمارا شیعہ صرف وہ ہے کہ (تمام حالات میں) ہماری پیروی کرے، ہمارے نقشِ قدم پر چلے اور ہمارے اعمال کی اقتداء کرے"۔
کچھ شیعوں کے ساتھ حضرت علی (علیہ السلام) کی گفتگو
ایک رات حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) مسجد سے باہر جا رہے تھے ۔ چاندنی کی وجہ سے فضا روشن تھی۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک گروہ آپ کے پیچھے آ رہا تھا۔ آ پ نے فرمایا : تم لوگ کون ہو؟، عرض کیا : ہم آپ کے شیعہ ہیں ۔ آنحضرت نے ان کے چہروں کو غور سے دیکھا اور ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تمہارے چہروں پر شیعہ ہونے کی کوئی نشانی نہیں پائی جاتی؟ عرض کی: مولا! شیعوں کی علامت کیا ہے؟ فرمایا:
صَفَرَالْوُجُوْهُ مِنَ الْسَّهَرِ، عَمَشَ الْعُیُوْنُ مِنَ الْبُکَاءِ، حَدَبُ الظُّهُوْرُ مِنَ الْقِیَامِ، خَمَصُ البُطُوْنُ مِنَ الصِّیَامِ ذَبَلَ الشِّفَاةُ مِن الدُّعَاءِ، عَلَیْهِمْ غَبَرَةُ الْخَاشِعِیْنَ ۔
(بحارالانوار۔ نقل ازامالی شیخ طوسی وارشاد شیخ مفید علیہا الرحمة)
"عبادت خدا میں زیادہ شب بیداری سے اُن کے چہرے زرد ہوتے ہیں، خوف ِ خدا سے زیادہ رونے کے سبب ان کی آنکھوں سے پانی گرتا ہے، عبادت میں زیادہ مشغول رہنے کے باعث ان کی کمر جھکی ہوئی ہوتی ہے، روزہ زیادہ رکھنے کی بناء پر ان کا پیٹ پیٹھ سے ملا ہوا ہوتا ہے، کثرت ِ دعا سے ان کے ہونٹ خشک ہوتے ہیں اور ان پر خوف ِ الٰہی چھایا ہوتا ہے"۔ قارئین ِ کرام کی مزید اطلاع کے لیے یہاں تین روایتوں پر اکتفا کر رہا ہوں۔
شیعہ ہونے کے لیے دعویٰ کافی نہیں
عَنْ جَابِرٍ عن اَبِی جَعْفَرٍ عَلَیْهِ السَّلاَمُ اَیَکْتَفِیْ مَنْ یَنْتَحِلُ التَشَیُّعَ اَن یَقُوْلَ بِحُبِنَا اَهْلَ الْبَیْتِ فَوَاللّٰهِ مَامِنْ شِیْعَتِنَا اِلاَّ مَنْ اِتَّقِ اللّٰهَ وَاطَاعَه ۔
"جابر حضرت امام محمّد باقر (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کیا کسی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے کو شیعیت کی طرف نسبت دے اور کہے کہ میں اہلِ بیت (علیہم السلام) کا دوستدار ہوں؟ خدا کی قسم ہمارا شیعہ اس شخص کے سوا اور کوئی نہیں جو خدا سے ڈرتا ہے اور ان کے احکام کی اطاعت کرتا ہے"۔
عَنْ مُفْضِّلْ بِن عَمَر قَالَ قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰهِ عَلَیْهِ السَّلاَمُ اِذَا اَرَدْتَ اَنْ تَعْرِفَ اَصْحَابِی فَانظُرْ اِلٰی مَنْ اِشْتَدَّ وَرَعَه وَخافَ خالِقَه وَرَجَا ثَوَابَهُ وَاِذَا رَاَیْتَ هٰولآءِ فَهٰولآءِ اَصْحَابِیْ (کافی)
"حضرت امام صادق (علیہ السلام) نے مفضل بن عمر سے فرمایا : اگر تم ہمارے اصحاب کو پہچاننا چاہتے ہو تو اس شخص کو دیکھو جو سختی کے ساتھ گناہوں سے پرہیز کرتا ہے اور اپنے خالق سے زیادہ ڈرتا ہے اور وہ اس کے ثواب کا امیدوار ہوتا ہے ۔ جب تم کہیں بھی ایسے افراد کو دیکھنا تو سمجھ لینا کہ یہی لوگ میرے اصحاب ہیں"۔
دَخَلَ عِیْسیٰ بْنُ عَبْدِاللّٰهِ القُمّی اِلٰی ابی عَبْدِاللّٰه (ع) فَقَالَ عَلَیْهِ السَّلاَمُ لَیْسَ مِنَّا وَلاَکَرَامَةَ مَنْ کَانَ فِیْ مِصْرٍ فِیْهِ مِأَ اَلفٍ اَوْیَزِیْدُوْنَ وَکَانَ فِیْ ذٰالِکَ الْمِصْرِ اَحَدُاَوْرَعُ مِنْه (کافی)
"عیسیٰ بن عبداللہ قمّی حضرت ابی عبداللہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں اور نہ ہمارے نزدیک اس کی عزت ہے کہ کسی شہر میں ایک لاکھ نفر آباد ہوں اور وہاں ایک آدمی (غیر شیعہ ) بھی اس سے زیادہ پرہیزگار موجود ہو۔ یعنی شیعہ اہل ِ بیت کو ایمان ، عمل اور تقویٰ میں سب سے بہتر ہونا چاہیئے کہ اس کا مقابل کوئی دوسرا نہ ہو"۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام ِ پاک میں اُسے ’خیرالبریّہ ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔
( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) (سورہ ۹۸ آیت ۷)
"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے، یہی لوگ بہترین ِ خلائق ہیں"۔
اور حضرت رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے یہ روایت ہے کہ ’خیرالبریّہ‘ سے مراد شیعیان ِ علی (علیہ السلام) ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:
تَاْتِیْ اَنْتَ وَشِیْعَتُکَ یَوْمَ الِْیَامَة، رَاضِیْنَ مَرْضِیْنَ (تفسیر طبری مناقب خوارزمی۔ الصواعق۔ تالیف ابن حجر)
"اے علی! ’خیرالبریّہ‘سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں۔قیامت کے دن جو کچھ اللہ تعالیٰ ان کو مرحمت فرمائے گا اس سے راضی اور خوشی کی حالت میں ہوں گے اور وہ سب پسندیدہ خدا ہوں گی"۔
ولایت
کوئی شک نہیں کہ جس کو اہل ِ بیت اطہار کی ولایت حاصل ہو گی وہ نجات پانے کا اہل ہو گا۔ بلکہ انبیاءِ کرام اور آئمہ اطہار # کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا:
حَقٌ عَلٰی اللّٰهِ اَنْ یَبْعَثَ وَلِیَّنَا مُشْرِقًا وَجْهُهُ نَیِّراً بُرْهَانُهُ ظَاهِرَةً عِنْدَاللّٰهِ حُجَّتُهُ، حَقٌّ عَلٰی اللّٰهِ تَعَالٰی اَنْ یَّجْعَلَ وَلِیَّنَا مَعَ النبییّنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسْنَ اُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا (بحارالانوار)
"ہمارے دوستدار کو قیامت کے دن ایسی حالت میں محشور کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ اس کا چہرہ خوبصورتی سے چمک رہا ہو۔ اس کی دلیل روشن اور اس کی حجّت اللہ کے نزدیک ظاہر ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ ہمارے دوست ( صاحب ِ ولایت) کو قیامت کے دن انبیاء و شہداء و صدیقین کے ساتھ محشور فرمائیں اور یہ ہستیاں بہترین رفیق ہیں"۔
مگر جاننا چاہیئے کہ ولایت کے معنی کیا ہیں
کتاب مجمع البحرین میں ولایت کے لغوی معنی کے بارے میں لکھا ہے:
اَلْوَلاَیَةُ بِالْفَتْحِ؛ مَجَبَّةُ اَهْلَ الْبَیْت عَلَیْهِمُ السَّلاَ مُ وَاِتّبَاعُهُمْ فِیْ الدِّیْن وَامْتِثَالُ اَوْامِرِ هِمْ وَانَوَاهِیهِمْ وَالتَّاَسِّیْ بِهِمْ فِی الْاَعْمَالِ وَالْاَخْلاَقِ ۔
"ولایت زبر کے ساتھ اہل ِ بیت (علیہم السلام) کی محبت اور دینی امور میں پیروی کرنا اور جن چیزوں کا امر ہے اُن کو کما حقّہ‘ بجا لانا اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے دور رہنا اور اعمال و اخلاق اُ ن کے نقش ِ قدم پر چلنے کا نام ولایت ہے۔ ولایت کی اس تعریف سے واضح ہو کہ ولایت سے مراد فقط محبّت و اطاعت ہے۔ میرے اس بیان کی دلیل حدیث زرارہ ہے جو کہ حضرت امام محمّد باقر (علیہ السلام) سے منقول ہے جس میں امام (علیہ السلام) نے ولایت کو اطاعت سے تعبیر فرمایا ہے"۔
حضرت علی(علیہ السلام) کی ولایت خدا کا مضبوط قلعہ ہے
اس مضمون کا مفہوم ’سلسلةُالذّہب‘ جیسی حدیث شریف سے استفادہ کیا گیا ہے جو صدوق نے امام رضا (علیہ السلام) سے نقل کی ہے۔ اس کی عبارت یوں ہے:
قَالَ اللّٰهُ تَعالٰی وَلاَیَةُ عَلِیّ بِن اَبیْطَالِبٍ حِصْنِیٍ فَمَنْ دَخَلَ فِی حِصْنِیْ اَمِنَ مِنْ عَذَابِیْ ۔
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : علی بن ابی طالب کی ولایت میرا قلعہ ہے ۔ پس جو کوئی میرے قلعے میں داخل ہو وہ میرے عذاب سے محفوظ رہا"۔
اس میں شک نہیں کہ اہلِ بیتِ عصمت و طہارت (علیہم السلام) کی ولایت کے قلعے میں داخل ہونے سے مقصود شیطان اور نفس و خواہشات کی پیروی سے دور بھاگنا اور ان کے دشمنوں سے دور رہنا ہے۔ اور ان بزرگواروں کی پناہ میں داخل ہونا ہے۔ مختصر یہ کہ تمام افعال و اقوال میں ان عظیم ہستیوں کا پیروکار ہونا چاہیئے۔ جاننا چاہیئے کہ لفظ تَحصُّن (مستحکم قلعہ میں پناہ لینا) صرف لفظ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ فعل و عمل کے ذریعہ ان بزرگواروں کی پناہ میں آنا چاہیئے ۔ چونکہ ہر شخص جس کی پیروی کرتا ہے یقینا وہ اس کے (حصن) قلعے میں پناہ لیتا ہے۔ پس جو کوئی معصیّت میں مبتلا ہوتا ہے وہ عصیان کاری کی حالت میں حصن علی (علیہ السلام) سے خارج ہوتا ہے اور نفس ِ امّارہ اور شیطان کے دام میں پھنس جاتا ہے۔
درندہ شیر سے قلعے میں پناہ لینا
بزرگانِ دین کا قول ہے کہ جو کوئی زبان سے اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ ا لشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ (یعنی پناہ لیتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود سے) کہتا ہے لیکن عملی طور پر شیطان کی پیروی کرتا ہے، اس شخص کی مانند ہے کہ جس کے شکار کو شیر درندہ کمین گاہ میں بیٹھا ہو ہو اور اس کے سامنے ایک قلعہ موجود ہو اور وہ شیر سے کہتا ہو : اگر تو نے حملہ کیا تو میں اس قلعے میں پناہ لے لوں گا۔ باوجود خطرے کے وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا اور قلعہ میں داخل نہیں ہوتا۔ آخر کار شیر اُسے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ ورنہ وہ کوشش کر کے جلد تر قلعے کے اندر داخل ہو جائے تب ہی نجات پائے گا۔
قلعے میں داخل ہونا چا ہیئے
پس جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ تمام خطروں سے محفوظ رہے اُسے چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے مضبوط قلعے میں ،جو کہ حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کی پیروی ہے ، داخل ہو جائے۔ اگر خدا نخواستہ وہ عملاً شیطان کے دام میں پھنسا ہو ہے اور زبان سے دعویٰ کرے کہ میں محب ِ علی ہوں، اس سے کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہو سکتا۔
کیا کردار کے بغیر زبانی دعویٰ کافی ہے؟
یَاجَابِرُ لاَتَذْهَبَنَّ بِکَ الْمَذَاهِبُ حَسِبَ الرَّجُلُ اَنْ یَقُوْلَ احِبُّ عَلِیْاً وَّاَتَوَلاَّهُ ثُمَّ لاَیَکُوْنُ مَعَ ذٰلِکَ فِعَالاً فَلَوْ قَالَ اِنِّیْ اُحِبُّ رَسُولَ اللّٰه (ص) فَرَسُوْلُ اللّٰهِ خَیْرٌ مِنْ عَلِیّ ثُمَّ لاَیَتَّبِعُ سِیْرَتَهُ ولاَیَعْمَل بِسُنَّتهِ نَفَعَه حُبُّهُ اِیَّاهُ
فَاَتَقُوا اللّٰهَ وَاعْمَلُوْا لِمَا عِنْدَاللّٰهِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰهِ وَبَیْنَ اَحَدِ قَرَاَبةٌ اَحَبُّ الْعِبَادِ اِلٰی اللّٰهِ وَاَکْرَمُهُمْ عَلَیْهِ اَتقَیٰهُمْ وَاَعْمَلُهُمْ بِطَاعَتِهِ یَاجَابِرُ وَاللّٰهِ لاَ یَتَقَرَّبُ اِلٰی اللّٰهِ اِلاَّ بِطَاعَتِه وَمَا مَعَنَابَرَاءَ ةٌ مِنَ النارِ وَلاَ عَلٰی اللّٰه عَلٰی اَحَدٍ مِنْ حُجَّةٍ مَنْ کَانَ مُطِیْعاً لِلّٰهِ فَهُوَ لَنَا وَلِیُّ وَمَن کانَ للّٰهِ عَاصِیاً فَهُوَ لَنَاعَدُوٌ وَمَا تَنَالُ وَلاَ یَتُنَا اِلاَّ بِالْعَمَلِ وَالْوَرَع (کافی)
"حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے شیعوں کے صفات بیا ن کرنے کے بعد فرمایا: اے جابر! آیا کسی شخص کا اتنا کہنا کافی ہے کہ میں علی (علیہ السلام) کو دوست رکھتا ہوں اور مجھے ان کی ولایت حاصل ہے۔ اس دعوے کے باوجود عملی طور پر اہلبیت (علیہم السلام) کی پیروی نہیں کرتا۔ اگر کسی نے کہا بے شک میں رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو دوست رکھتا ہوں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) علی (علیہ السلام) سے بہتر ہیں اور میں شیعہ محمد ہوں۔ (اس دعوے کا جواب یہ ہے کہ خود پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اپنے اہلبیت کی پیروی کے بارے میں تاکید فرمائی ہے)، ’تعجب ہے‘ کہ باوجود دعوائے محبت ِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اُن کی سیرتِ طیّبہ کی متابعت نہیں کرتے اور نہ ان کی سنت پر عمل پیرا ہیں ۔ فقط دعوائے محبت سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پس تم اللہ سے ڈرو تا کہ اس کی رحمت تمہارے شامل ِ حال ہو جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور کسی کے درمیان رشتہ داری نہیں ۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین اور عزیز ترین بندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرتا ہو اور سب سے زیادہ عمل کرتا ہو۔"
عمل ہی سے مقصد حاصل ہوتا ہے
گذشتہ فرمائش سے پیوستہ فرمایا:
یَاجَابِرُ وَاللّٰهِ لاَیَتَقَرَّبُ اِلٰی اللّٰهِ اِلاَّ بِطَاعَتِهِ وَمَا مَعَنَا بَرَاءَ ةٌ مِّنَ النَّارِ وَلاَعَلَی اللّٰهِ عَلٰی اَحَدٍ مِنْ حُجَّتِهِ مَنْ کَانَ مُطِیْعاً لِلّٰهِ فَهُوَ لَنَا وَلِیٌّ وَمِنَ کَانَ للّٰهِ عَاصِیاً فَهُوَ لَنَاعَدُوٌّ وَمَا تَنَالُ وَلاَ یَتُنَا اِلاَّ بِالْعَمَلِ وَالْوَرَعِ (کتاب کافی)
"اے جابر! خدا کی قسم قرب ِ الٰہی بغیر اس کی اطاعت کے کسی طرح نصیب نہیں ہوتا۔ جب ہمارے شیعوں کے پاس اطاعت و عمل نہ ہو تو ان کو بے قصور ٹھہرا کر جہنم سے آزادی کا ہمارے پاس کوئی حکم نامہ نہیں۔ فقط یہ کہنا کہ ’ شیعہ ہوں‘، بارگاہ ِ الٰہی میں قابل ِ سماعت دلیل نہیں۔ (اگر خدا چاہے تو اُسے عذاب میں مبتلا کر سکتا ہے کیونکہ خداوند ِ عالم کی طرف سے یہ وعدہ نہیں کہ ’مدعی تشیع‘ کو بخش دیں گے۔ معیار اطاعت و عمل ہے)۔ پس جو کوئی اللہ کی اطاعت کرنے والا ہو وہی ہمارا ولی (دوستدار) ہے اور جو معصیّت کار ہو وہ ہمارا دشمن ہے۔ اور ہماری ولایت سوائے تقویٰ و عمل کے کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتی۔"
تقویٰ کی اقسام کے متعلّق علّامہ مجلسی کی رائے
علّامہ مجلسی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کی چار قسمیں ہیں:
( ۱) ’ ورع تابعین‘، جس سے مراد محرمات سے پرہیز کرنا ہے۔
( ۲) ’ ورع صالحین‘، یعنی مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا تاکہ حرام سے آلودہ نہ ہو۔
( ۳) ’ ورع متقین‘، جس سے مقصد مباح چیزوں کو ترک کرنا ہے تاکہ حرام چیزوں میں مبتلا نہ ہوں۔ مثلاً لوگوں کے حالات نہ پوچھنا اس خوف سے کہ مبادا غیبت کے مرتکب ہو جائیں۔
( ۴) ’ ورع سالکین‘، یعنی غیر ِ خدا سے منہ پھیر لو ا س ڈر سے کہ قیمتی عمر بیہودہ کاموں میں صرف ہو جائے۔ اگرچہ حرام کے ارتکاب کا اسے اندیشہ بھی نہ ہو۔
محبت
حضرات اہلِ بیتِ اطہار (علیہم السلام) اور برادران ِ اہل ِ تسنّن کی بہت سی روایتوں سے بشارت ملی ہے کہ جس سے ایمان دار لوگوں کی امید کو تقویت ملتی ہے کہ اس محبت کی برکت سے خواہش پرستی اور شیطان کی پیروی سے مکمل دوری حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کسی نے کسی بزرگ ہستی سے دوستی کی تو اس دوستی کا لازمہ یہ ہے کہ محبوب کے دوستوں سے دوستی برقرار رکھیں اور دشمنوں سے دشمنی۔ شیطان کی دوستی اور خواہشات ِ نفسانی کی پیروی اللہ تعالیٰ بندگی اور محبت اہل ابرار (علیہم السلام) کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انشاء اللہ دوستداران علی (علیہ السلام) ان کی محبت کی برکت سے شیطان کی راہ سے دور رہیں گے۔ لہٰذا معلوم ہو کہ محبت بھی ولایت کی طرح معصیت سے برأت کا سبب نہیں بننا چاہیئے بلکہ اس کے برعکس اگر حقیقی اور سچا محب ہے تو پھر خواہشات ِ نفسانی کے گرد نہیں گھومتا۔ اس مطلب کو واضح کرنے کے لیے چند مختصر احادیث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
محبّت انسان کو ثابت قدم کرتی ہے
قَالَ الْبَاقِرُ (ع) مَاثَبَتَ اللّٰهُ حُبَّ عَلِّیٍ فِی قَلْبِ اَحَدٍ فَزَلَّتْ لَهُ القَدَمُ اِلاَّ ثَبتَّهَا اللّٰهُ وَثَبَّتَ لَه قَدَمٌ اُخریٰ (بحارالانوار)
" حضر ت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا: خداوند ِ عالم نے حضرت علی (علیہ السلام) کی دوستی کو جس شخص کے دل میں جگہ دی ہے اس کے قدم میں معصیت سے لغزش نہیں آتی بلکہ اللہ اُسے بچا کر اس میں ثابت قدمی پیدا کرتا ہے اور دوسرے اُٹھنے والے قدم کو بھی استحکام بخشا ہے۔"
جناب جابر انصاری کی وصیّت
اِنْ تَزَلَّ لَهُمْ قَدَمٌ بِکَثْرَةِ ذُنُوْبِهِمْ ثَبَتَتْ لَهُمْ اُخْرَیٰ بِمَحَبَّهِمْ
(ج ا سفینة البحار)
حضرت جابر انصارے نے اپنی وصیت میں عطیہ کوفی سے کہا " اگر اہلِ بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کے دوستوں کا پہلا قدم گناہوں کی کثرت کے سبب لڑکھڑا گیا تو اِن حضرات کی محبت کی وجہ سے دوسرا قدم جمانے کی سکت اللہ تعالیٰ پیدا کردے گا۔"
حضرت علی کے دوستداروں کے لیے فرشتوں کی استغفار
بہت سی روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ دوستداران اہل بیت (علیہم السلام) کے لیے ملائکہ استغفار کرتے ہیں ۔ چنانچہ بحار الانوار میں اہل ِ سنّت و الجماعت سے یہ روایت نقل کی گئی ہے :
عَنْ اَنَسٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ (ص)قَال خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ نُوْرِ وَجْهِ عَلیِّ بْنِ اَبِیْطَالِب سَبْعِیْنَ اَلفَ مَلَکٍ یَسْتَغْفِرُوْنَ لَه وَلِمُحِبِّیْهِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ
"خداوندعالم نے حضرت علی (علیہ السلام) کے نور سے ستّر ہزار طرشتے پیدا کئے ہیں۔ یہ ملائک اُن پر اور ان کے دوستوں کے لیے قیامت تک استغفار کرتے رہیں گے۔ "
حضرت علی(علیہ السلام) کی محبت گناہوں کو جلا ڈالتی ہے
اس بارے میں صراحتاً روایت ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی دوستی گناہوں کو فنا کردیتی ہے ۔ چنانچہ بحار الانوار میں ابن ِ عباس نے یہ روایت حضرت رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نقل کی ہے:
حُبُّ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالَبٍ یَأْکُلُ الذُّنُوْبَ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ۔
"یعنی حضرت علی (علیہ السلام) کی محبت گناہوں کو اس طرح جلا دیتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو جلاتی ہے۔
رذل سواد معاصی بروں برد مہرش
چنانکہ ماہ برد ظلمت ِشب ِ دیجور
زحبّ او ست بروز جزانہ از طاعت
امید ِ مغفرت از حیّ ِ لا یزال ِ غفور
(رباعی)
یعنی حضرت علی (علیہ السلام) کی محبت دل کی سیاہی کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے چاند تاریک رات کے اندھیرے کو۔ قیامت کے دن مغفرت ان کی محبت کے صلے میں ملے گی نہ کہ اطاعت و عبادت کے عوض۔ مگر اس محبت کے ساتھ ہمیشہ رہنے والے غفور ِ رحیم کی امید بھی دل میں ہونی چاہیئے۔ (یعنی محبت سے سر شار ہو کر اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے)۔
پریشا نیاں اور بلا ئیں گنا ہوں کو زائل کر د یتی ہیں
اس بارے میں روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ِ بیت (علیہم السلام) کے گناہ گار دوستوں کو دنیا میں گو نا گوں بلاؤں میں مبتلا کرتا ہے تا کہ مرنے سے پہلے گناہوں سے پاک ہو جائیں ۔ اگر گناہ زیادہ ہیں تو جان کنی کی سختی سے؛ اگر اس سے بھی زیادہ ہیں تو برزخ سے لے کر محشر تک کے عذاب سے پاک کردیتا ہے۔ بالفرض وہ اس قدر گناہ گار ہے کہ میدانِ حشر تک کثرت سے گناہ باقی ہوں اور معاف نہیں ہوئے ہوں تو جہنم کی آگ سے معذّب ہو گا اور گناہوں سے پاک و صاف ہو کے بعد نکالا جا ئے گا۔ اور وہ شخص جس کے دل میں محبت ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) اور ایمان کا ذرہ موجود ہے وہ جہنم میں نہیں رہے گا۔ چونکہ ہمیشہ کا عذاب کفّار اور دشمنان ِ اہل ِ بیت ِ رسول صلوات اللہ علیہم اجمعین کے لیے مخصوص ہے۔
محبّت کے انداز سے فیض حاصل کر سکتا ہے
ضمناً اس نکتے کی ہاد دہانی بھی کی جاتی ہے کہ عذاب ِ الٰہی میں کم یا زیادہ مدّت گرفتار رہنے کا دارومدار محبت ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) کی شدّت اور ضعف کی بناء پر ہے۔ محبت زیادہ ہو تو شفاعت بھی جلد ہو گی بلکہ سکرات موت کے وقت اس کی فریاد کو پہنچتے ہیں۔ چنانچہ جناب سیّد حمیری نے سوانح عمری میں لکھا ہے کہ سیّد اسماعیل حمیری شاعر ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) تھے۔ ۱۷۳ ھء میں وفات پائی۔حضرت علی (علیہ السلام) کی ہر ایک فضیلت کے بارے میں ایک قصیدہ انشاء فرمایا ہے ان کو کسی مجلس میں اس وقت تک سکون و قرار نہیں ملتا تھا جب تک کہ وہ اپنے قصائد میں سے کوئی قصیدہ پڑھ کر نہ سنا دیں۔ اِن بزرگوار کی رحلت کے وقت بڑی کرامت ظاہر ہوئی ۔ چنانچہ شیعہ و سنی کتب مثلاً الغدیر، جلد سوم ، کتاب الأغانی ، مناقب ِ سروری، کشف الغمہ، امالی شیخ صدوق، بشارة المصطفیٰ، اور رجال کشی میں یہ حکایت نقل کی گئی ہے۔ اس کا خلاصہ یوں ہے:
سیّد صاحب کی وفات کے وقت شیعہ مذہب کے مخالفین کی ایک جماعت موجود ہو گئی ۔ سیّد صاحب خوبصورت آدمی تھے اور سرخ و سفید چہرہ رکھتے تھے۔ بار بار اور کثرت سے افسوس کا اظہار کر رہے تھے ۔ اسی اثناء میں ان کے چہرے پر روشنائی کی طرح ایک سیاہ نقطہ ظاہر ہو اور دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے پھیلنے لگا۔ یہاں تک کہ سارا چہرہ تارکول کی طرح سیاہ ہو گیا۔ مخالفین خوش ہو نے لگے اور ملامت چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ سیّد پر خاموشی اور بے ہوشی طاری تھی۔ ایک مرتبہ ہوش آیا تو آنکھیں کھولیں اور نجف اشرف کی سمت رخ کر کے فریا د کی : یا امیر المومنین ، اے بے چاروں کے مرکز ِ امید، کیا آپ اپنے دوستوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں ؟ کہتے ہیں کہ تین بار اس جملے کی تکرار کی ۔ اتنے میں خدا کی قسم ایک نور اُن کی پیشانی پر ظاہر ہو جو آہستہ آہستہ پھیلتا گیا۔ یہاں تک کہ چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگا۔ سیّد نے ہنستے ہوئے خوشی میں فی البریہہ یہ شعر کہے:
کَذِبَ الزَا عِمُوْنَ اَنَّ عَلَیّاً
لَنْ یُّنْجِی مُحِبُّهُ مِنْ هَتَاتِ
جھوٹ کہا ہے ایسا گمان کرنے والوں نے کہ علی (علیہ السلام) اپنے دوست کو سختی سے نجات نہیں دے سکتے۔
قَدْوَرَبِّیْ دَخَلْتُ جَنَّةَ عَدْنٍ
وَعَفَالِیَ الْاِلٰهُ عَنْ سَیِّئاتی
میرے پروردگار کی قسم میں بہشت میں داخل ہو ا ہوں اور یقینا اللہ تعالیٰ نے میرے گناہ بخش دیئے ۔
فَاَبْشِرُوا الْیَومَ اَوْلیاءَ عَلیٍ
وَتَولُّوْا عَلِیاً حَتّیٰ الْمَمَاتِ
پس تمہیں بشارت ہو اے دوستدارانِ علی (علیہ السلام) جو مرتے دم تک علی (علیہ السلام) کا دوستدار رہے۔
ثُمَّ مِنْ بَعْدِهِ تَوَلُّوْا بَنِیْهِ
وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ بِالصِّفاتِ
اس کے آپ (علیہ السلام) کے گیارہ فرزند۔ یکے بعد دیگرے جو امامت کے جملہ اوصاف رکھتے ہیں ، ان کی محبت کریں۔
ان چار اشعار کے بعد اللہ کی وحدانیت ، پیغمبر ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رسالت اور امیر المومنین (علیہ السلام) کی ولایت کا زبان سے اقرار کیا۔ آنکھیں بند کیں اور دنیا سے سدھار گئے۔
خواہشات محبت کی راہ میں رکاوٹ ہیں
کبھی ایس ابھی ہوتا ہے کہ دنیوی مال و دولت سے زیادہ محبت اور خواہشاتِ نفسانی کے ہیجان سے ہا آلِ محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کی محبت دل میں نہ ہونے ہا اگر ہے تو کمی کی بناء پر لوگ مرتے وقت اہلِ بیتِ اطہار (علیہم السلام) کو بھول جاتے ہیں اور جس چیز کی محبت میں وہ سرشار ہوتے ہیں موت کے وقت صرف وہی نظر آتا ہے۔ اس بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ ان کا یہاں ذکر کرنا موضوع سے علیحدہ اور طوالت کا باعث ہو گا اس لیے مختصر گذارش پر اکتفا کی جاتی ہے۔
سودا خوش است کہ یکجا کند کسی
اس مصرعے سے جو مطلب اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اہل ِ ایمان اپنے دل میں زیادہ سے زیادہ محبت ِ اہل ِ بیت (علیہم السلام) پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں کی محبت کو دل سے نکال دیں اور ہر گناہ سے خصوصاً گناہان ِ کبیرہ سے اجتناب کریں تاکہ انشاء اللہ بُرے انجام سے محفوظ رہیں۔
نعمت کو معصیت میں استعمال نہ کریں
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اپنے بعض دوستوں کے نام یہ خط لکھا:
اِنْ اَرَدْتَّ اَنْ یَخْتِم عَمَلُکَ بِخَیْرٍ حَتّیٰ تَقْبِضَ وَاَنْتَ فِیْ اَفْضَل الْاَعْمَالِ فَعَظِّمِ اللّٰهِ حَقَه اَنْ تَبْذِلَ نعْمَائِهِ فی مَعَاصِیْهِ وَاَنْ تَنْتَر بِحِلّمِه مِنْکَ وَاَکْرِمْ کُلَّ مَنْ وَّجَدْ یَذکُرُنَا اَوْیَنْتَحِلُ مَوَدَّتَنَا ثُمَّ لَیْسَ عَلَیْکَ صَادِقاً کانَ اَوْکَاذِباً اِنَّمَا لَکَ نِیَّتُکَ وَعَلَیْهِ کِذْبُهُ (بِحَار الْاَنْوار)
" اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری عمر و عاقبت بہترین اعمال و حالات کے ساتھ انجام پا ئے اور اسی حالت میں روح قبض ہو تو اللہ تعالیٰ کو کما حقّہ‘ بزرگ جانو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نعمتوں کو اس کی نافرمانیوں میں صرف کرو اور خداوند ِ متعال کی عنایات کا غلط فائدہ اٹھا کر مغرور ہو جاؤ (یعنی نعمت ِ خداوندی کو معصیت کی راہ میں صرف نہ کرو) اور ہر اس شخص کی عزّت کرو جو ہم اہل ِ بیت کو یاد کرتا رہتا ہے یا ہماری دوستی کا اظہار کرتا ہے ا س سے واسطہ نہیں کہ وہ سچ بولتا ہے یا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے، کیونکہ تم کو اپنی نیت کا اچھا صلہ اور اس کو اپنے جھوٹ کا گناہ (سزا) مل جائے گا۔"
گناہ کی تاریکی اور توبہ کا نور
عَنِ الصَّادِق (ع) فی تَفْسِیْرِ قَوْله تَعَالٰی ((( اللّٰهُ وَلِیُّ الَّذینَ آمَنُوْا یُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلٰی النُّوْرِ ) )) قَالَ علیه السَّلام یَعْنِیْ مِنْ ظُلُمَاتِ الذُّنُوْبِ اِلٰی نُوْرا التَّوْبَةِ وَالْمَغْفِرَةِ لِوَلاَ یَتِهِمْ کُلُّ اِمَامٍ عَادِلٍ مِنَ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ ((( وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَوْلٰیْهُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمَات ) )) اِنَّمَا عُنِیَ بِهٰذا عَلٰی اَنَّهُمْ کَانُوْا عَلٰی نُوْرِ الْاِسْلَامِ فَلَمَّا اَنْ تَوَلوْا کُلَّ اِمَامٍ جَائِرٍ لیْسَ مِن اللّٰهِ خَرَجُوا بِوَلایَتِهِمْ مِنْ نُوْرِالْاِسْلَامِ اِلٰی ظُلُمَاتِ الْکُفْرِ فَاَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُمُ النَّارُ مَعَ الْکُفَّارِ
(تفسیر صافی ص ۶۸ نقل از اصول کافی)
"اس قولِ خدا کی تفسیر کے بارے میں کہ ’ خدا ان لوگوں کا سرپرست ہے جو ایمان لا چکے انہیں تاریکیوں سے نکال کررو شنی میں لاتا ہے‘، حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو گناہوں کی تاریکیوں سے توبہ اور مغفرت کے نور کی طرف لے جاتا ہے ۔ کیونکہ ان لوگوں کو ہر ایک امام عادل اور اللہ کی طرف سے منصوب پیشواؤں یعنی بارہ امام (علیہم السلام) کی ولایت حاصل ہے۔
اوراس آیت کے آخری حصے "اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انکے سرپرست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں ڈال دیتے ہیں"۔(سورہ بقرہ آیت ۲۵۷) کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس آیہ شریفہ سے اس کے سوا اور کچھ نہیں "جو لوگ نوراسلام پر تھے اس کے بعد ہر ایک ظالم اور ناحق پیشواؤں کی پیروی کرتے رہے جو کہ منصوب من اللہ نہیں تھے ۔اس لئے نور اسلام سے کفر کی تاریکیوں کی طرف نکل گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ جہنم کی آگ ان کے لیے واجب قرار دیدی
کبیرہ اور صغیرہ کے معنی
گذشتہ مطالب سے یہ واضح ہوا کہ گناہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں؛کبیرہ اور صغیرہ۔کبیرہ گناہ کے خواص اور اس کے ترک یا مرتکب ہونے سے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ معلوم ہوئے ۔اب ہم گناہ کبیرہ سے مراد اور ان کی تعداد بیان کریں گے ۔
اس موضوع پر علمائے کرام کے اقوال ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ان تمام اختلافات اور اعتراضات کو بیان کرنے سے اس کتاب کی شکل ہی بدل جائے گی ۔ چوں کہ ہماری غرض اختصار اور عام لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے ،لہٰذا تفصیل کے خواہش مند حضرات کتاب شرح کافی اور اربعین شیخ بہائی کی طرف رجوع کریں۔
اس مسئلہ میں علمائے کرام اور مراجع تقلید کی تحقیق کے مطابق مستند وجامع قول وہی ہے جو کہ اہل بیت آیة فقیہ اہل ِ بیت آیة اللہ العظمیٰ السیّد محمد کاظم طباطبائی یزدی طاب ثراہ نے باب شرائط امام جماعت عروة الوثقٰی میں بیان فرمائے ہیں۔ ہم اسی پ راکتفا کرتے ہوئے سید موصوف کے فرمودات کا خلاصہ یہاں ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے گناہ کبیرہ کے تعیّن کے چار طریقے اس طرح بتائے ہیں:
گناہ کبیرہ کیا ہے؟
( ۱) کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جو قرآن و حدیث میں صریحاً کبیرہ قرار دیا گیا ہو۔ اس قسم کے گناہوں کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے جن کو اہل بیت عصمت (علیہم السلام) کی احادیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اب ہم ان روایات کی تشریح و تجزیہ کرتے ہیں۔
( ۲) کبیرہ ہر وہ گناہ ہے کہ قرآن مجید اور سنّت معتبرہ میں جس کے مرتکب شخص کے لیے واضح طور پر جہنم کی وعید دی گئی ہو یا یہ کہ واضح طور پر قرآن و حدیث میں آتش جہنم کا وعدہ ذکر نہیں مگر ضمناً مذکور ہے۔ مثلاً قول ِ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) :
"جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی یقیناً وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کے ذمے سے بری ہوتا ہے۔"
اس روایت میں اشارتاً آتش جہنم کا وعدہ ہے مگر واضح الفاظ میں ذکر نہیں۔ لیکن دوسری روایتوں سے ان مبہم نکات کی وضاحت کے لیے روشن دلیلیں ملتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق + نے فرمایا:
الکَبَائِرُ کُلُّ مَا اَوْعَدَ اللّٰهُ عَلَیْهِ النَّارْ ۔
"گناہ کبیرہ ہر وہ گناہ ہے کہ جس پر خدائے تعالیٰ نے جہنم کا وعدہ کیا ہے۔"
اور وہ روایت صحیحہ جو امام زادہ عبدالعظیم حسنی / سے منقول ہے ، آگے ذکر ہو گی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عذاب ِ الٰہی کا وعدہ خواہ قرآن میں ہو یا سنّت و اخبار میں ، کوئی فرق نہیں۔
( ۳) ہر وہ گناہ جو قرآن یا سنّت معتبرہ کی رو سے مسلمہ طور پر گناہ کبیرہ ہو۔ اگر اس کے مقابل کوئی دوسرا گناہ اس سے زیادہ بڑا شمار کریں تو وہ بھی گناہ ہے۔ مثلاً قتل نفس گناہان ِ کبیرہ میں سے ہے اور قرآن و سنّت دونوں سے ثابت ہے۔ چنانچہ ابن محبوب کی صحیح حدیث میں ’ نفس محترم ‘ کا قتل واضح عبارت میں گناہ کبیرہ محسوب کیا گیا ہے۔ اور قرآن مجید میں قاتل کے لیے عذاب کا وعدہ دیا ہو ا ہے۔ پس اگر قرآن پاک میں یا ایسی سنّت جسے معتبر سمجھا جائے اس کے کے معنی سے یہ واضح ہو جائے کہ فلاں گناہ قتل نفس سے بڑا گناہ ہے اس صورت میں وہ گناہ بھی گناہ کبیرہ ہی ہو گا۔ مثلاً فتنہ انگیزی کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ِ ربّانی ہے کہ وہ قتل نفس سے بھی بڑا گناہ ہے:
وَالْفِتْنَةُ اَکْبَرُ مِن الْقَتْلِ
اس سے ہمیں یقین پیدا ہوتا ہے کہ فتنہ بھی گناہان کبیرہ میں محسوب ہوتا ہے۔
( ۴) کبیرہ وہ گناہ ہے جو د ین دار اور شریعت پسند افراد کے نزدیک بڑا گناہ ہو۔ اس طرح کہ یہ یقین حاصل ہو جائے کہ مثلاً فلاں گناہ اس وقت سے لے کر زمانہ معصوم (علیہ السلام) تک سارے متدینیین مسلسل گناہ کبیرہ شمار کرتے آئے ہیں ۔ جیسا کہ عقلاً اور مسئلہ جانتے ہوئے خانہ خدا کی بے حرمتی کے قصد سے مسجد بجس کرنا یا نعوذباللہ قرآن مجید دور پھینک دینا وغیرہ وغیرہ گناہ کبیرہ میں شمار ہوتے ہیں۔
گناہ کبیرہ کے تعیّن کرنے کے چار طریقے جیسا کہ سیّد نے فرمایا، بیان کیے گئے۔ جن میں پہلی قسم وہ گناہان کبیرہ ہیں جن کے بارے میں نص موجود ہے۔ باقی تین طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے کبیرہ ہونا ثابت ہو اس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔
مذکورہ چار طریقوں سے متعلّق عروة الوثقیٰ کی اصل عبارت
( ۱)الْمَعْصِیَةُ الْکَبِیْرة، هِیَ کُلُّ مَعْصِیَةٍ وُرِدَا النَّصُّ بِکَوْنِهَا کَبِیْرَةٌ کجُمْلَةٍ مِن المعًاصِیْ الْمَذْکُوْرَةِ فِیْ مَحِلْهَا ۔
"کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جو قرآن و سنّت میں صریحاً کبیرہ ثابت ہو چکا ہو اس قسم کے گناہان ِ کبیرہ (کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے) ہر ایک کا ذکر اپنے موضوع کے تحت ہو گا۔"
( ۲)اَوْوُرِدَالتوْ عِیْدُ بِالنَّارِ عَلَیْهَا فی الْکِتَابِ اَوْ السُّنَّةِ صَرِیْحاً اَوْضِمْناً ۔
"یا کبیرہ ہو وہ گناہ ہے کہ قرآن اور سنّت معتبرہ میں جس کے مرتکب شخص کے لیے واضح طور پر ضمناً وعید دی گئی ہو۔"
( ۳)اَوْ وُرِدَ فِی الْکِتَابِ اَوِ السُنّةِ کوْنُهُ اَعْظَمَ مِنْ اَحَدِ الْکَبَائِر الْمَنصُوْصَةِ اَوِالْمَوْعُوْدُ عَلَیْهَا بِالنَّارِ
"یا ہر وہ گناہ جو قرآن مجید یا سنّت ِ معتبرہ میں کسی ایک گناہ کو صراحتاً دوسرے گناہ سے بڑا شمار کیا گیا ہے یا جس پرآتش جہنم کا وعدہ کیا گیا ہو۔"
( ۴)اَوْکَانَ عَظِیْمةً فِیْ اَنْفُسِ اَهْلِ الشَّرْعِ ۔
"یا کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جسے اہل شرع بڑا گناہ محسوب کریں۔"
اب ہم تبرکاً گناہانِ کبیرہ کے مدارک اور ان سے متّعلق روایات نقل کرتے ہیں اور ہر ایک کی تشریح اپنی جگہ تفصیل کے ساتھ ہوگی۔
پہلی روایت
قَالَ الصَّدُوْقُ فِیْ عُیُوْنِ الْاَخْبَارِ عَنْ عَبْدِ الْعَظِیْمِ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ الحَسَنِیْ قَالَ حَدَّ ثَنِیْ اَبُوْ جَعْفَر الثَّانِیْ قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبِیْ مُوْسیٰ بْنِ جَعْفَرٍ (ع) یَقُوْلُ دَخَلَ عَمْرُو بْن عُبَیْدٍ علی اَبی عَبْدُاللّٰهِ عَلَیْهِ السَّلاَمُ فَلَمَا سَلَّمَ وَجَلَسَ تَلاٰ هٰذِه الْآیَةَ (( ( الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبَائِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ) ثُمَّ اَمْسَکَ ؟ قَالَ اُحِبُّ اَنْ اَعْرِفَ الْکَبَائِرِ مِنْ کِتَابِ اللّٰهِ تَعَالٰی وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الجَنَّةَ ۔(سورہ ۵ ۔آیت ۷۲)
"صدوق نے عیون الأخبار میں(امام زادہ) حضرت عبدالعظیم بن عبداللہ الحسنی کے حوالے سے یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے ابو جعفر ثانی (امام محمد تقی ) سے سنا اور انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے سنا اور انہوں نے کہا کہ میں حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ ایک دن عمروبن عبید حضرت ابی عبداللہ جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب وہ سلام کر کے بیٹھ گئے تو عمرو بن عبید نے اس آیت کی تلاوت فرما ئی :
"وہ لوگ جو گناہانِ کبیرہ اور بے حیائیوں سے پرہیز کرتے ہیں ۔" اس کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہے تو امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: آپ خاموش کیوں ہو گئے؟ عرض کیا میں کتاب خدا سے گناہان کبیرہ جاننا اور اخذ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: اے عمرو تمام گناہانِ کبیرہ میں سے بزرگ ترین گناہ اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ہے۔ جیسا کہ خود فرمایا ہے، " یاد رکھو جس نے خدا کا شریک بنایا اس پر خدا نے بہشت کو حرام کردیا۔"
( ۲)وَبَعْدُهُ الْیَاْسُ مِنْ رَّوْح اللّٰهِ تَعَالٰی لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: یَایْئَسُ مِنْ رَّوحِ اللّٰهِ اِلاَّ الْقَوْمُ الْکَافِرُوْن ۔ (سورہ ۱۲ ۔آیت ۸۷)
"اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہونا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے سوائے گروہ کافروں کے اور کوئی نا امید نہیں ہو کرتا۔"
( ۳)ثُمَّ الْاَمْنُ مِنْ مَکْرِ اللّٰهِ لِاَنَّ عَزَّوَجلَّ یَقُوْلُ فَلاَ یَاْمَنُ مَکْرَ اللّٰهِ اِلاَّ الْقَوْمُ الخَاسِرُوْن (سورہ ۷ ۔آیت ۹۹)
"اللہ تعالیٰ کے مکر (یعنی ناگہانی انتقام و قہر) سے نہ ڈرنا گناہ ِ کبیرہ ہے۔ چنانچہ خدائے بزرگ و برتر کا ارشاد ہے : یاد رہے کہ خدا کے داؤ سے صرف گھاٹا اٹھانے والے ہی نڈر ہو بیٹھتے ہیں۔"
( ۴)وَمِنْهَا عقوقِ الوَالِدَینِ لِاَنَّ اللّٰهَ سُبْحَانَه جَعَلَ الْعَاقَ جَبَّاراًشَقِیّاً
"گناہان کبیرہ میں سے ایک عاق والدین ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا :
"وَبَرّاًبِوَالِدَیهِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّاراً عَصِیّاً "
’یعنی اپنے ماں باپ کے حق میں سعادت مند تھے اور سرکش و نافرمان نہ تھے۔ ‘
یہاں ماں باپ کے نافرمان کو سرکش اور شقی فرمایا۔"
( ۵)وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلاَّ بِالْحَقِّ لِاَن اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ (( ( فَجَزَاو جَهَنَّمُ خَالِداً فِیْهَا )) )
"کسی مومن کو نا حق قتل کرنا (گناہ کبیرہ) حرام ہے۔ کیونکہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَمَنْ یَقْتُلْ مُومِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآءُ هُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِیْهَا وَغَضِبَ اللّٰهَ عَلَیْهِ وَلَعَنَه وَاَعَدَّ لَه عَذَاباً عَظِیما ) ً
"اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالے (تو اس کا کوئی کفّارہ نہیں بلکہ) اس کی سزا دوزخ ہے اور وہ ہمیشہ اس میں رہے گا۔ اس پر خدا نے اپنا غضب ڈھایا اور لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا سخت عذاب تیّار کر رکھا ہے۔"(سورہ ۴ ۔آیت ۹۳)
( ۶)وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ لِاَنَّ تَعَالٰی یَقُوْلُ ( اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَاراً وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْراً ) ۔
"کسی پاکدامن مرد یا عورت کو زنا یا لواطہ کی طرف نسبت دینا گناہ کبیرہ ہے۔ جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے:
( اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُومِنَاتِ لُعِنُوْا فِیْ الدُّنََیَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ) ۔ (سورہ ۲۴ ۔آیت ۲۳)
"بے شک جو لوگ پاکدامن ، بے خبر اور ایمان دار عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں (خدا کی) لعنت ہے۔ اور ان پر بڑا (سخت ) عذاب ہو گا۔"
( ۷)وَاَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ لِاَنَّ اللّٰهِ تَعَالٰی یَقُوْلُ ( (( اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَاراً وَّسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا ) ۔
"اور مال یتیم کھانا گناہ کبیرہ ہے۔ جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا:
( اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامٰی ظُلْماً اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَاراً ط وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْراً ) (سورہ ۴ ۔آیت ۱۰)
’جو لوگ یتیموں کے مال نا حق چٹ کر جایا کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس انگارے بھرتے ہیں اور عنقریب واصل جہنم ہو ں گے۔ "
( ۸)وَالْفرَارُ مِنَ الزَّحْفِ لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ ( وَمَنْ یَوَلّهِمْ یَوْمَئِذٍدُبْرَه اِلاَّ مُتَحَرِّفاً لِقِتَالٍ اَوْمُتَحَیِّزاً اِلٰی فِٴَةٍ فَقَدْ بَآءَ بَغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰهُ جَهَنَّمُ وَبِئسَ الْمَصِیْرُ )
(سورہ ۸ ۔ آیت ۱۶)
جہاد میں پیش قدمی کرنے کی بجائے بھاگ جانا گناہ کبیرہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "اور (یاد رہے) اس شخص کے سوا جو لڑائی میں کترائے یا کسی جماعت کے پاس جا کر (اور) جو شخص بھی اس دن ان کفّار کی طرف سے اپنی پیٹھ پھیرے گا وہ یقینی (ہر پھر کے) خدا کے غضب میں آگیا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور وہ (کیا) بُرا ٹھکانہ ہے۔"
( ۹)وَاَکْلُ الرِّبْوا لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ :( اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبْوا یَقُوْمُوْنَ اِلاَّکَمَایَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ) ۔
"گناہانِ کبیرہ میں سے ایک سود خوری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
"جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن کھڑے نہ ہو سکیں گے مگر اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے لپٹ کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔‘
ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْ اِنَّما الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبوْا ط وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبْوا ۔
"یہ اس وجہ سے کہ وہ اس کے قائل ہو گئے کہ جیسا بِکری کا معاملہ ویسا ہی سود کا معاملہ ، حالانکہ بِکری کو تو خدا نے حلال قرار دیا اور سود کو حرام کر دیا۔"
( ۱۰)وَالْسِّحرُ لِاَنَّ تَعَالٰی وَلَقَدْ عَمِلُوْا لَمَن اِشْتَراهُ مَالَهُ فِیْ الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ط
"اور سحر (جادو) گناہ کبیرہ ہے۔ "چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "وہ یقینا جان چکے تھے کہ جو شخص ان (جادو کی برائیوں ) کا خریدار ہوا وہ آخرت میں بے نصیب ہے۔"
وَلَبِئسَ مَاشَرَوُا اَنْفُسِهِمْ لَوْکَانُوْایَعْلَمُوْنَ
’اور بے شبہ (معاوضہ ) بہت ہی بڑا ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا۔ کاش کچھ سمجھتے ہوتے۔"
( ۱۱)وَالزِّنَالِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ ( وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَاماً یُصنَاعَفْ لَه الْعَذَابُ یَوْمَ الِْیَامَة، وَیَخْلُدْفِیهِ مُهَاناً )
گناہان کبیرہ میں سے ایک ’زنا‘ ہے۔ چونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَالَّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ الٰهاً آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ الاَّ بالْحَقِّ وَلَایَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اثاماً یُّضاعَفْ لَه الْعَذابُ وَیَخْلُدُ فِیْهِ مُهَاناً ) ۔
(سورہ ۱۹ آیت ۶۸،۶۹)
"اور وہ لوگ جو خدا کے ساتھ دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرتے اور جس جان کے مارنے کو خدا نے حرام کردیا ہے اس کو نا حق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں ۔ اور جو شخص ایسا کرے گا وہ آپ اپنے گناہ کی سزا بھگتے گا۔ قیامت کے دن اس کے لیے عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور اس میں ہمیشہ ذلیل و خوار رہے گا۔"
( ۱۲)وَالیَمِیْنِ الْغَمُوسِ الْفَاجِرَةِ لِاَنَّ اللّٰه تَعَالٰی یُقوْلُ :( اِنَّ اَلَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَیْمَانِهِم ثَمَناً قَلِیلاً اُوْلئِٓکَ لَاخَلَاقَ لَهُمْ فِیْ الْآخِرةِ وَلَایُکَلِمُهُمُ اللّٰهُ وَلَایَنْظُرُ الَیْهِمْ یَوْمَ اَلقیٰامَةِ لَایُزَکِیْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلَیْمٌ ) (سورہ ۳ ۔آیت ۷۷)
"گناہانِ کبیرہ میں ایک ’ یمین غموس ‘ جھوٹی قسم ہے۔ جس کے بارے میں خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے:"بے شک جو لوگ اپنے عہد اور قسمیں جو خدا سے کی تھیں اُن کے بدلے تھوڑا (دنیوی) معاوضہ لے لیتے ہیں ، انہیں لوگوں کے واسطے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور قیامت کے دن خدا ان سے بات تک تو کرے گا نہیں اور نہ اُن کی طرف نظر (رحمت) ہی کرے گا۔ اور نہ اُن کو (گناہوں کی گندکی سے) پاک کرے گا۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
( ۱۳)وَالْغُلُوْلُ لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ ( وَمَنْ یّغْلُلُ یَاْتِ بِمَاغَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ) ۔
جن گناہوں کے بارے میں نصوص صریحہ موجود ہیں، ان میں سے ایک، غلول، خیانت ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَمَاکَانَ لِنَبیّ اَنْ یَغُلَّط وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَاغَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ثُمَّ تُوَفّیٰ کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ وَهُمْ لَایُظْلَمُوْنْ اَفَمَنِ اَتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ کَمَنْ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَأ وهُ جَهَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرِ ) ۔ (سورہ ۳ ۔آیت ۱۶۱،۱۶۲)
"کسی نبی کے (ہر گز) یہ شایانِ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو خیانت کرے گا تو جو چیز خیانت کی ہے قیامت کے دن وہی چیز (بعینہ خدا کے سامنے) لانی ہو گی۔ اور پھر ہو شخص اپنے کئے کا پورا بدلا پائے گا۔ اور ان کی کسی طرح حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ بھلا جو شخص خدا کی کوشنودی کا پابند ہو گیا وہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا کے غضب میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا بُرا ٹھکانہ ہے۔"
( ۱۴)وَمَنْعُ الزَّکوٰة، الْمَعرُوْضَةِ لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی ( یَقُوْلُ فَتُکوْیٰ بِهَاجِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُوْرُهِمْ ) ۔
"واجب زکوٰة کو روکنا گناہِ کبیرہ ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَایُنْفِقُوْنَهَا فی سَبِیْلِ اللّٰهِ فَبَشِرّهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) ۔
"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے جاتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو اے رسول ان کو دردناک عذاب کی خو ش خبری سنا دو۔"
( ۱۵)وَشَهَادَةُ الزُّوْرِ لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ :
( وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ ) ۔
"اور جھوٹی گواہی دینا گناہ کبیرہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :"تم جھوٹی گواہی سے پرہیز کرو۔"
( ۱۶)وَکِتْمانُ الشَّهَادَةِ لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی یَقُوْلُ ( لَاتَکْتُمُوْا الشَّهَادَةَ ط وَمَنْ یَکْتُمْهَا فَاِنَّهُ اٰثِمٌ قَلْبُه ط وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌَ ) ۔
"تم گواہی کو نہ چھپاؤ۔ اور جو چھپائے گا تو بے شک اس کا دل گناہ گار ہے اور تم لوگ جو کرتے ہو خدا اس کو خوب جانتا ہے۔"
( ۱۷)وَشُرْبِ الْخَمْرِ لِاَنَّ تَعَالٰی انَهٰی عَنْهَا کَمَا نَهٰی عَنْ عِبَادَةِ الْاَوْثانِ ۔
"اور شراب خوری گناہ کبیرہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس سے منع فرمایا ہے ۔ جیسا کہ بت پرستی سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:
( وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمیَْسِرِط قُلْ فِیْهِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثمُهُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ) (سورہ ۲ آیت ۲۱۹)
"اے رسول، تم سے لوگ شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تم ان سے کہدو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔ اور (کچھ فائدے) بھی ہیں۔ اور ان کے فائدے سے ان کا گناہ بڑھا ہو اہے۔"
( ۱۸)وَتَرْکُ الصَّلٰوةِ مُتَعَمِّدًا
"اور جان بوجھ کر نماز ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے۔"
( ۱۹)اَوَشَیْئاً مِمَّا فَرَضَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ لِاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرَءَ مِنْ ذِمّةِ اللّٰهِ وَذِمَّةِ رَسُوْلِهِ ۔
"یا بعض ضروریات ِ دین جو کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دی ہیں عمداً ترک کرنا گناہان ِ کبیرہ میں سے ہے۔ چونکہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا جو کوئی جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے تو یقینا خداوند عالم اور اس کے رسول کی امان سے خارج ہے۔"
( ۲۰) وَنَقْضُ اِلْعَھْدِ
ٍ "یعنی عہد شکنی گناہ کبیرہ میں شمار ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مِیْثَاقِهِ الخ ) (سوره رعدآیت ۲۵)
"اور وہ لوگ جو خدا سے عہد و پیمان کو پکا کرنے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں۔"
( ۲۱)وَقَطِیعَةُ الرَّحِمِ لِاَنَّ اللّٰه تَعَالٰی یَقُوْلُ ( وَیَقْطَعُوْنَ مَا اَمَرَاللّٰهُ بِراَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِیْ الْاَرْضِط اُوْلٰئِکَ لَهُمُ اللَّعْنَهُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ ) (سورہ رعد۔آیت ۲۵)
"اور رشتہ داروں سے تعلقات قطع کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا آیت میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے:
’اور جن (باہمی تعلقات) کے قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے انہیں قطع کرتے ہیں اور روئے زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور ایسے ہی لوگوں کو واسطے بُرا گھر (جہنم) ہے۔"
جب حضرت ابی عبداللہ جعفر صادق (علیہ السلام) نے گناہان ِ کبیرہ بیان کر کے اپنے کلام اختتام تک پہنچایا تو راوی عمرو بن عبید فریاد اور بکا کے ساتھ یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا: "یقینا ہلاکت میں پڑ گیا وہ شخص جو اپنے رائے سے کچھ کہے اور آپ حضرات کے علم و فضل سے انکار کرے۔"
پہلی روایت یہیں پر اختتام کو پہنچی۔
د وسری روا یت
فِی صَحِیْحِ بْنِ مَحبُوْب قَالَ کَتَبَ مَعِیْ بَعْضُ اَصْحَابِنَا اِلٰی اَبِیْ الْحَسَنِ (ع) یَسْئَلُهُ عَن الْکَبَائِرِکَمْ هِیَ ؟ وَمَاهِی ؟ فَکَتَبَ (ع) الْکَبَائِرَ مَنْ اِجْتَنَبَ مَاوَعَدَ اللّٰهُ عَلَیْهِ النَّارُ کَفَّرَ عَنْهُ سَیّئاتَهُ اِذَا کَانَ مُوْمِناً وَالسَّبْعُ مُوْبِقَاتٍ ۔
"ابن محبوب سے صحیح میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ اس نے کہا: " میرے بعض رفقاء نے میرے ساتھ حضرت ابی الحسن امام رضا (علیہ السلام) کو خط لکھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ گناہان ِ کبیرہ کی تعداد کیا ہے، اور ان کے تعیّن کے لیے حقیقی تعریف کیا ہے؟ آنحضرت (علیہ السلام) نے یوں تحریر فرمایا:
" گناہان کبیرہ وہ گناہ ہیں جن کے مرتکب ہو نے والے شخص کے لیے وعدہ آتش دیا گیا ہے۔ اگر کسی مومن نے ان سے پرہیز کیا ( اور توبہ کی) تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ محو کر دیتا ہے۔ جن گناہوں پر عذاب کا وعدہ ہے وہ سات ہیں:
قَتْلُ النَّنَسْ اِلْحَرَام (کسی کو جان سے مارنا جبکہ شرعاً اس کا قتل حرام ہو)
وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْن (اور والدین کا عاق ہونا)
وَاَکلُ الرِبوٰا (اور سود کھانا)
وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَة (ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ جاہلیت کی طرف پلٹنا)
وَقَذْفُ الْمُحْصِنَةِ (اور پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا)
وَاَکْلُ مَالَ الْیَتِم (اور مال یتیم کھانا)
وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّخفِ (محاذ جنگ سے فرار ہو جانا)
یہاں تک ابن محبوب کی روایت ختم ہوئی۔ (وسائل الشیعہ۔ کتاب جہاد)
تیسری روایت
وَفِیْ رَوَایَةِ اَبِیْ الصَّامت عَنْ اَبِیْ عَبْدِاللّٰهِ (ع) قال: اَکْبَرُا الْکَبَائِرُ الشِّرْکُ بِاللّٰهِ وَقَّتْلُ النَّفْس الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلاَّ بِالْحَقَّ وَاَکْلُ اَمْوَالِ الیَتَامیٰ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَذْفُ الْمحصَنَاتِ وَالْفَرارُ مِنَ الزَّحْفِ وَانْکَارُ مَااَنْزَل اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ ۔
ابی صامت نے حضرت ابی عبداللہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: گناہان کبیرہ میں سب سے بڑا گناہ ( ۱) اللہ تعالیٰ کے لیے شریک بنانا ( ۲) جس کے قتل کواللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اسے جان سے مار دینا ، مگر وہ شخص جو کہ ازروئے شریعت واجب القتل ہو ( ۳) یتیموں کا مال کھانا ( ۴) والدین کا عاق کرنا ( ۵) پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا ( ۶) محاذ ِ جنگ سے بھاگ جانا ( ۷) خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے اتاری ہوئی ضروریات دین سے انکار کرنا ہے۔"
وَفِیْ روایةِ عبدِالرَّحمٰن بن کثیر عَنْه (ع) وَاِنْکَارُ حَقِّنَا وَفِی رَوَایَةِ اَبِیْ خَدِیْجَة عَنه (ع) قال: الْکِذْبُ عَلٰی اللّٰهِ وَعَلٰی رَسُوْلهِ وَعَلٰی الْاَوْصِیَاءِ مِنْ الْکَبَائِرِ وَفِیْ مُرْسَلَةِ الصَّدُوْقِ عُدَّمِنْهُ الْحَیْفُ فِی الْوَصِیَّةِ وَ فِیْ مُرْسَلة کَنْزِالْفَوَائِدِ عُدَّمِنْهُ اِسْتِحْلَالُ بَیْتِ الْحَرَامِ (وسائل۔کتاب الجہاد)
"عبدالرحمٰن ابن کثیر نے آنحضرت (علیہ السلام) سے یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ ہم اہل بیت (علیہم السلام) کے حقوق سے انکار گناہ کبیرہ ہے۔ اور ابی خدیجہ نے آنحضرت (علیہ السلام) سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ( ۹) اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اوصیائے کرام پر جھوٹ باندھنا گناہان کبیرہ میں شمار ہے۔ اور صدوق کی روایت مرسلہ میں ( ۱۰) وصیّت میں کسی پر ظلم کر کے ارث سے محروم کرنا گناہ کبیرہ میں محسوب کیا گیا ہے۔ ( ۱۲) اور کتاب کنزالفوائد کی مرسلہ روایت کے مطابق خانہ خدا میں بدامنی کو حلال جاننا گناہ کبیرہ ہے(جس کو اللہ تعالیٰ نے جائے امن قرار دیا ہے)۔"
چوتھی روایت
وَفِیْ عُیُوْنِ الْاَخْبَارِ بِاَسَایِنْدِهِ عَنِ الفَفَلِ بِن شَاذَان عَنْ الرَِّضا، فِیْما کَتَبَ الٰی الْمَاْمُوْنِ وَاجْتِنَابِ الْکَبَائِرِ وَهِیَ ۔
کتاب عیون الأخبار میں معتبر اسناد کا حوالہ دیتے ہوئے فضل بن شاذان نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) کے اس خط کا ذکر کیا ہے جس میں گناہان ِکبیرہ سے پرہیز کے بارے میں مامون کو لکھا تھا۔ آنحضرت (علیہ السلام) کے خط کی مختصر عبارت یہ ہے:
( ۱)قَتْلُ اِلنَّفْسِ الَّتیْ حَرَّمَ اللهُ تَعَالیٰ جن لوگوں کے جان سے مارنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
( ۲) وَالزِّنَا اور زنا کرنا
( ۳) وَالسَّرِقَةُ اور چوری کرنا
( ۴) وَ شُربُ الْخَمْرِ اور شراب پینا
( ۵) وَعُقُوْقُ الْوالِدَیْنِ اور عاق والدین ہونا
( ۶)وَالْفِرَارُمِنَ الزَّحْفِ محاذ جنگ سے بھاگنا
( ۷) وَاَکْلُ مَال الیَتِیمْ ظلم و زیادتی سے مال یتیم کھانا
( ۸)وَاکْل ُالْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَااُهِلَّ لِغَیْرِاللّٰهِ مِنْ غَیْرِ ضِرُوْرَةِِاور بغیر مجبوری کے مردار، خون، سور کا گوشت کھانا اور اس ذبیحہ کا گوشت کھانا جس پر غیر خدا کا نام لیا گیا ہو، گناہ کبیرہ ہے۔
( ۹)وَاَکْل الرِّبْوابَعْدَالْبَیِّنَةِ واضح اور ثابت ہو نے کے بعد سود کھانا۔
( ۱۰)وَالسُّحْتُ اور مال حرام کھانا
( ۱۱)وَاْلْمَیْسِرُ وَالْقُمَارُ اور جوا کھیلنا
( ۱۲)وَالْبَخْسُ فِی الْمِکْیالِ وَالْمِیْزَانِ اور ناپ تول میں کمی کرنا
( ۱۳)وْقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا
( ۱۴)وَاللِّوَاطُ اور مرد کا مرد کے ساتھ فعل ِ بد کرنا
( ۱۵)وَالْیَاْسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا
( ۱۶)وَالْاَمِنُ مِنْ مَّکْرِاللّٰهِ اور اللہ تعالیٰ کے مکر (ناگہانی انتقام اور قہر) سے نہ ڈرنا
( ۱۷)وَالْقُنُوْطُ مِنْ رَّحْمَةِاللّٰهِ اور رحمت ِ خدا سے بد گمان ہونا
( ۱۸)وَالْمَعُوْنَةُ لِلظَّالِمِیْنِ اور ظالموں سے تعاون کرنا
( ۱۹)وَالرّکُوْنُ اِلَیْهِمْ اور ظالموں سے میل جول رکھنا
( ۲۰)وَالْیَمِیْنُ الغَمُوْسِ اور جھوٹی قسم کھانا
( ۲۱)وَ حَبْسُ الْحُقوْقِ مِنْ غَیْرِعُسْرِِ اور کسی سختی و مجبوری کے بغیر کسی کا حق روکے رکھنا
( ۲۲)وَالْکِذْبُ اور جھوٹ بولنا
( ۲۳)وَ الْکِبْرُ اور تکبّر کرنا
( ۲۴)وَالْاِسْرَافُ حد سے زیادہ خرچ کرنا
( ۲۵)وَ التَّبْذِیْرُ غیر اطاعتِ خدا میں مال خرچ کرنا
( ۲۶)وَالْخِیَانَةُ اور دھوکہ دینا
( ۲۷)وَالْاِسْتِخْفَافُ بِالْحَجِّ اور حج بیت اللہ کو اہمیت نہ دینا
( ۲۸)وَالْمُحَارَبَةُ لِاَوْلِیَائِاللّٰهِ اور اللہ کے دوستوں کے ساتھ لڑنا
( ۲۹)وَالْاِشْتِغَالُ بِالْمَلَا هِی اور لہو و لعب میں مشغول رہنا
( ۳۰)وَالْاِصْرَارُعَلیٰ الذُّنُوْبِ اور گناہوں پر اصرار کرنا۔
انشاء اللہ اِن روایتوں کا ترجمہ اور تشریح نیزدیگر روایتیں گناہانِ کبیرہ کے ضمن میں بیان ہوں گی۔
ایک مشکل مسئلہ کا حل
گناہان کبیرہ کے مو ضوع پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ
( ۱) اس قدر اہمیت کے حامل موضوع کو قر آن مجید میں مفصّل بیان کیوں نہیں کیا گیا اور ان کی تعداد معیّن کیوں نہیں کی گئی؟
( ۲) اس بارے میں صاحبان عصمت و طہارت کی احادیث واردہ کے درمیان اختلافات کیوں ہے؟بعض روایت میں ان کی تعداد پانچ ،بعض میں سات ،کچھ روایات میں نو، اکیس اور اکتیس بیان کی گئی ہے ۔یہاں تک ابن عباس/سے جو روایات نقل کی گئی ہے اس میں تقریباََسات سو سات گناہانِ کبیرہ شمار کئے گئے ہیں۔اب ہم دونوں سوالوں کے جوابات دیتے ہیں۔
( ۱) پہلے اعتراض کا جواب
قرآنِ مجید میں گناہانِ کبیرہ کی تعداد معیّن نہ کر کے گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا لطف وکرم فرمایا ہے اور اس میں بہت حکمت پوشیدہ ہے با لفرض اگر تعداد معیّن ہوتی تو لوگ صرف انہی گناہوں سے اجتناب کرتے جن سے منع کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ جہالت اور خواہشات ِنفسانی کی وجہ سے دوسرے گناہوں کے ارتکاب کی جرأت کرتے اور نادانی سے یہ خیا ل کرتے کہ معدودہ گناہوں کے علاوہ کسی گناہ کے ارتکاب سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ اس طرح وہ ہر خرابی اور گناہ کے انجام دینے میں دلیر ہو جاتے اور تمام منہیات میں ملوث ہوتے۔
یاد رکھیئے: وہ بہت برا اور بد کردار بندہ ہے جو اپنے مہربان پروردگارکی حدود میں دلیری اور بے باکی کا مظاہرہ کرے۔ اور جن امور کو ترک کرنے کا حکم ہو اُسے وہ انجام دے بلکہ اس قسم کی دلیری اور بے حیائی گناہ ِ کبیرہ کی طرف قدم بڑھانے کی جرأت پیدا کرتی ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو "گناہان ِ صغیرہ" سے منع فرمایا ہے اگر اس بارے میں لاپرواہی برتی گئی تو آہستہ آہستہ گناہان کبیرہ سے بھی بے باک ہو جائے گا
گناہ صغیرہ کا اصرار (تکرار) بھی کبیرہ ہے
اس سلسلے میں عرض ہے کہ گناہ صغیرہ کی تکرار کبیرہ بننے کا سبب ہوتی ہے۔چونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ بار بار گناہ صغیرہ کا مرتکب ہونے پر گناہ کبیرہ کا حکم لاگو ہوتا ہے ۔انشاء اللہ ہم اس بحث کو "گناہ صغیرہ پر اصرار" کے باب میں تفصیل سے بیان کریں گے۔
پس گناہان ِکبیرہ کو مبہم کرنے میں ہی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت مضمر ہے۔ تا کہ اس کے بندے دوسرے گناہوں سے اجتناب کریں اور گناہان ِ کبیرہ میں ملوّث نہ ہو جائیں اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ چھوٹے گناہوں کو کمتر سمجھنا کبیرہ بننے کا موجب ہوتا ہے چناچہ آگے اس پر روشنی ڈالی جائے گی۔
خرابی میں پڑنا ثواب سے محرومی کا سبب ہے
(یہ بھی اعتراض کا جواب ہو سکتا ہے )گناہان ِصغیرہ کی خرابیوں میں پڑنے سے بندہ ان نیکیوں کے اجروثواب سے محروم رہتا ہے جو کہ گناہانِ صغیرہ کے ترک کرنے پر دیا جاتا ہے ۔چوں کہ ہر وہ عمل جس سے باز رہنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اس میں دینوی یا اخروی کوئی نہ کوئی فساد ضرور ہوتا ہے ۔اس لئے جب کوئی بندہ گناہ ِصغیرہ کا مرتکب ہو جائے تو گناہِ کبیرہ سے دوری کی برکت سے وہ گناہِ صغیرہ بخش دیا جاتا ہے ۔البتہ گناہ کی مقدار جس قدر ہو اسی قدر اس کا دل سیاہ ہو جا تا ہے ۔ البتہ جب باوجودِقدرت کے بڑے گناہ سے اجتناب کرے تو اس کی تلافی ہو سکتی ہے ۔علاوہ برایں جب اللہ کی خوشنودی کے لئے اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ ثواب کا مستحق بھی بنتا ہے ۔
اس بیان سے معلو م ہوا کہ گناہِ صغیرہ کا مرتکب اس گناہ کی خرابیوں سے دنیا یا آخرت میں دوچار ضرور ہو گا۔ اور گناہ ترک کرنے کے ثواب سے بھی محروم رہے گا ۔ شائد اسی مطلب کو ملحوظ رکھ کر معصوم علیہ السلام نے فرمایا ہے :
هَبْ غَفَرَ اللّٰهُ ذُنُوْبَ الْمُسِیْئِیْنَ فَقَدْ فَاتَهُمْ ثوابَ الْمُحْسِنِیْن
خدا گناہ گاروں کے گناہوں کی مغفرت فرمائے یہ لوگ یقینا اچھے کاموں کے ثواب سے محروم ہو گئے (یعنی ترکِ گناہ کا ثواب حاصل نہ کر سکے۔)
( ۲) اھلِ بیت کی طرف رجوع کرنا چاہیے
یہ عنوان بھی دوسرے بہت سے مطالب کی طرح قرآنِ مجید میں مختصر طور پر ذکر ہوا ہے لیکن ان کی تشریح و توضیح حضرت پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نیز ائمہ اطہار کے پاکیزہ دلوں میں جو کہ علم و حکمت اور وحی الہٰی کا خزینہ ہیں۔ الہام کے ذریعہ ودیعت فرمائی گئی ہے ۔ اور بندوں کو ان کی طرف مراجعہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ اس بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکَر لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَاُنزِّلَ اِلَیْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ یَتَّفَکَّرُوْنَ
(سورہ ۱۶ ۔آیت ۴۴)
اور تمہارے پاس قرآن نازل کیا ہے جو کہ ذکر ہے تاکہ جو احکام لوگوں کے لئے نازل کئے گئے تم ان سے صاف صاف بیان کر دو تا کہ وہ لوگ خود سے کچھ غور و فکر کریں ۔ اور اسی طرح اہلِ بیت رسولِ خدا کی طرف لازمی طور پر رجوع کرنے کے لئے قرآنِ شریف میں فرماتا ہے:
فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکرِ اِنْ کُنْتُم لَا تَعْلَمُوْنْ (سورہ ۱۶ ۔آیت ۴۳)
اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل ِذکر سے پوچھو۔
اہل بیت اطہاراہل ذکر کیوں ہیں؟
اس بارے میں بہت سی روایتیں ہمارے پاس موجود ہیں کہ اہل الذکر سے مراد اہل بیت رسول مختار ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجلس مامون میں جب امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا:"ہم اہل الذکر ہیں"۔ علمائے عامّہ اس مجلس میں حاضر تھے ، کہنے لگے، اہل الذکر سے مراد یہودونصاریٰ ہیں اور ذکر کا مطلب توریت و انجیل ہے۔ تو حضرت نے ان کو جواب دیا:
سُبْحانَ اللّٰهِ هَلْ یَجُوْزُ ذٰلِکَ اِذایَدعُوْنَا اِلٰی دِیْنهِمْ وَیَقُوْلونَ اِنَّها اَفْضَلُ مِنْ دِیْنِ الْاِسْلَامِ (عیون اخبار الرضا(ع))
"سبحان اللہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اور کیسے جائز ہے کہ خدائے تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دے کہ وہ یہود اور نصاریٰ کے علماء سے رجوع کریں ۔ حالانکہ اگر کوئی رجوع کرے تو ان کے علماء کہیں گے کہ ہمارا دین برحق ہے اور دین اسلام سے بہتر ہے۔ وہ ہمیں اپنے نظریئے کی طرف دعوت دیں گے (کیا آپ اس دعوت کو قبول کریں گے)۔
پس مامون نے عرض کیا، "کیا آپ اپنے دعوے کے اثبات میں قرآن مجید سے کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں؟"
فَقَالَ نَعَمْ اَلذِّکْرُ رَسُوْلُ اللّٰهِ (ص) وَنَحْنُ اَهْلُه وَذٰلِکَ بَیْنٌ فِیْ کِتابِ اللّٰهِ تَعَالٰی حَیْثُ یَقُوْلُ فِیْ سُوْرَةٍ الطَّلَاقِ ( الَّذِیْنَ آمَنُوْا قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْکُمْ ذِکْراً رَّسُوْلاً یَّتْلُوا عَلَیْکُمْ آیاتِ اللّٰهِ مُبَبِّنَات ) (سورہ طلاق آیہ ۱۰،۱۱)
"فرمایا ، جی ہاں! ذکر سے مراد حضرت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہیں اور ان کے اہل ہیں۔ اس موضوع ِ بحث کے بارے میں قرآن کی یہ آیت میری دلیل ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا نے ان کی طرف ذکر بھیج دیا ہے کہ وہ رسول ہے جو تمہارے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھتا ہے۔"
علمائے عامہ (اہل سنت) میں سے ایک شہر ستانی ہیں۔ انہوں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اور امیر المومنین (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم اہل ذکر ہیں۔ اور بعض دوسری روایتوں میں ہے کہ خدا وند ِ عالم نے کچھ اہم مطالب قرآن مجید میں مختصراً بیان فرمائے ہیں۔ ان کی شرح و تفسیر سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اہل بیت (علیہم السلام) کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے کہ ہر گز اپنے آپ کو ان سے بے نیاز نہ سمجھیں بلکہ ہر وقت علوم ِآل ِ محمد (علیہم السلام) کا نیاز مند سمجھنا چاہیئے اور ہمیشہ ان ذوات ِ مقدسہ کا دامن گیر رہنا چاہیئے۔ یہاں تک کہ ان کی محبت اور ولایت جو کہ حقیقی اور ابدی سعادت ہیں، ہمیں حاصل ہو جائے۔
دوسرے اعتراض کا جواب
مذکورہ روایات اور احادیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمارے آئمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین مصلحت کی بنأ پر گناہان ِ کبیرہ کے شمار اور تعین کے حق میں نہیں تھے۔ یعنی پوچھنے والوں کے جواب میں گناہان کبیرہ مفصل بیان کرنا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ اجمالاً بیان کرنے کی حکمت اور راز پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کبھی کبھار مختصر مگر جامع جملوں میں گناہ کبیرہ کی تعریف فرمائی ہے۔ جیسا کہ صحیحہ حلّی میں روایت ہے کہ حضرت صادق آل محمد (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا:
الکَبَائِرُ کُلُّ مَااَوْعَدَاللّٰهُ عَلَیْهِ النّار (کافی)
"گناہان کبیرہ وہ گناہ ہیں (جن کے مرتکب ہو نے والوں کے لیے) اللہ تعالیٰ نے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے۔"
گناہ کبیرہ دوسرے عنوان میں
آئمہ طاہرین (علیہم السلام) کبھی بعض گناہ ِ کبیرہ شمار نہیں کرتے تھے چونکہ ایک گناہ کبیرہ کے ضمن میں دوسرا گناہ کبیرہ بھی آسکتا تھا۔ تو دوسرے گناہ کو ذکر نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ عبید بن زرارہ کی روایت جو کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے نقل کی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا : گناہانِ کبیرہ کتاب ِ علی (علیہ السلام) میں سات ہیں۔
الکُفْرُ بِاللّٰهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَاَکْلُ الرِّبوا بَعْدَ البَیّنَةِ وَاَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ ظُلْماً وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحُفِ وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ قَالَ قُلْتُ فهٰذا اَکْبَرُ الْکَبَائِرِ قَالَ نَعْمْ قُلْتُ فَاَکْلُ دِرْهَمٍ مِّنْ مَالِ الْیَتِیْم اَکْبَرُ اَمْ تَرْکُ الصَّلوٰةِ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ تَرِکُ الصَّلوٰة، قُلْتُ فَمَا عَدَوْتَ تَرْکَ الصَّلوٰةِ فِی الْکَبَائِرِ فَقَالَ (ع) اَیُّ شَیءٍ اَوَّلَ مَا قُلْتُ لَکَ قُلْتُ الْکُفْرَ قَال (ع) فَاِنَّ تَارِکَ الصَّلوٰةِ کَافِرٌ یَعنِی مِنْ غَیْرِ عِلَّةٍ (کتاب کافی۔ وسائل الشیعہ۔ کتاب جہاد)
( ۱) اللہ کے وجود سے انکار کرنا ( ۲) کسی نفس محترم کو قتل کرنا ( ۳) ماں باپ کا عاق کرنا ( ۴) سود کھانا واضح ہونے کے بعد( ۵) ظلم و ستم سے مال یتیم کھانا( ۶) جنگ (جہاد) سے بھاگ جانا ( ۷) ہجرت کے بعد جہالت کی طرف پلٹنا۔
میں نے عرض کیا ، کیا یہ سب بڑے گناہوں میں شمار ہیں؟
امام (علیہ السلام) نے فرمایا صحیح ہے۔ پھر میں نے عرض کیا ، ظلم و زیادتی سے مال یتیم کا ایک درہم کھانا بڑا گناہ ہے یا نماز ترک کرنا؟ فرمایا : نماز چھوڑنا نسبتاً بڑا گناہ ہے۔ میں نے پھر پوچھا پھر آپ نے نماز ترک کرنا گناہ کبیرہ میں شمار کیوں نہیں کیا؟ امام (علیہ السلام) نے پوچھا میں نے پہلے کونسا گناہ ِ کبیرہ شمار کیا تھا؟ میں نے عرض کیا ، خدا سے انکار کرنا۔ فرمایا نماز ترک کرنے والا کافر ہے بغیر کسی دلیل کے(کیونکہ تارک الصلوٰة کفر باللہ کے ضمن میں آتا ہے)۔ اس لیے آپ (علیہ السلام) نے ترک نماز کا ذکر نہیں فرمایا۔"
اس بیان سے معلوم ہو کہ معصو م سے ہم تک پہنچی ہوئی احادیث میں مکمل طور پر اور شرح کے ساتھ گناہان کبیرہ کا ذکر نہیں۔ غرض کوئی روایت ایسی نہیں (جو کہ جامع و مانع ہو) جس میں گناہان کبیرہ مکمل طور پر اور شرح کے ساتھ مع تعداد ذکر ہوں اور ہم اعتماد کے ساتھ یہ کہ سکیں کہ ان کے سوا اور کوئی گناہ کبیرہ ہو نہیں سکتا۔
چنانچہ صحیفہ حضرت شہزادہ عبدالعظیم الحسنی کا ذکر پہلے ہو چکا۔ اس پر غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے ۲۱ گناہان کبیرہ عمروبن عبید کو قرآن مجید سے شمار کر کے بتائے۔ وہ اس سے زیادہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور روتے ہوئے باہر نکل گئے۔ اگر سننے کی سکت ہوتی اور صبر سے کام لیتے تو امام (علیہ السلام) مزید ارشاد فرمارہے تھے۔ میں قارئین ِ محترم سے یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہو کہ ہمارا مطلب اس کتاب میں ان گناہوں کی شرح بیان کرنا نہیں جن کا کبائر میں شامل ہونا ثابت اور مسلم ہے۔ اور نہ ہم جو کچھ ذکر کرتے ہیں انہیں پر گناہانِ کبیرہ کا انحصار ہے۔ بلکہ باقی گناہ جن کے بارے میں کبیرہ ہونا ثابت نہیں مبہم اور مختصر اس کتاب میں ہم لکھ رہے ہیں۔ ان گناہوں کا صغیرہ ہونا بھی مسلّم نہیں۔ اس لیے صاحبان ِ تقویٰ پر لازم ہے کہ ان تمام مبہم اور مختصر الذکر گناہوں سے بھی پرہیز کریں کیونکہ امکان ہے کہ واقعی یہی گناہ کبیرہ ہوں اور ہم انہیں ثابت نہ کر سکتے ہوں۔ یہاں تک گناہان ِ کبیرہ کی بحث و بیان شروع کرتے ہیں جن کو صراحتاً بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
الشِّرکُ بِاللّٰہِ
سب سے پہلا گناہ کبیرہ اللہ تعالیٰ پر شرک باندھنا ہے اور اس کے بارے میں حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) و حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) و حضرت امام جعفر صادق ، حضرت امام موسیٰ کاظم ، حضرت امام علیرضا ، حضرت امام تقی (علیہم السلام) نے واضح ارشادات فرمائے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
اَکْبَرُ الْکَبَائِر الشِرّکُ بِاللّٰهِ (وسائل الشیعہ۔ کتاب جہاد)
"تمام گناہوں سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ پر شرک باندھنا ہے۔ "جس کی دلیل خود خداوند تعالیٰ کا قول ہے کہ فرماتا ہے:
( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرِکَ بِهِ وَ یَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ) (سورہ ۴ ۔آیت ۵۲)
"یقینا خدا نہیں بخشتا اس کو جس نے اس کا شریک قرار دیا اور شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کی جسے وہ چاہے مغفرت کر دیتا ہے۔"
یعنی اگر کوئی مشرک دنیا سے کوچ کر گیا تو وہ بخشے جانے کے قابل نہیں اور شرک کے علاوہ جسے وہ چاہے مغفرت کا مستحق ہو سکتا ہے۔ اور فرماتا ہے:
( اِنَّه مَنْ یُشْرِکْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰئه النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) (سورہ ۵ ۔آیہ ۷۶)
"بے شک جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے یقینا خدا اس پر بہشت حرام کرتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم قرار دیتا ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔"
مزید ارشاد خدا وندی ہے:
( لَا تُشْرِکْ بِاللّٰهِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ) (سورہ ۳۱ آیت ۱۳)
ٍ "اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک قرار مت دو بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔"
( وَمَنْ یُشْرِک بِاللّٰهِ فَقَدْ اِفْتَریٰ اِثْماً عَظِیْماً ) (سورہ ۴ ۔آیت ۵۲)
"جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک باندھایقینا اس نے جھوٹ باندھااور بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔
جبکہ ہر مسلمان شرک کو مثل روز ِ روشن کے گناہ کبیرہ مانتا ہے تو قرآنی آیات اور معصومین(علیہم السلام) کی روایات کو شرک کا کبیرہ گناہ ہونے کے بارے میں نقل کرنا ضروری نہیں سمجھا مگر جو چیز زیادہ اہم ہے وہ شرک کے معنی اور اس کے مراتب جاننا ہے تا کہ ان تمام گناہوں سے پرہیز کریں۔ چنانچہ پروردگار عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:
( وَاعْبُدُواللّٰهَ وَلَاتُشْرِکُوْا بِه شَیْئًا ) (سورہ ۴ ۔آیت ۴۱)
"اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو۔"
واضح ہو کہ مشرک مقابل موحّد اور اس کی ضد ہے۔ چنانچہ توحید دین کا پہلا اصل رکن ہے۔ یہ کئی مراتب پر مشتمل ہے اور اسی طرح شرک کے کئی درجات ہیں:
( ۱) توحید اور شرک ذات ِ خدا کے مقام میں۔
( ۲) توحید اور شرک صفات ِ خدا کے مقام میں۔
( ۳) توحید اور شرک افعال کے مقام میں۔
( ۴) توحید اور شرک اطاعتکے مقام میں۔
( ۵) توحید اور شرک عبادت کے مقام میں۔
اب اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ہر ایک موضوع پر تفصیل سے بیان کریں گے۔
پہلامقام
توحید ذاتِ خد
یعنی ربّ الارباب کی ذات اقدس کو یکتا تسلیم کرنا کہ وہ قدیم اور ازلی ہے۔ وہ سارے عوالم ِ امکان ، خواہ محسوس ہوں یا غیر محسوس ، سب کی ایجاد کی علّت ہے۔ اور اس مقام میں متعدد علل کو ماننا شرک ہے۔ چنانچہ ثنویہ فرقے قائل ہیں کہ کائنات کے دو برابر کو موجد ہیں۔ اور دونوں قدیم بھی ہیں اور ازلی بھی۔ ایک نیکیوں کا مبدأ ہے جس کا نام یزداں ہے اور جو برائی کا خالق ہے اس کا نام اہرمن ہے۔ اس فرقے کے فاسد عقائد کی تردید کے لیے قرآنی آیات کے واضح دلائل موجود ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
( قُلْ کُلٌّ مِنْ عِنْدِاللّٰهِ ) (سورہ ۶ ۔آیت ۸۰)
"کہدو (اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ)) سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔"
ان کے جواب میں ایک جملہ کافی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی خالص شر اس عالم میں سرے سے موجود نہیں اور جو کچھ پہلے تھا اور حال میں موجود ہے اور آئندہ وجود میں آنیوالا ہے، سب کا سب خیر ہی خیر ہے ۔یا کم از کم خیر کا پلہ بھاری اور غالب ہے اور شر کی سمت، ہلکی اور مغلوب ہے۔ بہرحال اس مطلب کو تفصیل سے بیان کر یں تو ہم اپنے موضوع ِ کلام سے نکل جائیں گے۔
نصاریٰ بھی مشرک ہیں
عیسائی مذہب تین قدیم اصل یعنی اَبً (باپ یعنی خدا) ، اِبْن(بیٹا یعنی عیسیٰ ) اور رُوحُ الْقُدُس (جبرائیل) کے قائل ہیں اور ہر ایک کے لیے ایک خاصیت اور اثر کے معتقد ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تردید میں سورہ مائدہ آیة ۷۳ میں فرماتا ہے:
( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ ثالِثُ ثَلاَ ثَةٍ وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلاَّ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ) ۔
"جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ ’اللہ‘ تین میں سے ایک ہے (یعنی الوہیت خدا ، عیسیٰ اور روح القدس کے درمیان مشترک ہیں) وہ یقینا کافر ہوگئے ۔ حالانکہ خدائے یکتا کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ (جو کہ تمام موجودات کا مبدأ ہے)
اسی طرح برہمن مذہب اور بدھ مذہب بھی تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
بت پرستی خدا کو شریک قرار دینا ہے
یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے جو کچھ بت پرست فرقے ساری مخلوقات کی ہر نوع کے لیے ایک پروردگار قرار دیتے ہیں جسے ’ رَبُّ الْنَّوْع‘ کہتے ہیں۔ اس فرقے کا کہنا ہے کہ پانی کے لیے الگ خدا ہے اور ہوا کا خالق الگ ہے۔ ان کے عقائد کی تردید میں اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
( ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَم اِللّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) (سورہ ۱۲ ۔آیت ۶)
"(ذرا غور کرو کہ) بھلا جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یکتا و زبردست۔"
دوسرا مقام
صفات خدا میں توحید
صفات الٰہی میں توحید سے مراد یہ ہے کہ خدا کی ذاتی صفات جیسے حیات ، علم ، قدرت ، ارادہ، اور ان کی مانند دوسری صفات کو خدائے واحد کا عین جاننا اور جدا نہیں سمجھنا ۔ اس کے سوا یہ صفات مخلوقات کی ذات پر زائد و عارض صفات جاننا اور خدائے یکتا کا فیضان ِ رحمت اور بخشی ہوئی نعمت سمجھنا چاہیئے۔ (مثلاً زید کے لیے حیات و علم و قدرت ذاتی نہیں بلکہ بعد میں عارض ہوا ہے)۔یہاں توحید خداوندی میں شرک کی دو قسمیں ہیں: پہلی یہ کہ صفات الٰہیہ (علم، قدرت و حیات وغیرہ) کو ذات ِ حق سے زائد جانیں۔ اسی صورت میں (جبکہ ذات ِ خداخود قدیم ہے ، اس کی تمام صفات کو بھی قدیم ماننا پڑے گا) پھر تعدد قدماء لازم آتے ہیں۔ چنانچہ یہ عقیدہ (اشاعرہ سے منسوب ہے۔ ان کے اس دعوے کا بطلان اپنی جگہ ثابت ہے۔ یہاں اس کا تذکرہ کرنا ہمارے موضوع سے خارج ہے۔
مخلوقات کی اچھی صفات سب کی سب خدا کی جانب سے ہیں:
اچھی صفات کے تمام مراتب کو جو کہ مخلوق کی طرف نسبت دئیے جاتے ہیں اگر ان سب کو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھا جائے تو یہی عین توحید اور حقیقت کے مطابق ہے۔ چنانچہ انبیاء اور آئمہ اطہار (علیہم السلام) کے متعلق ہمارا عقیدہ ہی یہی ہے کہ ان حضرات کا علم و قدرت و عصمت اور دوسرے کمال کے اوصاف مرحمت پروردگار ہیں۔ کوئی ایک صفت بھی وہ ذاتی طور پر نہیں رکھتے تھے بلکہ انہیں جو کچھ ملا ہے وہ سر چشمہ فیض سے ملا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ دراصل عالم امکان کے سارے موجودات کا وجود اپنے ذات پر قائم نہیں بلکہ دوسرے کا محتاج ہے۔ اس لیے مخلوقات ممکن اور حادث ہیں۔ سب ایسے اللہ کے محتاج ہیں جو اس کو پیدا کریں۔ اسی طرح کسی فرد کا کسی اچھی صفت سے متصف ہونا ہے۔ اس کے ثانوی کمان ہے اور ذاتی صفات نہیں کہ جنہیں وہ از خود پیدا نہیں کر سکتا۔ بلکہ یقینا وہ رب الأرباب کا محتاج ہوتا ہے۔ اور وہی اسے اپنے ارادہ اور مصلحت کے مطابق اچھی صفات سے مزیّن کرتا اور روزی دیتا ہے۔
کبھی غفلت سے اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں:
یہ مطلب ہر ایک عقلمند ، یکتا پرست، اور منصف مزاج کے سامنے بالکل واضح ہے کہ تمام صفات کمالیہ رکھنے والی صرف اور صرف پوردگار عالم کی ذات اقدس ہے۔ لیکن کبھی کبھار بعض یکتا پرست (موحدین) غفلت کی بناء پر مشرکانہ باتیں منہ سے نکالتے ہیں مثلاً اپنی تعریف کے موقع پر کہتے ہیں: "میرا علم، میری قدرت، میرا ارادہ، میری دولت ، میری سوجھ بوجھ، میری طاقت وغیرہ وغیرہ"۔ اس کی بجائے اگر وہ کہتا کہ میرا علم جو اللہ تعالیٰ نے مجھے مرحمت فرمایا ہے۔ میری قدرت جو اللہ نے دی ہے۔ میری دولت جو اللہ کا فضل و امانت ہے، تو درست و مناسب تھا۔ اور یہی حقیقت کے مطابق عین توحید ہوتا۔
لیکن سچا موحد اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ اس کا زبانی اقرار دلی اعتقاد سے متضاد نہ ہو بلکہ ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہو۔ ایسے شخص کی علامت یہ ہے کہ وہ انتہائی شدت سے اپنے خالق کے سامنے تواضع و انکساری سے پیش آتا ہے۔ اور کفران نعمت کی صورت میں نعمت خداوندی کے زوال سے اُسے ہمیشہ ڈر رہتا ہے۔ اور دوسری علامت یہ ہے کہ وہ کسی کی تعریف اور خوشامد سے خوشی محسوس نہیں کرتا۔
پرہیز گار لوگ تعریف سے ڈرتے ہیں:
چنانچہ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) "خطبہ ہمام" میں متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَاِذَازکیٰ اَحَدٌ مِنْهُمْ خَافَ مِمَّا یُقَالُ لَه فَیَقُوْلُ اَنَا اَعْلَمُ بِنَفْسِی مِنْ غَیْریْ وَرَبِیْ اَعْلَمُ بِیْ مِنْ نَفْسِیْ اللّٰهُمَّ لَاتواخِذْنِیْ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَاجْعَلْنِیْ اَفْضَلَ مِمَّا یَظُنُّونَ وَاغْفِرْ لِیْ مَالَا یَعْلَمُوْنَ (خطبہ ھمام۔ نہج البلاغہ)
"جب ان میں سے کوئی کسی کی تعریف کرنے لگے تو جو کچھ اس کے بارے میں کہتے ہیں وہ (پرہیزگار) اس سے ڈرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اپنے نفس کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہوں۔ (من آنم خود دانم) اور میرا پروردگار میرے نفس اور ضمیر کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کے بعد درگاہ رب العزّت کی طرف متوجہ ہو کر کہتا ہے: اے میرے معبود یہ لوگ جو کچھ میری تعریف میں کہتے ہیں اس کا مجھ سے مواخذہ نہ کر۔ تعریف کرنے والا جس نظر سے مجھے دیکھ رہاہے میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ مجھے اس بالاتر قرار دے اور میرے اُن گناہوں کو بخش دے جو میرا مدّاح نہیں جانتا۔
خدا کی صفات میں کوئی بھی شریک نہیں:
ایک شخص موّحد اپنے آپ کو یا کسی اور کو خدائے بے مثل و یکتا کے حمد و ثناء کے استحقاق میں کسی کو کسی طرح شریک قرار دے سکتا ہے جبکہ وہ دن و رات میں کئی مرتبہ کہتا ہو "سُبْحَانَ اللہ" یعنی میں اپنے خدا کو ہر قسم کے شریک و شرکت سے پاک و پاکیزہ سمجھتا ہوں۔ اور وہ بار بار کہتا ہو "اَلْحَمْدُللہ" یعنی حمدو ستائش کے تمام مصادیق اور اقسام صرف پروردگارکے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی تعریف کا استحقاق نہیں رکھتا۔
خلاصہ
جبکہ موّحدین یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ خدا کے بغیر کچھ بھی از خود حیثیت نہیں رکھتا اور جو کچھ ملا ہے وہ مالک ِ حقیقی سے ملاہے۔ اور سب کے سب اس ذاتی اور صفاتی لحاظ سے اس کے محتاج ہیں چنانچہ ارشادی باری تعالیٰ ہے:
( "یٰاَ یُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلٰی اللّٰهِ وَاللّٰه ُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْد ) "
(سورہ ۳۵ ۔آیت ۱۵)
"لوگو تم سب کے سب (ہر وقت ) خُدا کے محتاج ہو اور (صرف) خُدا ہی (سب سے ) بے نیاز اور سزاوار حمد وثنا ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ یکتا پر ست لوگ اپنی تعریف خود کرنے سے اور دوسروں کی مدح سرائی سے مکمل طور پر پر ہیز کرتے ہیں ۔جیسا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے موحد کی صفات اور خوشامدی کی تعریف سے ڈرنے کے بارے میں جو کچھ فر مایا وہ ابھی ذکر ہوا ۔بلکہ ایسے الفاظ وکلمات سے بھی اجتناب کرنا چاہئے جن سے انسان کی استقلال وبے نیازی اور خود نمائی کا اظہار ہوتا ہو مثلاً " میں فلاں صفت یا کمالیت رکھتا ہوں"۔
حضرت پیغمبر کا ارشاد گرامی
ایک آدمی نے حضرت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بارگاہ عرشِ افتخار میں پہنچ کر دروازہ کٹھکٹھایا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے گھر کے اندر سے دریافت فرمایا"آپ کون ہیں؟"
فَقَالَ اَنا! فَغَضِبَ (ص) مِنْ قَوْلِهِ اَنَا فَخَرَجَ (ص) وَهُوَ یَقُوْلُ مَنِ الْقَائِل اَنَا؟ وَهِیَ لَایُطْلِقُ اِلاَّ بِاللّٰهِ الَّذِی یَقُوْلُ اَنَا الْجَبَّارُ وَاَنَا الْقَهَّارُ (انوارالنعمانیة)
اس نے کہا "میں" پس آنحضرت لفظ "انا" کے استعمال سے غضبناک ہوئے اور گھر سے باہر تشریف لائے اور پوچھا "میں کہنے والا کون تھا؟(جاننا چاہیئے) خداوند عالم کے سوا اور کوئی اس لفظ کا سزا وار نہیں۔وہ اپنے آپ کو کہتا ہے " میں جبا ر ہوں اور میں قہاّ ر ہوں"۔
قارون مشرک ہو گیا
قارون مشرک اس وجہ سے ہوا کہ اس نے کہا:
اِنَّمَا اُوْتِیْتُه عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ
(یہ مال ودولت ) تو مجھے اپنے علم (کیمیا) کی وجہ سے حاصل ہواہے۔ جب قارون نے اپنے آپ کو رزاقیت میں جو کہ صفت خداوندی ہے شریک گردانا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا۔
اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَکَ مِنْ قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ قُوَّةً وَّاکْثَرُ جَمْعًا
(سورہ ۲۸ ۔آیت ۷۸)
کیا قارون نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ اللہ نے اس سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کر ڈالا جو اس سے قوت اور جمعیت میں کہیں بڑھ چڑھ کے تھے۔
اس لئے اگر قارون از خود کسی قسم کی قدرت و طاقت رکھتا تو اپنے آپ کو ہلاکت سے کیوں نہ بچا سکا؟
یہ بدیہی امر ہے کہ علم و قدرت و حیا ت اور دوسرے تمام کمالات جو مخلوق رکھتی ہے وہ کسی کے ذاتی نہیں بلکہ ان کا مبداء قادر مطلق ہے
افعال میں توحید اور شرک
افعال میں توحید کی حقیقت سے مراد یہ ہے کہ ہمیں یقین حاصل کرنا چاہیئے کہ سارے عوالم خواہ وہ ملک (مادی ) یا ملکوت (روحانی ) سے تعلق رکھتے ہوں ان کا مالک و مدبر اور کنٹرول کرنے والا سوائے خدا کے اور کوئی نہیں اوریقینی طور پر جاننا چاہیے کہ اس کی ربوبیت اور الوہیت میں کسی حالت میں کو ئی شریک نہیں اور اس کی ربوبیت کو آسمان و زمین اور تمام عوالم میں بسنے والوں کے لئے بلا تفریق یکساں جاننا چاہیئے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:
( اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰواتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ یَتَنزَّلُ الْاَمْرُ بیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ وَاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْماً ) ۔ (سورہ ۶۵ ۔آیت ۱۲)
"خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور انہیں کے برابر زمین کو بھی ۔ان میں خدا کا حکم نازل ہوتا رہتا ہے ۔ تا کہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور بے شک خدا اپنے علم میں ہر چیز پر حاوی ہے ۔"
اور خداوند عالم کو آسمانوں کا پیدا کرنے والا جاننا چاہیے۔ اور یقین کامل ہونا چاہیئے کہ اس نے بے شمار ستارے پیدا کئے ہیں کہ ابھی تک ان کا انکشاف نہیں ہوا ۔جدید سائنسی آلات سے صرف ایک کڑور ستارے دریافت کئے گئے ہیں ۔ جو کہ ہر ایک علیحدہ عالم کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر ایک کی روشنی مختلف ہے اور ہر ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنے مخصوص مدار میں گردش کرتا ہے ۔
( وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرَاتٌ بِاَمْرِه ) (سورہ ۱۶ ۔آیت ۱۲)
"اور ستارے اسی کے حکم سے ( تمہارے ) فرمانبردار ہیں۔"
ان ستاروں میں ایک سورج ہے جس کا حجم ہماری زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔اس قدر تیز روشنی اسے دی گئی ہے کہ ۳۷ لاکھ فرسخ کا فاصلہ صرف آٹھ سیکنڈ میں طے کر کے ہماری زمین تک پہنچتی ہے۔ جس سے ساری زمین کے لئے روشنی ملتی ہے اور اسی سے تمام موجودات کی پرورش ہوتی ہے ۔ کیا شان ہے اس خالق بزرگ و بر تر کی ۔
سُبْحَانَ اللّٰهِ خَالِقِ الْاَعْظَمِ ۔
بے رنگ پانی سے لاکھوں رنگ
وہ ایسا خدا ہے کہ زمین کو پھاڑ کر اس سے پھولوں کے اقسام اور گوناگوں خوشبودار پودے نکالتا ہے اور ان کے پتیوں اور پھوکوں میں ہر قسم کے رنگ بھرتا ہے۔ وہی ہستی ہے جس نے انسان کے لئے قوت شامہ (سونگھنے کی حس ) عطا کی جس سے خوشبو اور بد بو کی پہچان ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ قوت باصرہ (دیکھنے کی حس ) پیدا کی تا کہ مناظر قدرت کا مشاہدہ کر سکیں اور اس کے نیز اپنے پیدا کرنے والے کو جان لیں۔
( فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّویٰ ) (بیج اور گٹھلی کو پھاڑنے والا)
وہ ایسا خالق ہے کہ گٹھلی میں شگاف پیدا کرتاہے۔ اس کا آدھا حصہ جڑپکڑنے اور خوراک لینے کے لیے مختلف سمت میں پھیلاتا ہے اور دوسرا حصہ فضا میں بلند کر کے آہستہ آہستہ اس کی نشو و نما کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سے ہر قسم اور ہر رنگ کے مختلف ذائقے والے پھل پھول پیدا کرتا ہے۔ جبکہ زمین ، پانی اور ہوا مختلف نہیں بلکہ ایک ہیں پھر بھی ذائقہ اور رنگ الگ الگ پیدا کرتی ہیں۔ مختلف ذائقوں کو چکھنے کے لیے انسان کو قوت ذائقہ مرحمت فرمائی تا کہ اُنہیں بے شمار نعمتوں کو چکھ کر اپنے خدا کی عظمت اور رحم و کرم کا اندازہ ہو جائے اور اُسے پہچان سکیں۔
( فِیْ ظُلُمَاتٍ ثلاثٍ ) (تین تاریکیوں میں)
خدا وہ بے مانند ذات ہے کہ جس نے گندے نطفے سے ہر قسم کے حیوانات پیدا کیے۔ انسان کو ( ۱) پیٹ ( ۲) رحم ( ۳) اور جھلّی یا مشیمہ کی تاریکیوں میں پیدا کیا۔ اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے کس قدر عجیب و غریب ترکیب کے ذریعہ عقل جیسی آنکھ عطا کی تا کہ انسان غور و فکر سے اللہ تعالیٰ کے صنعت و آثار دیکھ سکیں۔ اور اپنے نفس اور دوسرے موجودات کا چشم ِباطن سے مشاہدہ کریں۔
گندے خون سے خوشگوار دودھ
خدا وہ ہستی ہے جس نے گندے میلے اور ناپاک خون سے پاک و صاف دودھ نکالا اور وہ پستان کی نالیوں کے ذریعے حیوان و انسان کے شیرخواروں کے گلے میں آسانی سے پہنچا دیتا ہے۔
( نُسْقِیْکُمْ مِمَّا فِیْ بُطُوْنِه مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَناً خَالِصاً سَائغاً للشَّارِبِیْنَ ) (سورہ ۱۶ ۔آیت ۶۶)
"(حیوانات ) کے پیٹ میں (گوبر اور خون) جو کچھ بھرا ہو اہے اس میں سے ہم تم کو خالص دودھ (نکال کر) پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔"
یہ اس حالت میں جبکہ بچہ کسی قسم کی غذا کھانے سے عاجز ہو تا ہے تو خالص دودھ پلانے والا خدا ہے۔ وہی جانداروں کو زندگی اور موت دیتا ہے۔ ہر کسی کو ملنے والا نفع اور خیر اُسی کی جانب سے ہیں اور تمام شر اور ضرر جس سے صادر ہوتا ہے اور دوسرے تک پہنچتا ہے ، اس کی مشیت و حکمت اور اجازت سے ہے۔
قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ
"کہہ دو اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) ! سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔"
روزی دیتا ہے، قبول کرتا ہے
وہ ایسی ذات ہے کہ تمام مخلوقات کو روزی دیتا ہے ۔ رزق کی تقسیم کرنا، کم یا زیادہ دینا مکمل طور پر خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ایسا کریم و رحیم ہے کہ ہر کسی کی دعا قبول کر لیتا ہے۔ اور اس کی حاجت پوری کر دیتا ہے۔ جس سے وہ چاہے بُرائی کو دور کرتا ہے۔ خلاصہ توحید درافعال کے کے حقیقی معنی یہ ہیں کہلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّابِاللّٰهِ کے معنی سمجھنا پھر دل میں یقین پیدا کرنا۔ بعبارت دیگر کلمہ شریفہلَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه کا مفہوم یہی ہے۔
ہر چیز کا موثر خدا ہے
جس طرح کہ ہر چیز کی زندگی خدا سے ہے اسی طرح اس کے آثار حیات بھی خدا سے تعلّق رکھتے ہیں اور ان آثار کا ظہور بھی خدا کی جانب سے ہوتاہے۔ خواہ وہ مقدار کے لحاظ سے ظاہر ہو جائے یا کیفیت میں ۔ چنانچہ تجربہ اور وجدان سے ثابت ہوا ہے کہ موثر اشیاء کا اثر کبھی کبھار اُس کے برعکس ہوتا ہے۔ (جیسا کہ آتش ِ نمرود کا اثر یعنی حرارت ختم کر کے اس کو ٹھنڈک میں تبدیل کردیا، کیونکہ خدا ہر چیز کا موثر ہے۔)اس اختصار کی تفصیل آگے بیان ہو گی۔
شان ربوبیت کی انتہا نہیں
خداوند عزوجل ہر بیچارے کا فریاد رس اور ہر پریشان حال کو نجات دینے والا ہے اس کے علاوہ دوسری اچھی صفات کا بھی وہی مالک ہے بلکہ وہ ہر نیکی اور خوبی کا سرچشمہ ہے
هُوَ اللّٰهُ الخَالِقُ الْبَارِی الْمُصَوِّرُ الرَّزَاقُ الْمُحْیِیْ، الْمُمِیْتُ النَّافِعُ الضَّارُّ الْمُجِیْبُ الْمُعطِیُ الْمُنْعِمُ وغیرہ دوسرے اسماء اور افعال خداوند تعالیٰ کی ربوبیت کے مظہر ہیں اور کلمہ مبارکہ رب العالمین تمام اسمائے الہٰیہ کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے خلاصہ اگر تمام دریا سیاہی بن جائیں اور ربوبیت کے شوؤن وحالات لکھنا چاہیں تو تمام دُنیا کا پانی ختم ہو جائے گا اور تمام عالم کی تربیت اور پرورش کی لامتناہی داستان ابتدائی مراحل میں ادھوری رہ جائے گی جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے :
( قُلْ لَوْکَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لنَفِدَا لبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنَفْذَکَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِه مَدَداً ) ۔(سورہ ۱۸ ۔آیت ۱۰۹)
"کہو (اے رسول) اگر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے ) واسطے سمندر (کا پانی)ہی سیاہی بن جائے تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار باتیں ختم ہوں سمندر ہی ختم ہو جائے گا اگرچہ ہم ویسا ہی (ایک اور سمندر) اس کی مدد کو لے آئیں۔
انسان کی توانائی
دراصل انسان کا وجود خدا سے ہے اپنے افعال میں جو کچھ قدرت رکھتا ہے وہ بھی خدا ہی سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے توانائی عِلم اور ارادہ دیا ہے تاکہ وہ خیروشر کے افعال انجام دے سکے۔
ای ہمہ نقشِ عجب بردرو دیوارِ وجود
ہر کہ فکرت نکند نقش بود بر دیوار
یہ سارے عجیب نقش ونگار جو عالمِ وجود کے درودیوار پر نظر آتے ہیں اگر کسی نے ان پر غوروفکر نہیں کیا تو وہ نقشِ دیوار کی مانند ہے۔
آفرینش ہمہ تنبیہ خداوند دل است
دل ندارد کہ ندارد باخداوند اقرار
موجودات عقل مند انسان کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتی ہیں جس کے پاس عقل نہیں وہ وجودِ خدا کا اقرار نہیں کرتا۔
کہ تواند کہ دوہد میوہ شیریں از چوب
یا کہ دانند کہ برآرد گل صد رنگ از خوار
دیکھئے لکڑی سے میٹھا پھل کیا کوئی نکال سکتا ہے؟ یا سینکڑوں رنگوں کے پھولوں کو کانٹوں سے نکالنے کا کرشمہ کیا کوئی جانتا ہے؟
پاک و بے عیب خدائی کے بتقدیر وجود
ماہ وخورشید منور کند بہ لیل و نہار
وہ پاک وبے عیب خدا جس نے تقدیر وتدبیر سے چاند اور سورج کو روشنی دے کر دن اور رات کو وجود میں لایا۔
پادشاہی نہ بدستور کند یاگنجور
نقشبندی نہ بشنگرف کند یا زنگار
وہ ایسا بے نیا ز بادشاہ ہے جس کو نہ دستور کی ضرورت ہے نہ خزانے کی احتیاج اور ایسا نقاش ہے جسے رنگ وروغن سامانِ نقاشی فراہم کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
چشمہ از سنگِ بروں آرد و باران از میغ
عنگبین از مگس نہلِ دراز دیبہ باد
وہ پتھر سے پانی کا چشمہ نکالتا ہے اور بادل سے بارش برساتا ہے مکھی سے شہد فراہم کرتا ہے اور کیڑے سے ابریشم تیار کرتا ہے۔
تاقیامت سخن اندر کرم ورحمت او
ہمہ گوئند و یکی گفتہ نیا ید زہزار
(شیخ سعدی)
اگر تمام مخلوقات مل کر قیامت تک اللہ کے بے پایاں رحم وکرم کے بارے میں بات چیت کریں تو اس کے ہزارویں حصّے کا بیان بھی نہ کر سکیں گی۔
( اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لاتُحْصُوْهَا ) ۔
’‘’اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ان کو شمار نہیں کر سکو گے ۔"
انسان کی قوّت خدا کی مشیّت میں مقیّد ہوتی ہے
انسان کی توانائی مشیّتِ ایزدی سے گھیری ہوئی اور محدود ہوتی ہے جیسا کہ انسان بہت سے امور کی انجام دہی کے لیے ارادہ تو کرتا ہے لیکن اچانک اُس کا ارادہ منسوخ ہو جاتا ہے یا اپنی توانائی سرے سے ختم ہو جانے کی بنا پر وہ کام کو انجام تک نہیں پہنچا پاتا۔ درحقیقت موثر کی مرضی کے خلاف کام ہوتا ہے اس لیے فاعل کو روک لیتا ہے ۔
چنانچہ کسی نے حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) سے دریافت کیا اے میرے مولا!
کَیْفَ عَرَفْتَ رَبَّکَ؟ فَقَال (ع) عَرَفْتُ اللّٰهِ بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ وَنَقْضِ الْهِمَمِ
(خطبہ نہج البلاغہ)
"آپ نے اللہ تعالیٰ کو کیسے پہچانا؟" پس فرمایا میں نے اُس کو ارادوں کے منسوخ ہونے اور ہمتوں کے ٹوٹنے سے پہچان لیا ہے ۔
سچ مچ خدا ہی کو تمام اشیائے کائنات کا موثر اور جن اشیاء میں مختلف آثار پائے جاتے ہیں ان کا مصدر بھی خدا ہی کو جاننا اور اُسی پر کامل اعتماد رکھنا توحید کا بلند ترین مقام ہے۔ توحید کے اس اعلیٰ مرتبے پر پہنچنے میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ جب بندے کو اس بات کا یقین پیدا ہو جائے کہ عالمِ امکان خواہ محسوس (مادی) ہوں یا غیر محسوس (روحانی) ہوں ان سب کا موثر سوائے خدا کے اورکوئی نہیں تو لازمی طور پر کچھ علامتیں اُس سے ظاہر ہوتی ہیں اُن میں سے ایک علامت خوفِ خدا ہے۔
خوفِ خُد
یقین کے مقام پر فائز مومن اپنے پروردگار کی عظمت اور جن گناہوں کا وہ مرتکب ہوا ہے ان کے بغیر اور کسی چیز سے کبھی نہیں ڈرتا چونکہ وہ یقین سے جان چکا ہے کہ سارے چرند، پرند ،رینگنے والے، جن ،بنی آدم، فرشتے اور دوسری مخلوقات سب کے سب اللہ تعالیٰ کی فوج ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی جانب سے کسی کو کسی قسم کا نفع پہنچ سکتا ہے اور نہ نقصان۔ جب اس اعتقاد پر یقین حاصل ہے تو پھر ڈر کس چیز کا؟
اگر تیغِ عالم وجنبد بجنبدز جائے
نبردگی تاخواہد خدائے
اگر کسی کے خلاف ساری دُنیا کی تلواریں حرکت میں آ جائیں تو اس کی جب تک خدا نہ چاہے ایک رَگ بھی نہیں کاٹ سکتا۔
از خدا دان خلاف دشمن و دوست
کہ دل ہر دو در تصرف اوست
دوست اور دشمن کی مخالفت خدا کی طرف سے سمجھ کیونکہ دونوں کے دل خدا کے اختیار میں ہیں۔
مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
روایت ہے کہوَحَدُّ الْیَقِیْنِ اِن لاَّ تَخَافَ مَعَ اللّٰهِ شَیْئًا
یقین کی آخری حد یہ ہے کہ خدا کے ساتھ اور کسی چیز سے نہ ڈرے حضرت رسولِ اکرم سجدے میں فرماتے ہیں:
اِلٓهِٰی اِنْ لَّمْ یَکُنْ غَضَبَکَ عَلیَّ فَلاَ اُبَالِی (جلد ۱۵ ۔بحارالانوار)
"خداوندا! اگر تیرا غضب میرے اوپر نہیں تو پھر مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں۔"
اُمید بخد
اگر یہ یقین حاصل ہے کہ عالمِ امکان میں اللہ کے سوا دوسرے کسی موثر کا اثر کارگر نہیں تو ایسا مومن یکتا پرست خدا کے علاوہ اور کسی سے کسی قسم کی امیدنہیں رکھتا چنانچہ حضرت امیرالمومنین کا ارشادِ گرامی:
لَایَرْجُوَنَّ اَحَدٌ مِّنکُمْ اِلاَّ رَبَّه (خطبہ نہج البلاغہ)
تم میں سے کسی کو اپنے پروردگار کے سوا کسی سے امید نہیں رکھنا چاہیئے جیسا کہ اشارہ ہوا ہر فرد کی اصل خدا سے ہے اور ہر خیر کا وجود اور پیدائش کا مرکز بھی وہی ہے اسی طرح ہر وہ نیکی جو ایک شخص سے دوسرے فرد تک پہنچتی ہے وہ بھی خدا کی طرف سے ہے چنانچہ قرآن مجید میں فرماتا ہے: "بیدک الخیر‘ نیکی فقط پروردگار ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ (قواعدِ نحو کے لحاظ سے یہاں جار و مجرور مقدم ہیں اس لیے مفید حصر ہوتا ہے ۔) سورہ یونس کے آخر میں فرماتا ہے :
( وَاِنْ یَمْسَسْکَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلاَ کاشِفَ لَه وَاِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَادَّ لِفَضْلِه ) (سورہ ۶ ۔آیت ۱۷)
اگر خدا تم کو کسی قسم کی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کا دفع کرنے والا نہیں ۔ اور اگر تمہیں کچھ فائدہ پہنچائے تو بھی (کوئی روک نہیں سکتاکیونکہ ) وہ ہر چیز پر قادر ہے اور دوسری جگہ فرماتا ہے :
( وَمَابِکُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ) ۔
"اور جتنی نعمتیں تمہیں ملتی سب خدا ہی کی طرف سے ہیں ۔"اب واضح ہوا کہ جو کچھ عالمِ ملک (مادی ) اور ملکوت (روحانی) میں موجود ہے سب کے سب خدا کے بندے ہیں اور اس کے سامنے عاجز ہیں ۔
اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰواتِ وَالْاَرضِ اِلاَّ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْداً
(سورہ ۱۹ ۔ آیت ۹۳)
آسمان و زمین میں جتنی چیزیں سب کے سب بندہ ہی بندہ ہیں۔
اگر کوئی اپنے کام میں اپنے پروردگار کے علاوہ کسی دوسرے سے امیدوار ہے تو خداوند کریم اسے لطف وکرم سے اس کی امید کو نامیدی سے بدل دیتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے مالکِ حقیقی کی طرف پلٹ کر آئے۔
لَاْقَطِّعَنَ اَمَلَ کُلِّ مُومِّلٍ غَیْرِیْ (عدّة الدّاعی)
میں ان تمام امیدواروں کی امید کے رشتوں کو کاٹ دوں گا جو دوسروں کے باندھے ہوئے ہیں۔
منعم کا شکر ادا کرنا
جن کو یقین ہو کہ عالمِ امکان کا موثر خدا ہے تو نعمت دینے والے کا شکر ادا کرنا چاہیئے چونکہ تمام خیرات اُسی کے ہاتھ میں ہے وہ ہر چیز کو جتنا چاہے خیر وبرکت ورحمت دیتا ہے اسی لیے عِلم ویقین کے ساتھ کہتے ہیں "الحمد للہ" یعنی تمام تعریفیں اللہ کے ہی کے لیے مخصوص ہیں۔
شکرو ثنائی وسائط (ذرائع) بھی لازم ہے
اگر کسی کے ذریعے خیر ورزق مل رہا ہے تو اس کی مدح اور شکر ادا کرنا لازم ہے لیکن اس نظر سے اس کا شکر وتعریف کرنا جائز نہیں کہ وہ مستقلاً مصدر خیرورحمت ہے بلکہ اس لحاظ سے سزاوار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خیرورحمت پہنچانے کا وسیلہ قرار دیا ہے اور پروردگارِعالم کے حکم سے وہ فراہم کرتا ہے اس لیے اگر کسی کے توسط سے خیر ملے تو اس کا شکریہ ادا کرے جیسا کہ معصوم کی طرف سے تاکید ہے
مَنْ لَمْ یَشْکْرِ الْمَخْلُوْقَ لَمْ یَشْکُرِالخالِقَ (بحارالانوار جلد ۱۵)
جس نے (منعمِ مجازی یعنی) مخلوق کا شکریہ ادا نہیں کیا گویا وہ اپنے خالق (منعمِ حقیقی) کا شکر بجا نہیں لایا۔
اَشْکَرُ کُمْ لِلّٰهِ اَشْکَرُ کُمْ لِلنَّاسِ (سفینة البحار جلد ۱ صفحہ ۷۰۹)
تمہارے درمیان سب سے زیادہ اللہ کا شکر گذار وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کا ممنون ہو۔
اس میں شک نہیں کہ اگر کسی نے مخلوقِ خدا کو مستقل طور پر خیر پہنچانے والا سمجھا تو شرک میں مبتلا ہوا۔
مخلوق کی مدح میں پوشید ہ شرک
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے تفسیر آیہ مبارکہ
( وَمَایُواَکْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلاَّ هُمْ مُشْرِکُوْنَ ) ۔(سورہ ۱۲ ۔ آیت ۱۰۶)
اور اکثر لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ خدا پر ایمان نہیں لاتے مگر شرک کیے جاتے ہیں۔
شرک کے بارے میں فرمایاکہ شرک کی اقسام میں سے ایک یہ ہے
مِنْ ذٰلِکَ قَوْلُ الرَّجْلِ لَولَافْلاَنٌ لَهَلَکْتُ وَلَوْلَافُلَانٌ لَاَصَبْتُ کذاوَکَذاوَلَوفُلَانٌ لَضَاعَ عَیَالِی وَلَا بَاْسَ بِاَنٌ یَقُوْلَ لَوْلَا اَمَّنَ اللّٰهُ عَلَیَّ بِفُلاَنٍ لَهَلکْتُ ۔(بحارالانوار)
کہ کوئی شخص کہے جائے اگر فلاں آدمی نہ ہوتا تو میں ہلاکت میں پڑتا۔ اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو فلاں چیز مجھے مل جاتی اور اس طرح کہا جائے اگر فلاں نہ ہوتے تو میرے بال بچّے تلف ہو جاتے اس قسم کی عبارتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ بولنے والے کے عقائد بھی ایسے ہیں۔ اگر حقیقت میں ایسا اعتقاد رکھتا ہے تو وہ مشرک ہے اس کے بعد آنحضرت نے فرمایا اگر کوئی یوں کہے : خداوندعالم نے فلاں آدمی کے ذریعے مجھ پر احسان نہ کیا ہوتا تو میں ہلاکت میں پڑتا تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ عین توحید ہے۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) اور سائل شکور
مسمع بن عبدالملک سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) منٰی میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک سائل خدمت میں حاضر ہو ۔ آپ نے کسی کو حکم دیا کہ اسے انگور کا ایک خوشہ دیا جائے۔ سائل نے عرض کیا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اگر پیسہ ہے تو دیا جائے۔ پس آنحضرت نے فرمایا: "اللہ تجھے وسعت دے"۔ مگر کچھ دیا نہیں۔ اس کے دوسرا سائل خدمت میں حاضر ہوا۔ آنجناب نے تین دانہ انگور دست مبارک سے اٹھا کر اسے مرحمت فرمایا۔سائل نے اٹھا لیا اور کہا:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ العَالَمِیْنَ الَّذِیْ رَزَقَنِیْ
"ساری حمد و ثنا تمام عالم کے پوردگار کے لیے ہے جس نے مجھے روزی عطا کی۔
فرمایا: ٹھہر جاؤ! دونوں دست مبارک ہتھیلیوں تک انگور کے دانوں سے پُر کر کے دو مرتبہ اور دیا۔ سائل دوبارہ شکر خدا بجا لایا۔ آنحضرت (علیہ السلام) نے پھر فرمایا : ذرا اور ٹھہر جا۔ جب وہ کھڑا رہا تو آپ نے اپنے غلام سے دریافت فرمایا تیرے پاس کتنے پیسے موجود ہیں؟ عرض کیا تقریباً بیس درہم۔ آپ نے سائل کو دے دیئے۔ اس نے اُٹھا کر کہا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ هٰذا مَنُّکَ وَحْدَکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
"ساری تعریفیں تمام عالم کے پوردگار کے لیے مخصوص ہیں۔ خدایا ، یہ روزی تیری طرف سے ہے۔ تو یکتا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔"
چوتھی مرتبہ فرمایا: ابھی ٹھہر جاؤ۔ اپنی قمیض اتار کو اُسے دی اور فرمایا: اسے پہن لو۔ سائل نے اُسے پہن لیا اور اس خدا کا شکر ادا کیا جس نے اُسے لباس دیا اور خوش و خرم کیا۔ اس وقت سائل نے حضرت کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے بندہ خدا اللہ تعالیٰ تجھے اچھا صلہ عطا کرے اور روانہ ہو گیا۔
مسمع راوی کہتا ہے اگر سائل امام (علیہ السلام) کی طرف متوجہ نہ ہوتا اور صرف خدا کی حمد بجا لاتا تو آپ مزید عطیہ کا سلسلہ جاری رکھتے۔
توحید اور توکل
یادرکھیئے! تما م اسبا ب سبب پیداکرنے والے (مسبب)کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اس لئے موحد(یکتا پرست) کو چاہیئے کہ اپنے سارے امور میں خواہ وہ منفعت حاصل کرنے سے تعلّق رکھتے ہوں یا ان کا ضررو نقصان دور کرنے کا واسطہ ہو۔ ہر حالت میں اس کی امیدیں فقط اپنے پروردگار سے وابستہ ہونی چاہئیں۔ اسے جاننا چاہیئے کہ تمام اسباب ارادہ خدا کے ماتحت ہیں۔ اگر خیر کے تمام اسباب اس کے لیے فراہم ہو جائیں مگر خدا نہ چاہتا ہو تو محال ہے کہ اسے کوئی خیر پہنچ جائے۔ اس طرح تمام ظاہری اسباب کے سلسلے اس سے کٹ جائیں اور خدا فراہم کرنا چاہتا ہو تو کسی صورت فراہمی کا سبب پیدا کر دے گا۔
اگر ضرر پہنچانے کے تمام اسباب اکھٹے ہو جائیں لیکن خدا اسے محفوظ رکھنا چاہتا ہو تو کوئی شر اُسے چھو نہیں سکتا۔
توحید اور تسلیم
موحّد کو چاہیئے کہ تمام مقدرات الٰہیہ کے سامنے بلاچوں و چرا سرِتسلیم خم کر دے اور امور تکوینی مثلاً عزت و ذلت، صحت و مرض، غنا و فقر، موت و حیات اور مور تکلیفیہ جیسے واجبات و محرمات کے امور میں دل و زبان سے کسی قسم کا اعتراض اور انکار ہر گز نہ کرے۔ اور ان امور میں اپنی فکر و نظر کا اظہار بھی نہ کرے۔ مثلاً ایسا کیوں ہوا؟ اس طرح ہونا چاہیئے تھا۔ یا ہوں کہیے "بارش کیوں نہیں ہوئی، ہوا اس قدر گرم کیوں ہوئی۔" یا یہ کہنا کہ اللہ نے مجھے مال یا اولاد کیوں نہیں دی۔ فلاں جوان کیوں عنفوان جوانی میں مر گیا اور فلاں بوڑھا رہا؟ اللہ نے اس چیز کو واجب اور اس کو حرام کیوں قرار دیا۔ اس طرح کی باتیں بنانے والا درحقیقت خدا کی الوہیت اور اس کی ربوبیت میں اپنے کو شریک قرار دیتا ہے۔
لَوْ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللّٰهَ وَحْدَه لَا شَرِیْکَ لَه وَاَقَامُوْا الصَّلوٰةَ وَاٰتُوا الزَّکوٰةَ وَجَجُّوْا الْبَیْتَ وَصَامُوْا شَهْرَ رَمَضَانَ ثُمَّ قَالُوْا لِشیءٍ صَنَعَهُ اللّٰهُ وْصَنَعَه النَّبِیُّ اِلاَّ صَنَعَ خِلاَفَ الَّذِیْ صَنَعَ اَوْوَجَدُ وْاذٰلِکَ فِیْ قُلُوبِهِمْ لَکَانُوا بذٰلِکَ مُشْرِکِیْنَ، ثُمَّ تَلاَ هٰذِهِ الْاَیَة ((( فَلاَوَرَبِّکَ لَایومِنُوْنَ حتّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْما شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِی اَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ ویُسَلِّمُوْا تَسْلِیماً ) ))
ثُمَّ قَالَ اَبو عَبداللّٰهِ (ع): فَعلَیْکُمْ بِالتَّسْلِیْم
(اصول کافی کتاب الایمان والکفر۔ باب الشرک باللہ حدیث ۶)
"اگر کچھ لوگ یکتا خدا کی ، جس کا کوئی شریک نہیں، عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة بھی دیں اور خانہ خدا کا حج بھی بجا لائیں اور ماہ رمضان کا روزہ بھی رکھیں ۔ اس کے بعد ان احکام کے متعلق جو اللہ تعالیٰ نے یا پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمائے ہیں اعتراض کریں اور کہیں : ایسا کیوں نہیں کیا؟ یا دل میں تصور کریں اگرچہ زبان سے اقرار نہ بھی کریں پھر بھی وہ مشرک ہو ں گے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: پس اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ سچے مومن نہ ہوں گے تا وقتیکہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تم کو اپنے حاکم (نہ بنائیں) پھر (یہی نہیں بلکہ) جو کچھ تم فیصلہ کرو اس سے کسی طرح دل تنگ بھی نہ ہوں بلکہ خوش خوش اس کو تسلیم کرلیں(اور اعتراض نہ کریں)۔ (سورہ نسأ ، آیت ۶۵) اس کے امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا تم پر لازم ہے کہ تسلیم کرو"۔
مجلسی شرح کافی میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ خدا کرتا ہے اس سے ناراضگی کا اظہار کرنا اور جو کچھ آئمہ اطہار (علیہم السلام) سے صادر ہو اس کو تسلیم نہ کرنا شرک ہے۔
بنا بر ایں جب اہل توحید مصیبت و بلا میں گرفتار ہو جائیں تو اپنی زبان اور دل کو قضائے الٰہی کے بارے میں اعتراض کرنے سے روکنا واجب ہے۔ البتہ عزیزوں اور دوستوں کی موت پر گریہ و فریا د کرنا جائز ہے بلکہ پسندیدہ ہے۔ لیکن اعتراض کے طور پر کہنا : یہ کیوں ہوا؟ ایسا نہیں ہو نا چاہیئے تھا، سراسر حرام ہے۔
توحید اور محبت
خدائے واحد کے پرستار کو یقین کے ساتھ جاننا چاہیئے کہ پروردگار عالم خود اس کا اور سارے موجودات کا حقیقی منعم ہے۔ اور جو جو چیزیں جہاں سے اور جس سے اس کو ملتی ہیں خدا ہی کا فضل و کرم ہیں۔ اور ظاہری اسباب و علل بھی اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہیں۔ پس دلی محبت اور دوستی کی سزاوار بھی اس کی ذات ہے۔ سوائے ذات خدا کے اور کسی سے بلا واسطہ دوستی نہیں رکھنی چاہیئے۔ ہاں اگر کسی سے دوستی کا رشتہ باندھنا منظور ہو تو اس لحاظ سے کہ وہ شخص "محبوب ِخدا" ہے۔ اور بس حب محبوب خدا حبِ خدا است۔ چونکہ اس کی دوستی عین محبت خدا اور حکم خدا ہے جیسا کہ انبیأ و آئمہ (علیہم السلام) اور مومنین سے محبت کرنا۔
یا اس لیے کسی نعمت الٰہی سے قلبی ملاپ پیدا کرنا کہ یہ عطیہ پروردگار ہے تا کہ اس کے حصول سے وہ شکرِ خدا بجا لائے جس سے قرب الٰہی اور اس کی خوشنودی بھی حاصل کرسکتا ہے۔ مثلاً اہل و عیال اور مال و حیات دنیوی سے محبت کرنا عبادت پروردگار ہے۔ اس کے برعکس خوشنودی خدا کو نظر انداز کر کے براہ راست ان سے یا کسی چیز سے محبت کرے تو فرد شرک میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر غیر خدا کی دوستی زیادہ شدّت سے ہو اور خدا کی محبت نسبتاً کم ہو ، یہاں تک کہ دونوں محبتوں کے تصادم کی صورت میں غیر خدا کی دوستی کو ترجیح دیتا ہو تو شرک کے علاوہ حرام بھی ہے۔ اس لیے وہ عذاب کا مستحق ہے۔ مثلاً کسی کے دل میں خدا سے زیادہ مال ِدنیا کی محبت ، لہٰذا اس کے لیے ممکن نہیں کہ حکمِ خدا کے مطابق واجبات مالی ادا کرے۔ اس بارے میں بہت سی قرآنی آیتیں اور احادیث وارد ہیں۔ بطور مختصر تین روایتیں نقل کی جاتی ہیں:
( ۱)سُئِلَ اَبُو عَبدِاللّٰهِ عَنْ قَولِه تَعَالٰی اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْم فَقَال (ع) اَلقَلْبُ السَّلِیْمُ اَلَّذِیْ یَلقٰی رَبَّه وَلَیْسَ فِیْهِ اَحَدٌ سِوَاه، قَال (ع) وَکُلُّ قَلْبٍ فِیْهِ شِرْکٌ اَوْشَکٌ فَهُوَ سَاقِطٌ (اصول کافی۔ باب الاخلاص)
"کسی نے حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے اس آیہ مبارکہ کے معنی دریافت کیے":
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَابَنُوْنَ اِلاَّ مَنْ اَتٰی اللّٰهِ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔
"قیامت کے دن مال و اولاد فائدہ نہیں دیں گے مگر یہ کہ خدا کے حضور قلب سلیم لے کر حاضر ہو۔ آپ (علیہ السلام)نے فرمایا: سالم دل وہ ہے کہ جب اللہ سے ملاقات کرے تو اس کے سوا اور دوسرے کی محبت اس میں نہ پائے۔ ہر وہ دل جس میں شرک اور شک ہو وہ ساقط یعنی ہلاکت کے قابل ہے۔"
( ۲)قَالَ اَبُو عَبْدِاللّٰهِ عَلَیْهِ السَّلاَمُ لَایُمحِّضُ رَجُلٌ اَلاِیْمَانَ بِاللّٰهِ حَتّیٰ یَکُوْنَ اللّٰهُ اَحَبَّ اَلَیْهِ من نَّفْسِه وَاَبِیْه وَاُمِّه وَوُلْدِه وَاَهْلِه وَمَالِه وَمِنَ النَّاسِ کُلِّهِمْ
(سفینة البحار جلد ۱ ۔ ص ۲۰۱)
"حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: کسی شخص کا ایمان بخدا خالص نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے نفس ، عزیز، ماں باپ، اولاد، بیوی اور تمام لوگوں یا مال سے زیادہ محبت کرے"۔
( ۳) " حضرت سلیمان علیٰ نبینا (علیہ السلام) کے دور ِحکومت میں ایک چڑے نے اپنی مادہ سے کہا: اری تو مجھے جفت ہو نے سے کیوں روکتی ہے؟ میں اس قدر طاقت رکھتا ہو کہ اگر چاہوں تو حضرت سلیمان کے گنبد کو اپنی چونچ سے اُٹھا کر دریا میں پھینک دوں۔
جب ہو نے چڑے کی بات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کانوں تک پہنچایا تو وہ مسکرائے اور دونوں کو دربار میں بلوایا اور پوچھا کہ زبانی دعویٰ جو تم کررہے ہو ، وہ عملی طور پر کر کے دکھا سکتے ہو؟ عرض کیا: ہر گز نہیں، لیکن باتوں سے میں اپنی شخصیت کو بیوی کے سامنے سنوار کر پیش کر کے اپنی بزرگی کا اظہار کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ مرعوب ہو جائے۔ اور عاشق و معشوق کے درمیان ہونے والی باتوں پر ملامت نہیں ہو نی چاہیئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مادہ چڑیا سے فرمایا تم کیوں اس سے روگردانی اور بے اعتنائی کررہی ہو۔ جبکہ و ہ تم سے محبت کا دعویٰ کررہا ہے۔ مادّہ نے عرض کی : یا رسول اللہ وہ جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے۔ وہ میرا دوست نہیں چونکہ اس کی محبت دوسرے کے ساتھ ہے۔ پس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دل ان باتوں سے متاثر ہوا اور وہ بہت رونے لگے۔ اور چالیس دن تک اپنے عبادت خانے سے باہر نہیں نکلے۔ اور دعا کی کہ خداوند عالم چڑے کے دل کو اپنے جوڑے کے علاوہ دوسرے کی محبت سے پاک کردے۔
(سفینة البحار، جلد ۲ ، صفحہ ۲۰۰)
اطاعت میں توحید اور شرک
مومن جبکہ یقین کے ساتھ جانتاہو کہ پیدا کرنے والا اور رزق دینے والا اور مدبّر و مربی اپنا اور ساری مخلوقات کا صرف ایک ہے۔ اس کی الوہیّت اور ربوبیّت میں کوئی شریک نہیں۔ تو عقل اور ایمان کی رو سے خدائے واحد کے علاوہ اور کسی کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور نہ حاکم تسلیم کرتا ہے اور فقط اسی کولازم الاطاعت جانتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے موجودات بھی اس کی قدرت و قوّت کے مقابل عاجز و ضعیف ہیں اور کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ تمام مخلوقات اپنی ذات کے لیے نفع حاصل کرنے پرقادرہیں۔نہ ضررکادفاع کرسکتی ہیں اورنہ موت وحیات اورحشرونشرکااختیار۔
( لَایَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعاً وَّلَا ضَرّاً وَّلاَ مَوْتاً وَّلَاحَیَاتاً وَّلَا نُشُوراً ) ۔
کیونکہ ولایت یعنی مطلق سرپرستی واختیارکل اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے ۔البتہ اگرخداخودکسی کو ولایت پرمتعین کرے اورمخلوق خداکے امورکامرجع ومرکزقرار دے تواس صورت میں وہ بھی لازماًواجب الاطاعت ہوگاکیونکہ وہ منصوب من اللہ ہے۔
اللہ کے پسندیدہ احکام
ولایت الٰہیہ کاسلسہ انبیاءِ کرام،ائمہ ہدیٰ (علیہم السلام) کے علاوہ زمانہ غیبتِ صغریٰ میں نواب خاصہ اورغیبتِ کبریٰ کے زمانے میں نواب عامّہ پرمنحصرہوتاہے۔جن کے بارے میں قرآنِ میں ہے:
( مَنْ یُّطِع الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ) (سورہ ۴ ۔آیت ۲۸)
"جس نے رسول کی فرمانبرداری کی حقیقت میں اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی۔"
اورارشادہے:
( مَا اٰتاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَا کُمْ عَنْهُ فَاںْ نُتَهُوْا ) ۔
(سورہ ۵۹ ۔آیت ۷)
"جو تم کو رسول امر کریں اُسے لے لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔ "
مزید ارشاد ہو تا ہے:
( یٰاَ یُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیعُوْاللّٰهِ وَاَطِیْعُوالرَّسولَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ) (سورہ ۴ ۔ آیت ۶۲)
"اے صاحبانِ ایمان ! خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ، ان کی اطاعت کرو۔"
اولی الامر کون ہیں ؟
صاحبان امر کے بارے میں اہل سنّت والجماعت کے کئی اقوال ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد حکام ہیں۔ یہ قول علم و حجّت اور دلیل سے خالی ہے۔ اگر حاکم ہو اورعدالت نہ ہو۔ اورحکم ِخداکوجاننے میں سب سے زیادہ ماہرنہ ہو،خواہشات نفسانی کامخالف نہ ہو،اپنے آقاکامطیع نہ ہووغیرہوغیرہ تواجتماعِ ضدین یانقیض لازم آتے ہیں۔دیگرباتیں ہمارے موضوع بحث سے خارج ہیں۔جیساکہ عمربن خطاب کاقول ہے:
مُتْعَتَانِ مُحلَّلتَانِ فِیْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَاَنَا اُحَرِّمُهُمَا ۔
"دومتعہ(متعہ حج اور متعہ نساء) رسول خدا کے زمانے میں حلال تھے اور میں نے دونوں کو حرام قرار دیا۔"
پس جو کوئی ان کو اولی الامر جانتا ہے اسے چاہیئے کہ پیغمبر خدا کے حکم کے مطابق متعہ کو حلال جانے جیسا کہ خود اس نے اعتراف کیا۔ اور حرام بھی جان لیں جیسا کہ اس نے حکم دے دیا۔ جب موضوع ایک ہی اور اس کے متعلق دو مختلف حکم صادر ہوتے ہیں تو اجتماعِ ضدین یا نقیض لازم آتا ہے۔
حب علی حکم ِپیغمبر سے ہونی چاہیئے یا معاویہ کی نسبت سے؟
مثلاً معاویہ علی (علیہ السلام) کے ساتھ جنگ کرنا واجب جانتا تھا جبکہ حضرت رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حرام قراردیا تھا ۔ جیسا کہ فرمایا: علی (علیہ السلام)سے لڑنا میرے ساتھ لڑنا ہے۔ اور معاویہ علی (علیہ السلام) سے بغض رکھنے کا حکم دیتا تھا جب کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اُن کی دوستی واجب اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی (علیہ السلام) اور آلِ علی (علیہ السلام) کی مودت کو اجرِرسالت قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں قرآن شاہد ہے:
قُلْ لَا اَسْئلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِیْ الْقُرْبٰی (سورہ ۴۲ ۔آیت ۲۲)
"(اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ)) تم کہہ دو کہ میں اس (تبلیغ ِ رسالت) کا اپنے قرابت داروں (اہل بیت) کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔"
اس صورت میں خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اطاعت کا لازمی نتیجہ محبت حضرت علی اور ان سے صلح و صفائی ہے اور معاویہ کو اولی الامر تسلیم کرنا حضرت علی (علیہ السلام) سے بغض رکھنے اور جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ (اس صورت میں بھی اجتماع نقیض یا ضدین لازم آتا ہے۔)
اولی الامر ایک گروہ کے لیے مخصوص نہیں
اولی الامر کا منصب صرف امراء و حکام ہی کے لیے مخصوص سمجھنا آیہ مذکورہ کے خلاف ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کے بعد ذکر فرمایا یعنی اولی الامر کی اطاعت عین اطاعت ِ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے۔ اسی لیے( اَطیعوااُولی الامر منکم ) نہیں فرمایا، بلکہ تیسری مرتبہ اطیعوا کی تکرار کرنے کی بجائے واو عطف استعمال کیا گیا ہے۔ بایں معنی کہ اطاعت اولی الامر عین اطاعت ِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے۔ دونوں ایک ہیں۔ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ حضرت رسول ِاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اوامر کی اطاعت سارے مکّلفین کے لیے عام ہے، کسی کے لیے مخصوص نہیں۔ اسی طرح تمام اوامر میں اولی الامر کی اطاعت بھی واجب ہے۔ عقلا ء کی نظر میں یہ درست نہیں بلکہ اولی الامر خود رسول کی طرح ہے اور ہر قسم کے سہو و خطا سے پاک و معصوم ہے تاکہ مکمل اطمینان سے ان کی پیروی اور اطاعت کر سکیں۔
کیا اولی الامر سے مراد علماء ہیں
مذکورہ مطالب سے بعض علمائے عامّہ کے قول کا بطلان واضح ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء ہیں ۔ حالانکہ علماء معصوم نہیں ہوتے۔ سب جائز الخطا ہیں۔ یہی وجہ ہے علماء کے اقوال اور ان کی آرا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عصمت باطنی امر ہے اور لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے۔ اس لیے اولی الامر کا تعین و انتخاب خدائے عالم الغیب اور اس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) (ہی) کی جانب سے ہونا چاہیئے۔
بارہ امام اولی الامر ہیں
بہت سی شیعہ اور سنی کتب کی معتبر روایات موجود ہیں۔ جن میں اولی الامر تعین کر کے "آئمہ اثنا عشر" میں منحصر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور روایت حوالے کے طور پر یہاں ذکر ہوتی ہے جو کہ خاص و عام دونوں کے نزدیک "متواتر" ہے۔
پیغمبر اولی الامر کا بیان فرماتے ہیں
جناب جابر ابن عبداللہ انصاری سے یہ روایت منقول ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے پوچھا کہ میں خدائے تعالیٰ اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو جانتا ہوں مگر اولی الامر کو نہیں جانتا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اے جابر! اولی الامر میرے بعد میرے خلفاء اور مسلمانوں کے آئمہ ہیں۔ ان میں سے پہلے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے بعد حسن (علیہ السلام) ، ان کے بعد حسین (علیہ السلام) ، ان کے بعد ان کے فرزند علی بن الحسین (علیہ السلام) ، ان کے بعد محمد بن علی (علیہ السلام)،جن کا لقب توریت میں باقر ہے۔تمہاری ان سے ملاقات ہوگی تو ان کو میرا سلام کہنا، ان کے بعدجعفر (علیہ السلام)، ان کے بعد موسیٰ (علیہ السلام)، ان کے بعد علی (علیہ السلام)، ان کے بعد محمد (علیہ السلام)، ان کے بعد علی (علیہ السلام)، ان کے بعد حسن (علیہ السلام)، جب حجت ابن الحسن (علیہ السلام) کا نام لیا تو فرمایا، وہ میرا ہم نام ہوگا اور اس کی کنیت میری کنیت ہوگی۔ وہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت اور بقیةاللہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اُسے مشرق اور مغرب کا فاتح قرار دے گا۔ وہ اپنے پیرووں کے درمیان سے اس طرح غائب ہوں گے کہ غیبت کا زمانہ طولانی ہو نے کی بنأ پر لوگ ان کے وجود کی تصدیق نہیں کریں گے، مگر ایسے مومن کہ جن کا دل اللہ تعالیٰ نے آزمایا ہو۔
جابر کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا شیعوں کو ان کی غیبت سے فائدہ ہوگا۔
فرمایا: جی ہاں۔ لوگ اس طرح فیض یاب ہوں گے جس طرح بادل کے پردے میں موجود سورج کی روشنی سے موجودات عالم بہرہ مند ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت اطہار (علیہم السلام) کی اطاعت بھی عین اطاعت خدا ہے(منقول از تفسیر منہج الصادقین)۔ اس کے علاوہ مزید معلومات کے خواہشمند کتاب غایةالمرام کی طرف رجوع کریں۔ اس کتاب کے باب ۵۹ میں اہل سنت کی چار حدیث اور چودہ شیعہ احادیث نقل کی ہیں۔ اسی کتاب کے ایک سو چالیسویں باب امامت میں چار اہل سنت کی احادیث اور ۲۷ شیعہ احادیث منقول ہیں۔
عاد ل مجتہد کی اطاعت
اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ غیبت امام (علیہ السلام) کے زمانے میں جامع الشرائط فقیہہ کی اطاعت بھی واجب ہے۔ اسکی اطاعت عین اطاعت ِامام ہے۔کیونکہ وہ امام کی جانب سے منصوب ہے۔چنانچہ توقیع حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف میں لکھاہواہے۔
اُنْظُرُوْا اِلٰی مَنْ کَانَ مِنْکُمْ قَدْ رَوَیْ حَدِیْثَنَا وَنَظَرَ فِیْ حَلَالِنَا وَحَرَامِنَا وَعَرَفَ اَحکَامَنَا فَارْضُوْابِهِ حَکَماًفَاِنّی قَدْ جَعَلْتُهُ عَلَیْکُمْ حَاکِماً فَاِذا حَکَمَ بِحُکْمِنَا فَلَمْ یَقْبِلْ مِنْهُ فَاِنَّمَا بِحُکْمِ اللّٰهِ اسْتَخَفَّ وَعَلَیْنَا رَدَّ وَالرَّادُّ عَلَیْنَا کَالرَّادِّ عَلَی اللّٰهِ وَهُوَ عَلٰی حَدِّالشِّرکِ بِاللّٰهِ (کتاب کافی)
فکرونظرسے اس شخص کی طرف دیکھوجوتم میں سے (اثناعشری شیعہ اوراہل بیت (علیہم السلام)کی پیروی کرنے والاہو)جوہماری احادیث کوروایت ہے اورہمارے حلال وحرام دیکھتاہے۔اورہمارے احکام کووہ جانتاہے۔پس تم اسکے حکم پرراضی ہوجاو۔بے شک اس شخص کومیں تمہاراحاکم قراردیتاہوں ۔جب وہ ہمارے احکام کے بارے میں حکم صادرکرے تواسے قبول نہ کرنیوالایقینا حکم خدا کا استخفاف کرتاہے۔اورہلکاشمارکرکے اسکی تردید وانکار کرتا ہے۔ ہمارے احکام سے روگردانی شرک بااللہ کی حدہے۔
آزادفقیہ پیروی کے قابل ہے
فقیہ کے لیے شرط ہے کہ وہ دنیاکالالچی نہ ہو۔دنیوی شہرت وجاہ وجلال کاطالب نہ ہو۔اس کے دل میں باطل تعصب نہ ہو۔اس قسم کی صفات سے متصف فقیہ کی پیروی کرنی چاہیے اگرچہ کوئی دوسرااس سے زیادہ پرہیز گاربھی موجودہو۔چنانچہ اسی مضمون کی ایک حدیث عالم ربانی شیخ انصاری علیہ الرحمتہ نے کتاب احتجاج میں خبرواحدحجت ہونے کے بارے میں حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے نقل کی ہے جس کی عبارت یہ ہے:
مَنْ کانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِناً لِّنَفْسِهِ حَافِظاً لِّدِیْنِهِ مُخَالِفاً لِّهَوَاهُ مُطِیْعاً لِاّ مْرِ مَوْلَاهُ فَلِلْعَوامِ اَنْ یُّقَلِّدُوْهُ
فقہا ء میں سے کوئی فقیہ ہونے کے علاوہ اپنے نفس کا نگران دین کا محافظ، خواہشات نفسانی کا مخالف اور ہر لحاظ سے اپنے مولا کا مطیع ہو تو ایسی صورت میں عوام کو اس کی پیروی کرنی چاہیئے ۔ اس کی اطاعت امام (علیہ السلام) کی فرمانبرداری کے مانند واجب ہے۔
والد ین کی اطاعت بھی اطاعت خدا ہے
والدین کی اطاعت ان لوگوں کے مانند ہے جن کی فرما ں برداری عین اطاعتِ خدا ہے ۔ اس لئے قرآن مجید میں ان کو تکلیف پہنچانا حرام قرار دیا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کا ذکر کرنے کے بعد بلافاصلہ والدین سے احسان کرنے کا حکم فرمایا ہے :
( وَقَضیٰ رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ ایَّاه وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرُ اَحَدُهُما اَوْکِلَاهُمَا فَلا تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْ هُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلاً کَرِیْماً وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیْراً ) (سورہ ۱۷ ۔ آیت ۲۳ ۔ ۲۴)
اور تمہارے پروردگار نے حکم دیا کہ سوائے اس کے کسی دوسرے کی عبادت نہ کرنا ا و رماں باپ سے نیکی کرنا ۔اگر ان میں سے ایک یا دونوں تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچیں(اور تیری خدمت کے محتاج ہو جائیں ) تو خبردار ان کے جواب میں اف تک نہ کہنا (یعنی نفرت اور ناراضگی کا اظہار نہ کرنا ) اور نہ جھڑکنا اور (جو کچھ کہنا سننا ہو ) تو بہت ادب سے کہا کرو ۔اور ان کے سامنے نیازوادب اور خاکساری کا پہلو جھکائے رکھنا اور (ان کے حق میں )دعا کرو کہ اے میرے پالنے والے جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما ۔
والد ین واجب سے منع اورحرام کاامرنہیں کرسکتے
ضمنًایہ بھی جانناضروری ہے کہ تمام اوامرونواہی میں مطلق طورپروالدین واجب الاطاعت نہیں ہیں بلکہ ان کی اطاعت مشروط ہے ،کہ وہ کسی حرام کاامرنہ کریں اورنہ واجب قطعی کی انجام دہی سے منع کریں۔اس صورت میں خدااوررسول کی اطاعت مقدم ہے۔چونکہ قرآن میں اس کے متعلق واضح بیان موجودہے:
( وَوَصَیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْناً ط وَاِنْ جَاهَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَالیس لَکَ بِه عِلْمٌ فَلاَتُطِعْهُمَا ) (سورہ ۲۹ آیت ۷)
ہم نے انسان کواپنے ماں باپ سے اچھابرتاوکرنے کاحکم دیاہے اور(یہ بھی کہاہے)کہ اگرتجھے تیرے ماں باپ اس بات پرمجبورکریں کہ ایسی چیزکومیراشریک بناکہ جن (کے شریک ہونے کا)تجھے علم تک نہیں تووالدین کی اطاعت نہ کرنا۔
ماں باپ کی اطاعت کاوجوب اس قدرمسلم ہے کہ اولادکی نافرمانی اورمخالفت سے والدین کی ناراضگی اورتکلیف کاسبب نہ بن جائے۔کیونکہ ان کوتکلیف دیناازروئے قرآن حرام ہے ۔اس لیے اگرماں باپ کسی کام کی انجام دہی کاحکم دیں یامنع کریں مگربچے ان کی مرضی کے خلاف کام کریں تولازمی طورپرناراض ہوں گے اورانھیں تکلیف پہنچے گی ۔اس صورت میں ان کی اطاعت واجب ہے اورمخالفت حرام۔
والدین کی مخالفت میں اذیت کی تفصیل
لیکن اس صورت میں جبکہ ماں باپ کسی چیز کاحکم دیتے ہیں یاممانعت کرتے ہیں مگراولادکی عدم تعمیل سے ان کوتکلیف نہیں ہوتی نہ ناراض ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کی نظر میں وہ چیز اتنی اہم نہیں۔اس صورت میں مخالفت حرام نہیں۔مثلاًوالدین اپنے فرزندکوسفرپرجانے سے روکتے ہیں لیکن وہ پھربھی وہ سفرپرجائے توناراض نہیں ہوتے اس لیے سفرمباح ہے۔اس کے برخلاف اس کی مسافرت ماں باپ کیلئے اذیت کاسبب بنتی ہوتویہ سفرمعصیت ہے۔نمازپوری پڑھی جائے اورروزہ بھی رکھناچاہئے۔
شوہرسے بیوی کی اطاعت
جن افرادکی اطاعت بجالاناخدااوررسول کی اطاعت کے برابرسمجھاجاتاہے ان میں سے ایک شوہر کے حق میں بیوی کی اطاعت ہے ۔چنانچہ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَبِمَا اَنْفَقُوْا من اَمْوَالِهِمْط فالصّٰلِحٰتُ قانِتاٰتٌ حَافِطَاتٌ لِلْغیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُط
مردوں کوعورتوں کے امورمیں قیام اورسرپرستی (کاحق)ہے۔ کیونکہ خدا نے بعض آدمیوں (مرد ) کو بعض آدمیوں (عورت ) پر فضیلت دی ہے ۔ (اس کے علاوہ ) مرد (عورتوں ) پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ پس خوش نصیب بیبیاں تو (شوہروں کی) تابعداری کرتی ہیں ۔اور ان کے پس پشت جس طرح خدا نے حفاظت کا حکم دیا ہے(ہر چیز کی) حفاظت کرتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی اور ان کا قیم (نگران و سرپرست) اس لئے بنایا کہ عورتوں کی نسبت مردوں کو اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔ جیسے عقل کی زیادتی ،حسن تدبیر ، جسمانی قوت اور سوچ سمجھ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ان چیزوں کی وجہ سے جو عورتوں کو خوراک و پوشاک و قیام اور مہر وغیرہ بھی دیتے ہیں۔ پس صالحہ عورتیں شوہروں کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہوتی ہیں اور شوہر کی غیر حاضری میں اپنی عفتّ وعصمت اور شوہرکے اموال اور غیر مرد سے) اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہیں ۔
اس کے علاوہ حضرت رسول ِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
لَوْاَمَرْتُ اَحَداً اَنْ یَسْجُدَ لِاَحَدٍ لَاَمَرْتُ الْمَرْأةَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۱۸۱)
"یہ جائز نہیں کہ بشر ایک دوسرے کو سجدہ کریں ۔ اگر جائز ہوتا تو میں سب سے پہلے بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔"
میاں بیوی کے امور میں تمکین واجب ہے
شوہر کی اطاعت بیوی پر لازم ہونے کے بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں لیکن خواتین کے لیے قابل توجّہ بات یہ ہے کہ تمام امور میں شوہر کی خوشنودی حاصل کرنا مستحب اور ان کے لیے بہترین عبادت ہے۔ لیکن تمکین یعنی ہم بستری کے بارے میں شوہر کی اطاعت کرنا فقہا کے نزدیک مسلّم واجب ہے اور گھر سے باہر جانے کے لیے بھی شوہر سے اجازت لینا واجب ہے۔ اگر چہ ماں باپ سے ملاقات یا ان کی عیادت کے لیے جانا ہو۔ اگر خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جائے تو واپسی تک آسمان و زمین میں رہنے والے فرشتے اور رحمت و غضب کے ملائکہ اس پر لعن کرتے ہیں۔
مستحب اخراجات خاوند کی اجازت سے ہونے چاہیئیں
مستحب اخراجات میں بیوی کا شوہر سے اذن حاصل کرنا ضروری ہے اگر چہ وہ اپنے ذاتی مال ہی سے خرچ کیوں نہ کرے۔ اور بیوی کی نذر اسی شرط پر صحیح ہے کہ شوہر اُسے اجازت دے دے۔ البتہ واجبات مثلاً واجب حج و زکوٰة و خمس بلکہ قریبی رشتہ داروں اور ماں باپ سے نیکی کرنے کے بارے میں شوہر سے اذن لینا لازم نہیں بلکہ وہ منع بھی کرے پھر بھی شرعاً کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی عورت اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے شوہر کی اطاعت بجا لائے اگرچہ وہ اعمال مستحب ہوں یا واجب ، یقینا اس نے خداوند عالم اور رسول اکرم کی پیروی کی ہے ۔ وہ بہترین عبادت بجا لائی ہے۔
ظالم حاکم کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیئے
جبکہ یہ معلوم ہوا کہ فقط خدا کی عبادت و اطاعت اور جس کو خدا معین کرے اس کی اطاعت واجب ہے چنانچہ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور بارہ اماموں کی اطاعت ، نوابین امام اور بعض دوسرے افراد جن کی اطاعت شرع مقدّس کی اور احکام خدا کی تعلیم کے لیے ان کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔
مگر دعوے اور فیصلوں کے لیے حکام جور کی طرف رجوع کرنا اور عدالتوں میں حاضر ہونا یا ان کی درباری حمایت کرنا اسی طرح ناجائز ہے جیسا طاغوتی حکومت سے رجوع کرنا۔ ایسی عدالتوں کے ذریعہ جو کچھ لیتا ہے وہ (سُحت )اور حرام ہے اگرچہ وہ مال اس کا حق کے ساتھ ہو۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نے ارشاد فرمایا ہے۔
مَنْ تَحَاکَمَ اِلَیْهِمْ فِیْ حَقٍ اَوْبَاطِلٍ فَانَّمَا تَحَاکَمَ اِلٰی الطَّاغُوْتِ وَمَا یَحْکُمُ لَه فَاِنَّمَا یَاخُذُ مُحتاً وَاِنْ کَانَ حقّاً ثَابِتاً لَه (وسائل الشیعہ کتاب قضاء باب ۱۱)
"اگر کوئی حاکم جور کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے اگرچہ اس کا دعویٰ حق پر مبنی ہو یا ناحق۔ بے شک اس قسم کے دعوے دار نے طاغوت (سرکش و معبود غیر خدا) کو اپنا قاضی و حاکم قرار دیا ہے۔ اور جو کچھ اس کے حکم سے لیتا ہے خالص سُحت (دین خدا کے خلاف اور حرام) ہے اگرچہ لی ہوئی چیز پر اس کا حق ہونا شرعاً ثابت ہو۔"
بالا ضافہ قرآن مجید حاکم جور کی طرف رجوع کرنے سے ممانعت کرتا ہے:
( فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیءٍ فَرُدُّوْهُ اِلٰی اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ) (سورہ ۴ ۔آیت ۵۹)
"پس اگر تم کسی بات میں اختلاف کرو تو اس امر میں خدا و رسول کی طرف رجوع کرو(نہ کہ سرکشوں اور حاکم ظالم کی طرف)۔"
بے عمل عالم پیروی کے قابل نہیں
جس طرح حق بجانب ہوتے ہوئے حاکم جور کی طرف رجوع کرنے کی ممانعت ہے اسی طرح دینی احکام اور شرعی مسئلہ مسائل دریافت کرنے کے لیے مال دنیا اور جاہ و جلال کے طلبگار عالم بے عمل کی طرف رجوع کرنا ممنوع ہے۔ عالم دین کی شرائط کو "آزاد فقیہہ کی پیروی" کے عنوان میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اگر کوئی عالم دین یا فقیہہ ان شرائط پر پورا نہیں اترتا تو اس کی پیروی کرنا جائز نہیں۔ ان کی طرف رجوع کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔ اس بارے میں صرف دو روایات پیش کی جاتی ہیں۔
د نیا پرست علماء راہ خدا کے لٹیرے ہیں
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ:
اِذَارَاَیْتُمُ الْعَالِمَ مُحِباًّ لِّدُنْیَاهُ فَاتَّهِمُوْهُ عَلٰی دِیْنِکُمْ فَاِنَّ مُحِبَّ کُلِّ شیءٍ یَحُوْطُ بِما اَحَبَّ وَاَوْحیٰ اللّٰهُ اِلٰی دَاودَ لَاتَجْعَلَْ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ عَالِماً مَفْتُوْناً بِالدُّنْیَا فَیَصُدُّکَ عَنْ طَرِیْقِ مَحَبتِیْ فَاِنَّ اُوْلٰئِکَ قُطَّاعُ طَرِیقِ عِبادِیَ الْمُرِیْدِیْنَ اِنَّ اَدْنیٰ مَا اَصْنَعُ بِهِمْ اَنْ اَنْزَعَ حَلاَوَةَ مُنَا جَاتِیْ مِنْ قلُوْبِهِمْ (اصول کافی)
"جب تم کسی دنیا دوست عالم کو دیکھو تو اس کو دین دار نہ سمجھو۔ بے شک جو شخص جس چیز سے محبت رکھتا ہے اس کی حالت اور طبیعت اپنے محبوب جیسی ہوتی ہے(یعنی جس کسی کو حب دنیا ہے ، اسے آخرت سے سروکار نہیں)۔ چنانچہ اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت داؤد علیٰ نبیّنا (علیہ السلام) پر وحی نازل فرمائی : اے داؤد ! میرے اور اپنے درمیان ایسے عالم کو واسطہ قرار نہ دو جو دنیا کی محبت میں مبتلا ہو۔ یہ تم کو میری محبت کے راستے سے روک دے گا(یعنی ایسا عالم تم کو بھی اپنے جیسا دنیا دوست بنائے گا)۔یقینا ایسے علماء میری بارگاہ تک آنے والے بندوں کا راستہ کاٹنے والے لُٹیرے ہیں۔ کم سے کم معاملہ جو ان کے ساتھ کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھ راز و نیاز کا شوق و شیرینی ان کے دلوں سے چھین لوں گا۔"
صرف اللّٰہ کے لیے فقیہ ہونا چاہیئے
عَن ابی جعفر (ع) مَنْ طَلَب الْعِلْمَ لِیُبَاهِیْ بِهِ الْعُلَمَاءَ اَوْیُمَارِسَ بِهِ السُّفَهَآءَ اَوْیَصْرِفَ بِه وُجُوْه النَّاسِ اِلَیْهِ فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَه مِنَ النَّارِ اِنَّ الرِّیَاسَةَ لَاتُصْلِحُ اِلاَّ لِاَهْلِهِ (کافی)
"حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ اگر کوئی علماء کے ساتھ فخر کرنے یا بے وقوفوں کے ساتھ جھگڑنے یا ریاست ملحوظ رکھ کر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اس نے اپنے ٹھہرنے کی جگہ کو آگ سے بھر دیا ہے۔ بلاشبہ ریاست (سرداری) الگ چیز ہے۔ وہ اس کے اہل کے لیے سزاوار ہے مگر اہل علم کے لیے نہیں۔"
عوام مقصّر ہیں
درحقیقت وہ تمام افراد جو کہ اہل بیت اطہار (علیہم السلام) اور ان کی جانب سے معین علمائے ربّانی سے جان بوجھ کر کنارہ کشی اختیار کرنے ہوئے خواہشات نفسانی پورا کرنے کی خاطر دوسروں کی طرف رجوع کرنے ہیں ایسے لوگ "مقصّر" (یعنی باوجود قدرت احکام اللہ ترک کرنے والے) ہیں،اور اس آیہ شریفہ کے مصداق ہیں:
( اَفَرَاَیْتَ مَنْ اِتَّخَذَ اِلٰهَه هوٰهُ ) (سورہ جاثیہ آیہ ۲۳)
"تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا۔"
عبادت میں توحید اور شرک
پروردگار عالم نے اپنے عظیم فضل و کرم کے اظہار کے لیے تمام بندوں کو دعوت عام دی ہے کہ اس کی بارگاہ میں حاضری دیں۔ اس کی رحمت و برکت اور گوناگوں نعمتوں سے بے شمار فیض حاصل کریں اور ایسے بلند درجات پر فائز ہو جائیں جو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھے ہوں نہ کسی کے کان کو سننے کی توفیق ہوئی ہو، نہ کسی کے دل کو سوچنے اور تصوّر کرنے کی سعادت ہو ئی ہو۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسُ مَّا اُخْفِیَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
(سورہ ۳۲ آیت ۱۷)
"کوئی نفس یہ جانتا ہی نہیں کہ ان کے اعمال کی جزا میں کیسی کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک (اللہ کے نزدیک) ڈھکی چھپی رکھی ہے۔"
بشر خاکی کجا، ربّ العالمین کجا
اس قول کے مطابقمَالِلتُّرابِ وَرَبُّ الاَرْبَابِ (چہ نسبت خاک را با عالم پاک) اللہ پاک کے بندے وسیلے اور آمادگی کے سوا، ذاتی استعداد و قابلیت کے بغیر قرب الٰہی کے وسیع و عریض بساط پر ہر گز قدم نہیں رکھ سکتے (چونکہ بندہ ناچیز بلاواسطہ اور بلا عمل "مجّرد محض" کی قربت کی خواہش کرنا ناممکن ہے) اس لیے خدائے علیم و حکیم نے اپنی حکمت بالغہ سے حضرت خاتم الانبیاء و آئمہ ہدیٰ (علیہم السلام)کو بندگان خدا کے لیے وسائل اور ان کے توسط سے عبادات کو ذریعہ قربت قرار دیا تا کہ ان مضبوط رشتوں کو تھام کر عبد خاکی کے لیے اپنے معبود عالی تک رسائی ممکن ہوجائے۔
وسیلے سے نفس انسانی اس طرح متاثر ہوتا ہے اور جبلّت تبدیل ہو جاتی ہے جس طرح کیمیا چھونے سے تانبے کی طبیعت و صورت بدل کر کھرا سونا بن جاتی ہے اسی طرح خدا کی عبادت کے نورانی اثرات سے تاریک نفوس کا تزکیہ ہوتا ہے اور دلوں کی تاریکی دور ہو جاتی ہے۔ پھر تمام مراتب پاکیزگی طے کرنے کے بعد عبادت کی برکت سے قربِ الٰہی کی بساط پر قدم رکھ کر دو جہان کی خیرو خوبی سے شرف حاصل کرسکتے ہیں۔
نیت میں خلوص
قبولِ عبادات کیلئے کچھ شرائط ہیں سب سے اہم شرط نیّت میں خلوص پیدا کرنا ہے۔ بلکہ عمل میں خلوص ایسا ہی ہے جیساکہ جسم میں جان کاہونا۔اگرعبادات خالص نہیں تومقرب درگاہ الہی ہوناتودرکناربندے کواپنے خالق سے اورزیادہ دورکردیتاہے قرآن میں اس موضوع سے متعلق بہت سی آیتیں موجود ہیں۔ ان میں سے چند ایک تبرکاً کا ذکر ہوتی ہیں :
( وَمَا اُمِرُوْا اِلاَّ لَیَعْبُدُوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الَّذِیْنَ ) (سورہ ۹۸ ۔آیت ۴)
ان کو (اس کے سوا اور کوئی ) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اِخلاص کے ساتھ اللہ کی پرستش کریں ۔
( قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللّٰهَ مُخْلِصاً لَّه الدِّیْنَ حُنَفٓاءَ ) (سورہ ۲۹ ۔آیت ۱۴)
کہہ دو (اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ)) مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص کر کے خدا ہی کی بندگی کروں۔
( وَادْعُوْهُ مُخلِصِیْنَ لَهُ الدِّین ) (سورہ ۷ ۔ آیت ۲۹)
اس کے لیے نرمی کھری عبادت کر کے اس سے دعا مانگو۔
فَمَنْ کَانَ یَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَّلَا یُشْرِکُ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَداً
(سورہ ۱۸ ۔آیت ۱۱۰)
جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے حاضرہونے کا آرزو مند ہو تو اسے اچھا (خالص ) عمل بجا لانا چاہیے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ (یعنی ریائے سمعہ سے پرہیز کریں) ۔
ریا کار مشرک ہے
معتبر روایات سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے کہ دکھاوے کا کام کرنے والا شخص مشرک و منافق ہے اور وہ پروردگارِ عالم کے عذاب میں گرفتار ہو کر اس کے غضب کا نشانہ بنتا ہے ۔
خوا ہ اس کی ریا واجبات میں ہو یا مستحبات میں، چاہے وہ مستقل ریا کار ہے یا شرکت کے طور پر ، باالفاطِ دیگر وہ مخلوق سے قریب تر ہونے اور ان کے نزدیک اپنے آپ کو محترم بنانے اور ان کی خوشنودی کے لیئے عبادت کرتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ امرِخدا کی فرمانبرداری کا قصد بھی رکھتا ہے ۔ اور اس کی رضایت و قربت کا آرزو مند بھی ہے (اس قسم کے تعبد کوشرک در مقام عبادت کہتے ہیں)
قارئینِ محترم کو مزید معلومات فراہم کرنے کے لیے اس موضوع سے متعلق کئی آیاتِ شریفہ یہاں ذکر کی جا رہی ہیں ۔ ان میں سے ایک سورہِ نسا ء کی یہ آیت ہے :
( اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ یُخادِعُوْنَ اللّٰهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَاِذَا قَامُوْا اِلٰی الصَّلوٰةِ قَامُوْا کُسَالٰی یُراونَ النّاسَ وَلَایَذْکُرُوْنَ اللّٰهَ اِلاَّ قَلِیْلاً مُذَبُذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَا اِلٰی هٰولَآءِ وَلَا اِلٰی هٰولَآءِ ) (سورہ ۴ ۔آیت ۱۴۲)
بے شک منافقین (اپنے خیال میں) خدا کو فریب دیتے ہیں حالانکہ خدا انہیں ان کے مکر و فریب کا بدلہ دینے والا ہے ۔ یہ لوگ جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہیں تو (بے دلی اور ) کراہت سے کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور فقط لوگوں کو دکھاتے ہیں اور ریا کرتے ہیں ۔ دل سے خدا کی یاد کم کرتے ہیں ۔ یہ لوگ کفر اور ایمان کے درمیان ترددّ کی حالت میں جھول رہے ہیں ۔ نہ مومنین کے ساتھ ہیں (کیوں کہ ان کے باطن کفر سے بھرے ہوئے ہیں ) نہ کافروں کے ساتھ ہیں (چونکہ بظاہر مسلمان ہیں اور مومنین سے مشابہت رکھتے ہیں ) ۔
سورہ ماعون میں فرمایا ہے :
( فَوَیْلٌ لِلّمُصَلِّیْنْ اَلَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صلاتِهِمْ سَاهُوْنَ وَالِّذِیْنَ هُمْ یُرَآونَ ) (سورہ ۱۰۷ ۔آیت ۴)
سخت عذاب ان (ریا کار ) نماز گزاروں کے لیے تیار ہے جو کہ اپنی نماز سے غافل و بے خبر رہتے ہیں (اس کو اہمیت نہیں دیتے ) یہ لوگ اپنے اعمال کو دکھاوے کے واسطے کرتے ہیں (تا کہ لوگ ان کی تعریف کریں )۔
ریاء شرک ِاصغر ہے
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا :
اِنَّ اَخْوَفُ مااَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ الْاَصغَرُ قِیْلَ وَمَا الشِرکُ الْاَصْغَرُ فَقَالَ (ص)الرِّیَآءُ
یَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی یَوْمَ القیامَةِ اِذَاجَازَالْعِبَادُ بِاَعْمَالِهمْ اِذْهَبُوْا اِلٰی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُرَاونَ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا هَلْ تجِدُوْنَ عِنْدهُمْ ثَوَابَ اَعْمَالِکُمْ (بحارالانوار)
بے شک تمہارے بارے میں جس چیز سے مجھے زیادہ تر خوف ہے وہ شرک ِ اصغر سے ہے۔ کسی نے عرض کیا اے پیغمبر چھوٹے شرک سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا وہ ریاء ہے ۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کی جزا ء دینے لگے گا تو ریا کاروں سے فرمائے گا " تم ان لوگوں کی طرف رجوع کرو جن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دنیا میں نیک اعمال انجام دئیے تھے ۔ انہیں سے اپنے اعمال کا صلہ لے لو کیاان سے صلہ ملنا ممکن ہے ؟ ( ہر گز نہیں ) ۔
ریا کار اپنے آپ کو دھو کہ دیتا ہے
سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهُ (ص) فِیْمَا النَّجاةُ غَداً؟ فقال (ص) انَّمَا النَّجَاةُ فِیْ اَنْ لاَّ تُخَادِعُوا اللّٰهَ فَاِنَّهُ مِنْ یُخَادِعُ اللّٰهِ یَخْدَعُه وَیَخْلَعُ مِنْهُ الْاِیْمانَ وَٰیَخْدَعُ نَفْسَهُ لویَشْعُرُ فَقِیْلَ لهُ وکیف یُخَادعُ اللّٰهَ ؟ قَالَ (ص) فَیَعْمَلْ بِمَا اَمَرَاللّٰهُ بِهِ ثُمَّ یُرِیْدُ بِهِ غَیْرَهُ فَاتَّقُواللّٰهَ وَاجْتَنِبُوْا الرِّیَآءَ فَاِنَّهُ شِرْکٌ بِاللّٰهِ اِنَّ المُرَآئِی یُدْعیٰ یَوْمَ القِیَامَةِ بِاَرْبَعَةِ اَسْمَآءٍ یاکافِر یافاجر یا غَادِرُ یَاخَاسِرُ حَبِطَ عَمَلُکَ وَبَطَلَ اَجْرُکَ وَلَا خَلَاقَ لَکَ الْیَوْمِ فَالتَمِسْ اَجْرَکَ مِمَّنْ کُنْتَ تَعْمَلُ لَهُ(مَحَجَّةُ البَیْضَاءِ بِحَارُ الْاَنْوارِ)
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے کسی نے پوچھا کہ قیامت کے دن نجات کیسے حاصل ہو؟ فرمایا نجات اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دھوکے بازی نہ کرے ۔ بے شک کوئی اللہ کو دھوکہ سے تو خدا اسے دھوکہ دیتا ہے ۔ (یعنی اسے دھوکے کا بدلہ دیتا ہے ) اور ایمان اس سے چھین لیتا ہے ۔ اگر وہ شعور رکھتا ہے تو دھوکہ اپنے آپ کو دیتا ہے نہ کہ خدا کو ۔کسی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کیسے دھوکہ و فریب دے سکتا ہے ؟ فرمایا کہ بندہ حکم ِ خدا تو بجا لاتا ہے مگر اس کا قصد غیر خدا کی خوشنودی ہوتا ہے پس تم اللہ سے ڈرو اور ریا سے پرہیز کرو ۔ یقینا ریا اللہ سے شرک باندھنا ہے۔ بے شک قیامت کے دن ریا کار کو چار ناموں سے پکارا جائے گا ؛اے کافر ، اے فاجر (گنہگار) ،اے غادر (مکار ) ،اے خاسر (زیاں کار ) تیرا عمل باطل اور تیرا اجر و ثواب ضائع ہو گیا ۔ آج تیری کوئی وقعت نہیں ۔ جاؤ جس کے لیے تم یہ اعمال بجا لائے ہو اسی سے اجر و ثواب مانگو ۔
جھنم کی آگ ریا کاروں سے روتی ہے
حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے :
اِنَّ عَبْداً عَمِلَ عَمَلاً یَّطلُبُ بِهِ وَجَهَ اللّٰهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ثُمَّ اَدْخَلَ فِیْهِ رِضِیَ اَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ کانَ مُشْرِکاً (بحارالانوار)
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے روایت ہے کہ آپ نے فر مایا :"بے شک اگر کسی بندہ خدا نے کوئی عملِ خیر انجام دیا اور اس کا قصد اللہ کی رضاجوئی اور آخرت کا ثواب حاصل کرنا ہو اگر اس عمل میں مخلوق کی خوشنودی شامل کی گئی تو وہ مشرک قرار پائے گا۔
عَنِ النَّبِیّ انَّ النَّارَ یَعِجُّوْنَ مِنْ اَهْلِ الرّیاء فَقِیْلَ یَارَسُوْل اللّٰه (ص) کیفَ یَعجُ النَّارُ ؟ قَالَ مِنْ حَدِّ النَّارِ الَّتی یُعْذْبُوْنَ بِهَا ۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا "بے شک جہنم کی آگ اور اہلِ جہنم ریا کاروں کے سبب فریاد کرتے ہیں۔" کسی نے دریافت کیا یا رسول اللہ آگ کس طرح روتی ہے؟ فرمایا آگ کی گرمی کی شدت سے کہ جس میں ریاکار لوگ مبتلائے عذاب ہیں جہنم نالہ و فریاد کرتا ہے ۔ حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) نے فرمایا :
اِنَّ اللّٰهَ بَعَثَ مُحمَّداً (ص) لِیُخْرجَ عِبَادَهُ مِنْ عِبَادَةِ عِبَادِهِ اِلٰی عِبَادَتِهِ (جلد اوّل سفینة البحار)
بے شک خداوند عالم نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اس لئے بھیجا کہ اس کے بندوں کو لوگوں کی پرستش سے روک کر خدا کی عبادت کی جانب رہنمائی کریں ۔
کبھی عباد ت گذ ا ر کو اس کی عبادت ا ٓگ کی طرف کھینچتی ہے
ابو بصیر نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت نقل کی ہے کہ قیامت کے دن ایک بندے کو لائیں گے جو دنیا میں نماز گزار تھا ۔ اس سے کہیں گے کہ دنیا میں تم نے نمازیں پڑھی ہیں مگر تمہارہ مقصد یہ تھا کہ لوگ تمہاری مدح سرائی کریں اور کہیں کہ دیکھو کیسی اچھی نماز پڑھتا ہے ۔پس اس شخص کو آگ میں ڈال دیں گے ۔ اس کے بعد دوسرے کو لائیں گے جو قاری قرآن ہو گا ۔ اس سے کہیں گے کہ تلاوت کے وقت تمہارہ قصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ تمہارہ لحن و قرأت بہت اچھی ہے پس اس کو بھی آگ کی طرف لے جائیں گے ۔ تیسرے کو حاضر کریں گے کہ جو جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا تھا ۔ اس سے کہیں گے کہ جہاد سے تمہارہ قصد تھا کہ لوگ کہیں گے کہ فلاں شخص بڑا پہلوان اور شجاع ہے۔ اس کو بھی جہنم میں لے جائیں گے ۔ چوتھا آدمی راہِ خدا میں خرچ کرنے والا تھا۔ اس سے کہیں گے کہ تمہارا قصد تھا کہ لوگ تم کو سخی کہیں گے پھر اس کو بھی جہنم میں لے جائیں گے۔(لاّلی الاخبار باب ۸)
بہت احادیث بلکہ متواتر روایتیں ملتی ہیں کہ ریا کار مشرک ہوتا ہے۔ صاحبانِ دل اور اہل ایمان کے لیے یہی کافی ہے۔
خلوص کی فضیلت اور ریا کار کی مذمت
بہت سی روایتوں سے یوں استفادہ ہوتا ہے کہ ریا کار کے لیے آخرت میں خسارہ ، اجر و ثواب سے محرومی اور آتش جہنم میں جلنے کے علاوہ دنیا میں بھی وہ اپنی مراد حاصل نہیں کر سکتا۔ بعبارت دیگر اس کا قصد و نظر مخلوق کے نزدیک عزّت و مرتبت پیدا کرنا تھا۔ اس میں کامیاب نہ ہو گا۔ بلکہ اکثر اوقات شرمندگی اور رسوائی سے دوچار ہوگا۔
( خَسِرَ الدُّنْیَاوَالْآخِرَة ذٰلِکَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنِ ) ۔
"دنیا اور آخرت (دونوں) کا گھاٹااٹھایا اور یہی تو صریح گھاٹا ہے۔"
اس کے برعکس مخلص انسان آخرت کے اجر و ثواب کے علاوہ اس دنیا میں بھی لوگوں کی نظروں میں عزیز و محترم ہو گا۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے آیہ مبارکہ :
( فَمَن کَانَ یَرْجُوْلِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَایُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَداً ) (سورہ کہف کی آخری آیت)
"جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہونے کی امید رکھتا ہے تو اسے عمل صالح کرنا چاہیئے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔"
اس کی تفسیر میں فرمایا:
الرَّجُلُ یَعْمَلُ شَیْئًا مِّنَ الثَّوَابِ لَا یَطْلُبُ بِهِ وَجْهَ اللّٰهِ اِنَّما یَطْلُبُ تَزْکِیَةَ النَّاسِ وِیَشْتَهِی اَنْ یَّسْمَعَ بِهِ النَّاسُ فهٰذا الَّذِیْ اَشُرکَ بِعِبَادَةِ اللّٰهِ ثُمَّ قَالَ مَامِنْ عَبْدِ سَتَرَ خَیْرَاً فَذَهَبَتِ الْاَیَّامُ اَبَداً حَتٰی یُظْهُرهُ اللّٰهُ تَعَالٰی لَهُ خَیْراً وَمَا مِنْ عَبْدٍ یَسْتُرُ شَرّا قَذَهَبَتِ الْاَیَّامُ حَتّیٰ یُظْهِرُ اللّٰهُ له شَتراً ۔(کتاب کافی)
"کوئی شخص نیک عمل انجام دیتا ہے مگر اس کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نہیں بجا لاتا بلکہ لوگوں سے تعریف و ثناء خوانی اُسے منظور ہے اور دل چاہتا ہے کہ لوگ اسے دیکھیں اورسنیں تاکہ شہرت حاصل ہو اور مقبول ہو۔ فرمایا :یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے پروردگار کی عبادت میں دوسروں کو شریک بنایا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی بندہ نہیں کہ اپنے نیک عمل کو پوشیدہ رکھے (یعنی اپنے عمل کو صرف اللہ کے لیے بجا لائے) تاکہ آخر کار خدائے مہربان اس کو منظر عام پر آشکارا فرماتا ہے۔ اور کوئی بندہ نہیں کہ اپنے برے عمل کو مخفی نہ رکھے(تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے اور اس کی تعریف کریں)مگر جوں جوں زمانہ گزرتا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو سرعام کر کے(ذلیل و خوار کرتا جائے گا)۔
کھرا عمل جلوہ گر ہوتا ہے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
مَنْ اَرَادَ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ بِالْقَلِیلِ مِنْ عَمَلِهِ اَظْهَرَه اللّٰهُ لَه اَکْثَر مِمَّا اَرَادَ وَمَنْ اَرَادَ النَّاسَ بِالْکَثِیْرِ مِنْ عَمَلِهِ فِی تَعَبٍ مِّنْ بَدَنِهِ وَسَهْرٍ مِنْ لَیْلِهِ اَبیْ اللّٰهُ اِلاَّ اَنْ یُقَلِّلَهُ فِیْ عَیْنِ مَنْ سَمِعَهُ (کتاب کافی)
"کوئی ارادہ کرے کہ اپنے قلیل عمل سے صرف اللہ تعالیٰ کو خوش کروں گا تو خداوند کریم اس کے عمل کو بڑھا چڑھا کر لوگوں پر ظاہر کرتا ہے اور وہ نظروں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ (اس کے برعکس ) اگر کوئی زیادہ سے زیادہ عمل بجا لائے جس میں جسمانی مشقت و تکلیف سے خستہ ہو اہو اور شب بیداری سے تھکاوٹ ہوئی ہو مگر اس کی نیت لوگوں سے مدح و ثنا حاصل کرنا اور داد لینا رہا ہو تو خداوند عالم اس کے کثیر عمل کو چھوٹے سے چھوٹا کر کے منظر عام پر لائے گا اور کانوں تک پہنچا دے گا۔(یہاں تک کہ لوگ اس سے نفرت کریں گے)۔
د کھاوا، فقہی نظر سے
اگر کوئی عبادت میں شرک جیسے گناہ کبیرہ میں پھنسا ہوا ہو اور توبہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں پہلے حقیقی معنوں میں پشیمان ہونا چاہیئے۔ پھر اس گناہ کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے کا پختہ ارادہ کرے اور تیسرے آئندہ خالصتاً اللہ کے لیے بجا لانے کی نیت کرے۔
یعنی اولاً واجب ہے کہ گذشتہ گناہوں سے استغفار کر کے طلب مغفرت کرے۔ دوسرے جن عبادتوں میں ریا واقع ہوئی ہے ان کو دوبارہ بجا لائے خواہ پوری عبادت ریا کے ساتھ ہوئی ہو یا کچھ حصہ ، بایں معنی کہ عمل کی ابتدا سے لے کر انتہا تک غیر خدا اس کی نظر میں رہا ہو، درمیان میں پروردگار کی خوشنودی بھی شامل ہوگئی ہو ۔ مثلاً کسی نے واجب زکوٰة خداوند عالم کی فرمان برداری کے قصد سے مستحق کو دے دی ہو اور اس کے ساتھ ہی لینے والے سے کسی قسم کی منفعت حاصل کرنے یا ضرر دور کرنے کا ارادہ بھی رکھے یا لینے والے کی بزرگی اور احترام کا قصد کرنے ہوئے پیش کرے۔ ا ن تمام حالات میں توبہ کرنے کے بعد صرف رضامندی خدا کے لیے دوبارہ زکوٰة دینا واجب ہے۔
نماز دوبارہ پڑھنے سے یہ فرق نہیں پڑتا کہ تمام عمل دکھاوا ہو یا کوئی ایک جزو یہاں تک کہ مستحب عمل کا کوئی جزو بھی ریا کے ساتھ بجا لائے جیسا کہ قنوت پڑھنا تو احتیاطاً دوبارہ تکرار کرے یا عمل کی کیفیت میں ریا داخل ہو جائے جیسا کہ دکھاوے کے لیے نماز جماعت میں شرکت کرے یا پہلی صف میں بیٹھ جائے یا اول وقت نماز پڑھی جائے تو بہرصورت نماز باطل ہے۔
غیر عبادت میں ریا
خالص دنیوی امور جو کہ عبادت میں شمار نہیں ہیں اس میں ریاکاری حرام ہونے کے بارے میں کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ اس لیے فقہاء ِ عظام بھی اس کی حرمت کے متعلق فتویٰ نہیں دیتے لیکن راہ احتیاط و نجات یہی ہے کہ اہل ِایمان ریاء کے تمام مراتب سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ دنیوی امور اور مباح کاموں سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ ریاکاری کا سرچشمہ دنیا اور اس کی دولت و عزت کی محبت ہے۔دنیا اور مال دنیا طلب کرنے کی مذموم عادت جب بھی پڑجاتی ہے اور شدّت اختیار کر لیتی ہے تو آہستہ آہستہ عبادت الٰہی میں بھی ریا کاری سرایت کر جاتی ہے۔
مرحوم فیض کاشانی "محّجةالبیضاء"نامی کتاب میں عبادت اور غیر عبارتی امور میں ریا کے بارے میں ہوں بیان فرماتے ہیں:
ریاکار جن امور میں دکھاوے کے لیے کام کرنے ہیں وہ پانچ ہیں: بدنی ریا، ہی ت (شکل و صورت اور لباس)کی ریا ،عملی ریا، پیروی اور خارجی اشیاء میں ریا۔ ان میں سے ہر ایک امور دنیا سے متعلق ریا ہوتی ہے یا اخروی امور سے متعلق ، اور تفصیل حسب ذیل ہے۔
( ۱) بدنی ریا
اخروی امور کی عبادت میں بدنی ریا سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے بدن کو کمزور بنا دے اور اظہار کرے کہ خوف و خشیت خدا اور شب بیداری میں کثرت اور خواب و خوراک کی قلّت واقع ہو گئی جس کے نتیجے میں بدن ضعیف ہو اہے۔یا ہونٹوں کو خشک رکھے تاکہ لوگ اسے روزہ دار سمجھیں۔ یا خود کو اخروی امور میں منہمک دکھانے کی کوشش کرے تاکہ لوگ تعجب کریں کہ یہ شخص بڑا پرہیز گار ہے۔ اور دن رات دینی امور میں مشغول رہتا ہے۔ بدنی ریا کی دوسری قسم دنیوی امور میں بدنی ریا ہے۔ جس سے مراد اپنے قوی ہیکل ، طاقت ، موٹاپا، زیب و زینت اور نظافت ہے۔ یعنی لوگوں کی نظروں میں سمانا اور اچھا لگنا ہے۔
( ۲) شکل و صورت اور لباس کی ریا
اخروی امور میں ہیئت و پوشاک کی ریا: مثلاً مونچھوں کو منڈوا کر صاف کرنا تاکہ لوگ گمان کریں کہ یہ شخص آداب و سنت کا سختی سے پابند ہے۔ یا راستہ چلتے وقت سر اور نظر کو نیچا کر کے باوقار ، آہستہ آہستہ چلنا اور سجدہ کے آثار پیشانی سے ظاہر کرنا، گندے پھٹے لباس کو پہن کر ترک دنیا کی نمائش کرنا وغیرہ وغیرہ۔
دنیوی امور میں پوشاک کی ریا اس طرح ہو تی ہے کہ اہل دنیا کو دکھانے کی خاطر قیمتی اور نفیس کپڑے زیب تن کرے تاکہ لوگوں ن کی توجہ اپنی جانب مبذول کرے۔
( ۳) قولی ریا
آخرت کے امور میں اقوال کی ریا: مثلاً لوگوں کے سامنے لبوں کو حرکت دیتے ہوئے ذکر میں مشغول ہو جائے یا اپنی فضیلت و بزرگی اور علمی قابلیت کی نمائش کے لیے وعظ و نصیحت کرے اور مجالس و محافل میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے ہوئے حاضرین کو ڈرائے اور دل میں خلوص نہ ہو۔
اسی طرح دنیوی امور میں قولی ریا سے مراد لوگوں کے سامنے اپنے کمالات کا اظہار کرنا تاکہ لوگ اس کا احترام کریں اور فضیلت کے قائل ہو جائیں۔ جس موضوع پر بحث ہو وہ اپنی اظہار نظر کرے تاکہ لوگ اسے باخبر اور دانش مند سمجھیں۔ ہر ایک کے ساتھ خوش آمد اور زبانی ہمدردی کا اظہار کرے تاکہ لوگ اس کے شیفتہ ہو جائیں۔
( ۴) عمل کی ریا
اخروی عمل میں ریا کاری جیسا کہ لوگوں کے سامنے نماز پڑھتے ہوئے لمبی سورتوں کی تلاوت کرنا، رکوع و سجود کو طول دینا، خضوع و خشوع کی نمائش کرنا، واجب و مستحب روزے رکھنا، حج و زیارت بجا لانا، کھانا کھلانا اور صدقات دینا صرف اس لیے ہو کہ لوگ اس کو متدین اور عبادت گزار تصور کریں۔
دنیوی عمل میں ریا کاری سے کام لینا، مثلاً جہاں لوگوں کی اکثریت ہو وہاں اس کے رجحان کے مطابق رقم خرچ کرنا تاکہ لوگ اسے سخی کہیں اور وہ شہرت پائے یا بڑی رقم خرچ کرکے کثیر تعداد میں لوگوں کو دعوت دے اور ان کی خاطر و مدارت کرے۔
( ۵) بیرونی اور خارجی امور میں ریا
گذشتہ چاروں قسم کی ریا انسان کی ذات سے تعلق رکھتی تھی۔ اب پانچویں قسم کا بیان ہوتا ہے، جس کا تعلق خارجی امور سے ہے۔ ایسی ریا بھی گذشتہ کی طرح دنیوی اور اخروی امور میں واقع ہوتی ہے۔ اخروی امور میں ریا کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص دین داروں اور علماء کی مجلس میں بغیر دلی لگاؤ کے محض دکھاوے کے لیے شرکت کرے۔ یا عبادت گذار اور پرہیز گاروں سے ملنے جائے یا اپنے گھر میں اس کو دعوت دے تاکہ لوگ اسے دین دار ، علم دوست اور بزرگوں کا ہم نشین خیال کریں۔ اسی طرح دنیوی امور میں بھی ریا کاری ممنوع ہے۔ مثلاً حکمرانوں اور بادشاہوں کے دربار میں زیادہ آمدو رفت کرنا تاکہ لوگ اس کے اثر و نفوذ کے قائل ہو ں اور اس طرح وہ سادہ لوح افراد کو فریب دے کر اپنے مطالب حاصل کرے۔
ریا قصد سے مربوط ہوتی ہے
واضح ہو کہ ریا کا دارومدار آدمی کے قصد پر ہے۔ بالفاظ ِ دیگر ہر وہ عمل جو لوگوں کو دکھانے یا ان کے نزدیک مرتبہ بلند کرنے اور ان کو خوش کرنے کے لیے انجام دیتا ہے، وہ ریا ہے۔چاہے وہ عمل دنیوی ہو یا اخروی۔ مذکورہ پانچ قسم کی ریا کے سلسلے میں جو مثالیں پیش کی گئی ہیں ، درحقیقت ان اعمال میں ریا داخل نہیں ہوتی جب تک عامل ریا کا قصد اور نیت نہ کرے۔ مثلاً اگر صفائی اللہ کی خوشنودی یا فرمان برداری کے قصد سے بجا لایا تو یہ عمل عبادت ہے۔ لیکن اگر دکھاوا مطلوب ہے تو ریا۔ اسی طرح اچھے لباس زیب تن کرنا یا بہترین مکان بنانے میں اگر نعمت خداوندی کے کلی اظہار کا قصد رکھتا ہو تو عبادت ہے اور اگر نمائش و نمود کا پہلو لیے ہوئے ہے تو ریا بن جاتی ہے۔ (اگر اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ مقصود ہو تو کتاب قلب سلیم کی جانب رجوع فرمائیں)۔
یاس
دوسرا گناہ کبیرہ رحمت خداوندی سے ناامیدی ہے۔ "اَلْیَاْسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ" روح لغت میں اُس نسیم کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کو لذّت اور راحت ملتی ہو۔
جو لوگ پروردگار عالم کی قدرت ، فضل و کرم اور رحمت لامتناہی پر اعتقاد نہیں رکھتے تو اس کی بجائے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں انہیں کافروں کی صفت قرار دیا گیا ۔
( اِنَّهُ لَا یَیْاَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ الَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْن )
"بے شک رحمت خدا سے نا امید نہیں ہوتا ہے مگر گروہِ کفّار۔"(سورہ ۱۲ ۔آیت ۸۷)
حضرت امام جعفر صادق ، حضرت امام موسیٰ کاظم اور حضرت امام محمد تقی (علیہم السلام)نے رحمت خدا سے مایوسی کو گناہ کبیرہ کے حصے میں شمار کیا ہے۔
شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ
شرک کے بعد کوئی گناہ ناامیدی کی نسبت بڑا گناہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ کسی گناہ میں انسان اسی وقت ملّوث ہوتا ہے جب کہ وہ ہر طرف سے مایوس ہو۔ البتہ ممکن ہے کہ ایسا گناہ گار توبہ و استغفار کرے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔ لیکن مایوس شخص مغفرت کے قابل اس لیے نہیں کہ وہ مغفرت اور بخشش پر بھروسہ نہیں رکھتا، چہ جائیکہ وہ توبہ کرے اور قرب خداوندی کا طلب گار ہو جائے۔
مایوس جب اس سے آگے بڑھتا ہے تو سارے گناہوں میں لاپرواہی سے ملّوث ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ میں گناہ گار اور جہنمی ہوں ۔ دنیا میں اپنی خواہشات پوری کروں گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ یاس سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو مناسب یہ ہے کہ اس گناہ کی تمام اقسام اور مایوسی کا علاج یہاں بیان کیا جائے تاکہ مومنین اس سے محفوظ رہیں۔
اسباب اور مسبب الاسباب
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے دنیا اور آخرت کے صوری و معنوی امور کے لیے علّت و اسباب کو ضروری قرار دیا ہے۔ جیسا کہ صوری امور میں پیٹ بھرنے کے لیے اشیائے خوردنی کا استعمال، پیاس بجھانے کے لیے مشروبات لینا، بیماری کے لیے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا اور دوا کھانا، ناداری و فقیری کے لیے کسب معیشت اور جدو جہد کرنا وغیرہ وغیرہ، امور میں اسباب و علل لازمی قرار دیئے ہیں۔ اسی طرح معنوی امور میں سبب و علت ضروری ہے جیسا کہ گناہ گار شخص کو عذابِ الٰہی سے نجات پانے کے لیے توبہ و ندامت اور ایمان ہیں۔ مقام یقین پر فائز ہونے کے لیے معصوم کی پیروی اور تقوے کے مراتب طے کرنا اور اخروی درجات حاصل کرنے کے لیے عمل میں اخلاص پیدا کرنا وغیرہ لازم ہیں۔
چونکہ مخلوقات کو وجود میں لانے کی اصلی غرض و غایت خالق کو پہچاننا اور اس کی معرفت پیدا کرنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یقین کے ساتھ عقیدہ نہ ہو کہ خود اسباب و علل کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ کیونکہ اسباب اپنے آپ مستقل طور پر اثر انداز ہونے کے قابل نہیں جب تک کہا مسبب الاسباب اس میں تاثیر پیدا نہ کرے۔ اس لیے ظاہری اسباب پیدا ہونے سے انسان کو خوش اور نہ ہونے سے غمگین نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر خدا چاہے تو بغیر کسی سبب و علت کے معدوم (غیر موجود) چیز کو موجودہ حالت میں تبدیل کرسکتا ہے اور وہ موجود کو معدوم کرنے پر بھی قادر ہے۔
سبب کام نہیں کرتا
اسباب پیدا ہونے پر انسان کی طبیعت خوش ہوجاتی ہے اور خدا کی قدرت پر مکمل بھروسہ کرتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر اسباب مفقود ہوں تو غمزدہ ہوتا ہے۔ اس خطا سے روکنے کے لیے قدرت کی طرف سے دو حکمت ِ عملی کارفرما ہے۔
اوّل یہ کہ مصلحت کی بنأ پر کبھی موجود اسباب و علل کو بے کار اور بے اثر بنا دیتا ہے تاکہ مومنین اسباب کو مستقل طور پر موثر نہ سمجھ لیں۔ دوسرا یہ کہ کبھی کبھار جہاں کہیں سرے سے اسباب معدوم ہوں اپنی قدرت سے سبب پیدا کرتا ہے تاکہ اہل ایمان کسی حالت میں دل برداشتہ و غمگین نہ ہو جائیں اور اس مطلب کی وضاحت کے لیے چند مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
پہلی مثال
آگ نہیں جلاتی اور چاقو نہیں کاٹتا
حضرت ابراہیم علیٰ نبیّنا (علیہ السلام) کو جلانے کے لیے بھڑکائی ہوئی "آتش ِ نمرود" کی حرارت کا اثر اس کے خالق نے سرے سے ختم کر دیا ۔ کہتے ہیں کہ تین میل دور کے فاصلے پر اُڑنے والے پرندے فضا میں اُڑ نہیں سکتے تھے ۔ چنانچہ آنحضرت (علیہ السلام) کو منجنیق کے ذریعے دور سے پرتاب کر کے آگ میں پھینک دیا۔ آگ جلانے کی خاصیت رکھتی ہے۔ باوجود اس کے قادر ِ مطلق نے جلنے کا اثر اس سے چھین لیا اور آگ سے خطاب کرنے ہوئے فرمایا:
یَانَارُ کُوْنِیْ بَرْداً وَّسَلاماً
"اے آگ ٹھنڈی ہو جا۔"فوراً اس کی ضد ، سردی، پیدا ہوئی یہاں تک کہ اگر اس کے بعد’ سلاماً ‘کا حکم نہ دیتا تو اندیشہ تھا کہ شدت سردی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روح پاک قفس عنصری سے پرواز کر جاتی۔
اسی طرح تیز چھری کا کام کاٹنا ہوتا ہے مگر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو پروردگار عالم نے کاٹنے کے اثر کو ناکارہ بنا دیا۔ اس وقت آپ (علیہ السلام) نے چھری کو دور پھینک دیا ۔ اس سے ایک آواز بلند ہوئی۔
الْخَلِیْلُ یَاْمُرُنِیْ والْجَلِیْلُ یَنْهَانِیْ
"خلیل اللہ مجھے کاٹنے کا حکم دیتا ہے اور رب جلیل مجھے روک لیتا ہے۔"
دوسری مثال
موسیٰ و فرعون
جابر بادشاہوں اور بااثر حکام نے جن کے پاس اسباب دنیوی فراوانی سے موجود تھے۔ انبیاء و آئمہ ہدیٰ (علیہم السلام) اور مومنین کو قتل کرنے کے لیے اپنے اسباب و علل کو بروئے کار لانے کے متواتر کوشش کی مگر سبب و علت کے خالق نے عین موقع پر ان کو ناکارہ بنا دیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام)اور فرعون کی داستان ابتدا سے انتہا تک اس دعوے کا ثبوت ہے۔ دیکھئے، ابتدا میں فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کا نطفہ رحمِ مادر میں منعقد ہونے سے روکنا چاہتا تھا مگر خلافِ توقع ٹھہر گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ پھر اُنہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ باوجود قدرت و توانائی کے اللہ تعالیٰ نے اس کے شاہانہ منصوبے کو کیسا خاک میں ملایا۔ چونکہ مشیّت ایزدی کے سامنے اسباب مادّی و معنوی معنی نہیں رکھتے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود فرعو ن کے گھر میں اوراس کی گود میں پرورش پائی۔
وَقَالَتْ قُرَّةَ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ
"آسیہ نے اپنے شوہر فرعون سے کہا ، یہ بچہ تیری اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گا۔"
تیسری مثال
ابرہہ کا حملہ اور کعبہ کا خراب نہ ہونا
جس سال حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) پیدا ہوئے ، بادشاہ نجاشی کی طرف سے ہاتھی سوار فوجیوں اور بھاری جمعیت کا لشکر ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر خانہ خدا کو تباہ کرنے کے قصد سے ابرہہ نامی شخص کی سرکردگی میں مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔ ابرہہ کو بے شمار فوجوں اور اسلحہ پر بڑا گھمنڈ اور اطمینان تھا مگر مسبب الاسباب اور بے چارو ں کے چارہ ساز نے اس کے سامان اور اسباب کو یکسر معطّل کردیا اور جہاں سبب کے خالق نے چاہا ، وہیں انسان و حیوان سب رُک گئے۔ مسجد حرام جانے کے لیے بہت زور لگایا مگر ہاتھیوں نے ایک قدم آگے نہ بڑھایا۔
دوسری طرف اچانک بے شمار ابابیل نامی پرندے فضا میں نمودار ہو گئے۔ ہر ایک تین عدد کنکریاں چونچ اور پنجوں میں پکڑ کر اپنے ساتھ لائے تھے۔ وہ اصحاب ِ فیل کے اوپر فضا میں چھانے کے بعد ایک کنکری ایک فوجی کے سر پر مارنے لگے۔ ہر ایک کنکری قد کی لمبائی سے گزر کر زمین کے اندر داخل ہوگئی۔ آخر الامر، سب ہلاک ہو گئے۔ ایک فوجی زندہ بچا اور اس شاہ نجاشی کے دربار میں پہنچ کر مفصّل سرگزشت بیان کی۔ اس واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر اب تک اس سال کو عام الفیل کہتے ہیں۔ چنانچہ تاریخ عرب میں لکھا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت سنہ عام الفیل اور ان کی بعثت ’عام الفیل‘ کے چالیسویں سال میں واقع ہوئی۔
چوتھی مثال
حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا تحفّظ
حضرت خاتم المرسلین (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے وجود مبارک کو مکہ معظمہ میں خون کے پیاسے کافروں سے اور تمام جنگوں میں اپنی حفاظت و حمایت رکھنا اللہ تعالیٰ کی آیات عظیمہ میں ایک بڑی نشانی شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ اعلان نبوت کے آغاز سے آخر تک تمام مشرکین متفق ہو کر سارے اسباب صوری و مادّی اکھٹے کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو شہید کرنے کے در پے آمادہ رہے لیکن
چراغی را کہ ایزد بر فروزد
کسی کو تف کند ریشش بسوزد
پانچویں مثال
وہ ظاہری سبب کے بغیر پیدا کرتا ہے
اللہ تعالیٰ دنیوی و مادّی امور کو ظاہری اسباب موجود نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی قدرت ِ کاملہ سے پیدا کرتا ہے۔ اس قسم کی مثالیں ہمارے سامنے بے شمار ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت ابوالبشر آدم (علیہ السلام) کی ہے کہ وہ ماں اور باپ کے بغیر عدم سے عالم وجود میں آئے اور حضرت مریم = سے کسی ہم جنس کے چھوئے بغیر حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کا حمل ہوا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے اور ضعیفی کی حالت میں اور ان کی زوجہ کے یائسہ ہونے کے باوجود حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو عنایت فرمایا۔ باوجودیکہ خلیل اللہ بہت ضعیف اور ان کی اہلیہ حضرت سارہ بانجھ تھیں۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا علم و حکمت کی کسی درسگاہ میں نہ جانا
حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کبھی کسی مدرسے تشریف نہیں لے گئے، نہ کوئی معلم دیکھا، نہ کچھ لکھنا سیکھا، لیکن باوجود اس کے آپ معلم بشر تھے اور قرآنی علوم و معارف پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ذات تمام انبیا ء ِ ما سبق کے معجزات و کمالات کا مکمل مجموعہ و مظہر تھی۔ بعبارت دیگر یہ حالات طبیعت انسانی کے معمولات کے بالکل بر خلاف ہیں کہ اتنے بے شمار اوصاف ظاہری علل و اسباب کے بغیر پیدا ہو گئے۔
وہ بغیر سبب کے حاجتیں پوری کرتا ہے
خداوند رحمان اپنے بندوں کی دعائیں قبول اور سختیاں دور کرتا ہے ۔ چنانچہ ہمارے مشاہدے شاہد ہیں کہ بہت سارے مجبور و بے بس افراد جن سے ظاہری اسباب کی کڑیاں اور اس کے رشتے ٹوٹ چکے تھے اور وہ حیران و پریشان تھے لیکن اس کی دعاؤں کے اثر سے خداوند عالم نے ان کی حاجتیں پوری کردیں۔ صدقات کی برکت سے نا امید مریضوں کو شفا عطا کی ، بے نوا فقیروں کو غنی کردیا۔ مختلف بلاؤں میں گھرے ہوئے اشخاص کو ایسے راستوں سے نجات دلائی جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔
اس قسم کی بے شمار داستانیں اور حکایتیں احادیث و تواریخ کی کتب میں بھری پڑی ہیں۔
خداوند سبحان کی رحمانیت اور کریمیت کو مولائے کائنات جناب امیر المومنین نے اشعار کی شکل میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
وَکَمْ لِلّٰهِ مِنْ لُطْفٍ خقیٍ
یَدُقَ خَفَّاه عَنْ فَهْمِ الَذکِیِّ
ہم پر اللہ کا کس قدر لامتناہی لطف و کرم ہے۔ یہ نہایت ذہین اور انتہائی سمجھ دار انسان ہی درک کر سکتا ہے۔
وَکَمْ یُسْرٍ اَتیٰ مِنْ بَعْدِعُسْرٍ
وَفَرَّجَ کُرْبَةَ الْقَلْبِ الشَّجِیِّ
سخت دشواریوں میں پھنسنے کے بعد کس قدر آسانی سے چھٹکارہ عطا کرتا ہے ۔ اور شکستہ دلوں سے غم و اندوہ کو دور کردیتا ہے۔
وَکَمْ اَمْرٍ تُسَاءُ به صَبَاحاً
وَتَاْتِیْکَ الْمَسَرَّةُ بِالْعَشِیِّ
کتنے امور میں انسان صبح غمزدہ ہوتا ہے اور شام کو وہ مسرت و شادمانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اِذاضَاقَتْ بِکَ الْاَحْوَالُ یَوْماً
فَثِقْ بِالْوَاحِدِ الْفَرْدِ الْعَلِیِّ
جب تیرے امور سختی اور حالات تنگی سے دوچار ہوجائیں تو خدائے فرد و واحد بزرگ و برتر پر مکمل بھروسہ کر۔
حبِّ علی (علیہ السلام)
امام یافعی اپنی کتاب "روض الرّیاحین" میں دیوان مبیدی کی شرح لکھتے ہوئے نقل کرتے ہیں کہ کسی بادشاہ نے موتی کا ایک دانہ اپنے ملازم کے حوالے کیا۔ اتفاقاً وہ موتی اس کے بچے کے ہاتھ لگ گیا اور بچے نے اس موتی کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اب غلام بہت پریشان ہوا کہ بادشاہ کو کیا جواب دے گا۔ چنانچہ کسی مومن نے کہا کہ اس رباعی کو صد ق و خلوص کے ساتھ پڑھو۔ انشاء اللہ مشکل حل ہو جائے گی۔ ابھی غلام نے ان اشعار کو پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ اس اثنا میں بادشاہ کی طرف سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ کی کنیز بیمار ہو گئی ہے اور معالج نے کہا ہے کہ ایک موتی توڑ کر اور پیس کر کنیز کو کھلا یا جائے تو وہ صحت یاب ہو جائے گی۔ لہٰذا بادشاہ کا حکم ہے کہ اس موتی کو توڑ کر فوراً سفوف بنایا جائے۔
بشر کا انجام
وہ امور معنوی جو آخرت سے تعلق رکھتے ہیں ، انہیں اسباب و علل موجود ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ انہیں یکسر معطّل و بے اثر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر کے سعادت و خوش نصیبی کے اسباب فراہم کرنے ہیں وہ بلند مرتبوں پر فائز ہو گئے ہیں۔
لیکن اس کے بعد اس قسم کے اشخاص پیغمبروں کی پیروی نہ کرنے اور بڑے گناہوں کے مرتکب ہونے کی بنا پر ان کے اعمال باطل قرار پاتے ہیں۔
بلعم باعور اور اس ابدی بد بختی
بلعم باعور کمالات اور بلند درجات کی انتہاؤں پر فائز تھا۔ لیکن بادشاہ وقت کی خواہش پوری کرنے کی خاطر اپنے زمانہ کے پیغمبر خدا کی مخالفت پر اُتر آیا ۔ وہ نفسانی خواہشات کے جال میں پھنس گیا تھا اور جہنم کے ساتویں طبقے (اسفل السافلین) میں ہمیشہ کے لیے گرفتار ہو گیا۔ قرآن مجید میں اسے کتے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
( فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْتَتْرُکْهُ یَلْهَثْ )
"تو اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جس کو اگر دھتکارو تو بھی زبان نکالے رہے اور اگر چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔"
تنبیہ
اہل معرفت اور صاحبان ایمان جو کہ معنوی بلند درجات پر فائز نہیں، اُنہیں کبھی بھی اپنی ذات پر بھروسہ و تکیہ نہیں کرنا چاہیئے اور وہ ہر لحظہ بُری حالت میں عمر کے تمام ہونے سے خائف رہیں۔ چونکہ تمام موجودات کا مرکز ِ اعتماد و تکیہ گاہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ خوشحالی و شاردمانی کے ظاہری اسباب کو ہر گز دائمی اور مستقل طور پر موثر نہیں جاننا چاہیئے۔ کیونکہ خالق ِ حقیقی تمام اسباب کے بے اثر کرنے پر قادر ہے۔
حسنِ عاقبت
آخرت کے معنوی امور و اسباب جب بالکل ہی معدوم تھے تو پروردگار ِ عالم نے اپنے فضل و کرم سے اسباب مہیّا کیے۔ اس بارے میں بہت سی روایتیں اور حکایتیں نقل کی گئی ہیں جس میں بے شمار لوگوں کی شقاوت و بد بختی اور غم و اندوہ کے گہرے کنووں میں پریشانی حال کے اسباب ذکر کئے گئے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اشخاص اپنے خالق سے دور تھے پھر بھی رحمت الٰہی کی گھنگور گھٹائیں اچانک پھیلنے لگیں۔ اس کے فضل و کرم کے جھونکے چلنے لگے ۔ اجڑی ہوئی کھیتیاں سر سبز و شاداب ہونے لگیں اور ان الٰہی نعمتوں کے مشاہدے سے ہر عاقل و ہوشمند اپنی جگہ انگشت بدندان رہ گیا ہے۔
فرعونی جاد وگر
جادوگر کے شقی اور دو جہاں کے بد نصیب ہونے کے لیے اتنا کہہ دینا کاری ہے کہ جادوگری نہایت گندہ کاروبار اور موجب گناہ کبیرہ ہے۔ جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کے مقابلے کے لیے کھڑے ہو گئے تو اچانک لطف و مہربانی پروردگار عالم ان کے شامل حال ہوئی اور حقیقت مجسم ہو کر ان کے سامنے آگئی۔ فوراً ان کی حالت و طبیعت پلٹ گئی ۔ یہاں تک کہ فرعون کی سخت دھمکیوں سے بھی ذرہ برابر مرعوب نہیں ہوئے۔ حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب ہونے کی صورت میں فرعون نے جادوگروں کو مال و ریاست دینے کا وعدہ کیا تھا۔
( لَاقُطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِنْ خِلاَفٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ قالْوُا لَاضَیْرَلَنَا اِنَّا الٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ) (سورہ ۲۶ ۔ آیہ ۵۰)
"تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ ڈالیں گے اور تم سب کو سولی دے دیں گے۔ وہ (جواباً )بولے ، کچھ پرواہ نہیں ۔ ہم کو تو ہر حال میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"
آسیہ ایک مومنہ خاتون تھی
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے معنوی و اخروی معراج عطا کردیتا ہے۔ حضرت آسیہ جو کہ فرعون کی بیوی تھیں ، نہایت عیش و عشرت سے زندگی گذار رہی تھیں، دنیاوی نعمت و دولت سے مالا مال تھیں، لیکن اچانک ان کا دل نورِ ایمان سے منوّر ہوا اور اس حد تک آپ کا دل مطمئن و قوی ہو گیا کہ فرعون کی مسلسل اذیتوں اور گوناگوں مصائب کے باوجود آپ کے پائے ثبات میں قطعاً کوئی لغزش نہ آئی اور نہایت پامردی سے آپ اپنے نظریہ پر قائم رہیں۔ اور آپ نے نہایت دلیری کے ساتھ پروردگار عالم اور اس کے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ جس وقت آپ کو شہید کیا جا رہا تھا اور آپ آخری سانس لے رہی تھیں تو آپ نے اپنے خالق سے یہ دعا مانگی :
( وَضَرَبَ اللّٰهُ مثلاً لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا امْراَةَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَنَجِنِّیْ مِنْ فِرْعَوْنَ عَمَلِهِ وَنَجَّنِیْ مِن الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ) (سورہ ۲۶ ۔آیہ ۱۱)
"اور خدا نے مومنین (کی تسلی) کے لیے فرعون کی بیوی (آسیہ) کی مثال بیان فرمائی ہے ۔ جب اس نے دعا کی ، پروردگار! میرے لیے اپنے یہاں بہشت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کی کارستانی سے نجا ت دے اور مجھے ظالم گروہ سے نجات دے۔"
اصحابِ کہف
اصحاب ِ کہف ، جن کی تعداد سات بتائی جاتی ہے ، یہ لوگ دقیانوس بادشاہ کے وزیر اور روساءِ مملکت تھے۔ دقیانوس کے دعویٰ خدائی کی تائید و حمایت کرتے تھے۔ دفعةً ان کی آنکھیں کھل گئیں، ان کے قلوب نورِایمان سے روشن ہونے لگے، انہیں دقیانوس کے باطل عقیدہ کا احساس ہو گیا۔ چنانچہ دنیوی اقتدار و عزت اور خواہشات نفسانی سے صرف نظر کر تے ہوئے شہر کو چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں کی طرف چلے گئے اور کسی غار میں روپوش ہو گئے۔
ان کے حالات سورہ مبارکہ کہف میں مفصّل ذکر کیے گئے ہیں۔ قیامت تک ان کے نام تاریخ عالم میں ثبت و محفوظ رہیں گے۔
موت سے پہلے بیداریا
بہت سے ایسے گناہ گاردیکھنے میں آئے ہیں کہ گناہان کبیرہ میں ملوّث ہو کر اس قدر شقی و ند بخت ہو گئے تھے کہ ان کی راہ نجات کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن بے خبری میں اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ان کے شامل حال ہوا اور اپنے کیے ہوئے پر یک دفعہ نادم ہوئے اور توبہ و استغفار کرنے لگے۔ آخر کار ان کی عاقبت بخیرو خوبی انجام پائی۔ وہ روز قیامت خوش نصیب افراد کے ساتھ محشور ہوں گے۔
مسلمان ہوتے ہی وفات پا گئے
ان خوش نصیب لوگوں میں ایک’ مخریق‘ یہودی ہے ۔ اُحُد کی جنگ میں اپنے قبیلے والوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہی سچا اور موعود پیغمبر ہے؟کہنے لگے: کیوں نہیں۔ تو کہا پھر اس کی نصرت کیوں نہیں کرتے؟ قبیلے والوں نے جواب دیا: آج ہفتہ ہے (یعنی چھٹی کا دن ہے)۔ اس یہودی نے کہا: ہفتہ کی تعطیل دین موسیٰ (علیہ السلام) کی رسم تھی۔ وہ اسے منسوخ سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ قبول نہیں ۔ جب قوم و قبیلہ سے انکاری جواب ملا تو مخریق تنہا آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایمان لے آیا۔ وہ بہت مال دار تھا۔ اس نے اپنی ساری دولت آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حوالے کر دی اور خود میدان جنگ میں کفار سے لڑتے لڑتے شہداء سے ملحق ہو گیا۔ کہا جاتا ہے حضور اکرم کے اکثر صدقات اس شہید سعید کے مال و دولت سے تھے۔
ابدی خوش بختی
حر بن یزید ریاحی جس نے سید الشہداء (علیہ السلام) کا راستہ بند کر کے واپس جانے سے بھی روک دیا اور کربلا میں ٹھہرنے پر مجبور کردیا۔ اس کے لیے اتنے بڑے گناہ اور ظلم میں ملوّث ہونے کے بعد بظاہر نجات کی امید نظر نہ آتی تھی لیکن جب روز عاشور امام مظلوم کا خطبہ اور آخری استغاثہ سنا تو منقلب ہو گیا۔ فضل و رحمت الٰہی شامل حال ہو گئی۔ اس نے توبہ کی اور اپنے کیے پر نادم ہوا۔ نتیجتاً شہدائے کربلا کے گروہ میں شرف شمولیت حاصل کر لی۔ اور اس طرح ابدی خوش بختی سے فیض یاب ہوا۔ چنانچہ جب آخری لمحات میں حضرت امام حسین (علیہ السلام) اس کے پاس پہنچے تو اُسے بشارت دی:
اَنْتَ حُرٌّ کَمَا سَمَّتْکَ اُمُّکَ
"تو آزاد ہے جیسے کہ تیری ماں نے تیرا نام رکھا۔"
کیا عقل مند نا امید ہوتا ہے
انسان کو کبھی بھی نا امید نہیں ہونا چاہیئے اور یہ تصوّر بھی نہیں کرنا چاہیئے کہ انسانیت کے اعلیٰ مراتب کیونکر طے کر سکتا ہے؟ اگر چہ اس قسم کی نا امیدی (رحمت الٰہی سے مایوسی) حرام یا گناہ کبیرہ تو نہیں ہے پھر بھی مومن کے لیے یہ گمان زیب نہیں دیتا کہ روحانی درجات کی پیش رفت کے لیے ظاہری اسباب کو موثر سمجھے ، مثلاً جوانی کی طاقت، سوچ و سمجھ اور کام کرنے کی صلاحیت اور جذبہ محنت درکار ہے۔ ایسا ہر گز نہیں بلکہ بہت سے اشخاص مذکورہ ظاہری اسباب سے محروم تھے مگر جب فضل رحمت خدا موجزن ہوئی تو بلند ترین مقامات پر پہنچ چکے تھے ۔ جیسے فضیل بن عیاض ، عمران صابی، برہم نصرانی اور صاحب ریاض وغیرہ۔ یہ لوگ اس وقت خواب غفلت سے بیدار ہوئے جبکہ بڑھاپے سے ضعیف ہو گئے تھے اور عمل و محنت کی طاقت ان سے ختم ہو چکی تھی۔
نا امید ی گناہِ بزرگ
مایوسی کفر کے ناپاک آثار کا لازمہ اور رب العزت کی عظمت و شان سے انکار کے مترادف ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اس کی قدرت کاملہ ، فضل و کرم اور علم و رزاقیّت سے پہچان لیا اور جانتا ہے کہ وہ سارے عوالم ِ امکان کا پیدا کرنے والا اور تمام عوالمِ وجود کو تربیت دینے والا ہے۔ اس کی قدرت لا محدود، اس کی حکمت و رحمت لا متناہی ہے۔ تمام ممکنات کے ہر فرد کو جو کچھ ضرورت ہے اسی کریم کا فیضانِ رحمت ہے۔ چنانچہ نا امیدی کے عالم میں متحیّر و غمگین رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ نا امیدی گناہ کبیرہ ہے۔
خلقت انسانی پر ایک نظر
خالق ِ حقیقی ماں کے رحم میں بچے کی نگہداری سے غافل نہیں رہتا وہ غذائی مواد کو حیران کن ترکیب و طریقے سے فراہم کرتا ہے بچہ جب شکم مادر سے باہر آتا ہے تو اس کا معدہ نہایت نازک ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ نئے عالم کی مختلف اشیاء سے مرکب غذا ہضم کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اس بناء پر بچہ کی کیفیّت کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے اس دنیا کی مختلف غذائیں شیرِ مادر کے ذریعے (لَبنَاً خا لِصاً) اسے بہم پہنچاتا ہے ۔ جب غذا ہضم کرنے کی طاقت اس کے بدن میں پیدا ہوتی ہے تو اسے کاٹنے اور چبانے کے لئے دانت مرحمت فرماتا ہے اور اسی طرح دوسری ظاہری وباطنی قوتیں بتدریج پیدا کرتا ہے ۔
قدرت کا کرشمہ اور اس کی مہربانی کو دیکھئے کہ ابتداء پیدائش میں بچہ ضعیف و نا تواں ہوتا ہے اور اس کی نگہداری اور پرورش کرنے کا محتاج ہوتا ہے ۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اللہ میاں کے دل میں شوق محبت بھر دیتا ہے کہ اس طرح ایک آن بھی اس سے جدا ہونا گوارا نہیں ہوتا وہ رات کا آرام دن کا چین اور تمام امکانات اس پر قربان کر دیتی ہے اسی لئے معصوم اپنے دعائیہ جملوں میں ارشاد فرماتے ہیں :
یَامَنْ اَشفَقُ من اَبِیْ واُمِّی
اے پر ور دگار تو میرے ماں باپ سے زیادہ شفیق و مہربان ہے ۔
پس ہمیں پر امید رہنا چاہیئے
مذکورہ گفتگو اور ہزارہا دوسری باتیں جو یہاں ذکر نہیں ہوئیں ان پر غور و فکر کے بعد کیا یہ مناسب ہو گا کہ بندہ پروردگار عالم اور اپنے مہربان خدا سے کسی امر کی اصلاح یا کسی مشکل کام کی آسانی کے لیے مایوسی کا اظہار کرے اور عبد معبود سے امید کے رشتوں کو منقطع کرے۔ یقینا ہر گز ایسا نہیں ہے بلکہ ہمیں خلّاق دوجہاں سے ہر حال میں ہر لحظہ پر امید رہنا چاہیئے۔
نا امیدی کفر یا کم علمی کی علامت ہے
مایوسی باطنی کفر ہے یا پھر اپنے پروردگار کی عظمت و قدرت سے بے خبری اور غفلت کا نتیجہ ہے اس لیے ایسے اشخاص پہلے اپنے نفس کی اصلاح کریں بصورت دیگر دونوں صورتیں گناہ کبیرہ میں شمار ہوں گی۔
موّحد خداوندِعالم پر ایمان لانے کے بعد کسی کام میں اپنے پروردگار سے ناامید ہو جائے تو اس صورت میں وہ کفر کی مذموم صفت سے متّصف ہو جاتاہے۔ اس بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
( اِنَّهُ لَایَایْئُسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلاَّالْقَوْمُ الْکَافِرُوْنَ ) ۔ (سورہ ۱۲ ۔آیت ۸۷)
"یقینا خدا کی رحمت سے سوائے کافر لوگوں کے اور کوئی ناامید نہیں ہوتا۔"
ہر ایک کی فطرت امید سے وابستہ ہوتی ہے
جب تک آدمی اپنی فطرت اولیہ گہری نظر سے دیکھتا ہے دل کی آنکھ سے اندھا نہیں ہوتا ، تب تک وہ اپنے رب سے مایوس نہیں ہوتا اور جب تک نور ایمان اس کے دل میں روشن رہتا ہے مکمل طور پر اپنے مبدأ (مرکز وجود) سے امید کا سلسلہ منقطع نہیں کرتا، بلکہ وثوق سے امید رکھتا ہے۔ اگر غفلت کی وجہ سے کبھی مایوسی سے دوچار ہو جائے تو اپنے خالق کی بے پناہ رحمت کی طرف متوجہ ہو کر اُسے یاد کرے اور پشیمان ہو جائے ، اس کی امور کا اصلاح کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے گا۔
نا امیدی کا علاج
پہلا: دنیا کے ماّدی امور کا علاج
( ۱) قدرت خد
سوچنا چاہییے کہ اس کی اور تمام مخلوقات کی حاجت پروردگار عالم کی لامتناہی قدرت کے سامنے ناچیز اور ہیچ ہے۔ اُس قادر مطلق جس نے اس وسیع و عریض کرّہ زمین کو اور ساتوں آسمان جن کی عظمت و آثار سوائے خدا کے کسی اور کو معلوم نہیں ، نہایت منظم اور معین نظم و نسق کے ساتھ گردش میں رکھا ہوا ہے ، اُس کے حکم کے بغیر سوئی کے سرے کے برابر بھی ایک لمحہ کے لیے پس و پیش کی مجال نہیں۔ عقول بشری اس کی عظمت و قدرت کے احاطہ سے عاجز و حیران ہیں۔ ایسا عظیم و حکیم پروردگار کے سامنے کیا ایک بندے کی حاجت روائی سے وہ عاجز ہے؟ ہر گز نہیں۔ جب ایسا ہے تو قطع امید کیوں؟
( ۲) ذاتی تجربات
احساس کرنا چاہیئے کہ خداوند عالم نے ماضی میں کن کن ظاہری و باطنی نعمتوں و رحمتوں سے نوازا ہے۔ قادر مطلق نے ظلمات ثلاث(تین تاریکیوں ) یعنی بچہ دانی، رحم اور شکم مادر سے بتدریج سلامتی سے گذار کر عالم وجود میں لایا اور ایک لمحہ بھی اس سے غافل نہیں رہا۔ ہر وقت ، ہر مرحلے میں جو کچھ ضروریات تھیں ، مانگے بغیر انہیں عطا کیا۔ نہایت خطرناک حالتوں سے نجات عطا کی۔ مختلف امراض سے شفا دی، پریشانیوں اور مشکلات کو آسان فرمایا۔ کتنی ہی نعمتوں سے نوازا۔ باوجود ان سب کے نا امیدی کس لیے؟ کیا وہ ہماری حاجت روائی سے عاجز ہے یا بخیل ہے ؟ یا ہماری حالت سے یکسر بے خبر رہ چکا ہے۔ استغفر اللّٰہ العظیم۔حاشا و کلّا۔
( ۳) خارجی مثا لیں
ان لوگوں کے حالات ملاحظہ کیجئے جو نہایت پریشانی و درد میں مبتلا ہیں لیکن اپنے پروردگار سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ سے التجا کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعائیں قبول کیں اور وہ آسودہ حال ہو گئے۔ بلکہ کبھی ان کے سوال کیے بغیر ان کی فریا د سن لی۔ مثلاً بے اولاد ہے اور عمر رسیدہ ہونے کی بنا پر مایوس ہوگیا۔ بیوی بھی بانجھ ہے۔ اس کے باوجود خدا وند کریم نے آخری عمر میں بھی اولاد عطا فرمادی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور فرزند نرینہ
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک سو بارہ دوسری روایت کے مطابق ایک سو بیس سال اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ نوّے یا ننانوے سال کی ہو گئی تھیں لیکن کوئی اولاد نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتہ بھیج کر ان کو بشارت دی کہ آپ کو بیٹا عنایت فرمائے گا۔
( وَامْرَاَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنا هَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ) ۔
"اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی (سارہ) کھڑی ہوئی تھی وہ یہ خبر سن کر ہنس پڑی تو ہم نے انہیں اسحٰق کے (پیدا ہونے کی)خوش خبری دی اور اسحٰق کے بعد یعقوب کی۔"
( قَالَتْ یٰوَیْلَتٰی ءَ الِدُوَاَنَا عَجُوْزٌ وَّهٰذا بَعْلِیْ شَیْخاً اِنَّ هٰذا لَشَیُ ٌ عَجِیْبٌ )
"وہ کہنے لگیں، ہائیں، میں اب بچہ جنوں گی۔ میں تو بُڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ۔ یہ تو بڑی تعجب خیز بات ہو گی۔"
( قَالُوْا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه عَلَیْکُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ اِنَّهُ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ )
"فرشتے اس کے جواب میں بولے، کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو۔ اے اہل بیت نبوت تم پر خدا کی رحمتیں اور برکتیں (نازل ہوں) اس میں شک نہیں کہ وہ قابل حمد و ثنا بزرگ ہے۔"
مختصر یہ کہ رحمت خداوندی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت سارہ کے شامل حال ہوئی اور ان کے یہاں حضرت اسحٰق پیدا ہوئے
حضرت زکریااور ان کے فرزند حضرت یحیٰی
حضرت زکریا کی عمر شریف ننانوے سال اور ان کی بیوی کی اٹھانوے سال تھی۔ اس قدر ضعیفی کے باوجود آپ رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہوئے اور پروردگار عالم سے راز و نیاز کرتے رہے:
( قَالَ رَبِّ اِنِیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْباً وَّلَمْ اَکُنْم بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیّاً وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَائِیْ وَکَانَتْ اِمْرَاَتِیْ عَاقِراً فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیّاً یَّرْثُنِیْ وَیَرثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًا یَازَکَرِیَّا اِنَّا نُبشَرِکَ بِغُلٰمٍنِ اسْمُهُ یَحْییٰ لَمْ نَجْعَله لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِیّاً قَالَ رَبِّ اَنّیٰ یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّکَانَتِ امْرَاَتی عَاقِراً وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَر عِتِیّاً قَالَ کذٰلِکَ قَالَ رَبُّکَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْئاً )
"عرض کی:اے میرے پالنے والے! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔ بڑھاپے سے سر کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ اے پالنے والے تیری بارگاہ میں دعا کر کے نا امید نہیں رہا ہوں اور میں (اپنے مرنے کے بعد) اپنے وارثوں سے ڈرتا ہوں(مبادا بنی اسرائیل کے میرے چچا زاد بھائی میرا ترکہ حاصل کر کے آپ کی مرضی کے خلاف خرچ کریں) اور میری بیوی (ام کلثوم بنت عمران) بانجھ ہے۔ پس تو مجھ کو اپنی بارگاہ سے ایک جانشین (فرزند)عطا فرما جو میری اور یعقوب کی نسل کی میراث کا مالک ہو اور اس کو شائستہ بندہ بنا۔ فرمایا : (اے زکریا) ہم تم کو ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں ، جس کا نام یحییٰ ہو گا اور ہم نے اس سے پہلے کسی کو اس کا ہم نام نہیں پیدا کیا۔ زکریا نے عرض کی: اے میرے پروردگار! بھلا مجھے لڑکا کیونکر پیدا ہو گا اور حالت یہ ہے کہ میری بیوی تو بانجھ ہے اور خود حد سے زیادہ بڑھاپے کو پہنچ چکا ہوں۔
(خدا نے فرمایا) سچ ہے۔ حالت یہی ہے(مگر) تمہارا پروردگار فرماتا ہے: یہ بات ہم پر (کچھ دشوارنہیں) آسان ہے۔ اور (تم اپنے کو تو یاد کرو) اس سے پہلے تم کو پیدا کیا حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔"
آخر کار اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور حضرت یحییٰ متولد ہوئے۔
اگر کوئی شخص لمبی مدت والی کسی بیماری میں مبتلا ہے اور اس علاج نہیں ہو رہا ہے اور بظاہر نا امید ہے تو یہ بھی دو باتوں سے خالی نہیں۔ پہلی یہ کہ مطابق احادیث بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ ہو گی۔ دوسری یہ کہ مرض طولانی ہونے کے بعد مایوسی کے عالم میں دعا و مناجات اور صدقہ سے شفا حاصل ہوتی ہے۔اس طرح نجات حاصل کرنے کی سعی ہو جاتی ہے۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) اور بلا ئیں
انسان کو ندامت اور بصیرت حاصل کرنے کے لیے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ سات سال یا بنا بر روایت ِ دیگر اٹھارہ سال شدید مرض وتکلیف میں مبتلا ہونے کے بعد عرض کیا:
( رَبِّ اِنِّیْ مَسَّنِیَ الُضّرُّوَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ) ۔
"اے میرے پروردگار! بے شک میں ضرر (جانی و مالی) سے دوچار ہوں ۔ اب تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (اور تیری ہی امید ہے)۔"
اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی، بیماری سے شفا عطا فرمائی اور مال و دولت واپس دے دیا۔
فقر و تنگ دستی میں حکمت پوشیدہ ہے
اگر کوئی عرصہ دراز پریشانی کی حالت میں رہا ہو اور چاروں طرف سے راہ ِ نجات مسدود ہو گئی ہو تو یہ دو حالتوں سے باہر نہیں۔ اول یہ کہ اس کی تنگ دستی و پریشانی میں ایسی حکمت و مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے کہ اگر ابتدا سے وہ خود آگاہ ہوتا تو اسی فقیری کو اختیار کرتا اور اس پریشانی کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیتا اور خوش حال رہتا۔ دوئم یہ کہ جو لوگ صبح کا وقت نہایت فقیری اور بے توانی میں گذار لیتے ہیں وہ شام کے وقت انتہائی آرام و آسائش سے بے نیا ز ہو جاتے ہیں۔
خالی ہاتھ میں دولت
نمونے کے طور پر ایک عجیب و غریب کہانی کتاب "فرج بعد الشدہ" سے یہاں نقل کی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ: ایک بڑا تاجر کہتا ہے کہ میں حج کے سفر میں تھا ۔ میرے ساتھ تین ہزار دینار سونے اور جواہرات کی تھیلی تھی جسے میں اپنے کمر بند میں باندھے ہوئے تھا۔ ایک مقام پر رفع حاجت کے لیے کمر بند کھول کر بیٹھا تو وہیں تھیلی گر گئی۔ وہاں سے آگے کئی میل دور جانے کے بعد مجھے یاد آیا۔ لیکن واپسی ممکن نہ تھی۔ چونکہ میرے پاس مال و دولت بکثرت تھی اس لیے میں چنداں متاثر نہیں ہو ۔ اتفاقاً جب وطن واپس پہنچا تو گرفتاریوں اور پریشانیوں کے دروازے میرے سامنے یکے بعد دیگرے کھلنے لگے اور بتدریج سارے اموال میرے ہاتھ سے نکل گئے۔ میری عزت ، ذلت میں تبدیل ہو گئی۔ دوست احباب سے شرمندگی ، دشمن کی چہ می گوئی اور مال و اقبال کی بربادی سے تنگ آکر وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ مسافرت کے دوران رات کسی دیہات میں بسر کی۔ میرے ساتھ مال دنیا میں چاندی کے سکے کا چھٹا حصہ تھا۔ اندھیری رات کے علاوہ بارش بھی ہو رہی تھی۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ ایک معمولی مسافر خانے میں رات گذارنے چلا گیا۔ اتفاقاً وہیں بیوی کے وضع حمل کے آثار نمودار ہونے لگے اور بچہ کی ولادت بھی ہو گئی۔ بیوی مجھ سے کہنے لگی کہ مجھے جلد از جلد کچھ کھانے کے لیے دو ورنہ میں بھوک سے مر جاؤں گی۔ چنانچہ نہایت پریشانی کے عالم میں ایک سبزی فروش کے مکان پر گیا۔ مجبوری ظاہر کی تو بڑی مشکل سے دروازہ کھولا۔ میں نے چاندی کا سکہ اسے دے دیا۔ اس نے تھوڑا سا دہی اور گھی ٹھیکرے کے برتن میں لا کر مجھے دیا۔ یہ لے کر جب مسافر خانہ کے نزدیک پہنچا تو میرے پاؤں پھسل گئے اور میں گِر پڑا۔ ٹھیکرے کا برتن ٹوٹ گیا اور جو کچھ اس میں تھا وہ گر گیا۔ اس وقت میرے صبر کا پیمانہ چھلک گیا، زندگی سے جی بھر گیا، دونوں ہاتھوں سے اپنے رخساروں پر طمانچے مارنے لگا اور بے اختیار بلند آواز سے رونا شروع کر دیا۔ سامنے ہی بلند و بالا شان دار مکان تھا۔ ایک آدمی نے اس کھڑکی سے سر نکال کر مجھے آواز دی کہ اس آدھی رات کو تم کیا شورو غل کر رہے ہو اور ہمارے آرام کو کیوں خراب کر رہے ہو؟ تم کون ہو؟
جواباً میں نے اپنا تمام ماجرا مختصراً اُسے سنایا تو وہ کہنے لگا یہ سارا شور و فریاد کیا صرف چاندی کا سکہ ضائع ہونے پر کر رہے ہو؟ شرم کرو۔
ا س کی باتوں سے میرا دل مزید جل گیا۔ میں نے کہا : بھائی خدا بہتر جانتا ہے میں اس قدر کم ظرف و نادار نہیں تھا۔ لیکن اس وقت میں اور میری بیوی و بچہ بھوک کی شدت سے جان بلب ہیں۔ میں بیوی اور بچہ کی حالت سے پریشان ہوں۔ خدا کی قسم فلاں سال میں نے حج کیا تھا اور بہت ثروت مند تھا۔ فلاں منزل پر تین ہزار دینار اور سونا جواہر سے بھری ہوئی تھیلی گم ہو گئی جس سے میں متاثر نہیں ہو۔ چونکہ اور بھی دھن دولت محفوظ تھا۔ آپ اللہ سے ڈریں اور مجھے بُرا بھلا نہ کہیں۔جب یہ باتیں اس نے سنیں تو کہنے لگا کہ تیری تھیلی کی کیا نشانی ہے؟ مجھے رونا آیا اور کہا کہ آپ مجھے اس موقع پر یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ وہ گھر سے باہر آیا اور کہنے لگا جب تک اپنی تھیلی کی نشانی نہ بتاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔
پس میں نے اس کو نشانیاں بتائیں تو میرا ہاتھ پکڑ کر وہ اپنے گھر لے گیا اور کہا تیرے بیوی اور بچے کہا ں ہیں۔ میں نے ان کا پتہ بتایا۔ اس نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ جا کر اُنہیں لے آئے۔ چنانچہ غلام گیا اور لے آیا اور اپنے حرم سرا میں جگہ دے دی اور دیگر ضروریات فراہم کر دیں۔ جب صبح نمودار ہوئی تو کہنے لگا کہ اپنی بیوی کے صحت یاب ہونے تک تم یہیں رہو۔ دس دن تک مہمان کی طرح پذیرائی کرتا رہا اور روزانہ دس بیس دینار بھی دیتا رہا۔ میں ان سب باتوں سے متعجب ہو ا کہ آخر اس قدر نوازش کیوں؟ پھر اس نے سوال کیا تمہارا کیا کاروبار ہے؟
میں نے کہا تجارت پیشہ ہوں اور اس فن میں مہارت رکھتا ہوں۔
میزبان نے کہا میں تم کو سرمایہ فراہم کرتا ہوں ۔ تم شراکت پر خرید و فروخت شروع کرو ۔ پھر دو سو دینار مجھے دئیے اور میں نے کاروبار شروع کر دیا۔ کچھ مدت بعد جتنا فائدہ حاصل ہوا تھا اس کے سامنے پیش کیا۔وہ دوسرے کمرے میں گیا اور ایک تھیلی لے آیا۔ یہ وہی تھیلی تھی جو سفر حج میں کھو گئی تھی۔ اسے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی، حیرانی ہوئی۔ یہاں تک کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو میں نے کہا: اللہ ،اللہ ،اللہ یہ وہی تھیلی ہے جو سفر حج میں گم ہو گئی تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اجازت لے کر اپنے وطن لوٹا۔ اس سے دوبارہ رحمت کے دروازے کھلنے لگے اور عیش و عشرت سے زندگی بسر ہونے لگی۔
( عَسَیٰ اَنْ تَکْرَهُواشَیْئاً وَّهُوَ خَیْرٌ لکُمْ وَعَسَیٰ اَنْ تُحِبُّوا شَیْئاً وَّهُوَ شَرُّ لَکُمْ ) ط
"عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بُری ہو۔"
( سَیَجْعَلُ اللّٰهُ یَعْهَ عُسْرٍ یپسْراً ) ط
"خدا عن قریب ہی تنگی کے بعد فراخ عطا کرے گا۔"
مشکلا ت میں نا امیدی کا علاج
اگرکوئی زمانے کے حادثات میں مبتلاہوجائے تودوچیزوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنا چاہئیے۔
اوّل یہ کہ اس دنیاکی زندگی ہروقت آزمائش اورحادثات سے ٹکراؤ کرتی رہتی ہے اورکوئی ان سے بچ نہیں سکتا۔
دوسرے یہ کہ دوسرے لوگوں کی پریشانیوں اوربرے حالات پرنظررکھناچاہئیے جواس کی حالت سے بدترہے اسطرح کے تقابل سے غمزدہ دل کو سکون حاصل ہوتا ہے۔انسان جتنے بھی مصائب وآلام سے دوچار ہوجائے پھربھی رحمتِ الٰہی سے ہرگزناامیدنہیں ہونا چاہیئے۔چونکہ ماضی میں بے شمارلوگ زمانے کے عجیب وغریب حادثات اورمصائب سے دوچار ہوئے اورچھٹکارے کاتصوّربھی نہیں تھامگرخدائے رحیم نے ان کونجات بخشی۔چنانچہ کتاب’فرج بعدالشّدة‘ میں محترم مولَف جناب حسین بن سعیددہستانی نے پانچ سو سے زیادہ ان لوگوں کی روایتیں نقل کی ہیں جن کوسختی وپریشانی کے بعدآسانی وراحت ملی۔اس کے علاوہ ہمارے تجربات شاہدہیں کہ بزرگانِ دین کے توسّل کی برکت اورصدقہ ودعاء کے اثرسے بہت سی سختیوں میں گرفتاراشخاص آزاد ہوئے۔
مذکورہ کتاب میں مدینہ کے کسی بزرگ سے یہ روایت منقول ہے؛وہ کہتاہے کہ میں نعمت ودولت سے مالا مال تھا ۔اچانک فقروناداری میں مبتلا ہوگیا۔چنانچہ جناب حضرت جعفرصادق کی خدمت میں باریاب ہو کر اپنی پریشانی عرض کی۔آپ نے میری حالت دیکھ کر بہت ترس کھایااوراظہارِ ہمدردی کیانیزیہ اشعار میری تسلّی کیلئے ارشادفرمائے
فَلَا تَجْزَعْ وَاِنْ اَعْسَرْتَ یَوْماً
فَقَدْ اَیْسَرْتَ فِی الدَّهْرِ الطَّوِیْلِ
اگرکچھ دن سختی میں رہو تو بے صبری نہ کرنا ۔چونکہ تم نے طویل مدّت آرام و آسائش میں بسر کی ہے۔
فَاِنَّ الْعُسْرَ یَتْبَعُهُ الْیَسَارا
وَقَوْلُ اللّٰهِ اَصْدَقَ کُلَّ قِیْلٍ
پس بے شک ہر سختی کے بعد آسانی ہے ۔اوراللہ کاقول ہرقول سے سچا ہے۔
فَلَایتَأ سَ فَاِنَّ الْیَاْسَ کُفْرٌ
لَعَلَّ اللّٰهَ یُغْنِیْ عن قَلیْلٍ
تومایوس نہ ہونابیشک ناامیدی کفر ہے۔شاید اللہ قلیل مدّت میں تجھے بے نیاز کردے ۔
فَلَا تَظْنُنْ بِرَبِّکَ ظَنَّ سَوْءٍ
فِاِنَّ اللّٰهَ اَوْ فیٰ بِالْجَمِیْلِ
پھراسکے بعد اپنے رب سے بدگمان نہ ہو جانا۔یقینااللہ اچھے پیرائے میں اپنا وعدہ پوراکریگا۔
فَلَوْ اَنَّ الْعُقُوْلَ یَسُوْقُ رزقاً
لَکَانَ الْمَالُ عِنْدَ زَوِیْ الْعُقُوْلِ
اگرلوگوں کی عقلیں رزق پیدا کرنے کاسبب ہوتیں تودنیا کامال ودولت صرف عقلاء کے ہاتھوں میں ہوتا۔
فَلَا تَی سْ اِذا مَانابَ خَطْبٌ
فَکَمْ فِیْ الْغَیْبِ مِنْ عَجَبٍ عَجِیْبٍ
خبردار! اگرتم سختی کے جال میں پھنس جاؤ توناامیّد نہ ہونا۔چونکہ پس پردہ قدرت کے عجیب وغریب کرشمے پوشیدہ ہیں۔
راوی کہتاہے جب میں نے امام (علیہ السلام)سے یہ اشعارسنے تواسقدرخوشی اور اطمینان خاطر ہوگیا کہ ناامیدیاں امید میں تبدیل ہوگئیں رحمت کے دروازے میرے سامنے کھلنے لگے اور بہت جلد اللہ تعالیٰ نے غم وفکر سے آزاد کردیا۔
قَابِلِ توجّہ
اس کتاب میں حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے یہ روایت نقل کی ہے کہ سارے ہموم وغموم اور سختیاں دور ہونے کیلئے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی جائے
( لَااِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمیْنْ اَللّٰهُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکَ بِهِ شَیْئًا )
یاد رکھےئے مایوسی تمام گزشتہ گناہوں سے بدتر ہے چونکہ مایوسی اس بات کی دلیل ہے کہ عبدو معبود کارشتہ منقطع ہوگیا اور فطرت اولیہ سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔ ورنہ جب تک ذرہ برابر ایمان کسی کے دل میں موجود رہتا ہے تو اس کا پالنے والے سے لاتعلق ہونامحال ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ ناامیدی کے عالم میں عقلت سے لاشعوری طور پر ساری امیدیں منقطع ہو جائیں پھر رحمت واسطہ الہٰی کی طرف متوجہ ہو جائے اور ناامیدی کے گناہ سے توبہ کرے۔
بغیراستثناء سارے گناہ قابلِ بخشش ہیں
قرآن مجید اورمتواتر احادیث اس بات کی دلالت کرتی ہیں کہ بغیر استثناء و تخصیص کے عمومی طور پر تمام گناہ جو انسان سے سر زد ہوتے ہیں ندامت و توبہ کے بعد قابل بخشش ہیں۔ اور یہ کہنا غلط ہے کہ فلاں گناہ توبہ و انابہ کے بعد بھی بخشنے کے قابل نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
( هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوبَةَ وَیَغفُوْ عَنِ السَّیِئَاتِ وَیَعْلَمُ مَاتَفْعَلُوْنَ )
(سورہ ۴۲ ۔آیت ۲۵)
"اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور تم جو بھی کرتے ہو اُسے جانتا ہے۔"
اللہ نے اپنا نام تَوَّابٌ توبہ قبول کرنے والا غَفَّارٌ بخشش کرنے والا غَفُوْرٌ زیادہ مغفرت کرنے والا( غَافِرُ الذَّنْبِ ) گناہوں سے در گزر کرنے والا( قَابِلُ التَّوْبِ ) توبہ قبول کرنے والا، رکھا ہے۔
خدا وند عالم نے بغیر استثناء گناہ گاروں کو اپنی طرف پلٹنے کی عمومی دعوت دی ہے اور ان کو توبہ کا حکم دیا ہے۔ اس بارے میں سورہ مبارکہ الزمر کی ۵۴ ویں آیت کے مفہوم پر اگر غور کیا جائے تو اس صورت میں گناہ گاروں کی نا امیدی دور ہو جاتی ہے۔ اِسے آیت رحمت بھی کہتے ہیں۔
( قُلْ یَاعِبَادیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِهمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰه یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّه هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمْ ) ۔
"اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) تم کہہ دو اے میرے بندو جنہوں نے (گناہ کبیرہ کر کے) اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں (یعنی افراط کر کے حد سے گزر گئے ہیں) تم لوگ خدا سے نا امید نہ ہونا بے شک خدا (تمہارے) سارے گناہوں کو بخش دے گا۔ بے شک خدا بڑا بخشنے والا ہے اور (بندوں پر) مہربان ہے۔"
لطیف نکات
اس آیہ شریفہ میں چند نکات قابل ملاحظہ ہیں: اول یہ کہ فرمایا "یَاعِبَادِیْ" اے میرے بندو، یہ نہیں فرمایا "یَا اَیُّھَاالْعُصَاةُ" اے گناہ گارو۔ اگر چہ گناہوں میں ملّوث ہیں۔ پھر بھی عبد کو اپنی طرف نسبت دیتا ہے تا کہ کمال لطف و مرحمت کے اظہار سے بندے کی ناامیدی ، امید میں بدل جائے۔ دوئم یہ کہ "اَسْرَفُوْا" فرمایا ۔ اس خطاب میں نرمی اور عنایت کا پہلو ملتا ہے اور نہیں فرمایا "اَخْطَئُوْا" یعنی (اے خطا کارو) تاکہ بندہ گناہ گار کی دل شکنی نہ ہو اور نہ وہ مایوس ہو جائے۔
نا امیدی حرام ہے
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گناہوں میں مرتکب افراد سے فرمایا "( لا تَقْنَطُوا ) " تم لوگ رحمت خدا سے نا امید نہ ہونا۔ یہاں صیغہ نہی استعمال ہوا ہے۔ یہ بات واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ رحمت خدا سے مایوس ہونا ممنوع اور مغفرت سے نا امید ہونا حرام ہے۔
چوتھا نکتہ یہ کہ "( لا تَقْنَطُوا ) " کی تسلّی کافی تھی۔ اس کے باوجود تاکید کے طور پر ایک جملہ اور اضافہ فرمایا اِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ اللہ تعالیٰ بلا استثناء تمام گناہوں کی مغفرت کے لیے عمومی اعلان کرتا ہے۔
پانچواں نکتہ کلمہ "جَمِیْعاً" سے یہ مطلب روشن ہوتا ہے کہ مغفرتِ خداوندی کسی خاص گناہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ تمام گناہوں کی مغفرت کی بشارت ہے۔
چھٹا نکتہ دوسری مرتبہ "اِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمِ " کہہ کر تاکید میں شدت کا اظہار فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخشنے والا مہربان ہے۔
پیغمبر کے قاتل کی بھی توبہ قبول ہوتی ہے
عَنْ جَابِر اَنَّهُ قَالَ جَائَت اِمْرَاةٌ النَّبِیّ (ص)فَقَالَتْ یَانَبِیَّ اللّٰهِ اِنِ امرَاَةٌ قَتَلَتْ وَلَدَهَا بِیَدِهَا هَلْ لَهَا مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ لَهَا وَالَّذِیْ نَفْسَ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ لَوْ اَنَّهَا قَتَلَتْ سَبْعِیْنَ نَبِیّاً ثُمَّ تابَتْ وَنَدِمَتْ وَیَعْرِفُ اللّٰهُ مِنْ قِبْلِهَا اَنَّهَا لَا تَرْجِعُ اِلٰی الْمعْصِیةِ اَبَداً لَقَبَّلَ اللّٰهُ تَوْبَتَهَا وَعَفیٰ عَنْهَا فَاِنَّ بَابِ التَّوْبَةِ مَفْتُوْحٌ مَّا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَاَنَّ التَّائِبَ من الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَه (الی الاخبار۔ باب ۳ ۔ص ۲۳)
"جابربن عبداللہ انصاری سے منقول ہے کہ انھوں نے کہاایک عورت حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے اپنے بچے کو قتل کرے تو کیا اس کے لیے توبہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی جان ہے اگر اس عورت نے سترپیمغبروں کو بھی قتل کیا ہو اور وہ نادم ہو کر توبہ کرے اور خدا ئے تعالیٰ اس کی سچائی اور خلوص کو جانتا ہو ، بایں معنی کہ دوبارہ معصیت نہیں کرے گی اس صورت میں ضرور اس توبہ قبول کر لی جائے گی اور اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے بے شک توبہ کا دروازہ مشرق سے مغرب تک کھلا ہے اور یقینا گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جسے اس نے سرے سے گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
قبولیت دعاء میں بھی ناامیدی غلط ہے
اگر کوئی شخص شرعی حاجت یا اخروی مطالب کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے لیکن وہ دعا قبولیت حاصل نہ کر سکے اور سائل مایوس ہو جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ اَوَّلاً جاننا چاہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس سے وعدہ خلافی ہر گز نہیں ہوتی کیونکہ وہ عمومی طور پر دعا کا حکم فرماتا ہے اور قبولیت کا وعدہ بھی کیا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے :
( وَاِذا سَالَکَ عِبَادِیْ عِنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَادَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوا لِی ) ط (سورہ ۲ آیت ۱۸۶)
(اے رسول ) جب میرے بندے میرا حال تم سے پوچھیں تو (کہہ دو کہ)میں ان کے پاس ہی ہوں ۔اور جب کوئی مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں اور (جب بھی مناسب ہو ) اجابت کرتا ہوں۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے :
( قَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ )
اورتمہارا پروردگار ارشاد فرماتا ہے کہ تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ خداوند ِ علیم و حکیم کسی حکمت و مصلحت کی بنا پر دعا کی قبولیت میں تاخیر بھی کر سکتا ہے۔ اس لئے جلد نا امید نہ ہونا چاہیئے۔
گناہوں کے باعث دعا قبول نہیں ہوتی
کبھی گناہوں کی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی در حقیقت دعا کی قبول ِ درگاہ ہونے میں تاخیر اس لئے ہوتی ہے کہ خدا وند ِ عالم اپنا لطف و کرم اس کے شامل کرنا چاہتا ہے اور بار بار توفیق ِ دعا دے کر اسے اپنے مطالب میں کامیاب کرنا چاہتا ہے اور تاخیر کی مدت میں مسلسل توفیق ِ دعا ء دینا اپنی جگہ ایک بزرگ نعمت ِ الٰہی ہے ۔
دوسرا قابل ِ توجہ نقطہ یہ ہے کہ تسلسل ِ دعا ء کے نتیجے آخر کار اس کی دعا ء کو وہ مستجاب کرنا چاہتا ہے اور بندے کی آواز بار بار سننا چاہتا ہے ۔
قبولیت ِدعاء میں تاخیر باعث قربت ہے
کبھی دعاء قبول ِ درگاہ ہونے میں اس لئے تاخیر ہوتی ہے کہ دعاء بزرگ ترین عبادت ہے ۔اور اس کو ہمیشہ برقرار رکھنا رحمت ِ خدا وندی سے قریب تر ہونے کا سبب بنتا ہے اس لئے جسے وہ چاہتا ہے کہ خیرو خوبی کی توفیق دے اور لطف و عنایت سے نوازے تو اس کی دعاء قبول کرنے میں تاخیر کرتا ہے ۔
علامہ مجلسی حیات القلوب میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر سے یہ صحیح و مستند حدیث روایت ہے کہ حضرت ابراہیم آبادیوں اور صحراوں میں اس لئے پھرتے تھے کہ مخلوقات ِ پروردگار سے عبرت حاصل کریں ۔انھوں نے ایک دن کسی میدان میں ایک شخص کونمازپڑھتے ہوئے دیکھا اس کے کپڑے بالوں سے بنائے ہوئے ہیں اورفضا اس کی آواز سے گونج رہی ہے۔حضرت ابراہیم کواس حالت سے تعجب ہوا اور اس کے نزدیک جاکربیٹھ گئے یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوگیا۔
حضرت ابراہیم نے فرمایاکہ مجھے تمھاری یہ روش پسند آئی۔چاہتا ہوں کہ تیرے ساتھ دوستی کروں بتاؤ تمھارا گھر کہاں ہے تاکہ جب چاہوں تم سے ملاقات کر سکوں ۔
اس نے عرض کی جہاں سے میں گزرتا ہوں وہاں سے تو عبور نہیں کر سکتا۔
فرمایا کیوں ؟
اس نے کہا میں پانی کہ اوپر چلتا ہوں۔
آپ نے فرمایا وہ خدا جس نے تم کو پانی کے اوپر چلنے کی قدرت دی ہے وہی خدا میرے لئے پانی کو مسخّر بھی کر سکتا ہے ۔اٹھو!ہم دونوں ایک ساتھ چلیں گے اورآج رات میں تمھارے گھر ٹھہروں گا۔
جب دریا کہ نزدیک پہنچے تواس شخص نے بسم اللہ کہہ کر دریا کوپار کر لیاحضرت ابراہیم نے بھی بسم اللہ پڑھ کر دریاعبورکرلیا۔اس شخص کو حیرت ہوئی ۔اس کے بعددونوں گھرمیں داخل ہوگئے حضرت ابراہیم نے اس شخص سے دریافت کیاکہ کونسا دن تمام دنوں سے زیادہ سخت ہے۔
عابد نے کہا وہ دن سخت ترین ہوگا جب اللہ اپنے بندوں کو اعمال کی جزاء دے گا۔
حضرت ابراہیم نے کہا آؤ ہم دونوں مل کر دعاء کریں کہ خدا ہم کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے فرمایا آؤ ہم دونوں ملکر گنہگارمومنین کیلئے دعاء کریں۔
عابد نے کہا میں دعاء نہیں کروں گاکیونکہ میں اللہ تعالیٰ سے ایک حاجت کیلئے تیس سال سے مسلسل دعاء کررہا ہوں ، مگر وہ اب تک پوری نہیں ہوئی تو دوسری حاجت کی گنجائش کہاں،لہٰذا میں اس سے مطالبہ ہی نہیں کروں گا ۔
حضرت ابراہیم نے فرمایا :اے عابد جب بھی اللہ کسی بندے کو دوست رکھتا ہے تو اس کی دعاء روک لیتا ہے تاکہ وہ بندہ اپنے معبود سے بار بار ازونیازکرے اور طلب کرے ۔اور جب اللہ کسی بندہ سے دشمنی رکھتا ہے تو اسکی دعاء فوراً مستجاب ہو جاتی ہے یا اس کے دل میں مایو سی ڈ ال دیتا ہے تاکہ وہ دعاء نہ کرے۔
آپ نے عابد سے پوچھا بتاؤ تمھاری کیا حاجت تھی جو قبول نہیں ہوئی
عرض کیا: ایک دن اسی جگہ جہاں میں نماز پڑھ رہا تھا ایک ایسے بچے کو دیکھا جس کے حسن و جمال سے نورانی چہرہ چمک رہا تھا۔ وہ گائے بھیڑ اور بکریاں چرا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا یہ سب کس کے جانور ہیں؟ جواب دیا کہ یہ سب میری ملکیت ہے۔ میں نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں خلیل خدا ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں اسماعیل۔ اس وقت سے میں دعا کر رہا ہوں کہ : اپنے دوست ابراہیم (علیہ السلام) کی زیارت کروا دے اور اسے پہنچوا دے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: اب تیری دعا قبول ہوئی۔ وہ ابراہیم (علیہ السلام) میں ہی ہوں۔ پس عابد خوش ہو گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گلے سے لگایا۔ سر ،آنکھوں اور ہاتھوں کو چومنے لگا اور شکر خدا بجا لایا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر مومنین و مومنات کے حق میں دعا کی
قنوط
اس سے قبل حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے جس حدیث میں گناہانِ کبیرہ کی تعداد بیان فرمائی ہے اس میں یاس کے بعد قنوط کا ذکر ہو ا ہے۔
رحمت ِالٰہی کے بارے میں دل نا امیدی راسخ کرنے اور اس کی قباحت محسوس نہ کرنے کو "قنوط "کہتے ہیں۔
یاس اور قنوط کے درمیان فرق کے بارے میں علماء ِ اخلاق فرماتے ہیں کہ یاس عام موارد میں استعمال ہوتی ہے اور قنوط خاص موارد میں۔ یعنی یاس صرف دل کی نا امیدی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جب ا س قسم کی باطنی نا امیدی شدت اختیار کر لے اور ا س کا اثر خارج میں ظاہر ہو جائے اور عقلا ء اس کے کلمات سے درک کر لیں کہ وہ مایوس ہے تو اس حالت کو قنوط کہتے ہیں۔
مختصراً جس کی باتوں سے نا امیدی کے آثار ظاہر ہو جائیں، وہ قانط ہے۔
دعا سے نا امیدی برتنا یاس ہے
بعض علماء کا قول ہے کہ نا امیدی کی حالت میں دعا ترک کرنا یاس ہے۔ مایوس انسان کو امید نہیں ہوتی کہ دعا سے منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔
اور قنوط کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار سے بدگمانی کرے کہ خدا اس پر رحم نہیں کرتا اور نہ ہی توبہ قبول کرتا ہے۔ جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ اپنے بُرے اعمال کی سزا پا رہا ہے۔چنانچہ صحیفہ سجادیہ کی انتالیسویں ( ۳۹) دعا کے جملوں سے اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ جیسا کہ امام (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
لَا اَنْ یَکُوْنَ یَاْسُهُ قُنُوْطاً
"میں تیری نجات سے مایوس نہیں ہوں نہ تجھ سے بدگمان ہوں بلکہ نا امیدی اس لیے چھائی ہوئی ہے کہ میرے نیک اعمال کم اور بُرے اعمال زیادہ ہیں۔ ورنہ تیری ذات اقدس اس سے بلند و برتر ہے کہ کوئی گناہ گار تیری بارگاہ سے مایوس و محروم لوٹے۔
کوئی شک نہیں کہ پروردگار عالم سے سوء ظن گناہانِ کبیرہ میں شمار ہوگا۔ یہ مشرکین و منافقین کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ جیسا کہ سورہ فتح میں ارشاد رب العزت ہے:
( وَیُعَذِّبُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ الظَّانِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ ) ( السَّوْءِ )
"اور منافق مرد اور عورتیں اورمشرک مرد اور مشرک عورتیں جو خدا کے حق میں بُرے خیال رکھتے ہیں، ان پر عذاب نازل کرتا ہے۔"(سورہ ۴۸ آیت ۶)
بد گمانی سزا کا باعث ہے
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے بالائے منبر سے فرمایا:
وَاللّٰهُ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ مَا اُعطِیَ مُومِنٌْ قَطُّ خَیْرَالدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ اِلاَّ بِحُسْنِ ظَنّهِ بِاللّٰهِ وَرَجَائِهِ لَهُ وَحُسْنِ خُلْقِهِ وَالْکَفَ عَنْ اِغْتِیابِ المُومِنِیْنَ وَالَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ لَایُعَذِّبُ اللّٰهُ مُومِناً بَعْدَ التَوْبَةِ وَالْاِسْتِغْفَارِ اِلاَّ بِسُوْءِ ظَنِّهِ بِاللّٰهِ وَتَقْصِیرِ مِنْ رَّجَائِهِ وَسُوْءِ خُلْقِهِ وَ اغْتیَابِهِ لِلْمُومِنِیْنَ وَالَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ لَایحْسِنُ ظَنَّ عَبْدٍ مُومِن بِاللّٰهِ اِلاَّ کَانَ اللّٰهُ عِنْدَظَنِّهِ لِاَنَّ اللّٰهَ کَرِیْمٌ یَسْتَحْی اَنْ یَکُوْنَ عَبْدٌ مُومِنٌ قَدْ اَحْسَنَ بِهِ الظَّنُ ثُمَّ یَخْلِفُ ظَنَّه وَرَجائَه فَاحْسِنُوْا بِاللّٰه، الظَّنَّ وَارْغَبُوْا اِلَیْهِ (اصولِ کافی)
"اس خدا کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں ۔ ہر گز کسی مومن کو دنیا و آخرت کے خیر سے مشرف نہیں فرمایا مگر اپنے پروردگار کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔ اس کی ذات سے امید وابستہ رکھتا ہو اور وہ اچھے اخلاق کا مالک ہو اور اپنے آپ کو غیبت ِ مومنین سے باز رکھے۔ قسم ہے اس خدا کی جو وحدہ‘ لا شریک ہے ، کسی مومن کو توبہ و استغفار کے بعد عذاب نہیں دیتا مگر جو اللہ سے بدگمان ہو اور اس سے امید باندھنے میں کوتاہی کرے، بد اخلاقی کرے اور مومنین کی غیبت کرے۔
قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی اورمعبود نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی مومن کا حسن ظن خدا کو بھی اس کے نیک خیالات کے ساتھ کر دیتا ہے کیونکہ خدا وند ِعالم کریم ہے۔ اسے حیا مانع ہوتی ہے کہ کوئی بندہ مومن اس سے حسن ِظن اور اس کے گمان و امید کے خلاف سلوک کرے۔
پس تم اللہ کے ساتھ اچھے خیالات رکھا کرو اور اس کی طرف راغب ہو جاؤ۔
امید مغفرت اور دعا کی قبولیت
پروردگار سے حسن ظن رکھنے کا معنی یہ ہے کہ بندہ پوری امید رکھے کہ اگر گناہ سے توبہ کر لے تو اللہ اُسے بخش دے گا اور دعا کرے تو حاجت روائی کرے گا۔ اگر کوئی نیک عمل بجا لائے تو امید رکھنی چاہیئے کہ اللہ قبول کرنے گا اور ثواب عنایت فرمائے گا۔
لیکن مغفرت کا گمان کرنا بہرحال مفید بلکہ لازم ہے مگر اچھے اعمال کی طرف اقدام کیے بغیر ثواب کی امید کرنا سراسر جہالت اور گھمنڈ ہے۔
دنیوی اور اخروی امور میں نا امیدی
بعض علماء اخلاق یاس اور قنوط کے درمیان فرق یوں بیان فرماتے ہیں کہ قنوط دنیوی رحمتوں سے نا امیدی سے تعلق رکھتا ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک اس بارے میں ناطق ہے:
( هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْ وَیَنْشُرُ رَّحْمَتَهُ وَهُوَ الوَلِیُّ الْحَمِیْدُ )
(سورہ ۴۲ ۔ آیت ۲۷)
"وہ وہی تو ہے جو بندوں کے نا امید ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت ’بارش‘ کو پھیلاتا ہے اور وہی کارساز (اور) حمد و ثنا ء کے لائق ہے۔"
یاس کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ یہ اخروی رحمتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:
( قَدْیَئِسُوْا مِنَ الآخِرَةِ )
"در حقیقت آخرت سے مایوس ہو گئے ہیں۔"
یا س کی نسبت قنوط بہتر ہے
رحمت الٰہیہ سے قنوط (بدگمانی) اس بات کی علامت ہے کہ بندہ سعادت ابدی سے محروم ہو جائے جبکہ قنوط کی بنا پر عبد و معبود کا رشتہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے دل میں آغاز پیدائش کا نور جو اس کے بدن خاکی میں چمک رہا تھا وہ بجھ گیا ہے۔ اگر وہ موجود ہوتا تو اس کے دل میں امید بھی باقی رہ جاتی۔
اگر چہ وہ افراط و تفریط کا مرتکب کیوں نہ ہوا ہو، جب حالت ایسی ہے تو وہ رحمت خدا سے دور جہالت کے اندھیرے میں مبتلا ہے۔ لیکن یاس اس بات کی دلیل ہے کہ عبد و معبود کے درمیان گناہ کا پردہ حائل ہے اور فطرت اولیہ کا نور ابھی باقی ہے۔ اپنے پروردگار سے رشتہ امید باندھے ہوئے ہے۔ اس صورت میں حجاب دور ہو سکتا ہے۔
لہٰذا یاس قابل مغفرت ہے اور قنوط عفو و درگزر کے سزاوار نہیں۔ اس لیے قنوط شرک کے عنوان میں داخل ہو تا ہے۔ لہٰذا قنوط انسان کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔
(منقول از تفسیر روح البیان)
خدا کے قہر و غضب سے غفلت
گناہان ِ کبیرہ میں سے ایک مکر ِ اِلٰہی سے لا پرواہی و بے خوفی ہے ۔ بعبارت دیگر آدمی کا اپنے پروردگار کے غیبی انتقام اور ناگہانی قہر و غضب سے قطع نظر عیش و عشرت میں منہمک ہونا اور اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب ِالٰہی میں گرفتار ہونے کا احساس تک نہ کرنا یہ بھی ایک گناہ ِکبیرہ ہے ۔ چناچہ حضرت امام جعفر صادق و حضرت امام موسیٰ کاظم اور حضرت امام علی رضا نے مکر الٰہی سے نہ ڈرنا گناہان ِکبیرہ میں قرار دیا ہے ۔
اس کے علاوہ قرآن ِمجید میں ارشاد ہوتا ہے :
( اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُریٰ اَنْ یَاْتِیَهُمْ بَاْسُنَابَیَاتٌ وَّهُمْ نَائِمُوْنَ ) (سورہ ۷ ۔آیت ۹۷)
تو کیا ا ِن بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آ جائے جب کہ وہ (اطمینان ) سے سوئے ہوئے ہوں ۔
( اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْقُریٰ اَنْ یَاْتِیَهُمْ بِاْسُنَا ضُحیً وَّهُمْ یَلعَبُوْنَ ) (سورہ ۷ ۔آیت ۹۸)
کیا ان بستیوں والے اس سے بے خوف ہیں کہ ان پر دن دھاڑے ہمارا عذاب آپہنچے جبکہ وہ کھیل کود میں مشغول ہوں ۔
( اَفَامِنُوْا مَکْرَ اللّٰهِ فَلَایَاْ مَنُ مَکْرَاللّٰهِ اِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُوْنَ ) (سورہ ۷ ۔آیت ۹۹)
"تو کیا یہ لوگ (قہر ) و تدبیر خدا سے بے خوف و خطر ہو گئے ہیں ؟ (تو یاد رہے کہ) خدا کے نا گہانی عذاب بے خوف نہیں ہوتے مگر گھاٹا اٹھانے والے ۔"
ان تین آیتوں میں عذاب الٰہی سے نہ ڈرنے کے بارے میں واضح طور پر نہی فرمائی گئی ہے اور آخری آیت میں عذاب ِ الٰہی سے نہ ڈرنے والوں کو آخری گھاٹا اٹھانے والے گروہ سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد عذاب آخرت کا وعدہ ہے کیونکہ سوائے کفّار اور گناہگاروں کو جو کہ مستحق ِعذاب ہیں ۔اہل ِبہشت و نجات کو قرآن میں خسارت اٹھانے والا نہیں فرمایا ۔
جبکہ قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ مکر الٰہی سے غافل رہنا گناہ کبیرہ ہے تو پروردگار ِعالم کے عذاب و مجازات سے بے باکی و دلیری خود اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے اور اس کی عظمت و جلالت سے انکار کے مترادف ہے اور اس کے اوامرو نواہی سے رو گردانی کے برابر ہے ۔توضیح مطلب کے لئے بطور مثال عرض ہے کہ ایک آدمی یا کسی مملکت کی عوام غفلت و بے باکی سے بادشاہ ِ وقت کی نافرمانی کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بادشاہ کے انتقام اور حکمرانی سے منکر ہو گئے ۔ اسے واجب الاطاعت نہیں سمجھتے اور عَلَم ِبغاوت بلند کر دیا ہے ۔ از روئے اصول اس طرح کہ مخالفت نا قابل ِ معافی بہت بڑا گناہ ہو گا ۔ چہ جائیکہ سلطان ِحقیقی مو لائے واقعی ، دو جہاں کے مالک کے ساتھ حقیر اور ضعیف انسان مخالفت کی جرأت کرے ۔اس کی لا پرواہی اور بے خوفی کی حالت ہی گناہ ِکبیرہ ہے اور معافی کے قابل نہیں مگر یہ کہ وہ اپنی حالت سے پشیمان ہو کر توبہ و استغفار کرے ۔اس بیان سے واضح ہوا کہ گناہ بخشنے کے قابل ہوں یا نہ ہوں یہ خود گناہگار کی حالت امن اور خوف پر منحصر ہے یعنی جس قدر بندہ کے دل میں خوف ِخدا زیادہ ہے اسی قدر وہ مغفرت کے قابل ہے اور جتنا عذاب و انتقام ِ خدا سے بے باک ہے اتنا ہی مغفرت و رحمت الٰہی سے دور۔
خلاصہ یہ کہ مکر الٰہی سے مراد یہ ہے کہ گناہگار پر عذاب ِالٰہی اچانک ہی نازل ہو جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن ِکریم میں ارشاد ہوتا ہے :
( اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُتْرَکَ ) ( سُدیً )
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ وہ (بے لگام )آزاد چھوڑا ہوا ہے ؟
املاء
مکر الٰہی کی اقسام میں سے ایک "املاء" ہے۔
بنی نوع انسان کی پیدائش سے یہ سنّت چلی آرہی ہے کہ نا شکرے انسان کی طغیان و عصیان کے برابر گناہ گار کو ایفر کردار تک پہنچانے میں عجلت سے کام نہیں لیتا بلکہ مہلت دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوائے معصومین کے کوئی بندہ بشر ایسا نہیں جس سے کوئی گناہ سر زد نہ ہو۔ اگر مجرم کو فوری سزا دے دی اور انتقام لے لیا تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہیں رہے گا اور سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
( وَلَوْ یُوٰاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَاتَرَکَ عَلَیْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّ لٰکِنْ یُوْخِّرُهُم اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمّیً ) (سورہ ۱۶ ۔آیت ۶۱)
"اور اگر خدا اپنے بندوں کی نافرمانیوں کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر کسی ایک جاندار کو باقی نہ چھوڑتا مگر وہ تو ایک مقرّرہ وقت تک ان سب کو مہلت دیتا ہے۔"
دوسرے املاء (مہلت) سے مراد یہ ہے کہ خدائے مہربان اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ گذشتہ گناہوں سے پشیمان ہو کر توبہ کریں اور آئندہ گناہوں سے باز رہنے کا پکّا ارادہ کریں۔ اس قسم کی مہلت صاحبان ایمان اور اہل تقویٰ کو فائدہ پہنچانے کے پیش نظر ہے۔ اس کے برعکس اہل کفر و طغیان کے لیے مہلت کی مدت میں گناہ پر گناہ کا اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ ان کی خواہشات نفسانی کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو اچانک مکر الٰہی یعنی غضب قہار نازل ہوتا ہے۔ چنانچہ کلام پاک ان کو تنبیہہ کرتا ہے:
( وَاُمْلیْ لَهُمْ اِنَّ کَیْدِیْ متین ) (سورہ ۷ ۔آیت ۱۸۳)
"اور میں ان کو (دنیا میں) مہلت دیتا ہوں ۔ بے شک میرا کید (نا گہانی عقوبت) سخت مضبوط ہے۔"
بعبارت دیگر کافروفاجر کی طویل عمر کا کامیاب زندگی اور فراہمی اسباب ِ تعیش اگر چہ بظاہر اس کے لیے خوشی کا باعث ہیں ۔وہ اپنے آپ کو بزرگ و بر تر تصوّر کرتا ہے لیکن در حقیقت اس قسم کی ڈھیل قہر و غضب اور انتقام الٰہی کی ایک قسم ہے جسے مکر سے تعبیر کی گیا ہے۔
بد کردار کو مہلت دینا (غلط ہے)
قرآن مجید اس کی تائید میں فرماتا ہے:
( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خََیْرٌ لِاَنْفُسِهِمْ )
"جو لوگ کافر ہیں وہ ہر گز یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے جو ان کو مہلت و فارغ البالی دے رکھی ہے وہ ان کے حق میں بہتر ہے (حالانکہ) ہم نے مہلت اور فارغ البالی (دنیا کی زندگی میں) صرف اس وجہ سے دے رکھی ہے تاکہ وہ خوب گناہ کر لیں اور آخر تو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔"(سورہ ۳ ۔آیت ۱۷۸)
حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا:
وَاللّٰهِ مَاعَذَّبَهُمُ اللّٰهُ بِشَیءٍ اَشَدُّ مِنَ الامِلآءِ (سفینة البحار ج ۲ ۔ص ۵۵۱)
"قسم بخدا ان کو کسی چیز سے عذاب نہیں کیا گیا جو کہ املآء کی سزا سے زیادہ سخت ہو(املاء اُسی مہلت کو کہا جاتا ہے جو اسی دنیا میں دی جاتی ہے)۔"
حضرت امام سجاد (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
وَعمِرْنی مَاکَانَ عُمْرِیْ بَذْلَةً فِیْ طَمَاعَتِکَ وَاذاکَانَ عُمرِیْ مَرْتَعاً لِلشَّیْطٰنِ فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ (دعای مکارم الاخلاق)
"(خداوندا)مجھے (ایسی)عمر عطا فرما کہ میری طویل عمر سراسر تیری بندگی اور اطاعت میں صرف ہو جائے اور جب میری عمر شیطان کی چراگاہ بن جائے تو میری روح قبض کر لے اور اپنی طرف لے جا (قبل اس کے کہ تیرا قہر و غضب مجھ پر نازل ہو جائے)۔"
استد را ج
استدراج بھی مکر الٰہی کی ایک قسم ہے ۔ یعنی بعض لوگ معصیت اور گستاخی کی وجہ سے قہر الٰہی کے مستحق ہو گئے ہیں ۔ جب بھی ان کو موقع ملتا ہے ایک نئے گناہ کے مرتکب ہوتے رہنے ہیں۔ خدا بھی ان پر گناہ کے بعد ایک تازہ نعمت عطا کرتا ہے۔ پس وہ شرمندگی محسوس کرنے اپنے گناہوں پر پشیمان ہو کر توبہ کرنے اور شکر خدا ادا کرنے کی بجائے سر ے سے گناہ ہی کو فراموش کر دیتے ہیں۔ بلکہ مزید نافرمانی پر نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے باغی انسانوں کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے:
( وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِٰایٰاتِنَا سَتَنسْتَْدرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ )
"اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، ہم انہیں بہت جلد آہستہ آہستہ (جہنم) میں لے جائیں گے۔ انہیں خبر بھی نہ ہو گی۔"
سفینة البحارج ۱ ص ۴۴۲ میں درج ہے کہ
اِذَا اَرَادَاللّٰهُ بِعَبْدِ خَیْراً فَاَذْنَبَ ذَنْبًا اَتْبَعَه بِنِقْمَةٍ وَّیْذَکِرُه الْاِسْتِغْفَارَ وَاذَا اَرَادَاللّٰهُ بِعَبْدٍ شَرّاً فَاَذْنَبَ ذَنْباً اِتَّبَعَه بِنِعْمَةٍ لِینْسِیَه الْاِسْتِغْفَارَ وَهُوَ قَوْلُه تَعَالٰی ( سَنَسْتَدْرجُهُمْ مِنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ ) ۔
"یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو خیر فراہم کرانا چاہتا ہے پس وہ گناہ کرتا ہے ۔ خدا اُسے مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تا کہ وہ متنبّہ ہو جائے کہ گرفتاری کا سبب میرا گناہ ہے۔ اس لیے استغفار اور توبہ کرتا ہے اور جب کسی بندے کو اس کے بُرے اعمال کی بنا پر شر سے دو چار کرنا چاہتا ہے پس وہ بھی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کے بعد اُسے تازہ نعمت عطا ہو تی ہے تا کہ وہ نعمت سے سرشار ہو کر توبہ استغفار بھول جائے۔ یہی ہے قول خدا سے مراد کہ (ہم انہیں بہت جلد اس طرح آہستہ آہستہ جہنم میں لے جائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی)۔"
استد راج کا معنٰی ترکِ استغفار ہے
سُئِلَ اَبُوْعَبْدِ اللّٰه (ع)عَنْ الْاِسْتِدَرَاج فَقَال: هُوَ الْعَبْدُ یَذنِبُ الذَّنْبَ فَیُمْلِیْ لَه وَیُجَدِّدُ لَهُ عِنْدَهَا النِّعَمُ فَیُلْهِیْهِ عن، الْاِسْتِغْفَارِ فَهُوَ مُسْتَدْرِجٌ مِنْ حِیْثُ لَایَعْلَمْ (وسائل الشیعة۔ کتاب جہاد۔ باب ۸۸ ۔ ص ۱۶۲)
"حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے جب استدراج کا مفہوم دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: کوئی بندہ گناہ
( ۱ ۔ استدراج کے لغوی معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص قدم بہ قدم بلندی کی طرف جائے یا نیچے اتر آئے اور علمائے اخلاق کے نزدیک اس کے معنی ایک نعمت کے بعد دوسری نعمت سے مالا مال ہونا ہے۔)
کرنے لگتا ہے تو اسے مہلت دیتا ہے اور تازہ نعمت فراہم کرتا ہے ۔ پس وہ توبہ و استغفار سے باز رکھتا ہے ۔وہ آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف کھینچتا ہے جس سے وہ غافل اور بے خبر ہو تا ہے۔ اس حالت کو استدراج اور مکر الٰہی کہتے ہیں۔"
امیر المومنین (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا:
اِنَّهُ مَنْ وَّسِعَ لَهُ فِیْ ذَاتِ یَدِهِ فَلَمْ یَرَذٰلِکَ اِدْرَاجاً فقد اَمِنَ مَخُوْفاً
(بحار ج ۱۵ ص ۱۶۲)
"بے شک کسی کی ملکیت و جائیداد کو اللہ وسعت دیتا ہے تو وہ اور کچھ گمان نہ کرے۔ یہ تو سعہ اور مہلت درحقیقت استدراج ( ۱) ہے۔ وہ (مکر الٰہی) سے بے خوف نہ رہے(چونکہ سکون کے بعد طوفان آتا ہے)۔"
ستد راج کا معنٰی ترکِ استغفار ہے
خدائے بزرگ و برتر کی دو صفات ہیں۔ جمالی اور جلالی
صفات ِ جمالیہ ، جیسے رحمان ، رحیم، کریم، حلیم، شکور اور غفور وغیرہ
صفات ِ جلالیہ، جیسے جبار، قہار، منتقم، مذل، متکبر اور شدید العقاب وغیرہ
چنانچہ آیہ جمالیہ سے پہلے خوش خبری دیتا ہے۔ پھر صفت جلالیہ سے ڈراتا ہے۔
( نَبِیْءْ عِبَادِی اِنِّی اَنَا الْغَفُوْرُا الرَّحِیْمِ O وَاَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلیْمُ )
(سورہ حجر آیت ۴۹)
"اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ بے شک میں بڑا بخشنے والا مہربان ہوں اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔"
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
( غافِرُ الذَّنْبِ وَقَابِلُ التَّوْبِ شَدِیْدُ العِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ )
"گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب دینے والا صاحب فضل و کرم ہے۔"
(سورہ ۴۰ ۔آیت ۲)
خلاصہ ، وہارحم الراحمین ہے:فِیْ مَوْضِعِ الْعَفْوِ وَ الرَّحْمَةِ عفو و رحمت کے مقام میں اور وہاَشَدُّ الْمُعَاقِبِیْنَ ہےفی مَوْضِعِ النَّکَالِ وَ النَّقِمَةِ سختی اور بدلہ لینے کے مقام میں۔
خوف و امید معرفت کی نشانی ہے
جس نے اپنے رب کو ان صفات کمالیہ سے پہچانا تو یہ لازمی امر ہے کہ اس کی امید کو تقویت ملتی ہے۔ اگر اس نے توبہ کی تو گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ عبادت کرے تو قبول کرتا ہے اور بہترین جزا عنایت کرتا ہے۔ اس کی دعا ہدف اجابت سے مقرون فرماتا ہے۔ اس لیے کہ وہ غفور و رحیم اور مجیب الدعوات ہے۔
جس طرح جمالی صفات کی معرفت سے بندے کی امید قوی ہوتی ہے اُسی طرح صفات جلالی و قہری کو پہچاننے کے نتیجے میں بندے کے دل میں خوف شدت اختیار کر لیتے ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ گناہ اختیار کرے تو عذابِ الٰہی سے تصادم یا جلد انتقام سے دو چار ہو گا۔ اس خوف کی برکت سے بندے کو توبہ و استغفار کی توفیق ہوتی ہے۔
گناہ کے ارتکاب سے ڈرنا چاہیئے
جب بھی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے عملی جامہ پہنانے سے ڈرنا چاہیئے۔ شاید وہ ان افراد میں شامل ہو جائے کہ اس گناہ کے مرتکب ہونے کے بعد کبھی بھی رحمت و مغفرت کے قابل نہ رہے۔ جیسا کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ (ع)مَنْ هَمَّ بِسَیّئَةٍ فَلَایَعْمَلْهَا فَاِنَّهُ رُبَّمَا عَمَلَ الْعَبْدُا لسَّیِئَةَ فَبَرَّاَهُ الرَّبُّ فَیَقُولُ عِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ لَا اَغْفِرُلَکَ بَعْدَ ذٰلِکَ اَبَداً (اصول کافی)
"جس نے گناہ کا قصد کر لیا (تو خواہش نفس کو روک لے) اسے چاہیئے کہ عملاً انجام نہ دے۔ بے شک کبھی بندہ گناہ کرتا ہے تو پروردگار اس سے نفرت کرتا ہے اور فرماتا ہے : میری عزت و بزرگواری کی قسم اس کے بعد تجھے نہیں بخشوں گا۔"
اس لیے ممکن ہے ہر وہ گناہ جو انسان سے سر زد ہوتاہے وہ نا قابل معافی ہو۔ اس لیے ہر چھوٹے یا بڑے گناہ کے اقدام سے ڈرنا چاہیئے۔ کیونکہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ گناہ جو مغفرت کے قابل نہیں وہ غالباً ایسے ہوتے ہیں کہ جرأت کرنے والے کی نظر میں چھوٹے اور نا چیز ہوتے ہیں اور وہ لاپرواہی سے فخریہ انداز میں کہتا ہے : میں نے فلاں گناہ کیا یا کہتا ہے کہ دیکھو میں نے اتنا بڑا گناہ انجام نہیں دیا جتنا کہ فلاں آدمی بجا لایا ہے۔ چنانچہ جناب صادق آل محمد (علیہ السلام) یوں تنبیہ فرماتے ہیں:
اِتَّقُوا الْمُحقَّرَاتَ مِنَ الذُّنوْبِ فَاِنَّهَا لَا تُغْفَر قُلْتُ وَمَا الْمُحَقرَّاتُ؟
قَالَ؛ الرَّجُلُ یَذْنِبُ الذَّنْبَ فَیَقُوْلُ طُوْبٰی لِیْ اِنَ لَّمْ یَکُنْ لِیْ غَیْرَ ذٰلِکَ (وسائل الشیعه کتاب جهاد باب ۴۲)
"تمہیں چھوٹے گناہوں سے ڈرنا چاہیئے۔ پس یقینا وہ بخشے نہیں جاتے (راوی کہتا ہے) میں نے عرض کیا: محقرات (حقیر چیزوں) سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: بندہ گناہوں میں ملّوث ہوتا ہے اور اسے چھوٹا تصور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں لائق تحسین ہوں کہ میں نے اتنا بڑا گناہ نہیں کیا جتنا کہ فلاں آدمی نے انجا م دیا۔"
کردار و گفتار ہمیشہ خوف و رجآء کے درمیان ہونا چاہیئے
اگر بندہ گناہ گار کو توبہ نصیب ہو تو پھر بھی خائف رہنا چاہیئے کیونکہ ممکن ہے اس کی توبہ جامع الشرائط نہ رہی ہو۔ اس وجہ سے قبول درگاہ الٰہی نہ ہوئی ہو اور شاید توبہ کے دوران گناہ کی طرف نہ پلٹنے کا جو عہد کیا گیا تھا اس پر وفا نہ کرسکے اور توبہ شکنی ہو جائے۔
اسی لیے آخر عمر تک خوف اور امید کے درمیان زندگی گزارنا چاہیئے۔ مثلاً کوئی عبادت و اطاعت بجا لائے تو فضل و کرم الٰہی سے امید رکھنا چاہیئے کہ قبول ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی ڈرتے بھی رہنا چاہیئے کہ کہیں عدل الٰہی جنبش میں نہ آجائے۔ اگر ایسا نہ کیا ہو تو مسترد کر دیا جائے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ محاسبہ کے دوران حقیقی بندگی اس سے طلب کرے۔
حاجت پوری ہونے کی صورت میں بھی خوف لازم ہے
اگر دعا قبول نہ ہوئی ہو تو ڈرنا چاہیئے کہ کہیں گناہوں کی وجہ سے دعا مستجاب نہیں ہوئی اور اگر شرف قبولیت سے نواز دی گئی ہو ، تب بھی ڈرنا چاہیئے کیونکہ ممکن ہے وہ بارگاہِ الٰہی کا مردود ہو اور خدا نے اس کی آواز سننا ہی گوارا نہ کی ہو۔ اس لیے جلد از جلد اس کی حاجت پوری کر دی ہو۔
جدائی سخت ترین د رد ہے
اگر ابواب معرفت میں ایک دروازہ اس کے سامنے کھل جائے یا مقامات معنوی (علم و ادب وحکمت) میں سے کوئی ایک مقام حاصل ہو جائے تو اپنے فہم و فراست پر اکتفا کرنے اور حاصل شدہ چیزوں پر فخر کرنے سے ڈرنا چاہیئے۔
اگر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کو فراموش کر دیا اور شکر الٰہی بجا لانے میں کوتاہی اور سستی سے کام لیا تو اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محروم اور ابدی رسوائی میں مبتلا ہو گا۔ اس صورت میں وہ محبوب حقیقی سے جدا ہو جائے گا اور اہل معرفت کے نزدیک جدائی سخت ترین عذاب ہے۔ چنانچہ امیر المومنین (علیہ السلام) دعائے کمیل میں ارشاد فرماتے ہیں:
فَهَبْنِیْ یَا اِلٰهِیْ وَسَیَّدِیْ وَمَوْلَایَ وَرَبِّیْ صَبَرْتُ عَلٰی عَذَابِکَ فَکیْفَ اَصْبِرُ عَلٰی فِرَاقِکَ
"گویا اے میرے معبود اور میرے آقا اور اے میرے مولا اور اے میرے پروردگار! ہو سکتا ہے کہ میں تیرے عذاب پر تو صبر کر لوں مگر تیری رحمت کی جدائی پر کیونکر صبر کر سکوں گا۔"
آخر عمر تک کس حالت میں رہنا چاہیئے
یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنی عمر کے خاتمے سے ڈرتا رہے کیونکہ خوش بختی اور بد بختی کا دارو مدار عاقبت خیر ہونے یا نہ ہونے پر مبنی ہے۔ چونکہ ہمارے مشاہدے گواہ ہیں کہ بہت سے لوگوں نے ساری عمر بظاہر خیر و سعادت میں گزار دی اور آخر عمر میں شقاوت کا بارِ گراں اس دنیا سے لے کر چل بسے۔
فَاعْتَبِرُوْایَا اُوْلِی الْاَلْبَابْ
"پس ان سے درس عبرت لو اے صاحبان عقل۔"
سب سے امتحان لیا جاتا ہے
اور یہ بات بھی نا قابل فراموش ہے کہ ہم کو اللہ کے سخت ترین امتحانات سے ڈرنا چاہیئے۔ چونکہ تمام اہل ایمان جن مراتب پر فائز ہیں بغیر استثناء ، ہمیشہ خطرے سے دوچار ہیں۔ چنانچہ قرآن متنبّہ کرتا ہے:
( اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَقُمْولُوْا آمنَّاوَهُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ) (سورہ ۳۶ ۔آیت ۲)
"کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ (صرف) اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کا امتحان نہ لیا جائے گا۔"
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آگ
جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو منجنیق میں باندھ کر دہکتی ہوئی آگ کی طرف پھینکنے لگے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا"حسبی اللہ" یعنی میرے لیے خدا کافی ہے۔ ہر حالت میں ہر چیز کے لیے خدا کے سوا اور کسی کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔ خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب بڑی بات کا دعویٰ کیا تو پروردگار نے اُن کا امتحان لینا چاہا اور جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا ۔ اس نے عرض کیا: اے ابراہیم (علیہ السلام) اگر کسی قسم کی حاجت ہے تو بتاؤ تا کہ میں اس کو پورا کروں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میری حا جت ضرور ہے مگر تجھ سے نہیں۔
جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ درست ہے لیکن جس سے چاہیئے اس سے تو طلب کر لیں ۔ خلیل اللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: وہ میری حالت سے بے خبر نہیں ۔ اس لیے بولنے کی ضرورت نہیں۔
امتحان میں کام یاب
مرحبا ، اس بزرگ پر جس نے انتہائی ضرورت کی حالت میں بھی جبرائیل (علیہ السلام) جیسے امین وحی اور مقرب فرشتے کی ہمدردی کو در خور اعتنا نہیں سمجھا اور اپنا راز و نیاز ظاہر نہیں فرمایا اور آزمائش کی شدید لہروں سے نجات پائی۔ اسی لیے فرمایا:
( وَاِبْرَاهِیْمَ الَّذِیْ وَفّیٰ ) (سورہ ۵۳)
"اور ابراہیم (علیہ السلام) وہی ہے جو اپنی بات پر پورا اترا۔"
بندہ مومن کو چاہیئے کہ کسی حالت میں امتحان سے غافل نہ رہے اور عذابِ الٰہی کے مواخزے کو فراموش نہ کرے۔ چنانچہ ملائکہ مقربین اور انبیاء مرسلین بھی مطمئن نہیں تھے۔ خصوصاً فتنہ و فساد کے دوران اور شک و شبہ کی حالت میں غافل نہیں رہنا چاہیئے۔ بار بار حق تعالیٰ کو یاد کریں اور اس ڈریں۔ ہو سکتا ہے کہ خدا وند عالم کے مقررہ حدود سے باہر قدم رکھے اور بڑے خطرے میں پڑجائے۔چنانچہ حضرت سجاد (علیہ السلام) دعا ابو حمزہ ثمالی کے شروع میں فرماتے ہیں:
وَلَاتَمْکُرْ بِیْ فِیْ حِیْلَتِکَ
"اور میری بد اعمالی کے سزا میں اچانک تیرے قہر و عذاب سے مبتلا ہونے اور غفلت میں رہنے نہ دو۔"
نیکی کی توفیق اللّٰہ سے ہے
اس بات سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت کے بغیر کسی کو عمل خیر نصیب نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کوئی ایک مرتبہ عمل خیر بجا لائے ، مگر وہ شکر خدا نہ کرے تو مزید توفیق خدا سے محروم ہو جائے گا۔ بلکہ اس سے ایسا گناہ صادر ہو سکتا ہے جس کے سبب سے گذشتہ اعمال بھی ضائع ہو جائیں اور وہ دونوں جہاں میں رسوا ہو جائے۔
دانش مند لوگ خدا سے ڈرتے ہیں
جو لوگ حق تعالیٰ کی عزت و بزرگی اور بے نیازی زیادہ جانتے ہیں اور اپنی حقارت و ذلت اور نیاز مندی سے زیادہ آگاہ ہیں وہ پروردگار عالم سے بہت ڈرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید اس بات کی گواہی دیتا ہے:
( اِنَّمَا یَخْشَیٰ اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ العُلَمَاءُ ) (سورہ ۳۵ ۔آیت ۲۶)
"بندوں میں اہل علم ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔"
حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
رَاسُ الْحِکْمَةِ مَخَافَةُ اللّٰهِ (وسائل الشیعہ باب ۱۴)
"حکمت اور دانائی کا محور خوف خدا ہے۔"
حضرت ام سلمہ سے پیغمبر کی گفتگو
جناب ام سلمہ فرماتی ہیں کہ آدھی رات کو میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہیں اور دونوں ہاتھ بلند کر کے گریہ و فریاد کر رہے ہیں اور یہ دعائیں پڑھ رہے ہیں:
اَللّٰهُمَّ لَا تَنزَعْ مِنّیْ صَالِحَ مَا اعْطَیْتَنِیْ اَللّٰهُمَّ لَا تُشْمِتْ بِیْ عَدُوَاً وَلَا حَاسِداً اَبَداً اَللّٰهُمَّ لَاتَرِدنِیْ فِیْ سُوْءٍ نِ اسْتَنْقَذْتَنِیْ مِنْه اَبَداً اَللّٰهُمَّ لَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَیْنٍ اَبَداً (بحارالانوار جلد ۶ باب مکارم اخلاق)
"خدایا جو نعمت تو نے مجھے عنایت فرمائی ہے وہ مجھ سے واپس نہ لے۔ خدایا مجھے دشمنی اور حسد کرنے والے کی ملامت کا کبھی بھی نشانہ بننے نہ دے۔ اے خدا ! جن برائیوں سے تو نے مجھے باہر نکالا ہے کبھی بھی ان کی طرف واپس نہ کرنا۔ اے خدا ! مجھے آنکھ جھپکنے کی مدت کے لیے بھی اپنی حالت پر ہر گز نہ چھوڑنا۔"
جناب ام سلمہ فرماتی ہیں کہ مجھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ حالت اور دعا کے جملے سن کر بے اختیار گریہ گلوگیر ہوا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہ روؤں ، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) انتہائی بلند مقام پر فائز ہیں اور قدر و منزلت کے حامل ہیں تو آپ کی دعائیں اور کیفیت یہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: میں کیوں نہ ڈروں جبکہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایک لمحے کے لیے اپنی حالت پر چھوڑ دیا تو وہی ہوا جو ہونا تھا(یعنی خدا تعالیٰ نے تادیب فرمائی اور وہ ایک مدت تک مچھلی کے پیٹ میں رہے)۔ (بحار الانوار)
انبیاء اور آئمہ ہدیٰ (علیہم السلام) سب سے زیادہ خائف رہتے تھے
قرآن میں انبیاء (علیہم السلام) کی تعریف یوں فرمائی ہے:
( اِنَّهُمْ کَانُوا یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْراتِ وَیَدْعُوْننا رَغَباً وَّرَهَباً وَّکَانُوا النَاخاَشِعِیْنَ )
(سورہ ۲۱ آیت ۹۰)
"اس میں شک نہیں سارے انبیاء ( (علیہم السلام)) نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہم کو بڑی رغبت اور خوف کے ساتھ پکارا کرتے تھے۔"
اہل بیت ِ عصمت وطہارت (علیہم السلام) کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
( وَیُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْماً کَانَ شَرُّه مُسْتَطِیراً )
"یہ وہ لوگ ہیں جو نذریں پوری کرتے ہیں اور اس (قیامت کے) دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی و شر ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔"(سورہ ۷۶ ۔آیت ۷)
پیغمبران خدا اور آئمہ اطہار (علیہم السلام) کے خوف خدا خصوصاً حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت یاد کر کے بے ہوش ہو جانا اور حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) کا بارگاہ خدا وندی میں گریہ و زاری اور راز و نیاز نیز صحیفہ سجادیہ کی دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس حد تک اللہ سے ڈرتے تھے۔ اس کی تفصیل اگر بیان کریں تو ہم اپنے موضوع ِ کلام سے خارج ہو جائیں گے اور عاقل کے لیے بس اشارہ کافی ہے۔
مومن خوف اور امید کے درمیان ہوتا ہے
متعدد روایتوں سے یہ مطلب واضح ہوتا ہے کہ مومن کو ہمیشہ خوف و رجأ کے درمیان رہنا چاہیئے۔ یعنی عذابِ الٰہی سے ڈرنے والا اور فضل و رحمت خدا کا امید وار ہونا چاہیئے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
( فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُومِنِیْنَ ) (سورہ ۳ آیت ۱۷۵)
"پس تم اس سے ڈرو نہیں ، اگر سچے مومن ہو تو مجھ ہی سے ڈرو۔"
اس قسم کا ڈر ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ جس سے باعث وہ گناہوں کا ارتکاب تو درکنار ان کے نزدیک بھی نہ جائے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مخاطب ہر کر فرماتاہے:
( قُلْ اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبّیْ عَذابَ یَوْمٍ عَظِیْم ) ۔
"(اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ)) تم کہہ دو اگر میں گناہ کروں تو بے شک عظیم دن (روز قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔" (سورہ ۶ ، آیہ ۱۵)
امید غرور کا باعث نہ بنے
بندہ کو چاہیئے کہ وہ خدائے تعالیٰ کے لطف و کرم کا امیدوار رہے تاکہ مستقبل میں اسے عبادت و اطاعت کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ البتہ اس کی امید عذاب الٰہی سے بے خوفی کا باعث نہیں بننا چاہیئے۔ نہ اس قدر بے جا امید باندھنا چاہیئے جس سے وہ مغرور بن جائے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
( وَلَایَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرِ ) (سورہ ۳۵ ۔آیت ۵/ سورہ ۳۱ ۔آیت ۳۳)
"اور ایسا نہ ہو (کہ شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں دھوکہ دے ۔"
اور سورہ حدید میں مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( وَغَرَّکم باللّٰهِ الْغُرُوْرِ ) (سورہ ۵۷ ۔آیت ۱۲)
"اور بڈھے دغاباز شیطان نے خدا کے بارے میں تم کو فریب دیا۔"
اس آیت کی تفسیر میں منہج الصادقین میں کہا گیاہے کہ شیطان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پکی امید باندھنا کہ وہ حلیم و کریم ہے وہ کسی کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)نے فرمایا:
لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ مُومِنٍ اِلاَّ وَفِی قَلْبِهِ نُوْرَانِ نُوْرُ خِیَفَةٍ وَنُور رَجَاءٍ لَوْوُزِنَ هٰذَا لَمْ یَزِدْ عَلٰی هٰذا (اصول کافی)
"کوئی مومن بندہ نہیں مگر اس کے دل میں دو نور ہوتے ہیں (ایک) خوف کا نور اور (دوسرا) امید کا نور۔ ایک کا وزن دوسرے سے زیادہ نہیں ہوگا بلکہ برابر ہوں گے۔
عمل خوف و امید کے مظہر ہے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
لَایَکُوْنُ الْمُومِنُ مُومِناً حَتیٰ یَکُوْنُ خَائِفاً رَّاجِیاً حَتّیٰ یَکُوْنَ عَامِلاً مِمَّا یَخافُ وَیَرْجُوْ (اصول کافی)
"مومن اہل ایمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دل میں خوف و رجأ دونوں موجود نہ ہوں اور نہ ہی اسے خائف اور امیدوار کہا جاسکتا ہے جب تک جس چیز سے وہ ڈرتا ہے اور جس چیز سے امید رکھتا ہے اسے عمل و کردار سے ظاہر نہ کردے۔"
بلکہ مومن کا کمال اور شان یہ ہے کہ خوف و رجأ کی قوت اس کی ذات میں مکمل طور پر موجود ہو۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ:
خِفِ اللّٰهَ خِیْفَةً لَوْجِئْتَه بِبِرّ الثِقْلّیْنْ لَّعَذَّبَکَ وَارْجِ اللّٰهَ رَجَاءً لَّوجِئْتَه بِذُنُوْبِ الثَّقْلَیْنِ لَرَحِمَکَ (کتاب کافی)
"لقمان حکیم نے اپنی وصیت کے ضمن میں اپنے بیٹے سے کہا: بیٹا! تم خدا سے اس قدر ڈرو کہ اگر تمام جن و انس کی عبادت و اعمال کے برابر تمہاری نیکیاں موجود ہوں پھر بھی خیال کرو کہ وہ تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ سے اس حد تک امیدیں وابستہ رکھنا ہیں کہ اگر چہ تمام جن و انس کے گناہوں کے برابر گناہ کا بوجھ لے کر اس کی درگاہ میں حاضر ہوا پھر بھی وہ تم پر ضرور رحم کرے گا۔"
نصیحت
اب میں اپنے آپ کو اوراس کتاب کے معزز پڑھنے والوں کو دعوت ِفکر دیتا ہوں اور سوال کرتا ہوں کہ آیا ہمارے دلوں میں سچا خوف اورحقیقی امیدموجود ہے یانہیں؟یاصرف دعویٰ ہے؟
اگرہم حقیقی معنوں میں عذابِ الہٰی سے خائف ہیں تو اپنے گناہوں سے کیوں نہیں ڈرتے؟
معصومین علیہم السّلام کے فرامین میں آہ ونالہ اوربے قراری کیوں؟اگرہم سچے دل سے رحمت خدا کے امیدوار ہیں تومغفرت کے اسباب وسائل پیداکرنے کی کوششیں کہاں؟اطاعت وعبادت کی طرف میل ورغبت کہاں؟
جی ہاں، ہم صدق دل سے خوف و امید دنیوی امور کے متعلق ضرور رکھتے ہیں مثلاً کوئی اتفاقی امر سامنے آئے جس سے طبیعت نا خوش ہو جائے اور خوف کا اندیشہ ہو تو کس قدر تشویش ہوتی ہے اور پائے ثبات میں لغزش آجاتی ہے ۔ اگر فقروناداری کا خوف ہو یا بیماری اور دشمن کا ڈر ہو تو اپنی تمام تر قدرت و طاقت اس کے دفاع میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک لمحہ بھی آرام اور سکون سے نہیں گزارتے جب تک اس کا خوف امن و سکون کی حالت میں تبدیل نہ ہو جائے۔ اس کے برعکس اگر ایسے دنیوی امور کے طلب گار ہوں جن کا حصول مدت سے رہتے ہوں اور طبیعت جس کے انتظار میں بے تاب ہوں اور اس کے حاصل کرنے میں بے حد خوشی محسوس ہوتی ہو تو رات دن محنت سے کام کرتے رہتے ہیں ، تھکاوٹ کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
خدارا آپ بتائیے ، جتنی لگن اور رغبت ان امور میں ہمیں حاصل ہے کیا ان کا ایک فیصد بھی امور آخرت میں حاصل ہے؟ ہر گز نہیں۔
الغرض اگر ہم سے گناہ صادر ہو تو عذاب ِ الٰہی سے ڈرنا چاہیئے ۔ ہمیشہ گریہ و فریاد اوراستغفار کرنا چاہیئے ۔ آرام و آسائش کو خیر باد کہیں۔ یہاں تک کہ آخری دم لینے کے وقت رحمت خداوندی کی خوش خبری سننا نصیب ہو جائے۔
( تَتَنَزَلُ عَلَیْهِمُ الْملَائِکَةُ اَلاَّ تَخَافُوْا ولَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالجَنَّةِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) (سورہ ۴۱ ۔آیت ۳۰)
"ان پر موت کے وقت رحمت کے فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ کچھ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور بشارت ہو بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔"
الغرض انسان کو آخر عمر تک مسلسل خوفِ خدا میں رہنا چاہیئے۔
دو خوف کے درمیان رہنا چاہیئے
حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
اِنَّ الْمُومِنَ بَیْنَ مَخَافَتَیْن ذَنْبٌ قَدْ مَضیٰ لَایَدْرِیْ مَا صَنَعَ اللّٰهُ وَعُمْرٌ بَقیٰ مَایَکْتَسِبُ فِیْهِ مِنْ الْمَهَالِکِ فَهُوَ لَا یُصْبِحُ اِلاَّ خَائِفاً وَّلَایُصْلِحُهُ اِلا الْخَوْفُ (کافی)
"مومن ہمیشہ دو خوف کے درمیان ہوتا ہے ۔ ایک تو گذشتہ گناہوں کا خوف ہوتا ہے (اس لیے ) وہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ دوسرا وہ اپنی عمر کے خاتمے سے ڈرتا ہے اور یہ نہیں پتہ چلتا کہ کون کون سے گناہ اس سے سرزد ہوں گے جس سے وہ ہلاکت میں پڑے گا۔ پس مومن (عمر بھر) صبح نہیں کرتا مگر وہ خوف کی حالت میں اور اس کے امور کی اصلاح بھی خوف کے بغیر نہیں ہو گی۔"
آخرت کے لیے سعی کرنا چاہیئے
قرآن مجید میں صراحت سے ذکر ہے کہ پروردگار عالم نے انسان کی دنیوی زندگی کی بقا کے لیے رزق فراہم کرنے کی ضمانت لی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
( وَمَامِنْ دَابَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ عَلَی اللّٰهِ رِزْقُهَا ) (سورہ ۱۱ ۔آیت ۸)
"اور زمین پر چلنے والوں میں کوئی ایسا نہیں جس کی روزی خدا کے ذمہ نہ ہو۔"
مگر امور آخرت میں کامیابی بندگانِ خدا کی سعی و عمل سے مربوط رکھی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
( وَاَنْ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعیٰ وَاَنَّ سَعَیَه سَوْفَ یُریٰ )
(سورہ ۵۳ ۔آیت۔ ۳۹ ۔ ۴۰)
"انسان کے لیے (آخرت میں) نہیں ہے مگر جو کچھ وہ سعی کرتا ہے۔ اور جلد ہی اپنی سعی (عمل ) کا نتیجہ (آخرت میں) دیکھے گا۔"
دعویٰ عمل سے ظاہر ہونا چاہیئے
حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:
یَدَّعِیْ بِزَعْمِهِ اَنَّه یَرْجُوا اللّٰهَ کَذِبَ وَالْعَظیْمِ مَالَه لایَتَبَیَّنُ رَجائَه فِیْ عَمَلِهِ ۔
"جو اپنے گمان میں دعویٰ کرتا ہے اور زبان سے کہتا ہے کہ میں رحمت ِخدا کا امیدوار ہوں، وہ جھوٹا ہے۔ خدائے بزرگ کی قسم اگر سچ کہتا ہے تو اس کی امید کا اثر اس کے عمل میں کیوں پیدا نہیں ہوتا؟"
یہ درست ہے کہ خوف و رجأ باطنی کیفیت ہے۔ یہ عمل کے ذریعے خارج میں ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت صادق آل محمد (علیہ السلام) نے فرمایا:
دَلَیْلُ الْخَوْفِ الْهَرَبُ وَدَلِیْلُ الرَّجَاءِ الطَّلَبُ
"خوف کی علامت بھاگنا ہے اور امید کی علامت طلب اور نزدیک ہونا ہے۔"
پس جو کوئی گناہ سے راہ فرار اختیار نہیں کرتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے خوف نہیں اور جو کوئی اسباب مغفرت کے حصول میں جدوجہد نہیں کرتا تو معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ رحمت الٰہی کا امیدوارنہیں اور بولنے والا یہ جملے کہتا ہے کہ آخرت کے معاملہ میں خدا کریم ہے۔ درحقیقت شیطان اُسے مغرور بناتا ہے اور یہ جملہ اس کی زبان سے جاری کراتا ہے۔ ورنہ یہ کیوں نہیں کہتا ہے امور دنیا میں خدا کریم ہے اور اسی پر قناعت کیوں نہیں کرتا۔
خدا سے اس طرح ڈرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو
قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْهِ السَّلامُ خِفِ اللّٰهَ کَانَکَ تَرَاهُ وَاِنْ کُنْتَ لَاتَرَاهُ فِاِنَّه یَرَاکَ وَاِن کُنْتَ تَریٰ اَنَّه لَایَرَاکَ فَقَدْ کَفَرْتَ وَاِن کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّه یَرَاکَ ثُمَّ بَرَزْتَ لَهُ بِالْمَعْصِیَةِ فَقَدْ جَعَلْتَه مِنْ اَهْوَنِ النَّاظِرِیْنِ (اصول کافی)
"حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: خدا سے اس طرح ڈرنا چاہیئے جیسے تم اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ کیونکہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ اگر تم گمان کرتے ہو کہ وہ تم کو نہیں دیکھتا پس تم کافر ہو گئے۔اگر تم جانتے ہو کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے پھر اس کے باوجود گناہ و معصیت کرتے رہے تو اُسے حقیر ترین ناظر قرار دینے کے مترادف ہے۔"
یہ مسلّم ہے کہ اگر کوئی تمہیں گناہ کرتے ہوئے دیکھے اور وہ تمہاری معصیت سے باخبر ہو جائے اس صورت میں لازم ہے کہ تم شرمندہ ہو گے اور ارتکاب ِ گناہ سے اپنے آپ کو روک لو گے۔ لیکن ہزار افسوس جبکہ خالق حقیقی اور عالمِ ما فی الضمیر تمہاری ہر حالت دیکھ رہا ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس کے سامنے گناہ کرنے سے شرم محسوس نہیں کرتے۔
خوف و رجأ میں کامل شخصیت
حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کا طرز زندگی بندگان خدا کے اعمال کا میزان ہے۔ ہم ایک طرف جناب امیر (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ اور دوسری طرف اپنے اعمال و عبادات رکھ کر نہایت غور سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر تفاوت ہے۔ ہمارے اعمال کس قدر خراب ہیں۔ چنانچہ حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا فرمان ہے:
ضَرْبَةُ عَلِیٍّ یَوْمَ الخَنْدَقِ افْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الثّقْلَینِ (بحارالانوار)
"جنگ خندق میں علی (علیہ السلام) کی ایک ضربت جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔"
اس کے باوجود کہ حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کا عمل جن و انس کے عمل سے افضل ہے۔ آپ (علیہ السلام) جب بھی عظمت و جلالت ِ خداوندی کی طرف متوجہ ہوئے تو اپنی ذات اور اپنے اعمال کو ایک ذرہ کے برابر بھی خیال نہ کرتے تھے۔ مولائے کائنات اپنے ذاتی کمالات ، نیک اعمال اور لاثانی مراتب کو سر چشمہ رحمت الٰہی کا فیضان سمجھتے تھے۔ وہ اپنے نفس میں نقص و عاجزی اور عیب کے سوا کچھ اور نہیں پاتے تھے۔ اس لیے ہر وقت گریہ و فریاد کرتے تھے اور آخر میں غش کھا جاتے تھے۔
چنانچہ ابو درداء نے آپ (علیہ السلام) سے یہ جان سوز مناجات نقل کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے مولائے کائنات (علیہ السلام) سے نہایت دردناک آواز میں سنا:
اِلٰهِیْ لَاِنْ طَالَ فِیْ عِصْیَانَکَ عُمُرِیْ فَمَا اَنَا مُومِّلُ غَیْرَ غُفْرانَکَ وَلَا اَنَابِرَاجٍ غَیْرَ رِضَّوَانَکَ اِلٰهِیْ اُفَکِرُ فِیْ عُفْوِکَ فَتُهَوَنُ عَلَیَّ خَطِْئَتِیْ ثُمَّ اَذکُرُ الْعَظِیْمَ مِنْ اَخْذِکَ فَیُعْظِّمُ عَلَیَّ بَلیَّتِیْ ۔
"اے معبود! اس میں شک نہیں کہ میں نے اپنی عمر کی ایک لمبی مدت تیری نافرمانی میں گزاری ۔ اس کے باوجود تیرے سوا کسی اور سے مغفرت کی امید نہیں رکھتا اور نہ تیرے سوا کسی اور کی خوشنودی کا خواہشمند ہوں۔ اے معبودِ حقیقی جب میں تیرے عفو کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنے گناہوں کے بھاری بوجھ کو ہلکا محسوس کرنے لگتا ہوں۔ اس کے بعد جب تیری قہاریت کو یاد کرتا ہوں تو پریشانی کے بوجھ تلے دب جاتا ہوں۔"
ابو درداء کہتے ہیں کہ ان مناجات کے بعد اچانک آواز خاموش ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ مولا بے ہوش ہو کر گر پڑے ہیں۔ میں نے بازو پکڑ کر حرکت دی تو دیکھا سوکھی لکڑی کی طرح بے جان ہیں۔ مجھے گمان ہو ا کہ شاید میرے مولا رحلت فرما گئے ہیں۔
اسی طرح زرار بن ضمرہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ایک اندھیری رات میں سحر کے نزدیک میں نے مولا کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ سے اپنی ریش مبارک پکڑی ہوئی ہے اور مارگزیدہ انسان کی طرح تڑپ رہے ہیں اور فریاد و بُکا کر رہے ہیں ۔ وہ اپنی بُری حالت اور عمل کی قلّت بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:
آه مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وَبُعْدِ السَّفَرِ وَوَحْشَةِ الطَّریْقِ وعَظِیمِ الْمَوْرِدِ (نہج البلاغہ)
"آہ! افسوس زادِ راہ قلیل ہے اور فاصلہ طویل ہے، راستہ وحشت ناک اورمنزل خطرناک ہے۔"
دعائے کمیل میں ارشادفرماتے ہیں:
اِلٰهِیْ عَظُمَ بَلَائِیْ وَاَفْرَطَ بیْ سُوْءُ حَالِیْ وَقَصُرَتْ بِیْ اَعْمَالِی ۔
"یا اللہ ! میری آزمائش بڑھ گئی اور میری بدحالی حد سے گزر گئی اور میرے نیک اعمال بہت ہی کم ہیں۔"
امیر المومنین (علیہ السلام) کی ذات ہمارے لیے نمونہ عمل ہے
خوف کی طرح آپ (علیہ السلام) کی امید بھی مشہور ہے۔ آغاز زندگی سے آخر عمر تک عبادات و طاعات میں مشغول رہے ۔ ایک لمحہ بھی فارغ نہیں رہے بلکہ بعض اوقات دن رات میں ہزار ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ تمام زندگی ماہِ شعبان کے روزے بلا ناغہ رکھے ۔ کبھی تہجد کی نماز نہیں چھٹی۔ یہاں تک کہ جنگ صفین میں لڑائی کی رات جو کہ لیلة الہریر (سخت سردی کی رات) کہی جاتی ہے ، نماز شب ترک نہیں کی۔روزے تین شب متواتر صرف پانی سے افطار کیے۔ اپنے حصے کی روٹی یتیم اور مسکین و اسیش کو دیتے رہے۔ اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے باغ کو فروخت کر کے راہ خدا میں ہدیہ کر دیا۔بحار الانوار کے ایک مفصّل باب میں حضرت علی (علیہ السلام) کے صدقات و اوقاف کا ذکر اور ان کے متعلق آپ (علیہ السلام) کا وصیت نامہ تفصیل سے درج ہے۔ اس میں سے کچھ بیان تبرکاً نقل ہوتا ہے تاکہ خوف و رجأ کے زیر بحث موضوع کی زیادہ تائید ہو جائے۔
امیر المومنین کی وصیت کا کچھ حصہ
وصیت نامے کی عبارت کچھ اس طرح ہے:
ھٰذامَا وْصیٰ بِه وَقَضیٰ بِهِ فِیْ مَالِهِ عَبْدُ اللّٰهِ عَلِّیٌ اِبْتِغَاءَ وَجْهِ اللّٰهِ لِیُوْ لِجَنِیْ بِهِ الجنّة وَیَصْرِفُ النَّارَ عنِّیْ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَرَّ وُجُوْهٌ ۔
"یہ (تحریر) وہ چیز ہے جس میں اپنے مال کے بارے میں وصیت اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ:اللہ کا بندہ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) اس امید سے کہ خداوند عالم اس کار خیر کے سبب مجھے بہشت میں داخل کرے گا اور آتش جہنم اس دن مجھ سے دور کردے گاجس دن بعض لوگوں کے چہرے سفید اور کچھ روسیاہ محشور ہوں گے۔ بے شک اپنی ملکیت و جائیداد کو جو کہ یَنْبُعْ اور اس کے مضافات میں واقع ہے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر صدقہ (وقف) قرار دیتا ہوں۔"
اس قدر نیک اعمال و عبادات کے باوجود جب جنگ سے واپس آئے تو روتے ہوئے فرما رہے تھے کہ راہِ خدا میں شہادت سے بڑھ کر کوئی اور عمل سعادت کا باعث نہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس فیض سے محروم نہ ہو جاؤں۔ آخر کار حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے آپ (علیہ السلام) کو تسلی اور خوش خبری دی کہ اے علی (علیہ السلام) تیری عاقبت شہادت پر خاتمہ پائے گی۔
ہم علی(علیہ السلام) کی پیروی کریں گے!
ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کی معرفت اور یقین کا بلند مقام کہاں اور ہم جیسے گناہ گار کہاں۔ ہم ان کی مانند بزرگی اور عذاب الٰہی کا خوف نیز اس کی رحمت کے امیدوار کیسے ہو سکتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ بات آپ کی درست ہے مگر کیا وہ بچہ جو ابھی زہریلی ناگن کو پہچانتا نہیں ، یہ ممکن ہے کہ ظاہری چمک دمک اور نرمی دیکھ کر دھوکے میں ہاتھ بڑھائے اور سانپ اسے ڈس مارے اور بچہ موت سے ہمکنار ہو جائے۔
فرض کیجئے بچہ کے ساتھ اس کا باپ موجود ہو تو لازمی ہے کہ باپ اس خطرے کو محسوس کر کے شوروغل کر ے گا اور آگے بڑھے گا ۔ اس صورت میں سانپ بچے کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔
اے بے خبر! کیا حضرت علی (علیہ السلام) تمہارے روحانی پدر اور مقتدائے حقیقی نہیں؟ اور کیا تم محبت و ولایت علی (علیہ السلام) کے دعوے دار نہیں؟
ْْاگر جواب ْْْاثبات میں ہے تو اپنے آقا و مولا کی تاسّی و اطاعت کرنا جس قدر ممکن ہو لازم ہے۔
قیامت اور اس کے سخت ترین عذاب سے انسانی حالت مضطرب اور خوف زدہ ہو جاتی ہے، اور تم ہو کہ مطمئن ہو۔ سفر آخرت کے اسباب فراہم کرنے سے غافل اگر علی (علیہ السلام) کے شیعہ ہو تو وہ تمہارے لیے نمونہ عمل ہیں۔
مولا (علیہ السلام) نے فرمایا: تم ہو بہو ہمارا عمل انجام نہیں دے سکتے مگر ہماری نقل اور پیروی تو کر سکتے ہو۔ شِیْعَتُنَا مَنْ شَیَّعَنٰا ہمارا شیعہ صرف وہی ہے جو ہماری پیروی کرے۔
خطرے کا اعلانا
اگر سالار قافلہ خطرے کا اعلان کرے کہ ہماری منزل بہت دور ہے نہ آبادی ہے اور نہ ہی پانی۔ راستے میں حیوانات اور درندے موجود ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو خوراک و پانی اور دوسرے لوازمات اٹھائیں اور ہر شخص اپنا نگران اور ہوشیار رہے۔ اس اعلان کے ساتھ خود سالار قافلہ بھی جلدی جلدی اپنے سفر کا سامان جمع کرتا ہے اور اگلی منزل کے خوف سے اس پر وحشت طاری ہو جاتی ہے ، وہ کانپتا ہے اور گریہ کرتا ہے۔ جب سربراہِ قافلہ ، رہنمائے کاروان کی حالت ایسی ہوگی تو اس قافلے والوں کا کیا حشر ہو گا؟ اس کی پریشانی سے کاروان والوں کا پریشان ہونا لازمی امر ہے اور فطرت کا تقاضہ بھی۔
لہٰذا اس اطمینان سے قیمتی اوقات ضائع نہ کریں۔ اپنے رہنما کی پیروی کریں تا کہ میدان حشر میں حسرت بھرے دل اور آنسو بھری آنکھوں سے روبرو ہونے کی نوبت نہ آئے۔
سالار قافلہ خوف زد ہ ہے
اے ایمان و تقویٰ کے قافلو! تمہارا میرِ کارواں اور قافلے کا سالار حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سفر آخرت سے سخت ڈرتے ہیں اور اس راستے کے خطرات سے سب کو آگاہ فرماتے ہیں۔ ہر رات مسجد کوفہ میں بلند آواز سے فرماتے تھے:
تَجَهَّزُوارَحِمَکُمُ اللّٰهُ فَاِنَّ اَمَامَکُمْ عَقَبَةً کَسئُوداً ؟ وَمَنَازِلٌ مُحَوِّفَةٌ لَابُدَّمِنَ الوُرُوْدِ عَلَیْهَا وَالوُقُوْفِ بِهَا ۔
"مسافرو! خدا تم پر رحم کرے ، سامان سفر باندھ لو اور تیار رہا کرو۔ بے شک تمہارے آگے بہت سی دشوار گزار گھاٹیاں اور خوفناک منازل موجود ہیں۔ ان سے گزرے بغیر اور کوئی چارہ نہیں۔"اس کے بعد مولا (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
آه مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وَبُعْدِ السَّفَرِوَعَظِیْم الْمَوْدرِدِ (نہج البلاغہ)
"افسوس زادِ راہ قلیل ہے ، سفر طویل ہے اور پہنچنے کا مقام عظیم ہے۔"
افسوس کا مقام ہے کہ بے پناہ دنیوی مصروفیات اورنفسانی خواہشات کی لہروں میں پھنسنے کی بنا پر ہم حضرات آئمہ اطہار (علیہم السلام) سے جدا ہو کر رہ گئے ہیں۔ رابطہ منقطع ہے۔ ہم ان کے اخلاق کریمہ اور سیرت طیبہ کی پیروی سے قاصر ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس بات سے محفوظ رکھے کہ ہم ان کی محبت و ولایت کے دائرے سے باہر قدم رکھ کر شیطانی ولایت و گمراہی میں داخل ہوں۔ کیونکہ بعض گناہوں کے اثر سے گناہ گار انسان ولایت خدا اور ولایت اہل بیت (علیہم السلام) سے خارج ہو جاتا ہے اور ولایتِ شیطان میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے وجود پر شیطان مکمل مسلّط ہو کر اس پر حکمرانی کرنے لگتا ہے۔
مومن کی اہانت کرنے پر انسان ولایت سے خارج ہو جاتا ہے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے:
مَنْ رَوَیٰ عَلٰی مُومِنٍ رَوَایَةً یُرِیْدُ بِهَاشَیْنَه وَهَدْمُ مُرَوَّتِهِ لِیَسْقُطَ مِنْ اَعَیْنَ النَّاس اَخْرَجَه اللّٰهُ مِنْ وَّلاَیَتِهِ اَلٰی وَلَایَةِ الشَّیْطَانِ (اصول کافی)
"کوئی شخص کسی مومن کے خلاف ایک مطلب نقل کرے جس سے مراد اس کے عیوب ظاہر کرنے ہوں یا لوگوں کے درمیان اس کی آبرو ریزی کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی سرپرستی اور یاری سے محروم کر دیتا ہے اور شیطان کی سرپرستی پر چھوڑ دیتا ہے۔"
اس موقع پر شیطان بھی اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے:
( کَمَثَل الشَّیْطٰنِ اِذْقَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ انِّیْ بَرِیءٌ مِّنْکَ اِنِّیْ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ العَالَمِیْنَ ) (سورہ ۵۹ ۔آیت ۱۶)
"(منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہا کہ کافر ہو جاؤ، پھر جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں۔ میں سارے جہاں کے پروردگار سے ڈرتا ہوں۔"
قتل نفس
گناہ کبیرہ میں پانچواں بڑا گناہ اس شخص کا قتل ہے جس کو خداوند عالم اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان سے مارنے کا حکم نہ دیا ہو۔
قتل انسان کے گناہِ کبیرہ ہونے کی دلیل وہ مستند روایات ہیں جو اس کتاب کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ قاتل نفس محرّمہ کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے:
( وَمَںْ یَقْتُلْ مُوْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَ اُئهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِیْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَلَعَنَه وَاَعَدَّلَهُ عَذَاباً عَظِیْماً ) (سورہ ۴ ۔آیت ۹۳)
"اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالے(تو غلام کی آزادی وغیرہ اس کا کفارہ نہیں بلکہ) اس کی سزا دوزخ ہے۔ اور وہ ہمیشہ اس میں رہے گا۔ اس پر خدا نے اپنا( غضب ڈھایا ہے) اور لعنت کی ہے اور بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔"
اس آیہ شریفہ میں قتل نفس کے لیے پانچ سزائیں قرار دی گئی ہیں۔ پہلی جہنم، دوسری جہنم میں ہمیشگی، تیسری غضب خدا میں گرفتاری، چوتھی لعن خدا میں مبتلا ہونا اور پانچویں عذابِ عظیم ۔
دائمی عذاب کفار کے لیے مخصوص ہے
ہمارے مذہب کے مسلّمہ عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ کفار کے لیے ابدی عذاب مخصوص ہے۔ بایں معنی اگر کوئی شخص ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو تو وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا نہیں رہے گا اگرچہ وہ نفسِ محترم کا قاتل بھی کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسرے گناہوں میں بھی ملوّث ہو ا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آیہ مذکورہ کی کچھ توجیہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابدی عذاب کا مستحق اس وقت بنتا ہے کہ مومن کا قتل اس کے ایمان کی وجہ سے واقع ہوا ہو۔ بلاشبہ اس صورت میں قاتل کافر ہے اور ابدی عذاب کا مستحق ہے۔ چونکہ اس نے مومن کا خون بہانا حلال سمجھا۔ جبکہ مومن کو جان سے مارنا حرام ہے اور یہ حرمت ضروریات دین میں سے ایک ہے اور ضروریات دینی کا منکر کافر ہے۔
مسلمان کا خون اور مال محترم ہے
حجة الوداع کے موقع پر حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
اَیُّهَا النَّاسُ لایَحِلُّ دَمُ امْرِءٍ مُسْلِمٍ وَلَا مَالُه اِلاَّ بِطِیْبَةِ نَفْسِهِ فَلا تَظْلِمُوْا اَنْفُسَکُمْ وَلَاتَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّاراً (وسائل الشیعہ کتاب قصاص باب اوّل)
"لوگو! مسلمانوں کا خون بہانا حلال نہیں ہے۔ اسی طرح ان کی مرضی کے بغیر مال پر تصرف جائز نہیں۔ پس اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا اور میری موت کے بعد دوبارہ کفر کی طرف نہ پلٹنا۔
دوسری توجیہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ اس آیہ شریفہ میں خلود سے مراد لمبی مدت تک عذاب دینا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ گناہ گار ہمیشہ کے لیے ابدی عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔
ایک قتل تمام انسانیت کے قتل کے برابر ہے
ارشاد خداوندی ہے:
( اِنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادًا فِیْ الْاَرضِ فَکَانَمَّا قَتَلَ النّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ اَحْیَاها فَکَانَّما اَحْییٰ النَّاسَ جَمِیْعاً ) (سورہ ۵ ۔آیت ۳۲)
"اگر کوئی دوسرے کو (ناحق) قتل کر ڈالے بغیر اس کے کہ وہ قصور وار ہو یا ملک میں فساد پھیلا دیاہے جیسے لٹیرے، زانی(محصنہ)، شوہردار عورت کے ساتھ بد فعلی کرنا وغیرہ، جن کو جان سے مارنا جائز ہے تو گویا اس سے سب لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک آدمی کو زندہ کر دیا گویا اس نے سب آدمیوں کو زندہ کر دیا۔
چونکہ حقیقت میں تمام مومنین آدم کے بیٹے اور ایک ہی نفس کا حکم رکھتے ہیں ۔ قاتل نے لوگوں کے درمیان قتل جیسی بُری چیز کی تعلیم دی ہے اور سب کو قتل پر اُکسایا ہے۔
خود کشی بھی قتل کے برابر ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَلَاتَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ط اِنَّ اللّٰهَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً وَمَنْ یَفْعَلَ ذٰلِکَ عُدْوَناً وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَاراً ط وَکَانَ ذٰلکَ عَلٰی اللّٰهِ یَسِیْراً ) (سورہ ۴ ۔آیت ۲۹)
"تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو کیونکہ خدا ضرور تمہارے حال پر مہربان ہے۔ (قتل نفس سے اس لیے منع کیا گیا ہے کیونکہ تمام مومنین ایک نفس کا حکم رکھتے ہیں۔ لہٰذا فرمایا کہ تم اپنی جانوں کو مت مارو)۔ دوسری عبارت میں تم اپنے آپ کو بتوں پر قربان نہ کرو یا غیظ و غضب کے وقت خودکشی نہ کرو۔ اور جو شخص ظلم و جور سے ایسا کرے گا تو (یاد رکھو)ہم بہت جلد اس کو آگ میں جھونک دیں گے۔ اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے۔"
تمام لوگوں کو زندہ کرنے کے برابر
ارشاد ربانی ہے:
( وَمَنْ اَحْیَاها فَکَانَّمَا اَحْیَیٰ النَّاسَ جَمِیْعًا )
"اور جس نے ایک آدمی کو زندہ کیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ کر دیا۔"
چنانچہ اگر کوئی کسی نفس محترم کی بقا کا سبب بنے جیسے کہ عفو کرے یا قصاص چھوڑ دے یا انتقام سے اپنے آپ کو باز رکھے یا کسی کو ہلاکت سے نجات دے یا دلائے تو یہ سب لوگوں کو نجات دینے کے برابر ہے اور وہ شخص اسی قدر ثواب کا مستحق بھی قرار پائے گا۔
بعبارت دیگر قتل نفس پروردگارِ عالم کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے اور قاتل کے لیے سخت ترین عذاب کا وعدہ ہے۔ اسی طرح کسی نفس محترم کی حمایت و حفاظت بھی سب سے بڑی عبادت ہے۔
قاتل مسلمانی کی حالت میں نہیں مرت
کسی کا قتل گناہ کبیرہ ہونے کے بارے میں احادیث کی طرف اشارہ ہوتا ہے:
عَنْ اَبِیْ عَبْدِاللّٰهِ فِی رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلاً مُومناً؟ قَالَ عَلَیْهِ السَّلامُ یُقالُ لَه مِتْ اَیَّ مَیْتَةِ اِنْ شِٴْتَ یَهُوْدِیَّا وَاِنْ شِئَتَ نَصْرَانِیّاً وَّاِنْ شِئْتَ مَجُوْسِیّاً (کافی)
"حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے کسی مرد مومن کے قاتل کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ قاتل کے مرتے وقت اس سے کہا جاتا ہے کہ جس حالت میں مرنا چاہو، مر جانا۔ اگر تم چاہو یہودی بن کر یا مسیحی کی موت مرو، یا مجوسی کی موت مرو۔"
دوسری حدیث:
لَایَزالُ الْمُومِنُ فِیْ فسحَةٍ مِنْ دِیْنِهِ مَالَمْ یُصِبْ دَمَّا حَرَاماً وََقَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ لَایُوَفَقِ قَاتِلُ الْمُومِنُ مِتَعَمِّداً لِلَتَّوْبَةِ (الوسائل کتاب قصاص۔ ص ۴۶۲)
"مومن اپنے دین کی وسیع فضا میں آزاد ہوتا ہے جب تک کسی کے حرام خون سے اپنے ہاتھوں کونہ رنگا ہو۔" مزید فرمایا: "جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرنے والے کو توبہ و انابہ نصیب نہیں ہوتی۔"
قتل کے شرکاء بھی قاتل ہیں
تیسری حدیث بھی امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ جناب رسول خدا سے عرض کیا گیا کہ ایک شخص مسلمان مارا گیا ہے اور اس کی لاش گلی میں پڑی ہوئی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اصحاب وہاں پہنچے تو سوال کیا : اس کا قاتل کون ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہمیں معلوم نہیں۔ آپ نے تعجب کے ساتھ فرمایا : کوئی مقتول مسلمانوں کے درمیان پڑا ہو اور اس کے قاتل کا کسی کو پتہ نہ ہو۔ اس خدا کی قسم جس نے مجھے پیغمبری کے لیے منتخب فرمایا، اگر تمام آسمان اور زمین میں رہنے والے ایک مسلمان کے خون میں شریک ہو جائیں اور اس سے سب خوش ہوں تو ضرور اللہ تعالیٰ ان سے کو بلا تفریق عذاب میں مبتلا کرے گا اور جہنم میں ڈال دے گا۔
اس حدیث سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ قاتل اور شرکاءِ قتل کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں کسی کو پیش کریں گے ۔ اس کے ساتھ تھوڑا ساخون ہو گا(جتنا کہ حجامت سے نکلتا ہے)۔ وہ شخص کہے گا خدا کی قسم میں نے کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے قتل میں شریک ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا درست ہے لیکن کسی ایک دن تم نے میرے مومن بندے کا ذکر کیا اور یہی ذکر اُس کے قتل کا سبب بنا اس لیے اس کا خون تمہارے ذمے ہے۔
حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ اگر کوئی مشرق میں مارا جائے اور مغرب میں رہنے والا اس قتل پر راضی ہو جائے تو گویا وہ اس قتل میں شریک ہے۔
لَکَانَ الرَّاضِیْ عِنْدَ اللّٰهِ شَرِیْکُ الْقَاتِلِ (وسائل باب ۵ ص ۴۹۱)
حمل گرانا بھی حرام ہے
جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو اس کو کسی طریقہ سے ضائع کرنا یا مارنا حرام ہے۔ ایسی صورت میں مثل قاتل دیہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
جنین(ناقص الخلقت بچہ) اور بڑے آدمی میں کوئی فرق نہیں۔ اگر چہ مارنے والے اس کے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔ جیسے ماں ایسی دوائی استعمال کرے جو حمل ساقط ہونے کا سبب بن جائے تو اس صورت میں اُن تمام سزاؤں کی مستحق ہو گی جو قاتل کے لیے معین ہیں۔ یعنی کسی نفس محترم کے قتل پر ایک ہزار مثقال سونا ادا کرنا واجب ہے۔
قاتل اگرچہ ماں باپ ہی ہوں پھر بھی اس دیہ سے ارث نہیں ملتی بلکہ ان کے سوا دوسرے ورثاء اس دیہ کے حق دار ہوں گے۔
عمداً نطفہ ضایع کرنا حرام ہے
مذکورہ بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دین اسلام کی شرعِ اقدس کس قدر انسانی زندگی اور اسکی حیات کی اہمیت کی قائل ہے۔کسی دوسرے موضوع کے بارے میں اس قدر تاکید و سفارش نہیں فرمائی جتنی نفس محترم کے لیے فرمائی ہے۔
یہاں تک کہ تکوینِ انسانی کا مادہ یعنی نطفہ رحم مادر میں ٹھہرنے کے بعد ضائع کرنا حرام قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے دیہ بھی مقرر کر دیا ہے۔ جس کی تفصیل یوں ہے:
اگر نطفہ ضائع کیا گیا ہے تو ساٹھ مثقال سونا،اگر ہڈی پید اہو گئی تھی تو اسی مثقال سونا،اگر جنین (رحم مادر میں نا تمام بچہ) کے گوشت و اعضاء نمودار ہو گئے تھے لیکن روح داخل نہیں ہوئی تو سو مثقال سونا، اگر روح داخل ہوگئی تھی اور وہ لڑکا تھا تو ہزار مثقال سونا، اور لڑکی تھی تو پانچ سو مثقال سونا۔
اگر حاملہ عورت مر جائے تو اس کا پیٹ چاک (آپریشن) کر کے بچے کا نکالناواجب اور غفلت برتنا حرام ہے۔
اگر تاخیر کی بنا پر بچہ ضائع ہو جائے تو جس کی غفلت سے بچہ ضائع ہوا، اس پر دیہ واجب ہے۔
قتل کی توبہ
اگر کوئی جان بوجھ کر کسی نفس کو قتل کرے اور اس کے بعد توبہ کرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ اپنے آپ کو مقتول کے ولی کے حوالے کرے۔ مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ قاتل سے قصاص لیں یا دیہ(خون بہا) لے لیں یا معاف کر دیں۔
معاف کرنے کی صورت میں یعنی اسے قتل نہ کریں تو قاتل پرتین چیزیں واجب ہوتی ہیں: ( ۱) ایک بندہ راہِ خدا میں آزاد کرے ( ۲) ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کے کھانا کھلائے ( ۳) ساٹھ روزے متواتر رکھے۔
اگر بندہ آزاد کرنا دسترس میں نہ ہو تو باقی دو کفارے ساقط نہیں ہوتے۔
اتفاقی اور خطائی قتل
غلطی سے کسی کو قتل کرنے کی صورت میں بھی مقتول کے سرپرستوں کو دیہ ادا کرنا واجب ہے لیکن اس صورت میں جبکہ مقتول کے ولی اسے معاف کردیں۔
اس کے علاوہ مذکورہ طریقے پر بندہ آزاد کرنا، فقیروں کو کھانا کھلانا اور ساٹھ روزے رکھنا بالترتیب واجب ہے۔
اسی طرح کسی کے اعضائے بدن کو کاٹنا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ تفصیل کے خواہشمند فقہی کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔
والد ین کا عاق کرنا
گناہان کبیرہ میں سے چھٹا گناہ کبیرہ ماں باپ کا عاق ہے۔ چنانچہ حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور بعض آئمہ اطہار (علیہم السلام) سے روایت ملتی ہے کہ والدین کا عاق بڑے گناہوں میں سے ہے۔ جیسا کہ اس کتاب کے شروع میں تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔ بلکہ حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقول ہے کہ تمام گناہان کبیرہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک قرار دینا اور والدین کا عاق ہے۔
عاق ایسا گناہ ہے جس کے لیے قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں عذاب جہنم کا وعدہ ہے۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں یوں بیان کرتا ہے:
( وَبَرّاً م بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّاراً شَقِیْاً )
"اور مجھ کو اپنی والدہ کا فرمان بردار بنایا اور الحمد للّٰلہ کہ مجھ کو سرکش نافرمان نہیں بنایا۔"(سورہ ۱۹ ۔آیت ۳۲)
چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باپ نہ تھے اس لیے ماں کا ذکر کیا گیا۔ اس سورے کی پانچویں آیت میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے ماں باپ دونوں کا ذکر ہے۔
ان آیتوں میں عاق والدین کو تین صفات سے یا د فرمایا ہے:( ۱) جبار یعنی سرکش ( ۲) شقی یعنی بد بخت ( ۳) عصی یعنی گناہ گار۔
اور ہر صفت کے لیے سخت عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے۔ چنانچہ جبار کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
( وَخَابَ کُلُّ جَبَّارِ عَنِیْدٍ مِّنْ وَّرَائِه جَهَنَّمُ وَیُسْقِیٰ مِنْ مَّآءٍ صِدِیْدٍ یَتَجَرَّعُه وَلَا بَکادُ یُسِیْغُهُ وَیََاْ تِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکانٍ وَمَاهُوَ بِمَیِْتٍ ط وَمِنْ وَّرَآئِه عَذَابٌ غَلِیْظِ )
(سورہ ۱۴ ۔آیت ۱۵ ۔ ۱۶ ۔ ۱۷)
"اور ہر ایک سرکش عداوت رکھنے والا ہلاک ہوا ۔ یہ تو دنیا کی سزا تھی اور اس کے پیچھے ہی پیچھے جہنم ہے اور اس میں اسے پیپ و لہو بھرا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا(زبردستی) اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پینا پڑے گا۔ اور اُسے حلق سے بآسانی نہ اُتار سکے گا۔ اور (وہ مصیبت ہے کہ) اسے ہر طرف موت ہی موت آتی دکھائی دیتی ہے حالانکہ وہ مارے نہ مر سکے گا اور پھر اس کے پیچھے سخت عذاب ہو گا۔"
اور شقی صفت رکھنے والے کے بارے میں فرماتا ہے:
( فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّشَهِیْقٌ خَالِدِیْنَ فِیْهَا مَادامَتِ السَّمٰواتُ وَالْاَرْضُ اِلاَّمَاشَآءَ رَبُّکَ ط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیْدُ )
(سورہ ۱۱ ۔آیت ۱۰۶،۱۰۷)
"پس جو لوگ بد بخت ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے اور اسی میں ان کی ہائے وائے اور چیخ و پکار ہو گی۔ وہ لوگ جب تک آسمان اور زمین ہے، ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ (مگر جب تمہارا پروردگار نجات دینا چاہے) بے شک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے وہ کر ہی کے رہتا ہے۔"
عصی یعنی نافرمان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
( وَمَنْ یَعْص اللّٰهِ وَرَسُوْلهُ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَه یُدْخِلقه نَاراً خَالِداً فِیْهَا وَلَه عَذَابٌ مُّهِیْنٌ )
(سورہ ۴ ۔ آیت ۱۴)
"اور جس شخص نے خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور اس کی حدود سے گزر گیا تو بس خدا اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ اور وہ اس میں ہمیشہ (اپنا کیا بھگتتا)رہے گا۔ اس کے لیے بڑا رسوائی کا عذاب ہے۔"
عاق والدین سے متعلق احادیث
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
اِیَّاکُمْ وَعُقُوْقِ الْوَلِدَیْنِ فَاِنَّ رِیْحَ الجَنَّةِ یُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَةِ اَلْفِ عَامٍ وَلَا یَجِدُ هَا عَاقٍ وَّلَاقَاطِعُ رَحِمٍ (وسائل الشیعہ)
"خبردار! والدین کی ناراضگی سے پرہیز کرو ۔ بے شک بہشت کی خوشبو ایک ہزار سال دور کے فاصلے سے سونگھ سکتا ہے لیکن ماں باپ کے عاق اور رشتہ داروں سے قطعِ تعلق کرنے والا جنت کی خوشبو محسوس نہیں کر سکے گا۔"
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہی سے روایت ہے:
مَنْ اَسْخَطَ وَالِدَیْہِ فَقَد اَسْخَطَ اللّٰہَ وَمَنْ اَغْضَبَھُمَا فَقَدْ اَغْضَبَ اللّٰہَ (مستدرک)
"جس نے اپنے والدین کو ناراض کیا تو گویا اس نے اللہ کو ناراض کیا ۔ اور جس نے ان دونوں کو غضب ناک کیا تو اس نے اللہ کو غضب ناک کیا۔"
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
مَنْ آذیٰ وَالِدَیْهِ فَقَدْآذَانِی وَمَنْ آذَانِیْ آذَیٰ اللّٰهَ وَمَنْ آذیٰ اللّٰهَ فَهُوَ مَلْعُوْنٌ ۔ (مستدرک)
"جس کسی نے اپنے والدین کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ہے اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی پس وہ ملعون ہے۔"
نیز آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے:
وَلیَعْمَل الْعَاقُ مَاشآءَ اَنْ یَعْمَلَ فَلَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ (مستدرک)
"ماں باپ کو جس نے ناراض کیا پھر وہ جتنا بھی چاہے عمل کرے بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا۔"
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
ثَلَاثَةٌ لاَّیُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَایُزَکِیْهِمْ وَلَایَنْظُرُ اِلَیْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلَیْمٌ وَهُمُ الْمُکَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَالْمُدْمِنُ لِلْخَمْرِ وَلْعَاقُ ل،وَالِدَ یْهِ
(مستدرک۔ کتاب نکاح۔ باب ۷۵)
"تین گروہوں کے ساتھ خداوند تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان پر نظر رحمت رکھے گا، نہ ان کو گناہوں سے پاک فرمائے گا اور ان کے لیے دردنات عذاب ہے۔ ان تین گروہوں میں ایک تقدیر الٰہی کو جھٹلانے والا، دوسرا ہمیشہ شراب پینے والا اور تیسرا والدین کا عاق کیا ہوا۔
ولادین کا عاق قابل مغفرت نہیں
عاق والدین کی شقاوت کے لیے یہی کافی ہے کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے اس کے حق میں بد دعا کی اور کہا:
مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْهِ وَلَمْ یُورِّ حَقَّهُمَا فَلَاغَفَرَاللّٰهُ لَهُ فَقُلْتُ آمِّیْن ۔ (بحارالانوار)
"جس نے اپنے والدین کو پایا اور ان کے حقوق ادا نہ کئے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ کرے گا۔"
اس وقت حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جبرائیل امین کی بد دعا کے بعد آمین کہا۔
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے:
مَلْعُوْنٌ مَلْعُوْنٌ مَنْ ضَرَبَ وَالِدَیْهِ، مَلْعُوْنٌ مَلْعُوْنٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَیْهِ (مستدرک)
"ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو مارا۔ ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو ناراض کیا ہو۔"
عاق والدین کی نماز قبول نہیں
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ:
مَنْ نَظَرَاِلٰی اَبَوَیْهِ نَظَرَ مَاقِتٍ وَّهُمَا ظَالِمَانِ لَه لَمْ یَقْبَلِ اللّٰهُ لَهُ صَلوٰةً (کافی)
"جو کوئی اپنے والدین کی طرف غصے سے نظر کرے گا حالانکہ والدین اولاد کے حق میں ظالم ہوں پھر بھی اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرے گا۔"
احتضار کی حالت میں ایک جوان کے لیے پیغمبر کی شفاعت
ایک جوان آخری سانسیں لے رہا تھا ۔ اسی اثناء میں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) تشریف لائے اور اس کے پاس بیٹھ کر اسے شہادتین کی تلقین فرمانے لگے۔ مگر وہ جوان کچھ نہ بول سکا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے دریافت کیا کہ کیا اس کی ماں موجود ہے؟ جوان کے سرہانے بیٹھی ہوئی ایک عورت نے کہا ، جی ہاں ، میں اس کی ماں ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کیا تم اس سے ناراض ہو؟ عورت نے عرض کیا: ہاں ، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)۔ چھ سال سے میرے اور اس کے درمیان بات چیت بند ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس کی ماں سے خواہش کی کہ اپنے بیٹے کو معاف کر دے۔
چنانچہ اس عورت نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے کہنے پر بیٹے کی غلطیوں سے درگزر کیا اور اس سے راضی ہو گئی۔ فوراً ہی وہ جوان کلمہ شہادت پڑھنے لگا۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے سوال کیا: اس وقت تم کیا دیکھ رہے ہو؟
نوجوان نے عرض کیا: اے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایک کالا مرد نہایت بد صورت و بد بودار مجھے نہیں چھوڑ رہا۔
آپ نے فرمایا،یہ دعا پڑھو:
یَامَنْ یَّقْبَلُ الْیَسِیْرَ وَیَعْفُوْعَنْ الْکَثِیرَ اقْبَلْ مِنِّیْ الْیَسِیْرَ وَاعْفُ عَنِیّ الْکَثِیْرَ ۔
حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے پوچھا، اب کیا دیکھ رہے ہو؟
نوجوان نے عرض کیا ایک سفید رنگ کا خوب صورت اور معطر مرد میری طرف بڑھ رہا ہے۔ فرمایا، اسی دعا کی تکرار کرو۔ جب دوبارہ پڑھی تو کہنے لگا:یا رسول اللہ! دونوں میری نظروں سے غائب ہو گئے ۔ اس کے بعد آنحضرت کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار نمودار ہو گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا، خداوندا! اس نوجوان کے گناہوں کے بخش دے۔ اس کے بعد جوان کی وفات ہو گئی۔(بحار الانوار)
اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ عاق والدین کی عاقبت کس قدر سخت ہے۔ وہ بے ایمانی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور ہمیشہ عذاب الٰہی میں مبتلا رہتا ہے۔ ورنہ کلمہ توحید کی تلقین کرنے والے جناب رسول خدا تھے۔ اس کے باوجود جوان کی زبان نہ کھل سکی۔ یہاں تک کہ اس کی ماں اس سے راضی نہ ہوئی۔ رسول خدا کے قدموں کی برکت اور ماں کی رضایت سے اس نوجوان کی بخشش ہو گئی۔
عاق سے کیا مراد ہے
علامہ مجلسی کتاب کافی کی شرح میں فرماتے ہیں:
الْمُرَادُ بِعُقُوْقِ الْوَالِدَیْنِ تَرْکُ الْاَدَبِ لَهُمَا وَالْاِتْیَانُ بِمَایُوْذیْهِمَا قَوْلاً وَفِعْلاً وَمُخَا لِفُتُهِما فِیْ اَغْرَضِهِمَا الْجَائِزَةِ عَقْلاً وَنَقْلاً ۔
"عاق والدین سے مراد یہ ہے کہ اولاد ان کا ادب و احترام نہ کرے۔ کسی قسم کی گفتار و رفتار سے ان کو تکلیف پہنچائے۔ ان کی ایسی خواہشات و مطالبات کی مخالفت کرے جن کا پورا کرنا عقلاً و شرعاً جائز ہو۔
عاق والدین حرام ہونے کی دلیل کتاب و سنت اور اہل تشیع و اہل تسنن کا اجماع ہے۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ "کم سے کم عاق ماں باپ کے سامنے اُف کہنا ہے۔ اگر خدا کی نگاہ میں اس سے کمتر کوئی چیز ہوتی تو اس کی مثال دے دیتا۔ والدین کی طرف تندی اور غصے سے نظر کرنا عاق کا سبب بنتا ہے۔ نیز والدین کو غمگین کرنے سے عاق ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع جن سے والدین کا ناراض ہونا یقینی ہو گناہ کبیرہ ہے۔"
والدین سے نیک کرنا واجب ہے
آیات قرآنی اور احادیثِ آئمہ طاہرین (علیہم السلام) سے استفادہ ہوتا ہے کہ والدین کی نافرمانی ان کی خاطر آزردہ کرنا اور تکلیف پہنچانا، جہاں حرام و گناہِ کبیرہ ہے وہاں ان کے حق میں احسان و نیکی کرنا اور کما حقہ‘ حق کی ادائیگی کرنا بھی واجب ہے۔ چنانچہ کچھ آیات تبرکاً ذکر کی جاتی ہیں:
( وَوَصَّینا الْاِنسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْناً ) (سورہ ۲۹ آیت ۸)
"اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ سے نیکی کرنے کا حکم دیا ہے۔"
( اَنِ اشکُرْ لِیْ وَلواَلِدَیْکَ ) (سورہ ۳۱ ۔ آیت ۱۳)
"ہم نے انسان کو تاکید کی کہ میرا شکر ادا کرے اور اپنے والدین کا بھی۔"
اس آیہ شریفہ میں اپنا شکر اور والدین کا شکر ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ بے شک بندگانِ خدا پر اس کے شکر واجب ہے۔ اسی طرح اولاد پر والدین کا شکر بھی واجب ہے۔
( وَقضیٰ رَبُّکَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاه وَبالْوَالِدَیْنِ اِحْساناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الکِبَرُ اَحَدُهُمَا اَوْکلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ وَّلَاتَنْهَرْ هُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلاً کَرِیْماً وَخْفِضْ لَهُمَا جَناحَ الذُّلّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیراً ) (سورہ ۱۷ ۔آیہ ۲۳،۲۴)
"اور تمہارے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور اپنے ماں باپ سے نیکی کرنا۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچیں اور تمہاری خدمت کی ضرورت پڑے (یا ناراض ہوں) تو خبردار ان کے جواب میں "اُف" تک نہ کہنا اور نہ جھڑکنا اور (جو کچھ کہنا سننا ہو تو) بہت ادب سے کہا کرو اور رحم دلی سے ان کے سامنے خاکساری کا پہلو جھکاؤ اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جس طرح ان دونوں نے میرے چھٹپنے میں میری پرورش کی ہے ، اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔"
یہاں آیہ مذکورہ میں خداوند عالم نے والدین کے ساتھ نیکی کو اپنی عبادت کے مترادف قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت واجب ہے، اسی طرح والدین کے ساتھ احسان کرنا بھی واجب ہے۔
حضرت صادق آل محمد (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اگر "اُف" سے چھوٹا کوئی کلمہ عربی زبان میں ہوتا تو ذکر ہوتا اور ممنوع قرار دیا جاتا۔
ابی ولاد نے آپ سے وبالوالدین احساناً کے معنی دریافت کیے تو فرمایاکہ وا لدین کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو۔ اگر ان کو کسی چیز کی ضرورت پڑے تو اظہار سے پہلے پیش کر دو۔
اس کے بعد( وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلاً کَرِیْماً ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر والدین تم کو ماریں تو تم کہو کہ اللہ آپ کی مغفرت کرے۔
پھر وَاخْفِضْ لَہھُمَا کے بارے میں پوچھا تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ تندی سے ان کی طرف نگاہ نہ کرنا ، اپنی آواز ان کی آواز سے بلند نہ کرنا ، ایک ساتھ چلتے وقت آگے نہ بڑھنا، مجالس میں ان سے پہلے جگہ نہ لینا، اپنے ہاتھ کو ان کے ہاتھوں سے بلند نہ کرنا۔
والد ین کی خدمت جہاد ہے بہتر ہے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں راہِ خدا میں جہاد کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا، پس راہ خدا میں جہاد کرو ۔ بے شک اگر تم مارے گئے تو اللہ کے نزدیک زندہ رہو گے اور رزق پاؤ گے اور اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔ اگر سلامتی کے ساتھ واپس آئے تو گناہوں سے اس طرح پاک ہوگے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شخص نے کہا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ، میرے والدین زندہ ہیں اور بڑھاپے کی حالت میں ہیں اور مجھ سے کافی انس رکھتے ہیں۔ مجھ سے جدائی ان کو پسند نہیں۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا اگر ایسا ہے تو ان کی خدمت میں ٹھہر جا۔ قسم اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، والدین سے ایک دن رات انس میں رہنا ایک سال کے مسلسل جہاد سے افضل ہے۔ یہ روایت بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقول ہے کہ فرمایا:
کُنْ بَارَاً وَّ اقْتَصِرْ عَلٰی الجَنَّة، وَاِنْ کُنْتَ عَاقاً فَاقْتَصِرْ عَلَی النَّارَِ
"والدین کے خدمت گار بن کر جنت میں مقام حاصل کر لو اور اگر والدین کے عاق ہو گئے تو جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لو۔"
والدین سے نیکی گناہوں کا کفارہ ہے
ماں باپ سے نیکی بہت سارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ، ایسا کوئی بُرا کام باقی نہیں بچا جس کا میں مرتکب نہ ہوا ہوں۔ کیا میرے لیے توبہ ہے؟ آنحضرت نے فرمایا، جاؤ، باپ کے ساتھ نیکی کرو تاکہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو ۔ جب وہ نکل گیا تو آپ نے فرمایا اگر اس کی ماں زندہ ہوتی تو اس کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔
والدین کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے:
رِضیٰ اللّٰهِ مَعَ رِضیٰ الْوَلِدَیْنِ وَسَخَطُ اللّٰهِ مَعَ سَخَطِ الْوَالِدَیْنِ (بحارالانوار)
"والدین کی رضامندی میں اللہ کی رضا ہے اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔"
آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مزید ارشاد فرمایا:
بَیْنَ الْاَنْبِیَاءِ وَالْبَارِدَرَجَةٌ وَبَیْنَ الْعَاقِ وَالْفَرَاعِنَهِ دَرَکَةُ (مستدرک)
"والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بہشت میں پیغمبروں سے صرف ایک درجہ کے فرق پر ہو گا۔ اور والدین کا عاق شدہ جہنم میں فراعنہ سے صرف ایک درجہ نیچے ہو گا۔"
والدین کے ساتھ نیکی کرنے والے کے لیے ملائکہ کی دعائیں
حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
بِرُّالوَالِدَیْن اَکْبَرُ فَرِیضَةٍ ۔
"والدین کے ساتھ نیکی کرنا واجباتِ الٰہیہ میں سب سے بڑا فریضہ ہے۔"
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کے دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے:
اللّٰهُمَّ احْفِظِ الْبارِیْنَ بِعِصْمَتِکَ (مستدرک)
"خدایا! والدین کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو (تمام برائیوں اور آفتوں) سے محفوظ رکھ۔"دوسرا فرشتہ کہتا ہے:
اللّٰهُمَّ اَهْلِکِ العَاقِیْنَ بِغَضَبکَ (مستدرک)
"خداوندا! جن لوگوں سے ان کے والدین ناراض ہیں، انہیں اپنے غضب کے ذریعہ ہلاک فرما۔"
اس میں شک نہیں کہ فرشتوں کی دعا قبول درگاہ الٰہی ہوتی ہے۔
عا ق کا دنیوی اثر
مذکورہ احادیث میں عاق والدین کے لیے آخرت کے عقوبات بیان ہوئے ہیں۔ عاق ہونا ایک ایسا گناہ ہے کہ اس کے وضعی و طبعی آثار اور ردّ عمل آخرت سے پہلے ہی اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت خاتم الانبیاء نے فرمایا:
ثَلَاثَةٌ مِّنَ الذّنُوْبِ تُعْجِّلُ عُقُوْبَتُهَا وَلَاتُوخِرُ الْآخِرَةَ عُقُوْقُ الوالِدَیْنِ وَالْبَغْی عَلٰی النَّاس وَکُفْرِ الْاِحسانِ (بحارالانوار)
"گناہوں میں تین گناہ ایسے ہیں جن کی سزا عجلت سے اس دنیا میں دی جاتی ہے اور قیامت تک تاخیرنہیں کی جاتی۔ ان میں سے پہلے والدین کا عاق ہونا، دوسرے اللہ کے بندوں پر ظلم کرنا اور تیسرے احسان پر ناشکری کرنا۔"
حضرت امام محمدباقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
صَدَقَةُ السِرِتُطْفِیْءُ غَضَب الرَّبِ وَبِرُّالْوَالِدَیْنِ وصِلَةُ الرَّحِمِ یَزیدَانِ فِیْ الْاَجَلِ
(بحارالانوار)
"مخفی طور پر صدقہ دینا پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور والدین کے ساتھ نیکی و قرابت داروں سے صلہ رحم عمر کو دراز کرتا ہے۔ "
ایک اور حدیث میں فرمایا:
البِرُّ وَصَدَقَةُ السِّرِّ یَنْفِیَانِ الفَقْرَ وَیَزِیْدَان فِیْ العُمرِ وَیَدْفَعَانَ عَںْ سَبْعِیْنَ مَیْتَةَ سُوْءٍ
(بحارالانوار)
"ماں باپ سے نیکی اور پوشیدہ خیرات کرنے سے فقر دور ہوتا ہے اور یہ دونوں عمر کو طویل کرتے ہیں اور ستر قسم کی بُری موت اس سے دور ہوتی ہے۔"
یہ بھی فرمایا کہ:
مَنْ یَضْمِنُ لِی بِرَّ الْوالِدَیْنِ وَصِلَةَ الرَّحِمِ اَضْمِنُُ لَه کَثْرَة الْمَالِ وَزِیَارَةَ الْعُمَر وَالْمَحَبَّةَ فِی العَشِیْرَة (مستدرک)
"جو کوئی مجھے یہ ضمانت دے کہ والدین سے نیکی اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے گا تو میں بھی اسے کثرت مال اور درازی عمر کے علاوہ اپنے قبیلہ میں محبوب بننے کی ضمانت دوں گا۔"
حضرت امام نقی (علیہ السلام) نے فرمایا:
اَلعُقُوْقُ یُعْقِّبُ الْقِلَّةَ وَیُودِّیْ اِلٰی الذِلَّةِ
"والدین کی ناراضگی سے (روزی کی) کمی اور ذلت پیچھا کرتی ہے۔"
عاقِ والدین گدائی و بد نصیبی کا سبب بنتا ہے
مدینہ منورہ کے ایک دولت مند جوان کے ضعیف ماں باپ زندہ تھے۔ وہ جوان ان کے ساتھ کسی قسم کی نیکی نہیں کرتا تھا اور انہیں اپنی دولت سے محروم کیے ہوئے تھا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس جوان سے اس کا سب مال و دولت چھین لیا۔ وہ ناداری ، تنگ دستی اور بیماری میں مبتلا ہو گیا اور مجبوری و پریشانی انتہا کو پہنچ گئی۔
جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا جو کوئی ماں باپ کو تکلیف پہنچاتا ہے اُسے اس جوان سے عبرت حاصل کر نی چاہیئے۔
دیکھو ! اس دنیا میں اس سے مال ودولت واپس لے لی گئی ، اس کی ثروت و بے نیازی فقیری میں اور صحت بیماری میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح جو درجہ اس کو بہشت میں حاصل ہونا تھا ، وہ ان گناہوں کے سبب اُس سے محروم ہو گیا۔ اس کی بجائے آتشِ جہنم اس کے لیے تیار کی گئی ۔ (سفینة البحار)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت یو سف (علیہ السلام) سے ملاقات کرنے مصر تشریف لائے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی ظاہری سلطنت اور شان و شوکت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے والد بزرگوار کے احترام کے لیے اپنی سواری سے نیچے نہیں اُترے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنا ہاتھ کھو لیے، آپ (علیہ السلام) نے جب ہاتھ کھولا تو اس سے ایک روشنی نکلی اور آسمان کی طرف بلند ہوئی۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دریافت کیا یہ نور جو میرے ہاتھ سے نکلا اور آسمان کی جانب چلا گیا ، یہ کیا تھا؟
جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا ، نبوت کا نور آپ (علیہ السلام) کے صلب سے باہر نکل گیا۔ کیونکہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے والد کا احترام بجا نہیں لایا تھا اس لیے آپ (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے کسی کو پیغمبری نہیں ملے گی۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد بزرگوار کے احترام میں سواری سے نیچے نہیں اُترے لیکن یہ تکبّر اور بے اعتنائی کی وجہ سے نہیں تھا۔ کیونکہ انبیائے کرام (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں۔ البتہ اپنی سلطنت اور شان و شوکت کا اعلیٰ مقام برقرار رکھنے اور رعایا پر رُعب و دبدبہ بٹھانے کی خاطر تھا۔
عاق والد ین کا بُرا انجام
عاق والدین کے وضعی آثار میں سے ایک اثر بُرا انجام ہے۔ اس کے بر عکس والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے عاقبت سنور جاتی ہے۔ جیسا کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّخَفِّفَ اللّٰهُ عَنْه سَکَرَاتَ الْمَوْتِ فَلَیْکُنْ لِقَرَابَتِهِ وَصُوْلاً وَّلوَالِدَیْهِ بَارّاً فَاِذَا کَانَ کَذٰلِکَ هَوَّنَ اللّٰهُ عَلَیْهِ سَکَرَاتَ الْمَوْتِ وَلَمْ یَصبَهُ فِیْ حیٰوتهٍ فَقْرٌ اَبَداً (سفینة البحار جلد ۲ ص ۶۸۷)
"جس کی خواہش ہو کہ جان کنی کی کیفیت اس پر آسان ہو جائے، اسے اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحم اور والدین کے ساتھ نیکی بجا لانا چاہیئے۔ جب کوئی ایسا کرے گا تو خداوند عالم موت کی سختیاں اس پر آسان کر دے گااور وہ شخص زندگی بھر کسی پریشانی و تنگ دستی میں نہ ہوگا۔"
والدین کی دعا جلد مستجاب ہوتی ہے
ماں باپ اولاد کے حسن سلوک کے یا بد سلوکی کے نتیجے میں جو بھی دعا کرتے ہیں، وہ بارگاہِ الٰہی میں ضرور قبول ہوتی ہے۔ اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ اس سلسلے کی ایک روایت دعائے مشلول کی فضیلت میں نقل ہوئی ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک نوجوان کا اپنے باپ کی بد دعا کے نتیجے میں سیدھا ہاتھ بے کار ہو گیاتھا۔ وہ نوجوان باپ کی وفات کے بعد متواتر تین سال مسجد الحرام میں ساری رات بارگاہِ رب العزت میں گڑ گڑا کر دعائیں کرتا تھا۔ ایک دن مولائے متقیان حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کو اس نوجوان پر ترس آیا۔ چنانچہ آپ نے اُسے دعائے مشلول تعلیم فرمائی۔ اور وہ نوجوان اس دعا کی برکت سے شفا یاب ہو گیا۔
ماں حسنِ سلوک کی سب سے زیادہ سزا وار ہے
ماں کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ چنانچہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ماں کے ساتھ اچھے برتاؤ کے سلسلے میں تین مرتبہ تکراراً حکم دیا ہے اور چوتھی مرتبہ باپ سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے دریافت کیا گیا کہ والدین میں کس کا حق زیادہ ہے؟
آپ نے فرمایا:
کیا ماں وہی ہستی نہیں ہے جس نے مدتوں تجھے اپنے رحم میں اٹھائے رکھا اور اس کے بعد وضعِ حمل کی سختیاں برداشت کیں؟ پھر اپنی چھاتی سے تیرے لیے غذا مہیا کی۔ پس ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔ (مستدرک ۶۲۸)
ماں باپ کے حقوق
کسی نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے سوال کیا کہ باپ کا کیا حق ہے؟ فرمایا، جب تک وہ زندہ ہے اس کی اطاعت کرنا، پھر پوچھا کہ ماں کا کیا حق ہے؟فرمایا، اگر صحراؤں میں ریت کے ذرات کے برابر اور بارش کے قطرات کی مقدار میں بھی اگر ماں کی خدمت سرانجام دی جائے تو پھر بھی شکم مادر میں ایک دن بھی رہنے کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ (مستدرک)
ایک جوان اور اس کی اپاھج ماں
روایت ہے کہ ایک آدمی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) میری ماں ہاتھ پیر سے معذور ہے۔ وہ اپنی جگہ سے خود ہل نہیں سکتی۔ میں اس کے پیٹھ پر بٹھاتا ہوں، اس کے منہ میں نوالہ دیتا ہوں، اس کی گندگی کو پاک و صاف کرتا ہوں، کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا؟
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا، نہیں۔ کیونکہ تم اس کے پیٹ میں مدتوں رہے۔ اس کے جسم سے تم کو کھانے اور پینے کی اشیاء فراہم ہوتی رہیں۔ اس کے ہاتھ پیر مسلسل تمہاری حفاظت کے لیے استعمال ہوئے ۔ ان زحمات کے باوجود یہ تمہاری درازی عمر کے لیے تمنا کرتی رہی۔ لیکن تم ہو کہ آرزو رکھتے ہو کہ وہ دنیا سے رخصت ہو جائے تا کہ تم کو اس کی فکر سے آزادی مل جائے۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ماں کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم مستحبّی نماز پڑھ رہے ہو اور اسی اثناء میں باپ نے تم کو بلایا تو نماز قطع نہ کرنا، لیکن ماں اگر بلائے تو تم نماز چھوڑ دو۔
جی ہاں، ماں کی عظمت و عزت بہت زیادہ ہے۔ جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء نے ارشاد فرمایا:
الْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّهاتِ
"بہشت کی تلاش میں دور جانے کی ضرورت نہیں، بہشت تو ماؤں کے قدموں تلے موجود ہے۔"
والدین مسلمان ہوں یا کافر، ان کے ساتھ نیکی کرو
والدین مومن و عبادت گزار ہوں یا کافر و خطا کار، بلا تفریق ان کے حق میں نیکی کرنا واجب ہے اور ان کا عاق ہونا حرام ہے۔ چنانچہ سورہ لقمان کی پندرہویں آیت میں ارشاد ہو تا ہے:
وَاِنْ جَاهَداکَ عَلٰی اَن تُشْرِکَ بِی مَالَیْسَ لَکَ بِهِ عِلِمٌ فَلا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفاً ۔
"اگر تیرے ماں باپ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرا شریک ایسی چیز کو قرار دے، جس کا تجھے کچھ علم نہیں ، تو ان کی اطاعت نہ کر، (مگر ان کو تکلیف نہ پہنچانا) اور دنیا کے کاموں میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا جو کہ شرعِ مطہر کی نظر میں پسندیدہ اور مقتضائے رحم و کرم ہو۔"
سُنّی ماں باپ کے لیے دع
معمر بن خلّاد نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے پوچھا اگر میرے ماں باپ حق کی پیروی کرنے والے اور شیعہ نہ ہوں تو کیا پھر بھی ان کے حق میں دعا کرنا جائز ہے؟
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، ہاں۔ اگر وفات پا گئے ہوں تو ان کے حق میں دعا کرو، ان کے نام پر صدقہ دو اور اگر زندہ ہوں تو ان کی دل جوئی کرو اور خوش رکھو۔
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ بَعَثَنِیْ بِالرَّحْمَةِ لَا بِالعُقُوْقِ
"اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمةٌ للعالمین بنا کر بھیجا مگر عاق میں۔"
جناب جابر نے کہا کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے والدین حق کے مخالف ہیں۔ یعنی شیعہ اہل بیت (علیہم السلام) نہیں ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان کے حق میں ایسی ہی نیکی کرو جیسے تم ہمارے شیعوں کے ساتھ نیکی کرتے۔ (اصول کافی)
تین چیزوں میں مومن و کافر برابر ہیں
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
ثَلَاثٌ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهِ تَعَالٰی لِاَحَدٍ فِیْهِنَّ رُخْصَةٍ: اَدَاءُ الْاَمَانَةِ اِلٰی البِرَ وَالْفَاجِرِ والْوَفَاءُ بِالْعَهْدِ اِلٰی البِْرِّ وَالْفَاجِرِ وَبِرُّ الْوَالِدَیْنِ بِرَّین کاِنَا اَوْفَاجِرَیْنِ (اصول کافی)
"تین چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ (اول) امانت کی واپسی، اگر چہ مالک مومن ہو یا کافر (دوم) ایفائے عہد کرنا، معاہدہ کرنے والا خواہ مومن ہو یا کافر (سوم) والدین سے نیکی کرنا، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر ۔
حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے مامون کے نام ایک خط لکھا جس میں شریعت اسلامیہ کا ذکر تھا اور اس ضمن میں یہ مضمون بھی تحریر تھا:
وَبِرُّالْوَالِدَیْنِ وَاجِبٌ وَاِنْ کَانا مُشْرِکَیْنِ وَلاطَاعَةَ لهُمَّا فِیْ مَعْصِیةِ الخالِق (عیون الاخبار الرضا)
"والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے اگر چہ دونوں مشرک ہی ہوں۔ البتہ والدین کی اطاعت واجب نہیں جبکہ خالق کی نافرمانی کا سبب بنے۔"
زکریا بن ابراہیم کو صادق آل محمد کی نصیحت
ابراہیم کا بیٹا زکریا نصرانی تھا، بعد میں مسلمان ہو گیا اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت سے مشرف ہوا تو اس نے عرض کی کہ میری ماں نصرانی و نابینا ہے، وہ بڑھاپے کی حالت میں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، ماں کی خدمت کرو اور اچھے طریقے سے پیش آؤ۔
مرنے پر اس کا جنازہ دوسروں کے حوالے نہ کرنا، بذات خود تجہیز و تکفین کا کام انجام دینا۔ اس جملے میں بعد ہونے والی دو پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا، ایک اس کی ماں کی وفات اور دوسرا اس کا مسلمان ہونا۔
زکریا جب واپس کوفہ پہنچا تو والدہ کے ساتھ بہت ہی ہمدردی و مہر بانی سے پیش آنے لگا۔ یہاں تک کہ نوالے اس کے منہ میں رکھتا، کپڑے تبدیل کرتا، نہلاتا و دھلاتا تھا۔ مختصر یہ کہ ہر ممکن خدمات انجام دیتا رہا۔
ماں نے پوچھا، بیٹا، جس وقت تم نصرانی تھے اس قدر میری خدمت نہیں کرتے تھے۔ اب کیا وجہ ہے کہ دن رات میری خدمت کرتے ہو؟
زکریا نے جواب دیا : اے میری ماں، میرا ایک مولا ہے، وہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا فرزند ہے۔ اس نے مجھے اس طرح تیری خدمت انجام دینے کی نصیحت کی ہے۔
ماں نے پوچھا، کیا وہ پیغمبر ہے؟
زکریا نے کہا، نہیں۔ بلکہ وہ فرزند پیغمبر ہے۔
ماں نے کہا، اے بیٹا، ایسا شخص پیغمبر ہونا چاہیئے۔ کیونکہ ایسی نصیحتیں اور احکامات انبیاء کرام (علیہم السلام) ہی دیتے ہیں۔
زکریا نے کہا، پیغمبر اسلام حضرت محمد بن عبد اللہ پر سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے۔ وہ خاتم الانبیاء ہیں۔ لیکن مجھے نصیحت کرنے والے فرزند رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہیں۔
اس کی ماں بے ساختہ کہہ اٹھی کہ اے بیٹا، یہ دین اسلام تمام ادیان سے بہتر ہے۔ جسے تو اپنایا ہے۔ وہ مجھے بھی تعلیم دے تاکہ میں بھی مسلمان ہو جاؤں۔
پس زکریا نے اسے شہادتین اور تمام عقائد حقہ کی تعلیم دی۔ اس کے بعد اس عورت نے نماز ظہرین و مغربین ادا کی۔ اسی شب اس پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اپنے بیٹے سے کہنے لگی، بیٹا، جو کچھ تم نے مجھے تعلیمات دی تھیں، ان کی دوبارہ تکرار کرو۔ زکریا نے تکرار شروع کی، وہ عورت سنتی رہی اور اسی حالت میں رحلت کر گئی۔
والد ین سے زند گی اور موت کے بعد نیکی کرنا
والدین کی نافرمانی کرنا حرام اور ان کے ساتھ نیکی کرنا واجب ہے، چاہے وہ زندہ ہو ں یا مر گئے ہوں۔ بعبارت دیگر ، ان کی موت کے بعد بھی اولاد کے ذمے ان کے حقوق باقی رہتے ہیں۔
اگر والدین کی موت کے بعد اولاد ان کو فراموش کردے، ان کے لیے کارِ خیر بجا نہ لائے تو اس صورت میں اولاد عاقِ والدین شمار ہوگی۔ اگرچہ ان کی زندگی میں حقوق ادا بھی کیے ہوں اور مرتے وقت تک ان کی خدمت سرانجام دی ہو۔
مرنے کے بعد والدین کے حقوق
اول) ایسے واجبات کا ادا کرنا جو انہوں نے اپنی حیات میں انجام نہ دیئے ہوں۔ مثلاً نماز، روزہ، حج اور قرضے وغیرہ
دوم) ان کی وصیت پر عمل کرنا
سوم) ان کی مغفرت و بخشش کے لیے مختلف اعمال بجالانا چاہیئے۔ ان کی طرف سے صدقہ دینا، کارِ خیر انجام دینا، مستحب اعمال بجا لانا، مختصر یہ کہ جتنا ممکن ہو مادّی و معنوی تحائف اور ہدیے ان کو بھیجنے چاہیئیں۔
والدین کے عقوق ان کی وفات کے بعد
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے:
اِنَّ الْعَبْدَ لیَکُوْنُ بَارّاً لِوَالِدَیْهِ فِی حَیوٰتِهِمَا ثُمَّ یُموْتَانِ فَلَا یَقٓضِیْ عَنْهُمَا دَیْنُهمَا وَلَا یَسْتَغفِرُلَهُمَا فَیَکْتُبُهُ اللّٰهُ عَاقاً وَاِنَّهُ لَیْکُوْنُ عَاقاً لَّهُمَا فِیْ حَیٰوتِهِمَا وَغَیْرُ بَارٍّم بهُمَا فَاِذا مَاتَا قَضیٰ دَیْنَهُمَا وَاسْتَغْفَرَ لَهُمَا فَیْکُتبُهُ اللّٰهُ بارّاً ۔ (اصول کافی)
"بے شک اگر ایک بندہ والدین کی زندگی میں تو نیک رہے اور جب وہ دونوں مر جائیں تو وہ اُنہیں بھول جائے، ان کے قرض ادا نہ کرے، اور نہ ہی ان کے لیے مغفرت و رحمت طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں عاق والدین لکھے گا۔ اور دوسرا بندہ ماں باپ کی زندگی میں تو عاق رہے مگر ان کی موت کے بعد ان کے قرضے ادا کرے اور ان کے لیے مغفرت و بخشش طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کا نام والدین کے ساتھ نیکی کرنے والوں کی فہرست میں لکھے گا۔"
عمل ایک ، ثواب متعدد
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز کی مشکل درپیش ہے کہ والدین کی حیات و موت میں ان کی خدمت نہیں کرتے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) پہلے والدین کے مرنے کے بعد نیکی کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ان کی نماز پڑھو(یعنی ان کی قضا نمازیں خود یا اُجرت دے کر پڑھوائیں، اگر ان کے ذمے قضا نماز نہ ہو تو نوافل خود پڑھے یا اُجرت دے کے پڑھوائے)، ان کی طرف سے صدقہ دو، ان کے قضا روزے رکھو اور حج ادا کرو۔ تم جو کچھ عمل بجا لاؤ گے اس کا ثواب دونوں کو ملے گا۔
اس کے علاوہ والدین کے حق میں نیکی کرنے کا صلہ دو گنا عطا ہو گا۔ ایک اصل عمل بجا لانے کے سلسلے میں ، دوسرا والدین کے حق میں نیکی کرنے کے صلے میں۔
والدین کے لیے دعا و استغفار
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے دریافت کیا کہ کیا والدین کے مرنے کے بعد بھی میرے ذمے ان کے کچھ حقوق باقی رہتے ہیں؟
قَالَ نَعَمْ، الصَّلوٰةُ عَلَیْهِمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَاِکْرَامُ صَدِیْقِهِمَا وَصِلَةُ رَحِمِهُمَا (کافی)
"فرمایا، ہاں۔ ان کے لیے نماز پڑھو اور استغفار کرو اور ان کے دوستوں کا احترام کرو، ان کے رشتہ داروں سے حسن سلوک رکھو۔"
اطاعت والدین واجب ہونے کے مواقع
والدین کے امر و نہی واجبات عینی اور محرماتِ الٰہی کے مقابل کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ مثلاً والدین اگر اولاد کو شراب پینے کا حکم دیں یا اُس کو واجب نماز روزے سے روکیں تو ایسی صورت میں والدین کی اطاعت ممنوع ہے۔ چنانچہ سورہ لقمان کی پندرھویں آیت میں اس کی تصریح فرمائی ہے:
( وَاِنْ جَاهَدَکَ عَلٰى اَنْ یُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِه عِلْمٌ فَلَا تُعِطهُمَا ) ۔
"اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اس بات پر مجبور کریں کہ تم میرا شریک کسی ایسی چیز کو قرار دو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں، تو تم ان کی اطاعت نہ کرنا۔"
یہ حدیث شریف اس آیت کریمہ کی تائید کرتی ہے:
لَاطَاعَةَ لِمَخلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَةِ الْخَالِقِ (بحارالانوار)
"مخلوق کی اطاعت جائز نہیں جبکہ اس میں خالق کی نافرمانی ہو۔"
ان دو صورتوں کے علاوہ تمام مستحبات و مکروہات اور مباحات بلکہ وجوب کفائی انجام دینے کی صورت میں والدین کی رضایت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اگر یہ عمل والدین کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا تکلیف کا موجب ہوں تو ان کی مخالفت کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اس اسی مخالفت کو عاق کہتے ہیں۔ مثلاً بیٹا غیر واجب سفرپر جانا چاہتا ہو لیکن والدین جانی و مالی ضرر کے اندیشے سے یا اس کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر جدائی کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اسے سفر پر جانے سے منع کریں اور بیٹا منع کرنے کے باوجود سفر پر جائے تو اس صورت میں معصیت کا سفر ہوگا اور حرام ہوگا۔ ایسے سفر میں نماز و روزہ قضا نہیں ہو گا۔
مختصر یہ کہ ہر وہ مخالفت جو والدین کی ناراضگی ، رنجش اور اذیت کا سبب بن جائے، حرام ہے۔مگر یہ کہ ان کی اطاعت اولاد کے لیے ناقابل برداشت ہو یا دینی و دنیوی ضرر کا موجب ہو۔ مثلاً والدین اولاد کو شادی کرنے سے منع کریں، جبکہ شادی کے بغیر زندگی گزارنا دشوار ہو یا عسر و حرج در پیش ہوتا ہو یا یہ کہ والدین بیٹے سے کہیں کہ بیوی کو طلاق دے دو جبکہ یہ حکم دونوں میاں بیوی کے لیے نقصان کا باعث ہو۔ ایسی صورت میں والدین کی اطاعت واجب نہیں لیکن ایسے امور جن میں والدین مخالفت کے باوجود ناراض نہ ہوتے ہوں اور ان کو کوئی تکلیف بھی نہ پہنچتی ہو، ایسے موقعوں پر مخالفت کا حرام ہونا یا اطاعت کا واجب ہونا میرے علم میں نہیں ہے۔
بہتر ہے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ تا حد امکان ان اوامر کو بجا لائیں اور مخالفت سے پرہیز کریں۔ خصوصاً جبکہ والدین اولاد کی مصلحت ملحوظ خاطر رکھ کر امر و نہی کریں اور اس میں ان کی ذاتی غرض نہ ہو۔
والدین کے امرو نہی میں تضاد
جب کبھی والدین کے احکام میں تضاد واقع ہو جائے مثلاً باپ کہے کہ فلاں کام کرو، ماں کہے کہ وہ کام نہ کرو تو ایسی صورت میں کوشش کی جائے کہ دونوں کو راضی رکھا جا سکے اور اگر کوئی دونوں کو راضی نہ کر سکے تو ماں کی خوشنودی کو ترجیح دے۔ چونکہ ابتدائے خلقت میں باپ سے پہلے ماں کے حقوق انسان پر عائد ہوتے ہیں کیونکہ ماں زیادہ تکالیف سہتی ہے خصوصاً ایّامِ حمل، وضعِ حمل اور دودھ پلانے کی زحمات ماں ہی برداشت کرتی ہے۔ ماں اس لیے بھی زیادہ نیکی کا استحقاق رکھتی ہے کہ عورت پیدائشی طور پر مرد کی نسبت نازک مزاج ہوئی ہے۔ وہ اولاد کی معمولی سی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ جاتی ہے، بیتاب ہو جاتی ہے مامتا اُسے بے قابو کر دیتی ہے۔
اس کے برعکس باپ کی عقل و ہوش مضبوط اور مزاج سنجیدہ ہوتا ہے وہ اولاد کی تکلیف سے کم متاثر ہوتا ہے۔ باپ احساس کر لیتا ہے کہ بیٹا میری مخالفت ذاتی دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ ماں کی خاطر داری کی بنا پر کر رہا ہے۔ اس لیے وہ مخالفت سے ناراض نہیں ہوتا۔
والدین کی اجازت لازم ہے
شر ع مقدس ا سلام میں یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ کچھ امور میں اولاد ماں باپ دونوں سے یا کسی ایک سے اجازت حاصل کرے۔ جیسے وجوبِ کفائی مثلاًجہاد یا مستحبات مثلاً مستحبّی روزہ یا بعض عقود مثلاً عہد، قسم اور نذر بجا لانے میں ان سے اجازت لینا چاہیئے۔
شہیدِ اول نے کتاب قواعد میں حقوق والدین بیان فرماتے ہوئے دن عنوانات ترتیب دیئے ہیں۔اختتام انہیں عناوین پر زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔
اولاد کے سفر کے متعلق قول شہید
۱) مباح اور مستحب سفر والدین کے اذن کے بغیر حرام ہے لیکن تجارت کا سفر جس سے فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو یا تحصیلِ علم کے لیے سفر کرنا، جبکہ جس جگہ والدین رہتے ہیں، ممکن نہ ہو ، ایسی صورت میں بعض فقہاء سفر جائز سمجھتے ہیں۔
۲) بعض فقہاء قائل ہیں کہ بیٹے پر ہر جگہ اور ہر حالت میں والدین کی اطاعت واجب ہے اگر چہ اس میں شک و شبہ بھی ہو۔ پس اگر والدین حکم کریں کہ ہمارے ساتھ غذا تناول کرو اور بیٹا غذا میں شبہ کی نظر رکھتا ہو ، پھر بھی واجب ہے کہ اطاعت بجا لائے اور ان کے ساتھ کھانا کھائے۔ کیونکہ والدین کی اطاعت بجا لانا واجب ہے اور شبہات چھوڑنا مستحب ہے۔
۳) جبکہ نماز کا وقت داخل ہو اور والدین کسی کام کی انجام دہی کے لیے حکم دیں تو اطاعتِ والدین کو مقدم سمجھیں چونکہ اوّل وقت میں نماز پڑھنا مستحب ہے اور اطاعتِ والدین واجب ہے۔
(جو سفر ماں باپ کی تکلیف کا باعث ہو، حرام ہے اور انسان کو اس سفر میں نماز پوری پڑھنا پڑے گی اور روزہ بھی رکھنا ہو گا۔ اگر اولاد ماں باپ کے روکنے کے باوجود سفر کرے جبکہ وہ سفر ان پر واجب ہو ۔ البتہ حج واجب کا سفر ہے تو نماز قصر پڑھے۔ دیکھو توضیح المسائل امام خمینی مسئلہ ۱۲۹۲ - ۱۲۹۱ ، الخوئی مسئلہ ۱۳۰۵ - ۱۳۰۴ ) ( مترجم)
نماز جماعت سے منع کرنا
۴) اقرب یہ ہے کہ والدین اپنے فرزند کو نماز ِباجماعت میں شرکت سے منع نہیں کرسکتے۔ مگر جبکہ بیٹے کی جماعت میں شرکت ان کے لیے تکلیف کا باعث بن جائے۔ مثلاً بیٹا نمازِ عشاء یا نمازِ فجر جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد جائے تو والدین کو خوف محسوس ہوتا ہو اپنے جان و مال کا یاپھر خود اولاد کی جان کا۔
۵) اس صورت میں جبکہ جہاد کے لیے سفر کرنا فرزند پر واجب ِ عینی نہ ہو تو والدین اس سفر سے منع کر سکتے ہیں۔
۶) واجباتِ کفائی میں والدین اولاد کو صرف اُسی صورت میں روک سکتے ہیں جبکہ دوسرے افراد کے ذریعے اسے انجام دینے کا گمان یا یقین حاصل ہو جائے۔ اس صورت میں والدین تمام واجباتِ کفائی سے بیٹے یا بیٹی کو روک سکتے ہیں۔
۷) بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اگر مستحبّی نماز میں مشغول ہو اور والدین اس کو بلائیں تو وہ نماز توڑ سکتا ہے۔
۸) باپ کے اذن نہ دینے کی صورت میں مستحبّی روزہ ترک کر دینا چاہیئے۔
۹) قسم اور عہد کے عقود کے بارے میں اگر والدین اجازت نہ دیں تو پھر ترک کر دینا چاہیئے۔
۱۰) اولاد پر واجب ہے کہ والدین کو کسی قسم کی تکلیف نہ دے یا کوئی دوسرا تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو اپنے امکان و قوت کے مطابق ان کا دفاع کرنا چاہیئے۔
احترام والدینا
والدین کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ نہایت ادب و احترام سے پیش آنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اہل بیت اطہار (علیہم السلام) سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ مثلاً:
۱) والدین کو پکارنے کی صورت میں ان کا نام نہیں لینا چاہیئے بلکہ لقب یا کنیت وغیرہ سے یاد کرنا چاہیئے۔
۲) راستہ چلتے ہوئے والدین سے آگے نہ بڑھیں اور ان سے پہلے نہ بیٹھیں۔
۳) والدین سے قبل دستر خوان پر ہاتھ آگے نہ بڑھائیں۔
حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) اپنی والدہ گرامی کے ساتھ احتراماً کھانا تناول نہیں کرتے تھے۔ آپ (علیہ السلام) فرماتے تھے کہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں کسی نوالہ کو والدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں ہاتھ بڑھا دوں۔ اگر میں نے ایسا کیا تو گویا ان کا ادب و احترام نہ کیا۔
۴) کسی مجلس میں والدین سے منہ پھیر کر نہ بیٹھیں۔
۵) دورانِ گفتگو اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کریں۔
۶) ایسے کام نہ کریں جس سے لوگ والدین کو ملامت کریں اور ان کولعن طعن کرنے کا سبب بنیں۔ یعنی کسی کے والدین کو بُرا بھلا نہ کہیں ، نتیجتاً وہ اس کے والدین کو نازیبا کلمات کہیں گے۔
۷) حضرت سجاد (علیہ السلام) نے راستے میں ایک لڑکے کو دیکھا جو اپنے والد کے ہاتھوں کے سہارے راستہ چل رہا تھا۔چنانچہ آپ (علیہ السلام) اس لڑکے سے ناراض ہوئے اور آخر عمر تک اس سے بات چیت نہ کی۔ (کافی)
واضح رہے کہ والدین کے حق میں نیکی کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، فقہاء کے درمیان مسلمہ احسان وہ ہے جس سے والدین کی دل آزاری نہ ہوتی ہو۔ مثلاً ان کے مقررہ مصارف معیّن وقت میں ادا نہ کرنا اور مطالبہ پر مجبور کرنے کے بعد دینا،کسی تقریب میں مدعوئین کے ساتھ ان کو بھی باقاعدہ دعوت نہ دینا،کسی سفر سے واپسی پر ان کے لیے دوسروں کے ساتھ تحفہ تحائف نہ دینا۔
اس قسم کے احسانات کا ترک کرنا حرام ہے۔ البتہ ایسے امور جن سے والدین کی ناراضگی نہ ہوتی ہو، ان کی حرمت معلوم نہیں۔
البتہ آداب و احترام کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، علمائے عظام کے درمیان مسلم آداب و احترام وہی نہیں ہیں جس کے ترک کرنے کی صورت میں والدین کے دل میں رنجش پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً اہانت و تحقیر کی نیت سے والدین سے منہ پھیرنا یا پیٹھ موڑ کر بیٹھنا،ان کی آواز سے اونچی آواز میں گفتگو کرنا، راستہ چلتے ہوئے ان سے آگے نکل جانا، یہ سب حرام ہیں۔
لیکن توہین و تحقیر کے بغیر بعض اوقات احترام و آداب کو ترک کرنا جس سے والدین ناراض نہ ہوتے ہوں، اس قسم کے بے احترامی کی حرمت معلوم نہیں ، پھر بھی اس قسم کے احترامات مستحبات میں شمار کیے گئے ہیں۔
اولاد کے حقوق جو کہ والدین پر واجب ہیں
جس طرح والدین کا ادب و احترام بجا لانا اورا ن کے ساتھ احسان کرنا اولاد پر واجب ہے، اسی طرح والدین کے ذمے بھی اولاد کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں۔ ان حقوق کی رعایت کرنا ماں باپ پر واجب ہے۔اگر خیال نہ کریں تو گویا صلہ رحم منقطع کیا کیونکہ انسان کے لیے ماں باپ کے بعد قریب ترین ارحام اولاد ہیں جبکہ قطعِ رحم بہت بڑا گناہ ہے، جو کہ بعد میں ذکر ہو گا۔
چنانچہ جیسا کہ اولاد والدین کے حقوق کی مراعات نہ کرنے پر عقوق جیسے گناہ سے دوچار ہوتی ہے، اسی طرح والدین بھی اولاد کے حقوق ادا نہ کرنے پر عاق جیسی مشکلات و مسائل سے رو برو ہوتے ہیں۔
والدین اولاد کو کسی ناقابل برداشت کام کرنے کو مامور نہ کریں۔ بصورت ِ دیگر اولاد اس بارِگراں سے بچنے کے لیے بہانے تلاش کرے گی ، جس کے نتیجے میں وہ عاق ہو سکتی ہے۔
اولاد کے کردار و گفتار پر تادیبی و تعمیری تنقیدکی بجائے اگر ان پر بار بار اعتراض کیے جائیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہیں تو یہ عمل رفتہ رفتہ والدین کے ادب و احترام کے ترک پر منتج ہو گا اور اس سے ایک دوسرے کے درمیان نفرت بھی پیدا ہو سکتی ہے اور آخر میں عاق کی نوبت پہنچ سکتی ہے۔
اسی طرح اولاد کے ساتھ محبت ترک کرنے سے ردعمل کے طور پر اولاد بھی ماں باپ سے پیار و محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس سے دونوں گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی لیے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ارشاد فرمایا:
یَلْزِمُ الْوَالِدَیْنَ مِنَ الْعُقُوْقِ مَایَلْزِمُ الْوَالَدُ مِنْ عُقُوْقِهِمَا
"والدین کا عاق ہونا لازم آتا ہے جس طرح اولاد والدین کے حقوق ادا نہ کرنے پر عقوق میں مبتلا ہوتی ہے۔
بنا بر ایں والدین کا فریضہ ہے کہ اپنی اولاد کو ادب و احترام سے تعلیم و ترغیب دیں اور ان کی تربیت کے وسائل فراہم کریں۔ نیز ان کو شفقت و مہربانی سے قابو میں رکھیں اور عاق ہونے کے اسباب سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔
مثلاً معمولی خطا و لغزش سے تجاہل عارفانہ کے طور پر چشم پوشی کیا کریں۔ ان کے ناچیز احسان اور معمولی اطاعت کو قبول کر کے شکریہ ادا کریں۔ ان کے سامنے نیک خواہشات کا اظہار کرنے ہوئے دعائیں دیں۔
علماء عظام نے فقہی کتابوں میں ماں باپ پر اولاد کے حقوق کے بارے میں تفصیل سے مسائل بیان کیے ہیں۔ ان کا خلاصہ اس طرح یہاں ذکر کریں گے کہ ہم اپنے موضوع سے ہٹ نہ سکیں۔
نفقہ باپ پر واجب ہے
اولاد کی پیدائش سے لے کے رُشد(عقل و ہوش سنبھالنے اور نفع نقصان کی تمیز کرنے) تک نیز برسرِ روزگار ہونے سے خودکفیل ہونے تک خوراک و لباس اور رہائش وغیرہ کا انتظام باپ پر واجب ہے۔
اولاد کے بھی شوہر کے گھر پہنچنے یا خود کفیل ہونے تک اخراجات باپ کے ذمے ہیں۔
اولاد کی شادی کے لیے کوشش کرنا
والد پر عائد ہونے والے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ جب لڑکا بالغ و رشید ہو جائے تو اس کی شادی کی کوشش کی جائے۔ اگر لڑکی ہو تو اسے شوہر کے گھر پہنچائے۔ والدین لڑکی کو خاوند اختیار کرنے سے روک نہیں سکتے۔ چنانچہ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہوتا ہے:
( فَلَا تَعْضُلُوْ هُنَّ اَنْ تَنکحِنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَّرَاضَوبِیْنَهُمْ بِالْمَعْرْوُفِ )
(سورہ ۲ ۔ آیت ۲۳۲)
"انہیں اپنے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو، جب آپس میں دونوں میاں بیوی شریعت کے مطابق اچھی طرح مل جل جائیں۔"
د ینی تعلیم و تربیت
حقوق اولاد میں سے ایک اہم ترین حق ان کی تعلیم و تربیت ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنی اولاد کو ہر ممکن طریقے سے اصول و فروع دین سے آگاہ کریں۔ خصوصاً تلاوت قرآن و حفظ قرآن کی ترغیب دیں۔ آداب و اخلاق شرعی سکھانے میں غفلت نہ کریں۔ اگرچہ سختی بھی کرنا پڑے۔ البتہ اس سختی میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراتب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے جو کہ "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کے باب میں بیان ہوں گے۔
اولاد سے محبت کرنے کے بارے میں بہت سی روایتیں موجود ہیں۔ یہاں ان میں سے چند ایک تبرکاً تحریر کی جاتی ہیں۔
اولاد سے پیار و محبت کرنا
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا ہے کہ اپنی اولاد سے محبت کیا کرو، ان پر رحم کیا کرو، جب ان سے کوئی وعدہ کرو تو اسے ضرور پورا کرو۔ چونکہ اولاد کی نظرِ امید صرف ماں باپ پر ہوتی ہے۔
وعدہ وفا نہ ہونے کی صورت میں بد دلی پیدا ہو جاتی ہے۔ آخر کار توقعات کے رشتے منقطع ہو جاتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ اتنا کسی چیز سے غضب ناک نہیں ہوتا جتنا عورتوں اور بچوں کی دل شکنی سے ہوتا ہے۔
شفقت سے بچوں کو چومنا
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے جس نے اپنے بچے کو پیار کیا تو اس کے نامہ اعمال میں ایک حسنہ درج ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ بچوں کے ہر ایک بوسے پر بہشت کا ایک درجہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے یہ بھی فرمایا کہ جب باپ اولاد کے چہرے پر شفقت و محبت سے نگاہ ڈالتا ہے اور خوش حال ہوتا ہے تو ایک بندہ راہ خدا میں آزاد کرنے کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔
والدین کے بعد اولاد کے حق میں نیکی کرنا
حضور سرور کائنات (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا فرمان ہے کہ بچے کی ماں کا بھی احترام کرو۔ اس کے ساتھ برائی نہ کرو کیونکہ اولاد کے دل میں ماں کی خصوصی محبت ہوتی ہے۔ ماں کے ناراض ہونے سے بچوں کا دل دکھتا ہے اور وہ پھول کی طرح مرجھا جاتے ہیں۔
یہ روایت بھی منقول ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا: کس کے حق میں نیکی کرنا لازم ہے؟ فرمایا: ماں باپ کے حق میں۔ عرض کیا : دونوں اس دنیا سے رحلت کر گئے ہوں تو ؟ فرمایا: اولاد کے حق میں۔
لڑکی نیکی کی زیاد ہ سزاوار ہے
اولاد کے حق میں والدین کی جانب سے لڑکی کے ساتھ نیکی کرنے کی زیادہ تاکید ہے۔ مستحب ہے کہ باپ جو تحفہ گھر میں لائے اسے لڑکے سے پہلے لڑکی کو دے۔ خصوصاً جس لڑکی کا نام فاطمہ ہو۔ نیز اولاد کو لعن طعن اور بد دعا کرنے کی ممانعت کی گئی ہے اگر چہ بیٹا بیٹی والدین کی مخالفت ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ والدین کی لعن طعن اولاد کی پریشانی اور فقیری کا باعث بنتی ہے۔
روحا نی باپ نیکی کا زیاد ہ مستحق ہوتا ہے
اس سے قبل عقوق والدین کی حرمت اور ان کے حق میں نیکی کرنے کے جو احکام بیان ہوئے تھے وہ عام والدین کے لیے تھے، جن سے اولاد پیدا ہوتی ہے ۔ جسمانی تربیت اور نشو و نما ان کے وجود کے سبب ہوئی لیکن روحانی باپ یعنی انسانوں کو ان کی غرض خلقت بتانے اور سعادت حقیقی سے ہمکنار کرنے والی ہستیاں حضرات محمد و آل محمد (علیہم السلام) ہیں۔ ہم سب روحانی اعتبار سے ان سے وابستہ ہیں اور ہر حال میں ان کے پیروکار۔ ان سے وابستگی ہی سے ہم جملہ آفات سے محفوظ اور نیکیوں سے مالا مال ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
اَنَا وَعَلَیٌ اَبَوَاهٰذِهِ الْاُمَّةِ
"میں اور علی دونوں اس امت کے باپ ہیں۔"
روحانی باپ کی شرافت و اہمیت جسمانی باپ کی نسبت اس قدر زیادہ ہے جیسا کہ بدن خاکی کی نسبت روح کو حاصل ہے۔
اسی طرح تمام والدین کے عقوق کے بارے میں جتنے عقاب کا وعدہ ہے، روحانی باپ کے عاق کی سزا اس سے ہزاروں گنا زیادہ سخت ہے۔
ثوا ب زیاد ہ عذاب سخت
ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے پر جتنے ثواب کا وعدہ فرمایا اس سے ہزاروں درجے زیادہ روحانی باپ کے ساتھ احسان کرنے کا ثواب ہے۔ اور اسی طرح عاق کرنے کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ مثلاً بہشت اس کے لیے حرام ہونا، کسی عمل کا قبول نہ کرنا اگرچہ روزانہ رات بھر عبادت کرے، صبح کو روزہ رکھے۔
اس قسم کا عذاب اہل بیتِ اطہار (علیہم السلام) کی ولایت ترک کرنے پر بھی ہے۔ چونکہ آل محمد (علیہم السلام) حقیقی روحانی باپ ہیں۔
جتنی بھی آیات و روایات عاق والدین کے سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں، انہیں والدین سے مخصوص کردینا غلط ہو گا۔ کیونکہ تمام آیاتِ قرآنی و روایات اس سلسلے میں عمومی ہیں۔ عقوق والدین سے مراد والد جسمانی و والد روحانی، دونوں شامل ہیں۔ اس بات کی دلیل کے لیے قرینہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کی اطاعت، ان کی شکر گزاری کو اپنی اطاعت اور شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ذکر فرمایا ہے:
( اَن اشْکُرْ لِیْ وَلوَالِدَیْکَ لَا تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً O )
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) و حضرت علی کی سپاس گزاری
آیہ شریفہ( اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ) کے متعلق بہت سی روایتیں موجود ہیں۔فرماتے ہیں کہ یہاں "والدیک" سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور حضرت علی (علیہ السلام) ہیں۔ یہاں والدین مقصود نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک ذات کے بعد افرادِ والدین میں سے بہترین ، شریف ترین اور کامل ترین والدین کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ اصول کافی میں صلہ رحم کے باب میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔
پہلی حدیث عمرو بن یزید کا امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سورہ رعد کی اکیسویں آیت کا ترجمہ دریافت کرنا ہے جس میں ارشاد رب العزت ہے:
( یَصِلُوْنَ مَا اَمَر اللّٰهُ بِهِ اَن یوصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوءَ الْحِسَابَ )
"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تعلقات قائم رکھنے کا حکم خدا نے دیا ہے۔ اُسے قائم رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کے دن سخت حساب سے ڈرتے ہیں۔"
دوسری حدیث اسی آیہ مبارکہ کی تفسیر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آیت محمد و آل محمد کے صلہ رحم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اوراس میں مومنین کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: تجھے ایسا شخص نہیں ہونا چاہیئے کہ جو مذکورہ آیت کو فردِ واحد کے لیے مخصوص جانے بلکہ جب بھی سنیں کہ فلاں آیت فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کی مانند دوسرے افراد کے درمیان عمومیت قرار دینا چاہیئے۔
روحا نی والد ین کے عقوق
روحانی والدین کے عقوق سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے جن امور کو بجا لانے کا حکم دیا ہے، ان کو ترک کرنا، پیروی و اطاعت کی حدود سے نکل جانا، باہمی معنوی اتصال اور حقیقی روابط کو منقطع کرنا ہے۔ حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ برُا نہیں لگے گا کہ ماں باپ ناراضگیوں کی بنا پر کہیں کہ یہ میری اولاد نہیں ہے۔ حاضرین نے کہا، ضرور، ہمیں بُرا لگے گا۔
آپ نے فرمایا کہ روحانی ماں باپ تمہارے والدین سے افضل ہیں ، لہٰذا اُنہیں اس بات کا موقع نہ دو بلکہ اُن کے فرزند ہونے کا شرف حاصل کرو۔
حبس الحقوق من غیرعسر
مجبوری و سختی کے بغیر کسی کا حق روکنا
حقوق کا ادا نہ کرنا
وہ گناہ جن کے بارے میں نص ہے ان میں چھبیسواں گناہ حقوق کا ادا نہ کرنا ہے۔ جبکہ حق ادا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ یعنی اگر کوئی آدمی کسی آدمی پر کوئی حق رکھتا ہو اور وہ اپنے حق کی ادائیگی کا مطالبہ کرے لیکن وہ شخص کہ جس پر حق ادا کرنے کی ذمہ داری ہے۔ حق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے حق ادا نہ کرے تو وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا۔ چنانچہ اعمش نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور فضل بن شاذان نے امام علی رضا علیہ السلام سے جو روایت نقل کی ہے اس میں امام علی رضا علیہ السلام نے بغیر کسی تکلیف کے حقوق کے ادا نہ کرنے کو بھی گناہِ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
من حبس حق المومن اقامه الله یوم القیمة خمسماة عا م علی رجلیه حتی تسیل عرقه او دمه و ینادی مناد من عند الله هذا الظالم الذی حبس عن الله حقه قال (ع) فیوبخ اربعین یوماثم یومر به الی النار (کافی ج ۲ ص ۳۶۷)
جوکوئی کسی مومن کا حق ادا نہ کرے (اور اس کے ذمے جو چیز ہے اس تک نہ پہنچائے) تو خداوند عا لم قیامت کے دن سے اسے پانچ سو سال تک اس طرح کھڑا رکھے گا کہ اس سے پسینہ یا خون بہنا شروع ہوجائے گا اور ایک منادی خداوند عالم کی طرف سے ندا دے گا کہ یہ وہ ستمگر ہے جس نے خدا کا حق ادا نہ کیا پس چالیس دن تک وہ تنبیہ کرنے کے بعد حکم دیا جائے گا کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے (یہ تنبیہ کرنے والے مومنین ہوں گے یا انبیاء)
علامہ مجلسی نے اس حدیث کی تشریح یہ کی ہے کہ اگر ظلم کم ہو تو اس کا پسینہ جاری ہوگا اور اگر ظلم زیادہ ہو تو اس سے خون جاری ہوجائے گا (مرآت العقول ص ۳۶۱) ۔ اس کے علاوہ مجلسی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ دلالت کرتا ہے مومن کا حق خدا کا حق ہے۔ مومن کے قرب خداوند کی وجہ سے یا یہ کہ خداوند عالم نے مومن کا حق ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا حکم نہ بجا لانا ایسا ہی ہے جیسے الله کا حق نہ ادا کرنا۔ اور فرمایا۔
اذا کان یوم القیامة نادی مناد این الموذون لا ولیائی فیقوم قوم لیس علی وجو ههم لحم فیقال هولاء الذین اذوا المومنین و نصبوالهم و اند وهم و عنقوهم فی دینهم ثم یومر بهم الی جهنم ثم قال (ع) کانو ا والله الذین یقولون بقولهم ولکنهم حبسوا حقوقهم واذا عوا علیهم سرهم ۔
(کتاب حج باب ۱۴۵)
روزِ قیامت منادی ندا کرے گا کہ الله کے دوستوں کو اذیت دینے والے کہاں ہیں۔ پس کچھ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جن کے چہروں پر گوشت نہیں ہوگا۔ پس کہا جائے گایہ وہ لوگ ہیں جو مومنین کو اذیت دیتے ان سے دشمنی رکھتے اور ان سے دین کے بارے میں سختی سے پیش آتے تھے اس لئے حکم دیا جائے گا کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے۔ اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے خداوند ذوالجلال کی قسم کھاکر فرمایا کہ وہ لوگ مومنین ہی کے عقیدے کے حامل تھے لیکن ان کے حقوق ادا نہیں کرتے تھے اور ان کے راز فاش کرتے تھے۔
اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا۔
ایما مومن حبس مومنا عن مالہ وھو یحتاج الیہ لم یذق والله من طعام الجنة ولا یشرب من الرحیق المختوم (بحارالانوار ج ۱۵)
ہر وہ مومن کہ جس کے مال کی کسی دوسرے مومن کو احتیاج ہو اور وہ مومن اس کی ضرورت کو پورا نہ کرے تو وہ جنت کی غذا کا ذائقہ بھی نہ چکھ سکے گا اور رحیق مختوم (جو کہ بہشت کے مشروبات میں سے ایک مشروب ہے) سے محروم رہے گا۔
روزِ قیامت حقوق کا مطالبہ
حضرت سید سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
یوخذ بیدالعبد یوم القیمة علی روس الاشهاد الامن کان له قبل هذا حق فلیا خذه ولا شی اشد علی اهل القیامة من ان یروامن یعرفهم مخفة ان یدعی علیه شیئا
(لئالی الاخبار ج ۵ ص ۸۵)
قیامت کے عن ایک شخص کے ہاتھ کو پکڑ کر اہل محشر کو دکھایا جائے گا اور کہا جائے گا جو کوئی اس شخص پر کوئی حق رکھتا ہے اور اس سے اپنا حق لے لے۔ قیامت کے دن اہل محشر کے لئے سب سے زیادہ دشوار یہی بات ہوگی کہ جب وہ کسی اپنے جاننے والے کو دیکھیں گے تو ان پر اس بات کا خوف طاری ہوجائے گا کہ کہیں یہ بھی اپنے کسی حق کا دعوی نہ کردے۔ اور شاید اسی بات کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔
( یوم یفرالمرء من اخیه و امه و ابیه و صاحبته و بنیه )
اس دن ہر شخص اپنے بھائی، ماں، باپ اپنے بیوی بچوں سے راہِ فرار اختیار کرے گا۔ (سورئہ عبس آیت ۳۴ تا ۳۶) یعنی اس خوف کی بناء پر کہ کہیں ان میں سے کوئی اپنے حق کا مطالبہ نہ کردے۔
مفلس حقیقی
قال النبی (صلی الله علیه و آله) لا صحابه اتدرون من المفلس قالو المفلس فینامن لادرهم ولا مال ولا متاع له قال (ص) ان المفلس من امتی من الی یوم القیامة بصلاة وصیام وزکوة وحج ویاتی قدشتم هذا واکل مال هذا وهتک دم هزا وضرب هذا فیوتی ذامن حسنا فان فنیت حسناته قبل ان یقضی ما علیه اخذ من خطا یاه فطرحت علیه ثم یطرح فی النار (بحارالانوار ج ۳)
حضرت رسول خدا نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟اصحا ب نے کہا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم نہ جائیداد نہ سرمایہ ہو آنحضرت نے فرمایا میری امت میں کوئی مفلس نہیں سوائے اس شخص کے جس نے نماز پڑھی ہو، روزے رکھے ہوں،زکوة دی ہو، حج ادا کئے ہوں مگر قیامت کے دن ایک شخص آئے گا جسے اس نے گالی دی ہو ایک اورآئے گا جس کا اس نے مال کھایا ہو ایک اور آئے گا جس کا اس نے خون بہایاہو ایک اور آئے گا جس کی اس نے پٹائی کی ہو، پس اس شخص کی نیکیاں ہر صاحب حق کو اس کے حق کے مطابق دی جائیں گی۔ اگر صاحبان حق کے حقوق ادا ہونے سے پہلے اس شخص کی نیکیاں ختم ہوجائیں تو صاحبان حق کے گناہ اس شخص کے گناہوں میں شامل کردئیے جائیں گے تو پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
قرض اورحقوق نہ ادا کرنے کے مقامات
قرض میں بطور کلی ہر وہ چیز شامل ہے۔ جو کسی شخص کے ذمے کسی شخص کے ذمے کسی سبب سے ثابت ہو۔ مثلاً قرض، قرض لینے والے پر جتنی رقم اس نے لی ہے اس کے ذمے ہے۔ اور طے شدہ طریقے کے مطابق رقم قرض خواہ کو ادا اور وہ چیز کہ جس کا معاملہ بیچنے سے پہلے ہوگیا ہو۔ بیچنے والا ذمہ دار ہے کہ وہ چیز خریدار کو وعدے کے مطابق وقت پر ادا کرے اسی طرح وہ چیز جو ادھار لی ہے اس کی قیمت بیچنے والے کو ادا کرے اور وہ چیز جو کرائے پر لی ہے کرائے پر لینے والا صاحب مال کا مقروض ہوگا۔ اور شورہر عورت کے مہر کاذمہ دار ہے۔ اسی طرح شوہر زوجہ دائمی کے نام ونفقہ کا ذمہ دار ہے۔ اور ضمانت کی وہ مختلف اقسام کے جس کا ذکر فقہی مسائل کی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے ان کے فروعی مسائل بہت زیادہ ہیں۔ بحث کی مناسبت سے کچھ اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔مدت معین اورغیر معین کا قرض دو قسم کا ہوتا ہے۔ حالی یعنی وہ قرض جس کی کوئی مدت معین نہ ہو۔ اگر مدت ہو تو ختم ہوچکی ہو۔ اور موجل یعنی وہ قرض جس کی مدت معین ہو اس میں قرض خواہ مدت ختم ہونے سے پہلے پانے حق کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور جب بھی مقروض مرجائے تو اس کی معینہ مدت ختم ہو کر قرض حالی میں تبدیل ہوجائے گا۔ مثلاً اگر کسی شخص کا کسی دوسرے شخص پر قرض ہو اور مقروض کو ایک سال میں قرض ادا کرنا ہو لیکن مدت پوری ہونے سے پہلے مقروض مرجائے توضروری ہے کہ جو مال اس نے ورثہ میں چھوڑا ہے تو ورثاء سب سے پہلے اس کا قرض ادا کریں۔ اور وہ یہ حق نہیں رکھتے کہ یہ کہیں کے ابھی قرض کی مدت ختم نہیں ہوئی لیکن اگر قرض خواہ مرجائے اور اسکے قرض کی مدت باقی ہو تو اس کے ورثا کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مدت ختم ہونے سے پہلے قرض کی واپسی کا مطالبہ کریں۔
قرض کو لازمی طور پر ادا کرناچاہیئے
ایسی صورت میں جبکہ قرض معینہ مدت کے لئے نہ ہو یا اس کی مدت ختم ہوچکی ہو اور قرض خواہ مطالبہ کرے تو واجب ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو فوراً اپنا قرض ادا کرے ۔ خواہ وہ اشیاء جو اس کی ضرورت سے زائد ہوں انہیں بیچنا ہی کیوں نہ پڑے۔ اگرچہ وہ اشیاء لوگ کم قیمت پر ہی خریدیں جس قیمت پر خریدیں اسے چاہے وہ فروخت کردے اور اپنے قرض کو ادا کرے لیکن اگر کوئی کوڑیوں کے مول خریدنا چاہئے اور عرف عام میں اسے معاملہ کو ان اشیاء کا ضائع کرنا اور تلف کرنا کہ جائے تو ایسی صورت میں بعید نہیں کہ مقروض پر ان چیزوں کا بیچنا واجب نہ ہو اور اگر ضروریات زندگی کی چیزیں مثلاً قالین، لباس، گھر کا سامان، دوکان وغیرہ نہ رکھتا ہوکہ اسے بیچ کر قرض ادا کرے تو وہ کام کاج کر کے اپنا قرض ادا کرے مثلاً اگر قرض خواہ کا قرض ادا کرنے کے لئے اسے نوکری کرنا پڑے یا کوئی ایسا کام کرے جو اس کی شان کے مطابق ہو اور اس کے لئے باعث مشقت نہ ہو تو اس ذریعے سے قرض ادا کرے بطور کلی مقروض پر قرض ادا کرنا واجب ہے۔ قرض کی ادائیگی میں سستی غفلت برتنا ہر حال میں حرام، حق کا ادا نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔ لیکن اگر ضروریات زندگی کی چیزوں میں سے مثلاً وہ گھر کہ جس میں وہ زندگی گزارتا ہے اس کی حالت اور شان سے اونچے درجے کانہ ہو اور اسی طرح کپڑے، قالین، برتن اور اس جیسی دوسری چیزیں جو اس کے لئے ضروری ہیں اگر وہ ان چیزوں کو بیچ دے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا اور نقصان اٹھانا پڑے تو ان چیزوں کا بیچنا ضروری نہیں اور قرض خواہ مقروض کو ان چیزوں کے فروخت کرنے پرمجبور نہیں کرسکتا لیکن مقروض کے لئے جائز ہے کہ وہ مشکلات کو برداشت کرے اور ان اشیاء کو بیچ کر اپناقرض ادا کرے ایسی صورت میں جبکہ مقروض نے خود ہی اپنے گھر کا سامان بیچا ہو قرض خواہ اپنی مطلوبہ رقم لے سکتا ہے ۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ قرض خواہ مقروض کے گھر کا سامان بیچ کر زحمت ومشقت میں مبتلا ہونے پر راضی نہ ہو اگرچہ خود مقروض راضی ہوبلکہ بہتر تو یہ ہے کہ قرض خواہ مقروض کو اس حد تک مہلت دے کہ خدا اسے کشادگی عطا کرے ۔ عثمان بن زیاد سے مروی ہے۔
قلت لا ابی عبد اللّٰه علیه السلام ان لی علی رجل دینا وقد اراد ان یبیع داره فیقضینی فقال ابو عبد اللّٰه (ع) اعیذک با اللّٰه ان تخرجه من ظل راسه
(وسائل کتاب التجارہ ب ۱۱)
میں نے حضر ت امام جعفر صادق -سے عرض کیا کہ میرا کسی شخص پر قرض ہے اور ہو شخص اپنے گھر کوبیچ کر میر ا قرض ادا کرنا چاہتا ہے حضرت نے تین مرتبہ فرمایا اس بات میں تمہیں خدا کی پناہ میں دیتا ہوں کہ تم اس شخص کو گھر سے بے گھر کردوجس میں وہ زندگی گزارتاہے۔ کچھ دوسری احادیث بھی اس موضوع سے متعلق نقل کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ مروی ہے کہ جناب محمدبن ابی عمیر جو کہ امام موسیٰ بن جعفر امام علی رضا اور امام محمد تقی علیہم السلام کے خاص صحابیوں میں سے تھے اور کپڑا بیچنے کا کام کیا کرتے تھے ان کا تمام مال ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا اور وہ فقیر ہوگئے کسی آدمی پر ان کا دس ہزار درہم قرض تھا پس اس مقرو ض شخص نے اپنے گھر کو فوخت کردیا اور دس ہزار درہم محمد بن ابی عمیر کے گھر لے کر آیا اور کہا یہ آپ کا قرض ہے۔ اسے لے لیجئے آپ نے فرمایا آیا یہ مال تمہیں ورثے میں ملا ہے۔ اس نے کہا نہیں ۔ آپ نے پوچھا کسی نے تمہیں بخشا ہے؟ کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ملکیت تھی جسے تم نے بیچا؟کہا نہیں بلکہ وہ مکان جس میں ، میں رہتاتھا اسے بیچ دیا تاکہ اپناقرض ادا کرسکوں ۔
اس وقت محمد ابن ابی عمیر نے امام جعفر صاد ق علیہ السلام کی ایک روایت نقل کی کہ قرض واپس لینے کے لئے مقرض کو اس کے گھر سے بے گھر نہیں کرچاہئے اور اس کے بعد آپ نے فرمایا اس رقم کو واپس لے جاو خدا کی قسم اس وقت میں ایک ایک درہم کا محتاج ہوں اس کے باوجود میں اس میں سے ایک درہم لیکر خرچ نہیں کروں گا۔ ان کی غربت کا سبب(حالانکہ پانچ لاکھ درہم کے مالک تھے) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے وہ قربت و وابستگی تھی جس کی بنا پر انہیں گرفتار کرکے بے انتہا تازیانے مارے اور چار سال تک قید خانہ میں رکھا ۔ اور جو کچھ مال واسباب تھا چھین لیا خدا وند عالم کی بے پناہ رحمتیں ہوں ان کی روح پر اگر کوئی بھی شخص صاحب حق تک اس کا حق پہنچانے میں غفلت سے کام لے اور تاخیر کرے حالانکہ وہ استطاعت رکھتا ہو تو ہر گذرنے والے دن میں گناہ اعشاری کا مرتکب ہوتا ہے (اعشارہ وہ ہے جو ظالم کے حکم پر لوگوں سے (دسواں حصہ ) ۱۰/ الے
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
کل ذنب یکفره القتل فی سبیل اللّٰه الا الدین لاکفارة له الا ادا ئه او یعفو الذی له الحق (وسائل الشیعةب ۴ ج ۱۳ ص ۸۳)
راہ خدا میں شہید ہونے والاہر گناہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ سوائے قرض کے جس کا کوئی کفارہ نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ قرض ادا کیا جائے یا پھر قرض خواہ اسے بخش دے (نہیں تو شہید سے بھی قرض کے لئے پوچھ گیچھ ہوگی )۔ اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں ۔
اول قطرة من دم الشهید کفارة لذنوبه الا الدین فان کفارته قضائه
(وسائل الشیعةب ۴ ج ۱۳ ص ۸۵)
شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے تمام گناہوں کی تلافی ہو جاتی ہے سوائے قرض کے جو معاف نہیں ہوتا اور جس کے معاف ہونے کا انحصار فقط قرض کی ادائیگی پر ہے۔
اس بات کی اہمیت کا اندازہ صرف اسی واقعے سے لگایا جاسکتاہے کہ انصار میں ایک شخص کا انتقال ہو جاتا ہے۔ جو دودینار کا مقروض تھا پس حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے اس وقت تک اس کی نماز جناز نہیں پڑھائی جب تک کہ ان کے کچھ رشتہ داروں نے قرض کی ادائیگی کی ضمانت نہیں دی اس کے بعد آنحضرت نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
مروی ہے کہ معاویہ بن وہب نے اس حدیث کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا توآپ نے فرمایا۔
ان رسول (صلی الله علیه و آله) لما فعل ذلک لیعظو اولیر دبعضهم علی بعض ولئلا یستخفو ا بالدین ۔(وسائل ابواب دین باب ۲)
یہ حدیث ضحیح ہے اور حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اس فرمان کا صرف یہی مطلب ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، قرض کی اہمیت کو سمجھیں اسے کمتر شمارنہ کریں اور قرض اس کے مالک کو لوٹا دیں وگرنہ حضرت رسول خدا کے اس فرمان کا صرف یہی مطلب ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ، قرض کی اہمیت کو سمجھیں اسے کمتر شمارنہ کریں اور قرض اس کے مالک کو لوٹا دیں وگرنہ حضر ت رسول خدا صلی (صلی اللہ علیہ و آلہ)۔ حضرت علی - ، امام حسن -،امام حسین - میں سے جو کوئی اس دنیا سے رخصت ہوا مقروض تھا اور انہوں نے اپنا قرض ادا کرنے کے بارے میں وصیت فرمائی اور ان حضرات میں سے ہر ایک کے وصی نے ان کے انتقال کے بعد قرض کی ادائیگی کی یعنی اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ مقروض ہونا قابلِ مذمت نہیں بلکہ جائز ہے البتہ قرض کی ادائیگی میں سستی و غفلت کرنا یقینا حرام ہے اور قرض ادا کئے بغیر مکہ اور مدینہ جانا بھی مناسب نہیں اس سلسلے میں ابو ثمامہ نے امام محمد تقی علیہ السلام سے عرض کیا
انی ارید ان الزم مکة و المدینة و علی عین فقال (ع) ارجع الی مودی دینک و انظر ان تلقی الله تعالی و لیس علیک دین فان المومن لا یخون
(کافی ج ۵ ص ۹۴ باب الدین)
میں مکہ اور مدینہ میں زندگی گزارنا چاہتا ہوں لیکن مقروض ہوں امام نے فرمایا اپنے گھر جاؤ اور قرض ادا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا سے چلے جاؤ اور اس حالت میں خدا سے ملاقات کرو کہ تم مقروض ہو اور (جان لو) کہ مومن کبھی خیانت نہیں کرتا۔
قرض کا ادا نہ کرنا سب کے ساتھ خیانت ہے
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کا ادا نہ کرنا اور قرض ادا کرنے میں غفلت سے کام لینا خیانت ہے۔ اس بناء پر جو کچھ باب خیانت میں گذرچکا ہے۔ یہاں بھی آئے گا اور حدیثِ نبوی میں اس کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔
حضرت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا فرمان ہے۔
مطل المسلم الموسر ظلم للمسلمین (وسائل باب الدین ۱۳ ص ۹۷)
وہ مسلمان جو استطاعت رکھتے ہوئے قرض کی ادائیگی میں غفلت سے کام لے تو اس نے تمام مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیا۔
قرض کا ادا نہ کرنا ظاہر ہے کہ قرض خواہ پر ظلم ہے۔ لیکن دوسرے مسلمانوں پر اس لئے ظلم ہے کہ لوگ دوسروں کو اس خوف کی بناء پر قرض نہیں دیں گے کہ کہیں یہ بھی قرض کی ادائیگی میں سستی سے کام نہ لے اور اس طرح ہمارا مال ضائع ہو جائے دوسرے یہ کہ صاحبِ استطاعت ہوتے ہوئے بھی قرض کی ادائیگی میں غفلت سے کام لینے والا نیکی کے دروازے کو بند کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد کوئی بھی کسی کو قرض دینے کی جرات نہیں کرے گا حالانکہ قرض دینا بہت بڑی نیکی ہے۔ اور اس نیکی کو ترک کرنے کا سبب وہی شخص ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
لعن الله قاطعی سبیل المعروف وهو الرجل یصنع الیه المعروف فیکفره فیمنع صاحبه من ان یصنع ذلک الی غیره (بحار الانوار۔ وسائل ج ۱۱ کتاب امر بالمعروف۔ ب ۸ ص ۵۳۹)
خدا اس شخص پر لعنت کرے جو نیکی کا راستہ بند کر دیتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جس کو اگر کوئی شخص فائدہ پہنچانے کے لئے احسان کرے تو وہ اس احسان کو نہیں مانتا اور یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ احسان کرنے والا آئندہ کسی پر احسان نہ کرے ۔ اور یقینا کسی کو قرض دینا احسان ہے۔ اور اس ادائیگی میں لا پرواہی سے کام لینا قرض خواہ کے احسان کو نہ ماننا ہے۔ یہ چیز سبب بنتی ہے کہ وہ شخص آئندہ کسی پر اس طرح کا احسان نہ کرے۔
قرض د ینے اور لینے کے احکام
معتبر روایات میں قرض دینے والوں کے لئے بہت زیادہ ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور قرض نہ دینے والوں کے لئے شدید عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مواقع پر قرض کا دینا واجب اور نہ دینا حرام ہے۔ اور بعض جگہوں پر قرض دینا مستجب اور نہ دینا مکروہ ہے۔ لیکن اس وقت جب قرض کی ضرورت نہ ہو قرض کا لینا مکروہ ہے۔ لیکن وقت ضرورت قرض لینے سے اس کی کراہت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ کراہت کے کم یا زیادہ ہونے کا تعلق دراصل ضرورت کے کم اور زیادہ ہونے پر ہے۔ پس اگر کم ضروررت کے وقت قرض لیا جائے تو کراہت زیادہ ہوگی۔ اور اگر ضرورت کے وقت قرض لیا جائے تو کراہت کم ہوگی یہاں تک کہ بعض مواقع پر کراہت بالکل ختم ہوجاتی ہے اور قرض لینا واجب ہو جاتا ہے۔ مثلاً جان اور ناموس کی حفاظت قرض لینے پر موقوف ہو تو قرض لینا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہے کہ قرض ادا نہ کر سکے گا تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وہ قرض نہ لے مگر یہ کہ وہ ضرورت مند ہو۔
قرض دینے کا ثواب اور نہ دینے کا عذاب
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
من اقرض مومنا قرضا ینظر به میسوره کان ماله فی یده زکوة و کان هو فی صلوة من الملائکة حتی یودیه ۔ (وسائل الشیعةب ۶ ج ۱۳ ص ۸۶)
اگر کوئی شخص کسی مومن کو قرض دے اور اسے استطاعت پیدا ہونے تک کی مہلت دے تو وہ قرض میں دیا ہو ا مال اس کے لئے زکوة کی مانند ہوگا اور ملائکہ اس مال کے واپس ملنے تک اس کے حق میں دعا اور طلب رحمت کرتے رہیں گے اس کے علاوہ آنحضرت نے فرمایا
من اقرض اخاه المسلم کان له بکل درهم اقرضه وزن جبل احد من جبال رضوی و طور سیناء حسنات و ان رفق به فی طلبه تعدی به علی الصراط کا البرق الخاطف اللامع بغیر حساب ولا عذاب ومن شکی الیه اخوه المسلم فلم یقرضه حرم الله علیه الجنة یوم یجزی المحسنین
(وسائل الشیعہ ب ۶ ج ۱۳ ص ۸۸)
اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو قرض دے تو وہ خود اس کے اپنے لئے ہے۔ ہر وہ درہم جو وہ قرض میں دیتا ہے۔ اس کے عوض کوہ احد (جو مکہ معظمہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑ ہے) اور طور سینا کے برابر نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور قرض کا مطالبہ کرنے میں مقروض سے نرمی کا برتاؤ کرے تو وہ بغیر حساب و عذاب کے ایک لپکتی ہوئی بجلی کی مانند پل صراط پر سے گذر جائے گا اور اگر کسی شخص کے سامنے اس کا مسلمان بھائی اپنی پریشانی اور دکھ درد بیان کرے اور وہ اسے قرض نہ دے تو خداوند عالم بہشت اس پر حرام کر دے گا اس روز جبکہ نیک لوگوں کو ان کی جزا دی جائے گی۔
لازمی طور پر قرض کی ادائیگی کا ارادہ رکھنا چاہیئے
وہ مقروض جو قرض لوٹانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ ارادہ رکھے کہ جب بھی صاحب استطاعت ہوگا سب سے پہلے قرض ادا کرے گا اور قرض کی ادائیگی میں غفلت سے کام نہیں لے گابلکہ قرض لیتے وقت بھی یہی نیت ہونی چاہیئے اگر قرض لیتے وقت اس کی نیت ادا نہ کرنے کی ہو تو اس مال میں تصرف حرام ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
من استدان دینا فلم ینو قضائه کان بمنزلة السارق (تجارت وسائل باب ۵ ج ۱۳ ص ۸۶)
اگر مقروض قرض لیکر دینے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ چور کی مانند ہے۔
اس کے علاوہ آپ نے فرمایا:
السراق ثلثة مانع الزکوة و مستحل مهور النساء و کذالک من استدان دینا ولم ینوقضائه (خصال ص ۱۵۳)
چوروں کے تین گروہ ہیں ایک وہ ہے جو اپنے مال کی زکوة نہ دے۔ دوسرا وہ ہے جو اپنی بیوی کے مہر کو قرض واجب نہ سمجھے اور تیسرا وہ جو قرض لیکر اس کی ادائیگی کا ارادہ نہ رکھتا ہو اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کہ
من کان علیه دین ینوی قضائه کان معه من الله حافظان یعینانه علی الا داء عن امانته فان قصرت نیته عن الاداء قصر عنه من المعونة بقدر ما قصر نیته ۔
(تجارت وسائل ابواب دین باب ۵ ج ۱۳ ص ۸)
اگر مقروض قرض ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو خداوند عالم اس کے قرض کی ادائیگی تک اس کی مدد کے لئے فرشتوں کو مقرر کرتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے ارادے سے غفلت برتتا ہے تو اسی مقدار سے وہ رحمتِ خداوندی سے محروم ہو جاتا ہے۔
مجبور و مقروض کو مہلت دینا چاہئیے
اور ایسی صورت میں جبکہ مقروض گھر کی غیرضروری اشیاء کو بیچ کر بھی آسانی سے اپنا قرض ادا نہ کر سکے تو قرض خواہ پر واجب ہے کہ وہ مقروض کو قرض کی ادائیگی کی مہلت دے کیونکہ مقروض کو مشکلات سے دوچار کرنا حرام ہے ۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:
( وان کان ذو عسرة فنظرة الی میمسرة وان تصدقوا خیر لکم ان کنتم تعلمون )
(سورہ بقرہ ۲۸۰)
اگر کوئی تنگ دست (تمہارا قرض دار) ہو تو اسے خوش حالی تک کی مہلت دو اور اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں یہ زیادہ بہتر ہے۔ کہ (جو قرض اس نے لیا ہے ) بخش دو۔
کیونکہ اگر تم اپنا قرض واپس لے لو تو دوسری چیزوں کی طرح وہ بھی وقت آنے پر ختم ہوجائے گا لیکن اگر بخش دو تو یہ ایسا صدقہ ہے جو خدا کے نزدیک امانت ہے اور اس سے ہمیشہ فائدہ ملتا رہے گا۔
اس آیت سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں ایک یہ کہ ایسے مقروض کو جو قرض دینے سے عاجز ہو مہلت دینا واجب ہے۔ اور دوسرے یہ کہ قرض خواہ کا قرض کو بخش دینا زیادہ بہتر ہے۔ اور بہت سی روایات میں ان دونوں باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
و کما لا یحل لغر یمک ان یمطلک و هو مو سر فکذلک لا یحل لک ان تعسره اذا علمت انه معسر
(تجارت و سائل الشیعة ابواب دین ب ۲۵ ج ۱۳ ص ۱۱۳)
تمہارے مقروض کے لئے جائز نہیں کہ وہ قدرت رکھتے ہوئے قرض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لے اور اسی طرح تمہارے لئے بھی جائز نہیں کہ تم اسے تنگ دستی کی حالت میں مجبور کرو جبکہ تم جانتے ہو کہ وہ قرض دینے سے معذور ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تم اپنے کسی مسلمان بھائی کو قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں تنگ کرنے سے پرہیز کرو جبکہ تم جانتے ہو کہ وہ قرض نہیں دے سکتا اس لئے کہ ہمارے جد حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا کسی مسلمان کو تنگ کرنا جائز نہیں اور اگر کوئی قرض خواہ مقروض کو مہلت دے تو الله تعالیٰ اسے اس روز اپنے سایہ میں پناہ دے گا کہ جب خدا کے سائے کے سوا دوسرا سایہ نہ ہوگا۔ (وسائل الشیعہ ابواب ب ۲۵ جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۳) یعنی قیامت کے دن الله اس پر اپنا خصوصی لطف و کرم کرے گا اور اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں ۔
من اراد ان یظله الله فی ظل عرشه یوم لا ظل الا ظله فلینظر معسرا اولیدع له من حقه
(وسائل ب ۲۵ ص ۱۱۳)
اگر کوئی چاہتا ہو کہ اسے اس روز عرش الہیٰ کے سائے میں پناہ دی جب خدا کے سائے کے سواء کوئی سایہ نہ ہوگا تو اسے چاہیئے کہ تنگدست مقروض کو مہلت دے اور اس سے قرض کا مطالبہ نہ کرے یا اسے قرض بخش دے
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
قال یبعث یوم القیامة قوم تحت ظل العرش وجو ههم من نور و لباسهم من نور جلوس علی کراسی من نو ر الی ان قال فینادی مناد هولاء قوم کانوا یبسرون علی المومنین و ینظرون المعسر حتیٰ ییسر
(تجارت وسائل ابواب دین ب ۲۵ ج ۱۳ ص ۱۱۳)
قیامت کے دین ایک ایسی جماعت عرش کے سائے میں ہوگی کہ ان کے چہروں ، لباس اور جن کرسیوں پر وہ جلوہ افروز ہوں گے ان سے نور ساطع ہو رہا ہوگا پس ایسے عالم میں منادی ندا دے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں مومنین پر مہربان تھے اور تنگدست مقروض کی ادائیگی کے لئے مستطیع ہونے تک مہلت دیتے تھے۔
ہر روز کی مہلت کے لئے صدقے کا ثواب
کلینی امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)منبر پر تشریف لے گئے خدا کی حمد و ثنا اور ابنیاء پر درود بھیجنے کے بعد آپ نے فرمایا جو موجود ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگ جو موجود نہیں ان تک یہ بات پہنچا دیں کہ۔
من انظر معسرا کان له علی الله فی کل یوم صدقه بمثل ماله علیه حتیٰ یستوفی حقه
(تجارت وسائل ابواب الدین ب ۲۵ ج ۱۳ ص ۱۱۴)
اگر کوئی شخص اپنے پریشان حال مقروض کو مہلت دے تو جب تک اس کا مال واپس نہ مل جائے اس کے نامہ اعمال میں صدقہ دینے کے برابر ثواب(لکھنے) کا ذمہ دار الله تعالیٰ ہے۔
یعنی ہر وہ دن جس میں اس نے مہلت دی بالکل اسی طرح ہے کہ اس نے ہر روز وہ مال راہِ خدا میں خرچ کیا ہو اس سلسلے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں لیکن جو کچھ گزرچکا ہے۔ وہی کافی ہے۔ ضمناً یہ بات جاننا چاہیئے کہ خمس و زکوة کا ادا نہ کرنا یہ ان کی ادائیگی میں غفلت برتنا بھی حقوق کے ادا نہ کرنے میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ زکوة کا ادا نہ کرنا بھی گناہِ کبیرہ میں سے ہے جس کے لئے نص خاص ہے اس لئے اس کا علیحدہ سے ذکر کیا جائے گا۔
خد اوندِ عالم تلافی کرے گ
روایات کا ماحصل یہ ہے کہ اگر مقروض قرض کی ادائیگی سے پہلے مرجائے اور مرنے کے بعد اس کے مال سے قرض ادا نہ کیا جائے اور قرض خواہ اسے معاف نہ کرے اور یہ کہ قرض کی ادائیگی میں اس نے کوتاہی سے کام نہ لیا ہو اور نہ ہی قرض کسی حرام مقصد کے لئے لیا ہو اور قرض ادا کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو لیکن اس کے پاس کوئی مال نہ ہو جس کے بارے میں وہ وصیت کر سکے تو ایسی صورت میں خداوندِ عالم روزِ قیامت اپنے فضل سے اسکے قرض خواہ کو راضی کریگا۔
چنانچہ محمد بن بشرا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ میں شہاب کا ایک ہزار کا مقروض ہوں آپ شہاب سے کہیں کہ وہ مجھے ایام حج گزرنے تک کی مہلت دے آپ نے شہاب کو طلب کیا اور فرمایا تم محمد بن بشر کے بارے میں جانتے ہو کہ وہ ہمارے دوستوں میں سے ہے۔ تمہارا ہزار دینار کا قرض اس پر ہے۔ وہ رقم اس نے اپنے اوپر خرچ نہیں کی بلکہ وہ قرض چند لوگوں کے درمیان رہ گیا اور اسے نقصان اٹھانا پڑا اب میں چاہتا ہوں کہ وہ دینار تم اسے بخش دو اس کے بعد آپ نے فرمایا شاید تمہارا خیال یہ ہے کہ تمہارے قرض کے بدلے میں تمہیں اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی شہاب نے کہا اس سے قبل میرے علم میں یہی بات تھی امام نے فرمایا خداوند کریم اور عادل ہے۔ اگر کوئی شخص الله کاتقرب حاصل کرنے کے لئے سردیوں کی راتوں میں اس کی عبادت کرے ، گرمیوں میں روزہ رکھے اور خانہ کعبہ کو طواف کرے اور اس کے بعد کیا الله تعالیٰ اس کی نیکیاں لیکر تمہیں دے دے گاایسا نہیں اس کا فضل اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اپنے فضل سے مومن کو اس کے نیک کاموں کا عوض دیتا ہے۔ امام کی یہ گفتگو سن کر شہاب نے کہا میں نے اسے اپنا قرض بخش دیا۔
وہ مقروض جس کی نیکیاں قرض خواہ کو دی جاتی ہیں
ایسی صورت میں جب کہ کوئی شخص قرض کی ادائیگی میں قصور وار ہو اور اس نے قرض کسی حرام مقصد کے لئے لیا ہو یا استطاعت رکھتے ہوئے قرض کی ادائیگی میں غفلت سے کام لے اور اس کے مرنے کے بعد اس کا قرض بھی ادا نہ کیا جائے اور قرض خواہ بھی اسے نہ بخشے تو قیامت کے دن قرض کے برابر اس کی نیکیاں لیکر قرض خواہ کو دے دی جائیں گی اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں یا بہت کم ہوں تو قرض خواہ کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں شامل کر دئیے جائیں گے کچھ احادیث میں اس بات کو صراحتاً بیان کیا گیا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق -فرماتے ہیں:
ان اشد ما یکون الناس حالا یوم القیامة ان یقوم اهل الخمس فیتعلقون بذالک الرجل فیقولون ربنا ان هذا الرجل قدا کل خمسنا و تصرف فیه ولم ید فعه الینا فیدفع الله الیهم عوضه عن حسنات ذلک الرجل و کذلک اهل الزکوة (لئالی الاخبار ص ۵۴۹)
روز قیامت انسان کے لئے سخت ترین وہ وقت ہوگا جب خمس و زکوة کے مستحقین اٹھ کر اس سے چمٹ جائیں گے اور کہیں گے پروردگار اس شخص نے خمس و زکوة کا ہمار حق مارا اور ہمیں کچھ نہ دیا پس خداوندعالم ان لوگوں کی نیکیاں ان مستحقین کو دے دے گا اس کے علاوہ آپ نے فرمایا قیامت کے دن قرض خواہ اپنے مقروض کی شکایت کرے گا پس اگر مقروض کی نیکیاں ہوں گی تو وہ قرض خواہ کے لئے لے لی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں تو قرض خواہ کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں شامل کردئیے جائیں گے بہت سی روایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمے لوگوں کے حقوق ہوں تو اس کی نجات نہیں ہوگی مگر یہ کہ صاحبان حق اس سے راضی ہو جائیں یا صاحبان حق کے حقوق کے مساوی اس کی نیکیاں لیکر صاحبان حق کو دی جائیں گی یا ان کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں شامل کر دیئے جائیں گے یا پھر اہلبیت٪ اس کی شفاعت کریں تو وہ نجات حاصل کرے گا۔
معاوضہ کتنا ہوگ
معاوضہ کس طرح دیا جائے گا یا یہ کہ حق کے مقابلے میں کتنی مقدار نیکی درکار ہوگی اس کو خدا اور رسول بہتر جانتے ہیں نہ ہمارے پاس سمجھنے کا کوئی ذریعہ ہے اور نہ ہی ہمارے لئے ان باتوں کا سمجھنا لازم ہے۔ البتہ بعض روایات میں ان درجات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسے آنحضرت نے فرمایا کہ ہر درہم کے عوض مقروض کی چھ سو نمازیں لے کر قرض خواہ کو دے دی جائیں گی (لئالی الا خبار ص ۵۴۹) اور اگر ۶/ ۱ درہم چاندی کے ہوں تو اس کی سات سو قبول شدہ نمازیں لے کر صاحب حق کو دی جائیں گی (ایک درہم چاندی کے ۱۸ چنے کے دانوں کے برابر ہوتا ہے) غرض کہ مقروض کا قرض ادائیگی کے بغیر دنیا سے جانا اس کے لئے بہت سخت ہوگا پس ہر انسان کو یہ کوشش کرنا چاہیئے کہ وہ موت کے وقت مقروض نہ ہو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ شدت سے اہلِ بیت ٪ سے توسل پیدا کرے تاکہ وہ اس کے دعویداروں کو راضی کریں۔
رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا۔
لیس ذنب اعظم عند الله بعد الکبائر التی نهی عنها من رجل یموت و علیه دین لرجال و لیس له ما یقضی عنه (مستدرک ص ۴۸۹)
وہ گناہانِ کبیرہ کہ جن سے خدا نے منع کیا ہے۔ ان گناہوں کے بعد کوئی اور گناہ اس قدر بڑا نہیں جتنا کہ کسی شخص کا اس حالت میں مرنا کہ وہ لوگوں کا مقروض ہو اور اس کے پاس کوئی چیز بھی نہ ہو کہ جس سے اس کا قرض ادا کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ آپ نے ایک روز نماز کے بعد اپنے اصحاب سے فرمایا کہ فلاں شخص جو شہید ہوچکا ہے۔ ابھی تک بہشت کے باہر کھڑا ہے۔ اور اندر داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ فلاں یہودی کا تین درہم کا مقروض ہے۔
قرض ادا کرنے میں جلدی کرنا مستحب ہے
چنانچہ حق اور قرض کا ادا نہ کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ پس قرض خواہ کے مطالبہ کرنے اور مقروض کے مستطیع ہونے کی صورت میں قرض کی ادائیگی میں جلدی کرنا بہترین واجبات خدا میں سے ہے۔ اور اس بارے میں بہت زیادہ ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔
کتاب دارالسلام نوری میں صفحہ ۲۶۷ پر کتاب نورالعیون سے نقل کیا ہے کہ جناب سید ہاشم حائری جو کہ عالم و زاہد تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک یہودی سے سو دینار بطور قرض لئے (جو کہ اس زمانے میں دس ایرانی سکوں کے برابر تھے) اور اس سے بیس روز میں واپس کرنے کا وعدہ کیا پس اس میں سے آدھے واپس کر دئیے اور اس کے بعد پھر میں نے اس یہودی کو نہیں دیکھا لوگوں سے سنا کہ وہ بغداد گیا ہوا ہے اس کے بعد ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت بپا ہے۔ مجھے اور دوسرے لوگوں کو حساب کے لئے حاضر کیا گیا اور خدا نے اپنے فضل و کرم سے مجھے بہشت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی پس میں نے چاہا کہ پل صراط عبور کروں تو جہنم کی چیخ و پکار نے مجھے خوف زدہ کردیا جب میں پل صراط پر سے گزرنے لگا تو اچانک قرض خواہ یہودی آگ کے شعلے کی مانند جہنم سے باہر نکلا اور میرا راستہ روک کر مجھ سے کہنے لگا مجھے پچاس تومان دو اور گذر جاؤ میں نے منت کی اور کہا کہ میں تمہیں ہمیشہ تلاش کرتا رہتا تھا تاکہ تمہیں تمہارا قرض لوٹادوں اس نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو لیکن جب تک تم میرا قرض نہیں دو گے صراط کو عبور نہیں کر سکتے میں نے گریہ وزاری کی اور کہا یہاں پر میرے پاس کوئی چیز نہیں جو تمہیں دوں یہودی نے کہا اچھا تو پھر مجھے اجازت دو کہ میں اپنی انگلی تمہارے جسم کے کسی حصے پر رکھوں اس کے شر سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے میں اس کی اس بات پر راضی ہو گیا اور جب اس نے اپنی انگلی میرے سینے پر رکھی تو جلن کی شدت سے میں خواب سے بیدار ہوگیا اور میں نے دیکھا کہ میرا سینہ زخمی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا سینہ کھول کر دکھایا اور سننے والوں نے دیکھا کہ ان کے سینے پر شدید زخم ہے۔ اور انہوں نے کہا میں ابھی تک اس کا علاج کروارہا ہوں لیکن یہ زخم صحیح نہیں ہوا سننے والے سید ہاشم حائری کی یہ روئیداد سن کر بلند آواز سے گریہ کرنے لگے۔
نیز بحارالانوار کی جلد ۱۷ میں شہید اول سے نقل کیا گیا ہے کہ احمد بن ابی الجوزی کہتا ہے۔ میری آرزو تھی کہ میں ابو سلیمان دارانی کو کہ جن کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا کو خواب میں دیکھوں چنانچہ ان کے انتقال کے ایک سال بعد میں نے انہیں خواب میں دیکھا میں نے اس سے سوال کیا کہ خدا نے آپ کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے کہا اے احمد ایک دن میں جب کہ باب صغیر سے آرہا تھا تو میں نے گھاس پھوس سے لدے ہوئے ایک اونٹ کو دیکھا میں نے اس میں سے ایک تنکا لیا اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ میں نے اس سے خلال کیا یا منہ میں رکھے بغیر اسے دور پھینک دیا لیکن ایک سال ہو رہا ہے ابھی تک اسی کے حساب میں مبتلا ہوں۔
اور یہ آیت بھی اس حکایت کی تصدیق کرتی ہے:
( یا نبی انها ان تک مثقال حبة من خر دل فتکن فی صخرة فی السمٰوات او فی الارض یات بها الله ) (سورہ لقمان آیت ۱۶)
یعنی لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا "اے میرے بیٹے ذرا سا بھی (اچھا اور برا ) عمل چاہے وہ رائی کے دانے کے برابر ہو اور پھر وہ کسی بڑے پتھر میں ہو یا آسمانوں اور زمینوں کے درمیان ہو خدا اسے (قیامت کے دن) لیکر آئے گا اور اس کا حساب کرے گا۔ جس شخص نے زرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لئے گا امیرالمومنین علیہ السلام نے محمد بن ابی بکر کے نام جو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا۔
اے خدا کے بندوں جان لو کہ خداوند کریم تمہارے چھوٹے بڑے سب کاموں کے بارے میں سوال کرے گا اور اس بارے میں یہی آیت کافی ہے۔
( فمن یعمل مثقال ذرة خیر یراه ومن یعمل مثقال ذرة شریراه ) (سورئہ زلزال آیت ۷،۸)
جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہے تو اسے دیکھ لے گا۔ اس جس نے ذرہ برابر بدی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا۔
بحارالانورا صفحہ ۲۳۵ پر جناب سید حسن بن سید علی اصفہانی سے نقل کیا گیا ہے۔ کہ انہوں نے فرمایااپنے والد کے انتقال کے وقت میں نجف اشرف میں دین تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھا اور میرے والد کے کاموں کی ذمہ داری میرے بعض بھائیوں کے کاندھوں پر آپڑی تھی اورمجھے ان کے بارے کوئی اطلاع نہ تھی والد کے انتقال کے سات مہینے بعد میری والدہ کا بھی اصفہان میں انتقال ہوگیا اور ان کے جنازے کو نجف اشرف لایا گیا انہی دنوں ایک رات میں نے اپنے والد کو خواب دیکھا میں نے کہا آپ کا انتقال تو اصفہان میں ہوا اور آپ نجف اشرف میں ہیں انہوں نے کہا ہا ں انتقال کے بعد مجھے یہاں جگہ ملی ہے۔ میں نے پوچھا والدہ بھی آپ کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا وہ نجف میں تو ہیں لیکن دوسرے مکان میں ہیں میں سمجھ گیا کہ وہ میرے والد کے برابر نہیں پس میں نے کہا آپ کاحال کیسا ہے۔ انہوں نے کہا میں سختی اور مشکل میں تھا اب خدا کا شکر ہے کہ آرام سے ہوں میں نے تعجب سے کہا آپ جیسا انسان مشکل میں مبتلا تھا انہوں نے کہا ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ آقا بابا جوکہ نعلبند کے نام سے معروف ہے اس کے بیٹے حاج رضا کا مجھ پر قرض تھا اور وہ مجھ سے مطالبہ بھی کررہا تھا لیکن میں اس کا قرض ادا نہ کرسکا تھا اور اسی قرض کی عدم ادائیگی کی بناء پر میں سختی میں مبتلا تھا۔ گھبراہٹ سے میری آنکھ کھل گئی ۔ اور پھر میں اپنے بھائی کو جو والد کا وصی تھا اپنے اس خواب کے بارے میں لکھا تاکہ وہ تحقیق کرے کہ آیا کسی ایسے شخص کا میرے والد پر قرض تھا میرے بھائی نے جواب میں لکھا میں نے تمام حساب کتاب کی چھان بین کی لیکن اس شخص کا نام قرض خواہوں میں نہیں ہے۔ میں نے اپنے بھائی کو دوبارہ لکھا کہ ایسے شخص کو تلاش کرواور خود اس سے پوچھو کہ آیا میرے والد تمہارے مقروض تھے اس نے جواب میں لکھا کہ میں نے اس شخص سے پوچھا تو اس نے کہ تمہارے والد میرے اٹھارہ تومان کے مقروض تھے اور اس بات کو خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا پس میں تمہارے پاس آیا اور تم سے پوچھا کہ کیا میرا نام مرحوم کے قرض خواہوں میں درج ہے۔ تم نے کہا نہیں ہے میرے پاس کوئی سندبھی نہ تھی اور نہ ہی کوئی ایسا ذریعہ تھا جس سے میں اپنے قرض کو ثابت کرتا لہذا میں بہت آزردہ ہوا کہ مرحوم نے میرے قرض کو اپنی کاپی میں کیوں درج نہیں کیا میرے بھائی نے تحریر کیا کیاکہ میں نے اس شخص کو قرض کی رقم دینا چاہا لیکن اس نے لینے سے انکا رکر دیا اور کہا کہ میں نے مرحوم کو بخش دیا ہے۔
امام محمد باقر - فرماتے ہیں:
الظلم ثلثة ظلم یغفره اللّٰه وظلم لا یغفره اللّٰه وظلم لا یدعه اللّٰه فاما الظلم الذی لا یغفره اللّٰه فالشرک واما الظلم الذی یغفره اللّٰه فظلم الرجل فیما بینه و بین اللّٰه واماالظلم الذی لا یدعه فالمداهنة بین العباد
(وسا ئل الشیعہ کتاب جہاد باب ۷۷)
ظلم کی تین قسمیں ہیں ایک ظلم وہ کہ جسے خدا نہیں بخشے گا دوسرا وہ ظلم کہ جسے بخش دے گا اور تیسرا وہ ظلم کہ جس کا مواخذہ کرے گا۔
( ۱) وہ ظلم کہ جسے خدا نہیں بخشے گا وہ شرک ہے۔
( ۲) وہ ظلم کہ جسے خدا بخش دے گا وہ کسی شخص کا ان باتوں کے بارے میں جو خدااور اس کے درمیان ہے اپنے آپ پر ظلم کرناہے۔
( ۳) اور وہ ظلم کہ جس کا خدا مواخذہ کرے گا اس سے مراد وہ ظلم ہے جو مقروض اپنے قرض خواہوں کا قرض ادا نہ کر کے ان پرکرتا ہے۔
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) وسلم فرماتے ہیں :
من ارضی الخمصاء من نفسه وجبت له الجنة بغیر حساب ویکون فی الجنة رفیق اسمٰعیل بن ابراهیم (مستدرک ص ۳۴۳ بحوالہ جامع الاخبار)
جو کوئی اپنے قرض خواہوں کا راضی کرے لازمی طور پر وہ بہشت میں داخل ہوگا اور حساب میں تاخیر کے بغیرجنت میں جناب اسماعیل بن ابراہیم کا ساتھی ہوگا۔
اس کے علاوہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) وسلم نے فرمایا:
درهم یرده العبد الی الخصماء خیر له من عبادة الف سنه ومن عتق الف رقبة خیر له له من الف حجة وعمرة (جہاد مستدرک ب ۷۸)
وہ قرض جو مقروض اپنے قرض خواہ کو واپس کرتا ہے ایک ہزار سال کی عباد ت اور ایک ہزار غلاموں کو آزاد کرنے اور ایک ہزار مرتبہ حج وعمرہ بجالانے سے بہتر ہے۔
اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) وسلم نے فرمایا:
من رد درهما الی الخصماء اعتق اللّٰه رقبته من النارو اعطاه بکل دانق ثواب بنی وبکل دهم مدینة من درة حمراء
(جہاد مستدرک ب ۷۸)
اگر کوئی ایک درہم بھی صاحب حق کو لوٹائے خداوند عالم اسے آتش جہنم سے نجات دے گا اور ہر دانق( ۶ /۱ ادرہم) اگر واپس کرے تو اس کے عوض ایک پیغمبر کے برابر ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھاجائے گا اورہر درہم جو اس نے واپس کیا اس کے بدلے بہشت میں اسے سرخ موتیوں کا شہر مرحمت فرمائے گا اور آپ نے فرمایا۔
فان درهما یرد العبد الی الخصماء خیرله من صیام النهاروقیام اللیل ومن رد ناداه ملک من تحت العرش یا عبد اللّٰه استانف العمل فقد غفلک ما تقدم من ذنبک
(جہاد ب ۷۸ ص ۳۴۳)
صاحب حق کو اس کا ایک درہم واپس کرنا بہترہے اس روزے سے جودن میں رکھا جائے اور اس نماز سے جو رات میں پڑھی جائے ۔ اگر کوئی قرض کو واپس کرتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک فرشتہ یہ ندا دیتا ہے۔ اے بندے تیرے عمل کے آغاز ہی سے خدا نے تیرے تمام پچھلے گناہ بخش دیئے۔
لوگوں کے حقوق کی اد ا ئیگی
وہ مال جوکسی شخص کے ذمے ہو اس کی دو قسمیں ہیں حق ایک مورد یہ ہے کہ اس کے پاس مال موجو دہو اور اسے یقین ہو کہ اس کے پاس موجودہ مال میں سے آدھا مال فلاں شخص کا ہے۔ یا اس کے پاس موجودہ مال میں سے سوتومان کے برابر مال فلاں شخص کاہے۔ قسم دوم یہ ہے کہ اس کے ذمے کسی کا حق ہو لیکن عین مال میں سے کسی کے حق کا ذمہ دار نہ ہو مثلًا وہ چیز جو بطور قرض لی تھی خرچ ہوچکی ہو لیکن مقروض قرض خواہ کے حق کا ذمہ دار ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کے ضمانتیں اور نفقات واجبہ ہیں کہ جن کا خیال رکھنا ہرانسان پر واجب ہے۔قسم اول کی چار صورتیں ہیں۔
(الف) مال کی مقدار اور صاحب مال کا معلوم کرنا
جب مال کی مقدار اور جب حق دونوں معلوم ہوں کہ فلاں مال میں سے اتنی مقدار فلاں شخص کی ہے۔ تو اس صورت میں واجب ہے کہ وہی مقدار صاحب حق کو واپس کی جائے اور اگر وہ مرچکا ہو تو وہ مال قانون ارث کے مطابق اس کے ورثا کودیا جائے۔
(ب) مال کی مقدار کا معلوم ہونا اور صاحب مال کا معلوم نہ ہونا
اگر مال کی مقدار معلوم اور صاحب مال معلوم نہ ہو اور تردّد ہو تو یہ تردّد وشک ایک دفعہ افراد معین کے درمیان ہوتا ہے۔ مثلًا آدمی جا نتا ہو کہ اس مال میں سے فلاں مقدار تین یا پانچ افراد میں سے کسی ایک کی ہے۔ پس احتیاط یہ ہے کہ ان تمام کو جس طرح بھی ممکن ہواپنے سے راضی کرے اور اگر ان تمام کو راضی کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہوتو اس بارے میں تین قول ہیں:
( ۱) قرعہ اندازی کے ذریعے ان میں سے ایک کا تعین کیا جائے اور مال اسے دے دیا جائے۔
( ۲) دوسری صورت یہ ہے کہ اس مال کو تمام افراد میں مساوی تقسیم کیا جائے۔
( ۳) تیسرے یہ کہ مالک معلوم نہ ہو تو (احتیاط کے طور پر )حاکم شرع (قاضی ) کی اجازت سے صدقہ دیا جائے(اس مسئلے میں ہر شخص اپنے مرجع تقلید کی طرف رجوع کرے)اور اگر افرادغیر معین کے درمیان تردّد ہو یعنی سو یا سو سے زیادہ کے درمیان اسے شک و تردّد ہو کہ شاید یہ مال فلاں کا ہے یا یہ کہ صاحب مال بالک معلوم نہ ہو ایسی صورت میں یہ مال مجہول المالک کے حکم میں آئے گا اور احتیاط کی بناء پر حاکم شرع کی اجازت سے اسے بطور صدقہ دیا جائے۔
(ج) مال کی مقدار کا معلوم نہ ہونا اورمالک کا معلوم ہونا
اور جب مال کی مقدار معلوم نہ ہو اور صاحب حق معلوم ہو مثلًاجانتا ہو کہ میرے فلاں مال میں کچھ مقدار فلاں شخص کی ہے۔لیکن یہ نہ جانتا ہو کہ آدھا مال یا مال کا تیسرا حصہ اس شخص کا ہے۔ تو اسی صورت میں واجب ہے کہ کم از کم مال کا تیسرا حصہ اس شخص کو دے اور احتیاطً کچھ زیادہ دے اور اسے راضی کرے اور اس سے صلح کرے۔
(د) مال کی مقدار اورمالک ہر دو کا معلوم نہ ہونا
مال کی مقدار اور صاحب حق دونوں معلوم نہ ہوں یعنی اجمالاً اسے یقین ہو کہ میرے فلاں مال میں دوسروں کا مال شامل ہے۔ اور اس کا استعمال حرام ہے۔ لیکن نہ حرام مال کی مقدار کو جانتا ہو اور نہ ان لوگوں کو جانتا ہوجن کا مال ہے۔ حتی کہ افراد معین ہونے کی صورت میں یہ بھی نہ جانتا ہو کہ ان افراد میں سے کس کا کتنا مال ہے۔ ایسی صورت میں واجب ہے کہ مال کا خمس (یعنی مال کا پانچواں حصہ) نکالا جائے اور خمس کا مال اہل خمس کو دیاجائے اس کے بعد تمام مال حلال ہوجائے گا(مزید تفصیل کے لئے خمس کی کتاب اور رسالہ عملیہ کی طرف رجوع کریں)۔
قسم دوم : یعنی کسی شخص کا حق کسی دوسرے کے ذمے ہے لیکن عین مال کی صورت میں نہیں اس کی بھی چار صورتیں ہیں۔
( ۱) اگر مال کی مقدار اور صاحب حق دونوں معلوم ہوں تو کسی شک کے بغیر اتنی مقدار رقم صاحب ِحق کو ادا کرے۔
( ۲) جو حق اس کے ذمے ہے وہ تو معلوم ہے۔ لیکن جس شخص کا حق ہے۔ اسے نہیں جانتا یعنی اگر کچھ معین افراد کے درمیان تردّد ہو تو ان تمام کو اپنے سے راضی کرے جس کی تفصیل قسم اول میں گزر چکی ہے۔ اور یہ کہ بہت سے غیر معین افراد کے درمیان تردّد ہو یا صاحبِ حق کو بالکل نہ جانتا ہو تو ایسی صورت میں جو مقدار اس کے ذمے ہے اتنی رقم حاکم شرع ( قاضی ) کو دے یا حاکم شرع کی اجازت سے اصل مالک کی طرف سے صدقہ دے۔
( ۳) جس شخص کے ذمے حق ہو اسے حق کی مقدار معلوم نہ ہو لیکن صاحب حق معلوم ہو تو ایسی صورت میں جو مقدار کم از کم یقینی ہو اتنی مقدارکی رقم اس شخص کو ادا کرے اور جو مقدار زیادہ ہے اس کے بارے میں اس سے صلح کرے۔
( ۴) وہ حق جو ذمے ہے وہ اور صاحب حق دونوں نامعلوم ہوں تو اس رقم میں سے کم اور زیادہ کے درمیان جو حدِ وَسط ہے۔ اس کے بارے میں حاکم شرع (قاضی ) سے صلح کرے اور اس رقم کو اصل مالک کی طرف سے صدقہ کردے۔
جہاد سے فرار
ستائیسواں گناہ کبیرہ جس کے بارے میں نص شرعی ہے وہ جہاد شرعی سے فرار کرنا ہے۔ یعنی جہاد شرعی کے اس معرکے سے فرار اختیار کرنا جہاں پر دشمن دوگناسے زیادہ نہ ہو وہ احادیث جو گناہاں کبیرہ کے سلسلے میں رسول خدا اور امیر المومنین وامام صادق وامام محمد تقی وامام رضا ٪ سے نقل کی گئی ہیں اس میں انہوں نے صرحتاجہاد سے فرار اختیار کرنے کو سورہ انفال کی ۱۶ ویں آیت سے استدلال کرتے ہوئے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( یا ایها الذین امنوا اذا القیتم الذین کفرو ا زحفا فلا توّلوهم الادبار ومن یوّلهم یومئذ دبره الا متجر فالقتال اومتحیر الی فئة فقد باء بغضب من اللّٰه وما واه جهنم وبئس المصیر ) (سورہ انفال آیت ۱۶)
اے ایمان والو جب تمہارا میدان جنگ میں کفار سے مقابلہ ہو تو (خبردار) ان کی طرف پیٹھ نہ پھیرنا اور جو کوئی ان سے پیٹھ پھیرے گا وہ یقینی خداکے غضب میں آگیا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے مگر یہ کہ پیٹھ پھیرنا مصلحت جنگ کی بناء پر یا پناہ حاصل کرنے کے لیے یا اسلحہ جمع کرنے کے لئے ہو۔
حضرت امیر المومنین علی - فرماتے ہیں:
ولیعلم المنهزم بانه مسخط ربه موبق نفسه وان فی الفرار موجدة اللّٰه والذل الازم والعارالاباقی وان الفار لغیر مزید فی عمره ولا محجوربینه ودین یومه ولا یرضی ربه ولموت الرجل محقا قبل اتیان هذه الخصال خیر من الرضا بالتلبس بها والا قرار علیها ۔ (وسائل الشیعہ ج ۱۱ ص ۶۵ ب ۲۹)
میدان جہاد سے فرار کرنے والے کو جان لینا چاہئے کہ اس نے اپنے خدا کو غضب ناک کیا اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اس لئے کہ جہاد سے بھاگناخدا کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ اور فرار کرنے والے کو یقینی طور پر پر یشانی اور ابدی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کا فرار کرنا اس کے اور اس کی موت کے درمیان رکاوٹ نہیں بن سکتا اور اس کی عمر زیادہ نہیں ہوسکتی یعنی اگر اس کی موت آچکی ہو تو اس کا فرار کرنا اس کو فائدہ پہنچانہیں سکتا بلکہ اس کی موت کسی اورسبب سے واقع ہوسکتی ہے۔ اور اگر اس کی موت کا وقت نہیں آیا ہو توجہاد میں شرکت کرنے سے بھی اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا پس غضب خدا ذلت و رسوائی کے ساتھ زندگی گزارنے سے یہ بہتر ہے کہ انسان حق کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جان جان آفیرین کے سپر دکردے۔
ابتدا ئی اور دفاعی جہاد
جہاد شرعی کی دو قسمیں ہیں۔ ا۔ ابتدائی اور ۲ ۔ دفاعی۔ جہادابتدائی سے مراد یہ ہے کہ مسلمان دعوت اسلام اور قیام عدل کے لئے کفارسے جنگ شروع کریں لیکن اس قسم کے جہاد کے لئے پیغمبر ، امام یا امام کے خصوصی نائب کی اجازت لازمی شرط ہے۔ لیکن یہ زمانہ چونکہ غیبت کبریٰ کا ہے۔ اس لئے اس قسم کا جہاد جائز نہیں۔
جہاد دفاعی یہ ہے کہ اگر کفار اسلامی شہروں پر حملہ کریں اور اسلام کی بنیاد اور آثار کو مٹانا چاہیں یا یہ کہ مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کے مال واسباب کو لوٹ لینا اور انکی جان وعزت وناموس کو ظلم کا نشانہ بنانا چاہیں تو ایسی صورت میں تمام مسلمانوں پر القرب فلاقرب واجب کفائی ہے۔کہ کفار کے حملے کا دفاع کریں اور ان کے ظلم کی روک تھام کے لئے ان سے جنگ کریں اور اس قسم کے جہاد میں امام ونائب امام کی اجازت شرط نہیں ہے۔
میدان جہاد سے فرار کرنا جو کہ ہماری بحث کا موضوع ہے۔ آیا یہ قسم اول سے متعلق ہے یا ہر دو قسموں کے ہے۔ اس سلسلے میں دو قول ہیں بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ اس جہاد سے متعلق ہے جو امام یا اس کے نائب خصوصی کی اجازت سے ہو (مثلاً شہید کے لئے غسل وکفن کا ساقط ہونا بھی ایسے ہی جہاد سے متعلق ہے۔) بعض دوسرے علماء کا کہنا ہے کہ اس میں دونوں قسمیں شامل ہیں جو کوئی ان مسائل کو یا جہاد کے دوسرے مسائل کو جاننا چاہتاہو اسے چاہئے کہ فقہ سے متعلق کتابوں کی طرف رجوع کرے۔
جہاد سے فرار کے مسائل کی مناسبت سے مناسب ہے کہ حضرت امیر المومنین-کی جنگوں میں ثابت قدمی کا ذکر کیا جائے۔ جو کہ آپ کے فضائل ومناقب میں سے ہے۔ تاریخ شیعہ وسنی میں کہیں یہ بات نہیں ملتی کہ حضرت علی نے کسی بھی میدان جنگ سیراہ فرار اختیار کی ہو خاص طور پر غزوہ احد میں صرف وہ ہستی کہ جس نے راہ فرار نہیں کیا وہ احضرت علی کی ذات تھی۔ چنانچہ بحاالانوار کی نویں جلد میں باب شجاعت میں ابن مسعود سے حضرت علی کے بارے میں ایک روایت نقل کی گئی ہے۔ کہ وہ چودہ افراد جو راہ فرار اختیارکرنے کے بعد دوبارہ پلٹ آئے اوررسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ مل گئے وہ ابودجانہ مقداد۔ طلحہ اور مصعب تھے اور اس کے سب انصار لوٹ آئے۔ یعنی یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو میدان جنگ میں تنہا چھوڑ دیا تھا اور تمام اصحاب نے راہ فرار اختیار کی فقط علی تھے جو مشرکین کی صفوں میں داخل ہوکر ان کے سروں کو اپنی تلوار سے جدا کرتے رہے۔
غزوہ احزاب میں حضر ت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حضرت علی کرار غیر فرار کا لقب دیا یعنی وہ شخص جو ہمیشہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے اور کسی بھی وقت فرار اختیار نہیں کرتا امام کے اس صفت سے متصف ہونے میں کوئی شک نہیں تاریخ شیعہ وسنی اس بات پر متفق ہے کہ ابو بکر و عثمان نے غزوہ خیبر وحنین وذات السلاسل میں راہ فرار اختیار کی اور ابن ابی الحدید اپنے مشہور قصیدے میں اس بات کر طرف اشارہ کرتا ہے۔
ولیس بنکر فی الحنین فراره وفی احد قد فرخو فا وخیبر ا
اس بات میں تعجب نہیں کہ روزحنین ابوبکر فرار کر گئے اور اس کے بعد غزوہ خیبر و احد میں بھی ڈر کر راہ فرار اختیار کی۔
ہجرت کے بعد اعرابی ہونا
وہ اٹھائیسواں گناہ کے جس کے کبیرہ ہونے کا صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہجرت کے بعد اعرابی ہوناہے۔
چنانچہ اصول کافی میں گناہان کبیرہ کے باب میں صحیحہ ابن محبوب سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے خط میں امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے گناہان کبیرہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کے جواب میں ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کو گناہ کبیر میں شمار کیا اس کے علاوہ محمد بن مسلم حضرت جعفر صادق علیہ لاسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کو گناہان کبیر ہ میں شمار کیا ہے۔ اور وہ گناہان کبیرہ جو کتاب علی میں ہیں اس میں ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کو گناہان کبیرہ میں شمار کیا ہے۔اور اس کے علاوہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
التعرب بعد الهجرة والشرک واحد (اصول کافی باب الکبائر ج ۲ ص ۲۷۸)
ہجرت کے بعد اعرابی ہونا اور شرک ایک ہی قسم کا گناہ ہے۔
ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کا کیا مطلب ہے ؟
وہ صحرا نشین بدو جو مذہب اور اس کے آداب ورسوم سے بالکل بے خبر اور بے پرواہوں انہیں اعرابی کہتے ہیں۔ اور ہجرت یعنی اس کا صحرا نشینی کو ترک کر کے مرکز اسلام میں آنا اور پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) یا ان کے کسی وصی کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہونا اور دین خدا کا پابند ہونا اور دینی مسائل کو یاد کرنا ۔
اور ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ باتیں کہ جن کا سیکھنا ان کیلئے ضروری تھا ان کو سیکھنے سے پہلے ان اعرابیوں کااپنی سابقہ حالت یعنی جہالت و نادانی اور غفلت کی طرف پلٹ جانا ہے۔
آغاز اسلام میں وہ امور دینی کہ جن کا یاد کرنا ضروری تھا ان کے لئے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی طرف ہجرت کرنا واجب تھا ۔ اور ایسی صورت میں جبکہ مسلمان کافروں کے علاقے میں رہتے ہوئے اپنے اسلامی آدب و رسوم کی ادائیگی نہ کرسکتے ہوں مثلاً نہ نماز پڑھ سکتے ہوں نہ ماہ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہوں اور نہ ہی دوسرے احکام دین انجام دے سکتے ہوں تو اس کا وہاں پر رہنا حرام تھا۔
تم ہجرت کیوں نہیں کرتے
تفسیرمنہج الصادقین میں لکھا ہے کہ مسلمانو ں میں سے کچھ لوگ مثلاً قیس بن جولید اور انہی کی طرح کے دوسرے افراد جو بظہر تو مسلمان تھے اور لا الہ الا اللہ پڑھتے تھے لیکن انہوں نے قدرت رکھتے ہوئے مکہ سے مدینہ ہجرت نہیں کی اور جب سرداران قریش رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے جنگ کے ارادے سے بدر کی طرف بڑھے تو یہ بھی ان کے ہمراہ تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تو اس موقع پر خدا وند عالم نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی
( ان الذین توفیهم الملائکة ظالمی انفسهم قالوافیم کنتم قالو ا کنامستضعفین فی الارض قالواالم تکن ارض اللّٰه واسعة فتها جرو افیها فاولئک ماوهم جهنم وسائت مصیرا ) (سورئہ النساء آیت ۹۹)
بے شک وہ لوگ کے جن کی روح فرشتوں نے اس وقت قبض کی جبکہ وہ (دارلحرب میں پڑے) اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے تو فرشتے قبض روح کے بعد حیرت سے کہتے ہیں تم کس حالت (غفلت) میں تھے تو وہ (معذرت کے بعد) کہتے ہیں کہ ہم روئے زمین میں بے کس تھے تو فرشتے کہتے ہیں کہ خدا کی (ایسی لمبی چوڑی) زمین میں اتنی گنجائش نہ تھی کہ تم (کہیں) ہجرت کر کے چلے جاتے (جیسا کہ بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کی طرف کی تھی) پس ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ پس یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ایسے مقام سے کہ جہاں پر انسان کے لئے اسلامی طریقے سے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو تو وہاں سے ہجرت کرنا واجب ہے۔
حضرت رسولِ خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے:
من فربد ینه من ارض الی ارض و ان کان شبر امن الا رض استو جب له الجنة و کان رفیق ابیه ابراهیم و نبیه محمد (منہج الصادقین ج ۳ ص ۹۳)
جو کوئی اپنے دین کی خاطر ایک سرزمین سے دوسری سرزمین کی طرف ہجرت کرے خواہ یہ ہجرت ایک بالشت برابر ہو تو خداوندِ عالم اس کے لئے بہشت واجب کر دیتا ہے اور اس کے رفیق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہوں گے۔
( الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلة ولا یهتدون سبیلا فاولئک عسی الله ان یعفوعنهم وکان الله عفوا غفورا ) (سورئہ النساء آیت ۱۰۰)
مگر وہ مرد عورتیں اور بچے اس قدر بے بس ہیں کہ نہ تو (دارالحرب سے نکلنے) کی کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو اپنی رہائی کی کوئی راہ دکھائی دیتی ہے تو امید ہے کہ خدا ایسے لوگوں سے درگزر کرے گا اور خدا تو بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
عکرمہ سے روایت ہے کہ مکہ میں بہت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے مگر وہ ہجرت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے لیکن جب نہ کرنے والوں کی تنبیہ کے لئے آیت نازل ہوئی اور ان لوگوں تک پہنچی تو جندع بن ضمرہ نے اپنے بیٹوں سے کہا۔ اگرچہ میں بوڑھا اور بیمار ہوں لیکن میں ان بے بس و عاجز لوگوں میں سے نہیں ہوں کہ جنہیں خدا نے ہجرت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے ابھی مجھ میں سکت باقی ہے اور میں مدینے کا راستہ بھی جانتا ہوں مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ میری اچانک موت واقع اور ترک ہجرت کی بنا پر میرے ایمان میں خلل واقع ہو پس میں جس تخت پر لیٹا ہوں تم مجھے اسی طرح باہر لے چلو اس کے بیٹوں نے اس کے حکم کی اطاعت کی اور اسی حالت میں اسے لے کر چلے لیکن جب وہ منزل تنعیم پر پہنچا تو اس پر موت کے آثار ظاہر ہوئے پس اس نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا۔
اللهم هذا لک و هذه لرسولک ابا یعک علی ما یبا یعک علیه
( منہج الصادقین)
خدایا یہ ہاتھ تیرا اور یہ تیرے رسول کا میں تیری بیعت کرتا ہوں ان باتوں پر کم جس کے لئے تیرے رسول نے تیری بیعت کی اور اس کے بعد اس کی روح پرواز کر گئی اور جب اس کے مرنے کی خبر مدینہ پہنچی تو بعض صحابہ نے کہا اگر جندع مدینہ پہنچ جاتا تو اس کے لئے بہتر ہوتا کیونکہ اسے ہجرت کرنے کا ثواب مل جاتا پس خداتعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل کی۔
ومن یحرج من بیتہ مھا جر الی الله و رسولہ ثم ید رکہ الموت فقد وقع اجرہ علی الله و کان الله غفورا رحیما۔
جو شخص اپنے گھر سے جلا وطن ہو کر خدا اور اس کے رسول کی طرف نکل کھڑا ہوا اور راستے ہی میں اس کی موت واقع ہو جائے تو خدا پر اس کا ثواب لازم ہو گیا اور خدا تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔(سورئہ النساء آیت ۱۰۰)
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے بعد اعرابی ہونا
بحکم خدا لوگوں کا احکام دینی کو سیکھنے کے لئے رسول خدا کی طرف ہجرت کرنا واجب تھا اور بالکل اسی طرح ان لوگوں کے لئے جو کافروں کے علاقے میں اپنے اسلامی آداب و رسوم مثلاً نماز و روزے کی ادائیگی نہیں کر سکتے تھے ان کے لئے بھی اس مقام سے ہجرت کرنا واجب تھا۔
اور ہجرت کا ترک کرنا یا ہجرت کے بعد پہلے والی حالت کی طرف لوٹ جانا حرام اور گناہانِ کبیرہ میں سے تھا کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے۔
حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بعد دینی احکام کو جاننے اور دین پر خدا کا پابند ہونے (جس میں اہم ترین امام کی معرفت ہے) کے لئے آئمہ کی طرف ہجرت کرنا واجب تھا تعرب یعنی امام کی معرفت اور وظائف دینی کو سیکھنے کے لئے امام کی طرف ہجرت نہ کرنا اور ہجرت کے بعد اعرابی ہونا یعنی امام کو پہچاننے کے بعد ان سے روگردانی اختیار کرنا چنانچہ شیخ حذیفہ بن منصور سے نقل کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
المتعرب بعد الهجرة التارک لهذا الا مر بعد معرفته (معانی الاخبار ص ۷۷)
ہجرت کے بعد اعرابی ہونا امام کو پہچاننے کے بعد ان کی ولایت اور اطاعت کا انکار کرنا ہے۔
اس زمانے میں جبکہ امام زمان (عجل الله تعالیٰ فرجہ ) پردہ غیبت میں ہیں ہجرت کرنے اور ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کے وہی احکام ہیں جن کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
ضروری ہے کہ ہجرت فقیہ کی طرف کی جائے
دو قسم کے لوگوں پر ہجرت واجب ہے۔ پہلی قسم کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو مسائل دینی سے غافل و بے خبر ہیں۔ اور جس جگہ پر وہ رہتے ہوں وہاں پر کوئی عالم دین نہ ہو کہ جس کی طرف رجوع کر سکیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے علاقے کی طرف ہجرت کریں کہ جہاں پر عالم دین موجود ہو اور اس تک رسائی ممکن ہو تاکہ وہ ضروری مسائل کو یاد کو سکیں۔
دوسرے وہ لوگ جو سرزمین کفر پر کفار کی رکاوٹیں حائل کرنے اور اذیتیں دینے کی بنا پر دینی آداب و رسوم کی ادائیگی نہیں کر سکتے ہوں تو ان پر واجب ہے کہ وہ ایسے علاقے کی طرف ہجرت کریں جہاں پر مذہبی آزادی ہو۔ شیعہ فقہاء نے اس بات کو صراحتاً بیان کیا ہے۔
ضمناً جیسا کہ آیہ (الا المستضعفین) کی تشریح میں بیان کیا گیا ہے کہ ہجرت کرنا صرف اسی صورت میں واجب ہے کہ جب استطاعت رکھتا ہو اور اس کے لئے ممکن ہو لیکن بیماری غربت اور بہت زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت کی طاقت نہ ہو تو اس کے لئے واجب نہیں۔
ہجرت کا واجب ہونا ہمیشہ کے لئے ہے
حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا ینقطع الهجرة حتی تنقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتی تطلع الشمس من مغربها (مسالک ج ۴ ص ۳۵۳)
ہجرت کا واجب ہونا اس وقت تک کے لئے ہے ۔ جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور توبہ کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع نہ کرے (یعنی ہجرت کا حکم قیامت تک کے لئے ہے)
حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
والهجرة قائمة علی حدها الاول ماکان الله فی اهل الارض من حاجة ۔
ہجرت کرنے کا حکم جیسا کہ رسول خدا کے زمانے میں تھا انہی شرائط کے ساتھ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ خداوند عالم اہل زمین سے اطاعت اور بندگی چاہے یعنی جب تک انسان احکام شرعی کا مکلف رہے گا حکم ہجرت بھی باقی رہے گا۔
مکہ معظمہ سے دوسری جگہ ہجرت نہیں کی جاسکتی
کتاب مسالک میں شہید ثانی فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کا مطلب کہ (فتح کے بعد ہجرت نہیں ) اس سے مراد خصوصاً مکہ معظمہ سے ہجرت ہے۔ یعنی جب مکہ مشرکین کے قبضہ سے نکل کر اسلام کا مرکز بن گیا تو اب وہاں سے کسی دوسری طرف ہجرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں لیکن دوسرے علاقے جہاں پر کفار کا قبضہ ہے اور مسلمان اپنے مذہبی رسوم کو ادا نہیں کر سکتے تو پس ان لوگوں کے لئے ہجرت کے واجب ہونے کا وہی حکم ہے بعض علماء کا کہنا ہے کہ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ مکہ کے فتح ہونے کے بعد مکہ سے ہجرت کرنے میں کوئی فضیلت نہیں جیسے کہ فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کی فضیلت تھی اور جیسا کہ نص قرآنی ہے۔
( لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل ) (سورئہ حدید آیت ۱۰)
تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے (اپنا مال) خرچ کیا اور جہا د کیا (اور جس نے فتح کے بعد کیا ) وہ برابر نہیں۔ اس بات کی توضیح اور کامل فائدے کے لئے ہم ہجرت کے بعد اعرابی ہونے سے متعلق بعض مطالب کی طرف اشارہ کریں گے۔
واجب، مستحب اور مباح ہجرت
علامہ مجلسی کتاب منتھی میں فرماتے ہیں کہ ہجرت کی تین قسمیں ہیں۔ واجب، مستحب، مباح۔
ہجرت واجب
وہ مسلمان جو کافروں کے علاقے میں ان کی رکاوٹ کے باعث اپنے دین کو ظاہر نہ کر سکتا ہو اور نہ ہی وظائف دینی کو انجام دے سکتا ہو۔ اور ہجرت کرنے میں اس کے لئے کوئی عذر شرعی مثلاً مرض وغیرہ نہ ہو تو اس کا وہاں سے ہجرت کرنا واجب ہے (فرمان خدا کے مطابق جیسا کہ پیچھے گذر چکا ہے)
ہجرت مستحب
وہ مسلمان جو کافروں کے علاقے میں رہتے ہوئے اپنے دین کو ظاہر کر سکتا ہو اور وظائف دینی کو انجام دے سکتا ہو اور ہجرت کرنے میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو اس کے لئے ہجرت کرنا مستحب ہے۔ اور اگر کوئی شرعی مجبوری ہو تو مستحب بھی نہیں بلکہ مباح ہے۔
اہل سنّت کے علاقے سے ہجرت نہیں ہے
شرح لمعہ اور جامع المقاصد میں شہید اول کی طرف نسبت دی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ مسلمان جو کافروں کے علاقے میں مصیبت میں مبتلا ہو اور ہجرت کرنے پر قادر بھی ہو تو اس کے لئے واجب ہے کہ وہ ہجرت کرے اور اسی طرح وہ شیعہ جو اہل سنت کے علاقے میں الجھن و پریشانی کا شکار ہو اور اپنے مذہبی رسوم کو ادا نہ کر سکتا ہو تو ایسی صورت میں اگر قادر ہو تو اسے چاہئیے کہ وہ شیعہ علاقے کی طرف ہجرت کرے لیکن ان کا یہ فرمان درست نہیں کیونکہ شیعوں کو مخالفین کے علاقوں میں اپنے مذہبی رسوم ادا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں وہ آداب و رسوم جو صرف شیعوں سے مختص ہیں مثلاً ہاتھ کھول کر نماز پڑھنا اور سر اور پیر کا مسح کرنا غالباً اہل سنت کے علاقے میں رہنے کا لازمہ یہ نہیں کہ ان امور کو ترک کرنا چاہیئے لیکن جب بھی عمل بجا لانے میں خطرے کا احتمال ہو تو تقیہ کرنا چاہیئے اور ضروری ہے کہ اہل سنت کی طرح عمل بجا لائے اور یقینا اس کا علم ہمارے مذہب کے مطابق ہو جس کی شہید کی طرف نسبت دی گئی ہے بلکہ آئمہ سے ایسی بہت سی روایت وارد ہوئی ہیں جس میں تقیہ پر زرو دیا گیا ہے اور اہل سنت سے حسن معاشرت اور ان کی جماعت میں شرکت کے لئے کہا گیا ہے۔
شہید کے فرمان پر استدلال
بعض علماء شہید کے اس فرمان کے صحیح ہونے کو اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں کہ شیخ نے محمد بن مسلم سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو سفر کے دوران ایسی جگہ پہنچتا ہے کہ جہاں مٹی اور پتھر نہیں اور وہ تمام علاقہ برف سے ڈھکا ہوا ہو اور وہ مجنب بھی ہو تو اسے کیا کرنا چاہیئے۔ امام نے فرمایا اسی برف سے تیمم کرے اور نمازپڑھے میں اس کے لئے مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ دوبارہ کسی ایسے علاقے کی طرف جائے جہاں پر اس کا دین اس کے ہاتھوں سے چلا جاتا ہے۔
کیونکہ اس حدیث میں امام نے ایسی جگہ کہ جہاں پر وضو و غسل نہیں کیا جا سکتا جانے سے منع فرمایا پس ضروری ہے کہ ایسی جگہ پر کہ جہاں انسان مذہب شیعہ کے مطابق غسل و وضو نہیں کر سکتا ہو نہ ٹھہرا جائے۔
لیکن یہ دلیل کافی نہیں کیونکہ بظاہر حدیث میں ایسی جگہ جانے سے منع کیا گیا ہے کہ جہاں انسان کو یقین ہو کہ وہاں جانے سے واجبات خدا میں سے کوئی واجب ترک ہوجائے گا جبکہ اس بات کا صرف احتمال ہے کہ اہل سنت کے علاقے میں تقیہ کرنا پڑے گا نہ کہ یقین اور اگر تقیہ میں اہل سنت کے مطابق عمل بھی کرنا پڑے تو تقیہ کے سلسلے میں جو دلائل دئیے گئے ہیں ان کے مطابق وہ عمل درست ہوگا ہاں اگر اہل سنت کے علاقے سے ہجرت کرنے میں زیادہ مصلحت ہو تو ہجرت کا مستحب ہونا بعید نہیں اگر وہ ان کے علاقے میں آئمہ کی ولایت کا اظہار نہ کر سکتا ہو تو ہجرت کرنا مستحب ہوگا۔
کفار کے علاقے میں تبلیغ ولایت
صماد السمندی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں مشرکین کے علاقے کی طرف جارہا ہوں اور مجھے وہاں رہنا پڑے گا۔ لیکن بعض مومنین مجھ سے کہتے ہیں کہ یہ کام اچھا نہیں کیونکہ اگر تمہاری موت اس علاقے میں واقع ہوگئی تو تم کافروں کے ساتھ محشور ہوگے۔ امام نے فرمایا اے صمادکیا تم ان کے علاقے میں ہم اہلبیت کی ولایت کا ذکرکرسکو گے اور لوگوں کی دین حق کی طرف رہنمائی کرسکو گے صماد نے کہا جی ہاں مولا وہاں پر مکمل آزادی ہے اور وہاں ے لوگ حق بات کو سنتے اور اسے قبول کرتے ہیں۔ امام نے کہا کیا کسی اسلامی علاقے میں رہتے ہوئے اتنی آزادی ہوگی کہ تم حق کو ظاہر کرسگواور لوگوں کو ہماری ولایت کی دعوت دے سکو صماد نے کہا نہیں مولا بلکہ ہمیں سخت تقیہ کرنا پڑتا ہے۔اور کسی میں بھی یہ جرات نہیں کہ آپ میں سے کسی نام لے سکے۔ امام نے فرمایا پس اگر کسی ایسے غیر اسلامی علاقے میں تمہاری موت واقع ہوجائے تو قیامت کے دن امت واحدہ میں محشور ہوگے۔ یعنی ایک آدمی ایک امت کے برابر ہوگا جیسے کہ حضرت ابرہیم کو امت قنتہ کہا گیا ہے۔ اور اس دن تمہارے ایمان کا نور تمہارے چہرے سے ہویدا ہوگا۔ (وسائل الشیعہ کتاب جہاد ص ۴۴۰)
شرح کافی میں علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ ہجرت کے بعد اعرابی ہونے سے مراد اعرابیت کو اختیار کرنا اور ہجرت کو ترک کرنا ہو۔ ہجرت کے واجب ہونے اور ہجرت کا حکم آنے کے بعد مثلاً (سود کا حرام سود کے حرام ہونے کا حکم آنے کے بعد) بہرحال ابتداء میں ہجرت کو ترک کرنا یا ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ اعرابی بن جانا وہ گناہ ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں جہنم کا وعدہ کیا ہے۔
اعرابیت اور ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کے موارد
شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ عرب کے بدو اور دیہاتی کو اعرابی کہتے ہیں۔ کیونکہ مرکز اسلام اور مسلمین کے اجتماع سے دوری کے سبب وہ دینی احکام نہیں سیکھ سکتے تھے نہ انہیں یاد کر سکتے تھے اور نہ ہی ان پر عمل پیرا ہوسکتے تھے اسی وجہ سے قرآن میں خدواند عالم نے ان کی مذمت فرمائی ۔
( الاعراب اشد کفرا ونفاقا واجد ران لا یعلموا حد ود ماانزل اللّٰه علی رسوله و اللّٰه علیم حکیم ) (سورہ توبہ آیت ۹۷)
عرب کے گنوار دیہاتی کفر ونفاق میں بڑے سخت ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے انہیں نہ جانیں اور خدا تو بڑا دانا حکیم ہے۔
اور اس کے علاوہ خدا نے فرمایا:
( ومن الا عرب من یتخد ما ینفق مغرما ویتر بص بکم الدوائر علیهم دائرة السوء و اللّٰه سمیع علیم ) (سورہ توبہ آیت ۹۹)
کچھ گنوار دیہاتی ایسے بھی ہیں کہ جو کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں (زمانے کی ) گردشوں کے منتظر ہیں انہی پر زمانے کی بری گردش پڑے اور خدا تو سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے مقام پر ارشاد خداوندی ہے
( ومن الاعراب من یومن باللّٰه والیوم الاخرو یتخذ ماینفق قربات عند ا للّٰه وصلوات الرسول الا انهاقربة لهم سید خلهم ا للّٰه فی رحمته ان ا للّٰه غفور رحیم ) (سورہ توبہ آیت ۱۰۰)
کچھ دیہاتی تو ایسے بھی ہیں جو خدا اور آخرت پر ایمان رکیھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں (اسے خدا کی بارگاہ میں) تقرب اور رسول کی دعاوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ آگاہ ہوجاو کہ واقعی ان کی یہ نیکیاں ضرور ان کے تقرب کا باعث ہیں خدا بہت جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرگا۔ بے شک خدا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
احکام دین میں نادانی بھی اعرابیت ہے
وہ دو آیات جو اعراب کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا قابل مذمت ہونا ۔ صحرا نشینی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں ایمان کا نہ ہونا اور احکام دین کا نہ جاننا اور عمل سے بے بہرہ ہونا ان کی مذمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ آیت سوم میں گزر چکا ہے لیکن وہ اعراب جو احکام و ایمان وعمل میں پورے اترے ان کی خدا نے مدح سرائی کی ہے اور ان کے لئے رحمت کا ودہ کیا ۔ اس بنا پر ہر وہ مسلمان جو احکام دینی حاصل کرنے اور شرعی مسائل کو یاد کرنے سے اجتناب کرے اور وہ دینی اجتماعات کہ جہاں پر حقائق ومعارف اوردینی مسائل کو سمجھایا جاتا ہے۔ وہاں سے دوری اختیار کرے تو دراصل وہ اعرابی ہے۔ اور وہی آیات جو اعراب کی مذمت میں نازل ہوئیں اس کے لئے بھی ہیں اگرچہ وہ شہری ہی کیوں نہ ہو۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
تفقهو افی الدین فانه من لم یتفقه منکم فی الدین فهو اعرابی ان ا للّٰه عزّوجلّ یقول فی کتابه لیتفقهوا فی الدین ولینذروا قومهم اذا رجعوالیهم لعلهم یحذرون (بحارا الانوار کتاب العقل)
مسائل دینی سے آگاہ ہوجاوپس تم میں سے وہ شخص جو مسائل دینی کو نہ سمجھے وہ اعرابی ہے۔ جیسا کہ خدائے عزّو جلّ اپنی کتاب میں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر جماعت میں کچھ لوگ کیوں نہیں نکلتے تاکہ وہ مسائل دین کو سمجھیں اور جب وہ واپس پلٹیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں شاید وہ لوگ ڈرجائیں(خداکی مخالفت کرنے سے )پس اس بنا پر اعرابی وہ ہے وجو ایمان اور وظائف دینی کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے۔اس کے علاوہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
علیکم بالتفقه فی دین ا للّٰه ولا تکونو اعرابافان لم یتفقه فی الدین لم ینظر اللّٰه الیه یوم القیمة ولم یزک له عملا (منیة المرید تالیف شہید ثانی ص ۳۰)
دین خدا سے آگاہی تمہارے لئے ضروری ہے۔ اور اعرابی نہ بنو کیونکہ اگر کوئی حکم الہٰی کو نہ سمجھے تو خدا وند عالم روز قیامت اس پر رحمت کی نظر نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے عمل کو پاکیزہ بنائے گا۔
سیکھنے کے بعد عمل نہ کرنے والا بھی اعرابی ہے۔
محدث فیض کتاب وافی میں لکھتے ہیں کہ بعید جنہیں کہ شرعی آداب و سنت کوسمجھنے کے بعد اسے چھوڑدینے والے اور اس پر عمل نہ کرنے والے پر بھی اعرابی ہوناصادق آئے۔ اور اس بات کی تائید میں وہ اس حدیث کو جو کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے( باب التارک لھذالامر صفحہ ۱۵۳) میں نقل کی گئی ہے پیش کرتے ہیں ۔ اور علامہ مجلسی شرح کافی میں فرماتے ہیں ۔ کہ بعض فقہاء شیعہ کا کہنا ہے کہ ہجرت کے بعد اعرابی ہونا ہمارے زمانے میں وہ شخص جو علم حاصل کرنے کے بعد اسے ترک کر دے یعنی علم دینی سے بالکل علیحدہ ہوجائے وہ اعرابی ہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
یقول الرجل هاجرت ولم یهاجر انما المهاجرون الذین یهجرون السیئات ولم یاتو ابهاویقول الرجل جاهدت ولم یجاهد انما الجهاد اجتناب المحارم ومجاهدة العدووقد یقا تل اقوام فیحبون القتال لا یریدون الاالذکر (بحارالانوار ج ۱۵ ص ۱۸۸)
ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے ہجرت کی حالانکہ اس نے حقیقت میں ہجرت نہیں کی چونکہ ہجرت کرنے والا صرف وہی ہیں جو گناہوں کو ترک کرتے ہیں۔ اور ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اور کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے راہ خدا میں جہاد کیا درحقیقت وہ جہاد کرنے والوں میں سے نہیں کیونکہ جہاد توحرام کاموں سے دوری اختیار کرنا اور دشمن (باطنی) سے جنگ کرنا ہے۔ جبکہ بعض لوگ میدان جنگ میں خدا کی اطاعت ورضا کے لئے نہیں جاتے بلکہ ان کا مقصد صرف شہرت حاصل کرناہوتا ہے تاکہ وہ لوگ انہیں شجاعت وبہادری پر سراہیں۔
جہالت وغفلت کا صحر
اور وہ بات جو آیات واحادیث اور کلام فقہا میں گزری ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اعرابی ہونے سے مراد ہے کہ انسان جہل وبے خبری کے صحرا میں معارف الھیہ اور کمالات انسانی اور سعادت ابدی سے محروم رہے اور اس فانی دنیا کی چارہ روزہ زندگی اور خواہشات جنسی کے حصول ہی کو سب کچھ سمجھے۔ اور اسے سعادت ومعرفت کے حصول کی کوئی پرواہ نہ ہو اور ہر قسم کے گناہ اور برا کام جو کہ آخرت کے عذاب سبب بنے اس سے پرہیز نہ کرے اور ہر عمل خیر جو کہ ہمیشہ کے ثواب کا موجب ہو اس کی طرف توجہ نہ دے وہی اعرابی ہے۔ اور ہجرت اس کی برعکس کیفیت کا نام ہے۔ اور ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ علم حاصل کرنے متنبہ ہونے اور یاد دہانی کے بعد انسان ہجرت کرے دوبارہ اعرابی بن جائے۔یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان ایک عرصے تک نیک کاموں کو بجالاتارہے اور پھر اس کے بعد انہیں ترک کر دے ۔
ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کی حرمت کا حکم تب آئے گا جب کہ اعرابی ہونا بے اعتنائی اور سستی کی بناپر ہو نہ کہ غلطی یا رکاوٹوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ ہر وہ نیک کام جسے انسان ایک عرصے تک انجام دیتا رہا ہو حتیٰ الامکان ترک نہ کرے۔
جابر جعفی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ انہوں نے فرمایا۔
انی احب ان ادوم علی العمل اذاعودته نفسی وان فاتنی باللیل قضیته بالنهاروان فاتنی بالنهار قضیته باللیل وان احب الاعمال الی ا للّٰه مادیم علیها فان الاعمال تعرض کل خمیس وکل راس شهر واعمال السنة تعرض فی النصف من شعبان فاذا عودت نفسک عمل قدم علیه سنة (بحاارالانور)
میں اس بات کوپسند کرتا ہوں کہ نیک کام کو انجام دیتا رہوں تاکہ میرے نفس کو اس کی عادت پڑجائے اور اگر وہ عمل دن میں مجھ سے چھوٹ جائے تو رات کو اس کی قضا کروں اور اگر رات کو چھوٹ جائے تو دن میں اس کی قضا کروں یقینا خدا کے نزدیک بہترین عمل وہ ہے جسے جاری رکھا جائے۔ پس ہر ہفتہ کے اعمال جمعرات کو اور ہر مہینے کے اعمال آخر ماہ کو اور ہر سال کے اعمال نصف شعبان کو امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ پس جب بھی کسی نیک کام کا آغاز کرو تو اسے ایک سال تک جاری رکھو (یعنی کم از کم ایک سال تک بجالاتے رہو)
علوم د ین کوترک کرنا
علوم دینی حاصل کرنے کے بعد اسے جاری رکھنے کے بجائے ترک کردینا جیسا کہ گزرچکا ہے بعض بزرگوں نے اسے بھی ہجرت کے بعد اعرابی ہونیکی اقسام میں شمار کیا ہے۔ اور اس کا حرام ہونا اس صورت میں ہے کہ علم دین اس شخص کے لئے واجب عینی ہو جسکی تفصیل گزر چکی ہے۔ اور اس صورت کے علاوہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ اسے آخری عمر تک ترک نہ کرے جیسا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے۔
اطلبو العلم من المهد الی اللحد
گہوارے سے لے کر قبر تک علم حاصل کرو۔
یعنی خلوص نیت اورقربت کے ارادے سے نیک کاموں میں مشغول رہے تاکہ وہ عظیم سعادتیں جو دنیا و آخرت میں ان نیک اعمال کو انجام دینے سے حاصل ہوتی ہیں ان سے محروم نہ ہو۔
معونة الظالمین والرکون الیھم
ظالموں کی مدد کرنا اور ان سے رغبت
وہ انتیسواں گناہ کے جس کا کبیرہ ہونا صراحتاً بیان کیا گیا ہے وہ ظالموں کی مدد کرنا ہے ۔ چنانچہ فضل بن شاذان گناہانِ کبیرہ کے ضمن میں امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
ومعونة الظالمین والرکون الیهم
ظالموں کی مدد کرنا اور ان کی طرف مائل ہونا گناہِ کبیرہ ہے۔
اور روایت اعمش میں اسی طرح کی حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے۔" و ترک اعانة المظلومین" یعنی مظلوم سے ظلم دور کرنے کے لئے اس کی مدد نہ کرنا گناہانِ کبیرہ میں سے ہے۔ پس ظا لم کی اس کے ظلم میں مدد کرنا بطریق اولیٰ گناہانِ کبیرہ میں سے ہوگا۔
امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں:
الدخول فی اعمالهم والعون لهم والسعی فی حوائجهم عدیل الکفر والنظر الیهم علی العمد من الکبائر التی یستحق بها النار
(وسائل الشیعہ کتاب تجارت ب ۴۵ ج ۱۴ ص ۱۳۸)
ظالموں کے کاموں میں شرکت کرنا اور ان کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرنا اور ان کی مدد کرنا کفر کے برابر اور جانتے بوجھتے ہوئے ان کی طرف دیکھنا گناہانِ کبیرہ میں سے ہے اور وہ جہنم کا مستحق ہے۔
اور رسولِ خدا نے فرمایا:
فی حدیث الا سراء وما راه مکتوبا علی ابواب النار ومن جملته لا تکن عونا لظالمین (وسائل الشیعہ)
شب معراج میں جہنم کے دروازوں پر یہ حکم لکھا دیکھا "کہ ظالموں کی مدد کرنے والے نہ بنو"
یعنی اگر تم جہنم میں نہیں جانا چاہتے تو ظالموں کی مدد نہ کرو اس کے علاوہ یہ وہ گناہ ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا ہے۔
( ولا ترکنو ا الی الذین ظلموا فتمسکم النار وما لکم من دون الله من اولیاء ثم لا تنصرون ) (سورئہ ھود آیت ۱۱۵)
اور (مسلمانو) جن لوگوں نے (ہماری نافرمانی کر کے) اپنے اوپر ظلم کیا ہے ان کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی ) آ لپیٹے گی اور خدا کے سوا اور لوگ تمہارے سرپرست بھی نہیں۔
تفسیر منہج الصادقین میں لکھا ہے رکون یعنی جس سے اس آیہ شریفہ میں منع کیا گیا ہے۔ اس سے مراد میل یسیر ہے یعنی تھوڑا سا بھی ایسے لوگوں کی طرف مائل ہونا جنہوں نے اپنے اوپر یا دوسروں پر ظلم کیا ہو یعنی عزت سے ان کا ذکر کرنا ان سے باہم میل ملاپ کرنا ان سے محبت کا اظہار کرنا اور ان کے تحائف کی طرف طمع رکھنا ان کی تعریف کرنا اور ان کے حکم کی اطاعت کرنا یہ تمام باتیں ان کی طرف مائل ہونے میں آتی ہیں جب ان باتوں سے منع کیا گیا ہے تو ان سے بہت زیادہ میل ملاپ رکھنا یعنی قلم میں ان کی مدد کرنا اس پر راضی رہنا اور ظلم کرنے میں ان کے ساتھ شریک ہونا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔
من دعا ظالما با لبقاء فقدا حب ان یعص الله فی ارضه ( منہج الصادقین ج ۴ ص ۴۵۹)
اگر کوئی شخص کسی ظالم کو درازی عمر کی دعا دے تو گویا ایسا ہے کہ وہ روئے زمین پر خدا کی مخالفت کو پسند کرتا ہے۔ کتاب روضات الجنات میں کتاب مدارک الاحکام کے مولف جناب سید محمد کے حالات کے ضمن میں لکھا ہے جناب سید محمد اور جناب شیخ صاحب معلم الاصول نے ایک ساتھ مل کر حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت کا ارادہ کیا لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ شاہ عباسی صفوی ان دنوں مشہد میں ٹھہرا ہوا ہے تو انہوں نے زیارت کے ارادے کو ترک کر دیا۔
اس کے علاوہ سید بحرالعلوم کے حالات میں لکھا ہے کہ جب والی شوستران کے ساتھ بہت تواضع سے پیش آیا تو انہوں نے فرمایا میرے دل میں اس کی طرف سے تھوڑی سی رغبت پیدا ہو گئی لیکن اس سے قبل کہ میں آیہ شریفہ کا مصداق بنوں میں نے ضروری سمجھا کہ یہاں سے فرار اختیار کروں چنانچہ انہوں نے دیزفول کو چھوڑ کر عراق میں سکونت اختیار کی اور آخری عمر تک وہیں رہے بعض بزرگانِ دین کے حالات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ظالموں سے بات چیت و خط و کتابت اور ان سے معاشرت سے کس قدر پرہیز کرتے تھے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ظالموں کے دوست بن جائیں اور ان سے ظالموں کی مدح کرنے کا گناہ سرزد ہوجائے۔
کتاب فوائد الرضویہ ص ۲۳ میں محدث جزائری سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے شاہ عباس صفوی کے حضور ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا اور سلطان کے خوف سے اس نے مشہد میں پناہ لی اور مرحوم ملا احمد(مقدس اردبیلی) سے درخواست کی کہ وہ شاہ کے نام ایک خط لکھیں کہ وہ میری غلطی کو معاف کردے اور مجھے سزا نہ دے اور ان مرحوم نے شاہ عباس کو اس طرح لکھا "مانگے ہوئے ملک کے بانی عباس، جان لو کہ اگرچہ یہ مرد شروع میں ظالم تھا لیکن اب مظلوم ہے چنانچہ اس کی غلطی کو درگذر کرو امید ہے کہ خدا تمہاری کچھ غلطیوں کو معاف کر ے گا"۔ "از طرف بندہ شاہ ولایت احمد اردبیلی"۔ ان کے نام شاہ کا جوا ب آیا۔ "آپ نے جن کاموں کے بارے میں مجھے حکم دیا تھا آپ نے مجھ پر احسان کیا اس محب کو دعاؤں میں فراموش نہ کریں "علی کے گھر کا کتا عباس"۔
تاریخ بحیرہ سے نقل کیا گیا ہے کہ خواجہ نظام الملک وزیر (ملکشاہ سلجوقی) کو آخرت اور روز قیامت کے حساب کا بہت خیال رہتا تھا۔ اور وہ اسی وجہ سے ڈرتا تھا۔ اس کے باوجود اپنی مدت وزارت میں وہ عاجزوں کا فریاد رس، دانشمندوں کا پشت بان، دینی آداب و رسوم کا پابند تھا۔ اس کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اپنی اس مدت وزارت میں اپنے حسن سلوک کے بارے میں لوگوں سے ایک گواہ نامہ لکھوا لیا جائے کہ اہل اسلام کے بزرگ گواہی دیں اور دستخط کریں اورکفن میں رکھا جائے شاید اس طرح نجات پا جائے بہت سے بزرگوں نے اس کے حسن اخلاق کے بارے میں لکھ دیا لیکن جب وہ گواہی نامہ بغداد میں مدرسہ نظامیہ کے مدرس شیخ ابو اسحٰق کو دیا گیا تو آپ نے لکھا۔
"خیر الظلمة حسن کتبه ابوا سحاق"
یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ شیخ نظام الملک ظالموں میں بہت اچھا ظالم ہے۔
جب ابو اسحٰق کی گواہی خواجہ نے دیکھی تو بہت رویا اور کہا ابو اسحٰق نے جو کچھ لکھا ہے سچ اور حقیقت یہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظالموں کی مدد کرنا ہر صورت میں حرام اور گناہانِ کبیرہ میں سے ہے، نیز ظالم کی اقسام اور ظالم کی مدد کرنے کی قسمیں ان سب کے لئے حکم ہے اور وہ چیز کہ جس کا سمجھنا ضروری ہے۔
ظالموں کی اقسام
ظلم سے مراد احکام خدا سے رو گردانی کرنا اور وہ چیز جوعقل و شرع نے متعین کی ہے اس کی مخالفت کرنا اور اس کی دو قسمیں ہیں۔
( ۱) حدود الہٰی سے تجاوز کرنا انسان کا مشرک ہونے کے برابر ہے۔
جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:
( ان الشرک لظلم عظیم ) (سورئہ لقمان آیت ۱۲) بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔
( ۲) یا خدا کی آیات کو جھٹلانا جیسا کہ قرآن مجید میں خدا کا ارشاد ہے:
( والکافرون هم الظالمون ) (سورئہ بقرہ آیت ۲۵۵)
بطور کلی وہ حکم شرعی کہ جس پہ عقلاً و شرعاً اعتقاد رکھنا واجب ہے۔ اسے قبول نہ کرنا اور اس پر یقین نہ رکھنا ظلم ہے۔ اور اس کے علاوہ مثلاً احکام الہٰی سے رو گردانی کرنا یا یہ کہ واجب کو ترک کرنا اور حرام کا ارتکاب کرنا یہ سب ظلم ہے۔
چنانچہ ارشاد رب العزت ہے:
( ومن یتعد حدود الله فا ولئک هم الظالمون ) (سورئہ بقرہ آیت ۴۲۹)
جو حدود الہٰی سے تجاوز کرتے ہیں پس وہی ظالمین ہیں یعنی ان تمام موارد میں خود ہی انسان نے اپنے اوپر ظلم کیا جیسا کہ فرمان خدا ہے۔
( "فمنهم ظالم لنفسه" ) (سورئہ فاطر آیت ۲۹)
یہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔
کسی دوسرے شخص کے بارے میں حدود الہٰی سے تجاوز کرنا یعنی کسی شخص کو جسمانی لحاظ سے تکلیف دینا مثلاً مارنا قتل کرنا قید کرنا یا کسی کی بے عزتی کرنا مثلاً گالی دینا، غیبت کرنا، تہمت لگانا اس کی توہین کرنا یا کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا مثلاً کسی کا مال اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لے لینا یا کسی صاحب حق کو اس کا حق نہ دینا اور اسی طرح غصب کی دوسری اقسام ہیں جن میں سب سے بڑا گناہ مقام منصب و ولایت پر قبضہ کرنا ہے جبکہ واضح طور پر اہل بیت ہی اس کے مستحق تھے جسے ظالم خلفا بنی امیہ و بنی العباس نے غصب کیا اور اسی طرح اس کی دوسری مثال غیر عادل مجتہد کا کرسی قضاوت پر بیٹھنا ہے اور ایسے ظالموں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ ظلم و ستم اس شخص کا پیشہ ہو جیسا کہ ظالم اور لٹیرے حکمران۔ دوسرے یہ کہ ظلم اس شخص کا پیشہ نہ ہو لیکن اتفاقاً بعض اوقات اس سے کوئی ظلم صادر ہوا ہو اور وہ کسی پر ستم ڈھائے ان احکام کو جاننے کے لئے ان اقسام میں سے ہر ایک کی چار ابواب میں توضیح کی جائے گی۔
ظالم کی ظلم میں مدد کرنا
وہ ظالم کہ ظلم کرنا جس کا پیشہ ہو اس کے ظلم میں مدد کرنابغیر کسی شک کے گناہانِ کبیرہ میں سے ہے۔ مثلاً کسی مظلوم کو مارنے کے لئے اس کے ہاتھ میں تازیانہ دینا یا کسی مظلوم کو پکڑنا تاکہ اسے مارے، قتل کرے یا قیدکردے اور کسی بھی طرح ظالم کے ظلم میں مدد کرنا حرام ہے۔
شیخ انصاری علیہ الرحمہ مکاسب میں فرماتے ہیں ظالموں کی ان کے ظلم میں مدد کرنا چار دلیلوں ( جو کہ احکام ثابت کرنے کا ذریعہ ہیں( یعنی قرآن، عقل، سنت اور اجماع) سے ثابت اور گناہانِ کبیرہ میں سے ہے۔ دلیل عقلی یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کی مدد کرنے والا نہ ہو اور اس صورت میں ظالم ظلم نہ کر سکے تو عقل یہ حکم دیتی ہے کہ اس کی مدد کرنا حرام ہے۔ اور عقل ظالم کی مدد کرنے والے کو اور ظالم دونوں کو ان کے برے کردار اور اعمال کی جواب دہی کے لحاظ سے برابر سمجھتی ہے خلاصہ عقل بغیر کسی تردید کے ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرنے کو حرام قرار دیتی ہے۔
اجماع۔ فقہی کتابوں کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرنا تمام فقہاء کے نزدیک حرام ہے اور یہ اجماعی مسئلہ ہے۔ اور قرآن میں فقط "ولا ترکنوا الی الذین ظلموا" کی آیت ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرنے کی حرمت کے لئے کافی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب ظالم کی طرف تھوڑا سا بھی مائل ہونا حرام ہو تو یقینا ظلم میں اس کی مدد کرنا بطریق اولیٰ حرام ہوگا کیونکہ ظالم کی مدد کرنا اس کی طرف مائل ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ارشاد خدا ہے۔
( ولا تعاونوا علی الا ثم والعدوان واتقو الله ان الله شدید العقاب ) (سورئہ مائدہ آیت ۲)
اور گناہ اور ظلم میں باہم کسی کی مدد نہ کرو اور خدا سے ڈرو (کیونکہ) خدا تو یقینا بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔
ظالم کی مدد اور روایات اہل بیت (ع)
اس سلسلے میں بھی بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ اور شیخ انصاری نے کتاب ورام میں رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا۔
من مشی مع ظالم لیعینه وهو یعلم انه ظالم فقد خرج من الاسلام (مجموعہ ورام جز اول ص ۴۵)
اگر کوئی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کرے جائے حالانکہ وہ یہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے تو یقینا وہ دین اسلام سے خارج ہو گیا اور ظاہر ہے کہ وہ چیز جو انسان کو دائرہ ایمان و اسلام سے خارج کر دے وہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے جو کہ ہلاکت کا باعث بنے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اذا کان یوم القیمة نادی منا د این الظلمة واعوان الظلمة و اشباه الظلمة حتی من برء لهم قلما ولا ق لهم دواتا قال فیجمتمعون فی تابوت من حدید ثم یرمی بهم فی جهنم (وسائل ج ۱۴ ص ۱۳۱)
جب قیامت برپا ہوگی ایک منادی یہ ندا دے گا۔ ظالم اور ظالموں کی مدد کرنے والے اور ظالموں کی مانند لوگ کہاں ہیں۔ یہاں تک اگر کسی نے ظالم کے لئے قلم یا سیاہی کی دوات بنائی ہو تاکہ وہ ظلم کا حکم لکھ سکے پس ان تمام لوگوں کو ایک لوہے کے تابوت میں جمع کیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
اور حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ومن علق سوطا بین یدی سلطان جایر جعلها الله حیة طولها سبعون الف ذراع فیسلط الله علیه فی نار جهنم خالد ا فیها مخلدا (وسائل کتاب تجارت ج ۱۴ ص ۱۳۱)
اگر کوئی شخص کسی ظالم بادشاہ کے حضور تازیانہ لٹکا دے تاکہ وہ اس سے مظلوم کو مارے تو خدا وند عالم اس تازیانے کوستر ہزار گز لمبے سانپ کی صورت میں بدل دے گا اور اس سانپ کو جہنم کی آگ میں ہمیشہ اس پر مسلط رکھے گا۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا:
من تولی خصومة ظالم او اعان علیها ثم نزل به ملک الموت قال له البشر بلعنة ا للّٰه ونارجهنم وبئس المصیر ومن دل سلطانا علی الجور قرن مع هامان وکان هو السلطان من اشد اهل النار عذابا ومن سعی باخیه الی سلطان ولم ینله منه سوء او مکروه اوا ذی جعله ا للّٰه فی طبقة مع هامان فی جهنم
(وسائل ج ۱۲ ص ۱۳۲)
اگر کوئی ظالم کے لڑائی جھگڑے کے (معاملے)کو اپنے ہاتھ میں لے اور ظالم کی مدد کرے تو موت کے وقت فرشتہ اجل اس کو لعنت خدا اور جہنجک کی نوید دیتا ہے۔ جو بری جگہ ہے۔ اور اگر کوئی ظالم کی ظلم وستم کی طرف راہنمائی کرے تو وہ ہامان(فرعون کے وزیر)کے ساتھ محشور ہوگا (اور اس شخص یعنی ظلم کی طرف رہنمائی کرنے والے کا )اور عذب دوسرے دوزخیوں سے زیادہ سخت ہوگا اور اگر کوئی شخص اپنے کسی مومن بھائی کی بادشاہ کے سامنے چغلی کرے (یعنی اس مسلمان کا بادشاہ سے مومن کے بارے ایسی باتیں کہنا کہ جسے سن کر بادشاہ مومن پرغضب ناک ہو) لیکن اگر بادشاہ کی طرف سے اس مومن کو کچھ بھی نہ کہا جائے اور نہ ہی کوئی اذیت دی جائے تو خداوند عالم اس چغل خور کے سب نیک اعمال ضائع کردے گا لیکن اگر بادشاہ کی طرف سے اس مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو (یعنی اذیت وتکلیف پہنچے) تو خداوند عالم اس چغل خور کو جہنم کے اس طبقے میں رکھے گا جہاں ہامان ہے۔
ظالم کی تعریف کرنا بھی حرام ہے
ظالم کی اس طرح تعریف کرنا جو کہ اس کی قوت وشان شوکت کا باعث ہو اور وہ زیادہ ظلم کرسکے یا یہ کہ اس کی تعریف کرنا ظالم کو اور جری بنادے اور اس سلسلے میں جو دلیلیں پہلے گزرچکی ہیں اور اس کے علاوہ نہی عن المنکرکے لئے جو دلائل پیش کئے جاتے ہیں سب اس کے گناہ کبیرہ ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔
خصوصاً شیخ انصاری رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نقل کرتے ہیں کہ آپنے فرمایا:
من عظم صاحب الدنیا واحبه لطمع دنیاه سخط ا للّٰه علیه وکان فی درجته مع قارون فی التابوت الاسفل من النار (کتاب التجارہ وسائل ج ۱۴ ص ۱۳۱)
اگر کوئی شخص کسی دولت مند کی تعظیم کرے اور اسے مکرم ظاہر کرے اور اس کی دولت کی لالچ میں اسے اچھا سمجھے تو خدا وند عالم ا س پر غضب ناک ہوگااور اسے آگ کے تابوت میں دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ایسی جگہ پر رکھے گا جہاں پر قارون ہے۔ اور یہ بات مخفی نہیں کہ یہ روایت سب کے لئے ہے اور اگر جس کی تعریف کی گئی ہو وہ ظالم ہو تو بطریق اولیٰ تعریف کرنے والا بھی عذاب کا مستحق ہوگا۔ اس کے علاوہ حضرت رسول خد ا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مروی ہے۔
من مدح سلطاناجائراو تخفف و تصنعضع له طمعافیه کان قرینه فی النار (وسائل ج ۱۴ ص ۱۳۳)
اگر کوئی ظالم بادشاہ کی تعریف کرے یا لالچ میں آکر اپنے آپ کو اس سے چھوٹا اور پست ظاہر کرے تو وہ جہنم کی آگ میں اس کے ساتھ ہوگا۔
نیز آپنے فرمایا:
اذا مدح الفاجر اهتزاالعرش وغضب الرب (سفینة البحارج ۱ ص ۱۷۷)
جب بھی کسی فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو عرش خدا لرز نے لگتا ہے اور خدا کا غضب تعریف کرنے والے کو گھیرلیتاہے۔
ظالم کی طرف سے منصب قبول نہیں کرنا چاہئے
ظالم کی مدد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اس کی طرف سے کسی مقام و منصب کو قبول کرنا ہے بے شک وہ مقام و منصب کسی قسم کے ظلم کا باعث نہ ہو ۔ مثلاً نظم و ضبط و امن و امان کی حفاظت کرنا۔ چہ جائیکہ اس مقام کا لازمہ ہی ستم کرنا ہو۔ مثلاً ظالم کی طرف سے ظلم و ستم کے ذریعے لوگوں کے اموال چھین لینے پر مامور ہونا اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری صورت میں گناہ شدید اور اس کا عذاب بہت سخت ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ معروف روایت جو کہ تحف العقول میں ہے فرماتے ہیں:
و اما وجه الحرام من الولا یة الوالی الجائر و ولا یة والعمل لهم والکسب معهم بجهة الولایة لهم حرام محرم معذب من فعل ذلک علی قلیل من فعله او کثر لان کل شی من جهة المعونة معصیته کبیرة من الکبائر وذلک ان فی ولا یة الوالی الجائر دروس الحق کله واحیاء الباطل کله و اظهار الظلم و الجورو الفسادو ابطال الکتب و قتل الانبیاء و المومنین وهدم المساجد و تبدیل سنة الله و شرایعه فلذلک حرم العمل معهم و معونتهم والکسب معهم الا بجهة الضرورة نظیر الضرورة الی الدم المیتة (تحف العقول ص ۲۴۶)
حرام منصب، ظالم حاکم کا منصب اور ان لوگوں کامنصب ہے جو ظالم کی طرف سے کاموں میں مصروف ہیں تو پس اس عہدے کے لئے اس کا کام انجام دینا حرام ہے۔ اور اس کاکام کرنے کی وجہ سے وہ شخص عذاب میں مبتلا ہوگا۔ چاہے وہ کام تھوڑا ہو یا زیادہ لیکن ایسا ہر کام کے جس میں ظالم کی مدد کی ہو ایک بڑاگناہ اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ کیونکہ ظالم کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا ۔ حقوق پامال ہونے ، باطل ظاہر ہونے، طلم وفساد آشکار ہونے، اور آسمانی کتابیں ختم ہونے، پیغمبروں کے قتل ہونے، مساجد کے برباد ہونے اور احکام دینی میں تبدیلی کا سبب ہوگااسی وجہ سے ان کے ساتھ کام کرنا حرام اور انکی مدد کرنا حرام ہے۔ سوائے مجبوری وناچاری کی صورت میں مثلاًخون پینے اور مردے کا گوشت کھانے کی نوبت آجائے۔
اس کے علاوہ آپ نے فرمایا:
ما یصنع ا للّٰه عزّو جلّ بمن تولی لهم عملا ان یضرب علیه سرادقا من النار الی ان یفرغ ا للّٰه حساب الخلائق
ایسے لوگوں کو جو ظالموں کے لئے کسی کام کو قبول کریں روز قیامت خداوند عالم جو سب سے معمولی سزا دے گا وہ یہ ہے کہ انہیںآ گ کے پاس اس وقت تک کھڑا رکھے گا جب تک کہ سارے لوگوں کا فیصلہ نہ ہوجائے (اور پھر اس کے بعد ان کا فیصلہ کردے گا)
دارلسلام کے آخر میں عراقی مکاشافات برزخی کے باب میں سید جلیل عارف نبیل سید محمد علی عراقی کا مکاشفہ لکھتے ہیں ۔جن کاذکر کیاگیا وہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے امام مہدی کی زیارت کی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اپنی جوانی کے ایام میں عراق میں اپنے اصلی وطن(کرھرود) جو عراق کی بستیوں میں سے ایک مشہور بستی ہے وہاں رہتاتھا۔ انہی دنوں ایک ایسے شخص کاجسے میں نام ونسب سے پہنچانتا تھاانتقال ہوگیا اور اسے ہمارے گھر کے مقابل جو قبرستان وہاں دفنایا گیا۔ پس چالیس دن تک مغرب ہوتے ہی اس کی قبر سے آگ نکلتی اور گریہ وزاری کی دہلا دینے والی آوازسنائی دیتی اور انہی ابتدائی راتوں میں سے ایک رات اس شخص کے رونے اور وحشت نے شدت اختیار کی میں بہت پریشان وخوفزدہ ہوا اور دہشت کے باعث میں اس طرھ لرز نے لگاکہ خود پر بالکل قابو نہ رکھ سکا اور مجھ پر بے ہوشی ظاہرہونے لگی جب میرے جاننے والوں کو میری خبر ملی تو وہ مجھے اٹھا کر لے گئے اور جس وقت میں بہترہوا تو اس شخص کی حالت کی وجہ سے تعجب میں تھا کیونکہ مجھے اس کے حالات زندگی معلوم نہ تھے مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شخص اپنے محلے کی کچہری میں کام کرتا تھا اور ایک دن اس نے ایک سید سے عدالتی ٹیکس مانگا لیکن وہ سید ٹیکس اداکرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا تو اس شخص نے سید ٹیکس کے لئے اسے قید کیا اور ایک عرصے تک اسے اپنے گھر کی چھت سے لٹکائے رکھا۔ اور سید کو اذیت دینے کی بنیاد پر اس شخص کو عذاب قبر کا سامنا کرا پڑا۔
اسی موضوع سے متعلق ایک معتبر شخص نے نقل کیا ہے کہ کچھ عرصے پہلے کا شان میں آقا محمد علی نامی ایک شخص رہتا تھا جو کہ عطر کا کاروبار کرتا تھااور اس کا کچہری سے بھی تعلق تھا اس نیسب پر یہ پابندی لگادی تھی کہ کوئی شخص کسی بھی قسم کے عطر کی خرید وفوخت نہیں کرے گا۔ اسی عرصے میں ایک سید نے ایک من عطر لیا اور اسے کسی شخص کو بیچ دیا لیکن جب اس ظالم شخص کو اس بات کی خبر ہوئی تو وہ بازار میں اس سے ملا اور اسے خوب گالیاں دیں اور اس کے منہ پر تھپڑ مارے اس پراس سید نے جاتے ہوئے کہا میرے جد تمہیں اس کی سزا دیں گے اس ظالم نے یہ سنا تو پلٹ آیا اور پنے غلام سے کاہ اس سید کو پکڑ کر لاو اس کے بعد اس سید کودنڈے سے مارا اور کاہ جاو اورپنے جد سے کہوکہ میرے بازو نکال دیں پس دوسرے ہی دن اس ظالم کو بخار ہوگیا اور رات کو اس کے بازووں میں درد شروع ہوا اور تیسرے دن بازووں پر شدید سوجن ہوئی اور پیپ بہنا شروع ہوگئی چوتھے روزطبیبوں نے اس کے بازووں کو اس طرح کاٹا کہ اس کے مونڈھے نظر آنے لگے اور ساتویں دن وہ شخص واصل جہنم ہوگیا۔ ظالم کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا اس کے ظلم میں بہت بڑی مدد کرناہے۔ کیونکہ اس مقام ومنصب کے ہوتے ہوئے یہ ناممکن ہے کہ انسان سے کوئی ظلم یا گناہ سرزد نہ ہو۔ چنانچہ صحیحہ داوزربی میں ہے کہ اس نے کہا کہ امام سجاد علیہ السلام کے دوستوں میں سیکسی نے مجھے یہ خبر دی اور کہاکہ میں نے امام سے عرض کیا کہ داود بن علی (حاکم مدینہ )سے یا دوسرے اراکین حکومت سے میری سفارش کریں تاکہ وہ مجھے مقام ومنصب دیں ۔ امام نے فرمایامیں ایسا کام ہر گز نہیں کروں گاوہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ شاید امام کااس سلسلے میں کوئی اقدام نہ کرنے کاسبب یہ ہو کہ امام اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ کہیں مجھ سے کوئی ظلم وستم سرزد نہ ہو۔ پس میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور بڑی بڑی قسمیں کھائیں اور عہد کیا کہ میں کوئی ظلم نہیں کروں گا۔ اور لوگوں کی مدد کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دوں گا پس امام نے آسمان کی طرف رخ کیا اور رونے لگے اور فرمایا کہ آسمان پر جانا اس کام سے زیادہ آسان ہے ظاہر اً امام کے اس فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ظالم کی طرف سے منصب قبول کرنے کے بعد انسان ظلم نہ کرے اور تمام حالات میں عدل وانصاف سے کام لے یہ محال ہے۔
وہ موارد جہاں پر حکومت قبول کرناجائز ہے۔
دو مقمات پر ظالم کی طرف سے کوئی مقام ومنصب قبول کرنا جائز ہے بلکہ بعض اوقات واجب ہوجاتاجیسا کہ زکر ہوگا۔ مورد اول بے چارگی، جبر یا تقیہ کی صورت میں اگر ظالم کی طرف سے قبول نہ کرے تو جان ومال یا عزت و آبر وخطرے میں ہو۔ اس قسم کی ولایت اضطراری قبول کرنے کے سلسلے میں عمومی اور خصوصی بہت سی دلیلیں ہیں۔
جیسا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے۔
ومااکرهواعلیه ومااضطروالیه (کتاب خصال صفحہ ۴۱۶)
جس چیز کے بارے میں میری امت پر جبر کیا جائے اور وہ مجبور ہوتواس سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جائیگا۔ اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا۔
مامن شی الا وقد احله ا للّٰه لمن اضطرالیه (وسائل الشیعہ)
کوئی چیز ایسی نہیں کہ جسے خداوندعالم نے مجبور کے لئے حلال نہ کیا ہو۔ امام علی رضا علیہ السلام سے وسائل الشیعہ میں روایت نقل کی گئی ہے کہ ان کا ماموں الرشید کی طرف سے ولایت ومنصب کو قبول کرنا جبر اورتقیہ کی وجہ سے تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ظالم بادشاہ کے لئے کام کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔
لاالاان لا یقد ر علی شیء یا کل ولا یشرب ولا یقد ر علی حیلة فان فعل فساد فی یده شیء فلیبعث بخمسه الی اهل البیت ۔
جائز نہیں مگر یہ کہ انسان کھانے پینے کی چیزیں کسی کے ذریعے سے بھی حاصل کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور جان کا خوف ہو۔ اور قوت لا یموت صرف بادشاہ کے کسی کام کو قبول کرنے پر منحصر ہو تو جائز ہے۔ (مختصراً یہ کہ بے چارگی کی صورت میں کوئی حرج نہیں) پس اگر ظالم حاکم کے ذریعے اس تک کوئی مال پہنچے تو چاہیئے کہ اس کے خمس کو اہل بیت تک پہنچائے۔
جائز ہونے کے موارد میں دوسری قسم یہ ہے کہ بعض ایسے عہدوں کو قبول کرنا جس کے ذریعے کوئی ظلم و ستم سرزد نہ ہو مثلاً فوجی و ملکی عہدے کہ جن کے ذریعہ ملک میں امن و امان اور نظم و ضبط کی حفاظت ، راستوں اور مسلمانوں کی سرحدوں کی نگہبانی اور اسی طرح کی دوسری ذمہ داریاں کہ جن کا مقصد صرف مسلمانوں کے مصالح اور مظلوموں کی خبر گیری ہو اور مومنوں کی مدد کرنا اور صاحب حق کو اس کا حق پہنچانا ہو تو ایسے منصب کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں خلاصہ یہ کہ اس قسم کے عہدوں کو ظالم کی طرف سے قبول کرنا اس ارادے سے کہ عدل کا پرچار ہو اور مومنین کے ساتھ احسان کیا جائے تو نہ صرف جائز بلکہ زیادہ مستحب ہے۔ زیاد بن ابی سلمہ کہتا ہے کہ میں امام موسیٰ بن جعفر کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام نے مجھ سے فرمایا کہ تم حکومت کے ملازم ہو۔ میں نے کہا جی ہاں امام نے فرمایا کیوں ؟ میں نے عرض کی میں صاحب مروت اور احسان کرنے والا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والا ہوں اور اس طرح کہ میں اسے چھوڑ نہیں سکتا اس کے علاوہ یہ کہ میں بال بچوں والا ہوں اور اپنے اخراجات پورے کرنے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں امام نے فرمایا اے زیاد اگر مجھے پہاڑی کی بلند و بالا چوٹی سے گرادیا جائے اور میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤں تو مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے لوگوں کا کوئی کام انجام دوں یا ان میں سے کسی کے گھر میں قدم رکھوں صرف ایک صورت کے علاوہ جانتے ہو وہ صورت کیا ہے۔ میں نے کہا میری جان آپ پر فدا میں نہیں جانتا امام نے فرمایا سوائے اس کے کہ مومنین کو غم وانددہ سے نجات دلاوں یا کسی قیدی مومن کو آزادکراوں یا مومن کے قرض کو ادا کروں اس کے بعد فرمایااے زیاداگر ظالموں کی طرف سے تمہیں کوئی عہدہ ملے تو اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان لوگوں کے کاموں میں مصروف رہنے کے باعث جس گناہ کا تم سے ارتکاب ہو اس کی تلافی ہوسکے۔
فضل بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام موسیٰ بن جعفر کو لکھا :
استاذنه فی اعمال السطان فقال لا بائس به مالم تغیر حکما ولم تبطل حداوکفارته قضاء حوائج اخوانکم (مستدرک الوسائل)
کہ مجھے حکومت میں ملازمت کرنے کی اجازت دیجئے ۔ اما م نے فرمایااگر تم احکام الہی میں سے کسی حکم میں تبدیلی پیدا نہ کرو حدود الہی کی کسی حد کو باطل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں اور تمہارے عمل کا کفارہ تمہارا اپنے مومن بھائیوں کی حاجت کو پورا کرنا ہے۔ علی بن یقطین جو کہ ہارون کے وزیر اعلیٰ تھے امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو لکھا۔
فی لاخروج من عمل السطان فاجابه الی لا اری لک الخروج من عمل السلطان فان ا للّٰه بابواب ابی الجابرة یدفع بهم عن اولیائه وهم عتقائه من النار فاتق ا للّٰه فی اخوانک (مستدرک وسائل باب ۳۹)
مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس عہدے سے مستعفی ہوجاوں۔ امام نے ان کے جواب میں لکھاکہ میں تمہارے لئے جائزنہیں سمجھتا کہ تم نظام حکومت سے علیحدہ ہوجاو کیونکہ خداوندعالم کے لئے ظالموں کے دربار میں وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے سے خدااپنے دوستوں سے مصیبتوں کو دور کرتاہے۔اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں خداوند عالم نے ا ٓتش جہنم سے آزاد قرار دیا ہے۔ چنانچہ اپنے بھائیوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے رہو۔
محمد بن اسماعیل بزیع جو ہارون کے وزیروں میں سے تھے انہیں تین اماموں حضرت موسیٰ کاظم ، حضرت علی رضا اور حضرت جواد علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور اپنے کفن کے لئے امام جواد علیہ السلام سے ان کا پیراہن لیا۔ وہ امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :
ان ا للّٰه بابواب الظالمین من نور ا للّٰه اخذ له البر اهان ومکن له فی البلاد لیدفع بهم عن اولیائه ویصلح ا للّٰه به امور المسلمین الیهم یلجا المومن من الضرو الیهم یقرع ذوالحاجة من شیعتنا وبهم یو من ا للّٰه روعة المومن فی دارالظلمة اولئک هم المومنون حقا واولیک امناء ا للّٰه فی ارضه الی ان قال علیه السلام فهنیئا لهم ما علی احدکم ان لوشاء لنال هذا کله قال قلت بما ذاجعلنی ا للّٰه فداک قال علیه السلام یکون معهم فیسرنا باد خال السرور علی المومنین من شعیتنا فکن منهم یا محمد (بحارالانور ا ج ۵ ۱ ص ۴۱۳ اور ج ا سفینة البحار ص ۳۱۶)
خداوند عالم کے لئے ظالموں کے دربار میں وہ لوگ ہیں کہ ان کے ذریعے اپنی حجت کو ظاہر کرتاہے اور انہیں شہروں پر مقرر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے سبب سے اپنے دوستوں کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کے کاموں کی اصلاح کرتا ہے۔ مومن سختی میں ان کے پاس پناہ لیتے ہیں اور انہی کے ذریعے ہمارے ضرورت مندشیعوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ اور خدا وند عالم ان کے وسیلے سے مومن کیخوف وگھبراہٹ کو ظالموں کے گھروں پر مقرر کردیتا ہے پس یہی حقیقی مومن ہیں جوخدا کی زمین پر اس کے امین ہیں یہاں تک کہ فرمایا۔ ان کو وہ مقام ومرتبہ مبارک ہو۔ اس کے بعد فرمایا کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ تم میں سے کوئی ایک ان تمام مراتب تک پہنچ جائے۔ محمد نے کہا میںآ پ پر فدا ہوجاوں کس طرح انسان ان درجات تک پہنچ سکتا ہے۔ امام نے فرمایا ظالموں کے ساتھ ہوتے ہوئے ہمارے شیعہ مومنین کے دلوں کو خوش کریں جس سے ہم خوش ہوتے ہیں۔ اے محمد تم اس کے بعد ان لوگوں میں شمار ہوسکتا ہے جن کے درجات بلند ہیں۔
ایک صورت میں حکومت یا کسی منصب کا قبول کرنا واجب ہے
بعض لوگوں کے لئے حکومت کا قبول کرنا اور بعض عہدوں پر فائز ہونا واجب ہوتا ہے لیکن وہ اس صورت میں کہ اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو کہ اگر فلاں مقام ومنصب کو قبول کر لے تو مفاسد دینی میں سے ایک بہت بڑے مفسدہ کو ختم کرسکتا ہے یا غیر شرعی باتوں میں سے کسی ایک برائی کی روک تھام کرسکتا ہے لیکن ایسا موقع بہت کم ملتا ہے کیونکہ اس کی بنیادی شرط اپنے اطمینان پر ہے یعنی اس منصب کو قبول کرنے کے بعد کسی بھی طرح اس سے کوئی ظلم وستم یا جرم سرزد نہ ہو، اور عدل وانصاف اور احکام خدا کے خلاف کوئی کام نہ کرے اور ظاہر ہے کہ اس مقصد کوحاصل کرنا بہت دشوار ہے کیونکہ حکومت میں بہت بڑے بڑے خطرے پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان سے اپنے آپ کو بچانا بہت مشکل ہوتاہے۔
امام جعفر علیہ السلام نے اھواز کے حاکم عبداللہ نجاشی کے خط کے جواب میں یہ تحریرفرمایا:
انک بلیت بولا یة الا هواز وفسرنی ذلک وسائنی وساخبرکما سائنی من ذلک وما سرنی انشاء ا للّٰه واما سروری بولا یتلک فقلت عسی ان یغیث اللّٰه بک ملهوفا خائفا من اولیاء ال محمد (صلی الله علیه و آله) ویعزبک ذلیلهم ویکسوبک عاریهم ویقوی بک ضعیفهم ویطفئی بک نارا المخا لفین عنهم واما الذی سائنی من ذلک فان ادنی ما اخاف علیک ان تعشر بولی لنا فلا تشم رائحة خطیرةالقدس (کتاب مکاسب محرمہ)
میں نے سنا ہے کہ تم نے اھواز کی حکومت سنبھال لی ہے۔ میں اس خبر سے خوش بھی ہوا اورغمزدہ بھی خوش اس لئے ہوں کہ امید ہے کہ خدا تمہارے وسیلے سے آل محمد کے دوستوں کی سختیوں اور پریشانیوں کو دور کرے گا اور انکی مدد فرمائے گا اور تمہارے ذریعے سے مخالفین کی آگ کوان پر ٹھنڈا کرلے گا اور میں غمزدہ اس لئے ہوں کہ سب سے معمولی بات کہ جس وجہ سے میں تمہاری طرف سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم ہمارے دوستوں میں سے کسی کی پریشانی اور بے چینی کا سبب بنو اوربہشت کی خوشبو بھی تم تک نہ پہنچ سکے۔
جناب پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
من تولیٰ عرافة قوم اتی به یوم القیمة ویداه مغلو لتان الی عنقه فان قام فیهم بامر اللّٰه عزّو جلّ لاطلقه ا للّٰه وان کان ظالما هوی به فی نارجهنم وبئس المصیر ومن تولی عرافة قوم ولم یحسن فیهم حبس علی شفیر جهنم بکل یوم الف سنة و حشر ویده مغولة الی عنقه فان کان قام فیهم بامر ا للّٰه اطلقها ا للّٰه وان کان ظالما هوی به فی نا رجهنم سبعین خریفا (وسائل ج ۱۴ ص ۱۳)
وہ شخص جو کسی قوم کی رہبری کے عہدے پر فائز ہو تو روز قیامت اس طرح وارد ہوگا کہ دونوں ہاتھ اس کی گردن کے گرد بندھے ہوں گے پس اگر اس نے لوگوں کے درمیان احکام خدا کے مطابق عمل کیا تو اس کو خدا آزاد کر دے گا لیکن اگر ستم کیا ہو تو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ اور اگر کسی قوم کا رہبر لوگوں کے ساتھ انصاف اور نیکی کے ساتھ پیش نہ آئے تو اسے ہر اس دن کے مقابلے میں کہ جتنے عرصے تک اس نے حکمرانی کی ہزار سال جہنم کے کنارے کھڑا کیا جائے گا۔ اس حالت میں اس کے دونوں ہاتھ گردن کے پیچھے بندھے ہوں گے پس اگر اس نے امر الہیٰ کے مطابق عمل کیا ہو تو آزاد ہو جائے گا اور اگر ظلم کیا ہو تو ستر سال کی گہرائی تک جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
من تولی امرا من امور الناس فعدل فیهم و فتح بابه و رفعه ستره و نظر فی امور الناس کان حقا علی الله ان یومن روعته یوم القیمة و ید خل الجنة
(کتاب وسائل تجارت ب ۴۶ ص ۱۴۰)
اگر کوئی شخص لوگوں کے امور میں سے کسی امر کا ذمہ دار ہو تو پس اگر وہ ان کے درمیان عدل سے کام لے اور رجوع کرنے والوں اور مدد کے طالب لوگوں کے لئے اپنے گھر کے دروازے کو کھلا رکھے اور ان سے دوری اختیار نہ کرے اور لوگوں کے کاموں پر نظر رکھے تو خدا اسے روز قیامت خوف و دہشت سے امان میں رکھے گا اور بہشت میں داخل کرے گا۔
یاد رہے کہ مستثنی موارد کی فروعات بہت زیادہ ہیں اور اختصار پیش نظر تھا اس لئے ذکر نہیں کیا گیا جاننے والے فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کریں۔
ظالم کی ظلم کے علاوہ کسی اور کام میں مدد کرنا
ظالم کی ظلم کے علاوہ کسی کام میں مدد کرنا مثلاً ظالم کی خدمت کرنا اس کے لئے سلائی کرنا یا عمارت بنانا یا اس کے خزانے اور دوسرے اموال کی رکھوالی کرنا اور اسی طرح کی دوسری چیز جن کی تین اقسام ہیں۔
۱ ۔ بعض اوقات یہ امور حرام کا سبب بنتے ہیں مثلاً ایسی زمین جو غصب کی گئی ہو مستری کو اس پر عمارت بنانے کا حکم دے یا وہ کپڑا جو جبراً لوگوں سے لے لیا گیا ہو درزی اس کے کپڑے سئیے یا لوگوں کے وہ اموال جو ان سے چھین لئے ہوں محافظ ان کی حفاظت کرے اور اسی طرح کے دوسرے امور۔
اس قسم کی مدد کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں کیونکہ غصب کی ہوئی چیز پر تصرف کرنا جبکہ انسان جانتا ہو حرام ہے چاہے وہ تصرف غصب کرنے والا کرے یا کوئی دوسرا۔
ایسی صورت میں جبکہ اس طرح کے کام حرام تو نہ ہوں لیکن ظالم سے تعلق کی بنا پر عرف عام میں اسے ظالم کی مدد کرنے والوں میں شمار کیا جائے اور ظالم کی تقویت اور شان و شوکت کا باعث ہو اور اس کا نام ظالموں کی فہرست میں لکھا جائے اور حقوق غصب کرنے والوں میں اس کا شمار ہو تو بہت سی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قسم حرام ہے۔
امام جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں۔
من سود اسمه فی دیوان ولد سابع حشره الله یوم القیمة خنزیرا
(وسائل کتاب تجارت ب ۴۲ ص ۱۳۰ ج ۱۴)
اگر کوئی شخص اپنا نام بنی عباس کے دفتر میں لکھوائے تو روز قیامت وہ خنزیر کی صورت میں محشور ہوگا۔
اور دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ سیاہ صورت کے ساتھ محشر میں وارد ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا۔
لا تعنھم علی بناء مسجد(وسائل کتاب تجارت ب ۴۲ ص ۱۳ ج ۱۴) مسجد کی تعمیر میں ظالموں کی مدد نہ کرو۔
ابن ابھی یعفور کہتے ہیں کہ امام صادق کی خدمت میں تھا کہ اتنے میں آپ کے شیعوں میں سے ایک آدمی حاضر ہوا اور امام سے کہنے لگا میں آپ پر قربان جاؤں ہم میں سے بعض افراد کو کبھی معاشی لحاظ سے پریشانی اور تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی عالم میں بنی عباسی کی طرف سے عمارتوں کو تعمیر کرنے یا نہر کھودنے یا زراعت کا کام کرنے کے لئے ان افراد کو طلب کیا جاتا آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں۔ امام نے فرمایا۔
ما احب الی عقدت لهم عقدة او وکیت لهم و کا ء و ان لی ما بین لا بیتها لا ولا مدة بقلم ان اعوان الظلمة یوم القیمة فی سرادق من نارحتی یحکم الله بین العباد
(ب ۴۲ ج ۱۲ ص ۱۲۹)
میں ایک گرہ یا مشک کا منہ یا تھلے کا سرا بھی ان کے لئے باندھنے کو پسند نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ اس کے بدلے مدینہ اور جو کچھ اس میں ہے مجھے دے دیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مدہ قلم (یعنی وہ سیا ہی جو قلم کی نوک پر لگتی ہے) کے برابر بھی ان کی مدد کرؤں۔ بے شک روز قیامت ظالم لوگ آتش جہنم کے کنارے اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک کہ خدا تمام لوگوں کا فیصلہ نہ کر دے۔
محمد بن عذافر سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے میرے والد عذافر سے فرمایا:
یا عذافر نبئت انک تعمل ابا ایوب والربیع فما حالک اذانودی بک فی اعوان الظلمة قال فوجم الی فقال له ابو عبداالله علیه السلام لما رائی ما اصابه ای عذافرانما خوفتک بما خوفنی الله عزّو جلّ به قال محمد فقدم ابی فمازال مغموما مکروبا حتی مات
(وسائل کتاب تجارت ب ۴۲ ج ۱۴ ص ۱۲۸)
مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم ابو ایوب اور ابو ربیع سے باہم لین دین کر رہے ہو۔ پس اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب ظالموں کی مدد کرنے والوں کی فہرست میں تمہارا نام بھی ہوگا۔ پس امام کا فرمان سننے کے بعد میرے والد غمزدہ و پریشان ہوگئے جب امام نے ان کی بے چینی دیکھی تو فرمایا اے عذافر میں نے تمہیں اسی بات سے ڈرایا ہے کہ جس سے خدا نے مجھے ڈرایا پس میرے والد مرتے دم تک غمزدہ رہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا پر لازم ہے کہ تمہیں اس جماعت کے ساتھ محشور کرے جس سے تم دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کچھ وہ لوگ جو حضرت موسی پر ایمان لا چکے تھے اپنے آپ سے کہنے لگے کہ ہمیں چاہیئے کہ فرعون کے لشکر میں شامل ہوجائیں تاکہ ان سے دنیاوی فائدہ حاصل کر سکیں اور جب موسٰی فرعون پر فتح حاصل کر لیں تو ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جس وقت حضرت موسٰی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو ان پر ایمان لیکر آئے تھے فرعونیوں سے بچ کر بھاگے تو یہ لوگ بھی جلدی سے سوار ہو کر روانہ ہوگئے تاکہ حضرت موسیٰ کے ساتھ شامل ہوجائیں لیکن اس وقت خداوند عالم جلّ جلالہ نے ایک فرشتہ بھیجا تاکہ ان کے سواری کے جانوروں کو مارے اور انہیں لشکر فرعون کی طرف دوبارہ لوٹا دے اور وہ انہی کے ساتھ غرق ہوگئے۔(وسائل کتاب تجارت ب ۴۴ جلد ۱۴۵ ص ۱۳۴) اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں کہ خدا سے ڈرو اور اپنے دین کو تقیہ بے نیازی اور اسکے فضل سے قوی کرو اور صاحب حکومت سے حاجت طلب کرنے سے بچو اور اگر کوئی انسان کسی دنیاوی شخص یا مذہب کے مخالف کے سامنے اس چیز کے لئے جو اسکے پاس ہے عجز و انکساری سے پیش آئے تو خدا اسے ذلیل و رسوا کرے گا اور اپنا دشمن رکھے گا اور اسے اسکے حال پر چھوڑ دے گا۔ پس اگر اس شخص کے ذریعے کوئی مال دنیا اس تک پہنچے تو خدا اس سے برکت اٹھا لے گا اور اگر وہ اس مال سے حج کرے یا غلام آزاد کرائے یا دوسرے نیک امور میں خرچ کرے تو اس کا ثواب نہیں ملے گا (کتاب کافی اور تہذیب جلد ۶ ص ۳۳)
علی بن ابی حمزہ کہتے ہیں کہ بنی امیہ کے کاتبوں میں میرا ایک دوست تھا اس نے مجھے کہا کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملنا چاہتا ہوں امام کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد اس نے سلام کیا اور کہا میں آپ پر قربان جاؤں میں بنی امیہ کے دربار میں تھا اور ان کے ذریعے مجھے بہت سا مال ملا اس مال کے حصول کے لئے میں نے حلال و حرام کی پرواہ نہیں کی امام نے فرمایا اگر بنی امیہ میں ایسے لوگ ہوتے جو ان کے لئے کتابت کرتے ان کے مال کو جمع کرتے اور ان کے دشمنوں سے جنگ کرتے اور انکی جماعت میں حاضر ہوتے تو یقینا وہ ہمارے حق کو غصب نہیں کرسکتے تھے اور اگر لوگ انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیتے تو جو کچھ ان کے پاس تھا اس کے علاوہ انہیں کچھ نہ ملتا۔ اس کے بعد اس مرد نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں آیا میں نے جو کچھ کیا ہے کیا میرے لئے نجات ہے امام نے فرمایا اگر میں بتاؤں تو کیا عمل کرو گے کہا۔ جی ہاں امام نے فرمایا جو بھی مال تم نے وہاں رہتے ہوئے حاصل کیااسے الگ کر دو اگر صاحبان حق میں سے کسی کو جانتے ہو تو اس کا حق ادا کرو اور جس کو نہیں جانتے تو اس کی طرف سے صدقہ دو (یعنی راہ خدا میں صاحب حق کی طرف سے صدقہ دو) تاکہ میں اس بات کی ضمانت دے سکوں کہ خدا تمہیں بہشت میں داخل کرے گا۔ علی بن ابی حمزہ کہتے ہیں کہ اس جوان نے تھوڑی دیر کے لئے اپنے سر کو جھکایا اس کے بعد کہا۔ میں آپ پر قربان جاؤں جو کچھ آپ نے فرمایا ہے۔ اس پر عمل کروں گا۔ اور اس کے بعد ہمارے ساتھ کوفہ آگیا اور جو کچھ اس کے پاس تھا جس طرح آپ نے فرمایا تھا اس کے صاحب کو لوٹا دیا اور باقی کو صدقہ کر دیا یہاں تک کہ جو لباس پہنا ہوا تھا وہ بھی دے دیا اس کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کچھ رقم لے کر اس کے لئے لباس خریدا اور اسکے لئے خرچہ بھیجا اور کچھ مہینے بعد وہ بیمار پڑگیا ایک دن میں اسکی عیادت کے لئے گیا میں نے دیکھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا اے علی بن ابی حمزہ خداکی قسم تمہارے امام نے جو وعدہ کیا تھا پورا کیا اس کے بعد وہ مرگیا پس میں نے تجہیز و تکفین کے بعد اسے دفن کیا اور اسکے بعد میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ آیا امام نے فرمایا اے علی میں نے وہ وعدہ وفا کیا جو تمہارے ساتھی کے ساتھ کیا تھا۔ میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں آپ سچ فرماتے ہیں کیونکہ مرتے وقت میرے ساتھی نے بھی یہی کہا تھا۔(وسائل کتاب تجارت ب ۷۶ ص ۵۱۵)
ایسی مدد جس پر حرام ہونا اور تقویت پہنچانا صدق نہ آئے
( ۳) تیسری قسم میں ایسے امور شامل ہیں جن میں کسی قسم کی حرمت کا پہلو نہیں اور نہ وہ ظالم کی تقویت کا سبب بنتے ہیں اور نہ ہی ان کاموں کی وجہ سے انسان کا شمار عرف عام میں ظالم کی مدد کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اپنی گاڑی کو انہیں کرایہ پہ دینا یا ان سے جائز چیزوں کے اٹھانے کے لئے کرایہ پر لینا مثلاً اشیاء خوردنی کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے کر جانا اور مثلاً اسی طرح ایسے عملے کو جو اجرت لیکر ظالم کی عمارت تعمیر کر رہا ہو اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا اس قسم کا حرام ہونا مسلم نہیں ہے۔ لیکن بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ سخت احتیاط کی بنا پر اسے ترک کرنا چاہیئے کیونکہ اس سلسلے میں پہلے جو روایات گذر چکی ہیں ان کا مطلق ہونا اس قسم کو بھی اپنے زمرہ میں شامل کرتا ہے اور ثانیاً انسان ایسے موارد میں ظالم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
صفوان جمال سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا فرمانا
صفوان بن مہران جمال کو فی امام جعفر صادق اور امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے صحابیوں میں سے تھے بہت متقی پرہیز گار انسان تھے اور اونٹوں کو کرائے پردینا ان کا ذریعہ معاش تھا ان کے پاس بہت زیادہ اونٹ تھے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام نے فرمایا اے صفوان تمہارے سارے کام اچھے ہیں سوائے ایک کام کے میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں وہ کونسا کام ہے کہا تم اپنے اونٹوں کو اس مرد (ہارون الرشید خدا اس پر لعنت کرے)کو کرایہ پر دیتے ہو میں نے عرض کی ان اونٹوں کو کرائے پر نہ لالچ نہ اپنی دولت کو زیادہ کرنے اور نہ ہی پرندوں کے شکار اور لہو و لعب کے لئے دیتا ہوں بلکہ خدا کی قسم جب وہ حج پر جاتا ہے تب دیتا ہوں اور اس کی خدمت کے لئے خود نگہبان نہیں بنتا بلکہ اپنے غلاموں کو اس کے ساتھ بھیجتا ہوں امام نے فرمایا آیا کرائے کی رقم نقد لے لیتے ہو یا اس پر اور اس عزیزوں پر رقم کی ادائیگی باقی رہتی ہے میں نے عرض کیا کہ رقم کی ادائیگی وہ واپس آکر کرتے ہیں امام نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ ہارون اور اسکے عزیز و اقارب تمہاری رقم کی ادائیگی تک زندہ رہیں میں نے کہا جی ہاں تو امام نے فرمایا۔
من احب بقا ئهم فهو منهم ومن کان منهم کا ورد النار ۔
جو بھی ان لوگوں کی بقا کو پسند کرتا ہے تو وہ انہی کی طرح ہے اور جو کوئی ان کے ساتھ محسوب ہو تو وہ دوزخ میں جائے گا۔(وسائل الشیعہ کتاب تجارت ب ۴۲ ص ۱۳۲ ج ۱۲)
صفوان کہتے ہیں کہ امام کے فرمان کے بعد میں نے اپنے تمام اونٹوں کو بیچ دیا جب یہ خبر ہارون کو پہنچی تو اس نے مجھے طلب کیا اور کہا میں نے سنا ہے کہ تم نے اونٹوں کو بیچ دیا ہے میں نے کہا جی ہاں میں بوڑھا و ضعیف ہوگیا ہوں اور اونٹوں کی حفاظت نہیں کر سکتا اور میرے غلام بھی جس طرح حفاظت کرنی چاہیئے نہیں کر سکتے ہارون نے کہا ایسا نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ تمہیں کس نے اس کام کے لئے آمادہ کیا ہے یہ کام موسیٰ بن جعفر کے اشارہ پر کیا ہے۔ میں نے کہا بھلا مجھے موسیٰ بن جعفر سے کیا مطلب اس نے کہا جھوٹ بولتے ہو اگر ماضی میں تمہارے ہم سے اچھے تعلقات نہ ہوتے تو تمہیں قتل کروادیتا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
من احب بقاء الظالمین فقد احب ان یعصی الله
(وسائل الشیعہ کتاب تجارت ب ۴۴ ص ۱۳۴ ج ۱۴)
جو کوئی ظالموں کی بقا کو پسند کرتا ہے تو وہ زمین میں معصیت الہٰی کی بقا کو پسند کرتا ہے۔ اور اسی طرح اس آیہ شریفہ ولا ترکنوا الی الذین ظلمو فتمسکم النار (یعنی ظالموں کی طرف مائل نہ ہو کر تم تک بھی دوزخ کی آگ آ لپٹے گی) کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:
هو الرجل یاتی السلطان فیحب بقاوه الی ید خل یده فی کیسه فیعطیه
(وسائل کتاب تجارت ب ۴۴ ص ۱۳۳)
کہ اگر کوئی شخص کسی بادشاہ کے پاس آئے پس وہ اسکے زندہ رہنے کو صرف اتنی دیر کے لئے پسند کرے کہ بادشاہ اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کچھ رقم اسے دے۔
خلاصہ ظالم کی بقا کو پسند کرنا خواہ وہ اس سے بھی کم مقدار میں ہو ظالم کی طرف مائل ہونا ہے۔
ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو
ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو بلکہ اتفاقاً بعض اوقات اس سے کوئی ظلم صادر ہو اور وہ کسی پر ستم ڈھائے یعنی کسی کو ناحق قتل کرے یا اسکی بے عزتی کرے یا کسی کا مال نا حق لیکر اس کا حق ادا نہ کرے تو ایسے ظالم کی اس ظلم میں مدد کرنا بغیر کسی پیشہ کے حرام ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ یہ شخص اس مورد میں ظالم ہے اس کے باوجود اس کا مقصد پورا کرنے کے لئے اسکی مدد کرے تو یقینا حرام بلکہ گناہانِ کبیرہ میں سے ہے کیونکہ خود ظلم کرنا ایسے گناہوں میں سے ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن میں عذاب کا وعدہ کیا ہے اور فرماتا ہے۔
( انا اعتدنا للظالمین نارا احاط بهم سرادقها وان یستغیثوا یغاثوبماء کالمهل یشوی الوجوه بئس الشراب وسائت مرتفقا ) (سورئہ کہف آیت ۲۹)
ہم نے ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کی ہے جو ان کو چاروں طرف گھیر لے گی اگر وہ پیاس کا اظہار کریں گے اور پانی چاہیں گے تو ایسا پانی جو انتہائی گرم اور کھول رہا ہوگا۔ انہیں دیا جائے گا جب وہ اسے اپنے منہ کے قریب لائیں گے تو ان کے چہروں کے گوشت بھون کر رکھ دے گا بہت برا پانی ہے۔ جو انہیں دیا جائے گا اور بہت بری جگہ ہے جہاں انہیں جگہ دی جائے گی۔
ظالم اور ظلم میں اس کی مدد کرنے والا دونوں کا گناہ برابر ہے۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
العامل بالظلم والمعین له والراضی به شر کاء ثلا ثتهم
(کتاب تجارت ب ۴۳ ص ۱۲۸)
ظالم اور اس کی مدد کرنے والا اور اس ظلم پر راضی ہونے والا تینوں ظلم میں شریک ہیں۔
یعنی گناہ ظلم میں تینوں برابر ہیں۔ اور اسی قسم کی روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے کہ حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
من نکث بیعة او رفع لواء ضلالة او کتم علما او اعتقل مالا ظلما او اعان ظالما علی ظلمه وهو یعلم انه ظالم فقد برء من الا سلام
(مستدرک الوسائل کتاب تجارت ابواب ما یکتسب باب ۳۵)
جو کوئی امام کے ساتھ کی گئی بیعت توڑے یا پرچم گمراہی کو بلند کرے یا ایسے علم کو چھپائے کہ جس کا ظاہر کرنا واجب ہو یا کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرے یا ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرے حالانکہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے۔ پس وہ دین اسلام سے خارج ہو گیا۔
اور شب معراج وہ جملے جو جہنم کے دروازوں پر لکھے دیکھے ان کے بارے میں فرمایا:
و علی باب الرابع من ابواب النار مکتوب ثلث کلمات اذل الله من اهان الاسلام اذل الله من اهان اهل البیت اذل الله من اعان الظالمین علی ظلمهم للمخلوقین (تجارت مستدرک باب ۳۵)
جہنم کے چوتھے دروازے پر یہ تین جملے لکھے ہوئے تھے خدا اس شخص کو ذلیل اور رسوا کرتا ہے جو اسلام کو رسوا کرے اہلبیت کو رسوا کرے جو ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کرے۔
اور اس طرح آیات اور روایات کا ما حصل یہ ہے کہ ظلم کرنا گناہ کبیرہ ہے اور ظالم کے ظلم میں مدد کرنے والا بھی ظلم اور گناہ میں اس کے مساوی ہے۔ اس کے علاوہ ظالم کی مدد کرنے والا ایسا ہے کہ جیسے اس نے اہم ترین واجبات خدا یعنی برائی سے روکنے کو ترک کیا بلکہ وہ حقیقت میں منافق ہو گیا کیونکہ اس نے برائی کا حکم دیا اور یہ چیز منافقین کی صفات میں سے ہے چنانچہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔
( المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض یا مرون بالمنکر وینهون عن المعروف ) (سورئہ برائت آیت ۶۶)
منافق عورتوں میں سے بعض ، بعض دوسروں کو برائی کا حکم دیتے اور نیکی سے روکتے ہیں۔
ظلم کی روک تھام ضروری ہے
اگر کوئی مسلمان ظالم کو کسی دوسرے پر ظلم کرتا ہوا دیکھے اور ایسی صورت میں کہ اگر نہی از منکر کی تمام شرائط موجود ہوں تو اس پر واجب ہے اسے ظلم کرنے سے روکے چنانچہ حضرت رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
انصرا خاک ظالما کان او مظلوما فقیل یا رسول الله نصره مظلوما فما بالنا ننصره فقال صلی الله علیه واله وسلم خذو اعلی یدیه وامنعوه عن الظلم فهذا نصرتکم لا خیکم (انوار نعمانیہ ج ۳ ص ۴۴)
کہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یامظلوم پوچھا گیا یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم مظلوم کی تو ہم مدد کریں گے لیکن ظالم نہ کر سکے اگر تم نے یہ عمل انجام دیا تو دراصل تم نے اس کی مدد کی ہے (یعنی اس کے لئے رکاوٹ بننا اس کے ظلم کو روکنا ہے) اور اس طرح روکنا مومن بھائی کی نصرت ہے۔
ایسے ظالم کی اس کے ظلم کے علاوہ مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو
ایسے ْطالم کی مدد کرنا تمام جہات سے مباح اور جائز ہے لیکن اگر وہ شخص اور جری ہوجائے یعنی دوبارہ شدت سے ظلم کرے ۔ یا اپنے کئے پر پیشمان نہ ہو اور اس ظلم سے توبہ نہ کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا حرام ہوجاتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ نہی عن المنکر کے واجب ہونے سے ظالم کی اس کے دوسرے کاموں میں مدد کرنا حرام ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کے دوسرے کاموں میں مدد کرنے کاظلم سے (اثباتاً نفیا۔ ابتداواستمراراً)معمولی سابھی تعلق نہ ہوتومدد کرنا حرام نہیں ۔اس بنا پر ظالم کی اس کے ظلم کے علاوہ مدد کرنا اگر نہی از منکر کے موارد میں نہ ہوتو حرام نہیں ہے۔
گناہ میں بھی مدد نہیں کرنی چاہیئے
ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ اس کا گناہ کسی دوسرے پر ظلم نہ ہو بلکہ خود اپنی ذات سے متعلق ہو مثلاًنماز اور روزے کو ترک کرنا، شراب پینا، زنا کرنا ، جوا کھیلناوغیرہ بحث کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ آیات وروایات میں ہر گناہ گار کوظالم اوراپنے آپ پر ظلم کرنے والا کہاگیا ہے اس بنا پر اگر کوئی بھی شخص کسی گناہ میں اس کی مدد کرے تو اس نے ظالم کی مدد کی جو یقیناحرام ہے اور وہ اس گناہ گار کے گناہ معصیت میں شریک ہے چنانچہ خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔
( تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العد وان واتقواللّٰه ان ا للّٰه شدید العقاب ) (سورئہ مائدہ آیت ۲)
(اور تمہارا فرض یہ ہے کہ ) نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ اور گناہ ریادتی میں باہم کسی کی مدد نہ کرو ۔ اورخدا سے ڈرتے رہو (کیونکہ ) خدا یقینابڑا سخت عذاب دینے والاہے۔ اثم وہ معصیت جو دوسرے تک نہ پہنچے اور عدوان ایسے گناہ ہیں جو دوسروں تک پہنچ جائیں
وہ تما م دلائل جو نہی عن المنکر کے وجوب اور وہ آیات وروایات انذار جو اس کو ترک کرنے والے کے بارے میں ہیں ان کا اطلاق اس مورد پر بھی ہوتا ہے۔
گناہ میں مدد کرنے کی دو قسمیں ہیں
اگر کوئی گناہ کرنا چاہتا ہو اور گناہ کرنے کے لئے جن باتوں کا ہونا ضروری ہے ان میں سے کسی ایک میں اس کی مدد کرنا مثلاً ( ۱) اپنے انگوروں کو شراب بنانے کے لئے بیچے۔ ( ۲) اگر کوئی شخص حرام کے لئے کوئی سبب مہیا کرے اور اس کا ارادہ نہ ہو کہ وہ حرام میں مبتلا ہو لیکن اگروہ شخص اس سبب کو مہیا نہ کرے تو وہ حرام کام نہیں ہو سکتا مثلاً انگور والا شراب بنانے والے کو انگور بیچتا ہے اور اس کا ارادہ نہ ہو کہ اس سے شراب بنائی جائے لیکن کیونکہ اس شخص کا انحصار انگور بیچنے والے پر ہے یعنی اس طرح کہ اگر وہ انگور نہ بیچے تو شراب بنانے والے کا کام رک جائے گا اس لئے کہ دوسری جگہ پر انگور نہیں بک رہے یا اس کی دسترس سے باہر ہیں اس صورت میں انگور کا بیچنا قطعاً حرام ہے اگرچہ انگور بیچنے والا شراب بنانے کے ارادے سے انگور نا بیچتا ہو کیونکہ عرف عام میں ایسی صورت میں انگور بیچنا شراب سازی میں مدد کرنے کے مترادف ہے۔
گناہ گار کی گناہ کے علاوہ کسی کام میں مدد کرنا
گناہ گار کی گناہ کے علاوہ کسی کام میں مدد کرنا مثلاً شراب خور یا بے نمازی کو قرض دینا یا وقت ضرورت اس کی فریاد رسی کرے بہت سے لوگوں کے ساتھ اس طرح کا اتفاق ہوتا ہے اور ان موارد میں ذمہ داری کو مشخص کرنا بہت زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ ان موارد میں حقوق کا ٹکراؤ ہوتا ہے جیسا کہ ایک طرف گناہ گاروں سے لازم دوری اختیار کرنے کا حکم ہے چنانچہ حضرت امیرالمومنین فرماتے ہیں۔
امرنا رسول الله ان نلقی اهل المعاصی بوجوه مکفهره
(وسائل الشیعہ ج ۱۱ ص ۴۱۳)
پیغمبر خدا نے ہمیں گناہ گاروں سے ترش روی سے پیش آنے کا حکم دیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے کچھ اصحاب کی سرزنش کے لئے فرمایا:
وا نتم یبلغکم عن الرجل منکم القبیح فلا تنکرون علیه ولا تهجرونه ولا توذونه حتی یترک (تہذیب ج ۶ ص ۱۸۲)
معاشرے میں تمہارے ساتھ یہ اتفاق ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی شیعہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے تو تم اسے نہ روکو اور اس سے قطع تعلق نہ کرو اور اسے تکلیف نہ دو تاکہ وہ اپنے گناہ کو چھوڑ دے اور بعض مخصوص گناہوں کے بارے میں بہت سخت روایات ہیں جیسا کہ۔
من اعان تارک الصلوة بلقمة او کسوة فکا نما قتل سبعین نبیا اولهم ادم و اخرهم محمد صلی الله علیه واله وسلم (لئالی الاخبار باب ۸ ج ۳ ص ۵۱)
اگر کوئی کسی بے نمازی کی روٹی کے ایک لقمے یا کپڑے کے ایک ٹکڑے کے برابر مدد کرے تو گویا ایسا ہے کہ اس نے ستر پیغمبروں کو قتل کیا جس میں پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور آخر حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اور دوسری روایات میں حضرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقول ہے۔
من اعان تارک الصلوة بشربة ماء فکاناما حارب و جادل معی و مع جمیع الانبیاء (لئالی الاخبار ب ۸ ص ۵۱ ج ۳)
اگر کوئی بے نمازی کی ایک گھونٹ پانی سے بھی مدد کرے تو گویا ایسا ہے کہ اس نے مجھ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے جنگ کی اس کے علاوہ آپ نے فرمایا۔
من تبسم فی وجه تارک الصلوة فکا نما هدم الکعبة سبعین مرة
(لئالی الاخبار ب ۸ ص ۵۱ ج ۴)
اگر کوئی بے نمازی کے ساتھ ہنسے تو گویا اس نے ستر مرتبہ خانہ کعبہ کو منہدم کیا اور دوسری روایات جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ان میں شراب خور سے میل جول رکھنے کے بارے میں قطع رحم کرنے والے اور جھوٹ بولنے والے کے بارے میں بہت زیادہ سرزنش کی گئی ہے اور دوسری طرف بہت سی روایات ایسی ہیں کہ جن میں مومن کے حق کی رعایت کرنے اہل بیت کے دوستوں سیدوں اور پڑوسیوں اور ان کے علاوہ دوسرے افراد سے محبت اور میل جول کو واجب قرار دیا ہے۔
اور وہ روایات صرف باتقویٰ لوگوں کے لئے مخصوص نہیں ہیں یعنی رشتے داروں کا حق ادا کرنا واجب اور قطع رحم کرنا حرام ہے اور بطور کلی کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ متقی نہ ہو تب بھی جیسا کہ قطع رحم حقوق والدین کے باب میں گزر چکا ہے قطع رحم اور حقوق والدین حرام ہے اگرچہ رشتے دار کافر یا فاجر ہو اور سیدوں کے بارے میں بھی رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے یہ روایت وارد ہوئی ہے۔
اکرموا اولادی الصالحونلله والطالحون لی
میری اولاد کی احترام کرو کہ ان میں سے صالح افراد پر خدا کی وجہ سے احسان کرو اور بروں پر میری وجہ سے۔
آل محمد علیہم السلام کے دوستوں کے بارے میں امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
کن محبا لال محمد صلی الله علیه واله وسلم وان کنت فاسقا و محبا لمحبهم وان کانوا فاسقین (داراسلام ج ۴ ص ۴۰۳)
آل محمد کو دوست رکھو اگرچہ تم فاسق ہو اور دوست رکھو ان کے دوستوں کو چاہے وہ فاسق ہی ہوں۔ اور پڑوسیوں کے بارے میں روایت ہے کہ اگر ہمسایہ مسلمان ہے تو تم پر دو حق رکھتا ہے اور اگر رشتہ دار ہو تو تین حق رکھتا ہے اور اگر کافر ہو تو اس کا حق ہمسائیگی پھر بھی باقی ہے۔(کتاب حج مستدرک ب ۷۴ ص ۷۹)
اس بنا پر ضروری ہے کہ اہل بیت کے دوستوں کو دوست رکھا جائے اور ان کی مدد کی جائے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرے چاہے وہ باتقویٰ نہ ہوں اور سیدوں کا احترام کرنا چاہیئے یا ضروری ہے کہ رشتہ داروں کے حق کی رعایت کرے اگرچہ وہ گناہ گار ہوں اس بنا پر کیا ذمہ داری ہے؟
دونوں کو انجام دینا ممکن ہو تو دونوں کو انجام دے ورنہ اہم کو ترجیح دے۔
حقوق کے ٹکراؤ کی اور کچھ مختلف ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کی صورت میں پہلی صورت یہ ہے کہ اگر آسان ہو تو سب کو بجا لائے اور اگر آسان نہ ہو اور مجبور ہو کہ ایک کو انجام دے اور دوسرے کو ترک کرے تو دونوں میں سے اہم کو پیش نظر رکھے یعنی ان دونوں میں سے جو شارع مقدس کے نزدیک اہم ہو اسے مقدم کرے مثلاً اگر ایک شخص نے روزہ واجبی رکھا ہو اور دوسری طرف بچہ پانی میں ڈوب رہا ہو اور بچے کو نجات دلانے کا انحصار اس بات پر ہو کہ یہ شخص پانی میں (اپنا سر لے) جائے ایسی صورت میں دو مختلف ذمہ داریاں ( کہ جنہیں ایک وقت میں انجام دینا اس کے لئے نا ممکن ہو) اس پر عائد ہوتی ہیں ایک یہ کہ روزے کی حالت میں پانی کے اندر سر کرنا حرام ہے دوسرے یہ کہ ایک فرد کی جان بچانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ پانی میں (سر لے) جائے پس ایک ہی عمل جہت سے واجب اور ایک جہت سے حرام ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شارع کے نزدیک روزہ توڑنے کے مقابلے میں ایک زندگی کا بچانا زیادہ اہم ہے اور روزے کو بعد میں قضا کیا جا سکتا ہے چنانچہ اس پر واجب ہے کہ پانی میں جاکر بچے کو نجات دلائے اور یہ گناہ بھی نہیں کیونکہ اس نے شریعت کے مطابق عمل کیا اور اس کو اس کام کی جزا بھی ملے گی۔
برائی سے روکنا اہم اور مقدم ہے
ان باتوں کو جاننے سے یہ واضح ہوا کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا آیات و روایات کی روشنی میں واجبات خدا میں سے اس قدر اہم ہے کہ بعض واجب حقوق سے ٹکرانے کی صورت میں اس کے مقدم ہونے میں کوئی شک نہیں مثلاً جب ماں، باپ، بیٹا یا کوئی دوسرے عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے یا کسی بھی گناہ کا ارتکاب کرتے ہوں تو اگر ان کی حالت ایسی ہو کہ اگر ان کے ساتھ نیکی نہ کی جائے یا وقت ضرورت ان کی مدد نہ کی جائے تو وہ اپنا برا عمل چھوڑ دیں گے یا نماز پڑھنے لگیں گے تو ایسی صورت میں نہی عن المنکر کی رو سے واجب ہو جاتا ہے کہ ان کے ساتھ نیکی نہ کی جائے اور نہ ہی رشتہ داروں کی مدد کی جائے۔
مثلاًایک سید شراب پیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ نیکی کرنا چھوڑ دیا جائے تو وہ بھی شراب خوری چھوڑ دے گا یہی صورت حال پڑوسی اور اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں کی ہے۔ یعنی اگر نیکی نہ کرنا فائدہ مند ہو تو واجب ہو جاتا ہے کہ نیکی اور مدد نہ کی جائے لیکن اگر نیکی اور مدد نہ کرنے سے بھی اس پر کوئی اثر نہ ہو اور وہ گناہ چھوڑدینے پر آمادہ نہ ہو تو ایسی صورت نیکی اور مدد کرنے کی حرمت معلوم نہیں کیونکہ گناہ گار کی مدد اس وقت تک حرام تھی کہ جب مدد نہ کرنے کی صورت میں وہ بھی گناہ ترک کر دیتا ہو (یعنی نہی عن المنکر کے لحاظ سے حرام تھی) لیکن جب اس کی مدد کرنا، نہ کرنا، احسان کرنا، اور نہ کرنا برابر ہو یعنی اس پر کوئی اثر نہ ہو اور وہ گناہ کو ترک نہ کرے تو نہی عن المنکر کی رو سے احسان و امداد کا حرام ہونا ختم ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ باتیں حرام نہیں رہتیں لیکن کسی دوسرے پہلو سے اس کا حرام ہونا معلوم نہیں مثلاً بے نماز کی مدد کرنا جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس صورت میں حرام ہوتی ہے کہ جب مدد نہ کرنا اس کے نماز پڑھنے کا سبب بن جائے تو اگر کسی کے والدین یا عزیز نماز نہیں پڑھتے اور ان کے ساتھ نیکی نہ کرنے کی صورت میں بھی وہ نماز نہیں پڑھتے تو ایسی صورت میں ان کی نا فرمانی اور قطع رحم بدستور حرام رہے گا۔
مراتب کا لحاظ رکھنا چاہیئے
واضح رہے کہ نہی عن المنکر کی رو سے امداد اور احسان ترک کرنا باقی تمام حقوق مثلاً رشتہ داروں ، سیدوں، اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ پر مقدم ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ کہا گیا وہ اس صورت میں ہے کہ سب سے پہلے تو نہی عن المنکر کے واجب ہونے کی شرائط موجود ہوں جن میں سے ایک تو یہ کہ اثر ہونے کا امکان ہو یعنی جب تک نیکی و مدد کو ترک نہ کیا جائے کوئی فائدہ ہو کیونکہ نہی عن المنکر میں اس کی تفصیل کے مطابق جو آگے آرہی ہے۔ مراتب کا لحاظ ضروری ہے یعنی جہاں تک ممکن ہو زیادہ آسان طریقے پر عمل کیا جائے اور زیادہ سخت طریقے سے آگے نہ بڑھا جائے اس لئے کسی بھی ایسے موقع پر کہ جب انسان مدد اور احسان کی بدولت زیادہ جلد گناہ سے دوری اختیار کر سکتا ہو تو بے شک امداد و احسان کے ذریعے نہی عن المنکر کیا جائے مثلاً اگر کسی کا باپ کا بیٹا نماز نہیں پڑھتا اور اس بات کا قوی امکان ہو کہ محبت و احسان کی بدولت جیسا کہ زیادہ تر ہوتا ہے وہ اس گناہ کو چھوڑ دیں گے یعنی اس سے قبل کہ ان سے ناطہ توڑا جائے یا نیکی نہ کی جائے وہ نمازی بن جائیں گے تو ایسی صورت میں نیکی اور مدد کرنا واجب ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس صورت میں احسان و مدد کا اس شخص کے گناہ سے کوئی تعلق نہ ہو یعنی چاہے احسان اور مدد کی جائے یا نہ کی جائے تو اس کی حرمت معلوم نہیں بلکہ بعض معاملات میں تو مدد اور احسان کرنا واجب ہے اور اس کا ترک کرنا حرام ہے۔
تَرْک اِعَانة المظلومین
مظلوموں کی مدد نہ کرنا
تیسواں وہ گناہ کے جس کا کبیرہ ہونا صراحتاًذکر کیا گیا ہے۔ وہ مظلوموں کی مدد نہ کرنا اور ان پر کئے جانے والے ظلم کی روک تھام نہ کرنا ہے چنانچہ اعمش کی روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام گناہانِ کبیرہ کے ضمن میں فرماتے ہیں "و ترک معونة المظلومین" یعنی مظلوموں کی مدد نہ کرنا گناہانِ کبیرہ میں سے ہے۔
دراصل مظلوم کی مدد کرنا عملی طور پر برائی سے روکنا ہے پس اگر کوئی مظلوم کی مدد نہ کرے تو اس نے ایک بہت بڑے واجب الہٰی کو ترک کیا ہے۔
امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں۔
من قصد الیه رجل من اخوانه مستجیرا به فی بعض احواله فلم یجره بعد ان یقدر علیه فقد قطع ولا یة الله عزّو جلّ (کافی ج ۴ ص ۳۶۶ حدیث ۴)
اگر کوئی شخص اپنے بعض حالات سے مجبور ہو کر اپنے کسی مسلمان بھائی سے پناہ لینا چاہے (مثلاً اس کا پناہ لینا اپنے آپ سے ظالم کو دور کرنے کے لئے ہو) اور وہ اسے پناہ نہ دے اور قدرت رکھتے ہوئے اس کی مدد نہ کرے تو اس نے خود اپنے آپ سے خدا کی مدد کو دور کردیا۔
یعنی خدا جو ہر مومن کا ولی ہے لیکن مومن کی مدد نہ کرنے والے کا خدا ولی نہیں اور اس کے کاموں کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
ایما مومن بخل بجاهه علی اخیه المومن وهو ا وجه جاها منه الامسه قترو ذلة فی الدنیا والاخرة
جو مومن استطاعت رکھتے ہوئے کسی مومن کی مدد نہ کرے تو خدا اسے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کرتا ہے۔
جناب امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں۔
لا یحضرن احد کم رجلا یضر به سلطان جائر ظلما و عدوانا ولا مقتولا ولا مظلوما اذا لم ینصره لان نصرة المومن علی المومن فریضة واجبة اذا هو حضره والعافیة اوسع مالم یلزمک الحجة الباهرة (سفینة البحارج ۴ ص ۵۹۰)
تم میں سے کسی ایک کو بھی ایسی جگہ پر کہ جہاں ظالم بادشاہ کسی مظلوم کو مار رہا ہو یا نا حق قتل کر رہا ہو یا اس پر ظلم کر رہا ہو نہیں جانا چاہیئے جبکہ وہ وہاں موجود ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرسکتا ہو کیونکہ مقام ظلم پر موجود ہونے کی صورت میں ایک مومن کا دوسرے مومن کی مدد نہ کرنا واجبات خدا میں سے ایک واجب فریضہ ہے لیکن اگر وہ موجود نہ ہوتو اس پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوگی عمروبن قیس کہتا ہے کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ بنی مقاتل کے محل میں امام حسین علیہ السالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں سلام کیا انہوں نے ہم سے (مختصر سی بات چیت کے بعد )فرمایا کیا تم میری مدد کرنے کے لئے آئے ہو میں نے کہا میں بال بچوں والا آدمی ہوں اور میرے پاس لوگوں کا مال ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میری عاقبت کیا ہوگی اور میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کی امانت کو ضائع کروں اور میرے چچا کے بیٹے نے بھی امام کے جوب میں یہی کہا۔ پس امام نے فرمایا۔
فانطلق فلا تسمعلای واعیة ولا تری لی سوادا فانه من سمع واعیتنا او رای سوا دنا فلم یجبنا ولم یغثنا کان حقا علی ا للّٰه ان یکبه ا للّٰه علی منخریه فی النار (سفینة البحار ج ۴ ص ۵۹۰)
اگر تم میری مدد نہیں کرسکتے تو اس بیابان سے دور ہوجاو کہ کہیں تم میری آہ زاری کوسنو اور مجھے نہ دیکھو کیونکہ اگر کوئی بھی ہماری بے کسی کی فریاد کو سنے یا ہمیں بے کسی کے عالم میں دیکھے اور ہماری مدد نہ کرے توخدا پر لازم ہے کہ اسے جہنم کی آگ میں پھینک دے ۔ امام جعفر صاد ق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
انه جلد بعض الا حبارفی قبره جلدة من عذاب ا للّٰه فامتلی قبره نارا صلی یوما بغیر وضو ومر علی ضعیف فلم ینصره (سفینہ البحار ج ۴ ص ۵۹۰)
یہودیوں کے کسی عالم کو اس کی قبر میں اس طرح عذاب کے تازیانے مارے کہ اس کی آگ قبر سے بھر گئی اور اس کی وجہ تھی کہ ایک دن اس نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور مظلوم کے پاس سے گزرا لیکن اس کی مدد نہ کی۔
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں۔
وینصره ظالما ومظلوما فاما نصرته ظالما فیرده عن ظلمه واما نصرته مظلوما فیعینه علی اخذحقه (داراالسلام نوری ج ۶ ص ۱۹۷)
مومن کی مدد کرنا ضرروی ہے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلو م اگر ظالم ہوتو اسے ظلم کرنے سے روکا جائے اور اگر مظلوم ہوتو ظالم سے اس کا حق لینے میں اس کی مدد کرے اور اسے ترک نہ کرے اور نہ ہی اسے اس کے حال پہ چھوڑے
اما م جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
مامن مومن یخذل اخاه وهویقد ر علی نصرته الا خذله ا للّٰه فی ا لدنیا والاخرة
(بحارا الانوار ج ۷۴ ص ۳۱۶)
وہ مومن نہیں جو استطاعت رکھتے ہوئے اپنے مومن بھائی کی مدد نہ کرے تو پس خدا بھی اسے اس کے حال پہ چھوڑدیتا ہے اور دنیا وآخرت میں اس کی مدد نہیں کرتا۔
اور امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں۔
من عیب اخوه المومن فلم ینصره ولم یدفع عنه وهو یقد ر علی نصرته و عونه فضحه ا للّٰه فی الدنیا والاخره
اگر کسی کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کے عیب کاذکر کیا جائے اور وہ اس کی مدد نہ کرے یعنی ممکن ہوتے ہوئیاس کی عیبکو دور نہ کرے توخداوند عالم دنیا وآخرت میں اسے رسواکرے گا۔
اس حدیث اوردوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلومیت صرف جسم اور مال سے مخصوص نہیں بلکہ اس کا تعلق عزت و آبرو سے بھی ہے کیونکہ کسی مومن کی عزت اس کے جان ومال کی طرح قابل احرام ہے۔ جس طرح اس کا خون بہانا یا اس کامال لینا جائز نہیں بالکل اسی طرح اس کوبے عزت کرنابھی حرام ہے۔ اور روایات میں اس بارے میں بہت سختی سے ڈرایا گیا ہے اور جس طرح مومن کے قتل ہونے اور اس کا مال لٹنے سے بچانے میں اس کی مدد کرنا واجب ہے اسی طرح اس کی عزت وآبر ہ کی حفاظت میں اس کی مدد کرنا واجب ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
من روی علی المومن روایة یرید بها شینه وهدم مروته یسقطه من ا عین الناس اخرجه ا للّٰه من ولا یته الی والا یة الشیطان فلا یقبله الشیطان (اصول کافی ج ۴ ص ۵۳)
اگر کوئی شخص کسی مومن کو ایسی بات بتائے کہ جس کے ذریعہ یہ چاہتا ہوکہ وہ برا ہوجائے اس کی غیر ت وحیا ختم ہوجائے اور وہ لوگوں کی نظر وں سے گر جائیاور لوگ اس پر اعتبار نہ کریں اوراس کی عزت نہ کریں توخداوند عالم اسے اپنے ولایت نصرت سے محروم کردیتا ہے اور اس کو شیطان کے لئے چھوڑ دیتاہے اور شیطان بھی اسے قبول نہیں کرتا۔ اور حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں۔
من تطول علی اخیه فی غیبة سمعها فیه فی المجلس فرد ها عنه ردا للّٰه عنه الف باب من الشرفی الدنیا والاخرة فان هو لم یردها وهوقادر علی ردها کان علیه کوزرمن اغتابه سبین مرة (مکاسب اور شرح مکاسب ج ۴ ص ۶۹)
اگرکوئی اپنے مومن بھائی کے عیب کو سنے اور اسے ایسا کرنے سے منع کرے" یعنی اس مومن کو بے عیب ظاہر کرے " تو خدا وند عالم دنیاوآخرت میں ہزار شر کے دروازے اس پر بند کردیتا ہے اور اگر وہ قدرت رکھتے ہوئے عیب بیان کرنے والے کو نہ روکے توپس اس کے گناہ ستر غیبت کرنے والوں کے برابر ہوں گے۔
شیخ انصاری علیہ الرحمہ کہتے ہیں اس کے گناہ سترغیبت کرنے والوں کے برابر ہوں گے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اگر عیب بیان کرنے والے کو نہ ٹوکا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے تو عیب بیان کرنے والا اس گناہ یا دوسرے گناہوں میں اور دلیر ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں کہ غیبت کرنے والے کو روکنے سے مرادیہ نہیں ہے کہ صرف اسے منع کیا جائے بلکہ اس کی مدد کرنی چاہیئے یعنی وہ عیب جو اس نے مومن سے منسوب کیا ہے اس عیب سے اس مومن کو بالکل بے عیب ظاہر کرے۔ مثلاً اگر وہ عیب دنیا کے کاموں سے متعلق ہو تو یوں کہے بھئی یہ کوئی خامی تو نہیں کیونکہ اس نے کوئی گناہ تو کیا نہیں اور عیب تو وہ ہے جسے خدا نے حرام قرار دیا ہو۔ اگر وہ عیب دینی امور میں سے ہو تو اس کے صحیح ہونے کی کوئی وجہ پیش کرنا چاہیئے اور اسے صحیح ظاہر کرنا چاہئیے مثلاً اگر وہ کہے فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا تو اسے جواب میں یہ کہے کہ شاید وہ بھول گیا ہو یا اس نے نماز پرھی ہو اور تمہیں پتہ نہ چلا ہو۔ یا اگر وہ کہے کہ فلاں شخص شراب پیتا ہے تو وہ جواباً کہے کہ شاید وہ شراب نہ ہو اور اگر یوں کہنا صحیح نہ ہو تو کہے کہ مومن معصوم تو نہیں ہوتا اس سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں تمہیں چاہیئے کہ اس کے لئے استغفار کرو اور اس کے غم بانٹنے کی کوشش کرو نہ یہ کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی برائیاں بیان کرو ۔
ضروری نہیں کہ صرف مدد طلب کرنے والے ہی کی مدد کی جائے
جان لیں کہ مظلوم کی مدد کا واجب ہونا صرف اس مظلوم کے لئے نہیں جو مدد طلب کرے بلکہ ہر وہ شخص جو با خبر ہو اور ظلم کو مومن سے دور کر سکتا ہو تو اس پر مدد کرنا واجب ہے اور اگر مظلوم خود ہی مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرنا سخت ضروری ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔
من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبه فلیس بمسلم
(جہاد وسائل ب ۵۹ ص ۱۰۸)
اگر کوئی شخص کسی کی یہ صدا سنے کہ اے مسلمانوں میری مدد کو پہنچو پس وہ اس کی فریاد رسی اور مدد نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔
ایما رجل سئله اخوه المومن حاجة فمنعه ا یاها وهو یقدر علی قضائها الا سلط الله علیه شجا عا فی قبره تنهشه (مستدرک)
اگر کوئی شخص اپنے دینی مسلمان بھائی سے مدد طلب کرے اور وہ قدرت رکھتے ہوئے اس کی حاجت پوری نہ کرے تو خداوند عالم اس کی قبر میں اس پر (دوزخ کے سانپوں میں سے ) ایک نہایت بڑے سانپ کو مسلط کر دیتا ہے تاکہ وہ اسے ڈستا رہے۔
اور دوسری حدیث میں ہے کہ وہ شخص قیامت تک اسی عذاب میں مبتلا رہے گا اگرچہ اسے بخش دیا گیا ہو، اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں۔
لم یدع رجل معونة اخیه المسلم حتی یسعی فیها و یوا سیه الا ابتلی بمعونة من یا ثم ولا یوجر (کاف ج ۲ ص ۱۶۶)
کوئی اپنے مسلمان بھائی کی مدد اور دل جوئی کو ترک نہیں کر سکتا مگر یہ کہ اس کی مدد اور دل جوئی کرنے میں کسی قسم کا فائدہ نہ ہو (بلکہ الٹانقصان ہو) یعنی مدد اور دل جوئی کرنا اس کے لئے گناہ کا باعث ہو۔
اس بارے میں کچھ روایات وارد ہوئی ہیں حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں۔
والذنوب التی تنزل البلاء ترک اعانة الملهوف (معانی الاخبار ۲۷۱)
وہ گناہ کے جس کے سبب بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ وہ مجبور لوگوں کی فریاد کو نہ پہنچنا ہے۔ اور خدا سے مناجات کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔
اللهم انی اعتذرا الیک من مظلوم ظلم به حضرتی فلم انصره او نخذل ملهوفا
(دعاء ۳۸ صحیفہ سجادیہ)
پروردگار! میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں کہ میرے سامنے کسی مظلوم پر ظلم ہو اور میں اس کی مدد نہ کروں خدایا کسی مجبور و مصیبت زدہ کی مدد نہ کرنے پہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ وہ روایات جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن اتنی ہی مقدار کافی ہے۔
مظلوم کی مدد کرنا صرف مومن کے ساتھ مخصوص نہیں
مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے۔ اس سے مراد صرف مومن نہیں بلکہ اس مقام پر آیات و روایات کے اطلاق کا تقاضہ اور نہی عن المنکر کے واجب ہونے اور مظلوم کی مدد کرنے کا وجوب اس وقت ہے جبکہ وہ قدرت رکھتا ہو اگرچہ وہ مظلوم شیعہ نہ ہو اور مسلمانوں کے دوسرے فرقوں سے تعلق رکھتا ہو۔ بلکہ اگر کسی کافر غیر حربی اور حیوان پر بھی ظلم ہو رہا ہو تو اسے نہی عن المنکر کے قانون کے تحت روکنا واجب اور اس ظلم کا خاتمہ ضروری ہے۔ منتھی الامال میں لکھا ہے جس سال منصور دوانیقی مکہ معظمہ گیا ہو ا تھا تو ایک روز بہت ہی قیمتی ہیرا بیچنے کے لئے اس کے سامنے لایا گیا۔ منصور تھوڑی دیر تک ہیرے کو دیکھتا رہا اور اس کے بعد کہا اس گوہر کا تعلق ہشام بن عبدالملک مروان سے ہے اور اس ہیرے کو مجھ تک پہنچنا چاہیئے تھا۔ پس محمد نامی اس کا بیٹا زندہ ہے اور یقینا اسی نے ہیرا بیچنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس کے بعد اس نے پہرہ دار ربیع سے کہا کل صبح نماز کے بعد مسجد الحرام کے تمام دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دو اور پھر اس کے بعد صرف ایک دروازے کو کھولو اور ایک ایک کر کے مردوں کو جانے کی اجازت دو اور جب محمد بن ہشام کو پہچان لو تو اس کو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔
دوسرے دن جب صبح کی نماز کے بعد تمام دروازے بند کردیئے گئے اور اعلان کیا گیا کہ تمام لوگ ایک ایک کر کے فلاں دروازے سے باہر جائیں تو محمد بن ہشام سمجھ گیا کہ یہ سارا چکر اس کو گرفتار کرنے کے لئے ہے تو وہ وحشت زدہ ہو گیا اور چاروں طرف حیران پریشان ہو کر دیکھنے لگا۔ اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اسی اثناء میں محمد بن زید بن علی بن الحسین علیہ السلام (جو سادات دستغیب اور سادات دشتکی کے جد ہیں) اس کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ تم کون ہو اور کیوں اس طرح پریشان کھڑے ہو اس نے کہااگر میں اپنا تعارف کراؤں تو کیا میری جان کو امان ہوگی انہوں نے فرمایا ہاں میں عہد کرتا ہوں کہ تمہیں اس خطرے سے نجات دلاؤں گا اس نے کہا میں ہشام بن عبدالملک کا بیٹا ہوں اب آپ بھی اپنا تعارف کرائیے تاکہ میں آپ کو پہچان سکوں آپ نے فرمایا میں محمد بن زید بن علی بن الحسین ہوں بے شک تمہارے باپ مروان نے میرے والد زید کو شہید کیا لیکن اے میرے چچا کے بیٹے اب تم اپنی جان کی طرف سے اطمینان رکھو کیونکہ تم میرے والد کے قاتل نہیں ہو اور تمہیں قتل کرنا میرے والد کے ناحق خون کی تلافی نہیں کر سکتا اور اس وقت جیسے بھی ممکن ہو میں تمہیں اس خطرے سے نجات دلاؤں گا اور میری نظر میں اس مسئلے کا ایک حل ہے۔ اور میں چاہتا ہوں اس پر عمل کروں اس شرط کے ساتھ کے تم میرا ساتھ دو گے اور خوف و ڈر کو اپنے پاس بھٹکنے نہ دو گے۔ پس اسے یہ حکم دینے کے بعد آپ نے اپنے جسم سے عبا اتاری اور اسے محمد کے سر اور چہرے پر ڈال دیا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے پے درپے تھپڑ مارتے ہوئے لے جا رہے تھے اور جب مسجد کے دروازے پر پہرہ دار ربیع کے پاس پہنچے تو با آواز بلند اس سے مخاطب ہو کر کہا یہ خبیث مرد کوفہ کا رہنے والا شتر بان ہے اور اس نے مجھے اپنا اونٹ کرایہ پہ دیا کہ اس پر آنا جانا میرے اختیار میں تھا لیکن بعد میں یہ بھاگ گیا اور کسی دوسرے آدمی کو اونٹ کرایہ پر دے دیا اور اس سلسلے میں میرے پاس دو عادل گواہ بھی ہیں ابھی تم اپنے ملازموں کو میرے ساتھ بھیجو تاکہ اسے قاضی کے پاس لے جاؤں۔ ربیع نے دو پہرہ داروں کو محمد بن زید کے ہمراہ کردیا وہ سب ساتھ مسجد سے باہر آئے اور راستے میں انہوں نے محمد بن ہشام کی طرف رخ کر لیا اور کہا اے خبیث اگر اب بھی تم میرا حق ادا کرنے پر تیار ہوجاؤ تو میں پہرہ داروں اور قاضی کو زیادہ زحمت نہ دوں۔ محمد بن ہشام جو اچھی طرح متوجہ تھا کہنے لگا یا بن رسول الله میں آپ کی اطاعت کروں گا پس محمد بن زید نے نگہبانوں سے فرمایا کیونکہ اس نے عہد کر لیا ہے کہ میرا حق ادا کرے گا اس لئے اب تم لوگ زیادہ زحمت نہ اٹھاؤ جب مامورین واپس چلے گئے تو محمد بن ہشام جو کہ بہت آسانی سے موت کے خطرے سے نکل آیا تھا۔ محمد بن زید علیہ السلام کے سرو چہرے کو بوسہ دیا اور کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں خداوند بہتر جانتا تھا اسی لئے رسالت کو آپ کے خاندان میں قرار دیا پس اس کے بعد ایک قیمتی ہیرا اپنی جیب سے نکالا اور کہا یہ میری طرف سے تحفہ قبول کر کے مجھے افتخار کا موقعہ دیں۔ محمد بن زید علیہ السلام نے فرمایا میں اس خاندان میں سے ہوں جو نیک کام کے عوض کوئی چیز نہیں لیتا اور جب میں نے تمہارے بارے میں اپنے والد کے خون کو درگزر کر دیا تو اب اس ہیرے کو کیونکر لوں۔
عابد زمین میں دھنس جاتا ہے
شیخ طوسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک بوڑھا عابد نماز میں مشغول تھا کہ اس نے دیکھا کہ دو بچے ایک مرغے کو پکڑ کر اس کے پر نوچ رہے ہیں اور وہ مرغا چیخ و پکار کر رہا ہے۔ لیکن وہ عابد اسی طرح نماز میں مصروف رہا اور اس حیوان کو نجات نہیں دلائی اور بچوں سے اسے نہیں چھڑایا۔ پس خداوند عالم نے زمین کو حکم دیا کہ اس عابد کو نگل لے۔ اور زمین اسے سب سے نچلے حصے میں لے گئی۔
وہ ثواب جو مومن کی مدد کرنے سے دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتے ہیں
وہ روایات جو مظلوموں کی مدد کرنے اور کلی طور پر مومنین کی حاجتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں بہت زیادہ ہیں اور ان کی زیادتی کے باعث کچھ کا یہاں ذکر کیاجائے گا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
من اغاث اخاه المومن اللهفان عند جهده فنفس کرتبه واعانه علی نجاح حاجته کتب الله عزّو جلّ له بذالک ثنتین و سبعین رحمة من الله یعجل له منها واحدة یصلح بها امر معیشته وید خر له احدی وسبعین رحمة لا فزاع یوم القیامة واحواله (وسائل کتاب الامر بالمعروف ب ۲۹ ج ۱۱ ص ۵۸۶)
جو کوئی اپنے مومن بھائی کی مجبوری اور پریشانی میں فریاد رسی کرے اور اس کے غم کو دور کرے اور اس کی حاجتوں کو پورا کرنے میں اس کی مدد کرے تو اس کے اس عمل کی وجہ سے خدا کی طرف سے بہتر رحمتیں اس کے لئے واجب ہو جاتی ہیں کہ ان میں سے ایک رحمت اسے دنیا میں دے دی جاتی ہے تاکہ اس کے دنیا کے مسائل کی اصلاحی ہو اور اکہتر رحمتیں اس کے لئے آخرت کے خوف و پریشانی کے لئے ذخیرہ کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ فرماتے ہیں۔
من سعی فی حاجة اخیه المسلم فا جتهد فیها فاجری الله علی یدیه قضا ها کتب الله عزّو جلّ له حجة و عمرة و اعتکاف سهرین فی المسجد الحرام و صیامهما وان اجتهد ولم یجر الله قضا ها علی یدیه کتب الله له حجة و عمرة
(الامر بالمعروف ب ۴۸ ج ۱۱ ص ۵۸۵)
اگر کوئی شخص کسی مومن کی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے یہاں تک کہ وہ حاجت اس کے ہاتھوں سے پوری ہو جائے تو خداوند عالم اس کے نامہ اعمال میں حج و عمرہ اور دو ماہ مسجدالحرام میں اعتکاف اور دو ماہ روزے کا ثواب لکھتا ہے اور اگر وہ حاجت اس کے ذریعے پوری نہ ہو تو ایک حج اور عمرہ کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی نازل کی اور فرمایا کہ میرے بندوں میں سے ایک بندے کی ایک نیکی مجھ تک پہنچے گی اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔ داؤد علیہ السلام نے کہا اے خداوند وہ کونسی نیکی ہے فرمایا مومن سے اس کے غم اور مصیبتوں کو دور کرنا اگرچہ وہ ایک کھجور کے برابر ہو۔ داؤد علیہ السلام نے کہا خدایا تیری ذات ہی اس بات کی سزا وار ہے کہ جس نے تیری معرفت حاصل کر لی اسے چاہیئے کہ تجھ سے نا امید نہ ہو۔
کتاب فقیہ میں میمون بن مہران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں امام حسن علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ایک شخص آیا اور کہا اے فرزند رسول میں فلاں آدمی کا مقروض ہوں اور اب وہ مجھے قید کر دینا چاہتا ہے امام نے فرمایا میرے پاس مال موجود نہیں ہے کہ تمہارا قرض ادا کر سکوں میں نے کہا آپ اس سلسلے میں اس سے گفتگو کیجئے شاید وہ مجھے قید نہ کرے امام نے اپنے جوتوں کو پہنا تو میں نے کہا اے فرزند رسول کیا آپ بھول گئے کہ آپ اعتکاف میں ہیں اور مسجد سے باہر نہیں جا سکتے امام نے فرمایا میں نے فراموش نہیں کیا لیکن میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ میرے جد رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو گویا اس نے نو ہزار سال تک دن میں روزہ رکھ کر اور راتوں کو جاگ کر خدا کی عبادت کی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا خط اھواز کے حاکم کے نام
جس وقت نجاشی اھواز کا حاکم بنا تو اس کے ملازموں میں سے ایک نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ نجاشی کے حساب و کتاب میں میرے ذمہ کچھ حساب ہے۔ اور وہ مرد مومن ہے اور آپ کا فرمانبردار ہے اور اگر آپ بہتر سمجھیں تو میری خاطر اسے ایک خط لکھیں۔ امام نے یہ تحریر فرمایا۔
( ۱ )ٰ بسم الله الرحمٰن الرحیم سرا خاک یسر ک الله
(اصول کافی باب ادخال السرور علی المومن ص ۱۹۰)
اپنے بھائی کو خوش کرو تاکہ خدا تمہیں خوش کرے۔
وہ کہتے ہیں کہ جب میں نجاشی کے پاس گیا تو وہ اپنے سرکاری کام میں مصروف تھا جب وہ فارغ ہوا تو میں نے امام کا خط اسے دیا اور کہا یہ امام کا خط ہے۔ اس نے خط کو چوم کر اپنی دونوں آنکھوں سے لگایا اور کہا کیا کام ہے۔ میں نے کہا آپ کے حساب میں میرے ذمے کچھ رقم ہے نجاشی نے کہا کتنی رقم ہے ۔ میں نے کہا دس ہزار درہم نجاشی نے اپنی منشی کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ اس شخص کی طرف سے اس کی رقم ادا کرو اور اس کے نام کا حساب رجسٹر سے ختم کر دیا جائے اور پھر حکم دیا کہ آئندہ سال کے لئے بھی اس کے لئے اتنی ہی رقم لکھ دو اس کے بعد اس نے کہا کیا میں نے تمہیں خوش کر دیا اس نے جواب دیا جی ہاں اس کے بعد نجاشی نے سواری کے لئے ایک گھوڑا ایک کنیز اور ایک غلام اور ایک جوڑا لباس اسے دینے کا حکم دیا اور ہر چیز دینے کے بعد کہتا کیا میں نے تمہیں خوش کر دیا وہ جواب دیتا تھا جی ہاں میں آپ پر قربان جاؤں اور جس قدر کہتا تھا جی ہاں اسے اتنا ہی زیادہ دیتا تھا جب یہ چیزیں دے چکا تو اس کے بعد اس سے کہا اس کمرے کا پورا قالین جس پر میں بیٹھا ہوں اپنے ساتھ لے جاؤ کیونکہ تم نے میرے آقا و مولا کا خط اسی قالین پر مجھے دیا ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی حاجت ہو تو بیان کرو۔ اس آدمی نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے روانہ ہوا اور جب امام کی خدمت میں حاضر ہوا تو تمام باتیں امام کو بتائیں امام نجاشی کے اس عمل سے بہت خوش ہوئے اس نے امام سے کہا اے فرزند رسول آپ میرے ساتھ نجاشی کے اس عمل سے خوش ہیں۔ امام نے فرمایا ہاں خدا کی قسم اس نے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کوبھی خوش کیا۔
علی کے والد یقطین سے نقل کیا گیا ہے کہ اھواز میں یحیٰی بن خالد کے منشیوں میں سے ایک منشی ہمارا والی مقرر ہوا میرے اوپر کافی زیادہ ٹیکس تھا جس کے ادا کرنے سے میں معذور تھا کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں میری تمام جائیداد اور مال میرے ہاتھوں سے چلا جاتا لوگ کہتے تھے کہ وہ امامت کا قائل اور شیعوں میں سے ہے میں ڈرا کہ کہیں میں اس سے ملاقات کروں اور وہ شیعہ نہ ہو میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ اھواز سے مکہ کی طرف فرار اختیار کروں پس حج سے فارغ ہونے کے بعد میں نے مدینہ جانے کا ارادہ کیا اور جب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا۔ اے میرے آقا ہمارے اوپر فلاں شخص والی مقرر ہوا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ آپ کے دوستوں میں سے ہے میں اس خوف کی بنا پر کہ شاید وہ شیعہ نہ ہو اور اس کے پاس جانے سے میرا تمام مال میرے ہاتھوں سے چلا جائے میں نے خدا کی طرف اور آپ کی طرف فرار کیا۔
امام نے فرمایا اب تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اور ایک چھوٹا سا رقعہ لکھا۔
بسم الله الرحمن الرحیم ان الله فی ظل عرشه ظلا لا لا یملکهاالا من نفس عن اخیه المومن کربة واعانة بنفسه او صنع الیه معروفا ولو بشق تمرو هذا اخوک والسلام (از کتاب کلمہ طیبہ)
الله کے عرش کے سائے میں بہت سے سائبان ہیں کہ جن کا مالک صرف وہی شخص ہوگا جو اپنے بھائی کو غم سے نجات دلائے اسے کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے یا اس سے کوئی نیکی کرے اگرچہ آدھا خرمہ ہی ہو۔ اور یہ شخص تمہارا بھائی ہے۔
امام نے اس رقعہ پر مہر لگائی اور فرمایا یہ اسے دینا، جب میں اپنے شہر واپس آیا را ت کو اس کے گھر گیا اور اجازت طلب کی اور کہا میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا بھیجا ہوا ہوں پس میں نے دیکھا کہ وہ فوراً ننگے پاؤں باہر نکل آیا اور جیسے ہی اس کی نظریں مجھ پر پڑیں آگے بڑھ کر مجھے سلام کیا۔ اور میری پیشانی چوم کر کہا جناب کیا آپ کو میرے مولانے بھیجا ہے میں نے کہا جی ہاں اس نے کہا اگر یہ سچ ہے تو آپ کے لئے میری جان بھی قربان ہے۔ پس اس نے میرے ہاتھوں کو تھام لیا اور دریافت کیاجب آپ میرے مولا سے رخصت ہوئے تو ان کا کیا حال تھا۔ میں نے کہا اچھے تھے اس نے کہا خدا کی قسم میں نے کہا خدا کی قسم اس نے تین مرتبہ یہ الفاظ مجھ سے کہے۔ پس میں نے امام کا رقعہ اسے دیا اس نے پڑھ کر چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا۔ اس کے بعد اس نے کہا۔ اے بھائی آپ کو مجھ سے کیا کام ہے بتائیں میں نے کہا سرکاری حساب میں میرے ذمے کچھ ہزار درہم ہیں اور ان کے ادا کرتے کرتے میری جان نکل جائے گی۔ یہ سن کر اس نے سرکاری فائل طلب کی اور جو کچھ میرے ذمے تھا اسے معاف کر دیا اور مجھے ادائیگی کی رسید دے دی اس کے بعد اس نے اپنے مال کے صندوق منگوائے اور اس میں سے آدھا مال مجھے دیا پھر اپنے گھوڑے منگوائے اس میں سے ایک مجھے دیتا تھا اور ایک اپنے لئے رکھتا تھا پھر اپنے کپڑے منگوائے ایک جوڑا خود لیتا اور دوسرا مجھے دے دیتا۔ یہاں تک کہ اپنے تمام مال میں سے آدھا مجھے عطا کیا اور مسلسل یہ کہتا جاتا تھا اے بھائی آیا میں نے تمہیں خوش کر دیا۔ میں نے کہا جی ہاں خدا کی قسم۔
جب حج کا زمانہ آیا تو میں نے کہا میں اس کے احسان و مہربانی کی ہرگز تلافی نہیں کر سکتا سوائے اس چیز کے جو خدا اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے بہتر ہو۔ اس کے بعد حج کے لئے روانہ ہوا تاکہ اس کے لئے دعا کروں اور اپنے امام اور مولا کی خدمت میں جانے کا ارادہ کیا تاکہ ان کے سامنے اس کی تعریف کروں اور امام سے اس کے لئے دعا کراؤں۔ مکہ کے بعد جب میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں بہت خوش پایا امام نے فرمایا اے یقطین وہ آدمی تمہارے ساتھ کیسا پیش آیا جب میں نے وہ تمام باتیں امام کے گوش گزار کیں تو امام کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ اس کے بعد میں نے کہا اے میرے مولا کیا اس کے اس عمل سے آپ خوش ہیں ( تاکہ خدا اسے خوش کرے)امام نے فرمایا ہاں خدا کی قسم اس نے میرے آباواجداد کو خوش کیا خدا کی قسم اس نے امیرالمومنین کو رسول خدا صلوات الله علیہم کو اور عرش پر خدا کو خوش کیا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور علی بن یقطینا
ابراہیم جمال نے علی بن یقطین (ہارون رشید کے وزیر) سے ملاقات کرنا چاہی لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور اسے منع کر دیا گیا اسی سال علی بن یقطین حج سے مشرف ہوئے اور مدینہ گئے اور جب امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی زیارت کے لئے اجازت چاہی تو امام نے انہیں اجازت نہیں دی اور دوسرے دن انہوں نے امام سے ملاقات کی اور عرض کیا اے میرے مولیٰ میرا ایساکونسا گناہ ہے کہ کل آپ نے مجھے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی امام نے فرمایا کیونکہ تم نے اپنے بھائی کو اجازت نہیں دی اسی لئے خداوند تمہاری کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ جب تک ابراہیم جمال تمہیں معاف نہ کردے انہوں نے عرض کیا میرے مولا اس وقت ابراہیم جمال یہاں کہاں وہ تو کوفہ میں ہے اور میں مدینہ میں اسے اپنے آپ سے کیسے راضی و خوشنود کر سکتا ہوں۔
امام نے فرمایا جب رات ہوجائے تو اکیلے بقیع میں جاؤ اس طرح کہ تمہارا کوئی دوست سمجھ نہ سکے وہاں ایک (اچھی نسل کا) گھوڑا ہوگا اس پر سوار ہو جانا علی بن یقطین نے ایسا ہی کیا تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے اپنے آپ کو ابراہیم جمال کے گھر کے دروازے پر پایا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا میں علی بن یقطین ہوں ۔ ابراہیم نے گھر کے اندر ہی سے کہا علی بن یقطین کا مجھ سے کیا تعلق ہے۔ علی نے فریاد کی مجھے تم سے بہت ضروری کام ہے اور اسے قسم دی کہ مجھے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے اور جب وہ داخل ہوئے تو کہا اے ابراہیم میرے مولیٰ نے مجھے اس وقت تک قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک کہ تم مجھے معاف نہ کر دو ابراہیم نے کہا خدا تمہیں بخشے علی بن یقطین نے اسے قسم دی کہ اپنے پیروں کو میرے چہرے پر رکھو۔ ابراہیم نے قبول نہ کیا علی نے دو مرتبہ اسے قسم دی ابراہیم نے ایسا ہی کیا تو علی بن یقطین نے کہا خدا یا گواہ رہنا۔ بعد میں گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے آپ کو امام کے دروازے پر پایا۔ دروازہ کھٹکھٹایا امام نے انہیں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔
اس حدیث سے برادران ایمانی کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ با وجودیکہ علی بن یقطین امام کے خاص صحابیوں میں سے تھے اور امام ہی کے حکم ہی سے انہوں نے وزارت کے عہدہ کو قبول کیا اور ان پر امام کی اس قدر عنایت تھی کہ عید قربان کے دن امام نے فرمایا کہ علی بن یقطین کے سوا اس دن میرے دل میں کسی کا خیال نہ آیا اور میں نے اس کے لئے دعا کی اس مقام و مرتبے کے باوجود امام علی بن یقطین سے اس وقت تک راضی نہ ہوئے جب تک اسے اپنے آپ سے راضی نہ کر لیا چنانچہ ہمیں بھی اپنی روزمرہ کی زندگی میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے کسی برادر مومن کی حق تلفی ہو اور یہ بات خدا اور رسول کی ناراضگی کا سبب بنے۔
خود اس شخص کی حاجت بھی پوری ہو جاتی ہے
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی مظلوم پر سے ظلم دور کرنے یا مومنوں کی حاجت پوری کرنے ی کوشش کرتا ہے تو آخرت کے ثواب کے علاوہ اس دنیا میں بھی اس کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی اپنی حاجتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سی روایات اور واقعات ملتے ہیں یہاں صرف ایک واقعے کا ذکر کیا جاتا ہے جو حدیث پر بھی مشتمل ہے۔
کتاب محاسن کے مصنف عالم جلیل احمد بن محمد بن خالد البرقی جو حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں اور غیبت صغریٰ میں بھی موجو د تھے فرماتے ہیں کہ میں شہر رے پہنچا اور کوتکین کے منشی ابوالحسن مادرانی کا مہمان ہوا اس کی طرف سے میرے لئے سالانہ وظیفہ مقرر تھا جو میں کاشان میں واقع ایک علاقے کے ٹیکس سے محسوب کر لیتا تھا لیکن اچانک مجھ سے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا اور وہ اپنے کچھ کاموں کی وجہ سے میری طرف سے غافل ہو گیا ایک روز جب کہ میں سخت فکر و پریشانی میں مبتلا تھا کہ یکایک میرے پاس ایک پاکیزہ بزرگ آدمی آیا جو بہت کمزور تھا اور لگتا تھا کہ اس کے بدن میں خون بالکل نہیں یعنی وہ زندوں کی شکل میں ایک مردہ تھا اس نے مجھ سے کہا اے ابو عبدالله میرے اور تمہارے درمیان وجہ اشتراک دین کی پاکیزگی اور آئمہ طاہرین کی دوستی ہے۔ خدا کی خوشنودی اور ہم سادات کی دوستی کی خاطر میرے لئے انہی ایام میں کچھ نہ کچھ کرو میں نے دریافت کیا آخر آپ کی حاجت کیا ہے۔ وہ بولا لوگوں نے میرے متعلق یہ مشہور کر دیا ہے کہ میں نے کوتکین کے خلاف سلطان کو خفیہ طور سے کچھ لکھ دیا ہے اسی لیے انہوں نے میرا مال ضبط کر لیا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں آپ کی حاجت پوری کروادوں گا اور وہ چلا گیا میں نے کچھ سوچ کر اپنے دل میں کہا کہ اگر اپنی اور اسکی حاجت بیک وقت طلب کرتاہوں تو دونوں پوری نہیں ہو سکتیں اور اگر اس کی حاجت طلب کرتا ہوں تو اپنی حاجت پوری نہیں ہوتی اس کے بعد میں اپنی لائبریری میں گیا تو مجھے حضرت صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ملی کہ اگر کوئی خلوص دل سے اپنے مومن بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرے تو خدا اس کے ذریعے اس کی حاجت پوری کرتا ہے اور اگر خود اس کی بھی کوئی حاجت ہو تو وہ بھی پوری ہو جاتی ہے۔ بس میں اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور ابوالحسن مادرانی کے دروازے پر جا پہنچا اور جب میں اجازت لے کر اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ کرسی پر تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہے۔ میں نے سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور کہا بیٹھو پس خدا نے میری زبان پر یہ آیت جاری کر دی جسے میں نے بلند آواز سے پڑھا۔
( وا بتغ فیما اتا ک الله الدار ا لاخرة ولا تنس نصیبک من الدنیا واحسن کما احسن الله الیک ولا تبغ الفساد فی الارض ان الله لایحب المفسدین ) (سورئہ قصص آیت ۷۷)
یعنی خدا نے تمہیں جو مال و جاہ اعضاء و جوارح کی نعمت عطا کی ہے ان سے سعادت اخروی حاصل کرو اور دنیا سے بھی اپنے حصہ (یعنی زندگی، صحت، فراغت، تونگری اور جوانی جسے تم اچھے کام میں صرف کرو) سے غافل نہ ہو اور اسی طرح نیکی کرو جس طرح خدا نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے اور زمین پر فساد نہ کرو یقینا خدا فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
ابوالحسن نے کہا تمہارا یہ آیت پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ تمہیں کوئی حاجت ہے۔ تو کھل کر بیان کرو میں نے کہا لوگوں نے فلاں شخص کے خلاف اس طرح کی باتیں کی ہیں اس نے پوچھا کیا وہ شیعہ ہے جو تم اسے جانتے ہو میں نے کہا ہاں اس پر وہ کرسی سے اتر آیا اور غلام سے کہا رجسٹر اٹھا لاؤ وہ رجسٹر لایا جس میں اس شخص کا مال درج تھا اور وہ بہت زیادہ تھا پھر اس نے حکم دیا کہ اسے سب رقم لوٹا دی جائے اور اسے ایک لباس اور خچر دیا جائے اور اسے اس کے اہل و عیال کے پاس عزت و احترام کے ساتھ واپس بھیج دیا جائے پھر کہا اے ابو عبدالله تم نے نصیحت کرنے میں کوتاہی نہیں کی اور میرے کام کی اصلاح کر دی پھر اس نے ایک پرچہ اٹھا کر اس پر لکھا احمد بن محمد بن خالد البرقی کو دے دیا جائے اور یہ کاشان میں اس کی کاشت کے محاصل میں شمار کیا جائے۔پھر کچھ دیر رکا اور کہنے لگا اے ابو عبدالله خدا تمہیں اس کی جزا دے کیونکہ تم نے اس ظلم کو جو اس بے چارے پر ہوا تھا۔ اس سلسلے میں میری ہدایت کی پھر وہ دوسرا رقعہ لکھا کہ اسے دس ہزار درہم دئیے جائیں کیونکہ اس نے ہمیں نیکی کی راہ دکھلائی احمد نے کہا میں نے اس کے ہاتھ چومنا چاہے تو وہ کہنے لگا میرے عمل کو ضائع نہ کرو خدا کی قسم اگر تم میرے ہاتھ چوموگے تو میں تمہارے پاوں چوموں گا۔ یہ بات اس کے حق میں کم تھی کیونکہ وہ آل محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسی تھامے ہوئے ہے۔
جھوٹ
سترہواں ایسا گناہ جس کے کبیرہ ہونے کی صراحت موجود ہے۔ جھوٹ بولناہے۔ شیخ انصاری علیہ الرّحمہ کتاب " مکاسبِ محترمہ " میں فرماتے ہیں: "جھوٹ بولنا نہ صرف یہ کہ عقلی اعتبار سے یقینا حرام ہے، بلکہ تمام آسمانی ادیان، خصوصا ًاسلام کے لحاظ سے یہ حرام ہے نہ صرف قرآن ِمجید بلکہ احادیث اجماع اور عقل، ادلّہ اربعہ سے جھوٹ کا حرام ہونا ثابت ہے۔
فضل ابن شاذان نے حضرت امام علی رضا علیہ السَّلام سے جو گناہانِ کبیرہ کی فہرست نقل کی ہے اور اسِی طرح کی روایت اعمش نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے جو نقل کی ہے، ان دونوں میں جھو ٹ کو صاف الفاظ میں گناہِ کبیرہ بتایا گیا ہے۔
جھوٹ بڑے گناہوں میں سے ایک
حضرت رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے کہاَلَآ اُخْبِرُکُمْ بأَکِبَرِالْکَبَآئِر: اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰهِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَوْلُ الزُّوْر (وسائل الشیعہ) " آگاہ ہوجاو، مَیں تمھیں گناہانِ کبیرہ میں سے سب سے بڑے گناہوں کو بتاتا ہوں: کسی کو خدا کا شریک قرار دینا، والدین کے ذریعے عاق ہوجانا، اور جھوٹ بولنا!"
اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السَّلام سے مروی ہے کہ
جُعِلَتِ الْخَبَآئِثُ کُلّهَافَیْ بَیْتٍ وَّاحِدٍ وَجُعِلَ مِفْتَاحُهَا الْکِذْبَ
(مستدرک الوسائل ، کتاب حج، باب ۱۳۰) ۔
"تمام برائیاں ایک کمرے میں مقفّل ہیں اور اسکی چابی جھوٹ ہے!"
فرشتے لعنت بھیجتے ہیں
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا :اِنَّ الْمُومِنَ اِذَاکَذِبَ بِغَیْرِ عُذْرٍ لَعَنَه سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ " مومن جب بغیر کسی عذر کے جھوٹ بولتا ہے تو اس پر ستّر ہزار فرشتے لعنت بھیجتے ہیں!! "وَخَرَجَ مِنْ قِلْبِه نَتِنُ حتّٰی یَبْلُغَ الْعَرْش "اور اس کے دِل سے ایسی سخت بدبو اٹھتی ہے جو عرش تک پہنچتی ہے!وَکَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ بِتْلِکَ الْکِذْبَةِسَبْعِیْنَ زِنْیَةً اَهْوَنُهَا کَمَنْ زَنیٰ بِاُمِّه (کتاب مستدرک الوسائل) " اور اس ایک جھوٹ کے سبب سے خدا اس کے لئے ستّر مرتبہ زنا کرنے کے برابر کا گناہ لکھ دیتا ہے۔ اور وہ بھی ایسے زنا جن میں سے معمولی ترین زنا، ماں کے ساتھ (نعوذ بالله)ہو"
بے شک کوئی گناہ اتنا بڑا نہیں ہے جتناکہ جھوٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ کے نقصانات زنا کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو دو قبیلوں اور دو قوموں کو آپس میں لڑوا دیتے ہیں ۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو بے شمار جانوں اور ان گنت عصمتوں کو ضائع کردیتے ہیں یاکم ازکم مالی نقصان کا اور انسانی اصولوں کی پامالی کا سبب بنتے ہیں۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آئمہ ومعصومین (علیہم السلام) پر باندھے جاتے ہیں ۔ ظاہر ایسے جھوٹ بدترین گناہ ہیں ۔ بعض جھوٹی گواہیاں بے گناہ آدمیوں کو سولی پر چڑھا دیتی ہیں اور کئی گھرانے تباہ کردیتی ہیں اسی لئے ایک روایت میں ہے اَلْکِذْبُ شَرُّمِّنَ الشَّرَابِ " جھوٹ شراب سے زیادہ بڑی بُری ہے!"
جھوٹ کی مذمت میں آیات
سورئہ نحل میں ارشاد ہے( اِنَّمَایَفْتَرِی الْکَذِ بُ الَّذِیْنَ لَایُومِنُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰهِ ) (سورئہ نحل ۱۶: آیت نمبر ۱۰۵) " جھوٹ بہتان تو بس وہی لوگ باندھا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے!"
اورسورئہ زُمر میں ارشاد ہے( اَنَّاللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَکَذِبُ کَفَّارُ ) (سورئہ زُمَر ۳۹: آیت نمبر ۳) " بے شک خدا جھوٹ اور بہت ناشکرے آدمی کو ہدایت نہیں دیتا!"
اسِی طرح چند دیگر آیتوں سے استفادہ ہوتا کہ جھوٹا شخص خدا کی لعنت کا مستحق ہے اور خدا اس سے غضب ناک رہتا ہے۔ مثلاً( فَنَجْعَلْ لَٓعْنَةَاللّٰهِ عَلَی الْکاذِبِیْنَ ) (سورئہ آ لِ عمران ۳: آیت نمبر ۶۱) " پھر ہم جھوٹوں پر خُدا کی لعنت کے لئے بددُعا کریں گے!" اور مثلاً( اَنَّ لَعْنَةَاللّٰهِ عَلَیْهِ اِنَّ کَانَ مِنَ الْکاذبِیْنَ ) (سورئہ نور ۲۴: آیت نمبر ۷) اور اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے!"
گناہ کی مذمت اور اس کے نقصانات سے متعلق کئی آیت و روایات موجود ہیں مرحوم حاجی نوری علیہ الرَّحمہ نے اختصار کے طور پر اور آسانی سے یاد ہو جانے کے لئے چالیس موضوعات میں ان آیات وروایات کو تقسیم کر دیا ہے جو ہم پیش کر رہے ہیں۔
( ۱) جھوٹ،فسق ہے
سورئہ بقرہ میں ارشاد ہے( فَلَارَفَثَ وَلَا فَسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت نمبر ۱۹۷)" پس حج میں نہ تو جماع کی اجازت ہے نہ فسق وفجور کی اجازت ہے۔ اور نہ ہی کسی جھگڑے کی اجازت ہے۔" اس آیت شریفہ میں فسق سے مراد جھوٹ ہے اور مثلاً سورئہ حجرات میں جھوٹے کو فاسق کہاگیا ہے۔ ارشاد ہے کہ( اِنْ جَا ئَکُمْ فَاسِقُ بِنبَاِفَتَبَیَّنُوْا ) (سورئہ حجرات ۴۹: آیت نمبر ۶)" اگر تمھارے پاس کوئی جھوٹا آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو۔" اس آیت میں ولید کو جاسق یعنی جھوٹا قرار دیاگیا ہے۔
( ۲) " قَوْلَ الزُّوْر" سے مُراد
بُت پرستی کے ساتھ جھوٹ سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے اور ارشاد ہے کہ( فَاجْتَنِبُ ا لرَّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ) (سورئہ حج ۲۲: آیت ۳۰) " پس تم ناپاک چیزوں مثلاً بتوں سے بچو اور لغو باتوں سے بھی بچو ۔" یہاں قَوَْلَ الزُّوْر یالغو باتوں سے مُراد جھوٹ ہے۔
( ۳) جھوٹ بولنے والا مومن نہیں ہوت
گزشتہ آیت شریفہ (سورئہ نحل ۱۶: آیت نمبر ۱۰۵) سے ثابت ہوتا ہے کہ جو جھوٹ بولتا ہے وہ مومن نہیں ہوتا اور جو مومن ہوتا ہے وہ جھوٹ نہیں بولتا ۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے " جھوٹ، بہتان وہی لوگ باندھتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے !" ظاہر ہے خدا کی آیتوں پر ایمان نہ رکھنے والاشخص مومن نہیں ہوسکتا۔
( ۴) جھوٹ اثم اور گناہ ہے
روایتوں میں جھوٹ کو "اِثم" یا "ذَنْب" (گناہ) بھی کہا گیا ہے۔ مثلاً حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جھوٹ پورا پورا اِثم اور گناہ ہے۔
( ۵) جھوٹا شخص ملعون ہے
جھوٹا شخص خدا کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے اور اس پر خدا کا غضب اور قہر نازل ہوتا ہے۔ مثلاً ارشاد ہے
( اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ کاَنَ مِنَ الْکاَذبِیْنَ ) (سورئہ نور ۲۴: آیت ۷)
" اور اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے۔"
( ۶) جھوٹے کاسیاہ چہرہ
پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا(قَالَ) اِیَّاکَ وَالْکِذْبَ فاِنّه یُسَوَدُّاْوَجْهَ (مستدرک الوسائل) " جھوٹ سے بجتے رہو، اس لئے کہ جھوٹ مُنْہ کالا کردیتا ہے!"
کتاب "حبیبُ السِّیرَ " میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ:
سلطان حسین میرزا خراسان اور زابلستان کا بادشاہ تھا۔ اس نے آذر بائیجان اور عراق کے بادشاہ سلطان یعقوب میرزا کے پاس اپناایک ایلچی بہت سی کتابوں اور دیگر تحفوں کے ساتھ روانہ کیا ۔ ان کتابوں میں" کلیاتِ جامی" رکھنے کا بھی اس نے حکم دے دیا تھا جو اس زمانے میں بہت پسند کی جاتی تھی ۔
امیر حسین ابیوروی نام ایلچی جلدی میں غلطی کر بیٹھا اور " کلیاتِ جامی" کی بجائے "فتوحاتِ مکّی" لے گیا۔ عراق کے بادشاہ نے اس کے ساتھ بہت شفقت آمیز سلوک کیا اور کہا: " اتنی طویل مسافت میں تم بہت اکتاگئے ہوگئے!" ایلچی کہنے لگا:" جی نہیں سلطان نے آپ کے لئے کلیاتِ جامی بھی بھیجی ہے راستے میں جب بھی پڑاوکرتا تھا تو اس کا مطالعہ کر کے محظوظ ہوتا تھا!" سلطان یعقوب نے پر اشتیاق سے وہ کتاب تحفوں میں سے منگوائی تو وہ موجود نہیں تھی ۔ اب ایلچی کا شرمنّدگی کے مارے بُرا حال ہوگیا۔ بادشاہ نے کہا تم کو شرم نہیں آئی ایسا جھوٹ کہتے ہوئے!"
ایلچی کہتا ہے کہ " میں انتہائی شرمندگی کے ساتھ دربار سے نکلا اور سلطان سے خط کا جواب لئے بغیر ہی اور راستے میں پڑاو کئے بغیر ہی خراسان پہنچ گیا! میرا جی چاہ رہاتھاکہ کاش مرجاتا مگر یہ جھوٹ نہ کہتا!"
( ۷) جھوٹ کا گناہ شراب سے بڑھ کر ہے
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام کا ارشاد ہے :اِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ لِشَرِّ اَقْفَالاً وَجَعَلَ مَفَاتِیْحِ تِلک َالاَقْفَال الشَرَابُ، وَالْکِذْبُ شَرُّ مِّنَ الشَّرابِ (اصولِ کافی، کتاب الایمان والکفر، جھوٹ کاباب) "بیشک خدانے تمام برئیوں کے کچھ نہ کچھ تالے بنائے ہیں اور ان تالوں کی چابی شراب ہے جب کہ جھوٹ شراب سے بدتر ہے!"
اگرچہ شراب عقل وہوش کو ختم کردیتی ہے لیکن جھوٹ نہ صرف عقل کو خبط کردیتا ہے بلکہ انسان کو اتنابے حیا اور بے غیرت بنادیاتا ہے کہ وہ ہر قسم کی شیطانیت پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ شرابی کی عقل جب کام نہیں کرئی ہے تو وہ چالاکی اور عیّاری نہیں دکھا سکتا، جب کہ آدمی جھوٹ بول کر چالاکی سے معاشرے کو شرابی سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا دیتا ہے۔
( ۸) جھوٹے کا بدبو دار مُنہ
مروی ہے کہ قیامت کے دِن ہر جھوٹے آدمی کے مُنْہ سے سخت بدبو آئے گی!
( ۹) ملائکہ کا اظہارِبیزاریا
بدبو اس قدر ہوگی کہ فرشتے تک جھوٹے شخص کے پاس نہیں جائیں گے اور اس سے دور ہٹیں گے۔ یہ بات صرف قیامت تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی فرشتوں کو جھوٹے لوگوں کے مُنْہ سے بَدبو محسوس ہوتی ہے۔ حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ) میں ہے :اِنَّ الْعَبْدَ اِ ذَالکَذِبَ تَبَاعَدَعَنْهُ الْمَلَکُ مِنْ نَتْنِ مَا جَآءَ مِنْهُ (مستدرک الوسائل) " جب خدا کا کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے مُنْہ سے اتنی بدبو آئی ہے کہ فرشتے اس سے دور ہٹ جاتے ہیں !"
جھوٹ کفر کا سبب
( ۱۰) خدا وندِتعالیٰ جھوٹے پر لعنت بھیجتا ہے، جس طرح کہ آیت مباہلہ اور آیت لِعان (سورئہ نور ۲۴: آیت ۷) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ چنانچہ اس سے پہلے ذکر ہوا۔
( ۱۱) مروی ہے کہ جھوٹے کے مُنْہ سے خارج ہونے والی بدبو عرش تک پہنچ جاتی ہے!
( ۱۲) یہ مروی ہے کہ عرش کو اٹھائے ہوئے خداکے مقرّب فرشتے جھوٹے پر لعنت بھیجتے ہیں!
( ۱۳) جھوٹ ایمان کو خراب کردیتا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیںعَنْ اَ بِیْ جَعْفَرٍ) اَلْکِذْبُ خَرَابُ اِلْایْمَانِ (کتاب "کافی ") "جھوٹ ایمان کو خراب کردینے والا ہوتاہے۔"
( ۱۴) جھوٹ ایمان کاذائقہ چکھنے سے آدمی کو محروم کردیتا ہے ۔ امام علی علیہ االسَّلام فرماتے ہیں(عَنْ عَلِّیٍ)لَا یَجِدُ عَبْدُ طَعْمَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَدْرُکَ الْکِذْبَ هَزْلَهُ وَ جِدَّه (کتاب "کافی") کوئی بندہ ایمان کا ذائقہ اس وقت تک چکھنے سے محروم رہتا ہے جب تک وہ جھوٹ کو ترک نہ کرے‘ خواہ وہ جھوٹ مذاق میں ہو یا سنجیدگی کے ساتھ!"
( ۱۵) روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ دلوں میں دشمنی اور کینے کا سبب بنتا ہے!
( ۱۶) جھوٹ کی وجہ سے آدمی کا اخلاق دیگر تمام انسانوں کی نسبت ذیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ حدیثِ نبوی میں ہے:اَقَلُّ النَّاسِ مُرَوَّةً مَنْ کَانَ کَاذِبًا (مستدرک الوسائل) "مروت اور اخلاق کے اعتبار سے پست ترین آدمی وہ ہے جو جھوٹ بولتا ہو"
( ۱۷) مروی ہے کہ جھوٹ ایک ایسے گھر کی چابی ہے جس میں تمام برائیاں مقفّل ہیں!
( ۱۸) جھوٹ فسق و فجور ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مروی ہے کہاِیّاکُمْ وَالْکِذْبَ فَاِ نَّه مِنَ الْفُجُوْرِ وَهُمَا فِی النَّارِ (مستدرک الوسائل) "جھوٹ سے بچو، اس لئے کہ یہ فسق و فجور کی ایک قسم ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنمی ہیں!"
( ۱۹) روایت میں ہے کہ ایک جھوٹ کے بدلے ستّر ہزار فرشتے جھوٹے آدمی پر لعنت کرتے ہیں!!
( ۲۰) جھوٹ منافق کی علامت ہے۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ حدیث مستدرک الوسائل میں موجود ہے کہ : "منافق کی تین علامتیں ہیں: جھوٹ بولنا، خیانت کرنا اور وعدہ خلافی کرنا۔"
( ۲۱) جھوٹے شخص کا مشورہ شرعی لحاظ سے پسندیدہ نہیں ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیںلَا رَأْ لِکَذُوْبٍ (مستدرک الوسائل) "جھوٹے شخص کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہے!"
( ۲۲) جھوٹ بدترین نفسیاتی بیماری ہے! امیرالمومنین حضرت علی علیہ السَّلام کا ارشاد ہے: وَ عِلَّةُ الْکِذْبِ اَقْبَحُ عِلَّةٍ(مستدرک الوسائل) "اور جھوٹ کی بیماری بدترین نفسیاتی بیماری ہے!
( ۲۳) جھوٹ شیطان کے ہاتھ کی زینت ہے۔ حدیثِ نبوی میں ہے کہاِنَّ لِاِبْلِیْسَ کُحُلاًوَّ لُعُوْقًاوَّ سُعُوْطاً "بیشک ابلیس سُرمہ بھی لگاتا ہے، انگلی میں چھلّا بھی پہنتا ہے۔ اور نسوار بھی استعمال کرتا ہے!"فَکُحْلُهُ النُّعَاسُ وَ لُعُوْقُهُ الْکِذْبُ وَ سُعُوْطُهُ الْکِبْرُ "پس اُس کا سُرمہ اونگھنا اور سستی کرناہے، اس کی انگلی کا چھلّا جھوٹ ہے اس کی نسوار غرور و تکبر ہے!"
( ۲۴) انسان جو چیزیں کماتا ہے اُن میں جھوٹ بدترین چیز ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہی کا ارشاد ہے:اَدْبَی الرِّبَا الْکِذْبُ (وسائل الشیعہ) "انسان کی بدترین کمائی جھوٹ کا سود ہے! " جی ہاں، گناہ کے اعتبار سے، آدمی جھوٹ بول کر سب سے زیادہ گناہ کما لیتا ہے!
( ۲۵)جَآءَ رَجُلُْ اِلَی النَّبِیّ ایک شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔فَقَالَ: مَا عَمَلُ اَهْلِ النَّارِ اس نے دریافت کیا " ایسا کون سا عمل ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کہ جہنمی بنا دیتا ہے؟" فَقَالْ: اَلْکِذْبُ آنحضرت نے جواب دیا۔ وہ "جھوٹ ہے!"اِذَا کَذَبَ الْعَبْدُ فَجَرَوَاذٰافَجَرَ کَفَرَ وَاِذٰا کَفَرَ دَخَلَ النَّارَ (مستدرک الوسائل) " جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو ہر گناہ کے سلسلے میں بے باک ہوجاتا ہے، اور جب اتنا بڑھ جاتا ہے تو کفر کر بیٹھتا ہے اور جب کفر کر بیٹھتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجاتا ہے!"
جھوٹ نسیان اور بھول پیدا کرتا ہے
( ۲۶) امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہاِنَّ مِمَّآ اَعَانَ اللّٰهُ عَلَی الْکَذَّابِیْنَ اَلنِّسْیَانَ (وسائل الشیعہ) "بیشک بہت جھوٹ بولنے والوں کو خدا جو سزائیں دیتا ہے اُن میں سے ایک نسیان (اور بھول )کا مرض ہے! " پس آدمی جھوٹ بولتاہے اور بھول جاتا ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا تھا۔ پھر اس کا جھوٹ پکڑا جاتارہتاہے، وہ رسواہوتا ہے مگر اپنی رسوائی کو چھپانے کی کوشش میں وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے اور دوسرا جھوٹ بول کروہ پہلا جھوٹ نبھانے کی کوشش کردیتا ہے ۔لیکن وہ بھی بھول کر خود کو مزید رسوا کر دیتا ہے۔
( ۲۷) " جھوٹ، نفاق اور منافقت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہی۔"
جھوٹ بولنے والوں پر سخت عذاب
( ۲۸) جھوٹ بولنے والوں پر خاص قسم کے عذاب نازل ہوتے ہیں آقائے راوندی کی کتاب "دعوات" میں اس موضوع پر ایک طولانی حدیثِ نبوی موجود ہے جس میں آنحضرت شبِ معراج کا آنکھو ں دیکھا حال بیان فرماتے ہیں ۔ اسی میں فرماتے ہیں کہ:
" میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کو پیٹھ کے بَل لٹایا گیا ہے اور دوسرا شخص اس کے سَر پر کھڑا ہے۔ کھڑے ہوئے شخص کے ہاتھ میں ایک نو کیلا لوہے کا ڈنڈا ہے جس سے وہ لیٹے ہوئے شخص کو زخمی کردیتا ہے۔ اس کا مُنْہ گردن تک ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے! ڈنڈا اوپر ہوجاتاہے تو دوبارہ نیچے آنے سے پہلے وہ شخص ٹھیک ہوجاتا ہے اور بار بار اس عذاب سے وہ گذرتا ہے!"
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں میں نے پوچھا " اس کے عذاب کی وجہ کیا ہے؟"
بتایا گیا: " یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا تھا تو ایسا جھوٹ کہتا تھا جس سے دنیا کے لوگوں کو نقصان پہنچتا تھا۔ پس قیامت تک اس پر (مرنے کے بعد ) ایسا ہی عذاب ہوگا!"
( ۲۹) جھوٹا شخص نمازِ شب سے محروم رہتاہے اور اس طرح نمازِ شب سے حاصل ہونے والی برکتوں سے بھی محروم رہتا ہے اور اس کی ایک برکت رزق کی فراوانی ہے۔ شریفی ، حضرت جعفر صادق علیہ السَّلام سے نقل کرتے ہیں کہ:اِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِ بُ الْکِذْبَ فَیَحْرُمُ بِهَا صَلٰوةُ اللَّیْلِ، فَاِ ذا حَرُمَ صَلٰو ةُ اللَّیْلِ حَرُمَ بِهَا الرِّزْقُ (بحارالانوار) " بے شک آدمی جب جھوٹ بولتا ہے تو اس کی وجہ سے نمازِ شب کی توفیق اسے حاصل نہیں ہوتی اور جب نمازِ شب کی توفیق نہیں ہوتی تو اس کی وجہ سے فراوانی رزق بھی نہیں ہوتی!"
( ۳۰) جھوٹ ہدایت سے محرومی کا اور گمراہی کا سبب ہوتا ہے آیت میں ہے اِنَّ اللَّٰہَ لَا یَھْدِیٰ مَنْ ھُوَکََاذِ بُ کَفَّارُ (سورئہ زمر ۳۹: آیت ۳) " بے شک خدا جھوٹے ناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا!"
( ۳۱) جھوٹے سے انسانیت رخصت ہوجاتی ہے ! حضرت عیسی ابن مریم علیہ السَّلام کا ارشاد ہے مَنْ کَثُرَ کِذْبُہ ذَھَبَ بَھَآ ئُہُ (کتاب "کافی") جس شخص کا جھوٹ کثرت سے ہوتا ہے اس کی انسانیت رخصت ہوجاتی ہے ۔" پھر کوئی اُس سے مانوس نہیں ہوتا اور کوئی اس سے دِلی لگاو نہیں رکھتا!
( ۳۲) " جھوٹ سب سے زیادہ خبیث اور گندی چیز ہے!"
( ۳۳) جھوٹ ایک گناہِ کبیرہ ہے ، جس طرح کہ ثابت ہوچکا ہے۔
( ۳۴) جھوٹ ایمان سے دُور ہے، بلکہ اس کی ضد ہے پیغمبر ِاکرم فرماتے ہیں اَلْکِذْبُ مْجَانِبُ الْاَیْمَانِ (مستدرک الوسائل) " جھوٹ جتنا بڑھے گا ایمان اتناکم ہوگا!"
( ۳۵) سب سے بڑا گنہگار جھوٹا شخص ہے ! حدیثِ نبوی میں ہے کہ
ٍ مِنْ اَعْظَمِ الْخَطَیَا اَللَّسَّانُ الْکذُوْبُ (مستدرک الوسائل)
"ایک سب سے بڑا گناہ بہت باتونی اور بہت جھوٹے شخص کا گناہ ہے!"
( ۳۶) جھوٹا آدمی اپنے جھوٹ کی وجہ سے ہلاکت میں پڑجاتا ہے۔ پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں :اِجْتَنِبُوا لْکِذْبُ وَاِنْ رَأَیْتُمْ فِیْهِ النَّجَاةَ فَاِنَّ فِیْهِ الْهَلَکَةَ (مستدرک الوسائل) " جھوٹ سے پرہیز کرو ، اگرچہ تمھیں اس میں نجات نظر آرہی ہو، مگر در حقیقت اس میں ہلاکت ہوتی ہے!"
( ۳۷) جھوٹا آدمی دوستی کے اور بھائی بنائے جانے کے قابل نہیں ہوتا ۔ امیر المومنین علیہ السَّلام فرماتے ہیں: یَنبََغیْ لِلرَّجُلِ الْمُسْلِمِ اَنْ یَّجْتَنِبَ مُواخَاةَ الْکَذَّابِ "ہر مسلمان آدمی کو چاہیے کہ وہ بہت چھوٹے آدمی کے ساتھ دوستی اور برادری کا رشتہ نہ باندھے !"اِنَّه یُکَدَّبُ حَتَّی یَجِیْ َ بِا لصِّدْقِ فَلَا یُصَدَّقُ (وسائل الشیعہ) "اس لئے جھوٹے سے دوستی کرنے والے شخص کو بھی جھوٹا سمجھا جائے گا! حتّٰی کہ اگر وہ سچی بات بھی کرتے گا تو سچ نہیں مانا جائے گا!"
( ۳۸)( اِنِّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوِ مُسْرِفُ کَذَّابُ ) (سورئہ مومن ۴۰: آیت ۲۸) " بے شک خدا اسراف کرنے اور جھوٹ بولنے والے کو راہِ ہدایت نہیں دکھاتا!" جھوٹا شخص حق اور حقیقت سے دور رہتا ہے۔
( ۳۹) جھوٹا شخص صرف دیکھنے میں انسان ہوتا ہے لیکن عالمِ برزخ میں اس کی صورت انسانی نہیں ہوتی۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حضرت فاطمہ زہرا ء = کو حدیثِ معراج بناتے ہوئے فرمایا تھا: شبِ معراج میں نے ایک عورت کو دیکھا جس کا سر سُور سے ملتا جلتا تھا اور جس کا باقی بدن گدھے کی طرح کا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ فتنے اُٹھاتی تھی اور جھوٹ بولتی تھی!" (کتاب "عیون اخبار الرَّضا)
جھوٹ کے مختلف درجات
اگرچہ شہیدِ ثانی علیہ الرحمہ کی طرح مجتہدین کا ایک گروہ جھوٹ کو، خواہ وہ کیسا ہی ہو، مطلق طور پر گناہِ کبیرہ قرار دیتا ہے، لیکن روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کے مختلف درجات ہیں۔ اُن میں سے بعض یقینا کبیرہ ہیں، بعض جھوٹ سب سے بڑے گناہِ کبیرہ ہیں، اور بعض جھوٹ البتّہ ایسے بھی ہیں جن کے گناہِ کبیرہ ہونے میں شک ہے۔ اب ہم جھوٹ کے مختلف درجات ایک ایک کر کے بیان کر رہے ہیں۔
اللّٰہ، رسول اور امام کے خلاف جھوٹ
بدترین قسم کا جھوٹ خدا، رسول اور امام کے خلاف جھوٹ ہے۔ سورئہ نحل میں ارشاد ہے( وَلَا تَقُوْالِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ هٰذَا حَلٰلُ وَ هٰذَا حَرَامُ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللهِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذَیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ o مَتَاعُ قَلِیْلُ وَّلَهُمْ عَذَاٰبُ اَلَیْمُ ) (سورئہ نحل ۱۶: آیت ۱۱۶ اور ۱۱۷) " اور جھوٹ موٹ جو کچھ بھی تمہاری زبان پر آئے نہ کہہ بیٹھا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اس طرح تو تم خدا پر جھوٹ بہتان باندھو گے۔ بیشک جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔ (دنیا میں) فائدہ تو ذرا سا ہے لیکن (آخرت میں) اُن کے لئے دردناک عذاب ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں(قَالَ) اَلْکِذْبُ عَلَی اللهِ وَ عَلیٰ رَسُوْلِه مِنَ اْلکَبَآئِرِ (کتاب کافی) خدا پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر جھوٹ باندھنا گناہانِ کبیرہ میں سے ہے۔"
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے ابو نعمان سے فرمایا تھا: لَا تَکْذِبْ عَلَیْنَا کِذْبَةً فَتَسْلُبُ الْحَنِیْفِتَةَ (کافی) یعنی " ہم پر ایک جھوٹ بھی مت باندھو کیوں کہ اس طرح جھوٹ تمھیں اسلام جیسے خاص دین سے خارج کر دے گا۔" یعنی اماموں پر ایک جھوٹ بھی باندھنے سے ایمان کا نور دل سے ختم ہوجاتا ہے۔ یہ جھوٹ اتنا شدید ہے کہ اگر جان بوجھ کر روزے کی حالت میں باندھا جائے تو روزہ باطل ہو جاتا ہے۔
جھوٹ خواہ کیسا بھی ہو
جھوٹ خواہ کیسا بھی ہو اور کسی انداز میں ہو تو حرام ہے۔ جس طرح زبان سے جھوٹ کہنا حرام ہے اُسی طرح قلم سے جھوٹ لکھنابھی حرام ہے۔ بلکہ ایساا شارہ انگلی یاسر وغیرہ سے کرنا بھی حرام ہے جو جھوٹا ہو۔ مثلاً نماز نہ پڑھنے والے آدمی سے کوئی پوچھے کہ کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے تو اگر وہ سرسے ہاں کا اشار ہ کرئے تو یہ بھی جھوٹ اور گناہ ہے۔ اسی طرح یہ جانتے ہوئے کہ دوسرا آدمی جھوٹ بول رہا ہے، اس کے جھوٹ کو مزید پھیلانا اور اُس کی تائید کرنا حرام ہے۔
آیات واحادیث کو اپنے مطلب میں ڈھال لینا
خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور معصومین (علیہم السلام)کے خلاف جھوٹ باندھنے کے معنی یہی ہیں کہ آدمی کسی بات کی جھوٹی نسبت اِن حضرات میں کسی کودے۔ مثلاً پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جو بات نہیں کہی ہو، یہ جانتے بوجھتے بھی کہے کہ یہ پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا ہے، یا یہ جانتے ہوئے بھی کہ عربی کا فلاں جملہ آیت نہیں ہے، یہ کہہ دے کہ یہ آیت قرآنی ہے۔ اِسی طرح آیات واحادیث کے حیقیقی معنوں یا ظاہری معنوں کے برخلاف کوئی معنی اپنے مطلب کے مطابق کرنابھی حرام ہے۔ یا غلط ترجمہ کرے۔
ہرکسی کے بس کی بات نہیں
اسی لئے منبر پر تقریر کرنایا کہیں اور آیا ت وروایات کا ترجمہ کرنا ان کی تشریح کرنا ہر کسی کا کام نہیں ہے یہ بہت خطرناک موقع ہوتا ہے اور کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مقرر عربی قواعد مکمل طور سے پڑھاہوانہ ہو اور اُسے آیات وروایات کی ظاہری مطالب سمجھنا آتانہ ہو تو وہ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر جھوٹ باندھنے سے بچ نہیں سکتا۔ اِسی لئے مقرّروں کو چاہئے کہ وہ کافی احتیاط کریں اور آیات کا وہی معنی بتائیں جو واضح اور ظاہر ہوں ۔ خاص طور پر متشابہ آیتوں کے ترجمہ وتشریح سے پرہیز کریں۔
خدا کے خلاف جھوٹ کا ایک مقام
خدا پر جھوٹ باندھنے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آدمی ہے کہ آدمی اپنی جھوٹی بات کو سچ ظاہر کرنے کے لئے کہے کہ " خدا شاہد ہے کہ میں سچ کہہ رہا ہوں یا یہ کہے کہ خدا جانتا ہے کہ میں سچ کہہ رہاہوں۔امام جعفر صادق علیہ السَّلام کا ارشاد ہے کہ:
مَنْ قَالَ عَلِمَ اللّٰهُ مَالَا یَعْلَمُ اِ هْتَزَّلَهُ الْعَرْشُ اِعْظَا مًا لِلّٰهِ عَزَّوَجَلَّ (کافی) " جو شخص کہے کہ خدا جانتا ہے " حالانکہ خدا اُس کے برخلاف جانتا ہو تو خدا کی عظمت اور اس کا جلال دیکھ کر عرش کانپ اٹھتا ہے!" ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ:اِذَا قَالَ الْعَبْدُ عَلِمَ اللّٰهُ وَکَانَ کَاذِبًاقَا لَ اللّٰهُ تَعَالٰی جب کوئی بندہ کہتا ہے کہ " خدا جانتا ہے " : حلانکہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہو تو خدا تعالیٰ اس سے کہتا ہےاَمَاوَجَدْتَّ اَحَدًا تَکْذِ بُ عَلَیْهِ غَیْرِ یْ ؟ (وسائل الشیعہ ، کتاب الایمان باب ۵) یعنی " تمہیں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ملا۔ جس پر تم جھوٹ باندھ سکو؟"
بعض روایتوں میں ہے کہ جب بندہ کسی جھوٹ بات پر خدا کو گواہ بناتا ہے تو خدا وندِ عالم اس سے فرماتا ہے " تمہیں مجھ سے کمزور اور کوئی نہیں ملا جو اِ س جھوٹ پر تمہارا گواہ بن سکے؟"
پیغمبروامام کے خلاف جھوٹ
پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امام (علیہ السلام)پر جھوٹ باندھنا یہ ہے کہ آدمی اپنی جانب سے کوئی حدیث گھڑے اور اُن سے منسوب کردے۔ اِسی طرح کوئی جعلی حدیث جانتے بوجھتے صحیح حدیث قرار دے دے۔ البتہ اگر قرائن میں موجود ہوں کہ حدیث صیحح ہو تو اُسے معصوم سے نسبت دی جاسکتی اور نقل کیا جاسکتا ہے۔
روایات کوسند کے ساتھ نقل کریں
البتہ کتابوں میں ایسی بہت حدیثیں ملتی ہیں جن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صحیح ہیں یا جعلی۔ اگر ایسی حدیثیں بیان کرنی ہوں تو کتاب کا یاراوی کا حوالہ دے کر بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ نقل کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیئے کہ حدیث میں ضروریاتِ دین کے برخلاف کوئی بات نہ ہو ۔ اگر ضروریاتِ دین کے خلاف بات ہو تو حدیث یقیناً جعلی ہوگی ۔ اسی طرح امام اور معصوم کی توہین کا اس میں کوئی پہلو نہیں ہونا چاہئے اسی طرح کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جس کو عقلِ سلیم تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ صرف ایسی ہی کتابوں سے آدمی احادیث نقل کرے جو معتبر ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیںوَلَاتُحَدِّثْ اِ لَّاعَنْ ثِقَةٍ فَتَکُوْنَ کَذَّابًا وَالْکِذْبُ ذُلُّ (کشف المحجہّ)یعنی " اور کسی معتبر آدمی کے سوا کسی اور سے حدیث نقل مت کرو رنہ تم بہت بڑا جھوٹ کہہ بیٹھو گے ۔ اور جھوٹ خدا اورمخلوقِ خدا کے سامنے ذلّت کا باعث ہی ہوتا ہے۔"
حضرت امیرالمومنین علی علیہ السَّلام نے حارث ہمدانی کو جو خط لکھا تھا اس میں یہ نصیحت بھی فرمائی تھی کہوَلَا تُحَدِّثِ النَّاسَ بِکُلِّ مَا سَمِعْتَ فَکَفٰٰی بِذَالِکَ کِذْبًا (نہج البلاغہ) " ہر سُنی سنائی بات لوگوں سے نہیں کہہ دیا کرو جھوٹ بولنے کے سلسلے میں یہی کافی ہے۔"
اسی طرح حدیث کو من وعن نقل کرنا چاہئے ۔ نہ ایک لفظ اپنی طرف سے بڑھانا چاہیئے اور نہ ایک لفظ کم کرنا چاہیئے اِسی طرح کوئی لفظ بدلنا بھی نہیں چاہیئے، ورنہ اِن تمام صورتوں میں معصومین پر بہتان ہوجاتا ہے۔
رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیںمَنْ قَالَ عَلَیَّ مَا لَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّءْ مَقْعَدُه مِنَ النَّارِ (وسائل الشیعہ) " جو شخص مجھ سے ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ جہنم میں بیٹھے گا!"
آقائے نوری کی کتاب دارالسلام میں لکھا ہے کہ ایک شخص عالمِ باعمل ، کتاب مقامِع کے مصنّف ا ٓقائے محمدعلی کے پاس کر مان شاہ میں پہنچا ۔ اُس نے کہا: " میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اپنے دانتوں سے حضرت امامِ حُسین علیہ السَّلام کا گوشت نوچ رہا ہوں ۔اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟" آقائے محمد علی کچھ دیر سَر جُھکائے فکرمند بیٹھے رہے اور پھر فرمایا: " شاید آپ مجلس پڑھتے ہیں اور ذکر مصائب کرتے ہیں۔" اُس شخص نے کہا " جی ہاں" اُنھوں نے فرمایا یا تو یہ سلسلہ ترک کردیجئے یا معتبر کتابوں سے نقل کرتے ہوئے پڑہیئے۔ "
کتاب شفاء ُ الصّدُور میں لکھا ہے کہ آیت اللہ الحاج محمدابراہیم کلباسی کے حضور ایک عالم مجلس پڑھ رہے تھے۔ وہ بتارہے تھے کہ حضرت امام حُسین علیہ السَّلام نے فرمایا: " یا زینب یازینب" یہ سُن کر آیت اللہ کلباسی نے بآوازِ بلند فرمایا: "خدا تیرا منہ توڑ دے ! امام نے یازینب دو مرتبہ نہیں فرمایا تھا، بلکہ ایک مرتبہ فرمایا تھا!"
( ۱) روایت کے مضمون کو بیان کرنا
البتہ حدیث یا آیت کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کرنا جائز ہے لیکن اِس کی شرط یہ ہے کہ حدیث نقل کرنے والا شخص نہ صرف یہ کہ عربی سے اچّھی طرح واقف ہو بلکہ اُسے مراد سمجھنے کا فن بھی آتا ہو ۔ خلاصہ یہ کہ حدیث کے ظاہری معنی اپنے الفاظ میں بیان کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر معصوم کی شان کے خلاف محسوس نہ ہو تو نظم کو نثراور نثر کو نظم میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ماضی کے واقعات کو زبانِ حال میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا ہو کہ ایک شخص امام کی خدمت میں حاضر ہواتو امام نے اس سے فرمایا، تو زبانِ حال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک شخص امام کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور امام اُس سے فرماتے ہیں البتہ سامعین کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ زبانِ حال ہے۔ اسی طرح اگرحدیث میں ہوکہ امام نے منع فرمایا تو اپنے الفاظ میں ایسا کہنا جائز ہے کہ امام نے فرمایا ایسا مت کرو۔
( ۲) جھوٹی قسم اور گواہی سے اجتناب
جھوٹ کا ایک اور درجہ یہ ہے کہ جھوٹی قسم کھائی جائے ، جھوٹی گواہی دی جائے یاشرعی عدالت میں گواہی چھپائی جائے ۔ یہ بھی ایسا جھوٹ ہے جس کے گناہِ کبیرہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اِن میں سے ہر ایک کا تفصیلی بیان انشاء اللہ آنے والا ہے۔
( ۳) جھوٹ کے مُضر اثرات
ایسا جھوٹ یقیناًگناہِ کبیرہ ہے جس کے مضراثرات ہوں، اور دوسروں کو جس سے نقصان پہنچے۔ اگر نقصان بڑا ہو تو گناہ بھی اُسی کی مناسبت سے زیادہ ہے۔ مثلاً جھوٹبولنے سے اگر کسی کا مالی نقصان ہوتا ہو تو اس کا گناہ ایسے جھوٹ سے یقیناکم ہے جس کے نتیجے میں جان ضائع ہوتی ہو۔
( ۴) ہنسی مذاق میں جھوٹ
جھوٹ کی ایک اور قسم مذاق میں جھوٹ بولنا ہے ۔ مثلاً ایک بھولے بھالے شخص سے کہا جائے کہ فلاں عورت تم سے شادی پر مائل ہے یا فلاں شخص نے آج رات تمھیں کھانے پر بلایا ہے جب کہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہ ہو۔ اِس قسم کا جھوٹ بھی حرام ہے چونکہ روایتوں سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ حرام ہے۔ البتہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اگر حقیقت کے خلاف بات مذاق میں اِس طرح کہی جائے کہ اس کا مذاق ہونا صاف ظاہر ہو۔ تو حرام نہیں ہے مثلاًایک غیر شادی شدہ آدمی سے مذاق میں کہا جائے کہ دیکھو تمہاری بیوی جارہی ہے تویہ حرام نہیں ہے۔ اِس لئے کہ سُننے والوں کو اِس سے دھوکا نہیں ہوتا ۔ اگر دھوکے میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو حرام ہے ۔ البتہ بعض مجتہدین مطلق طور پر مذاق میں جھوٹ بولنے کو حرام قرار دیتے ہیں خواہ اس کا مذاق ہونا ظاہر ہو یا ظاہر نہ ہو ، اور یہی احتیاط کا طریقہ ہے اور روایتیں بھی مطلق طور پر مذاق میں جھوٹ بولنے کومنع کرتی ہیں۔
جھوٹ سے مکمّل اجتناب
حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام فرماتے ہیں:
اِتَقُوا لْکِذْبَ، اَلصَّغِیْرَمِنْهُ وَالْکَبِیْرَ فِیْ کُلِّ جِدٍّوَّهَزْلٍ (کافی)
" جھوٹ سے پرہیز کرو، خواہ وہ چھوٹاہو یا بڑا، خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں۔"
حضرت امیرالمومنین علیہ السَّلام فرماتے ہیں:لَا یَحَجِدُ عَبْدُ طَعْمَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَتْرُکَ الْکِذْبُ جِدَّه وَهَزْلَه (کافی)
"کوئی بندہ اُس وقت تک ایمان کا ذائقہ چکھ نہیں سکتا جب تک وہ جھوٹ سے پرہیز نہ کرے، خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں ہو ۔"
امیرالمومنین علیہ السَّلام ہی سے مروی ہے کہلَا یَسْلَحُ الْکِذْبُ جِدُّ وَ لَا هَزْلُ وَلَآاَنْ یَّعِدَاَحَدُکُمْ صَبِیَّه ثُمَّ لَا یَفِیْ لَه اِنَّ الْکِذبَ یْهِدیْ اِلیٰ الْفُجُوْرُیَهْدِیْ اِلیٰ النَّارِ (وسائل الشیعہ)
" جھوٹ میں بہتری نہیں ہے خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں۔ اپنے چھوٹے بچّے سے بھی ایساوعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ بے شک جھوٹ آدمی کو بے باکی سے بڑے بڑے گناہ کرنے پر اُکسادیتاہے اور وہ بڑے بڑے گناہ آدمی کو جہنّم میں پہنچادیتے ہیں۔"
رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حضرت ابوذر کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا(عَنْ اَبِیْ ذَرٍفَیْ وَصِیَةِ النَّبِیِّ لَه قَالَ) یَا اَبَاذَرِّمَنْ مَلَّکَ مَا بَیْنَ فُخْذَیْهِ وَمَابَیْنَ لَحْیَیْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمَ بِالْکَلْمَةِ فِیْ الْمَجْلِسِ لِیَضْحَکَهُمْ بِهَا فَیَهِوِیْ فِیْ جَهَنَّمَ مَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۔
"اے ابو ذر جو شخص اپنی شرم گاہ کو اور اپنی زبان کو حرام سے محفوظ رکھے گا وہ بہشت میں داخل ہوگا۔ جو شخص کسی جگہ لوگوں کو ہنسانے کے لئے ایک جھوٹی بات کہے گا تو وہی جھوٹی بات اس کو جہنّم کی طرف لے جائے گی!"
یَااَبَا ذَرٍ وَیْلُ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ وَ یَکْذِبُ لِیَضْحِکَ بِه الْقَوْم وَیْلُ لَّه یَا اَبَا ذَرٍ مَنْ صَمَتَ نَجٰی فَعَلَیْکَ بِا لصُّمْتِ وَلَا تَخْرَجْنَ مِنْ فِیْکَ کِذْبَةُ اَبَدًا ۔
"اے ابوذر! وائے اُس پر جو بات کرتا ہو تو جھوٹ بولتا ہو تاکہ لوگوں کہ ہنساسکے۔ وائے ہو اس پر، وائے ہواس پر! اے ابوذر! جو خاموش رہا نجات پا گیا۔ پس جھوٹ بولنے کی نسبت خاموشی تمھارا فرض ہے اور تمھارے منہ سے کبھی بھی ایک چھوٹا سا جھوٹ بھی نہیں نکلنا چاہیئے۔
حضرت ابوذرکہتے ہیں(قُلْتُ) یَارَسُوْلَ اللهِ فَمَا تَوْبَةُ الرَّجُلِ الّذِیْ یَکْذِبُ مُتَعَمِّدًا؟
"یا رسول الله ! جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے شخص کی توبہ کس طرح ہوگی؟
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جواب دیا
" قَالَ اَلَا ستِغْفَارُ وَ صَلٰواتِ الْخَمْسِ تُغْسَلُ ذٰلِکَ (وسائل الشیعه)
"استغفار اور پانچوں وقت باقاعدہ نماز سے یہ گناہ دھول جائے گا۔"
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) یہ بھی فرماتے ہیں :
(عَنِ الَّنبِی فِیْ بَیَنِ اِشْراطِ السَّا عَةِ وَیَکُوْنُ الْکِذْبُ عِنْدَهُمْ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِ وَلَوْ کَانَ مَازِحًا (کتاب جہاد)
"جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو اگرچہ اُس نے مذاق میں جھوٹ کہا ہو۔"
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) یہ بھی فرماتے ہیں :( عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ)اَنَازَعِیْمُ بَیْتٍ فِیْ اعْلیَ الْجَنَّةِ وَبَیْتُ فِیْ وَسَطِ الْجَنَّہِ وَبَیْتُ فَیْ رِیَاضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ وَاِنَ کَا نَ مُحِقًا وَلِمنْ تَرَکَ الْکِذْبُ وَاِنْ کَانَ ھَازِلًا وَ لِمْنْ حَسُنَ خَلْقُہُ (کتاب "خصال")
" میں ضمانت دیتا ہوں کہ جنت کے اعلیٰ ترین درجے پر ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلواوں گا، جو لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے اگرچہ وہ حق پر ہو ۔ اور جنت کے درمیانی ددرجے میں ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلاوں گا جو جھوٹ سے پرہیزکرے، اگرچہ وہ مذاق میں ہوا ور جنّت کے باغ میں ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلواوں گا جو اچّھے اخلاق والا ہو۔"
مذاق میں جھوٹ بولنا عام حالات میں گناہ تو ہے لیکن گناہِ کبیرہ نہیں ہے ۔ البتہ اگر مذاق میں جھوٹ بولنے سے کسی مومن کا دل ٹوٹ جاتا ہو، اس کو اذّیت پہنچتی ہو، جسمانی زحمت کا سامناکرنا پڑتا ہو یا اس کی بے عزتی ہوتی ہو تواِن صورتوں میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے۔
مبالغہ ، جھوٹ نہیں
عام بول چال میں جو مبالغہ ہوتا ہے وہ جھوٹ نہیں ہے ۔ مثلاً چند مرتبہ ایک بات بتانے کے بعد آدمی کہہ دیتاہے کہ میں نے تم کو سو مرتبہ یہ بتایاہے۔ ظاہر ہے اُس نے سو مرتبہ نہیں بتایااور یہ بھی ظاہر ہے کہ بتانے والے کی مراد سو عدد نہیں ہے بلکہ تاکید کرنا مقصد ہے اور یہ بتانا مقصد ہے کہ بہت زیادہ مرتبہ بتایا ہے۔
اِسی طرح مجاز، اور استعارہ کنایہ ہر قسم کا جائز ہے۔ خصوساً شاعری میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کسی بھی جھوٹ کومعمولی نہیں سمجھنا چاہیئے
ایسا بہت دیکھا گیا ہے کہ جب میزبان کھانے کے لئے پوچھتا ہے تو مہمان تکلّف میں بھوکا ہونے کے باوجود کہتا ہے کہ " مجھے بھوک نہیں ہے" یہ صاف جھوٹ ہے! لوگ نادانی میں اِس جھوٹ کی پرواہ نہیں کرتے ہیں اورمعمولی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ روایتوں میں اِس کی بھی مذّمت موجود ہے اور اس کا حرام ہونا شرعاً ثابت ہے۔
اسماء بنتِ عُمیَس کہتی ہیں کہ: عائشہ کی شادی کی پہلی رات رسولِ خدا نے دودھ کا ایک برتن مجھے دے کر فرمایاکہ " یہ عورتوں کو پینے کے لئے دے دو ۔" عورتوں نے کہا"ہمیں بھوک نہیں ہے۔" رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے سُن کرفرمایا " بھوک اور جھوٹ، دونوں کو جمع مت کرو!"
اسماء نے پوچھا" یارسول ا للہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)! اگر ہم کو کسی چیز کی رغبت ہو مگر ہم کہیں کہ رغبت نہیں ہے تو کیایہ جھوٹ شمار ہوتا ہے؟" آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا :اِنَّ الکذْبَ لَکُکْتَبُ حَتَّ تُکْتُبَ اْلِکُذَیْبَةُ کَذِیْبَةً (سفینہ البحار جلد ۲ صفحہ ۴۷۳) " ہاں ، بیشک ہر قسم کا جھوٹ لکھا جاتا ہے،یہاں تک کہ چھوٹا چھوٹاجھوٹ بھی لکھاجاتاہے۔
اگر آدمی اخلاقاً کسی دوسرے شخص کو کہے ! " آئیے تشریف لائیے ہمارے گھر ۔" لیکن دِل میں چاہتا ہوکہ وہ گھر میں نہ آئے ، تو یہ جھوٹ نہیں ہے۔ اِس لئے کہ آئیے " ایک حکمیّہ اور انشائیّہ جملہ ہے، یعنی نہ تو اِس کو سچ کہہ سکتے ہیں اور نہ جھوٹ۔ البتہ ایسی دکھاوے کی خوش اخلاقی سے پرہیز احتیاط کا تقاضا ہے۔ در حقیقت دِل میں کچھ ہو اور زبان پر کچھ ہو، ایک قسم کی منافقت ہے۔
ایک دن حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام اپنے فرزنداسماعیل کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چاہنے والا شخص آیا اور سلام کرکے بیٹھ گیا۔ جب امام علیہ السَّلام اُٹھ کر اپنے مکان کے زنانے حصّے میں جانے لگے تو وہ شخص بھی اٹھ کر زنا نے حصّے کے دروازے تک آیا۔ امام علیہ السَّلام وہیں سے اُس رخصت ہوگئے۔ اندر آکر جناب اسماعیل نے امام سے پوچھا: آپ نے اخلاقی طور پر اُسے اندر آنے کے لئے کیوں نہیں کہا؟" حضرت نے فرمایا: اس کا اندر آنا مناسب نہیں تھا۔ میں نہیں چاہتاتھا کہ اس کو اند ر بلاوں اور یہ بھی پسند نہیں کرتا تھاکہ خدا مجھے ایسے لوگوں میں شمار کرے جو کہتے کچھ ہوں اور دِل میں چاہتے کچھ ہوں !
(بحارالانوار ، جلد ۱۲ ، مومن بھائی کی عزّت وناموس والے باب سے صفحہ ۲۴۱)
جھوٹا خواب
جھوٹ کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ آدمی کہے: " میں نے خواب میں ایسا ایسا دیکھا " یاکوئی خواب کو کسی اور سے منسوب کردے کہ فلاں نے دیکھا جو حقیقت نہ ہو ، یہ بھی جھوٹ ہے۔
حضرت رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کہ سب سے بڑے جھوٹ تین قسم کے ہوتے ہیں۔
( ۱)اَنُ یَّدْعَی الَّرجُلُ اِلٰی غَیْرَاَبِیْهِ کسی شخص کو اس کے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کے نام سے پکارنا۔
( ۲)اَوْیَریٰ عَیْنَهُ فَیْ الْمَنٰامِ مٰالَمْ تَرَیٰا یا جھوٹ موٹ کاخواب بیان کرنا جو آنکھوں سے نہیں دیکھا ہو۔
( ۳)اَوْیَقُوْلُ مٰالَمْ اَقُلْ یا ایسی بات بتائے جو میری زبان سے جاری نہ ہوئی ہو۔
جھوٹ کی ایک قسم بنے بنائے قصّے گھڑناہے ۔ جن کی کوئی بنیاد نہ ہو اور جن کو حقیقت سمجھا جائے ۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں (قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰہِ) شَرُّالرِّوَایَة ِرِوَایَةُالْکِذْبِ (بحارالانوار، جلد ۱۵ صفحہ ۴۳) بدترین روایتوں میں سے ایک جھوٹی بات کا نقل کرنا ہے۔
مثال میں جھوٹ
کسی عقلی مطلب کو زیادہ ذہن نشین کرنے کے لئے اُسے مثال سے واضح کیا جاتاہے۔ کبھی جانوروں کی آپس میں گفتگو بتائی جاتی ہے۔ (مثلاً علامّہ اقبال کی ایک نظم میں گلہری پہاڑ کو غرور چھوڑدینے کی نصیحت کرتی ہے ۔) اِس سے کسی کو دھوکا نہیں ہوتا ، بلکہ فائدہ یہی ہوتاہے، اس لئے ایسی باتیں جائز ہیں ۔ اہلِ بیت علیہم السّلام سے نقل ہونے والی روایتوں میں بھی ایسی باتیں مل جاتی ہیں ِ اور ایسی روایتیں بھی موجود ہیں جن سے اس طرح مثال دے کرقصّے کہانی کی شکل میں نصیحت کرنے یا حقائق بتانے کی اجازت ملتی ہے۔
امام حسن (علیہ السلام) نے مثال بیان فرمائی
حضرت امام حسن (علیہ السلام) معاویہ کے دربار میں ایک دفعہ موجود تھے کہ ایک شخص نے امام (علیہ السلام)کے خلاف کچھ نازیبا جملے کہے۔ امام علیہ السَّلام نے جواب میں فرمایا : اے عمر ابن عثمان! تیری فطرت میں کتنی حماقت ہے کہ تو ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ تیری مثال اُس مچھر کی سی ہے جو خود کو بڑا سمجھ کر کجھورکے درخت پر بیٹھا تھا اور اُڑتے وقت اس نے درخت سے کہا تھا: مضبوطی سے جمے رہو، اب میں اُڑکر اُترنے والا ہوں!" درخت نے جواب دیا تھا: " میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ تم مجھ پرکب سے بیٹھے ہوئے ہو ۔ اب تمہارا یہاں سے اٹھنا مجھے کس طرح گراں ہوسکتاہے؟!"
جھوٹ سننا بھی حرام ہے
یہ بات جان لینی چاہیئے کہ جس طرح جھوٹ بولنا حرام ہے اسی طرح یہ جانتے ہوئے کہ یہ جھوٹ ہے اسے سننا بھی حرام ہے ۔ جس طرح جھوٹ بات لکھنا یا پڑھنا حرام ہے اسی طرح جھوٹ بات نقل کرنابھی حرام ہے۔قرآنِ مجید میں یہودیوں اور منافقوں کی اسی بات پر مذّت ہوئی کہ وہ جھوٹی باتیں اِدھر سے اُدھر پھیلاتے ہیں ۔ مثلاً ارشاد ہے۔
"سَمَّاعُوْنَ لِلْکَذِبِ " جھوٹی باتیں سننے والے۔
شیخ صدوق نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے روایت کی ہے کہ امام سے پوچھا گیا:(سُئِلَ عَنِ الصَّادِقِ) أَیَحِلُّ الْاِسْتِمَاعُ لَهُمْ " کیا جھوٹے لوگوں کا جھوٹ غور سے سننا جائز ہے؟"
فَقَالَ لَامَنْ اَصْغٰی اِلَی ناطِقٍٍ فَقَدْعَبَدَه فَاِنُ کَانَ النّاطِقُ عَنْ الله فَقَدْ عَبدَ الله وَ انْ کَانَ الْنَاطق عَنْ اِبْلِیْسَ فَقَدْ عَبَداِبْلِیْسَ (کتاب اعتقادات) امام علیہ السَّلام نے فرمایا " نہیں ، جو شخص کسی بات کرنے والے کی بات شوق سے سنتا ہے تو اس کی مرضی کے مطابق عبادت کر بیٹھا ہے اگر بولنے والا خداکو مانتا ہے تو سننے والا خدا کی عبادت کرے گا اور اگر شیطان کی بات مانتا ہے توسنُنے والابھی شیطان کی عبادت کرے گا!" ایسی ہی ایک حدیث امام محمد باقر علیہ السَّلام سے بھی مروی ہے۔ جو کتابِ کافی میں موجود ہے۔ وَاجْتَنِبُوْا قَوَلَ الزُّوْرِ (سورئہ حج ۲۲ : آیت نمبر ۳۰) یعنی " بے ہودہ باتوں سے اجتناب کرو " اور وَاْلَّذِیْنَ لاَ یْشَھدُونَ الزّوْرَ (سورہ فرقان ۲۵ : آیت ۷۲) " یعنی " جولوگ بے ہودہ چیز کا تماشا نہیں دیکھتے ۔" ان جیسی آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹ سننا بھی حرام ہے ظاہر ہے کہ جس جگہ آدمی جھوٹ بولتا ہے وہ معصیت اور خداکی نافرمانی کی جگہ ہوتی ہے، اور سننے والا شخص اِس معصیت میں شریک ہوجاتا ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ نہی عن المنکر کی رو سے بھی واجب ہے کہ جھوٹ کو جھٹلایا جائے تاکہ وہ جھوٹ سے پرہیز کرے۔
"توریہ" کیا ہے؟
توریہ کے معنی ہیں ایک ایسی بات کہنا جس کے دو معنی ہوں ۔ ایک معنی درست ہواوردوسرا معنٰی حیققت کے خلاف ہو ۔ اور کہتے ہیں کہ توریہ کرنے والا شخص درست معنی کا ارادہ کرتاہے جب کہ سنُنے والا حقیقت کے خلاف والا معنی سمجھ بیٹھتا ہے۔ مثلاً ایک ظالم شخص آپ کے گھر آتا ہے اور آپ کو گھرسے باہر بلواتا ہے آپ اُس سے بچنا چاہتے ہیں اور گھر میں چھپے بیٹھے رہناچاہتے ہیں تو ایسے میں آپ کے گھر کا فر دروازے پر جا کرکہہ سکتا ہے: "وہ یہاں نہیں ہیں ۔" اِس سے مرادیہ ہو کہ آپ اُس دروازے کے پاس نہیں ہیں ۔ یہ جائز ہے۔ اگرچہ ظالم سمجھے کہ آپ گھر میں نہیں ہیں۔
یاظالم شخص آپ سے کسی مظلوم کا پتّہ پوچھتا ہے تاکہ اُس پر ظلم کرے تو آپ اس کا پتہ معلوم ہونے کے باوجود کہہ سکتے ہیں کہ: " مجھے اس کا پتہ نہیں معلوم ۔" یہاں لفظ " اُس سے " مراد کوئی اور شخص لے سکتے ہیں جس کا پتہ آپ کو واقعی معلوم نہ ہو ۔
اِسی طرح اگر خدا نخواستہ آپ سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہو اور کوئی آپ سے پوچھ بیٹھے : کیاکبھی ایسا گناہ آپ سے سرزد ہوا ہے؟ " آپ یہ کہہ کر اپنی عزّت محفوظ رکھ سکتے ہیں: اَسَتْغَفِرُاللّٰہ! میں خدا کی پناہ مانگوں گا اگر ایسا گناہ کر بیٹھوں۔" اِسی طرح آپ کوئی حکّمیہ، انشائیّہ یا سوالیّہ جملہ کہہ سکتے ہیں ۔ مثلاً : " کیاآپ مجھ سے ایسی توقع رکھتے ہیں کہ ایسا گناہ کروں گا؟ " یا یہ دُعا کہہ سکتے ہیں کہ " خدا مجھے ایسے گناہ سے محفوظ رکھے ۔"
اِسی طرح آپ نے اگر کسی شخص کو اُس عیب بتایا اور وہ ناراض ہونے لگا تو یہ جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ میں یہ عیب نہیں ۔ آپ اُسے منا نے کے لئے کہہ سکتے ہیں : " آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ آپ کے بارے میں ایسی بات نہیں کہنی چاہیئے۔"
"توریہ" کا حکم
توریہ کی تین قسمیں ہیں :
پہلی قسم
پہلی قسم کا توریہ ہے کہ کوئی مصلحت در پیش ہو یا کسی نقصان سے بچنا مقصود ہو۔اِس کی مثالیں اوپر ذکر ہوئیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ توریہ کی یہ قسم جائز ہے۔
دوسری قسم
دوسری قسم کا توریہ ، یہ ہے کہ آدمی توریہ کرکے کسی دوسرے کو نقصان پہنچاناچاہتاہو، اُسے تکلیف دینا چاہتا ہو یا اس کی بے عزّتی کرنا چاہتاہو۔اِس میں شک نہیں کہ ایسا تو ریہ حرام ہے۔
تیسری قسم
تیسری قسم کا توریہ کچھ یوں ہے کہ اس میں نہ تو کوئی مصلحت ہو اور نہ ہی اُس سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچتا ہو۔ بعض مجتہدین نے فرمایا ہے کہ ایسی صورت میں توریہ حرام ہے ۔ اِس لئے کہ توریہ درحقیقت جھوٹ کی ایک قسم ہے اور جھوٹ کوجن دلیلوں سے حرام قرار دیا گیا ہے اُن ہی سے اِس تیسری قسم کا توریہ بھی حرام ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات ہے کہ اِس قسم کے توریہ کوجائز قرار پاتا ہے اُنہی دلیلوں کے ذریعے ایسا توریہ بھی جائز قرار پاتاہے۔ اور ظاہرہے کہ توریہ جھوٹ نہیں ہے۔
بہرحال احتیاط کاراستہ یہی ہے کہ آدمی توریہ صرف وہاں کرے جہاں جائز ہونا یقینی ہو۔
وہ مقامات جہاں جھوٹ بولنا جائز ہے
( ۱) جب بھی جان ،مال یاعزّت کو خطرہ لاحق ہو اور جھوٹ بولنے سے وہ خطرہ ٹل جاتا ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولنا جائزہے۔ خواہ اپنی جان، مال یاعزّت کوخطرہ لاحق ہو یاکسی اور کی۔ یہاں تک کہ نقصان سے بچنے کے لئے اگر قسم بھی کھانی پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ بلکہ بعض موقعوں پر جب بڑا نقصان سامنے ہو، مثلاًجان کو خطرہ لاحق ہو تو جھوٹ بول کر جھوٹی قسم کھاکر جان بچانا واجب ہوجاتاہے ۔ مثلاً جان کو خطرہ لاحق ہو تو جھوٹ بول کر جھوٹی قسم کھا کر جان بچانا واجب ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک ظالم شخص کسی مسلمان کو قتل کرنا چاہے ، اُسے مارنا پیٹناچاہے، اُس کی بے عزّتی کرنا چاہے، اُس کا قابلِ ذکر مال ضبط کرلیناچاہے یا اُسے جیل میں بند کردینا چاہے اور وہ آپ سے اُس کا پتہ پوچھے تو آپ پر واجب ہے کہ اُس کا پتہ نہ بتائیں، خواہ آپ کو جھوٹی قسم کھاکرکہناپڑے کہ اس کا پتہ نہیں معلوم۔
اِسی طرح اگر آپ کے پاس کسی کی امانت موجود ہے اور کوئی ظالم اس امانت کو موجود ہے اور کوئی ظالم اس امانت کو ہتھیالیناچاہتاہوتو آپ پرواجب ہے کہ آپ اُس امانت کی حفاظت کریں، خواہ آپ کوجھوٹ یا جھوٹی قسم کا سہارالینا پڑے۔
مسلمانوں کی نجات کے لئے جھوٹی قسم
مسلمانوں کی نجات کے لئے جھوٹی قسم کھانے کے حق میں کئی روایات موجود ہیں مثلاً شیخ انصاری اپنی کتاب "مکاسب" میں امام جعفرصادق علیہ السَّلام اور حضرت علی علیہ السَّلام کے وحوالے سے یہ حدیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ) نقل کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:(عَنْ جَعْفَرعَنْ آبَآئِه عَنْ عَلٍیّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ) اِحْلِفْ بِااللهِ کَاذِبًا وَنَجِّ اَخَاکَ مَنِ الْقَتْلِ (وسائل الشیعہ، کتاب الایمان جلد ۳ باب ۱۲)
"خدا کی جھوٹی قسم کھا بیٹھو لیکن اپنے مسلمان بھائی کو نا حق قتل ہونے سے بچا لو!۔"
اسماعیل ابنِ سعد کی صحیح حدیث میں ہے کہ اُنھوں نے کہا: میں نے امام علی رضا علیہ السَّلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جو بادشاہ سے اپنا مال محفوظ رکھنے کے لئے جھوٹی قسم کھا بیٹھا ہو۔ امام علی رضا علیہ السَّلام نے فرمایا:قَالَ لا بَأْسَ "کوئی حرج نہیں ہے۔" وَسَئَلَتُہُ راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام علی رضا علیہ السَّلام سے پھر پوچھا:هَلْ یَحْلِفُ الرَّجُلُ عَلٰی هَالِ اَخِیْهِ کَمَا یَحْلِفُ عَلٰی مَالِ نَفْسِه؟
"اگر آدمی اپنے مسلمان بھائی کا مال ضائع ہونے سے بچانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے، جس طرح کہ خود اپنا مال بچانے کے لئے کھائی ہو تو کیا جائز ہے؟ امام علی رضا علیہ السَّلام نے جواب دیا (قَالَ نَعَمْ) "ہاں" جائز ہے۔
(وسائل الشیعہ، کتاب الایمان، جلد ۳ ، باب ۱۲)
اورحضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:فَاَمَّا الیَمِیْنُ الَّذِیْ یُوْجَرُ عَلَیْهَا الرَّجُلُ اِذَا حَلَفَ کَاذِبًا لَمْ تَلْزِمْهُ الْکَفَّارَةُ فَهُوَ اَن یَحْلِفَ الرَّجُلُ فِیْ خَلَاصِ اِمْرَءٍ مُّسْلِمٍ اَوْ خَلَاصِ مَالِه مِنْ مُتَّعَدِّ یَتَعَدّیٰ عَلَیْه مِنْ لُصٍّ اَوْغَیْرِه
"اگر کسی مسلمان شخص کو نجات دلانے کے لئے یا اُس کے مال کو کسی ظالم یا چور کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کے لئے کوئی شخص جھوٹی قسم کھانے پر مجبور ہو تو نہ صرف یہ کہ جھوٹی قسم کا کفارہ ادا نہیں دینا پڑے گا بلکہ اُس کو بڑا اجروثواب ملے گا۔"(کتابِ فقیہ)
مالی نقصان اور جھوٹ
یہاں پر دو باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں۔ ایک یہ کہ اگرچہ کہ مطلق طور پر ہر قسم کے نقصان سے بچنے کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے لیکن اگر مالی نقصان برداشت کرسکتا ہو تو مستحب ہے کہ آدمی نقصان برداشت کرے، لیکن جھوٹ نہ بولے، امیر المومنین علیہ السَّلام کا ارشاد ہے:عَلَامَةُ الْایْمَانِ اَنَّ تُوثِرَ الصِّدْقَ حَیْثُ یَضُرُّکَ عَلٰی الْکِذْبِ حَیْثُ یَنْفَعُکَ (نہج البلاغہ)
"ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی نقصان کے موقعے پر بھی سچ بولے اور فائدے کی خاطر بھی جھوٹ نہ بولے۔"
جہاں تک ہوسکے توریہ کریں
ایک اور بات ذہن نشین کرنے کے قابل یہ ہے کہ جن مقامات پر مجتہدین توریہ کو لازم سمجھتے ہوں اور توریہ سے کام چل جاتا ہو تو جھوٹ بولنے کی بجائے احتیاط یہ ہے کہ آدمی توریہ کرے۔
دو مومنوں میں جھوٹ کے ذریعے صُلح وصفائی
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:
(عَنِ الصَّادِقِ) اَلْکَلَامُ ثَلٰثَهُ صِدْقُ و کِذْبُ وَاِصْلَاحُ بَیْنَ النَّاسِ، قِیْلَ لَه جُعِلْتُ فِدَاکَ وَمَا الْاِصْلَاحُ بَیْنَ النَّاسِ؟ قَالَ: تَسمَعُ مِنَ الرَّجُلِ کَلَامًا تُبْلِغُه فَتَنْحَبَتْ نَفْسُه فَتَقُوْلُ سَمِعْتُ فَلَانًا قَالَ فِیْکَ مِنَ الْخَیْرِ کَذَا و کَذَا
(وسائل الشیعہ، کتاب حج)
"کلام کی تین قسمیں ہیں: سچ، جھوٹ اور لوگوں کے درمیان صُلح کرانا۔
کسی نے پوچھا: "میں آپ پر قربان جاؤں، یہ لوگوں کے درمیان صُلح کیا چیز ہے؟" امام علیہ السَّلام نے فرمایا " تم ایک شخص سے کوئی بات سُنو اور اُس میں ترمیم کر کے کسی اور کو سناؤ کہ وہ تمہارے بارے میں بہت اچھی اچھی باتیں کر رہا تھا۔ (جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہو۔")
دوسروں کا سخت پیغام
خلاصہ یہ کہ اگر صُلح و صفائی کرنے میں دو آدمیوں کے درمیان موجود رنجش دور کرنے میں اگر جھوٹ کا سہارا بھی لینا پڑے تو ایسا کرنے کا حکم ہے اور اس سے آدمی جھوٹ کے گناہ میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس قسم کی بات کو صُلح یا اصلاح کہتے ہیں۔ دوسروں کاسخت پیغام اگر آدمی کو پہنچا دے تو اس سے رنجش مزید بڑھ جائے۔
اسی طرح مثلاً میاں بیوی الگ ہوچکے ہوں اور طلاق کی نوبت آسکتی ہو تو آدمی جھوٹ بول کر بھی اُن کے درمیان صُلح و صفائی کرادے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ مثلاً شوہر سے جا کر کہے ! "تمہاری بیوی جُدائی سے بہت پریشان ہے اور تمہاری محبت کا اُسے شدت سے احساس ہورہا ہے کہ وہ بیمار پڑسکتی ہے۔" اِسی طرح بیوی کے پاس جاکر بھی ایسی ہی جھوٹ موٹ باتیں کی جا سکتی ہیں تاکہ صُلح و صفائی ہوجائے۔
لوگوں کے درمیان مصالحت
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مروی ہے کہ "واجبات بجا لانے کے بعد سب سے اچھا عمل لوگوں کے درمیان صُلح و صفائی کرانے کے سوا کچھ نہیں ہے! یہ ایسا خیر ہے جو خیر کو دنیا میں پھیلاتا ہے۔"
حضرت امیرالمومنین علیہ السَّلام نے بتایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے وصیت کے موقع پر فرمایا :یَا عَلِیُّ اِنَّ اللهَ تَعَالٰی اَحَبَّ الْکِذْبَ فِی الصَّلَاحِ وَاَبْغَضَ الصِّدْقَ فِی الْفَسَادِ (وسائل الشیعہ، کتاب حج، باب ۱۴۱)
"اے علی! بے شک خدائے تعالٰے مُصالحت کی خاطر جھوٹ کو بھی پسند کر لیتا ہے اور دنگا فساد کی راہ میں سچ بولنے کو بھی سخت نا پسند کرتا ہے!"
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا یہ بھی ارشاد ہے کہ "لوگوں کے درمیان مصالحت کرنا، مصالحت کی فکر کرنا اور جھگڑے دور کرنا نماز روزے سے زیادہ افضل ہے۔"
ابو حنیفہ سائق الحاج کہتے ہیں کہ میرے درمیان اور میرے داماد کے درمیان ایک میراث کے سلسلے میں جھگڑا تھا۔ ابھی ہم جھگڑ ہی رہے تھے کہ حضرت امام جعفر صادق کے وکیل مفضّل کا اُدھر سے گذر ہوا۔ انھوں نے کچھ دیر رُک کر ہم دونوں کو اپنے گھر بُلالیا اور اپنے پاس سے چار سو درہم دے کر ہمارے درمیان جھگڑا ختم کرا دیا۔ پھر انھوں نے کہا! " یہ مال جو میں نے تمہیں دیا یہ میرا نہیں تھا بلکہ میرے مولا امام جعفر صادق علیہ السَّلام کا تھا۔انھوں نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ جب بھی میرے اصحاب میں جھگڑا ہوجائے تو میرے مال کے ذریعے اُن کا جھگڑا دور کردیا کرو!"
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ صُلح اور مُصالحت کتنی اہم چیز ہے؟۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا تھا کہ یہ کام نماز ، روزے سے زیادہ افضل ہے۔ حالانکہ عام طور پر یہ کام مستحب ہے، جب کہ نماز و روزہ واجب ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ نماز روزے سے آدمی کے ذات بہتر بنتی ہے۔ جب کہ مُصالحت کروانے سے پورا معاشرہ بہتر بنتا ہے اور پورے معاشرے میں اس طرح نماز روزہ عام ہوتاہے۔ مسلمانوں کا آپس میں مل جُل کر رہنا نہ صرف آخرت کے اعتبار سے اہم ہے بلکہ دینوی اعتبار سے بھی بہت مفید ہے۔ جب مومن کے دِل میں خدا کے خاطر ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں تو اتنی قوت پیدا ہوتی ہے کہ نہ صرف ظاہری دشمنوں سے مقابلہ ہوسکتا ہے بلکہ باطنی دشمنوں یعنی نفس اور شیطان سے بھی مقابلہ آسان ہوجاتا ہے۔
آبِ کُر اور اتحادِ قلبی
لوگوں کے قلبی اتحاد و اتفاق کی مثال آبِ کُر سے دی جا سکتی ہے۔ یعنی جب تک پانی کم مقدار میں مختلف برتنوں میں ہو اور برتن میں کُر کی مقدار سے کم ہو، تو جیسے ہی اس میں نجاست پڑے گی وہ فوراً نجس ہوجائے گا۔ لیکن جب انہی پانیوں کوایک بڑے ظرف میں ڈال دیا جائے اور وہ کُر کی مقدار تک پہنچ جائے تو اب وہ نہ صرف یہ کہ نجاست کے ملتے ہی نجس نہیں ہوگا بلکہ وہ نجس چیز آسانی سے پاک کر دے گا۔ بالکل اِسی طرح جب لوگ متحد ہوں گے ان کے متحد دلوں پر رحمتِ الہٰی واقع ہوگی اور ان سب کے دلوں پر پروردگارِ عالم مہربانی فرمائے گا تو اتحاد کا فائدہ ہر ایک کو پہنچے گا۔ اس کے علاوہ اس اتحادِ قلبی کے نتیجے میں اسلام کی شان و شوکت دوبالا ہو جائے گی۔
اسی طرح نمازِ جماعت کی فضیلت اور اس کا بہت زیادہ ثواب ہے۔ برادردینی کے ساتھ حسنِ سلوک، اس کی مدد اور اس کے ساتھ ایثار کرنے کا بڑا اجر ہے۔ اسی طرح مومن بھائی ملنے جلنے ، اس سے مصافحہ کرنے اور اس سے بوسہ لینے کا بہت ثواب بیان کیا گیا ہے۔ اور دو مومنوں کے درمیان صُلح کرانے کا انتہائی عظیم اجر ہے اور خدا کے لئے مومنوں سے دوستی رکھنے کا ثواب بیان کیا گیا ہے۔ ان تمام امور کے ثواب اور اس طرح اس جیسے دوسرے امور کے اجر و ثواب سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ تمام اُمور مومنوں کے قلبی اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے ہیں۔
جنگ میں جھوٹ
بعض روایتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کافروں سے جنگ میں جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان پر غلبہ حاصل ہو تو جھوٹ بولنا جائز ہے۔
اہلیہ سے وعدہ
البتہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ اگر وہ اپنی بیوی سے جھوٹا وعدہ نہیں کرے گا تو گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوجائے گا یا اس کی بیوی سخت ناراض ہوگی یا خدانخواستہ جھوٹ نہ بولنے کے وجہ سے طلاق ہوجائے گی۔ تو پھر ایسی مجبوری کی صورت میں جھوٹا وعدہ کر لینا جائز ہے۔
خوفِ عذاب اور اعمالِ صالحہ
حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ اِیَّا کُمْ وَالْکِذْبَ فَِأنَّ کُلَّ رَاجٍ طَالِبُ وَ کُلَّ خَآئِفُ ھَارِبُ (کتاب "کافی") "(ثوابِ الٰہی اور عذاب سے مغفرت کی امید پر) جھوٹ بولنے سے بچو! کیونکہ جب کوئی شخص کسی چیز کی امید کرتا ہے تو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے (یعنی اس کے حصول کے لئے ویسے کام بھی کرتا ہے۔) اسی طرح جب کوئی شخص کسی چیز سے ڈرتا ہے تو اس چیز سے دوری اختیار کرتا ہے۔"
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السَّلام اس بات کو واضح فرمارہے ہیں کہ اگر کسی کو واقعاً ثواب حاصل کرنا ہے اور وہ خدا سے ثواب کی امید رکھتا ہے تو اسے ہر گز جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے بلکہ اس امید کا لازمہ یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ کو انجام دے۔ جھوٹ بولنا تو فعلِ حرام ہے اور انتہائی برا کام ہے! اسی طرح اگر کوئی شخص واقعاً عذابِ الہیٰ سے ڈرتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ گناہوں سے فرار اختیار کرے۔ کیوں کہ گناہ عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب ہے۔ اگر کوئی شخص صرف زبانی دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا سے ثواب کی اُمید رکھتا ہوں ، اس کے عذاب سے ڈرتا ہوں ، اور گناہوں کو ترک نہ کرے اور اعمالِ صالحہ کو انجام نہ دے تو ایسا شخص جھوٹا ہے۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السَّلام کا ارشاد ہے:یُدَعِّیْ بِزَعْمِه أنَّه یَرْجُوْاللهَ کَذِبَ وَالْعَظِیْمِ مَا بَا لُه لَا یَتَبَیَّنُ رَجَآ ئُه فِیْ عَمَلهِ وَ کُلُّ مَنْ رَجَا عُرِفَ رَجَائُه فِیْ عَمَلِه الّا رِجَآءَ اللهِ فَاِنَّه مَدْخُوْلُ وَ کُلُّ خَوْفٍ مُحَقَّقُ اِلَّا خَوْفَ اللهِ فاِنَّه مَعْلُولُ (نہج البلاغہ) "جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ وہ خدا سے امید رکھتا ہے لیکن اس کے عمل سے اس کا اظہار نہ ہو تو خدائے بزرگ کی قسم وہ جھوٹا ہے۔ حالانکہ جب کسی بھی چیز کی امید رکھتا ہو تو وہ اس کے عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ خدا سے امید رکھے اور اس کے عمل سے ظاہر نہ ہو! ( ایسا شخص خدا سے امید رکھنے والا نہیں بلکہ دھوکے میں ہے)۔ اسی طرح جب بھی کوئی شخص کسی چیز سے ڈرے تو اس کا عملی مظاہرہ کرتا ہے یعنی اس چیز سے فرار اختیار کرتا ہے پھر خوفِ خدا رکھنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود گناہوں سے فرار کیوں نہیں اختیار کرتا!
جس طرح آدمی خوفِ خدا، اور اس سے امید و رجآء رکھنے کا دعویٰ کرے اور اس کا عملی ثبوت نہ دے تو وہ جھوٹا ہے بالکل اسی طرح اگر کوئی صبر، شکر، رضا، تسلیم، تواضع اور حلم جیسی چیزوں کا دعویٰ کرے لیکن اس کا ثبوت پیش نہ کرے تو وہ بھی جھوٹا کہلائے گا!
جو زبا ن پر، وہی دل میں
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:اِذَا کَبَّرْتَ فَا سْتَصْغِرْ مَا بَیْنَ الْعُلیٰ وَالثَّرٰی دُوْنَ کِبْرِیَآئِه "جب تم الله اکبر کہو تو جو کچھ بھی عرش سے فرش تک کے درمیان ہے سب کو خدا کے مقابلے میں چھوٹا سمجھ کر ہی (دل کی گہرائی) سے کہو۔" فَاِنَّ اللهَ تَعَالٰیاِذَا طَّلَعَ عَلٰی قَلْبِ الْعَبْدِ وَ هُوَ فِیْ قَلْبِه عَارِضُ عَنْ حَقِیْقَةِ التَّکْبِیْرِ "اس لئے کہ خداوندِ تبارک و تعالٰے جب یہ دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی بندہ حقیقت میں الله اکبر دل کی گہرائی سے نہیں کہہ رہا ہے! قَالَ تَعَالٰی ( تو پھر اس سے خداوندِ عالم یہ ارشاد فرماتا ہے )یَا کَاذِبُ اتَخَدْ عَنِیْ وَعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ لَاُحَرِّمَنّکَ حَلَا وَةَ ذِکْرِیْ (مصباح الشریعہ) " اے جھوٹے! تو مجھے سے چالاکی کر رہا ہے۔ میری عزت اور جلال کی قسم میں تجھے اپنے ذکر کی لذت سے محروم رکھوں گا!"
انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ زبان سے تو الله اکبر کہتے ہیں لیکن (نعوذبالله) ان کا دل اور عمل الله اصغر (الله سب سے چھوٹاہے) کہہ رہا ہوتا ہے! یعنی اگر ایسے لوگوں سے کہا جائے کہ خدا کے لئے فلاں کام کردو یا خداکے لئے فلاں کام مت کرو تو وہ اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں کرتے ہیں! لیکن اگر انہیں آپ سو روپے دے دیں تو وہ فوراً آپ کی بات مان لیں گے! یعنی سو روپیہ ان کی نظر میں بڑا ہے، خدا بڑا نہیں ہے! (نعوذ بالله) ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب انہیں اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس کارِ خیر کو انجام نہ دیا، یا فلاں بُرے کام کو ترک نہ کیا تو مصیبت میں پھنس جائیں گے یا کوئی شخص انہیں تکلیف پہنچائے گا۔ مصیبت اور تکلیف سے بچنے کے لئے تو فوراً وہ اس کام کے کرنے یا چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن اگر صرف اور صرف خدا کے لئے ایسا کام کرنا پڑتا تو وہ ہر گز اس کے لئے تیار نہیں ہوتے!
اظہارِ بندگی اور جھوٹ
اگر کوئی شخص ربّ العالمین سے اظہارِ بندگی کرتے ہوئے کہے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ (یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) لیکن رات دن مال و دولت کی پوجا کرتے رہے اور اپنا پیٹ بھرنے اور جنسی شہوت کو پورا کرنے کے علاوہ اس کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہ ہو تو کیا آپ اسے سچا کہیں گے؟
کیا ایسا شخص واقعاً خدا کی عباد ت کرنے والا ہے؟ اسی طرح جب کوئی شخص صرف اور صرف ظاہری اسباب اور وسائل ہی کو سب کچھ سمجھنے لگے اور انہی پر بھروسہ کرنے لگے، انہی سے مدد مانگنے لگے تو کیا ایسا شخص سچا کہلائے گا ؟ اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ کہہ کر اس کی مخالفت کرنا بھی جھوٹ ہے۔
دعاوں میں جھوٹ
دعاؤں اور مناجات میں بھی اکثر اوقات آدمی جھوٹا دعویٰ کر بیٹھتا ہے! مثال کے طور پر جب کوئی شخص یہ کہے "رَضیْتُ باللهِ رَبَّا" یعنی میں اپنے پروردگار سے راضی اور خوش ہوں کیونکہ وہ میری تربیت اور پرورش کرنے والا ہے۔ وہی تمام مخلوقات کی پرورش کرتا ہے، میں اس سے راضی ہوں۔
اب اگر کوئی شخص خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہو اس کی قضا و قدر کو تسلیم نہ کرے، بلکہ جب اس کی اپنی مرضی کے خلاف کوئی کام واقع ہو جائے تو غم و غصہ کے عالم میں خدا سے شکایتیں کرنے لگے! اس کی شکایت کرنے والے جملے اس بات کے گواہ ہیں کہ ہو جھوٹا ہے!
اقرارِ آئمہ (علیہم السلام) اور جھوٹ
اس طرح جب کوئی شخص کہےوَبِمُحَمَّدٍ بَبِیَّا وَ بِا لْقُرْآنِ کِتَابًا وَبِعَلِیٍّ اِمَامًا یعنی میں اس سے خوش ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) میرے نبی ہیں اور قرآن مجیدمیری کتاب ہے۔ علی (علیہ السلام)میرے امام ہیں اور یہ سب میری ہدایت اور رہنمائی کے لئے ہیں۔ زبان سے تو یہ کہے لیکن مقامِ عمل میں خواہشاتِ نفسانی اور شیطان کو اپنا رہنما قرار دے! اور انہی کی پیروی کرے ! قرآن اور اس کے احکامات کی طرف توجہ تک نہ دے۔ ائمہ کے ارشادات کو نظر انداز کر دے تو ایسا شخص جھوٹا ہے۔
کیا سچ کہتا ہے؟
جب کوئی شخص یہ دُعا کرتے ہوئے کہتا ہےاِذَا رَأَیْتُ ذُنُوْبِیْ فَزِعْتُ وَاِذَا رَأَیْتُ کَرَمَکَ طَمَعْتُ (پروردگارا) "جب میں اپنے گناہوں کو دیکھتا ہوں تو گریہ کرتا ہوں اور جب تیرے لطف و کرم کو دیکھتا ہوں تو اس بات کی اُمید پیدا ہوتی ہے کہ تو بخش دے گا۔" زبان سے تو یہ کہتا ہے لیکن گناہوں کی پرواہ نہیں کرتا ہے اور اگر گناہ کو گناہ سمجھ بھی لے تو اُسے بلا خوف کرنے لگتا ہے! گناہ کرتے وقت اس کی پیشانی پر بل تک نہیں پڑتا! وہ خدا کے لطف و کرم کا طلب گار تک نہیں ہوتا! کیا ایسا شخص سچ کہتا ہے؟ اس کا جھوٹ بالکل واضح نہیں!؟
اسی طرح جب کوئی شخص کہتا ہے کہ " اَبْکِیْ لِخُرُوْجِ نَفْسِیْ "یعنی میں جانکنی کے خوف سے رو رہا ہوں۔ قبر کے سوال و جواب کے خوف سے رو رہا ہوں۔ قیامت کے خوف سے رو رہا ہوں۔ حالانکہ وہ کسی ایسے خوف میں نہیں رو رہا ہے! اس کا جھوٹ آشکار ہے۔ شاید ایسے ہی جھوٹ کی طرف امام زین العابدین علیہ السَّلام نے دُعائے ابو حمزہ میں فرمایا ہے:اَوْ لَعَّلکَ وَجَدْ تَّنِیْ فِیْ مَقَامِ الْکَاذبِیْنَ فَرَفَضْتَنِیْ "خداوندا! شاید تو نے مجھے جھوٹوں کے مقام پر پایا ہے اسی لئے تو نے (مجھ پرسے نظرِ رحمت ہٹا لی ہے) اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا ہے۔" یعنی میں نے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب میں ہلاکت کی کونسی وادی میں جاگروں گا۔
امام (علیہ السلام) سے جھوٹ
امام علیہ السَّلام سے جھوٹ بولنے کی مثال یہ ہے کہ زیارتِ امام میں کہےاٰخِذُ بِقَوْلِکُمْ عَامِلُ بِاَمْرِکُمْ مُطِیْعُ لَّکُمْ یعنی "اے آئمہ معصومین علیہم السَّلام! میں آپکے اقوال کو قبول اور آپ کے احکام پر عمل کرنے والا ہوں آپ کی اطاعت کرنے والا ہوں۔" اب اگر کوئی ان کے ارشاداتِ گرامی کو سنے اور ان پر عمل نہ کرے بلکہ خواہشاتِ نفسانی پر عمل کرے۔ ایسا شخص شیطان ہے! اس کا امام سے جھوٹ ظاہر ہے!
اسی طرح امام سے جھوٹ کی ایک اور مثال یہ جملہ ہے جو زیارت پڑھتے ہوئے کہے: سِلْمُ لِّمَنْ سَالَمَکُمْ وَحَرْبُ لِّمَنْ حَارَبَکُمْ۔ یعنی "اے آئمہ طاہرین علیہم السَّلام! جو شخص آپ سے امن و سلامتی کے ساتھ رہے گامیں بھی اس کے ساتھ امن و سلامتی سے رہوں گا، اور جو شخص آپ سے جنگ کرے گا اور آپ کی مخالفت کرے گا میں بھی اس سے جنگ کروں گا اور مخالفت اس کی کروں گا۔" دعویٰ تو یہ ہے لیکن عملی طور پر وہ دشمنانِ دین سے دوستی رکھتا ہے اور ان کے ساتھ میل جول رکھتا ہے! اس کے برعکس مومنین اور محبّانِ آئمہ علیہ السَّلام سے دشمنی اختیار کرتا ہے! اسی طرح جب آئمہ سے مخاطب ہو کر یہ کہتا ہے کہ اَلتَّارِکُ لِلْخِلَافِ عَلَیْکُمُ "یعنی اے آئمہ مومنین علیہم السَّلام! آپ کے مخالفین
کوترک کرنے والا ہوں۔" حالانکہ عملی طور پر ایسا نہیں کرتا! کیا ایسا شخص امام سے جھوٹ نہیں بول رہا ہے
پھر ہم دعا کیسے کریں؟
یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ذکرِ خدا کرنے اور دعا پڑھنے کی صورت میں خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امام علیہ السَّلام سے جھوٹ بولنے والا قرار پائے تو پھر وہ آخر دعا زیارت کیسے کرے؟
اس کا تفصیلی جواب تو ہم یہاں پر نہیں دے سکتے کیونکہ یہ کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی جا رہی ہے۔ البتہ مختصراً یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ ہم نے خدا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امام علیہ السَّلام کے بارے میں جس قسم کے جھوٹ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ عجب ، خود پسندی اور غرور وغیرہ سے بچا نے کے لئے ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مومن اپنے ذکرِ خدا اور دعاؤں پر ناز کرنے لگے! ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیئے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ ہم اپنی دعاؤں اور ذکرِ خدا میں جب سچ نہیں بولتے ہیں تو پھر ہمیں دعا اور ذکرِ خدا کو چھوڑ دینا چاہیئے۔ ایسی مایوسی شیطانی خیالات کا نتیجہ ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ اُسے ثواب سے محروم کر دے اور یاد الہٰی سے روک دے۔ کیونکہ ہر شخص بالکل ابتداء ہی سے سچا نہیں ہوا کرتا بلکہ اپنی کوشش اور جدوجہد کے نتیجے میں صداقت کے مقام اور مرتبے کو حاصل کرتا ہے۔ اور پھر خداوندِ عالم اپنے لطف و کرم سے اسے منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔
دعاؤں میں جو جملے بیان کئے گئے ہیں یا تو کوئی شخص اس کے معنٰی کو سمجھتا ہے یا نہیں سمجھتا ۔ جو شخص معنٰی کو نہیں سمجھتا اور قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے یا ان دعاؤں کو پڑھتا ہے جو آئمہ معصومین علیہ السَّلام سے ہم تک پہنچی ہیں تو یقینا ان جملوں کی نورانیت کا اثراس پر پڑتا ہے اور اس کا دل منور ہو جاتا ہے اس کے علاوہ اسے ثواب بھی ملتا ہے۔ جو شخص قرآنِ مجیداور دعاؤں کے معنٰی کو نہیں سمجھتا اور اسے پڑھتا ہے یقینا اسے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔
ہر شخص کے مختلف مراتب
لیکن وہ اشخاص جو قرآن اور دعاؤں کے معنٰی کو سمجھتے ہیں انہیں یہ جان لینا چاہیئے کہ ان کے مختلف درجات ہیں۔ سب سے اعلٰے درجہ پر آئمہ معصومین علیہم السَّلام ہیں جو مکمل طور پر ان کے معنٰی کو سمجھتے ہیں ، اوراکثر مومنین اس مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتے تو پھر بھلا ان کے بارے میں کیسے یہ کہا جا سکتا ہے وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ لہٰذا ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ انشاء الله مومنین جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔ مثال کے طور پر تمام مومنین خوفِ خدا رکھتے ہیں جیسا کہ قرآنِ مجید میں آیا ہے وَخَا فُونِ اِنْ کُنتُمْ مُؤمِنِیْنَ (سورئہ آلِ عمران ۳: آیت ۱۷۵) اگر تم سچے مومن ہو تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔" اسی طرح تمام مومنین خدا سے اُمید رکھتے ہیں۔ یقینا مومنین کے دلوں میں جو خوفِ خدا ہے اور وہ جس طرح خدا سے امید رکھتے ہیں اس کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں اور ان کے یہ درجات آئمہ علیہ السَّلام کے برابر ہر گز نہیں ہو سکتے۔
مومنین چونکہ تزکیئہ نفس کی اس منزل پر نہیں ہوتے اور اپنی خواہشاتِ نفسانی کا شکار ہوجاتے ہیں اسی لئے وہ گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان سے خداوندِ عالم کے احکامات کی اطاعت میں بھی بھول چوک ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ دُعائے ابو حمزہ ثمالی میں ہے:
اِلٰهِی لَمْ اَعْصِکَ حِیْنَ عَصَیْتُکَ وَاَنا بِرُبُوْبِیَّتِکَ جٰاهِدُ وَّلَا بِاَمْرِکَ مُسْتَخِفُّ وَلَا لِعُقُوْبَتِکَ مُتَعْرِضُ وَلَا لِوَ عِیْدِکَ وَاَنا بِرُبُوْبِیِتَّکَ جٰا حِدُ وَّ لَا بِاَمْرِ کَ مُسْتَخِفُ وَلَا لِعُقُوْبَتِکَ مُتَعَرِضُّ وَلَا لِوَعِیْدِکَ مُتَهَا وِ نُ وَلٰکِنْ خَطیئةُعَرَضَتْ لِیْ وَلٰکِنْ خطِیْةُ عَرَضَتْ لِی وَ سَوَّلَتْ لِیْ وَسَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ وَغَلَبَتْیِ هَوَایَ ۔
یعنی " خدا وندا میں نے جوکئے ہیں وہ اس لئے نہیں کئے کہ تیری خدا ئی کا انکار کرنے والا تھا اورمیں نے اس وجہ سے گناہ نہیں کئے کہ تیرے حکم کو معمولی سمجھتاتھا اور نہ ہی تیرے عذاب کو کمتر سمجھ کر میں نے گناہ کئے ۔ بلکہ میں نے گناہ کئے ۔ بلکہ میں نے اپنی غلطی کا ہلی ، نفس پر ستی اور غرور کی وجہ سے گناہ کئے ہیں۔"
پُختہ یقین اور انحراف
خدا پر ایمان اور اس کے عذاب کا خوف اگر انسان میں پایا جائے تو اس کے باوجود خواہشات نفسانی کے غالب آجانے کی وجہ سے وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ اگر انسان خدا پر یقین رکھے تو کوئی گناہ نہ کرے ۔ بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مرے ہوئے انسان اور جمادات میں کوئی فرق نہیں ہے مردہ نہ کوئی حرکت کر سکتا ہے اورنہ ہی اس سے کوئی کام واقع ہوسکتا ہے پھر بھی آدمی پر وہم غالب آجاتا ہے اور اس کا یقین اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا، اور رات کی تاریکی میں وہ میت کے ساتھ کمرے میں تنہا نہیں رہ سکتا اسے خوف محسوس ہوتا ہے ۔ یہی وجہ تو ہے کہ ہم دُعا میں پڑھتے ہیں وَیَقِینًا صَادِقًا یعنی " پروردگارا مجھے ایسا سچّا یقین عطا فرمایا جس کے نتیجے میں مَیں تیر ی اطاعت کرسکو ں۔" اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص بھی پروردگارِ عالم سے سچّے خوف کی تمنّا کرے یعنی ایسے خوف کی دُعا کرے جو اُسے تمام گناہوں سے بچائے توخدا ونِد عالم اس کے دل میں سچّا خوف پیدا کردیتا ہے۔ اور اس کے خوف کے درجات میں اضافہ ہوتاچلا جاتا ہے۔ جس طرح کہ عبورّیت اور اطاعت کے درجات کوشش کے نتیجے میں بڑھتے رہتے ہیں۔
روایت میں آیا ہےمَنْ طَلَبَ شِیئًاوَ جَدَّ وَجَدَ یعنی " جو شخص بھی کسی چیز کو چاہے اور اس کے لئے کوشش کرے وہ اس کو پالیتا ہے۔"
جی ہاں! مطلق طور پر ہر اعتبار سے صادق ہونا آئمہ معصومین علیہم السَّلام ہی کو زیب دیتا ہے۔ یہی وجہ تو ہے کہ وَکُوْ نُوْا مَعَ السَّادِقیْنَ (سورئہ توبہ ۹ : آیت ۱۱۹ ) اور سچوں (صادقین) کے ساتھ ہوجاو۔" اس آیت میں صادقین سے مراد اہل ِ بیت علیہم السَّلام ہیں
جھوٹی قسم
اٹھارہواں ایسا گناہ جس کے گناہ جس کے کبیرہ ہونے پر روایتوں میں صراحت موجود ہے وہ جھوٹی قسم ہے۔ جھوٹی قسم کھاکر کوئی خبر دینا ایک گناہِ کبیرہ ہے۔ خاص طور پر خدا کی قسم کسی جھوٹ بات میں کھانا ایک انتہائی بڑا گناہ ہے۔ روایتوں میں ہے ایسا شخص گناہوں میں ڈوبا ہوا رہتا ہے۔ اور جہنم میں بھی آگ میں گھرار ہے گا۔ گھٹی قسم سے متعلق روایت میں موجود ہے کہ وہ آدمی کے دین کو اس طرح ختم کردیتی ہے جس طرح کوئی تیز دھار کی چیز بدن سے بالوں کو اکھاڑ دیتی ہے۔
عبدالعظیم نے جو صحیح روایت نقل کی ہے اس سے بھی اور فضل ابنِ شاذان نے حضرت امام علی رضا علیہ السَّلام سے جو روایت نقل کی ہے اس سے بھی جھوٹی قسم کے گناہِ کبیرہ ہونے کااظہا ر ہوتاہے۔ کتاب "تَحفُ العقول " میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام سے مروی ہے کہ : جھوٹی قسم ایمان کو خراب کردینے والی ہوتی ہے۔"
( بحاالانوار جلد ۳ صفحہ ۱۷۷)
جھوٹی قسم کا عذاب
( اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتُروْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَ یْمَا نِهمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَا قَ لَهُمْ فَیْ الْاَ خِرَةِ وَلَایُکَلِّمُهُمُ اللّٰهِ وَلَا یَنْظُرُ اِ لَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیمٰةِ وَلَا یُزَکِّهِمْ وَلَهُمْ عَذَابَُ اَلِیْمُ
) (سورئہ اٰلِ عمران ۳: آیت ۷۷)
" بے شک جو لوگ اپنے عہد اور قسم کو جو انھوں نے خدا سے کی ہو، دنیا کے تھوڑے سے معاوضے کے بدلے میں توڑدیتے ہیں انھیں لوگوں کے واسطے آخرت میں کچھ حصّہ نہیں۔ اور قیامت کے دن خدا ان سے بات تک نہیں کرے گا اور ان پر اپنی نظر ِرحمت بھی نہیں ڈالے گا اور نہ ہی انھیں گناہوں سے پاک کرے گا ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے!" حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے یہ آئیہ شریفہ اس بات کی دلیل کے طور پر تلاوت فرمائی تھی کہ جھوٹی قسم ایک گناہِ کبیرہ ہے۔
رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے قسم کھانے کا حکم د ی
تفسیر المیزان میں یہ واقعہ شیخ صدوق کی کتاب " امالی " سے نقل کیا گیا ہے کہ امر اُ ء القیس اور ایک آدمی کے درمیان ایک زمین کے سلسے میں جھگڑا ہوگیا۔ ہرکوئی کہتا تھاکہ وہ اس کے زمین ہے ۔ یہ دونوں حضرت رسول ِخدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں یہ جھگڑا لے کر حاضر ہوئے ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اِمُرء القیس سے فرمایا: "آیا تم دو عادل گواہ پیش کرسکتے ہو؟" اس نے کہا : "جی نہیں " آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: " پس تمہارے خلاف دعویٰ کرنے والے شخص کو قسم کھالینی چاہیئے ۔" اِمُرء القیس نے کہا: " وہ تو جھوٹی قسم کھائے کر میری زمین لے لے گا!" آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا : اگر وہ جھوٹی قسم کھائے گا توایسے لوگوں میں شامل ہوجائے گا جس پرکل قیامت کے دن خدا نظرِ رحمت نہیں ڈالے گا اور اسے گناہوں سے پاک نہیں کرے گا۔ اس شخص کے لئے درد ناک عذاب ہوگا!" جب اس شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا یہ بیا ن سُنا تو بہت ڈرگیا اور اِمُرء القیس کی زمین کے سلسلے میں اپنے جھوٹے دعوے سے باز آیا۔
حضرت امام جعفرِ صادق علیہ السَّلام کا ارشاد ہے:
مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ وَهُوْ یَعْلَمُ أَنَّه کَاذِ بُ فَقَدْ بَارَذَ اللّٰه تَعَالٰی
(کتاب "کافی " باب ایمان و کفر")
" جو شخص کوئی قسم کھائے اور وہ جانتا ہوکہ وہ جھوٹا ہے تو گویا وہ خدا سے کُھل کر جنگ کرنے والا ہے!"
امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا :
(( عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ قَالَ قَال رَسُوْل اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْه وَآ له وَسَلَّمْ ) اِیَّا کُمْ وَالْیَمِیْنَ الْفَاجِرَةَ فَاِنَّهَا تَدَعُ الِدِّیَارَ مِنْ اَهْلِهَا بِلَاقِع )
(کتاب "کافی " باب ایمان وکفر)
" جھوٹی قسم سے پرہیزکرو۔ اس لئے کہ یہ آبادیوں کو برباد کردیتی ہے۔ اور جھوٹی قسم کھانے والے کو بے سہارا بنادیتی ہے۔"
دیگر روایات میں ہے کہ جھوٹی قسم اور قطعِ رحمی ایسی چیزیں ہیں جو آبادیوں کو ویران کر دیتی ہیں ، بسنے والوں سے خالی کردیتی ہیں اور نسلوں کا سلسلہ منقطع کردیتی ہیں ۔ مثلاً ایسی ہی ایک روایت کے الفاظ ہیں :
اِنَّ فِیْ کِتَابِ عَلِیٍّ اَنَّ الْیَمِیْنَ الْکَذِبَةَ وَقطِیْعَةَالرَّحِمِ تَذَرَانِ الدِّیَارَ بِلَا قِعٍ مِنْ اَهْلِهَا وَتُنْغِلُ فِیْ الرَِّ حْمِ یَعْنِیْ اِنْقِطَاعَ النَّسْلِ (کتاب" کافی " باب ایمان وکفر ")
جھوٹی قسم کے بُرے اثرات
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں :
(عَنْ اَبِیْ عَبَدَ اللّٰهِ قَالَ ) اَلْیِمِیْنُ الْغَمُوْسُ یُنْتَظَرُ بِهَااَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً
(کتاب" کافی " باب ایمان وکفر)
جھوٹی قسم کھانے والا شخص چالیس راتوں کے اندر تنگدست ہوجاتاہے !" اسی مضمون کی چند دیگر روایت بھی موجود ہیں ۔ چھٹے امام علیہ السَّلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ:اَلْیَمِیْنُ الْغَبُوْسُ الَّتِی تُوْجِبُ النَّارَالرَّجْلُ یَحْلِفُ عَلٰی حَقَّ امْرِءٍ مُسَلمٍ عَلٰی جَسِْ مَا لِه (کتاب "کافی ‘ ‘ باب ایمان وکفر) " وہ جھوٹی قسم جو جہنم میں جا نے کا سبب بنتی ہے، یہ ہے کہ آدمی کسی مسلمان شخص کے حق کو مارنے کے لئے یا اس کا مال چھین لینے کے لئے کھائے ۔" امام علیہ السَّلام کا یہ بھی ارشا د ہے کہ:اِ ذَا قَالَ الْعَبْدُ عَلِمَ اللّٰهُ وَکَانَ کَاذِ باً قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ اَمَاوَجَدْتِّ اَحَدًتَکْذِبُ عَلَیْهِ غَیْرِیْ (کتاب"کافی" باب ایمان و کفر) یعنی جب کوئی شخص کہتا ہے "خدا جانتا ہے" حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا ہو تو خدائے تعالٰے اس سے کہتا ہے! " کیا تمہیں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جس پر تم جھوٹ باندھ سکو!!"
امام جعفر صادق علیہ السَّلام یہ بھی فرماتے ہیں کہ
مَنْ قَالَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَالَا یَعْلَمُ اهْتَزَّلِذٰلِکَ عَرْشُه اِعْظَا مًالَه ( کتاب "کافی" )
" یعنی جو شخص کہتا ہے کہ خدا جانتا ہے ، حالانکہ خدا کے علم میں اس کے برخلاف بات ہوتو خدا کی عظمت و ہیبت دیکھ کر عرشِ خدا لرز اٹھتا ہے!"
قسم کی اقسام
(قسم کے ذریعے کوئی چیز ثابت کی جاتی ہے یا کوئی کام لازم ہوجاتاہے۔)
قسم کسی بات یا خبر کوثابت کرنے کے لئے یا اسے تاکید کے ساتھ بیان کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے اور اس کی چار قسمیں ہیں : واجب مستحب مکروہ اور حرام ۔
قسم کھا ناکب واجب ہے ؟
اگر جان یا عزّت کی حفاظت کا مسئلہ ہو تو آدمی کو اپنی خاطر یا کسی مسلمان کی خاطر قسم کھالینا واجب ہے ۔ اسی طرح اگر اپنے مال کی یا ایسے مال کی حفاظت کا مسئلہ ہوجس کی حفاظت واجب ہو اور جو قسم کھائے بغیر ممکن نہ ہو تو وہاں بھی قسم کھانا واجب ہے۔ حتیّٰ کہ کبھی جان ، عزت یا خطیر مال کی خاطر جھوٹی قسم کھانابھی واجب ہوجاتا ہے۔ البتّہ آدمی کوکوشش کرنی چاہیئے کہ وہ جھوٹی قسم کھانے کے بجائے توریہ کرے اوراس طرح احتیاط سے کام بھی چلالے۔
قسم کھا نا مستحب ہے
بعض مقامات پر قسم کھانا مستحب ہوتا ہے اور بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں قسم نہ کھانا مستحب ہے۔ اگر اپنے یا کسی مسلمان کے مال کی حفاظت کا ایسا مسئلہ ہو جو واجب نہ ہو، یعنی ایسا مال ہو جس کی حفاظت واجب نہ ہو تو اس کے لئے قسم کھانا مستحب ہے۔ یہ وہ مال ہے جو بہت کم ہو اور جس کی قیمت تیس درہم سے کم ہو ۔
زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام سے کہا : ظالم حکّام ہم سے زبردستی ٹیکس اور خراج وصول کرتے ہیں ۔ اگر ہم جھوٹی قسم کھائیں کہ ہمارے پاس ٹیکس دینے کو کچھ نہیں ہے اور ایسی قسم کے بغیر مال کی حفاظت ممکن نہ ہو تو کیسا ہے؟ " امام علیہ السَّلام نے فرمایا(فَقَالَ)اِحْلِفْ لَهُمْ فَهُوَاَحْلٰی مِنَ التَّمْرِوَالزَّبَدِ (وسائل الشیعہ ، کتاب الایمان ، باب ۱۳ ، حدیث ۶) ( ظاہر ہے ایسی قسم کھجور اور مکھن سے زیادہ لذیز ہے ظاہر ہے ایسی قسم ظالم کے ظلم سے نجات کا باعث ہے۔)
البتہ اگر تھوڑا سا مال ہو، خاص طور پر اگر تیس درہم سے کم مالیت کی رقم ہو تو اس کوظالم کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کے لئے قسم کھانے کی بجائے قسم نہ کھانا مستحب ہے۔ حضرت امام جعفر صا دق علیہ السَّلام یہ حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ) نقل فرماتے ہیں کہ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَنِ اَجَلَّ اللّٰهَ انْ یَّحْلِفَ بِه اَعْطَا هُ اللّٰه خَیْرًا مِمَّا ذَهَبَ مِنْهُ (فروع، کافی ، کتاب الایمان ) یعنی رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا : جو شخص خداکی بزرگی اور عظمت کا لحاظ کرتے ہوئے قسم نہ کھائے گا تو خدا وند تعالٰی اسے ایسا مال عطا فرمادے گا جو ہاتھ سے گئے ہوئے مال سے بہترہوگا۔ "
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ :اِذٰا اُ دّعِیَ عَلَیْکَ مَا لُ وَلَمْ یَکُنْ لَه عَلَیْکَ فَاَرَادَ اَنْ یُّحَلِّفَکَ فَاِنْ بَلَغَ مِقْدَارَ ثَلِثٰیْنَ دِ رْهَمًافَاَعْطِه وَلَا تَحْلِفْ "اگر تمہارے خلاف کچھ مال کو دعوی کیاجائے لیکن دعویٰ کرنے والے کا تم پر کو ئی حق نہ ہو اور وہ تم سے قسم کھلوانا چاہے تو یہ دیکھو کہ اگر مال تیس درہم کی حد میں ہے تو اسے عطا کردو اور قسم نہ کھاو ۔"وَاِنْ کاَنَ اَکْثَرَمِنْ ذٰلِکَ فَا حْلِفْ وَلَا تُعْطِه ۔ ("فروغِ کافی")اور اگر مال تیس درہم سے زیادہ کا ہو تو قسم کھالو اور اسے کچھ نہ دو۔"
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں کہ
مَنْ قدَّمَ غَرِیْمًا اِلَی السُّلْطَانِ یَسْتَحْلِفُه وَهُوَیَعْلَمْ أَنَّه یَحْلِفُ ثُمَّ تَرَکَه تعْظِیمًا لِلّٰهِ تَعَالٰی لَمْ یَرْضَ اللّٰهُ تَعَالٰی لَه بَِنْزِ لَةٍ یَوْمَ الْقِیَا مَةِ اِلّامَنْزِ لَةَ اَبْرَاهِیْمَ خَلِیْلِ الرَّحْمٰنِ
(وسائل الشیعہ )
" جو شخص اپنے قرض دار (یا جس پر کچھ مال دینے کی ذمّہ داری عائد ہوتی ہو ) کوبادشاہ کے پاس پیش کرے اور بادشاہ اس سے قسم کھلوانا چاہے لیکن وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ قسم کھانے کا حق رکھتا ہے" خدا کی عظمت کا لحاظ رکھتے ہوئے قسم نہ کھائے تو قیامت کے دن خدائے تعالیٰ ایسے شخص کو حضرت ابراہیم خلیل الله سے کم کادرجہ دینے پر راضی نہیں ہوگا!
سیّد سّجاد (علیہ السلام) قسم نہیں کھاتے
کتابِ کافی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام کی بیوی کا تعلّق قبیلہ بنی حنیفہ سے تھا۔ امام علیہ السَّلام کے ایک شیعہ نے امام سیّد الساجدین کو خبر دی کہ یہ عورت آپ کے جد حضرت امیر المومنین علیہ السَّلام کی دشمن ہے۔ تحقیق کے بعد امام علیہ االسَّلام نے اسے طلاق دے دی۔ وہ عورت پہلے ہی مہرلے چکی تھی، اس کے باوجود اس نے امام زین العابدین علیہ السَّلام کے خلاف مہر کا جھوٹا دعویٰ حاکمِ مدینہ کے سامنے پیش کردیا !اس نے چار سو دینا ر مہر کا مطالبہ کیا تھا ۔سید سجاد (علیہ السلام) سے حاکم مدینہ نے کہا یا تو آپ قسم کھا لیجئے آپ نے مہر کی رقم ادا کر دی حضرت سَّیدسجاد علیہ السَّلام نے قسم نہیں کھائی ،بلکہ اپنے بیٹے حضرت محمد باقر علیہ السَّلام کو حکم دے دیا کہ وہ اس عورت کو چار سودینا ر دے دیں ۔ حضرت محمد باقر علیہ السَّلام نے عرض کیا" آپ پر قربان جاوں ، کیا حق آپ کے ساتھ نہیں ہے؟" امام علیہ السَّلام نے فرمایا: " کیوں نہیں ، لیکن میں خداکو اس امر سے زیادہ بزرگ اورلائق احترام سمجھتا ہوں کہ اس کے نام سے کچھ دنیوی مال کی خاطر قسم کھا بیٹھوں!"
حق بات پر زور دینے کے لئے قسم
حق بات کو ثابت کرنے کے لئے یا حق بات پر زور دینے کے لئے اور اس کی اہمیّت بتانے کے لئے قسم کھانا نہ صرف جائزہے بلکہ مستحب بھی ہے۔ جیسے پیغمبر ِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) قسم کھا تے ہوئے فرماتے ہیں: فَوَاللّٰہُ لَایَمِلُّ اللّٰہُ حَتّٰی تَمِِلُّوْ (کتاب مسالک ، بابِ ایمان ) " خدا کی قسم خدا مغفرت دینے میں دریغ نہیں کرے گا اگرچہ یہ ممکن ہے کہ تم لوگ مغفرت طلب کرنے میں کوتاہی کرو!"
اسی طرح قسم کی ایک اور مثال حضرت امیر لمومنین علی علیہ السَّلام کا یہ قول ہے:
فَوَاللّٰهِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَیحکْتُمْ قَلِیْلًا وَّ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْراً (کتاب مسالک ۔ باب ِایمان ) "خدا کی قسم اگر لوگ ہو جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں ، تو بہت کم ہنسا کرتے اور بہت زیادہ رویاکرتے!"
قرآنِ مجید میں اور معصومین کی روایت میں کئی مقامات پر قسمیں کھائی گئی ہیں ۔ ان تمام قسموں کا تعلق اِسی قسم سے ہے، یعنی اسی قسم میں حق بات پر زور دینے اور اس کی اہمیت بتانے کے لئے کھائی گئی ہیں ۔
ایک شخص نے حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلا م کو ایک خط لکھا اس خط میں اس نے امام محمد باقر علیہ السَّلام سے پوچھا تھا کہ آپ سے جو بات جھوٹ منسوب کی جارہی ہے اس سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
امام علیہ السَّلام نے جواب میں لکھا تھا:
وَاللّٰهِ مَاکَانَ ذٰلِکَ وَاِنِّی لَاَکْرَهُ اَنْ اَقُوْلَ وَاللّٰهِ عَلٰی حَالٍٍ مِنْ احَوْالِ وَلِکٰنَّهُ،غَمَّنِیْ اَن یَّقَالَ مَالَمْ یَکُنْ (مستدرک الوسائل) یعنی " خدا کی قسم جو بات منسوب کی جارہی ہے وہ حقیقت نہیں ہے،لیکن میں اس کو جھٹلانے کے لیے کسی بھی حال میں وَالله کہناپسندنہیں کرتا لیکن مجھے اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ ایسی بات کہی جارہی ہے جو واقع نہیں ہوئی۔"
قسم کھا نا مکروہ ہے
مستحب اور واجب قسموں کا بیان گذرا۔ ان واجب یا مستحب قسموں کے علاوہ کی دیگر حالتوں میں کلی طور پر قسم کھانا مکروہ ہے، خواہ وہ گزشتہ بات کے لئے ہویا مستقبل میں ہونے والی کسی بات پر ہو ۔ بہرحال عام حالتوں میں عام طور پر قسم مکروہ ہوتی ہے۔ اگر آدمی غیر ضروری طور پر قسم کھائے کہ کل ایسا ہوا تھا۔ یا اس وقت ہے جب سچ بات پر قسم کھائی جائے ۔ اگر جھوٹی بات پر قسم کھائی جائے تو یقیناً حرام ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کا فرمان ہے کہلاتَحْلِفُوْا بِاللّٰهِ صَادِقِیْنَ وَلَا کَاذِبِیْنَ " خدا کی قسم نہ کھایا کرو خواہ تم لوگ سچ بول رہے ہو یاجھوٹ !"فَاِنَّه عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ وَلَا تَجْعَلُو اللّٰهَ عُرْضَةً لِاَیْمَانِکُمْ (فروغِ کافی،قسم کا باب)اس لئے کہ خدائے عَزّوجل فرماتا ہے "خدا کواپنی قسموں کے لئے استعمال مت کرو !" (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۲۲۴)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام یہ بھی فرماتے ہیں کہمَنْ حَلَفُ بِاللّٰه کٰاذبًا کَفَرَ " جس شخص نے خدا کی جھوٹی قسم کھائی اس نے کفر اختیار کیا۔"
وَمَنْ حَلَفَ بِالِلّٰهِ صَادِقًا اَثِمَ اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ وَلاَ تَجْعَلُوْا للّٰهَ عُرْضَةً لاَِّیْمَانِکُمْ (فروغِ کافی ، قسم کا باب) " اور جس شخص نے خدا کی سچی قسم کھائی اس نے گناہ کیا ! اس لئے کہ خدائے تعالیٰ فرماتاہے: "خدا کی سچی قسم کھائی اس نے گناہ کیا! اس لئے کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: "خدا کو اپنی قسموں کے لئے استعمال مت کرو!"
مندرجہ بالا حدیث کی وضا حت کچھ یوں ہے کہ خدا کی جھوٹی قسم کھانا یقینا ایک بہت بڑا گناہِ کبیرہ ہے اور گناہِ کبیرہ کرنے والا شخص ایمان کے اعلیٰ مرتبے سے گرجاتا ہے۔ اس کی مناسبت سے اس کے دل میں کچھ کفرآجاتا ہے، اور سچی قسم کوبھی امام علیہ السَّلام نے گناہ کہاہے ، اور لفظ "اثم " استعمال کیا ہے ۔چونکہ مجتہدین کے درمیان مشہو ر فتویٰ یہی ہے کہ سچی قسم کھانا مکروہ ہے اور حرام نہیں ہے، اس لئے یہاں اس لفظ سے سچی قسم کوشدید مکروہ قرار دیاگیا ہے۔
حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کی ہدایت
فروغ کافی میں یہ حدیث بھی موجود ہے جو حضرت امام جعفرصادق علیہ السّلام نے بتائی ہے اِجْتَمَعَ الْحَوَارِ یُّوْنَ اِلٰی عِیسٰی فَقَا لُوْا حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کے حواریوں (شاگردوں ) نے ان کے پاس جمع ہو کر عرض کیا یَامُعَلِّمَ الْخیْرِاُرْشُدْنَا "اے خیر سکھانے والے ! ہم کو کچھ نصیحت کیجئے ۔"فَقَالَ اِنَّ مُوْسیٰ نَبِیَّ اللّٰهِ اَمَرَکُمْ اَنْ لَّا تَحْلِفُوْ بِاللّٰهِ کَاذِبِیْنَ بے شک خدا کے نبی موسیٰ علیہ السَّلام نے تم کو خدا کی جھوٹی قسم نہ کھانے کا حکم دیا تھا۔"وَاَنَا اٰمُرُکُمْ اَنْ لاَتَحْلِفُوْا کَاذِبِیْنَ وَلَا صَادِقِیْنَ ("فروغِ کافی ، قسم کا باب) "اورمیں تم کو حکم دیتا ہوں کہ خدا کی نہ تو جھوٹی قسم کھاؤ نہ سچی!"
قابلِ احترام چیزوں کی قسم
جن موقعوں پر خدا کی قسم کھا سکتے ہیں وہاں دیگر قابلِ احترام، شخصیتوں اور مقدس چیزوں کی قسم کھانا بھی جائز ہے۔ ایسے مقامات پر مثلاًقرآنِ مجید کی قسم، کعبہ کی قسم یا پیغمبرِ اکرم اور آئمہ کی قسم بھی کھانا جائز ہے۔ اسی طرح ہر قابلِ احترام ذات یا چیز کی قسم بھی جائز ہے۔ مثلاً آدمی اپنے باپ یا بیٹے یا کسی بھی آدمی کی قسم کھا سکتا ہے۔
جن روایتوں میں خدا کا نام لے کر قسم کھانے سے منع فرمایا گیا وہ اپنا حق ثابت کرنے کے لئے ممنوع ہے، کوئی سچی بات بتانے کے لئے ممنوع نہیں ہے۔ البتہ جب اپنا حق ثابت کرنے کے لئے قسم کھانا ضروری ہو تو شرعی طور پر خدا ہی کی قسم کھانی چاہیئے۔ کسی اور ذات یا چیز کی قسم ایسی صورت میں صحیح نہیں ہے۔ شرعی لحاظ سے اس طرح معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر مستقبل میں کوئی کام کرنے کا ارادہ ہو اور اس کے لئے کوئی قسم کھانی پڑے تو اس میں بھی خدا ہی کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ کوئی اور قسم شرعی حیثیت نہیں رکھتی۔
وہ قسم کہ جس کا کھانا ہمیشہ حرام ہے
وہ قسم جو ہر حالت میں حرام ہے اور اسے کبھی بھی نہیں کھاسکتے ، وہ خدا اور اسکے کبھی بھی نہیں کھاسکتے، وہ خدا اور اس کے دین سے بیزاری اور دوری اختیار کرنیکی قسم کھانا ہے مثلًا آدمی کہے:
"اگر میں ایسا کام نہ کروں تو خدا سے بیزار ہوجاوں گا یا دین ِاسلام چھوڑدوں گا!" اس قسم کی بات یقینا حرام ہے ۔اسی طرح اگر آدمی کہے : اگر میں نے فلاں کام نہیں کیا توپیغمبِر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا انکا رکر بیٹھوں گا یا حضرت علی علیہ السَّلام کی ولایت سے باہرنکل جاوں گا ، یا یہودی وغیر ہ بن جاونگا۔
اس قسم کی شرط بھی حرام ہے۔ ایسی بات بہر حال میں حرام ہے خواہ اپنا حق ثابت کرناہو یا نہ کسی سچی بات پر زور دینا ہو خواہ مستقبل میں کیس کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عہد ہو، یا کسی بات پر زور دینا مراد ہو، یا حال اور ماضی میں ایساہو، بہر صورت حرام ہے۔
عَنِ الَنِّبیِ أَنَّه سَمِعَ وَجُلًا یَقُوْلُ اَنَا بَرِ یُّ مِنْ دینِْ مُحَمَّدٍ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ایک شخص کو کہتے سنا: " میں دینِ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے بیزار ہوجاوں گا!"فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَیْلَکَ اِذا بَرِئْتَ مِنْ دِیْنِ مُحَمَّدٍ وعَلٰی دِیْنِ مَنْ تَکُوْنُ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے یہ سُن کر فرمایا: " تجھ پر وائے ہو! اگر تو دین ِ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے بیزار ہوجائے گا۔ تو پھر کس کا دین ختیار کرے گا؟ "قَالَ فَمَا کَلَّمَه رِسُوْلُ اللّٰهِ حَتّٰی ماَتَ (کتاب کافی، قسم کاباب) راوی کہتا ہے کہ پھر رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس شخص سے بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ آنحضرت اس دنیا سے چل بسے ۔
یونس ابن ظبیان سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا(عَنِ الصَّادِقَ أنَّه قَالَ) یَایُوْنُسُ لاَ تَحْلِفْ بِالْبَرَآئةِ مِنّا صَادِ قًا اَوْ کَا ذِ بًا بَرِءَ مِنَّا (کتاب کافی ، قسم کا باب ) " اے یونس ہم سے بیزاری کی بات قسم میں استعمال مت کیا کرو ۔ جو شخص ہم سے بیزاری کی بات قسم میں استعمال کربیٹھتاہے، خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا،ہم سے بیزار ہوجاتا ہے!"
حرمت والی قسم کا کفّارہ
جو قسم حرام ہے، خصوصًا ایسی قسم جس میں مقدّس ہستیوں سے بیزاری کی بات کی گئی ہو، اس کا کفّارہ مجتہدین کے ایک گروہ نے ظہار کے کفارے کی مانندبتایا ہے۔ مجتہدین کے ایک اور گروہ نے اس کا کفّارہ نذر توڑنے کے کفّارے کی مانندبتایا ہے جوکہ ماہ رمضان کا روزہ توڑنے یانہ رکھنے کا کفّارہ ہے۔
(حوالہ ، شرائع الاسلام کتاب کفّارات)
البتہ شیخ مفیدفرماتے ہیں کہ اگر بیزاری والی قسم آدمی توڑبیٹھے تو اس کا کفّارہ دس غریبوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاناہے اور اس کے ساتھ توبہ بھی کرنا ہے۔ یہی فتویٰ حضرت امام حسن عسکری علیہ السَّلام کے ایک خط سے بھی ثابت ہوتا ہے جو کتاب مسالک میں تحریر ہے۔ امام علیہ السَّلام فرماتے ہیںیُطْعِمُ عَشْرَةَ مَسَاکِیْنَ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ مُدُّ وَیَسْتَغْفِرُاللهََ "وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے گا۔ ہر مسکین کو ایک مد طعام دے گا، اور خدا سے استغفار بھی کرے گا۔" ایک مد ایک سو چون مثقال کے برابر ہوتا ہے اور جو چودہ چھٹانک یا سات سو پچاس گرام (پونا کلو گرام) کا ہوتا ہے۔ اس میں آدمی گندم، آٹا، جَو، چاول، یا پکی پکائی کوئی بھی غذا دے سکتا ہے۔ مندرجہ بالا روایت کی سند صحیح ہے اس لئے احتیاط کو ترک نہیں کرنا چاہیئے۔
امام جعفر صادق اور منصور دوانیقی
ایک شخص عباسی بادشاہ منصور دوانیقی کے پاس گیا اور امام جعفر صادق کے خلاف اسے بھڑکانے لگا۔ اس نے کہا: " وہ چاہتے ہیں کہ آپ پر حملہ آور ہوں۔ انھوں نے اس کام کے لئے رقمیں ادھر اُدھر بھیجیں ہیں ۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ وہ عبدالله ابن حسن کے بیٹوں محمد اور ابراہیم کی مدد کرتے رہے ہیں جنھوں نے آپ پر حملہ کیا تھا!"
منصور نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام کو مدینے سے طلب کرلیا۔ جب امام علیہ السَّلام دربار میں پہنچے تو منصور نے وہ سُنی سُنائی بات نقل کرتے ہوئے امام علیہ السَّلام پر سخت نکتہ چینی کی۔ امام نے فرمایا: " میں ایسی باتوں سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ تمام باتیں جھوٹ اور تہمت ہیں۔" منصور نے امام علیہ السَّلام سے ایسی باتیں منسوب کرنے والے شخص کو طلب کر لیا اس ملعون نے اپنی کہی ہوئی تہمتیں دوبارہ دُھرادیں! امام علیہ السَّلام نے فرمایا " کیا اپنی باتوں پر تم قسم کھا سکتے ہو؟" اس ملعون نے قسم کھانی شروع کردیوَاللهِ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الطَّالِبُ الْغَالِبُ الحَیُّ الْقَیُّومُ حضرت نے بیچ میں اسے روک کر فرمایا: " قسم کھانے میں جلدی نہ کرو۔ بلکہ جیسا میں کہوں ویسی قسم کھاؤ!"
منصور نے پوچھا: " اس نے جو ابھی قسم کھائی ہے کیا اس میں کوئی نقص ہے؟"
امام علیہ السَّلام نے جواب دیا "جب خدا کی قسم کھاتے ہوئے آدمی خدا کی تعریف کر بیٹھتا ہے تو خدا فوری عذاب نازل کرنے سے رک جاتا ہے ۔ پس اسے کچھ یوں قسم کھانی چاہیئے:اُبَّرِءُ مِنْ حَوْلِ اللهِ وَقُوَّتِه وَاَلْجَاُاِلیٰ حَوْلِیْ وَقُوَّتِیْ اِنِّی لَصَادِقُ فِیْمَا اَقُوْلُ " (شیخ طوسی کی کتاب امالی اور کتاب منہج الدّعوات)
یعنی " میں خدا کی طاقت و قوت سے بیزاری اختیار کرتا ہوں اور اپنی ہی طاقت و قوت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سچ کہہ رہا ہوں!"
منصور نے اس شخص کو حکم دیا کہ اسی طرح قسم کھائے۔ ابھی اس نے پوری قسم نہیں کھائی تھی کہ اس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل کر لٹک گئی اور وہ اسی وقت واصلِ جہنم ہوا!
کیا یہ بات حرمت والی قسم کے خلاف ہے؟
اس روایت سے ہو سکتا ہے کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ بیزاری والی قسم کھانا صحیح ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ محقق قمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک تو اس روایت کی سند ضعیف ہے، دوسرے یہ کہ ایسی قسم کھلوانا شاید صرف امام علیہ السَّلام کے لئے جائز ہو۔ امام علیہ السَّلام جانتے تھے کہ قسم کھانے والا شخص مومن نہیں ہے بلکہ اہلِ بیت علیہم السَّلام کا دشمن ہے اور خود کو بری الزمہ ثابت کرنے کے لئے ایسا ضروری تھا۔ (کتاب جامع االشّتات صفحہ ۷۴۴)
محقق کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام علیہ السَّلام اس ملعون کو ہلاکت کا مستحق سمجھتے تھے اور اس کی ہلاکت بیزاری والی قسم کھانے ہی پر منحصر تھی اور ضروری تھی تاکہ مقام امامت کی توہین نہ ہو اور تاکہ امام علیہ السَّلام منصور کے ہاتھوں قتل ہونے سے محفوظ رہیں۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ منصور سادات اور مومنین کے قتل سے بھی وقتی طور باز آگیا تھا۔
جھوٹی قسم سے توبہ
اگر آدمی ماضی یا حال کی کسی بات پر جھوٹی قسم کھا بیٹھے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ آدمی اپنے کہے پر سخت پشیمان ہو۔ یہ جان لے کہ اس نے خداوندِ عالم کے نامِ مبارک کو کھلونا سمجھ رکھا تھا اور ایک گناہ کر بیٹھا تھا۔ جس قدر آدمی پشیمان ہوگا، اپنے گناہ کو بڑا سمجھے گا اور استغفار کرے گا اتنا ہی وہ خدا کی رحمت و مغفرت سے نزدیک ہوتا جائے گا۔ اگر جھوٹی قسم کھانے کے باعث کسی مسلمان کو مالی نقصان پہنچا ہو یا اس کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہو تو جھوٹی قسم کھانے والے شخص کو چاہیئے کہ وہ مالی نقصان کو پورا کر دے، مظلوم شخص سے معافی مانگ لے اور جس طرح بھی ہوتلافی کرے۔
قسم کب صحیح ہوگی؟
اگر آدمی یہ قسم کھائے کہ وہ مستقبل میں فلاں کام انجام دیتا رہے گا یا فلاں کام نہیں کرے گا تو اس کے صحیح ہونے کی کچھ شرطیں ہیں۔ اگر ان شرطوں پر قسم پوری اترتی ہو تو ایسی قسم توڑنا حرام ہے اور توڑنے کی صورت میں کفارہ دینا واجب ہے۔ ایسی قسم کی کچھ شرطیں ہیں جو یہ ہیں:
( ۱) جس کام کی قسم آدمی کھائے وہ واجب یا مستحب ہونا چاہئیے۔ مثلاً آدمی یہ قسم کھا سکتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر صبح کی نماز قضا نہیں کرے گا یا نمازِ شب ترک نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی کام چھوڑ دینے کی آدمی قسم کھائے تو وہ کام حرام یا مکروہ ہونا چاہیئے۔ مثلاً آدمی یہ قسم کھا سکتا ہے کہ وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ یا مسجد میں نہیں تھوکے گا۔ کسی مباح کام کو ترک کرنے کی قسم اس وقت صحیح ہے جب اس کا کوئی معقول فائدہ ہو۔ مثلاً سگریٹ پینا مباح ہے اور آدمی سگریٹ کی عادت ترک کرنے کے لئے قسم کھا سکتا ہے۔
( ۲) واجب ، مستحب، حرام، مکروہ یا مباح، ان پانچوں احکام والے کاموں کی قسم اس وقت درست ہے جب کہ خدا کا نام زبان سے لیا جائے ، اور کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عزم ہو، محض کھیل کھیل میں خدا کی قسم آدمی نہ کھائے۔ آدمی اپنی عادت کے تحت اگر کہے کہ والله میں ایسا کام کر بیٹھوں گا یا خدا کی قسم میں ایسا بُرا کام نہیں کروں گا اور واقعی اس کا عزم ایسا ہو تو وہ قسم میں نافذ ہو جاتی ہے، ورنہ نہیں۔ ارشاد ہے:
( لاٰ یُوٰاخِذُکُمُ اللهُ با لِلَّغُوِ فِی اَیْمٰانِکُمْ وَلِکٰن یُّوٰاخِذُکُمْ بِمٰا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمٰانَ فَکَفّٰارً تُهُ اِطْعٰامُ عَشَرَةِ مَسٰاکِیْنَ مِنْ اَوسَطِ مٰا تُطْعِمُوْنَ اَوْ کٍسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْدُ رَقَبَةِ فَمَنْ لَّمْ یَجِدُ فَصیٰامُ ثَلٰثَةِ اَیّٰامٍ ذٰالِکَ کَفّٰارَةُ اَیْمٰانُکُمْ اِذٰا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوْا اَیْمٰا نُکُم کَذٰا لِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُم اٰیٰا تِه لَعَلَّکُم تَشْکُرُوْنَ ) (سورئہ مائدہ ۵: آیت ۸۹)
یعنی " خدا تم کو بیکار قسموں کے کھانے پر تو (خیر) گرفت نہ کرے گا، مگر بالقصد پکی قسم کھانے ( اور اس کے خلاف کرنے پر) تو ضرور تمہاری گرفت کرے گا۔ (اور سنو) اس کا جرمانہ جیسا کہ تم خود اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو، اسی قسم کا اوسط درجہ کا دس محتاجوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ پھر جس سے یہ سب نہ ہو سکے تو تین دن کے روزے (رکھنا) یہ تو تمہاری قسموں کا جرمانہ ہے۔ جب تم قسم کھاؤ اور پوری نہ کرو۔ اور اپنی قسموں کے پوری کرنے کا خیال رکھو۔ خدا اپنے احکام کو تمہارے واسطے یوں صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔"
بے کار کام کی قسم
گزشتہ بیان سے معلوم ہوا کہ ایسی ہی قسم شرعی ہے اور نافذ ہے جس میں کوئی عقلی یا شرعی فائدہ موجود ہو۔ پس ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جاسکتی ہے جس کے کرنے میں رجحان ہو یا جو واجب یا مستحب ہو۔ اسی طرح اگر آدمی کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھائے تو اس کے نہ کرنے میں کوئی عقلی رجحان ہونا چاہیئے یا وہ نا پسندیدہ کام مکروہ یا حرام ہونا چاہئیے۔ اس بناء پر لغو اور بے پردہ بات پر قسم کھا لینا خود لغو اور بے ہودہ ہے۔ ایسی قسم شرعی نہیں ہے اور نافذ نہیں ہوتی۔ پس بیہودہ قسم نہیں کھانی چاہیئے۔ خواہ وہ عقلی طور پر بے ہودہ ہو یا شرعی طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آدمی واجب یا مستحب کام کو ترک کر دینے کی، یا حرام اور مکروہ کو انجام دینے کی قسم کھائے تو یہ قسم لغو ہے۔
پس اگر آدمی استطاعت رکھنے کے باوجود حج پر نہ جانے کی، اپنے عیال کو خرچ نہ دینے کی، اپنی ماں سے یا کسی اور رشتہ دار یا مومن سے بات چیت بند کر دینے کی یا اپنے رشتہ داروں سے صلئہ رحمی نہ کرنے کی، یا دو آمیوں کے درمیان آئندہ جھگڑا دور نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے تو ایسی قسم شرعی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ آدمی کو چاہئیے کہ اگر ایسی کوئی قسم کھا بیٹھا ہو تو استغفار کرے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:
اِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ عَلٰی شَیً وَالَّذِیْ حُلِفَ اِتْیَانُهُ خَیْرُ مِّنْ تَرْکِه فَلْیَاتِ الّذِیْ هُوَ خَیْرُ " اگر آدمی کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے ، حالانکہ وہ کام ایسا ہو جسے کرنا نہ کرنے سے بہتر ہو تو اسے چاہیئے کہ ایسا کام ضرور کرے جو بہتر ہے۔"وَلَا کَفَّارَةَ عَلَیْهِ وَاِنَّمَا ذٰلِکَ مِنْ خَطُوٰاتِ الشَّیْطَانِ (کافی قسم کا باب)
"ایسی قسم توڑنے کا اس پر کوئی کفارہ بھی نہیں ہے۔ یہ تو صرف شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ ہے۔"
اس حدیث سے اور اس جیسی دیگر احادیث سے اگرچہ یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ لغو کام یعنی نا معقول یا غیر شرعی کام پر قسم نافذ نہیں ہوتی اور اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ لیکن مشہور مجتہدین نے فرمایا ہے کہ مباح کام میں بھی قسم نافذ ہو جاتی ہے۔ پس اگر کوئی آدمی مباح کام کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے اور اس میں کوئی عقلی فائدہ بھی نظر نہ آتا ہو۔ تب بھی اسے احتیاط کرنی چاہیئے۔ ایسی قسم توڑنے سے پرہیز کرنا چاہئیے اور اگر توڑ بیٹھے تو احتیاطاً اس کا کفّارہ بھی ادا کار دینا چاہیئے۔ مشہور مجتہدین کے فتوے کے مطابق مباح کام پر قسم کھا لینے سے وہ واجب بن جاتا ہے۔ پس اس سلسلے میں احتیاط ہی بہتر ہے۔
سعیداعرج نامی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایسا کام کرنے کی قسم کھا لی ہے، حالانکہ جس کا نہ کرنا بہتر ہے اور اب وہ قسم توڑنے سے بھی ڈر رہا ہے۔ امام علیہ السَّلام نے فرمایااَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللهِ "کیا تم نے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا یہ قول نہیں سُنا کہ"اِذَارَأَیْتَ خَیْراً مِنْ یَمِیْنِکَ فَدَعْهَا (کتابِ "کافی") "جب بھی تم دیکھو کہ تمہاری قسم کے خلاف کام کرنا بہتر ہے تو ایسی قسم کی پرواہ نہ کرو۔" اور چھوڑ دو۔"
قسم کی قسمیں
کتاب کافی ہی میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:
قسم کی تین قسمیں ہیں:
( ۱) ایسی قسم جس کے سبب سے جہنم واجب ہو جاتا ہے۔
( ۲) ایسی قسم جس کے سبب سے کفّارہ واجب ہو جاتا ہے۔
( ۳) اور ایسی قسم جو نہ جہنم کی موجب ہے اور نہ کفّارے کی موجب ہے۔ جس قسم کے کھانے سے جہنم واجب ہو جاتا ہے وہ جھوٹی قسم ہے۔ ایسی جھوٹی قسم ہے جس سے دوسرے مسلمان کو مالی نقصان یا زحمت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جیسے یمین غموس (یعنی جھوٹی قسم جو ارادة کھائی جائے۔ کہا جاتا ہے)
جس قسم کے کھانے سے کفارہ واجب ہو جاتا ہے وہ کارِ خیر کو بجا لانے یا بُرے کام کو چھوڑ دینے کی قسم ہے۔ ایسی قسم اگر آدمی توڑ دے تو کفارہ واجب ہے۔ کفّارے کے ساتھ ساتھ توبہ اور پشیمانی بھی واجب ہے۔ اور جس قسم کے کھانے سے نہ جہنم واجب ہوتا ہے اور نہ کفّارہ واجب ہوتا ہے وہ قطعِ رحمی کرنے کی قسم ہے جو زبردستی حاکم، والدین یا شریکِ زندگی کے سامنے آدمی کو کھانی پڑی ہو۔ اس نوع میں ہر ایک ایسی قسم شامل ہے جو کسی حرام کام کے انجام دینے یا کسی واجب کام کے ترک کرنے پر کھائی گئی ہو۔" مزید تفصیلات کے لئے بڑی فقہی کتابیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں
جھوٹی گواہی
انیسواں ایسا گناہ جس کے کبیرہ ہونے کی صراحت موجود ہے، جھوٹی گواہی دے دینا ہے۔ حضرت عبدلعظیم نے امام تقی علیہ السَّلام سے جو روایت نقل فرمائی ہے اس سے بھی یہی بات ثابت ہے۔ فضل ابن شاذان نے امام علی رضا علیہ السَّلام سے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔ اور اعمش نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے گناہانِ کبیرہ کی جو فہرست حاصل کی ہے اس سے بھی جھوٹی گواہی کا گناہِ کبیرہ ہونا ثابت ہے۔ جھوٹ کے موضوع میں پہلے ہی ذکر ہوچکا ہے کہ جھوٹ ایک گناہِ کبیرہ ہے اور اسی کی ایک شاخ جھوٹی گواہی ہے۔
حضرت عبدالعظیم نے جو صحیح روایت نقل فرمائی ہے اس میں امام علیہ السَّلام نے جھوٹی گواہی کے گناہِ کبیرہ ہونے کی دلیل کے طور پر مندرجہ ذیل آیت بیان فرمائی تھی: وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْن الزُّوْر (سورئہ فرقان ۲۵: آیت ۷۲) یعنی "اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے (ایسے ہی لوگوں کی جزاء جنت کے اعلیٰ درجات ہیں)" اس آیت میں لفظ "ذُوْر" کے معنٰی ہے۔ "باطل کو حق ظاہر کرنا"
ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ
"( فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُواقَوْلَ الزُّورِ ) (سورئہ حج ۲۲: آیت ۳۰)
یعنی" بتوں کی پرستش سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچو۔"
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں: عَدَلَتْ شَھَادَةُ الزُّوْرِ الشِّرْکَ بِاللهِ " جھوٹی گواہی دینا کسی کو خدا کا شریک قرار دیے دینے کے برابر ہے!" تفسیر ابوالفتح رازی میں لکھا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے یہ جملہ مسلسل تین مرتبہ ارشاد فرمایا اور پھر یہ (سورئہ حج ۲۲: آیت ۳۰ والی) آیت تلاوت فرمائی۔
ایسی ہی مستدرک الوسائل میں حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام سے بھی حدیث منسوب ہے کہ : خداوند تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جھوٹی گواہی کو شرک کے مساوی قرار دیا ہے!" یعنی بتوں سے پرہیز کرنے کے بیان کے ساتھ ہی جھوٹ اور جھوٹی گواہی سے بھی پرہیز کا حکم آیا ہے۔
"قولِ زور" سے مراد غنا اور جھوٹ
ابھی جو روایتیں ذکر ہوئی ہیں ، اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید میں جہاں لفظِ "زُور" آیا ہے، اس سے مراد "جھوٹ" ہے۔ جب کہ ایسی ہی آیتیں غنا اور گانے کے موضوع میں بھی آچکی ہیں اور لفظ "زور" کے معنی بعض روایتوں کی رو سے غنا یا گانے بجانے کے بھی ہیں۔ ان دونوں قسموں کی روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ دراصل لفظ "زور" ہر باطل اور ناپسندیدہ چیز کو کہتے ہیں۔ اور ان میں سرِ فہرست گانے بجانے کے علاوہ جھوٹ اور جھوٹی گواہی بھی ہے۔
جھوٹی گواہی دینے والے پر عذابِ جہنم
حضرت امام با محمد باقر علیہ السَّلام کا ارشاد ہے:مَا مِنْ رَجُلٍ یَّشْهَدُ بِشَهَادَةِ ذُوْرٍ عَلیٰ مَالِ رَجُلٍ مُّسْلِمٍ لِیَقْطَعَهُ اِلَّا کَتَبَ اللهُ لَهُ مَکَانَهُ صَکاًّ اِلَی النَّارِ (کتابِ کافی) "جب کوئی شخص کسی مسلمان آدمی کا مال اس سے چھین لینے کے لئے جھوٹی گواہی دیتا ہے تو خدا اُسی وقت اس جھوٹی گواہی دینے والے کے لئے سخت شعلوں والی آگ کا عذاب لکھ دیتا ہے!"
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:شَاهِدُ الزُّوْرِ لَا تَزُوْلُ قَدَمَاهُ حَتَّی تَجِبَ لَهُ النَّارُ (کتاب "کافی") "جھوٹی گواہی دینے والا آدمی ایسی گواہی دینے کے بعد اپنی جگہ سے قدم نہیں بڑھا پاتا کہ اس پر جہنم واجب ہو جاتا ہے۔"
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ لَا یَنْقَضِی کَلَامُ شَاهِدِ الزُّوْرِ مِنْ بَیْنِ یَدَیِ الْحَاکِم حَتَّی یَتَبَوَّءَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ (کتاب "کافی") حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: حاکم کے سامنے جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی ابھی پوری بھی نہیں ہوتی کہ اس کا ٹھکانا جہنم میں طے پاجاتا ہے۔"
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے کہ(قَالَ) مَنْ شَهِدَ شَهَادَةَ زُوْرٍ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ عُلِّقَ بِلِسَانِه مَعَ الْمُنَا فِقیْنَ فِیْ الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنْ النَّارِ "کسی بھی انسان کے خلاف جو شخص جھوٹی گواہی دے گا اسے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں منافقوں کے ساتھ اس کی زبان سے لٹکا دیا جائے گا۔" وَمن حَبسَ مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ شَیْاً مِّنْ حَقِّہ حَرَّمَ اللهُ عَلَیْہِ بَرَکَةَ الرِّزقِ اِلَّا اَنْ یَّتُوْبَ (وسائل الشیعہ) "اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا کوئی حق ضبط کرے گا تو خدائے تعالیٰ اس وقت تک اس کے رزق سے برکت ہٹا لے گا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔"
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ حدیث نقل فرماتے ہیں کہ( عَنْ اَبیْ جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ) مَنْ کَتَمَ شَهَادَةً اَوْشَهِدَ بِهَا لِیَهْدِ رَبِهَادَمُ امْرِءٍ مُّسْلِمٍ اَوْ لِیَزْوِیَ بِهَا مَالَ امْرِءٍ مُّسْلِمٍ اَتیٰ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَلِوَجْهِه ظَلَمَةُ مَدَّ البَصَرِ وَفِیْ وَجْهِه کُدُوْحُ تَعْرِفُهُ الْخَلائِقُ بِاسْمِه وَنَسَبِه (وسائل الشیعہ، گواہی کے ابواب ، باب ۲) یعنی "جو شخص شرعی حاکم کے سامنے گواہی چھپائے گا یا کسی مسلمان آدمی کا خون بہانے یا اس کا مال چھین لینے کی نیت سے جھوٹی گواہی دے گا وہ قیامت کے دن اس حال میں محشور ہوگا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے حدِّ نگاہ تک اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا اور اس کے چہرے پر خراشیں لگی ہوں گی اور لوگ اُسے اس نام اور نسب سے پہچانیں گے۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہی کا یہ ارشاد ہے (قَالَ) اَلَآ اُنَبِّئکُمْ بِاَلْبَرِ الْکبائِرِ؟ کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہِ کبیرہ بتاؤں؟" قُلْنابَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللهِ اصحاب کہتے ہیں کہ ہم نے کہا "کیوں نہیں اے الله کے رسول!" قَالَ اَلْاِشْرَاکُ بِااللهِ تعالیٰ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ "خدائے تعالیٰ کا کسی کو شریک قرار دے دینا اور والدین کے ہاتھوں عاق ہو جانا" وَکَانَ مُتّکِاً فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) آرام سے ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ اٹھ بیٹھے اور فرمایا:اَلَا وَقَوْلُ الزُّوْرِ "آگاہ ہوجاؤ اور ہر جھوٹی بات بھی سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے!"
راوی کہتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جھوٹ کی مذمت میں اتنی بار تاکید کی تھی کہ ہم سوچتے تھے کہ اے کاش وہ اتنی تاکید نہ فرماتے۔ (مستدرک الوسائل)
ظاہر ہے قَوْل زُوْر میں یا ہر جھوٹی بات میں جھوٹی گواہی بھی شامل ہے اور رسولِ خدا نے اسے ایک سب سے بڑے گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے۔ ایک تو خود جھوٹ گناہِ کبیرہ ہے۔ دوسرے ایک مسلمان پر بہتان بھی جھوٹی گواہی میں ہوتا ہے۔ بہتان بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ تیسرے یہ کہ جھوٹی گواہی کی بنیاد پر کسی مظلوم پر ظلم ہو جاتا ہے اور ظلم خود ایک گناہِ کبیرہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہے کہ جھوٹی گواہی کے ذریعے آدمی نا جائز مال کو اپنے لئے ظاہری طور پر جائز ثابت کرنا چاہتا ہے۔ حرام خدا کو حلال ظاہر کرنا خود ایک گناہِ کبیرہ ہے، اور دوسروں کا حق غضب کرنا بھی ایک گناہِ کبیرہ ہے۔ بہر حال بات سمجھ میں آتی ہے کہ جھوٹی گواہی اس لئے ایک سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے کہ یہ کئی گناہانِ کبیرہ کا مجموعہ ہے۔
کسی چیز کا علم ہونے کے بعد گواہی دی جائے
جھوٹی گواہی دینے کے سلسلے میں فرق نہیں ہے کہ آدمی جھوٹ کو جھوٹ جانتے ہوئے جھوٹی گواہی دے یا بغیر یقین کے یونہی گواہی دے ڈالے جو حقیقت میں جھوٹی ہو۔ یہ بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ آدمی پر واجب ہے کہ وہ اس وقت گواہی نہ دے جب تک اسے اپنے سچّا ہونے کا یقین نہ ہو۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں :لَا تَشْهَدْ بِشَهَادَةٍ حَتَّی تَعْرِفَهَا کَمَا تَعْرِفُ کَفَّکَ (وسائل الشیعہ) " اس وقت تک کوئی گواہی مت دو جب تک کہ تمہیں اس کے بارے میں ایسا یقین حاصل نہ ہو جیسا یقین تمہیں اپنی ہتھیلی کے وجود کے بارے میں ہے۔"
وَقَالَ النَّبِیُّ لِمَنْ سَأَلَهُ عَنِ الشَّهَادَةِ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے گواہی دینے یا نہ دینے کے بارے میں پوچھا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: تَرَی الشَّمْسَ؟ "کیا تم سورج کو دیکھ رہے ہو؟ " قَالَ نَعَمْ اس شخص نے عرض کیا "جی ہاں!" فَقَالَ پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:اَلَا مِثْلِهَا فَشْهَدْ اَوْدَعْ (وسائل الشیعہ ، گواہی کے ابواب ، باب ۲۰)" ایسی سورج کی سی گواہی دے دیاکرو، اور اگر ایسا آنکھوں دیکھایا اس جیسا یقین نہ ہوتو گواہی مت دو"
اور حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کا ارشاد ہے :لَیُودِّ الشَّا هِدُ مَا یَشْهَدْ عَلَیْه وَلْیَتّقِ اللّٰهَ رَبَّه فَمَنِ الزُّوْرِاَنْ عَّشْهَدَ الرَّجُلُ بِمَا لَا یَعْلَمُ اَوْ یُنْکِرَمَا یَعْلَمُ "گواہ کو صرف وہی گواہی دینی چاہیئے جو وہ یقین سے جانتا ہو۔ اسے اپنے پروگرام یعنی الله سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔ زُوْر (جھوٹی بات) یہ بھی ہے کہ آدمی یقین کے بغیر ہی گواہی دے ڈالے یا ایک چیز کایقین ہے مگر وہ اس سے انکا ر کربیٹھے ۔"وَقَدْ قَالَ اللّٰهُ عَزَّوجَلَّ وَاجْتَنِبُواْ قُوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِه " خدائے عزّوجل فرماتا ہے کہ ہر جھوٹی بات سے پرہیز کرو ۔خداکی خاطر خود کو برائیوں سے پاک رکھو اور شرک نہ کرو۔" فَعَدَلَ تَبَرَکَ اسْمُہ شَھَا دَةَ الزُّوْرِ بِا لشِرْکِ(مستدرک الوسائل) " پس خدا ونِد تعالیٰ نے جھوٹی گواہی کو شرک کے ہم پلہ قرار دے دیا ہے!"
جھوٹی گوا ہی دینے والے کی رسوائی
ہوتا یہ ہے کہ شرعی حاکم کے پاس اگر گواہ اپنی گواہی کے جھوٹے ہونے کا اقرار کر بیٹھے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا اس نے جان بوجھ کر جھوٹ کو جھوٹ سمجھتے ہوئے گواہی دی تھی یا نہیں۔ اگر اس نے عمداً جھوٹی گواہی دی تھی تو اس کوفاسق قرار دے دیا جاتا ہے ۔ لیکن اگر خطا اور اشتباہ کا احتمال ہو تو گواہ کو فاسق شمار نہیں کیا جاتا۔ یعنی بعد میں بھی اس کی گواہی قابل ِقبول نہیں رہتی ۔ خواہ گواہ فاسق شمار ہویا نہ ہو، دونوں صورتوں میں اگر اس کی تلافی کرنا گواہ پر واجب ہوجاتا ہے ۔ مزید تفصیلات فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
گواہی کے جھوٹے ثابت ہونیکا ایک طریقہ خود اقرار ہے یعنی گواہ اپنی گواہی کے جھوٹا ہونے کا اقرار کرے۔ گواہی کے جھوٹے ثابت ہونے کا دوسرا طریقہ بَیِّنہ کہلاتا ہے۔ یعنی دو عادل آدمی گواہ کے خلاف گواہی دیں تو بھی گواہی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں کے علاوہ بھی گواہ کو جھوٹا قرار دینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ شرعی حاکم کو کسی بنیاد پر یقین ہوجائے کہ گواہ نے دھوکہ کیا ہے اور جھوٹبولا ہے۔ پس اپنے یقین کی بنیاد پر حاکمِ شرع گواہ کو مستر دکردے گا۔ اگر جھوٹی گواہی کی وجہ سے کسی کو نقصان ہوا ہے تو گواہ سے اس کا عوض دلوائے گا، اور گواہ کو تعزیر کرے گا۔ یعنی ڈانٹے گایا جس حد تک مصلحت ہو کوڑے مارے گا تاکہ آئندہ وہ جھوٹی گواہی سے بازرہے۔ حاکمِ شرع والا ہے تاکہ کوئی شخص اس کی گواہی سے دھوکہ نہ کھائے اور کسی سلسلے میں اس پراعتماد نہ کرے ۔ اس طرح جوٹی گواہی دینے والا شخص معاشرے میں رسوا ہوکر رہ جاتا ہے اور اس طرح معاشرے کا نظام محفوظ ہوجاتاہے ۔ تعزیر اور گواہ کے خلاف اعلان عام دونوں صورتوں میں ہوتا ہے خواہ اس کی گواہی کی بنیاد پر حاکم شرع حکم سُنا چکا ہو یا نہیں۔
ان کی گواہی کو کبھی قبول نہ کیا جائے
حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلَّام فرماتے ہیں :اِنَّ شُهُوْ دَ الزُّوْرِ یُجْلَدُوْنَ جَلْدًا لَیْسَ لُه وَقْتُ ذٰلِکَ اِ لَی الِاْ مَامِ وَیُطَافُ بِهِمْ حَتَّی یَعْرِ فَهْمُ النّاسُ " جھوٹی گواہی دینے والوں کو ڑے لگائے جانے چاہئیں، اور کوڑوں کی تعداد معین کرنا امام علیہ السَّلام (یا حاکِم شرع) کی مرضی پر ہے اور جھوٹی گواہی دنے والوں کو شہر میں گھمایا جانا چاہیئے تاکہ لوگ ان کو اچھی طرح پہچان لیں (اور آئندہ ان پر بھروسہ نہ کریں ") پھر امام علیہ السَّلام نے یہ آیت شریفہ کی تلاوت فرمائی :( وَلَا تَقْبَلُ لَهُمْ سُهَا دَةً اَبدًا وَ اُولٓئِکَ هُمْ الْفَا سِقُوْنَ اِلّاَ الَّذِیْنَ تَابُوْا ) (سورئہ نور اایت نمبر ۴) اور پھر آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور یا د رکھو کہ یہ لوگ فاسق ہیں ، ہاں مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کرلی " (تو خدا بڑا مہربان ہے یعنی توبہ اور اصلاح کے بعد ان کی گواہی پھر قابلِ قبول ہے۔ ) روای کہتا ہے کہ قُلْتُ میں نے امام علیہ السَّلام سے دریافت کیا بِمَ یُعْرَفُ تَوْبَتُہ؟ "کس طرح معلوم ہوگا کہ اس نے توبہ کرلی ہے؟"قَالَ یُکَذِّبُ نَفْسَه عَلٰی رُوسِ الَا شُهَارِ حَیْثُ یُضْرَبُ وَیَسْتَغْفِرُ رَبَّه فَاِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ فَثَمَّ ظَهَرَتْ تُوْبَتُه (وسائل الشیعہ ) " جس جگہ پر اس کو تعزیر کے سلسلے میں کڑے لگائے گئے ہوں وہیں وہ گواہوں کے مجمع کے سامنے اپنی گواہی کو جھوٹا قرار دے اور اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اس طرح اس کی توبہ ظاہر ہوجائے گی۔
خسا رے کو پورا کرے
اگر جھوٹی گواہی کی وجہ سے کسی مسلمان کی جان مال یا عزت کا نقصان ہو ہو تو خود جھوٹے گواہ سے قصاص لیا جاتا ہے اور نقصان کی تلافی کی جاتی ہے ۔ جمیل نامی راوی حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السَّلام سے جھوٹی گواہی دینے والے شخص کے بارے میں یہ صحیح روایت نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا(قَالَ) اِنْ کاَنَ الشَّیْی قَآئِمًا بِعَیْنِه رَوَّ عَلٰٰٰی صَاحِِبِه، وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ ضَمِنِ بِقَدْرِ مَآاَتْلَفَ مِنْ مَّالِ الرّجُلِ (کتاب مسالک ) یعنی " اگر چیز بعینہ باقی ہے تو اس ے مالک کو واپس لوٹادے ۔ اور اگر چیز باقی نہیں ہے تو جس حد تک اس نے دوسرے آدمی کا مال تلف کیا ہے اُس حد تک وہ (جھوٹاگواہ) ضامن ہے۔" یعنی وہ اسی جیسی دوسری چیز اصل مالک کو لا کردے گا یا اس کی قیمت ادا کریگا ۔ مزید معلومات کے لئے فقہی کتابو ں کا مطالعہ کیا جائے۔
اسِ گناہ سے توبہ
جھوٹی گواہی جِسے گناہِ کبیر ہ کی توبہ کا طریقہ بھی معلوم ہوگیا ۔ توبہ کرنے کے لئے ، خواہ وہ کسی گناہ کی ہو، آدمی کواپنے کئے پر پہلے سخت پشیمان ہوجانا چاہیئے۔ پروردگار سے اس کے حکم کی مخالفت پر استغفا ر کرنا چاہیئے، اور جس مسلمان کونقصان پہنچاہو۔ اس کی تلافی کردے۔ خدا وندِ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔( اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُورُ رِّحَیمُ ) (سورئہ نور ۲۴: آیت ۵)
ہاں مگر جو لوگ توبہ کر لیتے ہیں اور اپنی اصلاح کرلیتے ہیں (یامعاملے کی اصلاح کرلیتے ہیں اورتلافی کردیتے ہیں) تو خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان
سچی گواہی سے اجتناب
بیسواں گناہِ کبیرہ یہ ہے کہ ٓادمی شرعی عدالت میں اپنی سچی گواہی دینے سے اجتناب کرے۔ حضرت عبدالعظیم نے امام محمد علیہ السَّلام سے جو صیح روایت نقل فرمائی ہے، اُس میں صاف طور پر اِسے بھی گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے ۔ حق کو حق ثابت کرنے اور باطل کو باطل ثابت کرنے کے لئے کچھ شرطوں کی موجودگی میں جوبیان ہوں گی، گواہی دینا واجب ہوجاتا ہے۔ مذکورہ صحیح روایت میں حضرت امام محمد تقی علیہ السَّلام گواہی چھپانے کے گناہِ کبیرہ ہونے کی دلیل کے طور پر یہ آیت پیش کرتے ہیں:( وَلَا تَکُتُمُواالشَّهَادَةَ وَمَنْ یَّکْتُمْهَا فَاِنَّه اٰ ثِمُ قَلْبُه وَاللّٰهُ بِمَاتَعْلَمُوْنَ عَلِیْمُ ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۲۸۳) " اور تم گواہی کو نہ چھپایا کرو ۔ جو شخص گواہی کو چھپائے گا بیشک اس کا دل گنہگار ہے اور جو تم لوگ کرتے ہو خدا اس کو خوب جانتا ہے۔"
اس آیت شریفہ میں آثِمُ قَلْبہ کہاگیا ہے اور دل کو گنہگار بتایا گیا ہے۔ اس میں دونکتے ہیں ۔ایک تو یہ کہ گواہی چھپانا ایک قلبی گناہ ہے، یعنی ایسا گناہ ہے ، جودل کرتا ہے اور اس میں اعضاء وجوارح براہِ راست کچھ نہیں کرتے ۔ آدمی دِل میں حقیقت کو چھپالیتا ہے اورزبان سے ظاہر نہیں کرتا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جس حد تک دل کو جسم کے تمام اعضاء وجوارح پر فضیلت حاصل ہے،اسی حد تک دِل کا گناہ بھی اعضاء وجوارح کے گناہ سے زیادہ بڑا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے دل کی اِطاعتِ خدا، اُس اطاعت سے کہیں افضل ہے جو اعضاء وجوارح کے ذریعے ہوتی ہے ۔ یہ دِل ہی ہے جو آدمی کو شرک جیسے سب سے بڑے گناہ میں آلودہ کردیتا ہے۔ دِل کے گناہ، بہرحال اعضاء وجوارح کے گناہ سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں ۔ دِل کے انہی گناہوں میں سے ایک اسی آیت شریفہ کی رو سے شرعی عدالت میں گواہی کو چھپانا ہے۔ اسی آیت کے آخر میں مزید تاکید کرتے ہوئے خدا فرماتا ہے کہ وَاللّٰہُ بِمَاتَعْلُمَوْنَ عَلِیْمُ یعنی خواہ وہ لوگ تمہارے دِل کے اس گناہ کو نہ جانیں، لیکن خدا تو اچھی طر ح جانتاہے اور وہ ضرور اس کی سزادے گا۔
خداونِدتعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے( وَلَایَأْبَ الشْهْدَآءُ اِذَامَا دُعُوْا ) ۔ (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۲۸۲) " اورجب گواہوں کو گواہی کے لیے بلایا جائے تو ان کو انکا ر نہیں کرنا چاہیئے "۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ارشاد ہے( وَمَنْ اَظِلَمَ مِمَّنْ کَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَه مِنَ اللّٰهِ ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۱۴۰) " اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس کے پاس خدا کی طرف داری میں گواہی موجود ہو لیکن وہ اس گواہی کو چھپادے!" ایسا شخص یقیناً ان اہلِ کتاب کی طرح سے ہے جنھوں نے توریت اور انجیل میں پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفٰے کے اوصاف پڑھ لئے تھے مگر اس کے باوجودان کو چھپالیا تھا!
سچّی گواہی دیجئے ، خواہ آپ کو نقصان ہو
سورئہ نساء میں خدا ونِد تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( یاَ اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنَوْ کُوْنُواقَوّٰمِیْنَ بِالْقِسطِ شَهَدآءَ لِلّٰهِ وَلَوْعَلٰٓی اَنْفُسِکُْمْ اُوِالْوَالَّدِیْنََ وَالْاَقْرَبِیْنَ اِن یَّکُنْ غَنِیًّااَوْفَقِیْرًافَاللّٰهُ اَوْلٰی بِهِمَا، فَلَا تَبِتَّعُوالْهَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُواْ وَاِنْ تَلْوآ اَوْتُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰه کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ) (سورئہ نسا ء ۴: آیت ۱۳۵)" اے ایمان والو ! مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور سچّی گواہی دوا گرچہ یہ گواہی خود تمہارے ،ماں باپ یا قرابت داروں کے لئے مضر ہی کیوں نہ ہو۔ خواہ مالدار ہو یا غریب، ہر شخص کوسّچی گواہی دینی چاہیئے۔خدا تم سے زیادہ دوسروں پر مہربان ہے۔ پس تم حق سے کترانے میں نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم گواہی گھما پھر اکے دوگے، گول مول بات کرو گے یا گواہی دینے سے بالکل انکا ر کردو گے تو یادر ہے کہ خدا تمہارے کرتوتوں سے بخوبی واقف ہے۔" پس آدمی کو دولت مندوں سے ڈرکر یا غریبوں پر رحم کھانے کے عنوان سے بھی گواہی نہیں چھپانی چاہیئے یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ بچارے غریب کے خلاف گواہی دے دی تو اس کا کیا بنے گا ۔ پس گواہی کے سلسلے میں نہ تو اپنی ذاتی مصلحت مِدنظر رکھنی چاہئیے اور نہ ہی دوسروں کی منفعت کا لحاظ کرنا چاہیئے۔ ہرحال میں پس حکمِ خداوندی کو مدِّ نظر رکھنا چاہیئے۔
دشمن کے حق میں بھی انصاف
سورئہ مائدہ میں ارشاد ہے:( یَا ایُّهَالّذِیْنَ اَمَنُوْاکُوْنُوْ آقَوَّمِیْنَ لِلّٰهِ شَهَدَآءَ بَالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلیٰٓ اَلَّا تَعْدِ لُوْا، اِعْدِلُوْا هُوْ اَقْرَبُ لِتَّقْوٰی وَاتَّقُو اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) (سورئہ مائدہ ۵: آیت ۸) "
اے ایمان لانے ولاو!خدا کی خوشنودی کے لئے انصاف کے ساتھ گواہی دینے پر تیا رہو تمہیں کسی قبیلے کی عداوت اس جرم میں نہ پھنسوادے کہ تم نا انصافی کرنے لگو۔ خبردار، بلکہ تم ہر حال میں انصاف ہی کرو جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے ضرور جانتا ہے۔"
اس آیت شریفہ میں یہ حکم موجود ہے کہ گواہی صرف خوشنودیِ خدا کے ہونی چاہیئے اور کسی قسم کی دشمنی حق گوئی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیئے۔ ایک اور جگہ اور ارشاد ہے:( وَاقِیْمُوْالشَهَادَةَلِلّٰه ِ ) (سورئہ طلاق ۶۵: آیت ۳)" اور خدا ہی کے لئے تم ٹھیک ٹھیک گواہی دیا کرو"۔
سچّی گواہی چھپانے والے
جضرت امام امحمد باقرعلیہ السَّلام فرماتے ہیں:مَنْ کَتَمَهَا اَطْعَمَهُ اللّٰهُ لَحْمُه عَلٰٰی رُوسِ الْخلَائِقِ یُوْمَ الْقِیَامَةِ ( "جوشخص گوہی چھپائے گا قیامت کے دِن اس کا گوشت کاٹ کرخدا سب لوگوں کے سامنے اسے حکُم دے گا کہ وہ اپنا گوشت خود کھائے !" امام محمد باقر علیہ السَّلام یہ بھی فرماتے ہیں کہ گواہی چھپانے کی مذمت میں آنے والی آیت میںفَاِ نَّه اَثِمُ قَلْبُه سے مرادکَافِرُ قَلْبُه ہے۔ یعنی جو شخص گواہی چھپاتا ہے اس کا دِل کافر ہوتا ہے! یعنی اس کے دِل میں کفر ہوتا ہے۔)
امام علیہ السَّلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ( مَنْ رَّجَعَ عَنْ شَهَدَةٍاَوْ کَتَمَهَا اَطْعَمَه اللّٰهُ لَحْمَه عَلٰی رُوسِ الْخلائِقِ وَیَدْخُلُ النّارَ وَهُوَ یَلُرْکُ لِسَا نَه ) (وسائل الشیعہ ) یعنی " جو شخص گواہی دینے سے پھر جائے گا یا سیرے سے گواہی چھپا لے گا، خدا ونِد تعالیٰ (قیامت کے دن ) سب لوگواں کے سامنے اس کا گوشت خود اسی کوکھلوائے گا اور اایساشخص جب جہنّم میں داخل ہوگا تو اپنی زبان دانتوں سے کاٹ رہا ہوگا!"
حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السَّلام فرماتے ہیںوَاِنْ سُئِلْتَ عَنِ الشَّهَادَةِ فَأَدِّهَا "جب تم سے گواہی مانگی جائے تو گواہی ضرور دو "( فَانَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یُقُوْلُ اِنَّ اللّٰهَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تَودُّوا لَامَانَاتِ اِلٰٓی اَهْلِهَا ) (سورئہ نساء آیت ۵۸) اس لئے کہ خدا عزّوجل فرماتا ہے : "بے شک خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کوان کے اہلِ لوگوں تک پہنچا دو ۔" گواہی خود ایک امانت ہے اس کے علاوہ خدائے تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے(وَقَالَ تعالیٰ) ( وَمَنْ اَظْلَمُ مِمّنْ کَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَه مِنَ اللّٰهِ ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۱۴۰) " اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس کے پاس خدا کی طرف داری میں گواہی موجود ہو لیکن وہ اس کو چھپادے!"(وسائل الشیعہ)
تفسیرِ علی ابن ابراہیم قمی میں حضرت امیر المومنین علیہ اسَّلام کا یہ قَوْل نقل ہے کہ : "جو شخص کوئی گواہی اپنے پاس رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے ظاہر کردے ۔ جب اس سے گواہی طلب کی جائے تو وہ بتادے۔ کسی کی ملامت سے نہ ڈرے ۔ اپنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بہرحال انجام دے!"
کیا گواہ بنناواجب ہے؟
جب کوئی مسلمان اپنے دینی بھائی سے خواہش کرتا ہے کہ وہ اس کا ساتھ دے اور گواہی کے لئے شرعی عدالت میں حاضر ہوجائے، یا کسی معاملے میں گواہ بن جائے تاکہ اگر آئندہ گواہی کی ضرورت پڑے تو گواہی دے سکے، تو آیا شرعًا اس کی یہ خواہش پوری کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ فقہا ومجتہدین کے درمیان مشہوریہی ہے کہ گواہی دینے پر یا کسی معاملے کا گواہ بن جانے پر آمادہ ہوجانا واجب ہے ۔ خداوندِ تعالٰی خو دحکم فرماتا ہے کہ
( واسْتَشَهْدُوُاَوْاشَهِیْدَیْنِ مِنَ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْ نَارَجُلَیْن فَرَجُلُ وَّامْرَءَ تَان مِمَّنْ تَرْضَونَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدَاهُمَافتُد کرّ اِحْدٰاهُماَ الْأُخرٰی وَلِاٰ یَأْبَ الشُّهَدَ آءُ اِذَا مَا دُعُوْا ) ( سورئہ بقرہ ۲: آیت ۲۸۲)
" اور اپنے لوگوں میں سے جن لوگوں کو تم گواہی کے لئے پسند کرو کم سے کم دو مردوں کی گواہی کرالیا کرو۔ پھر اگر دو مردنہ ہوں تو کم سے ایک مرد اور دوعورتیں۔ کیونکہ ان دونوں میں سے اگر ایک بھول جائے گی تو ایک دوسری کو یاد دلادے گی، اور جب گواہ بلائے جائیں تو انھیں گواہی کے لئے انکار نہیں کرنا چاہیئے۔"
ہشام کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا( وَلَا یَأْبَ الشُُّهَدَآءُ اِذَ ا مَادُعُوْا ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۲۸۲) (" اور جب گواہ بلائے جائیں تو انہیں گواہی کے لئے انکا ر نہیں کرنا چاہیئے") سے مراد " گواہ بننے کے لئے بلائے جائیں ۔"ہے۔
قَالَ قَبْلَ الشَّھَادَةَ ۔یعنی امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا اصل شرعی حاکم کے پاس گواہی دینے سے قبل کی گواہی مراد ہے۔ اور اسی آیت کے بعد والی آیات میں وَلَاتَکُمتُّمُوْاالشَّھَادَةَ سے مراد ہے کہ حاکمِ شرعی کے پاس گواہی کو مت چھپاؤ۔
بہت سی روایتوں میں آیا ہے کہ گواہ بن جانا واجب ہے۔ مثلاً محمد بن فضیل نے حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السَّلام سےوَلَا یَأَبَ الشُّهَدآءُ اِذَ مَا دُعُوْا (جب گواہوں کوبلایا جائے تو ان کو انکا ر نہیں کرنا چاہیئے۔ سورئہ بقرہ ۲: آیت ۲۸۲) کہ یہ معنی نقل کئے ہیں کہ(فَقَالَ اِذْدَعَاکَ الرَّجُلُ لِتَشْهَدَلَه عَلٰٰی دَیْنٍ اَوْ عَلٰی حَقٍّ لَمْ یَسَعْ لَکَ اَنْ تُقَاعِسَ عَنْهُ (وسائل الشیعہ، گواہی کے ابواب، باب ایک) "جب کوئی شخص تم کو کسی قرضے یا کسی حق کے سلسلے میں گواہ بننے کی خاطر بلائے تو تم کواتنی چھوٹ نہیں ہے کہ اس سے لاپرواہی کرو!"
جب خدا ونِد تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں حاکم شرع کے سامنے گواہی دینے کو واجب قرار دے دیا ہے تواس کا لازمہ یہ ہے کہ آدمی پہلے گواہ بن چکا ہو ۔ جب آدمی کسی معاملے میں گواہ کا کردار ادا کرچکا ہو تب کہیں جا کر وہ عدالت میں گواہی دے سکے گا۔ اس کے علاوہ جب گواہ بنانے کا حکم ہے تو معقول نہیں ہے کہ ایک شخص پر واجب ہو کہ وہ دوسرے کو گواہ بننے کے لئے کہے لیکن دوسرے پر گواہ بننا واجب نہ ہو۔
وہ لوگ جن کی دُعا قبول نہیں ہوتی
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں :"چارقسم کے لوگوں کی دعا مستجاب نہیں ہوتی:
(!) ایسا شخص جو ہاتھ پر ہاتھ دہرے اپنے گھر میں بیٹھا رہے، کمانے کی کوشش نہ کرے، اور دعا کرے کے خدایا مجھے روزی دے! ایسے شخص کو جواب دے دیا جاتا ہے کہ کیا ہم نے تجھے طلبِ رزق میں کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟!
( ۲) ایسا شخص جو اپنی بیوی کے لئے بدعا کرے۔ اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ آیاکہ یہ مسئلہ ہم نے تیرے اختیار میں نہیں دے دیا تھا کہ اگر ایسی بیوی نہیں چاہتا تو اسے رشتہ ازواج سے آزاد کر دے!
( ۳) ایسا شخص جس کا کچھ مال تھا لیکن اس نے اسراف کیا اور بے ہودہ کاموں میں اسے ضائع کرڈالا ۔ اب اگر وہ دُعا کرے کہ خدایا مجھے روزی دے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ آیاہم نے تجھے اعتدال سے خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟!
( ۴) اور ایسا شخص جو اپنا کچھ مال دوسرے کو قرض دے، لیکن اس معاملے پر کسی کو گواہ نہ بنائے۔ایسی صورت میں اگر قرض دار شخص انکار کردے تو اس کی دعا کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ کیا ہم نے تمہیں گواہ بنانے کاحکم نہیں دیا تھا؟! " (کتاب عِدَّةُ الدَّاعی)
اس بناء پر جب کوئی آدمی کسی سے گواہ بننے کی درخواست کرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ گواہ بن جائے، اگرچہ گواہی کے ہے اُسے کہیں جانا بھی پڑے ۔ اس پر واجب ہے کہ وہ لاپرواہی نہ کرے اور تمام اہم باتوں پر توجّہ دے،۔ دیکھی اور سُنی ہوئی تاہم بتوں کو ذہن نشین کرے، یا اپنے پاس لکھ کر محفوظ رکھے، تاکہ ضرورت کے وقت یا گواہی دیتے وقت کوئی بھول یاا شتباہ نہ ہوجائے اور وہ یقین کے ساتھ حقیقت بتاسکے۔
گواہی د ینا واجب اور اس کاچھپا نا حرام
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کسی کی درخوست کے بغیر اور خود اپنی خواہش کے بغیر ہی گواہ بن بیٹھتا ہے۔ مثلًایہ ہوتا ہے کہ وہ گذرتے ہوئے کسی چیز کو دیکھ لے یا کوئی بات سُن لے۔ بعد میں اگر اس سے گواہی طلب کی جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ اگر وہ گواہی دے دے تو کسی مسلمان کو وہ نقصان سے بچاسکے گا یا اُسے اس کا حق مل جائے گا، جب کہ اگر گواہی نہ دے تو اس مسلمان کو ضرر پہنچے گایا اسے اسکا حق مل جائے گا، جب کہ اگر گواہی نہ دے تو اس مسلمان ضرر پہنچے گایا اس کا حق حاصل نہ ہوگا ، ایسی صورت میں گواہی دینا واجب ہوجاتا ہے۔ بلکہ اگر اس شخص کو گواہ پہچانتا نہ ہو جو حق پر ہو، یا بُھول گیا ہو، تب بھی واجب ہے کہ وہ خود کو شرعی قاضی کے پاس گواہ کے طور پر پیش کرے اور جو کچھ دیکھا یاکہ سُنا تھا وہ بتادے ۔ ایسی صورت میں ، جب کہ کسی مسلمان کا حق ضائع ہورہا ہو اسے ضرر پہنچ رہا ہو، سکوت اختیار کرنا حرام ہے ۔ مظلوم کی مدد کرنا اور ظالم کو ظلم سے روکنا اگرممکن ہوتو واجب ہوتا ہے۔
لیکن اگر گواہی نہ دینے اور سکوت اختیار کرلینے کی صورت میں کسی مسلمان کا حق ضائع نہ ہوتا ہو یا اسے ضرر نہ پہنچتا ہو تو گواہی دینا واجب نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اگر اسے گواہی دینے کے لئے بھی کہا جائے تو بھی وہ گواہی دینے سے انکار کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ اس کو باقاعدہ گواہ نہیں بنایا گیا تھا اور اب گواہی دینے سے کسی کا نقصان بھی نہیں ہورہا ہے۔
محمد ابنِ مسلم حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام سے یہ صحیح روایت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ(عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ عَلَیْه السَّلامُ)اِذَاسَمِعَ الرَّجُلُ الشَّهَادَةَوَلَمْ یُشْهَدْ عَلَیْهَااِنْ شَاءَ شَهِدَ وَاِنْ شَاءَ سَکَتَ (وسائل الشیعہ ، گواہی کے ابواب ، باب ۵) یعنی " اگر آدمی کوئی گواہی سُن لے لیکن اسے گواہ نہ بنایا گیا ہو تو اس کی مرضی ہے کہ چاہے تو گواہی دے دے اور چاہے تو سکوت اختیار کرے۔"
جس بات پر یقین ہے اس کی گواہی دو
گواہ کو گواہی کے تمام پہلووں پر اچھی طرح توجہ دینی چاہیئے اور گواہی دینے کا موقع آئے تو صرف ان ہی باتوں کی گواہی دینی چاہیئے جن پر اسے یقین ہے ایسی باتیں گواہی میں انہیں پیش کردینی چاہیں جو اس نے خود نہ سُنی ہوں یا جنہیں اس نے خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔ جس طرح کہ خود حدیث میں ہے کہ گواہی کی بات سورج کی جیسی روشن اور واضح ہونی چاہیئے۔
جب سچّی گواہی سے کسی پر ظلم ہو
یہ بات جان لینی چاہیئے کہ اگر گواہی دے دینے سے کسی مسلمان کی جان ، مال، عزّت یا خود گواہ کی جان ، مال یا عزّت کو خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہئیے۔ گواہی چھپانا اس لئے حرام ہے اورگواہی دینااس لئے واجب ہے تاکہ معاشرے میں عدل وانصا ف قائم رہے اور معاشرے کا نظام صحیح روش پر چلتا رہے ظلم کاخاتمہ ہو۔ ظالم کوسزا ملے اور حق دار کو اُس کا حق۔ لیکن جب خود گواہی دینا ظلم کا سبب بن رہا ہو تو ایسی گواہی چھُپالینا واجب ہے۔ مثلًا آدمی جانتا ہے کہ اگر ظالم کے خلاف وہ گواہی دیدے گا تو وہ بعد میں اس کا مال لوٹ لے گا یا ایذائیں پہنچائے گا یا اس کے کسی عزیز رشتہ دار پر ظلم کر بیٹھے گا۔ ایسی صورت میں گواہی چھپا لینا واجب ہے اسی طرح اگر آدمی دیکھ رہا ہو کہ قرض دار قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور ادا نہیں کرسکتا اور نہ ہی اپنے مفلس ہو نے کو ثابت کرسکتا ہے، دوسری طرف وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ قرض دینے والا شخص مہلت دینے پر تیار نہیں ہے ۔ تو ایسی صورت میں گواہی دے دینا کہ یہ اس کا قرض دار ہے۔ بیچارے قرض دار پر ظلم ہوجائے گا ۔ پس یہاں گواہی چھپالینا واجب ہے۔
حضر ت امام موسٰی کا ظم علیہ السَّلام فرماتے ہیں کہ:فَا قِمِ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰی نَفْسِکَ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ فِیْمَا بَیْنَکَ وَبَیْنَهُمْ فَاِنَ خِفْتَِ عَلٰی اَخِیْکَ الضَیْمُ فَلَا (وسائل الشیعہ )" تم الله کے لئے گواہی دو اگرچہ گواہی دینے میں خود تمہیں اپنے یا پانے والدین اور اعزاء وا قرباء کے خلاف کچھ کہنا پڑے ۔ لیکن پہرحال تمہیں اپنے دینی بھائی کو گواہی چھپا کر نقصان دینا نہیں چاہیئے۔ لیکن اگر تمہارے دینی بھائی کو نقصان پہنچنے کا خداشہ ہو تو گواہی نہ دو ۔"
حضرت امام جعفرِ صادق علیہ السَّلام کودا ود بن عصین روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام کویہ کہتے سُناہے کہ ا۔قِمْ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ عَلٰی الْوَلِدَیْنِ وَالْولَدِوقلَا تُقِیْمُوْهَا عَلَی الْاَخِ فِی الدِّیْنِ الضَیْرَ "خدا کے لئے لِلّٰہِ فِیالله گواہی دیا کرو، اگرچہ والدین اور بیٹے کے خلاف کچھ کہنا پڑے ۔ لیکن اپنے دینی بھائی کے خلاف ضَیْر کی خاطر گواہی نہ دو ۔"قُلتُ وَمَا الَّضْیُر؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : "ضَمْیر کیا چیز ہے ؟"قَالَ اِذَ التَعَدَّی فِیْهِ صَاحِبُ الْحَقِّ الذِی یَدَّ عِیْهِ قِبَلَه خَلَاف مااَمَرَ اللّٰهُ بِه وَرَسُوْلُه یہ اس قت ہے جب کوئی حق رکھنے والا شخص اپنا حق حاصل کرنے کے سلسلے میں خدا و رسول کے حکم کے خلاف ظلم پر اتر آئے ۔"
وَمِثْلُ ذٰلِکَ اَنْ یَکُوْنِ لِرَجُلِِ عَلٰی اٰ خَرِ دِیْنُ وهُوَ مُعْسِرُ وَاَمَرَ اللّٰهُ تَعالٰی بِاِنْظَارِه حَتَّی تَیَسَّر قَالق تَعَلٰی فَنَظِرَةُ اِلٰی مَیْسِرَةٍ، وَیَسْئَلُکَ اَنْ تُقِیْمَ الشَّهَا دةَوَاَنْت َ تَعْرِ فُه بالْعُسْرِ، اَلَا یَحِلُّ اَنْ تِقپیِمَ الشَّهَادَة (وسائل الشیعہ)
"اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کا قرض دوسرے شخص کی گردن پر ہو لیکن وہ دوسرا شخص تنگی میں ہو ۔خدائے تعالٰی نے ایسی صورت میں اسکو آسودہ حال ہونے تک مہلت دینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:فَنَظِرَةُ اِلٰی مَیْسِرَةٍ (سورئہ بقرہ ۳: آیت ۲۸۰) " اس کے باوجو د قرض دینے والا شخص تم سے گواہی دینے کو ہے۔ اب چونکہ تم قرض دار شخص کی تنگ دستی سے واقف ہو اس لئے تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم گواہی دے دو (کہ اس نے قرض لیا تھا)"
امام موسٰی کاظم سے ایک روایت
عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْقاَسِمِ ابْنِ الْفُضیْلِ عَنْ اَبِیْ الْحَسِنِ عَلَیْهِ اسَّلامُ قَالَ ۔ محمد ابن قاسم ابن فضیل نے حضررت امام موسٰی کاظم علیہ السَّلام سے روایت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہعَنْ رُجُلِِ مِّنْ مُوَالِیْکَ عَلَیْهِ دَیْنُ لِرَجُلِِ مُخَالِفِِ یُرَِّیْدُ اَنْ یُّعْسِرَه و یَحْبِسَه ، وَقَدْعَلِمَ اللّٰهُ أَنَّهَا یَسسَتْ عِنْدَ ه وَلٰا یَقْدرُ عَلَیْهِ وَلَیْسَ لِغَرِیْمِه بَِیََّنَةُ ، هَلْ یَجُوزُ لَه اَنْ یّلِفَ لَه عَنْ نَفْسِه حَتَّی یَیْسِرَ اللّٰهُ لَه ،وَاِن کَا نَ عَلَیْهِ شُهُوْدُ مِّنْ مَّوْالِیْکَ قَدْعَوَفُوْاأَنَّه لَا یَقْدِرُهَلْ یَجُوزُ اَنْ یَّشَهَدُوْاعَلَیْهِ ؟
" میں نے امام سے پوچھا: آپ کے چاہنے والوں میں ایک شخص ہے جو آپ کے ایک دشمن کا قرض لئے ہوئے ہے۔ وہ شخص آپ کے اس چاہنے والے پر سختی کرنا چاہتا ہے اور جیل بھیج دینا چاہتا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس کے پاس قرض ادا کرنے کے لے رقم نہیں ہے اور نہ ہی وہ ادا کرنے پر فی الحال قادر ہے۔ اس کے پاس اپنی تنگ دستی ثابت کرنے کے لئے بینہ (دو عادل آدمیوں کی گواہی )بھی نہیں ہے۔ آیا ایسی صورت میں وہ اپنی تنگ دستی ثابت کرنے کے لئے اور اس پریشانی کو آسودہ حالی ہوجانے تک کے لئے اپنے اوپر سے ہٹانے کے لئے قسم کھاسکتا ہے؟ اور اگر آپ کے چاہنے والوں میں سے کچھ گواہ اس قرض دار کے خلاف ایسے بھی ہوں جو اس کی تنگ دستی سے واقف ہیں، تو کیا ان کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کے خلاف گواہی دے دیں۔ (کہ اس نے قرض لیا تھا)؟
قَالَ لَا یَجُوْزُ اَنْ یَّشَهَدُوْا عَلَیْهِ وَلَا یَنْوِیْ ظُلْمُه (کافی۔تہذیب گواہی کا باب )امام موسٰی کاظم علیہ السَّلام نے جواب دیا۔ " ان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اُس (قرض دار ) پر ظلم کا قصد کرے!"
جب گواہی دینے سے ضرر پہنچے
یہ جو ہم نے کہا تھا کہ اگر گواہی دینے کے سبب سے گواہ کو یا کسی مسلمان کو ضرر پہنچتا ہو تو گواہی دینا حرام ہے، یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ ضرر ظلم کی حد میں آتا ہو اور بے جاہو ۔ پس اگر ضرر کا آدمی مستحق ہو اور عدالت کا تقاضا ہو کہ اس کووہ ضرر پہنچے تو گواہی دینا پھر بھی واجب رہتاہے۔ مثلاً ایک شخص نے کوئی جرُم کیا ہے۔ اب آدمی جو اس جُرم کا گواہ ہے ، محض اس لئے اس گواہی کو چھپانہیں سکتا کہ اگر گواہی دے دی تو وہ آدمی دیا ہو ا قرض واپس مانگ لے گا۔ یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ مجرم کو شرعی طور پر سزا ملنی چاہیئے اگرچہ گواہ کو مالی نقصان کا سامناکرناپڑے ۔ اگر گواہ واقعی ایسا قرضدار ہے جو قرض ادا نہیں کرسکتا تو وہ بیّنہ (دو عادل آدمیوں کی گواہی ) یا قسم کے ذر یعے اپنی تنگ دستی ثابت کرسکتا ہے۔ ہاں البتہ اگر مجرم کا جُرم گواہ پر آنے والے ضرر سے چھوٹا ہو، یعنی گواہ کو حد سے زیادہ زحمت ، پریشانی یا جان کا خطرہ لاحق ہو تو یہ گواہی چھپانے کے لیئے ایک معقول عذرہے۔
نقصان اور فائدہ نہ ہونا
یہ بات کہے بغیر نہ رہ جائے کہ ضرر ہونا اور فائدے سے محروم ہوجانا ، یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں ۔ اگر مندرجہ بالا مثال میں ایسا ہوکہ اگر گواہ مجرم کے خلاف گواہی نہ دے تو وہ مجرم اس کی آمدنی کے وسائل پیدا کرے گا، لیکن گواہی دے دینے کی صورت میں وہ اس فائدے سے محروم ہوجائے گا تو یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ فائدہ نہ پہنچنا، ضرر نہیں کہلاتا۔
ہاں البتّہ اگر گواہ مثلًا خود مجرم ہی کا ملازم ہو، گواہی دے دینے کی صور ت میں اس کی نوکری چھوٹ جاتی ہو اور اس کے بعد انتہائی سخت پریشانی کا اندیشہ ہوکہ عرفِ عام میں اس کو ضرر کہاجائے تو آدمی گواہی چھپاسکتاہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جھوٹی قسم ، جھوٹی گواہی ، اور گواہی چھپانا، ان تینوں میں سے ہر ایک گناہِ کبیرہ ہے اور اس صورت میں گناہِ کبیرہ ہے جب کہ کوئی ضرر اس سے ٹکرا نہ رہا ہو۔ پس اگرنا حق گواہ کو یا کسی اور مسلمان کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہوتو یہ تینوں گناہ نہیں رہتے بلکہ جائز ہوجاتے ہیں ،۔ بعض مواقعے تو ایسے آتے ہیں جب (مثلاً جان بچانے کے لیے) جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی گواہی دینا، یا گواہی چھپا لینا واجب ہوجاتا ہے۔ بہرحال اصول یہ ہے کہ جو چیز زیادہ اہم ہواسے اختیار کرلینا چاہیئے۔
وعدہ خلافی
گناہِ کبیرہ میں سے اکیسواں گناہ " وعدہ خلافی " کرنا ہے ۔ اس بارے میں صحیح روایت موجود ہیں ۔ جیسا کہ صحیح اور مستند روایت میں حضرت عبد العطیم نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے نقل کیا ہے کہ امام علیہ السَّلام نے اس گناہ کے گناہِ کبیرہ ہونے پر قرآنِ مجید کی اس آیت سے دلیل فرمائی ہے :وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْداللّٰهِ مِنْ بَعْدِ میْثاقِه ویَقْطَعُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰهُ بِهٓ اَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولیٰٓکَ لَهُمْ اللّٰعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْآءُ الدَّارِ (سورئہ رعد ۱۳: آیت ۲۵) " اور جو لوگ خدا سے عہد ِ وپیمان کو پکا کرنے کے بعد توڑڈالتے ہیں اور جن (تعلقاتِ باہمی ) کے قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے انہیں قطع کرتے ہیں اور روئے زمین پر فساد پھیلاتے پھرتے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے لعنت ہے۔ اور ایسے لوگوں کے واسطے برا گھر (جہنّم ) ہے۔"
وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی مذمت میں سورئہ آل ِعمران میں ارشاد ہوا:بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَهْدِه وَا تَّقٰی فَاِنَّ اللّٰهِ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ، اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَیْمَا نِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَاخَلاَقَ لَهُمْ فِیْ الْاٰخِرَةِ وَلَایُکَلِّمُهُمْ اللّٰهُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمُ الْقِیٰامَةِ وَلَا یُزَ کِّیهِمْ وَلَهُمْ عَذَابُ اَلِیْمُ (سورئہ آلِ عمران ۳: آیت ۷۶ ۔ ۷۷) " یعنی ہاں (البتّہ ) جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور پرہیز گاری اختیار کرے تو بے شک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔ بے شک جو لوگ اپنے عہداور (قسم ) اقسام جو خدا سے کیا تھا اس کے بدلے تھوڑا سا دنیوی معاوضہ لے لیتے ہیں ان ہیلوگوں کیواسطے آخرت میں کچھ حصّہ نہیں اور قیامت کے دن خدا ان سے بات تک تو کرے گا نہیں، اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت ) کرے گا، اور نہ ان کو (گناہوں کی گندگی سے ) پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
ایک اورجگہ ارشاد ہے:
( اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْدَاللّٰهِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَهُْمْ لَا یُومِنُوْنَ الَّذِیْنَ عَاهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْفَقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ کُلَّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ ) (سورئہ انفال ۸ : آیت ۵۵ ۔ ۵۶) " بیشک خدا کے نزدیک جانوروں میں کفار سب سے بدترین ہیں ۔ یہ لوگ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے (اے رسول) جن لوگوں نے تم سے عہدو پیماں کیا تھا پھر وہ لوگ اپنے عہدوپیماں کو ہر بار توڑ دیتے ہیں اور پھرخدا سے نہیں ڈرتے ۔
یہ آیت شریفہ بنی قریظہ کے اُن یہودوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے عہد کیا تھاکہ وہ دشمنانِ اسلام کا ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن جنگِ بدر میں انھوں نے مشرکین کو اسلحہ کی کمک دے کر یہ عہد و پیمان توڑدیا تھا بعد میں رسولِ سے کہا تھا کہ ہم یہ عہدوپیمان بُھول گئے تھے۔ دوبارہ انہوں نے رسول خدا سے ایسا ہی عہد کیا تھا لیکن جنگ خندق میں ایک بار پھر انھوں نے اسے توڑدیا اور پیغمبرِاسلام کے خلاف جنگ کرنے کے لئے ابوسفیان سے مل گئے۔
قرآنِ مجید میں چند مقامات پر وعدے کی پاسداری کو واجب قراردیا گیاہے اور اس پر تاکید فرماگئی ہے۔مثلًاارشاد ہے کہ :( وَاَوْفُوْ بِا لْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَکَانَ مَسْولًا ) سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۴ وعدہ کی وفا ضرور کرو اس لئے کہ وعدہ کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا ایک اور جگہ پر ارشاد ہے ۔( یَا اَیُّهَاالّذیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْابالْعَقُوْد ) (سورئہ مائدہ ۵: آیت ۱) " اے ایمان لانے والو! اپنے وعدوں کو پورا کیا کرو۔" اور سچّے اور متقی لوگوں کی تعریف میں ارشاد ہے (( وَالمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِنَا عَا هَدُوْا ) (سورئہ بقرہ ۳: آیت ۱۷۷) " اور یہ وہ لوگ ہیں جو جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو اسے ضرور پورا کرتے ہیں۔
سورئہ صف میں کچھ اس طرح سخت انداز میں ارشاد:( یَااَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ الِمُ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ کَبُرَ مَقْتًا عِنَدْاللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْامَالَا تَفْعَلُوْنَ ) (سورئہ صف ۶۱: آیت ۲ ۔ ۳) " اے ایمان لانے والو! تم ایسی بایں کیوں کہاکرتے ہو جن کے کرنے کا تمہیں ارادہ نہیں ہوتا ۔ خدا کے نزدیک یہ بڑے غضب کی با ت ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر عمل نہ کرو!"
اس آیت شریفہ کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ:( عِدَةُ الْمُومِنِ اَخاَهُ نَذْرُ لَهُ فَمَنْ اَخْلَفَ فبِخُلْفِ اللّٰهِ بَدَءَ وَلِمُقْتِه تَعَرَّضَ ) (وسائل الشیعہ ، کتاب ِحج، باب ۱۰۹ صفحہ ۲۲۲) " مومن اپنے مومن بھائی سے وعدہ ایک ایسی نذر ہے جس کا کوئی کفارہ تو نہیں ہے لیکن جو شخص وعدہ خلافی کرتاہے وہ خدا کی مخالفت اور دشمنی آغاز کردیتا ہے اور خدا کے غضب کو چھیڑ بیٹھاتا ہے!" اس کے بعد امام علیہ السَّلام نے سورئہ صف کی مندرجہ بالا آیت تلاوت فرمائی تھی۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السَّلام مالکِ اشتر سے ان کے عہدے کا حلف لیتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلْخُلْفُ یُوْجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللّٰهِ (نہج البلاغہ)
یعنی "وعدہ خلافی خدا کے غضب کا باعث بن جاتی ہے۔" اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السَّلام نے بھی اسی آیت کا حوالہ دیا تھا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں (عَنْ اَبِْی جَعْفَرٍ قَالَ اَرْبَعَةُ اَسْرَعُ شَیْی عُقُوْبَةً "چا ر قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر جلد عذاب نازل ہوتا ہے:
( ۱)رَجُلُ اَحْسَنْتَ اِلَیْهِ وَیُکافِئُکَ بِالْاِحْسَانِ اِلَیْهِ اِسَائُه یعنی "ایسا شخص جس کے ساتھ تم نے کسی سلسلے میں معاہدہ کیا ہواور تم اس سلسلے میں اُس سے وفا کررہے ہو لیکن وہ تم سے بے وفائی کررہاہو، تمہاری نیکی کے بدلے میں اس نے تم سے بدی کی ہو۔"
( ۲)وَرَجُلُ تَبْغِیْ عَلَیْهِ وَهُوَ یَبْغِیْ عَلَیْکَ یعنی"ایسا شخص جس پر تم کوئی ظلم نہیں کرتے (اگرچہ ) اس کے ساتھ کوئی نیکی بھی نہ کرتے ہو) مگر وہ تم پر ظلم کرتا ہو۔
( ۳)وَرَجُلُ عَاهَدْتَّه عَلٰی اَمْرٍ فَمِنْ اَمْرِکَ الْوَفاءُ بِه وَمِنْ اَمْرِهِ الْغَدْرُبِکَ یعنی "ایسا شخص جس کے ساتھ تم نے کسی سلسلے میں معاہدہ کیا ہواور تم اس سلسلے میں اس سے وفاکر رہے ہو، لیکن وہ تم سے بے وفائی کرہا ہو۔"
( ۴)وَرَجُلُ یَصِلُ قَرٰابَتَه ویَقْطَعُوْنُه (کتاب "خصال")
یعنی "اور ایسا شخص جو اپنے رشتہ دار سے صلہ رحمی برقرار رکھنا چاہتا ہے مگرہ قطع رحمی کرتا ہو۔
عَن اَبی مَالِکٍ قَالَ قُلْتُ لَعَلِیِّ بْنِ الْحُسیْنِ حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام سے ابو مالک نے کہا:اَخْبِرْنِیْ بِجِمِیْعِ شَرَایِعِ الدِّیْنِ "مجھے آپ دینِ اسلام کی تمام شرعی باتوں کا خلاصہ بتادیجئے ۔"قَالَ قَوْلُ الْحَقِّ وَالْحُکْمُ بِالْعَدْلِ وَالْوَفَاءُ بِالْعَهْدِ (کتاب "خصال ") امام علیہ السَّلام نے فرمایا " حق بات کہنا ، انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ، اور وعدے کو پورا کرنا۔"
ٍ وعدہ وفائی کی اہمیت کے سلسلے میں اگرچہ آیا ت وروایات بہت وارد ہوئی ہیں لیکن ہم اسی مقدار پرا کتفا کررہے ہیں۔
وَعدہ خَلافی کی قسمیں
وعدے کی تین قسمیں ہیں:
( ۱) ایک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو ۔
( ۲) ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
( ۳) اور ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ وہی ہے جو عالمِ ذر (عالمِ اروا ح) میں واقع ہوا ہے۔ قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ اُس وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے، اوور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گئے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا۔ اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا۔
لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا ۔ اسی لئے ارشاد ہے:( اَوْفُوْ ا بِعَهْدِیْ اُوْفِ بِعَهْدِکُمْ ) (سورئہ بقرہ ۲ : آیت ۴۰) ( اے میرے بندو!) مُجھ سے کیا ہوا وعدہ وفا کرو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو میں بھی تم سے کیا ہوا وعدہ وفا کروں گا۔ " یہ بھی ارشاد ہے کہ :( اَلَمْ اَعْهَدَ اِلْیْکُمْ یَابَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُو الشَّیْطَان ) (سورئہ یٰسین ۳۶ : آیت ۶۰) " اے آدم علیہ السَّلام کی اولاد کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لیا تا کی خبردار شیطان کی پرستش نہ کرنا ؟!"
عالَم ارواح میں پروردگارِعالم نے بندوں کی روحوں سے جو وعدے لئے تھے ان می امیرالمومنین اور اَئمہ طاہرین کی ولایت کے بارے میں بھی وعدے شامل تھے۔ بہت سی روایتوں میں اس بات کا ذکر موجودہے۔ یہاں تک کہ تمام آسمانی کتابوں میں اس کاذکر ہے اور تمام انبیاء کے ذریعے بھی چہاردہ معصومین کی ولایت ومحبت کا پیغام پہنچایا گیاہے۔
البتہ بعض علماء نے عالم ذر یا عالم ارواح کا انکار کیا ہے۔ وہ اس موضوع پروار دہونے والی آیتوں اور روایتوں کی تاویل فرماتے ہیں۔ وہ حاکم ذرسے مراد عَالَم فطرت لیتے ہیں ۔ یعنی ان کے نزدیک خدا وندِ تعالیٰ نے فطری طور پر انسان کو اس بات کاپابند بنایا ہے کہ وہ احکامِ خدا کی پابندی کرے اور شیطان کی پرستش نہ کرے۔ اب اگر انسان مخالفت کرتا ہے تو اپنی فطرت کے خلاف کام کرتا ہے ۔ البتّہ انسان کی عقل اس کو فطرت پر چلنے اور اپنے خالق کی اطاعت کرنے کا حکم دیتی ہے۔ وہ علمائے کرام اسی حکم کو عہدو پیان شمار کرتے ہیں ۔ بہرحال حقیقت کیا ہے، اس کی تفصیل کے لئے یہ کتاب مناسب نہیں ہے۔
بہرحال خواہ آدمی عالمِ ارواح میں کئے گئے وعدے کو توڑے، یا عالمِ فطرت میں کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کرے ، دونوں صورتوں میں وعدہ توڑنا بہرحال گناہِ کبیرہ ہے۔ بلکہ سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے۔ اکثر آیات وروایات میں اتنی تاکید موجود ہے کہ وعدہ وفا کرنا واجب اور وعدہ توڑنا حرام ثابت ہوتا ہے۔ وعدہ توڑنے پر سخت عذاب کی باتیں بھی وارد ہوئی ہیں۔ اورروایا ت سے معلوم ہوتاہے کہ اتنا سخت عذاب اسی پہلی قسم کے وعدے کو توڑنے میں ہے اور یہی سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے۔ پس بندوں کو چاہیئے کہ اپنے پروردگار سے کئے گئے تمام وعدوں کی وفا کریں تاکہ خدا بھی اس کے صلے میں اپنے تمام وعدے وفا کرے۔
خداوندِ عالم نے دُعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے
خدا نے بندوں سے جو وعدے کیئے ہیں ان میں سے ایک دعا قبول کرنے کا وعدہ بھی ہے، لیکن اس وعدے کو پورا کرنے کی ایک شرط بھی ہے، اور وہ شرط یہ ہے کہ بندے خدا سے کیا ہوا اپنا وعدہ وفا کریں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے جمیل روایت کرتے ہیں(عَن اَبِیْ عَبْدِ اللهِ) اَنَّ الْعَبْدَاِذَا دَعَا اللّٰهَ تَعَالٰی بِنِیَّةٍ صَادِقَةٍ وَقَلْبٍ مُخِلصٍ اُسْتُجِیْبُ لَه بَعْدَ وَفَائِهِ بِعََهْدِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ "جب بندہ خدا سے سچّی نیّت اور خلوص بھرے دِل کے ساتھ دُعا مانگتا ہے تو اس کی دُعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب وہ خدا ئے عِزّوجل سے کئے ہوئے اپنے وعدے کو پورا کرلیتا ہے۔ " وَاِذَادَعَا اللّٰہَ بِغَیْرِ نَیَّةٍ وُّ اِخْلَا صٍ لَمْ یُسْتَجَِبُ لَہ۔ "لیکن جب بندہ خدا سے سچّی نیت اورخلوص کے بغیر دُعا کرتا ہے تو اس کی دُعا قبول نہیں ہوتی۔")اَلَیْسَ اللّٰهُ یَقُوْلُ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْ اُوْفِ بِعَهْدِکُمْ ، فَمَنْ وَفٰی وُفِیَ لَه (سفینہ البحار جلد اوّل صفحہ ۴۹۹) " کیا خدائے تعالیٰ نہیں فرماتا "اَوْفُوْا بِعَهْدِیْ اُوْفِ بِعَهدِکُمْ " (مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرو تو میں تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کروں گا )پس جو وعدہ وفا کرتا ہے اسی کے ساتھ وفا کی جاتی ہے۔"
نذر اور عہد میں زبان سے کہنا
دوسری قسم کا وعدہ وہ ہے جو بندہ خودہی خدائے تعالیٰ سے کرتا ہے مثلاًنذر کرلیتا ہے یا قسم کھالیتا ہے ۔ قسم ، عہد یا نذر کا محض دل ودماغ میں عزم کرلینا اور سوچ لینا کافی نہیں ہے بلکہ باقاعدہ اس کا جملہ زبان سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثلًا اگر کوئی بندہ خدا سے عہد کرنا چاہے اور عربی میں کہنا چاہے تو اسے کہنا پڑے گا عَاھَدْتُ اللّٰہَ (میں نے خدا سے عہد کیا ) یا یہ کہنا ہوگا کہ عَلَّی عَبْدُ اللّٰہِ (میرے ذمّے خدا سے کیا ہوا عہد ہے۔ )عربی کے علاوہ کسی بھی زبان میں نذر، قسم ، یا عہد کا جملہ کہا جاسکتا ہے۔ مثلًا یہ نذر مانی جاسکتی ہے کہ اگر میں صحت یاب ہو گیا ،یا سفر سے صحیح و سالم واپس آگیا تو اتنی رقم خدا کے لے خیرات کروں گا ۔ ایسا جملہ منہ سے کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوتی ہے، اور محض دِل میں سوچ لینے سے واجب نہیں ہوتی۔
بیکار کام کی نذر یا عہد
یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیئے کہ عہد ، قسم یا نذر بے کار کام کی نہ ہو۔ یعنی شرعی طور پر نا پسندیدہ کام نہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں کام حرام یا مکروہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ مثلًا اگر آدمی قسم کھائے اور عہد کرے کہ وہ فلاں حرام یامکروہ کام کرے گا تو یہ باطل اور غلط ہے۔ اسی طرح اگر وہ نذر کرے کہ اگر اس کا فلاں کام ہوگیا تو وہ فلاں حرام یا مگروہ کام کرے گا۔ تو یہ بھی غلط ہے۔ اسی طرح اگر کوئی کام ترک کرنے کی نذر، عہد یا قسم ہوتو وہ کام واجب یا مستحب نہیں ہونا چاہیئے۔ اسی طرح نذر، قسم اور عہد کے وقت اگر کام میں رحجان تھا، مثلًااس کا کرنا واجب یامستحب تھایا اسکا نہ کرنا حرام یا مکروہ تھا ،لیکن بعد کے اضطراری حالات میں وہ رحجانِ شرعی طورپر ختم ہوگیا تونذر اور قسم وغیر ہ باطل ہوجاتی ہے۔ مثلًا آدمی نے نذر کی کہ اگر و ہ صحت یاب ہوگیا تو مثلًا ایک ہزار روپیہ راہِ خدا میں خرچ کرے گا۔ لیکن جب وہ صحت یاب ہوا تو اتنا تنگ دست ہوگیا کہ اہل وعیال کا خرچ مشکل سے نکلنے لگا۔ ایسی صورت میں یہ نذر باطل شمار ہوگی اور اس کا پورا کرنا واجب نہیں رہے گا۔
نذر مفید کام کی ہونی چاہیئے
پس ثابت ہوا کہ قسم یا نذر ایسے کام کی ہونی چاہیئے جس میں شرعی چور پر رحجان موجود ہو۔ اگر مباح کام کی بھی قسم یا نذر ہو تو بھی اس میں بھی اس میں رحجان دیکھنا پڑتا ہے۔ یعنی اگر مباح کام کرنے کی قسم یانذر ہوتو اس کا کرنا کم از کم عقلی طور پرنہ کرنے سے بہتر ہو۔ مثلًاپیدل چلنا اور ورزش کرنا ایک ایسا ہی مباح کام ہے۔ اسی طرح اگر کسی مباح کام کو چھوڑنے کی قسم یا نذر ہو تو اس میں بھی عقلی رحجان کا پہلو ہونا چاہیئے، یعنی اس کا چھوڑ دینا اس کے انجام دینے سے بہتر ہو ۔ مثلًا سگریٹ پینا ایک ایسا ہی مباح کام ہے۔
عہدِ مطلق اور عہدِ مشروط
نذر وقسم کی طرح عہد بھی یاتو مطلق ہوتا ہے یا مشروط۔ مثلًا مطلق عہد یہ ہے کہ آدمی کہے: " ،میں نے خدائے تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ میں فلاں کار خیر انجام دوں گا۔" پس یہ عہد واجب ہوجاتا ہے اور اس کارِ خیر کو ترک کرنا گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے، بلکہ عہد توڑنے کا کفّا رہ بھی الگ سے واجب ہوجاتا ہے۔ مطلق یعنی جس میں کوئی شرط نہ لگائی گئی ہو۔
اور مقید یا مشروط عہد یعنی آدمی خدا کے کسی خاص شرط کے تحت عہد کرے ۔ مثلًا کہے : " اگر مجھے بیٹا دے تو میں فلاں کارِخیرانجام دوں گا۔" پس وہ کارِ خیر اسی وقت واجب ہوگا جب وہ شرط پوری ہو، اور جب شرط پوری ہوجائے تو اس عہد کی خلاف ورزی کرنا نہ صرف یہ کہ گناہِ کبیرہ ہے بلکہ کفّارے کا بھی موجب ہے۔
نذرو عہد کا کفّارہ
عہد خواہ مطلق ہو یا مشروط، اس کو توڑنے کا کفّارہ دینا واجب ہے۔ اس کا کفّارہ وہی ہے جو رمضان کا روزہ نہ رکھنے اور توڑنے کاہے ۔ یعنی ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا، یا ساٹھ ورزے رکھنا ، یا ایک غلام کو آزاد کرنا ۔
اور اگر نذر توڑدی جائے تو اس کا کفّارہ قسم توڑنے کے کفّارے کے برابر ہے۔ یعنی دس غریبوں کو کھانا کھلانا، یا دس لباس سے محروم لوگوں کو لباس دینا ۔ یا ایک غلام آزاد کرنا ۔ نذر اور قسم کے کفّاروں میں یہ بات بھی ہے کہ اگر آدمی ان تینوں میں سے کوئی سا بھی کفّارہ نہ دے سکتا ہو تو اسے تین مسلسل روزے رکھنا واجب ہوتے ہیں۔
خدا سے عہد کی تین قسمیں
درحقیقت نذر اور قسم بھی خداوندِ تعالیٰ سے عہد ہے۔ اس لحاظ سے عہد کل تین قسموں کا ہوتا ہے۔ ایک خود عہد ہے اور باقی دو قسمیں نذر اور قسم کہلاتی ہیں ۔ بس یہ لطفِ خدا وند ہے کہ اگر کوئی آدمی خدا سے عہد کرتے ہوئے ڈرے اور اتنے بڑے کفّارے (یعنی سا ٹھ غریبوں کو کھانا کھلانے یا ساٹھ روزے رکھنے سے بچنا چاہے تو وہ چھوٹے قسم کے عہد کرسکتا ہے۔ یعنی نذر کرسکتا ہے یا شرعی قسم کھاسکتاہے۔
وعدہ خلافی اور نفاق
وعدہ خلافی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے باعث دل میں نفاق اور منافقت کا بیج اُگ جاتا ہے، مرتے وقت آدمی کا فرکی موت مرتاہے، اور قیامت میں وہ منافقین ہی کے ساتھ محشور ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ:( وَمِنْهُمْ مَنْ عَا هدَاللّٰهَ لَیَنْ اٰتَیْنَا مِنْ فَضْلِه لَنَصَدَّقْنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ منَ الصَّلحیْنَ فَلَمَّا اٰتَهُمْ منْ فَضْله بَخِلُوْ ا بِه وَلَّوَ لَّوْاوّهُمْ مُعْرِضُوْنَ ، فَاعْقَبْهُمْ نِفَا قًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقُوْ نَه بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ ماَوَعَِدُوْهُ وَبِمُةا کَانُوْ یَکْذِبُوْنَ ) (سورئہ توبہ ۹ : آیت ۷۵ ۔ ۷۶ ۔ ۷۷) " اور ان (منافقین ) میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خدا سے قول واقرار کرچکے تھے کہ اگر ہمیں اپنے (فضل وکرم ) سے (کچھ مال ) دے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے ۔ اور نیکو کار بندے ہوجائیں گے ۔ تو جب خدا نے اپنے فضل (وکرم) سے عطا فرمایا تواس میں بخل کرنے لگے اور کترا کے منہ پھیرنے لگے۔ پھر جب ان سے ان کے خمیازہ میں اپنی ملاقات کے دن (قیامت) تک ان کے دل میں (گویا خود ) نفاق ڈال دیا ۔ اسی وجہ سے ان لوگوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا اور اس وجہ سے کے یہ لوگ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ "
اس آیت شریفہ سے یہ ثابت ہوا کہ عہد شکنی اور جھوٹ ایسے گناہ ہیں جو ایسے نفاق کا سبب بنتے ہیں مرتے دم تک آدمی کے دِل میں باقی رہتا ہے۔ ان آیاتِ شریفہ کی شانِ نزول کے بارے میں تفسیر، منہجُ الصّادقین میں لکھا ہے کہ :
ثعُلبہ ابنِ خاطب ایک ایسا عیسائی تھا جو اپنے مذہب میں عبادت اور زہد کے لحاظ سے مشہور تھا ۔ ایک دن وہ پیغمبر ِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں آیا ۔ اس نے اپنی تنگدستی کارونارویا۔ اس نے آنحضرت سے التماس کی کہ وہ خدا سے اس کی کشادہ حالی کے لئے دُعا فرمائیں۔ آنحضرت نے اسے نصیحت فرمائی کہ : اس حاجت سے دِل نہ لگاو اور اپنی غربت پر صبرکرلو ۔ رزق کی فراوانی تمہارے لئے خطرناک ہے ! تھوڑے پر اگر تم شک کروگے تو یہ اس بہت سے رزق سے بہتر ہے جس کا تم شکر بجا نہ لاسکو۔" آنحضرت نے فرمایا: "خدا کی قسم اگر میں دُعا کروں کہ پہاڑ سونے چاندی کے ہوجائیں اور میرے ساتھ ساتھ حرکت کریں تو حقِ تعالیٰ ایسا کردے گا۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ غربت کی عاقبت خیر ہے، اور کشادہ حالی کی عاقبت زیادہ تر شر ہوتی ہے! پس رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اطاعت کرو اور بات کو مان لو!"
ثعلبہ نصرانی نے آنحضرت کی نصیحت قبول نہیں کی اگلے دن وہ پھر آنحضرت کے پاس وہی التماس لے کر آگیا وہ کہنے لگا "یا رسول الله ! میں خدا سے عہد کرتا ہوں کہ اگر خدا مجھے فراوانی کے ساتھ مال دے گا تو میں مستحق افراد کے حقوق ادا کروں گا اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کروں گا۔ " جب اس نے بہت اصرار کیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے خدا وندِ تعالیٰ سے اس کی غربت دور کرنے کی دُعا کردی ۔
خدا وندِ تعالیٰ نے اس کی بھیڑ بکریوں میں اسے بہت برکت دی ان کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ اپنی بھیڑبکریوں کی حفاظت میں پیغمبر ِخدا کے ساتھ نماز باجماعت پڑھنا چھوڑ بیٹھا۔ وہ صرف صبح اور شام کی نماز پرا کتفاء کرنے لگا۔ پھر اس کا کام اتنا بڑھ گیا کہ مدینے کے اطراف میں اس کی بھیڑ بکریوں کے لئے جگہ کم پڑگئی ۔
وہ اپنی بھیڑ بکریوں کو لے کر صحرا ہی میں بس گیا ۔ اب وہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ پانچوں وقت کی نمازِ باجماعت پڑھنے سے محروم ہوگیا تھا۔ البتہّ اب بھی وہ نمازِ جمعہ کے لئے مدینہ آجاتا تھا ! پھر بھیڑ بکریوں کے سلسلے میں اس کا دائرہ کا رمدینے کے اطراف کی وادیوں سے بھی آگے پھیل گیا اب وہ نمازِ جمعہ سے بھی محروم ہوگیا!
ایک دن پیغمبر ِاسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اسحاب سے پوچھا کہ " کیا ہوا ثعلبہ ہماری نماز میں حاضر نہیں ہوتا؟"
لوگوں نے کہا: " اُس کے پاس اتنی زیادہ بھیڑ بکریاں ہیں کہ کسی وادی میں پوری طرح نہیں سماتیں ! اب وہ فلاں وادی میں گیا ہے۔ اور وہیں کا ہوگیا ہے۔ آنحضرت نے یہ سن کر تین بار فرمایا "ثعلبہ پر وائے ہو ! ثعلبہ پر وائے ! ثعلبہ پر وائے ہو!"
پھر جب زکوٰة واجب ہوئی اور اس کی آیت نازل ہوئی تو آنحضرت نے ایک صحابی کو وہ آیت تحریری صورت میں دی اور قبیلہ بنی سلیم کے ایک آدمی کو اس صحابی کے ساتھ کردیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حکم دیاکہ " جب ثعلبہ سے زکوٰة لے لینا تو فلاں بھلے آدمی سے بھی زکوٰة لیتے آنا۔" وہ دونوں ثعلبہ کے پاس گئے ۔ زکوٰة کی آیت دکھائی اور آنحضرت کا خط بھی اُسے دیا جس میں زکوٰة کی شرائط درج تھیں ۔ ثعلبہ اتنا مال کی محبت میں مبتلا ہوگیا تھا کہ اس نے کہا: محمد ہم سے جزیہ (ٹیکس ) طلب کررہے ہیں!" کہیں اور جا کر طلب کرو ! جب تک میں اس بارے میں غور کروں گا !"
وہ دونوں اُس بَھلے آدمی کے پاس گئے (جوقبیلہ بنی سلیم سے تعلق رکھتا تھا ) اُس نے آیت قرآن اور پیغمبرکا خط دیکھ کر کہا" سَمْعًا وَّطَاعَةً لِاَّمْرِ اللّٰہَ وَرَسُوْلِہ (حکمِ خدا اور حکم رسول کو سُنتے ہوئے اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے حاضر ہوں !)
وہ اپنے اونٹوں کے درمیان گیا ۔ اُس نے چھانٹ کرزکٰوة کے لئے بہترین اونٹ نکالے اور کہا " یہ پیغمبر ِ اکرم کے پاس لے جائیے " دونوں نے کہا بہترین دینا واجب نہیں ہے !" اُس نے کہا " یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں خدا و رسول کو بہترین نہ دوں!"
و ہ دونوں ثعلبہ کے پاس واپس گئے ۔ اُس بدبخت نے وہی پہلی سی بات کی اور زکوٰة دینے سے انکار کردیا !
یہ واقعہ سُن کر آنحضرت نے ایک بار پھر فرمایا : " ثعلبہ پروائے ہو ! " آنحضرت نے اُس دوسرے بُھلے آدمی کے لئے دُعا ئے خیر فرمائی جس نے بہترین طریقے سے زکوٰة دے دی تھی۔
یہ واقعہ سُن کر آنحضرت نے ایک بار پھر فرمایا: " ثعلبہ پر وائے ہو ! "
آنحضرت نے اُس دوسرے بھلے آدمی کے لئے دُعا ئے خیر فرمائی جس نے بہترین طریقے سے زکوٰة دے دی تھی ۔
اصحابہ کرام تعجب کررہے تھے کہ واقعی ثعلبہ کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بات پہلے ہی مان لینی چاہیئے تھی تاکہ اس حال پر نہ پہنچتا اور ایمان کھو کر مُرتد نہ ہوجاتا!: (زکوٰ ة ضروریاتِ دین میں سے ہے اور جو شخص کہے کہ زکوٰة واجب نہیں ہے وہ مُرتد ہوجاتا ہے اور مسلمان نہیں رہتا !) سورئہ توبہ کی مذکورہ آیتیں ثعلبہ کی مذّمت میں نازل ہوئی ہیں۔
آپس میں عہد وپیمانا
وعدے کی تیسری قسم یہ ہے کہ آدمی ایک دوسرے سے عہدو پیمان کرے۔ آیتوں اور بہت سی روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کا وعدہ بھی وفا کرنا واجب ہے اور اسے توڑنا بھی حرام ہے ۔ مثلاً سورئہ بنی اسرائیل میں حکم ہے کہ :وِاَوْ فُوْ ا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعِھْدِکَانَ مُسْولًا (سورئہ بنی اسرائیل ۱۷ ۔ آیت ۳۴ ) " اور تم اپنے عہد کو پورا کرو، بے شک خدا قیا مت میں عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔" اسی طرح اہلِ صدق وتقویٰ کی تعریف میں آیت ہے کہ :( وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَاعَا هَدُوْا ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۱۷۷)
"اور یہ وہ ہیں کہ جب کوئی وعدہ کرتے ہیں تواپنے وعدے کو وفا کرتے ہیں۔"
اسی طرح دوزخ سے نجات پانے والوں اور جنت میں داخل ہونے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ :( وَالَّذِیْنُ هُمْ لِاَمَانٰتِهمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُوْنَ ) (سورئہ مومنوں ۲۳ : آیت ۸) " اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہیں۔"
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام ہیں : "اور اپنے مومن بھائی سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا نذر کی طرح واجب ہے، اگرچہ کہ اس وعدے کی خلاف ورزی پر کوئی کفّارہ نہیں ہے۔"
پیغمبرِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں :مَنْ کَانَ یُومِنُ باِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَفِ اِذَاوَعَدَ (اصولِ کافی ) " جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیئے کہ جب بھی وہ وعدہ کرے وفا کرے ۔" معلوم ہوا کہ وعدہ وفا کرناخدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھنے کے لوازمات میں سے ہے ۔ اِسی طرح سور ئہ صف کی ابتدا ئی چند آیت وعدہ خلافی کی سخت مذمت میں نازل ہوئی ہیں اور اِن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ وعدہ خلا فی ، خواہ کسی قسم کی بھی ہو حرام ہے۔
منافق، وعدہ خلافی کرتے ہیں
پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مَروی ہے کہ :ثَلَاثُ مَّنْ کُنَّ فِیْهِ کَانَ مُناَ فِقًا وَاِنْ صَامَ صَلّٰی " تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی ہوں گی، وہ منافق ہوگا ۔ اگرچہ وہ نماز روزے کاپابند ہو اور خواہ خود کو سچّامسلمان سمجھتا ہو!"
وَاِذَا ا ئْتَمَنَ خَانَ "ایک وہ شخص کہ جب بھی کوئی امانت رکھتا ہو اس میں خیانت کر بیٹھتا ہو۔"
وَاِذَاحَدَّثَ کَذِبَ "ایک وہ شخص کہ جب کبھی کوئی بات کرتا ہو، جھوٹ بولتا ہو۔"وَاِذَاوَعَدَ اَخْلَفَ (اصولِ کافی ) اورایک وہ شخص کہ جب بھی کوئی وعدہ کرتا ہو، اس کی خلاف ورزی کر بیٹھتا ہو!"
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا :مَنْ عَامَلَ النَّاسَ ولَمْ یَْلِمُهُمْ، وَحَدَّثَهُمْ فَلَمق یُکَذِّبُهُمْ، وَوَ عَذَهُمْ فَلَمْ یَخْلِفْهُمْ "جو شخص لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے تو ان پر ظلم نہ کرتا ہو، جب ا سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولتا ہو، اور جب ان سے کوئی وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو "فَهُوْ مِمَّنْ کَمُلَتْ مُرَوَّتُه وَ حَرُمَتْ غَیْبَتُه وَ ظَهَرَ عَدْلُه وَوَجَبَتْ اُخُوَّتُه (اصولِ کافی ) " تو وہ ایسے لوگوں میں ہوتا ہے کہ جنکا اخلاقِ کامل ہے، جن کی غیبت حرام ہے، جن کا عادل ہوناظاہر ہے اور جن سے بھائی چارہ کرنا واجب ہے۔"
پس جوشخص ظالم ، جھوٹا، یا وعدہ خلافی کرنے والا ہو، اسی روایت کی روشنی میں اس کا اخلاق کامل نہیں ہے، اس کی غیبت جائز ہے ، وہ غیر عادل یعنی فاسق ہے، اور جس کے ساتھ برادرِ ایمانی والے حقوق کی رعایت واجب نہیں ہے!
کوئی چھوٹ نہیں
اسی طرح چھٹے امام علیہ السَّلام کا یہ بھی ارشا د ہے کہ: ثَلَا ثَةُ لَمْ یَجْعَلِ اللّٰهَ تَعَا لٰٰی لِاَحَدٍفِیْهَارُخْصَةً "تین فرائض ایسے ہیں جن کے سلسلے میں خدائے تعالیٰ نے کسی کو ذرا سی بھی چھوٹ نہیں دی ۔"
بِرَّالْوَالِدَیْنِ ، بِرَّیْنِ،کَانَا اَوْفَاجِرَیْنِ "والدین کے ساتھ نیکی کرنا ، خواہ دونوں نیک ہوں یا بدکردار !وَلْوَفَاءُ بِالْعَهْدِ لِلْبِرّ وَالْفَاجِرِ "وعدے کو وفاکرنا ، خواہ نیک آدمی سے وعدہ کیا ہو ا بدکردار سے ۔"وَاَرَاءُ اَلْاَمَانَةِ لِلْبِّرِ و ۔الْفَاجِرِ (شیخ صدوق کی کتاب "خصال" ) اورامانت ادا کرنا ، خواہ وہ نیک آدمی کی ہو یا بدکردار کی ۔" اسی جیسی ایک حدیث کافی میں حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام سے بھی مَروی ہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السَّلام کا ارشاد ہے کہ:مَنْ لِاْمِرْئَتِه شَرْطًا فَلْیَفِ بِه " جو شخص اپنی بیوی سے کوئی وعدہ کرے تو اسے وہ بھی وفا کرنا چاہیئے ۔ "فَاِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ عِنْدَ شُرْطًا حَرَّمَ حَلَا لاً اَوْ اَحَلَّ حَرَامًا (کتاب "تہذیب ") اس لئے کہ مسلمان اپنے وعدوں کا ہردم لحاظ رکھتے ہیں ۔ ہاں البتّہ اگر کسی وعدے کی وجہ سے کوئی حلال چیز حرام ہورہی ہوتو یا کوئی حرام چیز حلا ل ہورہی ہو تو وہ ایسے وعدوں کا لحاظ نہیں رکھتے ۔"
مشرکوں سے معاہدہ
بہرحال وعدہ وفائی کے واجب ہونے اوروعدہ خلافی کے حرام ہونے سے متعلق آیات وروایا ت بے شُما ر ہیں ۔ اس موضوع کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ:( اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْد اللّٰهِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْافَهُمْ لَا یُومِنُوْنَ اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنُ عَهْدَهمْ فِیْ کُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا یَتَّقُوْنَ ) (سورئہ انفال ۸: آیت ۵۵ اور ۵۶) " اس میں شک نہیں کہ خدا کے نزدیک جانوروں میں کفّار سب سے بدتر ہیں تو (باوجود اس کے ) پھر ایمان نہیں لاتے ۔ (اے رسول) جن لوگوں سے تم نے عہدو پیمان کیا تھا پھروہ لوگ اپنے عہد کو ہر بار توڑڈالتے ہیں اور پھر (خدا سے نہیں ڈرتے ۔ " پس وعدہ خلافی کرنے والے لوگ خدا کی بدترین مخلوق ہیں ! یعنی جانوروں سے بھی بدترین ہیں ۔ یہ بات یہاں جان لینی چاہیئے کہ خداوندِ تعالیٰ نے مشرکو ں اور کافروں سے بھی کئے ہوئے معاہدے اور وعدے کو توڑنے کی اجازت نہیں دی ہے، اور اس کی وفا بھی واجب قرار دے دی ہے۔
حضور کا مشرکو ں سے ایفاءِ عہد
جب اسلام کی شان وشوکت عروج پر تھی تو سورئہ برائت کی ایک آیت نازل ہوئی جس میں مشرکوں سے جہاد کا حکم دیا گیا تھا ۔ مکّہ معظمہ کو شرک اوربُت پرستی سے پاک کردینے کا حکم ملا تھا ۔ لیکن ان مشرکوں سے معاہدہ توڑنے کا حکم بھی آیا تھا جو معاہد ہ توڑنے میں پہل نہیں کررہے تھے ۔ وہ آیت شریفہ یہ ہے۔( اِلاَّ الَّذِیْنَ عٰهَدْتُمْ مِّنْ الْمُشْرِکِیْنِ ثُمَّ یَنْقُصُوْکُمْ شُیْئًاوَّلَمْ یُظَا هِرُوْ ا عَلَیْکُمْ اَحَدًافَاَتِمُّوْآ اِلَیْهِمْ عَهْدَ هُمْ اِلٰی مُدَّتِهِمْ، اِنَّ اللّٰه یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ) (سورئہ توبہ ۹ : آیت ۴)" مگر (ہاں) جن مشرکوں سے تم نے عہد و پیمان کیا تھا پھر ان لوگوں نے کبھی کچھ تم سے (وفا عہد میں ) کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی تو ان کے عہدپیمان کو جتنی مدّت کے واسطے مقرر کیا ہے پورا کردو ۔ خدا پرہیزگاروں کو یقینا دوست ر کھتا ہے۔"
ابو رافع کہتے ہیں: قریش نے مجھے پیغمبر ِ اسلام کے پاس روانہ کیا کہ جب میں نے آنحضرت کی زیارت کی اور اُن کے نورانی چہرے پر نگاہ کی تو میرے دِل میں اسلام کانور پیدا ہوگیا۔" میں نے آنحضرت سے کہا: یارسول الله ! اب میں قریش کی طرف لوٹ کرواپس نہیں جاوں گا! " آپ نے جواب میں فرمایا میں عھد و پیمان کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور قریش کی طرف سے پیغام لانے والے کو کاپنے پاس نہیں رکھوں گا۔ اے ابورافع تم اپنے قبیلے کی طرف لوٹ جاو اس کے بعد اگر تمہارا دل چاہے تو اسلام قبول کرکے ہمارے پاس آجانا۔"
قریش سے کئے گئے عہد کا احترام
حذیفہ یمانی کہتے ہیں کہ صرف ایک چیز مجھے جنگ ِبدر میں شریک ہونے سے روکتی رہی تھی ، اور وہ یہ تھی کہ میں اور ابو الْحُسَیَلْ باہر جارہے تھے کہ قریش سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ انھوں نے ہم سے کہا : "تم محمد کوچاہتے ہو؟" ہم نے کہا : " نہیں ہم مدینے کو چاہتے ہیں ۔" انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ جب مدینے پہنچ جائیں گے تو ہم پیغمبرِ اکرم کا جنگ میں ساتھ نہ دیں گے۔ جب ہم پیغمبر اکرم کا جنگ میں ساتھ نہ دیں گے ۔ جب ہم پیغمبر اکرم کی خدمت میں پہنچے اور یہ واقعہ سُنا تو آنحضرت نے فرمایا : جنگ میں جانے کا خیال اپنے اس عہد اور وعدے کی وجہ سے چھوڑدو ! ہم خدا سے مدد طلب کرلیں گے!" یہ حدیث اور اس سے اوپر والی حدیث کتاب " اسلام وصلحِ جہانی " تالیف سیّد قطب ، صفحہ ۲۶۴ سے منقول ہے۔
کافر باپ اپنے مسلمان بیٹے کو لے گی
صلحِ حُدیبیہ کے سلسلے میں سہیل ابن عمر کافروں کی جانب سے رسولِ خدا کے ساتھ مذاکرات کررہا تھا۔ جب عہد نامہ اورصُلح نامہ لکھنے کا وقت تھا اور ابھی دستخط باقی تھے کہ سہیل کا بیٹا جندل کفّارِ قریش میں سے نکل کر مسلمانوں کے درمیان آگیا تھا۔ اس کو اسلام کی طرف مسلمانوں کے درمیان آگیا تھا ۔اسکو اسلام کی طرف مائل دیکھ کر کفّار قریش نے اسکے پیروں میں زنجیر باندھ دی تھی ۔ وہ پیروں میں بندھی زنجیر سمیت ہی فرارہو گیا تھااور مسلمانو ں کے درمیان آکر خود کو مسلمان ظاہر کررہاتھا ۔ صلحِ حدیبیہ کہ تیار کرنیوالے کا فر باپ نے جب یہ حال دیکھا تواپنے بیٹے کے پاس آیا اور ایک طمانچہ رسید کیا۔ پھر اس نے رسولِ اسلام سے کہا " یا محمد! یہ (صلح نامہ ) وہ پہلی چیز ہے جو ہمارے درمیان صلح کی راہ استوارکررہی ہے اور اسی کے تحت آپ کو بھی چاہیئے کہ میرابیٹا مجھے واپس دے دیں!" صُلح حدیبیہ کے مطابق آنحضرت نے اس کی بات قبول کرلی اور جندل کو اس کے کافر باپ کے حوالے کردیا۔ مگر پہلے یہ شرط لگادی کہ وہ اسے حفاظت سے رکھے گا اور اذّیت نہیں دے گا ۔ اس نے یہ شرط منظور کرلی لیکن جب جندل کو کافروں کے حوالے کرنے کا وقت آیا تو جندل کو کافروں کے حوالے کرنے کا وقت آیا توجندل کہنے لگا: "اے مسلمانوں! میں تو مسلمان ہوگیا ہوں میں اب کس طرح مشرکوں کے درمیان جاوں گا؟ رسول خدا نے اس سے فرمایا: " جاو صبر کرو۔ خدا اسی طرح تمہارے لئے آسانی پیداکرے گا ۔ ہم نے جو معاہدہ کرلیا ہے، ہم اس کی مخالفت نہیں کرسکتے۔سہیل نے اپنے مسلمان بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور لے گیا ۔ لیکن اس نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا اوراپنے بیٹے کو سخت اذّیت دی۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدے کی کتنی اہمیت ہے ۔ یہ واقعہ سورئہ فتح کے ذیل میں تفسیر منہجّ الصّادقین میں موجود ہے۔
اپنی موت تک یہیں رہوں گا!
بحارالانوار میں یہ روایت موجود ہے کہ :
پیغمبر ِاکرم نے ایک شخص سے وعدہ فرما لیا تھا کہ وہ ایک طے شدہ جگہ پر ایک پتھر کے پاس اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک کہ وہ جا کر واپس آجائے۔ آنحضرت وہاں رُک گئے لیکن وہ شخص وہاں نہیںآ یا۔ یہاں تک کہ صبح سے دوپہر ہوگئی ۔ انتہائی سخت دھوپ آنحضرت کے بدن پر پڑرہی تھی ۔ بعض اصحاب نے آنحضرت کو دھوپ برداشت کرتے دیکھ کر کہا: "یہاں سے جائیے ! فرمایا : "میں کسی اور جگہ اس وقت تک نہیں جاسکتا جب تک وہ شخص نہ آجائے۔" آخرکار وہ شخص آگیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کہ اگر یہ شخص نہ آتاتو میں اپنی موت کے وقت تک یہاں سے نہیں ہٹتا!"
جناب ِاسماعیل اور ایفاءِ عہد
حضرت اسماعیل پیغمبر کو قرآنِ مجید صَادقُ الْوَعْدِکے لقب سے یاد کرتا ہے۔ ارشاد ہے کہ( وَاذْکُرْنِیْ الْکِتٰبِ اسْمٰعِیْلَ اِنَّه کَانَ صَادقُ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًانَّبِیّاً ) (سورئہ مریم ۹ ۱ : آیت ۵۴) " اور (اے رسول ) قرآن میں اسماعیل کا تذکرہ کرو ۔ بے شک وہ وعدے کے سچے تھے اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔"
جب حضرتِ اسماعیل علیہ السَّلام نے کسی شخص سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں اس جگہ اس وقت تک رہوں گا جب تک کہ تم نہ آجاو ۔ پھر وہ کم از کم تین شب وروز وہاں رہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ اور مشہور بھی یہی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السَّلام نے ایک سال تک اس شخص کا انتظار کیا ۔ اس سلسلے میں انہوں نے سخت تکلیفیں اُٹھائیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں درختوں کے چھلکے تک کھانے پڑے!
وعدہ خلافی کفر کا نیتجہ ہے
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السَّلام وعدہ خلافی اور عہد شکنی کو کفر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو دل میں ہوتا ہے۔ ارشادفرماتے ہیں:وَاللّٰهِ مَامَعْوِیَةَ بَادَهَی مِنِّی وَلٰکِنَّه ایَغْدِدُ وَیَفْجُرُ وَلَوْلَا کَرَاهِیَّةُ الْغَدَرِ لَکُنتُ مِنْ اَدْهَی النَّاسِ وَالنَّاسِ وَلٰکِنْ کُلُّ فَجَرَةٍ وَکُلُّ فَجَرَةٍ کَفَرَةُ وَ لِکُلِّ غَادِرٍلِوَاٰ عُ یُعْرَفُ بِه یَوْمُ الْقِیَامَةِ (نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۲۲۸) " خداکی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ ذہین نہیں ہے۔ لیکن وہ عہد توڑ دیتا ہے اور حق سے منحرف ہوجاتاہے۔ اگر وعدہ خلافی ناپسندیدہ نہ ہوتی تو میں سب سے زیادہ ہوشیار انسان ظاہر ہوتا۔
لیکن ہر وعدہ خلافی فرمانِ خدا سے انحراف ہے اور فرماںِ خدا سے ہر قسم کا انحراف ایک طرح کا کفر ہے۔ ہر وعدہ خلاف شخص کا ایک پرچم ہوگا جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن پہچانا جائے گا۔"
علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ روایات میں گناہِ کبیرہ کرنے والے شخص کو کافر بھی کہاگیا ہے۔وعدہ خلافی چونکہ ایک بڑا گناہِ کبیر ہ ہے، اس لئے اس خطبہ میں ہر وعدہ خلاف شخص کو ایک طرح کا کافر کہاگیا ہے یہ وہ کفر ہے جس کا بیج دل میں ہوتا ہے اور جو احکا مِ خداکی نافرمانی کی صورت میں نمودارہوتاہے۔
مسلمان دھوکہ باز نہیں
امیر المومنین حضرت علی علیہ السَّلام یہ بھی فرماتے ہیں :
اِنَّ الْوَفاءَ تَوَأَمُ الصِّدْقِ وَلَآ اَعْمُ جِنَّةً اَوْتٰی مِنْهُ وَمَا یُعْدَدُ مِنْ علْمٍ کَیْفَ الْمَرْجَعُ وَلَقَدْاَصْبَحْنَافِیْ زَمَانٍ اتَّخَذَاَکْثَرُ اَهْلِهِ الْغَدَرَکِیْسًَا وَنَسَبَهُمْ اَهْلُ الْجَهْلِ فَیْهِ اِلٰی حُسْنِ الْحِیْلَةِ مَالَهُمْ قَاتَلَهُمْ اللّٰهُ قَدَیُرَی الْحُوَلُ الْقُلَّبُ وَجْهَ الْحِیْلَةِوَدُوْنَهَا مَانِعُ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ وَنَهِیه فَیَدَعُهَا وَأْیَ عَیْنٍ بَعْدَالْقُدْرَةِ عَلَیْهَا وَیَنْتَهِزُ فُرْصَتَهَامَنْ لَّا جَرِیْخةَ لَه فِیْ الدِّیْنِ (نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۴۳)
"بے شک وعدہ وفائی اور سچائی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں ۔ میں نے وعدہ وفائی سے بہتر کوئی اور ڈھال نہیں دیکھی جو عذاب سے بچانے والی ہو۔ جس شخص کا روزِ جزاء پر اعتقاد ہو وہ اپنے وعدے کو نہیں توڑے گا اور عذر خواہی نہیں کرے گا۔ ہم اس زمانے میں زندگی گذاررہے ہیں جس میں لوگ وعدہ خلافی اور دھوکہ بازی کو سیاست اور ہوشیاری سمجھتے ہیں ! اور جاہل افراد بہترین بہانہ بازی کو ہنر سمجھتے ہیں ان کو کیا ہو گیا ہے؟خدا ان کو ہلاک کرکے انہی دھوکہ بازی کے حیلوں میں ایک وعدہ خلافی بھی شامل ہے۔ حیلے کی کوئی بھی وجہ ہوخدا کا حکم اور اسکی نہی مانع ہے کہ میں اس پر عمل کروں ۔ پس اپنی آنکھوں کے سامنے بندہِ خدا حیلہ کودیکھ کر بھی اور حیلہ پر قدرت رکھتے ہوئے اسے چھوڑدیتا ہے ۔ لیکن جس شخص کو دین کا درد نہیں ہوتا وہ حیلہ کی فرصت کو غنیمت سمجھتا ہے اور چال بازی یا وعدہ خلافی کر بیٹھتا ہے۔"
وعدہ خلافی اور جھوٹ
بعض مجتہدین نے عہد شکنی اور وعدہ خلافی کوجھوٹ کی قسموں میں شُمار کیا ہے، خصوصًاجب کہ عہد کرتے وقت یا وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورانہ کرنے کا ارادہ ہو۔ اس بنا ء پر مذمت ،حرمت اور سزاکے بارے میں جو کچھ آیات ذکر ہوچکی ہیں، وہ عہد شکنی اور وعدہ خلافی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔
اگر کسی معاملے میں شرط ہو
اگر مجتہدین کے فتووں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت کے یاکسی اور معاملے کے ضمن میں کوئی شرط عائدکی گئی ہو، عہد یا وعدہ لیا گیا ہو، تو اس کی پابندی واجب ہے۔ مثلاًخریدتے وقت اگر آدمی شرط لگادے کہ اگر مال میں کئی عیب نکلا تو وہ اسے دومہینے تک لوٹا سکے گااور دُکاندار مثلًاشرط لگادے کہ اگر مال کو لوٹاناہوتو اس میں خریدار کا پیدا کیا ہوا کوئی نقص نہ ہو۔توایسی شرطوں کی پابندی واجب ہے۔ اسی طرح مثلاًاگر مالکِ مکان کرائے دار پر یہ شرط عائد کردے کہ وہ کسی مہمان کو نہیں رکھے گا تو ایسی شرطوں کی بھی پابندی واجب ہوجاتی ہے۔ معاملے میں دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو دوسرے پرشرط لگانے کا حق حاصل ہوتاہے۔
بعض دیگر مجتہدین فرماتے ہیں کہ نہ صرف ایسی شرطوں کی پابندی واجب ہے، بلکہ جس شخص نے شرط لگائی ہے اس کو بھی یہ شرعی حق حاصل ہوجاتا ہے کہ شرط ماننے والے شخص سے اپنے حق کا مطالبہ کرے۔ اگروہ چاہے توزبردستی بھی اپنا حق لے سکتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ معاملے کے دوران شرط کو لازمی درجہ دیا گیاہو۔ مثلًااگر وہ چاہے توزبردستی بھی اپناحق لے سکتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ معاملے کے دوران شرط کو لازمی درجہ دیا گیاہو۔ مثلًااگر ملازم یہ شرط لگادے کہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو اس کی تنخواہ ملنی چاہیئے ، تو نہ صرف یہ کہ وہ پہلی تاریخ کو مطالبہ کرسکتا ہے، بلکہ زبردستی یا مالک کی لاعلمی میں بھی اپنا حق لے سکتا ہے۔ لیکن اگر معاملے کے درمیان شرط کولازی کی سی حیثیت نہ دی گئی ہواور شرط کی پابندی کو محض بہتر سمجھا گیا ہو تو نہ تو پابندی واجب ہے اور نہ ہی کسی کا حق بنتاہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ شرط کا معاملے سے کوئی تعلق نہ ہو، ایسی صورت میں معاملے سے متعلق شرط لگانے والے کو حق نہیں ہوگا کہ اُس شرط کی بناء پر معاملے میں اپنا حق حاصل کرے۔ البتہ شرط ماننے والے پر معاملے سے قطعِ نظر شرط کی پابندی واجب ہوگی۔
ہر حال میں وعدہ وفاکرنا چاہیئے
بہرِحال آیت وروایت میں وعدہ وفائی کی اتنی تاکید موجودہے کہ انسان کو ہر قسم کے وعدے کی وفامیں شدید احتیاط سے کام لینا چاہیئے اگر آدمی وعدہ نہ کرنا چاہتا ہو، لیکن وعدہ کرنے پر مجبور ہو تو حرام اور وعدہ خلافی سے بچنے کے لئے وہ لفظ "شاید " "اگر " یا انشاء الله " وغیرہ استعمال کرسکتاہے۔ یعنی مثلاً انشاء الله کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدانے چاہا تومیں ایسا کروں گا۔
انشاء الله کہہ کرنذر وعہد کرنا
ہر وہ عہد ، نذر یا وعدہ جس میں انشاء الله کہاگیا ہو، یا کسی بھی زبان میں خدا کی مرضی پر ڈال دیاگیا ہوتو اس کی وفاواجب نہیں رہتی۔ علّامہ حلّی نے یہی فرمایا ہے اور مشہور مجتہدین بھی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ البتّہ اگر شرط یا وعدہ وغیرہ کسی واجب کام کو کرنے یا حرام کا م کو ترک کرنے کے سلسلے میں ہوتو اسی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔
یہ بات جان لینی چاہیئے کہ انشاء الله کہنے کے بعد وعدہ کی کووفا اس صورت میں واجب نہیں رہتی جب کہ آدمی وعدہ وفا کرنے کے عزّم کے ساتھ انشأالله کہے یا برکت کی خاطر کاانشاء الله کہے اور ذہن میں انشاء الله کہے اور ذہن میں انشاء الله کا شرطیہ مفہوم نہ ہو تو ایسی صورت میں بہرحال شرط یا وعدے کی پابندی واجب ہوگی۔
گناہ انجام دینے کاوعدہ
ظاہرہے کہ اگر وعدہ یا شرط وغیرہ کسی واجب کام کو چھوڑدینے ، یا کسی حرام کام کو انجام دینے کے سلسلے میں ہوتو اس پابندی نہ صرف یہ کہ واجب نہیں ہے، بلکہ حرام ہے۔ اور اگرآدمی یہ عہد کرے کہ اگر اس کی بیوی یا اس کے بیٹے نے فلاں بُرا کام انجام دیاتو وہ فلاں سختی کرے گا۔ ایسے عہد پر عمل نہ کرنا اور معاف کردینا بہترہے۔ ارشاد ہے( وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَاتُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَکُمْ ) (سورئہ نور ۲۴ : آیت ۲۲) " بلکہ انہیں چاہیئے کہ ان کی خطامعاف کردیں اور درگذرسے کام لیں ۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے ہوکہ خدا تمہاری بھی خطا معاف کردے !" اس آیت کامفہوم یہ ہے کہ اگر بندے دوسرے بندوں کی خطائیں معاف کریں گے توخدا بھی ایسے معاف کردینے والے بندوں کی خطائیں معاف کرے گا۔
جنابِ ایوب نے اپنی زوجہ کو سوتا زیانے مارنے کی قسم کھائی
اگر سختی کرنے یا سزادینے کا عہد یا وعدہ بہت تاکید کے ساتھ ہو تو بہتر یہ ہے کہ کچھ اس قسم کی علامتی سزادے دی جائے کہ نہ تو وہ باقاعدہ سزا ہو اور نہ ہی عہد کی خلاف ورزی شما رہو۔ مثلًا حضرت ایوب پیغمبر نے جب اپنی بیوی کو ان کی مرضی کے خلاف ایک کام کرتے دیکھا تو انہوں نے قسم کھائی کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ اسے سو تازیانے ماریں گے۔جب حضرت ایوب علیہ السَّلام صحت یا ب ہوئے تو حُکم ِ خدا ہوا کہ: وَخُذْبِیْدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہ وَالَا تَحْنَثْ (سورئہ صٓ ۳۸: آیت ۴۴) "( اے ایوب) تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مُٹھّا لو (جس میں سوبالیاں ہوں) اور اس سے (اپنی بیوی کو ایک دفعہ) مارو، اوراس طرح اپنی قسم میں جھوٹے بننے سے بچ جاو۔"
گانا
سولہواں ایسا گناہ جِسے صاف الفاظ میں کبیرہ بتایا گیا ہے گاناگانا ہے۔ اعمش نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے جو روایت نقل کی ہے اس میں بھی یہ صراحت موجود ہے محمد ابن مسلم کہتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السَّلام نے فرمایا
(قاَلَ) اَلْغِنَآءُ مِمّا اَوْعَدَاللّٰهُ عَلَیْه النَّارَ (فروغِ کافی، بابِ غنا)
" گانا ایک ایسا گناہ ہے، جس پر خدا نے جہنّم کا عذاب رکھا ہے۔" اور دیگر بہت سی حدیثوں سے ثابت ہے کہ ہروہ گناہ،گناہِ کبیرہ ہے جس پر عذاب کی بات خدا وندِ تعالٰی نے کی ہو۔
گانا کیا ہے؟
سیَّد مرتضیٰ اپنی کتاب "وسیلہ" میں فرماتے ہیں:
العنآء حرام فعله وسِمٰاعُه والتکسبُ به ولیسَ هُومجّردُ تِحْسِیْنِ الصّوْتِ، بَلْ هُومَدُّالصّوْتِ وتَرْجِیْعُهُ بکیفّیةٍخاصّةٍ مُطرِبه تنُاٰسِبُ مجلس الّهوِواَلطّربِ "
گانا حرام ہے۔ گانا سُننابھی حرام ہے اور اس کے ذریعے مال کمانا بھی حرام ہے۔ البتہ ہر اچھی آواز گانا نہیں ہے بلکہ گانا ایک خاص انداز میں آواز کو کھینچے اور حلق میں مخصوص انداز سے گھمانے کو کہتے ہیں، جو کہ لہو ولعب اور عیش وطرب کی محفلوں میں رائج ہے۔ ایسا گانا موسیقی کے آلات سے عام طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے ۔"
اکثر شیعہ مجتہدین لغت کے ماہرین کی طرح کہتے ہیں کہ گانا آواز کو حلق میں گھمانے کوکہتے ہیں۔ (کلاسیکی موسیقی اور بعض قوالیوں میں ایساہی ہوتاہے اور آآآآ جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔ لغت "صحاح" میں لکھتا ہے کہ گانا ایک ایسے انداز کی آواز کو کہتے ہیں جو انسان کو غیر معمولی حد تک غمگین یا خوش کردیتی ہو۔ تقریباً ایسے ہی معنی دیگر لغتوں میں درج ہیں۔ بس گانا ایک ایسی آواز ہے جو آدمی کو ایک کہف وسرور یا غم کی حالت میں ڈال دیتی ہو۔
کتاب ذخیرة العباد میں لکھا ہے کہ:
گانا لہوولعب کی خاطر نکالی گئی ہر ایسی آوازکو کہتے ہیں جس کی وجہ سے شہوت اُبھرے، خواہ وہ کلاسیکی موسیقی کی طرح حلق میں آواز گھمانے سے پیدا ہوتی ہو یا کسی اور طریقے سے الغرض عرفِ عام میں جِسے گاناکہا جاتا ہو وہ حرام ہے۔ پس اگر اشعار، قرآن یانوحے مرثیے بھی گانے کی طرز پر پڑھے جائیں تو یہ بھی گناہ ہے، بلکہ عام گانے سے زیادہ بڑاگناہ ہے۔ اس لئے کہ اس میں اس طرح قرآنِ مجید اور نوحے مرثیے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا گناہ اور عذاب دُگناہے۔"
گانے کے بارے میں
( ۱) گانا، گناہِ کبیرہ
جب حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام نے فرمایا تھاکہ " گانا ایسی چیزوں میں سے ہے جس پر خداوندِ تعالیٰ نے عذاب کا قول دیا ہے " تو یہ آیت شریفہ بھی تلاوت فرمائی تھی:
( وَمِنَ النّاس مَنْ یَّشْتَریْ لَهْوُ الْحَدِیْثِ لِیُضلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِعِلْمٍٍ وَّ یَتِخّذَهَاهُزُوً ااُولٰٓئِکَ لَهُمْ عَذابُ مَّهِیْنُ ) (سورئہ القمان ۳۱: آیت نمبر ۲)
" اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو بیہودہ چیزیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوچے سمجھے وہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دیں اور خدا کی نشانیوں کا مذاق اُڑائیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے بڑارسواکردینے والا عذاب ہے!"
( ۲) آیت میں "لَہْوَالْحَدِیْثِ" سے مرادگانا
اس آیت شریفہ اور امام محمد باقر علیہ السَّلام کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گانا بھی لَہْوَالْحَدِیْث یعنی بیہودہ چیزوں میں سے ایک ہے۔ بیہودہ چیز کوئی نامناسب بات ، حرکت یا شاعری وغیرہ ہوسکتی ہے جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور جو انسان کو فائدے سے محروم کردے دوسرے الفاظ میں کلامِ حق اورقرآنِ مجید کی بات ماننے سے روک دینے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْثہے ۔ گمراہ کردینے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْث ہے فسق وفجور، عیّاشی اور فحاشی کی طرف مائل کرنے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْث ہے خواہ وہ گانا سُننا ہو یا خودگانا ہو، یہ ایسی ہی بیہودہ چیزیں ہیں ۔ اوپر جو آیت پیش کی گئی اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہے :
( وَاِذَاتُتْلٰی عَلَیْْه اٰیٰتُنَاوَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَأَنْ لّمْ یَسْمَعْهَاکَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْهِ وَقْرًا فَبَشّرِهُ بَعِذٰبٍ اَلِیْمٍ ) (سورئہ لقمان ۳۱ ۔ آیت ۷)
قولَ الزُّوْرِ" کی تفسیر
گانے باجے کے لئے قرآنِ مجید میں لَھْوَالْحَدِیْث کے علاوہ لفظ قَوْلَ الزُّوْر بھی استعمال ہو اہے ۔ امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے ابوبصیر نے اس آیت شریف کی تفسیر بوجھی تھی( وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ ) (سورئہ حج ۲۲: آیت نمبر ۳۰) " اور لغو باتوں سے بچے رہو۔" امام علیہ السَّلام نے جواب میں فرمایاتھا (قَالَ) اَلْغِنا ٓءُُ یعنی " گانا لغو بات ہے۔" اور امام محمد تقی علیہ السَّلام کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی :( وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ ) (سورئہ فرقان ۲۵: آت نمبر ۷۲)" اور وہ لوگ قریب کے پاس دیکھنے کے لئے کھرے ہی نہیں ہوتے" پھر اس آیت شریفہ کی تفسیرپوچھی گئی تو امام محمد تقی علیہ السَّلام نے جواب دیا(قَالَ) اَلْغِنآء ُ یعنی " یہاں زُوْر یا فریب سے مراد گاناہے"(شیخ طوسی کی کتاب امالی" اور کتاب کافی )
ایک اور حدیث میں ہے کہ حمّاد ابن عثمان نے اِسی آیت شریفہ کے بارے میں بوچھا تو امام محمد تقی علیہ السَّلام نے فرمایا :(قَالَ) مِنْهُ قَوْل الرَّجُلِ الَّذِیْ یُغْنِیْ یعنی " اس میں ایسے شخص کی بے ہودہ باتیں بھی شامل ہیں جو گارہا ہو۔"
( ۴) گا نا "لَغُو" ہے
اسی آیت شریفہ کے بعد والا ٹکڑا ہے( وَاِذَ مَرُّوْا با لْلَغْوِ مَرُّوْا کِرََامًا ) ( سورئہ فرقان ۲۵: آیت نمبر ۷۲)" اور جب وہ کسی چیز کے پاس سے گزرتے تو خداکو آلودہ کئے بغیر پہلو بچالیتے ہیں اور اپنی شرافت محفوظ رکھتے ہیں" اسی طرح ایک اور آیت میں ہے( وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ الّلَغْوِ مُعْرِضُوْنَ ) (سورئہ مومنون ۲۴: آیت نمبر ۳ ) " اور جب لوگ لغو باتوں سے منہ پھیرے رہتے ہیں۔"
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام اور امام علی رضا علیہ السَّلام سے پوچھا گیا کہ ان دونوں آیتوں میں مومنین کی جو صفات بیان کی گئی ہیں یہاں " لغُو " سے کیا مراد ہے؟ توان دونوں معصوموں نے اپنے اپنے زمانے میں یہی فرمایا تھاکہ :" لَغْو دراصل گانا باجا ہے اور خدا کے بندے اس میں آلودہ ہونے سے بچے رہتے ہیں۔" ( کتابِ" کافی " اور کتاب عُیُونُ اخبارِ رضا")
( ۵) آپس میں نفاق اور گانا
عَنْ اِبِیْعَبْدِ اللّٰہِ قَالَ امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:اسْتِمَاعُ الْغِنَِآءِ وَالَّهْوِ یُنْبِتُ النِّفَا قَ فِیْ الْقَلْبِ کَمَا یُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّوْعَ ( کتاب"کافی") گانے باجے کو اور بے ہودہ باتوں کو غور سے سُننا دل میں نفاق کو اسی طرح پیدا کردیتا ہے جس طرح پانی سبزے کی نشوونما کا باعث بنتاہے۔"
کافی ہی میں چھٹے امام علیہ السّلام کی یہ روایت بھی موجود ہے کہهَلْ غَنَآء ُعَشُّ النِّفَاقِ " گانا باجا نفاق جیسے پرندے کا گھونسلا ہے۔"
گانے کا پروگرام
جس جگہ گانا باجا ہوتا ہے وہاں خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔ حضرت امام جعفرصادق علیہ السَّلام نے فرمایالاَ تَدْ خُلُوْا بُیوُتاً اَللّٰهُ مُعْرِضُ عَنْ اَهْلِهَا (کتاب کافی) ایسے گھروں میں داخل بھی مت ہو جس کے رہنے والوں پر سے خدا نے اپنی نظرِرحمت ہٹالی ہو!" یہی امام علیہ السّلام فرماتے ہیںبَیْتُ الْغِنَآءِ لاَ یُومَنُ فِیْهِ الْفَجِی ة "جس گھر میں گانا باجا ہوتا ہے وہ ناگہانی مصیبتوں سے محفوظ نہیں رہتا!"وَلاَ یُجَابُ فِیْهِ الدَّعْوَةُ "ایسے مقام پر دُعا مستحب نہیں ہوتی!۔"وَلاَ یَدْخُلُهُ الْمَلَکُ (کتابِ "کافی" ‘اور مستدرک الوسائل ‘باب ۷۸) " اور ایسی جگہ فرشتے نہیں آتے!" اور گزری ہوئی حدیثوں سے اسی کتاب میں ثابت ہوچکا ہے کہ جب خدا کا غضب نازل ہوتا ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ پس یہ عذر کافی نہیں ہے کہ ہم توایسی جگہ جاتے ہیں جہاں گانے کا پروگرام ہوتا ہے لیکن دل سے بیزار ہیں۔ بیزاری عملی طور پر ہونی چاہیئے اور گانے باجے کو روکنا چاہیئے۔
( ۷) گانا اور فقر و فاقہ
حضرت علی علیہ السَّلام سے مروی ہےوَالْغِنَآءُ یُوْرِثُ النِّفَاقَ وَ یُعَقِّبُ الْفَقْرَ
"اور گانا باجا نفاق پیدا کرتا ہے اور فقر و فاقہ کا باعث بنتا ہے!"( مستدرک الوسائل‘ باب ۷۸)
( ۸) گانے کا عذاب
حضر ت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مروی ہے کہیُحْشَرُ صَاحِبُ الْغِنآءِ مَنْ قَبَرِ ه اَعْمٰی وَآخْرَ سَ وَاَبْکَمَ (جامعُ الاخبار) "گانا گانے والا شخص اپنی قبر سے جب میدانِ حشر میں نکلے گا تو اندھا بھی ہوگا ، بہرا بھی ہوگا اور گونگا بھی ہوگا !" روایت میں یہ بھی ہے کہ گانے گانے والوں کو اسی علامت سے پہچاناجائے گا!
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کایہ ارشاد بھی ہے کہ(قَالَ) مَنْ اِسْتَمَعَ اِلیٰ الَّلهْوِیُذابُ فِیْ اُذُنِه الْاُنُکُ (تجارت،مستدرک الوسائل، باب ۸۰) " جو شخص گانا باجا غور سے سنے گا اس کے کان میں پگھلا ہو ا سیسہ ڈالاجائے گا!"
رحمتِ خداسے محرومی
قطب راوندی نے پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ " گانا گانے والا شخص ایسے لوگوں میں شامل ہے جن پر قیامت کے دن خدا نظرِ رحمت نہیں ڈالے گا!"
گلوکار سے محبت
عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ عَلَیْه السَّلاٰمُ قَالَ امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:مَنْ اَصْغٰی اِلٰی ناَطِقٍ فَقَدْعَبَدَه "جو شخص کسی بولنے والے کا احترام کرے گا وہ گویا اس کا بندہ ہوجائے گا!" فَاِنْ کَانَ النّاطِقُ یُودِّیْ عَنِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ فَقَدْ عَبَدَ اللّٰهَ وَاِنْ کَانَ النّاطَقُ یُودِّی عَنِ الشِیْطَانِ فَقَدْ عَبَدَ الشَیْطَانَ (فروغِ کافی ،گانے کا باب) " اگر بولنے والا شخص خدا کی طرف لے جاتا ہو تو احترام کرنے والا شخص خدا کی عبادت کرتا ہے اور اگر وہ شیطان کی طرف لے جاتا ہو تو وہ شیطان کی عبادت کر بیٹھتا ہے!"
چھٹے امام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ : جو شخص بھی گانا گانے کی آواز بلند کرتا ہے تو اس پر دو شیطان دونوں کندھو ں پر سوار ہوجاتے ہیں اور اس وقت اپنے پیر کی ایڑی اس کے سینے پر مارتے رہتے ہیں جب تک کہ اس کا گانا ختم نہیں ہوجاتا!" پس جب شیطان گلوکار کو لات مارتے ہوں تو ایساشخص محبت کئے جانے کے کہاں لائق ہے!
بہشت میں سُریلی آوازیں
حضرت امام علی رضا علیہ السَّلام کا ارشاد ہے (عَنْ اَبِیْ الْحَسَنِ قَالَ) مَنْ نَزَّهَ نَفْسَه عَنِ الْغِِنَآءِ فَاِنَّ فِیْ الْجَنَّتِ شَجَرَةًیأْمُرُاللّٰهُ الرِّیَاح اَنْ تُحَرِّکَهَا فَیَسْمَعُ لَهَا صَوْتًا لَمْ یُسْمَعْ بِمِثْلِه وَمَنْ لَمْ یَتَنَزَّه ْعَنْهُ لَمْ یَسْمَعْهُ (کتاب " کافی") یعنی " جو شخص خود کو گانے سے بچائے رکھے گا تو خدا سے جنت میں ایک درخت میں سے آواز سنوائے گا کہ ایسی اچھی آواز کسی نے نہیں سنی ہوگی ! اور جو شخص اپنے آپ کو گانے سے نہیں بچائے گا وہ ایسی آواز نہیں سن سکے گا۔"
جنت میں خوبصورت نغمے
حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ حدیث تفسیر مجمع البیان میں موجود ہے کہ : "جوشخص بہت گانے سنتا رہا ہو وہ روحانیوں کی آواز قیامت میں نہیں سُننے گا"پوچھا گیا۔’ ’ یا رسول اللّٰہ ! یہ روحانی کون لوگ ہیں؟ فرمایا: جنت میں خوش الحانی سے گانے والے۔"
اور حضرت علی علیہ السَّلام کا یہ قول نہج البلاغہ میں موجود ہےدٰاودُ سَیِّدُ قُرَّآءِ اَهْلِ الْجَنَّةِ یعنی " حضرت داود علیہ السَّلام جنت کے خوش الحان لوگوں کے سردار ہوں گے۔"
جنت میں لوگ حضرت داؤد علیہ السَّلام سے ایسے عمدہ نغمے سنیں گے کہ دنیا میں ان کی مثال نہیں ملتی ہوگی‘ البتہ ایسے ہی لوگ سن سکیں گے جو دنیا میں گانا سننے سے پرہیز کرتے ہوں۔
سخت تنبیہ
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں: "َظْهَرُ فِیْ ٓ اُمَّتِی الْخَسْفُ وَالْقَذْف " میری اُمّت میں ایسے واقعات ظاہر ہوں گے کہ زمین دھنس جایا کرے گی اور آسمان سے پتّھر برسا کریں گے!"قَالُو مَتٰی ذٰلِکَ؟ "لوگوں نے پوچھا کہ ایسا کب ہوگا؟" قَالَ اِذاظَھَرَتِ الْمَعَازِفُ واْلِقَیْنَاٰتُ وَشُرِبَتِ الْخُمُوْرُ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: "جب گانے باجے کے آلات عام ہوں گے ، گانا گانے والی لڑکیاں کثرت سے ہوں گی اور نشہ آور چیزوں کا استعمال پھیل جائے گا! "وَاللّٰهِ لَیَبِیْتَنَّ اُنَاسُ مِّنْ اُمَّتِی عَلٰی اَشَرٍوَّ بَطَرٍوَّ لَعِبٍ فَیُصْبِحُوْنَ قَرِدَةً وَّ خَنَازِیْرَ لِاستِحْلٰالِهِمُ الْحَرَامَ وَاتّخَاذِهِمُ الْقَینَاتِ وَشُرْبِهِمُ الْخُمُوْرَ وَاَکْلِهِمُ الرِّبَا وَ لَبْسِهِمُ الْحَرِیْرَ (وسائل الشیعہ‘ کتاب التجارہ‘گانے کا باب)
یعنی "خدا کی قسم میری امّت کے بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو رات کو مستی اور عیاشی کے عالم میں گذاریں گے اور صبح درحقیقت بندروں اور سوّروں کی مانند ہوجائینگے! یہ اس سبب ہوگا کہ وہ حرام کو حلال سمجھتے ہونگے۔ گانا گانے والی لڑکیوں میں مگن ہونگے‘ نشہ آور چیزیں استعمال کریں گے‘ سود کا مال کھائینگے اور ریشمی کپڑے پہنتے ہوں گے!"
گانا اور زنا
گانا زنا کا سبب بن جاتا ہے۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے( عَنِ النَّبِیِّ) اَلْغِنَآءُ رُقْیَةُ الزِّنَا (مستدرک الوسائل‘ کتاب تجارت) "گانا‘ زنا کی سیڑھی ہے!"
گانے سے آدمی کی شہوت اُبھرآتی ہے اور اس کے بُرے نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ نہ صرف گانے سے شہوت اُبھرتی ہے بلکہ گانا سننے سے بھی یہی حال ہوتا ہے۔ آدمی خدا سے غافل ہو جاتا ہے اور ہر قسم کی بدکاری کے لئے آمادہ نظر آتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السَّلام کا ارشاد ہےوَالْمَلَاهِیَ الَّتِی تَصُدُّ عَنْ ذِکْرِاللّٰهِ کَالْغِنَآءِ وَضَرْبِ الْاَوَتَارِ یعنی " اور لہو ولعب کے وہ تمام کام گناہِ کبیرہ ہیں جو خداوندِ تعالےٰ کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں‘ مثلاً گانا باجا اور موسیقی کے آلات کا استعمال!"
جی ہاں‘ موسیقی نہ صرف شرم و حیاء اور غیرت کو ختم کردیتی ہے‘ بلکہ محبت‘ انسانیت اور رحم جیسے جذبات کو بھی فنا کر دیتی ہے۔ الغرض معاشرے کو جہنم کا نمونہ بنا دیتی ہے!
گانے کے حرمت
شیعہ مجتہدین کے درمیان اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ گانا حرام ہے‘ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ گانے کی حرمت پر اجماع موجود ہے۔ کتاب "مستند" کے مُولّف فرماتے ہیں کہ گانا باجا کو حرام ہونا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ یعنی اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ گانا باجا حرام نہیں ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا! کتاب "ایضاح" کے مُولّف فرماتے ہیں کہ گانے باجے کو حرام قرار دینے کے سلسلے میں جو روایتیں وارد ہوئی ہیں وہ متواتر ہیں۔
البتہ گانے کے معنٰی میں اور اس کی تعریف تھوڑا بہت اختلاف موجود ہے۔ اکثر مجتہدین یہی کہتے ہیں کہ ہر وہ آواز جو عیش و طرب کی خواہش اور جنسی قوت کو اُبھار سکتی ہو وہ گانا باجاہے اور حرام ہے۔
قرآنِ مجید گانے کے انداز میں
جس طرح کہ پہلے بیان ہوا ، گانے کے طرز پر قرآنِ مجید پڑھنا یا نوحہ مرثیہ پڑھنا یا اذان دینا بھی حرام ہے۔ اِس سلسلے میں نظم اور نثر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بلکہ مقدّس چیزوں کو گانے کے طرز پرپڑھنے کا گناہ دُگناہے۔ ایک تو گانے کی آواز نکالنے کا گناہ، اور دوسرے قابلِ احترام چیزوں کی بے حرمتی کا گناہ۔
اچھّی آواز میں قرآن پڑھنا
البتہ ہر اچھی آواز گانا نہیں ہے۔ خوش الحانی سے، گلے میں آواز گھمائے بغیر اگر تلاوتِ قرآن کی جائے یانوحہ مرثیہ پڑھ جائے تونہ صرف یہ کہ یہ کوئی بُری بات نہیں ہے بلکہ اچھّی بات ہے۔ رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے(قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهُ عَلَیْه وَآله وسَلَمْ) اِقْرَوالْقُرْآنَ باَلْحَانِ الْعَرَبِ وَاَصْوَاتِهَا "قرآن عرب لوگوں کے لہجے میں خوش الحانی سے پڑھاکرو۔"
وَاِیَّاکُمْ وَلُحُوْنَ اَهْلِ الْفِسْقِ وَاَهْلِ الْکَبَائِرِفَاِنَّه سَیَجیءُ اقْوَامُ یُرَجِّعُوْنَ الْقُرْآنَ تَرْجِیْعَ الْغِنَآوَالنَّوْحِ وَالرُّهْبانِیَّةِلَایَجُوْزُ تَرَا قِیْهِمْ قُلُوْبُهُمْ مَقْلُو بَة ُوَقُلُوْ بُ مَنْ یُّعْجِبُه شَاءْ نُهُمْ (وسائل الشیعہ، کتاب صلوٰة)"
تم کو فاسقوں اور گناہِ کبیرہ کرنے والوں سے پرہیز کرنا چاہئیے۔ یقینا ایسے لوگ دنیا میں آئیں گے جو قرآن کو گانے کے، گا کر رُلانے والوں کے اور راہبوں کے طرز پر پڑھاکریں گے ۔ ایسے لوگوں کے پاس جانا یا ان کو اپنے پاس بلانا جائز نہیں ہوگا ۔ ایسے لوگوں کے دل اُلٹے ہوئے ہوں گے، اور جو لوگ ایسوں سے متاثر ہوں گے ان کے دِل بھی ایسے ہی اُلٹے اور کج ہوں گے!"
خوبصورت آواز اور گانا
قیامت قریب ہونے کی علامتیں ذکر کرتے ہوئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں :ایسے لوگ بھی دنیا میں آئیں گے جو قرآن کو دنیاوی مقاصد کے لئے حفظ کریں گے اورگانے کے طرز پر تلاوت کریں گے۔"
البّتہ ایسی احادیث بھی ملتی ہیں، جیسا کہ ذکر ہوا، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اچھّی آواز میں قرآن کی تلاوت مستحب ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ وہ گانے کے طرز پر نہ ہو۔
لڑکی کی شادی میں گانا بجانا
بعض مجتہدین نے تین شرطوں کے ساتھ شادی کے موقع پر عورتوں کو گانے کی اجازت دی ہے:
( ۱) پہلی شرط یہ ہے کہ گاناسُننے والوں میں کوئی مرد موجود نہ ہو، یہاں تک کہ محرم مرد بھی موجودنہ ہوں۔
( ۲) دوسری شرط یہ ہے کہ گانے فحش نہ ہوں اور جھوٹی باتوں پر مشتمل نہ ہوں۔
( ۳) تیسری شرط یہ ہے کہ گانے کے ساتھ ڈھول تاشہ اور دیگر بجانے کے آلات استعمال نہ ہوں۔
بعض علماء نے دف (یعنی ایسا ڈھول جس کے ایک ہی طرف کھال ہو ) شادی میں بجانے کی اجازت دی ہے۔ شہیدِ ثانی اورمحققِ ثانی فرماتے ہیں کہ دف شادی میں اس صورت میں بجاناجائز ہے جب کہ اس کے اطراف میں جھنجھنے نہ لگے ہوں۔
لیکن احتیاط یہ ہے کہ شادی کے موقع پر نہ تو عورتیں گانا گائیں اور نہ ہی کوئی چیز بجائیں۔ شیخ انصاری علیہ الرَّحمہ "مکاسب" میں شہید ِثانی کتاب"دروس" میں اورسیَّد مرتضیٰ کتاب" وسیلہ " میں اس موضوع پر یہی فرماتے ہیں : اَلْاِحْتِیَاطُ طَرِ یْقُ النَّجاَةِ یعنی احتیاط ہی نجات کا راستہ ہے۔
امانت میں خیانت
بائیسواں ایسا گناہ جس کی نص یعنی محکم آیت یا صحیح اور واضح روایات کے زریعے صراحت ہوئی ہوکہ وہ گناہ کیبرہ ہے، امانت میں خیانت کر نا ہے ۔ حضرت عبدالعظیم نے حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) سے جو صحیح روایت نقل کی ہے اور اسی طرح حضرت علی رضا، حضرت امام موسیٰ کاظم اور حضرت امام جعفر صادق علیہم السَّلام سے جو روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔ ان سے بھی خیانت کا گناہِ کبیرہ ہونا ثابت ہے۔
خیانت خود ایک عربی لفظ ہے۔ اعمش نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے جو روایت نقل کی ہے اس میں گناہان کبیرہ کی فہرست بتائے ہوئے " وَالْخیاَنةُ " کا لفظ استعمال کیا ہے۔ البتہ خیانت کے معنی میں جو دوسرا لفظ استعمال ہوتا ہے وہ " غُلُولً" ہے ۔ فضل بن شاذان نے حضرت امام رضا علیہ السَّلام سے جو روایت نقل کی ہے اس میں لفظ "غُلُول" استعمال ہواہے جو خیانت کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ بعض اہلِ لغت نے کہا ہے کہ غلول ایسے مال غنیمت میں خیانت کوکہتے ہیں جو کافروں سے ہتھیا لیا ہو ، مسلمانوں کے قبضے میں آگیا ہو لیکن ابھی اسکی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن بعض دیگر اہل لغت نے لکھا ہے کہ لفظ غلول ہر قسم کی خیانت کو کہتے ہیں خواہ وہ مال غنیمت میں ہو یا کسی اور مال میں۔
قرآن مجید میں خیانت کار کاعذاب
ارشاد رب العزت ہے کے( وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمََا غَلَّ یَوْم َ الْقِیٰمَةِ ثُمَّ تُوفیٰ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَهُمْ لَا یُظْلَمُونَ، اَفَمَنِ اتَّبَعَ رَضْوَانَ اللّٰهِ کَمَنْ بآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰه جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصیْرُ ) (سورئہ آل عمران ۳ : آیت ۱۶۱،۱۶۲) اور جوخیا نت کرے تو جو چیز خیانت کی ہے قیامت کے دن وہی چیز (بعینہ خدا کے سامنے ) لانا ہوگا اور پھرشخص اپنے کئے کا پورابدلہ پائیگا۔ اور ان کی کسی طرح حق تلفی نہیں کی جائے گی ۔ بھلا جو شخص خداکی خوشنودی کاپابند ہو۔کیا وہ اس شخص کے برابر ہوسکتاہے جوخدا کے غضب میں گرفتار ہو اورجِس کا ٹھکانہ جہنم ہے؟! اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے!"
سورہ تحریم میں ارشاد ہے :( فَخَا نَتاهُمَا فَلَمْ یُغنِیٰاعَنْهُمٰا مِنِ اللّٰهِ شَیْئاً وَّقِیْلَ ادْخُلَا الٰٰناّرَمَعَ الدّاٰ خِلیْنَ ) (سورہ تحریم ۶۶ آیت ۱۰) " تو ان دونوں (حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں ) نے اپنے شوہروں کے ساتھ خیا نت کی تو ان کے شوہر (نبی ہونے کے باوجود) خداکے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے اور ان دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہوجاو۔"
ارشاد ہے کہ :( اِنَّ اللّٰهَ لا یحبُّ الخَائِنیْنَ ) (سورئہ انفال ۸ : آیت ۵۸) " بے شک خدا خیانت کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا ۔"
اسی طرح ارشاد ہے کہ:
( یَایُّهَالَّذیْنَ اٰمَنُو الَا تَخُونُو اللّٰهَ واالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُو اْ اَمٰنتِکُم وَاَنْتم تَعْلَموْنَ )
(سورئہ انفال ۸ : آیت ۲۷)
"اے ایمان لانے والو ! نہ توخدا اور رسول کے ساتھ خیانت کرو ، اور نہ ہی تمہارے پاس جو امانتیں ہیں ان میں خیانت نہ کرو، حالانکہ تم تو جانتے ہو( کہ خیانت ایک بڑا گناہ ہے۔ )"
اسی طرح ارشاد ہے کہ:( فَاِنْ اَمِنَ بَعَضُکُمْ بَعضًا فلیُودِّ الَّذِی اوتُمِنَ اَمَانَتَه وَلْْیَتَّق اِللّٰهَ ربَّه ) (سورہ بقرہ ۲ : آیت ۲۸۳)
"اگر تم میں سے ایک کادوسرے پر اعتبار ہوتوجس شخص پر اعتبا کیا ہے وہ اعتبارکرنے والے شخص کی امانت پوری کی پوری لوٹادے اوراپنے پروردگار سے ڈرتارہے۔" ارشاد ہے کہ : اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَودُّو الْاَمِانٰتِ اِلٰی اَھْلِھَا بے شک خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو امانت والوں تک ضرور لوٹا دو ۔ (سورئہ نساء ۴ : آیت نمبر ۵۸)
روایات میں خیانت کی مذّمت
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں :مَنْ کَانَ اَمَانَتَه فی الدُّنیا وَلَمْ یَرُدَّ هَا اِلٰی اَهْلِهَا ثمّ اَدْرکَه الْمُوْتُ مَاتَ عَلیٰ غَیْرملّتی "جو شخص دنیا میں اپنے پاس رکھی ہوئی امانت میں خیانت کرے گا اور اسے اس کے مالک تک نہیں لوٹائے گا اور اسے موت آجائے گئی تو وہ میری ملت میں رہتے ہوئے نہیں مرے گا ! " یعنی وہ مسلمان کی موت نہیں مرے گا!"
وَیَلْقٰی اللّٰهَ وَهُوَعَلَیهِ غَضْبٰانُ وَمَن ِاشْترَیٰ خیانَةً وَهُوَیَعْلَمُ فَهُوَکَالّذی خاَنَهٰا (وسائل الشیعہ م کتاب امانت ،باب ۳ ، صفحہ ۶۴۱) " ایسا شخص جب خدا سے ملاقات کرے گا تو خدا اس پر غضب ناک ہوگا! (اور جو شخص خیانت کا مال خریدے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ خیانت کا مال ہے تو وہ بھی خیانت کرنے والے شخص کی طرح ہے۔ "تو وہ بھی خیانت کا مال ہے تو وہ بھی خیانت کا مال خریدے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ خیانت کا مال ہے تو وہ بھیخیانت کرنے والے شخص کی طرح ہے ۔ " ایک اور حدیث میں ہے کہفَیُؤمَرُ بِهِ اِلٰی النَّارِ فَیُهْویٰ بِهِ فِی شَفِیْر جَهَنَّمَ (وسائل الشعیہ، کتاب امانت، باب ۲) اور اس کو جہنم میں ڈال دینے کا حکم دیا جائیگا پھر وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کے گہرے گڑھے میں پڑا رہے گا!"
آنحضرت کا یہ بھی ارشاد ہے کہمَنْ کَانَ مُسْلِماً فَلاَ یَمْکُروَلَا یَخْدَعْ " اگر کوئی شخص مسلمان ہے تو اسے نہ تو مکر سے کام لینا چاہیئے اور نہ ہی کسی کو دھوکا دینا چاہیئے! "فَاِنّیٰ سَمِعْتُ جِبْرَئیِْلَ اَنَّ المکْرَوَ الْخَدِیَعَةَ فِی النَّارِ "میں نے جبرئیل سے سنا ہے کہ مکر اور فریب جہنم کی چیزیں ہیں۔" پھر آنحضرت نے فرمایا(ثمَّ قَالَ) لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلماً، وَلَیْسَ مِنّا مَنْ خَانَ مُوْمِناً (وسائل الشیعہ، کتاب امانت، باب ۳) " ہم میں سے نہیں ہے جو کسی مسلمان کو فریب دے اور ہم میں سے نہیں ہے جو خدا پر ایمان لانے والے کسی شخص کے ساتھ خیانت کرے!"
اصول کافی میں یہ حدیث ہے کہ تین خصلتیں ایسی ہیں جو آدمی کے نفاق کی علامت ہیں اگرچہ وہ نماز روزے کا پابند ہو اور خود کو سچا مسلمان سمجھتا ہو: جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت۔ یہ حدیث نبوی ابھی وعدہ خلافی کے باب میں گذر چکی ہے۔
امیر المئومنین حضرت علی علیہ السَّلام فرماتے ہیں:اَرْبَعَةُ لَا تَدْ خُلُ وَاحِدَةُ مِنّهْنُ بَیْتاً اِلَّا خَرَبَ وَلَمْ یُعَمَّرْ بالبَرَکَةِ "چار چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اگر کسی کے گھر میں داخل ہوجائے تو وہ مالی اعتبار سے تباہ ہوجاتا ہے اور کبھی برکت کے ساتھ وہ گھر آباد نہیں رہتا:اَلْخیَانَةُ وَالسِّرْقَةُ وَشُرْبَ الْخَمْرِ وَالزِّنَا (وسائل الشیعہ) "خیانت، چوری، شراب خوری اور زنا۔" پس جس گھر کے کسی فرد یا افراد میں ان چار برائیوں میں سے کوئی برائی پائی جائے تو اس گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے اور وہ گھر مالی اعتبار سے تباہ ہو جاتا ہے مثلاً چوری کرنے والے کے گھر سے برکت اٹھتی ہے، نہ یہ کہ جہاں چوری کی جائے۔
خیانت باعث فقر و فاقہ
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے کہالْاَ مَانَةُ تَجْلِبُ الْغِنٰی وَالخِیَانَةُ تَجْلِبُ الْفَقْرَ (وسائل الشیعہ، کتاب امانت) "امانت کا لحاظ دولتمندی اور مالی پریشانی سے بے نیازی کا موجب ہے جبکہ خیانت مالی پریشانی اور فقر کا سبب ہے!"
راوی کہتے ہیں کہ :قُلتُ لِاَ بی عَبْدِاللّٰهِ: اِمْرَئَةُ بِالْمَدِنْنَةِ کٰا نِ النّاسُ یَضَعُقںَ عِنْدَهَاالْجَوَارِی فَیَصُلَحْنَ وَقُلْنَا مَاصُبُّ عَلَیْها مِنَ الرِّزْقِ " میں نے امام جعفرصادق کی خدمت میں عرض کیا: "مدینہ میں ایک خاتو ن ہیں جن کے پاس لوگ تربیت کے لئے اپنی بچیاں چھوڑدیتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ اس جیسی بے نیاز خاتون نہیں دیکھی گئی جو تھوڑی سی روزی میں بھی بڑے آرام سے گزار لیتی ہے۔ اسے کبھی بھی مالی اعتبار سے پر یشان نہیں دیکھا گیا ! " امام نے فرمایا(فَقَالَ) اِنَّها صَدَقَتِ الحَدِیْث وَاَدَّتِ الْاَمَانَةَ وَذٰلِکَ یَجْلِبُ الرِّزْقَ (وسائل الشیعہ ،کتاب امانت ، پہلاباب، حدیث نمبر ۵) اس لئے کہ وہ خاتون سچ بولتی ہے امانت کا لحاظ کرتی ہے یہ ایسے کام ہیں جو روزی اور کشادہ حالی کا باعث بنتے ہیں ۔"
حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کی یہ حدیث وسائل الشیعہ میں موجود ہے کہ : "کسی شخص کے لمبے لمبے رکوع وسجود کو نہ دیکھو چونکہ ممکن ہے یہ اس کی عادت ہو ایسی عادت ترک کرنا اس کے لیے سخت مشکل ہو لیکن سچ اور امانت داری کو دیکھو ۔ " یعنی دو خصلتیں ایسی ہیں جو ایمان کے قوی ہونے اور آدمی کے سعاد ت مند ہونے کی دلیل ہیں۔
امانت خواہ کسی کی بھی ہو
ہمارے پاس ایسی بہت سی روایتیں ہیں جن کا موضوع یہ ہے کہ امانت خواہ کسی ہو ، اس کا لحاظ واجب ہے اور اس میں خیانت حرام ہے خواہ مسلمان ہو یاکافر ، اس کی امانت کی حفاظت واجب ہے ۔ یہاں تک کہ ناصبی لوگوں یعنی اہل بیت (علیہم السلام) سے کھلّم کھلا دشمنی کا اظہار کرنے والوں کی امانت کابھی خیا ل رکھنا بھی واجب ہے۔ حالانکہ ناصبی لوگ بدترین قسم کے کافر ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام فرماتے ہیںاِتَّقوا اللّٰهَ وَاَدُّوْا الْاَمَانَةَاِلٰی مَن اِئتمَنَکُمْ فَلِوْ اَنَّ قاَتِلَ عَلِیٍّ ائْتَمَنَنِیْ عَلٰٰی اَمانَةٍ لَا اِدَّیْتُهَا اِلِیْهِ (وسائل الشیعہ ، کتابِ امانت، باب ۳ ، صفحہ ۶۴۱)" خدا سے ڈرو ! اور جس شخص نے بھی تمہارے پاس امانت رکھائی ہے اس کی امانت برقت لوٹا دو!۔ اگر علی کا قاتل بھی مجھے امین سمجھے کر میرے پاس کوئی امانت رکھتا تو میں ضرور اسے بروقت لوٹاتا !" اسی حدیث میں ہے کہفَاتَّقُو اللّٰه وَاَدُّ وْاالْاَمِنَتَ الیٰ الاَسْوَدِ وَالْاَبْیصَنِ واِنْ کٰانَ حَرُوْ رِیاًّ وَاِنْکَانَ شَامِیاًّ "پس خدا سے ڈرو اور گورے کالے سب کی امانتوں کاخیال ر کھو اگرچہ امانت رکھنے والاشخص خوارج (حضرت علی کے دشمنوں) میں سے ہو اور اگرچہ کہ امانت رکھنے والا شخص شام کا رہنے والا ہو (اہل بیت کے خلاف لڑنے والایااُن سے دشمنی رکھنے والا ہو۔)"
اِنَّ رَجُلاً قَالَ لِاَبی عَبْدِاللّٰهِ ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے پوچھا :النَّاصِبُ یَحِلُّ لِیْ اغْتِیَالُه ؟کیا ناصبی (یعنی اہل بیت کے کھلے دشمن) کی امانت میں خیانت میرے لئے جائزہے ۔؟قَالَ اَدِّ الْاَمَانَةَ اِلٰی مَنْ اِْتَمَنَکَ وَاَرَادَ مِنْکَ النَّصِیْحَةَ وَلَوْاِلٰی قَاتِلِ الْحسُیَیْنِ (وسائل الشیعہ،کتاب امانت، باب ،صفحہ ۶۴۱)
امام نے جواب دیا : ہر اس شخص کی ا مانت کالحاظ کروجس نے تمہارے پاس امانت رکھائی ہے یا تم سے نیک مشورہ طلب کیا ہے، اگرچہ وہ حسین کاقاتل ہی کیوں نہ ہو!!" اسی جیسی ایک اور روایت یہ ہے:عَنْ الْحُسَیْنِ الشُّبَّانِّی قَالَ قُلْتُ لِاَبِیْ عَبْدِاللّٰه ِ حسین شبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق سے عرض کیارَجُلُ مِّنْ عِنْدَه مِّنْ مَّوَالِیْکَ یَسْتَحِلُّ مَالَ بَنی اُمَیَّةَ وَدِمَائَهُمْ وَاَنَّه وَقَعَ لَهُمْ عِنْدَه وَدِیْعَة " آپ کے چاہنے والوں میں سے ایک شخص ہے جو بنی امیہ کا مال اور خون اپنے اوپر حلال سمجھتاہے اور بنی امیّہ کے لوگوں کی کچھ امانتیں بھی اس کے پاس ہیں ۔ "فَقَالَ اَدُّ واالَاَمَانَةَ اِلٰی اَهْلِهَا وَاِنق کَانَ مُجُوْسِیًّا (وسائل الشیعہ ) امام علیہ السَّلام نے فرمایا: "امانت کو اسکے مالک تک بروقت اورباحفاظت لوٹادو، اگر چہ امانت رکھوانے والے مجوسی ہی کیوں نہ ہوں!"
چھٹے امام یہ بھی فرماتے ہیں کہاِنَّ اللّٰهَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیاَ اِلّا بِصِدِقِ الْحَدِیْثِ وَاَدَاءِ الْاَمَانَةِ اِلٰی الْبِرِّ وَالْفَاجِرِ (وسائل الشیعہ ) "خدائے تعالٰی نے کوئی بھی نبی مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ سچ بولنے اور نیک وبدہر قسم کے لوگوں کی امانت کا لحاظ رکھنے کے حکم کے ساتھ مبعوث فرمایاہے۔"
عَنْ محمّدبن الْقاسِمِ قَالَ سَئَلْتُ اَبَا الْحَسَنَ عَنْ رَجُلٍ اِسْتَوْدَعَ رَجُلًا مالَاً لَّه قِیْمَةُ وَالرَّجُلْ الذّیْ عَلَیهِ الْمَال رَجُلُ مِّنَ الْعَرَبِ یَقْدِرُ عَلٰی اَنْ لَا یُعْطِیَه شیئاً وَالرَّجُلْ الَّذِیْ اسْتَوْدَعَه خَبِیْثُ خَارِجِیُ محمدبن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السَّلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے دوسرے شخص کے پاس کچھ قیمتی مال امانت کے طور پرر کھایا ہے۔ امانت کی ذمہ داری قبول کرنے والا شخص عرب ہے اور اتنی طاقت رکھتا ہے کہ امانت میں میں سے کچھ نہ لوٹائے۔ جبکہ امانت رکھوانے والا شخص خبیث اور خارجی (اہل بیت کا دشمن ) ہے"قَالَ لِیْ قُلْ لَّه یُرْعَلَیهِ فَاِنَّه ائِتَمََنَه عَلَیهِ بِاَمَانَةِاِللّٰهِ (وسائل الشیعہ ) امام نے فرمایا:"اُس کے پاس خدا کی امانت رکھائی ہے!" (یعنی ایسی امانت رکھائی ہے جسے کے لحاظ کا خدانے حکم دیاہے!)عَنْ عَلِّی بن الْحپسین یَقُوْلُ لِشِیْعَتِهِ حضرت امام زین العابدین علیہ السَّلام اپنے شیعوں سے فرماتے ہیں:
عَلَیْکُمْ بِاَراء الْاَمَانَةِ فَوَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًابِالْحَقِّ نَبیًا لَو اَنَّ فَاتِلَ اَبِیَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِّی اٍئْتَمَنَنِیْ عَلَی السََّیْفِ الّذِیْ قَتَلَه بِه لَاَدَّیْتُه اَلَیْهِ (وسائل الشیعہ ،، کتاب امانت ) "تمہارا فرض ہے کہ تم امانت کو بروقت اداکرو اُس ذات کی قسم جس نے محمد کو برحق نبی کے طور پر معبوث کیا، اگر میرے بابا حسین ابن علی کاقاتل بھی میرے پاس وہ تلوار امانت کے طور پر رکھوادے جس سے اسنے اُن کو قتل کیا تھا تو میں ضرور اسے برو قت واپس کرتا!!!
شیطان بہکاتاہے
ہر وہ کام جو شرعی لحاظ سے اہم ہوتاہے، جتنا زیادہ اہم ہوتاہے۔ شیطان اس بارے میں اتنا ہی زیادہ بہکانے کی کوشش کرتا ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام فرماتے ہیں:
مَن اِئْتُمِنَ عَلٰی اَمَانَةٍ فَاَدَّاهَا فَقَدْ حَلَّ اَلْفَ عُقْدَةِ مِّنْ عُقَدِ النَّارِ "جس شخص کے پاس امانت رکھائی گئی ہوا ور وہ اسے بروقت ادا کردے تو وہ جہنم سے بندھی ہوئی اپنی ایک ہزار گرِہوں کو کھول لیتاہے!"
فَاَدِرُوْا بالَاَمانة " پس امانت کی ادائیگی کے سلسلے میں سُستی نہ کرو" ۔فَاِنَّ مَنْ اِئْتُمِنَ عَلٰٰی اَمَانَةٍ وَکَّلَ بِه اِبْلِیْسُ مِاَةَ شَیْطَانٍ مِنْ مَّرَدَةِ اَعْوَانِه لِیَضِلُّوه وَیُوَسْوِسُوْاا اِلَیْهِ حَتَّی یُهْلِکُوْه اِلَّا مَنْ عَصِمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ "بے شک جس شخص کے پاس امانت رکھائی جاتی ہے ابلیس اپنے سو سرکش اور مددگار شیطانوں کو اس کے پیچھے لگا دیتا ہے تاکہ وہ اسے گمراہ کریں اور اس کے دل میں خیانت کرنے کا وسوسہ پیدا کریں! وہ اس وقت تک اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اسے ہلاکت میں نہیں ڈال دیتے۔ بس وہی ان کے شر سے بچا رہتا ہے جس کو خدا بچائے۔
حضرت محمد کا لقب امینا
حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سیرت کے سلسلے میں سب نے نقل کیا ہے کہ اسلام آنے سے قبل کفارِ قریش آنحضرت کو امین کے لقب سے پکارتے تھے۔ آپ کی امانتداری پر مشرکوں تک کو اتنا بھروسہ تھا کہ وہ اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھایا کرتے تھے۔ یہ صرف قبیلئہ قریش کا حال نہیں تھا، بلکہ عرب کے تمام قبیلوں اور علاقوں کے لوگوں کو بھی آنحضرت کی امانتداری پر اعتماد تھا۔ جب وہ حج کے زمانے میں مکہ آتے تھے تو اپنی امانتیں آنحضرت کے سپرد کر جاتے تھے۔ اسلام کے آجانے کے بعد بھی یہی حال رہا۔ ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ جب آنحضرت کو مدینے کی جانب ہجرت کرنی تھی تو انہوں نے حضرت علی علیہ السَّلام کو وہ تمام امانتیں سپرد کر دی تھی اور فرمایا تھا: "ہر روز صبح اور شام مکہ میں ندا کرو کہ جس شخص نے بھی محمد کے پاس کوئی امانت رکھائی تھی، آئے تاکہ میں اسے لوٹا دوں!"
خیانت کی قسمیں
امانت کی ضد خیانت ہے۔ اور خیانت کی تین قسمیں ہیں: خدا کے ساتھ خیانت ۔ رسول کے ساتھ خیانت۔ اور لوگوں کے ساتھ خیانت۔
( ۱) امانتِ خد
سورئہ احزاب میں ارشاد ہے کہ( اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ علٰی السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّه کَانَ ظَلُوْماً جَهُوْلاً ) (سورئہ احزاب ۳۳: آیت ۷۲) " ہم نے اپنی امانت کو سارے آسمان اور زمیں اورپہاڑوں کے سامنے پیش کیاجو انہوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے۔ لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک انسان اپنے حق میں بڑا ظالم اور نادان ہے۔"
یہاں خدا کی امانت سے کیا مراد ہے اس سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ امانت نعمتِ عقل ہے۔ اس امانت کی صحیح حفاظت یہ ہے کہ اس کے ذریعے آدمی اپنے معبود کو پہچانے اور اسی کی راہ پر چلے۔ بعض کہتے ہیں کہ خداوندِ تعالیٰ نے واجبات اور محرمات کو جو احکام اپنے پیغمبر کے توسط سے بندوں تک پہنچائے ہیں۔ وہ خدا کی امانت ہیں، اور ان کی پابندی ہی امانت کی حفاظت ہے۔ ظاہر ہے کہ آسمان و زمین میں اور پہاڑوں میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ ایسی امانتوں کی حفاظت کر سکیں اس لئے انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ لیکن انسان ایسی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے قبول کرلیا۔ بے شک انسان ظَلُوْم اور ظَالم ہے اپنی غضب والی قوت کو عقل والی قوت پر ترجیح دے دیتا ہے اور امانتِ خدا میں خیانت کر بیٹھتا ہے۔ اور بے شک انسان جہول اور نادان ہے۔ اپنی شہوت والی قوت کی پیروی کر بیٹھتا ہے اور اس کے زور میں امانتِ خدا میں خیانت کرنے کے عذاب سے بے خبر ہو جاتا ہے!
د ولت عقل اور امانت د اریا
عقل بھی خدا کی ایک بڑی امانت ہے اور اس کی امانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہر وقت عقل ہی کا لحاظ کرے، کوئی ایسی بات یا حرکت نہ کرے جو عقل کے حکم یا اذن کے بغیر ہو۔ اگر آدمی عقل کو مغلوب کر کے رکھے اور شہوت یا غضب جیسی قوتوں کی پیروی کرے تو وہ خدا کی اس اہم امانت میں خیانت کر بیٹھے گا۔ پروردگارِ عالم نے اپنے بندوں کو جوتکالیف شرعیہ دی ہیں یعنی ان کے لئے حلال و حرام کو بیان فرمایا ہے، ان کی نسبت امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہر ممکن کوشش کر کے اپنی شرعی ذمہ داریوں کو سمجھے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مسئلے میں یہ تک نہ جانتا ہو کہ اس بارے میں حکمِ خدا کیا ہے؟ اپنی تکلیف شرعی کو سمجھ لینے کے بعد اس سلسلے میں امانتداری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسے دل کی گہرائی سے قبول کرے اس اس پر مکمل طور سے عمل پیرا ہو۔
امام محمد باقر علیہ السَّلام فرماتے ہیں(عن الباقر) فَخِیٰانَةُ اللهِ والرَّسُولِ مَعْصِیَتُهُمَا وَاَمَّا خِیَانَةُ الْاَمَانَةِ فَکُلُّ اِنْسَانٍ مَاْمُوْنُ عَلٰی مَا افْتَرَضَ اللهُ تعٰالٰی عَلَیْهِ (تفسیر صافی) "خدا اور رسول کے ساتھ خیانت ان کی نافرمانی ہے اور جہاں تک امانت میں خیانت کا تعلق ہے، ہر انسان خدائے تعالیٰ کے دئیے ہوئے فرائض کا امانتدار ہے۔" یعنی واجباتِ خدا ہر انسان کے پاس امانت ہیں اور اس ا مانت کی حفاظت ان کی پابندی ہے۔
اِنَّ عَلِیًّا اِذَا حَضَرَ وَقتُ الصَّلوٰةَ یِتَمَلْمَلُ وَیَتَزِلْزَلُ وَ یَتَلَوَّنُ ۔ امیرالمئومنین حضرت علی علیہ السَّلام جب نماز کا وقت ہوتا تو بے چین ہو جاتے تھے، لرزنے لگتے تھے، اور ان کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگتا تھا!فَیُقَالُ لَه مَالَکَ یا اَمِیْرَالْمُومِنِیْنَ ؟ لوگ ان سے کہتے تھے: "امیر المئومنین یہ آپ کا کیا حال ہو رہا ہے؟ فَیَقُوْلُ تو حضرت علی فرماتے تھے:جَاءَ وَقتُ الصَّلوٰةِ، وَقْتُ اَمَانَةٍ عَرَضَهَا اللهُ عَلٰی السَّمٰواتِ وَالاَرْضِ وَالجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا (تفسیر صافی) "نماز کا وقت آگیا! اس امانت کی ادائیگی کا وقت آگیا جسے خدا نے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تھا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کیا تھا اور اس سے خوف محسوس کیا تھا! "البتہ یہ بات صرف نماز سے مخصوص نہیں ہے تمام فرائضِ الہٰی خدا کی امانت ہیں، البتہ نماز ایک انتہائی اہم فریضہ ہے۔
احکامِ دین دوسروں تک پہنچائیں
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں لوگوں کی اکثریت خدا کی امانتوں میں خیانت کرہی ہے۔ لوگ دنیا، مادہ پرستی حرص اور شہوت میں اتنے مگن ہیں کہ کسی کو احکام دین سیکھنے کی فکر تک نہیں ہوتی ، عمل کرنا تودور کی بات ہے۔ روز بروز دین کے آثار محو ہوتے جارہا ہیں اور فرائض الہیٰ کا لحاظ کم ہوتا جاررہا ہے۔ پس اس زمانے میں پہلے سے زیادہ میں پہلے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگ نہ صرف یہ کہ خود احکامِ دین حاصل کریں ، بلکہ دوسروں تک بھی پہنچائیں خود بھی عمل کے سلسلے میں لاپرواہی نہ کریں۔ اور دوسروں کو بھی عمل کی تاکید کریں۔
اما نت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ)
شیعہ اور سنی دونوں کے پاس یہ حدیث مسلم ہے کہ رسول اکرم نے اپنی وفات سے قبل فرمایاتھا: اِنیِّ تَارِکُ فِیْکُمْ الثِقِلْین کِتابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتِی(بحارالانوار ،جلد ۶) " میں تم لوگوں کے درمیان دوگراں چیز یں چھوڑے جارہاہوں،ایک توکتابِ خدا ہے اور ایک میری عترت ہیں۔ "اس کے بعد کاجملہ تاریخ میں یہ ہے کہ "میں قیامت کی دن تم سے سوال کروں گا کے ساتھ کیا کیا؟"
تفسیرمجمع البیان میں لکھا ہے کہ : قرآن وعترت کو ثقْلَیْن یا دوگراں چیزیں اسی لئے کہاگیاہے کہ ان کی پیروی بہت گرں گزرتی ہے۔ یہ ایسی امانتیں ہیں جن کا لحاط بہت بھاری ثابت ہوتا ہے۔ سچامسلمان وہی ہے جو اتنی بھاری ذمّہ داری اُٹھالے ۔ قرآن کے احکامپر عمل کرے اور اہلبیتِ رسول کی پیروی کرے۔ لیکن افسوس کہ امت محمدّی نے اتنی اہم امانتوں کاخیال نہیں رکھاہے۔( وَقَالَ الرّسُوْلُ یَارَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ اتَّخذُوْاهٰذاالْقُراٰنَ مَهْجُوْراً ) (سورئہ فرقان ۲۵: آیت ۳۰) اور (قیامت کے دن ) رسول کہیں گے کہ اے میرے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کوچھوڑدیا تھا!! " اے کاش کہ ہم قوم رسول کی اُس اکثریت میں شامل نہ ہوں جس کی رسول ،خداسے شکایت کریں گے۔
اہل بیت رسول امانتدارہیں
اہل بیت رسول خود رسول خدا کی ایک امانت ہیں جو آنحضرت ہمارے لیے چھوڑگئے ہیں۔ اس امانت کالحاظ یہ ہے کہ دل میں ان سے محبت ومودت رکھی جائے۔ ان کی حقانیت کوصدقِ دل سے مانا جائے ۔ ان کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ ان کے احکام کوخدااور سولکے احکام سمجھاجائے۔ ان کو خدا کی طرف سے حجّت سمجھاجائے۔خدانے انھیں بھیج کر ہم پر حجّت تمام کی ہے ۔اب ہم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ رسول کی وفات کے بعد ہماری ہدایات کے لئے کوئی نہیں تھا۔ اُن کوپانے اورخدا کے درمیان واسطہ سمجھاجائے۔ صحابہ کرام کو ان کی نشانی سمجھ کر ان کا احترام کیاجائے۔ سادات کی ضرورتوں کاخیال رکھاجائے تاکہ اس طرح اُن کے جد کی امانت کاحق ادا ہوسکے۔
ایک طرف اہل بیت علہیم السَّلام خود رسول اکرم کی وفات کے بعد سے اب تک اور قیامت تک احکامِ خدا اور احکامِ رسول کیاامانت دار ہیں اور امین ہیں تودوسری طرف وہ خود ہمارے حق میں رسول کی ایک گراں امانت ہیں ۔ قرآن مجید کی طرح کی امانت ہیں۔ اس امانت کا لحا ظ یہ بھی ہے کہ اہل بیت کے غم کو ہم اپناغم سمجھیں اور اہل بیت کی خوشی کواپنی خوشی جانیں۔ اگروہ ظاہری زندگی میں ہوں تو خودان کی زیارت کریں اور اگر وہ اس دنیاسے جاچکے ہوں توانکے روضوں اور مزارات کی زیارت کریں۔
لوگوں کی امانت
امانت کی دو قسمیں ہیں: ایک امانت ملکی، اورایک امانت ِ شرعی ۔امانت ملکی یہ ہے کہ آدمی اپنا مال یا پانی ملکیت کی چیزکسی دوسرے شخص کے پاس امانت کے طور پر رکھائے۔ امانتِ ملکی کی چندقسمیں ہیں۔کبھی کوئی چیز محض محفوظ کرنے کی غرض سے رکھائی جاتی ہے کبھی کوئی چیزا ستعمال کی نیت سے دی جاتی ہے تاکہ وہ بعدمیں لوٹائی جاسکے ۔ اس کوعاریہ یامستعار بھی کہتے ہیں ۔یہ بھی امانت کی ایک قسم ہے۔ کبھی کوئی چیز دی جاتی ہے لیکن اس کا کرایہ لیا جاتاہے جیسے کرائے پر مکان دے دیا جاتا ہے یہ بھی ایک قسم کی امانت ملکی ہے کبھی کوئی چیز رہن یا گر وی رکھائی جاتی ہے اور اس کی ضمانت پر کچھ مال حاصل کیاجاتاہے ۔رہن میں ر کھی ہوئی چیز بھی ایک امانت ہے۔ اگر اس کی ضمانت پر لیا جانے والا مال لوٹایانہ جاسکے تو رہن میں رکھی ہوئی چیز کو بیچ کر نقصان پوراکیا جاتا ہے۔ اسی طرح مضاربہ کا مال یعنی سرمایہ کاری کا مال بھی ایک امانت ہوتا ہے ۔ جو دوسرے کو تجارت کی غرض سے دیاجاتاہے ۔ اسی طرح قرض بھی ایک امانت ہوتاہے ایسی تمام چیزیں امانت ِملِکی ہیں۔
شرعی امانتیں
امانتِ شرعی یہ ہے کہ شرعی حکم سے کسی شخص کا مال کسی دوسرے شخص کے پاس امانت شمار ہو،خود مالک نے وہ مال امانت کے طورپر نہ ر کھایاہو مثلاً ہواچلی اور ہمسائے کے گھر میں لٹکا ہوا لباس اڑکربر ابروالے گھر میں گر گیایا کسی کا گمشدہ پالتو جانور کسی دوسرے کے گھر میں پہنچ گیایا خریدارنے ایک بند پیکٹ خریدا جس کے اندر دو کاندارا پنا کچھ مال رکھ کر بھول گیا تھا ، کیاخرید ار بھولے سے دوکاندار کو کچھ زیادہ رقم دے کر چلاگیا ہو، یا ایک خطیر رقم آدمی کوراستے میں پڑی مل گئی ہو یا چوری اور غضب وغیرہ کا مال ہاتھ آگیا ہو تو ایسی تمام چیزیں شرعی طور پر امانت شمار ہوتی ہیں۔ اور ان کے مالک تک پہنچانا واجب ہوتا ہے خود استعمال کا حق نہیں ہوتا۔ امانت شرعی کی ایک اورمثال یہ ہے کہ کسی کاخط کسی کو مل گیا ہو اب جسے ملا ہے اس پر فرض ہوتا ہے کہ جس کے نام وہ خط ہے اس تک پہنچانے کاانتظام کرے۔ دوسروں کاخط کھولنا اور اسے پڑھنا حرام ہے۔
لوگوں کے مال میں خیانت
اگر دوسروں کی امانت ملکی کی یا امانتِ شرعی کسی کے پاس ہوتو اس میں خیانت کرنا حرام ہے۔ اور جیسا کہ گزرا،یہ گناہانِ کبیرہ میں سے ہے خیانت تین گناہوں کامجموعہ ہے:
( ۱) دوسروں پر ظلم ، ( ۲) تفریط یعنی ایک واجب کے سلسلے میں لاپرواہی۔ اور( ۳) دوسروں کے مال میں ناجائز تصرف
( ۱) دوسروں کے مال میں بغیر اجازت تصرف
دوسروں کے مال میں ان کی اجازت کے بغیر تصرّف کرنا اور اسے استعمال کرنا ظلم ہے۔ اگرآدمی کسی دوسرے کی مرضی کے بغیراس کا مال اٹھالے،خواہ دوسرے کے علم میں ہو یا نہ ہو، اگر چہ قرض کے طور پر اٹھائے اور واپس دینے کا ارادہ ہو، لیکن چونکہ مالک راضی نہیں ہے اس لیے یہ بھی خیانت اور حرا م ہے۔ دوسرے کی چیز اسکی مرضی کے بغیر ایک لمحہ بھی اس کی مرضی کے بغیر استعمال کرنا حرام ہے۔ بلکہ دوسرے کی چیز اس کی مرضی کے بغیر ایک جگہ سے اٹھاکر دوسری جگہ کوئی عذر شرعی نہ ہونے کی صورت میں رکھ دینا بھی حرام ہے۔البتہ اگر بِالْفَحْویٰ معلوم ہو یعنی اجازت حاصل کئے بغیرمعلوم ہوکہ مالک راضی ہوگا تو اس کے مال میں تصرف جائز ہے۔ لیکن جب تصّرف جائز ہوتو اگر ستعمال کے دوران وہ مال ضائع ہوگیا یا اس میں کوئی نقص پیدا ہوگیا تو استعمال کرنے والا شخص ضامن ہے اور اسے اس کا عوض مالک کو دینا ہوگا۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر امانت دار شخص نے اپنی حد تک امانت کی حفاظت کی ہو، اور اس کے باوجود امانت کی چیز میں نقص پیدا ہوگیا ہو یا وہ ضائع ہوگئی ہو تو امانت دار شخص ضامن نہیں اس کو اس کا عوض دینا نہیں پڑے گا لیکن امانتدار شخص نے لا پروہی کی ہو تو وہ اس کی تلافی کا ضامن ہوگا۔ اسی طرح مالک کی مرضی کے بغیر اس کے مال میں تصّر ف کرنے والا بھی نقصان کی صورت میں جامن ہوگا، بلکہ اسے تو مال فوراً لوٹادیناچاہیئے یا اجازت لے لیناچاہئے ۔ سورئہ توبہ کی آیت ۹۱ میں ارشاد ہے: مَاعَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ یعنی " احسا ن مند کا کوئی زور نہیں ہے۔ " اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس شخص نے امانت رکھ کراحسان کیا ہواور اپنی حد تک حفاظت کرنے کے باوجو د امانت ضائع ہوگئی ہو تو امانت رکھوانے والا شخص اپنے محسن کے خلاف دعویٰ نہیں کرسکتا۔
( ۲) امانت کی حفاظت میں لاپرواہی
عرف ِعا م میں اگر کہا جائے کہاآدمی نے امانت کی حفاظت کے سلسلے میں لاپرواہی کی ہے مثلاً اسے محفوظ جگہ پر نہیں رکھا ہے تو وہ ضامن ہوگا، یعنی اسے اس کی تلافی کرنی پڑے گی ۔ امانتدار شخص کو مالک کی مرضی کے بغیریہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی امانت کسی اور کے پاس بطور امانت رکھ دے کسی اور کے پاس امانت کو منتقل کرنے کے لئے بھی مالک کی اجازت ضروری ہے۔اگر مالک کی اجازت کے بغیر امانت دار شخص نے منتقلی کر دی اور وہ دوسرے شخص کے پاس ضائع ہو گئی تو پہلا امانتدار شخص ضامن ہوگا، اور کہاجائے گا کہ جس شخص کے پاس مالک نے امانت رکھوائی تھی اس نے لاپرواہی کی ہے ۔ پس اگرچہ اصل امانتدار شخص کسی کو اپنی طرح یا اپنے سے بہتر امین سمجھتاہوتب بھی امانت کے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ اس طرح امانتدار شخص امانت کو اپنے ہمراہ سفر پر نہیں لے جا سکتا۔ اس کے لئے بھی مالک کی اجازت ضروری ہوگی ۔اگر امانتدار شخص کو سفر پر جانا ہو تو وہ اس کو کسی ایسی جگہ رکھ سکتا ہے جو عام طور پر محفوظ شمار ہو۔ لیکن کسی آدمی کے حوالے کرنے کے لئے مالک کی اجازت لازمی ہوگی ۔ ہاں البتہ اگر اندیشہ ہوکہ امانت دار کی غیر موجودگی میں امانت ضائع ہوجا ئیگی توایسی صورت میں واجب ہے کہ امانت یا تومالک کو یا مالک کے وکیل(نائب وغیرہ)کو لوٹادے ۔ اگر مالک یا اس کے وکیل موجود نہ ہوتو حاکم شرع (مجتہد یا اس کے وکیل )کے حوالے کرجائے یا اس امانت کی خاطر سفر نہ کرے ۔ ہاں اگر سفر امانت کی حفاظت سے زیادہ ضروری ہو اور مالک ، اس کا وکیل ، مجتہد،یااس کا وکیل بھی نہ ملے تو تب وہ کسی قابل اِعتماد آدمی کے پاس امانتاً رکھواکر جاسکتاہے ،یا اگرچاہے تو ساتھ لے جاسکتاہے۔
اگر ایک شخص کومعلوم ہے کہ وہ امانت کی مناسب حفاظت نہیں کرسکتا تواس پر واجب ہے کہ وہ امانت قبول نہ کرے ۔ اگر ایسے شخص نے امانت لے لی ہے تواس پر واجب ہے کہ امانت لوٹادے ۔لیکن اگر امانت رکھو انے والاشخص یعنی مالک پھر بھی اسی کو امین بنانا چاہتا ہو، حالانکہ اسنے اسے بتادیا ہو کہ وہ امانت کی حفاظت صحیح طرح نہیں کرسکتا، تب وہ امانت قبول کرلیناجائز ہے ۔لیکن اگر ایسے شخص کے ہاتھوں امانت ضائع ہوجائے تو بہرحال اصل مالک ہی کو نقصان ہوگااور امانتدار شخص کسی صورت میں ضامن نہیں ہوگا ۔ حتٰی کہ عذرپیش کرنے کے باوجود اگر کسی شخص کو امانتداربنناپڑگیا ہو تو اس پر اس کی حفاظت واجب نہیں ہوتی ۔ پھر بھی اخلاقًا بہتر ہے کہ جہاں تک ہوسکے حفاظت کرے۔
ظاہرہے کہ امانت ایک ایسا جائز معاملہ ہے جسے طرفین(امانتدار اور مالک )میں سے کوئی بھی جب چاہے ختم کرسکتا ہے۔ یعنی مالک جب چاہے امانتدار سے اپنا مال لے سکتا ہے ۔ اسی طرح امانتدار شخص جب چاہے مالک کو مال لوٹا سکتا ہے۔ البّتہ جب مالک اپنی چیز مانگے توامانت دار پر واجب ہے کہ وہ اسے لوٹادے اسی طرح جب بھی امانت دار شخص امانت لوٹانا چاہے تو مالک کو حق نہیں ہے کہ وہ امانت دار کے پاس امانت باقی رکھنے پر زور دے ۔
( ۳) امانت کے لوٹانے میں سستی
اگرچہ امانت رکھوانے والا شخص کا فر حربی ہو، اور عام حالات میں اسکے مال پر قبضہ جائز ہو، تب بھی اگر وہ کچھ مال امانتًا رکھائے تو اس امانت پر قبضہ کرناجائز نہیں ہے۔ ہاں اگر ایک چور چوری کا مال امانت کے طور پر رکھائے یاکوئی غاصب اور ظالم شخص غصبی مال امانتاً رکھائے تو واجب ہے کہ وہ مال لے لیاجائے لیکن اس کے اصل مالک یا مالکوں کو دے دیا جائے۔
جس طرح کہ بیان ہوا کہ امانت کا مال اس کے مالک ہی کو لوٹا نا چاہیئے اگر وہ نہ ملے تو اس کے وکیل کو مثلاً اس کے گھر کے کسی ذمہ دار فرد کو دے دینا چاہیئے۔ اگر وہ بھی نہ ملے تو حاکمِ شرع یعنی مجتہد یا اس کے وکیل کے پاس رکھوادینی چاہیئے۔ اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تو پھر کسی بھی دوسرے قابلِ اعتماد شخص کو امانتدار بنا دینا چاہئیے۔ خاص طور پر جب آدمی مرنے کی علامتیں اپنے اندر پائیں تو اس پر واجب ہے کہ وہ امانت لوٹانے کی فکر کرے۔ اگر اوپر والی ترتیب کے لحاظ سے کوئی نہ مل رہا ہو، حتٰی کہ کوئی قابلِ اعتماد اور امین شخص بھی نہ مل رہا ہو، تو اس پرواجب ہے کہ وہ وصیت کر جائے اور امانت کے مالک کا نام پتہ لکھوا دے۔
اسی طرح اگر امانت کے مالک کو اطلاع ملے کہ امانتدار شخص مر گیا ہے تو اس پر بھی واجب ہے کہ وہ جاکر اپنی امانت واپس لے لے۔ اگر مرحوم کے وارث اسے نہ پہچانتے ہوں تو وہ امانت کی نشانیاں بتا کر لے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر امانت کا مالک مر جائے تو امانتدار شخص پر واجب ہے کہ وہ امانت کا مال اس کے وارثوں کو پہنچا دے۔
کرائے پر دینا، عاریتاً دینا، رہن پر دینا اور مضاربہ
جیسا کہ بیان ہوا، کرائے پر لیا ہوا مال عاریتاً لیا ہوا مال ( یعنی کچھ عرصہ استعمال کی خاطر لیا ہوا مال)، رہن میں رکھایا ہوا مال، اور سرمایہ کاری کی نیت سے لیا گیا مال، ان میں سے ہر ایک امانت ہے۔ جب بھی مال کا مالک مطالبہ کرے تو فوراً واپس لوٹا نا واجب ہے، ہاں البتہ اگر ایسی امانتوں میں کوئی مدت طے پاگئی ہو تو اس مدت کے اندر مالک اپنے مال کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ مثلاً مالک مکان اس وقت تک کرائے دار سے اپنا مکان نہیں لے سکتا جب تک کہ طے ہو جانے والی کراے کی مدت ختم نہ ہوجائے۔ اسی طرح رہن اس وقت تک واپس نہیں لیا جا سکتا جب تک کہ اس کی ضمانت لیا گیا مال نہ لوٹا دیا جائے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے لئے دیا ہوا مال بھی ہے۔ جو مدت مقرر ہوئی ہے، اس سے پہلے مالک نہیں مانگ سکتا۔ ہاں البتہ جب مدت گزر جائے اور معاملہ ختم ہونے لگے تو ایسی ا مانتوں کے امانتدار شخص پر امانت لوٹا دینا واجب ہے، اگرچہ کہ مالک طلب نہ کرے۔ ہاں اگر مالک خود مہلت دے دے یا اس کے پاس مزید رکھوانا چاہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
البتہ عاریہ ایک ایسی چیز ہے کہ مالک طے شدہ مدت سے پہلے ہی مال کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے سے ایک ہفتے کے لئے کتاب پڑھنے کو لی۔ لیکن کتاب کے مالک نے دو ہی دن میں کتاب مانگ لی تو اس پر واجب ہے کہ وہ کتاب لوٹا دے ۔ یہ بالکل امانت کی طرح سے ہے عام طور پر جسے امانت کہا جاتا ہے، اگرچہ مالک نے کوئی مدت مقرر کی ہو، تب بھی وہ اس مدت سے پہلے اپنی امانت واپس لے سکتا ہے۔
مالک کی تلاش اور اس کی طرف سے صدقہ
یہ تو بات ہوئی امانتِ ملکی کی۔ اور اگر امانت شرعی کسی کے پاس ہو تو اس کے مالک کو واپس لوٹا دے۔ اگر مالک معلوم نہ ہو تو واجب ہے کہ ایک سال تک اسے تلاش کرے ، مثلاً مساجد میں اعلان کروائے۔ ایک سال کے بعد بھی اگر وہ نہ ملے تو اس کی جانب سے وہ پورا مال صدقہ کردے۔
امانت دینے والا اور لینے والا بالغ وعاقل ہو
امانت کا معاملہ اسی وقت صحیح ہے جبکہ امانت رکھوانے والا اور رکھنے والا، دونوں عاقل اور بالغ ہوں۔ پس کسی دیوانے یا کسی نابالغ بچے کو نہ تو امانت رکھوانے کا حق حاصل ہے اور نہ ان کے پاس امانت رکھنا صحیح ہے۔ ہاں اگر دیوانے شخص یا نابالغ بچے کا سرپرست اجازت دے دے تو ایسوں کی امانت رکھنا جائز ہے۔ البتہ خواہ دیوانے شخص یا نابالغ بچے کی ولی کی اجازت سے امانت رکھی ہو یا ایسے ہی دیوانے یا نابالغ بچے کا مال رکھ لیا ہو، دونوں صورتوں میں اگر مال ضائع ہوجائے تو مال رکھنے والا شخص ضامن ہوگا اور دیوانے یا نابالغ بچے کے سر پرست کو مال لوٹائے گا خود دیوانے یا نابالغ بچے کو نہیں لوٹائے گا۔ اسی طرح اگر مال ضائع نہ ہوا ہو اور سرپرست کی مرضی کے بغیر لے لیا ہو، تب بھی مال سرپرست ہی کو دینا ہوگا ہاں البتہ اگر آدمی کسی بالغ بچے یا دیوانے کے ہاتھ میں کچھ مال دیکھے اور اندیشہ ہوکہ اس کے ہاتھ سے یہ مال ضائع ہوجائے گا تو لے کر سرپرست تک پہنچا سکتا ہے اور اگر اس دوران مال تلف ہوجاے تو وہ ضامن نہیں ہے۔
یہ امانتداری کے کچھ احکام تھے مزید تفصیلات کے لئے فقہی کتابوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جو چیز اہم ہے وہ امانت داری کی اہمیت کو سمجھنا اور خیانت جیسے گناہ کی خرابی سے آگاہ ہونا ہے۔ اس سلسلے میں ہم بس ایک آیت اور چند روایت مزید پیش کر رہے ہیں۔
قرآن میں امانتداروں کا مدح
سورئہ آلِ عمران میں ارشاد ہوا:( وَمِنْ اَهْلِ الکِتٰبِ مَنْ اِن تَامَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّودّه اِلَیْکَ وَمِنْهُمْ مَنْ اِنْ تِاْ مَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُودِّه اَلَیْکَ اِلَّا مَا رُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِماً، ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَالُوا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الاُمِّییِنَ سَبِیْلُ وَّیَقُوْلُوْنَ عَلٰی اللهِ الْکَذِبَ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ) (سورئہ آلِ عمران ۳ آیت ۷۵) " اور اہلِ کتاب کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کے پاس روپے کے ڈھیر امانت رکھ دوتو بھی اُسے (جب چاہوبعینہ) تمہارے حوالے کردیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اگر ایک اشرفی بھی امانت رکھوتو جب تک تم برابر (ان کے سر) پر کھڑے نہ رہو گے تمہیں واپس نہ دیں گے۔ یہ (بدمعاملگی) اس وجہ سے ہے کہ ان کا تو قول ہے کہ (عرب کے) جاہلوں کا (حق مار لینے میں ) ہم پر کوئی (الزام کی) راہ ہی نہیں ، اور وہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ جوڑتے ہیں۔"
اس آیئہ شریفہ میں خداوند تعالیٰ ان عیسائیوں کی تعریف کر رہا ہے جو غیر عیسائی لوگوں کی امانت میں بھی خیانت کو جائز نہیں سمجھتے جبکہ خدا ان یہودیوں کی مذمت فرمارہا ہے جو غیر یہودی لوگوں میں تھوڑے سے مال میں بھی خیانت کو روا رکھتے ہیں اور خدا پر تہمت لگاتے ہیں کہ خدا نے اس کی ان کو اجازت دے رکھی ہے۔
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جب یہ آیئہ شریفہ پڑھی تھی تو فرمایا تھا :کَذِبَ اَعْدَاءُ اللهِ مَا مِنْ شَئٍی کَانَ فِی الجَاهِلِیة اِلَّا وَهُوَ تَحْتَ قَدَمِیْ اِلَّا الْاَمَانَةَ فَاِنَّهَا مُودَّاةُ الٰی الْبِرِّ وَالْفَاجِرِ (تفسیر مجمع البیان) "خدا کے دشمن جھوٹ بولتے ہیں ! میں نے اسلام سے پہلے کے زمانہ جاہلیت کی ہر چیز اور اس کے ہر طریقے کی اصلاح کر دی ہے۔ ہاں بس امانت اپنی جگہ باقی ہے۔ امانت خواہ نیک آدمی کی ہو یا فاسق و فاجر کی ، بہر حال اسے لوٹانا ہے۔" یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ خیانت کرنے والے لوگ ان یہودیوں کے برابر ہیں جو خیانت کرتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی مسلمان خیانت کرنے کو جائز سمجھے تو وہ خدا کے دشمنوں میں شمار ہوتا ہے۔
امانت رکھے ہوئے مال سے اپنا نقصان پورا کرلینا
آیات و روایات کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ امانت میں خیانت کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ کتاب نہایہ میں شیخ طوسی اور بہت سے قدیم مجتہدین نے بھی یہی فرمایا ہے۔
راوی صحیح حدیث نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:عَنْ اِلصَّادقِ اَنَّه سَئَلَ عَن اِلرّجُلِ یَبْعَثُ اِلَی الرَّجُلِ یُقُوْلُ لَه اِبْتَعْ لِیْ ثوْباً، فیَطلُبُ لَه فِی السُّوْقِ، فَیَکُوْنُ عِنْدَه مِثلُ مَا یَجِدُ لَه فِی السُّوْقِ فَیُعْطِیُه مِنْ عِنْدِه ۔ انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے کہا! " ایک شخص نے دوسرے شخص کو یہ کہہ کر بھیجا کہ میرے لئے فلاں کپڑا خرید لاؤ۔ پس اس دوسرے شخص نے بازار میں وہ کپڑا تلاش کیا تو اس نے دیکھا کہ جو کپڑا پہلے شخص کو مطلوب ہے وہ اس کے پاس پڑا ہوا ہے۔ پس وہ دوسرا شخص کچھ بتائے بغیر اپنا کپڑا اسے دے کر اس کے عوض میں بازار سے خریدے ہوئے مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟"
قَالَ لَایَقْرِبَنَّ وَلُا یُدَنِسْ نَفْسَه یعنی امام نے فرمایا: اُس کو ایسی حرکت کا سوچنا بھی نہیں چاہیئے اور اس طرح اپنے نفس کو آلودہ نہیں کرلیناچاہیئے ۔۔ " پھرامام نے سورئہ احزاب کی آیت ۷۲ تلاوت فرمائی اورپھر ارشاد فرمایا(قَالَ وَاِنْ کَانَ عِنْدَه خَیْرُ مِّمّا یَجِدُلُه فِیْ السُّوْقِ فَلاَیُعْطِیَهُ من عِنْدِه (تفسیر صافی نقل از "تہذیب") یعنی
"اگر چہ کہ اس کے پاس برابر والی چیز سے بہتر ہو تب بھی وہ اپنی طرف سے (یعنی پہلے شخص کوکچھ بتائے بغیر ) نہ دے ۔ "اس لئے کہ اصل معاملہ جو ہوا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرا شخص پہلے شخص کی رقم لے کر بازار سے ایک مخصوص کپڑا لے آئے ۔ پس اس معاملے کی ذرا سی بھی خلاف ورزی خیانت ہوگی ۔
سلیمان بن خالد کہتے ہیں:
میں نے حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السّلام سے پوچھا کہ : ایک شخص میرا قرضدا ر تھا لیکن نہ صرف یہ کہ اس نے قرض ادا نہیں کیا بلکہ جھوٹی قسم بھی کھالی کہ کسی قرض کاسلسلہ نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نے اپناکچھ مال میرے پاس امانت کے طو پر رکھوایا ہے۔ آیا میں اس کی امانت کو اپنے قرض میں کاٹ کر خوداستعمال کرسکتا ہوں ؟ :قَالَ اِنَّهُّ خَانَکَ فَلا تَکُنْقه وَتَدْکُلُ فِیْمَا عَیَّبْتَه عَلَیْهِ (کتاب " نہایہ ") امام نے جواب دیا : "بیشک جس نے تمہاے ساتھ خیانت کی لیکن تمہیں اس کے ساتھ خیانت نہیں کرنی چاہئے ۔ ابھی تم نے اس کاجو عیب بتایا اس کے زمرے میں تمہیں بھی داخل نہیں ہوجانا چاہیئے۔
جیسا کہ بیان ہوا،شیخ طوسی ودیگر قدیم مجتہدین مطلق آیتوں اور ایسی روایتوں کی روشنی میں یہ فتوی دے چکے ہیں کہ خیانت کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ لیکن کتاب "ملحقات عروة الوثقیٰ"کے قضاوت والے باب میں مرحوم سید کاظم طباطبا ئی فرماتے ہیں : "مجتہدین کے درمیان مشہوریہ ہے کہ امانت کے مال سے اپنا جائز حق وصول کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ " خود مرحوم سید کاظم طباطبائی کابھی یہی فتویٰ تھا لیکن احتیاط یہ ہے کہ ایسا کام نہ کیا جائے۔
اسی طرح اگر ایک شخص کسی کوکچھ مال دے اور کہے کہ "یہ مال سادات یا غریبوں تک پہنچادو" اور اتفاق سے جس کو مال دیا گیا ہے وہ خود بھی سید یاغریب ہو توو ہ مالک کی اجازت کے بغیر خود اس مالک کی تصرف نہیں کر سکتا ۔ ہاں اگر معلوم ہوکہ اگرخود وہ تصرّف کرلے تو بھی مالک راضی ہوگا تو درست ہے۔
خیانت کا بوجھ اور روز قیامت
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں :
(قَالَ) اَلَالا یَغُلَّنَّاَحَدُ بَعِیْراً فَیاَْتِیْ بِه عَلٰی ظَهْرِهِ رُ عاَءُ
"خبردار! کوئی شخص ایک اونٹ کی بھی خیانت کا مرتکب ہرگز نہ ہو ۱ ورنہ وہ قیامت کے دن اُسی اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ کرآئے گا اور اونٹ کی طرح بلبلا رہا ہوگا !"
اَلَا لَا یَغُلَّنَّ اَحَدُ فَرَسًا فَیَاْتِیْ بِهِ یَوْمَ الْقِیاَمَةِ عَلٰی ظَهْرِ هِ لَه حَمحَمةُ ۔ "خبردار ! کوئی شخص ایک گھوڑے کی بھی خیانت کا ہر گز مرتکب نہ ہو! ورنہ وہ قیامت کے دن اسی گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر آئے گا اور ہنہنا رہا ہوگا!" فیقولُ یا محَمَّدُ یا مُحمَّدُ "ایسا خیانت کار شخص مجھے مدد کے لئے پکارے گا:یَا مُحَمَّد ! یَا مُحَمَّد! فَاَقُوْلُ قَدْ بَلّغْتُ لَا اَمْلِکُ لَکَ مِن اللهِ شَیئًا (کتاب "کافی") آنحضرت فرماتے ہیں کہ: " میں اس سے کہوں گا کہ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ اب(تمہاری نا فرمانی کی صورت میں ) تمہارے متعلق خدا کے حضورمیری کوئی ذمہ داری نہیں ہے!"
علامہ مجلسی پیغمبر اکرم کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ:رُدُّوْاالْخَیْط وَالْمَخِیْطَ فَاِنَّ الْغُلُوْلَ عَارُ وَّ شَنَارُ یَوْمَ الْقَیٰمَةِ (کتاب "شرح کافی") یعنی "حتٰی دھاگہ اور سوئی تک واپس لوٹا دیا کرو۔ اس لئے کہ خیانت قیامت کے دن بہت ننگ و عار اور رسوائی کا باعث ہوگی۔
ایک شخص آنحضرت کی خدمت میں آیا ۔ وہ ایک سُوا (بڑی سوئی) بغیر اجازت لے گیا تھا۔ اس نے آنحضرت سے کہا: "میں یہ سُوا لے گیا تھا تاکہ اس سے اپنے لئے پالانِ شتر تیار کر سکوں۔" آنحضرت نے فرمایا: اگر اس سوئے میں میرا حق ہے تو میں نے اسے معاف کیا۔ اور اگر دوسرے مسلمانوں کا حق ہے تو اس کی قیمت تم دے دو تاکہ وہ بیت المال میں شامل ہو اور سب کے درمیان عدل سے تقسیم ہو!" اس عرب شخص نے کہا: "میں نہیں جانتا تھا کہ یہ اتنا سخت مسئلہ ہے۔ اگر ایسا ہے تومیں سوا اپنے پاس نہیں رکھوں گا۔" یہ کہہ کر اس نے وہ سوا آنحضرت کو دیا اور چلا گیا۔
د
( یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْما هُمْ ) سے مراد
علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ میدانِ حشر میں خیانت کرنے والے شخص کے کاندھوں پر خیانت کا مال رکھا ہوا ہوگا۔ ہر آدمی کی اسی طرح کوئی نہ کوئی علامت ہوگی جس سے اُس آدمی کا گناہ پہچانا جائے گا۔ جو شخص بھی کسی گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرے گا اور توبہ کئے بغیر مر جائے گا، خدا قیامت کے دن اُ س کے ساتھ عدل کا سلوک کرے گا۔ عدل اس حد تک ہوگا کہ جس قسم کا گناہ آدمی نے زیادہ کیا ہو اُسی کی مناسبت سے کوئی علامت بھی آدمی کے ساتھ لگی ہوگی۔ مثلاً شرابی کے ہاتھ میں شراب کی ایسی بوتل ہوگی جس کی بدبو سے اہلِ محشر کو تکلیف پہنچ رہی ہوگی۔ اسی طرح گانا بجانے کے آلات، بجانے والے شخص کے ہاتھ میں چپکے ہوئے ہوں گے۔ اسی طرح جوا کھیلنے والوں کے ہاتھ میں جوئے کے آلات ہوں گے۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْما ھُمْ (سورئہ رحمٰن ۵۵: آیت ۴۱) یعنی "مجرموں کو اُ ن کی پیشانی سے پہچانا جائے گا۔" اس آیہ شریفہ سے یہی مراد ہے۔
رسولِ اکرم اور امانت
ایک دن مسجدِ نبوی میں ایک غریب آدمی آیا اور رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے اپنی غربت کا ذکر کرنے لگا۔ آنحضرت نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، خدا قادر ہے۔" اسی طرح ایک اور فقیر آیا، آنحضرت نے اُس سے بھی یہی فرمایا پھر ایک تیسرا غریب آدمی آیا۔ آنحضرت نے اُسے بھی بٹھا دیا۔ پھر ایک اور شخص آیا۔ اُس نے چار صاع (تقریباً بارہ سیر) گندم زکوٰة کے طور پر پیش کیا۔ آنحضرت نے ایک ایک صاع (تقریباً تین تین سیر) گندم تینوں میں سے ہر ایک غریب آدمی کو دیا۔ ایک صاع یعنی تقریباً تین سیر گندم بچ گیا۔ مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد آنحضرت نے خود اعلان فرمایا کہ ایک صاع گندم موجود ہے، جو شخص بھی مستحق ہو آکر لے لے۔ لیکن کوئی نہیں آیا۔ مجبوراً آنحضرت زکوٰة کی وہ امانت اپنے گھر لے گئے۔ حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ اس رات آنحضرت فکر مند نظر آرہے تھے۔ میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: "مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں آج مرجاؤں اور یہ امانت مستحق تک نہ پہنچے بلکہ میرے پاس رہ جائے!"
نیز مروی ہے کہ جب آنحضرت پر مرض الموت طاری تھا تو آپ کے پاس غریبوں کو دینے کے لئے چھ یا سات دینار کا مال رکھا ہوا تھا۔ آنحضرت نے اُسے طلب فرمایا۔ اور اس کو گن کر کہا: "ہو سکتا ہے کہ محمد خدا کے حضور پہنچ جائے اور یہ دینار اُس کے ذمے پڑے رہ جائیں!" پھر آنحضرت نے امیرالمومنین حضرت علی علیہاالسَّلام کو یہ دینار فقیروں تک پہنچانے کے لئے دیئے اور فرمایا "اب مجھے اطمینان ہو گیا!"
(ناسخ التواریخ جلد ۳ حالاتِ رسولِ خدا ص ۵۴۴)
راز کی باتیں بھی امانت ہیں
کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ کسی کی راز کی بات کسی کے پاس ہوتی ہے، اور وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ کسی اور کو نہ بتائے۔ ایسی بات بھی ایک امانت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی راز کی بات آدمی کو خود بخود معلوم ہوجائے یعنی جس شخص کے متعلق وہ بات ہے، خود اس نے نہ بتائی ہو، لیکن اندازہ ہو کہ وہ شخص پسند نہیں کرے گا کہ وہ بات پھیل جائے۔ ایسی بات بھی شرعی لحاظ سے امانت ہے۔ دیکھی یا سنی ہوئی راز کی بات فاش کر دینا خیانت ہے کتاب "غرر الحکم" میں حضرت امیرالمومنین کا یہ قول موجود ہے کہ:اِذَاعَة سِرٍّ اُوْدِعْتَه غَدْرُ یعنی "راز کی جو بات تمہیں راز رکھنے کے لئے سنائی گئی ہو، اُسے فاش کردینا خیانت اور غداری ہے!"
راز کی بات خواہ دوست کی ہو یا دشمن کی، خواہ اچھے آدمی کی ہو یا بُرے آدمی کی، جب وہ امانت کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو بہر حال اُسے فاش کرنا حرام ہے۔
آپس کی باتیں بھی امانت ہیں
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے کہ:المُجَالِسُ بِالْاَمَانَةِ وَلَا یَحِلُّ لِمُومِنٍ اَنْ یَّقُوْلَ عَنْ اَخِیْهِ الْمُومِن قَبِیْحاً (بحارالانوار جلد ۱۶) یعنی "ایک ساتھ بیٹھنے والے شخص کو امانت کا خیال کرنا چاہیئے کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مومن بھائی کی کوئی بڑی بات فاش کردے۔"
نبی کریم سے حضرت ابوذر نقل کرتے ہیں(عَنِ النَّبِیِّ) یَا اَبٰاذَرٍ اَلْمُجَالِسُ بِالاَمَنَةِ وَاِفْشَاءُ کَ سِرَّ اَخِیْکَ خِیَانَةُ فَاجْتَنِبْ ذٰلِکَ (وسائل الشیعہ) "اے ابوذر! ایک ساتھ بیٹھنے والے شخص کو امانت کا خیال کرنا چاہیئے۔ اگر تم اپنے مومن بھائی کا راز فاش کردو گے تو خیانت کر بیٹھو گے۔ پس ایسے کام سے بچو۔"
ایک بیٹھک یا میٹنگ میں جو باتیں بھی ہوتی ہیں وہ اُس کے افراد کے پاس امانت ہوتی ہیں۔ جو بات چھپانے کے لائق ہو، اُسے فاش نہیں کرنا چاہیئے۔ روایت میں ہے کہ:اَلمُجَالِسُ بِالاَمَانَةِ اِلَّا ثلَاثَةُ مُجَالِس مَجْلِسُ سُفِکَ فِیْهِ دَمُ حَرَامُ، وَمَجْلِسُ اُسْتُحِنَ فِیْهِ فَرْجُ حَرَامُ وَمجْلِسُ اُسْتُحِلَّ فِیْهِ مَالُ حَرَامُ بِغَیْرِحَقِّهِ (بحار الانوار جلد ۱۶ نقل از امالی مفید)
ایک ساتھ بیٹھنے والے شخص کو امانت کا خیال رکھنا چاہیئے۔ ہاں البتہ تین قسم کی بیٹھکوں میں ہونے والی بات فاش کرنا حرام نہیں ہے۔ ایک وہ جگہ جہاں حرام طریقے سے کسی کی جان لینے کی بات ہورہی ہو۔ ایک وہ جگہ جہاں زنا کا پروگرام طے پارہا ہو۔ اور ایک وہ جگہ جہاں ناحق حرام مال کھانے کی بات ہو رہی ہو۔ "ایسی جگہوں پر ہونے والی باتیں کسی کا حق ثابت کرنے کے موقع پر قاضی کے سامنے گواہ بن کر پیش کی جاسکتی ہیں۔ بلکہ بعض موقعوں پر بات کی اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ راز فاش نہ کرنا حرام ہوتا ہے۔
سورئہ تحریم میں پروردگارِ عالم ازواجِ پیغمبر میں سے بعض کو سر زنش کر رہا ہے کہ انہوں نے آنحضرت کے ساتھ خیانت کی تھی اور آپ کا راز فاش کر دیا تھا۔ خدا ان دونوں کو توبہ کرنے کی ہدایت دے رہا ہے اور فرمارہا ہے کہ:( اِنْ تتُوْبَا اِلَی اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمٰا ) (سورئہ تحریم ۶۶: آیت ۴) " اگر تم دونوں توبہ کرو تو بہتر ہے، کیونکہ تمہارے دل تاریک ہوگئے ہیں۔"
اسی سورت میں حضرت نوح اور حضرت لوط پیغمبروں کی بیویوں کا بھی کچھ یوں ذکر ہے:( فَخَانَتٰا هُمَا فَلَمْ تُغْنِیٰا عَنْهُمَا مِنَ اللهِ شیْئًا وَقِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ ) (سورئہ تحریم ۶۶: آیت ۱۰) " دونوں نے اپنے شوہروں کے ساتھ خیانت کی (گھر کے راز فاش کردئیے) تو ان کے شوہر خدا کے مقابلے میں اُن کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ جہنم میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی داخل ہوجاؤ۔"
راز کی باتیں بتا دینا امانت میں خیانت ہے
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ سِنَانَ قَالَ قُلْتُ لَه عبدالله بن سنان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام سے پوچھا:عَوْرَةُ المُوْمِنِ عَلَی الْمُوْمِنِ حَرَامُ؟ مومن کی چھپائی جانے کے لائق چیز مومن پر حرام ہے؟ قَالَ نَعَمْ امام نے جواب دیا: "ہاں"قُلْتُ تَعْنِیْ سِفْلَیْهِ میں نے پھر پوچھا: "کیا آپ نے اس سے مراد پیشاب اور پاخانے کے مقامات لئے ہیں؟" قَالَ لَیْسَ حَیْث تَذْهَبُ امام نے فرمایا: "وہ بات مراد نہیں ہے جدھر تمہارا دھیان جارہا ہے۔"اِنَّمَا هُوَ اِذَاعَةُ سِرِّه (کتاب "کافی") "(اگرچہ کہ مومن کی شرمگاہ کو دیکھنا بھی حرام ہے، ) لیکن میری مراد مومن کا راز فاش کردینا ہے۔"
امام یہ بھی فرماتے ہیں :مَنْ غَسَّلَ مَیِّتاً مُومِناً فَاَدّیٰ فِیْهِ الْاَمَانَةَ غُفِرَلَه "جو شخص کسی مومن کی میت کو غسل دے اور اس کے سلسلے میں امانت کا خیال رکھے تو اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں "قِیْلَ وَکَیْفَ یُودِیْ فِیْهِ الْاَمَانَةَ؟ پوچھا گیا کہ " کوئی شخص میت کے سلسلے میں امانت کا خیال کس طرح رکھ سکتا ہے؟ "قَالَ لَا یُخْبِرُبِمَا یَریٰ (کتاب "امالی") امام نے جواب دیا "وہ میت کے بدن میں جوعیب دیکھے، دوسروں کو نہ بتائے۔"
گذشتہ بیان سے معلوم ہوا تھا کہ راز فاش کرنا بطور کلی خیانت ہے، خواہ جس شخص کا راز ہو، اس نے خود رازداری کی شرط کے ساتھ بتایا ہو، یا ایسے ہی چلتے پھرتے معلوم ہوگیا ہو۔ بہر حال راز ایک امانت ہے جس میں خیانت جائز نہیں ہے۔ یعنی جس کا راز ہے، اگر وہ اس کے کھل جانے پر ناراض ہوتا ہو تو اسے فاش کرنا خیانت اور حرام ہے۔ اس قسم کی امانت یعنی راز کی امانت کے کچھ درجے ہوتے ہیں اور اس کی کچھ قسمیں ہوتی ہیں۔ بعض میں خیانت کو چغل خوری یا چغلی کہتے ہیں، اور بعض میں خیانت کو غیبت کہا جاتا ہے۔ انشاء الله ان میں سے ہر ایک کا بیان اپنے اپنے مقام پر ہوگا۔
مسلمانوں کے جنگی راز کفار تک پہنچانا
خدا ، پیغمبر اور تمام مسلمانوں سے خیانت کا اپنا اپنا مرتبہ ہوتا ہے ایک قسم کی خیانت یہ بھی ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنے ساتھ خیانت کر بیٹھتا ہے ان تمام خیانتوں کا مجموعہ مسلمانوں کے سیاسی رازوں اور فوج کے پوشیدہ امور کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے والے کافروں سے بیان کر دینا ہے۔ آدمی اس طرح نہ صرف خدا، پیغمبر اور تمام مسلمانوں سے خیانت کرتا ہے بلکہ اپنے ساتھ بھی خیانت کرتا ہے۔ دشمن کی تقویت اور مسلمانوں کی شکست کا سبب بنتا ہے شاید اسی خیانت کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:
( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لَا تَخُونُوااللهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوااَمٰنٰتِکُم وَاَنْتُم تَعْلَمُوْنَ )
(سورئہ انفال ۸: آیت ۲۷)
یعنی "اے ایمان لانے والو، نہ تو خدا اور رسول کی خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم سب کچھ سمجھتے بوجھتے ہو۔"
اس آیہ شریفہ کی شانِ نزول میں جابر ابن عبدالله سے منقول ہے کہ ایک دن جبرئیل نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ مشرکوں کے ایک لشکر کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے ہے۔ آپ اس سے جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ اور اس خبر کو پوشیدہ رکھیں تاکہ اچانک ان پر حملہ کر سکیں۔ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ خبر لکھی اور ابوسفیان کو مسلمانوں کے اچانک حملہ کرنے والے پروگرام سے آگاہ کردیا۔ اس کے علاوہ اسی آیت کے ذیل میں ابو لبابہ نامی شخص کی خیانت اور اس کی توبہ کا ذکر قرآنِ مجید میں موجود ہے۔
چوریا
تئیسواں گناہ چوریا
تئیسواں گناہ جس کے کبیرہ ہونے کی صراحت موجود ہے ، چوری کرنا ہے۔ فضل بن شاذان والی روایت میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اسے گناہانِ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔ اعمش راوی ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یہ حدیثِ نبوی نقل فرمائی کہ:لَا یَزْنِی الزّٰانِیْ وَهُوَ مُومِنُ وَلَا یَسْرِقُ السَّارِقُ وُهُوَ مُوْمِنُ (وسائل الشیعہ) یعنی "کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا اور کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے چوری نہیں کرسکتا۔ پس زنا کرنے والا شخص اور چوری کرنے والا شخص مومن نہیں ہوتا۔ ایسے آدمی میں ایمان کی روح نہیں ہوتی۔ ایسے آدمی کو خدا اور روزِ جزا پر مناسب حد تک ایمان نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی اگر توبہ کیے بغیر مرجائے تو مومن کی موت نہیں مرتا۔ بعض آیتیں اور روایتیں ایسی ہیں جو خیانت کی مذمت میں ہیں، لیکن ساتھ ساتھ اس
کُل مَنْ سَرَقَ مِنْ مُّسْلِمٍ شَیْئًا قَدْحَوَّاه وَاَحْرَزَه فَهُوَ یَقَعُ عَلَیْهِ اسْمُ السَّارِقِ وَهُوَ عِنْدَاللهِ سَارِقُ ۔
"ہر وہ شخص چور کہلائے گا اور خدا کی نظر میں چور ہوگا جو کسی مسلمان کا ایسا مال چرالے جس کو اس نے اپنی ملکیت بنا لیا ہو اور جس کو اس نے اپنے لئے رکھ لیا ہو۔" (یعنی خداوندتعالیٰ اسے وہی عذاب دے گا جو چور کے لئے اس دنیوی زندگی کے بعد معین ہے۔)
وَلٰکِنْ لَا تُقْطَعُ اِلَّا فِی رُبْع دِیْنَارٍ اَوْاکْثَرَ "لیکن (دنیا میں )اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ہے ہاں اگر وہ ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کا مال چرائے توکاٹا جاتا ہے۔"وَلَوْ قُطِعَتْ یَدُ السَّارِقِ فِیْمَا هُوَ اَقَلُّ مِنْ رُّبْع دِینَارٍ لَاَلقَیْتَ عَامَّةَ النّاسِ مُقَطَّعِیْنَ (کتاب "تہذیب") "اگر چوتھائی دینار سے کم پر ہاتھ کاٹے جائیں تو تم اکثر لوگوں کا ہاتھ کٹا ہوا پاؤ گے!
چوری کی سز
سورئہ مائدہ میں ارشاد ہے:
( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْااَیْدِیَهُمَا جَزٰاءً بِمَا کَسَبَانَکٰالَامِّنَ اللهُ عَزِیزُ حَکِیْمُ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ اِنَّ اللهَ غَفُوْرُرَّحِیْمُ )
(سورئہ مائدہ ۵ : آیت ۳۸ اور ۳۹)
"اور چور خواہ مرد ہو یا عورت، تم ان کے کرتوت کی سزا میں ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ یہ اُن کی سزا خدا کی طرف سے ہے۔ اور خدا تو بڑا زبردست حکمت والا ہے۔ ہاں جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اپنے چال چلن درست کرلے تو بے شک خدا بھی اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ یقینا خدا تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔"
کتاب "برہانِ قرآن" کے صفحہ ۱۷۰ پر کچھ یوں لکھا ہے:
"اسلام دشمن افراد نے جن موارد پر اسلام کے خلاف ہنگامہ اور معرکہ کھڑا کیا ہے اُن میں سے ایک سزاؤں کا اسلامی قانون ہے۔ دشمن ان سزاؤں کو وحشیانہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیسویں صدی میں ایسی سزائیں شائستہ نہیں ہیں۔ خاص طور پر دشمنوں نے چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے اور زنا کی سزا میں سنگسار کر دینے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ وہ اپنا فلسفہ بگھارتے ہوئے کہتے ہیں کہ جرائم ایک طرح کی اخلاقی اور روحانی بیماریاں ہیں پس ان کا علاج سزاؤں سے نہیں بلکہ درسِ اخلاق دے کر نفسیاتی طریقوں سے ہونا چاہیئے۔"
ہم کہتے ہیں کہ ہم درسِ اخلاق اور روحانی علاج کے منکر نہیں ہیں۔ بے شک درس و نصیحت کا معاشرے کے افراد پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کرتے کہ اکثر جرائم اخلاقی خرابیوں اور بیمار روح کے باعث واقع ہوتے ہیں۔
اسلام نے درس و نصیحت کا اور اخلاق و عادات کی اصلاح کا پہلو نظر انداز نہیں کیا ہے۔ لیکن ہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر درس و نصیحت کے باوجود آدمی سرکشی کرے اور اپنی خواہشات کو بے لگام چھوڑ دے تو ایسے آدمی کی اصلاح سزا کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ چھوٹے تین چار سال کے بچے کو بھی خدا نے اپنے اوپر قابو پانے کی صلاحیت دی ہے۔ مثلاً یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ پیشاب آئے تو روک لے اور بستر پر نہ کرے۔ اس کے باوجود اور والدین کی نصیحت کے باوجود اگر بچہ لاپرواہی کرتا ہے تو والدین کو سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔ اسلام پر اعتراض کرنے کے لئے نفسیاتی اور اخلاقی علاج کو کافی قرار دینے والے حضرات کے ممالک میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ مجرموں کو محض درس و نصیحت کر کے پیار سے چھوڑ دیا جائے، بلکہ وہاں بھی ان کو جیل میں بند کر دیا جاتا ہے اور انہیں مختلف سزائیں دی جاتی ہیں۔
ہم اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ اقتصادی بدحالی بھی بہت سے جرائم کا سبب ہو جاتی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ غربت اور افلاس کے باعث آدمی بد اخلاق ہو جاتا ہے۔ کینہ اور معاشرے سے دشمنی کے جراثیم اس کے اندر پروان چڑھتے رہتے ہیں۔ خود غرضی دوسروں کے حقوق چھین لینے پر اکساتی رہتی ہے۔ غربت کے باعث خیانت اور چوری کا رجحان بڑھتا رہتا ہے۔ کسی بھی محرومی کے باعث آدمی جرم کر کے بھی وہ محرومی دور کرنے کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ لیکن ہم یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ صرف غربت اور محرومی ہی جرائم کا سبب ہے۔ ہم ایسے بہت سے لوگوں کو پہچانتے ہیں جو غربت اور محرومیوں کا شکار ہونے کے باوجود ظلم و جرم سے باز رہتے ہیں۔ انتہائی پرہیزگاری اور قناعت کا ثبوت دیتے ہیں، اور بڑے خلوص کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جن ممالک اور علاقوں میں معاشی بدحالی نہیں ہے وہاں بھی جرائم و مظالم بکثرت ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سویت یونین میں کمیونزم کی وجہ سے چونکہ طبقاتی فرق مٹ چکا ہے، اس لئے وہاں کوئی ظلم و جرم نہ ہوتا ہو۔ وہاں کی جیلیں گواہ ہیں کہ وہاں بھی طرح طرح کے جرائم ہوتے ہیں۔
اسلام کے سخت قوانین پر اعتراض کرنے والے اور انہیں وحشیانہ قرار دینے والے لوگ خود کو بھول جاتے ہیں۔ آزادی اور انسان دوستی کا نعرہ لگانے والے لوگ خود اپنے جرائم و مظالم کیوں بھول جاتے ہیں؟ شمالی افریقہ میں چالیس ہزار عوام کو محض اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے کے جرم میں مشین گنوں کے ذریعے قتل کر دیا گیا ہے۔ کیا یہ وحشیانہ نہیں ہے؟! ۱۴ اپریل ۱۹۶۰ ء کے روزنامہ کیہان (تہران) میں لکھا ہے کہ: "چھ سال کی اس مدت میں الجزائر کے حریت پسند اور مجاہد عوام نے بڑی دلیری سے فرانس کی ظالم حکومت کی غلامی سے نجات پانے کے لئے جدوجہد کی ہے۔ اب تک الجزائر کے دس ملین (ایک کروڑ) میں سے ایک ملین (دس لاکھ) افراد اپنے بنیادی حقوق کے دفاع کے جرم میں قتل کئے جا چکے ہیں!!"
بہر حال ہم اصل موضوع پر آتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام نے ہر پہلو کو مد نظر رکھا ہے۔ جہاں اسلام سخت سزاؤں کا حکم دیتا ہے وہاں اخلاقی و روحانی خرابیوں کو دور کرنے اور معاشی بدحالی کے خاتمے کے احکام بھی صادر کرتا ہے ۔ اسلام ہر راہ سے کوشش کرتا ہے کہ جرم کے امکانات کم سے کم ہوجائیں۔ حتی الامکان کوشش کرتا ہے کہ کوئی جرم معاشرہ میں پھیلنے نہ پائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص سرکشی کرتا ہے اور جرم کرتا ہے تو سزا کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ اسلام جرم کرنے والے کے عذر کو بھی دیکھتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص معاشی بدحالی سے اور بھوک سے پریشان ہو کر چوری کر بیٹھے تو اس کا ہاتھ کاٹا نہیں جاتا، بلکہ سزا سے آزاد رہتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ تھوڑی بہت تعزیر اور تنبیہ کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ آئندہ وہ ایسا نہ کرے۔
یہ اسلامی حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ملک کے ہر فرد کو مناسب روزگار کی راہ پر لگا دے ، اگر کوئی شخص اس کے باوجود بے روزگار رہ جاتا ہے تو بیت المال سے اس کو باروزگار ہونے تک وظیفہ ملتا ہے۔ جب ایسا ہے تو اسلامی حکومت میں چوری کا سوال پیدا نہیں ہونا چاہیئے، اور اس کے باوجود چوری کرنے والے کو واقعی سزا ملنی چاہئیے، اسی طرح یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں آکر چوری تو نہیں کر بیٹھا ہے۔ اگر واقعی آدمی کسی طرح مجبور ہو تو اسے سزا نہیں ملتی۔ ویسے بھی ظاہر ہے کہ کسی غیر اسلامی حکومت میں اسلامی قوانین نافذ نہیں ہوتے۔ پس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور اسلامی حکومت کے دور میں بھی تاریخ گواہ ہے کہ چار سو سال میں صرف چھ بار چوری کی سزامیں ہاتھ کاٹا گیا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے جس وحشیانہ انداز میں لڑائی کی ہے اس کے نتیجہ میں ۳۵ ملین (تین کروڑ پچاس لاکھ) افراد قتل ہوئے۔ بیس ملین (دو کروڑ) افراد ہاتھ پاؤں سے محروم ہوگئے۔ سترہ ملین لیٹر (ایک کروڑ ستر لاکھ لیٹر) خالص انسانی خون زمین پر بہہ گیا۔ اور بارہ ملین (ایک کروڑ بیس لاکھ) حمل ضائع ہوگئے!! کیا وہ جنگ انتہائی وحشیانہ نہیں تھی؟ پھر چار سو سال میں اگر صرف چھ بار بے ضمیر چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے ہوں تو اسے وحشیانہ کہنے کا کیا جواز ہے؟ جب کہ شیعہ فقہ کے لحاظ سے سیدھے ہاتھ کی چار انگلیاں ہی کاٹنے کا حکم ہے، ہتھیلی اور انگوٹھا پھر بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اگر کوئی کہے کہ پہلے کے لوگوں کا شعور اعلیٰ سطح کا نہیں تھا اور ان کو قابو میں رکھنے کے لئے ایسی سخت سزائیں مناسب تھیں، لیکن اب تو لوگوں کا شعور بڑھ گیا ہے، اب ایسی سزائیں مناسب نہیں ہیں۔ ہم کہیں گے کہ ایسی باتیں سادہ لوح افراد کو دھوکا دینے کے لئے ہیں۔ اگر شعور اعلیٰ درجے کا ہے تو ترقی یافتہ اور مغربی ممالک میں جرائم کی اتنی بہتات کیوں ہے؟! بات یہی ہے کہ سزا سخت نہیں رکھی گئی ہے اس کے علاوہ ہم یہ بھی کہیں گے کہ سخت اسلامی سزا کا تصور خود شعور کی سطح کو بلند کرتا ہے۔ آدمی فساد اور تباہی سے بچا رہتا ہے اور فضیلت کے منازل طے کرتا ہے آدمی کے ذہن میں خود بخود یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ واقعی مثلاً چوری بہت بُرا کام ہے۔
ظاہر ہے کہ چوری کی سزا بیان کرنے والی مذکورہ آیات میں پوری تفصیل نہیں ہے کہ چوری کیسی ہو کہ ہاتھ کاٹا جائے اور کتنا ہاتھ اور کونسا ہاتھ کاٹا جائے اور یہ بھی ظاہر ہے یہ سب تفصیل ہمیں احادیث ہی سے مل سکتی ہے۔ اس موضوع پر بہت سے احادیث موجود ہیں اور ان کی روشنی میں چوری کی حد اور سزا کے لئے مندرجہ ذیل شرطیں سامنے آتی ہیں:۔
چوری کی حد جاری کرنے کی شرطیں
چور کا ہاتھ کاٹنے سے پہلے مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جاتا ہے اگر ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔
( ۱) ایک شرط یہ ہے کہ چور بالغ ہو۔ بالغ ہونے کی شرعی علامتیں یہ ہیں کہ اگر لڑکا ہے تو چاند کے حساب سے پندرہ سال کا ہو چکا ہو اور اگر لڑکی ہو تو چاند کے حساب سے نو سال کی ہو چکی ہو۔ بالغ ہونے کی ایک اور علامت یہ ہے کہ زیرِ ناف شرم گاہ کے اوپر اگنے والے بال سخت اور چبھنے والے ہوگئے ہوں۔ بالغ ہونے کی تیسری علامت یہ ہے کہ احتلام ہوجائے یا کسی طرح منی نکل آئے ان تینوں میں سے کوئی بھی علامت پائی جائے تو آدمی بالغ شمار ہوتا ہے۔ پس اگر چوری کرتے وقت چور نابالغ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا بلکہ قاضی جہاں تک مناسب ہو بچے کو تعزیر اور ڈانٹ ڈپٹ کر کے چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے۔
عبدالله ابنِ سنان حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ: "جب نابالغ بچہ چوری کرے تو پہلی اور دوسری مرتبہ کی چوری میں اسے معاف کر دینا چاہئیے۔ تیسری مرتبہ بھی اگر وہ چوری کرے تو اس کو چوری سے روکنے کے لئے ڈانٹنا مارنا چاہئیے۔ اور اس کے بعد بھی بچہ چوری کرے تو اس کی انگلیوں کے تھوڑے تھوڑے کونے کاٹ دینے چاہئیں۔ اگر پھر بھی بچہ چوری کرتا رہے تومزید تھوڑی تھوڑی انگلیاں کاٹی جاتی رہیں۔
( ۲) ایک اور شرط یہ ہے کہ چور عاقل ہو۔ پس اگر دیوانہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا اور اگر مفید اور موثر ہو تو مناسب ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے۔
( ۳) ایک اور شرط یہ ہے کہ آدمی نے کسی کی دھمکی میں آکر یا کسی اور مجبوری کے تحت چوری نہ کی ہو۔ اگر مجبوری ہو تو شرعی حد جاری نہیں ہوتی۔
( ۴) جو چیز چرائی گئی ہو وہ شرعاً مال اور ملکیت کے قابل سمجھی جاتی ہے۔ پس اگر آزادی سلب کرلی جائے تو یہ چوری نہیں کہلاتی۔
( ۵) جو چیز چرائی گئی ہو اس کی قیمت ایک چوتھائی شرعی مثقال خالص سونے سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔ ایک شرعی مثقال اٹھارہ چنے کے دانوں کے برابر ہوتا ہے جس کا چوتھائی وزن ساڑھے چار چنے کے دانوں کے برابر ہے۔
( ۶) چوری کا مال بیٹے یا غلام کا نہیں ہونا چاہئیے۔ پس اگر باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کا مال چرا لے تو اس کو شرعی سزا نہیں دی جاتی لیکن اس کے برعکس اگر بیٹا یا بیٹی اپنے باپ یا اپنی ماں کا مال چرا لے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ یہی بات غلام کے سلسلے میں بھی ہے کہ اگر آقا اپنے غلام کا مال چرا لے تو کوئی سزا نہیں ہوتی اگرچہ لکھا پڑھی ہوچکی ہو کہ غلام اتنا مال کما کر دے دے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔ البتہ اگر غلام اپنے آقا کا مال چرائے تو اس پر حد جاری ہوتی ہے یا نہیں اس سلسلے میں اختلاف ہے۔
بعض مجتہدین نے فرمایا ہے کہ اگر کاریگر یا ملازم اپنے مالک اور دفتر کے سربراہ کا مال چرالے سو اس پر شرعی حد جاری نہیں ہوتی، لیکن مشہور فتویٰ یہ ہے کہ کاریگر ، ملازم اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے اور شرعی سزا ملے گی اور اگر مہمان میزبان کا مال چرالے تو بھی علماء کے فتوؤں میں اختلاف ہے، زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ مہمان کو سزا ہوگی۔
( ۷) چوری کا مال قحط کے زمانے میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "قحط اور بھوک کے دور میں روٹی، گوشت وغیرہ جیسی خوراک چرا لینے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔"
( ۸) اگر سپاہی نے مالِ غنیمت دشمن سے حاصل کرنے میں شرکت کی ہو اور ابھی وہ تقسیم نہیں ہوا ہو تو اگر ایسے میں وہ سپاہی مالِ غنیمت میں سے کچھ چرا لے تو وہ شرعی سزا سے معاف ہے۔
( ۹) کسی معاملے میں باہمی شرکت کرنے والا ایک شریک اپنے دوسرے شریک کا مال چرالے اور یہ دعویٰ کرے کہ یہ اسکا حصہ اور حق ہے تو اس پر حد جاری نہیں ہوتی۔
( ۱۰) جس شخص پر چوری کا الزام لگایا گیا ہو لیکن ابھی قاضی کے سامنے اس کا چور ہونا ثابت نہ ہوا ہو، اگر ثابت ہونے سے پہلے وہ شخص چوری کا مال مالک سے خریدلے اور اس کی قیمت ادا کردے تو چوری ثابت کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور اس طرح حد بھی جاری نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر چوری کا الزام ثابت ہو مثلاً بیٹے نے باپ کا مال چرالیا ہو، لیکن چوری ثابت ہونے سے پہلے باپ کا انتقال ہو گیا ہو اور وہ چوری کا مال بیٹے کو میراث میں مل گیا ہو تو چوری کی سزا نہیں ہوگی۔
( ۱۱) گر چرائی ہوئی چیز کا استعمال حرام ہو، مثلاً وہ شراب یا سور کا گوشت ہو تو چوری کی سزا نہیں ملتی۔
( ۱۲) چوری کا ملزم اگر یہ دعویٰ کرے کہ اس نے مال چوری کی نیت سے نہیں اٹھایا تھا، اور قاضی کسی اورنیت کا احتمال معقول سمجھے تو حد جاری نہیں ہوتی۔
( ۱۳) شرعی سزا کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس جگہ چوری ہوئی ہو وہاں جانے کے لئے اس کے مالک کی اجازت ضروری ہو، پس اگر مسجد ، عمومی حمام یا کسی اور عمومی جگہ سے چوری ہو تو سزا نہیں ملتی۔
( ۱۴) ایک اور شرط یہ ہے کہ مال کو اس کی محفوظ جگہ سے چرایا گیا ہو۔ اگرمال کو حفاظت سے نہ رکھا گیا ہو اور کھلا چھوڑ دیا گیا ہو تو اس کی چوری سزا کی موجب نہیں ہوتی۔ مثلاً زیورات محفوظ جگہ مقفل ہونے چاہئیں۔ پھل درخت پر سے توڑ کر نہ چرائے گئے ہوں بلکہ باغ کے اندر جمع کئے ہوئے ذخیرے یا پھلوں کے ٹوکرے سے چرائے گئے ہوں ، چوپائے اصطبل سے چرائے گئے ہوں ، بیچنے کا سامان دوکان کے اندر سے چوری ہو گیا ہو۔ ایسی جیب سے چرایا گیا ہو جو اندر کی طرف ہو اور باہر لٹک نہ رہی ہو ۔ پیسے مثلاًتجوری یا محفوظ جگہ سے چرائے گئے ہوں۔ اسی طرح کفن قبر کے اندر سے چرایا گیا ہو۔
( ۱۵) ایک اور شرط یہ ہے کہ چور خود چوری کا مال محفوظ جگہ سے نکال کر لے جائے۔ اب مثلاً ایک آدمی مال کو اس کی محفوظ جگہ سے نکال دے اور دوسرا آدمی اسے لے جائے تو دونوں میں سے کسی پر چوری کی حد جاری نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ جس شخص نے محفوظ جگہ سے مال کو نکال کر غیر محفوظ کر دیا اُس نے چوری نہیں کی۔ اور جس شخص نے مال چرایا وہ غیر محفوظ جگہ سے چرایا۔ اور ابھی چودھویں شرط بتائی گئی کہ غیر محفوظ جگہ سے چرانے پر چوری کی سزا نہیں ملتی۔ صرف ایسے شخص کو سزا ملتی ہے جو محفوظ جگہ سے نکالے بھی اور چرا کر لے جائے بھی۔ اور اگر محفوظ جگہ سے مال چرا کر لے جانے میں ایک سے زیادہ آدمی شریک ہوں تو ہر چور کا حصہ ایک چوتھائی مثقال سونے کی قیمت کے برابر ہو تو ہر ایک کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ورنہ جس کا حصہ اس مقدار کا ہو، اس کا ہاتھ کٹے گا۔ اور اگر کسی کا حصہ اتنا نہیں بنتا تو کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اگر چور محفوظ جگہ سے مال نکال کر اپنے چوپائے پر لاد دے، یا اپنے نابالغ بچے کو یا کسی دیوانے کو دے دے، اور وہ جانور ، نابالغ بچہ یا دیوانہ اُس مال کو لے جائے تو بھی چور شرعی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اس لئے کہ جانور، نابالغ بچہ یا دیوانہ یہاں محض سواری کے حکم میں ہے۔
( ۱۶) چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ یعنی چُھپ کر آدمی مال چرالے اور اس کے لے جانے کے بعد سمجھ میں آئے کہ چوری ہوگیا ہے۔ پس اگر آدمی ڈاکہ ڈالے ، یعنی زبردستی مالک سے مال چھین لے جائے تو اس پر چوری کی حد جاری نہیں ہوتی۔ ڈاکہ ڈالنے پر تعزیر ہوتی ہے، یعنی اتنا ڈانٹا یا مارا جاتا ہے کہ آئندہ وہ ایسی حرکت نہ کرے۔ ہاں اگر ڈاکو نے اسلحے کے زور پر ڈاکہ ڈالا ہو تو اس کی شرعی سزا محارب یعنی مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے والے کی سزا ہے۔
(سورئہ مائدہ کی آیت ۳۳ میں وہ سزا مذکورہ ہے کہ یا تو اس کو قتل کر دیا جاتا ہے یا سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے یا ایک طرف کا ہاتھ تو دوسری طرف کی ٹانگ کاٹ لی جاتی ہے یا پھر جلا وطن کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک سزا کا قاضی کو اختیار ہے۔)
( ۱۷) اگر چوری ثابت ہونے سے پہلے ہی چور شرعی قاضی کے پاس جا کر آئندہ چوری کرنے سے توبہ کر لے تو اس پر حد جاری نہیں ہوتی۔ لیکن چوری ثابت ہونے کے بعد توبہ کرنے سے حد ساقط نہیں ہوتی۔
( ۱۸) چوری ثابت ہونے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ چور کو چراتے ہوئے دو عادل شخص اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک عادل آدمی چوروں کی چشم دید گواہی دے دے اور چوری ہوجانے والے مال کا مال بھی قاضی کے سامنے قسم کھائے کہ فلاں نے وہ مال چرایا ہے اگر چور خود دو مرتبہ اپنی چوری کا اعتراف قاضی کے سامنے کر لے تو بھی وہ شرعی سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اگر چور ایک مرتبہ اقرار کرے لیکن دوسری مرتبہ اقرار کرنے کو تیار نہ ہو تو جتنے مال کی چوری کا اُس نے پہلے اقرار کیا تھا اتنا مال اُس سے لے کر مالک کو دے دیا جاتا ہے لیکن اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔
( ۱۹) چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا اس وقت دی جاتی ہے جب چوری ہوجانے والے مال کا مالک خود قاضی سے سزا کا مطالبہ کرے۔پس اگرمالک قاضی کے پاس مسئلہ پہنچنے سے اور شرعًا چوری ثابت ہونے سے پہلے چوری کا مال چور کو بخش دے یا چورسے خود واپس لے لے اور اس کی سزاکے سلسلے کو نظر کر دے تو سزا نہیں ہوتی۔ البتہ جب شرعًا قاضی کے پا س چوری ثابت ہوجائے تو مال کا مالک چور کو سزا سے نہیں بچا سکتا۔
بعض مجتہدین نے فرمایا ہے کہ اگر چوری دوعادل گواہوں کی گواہی سے نہیں ، بلکہ خود چور کے دو مرتبہ اقرار کرنے سے ثابت ہوئی ہو تو حاکم شرع اور قاضی کو حق ہے کہ اگر مصلحت سمجھے تو چور کو شرعی سزا سے معاف کردے۔کتاب" تہذیب " میں یہ روایات ہے کہ ایک شخص امیر المومنین حضرت علی علیہ السَّلام کی خدمت میں آیا اس نے اپنی چوری کا اقرار کرلیا۔ حضرت نے فرمایا: " آیا قرآن میں سے کچھ زبانی سنا سکتے ہو؟ "اس نے کہا ’جی ہاں سورئہ بقرہ ،حضر ت نے فرمایا:" میں نے تمہارے ہاتھ کو سورئہ بقرئہ کے طفیل چھوڑدیا۔ "اشعث نے کہا : "یاعلی ! کیا آپ حدودِ خد اکو نظر انداز کررہے ہیں؟ فرمایا "تم کیاجانتے ہو؟ حد جاری کرنا اُس وقت لازمی ہے جب بینہ (دو عادل آدمیوں کی گواہی ) سے جرم ثابت ہو۔ اور اگر اقرار سے ثابت ہو تو امام مجرم کو معاف کرسکتاہے۔
مذکورہ شرائط اگر موجود ہوں تو چور کاہاتھ کاٹنے کا فرض صرف حاکم شرع (قاضی ) انجام دے سکتاہے۔ شرعی قاضی کے علاوہ کسی کو حد جاری کرنے اور سزا دینے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ یہ قاضی کی ذمہ داری ہے کہ وہ حد جاری کرنے کے علاوہ چوری کا مال چورسے لے کر واپس اس مالک کو دے۔ اگر وہ مال خرچ یا ضائع ہوچکا ہو تواُسی جیسا اور اسی مقدار ایا تعداد کا دوسرا مالک چور کو دینا پڑتا ہے ۔اگر ایسانہ ہوسکے تو اس مال کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ مال کی واپسی کایہ حکم دونوں صورتوں میں ہے، خواہ چوری شرعًا ثابت ہوئی ہویا ثابت نہ ہوئی ہو۔ اگر دوسرے کا مال لیا ہے تولوٹانا پڑے گا۔
بعض ایسی صورتیں کہ چوری ثابت تو نہیں ہوتی مگر حاکم شرع دوسرے کا مال اٹھانے والے کو تعزیر کرتا ہے اور اس حد تک ڈانٹتا مارتا ہے کہ وہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے ۔ تو تعزیر کی مقدار اور کیفیت خود قاضی کی مرضی اور رائے کے مطابق ہوتی ہے۔ مثلًا مال اگر غیر محفوظ جگہ سے چرایا گیاہو،یا جعلسازنے جعلی چیک یا جعلی دستخط کی مدد سے دوسرے کا مال ہتھیا لیا ہو۔ ایسی صورتوں میں مال اصل مالک کو لوٹانا واجب ہوتا ہے اور تعزیربھی ہوتی ہے۔ اسی طرح کفن چوری کرنے کی نیت سے اگر آدمی ایسی قبر کھول دے جس میں مردا موجو ہو لیکن اس نے کفن چرایا نہ ہو، تو اس میں بھی تعزیر کی جاتی ہے اور اگر وہ کفن بھی چُرالے تو اگر کفن کی قیمت چوتھائی مثقال سونے کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا ہے۔
مال اور آبرو کی حفاظت
اگرچور نظر آجائے تو وہ محارب یعنی ڈاکو کے حکم میں آجاتاہے۔ آدمی اپنے مال کی حفاظتمیں اس کامقابلہ کرسکتا ہے۔اگرا یسی صورت میں ڈاکو مارا جائے تو اس کا خون معاف ہے اور کوئی قصاص وغیر ہ بھی نہیں دینا پڑتا اسیطرح جان اور ناموس کا دفاع کرتے ہوئے بھی آدمی حملہ آور شخص کو ہلاک کر سکتاہے۔ البتہ اصل مقصد دفاع ہونا چاہیئے ۔ اگر قتل کے بغیر دفاع ممکن ہو تو قتل کرنا حرام ہے۔ جس حد کی جدوجہد میں دفاع ہوجاتاہو اُسی حد پرا کتفا کرنا چاہیئے ۔
چوری سے متعلق احکام بہت ہیں اور مذکورہ شرائط میں مجتہدین کی رائے بھی کہیں کہیں مختلف ہے۔ اس کتاب کی گنجائش کا لحاظ کرتے ہوئے ہم اسی مقدار پرا کتفا کررہے ہیں۔
کس طرح حد جاری کی جائے؟
حاکم شرع چوری کی شرائط حاصل ہونیکی صورت میں چور کے داہنے ہاتھ کی چاانگلیاں کاٹ دیتا ہے ہاتھ کے انگوٹھے اور ہتھیلی کو چھوڑ دیتاہے۔ اگر چور کی چوری کئی مرتبہ کی ایک ساتھ ثابت ہوگئی ہو اوراس سے پہلے ہاتھ نہیں کاٹا گیا ہو تو بھی یہی حد جاری ہوگی ۔ اگر ایک دفعہ چور کی چار انگلیاں کاٹی جاچکی ہوں اور اس کے بعد وہ پھر چوری کر بیٹھے اور چوری تمام شرائط سے ثابت ہوجائے تو چور کے بائیں قدم کوانگلیوں سمیت آدھا کاٹ دیا جاتا ہے۔باقی آدھا ایڑھی والا قدم کا حصہ پیدل چلنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ اگر چور تیسری مرتبہ بھی چوری کرے اور اس کی چوری ثابت ہوجائے تو اسے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔ اگرقیدخانے میں بھی وہ چوری کر بیٹھے تو وہ قتل کردیا جاتا ہے۔
جس ہاتھ کو دعا اور بندگی خدا کے اظہار میں اُٹھانا چاہیئے ، جس ہاتھ کو بندگانِ خدا کی مشکلات دور کرنے کے لئے بڑھانا چاہیئے، یتیموں اور بے کسوں کی مدد کے لئے حرکت کرنی چاہیئے۔ دشمنا ن دین پر حملے کے لئے اٹھانا چاہیئے اگر وہ مسلمان بھائیوں کا مال چرانے کے لئے بڑھے گا اورا تنی ساری شرائط کے باوجود ثابت ہوجائے گا تو اس کو کاٹ دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ اس طرح معاشرہ کو تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔
دِ یَہ
اگر ہاتھ بغیر کسی جرم کے کاٹ دیا جائے تو پانچ سو مثقال سونا ہاتھ کاٹنے والے سے لے کر اس کو دے دیا جاتا ہے جس کا ہاتھ کٹا ہے ۔ جب کہ ایک چوتھائی مثقال سونا چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیاجاتاہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کے مال کو امانت نہ سمجھنے والا اور اس میں خیانت کر بیٹھنے والا شخص خدا ئے تعالیٰ کی نظر میں بغیر کسی جرم کے دوسرے کا ہاتھ کاٹ دینے والے شخص سے کئی گنازیادہ ذلیل اور گنہگارہے ۔یہاں سے امانت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
ناپ تول میں کمی کرنا
گناہانِ کبیرہ میں سے چوبیسواں گناہ جس کے کبیرہ ہونیکی صراحت موجودہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا ہے۔ اس کاحرام ہونا قرآن مجید ، احادیث اجماع ، اور عقل سے ثابت ہے۔ اعمش کی روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام اور فضل بن ِ شاذان کی روایت میں حضرت امام علی رضا علیہ السَّلام نے اسے بھی گناہان ِ کبیرہ کی فہرست میں شامل فرمایا ہے ۔ فرمایا ہے کہاَْبَخْسُ فَی الْمِکْیال وَالْمِیْزَانِ یعنی "ناپ تول میں کم کرنا (بھی گناہِ کبیرہ ہے)۔ بیچنے والے مقررہ مقدار سے کم چیز دے یا دین (قرض یا کوئی اور مالی ذمہ داری )ادا کرنے شخص مقرر ہ مقدار ظاہر کر کے کم مقدار دے۔ یہ سب حرام ہیں ۔
قرآن مجید میں شدید ترین بیان کے ساتھ ناپ تول میں کمی کرنے کا سخت عذاب مذکور ہواہے۔ قرآن مجید کاایک سورئہ پورا اسی موضوع سے مخصوص ہے۔
اس میں ارشاد ہے کہ:
( وَیْلُ لِلْمُطَفِّیْنَ الَّذیْنَ اِذَااکْتاَلُوْا عَلٰی النَّاس لِیَسْتَوْفُوںَ وَاِذَکَا لُوْ هُمْ اَوَوَزَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنُ اَلَایَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّهُمُ مَبْعُوْثُوْنَ لِیُوْمٍ عَظِیْمٍ یُوْمَ یَقُوْمُ النّاسُ لِرَبّ اِلعالَمِیْنَ ) (سورئہ تطفیف ۸۳: آیات نمبر ا تا ۶)
"ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے وَیْل ہو ( وَیل ،دوزخ کے ایک کنویں کا نام ہے ، یعنی تمام قسم کے عذاب وعتاب ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ہیں۔ ) یہ وہ لوگ ہیں کہ جب دوسروں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں ، لیکن جب ان کوناپ کریا تو ل کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں خیال کرتے کہ ایک بڑے سخت دن قیامت میں ان کو قبروں سے اٹھایاجائے گا۔ جس دن تمام لو گ سارے جہاں کے پرورد گار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ "
اعمال سجین میں ہوں گے
( کَلَّا اِنَّ کِتَابَ الْفُجَارِ لَّفِیْ سِجِیْنٍ وَمَا اَدْرٰکَ مَا سِجِّیْنُ کِتابُ مَرقُوْمُ ) (سورئہ تطفیف ۸۳: آیات ۷ تا ۹)
"انکوڈرتے رہناچاہیئے کہ بدکاروں کے نامہ اعمال سجین میں ہیں ۔ اور تم کو کیا معلوم کہ سجین کیا چیز ہے؟ ایک لکھا ہو ا دفتر (رجسٹر ) ہے"
سجّین یا تو اس دفتر (رجسٹر ) کانام ہے جس میں کافروں اور فاسقوں کے نامہ اعمال لکھے جاتے ہیں اور یکجا رکھے جاتے ہیں۔ یاپھر سجیّن بھی جہنم کے ایک کنویں کانام ہے جس میں فاسق وفاجر لوگ جائیں گے۔ ایسی صورت میں ان آیتوں کا ترجمہ یوں ہوگاکہ : "ان لوگوں کو ڈرتے رہنا چاہیئے کہ بدکاروں کے لئے سجین میں جانالکھا ہے۔ اور تم کو کیا معلوم کہ سجین کیا چیز ہے؟ اس کے بارے میں تو لکھا جا چکا ہے (اور فیصلہ ہوچکا ہے جو تبدیل نہیں ہوگا )
حضر ت شعیب علیہ السَّلام نے اپنی قوم کو کچھ یوں ہدایات فرمائی تھی :
وَلا تَنْقُصُوااْلِکْیاَلَ اِنِیْ اَرٰ کُمْ بِخَیْرٍ وَّاِنّیْ اخَافُ عَلَیْکُمْ عَذاب یَوْمٍ مُّحِیْطٍ وَیاَ قُوْم اَوْفُوْ الْمِکْیَالَ وَالمِیْزَان باِلْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُوْالنّاس اَشَیاَءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (سورئہ ہود ۱۱ ، آیت ۸۴ اور ۸۵) ۔
"اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودگی میں دیکھارہاہوں (پھر گھٹانے کی کیا ضرورت ہے ) اور میں تم پر ا س دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جودن سب گھیر لے گا۔ اور اے میری قوم پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھے پورے پورے رکھا کرو، اور لوگو ں کوان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور روئے زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھر و۔ " ظاہرہے کہ کم ناپنے تولنے کی وجہ سے معاشرے کانظام فاسداور خراب ہوجاتا ہے۔
ناپ تول میں کمی کرنے والا مومن نہیں
آیات قرآنی سے ا ستفادہ ہوتا ہے کہ کم ناپنے تولنے والا آخرت اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتا ۔ اگر وہ قیامت کا ایمان ویقین رکھتا ہوتا، بلکہ گمان بھی رکھتا ہوتا تو اسے احساس ہوتا کہ جتنا مال اُس نے بے ایمانی کر کے کم دیا ہے اس کا قیامت کے دن حساب ہوگا۔ اس مال کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگریہ احساس ہوتا تو وہ کبھی ایسی خیانت نہ کرتا اگر ایمان ہو تو وہ یہ خیال رکھتا کہ اگرچہ وہ حقدار کو غافل کر کے اسے مطلوبہ مال سے کم لے سکتا ہے، مگر رب العالمین توحاضروناظرہے۔
کہتے ہیں کہ ایک بت پرست قصائی ہمیشہ لوگوں کو تول اور وزن سے کچھ زیادہ ہی دیتا تھا لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے اوپر کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے اوپر ایک بت رکھادیکھا ۔ قصائی نے کہا " میں اس کی خاطر زیادہ دے دیتاہوں! " ایک اور بت پرست دوکاندار کا واقعہ ہے کہ جب بھی وہ وزن کرنا چاہتا تھاتو تولنے سے پہلے وہ اپنے بت کودیکھ لیا کرتا تھا تاکہ کم نہ تولے ۔ حضرت یوسف اور زلیخا ایک کمرے میں تنہا تھے تو زلیخانے کمرے میں رکھے ہوئے بت پراپنا مقنع ڈال دیا حضر ت یوسف علیہ السلام نے فرمایا : آپ نے ایسا کیوں کیا؟ "
اس نے کہا: "مجھے اس سے حیا آرہی ہے ! " حضر ت یوسف علیہ السَّلام نے کہا: آپ ایک ایسے بت سے حیا کررہی ہیں جس میں کچھ شعور نہیں ہے اور جو انسان کے ہاتھوں کابناہواہے پس کیوں کر میں اس خدا ئے سمیع و بصیر سے حیا نہ کروں جوحاضر وناظر ہے ! " یہ فرما کر وہ وہاں سے بھاگے اور گناہ میںآ لودہ نہ ہوئے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بت پر ست لوگوں کو تو بے شعور پتھر کے بتوں کے سامنے گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے لیکن افسوس ، مسلمانوں کو خدائے حاضر وناظر سے شرم نہیں آتی !
پانچ گناہ اور پانچ مصیبتیں
تفسیر منہج الصادقین میں یہ حدیث لکھی ہے کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کہ پانچ گناہوں کے نتیجے میں پانچ قسم کی مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ۔ ہر گناہ کے نتیجے میں ایک خاص مصیبت ہوتی ہے ۔ آنحضرت فرماتے ہیں کہ :مَانَقَضَ قَوْمُ العَهْدَ اِلَّا سَلَّطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ عَدُوَّهُمْ " کسی قوم کے لوگ وعدہ ،خلافی اور عہد شکنی کرتے ہیں تو خدا ضرور ان پر ان کے دشمنو ں کومسلط کر دیتا ہے۔ "
وَمَا حَکَمُوْا بِغَیْرِ مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَّا فَشَافِیْهِمُ الْفَقْرُ
"لوگ جب خدا کے نازل کئے حکم کے برخلاف حکم دیتے ہیں تو ضرور ان میں غربت عام ہوجاتی ہے۔ "
وَمَاظَهَرَتِ الْفَا حِشَةُ اِلَّا فَشَافِیْهِمُ الْمَوْتُ ۔
"فحاشی جب کھلے عام ہوجاتی ہے تو ضرور شرح الموت بڑھ جاتی ہے ۔"
وَلَاطَفَّفُوْا الْکَیْلُ اِلَّا مَنَعُوْا النَّبَاتِ وَاَخَذُوْ البِالسِّنیْنَ
"لوگ جب ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ضرور نباتات اور زراعت میں کمی ہوجاتی ہے اور رزق کی فراوانی رُک جاتی ہے۔ "
وَلَا مَنَعُوْا لزَّّکوٰةَ اِلَّا حُبِسَ عَنْهُمْ الْقَطَرُ ۔
" اور لوگ جب ناپ تول میں کمی کردیتے ہیں تو بارش نہیں ہوتی ۔ "
کاروبا رکرنے والوں کو امیر المومنین کی نصیحت
امیر المومنین حضر ت علی علیہ السَّلام جب حکومت کے کاموں سے فاغ ہوتے تھے تو بازار کوفہ میں جاکرفرماتے تھے:( یَاَیُّهاالناَسُ اتَّقُوْ االلّٰهَ وَاَوْفُوْاالْمِکْیاَلَ وَالْمِیْزَانَ بِالقَسْطِ وَلَاتَبْخَسُوْ النّاسُ اتّقُوْ اللّٰهَ وَاَوْفُوْالْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَاَتَبْخَسُوْ الناسَ اَشْیَاءَ وَلَا تَعْثَوْافِیْ الْاَرضِ مُفْسِدِیْنَ ) ۔
"اے لوگو! خدا سے ڈرو ۔ پورا پورا انصاف کے ساتھ ناپا تو لا کرو ۔ لوگوں کوان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فسادنہ پھیلاو ۔"
ایک دن حضرت علی نے بازار کوفہ میں ایک شخص کو دیکھیا جو زعفران بیچ رہا تھا وہ یہ چالاکی کرہا تھاکہا پنا ہاتھ تیل سے چکنا کر کے ترازو کے اس پلڑے پر لگاتا رہتا تھا جس میں زعفران رکھی جاتی تھی ،۔ حضرت علی علیہ اسَّلام نے یہ دیکھا کہ اس کی ترازو درست نہیں ہے تو ترازو میں سے زعفران کو اٹھالیا۔ پھر فرمایا:۔
اَقِمِ الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ ثُمَّ ارْجَحْ بَعْدَ ذٰلِکَ مَاشِئْتَ
" پہلے ترازو کو برابر کر کے ٹھیک کر و، پھر اگر چاہو تو اس کے بعد کچھ زیاد ہ دے دیا کرو۔"
آگ کے پہاڑوں کے درمیانا
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں کہ : "جو شخص ناپنے تولنے میں خیانت کرے گا اس کو دوزخ کے نچلے طبقہ میں ڈال یدا جائے گا جہاں اس کی جگہ آگ کے دو پہارڑوں کے درمیان ہوگی۔ اس سے کہا جائے گا کہ ان پہاڑوں کا وزن کرو! وہ ہمیشہ اس عمل میں مشغول رہے گا۔
تفسیر منہج الصادقین میں یہ بھی لکھا ہے کہ مالک نامی ایک شخص کاہمسایہ جب بیمار ہوا تو وہ اس کی عیادت کے لئے گیا ۔ مالک کہتا ہے کہ: میں نے اس کو نزع کے عالم میں دیکھا ۔اس عالم میں وہ چلّارہا تھا کہ : آگ کے دو پہاڑ مجھ پر گرنے والے ہیں ! " میں نے اس سے کہا : " یہ تمہارا محض خیال ہے۔ " اس نے کہا : " نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ حق ہے ۔ اس لئے کہ میرے پاس دو قسم کے ترازو تھے ۔ ایک سے کم تول کر لوگوں کو دیتا تھااور ایک سے زیادہ تول کرخود کھ لیتا تھا۔یہ اسی کی سزاہے۔
کم گن کردینا بھی حرام ہے
جس طرح ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے اسی طرح کم گن کردیابھی حرام ہے۔ وہ چیز جو ناپ کر بیچی جاتی ہیں جیسے کپڑا اور زمین وغیر ہ اگر ایک سینٹی میڑ بھی اس میں کمی کی گئی تو یہ بھی گناہ اور حرام ہے۔ بالکل اِسی طرح وہ چیزیں جنہیں گن کربیچا جاتا ہے جیسے انڈا اور بعض پھل وغیرہ اگر اسے کم کر دیا گیا اور لینے والا نہ سمجھ سکا تو ایسا کرنے والے کو بھی ناپ تول میں کمی کرنے والا کہا جائے گا۔ ۔یہی شیخ انصاری نے کتاب " مکاسب ِ محرمہ" میں لکھا ہے۔
کم بیچنے والا خریدار کا مقروض ہے
جتنے مال کی بییچنے والے نے کمی کی ہو اتنا مال اس کے ذمّے باقی رہتاہے۔ یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اتنا مال بھی خریدار کودے دے اور یہ واجب ہے۔ اور اگر خریدار مرچکا ہو۔ تو خریدار کے وارثوں کے دے دے اور اگر خریدار کو وہ پہچانتا نہ ہو تو (حاکم ِ شرع سے احتیا طًا اجازت لے کر اس مال کے اصل حقدار (خریدار ) کی جانب سے اتنا مال صدقہ دیدے۔
اگر یہ معلوم نہ ہو کہ مال میں کتنی کمی ہوئی ہے تو بیچنے والے کو چاہئے کہ خریدنے ولاے سے مصالحت کرلے اور اسے کچھ مال دے کر یاایسے ہی راضی کرلے۔ اگر خریدا ر فوت ہوچکا ہو تو اس کے وارثوں کو راضی کرلے ۔ اور اگر خریدار کاپتہ نہ ہو تو حاکم شرع کو راضی کر لے۔
دھوکہ بازی بھی کم فروشی ہے
کم بیچنے کی حقیقت یہ ہے کہ جتنے مال کا معاملہ ہوا ہے آدمی وہ پورا مال خریدار کونہ دے، بلکہ کم دے ۔اسی طرح دھوکہ بازی کرنابھی ہے جب آدمی کم دیتا ہے تو بھی خریدار کومعلوم نہیں ہوتاکہ اسے کم دیا گیا ہے ۔ جب آدمی کم دیتا ہے تو بھی خریدار کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کم دیا گیا ہے اسی طرح جب آدمی اچھی چیز کے ساتھ کچھ بُری چیز ملاکر دھوکے سے بیچ دیتا ہے تو بھی خریدارکو معلوم نہیں ہوتاکہ اس کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے دھوکہ بازی میں اگرچہ وزن برابر ہو، لیکن چونکہ دھوکہ کیا گیا ہے اس لئے حرام ہے ۔ مثلاً دوکاند ار نے ایک سو گندم بیچنے کا معاہدہ کیا ہے لیکن اس نے ۵ کلو مٹی ملا کر کل سو کلو تول دیا اسی طرح اس نے گویا ۹۵ کلو بیچا اور پانچ کلو گندم کم دیااس طرح اس دوکاندار نے ایک من دودھ میں پانچ سیر پانی ملا دیا تو یہ بھی دھوکہ بازی ہے۔ اسی طرح اگر دوکاندار نے ۱۰ کلو گھی دینے کی بجائے پونے دس کلو دیا اور گھی کی تہہ میں ایک پاو کے وزن کا پتھر ڈال دیا تو یہ بھی دھوکا بازی ہے۔
اسی طرح گوشت والے نے معمول سے زیادہ ہڈی شامل کردی تو یہ بھی دھوکہ بازی ہے۔ اسی طرح سبزی وغیر ہ میں وزن بڑھانے کے لئے کافی پانی ملا دینا بھی دھوکہ بازی ہے۔ ایسے تما م کام کم بیچنے کے زُمرے میں آتے ہیں ۔ اور گناہ کبیرہ ہیں ! اگرچہ دوکاندار نے برابرتولا ہو۔
ملاوٹ حرام ہے
اسی طرح بڑھیا مال کی جگہ گھٹیا مال دھوکے سے بیچ دینا حرام ہے ۔ پس اعلیٰ گندم کی جگہ درمیانی درجے کا گندم دے دینا یا اعلٰی گندم میں دوسرے قسم کاگندم بھی ملاکر دے دینا بھی دھوکہ بازی ہے۔ اسی طرح خالص گھی کی تہہ میں عام گھی ڈال کردے دینا بھی حرام ہے۔
شیخ انصاری " مکاسب محرمہ " میں فرماتے ہیں:
ملاوٹ کے حرام ہونے کے سلسلے میں جو روایت میں جو روایات موجو دہیں وہ متواتر ہیں ۔ مثلًا شیخ صدوق نے رسول سے روایت نقل کی ہے کہ :مَنْ غَشَّ مُسْلمًِا فِیْ بَیْعٍ اَوْ شَرَاءٍ فَلَیْسَ مِنّاَ وَیَحْشُرُ مَعَ الْیَهْوْدِ یَوْمَ الْقِیاِ مَةِ ، لِاَنَّه مَنْ غَشَّ النّاس َ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ یعنی " جو شخص بیچنے یا خریدنے میں کسی مسلمان کو ملاوٹ کا مال دے گا وہ ہم میں سے نہیں ہوگا وہ قیامت کے دن یہودیوں کے ساتھ ہوگا۔ اس لئے کہ جو شخص لوگوں کوکم ملاجوٹکرکے مال دیتا ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔!"
یہاں تک کہ آنحضرت نے فرمایا(اِلیٰ اَنْ قَالَ ) وَمَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنّاَ " جوشخص ہمیں جوملاوٹ کر کے مال دے تووہ ہم میں سے نہیں ہوگا! "قالَهَا ثَلاَثًا آنحضرت نے یہ جملہ تین مر تبہ دہرایا ۔ پھر فرمایا :
وَمَنْ غَشَّ اَخَاه الْْمُسْلِمََ نَزَعَ اللّٰهُ بَرَکَةَ رِزْقِه وَاَفْسَدَمَعِیْشَتَه وَوَکَّلَه اِلیٰ نَفْسِه (کتاب " عقاب الاعمال" )
"اور جوشخص اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ملاوٹ کا معاملہ کرے گا خدا تعا لیٰ اس کے رزق سے برکت ہٹالے گا، اس کی معاشی حالت تباہ کردے تا، اور اس کو اس ے حال پرچھوڑدے گا!"
آقائے عراقی کی کتاب " دار السلام " کے صفحہ ۳۰۹ پر یہ عبرتناک قصہ موجود ہے کہ :
مجھے ثقہ اور عادل شخص آقائے ملّا عبدالحسین خوانساری نے یہ واقعہ سنایا کہ کربلا کا ایک معتبر عطر فروش بیمار ہوگیا ۔ اس نے شہر کے تمام طبیبوں سے علاج کروا ڈالا مگر سب اس کے علاج سے عاجز ہوگئے ۔ اس نے پنا تمام مال اپنے علاج میں خرچ کردیامگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔
میں نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا کہ وہ چیز بھی بیچ دو اور خرچ چلاو ! یعنی وہ ایک ایک کر کے گھر کا سامان بیچنے پر بھی مجبو رہوگیا۔ وہ کہ رہا تھا : "سب بیچ دو" مجھے کچھ نہیں چاہیئے یا تو میں مرجاوں گا یا ٹھیک ہو جاوں گا ! " میں نے اس سے کہا کہ : "آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ " اس ایک سرد آہ لی اورکہا: " ابتدا میں میرے پاس معقول سرمایہ نہیں تھا ۔ میرے پاس اتنا جو سرمایہ جمع ہوگیا تھا اس کاسبب ی تھا کہ کئی سا پہلے کربلامیں ایک خاص قسم کا بخار یا زکام وباکی شکل میں پھیل گیا تھا جس کا علاج طبیبوں نے لیموں کا خالص رس تجویز کیا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کربلا میں لیموں کا رس کم پڑنے لگا اور مہنگا ہونے لگا ۔ میں نے لیمو ں کے رس میں چھاجھ کی ملاوٹ شروع کردی اور مہنگی قیمت پراسے بیچا۔ پھر یہ حال ہواکہ کربلا کہ دیگر دوکانو ں میں لیموں کا رس ختم ہوگیا لیکن ملاوٹ کی وجہ سے میرے پاس باقی رہا۔ شہر کے دوکاندار اسلسلے میں لوگوں کو میرے پاس بھیجنے لگے پھر میں نے چھاچھ ہی میں رنگ اور کھٹائی ملا کر اسے لیموں کا رس ظاہر کیا اور بیچنے لگا ۔
ایسی ہی ملاوٹ ہی کے سبب سے میں کافی مالدار ہوگیا تھا اب یہ حال ہوگیا ہے کہ میرا تمام سرمایہ ختم ہوچکاہے ۔ اور گھر میں بیچنے کے قابل کوئی اور چیزبھی نہیں رہی ہے ۔ میں گھر کی تمام چیزیں بھی نکال رہا ہوں کہ سب حرام کی کمائی کاثر ہے۔ شاید حرام مال میرے پاس نہ رہے تو میں اس بیماری سے نجات پا جاوں!"
اس بات کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزراتھا کہ وہ شخص دنیاکوچ کر گیا ۔ اس کی گردن درحقیقت ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی ج کے ساتھ اس نے ملاوٹ کا معاملہ کیا تھا۔
حضر ت امام محمّد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : ایک دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) مدینہ منورہ کے بازار سے گز رہے تھے۔ ایک گندم فروش سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا : تمہارا اچھا گندم ہے" پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے گندم کے اندر ہاتھ ڈالا تو اندر سے خراب قسم کا گندم نمودار ہوگیا ۔ یہ دیکھ کر آنحضر ت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا :مَااَرئٰکَ اِلَّا وَقَدْ جَمَعْتَ خِیَا نَةً وَّ غِشًّا۔ (کتاب "عقاب الاعمال ") یعنی : میں تو یہی دیکھ رہا ہوں کہ تم نے خیانت اورملاوٹ کا سامان کرلیا ہے!"
علّامہ حلّی یہ روایت بیان فرماتے ہیں کہ : ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق سے کہا: " ایک شخص کے پاس دو قسم کا مال ہے، ایک مہنگا اور اچھا ، جبکہ دوسرا گھٹیا اور سستا۔ اگر وہ ان دونوں کو مخلوط کرلے اور ایک خاص قیمت مقرر کر کے بیچے تو کیسا ہے؟"
حضر ت نے فرمایا(فَقَالَ ) لَا یَصْلَحُ لَه اَنْ یَغِشَّ الْمُسْلِمِیْنَ حَتٰی یُبَیِّنَه (کتاب " عقاب الاعمال" ) اُس کے لئے صحیح نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کو ملاوٹ والا مال بیچے ۔ ہاں اگر وہ بتادے کہ اس میں ملاوٹ ہے ، تو صحیح ہے۔ "
داود ابن ِسرجان نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا : "میرے پاس دو قسم کی مشک تھی ۔ایک گیلی اور دوسری خشک ، میں نے گیلی اور تازہ مُشک بیچ دی ہے لیکن لوگ سوکھی مُشک اسی قیمت پرنہیں خریدتے ہیں ۔ آیا جائز ہے کہ میں اس کو تر کروں تاکہ وہ بک جائے؟ امام نے فرمایا : "جائز نہیں ہے ہاں اگر تم خریدارکو بتادو کہ تم نے ترکیا ہے تو اور بات ہے۔"
خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حق میں کمی
آدمی کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ اور ملاوٹ یا ناپ تول میں کمی کرے، بلکہ خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) ، اَئمہ اور تمام مخلوقِ خدا کے حقوق کا پورا خیال کرے اور کسی قسم کے فرض میں کمی اور کوتاہی نہ کرے۔
خدائے تعالیٰ نے اپنے ذمّے بندے کا جو حق لیا ہے اس میں وہ کوتاہی نہیں کررہا ہے۔ مثلًا خدا بندے کو روزی دے رہا۔ بے شمار قسم کی نعمتیں اسے عطا کرہا ہے۔ اُس کی فردیاد کو سُن رہا ہے اور بندے ہی کی مصلحت دیکھ کر اس کی دعا قبول کررہا ہے، تو بندے کو بھی چاہیے۔کہ وہ خدا کا حق ادا کرے ۔ اس کی نعمتوں کا شک بجالائے اس کی نافرمانی نہ کرے اور تمام فرائض بخوبی انجام دے ۔ پس شیطان کااور نفسانی خواہشات کوخدا کا شریک قرار دیے دینے والا اور خدا کی نافرمانی سے منہ نہ موڑنے ولاا شخص خدا کا حق اد انہیں کررہا ہے۔ ایسی صورت میں توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ "یاالله " کہے گا تو فوراً خدا "لبیک " کہے گا۔ جب دعا قبول ہونے میں تاخیر ہونے لگتی ہے تو بعض لوگ خدا سے ناراض ہونے لگتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ وہ خودخدا کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرہے ہیں جبکہ خداوند تعالیٰ بندوں سے فرماتا ہے:
( وَ اَوْ فُوْ ابِعَهْدِیْ اُوْفِ بِعَهْدِکُمْ ) (سورئہ بقرہ ۲: آیت ۴۰)
"تم لوگ مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو اگر تم ایسا کرو گے تو میں بھی تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں گا ! " اگر اس ے با وجو د خدا عطا کرے تو یہ اس کا فضل ہے ۔
دعائے ابو حمزہ ثمالی نے حضر ت امام زین العابدین علیہ السلام فرماے ہیں :
اَلْحَمدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَدْعُوْه فیُجِْبُنیِْ وَاِنْ کُنْتُ بَطِیْئًا حِیْنَ یَدْعُْوْنیِْ "تمام تعریف ے اُس خدا کی جس کو میں پکارتا ہوں تو و ہ مجھے جواب د یتا ہے ، ا گرچہ جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں جواب دینے میں سُستی کرتا ہوں۔
اَلْحَمدُ لِلّٰهِ الَّذیْ اَسْئَلُه فَیُعْطِیْنِیْ وَاِنْ کُنْتُ بَخِیْلًا حِیْن یَسْتَقْرِضْنِیْ "تمام تعریف ہے اُس خدا کی جس سے میں مانگتا ہوں تو وہ مجھے عطا کردیتا ہے اگر وہ مجھ سے قرض مانگتا ہے تو میں کنجوسی کرتا ہوں۔ " (تمام فرائض قرض ہیں ، اور اس قرض کی ادائیگی خدا آخرت میں کرے گا۔ )
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ یَحْلَمُ عَنِّیق حَتّٰی کَاَنیّ لاذَنْبَ لِیْ " اور تمام تعریف ہے اس خد اکی جو میرے گناہ دیکھ کر بھی حلم اوربردباری سے کام لیتا ہے ( اسی وقت عذاب نازل نہیں فرماتا) ۔ اتنے حلم سے کام لیتا ہے جیسے کوئی گناہ ہی نہیں ہوا۔ "
جواپنے لئے چاہتے ہو
سعدی شیرازی کہتے ہیں کہ :
بَبری مالِ مسلمان وچومالت یرند
بانگ وفریاد برآری کہ مسلمانی نیست
(تم مسلمانوں کے مال ہتھیالیتے ہو، مگر جب ہتھیا لیا جاتا ہے تو واو یلا اور فریا د کرنے لگتے ہو کہ کوئی مسلمان ہی نہیں ہے !)
آدمی جب یہ پند نہیں کرتا ہے کہ اس کے ساتھ خیاانت ، دھوکہ بازی اور مالوٹ یا ناپ تول میں کمی سے کام لیاجائے تو اُسے بھی چاہئے کہ وہ بھی دوسروں کے ساتھ ایسی حرکتیں کرنے کو پسند نہ کرے ۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے اور روایتوں کی رو سے انصاف یہی ہے کہ آدمی دوسروں کے لئے بھی وہی چاہے جو وہ اپنے لئے چاہتا ہو۔
عدل وانصاف سب سے بہتر ہے
حضرت امام جعفر صادق کاا رشاد ہے کہ:
سَیدُ لاْاَعْمالِ ثَلا ثَةُُ " بہترین کام تین ہیں ۔ "
انْصَافُکْ النَّاس َ مِنْ نَفْسِکَ حَتٰی لا تَرْضیٰ بِشَیءٍٍ الا رَضیْتَ لَهُمْ مِثْلَه :
"تمہاری طرف سے لوگوں کوپورا انصف ملنا چاہیے ۔ یہاں تک کہ اپنے لئے جو کچھ تم پسند کرنتے ہو وہی تم دوسروں کے لئے بھی پسند کرو۔"
وَمُواسَتُ الْاَخِ فِی اْ لَمالِ "تمہیں اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ مالی تعاون کرناچاہیے۔ "
وَذِکْرُاللّٰهِ عَلیٰ کُلِّ حَالٍ ، لَیْسَ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ فَقَطْ وَلٰکِنْ اذَا وَرَدَعَلیْْکَ شَیءُ اَمَرَ اللّٰه بِه اَخَذْتَ بَه وَاِذَ ا اَوْرَدَعَلَیْکَ شَیْءُ نَهٰی اللّٰهُ عَنْْه تَرَکْته (کتاب" کافی ")
"اور ہر حال میں تمہیں خدا کا ذکر کرتے رہنا چاہیئے ۔ وہ زکر فقط سُبْحَانَ اللّٰہِ اوراَلْحَمْدُلِلّٰہِ نہیں ہے بلکہ (ذکر سے مراد خدا کو ہرحال میں یاد رکھنا ہے ) جب تمہراے سامنے کوئی ایسا کام آجائے جس کا خدا نے حکم دیا ہے تو تمہیں وہ کام کر لینا چایئے اور جب تمہارے سامنے کوئی ایسا کام آجائے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے تو تمہیں وہ کام ترک کردینا چاہیئے۔ "
انصا ف کا ترازو
امیر المومنین حضر ت علی علیہ السَّلام اپنے فرزند حضر ت حسن مجتبی علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
یاَ بُنَّی اَجْعَلْ نَفْسُکَ مِیْزاناً فِیْما بَینْکَ وَبَیْنَ غَیْرِکَ فَاَجِبُ لِگَیْرِکَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَاَکْرِرهْ لَه تَکْرَهُ لَهَا
اے میرے بیٹے اپنی ذات کو پانے اور دوسرے کے درمیان انصاف کرنے کے لئے ترازو قرار دے دہ پس دوسروں کے لئے وہی پسند کرو جو تم پانی ذات کے لئے پسند کرتے ہو۔"
وَلاَ تَظْلِمْ کَماَ لاَا تُحِبُّ اَنْ تُظْلَمَ
" دوسروں پر ظلم مت کرو جس طرح کہ تم یہ پسند نہین کرتے کہ تم پر ظلم کیا جائے۔
وَاَحْسِنْ کَمَا تُحِِبُّ اَنْ یُحْسَنَ اِلَیْکَ، وَاسْتَقْبِحْ مِنْ نَفْسِکَ مَاتَسْتَقْبِح مِنْ غَیْرِکَ وَارض منَ النَّاس بمَا تَرْضَاه لَهُمْ منْ نَفْسکَ (نہج البلاغہ )
"دوسروں کے ساتھ ایسا ہی نیک سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ کیا جائے دوسروں کے حق میں اپنے اس کا م کو براسمجھو جس کو تم دوسروں کی جانب سے اپنے حق میں برا سمجھتے ہو ۔ اور لوگوں کی ہر ایسی بات پر راضی رہو جیسی بات تم اپنی جانب سے دوسروں کے ساتھ کرکے راضی رہتے ہو۔"
ہر چیز کا پیمانہ ہوا کرتا ہے
سورئہ حدید میں ارشاد ہے:
( لَقَدْ اَرْ سَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَا تِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهَمُ الْکِتَبَ وَالْمِیْزَاَنَ لِیَقُوْمَ النَّاسَ بَالْقِسْطِ ) (سورئہ حدید ۵۷ : آیت ۲۵)
" ہم نے یقیناً اپنے پیغمبروں کو واضح روشن معجزے دے کربھیجا اور انکے ساتھ ساتھ کتاب اور انصاف کی ترازو نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہے ۔ " عدل وانصاف کو خدا وند تعالٰی نے ترازوکہا ہے۔
"خداوند تعالی نے یہ ترازو یا پیمانہ ہر چیز کے لئے مقرر فرمایا ہے ۔ انسا ن کے اعتقادات اور حق و باطل کو بھی اسی کے ذریعے پر رکھا جاتا ہے ۔ اچھے اور بُرے اخلاق، بھلی بُری صفات اور اچھے یا برے کاموں کے درمیان تمیزبھی انصاف کے پیمانہ سے دی جاتی ہے قول وفعل اور اعتقاد وعمل کے ہر سلسلے میں اگر آدمی انصاف سے کام لے تو عدل ِ حقیقی حاصل ہوجاتا ہے۔
علی(علیہ السلام) میزان اعمال ہیں
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السّلام کی ایک زیارت میں ہم پڑھتے ہیں کہ : السَّلامُ عَلٰی مِیْزَان الْاَعْمالِ(مفاتیح الجنان) " اعمال کے میزان اور ترازو پر سلام ہو!" حق اور باطل کے درمیان تمیز دینے خیر اور شر کے درمیان فرق کرنے اور اچھے اور بُرے اخلاق اور کاموں کے پہچاننے کا وسیلہ حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ آنحضرت کے بعد قرآن و عترت طاہرین علیہم السّلام، خصوصاً حضرت علی علیہ السّلام اس تمیز اور پہچان کا وسیلہ ہیں۔ اہلِ بیت کے قول و فعل اور اخلاق و کردار کو دیکھ کر ہم بھلے اور بُرے میں تمیز کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے عقائد و اعمال ان کے مطابق ہیں تو درست ہیں، اور اگر ان کے مطابق نہیں ہیں تو غلط ہیں۔
عدل و انصاف کی میزان یہ ہے کہ آدمی نہ تو افراط کرے، نہ تفریط۔ نہ تو حد سے بڑھ جائے اور نہ ہی حد سے پیچھے رہ جائے۔ عدل کی میزان بہت دقیق ہے اور بال سے زیادہ باریک حساب بھی بتا دیتی ہے عدل کی راہ تشخیص دینے کے بعد عدل پر برقرار رہنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ بس جو شخص عدل کی راہ دیکھ لینے کے بعد اس پر ثابت قدم رہتا ہے، خدا اس کی مدد کرتا ہے اور عدل پر قائم رہنے کی توفیق دیتا ہے۔ ایسا ہی شخص قیامت میں قائم ہونے والی میزان اور ترازو کے مطابق اچھا ثابت ہوگا اور پُل صراط جیسے دشوار راستے سے جلدی اور بآسانی گزر جائے گا۔ جبکہ دنیا میں میدان ِ عدل کا لحاظ نہ کرنے والا شخص آخرت میں بھی بُرا ثابت ہوگا اور پلِ صراط پر لرزے گا اور دوزخ میں گر پڑے گا۔ ارشاد ہے کہ:
( وَاِنْ مِنْکَمْ اِلَّا وَارِدُهَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتماً مَّقْضِیًّا ثُمَّ نُنَجِّیْ الّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْها جِثیًّا ) ۔ (سورئہ مریم ۱۹: آیت ۷۱ اور ۷۲) " اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر سے ہو کر نہ گزرے (کیونکہ پل صراط اسی پر ہے۔ یہ تمہارے پروردگار کا حتمی فیصلہ اور لازمی طور پر پورا ہونے والا وعدہ ہے پھر ہم پرہیز گاروں کو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی جہنم میں گھٹنے کے بل چھوڑ دیں گے!)
خدا ہم سب کو عدل و انصاف کی توفیق دے، ہمیں پرہیزگاروں میں شامل کرے اور ہمیں جہنم میں گرنے سے بچنے کے قابل کردے۔
حرام خوریا
پچیسواں گناہ حرام خودی حرام خوری ہے جس کے گناہِ کبیرہ ہونے پر نص قرآن و حدیث ہے ۔ کتاب "عیون الاخبار " میں امام علی رضا علیہ السلام سے جو روایت نقل ہے اسی طرح اعمش نے امام جعفر صادق علیہ السّلام سے روایت نقل کی ہے اس میں اس کی وضاحت موجود ہے ۔ سورئہ مائدہ میں حرام خوری کو یہودیوں کی صفت بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہوا:
( وَتَریٰ کَثِیْراً مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثمِ والعُدْوَانِ وَاَکْلِهِمُ السُّحْتََ لَبِئسَ مَاکَانُوایَعْمَلُوْنَ لَوْلَا یَنْهَا هُمُ والرَّبّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قُوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَاکَانُوا یَصْنََعُوْنَ ) ۔ (سورئہ مائدہ ۵ : آیت ۶۲ ، ۶۳)
یعنی (اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ)) تم ان (یہودیوں میں سے بہتروں کو دیکھوگے کہ گناہ وسرکشی اور حرام خودی کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، جو کام لوگ کرتے تھے وہ یقینا بہت ہی بُرا ہے۔ ان کو الله والے اور علماء جھوٹ بولنے اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے؟جو (درگزر) یہ لوگ کرتے رہے یقینا بہت ہی بُرا ہے۔ "
اَکْلِ سُحْت جسے گناہاں ِ کبیرہ میں شمارکیا گیا ہے،سے مراد مال حرام کھاناہے ۔ مال ِ حرا م کھانے کا مطلب اس میں تصّرف کرنا ہے، خواہ یہ تصّرف کسی طرح بھی کیا جائے ۔ یعنی خواہ اسے کھایا پیا جائے یامکان وغیرہ تعمیر کیا جائے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص مالِ حرام کو صرف اپنے پاس رکھے اور اسے اس کے مالک تک نہ پہنچائے تب بھی یہ مال حرام میں تصّرف ہوگا اور کہا جائے گا کہ اس نے حرام کا مال کھایا ہے ! یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ سود کھانے اور یتیم کا مال کھانے سے مراد اس میں ہر طرح کا تصّرف کرنا ہے، صرف کھانا ہی حرام نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ مالِ حرام میں کسی طرح کا بھی تصّرف جائز نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مال وجہ یہ ہے کہ مالِ حرام کو آیت میں"سُحْت " کہاگیا ہے۔سُحت کے لغوی معنی زائل ہونے اور دور ہوجانے کے ہیں اور مال مسحُوت کے معنی ہلاک شدہ مال یا تلف شدہ مال ہیں اب چونکہ حرام کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور اس میں تصّرف کرنے والا فائدہ نہیں اٹھاسکتا لہذا اسی مناسبت سے حرام خوری کو قرآن نے : اَکلُ السُّحْتِ کہا ہے۔ لفط سُحْت سے مراد ہر قسم کا مال ِحرام ہے۔یعنی ہر وہ مال جس کو ناجائز طریقہ سے حاصل کیا جائے اور اس میں تصّرف کیا جائے اَکْلُ السُّّحْتِ ہے۔
سیّد ابوالاعلی مودودی کتاب "اسلام ومشکلاتِ اقتصادی "میں لکھتے ہیں کہ : "اسلام انسان کو اس کی اپنی مرضی کے مطابق ضروریات زندگی حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ وہ اپنی روزی حاصل کرنے اور کسبِ معاش میں آزاد ہے اپنی زندگی گزارنے کے لئے ضرورت کے چیزوں کے انتخاب میں بھی آزاد ہے۔ لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ وسائل زندگی حاصل کرنے کیلئے ایسا راستہ اختیا ر کرے جس سے اخلاق خراب ہوں اور وہ تباہ وبرباد ہوجائے، یا معاشرے اور انسانی ثقافت کو نقصان پہنچے ۔ اسلامی قانون کی روسے نہ صرف کہ شراب، نشہ آور چیزیں اور فحاشی وبے ہودگی حرام ہیں بلکہ وہ تمام کام جس کے نتیجے میں یہ چیزیں وجود میں آتی ہیں حرام ہیں مثلاً شراب کے لئے یا کسی نشہ آور چیز کے لئے کاشت کرنا ، اس کا بنانا، اسے لے جانا، اس کی خریدوفروخت ، اسے اٹھا کر دینا اور استعمال کرنا یہ سب بھی حرام ہیں اسلام ہرگز زنا اورفحاشی کو انسانی فعل نہیں سمجھتا، رقص کوحرام پیشہ قرار دیتا ہے۔ گانا گانے اور موسیقی بجا کر کمانے کو صحیح نہیں سمجھتا اسلام ہر وہ کام جس میں کسی کاایک کا فائدہ ہولیکن اس سے دوسرے کو خواہ مخواہ نقصان اٹھانا پرے یا اس سے معاشرہ تباہ ہوجائے ایسے کام کو جرم اور گناہ قرار دیتا ہے اس قسم کے جرم کی دنیا میں سخت سزا کا اور آخرت کے سخت عذاب کا اعلان کرتا ہے جیسے رشوت، چوری جوا سود ہر ایسا معاملہ جس میں ملاوٹ اور دھوکہ کیا گیا ہو،کھانے پینے کی اور عام ضرورت کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی اس خیال سے کرنا کہ ان کی قیمت بڑھ جائے اگرچہ اس سے غریبوں کی زندگی گزارنا مشکل ہوجائے اسی طرح ہروہ کام کہ جس کے نتیجے میں جنگ وجدل کا بازار گرم ہوجائے اور ایساکام کہ جس میں کسی طرح کی کوشش اور جدّوجہدنہ کرنی پڑے اور قسمت سے دولت مل جائے(جیسے انعامی ٹکٹ)یہ سب حرام ہیں۔"
مال حرام میں تصّرف کرنا گناہ ہے ۔ البتہ بعض تصّرفات میں گنا ہوں سے زیادہ ہے۔ سود کھانے والے کو تو خدا ورسول سے جنگ کرنے والا کہاگیاہے! رشوت کھانے والے کو کافر قرار دیا گیاہے! چنانچہ شیخ صدوق نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :
مَنْ غَلَّ مِن الاِمَام فَهُوَسُحْتُ وَالسُّحْتُ اَنْواعُ کَثیرَة ۔ "یعنی " ہروہ چیز جس میں امام سے خیانت کی جائے سُحْت ہے اور سحت کی بہت سی قسمیں ہیں:مِنْهَامَا اُصِیْبَ مِنْ اَعْمالِ الْوُلَاةِ لظَّلَمَة ۔"ان میں سے ایک وہ مال کہے جو ظلم وستم کے ساتھ حکم کرنے والوں سے ملے "وَمِنْهَا َاُجُوْرَُالقُضاةِ وَاُجُوْرُ الْفُواَجِرِ وثََمَنُ الخَمْرِ وَالنَّبِیْذِ المُسْکِرِ وَالرِّبٰو بَعدْ البَیََّنَّةِ "اور اسی میں قاضیوں کی اجرت ، بدکارعورتوں کی اُجرت، شراب کی قیمت ، اس نبیذ(جو کی شرب ) کی قیمت جو نشہ کرنے والی ہو، اور سود کھانا بھی شامل ہیں یعنی یہ سب بھی سحت اور حرا م ہیں جیسے شریعت نے ان کو حرام ظاہر کیا ہے ۔"اَمّاَ الرَّشَافِیْ الْاَحکامِ فَهُوَالْکُفْرُ با للّٰهِ العَظِیْم (کتاب "خصال") "اور قاضی کا فیصلہ کرتے وقت رشوت لینا، خدائے بزرگ وبرتر سے انکار اور کفر ہے!"
کتاب "کافی " میں اسی طرح کی ایک روایت امام محمد باقر علیہ اسلام سے نقل ہے کہ :اسُّحْتُ ثَمَنُ الْمَیَتْةِِ وَثَمَنُ الکلبِ وَثَمَنُ الْخَمْرِوَمهْرُ الْبَغْی وَائرَّشْوَةِ فِی الَحُکْمِ وَاَجْرُْکَاهِنِ (وسائل الشیعہ کتاب التجارة، باب ۲۳) یعنی : "سُحت سے مراد مُردار،غیر شکاری کتے اور شراب کی قیمتی ہے اسی طرح زناکار عورت کی زنا کرانے پر
اجر ت اور عدالتی حکم دینے میں رشوت لینا اورجنات کے ذریعے غیب کیی باتیں بتا کر اجرت لینا بھی سُحت ہے۔"
ان احادیث سے اور ایسی ہی دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کامالِ حرام کھانا سُحت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض کو بڑی شدت کے ساتھ حرام قرار دیا گیاہے اور ان کا عذاب انتہائی شدید ہے ۔ ان میں سب سے بدتر رشوت کھانا ہے۔ رشوت کھانے والا کافر کے حکم میں ہے اور رسو ل (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس پر لعنت کی ہے۔
رشوت کی قسمیں
رشوت کی تین قسمیں ہیں : قاضی کا حکم صادر کرنے کے لئے رشوت ، حرام کام کے لئے رشوت ، مباح کام کے لئے رشوت ۔
پہلی قسم کی رشوت یہ ہے کہ قاضی یا جج کو مال دیا جائے تاکہ وہ اس کے حق میں حکم صادرکرے یا دوسرے فریق پر غلبہ حاصل کرنے کا طریقہ بتائے۔ ایسا کرنا حرام ہے اگرچہ کہ رشوت دینے والا حق پر ہی کیوں نہ ہو اور قاضی برحق فیصلہ ہی کیوں نہ صادر کرے ! لہذا ایسی رشوت لینا اور دینا بھی حرام ہے، اس میں تصّرف بھی حرام ہے اور یہ گناہ کبیرہ ہے ؟ ۱ یسی رشوت دینے ، لینے اور دلانے والا خدا کی لعنت کا سزاوار ہے۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں :لَعَنَ اللّٰهُ الرَاشیْ وَالْمُرْتَشِیَ وَالمَاشِیَ بَیْنَهُمَا ۔ (سفینتہ البحار، جلد صفحہ ۵۲۳) یعنی : "خدا رشوت دینے والے ، رشوت لینے والے اور جو بھی انکے درمیان واسطے اور رابطے کا کام کرے اس پر لعنت کرتا ہے۔ " ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا:اِیّا کُمْ وَالرّشْوَةَ فَاِنّهَا مَحْضُ الْکُفْرِ وَلاَیَشُمُّ صَاحِبةُ الرّشْوَهِ رِیْحَ الْجَنَةِ (سفینتہ البحار جلد، صفحہ ۵۲۳) یعنی: "اپنے آپ کو رشوت سے بچاو!کیونکہ یہ کفر کے علاوہ اور کچھ نہیں ! رشوت میں ملوث آدمی بہشت ک خوشبوتک نہیں سونگھ سکے گا۔ رشوت دیناگناہ ہونے کے علاوہ اعانتِ اثم ، یعنی گناہ کرنے میں مدد بھی ہی ہے۔ ہاں البتہ اگر مجبور ہو اوررشوت دے بغیر اپنا حق حاصل نہ کرسکتا ہو تو رشوت دینا جائز ہے اگرچہ کہ رشوت لینے والے کے لئے حرام ہے ۔اسی طرح رشوت لے کر دوسرے تک پہنچانا بھی حرام ہے اور بیچ میں پڑ کر رشوت کی مقدار کو کم یا زیادہ کروانا بھی حرام ہے ۔ایسی رشوت بہر حال حرام ہے خواہ وہ نقد رقم کی صورت میں ہومکان یا دوکان کا نفع ہو یا کوئی کام ہو مثلا قاضی کے لیے کپڑے سی کر دے یا اس کا مکان تعمیر کرے۔ کبھی زبان سے بھی رشوت دی جاسکتی ، مثلاً قاضی کی تعریف کرے تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو اور اس کے حق میں فیصلہ دے دے ۔ ان تمام قسموں کی رشوت کے حرام ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔
خمس اور ہدیہ کے نام پر رشوت
اگر خمس اور ہدیہ کے نام پر رشوت دی جائے تو وہ بھی حرام ہے مثلاًرشوت کی نیت سے کوئی ہدیہ دے یا صلح کے عنوان سے کوئی مال کسی کو دے اوردل میں رشوت کا ارادہ ہو، یعنی اس نیت سے دے کہ ایسا کرنے سے میری مرضی کا کام ہوجائے گا تو یہ حرام ہے۔ اسی طرح اپنے واجبات یعنی خمس وزکات کو رشوت کی نیت سے دے تو یہ بھی حرام ہے اور اس کا خمس اور زکات ادا نہیں ہوگا۔ ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ دو بارہ خمس وزکات ادا کرنے کیونکہ ان کی ادائیگی کے لئے قصد قربت (یعنی حکمِ خداوندی کی بجاآوری ا رادہ ) ضروری ہے۔ حدیث میں قُرب قیامت کی ایک نشانی کو کچھ اس طرح بیان کیا گیاہے کہ : "ایک زمانہ ایسا آئے گا جب لوگ رشوت کو ہدیہ کہہ کر حلال قرار دیں گے! "یعنی رشوت لیں گے اور اسے ہدیہ قرار دیں گے ۔
رشوت کی دوسری قسم حرام کام کے لئے رشوت ہے یعنی کسی حاکم کو یا کسی ظالم اور غنڈے شخص کوکوئی رشوت دے تاکہ اس کے ذریعے کسی شخص پر ظلم کرے یا کوئی اور گناہ کرے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی رشوت بھی حرام ہے جیسا کہ قرآن ِمجید میں آیا ہے کہ یہ:اَکْلُ الْمَالِ بِاِ لْبَاطِلِ ہے یعنی: مال کو باطل طریقہ سے کھانا ہے آیت میں یہ بات بڑے واضح طور پر ذکر ہے کہ:( وَلاَ تَاکُلُوااَمْوَالَکُم بَیْنَکُمْ باِلبَاطِلِ وَتُدْلُوْابِهاَ الٰی الْحُکّٰام لِتَاْکُلُوااَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بَالبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهاَالٰی الحُکام لِتَاْکُلُوْافَرِیقاً مِنْ اَمْوَالِ الناَّس بِالْاِثم وَاَنْتمُ تَعْلَمُوْنَ ) ۔ (سورئہ بقرہ ۲ : آیت ۱۸۸) " اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نہ کھاجاو اور (نہ ) مال کو رشوت میں حکام کے حق جھونک دو تاکہ لوگوں کے مال میں (جو) کچھ ہاتھ لگے ناحق خورد بُرد کر جاو حالانکہ تم جانتے ہو۔ " اس آیت میں مسلمانوں کو دو چیزوں سے منع کیا گیاہے ۔ پہلی بات یہ کہ جب تک کوئی مال شرعاًجائز نہ ہو اسے استعمال نہ کیاجائے، جیسے چوری کا مال امانت میں خیانت کر کے کسی کے مال کو غصب کرلینا وغیرہ ۔ دوسری بات یہ کہ اپنا مال ومتاع بھی اس مقصد سے ظالم حکام کو نہیں دیا جائے کہ اس کی وجہ سے ظالم حکام دوسروں کا مال ناحق چھین کر کھانے میں اس کی مدد کریں۔
اپنا حق حاصل کرنے کے لئے رشوت د ینا
رشوت کی تیسری قسم مباح کام کے لیے رشوت دینا ہے۔ اور اس سے مُراد یہ ہے کہ ا پنا مال کیسی شخص کودے تاکہ اس کی حمایت سے اپنا حق حاصل کرے یا اپنے آپ سے کسی ظالم کو دور کرے یاکسی مباح کام کو انجام دے سکے۔ رشوت کی یہ تیسری قسم حلال ہے ۔
محمد ابن مسلم یہ صحیح روایت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہہ(عَنْ محَّمدبْن مُسْلِم قال: ) سَئَلْتُ اَباَ جَعْفَرٍ الرَّجُلِ یَرْ شُوْهُ عَن اِلرَّجُلِ یَرْشُوْهُ الرَّجُلُ عَلیٰ اَنْ یَتَحَوَّلَ مِنْ مَنْزِلِهِ فَیَسْکُنَه "میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس کو آدمی اس لئے رشوت دے تاکہ وہ اس کا مکان خالی کردے (قبضہ چھوڑدے ) اور تاکہ وہ خود اس مکان میں رہ سکے ۔ "قَالَ لَابَاْسَ ۔ اما م نے فرمایا " اس (رشوت دینے میں ) کوئی حرج نہیں ہے ۔" البتہ اس حدیث میں مکان سے مراد سوال کرنے والے کا ذاتی مکان نہیں ہے بلکہ مشتر کہ مکا ن اور وقف شدہ ، جگہ کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔ جیسے مسجد، مدرسہ، گلی کوچہ، بازار اور اس طرح کی جگہ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص مسجد یا حرمِ امام میں کسی جگہ بیٹھا ہو یا طالب علم اپنے کمرے میں رہتا ہو اور انھیں کچھ رقم دے کر وہ جگہ ان سے حاصل کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حفص الاعور نے امام علی النقی علیہ السّلام سے سوال کیا کہ: بادشاہ اپنے کارندے معین کرتا ہے تاکہ وہ ہم سے اجناس خرید کر لے جائیں۔ کیا ہمارے لئے یہ جائز ہے کہ ان کارندوں کو ہم رشوت دیں تاکہ ہم بادشاہ کے ظلم و ستم سے محفوظ رہیں؟" (فَقَال) امام نے جواب میں فرمایا:لَابَاْسَ بِمَا تَصْلَحُ بِهِ مَالَکَ ۔ "کوئی حرج نہیں " تم جتنا دینے میں اپنی مصلحت سمجھتے ہو دے دو۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا:(قال) اِذَا اَنْتَ رَشَوْتَه یَا خُذُمِنْکَ اَقَلَّ مِنْ الشَرْطِ؟ "جب تم بادشاہ کے کارندے کو رشوت دے دیتے ہو تو کیا اس صورت میں تمہیں بادشاہ کو کم مال دینا پڑتا ہے؟ سوال کرنے والے نے کہا "ہاں" (قُلْتُ نَعَمْ) امام نے فرمایا: (قال) فَسَدْتَ رَشْوَتَکَ (وسائل الشیعہ، کتاب تجارت، باب ۳۷) " تم نے رشوت ہی کو فاسد کر دیا!" حدیث کا خلاصہ یہ ہوا کہ اپنا حق حاصل کرنے اور ظلم سے بچنے کے لئے رشوت دینا صحیح اور جائز ہے۔ لیکن دوسرے کاحق حاصل کرنے یا کسی پر ظلم کرنے کے لئے رشوت دینا حرام ہے۔
جائز کام کے لئے رشوت لینا
یہاں پر اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ تیسری قسم کی رشوت جو اپنے حق حاصل کرنے یا کسی مباح کام کو انجام دینے کے لئے ہدیہ کے طور پر دی جاسکتی ہے لیکن اس جائز کام کے لئے رشوت لینا کراہیت سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا ہدیہ ہے جو رشوت سے مشابہت رکھتا ہے۔ اگر ایسا بھی ہوتا ہے جائز کام کے لئے رشوت دینے کی سہولت اور عادت آدمی کو ناجائز کام کے لئے بھی رشوت دینے پر اکساتی ہے، اور آدمی حرام میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پرہیز گار آدمی اگر حلال، لیکن مکروہ قسم کی رشوت دینے سے بچے گا تو یقینا حرام قسم کی رشوت دینے سے بھی بچا رہے گا، احادیث سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے۔
( اَکَّالُوْنَ لِلسُّحْتِ ) (سورئہ مائدہ ۵: آیت ۴۲) " جو لوگ حرام مال بہت کھاتے ہیں (خدا ان کے دلوں کو گناہوں سے پاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔)"
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السّلام اس آیہ شریفہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ(قَالَ) هُوَالرَّجُلُ یَقْضِیْ لِاَخِیْه حَاجَتَه ثُمَّ یَقْبَلُ هَدِیَّتَه (کتاب عیون اخبار الرضا) یعنی: "یہ ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے مگر اس کے مقابلے میں کوئی تحفہ لے لیتا ہے!" شیخ انصاری نے کتاب مکاسب میں فرمایا ہے کہ:
اس حدیث شریف کے کئی مطلب نکالے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک معنی یہ ہے کہ ضرورتمند لوگوں سے تحفہ قبول کرنے سے آدمی کو سخت پرہیز کرنا چاہیئے تاکہ وہ کسی دن حرام رشوت میں مبتلا نہ ہوجائے۔
حرام خور کی پہچانا
حرام خور کی پہچان یہ ہے کہ اس کے مال میں برکت ہیں ہوتی ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ : مَنْکَسَبَ مَالاً مَنْ غَیْرِ حِلِّه سُلِّطَ عََلَیْه البِناءُ وَالطّینُ وَاْلَماءُ (بحا رالانوار ، جلد ۲۳ ، اور سفینتہ البحار جلداوّل ۲۹۸) یعنی : "جو شخص ناجائز طریقے سے مال کماتا ہو اس کے سر میں عمارت، مٹی اور پانی کا سودا سماجاتاہے۔" یعنی حرام مال کمانے والے شخص کر ہر وقت یہ فکر لگی رہتی ہے کہ وہ اپنا مال عمارت بنانے اور اس کو وسیع کرنے میں لگاتارہے تاکہ وہ مال ضائع نہ ہوجائے۔ پانی اور مٹی کی آمیزش سے بننے والی عمارت آدمی کو نہ تو دنیامیں مطلوبہ سکون فراہم کرتی ہے اور نہ ہی آخرت میں مفید ثابت ہوتی ہے وہ زمین کے ایک ٹکڑے کو حکم دیتا ہے کہ اس کا سارا حرام مال نگل لے۔
حرام مال میں ایک طرف دنیاوی اعتبار سے برکت نہیں ہوتی تو دوسری طرف حرام مال کھانا عبادتوں کے قبول ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے حضرت رسول اکرم کا ارشاد ہے کہ :اَذَا الُّلقْمَةُ مِنْ حَرَامٍ فِیْ جَوْفِ الْعَبْدِ لَعَنَه کُلُّ مَلَکٍ فِی السَّمٰواتِ وَلْاَرْضِ (سفینہ البحار جلد اوّل ، صفحہ ۲۴۵) یعنی : "جب کسی بندے کی پیٹ میں حرام مال کا ایک لقمہ چال جاتا ہے اور بدن کا جزء بن جاتا ہے۔ تو آسمان وزمین کے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں !:"
آنحضرت کا یہ بھی ارشاد ہے کہ :اَلعِبَادةُ مَعَ اَکَْل اِلَحَرَامِ کَلْبِنَاءِ عَلیٰ الرَّمْل (سفینہ البحار ، جلد اول ، صفحہ ۲۹۹) یعنی : "حرام خوری کے ساتھ کی جانے والی عبادت بُھربھری مٹی پر تعمیر ہونے والی عمارت کی طرح ہے ! یعنی بے بنیاد ہے اور اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ ایسی عمارت یا تو قائم نہیں ہوتی ، یاجلد منہدم ہوجاتی ہے ۔
حرام خور کی دُعا قبول نہیں ہوتی
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا رشاد ہے:امَنْ اَکَلَ لُقْمَةَ حَرَامٍ لَمْ تَقْبَلْ لَه صَلاٰ ةُ اُرْبَعِیْنَ لَیْلَةً وَلَمْ تُسْتَجَبْ لَه دَعْوَةُ اَرَبَعِیْن صبَا حًا "جو شخص حرام مال کا ایک لقمہ بھی کاکھا ئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں بھی قبول نہیں ہوں گی اور ان چالیس دنوں میں اس کی کوئی دعابھی قبول نہیں ہوگی۔"وَکُلُّ لَحْمٍ یُنْبِتُه الْحَرَامُ فَالنَّارُ اَوْلٰی بِه، وَاِنَّ اللُّقْمَةَ الْوَاحِدَةَ تَنْبِتُ الَّلحْمَ (سفینة البحار، جلد اول صفحہ ۲۴) " اور ہر وہ گوشت جو حرام مال کھانے کی وجہ سے نشوونما پایا ہو جہنم کی آگ میں جلنے کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے۔ اور بے شک ایک لقمہ بھی کچھ نہ کچھ گوشت کی نشوونما کر دیتا ہے!"
آنحضرت یہ بھی فرماتے ہیں کہ:
مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُسْتَجابَ دُعَاوه فَلْیُطِیْبَ مَطْعَمَه وَ مَکْسَبَه (کتاب "عدة الداعی")
یعنی"جو شخص یہ چاہتے ہو کہ اس کی دعا قبول ہو، اسے چاہئیے کہ وہ اپنی خوراک اور اپنے ذرائع معاش کو حرام سے پاک رکھے!"
ایک شخص نے آنحضرت کی خدمت میں آکر عرض کیا:
اُحِبُّ اَنْ یُسْتَجٰابَ دُعَائِیْ "میں چاہتا ہوں کہ میری دعا مستجاب اور قبول ہو۔ "قَالَ طَهِّرْ مَا کَلَکَ وَلَا تُدْخِلْ بَطْنَکَ الْحَرَامَ (کتاب "عدة الداعی") آنحضرت نے اُس سے فرمایا: "اپنی خوراک کو حرام سے پاک کرو اور اپنے پیٹ میں کوئی حرام چیز جانے نہ دو۔"
خداوند تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو وحی فرمائی:قُلْ لِظَلَمَةِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَا تَدْعُوْنِی وَالسُّحْتُ تَحْتُ اَقْدَامِکُمْ (کتاب "عدة الداعی") "بنی اسرائیل میں جو لوگ ظالم ہیں ان سے کہہ دو کہ وہ مجھے اس وقت تک نہ پکاریں اور اس وقت تک دعا نہ مانگیں جب تک کہ حرام مال اُن کے تصرف میں ہے!" اس کے بعد یہ کہنے کا حکم ملا کہ: "اور اگر اسی حالت میں لوگ مجھے پکاریں گے یا مجھ سے دعا مانگیں گے تو میں ان پر لعنت کروں گا!!"
حرام خور سنگ دل ہوجاتا ہے
انسان جو خوراک کھاتا ہے وہ زمین میں بوئے جانے والے بیج کی طرح ہوتی ہے۔ اگر اچھا بیج زمین میں بویا جائے تو اس کا اچھا پھل نکلتا ہے اور اگر کڑوی اور زہر آلود چیزوں کا بیج بویا جائے تو پھل بھی کڑوا اور زہر آلود ہوتا ہے۔ یہی حال انسان کی غذا کا بھی ہے۔ اگر وہ پاکیزہ اور حلال ہوتی ہے تو اس کا اچھا اثر دل کی سرزمین پر ہوتا ہے۔ دل گندگی اور خباثت سے پاک ہوجاتا ہے۔ اور انسان کے اعضاء و جوارح سے خیر اور نیکی کے پھل حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آدمی حرام مال سے حاصل کی گئی غذا کھاتا ہے تو اس کا دل سخت تاریک ہو جاتا ہے ۔ سنگدلی کے اثرات نمودار ہوجاتے ہیں۔ جب دل پتھر کا ہو جاتا ہے تو نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی اور وہ انتہائی سخت ظلم دیکھ کر بھی متاثر نہیں ہوتا۔ خیر کی کوئی امید نظر نہیں آتی تاریک دل سے نیکی کی کوئی کرن نہیں پھوٹتی یہی وہ بات ہے جو حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السّلام نے ابن سعد کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ فرمایا تھا:
فَقَدْ مُلِئَتْ بُطُوْنَکُمْ مِنْ الْحَرَامِ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیْلَکُمْ اَلاَ تُنْصِفُوْنَ اَلاَ تَسْمَعُوْن َ(کتاب "نفس المہموم")
یعنی "تمہارے پیٹ حرام مال سے بھر چکے ہیں، اور تمہارے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، اب تم حق کو قبول نہیں کرو گے۔ تم انصاف سے کام کیوں نہیں لیتے؟! اب تم میری بات کیوں نہیں سنتے؟!" خلاصہ یہ کہ جب حرام مال کھانے کی وجہ سے دل سخت اور تاریک ہو جاتا ہے تو آدمی حق کو حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کسی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ بڑے سے بڑا جرم بھی کر بیٹھتا ہے۔ واقعہ کربلا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
عباسی بادشاہ مہدی کے زمانے میں شریک بن عبدالله نامی ایک قاضی ہوا کرتا تھا جب تک بادشاہ نے اسے اپنے پاس نہیں بلایا تھا وہ ایک متقی مجتہد تھا (لیکن مہدی عباسی نے اسے بلاکر مجبور کر دیا کہ وہ تین کاموں میں سے کوئی ایک کام اختیار کرے یا تو بادشاہ کا قاضی بن جائے یا بادشاہ کے بچوں کی تعلیم و تربیت کرے، یا پھر بادشاہ کے ساتھ ایک مرتبہ بیٹھ کر کھانا کھا لے!
قاضی شریک نے خیال کیا کہ ایک مرتبہ شاہی طعام کھالینا سب سے آسان کام ہے۔ اس خیالِ خام کے تحت اس نے کھانا کھانے پر رضا مندی ظاہر کی بادشاہ نے اپنے خاص باورچی کو حکم دیا کہ وہ انواع و اقسام کے انتہائی لذیذ کھانے تیار کرے۔ قاضی شریک نے جب بادشاہ کے ساتھ کھانا کھالیا تو بادشاہ کے خاص باورچی نے اپنے لوگوں سے کہا: "قاضی شریک نجات نہیں پائیں گے!"
ہوا بھی یہی ۔ حرام غذا نے قاضی پر اتنا برا اثر ڈالا کہ اس نے باقی کے دو کام بھی قبول کر لئے ، بادشاہ کا خاص قاضی بھی بن گیا اور بادشاہ کے بچوں کا معلم بھی ۔ کہتے ہیں کہ قاضی شریک کو بیت المال سے وظیفہ ملتا تھا اور وہ اپنا وظیفہ شاہی خزانچی سے حاصل کرنے میں بہت سختی سے کام لیتا تھا۔ ایک دن خزانچی نے شریک سے کہا: "آپ نے مجھے کوئی گندم تو نہیں بیچا ہے جس کی قیمت وصول کرنے میں آپ اتنی سختی کر رہے ہیں۔" قاضی شریک نے جواب دیا تھا: "ہاں ، میں نے گندم سے زیادہ قیمتی چیز بیچ دی ہے! میں نے اپنا دین بیچ دیا ہے!!"
ایک دن ہارون رشید کی جانب سے بہلول دانا کے پاس شاہی طعام سے بھرا ہوا ایک خوان بھیجا گیا۔ انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ بادشاہ کے آدمیوں نے کہا: "خلیفہ کا عطا کردہ ہدیہ واپس نہیں لوٹایا جاسکتا!" بہلول دانا نے آس پاس کے کتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ان کے سامنے رکھ دو" بادشاہ کے آدمیوں کو سخت غصہ آگیا اور وہ تیزی میں آکر کہنے لگے: "تم نے خلیفہ کے تحفے کی توہین کر دی ہے!!"بہلول دانا نے ان کو چپ کراتے ہوئے فرمایا:"آہستہ بولو، اگر کتوں نے سمجھ لیا کہ یہ خلیفہ کا طعام ہے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے!!"
لقمہ حلال
حرام خوری ہر قسم کے شر اور فساد کا سر چشمہ ہے۔ جبکہ لقمہ حلال ہر قسم کے نیکیوں اور خوبیوں کا باعث ہے۔ اکل حلال یعنی حلال روزی کھانے کی فضیلت میں بہت سی روایتیں وارد ہوئی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: "الْعِبَادَة سَبْعُوْنَ جُزْءً اَفْضَلُهَا طَلَبُ الْحَلَالِ (سفینة البحار، جلد اول : صفحہ ۲۹۸) " عبادت کی ستر اقسام ہیں ان میں سب سے افضل قسم کی عبادت حلال روزی کمانا ہے!"
آنحضرت فرماتے ہیں کہ :مَنْ اَکَلَ الْحَلَالَ قَامَ عَلٰی رَاْسِه مَلَکُ یَّسْتَغْفِرُ لَه حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ اَکْلِه (سفینة البحار، جلد اول، صفحہ ۲۹۹) " جو شخص حلال خوراک کھاتا ہے ایک فرشتہ اس کے سر پر کھڑے ہو کر اس وقت تک اس کے لئے مغفرت کرتا رہتا ہے جب تک وہ کھانے سے فارغ نہیں ہو جاتا۔"
آنحضرت یہ بھی فرماتے ہیں :مَنْ بَاتَ کَالَّا مِّنْ طَلَبِ الْحَلَالِ بَاتَ مَغْفُوْراً ۔ (سفینة البحار، جلد اول، صفحہ ۲۹۸) " جو شخص رزقِ حلال کمانے میں صبح سے رات کر دے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔"
وَقَالَ النَّبِیُّ : قَالَ اللهُ تَعَالٰی مَنْ لَّمْ یُبَالِیْ مِنْ اَیِّ بابٍ اکْتَسَبَ الدِّینَارَ وَالدِّرْهَمَ لَمْ اُبَالِیْ یَوْمَ القِیَامَةِ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ النَّارِ اَدْخَلْتُهُ ۔ (بحارالانوار، جلد ۲۳ ، صفحہ ۶) یعنی: "نبی کریم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے : "جو شخص اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ (حلال یا حرام ) کس دروازے سے وہ دینار و درہم کمارہا ہے تو قیامت کے دن میں بھی پرواہ نہیں کروں گا کہ اسے جہنم کے کس دروازے سے داخل کروں!
عَنِ النَّبِی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ) ارشاد فرماتے ہیں کہ:لَا یَکْتَسِبُ الْعَبْدُ مَالاً حَرَاماً فَیَتَصَدَّقُ مِنْه فَیُوجَرُعَلَیْهِ "کوئی بندہ حرام مال کما کر اس میں سے صدقہ دیتا ہے تو اس کو اس کا کوئی اجر نہیں ملتا۔"وَلَایُنْفِقُ مِنْه فیُبَارَکُ لَه "بندہ حرام مال میں سے کچھ راہِ خدا میں بھی خرچ کرتا ہے تو اس کے مال میں برکت پیدا نہیں ہوتی!"وَلَا یَتْرُکُه خَلْفَ ظَهرةِ اِلّا کَانَ زَادَه الٰی النَّارِ (بحارالانوار، جلد ۲۳ ، صفحہ ۷) " بندہ اپنے پیٹھ پیچھے حرام مال چھوڑ جاتا ہے تو وہ اسے مزید جہنم کی طرف ہی لے جاتا ہے۔
خدا، حرام روزی نہیں دیت
ہوسکتا ہے کہ حرام کمائی سے پرہیز نہ کرنے والے لوگ یہ خیال کرتے ہوں کہ اگر وہ حرام مال کو نظر انداز کردے اور حاصل نہ کریں تو ان کے معاشی حالت تباہ ہو جائے گی اور وہ تنگدست ہوجائیں گے۔ یہ محض ایک خیالِ خام ہے۔ یہ شیطان کا وسوسہ اور نفس کی پڑھائی ہوئی بات ہوتی ہے۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ قطعاً عقل کے خلاف ہے ، بلکہ قرآن مجید میں بارہا دہرائے گئے رزقِ حلال کے الہٰی وعدے کے بھی خلاف ہے اور اہلِ بیت علیہم السّلام کی بہت سی صریح روایتوں کے بھی برعکس ہے۔ خداوند تعالیٰ نے ہر ذی روح مخلوق کو حلال رزق فراہم کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ خدا کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ بس خدا بندوں سے امتحان لیتا ہے کہ وہ حلال کمائی کی راہ میں صبر و قناعت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں یا بے صبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مقدر میں جو حلال رزق لکھا ہوتا ہے وہ تو مل کر رہتا ہے۔ بس یہ لوگوں کے بے صبری اور ان کے ایمان کی کمزوری ہے کہ وہ حلال روزی کی راز چھوڑ کر حرام کمائی کے راستے پر چل دیتا ہے۔ جب بندہ ایسا کرتا ہے تو امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے۔ خداوند تعالیٰ ایسی صورت میں بندے کو اس رزقِ حلال سے محروم کر دیتا ہے جو اس کے مقدر میں اس نے لکھا تھا ایسا نہیں ہے کہ ابتدا میں خدا نے کسی کے مقدر میں حرام کمائی لکھی ہو۔
انسان اپنا رزق مکمل طور پر حاصل کئے بغیر نہیں مرت
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حجة الوداع کے موقع پر مسجد الحرام (خانہ کعبہ کی مسجد) میں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
اَلَا اِنَّ رُوْحُ الْاَمِیْنِ نَفَثَ فِی رَوْعِیْ اَنَّه لَا تَمُوْتُ نَفْسُ حَتٰی یَسْتَکْمِلَ رِزْقُهَا ۔ "آگاہ ہوجاؤ کہ میری روح پر روح الامین (جبرئیل) نے یہ وحی لائی ہے کہ کوئی جاندار اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اس کا رزق پورااسے نہیں مل جاتا۔"
فَاتَّقُواالله َ وَاَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ " پس خدا سے ڈرو اور روزی کی طلب میں حرص نہ کرو۔"
وَلَا یَحْمِلَنَّکُمْ اسْتِطَاءُ شیءٍ مِّنَ الرّزْقِ اَنْ تَطْلُبُوه بِمَعْصِیَةِ اللهِ "اگر رزق کی فراہمی میں کچھ تاخیر ہوجائے تو ایسا نہیں ہونا چاہئیے کہ تم خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کی طلب پر لگ جاؤ۔"
فَاِنَّ اللهَ قَسَّمَ الْاَرْزَاقَ بَیْنَ خَلْقِه حَلا لاً وَلَمْ یُقَسِّمْهَا حَرَاماً "بے شک خدائے تعالیٰ نے ہر مخلوق کی روزی حلال ہی تقسیم کی ہے اور کسی کی قسمت میں حرام روزی نہیں لکھی ہے۔"
فَمَنِ اتَّقٰی وَصَبَرَ اَتاهُ اللهُ بِرِزْقِهِ مِنْ حِلِّهِ ، وَمَنْ هَتَکَ حِجَابَ السِّتْرِ وَ عَجَّلَ اَخَذَهُ مِنْ غِیْرحِلّهِ قْصَّ بِه مِنْ رزْقِهِ الْحَلَالِ "پس جو شخص خدا سے ڈرے گا اور صبر سے کام لے گا تو خدا حلال طریقہ سے اسے رزق فراہم کر دے گا۔ لیکن جو شخص اپنی پاکیزگی کا دامن چاک کرے گا اور جلدی میں ناجائز طریقے اپنا لے گا تو اس کے حلال رزق میں سے اتنا رزق کاٹ لیا جائے گا۔"
وَحُوْسِبَ عَلَیْهِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَمَا وَنَهٰی اللهُ عَنْه بِقَوْلِه وَلَا تَتَبَدَّلُواالْخَبِیْثَ بِالطَیِّبِ بِاَنْ تُعَجِّلُوا الْحَرَامَ قَبْلَ اَنْ یَّاتِیْکُمُ الرِّزْقَ الْحَلَالَ الَّذِیْ قَدَّرَلَکُمْ (عُدَّةِالدّاعِی) "قیامت کے دن اس حرام کمائی کا اس سے حساب لیا جائے گا۔ خداوند تعالیٰ نے یہ کہہ کر اس سے منع فرمادیا ہے کہ: وَلَا تَتَبَدَّلُواالْخَبِیثَ بِالطَّیِّبِ (سورئہ نساء ۴ آیت ۲) " یعنی پاکیزہ چیز کے بدلے خبیث اور بری چیز نہ لے لو! ایسا نہ ہو کہ حرام روزی کے سلسلے میں عجلت کر بیٹھو اس سے پہلے کہ خداوند تعالیٰ اس رزقِ حلال میں سے تمہیں عطا کرے جو اس نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔"
چور رزقِ حلال سے محروم ہو گیا
ایک روز حضرت علی اپنے سواری کے جانور سے مسجد کے دروازے کے قریب اترے۔ آپ نے خچر ایک شخص کے حوالے کیا اور خود مسجد میں تشریف لے گئے۔ اُ س شخص نے خچر کی لگام کھینچ کر نکال لی۔ خچر کو یوں ہی چھوڑ دیا اور لگام لے کر فرار ہوگیا۔ جب حضرت علی علیہ السّلام مسجد سے باہر تشریف لائے تو دو درہم ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ یہ دو درہم اس شخص کو دیں جسے آپ نے خچر کی حفاظت کے لئے معین فرمایا تھا۔ خچر کو بغیر لگام پایا ۔ گھر پہنچ کر وہ دو درہم اپنے غلام کو دئیے تاکہ وہ لگام خرید لائے۔ غلام بازار گیا۔ اس نے وہی لگام ایک شخص کے ہاتھ میں دیکھی معلوم ہوا کہ چور نے اسے دو درہم میں بیچا اور اسے اس کے قسمت کے وہی دو درہم ملے ہیں جو حضرت علی علیہ السّلام اسے خود بھی عطا فرمانا چاہتے تھے۔ جب غلام نے یہ سارا ماجرا حضرت کو سنایا تو آپ نے ارشاد فرمایا:اِنَّ الْعَبْدَ لَیَحْرُمُ نَفْسَه الرِّزْقَ الْحَلاَلَ بِتَرْکِ الصَّبْرِ وَلَا یَزْدَادُ عَلٰی مَاقُدِرَلَه (کتاب لئالی الاخبار، صفحہ ۱۵۱) یعنی: "بندہ خود دامنِ صبر کو چھوڑ دینے کی وجہ سے اور جلد بازی کی وجہ سے اپنے رزقِ حلال کو حرام کر لیتا ہے۔ حالانکہ جو کچھ اس کی قسمت میں لکھا ہوا ہوتا ہے اس سے زیادہ ہ نہیں پاتا"
تکبر کرنا
تینتیس واں گنا ہ کبیرہ کے جس کے بارے میں نص ہے وہ تکبر ہے کہ جسے فضل بن شاذان کی روایت میں امام علی رضا (علیہ السلام)سے نقل کیا گیا ہے اور شیخ انصاری نے بھی مکاسب میں مذکورہ روایت کے معتبر ہونے کی تصدیق کی ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح روایت سے کمتر نہیں ہے اور اعمش کی روایت میں بھی امام جعفر صادق (علیہ السلام) گناہان کبیرہ کے ضمن میں فرماتے ہیںوَاِسْتِعِمٰالُ التّکُبّر وَالَّجَبِّرُ تکبر اور جبر سے کام لینا بھی گناہان کبیرہ ہے میں سے ہے۔اس کے علاوہ یہ ایسا گناہ ہے کہ قرآن مجید میں جس کے لئے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( ألَیْسَ فِی جَهَنَّمَ مَثْویً لِلْمُتَکبََّرِیْن ) (سورہ زمر آیت ۶۰)
کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔
یعنی جی ہاں ان کی جگہ کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔
یعنی جی ہاں ان کی جگہ دوزخ ہے اور یہ بھی فرماتا ہے۔
( قِیْلَ ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰا لِدِیْنَ فِیْهٰا فَبِئْسَ مَثْوی لَلْمُتِکَبْرِیْنَ ) (سورہ زمر آیت ۷۲)
کہاجائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاو اور ہمیشہ اسی میں رہو۔پس تکبر کرنے والوں کا (جہنم) کیا برا ٹھکانہ ہے۔
سورہ مومن میں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے۔
( کَذَالِکَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰی کُلِّ قَلْبٍ مُّتَکَبِّرٍ جَبّٰارٍ ) ۔ (سورہ مومن آیت ۳۵)
یوں خداوند عالم ہر متکبر سر کش کے دل پر علامت مقرر کر دیتا ہے۔یعنی جو اپنے آپ کو دوسروں سے بر تر سمجھتا ہے۔تا کہ وہ اس علامت سے پہچانا جائے۔ تکبر سے متعلق آیات بہت زیادہ ہیں لیکن یہاں پر اسی آیت کا ذکر کافی ہے جو شیطان کے تکبر کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ اپنے اس عمل کی وجہ سے وہ مردود و ملعون بنا اور ابدی عذاب میں مبتلا ہو گیا چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتا ہے
( اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَ کٰانَ مِنَ الْکَافِرِیْن ) (سورہ بقرہ آیت ۳۴)
(شیطان نے آدم کو سجدے سے انکار کیا اس نے تکبر کیا اورکافروں میں سے ہو گیا۔
حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) ایک خطبے میں فرماتے ہیںَ
فَاعْتَبِرُوْا بِمٰا کَانَ مِنْ فِعْلِ اللّٰهِ بِاِبْلِسَ اَذٰا اَحْبَطَ عَمَلَهُ الطَّوِیْلَ وَ جَهْدَهُ الْجَهِیْدِ وَکٰانَ قَدْ عَبَدَ اللّٰهَ سِتََّهَِ الٰافٍ سَنَةٍلَا یَدْری اَمَنْ سِنیَ الدُّنْیٰا اَمْ مِنْ سِنَی الْاٰخِرَةِ عٰلِی کِبْرِسٰاعَةٍ وٰاحِدَةٍ، فَمِنْ ذٰا بَعْد اِبْلِیْس یُسْلَمُ عَلَی اللّٰهِ بِمِثْلِ مَعْصِییَتِه کَلّاٰ مٰا کٰانٰ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ لِیَدْخُلَ الْجَنَّتَهَ بَشَراً بِاَمْرٍ اَخْرَجَ مِنْهٰا مَلَکاًوَمٰا بَیْنَ اللّٰهِ وَبَیْنَ اَحَدٍ مَنْ خَلْقِه هَوٰادٰةً فِیْ ابٰاحَتِه حِمیً حُرْمَتَهَ عََلَی الْعٰالِمَیْن (نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ ۱۹۱)
اللہ تعالیٰ نے جو کچھ شیطان کے ساتھ کیا اس سے عبرت حاصل کرو جب اس (خدا)نے اس کے طویل عمل اوربے انتہا کوشش کو ایک ساعت کے تکبر کی وجہ سے ضائع کر دیا حالانکہ اس نے چھ ہزار سال(کی مدت) تک خداوند عالم کی عبادت کی تھی معلوم نہیں کہ یہ سال دنیا کے سال تھے یا آخرت کے سال( کہ جس کا ہر دن ہزار سال کے برابر ہے) تو اب ابلیس کے بعد اس جیسا جرم کر کے کو ن بچ سکتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ جس جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک ملک(فرشتے)کو جنت سے نکال کہ دیا ہو اس جرم پر کسی بشر کو جنت میں جگہ دیدے۔خداوند عالم کو حکم اہل آسمان اور اہل زمین کے لئے یکساں ہے۔(اور خدا کی ان مخلوقات میں سے کسی ایک فرد کے ساتھ دوستی نہیں ہے)کہ جو اس سارے جہاں والوں پر حرام کیا ہے۔وہ اس کے لئے مباح کردے(یعنی عزت وکبریائی)
کچھ جملوں کے بعد آپ فرماتے ہیں:
اور اس قابیل کی طرح نہ ہو جاو جس نے اپنے بھائی ہابیل کے مقابلے میں تکبر کیا بغیر اس کے کہ خداوند عالم نے اسے کوئی فضیلت دی ہو سوائے اس کے کہ حاسد انہ عداوت کی وجہ سے اس کے دل میں بڑائی کا خیال پیدا ہو گیا اور خود پسندی نے اس کے دل میں غیض و غضب کی آگ بھڑ کادی اور شیطان نے اس کے دماغ میں تکبر اور غرور کی ہوا پھونک دی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ندامت اس کے پیچھے لگا دی اور قیامت تک کے قاتلوں کے گناہوں کا اسے ذمہ دار(بانی) قرار دیا۔خلاصہ قابیل اپنے بھائی سے تکبر کی بنا پر ابدی بدبختی اور سخت ترین عذاب میں مبتلا ہو گیا۔کچھ کلمات کے بعد آپ فرماتے ہیں۔
پس تم سے پہلے تکبر کرنے والے امتوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو سختیاں اور عتاب وعقاب و عذاب نازل ہوئے ان سے عبرت لو اور ان کے رخساروں کے بل لیٹنے کی جگہ (خاک)اور پہلووں کے بل گرنے کے مقامات (قبروں)سے نصیحت حاصل کرو اور جس طرح زمانے کی آنے والیل مصیبتوں سے پناہ مانگتے ہو اسی طرح سرکش بنانے والی خصلتوں سے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو۔(نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ ۱۹۱
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
ثَلٰثَةٌ لٰا یُکلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلٰا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰامٰةِ وَلٰا یُزَکِیِّهِمْ وَلَهُمْ عَذٰابٌ اِلِیْمٌشَیْخٌ زٰانٍ وَمَلِکٌ جَبّٰا رٍ وَمُقِلٌّ مَخْتٰالٍ (کافی صفحہ ۳۱۱)
روز قیامت اللہ تعالیٰ تین گروہوں سے کلام نہیں کرے گا۔ (یعنی وہ خداوند عالم کے غضب کا نشانہ ہوں گے)اور ان پر رحمت کی نظر نہیں کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ۱ ۔بوڑھا زانی ۲ ۔ ظالم حاکم ۳ ۔مغرور فقیر۔
یعنی ان تین گروہوں کا عذاب،جوانی میں زنا کرنے والے اور ایسے ظالم سے جو حاکم نہ ہو اور ایسے مغرور سے جو فقیر نہ ہو،زیادہ ہے اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ مذکورہ تین گروہوں میں گناہ کا سبب موجود نہیں۔یعنی شہوت کی جو آگ جوانی میں ہوتی ہے وہ بڑھاپے میں نہیں ہوتی۔تو جب بھی(بوڑھا)زنا کرے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ بہت بے حیاء ہے اور احکام خدواوندی کی پروا نہیں کرتا لہذا گناہوں میں بوڑھوں کی سزا جوانوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔اور اسی طرح حاکم کے لئے جیسا کہ خداوند عالم نے اسے حکومت اور طاقت عدل کو وسعت دینے کے لئے دی ہے لیکن اگر وہ ستم کو اپنا پیشہ بنائے تو گناہ کے علاوہ خداوند عالم کی نعمتوں کے انکار کی بنا پر درحقیقت اپنی بندگی کا منکر ہو گیا۔اور اسی طرح تکبر کرنے والا فقیر کے لئے جیسا کہ بڑائی کا ایک سبب مال ہے اور جو کوئی مال کے نہ ہوتے ہوئے تکبر کرے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ خبیث اور پیدا کرنے والے خدا کا دشمن ہے۔
ایک شخص نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا۔
عَنْ حَکِیْم قٰالَ سَئَلْتُ اَبٰا عَبْدِ اللّٰهِ عَیَیْهِ السَّلٰامُ عَنْ اَدْنَی الْاِلْحٰادِفَقَالَ عَلَیْهِ اَنَّ الْکِبْرَاَدْ نٰاهُ ۔(کافی جلد ۲ ۔صفحہ ۳۰۹)
کفرکے کمترین درجات یعنی حق سے رو گردانی کیا ہے؟امام (علیہ السلام) اس کا کمترین درجہ تکبر ہے۔امام محمد ماقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اَلعِزُّرِدآءُ اللّٰهِ وَالْکِبْر اِزٰارُهُ فَمَنْ تَنٰاوَلَ شَیئاً مِّنْهُ اَکَبَّهُ اللّٰهُ فِیْ جَهَنَّم (کافی جلد ۲ صفحه ۳۰)
عزت و بزرگی اور کبریائی کا اظہار اللہ تعالیٰ کے دو مخصوص لباس کی مانند ہیں۔یعنی جس طرح حاکم کے مخصوص لباس میں کوئی شرکت کا حق نہیں رکھتا اسی طرح کوئی بھی مخلوق ان دو صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرکت کا حق نہیں رکھتی)پس جو کوئی بھی ان دو صفات سے متصف ہونے کی جرأت کرے گا تو خداوند عالم اسے سر کے بل جہنم میں ڈال دے گا۔
آپ نے یہ بھی فرمایا۔
اَلْکِبْرُ رِدٰآءُ اللّٰهِ وَالْمُتَکَبِّرُ ینُازِغُ اللّٰهَ رِدٰوآئهُ ۔
کبر و بزرگی اللہ تعالیٰ کے دو مخصوص لباس کی مانند ہے اور جو کوئی تکبر کرے(خداوند عالم کی اس مخصوص صفت میں )تو اس نے خداوند عزوجل سے جنگ کی ہے ۔(کافی جلد ۲ ۔صفحہ ۳۰۹)
کیونکہ تکبر کرنے والا حالت تکبر میں اپنے بندگی کو فراموش کر دیتا ہے ۔جبکہ اس کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اور اپنے آپ کو مستقل اور فعال شئے سمجھتا ہے۔اور فرعون کی طرح کہتا ہے کہ میں سب سے بڑا اور اعلیٰ ہوں میں ایسا اور ویسا ہوں پس اس حالت میں خدائے واحد کے مقابل کھڑا ربوبیت کا دعویٰ کرتا ہے۔خلاصہ یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی (اس کے علاوہ)ہر ایک صفت مثلاً عفو در گزر ،رحم،سخاوت احسان،کرم ،حلم ،علم ،محبت ،مہربانی سے متصف ہو سکتا ہے۔بلکہ قرب کے درجات انہی صفات کی کمی و زیادتی سے ظاہر ہوتے ہیں لیکن عزت و عظمت اور کبریائی کی صفت صرف خدائے عزوجل سے مختص ہے اور کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ان دو صفات سے متصف کرے۔قرآن مجید میں خداوند عالم فرماتا ہے۔
( وَلَهُ الْکِبْرِیٰآءُ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) ۔(سورہ جاثیہ آیت ۳۷)
اور سارے آسمان و زمین میں اس کے لئے بڑائی ہے۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اِنَّ فِیْ جَهَنَّمَ لَوادٰ یاً للّمتکبّرِیْن یُقٰالُ لَهُ سَقَر شکَیٰ اِلَی اللّٰهِ عَزَّو جَلَّ شِدّ ةِ حِدِّهوَسَئَلَهُ اَنْ یثاذَنَ لَهُ اَنْ یَتَنَفَّسَ فَتَنَفَّسَ فَاحَرْقَ جَهَنَّمَ (کافی جلد ۲ صفحہ ۳۱۰)
دوزخ میں ایک ایسا درہ ہے جو متکبروں کے لئے مخصوص ہے کہ جسے سقر کہتے ہیں اس سے اپنی گرمی کی شدت کی خداوند عالم سے شکایت کی اور سانس لینے کی اجازت چاہی پس اس نے سانس لیا اور جہنم کو جلادیا ۔آپ نے یہ بھی فرمایا۔
اِنَّ المُتکَبَّرِیْن یَجْعَلُونَ فِیْ صُوَرِ الذَرِّ یتَوَ طَئَاهمُ النّٰاسَ حَتّٰی یَفْرغُ اللّٰهُ مِنَ الْحِسٰابِ (کافی جلد ۲ صفحہ ۳۱۱)
بلاشبہ تکبر کرنے والے(روز قیامت)باریک چیونٹیوں کی صورت میں محشور ہوں گے اور خداوند عالم کی مخلوق کے حساب سے فارغ ہونے تک لوگ انہیں پاوں تلے روندیں گے۔
علامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ممکن ہے کہ روز قیامت انسان اپنے دنیاوی جسم کے مقابلے میں ایک چھوٹے سے ذرے کی مانند ہو حالانکہ سب اصلی اجزاء یا کچھ اس میں موجود ہوں۔اور اس کے بعد دوسرے اجزاء کا اضافہ کیا جائے اور وہ سخت تر ہوجائے۔کیوں بعید ہے کہ ملے ہوئے اجزاء کو اس حد تک بھی کوٹا جائے اور ہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ اسی طرح ذلیل محشور ہوں گے اگر چہ ان کا جسم بڑا ہو۔یا چیونٹی کی صورت میں محشور ہونے سے مراد ان کی ذلت وپستی مراد ہو یعنی جیسی بھی صورت ہو لوگوں کے پیروں تلے روندیں جائیں گے۔
کبر اورتکبر اور اس کی قسمیں
انسان میں خودبینی کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو دوسرے (یادوسروں)سے بڑا اوراونچا سمجھتا ہے۔اور پنی باتوں یا عمل سے اس حالت کے اظہار کو تکبر کہتے ہیں اور اس کی تین قسمیں ہیں۔
پہلا:اللہ تعالیٰ کے مقابل تکبر کرنا۔دوسرا۔پیغمبر اورامام کے مقابل تکبر کرنا۔ تیسرا۔لوگوں کے مقابل تکبر کرنا۔
خداوند عالم کے مقابل تکبر کی کئی قسمیں ہیں۔بعض اوقات جاہل اور مغرور انسان پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ اس عالم میں وہ اپنے آپ کو مستقل(ہستی)سمجھتا ہے ۔اپنی ہستی اور اپنی تمام حیثیت کو اپنی کوششوں کا نتیجہ سمجھتا ہے اور وہ اس بات کے لئے آمادہ نہیں کہ اپنے آپ کو مخلوق و زیر دست اور تدبیر خدا کا ماتحت و پروردہ خدا سمجھے۔اپنے زبان و کردار سے اپنے انا کو ظاہر کرتا ہے اور اپنی زبان سے یہ کہتا ہے میں نے یہ کیا اورمیں ایسا کروں گا اور اپنی محدود ظاہری طاقت اور مال و جاہ کی مستی کی بنا پر پیدا کرنے والے کی خدائی و پروردگاری کا اقرار نہیں کرتا اور ظلمت و کفر اس کے قلب پر چھا گئی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(کچھ احادیث وآیات یہ ہیں)
ا( َنْ فِیْ صُدُورِهِمْ اِلاّ کِبْرٌ مٰا هُمْ بِبٰالِغِیْه ) (سورہ مومن آیت ۵۶)
ان کے دل میں بڑائی(اور سرکشی)کے سوا کچھ نہیں حالانکہ وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں۔(یعنی نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں بزرگی حاصل کر سکیں گے اور نہ حق پرغالب آسکیں گے)۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( فَالذِّیْنَ لٰا یُومِنُوْنِ بَالٰاخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُنْکِرَ ةٌ وَّهُمْ مُسَتَکْبِرُوْنَ ) (سورہ نحل آیت ۲۲)
جولوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ہی اس وضع کے ہیں کہ ہر بات کا انکار کرتے ہیں اور بڑے مغرور ہیں اور کبھی یہ غرور تکبر اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انسان اپنے تمام کاموں کو اپنی طرف نسبت دینے کے علاوہ دوسروں کی ربوبیت اور الوھیت کا دعویٰ بھی کرنے لگتا ہے۔اور کہتا ہے میں فلاں جماعت کانظام چلاتا ہوں اور میرے ماتحت اور زیر تربیت ہیں ۔جیسا کہ احمق فرعون کہتا تھا۔( اَنَارِبُّکُمْ الْاَعْلیٰ ) (سورة النازعات آیت ۲۴)
میں تم لوگوں کا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ اوراپنے دعوے کی دلیل یہ پیش کرتا تھا۔
( اَلَیْسَ لٰی مُلْک مِصْر وَهٰذِهِ الْاَنْهٰارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ) (سورہ زخرف آیت ۵۱)
کیا ملک مصر میرے تصرف اور سلطنت میں نہیں(اور اس مملکت کے تمام امور اور)میرے محل کے نیچے جاری نہریں کیا میری ملکیت نہیں اور کبھی کہتا تھا۔
( مٰا عَلِمْتُ لَکُمْ مَنْ اِلٰهٍ غَیْرَیْ ) ۔ (سورةُ القصص آیت ۳۸)
میں اپنے سوا تمہارا کوئی پروردگار نہیں پاتا۔اور نمرود بد بخت کی طرح جو موت و حیات کا مالک خود کو سمجھتا تھا اور کہتا تھا۔
( اَنَا اُحْیِیْ وَاُمِیْتُ ) (سورہ بقرہ آیت ۲۵۸)
میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔دلیل کے طور پر اس کے حکم سے دو مجرموں کو زندان سے لایا گیا ایک کو قتل کر دیا گیا اور دوسرے کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔
اور کبھی انسان جہالت و غرور کی بناء پر خداوند عالم کی بندگی و اطاعت اور اومرونواھی کی نسبت تکبر کرتا ہے۔اگرچہ وہ خدائے عزوجل کا منکر نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ نساء میں فرماتا ہے۔
( َلَنْ یَسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْداً لَلّٰهِ وَلٰا الْمَلآئِکَتِهِ الْمُقَربُونَ وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبٰادَتِهِ وَ یَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُ هُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعاًفَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمٰنُوْا وَ عَمِلُوالصّالِحٰاتِ فَیُوَفِیِّهِمْ اُجُوْرِهُمْ وَ یِزِیْدُهُمْ مِنْ فَضْلَهِوَاَمِّا الِّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوا فَیُعذِبِهُمْ عَذٰاباً اِلَیْماً ) (سورہ النساء آیت ۱۸۲ ۔ ۱۸۳)
مسیح ہر گز خداوند عالم کا بندہ ہونے کے منکر و سر کش نہیں اور نہ (اللہ تعالیٰ کے)مقرب فرشتے اور (یاد رہے)جو کوئی اس کی بندگی سے انکار اور تکبر اور سر کشی کرے گا تو عنقریب ہی خدائے علیم ان سب کو اپنی طرف اٹھائے گا(اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا) پس جن لوگوں نے ایمان قبول کیا ہے اور اچھے (اچھے)کام کئے ہیں تو انہیں ان کا ثواب پورا(پورا) دے گا بلکہ فضل وکرم سے (کچھ اور )زیادہ ہی دے گااور جو لوگ(اس کا بندہ ہونے میں)عار محسوس کرتے ہیں اور سر کشی کرتے ہیں تو انہیں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔
در حقیقت عبادت وا طاعت کا تکبر اور سرکشی کی بناء پر ترک کرنا کفر اور خداوند عالم کی الوہیت اور ربوبیت سے انکار ہے کہ اس (خدا)کو ستائش و پرستش کے لائق نہیں سمجھتا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بندگی اور خدائے عزوجل کو خدائی کے لائق سمجھتا ہو اور اپنے آپ کو اور اپنی تمام حیثیت کو اس کی مخلوق اور اس کا پروردہ سمجھتا ہو تو محال ہے کہ وہ اس(خدائے بزرگ و برتر)کا انکار کرے اور اگر کسی ایسے (شخص)سے کوئی گناہ سر زد ہوا اور وہ حکم خداوندی کی مخالفت کرے تو یہ (گناہ )خداوند عالم کی ربوبیت کے انکار اور اس کے سامنے تکبر کی بناء پر نہیں ہے بلکہ غفلت،شہوت کے غالب آنے اور خواہش نفسانی کی وجہ سے ہے۔چنانچہ امام زین العابدین (علیہ السلام) ابو حمزہ میں عرج کرتے ہیں
اِلٰهِیْ لَمْ اَعْصِکَ جِیْنَ عَصَیْتُکَ و اَنَا بِرُبُوْ بِیَّتِکَ جٰاحِدٌ وَلٰا بِاَمِرْکَ مُسْتخِفُّ ولا لِوَعِیْدِکَ مُتِهٰاوِنٌ ولا لِعُقُوتْبِکَ مُتَعرِّضٌ ولکن خطیئتهً عُرِضَتْ وَسوَّلَتْ لِی نَفْسِیْ وَغَلَبْنِیْ هَوٰایَ وَ اَعٰانفی عَلٰی ذُلِلَ شُقُوفِیْ ۔
(دعای ابو حمزہ ثمالی)
بار الہٰا!جب میں نے تیر گناہ کیا تو(اس وقت) میں تیری خدائی کا منکر نہیں تھا اور نہ تیرے حکم کو پست اور حقیر سمجھتا تھا۔اور تیرے عذاب کے وعدے کو حقیر نہیں جانتا تھا اور نہ تیرے سزا کی متعلق مجھے کسی قسم کا اعتراض تھا۔در حقیقت وہ گناہ جو مجھ سے ہواہے اسے میرے نفس نے ابھارا اور مجھے فریب دیا اور میری خواہش مجھ پرغالب آئی۔
ہر وہ گناہ جو تکبر و سر کشی کی بناء پر ہو وہ قابل بخشش نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کرنے والے کے کفر پر دلالت کرتا ہے اور یہاں سے ہی ابلیس کا کفر ظاہر ہوا جسیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا حکم خداوندی تھا لیکن اس نے سرکشی کی بناء پر اسے ترک کیااور کہا۔
( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مَنْ صَلْصٰالٍ مِنْ حَمَئاٍ مَّسْنُوْن ) (سورہ حجرات آیت ۳۳)
(ابلیس نے )کہا میں ایساتو نہیں ہوں کہ ایک ایسے آدمی کو سجدہ کروں جسے تونے سڑی ہوئی کھنکھن بولنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
خداوند عالم نے اس کے جواب میں فرمایا۔
( فَمٰا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْهٰا فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰاغِرِیْنَ ) (سورہ اعراف آیت ۱۳)
تو(بہشت سے)نیچے اتر جا کیونکہ تیری یہ مجال نہیں کہ تو یہاں رہ کر غرور کرے تویہان سے نکل جابیشک تو ذلیل افراد میں سے ہے۔خدائے بزرگ وبر ترنے یہ بھی فرمایا:اَبیٰ وَاسْتَکَبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰافِرِیْنَ(سورہ بقرہ آیت ۳۴) ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔
تکبر عزاریل راخوار کرد
بزندان لعنت گرفتار کرد
تکبر کی بناء پر دعا کو ترک کرنا بھی کفر ہے
دعا نہ کرنا اور عبادت خدا کو ترک کرنا اگر تکبر کی بنا پر ہو یعنی اپنے آپ کو اس(اللہ تعالیٰ)کا محتاج نہ سمجھتا ہو تو یہ بھی کفر اور ہمیشہ جہنم میں رہنے کا موجب ہے۔قرآن مجید میں خدائے بزرگ و برتر فرماتا ہے۔
( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکبِرُوْنِ عَنْ عِبٰادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰاخِرِیْنَ ) (سورہ مومن آیت ۶۰)
اور تمھارا پروردگار فرماتا ہے کہ تم مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری(دعا)قبول کروں گا جو لوگ ہماری عبادت سے سر کشی کرتے ہیں وہ عنقریب ہی ذلیل و خوار ہو کر یقینا جہنم واصل ہوں گے۔
تفیسر کا شفی میں لکھا ہے کہ دعا سے مراد سوال ہے یعنی طلب کرو۔ کیونکہ میرا خزانہ مالامال ہے اور میرا کرم آرزوں کو پورا کرتا ہے کون سا ایسا فقیر ہے جو اپنی حاجت لے کر میرے پاس آیا اور میں نے فوری طور پر اس کی حاجت پوری نہ کی ہو اورکون سا ایسا محتاج ہے جس نے سوال کے لئے اپنی زبان کھولی ہو اور میں نے اس کی توقع کے مطابق اس کی دعا قبول نہ کی ہو۔
چنانچہ دعا کی حقیقت یعنی ضرورت کی حالت میں عجز وانکساری سے پروردگار کے حضور سوال کرنا ۔یہی عبدیت اور خدائے واحد ی پرستش ہے پس جو کوئی تکبر کی بنا پر دعا کو ترک کرے یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج نہیں سمجھے اور اسے پرستش کے لائق نہ جانے تو یہ محض کفر اور جہنم میں ہمیشہ رہنے کا موجب ہے۔
امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
فَسَمَّیْتَ دُعٰاکَ عِبٰادَةً وَ تَرْکُهُ اِسْتِکْبٰاراً وَتَوَعَّدْتَ عَلٰی تَرْکِه دُخُوْلَ جَهَنَّم دٰا خِرِیْنَ ۔(صحیفہ سجادیہ دعاء ۴۵)
اے بار الہٰا! تیرے حضور سوال کرنے کو تونے عبادت نام رکھا(کیونکہ عبادت خداوند عالم کے حضور انتہائی ذلت ظاہر کرنا ہے اور اس کی سب سے اعلیٰ قسم اس سے سوال کرنا ہے یعنی محتاجی کی حالت میں خضوع و خشوع اور دکھے دل کے ساتھ) اور عبادت نہ کرنے کو تو نے تکبر کہا ہے کیونکہ خدائے عزوجل سے سوال نہ کرنا اپنے آپ کو خالق سے بے نیاز ظاہر کرنا ہے اور اس چیز کا انکار کرنا ہے کہ ہر شئے اس کی طرف سے ہے اور ہر مشکل کا حل اس کے توانا ہاتھ میں ہے۔
دوسرے مقام پر آپ فرماتے ہیں:
وَاِنَّ اَحَبَّ الْعِبٰادِ اِلَیْکَ مَنْ تَرَکَ الْاِسْتِکْبٰارَ وَجٰانَبَ الْاِصِرٰارَ وَلَزِمَ الْاِسْتِغْفٰارَ وَ اَنَااَبَرَْءُ اِلَیْکَ اَنْ اَسْتَکْبِرَ ۔ (صحیفہ سجادیہ دعاء ۱۲)
تیرے بندگان میں سے پسندیدہ ترین بندہ وہ ہے جو تکبر نہیں کرتے اور گناہ پر اصرار سے اجتناب کرے ہیں اور استغفار کر اپنا شیوہ بناتے ہیں اور میں تیرے سامنے اس بات سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں کہ میں تکبر کروں اور تجھے نہ پکاروں۔
حرمات الہٰی کے مقابل تکبر کرنا
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تکبر کی اقسام میں اسے ایسی چیزوں کے مقابل تکبر کرنا ہے کہ جس کا تعلق خداوند عالم کے ساتھ ہے اور حرمات الہیٰ سے ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی اور حرام مہینے خصوصاً ماہ مبارک رمضان اور بیت الحرام اور مشاہد بلکہ عام مساجد بھی کیونکہ قرآن مجید میں (اللہ تعالیٰ نے)بطور کلی مساجد کو اپنے آپ سے منسوب کیا ہے اور فرمایا ہے وَاَنَّ الْمَسٰاجِدَ لَلّٰہ۔سورہ جن آیت ۱۸) اور مساجد اللہ ہی کے لئے ہیں پس ان میں سے کسی بھی شئے کے مقابل تکبر کرنا اور اگر بے حرمتی کہلاتا ہو تو قطعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور درحقیقت خداوند عالم کے ساتھ تکبر ہے۔
سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( یٰا ایُّهٰا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لٰا تَحِلُّوا شَعٰائِٓرَ اللّٰهِ ) (سورہ مائدہ آیت ۲)
اے وہ وہ لوگو! جو ایمان لے کر آئے ہو(دیکھو)اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو۔یعنی خدائے عزوجل سے منسوب قابل احترام امور کی بے حرمتی کو حلال قرار نہ دے۔
تکبر دنیا اور آخرت کی ذلت کا سبب بنتا ہے
حُرمات الہیہ کے مقابل تکبر کرنا بلکہ تکبر کی تمام اقسام کے نتیجے میں دنیا اور آخرت کی ذلت و رسوائی مقدر بنتی ہے اس کے برعکس عاجزی وفروتنی کے نتیجے میں دنیا و آخرت میں عزت و شرف میں اضافہ ہوتا ہے۔رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں۔
مَنْ تَوٰاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعهُ اللّٰهُ وَمَنْ تَکَبَّرَ خَفَضَهُ اللّٰهُ (بحار الانوار جلد ۱۶ ۔باب التواضع صفحہ ۱۵۰)
جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے عاجزی و فروتنی کرے گا تو خدواند عالم اسے بلند کرے گا اور جو کوئی تکبر کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے پست کرے گا۔
شرح صحیفہ میں عمر بن شیبہ سے نقل کیا گیا ہے کہ اس نے کہا میں مکہ معظمہ میں صفا ومروہ کے درمیان تھا کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اونٹ پر سوار تھا اور اس کے غلام اس کے ارد گرد سے لوگوں کو دور کررہے تھے اور کسی کو قریب نہیں آنے دیتے تھے اس واقعے کے کچھ عرصے بعد میں بغداد گیا میں نے ایک نیم جان آدمی کو پابرہنہ اور بکھرے بالوں کے ساتھ دیکھا میں اسے دیکھ رہا تھا کہ اس نے مجھ سے کہا مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو۔میں نے کہا میں تم میں اس متکبر شخص کی شباہت پاتا ہوں جو صفا ومروہ کے درمیان متکبرانہ انداز میں سعی کر رہا تھا اور اس نے ایسی ایسی حرکتیں کیں۔ اس نے کہا میں وہی مرد ہوں ،میں نے کہا کس وجہ سے تم ان برے حالات کا شکار ہو گئے۔اس نے کہا اس جگہ جہاں سب لوگ فروتنی کرتے ہیں میں نے تکبر کیا پس خداوند عالم نے مجھے اس جگہ(بغداد میں) پست کر دیا جہاں ہر تمام لوگ بلندی کی طرف پرواز کرتے ہیں اور میرے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں۔
پیغمبر اور امام کے مقابل تکبر کرنا
پیغمبر اور امام کے مقابل تکبر یہ ہے کہ اپنے آپ کو ان کے برابر یا ان سے بر تر جانے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کیلئے تیار نہ ہو۔یعنی فرعون کے ماننے والوں کی طرح جو حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے سامنے تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے۔
( قٰالُوالَنْ نُومِنَ لَبَشَرَینِ مِثْلُنٰا ) ۔ (سورہ مومنون آیت ۴۷)
لوگ آپس میں کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی ایسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں(حالانکہ وہ ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے) اور وہ اسی طرح دوسرے لوگ جو پیغمبروں سے کہتے تھے( اَنْ اَنْتُمْ اِلّٰابَشَرٌ مِثْلُنٰا ) (سورہ ابراہیم آیت ۱۰) تم بھی بس ہماری ہی طرح کے آدمی ہو(اور ہم پر کوئی برتری نہیں رکھتے)۔
یا یہ کہتے تھے( لَوْلٰا اُنْزِلَ عَلَیْنٰاا لْمَلٰآئِکَتَهَ اَوْ نَرٰی رَبَّنٰا لَقَداسْتَکْبَرُوا فِی اَنْفُسِهِمْ وَعَتَوا عُتُواًکَبِیراً ) (سورہ فرقان آیت ۲۱)
آخر فرشتے ہمارے پاس کیوں نہیں نازل ہوئے؟ (یعنی کیونکہ ہم پیغمبر سے افضل ہیں اس لئے فرشتے ہم پر نازل ہونے چاہئیں) یا ہم اپنے پروردگار کو کیوں دیکھتے؟ان لوگوں نے اپنے جی میں اپنے کو (بہت) بڑا سمجھ لیا ہے اور بہت بڑی سر کشی کی ہے۔
اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے کلام کے بارے میں خداوند عالم فرماتا ہے۔
( وَاِنِّی کُلَّمٰا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَلَهُمْ جَعَلُوا اَصٰابِعَهُمْ فِی اٰذٰانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیٰا بَهُمْ وَاَصِرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبٰاراً ) ۔(سورہ نوح آیت ۶)
اور (اے پروردگار)میں نے جب ان کو بلایا کہ (یہ توبہ کریں)تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے ڈالیں (تا کہ میری آواز نہ سنے) اور (مجھ سے چھپنے کو)کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور بہت شدت سے اکڑبیٹھے۔
یا مثلاً قریش کا رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقابلے میں تکبر کرنا کہ وہ کہتے تھے:
( لَوْلٰا نُزِلَ هٰذَا الْقُراٰنَ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْم ) ۔ (سورہ زخرف آیت ۳۱)
یہ قرآن ان دو ہستیوں (مکہ و طائف)میں کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔یعنی وہ یتیم نوجوان جو مال وجاہ نہیں رکھتا پیغمبری کے لائق نہیں اور قرآن کی ایسے شخص پرجو ظاہری رعب ودبدبہ رکھتا ہے (مثلاً ولید بن مغیرہ اور ابو مسعو ثقفی(اس پرکیوں نازل نہیں ہوا تاکہ ہم اس کی پیروی کریں۔
در حقیقت پیغمبر وامام کے ساتھ تکبر کرنا خدا تعالیٰ کے ساتھ تکبر کرنا ہے۔چنانچہ پیغمبر و امام کے نمائندوں کے ساتھ تکبر اور ان کے نمائندے ہونے کی بناء پر ان کی اطاعت نہ کرنا در حقیقت پیغمبر و امام بلکہ خداوند عالم سے تکبر کرنا ہے۔چنانچہ وہ باعمل علماء اور ہدایت یافتہ فقہاء جو کہ اس زمانے میں عمومی نائبین ہیں اور حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے نمائندے ہیں(احکام کی اطاعت میں )ان کے ساتھ تکبر کرے یا ان کی توہین کرے اور جو احکام خداوندی انہوں نے بیان کئے ہیں اس میں(ان کی)اطاعت نہ کرے اوراپنے گفتاوکردار سے یہ ظاہر کرے کہ تم کون ہوتے ہو جو میں تمہاری پیروی کروں تو یقینا اس نے پیغمبر اور امام کے سامنے تکبر کیا ہے اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے مترادف ہے۔
عالم کے ساتھ تکبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ تکبر ہے :
( اَلٰا لٰا تُکَذِّبُوْا عٰالِماً وَلٰا تَرُدُّوْا وَعَلَیْهِ وَلٰا تَبْغِضُوْهُ وَاَحَبُّوهُ فَاِنَّ حُبَّهُمْ اِخْلٰاصٌ وَبُغْضُهُمْ نِفٰاقٌاَلٰا وَمَنْ اَهٰانَ عٰالَماً وَقَدْ اَهٰانَنِیْ وَمَنْ اَهٰانَنِی فَقَدْ اَهٰانَ اللّٰه وَمَنْ اَهٰانَ اللّٰهَ فَمَصِیْرَهُ اِلَی النّٰاراَلٰا وَمَنْ اَکْرَمَ عٰالِماً فَقَدْ اَکْرَمَنِی وَمَنْ اَکْرَمَنَی فَقَدْ اَکْرَمَ اللّٰهِ وَمَنْ اَکْرَمَ اللّٰهَ فَمَصِیْرَه اِلٰی الْجَنَّه ) ۔(لئالی الاخبار ج ۲ ص ۲۶۸)
خبردار عالم کی تکذیب نہ کرو اور اس کی بات رد نہ کرو اور اس سے دشمنی نہ رکھو اس کو دوست رکھو کیونکہ علماء سے دوستی اخلاص کی علامت ہے۔اور ان سے دشمنی نفاق ہے۔آگاہ ہو جاو کہ جو کوئی عالم کی توہین کرے اس نے میری توہین کی اور جس نے میری توہین کی اس نے اللہ کی توہین کی اور جس نے اللہ کی توہین کی اسکی جگہ دوزخ میں ہے۔اور یاد رکھو جس نے عالم کو عزت دی اس نے مجھے عزت دی اور جس نے مجھے عزت دی اس نے اللہ کو عزت دی اور جس نے اللہ کو عزت دی تو اس کا ٹھکانہ بہشت ہے۔
تکبر کرنے والے جہنمی ہیں
یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ وہ آیات جو تکبر کرنے والوں کے ہمیشہ جہنم میں رہنے پر دلالت کر تی ہیں ان سے مراد دو قسم کا تکبر ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر و امام کے ساتھ تکبر کرنا۔کیونکہ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ یہ دونوں تکبر خالق کائنات کے انکار اور اس پر ایمان نہ لانے کا سبب ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ایمان کے بغیرمرے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
شہید کتاب قواعد میں فرماتے ہیں کہ تکبر گناہ ہے اور اس بارے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں جیسا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں۔
لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ مَنْ فِیْ قَلْبِهِ مِثْقٰالَ ذَرَّةٍ مِنَ الْکِبْرِ
(قواعد شہید۔بحار جدید ج ۳ س ۷۳)
وہ شخص ہر گز بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو۔
اس کے بعد فرماتے ہیں کہ (تکبر)سے مرد ایسا تکبر ہے جو کفر کی حد تک پہنچا دے (یعنی اللہ تعالیٰ اور پیغمبر اکرم کے ساتھ تکبر کرنا)اور اگر مراد اس تکبر کے علاوہ ہو۔یعنی دیگر لولگوں کے ساتھ تکبر کرنا تو پھر اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ غرور کرنے والا انکساری سے پیش آنے والے مومن کے ساتھ ہر گز بہشت میں نہیں جائے گا۔بلکہ اس سے قبل ایک مدت تک آگ میں رہے گا۔(شہید کا قول یہاں اختتام پذیر ہوا)پہلی تفسیر بہتر ہے اور اس حدیث پر دلالت کرتی ہے کہ محمد بن مسلم نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ امام (علیہ السلام) نے فرمایا۔
لٰا یَدْخُلُ الْجَنََّة مَنْ کٰانَ فِیْ قَلْبِهِ مِثْقٰالٰ حَبَّةٍ مِّنَ خَرْدَلٍ مِنَ الْکِبْرِقٰالَ فَاسْتَرْ جَعْتُ! فَقٰالٰ عَلَیهِ السَّلاٰمُ مٰالَکَ تَسْتَرْجَع؟قُلْتُ لَمَّا سَمِعْتُ مِنْکَ فَقٰالٰ لَیْسَ حَیْثُ تَذْهَبُ اِنَّمٰا اَعْنِیْ الْجُحُوْد وَاِنَّمٰا هُوَالْجُحُودَ (کافی ص ۳۱۰)
جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو تو وہ بہشت میں نہیں جائے گا۔محمد بن مسلم کہتا ہے میں نے کہا" اِنّٰا لِلّٰہِ وَاِنّٰااِلَیْہِ رٰاجِعُوْنَ "امام (علیہ السلام) نے فرمایا تم نے آیت استرجاع کیوں پڑھی؟ میں نے کہا جو آپ سے سنا ہے اس کے لئے۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا۔جو تم نے سمجھا وہ نہیں ہے جان لو،اس سے میری مراد جحود و انکار ہے۔ایک اور موقع پر فرمایا اس عبارت سے مراد حجوداور انکار ہے (یعنی وہ تکبر جو جنت میں داخل ہونے میں رکاوٹ بنے ایسا تکبر ہے جو حق سے انکار اور خدا و رسول وامام سے انکار پر مشتمل ہو ۔لیکن ایمان کے ہوتے ہوئے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والے کے لئے ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی بھی وقت عذاب سے نجات نہ ہو۔)
لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا
تیسری قسم لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا ہے۔یعنی اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو چھوٹا سمجھے ۔اور ان پر بڑائی ظاہر کرے اور اپنے آپ کو ان سے بر تر قرار دے اور ان کے برابر ہونے کو برا سمجھے،راستہ چلنے میں ان سے آگے چلے۔مجالس میں سب سے آگے بیٹھنا چاہے،سب سے سلام و انکساری کی امید رکھے۔اگر کوئی اسے نصیحت کرے تو اس سے نفرت کرے اور قبول نہ کرے۔اور جب کوئی غلط بات کہے اور اسے ٹوک دیا جائے تو غضبناک ہو جائے۔اگر کسی کو کوئی بات سکھا دے تو اس کے ساتھ نرمی ومہربانی کے ساتھ پیش نہ آئے اور اس پر بڑا احسان جتائے۔اس سے خدمت گزاری کی توقع رکھے۔
المختصر اپنے آپ کودوسروں سے بر تر سمجھے اور قرار دے جیسا کہ اپنے آپ کو حیوانات سے اعلٰی و برتر سمجھتا ہے۔اور اگرمال ومنصب رکھتا ہو تو اس بات کے لئے آمادہ نہیں کہ غریبوں،محتاجوں اور بوڑھوں کے ساتھ نمازجماعت اور دینی اجتماعات میں شرکت کرے، درحقیقت ایسے شخص نے خدائے بزرگ وبرتر کی مخصوص صفت یعنی عظمت و کبریائی میں اپنے آپ کو اس کا شریک قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا۔یعنی بادشاہ کے غلام کی طرح ہے جو بادشاہ کے تاج کو اپنے سر پر رکھے اور بادشاہ کے تخت پر بیٹھے۔ایسا بے حیا بندہ قہر وغضب کا مستحق ہے اورتمام عقلاء اسے سرزنش کرتے ہیں۔ کیونکہ تمام افراد بشر خداوند عالم کے بندے ہیں۔اس بنا پر سب مساوی اور برابر ہیں پس اگر ان میں سے کوئی دوسروں کو اپنے سے پست سمجھے اور ان کے سامنے تکبر کرے تو اس نے خداوند تعالیٰ کے ساتھ اس چیز میں جنگ کی ہے جو صرف خداوند تعالیٰ کے لائق ہے۔
بعض وہ روایات کے جو لوگوں کے ساتھ تکبر کرنے اور اس کے عذاب کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔بحث کی ابتداء میں ان کا ذکر ہو چکا ہے امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اَلکِبْرُ اَنْ تَغْمَْصَ النّٰاسَ وَتَسْفَهَ الْحَقَّ (کافی ج ۲ ص ۳۱۰)
تکبر یہ ہے کہ لوگوں کو چھوٹا سمجھو اورذلیل گردانو اور حق کو نادانی جانو۔
علامہ مجلسی فرماتے ہیں یعنی حق کے سامنے نادانی اور سفاھت کرے۔اوراسے قبول نہ کرے یا یہ کہ حق کو حقیر جانے اور اس کی اہمیت کو نہ سمجھے۔پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں۔
اِنَّ اَعْظَمَ الْکِبرِ غَمْصَ الْخْلْقِ وَسْفِه الْحَقِّ ۔
سب سے بڑے درجے کاتکبر مخلوق کو ذلیل سمجھنا اور حق کو حقیر جاننا ہے۔یعنی حق کو نظر انداز کرے اور حق پر ستوں کو طعنہ دے۔(کافی ج ۲ ص ۳۱۰)
عمر بن یزید نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا میں اچھی خوارک کھاتا ہوں،اچھی خوشبو لگاتا ہوں،اور عمدہ گھوڑے پر سواری کرتا ہوں اور غلام میرے ساتھ ہوتے ہیں۔تو کیا میرا یہ طرز تکبر ہے ،تاکہ میں اسے چھوڑ دون۔امام (علیہ السلام) نے سر جھکا لیا اور اس کے بعد فرمایا یاد رکھو متکبر ملعون وہ ہے جو لوگوں کو حقیر سمجھے اور حق کو نظر انداز کرے عمر نے کہا حق کو تو سمجھتا ہوں لیکن نظر انداز کرنے کے معنی نہیں سمجھتا۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا۔
مَنْ حَقَرَ النّٰاسَ وَ تَجَبَّرَ عَلَیْهِمْ فَذٰالِکَ الْجَبّٰارِ ۔(کافی ج ۲ ص ۳۲۱)
جو کوئی لوگوں کو حقیر جانے اور ان پر اپنے بڑائی ظاہر کرے وہ متکبر ہے
اور چونکہ لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے بعض قسموں کا قرآن مجید اور روایات میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔یاد دہانی کے لئے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
لوگوں کے ساتھ تکبر ازروی قرآنا
سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرمایا ہے:
( وَ اِذٰا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اَللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثِمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمَ وَلَبِئْسَ الْمِهٰادُ ) ۔
اور جب (کافروں اور منافقوں سے )کہا جاتا ہے خدا سے ڈرو(اور گناہ اور فساد کو ترک کروتو جاہلیت اور شان و شوکت اسے ابھارتی ہے اور جب خدا کا نام اور اس سے ڈرنے کا سنتا ہے توبیہودہ باتیں کرنے لگتا ہے)غرور اسے ابھارتا ہے پس(ایسے کم بخت کے لئے )جہنم(ہی)کافی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
(سورہ بقرہ آیت ۲۰۶)
عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا گیا ہے کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ خدا سے ڈرو۔اِتَّقِ اللّٰہ،تو وہ جواب میں کہے عَلَیْکَ نَفْسَکَ جاو تم اپنی جان کی فکر کرو اس بنا پر اگر کوئی کسی سے بھلائی کے لئے یہ کہے کہ خدا سے ڈرو اور فلاں گناہ کو چھوڑ دو اور وہ خدا کا نام سن کر انکساری کرنے کے بجائے تکبر کرے اور برے الفاظ استعمال کرے۔مثلاً کہے تم بیوقوف ہو تمہیں ان باتوں سے کیا سروکار تم جاو پہلے اپنے آپ کو صحیح کرو۔تمہارا حساب مجھ سے الگ ہے یایہ کہ گناہ کو ترک کرنے کے بجائے اس پر اصرار کرے اور زیادہ گناہ کرنے لگے تو ایسا انسان اس آیت شریفہ کا مصداق ہے۔
اس کی مثال ایسی ہے کہ ہر حق کے قبول کرنے میں اس کا تکبر رکاوٹ بن جائے اور اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے۔
مثلاً کوئی شخص مناظرہ کے وقت مد مقابل سے کوئی حق بات سنتا ہے لیکن اس کا تکبر اس کی بات قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور وہ باطل ہے ہٹتا نہیں تو یہ بات منافقوں کی صفات و اخلاق میں سے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( وَقٰالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لا تَسْمَعُوْا لِهٰذَاالْقُرْاٰنَ وَالْغَوْافِیهِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ ) ۔ (سورہ حٓم سجدہ آیت ۲۶)
اور جو لوگ کافر ہو گئے آپس میں کہنے لگے اس قرآن کو سنو ہی نہیں اور جب پڑھیں(تو)اس (کے بیچ )میں غل مچا دیا کروتا کہ (اس ترکیب سے)تم غالب آجاو۔
سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَلٰا تُصَعِّر خَدَّکَ للِنّٰاسِ وَلٰا تَمْضِ فِی الْاَرْضِ مَرَحاً اِنَّ اللّٰهَ لٰا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتٰالٍ فَخُوْرٍ ) ۔ (سورہ لقمان آیت ۱۸)
اورلوگوں کے سامنے(غرور سے )اپنا منہ نہ پھلانا(یعنی ملاقات کے وقت لوگوں سے انکساری کے ساتھ گفتگو و سلام کرو اور ان کی طرف سے منہ نہ پھیرو جیسا کہ متکبرین لوگوں کے ساتھ خصوصاًفقرآء کو حقیر و پست سمجھتے ہوئے کرتے ہیں۔یاد رکھو امیر و غریب سے ملتے ہو ئے یکساں رویہ ہونا چاہئے)اورزمین پر اکڑ کر نہ چلنا(جاہلوں اور دنیا پرستوں کی طرح جو شدید خوشی اور غرور کی حالت میں زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں)بلاشبہ خدا کسی اکڑنے والے(متکبرانہ انداز میں چلنے والے) اور اترانے والے (جو اپنے مال ونعمت کی بنا پر لوگوں کے سامنے تکبر کرتے ہیں)کو دوست نہیں رکھتا ہے۔
اور سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( یَا اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لٰا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسیٰ اَنْ یَّکُوْنُوا خَیْراً مِنْهُمْ وَلٰا نِسٰآءً مِّنْ نِسٰآءً عَسیٰ اَنْ یَّکُنَّ خَیْراً مِّنْهُنَّ وَلٰا تَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُمْ وَلٰا تَنٰا بَزُوا بِالْاِلْقٰابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیمٰانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فٰاولٰئِکَ هُمُ الظّٰالَمُوْنِ ) (سورہ حجرات آیت ۱۱)
اے ایماندارو(تم میں سے کسی قوم کا)کوئی مرد(دوسری قوم کے )مردوں کی ہنسی نہ اڑائے(یعنی دوسرے کو چھوٹا اور حقیر نہ سمجھے)ممکن ہے وہ لوگ(جن کا مذاق اڑایا جائے وہ خدا کے نزدیک)بہتر ہوں اور نہ عورتیں،عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ممکن ہے وہ عورتیں(جن کا مذاق اڑایا گیا )ان سے مذاق اڑانے والیوں سے اچھی ہوں اور تم آپس میں ایک دوسرے کو طعنے نہ دہ(یعنی اپنے ہم مذہبوں کو کیونکہ مومنین ایک نفس کی مانند ہیں جو بھی کوئی دوسرے پر عیب لگائے تو گویا اس نے اپنے آپ پر عیب لگایا)ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو ایمان لانے کے بعد بد کاری(کا)نام ہی برا ہے جو لوگ بازنہ آئیں تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں (کہ اپنے آپ کو خداوندعالم کے غضب اور عذاب کا مستحق قرار دیا۔
در حقیقت جو بھی کسی مسلمان کو پستی و حقارت کی نگاہ سے دیکھے اور اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے تو وہ ابلیس کی مانند ہو گا کہ جس نے حضرت آدم کو حقارت سے دیکھا اور اپنے آپ کو ان سے بر ترجانا اور کہنے لگا :
( اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِی مِنْ نٰارٍ وَّخَلَقْتَهُ مِنْ طِیْنٍ ) (سورہ صٓ۔آیت ۷۶)
میں اس (آدم )سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا(کہاںآ گ اور کہاں مٹی)۔
خداوند عالم نے کہا:
( لَاَمْلَئنَّ جَهَنَّم مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ ) ۔ (سورہ صٓ۔آیت ۸۵)
میں تجھ سے اور جو لوگ تیری تابعداری کریں گے ان سب سے جہنم کو ضرور بھر دوں گا۔(اس طرح اس نے اپنے آپ کو ابدی ہلاکت تک پہنچا دیا۔
مال ودولت کی نمائش کرنا بھی تکبر
اپنے مال وجاہ،ثروت ومکنت کی نمائش اور اسے لوگوں پر ظاہر کرنا ۔فخرومباہات کرنا یہ بھی لوگوں کے ساتھ تکبر ہے ۔جیسا کہ خداوند عالم سورہ قصص میں فرماتا ہے:
( اِنَّ قٰارُوْنَ کٰانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسیٰ فَبَغَنٰی عَلَیْهِمْ فَخَرَجَ عَلیٰ قَوْمِه فِیْ زینته ) ۔ (آیت ۷۶ اور ۸۰ سورہ قصص)
بے شک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا۔تو اس نے ان پر سر کشی شروع کی (ایک روز ہفتہ کے دن قارون)اپنی قوم کے سامنے انتہائی زیب و زینت اور ٹھاٹھ کے ساتھ نکلا(وہ سفید گھوڑے پر جس کی زین سنہری تھی۔ارغوانی لباس پہن کر بیٹھا اور اسی عالم میں اپنے ساتھ چار ہزار افراد کو ہمراہ لے کر آیا اور اپنی ثروت وجلال کی اپنی قوم کے سامنے نمائش کی)حکایت کے آخر تک کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔
بحار الانوار میں مروی ہے :
وَنَهٰی رَسُوْلُ اللّهِ (صلی الله علیه و آله) اَنْ یَّخْتٰالَ الرَّجُلَ فِیْ مَشِیْه وَقٰالَ مَنْ لَبِسَ ثَوْباً فَاخْتٰالَ فِیْه خَسَفَ اللّٰهُ بِه فِیْ شَفِیْرِ جَهَنَّمَ وَ کَانَ قَرِیْنَ قٰارُوْنَ لِاَنَّهُ اَوَّلَ مَنِ اخْتٰالَ فَخَسَفَ اللّٰهُ بِه وَبِدٰارِهِ الْاَرْضَ وَمَنْ اخْتٰالَ فَقَدْ نٰازَعَ اللّٰهُ فِیْ جَبَرُوْتِه وَقٰالَ (صلی الله علیه و آله) فِیْ اٰخِرِ خُطْبَتَهِ (صلی الله علیه و آله) وَمَنْ یَغیٰ عَلٰی فَقِیْرٍ اَوْ تطَاوَلَ عَلَیْه اَوْ اِسْتَحَقَرهُ حَشَرَهُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰامتَهِ مِثْلَ الذَّرّهِ فِیْ صُورَةِ رَجُلٍ حَتّٰی یَدْخُلَ النّٰارَ ۔
(بحار الانوار جلد ۱۶ ۔بحار الانوار جدید ج ۷۶ ص ۷۶)
جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے غرور و تکبر کے انداز میں چلنے سے منع فرمایا۔ جو کوئی عمدہ لباس پہن کر اس پر ناز کرے تو خداوند عالم اسے جہنم کی آگ کے اس حصے سے نیچے لے جائے گا جہاں اس کو دوزخ میں قارون کا ساتھی بنائے گا کیونکہ وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے غرور وتکبر کیا۔اسی وجہ سے خداوندعالم نے اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔ پس جو کوئی عظمت الہیٰ کے مقابل غرور کرے اس نے خدا سے جنگ کی۔اور فرمایا جو بھی محتاج کے سامنے ماتھے پر بل ڈالے یا اس پر ظلم کرے یا اسے حقیر سمجھے تو حق تعالیٰ اسے باریک چیونٹوں کی طرح انسانی صورت میں محشور فرمائے گا۔اور اسے جہنم میں داخل کرے گا۔
تکبر کرنے والے حقیقی معنوں میں دیوانے ہیں
اس کے علاوہ بحار الانوار میں نقل کیا گیا ہے۔
مرَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) عَلٰی جَمٰاعَته فَقَالَ مٰااجْتَمَعْتُمْ؟فَقٰالُوْا یٰا رَسُوْلَ اللّهِ هٰذَا مَجْنُونٌ یَصْرَعُ فَاجْتَمَعْنٰا عَلَیْهفَقٰالَ لَیْسَ هٰذا مَجْنُونٌ وَلٰکِنَّهُ الْمُبْتَلیٰثُمَّ قٰالَ الَاٰ اُخْبِرکُمْ بَالْمَجْنُونِ حَقَّ الْمَجْنُوْنِ؟ قٰالُوا بَلیٰ یٰا رَسُوْلَ اللّٰهِ!قٰالَ الْمُتَبَخْتَرُ فِیْ مَشْیَه اَلنّٰاظِرُفِی عِطْفَیهالمَحُرَّکُ جَنْبَیهِ بِمَنْکَبَیْهِ یَتَمَنّیٰ عَلَی اللّٰهِ جَنَّتَهُ وَ هُوَ یَعْصِیهَ اَلَّذِیْ لٰایُومِنُ شَرَّهُوَلٰا یُرْجٰی خَیْرَهُ فَذٰالِک الْمَجْنُوْنَوَهٰذاالْمُتْبَلٰی
(بحارالانوار جلد ۱۵ ۔باب الکبر ص ۲۵ جلد ۷۳ جدیدص ۲۳۳)
ایک روز رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ایک گروہ کے سامنے سے گزر ہوا جو ایک جگہ پر جمع تھے۔رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے پوچھا تم یہاں کیوں جمع ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا یہاں ایک دیوانہ ہے جو طرح طرح کی حرکتیں کر رہا ہے ۔آپ نے فرمایا یہ مجنوں نہیں بلکہ مرض میں مبتلا ہے۔اس کے بعد فرمایا کیا میں تمہیں حقیقی مجنوں بتادوں؟اصحاب نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ۔اس کے بعد فرمایا دیوانہ تو وہ ہے جو راستہ چلتے ہوئے اترائے اور تکبر کی بنا پر (چلتے ہوئے) دائیں بائیں دیکھے (اپنے آپ پر ناز کرے) اور اپنے کاندھوں اور پہلووں کو متکبرانہ انداز میں ہلائے۔اور خدائے عزوجل سے بہشت کی تمنا کرے۔حالانکہ وہ معصیت خداوندی میں مشغول ہے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ نہ ہوں اور نہ ہی اس سے کوئی بھلائی کی امید رکھتے ہوں تو یہ ہے دیوانہ۔
اپنے آپ کی پاکیزہ کو ظاہر کرنا بھی تکبر ہے
اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ،صاحب مقام اور عالی مرتبت سمجھتا اور پاکیزہ ظاہر کرنا بھی تکبر کے موارد میں سے ہے۔اور سورہ نجم کی آیت ۳۲ میں صراحتاً اپنے آپ کو پاکیزہ ظاہر کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔فَلٰا تُزَکُّوا انِفْسُکَمُ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقیٰ
اپنے نفس کی پاکیزگی نہ جتایا کروجو پرہیز گار ہے اسے وہ (خدا)خوب جانتا ہے۔
سورہ نساء َ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( اَلَمْ تَرَالِیَ الَّذِیْنَ یُزَکُّونَ اَنْفُسَهُمْ بَلِ اللّٰهُ یُزَکِّی مَنْ یّٰشٰآء وَلٰا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰهِ الْکَذِبَ وَکَفٰی بِهِ اِثْماً مُّبِیْناً ) ۔ (سورہ نسآء آیت ۵)
(اے رسول)کیا تم نے ان لوگوں (کے حال)پر نظر نہیں کی جو آپ بڑے مقدس بنتے ہیں(گروہ یہود کی مانند جو قسم کھاتے ہیں کہ ہم ہر گناہ سے پاک ہیں)بلکہ خدا جسے چاہتا ہے مقدس بناتا ہے۔اور ظلم تو کسی پر بال برابر ہو گاہی نہیں۔اے رسول دیکھو تو یہ لوگ خدا پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں(جیسا کہ یہودی کہتے تھے کہ ہم پاک ہیں اوراہل بہشت میں سے ہیں۔اور انصارا کہتے تھے ہم خدا کے دوست ہیں اور اہل بہشت ہم ہیں)اور کھلم کھلا گناہ کے لئے تو بس یہی کافی ہے۔
اور کبھی علم کے لحاظ سے اپنی بڑائی ظاہر کرنا مثلاً یہ کہے کہ میں بہت سے علوم کا مالک ہوں فلاں استاد وفلاں بزرگ کو میں نے دیکھا ہے۔فلاں علم کی خا طر میں نے بڑی زحمت اٹھائی ہے۔اور کبھی عبادت کے لحاظ سے اپنی بڑائی ظاہر کرتا ہے ۔مثلاًیہ کہے کہ میں نے کئی سال راتوں کو جاگ کر عبادت کی اور دن میں روزے رکھے۔فلاں کے پاس میرے برابر مال ہے لیکن اس نے ابھی تک حج نہیں کیا جبکہ میں کئی دفعہ حج اور زیارات کے لئے جا چکا ہوں اور اسی طرح دوسرے کلمات وغیرہ ادا کرے۔
اور کبھی صراحتاً نہیں بلکہ ضمناً اپنی بڑائی ظاہر کرنا مثلاً یہ کہے کہ فلاں آدمی نے مجھ پرظلم کیا اور(نتیجتاً)مرگیا یا (مجھ پر ظلم کرنے کی وجہ سے )فلاں مرض میں مبتلا ہو گیا۔یا محتاج ہو گیا۔یعنی اس کا مقصد اپنے آپ میں کرامت ظاہر کرنا ہو یا یہ کہے کہ میں نے خداوند عالم سے فلاں حاجت طلب کی تو فوراً میری حاجت پوری ہوگئی۔یعنی اس کے کہنے کا مقصد یہ ہو کہ میں مستجاب الدعوت ہوں۔
المختصر اقوال و افعال کے لحاظ سے تکبر کی بہت سی قسمیں ہیں بعض علمائے ربانی نے فرمایا ہے کہ اپنی عزت کی حفاظت کرنے کیلئے حسد ، عقد،غصے ،عجب دکھاوا،جھوٹ،غیبت اور تہمت وغیرہ میں سے ایسی کوئی بد بختی نہیں کہ جسمیں تکبر کرنے والا مبتلا نہ ہو اور اپنی عزت وشان کے کم ہونے کے خوف سے اخلاق حسنہ میں سے کوئی اچھی بات نہیں کہ جس سے متکبر محروم نہ ہو۔ مثلاً تواضع،غصے کو پینا،عفو و درگذر،سچائی ،مومنین سے دوستی وغیرہ۔جو کہ ایسی صفات سے متصف ہونا تکبر کرنے والا اپنی کمزوری اور عیب سمجھتا ہے۔بہت کم افراد اس مہلک مرض سے محفوظ ہیں اور اکثر افراد اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ کہ وہ اس بیماری سے بچے ہوئے ہیں حالانکہ وہ اس میں مبتلاء علمائے اخلاق نے اس کی علامات بیان کی ہیں کہ جو کوئی بھی ان علامات کو اپنے اندر پائے تو وہ جان لے کہ اس شجرہ خبیثہ کی جڑیں اس کے قلب میں موجود ہیں اور اسے چاہئے کہ اپنی اصلاح کی کوئی تدبیر کرے۔
تکبر کی علامات
( ۱) جب ہم مرتبہ لوگوں سے گفتگوکریں اور حق بات ان کی زبان پر جاری ہو جائے جس کا قبول کرنا اس کے لئے گراں ہو اور اس کے چہرے سے خوشی و بشاشت ظاہر نہ ہو توظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ متکبر ہے۔
( ۲) اگر تقاریب و محافل میں اس مقام پرجو اس کے لائق ہے اسے نیچے بیٹھنا اس کے لئے گراں ہو یا راستہ چلتے ہوئے سب سے پیچھے چلنا اسے برا لگے تو وہ متکبر ہے۔
( ۳) اگر کسی شخص کو اپنے سے چھوٹے یا ماتحت کو سلام میں پہل کرنا گراں گزرے تو وہ متکبر ہے۔
( ۴) اگر فقیر و محتاج کی حاجت پوری کرنے کے لئے اس کی دعوت قبول کرنا یا اس کے نزدیک بیٹھنا گراں گزرے تو یہ تکبر کی علامت ہے۔
( ۵) اگر کسی شخص کو ضروریات زندگی کی گھریلواشیاء بازار سے خریدنا اور ہاتھ میں اٹھا کر گھر لانا برا لگے تو وہ متکبر ہے۔مگر یہ کہ مقتضای زمان ومکان اور اس کی حالت اور شان کے مطابق اس کا یہ عمل واقعاً براہو اور لوگوں کے غیبت کرنے کا سبب بنے۔
( ۶) اگر کسی شخص کو سستایا پھٹا پرانا لباس پہننا گراں گزرے اور قیمتی و فاخر لباس پہننے کا خواہش مند ہو اور اسے شرف و بزرگی سمجھتا ہو تو وہ متکبر ہے سوائے اس کے کہ وہ پرانالباس اس کی بے حرمتی کا سبب بنے جیسا کہ ذکر ہوا ہے۔
( ۷) اگر نوکر یا شاگرد کے ساتھ ایک دستر خواں پر بیٹھنا ناپسند کرے اور یہ اس کے لئے گراں ہو تو یہ تکبر کی علامت ہے۔
تکبر کے گناہ کبیرہ ہونے ،اس کے معنی اور اقسام جاننے کے بعد ضروری ہے کہ اس کا حل بھی جانیں اور اس کا علاج علمی اور عملی طریقے سے معلوم ہونا ضروری ہے۔
تکبر کے مرض کا عملی علاج
تکبر (کے مرض )کا عملی علاج یہ ہے کہ انسان اپنی ابتدائے خلقت کے بارے میں فکر کرے اور اس بات کو ذہن میں رکھے کہ وہ ایک بد بو ددار ناچیز نطفے سے پیدا ہو اہے کہ جو تمام افراد کے نزدیک نجس ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے ۔"( فَلْیَنْظِرُ الْاِنْسٰانَ مِمَّا خُلِقَ مَنْ مّآءٍ دٰافِق ) "یعنی انسان کو چاہئے کہ وہ غور فکر کرے اور دیکھے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے یعنی جہندہ اور بد بودار پانی سے(کہ جس میں نہ آنکھ نہ کان،نہ ہاتھ نہ پیر ، نہ زبان نہ دماغ کچھ بھی تو نہ تھا اور یہ تمام چیزیں بھی خدائے بزرگ وبرتر نے عاریتاً دی ہیں۔)
دوسرے پست ترین مقام سے پیدا ہوا ۔بلاشبہ انسان ہر لحاظ سے کمزور تھا۔ اور(خداوند عالم نے) اسے تدریجاً قوت عطا کی لیکن (یاد رکھنا چاہئے کہ)اسکی قدرت وقوت اس قدر محدود ہے کہ جس میں ہزار ہا قسم کی کمزوری و ناتوانائی ہے۔چنانچہ اس (انسان)کو بھوک ،پیاس اور نیند میں مبتلا فرمایا۔یعنی کھائے،پئے اور سوئے بغیر اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے اور اسی طرح اسے لباس ومسکن کا محتاج بنایا اور اس کے لئے کئی قسم کے امراض اور آفات وبلیات ہیں کہ جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا اور طب قدیم میں انسانی امراض کی چار ہزار اقسام کا ذکر ہے۔
اور ہر وقت انسان کے پیٹ میں(نجس )پیشاب و پاخانہ موجود رہتا ہے کہ اگر خداوند عالم اسے پوشیدہ نہ رکھتا تو اس کی تیز بد بو سے انسان کے لئے زندگی گزارنا ممکن نہ ہوتا ۔
کتاب عدد السنہ میں تحریر ہے کہ جب ایاز محمود بادشاہ کا سب سے زیادہ مقرب بن گیا تو اس کے حاسد اسے اس مقام سے گرانے کی کوشش کرنے لگے اور ایک دن وزراء میں سے دہ آدمی سلطان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ایاز نے بے شمار روپے پیسے اور جواہرات چوری کئے ہیں اورا نہیں ایک حجرے میں چھپا کر تالا لگا دیا ہے اور ہر روز صبح سب سے پہلے وہاں جاتا ہے اور کسی کو وہاں جانے نہیں دیتا۔یہ سن کر سلطان شک میں مبتلا ہو گیا اور کہاکل جب ایاز میرے پاس آئے تو تم لوگ وہاں جاو دروازہ کھولو اور جو بھی روپے پیسے وجواہرات جمع کئے ہیں انہیں لے آو۔دوسرے دن کچھ لوگ بیلچہ،کدال ،تھیلے اور قلیوں کو لے کر گئے اور تالا توڑ کر حجرے میں داخل ہوئے ۔لیکن انہوں نے وہاں کچھ نہ پایا سوائے ایک سوتی چادر کے اور ایک چمڑے کی چپل کے۔تو انہوں نے کہاکہ خزانہ یہاں ضرور دفن ہوگا ورنہ اس پھٹی پرانی چادر اور چپل کے لئے اس تالے اور ہر روز یہاں تنہاآنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے زمین کھودی لیکن کوئی چیز نہ ملی انہوں نے بادشاہ کو خبر دی تو بادشاہ نے ایاز سے پوچھا کہ اس حجرے میں سوائے ایک چادر اور ایک چپل کے کچھ بھی نہیں ہے پس اسے تالا ڈالنے اور ہر روز وہاں تنہا جانے کا کیا سبب ہے۔ایاز نے کہا آپ کاغلام بننے سے پہلے میرا یہی لباس تھا۔لیکن آپ کا غلام بننے کے بعد مجھے ہر چیز میسر آگئی۔کیونکہ انسان کے نفس میں سرکشی اورعجب پیدا ہو جاتا ہے اس لئے میں اس حجرے میں اپنا بوسیدہ اور پرانا لباس اور چپل دیکھنے جاتا ہوں تا کہ میں غرور و تکبر میں مبتلا نہ ہو جاوں اور یہ یاد رکھوں کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے سب بادشاہ کے لطف وکرم کی وجہ سے ہے اور عاریتاً ہے۔اس کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں۔
یقینا انسان اور اس کی کمزوریاں جو اسے اس کی خواہشات تک پہنچنے نہیں دیتیں بے شمار ہیں جیسا کہ انسان چاہتا ہے وہ بہت سی چیزوں کو جان لے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتا ۔وہ چاہتا ہے کہ اسے فلاں بات یاد رہے لیکن وہ فراموش کر دیتا ہے،چاہتا ہے کہ کسی چیز کو مثلاً کسی گناہ کو بھول جاتے ہیں ایسا نہیں کر سکتا اور چاہتا ہے کہ اس کے حواس یکجا ہوں اور فکروں اور وسوسوں کوا پنے سے دور کر دے لیکن ایسا نہیں کر سکتا اورایسی چیز کی طرف رغبت رکھتا ہے کہ جس کی ہلاکت ہے۔لیکن اپنی عادت اور غیر معمولی دلچسپی کی بناء پر وہ اسے ترک نہیں کر سکتا حالانکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ چیز اس کے لئے نقصان دہ ہے اور بعض اوقات وہ اس چیز کو برا سمجھتا ہے کہ جس میں اس کی زندگی ہے۔
اس کے علاوہ اسے دن رات میں ہر لمحہ اپنی جسمانی طاقت میں سے کسی قوت کے ختم ہونے اور جن چیزوں کو بہت عزیز رکھتا ہے،ان کے چلے جانے کا دھڑکالگا رہتا ہے۔مثلاً مال و اولاد وغیرہ۔ خلاصہ انسان ایسا خاکی بندہ ہے کہ جو کسی بھی چیز پر قدرت نہیں رکھتا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
( وَلٰا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرّاً وَّلٰا نَفْعاًوَّلٰا یَمْلِکُونَ مَوْتاً وَّلٰا حَیٰوةً وَّلٰا نُشُوْراً ) ۔ (سورہ فرقان آیت ۳)
اور وہ خود اپنے لئے بھی نہ نقصان پر قابو رکھتے ہیں نہ نفع پر نہ موت ہی پر اختیار رکھتے ہیں اور نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد جی اٹھنے پر۔
یہ ہیں انسان کے مختصر حالات جو اسے دنیاوی زندگی میں پیش آتے ہیں اور مسلمات میں سے ہے کہ ہر لمحہ موت کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور وہ بھی اس طرح کے کوئی طاقت بھی اسے موت سے نہیں بچا سکتی۔
مرنے کے بعد کیا ہو گا؟
مرنے،قبر میں جانے اور خاک ہونے کے بارے میں جو کچھ دیکھا اور سنا گیا ہے اور گزشتہ لوگوں کے حالات اگر یہیں پر بات تمام ہو جاتی تو پھر انسان کے لئے کوئی فکر وغم نہ تھا۔ بد بختی تو یہ ہے کہ (مرنے کے بعد)اسے محکمہ عدل الہٰی میں لے جایا جائے گا اور اس کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کے بارے میں بازپرس ہو گی اس تفصیل کے ساتھ کہ جسے قرآن مجید اور روایات میں بیان کیا گیا ہے۔
اکثر دنیاوی لحاظ سے بڑے لوگ وہاں ذلیل و خوار ہوں گے اور اکثر بڑے بڑے لوگ وہاں پر چیونٹی سے بھی چھوٹے ہوں گے کتنی ہی خوبصورت صورتیں وہاں بد صورت ترین شکلوں میں وارد ہوں گی۔اس طرح کہ کتے اور خنزیر وہاں بد صورت ترین شکلوں میں وارد ہوں گی۔اس طرح کہ کتے اور خنزیر کی صورت ان سے (زیادہ)اچھی ہو گی۔کوئی بھی عاقبت کے بارے میں نہیں جانتا اور اپنے انجام کو نہیں پہچانتا کہ وہ اشقیاء میں سے ہو گایا سعادت مندوں میں سے ،معززوں میں سے ہوگا یا ذلیلوں میں سے اس کا چہرہ سیاہ ہوگایا سفید،وہ باتیں جو انسان کے حالات کے بارے میں بیان کی گئیں وہ تمام افراد کے لئے برابر ہیں۔خواہ وہ کسی بھی علاقے میں ہوں اور ہر عقل رکھنے والا جب حال اور مستقبل کے واقعات کے بارے میں غور کرتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ انسان غرور وتکبر اور بزرگی و کبریائی اور سرکشی کے لائق نہیں جس انسان کی تمام حیثیت کو عجز و بیچارگی نے گھیر لیا ہو وہ کسی طرح بزرگی و برتری اور انا کا دعویٰ کر سکتا ہے۔اپنی کبریائی کے دعوے سے بڑھ کر کوئی بڑا جھوٹ ہو سکتا ہے؟
نسبت بالا تر کو پیش نظر رکھنا چاہئیے
بعض بزرگوں نے تکبر کے علمی علاج کے بارے میں بہت دقیق تحقیق بیان فرمائی ہے جسے مزید فائدے کے لئے نقل کیا جاتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ تکبر ایک ایسی کیفیت ہے جو ہمیشہ اپنے سے پست کو پیش نظر رکھنے اورا پنے سے بلند تر کو غفلت کی بنا پر نظر انداز کر دینے سے نفس میں جہنم لیتی ہے اور اس سے بات کی تشریح یہ ہے کہ مثلاً کسی شخص کا کوئی غلام ہے اور اس شخص کو اس غلام سے نسبت ہے اوروہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنے غلام پر برتری رکھتا ہے اور اس کا حاکم ہے اور اس غلام کو اس کے حکم سے سر تابی کی مجال نہیں اور وہ اس کی تابع ہے اور اس شخص کو خداوندعالم سے ایک نسبت ہے کہ یہ مغلوب،مقہور،اس کا تابع اور محکموم ہے تو اگر اس شخص پر پہلی نسبت(یعنی اپنے سے پست کو پیش نظر رکھنا) غالب آجائے اور وہی اس کی نظروں میں رہے تو اس کے اندر ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو تکبر ہے لیکن اگر خداوندعالم سے اپنی نسبت یعنی اپنی کمزوری اور ناتوانائی کو پیش نظر رکھے تو اس میں خضوع و خشوع اور نیازمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو تواضع(یعنی تکبر کے برعکس )ہے۔
اگر چہ ابتداء میں ایک شخص میں یہ کیفیت خداوند عالم کی نسبت پیدا ہوتی ہے۔لیکن جیسے جیسے راسخ ہوتی ہے دوسری موجودات تک پھیل جاتی ہے یعنی جو کوئی خدا کے حضور منکسر ہو وہ اس کی مخلوقات سے بھی انکساری اور تواضع سے پیش آتا ہے۔جس طرح کہ انسان غصے کی حالت میں نہ صرف مجرم سے بلکہ دوسروں سے بھی غیض وغضب سے بات کرتا ہے۔
اس بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدائے عزوجل کا تکبر کرنا بالکل صحیح ہے کیونکہ وہ کسی کے سامنے بھی مغلوب ومقہور نہیں اور اس کے علاوہ کوئی بھی اس کے برابر میں غالب وقہار نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی تکبر کے لائق نہیں چاہیے کوئی بھی ہوخواہ حامل عرش اسرافیل و جبرئیل ہی کیوں نہ ہو۔بلاشبہ اس کا اللہ تعالیٰ کے مقابل مغلوب و کمزور وناتوان ہونا دوسرے کے مقابل اس کے غالب ہونے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔پس کیا اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنی اس مغلوبیت سے غافل ہو کر دوسروں پر اپنے غالب وبرتر ہونے کی طرف متوجہ رہے اور تکبر جیسے گناہ کبیرہ میں مبتلا ہو جائے۔
اور اس کے علاوہ فرمایا کہ جو کوئی موجود حقیقی کے مقابل اپنی کوئی حیثیت نہ سمجھے درحقیقت وہ اپنے آپ کو اس سے بر تر وفائق سمجھتا ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اَنْ لٰا تَعْلُوا عَلَی اللّٰهِ ۔خدا کے سامنے بر تری اور سرکشی کی کوشش نہ کرو۔
اور ہونا تو یہ چاہئے کہ خدا کی عظمت آنکھوں کے سامنے اس طرح جلوہ گر ہو کہ انسان اپنی تمام حیثیتوں کو فراموش کر دے۔
پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حالات توضع کا نمونہ ہے
یہ کچھ وہ ضروری باتیں ہیں کہ جو سید الکونین محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خصوصی صفات میں سے ہیں ۔پہلی یہکَانَ لٰا یَغْضِبُ بِنَفْسِه کبھی اپنی ذات کی خاطر کسی پر غصہ نہ کیا۔دوسری کَانَ یَجلِسُ دَلَی الْاَرْضِ وَیَأْکُلُ عَلَی الْاَرْضِ ہمیشہ زمین پر بیٹھتے اور زمین پر بیٹھ کر غذا کھاتے تھے۔ تیسری کٰانَتِ الْاَمته مِنْ اِمَآءِ الْمَدِیْنَةِ تَأْخُذُ بِیَدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) فَتَذْهُبُ بِه حَیْثُ شٰآتَ اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی کنیز آپ کا دست مبارل تھامتی اور لوگوں کی شفاعت کے لئے جدھر لے جانا چاہتی لے جاتی۔
اور آپ کی صفت میں یہ بھی کہا گیا ہے:کٰانَ (صلی الله علیه و آله) اَذَا دَخَلَ بَیْتَهُ مَهْنَتِهاَهْلَه جب بھی گھر میں داخل ہوتے اپنے اہل خانہ کی مدد کرتے تھے۔بحار الانوار ج ۶ ص ۲۰۴)
تکبر کے بنیادی عوامل کا خاتمہ ہونا چاہئیے
تکبر کے علمی علاج کے موارد میں سے انسان کا ایسی غلطیوں کے بارے میں فکر وتدبر کرنا ہے جو انسان کے غرور تکبر کا سبب بنتی ہے۔مثلاً علم وہ عمل،نسب،مال وجاہ،منصب ،اتباع،قوت،حسن وغیرہ۔غوروفکر کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کسی بھی چیز پر غرور وتکبر کرنا خلاف عقل ہے ،انسان دنیوی علم رکھتا ہو تو موت کے وقت وہ ختم ہو جائے گا بلکہ موت سے پہلے بھی مشق نہ کرنے یا بھول جانے کی بناء پر ضائع ہو سکتا ہے اور چونکہ دنیوی علم کا فائدہ صرف دنیا کی چند روزہ زندگی میں ہے تو اس پرغرور کرنا مناسب نہیں ہے اور خاص طور پر جو جانتا ہے اور جو کچھ نہیں جانتا اس نسبت کو جو محدود اورلامحدود کے درمیان ہے۔پیش نظر رکھنا چاہئے۔
اور اگر اخروی و دینی علوم میں سے ہو تو جس چیز کا تعلق معرفت الہیٰ سے ہے۔اس کا نتیجہ فروتنی و خشوع ہونا چاہیے نہ کہ غرور تکبر،جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( اِنَّمٰا یَخْشَی اللّٰهِ مِنْ عِبٰادِه الْعُلَمآء ) (سورہ فاطر آیت ۶۸)
اس کے بندوں میں خوف کرنے والے تو بس علماء ہیں۔
اور اگر اس کی حالت اس کے برعکس ہو تو وہ نور کی حقیقت اور علم سے بے بہرہ ہے اور اس نے فقط قوانین یاد کر لئے ہیں اور وہ بھی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو فخر کا موجب ہو۔
احکام دینی کا علم یعنی فقہ بھی اسی وقت فائدہ مند ہے جب اس کے قوانین پر عمل کیا جائے اور جو کوئی فقہ جان لے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے علم طب سیکھا ہو لیکن اس پر عمل نہیں کرتا اور فرمان خدا کے مطابق۔کَمَثَلِ الْحِمٰارِ یَحْمِلُ اَسْفٰاراً۔اس کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔(سورہ جمعہ آیت ۵)
اور بلعم باعور کوجو کہ بے عمل عالم تھا کتے سے تشبییہ دی ہے اگر عالم غورفکر کرے تویقینا اس پر خدا کی حجت تمام ہو چکی ہے اور اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی جاہل کے ستر گناہوں کی بخشش ہو چکی ہو گی جب کہ ا س وقت تک عالم کے ایک گناہ کا مواخذہ ہو رہا ہوگا۔الغرض علم حاصل کرنے کے بعد انکساری وفروتنی میں اضافہ ہونا چاہیے نہ یہ کہ انسان غرور تکبرکا شکار ہوجائے۔
مقبول عمل کی اہمیت ہوتی ہے
عمل: یہ جان لیجئے کہ نیک کام اگر خشوع وخضوع اور عجز وانکسار کے ساتھ انجام دیا جائے تووہ بندگی کی جان ہے۔عبادت ہے اور قابل قدر ہے اور اگر غرور تکبر کے ساتھ انجام دیا جائے تو وہ بے جان صورت کی مانند ہے کہ جس کی اہمیت نہیں ہوتی اور یہ بھی جان لیں کہ نیک عمل صرف اسی وقت فائدہ مندہوتا ہے جب وہ خداوندعالم کی بارگاہ میں مقبول ہوا ور یہ ایک پوشیدہ بات ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کا نیک عمل قبول ہو چکا ہے یا صدق ،اخلاص اور تقویٰ کے نہ ہونے کی بناء پر رد ہو گیا ہے ۔اس بناء پر نیک عمل بھی علم ہی کی مانند ہے کہ جو عجز وانکسار کا موجب ہونا چاہئے نہ یہ کہ غرور و تکبر کا ،چنانچہ اللہ تعالیٰ مومنین کی صفات کے بارے میں فرماتاہے۔
وَالَّذِیْنَ یُوتُوْنَ مٰااَتَوْا وَقُلُوْبُهُمْ وَجِلَته ٌاِنَّهُمْ اِلیٰ رَبِّهِمْ رٰاجِعُوْنَ (سورہ مومنون۔آیت ۶۰)
وہ لوگ جو (خدا کی راہ میں)جو کچھ بن پڑتا ہے(اطاعات وعبادات اور خیرات کی انواع میں سے) جو کام بھی انجام دیتے ہیں اور پھر ان کے دل کو اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
یعنی وہ اپنے پروردگار کے حضور اپنے اعمال کے قبول نہ ہونے کی وجہ سے ڈرتے ہیں کیونکہ خداوندعالم وہ کچھ جانتا ہے جو ان پر پوشیدہ ہے۔
نسبی شرافت تکبر کا سبب نہیں بننی چاہئیے
اور اگر (انسان)ظاہری و دنیوی عزت وشرافت کا مالک ہو مثلاً اس کا باپ حکام اور اشراف میں سے تھا تو جب دنیا ہی فانی ہے تو ان مادی امور کا کیا اعتبار سوائے چند روزہ چمک دمک کے جو نیست و نابود ہو جانے والی ہے تو یقینا ان چیزوں پر غرور تکبر کرنا انتہائی کی حماقت اور لاابالی ہونے کی دلیل ہے۔
دوسرے یہ کہ کیا بعید کہ جو شخص (ان گزشتہ لوگوں پر )فخر کر رہا ہے وہ لوگ اس وقت عالم برزخ میں مصیبتوں میں گرفتار ہوں اور پست ترین جگہوں پر ان کا نالہ وفریاد بلند ہو اور یہ احمق ان سے تعلق رکھنے پر تکبر کر رہا ہو۔
اور اگر حقیقی ومعنوی شرافت ہو مثلاً سادات عظام سے نسبت تو یہ جان لے کہ اس کے اجدادطاہرین کی شرافت ان کے قرب خداوندی اور تمام نفسانی فضائل کی بناء پر تھی کہ جس میں خدا اور اس کی مخلوق کے ساتھ انتہائی انکساری و تواضع سے پیش آنا ہے۔اب جوکوئی بھی اپنے آپ کو ان سے منسوب سمجھتا ہے تو دوسروں کے مقابلے میں اس کے لئے یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ وہ اس نسبت کی وجہ سے خدا اور لوگوں سے فروتنی کرے اورتکبر اور اس جیسے دوسرے تمام برے اوصاف سے جو کہ ان کے دشمنوں کی صفات ہیں،سے پاک ومنزہ رہے۔
اور اسی طرح علماء سے تعلق رکھنے والے بھی یہ جان لیں کہ خود اگر عالم بھی متکبر ہو تو علم کی فضیلت سے محروم ہوتا ہے جیسا کہ ذکر ہوا۔
تو پس اس انسان کی کیا حالت ہو گی جو کسی عالم سے نسبت کی بناء پر اپنے آپ کوصاحب فضیلت سمجھتا ہو اور دوسروں کے سامنے غرور وتکبر کرے۔
مال پر تکبر کرنا حماقت ہے
اگر انسان کے ہاتھ میں مال آجائے اور وہ فقرآء اور ضرورت مندوں پر اپنی بزرگی ظاہر کرے اور اپنے آپ کو ان سے بر تر سمجھے تو یہ حماقت ہے مثلاً فقیر بیمار ہو تو اس کی عیادت نہ کرے(کیونکہ وہ غریب ہے) خواہ اس کا رشتہ دار ار پڑوسی ہی ہو یا اگر کوئی فقیر و غریب اس سے بات کرنا چاہئے تو اس کی بات کی طرف توجہ نہ دے یا اس کے سلام کا صحیح جواب نہ دے یا اس سے سختی سے بات کرے وغیرہ وغیرہ۔
جان لیجئے کہ مال انسان کی ذات سے ایک الگ شے ہے اور اس کی کمی وزیادتی کا کمال انسانی سے کوئی ربطہ نہیں ہے۔چنانچہ ممکن ہے کے پست ترین افراد (معنوی کمالات کی بناء پر ) ان سے مال دار ترین ہوں۔ دوسرے یہ کہ انسان کے مرنے کے بعد مال دوسروں کو منتقل ہو جاتا ہے بلکہ ممکن ہے کہ کسی بھی لمحے معمولی سے حادثے کی وجہ سے ضائع ہو جائے اور کتنے ہی مالدار متکبر و مغرور افراد کچھ ہی عرصے میں فقیر و محتاج ہو گئے۔ اور اگر دولت مند ایمان و عقل و فہم رکھتا ہو تو وہ اپنے مال کو فتنہ وبالا اور آزمائش کا سبب سمجھے گا اور اپنے آپ سے سخت ذمہ داری محسوس کرے گا کہ جس سے باہر نکلنا بہت مشکل ہے اور اس فہم و دانش کا لازمہ یہ ہونا چاہئے کہ انسان فقراء کے ساتھ انکسار وتواضع سے پیش آئے نہ کہ غرور تکبر کرے۔
اور اگر دولت مند لا پرواہ ہو اور اپنے مال کو خدا کی دی ہوئی رحمت سمجھے اور اپنے آپ کو اس کے لا ئق سمجھے تو اسے یہ آیت اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے۔
( ءَ اَیَحْسَبُوْنِ اِنَّمٰا تُمِدُّهُمْ لَهُ بِه مِنْ مّٰالٍ وَ بَنَیْنَ نُسٰارِعُ لَهُمْ فِیْ الْخَرٰاتِ بَلْ یَشْعُرُوْنَ ) (سورہ مومنون آیت ۵۵ ۔ ۵۶)
کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اولاد میں ترقی دے رہے ہیں توہم ان کے ساتھ بھلائیاں کرنے میں جلدی کر رہے ۔(ایسا نہیں)بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں۔
کیونکہ ہو سکتا ہے کہ مال ودولت خوش نصیبی کی علامت نہ ہوبلکہ دولت کی مستی اور غفلت میں ڈال کی غضب الہیٰ میں مبتلا ہو اور بے خبری میں رحمت ونعمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔رحمت زحمت بنے اور نعمت نقمت میں تبدیل ہو جائے۔
اور یہ جاننے کے لئے کہ یہ مال رحمت وخیر ہے یا آزمائش و غضب الہیٰ ہے۔ روایات میں اس کے لئے دہ نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک انکسار اور دوسرے انفاق کی توفیق ہونا۔پس کسی بھی دولت مند کا مال زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر اس کا فقراء کے ساتھ انکسار و فروتنی اورانفاق زیادہ ہو جائے تو وہ مال خیر و رحمت الہیٰ سے اور اگر اس کا بخل اورتکبر زیادہ ہوجائے تو وہ مال آزمائش اور شقاوت و بد بختی کا سبب ہے،چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔
( اِعْلَم؟و اِنَّمٰا اَمْوٰالُکُمْ وَاِوْلٰادُکُمْ فِتْنَةٌ ) (سورہ انفال آیت ۶۸)
جان لو بیشک تمہارے اموال اور اولاد آزمائش ہے۔
جا ہ ومنصب ومقام امور اعتباری ہیں
جوکچھ مال کے زوال پذیر اور بے اعتبار ہونے کے بارے میں کہا گیا یعنی یہ کہ مال کبھی خیر ونعمت اور کبھی شرو آزمائش ہے تو وہی بات جاہ ومنصب و مقام کے بارے میں بھی ہے بلکہ یہ زیادہ سخت اور اس کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے اور اس کا نقصان بہت بڑا ہے۔خصوصاً اگر جاہ و منصب کسی دولت مند اور توانا کو حاصل ہو تو اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آیا جو وظیفہ الہیٰ اس کے ذمہ ہے وہ اس کو انجام دے رہا ہے یا نہیں؟ اور کبھی اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی مظلوم کی فریاد رسی نہ کرنے ،تکبر کرنے اور کسی مومن کی توہین(خاص طور پر اگر سید،عالم یا بوڑھا ہو)کی بناء پر عقوبت اور عذاب الہیٰ کا مستحق ہو جاتا ہے۔
الغرض جاہ ومنصب اورمقام بھی مال ہی کی طرح زوال پذیر اور اس کے علاوہ انسانی ذات سے الگ امور اعتباری میں سے ہیں (یعنی فطری اورذاتی نہیں)اور عقل رکھنے والا کبھی بھی ان کے دھوکے میں نہیں آتا اور نہ ہی ان پر غرور کرتا ہے گزشتہ لوگوں کی تاریخ میں مال وجاہ،مقام کے زوال پذیر اور ناقابل بھروسہ ہونے کے بہت سے واقعات ہیں اور ایک واقعہ کتاب حبیب السیر میں نقل کیا گیا ہے کہ جب عمرو بن لیث اپنے ستر ہزار باصلاحیت جوانوں کے ساتھ امیر اسماعیل ساسانی کے دس ہزار سواروں کے مقابلے میں آیا اور جب جنگ کا شور اور ڈھول و بگل کی آواز بلند ہوئی تو عمروبن لیث کے گھوڑے نے سرکشی کی اور اسے بے اختیار دشمن کی صفون میں پہنچا دیا اور اس طرح امیر اسماعیل بغیر جنگ کے غالب آگیا اوراس نے عمرہ کو ایک خیمے میں قید کر دیا۔
منقول ہے کہ اس عمرو کی نظر ایک سابقہ شاگرد پر پڑی عمرو نے اسے بلایا اور بھوک کی شکایت کی،شاگرد اسی وقت اس کے لئے ایک گوشت کا ٹکرا لے کر آیا۔کیونکہ کوئی بڑا برتن نہ تھا اس لئے اس نے اسے گھوڑے کے سطل میں ڈال دیا ور آگ جلادی اوراپنے کسی کام کے لئے چلا گیا۔اتفاقاً وہاں ایک کتا آگیا اس نے اپنا سر اس سطل میں ڈالا تو شوربے کی بھاپ کی وجہ سے اس کا منہ جلنے لگا اور جب اس نے تیزی سے منہ باہر نکالنا چاہا تو سطل کا دستہ اس کی گردن میں پھنس گیا اور وہ اسی طرح بھاگ گیا عمرو یہ دیکھ کر ہنسنے لگا تو ایک محافظ نے پوچھا کہ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے،عمر ونے کہا ایک دن میرے سپہ سالار نے مجھ سے شکایت کی تھی کہ آپ کے باورچی خانے کا سامان تین سو گھوڑے بھی مشکل سے اٹھا کر جاتے ہیں اور آج میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک کتا اسے آسانی سے لے کر جارہا ہے۔ اور بالکل اسی طرح کا قصہ مروان حمار کا بھی ہے۔جو کہ بنی امیہ کے آخری بادشاہوں میں سے تھا۔سن ۱۳۲ میں جب وہ آب زاب کے مقام پر سفاح کے لشکر کے مقابل آیا جب کہ لشکر کی صف بندی ہو چکی تھی وہ اپنے گھوڑے سے پیشاب کرنے کے لئے اترا تو اس کا گھوڑا بھاگ کر اپنے لشکر کے درمیان پہنچ گیا اور اس کے لشکریوں نے گمان کیا کہ مروان قتل ہو چکا ہے اور اس کا گھوڑا فرار ہو کے آیا ہے اس لئے تمام لشکر والے ڈرکر منتشر وہ گئے(آخر واقعہ تک)یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ذَھَبَتِ الدّوْلَتَہُ بِبَوْلِہ اس کی سلطنت پیشاب کرنے کی بناء پر چلی گئی۔
اس کے علاوہ عباسی خلیفہ کا بغداد کی جامع مسجد میں نماز جماعت کی صفوں میں بھیک مانگنا تاریخ میں مشہور ہے ۔جو اندھا ہو کر بھیک مانگتا پھرتا تھا اور کہتا جاتا تھا۔اے لوگو اس شخص پر رحم کرو جو کل تک تمہارے اوپر حاکم تھا اور آج وہ تمہارے سامنے دست سوال دراز کر رہا ہے۔
جسمانی قوت بھی وقتی ہے
جسمانی قوت پر تکبر کرنا ۔جان لیں کہ ہر لحظہ ممکن ہے کہ انسان کسی بھی مرض یا مصیبت میں مبتلا ہو کر کمزور سے کمزور تر ہو جائے اور اسے جان کنی ،موت اور قبر کا سامنا کرنا پڑے اور ظاہری حسن وجمال پر تکبر کر نا،یاد رکھیں کہ انسان کا حقیقی حسن صفات کمالیہ سے متصف ہونے میں ہے کہ جس میں سے ایک تواضع ہے اور فقط ظاہری حسن اہمیت نہیں رکھتا،کیونکہ یہ عاریتاً ہے۔ممکن ہے کسی چھوٹے سے حادثے سے مکمل طور پر ختم ہو جائے۔اسی لئے انسان کو ہمیشہ اپنی قبر کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ یہ حسن وجمال کسی حد تک کا م آئے گا اور اس کے علاوہ اس بدن کے اندر کس قدر کثافتیں موجود ہیں اور کھال کے نیچے پیپ،خون اور گندگی ہوتی ہے تو بس غرور وتکبر اور دوسروں پر برتری ظاہر کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی قوت پر بھی تکبر کرنا حماقت ہے۔
تکبر کے مرض کا عملہ علاج
ہر وہ خواہش جو انسان کے نفس میں ہے اگر عملاً اس کی پیروی نہ کرے بلکہ اس کے برعکس عمل کرے تو آہستہ آہستہ وہ خواہش ختم ہو جاتی ہے اور چونکہ تکبر کی ضد تواضع و فروتنی ہے تو پس تکبر کے مرض کا واحد علاج گفتار و کردار میں تواضع وفروتنی پیدا کرنا ہے۔اس بناء پر ضروری ہے کہ تواضع کی اہمیت اور حقیقت اور اس کی اقسام کا مختصراًذکر کیا جائے۔
تواضع کی فضیلت
تواضع سے متعلق آیات و روایات بہت زیادہ ہیں جن کا یہاں پر ذکر کرنا اس کتاب کی وضع کے منافی ہے ۔اس کی اہمیت کیلئے یہی کافی ہے کہ پروردگار عالم اپنے حبیب،اشرف مخلوقات،باعث تخلیق کائنات کو تواضع کا حکم دے رہا ہے۔
( َوَاَخْفضْ جَنٰاحَکَ لِلْمُومِنِیْنَ ) (سورہ حجر آیت ۸۸)
اورایماندارو ان سے (اگر چہ غریب ہوں)جھک کر ملا کرو۔اور اپنے مقرب بندوں کی اس صفت کمالیہ کی وجہ سے تعریف کی اور فرمایا۔
( وَعِبٰادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنِ یَمْشُوْنَ عَلَی الْارْضِ هَوناً ) ۔
اور رحمان کے خاص بندے تو وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔
اور شیعوں کی روایات میں امامت کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ امام کو خدا کے لئے ہر ایک سے زیادہ عجزو انکسار والا ہونا چاہئے۔امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
فَلَوْرَ خَصَ اللّٰهُ فَیْ الْکِبْرِه لِاَحَدٍ مِّنْ عِبٰادِه لَرَخَصَ فِیْه لِخَاصَّتَه اَنْبِیٰاهِ وَلٰکِنَّهُ سُبْحٰانَهُ کَرِهَ اَلَیْهِم التَّکٰا بِرُ وَرَضِیَ لَهُمْ التَّوَاضَعَ فَاَلصِقُوا بِالْاَرْضِ حُدُوْدِهُمْ وَعَفِّرُوا فِی الُّترابِ وُجُوْهَهُمْ وَخَفِّضُوْا اَجْنِحَتَهُمْ لِلْمُومِنِیْنَ ۔
اگر خدا کے شایان شان یہ ہوتا کہ وہ اپنے کسی ایک بندے کو تکبر کی اجازت دے دے تو وہ اپنے مخصوص بندوں انبیاء اور اولیاء کو اس کی اجازت دیتا ۔لیکن ذات خداوند عالم تمام بری صفات سے پاک ہے اس نے ان کے لئے بھی تکبر کو مکروہ قرار دیا اور فروتنی کو پسند فرمایا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے سینے زمین سے ملے اور چہرے خاک آلودہ رکھے اور مومنین کے آگے انکسار سے جھکتے رہے اور دنیا میں کمزور حالت میں رہے۔رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں۔
اِنَّ اَحَبَّکُم وَ وَاَقْرَبَکُمْ مِنِّی یَوْمَ الْقِیٰامَتِه مَجْلِساً اَحْسَنَکُمْ خُلْقاً وَاَشَدَّ کُمْ تَوٰضُعاً وِاِنِّ اَبْعَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیٰامَتِه مِنِّیْ الثَّرْثٰارُوْنَ وَهُمُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ۔(بحار الانوار)
روز قیامت تم میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور میرے قریب ترین وہی ہو گا کہ جس کے اخلاق بہترین اور جس کا تواضع سب سے زیادہ ہو اور روز قیامت غرور و تکبر کرنے والے مجھ سے سب سے زیادہ دور ہوں گے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
اِنَّ فِی السِّمٰآءِ مَلَکَیْنِ مُوَکَّلَیْنِ بِالْعِبٰادِ فَمَنْ تَوٰاضَعَ رَفَعٰاهُ وَمَنْ تَکَبَّرَ وَضَعٰاهُ
(کافی جلد ۲ با ب کبر)
آسمان میں دو فرشتے ہیں کہ جو لوگوں پر موکل ہیں تاکہ جو کوئی تواضع کرے اسے معزز اور اس کے مرتبے کو بلند کریں اور جو کوئی غرور و تکبر کرے اسے ذلیل و خوار کریں۔ امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
وَعَنْ ذٰالِکَ مٰاحَرَسَ اللّٰهُ عِبٰادٰهُ الْمُومِنِینَ بِالصّلٰوة، وَالزَّکٰاةِ وَ مُجَاهَدَةِ الصِیّٰام فِی الْاَیّامِ الْمَفْرُوْضٰاتِ تَسْکِیْناً لِاَطْرٰافِهِمْ وَ تَخْشِیعاً لِّاَبْصٰارِهِمْ وَتَذْلِیْلاً لِّنُفُوسِهِمْ وَتَخْفِیْفاً لِّقُلُوبِهِمْ وَاِذْهٰاباً لَلْخُیلاءِ عَنْهُمْ لَمٰا فِی ذٰالِکَ مِنْ تَعْفِیْرِ عَتٰائِقِٓ الْوُجُوهِ بِالتُّرٰابِ تَوٰاضُعاًوَالَصٰاقِ کَرٰآئِمِ الْجَوٰارِحِ بِاالْارْضِ تَضٰاغُراً وَلُحُوْقِ الْبُطُوْنِ بِالْمُتُونِ مِنَ الصِّٰامِ تَذَلُّلاً
(نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ ۹۲)
تکبر وہ چیز ہے جس سے خداوند عالم نے اپنے ان بندوں کو جو ایمان سے سرشار ہیں،نماز، زکوٰة اور مقررہ دنوں میں روزوں کی کوشش کے ذریعے محفوظ رکھا تا کہ ان کے اعضاء جوارح سکون حاصل کریں آنکھوں کو احساس عاجزی سے جھکا دیتا ہے ،نفس کو رام کر دیتا ہے،دلوں کو متواضع بنا کر خود پسندی کو ان سے نکال دیتا ہے کیونکہ نماز میں نازک چیزوں کو تواضع و نیاز مندی سے سجدے میں خاک آلود کیا جاتا ہے اور محترم (سات)اعضاء خاک پر گر کر اپنی پستی ظاہر کرتے ہیں اور روزہ رکھنے سے اس کی فرمانبرداری میں پیٹ پیٹھ سے مل جاتے ہیں۔
عباد ت تکبر کو ختم کر د یتی ہے
پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان عبادات کے واجب ہونے کا اہم سبب تکبر کے مرض کو ختم کرنا اور تواضع کی فضیلت سے متصف ہونا ہے اس بناء پر تکبر کو ختم کرنے کے اہم ترین عملی مستالجات مین سے عبادات کو صحیح شرائط ومسائل کے ساتھ بجالانے کی کوشش کرنا تا کہ وہ قبول ہوں نیز یہ کہ عبادت تکبر کے ساتھ ہر گز قبول نہیں ہوتی چونکہ عبادت کے معنی اطاعت وفرمانبرداری اور بندگی کے ہیں نہ کہ اپنے آپ کو بڑا اور آقاظاہر کرنے کے۔
تواضع کے معنی اور اسکی قسمیں
تواضع نفس میں ایسی کیفیت کا نام ہے جسے فروتنی نفس کی شکستگی اور اپنے آپ کو پست و حقیر سمجھنے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔چنانچہ بلحاظ خلقت و فطرت اور حقیقت امر بھی یہی ہے کہ انسان کی کوئی چیز بھی اس کی اپنی طرف سے نہیں ہے۔
ماچہ ایم اندر جہان پیچ پیچ
جوں الف اوخود ندارد ہیچ ہیچ
اس پیچیدہ اور پر اسرار کائنات میں ہماری کیا حیثیت ہے۔ہماری مثال تو الف کی مانند ہے کہ جس کا خود اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔
تواضع اپنے مواقع کے لحاظ سے تین قسم کا ہوتا ہے:۔پہلا خداوند عالم کے ساتھ تواضع و انکسار،دوسرا پیغمبر وامام کے ساتھ تواضع،تیسرا لوگوں کے ساتھ تواضع۔
خداوند عالم کے ساتھ تواضع
جب بھی انسان یہ یقین کر لے اور سمجھ جائے کہ اس کا اپنا وجود اور اس سے متعلقہ تمام چیزیں خدا کی طرف سے ہیں اور بغیر کسی حق اور طلب کے خداوندعالم نے اسے بے حد و بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں اور جو کچھ بھی ہے اور جو بھی وہ رکھتا ہے سب خدا کی طرف سے ہے تو نفس میں ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جسے حق کے مقابل پستی وانکساری سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اس حالت کے چند لوازمات ہیں کہ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے سامنے اطاعت اورخلوص کے ساتھ س کی فرمانبرداری کی کوشش کرنا یعنی ہمیشہ اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتارہے اور عبدیت کے وظائف کی انجام دہی میں اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو ہمیشہ قصوروار سمجھے چونکہ جس طرح وہ عبادت وپرستش کا سزاوار ہے اس طرح اس کی عبادت و پرستش نہیں کی اوراپنے آپ کو کسی چیز کا حقدار نہیں سمجھے اور ان میں سے کئی نعمتوں پر تجدید شکر ہے جو اسے حاصل ہوتی ہیں۔اور مستحب ہے کہ نئی نعمت حاصل ہونے پر جب بھی گزشتہ نعمتوں کو یاد کرے تو سجدہ شکر بجالائے۔
خدا کی نعمتوں کے سامنے عاجزی
نعمت کو بڑا سمجھے اور محترم جانے،کیونکہ وہ اس کے حقیقی محبوب ومنعم کی طرف سے ہے۔خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ، مروی ہے کہ اگرتمہیں کسی غذا کے کھانے سے نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ فلاں غذا خراب ہے جس نے مجھے بیمار کر دیا۔بلکہ یہ کہو کہ فلاں غذا کے لئے میرا مزاج مناسب نہ تھا اور میں نے اسے بے موقع استعمال کیا۔
کھانا کھاتے ہوئے انکساری کے ساتھ غلام کی طرح بیٹھے اورانکساری کے ساتھ غلام کے مانند کھائے،رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا دستر خوان پر بیٹھنا نماز میں تشہد میں بیٹھنے کی طرح تھا۔
انکسار کے ساتھ غذا کھانے کے آداب یہ ہیں کہ میز پربیٹھ کر کھانا نہ کھائے بلکہ اپنے جوتوں کو اتار کر تہذیب سے زمین پر بیٹھے۔خصوصاً روٹی کو محترم سمجھے کہ اس بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں اور گھر میں جتنے بھی افراد ہیں مثلاً ماں،بیٹا،نوکرنوکرانی وغیرہ تمام کو ایک ہی دستر خوان پر بیٹھنا چاہئے نہ یہ کہ بعض کو روک کر ان کو علیحدہ کھانا دیا جائے،کھانا کھانے کے آداب بہت زیادہ ہیں جن میں سے اہم حضور قلب اور منعم حقیقی کی طرف پوری توجہ ہے اور اس کا نام سے ابتداء کرنا یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا اور اس کے نام الحمد اللہ رب العالمین پر ختم کرنا۔
خداوند عالم سے تواضع اور انکساری اس کی نشانیوں و حرمات الہیٰ کو بزرگ و محترم سمجھنا ہے،جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اور اسی طرح خداوند عالم کے اسماء شریفہ کو محترم سمجھنا ہے۔طہارت کے بغیر انہیں مس نہیں کرنا چاہئے خصوصاً یہ راہ میں نہ پڑے رہیں اور ان کی طرف پیر دراز کرے بطور کلی ہر اس چیز کو بزرگ و محترم سمجھنا ہے کہ جس کا تعلق خداوند عالم سے ہے مثلاً مسجدیں جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اِنَّ الْمَسٰاجِدَ لِلّٰہِ بے شک مسجدیں خدا کے لئے ہیں اس بنا پر مسجد میں تھوکنا اور بد بو کے ساتھ داخل ہونا یا بلند آواز میں بولنا یا دنیوی باتیں کرنایہ تمام باتیں تواضع کے خلاف ہیں۔
پیغمبر اور امام کے سامنے تواضع
خداوندِ عالم کے سامنے فروتنی وعاجزی کی سب سے بڑی علامت پیغمبر اور امام کے سامنے عجز و انکساری ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں اور اس کے نمائندے اور خلفآء ہیں اور ان کے سامنے عجز وانکساری خداوند عالم کے سامنے تواضع و عاجزی ہے۔اس لئے حتی المقدور عجز وانکساری میں کمی نہ آنے پائے اور ان کے سامنے تواضع و عاجزی یہ ہے کہ ان کے اسمآء مبارکہ کو بغیر طہارت کے نہ چھوئے اور ان کی قبروں کے آگے کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھے اور ان کا نام انتہائی احترام کے ساتھ لے اور ان پر درودوسلام بھیجے۔
بعض علماء دین بغیر وضو کے چودہ معصومین (علیہم السلام)کا نام زبان سے نہیں لیتے تھے۔
مروی ہے کہ جب امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا اسم مبارک لیتے تو اس قدر جھکتے تھے کہ آپ کا چہرہ مبارک زانووں کے قریب ہو جاتا تھا۔
اورا سی طرح باعمل علماء اور سادات جلیلہ کے ساتھ وعجز وانکساری پیغمبر وامام کے ساتھ تواضع وعاجزی ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے۔
لوگوں کے ساتھ تواضع
تمام انسان بلحاظ خلقت ایک دوسرے کے برابر ہیں اور سب ہی رب العالمین کی مخلوق اور تربیت یافتہ ہیں اور سب ہی اس کے زیر نظر ہیں اوروہ سب کی پرورش کرنے والا ہے تو بلا شبہ عقلاً و شرعاً کوئی بھی انسان چاہئے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو وہ غرور وتکبر کرنے اور بڑائی ظاہر کرنے کے لائق نہیں اور اسی طرح وہ اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ کوئی دوسرا ا سکے سامنے تواضع و انکساری کرے۔مثلاً بادشاہ کے غلاموں کی مانند کہ ان میں سے کوئی بھی دوسرے پر تکبر کو حق نہیں رکھتا اور نہ ہی س بات کا مستحق ہے کہ کوئی دوسرا اس کے ساتھ تواضع سے پیش آئے کیونکہ سب برابر ہیں،چنانچہ اگر ایک غلام دوسرے (غلام )سے غرور وتکبر سے پیش آتا ہے تو وہ عقلاً قابل مذمت ہے اور بالکل اسی طرح اگر کسی دوسرے سے عاجزی و انکساری کی توقع رکھے تو وہ عقلآء کی نظر میں مذمت وملامت کے لائق ہے چونکہ عام طور سے سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں،امیتاز صرف تقویٰ ہے۔
لیکن دوسرے لحاظ سے کچھ افراد بشر خاص فضیلت کے حامل ہو جاتے ہیں اور عقلی و شرعی لحاظ سے وہ قابل تعظیم ہوتے ہیں اور ان کے لئے عزت واحترام کا حکم دیا گیا ہے اورا یسی صورت میں وہ تواضع کے مستحق ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو چاہئیے کہ ان کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آئیں مثلاً ماں باپ جو کہ عقلاً وشرعاً اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی اولاد ان کے ساتھ تواضع سے پیش آئے اور درحقیقت والدین کے ساتھ تواضع خدا کے ساتھ تواضع ہے،چونکہ والدین ربوبیت پروردگار کا ذریعہ ہیں یعنی ان کے ذریعے نشوونما اور پرورش پاتا ہے اور اسی کے حکم میں ہیں اور مثلاًایمان و تقویٰ کے لحاظ سے ۔ہر ایماندار اور متقی کے ساتھ تواضع وانکساری سے پیش آنا چاہئے ۔کیونکہ مومن خداوند عالم سے وابستہ ہے اور خدا کی رحمت و کرم کی نظر اس پر ہے۔
حضرت محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں مومن کی حرمت خداوند عالم کے نزدیک کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے۔
درحقیقت مومن کے ایمان کی بناء پر اس کے ساتھ انکساری سے پیش آنا خدائے عزوجل کے سامنے عاجزی و انکساری ہے۔مثلاً ایسا غلام کہ جو بادشاہ کی نظر میں دوسرے غلاموں کی نسبت زیادہ مقرب ہو اور اس سے گہری وابستگی ہو تو اب ایسی صورت میں اس (غلام)کی عزت کرنا بادشاہ کی عزت ہے اور س کی توہین بادشاہ کی توہین ہے اور اسی طرح عالم اور معلم کہ سب لوگوں پر لازم ہے کہ عالم کی برتری و فضیلت کی بناء پر اس کا احترم کریں اور اسی طرح سن رسیدہ،قوم کے بزرگ اور مہمان وغیرہ کی عزت اور ان کے ساتھ فروتنی سے پیش آنے کا خاص طور سے حکم دیا گیا ہے۔
کافر اور فاسق کے ساتھ تواضع غلط ہے
وہ افراد کے جن کے سامنے تواضع و انکساری کسی بھی وقت صحیح نہیں،بلکہ ان کے ساتھ برابری اور برتری کا اظہار کرنا چاہیے وہ کافر ہیں،یعنی کافر کے ساتھ کسی قسم کا تواضع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ خداوندعالم سے بغض رکھتا ہے اور اس نے اپنے آپ کو درجہ انسانیت سے گرا کر ہر پست شے سے زیادہ پست تر کر لیا ہے اورکافرکل روز قیامت یہ آروز کرے گا یَقُوْلُ الْکَافِرُ یٰلَیتَنِی کُنْتُ تُرٰاباًکافر کہتا ہے اے کاش میں خاک ہوتا۔
پس مومن کے سامنے انکساری اور اپنے آپ کو کمتر سمجھے اور کافر کے سامنے اپنے آپ کو بڑا اورر بلند مرتبہ سمجھے اگر کوئی مومن ،کافر کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آئے تو درحقیقت اس نے اپنے اللہ پر ایمان کو رسوا اور کافر کے کفر کو پسند کیا۔حقیقت کے برعکس کیا کیونکہاَلْعِزَّةُ لَلّٰہِ وَلِرِسُولَہ وَلَلْمُومِنِینَیعنی عزت تو خداوند عالم ،پیغمبر اور مومنین ہی کے لئے ہے۔
اور اس کے علاوہ ایسے شخص کے سامنے کہ جس نے ستم کو اپنے پیشہ بنا رکھا ہو یا کھلم کھلا فسق وفجور کرتا ہو۔یعنی بے خوف اور لا پرواہ ہو کر آشکار ا خدا کی محترم چیزوں کی توہین کرتا ہے تو اس کے ساتھ انکساری،تواضع سے پیش نہیں آنا چاہئے۔بلکہ خداوندعالم کے لئے اس پر غضبناک ہونا چاہئے اور اس سے ترش روی سے پیش آنا چاہیے چنانچہ امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
اَمَرْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) اَنْ نَلَّقٰی هل الْمَعٰاصِی بَوُجُوهٍ مُّکْفَهَرة ۔
(وسائل الشیعہ کتاب الامربالمعروف)
پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ گناہگاروں سے ترش روی سے پیش آئیں۔
متکبر کے ساتھ بھی تواضع غلط ہے
بلاشبہ ایسے احمق کے ساتھ تواضع سے پیش نہیں آنا چاہیے جو تکبر کرتا ہو اور دوسروں کو پست و ذلیل سمجھتا ہو۔کیونکہ اول تومتکبر کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آناخود ایک طرح کی ذلت ہے اور عقلی و شرعی لحاظ سے ایک ناپسند دیدہ عمل ہے اور دوسرے یہ کہ متکبر کے ساتھ تواضع و انکساری اس کی نا پسندیدہ عمل ہے اور دوسرے یہ کہ متکبر کے ساتھ تواضع وہ انکساری اس کی ناپسندیدہ حرکتوں کو بڑھانے کا سبب بنے گا اور ممکن ہے کہ اگر اس سے قطع تعلق کر لیں یعنی اس کے ساتھ خرید وفروخت نہ کریں اور تواضع سے پیش نہ آئیں تو وہ متنبہ ہو جائے اور غرور تکبر کرنا چھوڑ دے۔تو بس نہی عن المنکر کی رو سے اس کے ساتھ تواضع سے پیش نہیں آنا چاہئے۔پیغمبر اکرم فرماتے ہیں۔
اِذَا رَأَیْتُم الْمُتَوٰاضِعِیْنَ مِنْ اُمَّتِی فَتَوٰاضَعُوا لَهُموَاِذٰا رَأَیْتُمُ الْمُتَکَبِرِیْنَ فَتَکَبَّرُوا عَلَیْهِمْ ،فَاِنَّ ذٰالِکَ لَهُمْ مَذَّلّته وَصِغٰارٌ (جامع السعادت)
جب میری امت کے منکسر المزاج لوگوں سے ملاقات ہو تو ان سے تواضع سے ملو اور تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آو۔کیونکہ تمہارا ان پر تکبر کرنا ان کی ذلت کا سبب ہوگا۔
تواضع نہ کرنے اور تکبر کرنے میں فرق ہے
کافر ،فاسق اور متکبر کے ساتھ تواضع وانکساری صحیح نہیں ہے بلکہ ان کے سامنے بڑائی کا اظہار کرنا چاہیے اور غضبنا ک ہونا چاہئے کیونکہ وہ خداوند عالم کے غضب کا نشانہ ہیں اس سے مراد یہ نہیں کہ بالذات اپنے آپ کو ان سے بڑا سمجھے ۔یعنی انہیں اپنے سے پست تر سمجھے اور یہ توقع رکھے کہ وہ اپنے آپ کواس سے پست سمجھیں اور اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں عزت و شان اور مقام والا سمجھے ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس سے پست سمجھیں اور اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں عزت و شان اورمقام والا سمجھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو اور ان کو عاجز انسان سمجھے اور اہل نجات میں سے ہونا توفیق خدا کی بناء پر ہے اور ہلاکت اپنے ہی عمل کی وجہ سے ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا فر یا فاسق کو توبہ کی توفیق ہو جائے اور اسکی عاقبت بخیر ہو۔جی ہاں ہمیں چونکہ یہ حکم دیا گیا ہے اس لئے ان سے سختی سے پیش آتے ہیں نہ یہ کہ خدا نخواستہ ہم تکبر سے کام لیتے ہیں۔
المختصر شخصیت کو بالکل نظر نہیں رکھنا چاہئے۔بلکہ اطاعت وفرمانبرداری اور وظائف ایمانی پر عمل کو اپنا شعار بنانا چاہئے اور جسے خداوند عالم دشمن رکھتا ہے وہ بھی اسے دشمن رکھے اور اس کے ساتھ انکساری سے پیش نہ آئے۔
اس مطلب کی وضاحت کے لئے خداوندعالم کے لئے غضب کرنے اور تکبر نہ کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی بادشاہ اپنے نوکر کو یہ حکم دے کہ جب بھی میرا بیٹا بے ادبی کرے تو اس سے ناراضگی کا اظہار کرے اور اسے مارے۔تو پس اگر نوکر بادشاہ کے بیٹے کی کوئی غلطی دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے مارے اور اس سے ناراضگی کا اظہار کرے۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا اس نے بادشاہ کے حکم کی اطاعت نہیں کی۔حالانکہ وہ نو کر اس عالم سے تکبر نہیں کرتا اور اپنے آپ کو اس(کے بیٹے) سے برتر نہیں سمجھتا۔(بلکہ اسے بادشاہ کے نزدیک زیادہ عزیز اور بر تر جانتا ہے)اور اگر غصہ اور تکبر جمع ہو جائے تو جان لیجئے کہ وہ غصب خداوند عالم کے لئے نہیں بلکہ ہوائے نفسانی کی بناء پر ہے۔
تکبر اور بند گی ایک سا تھ سازگار نہیں
چونکہ تکبر سے مراد نفس کی سر کشی اور خدائے بزرگ وبرتر کی عظمت سے غافل ہو نا اور اپنی ذلت و پستی کو بھول جانا ہے ،مثلاً اپنے آپ کو عزت و مقام کے لائق اور دوسروں کو اپنے سے پست و حقیر سمجھنا ہے،خود پرستی کی یہ حالت خدا پر ستی کی ضد ہے لہذا ہر حال میں قابل مذمت اور کسی طرح بھی خداوند عالم کی مدح کے حکم میں نہیںآ تی پس جان لیجئے کہ کافر،فاسق اور دولتمند کے سامنے تکبر سے مراد اس (خدا) کی خدائی کو عزیز رکھنا اور اس کی بزرگی ظاہر کرنا ہے کا فرکے سامنے بالکل انکساری نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ ترایمان کی اہمیت کو جوکہ اسکی بہت بڑی نعمت ہے،اس پر ظاہر کرے اور گناہ گاروں کے سامنے بھی تقویٰ کی اہمیت کا اظہار کرے جو کہ خدائے عزوجل کے نزدیک محترم ہونے کا معیار ہے اورامیر کے سامنے اللہ تعالیٰ کے خزانوں کی بزرگی واہمیت کوظاہر کے کہ معمولی سامقام ومنزلت جس کے فخر ومباہات کا سبب ہے اور کسی بھی لمحے اسکے مال کی وجہ سے اس کے سامنے فروتنی نہیں کرنی چاہئے اور متکبر کو احمق وجاہل ظاہر کرنا چاہئے اور اسے سمجھنا چاہئے کہ کبریائی صرف خداوند عالم ساتھ مختص ہے اس کے علاوہ جو کوئی بھی تکبر کرے وہ احمق ہے۔
چنانچہ آپ ملاحظہ کریں گے کہ اگر اس طرح عمل ہو یعنی اپنی خودی اور ہوائے نفسانی کا دخل نہ ہو اور عزت وبزرگی کا اظہار صرف خدا کے لئے ہونہ یہ کہ نفس کے غرور وتکبر وہٹ دھرمی کے لئے لیکن عمل کے وقت سخت احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ کوئی غلطی نہ ہو۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے سامنے کوئی برائی ہو اور جب وہ اسے روکنا چاہئے توخواہش نفس کی بناء پر گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور برائی کرنے والے کو برائی سے روکنے کی بجائے خود بھی اس سے بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
کس قدر فرق ہے اس کام کے درمیان جو خدا کے لئے ہو اور اس کام میں جو خواہش نفس کی بناء پر ہو،بے شک عمل کی صورت ایک ہی ہے۔لیکن اگرخدا کے لئے ہو تو عبادت اور قرب الہیٰ کاموجب اور شیطان پر غلبہ ہے اور اگر خواہش نفس کی بناء پر ہو توگناہ اور شیطان کا بندہ بننا اور اس کے سامنے مغلوب ہونا ہے۔
دولت کی وجہ سے دولت مند کی تواضع کرنا ہلاکت کا سبب ہے
غنی وسرمایہ دار لوگوں کے سامنے تواضع اگر ان کی ثروت اور مال دنیا کے لالچ کی وجہ سے ہو تو اس چیز کے لئے قرآن مجید اور روایات میں بہت زیادہ سختی سے منع کیا گیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَلٰا تَمُدَّنَ عَیْنَْکَ اِلَی مٰامَتَّعْنٰا بِهِ اَزْوٰاجاً مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰا ةِ الدُّنْیٰا لِنَعتِنَهُم فِیْهِ ) ۔(سورہ طہٓ آیت ۱۳۱)
(اسے رسول )جو ان میں سے کچھ لوگوں کو دنیا کی اس ذرا اسی زندگی کی رونق نے نہال کر دیا ہے تا کہ ان کو اس سے آزمائیں تم اپنی نظر ادھر نہ بڑھاو۔
اور در حقیقت سرمایہ دار لوگوں کے سامنے ان کی دولت کی وجہ سے تواضع کرنا مال دنیا سے لگاو ہے۔یعنی وہ اسے موثر سمجھتا ہے اور خداسے غافل ہو گیا ہے اور یہ خدا کے ساتھ شرک ہے۔
حضر ت امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
مَنْ اَتٰی غَنِیّاً فَتَوٰاضَعَ لِغِنٰآئِه ذَهَبَ بِثُلُثَیْ دِیْنِه (جلد ۱۵ بحار الانوار)
جو کوئی دولت مند کے پاس جائے پھر اس کے سامنے اس کے مال کی وجہ سے فروتنی کرے تو خدا وند عالم اس کے دو تہائی دین کو ختم کر دیتا ہے۔اور اسی قسم کی روایت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے بھی نقل کی گئی ہے اور شاید وہ تہائی ایمان کے چلے جانے کی علت یہ ہے کہ کیونکہ ایمان کے تین درجے ہیں اعتقاد بالقلب و اقرار بالسان وعمل بالارکان۔
( ۱) قلب کا اعتقاد ( ۲) زبان سے اقرار(شہادتیں)اور ارکان(اعضاء بدن) سے عمل(واجبات کو ادا کرنا اور حرام سے اجتناب کرنا) اور اسی طرح مال کی لالچ میں امیروں کے سامنے انکساری کرنا بھی کبھی صرف دل سے ہوتا ہے اور کبھی دل علاوہ زبان سے اور کبھی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ تمام اعضاء میں بھی سرایت کر جاتی ہے ،چونکہ غالباًلالچی لوگ امیروں کے سامنے دل سے جھکتے ہیں اور زبان سے بھی ان کے سامنے چاپلوسی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو چھوٹا ظاہر کرتے ہیں تو ان کا دوحصے ایمان ضائع ہو جاتا ہے اور دوسرے اعضاء بدن کے ذریعے بھی خضوع کا اظہار کرے۔مثلاً ان کے ہاتھ اور پیر چومے یا اسی طرح کی دوسری حرکتیں کرے تو ایسے میں اس کا تمام دین اس کے ہاتھ سے چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس جو کچھ تھا اور جو وہ کر سکتا تھا، اس نے مخلوق کے سامنے کر ڈالا دوسری کوئی چیز خالق کے لئے باقی نہیں چھوڑی۔
دولت مند کی تواضع اور فقیر کا تکبر رضائے خدا کیلئے
حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) فرمائے ہیں:مٰا اَحْسَنَ تَوٰاضِعُ الْاَغْنِیآءِ لِلْفُقَرٰآءِ طَلَباً لِّمٰاا عِنْدَاللّٰهِ وَاَحْسَنَ مِنْهُ تِیْهُ الْفُقَرٰآءِ عَلَی الْاَغْنِیٰآءِ اِنّکٰالاً عَلَی اللّٰهِ (نہج البلاغہ ج ۳) یعنی امیروں کا رضائے خدا کے لئے فقراء سے تواضع کرنا کس قدر نیک عمل ہے۔
تواضع زگردن فرازان نکو است
گداگر تواضع کند خوی اوست
(سعدی)
یعنی تواضع امراء سے ہو تو زیادہ بہتر اور قابل تعریف ہے چونکہ غرباء کا تواضع ان کا فطری تقاضا ہے۔اس سے بہترین عمل غریبوں کا امیروں کے سامنے تکبر کرنا ہے۔یعنی محتاج کو چاہئے کہ خدائے عزوجل پر توکل کرتے ہوئے فقیرانہ خوشامد اور گری ہوئی حرکتوں سے اجتناب کرے اور ان کے سامنے انکساری نہ کرے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے آپ کو ان سے بر تر سمجھتے ہوئے تکبر کرے۔جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے۔
اگر ثروت مند اپنے مال پر نازوفخر کرے تو فقیر کو بھی چاہیے کہ وہ اس خدائے عزوجل پر توکل کر کے کہ جس کے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان کے خزانے ہیں اور اپنے آپ کو بے نیاز سمجھے۔
کتاب لئالی الاخبار میں نقل کیا گیا ہے کہ ایک روز ایک امیر آدمی فاخر لباس پہنے ہوئے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہو ااور بیٹھ گیا۔اس کے بعد ایک فقیر آیا کہ جس نے پھٹا پرانا لباس پہنا ہو اتھا وہ اس امیر آدمی کے قریب بیٹھ گیا تو امیروں نے اپنا لباس سمیٹ لیا اور اس سے کچھ دور ہو گیا۔
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کیا تم اس بات سے خوفزدہ ہو کہ اس کی فقیری تم تک پہنچ جائے گی ؟اس(امیر) نے کہا نہیں،آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ تمہاری دولت کم ہو جائے گی اور اس فقیر تک پہنچ جائے گی اس امیر نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: تم اپنا لباس گندہ ہو نے کے خوف سے دورہو گئے؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پس تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا میرا نفس ہر نیک کام کو برااور ہر برے کام کو میرے سامنے اچھا پیش کرتا ہے اور اب میں اپنے برے کردار کی تلافی کرتے ہوئے اپنی تمام دولت میں سے نصف اس فقیر کو بخشتا ہوں۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس فقیر سے پوچھا کہ آیا تم اس کی دولت کو قبول کروگے؟ اس نے کہا نہیں ۔آپ نے فرمایا کیوں؟ اس نے عرض کی میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی اس کی طرح تکبر میں مبتلا نہ ہو جاوں۔
ضمناًیہ بات بھی یاد رہے کہ امیر کے سامنے تواضع نہ کرنا صرف اس کے مال کی وجہ سے ہے ورنہ اگر ایمان و تقویٰ کے مقابلے میں تواضع و فروتنی سے پیش آنا چاہئے بلکہ اس بارے میں حکم دیا گیا ہے یعنی اس کے مال کی طرف مائل نہ ہو اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کا تواضع کرنا متقی فقیر اور متقی امیر کے سامنے یکساں ہو اور دولت پیش نظر نہ ہو۔
تواضع میں افراد کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے
تواضع کی ایک حد ہے،اگر انسان اس سے گزرنے کی کوشش کرے توکبھی انسان کی ذلت و اہانت اور بے عزتی کا موجب ہوتی ہے اور مومن کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو اس کی ذلت کا سبب بنے۔اس بناء پر تواضع کے وقت مکمل طور پر میانہ روی کا خیال رکھنا چاہئے مثلاً والدین اور رشتہ داروں کے سامنے تواضع اجنبی لوگوں سے زیادہ ہونی چاہئے اور باعمل علماء اور سادات کے سامنے دوسروں سے زیادہ تواضع سے پیش آنا چاہئے اور قوم کے بزرگ کے سامنے قوم سے بڑھ کر تواضع سے پیش آنا چاہئے کیونکہ وہ تواضع جو والدین ،علماء اور سادات کے لئے مناسب ہے مثلاً ان کے ہاتھ وغیرہ چومنا،کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کے سامنے یہی چیز انسان کی ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے۔اس بناء پر افراد کے سامنے تواضع سے پیش آنے میں ان کے حالات ومقامات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
سفینة البحار میں امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے روایت کی گئی ہے کہ جناب امیر المومنین (علیہ السلام) کی خدمت میں ایک روز آپ کے اصحاب سے ایک دیندار شخص اور اس کا بیٹا حاضر ہوا۔آپ کھڑے ہو گئے اور بڑی خاطر تواضع سے پیش آئے اور قنبر سے فرمایا کہ ان کے لئے طعام حاضر کرے قنبر کھانا لائے دونوں نے مل کر کھانا کھایا تو قنبر ہاتھ دھونے کے لئے لوٹا،طشت اور ایک رومال(تولیہ)ہاتھ صاف کرنے کے لئے لے آئے۔جناب امیر المومنین (علیہ السلام) نے قنبر سے لوٹا لیا اور مہمان باپ کے ہاتھ دھلانا چاہتے تھے کہ مہمان نے دست ادب جوڑ کر عرض کی مولا! یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ خدمت غلام اپنے آقا سے لے لے۔آپ نے قسم کھاتے ہوئے فرمایا تمہارے ہاتھ دھلانے سے اگر میرامولا و آقا مجھ سے راضی و خوشنود ہو جائے تو کیسا ہے؟تم اسطرح اپنا ہاتھ دھو لو گویا کہ قنبر پانی ڈال رہا ہے۔
یہ کلمات سن کر وہ اپنے ہاتھ دھلانے پر مجبور ہو گیا امیرا لمومنین (علیہ السلام) نے اس کے ہاتھ دھلائے اور اپنے بیٹے محمد بن حنیفہ کو لوٹا دے دیا اور اسے فرمایا کہ تم اس لڑکے کے ہاتھ دھلاو تا کہ باپ اور بیٹے کا درجہ مساوی نہ رہے۔اگر اس لڑکے کے والد اس کے ساتھ نہ ہوتے تو پھر میں خود ہی اس کے ہاتھ دھلاتا لیکن باپ کی موجودگی میں ایسا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ باپ بالاخر باپ ہے۔اس لئے باپ کے ہاتھ باپ دھلائے اور بیٹا بیٹے ک
تواضع کی علامات
عَنِ الصّٰادِقِ(ع) عَنْ اٰبٰآئهِ(ع) قٰالَ اِنَّ مِنَ التّواٰضُعِ اَنْ یَّر ضَی الرَُّجُلَ بِالْمَجْلِسِ دُوْنَ الْمَجْلِسِوَاِنْ کٰانَ یُسْلِمُ عَلٰی مَنْ یَّلقیٰاَنْ یُّترَکَ الْمِرٰآءَ وَاِن کٰانِ مُحِقاًوَلٰا یُحِبُّ اَنْ یُحمَدَ عَلَی التَّقْویٰ ۔(سفینةُ البحار)
تواضع یہ ہے کہ انسان مجلس میں سب سے پیچھے بیٹھنے پر راضی ہو اور جس سے ملاقات کرے اس سے سلام میں ابتداء کرے اور لڑائی جھگڑے کو ترک کرے اگرچہ حق پر ہو اس بات کو پسند نہ کرے کہ اس کی تقویٰ سے تعریف کی جائے۔یعنی جو کوئی ان چار باتوں کا لحاظ رکھے گا وہ تواضع کی فضیلت سے بہرہ مند ہو جائے گا یا یہ کہ تواضع کی علامات یہ چار باتیں امیر المومنین(علیہ السلام) اپنی وصیت کے ضمن میں فرماتے ہیں۔
عَلَیْکَ بِالتَّوٰاضُعِ فَاِنَّهُ مِنْ اَعْظَمِ الْعِباٰدَةِ (سیفنة البحار)
تمہارے لئے ضروری ہے کہ تواضع کو اپنا شیوہ بناو کیونکہ یہ بہت بڑی عبادت میں سے ہے۔
سفینة البحار میں مروی ہے کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) ہر نماز کے بعد خداوند عالم کے سامنے انتہائی عاجزی سے اپنے چہرے کے دائیں بائیں حصے کو زمین پر ملتے تھے اور اسی وجہ سے خداوندعالم نے انہیں اپنا کلیم قرار دیا۔
امام علی رضا (علیہ السلام)فرماتے ہیں :اَلتَّوٰاضُعُ اَنْ تُطْعٰی النّٰاسَ مٰا تُحَبُّ اَنْ تُعْطٰاهُ (کافی)
تواضع یہ ہے کہ لوگون کو وہ (چیز)دو جو تم پسند کرتے ہو کہ وہ تمہیں دیں۔
مروی ہے کہ
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَهَمْ قٰالَ قُلْتُ لِلَّرضٰا مٰاحَدُّ التَّوٰاضُع الَّذِی اِذا فَعَلَهُ الْعَبْدُ کَانَ مُتَوَاضِعاً؟فَقَالَ اَلتَّوٰاضُعُ دَرَجٰاتٌ مِنْهٰا اَنْ یُّعْرِفَ الْمَرْءُ قَدْرَ نَفْسَه فَیَنْزِلُها مَنْزِلَتَهٰا بِقَلْبٍ سَلِیْمٍلٰا یُحِبُّ اَنْ یّاتِیَ اِلٰی اَحَدٍ الّاَمِثْلَ یُوتٰی اِلَیْهاِنْ رٰای سِیئَةً دَرَهٰا بِالحَسَنَتَهِ کٰاظِمُ الْغَیظِ عٰافٍ عَنِ النّاسِ وَاللّهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (کافی)
حسن بن جہم نے امام علی رضا (علیہ السلام) سے پوچھا کہ تواضع کی معیار اور اس کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا،تواضع کے کچھ درجات ہیں ان میں سے ایک درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مقام وحیثیت کو سمجھے اور ہر کام اپنی حیثیت کے مطابق کرے بلکہ اس مقام سے قلب سلیم کے ساتھ تھوڑا نیچے اتر آئے اور جو کچھ چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسرے کے لئے پسند کرے۔اگر کسی سے کوئی برائی دیکھے تو اس کے سامنے نیکی کرے(یعنی بدی کے مقابلے میں نیکی کرے) اور اپنے غصے کو پی جائے اور لوگوں سے درگزر کرے۔بلاشبہ خداوند عالم نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
ہمارے آئمہ اطہار (علیہم السلام)سب سے زیاد ہ تواضع کرنے والے تھے
سفینہ البحار میں مروی ہے کہ امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کالے اور بد صورت سوڈانی مرد کے پاس سے گزرے تو آپ نے اسے سلام کیا اس کے قریب گئے اور کافی دیر تک اس سے باتیں کیں۔اس کے بعد فرمایا اگر کوئی کام ہو تو مجھے بتاو میں اسے انجام دوں۔لوگوں نے آپ سے کہا اے فررزند رسول آپ اسے شخص کے پاس جاتے ہیں اور اس کی حاجت پوچھتے ہیں حالانکہ وہ آپ سے زیادہ محتاج تر ہے۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا وہ بھی خدا کا ایک بندہ ہے اور ہمارا دینی بھائی ہے اور ہمیں اور اسے بہترین باپ آدم ابو البشر جناب آدم (علیہ السلام) اور بہترین دین جو کہ اسلام ہے،ملاتا ہے، شاید وقت ہمیں اس کا محتاج کردے تو پس ہم کس لئے اس پر تکبر کریں۔
تکبر کی جڑ کا ٹنا چا ہئیے
محمد بن مسلم اشراف کوفہ میں سے ایک دولت مند آدمی تھے اور حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے تھے۔ایک دن امام محمد باقر (علیہ السلام) نے ان سے کہا اے محمد فروتنی کرو،جب محمد بن مسلم مدینہ سے کوفہ واپس آئے تو کھجور کا برتن اور ترازو اٹھایا اور جامع مسجد کوفہ کے دروازے پر بیٹھ کر صدا لگانے لگے کہ جس کو کھجور چاہئیں آئے اور مجھ سے خرید لے (اس کام کو وہ اپنے نفس کے تکبر کو ختم کرنے کے لئے کررہے تھے)تو ان کے رشتہ دار آئے اور ان سے کہا کہ تم نے اپنے اس کام سے ہمیں رسوا کر دیا۔ انہوں نے جواب دیا میرے مولا نے مجھے اس کا م کا حکم دیا ہے اور میں ان کی مخالفت نہیں کر سکتا اور اس جگہ سے اس وقت تک حرکت نہیں کروں گا جب تک کہ اس برتن کی ساری کھجوریں بک نہیں جاتیں۔تو ان کے رشتہ داروں نے کہا،اگر تم ہر صورت میں خرید فروخت ہی کرنا ہے تو اس جگہ جاو جہاں گندم کو آٹا کرتے ہیں اور حضرت نے قبول کر لیا اور اونٹ اور چکی کا پتھر خریدا اور گندم کا آٹا بنانے میں مشغول ہو گئے تا کہ اس کام سے نفس کے تکبر کا خاتمہ کریں اور اپنے آپ کو ایک عام انسان کی طرح دیکھیں۔
(سفینہ البحار از کتاب اختصاص)
محاربة المسلمینا
(مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنا)
کبیرہ گناہوں میں سے چونتیس واں گناہ کہ جس کے کبیرہ ہونے کی معتبر نص میں صراحت کی گئی ہے ،وہ خدا کے دوستوں (یعنی مسلمانوں)سے جنگ کرنا ہے چنانچہ اعمش کی روایت میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے اور فضل بن شاذان کی روایت میں امام علی رضا (علیہ السلام) سے اس بات کی تصریح کی گئی ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کے لئے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس کے لئے دنیا میں شرعی سزا(حد)مقرر کی گئی ہے اور سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( اِنِّمٰا جِزٰآءُ الَّذِیْنِ یُحٰارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَیَسْعُوْنِ فِی الْاَرْضِ فَسٰاداً اَنْ یُّقتَلُّو اَو ْتُقَطَّع اَیْدِیْهُمْ وَاَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلٰافٍ اَوْ یُنْفعوا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیٰا وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذٰابٌ عَظِیْمٌ اِلَّاالذِّیْنَ تٰابُوْا مِنْ قَبْلُ اَنْ تَقدِ رُوْا عَلَیْهِمْ فَاعْلَمُواَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ) ۔ (سورہ مائدہ آیت ۳۳،۳۴)
اور جو لوگ خدااور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں(اور احکام کو نہیں مانتے) اور فساد پھیلانے کی غرض سے(ملکوں )دوڑتے پھرتے ہیں ان کی سزا بس یہی ہے کہ(چن چن کر)یا تو مار ڈالے جائیں یا انہیں سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ پاوں ہیر پھیر کے(ایک طرف کاہاتھ دوسری طرف کا پاوں)کاٹ ڈالے جائیں یاا نہیں(اپنے وطن کی)سرزمین سے شہر بدر کر دیا جائے یہ رسوائی تو ان کی دنیا میں ہے اورآخرت میں تو ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے مگر ہاں جن لوگوں نے اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاو توبہ کر لی تو(ان کا گناہ بخش دیا جائے گا)کیونکہ سمجھ لو کہ خدا بے شک بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
منہج میں لکھا ہے ہجرت کے چھٹے سال عونیہ اور عکل سے ایک گروہ حضرت رسالت مآب (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوااور اسلام سے مشرف ہونے کے بعد وہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ رہنے لگے۔لیکن جب مدینہ کی آب وہوا ان کے لئے سازگار نہ ہوئی تو وہ مریض ہو گئے۔ان کی اس حالت کے بارے میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اطلاع دی گئی توآپ نے انہیں مدینہ سے باہر دودھ دینے والے اونٹوں کے درمیان جو کہ جبل العیر کے نزدیک تھا رہنے کی اجازت دی تا کہ وہاں کچھ روز رہیں اور اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیئں۔تا کہ انہیں مرض سے نجات حاصل ہو اور وہ صحت یا ب ہو جائیں وہ لوگ اس علاقے میں چلے گئے اور کچھ عرصے وہاں رہ کر صحت یاب ہوگئے۔ایک صبح انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور رسول اکرام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مخصوص پندرہ اونٹ چوری کر لئے اور مرتد ہو گئے اور اپنے قبیلے کی طرف چلے گئے ۔جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو یسار نے جو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے غلام تھے ،کچھ آدمیوں کے ساتھ ان کاپیچھا کا اور ان تک پہنچ گئے۔آپس میں جنگ وجدل ہوئی۔آخر کار انہوں نے یسار کو گرفتار کر لیا اور ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے اور ان کی آنکھوں اور زبان میں کانٹے گھونپ دیئے حتی کہ وہ شہید ہو گئے اور جب رسول خدا کو اس واقع کی اطلاع ملی تو آپ نے کربزبن جابر کو ان کے پیچھے بھیجا ۔انہوں نے ان تمام کو گرفتار کر لیا اور ہاتھ پاوں باندھ کر رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ کر سولی پر لٹکا دیں۔
اور تقریباً اسی موضوع سے متعلق کچھ اوراختلاف کے ساتھ اہل بیت (علیہم السلام) سے بھی روایات وارد ہوئی ہیں۔
محا رب کون ہے
فقہاء کے نزدیک محارب وہ ہے جو اسلحہ مثلاًتلوار،نیزہ ،چاقہ،بندوق،لکڑی،پتھر وغیرہ اپنے پاس رکھے تا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کر کے ان کا مال اور ناموس لوٹ لے یا ان کا خون بہائے،خواہ تنہا ہو یا اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہوں، چاہیے اس کا مقصد حاصل ہو یا نہ ہو۔یعنی لوگ خوفزدہ ہوں،یا نہ ہوں ان کا مال لے جائے یا نہ لے جائے،انہیں قتل کرے یا نہ کرے بلکہ فقط اس مقصد کیلئے اسلحہ لے کر پھرے تو محارب ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ دریا میں ہے یا خشکی پر شہرو آبادی میں ہو یا صحرا و بیابان میں مثلاً رہزنوں کی طرح یہاں تک کہ اگر اسلحہ لے کر دن یا رات کے وقت کسی مسلمان کے گھر گھس جائے اور اہل خانہ پر حملہ کرے تو وہ محارب ہے۔
کتاب کافی میں مروی ہے کہ سورہ بن کلیب نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر سے مسجد یا دوسری کسی جگہ جانے کے لئے نکلے تو ایسے میں کوئی آدمی اسے پیچھے سے پکڑ لے اور اسے مارے اور اسکا لباس چھین لے تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا ایسا شخص محارب ہے اور پرآیت( اِنَّمٰا جَزٰآءُ الَّذِیْنَ یُحٰارِبُوْنِ ) کا انطباق ہوتا ہے۔
اور اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ محارب مسلمان ہو یا غیر مسلمان ،مرد ہو یا عورت،اسلامی شہروں میں ہویا غیر اسلامی میں اور اس جملے یَسْعَوْنَ فِی الاَرْضِ فَسٰاداً کہ جو اس آیت میں موجود ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ محارب سے مرد نہ صرف جنگ اور مسلمانوں سے لڑنا بھڑنا ہے بلکہ زمین میں کسی بھی قسم کا فساد اور عام لوگوں کے امن وسکون میں خلل ڈالنا ہے اور عادتاً خوف و ہراس کا پھیلانا،اسلحہ کے استعمال اور قتل کی دھمکی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔المختصر محارب وہ ہے جو اسلحہ سے لیس ہو کر مسلمانوں کی جان ومال و ناموس اور امن و سکون کو سلب کرنے کے لیے حملہ کرے۔
خداوپیغمبر سے جنگ کرنا
آیہ شریفہ میں جو مسلمانوں سے جنگ کرنے کو خدا و پیغمبر سے جنگ کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے اس کا سبب مسلمانوں کی تعظیم و عزت ہے اسی طرح جو بھی معاملہ ان کے ساتھ ہو اس طرح ہے کہ جیسے خداو پیغمبر کے ساتھ ہوا۔چونکہ وہ(مسلمان)خداو پیغمبر کے ساتھ وابستہ ہیں یا اس کی وجہ یہ ہے کہ خداورسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مسلمانوں کو اذیت دینے اور ان کے مال یا ناموس یا خون کی طرف دست درازی کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور جو کوئی اس حکم کی مخالفت کرے وہ محارب (یعنی خدا اور رسول کے ساتھ جنگ کرنے والا)ہے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
عَنِ الصّادِقِ (ع) قٰالَ اللّٰهُ عَزَوَّجَلَّ لَیَأذَنُ بِحَرْبٍ مِّنّی مَنْ اَذیٰ عَبْدِی الْمُومِنِ وَلٰیاء مَنْ غَضَبی مَنْ اَکْرَمَ عَبْدِیَ الْمُومِنِ (کافی ج ۲ ۔ص ۰۵۳)
خدائے عزوجل فرماتا ہے کہ وہ شخص مجھ سے جنگ کا اعلان کرتا ہے جو میرے مومن بندے کو اذیت دے اور میرے غضب سے وہ امان میں رہے گا جس نے میرے مومن بندے کا احترام کیا ۔
آپ نے یہ بھی فرمایا:
مَنْ اَهٰانَ لِیْ وَلِیّاً فَقَد بٰارَزَنِیْ بَالْمُحٰارَبَتِه (کافی ج ۲ ص ۳۵۲)
جو کوئی میرے دوست کی توہین کرے اس نے کھلم کھلا مجھ سے جنگ کی ہے۔
محارب کی حد
جیسا کہ آیہ شریفہ میں گزر چکا ہے کہ چار طریقوں سے کسی ایک طریقے پر عمل کیا جائے قتل کرنا۔پھانسی دینا،ہاتھ اور پیر کو برعکس کاٹنا یا شہر بدر کرنا۔برہان قرآن صفحہ ۱۸۸ میں اس طرح تحریر ہے کہ اصطلاح فقہاء میں محارب سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے شہر یا بیابان یا سمندر میں رات کے وقت یا دن میں مزاحمت کرے خواہ کمزور ہو یا طاقتور ،خواہ مرد ہو یا عورت ایسا شخص فقہی اصطلاح میں محارب کہلایا جائے گا اور قرآن مجید اس کے اس عمل کو خدا اور رسول سے جنگ کے حکم میں شمار کرتا ہے اور اس کے بارے میں کہتے ہے۔اِنِّمٰا جَزٰآءُ الِّذِیْنَ یُحٰارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ
کتاب مذکورہ میں اس آیت کے ترجمہ کے بعد لکھا ہے محترم قارئین یہ ایک موقع ہے کہ جس نے بعض حساس طبیعت اور نازک دل رکھنے والے آزاد خیال لوگوں کو آزردہ اور متأثر کیا ہے اور اس اسلامی قوانین کو ان کی نظر میں وحشیانہ اور سخت بنا دیا ہے۔لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ آزاد خیال لوگ اپنی رقت قلبی اور مہر و محبت کا اظہار ہمیشہ مجرموں ڈاکووں اور خونخواروں ہی سے کیوں کرتے ہیں اور ان بے گناہ لوگوں اور معصوم عورتوں اور بچوں سے کہ جن کا مال،ناموس اور جان اس سر کش اور ظالم گروہ کی ہوا و ہوس کا شکار ہو جائے ان سے رحم اور شفقت کا اظہار کیوں نہیں کرتے۔آیا امن و امان کے قیام اور معاشرہ کی حفاظت و سلامتی کیلئے ان افراد کی سر کوبی اور کسی مریض کو موت و مرض سے بچانے اور حفاظت و سلامتی کیلئے بیماری کے ہزاروں جراثیموں کو ختم کر دینے میں کوئی فرق ہے۔کیا کوئی بھی عقلمند شخص کسی ماہر ڈاکٹر کو ان جراثیم کو ایک انجکشن یا دوائی سے ختم کر دینے کے قابل اعتراض سمجھے گا اور اس کے اس عمل کو وحشیانہ اور سخت کہے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر منصف مزاج شخص اس حکم کو معاشرے کے ساتھ رحم او ر شفقت اور ڈاکووں اور مجرموں کے ساتھ عدل و انصاف کے مطابق سمجھے گا۔لیکن اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اسلام کے مہربان قانون بنانے والے نے جرم میں بھی رحم ومہربانی کو پیش نظر رکھا ہے۔
چنانچہ تفیسر مجمع البیان میں اسی آیت کے ذیل میں امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت کی گئی ہے کہ محارب کی سزا اس کے جرم کے مطابق ہے۔پس اگر قتل کا مرتکب ہوا ہے تو اس کی سزا بھی قتل ہے اور اگر قتل کے علاوہ مال بھی لے گیا ہے تو اس کی سزا قتل اور سولی پر لٹکانا ہے اور اگر قتل کے بغیر صرف مال لے گیاہے تو اس کی سز اہاتھ اور پیر کاٹنا ہے اور اگر اس کا گناہ صرف بد امنی پھیلانا،راستہ کاٹنا ہو تو اس کی سزا صرف تبعید(شہر بدر کرنا) ہے۔روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شارع اسلام نے محارب کا سزا دینے میں اس کی سزا گناہ کے لحاظ سے رکھی ہے اور گناہ گار کیلئے یہ خود ایک مہربانی ہے بلکہ اسلام نے اس حد تک مہربانی پر اکتفا نہیں کیا اور واضح کر دیا کہ جب بھی محارب شخص گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کر لے تو وہ سزا سے مستثنیٰ ہے۔صرف لوگوں کے وہ حقوق جو اس نے ادا نہیں کئے ان کا ذمہ دار ہے۔چنانچہ سورہ مائدہ کی آیت ۳۴ اس بات کی دلیل ہے۔
اور صفحہ ۱۸۵ میں لکھا ہے انسانی معاشرہ میں آسمانی قوانین کا ہدف ومقصد یہ ہے کہ پانچ بنیادی اور اہم چیزوں یعنی جان،عقل،مال،نسل اور لوگوں کی عزت و ناموس کو حملے اور تباہی سے محفوظ رکھے کیونکہ ان پانچ اہم موضوعات میں سے کسی ایک میں بھی کمی یا زیادتی،جنگ،خونریزی انتشار اور شروفساد کا موجب ہو سکتا ہے اس میں شک نہیں کہ صرف امر ونہی کے ذریعے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف سزا کا خوف ہی ان اوامرونواہی کے اجراء کا ضامن ہو سکتا ہے۔
عظیم اسلامی فلسفی ابوریحان بیرونی کتاب۔تحقیق ماللھند میں ہندووں کے عقائد وافکار کی شرح کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ ان (ہندووں )کی مثال نصرانیوں کی مانند ہے کیونکہ ان کے افکار کی بنیاد خیر اور بطور کلی شر سے اجتناب کرنا ہے۔مثلا قتل و غارت گری اور دوسری برائیوں سے دوری اختیار کرنا۔یعنی کوٹ کے غاصب کو پیراہن پیش کرنا اور ایک گال پر طمانچہ مارنے والے کو دوسرا گال بھی پیش کر دیا اور نماز میں دشمن کیلئے دعائے خیر اور مغفرت طلب کرنا ہے۔بے شک یہ طریقہ ایک نیک اور پسندیدہ عمل ہے۔لیکن دنیا میں رہنے والے سب کے سب فلسفی نہیں ہیں بلکہ ان میں سے زیادہ تر گمراہ ہیں۔شمشیر اور تازیانے کے بغیر ان میں استقامت پیدا نہیں ہوتی اس زمانے میں جب قسطنطین فاتح نصرانی بنا تو اس نے شمشیر اور تازیانے کو حرکت دی کیونکہ سیاست ان دو کے بغیر نامکمل ہے۔ان وجوہات کی بناء پر خداوند عالم نے قرآن مجید میں حکیمانہ انداز میں قصاص کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایاہے۔
( وَلَکمْ فِی الْقِصٰاصِ حَیٰوةٌ ٰیٰا اُولِی الْاَلْبٰابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنِ ) ۔
اس آیت میں ان عقل مند افراد کو جو اپنی عاقبت کی فکر کرتے ہیں اور زندگی کی قدر وقیمت کو جانتے ہیں،مخاطب کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسانوں کی زندگی اور معاشرہ انسانی قصاص سے وابستہ ہے کیونکہ اگر کوئی شخص یہ جانتا ہو کہ قتل کرنے پر قتل کیا جائے گا اور قصاس کی خوفناک شکل وصورت قاتل کی کمین گاہ میں ہے تو وہ اپنا ارادہ بدل دیتا ہے اور نتیجتاً اپنی جان کو قصاص سے اور دوسرے کی جان کو ہلاکت سے بچالیتاہے۔ ان حقائق کی طرف توجہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی نے ان جیسے گناہوں مثلاً عمداً قتل ،زنا کی تہمت،زنا ،چوری،لڑائی جھگڑا شراب پینا اور مرتد یعنی دین سے پھر جانے کی سزا کا واضح نصوص میں تعین کیا ہے اور جب کہ دوسرے موارد میں کوئی خاص سزا مقرر نہیں کی ہے اور سزا کی قسم اور مقدار کا حاکم شرع پر چھوڑ دیا ہے تا کہ وہ جرم کے زمان ومکان کے تقاضوں اور مجرم کے حالات کے مطابق سزادے کیونکہ اس طرح کے گناہوں کا ارتکاب معاشرے اور قوموں کی بد بختی و پریشانی اور تزلزل کا باعث ہوتاہے۔(یہاں سے برہان قرآن کا بیان اختتام پذیر ہوا۔)
ان حدود کے اجراء کی کیفیت کا روایات میں ذکر کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں کافی کی ایک روایت میں عمروبن عثمان مدائنی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام علی رضا (علیہ السلام) سے اس آیت اِنَّمٰا جَزٰآءُ الَّذِیْنَ یُحٰارِبُوْن۔ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کونسا کام ان چار حدود میں سے کسی ایک کا موجب بنتا ہے،امام (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب خدا اور رسول کے ساتھ جنگ کرے اور زمین میں فساد پھیلائے اور کسی کو قتل کر کے اس کا مال لے جائے تو قتل کیا جائے گا اور سولی پر لٹکایا جائے گا اور اگر لوگوں کا مال لے لیکن کسی کو قتل نہ کرے تو اس کا دایاں ہاتھ بایاں پیر یا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر کاٹے جائیں گے اور اگر تلوار اٹھائے اور خدا اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے لیکن کسی کو قتل نہ کرے اور نہ ہی مال لے جائے تو تبعید(شہر بدر)کیا جائے گا۔پوچھا گیا کس طرح تبعید(شہر بدر) کیا جائے گا،امام (علیہ السلام) نے فرمایا جس شہر میں جرم کا ارتکاب کیا ہے دوسرے شہرمیں تبعید کیا جائے گا اور اس شہر کے رہنے والوں کو لکھا جائے گا کہ یہ تبعیدی ہے اسکے ساتھ میل جول نہ رکھیں اور نہ ہی کوئی معاملہ کریں اور نہ کھائیں پیئں یہاں تک کہ ایک سال تک اس کے ساتھ یہ سلوک رکھیں۔
چونکہ ہمارے زمانے میں ان حدود کا اجراء نہیں کیا جاتا اس لئے اس موضوع کی فروعات اور روایات اور نقل اقوال اور اس موضوع سے متعلق تحقیق کی ضرورت نہیں۔
جب بھی محارب پکڑنے جانے سے پہلے اپنے کردار پر پشیمان ہو اور توبہ کر لے تو ذکر شدہ حد اس پر سے ساقط ہو جاتی ہے۔لیکن اگر مال لے کرگیا ہووہ مال اس سے لے کر اس کے مالک کو دیا جائے گا اور اگر قتل کیا ہو تو قصاص ہوگا۔سوائے اس کے صاحب حق اسے بخش دے۔
چور سے دفاع کرنا
وہ چور جو اسلحہ سے لیس ہو کر مال لے جانے کے لئے حملہ کرے وہ محارب ہے اور اگر مال کا ملک مقابلہ کر سکتا ہو تو اپنا دفاع کرنا جائز ہے اور اگر اس حال میں چور قتل ہو جائے تو اس کے خون کی کوئی اہمیت نہیں اور اس کی کوئی ضمانت نہیں اور اگر مال کی حفاظت کرنا واجب ہویا چور اس کی ناموس پر حملہ کرنا چاہیئے تو قادر ہونے کی صورت میں دفاع کرنا واجب ہے سوائے اس کے کہ جان کا احتمال ہو اور اگرچہ چور صاحب مال کو قتل کرنے کا اراداہ رکھتا ہو تو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر دفاع اور مقابلہ کرنا واجب ہے ورنہ فرار ہو جائے۔یا چھپ جائے یا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کرے جس سے اس کی جان کی حفاظت ہو سکے اور اگر چور بغیر اسلحہ کے ہوتب بھی وہ محارب کے حکم میں ہے۔یعنی جو کچھ مسلح چور کے بارے میں ہے وہی اس کے لئے بھی ہے سوائے اس کے کہ محارب کی حد اس پر جاری نہیں ہوگی پس ایسی صورت میں کہ اگر چوروں کی تمام شرائط اس میں موجود ہیں تو چور کی حد جاری کی جائے گی اور اگر تمام شرائط نہ پائی جائیں تو صرف تعزیر و تادیب کی جائے گی،ایسا چور یا مستلب ہے یا مجلس مستلب (لٹیرا)وہ ہے جو کھلم کھلا لوگوں کا مال چوری کرے اور فرار ہو جائے اور محلس وہ ہے جو چھپ کر لوٹے اور فرار کر جائے ان ہر دو صورتوں میں حاکم شرع جو سزا بھی اس جرم کے ترک کرنے کیلئے مناسب سمجھے دے۔مثلاً جتنا مناسب سمجھے مارے یا قید میں رکھے۔
ایک شخص کسی لڑکی کے کان سے گوشوارہ اتار کر لے اڑا تھا اسے امیر المومنین (علیہ السلام) کی خدمت میں لایا گیا۔آپ نے فرمایا اس کی چوری اور لوٹ مار ظاہر ہے چونکہ پوشیدہ نہیں ہے اس لئے چوری کی حد ہاتھ کاٹنا ہے۔اس پر جاری نہیں ہو گی بلکہ تعزیر ہو گی۔پس اسے مارا اور قید کر دیا اور تیسری قسم مختال ہے یعنی جو دھوکے باز ہو اور حیلے بہانے سے کسی کا مال لے اڑے۔مثلاً جعلی سند بنائے اور اس ذریعے سے دوسروں کا مال ہتھیا لے لازمی طور پر اسے تعزیر کی جائے۔
( مردار ،خون اور خنزیر کا گوشت کھانا)
کبائر منصوصہ میں سے پینتسواں گناہ مردار،خون ،اور خنزیر کا گوشت کھانا ہے اور ہر وہ چیز کہ جس کے ذبح کے وقت خداوند عالم کا نام نہ لیا ہو اور روایت اعمش میں امام جعفر صادق سے اور فضل بن شاذان نے امام علی رضا (علیہ السلام) سے اس کے کبیرہ ہونے کی صراحت کی ہے اور قرآن مجید میں سورہ بقرہ آیت ۱۷۳ اور سورہ انعام کی آیت ۱۴۵ اور سورہ نحل میں آیت ۱۱۶ میں اس کی حرمت کی تصریح کی گئی ہے اور سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( حُرِّمِتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَهَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمٰا اوُهِلَّ لِغَیْرِاللّٰهِ بَه وَالْمُنْخِنقتهُ وَالْمَوْقُوذةُ وَاَلْمُتَرَدِّیِتَهُ النطیعتة وَمٰا اَکَلَ السَّبُعُ اِلّٰا مٰا ذَکَّیْتُمْ وَمٰا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْاَزْلَامِ ذالکم فِسْق ) (سورة مائدہ آیت ۳)
(اے لوگو)از خود مرا ہوا جانور اورخون اور سور کا گوشت اور جس جانور پر (ذبح کے وقت) خدا کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے اور گردن مروڑا ہو ااور چوٹ کھا کے مرا ہو ااور جو اونچی جگہ سے(کنوئیں وغیرہ میں )گر کر مر جائے اوریاجو سینگ سے مار ڈالا جائے اور جس کو درندے نے پھاڑ کھایا ہو یہ سب چیزیں تم پر حرام کی گئی ہیں اور یہ گناہ کی بات ہے۔
المختصر مذکورہ اشیاء کے کھانے کی حرمت اور کبیرہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے البتہ ان میں سے ہر ایک کی حقیقت و اقسام اور فروعات کا جاننا ضروری ہے جو کہ قرار ذیل ہیں۔
مرد ا ر
ہروہ جانور جو تذکیہ شرعی کے بغیر مر جائے وہ مردار ہے اور اس کا کھانا حرام ہے اور اگر خون جہندہ رکھتا ہو تو نجس بھی ہو گا لیکن اگر تذکیہ ہو گیا ہو تو پاک ہے(سوائے کتے اور سور کے جو ہمیشہ نجس اور قابل تطہیر نہیں ہیں)اگر حلال گوشت (جانور) ہو تو پس تذکیہ کے بعد اس کا کھانا حلال ہے۔اس بناء پر حلال گوشت جانوروں کی پہچان اور تذکیہ شرعی کی کیفیت جاننا ضروری ہے۔
انجمن تبلیغات اسلامی کے ایک مجموعہ میں تحریر ہے کہ فقہ اسلامی میں انتہائی وضاحت ودقت سے حلال گوشت جانور معین ہوئے ہیں۔جب ایک دانشنمند جو طبیعت کا ماہر ہو وہ اس طرف توجہ دے تو وہ ان بڑے علمی حقائق کا جو اس تقسیم بندی میں استعمال ہوئے ہیں،مشاہدہ کرے گا۔
دین اسلام نے عمومی طور پر گوشت خور جانوروں کو حرام قرار دیا ہے۔کیونکہ گوشت خور جانوروں کے معدے میں گندگی اور ان کا گوشت گندہ اور بد بودار ہوتا ہے اس لئے ان کے گوشت کھانے سے انسان بیمار ہوتا ہے اس کے برعکس زیادہ تر گھاس والے جانوروں کو حلال جانتا ہے۔
وہ تمام جانور جو ناخن رکھتے ہیں وہ حرام ہیں اور جو حیوانات کھر رکھتے ہیں وہ حلال کئے گئے ہیں اور ان میں سے کچھ کو مکروہ کہا گیا ہے مثلاً گھوڑا،خچر وغیرہ اور پرندوں میں حلال،حرام کی تمیز ان کے پر ہلانے پر موقوف ہے،جو پرندے فضا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے پروں کو زیادہ پھیلا کر رکھیں وہ حرام اور جن کے پروں میں پرواز کرتے ہوئے اپنے پروں کو زیادہ پھیلا کر رکھیں وہ حرام اور جن کے پروں میں پرواز کے وقت سکون سے زیادہ حرکت ہو وہ حلال ہیں اس کے علاوہ تحریر ہے کہ اسلام نے شکار کو آزاد قرار دیا ہے لیکن اسے صرف اس وقت جائز قرار دیا ہے کہ جب (شکاری)اپنے گھر والوں کو فائدہ پہنچانے یا اپنی روزی حاصل کرنے کے لئے شکار کرے اور ایسا شکار کے جس سے مرادصرف لہو ولعب اور حیوانات کو مارنا ہو تو یہ جائز نہیں اور سفر میں اس (شکاری)کی نماز قصر نہیں ہو گی اور روزے بھی رکھے کیونکہ اس کا سفر غیر شرعی اور حرام ہے۔(مجموعہ تبلیغاتی اسلامی کا بیان یہاں ختم ہوا)۔
حیوانات کی تین قسمیں ہیں زمینی،آبی،ہوائی،زمینی جانور دو قسم کے ہوتے ہیں پالتو ،یعنی وہ جانور جو انسانوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور وحشی جو جنگل و بیابان میں رہتے ہیں۔
زمینی حیوانات
پالتو جانوروں میں صرف گائے ،بھیڑ،اونٹ حلال گوشت ہیں اور گھوڑے،گدھے اور خچر کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ان چھ کے علاوہ دوسرے پالتو جانوروں میں مثلاً بلی حرام گوشت ہے۔
جنگلی جانور حلا ل نہیں ہیں سوائے ہرن کی اقسام کے مثلاً پہاڑی بکرا،(بارہ سنگھا)جنگلی گائے،جنگلی گدھا اور خچر ،تمام درندہ جانوروں کا گوشت یعنی ایسے گوشت خور جانور کہ جو نوکیلی چونچ اور پنجہ رکھتے ہوں چاہئے قوی ہوں مثلاً شیر،چیتا،بھیڑیا وغیرہ ضعیف ہوں مثلاً لومڑی،بجو اور اسی طرح خرگوش کا گوشت اگرچہ درندوں میں سے نہیں لیکن حرام ہے۔
حشرات (کیڑے مکوڑوں)کی تمام اقسام کا کھانا حرام ہے مثلاً سانپ،چوہا پالتو ہوں یا جنگلی اور بھنورا،کیڑا ساہی(ایک جنگلی خاردار چوہا)سیاہ بھونرا،جوں وغیرہ۔
ہوائی حیوانات
ہوائی جانوروں یعنی پرندوں میں سے کبوتر کی تمام اقسام حلال ہیں،مثلاً قمری(کبوتر کی طرح کا ایک خوش آواز پرندہ)چکور،بٹیر،تیتر،قطا،مرغابی اور مرغوں کی اقسام اور چڑیوں کی قسمیں مثلاًبلبل،چنڈول(ایک چڑیا کا نام) صرد(موٹے سر اور چونچ والاآدھا سفید اور آدھا سیاہ پرندہ جو چڑیا کا شکار کرتا ہے)ار صواب(خاکستری رنگ لمبی گردن والا پرندہ جو غالباً کھجور کے درختوں پر رہتا ہے)اور شقراق(سبز رنگ کا خوبصورت پرندہ کبوتر کے برابر اور اس کے سیاہ پروں پر سرخ،سبز اور سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں)
چمگادڑ مور اور وہ گوشت خور پرندہ جو پنجہ رکھتا ہو خواہ قوی ہو کہ جو جانور کو چیز پھاڑ سکتا ہو،مثلاشکاری باز،چرخ(ایک قسم کا پرندہ)عقاب شاہین،باشق(ایک شکاری پرندہ جسے باشہ کہتے ہیں)یا ضعیف ہو،مثلا گدھ بنا بر احتیاط کووں کی تمام قسموں سے اجتناب کرنا چاہئے یہاں تک کہ زاغ سے بھی یعنی کھیتوں کے کووں سے اور البقع کہ جس کا رنگ سیاہ اور سفید ہوتا ہے اور وہ موٹے اور سیاہ رنگ کے کوے جو مردار کھاتے ہیں کیونکہ احتمال یہ ہے یہ درندہ صفت پرندوں میں سے ہوں۔
جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس بارے میں روایات میں خاص حکم موجود ہے۔وہ پرندے جن کے بارے میں کوئی خاص حکم وارد نہیں ہوا تو بطور کلی حرام گوشت کو حلال سے جدا کرنے اور اس کی پہچان کیلئے شرع میں دو علامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
( ۱) پرواز کے وقت پروں میں سکون سے زیادہ حرکت ہو۔
( ۲) تین چیزیں رکھتا ہو صیصیہ یعنی وہ اضافی انگلی جو پرندے کی ران کے نیچے ہو حوصلہ(پوٹا) اور قانصہ(سنگدانہ)
اور ہر حیوان کا انڈا اسی حیوان کے حکم میں ہے یعنی حلال گوشت حیوان کا انڈا حلال اور حرام گوشت حیوان کا انڈا حرام ہے اور کسی ایسے جانور کا انڈا کہ جس کہ بارے میں ہمیں معلوم نہ ہو کہ حلال گوشت ہے یا حرام گوشت تو اگر اس کا اگلا سرا اور نچلا حصہ برابر نہ ہو مثلاًمرغی اور کبوتر کے انڈے کی طرح تو حلال ہے اور اگر دونوں طرف برابر ہے توحرام ہے۔
ضمناً یاد رکھئے کہ حلال گوشت جانور دو چیزوں کی وجہ سے حرام گوشت ہو سکتا ہے ( ۱) نجاست کھانے سے یا( ۲) انسان کے وطی کرنے کی وجہ سے اور ان دونوں کے احکامات کا رسالہ عملیہ میں ذکر کیا گیا ہے۔
آبی حیوانات
اور پانی کے جانوروں میں صرف چھلکے والی مچھلی حلال ہے اور اس کے چھلکوں سے مراد حقیقی چھلکے ہیں خواہ اس کے چھلکے بعد میں(کسی وجہ سے گر چکے ہوں)مثلاًکنعت(قبا مچھلی)کہتے ہیں کہ یہ انتہائی شریر ہوتی ہے اور تمام چیزوں پر اپنے آپ کو مارتی اور ملتی ہے ،جس کی وجہ سے اس کے چھلکے گر جاتے ہیں اور غالباً اسکی چھلکوں والی دم باقی رہ جاتی ہے۔
حیوانات کا تذکیہ
وہ حیوانات کہ جو خون جہندہ رکھتے ہوں،شرعاًان کا تذکیہ دو چیزوں سے ہوتا ہے ایک تو شکار کے ذریعے دوسرا ذبح کے ذریعے،شکار میں حلال کرنے کی دو صورتیں ہیں اس سدھائے کتے کے ذریعہ کہ جو حکم مانتا ہو،یعنی جب اس سے کہیں جاو تو چلا جائے اور جب کہیں آو تو آجائے اور اپنا شکار کھانے کا عادی نہ ہو اور کتے کو شکار پر چھوڑنے والامسلمان ہو اور چھوڑتے ہوئے اس نے اللہ کا نام لیا ہو اور کتا شکاری کی نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔
شکار کے حلال ہونے کے دوسرے اسباب تلوارونیزہ اورلوہے کے نوکدار ہتھیار کارتوس وغیرہ ہیں۔اس طرح کے حیوان کے بدن کو پارہ کردے خواہ یہ ہتھیار آہنی ہو یا کسی اور دھات کا بنا ہو شکار کے حلال ہونے کے باعث ہے۔مگر شرط یہ ہے کہ تیز انداز مسلمان ہو اور تیر چلاتے ہوئے بسم اللہ کہے اور اگر ان شرائط کے ساتھ کتے یا تیروتفنگ سے شکار کا کام تمام ہو جائے تو اس کا کھانا جائز ہے،لیکن اگر شکاری اپنے شکار کو زندہ پالے تو اسے ان شرائط کے ساتھ کہ جن کا ذکر ہو گا ذبح کرے ۔علاوہ ازیں دوسرے مسائل مثلاً چیتے،جال،کمند وغیرہ سے کیا ہوا شکار ناجائز ہے مگر یہ کہ جس وقت شکاری پہنچے تو شکار زندہ ہو اور وہ اسے ذبح کر دے تو جائز ہو گا۔
اس کے علاوہ جنگلی حلال گوشت جانور شکار کرنے سے صرف اس وقت پاک وحلال ہو گا کہ جب وہ فرار ہوسکتا ہو یا پرواز کر سکتا ہو۔اس بنا پر ہرن کا وہ بچہ جو فرار نہ ہو سکتا ہو یا کبک(چکور)کا بچہ جو پرواز نہ کر سکتا ہو تو یہ کتے یا اسلحہ سے شکار کرنے سے حلال و پاک نہیں ہوں گے۔
گوشت کھانے کے با رے میں گفتگو
تفیسر المیزان میں سورہ مائدہ کی تیسری آیت کے ضمن میں تین فصلوں میں مفید باتیں بیان کی گئی ہیں۔جس کا خلاصہ یہاں بیان کیا جاتا ہے۔
( ۱) گوشت کھانے کے بارے میں طرح طرح کے عقائد
بلاشبہ انسان بھی دوسرے حیوانات کی طرح نظام ہاضمہ رکھتا ہے اور اجزائے مادی میں سے ہر وہ چیز جو اسکے کام آسکتی ہے اور جزوبدن بن سکتی ہو اپنی طرف جذب کرتی ہے اس بنا پر طبیعت کے لحاظ سے کوئی مضائقہ نہیں کہ انسان ہر وہ چیز جو چبانے اور نگلنے کے قابل ہو کھائے۔مگریہ کہ نقصان دہ ہونے یا طبیعتاً تنفر کی بناء پر اس سے پرہیز کرے مثلاً وہ سمجھتا ہے کہ فلاں کھانے کی چیز زہر وغیرہ کی بنا پر جسمانی لحاظ سے نقصان دہ ہے یا یہ کہ وہ جان لے کہ فلاں چیز کا کھانا معنوی لحاظ سے اس کے لئے نقصان دہ ہے مثلاً وہ غذائیں جو مختلف مذاہب وشریعتوں میں حرام ہیں۔
تنفر:اگر انسان کسی چیز کو نجس سمجھتا ہو تو نتیجتاًوہ اس سے دوری اختیار کرتا ہے۔مثلاً انسان اپنا پاخانہ نہیں کھاتا کیونکہ اسے گندہ غلیظ سمجھتا ہے اور بعض اوقات اسکی کراہت ونفرت اعتقادی عوامل کی بنا پرہوتی ہے۔مثلاً مسلمان خنزیر کے گوشت کو نجس اور غلیظ سمجھتے ہیں لیکن نصرانی اسے پاک و طاہر سمجھتے ہیں۔غیر مسلم بہت حیوانات مثلاً کیکڑا مینڈک اور چوہا کھاتے ہیں جب کہ مسلمان انہیں برا سمجھتے ہیں۔
پس واضح ہو کہ انسان خصوصاً گوشت کھانے میں مختلف نظریات رکھتا ہے ۔بدھ مذہب کے آئین میں تمام حیوانات کا گوشت کھانا حرام قرار دیا ہے،یہ تفریط دراصل ان حدود کو توڑنے کے نتیجے میں تھی جو کہ قدیم افریقی وحشی قوم اور دوسرے وحشیوں کے درمیان رائج تھی کہ وہ ہر قسم کا گوشت حتیٰ کہ انسان کا گوشت بھی کھاتے تھے عرب کے لوگ چارپایوں کا گوشت حتیٰ کہ دوسرے تمام حیوانات مثلاً چوہا،چھپکلی بھی کھاتے تھے چاہے وہ خود مر جائیں یا دم گھوٹ کر مارا جائے یا کسی اور ذریعے سے انہیں مارا جائے اور کہتے تھے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے مارے ہوئے کو تو کھاتے ہو؟لیکن جس کو خدامارے(بغیر تذکیہ کے خود بخود مر جائے)اسے نہیں کھاتے؟
جیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ چین کے بعض بت پرست افراد ہرقسم کے جانور،کتا بلی ،کیڑے،سانپ،مینڈک،سیپی اور دوسرے حشرات بھی کھاتے ہیں لیکن اسلام نے میانہ روی کا راستہ اختیار کیا ہے یعنی ایسا گوشت کہ جسے انسان طبعاً اچھا سمجھے مباح قرار دیا ہے اور اس اجمال کی تفصیل ذیل میں بیان کی گئی ہے۔
چاپایوں میں بھیڑ بکری،گائے،اونٹ کو حلال کیا ہے اور ان میں سے کچھ کو مثلاً گھوڑے،گدھے وغیرہ کو مکروہ قرار دیا ہے اور غیر شکاری پرندوں میں ان کو حلال کیا ہے کہ جو سنگدانہ رکھتے ہوں اور پرواز کے وقت پر مارتے ہوں اور کبوتر کی طرح پنجہ نہ رکھتے ہوں اور دریائی جانوروں میں کچھ مچھلیوں کو حلال کیا ہے۔جن کا فقہ کی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے اور جانوروں کے خون اور مردار اور ہر جانور کہ جسے خدا کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اسے حرام قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں اسلام کا مقصد یہ تھا کہ قانون فطرت یعنی انسانوں کے مستقبل کو بنیادی طور پر گوشت کھانے سے زندہ کرے اور اس ضمن میں صحیح فکر اور طبع سلیم کو بھی محترم گردانا ہے اور فکر صحیح اور طبع سلیم وہ چیز کبھی تجویز نہیں کرتی جو نقصان دہ ہواور جس سے طبع انسان متنفر ہو یاجو بری لگے اور س سے کراہت محسوس ہو۔
( ۲) کسی جاندار کو مارنا کیا رحم کے خلاف ہے؟
ممکن ہے کہ کوئی سوال کرے اور کہے کہ جانور کی بھی روح ہے اور بھی انسان کی طرح موت کی تلخی کو محسوس کرتا ہے۔پس یہ کس طرح مناسب ہے کہ ان کو زندگی جیسی نعمت سے محروم کر دیا جائے اور ان کی حیات کی شرینی کو موت کی تلخی میں بدل دیا جائے جب کہ خدا تو ارحم الراحمین ہے۔اس کی رحمت سے یہ بات کس طرح میل کھاتی ہے کہ وہ حکم دے کہ جاندار کو ذبح کیاجائے تا کہ انسان اس سے لذت اٹھائے اور بہرہ مندہ ہو؟ حالانکہ دونوں کے نفس اور احساس مساوی ہیں۔
اس بات کا جواب یہ ہے کہ جو کچھ اعتراض کے طور پر کہا گیا ہے یہ صرف جذبات واحساسات کے حقائق پر غالب آجانے کی بنا پر ہے(یاد رکھئے)شریعت اور قانون سازی حقیقی مصالح کی تابع ہے نہ کہ خیالی جذبات و احساسات کے ۔اس بات کی توضیح یہ ہے کہ العالم المادہ عالم الم تبدیل و التغیر عالم مادہ عالم تغیر و تبدل ہے اوللعالم عالم الاکل والماکول مرکبات زمینی زمین سے کھاتے ہیں اور زمین کو اپنے اندر ضم کرتے ہیں اور اس کو اپنی صورت میں لے آتے ہیں(جیسے انسان،حیوان اور پرندے وغیرہ)س کے بعد دوبارہ زمین انہیں کھاتی ہے اور فنا کر دیتی ہے۔زمین مسلسل نباتات میں اور نباتات زمین میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور اس کے علاوہ جاندار پانی اور نباتات سے استفادہ کرتے ہیں اور کچھ حیوانات دوسرے حیوانات کو (غذا کے طور پر )کھاتے ہیں۔مثلاً درندہ جانور دوسرے جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کے کھاناے کا طبعی نظام ایسا ہے کہ وہ دوسری کوئی چیز نہیں کھاسکتے مثلاً پنجوں والے پرندے دوسرے پرندوں مثلاً کبوتروں اور چڑیوں کی مانند پرندوں کو پکڑتے اور کھاتے ہیں اور چھوٹے پرندے بھی اناج وغیرہ کے دانے ،دانے دار چیزیں اور کیڑے مکوڑے مثلا مکھی،پسو،مچھر وغیرہ کھاتے ہیں اور حشرات انسان اور دوسرے حیوانات کے خون سے استفادہ کرتے ہیں اور نیتجتاً زمین ان سب جانداروں کو کھا جاتی ہے۔
اس بنا پر نظام تکوین اور ناموس خلقت کہ جو تمام موجودات پر مطلق(کسی قسم کی پابندی کے بغیر)حکومت رکھتا ہے اور ہر چیز اس کی تابع ہے خالق فطرت نے اس کاگوشت وغیرہ کھانے کا حکم دیا ہے اور وجود کے اجزاء کی اس طرف راہنمائی کی ہے اور اس نے انسان کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ گوشت و نباتات کھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وہ بھیڑ کی طرح نہیں ہے کہ نہ دانتوں سے کاٹ سکے اور نہ اٹھاسکے اور نہ ہی درندوں کی طرح ہے کہ نہ چبا سکتا ہو اور نہ نرم کر سکتا ہو۔ان تمام صلاحیتوں کے علاوہ انسان کے منہ میں ذائقہ کی قوت رکھی گئی ہے۔وہ گوشت کھانے سے لذت اٹھاتا ہے اور اس کے علاوہ وہ خواہش غذا جو دوسرے اعضاء ہضم میں قرار دی ہے یہ سب تکوینی و تخلیقی رہنمائی اور ان چیزوں کے مباح و جائز ہونے کی طرف اشارہ ہے اور اسلام ایک دین فطری ہے کہ جس نے ہر وہ چیز کہ جس کی طرف اس کی خلقت رہنمائی کرتی ہے ۔اسے مباح قرار دیاہے۔
اس کے علاوہ دوسرے قوانین بھی وضع کئے ہیں کہ جنہیں خلاق فطرت نے مقرر کیا ہے۔یعنی وہ گوشت جو جسمانی یا معنوی لحاظ سے نقصان دہ ہو یا ہر وہ چیز جو طبع سلیم کو بری لگے اور جس سے نفرت پیدا ہواس سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔خلاصہ ہر وہ چیز جو جسمانی یا روحانی نمویا انسانی معاشرہ کے مصالح کے خلاف ہو اور اسے نقصان پہنچائے مثلاً جوئے یا مخصوس تیر اندازی سے گوشت تقسیم کرنا حرام قرار دیا ہے اور اسی طرح خبائث یعنی نجس چیزیں کہ جو طبیعت انسان کو بری لگیں حرام فرمایا ہے۔
اور باقی اعتراض مہرو محبت اور رحم کی داستان کہ جو جانوروں کے ذبح کرنے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں بلاشبہ رحم ایک امر تکوینی و تخلیقی ہے کہ جو انسان کی فطرت اور بہت سے جانوروں میں ودیعت فرمائی ہے اور یہ تکوینی و تخلیقی مہر ومحبت اس لئے نہیں رکھی گئی کہ سب کاموں میں اس کی اطاعت کی جائے کیونکہ خود تکوینی و تخلیقی رحم دلی اور محبت بطور مطلق نہیں۔اگر ایسا ہو تا تو موجودات میں آلام ومصائب اور مختلف قسم کی بیماریوں اور پریشانیوں کا نام و نشان نہ ہوتا اس کے علاوہ رحم و شفقت انسانی عدل کی مانند نہیں کہ جو بذاتہ اخلاق فاضلہ میں سے ہو اور ہر گوشہ زندگی کو احاطہ کرتا ہو(یعنی ہر حالت میں رحم سے کام لینا چاہئے)تو ہمارے لئے مناسب نہیں کہ ہم ظالموں کا مواخذہ کریں یا مجرم کو سزا دیں یا دشمن سے دشمنی کریں اور اگر ہم ایسا کریں تو زمین اور اہل زمین فتنہ و فساد سے ہلاک ہو جائیں۔
لہٰذا بطور عموم یہ حکم دیاہے کہ مہر ومحبت کو پیش نظر رکھا جائے یعنی جانور کو سختی سے اور اذیت دے کر ذبح نہیں کرنا چاہئے اور ذبح کئے ہوئے جانور کی روح جدا ہونے سے قبل اس کے اعضاء کاٹنا اور کھال اتارنا جائز نہیں ہے۔منحنقہ(گلا گھونٹاہوا)اور موقوذہ(اتنا مارا ہوا جس سے وہ مرجائے)کو حرام قرار دیا اور ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے جب کہ وہ دیکھ رہا ہو، ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسی باب میں تحریر ہے کہ اسلام نے جانور کو ذبح سے پہلے پانی پلانے کا حکم دیا اور جس قدر ہو سکے ذبح ہونے والے جانور کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اس کے علاوہ دوسرے احکام فقہی کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
اور رحمت الہٰی کی بات کہ خدا ارحم الراحمین ہے۔رحم الہٰی کا مطلب رقت قلبی اور تاثر شعوری(حس) نہیں بلکہ اس سے مراد مستحق کو اس حد تک فیض ورحمت پہنچانا کہ جس کا وہ سزاوار ہے۔لہذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ عذاب ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے رحمت و خیر ہوتی ہے اور اسی طرح اس کے برعکس بھی ۔پس حکمت الہٰی کی نظر سے جائز نہیں کہ قانون بناتے وقت ہمارے جھوٹے احساسات کسی امر خداوندی کو غلط سمجھیں اور حقیقت واقع کے بر خلاف غفلت سے فیصلہ کریں۔گزشتہ باتوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ا سلام نے گوشت کھانے کو جائز قرار دیا ہے اور جو شرائط وقیود اس کے مباح اور جائز ہونے کے لئے مقرر کی ہیں اس میں اس نے فطرت کی پیروی کی ہے۔
فِطْرَةَ اللّٰهِ الَّتِی فَطَرَ النّٰاسَ عَلَیْهٰا لَاتَبْدِیْلَ لَخلْقِ اللّٰهِ ذٰالِکَ الَّذِیْنَ الْقِیِّم ۔
( ۳) اسلام نے زبح کا حکم کیوں دیا؟
دوسرا سوال کہ ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ گوشت کھانے کو فطرت اور خلقت نے جائز سمجھا ہے۔تو پس اس سلسلے میں حکم رحم کی رعایت کے لئے اس حیوان پر جو خود مر جائے اکتفا کیوں نہیں کیا گیا؟
اس سوال کا جواب فصل دوم میں جو باتیں تحریر کی گئی ہیں ان سے ظاہر ہو جاتا ہے ۔کیونکہ رحمت کے ایسے معنی لینے کا لازمہ حقیقی احکام کو باطل کرنا ہے اور اسلام نے اسی جذبہ رحم کو نوع انسانی میں قائم رکھنے کے لئے رحم کرنے سے متعلق احکام دیئے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر فقط مردہ وغیرہ کو جائز قرار دے تو نہ صرف اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا جسمانی و روحانی لحاظ سے مردار کھانا نقصان دہ ہے اور یہ خود خلاف رحمت ہے کیونکہ یہ چیز لوگوں کیلئے پر یشانی اور زحمت کا باعث ہوتی اور لوگ جانور کے مرنے تک انتظار کرتے تا کہ اس سے بہر مند ہو سکیں۔(منقول از تفہیم میزان)
یاد رکھیے کہ کھانے کے لئے جانور کو ذبح کرنا اس کے لئے کوئی ظلم نہیں بلکہ اس کے تکامل کے اسباب پورا کرنے کے لئے یہی ضروری ہے۔کیونکہ جانور ذبح سے قبل صابت(خاموش)بے شعور اور بے عقل ہوتا ہے اور کچھ نہیں سمجھتا۔لیکن ذبح ہونے اورانسان کے بدن کا جزوبننے کے بعد ناطق صاحب ادراک اور باشعور ہو جاتا ہے۔مثلاً بھیڑ کی زبان سے کوئی فضیلت اور کمال ظاہر نہیں ہوتا لیکن جب انسان کے بدن کا جز بن جاتی ہے تو حقائق کو آشکار کرتی ہے اور خدا کی حمد وثناء کرتی ہے اور اسی طرح دوسرے اچھے کام اور کمالات کہ جو انسان کے دوسے اعضاء جوارح سے ظاہر و آشکار ہوتے ہیں۔
ذ بح شرعی کے ذریعے تذ کیہ
تذکیہ کے اسباب میں دوسرا ذبح شرعی ہے یعنی (جانور کی )گردن کی چار بڑی رگوں کو پورے طور پر گلے کے ابھرے ہوئے ہوئے حصے سے نیچے کی طرف سے کاٹ دیا جائے(ان چار رگوں سے مراد ایک سانس کی نالی،دوسری کھانے کی نالی اور گردن کی دوموٹی رگین جو سانس کی نالی کے پاس ہوتی ہیں) اور اس کے لئے بھی پانچ شرطیں ہیں۔
( ۱) ذبح کرنے والا مسلمان ہو چاہئے مرد ہو یا عورت اور بچہ بھی اگر برے بھلے کی تمیز رکھتا ہو تو ذبح کر سکتا ہے۔
( ۲) جانور کے سر کو کسی ایسی چیز سے کاٹے جو لوہے کہ ہو لیکن اگر لوہا نہ ہو اور صورتحال یہ ہو کہ اگر جانور ذبح نہ کریں تو مر جائے گا تو کسی بھی تیز چیز سے جو اس کی چاروں رگیں قطع کردے مثلاً شیشہ یا پتھر وغیرہ سے اسے ذبح کر سکتے ہیں۔
( ۳) ذبح کے وقت جانور کی صورت ۔ہاتھ ۔پیر اور شکم قبلہ کی طرف ہونا چاہئے۔لیکن اگر بھول جائے یا قبلہ معلوم نہ ہو کہ قبلہ کدھر ہے یا حیوان کو روبہ قبلہ نہ کر سکتا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
( ۴) جس وقت ذبح کرے توخدا کا نام لے اور بسم اللہ کہنا کافی ہے اور اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
( ۵) ذبح ہو جانے کے بعد جانور حرکت کرے خواہ آنکھ پھرائے یا دم ہلائے یا پاوں زمین پر مارے اور احتیاط یہ ہے کہ اتنا خون اس کے بدن سے نکل جائے جیسا کہ عام طور سے نکلتا ہے۔
اونٹ کو ذبح کرتے ہوئے ان پانچ مذکورہ شرطوں کے علاوہ ضروری ہے کہ چھری یا کوئی دوسری لوہے کی چیز جو کانٹے والی ہو اس کی گردن اور سینے کے درمیان اس جگہ پر جہاں گڈھا سا ہوتاہے بھونک دیں۔
اور اگر حیوان سر کش ہو اور اسے شرعی طریقے سے ذبح کرنا ممکن نہ وہ مثلاً کنویں میں گر جائے اور یہ احتمال ہو کہ وہیں مر جائے گا تو اس کے جسم پر جہاں بھی ایسا زخم لگاکہ جس کی وجہ سے اس کادم نکل جائے تو حلال ہو جاتا ہے اور اس کا قبلہ رو ہونا بھی ضروری نہیں لیکن دوسری شرطوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
مچھلی کا تذکیہ یہ ہے کہ اسے پانی سے زندہ پکڑا جائے پس اگر چھلکے والی مچھلی کو پانی سے زندہ پکڑا جائے اور وہ باہر آکر جان دے تو پاک ہے اور س کا کھانا جائز ہے اور اگرپانی میں مرجائے تو بھی پاک ہے کیونکہ وہ خون جہندہ نہیں رکھتی لیکن اس کا کھانا حرام ہو گا اور ضروری نہیں کہ مچھلی کا شکار کرنے والا مسلمان ہو پس اگر کافر بھی مچھلی کا شکار کرے تو اس کا کھانا حلال ہے۔اس شرط کے ساتھ کہ یہ جانتے ہوں کہ مچھلی پانی سے باہر آکر مری ہے۔
ٹڈی کا تذکیہ اسے زندہ پکڑنا ہے اور جب ٹڈی کو ہاتھ یا کسی دوسرے طریقے سے زندہ پکڑا جائے تو اس کی جان نکلنے کے بعد اس کا کھانا حلال ہے اور ضروری نہیں کہ اسے پکڑنے والا مسلمان ہو اور پکڑتے ہوئے اللہ کا نام لے۔
ایسی ٹڈی کا کھانا کہ جس کے پرنہ پھوٹے ہوں اور اڑنہ سکتی ہو ،حرام ہے شکار یا ذبح کرنے کے بعد اگر جانور کے پیٹ سے مرا ہوا بچہ نکلے تو اگر اس بچے کے اعضاء پورے ہو چکے ہوں اور جسم پر اون یا بال اگ چکے ہوں تو بچہ پاک ہے۔کیونکہ اس کی ماں حلال گوشت ہے اس لئے اس (بچے)کا کھانا جائز ہے۔
حرام گوشت جانور تذ کیہ سے پاک ہوجا تے ہیں
جس قدر گزر چکا ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ سوائے کتے اور خنزیر کے ہر حرام گوشت جانور تذکیہ شرعی سے پاک ہو جاتا ہے لیکن اس کا کھانا حرام ہے اور اگر تذکیہ نہ ہو تو اس کا مردہ نجس بھی ہو گا۔ہاں اگر خون جہندہ رکھتا ہو اور تذکیہ کے بغیر مر جائے تو اس کا کھانا حرام ہے لیکن وہ نجس نہیں ہے۔مثلاً سانپ اور کیڑے وغیرہ اور ہر حلال گوشت جانور کہ جس کا شرعی تذکیہ ہو چکا ہو تو اس کا کھانا حلال ہے اور اگر بغیر تذکیہ کے مرجائے تو وہ نجس ہے اور اس کا کھانا حرام ہوگا اور اگر خون جہندہ نہ رکھتا ہو تو اس کا کھانا حرام ہے لیکن نجس نہیں ہو گا مثلاً مچھلی کہ جو پانی میں مر گئی ہو۔اس بناء پر مردار کہ جس کا کھانا حرام ہے۔وہ مرادر حیوان ہے جو تذکیہ شرعی کے بغیر مر جائے خواہ مرض کی وجہ سے یا موت کی وجہ سے ہو یا بیرونی اسباب میں سے کسی سبب کی بناء پر اچانک یا آہستہ آہستہ اسکی موت واقع ہوئی ہو چونکہ جانور کی موت بیرونی و ناگہانی موت کی بناء پر کم واقع ہوتی ہے ممکن ہے کہ یہ خیال ہو کہ جانور اس طرح مرنے سے مردار نہیں ہوتا۔آیہ شریفہ میں اس قسم کا بھی خاص طور پر ان پانچ چیزوں میں ذکر کیا گیا ہے اور ان سب کو مردار قرار دیا گیا ہے۔
( ۱) متحنقہ۔وہ جانور جو گلا گھونٹنے سے مر جائے خواہ تصادف کی بناء پر ہو یا کسی نے عمداً گھونٹا ہو خواہ کسی آلے وغیرہ سے گھونٹا جائے مثلاً اس کی گردن میں رسی باندھ کر گلے کو دبایا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اس کے سر کو دولکڑیوں کے درمیان داخل کیا جائے یہ طریقہ اور اس کے علاوہ کئی طریقے زمانہ جاہلیت(اسلام سے قبل)میں رائج تھے۔
( ۲) موقوذہ۔وہ جانور جسے اس قدر مارا جائے کہ وہ مرجائے۔
( ۳) متردیہ۔وہ جانور جو بلندی پر سے گر گیا ہو مثلاً پہاڑ پر سے یا کنویں میں گر کرمرجائے۔
( ۴) نطیحہ ۔وہ جانور جو دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرجائے۔
( ۵) مٰااَکَلَ السبعوہ جانور کہ جسے درندے نے چیز پھاڑ کر اس کا کچھ حصہ کھالیا ہو تو اس کا باقی ماندہ حصہ مردار ہو۔
اس آیہ شریفہ میں مٰا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِسے مراد زمانہ جاہلیت کے طریقے سے منع ہے۔چونکہ اسلام سے پہلے مشرکین کعبہ کے اطراف میں پتھروں کو نصب کردیتے تھے اور انہیں مقدس اور پرستش کے قابل سمجھتے تھے اور ان کے اوپر جانوروں کو ذبح کرتے تھے۔
اور وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْاَزَلْاٰمِسے مراد قربانی کی بھیڑ یا دوسے چارپائے کو حصے کرنے کے لئے لینے سے منع کیا گیا ہے اور اس وقت اس بات کی تشخیص کے لئے کہ کون حصہ رکھتا ہے اور کون نہیں رکھتا اور دو یا مختلف حصوں کی تشخص کیلئے ہر ایک مخصوص تیر استعمال کرے یہ بھی ایک قسم کا جوا ہے۔چنانچہ جوئے کی بحث میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
مردار کیوں حرام ہے؟
کتاب کافی اور امالی میں مفضل بن عمرو سے روایت کی گئی ہے کہ اس نے امام جعفر صادق سے پوچھا کہ خداوند عالم نے مردار،خون اور خنزیر کے گوشت کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟امام نے فرمایا۔
ایسا نہیں ہے کہ خداوند عام نے کچھ چیزوں کو اپنے بندوں کے لئے حرام اور کچھ حلال قرار دیا تا کہ جو حرام ہے(نعوذباللہ)اس سے وہ اپنی خواہش پوری کرے اور حلال چیز سے جب کہ وہ رغبت نہیں رکھتا اس لئے بندوں کا حصہ قرار دیا (خلاصہ خداوند عالم نے اپنے فائدے کے پیش نظر حلال و حرام کا قانون نہیں بنایا)بلکہ(حقیقت یہ ہے کہ )خدا نے جب مخلوق کو پیدا کیاتووہی بہتر جانتا ہے کہ کون سی شئے انسانی جسم کے لئے مفید وضروری ہے لہذا اسے اپنے فضل سے مباح و حلال قرار دیا اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سے شئی انسانی جسم کے لئے ضرر رساں ہے لہذا اسے منع کیا اور حرام قرار دیا البتہ انہی حرام چیزوں کو اس شخص کے لئے جو مجبور وہ اور اس کے پاس جان بچانے کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو(انہی حرام چیزوں کو)مباح و حلال قرار دیا۔لیکن صرف اسی قدر(کھانے کی) اجازت دی کہ جس سے اس کی جان بچ جائے۔
ثُمَّ قٰالَ(ع) وَاَمّٰا الْمَیْتَہَ فَاِنَّہُ لٰا یُدْنِیْھٰا اَحَدٌ اِلّٰا ضَعفُ بَدُنُہ وَنَحِلَ جِسمُہُ وَذَھَبَ قُوَّتَہُ وَانْقَطَعَ نَسْلُہُ وَلٰا یَمُوْتُ اٰکِلُ الْمَیْتَةِ اِلّٰا فُجْئاةً(امالی ۔وسائل)
اس کے بعد آپ نے فرمایا مردار کھانے سے جسم کمزور ولاغر ہو جاتا ہے اور قوت ختم ہو جاتی ہے اور نسل منقطع ہو جاتی ہے اور مردار کھانے والے کی موت ا چانک واقع ہوتی ہے۔
شاید ان مفاسد کی وجہ یہ ہو کہ اگر جانور خود مر جائے یا اس کا گلا گھونٹا جائے تو آن واحد میں اس کے بدن میں جاری خون رک جاتا ہے۔گندہ اور فساد آور خون اسکی رگوں میں رہ جاتا ہے اور جانور کے گوشت کو فاسد اور زہریلا کر دیتا ہے اور ذبح کرنے سے یہ خون خارج ہو جاتا ہے اورجانور کا گوشت گندگی اور زہریلے پن سے محفوظ رہتا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی حدیث احتجاج میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب زندیق نے امام (علیہ السلام) سے پوچھا کہ خداوند عالم نے مردار کو کیوں حرام کیا ہے تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا۔
فَقٰالَ(ع) فَرْقاًبَینَهٰا وَبَیْنَ مٰایَذْکَرَ عَلَیْهِ اسْمُ اللّٰهِ تَعٰالٰی وَالْمَیْتَة قَدْ جَمَدَ فِیْهٰا الدَّمُ وَتَراٰجَعَ اَلٰی بَدَنِهٰا فَلَحْمُهٰا ثَقِیْلٌ غَیْرُ مُرِیّ لِاَنَّهٰا یُوکَلُ لَمْحَمٰا بِدَمِهٰا قٰالَ فَالسَّمَکُ مَیْتَةٌ؟فَقٰالَ(ع) اِنَّ السَّمَکَ ذَکٰاتُهُ اِخرٰاجُهُ حَیّاً مِّنْ الْمٰآءِ ثُمَّ یُتْرَکُ حَتٰی یَمُوْتُ مِِںْ ذٰاتِ نَفْسِه وَذٰالِکَ اَنَّهُ لَیْسَ لَهُ دَمٌ وَکَذٰالِکَ الْجَرٰادِ
(بحار الانوار۔احتجاج امام صادق(ع) ص ۲۵۰)
امام (علیہ السلام) نے فرمایا:مردار حرام کیا گیا تا کہ اس جانور میں اور جس پرخدا کا نام نہ لیا گیا ہوفرق ہو۔اس کے علاوہ چونکہ مردار کا خون بدن سے خارج نہیں ہوتا بلکہ اس کے بدن میں پلٹ جاتا ہے اور منجمد ہو جاتا ہے جس سے اس کا گوشت ثقیل اور ناگوار ہو جاتا ہے اور اس کا گوشت خون کے ساتھ کھایا جاتا ہے تو اس زندیق نے کہا کہ پھر تو مچھلی کا گوشت بھی مردار اور حرام ہونا چاہئے ۔کیونکہ اسکے جسم سے بھی خون خارج نہیں ہوتا۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا مچھلی کا تذکیہ یہی ہے کہ اسے پانی سے نکال کر باہر چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ خود مر جائے اور اسے ذبح کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس میں خون نہیں ہوتا اور اسی طرح ٹڈی بھی۔
علامہ مجلسی بحار الانوار کی چوتھی جلد میں اس حدیث کی شرح کے ضمن میں فرماتے ہیں۔چونکہ جانور کا مردہ ہونا اور اس کی حرمت کے دوسبب ہیں۔ایک یہ کہ ذبح و نحر کی شرائط کا خیال نہ رکھنا اور دوسرے ذبح و نحر نہ کرنا۔پس امام (علیہ السلام) نے پہلی صورت میں مردار کے حرام ہونے کی وجہ مذہبی و معنوی حکم قرار دیا ہے ۔چنانچہ اگر خدا کا نام لیا جائے تو دنیوی و اخروی،صوری و معنوی برکتیں انسان کے روح و بدن کا مقدر ہوتی ہیں اور اگر ترک کرے تو ان برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔
اور دوسری صورت میں کہ جب جانور ذبح اور نحر کئے بغیر مر جائے تو وہ خون جو رگوں میں رہ گیا ہے وہ اس گوشت کے ساتھ کھایا جائے گا اور خون کھانے میں جو بڑے مفاسد ہیں انسان ان میں مبتلا ہو جائے گا اور جب سائل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس بناء پر مچھلی بھی حرام اور مردار ہوگی کیونکہ اسے بھی تو ذبح نہیں کیا جاتا اور اس سے بھی خون خارج نہیں ہوتا؟تو امام (علیہ السلام) نے جواب دیا کیونکہ مچھلی میں زیادہ خون نہیں ہوتا اس لئے اسے ذبح کرنا ضروری نہیں کہ اس ذریعے سے خون خارج ہو سکے اور مچھلی میں جو تھوڑا سا خون ہوا ہے وہ ذبح کئے ہوئے جانور میں باقی ماندہ خون کی طرح ہے جو بے ضرر اور حلال ہے۔
خونا
خون کی دو قسمیں ہیں، نجس اور پاک،انسان اور ہر اس جانور کا خون نجس ہے کہ جو خون جہندہ رکھتا ہو،یعنی اگر اس کی شہ رگ کا ٹیں تو خون اچھل کر نکلے۔خواہ کم ہو یا زیادہ اس بناء پر وہ خون جو دودھ دوہتے ہوئے دودھ میں نظر آئے وہ نجس ہے اور دودھ کو بھی نجس کر دیتا ہے اور اس کا پینا حرام ہے اور بنا پر احتیاط وہ معمولی سا خون جو انڈے میں نظر آئے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیئے۔
لیکن دو طرح کا خون پاک ہے۔ایک ہر اس جاندار کا خون جو خون جہندہ نہیں رکھتا ہو مثلاً مچھلی و مچھر وغیرہ۔دوسرے حلال گوشت جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو باقی ماندہ خون رہ جائے وہ حلال ہے۔پس اگر جانورو ں کو حکم شرعی کے مطا بق ذبح کیا جائے اورمعمول کے مطابق خون بہہ جائے تو جسم میں بچا ہوا خون پاک ہے۔لیکن اگر (جانور)کے سانس لینے یا جانور کا سربلندی پر ہونے کی وجہ سے خارج شدہ خون دوبارہ بدن میں پلٹ جائے تو اسکا بقیہ خون پاک نہیں ہو گا۔
اس کے علاوہ بطور کلی خون چاہے پاک ہو یا نجس اس کا کھانا حرام ہے۔لیکن وہ پاک خون جو مچھلی اورذبح شدہ جانور کے بدن کا جزو ہویعنی اگر اس طرح ہو کہ گوشت کا جزو شمار کیا جائے تواس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔البتہ اگر اسے خون کہاجائے تو اس کا کھانا حرام ہے۔
خون کے حرام ہونے کا سبب
تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا خون (پینا) مرض قلب(شدید پیاس اور جنون) سنگدلی اور بے رحمی کا سبب بنتا ہے اور خون پینے والے سے عین ممکن ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنے والدین یا کسی رشتہ دار یا کسی دوست کو قتل کردے۔
آپ نے فرمایا:وَاَمَّا الدَّمُ فَاِنَّهُ یُورِثُ اَکْثَرُ الْمٰآءِ الْاَصْفَرِ ۔۔۔۔۔۔۔(کافی)
خون کا پینا جسم میں زرد پانی کی تولید کا سبب بنتا ہے۔اور انسانی بدن کو بد بو دار اور انسان کو بد اخلاق بناتا ہے اور اس کی نسل میں ایک طرح کا جنون ہوتا ہے اور دل کو بے رحم بناتا ہے۔(وسائل )
سَئَلَ الزِّنْدِیْقُ اَبٰا عَبْدِ اللّٰهِ(ع) لِمَ حَرَّمَ الدَّمُ الْمَسْفُوْحَ؟قٰالَ(ع)لَاِنَّهُ یُورِثُ الْقَسٰاوَةَوَیَسْلُبُ الْفُئٰوادَ رَحْمَةً وَیُعَفِّنُ الْبَدَنَ وَیُغَیِّرُ اللَّوْنَ وَاَکْثَرَ مٰا یُصِیْبُ الْاِنْسٰانُ الْجُذٰامَ یَکُوْنُ مِنْ اَکْلِ الدِّمِ ۔ ( احتجاج جلد ۴ بحار الانوراص ۲۵۰)
زندیق نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا بہائے ہوئے خون کو حرام قرار دینے کی کیا وجہ ہے؟
امام (علیہ السلام) نے فرمایا خون پینے سے قساوت قلبی اور بے رحمی پیدا ہوتی ہے بدن کو بد بودار کرتا ہے اور رنگ کو متغیر کرتا ہے اور غالباً خون پینے سے انسان کو جذام کو مرض ہوتا ہے۔
حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خون پینے سے انسان کے جسم میں طاعون،زخم اور پھوڑے پیدا ہوتے ہیں جو غالباً انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں،
خنزیر
خنزیر اور کتا دو نجس العین جانور ہیں جن کے بدن کے تمام اجزاء حتیٰ بال اور ناخن کہ جن میں جان نہیں ہوتی،وہ بھی نجس ہیں اور ان کو ذبح کرنا بیہودہ عمل ہے۔یعنی یہ (جانور) کسی بھی طریقے سے پاک نہیں ہو سکتے اور ان کا (گوشت) کھانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔
امام علی رضا (علیہ السلام) خنزیر کا گوشت کھانے کی حرمت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
حَرَمَ الْخِنْزِیْرُ لِاَنَّهُ مُشَوِّهٌ جَعَلَهُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ عِظَةً لِلْخَلْقِ عِبْرَةً وَّ تَخْوِیفاً وَدَلِیْلاً عَلٰی مٰا مَسَخَ عَلٰی خِلْقَتِهِ وَلِاَنَّ غَذٰائٓهُ اَقْذَرُ الْاَقْذٰارِ مَعَ عَلَلٍ کَثِیْرةٍ
(عیون الخبار الرضا (علیہ السلام)۔وسائل باب اول)
خداوند عالم نے خنزیر (کا گوشت) کھانا حرام فرمایا ہے،چونکہ یہ ایک ہیبت ناک اور بد صورت جانور ہے اور خداوند عالم نے اسے اس لئے پید اکیا ہے کہ لوگ(اسے دیکھ کر) نصیحت وعبرت حاصل کریں(یعنی اسے دیکھ کر سمجھ لیں کہ خدا ہر چیز سے زیادہ قوی ہے اور اپنی انسانی شکل کی خوبصورتی پر خدا کا شکر ادا کریں)اور شہوت پر ستی و بے ہودہ باتیں جو اس چیز کا سبب بنتی ہے پر ہیز کریں کہ خداوندعالم ان کی خوبصورتی کو خنزیر کی صورت میں بدل دے اور وہ مسخ ہوجائیں(چنانچہ گزشتہ امتوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ سب لوگ عالم برزخ اور قیامت میں خنزیر کی سیرت کی وجہ سے اسی کی صورت میں محشور ہوں گے) نیز خنیزیر کو انسانو ں میں رکھا تا کہ ان گزشتہ امتوں کی دلیل ہو جو اس صورت میں مسخ ہو گئے تھے اور خنزیر کے گوشت کی حرمت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ اس کی خوراک انتہائی نجس اور گندی چیزیں ہوتی ہیں اور اس کے خون میں بے شمار مفاسد اور نقصانات ہیںِ
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتا ہیں:
وَاَمّٰالَحْمُ الْخِنْزِیْرِ فَاِنَّ اللّٰهَ تَبٰارَکَ وَتَعٰالٰی مَسَخَ اَقْوٰاماً فِی صُوْرَةٍ شَتّیٰ مِثْلَ شِبْهِ الْخِنْزِیْرِ وَالْقِرَدِ وَ الدُّبِّ وَمٰا کٰانَ مِنَ الْمَسُوْخ ثُمَّ هِیَ عَنْ اَکْلِه لَمْثِلَه یَنْتِفَعُ النّٰاسَ بِه وَلٰا یَسْتَخِفُّوا بِعُقُوْبَتِه
(تفسیر عیاشی اورکتاب الَطعمہ و الاشربہ وسائل باب اول صفحہ ۲۴۸)
خداوند عالم نے کئی قوموں کو مختلف جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیا تھا ،انہی میں سے خنزیر وبندر اور ریچھ وغیرہ اور کچھ دوسرے جانور بھی مسخ کئے گئے ہیں ۔پھر ان جانوروں کے کھانے سے منع کیا گیا ہے تا کہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں اور اس کے عذاب کو حقیر نہ سمجھیں۔
انجمن تبلیغات اسلامی کی کتاب،اسلام وعلم امروز میں تحریر ہے خنزیر ایک ایسا جانور ہے کہ جانوروں کے ماہرین اسے موٹی جلد والے جانوروں میں شمار کرتے ہیں اور سبور و حشی خنزیر اور پانی کے گھوڑے کو ایک ہی خاندان کا جز سمجھتے ہیں۔خنزیر کا گوشت کھانے کے بہت زیادہ نقصانات ہیں لیکن فی الحال اس کے کھانے کی ظاہری علت کو بیان کیا گیا ہے۔
خداوند عالم نے خنزیر کا گوشت کھانا سے قوم یہود کو منع کیا اور مسلمانوں پر حرام قرار دیا ہے۔عیسائی آج بھی خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں اور تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ آج جب کہ وہ خنزیر کے گوشت کی حرمت کا سبب سمجھ گئے ہیں۔لیکن پھر بھی اس کے کھانے سے باز نہیں آتے۔ماہرین علم طبیعت آج واضح طور پر سمجھ گئے ہیں کہ خنزیر کے گوشت میں کیا کیا نقصانات ہیں اس دنیا میں اس کے نقصان سے بچنے کا واحد حل یہی تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔
وہ ممالک کہ جہاں خنزیر کا گوشت زیادہ کھایا جاتا ہے وہاں پیچش کی بیماری عام ہے اور اس کے برعکس اسلامی ممالک میں جہاں خنزیر کا گوشت بالکل نہیں کھایا جاتا وہاں یہ مرض بالکل نہیں ہے۔
گوشت خنزیر کے نقصانات کی تفصیل
( ۱) معنوی اوراخلاقی نقصانات،علم طبیعت کے لحاظ سے یہ بات مسلم ہے کہ انسان جس بھی جانور کا گوشت زیادہ استعمال کرے تو وہ اسی جانور کے اخلاق سے متصف ہو جاتا ہے ۔مثلاً اگر انسان ہمیشہ گائے کا گوشت کھائے تو گائے کی صفت اور طاقت اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اگر بھیڑ کا دودھ اور گوشت کھاے تو رحم دلی اور بھیڑ کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی طرح خنزیر کا گوشت کھانے سے انسان میں خنزیر کی طرح صفات پیدا ہو جاتی ہے۔خنزیر بے حیائی اور بے غیرتی میں مشہور ہے۔اس میں عصبیت جنسی نہیں پائی جاتی۔یہ وہ بے غیرت جانور ہے جو دوسرے خنزیر کو اپنے مادہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور پھر خوش ہوتاہے۔غرض کہ جتنی بھی جنسی بے غیرتی ہے اور بے شرمی کی باتیں ہیں وہ سب اس کے اندر جمع ہیں۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ یورپی بھی اس جانور کی برائی کو سمجھتے ہیں اور جب بھی کسی کو بے حیائی و بے غیرتی کا طعنہ دینا ہو تو اسے خنزیر کے نام سے پکارتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی گالی اورخنزیر کا دوسا معنوی نقصان یہ ہے کہ یہ غلاظت خور ہے۔جب بھی پاخانہ کرتا ہے اسے کھا لیتا ہے اور کسی چیز کا خیال نہیں رکھتا نتیجتاًاس کا وجود سرپاگندگی ہے۔
یہ بد صورت جانور کہ جسے دیکھ کر انسان کراہیت محسوس کرتا ہے گندا اور سراپا گندگی اور کثافت کھانے والا یہ وہی جانور ہے کہ جسے مغربی نادان لوگ اس کے نقصانات جانتے ہوئے بھی مہنگی قیمت پر خریدتے ہیں اور اس کی آنتوں کو اس کے خون اور چربی سے پر کر کے انتہائی شوق سے کھاتے ہیں ،بجائے اس کے کہ کم قیمت پر بھیڑ کے سالم گوشت سے فائدہ اٹھائیں وہ بہت زیادہ قیمت دے کر اپنے لئے بد بختی خریدتے ہیں۔ مشہور ہے کہ خنزیر مظہر شیطان ہے اور بالعموم یہ فکر خود مغربی لوگوں کی ہے جو کہ اس جانور کے مرید ہیں۔چنانچہ اپنے مذہبی قصوں میں جب بھی شیطان کا تجسم پیش کرتے ہیں تو اسے خنزیر کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔انجیل برنایا میں ان حقائق کی وضاحت ان کی تحریر سے ہوسکتی ہے۔انہوں نے خنزیر کو مظہر شیطان کہا ہے اور کہتے ہیں کہ اس حیوان کے بدن میں شیطان کی روح ہے ۔انجیل کہ جو فعلاً عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے۔اس میں بھی اس بات کی تائید کی گئی ہے۔چنانچہ متی میں ۸ ۔ ۲۳ اور مرقس ۵ ۔ ۱ تک اور لوقا ۸ ۔ ۲۸ تک ۳۹ حضرت عیسیٰ کا شیطان کو خنزیر کے گلے میں داخل کرنا اور اس گلے کو ندی کی طرف بھیجنے کی تشریح کی گئی ہے۔اس بناء پر معنوی لحاظ سے عیسائی بھی خنزیر کا گوشت کھانے کی برائی جانتے ہیں ۔لیکن پھر بھی اس کا گوشت کھانے سے اجتناب نہیں کرتے۔
( ۲) جسمانی نقصانا
جسمانی لحاظ سے خنزیر کے بہت زیدہ نقصانات ہیں لیکن اس میں سے دو بہت زیادہ اہم ہیں ایک تو ٹریکین( Trichine )سور کے گوشت کا کیڑاٹریکنوز ( Trichinoes ) (سور کے کیڑے کی بیماری)اور دوسرے کرم کدو کہ جس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔
( ۳) تڑیکینا
یہ ایک چھوٹا جاندار ہے جو خنزیر کے گوشت میں اپنی جگہ بناتا ہے تڑیکین ایک کیڑا ہے کہ جس میں نر ایک سے ڈیڑھ ملی میٹر تک ہو تا ہے اور مادہ تین ملی قطر رکھتی ہے ۔ایک مادہ کے عرصے میں دس سے پندرہ ہزار تک انڈے دیتی ہے ۔صرف خنزیر کا گوشت کھانے سے تریکین انسان کے بدن میں داخل ہوجاتے ہیں اور شروع میں خون کے سرخ جرثومے زیادہ ہو جاتے ہیں اور بعد میں ختم ہو جاتے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ سرخ جرثومے انتہائی کم ہو جاتے ہیں اور انسان خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ممکن ہے کہ یہی حالت اسے موت کی طرف دھکیل دے۔
جب تڑیکین معدے میں داخل ہوتے ہیں تو معدے کی رطوبتوں کے اثر انداز ہونے کی بنا پر ان کے جھتوں کی مضبوط دیوار ٹوٹ جاتی ہے اور تیزی سے اپنی نسل میں اضافہ کرتے ہیں اور معدے اور خون کے ذریعے بدن میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اس کا سب سے پہلا اثر سر چکرانا اور مخصوص قسم کا بخار ہے۔یہ بخار نظام ہاضمہ سے مربوط ہو جاتا ہے اور اسہال(دست)( Diarrhoea )شروع ہوجاتے ہیں۔یہ بخار شروع میں کم ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ زیادہ اور پرانا ہو جاتا ہے۔
اور دوسرے مختلف امراض مثلاً اعصاب میں کھنچاو بدن میں خارش Itch ) تمام بدن میں سخت سستی و تھکاوٹ کا ہونا ۔بدن میں انتہائی کمزوری کی بناء پر دردوں کا رہنا وغیرہ اور چار پانچ روز ہی میں موت سر پر منڈلانے لگتی ہے۔
اور مرض کے دوسرے آثار بھی مریض کے چبانے،نگلنے اور سانس لینے کے عمل سے ظاہر ہوتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ موت دوسرے عوامل کی بناء پر واقع ہو۔کیونکہ یہ کیڑے اپنے قیام کے تیسرے ہفتے میں معدے کے عضلات پر حملہ شروع کر دیتے ہیں اور ساتویں ہفتے میں انتہائی زیادہ ہو جاتے ہیں۔کمزور مرض قوی ہو جاتا ہے اور مریض کو مار دیتا ہے۔
تڑیکین کیڑوں سے جو مرض پیدا ہو تا ہے وہ( Trichinoes )ٹریکنوز کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مرض ان ممالک میں بہت زیادہ ہے جہاں خنزیر کا گوشت کثرت سے استعمال ہوتاہے اور اسلامی ملکوں میں کہ جہاں خنزیر (کا گوشت) حرام ہے ،یہ مرض بالکل نہیں ۔جب تڑیکین معدے میں داخل ہو جائیں تو پھر کیڑے مار کوئی بھی دوائی ان کو دور کرنے پر قادر نہیں ہے جب بھی نو مولود تڑیکین عضلات میں نفوذ کر جائیں تو اسکا کوئی علاج نہیں اور ہر صورت میں مریض کو موت سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔
اس مرض کے خطرناک ہونے اور سرایت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ خنزیر کے ایک کلو گوشت میں ممکن ہے کہ ۴۰۰( چار سو)ملین نومولود تڑیکین ہوں۔
( ۴) پیچش کی بیماریا
خنزیر کا گوشت کھانے سے انسان پر جو خطرناک ترین بیماریاں عارض ہوتی ہیں ان میں سے ایک پیچش کا مرض ہے کہ جس کی تولید کا عمل تنہا کرم کدو ہے اس کیڑے کا بدن ایک سر سے مرکب ہے کہ جس کے دو زنجیری حلقے اور چار شاخیں ہوتی ہیں کہ جس کے ذریعے یہ اپنے آپ کو انسان کے معدے کی دیوار سے چپکا لیتا ہے۔سر کے بعد زنجیر حلقے سے بہت زیادہ لمبی ہوتی ہے جو اس کے بدن کو تشکیل دیتا ہے اور کبھی یہ حلقہ مجموعاً کئی میٹر تک ہو جاتا ہے ۔سر کے نزدیک کا حلقہ بہت چھوٹا ہو تا ہے اور جس قدر اس سے دور ہوتا جاتا ہے ،حلقہ اتنا ہی سخت ہو جاتا ہے اور ہمیشہ نئے زیادہ کرتے ہیں لیکن بدن کے آخری حلقے جو انڈوں سے بھرے ہوئے ہیں وہ علیحدہ ہو کر پاخانے کے ساتھ خارج ہو جاتے ہیں۔ہر حلقہ میں تنہا دو جنس نر اور مادہ ہوتے ہیں جس جس سے تولید کا عمل جاری رہتا ہے ۔وہ انڈے جو اس ذریعے سے (پاخانے)کے ساتھ خارج ہوتے ہیں،خنزیر انہیں کھا لیتا ہے اور اسی وجہ سے انڈے خنزیر کے معدے میں چلے جاتے ہیں اور اس طرح وہ انڈے دوبارہ تولید کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔اگر اس خنزیر کے گوشت کو انسان کھائے تو (بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ خنزیر کے گوشت میں نو مولودتنیانہ ہوں۔وہ کیڑے جیسے ہی انسان کی آنتوں میں داخل ہوتے ہیں،نمو پاتے ہیں اور تنیابن جاتے ہیں۔جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔اس کے برعکس یہ کرم کدو ایک زیادہ نہیں ہے۔ممکن ہے کہ کئی کیڑے انسان کے بدن میں داخل ہوں ۔کرم کدو کا وجود انسان کے بدن میں بہت زیادہ بیماریوں کا موجب بنتا ہے اور ماہرین کے کہنے کے مطابق اس سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ خنزیر کا گوشت نہ کھایا جائے۔
پیچش کا مرض ان ممالک میں بہت زیادہ ہے جہاں پر خنزیر کا گوشت کثرت سے استعمال ہو تا ہے جیسے جرمنی میں۔
خنزیر کے گوشت کے نقصانات صرف ان ہی چیزوں پر منحصر نہیں بلکہ خنزیر کا گوشت ثقیل الہحضم اور معدے کے لئے انتہائی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔
خنزیر کا گوشت کھانے سے غالباً انسان میں زہر پیدا ہوتا ہے کہ جسے اصطلاح عملی میں بوتولیسیم کہتے ہیں۔
در حقیقت ان لوگوں کی حالت پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ جو عملی تجربات کی بناء پر خنزیر کا گوشت کھانے کے نقصانات سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی اس سے پرہیز نہیں کرتے اور اس بارے میں دین اسلام کی عظمت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ جس نے آج سے ایک ہزار تیس سو سال پہلے کہ جب دنیا ان مسائل سے بہت دور تھی خنزیر کے گوشت کے نقصانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے حرام قراردیا ۔
اور اسی طرح کتے کے بارے میں کہ جسے دین اسلام نے نجس العین قرار دیا اور اسے گھر میں رکھنے سے منع فرمایا ہے۔بالآخر یہ حقیقت بھی عیاں ہو گئی کہ کتے سے بہت سی بیماریاں انسان میں منتقل ہوتی ہیں مثلاً خارش،گنجا پن اور دوسرے جلدی امراض جو سمبیوں کے اثر سے پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً بھاری اور سب سے بڑا مرض کرم کدو سگ ہے اور کتے سے مختلف قسم کی جوئیں انسان میں منتقل ہوتی ہیں اور پھیپھڑوں کا مرض وغیرہ۔
ان میں سے ہر مرض کی تفصیل مذکورہ کتاب میں ذکر کی گئی ہے اور مزید لکھتے ہیں کہ یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ کتے کے برتن چاٹنے سے جو جراثیم برتن پر لگ جاتے ہیں وہ مٹی کے علاوہ کسی چیز سے دور نہیں ہوتے چنانچہ اسلام میں بھی اس کے پاک ہونے کا انحصار صرف مٹی ملنے پر ہ
تَرْکُ الصَّلٰاةِ عَمْداً
(نماز کو عمدا ًترک کرنا)
کبائر منصوسہ میں سے چھیتس واں گناہ نماز کو عمداً ترک کرنا ہے۔چنانچہ عبدا لعظیم کے صحیفہ میں امام محمد تقی ،امام علی رضا ،امام موسی کاظم اور امام جعفر صادق سے اسکی تصریح کی گئی ہے۔اور اسی طرح امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے نقل کی گئی روایت میں بھی اس کے کبیرہ ہونے کی صراحت کی گئی ہے۔چونکہ نماز کا وجوب اسلام کے مسلمہ احکامات میں سے ہے۔پس جو کوئی (نماز کے وجوب کا )انکار کرتے ہوئے نماز نہ پڑھے تو وہ کافر اور دین اسلام سے خارج ہے کیونکہ نماز کا انکار رسالت کا انکار اور قرآن مجید کو تسلیم نہ کرنا ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔اور اگر نمازکے وجوب کا منکر نہ ہو اور قرآن پاک اورخاتم الانبیآء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رسالت کو حق مانتا ہو،اور اعتقاد رکھتا ہو کہ نماز خداوند عالم کی طراف سے واجب کی گئی ہے لیکن سستی اور لا پرواہی کی بناء پر ترک کرتا ہو تو ایسا شخص فاسق ہے۔
صورت اول کے پیش نظر وہ روایات جو تارک نماز کے کافر ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں بہت زیادہ ہیں اور مضمون سب کا ایک ہے۔(لئالی الاخبار صفحہ ۳۹۴ وصلوة وسائل)
امام جعفر صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں:
(قٰالَ علیه السلام) جٰآءَ رَجُلٌ اِنیٰ النَّبِیّ (صلی الله علیه و آله) فَقٰالَ یٰارَسُوْلَ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) اَوْصِنِیْ فَقْالَ (صلی الله علیه و آله) لٰا تَدَعْ الصَّلٰوةَ مُتَعَمِّداًفَانِّ مَنْ تَرَکَهٰا مُتَعَمَّداً فَقَدْبَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّتُه الْاِسْلٰامِ
(صلات وسائل الشیعہ جلد ۳ صفحہ ۲۹)
ایک شخص رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے وصیت فرمائیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کہ نماز کو عمداً ترک نہ کرو کیونکہ جو کوئی جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہے تو وہ ملت اسلامی سے خارج ہے۔رسول خدا فرماتے ہیں۔
عَنْ اَبِی جَعْفَرٍ (ع) قٰالَ(ع)قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) مٰامِنْ بَیْنَ الْمُسْلِمِ وَبَیْنَ اَنْ یَّکْفُرَ اَنْ یَتْرُکَ الصَّلٰوةَ الْفَرِیْضَتَه مُتَعَمِّداً اَوْ یَتَهٰاوَنَ بِهٰا فَلٰا یُصَلِّیهٰا
(وسائل الشیعہ ج ۳ ص ۲۹)
جو چیز مسلمان کو کافر کر دیتی ہے وہ واجب نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنا یا اسے حقیر و سبک سمجھ کر نہ پڑھنا ہے۔
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے یہ بھی فرمایا
مٰا بَیْنِ الْکُفْرِ وَالْاِیْمٰانِ اِلّٰا تَرْکُ الصَّلٰوةِ (وسائل الشیعہ ج ۳ ص ۲۹)
"سوائے نماز کو ترک کرنے کے ایمان و کفر کے درمیان کائی فاصلہ نہیں ہے۔"
علامہ مجلسی شرح کافی میں فرماتے ہیں کہ ان روایات میں سے بعض اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام واجبات کو یا ان میں سے کچھ کو جان بوجھ کر ترک کرنا کفر ہے۔اور یہ خود کفر کے معانی میں سے ایک ہے کہ جو آیات و احادیث میں وارد ہوا ہے چنانچہ وارد ہوااِنَّ تٰارِکَ الصِّلٰوةِ عَمْداً کٰافِرٌ وَتٰارِکَ الزَّکٰاةِ کٰافِرٌ وَتٰارِکَ الْحَجِّ کٰافِرٌ جان بوجھ کر نماز کو ترک کرنے والا کافر ہے،یا زکوٰة نہ دینے والا کافر ہے اور جوکوئی حج کو ترک کرے گا وہ کافر ہے۔
یہی سبب ہے کہ روایات واردہ میں بالخصوص ترک واجبات کو جزو گناہان کبیرہ قرار نہیں دیا اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ حرام کام کے ارتکاب میں غالباً انسان پر شہوت غالب آجاتی ہے اور سے گناہ پر اکساتی ہے۔
مثلاً زنا،یا یہ کہ انسان پر غصہ غالب آجائے اور ظلم،بد زبانی مار اور قتل جیسے ظلم پر آمادہ کرے۔واجبات کے ترک کرنے مثلاً نماز میں شہوت یا غصے کو کوئی دخل نہیں جو اسے ترک نماز پر اکسائے ۔نماز کو ترک کرنے کا سبب فقط دینی حکم کو سبک و حقیر سمجھنا اور سستی برتنا ہے ۔اس بناء پر واجبات کو ترک کرنا خداوند عالم کے ساتھ کفر کرنے میں داخل ہے۔
نماز ترک کرنے میں دین کو اہمیت نہ دینا ظاہر وآشکار ہے خصوصاًاس حدیث میں نماز کے ترک کرنے کو کفر جانا ہے ۔کیونکہ زکوٰة و حج کو ترک کرنے کا سبب بعض اوقات مال کی لالچ ہوتی ہے ۔اور روزہ کے ترک کرنے میں ہو سکتا ہے کہ پیٹ کی بھوک رکاوٹ بنے لیکن نماز کو ترک کرنے کا سبب سوائے دین کو سبک سمجھنے کے اور کچھ نہیں۔
صدو ق علل الشرائع میں نقل کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ زنا کرنے والے کو کافر اور شرابی کیوں نہیں کہا جاتا جبکہ نماز ترک کرنے والے کو کافر کہا جاتا ہے۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا زنا وغیرہ شہوت کے غالب آنے کی وجہ سے ہوتے ہیںوَتٰارِکُ الصَّلٰوةِ لٰا یَتْرُکُهَا اِلَّا اسْتِخْفٰا فاًبِهٰا لیکن نماز ترک نہیں کی جاتی سوائے اس کے کہ اسے حقیر سمجھا جائے کیونکہ زنا کرنے والا زنا سے لذت حاصل کرتا ہے اور اس لذت کو حاصل کرنے کے لئے وہ زنا کرتا ہے لیکن نماز ترک کرنے والا ترک نماز سے کوئی لذت نہیں اٹھاتا۔
اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ واجبات کا ترک کرنا اگر دین کو سبک سمجھنے کی بناء پر ہو تو یہ کفر ہے۔پیغمبر اکرم فرماتے ہیں لَیْسَ مِنّٰا مِنَ اسْتَخَفَّ بِصَلٰاتِہوہ ہم سے نہیں جو نماز کو حقیر سمجھے اور دوسری حدیث میں ہے اسے ہماری شفاعت حاصل نہ ہوگی اور جونشہ آور چیزیں استعمال کرتا ہو وہ ہم میں سے نہیں اور خدا کی قسم جو شراب پیتا ہووہ حوض کوثر پر وارد نہیں وہ سکے گا( فروع کافی ج ۳ ص ۲۷۱) اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے وقت رحلت فرمایا۔
قٰالَ اَبُوالْحَسِنِ(ع) لَمّٰا حَضَرَ اِبَی الْوَفٰاةُ قَالَ لِیْ یٰا بُنیَّ اِنَّهُ لٰا تَنٰالُ شَفَاعَتُنٰا مَنِ اسْتَخَفَّ بِالصَّلٰوةِ ۔( فروع کافی ج ۳ ص ۲۴۱)
حضرت ابوالحسن موسیٰ بن جعفر سے مروی ہے کہ میرے والد بزرگوار نے وقت رحلت مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ہم اہل بیت کی شفاعت ایسے کسی شخص کو حاصل نہ ہو گی جو نماز کو سبک سمجھتا ہو۔
کچھ بے عقل لوگوں کی غلط فہمی
بعض بے نمازیوں میں سے کچھ کو جب نصیحت کی جاتی ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو ،وہ جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نماز وروزے کا محتاج نہیں حالانکہ ان کا یہ جواب ایک شیطانی خیال ہے یعنی ان کا نماز ترک کرنے کا سبب پروردگار عالم کی بے نیازی نہیں بلکہ صرف ان لوگوں کی جہالت کاسبب ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو پروردگار عالم کا بندہ اور محتاج نہیں سمجھتے اسی لئے اس سے بندگی کے رابطے کو توڑ لیا ہے اور اس کے علاوہ اپنے آپ کو اس کے احسان اور نعمتوں میں گھرا ہوا نہیں سمجھتے اسی لئے انہوں نے شکر گزاری اور وظیفہ بندگی کی ادائیگی کوترک کر دیا ہے دوسرے لفظوں میں انکا نماز ترک کرنے کا سبب ان کی سختی و سنگدلی ،ظلم و زیادتی اور ہٹ دھرمی ہے اور جیسا کہ خداوندعالم کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ وَضْعُ کُلُّ شیْءٍ فِیْ مَحَلِّہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔تو وہ نفوس جو غلیظ اور پتھر اور لوہے سے زیادہ سخت ہیں انہیں جہنم میں جگہ دے اوران کے برعکس جیسا کہ آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیک و صالح افراد جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں انہیں دار السلام میں جگہ دے۔
قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ
نماز ترک کرنا وہ گناہ ہے کہ جس کے بارے میں قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے چنانچہ خداوند عالم سورہ مدثر میں فرماتا ہے۔
( فِی جَنّٰاتٍ یَّتَسٰائٓلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِینَ مٰاسَلَکَمُ فِیْ سَقَرٍ؟ قٰالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ وَکُنّٰا نَخُوضُ مَعَ الْخٰائِضِیْنَ وَکُنّٰانَکُذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنَ ) ۔(سورہ مدثر آیت ۴۰ ۔ ۴۶)
جنتی لوگ جہنمیوں سے پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر تمہیں دوزخ میں کون سی چیز گھسیٹ لائی وہ لوگ کہیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھتے تھے۔اور نہ محتاجوں کو کھانا کھلاتے تھے۔(واجب صدقات کو ادا نہیں کرتے تھے)اور اہل باطل کے ساتھ ہم بھی برے کام میں گھس پڑے تھے اور روز جزا کو جھٹلایا کرتے تھے۔
اور سورہ قیامت میں خداوند عالم فرماتا ہے:
"( فَلٰا صَدَّقَ وَلَاٰ صَلّٰی وَلٰکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلیّٰ ثُمَّ ذَهَبَ اَلٰی اَهْلِهِ یَتَمَطَّی ) "
کافر یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہرگز اٹھایا نہیں جائے گا اسی لیے نہ پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے تاکہ کوئی ذمہ داری نہ آپڑے (یا واجب صدقہ نہیں دیتا اور نہ ہی مقام بندگی اور عبادت میں بڑھتا ہے)اور نہ ہی نماز گزار بنتا ہے بلکہ فرستادہ خدا کی تکذیب کرتا ہے اورحق پرستوں سے روگردانی کرتا ہے اور غرور تکبر کے عالم میں اپنے گھر کی طرف اتراتا ہوا چلتا ہے۔(سورہ قیامت آیت ۳۱ ۔ ۳۲)
ان آیات میں منکرین معاد اور کافروں کی بری صفات میں سے کچھ بیان کی گئیں ہیں:
( ۱) پیغمبروں کی تصدیق نہیں کرتے اور خدائے واحد کے وجود کا اقرار نہیں کرتے۔
( ۲) نماز نہیں پڑھتے حالانکہ نماز ایمان کی اہم علامتوں میں سے ہے اور اسکا ترک کرنا کفر ہے۔
( ۳) پیغمبروں کی طرف دروغ گوئی کی نسبت دیتے ہیں۔
( ۴) حق بات سے روگردانی کرتے ہیں۔
مقام تہدید اور ان کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد فرماتا ہے اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی مفسرین میں سے بعض نے کہا اس کلمے کے معنی وَیْلٌ لَّکَ ہیں اور چار مرتبہ اسکی تکرار تاکید کے لئے ہے۔یاچار مرتبہ اشارہ سے مراد ہلاکت ہے یعنی دنیا میں ہلاکت ،قبر میں عذاب،قیامت میں وحشت اور دوزخ میں ہمیشہ کا قیام۔اور سورہ مٰاعُوْن میں فرماتا ہے فَوَیْلٌ لِّلْمُسَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰاتِھِمْ سٰاھُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ یُرٰائٓوُنِ(سورہ ماعون آیت ۴ ۔ ۶) ان نمازیوں کی تباہی ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں جو دکھاوے کے واسطے کرتے ہیں۔یعنی کیونکہ وہ اس کے ثواب پر اعتقاد نہیں رکھتے اور ترک نماز پر عذاب سے نہیں ڈرتے اور یہ کہ ظاہراً تو نماز پڑھتے ہیں تا کہ انہیں مسلمانوں سے کوئی گزند نہ پہنچے تنہائی میں نماز نہیں پڑھتے اور مستحقین کو زکوٰة نہیں دیتے۔
وَیْلٌ (سخت عذاب) ہے نماز میں غفلت کرنے والوں کے لئے ،نماز جو کہ دین کا ستون ہے،اور اسلام و کفر کے درمیان سرحد ہے ۔وَیْلٌ جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے کا نام ہے۔یا اس میں موجود ایک کنویں کا نام ہے یا عذاب کا کلمہ ہے اور اس پر تنوین بڑائی کو ظاہر کرتی ہے یعنی بڑا عذاب۔سورہ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے( فَخَلَفَ مَنْ بَعْدِهِمِ خَلْفٌ اَضٰاعُو الصَّلٰوةَ واَتَّبَعُوا الشَّهَوٰاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیّاً ) ۔(سورہ مریم آیت ۵۹)
پھر ان (پیغمبروں)کے بعد کچھ نا خلف(ان کے)جانشین ہوئے۔جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور نفسانی خواہشات کے چیلے بن گئے عنقریب ہی یہ لوگ غی میں پہنچیں گے۔(غی جہنم کی ایک وادی ہے جہاں پر جہنم کے دوسرے طبقوں سے زیادہ شدید تر عذاب ہے اور اہل جہنم اس کے عذاب سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ابن عباس سے منقول ہے کہ اس میں ایسا سانپ ہے کہ جس کی لمبائی ساٹھ سال اور چوڑائی تیس سال کی مسافت کے برابر ہے اور جب سے وہ پیدا کیا گیا ہے وہ اپنا منہ فقط نماز کو ترک کرنے والے اورشرابی کو نگلنے کے لئے کھولتا ہے۔سورہ روم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَلٰا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (سورہ روم آیت ۳۱)
پابندی سے نماز پڑھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاو۔اس آیت میں اشارہ ہے کہ نماز ترک کرنے والا بت پرست اور مشرک کے ساتھ برابر ہے۔نماز کی اہمیت کے بارے میں قرآن مجید کی آیات بہت زیادہ ہیں لیکن جو کچھ تحریر کیا گیا وہی کافی ہے۔
ترک نماز پر پندرہ د نیوی اور اُخروی نتائج
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں جو اپنی نماز کو سبک سمجھتا ہو اور اس کی انجام دہی میں سستی کرتا ہو خدائے عزوجل اسے پندرہ بلاوں میں مبتلا کردے گا(جس میں سے) چھ دنیا سے متعلق ہیں اور تین جان کنی کے عالم سے اور تین قبر سے اور تین روزقیامت سے متعلق ہیں یعنی جب وہ اپنی قبر سے باہر آئے گا وہ چھ بلائیں جو دنیا سے متعلق ہیں یہ ہیں۔
( ۱) خداوند عالم اس کی عمر کو کم کر دے گا۔
( ۲) اور اس کا رزق ختم کر دے گا۔
( ۳) نیک لوگوں کی علامتیں اسکے چہرہ سے ختم کر دے گا۔
( ۴) جو بھی نیک کام کرے گا قبول نہیں ہو گا اور اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔
( ۵) اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔
( ۶) نیک لوگوں کی دعاوں سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
وہ تین بلائیں جو موت کے وقت سے متعلق ہیں:
( ۱) ذلت و خواری کی موت مرے گا۔
( ۲) بھوک کی حالت میں مرے گا
( ۳) پیاسا اور پیاس کی حالت میں اس طرح مرے گا کہ اگر دنیا کی نہروں کو پی لے پھر بھی وہ سیراب نہیں ہوگا۔
اور وہ تین بلائیں جو قبر میں اس تک پہنچیں گی:
( ۱) ایک فرشتے کو اس پر مقرر کیا جائے گا کہ اسے فشار دے اور سرزنش کرے۔
( ۲) اس کی قبر کو اس کے لئے تنگ کر دیا جائے گا۔
( ۳) اس کی قبر تاریک اور ہول ناک ہو گی۔
اور قیامت سے متعلق تین بلائیں یہ ہیں
( ۱) فرشتہ اسے حساب کے لئے اس طرح کھینچ رہا ہوگا کہ حساب کے مقام پر تمام لوگ اسے دیکھ رہے ہوں گے۔
( ۲) اس کے حساب میں سختی ہو گی۔
( ۳) خداوند عالم اس پر رحمت کی نظر نہیں کرے گا اسے پاکیزہ نہیں کرے گا اور اس کے لئے یہ درد ناک عذاب ہے۔
اہم ترین واجب الہیٰ
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہاَوَّلُ مٰا یُحٰاسِبُ بِهِ الْعَبْدُ اَلصَّلٰوْةَ فَاِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ سَآئِرُ عَمَلِهِ واِنْ رُدَّتْ عَلَیْهِ رُدَّ عَلَیْهِ سٰائِٓرُ عَمَلِهِ (بحار الانورا جلد ۱۸ صفحہ ۵۲) قیامت میں سب سے پہلے جس عمل کے بارے میں انسان سے باز پرس ہو گی وہ نماز ہے اگر وہ قبول ہو گئی تو دوسرے اعمال بھی قبول ہو جائیں گے اور اگر وہ رد کر دی گئی تو دوسرے اعمال بھی رد کردیئے جائیں گے۔
سَئَلَ مُعٰاوِیَتهِ بْن وَهَبِ اَبٰا عَبْدِ اللّٰهِ عَلَیْهِ السّٰلامُ عَنْ افَضْلَ مٰایَتَقَرَّبُ بِهِ الْعِبٰادُ اِلَی اللّٰهِ فَقٰالَ عَلَیهِ السَّلٰامُ مٰا اَعْلَمُ شَئاً بَعْدَ الْمَعْرِفَتهِ اَفْضَلُ مِنْ هٰذِهِ الصَّلٰوةِ اَلَا تَرٰی اَنَّ الْعَبْدَ الصّٰالِحَ عِِیْسی بِنْ مَرْیَمَ قٰالَوَاَوْصٰانِی بِالصّلوةِ وَالزَّکٰوةِ مٰادُمْتُ حَیاً وَسَئَلَ النّبِیُّ (صلی الله علیه و آله) عَنْ اَفْضَلِ الْاَعْمٰالِ فََقٰالَ (صلی الله علیه و آله) الصَّلٰوةُ لِاَوَّلِ وَقِتْهٰا ۔
( فروع کافی ج ۳ س ۲۶۴)
معاویہ امن وہب نے امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ وہ سب سے افضل عمل کہ جس کے سبب انسان اپنے ربّ کے قریب ہو سکے کونسا ہے؟آپ نے فرمایا خدا و نبی وامام کی معرفت کے بعد نماز سے افضل(عمل)نہیں جانتا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا کے صالح بندے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تک میں زندہ ہوں خداوندعالم نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم اعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔تمام اعمال میں سب سے بہتر عمل ایسی نماز ہے جسے اول وقت میں ادا کیا گیا ہو۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ عَلَیْهِ السَّلٰامُ قٰالَ عَلَیْهِ السَّلٰامُ) اَلصَّلٰوةُ عَمُودُ الدِّیْنَ مِثْلُهٰا کَمَثْلِ عَمُودُ الْفَسْطٰاطِ اِذٰا ثَبَتَ الْعَمُوْدُ ثَبَتَتِ الْاَوْتٰادِ وَالْاَطْنٰابِ اِذاٰ مٰالَ الْعَمُوْدُ وَانْکَسَرَلَمْ یَثْبُتْ وَتَدٌ وَلٰاطَنٰابَ
(بحار الانوار جلد ۱۸ باب فضل الصلوة صفحة ۹ ج جدید ۸۲ ص ۲۱۸)
نماز دین کا ستون ہے(نماز)خیمہ کی درمیانی لکڑی کی مانند ہے کہ جب تک وہ قائم ہے۔خیمہ کی رسیاں اور کیلیں جمی رہیں گے ۔اور جب وہ لکڑی سیدھی نہ رہے یا ٹوٹ جائے تو کیلیں اور رسیاں بھی اپنی جگہ سے اکھڑ جاتی ہیں اور خیمہ گرجاتا ہے۔
اسی طرح ایمان اور تمام اعمال عبادات نماز سے وابستہ ہیں ۔کہ اگر اسے (یعنی نماز کو)ترک کر دیا گیا تو سارے اعمال بھی جائع ہو جاتے ہیں۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) اس آیت جو کوئی ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے اس کا عمل باطل ہے کی شرح میں فرماتے ہیں:
عَنِ الصّٰادِقِ عَلَیْهِ السَّلٰامُ فِیْ قَوْلِهِ تَعٰالٰی وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمٰان ِفَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُقَالَ عَلَیْهِ السَّلٰامُ مِنْ ذٰلِکَ اَنْ یَّتَرْکُ الصَّلٰوةُ مِنْ غَیْرِ سُقْمٍ وَّلٰا شُغْلٍ
(بحار الانوار جلد ۱۸ جدید جلد ۸۲)
یہ آیت نماز کو بغیر کسی مرض اور مصیبت کے ترک کرنے سے متعلق ہے۔یعنی وہ مرض اور مصیبت جو (نماز کو )فراموش کرنے کا سبب بن جائے۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
بُنِیَ الْاَسْلٰامُ عَلٰی خَمْسَتِه اَشْیٰآءٍ عَلَی الصَّلٰوةِ وَالزَّکٰوةِ وَالْحَجِّ وَالصَّوْمِ وَالْوِلٰایَته ۔(بحار الانوار جلد ۱۱۱ آخر باب فضل الصلوٰہ عقاب تارکھا صفحہ ۱۴ )
دین اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔نماز ، زکوٰة،حج، روزہ اور ولایت زرارہ نے پوچھا کونسی افضل ہے؟امام (علیہ السلام) نے فرمایا ولایت کیونکہ ولایت آل محمد (علیہم السلام) باقی ماندہ کی چابی کی مانند ہے اور ولایت کے بعد نماز سب سے افضل ہے کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا کہ اَلصَّلٰوةُ عَمُودُ دِیْنِکُم نماز تمہارے لئے دین کا ستون ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں کہ جب قیامت برپا ہو گی تو بچھو کی جنس کا ایک جانور دوزخ سے باہر آئے گا اس کا سر ساتویں آسمان پر اور اس کی دم زمین کے نیچے اور اس کا منہ مشرق سے مغرب تک ہو گا اور کہے گا کہاں ہیں وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول سے جنگ کرتے تھے پس جبرائیل امین نازل ہو ں گے اور کہیں گے تم کن لوگوں کو چاہتے ہو تو وہ کہے گا پانچ گروہوں کو نماز ترک کرنے والوں کو ، زکوٰة نہ دینے والوں کو ،سود کھانے والوں کو،شراب پینے والوں کو اور وہ لوگ جو مسجد میں دنیوی باتیں کرتے تھے۔(یعنی حرام گفتگو کرنا مثلاً مسلمانوں کی غیبت اور ان پر تہمت لگانا یا باطل کو رائج کرنا ،ظالم کی مدح کرنا اور کسی ایسے شخص کی تعریف کرنا جو تعریف کے قابل نہیں اور کسی ایسے کی مذمت کرنا جو قابل مذمت نہیں۔وغیرہ)لئالی الاخبار)اور آپ نے یہ بھی فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے کہ اس کے عذاب کی شدت سے جہنمی ہر روز ستر ہزار مرتبہ چیختے ہیں اس میں آگ کا ایک گھر ہے اور اس گھر میں ایک آگ کا کنواں ہے اور اس کنویں میں تابوت ہے کہ جس میں ایک سانپ ہے اس کے ہزار سر ہیں اور ہر سر میں ہرار منہ ہیں اور ہر منہ ملیں ہزار ڈنگ ہیں اور ہر ڈنگ کی لمبائی ہزار گز ہے۔انس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) یہ عذاب کس کے لئے ہے آپ نے فرمایا شراب پینے والے اور نماز ترک کرنے والے کے لئے۔
نماز ترک کرنے والے کے لئے شدید عذاب کی بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں لیکن یہی مقدار کافی ہے۔
نماز ترک کرنے والے کی مدد
بہت سی روایات میں بے نمازی کی مدد کرنے والے کے لئے سخت عذاب وارد ہو ا ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں۔
مَنْ اَعٰانَ تٰارِکَ الصَّلٰوةِ بَلُقْته اَوْ کِسْوَةٍ فَکَاَنَّمٰا قَتَلَ سَبْعَیْنَ نَبِیّاً اَوَّلُهُم اٰدَمُ وَاٰخِرُهُمْ مُحَمَّدُ (صلی الله علیه و آله) ۔(لئالی الاخبار ج ۴ ص ۵۱)
جو کوئی نماز رترک کرنے والے کی خوارک یا لباس دیکر مدد کرے گا تو ایسا ہے کہ اس نے ستر انبیاء کو قتل کیا ان میں سے اول آدم (علیہ السلام)اور آخر حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ)ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایا:
مَنْ اَعٰانَ تَارِکُ الصَّلٰوةِ بِشَرْ بتَهٍ مٰآءٍ فَکَاَنَّمٰا حٰارَبَ وَجٰادَلَ مَعِیَ وَمَعَ جَمِیعِ الْاَنْبِیآءِ ۔ (لئالی الاخبار ص ۳۹۵)
جو کوئی (بے نمازی کو )ایک گھونٹ پانی دے تو یہ ایسا ہی ہے کہ اس نے میرے اور تمام انبیاء سے جنگ کی ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی بے نمازی کے ساتھ ہنسے تو گویا اس نے ستر مرتبہ خانہ کعبہ کو منہدم کیا۔
(لئالی الاخبار صفحہ ۳۹۵)
ظاہراًایسی احادیث سے مراد یہ ہے کہ مدد واحسان کرنا ترک نماز میں جرات کا سبب بنے اور بلاشبہ جب بھی گناہگارپر احسان گناہ میں جرأت اور گناہ کو جاری رکھنے کا سبب بنے تو حرام ہے اور نہی عن المنکر کی رو سے احسان نہ کرنا واجب ہے۔
اس بناء پر اگر نماز ترک کرنے والے کی مدد کرنا اس کے نماز کو ترک کرنے میں جرأت کا سبب نہ بنے یعنی مدد کرنا یا نہ کرنا(اس کے نماز نہ پڑھنے پر)کوئی اثرنہ کرے تو معلوم نہیں کہ وہ ان روایات سے متعلق ہے یا نہیں اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدد احسان اس کے گناہ چھوڑ دینے اورنماز پڑھنے کاسبب بن جاتا ہے تو ایسی صورت میں بغیر کسی شک کے اس کی مدد کرنا بہتر ہے بلکہ بعض موارد میں واجب بھی ہو جاتی ہے۔
نماز ترک کرنے کی کچھ قسمیں ہیں
( ۱) نماز کو بطور کلی انکار کرتے ہوئے ترک کرنا یعنی نماز کو واجب الہٰی نہیں سمجھتا ہو اور اس کی انجام دہی کو اپنے لازم نہیں جانتا ہو جیسا کہ گزرچکا ہے کیونکہ وہ دین کے امر ضروری کا منکر ہے اس لئے کافر ہو گیا ہے در حقیقت اس نے پیدا کرنے والے کی خدائی رسالت خاتم الانبیآء (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور قرآن مجید کا انکار کیا ہے۔اور یہ ایسا شخص ہے جو ابدی عذاب سے دوچار ہو گا اور اس کے لئے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے۔
( ۲) نماز کو بطور کلی ترک کرنا لیکن انکار کرتے ہوئے نہیں بلکہ آخرت کے کاموں سے لاپرواہی و بے اعتنائی اور نفسانی خواہشات اور دنیوی امور میں مشغول ہو نے کے بناء پر ہے۔ترک نماز کی یہ قسم فسق کا سبب ہے اور ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے اور بعض آیات میں اس کا شدید عذاب ہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اگر ایسا شخص ایمان کی حالت میں دنیا سے جائے تو بھی وہ ترک نماز کی بناء پر عذاب سے دوچار ہونے کے بعد ہی نجات حاصل کر سکے گا۔لیکن نماز ترک کرنے والے کا دنیا سے ایمان کی حالت میں جانا بہت ہی مشکل اور بعید ہے کیونکہ ایمان کا ظرف قلب ہے اور وہ گناہوں کی وجہ سے سخت اور تاریک ہو جاتا ہے اور اس طرح ایمان کے نور کو ختم کر دیتا ہے سوائے اس کے کہ خداوند تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کی مدد کرے اور دوستی اہل بیت (علیہم السلام) کی بناء پرموت کے وقت وہ اس کی فریاد کو پہنچیں اور وہ ایمان کی حالت میں مرے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کی شفاعت اسکے عذاب میں تخفیف پیدا کر دے ۔یا ختم کر دے لیکن خود ان حضرات سے روایت کی گئی ہے کہ ہم اہل بیت کی شفاعت اس تک نہیں پہنچے گی جو اپنی نماز کو سبک سمجھے اور اسے ضائع کرے جیسا کہ بیان ہوا۔
( ۳) بعض اوقات نمازترک کرنا ۔یعنی ضعف ایمانی ،اور امور آخرت سے لاپرواہی کی بناء پر کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی نہیں پڑھتا یا اوقات نماز کو اہمیت نہ دینے کی بناء پر اور اس خیال سے کہ بعد میں نماز ادا کرے گا وقت فضیلت میں نماز ادا نہیں کرتا۔
ترک نماز کی یہ قسم بے شک ذکر کی گئی دوقسموں کی طرح نہیں ہے ۔لیکن ایسا شخص نماز کو ضائع کرنے والوں اور اسے سبک شمار کرنے والوں میں سے ہے اور جو کچھ نماز کو ضائع کرنے والوں اور اسے حقیر سمجھنے والوں کے بارے میں وارد ہوا ہے اس کے لئے بھی ہے اور ایسے شخص کے بارے میں خاص طورپر روایات وارد ہوئی ہیں اورایک روایت میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ۔
عَنْ اَبَیْ عَبِداللّٰهَ عَلَیْهِ السَّلٰامُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) مَنْ صَلّی الصَّلٰوةَ بِغَیْرِ وَقْتِهٰا رُفِعَتْ لَهُ سَوْدآءٌ مُظْلمَةٌ تَقُولُ ضَیَّعَتْی ضَیَّعَکَ اللّٰهُ کَمٰا ضَیَّعَتَنِیْ وَقٰالَ (صلی الله علیه و آله) اَوَّلُ مٰا سُئِلَ الْعَبْدُ اِذٰا وَقَفَ بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ عَنِ فَاِنْ زَکَّتْ صَلٰوتَهُ زکیٰ سٰائِٓرُ عَمَلِهِ وَاِنْ لَّمْ تُزَکِّ الصَّلٰوتَهُ لَمْ یُزکِّ سٰائِرُ عَمَلِهِ (وسائل الشیعہ باب اول جلد ۳ س ۸۰)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ارشاد فرمایا جو کوئی واجب نماز کو وقت گزرنے کے بعد پڑھے تو وہ نماز تاریک اور وحشت ناک حالت میںٰ اوپر جاتی ہے اور اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہے کہ تو نے مجھے ضائع کیا۔خدا تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نہ مجھے ضائع کیا۔اورفرمایا جب بندہ بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوتا ہے تو سب سے پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزقیامت انسان سے سوال کیا جائے گاوہ نماز ہے پس اگر نماز صحیح ہو تو باقی تمام اعمال صحیح ہیں اور اگر نماز صحیح نہ ہو تو اس کے دوسرے اعمال بھی صحیح نہیں ہیں۔اور اسی طرح رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
لٰایُنَالُ شَفٰاعِتی غَداً مَّنْ اخَرَّ الصَّلٰوةَ الْمَفْرُوضَتَه بَعْدَ وَقْتِهٰا (صلواة وسائل الشیعہ حدیث ۱۳ ج ۳ ص ۸۱)
میری شفاعت اس شخص تک نہیں پہنچے گی،جو واجب نماز میں وقت داخل ہونے کے بعد تاخیر کرے یہاں تک کہ اس کا وقت گزر جائے ۔
آپ نے یہ بھی فرمایا:
لٰا یَزٰالُ الشَّیْطٰانُ هٰائِٓباً لِابْنِ اَدَمَ زَعْراًمِّنْهُ مٰا صَلَّی الصَّلٰوةَ الْخَمْسَ فَاِذٰا ضَیَّعَهُنَّ اجْتَرَاءَ عَلَیْهِ فَادَخْلَهُ ف،ی الْعَظٰائِمِ ۔ (وسائل الشیعہ باب احدیث ۱۲ ج ۳ ص ۸۱)
جب تک انسان محتاط ہو،اور دن رات کی پانچ نمازوں کو وقت پر بجالائے تو شیطان اس سے کوفزدہ رہتا ہے اور اس کے قریب نہیں آتا۔اورجب بھی ان(نمازوں)کو ضائع کرے تو شیطان اس پر حاوی ہو جاتا ہے اور اسے بڑے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے۔امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو کوئی نماز واجب کو وقت پر پڑھے گا اگر وہ اس کی اہمیت کو سمجھتاہو اور کسی چیز کواس پر مقدم نہ کرے تو خداوند عالم اس کے لئے عذاب سے نجات لکھ دیتا ہے(یعنی اس پر عذاب نازل نہیں کرے گا ۹ اور جو کوئی نماز کو اس کا وقت گزرنے کے بعد پڑھے اور امور دنیا کو نماز پر مقدم سمجھے تو اس کافیصلہ خدا کے ہاتھ ہے چاہے اسے بخش دے یا اسے عذاب دے۔(یعنی اس کے لئے قطعی نجات نہیں ہے۔)
اوّل وقت میں نماز پڑھنے کی تا کید
روایات میں نماز کے اوقات کا لازماً خیال رکھنے اور اسے وقت پر بجا لانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے تا کہ نماز کو اول وقت میں ادا کیا جائے اور بغیر کسی عذر کے اول وقت سے تاخیر نہیں کرنا چاہئے اور ہمارے رہبروں نے سخت ترین حالات میں بھی نماز کی اول وقت میں ادائیگی کو ترک نہ کیا۔
چنانچہ ارشاد القلوب میں روایت ہے کہ حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) جنگ صفین میں ایک دن جنگ میں مشغول تھے اور اس حالت میں بھی دو صفوں کے درمیان باربار آفتاب کی طرف دیکھ رہے تھے ابن عباس نے پوچھا کہ آپ آفتاب کو کیوں دیکھ رہے ہیں؟امام (علیہ السلام) نے فرمایااَنْظُرُ اِلَی الزَّوٰالِ حَتّٰی نُصَلِّیمیں وقت زوال کو (جو نماز ظہر کا اول وقت ہے) جاننا چاہ رہا ہوں تا کہ نماز اداکروں ابن عباس نے کہا آیا اس جنگ کے وقت نماز پڑھنے کاوقت ہے امام (علیہ السلام) نے فرمایا،ہم اس قوم سے کس لئے جنگ کر رہے ہیں:اِنَّمٰا تُقٰاتِلُهُمْ عَلَی الصَّلٰوةِ ہمارا ان سے جنگ کرنے کامقصد ہی نماز کا قیام ہے۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے کبھی بھی نماز شب کو ترک نہیں کیا یہاں تک کہ لیلتہ الحریر(جنگ صفین سخت ترین سردی کی راتوں )میں بھی۔
مروی ہے کہ روز عاشورہ زوال کے وقت ابوثمامہ صیدادی،حضرت سید الشہدا امام حسین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
یٰا مَولٰایَ اِنَّنٰا مَقْتُولُونَ لٰا مَحٰالَتَه وَقَدْحَضَرَتِ الصَّلٰوةُ فَصَلِّ بِنٰافَانِّی اِظُنُّهٰا اٰخِرَصَلٰوةٍ نُصِلِّیْهٰا لَعَلَّنٰا نَلْقَی اللّٰهِ تَعٰالیٰ عَلیٰ اَدٰا فَرِیْضَةٍ مِّنْ فَرٰآئِضِهِ فِیْ هَذَا الْمَوْضَعِ الْعَظِیْمِ ۔(جلد دہم بحار الانوار اور لھوف سید)
اے میرے مولا! ہم یقینا سب قتل کر دیئے جائیں گے اور نماز ظہر کا وقت ہو چکا ہے پس نماز پڑھائیے۔یعنی باجماعت نماز پرھائیں ہماارخیال ہے کہ یہ ہماری آخری نماز ہے اورامید ہے کہ ہم اس عظیم مقام پر اللہ تعالی کے فرائض میں سے ایک فریضہ ادا کرتے ہوئے اس سے ملاقات کریں گے۔
امام (علیہ السلام) نے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمانے لگے تم نے نماز کو یاد کیا خداوند عالم تمہیں نماز گزاروں میں شامل کرے ہاں یہ تو نماز کا وقت ہے اور فرمایا اذان دو خدا تم پر رحمت کرے اورجب اذان سے فارغ ہوئے تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا اسے پسر سعد کیا شریعت اسلامی کو بھول گئے ہو آیا جنگ نہیں روکے گے کہ نماز ادا کریں اور اس کے بعد جنگ کریں پس امام (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف اس طرح ادا کی کہ زُہَیرِابن القین اور اسعید بن عبد اللہ حنفی سیدا لشہدا امام حسین (علیہ السلام) کے سامنے کھڑے تھے اورجس طرف سے بھی تیر یا نیزہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ)تک پہنچتا تھا خود کو ڈھال بنا لیتے تھے یہاں تک کہ تیرہ تیر سعید کے بدن میں نیزہ وشمشیر کے زخموں کے علاوہ لگے اور وہ زمین پر گرنے اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔
واجبات نماز میں سے کسی واجب کو ترک کرنا
یعنی نماز تو پڑھتا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ جس طرح اس سے کہا گیا ہے درست نماز کی شرائط کی پرواہ نہیں کرتا اور اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا،مثلاًنماز کو غصبی لباس،یا مکان میں یا نجاست میں پڑھتا ہے یا قرا ئت اور واجب اذکار کو نہیں پڑھتا یا غلط پڑھتا ہے اور اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کرتاقرائت اور ذکر واجب کے وقت بدن کو ساکن نہیں رکھتا اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص نماز کو ضائع کرنے والوں اور نماز کو حقیر جاننے والوں میں سے ہے۔اور جو کچھ نماز کو سبک شمار کرنے والوں کے بارے میں وارد ہو ا ہے اس کے لئے بھی وہی ہے۔
امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے میں مشغول ہو گیا اور اپنی نماز کے رکوع و سجود کو کاملاً ادا نہ کیا(یعنی ان میں سے ذکر واجب کو چھوڑ دیا یا صحیح نہیں پڑھا یا بدن کو ساکن نہیں رکھا اور اقوال وافعال میں اطمینان حاصل نہیں کیا)تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا(یہ شخص )اپنے سر کو زمین پہ اس طرح رکھتا ہے جس طرح کوا اپنی چونچ زمین پر مارتا اور اٹھاتا ہے اگر یہ اس طرح نماز پڑھتے ہوئے مرجائے تو وہ میرے دین پر نہیں مرے گا۔وسائل باب ۸)
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
اَسْرَقُ السَّرّٰاقُ مَنْ سَرِقَ مِنْ صَلٰوتِهِ قِیْلَ یٰا رَسُوْلَ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) کَیْفَ یَسْرَقُ مِنْ صَلٰوتِهِ قٰالَ (صلی الله علیه و آله) لٰایُتِمُّ رُکُوعَهٰا وَسُجُودَهٰا
(صلوٰت مستدرک الوسائل باب ۸ حدیث ۱۸)
چوروں میں سب سے بڑا چور وہ ہے جو اپنی نمازمیں چوری کرے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اپنی نماز میں کس طرح چوری ہو سکتی ہے آپ نے فرمایا نماز کے رکوع و سجود کو صحیح طرح انجام نہ دے۔(وسائل باب ۸ حدیث ۱۸)
اور فرماتے ہیںلٰا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ یُتِمَّ رُکُوْعَهٰا وَسُجُوْدَهٰا (صلوة مستدرک الوسائل باب ۸ حدیث ۱۸) جو کوئی نماز کے رکوع وسجود کو صحیح ادا نہ کرے تو وہ ایسا ہے کہ جیسے اس نے نماز ہی نہ پڑھی ہو۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی نماز کے رکوع وسجود اور دوسرے تمام واجبات کو صحیح انجام دے تو وہ نماز نورانیت اور درخشندگی کی حالت میں اوپر جاتی ہے آسمان کے دروازے اس کے لئے کھل جاتے ہیں اور نماز کہتی ہے تم نے میری حفاظت کی خدا تمہاری حفاظت کرے اور ملائکہ کہتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ کی صلوت ورحمت ہو اس نماز پڑھنے والے پر اور اگر واجبات نماز کو صحیح طرح ادا نہ کرے تو نماز تاریکی کی حالت میں اوپر جاتی ہے اور آسمان کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں اور نماز کہتی ہے تو نے مجھے ضائع کیا خدا تجھے ضائع کرے اور وہ نماز اس کی صورت پر ماردی جاتی ہے(صلوت مستدرک الوسائل باب ۸ حدیث ۱۵)
آپ نے یہ بھی فرمایابِکُلِّ شَیْءٍ وَجْهٌ وَوَجْهُ دِیْنِکُمْ الصَّلٰوةُ فَلٰا یَشِیْنَّ اَحَدَکُمْ وَجْهَ دِیْنِکُمْ (صلوة مستدرک الوسائل باب ۶ حدیث ۵)
ہر چیز کی ایک صورت ہوتی ہے کہ جو اسکے اجزاء بدن میں سے اعظم اور اشرف ہے اورتمہارے دین کا چہرہ اور صورت نماز ہے پس تم میں سے کوئی بھی اپنی نماز کو خراب اور بد نما نہ کرے کہ جو صورت بدن کی طرح دین کی صورت ہے۔
اس بارے میں روایات بہت ہیں،لیکن مطلب کی وضاحت کے لئے یہی کافی ہے کہ جو کوئی واجبات نماز میں سے کسی ایک واجب کو جو کہ نماز کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے ترک کرے تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو بالکل نماز نہیں پڑھتا۔
عدم دفع الزکاة
( زکوٰة نہ دینا)
کبائر منصوصہ میں سے سینتیسواں گناہ زکوٰة واجب کو نہ دینا ہے چنانچہ جیسا کہ عبد العظیم کے صحیفہ میں امام محمد تقی امام علی رضا امام موسیٰ کاظم اور امام جعفر صادق (علیہم السلام) سے نقل کیا گیا ہے اور یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کے لئے قرآن مجید میں صریحاً عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے چنانچہ ذکر شدہ صحیفہ میں امام (علیہ السلام) نے اس کے کبیرہ ہونے کا سورہ توبہ کی چونتیس ویں آیت سے استدلال کیا ہے:
( وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّتَهَ وَلٰا یُنْفِقُوْنَهٰا فی سَبِیْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذٰابٍ اَلِیْمٍ یَّومَ یُحْمٰی عَلَیْهَا فِیْ نٰارِ جَهَنَّمَ فَتُکویٰ بِهٰا جِبٰاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُم وَظُهُوْرُهُمْ هٰذٰا مٰا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُم فَذُوْقُوا مٰا کُنْتُم تَکْتِزُونَ ) ۔ (سورہ توبہ آیت ۳۴،۳۵)
اور جو لوگ سونااورچاندی جمع کرتے جاتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو (اے رسول) ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔جس دن وہ(سونا چاندی) جہنم کی آگ میں گرم (اور لال)کیا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور انکی پشتیں داغی جائیں گی(اور ان سے کہا جائے گا) یہ وہ ہے جسے تم نے اپنے لئے (دنیا میں)جمع کر کر رکھا تھا۔تو (اب)اپنے کئے کا مزہ چکھو۔
روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ اس آیہ شریفہ میں کنز سے مراد ہر وہ مال ہے کہ جس سے زکوٰة اور دوسرے واجب حقوق ادا نہ کئے گئے ہوں سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( وَلٰا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمٰا اٰتٰاهُمُ اللّهُ مِنْ فِضْلَه هُوَ خَیْراًلَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مٰا بَخِلُوْا بِه یَوْمَ الْقِیٰامَتِه وَلِلّٰهِ مِیْرٰاثُ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَ اللّٰهُ بِمٰا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ) ۔ (سورہ آل عمران آیت ۱۸۰)
اور جن لوگوں کو خداوندعالم نے اپنے فضل و(کرم) سے کچھ دیا ہے (اور پھر)بخل کرتے ہیں وہ ہر گز اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ ان کے لئے (کچھ)بہتر ہو گا بلکہ یہ ان کے حق میں بد تر ہے(دنیا میں بھی کیونکہ ان کے مال سے برکت ختم ہو جاتی ہے اور آخرت میں بھی کیونکہ بے پناہ عذاب وعقاب کے مستحق ہوں گے) (کیونکہ) جس (مال) کا بخل کرتے ہیں عنقریب ہی قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کے گلے میں پہنایا جائے گا اور سارے آسمان و زمین کی میراث خدا کے لئے ہیے اورجو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔
یعنی وہ لوگ جن کے قبضے میں صرف چند روز کے لئے عاریتاً مال ہے اوہ مر جائیں گے اور فقط خدائے عزوجل کی ذات باقی رہے گی تو اس سے قبل کہ یہ اموال تم سے لے لئے جائیں اور تم ان سے محروم ہو جاو اسے راہ خدامیں خرچ کر کے استفادہ کرو۔
تفسیر منہج الصادقین میں لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے جسے بھی مال عطا کیا ہو،اور اگر وہ شخص بخل کی بناء پر اسکی زکوٰةادا نہ کرے تو اسکا وہ مال روز قیامت ایک بڑے سانپ کی صورت اختیار کر جائے گا۔اور بے پناہ زہر اور خطرناک ہونے کے بناء پر اس (سانپ)کے سر پر بال نہ ہوگا اور اس کی آنکھوں کے نیچے دو سیاہ نشان ظاہر ہوں گے وہ سانپوں کی موذی ترین اقسام میں سے ہے۔پس وہ سانپ طوق کی صورت میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا تو سانپ کے دونوں سرے اسکے چہرے کو اپنے گرفت میں لے لیں گے اور وہ ڈانٹتے ہوئے کہیں گے میں تمہارا وہی مال ہوں کہ جس پر تم دنیا میں دوسروں پر فخر کرتے تھے۔
عَن اَبِیْ جَعْفَرٍ(ع) قٰالَ مٰامِنْ عَبْدٍ مُنِعَ مِنْ زَکوٰةِ مٰالِهِ شَیاً اَلَّاجَعَلَ اللّٰهُ ذٰالِکَ یَوْمَ الْقیِٰامَةِ ثُعْبٰاناً مِّنْ نٰارٍ مُّطَوَّقاً فِیْ عُنُقِهِ یَنْهَشُ مِنْ لَحْمِهِ حَتّٰی یَفْرَغُ مِنَ الْحِسٰابِ
(زکات وسائل باب ۳ ج ۶ ص ۱۱)
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا جو کوئی بھی اپنے مال کی زکوٰة ادا نہ کرے تو روز قیامت وہ مال آگ کے اژدھے کی صورت میں اس کی گردن میں ہوگا اور وہ اس کا حساب ختم ہونے تک اس کا گوشت چباتا رہے گا۔آپ سے یہ بھی مروی ہے کہمَامِنْ ذِیْ رَحِمٍ یَأتِیْ ذٰا رَحِمَهُ یَسْئَالُهُ مِنْ فَضْلٍ اَعْطٰاهُ اللّٰهُ اِیَّاهُ فَیَبْخَلُ بِهِ عِنْدَهُ اِلّاٰ اَخْرَجَ اللّٰهُ لَهُ مِنْ جَهَنِّمِ شُجٰاعاً یَتَلَمَّزُ بِلِسٰانِه حَتّٰی یُطَوِّقَهُ ۔(تفسیر منہج الصادقین)جو کوئی اپنے کسی ایسے رشتہ دارکو جو اس کے پاس آئے اور اس مال کثیر میں سے کہ جوخدائے کریم نے اسے عطا یا ہے اس میں سے کچھ طلب کرے تو اگر وہ بخل کی بنا پر کچھ نہ دے تو خداوندعالم دوزخ سے ایک اژدھا باہر نکالتا ہے جو اپنی زبان کو اپنے منہ کے گرد گھماتا ہے تاکہ وہ (شخص)آئے اور وہ اژدھا اس کی گردن کا طوق بن جائے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ سونے چاندی کا کوئی مالک اگر(اس کی ) زکوٰة واجب(یا خمس واجب کو جیسا کہ تفسیر قمی میں ہے) وہ ادا نہ کرے تو روز قیامت خداوند عالم اسے ایک ہمواروروشن بیابان میں قید کردے گا اور اس پر ایک اژدھا مسلط کر دے گا کہ جس کے بال زہر کی زیادتی کی بنا پر گر گئے ہوں گے اور جب وہ (اژدھا)اسے پکڑنا چاہیے گا تو وہ فرار ہونے کی کوشش کر یگا لیکن جب مجبو ہوجائے گا اور سمجھ لے کہ(میں)فرار نہیں ہو سکتا تو اپنے ہاتھ کو اس (اژدھے)کے نزدیک لے جائے گا اوروہ اس کے ہاتھ کو فخل(نر اونٹ)کی طرح چبائے گااور اس کی گردن میں طوق بن جائے گا چنانچہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بھیڑ گائے اور اونٹ کا کوئی مالک اپنے مال کی زکوٰة ادا نہیں کرے گا توخدائے عزوجل روز قیامت اسے روشن بیابان میں قید کردے گا اور ہر کھروالا (جانور)اسے روندے گا اور ہرنوکیلے دانتوں والا جانور اسے چیرے پھاڑے گا اور جو کوئی بھی اپنے کھجور کے درخت،انگور یا اپنی زراعت کی زکوٰة ادا نہیں کرے گا تو روز قیامت ز مین کا وہ حصہ منزلہ طوق کی مانند اس کی گردن میں ہوگا۔(زکات وسائل الشیعہ باب ۳ حدیث ۱ ج ۶ ص ۱۱ کافی)
امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
ا نَّ اللّٰهَ قَرَنَ الزَّکٰوةَ بِالصَّلٰوةِ فَقٰالَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ فَمَنْ اَقٰامَ الصَّلٰوةَ وَلَمْ یُوتِ الزَّکٰوة فَکَاَنَّهُ لَمْ یَقُمِ الصَّلٰوةِ ۔ (وسائل باب ۳ ج ۶ ص ۱۱)
خداوندعالم نے زکوٰة کو نماز کے ساتھ قراردیا ہے اور فرمایا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو ۔پس جو کوئی نماز پڑھے اور زکوٰة نہ دے،تو ایسا ہے کہ اس نے نماز(ہی) نہیں پڑھی کیونکہ یہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔
آپ نے یہ بھی فرمایا ایک روز رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) مسجد میں تشریف فرما تھے آپ نے اس وقت پانچ افراد کو ان کا نام لے کر پکاراور فرمایا اٹھو اور ہماری مسجد سے باہر نکل جاواوریہاں نماز نہ پڑھو کیونکہ تم زکوٰة نہیں دیتے ہو۔
(زکات وسائل الشیعہ باب ۳۱ حدیث ۱۳)
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
مَنْ مَنَعَ الزَّکٰوةَ سُئِلَ الرَّجْعَتِه عِنْدَ الْمَوْتِ وَهُوَقَوْل اللّهِ تَعٰالٰی رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعِلَّی اَعْمَلُ صٰالِحاً فِیْمٰا تَرَکْتُ (وسائل باب ۳ حدیث ۲۴ ج ۶ ص ۱۴)
جو کوئی اپنے مال کی زکوٰة اد انہیں کرتا،تو وہ موت کے وقت چاہے گا کہ اسے دنیا میں بھیج دیا جائے تا کہ وہ زکوٰة ادا کرے جیسا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے اے پروردگار مجھے واپس لوٹا دے تاکہ جو عمل صالح میں نے ترک کیا ہے اسے انجام دوں،یعنی موت کے وقت کہے گا پروردگار مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ جو مال میں نے رکھا ہے اس سے نیک کا م انجام دوں پس اس سے کہا جائے گا ایسا نہیں ہو سکتا یعنی تم واپس نہیں پلٹ سکتے۔
اس کے علاوہ آپ اس آیتوَعَنْهُ فِیْ تَفْسِیرِ قَوْلَه تَعٰالیٰ کَذٰالِکَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمٰالَهُمْ حَسَرٰاتٍ عَلَیْهِم ْخداوند عالم ان کے اعمال کو ان کے لئے افسوسناک حالت میں دکھائے گا کہ وہ جہنم سے باہر نہیں آسکتے کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
هُوَ الرَّجُلُ یَدْعُ مٰالَهُ لٰا یُنْفِقُهُ فِیْ طٰاعَتِه اللّٰهِ بُخْلاً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیَدَعَهُ لِمَنْ یَّعْمَلُ فِیهِ بِطٰاعَتِه اللّٰهِ اَوْ بِمَعْصِیَتِه اللّٰهِ فَاِنْ عَمِلَ فِیْهِ بِطٰاعَته اللّٰهِ رَاٰهُ فِیْ مِیْزٰانِ غَیْرِه فَرٰاهُ حسرةً وَقدکان المالُ له وان کان عمِلَ به فی معصیته اللّٰه قواة بِذٰالِکَ الْمٰالُ حَتّٰی عَمِلَ بِه مَعْصِیَتَهِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ
(وسائل الشیعہ باب ۵ حدیث ۵ ج ۶ ص ۲۱)
کہ وہ شخص جو اپنے مال کو سنبھال کر رکھتا ہے اور راہ خدا میں انفاق کرنے سے بخل کرتا ہے اور جب مرتا ہے تو اسے لوگوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے کہ جو راہ خدا میں اس کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں یا گناہ میں اگر اس کا وہ (مال)راہ خدا میں خرچ ہو تو اس نیکی کو دوسروں کے نامہ عمل میں دیکھتا ہے اور افسوس کرتا ہے کیوں درحقیقت یہ اس کا مال تھا اگر معصیت خدا میں خرچ ہو یعنی گناہگار کا اس کے مال سے تقویت ملی ہو تو یہ بھی اس کیلئے حسرت کا سامان ہے اس موضوع سے متعلق روایات کو عیاشی،مفید،صدوق اور طبرسی نے اپنی کتابوں میں حضرت محمد باقر (علیہ السلام) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے بھی نقل کیا ہے۔
وَقَالَ رَسُولُ اللّهِ (صلی الله علیه و آله) مٰا مِحِقَ الْاِسْلٰامُ مَحْقَ الشُّحِّ شَیٌ ثُمَّ قٰالَ اِنَّ لَهٰذا الشُّحِّ دَیْباً کَدَبَیْبِ النَّمْلِ وَشُعُباً کَشُعبِ الشِّرْکِ
(وسائل باب ۵ حدیث ۵ ج ۶ ص ۲۱)
اور حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں کہ کوئی چیز بخل کی مانند اسلام کو ختم نہیں کرتی اس کے بعد فرمایا بخل کا راستہ چیونٹیوں کے راستے کی طرح ہے بظاہر دکھائی نہیں دیتا ہے اور اس کی بھی شرک کی اقسام کی طرح بہت سے اقسام ہیں حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
وَعَنْ عَلِّیٍ(ع) اِذٰا مَنَعُوالزَّکٰوةَ مُنِعَتِ الْاِرْضُ بَرَکَتَهٰا مِنَ الزُّرُوعِ وَالثِّمٰارِ وَ الْمَعٰادِنِ کُلَّهٰا ۔ (سفینہ البحار ج ۱ ص ۱۵۵)
جس وقت لوگ زکوٰة ادانہیں کریں گے تو زمین سے ان کی زراعت ان کے میووں اوران کی معدنیات میں سے برکت اٹھالی جائے گیوَعَنِ النَّبِیَّ (صلی الله علیه و آله) دٰاوُوْا مَرْضٰاکُمْ بِالصِّدَقَتهِ وَادْفَعُوا اَمُواجَ الْبَلآءِ بِالدُّعٰآ ءِ وَحَصِّنُوا اَمْوٰالَکُمْ بِالزَّکٰوةِ (وسائل باب اول حدیث ۱۳)
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں کہ صدقہ کے ذریعے اپنے مریضوں کا علاج کرو، اور مصیبت و بلا کے طوفان کو دعا کے ذریعے دور کرو اور زکوٰة کے ذریعے اپنے مال کی حفاطت کرو۔
عَنِ الصّٰادِقِ(ع) اِنَّ لِلّٰهِ بُقٰاعاً تُسَمَّی الْمُنْتِقِمَتهِ فَاِذیا اَعْطٰٰی اللّٰهُ عَبْداً مٰالاً لَمْ یَخْرُجْ حَقَّ اللّٰهَ مِنْهُ سَلَّطَ اللّٰهُ عَلَیهِ بُقعةً مِنْ تَلْکَ الْبُقٰاعِ فَاَتْلَفَ الْمٰالَ فِیهٰا ثُمَّ مٰاتَ و َتَرَکَهٰا (وسائل الشیعہ باب ۵ حدیث ۱۰ ج ۶ ص ۶۳)
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔خدا کے لئے زمین میں ایسے مکانات ہیں کہ جنہیں انتقام لینے والا کہتے ہیں پس جب بھی خداوند عالم کسی بندے کو مال عطا کرے اور وہ (بندہ)اس حق کو جسے خدا نے واجب فرمایا ہے اس مال میں سے نہ دے تو(خدا)ان مکانات میں سے ایک مکان اس پر مسلط کر دیتا ہے اور اس مال کو اسی جگہ تلف کرتا ہے اور اس کے بعد(وہ اسی مکان میں)رہ جاتا ہے اور اسے دوسروں کے لئے چھوڑ جاتا ہے اور کئی روایتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ جو کوئی مال کو راہ خیر میں صرف کرنے میں بخل کرے گا تو اسے اس سے کہیں زیادہ راہ شر میں صرف کرنا پڑے گا وہ روایات جو باب زکات میں وارد ہوئی ہیں بہت زیادہ ہیں لیکن یہاں پر اس قدر کافی ہے۔
زکات نہ دینے والا کافر ہے
جیسا کہ ترک زکوٰة کی عقوبتوں کی اور اس کے گناہ کبیرہ ہونے کاذکر ہوا اور یہ فسق کا موجب ہے یہ اس صورت میں ہے کہ جب اس کے وجوب پر اعتقاد رکھتا ہو اور بخل کی بناء پر زکات نہ دیتا ہو لیکن اگر زکوٰة کا نہ دینا اس کے وجوب پر اعتقاد نہ رکھنے کی وجہ سے ہو ۔تو پس وہ کافر اور نجس ہے کیونکہ زکوٰة کاوجوب نماز کیطرح دین کے مسلمہ احکامات میں سے ہے اورجو کوئی ضروریات دین میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہو تو وہ اسلام سے خارج ہے اور اس صورت میں زکوٰة کے وجوب سے انکار اور پنے لئے حلال سمجھنے کی طرف اشارہ ہے وہ روایات کہ جن میں زکوٰة نہ دینے والے کے کفر کی تشریح کی گئی ہے۔ان میں امام جعفرصادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں:
عَنْ اَبِی عَبْدِاللّٰهِ (علیه السلام) اِنَّ اللّهِ فَرَضَ لَلْفُقَرآء فِیْ اَموٰالَ الْاغَنْییآءِ فَرِیضَةً لٰا یَحْمُدوْنَ اِلّٰا بِاَدٰائِهٰا وَهِیَ الزَّکٰوةُ بِهٰا حُقِنُوا دِمٰائٓهُمْ وَبِهٰا سَمُّوا مُسلِمِیْنَ ۔
(وسائل باب ۴ حدیث ۲ جلد ۶ ص ۱۸)
بے شک خداوندعالم نے فقراء کے لئے ثروت مندوں کے مال میں (حصہ)واجب کیا ہے ایسا واجب کہ جس کی ادائیگی پر مالداروں کی تعریف کی جاتی ہے اوروہ زکوٰة ہے کہ جس کے دینے سے ان کا خون بہانا حرام ہو جاتا ہے اور اس کے ادا کرنے والے مسلمان کہلائے جاتے ہیں۔
یعنی اگر مالدار لوگ(انکار کرتے ہوئے) زکوٰة واجب نہ دیں تو وہ مسلمان نہیں اور ان کا خون بہانا حرام نہیں ہے امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں،
مَنْ مَنَعَ قِیْرٰاطاً مِّنَ الزَّکوٰةِ فَلَیْسَ بِمُومِنٍ وَّلٰا مُسْلِمٍ وَهُوَ قَوْلَ اللّٰهِ رَبِّ ارْجِعُوْنِی لَعَلِّیْ اَعْمَلُ صٰالِحاً فِیْمٰا تَرَکْتُ ۔(وسائل ج ۶ ،ص ۱۸)
اگر کوئی ایک قیراط( ۲۰ دینار یعنی جو کے چار دانوں) کے برابر زکوٰة واجب میں سے نہ دے تو وہ نہ مومن ہے نہ مسلمان اور وہی ہے کہ جس کے مرنے کے وقت(کی حالت)کی خداوند عالم نے خبر دی ہے کہ کہے اگر پروردگار مجھے(دنیامیں) لوٹا دے تا کہ اپنے چھوڑے ہوئے عمل صالح کو انجام دوں ۔آپ نے یہ بھی فرمایا:
مَنْ مَنَعَ قِیْراٰطاً مِّنْ الزَّکٰوةِ فَلْیَمُتْ اِنْ شٰآءَ یَهُوْدِیّاً وَاِنْ شٰآءَ نَصْرٰانِیّاً
(زکوہ وسائل الشیعہ باب ۴ حدیث ۴ ج ۶ ص ۱۸)
جو کوئی زکوٰة میں سے ایک قیراط(جو کے چار دانے کے برابر)نہ دے تو پس وہ بے ایمان ہو کر دین یہودی یا نصرانی پر مرتا ہے۔
وَقَالَ(ع) اَیْضاً دَمٰانِ فِیْ الْاِسْلٰامِ حَلٰالٌ مِّنَ اللّٰهِ عَزَّوجَلَّ لٰا یَقْضِیْ فِیْهِمٰا اَحَدٌ حَتّیٰ یَبْعَثُ اللّٰهَ قٰائِٓماً اَهْلَ الْبَیْتِ فَاِذٰا بَعَثَ اللَّهُ قٰائِٓمُنٰا اَهْلَ الْبَیْتِ حَکَمَ فِیْهِمٰا بِحُکْمِ اللّٰهِ تَعٰالٰی ذِکْرُهُ الزّٰانِیُ الْمُحْصِنُ یَرْجُمُهُ وَمٰانِعُ الزَّکٰوةِ یَضْرِبُ عُنُقَهُ
(زکوہ وسائل ج ۶ ص ۱۹ اور کافی)
آپ نے مزید ارشاد فرمایا اسلام میں دو خون بہا نا خداوند عالم کی طرف سے حلال کیا گیا ہے اور کوئی بھی حکم خدا کو ان دو کے بارے میں جاری نہیں کرے گا یہاں تک قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ظہور فرمائیں گے تو آپ ان دو(خونوں)کے بارے میں حکم خداوندی کا اجراء کریں گے اور ان دو میں سے ایک زنا کرنے والا ہے کہ جو اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے زنا کرے پس اسے سنگسار کیا جائے گا اور دوسرا زکوٰة نہ دینے والا ہے کہ جس کی گردن اڑا دی جائے گا۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں:
مٰا ضَاعَ مٰالٌ فِیْ بَرٍّ اَوْ بَحْرٍ اِلّی ا بِمَنْعِ الزَّکوٰةِ وَاِذٰا قٰامَ الْقآئِمُ اَخَذَ مٰانِعُ الزَّکٰوةِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ (وسائل الشیعہ باب ۵ حدیث ۸ ج ۶ ص ۲۰)
صحرااور دریا میں فقط زکوٰة نہ دینے کے سبب مال ضائع ہوتا ہے اور جب قائم آل عجل اللہ تعالیٰ فرجہ قیام کریں گے تو زکوٰة نہ دینے والے کو پکڑ کر اس کی گردن مار دیں گے۔اللہ تعالی فرماتا ہے۔
وَوَیْلٌ لِّلْمُشرِکِیْنَ الَّذِیْنَ لٰا یُو تُوْنَ الزَّکٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَ ةِ هُمْ کافِرُوْنِ ۔(سورہ فصلت آیت ۶ ۔ ۷)
اور ان مشرکوں پر افسوس ہے جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت سے انکار کرتے ہیں۔
عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ (صلی الله علیه و آله) اِنَّهُ قٰالَ وَالَّذِیْ نَفْسَ مُحَمَّدبیده مٰا خٰانَ اللّٰهُ اَحَدٌ شَیئاًمِّنْ زَکوٰةِ مٰالَه اِلّٰا مُشْرِکٌ بِاللّٰهِ (مستدرک)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں اس خداکی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ)کی جان ہے کہ خداوندعالم کے ساتھ سوائے اس مشرک کے کوئی خیانت نہیں کرتا جو کہ اپنے مال کی زکوٰة میں سے کوئی چیز نہیں دیتا۔
قَالَ (صلی الله علیه و آله) یٰا عَلِیُّ کَفَّرَ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِ منْ هٰذِهِ الْاُمَّتِه عَشَرَةِ الْقَتَّاتُ وَالسّٰاحِرُ وَالدَّیُّوْثُ وَنٰاکِحُ الْمَرْأةِ حَرٰاماً فِی دُبِرُهٰا وَنٰاکِحُ الْبَهِیْمَتِه وَمَنْ نَکَحَ ذٰاتٍ مُحْرِمٍ مِنْهُ وَالسّٰاعِیْ فِی الْفِتْنَتهِ وَبٰایعُ السِّلٰاحِ مِنْ اَهْلِ الْحَرْبِ وَمٰانِعُ الزَّکٰوةِ وَمَنْ وُّجِدَ سَعَةً فَمٰاتَ وَلَمْ یَحُجْ ۔(خصال ص ۴۵۰ باب عشرہ)
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں اے علی!اس امت میں دس گروہ خائے بزرگ و برتر کے کافر ہیں اول چغل خور ،دوسرا جادوگر،تیسرا دیوث(جو کہ یہ جانتا ہو کہ اس کی بیوی زنا کرتی ہے ،لیکن وہ غیرت نہ کرے)چوتھا جو اجنبی عورت کے پیچھے حرام طور پر وطی کرے،پانچواں جو حیوان سے وطی کرے ،چھٹا جو اپنے محرم سے زنا کرے،ساتواں جو فتنہ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرے۔آٹھواں جو ایسے کافروں کو اسلحہ فروخت کرے جو مسلمانوں سے جنگ کررہے ہوں،نواں زکوٰة نہ دینے والا دسواں جو استطاعت رکھتے ہوئے حج نہ کرے اور اسی حالت میں مرجائے۔ان جیسی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰة نہ دینا اور اسی طرح نماز نہ پڑھنا ،حج نہ کرنا جب بھی انکار کی بناء پر ہوتو وہ کافر ہیں اور جسطرح آخرت میں اسلام کی برکتوں سے جو کہ جہنم سے نجات کاذریعہ ہو گی محروم رہیں گے بالکل اسی طرح دنیا میں بھی اسلام کے ظاہری احکام سے مثلاً مسلمان کا پاک ہونا،اور ایک دوسرے سے ارث لینا اور عقد ونکاح کرنا وغیرہ سے محروم ہوتے ہیں اور اگر انکار کرتے ہوئے نہ ہو بلکہ کنجوسی اور سستی کی بناء پر ہو تو بے شک کافرنہیں ہیں اور ظاہراً مسلمان ہیں لیکن در حقیقت بلحاظ باطنی کفر وشرک کی اقسام میں سے ایک قسم کا اطلاق ان پر ہوتا ہے اور اگر اس دنیا سے باایمان رخصت ہو بھی جائیں تو بھی شدید عذاب میں گرفتار ہوں گے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ْ
زکوٰہ واجب ہونے کا سبب
زکوٰة کے اور اسی طرح دوسرے صدقات کے واجب ہونے میں حکمتیں (پو شیدہ) ہیں کہ جن میں سے بعض کا روایات میں ذکر کیا گیا ہے یعنی یہ (خدا کی طرف سے )سرمایہ داروں کا امتحان ہے کہ آیا ان کے نزدیک خداوندعالم زیادہ عزیز و محبوب ہے یا اس فانی دنیا کا مال اور آیا ثواب،بہشت اور جزائے الہٰی پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں یا نہیں؟آیا پروردگار عالم جل جلالہ کی بندگی کے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں؟ دوسرا فائدہ یہ کہ اس ذریعے سے پریشان حال اور تہی دستوں کا روزگار منظم ہوتا ہے چنانچہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) زکوٰة کے فواہد بیان فرماتے ہیں۔
اِنَّمٰا وُضِعَتِ الزَّکٰوةُ اِخْتِبٰاراً لَلْاَغْنِیآءِ وَمَعُوْنَةً لِّلْفُقَرآءِ وَلَوْ اَنَّ النّٰاسَ اَدَّوُا زَکوٰةَاَمْوٰالِهْمِ مٰابَقِیَ مُسْلِمٌ فَقْیِراً مُحْتٰاجاً وَلاَسْتَغْنٰی بِمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهُ وَاَنَّ النَّاسَ مَاافْتَقَرُوا وَلٰا احْتٰاجُوا وَلٰا جٰاعُوا وَلٰا عَرُوْا اِلّٰا بِذُنُوْبِ الْاَغْنِیٰآءِ وَ حَقِیقٌ عَلَی اللّٰهِ تَبٰارَکَ وَتَعٰالٰی اَنْ یَّمْنَعَ رَحْمَتَهُ مِمَّنْ مَّنَعَ حَقَّ اللّٰهِ فِیْ مٰالِهِ وَاُقْسِمُ بِاالَّذِیْ خَلَقَ وَبَسَط الرِّزقَ اَنَّهُ مٰا ضٰاعَ مٰالُ فِیْ بَرٍّ وَلٰا بَحرٍ اِلّٰا بِتَرْکِ الزَّکوٰهَِ
(کافی وسائل باب اول حدیث ۹)
بلاشبہ زکوٰة سرمایاہ داروں کی آزمائش اور غریبوں کی حاجت پوری کرنے کے لئے واجب کی گئی ہے اور (یقینا)اگر لوگ اپنے مال کی زکوٰة اداکرتے تو مسلمانوں میں کوئی بھی غریب اورفقیر نہ ہوتا اور نہ کوئی دوسرے کا محتاج ہوا اور نہ ہی کوئی بھوکا ننگا رہتا مگر غریبوں پر پریشانی سرمایہ داروں کے گناہ اور ان کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔اس صورت میں اللہ تعالیٰ پر واجب ہوتا ہے جو کوئی مالی حقوق ادا نہیں کرتا ہے وہ انہیں اپنی رحمت سے دور رکھے۔اور میں ذات خداوندی کی قسم کھاتا ہوں کہ جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ان کی روزی میں کشادگی عطا فرمائی بے شک خشکی اور تری میں کسی قسم کا مال ضائع نہیں ہوتا مگر زکوٰة کے ادا نہ کرنے پر اور تیسرا فائدہ یہ کہ نفس کا بخل جیسی ذلالت سے پاک ہونا اور اس تباہ و برباد کر دینے والی بیماری سے شفا حاصل کرنا ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتا ہےْ۔
( خُذْمِنْ اَمْوٰالَهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَکِّیْهِم بِهٰا ) (سورہ ۹ آیت ۱۰۳)
(اے رسول)تم ان کے مال کی زکوٰة لو اور اس کی بدولت ان کو (گناہوں)سے پاک صاف کردو۔
اور سورہ حشر میں اللہ تعالی فرماتا ہے
( وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهَ فَاُعلٰئِٓکَ هُمُ الْمُفْلِحُونِ ) ۔(سورہ ۵۹ آیت ۹)
اور جو شخص اپنے نفس کو ہوا وہوس سے محفوظ رکھے تو ایسے ہی لوگ اپنی دلی مرادیں پائیں گے۔
اور بخل کا علاج مال سے سخاوت کرنا ہے اور باربار اس طرح کرو تاکہ سخاوت کی عادت پڑجائے اور جس قدر ممکن ہو ان آداب کا خیال کرتے ہوئے صدقات کی ادائیگی کرے تو وہ اس مہلک مرض سے نجات پا سکتا ہے۔
زکوٰة اور صد قہ مال کو زیاد ہ کرتا ہے
زکوٰة کے دینوی نتائج مال کا زیادہ ہونا ہے اگر راہ خدا میں انفاق اس کی شرائط کے ساتھ واقع ہو تو خدائے عزوجل کا یقینی وعدہ ہے کہ اس میں برکت ہو گی اور شیطانی خیال کے برعکس چونکہ بخیل وکنجوس لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ راہ خدا میں انفاق کرنے سے ان کا مال کم ہوجائے گا اور وہ فقیر ہو جائیں گے اور یہی شیطانی خیال انہیں انفاق سے روکے رکھتا ہے جبکہ قرآن مجید میں صراحتاً فرمایا گیا ہے
( وَیُربِی الصَّدَقٰاتِ ) ۔(سورہ بقرہ آیت ۲۷۶)
خداوند عالم خیرات کو بڑھاتا ہے یعنی دنیا میں اس میں برکت دے گا اور آخرت میں بھی اجر جزیل عنایت فرمائے گا اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے
( وَمٰا انْفَقْتُم مِنْ شَیءٍ فَهُوِ یُخْلِفُهُ وَهُوَ خَیْرُ الرّٰازِقِیْنِ ) (سورہ سبا آیت ۳۹)
اور تم لوگ کو کچھ بھی(اس کی راہ میں) خرچ کرتے ہو۔وہ اس کا عوض(اسی دنیا میں)دے گا وہ سب سب بہتر روزی دینے والا ہے۔اور سورہ روم میں فرماتا ہے
( وَمٰا اٰتَیتُمْ مِنْ زٰکٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰئِکَٓ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ) (سورہ روم آیت ۳۹)
اور تم لوگ جو خدا کی خوشنودی کے ارادے سے زکوٰة (واجب اور مستحب صدقات) دیتے ہو تو ایسے ہی لوگ خدا کی بارگاہ سے دو نادون لینے والے ہیں ۔ان آیات مقدسہ میں مال میں برکت اور بہت زیادہ اجر وثواب دونوں شامل ہیں اس بات کی تائید میں بہت زیادہ روایات ہیں حضرت فاطمہ زہراء =کے خطبہ فدک میں ہے۔
فَجَعَلَ اَللّٰهُ الْاِیْمٰانَ تَطْهِیْراً لَّکُمْ مِنْ الشَّرْکِ وَالصَّلٰوةُ تَنْزِیْهاً لَّکُمْ عَنِ الْکِبْرِوَالزَّکوٰةُ تَزْکِیةًلِلنَّفْسِ وَنُمٰآءً فِی الرِّزْقِ (بحار الانور ج ۸ ص ۱۰۹)
خداوند عالم نے شرک کی نجاست سے پاک ہونے کے لئے ایمان کے حصول کو واجب قرار دیا ہے اور غرور و تکبر کے مرض سے نجاب کے لئے نماز کو واجب کیا ہے اور بخل و کنجوسی کے مرض سے نجات کے لئے زکوٰة کو واجب کیا ہے(تا کہ انسان سخاوت کی فضیلت سے متصف ہو اور گناہوں کی آلودگی سے پاک ہو)اور یہ تمہارے رزق کی زیادتی کا سبب بھی ہے۔
حضرت امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ
مَنْ بَسَطَ یَدَهُ بِالْمَعْرُوفِ اِذٰا وَجَدَ هُ یَخْلِفَ اللّٰهُ لَهُ مٰا اَنْفَقَ فِیْ دُنْیٰا هُ فَیُضٰاعِفُ لَهُ فِی اٰخِرَتِه ۔(کافی)
جو کوئی نیکی کی راہ میں خرچ کرے تو خداوند عالم اس کا عوض دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے اجر میں اضافہ کرے گا۔آپ نے مزید ارشاد فرمایا کہاِسْتَنْزِلُوْا الرّزْقَ بِالصَّدَقَةِ ۔(وسائل باب الصدقہ حدیث ۱۹ ج ۶ ص ۲۵۹) صدقہ کے ذریعہ اپنی روزی طلب کرو۔کتاب عدة الداعی میں تحریر ہے کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اپنے فرزند سے فرمایا گھر کے اخراجات کے لئے کتنی رقم موجود ہے ؟انہوں نے کہا چالیس دینار ہیں امام (علیہ السلام) نے فرمایا ان سب کو راہ خدا میں صدقہ کر دو بیٹے نے کہ اسکے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا تم سب کو صدقہ کر دو خداوند عالم ہی اسکے عوض دے گا کیا تم نہیں جانتے کہ ہر چیز کی ایک کنجی ہوتی ہے اور رزق کی کنجی صدقہ(خیرات)ہے پس ان کے بیٹے محمد نے سب دینار صدقہ کر دیئے ابھی دس دن سے زیادہ نہیں گزرنے تھے کہ کہیں سے امام (علیہ السلام) کے پاس چار ہزار دینار پہنچے تو آپ نے فرمایا بیٹا ہم نے چالیس دینار دیئے تو خداوند عالم نے اس کے عوض ہمیں چار ہزار دینار دے دیئے۔
جناب امیر المومنین علی (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں کہ جب بھی فقیر و محتاج ہو جاو تو خداوند عالم کے ساتھ صدقہ دے کر تجارت کرو۔
عَنِ الَّرضٰا (ع) اَنَّهُ قٰالَ لِمَوْلٰی لَهُ هَلْ اَنْفَقْتَ الْیَوْمَ شیئاً فَقٰالَ لٰا وَاللّٰهِ فَقٰالَ(ع) فَمِنْ اَیْنَ یُخْلِفُ اللّٰهُ عَلَیْنٰا
حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) نے اپنے غلام سے فرمایا کہ کیا آج کوئی چیز راہ خدا میں دی ہے؟غلام نے عرض کیا بخدا نہیں تو آب نے فرمایا پس خدائے عزوجل ہمیں عوض کہاں سے دے گا۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) ایک حدیث کے ضمن میں اس آیت فَھُوَ یُخْلِفُہُ یعنی جو کچھ راہ خدا میں خرچ کیا جائے خدا اس کا عوض فوراً دیتا ہے کے بارے میں فرماتے ہیں
اَفَتَرَی اللّٰهة اَخْلَفَ وَعْدَهُ قُلْتُ لٰا قٰالَ فِممَّ قُلْتة لٰا اَدْرِیْ قٰالَ (ع) لَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ اِکْتَسَبَ الْمٰالَ مِنْ حِلِّه وانفقه فی حِله لَمْ یُنْفِقْ دِرْهَماً اِلّٰا اَخْلَفَ عَلَیهِ (کتاب دعاء کافی ج ۲ ص ۵۹۵)
کیا تم نے یہ گمان کیا کہ خداوعدہ خلافی کرتا ہے راوی نے عرض کیا نہیں امام (علیہ السلام) نے فرمایا پھر تم اپنے انفاق کا عوض کیوں نہیں پاتے۔ اس نے عرض کیا میں نہیں جانتا امام (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی رزق حلال حاصل کر کے اس میں سے ایک درہم بھی راہ حلال میں خرچ کرے تو اسے اس کا عوض ضرور ملتا ے یعنی اگر اس کا عوض نہ ملے پھر یا تو وہ مال حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہے یا بے موقع حرام راہ میں خرچ کیا ہے۔
اس بارے میں بھی آیات وروایات بہت زیادہ ہیں لیکن اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
مرحوم نوری نے کتاب کلمہ طیبہ میں راہ خدا میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کے بارے میں چالیس حکایتیں تحریر کی ہیں جن میں عالم زبانی آخوند ملا فتح علی نے ایک واقعہ اپنے قابل اعتماد رشتہ دار کا نقل کیا ہے جنہوں نے بیان کیا کہ ایک سال جبکہ مہنگائی بہت زیادہ تھی میرے پاس زمین کا یاک ٹکڑا تھا جس پر میں نے جو کاشت کر رکھی تھی اتفاقاً میرا کھیت دوسرے تمام کھیتوں سے بہت جلد سر سبز وشاداب ہو گیا اور دانے کھانے کے قابل ہو گئے چونکہ ہر طبقہ کے لوگ پر یشانی اور گرسنگی کی حالت میں تھے میرا دل تڑپا اور میں نے اس کے منافع کا خیال دل سے نکال دیا چنانچہ میں مسجد میں گیا اور اعلان کیاکہ میں نے اس زمین کی جو چھوڑدی ہے اس شرط کے ساتھ کہ ضرورت مند کے سواکوئی اسے ہاتھ نہ لگائے اور فقیر بھی اپنی اور پنے گھر والوں کی ضرورت سے زیادہ نہ لے جب تک کہ تمام کھیتوں کی فصل نہ پک جائے پس فقراء وہاں پر گئے اور ہر روز آکر اپنی ضرورت کے مطابق لے جاتے دیگر مجھے اس کی فکر نہ تھی کیونکہ میں اس سے علیحدہ ہو گیا تھا اور مجھے اس کی کوئی امید نہ تھی۔
اور جب دوسرے تمام کھیتوں کی فصل پک گئی اور لوگوں کی پریشانی خوشحالی میں بدل گئی میں بھی جب اپنے دوسرے تمام کھیتوں کے حساب سے فارغ ہو گیا تو میں نے حصاد(کٹائی فصل) کے کارندوں سے کہا کہ وہ زمین کے اس حصے کی طرف جائیں اور کٹائی کریں شاید وہاں خوشوں میں کچھ جو باقی رہ گئی وہ نکل آئے پس جب انہوں نے جا کر فصل کاٹی تو کوٹنے اور صاف کرنے کے بعد جو جو حاصل ہوئی وہ دوسری زمینوں سے دوگنی تھی یعنی فقرآء کے لے جانے کے باوجود اس میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ اور زیادہ ہو گئی تھی حسب معمول محال تھا کہ ایک خوشہ بھی اس میں باقی رہتا اور اس سے بھی عجیب یہ کہ خزاں شروع ہوئی تو موسم کے مطابق ہر وہ زمین کہ جس پر کاشت کی گئی ایک سال تک اس فصل سے محروم ہو جائے یعنی اس پر سال سے پہلے کاشت نہیں کی جاسکتی لیکن زمین کا وہ حصہ اپنی حالت پر اسی طرح باقی رہا نہ ہل چلایا گیا نہ بیج ڈالے گئے یہاں تک کہ بہار شروع ہو گئی اور برف ختم ہو گئی میں نے دیکھا کہ وہ حصہ بغیر کاشتکاری کے سرسبز و شاداب ہے اور تمام کھیتوں سے زیادہ اچھا اور قوی تر ہے۔
میں اس قدر حیرت زدہ ہو کہ مجھے شک ہو اکہ کہیں یہ کوئی اور زمین تو نہیں اور جب فصل حاصل ہوئی تودوسرے کھیتوں سے کئی گناہ زیادہ تھی اس کے علاوہ مرحوم سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ ان کا سڑک کے کنارے ایک انگوروں کا باغ تھا اور جب شاخوں میں پہلی بار انگور لگے تو انہوں نے باغ کے نگہبان کو حکم دیا کہ باغ کا وہ حصہ جو سڑک سے متصل ہے اسے سڑک سے گزرنے والوں کے لئے چھوڑ دو اس کے بعد سے انگوروں کو توڑنے کا وقت تک ہر گزرنے والے نے وہ انگور کھائے اور پنے ساتھ لے گیا او رکسی کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا اور جب خزاں کے آخر میں انگور توڑنے سے فارغ ہوئے تو اس احتمال کی بناء پر وہاں گئے کہ شاید اس حصے پر کوئی چیز گزرنے والوں سے پوشیدہ رہ گئی ہو اور کچھ انگور پتوں میں چھپے ہوں جب اس حصے سے توڑے ہوئے انگوروں کو لایا گیا تو وہ دوسرے حصے کے انگوروں سے کئی گناہ زیادہ تھے اور تمام راہ گیروں کے کھانے کے باوجود ان میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ زیادہ ہو گئے تھے۔
اس کے علاوہ نقل کیا ہے ہر سال جب گندم کوپاک وصاف کر کے گھر لاتے تھے تب اس کی زکوٰة اداکرتے لیکن ایک سال تصیفہ کے بعد اور گھر لانے سے قبل خیال آیا کہ زکوٰة کی ادائیگی میں تاخیر مناسب نہیں گندم حاضر اور فقرآء موجود ہیں پس جن فقرآء کو جانتے تھے انہیں خبر دی اور گندم کا حساب لگایا فقرآء کے حصے کو الگ کیا اور ان کے درمیان تقسیم کر دیا اور باقی کو گھر لے گئے اور گھر میں گندم بڑے بڑے دبوں میں رکھ دی اور اس کی سب مقدار معلوم تھی لیکن جب بعد میں حساب کیا تومعلوم ہو اکہ وہ مقدار جو فقراء میں تقسیم کی تھی وہ گندم کم نہیں ہوئی تھی اور اس گندم کی مقدار زکوہ دینے سے قبل کی مقدار کے برابر تھی۔
مذکورہ کتاب میں حاجی مہدی سلطان آبادی سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک سال جب میں غلہ سے فارغ ہو اتو گندم کا وزن کیا اور اس کی زکوٰة اسی جگہ اداکردی اس کے بعد وہ غلہ تقریباً ایک ماہ اسی مقام پر رہا تو حیوانات اور چوہے بھی اس میں سے کھاتے رہے اس کے بعد میں نے اس کا وزن کیا تو گندم روز اول کے برابر تھی یعنی جو زکوٰة میں ں ے دی تھی او رجانوروں نے ضائع کر دی تھی اس سے ذرہ برابر بھی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
زکوٰة کی قسمیں ان کے موارد اور مقدار
زکوٰة کی دو قسمیں ہیں واجب اور مستحب اور زکوٰة واجب کی بھی دو قسمیں ہیں مال کی زکوٰة اور بدن کی زکوٰة( زکوٰة فطرہ) زکوٰة کا مال نو چیزوں سے متعلق ہے چار قسم کے غلے(گندم،جو ،خرما،کشمش)تین طرح کے مویشی(گوسفند ،گائے ،اونٹ)اور دو طرح کی نقدین(سونا اور چاندی)۔
چار طرح کے غلوں کا نصاب: گندم، جو، خرما، کشمش،پر زکوٰة تب واجب ہوتی ہے کہ جب ان کی مقدار خاص نصاب تک پہنچ جائے اور وہ نصاب ۲۸۰ من تبریزی سے ۴۵ مثقال کم ہے جو تقریباً ۸۴۷ کیلوگرام ہوتا ہے اور اگر(گندم،جو ،خرما،انگور)کی سینچائی بارش کے پانے یا نہر سے ہوئی ہویازمین کی رطوبت(مثلاً مصر کی بعض زمینوں کی طرح)سے ہوئی ہو تو ان کی زکوٰة دسواں ۱۰ حصہ ہوگی اور اگر کنوئیں کے پانی وغیرہ سے ہوئی ہو تو بیسواں ۲۰ حصہ زکوٰة ہوگی۔
تین طرح کے مویشیوں کا نصاب
( ۱) گوسفند کے پانچ نصاب ہیں:
پہلا نصاب:چالیس ہے اور اسکی زکوٰة ایک گوسفند ہے اور چالیس سے کم پر زکوٰة نہیں ہے۔
دوسرا نصاب:ایک سو اکیس ہے اور اسکی زکوٰة دو گوسفند ہے۔
تیسرا نصاب:دو سو ایک ہے اور اس کی زکوٰة چار گوسفند ہے۔
چوتھانصاب:تین سو ایک اور اس کی زکوٰة چار گوسفند ہے۔
پانچواں نصاب:چار سویا اس سے زیاہ ایسی صورت میں ہر سو سو کا حصہ کرے اور ہر سو گوسفند پر ایک گوسفند زکوٰة دے۔
( ۲) گائے کے دو نصاب ہیں:
پہلا نصاب تیس ہے (پس جب کسی کے پاس تیس گائے ہوں تو زکوٰة واجب ہوجاتی ہے)اوراس کی زکوٰة گائے کاایک بچھڑا ہے جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور تیس سے کم پر زکوٰة نہیں ہے۔
دوسرا نصاب :چالیس ہے اور ان کی زکوٰة گائے کا ایک مادہ بچہ ہے جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور ساٹھ پر دو سالہ دو بچھڑے،ستر پر ایک دوسالہ بچھڑا اور ایک تین سالہ بچھڑا اور اسی طرح جس قدر مقدار بڑھتی جائے تو تیس تیس یا چالیس چالیس کا حساب کرے اور زکوٰة دے۔
( ۳) اونٹ کے بارہ نصاب ہیں:
پہلا نصاب: پانچ اونٹ اور ان کی زکوٰة ایک گوسفند ہے اور جب تک عدد اس سے کم ہو تو ان پر زکوٰة نہیں ہے۔
دوسرا نصاب:دس اونٹ اور ان کی زکوٰة دو گوسفند ہے۔
تیسر نصاب:پندرہ اونٹ اور ان کی زکوٰة تین گوسفند ہے۔
چوتھانصاب:بیس اونٹ اور ان کی زکوٰة چار گوسفند ہے:
پانچواں نصاب:پچیس اونٹ اور ان کی زکوٰة پانچ گوسفند ہے۔
چھٹا نصاب :چھبیس اونٹ اور ان کی زکوٰة ایک دو سالہ اونٹ ہے۔
ساتواں نصاب: چھتیس اونٹ اور ان کی زکوٰة ایک تین سالہ اونٹ ہے۔
آٹھواں نصاب:چھیالیس اونٹ اور انکی زکوٰة ایک چار سالہ اونٹ ہے۔
نواں نصاب:اکسٹھ اونٹ اور ان کی زکوٰة پانچ سالہ اونٹ ہے۔
دسواں نصاب:چھہتر اونٹ اور ان کی زکوٰةتین سالہ دو اونٹ ہے
گیارہواں نصاب:اکانوے اونٹ اور ان کی زکوٰة چار سالہ دو اونٹ ہے۔
بارہواں نصاب:ایک سو اکیس اونٹ اور اس کے اوپر جس قدر بڑھتے جائیں تو ان کی زکوٰة پر چالیس اونٹوں پر ایک تین سالہ اونٹ ہوگی یا ہر پچاس اونٹوں پر ایک چارسالہ اونٹ ہوگی۔
سونے اور چاندی کانصاب
سکّے دار چاندی کے دونصاب ہیں:
پہلانصاب :ایک سو پانچ مثقال ہے اگر ایک سال تک رکھا ہوا ہو اور اس کا کوئی معاملہ بھی طے نہ ہو توواجب ہے کہ ۴۰/۱ حصہ یعنی ۲ مثقال اور پندری چنے کے برابر زکوٰة دینا ہو گی(اور اگر چاندی اتنی نہ ہوتو پھر اس کی زکوٰة دینا واجب نہیں ہے)۔
دوسرا نصاب : ۲۱ مثقال ہے یعنی جب ایک سو پانچ مثقال سے اکیس مثقال اور زیادہ ہوجائے تو پھر تمام ۱۲۶ مثقال چاندی، ۴۰/۱ حصہ زکوٰة دے اور اگر چند سال (چاندی)رکھی ہو تو ہر سال واجب ہے کہ ۴۰/۱ حصے کو بطور زکوٰة ادا کرے سوائے اس کے کہ پہلے نصاب سے بھی کمتر ہوجائے۔
سکے د ارسونے کے بھی دو نصاب ہیں
پہلا نصاب :بیس مثقال شرعی ہے جن میں سے ہر ایک مثقال اٹھارہ چنے کے برابر ہوتا ہے جومعمولاًپندرہ مثقال کے برابر ہے اورجب بھی بیس مثقال شرعی سونا ایک سال تک رکھا ہو توواجب ہے کہ ۴۰/۱ حصہ جونو چنے کے دانوں کے برابر ہوتا ہے اس کی زکوٰة دے۔
دوسرا نصاب :چار مثقال شرعی ہے یعنی جب بیس مثقال میں چار مثقال اور زیادہ ہو جائیں تو سب کا ۴۰/۱ حصہ ادا کرے اوراگر کمتر اضافہ ہوتو وہی نصاب اوّل کے نو چنے کے برابر کافی ہے اسی طرح جتنا بڑھے گا یعنی چار اضافہ ہو تو سب کی زکوٰة دے اور اگرچارسے کم اضافہ ہوتو زیادہ کی زکوٰة نہیں ہے بطور کلی جب بھی چاندی ۱۰۵ مثقال اور سونا ۱۵ مثقال سے معمولاً زیادہ ہو تو اگر ان سب کا ۴۰/۱ حصہ ادا کردے تو واجب ادا ہوجاتا ہے بلکہ تب بھی زیادہ ہی دیا ہے۔
جس قدر ذکر ہوا یہ زکوٰة کے مجمل احکام تھے اور اس کے مفصل مسائل اور فروعات رسالہ عملیہ میں موجود ہیں اور جو(افراد)جاننا چاہتے ہوں وہ ان (رسائل عملیہ)کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔
زکوٰة فطرہ
جو شخص عید الفطر کی رات میں(اوّل ماہ شوال)غروب آفتاب کے وقت بالغ وعاقل وغنی(جوکوئی فعلاً یا مہینے پر یا سال کے آخر میں اپنے ذریعہ آمدنی سے سال بھر کے اخراجات پورے کر سکتا ہو وہ غنی ہے)ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ اپنا اور جن لوگوں کی خوردونوش اسکے ذمے ہے یہاں تک کہ دودھ پیتے بچے اورمہمان ہر ایک کے لئے ایک صاع جو تقریباً تین کلو گرام کا ہوتا ہے گندم یا کھجور یا کشمش یا چاول،روٹی وغیرہ (بطورفطرہ)کسی مستحق کو دے اور اگران میں سے کسی ایک کی قیمت بھی ادا کردے تو کافی ہے۔
یاد رکھیے! زکات فطرہ کے فوری فوائد اس سال کی موت ہے امان میں رہنا ہے (یعنی ناگہانی موت سے نہ کہ حتمی )مروی ہے کہ
اَنّهُ قٰالَ عَلَیهِ السَّلٰامُ لِوَکَیْلِهِ اِذْهَبْ فَاَعْطِ مِنْ عِیٰالِیَ الْفِطْرَةَ اَجْمَعِهِمْ وَلٰاتَدَعْ مِنْهُمْ اَحَداً فَاِنَّکَ اِنْ تَرَکْتَ مِنْهُمْ اَحَداًتَخَوَّفْتُ عَلَیْه الْفَوْتَ قُلْتُ وَمَاالْفَوْتُ؟قٰالَ عَلَیهِ السَّلاٰمُ اَلْمَوْتُ ۔
جناب امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اپنے وکیل اخراجات سے فرمایا جاو میرے تمام گھروالوں کی زکات فطرہ ادا کرو اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہ کرنا کیونکہ اگر اس کی زکوٰة نہیں دی گئی تو مجھے اس کے فوت ہو جانے کا خوف لاحق رہے گا۔میں نے عرض کیا فوت سے آپ کی کیا مراد ہے؟فرمایا موت اور اس کاثواب ایک مہینے کے روزوں کا قبول ہونا ہے۔امام (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا:اِنَّ مَنْ تَمٰامِ الصَّوْمِ اِعْطٰآء ُ الزَّکٰوةِ یعنی زکوٰة فطرہ ماہ مبارک رمضان کے روزوں کو کامل کرتی ہے۔
زکوٰة کا مصرف
( اِنَّمَا الصَّدَقٰاتُ لِلْفُقَرآءِ وَالْمَسٰاکِیْنَ وَالْعٰامِلِیْنَ عَلَیْهٰا وَالمُولَّفِته قُلُوْبُهُم وَفِی الرِّقٰابِ وَالغٰارِمِیْنَ وَفِی سَبِیْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ علِیْمٌ حَکِیمٌ ) ۔ (سورہ توبہ آیت ۶۰)
خیرات تو بس فقیروں کا حق ہے اور محتاجوں کا اور اس (زکوٰة)کے کارندوں اور جن کی تالیف قلب کی گئی ہے اورغلاموں کو آزاد کرنے اورقرض داروں کا(جو خود سے ادا نہیں کر سکتے) اور خدا کی راہ میں جہاد میں اور پردیسیوں کی کفالت میں(خرچ کرنا چاہیے یہ حقوق)خدا کی طرف سے مقرر کئے ہوئے ہیں اورخدا بڑا دانا اور صاحب حکمت ہے۔ زکوٰة کے مال کو آٹھ جگہوں پرخرچ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اس آیت شریفہ میں ذکر ہے۔
( ۱) فقیر پر اور فقیر سے وہ شخص مرد ہے جس کے پاس اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کا بھی خرچ نہ ہو(نہ فعلاً ہو )یعنی ابھی موجود)نہ بعد میں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو)پس جو کوئی صنعت،جائیداد ،یامال رکھتا ہو اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا سال بھر کا خرچہ پورا کر سکتا ہو تو فقیر نہیں ہے۔
( ۲) مسکین پر اور مسکین وہ ہے جو فقیر سے زیادہ تنگ دست ہو۔
( ۳) اس شخص کو زکوٰة دی جاسکتی ہے جوامام یا نائب امام کی طرف سے زکوٰة جمع کرے اور اسے امام نائب امام یا مستحق تک پہنچاتا ہو۔
( ۴) ان مسلمانوں کو جن کا ایمان کمزور ہے ان کی تقویت اور ثابت قدمی کیلئے زکوٰة دی جاسکتی ہے۔
( ۵) جو غلام سختی میں مبتلا ہوں انہیں آزاد کرناے کی نیت سے یا خریدنے پر زکوٰة خرچ کر سکتے ہیں۔
( ۶) اس مقروض کو جو اپنا قرض ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو زکوٰة دے سکتے ہیں۔
( ۷) راہ خدا میں زکوٰة خرچ کی جاسکتی ہے اور اس سے مراد ہر ہو کام ہے کہ جس میں عمومی دینی فائدہ ہو مثلاًمساجد یا ایسا مدرسہ قائم کرنا تا کہ جہاں پر دینی تعلیم دی جاتی ہو یا پل بنانا یا دو گروہوں یا دو افراد کے درمیان صلح کرانا یا عبادات میں مدد دینا وغیرہ۔
( ۸) ایسے مسافر پر خرچ کی جاسکتی ہے جو سفر میں مجبور ہو چکا ہو اور قرض لے کریا اپنی کوئی چیزبیچ کر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا ہو اگر چہ وہ اپنے شہر میں فقیر نہ ہو۔
مستحب زکوٰة
سات چیزوں میں زکوٰة مستحب ہے:
( ۱) سرمایہ یعنی ایسا مال جسے انسان تجارتی معاملات میں خرچ کرنا چاہتا ہو۔
( ۲) دالوں کی قسمیں مثلاًچاول،چنے،دال،ماش وغیرہ لیکن سبزیوں مثلاً بینگن، کھیرے، تربور و خربوزہ کی زکوٰة نہیں ہے۔
( ۳) مادہ گھوڑے۔
( ۴) زیور اور بناو سنگھار کی چیزیں مومنین کو عاریتاً دینا۔
( ۵) چھپا ہوایا دفن کیا ہوامال کہ جس میں مال تصرف نہیں کر سکتا ہوپس استطاعت کی صورت میں مستحب ہے کہ اس کی ایک سال کی زکوٰة ادا کرے۔
( ۶) جب بھی زکوٰة سے چھٹکارا پانے کے لئے نصاب میں تصرف کرے (یعنی زکوٰة کے نصاب کو اس قدر گرادے مثلاً ایک سال ہونے سے پہلے اس کے ایک حصے کو بیچ دے)تو مستحب ہے کہ سال شروع ہونے پر اس مال کی زکوٰة دے۔
( ۷) مال اجارہ یعنی گھر،دوکان،باغ،حمام وغیرہ کی کرایہ و اجارہ پر۔
فوت شدہ نماز کی قضاء ضرور ادا کرنا چاہیئے
واجب نمازوں کی قضا میں سستی کرنا جائز نہیں چنانچہ اگر قضاء نمازوں میں سے کچھ اس کے ذمے باقی ہیں توواجب ہے کہ وصیت کرے تو اس کے وصی پر واجب ہو جاتا ہے کہ اسکی بابت اس کے مال کے تیسرے حصے میں سے۔
د وسرے واجب انفاق
زکوٰة کے بعد اہم ترین واجب الہٰی خمس ہے کہ جسے خداوند عالم نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور ان کی آل کے لئے زکوٰة کے بدلے میں کہ جو ان پر حرام ہے ،مقرر فرمایا ہے اورجو کوئی خمس میں سے ایک درہم یا اس سے بھی کمتر نہ دے تو وہ حق آل محمد (علیہم السلام) پر ستم کرنے والوں اور غصب کرنے والوں میں ہوگا اور اگر اسے(اپنے لئے)حلال سمجھے اور اس کے وجوب کا منکر ہو تو ہو کافرین میں سے ہے حالانکہ اس کا وجوب اجماع مسلمین کی نگاہ میں اور قرآن مجید میں واضح ہے بلکہ قرآن پاک میں اسے خدا پر ایمان کی شرط بتایا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
( وَاعْلَمُوا اَنَّمٰا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاَنَّ اللّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰامٰی وَالْمَسٰاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمٰا اَنْزَلْنٰا عَلٰی عَبْدِنٰا یَوْمَ الْفُرْقٰانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰانِ وَاللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شیْءٍ قَدِیْرٌ ) (سورہ انفال آیت ۴۱)
اورجان لو جو نفع تم کسی چیز سے حاصل کرو تو اس میں سے پانچواں حصہ خدا اور رسول اور (رسول کے) قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پردیسیوں کا ہے اور اگر تم خدا پر اور اس(غیبی امداد) پر ایمان لا چکے ہوجو ہم نے اپنے(خاص)بندے(محمد)پر فیصلہ کے دن(جنگ بدر میں)نازل کی تھی جس دن(مسلمان اور کافروں کی)دو جماعتیں باہم گتھ گئیں تھیں اورخدا تو ہرچیز پر قادر ہے۔
امام جعفرصادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں۔
اِنَّ اللّهَ حَیْثُ حَرَّمَ عَلَیْنٰا الصَّدَقَةَ اَنْزَلَ لَنَا الْخُمْسَ فَالصَّدَقَةَ عَلَیْنَا حَرٰامٌ وَالْخُمْسَ لَنٰا فَرِیضَةٌ واَلْکَرٰامَةَ لَنٰا حَلٰالٌ (من لایحضرہ الفقیہ ج ۲ ص ۴۱)
چونکہ خداوند عالم نے ہم اہل بیت پر زکوٰة کو حرام اور خمس ہمارے لئے واجب اور ہدیہ ہمارے لئے جائز ہے۔
عَنِ الْاِمٰامِ الْبٰاقِرِ (ع) لٰا یَحِلُّ لِاَحَدٍ اَنْ یَّشْتَرِیْ مِنَ الْخُمْسِ شَئاً حَتٰی یَصِلَ اِلَیْنٰا حَقَّنٰا ۔ (اصول کافی ج ۱ ص ۵۴۵)
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کسی کے لئے اس مال میں سے کوئی چیز خریدنا جائز نہیں جسکا خمس ادا نہ کیا ہواور جب تک کہ ہمارے حقدار کو اس کا حق ادا نہ کرے۔آپ یہ بھی فرماتے ہیں۔
اِنَّ اَشَدَّ مٰافِیهِ النّٰاسَ یَوْمَ الْقِیٰامَةَ اَنْ یَّقُوْمَ صٰاحِبَ الْخُمْسِ فَیَقُوْلپ یٰا رَبَّ خَمِّسْنِی (کافی جلد اول ص ۵۴۶)
روز قیامت لوگوں کے لئے سخت ترین وقت وہ ہوگا جب خمس کے مستحقین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان لوگوں سے جہنوں نے (خمس )ادا نہ کیا ہوگا اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔
رزق کی وسعتِ مال کی پاکیزگی کل کاذخیرہ
حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) کے دوستوں میں سے فارس کے کسی ایک تاجر نے امام کو خط لکھا اور اس مال میں کہ جس کا خمس ادا نہیں کیا تھا تصرف کی اجازت چاہی امام (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں یہ تحریر فرمایا۔بلاشبہ خداوند عالم واسع اور کریم ہے اورخداوند عالم نے اس شخص کے لئے ثواب اور جزائے خیر کی ضمانت دی ہے کہ جو اس کے احکامات پر عمل کرے اور اس کے لئے عذاب ہے کہ جو اس کی مخالفت کرے بے شک انسان کیلئے صرف وہی مال جائز ہے جسے خداوند عالم نے حلال کیا ہو اور یقینا خمس ہماری ضرورت ہے اور ہمارے دین کا حکم ہے ہمارے اور ہمارے دوستوں کے روزگار کاذریعہ ہے اور ہماری عزتوں کی حفاظت پر خرچ کرنے کے لئے ہے یعنی جن لوگوں کی طرف سے ہمیں اذیت پہنچنے کا خدشہ ہے ۔
پس ہمیں خمس دینے سے اجتناب نہ کرو۔اور جس حد تک ہو سکے اپنے آپ کو ہماری دعاوں سے محروم نہ کرو یقینا خمس دینا تمہاری روزی کے وسیع ہونے اور گناہوں سے پاک ہونے کاسبب ہے اور اس پریشانی و بیچارگی کے دن(روز قیامت) کا ذخیرہ ہے اور مسلمان وہی ہے کہ جو کچھ اطاعت و بندگی میں اس نے خداوند عالم سے عہد کیا ہے اسے پورا کرے اورجو کوئی زبان سے قبول کرے اور دل سے مخالفت تو وہ مسلمان نہیں ہے۔
(وافی ،کافی اور تہذیب سے نقل شدہ)
حضرت حجت بن الحسن عجل اللہ تعالی فرجہ نے اپنے خاص نائب محمد بن عثمان کے ذریعہ ابو الحسن اسدی کو ایک خط بھیجا کہ جس میں تحریر فرمایا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلاٰئِکَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ عَلٰی مَنِ اسْتَحَلَّ مِنْ مٰالِنٰا دِرْهَماً قٰالَ اَبُوالْحُسَنِ الْاَسَدی فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ اَنَّ ذٰالِکَ فِیْ جَمِیْعِ مَنِ اسْتَحَلَّ حَرٰاماً فَاَیِّ فَضْلٍ لِلْحُجّةِ عَلَیْهِ السَّلاٰمُ فِیْ ذٰالِکَ قٰالَ فَوَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّداً (صلی الله علیه و آله) بِالْحَقِّ بَشِیْراً لَقَدْ نَظَرْتُ بَعْدَ ذٰالِکَ فِیْ التَّوفیْعِ فَوَجَدَتُهُ قَدِ انْقَلَبَ اِلٰی مٰافِیْ نَفْسِیْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلاٰئِکَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ عَلٰی مَنْ اَکَلَ مِنْ مٰالِنٰا دِرْهَماً (اکمالُ الدّین صدوق باب توقیعات ص ۵۶۳)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔اللہ تعالیٰ ملائکہ اور تمام لوگوں کی اس شخص پر لعنت ہے کہ جوہمارے مال میں سے ایک درہم بھی جائز سمجھتا ہو ابو الحسن اسدی کہتے ہیں کہ میں نے خیال کیا کہ اس لعنت کا مستحق وہ ہے کہ جو امام (علیہ السلام) کا کسی قسم کا مال کھا نا جائز سمجھتا ہو(نہ یہ کہ وہ شخص جو حلال سمجھنے بغیر کھائے اور تمام محرمات الہٰی میں یہی حکم ہے یعنی جو بھی حرام خدا کو حلال سمجھے تو وہ اس کی لعنت کا مستحق ہو گا تو اس بناء پر امام (علیہ السلام) کا مال کھانے اور دیگر محرمات میں کوئی فرق نہیں)پس اس خدا کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو بشارت دینے والے کی حیثیت سے برگزیدہ فرمایا میں نے دیکھا اس خط میں جو کچھ تحریر تھا فوراً مٹ گیا اور اس کی جگہ یہ تحریر ہو اکہ خدائے عزوجل،ملائکہ اور تمام لوگوں کی اس شخص پر لعنت ہے جو ہمارے مال میں سے (حق سادات سے)ہماری اجازت کے بغیر ایک درہم بھی کھائے،یعنی بے شک اسے حلال نہ سمجھتا ہو اور اس کے علاوہ خمس کے حکم کی تاکید کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں۔(اکمال الدین صدوق باب توقیعات ص ۵۶۳)
وجوب خمس کے موارد اور ان کا مصرف
خمس سات چیزوں پر واجب ہے:
( ۱) جنگ کا مال غنیمت
( ۲) جواہرات جو غوطہ خوری کے ذریعے حاصل ہوں
( ۳) کانیں
( ۴) خزانہ
( ۵) کاروبار وغیرہ کا نفع
( ۶) وہ حلال مال جو حرام میں مخلوط ہو گیا ہو اور جس کی مقدار معلوم نہ ہو
( ۷) وہ زمین جسے کافر ذمی مسلمان سے خریدے۔
ان میں سے ہر ایک کی شرائط اور احکام عملیہ رسالے میں ذکر کئے گئے ہیں۔خمس کے دوحصے کرنا چاہئیں ایک حصہ سادات کا ہے جو کسی ایسے سید کو دیں جو فقیر ہو ،یتیم ہو یا جس کا زادراہ سفر میں ختم ہو چکا ہو۔خمس کا دوسرا حصہ امام زمانہ (علیہ السلام) کا ہے جو ان کی غیبت میں ان کے نائب مجتہد جامع الشرائط کو دیا جائے یا اس کا م میں لگایا جائے جس کی مجتہد جامع الشرائط نے اجازت دی ہو۔
کتاب کلمہ طیبہ میں چالیس حکایتیں سادات جلیلہ کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے اور اس سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے ہم ان میں سے ایک حکایت یہاں بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔
اربعین منتخب الدین اورکتاب فضائل شاذان،اور کتاب تحفت الازھار وسیلتہ المال میں متعدد اسناد سے نقل کیا گیا ہے کہ ابراہیم بن مہران سے کہ انہوں نے کہا کہ کوفہ میں میرے پڑوس میں ابو جعفرنامی ایک خوش اخلاق آدمی تھا جب بھی کوئی سید اس کے پاس جاکر چیز طلب کرتا تو وہ اسے دے دیتا اور اگر وہ سید قیمت ادا کرتا تو رکھ لیتا ورنہ اپنے غلام سے کہتا کہ لکھ لو کہ یہ رقم علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) نے لی ہے اور ایک عرصے تک اس کی یہی روش رہی اور جب حالات نے اسے فقیر و محتاج کر دیا تو ایک روز وہ گھر میں بیٹھا ہوا اپنے سابقہ حساب کتاب کے رجسٹر کو دیکھ رہا تھا اور اگر اس میں سے اپنے کسی مقروض کو زندہ پاتا تو اپنا آدمی بھیج کر اپنی رقم طلب کرتا اور اگر مقروض زندہ نہ ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی مال ہوتا تو اس کے نام نیچے ایک خط کھینچ دیتا۔انہی دنوں ایک رات وہ گھر کے دروازے پر بیٹھا ہوا اپنا رجسٹر دیکھ رہا تھا کہ ایک ناصبی آدمی کا وہاں سے گزر ہوا تو اس(ناصبی)نے مذاق اڑاتے ہوئے طنزاً کہا کہ تمہارے بڑے مقروض علی ابن ابی طالب(علیہ السلام) نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟
ابو جعفر نے جب اس کی یہ بات سنی توبہت دل برداشتہ ہوا اور اٹھ کر چلا گیا۔اسی رات اس نے خواب میں دیکھا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) تشریف فرما ہیں اور ان کے ساتھ امام حسن وحسین + بھی ہیں۔رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ان سے فرمایا تمہارے والد کہاں ہیں؟تو امیر المومنین علی (علیہ السلام) نے جو کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے جواب دیا میں یہاں موجود ہوں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) آنحضرت نے فرمایا اس شخص کا حق کیوں نہیں ادا کرتے تو انہوں نے فرمایا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) میں اس شخص کاحق لے کر آیا ہوں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا اسے دے دو انہوں نے ایک سفید اون کی تھیلی اسے دی اور فرمایا یہ ہے تمہارا حق اس کے بعد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا یہ لے لواور جب بھی اس کے فرزندوں میں سے کوئی تمہارے پا س آئے اور جو چیز تمہارے پاس موجود ہو مانگے تو اسے خالی ہاتھ نہ لوٹانا جاواس کے بعد تمہارے لئے کوئی پریشانی و محتاجی نہیں ہوگی۔
اس آدمی کا کہنا ہے کہ جب میں خواب سے بیدار ہواتو میرے ہاتھ میں وہی تھیلی موجود تھی میں نے اپنے بیوی کو جگایا اور کہا کہ چراغ روشن کرد جب میں نے تھیلی کھولی تو اس میں پوری ہزار اشرفیاں تھیں میری بیوی نے کہا اے بندہ خدا کچھ خوف خدا کرو کہیں اس غربت و فقر نے تمہیں بعض تاجروں کا مال لینے پر اکسایا ہو اور یہ انہی کامال ہو میں نے کہا بخدا ایسا نہیں ہے بلکہ یہ قصہ اس طرح ہے اور جب میں نے اپنا رجسٹر منگوا کر اس میں وہ رقم جو علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے عنوان سے ان کی اولاد کو دی تھی دیکھی تو وہ کل ہزار اشرفیاں تھیں نہ کم اور نہ زیادہ۔
وہ عیال کہ جن کا نفقہ واجب ہے
واجب نفقوں میں سے زوجہ دائمی جو کہ اطاعت گزار ہو کا نفقہ اور اس کی اولاد اور اسکی اولاد جس قدر نیچے جاتے جائیں ضرورت مند ہونے کی صورت میں واجب ہے اور ماں باپ اور باپ کا باپ ماں کی ماں جس قدر اوپر جاتے جائیں اور وہ بھی ضرورت مند ہونے کی صورت میں انسان میں واجب نفقہ کو دینے کی حد تک طاقت ہو کہ اگر نہ دے تو لوگوں کی نگاہ میں قطع رحم ہو گا کہ جس کی تفصیل قطع رحم میں گزر چکی ہے۔
( ۱) مستحب انفاق
مستحب انفاق کی کئی قسمیں ہیں۔آیات وروایات متواترہ میں اس بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے خصوصاً اہم اوقات مثلاًجمعہ کے دن،روز عرفہ اور ماہ رمضان میں یا خاص افراد کے لئے مثلاً پڑوسی،رشتہ داروغیرہ۔صدقہ مرض کی دوا،بلا کو دور کرنے والا ،رزق کو نازل کرنے والا ،مال کو زیادہ کرنے والا اور ناگہانی آفات مثلاً بری موت،جلنا،غرق ہونا اور جنون کو موخر کرتا ہے ہے یہاں تک کہ ستر ملاوں کو دور کرتا ہے جس قدر ازیادہ دیا جائے اتنا ہی نتیجہ اچھا ہوگا اور اس کے کم ہونے کی بھی کوئی حد نہیں ہے خواہ کھجور کے ایک دانے کے برابر ہو۔
( ۲) ہد یہ
وہ چیز کہ جسے کوئی شخص دوستی کو بڑھانے کے لئے اپنے کسی غریب یا امیر مومن بھائی کو دے اور اگر یہ قصد قربت کے ساتھ ہو تو افضل عبادات میں سے ہے۔امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ
لَئِنْ اَهْدٰی لِاَخِیَ الْمُسْلِمِ هَدِیَّةً اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنَّ التَّصَدَّقَ بِمِثْلِهٰا ۔(کافی ج ۵ ص ۱۴۴)
اگر میں اپنے مومن بھائی کو بطور ہدیہ کوئی چیز دوں تو اسے صدقہ دینے سے زیاہد پسند کرتا ہوں۔
( ۳) ضیافت
مومن کی مہمان نوازی کی فضیلت کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں اوریہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اخلاق میں سے ہے مروی ہے کہ سات روز گزر چکے تھے اور امیر المومنین علی (علیہ السلام) کے پاس کوئی مہمان نہیں آیا تو آپ روتے ہوئے فرمانے لگے میں اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ کہیں خداوند عالم نے مجھ پر سے لطف وکرم کی نظر تو نہیں ہٹالی۔
( ۴) حق معلوم اورمحروم
مال کی وہ مقدار کہ جسے کوئی مسلمان اپنی جائداد اور حیثیت کے مطابق اپنے لئے لازم کرلے کہ ہر روز یاہر ہفتہ یا ہر مہینہ باقاعدگی سے ضرورت مندوں اور اپنے رشتہ داروں کو ادا کرے گا چنانچہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے
( وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوٰالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِلّسّٰائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ) ۔(سورہ معارج آیت ۲۴ ۔ ۲۵)
اور جن کے مالوں میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (محروم)کے لئے حصہ مقرر ہے۔حضرت امام موسی بن جعفر (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح آدمی تھا کہ جس کی ایک صالحہ بیوی تھی ایک دن اس آدمی سے خواب میں کہا گیا کہ خداوند عالم نے تمہاری اتنی عمر مقرر کی ہے کہ جس میں سے نصف عمر خوشحالی میں بسر ہو گی اور نصف غربت و تنگ دستی میں اورخداوند عالم نے تمہیں یہ اختیار دیا ہے کہ تم اپنی عمر کے ابتدائی حصے میں خوشحالی چاہتے ہو یا آخری حصے میں یا اس کے برعکس چاہتے ہو؟اس آدمی نے جواب دیا میری ایک نیک بیوی ہے جو ہر کام میں میری شریک ہے میں اس سے مشورہ کر لوں تو جواب دوں گا اورجب صبح کو اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا عمر کے ابتدائی حصے میں خوشحالی کو قبول کرو اور اس عافیت کو پالینے میں جلدی کرو شاید خدائے عزوجل ہم پر رحم فرمائے اور اپنی نعمتوں کو ہم پر تمام کرے اور جب دوسری رات اس آدمی سے خوب میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ عمر کے پہلے حصے کو خوشحالی میں گزارنا چاہتا ہوں ۔
پس کہا گیا تمہارے لئے ایسا ہی ہو گا اس کے بعد سے ہر طرح کی نعمت و آسائش حاصل ہو گئی اور اس کے پاس مال و دولت فروان ہو گیا تو اس کی بیوی نے اسے کہا اے بندہ خدا اب تم اپنے رشتہ داروں اور محتاجوں کی مدد کرو اور ان کے ساتھ نیکی کا برتاو کرو اور فلاں پڑوسی اور فلاں ہمسایہ کو فلاں چیز بخش دو اس آدمی نے اپنی بیوی کے مشورے پر عمل کیااور اپنے مال کی سخاوت میں ذرا سی بھی کوتاہی نہیں کی یہاں تک کہ اس کی آدھی عمر گزر گئی تو اس آدمی نے دوبارہ اسی شخص کو خواب میں دیکھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ تم نے راہ خدا میں انفاق کرنے سے گریز نہیں کیا اس لئے خداوند عالم نے تمہارے اس نیک عمل کے بدلے میں تمہاری عمر کے آخری حصے میں بھی اسی طرح خوشحالی لکھ دی ہے۔
( ۵) حق حصاد
زراعت کی وہ مقدار کہ جو فصل کی کٹائی کے وقت زکوٰة میں حساب کئے بغیر راستے سے گزرنے والوں کو ایک ایک مٹھی دی جائے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے واتو احقہ یوم حصادہ(سورہ ۶۹ آیت ۱۴۱) اور فصل کاٹنے کے دن خدا کا حق دے دو۔
صدقے کی قسموں میں یہ دو قسم کاصدقہ مستحب ہے چونکہ آیات و روایات میں اسکا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اسی لئے ان کی اہمیت کے پیش نظر دونوں کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے۔
( ۶) قرض الحسنہ
یعنی ایسے مسلمان جسے قرض کی ضرورت ہو قرض الحسنہ دینا امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:مَکْتُوْبٌ عَلٰی بٰابِ الْجَنَّتِه اَلمَّلَقتهُ بِعَشَرَةِ وَالْفَرْضُ لَمٰائِمَتهً عَشَرَ (کافی) بہشت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے صدقہ دینے کی دس نیکیاں اور قرض الحسنہ کی اٹھارہ نیکیاں ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا:
مٰا مِنْ مُومِنٍ اَقَرْضَ مُومِناً بَلْشَمِسُ بِه وَجْهَ اللّٰهِ اِلاّٰ حَسِبَ اللّٰهُ لَهُ اَجْرَهُ بِحِسٰابِ الصَّلَقَتِه حتّیٰ یَرْجِعَ مٰالُهُ اِلَیْهِ
جب بھی کوئی مومن رضائے خدا کے لیے کسی مومن کو قرض دے تو خداوند عالم اس (قرض) کے واپس مل جانے تک اسے صدقہ میں شمار کرتا ہے۔(وافی)
یعنی ہر وہ لمحہ کہ جب وہ خدا کی رضا کے لیے (مقروض) کو مہلت دے تو ایسا ہے کہ اس نے اس تمام مال کو صدقہ کر دیا ہے کیونکہ وہ اس وقت مطالبہ کا حق رکھتا ہے لیکن مطالبہ نہیں کرے تو ایسا ہے کہ اس نے دو مرتبہ مال میں سے قرض دیا ہے پس وہ اس مال کے دوسرے اجر یعنی صدقہ کر دینے کا مستحق ہو گا۔
اس کے علاوہ آپ ہی سے مروی ہے کہ "مٰاعُوْن" (گھریلو سامان) کہ جس کے ترک پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ زکوٰة نہیں بلکہ اس سے مراد ضرورت مندوں کو قرض دینا اور طلب کرنے والوں کو عاریتاً گھریلو اشیاء دینا ہے۔
ابوبصیر نے آنحضرت سے عرض کیا ہمارے پڑوسی جب بھی ہم سے کوئی چیز عاریتاً لیتے ہیں تو اسے توڑ پھوڑ دیتے ہیں یا خراب کر دیتے ہیں اگر ہم انہیں منع کر دیں تو کیا ہمارے سر گناہ ہے؟ امام (علیہ السلام)نے فرمایا اگر وہ لوگ ایسے ہیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
( ۷) مقروض کو مہلت دینا یا اس کو بخشنا
ایسے مقروض کو مہلت دینا یا بخش دینا جو قرض ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:مَنْ اَرٰادَ اَنْ یُظِلَّهُ اللّٰهُ یَوْمَ لاٰظِلَّ اِلاَّ ظِلَّهُ فَلْیَنْظُرْ مُعْسِرًاً اَوْیَدْعُ لَهُ مِنْ حَقِّه جو کوئی اس دن خدائے بزرگ وبرتر کی پناہ میں رہنا چاہتا ہے کہ جس دن ااس کی پناہ کے علاوہ کوئی پناہ نہ ہوگی تو اسے چاہئے کہ مجبور وعاجز مقروض کو مہلت دے یا یہ کہ اسے بخش دے۔پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں۔ مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِراً کٰانَ لَہُ عَلَی اللّٰہِ فِی کُلِّ یَوْمٍ ثَوٰابَ صَدَقَةٍ بِمِثْلِ مٰالَہ حَتّٰی یَسْتَوْ فِیہِ جو کوئی مجبور مقروض کو مہلت دے تو(اس کے لئے اس کا ثواب خداوند عالم کے نزدیک ہر روز صدقہ دینے کے برابر ہے جب تک وہ مال اسے واپس نہیں مل جاتا۔)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے عرض کیا گیا کہ عبد الرحمان بن سبابہ ایک مردہ شخص سے قرض کا طلبگار ہے ہم نے اس سے کہا کہ اسے بخش دو لیکن وہ قبول نہیں کرتا امام نے فرمایا :
فَقٰالَ (ع) وَیْحَهُ اَمٰا یَعْلَمُ اَنَّ لَهُ بِکُلِّ دِرْهَمٍ عَشَرَة اِذٰا حَلَّلَهُ وَاِنْ لَّمْ یُحَلِلَّهُ فَاِنَّمٰا هُوَ دِرْهَمٌ بِدْرِهَمٍ
وائے ہو اس پر کیا وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس مردے کو قرض بخش دے گا تو ہر درہم کے مقابلے میں بدلے میں صرف وہی ایک درہم پائے گا جس کا طلبگار ے۔
ضرورت مندوں کے لئے لباس ومسکن میں سخاوت
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
مَنْ کَسٰا اَخٰاهُ کِسْوَةَ شَتٰآءٍ اَوْصیفاً کٰانَ حَقّاً عَلَی اللّٰهِ اَنْ یَّکْسُوهُ مِنْ ثِیٰابِ الْجَنَّتهِ واَنْ یُهَوِّنَ عَلٰیهِ مِنْ سَکَرٰاتِ الْمَوْتِ وَاَنْ یُوسعَ عَلَیهِ فِیْ قَبِره وَاَن یَّلْقٰی الْمَلٰائِکٓتَهَ اِذٰا خَرَجَ مِنْ قَبْرِة بِالْبُشْریٰ ۔(کافی ج ۲ ص ۲۰۴)
جو کوئی اپنے مومن بھائی کو سردی یا گرمی کالباس پہنائے کو خدا وند عالم پر اس کا حق ہے کہ اسے بہشت کے لباسوں میں سے لباس پہنائے اور موت کے وقت جان کنی کی سختیوں سے اسے امان میں رکھے اور اس کی قبر کو اس کے لئے کشادہ کردے اور قیامت میں جب اپنی قبر سے باہر نکلے تو ملائکہ سے خوشی سے ملاقات کرے اسی طرح آپ فرماتے ہیں
مَنْ کَسٰا اَحَداًمِنْ فُقَرَآءِ الْمُسْلِمِیْنَ ثَوْباً مِنْ عُری اَوْ اَعٰانَهُ بشَیءٍ مّمٰا یَقْوِیِهِ عَلَی معِیْشَتِه و کَّلَ اللّٰهُ بِهِ سَبْعَتَه الاٰف مِّنَ الْمَلاٰئِکَّتِه یَسْتَغْفِرُوْنَ لَکُلِّ ذَنْبٍ عَمِلَهُ اِلٰی اَنْ یُّنْفِعَ فِی الصُّورِ (کافی ج ۲ ص ۲۰۵)
جوکوئی مسلمان فقیر کو برہنگی سے نجات کیلئے لباس پہنائے یا مالی لحاظ سے مثلاً(گھر،سرمایہ وغیرہ)سے اس کی مدد کرے تو خداوند عالم سات ہزار ملائکہ کو مقرر کرتا ہے کہ قیامت تک اس کے ہر ایک گناہ کا استغفار کریں۔
( ۹) عزت واحترام نفس کی حفاظت
اپنی عزت و احترام کی حفاظت کے لئے اورشریروں کے شر اور ظالمین کے ظلم کو رفع کرنے کے لئے مال کی سخاوت،مروی ہے کہ بہترین انفاق وہ ہے کہ جس سے عزت کی حفاظت کی جاسکے۔
( ۱۰) خیرات جاریہ
خیرات جاریہ اور لوگوں کے فائدے کے لئے مال خرچ کرنا مثلاً مسجد مدرہ ،پل، سرائے، وغیرہ بنوانا یا آب جاری کا چشمہ کھدوانا،یا دینی کتابوں کو چھاپنا وغیرہ یہ ایسے امور ہیں کہ جن کا اثر مدتوں تک قائم رہتا ہے اور ان کی انجام دینے والا ان سے ثواب حاصل کرتا رہتا ہے۔
مرحوم حاجی نوری دار السلام میں شیخ بزرگورا عالم ربانی شیح عبد الحسین تہرانی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا مرزا نبی خان جو محمد شاہ قاجار کے خواص میں سے تھا جب اس کا انتقال ہوا تو وہ اپنے فسق وفجور کی بنا پر مشہور تھا ایک رات میں نے خواب میں اپنے آپ کو بہشت کے باغوں اور عمارتوں کی سیر کرتے ہوئے دیکھا اور ایک شخص میرے ساتھ ساتھ ہے جو مجھے عمارت و محلات دکھا رہا ہے پس ہم ایک جگہ ٹھہرے تو اس شخص نے کہا یہاں مرزا نبی جان کا محل ہے اگر اسے دیکھنا چاہتے ہو تو وہ وہاں بیٹھا ہے اس شخص نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میں غور سے دیکھنے لگا وہ ایک بڑے ہال میں تنہا بیٹھا ہوا تھا اور جب اس نے مجھے دیکھا تو اشارہ کیا کہ اوپر آجاو میں اس کے قریب گیا تو اس نے اٹھ کر سلام کیا اور مجھے صدر مجلس میں بٹھایا اور خود اپنے اسی انداز سے جو دنیا میں تھا بیٹھ گیا میں اس کے اس مقام کی وجہ سے حیران و پریشان تھا اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اے شیخ گویا آپ میرے اس مقام کی وجہ سے حیرت زدہ ہیں کیونکہ میرے وہ اعمال کہ جن کا میں نے دنیا میں ارتکاب کیا تھا بہت برے اور عذاب کے سزاوار تھے ہاں ایسا ہی تھا لیکن سر زمین طالقان میں میری ایک نمک کی کان تھی جس کے کرائے کی رقم میں ہر سال مجلس عزا کے قیام کے لئے طالقان سے نجف اشرف بھیجتا تھا تو خداوند عالم نے اس کے عوض یہاں پر مجھے یہ محل وباغ عطا کیا ہے۔
شیخ مرحوم کہتے ہیں کہ میں متعجب خواب سے بیدار ہوا اور جب اپنے اس خواب کو درس میں بیان کیا تو عالم فاضل ملا مطیع طالقانی کی اولاد میں سے کی نے کہا کہ یہ خواب سچا ہے اس کی طالقان میں ایک نمک کی کان تھی اور اس کے کرایہ کی رقم کو جو تقریباً ایک سو تومان تھی وہ نجف اشرف بھیجتا تھا اور میرے والد ہی وہ رقم مجلس حسین (علیہ السلام) پر خرچ کرنے پر مامور تھے۔مرحوم شیخ استاد فرماتے ہیں اس وقت تک مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ طالقان سے تعلق رکھتا ہے اور ہر سال نجف اشرف میں مجلس عزا قائم کرتا تھا۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔
لَیْسَ یَتْبِعُ الرَّجُلُ بَعْدَ مَوتِهِ مِنَ الْاجِرِ اِلّا ثَلٰثَ خِصٰالِ صَدَقَةً اَجْرٰاهٰا فِی حَیٰوتِهِ فَهِیَ تَجْرِیْ بَعْدِ مَوْتَه وَسُنَّةٌ هُدیً سَنَّهٰا فَهِیَ یَعْمَلُ بِهٰا بَعْدَ مَوْتَه اَوْ وَلَدٌ صٰالِحٌ یَدْعُوْا لَهُ
(وافی،کافی اور تہذیب سے نقل شدہ)
مرنے کے بعد انسان کسی چیز سے بہرہ مند ہوسکتا سوائے تین چیزوں کہ ایسا صدقہ جو(اس نے) دنیا میں دیاتھا اور اس کے مرنے کے بعدبھی جاری ہو۔ دوسرے ایسی سنت کہ جس کی بنیاد رکھی ہو(مثلاً اذان کہنا) اور اس کے مرنے کے بعدبھی اس سنت پر عمل کیا جائے ۔تیسرے صالح فرزند جو اس کے لئے دعا واستغفار کرے۔(اور اسکی نیابت میں اعمال خیر بجا لائے جیسا کہ دوسری روایت میں ذکر کیا گیا ہے
حج کی توہینا
اڑتیسواں گناہِ کبیرہ حج کو حقیر سمجھنا اور اسے اہمیت نہ دینا ہے۔ چنانچہ حضرت امام جعفرصادق سے اعمش نے اور حضرت امام رضا سے فضل بن شاذان نے جو روایت کی ہے اس میں ان دونوں اماموں نے اسے گناہِ کبیرہ بتایا ہے اور چونکہ حج بھی نماز کی طرح اسلام کے ضروری احکام میں شامل ہے اس لیے جو شخص حج سے منکر ہو کر اسے ترک کرتا ہے وہ کافر (ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے) اور جو اس پر عقیدہ رکھتے ہوئے اس کے بجا لانے میں غفلت کرتا ہے اسے اہمیت نہیں دیتا اور دنیوی مشغلوں کی وجہ سے اسے چھوڑ دیتا ہے تو ایسے بڑے واجب حکم کی عملی توہین جس کے بارے میں اس قدر تاکید کی گئی ہے گناہِ کبیرہ ہے۔
استطاعت اور مقدرات کے وقت سال آگے ٹالنا حرام ہے
حج کا بالکل ترک کرنا ہی گناہِ کبیرہ نہیں ہے بلکہ مقدرت کے سال سے آگے ٹالنا بھی گناہِ کبیرہ ہے چاہے وہ اس کے ایک سال کے بعد ہی کیوں نہ بجا لائے کیونکہ واجب حج فوراً بجا لانا چاہیئے یعنی جو شخص حج کے زمانے میں مقدرت رکھتا ہو اسے اسی سال حج کرنا چاہیئے اس کے لیے دوسرے سال تک رُکنا حرام ہے۔
محقق شرائع میں فرماتے ہیں "استطاعت کے سال سے آگے حج کو ٹالنا ہلاک کرنے والا گناہِ کبیرہ ہے" اور شہید ثانی نے مسالک میں فرمایا ہے "اس مسئلے میں امامیہ علماء کے درمیان اختلاف نہیں ہے اور کتاب اور سنت میں بہت سی دلیلیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ استطاعت کے سال سے آگے حج کو ٹالنا گناہِ کبیرہ ہے" ۔ظاہر ہے کہ حج میں دیر کرنا ایک طرح سے اس کی عملی توہین ہی ہے۔
اس کے کبیرہ ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے قرآن مجید میں حج ترک کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ہے یعنی حج کا ترک کرنا خدا سے انکار اور اس کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہوتا ہے۔ جس طرح شرک اور کفر بخشے نہیں جا سکتے اسی طرح حج کا ترک کرنا بھی ناقابل معافی ہے۔ خداوندعالم سورہ آل عمران میں فرماتا ہے "جو شخص مکّہ معظمہ پہنچنے کی مقدرت رکھتا ہے اس پر حج اور خانہ خدا کی زیارت واجب ہے اور جو اسے ترک کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور گھاٹے میں رہے گا کیونکہ خدا تو دُنیا والوں کا محتاج نہیں ہے۔" (آیات ۹۶ ۔ ۹۷)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "اس آیت میں لفظ "کفر" کے معنی چھوڑ دینے کے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو حج ادا نہ کرے۔ حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ "بلا شبہ خدا نے مقدرت رکھنے والے لوگوں پر ہر سال حج واجب فرمایا ہے۔" (یعنی بدلے کے طور پر کہ اگر مقدرت کے سال میں حج ادا نہ کرے تو آخر عمر تک ہر سال ان پر وہ حج واجب ہوتا رہے گا۔ اس جملے کے معنی میں دوسرے اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جو رسالہ عروة الوثقی میں دیکھے جا سکتے ہیں) اور یہ خدا کا حکم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے خدا کی طرف سے ان لوگوں پر جو استطاعت رکھتے ہیں خانہ کعبہ کا حج واجب ہے اور جو کوئی کافر ہو جائے اور حج چھوڑ ہی بیٹھے تو خدا دُنیا والوں سے بے نیاز ہے۔" علی بن جعفر کہتے ہیں میں نے آپ سے عرض کیا "تو کیا ہم میں سے جو شخص حج نہیں کرے گا وہ کافر ہو جائے گا ؟" تو آپ نے فرمایا "نہیں بلکہ جو شخص یہ کہے گا کہ حج ایسا نہیں ہے وہ گویا کافر ہو گیا،" (یعنی اس کے واجب ہونے سے انکار کرنے کی بنا پر)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) بھی فرماتے ہیں "جو شخص مر جاتا ہے اور حج واجب بجا نہیں لاتا جبکہ حج کی ادائیگی میں اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی یعنی اسے کوئی ضرورت یا پریشانی لاحق نہیں تھی نہ اسے کوئی ایسی بیماری لگی تھی جس کی وجہ سے وہ حج نہ کر سکتا ہو نہ کوئی طاقتور شخص اسے روک رہا تھا تو خدا اسے قیامت میں یہودی یا نصرانی اُٹھائے گا۔"
( ۱) آپ نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے "جو شخص حج واجب ادا کیے بغیر مر جاتا ہے (جبکہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی) تو وہ یہودی یا نصرانی شمار ہو گا۔" آپ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں کہ وہ قیامت میں یہودیوں اور نصرانیوں میں اُٹھایا جائے گا۔
محدث فیض وانی میں فرماتے ہیں "حدیث مذکور کے جملے "حاجة تجحف" کے معنی ایسی حاجت کے ہیں جس نے اس شخص کو مفلس بنا دیا ہے یا اسے عنقریب مفلس بنانے والی ہے اور یہ جو امام نے فرمایا ہے کہ بلاوجہ حج ترک کرنے والا یہودی یا نصرانی مرے گا اس لیے فرمایا ہے کہ حقیقت میں اس پر اس کا ایمان اور اعتقاد نہیں ہے کیونکہ اگر وہ حج پر اعتقاد رکھتا اور بیچ میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہوتی تو حج ضرور کرتا کہ ممکن ہے اگلے سال تک زندہ نہ رہے۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو شخص سالم اور مالدار ہونے کی حالت میں مر جاتا ہے (یعنی حج کر سکتا تھا) اور نہیں کرتا تو وہ ایسا شخص ہو گا جس کے لیے خدا فرماتا ہے کہ اسے قیامت میں اندھا اُٹھاؤں گا" ابوبصیر نے تعجب سے پوچھا "کیا ایسا شخص قیامت میں اندھا اُٹھے گا؟" تو آپ نے فرمایا "ہاں! خدا نے اسے حق کا راستہ دیکھنے کے قابل نہیں رکھا ہے" آپ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں "بہشت کے راستے کے لیے اسے اندھا کر دیا ہے۔" (کافی)
( ۱) کتاب داستانہائے شگف میں اس حدیث کی تائید میں وہ قصے تنبیی حکایتوں کے سلسلے میں بیان کیے گئے ہیں۔
محمد بن فضیل کہتے ہیں "میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس آیت کے کیا معنی ہیں جو خدا فرماتا ہے کہ "جو شخص اس دُنیا میں اندھا ہو گا وہ آخرت میں بھی اندھا اور اور زیادہ گمراہ ہو گا؟"
امام نے فرمایا "یہ وہ شخص ہے جو حج کو ایسی صورت میں بھی ٹال دیتا ہے جبکہ اس کے پاس حج کرنے کے لیے خرچ بھی موجود ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگلے سال کر لوں گا یہاں تک کہ حج کرنے سے پہلے مر جاتا ہے۔" (من لایحضرہ الفقیہ)
وہ آیتیں جن سے حج ترک کرنے والا مراد ہے
سورہ منافقون میں کہا گیا ہے "ہم نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اسے خدا کی راہ میں خرچ کر ڈالو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے اور وہ کہنے لگے کہ اے پروردگار! تو نے میری موت میں دیر کیوں نہیں کی اور مجھے کچھ مہلت کیوں نہیں دی جو میں اس وقت میں صدقہ دیتا (زکوٰة اور دوسرے واجب حقوق ادا کر دیتا) اور نیکوں (حج کرنے والوں) میں سے ہو جاتا لیکن خدا جب کسی شخص کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کی موت میں دیر نہیں کرتا۔" (آیات ۱۰ ۔ ۱۱)
حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے روایت ہے "فاصدق" سے مراد واجب صدقہ اور "اکن من الصالحین" سے مراد حج کرتا ہے۔" (فقیہ) اور اس آیت میں بھی کہ "کہہ دو کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے زیادہ گھاٹے میں وہ لوگ ہیں جو دُنیا میں گمراہی میں دوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نیکو کار ہیں۔" (سورہ کہف آیات ۱۰۳ ۔ ۱۰۴) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ ان لوگوں سے وہ مرا دہیں جو حج کا فریضہ ادا کرنے میں غفلت کرتے ہیں، اسے ٹالتے رہتے ہیں اور ہر سال کہتے ہیں کہ اگلے سال کریں گے۔
حج کو ٹالنے اور ترک کرنے کو گناہِ کبیرہ بتانے والی روایتیں تو بہت ہیں لیکن صرف اتنی ہی مقدار پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
حج میں ڈھیل ڈالنے کے دُنیاوی نتائج
واضح رہے کہ حج ترک کرنے کے کچھ دنیاوی نتائج ہوتے ہیں جن کا حدیثوں میں ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ایک اس چیز کے حصول میں ناکامی ہے جس کی خاطر حج ٹالا جاتا ہے۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو شخص کوئی چیز حاصل کرنے یا دُنیا کا کوئی کام کرنے کے لیے حج کو ترک کرے گا، اسے معلوم ہو گا کہ لوگ حج کر کے لوٹ بھی آئے اور اس کا کام پورا نہیں ہو پایا اور اس کا مقصد حاصل نہیں ہو پایا ہے۔"
(من لا یحضرہ الفقیہ)
حج ترک کرنے سے افلاس بھی آتا ہے جیسا کہ جناب رسول خدا نے غدیر خم کے خطبے میں فرمایا تھا "اے لوگو! خانہ خدا کا حج کرو، جو گھرانے حج کرتے ہیں وہ دولت مند ہو جاتے ہیں اور جو خاندان حج کو ترک کریں گے وہ مفلس ہو جائیں گے۔" (احتجاج طبرسی) چنانچہ حج سے انسان غنی ہو جاتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ " اے لوگو! خدا حج کرنے والوں کی مدد کرتا ہے اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کا عوض (اسی دنیا میں) انہیں مل جاتا ہے اور خدا( آخرت میں) نیک بندوں کا ثواب ضائع نہیں کرتا۔" (احجاج طبرسی)
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں "تین باتوں کا ثواب آخرت کے علاوہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے ۔ حج جس سے تنگدستی دُور ہوتی ہے، صدقہ جو بلائیں رد کرتا ہے، نیکی اور احسان عمر میں اضافہ کرتا ہے۔" (مستدرک)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "اگر لوگ حج ترک کر دیں گے تو ان پر عذاب نازل ہونے میں دیر نہیں لگے گی یا ان پر عذاب نازل ہو گا۔" (کافی)
سماعہ کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے مجھ سے پوچھا "کیا بات ہوئی کہ تم نے امسال حج نہیں کیا؟" میں نے کہا "میں نے کچھ لوگوں کے ساتھ ایک معاملہ کیا ہے اور کچھ دوسرے کام تھے اور امید ہے کہ یہ کام جو میرے حج میں رکاوٹ بنے ہیں نیک ہوں گے۔" آپ نے فرمایا "خدا کی قسم خدا نے ان کاموں میں کوئی نیکی نہیں رکھی ہے جو تیرے حج کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں۔ ہر شخص اپنے کیے ہوئے گناہ کے باعث حج سے محروم ہوتا ہے۔" (کافی)
اسحٰق بن عمار نے حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے عرض کیا "ایک شخص نے حج کو جانے کے لیے مجھ سے مشورہ کیا اور چونکہ میں نے اسے کمزور پایا (یعنی اس کی جسمانی اور مالی طاقت وتوانائی کم دیکھی) میں اسے نے اسے حج پر جانے سے روک دیا۔" امام نے فرمایا "تُو نے جو یہ کام کیا ہے اس کے باعث تو اس بات کا سزاوار ہے کہ تجھے ایک سال تک کے لیے کوئی مرض لاحق ہو جائے۔" اسحق کہتے ہیں کہ جیسا کہ امام نے فرمایا تھا میں ایک سال تک کے لیے مریض ہو گیا۔ (کافی)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو یہ نہیں چاہیئے کہ کسی کو نیک کام خصوصاً حج سے روکے اور اگر اس نے ایسا کیا تو گویا اس نے خدائی راستہ بند کر دیا۔ اس کے بجائے اسے چاہیئے کہ نیکی میں جلدی کرنے کا شوق پیدا کرے کہ ایسا نہ ہو اس سے یہ کام رہ جائے۔ اسی طرح ایک شخص کو یہ بھی نہیں چاہیئے کہ کسی کو پیشِ نظر نیک کام سے دوسری نیکی کی طرف پھیرے جو اس کی سمجھ میں بہتر ہے کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک نیکی کو ترک کر دے اور بہتر نیکی بھی حاصل نہ کر سکے۔ اگر وہ نیکی کی نیت رکھنے والے کی حوصلہ افزائی کرے اور اسے نیکی میں جلدی کرنے پر مجبور کرے تو اس کا امر بالمعروف کرنے والوں میں شمار ہو گا۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "اپنے دینی بھائی کو حج سے روکنے سے ڈرو اور پرہیز کرو۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس عذابِ آخرت کے علاوہ جو اسے دیا جائے گا وہ اس دُنیا میں بھی بلاؤں میں مبتلا ہو گا۔" (وافی)
حج کی فضیلت
جس طرح حج ترک کرنے کی سخت سزائیں مقرر ہیں اسی طرح اس کے بجا لانے پر بھی بڑے بڑے انعامات، کثیر تعداد فوائد اور دُنیا وآخرت کی نیکیاں رکھی گئی ہیں جن کا اکثر روایتوں میں ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے کچھ کا یہاں تذکرہ کیا جاتا ہے۔
جناب رسولِ خدا فرماتے ہیں "حج کرنے والوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں پہلی قسم وہ ہے جس میں شامل لوگوں کا حصہ دوسروں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ ان کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور خدا انہیں عذابِ قبر سے محفوظ رکھے گا۔ ان کے بعد وہ لوگ ہیں جن کے صرف پچھلے گناہ بخشے جائیں گے اور تیسری قسم میں وہ لوگ ہیں جن کا مال اور اولاد اس وقت تک خدا کی محافظت میں رہیں گے جب تک وہ حج سے نہیں لوٹ آتے۔" (کافی)
ایک اور حدیث میں ہے کہ اس قسم میں ایسا شخص شامل ہو گا جو حج کے قبول ہونے کی شرائط نہ رکھنے کے باعث آخرت کا ثواب نہیں پائے گا اور صرف حج سے واپسی تک اس کے اہل وعیال اور مال کی حفاظت ہو گی۔
مسجد الحرام میں ایک شخص نے حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے پوچھا "گناہ اور بدقسمتی میں سے سے بڑھا ہوا کونسا شخص ہے؟" آپ نے فرمایا "وہ شخص جو موقف (یعنی عرفات اور مشعرالحرام) کے درمیان کھڑا رہتا ہے، صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے، خانہ خدا کے گرد طواف کرتا ہے ، مقامِ ابراہیم میں نماز پڑھتا ہے اور اس کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے اسے نہیں بخشا ہے۔ ایسے شخص کا گناہ سب سے بڑھا ہوا ہے۔" (کیونکہ وہ خدا کی رحمت سے ناامید ہے اور جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ مایوسی گناہِ کبیرہ ہے)۔
(وافی۔ من لا یحضرہ الفقیہ)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) اپنے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی حضرت رسولِ خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا "میں حج کے لیے روانہ ہوا اور نہیں پہنچ پایا حالانکہ میں مالدا ہوں۔ حکم دیجئے میں کتنا مال خرچ کروں جو حج کا ثواب حاصل کر سکوں؟" آنحضرت نے فرمایا "کوہ ابوقبیس کی طرف دیکھ اگر یہ سب سونا ہو جائے اور تیری ملکیت میں آ جائے اور تو سب کو خدا کی راہ میں خرچ کر دے، پھر بھی تو حج کرنے والے کے درجے کو نہیں پہنچ سکے گا۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا جس وقت حج کرنے والا سفر حج کے انتظام میں مشغول ہوتا ہے جو چیز اُٹھا اُٹھا کر رکھتا جاتا ہے اس کے عوض اس کے نام دس دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند ہو جاتے ہیں، جب اونٹ پر سوار ہو جاتا ہے تو وہ جو قدم اُٹھاتا ہے ہر قدم پر اس کے لیے ایسا ہی ہوتا ہے اور جب اس نے خانہ خدا کا طواف کر لیا تو وہ گناہوں سے پاک ہو گیا، جب وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ چکا تو پھر گناہوں سے دُور ہو گیا، جب عرفات میں ٹھہرا تو پھر گناہوں سے پاک ہو گیا، جب مشعر میں ٹھہرا تو پھر گناہوں سے پاک ہو گیا اور جب اس نے رمی کی تو پھر گناہوں سے پاک ہو گیا۔ اس طرح آنحضرت ہر موقف کا بیان فرماتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ک ہوہ گناہوں سے پاک ہو گیا ،وہ گناہوں سے پاک ہو گیا۔ پھر آپ نے اعرابی سے فرمایا تو حج کرنے والے درجات تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟" (تہذیب باب فضل الحج)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "حج کرنے والے کے چار ماہ تک گناہ نہیں لکھے جاتے بلکہ اگر گناہ کبیرہ نہ کرے تو اس کا نام اس مدت میں نیکیاں ہی نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔"
محدث فیض نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا ہے کہ گناہوں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ نتیجہ خیزی، دل کے سیاہ کرنے اور چھوٹائی بڑائی کے لحاظ سے ان کے درجے ہوتے ہیں۔ شاید اس حدیث سے ان کی مراد یہ ہے کہ حج کرنے والا ہر موقف میں ایک خاص قسم کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے یا ایک درجے کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ہر قسم کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ بعض گناہوں کو صرف مرنے کے دن عرفات کا قیام ہی پاک کرتا ہے۔
یہ بھی فرماتے ہیں کہ حج اور عمرہ کرنے والے خدا کے مہمان ہوتے ہیں۔ اگر وہ خدا سے کچھ مانگے ہیں تو وہ انہیں عطا کر دیتا ہے، اگر اسے پکارتے ہیں تو وہ جواب دیتا ہے، اگر کسی کی سفارش کرتے ہیں تو قبول کر لیتا ہے، اگر خاموش رہیں گے تو مانگے بغیر انہیں عطا کر دے گا اور ایک ایک درہم کے عوض کو اس کی راہ میں کرچ کریں گے ہزار ہزار بخش دے گا۔ (وافی)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب حاجی مکے میں پہنچتا ہے خدا اس پر دو فرشتے متعین کر دیتا ہے جو طواف، نماز اور سعی میں اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب مرنے کے دن وہ قیام کرتا ہے تو اس کا دایاں کندھا تھپتھپاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا نے تیرے پچھلے گناہ بخش دئیے اب اپنے مستقبل کی فکر کر۔ (وافی)
حج کی فضیلت کے متعلق بہت سی حدیثیں ہیں لیکن اتنی ہی کافی ہیں۔
حج کے واجب ہونے کی شرطیں
اوّل بالغ ہونا
چنانچہ اگر کوئی بچہ بلوغ سے پہلے حج کرتا ہے تو اگرچہ یہ اور دوسری عبادتوں کی طرح صحیح اور مستحب ہو گا لیکن حج واجب کا عوض نہیں ہو سکے گا۔ اگر بالغ ہونے کے بعد حج کی تمام شرطیں اس میں جمع ہو گئیں تو حج اس پر واجب ہو گا۔
دوسری شرط عقل
تیسری شرط اس کا آزاد ہونا (غلام نہ ہونا)
چوتھی شرط یہ ہے کہ حج کرنے کی وجہ سے وہ ایسا مجبور نہ ہو جائے جو کوئی حرام کام انجام دے یا واجب عمل ترک کر دے (بعض کہتے ہیں کہ اس معاملے میں اہم اور مہم کا لحاظ کرنا چاہیئے)۔
پانچویں شرط یہ ہے کہ حج پر جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔
استطاعت کی شرطیں
استطاعت چند باتوں پر منحصر ہے:
اوّل
حج پر جانے اور واپس آنے کے لیے توشہ اور سواری رکھنا یا اتنا مال اس کے پاس ہو جس سے وہ اس سفر کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق توشہ اور سواری کا انتظام کر سکے۔
دوسری
اتنی صحت اور طاقت جو حج کر سکے اور واپس آ سکے۔
تیسری
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ نہ ہو جو حج کے سفر میں خلل ڈالے۔چنانچہ اگر اسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ راستے میں اس کی جان، مال یا آبرولٹ جائے گی تو اس پر حج واجب نہیں ہے۔
چوتھی
حج کی تکمیل تک کے لیے اس کے پاس وقت ہو۔
پانچویں
حج پر جانے اور واپس آنے تک کی مدت کے لیے اپنے کنبے کا خرچ رکھتا ہو اور اس کے کنبے میں وہ لوگ شمار ہوں گے جو اس کی سرپرستی اور کفالت میں ہوں گے چاہے اس پر ان کا نفقہ واجب ہو جیسے بیوی اور اولاد یا واجب نہ ہو جیسے چھوٹا یا بڑا بھائی جو تنگدست ہوں اور بھائی کے ذمے روٹی کھاتے ہوں یا جسے اس نے اپنے پاس رکھ لیا ہو اور جس کا وہ کفیل ہو یا جیسے نوکر اور ماما۔
چھٹی
حج سے واپسی پر روزی کی خاطر تکلیف اور پریشانی میں نہ پڑ جائے یعنی اس کی کمائی کا سلسلہ یا جائیداد کی آمدنی یا اپنی اور اپنے کنبے کی روزی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ ایسا نہ ہو جو جھگڑے میں پڑ جائے۔
جان لینا چاہیئے کہ عمر بھر میں ایک سے زیادہ حج واجب نہیں ہیں۔ ایک حج ادا کرنے کے بعد استطاعت کی صورت میں باقی تمام برسوں کے حج مستحب ہیں۔ مذکورہ شرطوں کے جمع ہو جانے پر واجب ہے کہ اسی سال حج کرے۔ دوسرے یعنی اگلے سال کے لیے اسے ملتوی کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔ اگر بھول گیا اور اس سال حج نہیں کیا تو واجب ہو جاتا ہے کہ اگلے سال ادا کرے چاہے استطاعت نہ بھی رکھتا ہو اور مصیبت اور پریشانی میں مبتلا ہو جائے جس سے حج نہ کر سکے اور اس بیماری سے شفا پانے کی بھی کوئی امید نہ ہو تو واجب کہ اپنی طرف سے حج کروائے یعنی ایک شخص کو مقرر کرے کہ وہ اس کی طرف سے حج ادا کر دے اور وہ اس شخص اجیر کے اخراجات بھی دے۔ اگر اس نے نائب بھی مقرر نہیں کیا اور مر گیا تو واجب ہے کہ لوگ اس کے اصل مال سے حج کے اخراجات علیحدہ کر دیں اور اس کا واجب حج ادا کرنے کے لیے نائب مقرر کر دیں چاہے اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو اور چاہے اتنی رقم کے علاوہ اس کے ترکے یا وراثت میں کچھ مال باقی رہے یا نہ رہے چاہے اس کا وارث نابالغ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مردے کے واجب حج کی نیابت اس کے دوسرے مالی قرضوں کی طرح ہے جو وراثت پر مقدم ہے یعنی پہلے اس کا قرض ادا کرنا چاہیئے پھر اگر کچھ مال بچ جائے تو وارثوں میں بانٹ دیا جائے۔
اس صورت میں جبکہ مرنے والے نے حج کی وصیت کی ہو اس کے حج کے اخراجات اس کے ایک تہائی مال سے محسوب کرنا چاہئیں۔
زندہ یا مردہ کے لیے نائب مقرر کرنا مستحب ہے
مستحب حج کے لیے زندہ یا مردہ شخص کی طرف سے نائب مقرر کرنا مستحب ہے جیسا کہ وسائل میں روایت ہے کہ محمد بن عیسیٰ یقطینی کہتا ہے کہ حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے میرے پاس کچھ رقم بھیجی کہ حضرت کی طرف سے میں خود اور میرے بھائی موسیٰ اور یونس بن عبدالرحمن حج کریں۔
عبداللہ بن سنان کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) کے پاس تھا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام نے اسے تیس دینار دئیے کہ آپ کے فوت شدہ بیٹے اسماعیل کی طرف سے حج بجا لائے اور اس پر یہ شرط عائد کر دی کہ اسماعیل کی طرف سے حج اور عمرہ کے تمام افعال بجالائے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا "اگر تُو ایسا کرے گا تو اسماعیل کو ایک مستحب حج کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ حج اس کا مال خرچ کرنے سے ہو گا اور تجھے نو حج کا ثواب ملے گا اس لیے کہ تو اپنے جسم کو تکلیف دے گا۔" (وسائل الشیعہ)
امام کا نائب پرہیز گار ہونا چاہیئے
وسائل الشیعہ میں لکھا ہے کہ ابو محمد علجی کے دو بیٹے تھے ایک پرہیز گار اور دوسرا بدکار۔ کچھ شیعوں نے اسے رقم دی کہ حضرت حجةبن الحسن کی طرف سے حج کے لیے نائب مقرر کر لے اور یہ شیعوں کی اچھی عبادت تھی۔ چنانچہ ابو محمد نے وہ رقم اپنے بدکار بیٹے کو دے دی اور اس کے ساتھ حج کیا۔ ابو محمد کہتا ہے کہ میں نے عرفے کے دن ایک گیہوں رنگ کے خوبصورت اور خوش لباس جوان کو دیکھا جو دعا مانگنے اور گڑگڑانے میں سب سے بڑھا ہوا تھا۔ جب لوگوں کے عرفات سے مشعر کے لیے روانہ ہونے کا وقت آیا تو اس نے مجھ سے کہا "اے شیخ کیا تجھے خدا سے شرم نہیں آتی؟" میں نے پوچھا "کیوں؟" وہ بولا "تجھ سے حج کرنے کے لیے کسی ایسے نائب کے لیے کہا گیا تھا جسے تو جانتا ہو اور تو اسے ایسے شخص کے سپرد کر دیتا ہے جو شراب پیتا ہے اور گناہ پر پیسہ خرچ کرتا ہے، کیا تو اندھا ہو جانے سے نہیں ڈرتا؟" پھر اس نے میری آنکھوں کی طرف اشارہ کیا، میں شرمندہ ہوا، جب میرے حواس درست ہوئے تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن اسے نہیں پایا۔ چالیس دن گذرنے سے پہلے پہلے میری آنکھوں میں زخم ہو گئے اور میں اندھا ہو گیا۔
کتاب کافی میں موسیٰ بن قاسم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کیا "میں آپ اور آپ کے بزرگوں کی طرف سے طواف کرنا چاہتا تھا لیکن بعض لوگوں نے کہا کہ امام کی طرف سے طواف کرنا جائز نہیں ہے"۔ حضرت نے فرمایا "جس قدر کر سکتا ہے طواف کر بے شک یہ کام جائز ہے۔" راوی کہتا ہے "پھر تین سال کے بعد میں آپ کی خدمت میں پہنچا ور میں نے عرض کیا کہ چند سال پہلے میں نے آپ سے اجازت لی تھی کہ آپ اور آپ کے بزرگوں کی طرف سے طواف کروں، آپ نے اجازت دے دی تھی۔ چنانچہ جتنا خدا نے چاہا تھا میں نے طواف کیا، ایک دن جناب رسولِ خدا کے لیے طواف کیا، ایک دن امیرالمومنین کے طواف کیا، اسی طرح آخری دن میں نے آپ کے لیے طواف کیا۔ اے میرے آقا! میں نے جن لوگوں (محمد وآلِ محمد) کا ذکر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی محبت کو میں نے اپنا دین وایمان جانا ہے"۔ حضرت نے فرمایا" ایسی صورت میں تو نے ایسا دین اختیار کیا ہے جس کے علاوہ خدا کوئی دوسرا دین قبول نہیں کرتا۔ پھر میں نے کہا "اکثر ایسا ہوا ہے کہ میں نے آپ کی والدہ حضرت فاطمہ کے لیے طواف کیا اور کبھی نہیں کیا۔ " حضرت نے فرمایا "اکثر ایسا کیا کر بے شک یہ کام جو تو کرتا ہے تمام کاموں سے افضل ہے۔"
حج واجب ہونے کے اسباب
اہل بیت سے ملنے والی چند روایتوں میں حج کے واجب ہونے کے اسباب اور اس کے مناسک کی مصلحتیں بیان کی گئیں ہیں۔ چنانچہ وسائل الشیعہ میں حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے ایک روایت بیان کی گئی ہے جس کا خلاصہ نیچے پیش کیا جاتا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حج کرنے کا حکم صرف اسی لیے دیا گیا ہے کہ انہیں مادی اور روحانی فائدے پہنچیں یعنی:
( ۱) خدا سے قریب ہونا
( ۲) بہت زیادہ انعامات حاصل کرنا
( ۳) کیے ہوئے گناہوں سے پاک ہونا جبکہ اپنے ماضی پر شرمندہ ہو اور مستقبل میں خدا کی اطاعت اور بندگی کرنا چاہتا ہو
( ۴) خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا اور خدا کی خاطر اپنے جسم کو تکلیف دینا
( ۵) اپنے کنبے سے الگ ہونا اور ان کی محبت ترک کر دینا
( ۶) خوشیوں سے اپنے نفس کو روکے رکھنا اور سردی او گرمی میں عاجزی اور انکسار سے خدا کی بارگاہ میں حاضر ہونا غرض تمام تعلقات ختم کر کے خدا سے پوری پوری لَو لگانا۔
( ۷) دُنیا بھر کے مسلمانوں کو بہت سارے فائدے پہنچانا چاہے وہ مکے میں ہوں چاہے دوسرے شہروں میں چاہے وہ لوگ ہوں جو تجارت، مال برداری، خرید وفروخت، مزدوری اور کرائے پر چیزیں دینے سے کافی فائدہ اُٹھاتے ہیں، چاہے وہ بہت سے غریب ہوں جنہیں کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے اور چاہے بہت سے ایسے مسلمان ہوں جن کی حاجتیں ایک مقام پر بہت سے لوگوں کے جمع ہونے سے پوری ہو جاتی ہیں
( ۸) حج میں اکٹھے ہونے سے بہت سے ناواقف لوگوں کو صحیح اعتقادات اور دین کے سچے احکام اور اہل بیت کی روایتیں اور ان کے بارے میں چیزیں معلوم ہو جاتی ہیں۔
خدا کی بند گی، فرشتوں سے مشابہت
حضرت امیرالمومنین نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ خدا نے تم پر خانہ کعبہ کا حج واجب کر دیا ہے اور اسے لوگوں کا قبلہ قرار دیا ہے۔ وہاں حج کرنے والے اسی طرح اکٹھے ہوتے ہیں جس طرح چوپائے (اس گھر میں ان لوگوں کا ثواب حاصل کرنے کے لیے جمع ہونا ایسا ہی ہے جیسا کسی پانی کے چشمے پر پیاسے چوپایوں کا ہجوم کرنا) اور وہاں پہنچنے کا ایسا ہی شوق رکھتے ہیں جیسا کبوتر اپنے گھونسلے میں پہنچنے کا شوق رکھتے ہیں۔ خدائے بزرگ نے اس گھر کو اپنی بزرگی اور عظمت مقابلے میں لوگوں کی عاجزی اور اپنی عزت اور سلطنت کی تصدیق کی علامت اور نشانی قرار دیا ہے اور اپنے ان سننے والے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے جنہوں نے (وہاں جانے کے لیے) اس کی دعوت قبول کی اور اس کے حکم کو صحیح مان کر اس پر عمل کیا۔ پیغمبروں کی جگہ کھڑے ہو کر اپنے آپ کو ان فرشتوں سے مشابہ قرار دیا جو عرش الہٰی کا طواف کرتے ہیں۔ اپنے ایمان کے سرمائے سے خدا کی عبادت کے کاروبار میں بہت زیادہ فائدہ اُٹھتے ہیں اور جلدی کرتے ہیں اور خدا کی بخشش کی وعدہ گاہ کے قریب پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدا نے اس گھر کو اسلام کی نشانی اور پناہ چاہنے والوں کی پناہ گاہ بنایا ہے اور اس کا حج واجب کر دیا ہے، اس کا احترام لازم قرار دیا ہے اور وہاں جانے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ سورہ آلِ عمران آیت ۹۷ میں فرمایا ہے "بیت الحرام کا حج خدا کا ان لوگوں پر حق ہے (اور اس کا حق ادا کرنا واجب ہے) جو وہاں جانے کی استطاعت اور طاقت رکھتے ہیں اور جو کوئی کافر ہو جائے (استطاعت رکھتے ہوئے بھی خدا کا حکم نہ بجا لائے) تو وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اس لیے کہ خدا تمام دُنیاوالوں سے بے نیاز ہے یعنی ان سے کوئی حاجت نہیں رکھتا (اسے لوگوں کے ایمان اور عبادت کی ضرورت نہیں ہے اس لیے گھاٹا اسی کا ہوتا ہے جو نافرمانی کرتا ہے۔)" نہج البلاغہ جلد اوّل فیض الاسلام خطبہ ۲ صفحہ ۳۲)
نراقی نے معراج السعادة میں حج کے ظاہری اور باطنی اسباب نہایت شیریں عبارتوں میں اور اچھے اسالیب سے بیان کیے ہیں جس کے کچھ جملے یہاں دہرائے جاتے ہیں۔ حج دین کا سب سے بڑا ستون ہے اور اتنی اچھی بات ہے کہ انسان کو خدا کے قریب پہنچا دیتی ہے اور وہ اللہ کی طرف سے سب سے اہم فریضہ اور سب سے سخت جسمانی عبادت ہے۔ اس کا ترک کرنے والا یہودیوں اور عیسائیوں میں شمار ہوتا ہے اور بہشت سے محروم رہتا ہے۔ اس کی فضیلت اور اسے ترک کرنے کی برائی سے متعلق حدیثیں مشہور ہیں اور حدیث کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔
انسان کی پیدائش کی اصلی غرض یہ ہے کہ وہ خدا کو پہچانے اور اس سے محبت اور انس رکھے اور یہ اس کے نفس کی پاکیزگی پر منحصر ہے اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ فطری خواہشات سے دُور رہے، اپنے نفس کو شہوانی لذتوں سے بچائے، دُنیا کا مال ومتاع ترک کر دے۔ خدا کی خاطر سخت اعمال بجا لانے میں اپنے جسم اور اعضائے جسم کو استعمال کرے، خدا کو برابر یاد رکھے اور دل کو اس کی طرف متوجہ رکھے۔
اسی لیے خدا نے ایسی عبادتیں مقرر فرمائی ہیں جن سے یہ اغراض حاصل ہوتی ہیں۔ چنانچہ بعض عبادتیں خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے سے متعلق ہیں جو مالِ دُنیا سے دل ہٹا دیتی ہیں جیسے زکوٰة، خمس اور صدقات۔بعض عبادتوں میں خواہشات اور لذات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ جیسے روزہ۔ بعض خدا کو یاد کرنے، اس سے لَو لگانے اور جسمانی اعضاء کے استعمال سے متعلق ہیں جیسے نماز اور حج کی عبادت ان سب اغراض پر مشتمل ہے۔ کیونکہ اس میں وطن چھوڑنا، جسم کو استعمال کرنا، مال کی خیرات کرنا، امیدیں توڑ لینا، محنت ومشقت برداشت کرنا، خدا سے کیے ہوئے عہد کو دُہرانا، طواف، دعا، نماز اور ایسے کاموں میں مشغول ہونا بھی شامل ہے جن سے آدمی مانوس نہیں ہو پایا اور جنہیں عقلیں نہیں سمجھ پاتی ہیں۔ مثلاً کنکریاں مارنا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا۔ ان جیسے اعمال سے انتہائی بندگی اور ذلت اور بے مائگی ظاہری ہوتی ہے کیونکہ تمام عبادتیں ایسے اعمال ہیں جنہیں بہت سی عقلیں سمجھ لیتی ہیں اور اسی لیے طبیعتیں ان سے مانوس ہو جاتی ہیں اور نفس کو ان سے لگاؤپیدا ہو جاتا ہے ۔
لیکن حج کے بعض اعمال ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ہم جیسوں کی عقلیں ان کی تہ تک نہیں پہنچ پاتیں۔ چنانچہ انہیں مالک کی بندگی اور اس کے حکم کی بجا آوری ہی کے لیے ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی عمل میں بندگی کا اظہار زیادہ ہوتا ہے کیونکہ حقیقی بندگی اسی عمل میں ہوتی ہے جس کا سبب اپنے مالک کی اطاعت کے سوا اور کچھ نہ ہو یہی وجہ تھی کہ رسول خدا نے حج کے سلسلے میں فرمایا ہے کہ "لبیک بحجة حقاً تعبداً ورقاً" یعنی اے خدا میں نے تجھے بندگی اور اطاعت سے حج کر کے جواب دیا ہے اور دوسری عبادتوں میں ایسا نہیں فرمایا۔ اس لیے ایسی عبادت جس کی تہ تک کسی کی عقل نہ پہنچ پائے، بندگی ظاہر کرنے میں زیادہ کامل ہے۔ اب جو لوگ ان عجیب کاموں پر تعجب کرتے ہیں وہ عبودیت اور بندگی کے اسرار نہیں جانتے اور یہی وجہ حج کے مقرر کرنے کی ہے۔
حج کے ہر عمل میں آخرت کی کسی نہ کسی حالت کا نمونہ ہوتا ہے یا اس کا کوئی اور سبب ہوتا ہے جیسا کہ اس کا ذکر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حج کی عبادت کے لیے لازمی ہے کہ دُنیا والے ایک ایسی جگہ اکٹھے ہوں جہاں وحی لانے والے فرشتے آتے جاتے رہے ہیں اور رسولِ اکرم کی خدمت میں پہنچے ہیں اور آپ سے بھی پہلے خدا کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس مقام پر پہنچے تھے اور وہاں ان پر فرشتے نازل ہوتے رہے بلکہ وہ مقام ایسی پاک زمین ہے جہاں آدم (علیہ السلام) سے خاتم تک بڑے بڑے نبی برابر ٹھیرے رہے ہیں، ہمیشہ وحی نازل ہوتی رہی ہے اور فرشتے اُترتے رہے ہیں۔ اسی جگہ سیّد الانبیاء پیدا ہوئے اور آپ کے اور تمام نبیوں کے مبارک قدم اکثر اس زمین پر پڑے، خدا نے اسے اپنا گھر کہا، اپنے بندوں کی عبادت کی غرض سے بنایا، اپنے گھر کے اطراف کو حرم گاہ مقرر کیا۔ عرفات کو اپنے گھر کے ابتدائی میدان سے مثل قرار دیا، اپنے گھر کے احترام اور عزت کی غرض سے اس جگہ جانداروں کا ستانا اور درختوں اور گھاس وغیرہ کا اکھاڑنا حرام کر دیا۔ اسے بادشاہوں کی رجدھانی کی خاطر خاص اور اہم مقام قرار دیا جس کو دیکھنے کے لیے لوگ لمبے لمبے سفر کر کے دُور دراز کے مقامات سے الجھے بالوں اور دھول سے اَٹے ہوئے چہروں اور جسموں کے ساتھ وہاں آئیں تاکہ اس گھر کے مالک کے آگے جھکیں اور زبان سے اقرار کریں کہ وہ زمان اور مکان سے ماورا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے محترم مقام پر جمع ہونے سے محبت پیدا ہوتی ہے اور دُنیا بھر سے حج کے لیے آنے والے اچھے اچھے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور صحبت رہتی ہے۔ دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں۔ پیغمبراکرم ، ان کی عظمت وبزرگی، دینِ الہٰی کے رائج کرنے اور خدائی احکام کے پھیلانے میں ان کی کوشش اور محنتیں یاد آ جاتی ہیں اور یہ سب باتیں مل کر نفس کو پاک وپاکیزہ بنا دیتی ہیں۔ (حج کے متعلق جملہ معلومات کے لیے کتاب مذکورہ کا مطالعہ کیجئے)۔
واجب کا ترک کرنا
انتالیسواں گناہِ کبیرہ خدا کے واجبات میں سے کسی ایک واجب کا بھی ترک کر دینا ہے۔ جیسا کہ صحیحہ عبدالعظیم میں حضرت امام محمد تقی ، حضرت امام رضا، حضرت امام کاظم اور حضرت امام جعفرصادق (علیھم السلام)کے اقوال موجود ہیں کہ کسی ایسی بات کا ترک کر دینا جو خدا نے واجب فرما دی ہے گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ رسول خدا نے فرمایا ہے "جو شخص نماز کو جان بوجھ کو ترک کرے گا وہ خدا ورسول کی ذمہ داری اور حفاظت وپناہ سے دُور ہو جائے گا۔"
"اوشیئًا مما فرض اللّٰه لان رسول اللّٰه قال من ترک الصلٰوة متعمداً فقد بری من ذمة اللّٰه وذمة رسوله"
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا "خداوندعالم نے جس بات کا حکم دیا ہے اسے ترک کر دینا کفر ہے۔" جیسا کہ خداوندعالم نے فرمایا ہے "کیا تم آسمانی کتاب کے بعض احکامات اور خدائی حکم کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے؟ تم میں سے جو شخص ایسا کرتا ہے اس کی سزا دنیاوی زندگی میں خواری اور قیامت میں سخت ترین عذاب میں گرفتاری کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور تم جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے"۔ (سورہ البقرہ آیت ۸۵)
امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا ہے "خدا نے ان لوگوں کو اس بات کے ترک کرنے پر کافر مانا ہے جس کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے۔ انہیں مومن توکہا ہے لیکن ان کے ایمان کو قبول نہیں کیا ہے اور اسے اپنے نزدیک ان کے لیے مفید نہیں سمجھا بلکہ فرمایا ہے کہ ان کی جزاء دُنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔" (کافی ۔باب وجوہ الکفر)
اس حدیث شریف کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے کسی واجب حکم کو ترک کر دینا کفر کا ایک درجہ ہے جیسا کہ مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے "اور تم کفر کے کچھ طریقوں پر عمل کرتے ہو۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکِ واجب ایسا گناہ ہے جس کے لیے قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت کے آخر میں بتایا گیا ہے "ایسے شخص کی سزا دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔"
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں "جو بندہ ترک واجب کرتا ہے یا گناہ کبیرہ بجا لاتا ہے، خدا اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھتا اور اسے پاک نہیں کرتا۔" راوی نے تعجب سے پوچھا "کیا خدا ایسے شخص پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا؟" امام نے فرمایا "ہاں! کیونکہ ایسا شخص مشرک ہو گیا ہے اور اس نے خدا کا شریک مان لیا ہے۔" وہ پھر حیرت سے پوچھتا ہے "کیا مشرک ہو گیا ہے؟" امام نے فرمایا "ہاں! کیونکہ خدا نے ایک بات کا حکم دیا اور شیطان نے بھی ایک بات کا حکم دیا (یعنی خدا نے جس بات کا حکم دیا تو شیطان نے اسے ترک کرنے کا حکم دیا) تو اس نے اس بات کو تو ترک کر دیا جس کا خدا نے حکم دیا تھا اور شیطان کا حکم مان لیا۔ (واجب ترک کر کے اور حرام کام انجام دے کر)۔ پس ایسا شخص شیطان کی اطاعت کے باعث دوزخ کے ساتویں درجے میں جو منافقوں کی جگہ ہے، شیطان کے ساتھ رہے گا۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں شرک سے اطاعت میں شرک مراد ہے جیسا کہ شرک کی گفتگو میں گذر چکا ہے۔
فتنہ اور دردناک عذاب
جن آیتوں میں خدا کے واجب حکم کی مخالفت کرنے پر اور سخت ڈر اوا دکھایا اور عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک سورہ نور بھی ہے جس میں کہا گیا ہے "جو خدائی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ ان پر بلا یا دردناک عذاب نازل ہو گا۔" (آیت ۶۳)
بعض مفسروں نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ فتنے سے دُنیاوی بلا اور آخرت کا دردناک عذاب مراد ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ فتنہ اور عذاب دونوں آخرت کے ہوں۔
واجب ا حکامات بجا لانے کی اہمیت کے بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں مثلاً پیغمبر اکرم فرماتے ہیں "خدا نے مجھ سے معراج کی رات میں یہ فرمایا تھا کہ میرا بند میرے حکم پر عمل کرنے کے علاوہ اور کسی چیز سے میرے قریب نہیں آتا۔" (کافی)آپ نے یہ بھی بھی فرمایا "واجبات پر عمل کر جس سے تو سب سے زیادہ پرہیز گار انسان بن جائے۔" (کافی) اور دوسری روایتوں کے مطابق فرمایا "جس سے تو بہترین انسان بن جائے گا۔"
واجبات کیا ہیں ؟
جس بات کا خدا نے حکم دیا ہے اس کے کرنے سے ثواب اور نہ کرنے سے عذاب ملے گا اسے فریضہ اور واجب کہتے ہیں اور خدا کے فریضے اور واجبات بہت سے ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ اہم جن پر دینِ اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے پانچ چیزیں ہیں: نماز، روزہ، حج، زکوٰة، ولایت۔ کچھ روایتوں میں ان پانچ چیزوں کو ارکانِ دین اور اسلام کے اصول کہا گیا ہے۔ وسائل کے مصنف نے اس مضمون کی کچھ روایتیں بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ امر معروف اور نہی منکر جہاد ہی کی ایک قسم ہے اور جہاد بھی ولایت کے تابع ہے جیسا کہ روایت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چونکہ خمس جس کی تفصیل گذر چکی ہے ایسا ہے جیسے سادات کو زکوٰة دینا، نماز، روزہ، حج، زکوٰة، خمس، جہاد، امر بہ معروف، نہی عن از منکر، تولا اور تبرّا۔ نماز، حج، زکوٰة اور خمس کا ترک کرنا گناہِ کبیرہ ہے جو پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے۔ باقی کا مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔
ماہِ رمضان کا روزہ
ماہِ رمضان کے روزے کا واجب ہونا دینِ اسلام کی ضرورت ہے۔ اس کا نہ ماننے والا مرتد اور واجب القتل ہے۔ اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے کسی عذر کے بغیر اسے ترک کرتا ہے لیکن اس کے واجب ہونے سے انکار نہیں کرتا تو اسے سزا دینا چاہیئے یعنی پچیس کوڑے مارنا چاہئیں یا پھر حاکم شرع جتنی تعداد مناسب سمجھے اتنے کوڑے مارے اور اگر پھر روزہ ترک کرے تو دوبارہ بھی سزا دے اور تیسری بار اسے قتل کر دے۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو شخص ماہِ رمضان میں کسی عذر کے بغیر ایک دن بھی کھانا کھائے تو اس سے ایمان کی حقیقت جاتی رہتی ہے۔" (ثواب الاعمال صدوق) آپ نے یہ بھی فرمایا "جو شخص کسی عذر کے بغیر ماہِ رمضان کے تین روزے کھا جائے اسے تینوں دن امام کے سامنے حاضر کیا جائے۔ تیسری بار اسے قتل کر دینا چاہیئے۔"
خدا کی راہ میں جہاد
جہاد بھی نماز روزے کی طرح دینِ اسلام کا ایک رکن ہے جیسا کہ روایت میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ اس کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں اور اس کے ترک کرنے کی سزا کے متعلق بہت سی آیتیں اور حدیثیں اور روایتیں ملتی ہیں۔
جہاد کی کئی قسمیں ہیں : پہلی قسم کافروں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ابتداء میں ان سے لڑائی کرنا۔ اس قسم کے جہاد کی کچھ شرطیں ہوتی ہیں مثلاً امام کا حکم یا امام کے نائب کا حکم اور چونکہ ہمارے زمانے میں امام غائب ہیں اور ان کے کوئی خاص نائب بھی نہیں ہیں اس لیے ابتدائی جہاد ساقط ہے یعنی واجب نہیں ہے۔
دوسری قسم ان کافروں سے لڑنا ہے جنہوں نے مسلمانوں پر اس لیے حملہ کر دیا ہو کہ وہ اسلام اور اس کے آثار ہی ختم کر ڈالیں۔ اس قسم کے جہاد کے لیے امام یا ان کے نائب کی اجازت یا حکم کی شرط نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں یہاں تک کہ عورتوں پر بھی طاقت اور استطاعت کی صورت میں واجب ہے (بطور واجب کفایہ) کہ وہ لڑیں، اسلامی علاقے کو بچائیں اور غیروں اور کافروں کا فساد دُور کریں۔
تیسری قسم کافروں کی اس جماعت سے جنگ کرنا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کا مال لوٹنے کے لیے حملہ کر دیا ہو چاہے ان کی نیت مذہب تبدیل کرانا اور اسلام کو مٹانا نہ ہو۔ اس قسم میں بھی امام یا ان کے نائب کی اجازت یا حکم کی ضرورت نہیں ہے۔
چوتھی قسم جان، مال اور عزت بچانے کے لیے لڑنا اور یہ ہر مسلمان پر ہر اس شخص کے خلاف واجب ہے جو چاہتا ہے کہ اسے یا دوسرے مسلمان کو قتل کرڈالے یا اس کی عزت یا دوسرے مسلمان کی عزت پر ڈالے یا یا اس کا دوسرے مسلمان کا وہ مال واسباب لوٹ لے جس کی حفاظت کرنا واجب ہے بشرطیکہ قوت رکھتا ہو خطرے سے محفوظ ہو۔ اسے چاہیئے کہ اپنا اور دوسروں کا بچاؤ، بچاؤ کی شرطوں کے مطابق کرے۔ ان چاروں قسموں میں سے ہر قسم کے متعلق بہت سے احکام اور تفصیلات ہیں جن کا ذکر فقہ کی کتابوں میں ملتا ہے۔
مرحوم کاشف الغطاء کتاب اصل الشیعہ میں یوں لکھتے ہیں:۔
"جہاد اسلامی عمارت کا سنگِ بنیاد اور اس کے خیمے کی میخ اور ستون ہے کیونکہ جہاد سے اسلام کا خیمہ برپا، دینداری کے علاقے پھیلے ہوئے اور شریعت کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ اگر جہاد نہ ہوتا تو اسلام دنیا والوں کے لیے رحمت اور انسانوں کے لیے برکت کا باعث نہ ہوتا۔"
جہاد جان ومال کی خیرات اور خدا کی راہ میں قربانی دینا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے دشمن پر غلبہ حاصل ہو اور زمین پر ظلم اور تباہی کا خاتمہ ہو جائے۔
ہمارے عقیدے کے مطابق جہاد دو قسم کا ہوتا ہے ایک جہاد اکبر جو اندرونی دشمن یعنی نفس کا مقابلہ ہے تاکہ اس لڑائی سے نفس کی ناپسندیدہ خصوصیات جیسے علمی، ظلم وست، غرور اور گھمنڈ، جلن، کنجوسی اور دوسری بری باتیں دُور ہو جائیں جیسا کہ فرمایا "اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک" یعنی تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے دونوں پہلوؤں کے بیچ میں رہتا ہے۔
دوسرا جہاد اصغر (چھوٹا جہاد) اور وہ خارجی دشمن کا مقابلہ ہے جو سچائی کا دشمن ہے، بھلائی کا دشمن ہے، خوبی کا دشمن ہے اور دین کا دشمن ہے۔
نفس کا علاج، گھٹیا خصوصیات اور خراب جبلتوں اور عادتوں کو دُور کرنا ہے جس کی بنیادیں پختہ اور راسخ ہو گئی ہوں اور طبعیت ثانی بن گئی ہوں۔ یہ اس قدر مشکل ہے کہ نبی اکرم نے اس قسم کے جہاد کو اپنے کچھ مقولات میں جہاد اکبر کہا ہے اور خود آپ اور آپ کے بزرگ اصحاب بھی زندگی بھر ان دونوں جہادوں میں مشغول رہے۔ اس اعتبار سے ان لوگوں نے اسلام کو اتنے عزواحترام اور کمال کے درجے تک پہنچا دیا کہ جب ہم قلم رکھ کر کل (صدر اسلام) کے مسلمانوں کے جہاد کا تصور اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون اور آہ وفریاد کی جگہ دل کے ٹکڑے سینے سے باہر آ جائیں اور عبادت پر عبادت اور کلمے پر کلمہ سبقت لے جانے لگے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہو گی ۔تم خود اپنی عقل سے معلوم کر لو کہ میرے قلم کو کس چیز نے باندھ دیا اور میرے بیان کو روک دیا۔ کس چیز نے میرا دل پگھلا دیا اور میرے غم میں جوش پیدا کر دیا اور بات کرنے اور خفیہ راز کے ظاہر کنے کی آزادی بھی مجھ سے چھین لی۔
امر بہ معروف اور نہی از منکر
امر بہ معروف یعنی دوسرے کو اطاعت پر مجبور کرنا اور نہی ازمنکر یعنی دوسرے کو گناہوں سے روکنا یہ دونوں پچھلے چھ واجبات کی طرح اسلام کے ارکان اور اہم فرائض ہیں اور جہاد کا ایک شعبہ ہیں۔ چنانچہ بہت سی میں صراحت کی گئی ہے۔ ان کے بارے میں زوردار حکم اور ان کے ترک کرنے کی سخت ممانعت بہت سی آیتوں اور روایتوں میں ملتی ہے جن میں یہاں کچھ کابیان کیا جاتا ہے۔
سورہ آل عمران میں کہا گیا ہے "تم میں سے جو لوگ مسلمانوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں اور انہیں نیک کاموں کا حکم دیتے اور برئی سے منع کرتے ہیں وہ حقیقت میں نجات پانے والے ہیں۔ ((آیت ۱۰۴)
خدا نے اس آیت میں تبلیغ کی تاکید کے ساتھ ساتھ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو واجب قرار دیا ہے۔ اسی سورت میں ایک اور مقام پر فرمایا ہے "تم مسلمان بہترین امت ہو (یا تھے) جسے خدا نے دُنیا کے لوگوں کے سامنے ظاہر کیا کیونکہ تم امر بہ معروف اور نہی از منکر کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔" (آیت ۱۱۰)
سورہ مائدہ میں ان لوگوں کو ملامت کرتے ہوئے جو نہی از منکر کو ترک کر چکے ہیں خدا فرماتا ہے "یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء اپنی اپنی امت کو گناہ کی باتوں (مثلاً کتاب میں تبدیلی اور سچ کے خلاف گفتگو) ، رشوت ستانی اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے۔ واقعی یہ کتنا بُرا رویہ ہے جویہ لوگ اختیار کیے ہوئے ہیں "۔(آیت ۶۳)
اصحابِ سبت کے قصے میں خدا یوں فرماتا ہے "یہ ایسی قوم تھے کہ خدا نے اتوار کے دن مچھلی کا شکار ان کے لیے حرام کر دیا تھا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ ان میں سے ایک جماعت نصیحت کر کے انہیں شکار سے منع کرتی تھی، کچھ دوسرے خاموش تھے اور برائی سے نہیں روکتے تھے بلکہ منع کرنے والوں کو چپ ہونے کو کہتے تھے کہ ان سے تعلق ہی نہ رکھو اور انہیں ہلاک ہو جانے دو، جب وہ قوم گناہ میں ڈوب گئی تو ان پر خدا کا عذاب نازل ہوا، صرف بُرائی سے روکنے والے ہی نجات پا سکے، باقی یعنی گناہگار اور وہ لوگ جو بُرائی سے نہیں روکتے تھے سب بندر بن گئے اور ہلاک ہو گئے۔" (سورہ اعراف آیات ۱۶۳ ۔ ۱۶۶)
ان آیتوں سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو ترک کرنا ایسا گناہ ہے جس کے لیے قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ منکر کا بجا لانے والا اور نہی از منکر کا ترک کرنے والا دونوں عذاب کے یکساں مستحق ہیں کیونکہ اگر بُرائی کرنے والے نے حرام کام کیا ہے تو نہی از منکر کو ترک کرنے والے نے بھی واجب الہٰی کو جو نہی از منکر ہے چھوڑ دیا ہے اور یوں گناہگار ہو گیا ہے۔ (تفسیر المیزان میں ان آیتوں کی تفسیر میں اہل بیت کی روایتیں دیکھئے)
یہ بھی فرمایا گیا ہے "بنی اسرائیل میں سے جو لوگ کافر ہو گئے ان پر داؤد سے اپنی زبان سے لعنت کی (کیونکہ اصحاب مائدہ نے لعن ونفرین کی تھی) یہ لعنت جس کے نتیجے میں وہ مسخ ہو گئے ان پر اس کے پڑی کہ ایک تو وہ نافرمانی میں حد سے بڑھ جاتے تھے اور دوسرے ان میں سے کچھ لوگ دوسروں کو اس برے کام سے جو وہ کرتے تھے نہیں روکتے تھے۔ کیسا بُرا تھا وہ کام جو یہ لوگ کرتے تھے ۔"(سورہ مائدہ آیات ۷۸ ۔ ۷۹)
آیت میں نہی از منکر کو ترک کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "یہ لوگ جو نہی از منکر نہ کرنے کے نتیجے میں پیغمبروں کی لعنت کے مستحق ہوئے اور ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں کبھی گناہگاروں کے ساتھ نہیں رہتے تھے اور ان کی مجلسوں اور محفلوں میں شرکت نہیں کرتے تھے لیکن جب انہیں دیکھتے تھے تو ان کے سامنے خوش ہوتے اور ان سے محبت کا اظہار کرتے تھے"۔
(وسائل الشیعہ کتاب امر بہ معروف)
روایتوں میں امر بہ معروف اور نہی از منکر
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "تم کو امر بہ معروف اور نہی از منکر کرنا چاہیئے۔ اگر نہیں کرو گے تو تم پر بُرے لوگ مسلط ہو جائیں گے پھر تمہارے نیک لوگ چاہے کتنی دعائیں کریں قبول نہیں ہوں گی۔" (وسائل الشیعہ)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں "جب میری امت امر بہ معروف اور نہی از منکر کو چھوڑ دے تو پھر خدا کے قہر وعذاب کے پہنچنے کا انتظار کرے۔"
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ "خدا اس کمزور مومن کو دشمن سمجھتا ہے جو دین نہیں رکھتا۔"
آپ سے پوچھا گیا "اے رسول خدا ! ایسا شخص کون ہے؟"
آپ نے فرمایا "وہ شخص ہے جو نہی از منکر نہیں کرتا یعنی دوسروں کو بُرائی سے نہیں روکتا۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ "خدا نے حضرت شعیب پر وحی بھیجی کہ میں تمہاری قوم کے ایک لاکھ آدمی ہلاک کر دوں گا۔ چالیس ہزار بدکار اور ساٹھ ہزار نیک" شعیب نے پوچھا "اے پروردگار! بُرے تو خیر عذاب کے مستحق ہیں لیکن نیک کیوں؟" خدا نے فرمایا "کیونکہ یہ گناہگاروں سے مل گئے اور میرے غضب کے باوجود ان سے ناراض نہیں ہوئے اور انہیں بُرائی سے نہیں روکا۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "ان لوگوں پر سخت عذاب نازل ہو گا جو امر بہ معروف اور نہی از منکر چھوڑ دیں گے۔" (وسائل الشیعہ)
امیرالمومنین فرماتے ہیں "بے شک خدا نے تم سے پہلے والے لوگوں پر امر بہ معروف اور نہی از منکر ترک کرنے کے باعث لعنت فرمائی ہے ، چنانچہ نادانوں کو گناہ کرنے اور داناؤں کو نہی از منکر چھوڑ دینے پر لعنت فرمائی ہے۔"
امر بہ معروف اور نہی از منکر واجب ہو جاتا ہے
چار شرطیں جمع ہونے پر امر بہ معروف اور نہی از منکر واجب ہو جاتا ہے:
( ۱) معروف اور منکر کا علم: جس بات کا دوسرے کو حکم دینا چاہے اور اسے انجام دینے کے لیے مجبور کرے تو یہ لازم ہے کہ اس بات کے واجب ہونے کا یقین رکھتا ہو۔ مثلاً وہ دین کی ضرورت ہو یا ایسا معاملہ ہو جس پر تمام معاملہ ہو جس پر تمام علماء اور مجتہدوں کا اتفاق ہو اور اگر مسئلہ اختلافی ہو تو اس کے لیے حکم دینا واجب نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ شخص جو اسے چھوڑ رہا ہے وہ ایسے شخص کی تقلید کرتا ہو جو اسے واجب نہیں جانتا۔
ایسی صورت میں بھی جب یہ شبہ ہو کہ واجب کا ترک کرنے والا شرعی یا عقلی عذر رکھتا ہے اس کا حکم دینا واجب نہیں ہے اسی طرح نہی از منکر میں بھی چاہیئے کہ اس بات سے منع کرنا چاہتا ہے اس کا حرام ہونا مسلم ہو۔ مثلاً اگر یہ دیکھے کہ کوئی کسی مسلمان کی غیبت کرتا ہے اور یہ شبہ ہو کہ یہ غیبت اس کے نزدیک ایسا معاملہ ہے جس کی اسے شرع کی رو سے اجازت دے دی گئی ہو تو اس سے روکنا واجب نہیں ہے بلکہ اس کی بے عزتی کا سبب بھی ہو تب بھی جائز نہیں ہے غرض جس بات کے کرنے کا حکم دینا چاہتا ہے اس کے معروف ہونے کا حکم (حکم کی رو سے اور موضوع کے اعتبار سے) علم ہونا چاہیئے اور جس بات سے روکنا چاہتا ہے اس کا منکر یعنی بُرا ہونا بھی (حکم کی رو سے اور موضوع کی رو سے) مسلّم ہونا چاہیئے۔
( ۲) امر اور نہی کے فائدے اور نتیجے کا گمان غالب ہو۔ اگر یہ یقین ہو کہ اس کے امر ونہی سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا تو امر ونہی واجب نہیں ہے۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے پوچھا گیا "پیغمبر اکرم کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جہاد کی سب سے اعلیٰ قسم ظالم حاکم کے سامنے سچی بات کہنا ہے؟"
امام نے فرمایا "یہ ایسے موقعے اور معاملے کے لیے ہے جب واقفیت کے بعد اسے حکم دے اور وہ بھی قبول کر لے یعنی مان لے اور اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ نہیں مانے گا تو پھر نہ کہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب امر بہ معروف)
( ۳) جس نے معروف کو ترک کر دیا ہو یا جو منکر کا مرتکب ہو گیا ہو اور وہ واجب کے ترک کرنے اور فعل حرام کے ارتکاب پر اصرار کرتا ہو اب اگر وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے اور اس گناہ کو چھوڑ بیٹھا ہے تو اس پر امر ونہی ساقط ہے یعنی اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ فقیہوں نے کہا کہ جب اس سے شرمندگی کے آثار ظاہر ہوں اور اس گناہ کے چھوڑ دینے کا ارادہ واضح ہو تب بھی امر ونہی اس پر ساقط ہے چاہے اس شخص کا ترک حرام یا فعل واجب معلوم بھی نہ ہو۔
( ۴) امر اور نہی سے کوئی بگاڑ یا نقصان نہ ہو۔ چنانچہ اگر امر بہ معروف یا نہی از منکر میں اپنے یا کسی مسلمان کی جان ومال اور آبرو کے نقصان کا اندیشہ ہو تو وہ واجب نہیں رہتا۔
یہ حدیث جو بیان کی گئی ہے "سب سے بڑا شہید وہ ہے جو کسی ظالم کے سامنے حق بات کہے اور وہ ظالم اسے قتل کروا ڈالے۔ "وہ ایسے موقعے کے لیے ہے جبکہ ابتداء میں نقصان اور فساد کا اندیشہ نہ ہو بلکہ یہ گمان ہو کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہو گا پھر سچ بات کہے اور قتل ہو جائے۔
مشکوک یا ذرا سا نقصان قابلِ توجہ نہیں ہے
نقصان کے خیال سے امر بہ معروف اور نہی از منکر کو ترک کرنے والوں کی بُرائی میں حدیثیں ملتی ہیں۔ مثلاً جابر ، حضرت امام باقر (علیہ السلام) سے ایک طویل حدیث نقل کرتے ہیں کہ آخری زمانے میں کچھ ایسے منافق اور جاہل لوگ پیدا ہوں گے جو امر بہ معروف اور نہی از منکر کو واجب نہیں سمجھیں گے بجز اس وقت کے جبکہ وہ نقصان سے محفوظ ہوں اور وہ اپنے لیے عذر ومعذرت پیش کریں گے۔ یعنی نہی از منکر سے بھاگنے یا بچنے کے لیے بہانے گھڑیں گے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ وہ نماز، روزہ اور ایسے کام جن سے ان کے نفسوں اور مال کو نقصان نہیں ہو گا بجا لائیں گے اور اگر ان اعمال سے ان کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو وہ ان کو بھی ترک کر دیں گے جس طرح انہوں نے امر بہ معروف اور نہی از منکر کے سب سے بڑے خدائی فریضے کو صرف نقصان پہنچنے کے احتمال سے ترک کر دیا (کافی) اس قسم کی حدیث کی دو وجہیں ممکن ہیں:
( ۱) ان روایتوں میں نقصان سے مشکوک نقصان مراد ہے یعنی نقصان کا باطنی یا حقیقی علم رکھے بغیر بلکہ وہ صرف اس شک اور شبہے کے باعث امر بہ معروف اور نہی از منکر کو ترک کر دیں گے کہ شاید اس سے انہیں کوئی نقصان پہنچ جائے اور ظاہر ہے کہ یہ حالت ان کے دین وایمان کی کمزوری کی دلیل ہے اس لیے قابل ملامت ہے۔
( ۲) اس کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جزوی اور تھوڑا سا نقصان مراد ہو جو ایک عقلمند دیندار شخص کے نزدیک قابل توجہ نہیں ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ حرام کام کرنے والے کو اس خیال سے نہیں روکتا ہے کہ وہ کہیں اس فائدے سے محروم نہ ہو جائے جس کی وہ اس سے آس لگائے ہوئے ہے حالانکہ اسے خدا کے سامنے نہی از منکر کے ترک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی نقصان جو عقلمندوں کے نزدیک قابل توجہ ہو سکتا ہے معلوم ہو یا اس کا شبہ ہو کہ اگر امر بہ معروف یا نہی از منکر کیا تو وہ نقصان پہنچ جائے گا صرف اسی وقت امر ونہی کا وجوب (واجب ہونا) باقی نہیں رہتا۔
کم اہم اور زیادہ اہم خیال رکھنا چاہیئے
جاننا چاہیئے کہ امر اور نہی صرف اس وقت واجب نہیں رہتے جبکہ ان کے ترک کرنے میں بھی کوئی نقصان نہ ہو ورنہ پھر نقصان کے درجے کا لحاظ رکھنا چاہیئے یعنی اگر امر بہ معروف اور نہ از منکر کے ترک کرنے میں ان کے بجا لانے سے زیادہ نقصان ہو تو ترک نہیں کرنا چاہیئے اور اگر امر بہ معروف اور نہی از منکر بجا لانے میں ان کے ترک کرنے سے زیادہ نقصان ہو تو ترک کر دینا چاہیئے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ دیکھے کہ ایک مسلمان کو بلا وجہ قتل کرنا چاہتے ہیں یا اس کا مال یا عزت لوٹنا چاہتے ہیں اور وہ انہیں روک سکتا ہے اور اس کا اثر بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے کچھ بُرا بھلا سُننا پڑے گا اور تکلیف اٹھانا پڑے گی تو اس موقعے پر اسے نہی از منکر کرنا چاہیئے کیونکہ نہی از منکر سے اسے جو نقصان پہنچے گا وہ اس نقصان کے مقابلے میں ہیچ ہے جو اس مسلمان کو پہنچنے والا ہے۔
اختصار کے خیال سے بات زیادہ بڑھانا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔
نہی از منکر کی قسمیں
نہی از منکر کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ دِل، زبان اور ہاتھ سے منع کرنا اور ان تینوں قسموں کے کئی کئی درجہ ہوتے ہیں جن کا لحاظ رکھنا واجب ہے یعنی جب تک زیادہ آسان اور سہل درجہ اثر کر سکتا ہو زیادہ سخت درجے کا انکار جائز نہیں ہے۔ اس کی تفصیل اور تشریح بیان کی جاتی ہے:
( ۱) د ل سے انکار: ایمان کی ضروری شرط یہ ہے کہ ایک شخص کو ہر بُری اور حرام چیز بُری لگے اور وہ اس سے نفرت کرے اور ہر معروف اور نیکی کو پسند کرے۔ جس وقت کوئی حرام کام سامنے آئے تو اپنی دلی نفرت ظاہر کرے، اس حرام سے منہ پھیر لے، اس کا ارتکاب کرنے والے سے ناخوش ہو اور بات نہ کرے اور اگر مجبور ہو تو بات کرتے وقت منہ پھیر لے۔
حضرت امیرالمومنین فرماتے ہیں "رسول خدا نے ہم کو حکم دیا کہ گناہگاروں سے رکھائی اور بے مروتی سے ملیں۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام صاد ق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "خدا نے کسی شہر کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے دو فرشتے بھیجے۔ جب وہ اس شہر میں پہنچے تو انہوں نے ایک عبادت گذار کو عبادت کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے خدا سے عرض کیا اے پروردگار! تیرا فلاں بندہ تو عبادت میں مشغول ہے ہم اس شہر پر کیسے عذاب نازل کریں؟ تو آواز آئی اس شخص کی پرواہ نہ کرو کیونکہ اس نے کبھی ہماری خاطر غصہ نہیں کیا اور گناہگاروں سے کبھی رکھائی اور ترش روی سے پیش نہیں آیا۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) اپنے کچھ اصحاب کو نہی از منکر ترک کرنے پر ملامت کر رہے تھے روای بولا "ہم تو منع کرتے ہیں لیکن لوگ نہیں مانتے اور بُرائی سے باز نہیں آتے"۔ آپ نے فرمایا "ان کی صحبت سے بچو اور ان کی مجلسوں میں نہ جاؤ۔" (وسائل الشیعہ)
آپ نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے "بُرائی یا حرام کام کرنے والے سے کہہ دو ہم سے دُور رہو یا بُرائی چھوڑ دو۔ اگر وہ نہ مانے تو اس سے بچو اور الگ ہو جاؤ۔" جہاں تک ہو سکے پہلی ہی بار نہی از منکر کرو تاکہ بعد میں بار بار منع نہ کرنا پڑے اور پہلی بار بھی جب تک آسان درجہ حاصل ہے اور واقعی اثر کرتا ہے زیادہ سخت درجے پر عمل نہیں کرنا چاہیئے۔ مثلاً رکھائی کو غصے پر اور غصے کو ترک صحبت یعنی آسان طریقے سے کام چل سکتا ہو مشکل اور سخت طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اشخاص کے لیے نہی کا پہلا درجہ جو صرف انکار قلبی ہے دوسرے درجے یعنی انکار زبانی سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ مثلاً نرم گفتگو اور میٹھی باتیں غصے اور ترک صحبت سے آسان ہوتی ہیں اس صورت میں دوسرے درجے کو پہلے رکھنا چاہیئے۔
( ۲) زبان سے انکار: اس میں بھی پہلے آسان کا لحاظ رکھنا چاہیئے۔ شروع میں نرم اور ملائم باتوں اور وعظ ونصیحت پر اکتفا کرنا چاہیئے جیسا کہ خدا نے حضرت موسیٰ اور ہارون سے فرمایا تھا کہ فرعون سے نرمی سے باتیں کرو شاید خبردار ہو جائے یا ڈر جائے۔(سورہ طہٰ آیت ۴۴)
اگر نرم باتیں اثر نہ کریں تو کڑوی باتیں سُناؤ اور باتوں کی نرمی اور سختی میں بھی ان کے درجوں کا خیال رکھو۔
( ۳) جب زبان سے منع کرنے پر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا تو ہاتھ سے انکار کرنا ہوتا ہے چاہے مار پیٹ سے، چاہے سزا وغیرہ سے لیکن جب تک آسان طریقے سے اثر ممکن ہو سخت مار نہیں دینا چاہیئے اور اگر معمولی مار سے فائدہ نہ ہو تو سخت مار میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا اثر ہو۔
جب یہ یقین ہو کہ جس بُرا کام کرنے کو منع کرنا چاہتا ہے اس نے صاحبِ شریعت کو سخت ناراض کیا ہے۔ مثلاً شوہردار عورت سے زنا کر کے اور اغلام سے اور یہ خیال ہو کہ ایسی مار سے جس سے زخم آ سکتا ہے اثر ہو گا، یہ بُرا کام چھوٹ جائے گا اور غیر معمولی نقصان بھی اسے نہیں پہنچے گا (معمولی نقصان قابل تلافی ہوتا ہے) تو اس صورت میں نہی از منکر کے لیے اس کی سخت مار پیٹ بھی واجب ہے۔ جب کسی طرح بھی کوئی اثر نہ ہو تو پھر نہی از منکر کا فرض ختم ہو جاتا ہے۔
زند وں کے بیچ میں مردہ
حضرت امیرالمومنین فرماتے ہیں "بعض مومن دل، زبان اور ہاتھ سے نہی ازمنکر کرتے ہیں۔ یہ لوگ تمام اچھے پہلو رکھتے ہیں۔ بعض دل اور زبان سے نہی کرتے ہیں تو ان میں دو اچھی خصلتیں ہوتی ہیں اور تیسری خصلت کی کمی ہوتی ہے۔ کچھ صرف دل سے انکار کرتے ہیں تو ان میں ایک اچھی خصلت ہوتی ہے اور دوسری دو خصلتوں کی جو اس سے افضل ہیں ان میں کمی ہوتی ہے لیکن جس میں تینوں خصلتیں نہیں ہوتیں وہ زندہ انسانوں میں مردے کی طرح ہوتا ہے۔ امر بہ معروف اور نہی از منکر کے سامنے تمام نیک اعمال اور خدا کی راہ میں کیا جانے والا جہاد ایسے ہے جیسے سمندر کے مقابلے میں ایک بوند۔ امر بہ معروف اور نہی از منکر سے کسی کی موت قریب نہیں آ جاتی اور نہ کسی کا رزق کم ہو جاتا ہے ۔(وسائل الشیعہ)
تولّااور تبرّ
واجب کاموں میں خدا کی دوستی اور ان لوگوں کی دوستی جن کی دوستی کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سرِ فہرست چودہ معصوم ہیں ان سے اتر کر ان کے شیعہ اور محب دار، ان کی پاک اولاد اور ان سے منسوب ہونے کے باعث سادات کی بزرگ نسل۔ چنانچہ قرآن مجید میں ان کی محبت اور دوستی کو پیغمبر کی رسالت کا معاوضہ بتایا گیا ہے۔
تبرّا اور برأت کا مطلب خدا کے تمام دشمنوں اور خدا کے دوستوں کے دشمنوں کو دشمن سمجھنا ہے جن میں سب سے بڑھ کر آلِ محمد کا حق مارنے والے اور ان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ غرض اس کا مطلب ہر اس شخص کو دشمن سمجھنا ہے جس سے خدا اور رسول بیزار ہیں۔
اس سے گناہ اور گناہگاروں کو دشمن سمجھنا بھی مراد ہے۔ چنانچہ عبادت اور عبادت گذاروں کو دوست رکھنا تولاّ میں داخل ہے۔ ان دونوں فرائض الہٰی کی عظمت اور اہمیت کے بارے میں جن کا شمار ارکانِ دین میں ہوتا ہے۔ بہت سی قرآنی آیتیں (سورہ برأت آیت ۲۴) اور متواتر روایتیں ملتی ہیں اور چونکہ یہ مذہب کی ضرورتیں ہیں اس لیے ان کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے صرف برکت کی خاطر چند حدیثوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰة، حج اور ولایت اور ان میں سے کسی کو ولایت کی طرح لازم نہیں کیا گیاور نہ ان کی طرح کسی کا حکم دیا گیا۔(کافی)
ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں "دین کی بنیاد اہل بیت کے دوستوں کی دوستی اور ان کے دشمنوں کی دشمنی اور اہل بیت کی پیروی اور اطاعت وتقلید بھی شامل ہے۔"(کافی)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "پیغبر اکرم نے اپنے اصحاب سے پوچھا کہ ایمان کے سب سے مضبوط رشتے (جو اس کے مالک کو نجات دلاتے اور ابدی نیکی وسعادت مہیا کرتے ہیں) کون سے ہیں؟" انہوں نے جواب دیا "خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔" بعضوں نے کہا "نماز"۔ کچھ نے کہا "روزہ"۔ بعض نے کہا "زکوٰة" چند اصحاب نے کہا "حج اور عمرہ"۔ اور کچھ نے بتایا "جہاد"۔ آنحضرت نے فرمایا "تم نے جو کچھ بتایا ان میں فضیلت تو ہے لیکن یہ سب سے مضبوط وسیلہ نہیں ہیں بلکہ مضبوط ترین رشتہ ایمانی خدا کی خاطر دوستی اور اور دشمنی کرنا، خدا کے دوستوں سے دوستی کرنا اور خدا کے دشمنوں سے دُوری اختیار کرنا ہے۔" (کافی)
حضرت امام رضا (علیہ السلام) اپنے خط میں اسلامی قوانین کے سلسلے میں لکھتے ہیں "ان لوگوں سے دُوری اور علیحدگی جنہوں نے آلِ محمد پر ظلم کیے ہیں، ناکثین، قاسطین اور مارقین (جنگ جمل میں علی سے لڑنے والے لوگوں، صفین میں معاویہ ملعون کی طرف سے لڑنے والوں اور نہروان کے خارجیوں) سے بیزاری اور ان لوگوں سے بیزاری واجب ہے جنہوں نے امیرالمومنین کی ولایت سے انکار کیا اور ان کے اوّل اور آخر میں آنے والوں سے بھی۔
علی اور ان کے پیروی کرنے والوں مثلاً سلمان ، ابوذر ، مقداد ، عمار ، ابوالہیثم، سہل بن حنیف، عبادہ بن الصامت ، ابوایوب انصاری ، خزیمہ بن ثابت ، ابوسعید خدری وغیرہ کی دوستی اور ان لوگوں کی دوستی واجب ہے جو ان کی طرح کے تھے۔" (عیون اخبار الرضا ص ۲۶۸)
حضرت باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں "خدا کی قسم اگر پتھر بھی ہمیں دوست رکھے گا تو خدا اُسے بھی ہمارے ساتھ محشور کرے گا اور کیا دین کی حقیقت دوستی اور دشمنی کے علاوہ بھی کچھ اور ہو سکتی ہے؟" (بحار)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو کوئی اپنے ایمان کے ساتھ خدا کی زیارت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ خدا، رسول اور مومنوں سے (جن کے سردار امام معصومین (علیھم السلام) ہیں) محبت کرے اور ان کے دشمنوں سے دُوری چاہے۔" (روضہ کافی)
اہل بیت کے حق سے انکار
کتاب وسائل کے باب تعین کبائر میں ایک حدیث کے سلسلے میں جس میں حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے گناہانِ کبیرہ ہیں لکھا ہے وانکار حقناً یعنی اہل بیت کے حق سے انکار کرنا بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں "وانکار ما انزل اللّٰہ" یعنی خدا نے جو بات قرآن مجید میں نازل فرمائی ہے اس سے انکار کرنا گناہِ کبیر ہے۔
ظاہر ہے کہ اہل بیت کے حق سے انکار کا مطلب وہی ولایت ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ اسی طرح "ما انزل اللہ " کے انکار سے آلِ محمد کے حقوق اور ان کی ولایت مراد ہے۔
غرض ان تینوں عبارتوں سے جو تین حدیثوں میں آئی ہیں وہی ولایت مراد ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حق اہل بیت سے مراد وِلایت اور وَلایت (واؤکے زیر اور زبر کے ساتھ ہے) ہے۔ یعنی ان کی ولایت اور حکومت کا حق اور انہیں اولوالامر سمجھنا۔ چنانچہ مذہب امامیہ کے نزدیک ان کا اقرار مذہب کا اصول ہے اور اس سے انکار کرنے والا ایمان سے بالکل خارج ہے۔
ان کی وَلایت (واؤ کے زبر سے) کا حق یعنی ان کی محبت اور تائید وحمایت جس کا تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے دین اسلام کی ضرورت ہے اس لیے فرض ہے اور اس سے انکار کرنے والا ناصبی، دینِ اسلام سے بالکل خارج اور ہر نجس شے سے زیادہ نجس ہے۔
رہا "مَااَنْزَ لَ اللّٰہُ "کا انکار تو ظاہر ہے کہ اس سے وہ تمام باتیں جو خدا نے نازل فرمائی ہیں مختلف موضوعات کی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ جو کچھ خدا نے (یقینی طور پر) نازل فرمایا ہے ان میں سے ایک چیز سے بھی انکار کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور کچھ موقعوں پر کفر کا سبب ہے اور چونکہ سب سے اہم چیز جو خدا نے سخت تاکید کے ساتھ نازل فرمائی ہے وہ ولایات کا موضوع ہے اس لیے اس سے انکار شدید قسم کا گناہِ کبیرہ ہے بلکہ اس گناہِ کبیرہ کی بعض قسم (مثلاً اہل بیت کی دشمنی) بالکل کفر کا سبب ہے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۔
رہی اولیائے خدا سے لڑائی جو قطعی ظاہر ہے کہ خدا کے دوست ہیں یعنی جو شخص خدا کے کسی دوست سے دشمنی کرے گا وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو گا اور چونکہ آلِ محمد خدا کے تمام دوستوں کے سردار ہیں، اس لیے ان سے دشمنی اور لڑائی کفر کی سب سے شدید قسم ہے۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "قیامت کے دن منادی آواز دے گا وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے ہمارے دوستوں کی مخالفت اور مزاحمت کی تھی۔" اس پر کچھ ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے جن کے چہروں پر گوشت نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مومنوں کو ستایا ان کی مخالفت کی۔ ان سے دشمنی برتی اور ان کے دین کو نقصان پہنچایا۔ اس پر حکم ہو گا کہ انہیں دوزخ میں ڈال دیا جائے۔ (کافی)
پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ معراج کی رات خدا نے مجھ پر ایک یہ وحی بھی نازل فرمائی تھی کہ جو کوئی میرے کسی دوست کو ذلیل وپریشان کرتا ہے اس نے بلا شبہ مجھ پر لڑائی میں گھات لگائی ہے اور جو کوئی مجھ سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا۔ " میں نے کہا "اے پروردگار! یہ تیرا دوست کون ہے؟ یہ تو میں نے سمجھ لیا کہ جو کوئی تجھ سے لڑے گا۔" خدا نے فرمایا "یہ وہ شخص ہے جس سے میں نے تیری، تیرے وصی (علی (علیہ السلام)) کی دوستی اور پیری اور تیرے وصی کی اولاد اور نسل ( یعنی آئمہ اثناء عشر (علیھم السلام)) کی دوستی اور پیروی کا عہد لیا ہے۔ (کاف
گناہ پر اصرار
چالیسواں گناہِ کبیرہ گناہوں پر اصرار ہے یعنی بار بار گناہ کرنا ہے۔ اعمش حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں والاصرار علی صغائر الذنوب اور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا بھی گناہِ کبیرہ ہے۔اسی طرح حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے صدوق نے نقل کی ہے کہ آپ والاصرار علی صغائر الذنوبکو گناہِ کبیرہ میں شمار فرماتے ہیں اور ایسے ہی حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ جس گناہِ صغیرہ پر اصرار ہو وہ صغیرہ نہیں کبیرہ ہے جس طرح وہ گناہِ کبیرہ جس پر شرمندگی ہو اور جس کے ترک کرنے کا ارادہ کر لیا جائے پھر کبیرہ نہیں رہتا یعنی اس کی سزا باقی نہیں رہتی۔ (کافی)یہ حدیث صاف صاف دلالت کرتی ہے کہ گناہِ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ کبیرہ ہو جاتا ہے۔
ابوبصیر کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "خدا کی قسم جب تک بندہ اپنے گناہ پر اصرار کرتا رہے گا خدا اس کی عبادت اور اطاعت قبول نہیں کرے گا۔"(کافی)
یہ حدیث بھی اس بات پر کھلی دلالت کرتی ہے کہ اصرار سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے کیونکہ جب گناہ، صغیرہ کبیرہ گناہوں کے ترک کر دینے اور فرائض کی انجام دہی سے خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور بخش دیا جاتا ہے عبادتوں اور اطاعتوں کے قبول ہونے میں کس طرح رکاوٹ بن سکتا ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے گناہ پر اصرار کرنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے دوسری تمام عبادتیں ناقابل قبول رہتی ہیں۔
کافی میں رسول خدا کی ایک اور حدیث ہے کہ سنگدلی کی ایک نشانی گناہ پر اصرار کرنا ہے۔
اس شرط سے گناہ کی معافی کہ اس پر اصرار نہ ہو
گناہ پر اصرار کے کبیرہ ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ خدا نے گناہ کے ترک کر دینے کو گناہوں کی بخشش اور بہشت میں پہنچنے کی شرط قرار دیا ہے۔ وہ آل عمران کی سورت میں فرماتا ہے "وہ لوگ جب کوئی بُرا کام (گناہِ کبیرہ) کرتے ہیں یا اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں (یعنی گناہِ صغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) تو خدا کو یاد کرتے ہیں اور خداسے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخشنے والا کون ہو سکتا ہے اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ جب یہ اپنے کیے ہوئے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے تو ان کا انعام خدا کی بخشش اور بہشتوں میں دائمی قیام ہو گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور عمل کرنے والوں کا انعام کتنا اچھا ہے"۔ (آیت ۱۳۵)
تفسیر المیزان میں لکھا ہے "فاحشہ کے معنی بُرا فعل ہیں اور اس کا استعمال زنا کے لیے ہوتا ہے اس لیے اگر اس آیت میں اس سے مراد خصوصیت سے زنا ہے تو لامحالہ لفظ ظلم سے خاص گناہِ صغیرہ مراد ہو گا اور لفظ "ذکرواللّٰہ "سے جو اس آیت میں موجود ہے یہ مطلب نکلے گا کہ توبہ اور استغفار کی بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان خدا کو یاد کرے اور دل کی گہرائی سے اس سے لَو لگائے ورنہ صرف زبان ہلا کر عادت یا کسی اور وجہ سے جو کچھ بھی کہا جائے گا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور جملہ "ولم بصرواعلی مافعولا" نے توبہ واستغفار کو گناہ پر اصرار نہ کرنے سے مشروط کر دیا ہے کیونکہ گناہ پر اصرار اور اسے بار بار دہرانا انسان کی روح میں ایک ایسی کیفیت اور حالت پیدا کر دیتا ہے جس کی موجودگی میں پھر خدا کی یاد بھی کوئی فائدہ نہیں دے گی اور اس حالت سے مراد ہے خدا کے حکم کو حقیر سمجھنا، اس کی توہین کی اہمیت نہ جاننا اور اپنے آپ کو اس کی مقدس بارگاہ میں بڑا سمجھنا اور ظاہر ہے کہ انسان میں ایسی حالت پیدا ہو جانے سے پھر بندگی کی روح باقی نہیں رہتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا کی یاد کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جان لینا چاہیئے کہ یہ واقعہ اس صورت میں پیش آتا ہے جب گناہ پر جان بوجھ کر اصرار کیا جائے اسی لیے فرمایا ہے "وھویعلمون"
سب سے بڑا گناہ کبیرہ
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں "گناہ پر اصرار کرنے سے ڈرو اور بچو کیونکہ اصرار سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے ا ور سب سے بڑا جرم ہے۔" (کتاب الغررللآمدی) اور خدا کے نزدیک سب سے بڑا گناہ وہ ہے جس کا ارتکاب کرنے والا اس پر اصرار کرتا ہو۔ (کتاب الغرللآمدی) اسی طرح فرماتے ہیں "الاصرار اعظم حوبة" گناہوں پر اصرار سب سے بڑا گناہ ہے۔
محقق خوانساری امیرالمومنین (علیہ السلام) کے اس جملے کی تشریح اور ترجمہ یوں فرماتے ہیں :گناہ پر اصرار گناہ کے لحاظ سے زیادہ بڑا ہوتا ہے یعنی اصرار دوسرے گناہوں سے بڑا ہوتا ہے اسی لیے حوبہ کو زیر سے پڑھا جائے اور ممکن ہے کہ حوبہ کو زیر سے پڑھا جائے تو مطلب یہ نکلے گا کہ اصرار زیادہ بڑا گناہ ہے۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ اصرار گناہ صغیرہ پر ہی کیوں نہ ہو اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اصرار کا گناہ باقی تمام کبیرہ گناہوں سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے اور اس کی تائید حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم کسی شخص کے گناہوں پر اصرار کی وجہ سے خدا اس کی کوئی عبادت اور اطاعت قبول نہیں کرے گا۔
گناہ پر اصرار کیا ہوتا ہے ؟
تمام فقہاء کا اس بات پر تو اتفاق بلکہ اجماع ہے کہ گناہِ صغیرہ پر اصرار گناہِ کبیرہ ہو جاتا ہے لیکن اصرار کے معنی میں اختلاف ہے اور اس کے متعلق ان کے کئی قول ہیں ان میں تسلیم شدہ بات جو بالاتفاق اصرار اور کبیرہ ہے یہ ہے کہ ایک شخص جس گناہِ صغیرہ کے ارتکاب کے بعد پشیمان نہیں ہوتا بلکہ پھر اس کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے برابر جاری رکھتا ہے۔ مثلاً ریشمی لباس پہننا یا انگلی میں سونے کی انگوٹھی پہننا جو مردوں کے لیے حرام ہے اگرچہ اس کا گناہِ کبیرہ ہونا ثابت نہیں ہوا ہے لیکن اس صورت میں جب وہ اس لباس اور انگوٹھی کا پہننا ترک نہیں کرتا بلکہ اس کا پہننا برابر جاری رکھتا ہے وہ بالکل گناہِ کبیرہ ہو جاتا ہے بلکہ مثلاً ایک شخص کسی نامحرم کو تاکنا یا دوسروں کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا جاری رکھتا ہے اور بجائے اس کے کہ اپنی ہر نظر پر شرمندہ ہو اور استغفار کرے تو ایسے اصرار اور مداومت کو فقیہوں نے بالاتفاق گناہِ کبیرہ کہا ہے۔
جب کئی قسم کے گناہ صغیرہ کا مرتکب ہو اور نہ انہیں کرتے ہوتے شرمندہ ہو نہ استغفار کرے۔ مثلاً ریشمی لباس پہننے، سونے کی انگوٹھی انگلی میں ڈالے، نامحرم پر نظر کرے اور اس سے مصافحہ کرے اور جسم سے جسم بھڑائے تو شہید علیہ الرحمہ نے کتاب قواعد اور کچھ دوسرے فقہاء نے فرمایا ہے کہ یہ بھی گناہِ صغیرہ پر اصرار اور کبیرہ میں شمار ہے یعنی ان کے نزدیک لغت یا عام رواج کے مطابق کسی طرح بھی ایک ہی قسم کے گناہِ صغیرہ پر اصرار اور کئی قسم کے گناہانِ صغیرہ کے ارتکاب میں کوئی فرق نہیں ہے۔
کچھ فقہاء نے فرمایا ہے کہ کیے ہوئے گناہ سے توبہ نہ کرنا بھی اصرارِ گناہ میں ہے چاہے وہ گناہ پھر نہ کرے اور چاہے وہ گناہ کرنے کی نیت بھی نہ رکھتا ہو لیکن تحقیق کی نظر سے جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں آخری صورتوں میں لغت یا عرف عام کے لحاظ سے اصرار کا اطلاق مشکل ہے بلکہ لفظ اصرار کے عرفی معنی کے خلاف ہے۔
ان آخری دو صورتوں کا ماخذ دو روایتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک جابر کی حضرت باقر (علیہ السلام) سے روایت جو پچھلی آیت کے جملے "ولم یصروا " کی تفسیر میں فرماتے ہیں "اصرار یہ ہے کہ ایک شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے استغفار نہیں کرتا اور اس کے ترک کرنے کی نیت بھی نہیں رکھتا۔" پس ممکن ہے کہ امام کا مقصد اس اصرار کا مطلب بیان کرنا ہو جو اس آیت میں آیا ہے نہ کہ وہ اصرار جو گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔
دوسری روایت میں حضرت امام باقر (علیہ السلام) سے ابن ابی عمیر نے کی ہے اور اس کا وہ ٹکڑا جو یہاں دلیل بنتا ہے یہ ہے کہ "ہر مومن کو اس کے کیے ہوئے گناہِ کبیرہ کی سزا ملے گی بجز اس صورت کے جبکہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو گا اور جیسے ہی وہ شرمندہ ہو اور اس نے توبہ کی وہ شفاعت کا مستحق ہے اور جو اپنے گناہ پر شرمندہ نہ ہو وہ اصرار کرنے والا ہے اور اصرار کرنے والا بخشے جانے کے لائق نہیں ہوتا کیونکہ وہ دراصل اس بات پر ایمان نہیں رکھتا ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اگر اسے خدا کے وعدوں کا یقین ہوتا تو وہ ضرور پشیمان ہوتا۔ (وسائل الشیعہ کتاب جہاد)
اس حدیث میں بھی جابر کی حدیث کی طرح حضرت نے شرمندہ نہ ہونے اور کیے ہوئے گناہ سے توبہ اور استغفار نہ کرنے کو اصرار سمجھا ہے یا چاہے وہ پھر گناہ کرے بلکہ پھر گناہ کرنے کی نیت بھی نہ رکھتا ہو۔
لیکن جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے اوّل تو امام کے کلام کا موضوع گناہِ کبیرہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ گناہِ کبیرہ سے توبہ نہ کرنا اصرار ہو۔ لیکن گناہِ صغیر ہ میں اس گناہ کی عملی تکرار ہی اصرار ہوتا ہے۔ دوسرے امام کا کلام ایسے موضوع سے متعلق ہے جہاں توبہ نہ کرنا خدا کے وعدوں سے بے پروائی اور قہرِ خدا سے امان کے باعث ہو اور ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں ترک توبہ خود مکر خدا سے بے خوفی ہے جو گناہِ کبیرہ ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس شرمنہ نہ ہونے اور توبہ نہ کرنے کو مجازِ اصرار کہتے ہوں۔ چنانچہ حضرت امام باقر (علیہ السلام) سے یہ قول منسو ب ہے "گناہ پر اصرار مکر خدا سے بے خوفی ہے، او مکرِ خدا سے صرف گھاٹا پانے والے ہی بے خوف ہوتے ہیں۔" (تحف العقول)
مختصر یہ ہے کہ اصرار کے تسلیم شدہ معنی گناہ کی عملی تکرار ہے اس گناہ کے بعد شرمندہ ہوئے اور توبہ کیے بغیر اس طرح کہ عرف عام میں یہ کہا جائے کہ اس نے گناہ جاری رکھا یا گناہ میں اضافہ کیا۔
( ۱) گناہ کو چھوٹا سمجھنا
کچھ عالموں نے کہا ہے کہ ہر صغیرہ گناہ اصرار کرنے سے کبیرہ ہو جاتا ہے اور اس کی چند ایسی صورتیں ہیں جو گناہِ صغیرہ پر جعفرصادق آتی ہیں اور اسے گناہِ کبیرہ میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ مثلاً گناہ کا چھوٹا سمجھنا یعنی جب کسی سے کوئی صغیرہ گناہ سرزد ہو اور وہ اسے چھوٹا اور حقیر سمجھے اور اپنے آپ کو خدا کی سزا کا مستحق نہ جانے تو اس کا گناہ کبیرہ اور وہ قہرِ خدا کا سزاوار بن جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں اس نے خدا کی ممانعت کو حقیر جانا اور بندگی کے دائرے سے باہر نکل گیا اور روایات کی صراحت کے مطابق ایسا گناہ بخشے جانے کے قابل نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام کبیرہ گناہوں سے دُوری اختیار کرنے کے بعد بھی گناہانِ صغیرہ پر باز پرس نہ ہونا صرف خدا کے فضل اور رحمت پر منحصر ہے ورنہ خدا کی ہر ممانعت کے لیے چاہے کبیرہ ہو یا صغیرہ عقل کی رو سے سزا کا مستحق ہونا ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ فضلِ خدا صرف اسی شخص پر ہوتا ہے جو اس کی بندگی کے راستے سے نہیں بنتا اور جو کوئی تکبر اور نخرے کرنے والا ہے اور اپنی بے مائعگی اور خدا کی عظمت نہیں پہچانتا اور اسی وجہ سے اپنے گناہ کو حقیر گردانتا ہے اس پر خدا کا فضل نہیں ہو گا بلکہ ایسا شخص انتقام اور ذلت کا مستحق ہو گا۔
غرض خداوندعالم اپنے فضل سے اس شخص کے گناہِ صغیرہ کو (کبیر ترک کرنے کے بعد) بخش دے گا جو اپنے گناہ کو چھوٹا اورحقیر نہیں سمجھتا۔ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ سب سے سخت گناہ وہ ہے جس کا ارتکاب کرنے والا اسے حقیر سمجھے۔(وسائل الشیعہ)
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں "بخشے نہ جانے والے گناہوں میں ایک شخص کا یہ کہنا بھی شامل ہے کہ اس گناہ کے علاوہ جو میں نے کیا، کاش میرا اور کسی کے بارے میں اور کوئی مواخذہ نہ ہوتا۔(وسائل الشیعہ) یعنی یہ گناہ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے"۔ آنحضرت کا یہ قول بھی ہے "ان گناہوں سے ڈرتے رہو جنہیں چھوٹا اور حقیر سمجھا گیا ہے۔ یقینا خدا کی طرف سے انہیں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور یہ گناہ اس شخص پر جمع کر دئیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیں گے۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا ہے "ان گناہوں سے ڈرو اور بچو جنہیں چھوٹا اور حقیر سمجھا گیا ہے۔" روای نے پوچھا "حقیر گناہ کون سے ہیں؟" امام نے فرمایا "ایک شخص گناہ کرتا ہے اور پھر کہتا ہے اگر اس گناہ کے سوا میرا اور کوئی گناہ نہ ہوتا تو میں کتنا خوش قسمت ہوتا۔ یہ گناہ تو چھوٹا اور ناچیز ہے۔" (کافی باب استغفار الذنب)
( ۲) گناہ پر خوشی
گناہِ صغیرہ کو جو باتیں گناہِ کبیرہ بنا دیتی ہیں ان میں کیے ہوئے گناہ پر خوشی، مسرت کا محسوس کرنا بھی ہے کیونکہ خدا اور قیامت پر ایمان لانے کا لازمہ کیے ہوئے گناہ پر غمگین اور شرمندہ ہونا ہے چاہے وہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں "جس شخص کو اس کے نیک اعمال خوش کرتے اور بُرے اعمال غمگین بنا دیتے ہیں وہ مومن ہے۔" (وسائل الشیعہ)
جس طرح خدا بڑا ہے اسی طرح اس کے امر اور نہی کی مخالف بھی بڑی ہے۔
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ "گناہ کرتے وقت اس گناہ کی طرف مت دیکھ جو تیری نظر میں چھوٹا ہے بلکہ خدا کی عظمت اور بڑائی پر دھیان دے جس کی تو مخالفت کر رہا ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب جہاد)
جس طرح گناہ پر شرمندگی اور افسوس اسے ختم اور اس کے کرنے والے کو پاک کر دیتے ہیں اسی طرح گناہ پر خوشی اور مسرت اسے بڑا بناتی اور مضبوط ومستحکم کر دیتی ہے اور درحقیقت گناہ پر خوشی مکر الہٰی سے بے خوفی ہے جس کے گناہ کی بڑائی بیان کی جا چکی ہے۔
رسول خدا فرماتے ہیں "جو شخص گناہ کرتے میں خوش ہوتا اور ہنستا ہے وہ روتا ہو اجہنم میں جائے گا۔" (وسائل الشیعہ کتاب الجہاد)
اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے "گناہ کی چار باتیں خود اس گناہ سے بدتر ہیں:( ۱) گناہ کو چھوٹا سمجھنا، ( ۲) اس پر فخر کرنا، ( ۳) اس پر خوش ہونا اور ( ۴) اس پر اصرار کرنا۔" (مستدرک)
( ۳) گناہ کا ظاہر کرنا
اپنا گناہ دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا اور بیان کرنا بھی گناہِ کبیرہ ہے اور گناہ کا اظہار خدا کی محترم چیزوں کی توہین بھی ہے۔
حضرت رسول خدا فرماتے ہیں "جو کوئی نیک کام کرتا ہے اور اسے غیر خدا سے چھپاتا ہے تو وہ نیکی (اس کے مقابلے میں ظاہر ہوتی ہے) ستر گنا ہو جاتی ہے اور جو کوئی گناہ کرتا ہے اگر اس نے اسے (بے غیرتی اور بے پروائی سے) ظاہر کر دیا تو اس پر خدا کی تباہی واقع ہو گی (یعنی توبہ کی توفیق نہیں ہوگی تو خدا کی مہربانی کی نظر سے گِر جائے گا) اور اگر اس نے اسے چھپائے رکھا تو بخش دیا جائے گا۔" (کافی )
جاننا چاہیئے کہ دو صورتوں میں گناہ ظاہر کر دینے سے نقصان نہیں ہوتا۔ ایک اس جگہ جہاں عقل تقاضا کرے۔ مثلاً طبیب کے سامنے اس کا اظہار، اگر علاج کے لیے اس کا اظہار ضروری ہو یا جہاں کسی عالم کے سامنے اس کا حکم معلوم کرنے کے لیے ضرورت ہو، دوسرے گناہگاری کا خصوصی نہیں عمومی اظہار۔ اس سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ ظاہر کرتے وقت عجز اور انکسار بہت عمدہ چیز ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہے کہ میں خدا کی بارگاہ میں گناہگار ہوں رو سیاہ ہوں مجھ سے بڑے بڑے گناہ سرزد ہوئے ہیں بلکہ خداکے سامنے گناہگاری کا اقرار بہترین مناجات اور عبادت ہے اور توبہ کے قبول ہونے، دل کی نورانیت بڑھانے اور درجہ بلند کرنے میں بڑے اثرات رکھتا ہے۔
غرض گناہ کا عمومی اعتراف اور قصور کا اقرار غرور کی ضد ہے اور دین کے بزرگوں کا پسندیدہ طریقہ رہا ہے یہاں تک کہ خطوں اور کتابوں میں لوگ اپنے عاصی، مذنب (گناہگار)، اقل (سب سے کم یعنی کمتر ہونے)، احقر العباد (سب سے چھوٹا بندہ) وغیرہ کے لقب لکھا کرتے تھے۔
( ۴) انسان کی سماجی حیثیت اور گناہ
جب کوئی شخص سماج میں اس طرح ممتاز ہو کہ اس کے کردار اور گفتار کا لوگوں کے حالات پر اثر پڑ سکتا ہو مثلاً اہل عِلم اور پاکیزگی اور تقویٰ میں مشہور لوگوں سے جو دُنیا والوں کی روحانی پیشوائی کے لائق ہوتے ہیں، جب کوئی گناہ صغیرہ بھی سرزد ہوتا ہے تو اس سے لوگوں میں گناہِ کبیرہ کی جرأت پیدا ہو جاتی ہے بلکہ کبھی کبھی تو اس بات سے ان کا ایمان اور عقیدہ بھی ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے۔ تو اس شخص کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا گناہِ صغیرہ بھی منکر کا حکم ہے یعنی بُرائی کرنے کا تقاضا ہے۔ یعنی عملی طور سے اور عقل اور شرع کی رو سے بھی اس کا عِلم اور عقل اس کے گناہ کی اہمیت بڑھا دیتے ہیں اور اس کے صغیرہ کو کبیرہ کرنے کے زمرے میں لے آتے ہیں۔
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں"جاہل کے ستر گناہ بخش دئیے جائیں گے اس سے پہلے کہ عالم کا ایک گناہ بخشا جائے۔" (کافی)
"زلة العالم تفسدالعوالم"
محقق خوانساری امیرالمومنین (علیہ السلام) کے اس جملے کی تشریح اور ترجمے میں فرماتے ہیں کہ عالم کی غلطی کئی دُنیاؤں کو خراب کر دیتی ہے۔ عالم کی غلطی سے وہ گناہ مراد ہے جو وہ کرتا ہے یا وہ غلطی اور خطا ہے جو اسے شرعی حکم میں واقع ہوتی ہے اور ان دونوں باتوں میں سے ہر ایک سے کئی دُنیاؤں کو بگاڑ ڈالنا اس اعتبار سے ہے کہ جب عالم علم اور عقل کے باوجود گناہ کرتا ہے تو اس کی برائی اکثر لوگوں کی نظر سے دُور ہو جاتی ہے اور وہ اس کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور اسے معمولی شمار کرتے ہیں اور جو خطا اور غلطی وہ کسی حکم شرع میں کرتا ہے کبھی کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حکم بہت سے لوگوں میں مدتوں تک جاری رہے اور ان کے بہت سے کاموں کی بنیاد اسی پر رکھی رہے اس لیے لازم ہے کہ عالم گناہ سے پرہیز کرنے اور اپنے آپ کو خطا اور غلطی سے بچانے میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط سے کام لے۔ (الغرروالدررللآمدی)
آپ نے یہ بھی فرمایا ہے "عالم کی غلطی کشتی کے ٹوٹ جانے کی طرح ہوتی ہے جو خود ڈوب جاتی ہے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ڈبو دیتی ہے۔"
سچ مچ کے گناہ کبیرہ میں شمار ہے
یہ جو کہا گیا ہے کہ گناہِ صغیرہ استحقار (حقیر سمجھنا، لاپرواہی برتنا)، استصغار (چھوٹا سمجھنا)، گناہ سے خوشی، اصرار اور علم (یعنی یہ معلوم ہو کہ تکرار سے کبیرہ ہو جاتا ہے) میں سے کسی ایک عنوان کے ساتھ کبیرہ ہو جاتا ہے اس سے بظاہر حقیقی کبیرہ اور شدید سزا کا مستحق ہونا مراد ہے۔ یعنی گناہ صغیرہ ان میں سے کسی ایک عنوان کے ساتھ گناہ کبیرہ کی مانند عذاب کا مستحق بن جاتا ہے لیکن گناہ صغیرہ کا ان میں سے کسی ایک عنوان کے ساتھ اس طرح اصطلاحی کبیرہ ہونے کا علم نہیں ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والا فاسق اور غیر عادل ہو جائے بلکہ اس کے برعکس ظاہر ہے اور گناہ صغیرہ کے اصطلاحی کبیرہ ہونے کی مسلمہ خصوصیت اس پر اصرار ہے۔
اصرار کا تعین عمومی اور روایتی ہے
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے اصرار یہ ہے کہ کسی مقررہ گناہ کو دوبارہ کیا جائے لیکن ہر بار گناہ کے بعد نہ پشیمان ہو نہ توبہ کرے یا پھر مجموعی طور پر بہت سے گناہ سرزد ہوں چاہے وہ مختلف نوعیت کے ہوں۔
لیکن گناہ کی تکرار یا ان کی کثرت کی تعداد کتنی ہو اس کا تعین عمومی اور روایتی ہوتا ہے۔ اس کے لیے کوئی مقررہ پیمانہ نہیں ہے کیونکہ گناہانِ صغیرہ اپنے باہمی اختلاف اور گناہانِ کبیرہ کے قریب اور دُور ہونے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ بعض تین بار میں کبیرہ ہو جاتے ہیں بعض اس سے زیادہ مرتبہ میں، کچھ کم مرتبہ میں۔ بہرحال اس بات کا تعین عمومی اور روایتی لحاظ سے ہوتا ہے۔
قابلِ توجہ !
جن گناہوں کا ذکر چالیس عنوانا تکے تحت کیا گیا ہے وہ ایسے گناہ ہیں جن کے کبیرہ ہونے کی صراحت معتبر آیتوں اور حدیثوں میں کی گئی ہے جیسا کہ تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ کتاب وسائل الشیعہ کے باب تعیین الکبائر میں کتاب جہاد سے دومرسل روایتیں نقل کی گئی ہیں جن میں سے ایک میں ان گناہانِ کبیرہ کے تحت جن کا کسی نص میں حوالہ نہیں ہے استحلال البیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں الجنف فی الوصیة کا مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے تاکہ نص میں بیان ہونے والے گناہوں میں سے کوئی بات چھوٹنے نہ پائے۔
الجنف فی الوصیة
وصیت میں جنف کے معنی ہیں تمام وارثوں یا ان میں سے بعض پر اس طرح ظلم وستم کرنا کہ انہیں وراثت سے محروم کر دیا جائے۔ تفسیر قمی میں سورہ البقرہ کی آیت ۱۸۲ کی تشریح کے سلسلے میں حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے یہ روایت کی گئی ہے کہ جنف یہ ہے کہ بعض وارثوں کو نوازے اور بعض وارثوں کو محروم رکھے اور اثم یہ ہے کہ آتش کدوں کو آباد کرنے اور منشیات تیار کرنے کا حکم دے۔ (مختصر بات یہ ہے کہ اس کے مال کو حرام کا میں خرچ کرنے کی وصیت کرے) ہر صورت میں یہ وصی پر ہے کہ وہ ان میں سے کسی بات پر بھی عمل نہ کرے۔
مفلس وارث کا لحاظ کرنا ضروری ہے
اگر وارث مالدار ہو تو وصیت کرنے والا اپنے تہائی مال کی وصیت کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ کی وصیت وارث کی اجازت پر موقوف ہے اور جو بعض وارث مفلس یا زیادہ نیک اور متقی ہوں تو وصیت کرنے والا اپنے تہائی مال میں سے کچھ مال کی ان کے لیے وصیت کر سکتا ہے کہ ان کے ورثے کے حق سے زیاد انہیں دیا جائے۔
اگر وارث مفلس ہو تو بہتر یہ ہے کہ وصیت نہ کرے یا چھٹے یا پانچویں حصے سے زیادہ کی وصیت نہ کرے کیونکہ مفلس وارث کی ضرورت پوری ہو جانا خود ایک اچھا مصرف ہے کیونکہ یہ صلہ رحم ہے خاص طور پر اگر نابالغ ہو۔
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں "میرے نزدیک ترکے کے پانچویں حصے کی وصیت کرنا اس سے بہتر ہے کہ میں چوتھائی حصے کی وصیت کروں اور چوتھائی کی وصیت تہائی کی وصیت سے بہتر ہے اور جس شخص نے اپنے ترکے کے تہائی حصے کی وصیت کی اس نے گویا کچھ باقی نہ چھوڑا۔ " (بحار جلد ۲۳ صفحہ ۴۶) یعنی جتنے کی وصیت کر سکتا تھا اور جس سے ورثہ کو محروم رکھ سکتا تھا وہ کر بیٹھا۔
حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں "اگر کوئی شخص اپنے مال میں سے کچھ مقدار اپنے ان رشتے داروں کو دینے کی وصیت کرے جو اس کے وارث نہیں ہیں تو یہ مستحب ہے اور جو ایسی وصیت نہیں کرتا تو مرتے وقت اس کا عمل اللہ کی نافرمانی پر ختم ہو گا۔" (بحار جلد ۲۳ ، منقول از فقہ الرضا) یعنی وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا اور گناہگار ہو گا اور شاید اس کے گناہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے صلہ رحم کا خیال نہیں رکھا جو اللہ کے اہم واجبات میں داخل ہے اور اس صورت میں جب کہ ایسی وصیت ترک کرنا لوگوں کے لیے قطع رحم ہو۔ مثلاً کوئی دولت مند شخص غیر وارث مفلس رشتے دار رکھتا ہو (ان کے لیے وصیت نہ کرے) تو یہ فعل بالکل حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔
وارث دوسروں پر مقدم ہے
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کے کئی چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور مال دُنیا میں سے اس کے پاس صرف چھ غلام تھے۔ مرتے وقت اس نے سب کو آزاد کر دیا۔ جب اس کا معاملہ حضرت رسول خدا کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا "اس کے ساتھ کیا کیا گیا؟"
لوگوں نے کہا "ہم نے اسے دفن کر دیا۔"
آپ نے فرمایا "اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں اسے مسلمانوں کے قریب دفن نہ ہونے دیتا کیونکہ وہ اپنے بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ گیا۔" (وافی)
قاعدے کے مطابق ترکے کی تقسیم
غرض یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اپنے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس کے وصی پر لازم ہے کہ وہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت پر عمل نہ کرے جب تک کہ وارث اس کی اجازت نہ دے۔
اس کے علاوہ حرام کاموں میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے اور وصی پر واجب ہے کہ اگر مرنے والے نے وصیت بھی کی ہے تو اسے نظر انداز کر دے اور نیک کاموں میں خرچ کرے۔
اس کے علاوہ بعض وارثوں کو ورثے سے محروم کر دینا بھی جائز نہیں ہے اور وصی پر واجب ہے کہ ان کا جو حصہ خدا نے مقرر کر دیا ہے وہ ان کو دے۔ ( ۱)
اگر ایسے مالدار شخص کے جس کے پہلے درجے کے وارث (مثلاً اولاد اور والدین) موجود ہوں دوسرے طبقے کے (مثلاً بھائی اور بہن) یا تیسرے درجے کے رشتے دار (مثلاً چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں) مفلس ہوں تو اسے وصیت کرنا چاہیئے کہ اس کے ترکے میں سے کچھ ان مفلس رشتے داروں کو بھی دے دیا جائے اور اگر وہ ایسی وصیت نہ کرے اور عام اصطلاح میں قطع رحم کرے تو سمجھئے کہ وہ گناہگار مرا ہے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔ حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے وصیت فرمائی تھی کہ حسن افطس کو جو آپ کے چچا کا بیٹا تھا آپ کے مال میں سے ستر اشرفیاں دی جائیں۔ ایک شخص نے کہا "اے آقا! آپ ایسے شخص کو بخشش کر رہے ہیں جس نے آپ پر حملہ کیا اور جو آپ کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔" امام نے فرمایا "تم یہ چاہتے ہو کہ میں ان لوگوں میں شمار نہ کیا جاؤں جن کی خدا نے صلہ رحم کے باعث تعریف کی ہے اور ان کی صفت میں فرمایا "والذین یصلون ما امر اللّّٰہ بہ ان یوصل ویخشون ربھم ویخافون سوء الحساب" اور پوری حدیث قطع رحم کی بحث میں نقل کی گئی ہے۔
( ۱) مزید معلومات کے لیے عملی رسالے اور فقہ کی کتابیں دیکھئے۔
غیرواضح کبیرہ گناہ ۔
جیسا کہ کتاب کی ابتداء میں بیان کیا گیا گناہوں کا کبیرہ ہونا چار میں سے کسی ایک طریقے سے ثابت ہوتا ہے۔ اوّل کے کبیرہ ہونے کی کسی معتبر نص میں صراحت کی گئی ہو۔ دوسرے قرآن مجید یا کسی معتبر روایت میں اس لیے جہنم اور عذاب کا صاف صاف یا ضمنی طور پر وعدہ کیا گیا ہو۔ تیسرے کتاب یا سنت میں یہ صراحت کی گئی ہو کہ یہ گنا ان کبیرہ گناہوں سے بھی بڑا ہے جن کا کبیرہ ہونا مذکورہ بالا دو طریقوں سے ثابت ہو چکا ہے۔ چوتھے وہ گناہ دینداروں کے نزدیک بڑا ہو۔
یہ جان لینا چاہیئے کہ اس حکم کا مآخذ وہ بہت سی روایتیں ہیں جن میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے۔ مثلاً ابن ابی یعفور کے صحیحہ میں حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ کسی شخص کی عدالت ان کبیرہ گناہوں کے ترک کرنے سے جانی جاتی ہے جن کے لیے خدا نے دوزخ کا وعدہ کیا ہے۔
اس قول سے بخوبی ظاہو ہو جاتا ہے کہ ہر وہ گناہ جس کے لیے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہے کبیرہ ہے۔ اسی طرح صحیحہ علی بن جعفر (علیہ السلام) میں ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے ان کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھتے ہیں جن کے متعلق خدا قرآن میں فرماتا ہے "ان یجتنبوا کبائر" تو امام فرماتے ہیں: "کبیرہ وہ گناہ ہیں جن کے لیے خدا نے دوزخ لازم کر دی ہے"۔ اور اسی طرح کافی میں امام جعفرصادق (علیہ السلام) کا قول حلبی سے نقل کیا گیا ہے۔
ابوبصیر کہتا ہے:" میں نے حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) کے متعلق سُنا ہے کہ آپ نے جب یہ آیت پڑھی "جسے دانائی بخشی گئی ہے اسے بہت کچھ خیر بھی عطا کی گئی ہے"۔ تو حضرت نے دانائی (حکمت) کے معنی بیان فرمائے، امام کا پہچاننا اور کبیرہ گناہوں سے الگ رہنا جن کا ٹھکانا خدا نے جہنم بتایا ہے۔" (کافی)
آپ ہی سے محمد بن مسلم روایت کرے ہیں کہ خدا نے جس گناہ کی سزا دوزخ قرار دی ہے وہ کبیرہ ہے۔ (کافی)
غرض بہت سی نصوص خصوصاً صحیحہ عبدالعظیم سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید یا سنت معتبرہ میں رسول خدا یا آئمہ (علیھم السلام) کی طرف سے جس گناہ کے لیے خصوصیت سے آتشِ دوزخ کے وعدے کا ذکر کیا گیا ہے وہ کبیرہ ہے چاہے صاف صاف اور براہِ راست ہو جیسے نماز ترک کرنے والے کا دوزخ میں جانا۔ (سوہ مریم آیت ۵۹) یا بالواسطہ ہو جیسا کہ خدا فرماتا ہے "نماز ترک کرنے والا مشرک ہے۔" (سورہ روم آیت ۳۱) اور اس کے بعد فرماتاہے "مشرک آتشِ جہنم میں رہے گا"۔ (سورہ بیّنہآیت ۶) اسی طرح چاہے اس کے عمل کے عوض آتش جہنم کا صاف وعدہ کیا گیا ہو"۔ (سورہ ماعون آیات ۴ ۔ ۵) یا کسی سلسلے میں وعدہ کیا گیا ہو مثلاً پیغمبر اکرم کا قول ہے جو کوئی نماز جان بوجھ کر چھوڑے گا وہ خدا اور اس کے رسول کی پناہ سے خارج ہے۔ (من ترک الصلوٰة متعمداً فقد بری من ذمة اللّٰہ و ذمة رسولہ)۔ اور ظاہر کہ اس جملے میں نماز ترک کرنے والے کے دائمی عذاب اور ہلاکت سے کنایہ ہے۔ چنانچہ صحیحہ عبدالعظیم میں ترک نماز کے گناہِ کبیرہ ہونے کے لیے اسی حدیث کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
اسی سے ابن عباس کے اس قول کے صحت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کبیرہ گناہ سات کے مقابلے میں سات سو کے قریب ہیں کیونکہ جن گناہوں کے لیے کتاب یا معتبر سنت میں عذاب کا صاف صاف یا ضمنی طور پر وعدہ کیا گیا ہے وہ بہت ہیں۔ اگر انہیں تفصیل کے ساتھ الگ الگ جمع کیا جائے تو سات سو سے بھی اوپر ہو جائیں گے اور ان کا جمع کرنا بھی وقت کی تنگی کے باعث سخت مشکل اور دقّت طلب ہے اس لیے یہاں ان میں سے کچھ ایسے گناہوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں لوگ زیادہ تر مبتلا ہوتے ہیں۔
غیبت
جن گناہوں کا کبیرہ ہونا عذاب کے اس وعدے سے سمجھا جاتا ہے جو ان کے لیے قرآن مجید اور بہت سی حدیثوں میں کیا گیا ہے ان میں سب سے پہلا غیبت کرنا ہے۔ جیسا کہ خدا سورہ نور میں فرماتا ہے: "دُنیا اور آخرت میں ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے جو ایمان لانے والوں (مومنوں) کی بُری حرکتیں (مثلاً زنا اور دوسری قسم قسم کی بُرائیاں) فاش کرنا پسند کرتے ہیں۔" (سورہ نور آیت ۱۹)
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے ابن ابی عمیر نے روایت کی ہے کہ جو شخص کسی مومن کے بارے میں وہ سب کچھ کہہ دیتا ہے جو اس کی دونوں آنکھوں نے دیکھا اور دونوں کانوں نے سُنا ہے اس کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے "جو لوگ مومنوں کے متعلق بُری باتیں آشکارا ہونا پسند کرتے ہیں ان کے لیے واقعی دردناک عذاب ہے۔"
چنانچہ صحیح کی اس روایت کے مطابق غیبت اس آیت کے حکم میں داخل ہے جس میں اس کے لیے عذاب کا صاف صاف وعدہ کیا گیا ہے۔ سورہ حجرات کی آیت ۱۲ میں کہا گیا ہے: "تم میں سے بعض لوگوں کو دوسروں کی غیبت نہیں کرنا چاہیئے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ تم اسے ضرور بُرا سمجھو گے۔"
اس آیت میں چند امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ غیبت کرنے والے پر آخرت میں جو عذاب ہو گا اس کا بیان ہے اور وہ اس طرح کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت آخرت میں اس کا مردہ گوشت کھانے کی صورت میں مجسم ہو جائے گی اور اس امکان کی تائید بھی پیغمبر اکرم کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ میں نے معراج کی شب میں کچھ لوگوں کو جہنم میں دیکھا کہ وہ مردار کھا رہے تھے۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا "یہ کون لوگ ہیں؟" تو انہوں نے جواب دیا:" یہ وہ لوگ ہیں جو دُنیا میں لوگوں کا گوشت کھاتے تھے ۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۲) یعنی لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ اسی سے ایک حکم میں داخل ہونا مراد ہو یعنی شریعت کے حکم کے مطابق غیبت کرنا اس شخص کا مردار گوشت کھانے کے برابر ہو جس کی غیبت کی گئی ہے
حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) فرماتے ہیں:"تمہارا اپنے مومن بھائی کی غیبت کرنا مردار کھانے سے بھی بڑا حرام ہے۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۲) ان دونوں امکانات کے پیشِ نظر آیت سے ظاہر ہے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے۔
سورہ ہمزہ میں کہا گیا ہے: "ویل لکل ھمزہ لمزة" تفسیر مجمع البیان میں لکھا ہے۔ یہ جملہ خدا کی طرف سے ہر غیبت کرنے والے اور اس چغل خور کے لیے عذاب کا وعدہ ہے جو دوستوں میں تفرقہ ڈالتا ہے۔
بعضوں نے کہا کہ ہمزة طعنہ دینے والے اور لمزہ غیبت کرنے والا ہے اور بعضوں نے اس کے بالکل برعکس کہا ہے اور بعضوں نے کہا کہ ہمزہ اسے کہتے ہیں کہ جو سامنے بُرائی کرتا ہے اور لمزہ وہ ہے جو کسی کی پیٹھ پیچھے غیبت کرتا ہے۔
ویل بھی جہنم کا ایک درجہ ہے یا اس کا ایک کنواں ہے اور سخت عذاب کے معنوں میں بھی استعمال ہو اہے اس لیے غیبت وہ گناہ ہے جس کے لیے قرآن مجید میں کتنے ہی مقامات پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ گناہِ کبیرہ ہے۔
غیبت اور اہل بیت (علیھم السلام) کی روایات
جن روایتوں میں غیبت کرنے پر عذاب کے وعدے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہیں بلکہ متواتر ہیں یہاں صرف وہ بیان کی جاتی ہیں جو شیخ علیہ الرحمہ نے مکاسب محر ّمہ میں لکھی ہیں۔
رسول خدا سے کئی سلسلوں سے روایت ہے کہ غیبت کا گناہ زنا سے بھی بدتر ہے کیونکہ زنا کرنے والا اگر توبہ کر لیتا ہے تو خدا اسے بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو نہیں بخشتا جب تک کہ وہ شخص جس کی اس نے غیبت کی ہے اسے معاف نہیں کر دیتا۔ (مکاسب)
ایک دن آنحضرت نے اپنے خطبے کے بیچ میں سود کے گناہ کی شدت بیان کی اور فرمایا کہ سود کے ایک درہم کا گناہ چھتیس بار زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ پھر فرمایا "بلاشبہ سود کھانے کا بدترین درجہ مسلمان کی آبروریزی اور اس کی بے عزتی ہے۔" ان دونوں حدیثوں کی رو سے غیبت کا گناہ کبیرہ ہونا اس اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ وہ زنا اور سود سے بھی بدتر ہے ۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں "جو کسی مومن کی غیبت کرتا ہے اور وہی بُرائی بیان کرتا ہے جو اس میں موجود ہے پھر بھی خدا اس شخص کو اور اس مومن کو بہشت میں اکٹھا نہیں کرے گا اور جو شخص مومن کے پیٹھ پیچھے اس کی وہ بُرائی بیان کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے تو دونوں میں جو دین کی پاکیزگی ہے وہ پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ پھر غیبت کرنے والا اس مومن سے الگ ہو جائے گا اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جہنم بُری جگہ ہے۔" (مکاسب)
جو شخص لوگوں کی غیبت کر کے ان کا گوشت کھاتا ہے اگر اس نے یہ سوچا کہ وہ حلال زادہ ہے تو غلط سوچا۔ غیبت سے بچو کیونکہ یہ دوزخ کے کتوں کی غذا ہے۔ (مکاسب)
جو اپنے دینی بھائی کی غیبت کرنے کے لیے اور اس کا چھپا ہوا عیب فاش کرنے کے لیے سفر کرے گا وہ جو پہلا قدم اُٹھائے گا وہ اسے دوزخ میں پہنچا دے گا۔(مکاسب)
روایت ہے کہ غیبت کرنے والا اگر توبہ بھی کرے گا تو وہ آخری شخص ہو گا جو بہشت میں پہنچے گا اور جو توبہ کیے بغیر ہی مر جائے گا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو دوزخ میں جائے گا۔ (مکاسب)
شہیدِ ثانی حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) اور پیغمبر اکرم سے روایت کرتے ہیں کہ کفر کے سب سے زیادہ قریب حالت یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے ایک لفظ سنتا ہے اور اسے اس لیے روک لیتا ہے کہ اس بات سے رسوا کرے ایسے شخص کو آخرت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ (کشف الربیہ، شہید ثانی)
اس سے ملتے جلتے مضمون کی چند روایتیں اصولِ کافی میں نقل کی گئی ہیں۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "غیبت کرنا کوڑھ کی بیماری سے زیادہ تیزی کے ساتھ ایک شخص کے دین پر اثر کرتا اور اسے اس کے دل سے ختم کر دیتا ہے ۔"(اصول کافی )
حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :"غیبت کرنا ہر مسلمان کے لیے حرام ہے اس میں شک نہیں ہے کہ غیبت نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے اور ختم کر ڈالتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا کر ختم کر دیتی ہے۔" (اصولِ کافی)
شیخ فرماتے ہیں :غیبت کے نیکیوں کو کھا جانے والے جملے سے مراد یہ ہے کہ غیبت ان تمام نیک کاموں کو جو کیے گئے ہیں باطل کر دیتی ہے یا یہ مراد ہے کہ اس کے پچھلے ثوابوں سے اس کی سزائیں زیادہ ہو جاتی ہیں یا یہ کہ غیبت کرنے والے کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتی ہیں جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ چنانچہ یہ بات کئی حدیثوں میں آئی ہے۔ مثلاً رسول خدا سے روایت ہے کہ ایک بندے کو قیامت میں حساب کتاب کے مقام پر لائیں گے اور اس کا اعمالنامہ اسے دیں گے۔ جب وہ اس میں وہ نیک کام جو اس نے دُنیا میں کیے تھے نہیں پائے گا تو کہے گا "اے خدا! یہ اعمال نامہ تو میرا نہیں ہے کیونکہ مجھے اس میں اپنی نیکیاں نہیں ملتیں۔" تب اس سے کہا جائے گا "تیرا خدا نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔ تیری نیکیاں لوگوں کی تیرے غیبت کرنے کی وجہ سے مٹ گئیں۔" پھر دوسرے بندے کو لائیں گے اور اس کا اعمال نامہ اسے دیں گے۔ وہ اس میں وہ نیکیاں بھی دیکھے گا جو اس نے نہیں کی ہیں تو وہ کہے گا "اے خدا! یہ نامہ اعمال میرا نہیں ہے کیونکہ اس میں جو یہ سب نیکیاں درج ہیں میں نے انجام نہیں دی ہیں۔" اس سے کہا جائے گا "یہ فلاں شخص کی نیکیاں ہیں جس نے تیری غیبت کی تھی۔ اس کے بدلے میں اس کی نیکیاں تجھے بخش دی گئی ہیں۔"
شیخ مذکورہ روایتیں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "ان حدیثوں سے ظاہر ہے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے جیسا کہ بعض فقہاء نے فرمایا ہے بلکہ سخت ترین گناہِ کبیرہ (سود اور زنا سے بھی بڑھ کر) ہے جیسا کہ مذکورہ روایتوں میں صراحت کی گئی ہے۔"
خیانت بھی ان کبیرہ گناہوں میں شامل ہے جن کی صراحت نص میں کی گئی ہے۔ اور غیبت کو خیانت کی ایک قسم بھی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اپنے دینی بھائی کا گوشت کھانے سے بڑھ کر جب کہ وہ بے خبر اور غافل ہو اور کونسی خیانت ہو سکتی ہے اس سے بڑھ کر اور کونسی خیانت ہو سکتی ہے جو اس کا بھید کھولتی اور اس کا عیب ظاہر کر دیتی ہے۔
جاننا چاہیئے کہ غیبت کا حرام ہونا صرف مومن سے مخصوص ہے یعنی اس شخص سے جو صحیح عقیدہ رکھتا ہو جن میں آئمہ اثنا عشر (علیھم السلام) کی امامت کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ اس لحاظ سے اس عقیدے کے مخالفین کی غیبت حرام نہیں۔ پھر بھی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے تمام فرقوں کی غیبت ترک کر دینا چاہیئے خصوصاً ان لوگوں کی جو حق کے دشمن نہ ہوں اور صحیح عقیدہ ترک نہ کر چکے ہوں۔
یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ غیبت کا حرام ہونا صرف بالغ مومن سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ نابالغ بچے سے غیبت کرنا بھی حرام ہے جو غیبت سن کر متاثر اور دُکھی ہوتا ہے اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ مومن بچّوں سے غیبت کرنا بالکل حرام ہے۔ چاہے وہ بالغ ہوں چاہے نابالغ۔
غیبت کے معنی اور اس کے مواقع
رسول خدا فرماتے ہیں: "غیبت یہ ہے کہ تو اپنے دینی بھائی کی کسی بُری یا کریہہ بات کا ذکر کرے۔" (مکاسب) اور حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں "غیبت یہ ہے کہ تُو اپنے دینی بھائی کا وہ عیب بیان کرے جسے خدا نے چھپا رکھا ہے۔" (مکاسب) اور حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو کوئی کسی غیر حاضر شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہے اور لوگ بھی اس سے واقف ہیں تو وہ غیبت نہیں ہے۔ البتہ اگر ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہے لیکن لوگ نہیں جانتے تو گویا اس نے اس کی غیبت کی اور اگر کوئی ایسی بات کہے جو اس میں ہے ہی نہیں تو پھر اس نے اس پر بہتان باندھا ہے۔" (مکاسب)
ان دوسری دو روایتوں کے بموجب جب کوئی بات کسی مومن کے بارے میں کہی جاتی ہے اور وہ اس کا ایسا عیب ہے جو سُننے والے اور دوسرے لوگوں سے پوشیدہ نہیں ہے تو غیبت میں اس کا شمار نہیں ہوتا چاہے وہ مومن کی بُرائی، ملامت، تکلیف دہی اور توہین میں شمار نہیں ہوتا چاہے وہ مومن کی بُرائی، ملامت، تکلیف دہی اور توہین میں شمار ہو اور ان عنوانات کے تحت حرام ہو جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے۔
شیخ نے اہل لغت کے کلمات، غیبت کے معنی سے متعلق روایات اور معنی کی تحقیقات نقل کرنے کے بعد کچھ بیانات دئیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ غیبت کے اطلاق کی تین قسمیں ہیں: غیبت ہونا مسلّم ہو یا غیبت ہونا ظاہر ہو یا اس کا غیبت ہونا ظاہر نہ ہو۔
پہلی قسم وہ موقع جب کہ وہ قطعی غیبت ہوتی ہے ایک ایسی بات کا ذکر کرنا ہے جو کسی شخص سے منسوب اس کا کوئی شرعی یا مشہور عام نقص ہو اور وہ بھی سننے والے سے اس طرح چھپا ہو کہ جس کی غیبت کی جائے وہ اس کے کھل جانے پر رضامند نہ ہو اور غیبت کرنے والا بھی اسے ذلیل کرنے اور اس میں عیب نکالنے پر تلا ہوا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی کسی مومن کو گھٹانے کے لیے اس کی پوشیدہ بُرائی بیان کرے تو وہ بلاشبہ غیبت اور گناہِ کبیرہ ہے۔
دوسری قسم جو بظاہر غیبت کا مصداق ہے دوسرے کا چھپا ہوا عیب بیان کرنا ہے لیکن اس کی مذمت کرنے، اس میں عیب نکالنے اور اُسے گرانے کے لیے نہیں بلکہ کسی اور غرض سے مثلاً تفریح کے لیے یا دلیل اور ثبوت دینے کے لیے یا ہمدردی کی خاطر دوسرے کا چھپا ہوا عیب بیان کرے تو بھی اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور روایتیں بھی ظاہر کرتی ہیں کہ یہ بھی غیبت کا مصداق ہے اور اسی ذیل میں آتا ہے۔
تیسری قسم ایک شخص کا عیب کسی ایسے آدمی کے سامنے بیان کرنا ہے جو اسے جانتا ہے بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غیبت کے دائرے سے خارج ہے اگرچہ کچھ روایتوں سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ یہ بھی غیبت ہے۔
ایسی صورت میں جب کہ کہنے والا دوسرے کو ملامت کرتا اور اس کی مذمت کرتا ہے قطعی حرام ہے چاہے اس کا غیبت میں شمار ہونا مشکوک ہو کیونکہ اس قسم کا بیان مومن کی دل آزاری اور توہین کا سبب ہوتا ہے اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
اگر مذمت اور توہین کی نیّت نہیں ہے اور مجبوراً مذمت ہو جاتی ہے مثلاً کسی شخص کی ماں بدکردار تھی تو یہ تذکرہ کرنا بھی حرام ہے۔ چنانچہ سورہ حجرات میں دوسروں کے بارے میں نام رکھنے سے صاف صاف منع کیا گیا ہے۔ (آیت ۱۰)
غیبت کی قسمیں
واضح روایتیں اور فقہاء کے اقوال یہ ہیں کہ کسی کا عیب یا نقص بیان کرنے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ نقص جسم کا ہے یا خاندان کا یا عادتوں کا، گفتگو کا ہے یا عمل کا، دین کے متعلق ہے یا دُنیا کے متعلق یا خاص اس انسان سے متعلق ہے مثلاً لباس، گھر، سواری وغیرہ کا عیب ہے اور بعض نے ہر ایک کی مثالیں بھی بیان کر دی ہیں۔ مثلاً جسم سے متعلق غیبت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ فلاں اعمش ہے (جس کی آنکھیں ہمیشہ ڈبڈبائی رہتی ہیں) یا احول (بھینگا) ہے یا اعور (ایک آنکھ کا یعنی کانا) ہے اقرع (گنجا) ہے یا بونا، لمبا، کالا یا پتلا وغیرہ ہے یعنی اس کی ایسی خصوصیات بیان کرے جن کو سن کر وہ ناخوش اور آزردہ ہو جائے۔
غیبت گالی بھی ہوتی ہے مثلاً کوئی کہ فلاں کا باپ بدکار یا بدذات یا کنجوس تھا یا اوباش وغیرہ تھا اور اخلاق کی غیبت یہ ہوتی ہے جیسے کہے کہ فلاں بداخلاق، کنجوس، مغرور یا ڈرپوک یا کمزور اور منافق یا چور اور ظالم ہے۔
دین سے متعلق کاموں کی غیبت یہ ہوتی ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص جھوٹا یا شرابی یا نماز میں سست ہے۔ دُنیاوی کاموں کی غیبت یہ ہے جیسے کوئی کہے فلاں بے ادب ہے، ناشکرا ہے، اپنی اوقات نہیں پہچانتا، بکواسی یا پیٹو یا بہت سونے والا ہے۔ لباس کے متعلق مثلاً کوئی کہے کہ اس کا لباس میلا، پھٹا، پرانا، ڈھیلا ڈھالا، اٹنگا ہے۔ ایسے ہی اس کے متعلق دوسری باتوں میں بھی اگر اسے بُرائی سے اس طرح یاد کیا جائے کہ اسے اچھا نہ لگے بلکہ اس کی دل آزاری ہو تو یہ غیبت ہو گی۔
جاننا چاہیئے کہ غیبت میں کوئی فرق نہیں ہے خواہ دوسرے کا عیب زبان سے کھولا جائے یا عمل سے یا اشارے سے صاف صاف کہا جائے یا ایسے کنائے سے جو سمجھ میں آ جائے۔ کبھی کبھی کنائے سے غیبت اور بھی بُری ہوتی ہے جیسے یہ کہا جائے الحمد للہ کہ خدا نے ہمیں حکومت کی ہوس یا ظالموں کی ہم نشینی یا دولت کا لالچ نہیں دیا یا یہ کہا جائے حرص یا کنجوسی یا بے شرمی سے خدا کی پناہ، خدا ہمیں شیطان کی بُرائی سے بچائے اور ان باتوں سے کنایہ اس شخص کی طرف ہو جو ان کاموں کو مرتکب ہوا ہے۔
اکثر ہوتا ہے کہ بعض دھوکے باز جب کسی کی غیبت کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تعریف سے شروع کرتے ہیں کہ فلاں کتنا اچھا آدمی ہے لیکن افسوس ہے کہ شیطان کے چکر میں آ گیا اور اب یوں ہو گیا ہے۔ کبھی منافقت سے دوسرے کے لیے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں کہ افسوس مجھے کتنا صدمہ ہوا اور فلانے کے لیے میرا دل کتنا کڑھا جب اس سے یہ فعل سرزد ہوا۔ اگر سچ مچ کا دوست ہوتا اور اس کا غم کھاتا تو کبھی اس کا راز فاش نہ کرتا اور اس کی بُرائی نہ کرتا۔
ایک غیر معین شخص کی غیبت
غیبت اس صورت میں ہوتی ہے جبکہ کسی مخصوص شخص کی ہو اور اگر کسی ایسے شخص کی غیبت ہو جس کا نام ونشان نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے مثلاً کوئی کہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ایسا تھا اور ایسا تھا۔ البتہ جب چند لوگوں میں سے ایک غیر معین شخص کی غیبت کرے کہ فلاں شخص کا ایک بیٹا ایسا ہے تو یہ حرام ہے کیونکہ اس طرح کہنے والے نے ان سب کو تکلیف دی اور آزار پہنچایا ہے اور اگر زیادہ لوگوں میں سے صرف ایک شخص کی غیبت کرے مثلاً کہے کہ ایک اصفہانی یا شیرازی ایسا اور ویسا تھا تو یہ جائز ہے اور اگر یہ بھی کہے کہ بعض اصفہانیوں یا شیرازیوں میں فلاں عیب ہوتا ہے تو بھی جائز ہے لیکن یہ کہے کہ تمام شیرازیوں یا اصفہانیوں میں فلاں عیب ہوتا ہے تو اس میں شک نہیں ہے کہ یہ حرام ہے کیونکہ اس صورت میں اس شہر کے تمام باسیوں کی توہین ہوتی ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں شہر کے اکثر لوگوں میں یہ عیب پایا جاتا ہے تو یہ بات اختیار کے خلاف یعنی غیر محتاج بلکہ اس کے حرام ہونے میں زیادہ قوت اور امکان ہے۔
غیبت کا کفارہ اور توبہ
چونکہ غیبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے اس لیے اگر کسی نے ایسا کیا تو اس پر واجب ہے کہ فوراً اپنے کہے پر شرمندہ ہو کیونکہ اس نے اپنے پروردگار کی مخالفت کی اور دل سے شرمندہ ہونے کے بعد زبان سے استغفار بھی کرے اور نیّت کرے کہ پھر ایسا گناہ نہیں کرے گا۔ چونکہ بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کا غیبت کرنے والے پر حق پیدا ہو جاتا ہے اس لیے ممکن ہو تو اس سے معافی مانگ لے اور اپنے آپ سے راضی کر لے اور جس طرح اس نے اس کی غیبت کی ہے اس کے مقابلے میں اسے نیکی سے یاد کرے تو بہتر ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے وہ مر چکا ہے یا اس کی پہنچ سے باہر ہے یا اس سے معافی مانگے سے اس کے دُور ہو جانے کا اندیشہ ہو مثلاً وہ غیبت کی باتوں سے بے خبر ہے اور ان کے سُننے سے ناخوش ہو جائے گا اور معافی مانگنے کی غرض پوری نہیں ہو سکے گی تو ایسے موقع پر اس کی مغفرت کی دعا کرنا چاہیئے اور خدا سے عرض کرنا چاہیئے کہ اے پروردگار! اس شخص کو راضی اور خوش کر دے جیسا کہ صحیفہ سجادیہ کی دعا ۳۹ میں اور پیر کے دن کی دعا میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔
غیبت کے جائز ہونے کے مواقع
فقہاء نے بعض موقعوں پر غیبت کرنے کو جائز سمجھا ہے۔ یہاں شیخ نے جو کچھ مکاسب میں فرمایا ہے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے:
( ۱) اس شخص کی غیبت کرنا جس کا گناہ پوشیدہ نہیں ظاہر ہو۔ مثلاً کوچہ وبازار میں ہاتھ میں شراب کا پیالہ لیے کھلم کھلا پیتا پھرے۔ چنانچہ روایت میں ہے :"جب کوئی گناہگار کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا تو اس کی غیبت حرام نہیں ہے۔" اسی طرح جس نے شرم اور لحاظ ختم کر دیا یعنی لوگوں کے سامنے جو گناہ کرنے میں نہیں شرمایا اس کی غیبت نہیں ہوتی یعنی اس کی غیبت کرنا حرام نہیں ہے۔ (مکاسب)
جاننا چاہیئے کہ غیبت اس گناہ کے سبب سے جائز ہو جاتی ہے جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ جو گناہ پردے میں کیے جاتے ہیں ان کے باعث بھی غیبت جائز ہو جاتی ہے یا نہیں اگرچہ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر کھلا ہوا گناہ چھپے ہوئے گناہ سے زیادہ سخت ہو تو اس کے ذکر میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن احتیاط اسے ترک کر دینے میں ہی ہے۔
یہ بھی معلوم ہو جانا چاہیئے کہ کھلم کھلا گناہ کرنے والے کی غیبت اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس نے خود اپنے گناہ کا اقرار کیا ہو لیکن اگر وہ اپنے عمل کا کوئی صحیح عذر پیش کرے تو اس کی غیبت جائز نہیں ہے۔ مثلاً شراب کو دَوا کے طور پر اور بیماری کے علاج کی غرض سے پینے کا عذر کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں ایسے شخص کی تقلید میں ہوں جو شراب کو اس صورت میں جائز جانتا ہے یا مثلاً رمضان کے مہینے میں کھانا کھانے کے لیے یہ عذر پیش کرتا ہے کہ میں مریض یا مسافر ہوں یا دوسرے قابلِ قبول عذر رکھتا ہے اور مثلاً ایسا شخص جو گناہ کرتا ہے تو اپنے عمل کے لیے کوئی عذر گھڑ لیتا ہے بشرطیکہ اس عذر میں بظاہر کوئی نقصان یا خرابی نہ ہو اور احتیاط اس شخص کی غیبت ترک کرنے میں بھی ہے جو کسی انجان شہر یا اجنبی محلے میں وہ گناہ کھلم کھلا کرتا ہے۔
( ۲) مظلوم اگر اپنے آپ پر کیے ہوئے ظالم کو ظلم بیان کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے یہ غیبت نہیں ہے جیسا کہ خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے :" جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد ظالم سے انتقام لیتا ہے اور جو ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں ان پر کوئی سختی یا ناخوشی نہیں ہے۔" (ظالموں سے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے )۔ دراصل گناہ اور عذاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور کسی سبب اور دلیل کے بغیر حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ انہیں لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (سورہ شوریٰ آیت ۳۹)
خداوند عالم سورہ نساء میں فرماتا ہے:" خدا مظلوم کے علاوہ اور کسی کا کھلم کھلا بُری باتیں کرنا پسند نہیں کرتا۔" (آیت ۱۴۸)
احتیاط اس میں ہے کہ مظلومیت کا اظہار اس شخص کے سامنے کرے جس سے اسے داد خواہی یعنی انصاف کی اُمید ہو اور اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس شخص سے انصاف نہیں ہو گا یا یہ انصاف نہیں کرے گا تو اس سے ظالم کی شکایت نہ کرے اور اس کے ظلم کا ذکر بھی نہ کرے۔
( ۳) مشورہ طلب کرنے والے کو نصیحت۔ جب کوئی مسلمان کسی ایسے معاملے میں جو کسی مخصوص شخص کے ساتھ کرنا چاہتا ہے کسی سے مشورہ کرتا ہے اور جس سے مشورہ کیا جاتا ہے اور وہ اس مخصوص شخص کا کوئی ایسا عیب جانتا ہے جو اگر بیان نہیں کرتا تو معاملہ مکمل ہو جاتا ہے اور وہ مسلمان پریشانی میں پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ درحقیقت اس کو یہ عیب نہ بتانا نقصان میں پھنسانے اور اس کے ساتھ خیانت کرنے کے مترادف ہے۔ تو اس صورت میں اس شخص کا عیب بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جاننا چاہیئے کہ اس مسئلے میں احتیاطاً دو باتوں کا لحاظ رکھنا ہے ایک یہ کہ ایسی صورت میں اس شخص کا عیب بیان کرے جب نہ کہنے سے نقصان زیادہ ہو اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی مشورہ کرنے والے کا نقصان سے زیادہ اس شخص کی بے آبروئی اور بے عزّتی کا نقصان ہو جس کا عیب بیان کیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ اس کا عیب بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس شخص کے عیب کا ذکر کرنا اس وقت جائز ہے جب اس معاملے سے پیدا ہونے والی خرابی روکنے کے لیے اس عیب کا ذکر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ ہو۔ اگر اس عیب کا ذکر کیے بغیر ہی کام چل جائے مثلاً اتنا ہی کہے کہ اس معاملے میں مجھ اس کی صلاحیت کا علم نہیں ہے اور وہ (مشورہ کرنے والا) اسی کو مان لیتا ہے تو پھر اسی پر اکتفا کرنا چاہیئے۔
( ۴) نہی از منکر کی نیّت سے جب کہ اس کی تمام شرطیں پوری ہوتی ہوں غیبت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یعنی جب کسی مسلمان کا کوئی بُرا فعل دیکھے اور یہ سمجھے کہ اگر وہ اس کی غیبت کرتا ہے تو وہ اس کام کو ترک کر دے گا غیبت جائز ہے۔ لیکن اس صورت میں جب کہ اس کے بُرے فعل پر اس شخص کا اصرار جانتا ہے البتہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس نے ترک کر دیا ہے تو اس کا ذکر جائز نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلے قضیئے کے مانند غیبت کرنے کی خرابی اور اس بُرے فعل کی خرابی کا موازنہ کر لینا چاہیئے۔ اگر اس مسلمان کی بے عزتی کا نقصان اس بُرے فعل کے نقصان سے زیادہ ہے جس میں وہ مشغول ہے تو اس کی غیبت کرنا جائز نہیں ہے چاہے اسے اس بات کا یقین ہی ہو کہ غیبت کرنے سے وہ شخص اس گناہ کو ترک کر دے گا۔
اس بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کا گناہ دیکھو تو اس کے صحیح ہونے ہی کا گمان کرو اور اگر اس کا گناہ ہونا قطعی نظر آئے اور اسے صحیح سمجھا ہی نہ جا سکے تو ایسی صورت میں جبکہ اس مسلمان نے وہ گناہ ترک کر دیا ہو اور اسے نہ دُہرایا ہو اس کے اس گناہ کا ذِکر کرنا حرام ہے اور اسی طرح اسے منع کرنا یا ملامت کرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ نہی از منکر کا مقصد ترکِ گناہ ہوتا ہے اور جب کسی نے خود ہی گناہ ترک کر دیا ہو تو پھر اسے منع کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور اگر اس نے گناہ ترک نہیں کیا بلکہ اس پر اصرار کرتا ہے تو اس صورت میں چھپے ہوئے گناہ کو دوسرے کے سامنے کھولنا اور بیان کرنا حرام ہے۔ اسے نہی از منکر کی تمام شرطوں کے ساتھ گناہ سے روکنا چاہیئے اور اگر نہ رُکے اور یہ سمجھ میں آئے کہ اس کا گناہ دوسروں سے بیان کرنے پر یہ اسے ترک کر دے گا تو اس صورت میں اس کا گناہ بیان کرنا جائز ہے لیکن شرط یہی ہے کہ گناہ کا ترک کرنا اس مسلمان کی آبرریزی اور رسوائی سے زیادہ اہم ہو۔
جو کچھ یہاں کہا گیا ہے اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ نہی از منکر کی خاطر مسلمان کی غیبت اسی صورت میں جائز ہے جب وہ مسلمان اس گناہ پر اصرار کرتا ہو اور صرف منع کرنے سے باز نہ آتا ہو اور اس گناہ کا نقصان اس کی آبروریزی اور رسوائی سے زیادہ ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اگر اس کی غبیت کی جائے گی تو وہ اس گناہ کو ترک کر دے گا۔ اگر ان چاروں شرطوں میں سے ایک بھی کم ہوئی تو اس کی غیبت کرنا حرام ہے
( ۵) ایسے شخص کا عیب کھولنا اور اس کی غیبت کرنا جو خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے اور خدا کے دین میں بدعت کو رواج دینے والا ہے تو اس خیال سے کہ لوگ اس سے دھوکا نہ کھائیں اور اس کے جال میں نہ پھنسیں۔
( ۶) جس گناہگار نے کوئی روایت بیان کی ہو یا کسی بات کی گواہی دی ہو اس نیت سے اس کی غیبت کرنا کہ لوگ اس کے گناہ سے واقف ہو جائیں او اس کی بات کا اثر قبول نہ کریں۔
( ۷) کسی کا ایسے عیب اور نقص سے ذکر کرنا جس سے وہ مشہور ومعروف ہو جیسے اعمش (جس کی بینائی کمزور ہو اور آنکھیں برابر ڈبڈبائی رہتی ہوں)، بھینگا، لنگڑا وغیرہ لیکن اس طرح کہ اس کا عیب بیان کرنا مقصود نہ ہو بلکہ اسے صرف پہچنوانا منظور ہو اور وہ شخص بھی ان القاب (ناموں) سے ناراض نہ ہو ورنہ ان سے پرہیز کر کے کسی دوسری طرح اسے صرف پہچنواناچاہیئے ۔
( ۸) کسی ایسے شخص کی تردید (کاٹ) کرنا جو کسی خاندان سے یا نسل سے اپنے تعلق کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہو کیونکہ نسلوں اور خاندانوں کی حفاظت کا خیال دعوے دار کی بے عزت کے نقصان پر مقدم ہے۔
( ۹) کتاب کشف الریبہ میں بعض فقہاء سے نقل کیا گیا ہے جب دو آدمیوں کسی شخص کا گناہ دیکھیں اور اس کی غیر حاضر میں ایک دوسرے سے بیان کریں تو یہ جائز ہے کیونکہ کہنے والا سُننے والے سے کوئی ایسی بات نہیں کہتا جو سُننے والے کی نظر سے چھپی ہوئی ہو بلکہ جو بات اس نے خود بھی دیکھی ہے وہی دُہراتا ہے اور شہد نے فرمایا ہے کہ ایسی بات چیت ترک کرنا خاص طور پر اس صورت میں بہتر ہے جب کہ یہ خیال ہو کہ سُننے والا اسے بھول چکا ہے یا یہ اندیشہ ہو کہ اصل واقعہ مشہور نہ ہو جائے۔
شیخ انصاری فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کا اس گناہ کا ایک دوسرے سے بیان کرنا اگر اس شخص کی ملامت اور عیب جوئی کی خاطر ہو تو حرام ہے ورنہ جائز ہے۔
( ۱۰) کلیہ یہ ہے کہ جس موقع پر کسی مومن کی غیبت کرنے میں اس کی رسوائی کے نقصان سے زیادہ فائدہ ہو جیسے اپنے معاملات میں گواہی دینا تو غیبت جائز ہے۔
غیبت سُننا بھی حرام ہے
جس طرح غیبت کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے اسی طرح غیبت سُننا بھی تمام فقہاء کے نزدیک یکسر حرام ہے اور پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: " غیبت سُننے والا غیبت کرنے والے کے برابر ہے اور غیبت پر کان دھرنے والا غیبت کرنے والوں میں سے ہے۔" (مستدرک الوسائل کتاب حج باب ۱۳۶) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "کسی مسلمان کی غیبت کرنا کفر کے برابر ہے اور غیبت سننا اور اس سے خوش ہونا شرک کے برابر ہے۔"
(کشف الریبہ)
ان روایتوں کو دیکھنے کے بعد جو مومن کی شان میں آئی ہیں، اس کے احترام کو کعبے سے بھی زیادہ اور اس کی آبروریزی کو اس کا خون بہانے کے برابر جانتی اور اس کا راز کھولنے کو دردناک عذاب کا سبب شمار کرتی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیبت کا سب سے بڑا رکن اور مومن کی توہین کا سبب سُننے والا شخص ہوتا ہے کیونکہ اگر سُننے والا نہ ہو یا نہ سُنے تو غیبت نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جب یہ دیکھے کہ کوئی شخص کسی مومن کا عیب بیان کر رہا ہے تو اسے نہ سنے بلکہ اس کی کاٹ کرے اور اس مومن کی حمایت کرے۔
رسولِ خدا فرماتے ہیں: "جس کسی کے سامنے اس کے دینی بھائی کی غیبت ہو رہی ہو اور وہ حتی الامکان اس کی حمایت کرتا ہے تو خدا دُنیا اور آخرت میں اس کی، مدد فرمائے گا اور اگر اس نے امکان اور سکت کے باوجود اس کی حمایت نہیں کی تو خدا بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دے گا اور دُنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا۔" (المجالس)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو کوئی اپنے دینی بھائی کے ساتھ اس کی اس غیبت کے سلسلے میں جو کسی صحبت میں ہوتی ہے اس طرح نیکی کرتا ہے کہ اس غیبت کی تردید کرتا ہے تو خدا دُنیا اور آخرت کی ہزاروں قسم کی بُرائیاں اس سے دُور کر دے گا اور اگر وہ شخص امکان اور سکت کے باوجود غیبت کی تردید نہیں کرے گا تو اس کے گناہ غیبت کرنے والے کے گناہ سے ستر گنا زیادہ ہو جائیں گے۔"
شیخ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس غیبت سُننے والے کے گناہ جس نے غیبت سن کر اس کی کاٹ نہیں کی خود غیبت کرنے والے سے بڑھ جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی یہ خاموشی یا پہلو تہی مومن اور دوسروں کی غیبت کرنے کی لوگوں کو جرأت دلاتی ہے۔
غیبت کی کاٹ کرنا غیبت سے روکنا اور غیبت سُن کر خاموش رہنا غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
پس اگر کوئی دُنیاوی عیب ہو تو کہے کہ یہ عیب نہیں ہے بلکہ عیب وہ باتیں ہیں جنہیں خدا نے عیب قرار دیا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے یعنی گناہ اور اس میں اپنے بھائی سے ایسی بات منسوب کرنا بھی شامل ہے جس کو خدا نے عیب نہیں جانا ہے یعنی تیرا غیبت کرنا عیب ہے اور اگر وہ دینی عیب ہو مثلاً اگر کوئی مومن کا کوئی گناہ بیان کرتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی صحیح صحیح وجہ بیان کرے یعنی اس کی صحیح توجیہ کرے اور اگر صحیح توجیہ ممکن نہ ہو و کہے کہ مومن معصوم نہیں ہوتا اس سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہے اس لیے اس کی مغفرت کی دعا کرنا چاہیئے اسے ملامت یا رُسوا نہیں کرنا چاہیئے۔ ممکن ہے تیری ملامت اور تنبیہ اس مومن کے گناہ سے زیادہ ہو۔
غیبت کی کاٹ کے مستثنٰی موقعے
جاننا چاہیئے کہ اس صورت میں غیبت سُننا حرام اور اس کی کاٹ اور مومن کی حمایت واجب ہے جبکہ ان دس موقعوں میں سے کوئی موقع پیش نہ آئے جن پر غیبت کے جائز ہونے کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس لیے غیبت کی تین قسمیں ہو سکتی ہیں: اوّل وہ جسے وہ یہ جان لے کہ یہ دس استثنائی موقعوں کی غیبت ہے۔ ایسی صورت میں اس کا سُننا جائز اور اسے کاٹنا واجب نہیں ہے۔ دوم وہ جبکہ یہ یقین کر لے کہ یہ غیبت مذکورہ موقعوں کی نہیں ہے پھر اس کا سُننا قطعی حرام اور امکانی حد تک اس کی کاٹ واجب ہے۔ سوم جب یہ خیال ہو کہ یہ غیبت کے جائز موقعوں سے متعلق ہے۔ اس صورت میں موازنہ کرے اس غیبت کو نہ سُننے، رد کرنے بلکہ مومن کی حمایت کا غیبت کرنے والے کی عزت بچانے سے کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ موقع جائز ہو اور گناہ نہ ہو۔ مثلاً غیبت کرنے والا کہے کہ شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور اس عیب کی وہ کوئی صحیح وجہ بیان کرے۔
دوزخ اور دوزبانا
شیخ انصاری مکاسب میں غیبت کی بحث کے آخر میں فرماتے ہیں: "اگر غیبت کرنے والا ایسا ہو جو اس کے شخص کے منہ پر جس کی غیبت کر رہا ہے تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے لیکن پیٹھ پیچھے اس کے عیب بیان کرتا ہے تو اس کا عذاب دُگنا ہوتا ہے اور شرع میں اسے ذواللسانین یعنی دو زبانوں والا کہا جاتا ہے اور اس صورت میں غیبت سخت حرام ہو جاتی ہے۔ روایتوں میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جب قیامت میں آئے گا تو اس کے منہ سے آگ کی دو زبانیں لٹکتی ہوں گی۔ (مکاسب)
چُغل خوری
وہ گناہ جس کا کبیرہ ہونا قرآن اور حدیث میں کیے ہوئے عذاب کے وعدے سے ثابت ہوتا ہے چغل خوری ہے۔ چنانچہ شہید ثانی "کشف الریبہ" میں اور شیخ انصاری "مکاسب محرمہ" میں اس کے کبیرہ ہونے کی صراحت کرتے ہیں اور انہوں نے قرآن مجید کی کئی آیتیں بھی بطور دلیل پیش کی ہیں۔ مثلاً خداوند عالم سورہ رعد آیت ۲۵ میں فرماتا ہے: "اور جو لوگ اس کو جدا کرتے ہیں جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور زمین میں خرابی پھیلاتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے خدا کی رحمت سے دُوری اور آخرت کی بُرائی یعنی آخرت کا عذاب ہے۔"
ظاہر ہے کہ چغل خور جو ایک شخص سے کسی کے بارے میں کوئی بات سُن کر اس کے سامنے جا کر اسے سنا دیتا ہے اور خدا نے جس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے الگ کر دیتا ہے اور زمین میں خرابی پھیلاتا ہے کیونکہ بجائے اس کے کہ مومنوں میں باہمی محبت پیدا کرے اور ان کے اتفاق اور اتحاد کو پکا کرے ان میں تفرقہ اور جدائی دشمنی ڈالتا ہے پس اس پر خدا کی لعنت اور آخرت کا عذاب ہو گا۔
سورہ البقرہ میں فرمایا گیا ہے: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ شدید ہے۔" اور ایک اور آیت کے مطابق زیادہ بڑا گناہ ہے اور ظاہر ہے کہ چغل خور اپنی چغل خوری سے فتنوں کی آگ بھڑکاتا ہے۔
سورہ نون میں کفار کی صفات کے سلسلے میں جو جہنم کی آگ میں ڈالے جانے کے مستحق ہیں خداوندعالم فرماتا ہے: "مشاءٍ بنمیم" سفر کرتے ہیں چغل خوری کے لیے۔
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) جادو کی قسمیں بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "بلاشبہ جادو کی سب سے بڑی قسم چغل خوری ہے جس سے دوستوں میں جدائی ڈال دی جاتی ہے اور ان لوگوں میں صلح صفائی کی جگہ دشمنی پیدا کر دی جاتی ہے جو آپس میں ہم آہنگ اور ہم خیال تھے، چغل خوری کی وجہ سے خون بہائے جاتے ہیں، گھر برباد کیے جاتے ہیں اور پردے کھولے جاتے ہیں اور چغل خور زمین پر چلنے والے لوگوں میں بدترین لوگ ہوتے ہیں۔" (احتجاج)
جادو کا کبیرہ ہونا پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے اس لیے چغل خوری جو اس کی سب سے بڑی قسم ہے قطعی گناہ کبیرہ ہے۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "کیا میں تمہیں تم میں سے سب سے بدترین آدمیوں سے آگاہ نہ کروں؟" لوگوں نے کہا: "ضرور! اے پیغمبر گرامی۔" آنحضرت نے فرمایا: "جو چغل خوری کرتے، دوستوں میں تفرقہ ڈالتے اور پاک لوگوں کے عیب ڈھونڈتے ہیں۔" (کافی)
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "بہشت ان جھوٹ بولنے والوں پر حرام ہے جو چغل خوری کرتے ہیں۔" (کافی)
رسول خدا سے روایت ہے: "جو دو انسانوں میں چغل خوری کے لیے سفر کرتا ہے خداوندعالم اس پر قبر میں آگ کو مسلط فرمائے گا، جو اسے جلا ڈالے گی اور جب وہ اپنی قبر سے نکلے گا تو اس پر ایک بڑے اور کالے سانپ کو مسلط کر دے گا، جو اس وقت تک اس کا گوشت کھاتا رہے گا جب تک وہ جہنم میں نہیں ہو جاتا۔" (عقاب الاعمال)
آنحضرت نے یہ بھی فرمایا: "جب میں معراج کے لیے گیا تھا تو مَیں نے ایک عورت دیکھی تھی جس کا سر سور کا سا اور بدن خچر کا سا تھا اور اس پر ہزاروں قسم کی سختیاں ہو رہی تھیں۔"
پھر آنحضرت سے پوچھا گیا: "اس عورت کا کام کیا تھا؟"
آپ نے فرمایا: "چغل خوری اور جھوٹ بولنا۔" (عیون الاخبار)
وسائل الشیعہ کی کتاب حج میں چغل خوری کے حرام ہونے سے متعلق بارہ حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور ان سب میں بتایا گیا ہے کہ چغل خور پر بہشت حرام ہے۔
خداوندعالم سورہ ہمزہ میں فرماتا ہے کہ "ویل لکل ھمزة لمزة" ویل جہنم کے ایک درجے یا غار کا نام ہے یا اس کے معنی سخت عذاب کے ہیں اور ہمزہ کے معنی چغل خور کے ہیں۔ جیسا کہ شہید ثانی "کشف الریبہ" میں اس کی صراحت فرماتے ہیں اور بعض علماء نے بھی آیت "ھماز مشاء بنمیم عتل بعد ذلک زنیم"کے معنی اپنے آپ سے وابستہ یعنی حرام زادہ کیے ہیں کہ جس کے باپ کا پتا نہیں ہے اور وہ اسے زبردستی اپنے آپ سے وابستہ کرتا ہے۔ (یہ دوسروں کا راز پوشیدہ رکھنے والے اور چغل خور کے لیے ہے۔)
چغل خور کی وجہ سے بارش نہیں ہوتی
بنی اسرائیل میں قحط پڑا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا سے بارش کی دعا کی۔ وحی آئی کہ میں تمہاری اور ان لوگوں کی جو تمہارے ساتھ ہیں دعا قبول نہیں کروں گا کیونکہ تم میں سے ایک ایسا چغل خور شخص موجود ہے جو چغل خوری سے باز نہیں آتا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا: "اے خدا! وہ شخص کون ہے؟ تاکہ ہم اسے اپنی جماعت سے نکال دیں۔"
خداوندعالم نے فرمایا: "میں خود تمہیں چغل خوری سے منع کرتا ہوں، پھر دوسرے کا راز میں کیوں کر کھولوں۔"
اس پر ان سب نے مل کر توبہ کی اور اس چغل خور نے بھی ان سب کے ساتھ توبہ کی۔ اس کے بعد ان کے لیے پانی برسا۔ (وسائل الشیعہ کتاب حج)
چغل خوری کے معنی
شیخ انصاری نے مکاسب میں فرمایا ہے کہ چغل خوری قرآن، سنت، اجماع اور عقل کی رو سے حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور ایسی بات بیان کرنا ہے جو کسی نے کسی شخص کے بارے میں کہی ہو۔ چنانچہ سُننے والا اس شخص کو خبر دیتا ہے اور اس کے سامنے وہ بات دُہراتا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تک بات کرنے والا اس بات پر رضا مند نہ ہو کہ اس کی بات دوسرے شخص تک پہنچائی جائے ایسا کرنا چغل خوری کے علاوہ غیبت بھی ہے اور اس کا کرنے والا سزا کا بھی مستحق ہے اور جس قدر چغل خوری کا فساد زیاد ہ ہو گا اس کی سزا بھی زیادہ ہی ہو گی۔
شہید ثانی کشف الریبہ میں فرماتے ہیں: "چغل خوری ایسے بھید کا کھول ڈالنا ہے جس کا کھلنا بات کرنے والے کے نزدیک بُرا ہے یا اس شخص کے نزدیک بُرا ہے جس کے بارے میں وہ بات کہی گئی ہے اور جس سے بیان کی جاتی ہے یا تیسرے شخص کی نظر میں بُرا ہے چاہے یہ انکشاف زبانی ہو یا تحریری ہو یا اشارے کنارے سے ہو یا عمل سے ہو یا عیب اور بُرائی کی بات ہو یا نہ ہو کیونکہ درحقیقت چغل خوری چھپے ہوئے بھید کا انکشاف اور چھپی ہوئی باتوں کی توہین ہے جن کے ظاہر ہو جانے سے دو بڑے نتیجے برآمد ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو جو حال نظر آتا ہے مناسب یہ ہے کہ اس میں سے اتنا ہی بیان کیا جائے جتنا کسی مسلمان کے حق میں مفید ہو یا جس سے گناہ دُور ہو۔ چنانچہ اگر یہ دیکھے کہ کسی نے دوسرے کا مال اڑا لیا اور اس سے گواہی طلب کی جائے تو اسے چھپانا نہیں چاہیئے اور اگر یہ دیکھے کہ کسی نے اپنا مال کسی جگہ چھپا دیا تو دوسرے شخص سے اس کا بیان چغل خوری اور بھید کھول دینا ہے اور اگر اس کے بیان سے بھید والے کا کوئی نقص یا عیب بھی سامنے آ جاتا ہے تو پھر یہ غیبت بھی ہو جاتی ہے۔"
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ چغل خوری کے کئی اسباب ہوتے ہیں:
اوّل: اس شخص سے بُرائی کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کی نیّت جس کی بات دُہرائی جاتی ہے۔
دوم: اس شخص سے دوستی اور اپنی خیر خواہی ظاہر کرنا جس سے یہ بات کہی جاتی ہے۔
سوم: خوش مزاجی ظاہر کرنا اور زیادہ باتیں بنانا۔
اس کے بعد اس شخص کے جس سے چغل خوری کی جاتی ہے چھ فرائض ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص تم سے یہ کہے کہ فلاں شخص نے تمہارے متعلق ایسا ایسا کیا ہے یہ وہ تمہارا کام بگاڑنے اور حالت تباہ کرنے کے در پے ہے تو تم پر اس کے مقابلے میں چھ چیزں لازم ہیں:
اوّل: یہ کہ اس کی بات کا یقین ہی نہ کرو اور اس کی بات ہی نہ مانو کیونکہ چغل خور گناہگار ہوتا ہے اور خدا فرماتا ہے کہ اگر کوئی گناہگار تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اسے نہ مانو بلکہ اِدھر اُدھر سے اس کی جانچ پڑتال کرو۔
دوم: اسے چغل خوری سے منع کرو اور نصیحت کرو اور اس کے کام کو بُرا سمجھو کیونکہ خدا فرماتا ہے امر بہ معروف اور نہی از منکر کرو۔
سوم: خدا کے لیے اس کی گفتگو کی وجہ سے اسے دشمن سمجھو کیونکہ خدا چغل خور کو دشمن سمجھتا ہے اور خدا کے دشمن سے دشمنی رکھنا واجب ہے۔
چہارم: چغل خور کے کہنے کی وجہ سے اسے اپنے دینی بھائی سے بدگمانی نہ کرو کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ بہت سے شکوک سے بچو۔ دراصل بعض شکوک وخیالات گناہ ہوتے ہیں۔ (اجتنبوا کثیراً من الظن ان بعض الظن اثم)
پنجم: اس کی بات پر تحقیق اور جستجو شروع نہ کرو کیونکہ خدا فرماتا ہے: "ولا تجسوا"یعنی شبہے کی وجہ سے جستجو نہ کرو بلکہ اسے ایسا جانو جیسے سنا ہی نہیں۔
ششم: چغل خور کا کام اپنے لیے اچھا نہ سمجھو یعنی اسے اختیار نہ کرو اور اس کی گفتگو دوسرے سے بیان نہ کرو کہ اس سے تم بھی کہیں چغل خور اور غیبت کرنے والے نہ بن جاؤ۔
کتاب کشف الریبہ میں لکھا ہے کہ کسی عالم کا کوئی دوست تھا جو ایک دن اس سے ملنے آیا اور اس نے گفتگو کے دوران میں اس سے ایک ایسی بات بھی بیان کر دی جو کسی دوسرے نے اس عالم کے لیے کہی تھی۔ اس پر اس عالم نے کہا: "تم ایک مدت کے بعد مجھ سے ملنے آئے تو تین خیانتیں بھی ساتھ لیتے آئے۔ ایک یہ کہ تم نے میرے اور اس شخص کے درمیان میں دشمنی پیدا کر دی۔ دوسرے یہ کہ میرے بے فکر اور آزاد دل کو اس کی باتوں میں میں الجھا دیا۔ اس کے علاوہ تیسرے یہ کہ تم اپنے آپ کو میرے نزدیک خیانت کا مرتکب بنا دیا۔"
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص دوسرے کی باتیں تم سے لگاتا ہے وہ تمہاری باتیں بھی دوسرے سے لگائے گا۔ اس لیے اس کا اعتبار مت کرو۔
"جس نے دوسروں کے عیب تمہارے سامنے گن ڈالے وہ یقینا تمہارے عیب بھی دوسروں سے جا کر بیان کرے گا۔ "
اس سے تو سخت پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس کے بعد حکایت بیان فرمائے ہیں:
ایک شخص غلام بیچ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے بجز اس کے کہ یہ چغل خور ہے گاہک کہنے لگا: "کوئی بات نہیں۔" اور اس نے اسے مول لے لیا۔ غلام نے مالک کی بیوی سے کہا: "آقا تمہیں پسندنہیں کرتے وہ ایک لونڈی خریدنا چاہتے ہیں۔ جب وہ سو جائیں تو تلوار لے کر ان کے گلے کے نیچے کے چند بال کاٹ کر مجھے دے دینا تاکہ میں جادو کروں جس سے وہ تم پر عاشق ہو جائیں۔" ادھر خواجہ سے اس نے کہا کہ یہ عورت کسی اور پر عاشق ہے اور آپ کو قتل کرنا چاہتی ہے۔ ذرا اپنے کو سوتے میں ڈال کر دیکھئے تو کہ یہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔شوہر سوتا بن گیا۔ اس نے دیکھا کہ بیوی تلوار ہاتھ میں لیے آئی۔ جب قریب پہنچی تو اس نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ شوہر کو یقین آ گیا کہ وہ اس مار ڈالے گی اس لیے وہ کود کر الگ جا کھڑا ہوا اور اس نے اسی تلوار سے اپنی بیوی کو قتل کر ڈالا۔ بیوی کے رشتے دار آئے اور انہوں نے شوہر کو مار ڈالا اور شوہر کے رشتے دار آ گئے ان میں لڑائی چھڑ گئی اور بہت خون خرابا ہو
مومن کی آبروریزی کرنا
مذاق، گالی، طعنہ، تذلیل، توہین، پھٹکار، ہجو اور آزاررسانی سے مومن کی آبروریزی کرنا ایسا گناہ کبیرہ ہے جس کے لیے خداوندعالم نے عذاب کا وعدہ کیا ہے، مومن کی آبروریزی چاہے وہ جس طرح بھی ہو، چاہے ہنسی آڑانے سے یا گالی دینے سے اور بُرا بھلا کہنے سے یا عیب بیان کرنے سے یا ڈانٹ پھٹکار اور ملامت سے یا ذلیل کرنے سے، بے قدری کرنے سے، توہین کرنے سے یا ہجو کرنے سے اور اس کو آزار پہنچانے سے ہو۔
مومن باعزت ہوتا ہے
مومن کی شان میں جو آیتیں اور روایتیں ملتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی شان اور شرافت میں خدا نے غیر معمولی اہتمام کیا ہے کہ اسے تمام محترم چیزوں سے زیادہ محترم اور اس کی آبروریزی کو بہت بڑا گناہ اور اس کا خون بہانے کے مانند شمار کیا ہے اور اسے اپنے آپ سے وابستہ سمجھ کر فرمایا ہے: "خدا ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لائے ہیں۔" (سورة البقرہ آیت ۲۵۷) " اور اپنے آپ کو ان کا دوست اور مددگار بنایا ہے۔" (سورة محمد آیت ۱۱) اور مومنوں کی مدد اپنے اوپر واجب کر لی ہے۔" (ّسورة روم آیت ۴۷) اسے حقیقی عزت دے کر اپنے اور اپنے پیغمبر کے پیچھے رکھا۔" (سورة منافقون آیت ۸) " اسے بہترین اور سب سے اونچا انسان سمجھتا ہے۔" (سورة بیّنہ آیت ۷) " اور اپنے اشرف المخلوقات یعنی حضرت خاتم الانبیاء کو ان کے ساتھ عاجزی اور نرمی سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔" (سورة الشعراء آیت ۲۱۵) " اپنی رحمت ان کے لیے واجب کر دی ہے۔" (سورة انعام آیت ۵۴ ، سورة توبہ آیت ۷۱) " اپنے آپ کو ان کی جان اور مال کا خریدار کہا ہے۔" (سورة توبہ آیت ۱۱۱) " انہیں پسند کرتا ہے اور وہ بھی خدا کو سب سے زیادہ دوست رکھتے ہیں۔" (سورة مائدہ آیت ۵۴ ، سورة بقرہ آیت ۱۶۵)
غرض خدا سے مومن کی نسبت اور وابستگی ظاہر ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ بزرگی سے جو توہین عزت وابستہ ہے وہ درحقیقت اسی بزرگ یعنی مومن کی توہین ہو گی۔ آنحضرت کی روایت میں اس پر طعنہ زنی اور اس کی بات کی کاٹ خدا کی بات کی کاٹ بتائی گئی ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۵۹) اور حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم مومن کا حق کعبے کے حق سے بھی بڑا ہوتا ہے۔" (سفینة البحار جلد ۱ ص ۲۹۰)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی آبروریزی کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ محترم قارئین کی معلوم کے لیے مذکورہ عناوین میں سے ہر عنوان سے خصوصیت رکھنے والی آیات اور احادیث بیان کی جاتی ہیں:
( ۱) مذاق اُڑانا
کسی شخص کی گفتگو یا عمل یا خصوصیت یا عادت اس طرح بیان کرنا جس سے دوسروں کو ہنسی آ جائے چاہے گفتگو سے ہو یا عمل سے، بشارت سے ہو یا کنائے سے اس کے گناہ کبیرہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید اور روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورة توبہ میں کہا گیا ہے: "جو لوگ ہنسی ہنسی میں خیرات کرنے والے مومنوں کے عیب نکالتے ہیں۔ ان کی بخششوں (خیراتوں) اور خود ان میں بھی برائیاں بتاتے ہیں کہ ان کے پاس اتنا مال ہی نہیں ہے جو اپنی طاقت اور حیثیت سے زیادہ خدا کی راہ میں خرچ کر سکیں۔ خدا ان مذاق اُڑانے والوں کی ہنسی اُڑاتا ہے (یعنی ان کی ہنسی کا انہیں بدلہ دیتا ہے) اور ان کے لیے تکلیف دینے والا اور دردناک عذاب ہے۔ (آیت ۷۹)
اس آیت کی شانِ نزول میں بہت سی روایتیں ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ تبوک کی لڑائی میں رسول خدا نے اسلام کی فوج کے اخراجات کے لیے حکم دیا کہ جو کوئی جتنا دے سکتا ہو دے۔ بعض مالدار بہت سا مال لائے اور بعض مفلسوں نے جن کے پاس کم تھا کم دیا۔ چنانچہ ابوعقیل انصاری تقریباً پونے دو سیر کھجوریں لائے اور بولے میں نے گذشتہ رات کو صبح تک کام کیا جس کی مزدوری مجھے ساڑھے تین سیر کھجوریں ملی تھیں۔ آدھی میں نے اپنے بچوں کے لیے چھوڑ دیں اور آدھی خدا کی راہ میں دے دیں۔ منافقوں نے دونوں باتوں کی ہنسی اُڑائی اور دونوں میں عیب نکالا۔ جنہوں نے زیادہ مال دیا ان کے لیے کہتے تھے کہ دھوکا اور ریا ہے اور اتنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے دیا ہے اور جنہوں نے کم دیا تھا ان کے لیے کہتے تھے کہ انہوں نے کچھ صدقہ اس لیے دے دیا ہے کہ خیرات کرنے والوں میں شامل ہو جائیں اور لوگوں کو اپنی یاد دلائیں۔
مومنوں کی ہنسی اُڑانے والوں کی سزا ایک تو ان کے ساتھ خدا کا مذاق ہے اور دوسرے جہنم ہے جو ان کی جائے قرار ہے۔ اللہ کے مذاق سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں کچھ باتیں کہی گئی ہیں مثلاً خدا ہنسی اُڑانے والوں کو دُنیا میں مہلت دیتا ہے اور نازونعمت میں مشغول رکھتا ہے جب ان کی سرکشی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو انہیں ہلاک کر دیتا ہے اور یہ بات اس لیے مذاق بن جاتی ہے کہ یہ مہلت اور نازو نعمت ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ہلاکت ہوتی ہے اور یہ آخرت کا مذاق اس لیے ہے کہ جب مومنین بہشت میں اپنے اپنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور کافر دوزخ میں پڑے ہوں گے اس وقت خدا کے حکم سے بہشت کی طرف دوزخ کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ جب منافق بہشت کو دیکھیں گے تو بہت پھرتی سے اس کے دروازے تک پہنچیں گے اور بہشتوں کو عالی شان مقامات پر بیٹھاپائیں گے لیکن جیسے ہی بہشت میں داخل ہونا چاہیں گے فوراً دروازہ بند ہو جائے گا اور مومنین ان پر ہنس پڑیں گے۔ دُنیا میں ان کے ہنسی اُڑانے کا یہ جواب ہو گا۔
آج مومنین کافروں پر ہنسیں گے
سورة تطفیف میں خدا فرماتا ہے: "واقعی گناہگار مومنوں پر ہنستے ہیں اور جب ان سے کہیں مل جاتے ہیں بلاتاخیر بھاگتے ہیں اور آپس میں آہستہ آہستہ اور اشاروں میں عیب جوئی کرنے لگتے ہیں۔" (آیات ۶۸ ۔ ۶۹) پھر فرماتا ہے: "قیامت میں مومنین جب بہشت میں مقیم ہوں گے اور تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہ کافروں پر ہنسیں گے یعنی جو کافر دُنیا میں مومنوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے اس کے جواب میں وہ آخرت میں مومنوں کی ہنسی کا نشانہ بنیں گے۔" (آیت ۳۴)
ان آیتوں میں مومن پر ہنسنے والے کو گناہگار اور مجرم کہا گیا ہے جس کے معنی ہیں گناہ میں ڈوبا ہوا، کفر کا رُخ کرنے والا، سچائی اور نیکی سے دُور اور قیامت میں انہیں مومنوں کے مقابل میں جگہ ملے گی جو بہشت میں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ بہشت کے مقابل دوزخ ہے۔
شاید وہ لوگ بہتر ہوں
خدا سورة حجرات میں فرماتا ہے: "اے ایمان والو! تمہارا ایک گروہ دوسرے گروہ کی ہنسی نہ اُڑائے۔ ہو سکتا ہے کہ ہنسی اڑانے والوں سے وہ بہتر ہوں جن کی ہنسی اُڑائی جائے (درجے کی بلندی اور خدا کے نزدیک اعلیٰ مرتبے کے باعث) اور نہ عورتیں ،عورتوں کی ہنسی اُڑائیں شاید وہ بہتر ہوں اور نہ اپنے لوگوں کو طعنہ دو اور نہ ان کی عیب جوئی کرو (یعنی اپنے ہم مذہبوں کی ہنسی نہ اُڑاؤ۔ چونکہ تمام مومنین نفسِ واحدہ کی طرح یعنی ایک ذات ہیں اس لیے دوسرے کی عیب جوئی اپنی ہی عیب جوئی ہو گی) اور ایک دوسرے کو بُڑے ناموں سے نہ پکارو۔" (آیت ۱۱)
تفسیر مجمع البیان میں بیان کیا گیا ہے کہ ثابت بن قیس جب پیغمبر کی مجلس میں آتے تھے تو اصحاب ان کے اونچا سننے کی وجہ سے انہیں رسولِ خدا کے قریب ہی جگہ دے دیتے تھے تاکہ آنحضرت کی باتیں سُن لیں۔ ایک دن صبح کی نماز کے لیے وہ آخری صف میں جا کھڑے ہوئے۔ نماز کے بعد اٹھے اور لوگوں پر پاؤں رکھتے ہوئے جا رہے تھے کہ ان کے اور پیغمبر کے درمیان صرف ایک آدمی کا فاصلہ رہ گیا۔ انہوں نے اس شخص سے کہا کہ ہٹ جاؤ تاکہ میں رسول خدا کے قریب بیٹھ سکوں۔ اس شخص نے کہا: "وہیں بیٹھ جاؤ۔" ثابت خفا ہو کر وہیں بیٹھ گئے۔ جب اجالا ہوا تو ثابت نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا: "تُو کون ہے؟" اُس نے کہا میں "میں فلاں ہوں۔" ثابت نے کہا "فلاں ولد فلانی۔" اور اس کی ماں کا نام لیا جو اسلام سے پہلے زنا اور عیاشی کے لیے بدنام تھی۔ وہ شخص اس ملامت سے شرمندہ ہو گیا اس نے سر جھکا لیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔
ولانساء من نساء کے بارے میں لکھا ہے: انس کہتے ہیں کہ ایک دن ام سلمہ نے کمر سے سفید ازار باندھ رکھی تھی اور اس کا سر پیٹھ کے پیچھے چھوڑ رکھا تھا جو زمین پر گھسٹتا جاتا تھا۔ عائشہ کو مذاق سوجھا تو حفصہ سے کہا: "ازارکا جو سرا ام سلمہ اپنے پیچھے گھسیٹ رہی ہیں وہ ایسے لگتا ہے جیسے کتے کی زبان منہ سے باہر نکلی ہوئی ہو۔"
نیز پیغمبر کی بیوی، حی بن اخطب کی بیٹی صفیہ کو بھی ملامت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ "اے یہودی کی اولاد"۔
خدا نے وحی بھیجی :"ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے نہ پکارو۔"
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "قیامت میں ہنسی اُرانے والوں کو لائیں گے۔ ان میں سے ایک کے لیے بہشت کا دروازہ کھولیں گے اور اس سے کہیں گے پھرتی سے اس میں داخل ہو جاؤ۔ وہ رنج وغم کے ساتھ داخل ہونے کے لیے بڑھے گا کہ دروازہ بند کر دیں گے۔ پھر دوسری طرف کا دروازہ کھول کر اس سے کہیں گے کہ جلدی سے داخل ہو جاؤ۔ جیسے ہی وہ دروازے کے نزدیک پہنچے گا دروازہ بند کر دیں گے۔ وہ اسی طرح مصیبت میں گرفتار اور پریشان ہو گا لیکن کسی دروازے سے بھی اندر نہیں جا سکے گا آخر کار نااُمید ہو جائے گا۔ چنانچہ جب اس سے پھر کہیں گے کہ جلدی سے آتو وہ نہیں آئے گا۔" (محجة البیضاء جلد ۵ ص ۳۲۶)
( ۲) گالی اور طعنا
مومنوں کو بُری باتوں سے نسبت دینا اور ان کے لیے بُرے بُرے الفاظ استعمال کرنا۔ فقہاء کی بول چال میں زنا اور حرام زادگی کی نسبت کو قذف کہتے ہیں اور دوسری بُری نسبتوں کو گالی کہتے ہیں۔ مثلاً اے سود کھانے والے، شرابی، ملعون، بے ایمان،کنجر، کتے، اے سور، گناہگار، بدکار وغیرہ جن سے مخاطب کو ذلیل وخوار کرنا مراد ہوتا ہے۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "مومن کو گالی دینا گویا اسے ہلاکت کے قریب پہنچانا ہوتا ہے۔" (سباب المومن کالمشرف علی الھلکة (کافی) اور اور شاید مراد یہ ہے کہ مومن کو گالی دینا کفر کے قریب پہنچنا اور دین سے خارج ہو جانا ہے کیونکہ کبیرہ گناہوں پر اصرار کرنے کا انجام کفر ہوتا ہے۔
آپ یہ بھی فرماتے ہی: "مومن کو گالی دینا فسق (گناہ) ہے، اس سے لڑنا کفر اور اس کا گوشت کھانا (غیبت کرنا) گناہ ہے، اور اس کا مال اس کے خون کی طرح حرام رکھا گیا ہے۔" (کافی)
علّامہ مجلسی اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: "یہاں فسق کے معنی گناہِ کبیرہ کے ہیں جو کفر کے قریب ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گالی دینے کا گناہ غیبت سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ خصوصاً اس لحاظ سے کہ مومن کو غیبت کے مقابلے میں گالی سے زیادہ تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ گالی میں تکلیف منہ پر اور غیبت میں تکلیف پیٹھ پیچھے ہوتی ہے۔"
شرح قتالہ کفر میں فرماتے ہیں: "وہ کفر مراد ہے جو گناہِ کبیرہ کے مرتکب کے لیے کہا جاتا ہے یا اس موقع کے اعتبار سے ہے جو اس کے قتل کو حلال شمار کرتا ہے یا اس کے ایمان کے باعث اس سے لڑتا ہے یا یہ کہ مومن سے لڑنا کفر کا سبب ہوتا ہے۔
بد ترین موت
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص مومن کے منہ پر اسے طعنہ دے گا وہ بدترین موت پائے گا اور اس بات کا مستحق ہو گا کہ پھر نیکی کی طرف نہ پلٹے۔" (کافی)
مجلسی اس حدیث کی تشریح کرتے ہیں: "بدترین موت یا دُنیا کے لحاظ سے مثلاً ڈوبنا یا جلنا یا عمارت کے تلے دب جانا یا جانور کی خوراک بن جانا وغیرہ یا آخرت کے لحاظ سے ہے مثلاً یہ کہ کافر مرے یا توبہ کیے بغیر اس دُنیا سے رخصت ہو جائے اور نیکی سے مراد توبہ اور نیک عمل یا ایمان ہے۔"
کبھی کبھی مظلوم بھی ظالم ہو جاتا ہے
حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے ایسے دو آدمیوں کے بارے میں جو ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں فرمایا ہے کہ جو شروع میں گلی دیتا ہے وہ زیادہ ظالم ہے اور اپنا اور دوسرے کا گناہ اسی کی گردن پر ہے جب تک مظلوم یعنی دوسرا فریق حد سے نہ گذر جائے (کافی) یعنی اگر دوسرا فریق اس کے جواب میں حد سے گذر گیا تو پھر اس کا گناہ اسی کی گردن پر ہو گا۔
اس حدیث کی تشریح میں علّامہ مجلسی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں شخصوں کی گالیوں کا گناہ اس شخص کے ذمّے ہے جس نے ابتداء میں گالی دہے کیونکہ حرام فعل پہلے اسی سے سرزد ہوا ہے اور دوسرے فریق کے ارتکاب گناہ کا باعث بھی یہی بنا ہے۔ اگر وہ گالی نہ دیتا تو دوسرا فریق بھی خاموش رہتا۔ جواب میں دوسرے فریق کی گالی اگرچہ گناہ کی تلافی ہے لیکن خدا نے وہ گناہ ابتداء کرنے والے کے ذمّے ہی رکھا ہے بشرطیکہ فریقِ ثانی حد سے تجاوز نہ کرے اور اگر وہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو اپنی زیادتی کی وجہ سے وہ خود گالی کی ابتداء کرنے والا بن جاتا ہے۔
گالی دُہرا کر یا زیادہ سخت گالی دے کر حد سے تجاوز کرنا
جواب میں زیادتی کبھی بار بار گالی دینے سے ہوتی ہے۔ مثلاً شروع میں گالی دینے والا ایک بار کہتا ہے کہ اے کتے! وہ جواب میں دو بار کہتا ہے اے کتے! اے کتے! کبھی جواب میں زیادتی اور زیادہ سخت گالی دینے سے ہوتی ہے۔ مثلاً اس شخص کے جواب میں جس نے کہا ہے اے گدھے! یہ کہے اے کتے! ۔یہ جو کہا گیا ہے کہ جب کوئی برابر کا جواب دیتا ہے تو اس کا گناہ بھی شروع کرنے والے کی گردن پر ہوتا ہے ایسی صورت سے متعلق ہے کہا گیا ہے کہ جب اصل گالی قذف یا جھوٹ نہ ہو۔ تو اگر کوئی کہے اے زنا کرنے والے! یا اے چور! تو جب تک گالی دینے والا چور نہ ہو اس کے جواب میں دوسرا یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے چور! غرض یہ ہے کہ گالی کے جواب میں ایسی گالیوں تک محدود رہنا چاہیئے جو ڈانٹنے پھٹکارنے کے موقع کے لیے مشہور ہے۔ مثلاً کہنا اے بیوقوف، جاہل، ظالم، غافل وغیرہ۔
بدزبان پر بہشت حرام ہے
رسولِ خدا فرماتے ہیں: "واقعی خدا نے ہر ایسے بے آبرو گالی دینے والے اور بے شرم پر بہشت حرام کر دی ہے جسے اس بات میں کوئی جھجھک ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس سے کیا کہا جائے گا کیونکہ درحقیقت اگر اس کی تحقیق کی جائے تو یا تو یہ زنا سے ہے یا اس میں شیطان شریک ہے۔" عرض کیا گیا: "اے رسول خدا ! آدمیوں کے بیچ میں شیطان بھی شریک ہوتا ہے؟ " آپ نے فرمایا: "کیا تم نے خدا کا یہ قول نہیں پڑھا کہ اور اے شیطان! مال اور اولاد میں ان لوگوں کا شریک ہو جانا۔" (کافی۔ باب البذاء)
علّامہ مجلسی نے شیخ بہائی سے نقل کیا ہے کہ شاید اس سے یہ مراد ہے کہ جتنی مدت تک بہشت اس پر حرام ہے یا کوئی مخصوص بہشت مراد ہے جس سے وہ محروم ہے اور جو گالی نہ دینے والے مومن کے لیے تیار کی گئی ہے۔
سماعہ کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس گیا۔ آپ نے مجھ سے بات شروع کی: "اے سماعہ! یہ کیا جھگڑا تھا جو تیرے اور تیرے اونٹ والے کے درمیان کھڑا ہو گیا ایسا نہ ہو کہ تُو گالی بکنے والا، بدزبان اور لعنت بھیجنے والا بن جائے۔" مَیں نے جواب میں کہا: "خدا کی قسم ایسا ہی ہوا کیونکہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔" آپ نے فرمایا: "اگر اس نے تجھ پر ظلم کیا تھا تو تُو بھی اس کے سر پڑ گیا اور تُو نے زیادہ ظلم کیا۔ واقعی یہ ہمارا عمل نہیں ہے۔ مَیں اپنے شیعوں کو ایسا حکم نہیں دوں گا۔ اپنے پروردگار سے معافی مانگ اور پھر ایسا نہ کرنا۔ (کافی)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جو کوئی کسی مومن کو ایک لفظ سے بھی طعنہ دے گا، بُرا کہے گا خدا اس پر بہشت کی خوشبو حرام کر دے گا حالانکہ بہشت کی خوشبو پانچ سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔" (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۹)
اس کے بارے میں روایتیں بہت سی ملتی ہیں لیکن جو کچھ کہا جا چکا ہے وہی کافی ہے۔
یہاں دو باتیں کہنا ضروری ہیں ایک یہ کہ جب کسی مومن کو گالی دی گئی تو چونکہ اس کو دکھ پہنچایا گیا اس لیے آخرت کے عذاب اور سزا کے علاوہ اس مومن کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ حاکم شرع سے گالی دینے والے کی شکایت کرے تاکہ وہ جس طرح مناسب سمجھے اسے سزا دے جیسا کہ قذف کی گفتگو میں بیان کیا جا چکا ہے کہ گالی دینے والا جس کو گالی دیتا ہے اگر اس سے معافی مانگ لیتا ہے اور اسے منا لیتا ہے تو سزا ساقط ہو جاتی ہے دوسرے یہ کہ اگر اس گناہ پر شرمندہ ہو جائے اور خدا سے معافی مانگ لے تو اس سے عذابِ آخرت بھی اُٹھ جائے گا۔
گالی جس کسی کو دی جائے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "گالی گلوچ اور بدزبانی ظلم ہے اور ظلم جہنم کا مستحق ہے۔" (کافی)
محقق بزرگوار مرحوم میرزا محمد تقی شیرازی مکاسب کے حاشیے میں لکھتے ہیں: روایتوں کے مطابق فحش (گالی) حرام ہے چاہے جس کسی کو دی جائے چاہے وہ مسلمان اور مومن ہو یا کافر اور گناہگار (فاسق)، چھوٹا ہو یا بڑا بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چاہے بچّہ اور بے شعور ہو بلکہ بعض روایتوں میں تو جانوروں کو بھی بُرا بھلا کہنے اور گالی دینے سے منع کیا گیا ہے۔
جواب میں گالی کا حرام ہونا
مخالف یا کافر کو دی جانے والی گالی اگر پلٹا دی جائے اور جواب میں اسے یا کسی دوسرے مومن کو دے دی جائے تو جائز نہیں ہے۔ چنانچہ دنیا کی کسی قوم کے دینی مقدسات کو گالی دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس قوم کا گالی سُننے والا کوئی فرد پلٹ کر دینِ الہٰی کے مقدسات کو گالی دے سکتا ہے اس وقت گناہ گالی کی ابتداء کرنے والے کے ذمّے ہو گا یہی وجہ ہے کہ سورة انعام میں اس بات سے صاف صاف منع فرمایا گیا ہے۔
تفسیر المیزان میں لکھا ہے کہ اس دینی ادب کو ملحوظ خاطر رکھو کہ دینی مقدسات اس احترام کی وجہ سے توہین اور ہنسی سے محفوظ رہتے ہیں چونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے مقدسات کا احترام بچانے کے لیے ان لوگوں کے مقابلے پر کھڑا ہو جاتا ہے جو حد سے بڑھ جاتے ہیں اور اکثر اوقات غیظ وغضب کی شدت ان لوگوں کے مقدسات کو بُرا بھلا کہنے پر مجبور کر دیتی ہے اور چونکہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے پروردگار کا بچاؤ کرنے کے لیے بتوں کو گالیاں دیں جس کے جواب میں مشرکین مجبور ہو جائیں کہ خدا کے حریم مقدس کی توہین کریں اس لیے خدا انہیں (مسلمانوں کو) حکم دیتا ہے کہ مشرکوں کے خداؤں کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم بُرا کہو گے اور جھگڑے کی صورت میں وہ بھی خدا کے حریم مقدس کی ایسی ہی توہین کریں گے تو درحقیقت خدا کی توہین کی ذمّہ داری خود مومنین پر ہی آ پڑے گی۔
( ۳) مومن کو ذلیل اور بے وقار کرنا
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی کسی مومن کو افلاس اور ناداری کی وجہ سے چھوٹا اور حقیر سمجھے گا خدا اسے قیامت میں خلائق کے سامنے رسوا کرے گا۔" (کافی۔ باب ایمان والکفر)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو کوئی حاجت مند یا غیر حاجت مند مومن کو ذلیل سمجھے گا خدا اسے اس وقت تک ذلیل اور دشمن سمجھے گا جب تک کہ وہ اس مومن کو ذلیل سمجھنے سے باز نہیں آ جاتا۔" آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جب قیامت کا دن آئے گا تو منادی آواز دے گا کہ میرے دوستوں سے منہ پھیرنے والے کہاں ہیں؟ اس پر کچھ ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے جن کے چہروں پر گوشت نہیں ہو گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مومنوں کو ستایا، ان کے مقابلے پر کھڑے ہو گئے، ان سے دشمنی برتی اور ان کے دین کے باعث ان پر سختی کی۔ اس کے بعد حکم دیا جائے گا کہ انہیں دوزخ میں ڈال دو۔" آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خدا فرماتا ہے: "جو کوئی میرے کسی دوست کی بے عزتی کرتا ہے اس نے میرے خلاف لڑائی میں پوزیشن سنبھال لی ہے اور میں اپنے دوست کی مدد کرنے میں ہر چیز سے زیادہ پھرتیلا ہوں۔" (کافی)
ابوہارون کہتا ہے کہ میں حضرت امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں حاضر تھا جب حضرت نے حاضرین سے فرمایا: "تم ہمیں کیوں ذلیل کرتے ہوں؟" اس پر ایک خراسانی شخص کھڑا ہوا اور بولا: "خدا ہمیں اس بات سے پناہ میں رکھے کہ ہم آپ کو یا آپ سے متعلق کسی چیز کو بھی ذلیل کریں۔" آپ نے فرمایا: "ہاں ہاں واقعی تو خود مجھے ذلیل کرنے والوں میں سے ایک ہے۔" اس نے کہا: "خدا کی پناہ جو میں نے کبھی آپ کو ذلیل کیا ہو۔" آپ نے فرمایا: "تجھ پر افسوس ہے کیا ایسا نہیں ہوا کہ جب ہم لوگ جعفہ کے نزدیک تھے تو ایک شخص نے تجھ سے درخواست کی تھی کہ اسے میل بھر کے لیے سوار کر لے اور کہا تھا کہ خدا کی قسم میں پیدل چلتے چلتے تھک گیا ہوں اور عاجز آ چکا ہوں لیکن تو نے سر اُٹھا کر نہیں دیکھا اور اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ تُو نے اسے بے شک حقیر جانا اور مومن کو حقیر جاننے والے نے مجھے ذلیل کیا اور خدا کی عزت کھو دی۔" (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۸)
( ۴) مومن کو بُرا بھلا کہنا اور رسوا کرنا
حضرت امام باقر (علیہ السلام) اور حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "وہ طریقہ جو انسان کو کفر کے نزدیک پہنچا دیتا ہے یہ ہے کہ اپنے کسی دینی بھائی کے ساتھ ساتھ رہے اور اس کی غلطیاں اور خطائیں جمع کرتا جائے اور پھر ایک دن ان کی وجہ سے اسے سخت سست کہے۔" (کافی کتاب الایمان والکفر)
پیغمبر اکرم نے فرمایا: "اے وہ لوگو! جو زبان سے تو اسلام لائے ہو لیکن تمہارے دلوں میں ابھی ایمان نے جڑ نہیں پکڑی ہے مسلمانوں کو جھڑکیاں نہ دو اور ان کی عیب جوئی نہ کرو کیونکہ جو کوئی ان کی عیب جوئی کرے گا خدا اس کی عیب جوئی کرے گا اور جس کی خدا عیب جوئی کرے گا اسے رسوا بھی کر دے گا چاہے وہ اپنے گھر میں ہی رہتا ہو۔" (کافی باب الایمان والکفر)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص کسی مومن کو برا بھلا کہے گا خدا اسے دنیا اور آخرت میں ملامت کرے گا۔" (کافی)
یہی بات پیغمبر اکرم بھی فرماتے ہیں: "جو کوئی کسی بُرے کام کا پردہ کھولتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہ کام کیا ہے اور جو کوئی کسی مومن کو کسی بات پر بُرابھلا کہے گا وہ اپنے مرنے سے پہلے خود بھی اس بات کا مرتکب ہو گا۔" (کافی)
واضح رہے کہ ملامت کرنے کا حرام ہونا نہی از منکر کے خلاف نہیں کیونکہ دراصل نہی از منکر نصیحت اور ہمدردی ہے ۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "جو کوئی ایسی حکایت بیان کرتا ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچانے والی ہوتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے گندہ کرے اور آبروریزی کرے جس سے وہ لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو جائے خدا اسے اپنے آپ سے بے تعلق کر کے شیطان کی طرف دھکیل دے گا لیکن شیطان بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔" (کافی باب الروایہ علی المومن)
اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے علامہ مجلسی کہتے ہیں: "یعنی وہ کوئی ایسی حکایت بیان کرے جس سے اس مومن کی کم عقلی اور رائے کی کمزوری ثابت ہوتی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ عمل کی حکایت بھی اس میں شامل ہو۔"
یہاں ثابت ہونے (دلالت) سے محبت اور تائید کرنا مراد ہے اور شاید شیطان کا اس کو قبول نہ کرنا یہ ہو کہ شیطان کی غرض انسان کی گمراہی اور ہلاکت اور خدا سے اس کا جدا ہونا ہے اور چونکہ اس کا یہ مقصد حاصل ہو چکا ہے اس لیے اب اس سے کوئی غرض باقی نہیں رہی اور وہ اس سے دُور رہنا چاہے۔
محمد بن فضیل نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے عرض کیا: "قربان جاؤں! میں اپنے دینی بھائی کی کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو بُری ہے اور لوگوں کو ناگوار گذرتی ہے اس کے بعد میں اپنے بھائی سے پوچھتا ہوں کہ میں نے تیری بات سُنی ہے کیا یہ سچ ہے؟ تو وہ انکار کر دیتا ہے حالانکہ مجھے جن لوگوں نے اطلاع دی تھی وہ معتبر اور ثقہ ہیں۔" آپ نے فرمایا: "اے محمد! اپنے بھائی کے بارے میں اپنے آنکھ اور کان کو جھوٹا سمجھ یعنی یہ کہہ کہ میری آنکھ اور میرے کان نے غلط دیکھا اور غلط سنا۔ اگر پچاس اشخاص بھی تیرے بھائی کے بارے میں کوئی بات کہیں اور وہ انکار کرے تو اپنے بھائی کو ہی سچا سمجھ اور انہیں جھٹلا یعنی یہ کہہ کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور وہ بات ظاہر نہ کر جس کی وجہ سے تو اسے برا، داغدار اور بے آبرو کر سکتا ہے کیونکہ اگر تو ایسا کرے گا تو تیرا شمار ان لوگوں میں ہو گا جن کے بارے میں خدا نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو مومنوں میں سے کسی مومن کے بُرے کام کو ظاہر کرنا پسند کرتے ہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۵۷)
رسولِ خدا فرماتے ہیں: "جو کوئی اپنے بھائی کی عیب جوئی اور اس کے چھپے ہوئے عیب کو ظاہر کرنے کی خاطر سفر کرے گا وہ اس راہ میں جو اپنا پہلا قدم اٹھائے گا وہ دوزخ میں رکھے گا اور خدا اسے قیامت میں سب لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا اور اس کے چھپے ہوئے عیب ظاہر کر دے گا۔" (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۵۲)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی کسی مومن کے خلاف کوئی حکایت بیان کرے گا تاکہ اسے گندہ کرے اور اس کی آبرریزی کرے خدا اسے ایسی جگہ رکھے گا جہاں جہنم کا خون، پیپ ہو گا (جس جگہ زناکار جنسی اعضاء سے نکلی ہوئی گندگیاں جمع ہوں گی۔)۔" (حج۔ مستدرک باب ۱۳۷)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جس کسی کو کسی مومن کا کوئی گناہ معلوم ہو اور وہ اسے چھپانے کے بجائے ظاہر کر دے اور اس مومن کی بخشش کے لیے دعا نہ کرے وہ شخص خدا کے نزدیک اسی کے برابر گناہگار ہوتا ہے اور اس سے کے گناہ کی ذمہ داری بھی اسی کے سر آ جاتی ہے اور گناہ کرنے والا بخشا جاتا ہے کیونکہ دنیا میں اس کا بدنام اور رسوا ہونا ہی اس کا کفارہ بن جاتا ہے پھر آخرت میں اس کی رسوائی نہیں ہوتی چونکہ خدا کریم ہے وہ ایک گناہ پر بندے کو دو مرتبہ سزا نہیں دے سکتا اور نہ دو مرتبہ رسوا کر سکتا ہے۔" (حج ۔ مستدرک باب ۱۳۷)
غرض اس گناہ کی اُخروی سزا اس کے ظاہر کرنے والے کے ذمے ہے۔ اس کے بارے میں بھی بہت سی روایتیں ملتی ہیں لیکن اتنی ہی روایتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
( ۵) مومن کی ہجو شعر یا نثر میں
شیخ انصاری علیہ الرحمة فرماتے ہیں: "قرآن، سنت، اجماع اور عقل کی رو سے مومن کی ہجو کرنا حرام ہے کیونکہ مومن کی ہجو میں عیب جوئی، طعنہ زنی، غیبت کرنا، ملامت کرنا اور بھید کھولنا شامل ہے اور ان میں سے ہر ایک ہلاک کرنے والا گناہ کبیرہ ہے اس لیے وہ تمام چیزیں جو ان مذکورہ باتوں میں بیان کی گئیں اس میں بھی داخل ہیں اور اگر کسی ایسی بات کی ہجو کی جائے جو اس شخص میں موجود نہ ہو تو پھر یہ بہتان بھی ہے۔"
گناہگار مومن اور بے گناہ مومن کی ہجو میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی ہجو یکساں ہے اور جو روایت اس معاملے میں فاسقوں کی مذمت کے متعلق ملتی ہے اس سے بے ایمان لوگ یا وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہر میں گناہ کرتے ہیں لیکن غیر مومن کی ہجو حرام نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ہر صاحبِ بدعت کی اس بات کی ہجو جو اس میں موجود ہے اس نیت سے جائز ہے کہ اسے پہچنوایا جائے اور کوئی اس کے جال میں نہ پھنسے۔
( ۶) مومن کو دُ کھ د ینا
خدا سورة احزاب میں فرماتا ہے: "جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ان کے کچھ کیے بغیر (یعنی ایسا جرم کیے بغیر جس کی سزا میں انہیں اذیت دی جائے) دکھ دیتے ہیں وہ بلاشبہ گناہ اور بہت بڑے جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (یعنی جھوٹے الزام کے عذاب کے مستحق اور ظاہری سزا کے لائق ہیں۔)" (آیت ۵۸)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "خدا فرماتا ہے کہ جو کوئی میرے مومن بندے کو ستاتا ہے وہ میرے خلاف لڑائی کا اعلان کرتا ہے اور جو شخص میرے مومن بندے کا احترام کرتا ہے وہ میرے غصے اور ناخوشی سے آسودہ اور بے خوف رہتا ہے۔" (کافی)
رسولِ خدا فرماتے ہیں:"جو کوئی کسی مومن کو ستاتا ہے وہ مجھے دُکھ دیتا ہے اور جو مجھے دکھ دے گا وہ خدا کو دیکھ پہنچائے گا اور جو خدا کو دکھ دے گا وہ تورات، انجیل، زبور اور قرآن کی رو سے ملعون ہو گا۔" ایک اور حدیث میں ہے: "اس شخص پر خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔" (حج۔ مستدرک باب ۱۲۵)
اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: "جو شخص کسی مومن کو رنجیدہ کرے گا پھر چاہے تمام دُنیا بھی اسے دے دے گا اس کی دل شکنی کے گناہ کی تلافی نہیں ہو سکے گی اور دینے والے کو بھی اس کا اجر نہیں مل سکے گا۔"
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جس نے کسی مومن کو ناحق ستایا اس نے گویا دس بارمکہ معظمہ کو اجاڑا، اور ایک ہزار خدا کے مقرب فرشتوں کو قتل کیا۔" (حج۔ مستدرک باب ۱۳۵)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی عزّت مکّہ اور بیت المعمور کی دس گنی اور ملائکہ کی ہزار گئی ہے
پڑوسی کو ستانے کی سزا بہت سخت ہوتی ہے
خدا نے کئی مقامات پر جن دوسرے لوگوں کا ستایا بہت زور دے کر حرام بتایا ہے اور اس ستانے کے باعث دنیا اور آخرت کی سخت سزائیں تجویز کی ہیں ان میں پڑوسی بھی شامل ہے۔
انصار میں سے ایک شخص رسول خدا کے پاس آیا، اس نے عرض کیا کہ میں نے فلاں محلے میں ایک گھر مول لیا ہے اور میرا سب سے قریبی پڑوسی ایک ایسا شخص ہے جس سے مجھے بھلائی کی امید نہیں ہے اور میں اس کے شر سے محفوظ اور بے خوف نہیں ہوں۔ رسول خدا نے علی ، سلیمان ، ابوذر اور مقداد سے فرمایا کہ مسجد میں جا کر اونچی آواز سے اعلان کر دیں کہ جس کا پڑوسی اس کے شر اور آزار سے محفوظ اور مطمئن نہیں ہے وہ ایمان نہیں رکھتا یعنی بے ایمان ہے۔ ان لوگوں نے تین بار یہ اعلان کیا۔ اس کے بعد آنحضرت نے اپنے ہاتھ سے چالیس گھروں کے چالیس دروازوں کی دائیں اور بائیں طرف جو آپ کے سامنے تھے اشارہ فرمایا (یعنی چاروں طرف کے چالیس گھروں تک جو پڑوس میں ہیں اور جنہیں اس کا خیال رکھنا چاہیئے۔) (کافی کتاب العشرہ۔ باب حسن الجوار)
حضرت زہرا = کے مصحف میں ہے کہ جو کوئی خدا ور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتا، مہمان کی عزت کرتا اور سچ بولتا یا چپ رہتا ہے۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" (کافی)
ٍ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے: "جو کوئی اپنے پڑوسی کو دُکھ دے گا خدا اسے بہشت کی خوشبو سونگھنے سے محروم رکھے گا اور اس کی جگہ دوزخ ہو گی اور دوزخ بُرا ٹھکانا ہے اور جو کوئی اپنے پڑوسی کا حق ادا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے جبرائیل ہمیشہ پڑوسی کی اس قدر سفارش کرتے رہتے تھے کہ مجھے گمان ہوا پڑوسی کو بھی ترکے میں سے حصہ ملے گا۔"
(وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۸۶)
آپ نے یہ بھی فرمایا جو اپنے پڑوسی کو ستائے گا اور جس کا پڑوسی اس کے آزار سے مطمئن اور امان میں نہیں رہے گا وہ بہشت میں نہیں جا سکے گا۔ (وسائل المستدرک کتاب حج باب ۷۲)
ایک دن اصحاب نے آنحضرت سے عرض کیا کہ: "فلاں عورت دن بھر روزہ رکھتی اور رات بھر عبادت کرتی ہے اور صدقہ خیرات بھی دیتی ہے لیکن اپنے پڑوسی کو اپنی زبان سے دُکھ پہنچاتی ہے۔" رسول خدا نے فرمایا: "اس عورت میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ وہ اہلِ جہنم سے ہے۔" لوگوں نے کہا: "فلاں عورت صرف واجب نماز پڑھتی اور ماہِ رمضان کے روزے رکھتی ہے اور اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتی۔" آپ نے فرمایا: "وہ بہشت میں جائے گی۔" آپ نے یہ بھی فرمایا: "پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں، پہلا وہ پڑوسی جو تین حق رکھتا ہے اور وہ ایسا پڑوسی ہوتا ہے جو مسلمان اور رشتے دار ہے۔ دوسرا وہ جو دو حق رکھتا ہے اور وہ پڑوسی مسلمان ہے۔ تیسرا پڑوسی کافر جو صرف پڑوسی کاحق رکھتا ہے۔" (حج۔ مستدرک باب ۷۲)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے وہ ملعون ہے۔ (کافی)
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب بنیامین حضرت یعقوب کے پاس سے چلے گئے تو انہوں نے فریاد کی: "اے خدا! تو مجھ پر رحم نہیں فرماتا جو تُو نے میرا بیٹا لے لیا اور میری آنکھیں بے نُور کر دیں۔" خدا نے ان پر وحی نازل کی: "اگر میں نے اسے مار ڈالا ہو گا تو اسے زندہ کر دوں گا تاکہ اسے تجھ تک پہنچا دوں، لیکن تو اس بھیڑ کو یاد کر جس کا سر تو نے کاٹ ڈالا تھا۔ اسے بھونا اور کھایا اور فلاں فلاں تیرے پڑوس میں بستے تھے اور روزہ رکھتے تھے لیکن تو نے اس میں سے کچھ بھی تو انہیں نہیں دیا۔ " (حج۔ مستدرک باب ۷۲)
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کے بعد یعقوب کا یہ دستور ہو گیا تھا کہ ہر روز صبح کے وقت منادی ان کے گھر سے ایک فرسخ کے فاصلے تک اعلان کرتا تھا کہ جس کسی کو ناشتے کی ضرورت ہو وہ یعقوب کے گھر آ جائے او شام کے وقت بھی ندا کرتا تھا کہ جو کوئی شام کا کھانا چاہتا ہے وہ یعقوب کے گھر آ جائے۔
اس حدیث سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ پڑوسی کا حق کتنا اہم ہوتا ہے۔ پڑوسی کے حقوق بہت سی حدیثوں میں بیان کیے گئے ہیں لیکن اختصار کے خیال سے صرف ان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:
پڑوسی کے حقوق
پڑوسی سے مہربانی کا سلوک کرو اور اس سے بھلائی کرنے میں تامل نہ کرو، اسے جس چیز کی ضرورت ہو دے دو، اسے اپنے مال میں شریک سا سمجھو، اسے سلام کرو، جو باتیں وہ چھپائے رکھنی چاہتا ہے انہیں مت کریدو، بیماری میں اس کی مزاج پرسی، مصیبت میں ہمدردی اور اس کے غم میں شرکت کرو اور شادی میں اسے مبارکباد دو، اگر اس کا کوئی عیب معلوم ہو جائے تو اسے چھپاؤ، اگر اس سے کوئی خطا ہو جائے تو معاف کر دو۔ اگر درمیانی دیوار پر وہ کچھ کرنا چاہے تو منع نہ کرو، اگر وہ اپنے پڑوسی کے میدان سے کوئی پائپ یا گٹر گذارنا چاہتا ہے تو نہ روکو، گھر کے سامان میں جو چیز اس کے لیے ضروری ہو اس کے دینے سے دریغ نہ کرو، اپنی آنکھیں پڑوسی کے اہل وعیال سے بند رکھو، جب وہ گھر میں نہ ہو تو اس کے گھر سے غافل نہ رہو، اس کی اولاد پر مہربانی کرو اور انہیں دین اور دُنیا کی اچھی اچھی باتیں بتاؤ، اگر مدد چاہے تو اس کی مدد کرو، اگر قرض مانگے تو ادھار دے دو۔ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر کو اونچا نہ اٹھاؤ۔ جس سے اس کے گھر کی ہوا رُک جائے، جو مزیدار کھانا گھر میں لایا جاتا ہے پڑوسی کو بھی اس میں سے بھجواؤ یا ایسا ممکن نہ ہو تو چھپا کر رکھو تاکہ پڑوسی کے بچّوں تک اس کی خوشبو نہ پہنچے اور انہیں بے چین نہ کرے۔ ممکن ہے پڑوسی بچّوں کے لیے ایسی غذا مہیا نہ کر سکے۔
شوہر/ بیوی کو ستا نا
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جو بیوی اپنے شوہر کو ستاتی ہے خدا اس کی نمازیں اور نیک کام اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے شوہر کی حق ادا نہیں کر دیتی اور اسے اپنے آپ سے راضی نہیں کر لیتی، چاہے وہ برابر دن میں روزہ رکھے، غلام آزاد کرتی رہے اور بہت سا مال خیرات کرتی رہے، وہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہو گی۔"
اس کے بعد آپ نے فرمایا: "جو شوہر اپنی بیوی کو ستاتا ہے اس کے بھی وہی ہو گا جو بیوی کے بارے میں کہا گیا۔ جو کوئی اپنی بیوی کے بُرے برتاؤ کو برداشت کرے گا اور خدا سے اپنے صبر کا صلہ چاہے گا تو اسے بھی ہر بار صبر کرنے پر وہی صلہ ملے گا جو حضرت ایوب کو صبر کرنے پر ملا تھا اور اس کی بیوی کے لیے ہر چوبیس گھنٹے میں ریگستان کی ریت کے ذروں کے برابر گناہ ہوں گے اور اگر اپنے شوہر کو اپنے آپ سے رضامند کرنے سے پہلے مر جائے گی تو منافقوں کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں جائے گی۔ جو بیوی اپنے شوہر سے نباہ نہیں کرتی، شوہر جو خرچ دیتا ہے اس پر صبر نہیں کرتی، شوہر پر دباؤ ڈالتی ہے اور جس بات کی شوہر میں سکت اور طاقت نہیں ہوتی اس پر مجبور کرت یہے تو خدا اس کا ایسا نیک کام بھی قبول نہیں کرے گا جو آتشِ جہنم کو دُور کرتا ہے اور اس وقت تک اس پر غصہ کرتا رہے گا جب تک کہ اس کا یہی طریقہ رہتا ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۸۲)
مفلس کو ستا نا
خدا سورة البقرہ میں فرماتا ہے: "تم جو خیرات دیتے ہو اسے لینے والے پر احسان جتا کر اور اسے دکھ پہنچا کر باطل نہ کرو۔" (آیت ۲۶۲) اور یہ بھی فرماتا ہے: "غریب سے اچھی اچھی باتیں اور بخشش اس خیرات دینے سے بہتر ہے جس کے بعد اسے دکھ پہنچے۔" (آیت ۲۶۳) مثلاً اس سے منہ پھیر لو یا اس سے رکھائی برتو یا خیرات اور صدقے کے عوض اسے کسی کام پر مجبور کرو۔
روایت ہے کہ جو کوئی نیک کام کر کے احسان جتاتا ہے وہ بہشت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ (لئالی الاخبار ص ۲۷۷) اور ایک اور حدیث میں ہے کہ اس پر بہشت حرام ہے۔
یہ بھی فرمایا ہے کہ غریبوں پر احسان دھرنے والا دُنیا اور آخرت میں ملعون ہے اور والدین اور بہن بھائیوں پر احسان جتانے والا خدا کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی مہربانی سے دُور ہے، دوزخ کے قریب ہے، اس کی دعا قبول نہیں ہوگی، اس کی حاجت پوری نہیں ہو گی اور خدا دُنیا اور آخرت میں اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔
مکروفریب
وہ گناہِ کبیرہ جس کے لیے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہے مگر اور غدر یعنی وعدہ خلافی اور دھوکا دینا ہے۔ چنانچہ روایات میں ان تینوں کی سزا آتشِ دوزخ بتائی گئی ہے۔ اصول کافی کی کتاب ایمان وکفر کے باب مکرو غدروخدیعہ میں اس مضمون سے متعلق چھ حدیثیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے دو بطور نمونہ یہاں پیش کی جاتی ہیں:
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "اگر مکروفریب کی سزا آتش جہنم نہ ہوتی تو میں سب لوگوں سے زیادہ مکار ہوتا۔" آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "بلاشبہ دھوکے بازی، عیاشی اور خیانت کی سزا آتشِ جہنم ہے۔" (کافی)
وسائل میں لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "مسلمان کو مکر اور دھوکا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ میں نے جبرئیل سے سُنا ہے کہ مکر اور دھوکے کا نتیجہ جہنم ہے۔" پھر فرمایا: "جو کوئی کسی مسلمان کو دھوکا دے یا اس سے خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۳۷) اور قریب قریب اسی مضمون کی کچھ اور حدیثیں نقل کی ہیں اور ویسے ہی مستدرک میں اس مضمون کی کچھ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ مثلاً
لوگوں نے امیرالمومنین سے کہا کہ جو آپ کا مخالف (معاویہ) ہے وہ جس حکومت پر قابض ہے اسے اس وقت تک معزول نہ کیجئے جب تک آپ کی حکومت مستحکم نہ ہو جائے۔ آپ نے فرمایا کہ مکر، فریب اور وعدہ خلافی کا انجام جہنم ہے۔ (مستدرک)
مکر، غد ر اور خد عہ کے معنی
غدر کا جس کے معنی بے وفائی اور وعدہ خلافی کے ہیں۔ مکروفریب اور خدعہ دونوں کے معنی دوسرے کے ساتھ اس طرح بُرائی کرنے کے ہیں کہ وہ سمجھ نہ پائے۔ مثلاً ظاہر میں اس کے ساتھ بھلائی لیکن باطن میں بدی ہو یا ظاہر میں تو یہ جتایا جائے کہ اس سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے اور در پردہ آزار رسانی کی گھات میں رہے۔ غرض مکر اور خدعہ دوغلا پن یعنی منافقت اور دورنگی یعنی ظاہر میں اچھا اور باطن میں بُرا ہونا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں، ایک خدا، پیغمبر اور امام کے ساتھ مکر اور خدعہ اور دوسری قسم لوگوں کے ساتھ مکرو فریب۔
خدا سے دھوکا
خدا سے دھوکے کی بدترین قسم منافقوں کا دھوکا ہے یعنی وہ لوگ جو اپنا کفر چھپائے رکھتے ہیں اور ظاہر میں اسلام اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ خدا سورة البقرہ میں فرماتا ہے: "وہ خدا اور اہلِ ایمان کا دھوکا دیتے ہیں حالانکہ وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں لیکن یہ بات نہیں سمجھتے۔" (آیت ۹)
اگر یہ کہا جائے کہ خدعہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ شخص جسے دھوکا دیا جائے بے خبر ہو اور خدعہ کو نہ سمجھے تو پھر یہ خدعہ خدا کے ساتھ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ پیغمبر اور مومنوں سے فریب کرتے تھے تو وہی خدا کے ساتھ فریب کہلاتا ہے یا یہ کہ منافقین خدا سے اس طرح دھوکا اور فریب کرتے ہیں کہ اپنا کفر چھپاتے اور ایمان ظاہر کرتے تھے۔
اس بات کے معنی کہ یہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں یہ ہیں کہ ان کے فریب سے پیغمبر اور مومنوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ یہ خود ہی چوٹ کھا جاتے ہیں کیونکہ یہ ہر نیکی اور بھلائی سے محروم رہ جاتے ہیں اور دُنیا میں بدنام اور آخرت میں عذابِ الہٰی میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
خدا سے دھوکا کرنے میں دکھاوے کی عبادت شامل ہے جس کا ذکر شرک کی بحث کے آخر میں تفصیل سے کیا جا چکا ہے۔
روحا نی مقاما ت کا دعویٰ
خدا کو دھوکا دینے میں بعض بلند دینی مناصب ومقامات کا دعویٰ کرنا شامل ہے جبکہ وہ حقیقت میں ان سے محروم ہو مثلاً صبر، شکر، توکل، محبت، رضا، تسلیم، اخلاص وغیرہ مقامات کا دعویٰ۔ مثلاً وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا معبود خدائے واحد ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور کہتا ہے: "ایاک نعبد"حالانکہ وہ شیطان کو پوجتا ہے یا کہتا ہے "اللّٰہ اکبر" یعنی خدا میرے نزدیک ہر چیز سے بڑا اور اونچا ہے جبکہ مال ومرتبہ اور دنیاوی حیثیتوں نے اس کے دل میں ریشہ دوانی کر کے بڑی اہمیت حاصل کر رکھی ہے۔ چنانچہ اگر اس سے کہیں کہ خدا کی خاطر فلاں گناہ چھوڑ دے تو آمادہ نہیں ہوتا البتہ اگر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس سے اس کے مال، آبرو یا اس کی دوسری دُنیاوی حیثیتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو اسے ترک کر دیتا ہے۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جس وقت تم تکبیر کہو تو تمہیں چاہیئے کہ دُنیا کی تمام چیزوں کو خدا کی بزرگی کے سامنے چھوٹا سمجھو کیونکہ جس وقت بندہ تکبیر کہتا ہے اور خدا یہ جان لیتا ہے کہ اس کے دل میں اس کی تکبیر کے خلاف کوئی بات موجود ہے۔ یعنی وہ خدا کے سوا کسی اور کو زیادہ سمجھتا ہے تو خدا اس سے فرماتا ہے اے جھوٹے! تُو مجھے فریب دیتا ہے۔ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ میں تجھے اپنی یاد کی مٹھاس، اپنی مناجات کے مزے اور اپنے قریب پہنچنے سے محروم کر دوں گا۔" (صلوٰة مستدرک باب ۲)
بزرگا نِ دین سے دھوکے بازی
بزرگانِ دین سے دھوکے بازی مثلاً ایک شخص ان سے کہتا ہے: "موال لکم ولا لیائکم"یعنی میں تم سے اور تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں حالانکہ دوستوں سے اسے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور اہل بیت سے ان کی نسبت کا لحاظ ہی نہیں کرتا یا کہتا ہے: "التارک للخلاف علیکم"جو بات تمہارے خلاف جاتی ہے وہ میں نے ترک کر دی ہے حالانکہ اس نے ہزاروں باہر ان کی مخالفت کی ہے اور کرتا ہے جیسا کہ جھوٹ کی گفتگو میں بیان کیا گیا ہے۔
خدا کے بندوں سے دھوکا
ان آخرت سے بے خبر لوگوں میں جو طرح طرح کی دھوکے بازی ، بہانے بازی اور فریب کاری عام ہے وہ اسی قسم سے متعلق ہے اور سب کی سب حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور جتنا اس کا فساد زیادہ ہوتا اس کی حرمت اور سزا بھی اتنی شدید ہو گی۔
خدا سورة فاطر آیت ۴۲ میں فرماتا ہے: "دھوکا خود اپنے ہی کرنے والے کی طرف پلٹتا ہے۔" یعنی ہر دھوکہ باز کا دھوکا اسی کی طرف واپس آتا ہے اور جو کچھ اس نے دوسرے کے بارے میں سوچا ہے وہ خود اپنے ہی بارے میں مشاہدہ کرتا ہے کیونکہ ہر مکر، مکر کرنے والی ذات اور گراوٹ کا اور جس سے مکر کیا جاتا ہے اس کی عزت بڑھانے اور درجہ بلند کرنے کا سبب ہو گا یا مکر کرنے والا آخرت میں اپنے بُرے کام کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں جائے گا اور جس کے ساتھ مکر کیا گیا ہے اس ظلم کی وجہ سے جو اس پر ہوا ہے بہشت میں بلند مقام پائے گا یا دُنیاوآخرت دونوں میں۔ چنانچہ اس بات کا مطلب کہ دُنیا میں مکر کرنے والا رسوا ہوتا ہے اور اس کے مکر سے اسی کو نقصان پہنچتا ہے اس قدر واضح ہے کہ "منہج الصادقین "میں لکھا ہے کہ یہ جملہ عرب میں کہاوت بن گیا ہے کہ : جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودے گا کہ وہ خود اس میں سر کے بل جا گرے گا۔ اسی طرح ایرانی کہاوت ہے: بُرائی نہ کر جو بُرائی آگے آئے۔ کنواں نہ کھود جو خود اس میں گرے۔ یہ بھی کہتے ہیں : جو کوئی کسی کے لیے کنواں کھودے گا اس میں پہلے خود، پھر دوسرا گرے گا۔" ( ۱)
____________________
(۱) تفسیر منہج الصادقین میں تاریخی کتابوں کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے کہ دو آدمیوں نے پیسہ جمع کیا اور اسے چوری کے خوف سے ایک معینہ درخت کے اندر چھپا دیا۔ ان دونوں میں سے ایک رات کو چھپ کر آیا اور وہ پیسے اٹھا لیے۔ دوسرے دن جب دونوں پیسے لینے کے لیے آئے تو اس پیسے کو وہاں نہیں پایا۔ وہ آدمی جو رات کو پیسے چوری کر کے لے گیا تھا اس نے دوسرے آدمی کا گریبان پکڑ لیا کہ مال چھپاتے وقت تمہارے علاوہ کوئی اور نہیں تھا یقینا پیسے تم نے اٹھائے ہیں۔ اس بے چارے نے کافی قسمیں کھائیں لیکن چور اپنی بات پر بضد تھا۔ یہاں تک کہ معاملہ حاکم کے سامنے پیش ہوا۔ حاکم نے چوری کرنے والے سے گواہ طلب کیے تو اس نے کہا :"درخت خود گواہی دے گا کہ پیسے دوسرا آدمی لے کر گیا ہے۔" اس چور نے پوشید طور پر اپنے بھائی سے کہا کہ رات کے وقت درخت کے کھوکھلنے تنے میں بیٹھ جائے تاکہ جب صبح حاکم گواہی طلب کرے تو وہ اندر سے گواہی دے کہ پیسے دوسرا آدمی لے گیا ہے۔ جب صبح حاکم لوگوں کے ساتھ درخت کے قریب پہنچا تو اس نے درخت سے کہا: "اے درخت اس خدا کے لیے جس نے تجھے خلق کیا ہے یہ بتا کہ وہ پیسے جو تجھ میں چھپائے گئے تھے کس نے چوری کیے ہیں؟" تو چور کے بھائی نے درخت کے بیچ میں سے چلا کر کہا: "پیسے فلاں آدمی یعنی چور کے ساتھی نے لیے ہیں:" حاکم اپنی فراست کی بناء پر سمجھ گیا کہ اصل بات کیا پء؟ کیونکہ درخت کا کلام کرنا خلافِ عادت ہے۔ اس نے درخت کو آگ لگانے کا حکم دیا تاکہ فساد کا سبب نہ بنے۔ چنانچہ درخت کو آگ لگا دی گئی۔ چور کا بھائی خوف کے مارے کچھ نہ بولا لیکن جب آگ اس تک پہنچی تو مجبور ہو گیا اور اس نے نالہ وفریاد کرنا شروع کیا۔ بالآخر لوگوں نے اسے نیم مردہ حالت میں درخت سے نکالا۔ جب اس سے حقیقت دریافت کی تو اس نے حاکم کے سامنے اپنے بھائی کے تمام مکروفریب کو آشکار کر دیا۔ حاکم نے مال لیا اور دوسرے آدمی کو دے دیا اور دھوکے باز کو سخت ترین سزا دی۔
محدث الجزائری نے زہرا الربیع میں نقل کیا ہے کہ اصفہان میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کی پٹائی کرنی چاہی اور اسے چند ڈنڈے مارے لیکن اتفاقاً عورت مر گئی حالانکہ وہ آدمی اس کے قتل کا ارادہ نہ رکھتا تھا بلکہ اس کا مقصد عورت کی سزنش کرنا تھا۔ اسے عورت کے رشتہ داروں سے خوف ہوا اور وہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے سوچنے ہوئے گھر سے باہر آیا اور اپنے ایک جاننے والے سے اپنی روداد سنائی تو اس شخص نے عورت کے رشتہ داروں سے چھٹکارے کے لیے یہ مشورہ دیا کہ کوئی خوبصورت جوان تلاش کرو، اسے مہمان بنا کر اپنے گھر لے جاؤ اور اس کا سر کاٹ کر عورت کے پہلو میں رکھ دو اور عورت کے رشتہ داروں کے استفسار پر کہنا کہ میں نے اس جوان کو عورت کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا تو میں ضبط نہ کر سکا اور میں نے دونوں کو قتل کر دیا۔ اس آدمی کو یہ ترکیب پسند آ گئی اور وہ اپنے گھر کے دروازے پر آ کر بیٹھ گیا۔ ایک خوبصورت جوان کا اس کے گرھ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ آدمی اسرار کر کے اسے اپنے گھر لے گیا اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا۔ جب اس عورت کے رشتہ دار آئے اور دو جنازے دیکھے تو اس آدمی نے اپنی گڑھی ہوئی کہانی سنائی۔ جس پر وہ لوگ مطمئن ہو کر چلے گئے۔ بدقسمیت سے وہ آدمی جس نے اس عورت کے شوہر کو یہ مشورہ دیا تھا اس کا بیٹا اس روز گھر نہیں پہنچا تو وہ بہت پریشان ہوا اور اس عورت کے شوہر کے گھر آیا اور کہا: "وہ مشورہ جو میں نے تمہیں دیا تھا کیا تم نے اس پر عمل کیا؟" اس آدمی نے کہا: "ہاں۔" تو اس نے کہا "اس مقتول آدمی کو دکھاؤ۔" جب وہ جنازے کے سرہانے آیا تو اس نے اپنے بیٹے کو پایا جو اسی کے مشورے سے قتل کیا گیا تھا۔ پس وہ اس بات کا مصداق ٹھہرا کہ جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودے گا خدا خود اسے اس کنویں میں گرا دے گا۔ ان دونوں واقعات کی مانند بہت سے واقعات تاریخی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کتاب محجة البیضاء میں ایک حکایت نقل کی گئی ہے جو دھوکا اور حد دونوں کی مناسبت سے ہے اور جس کا حد کی بحث میں ذکر ہو گا۔
منافقت اور تضاد بھی د ھوکا ہے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی مسلمانوں سے منافقت اور تضاد برتے گا جب قیامت میں آئے گا تو اس کی آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔" (کافی)
حضرت امام باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے: "وہ شخص کتنا بُرا ہے جو منافقت اور تضاد رکھتا ہے۔ اپنے بھائی کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے اسے بُرا کہتا اور اس کا گوشت کھاتا ہے (یعنی اس کی غیبت کرتا ہے)۔ اگر بھائی کو نعمت ملتی ہے تو اس سے جل جاتا ہے اور اگر وہ پریشان ہو جاتا ہے تو اسے چھوڑ جاتا ہے اور اس کی مدد نہیں کرتا۔ (کافی)
رسولِ خدا فرماتے ہیں: "جو منافق ہے وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی دو زبانیں ہوں گی، ایک پیچھے کی طرف اور دوسری آگے کی طرف دونوں لٹکتی ہوں گی اور ان سے آگ کی اس قدر لپٹیں نکلتی ہوں گی کہ اس کے تمام بدن میں آگے لگ جائے گی، اس کے بعد کہا جائے گا کہ یہ وہ شخص ہے جو دُنیا میں منافق تھا اور متضاد باتیں کرتا تھا، قیامت میں بھی دو چہرے اور آگ کی دو زبانیں رکھتا ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۴۳)
منا فقت اور تضا د کیا ہے؟
( ۱) دو زبان آدمی یعنی وہ شخص جو دو متضاد باتیں کہتا ہے اور موقع کے مطابق دُنیاوی فائدہ
حاصل کرنے کے لیے اور بے ضرورت بھی مختلف باتیں کرتا ہے۔ مثلاً ایک چیز کا اقرار کرتا ہے بعد میں اس سے انکار کر دیتا ہے یا کسی بات کی گواہی دیتا ہے پھر اس کے خلاف بیان دے دیتا ہے یا کسی کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے پیٹھ پیچھے اسے بُرا کہتا ہے۔
( ۲) منافق اور دو زبان آدمی یعنی وہ شخص جو دو آدمیوں کے پاس آتا جاتا ہے اور ہر ایک سے اس کے مطابق بات کرتا ہے اور یہی منافقت ہے۔
( ۳) اگر کوئی شخص دو ایسے آدمیوں میں سے ایک کی بات دوسرے سے جا کر لگاتا ہے جو آپس میں دشمنی رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے پیٹھ پیچھے خلاف اور نامعقول باتیں کرتے رہتے ہیں تو یہ دو زبانی ہے اور یہ
چغل خوری سے بدتر ہے کیونکہ چغل خوری صرف وہ بات جا کر دہرانا ہے جو کسی نے دوسرے شخص کے بارے میں کہی ہو اب اگر اس دوسرے شخص کی بات اگر پہلے شخص سے ہے تو یہ دو زبانی ہو گی۔
( ۴) جو دو آدمی آپس میں دشمن ہیں ان میں سے ہر ایک سے ملاقات کے وقت اس کے دشمن اور مخالف کے مقابلے میں اس کی تعریف کرے تو یہ بھی دو زبانی ہو گی۔
( ۵) ایسے دو آدمیوں میں سے ہر ایک سے دوسرے کے مقابے میں ساتھ دینے اور مدد کرنے کا وعدہ کرے تو یہ بھی دو زبانی ہے۔ غرض ایسے تمام موقعوں پر اس شخص کو منافق اور دو زبان کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایسے دو شخصوں میں سے ہر ایک سے جو آپس میں دشمن ہیں ایک کی بات دوسرے کے سامنے دہرائے بغیر صرف رفاقت اور دوستی اظہار کرنے، اس کی تعریف کرنے اور مدد کا وعدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ دو زبانی نہیں ہے۔
ملاوٹ بھی لوگوں کے ساتھ دھوکا ہے
لوگوں کے ساتھ دھوکے کی ایک قسم لین دین میں ملاوٹ بھی ہے بِکری کی چیز میں کوئی دوسری جنس اس طرح ملانا کہ ظاہر نہ ہو ملاوٹ کہلاتا ہے مثلاً دودھ میں پانی ملانا یا اچھی اور بُری چیزوں کو ملا کر اچھی بنا کر بیچنا۔ ( ۱)
بے ایمانی اور ملاوٹ کرنے کو یکجا کر دیا۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب ۱۱۵)
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "رسول خدا کا مدینے کا بازار میں کھانے کی ایک جنس (گیہوں یا جَو) پر سے
( ۱) لین دین میں ملاوٹ اگرچہ حرام ہے لیکن بعض صورتوں میں لین دین صحیح رہتا ہے اس کی تفصیل اور متعلقہ مسائل کی وضاحت کے لیے دیکھئے رسالہ توضیح المسائل شمارہ نمبری ۲۰۶۳ ۔ ۲۱۳۲ ۔ ۲۱۳۳ ۔
گذر ہوا تو آپ نے اس کے مالک سے کہا: "اچھی جنس ہے، اس کی قیمت کیا ہے؟" آپ کو الہام ہوا تو آپ نے اس کے بیچ میں ہاتھ ڈال کر مٹھی بھر جنس باہر نکالی۔معلوم ہوا کہ بیچ میں خراب ہے اور اوپر سے اچھی ہے۔ رسول خدا نے اس
سے فرمایا: "تُو نے مسلمان سے آپ نے یہ بھی فرمایا: "جو کوئی کسی مسلمان کے ساتھ مول لینے یا بیچنے میں ملاوٹ کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور وہ قیامت میں یہودیوں کے ساتھ اُٹھایا جائے گا کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ یہودی ہی ملاوٹ کرتے ہیں۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب ۱۵۵)
آپ نے یہ بھی فرمایا: "جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ملاوٹ کرنے کا خیال دل میں لے کر سو جاتا ہے وہ خدا کی ناخوشی میں سو جاتا ہے اور صبح کو اٹھتا ہے تو بھی بدستور خدا
کے غضب اور ناخوشی میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک توبہ نہیں کر لیتا اور ملاوٹ سے دست بردار نہیں ہو جاتا اور اگر اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ دینِ اسلام پر نہیں مرتا۔" اس کے بعد آپ نے تین بار فرمایا: "جان لو کہ جو مسلمانوں سے ملاوٹ کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے ملاوٹ کرتا ہے خدا اس سکے رزق سے برکت اُٹھا لیتا ہے، اس کی روزی کا راستہ بند کر دیتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب ۱۵۵)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) نے ایک شخص سے فرمایا جو آٹا بیچا کرتا تھا: "ملاوٹ کرنے سے بچنا کیونکہ جو کوئی دوسرے سے ملاوٹ کرے گا خود اس کے مال میں بھی ملاوٹ ہو جائے گی اور اگر مال نہیں ہو گا تو اس کے اہل وعیال کے ساتھ ملاوٹ ہو گی۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب ۱۱۵)
اس سے متعلق بہت سی روایتیں ہیں جن میں سے کچھ کم تولنے کے تحت بیان کی جا چکی ہیں۔
مہنگا بیچنا بھی د ھوکا ہے
لین دین میں ملاوٹ کرنے کی طرح غبن کرنا بھی ہے اور وہ بیچنے والے کا قیمت میں دھوکا دینا ہے یعنی کسی چیز کو اس کی اصلی قیمت سے زیادہ قیمت پر اس شخص کے ہاتھ بیچنا ہے جو اس سے بے خبر ہے۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "کسی ایسے شخص کو دھوکا دینا اور زیادہ قیمت پر مال بیچنا جو اصلی قیمت سے بے خبر ہے (اور مال والے پر بھروسہ اور اعتبار کرتا ہے) سحت ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت اخیار باب ۱۶) اور "گناہ ۲۵" کی بحث میں "سحت کھانے" کا بیان گذر چکا ہے۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مومن کو لین دین میں دھوکا دینا حرام ہے۔ ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا ہے کہ جو تجھ پر اعتبار کرتا ہے اسے دھوکامت دے کیونکہ اسے دھوکا دینا حلال نہیں ہے۔
ذخیرہ اندوزی
لوگوں کی غذا گیہوں، جو، چاول اور روغن اکٹھا کر کے اس کے مہنگے ہو جانے کے انتظار میں روکے رکھنا ذخیرہ اندوزی ہے تاکہ لوگوں کو ضرورت پڑے اور پھر نہ مل سکے جو ان کی ضرورت رفع ہو۔ یہ حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے جس کے لیے آتشِ جہنم کا وعدہ کیا گیا ہے۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے جہنم میں ایک گھاٹی دیکھی جس میں آگ بھڑکی ہوئی تھی۔ انہوں نے مالک جہنم سے پوچھا: یہ کن لوگوں کی جگہ ہے؟ اس نے کہا: تین گروہوں کی۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے، شرابی، اور دلالی (حرام کاری سے کمائی) کرنے والے۔"
اور آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "گناہگار شخص ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب ۲۷)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو شخص لوگوں کی غذا خرید کر چالیس دن تک اس لیے روکے رکھتا ہے کہ مسلمانوں میں مہنگائی ہو جائے تو اتنا سخت گناہ کرتا ہے کہ تمام غلہ بیچ کر اس کی رقم خیرات بھی کر دے تب بھی اس کے کیے ہوئے گناہ کا کفارہ ادا نہیں ہو سکتا۔" (وسائل الشیعہ کتاب تجارت باب ۲۷)
کچھ روایتوں میں ذخیرہ اندوزوں کو ملعون بھی کہا گیا ہے۔
آپ فرماتے ہیں: "ایک رات بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں پر عذاب نازل ہوا تو صبح تک ان کے چار طبقے ہلاک ہو چکے تھے۔ ڈھول بجانے والے، گویے، ذخیرہ اندوز اور سود کھانے والے مہاجن۔" (مستدرک الوسائل کتاب تجارت باب ۲۱)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو شخص چالیس دن سے زیادہ تک ذخیرہ رکھے گا وہ بہشت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا جبکہ بہشت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت تک پہنچتی ہے اور جب اس پر بہشت کی خوشبو ہی حرام ہے تو پھر خود بہشت کا تو ذکر ہی کیا ہے۔" (مستدرک الوسائل کتاب تجارت باب ۲۱)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "جو شخص مہنگائی کے انتظار میں چالیس دن تک لوگوں کی غذا روکے رکھے گا وہ خدا سے کٹ جائے گا اور خدا اس سے بیزار اور بے تعلق ہو جائے گا۔" (مستدرک۔ تجارت باب ۲۱)
جاننا چاہیئے کہ اگر کوئی لوگوں کی غذا ایسی صورت میں روک لیتا ہے جب لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی یا اگر ضرورت پڑتی بھی ہے تو پھر مل جاتی ہے کہ وہ انہیں بیچ دیتا ہے اور ان کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے یا وہ مہنگی بیچنے کے لیے نہیں اپنے کنبے کے خرچ کے لیے روک لیتا ہے تو ان تینوں صورتوں میں سے کسی صورت میں ذخیرہ اندوزی حرام نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ حاکم شرع کو چاہیئے کہ وہ اسے اس قیمت پر بیچنے کے لیے مجبور کرے جس پر وہ خود راضی ہو جائے اور اگر وہ زیادہ قیمت وصول کرنا چاہے تو حاکم شرع منصفانہ نرخ سے اس کی قیمت ادا کر کے اس کے گیہوں حاجت مندوں کو فروخت کرے۔
حسد
وہ گناہ جس کے لیے معتبر احکام میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے حسد ہے اور حسد یہ ہے کہ دوسرے کے پاس کوئی نعمت نہیں دیکھ سکتا اور چاہتا ہے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔
صاحب شرایع فرماتے ہیں: "مومن سے حسد اور دشمنی گناہ ہے اور اس کا ظاہر کرنا عدالت کے خلاف ہے یعنی گناہِ کبیرہ ہے۔ شہید ثانی نے بھی مسالک میں فرمایا ہے کہ مومن سے حسد اور دشمنی تمام فقہاء کے نزدیک حرام ہے۔ دونوں کے لیے بہت سی روایتوں میں عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور دونوں گناہِ کبیرہ ہیں۔ اس لیے عدالت کے خلاف اور حسد اور بغض کے اظہار کو جو عدالت کے خلاف سمجھا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حسد اور دلی بغض حرام نہیں ہیں اور صرف ان کا اظہار حرام ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک کوئی ان کو ظاہر نہیں کرتا ان سے عدالت کی نفی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ دل کی بات ہے اور اس کے ثابت ہونے کا طریقہ صرف اس کا اظہار ہے۔ اگرچہ اظہار کیے بغیر بھی حسد اور بغض حرام ہے۔"
حسد کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ یہاں ان میں سے کچھ کا ذکر کیا جاتا ہے:
حسد آگ کی طرح ایمان کو کھا جاتا ہے
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "انسان غصے کے وقت ہر قسم کی عجلت ظاہر کرتا اور خود کو کافر بنا لیتا ہے لیکن حقیقت میں حسد ایسی چیز ہے جو ایمان کو یوں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (کافی)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) بھی فرماتے ہیں کہ حسد ایمان کو یوں ختم کر دیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حسد، غرور اور ڈینگیں مارنا دین کے لیے مصیبت ہے۔ (کافی)
مومن ہر چیز پر رشک کرتا ہے لیکن حسد نہیں کرتا اور منافق حسد کرتا ہے رشک نہیں کرتا۔ (کافی)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "خدا نے موسیٰ بن عمران سے فرمایا تھا کہ میں نے اپنے فضل سے لوگوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس پر حسد نہ کرنا اپنی آنکھیں اس کے پیچھے نہ لگانا اور اپنے دل کو اس کے پیچھے نہ دوڑانا کیونکہ جس نے حسد کیا اس نے میری نعمت کو بُرا سمجھا اور میں نے اپنے بندوں میں جو تقسیم کی ہے اس کو روکا اور جو ایسا ہو گا میں اس سے نہیں ہوں اور وہ مجھ سے نہیں۔" (کافی)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "کفر کی بنیاد تین چیزوں پر ہے: حرص، غرور اور حسد۔" (وسائل الشیعہ کتاب جہاد باب ۵۴)
کفر کی جڑ
حسد کا کفر کی جڑ ہونا جیسا کہ اس روایت میں ہے اور نفاق ہونا جیسا کہ حدیث میں گذر چکا ہے بالکل ظاہر ہے کیونکہ حاسد شخص اس نعمت کو جو اس شخص کو ملی ہے جس سے وہ حسد کرتا ہے اگر خدا کی طرف سے نہیں سمجھتا تو گویا اس نے کسی اور کو خدا کا شریک بنا لیا ہے جس کی تفصیل باب شرک میں گذر چکی ہے اور اگر اسے خدا کی طرف سے سمجھتا ہے تو خدا کو عادل اور حکیم نہیں سمجھتا اور اس کے فعل پر ناراض ہو گیا ہے۔ کیا خدا سے ناراضگی اور دشمنی سے بدتر بھی کوئی کفر ہو سکتا ہے اور کیا ایسی صورت میں ایمان ظاہر کرنا یعنی اپنے آپ کو مومن کہنا منافقت نہیں ہے؟
رسولِ خدا فرماتے ہیں: "بلاشبہ جو بیماری اور مصیبت پچھلی قوموں میں تھی وہی تم تک بھی پہنچی ہے اور وہ حسد ہے جو دین کو ختم کرنے والا ہے۔ نجات اس میں ہے کہ انسان اپنی زبان اور ہاتھ کو حسد کرنے سے روکے اور اپنے مومن بھائی سے دشمنی نہ رکھے۔" (وسائل الشیعہ کتاب جہاد باب ۵۴)
حضرت امیرالمومنین فرماتے ہیں: "خدا چھ گروہوں کو چھ گناہوں کے باعث عذاب دے گا۔ عرب کو غلط تعصب کی وجہ سے، کسانوں اور زمینداروں کو غرور کی وجہ سے، حاکموں کو ظلم کرنے کی وجہ سے، عالموں کو حسد کرنے کی وجہ سے، لین دین کرنے والوں کو خیانت کی وجہ سے اور دہقانوں (گاؤں والوں) کو نادانی کی وجہ سے۔" (خصائل ص ۱۵۸)
شہید کشف الریبہ میں فرماتے ہیں: "حسد انسانی دل کے لیے سب سے بڑا، سب سے بُرا اور سب سے زیادہ برباد کرنے والا گناہ ہے اس سے بُری کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ پہلا گناہ ہے جو زمین پر کیا گیا۔ جس وقت شیطان نے آدم سے حسد کیا اور انہیں گناہ پر مجبور کر دیا۔ قابیل نے بھی اپنے بھائی ہابیل سے حسد کیا اور اسے مار ڈالا۔ خدا اپنے پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ شیطان اور جادوگر کے شر سے خدا کی پناہ مانگنے کے بعد حاسد کی شر سے خدا کی پناہ طلب کرو۔ اس طرح خدا نے حاسد کو شیطان اور جادوگر کے زمرے میں رکھا ہے۔ حسد کے بارے میں نبی کی بہت سی حدیثیں ملتی ہیں۔"
واقعی حاسد شخص نہ دُنیا ہے اور نہ آخرت کیونکہ دنیا میں وہ سخت پیچ وتاب، تکلیف اور نامرادی میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ اس کے حسد کے باوجود دسرے کی نعمت نہیں چھنتی بلکہ ہو سکتا ہے زیاد ہی ہو جائے جبکہ وہ اس کی نعمت زائل ہو جانے کے لیے کس قدر محنت کرتا اور تکلیفیں جھیلتا ہے پھر بھی جو وہ چاہتا ہے وہ حاصل نہیں ہو پاتا۔
آخرت کے متعلق بھی شک نہیں ہے کہ حاسد حضورِ قلب سے عبادت نہیں کر پاتا اور کچھ بڑی بڑی عبادتوں جیسے مومنوں سے بھلائی، ان پر احسان اور ان کی عزت کرنے سے محروم رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کچھ نیک اعمال بھی رکھتا ہے تو وہ اس شخص کی نذر کر دیتا ہے جس سے حسد کرتا ہے۔ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری اور اپنے مال کا پلڑا ہلکا کر دیتا ہے کیا اس سے بھی بدتر نقصان ہو سکتا ہے؟
حسد کا ظاہر کرنا
مشہور فقہاء نے فرمایا ہے کہ حسد گناہِ کبیرہ ہے اور اس کے ثابت کرنے کا طریقہ زبان، ہاتھ اور دوسرے اعضاء سے حسد کرنا ہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ حسد جب تک ظاہر نہیں ہوتا حرام نہیں ہے ۔ اس کا اظہار حرام ہوتا ہے یعنی اعضاء سے حسد کو عمل میں لانا حرام ہے کیونکہ پہلے تو دلی حسد اپنے اختیار میں نہیں ہے یعنی ذاتی بدباطنی یا پُرانی دشمنی کی وجہ سے جو کسی سے ہوتی ہے اگر وہ دوسرے کو نازو نعمت میں دیکھتا ہے تو اسے بے اختیار بُرا لگتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے اور جو چیز اختیاری نہ ہو اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ دوسرے اس بات کی کئی روایتوں میں صراحت ہو چکی ہے کہ دلی حسد جب تک ظاہر نہ ہو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم کی بھی حدیث رفع ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: "میری امت سے نو باتوں کی ذمہ داری اُٹھا لی گئی ہے، بھولنے کی غلطی، جس بات کا عِلم نہ ہو، جس کو نہ کر سکیں، جس میں بے بس ہوں، جس کے لیے زبردستی مجبور کر دئیے جائیں، بدشگونی، آفرینش کے سوچ بچار میں وسوسہ، حسد جب تک کہ ہاتھ یا زبان سے ظاہر نہ ہو۔" (کافی باب مارفع من الامة)
حسد اختیار میں ہوتا ہے
حسد کے اختیاری نہ ہونے کا جواب یہ ہے کہ وہ بات جس کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اختیاری نہیں ہے دلی خیالات ہیں جس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں نعمت کسی ایسے شخص کو مل گئی ہے جس سے پچھلی دشمنی چلی آ رہی ہے تو از خود اور بے اختیار بُرا لگتا ہے اور انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے لیکن اس حالت کا باقی رہنا اور دل کو ایسے بُرے خیال میں مشغول رکھنا اختیاری اور دلی گناہ ہے کیونکہ اپنے دل کو اس گناہ سے عِلمی اور عملی طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔
حسد کو روکنے کا عِلمی اور عملی طریقہ
علمی طریقہ حسد کی ان خرابیوں پر جو بیان کی گئی ہیں بلکہ دنیا اور اس کی فناکی بُرائی پر سوچنا اور غور کرنا ہے جس سے دنیا کی محبت کا منحوس پودا جوہر گناہ کی جڑ ہے دل سے نکل جائے اور دُور ہو جائے۔
عملی طریقہ اس بُرے خیال کو عمل میں نہ لانا ہے کیونکہ جس خیال کی تائید نہیں کی جاتی وہ ازخود ختم ہو جاتا ہے۔ چنانہ روایت میں یہ آیا ہے: "وسوسہ کتے کے حملہ کرنے کی طرح ہوتا ہے اگر اس پر توجہ دی جائے تو وہ زیادہ جھپٹے گا اور اگر لاپروائی برتی جائے تو دُور ہو جائے گا۔"
حد یث رفع کی توجیہ
حسد کی جو چند دلیلیں بیان کی گئیں ان سے دلی حسد کی حرمت ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی حاسد یہ چاہتا ہے کہ وہ جس سے حسد کرتا ہے اس کی نعمت ختم ہو جائے اور اگر اس نے زبان اور ہاتھ سے حسد کیا، جیسے گالی، غیبت اور دکھ دینا، تو پھر ان میں سے ہر ایک گناہ علیحدہ ہے۔ اس لیے حدیث رفع کو حسد کی طرف بعض قسموں تک محدود سمجھنا چاہیئے تاکہ ان دلیلوں سے اس کا تضاد نہ ہو اور وہ قسم یا درجہ یہ ہے کہ ایک شخص جب یہ سنتا ہے کہ اس کے دشمن کو کوئی نعمت ملی ہے تو اسے بُرا لگتا ہے اور اس کا دل چاہنے لگتا ہے کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے، جب اس حالت میں اس کو عقل اور ایمان کی روشنی کی بدولت یہ کیفیت اچھی نہیں لگی اور اس نے چاہا کہ یہ بُرا خیال دُور ہو جائے تو حسد کا یہ درجہ (جو صرف خیال) قابلِ معافی ہے اور اس کی کوئی سزا نہیں ہے لیکن جب کوئی اسے بُرے خیال سے نہ جھجکے بلکہ اسے دل میں رکھے اور روکے رہے تو چاہے اپنے اعضا سے کچھ نہ کرے وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ درحقیقت وہ اس بُرے خیال کو تقویت دیتا ہے حالانکہ ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے: "جب تجھے حسد لاحق ہو جائے تو ظلم مت کرے۔" (خصال صدوق)
علّامہ مجلسی اصولِ کافی میں حسد کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اپنے دشمنوں کی نسبت سے تیرا حال تین طرح کا ہوتا ہے: پہلا یہ کہ تُو فطری طور پر تو اپنے دشمن کی تکلیف اور پریشانی پسند کرتا ہے لیکن خود تجھے یہ حالت بُری لگتی ہے اور اپنے آپ پر غصہ آتا ہے کہ تُو ایسا کیوں ہے یعنی دوسرے کی تکلیف کیوں پسند کرتا ہے چاہے وہ تیرا دشمن ہی کیوں نہ ہو اور تُو چاہتا ہے کہ تیری یہ بُری کیفیت دُور ہو جائے۔ اس میں شک نہیں کہ تیرا یہ حال قابلِ معافی ہے کیونکہ اس سے زیادہ تیرے بس سے باہر ہے۔
دوسرے یہ کہ تو اپنے دشمن کی پریشانی پسند کرتا ہے اور اس کی تکلیف پر تُو اپنی زبان یا اعضاء سے خوشی وخرمی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ وہی حسد ہے جو حرام ہے۔
تیسرے یہ کہ دونوں کی ایک درمیانی حالت ہے یعنی تو اپنے دشمن کی پریشانی پسند کرتا ہے اور تجھے یہ حالت بُری نہیں لگتی لیکن تُو اپنی خوشی کا اظہار بھی نہیں کرتا اور دلی حسد ظاہر نہیں کرتا۔ اس قسم پر فقہاء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ بعض نے کہا کہ یہ قسم دل کی اس محبت کی کمزوری یا قوت کی مقدار کے مطابق گناہ سے خالی نہیں ہے۔
با قی تما م روا یتوں سے تضا د نہیں
ایسی روایتیں ملتی ہیں کہ جب مومن گناہ کی نیت کرتا ہے جب تک وہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا، اس پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا اور اس کے اعمال نامے میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا، اس لیے حاسد بھی جب تک کوئی کام نہیں کرتا اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
جواب یہ ہے کہ یہ روایتین ان گناہوں کے بارے میں ہیں جو اعضاء اور جوارح سے کیے جاتے ہیں اور جب تک کیے نہیں جاتے گناہ نہیں ہوتے لیکن جن گناہوں کی جگہ دل میں ہے جیسے منافقت، غرور، مومن کی دشمنی، حسد وغیرہ یہ سب کے سب معافی کی روایتوں سے خارج ہیں۔
جو کچھ کہا گیا ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جب بھی کسی انسان کے دل میں کسی مسلمان کی نعمت چھن جانے سے دلچسپی اور لگاؤ پیدا ہوا اسے واجب ہے کہ اس حالت کو بُرا سمجھے اور اسے دُور کرنے کی کوشش کرے اور اگر اسی حالت پر باقی اور قائم رہا تو سمجھ لے کہ گناہ کبیرہ واقع ہو گیا اور پھر واجب ہے کہ ہر وقت پچھتاتا اور اپنے گناہ سے توجہ کرتا رہے۔
رشک حرام نہیں ہے
حسد کے معنی کسی کے نعمت پانے پر ناخوش ہونا اور اس سے اس نعمت کے چھن جانے کی خواہش کرنا جیسا کہ ذکر کیا گیا اور رشک کے معنی ہیں اس نعمت جیسی نعمت پانے کی تمنا کرنا جو دوسرے کو ملی ہے لیکن نہ اس میں دوسرے کے نعمت پانے کا بُرا لگتا ہے نہ اس سے نعمت چھن جانے کی آرزو کی جاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ رشک میں ویسی ہی نعمت پانے کی آرزو ہوتی ہے جیسی دوسرے کو ملی ہے اور حسد میں دوسرے کی نعمت ختم ہو جانے کی تمنا ہوتی ہے۔
رشک اپنے موقع ومحل کے لحاظ سے مختلف قسم کا ہو سکتا ہے چنانچہ علّامہ مجلسی نے مرآت العقول میں فرمایا ہے کہ یہ فرائض کے پانچ احکام کے تحت منقسم ہو سکتا ہے۔ کبھی یہ واجب ہوتا ہے اور وہ واجبات کا رشک ہے مثلاً کسی کا دوست حج کر آیا اور وہ رہ گیا اب وہ تمنا کرے کہ وہ بھی اس کی طرح یہ فرض ادا کرتا کیونکہ اگر وہ یہ نہ چاہے کہ وہ بھی اس شخص کی طرح واجب بجا لاتا تو معلوم ہو گا کہ وہ اس واجب کو ترک کرنے پر رضا مند ہے اور یہ خود حرام ہے (توبہ کے واجب ہونے، واجب کے ترک ہونے پر پشیمان ہونے اور حرام فعل کرنے کی دلیل کے مطابق)۔
مستحب کاموں پر رشک بھی مستحب ہے۔ مثلاً اپنے اس دوست کی حالت پر رشک کرنا جس نے زیارت یا اور کوئی مستحب کام کیا ہے۔ کبھی رشک حرام اور کبھی مکروہ بھی ہوتا ہے۔ مثلاً اس شخص کی حالت پر رشک کرنا جسے کوئی حرام منصب یا حرام مال ملا ہو یا اس پر رشک کرنا جس سے کوئی مکروہ عمل صادر ہوا ہو اور مباح کاموں پر رشک مباح ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ حرام چیز پر رشک اگرچہ خود حرام ہے۔ لیکن جب تک اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا اہل ایمان کا یہ گناہ قابلِ معافی ہے چنانچہ اس بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں۔
مومن سے دشمنی کرنا
جواہر الکلام کے مصنف نے لکھا ہے:
جس طرح حسد خود گناہ اور اس کا اظہار عدالت کے خلاف ہے اسی طرح مومن کی دشمنی اور اسے زبان یا اعضاء سے ظاہر کرنا پاپ ہے کیونکہ بہت سی روایتوں میں مومن بھائی کی دشمنی اور اسے چھوڑ دینے سے منع کیا گیا ہے اور اس سے محبت اور اس پر مہربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انسان اپنے مومن بھائی سے ملنے میں اس کے کسی برتاؤ سے جو بھاری پن اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ظاہر ہے کہ اسے حرام نہیں کہا گیا کیونکہ اس موقع پر کوئی شخص ایسی حالت کے پیدا ہو جانے سے بری نہیں رہ سکتا۔ (جواہر، کتاب شہادت)
یہاں چند روایتیں مختصر طور پر نقل کی جاتی ہیں:
حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی ہمارے شیعوں سے دشمنی کرے گا وہ ہم سے دشمنی رکھے گا کیونکہ یہ ہم سے ہیں اور ہماری ہی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ جو انہیں دوست رکھے گا وہ ہم سے ہے اور جو انہیں دشمن سمجھے گا وہ ہم سے نہیں ہے۔" یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: "جو کوئی ان کو رد کرتا ہے گویا اس نے خدا کو رد کیا اور جو انہیں بُرا کہتا ہے اس نے گویا خدا کو بُرا کہا۔" (وسائل الشیعہ کتاب الامربالمعروف باب ۱۷)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جو دو مسلمان ایک دوسرے پر غصہ کریں اور تین دن تک اسی صورت میں جاری رکھیں اور میل نہ کریں تو وہ دونوں کے دونوں اسلام سے خارج ہیں اور ان میں دینی تعلق باقی نہیں ہے اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے بات کرنے میں پہل کرے وہ قیامت کے دن بہشت میں جانے میں بھی پہل کرے گا۔" (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۴۴)
اس بارے میں بھی وسائل میں گیارہ اور حدیثیں بیان کی گئی ہیں۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) اپنے اصحاب سے فرماتے تھے: "خدا کی راہ میں ایک دوسرے کے بھائی بنو اور ایک دوسرے سے دوستی کرو اور آپس میں رشتہ کرو اور مہربان رہو۔" (وسائل الشیعہ)
اس بارے میں مومن کے حق کے بارے میں اور اللہ سے محبت اور دشمنی کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں لیکن مثال کے لیے انہیں تھوڑی سی روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
چپٹی لڑنا
وہ گناہِ کبیرہ جس کے لیے معتبر بیانات میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ حد بھی مقرر کی گئی ہے چپٹی لڑنا ہے۔
ایک عورت نے حضرت امام صادق (علیہ السلام) سے کہا: "جو عورتیں آپس میں چپٹی لڑتی ہیں (اپنی شرمگاہ دوسری کی شرمگاہ سے رگڑتی ہیں) ان کی حد کیا ہے؟" امام نے فرمایا :"زنا کی حد ہے (سو کوڑے) دراصل جب قیامت ہو گی تو انہیں لائیں گے اور جو کپڑے آگ سے بونتے گئے ہیں انہیں پہنائیں گے، آگ کے گُرز ان کے سوراخوں میں گھسیڑین گے اور انہیں جہنم میں جھونک دیں گے۔ اے عورت! وہ قدیم ترین قوم جس میں چپٹی کا رواج ہوا حضرت لوط کی قوم تھی جس کے مرد لونڈے بازی کرنے میں لگے تو بیویاں بے شوہروں کی رہ گئیں۔ آخر وہ بھی ایک دوسرے سے اسی طرح مشغول ہو گئیں جس طرح مرد آپس میں مشغول ہو گئے تھے۔" (اور عذاب نازل ہونے پر سب کے سب ہلاک ہو گئے۔) (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۲۴)
ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا: "خدا کی قسم چپٹی بہت بڑا زنا ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۲۴)
آپ نے اس عورت کے جواب میں جس نے عورتوں کے چپٹی لڑنے کے بارے میں پوچھا تھا یہ بھی فرمایا: "وہ جہنم میں ہیں جب قیامت ہو گی انہیں آگ کی چادر اڑحا دی جائے گی، ان کی شرمگاہوں میں آگ کے گرز گھسیڑے جائیں گے اور انہیں جہنم میں ڈال دیں گے۔" عورت نے کہا: "کیا اس عمل کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا ہے؟" آپ نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے عرض کیا: "کہاں؟" آپ نے فرمایا: "واصحاب الرس۔" (سورہ فرقان آیت ۳۸) ۔
(وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۲۴)
تفسیر صافی میں اصحاب رس کے بارے میں حضرت امیرالمومنین سے ایک طویل روایت نقل کی گئی ہے اور مرحوم مجلسی نے بھی حیات القلوب کی تیسری جلد میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ان لوگوں کا اور ان کے گناہوں کا حال جاننے کے لیے جن میں عورتوں کا چپٹی لڑنا بھی شامل ہے مذکورہ کتابیں دیکھئے۔
آپ ان لوگوں کی ہلاکت کا حال یوں بیان فرماتے ہیں کہ خدا نے ان پر لال تیز ہوا بھیجی۔ ان کی زمین نے بھی آگ اگلی، کالی گھٹا ان پر چھا گئی اور پھر ان پر ایسی بجلی گری کہ سب کو ہلاک کر گئی۔
چپٹی کی حد
جب عورت اس حرام کام کا چار بار اقرار کر لے یا چار عادل مرد اس کی گواہی دے دیں تو ان دونوں عورتوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔ البتہ اگر جرم کے اقرار یا عادل گواہوں کی گواہیوں سے پہلے پہلے وہ توبہ کر لیں تو حد نہیں لگے گی۔
جس طرح کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ دو برہنہ مردوں یا دو برہنہ عورتوں کا ساتھ ساتھ ایک ہی لحاف میں اس طرح سونا کہ ان کے بیچ میں کوئی روک نہ ہو حرام ہے اور اگر حاکم شرع کے سامنے ثابت ہو جائے تو وہ انہیں سو کوڑوں سے کم کی (جتنی بھی مناسب سمجھے) سزا دے۔ کچھ روایتوں میں ان کی حد سو کوڑے بتائی گئی ہے۔
دلالی اور بھاڑو پنا
د لالی
مرد اور عورت کو زنا کے لیے اور دو مردوں کو اغلام کے لیے بلانا دلالی (کٹناپا) کہلاتا ہے اور اس کے حرام ہونے بلکہ گناہِ کبیرہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جس کے لیے معتبر بیانات میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور اسلام کی مقدس شریعت میں اس کے لیے حد مقرر کی گئی ہے۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جو شخص کسی مرد اور عورت کے زنا کا ذریعہ بنے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور وہ دوزخ میں رہے گا اور دوزخ بُرا ٹھکانا ہے اور وہ شخص مرتے وقت تک برابر خدا کے عتاب میں رہے گا۔" (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۲۷)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رسول خدا نے فلاں کرانے عورت اور وہ عورت جو اس کام کا واسطہ بنتی ہے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۲۷)
اس کے علاوہ دلالی کرنے والا شخص نہ صرف نہی از منکر کو ترک کرتا ہے بلکہ منکر کے لیے کوشش کرتا ہے اور جب پہلے باب کے آخر میں نہی از منکر کا ترک کرنا ہی گناہِ کبیرہ ثابت ہو چکا ہے تو پھر منکر کے حکم دینے یا منکر کے لیے کوشش کرنے کا گناہ تو اس سے بھی بڑا ہو گا۔
ہر دیندار کے نزدیک گناہوں کی دلالی بھی گناہِ کبیرہ ہے اور تیسری فصل میں ذکر ہو چکا ہے کہ اہل شریعت کے نزدیک گناہ کا بڑا ہونا خود اس کے گناہِ کبیرہ ہونے کی دلیل ہے۔
شیخ انصاری مکاسب محرقہ میں فرماتے ہیں: "دلالی حرام ہے اور اس سے مراد دو مردوں کو حرام اغلام کے لیے ملانے کی کوشش ہے اور یہ گناہ کبیرہ ہے اور ملانے کے کام کو جس پر لعنت کی گئی ہے دلالی کہا گیا ہے۔"
حضرت امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے: "رسول خدا نے چار گروہوں پر لعنت کی ہے: اوّل عورتوں کے بال کاٹنے والی اور وہ جو بال کٹوانے پر آمادہ ہوتی ہے۔ دوسرے جو عورتوں کے دانت اکھاڑتی ہے اور وہ جو اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ تیسرے ملانے والی اور ملنے (زنا کرانے والی اور کٹنی)۔ چوتھے جسم گود کر نقش ونگار بنانے والی عورت وہ جو اپنے جسم کو گدوا کر نقش بنواتی ہے۔" (معانی الاخبار)
دلالی کی حد
خود اس شخص کے دو مرتبہ اقرار کرنے یا دو عادل گواہوں کی گواہی سے دلالی ثابت ہو جاتی ہے۔ دلالی ثابت ہو جانے پر پچھتر ( ۷۵) کوڑے مارنا چاہئیں چاہے وہ مرد ہو چاہے عورت اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ اگر مرد ہو تو اس سزا کے علاوہ اس کا سر مونڈ کر اسے رسوا کریں اور شہر سے باہر گھمائیں اور بعض نے فرمایا ہے کہ دوسری بار ایسا کرنے پر اسے جلا وطن کر دیں۔ اس کی تشریح حدود کی کتاب میں کی گئی ہے۔
بھا ڑو پنا
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں: "تین گرہ ایسے ہیں جن سے خدا قیامت میں بات نہیں کرے گا۔ ان پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا۔ ان کو پاکیزہ نہیں کرے گا اور ان پر دردناک عذاب ہو گا۔ زنا کرنے والا بڈھا، قرم ساق (بھاڑو) اور وہ بیاہی عورت جو زنا کراتی ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۱۶)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "بہشت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت پر بھی پہنچ جاتی ہے لیکن جس کو والدین نے عاق کر دیارو قرم ساق دونوں اس سے محروم رہیں گے۔" جب پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! قرم ساق کون ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا وہ شخص جس کی بیوی زنا کراتی ہو اور یہ بات اس کے علم میں ہو۔" (وسائل الشیعہ)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ خدا نے اپنے عزت وجلال کی قسم کھا کر فرمایا ہے: "بہشت میں شرابی، چغل خور اور قرم ساق داخل نہیں ہوں گے۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) بھی یہی فرماتے ہیں: "بہشت قرم ساق پر حرام ہے۔"
(وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۱۳۲ ص ۳۰)
جلق
گناہِ کبیرہ جس کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے منی نکالنا ہے جس سے مراد ہے منی کو غیر فطری طریقے مثلاً اپنے ہاتھ سے عضو مخصوص کو مل کر یا بیوی کے علاوہ کسی اور کے اعضاء سے اپنے اعضاء کو رگڑ کر خارج کرنا۔
کتاب حدود جواہر کے آخر میں لکھا ہے کہ جو کوئی اپنے ہاتھ یا کسی اور عضو سے منی نکالے اسے سزا دی جائے اس لیے کہ وہ حرام کام بلکہ گناہِ کبیرہ ہے۔ چنانچہ جب لوگ اس کے حکم کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں: "یہ انتا بڑا گناہ ہے جس سے خدا نے قرآن مجید مں منع کیا ہے اور منی نکالنے والے کی مثال یہ ہے جیسے اس نے اپنے آپ سے نکاح کیا ہو۔ اگر میں کسی ایسے شخص کو جان لوں جو یہ کام کرتا ہے تو اس کے ساتھ کھانا نہ کھاؤں۔"
اس حدیث کا راوی آپ سے پوچھتا ہے: "یہ مطلب قرآن کے کس مقام سے نکلتا ہے؟"
تو آپ فرماتے ہیں اس آیت سے :"جوکوئی اپنی بیوی یا لونڈی کے علاوہ کسی اور سے اپنی شہوت کی تسکین کرتا ہے وہ بدعنوان ہے۔" راوی نے پھر پوچھا: "زنا کا گنا بڑا ہے یا منی نکالنے کا؟" آپ نے فرمایا: "منی نکالنا بڑا گناہ ہے۔" (جواہر الاحکام کتاب الحدود)
لوگ امام سے منی نکالنے کے حکم کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں: "یہ بڑا اور نہایت بڑا گناہ ہے اور یہ کسی حیوان سے جماع کرنے یا رگڑ کر شہوت مٹانے کے حکم میں آتا ہے۔" لوگوں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: "جو کوئی اپنی شہوت اس سے یا اس جیسے کسی اور ذریعے سے مٹاتا ہے وہ زنا کرنے کے حکم میں داخل ہے یعنی یہ زنا کے گناہ کے برابر ہے۔"
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "لوگوں کے تین گروہ ایسے ہیں جن سے خدا بات نہیں کرے گا، انہیں رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا اور انہیں پاک نہیں کرے گا ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ پہلا وہ جو اپنے سفید بال اکھاڑتا ہے(تاکہ وہ یہ دکھائے کہ وہ جوان ہے) دوسرا وہ جو اپنے عضو کے وسیلے سے اپنی شہوت مٹاتا ہے اور تیسرے وہ جس شخص سے اغلام کیا گیا ہو۔"
رسول خدا فرماتے ہیں: "جو اپنے ہاتھ سے اپنی شہوت مٹاتا ہے وہ ملعون ہے"۔ (نکاح مستدرک ص ۸۷۰)
صاحب جواہر فرماتے ہیں: "بیوی اور کنیس کے ساتھ منی خارج کرنا دلیلوں سے جائز معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا ترک بہتر ہے اور مسائل میں بھی قریب قریب یہی کہا گیا ہے لیکن احتیاط کا طریقہ اس کا ترک کر دینا ہی ہے۔"
جلق کا رواج
بدقسمتی سے نکاح کرنے کی بے حد وحساب مشکلات اور جوانوں کے کنوارے رہنے نے اس گھر پھونک بیماری اور گناہ کو غیر معمولی رواج دے دیا ہے اور اس سے بہت سے پیارے جوان آخرت کی سزاؤں سے قطع نظر جان بوجھ کر یا انجانے میں طرح طرح کی بیماریوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو آگاہ کریں اور اپنے جوانوں کو خیال رکھیں اسی طرح دین اور حفظانِ صحت کی تعلیم دینے والے منشیوں اور مدرسوں کو فرض ہے کہ وہ جوانوں کو مصیبت کے خطرناک روحانی اور جسمانی نتائج سے باخبر کریں۔
اس مقام پر ہم منی خارج کرنے کے کچھ نقصانات کتاب "ناتوانی ہائے جنسی" سے نقل کرتے ہیں جو اس فن کے ماہرین کی تحریروں کا مجموعہ ہے۔
جلق کے جسمانی وروحانی نقصانات
یہ عمل لوگوں کو شہوانی قویٰ کی کمزوری میں مبتلا کرتا ہے، سستی اور بزدلی پیدا ہوتی ہے، ان سے دلیری اور ایمانداری رخصت ہو جاتی ہے، ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جو جوانی کے شروع میں ہی ہتھلس (جلق) کی وجہ سے ایسی روحنی اور جسمانی کمزوریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ منشیات کے عادی لوگ بھی ان کے مقابلے میں شیر نر نظر آتے ہیں۔ یہ غیر فطری جنسی عمل یعنی منی خارج کرنا یا ہتھ لس کرنا پانچوں حواس سے اس قدر قریبی تعلق رکھتا ہے کہ سب سے پہلے آنکھ اور کان پر اس طرح اثر کرتا ہے کہ نظر کو کمزور کر دیتا ہے اور سماعت کو بھی خاص ھد تک ناکارہ بنا دیتا ہے۔ ہتھ لس کرنے والے خصوصاً وہ لوگ جو جسمانی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگتے ہیں جن سے انہیں سخت پریشانی ہوتی ہے۔ وہ آنکھوں کو بند کر لین تب بھی ان نر ترمروں سے انہیں نجات نہیں ملتی اور جب یہ عمل ہر بار کئی کئی منٹ تک جاری رہتا ہے تو انہیں چکر آ جاتا ہے اور وہ زمین پر گِر پڑتے ہیں۔ اسی طرح ان کے کانوں میں گھنٹیوں کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں جن سے انہیں بہت بے چینی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی اور روحانی قوتیں کم ہو جاتی ہیں، خون گھٹ جاتا ہے، رنگ اُڑ جاتا ہے، یاداشت کمزور پڑ جاتی ہے، جسم دُبلا ہو جاتا ہے، سستی اور کاہلی بے حد بڑھ جاتی ہے، بھوک جاتی رہتی ہے، کج خلقی پیدا ہوتی ہے، طبعیت میں چڑچڑاہٹ آ جاتی ہے، سر میں درد رہنے لگتا ہے اور دوسری بیماریوں کی ہزاروں مصیبتیں ہیں جو ہتھ لس کرنے والوں کو آ گھیرتی ہیں۔
البتہ جو لوگ جسمانی لحاظ سے قوی ہیں ممکن ہے ان کا ان بیماریوں سے دیر میں سابقہ پڑے لیکن ان سے بچنا یا بچے رہنا ناممکن ہے اور سب کو خواہ مخواہ ان مصیبتوں میں گرفتار ہونا ہی پڑتا ہے۔
ہتھ لس کرنے والوں کی ایک بدبختی یہ ہے کہ ان کی قوت ارادی ختم ہو جاتی ہے، اس لیے جب انہیں اپنے عمل کے نتیجے کا پتا لگتا ہے تو ان میں اتنی قوتِ ارادی نہیں ہوتی کہ اسے چھوڑ سکیں۔ سو ہم جو یہ کہتے ہیں کہ منی خارج کرنے کا عمل روحانی لحاظ سے بھی انسانی قویٰ کو خراب کر دیتا ہے بے سبب نہیں ہے۔ یہ عمل جسمانی نقصانات کے علاوہ جنسی لحاظ سے بھی انسان کو خراب کر دیتا ہے۔ یعنی رس دینے والے اندرونی غدودوں کو بیکار کر دیتا ہے۔ یہ غدود منی بناتے ہیں جو ہتھ لس کے باعث دھیرے دھیرے چھوٹے ہو کر چنے کے برابر رہ جاتے ہیں اور چونکہ اس صورت میں منی یعنی ماء الحیات یا آبِ زندگی نہیں بنا سکتے، انسان ہمیشہ کے لیے جنسی لذت سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر اس صورت میں مکمل طور پر نامرد نہ بھی ہو تو قطعی طور پر دوسری جنسی کمزوریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اکثر دیکھا اور سنا گیا ہے کہ ان کی پیشاب کی جگہ خون آنے لگتا ہے۔
جاننا چاہیئے کہ جن لوگوں کی ایسی حالت ہو جاتی ہے وہ چاہے جس قدر جوان ہوں موت کا خطرہ ان کی گھات میں رہتا ہے کیونکہ شہوت کے بغیر اور شہوت کا مزہ لیے بغیر ان کی منی برابر بہتی یا نکلتی رہتی ہے اور اس کی وجہ سے چلتے چلتے یکا یک گِر پڑتے ہیں اور بے ہوش ہو جاتے ہیں۔
تہران کے پاگل خانے میں جا کر دیکھئے وہاں رہنے والے دس پاگلوں میں سے نو ہتھ لس کے عادی ہیں۔ یعنی منی خارج کرتے کرتے پاگل ہو گئے اور پاگل خانے میں ایک طرف آ پڑے کیونکہ ہتھ لس کا نامعقول اثر دماغی قوتوں پر زیادہ ہوتا ہے اور جب دماغی قویٰ بگڑ جاتے ہیں تو یہ مانی ہوئی بات ہے کہ پاگل پن پر نوبت پہنچے گی۔ بلامبالغہ سل کے دس مریضوں میں سے جو دارالصحت (سینے ٹوریم) میں سو رہے ہیں چار مریض ہتھ لس کی لت پڑنے کے باعث اس خطرناک بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے جس تک علماء اور اسکالر دسیوں سال کے تجربے کے بعد پہنچ پائے ہیں۔ (نوتوانبہائے جنسی ص ۴۸ تا ۵۲)
آج کی دُنیا کہتی ہے خوب کھاؤ لیکن کسی کام میں حد سے نہ بڑھو۔ طاقتور رہو تاکہ بیمار نہ پڑو۔ لیکن ہتھ لس کے عادی لوگوں کو بھوک نہیں لگتی جو خوب کھالیں اور وہ جنسی معاملات میں بھی غیر فطری طریقے سے حد سے تجاوز کرتے ہیں اس لیے مجبوراً کمزور ہوتے ہیں اور چونکہ کمزور ہوتے ہیں اس لیے ہر قسم کی بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض ہتھ لس کے عادی اس عمل میں افراط کی وجہ سے ( Sadism )سے ملتی جلتی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس وقت ان کے جذبات کتے بلی کو دیکھ کر بھی بارنگیختہ ہو جاتے ہیں اور وہ فوراً جلق کرنے لگ جاتے ہیں۔ چونکہ کوئی آدمی پانچ چھ مہینے سے زیادہ جنسی قوت سے اس طرح لطف اندوز نہیں ہو سکتا اس لیے اس کے جنسی قویٰ بیکار ہو جاتے ہیں یا وہ نہایت دلخراش حالت میں اپنی موت سے جا ملتا ہے۔ (ناتوانی ہائے جنسی صفحات ۴۸ تا ۵۴)
ممکن ہے کہ بعض ہتھ لس میں مبتلا لوگ قوی جسم رکھنے یا اس کام میں نئے نئے مشغول ہونے کے باعث ابھی تک بیمار نہ پڑے ہوں اور انہیں اپنے ناپسندیدہ عمل کے نقصانات کا پتا نہ چلا ہو ہماری ان باتوں کو ہم نے ہتھ لس کے نقصانات کے تحت لکھی ہیں مبالغہ سمجھ کر دل میں سوچیں کہ اگر یہ حقیقت ہے تو ہم ابھی تک کیوں نہیں بیمار پڑے؟
ان لوگوں کے جواب میں یہ کہنا ہے کہ اگر آج ہتھ لس کے نقصانات تم تک نہیں پہنچے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تم طاقتور جسم کے مالک ہو یا یہ عمل تم نے نیا نیا شروع کیا ہے۔ ورنہ چند دن بعد یہ نقصانات تمہیں ضرور بالضرور لاحق ہوں گے۔ پھر ہم نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ جس نے ایک ہفتے تک بھی یہ عمل کیا اس پر یہ تمام بیماریاں ایک دم حملہ آور ہو جائیں گی کیونکہ لوگوں کی اندرونی حالتوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ مثلاً ممکن ہے کہ جس کسی نے ایک مدت تک ہتھ لس کی ہو وہ پہلے مرحلے میں صرف اعصاب کی سستی کے خلل سے یا نظر کی کمزوری یا سر کے چکروں میں مبتلا ہو اور پھر ایک ایک کر کے باقری تمام بیماریاں اس تک پہنچیں۔ تو خلاصہ یہ ہے کہ ہتھ لس شرع کے لحاظ سے بھی عمومی لحاظ سے بھی ہر طرح حرام اور ناپسندیدہ فعل ہے۔
بدعت
بدعتگناہِ کبیرہ ہے جس کا حرام ہونا مذہب کی ضرورت ہے اور جو اس لیے کبیرہ ہے کہ مسلسل روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور چونکہ اصل بات مانی ہوئی اور ظاہر ہے اس لیے صرف چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:
پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ "ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے"۔
(وسائل الشیعہ کتاب امر بالمعروف باب ۴۰)
امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) بدعت کو گناہِ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا: "جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔" (سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۳)
حضرت پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "میرے بعد جب تم کسی شکی اور بدعتی کو دیکھو تو اس سے دُور رہو۔ اسے بہت زیادہ بُرا بھلا کہو، اسے گالیاں سناؤ، طعنہ دو، اسے تھکا دو، عاجز کر دو تاکہ تمہیں جواب نہ دے پائے، لوگ اس سے اسلام میں بگاڑ کے سوا اور کوئی امید نہ رکھیں، اس سے چوکنا رہیں، اس کی بدعتیں نہ سیکھیں تاکہ خدا تمہارے لیے اس کام کے عوض نیکیاں لکھے اور آخرت میں تمہارے درجے بلند کرے۔" (وسائل الشیعہ باب ۳۹)
علّامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: "شکیوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے دین میں شک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی اس غلطی کی بدولت شک میں ڈالتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ شکیوں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا دین فاسد گمان اور وہم پر قائم ہے جیسے اہل خلاف کے علماء اور ممکن ہے کہ ان سے مراد بدکار، کھلم کھلا گناہ کرنے والے اور دین کے بارے میں منہ پھٹ لوگ ہوں کیونکہ یہی بات اس کا سبب ہے کہ لوگ ان کے دیندار ہونے میں شک کرتے ہیں اور ان کے عقیدے کی کمزوری کی علامت ہے۔
بدعت کیا ہے؟
علّامہ مجلسی فرماتے ہیں: "امت میں جو باتیں حضرت رسولِ خدا کے بعد شروع کی گئی ہوں وہ بدعت (ایجاد) ہیں۔ اس کے بارے میں کوئی خاص یا عام نص موجود نہیں ہے۔ اور نہ خصوصیت یا عمومیت کے ساتھ اس سے منع کیا گیا ہے جو کچھ عام طور پر ہوتا ہے وہ بدعت نہیں ہے جیسے مدرسہ بنانا وغیرہ کیونکہ مومن کو سکونت اور مدد دینا عام باتوں میں شامل ہے اور جیسے علمی کتابیں تصنیف اور تالیف کرنا جو شرعی علوم کی مدد ہے یا جیسے وہ لباس جو پیغمبر خدا کے زمانے میں رائج نہیں تھے یا نئی غذائیں جو عام لوگوں میں پسندیدہ اور مرغوب ہیں اور ان سے منع نہیں کیا گیا ہے۔
ہاں جو عام لباس یا غذا کے طور پر ہوا اگر اسے خصوصیت دیں اور کہیں کہ اس خاص طریقے سے خدا نے اس کا حکم دیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ نماز جو سب سے اچھا عمل ہے اور جس کا ادا کرنا ہر حال میں مستحب ہے اگر چند رکعتوں کو کسی خاص وجہ سے مخصوص کر دیا جائے یا کسی مخصوص وقت سے وابستہ کر دیا جائے تو بدعت ہو گی۔ (جیسے خلیفہ ثانی حضرت عمر نے حکم دے دیا تھا کہ رمضان میں ہر رات کو بیس رکعت نماز با جماعت پڑھا کرو۔) اور جیسے کوئی کہے کہ فلاں وقت خصوصیت سے ستر بار لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کہنا مستحب یا واجب ہے جبکہ اس کے لیے کوئی معتبر دلیل نہ ہو تو یہ بدعت ہے۔ بہرحال دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نکالنا یا بڑھانا جس کی اصل یا خصوصیات کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو بدعت ہے۔ ( ۱)
شہید کے نقطہ نظر سے بدعت کی قسمیں
شہید اوّل فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم کے بعد جو باتیں نکلی ہیں ان کی پانچ قسمیں ہیں۔ واجب، حرام، مستحب، مکروہ، مباح اور بدعت جو نئی باتیں ہیں اور حرام ہیں۔ ان باتوں کی تشریح یہ ہے:
( ۱) واجب: جیسے قرآن اور احادیث کا جمع کرنا جس وقت (لوگوں کے حافظے سے) ان کے تلف ہو جانے کا ڈر ہو کیونکہ آنے والوں کے لیے دین کی تبلیغ اجماع اور قرآنی آیات کے مطابق واجب ہے اور یہ فریضہ امام کی غیبت میں قرآن اور سنت کی حفاظت کے بغیر انجام نہیں پا سکتا اور جب امام موجود اور حاضر ہوں گے تو وہ خود ان کے حافظ اور محافظ ہوں گے اور پھر کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
( ۲) حرام وہ بدعت ہے جس پر حرام ہونے کی دلیل لگتی ہے جیسے معصوم امام پر غیر معصوم امام کو مقدم کرنا، ان کے مخصوص مناصب ہتھیا لینا، ظالم حکمرانوں کا مسلمانوں کا مال مارنا، مستحق لوگوں کو ان کے حق کا نہ دینا، اہل حق سے لڑنا اور انہیں جلا وطن کرنا، محض بدگمانی پر قتل کرنا، فاسق کی بیعت کرنے پر مسلمانوں کو مجبور کرنا اور اس پر
( ۱) دیکھئے مرآت العقول جلد ۲ ص ۳۶۶ اور بحار الانوار جلد ۴ ص ۳۰۰
قائم رہنا، اس کی مخالفت کو حرام قرار دینا، مسح کے بجائے دھونا، جسم کی کھال کے علاوہ اور چیزوں پر بھی مسح کرنا، نشہ آور مشروبات کا بہت زیادہ پینا، نافلہ نمازیں جماعت سے پڑھنا، جمعہ کو دوسری اذان دینا، متعہ الحج اور متعہ النساء کو حرام کرنا، امام (علیہ السلام) کے خلاف جھگڑا کرنا، دُور کے رشتے داروں کو وراثت کا مال دینا اور قریبی رشتے داروں کو نہ دینا، حقداروں کا خمس روک لینا اور بے وقت روزہ افطار کرنا اور ایسی ہی اور بھی مشہور بدعتیں ہیں جن پر شیعہ اور سُنی دونوں کا اجماع ہے اور اسی قسم میں کسٹم کا محصول وصول کرنا، غیر صالح شخص کو عہدہ اور منصب بخشش میں دینا یا وراثت میں دینا یا کسی اور طریقے سے دینا شامل ہیں۔
( ۳) مستحب ہر ایسا عمل ہے جس کے مستحب ہونے کی دلیل موجود ہو جیسے مدرسے اور گھر بنانا لیکن اس میں وہ انتظامات شامل نہیں ہیں جو بادشاہ اپنے دہلانے والے جلوس کے لیے کرتے ہیں جب تک کہ یہ اسلام کے دشمنوں کو دہلانے کے لیے نہ ہوں۔
( ۴) مکروہ وہ چیز ہے جس پر کراہت کی دلیل لگتی ہے جیسے تسبیح زہرا میں زیادتی اور کمی کرنا اور اسی طرح دوسرے فرائض اور کاموں میں بھی گھٹانا بڑھانا، کھانے پہننے میں اتنی افراط جو فضول کرچی تک نہ پہنچے اور جب نقصاندہ ہو جائے تو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے حرام ہو جائے گی۔
( ۵) مباح وہ چیز ہے جس پر اباحت کی دلیلیں لگتی ہیں جیسے آٹا چھانا جس کے لیے کہا گیا ہے کہ رسول خدا کے بعد جو نئی چیز درآمد ہوئی وہ آٹا چھاننے کی چھلنی تھی چونکہ مباح باتوں سے خوشی اور آرام ملتا ہے اس لیے مباح کا وسیلہ اور ذریعہ بھی مباح ہوتا ہے۔ (کتاب قواعد ص ۲۵۶)
علّامہ مجلسی کا قول
مقدمہ بیان کرنے کے بعد علّامہ مجلسی فرماتے ہیں: "بدعت کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کو خدا نے حرام کر دیا ہو اسے حلال کر دیں یا اسے مکروہ قرار دے دیں جسے خدا نے مکروہ نہ کیا ہو اس بات کو واجب کر دیں جسے خدا نے واجب نہ فرمایا ہو یا اس کام کو مستحب کر دیں جسے خدا نے مستحب قرار نہ دیا ہو چاہے کسی خصوصیت کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً خدا نے فرمایا کہ نماز ہر وقت مستحب ہے۔ اگر کوئی اس لحاظ سے نماز پڑھتا ہے کہ چونکہ ہر وقت سنت ہے اور یہ بھی انہیں وقتوں میں سے ہے اس لیے میں اس وقت نماز پڑوھوں گا تو ثواب ملے گا اور اگر سورج ڈوبتے وقت دو رکعت نماز اس لیے پڑھے کہ خدا نے خصوصیت کے ساتھ اس وقت مجھ سے اس نماز کا مطالبہ کیا ہے تو یہ بدعت ہو جاتی ہے اور حرام ہے جس طرح حضرت عمر نے خصوصیت سے چاشت کے وقت کے لیے چھ رکعتیں مقرر کر دی تھیں کہ اس وقت سنت کے طور پر پڑھنا چاہئیں۔ اس وجہ سے بدعت حرام ہو گئی اور ہمارے اماموں ٪ نے اس سے منع کر دیا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص نافلہ نماز کی تین رکعتیں ایک اسلام سے پڑھتا ہے توچونکہ سنتی نماز کی یہ شکل پیغمبر اکرم سے ہم تک نہیں پہنچی ہے اس لیے بدعت اور حرام ہے یا اگر کوئی ہر رکعت میں دو رکوع بجا لائے تو حرام ہے۔
اسی طرح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ کو ہر وقت پڑھتے رہنا سنت اور بہترین عبادت ہے۔ اگر کوئی یہ مقرر کرے کہ نماز صبح کے بعد مثلاً اس کا ڈیڑھ ہزار بار پڑھنا سنت ہے اور اس گنتی کو خصوصیت سے اس وقت کے لیے شرع کی طرف سے مقرر کیا ہوا جانے یا خود مقرر کر لے اور اس خصوصیت کو عبادت جانے تو یہ دین میں بدعت اور بدترین گناہ ہو گا۔ (عین الحیاة ص ۲۳۳)
بدعت یعنی خدا کا حکم تبدیل کر د ینا
اس لحاظ سے بدعت کے معنی خدا کے دین کو بدلنا اور اپنا ناقص رائے اور عقل سے اس میں کچھ بڑھانا یا اس سے کچھ گھٹانا ہے چاہے اصول میں ہو چاہے فروع میں۔ (اصول کافی فضل العلم باب ۲۰)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: "محمد کا حلال قیامت تک ہمیشہ حلال رہے گا اور ان کا حرام روزِ قیامت تک برابر حرام رہے گا۔ ان کے سوا کوئی اور پیغمبر نہیں ہے اور ان کے علاوہ (قیامت تک) اور کوئی نہیں آئے گا اور حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو بدعت کرتا ہے وہ اس کی بدولت سنت کو ختم کر دیتا ہے۔" (اصول کافی کتاب فضل العلم باب ۲۰)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: "جو شخص لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے حالانکہ ان کے درمیان اس سے زیادہ عقلمند شخص موجود ہوتا ہے وہ شخص بدعتی اور بہکانے والا ہے۔"
(سفینة البحار جلد ۲ ص ۲۲۰) ۔
غیر واجب حکم
خدا نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے خلاف حکم دینا گناہ ہے اور اس گناہ کے بڑے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے ایسا حکم دینے والوں کو کافر، ظالم اور فاسق کہا ہے اور سورة مائدہ کی آیات ۴۴ ، ۴۵ اور ۴۷ کے آخر میں فرماتا ہے: "اور خدا نے جو نازل فرمایا ہے جو لوگ اس کا حکم نہیں دیتے وہ کافر ہیں، ظالم ہیں اور فاسق ہیں۔" اور ان جملوں سے وہ ان کے کفر، ظلم اور گناہ کی تصدیق کرتا ہے۔
تفسیر المیزان میں لکھا ہے کہ یہ تینوں آیتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو خدا کے نازل کیے ہوئے کے مطابق حکم نہیں دیتے اور جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے : "یہ لوگ کافر، ظالم اور فاسق ہیں۔" یہ ایسی عمومی آیات ہیں جو کسی قبیلے یا گروہ سے مخصوص نہیں ہیں اگرچہ اس مقام پر یہ اہلِ کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) پر صادق آتی ہیں۔
مفسرین نے "اس شخص کا کفر جو خدا کے نازل کیے ہوئے کے مطابق حکم نہیں دیتا" کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ اس قاضی کے متعلق جو اس کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا جو خدا نے نازل کیا ہے، اس حاکم کے متعلق جو اس کے خلاف حکم دیتا ہے جو خدا نے نازل فرمایا ہے اور اس بدعتی کے متعلق جو غیر الہٰی قوانین کو ماننا ہے کیا حکم ہے؟
بے شک یہ فقہ کا ایک مسئلہ ہے اور تحقیق یہ ہے کہ کسی حاکم شرعی کی مخالفت یا ہر اس حکم کی مخالفت جو دین میں ثابت ہے اگر دین میں اس کے ثابت ہونے کا علم ہونے کے باوجود کی جاتی ہے اور اس حکم کو رد کیا جاتا ہے تو اس سے کفر لازم آتا ہے اور اگر اسے رد نہ کیا جائے اور صرف عمل میں اس کی مخالفت کی جائے یعنی ا کے خلاف عمل کیا جائے تو یہ فسق کا سبب ہے اور جب یہ نہ معلم ہو کہ یہ حکم شرع میں ثابت ہے یا نہیں تو پھر اسے رد کرنے کے باوجود نہ وہ کفر کا بعث ہے نہ فسق کا کیونکہ وہ ایسا قصور ہے جس میں انسان معذور ہے بجز اس صورت کے جبکہ اس کا علم حاصل کرنے میں کمی اور زیادتی کی گئی ہو (فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے)۔
اس بارے میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص صرف دو درہم کی سی حقیر رقم کے بارے میں بھی خدا کے حکم کے خلاف حکم کرتا ہے خدا کی قسم وہ کافر ہے۔" (وسائل الشیعہ کتاب قضا باب ۵)
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص لوگوں کو اس چیز کے بارے میں فتویٰ دے جس کا اسے خدا کی طرف سے عِلم نہیں ہے اور جس کا اسے سراغ بھی نہ ملا ہو تو رحمت اور عذاب کے تمام فرشتے اس پر لعنت کریں گے اور جس شخص نے اس کے فتویٰ پر عمل کیا اس کی ذمہ داری اسی پر ہو گی۔" (وسائل الشیعہ کتاب قضا باب ۴)
اس بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں کہ ایسے شخص کی طرف رجوع کرنا جو حکم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا گویا طاغوت کی طرف رجوع کرنا ہے اور اگر اس کے حکم سے کچھ مال اس کے ہاتھ لگ جائے تو چاہے وہ حق پر ہی ہو سحت ہے۔
حرام مہینوں میں جنگ اورخدا کی راہ سے روکنا
حرام مہینوں میں جنگ کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور وہ چار مہینے یہ ہیں: ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب اور اس سے مراد مسلمانوں کے جنگ کرنے کی ابتداء ہے جو ان چار مہینوں میں حرام ہے اس لحاظ سے اگر کافروں یا ایسے لوگوں کی طرف سے جنگ چھیڑی جائے جو ان چار مہینوں کو حرام نہیں مانتے تو مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ ان سے ان چار مہینوں میں بھی لڑیں۔
اس بات کے گناہِ کبیرہ ہونے کے متعلق قرآن مجید کی صراحت کافی ہے جو کہتا ہے: "تجھ سے حرام مہینے میں جنگ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ حرام مہینے میں لڑنا بڑا گناہ ہے۔" (سورة بقرہ آیت ۲۱۷)
ان چار گناہوں سے مراد ہے خدا کی راہ سے منع کرنا، خدا سے کفر کرنا، لوگوں کو مسجد الحرام سے روکنا اور مسجد الحرام سے اس کے لوگوں کو باہر نکالنا۔ یہ چار باتیں خدا کے نزدیک حرام مہینوں میں جنگ کرنے سے بھی زیادہ بڑے گناہ ہیں۔
اس آیت کے نازل ہونے کی وجہ اور اس کے متعلقات کے بارے میں تحقیقات کی ایک تفصیل ہے جو تفسیر مجمع اور منہج وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں جس بات کا جاننا لازم ہے وہ "صدعن سبیل اللّٰہ" کے معنی اور مراد ہیں جس کا گناہ کبیرہ ہونا مسلّم ہے اور جو قرآن مجید میں کئی مقامات پر کافروں اور منافقوں کا کام شمار کیا گیا ہے مثلاً خداوندعالم سورہ ابراہیم میں فرماتا ہے کافروں پر ان کے سخت عذاب کی وجہ سے افسوس ہے۔ انہوں نے دُنیا کی زندگی کو پسند کیا اور اسے آخرت پر ترجیح دی اور یہ دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں۔" (آیت ۲)
صد عن سبیل اللّٰہ کے واقعات اور معاملات
( ۱) اس کا سب سے سخت معاملہ یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء کی طرح خدا پر ایمان لانے اور دوسرے تمام صحیح عقیدوں سے دوسروں کو روکنا ہے جو نہیں چاہتے کہ حضرت محمد ابن عبداللہ کی نبوت اور حقانیت ان کی قوم پر ظاہر ہو اور وہ اس کے معتقد ہوں اور سنی علماء کی طرح جو سنی مسلمانوں کو علی بن ابی طالب کی امامت اور بلا فصل خلافت اور ان کے گیارہ فرزندوں کی امامت کا علم نہیں ہونے دیتے۔
( ۲) دوسروں کو واجبات پر عمل کرنے اور محرمات الہٰی کو ترک کرنے سے روکنا۔ مثلاً ایک شخص پر حج واجب ہے اور وہ حج کرنے کے لیے جانا چاہتا ہے تو دوسرا اسے کسی نہ کسے بہانے سے روکتا ہے۔ اسی طرح نماز روزے اور دوسرے واجبات میں روکتا ہے اور جب امر بہ معروف اور نہی از منکر گناہِ کبیرہ ہو اور ان کے لیے شدید عذابوں کا وعدہ کیا گیا ہو جیسا کہ بیان جا چکا ہے، پھر اس شخص کا کیا حال ہو گا جو معروف سے منع کرتا ہے اور منکر کا حکم دیتا ہے۔
( ۳) دوسروں کو ایسے نیک کام سے روکنا جو خدا کے نزدیک اچھا اور اس کے نزدیک لے جانے والا ہو مثلاً خدا کی راہ میں خرچ کرنے اور دوسرے مستحب کاموں سے دوسروں کو روکنا۔ (مناع للخیر معتداثیم)
اگرچہ تیسری قسم کو حرام نہیں کہہ سکتے لیکن احتیاط اس کے ترک کرنے میں ہے کیونکہ جس شخص کو نیکی سے روکا گیا ہے وہ روکنے والے سے قیامت میں باز پرس کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ تو نے مجھ پر ظلم کیا تھا اور مجھے نیکی اور قربِ الہٰی حاصل کرنے کے طریقوں سے روکا تھا اور اس کی مذمت میں جوروایتیں کتاب امر بمعروف وسائل الشیعہ باب ۸ میں بیان کی گئی ہیں وہی کافی ہیںْ
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "نیکی کی راہ کے لٹیروں پر خدا لعنت کرے۔" جب لوگوں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا: "یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ دوسرے بھلائی اور نیکی کرتے ہیں لیکن یہ ان کی ناشکری کرتے ہیں اسی لیے پھر نیک لوگ دوسروں کے ساتھ بھلائی اور نیکی نہیں کرتے۔" (کافی)
کفرانِ نعمت
کفرانِ نعمت (احسانِ فراموشی) گناہِ کبیرہ ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور اسے چند مقامات پر کفر بھی کہا گیا ہے اور اسے پچھلی قوموں پر عذاب نازل ہونے کا سبب بھی بتایا گیا ہے۔
خدا سورة ابراہیم میں فرماتا ہے: "اور اے بنی اسرائیل اس بات کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تم کو خبردار کیا تھا کہ اگر میری نعمتوں (ایمان اور نیک اعمال کی بدولت فرعون اور دوسروں کے شر سے نجات) پر شکر ادا کرو گے تو میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کر دوں گا اور اگر ناشکراپن کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب (ناشکروں یا احسان فراموشوں پر) سخت ہو گا۔" (آیت ۷)
خدا سورة البقرہ میں فرماتا ہے: "سو مجھے یاد کرو تاکہ میں تمہیں یاد کروں، میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور کافر نہ ہو۔" (آیت ۱۵۲)
قومِ سبا احسان فراموشی کرتی ہے عذاب بھگتی ہے
خداسورة سبا کے باشندوں کے بارے میں یوں فرماتا ہے: "سبا کے قبیلے کے لیے (جو یمن میں تھا) لوگوں کے گھر (ان کی قوت وطاقت، خدا کی نعمتوں کی فراوانی اور ان کی ناشکری پر سخت عذاب اور سزاؤں) کی نشانی تھے اور وہ نشانی یہ ہے کہ اس قبیلے کے دو باغ تھے جو راہ چلنے والے کے دائیں بائیں یا ان کے گھروں کے دونوں طرف واقع تھے (اور کہتے ہیں کہ ان میں سانپ، بچھو، مچھر، چیچڑی اور جوں وغیرہ کی قسم سے کوئی ستانے والا کیڑا نہیں تھا اور اگر کوئی ان درختوں کے نیچے خالی ٹوکری رکھ آتا تھا تو وہ ٹوکری پھلوں سے بھر جاتی تھی) پیغمبروں نے ان سے کہا: "خدا کا رزق کھاؤ اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو، تمہارا شہر خوش حال ہے اور اور تمہارا خدا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔" انہوں نے سرکشی کی اور ناشکرا پن دکھایا (اور کہنے لگے ہم نہیں سمجھتے کہ خدا نے ہمیں کوئی نعمت بخشی ہے اور اگر یہ نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں تو اس سے کہیے کہ وہ واپس لے لے)۔ چنانچہ ہم نے ان کے لیے عرم کا سیلاب بھیجا (بتایا گیا ہے کہ عرم ایک پشتے کا نام ہے جو سبا کی ملکہ بلقیس نے دو پہاڑوں کے بیچ میں پتھر اور تارکول سے بنوایا تھا جہاں بارش کا پانی اکٹھا ہوتا تھا۔ اس میں ایک کے اوپر ایک تین دروازے بنوائے تھے اور نیچے ایک بڑی سی جھیل تھی جس میں سے نکلنے والی نہروں کی تعداد کے مطابق بارہ موریاں بنوائی تھیں۔ جب بارش ہوتی تھی اس بند کے پیچھے پانی اکٹھا ہو جاتا تھا اس وقت اوپر کا دروازہ کھول دیتے تھے تاکہ پانی اس جھیل میں آ جائے اگر پانی کم ہوتا تھا تو درمیانی دروازہ کھول دیتے تھے اور اگر اور کم ہوتا تھا نچلا دروازہ اور جب پانی جھیل میں اکٹھا ہو جاتا تھا تو اسے نہروں میں بانٹ دیتے تھے۔ وقت یوں ہی گذرتا رہا یہاں تک کہ بلقیس کا انتقال ہو گیا۔ یہ لوگ باغی ہو گئے اور حد سے گذر گئے تو خدا نے ان پر بڑے بڑے چوہے مسلط کر دئیے جنہوں نے بند میں چھید کر دئیے۔ پانی میں طغیانی آ گئی جس نے اس پشتے کو منہدم کر دیا۔ کچھ لوگ ہلاک ہو گئے اور کچھ ادھر اُدھر بھاگ گئے اور ان کی بھگدڑ اور بے بسی عرب میں ضرب المثل بن گئی) اور ان دونوں باغوں کو ہم نے دو ایسے باغوں میں تبدیل کر دیا جن کے پھل کڑوے اور بدذائقہ تھے اور درختوں کو شورہ کھا گیا تھا جن میں سے کچھ درخت بیری کے تھے یہ سزائیں ان لوگوں کی احسان فراموشی اور ناشکرے پن کی تھیں اور کیا ہم ناشکروں کے سوا بھی کسی کو سزا دیتے ہیں؟" (آیات ۱۵ تا ۱۷)
نعمت نقمت ہو جا تی ہے
خدا سورة نحل میں فرماتا ہے: "خدا نے ایک گاؤں کی مثال بیان کی ہے جس کے باسی امن اور اطمینان سے رہتے تھے ۔ہر طرف سے ان کے پاس بافراغت روزی چلی آتی تھی (خشکی اور تری دونوں سے) پھر انہوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے بھوک اور خوف کو ان کا اور اوڑھنا (لباس) بنا کر ان کے کرتوتوں کا انہیں مزا چکھا دیا۔" (آیت ۱۱۲) لباس کا ذکر عذاب کے ان کو گھیر لینے کی مناسبت سے کیا گیا ہے یعنی جس طرح لباس پہننے والے کو ڈھانک لیتا ہے اسی طرح عذاب نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس آیت کے گاؤں سے شہر مکہ مراد ہے جس کے باشندے سات سال تک کال اور بھوک میں مبتلا رہے تھے اور مجبوری اور بھوک سے ان کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ جلی ہوئی ہڈیاں، مردار گوشت اور خون کھاتے تھے۔
ناشکرا پن ایک قسم کا کفر ہے
ٍ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ناشکرے پن کو کفر میں ہی شمار کرتے ہیں کیونکہ خداوند عالم سلیمان کی بات دہراتا ہے کہ خدا نے جو کچھ مجھے بخشا ہے اپنے فضل سے بخشا ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گذار ہوں یا ناشکرا۔ جو کوئی شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے شکر ادا کرتا ہے (کیونکہ اس سے اس کی نعمت بڑھتی ہے) اور جو کوئی ناشکرا پن کرے تو کرے حقیقت یہ ہے کہ میرا خدا شکرگذاری سے بے نیاز اور کریم ہے۔ اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہاری نعمت میں اضافہ کر دوں گا اور جو ناشکرا پن کرو گے تو پھر بلاشبہ میرا عذاب بھی سخت ہو گا اور خدا یہ بھی فرماتا ہے کہ تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میرا شکر کرتے رہو ار میری ناشکری نہ کرو۔ (اصول کافی کتاب الایمان والکفر باب وجوہ الکفر)
امام کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ خد نے ان تینوں گناہوں میں ناشکرے پن کرکفر کہا ہے۔ ان آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ناشکرے پن کے تین بڑے نتیجے نکلتے ہیں اس طرح کہ اس نے نعمت ختم ہو جاتی ہے ،اس کی وجہ سے سخت اور دردناک عذاب آتا ہے اور خدا ناشکرے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
ناشکرا پن اور اہل بیت علیھم السلام کی روایات
اس بارے میں بہت سی روایتیں ہیں لیکن صرف چند کے بیان پر اکتفاء کیا جاتا ہے:
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں "ہر گناہ کے مقابلے میں ناشکرے پن کی سزا ناشکرے کو بہت جلد مل جاتی ہے۔" (وسائل الشیعہ باب ۸ ص ۵۱۷)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں "تین گناہ ایسے ہیں جن کا ارتکاب کرنے والے آخرت سے پہلے اپنی سزا کو پہنچیں گے ۔ والدین کی نافرمانی، لوگوں پر ظلم اور احسان فراموشی"۔ (وسائل الشیعہ)
ٍ آپیہ بھی فرماتے ہیں: "خدا کا سب سے پیارا بندہ وہ ہے جو خدا کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اور خدا کا سب سے زیادہ دشمن وہ ہے جو خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔" (مستدرک ص ۳۱۶)
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) اپنی وصیت میں فرماتے ہیں: "کسی نعمت کی ناشکری نہ کرو کیونکہ حقیقت میں ناشکرا پن سب سے بڑا اور گھٹیا قسم کا کفر ہے۔" (مستدرک ص ۳۹۶)
کفرانِ نعمت کے معنی
کفرانِ نعمت کے معنی نعمت کو چھپانا ہیں اور اس کی تین قسمیں ہوتی ہیں:
( ۱) نعمت سے ناواقفیت: یہ سب سے بُری اور شدید قسم ہے اور اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک نعمت سے ناواقفیت یا بے خبری ہے یعنی نہ سمجھنے کی وجہ سے نعمت کو نہیں پہچانتا، اس کی پرواہ نہیں کرتا یعنی اسے نظر انداز کر دیتا ہے اور اس کے ہونے نہ ہونے کو یکساں جانتا ہے۔ دوسرے نعمت بخشنے والے سے ناواقفیت یا بے خبری ہے یعنی دراصل اپنے پروردگار ہی کو نہیں پہچانتا یا یہ نہیں جانتا کہ اس کی ایک صفت نعمت بخشنا بھی ہے۔ چنانچہ یہ نہیں سمجھتا کہ نعمت صرف اسی کی طرف سے آتی ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کی طرف سے آتی ہے۔ غرض یہ ہے کہ نعمت سے خبری ہو یا نعمت دینے والے سے دونوں بے خبریاں کفرانِ نعمت یعنی احسان فراموشی ہیں اور صاف سزاؤں کی مستحق ہیں کیونکہ کفرانِ نعمت کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے اور یہ گناہِ کبیرہ ہے۔
( ۲) حالت کے لحاظ سے کفر: یہ اس طرح ہے کہ عاقل انسان کو اس نعمت کے ملنے پر خوش اور مسرور ہونا چاہیئے جو خدا اسے بخشتا ہے یہ سوچ کر کہ اللہ نے اس پر مہربانی کی اور اسے یاد رکھا اور وہ اس کے مسلسل فضل وکرم کا امیداوار ہے۔ (سورة یونس آیت ۵۸) اب اگر اس کے برعکس وہ اپنے پروردگار سے بدگمان رہے۔ اس کے فضل وکرم سے کوئی امید نہ رکھے یا اس سے خوش نہ ہو بلکہ اس سے بے تعلق اور نا امید ہو جائے تو یہ کیفیت یا حالت خدا کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔
( ۳) اعضائے جسم سے کفر: یعنی عملی کفر اس طرح کہ دل میں گناہ کی نیّت کرے اور زبان سے شکایت اور بُرائی کرے یعنی نعمتوں کا ذکر اور زبان سے ان کا شکر ادا کرنے کے بجائے سب کو نظر انداز کر دے (سورة الضحٰی آیت ۱۱) اور اپنی آرزوؤں کے پورا نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے خدا کے کاموں کی بُرائی کرے اور خدا کی نعمت کو وہاں صَرف کرے جس کے لیے وہ پیدا نہیں کی گئی اور اپنے اعضاء سے وہ کام لے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے اور جو اس کی رحمت سے دُور کرنے والا ہے۔
حضرت امام سجاد (علیہ السلام) (ایسے گناہ جو نعمتوں کو تبدیل کر دیتے ہیں) کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "انہیں میں ناشکرا پن یعنی کفرانِ نعمت بھی شامل ہے۔" (معانی الاخبار)
پیغمبر اکرم بھی فرماتے ہیں "مومن کے لیے فشار قبر (قبر کا مردے کو بھینچنا) ان نعمتوں کا کفارہ ہوتا ہے جو اس نے ضائع کر دی ہیں۔" (بحار الانوار جلد ۳)
شکر نعمت کے واجب ہونے کے متعلق بہت سی آیتیں اور حدیثیں ملتی ہیں اور شکر کی حقیقت اور اس کی قسموں کی اس قدر تفصیل موجود ہے جس کے بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ اس کے لیے اصول کافی اور دوسری اخلاقی کتابیں ملاحظہ فرمائیے۔
اگر شکر نہ کرے تو انسان جانور سے بھی گھٹیا ہے
حضرت امام سجاد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "خاص تعریف اس خدا کے لیے ہے جو اگر اپنے بندوں کو ان نعمتوں کا شکر عطا نہ کرنا نہ بتاتا جو اس نے گاتار اور کھلم کھلا عنایت فرمائی ہیں تو اس میں شک نہیں کہ وہ ان نعمتوں کو لے کر ان کا شکرادا کیے بغیر انہیں اپنے کام میں لے آتے اور اگر وہ ایسا کرتے تو انسانیت کے دائرے سے نکل کر جنگلی جانوروں اور چوپایوں کی حد میں پہنچ جاتے جیسا کہ قرآن میں خدا فرماتا ہے: کفار حیوانات کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گھٹیا اور گمراہ ہیں۔" (دعائے اوّل صحیفہ سجادیہ)
غرض یہ ہے کہ نعمت کا شکر ادا نہ کرنے والا انسان دراصل آدمیت سے ہی خارج ہے پھر ایسے شخص کے متعلق ایمان، صحیح معارف اور نیک اعمال کی بدولت حاصل ہونے والی انسانی سعادتوں اور برکتوں کا تو ذکر ہی کیا ہو سکتا ہے جو اس کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے ہوں گی۔
واسطوں اور ذریعوں سے انکار (کفران)
چونکہ خدا نے دُنیا کو اپنی حکمت ومصلحت سے دارالاسباب قرار دیا ہے اور اپنے بندوں تک ہر نعمت پہنچانے کا کوئی نہ کوئی واسطہ، سبب یا ذریعہ مقرر فرمایا ہے جس کی بدولت وہ نعمت بندوں تک پہنچتی ہے اس لیے عقل اور شرع کی رو سے واسطوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ان کا بھی احسان ماننا چاہیئے البتہ یہ نہیں کہ اس واسطے ہی کو مستقل طور پر اور حقیقت میں اپنا منعم (نعمت بخشنے والا) سمجھے بلکہ اس کا احترام ضرور کرے کیونکہ وہ نعمت کا ذریعہ ہے اور اپنی زبان اور اپنی حالت و کیفیت سے خدا کا شکر ادا کرے کہ فلاں شخص نے مجھے تیری فلاں نعمت پہنچائی ہے۔ یہاں چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
حضرت امام سجاد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "بلاشبہ خدا ہر شکرگذار بندے سے پسند فرماتا ہے اور قیامت میں اپنے ایک بندے سے پوچھے گا (دنیا میں) تو نے فلاں شخص کا (جو میری نعمت کا ذریعہ تھا) شکریہ ادا نہیں کیا اس لیے میرا بھی شکر ادا نہیں کیا۔" پھر امام نے فرمایا: "تم میں خدا کا سب سے زیادہ شکر گذار بندہ وہ ہے جو ان لوگوں کو بھی شکریہ ادا کرتا ہے جن کے واسطے سے خدا کی نعمتیں ملتی ہیں۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "حقیقت میں خدا کا شکر ادا کرنا اس شخص کا شکریہ ادا کرنا ہے جس کے ذریعے سے تمہیں خدا کی نعمت ملی۔" (وسائل الشیعہ)
حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص ان لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا جن کے واسطے سے اسے نعمت الہٰی ملی ہے اس نے گویا خدا کا شکر ہی ادا نہیں کیا۔" (وسائل الشیعہ)
رسول خدا فرماتے ہیں: "قیامت میں بندے کو حساب کتاب کے مقام پر لائیں گے اور خدا حکم دے گا کہ اسے دوزخ میں لے جاؤ تو وہ کہے گا۔ اے پروردگار! مجھے دوزخ میں لے جانے کا حکم کس لیے دیتا ہے جبکہ میں قرآن کی تلاوت کرتا رہا ہوں؟ خدا فرمائے گا: اس لیے کہ میں نے تجھے نعمت بخشی اور تُو نے شکر نہیں کیا۔ وہ کہے گا: اے خدا! تو نے مجھے فلاں نعمت دی تھی تو میں نے یوں شکر کیا، اور فلاں نعمت بخشی تو میں نے یوں شکرگذاری کی۔ اس طرح وہ خدا کی نعمتیں اور اپنی شکرگذاریاں گنائے گا۔ خدا فرمائے گا تُو نے سب کچھ سچ کہا لیکن یہ بات بھی تو ہے کہ میں جن لوگوں کے واسطے سے تجھے نعمتیں بھیجیں تو نے ان کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں نے جس بندے کو اپنی نعمت عطا فرمائی ہے اس کا شکر اس وقت تک قبول نہیں کروں گا جب تک کہ وہ اس شخص کا شکریہ ادا نہ کرے جس کے وسیلے سے نعمت اس تک پہنچی ہے۔ (وسائل الشیعہ باب ۸ ص ۵۱۶)
پچھلی گفتگو میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی ایک حدیث نقل کی گئی تھی جس میں آپ فرماتے ہیں: "اس شخص پر خدا کی لعنت ہو جس کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے اور وہ اس کا شکریہ ادا نہ کرے اور اس کی ناشکری گذاری (احسان فراموشی) کی وجہ سے نیکی کرنے والا پھر دوسروں کے ساتھ بھلائی نہ کرے۔" ( ۱)
( ۱) دیکھئے وسائل کتاب امر بمعروف جسکے باب ۸ میں اس موضوع پر ۱۶ حدیثیں، باب ۷ میں ۱۱ حدیثیں اور مستدرک میں ۱۴ حدیثیں اور باب ۷ میں ۹ حدیثیں بیان ہوئیں ہیں۔
نیکی کے واسطے شکریے کہ حقیقت
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جب تجھے اپنے مومن بھائی سے کوئی نعمت یا نیکی حاصل ہو تو اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ خدا آپ کو جزائے خیر (اچھا صلہ) عطا کرے اور اگر تیرا ذکر اس محفل میں کیا جائے جس میں تو موجود نہ ہو تو کہہ دے کہ خدا انہیں جزائے خیر عطا فرمائے تو نے گویا اس طرح اس کی تلافی کر دی یعنی حساب برابر کر دیا۔"
(وسائل الشیعہ۔ مستدرک)
آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: "جس نے تمہیں خدا کی قسم دلا کر تم سے کچھ مانگا اور جس سے تمہیں بھلائی اور نعمت ملی اس کی تلافی کر دو یعنی تم بھی اس کی طرح اس کے ساتھ بھلائی کرو اور اگر تمہارے پاس وہ چیز نہ ہو جس سے تم تلافی کر سکتے ہو تو اس کے لیے اس طرح دعا کرو جس سے وہ جان جائے کہ تم نے تلافی کر دی ہے۔" (وسائل الشیعہ۔ مستدرک)
غرض ہر احسان کا بدلہ احسان سے چکانا چاہیئے جیسا کہ خدا سورة رحمن میں فرماتا ہے: "کیا بھلائی کا بدلہ بھی بھلائی کے سوا کچھ ہو سکتا ہے؟" (آیت ۶۰) لیکن یہ پیشِ نظر رہے کہ بھلائی کی ابتداء کرنے والا افضل ہوتا ہے۔
روایتوں میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ اس ظلم کے تحت احسان کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی مومن ہو یا کافر عبادت گذار ہو یا گناہگار غرضیکہ کوئی ہو اور اس نے کیسی ہی بھلائی کی ہو اس کی تلافی کرنا چاہیئے۔
ولایت سب سے اعلیٰ نعمت ہے
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی شخص کے بارے میں خدا کی دنیاوی اور آخرت کی، صوری اور معنوی نعمتیں گنی نہیں جا سکتیں جیسا کہ قرآن مجید میں خدا یاد دلاتا ہے: "اگر تم خدا کی نعمتوں کو گننا بھی چاہو تو گن نہیں سکو گے۔" (سورة ابراہیم آیت ۳۴ ) ان نعمتوں میں سے ہر نعمت کی ناشکری، جن معنوں میں ذکر کیا گیا ، گناہِ کبیرہ اور عذاب کی سزاوار ہے۔ لیکن یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ نعمت جتنی اہم اور بڑی اور اس کا اثر جتنا زیادہ ہو گا اس کی ناشکری کی سزا بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی اور اس کا گناہ بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔
ہر نعمت سے اعلیٰ اور اہم آلِ محمد علیھم السلام کی ولایت ہے (دیکھئے بحار الانوار جلد ۷) اور اس نعمت کی ناشکری ہر گناہ سے سخت ہے اور اس کی ناشکری ان کی ولایت کا نہ ماننا یا ان حضرات کو بھول جانا اور یاد نہ کرنا، ان سے محبت نہ رکھنا اور ان کے اقوال اور اوامر ونواہی کے ماننے سے منہ موڑنا غرض ان کے منصب کی پرواہ نہ کرنا اور ان کی ولایت کی نعمت سے فیض حاصل نہ کرنا ہے۔
تفسیر صافی اور برہان وغیرہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی ایمان سے متعلق زیادہ تر آیتوں کا اشارہ ولایت پر ایمان رکھنے سے ہے اور اسی طرح کفر کے موضوع سے متعلق آیتیں زیادہ تر ولایت کے انکار سے متعلق ہیں۔ مثال کے لیے دو ایک آیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے:
خداوندعالم سورة ابراہیم میں فرماتا ہے: "کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کی نعمت کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو جہنم میں جھونک دیا۔" (آیت ۲۴)
یہ بات بہت سی روایتوں میں آئی ہے کہ نعمت معصوم اور پاک اہل بیت علیھم السلام ہیں اور کفر بنی امیہ اور آلِ محمد کے دشمن ہیں۔
خدا سورةتکاثر میں فرماتاہے : "قیامت میں تم سے نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"(آیت ۸)
بہت سی روایتوں میں یہ بات ملتی ہے کہ اس بات میں لفظ نعیم (نعمت) سے جس کے بارے میں پوچھا جائے گا آلِ محمد کی ولایت مراد ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نعمت کی اصل اور حقیقت وہی ولایت کی نعمت ہے کیونکہ ہر نعمت کی فیض رسانی اسی پر منحصر ہے۔
علماء کے وجود سے انکار
ولایت کی نعمت سے انکار خدا کے عالموں اور روحانی فقیہوں کے وجود سے انکار ہے جو حضرت حجة ابن الحسن (علیہ السلام) کی غیبت کے زمانے میں ان کے عام نائب ہیں اور ظاہر ہے کہ نائب سے انکار اس سے انکار ہے جس کا وہ نائب ہے۔ جس طرح نائب کا شکریہ اس کا شکریہ ہے جس کا وہ نائب ہے چونکہ اس کے بارے میں دلیلوں اور روایتوں کا ذکر اور علماء کی فضیلت کا بیان طول کلام اور اس کتاب کے موضوع سے غیر متعلق ہو جانے کا سبب ہو گا اس لیے صرف نائب امام اور اس کی نعمت سے انکار کے معنی بیان کرنے پر ہی اکتفاء کیا جاتا ہے۔
نائب امام کون ہے؟
نائب امام وہ شخص ہے جو علومِ آلِ محمد سے فیضیاب ہو چکا ہو اور یقین اور اطمینان کے مقام پر پہنچ گیا ہو اور نفسانی کمالات کے لحاظ سے ہو اور ہوس کی قید سے آزاد ہو، نفس اور شیطان پر غالب آ چکا ہو اور عدالت کی صفت رکھتا ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ خود امام کا نمونہ ہو اور ان بزرگوار کے انوار سے فیض حاصل کر چکا ہو تاکہ دنیا والے اس کی گفتار اور کردار کی روشنی سے بلکہ اس کے نفس وجود سے فیضیاب ہوں اور اس کی پیروی کر کے نجات پائیں۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ اس بلند مقام (نیابت امام) پر پہنچنا بہت مشکل اور بہت زیادہ محنت اور مشقت کرنے پر منحصر ہے۔ چونکہ ایسے روحانی عالم کا وجود خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے اس لیے اس کا شکر بھی سب سے بڑا شکر ہے اور اسی طرح اس سے انکار بھی سب سے بڑا گنا ہ ہے۔
روحانی عالم کے وجود سے انکار
روحانی عالم کے وجود سے انکار یہ ہے کہ اس کے وجود کو نعمت نہ مانا جائے، اس کی حیثیت کی پرواہ نہ کی جائے، اس کی اطاعت لازم نہ سمجھی جائے یا خدانخواستہ اس کا حکم نہ مانا جائے جو خود گناہِ کبیرہ اور امام کی مخالفت کے برابر ہے اور یہ خدا سے شرک کرنے کی حد میں آتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ امام سے کٹ جانا اور بے تعلق ہو جانا ہے۔
ابوحمزہ نے کہا کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا: "عالم ہو یا طالب علم ہو یا اہل عِلم کا دوستدار بن اور چوتھی قسم (یعنی نہ عالم نہ طالب عِلم نہ ان کا دوستدار) نہ بن کیونکہ تو انہیں اپنا دشمن رکھ کر ہلاک ہو جائے گا۔" (اصولِ کافی کتاب فضل العلم باب اصناف الناس حدیث ۳)
حضرت امام سجاد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "خدا نے دانیال (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ میرے نزدیک میرا سب سے بڑا دشمن بندہ وہ نادان ہے جو اہلِ علم کے حق کی پرواہ نہیں کرتا اور ان کی پیروی نہیں کرتا اور میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ دوست بندہ پرہیزگار مناسب ثواب کا طالب، عالموں کا خادم، بردباروں کا پیرو اور حکمت شعاروں کی تواضح کرنے والا ہے۔" (اصول کافی باب ثواب العلم والتعلیم حدیث ۵)
علماء کے وجود سے انکار پر سخت سزائیں
اس نعمت کے انکار پر سخت سزاؤں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ مثلاً پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "ایک زمانہ آنے والا ہے جب لوگ عالموں سے یوں بھاگیں گے جیسے بھیڑیے سے بھیڑ بھاگتی ہے۔ چنانچہ خدا ان کو تین بلاؤں میں مبتلا فرمائے گا۔ ان کے مال وملکیت سے برکت اُٹھا لے گا، ان پر ظالم بادشاہ مقرر کرے گا، وہ دنیا سے بے ایمان جائیں گے۔" (سفینة البحار جلد ۲ ص ۲۲۰)
واضح رہے کہ دینی علوم کے حاصل کرنے والے نیابت امام کے بلند مقام تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا وجود بھی نعمت ہے اور ان کا احترام کرنا بھی سب کے لیے لازم ہے اور ان کے وجود سے انکار، ان کی توہین اور سب کی بھی حرام ہے۔
فتنہ
فتنہ کو قرآن مجید میں صاف طور پر قتل سے بھی شدید اور بڑا مانا گیا ہے (سورة بقرة آیت ۱۹۱ ۔ ۲۱۷) اور چونکہ انسان کو ناحق قتل کرنا مانا ہوا گناہ کبیرہ ہے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے اس لیے فتنے کا کبیرہ ہونا بھی مسلم ہوا جو قتل سے بھی بُرا ہے۔
فتنے کے سخت قابل نفرت اور قابل غیظ وغضب ہونے کے لیے یہی کافی ہے ہے خدا نے قرآن مجید میں اسے دور کرنے کے لیے جہاد کا حکم فرمایا ہے اور کہا ہے :"مشرکین سے جنگ کرو تاکہ فتنہ دُور ہو۔" (سورة بقرہ آیت ۱۹۳)
کتاب اسلام وصلح جہانبانی مولفہ سیّد قطب کے صفحہ ۵۶ پر لکھا ہے کہ وہ واحد جنگ جسے اسلام نے شرعاً جائز سمجھا اور لازم قرار دیا وہ جنگ ہے جو خدا کے کلمے کو اونچا کرنے کے لیے کی جائے اور خدا کے کلمے سے مراد وہ حقیقت ہے جو ایسے قانون اور سنت سے موافقت رکھتا ہو جسے دنیا اور انسان کے لیے ناقابلِ تغیر قرار دیا گیا ہو۔
ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ دنیا کی فطرت میں انحصار باہمی اور انسانی زندگی میں اشتراک عمل دو ایسے قانون ہیں جنہیں خدا زندگی کے تسلسل کے لیے چاہتا ہے یعنی وہ متوازن تنظیم جو دنیا کی ساخت میں رکھی گئی ہے اور جو دنیا کو بگڑنے اور بکھرنے سے روکتی ہے اور جس نے زندگی کو وہ قوت عطا کی ہے جسے سے وہ برابر ترقی اور تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہے اور اشتراک عمل اور باہمی تعاون کو جو تاریخِ انسانی میں علی العموم تمام انسانوں کی بہبود کے لیے ہے قائم رکھے۔
اسلام تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے اس لیے کلمہ خدا اور خدا کے ارادے کا کام یہ ہے کہ اسلام جو عام لوگوں کے لیے بھلائی اور نیکی لایا ہے وہ سب تک پہنچا دے اور ان ہر قسم کے اسباب کو جو انسانوں اور ان نیکیوں اور بھلائیوں کے درمیان حائل ہوں دُور کر دے اس لحاظ سے جو کوئی انسانوں کی اس عمومی بھلائی کے حاصل ہونے میں راستے کا پتھر بنے اور اپنی قوت سے لوگوں کے اور اس بھلائی کے درمیان حائل ہو وہ شخص خدا کا دشمن ہے اور کلمہ خدا اور ارادہ خدا پر دست درازی کرتا ہے اس لیے دعوت اور تبلیغ کے راستے سے اس کے کانٹے کو ہٹانا اور دوبارہ کلمہ خدا کو قائم کرنا چاہیئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اسلام کو طاقت سے منوائیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان کو سوچنے کی آزادی اور وسیع معلومات فراہم کی جائیں جن کی بدولت ہدایت اور عمومی بھلائی حاصل ہوتی ہے تاکہ اس سے انہیں بھی ہدایت حاصل ہو ورنہ اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ اس کے سامنے سر جھکائے اور مجبوراً اسے مانے "لا اکراہ فی الدین" بلکہ یہ چاہتا ہے ان لوگوں کو راستے کے کنارے کھڑے ہوتے ہیں اور لوگوں کو حق کے راستے سے بھٹکاتے ہیں راستے کے کانٹوں کی طرح چن کر الگ کر دیں "وقاتلواھم حتی لاتکون فتنہ ویکون الدین کلہ للّٰہ" یعنی ان سے لڑو تاکہ فتنہ نہ رہے اور دین قطعی خدا سے مخصوص ہو جائے۔
اسلام اس لیے آیا ہے کہ پوری دنیا میں عدالت پھیلا دے اور انسانی سماج میں سماجی عدالت، عدالت قانو سازی اور بین الاقوامی عدالت قائم کرے اس لیے جب بھی کوئی ظلم کا راستہ اختیار کرے اور انصاف سے دُور ہو جائے مسلمانوں کولازم ہے کہ کلمہ توحید کو بلند کرنے کے لیے اس سے لڑیں چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (کتاب اسلام وصلح جہانبانی)
خدا سورة البروج میں فرماتا ہے: "جو لوگ ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اور اس گناہ سے توبہ بھی نہیں کرتے ان پر دوزخ اور اس کی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب ہو گا۔" (آیت ۱۰)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "فتنے کی کوشش کرنے والا (فتنہ پیدا کرنے والا) خدا کا منکر (کافر) ہو جاتا ہے چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔" (وسائل الشیعہ کتاب جہاد باب ۴۸ حدیث ۱۴)
فتنے کے معنی
اگرچہ اہلِ لغت نے محل استعمال کے لحاظ سے فتنے کے دس سے زیادہ معنی لکھے ہیں لیکن یہاں فتنے کے وہ عام اور روایتی معنی مراد ہیں جو اس کے اطلاق سے ظاہر ہوتے ہیں اور وہ ہیں ہنگامہ کھڑا کرنا اور کسی ایک شخص یا جماعت کا آرام، آزادی اور امن غارت کرنا، دو یا دو سے زیادہ انسانوں کو لڑانا، دو دھڑے بنوانا اور عوام کو تکلیف اور مصیبت میں پھنسانا۔
فتنہ دینی کاموں میں بھی ہوتا ہے اور دنیا کے کاموں میں بھی۔ پھر دینی فتنے کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ کبھی ایک شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انہیں دین حق قبول کرنے نہیں دیتا اور اس راستے میں اپنی زبان اور قلم سے شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی ان لوگوں کو ایذا پہنچا کر اور تنگ کر کے جنہوں نے دین قبول کر لیا ہے دوسروں کو دین قبول کرنے سے روکتا ہے۔ مثلاً آغاز اسلام میں مسلمانوں کے ساتھ مکے کے مشرکوں کا طرزِ عمل اور معاویہ کا حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) کے شیعوں کے ساتھ برتاؤ۔
بنی اُمیّہ کا فتنہ بد ترین تھا
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ کے خطبے میں فرماتے ہیں: "میرے نزدیک تمہارے لیے سب سے خطرناک فتنہ بنی امیہ کا فتنہ ہے (اپنی سختی، دورانیے اور دینی قوانین کی بیخ کنی کے لحاظ سے) درحقیقت یہ فتنہ تاریک اور اندھا ہے۔ (کیونکہ جس طرح اندھا اپنے ہی راستے پر چلتا ہے اس کی ہدایت بھی شریعت کے راستے پر نہیں اپنے ہی راستے پر تھی) اور دنیا والوں پر تاریکی لانے والا ہے کیونکہ اس کا اثر عام ہے یعنی اس کا شر سب تک پہنچتا ہے اور اس کی مصیبت خاص ہے۔ (مخصوص پرہیزگاروں اور ہلِ ایمان پر خصوصاً پیغمبر کے اہل بیت پر کیونکہ اس سے بڑا اور کوئی فتنہ نہیں ہو سکتا جس نے رسول خدا کی توہین کی، حسن اور حسین # کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کیا، کعبے کو منہدم کیا، مدینے میں مہاجر اور انصار کا قتل عام کیا، تقریباً اسّی سال تک منبروں اور میناروں پر امیرالمومنین (علیہ السلام) کو بُرا بھلا کہا اور حجا ج لعین کو مظلوموں کا خون بہانے کے لیے مسلط کیا) جس کسی نے اسے دیکھا، اس سے عبرت حاصل کی او اسے فتنہ جانا اور اس سے فرار کیا وہ گرفتار ہوا اور جو کوئی اس فتنے کی طرف سے اندھا بن گیا اور بنی امیہ کے قریب آ گیا وہ ان کے ظلم وستم سے محفوظ رہا۔ (نہج البلاغہ ۱۰۲)
تاریخ گواہ ہے کہ آغازِ اسلام سے آج تک کہ چودہ صدیاں گذر چکی ہیں ہر صدی میں دنیائے اسلام میں فتنے اٹھتے رہے ہیں اور ان فتنوں کی پیدائش اس لیے ہوتی رہی ہے کہ دنیا کو آزمایا جائے، اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کا سچ ظاہر ہو جائے، پاک سے ناپاک الگ ہو جائے، خوش قسمتوں میں نیکی اور بدقسمتوں اور منحوسوں میں سنگدلی پیدا ہو جائے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس موضوع کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً سورة عنکبوت میں ہے: "احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون" (آیت ۲) کیا لوگوں نے یہ سوچا تھا کہ جیسے ہی وہ یہ کہہ دیں گے کہ ہم ایمان لے آئے وہ نجات پا جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں ہو گی؟
پچھلی صدی میں جو فتنے اٹھے ان میں سب سے شدید فتنہ پارٹی بازی کا فتنہ اور مادیت اور عیاشی کے طرفداروں اور ایمان داری اور روحانیت سے انکار کا فتنہ ہے جس نے سیلاب کی طرح یورپ اور امریکہ کی طرف سے اسلام ممالک کا رُخ کیا، آفرینش اور آخرت کے عقیدے کی جڑ دلوں سے اکھاڑ ڈالی اور اس کی جگہ مادیت، عیاشی، خود غرضی اور دنیا پرستی کا منحوس پودا لگا دیا۔ مسلمانون نے اس عہد کو آیت "فخلف من بعد ھم خلف اضاعوا الصلوة واتبعوا الشھوات فسوف یلقون غیاً" (سورة مریم آیت ۵۹) کا حقیقی مصداق قرار دیا یعنی پہلے مومن لوگوں کی جگہ ایسے لوگ آ گئے جنہوں نے نمازیں ترک کر دیں ور عیاشی کو اپنا شعار بنا لیا۔ یہ لوگ بہت جلد اپنی گمراہی کے نتائج ور ہلاکت دیکھ لیں گے۔
غرض ان لوگوں نے انسانی سماج سے شرافت اور روحانیت کا خاتمہ کر دیا۔ سب کو خدا اور آخرت کی یاد سے غافل بنا دیا اور طرح طرح کی خواہشات اور بدکاریوں میں اس طرح مشغول کر دیا کہ اسلام کا صرف نام ہی رہ گیا جیسا کہ پیغمبر اکرم نے آگاہ کیا تھا اور آج کے سماجی حالات کو جانچنے کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی عمدہ صفات اُٹھ گئی ہیں۔ ان کی جگہ حیوانی اور شیطانی عادتوں نے لے لی ہے۔ مثلاً حیا جو انسان کی ایک عمدہ صفت ہے اور جو ہزاروں خرابیوں کو روکتی اور عام عصمت اور پاکدامنی کی حفاظت کرتی ہے ان کے درمیان سے اٹھ گئی ہے اور اس کی جگہ بے غیرتی اور فحاشی نے لے لی ہے۔ اسی طرح حقوق کی ادائیگی خصوصاً والدین کے حق کی ادائیگی جو انسانی سماج کے لوازمات میں سے شامل ہے اور غیر معمولی ایمانداری کی مستحق ہے جاتی رہے ہے اور اس کی جگہ حق ضائع کرنے، ناشکرے پن، احسان فراموشی اور دوسرے کی خدمت کو نظر انداز کرنے نے لے لی ہے۔
اشتراک عمل، امدادِ باہمی، تنظیم ، مہربانی، رحم، ہمدردی، خیرخواہی اور درگذر وغیرہ جن سے دنیاوی زندگی کا نظام اور آخرت کی نیکی اچھی طرح وابستہ ہے ختم ہو چکی ہیں ان کے مقابلہ میں خود غرضی، غرور کٹھورپن بے مروّتی اپنے آرام اور دوسرے کی تکلیف وغیرہ نے جگہ لے لی ہے۔ اسی طرح تمام طبقوں سے گفتار وکردار کی سچائی اُٹھ گئی ہے۔ اس کی جگہ دھوکا، ملاوٹ، فریب کاری اور چوٹٹا پن پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ ہر جنس کے لوگ اپنی اپنی جس میں کیسی کیسی تبدیلیاں کرتے ہیں اور انہیں صحیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مال حاصل کرنے اور اپنے مادی تکلفات کے وسائل کی حفاظت کے لیے کسی قسم کی بے ایمانی اور جرم سے دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ بار ہا ایسا ہوا ہے کہ انہوں نے زہریلی خوراک بیچی ہے اور اپنی نوع کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حیوانات کی طرح ہو گئے ہیں جو ایک دوسرے سے الگ ہیں اور آپس میں نفرت، غصہ اور زور آوری سے ملتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ مادیت کی خرابی کا نمونہ ہے اگر اس کی تفصیل بتائی جائے تو اس سے کتابیں بھر جائیں۔
واضح رہے کہ اس فتنے کا آغاز کرنے اور اسے رواج دینے والے لوگوں کی چال سماج کو کمزور بنانا اور اس کی روحانیت کو ختم کرنا ہے اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ سماج خصوصاً جوان نسل میں ایمانداری کو بُرا سمجھنے اور اس کا مذاق اُڑانے کا جذبہ پیدا کرنا اور ان کے اور سماج کے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ وہ ایمانداری کے بلند درجات، انسانیت کی اعلیٰ صفات ار آدمیت اور شرافت کی علامات اور آثار کے بارے میں کچھ نہ سن پائیں اور پھر انہیں اندھا بہرا بنا کر اور خرابی کے گٹر میں گرا کر طرح طرح کے گندے جذبات میں مشغول بنا دیں۔ یہ مقصد حاصل کرنے کی خاطر ان کا سب سے بڑا ہتھیار اتہام ہے۔ کبھی انہیں دنیا کی حالتوں اور تمدن سے بے خبر کہتے ہیں اور کبھی انہیں سماجی ترقی کے مخالف بتاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ وہ دنیا پرست اور جاہ طلب ہیں۔ چونکہ سماجی ترقی ان کی سرداری میں روڑے اٹکاتی ہے اس لیے یہ اس میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور اسی طرح کے مختلف الزام لگاتے ہیں۔ کسی سمجھ دار مسلمان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ یہ سب الزامات اور اتہامات میں جنہیں اصلیت اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بدعت اور جاسوسی
دینی فتنوں میں بدعت کا بھی شمار ہے۔ جن لوگوں نے اسلام میں نئے نئے طریقے ایجاد کیے اور مسلمانوں کو الگ الگ کیا اور عالم اسلام میں ہزاروں فتنے اور فسادات پیدا کیے وہ بدترین فتنہ انگیز لوگ ہیں۔
ایک دینی فتنہ کافروں کے لیے ان باتوں کی جاسوسی کرنا بھی ہے جن کو مسلمانوں میں ہی پوشیدہ رکھنا چاہیئے جیسا کہ خداوندعالم سورة نساء میں منافقین کے متعلق فرماتا ہے: "جب ان تک کوئی خوف یا امن کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے ظاہر کر دیتے ہیں۔" (سورة نساء آیت ۸۳)
علامہ مجلسی نے بیضاوی سے اس آیت کا مطلب نقل کیا ہے کہ وہ امن اور خوف کی باتیں ظاہر کر دیتے ہیں کچھ کمزور طبیعت کے مسلمانوں کا قاعدہ یہ تھا جب رسول خدا کی طرف سے بھیجے جانے والے لشکر کی کوئی خبر ملتی تھی یا پیغمبر اکرم فتح یا شکست کے بارے میں خدا کی وحی کی اطلاع دیتے تھے تو اسے فاش کر دیتے تھے اور خود اس بات سے بھی پریشانی اور گڑبڑ پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ یہ آیت اس بات کے آشکارا کرنے کی مذمت کرتی ہے جس کے کھول دینے سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔
شیعوں کے بھید اور مشکل حد یثوں کا فا ش
یہی صورت شیعوں کے ایسے بھیدوں کے کھول دینے کی ہے جو ان کے اماموں نے مخالفوں کے بارے میں انہیں بتائیں کیونکہ اس سے مومنوں کو نقصان اور تکلیف پہنچتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تقیہ واجب ہو وہاں تقیہ نہ کرنا نقصان کا موجب ہوتا ہے۔
علّامہ مجلسی فرماتے ہیں: "شاید علوم کی بعض مشکل باتیں ان لوگوں کو بتانا جو انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں بھید کھولنے ہی کے زمرے میں آتا ہے۔" (اصول کافی کتاب الایمان والکفر باب الاذاعہ حدیث ۱۲)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی ہماری حدیث ظاہر کر دے گا خدا اس کا ایمان سلب کر لے گا کیونکہ اس نے ہمیں کسی خطا پر قتل کی نہیں کیا بلکہ بے خطا اور عمداً قتل کیا۔" (کافی)
اس آیت کے معنی بیان کرتے ہوئے بھی کہ "وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں"۔ (سورة بقرة آیت ۶۱) فرمایا: "خدا کی قسم ان لوگوں نے پیغمبروں کو اپنی تلواروں سے نہیں قتل نہیں کیا بلکہ ان کے راز فاش کیے اور انہیں شہرت دی جس سے وہ قتل ہو گئے۔" (کافی)
د ینی جماعتوں کی پراگندگی
جو لوگ متحد اور متفق ہو کر خدا سے لو لگاتے اور اپنے پیغمبر اور امام کا ذکر کرتے ہیں ان میں زور زبردستی سے جماعت کے امام اور دینی پیشوا کے خلاف پیروکاروں میں یا پیروکاروں میں ایک دوسرے کے خلاف شک اور بدگمانی پیدا کر کے ان میں جدائی ڈالنا اور انہیں الگ الگ کر دینا یعنی ان کے دلوں کا اتحاد ختم کر دینا جو ہر بُرائی کی جڑ ہے اور خدا کو سخت ناپسند ہے ایک دینی فتنہ ہے۔
فتنے کا گناہ قتل سے بھی بڑا ہے
جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ دینی فتنے کا گناہ قرآن مجید کی نص کے مطابق کسی انسان کے قتل کے گناہ سے بھی برا ہے کیونکہ کسی انسان کا قتل تو ایک عارضی اور مستعار دنیوی زندگی کا ختم کرنا اور حقیقت میں اس دنیا کی برائیوں اور آفتوں سے چھٹکارا پانا ہے لیکن دینی فتنے سے ابدی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور انسان دائمی نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے اور جس قدر عالم آخرت دنیا سے بڑا اور اہم ہے بلکہ ناقابلِ قیاس ہے دینی فتنہ بھی قتلِ انسانی سے اتنا ہی بڑا اور اہم ہوتا ہے۔
وہ قتل جو سرکاٹنے سے بھی بدتر ہوتا ہے
حضرت امام سجاد (علیہ السلام)فرماتے ہیں: "کیا تمہیں میں ایسا قتل بتاؤں جو سر کاٹنے سے بھی بدتر ہوتا ہے۔" لوگوں نے کہا "ضرور بتائیے"َ آپ نے فرمایا: "جو کسی کو قتل کرے اور ہمیشہ کے لیے ہلاک کر دے۔" لوگوں نے پوچھا "وہ کیا ہے؟" آپ نے فرمایا "اسے حضرت محمد ﷺکی نبوت اور حضرت علی (علیہ السلام) کی ولایت سے بھٹکائے، غیر خدا کے راستے اور دشمنانِ علی کے طریقے کی پیروی پر اس طرح مجبور کرے کہ دشمنان علی اسے پیشوا جانیں اور حضرت علی کی امامت اور فضیلت کا منکر ہو۔ تو یہ ہے وہ قتل جو بدقسمت مقتول کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رکھے گا اور اس کے قاتل کی سزا بھی دوزخ کا دائمی قیام ہو گا۔" (تفسیر علی ابن ابراہیم قمی)
اس کے علاوہ دینی فتنے غالب طور پر قتل اور خونریزیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔
دنیوی فتنہ
دنیوی فتنہ قتل سے بدتر ہوتا ہے کیونکہ جو کوئی پہلے فتنے کی آگ بھڑکاتا ہے اور کچھ لوگوں کو اس آگ میں جلاتا ہے ان کو اس قدر تکلیف اور مصیبت میں مبتلا کرتا ہے جیسے وہ روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ اگر انہیں ایک ہی بار قتل کیا جاتا تو وہ کچھ آرام سے رہتے۔ دوسرے یہ کہ فتنے اکثر قتل وغیرہ یعنی زخمی کرنے اور اعضائے جسمانی کے ناکارہ اور ناقص بنا دینے کی طرف لے جاتے ہیں۔ شہید فرماتے ہیں کہ قتل ناحق گناہِ کبیرہ ہے اور بدن کے اعضاء (مثلاً ہاتھ، پاؤں، آنکھ وغیرہ) کو نقصان پہنچانا قتل کے برابر ہے۔ (قواعد ص ۱۰۰)
معلوم ہونا چاہیئے کہ جس فتنے کا نقصان اور خرابی جتنی زیادہ ہو گی اس کا گناہ بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔
فتنے کا مطلب کفر اور شرک بھی بیان کیا گیا ہے
واضح رہے کہ زیادہ تر مفسرین نے اس آیت میں لفظ فتنہ کی کفر اور شرک سے تفسیر کی ہے۔ ایک روایت میں ہے جو حضرت امام باقر (علیہ السلام) کی آیت "حتی لاتکون" کی تفسیر میں ملی ہے آپ نے فتنے کے معنی شرک بتائے ہیں اور یہ معنی فتنے کے ان ظاہر معنوں سے جن کا ذکر کیا جا چکا ہے کوئی تضاد نہیں رکھتے کیونکہ ظاہر میں روایتوں اور مفسرین کے الفاظ سے فتنے کے سبب کا بیان مراد ہے اس لیے کہ حقیقی مومن سے دینی یا دنیوی کوئی بھی فتنہ صادر نہیں ہو گا جیسا کہ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) متقین کی صفات میں فرماتے ہیں: ان کی خوبی سے امید اور بدی سے امان اور بے خوفی ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ہمام) یعنی جس کے دل میں ایمان کی روشنی داخل ہو چکی ہے لوگوں کو اس کے شر سے امان ہے۔ سو فتنہ بھڑکانے والا یا باطنی اور ظاہری کافر اور مشرک ہے یا اگر مسلمان ہے تو ابھی کفر کی تاریکی اور شرک کی منزلوں سے نجات نہیں پا سکا ہے اور اس کا دل بھی ایمان کی روشنی سے نہیں جگمگایا ہے۔
ظالم کے لیے جاسوسی
فتنے کے مانے ہوئے معاملات میں حاکم اور ظالموں کے لیے جاسوسی کرنا بھی شامل ہے اور اس کا بڑا خطرہ اور خرابی اور اس کا قتل سے بھی برا ہونا ظاہر ہے اس لیے کہ ایک جاسوسی اور فتنہ انگیزی ہی قتلوں اور جرائم کا سبب ہو سکتی ہے۔ مثلاً ابن زیاد ملعون کے جاسوس معقل کی جاسوسی سے حضرت مسلم اور ہانی بن عروہ گرفتار اور قتل ہوئے بلکہ کربلا کے حادثات اور اس کے بعد کے واقعات بھی اس ملعون جاسوس کے فتنے کی بدولت رونما ہوئے
کافروں کو ہتھیار بیچنا
وہ گناہ جو عام منشائے کلام اور تقدم کی رو سے کبیرہ ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً معروف کی ممانعت اور منکر کا حکم یعنی دوسرے کو اس بات سے روکنا جس کے کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے یا کسی کو اس کام کے کرنے پر مجبور کرنا جس سے خدا نے منع فرمایا ہے اور جن کا کبیرہ ہونا امر بہ معروف اور نہی از منکر کے ترک کے گناہ کبیرہ ہونے سے ثابت ہوتا ہے ۔
اسی طرح کافروں کے لیے ان باتوں کی معلومات حاصل کرنا اور جاسوسی کرنا بھی جن کی وجہ سے انہیں فتح یا غلبہ حاصل ہو جائے اور کافروں اور مسلمانوں کی لڑائی کے زمانے میں کافروں کو لڑائی کے ہتھیار بیچنا بھی گناہِ کبیرہ ہے اور ان دونوں گناہوں کا کبیرہ ہونا اس سے واضح ہوتا ہے کہ کافروں کے خلاف لڑائی سے فرار کرنا بھی گناہِ کبیرہ ہے ۔تو جہاں میدانِ جنگ سے بھاگ جانا گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے تو پھر کافروں کو لڑائی کے ہتھیار بیچنے اور ان کے لیے جاسوسی کرنے کا کہنا ہی کیا کیونکہ ان دونوں اقدامات سے تو مسلمانوں کو نقصان پہنچنا یقینی ہے۔ اسی لیے یہ دونوں گناہ لڑائی سے فرار کرنے سے بھی بڑے ہیں۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی مسلمانوں کے دشمنوں کو لڑائی کے ہتھیار فراہم کرتا ہے جس سے وہ جیت جائیں وہ مشرک ہے۔" (مکاسب)
پیغمبر اکرم نے اس امت کے دس گروہوں کو کافر کہا ہے جن میں سے ایک گروہ ان کافروں کو ہتھیار بیچنے والا ہے جو مسلمانوں سے لڑائی لڑ رہے ہوں۔ (وسائل الشیعہ کتاب جہاد باب ۴۸ حدیث ۱۴)
واضح رہے کہ رہزنوں اور ان لوگوں کو اسلحہ بیچنا بھی جو مسلمانوں کے امن عامہ میں خلل ڈالتے ہیں کافروں کو ہتھیار بیچنے ہی کے برابر ہے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔
بہتانا
جن کبیرہ گناہوں کا کبیرہ ہونا ترجیحی بنیاد پر قطعی ثابت ہے ان میں بہتان بھی شامل ہے۔ یعنی دوسرے کو ایسی بات یا عیب سے منسوب کیا جائے جو اس میں نہیں ہے کیونکہ جب غیبت کرنا یعنی دوسرے کے ایسے عیب کا ذکر کرنا جو اس میں موجود ہے گناہِ کبیرہ ہے تو بہتان یعنی ایسے عیب کا ذکر کرنا جو اس شخص میں نہیں ہے ضرور اس سے بھی پہلے اور عقل کے قطعی حکم سے گناہِ کبیرہ ہو گا بلکہ بہتان میں دو گناہ کبیرہ شامل ہوتے ہیں غیبت اور جھوٹ۔ چونکہ بہتان کی مصیبت عام ہے، اس کی خرابیاں ہیں، قرآن مجید اور روایتوں میں اس سے نہایت سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس کے لیے سخت سزاؤں کا وعدہ کیا گیا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر بعض آیتوں اور کچھ حدیثوں کا تذکرہ کر دیا جائے۔
سورة نور میں افک کی آیتیں
سورة نور میں افک کے موضوع پر اٹھارہ آیتیں یعنی آیت ۴ سے ۲۱ تک ملتی ہیں۔ اگرچہ ان آیتوں کی شانِ نزول خصوصیت کے ساتھ زنا کا بہتان ہے لیکن ان کے بیچ میں مطلق بہتان پر سخت تنبیہ کی گئی ہے جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے۔
مفسرین نے افک کی آیات کی شانِ نزول کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیتیں کچھ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جنہوں نے پیغمبر اکرم کی بیوی عائشہ پر تہمت لگائی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول خدا نے بنی المصطلق کے غزوے عائشہ کو خود روانہ کیا تھا اور انہیں ایک ہودج میں پردے میں سوار کر دیا تھا۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں: "جب ہم واپسی میں مدینے کے قریب پہنچے تورات کے وقت ایک منزل پر اُتر پڑے۔ آدھی رات کو میں اور ایک عورت دونوں مل کر قضائے حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے دُور چلے گئے۔ جب ہم پلٹے تو مجھے معلوم ہوا کہ میں جو یمنی موتیوں کا گلوبند پہنے ہوئے تھی وہ غائب ہے۔ میں نے سوچا کہ جہاں میں قضائے حاجت کے لیے گئی تھی وہیں کہیں گر پڑ ا ہے اس لیے اندھیری رات میں اکیلی اٹھ کر وہاں پہنچی۔ بہت کچھ تلاش کیا نہیں ملا۔ پیغمبر خدا کو میرے جانے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ آپ نے کوچ کا حکم دے دیا۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جو لوگ میرے ہودج پر تعینات تھے وہ آئے اور ہودج اونٹ پر رکھ کر اس خیال سے کہ میں ہودج میں بیٹھی ہوں روانہ ہو گئے۔
جب پڑاؤ میں واپس آئی تو میں نے کسی کو نہ پایا۔ جہاں میرا اونٹ تھا وہاں میں نے ٹٹولا تو گلوبند مل گیا اور میں وہیں بیٹھ گئی۔ مجھے نیند آنے لگی تو میں لیٹ گئی۔ میرا خیال یہ تھا کہ اطلاع ملنے پر میرا کوئی عزیز مجھے لینے ضرور آئے گا۔ اچانک صفوان بن المعطل جو پچھلی منزل میں سوتا رہ گیا تھا اور لشکر سے بچھڑ گیا تھا ایک اونٹ پر سوار آ پہنچا۔ اس نے مجھے دیکھا تو پہچان لیا اور کچھ کہے بغیر اونٹ بٹھا دیا میں اس پر سوار ہو گئی۔ اس نے اونٹ کی نکیل ہاتھ میں پکڑی اور چل دیا۔ ہم ٹھیک دوپہر کے وقت اس پڑاؤ پر پہنچے جہاں پیغمبر اکرم ٹھہرے ہوئے تھے اور پیغمبر کو میرے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔
جیسے ہی میرا اونٹ دُور سے نظر آیا عبداللہ بن ابی سلول اور کچھ اور منافقوں نے طنزاً کہا "پیغمبر کی بیوی ایک غیر مرد کے ساتھ بیابان سے آ رہی ہے۔" اس کے بعد اس منافق شخص نے کہا: "خدا کی قسم ان دونوں کے درمیان نامناسب حرکت واقع ہوئی ہے۔" اور یہ بہتان دوسرے منافقوں نے بھی دہرایا اور پھر مسلمانوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں جن میں سے بعض اس کی تردید اور نفی کرتے تھے اور کچھ خاموش ہو گئے۔"
جب یہ قصہ پیغبر اکرم کے کان تک پہنچا تو آپ سخت پریشان اور رنجیدہ ہوئے اور عائشہ بھی بیمار ہو کر بستر سے لگ گئیں۔
جب اس واقعے کو ایک مہینہ اور سات دن گذر گئے تو رسول خدا عائشہ کے حجرے میں پہنچے۔ انصار کی ایک عورت بھی حجرے میں تھی اور ایک روایت کے مطابق عائشہ کے ماں باپ بھی تھے۔ پھر رسول خدا نے عائشہ سے فرمایا: "اگر تم اس الزام سے بری ہو تو خدا تمہیں اس کا بدلہ دے (یعنی اس بہتان کے جواب میں جو تم پر باندھا گیا ہے) اور اگر تم نے خطا کی ہے تو توبہ کرو۔ خدا تمہاری توبہ قبول کرے گا۔"
عائشہ نے کہا: "خدا جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری ہوں اور مجھ سے کوئی ایسی بات سرزد نہیں ہوئی جس سے میں خدا سے شرماؤں لیکن دشمنوں نے ایک بات بیچ میں ایسی کھڑی کر دی ہے کہ میں کچھ بھی کہوں وہ یقین نہیں کریں گے اس لیے اب میں اس کے سوا کچھ نہیں کہوں گی جو یعقوب نے کہا تھا یعنی "فصبر جمیل" یہ کہا اور دیوار کی طرف منہ پھیر کر رونا شروع کر دیا۔
رسول خدا وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ وحی آئی اور مذکورہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جب آنحضرت وحی سے فارغ ہوئے تو آپ نے عائشہ سے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو۔ خدا تمہیں بری کرتے ہوئے فرماتا ہے: "لوگوں نے تم پر جو بہتان باندھا ہے اسے تم اپنے حق میں بُرا (بدتر) نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں اچھا (بہتر) ہے (کیونکہ ان پر تمہارا بدلے کا حق پیدا ہو گیا ہے اور جو تم اس پر صبر کرو گے تو تمہیں ثواب ملے گا) ان میں سے جس جس نے جو گناہ کمایا ہے وہ اس کے لیے ہے (یعنی اس گناہ کا وبال اور سزا صرف اسی کو ملے گی) اور جس نے یہ اتنا بڑا بہتان باندھا ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔" (سورة نور آیت ۱۱) اور وہ شخص عبداللہ بن ابی سلول تھا اور بعضوں نے کہا کہ حسان بن ثابت تھا۔
پھر خدا فرماتا ہے: "جب مومن مردوں اور عورتوں نے یہ بات سُنی تھی تو انہوں نے ازخود اچھا خیال کیوں نہیں قائم کیا اور یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے"۔ (سورة نو آیت ۱۲) یعنی مومنوں کو چاہیئے کہ جب کسی مومن کے متعلق کوئی بہتان سنیں تو خاموش نہ رہیں بلکہ ان پر واجب ہے کہ اس کی تردید کریں اور جھٹلائیں، مسلمانوں کے کام کو صحیح سمجھیں اور بدگمانی اور بُرے خیال سے بچیں۔
پھر خدا فرماتا ہے: "انہوں نے اس بات پر چار عادل گواہ کیوں نہیں پیش کیے (جیسا کہ شرع مقدس میں ہے کہ جو کوئی الزام لگائے اسے چاہیئے کہ اپنی بات کی سچائی ثابت کرنے کے لیے چار عادل گواہ لائیں۔ چونکہ انہوں نے چار گواہ پیش نہیں کیے اس لیے خدا کے نزدیک یہ جھوٹ ہیں"۔ بے شک اگر دنیا میں (توبہ کی بدولت ) اور آخرت میں (معافی اور بخشش کی بدولت )تم پر خدا کا فضل وکرم اور مہربانی نہ ہوتی تو جس بات کا تم نے چرچا کیا تھا اس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑا سخت عذاب آ پہنچتا جبکہ تم اپنی زبانوں سے وہ بات ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تمہیں علم اور یقین نہیں تھا اور تم نے اسے چھوٹا اور حقیر سمجھا اور جبکہ وہ خدا کے نزدیک بہت بڑی با ت تھی۔" (سورة نور آیت ۱۳ تا ۱۵)
ان آیتوں کا ماحصل یہ ہے کہ تم نے تین گناہ کیے ایک یہ کہ تم نے ایسا جھوٹ بولا اور ایک دوسرے سے کہہ کہہ کر اسے فاش کیا۔ دوسرے یہ کہ تم نے وہ بات کہی جس کا تمہیں علم نہیں تھا یعنی تم نے وہ کہا جس کی تحقیق نہیں کی تھی اور تمہیں جس کی اصلیت کا علم بھی نہیں تھا۔ تیسرے یہ کہ تم اسے آسان اور حقیر اور چھوٹا سمجھتے تھے ۔
پھر خدا فرماتا ہے : "اور جب تم نے ایسی بات سُنی تھی تو تم نے لوگوں سے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ ہم کو ایسی بات منہ سے نکالنا مناسب نہیں۔ تم نے اس بڑی اور بُری بات پر تعجب کیوں نہیں کیا اور کیوں نہیں کہا کہ اے خدا ! تو پاک ہے۔ یہ بات جو لوگ کہہ رہے ہیں بڑا بھاری بہتان ہے (اور اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ جس کے خلاف کہا گیا ہے کہ وہ جب سنے گا تو دنگ رہ جا ئے گا)۔ خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو پھر کبھی ایسا گناہ نہ کرنا۔" (سورہ توبہ آیت ۱۶ ۔ ۱۷)
ان آیتوں سے اور دوسرے آیتوں سے جن کا طول ہو جانے کے خیال سے ذکر نہیں کیا گیا بہتان کا نہ صرف کبیرہ ہونا بلکہ کچھ کبیرہ گناہوں سے بھی بڑا ہونا اچھی طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔
بہتان اور اہل بیت علیھم السلام کی روایات
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جو کوئی کسی مومن مرد یا عورت کو تہمت لگائے گا یا اسے اس بات سے منسوب کرے گا جو اس میں نہیں ہے تو خدا اسے قیامت کے دن آگ کے مقام پر اس وقت تک رکھے گا جب تک وہ کہے ہوئے کی سزا نہیں پا لے گا۔" (بحار جلد ۱۶ ص ۱۷۰)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو کوئی مومن مرد یا عورت پر بہتان باندھے گا اور ایسی بات اس سے منسوب کرے گا جو اس میں نہیں ہے خدا اسے قیامت کے دن طینہ خبال میں اس وقت تک بند رکھے گا جب تک وہ اپنے کہے ہوئے کی ذمہ داری پوری نہیں کر لیتا۔" راوی (ابن ابی یعفور) نے پوچھا: "طینہ خبال کیا چیز ہے؟" آپ نے فرمایا: "وہ پیپ ہے جو زنا کرنے والوں کی شرمگاہ سے جہنم میں بہے گی۔" (بحار جلد ۱۶)
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) یہ بھی فرماتے ہیں: "جو کوئی اپنے مومن بھائی پر تہمت لگائے گا اس کے دل سے ایمان اس طرح رخصت ہو جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔" (کافی) خلاصہ یہ ہے کہ تہمت دل کے بگاڑ اور ایمان کے زوال کا سبب ہوتی ہے۔
بہتان کی قسمیں
خدا پر بہتانا
خدا پر بہتان سب سے سخت بہتان ہے جیسا کہ خدا سورة صف میں فرماتا ہے "اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو خدا پر بہتان لگاتا ہے۔" (آیت ۷)
مثلاً وہ لوگ جو خدا کی عدالت یا حکمت سے انکار کرتے ہیں۔ جس طرح پیغمبروں کی نبوت سے انکار کرنے والے درحقیقت خدا کی حکمت کے منکر ہیں اسی طرح قیامت کے منکر بھی ہیں اور وہ لوگ بھی جنہوں نے خدا کا شریک ٹھہرایا ہے اور اس طرح خدا کے لیے طرح طرح کے بہت سے شرک کے قائل ہو چکے ہیں کیونکہ علم کے بغیر تمام باتیں محض افترا اور الزام ہیں جن کے لیے قرآن مجید کی آیتوں میں سخت تنبیہ کی گئی ہے اور جہنم کا وعدہ کیا گیا ہے بلکہ خدا پر بہتان کو کفر کے لوازم میں داخل کیا گیا ہے۔ سورة نحل میں کہا گیا ہے : "حقیقت میں وہ لوگ بہتان لگاتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہںٰ لائے ہیں اور یہی لوگ جھوٹ ہیں۔" (آیت ۱۰۵)
پیغمبر اکرم اور امام پر بہتانا
پیغمبر اکرم اور آئمہ علیھم السلام پر بہتان بھی خدا پر بہتان کے برابر ہے۔ مثلاً یہ کہ ان کو جادوگر، پاگل، شاعر، جھوٹا، خودپسند اور خود غرض کہیں۔ انبیاء اور آئمہ ہدیٰ صلوٰة اللہ علیہم کی بلند مرتبت نسل اور خاندان پر لگائے جانے والے بُرے انتہامات کی تفصیل کے لیے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔ یہاں اس تفصیل کی بیان کی گنجائش نہیں ہے۔
لوگوں پر بہتانا
باقی تمام لوگوں پر لگائے جانے والے اتہام کی دو قسمیں ہیں۔ کبھی بے تحقیق بات کہنا یعنی جو عیب ثابت نہ ہوا ہو اور جو یقینی نہ ہو بلکہ صرف بدگمانی کی بنیاد پر اسے دوسرے سے منسوب کر دیا جائے۔
کبھی افتراء ہے یعنی جس عیب کے بارے میں یہ جانتا ہے کہ وہ اس شخص میں نہیں ہے یا جس کام کے بارے میں یقین رکھتا ہے کہ وہ اس شخص سے ظہور میں نہیں آیا ہے اس غریب کی دشمنی میں وہ اس سے منسوب کر دیتا ہے اور اس سے بھی بُرا یہ ہے کہ جو عیب خود تہمت لگانے والے میں موجود ہو اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے اسے دوسرے سے منسوب کر دیتا ہے اور اپنی گندگی اس پر چپکا دیتا ہے جو پاکدامن ہے۔
خوب ظاہر ہے کہ یہ خدا کے بندوں پر لگایا جانے والا بدترین قسم کا بہتان ہے جیسا کہ خدا سورة نساء میں فرمایا ہے: "جو شخص غلطی سے چھوٹا سا گناہ کر بیٹھتا ہے یا جان بوجھ کر کوئی گناہ صغیرہ یا کبیرہ کرتا ہے اس کے بعد اسے کسی بے گناہ کے سرمنڈھ دیتا ہے تو اس نے گویا ایک بُرے افتراء کو (یعنی ایسے جھوٹ کو جس سے بے گناہ شخص دنگ رہ جاتا ہے) اور صریحی گناہ کو اپنے اوپر لاد لیا۔" (سورة نساء آیت ۱۱۲)
کافر پر بھی بہتان لگانا حرام ہے
تفسیر منہج میں لکھا ہے کہ طعمہ بن ابیرق کے تین بیٹے تھے جن کے نام بشر، مبشر اور بشیر تھے۔ ان تینوں میں سے بشر منافق شخص تھا۔ وہ ایک رات کو قتادہ بن نعمان کے گھر میں نقب لگا کر داخل ہو گیا اور آٹے کا ایک چرمی تھیلا جس میں ایک زرہ چھپا کر رکھ دی گئی تھی چرا لایا۔ اتفاق کی بات ہے کہ تھیلے میں ایک سوراخ تھا جس سے آٹا گرتا جاتا تھا یہاں تک کہ بشر اپنے گھر پہنچا۔ پھر وہ تھیلا زید بن السیمن کے گھر لے گیا جو یہودی تھا اور اسے اس کے پاس بطور امانت رکھ دیا۔ صبح کو قتادہ آٹے کے نشان سے بشر کے گھر پہنچا اور اس سے اپنی زرہ مانگی تو اس نے انکار کر دیا اور جھوٹی قسم کھائی کہ اس نے ایسا نہیں کیا اور اسے اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ قتادہ اس طرف کھوج لگاتا ہوا چلا جدھر سے بشر زید یہودی کے گھر گیا تھا اور اس نے زید کو بے ایمانی میں پکڑ لیا۔ زید نے کہا کہ کل رات کو بشر تھیلے میں چھپی ہوئی زرہ میرے سپرد کر گیا تھا۔ کچھ لوگوں نے اس بات کی گواہی بھی دی۔ قتادہ نے یہ صورت حال رسول خدا کی خدمت میں جا کر عرض کی۔ بشر کا قبیلہ بنی ظفر بدنامی کے ڈر سے یہ نہیں چاہتا تھا کہ بشر پر تہمت لگے اور یہودی صاف چھوٹ جائے۔ لہٰذا بشر کے قبیلے والوں نے جھگرا شروع کر دیا اور بشر کی بے گناہی کی گواہی دے دی۔ اس پر خدا نے اس بارے میں سورة نساء کی آیت ۱۰۵ سے ۱۱۳ تک یعنی ۹ آیتیں نازل فرمائیں۔(ان آیتوں کا مطلب جاننے کے لیے تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔)
ان آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ان میں بہتان اور افتراء کو حرام بتایا گیا ہے چاہے وہ کافر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ان میں بہتان باندھنے والے کو کئی بار غدار اور بے وفا کہا گیا اور پیغمبر کو اس کی حمایت سے منع کیا گیا ہے چاہے وہ ظاہر میں مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
دغابازی کا انجام
تفسیر المیزان میں لکھا ہے کہ بشر کا انجام یہ ہوا کہ خدا نے اس کی توبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور وہ مکے کے مشرکوں کی طرف چلا گیا۔ وہاں اس نے چوری کی خاطر ایک گھر میں نقب لگائی تو خدا نے وہ گھر ہی اس کے سر پر ڈھا کر اسے مار ڈالا۔
اس کا علاج ایمان کا حاصل کرنا ہے
واقعی اس قسم کے بہتان کا سبب بے ایمانی، سنگدلی، کمینگی، بے خوفی، فحاشی اور بے غیرتی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور اس کا علاج ایمان حاصل کرنے، اسے پختہ کرنے اور دنیا کی سختیوں کے نتائج اور آخرت کی سزاؤں پر غور کرنے سے ہو سکتا ہے۔
بد گمانی
دوسرے قسم کے بہتان کا سبب جس میں علم وتحقیق کے بغیر کوئی بات کسی سے منسوب کر دی جاتی ہے غالباً بدگمانی ہے یعنی کسی کی دیکھی یا سنی ہوئی بات کو خراب سمجھے اور اپنی بدگمانی پر چلے اور اس کام کے متعلق صحیح خیال اور صحیح سبب کی طرف توجہ نہ دے۔
لہٰذا قرآن مجید اور بہت سی روایتوں میں مسلمانوں کو دوسروں سے بدگمانی رکھنے کے خلاف منع کیا گیا اور حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے عمل کے متعلق اچھا خیال قائم کیا کرو۔ یہاں مزید معلومات کے لیے اس کے متعلق ملنے والی کچھ آیتیں اور روایتیں بیان کی جاتی ہیں۔
بعض خیالات گناہ ہوتے ہیں
سورة حجرات میں بتایا گیا ہے: "اے وہ لوگو! جو خدا پر ایمان لائے ہو اپنے بہت سے خیالات دُور کر دو( کیونکہ وہ مومن بھائی کے بارے میں بدگمانیوں ہیں)۔ بلاشبہ بعض خیالات گناہ ہیں اور لوگوں کے ان عیبوں کی جستجو نہ کرو جو تم سے چھپے ہوتے ہیں۔" (آیت ۱۲)
غرض یہ آیت اپنے مومن بھائی کے متعلق بدگمانی کرنے سے منع کرتی ہے۔
سورة بنی اسرائیل میں خدا فرماتا ہے: "اس پر نہ چلو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ بلاشبہ کان، آنکھ اور دل سب سے پوچھ گیچھ ہو گی۔" (آیت ۳۶)
اچھا گمان کرنا چاہیئے
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "اپنے دینی بھائی کے کام کو اس وقت تک اچھا ہی سمجھو جب تک کہ کوئی ایسی دلیل تمہارے ہاتھ نہ آ جائے جو تمہیں مجبور کر دے اور تمہارے لیے اس کے درست ہونے (اور اسے صحیح سمجھنے) کا راستہ بند نہ کر دے اور اپنے بھائی کی کہی ہوئی کسی بات پر بدگمان نہ ہو جانا جب تک کہ تمہیں اس کی کوئی اچھی بنیاد یا درست وجہ مل سکتی ہو۔" (کشف الریبہ شہید ثانی)
علّامہ مجلسی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: "یعنی اپنے دینی بھائی کے ہر فعل وعمل کو اچھائی پر محمول کرو چاہے وہ ظاہر میں اچھا نہ ہو اور اس کی اس وقت تک پڑتال نہ کرو جب تک کوئی ایسی دلیل جو اس کی تاویل کرنے سے روکتی ہو تمہارے ہاتھ نہ آ جائے کیونکہ بہت سے خیالات خطا پر مبنی ہوتے ہیں اور پوچھ گچھ کی بھی ممانعت ہے جیسا کہ خدا نے فرما دیا ہے: "ولاتجسسوا"جستجو نہ کرو۔
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام)نے نہج البلاغہ میں حدیث کا یہ جملہ نقل کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مومن کے منہ سے ایسا لفظ نکلے جس کے دو معنی ہوں تو تجھے لازم ہے کہ اس کے اچھے ہی معنی نکال چاہے وہ معنی مجازی ہوں یا کنائے سے نکلتے ہوں اور کوئی قرینہ بھی نہ ہو خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ کہنے والا یہ دعویٰ کرے کہ میں نے صحیح اور اچھے معنی ہی کا قصد کیا ہے۔
ایک بار حجاج لعین نے قبعثری کو دھمکی دی اور کہا: لاحملنک علی الادھم یعنی میں تجھے ادھم (بیڑی اور زنجیر) پر سوار کرا دوں گا (کھینچوں گا) قبعثری نے کہا:مثل الامیر یحمل علی الادهم والاشهب یعنی ایسا امیر ہونا چاہیئے جو اودہم (سیاہ رنگ کا گھوڑا جو بہترین قسم کا سمجھا جاتا ہے) پر سوار کرائے۔ حجاج نے کہا: اردت الحدید ادھم سے میرا مطلب لوہا تھا گھوڑا نہیں تھا۔ قبعثری بولا: لان یکون حدیداً خیر من ان یکون بلیدا ،تیز نگاہ اور چوکنا گھوڑا سست سے بہتر ہوتا ہے۔ ( ۱)
اس حکایت میں جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ قبعثری نے حجاج کی ڈانٹ ڈپٹ کو اس کی عنایت اور مہربانی پر محمول کر کے کلمہ حدید کے جس کے بظاہر معنی بیڑی اور لوہے کے ہیں مجازی معنی نکالے جو گھوڑے وار چست وچالاک کے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام اقوال اور افعال کے معاملے میں یہی رویہ اختیار کرنا چاہیئے اور جہاں تک ہو سکے انہیں خرابی اور بُرائی کے بجائے درستی اور اچھائی پر محمول کرنا چاہیئے۔
(۱) چلیی مطول کے حاشیے میں لکھا ہے : قبعثری ایک شاعر اور ادیب تھا۔ ایک دن وہ اپنے ہم خیال ادیبوں کی جماعت کے ساتھ ایک باغ میں تھا اور وہ زمانہ کھجوریں توڑنے کا تھا۔ کسی نے حجاج خونخوار کا نام لیا تو قبعثری بولا: اللّٰھم سود وجہہ واقطع عنقہ واسقنی من دمہ "یعنی اے خدا! اس کا منہ کالا کر، اس کی گردن کاٹ ڈال اور مجھے اس کا خون پلا۔ قبعثری کی یہ ہجو حجاج کے کان تک بھی پہنچ گئی تو اس نے اسے بلوایا اور اس سے سخت بازپرس کی۔ قبعثری نے کہا :اردت بذلک الحصرم ،ان الفاظ سے میری مراد کھجوریں تھیں، میں نے کہا تھا کہ اے خدا ان کا رنگ کالا کر دے اور انہیں درخت سے الگ کر کے مجھے کھلا دے۔ حجاج نے یہ تشریح نہیں مانی اور اسے ڈراتے ہوئے کہنے لگا: لاحملنک علی الادھم میں تجھے بیڑیوں پر سوار کراؤں گا اور چونکہ لفظ ادھم عربی میں بیڑی کے علاوہ بھی معنی رکھتا ہے اور وہ ہیں مثلی گھوڑے کے، جس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ قبعثری نے حجاج کے لفظ ادہم کو ان معنوں میں لیا اور بولا مثل الامیر یحمل علی الادھم والاشھب یعنی ایسا قوی اور سخی امیر ہونا چاہیئے جو خالص کالے یا خالص سفید گھوڑے پر سوار کرائے۔ حجاج نے کہا: اردت الحدید یعنی یعنی ادہم سے میری مراد لوہے کی بیڑی تھی گھوڑا مراد نہیں تھا۔ حدید کا لفظ لوہے کے علاوہ چونکہ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور وہ ہیں تیز نگاہ اور چست وچالا۔ قبعثری نے حجاج کے لفظ حدید سے دوسرے معنی نکالے اور کہا: لان یکون حدیداً خیر من ان یکون بلیداً یعنی بے شک چست وچالاک گھوڑا سست سے بہتر ہوتا ہے۔جب حجاج نے قبعثری کی معنی آفرینی کی قابلیت دیکھی تو اس نے غصہ تھوک دیا اور اسے معاف کر کے انعام واکرم دیا۔یہ قصہ بیان کرنے سے علامہ مجلسی کی غرض اچھے معنی مطلب نکالنے سے ہے کہ سننے میں جو بات بظاہر بے جا اور تکلیف دہ بھی ہو اس کے خوشگوار اور اچھے ہی معنی نکالنے چاہئیں۔ جس طرح قبعثری اچھی توجیہ وتشریح کر کے حجاج کے شر سے بچ گیا بلکہ اس کی عنایت کا مستحق بھی بن گیا۔ اسی طرح جو انسان دوسروں کے قول یا فعل کے اچھے معنی ومطلب نکالے گا وہ خرابیاں پیدا کرنے والی دنیا اور آخرت کی برائیوں سے بچ جائے گا اور اپنی اچھی توجیہ کی بدولت خیر وخوبی حاصل کر لے گا۔
مومن سے بدگمانی حرام ہے
شہید ثانی علیہ الرحمہ کشف الریبہ میں فرماتے ہیں: "جس طرح مومن کی برائی کرنا اور مومن کی برائیاں بیان کرنے میں زبان چلانا حرام ہے اسی طرح اس کی طرف سے بدگمانی بھی حرام ہے۔"
حرام بدگمانی کا مطلب یہ ہے کہ اسے کسی پختہ دلیل کے بغیر محض اپنے دل سے بُرا سمجھو البتہ دل میں صرف خیال کا پیدا ہونا چونکہ اختیاری بات نہیں ہے اس لیے وہ حرام نہیں ہے اور قابلِ معافی ہے۔ (حدیث نبوی کے مطابق جسے حدیث رفع کہتے ہیں) خدا نے فرمایا: "بہت سے خیالات سے بچو درحقیقت کچھ خیالات گناہ بھی ہوتے ہیں۔"
جب تک دوسرے کی بُرائی تمہارے سامنے ظاہر نہ ہو جائے اور اس کے اچھے معنی بھی نہ نکالے جا سکیں اس وقت تک دوسرے کے متعلق بُرا خیال قائم نہ کرو۔
جو بات تم پر کھلی نہ ہو اور تمہارے دل میں ٹھہر جائے تو سمجھو کہ وہ بدگمانی شیطان نے تمہارے دل میں ڈال دی ہے تمہیں چاہیئے کہ تم اسے جھٹلاؤ کیونکہ وہ سب سے سخت اور خراب قسم کا گناہ ہے۔
اسی لیے شرع میں ہے کہ جب تمہیں کسی کے منہ سے شراب کی بُو آئے تو یہ نہ کہو کہ فلاں شخص نے شراب پی ہے اور نہ اس پر حد جاری کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اس نے کلی کر کے ہی منہ سے نکال دی ہو یا دوسرے نے اس کے منہ میں زبردستی انڈیل دی ہو یا وہ اسے پانی کے دھوکے میں پی گیا ہو اس طرح کے اور بھی احکامات ہو سکتے ہیں اس لیے مسلمان سے بدگمانی جائز نہیں ہے۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "مسلمان کا خون بہانا، اس کا مال لوٹنا اور اس سے بدگمانی کرنا حرام ہے۔" (کشف الریبہ شہیدثانی )
یہاں تک کہ آپ فرماتے ہیں: مسلمان کے خلاف جو بدگمانی دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر تم یہ نہیں جانتے کہ دل میں صرف خیال کا بے اختیار گذرنا قابلِ معافی ہوتا ہے یا یہ کہ بُرے خیال کا دل میں بیٹھ جانا اختیار اور قابلِ سزا ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ جیسے ہی اس مسلمان کی نسبت تمہاری حالت بدلی، تم اس سے بد دل ہوئے، تمہیں وہ کھلنے لگا اور تم
نے اس کے احترام میں کمی اور سستی کی اور اس خیال سے پہلے کی طرح تم اس کی پریشانی سے غمگین نہیں ہوتے تو یہ حرام بدگمانی اور اس کی طرف سے دل میں کانٹے پڑ جانے کی نشانی ہوتی ہے۔"
پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے: "جب کسی مومن کو کسی مسلمان سے بدگمانی پیدا ہو جائے تو اس کے لیے اس سے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اس بدگمانی کو دل میں نہ بیٹھنے دے اور اس پر عمل نہ کرے۔" (کشف الریبہ شہیدثانی )
یعنی اپنے کردار اور گفتار میں اس کے خلاف پیدا ہو جانے والی بدگمانی کے مطابق عمل نہ کرے بلکہ شیطان پر غالب آنے کے لیے یہ مناسب ہے کہ اس شیطانی خیال کے بعد اس مسلمان سے اچھا اور بہتر سلوک کرنے لگے اور اس کا زیادہ احترام اور اس کے حقوق کا زیادہ لحاظ کر کے شیطان کو اندھا بنا دے۔ (کشف الریبہ شہید ثانی )
قرآن مجید کی بے احترامی کرنا
فیما کان عظیما فی انفس اهل الشرع
یعنی گناہ کبیرہ معین کرنے کا (چوتھا)طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ اہل شرع کی نظر میں بڑا ہو اور جناب رسولِ خدا اور آئمہ اطہار (علیہم السلام) کے زمانے سے لے کر اب تک ہر دین دار کے نزدیک اس کا بڑا ہوناثابت ہو وہ گناہ کبیرہ کہلائے گا،دین میں ان محترم اور مقدس چیزوں کی بے حرمتی اور توہین جن کا احترام دین مقدس اسلام میں لازم اور ضروری ہو مثلاً قرآن مجید کی بے احترامی کعبہ معظمہ مکہ مکرمہ مساجد اور چھاردہ معصومین (علیہم السلام) کے مزارات منجملہ تربت شریفہ حضرت سید الشہداء (علیہ السلام) کا احترام واجب اور ان کی توہین و بے حرمتی حرام ہیں۔یہاں ان مقدسات کے متعلق مختصر احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔
قرآن کا احترام مذ ہب کی ضروریات میں سے ایک ہے
ہر مسلمان بدیہی طور پر اچھی طرح جانتا ہے کہ قرآن مجید خلاق کائنات کا کلام پاک ہے۔عالم اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز و شریف اور لازم الاحترام کتاب ہے اور کوئی شئے اس سے زیادہ محترم وعزیزنہیں۔حضرت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے قرآن کو ثقل اکبر(گرانبا)کے نام سے یاد کیا ہے چنانچہ فرمایاانی تارک فیکم ا لثقلین ان القران هو الثقل الاکبر و ان وصی هذ وابنای و من خلفهم من اصلال بهم هم الثقل الاصغر (سفینہ البحار جلد اول ص ۱۳۲)
میں تم مسلمانوں کے درمیان دوگرانبہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ان میں قرآن ثقل اکبر ہے۔اور میرا یہ وصی (علی بن ابی طالب (علیہ السلام))اور میرے دو بیٹے(حضرت حسن اور حضرت حسین + اور سادات عظام) اور ان کی اولاد(نو امام (علیہم السلام) ) ثقل اصغر ہیں۔
بہترین ثواب
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ایک طویل حدیث میں قرآن کی عظمت و شرافت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں قیامت کے دن قرآن کہے گاپرودگار تیرے کچھ بندوں نے میری حرمت کا مکمل خیال رکھا میری حفاظت کی اور میری کسی چیز کو ضائع ہونے نہ دیا لیکن کچھ دوسرے بندوں نے مجھے ضائع کیا ۔میرا حق ادا نہیں کیا اور جھٹلایا۔
فیقول تعالیٰ و عزتی وجلالی و ارتفاع مکانی لاثیبین علیک الیوم احسن الثواب ولا عاقبن علیک الیوم الیم العقاب (اصول کافی جلد ۲ ص ۵۹۷)
اس وقت خداوندعالم فرمائے گا مجھے میری عزت و بزرگی اور بلند مقام کی قسم آج میں بہترین ثواب تمہارے لئے اور بد ترین اور دردناک عذاب کو تمہارے خاطر مقرر کروں گا۔
جناب امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی هےفیقول الجبار و عزتی وجلالی و ارتفاع مکانی لاکرمن الیوم من اکرمک ولا هینن من اهانک (اصوک کافی فضل قرآن حدیث ۱۴ ج ۲ ص ۶۰۲) خداوند جبار فرماتا ہے مجھے میری عزت وجلال اوربلندی مقام کی قسم آج میں اس کا احترام کروں گا جس نے تیرا احترام کیا اور اسے ضرور ذلیل کروں گا جس نے تجھے ذلیل کیا۔
ہر مسلمان اس حقیقت سے واقف ہے کہ قرآن کی توہین کرنا گناہ کبیرہ ہے۔قرآن کی توہین گویا خداوند اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی توہین ہے۔
قال رسول (صلی الله علیه و آله) انا اول وافد علی العزیز الجبار یوم القیامته وکتابه واهل بیتی ثم امتی ثم اسئلهم مافعلتم بکتاب اللّٰه و باهل بیتی (اصول کافی فضل القرآن حدیث ۴ ص ۶۰۰)
جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گا میرے ساتھ میرا خاندان اور اس کی کتاب ہو گی اس کے بعد میری امت حاضر ہوگی پھر میں ا پنی امت سے پوچھوں گا کہ تم نے کتاب خدا اور میرے اہل بیت سے کیا سلوک روارکھا ۔
قرآن اور اس کے احکام کی توہین کے معنی
اہانت کی تشخیص کے لئے عرف کی طرف رجوع کرنا چاہئے بنا بر ایں ہر وہ کردار و گفتار جو عرف عام میں قرآن کی تذلیل یا ھتک حرمت سمجھی جائے وہ کردار و گفتار حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔حرام اور گناہ کبیرہ اس صورت میں سمجھا جائے گا اگر ہتک حرمت قرآن اور اس کی تذلیل میں مرتکب شخص کا قصد دین اسلام اور شریعت حضرت سید المرسلین (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی توہین ہو بصورت دیگر اس کا یہ عمل کفر و ارتداد کا موجب ہو گا۔کیوں کہ توہین قرآن حرام ہے اور یہ ضروریات دین میں سے ایک ہے لہٰذا اگر کوئی جان بوجھ کر قرآن مجید کو پاوں تلے کچلے یا اسے نجس چیز میں پھینک دے تو بظاہر اس عمل سے دین کی اہانت اور حرمت قرآن سے انکار لازم آتا ہے۔اس صورت میں ایسا شخص کافر ہے اور اس کا خون بہانا مباح ہو گا۔مگر وہ تسلیم کرے کہ یہ عمل غصہ کی حالت میں اس سے سرزد ہوا اور یہ اقرار کرے کہ اس وقت میرے ہوش و حواس بر قرار نہ تھے۔اس موقع پر مناسب ہے کہ قرآن مجید کے احترام واجب اور اس کی اہانت حرام ہونے کے متعلق اہم نکات کی طرف توجہ مبذول کرائی جائے۔
( ۱) قرآن مجید کی جلد،غلاف،اس کے اوراق(یعنی وہ مقامات جہاں قرآنی حروف وکلمات نہ ہوں جیسے حواشی)اور حروف وخطوط کی توہین حرام ہے۔اسی طرح ان کا نجس کرنا بھی حرام ہے اگر ہتک حرمت قرآن ہو رہی ہو اس صورت میں اس کا پاک کرنا واجب ہے۔
( ۲) نجس سیاہی سے قرآن کا لکھنا حرام ہے اگر نجس سیاہی سے لکھا جائے یا لکھنے کے بعد نجس ہو جائے تو اس کا پاک کرنا واجب ہے اور اگر پاک نہ ہو سکے تو اسے محو کر دینا چاہیے۔
( ۳) کسی کافر کے ہاتھ میں قرآن کا دینا حرام ہے بشرطیکہ اس عمل سے قرآن کی بے حرمتی یا حروف کے چھونے کا موجب بنے ۔لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے ایسی صورت میں کافر کے ہاتھ سے قرآن کا واپس لینا واجب ہے۔
( ۴) اگر قرآن مجید یا اس کا کوئی ورق یا معصوم کی روایت یا کوئی انگشتری جس پر خدا کا نام نقش ہو یا تربت سید الشہداء (علیہ السلام) یا اسی قسم کے دوسری اشیاء جو دین و مذہب کی نگاہ میں محترم ہوں ان کی توہین حرام اور احترام واجب ہے۔اگر خدانخواستہ پاخانے میں گر جائے تو فوراً نکالنا اور پاک کرناواجب ہے۔اگرچہ اس پر کتنا ہی خرچ آئے جب تک اسے باہر نہ نکالا جائے وہاں رفع حاجت کرنا حرام ہے اگر باہرنکالنا ممکن نہ ہو تو اسے بند کر دینا چاہئے تا کہ اس میں مزید رفع حاجت کا امکان باقی نہ رہے۔دینی قابل احترام چیزوں کا نجاست سے باہر نکالنا پاک کرنا وغیرہ کے واجب ہونے کا تعلق صرف مالک یا نجس کرنے والے ہی سے نہیں بلکہ ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جسے اس کے متعلق علم ہو۔لیکن یہ واجب کفائی ہے۔یعنی اگر کوئی ایک فرد اس کا انجام دے دے تو دوسروں پر وجوب ساقط ہو جائے گااور اگر سب کو معلوم ہو نے کے باوجود کوئی بھی اسے انجام نہ دے تو سب کے سب قابل مواخذہ اور جوابدہ ہوں گے۔
( ۵) محدث(یعنی وہ شخص جسے نماز پڑھنے کے لئے وضو یا غسل کرنا ہے کا قرآ ن کے حروف کو چھونا حرام ہے اس میں فرق نہیں کہ ہاتھ سے مس کرے یا لبوں سے بوسہ دے یا دوسرے اعضائے بدن سے بہر حالت حرام ہے۔اس حکم کے فروعات بہت زیادہ ہیں ان کو جاننے کیلئے کتاب عروة الوثقی فصل وضو مسئلہ ایک سے انیس تک کا مطالعہ فرمائیں۔
( ۶) جناب شیخ انصاری مکاسب محرمہ کے اختتام پر فرماتے ہیں کہ فقہاء کی ایک جماعت نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کی خرید وفروخت حرام ہے انہوں نے اس کی دلیل میں ایک روایت نقل کی ہے جس کے بیان کرنے کی گنجائش ان صفحات میں موجود نہیں۔بنا بر ایں صرف قرآن کی جلد اور اس کے صفحات و اوراق کی قیمت کی نیت سے خریدنا یا فروخت کرنا چاہیے یعنی قرآن کی قیمت قرار دنہ دے اور فروخت کرنے والا ہدیہ کے طور پر خریدنے والے کو پیش کرے۔
ایک ضروری یاد دہانی
جو شخص معرفت الہٰی سے زیادہ فیضیاب ہو اور پروردگار کی عظمت جلال کا ادراک کسی قدر نصیب ہو اہو ایسے سعادت مند کی نگاہ میں کلام الہی قرآن مجید بے حد عظیم ہے اس لئے جس قدر ممکن ہو اس کے ادب و احترام اور تعظیم بجالانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔پھر بھی وہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھرائے گا کہ کماحقہ کلام الہٰی کا حق اد انہ کرسکا۔
ایسا انسان کبھی وضو کے بغیر قرآن کو ہاتھ لگانے کی جرات نہیں کرے گا یعنی حدث کی حالت میں قرآن کے جلد اور حواشی تک کو مس نہ کرے نجس شدہ ہاتھ سے چاہے خشک ہی کیوں نہ ہو قرآن کو نہ چھوئے اور حالت حدث میں اس کو اپنے ساتھ نہ رکھے۔اگر قرآن ہمیشہ ساتھ وہ تو ہمیشہ باوضو رہے۔بیٹھتے وقت قرآن کی طرف پشت نہ کرے۔اس کی طرف پاوں لمبے کر کے نہ بیٹھے کوئی اور چیز قرآن کے اوپر نہ رکھے ۔قرآن کی تلاوت کے وقت با ادب روبہ قبلہ بیٹھے حضور قلب ،نہایت آرام سے حکمت و موعظہ سے تاثر لیتے ہوئے غورفکر کے ساتھ تلاوت کرے چونکہ فرمان پروردگار ہے افلایتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا (سورہ محمد آیت ۲۴) " کیا یہ لوگ قرآن میں (ذرا بھی)غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے ) ہیں۔"
اگر کوئی دوسرا تلاوت میں مشغول ہو تو اسے سنے اور احتراماً خاموشی اختیار کرے جیسا کہ حکم خدا ہے( واذا قرات القران فاستمعوا له و انصتوا لعلکم ترحمون ) (سورہ اعراف آیت ۲۰۴)" جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کے سنو اور چپ چاپ رہو تاکہ (خدا)تم پر رحم کیا جائے۔"
اگر کسی ایسی مجلس میں حاضر ہو جہاں اہل مجلس آداب و احترام کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوں اور کان لگا کر نہیں سنتے ہوں تو وہاں قرآن کی تلاوت نہ کرے۔ کتاب گلزار اکبری گلشن اکیاون میں ابو الوفاء ہروی سے نقل کیا گیا ہے ۔وہ فرماتے ہیں میں بادشاہ وقت کے دربار میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا حاضرین نہیں سن رہے تھے اور باتوں میں مصروف تھے ،رات میں نے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہو اتھا مجھے خطاب کرتے ہوئے فرمایا "اتقراء القران بین یدی قوم وهم یتحدثون ولا یستمعون انک لا تقرابعد هذالا ماشاء اللّٰه "کیا تم قرآن کی تلاوت ایسے گروہ کی مجلس میں کرتے ہوجو آپس میں مصروف گفتگو رہتے ہیں اور نہیں سنتے ہیں۔اور بے شک تم آج کے بعد(آداب قرآن کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے )قرآن کی تلاوت نہ کر سکو گے مگرخدا کی مرضی شامل حال ہو۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ کو گونگا پایا۔لیکن آپ نے فرمایا تھا الا ماشاء اللہ (مگر مرضی خدا کی شامل حال ہو)اس لئے امید تھی کہ میری گوئی بحال ہو جائے گی ،چارمہینے گزرنے کے بعد اسی جگہ جہاں میں نے پہلے خواب دیکھا تھا پھر جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو خواب میں دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔فرمانے لگے قدتبت یقینا تم نے توبہ کی ہے۔میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) من تاب تاب علیہ جو شخص تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے خدا بھی اس کی مغفرت کی طرف رجوع کرتا ہے۔بعد میں فرمایا اپنی زبان باہر نکالو میں نے باہر نکالا تو آپ نے اپنی اشارہ کی انگلی سے میری زبان کو مس کیا اور متنبہ کرتے ہوئے فرمایا "اذا کنت بین یدی قوم تقرء کلام فقطع قرائتک حتی یسمعوا کلام رب العزة "جب تم کسی جماعت کے درمیان قرآن پڑھو(اور وہ نہ سنے)تواپنی تلاوت کو روک دوجب تک اہل مجلس کلام ربّ العزت کو سننے کے لئے تیار نہ ہوں۔جب میں نیند سے بیدار ہواتو میری گویائی لکنت بحال ہوچکی تھی۔کتاب مذکور کے گلشن ۸۰ میں دینی مقدسات کے احترام اور توہین کے بارے میں کچھ حکایتیں نقل کی ہے شائقین رجوع فرمائیں۔یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ جس طرح قرآن عظیم کی اہانت و استخفاف گناہ کبیرہ اور حرام ہے اسی طرح چہاردہ معصومین (علیہم السلام)سے منقول روایات اور احادیث کا مجموعہ جیسے صحیفہ سجادہ وغیرہ کی ہتک حرمت بھی حرام ہے۔مثلاً ان کو لا پراوہی سے زمین پھینک دینا یا ان پر پاوں رکھنا وغیرہ جو عرف عام میں توہین سمجھا جائے تو حرام ہے۔
ہتک حرمتِ کعبہ
قرآن پاک کے بعد عالم اسلام میں کعبہ معظمہ سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز و شریف اور محترم نہیں۔ہر فرد مسلمان بدیہی طور پر اس مطلب کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کعبہ کی ھتک حرمت نہ صرف گناہ کبیرہ ہے بلکہ بعض حالتوں میں کفر و ارتدادکا موجب بھی ہے چنانچہ اہانت قرآن کے ضمن میں ذکر کیا گیا۔
صدوق جناب امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں :ان عزوجل حرمات ثلث لیس مثلهن شیء کتابه وهو حکمته ونوروه بیته الذی جعله قبلته للناس وعترةنبیکم (خصال صدوق ص ۲۴۶)
خداوند عالم کے نزدیک تین چیزیں اتنی محترم ہیں کہ ان کے مقابلے پر کوئی اور شئے قابل احترام نہیں پہلا قرآن مجید جو خدا کی حکمت بالغہ اور اس کا نور ہے دوسرا وہ بیت ہے جسے لوگوں کے لئے قبلہ قرار دیا گیا تیسر ہمارے نبی اعظم کی عترت یعنی آل محمد (علیہم السلام) اجمعین هیں،اس کے علاوه فرمایاماخلق فی الارض بقعته احب الیه من الکعبته ولا اکرم علییه منها (من لایحضرہ الفقیہ جلد دوم ص ۱۷۵)
خداوند عزوجل نے روئے زمین پر کوئی ایسا مکان پیدا نہیں کیا جو اس کے نزدیک کعبہ سے زیادہ پسندیدہ اور اس سے بڑھ کر قابل احترام ہو۔
ہر صاحب ایمان اور تمام مسلمان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کعبہ معظمہ کی توہین کرنا بہت بڑا گناہ ہے بلکہ تمام حرم الہی اور شہر مکہ کا احترام ہر فرد مسلمان پر واجب و لازم ہے۔
احترام کعبہ کے متعلق تاکید
اس کے علاوہ اس گناہ کے کبیرہ ہونے پر نص موجود ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:و استحلال البیت الحرامیعنی بیت الحرام کی توہین اوراس کی بے حرمتی کو جائز و مباح سمجھنا گناہ کبیرہ ہے۔سورہ مائدہ میں فرمایا گیا( یا ایها الذین امنوالا تحلوا شعائر اللّٰه ) (سورہ مائدہ آیت ۲)
اے ایماندارو خدا کی نشانیوں کی بے حرمتی حلال نہ سمجھو ۔تفسیر المیزان میں لکھا ہے احلال یعنی کسی محترم چیز کو لا پرواہی اور بے توجہی سے مباح سمجھنا اور شعائر کے احترام کو ترک کرنے سے مراد ہے۔اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ کعبہ معظمہ اعظم شعائر ہے۔
چنانچہ ارشاد فرمایا( ومن یعظم حرمات اللّٰه هو خیر له عند ربه ) (سورہ حج آیت ۲۹) جو شخص خدا کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے گا تو یہ اس رب کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے۔
بعض مفسرین کے مطابق اس آیت شریفہ میں حرمات سے مراد کعبہ معظمہ بیت الحرام ہے اس کے علاوہ مسجد الحرام اور مکہ مکرمہ جو کہ بلد الحرام ہے اور حرام مہینے اور دوسری حرمت والی چیزیں مراد ہیں۔
اہانت کے مراتب
جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا گیا ہے ہتک حرمت کے کچھ مراتب جیسے قرآن کو پھاڑنا یاجان بوجھ کر نجاست سے آلودہ کرنا ،کفر و ارتداد کا سبب بنتے ہیں لیکن توہین کے بعض دوسرے درجے بھی ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
حرم میں الحاد
ہر وہ گناہ اورخلاف شرع عمل جو مکہ معظمہ میں واقع ہو وہ بیت اور بلد حرام کی اہانت اور ہتک کے ضمن میں شمار ہوتا ہے ۔کیونکہ اس میں جا کر خلاف قانون الہٰی اقدام کرنا اس کی انتہائی بے ادبی،لاپرواہی اوربے حرمتی ہے ۔چنانچہ بعض روایات میں حرم خدا میں نیک عمل کے انجام دینے سے دوگنا ثواب ملتا ہے اسی طرح حرم میں واقع ہونے والے عمل بد کا گناہ بھی دوسری جگہوں کی نسبت دو گنا ہے۔
روایات اہل بیت اطہار (علیہم السلام) سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اگر کوئی حرم میں کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہو جس کیلئے حد یا سزا مقرر کر دی گئی ہو تو اس مقررہ حد سے زیادہ سزاملنی چاہیے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حرم خدا کے اندر بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔اس لئے ہر وہ گناہ جو حرم خدا میں انجام دیتا ہے وہ گناہ کبیرہ ہے۔بعض فقہاء جیسے شیخ احمد جزائری اپنی کتاب آیات الاحکام کتاب حج صفحہ ۱۶۱ میں فرماتے ہیں کہ حرم خدا میں واقع ہونے والے ہر گناہ کے کبیرہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا گیا:( ومن یرد فیه بالحاد بظلم نذقه من عذاب الیم ) (سورہ حج آیت ۲۵) اور جو شخص حرم میں الحاد(یعنی ظلم و تجاوز کے ذریعہ قانون الہٰی اور حق سے انحراف) کرے ہم اسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھا دیں گے۔
یہ یاد رکھئے مکہ معظمہ کی حدود میں گناہ واقع ہونا بجائے خود گناہ کبیرہ ہے۔جب گناہ صادر ہوتا ہے تو اس سے حرم الہی اور بلد امن کی توہین لازم آتی ہے اس لیے ہتک حرم کا گناہ اس گناہ کے علاوہ ہے یعنی دو گناہ کبیرہ شمار ہوتے ہیں۔
جناب اما م جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ہر وہ ظلم جو لوگ اپنے آپ پر مکہ مکرمہ میں کرتے ہیں جیسا چوری یا کسی پر ظلم کرے یا قانون الہی کی حدود سے تجاوز کرے وہ میری نگاہ میں الحاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل تقویٰ حرم الہٰی میں زیادہ دیر ٹھہرنے سے پرہیز کرتے ہیں تا کہ حرم میں کسی گناہ کے مرتکب ہو کر عذب الہی کے مستحق نہ بنیں کتاب وافی میں اس سے ملتی جلتی کئی روایتیں نقل کی گئی ہیں،
علامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں اس حدیث شریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص مکہ میں ارتکاب گناہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے اس کے لئے حدود مکہ کے اندر رہائش اختیار کرنا کراہت نہیں۔حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے کسی نے پوچھا مکہ میں ایک ایسا پرندہ ہے جس کے شر سے حرم کے کبوتر محفوظ نہیں۔امام (علیہ السلام) نے فرمایا اسے پکڑ کر مار ڈالو کیوں کہ اس نے الحاد کیا ہے ۔ (کافی کتاب حج باب ۱۴۱) مخفی نہ رہے کہ حرم الہٰی کی حد ہر طرف سے چار فرسخ ہے جو مجموعی سولہ فرسخ بنتے ہیں( اور ہر فرسخ تین میل کے برابر ہے) (مسالک کتاب الحج ص ۱۴۲)
حرم محل امن ہے
جو شخص حرم کے باہر کوئی جرم وخیانت اور پھر حرم میں پناہ حاصل کرے تو پھر کوئی دوسرا اس پر ہاتھ ڈال سکتا ہے بلکہ اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور معاشرت ترک کرے اس سے لینا دینا سختی سے بند کر دیں یہاں تک اپنی مرضی سے حرم سے باہر نکل جائے ۔پھر اسے اپنے جرم کی سزا دیں ۔لیکن اگر کوئی شخص حدود حرم کے اندر اس قسم کے جرم کرتا ہے جس سے قصاص ،حد یا تعزیر لازم آئے تو ایسی صورت میں حرم ہی میں اس پر قصاص یا حد الہی جاری کیا جائے گا۔
جناب امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے کسی ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو حرم کے باہر کسی کو قتل کرے اور پھر وہی شخص حرم میں داخل ہو جائے؟آپ نے فرمایا جب تک حرم میں ہے اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ایسے شخص کا کھانا پینا بند کر دیا جائے اس سے کسی قسم کا لین دین نہ کیا جائے اور ٹھہرنے کے لئے جگہ نہ دے یہاں تک جب وہ حرم سے باہر نکل جائے تو پھر اس پر حد جاری کی جاسکتی ہے۔
پھر سوال کیا گیا آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو حرم کے اندر کسی کو قتل کرے یاچوری کا مرتکب ہو؟امام (علیہ السلام) نے فرمایا ایسے شخص پر حرم ہی میں حد جاری کر دی جائے گی کیوں کہ اس شخص کے دل میں حرم خدا کے لئے کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔
سماعہ نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا میرا مال کسی شخص کے پاس تھا وہ ایک مدت تک اپنے آپ کو مجھ سے چھپاتا رہا۔یہاں تک کہ ایک دن کعبہ کے اردگرد طواف کرتے دیکھا تو کیا میں اس وقت اس سے اپنے مال کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس پر سلام نہ کرو(تاکہ وہ تمہیں پہچان جائے) جب تک وہ حرم سے باہر نہ نکل جائے اسے نہ ڈراو۔(وافی نقل از کافی صفحہ ۱۷)
حیوانات کاذبح کرنا اور نباتات کا اکھاڑنا
حرم خدا میں اونٹ،گائے،گوسفند اور مرغی کے سوا حرم میں موجود دوسرے جانوروں کو ذبخ کرنا حرام ہے ۔مگر سانپ ،بچھو،چوہے،مچھر اور ہر موذی جانور عشرات کے شر سے بچنے کے لئے مارنا جائز ہے۔اسی طرح حرم میں اگنے والے کسی درخت یا نباتات کا توڑنا بھی حرام ہے۔مزین معلومات حاصل کرنے کے لئے مراجع عظام کے مناسک حج کا مطالعہ کریں۔
احرام کے بغیر حرم میں داخل ہونا
مکہ معظمہ بلکہ حرم میں بغیر احرام داخل ہونا جائز نہیں۔ یعنی سال کے دوران جب بھی حرم اور مکہ معظمہ جائے تو میقات سے احرام باندھنا اور اسی حالت میں داخل ہونا واجب ہے۔پھر طواف وسعی اور تقصیر کے بعد احرام سے باہر نکل سکتا ہے ۔مگر جس شخص کا حرم اور میقات سے باہر بار بار آمدورفت کا پیشہ ہو جیسے ڈاکیہ ،لکڑہار۔چرواہا،ڈرائیوں وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں اسی طرح جس کا سابقہ احرام اور حالیہ احرام کے درمیان ایک ماہ سے کم مدت گزر رہی ہو۔مفصل مسائل جاننے کے خواہشمند حضرات رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔
بعض فقہاء عظام احرام باندھے بغیر حرم کی حدود میں داخل ہونے کو گناہ کبیرہ میں محسوب کرتے ہیں جو کہ استحلال البیت کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔
روبہ قبلہ یا پشت کر کے رفع حاجت کرنا
قبلہ کی طرف رخ یا پشت کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنا حرام ہے خواہ آبادی میں ہو یا غیر آباد اور عمارت کے اندراحتیاط یہ ہے نابالغ بچہ کو اس مقصد کے لئےروبہ قبلہنہ بٹھایا جائے اگر بچہ خود ایسا کرے تو اس کو ٹوکنا واجب نہیں۔لیکن عاقل وبالغ انسان ایسا کرے تو اس صورت میں جبکہ وہ مسئلہ نہ جانتا ہو تو اس کو سمجھانا چاہیے۔اگر مسئلہ جاننے کے باوجود بھی عمداً ایسا کر رہا ہے تو نہی عن المنکر کے سلسلے میں اس کا منع کرنا واجب ہے اس کی تفصیل نہی عن المنکر کے باب میں ذکر ہو چکی ہے۔
اگر قبلہ سے تھوڑا دائیں یا بائیں منحرف ہوجائے اورمکمل طور پر روبہ قبلہ یا پشت نہ ہو تو پھرحرام نہیں۔تفصیل کے لئے مراجع کرام کے رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔
ہتک حرمت مساجد
ہر وہ عمارت جو مسجد کے نام سے کسی ایک دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ذریعہ بنائی جائے اس کا احترام واجب ہے اورا س کی اہانت مثلاً خراب کرنا یا نجاست سے آلودہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ہر دین دار بدیہی طور بخوبی جانتا ہے کہ مسجد پروردگار عالم کی طرف منسوب ہے۔و ان المساجدللّٰہ مساجد اللہ ہی کے لئے مخصوص ہیں۔ اس لئے اس کی اہانت خداوند تبارک و تعالیٰ کی اہانت ہے،
عن ابی بصیر قال سئلت ابا عبد الله (علیه السلام) عن العلته فی تعظیم المساجد فقال(ع) انما امر بتعمیر المساجد لانها بیوت فی الارض
(وسائل کتاب الصلوة باب ۸ ج ۳ ص ۵۵۷)
ابو بصیر راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابی عبد اللہ جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کیا سبب ہے کہ مساجد کے احترام کا حکم صادر ہواہے؟ آپ نے فرمایا اس کیوجہ یہ ہے کہ مسجدیں زمین پر اللہ کا گھر ہیں۔
روایت ہے خداوند تبارک وتعالیٰ نے فرمایا مسجدیں زمین پر میرا گھر ہیں۔کتنے خوش نصیب ہیں وہ بندے جو میرے گھر میں وضو کر لیتے ہیں اور باطہارت میرے گھر میں میری زیارت کرتے ہیں ایسے میں صاحب خانہ پر لازم ہے کہ جو لوگ اس کی زیارت کو آئیں ان کا احترام کریں ۔جولوگ تاریکی شب میں مساجد جانے کے قصد سے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں ان کو اس نور کی بشارت دو جو روز قیامت ان کو فراہم کر دوں گا۔(وسائل الشیعہ کتاب الصلوة باب ۲۹)
اس کے علاوہ ہر صاحب ایمان ہتک حرمت مساجد کو گناہ کبیرہ تسلیم کرتے ہیں۔قرآن مجید میں مساجد کے خراب کرنے کو ہتک حرمت کی ایک قسم قرار دیا ہے اور ظلم کے مراتب میں سے بڑا ظلم شمار کرتے ہوئے فرمایا۔ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا(سورہ بقرہ آیت ۱۱۴) اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو خدا کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے روکے اور ان کی خرابی کے درپے ہو۔ہم ذیل میں مساجد سے متعلق کچھ احکام کو ان کی اسناد کا ذکر کئے بغیر بطور اختصار لکھ رہے ہیں۔
( ۱) مسجد کا نجس کرنا حرام ہے
مسجد کا نجس کرنا حرام ہے نیز کسی نجس العین چیز کا مسجد میں داخل کرنا بھی جس سے مسجد نجس ہونے کا اندیشہ ہو حرام ہے۔لیکن مسجد نجس نہ ہو اور ہتک ہو جائے تب بھی حرام ہے ۔عین نجس تو نہیں مگر متنجس(نجس شدہ چیز)بھی مسجد میں لے جانے کا حکم بھی یہی ہے چاہے وہ خشک ہی کیوں نہ ہو اور مسجد کی نجاست کا باعث بھی نہ بنے حرام ہے۔اگر مسجد نجس نہ ہو اور اس سے مسجد کی ہتک حرمت بھی لازم نہ آئے تو جائز ہے۔بنا بر احتیاط عین نجس کو کسی حالت میں مسجد میں داخل نہ کیا جائے۔
( ۲) مسجد کی تطہیر واجب ہے
مسجد سے نجاست دور کرنا اور فوری طور پاک کرنا واجب ہے تا کہ عرف میں یہ نہ کہا جاسکے کہ مسجد پاک کرنے میں تاخیر وغفلت ہوئی ہے۔واجب فوری سے مطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر نماز کا وقت تنگ نہ ہو تو پہلے مسجد کو پاک کرنا چاہئے۔مسجد کی زمین،چھت،دیوار کسی اندورنی حصہ ،باہر اور فرش نجس ہونے کے بعد فوری طور پر پاک کرنے کے بارے میں کوئی خصوصی حکم نہیں بلکہ بغیر استثناء فوری طور پر پاک کرنے کے بارے میں کوئی خصوصی حکم نہیں بلکہ تمام مسلمانوں پر واجب کفائی ہے ۔اگر مال خرچ کرنا لازم ہو تو اس کا خرچ کرنا بھی واجب ہے۔اگر یہ کام اکیلا انسان انجام نہیں دے سکتا ہے تو دوسروں سے مدد لینا واجب ہے۔
( ۳) مسجد میں جنابت ،حیض اور نفاس کی حالت میں ٹھہرنا
جنب شخص،حائض اورنفساء عورت کا مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔( ولاجب الاجنباالاعابری سبیل حتی تغسلوا ) (سورہ نساء آیت ۴۳) اور نہ جنابت کی حالت یہاں تک کہ غسل کرلو مگر صرف عبور کے لئے ۔یعنی ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے نکل جائیں۔لیکن مسجد الحرام اور مسجد النبی سے جنب شخص،حائض اور نفساء عورت کا گزرنا بھی جائز نہیں۔
( ۴) مسجد کے مستحبات
مسجد میں چراغ جلانا،پاک وپاکیزہ رکھنا،داخل ہوتے وقت پہلے سیدھے پاوں اور باہر نکلتے ہوئے پہلے بائیں پاؤں کر رکھنا مستحب ہیں۔ داخل ہوتے ہوئے اس بات کا اطمینان کر لو کہ جوتا نجس تو نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے مسجد نجس ہو جائے۔مسجد میں باطہارت(وضو اور غسل کے بعد)داخل ہو۔بہترین لباس پہن لو اور خوشبو لگا کر داخل ہو جاو اور اندر داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز تحیت بجالاو۔
( ۵) مسجد کے مکروہات
مساجد سے عبور کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ دو رکعت نماز تحیت بجالانے کے بعد مسجد سے گزر جائے ساتھ ہی اگر دوسری نمازیں بھی ادا کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔مسجد میں ناک اور منہ کی آلودگی نہیں پھینکنا چاہیے مسجد میں سونا،اذان کے علاوہ مسجد میں آواز بلند کرنا۔کھوئی ہوئی چیزوں کا اعلان کرنا یا اس کو کسی سے طلب کرنا،ایسے اشعار کا پڑھنا جن میں وعظ و ہدایت نہ ہو مکروہ ہیں،مسجد میں دنیوی امور کی باتیں اور خرید وفروخت نہیں ہونا چاہئے ،پیاز ۔لہسن یا منہ سے بد بو پیدا کرنے والی چیزیں کھا کر مسجد نہیں جانا چاہئے۔اس کے علاوہ بچہ اور دیوانے کو مسجد میں جگہ نہ دو۔
فضیلت کے اعتبار سے مساجد کے مراتب
مسجد میں سب سے زیادہ افضل و اشرف مسجد الحرام ہے اس میں پڑھنے والی ایک نماز دوسری جگہوں کی نسبت ایک لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ہے۔اس کے بعد مسجد النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے جس میں ایک نماز کا ثواب دوسرے مقام پر پڑھی جانے والی دس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔پھر مسجد کوفہ اور مسجد اقصیٰ کے مراتب ہیں کہ جہاں پڑھی جانے والی نماز ایک ہزار نمازوں کے مساوی ہے جو دوسری جگہوں میں پڑھی جاتی ہے۔اس کے بعد ہر شہر کی جامع مسجد ہے جس کی نماز کا ثواب سو نمازوں کے برابر ہے۔پھر محلہ کی مسجد جس کی نماز پچیس نمازوں کی مانند ہے اور سب سے آخری درجہ اس مسجد کا ہے جو بازار میں واقع ہو اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کو ثواب دوسری نمازوں سے بارہ گنا زیادہ ہے۔
ہتک حرمت قبور معصومین (علیہم السلام)
جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آئمہ ہدیٰ (علیہم السلام) کی قبور کا احترم ہر مسلمان کے نزدیک ضروری ہے چونکہ ہر دین دار ان کی اہانت اور ہتک حرمت کو بڑا گناہ سمجھتا ہے۔مشاہد مشرفہ کے احترام لازم ہونے کے متعلق بہت سی روایتیں موجود ہیں لیکن ہم یہاں پر شیخ مفید کی کتاب تہذیب سے ایک روایت نقل کر کے اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
جناب رسول خدا نے امیر المومنین (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر فرمایا۔یاعلی خدا نے تمہاری اور تمہاری اولاد کی قبروں کی بہشت کے قطعوں میں سے ایک قطعہ اور بلند مقامات میں سے ایک مقام قرار دیا ہے۔اس نے اپنی مخلوق میں سے جن کے دل پاک و صاف ہیں اور بندگان خدا میں سے مخلص و منتخب بندوں کا دل تمہاری طرف مائل کیا ہے۔جو تمہاری محبت کی راہ میں ہر قسم کی تکلیف اور ذلت گوارا کرتے ہیں۔یہ لوگ تمہاری قبروں کو آباد کریں گے۔اور خداوند عزوجل کی خوشنودی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی محبت میں تمہاری قبروں کی زیارت کرتے رہیں گے۔
یا علی !یہی لوگ میری خصوصی شفاعت کے حقدار ہوں گے۔روز قیامت میرے حوض پر وارد ہوں گے اور میرے ہمسایہ ہوں گے۔یا علی جو شخص ان کی قبروں کی تعمیر کروائے اور ان کی زیارت کو آئے گا گویا اس نے بیت المقدس کی تعمیر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مدد کی ہے۔جو شخص ان قبروں کی زیارت کرے اس کے کئے سات غیر واجب حج کا ثواب ہے۔اس کے گناہ اس طرح معاف کر دئیے جائیں گے جیسا کہ شکم مادر سے ابھی پیدا ہو اہو۔
یا علی تمہیں بشارت ہو اور اپنے دوستون کو ان نعمتوں کی بشارت دو جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور جو آج تک کسی انسان کے تصور سے نہیں گزرے۔لیکن کچھ پست انسان ایسے ہوں گے جو آپ کی زیارت کو آنے والوں کی اس طرح توہین و سرزنش کریں گے جیسے کسی بد کار عورت کی سرزنش کی جاتی ہے۔یہ لوگ میری امت کے شریر افراد ہو ں گے جنہیں میری شفاعت نصیب نہ ہوگی جو کبھی میرے حوض پر وارد نہ ہو سکیں گے۔
(کتاب وافی ابواب الزیارات باب ۱۷۱ ص ۱۹۶)
مشاہد مشرفہ کی فضیلت سے متعلق روایات کو معلوم کرنے کے لئے کتاب مزار وافی وسائل الشیعہ اور بحار الانوار جلد ۲۲ مطالعہ فرمائیں۔
معصوم کی قبر کی توہین کفر ہے
جناب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آئمہ اطہار (علیہم السلام) کی قبور کا احترام کرنا جبکہ ضروریات دین میں سے ہے تو ان کی اہانت اور ہتک حرمت بھی گناہ کبیرہ ہے ۔بلکہ سب سے بڑا گناہ اورکفر و شرک کی حد میں شمار ہوتا ہے ۔مثلاً قبور معصومین (علیہم السلام) کومنہدم کرنا اور ان کو نجس کرنا بلکہ احتیاط یہ ہے کہ جب نجس اور نجاست کی حالت میں رکھنے سے ہتک حرمت کا موجب بھی نہ بنے پھر بھی احتیاطاً پاک کرنا چاہئے۔
مشہور فقہاء کرام فرماتے ہیں جنب ،حائض اور نفساء کا مشاہد مشرفہ میں توقف کرنا جبکہ حرمت کا باعث ہو تو وہاں بھی مساجد کی طرح ٹھہرنا حرام ہے۔بعض دیگر فرماتے معصومین (علیہم السلام) کے حرم میں گزرجانے کے قصد سے داخل ہونا مسجد الحرام ی طرح جائز نہیں ہے۔
قبر معصوم کے کنارے نماز پڑھنا
مشاہد مشرفہ میں نماز پڑھتے وقت نماز گزار کی پشت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امام کی قبروں کی طرف نہ ہو کیوں کہ یہ عمل ان ذوات مقدسہ کی توہین اور نماز باطل ہونے کاموجب ہے۔بلکہ قبر کے پیچھے سمت قبلہ کھلا رکھ کر نماز پڑھی جائے۔احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ قبر مطہر کے دائیں اور بائیں جانب قبر کے برابر میں بھی نماز نہ پڑھی جائے بلکہ قبر شریف سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر نماز ادا کرنی چاہئے۔
حضرت امام موسیٰ جعفر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کسی واجب یا مستحب نماز میں قبر امام پر سجدہ کرنا جائزنہیں بلکہ قبر شریف پر داہنا رخسار رکھا جا سکتا ہے۔لیکن قبر کے نزدیک نماز پڑھنے کی صورت میں قبر شریف کو آگے قرار دے کی پشت سر کھڑا ہونا چاہئے۔قبر سے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا جائز نہیں کیوں کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے امام سے آگے بڑھے ۔ہاں داہنی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں (یعنی قبر شریف سے آگے یا برابر کھڑا نہ ہو)۔(وسائل الشیعہ کتاب الصلواة باب ۲۶ مکان المصلی)
حضرت حجت بن الحسن عجل اللہ فرجہ الشریف سے مروی ہے ک قبر معصوم کے آگے اور داہنی یا بائیں طرف نماز پڑھنا جائز نہیں کیوں کہ کسی شخص کو امام کے آگے یا برابر میں کھڑے ہونے کا حق نہیں۔صاحب کتاب وسائل نے دوسری حدیث کو جس میں داہنی اور بائیں طر ف کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے کراہت پر محمول کیا ہے۔
بعض فقہاء فرماتے ہیں اس بحث کا معیار یہ ہے کہ جس عمل سے مسلم طور پر ہتک حرمت صادق آتی ہے وہ ماموم کا امام حقیقی سے آگے بڑھنا ہے۔لیکن داہنی اور بائیں جانب کھڑے ہونے پر ہتک حرمت لازم نہیں آتا۔لیکن داہنی اور بائیں جانب کھڑے ہونے پر ہتک حرمت لازم نہیں آتا۔مگر احتیاط پر عمل کرنا بہت
تربت حسینی کی ہتک حرمت
حضرت ابا عبد اللہ الحسین (علیہ السلام) کی قبر شریف کے اطراف سے لے کر بنا بر اختلاف روایات ایک میل یا چار میل یا بارہ میل دور تک کے احاطے سے تربت شریفہ بیماروں کی شفاء یا اس پر بارگاہ خداوندی میں پیشانی رکھ کر سجدہ کرنے کے لئے اٹھاتے ہیں۔
اس کے علاوہ قدرت نے دوسرے خواص و آثار بھی اس میں ودیعت کر رکھے ہیں اس لحاظ سے ہم اس خاک کربلا کو باعث برکت و رحمت سمجھ کر اپنے بزرگان دین کی پیروی میں انہی کے فرمان کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔شیعوں کے نزدیک یہ بدیہی امر ہے کہ تربت کربلا کا احترام لازم اور اسکی ہتک حرمت گناہ کبیرہ ہے۔حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) سے لے کر اب تک تربت حسینیہ کی ہتک حرمت اور توہین بزرگان دین بڑے گناہوں میں شمار کئے گئے ہیںِ اس لئے کہ تربت کی توہین صاحب قبر کی ہتک حرمت کا مترداف ہے اور صاحب قبر امام (علیہ السلام) کی توہین گناہ کبیرہ ہونا واضح ہے جس کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں۔
بنا برایں تربت کربلائے معلی لا پرواہی اور اہانت سے زمین پر پھینکنا،پائمال کرنا،نجس کرنا اور اس طرح دوسرے طریقے سے توہین گناہ کبیرہ ہیں۔اگر رفع حاجت کے وقت کسی کے ساتھ تربت سیدا الشہداء (علیہ السلام) سے بنی ہوئی تسبیح یا سجدہ گاہ ہو اور وہ بیت الخلاء میں گر جائے تو باہر نکانا اور پاک کرنا واجب ہے جب تک باہر نہ نکالی جائے وہاں رفع حاجت کرنا حرام ہے۔اگر نکالنا ممکن نہ ہوتو اس کا دروازہ بند رکھنا چاہئے چنانچہ یہ مسئلہ ہتک حرمت قرآن کے ضمن میں بیان ہوا۔
تربت حسینی کی فضیلت
زمین کربلا کی شرافت اورترتب حسینی کی فضیلت اس کے عظیم اثرات کے متعلق بہت سی روایتیں موجود ہیں۔ہم ذیل میں فضیلت تربت کی دو روایتوں اور توہین کے برے اثرات پر مبنی دو واقعات بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
جناب شیخ مفید کے استاد شیخ ابن قولویہ اپنی کتاب کامل الزیارت میں اپنے استاد کے حوالے سے محمد بن مسلم سے روایت نقل کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے میں مدینہ منورہ گیا اور وہاں بیمار پڑگیا۔حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے اپنے غلام کے ساتھ ایک برتن میں تھوڑا سا شربت جس پر رومال ڈھکا ہوا تھا۔میرے لئے بھجوایا ۔غلام نے کہا اس دوائی کو پی لیں ۔امام (علیہ السلام) نے مجھے حکم دیا ہے جب تک آپ اس دوا کو نہ پئیں میں واپس نہ جاوں ۔میں نے غلام کے ہاتھ سے لے وہ دوا پی لی ۔وہ ایک خوش مزہ ٹھنڈا شربت تھا جس سے مشک کی خوشبو آرہی تھی ۔غلام نے کہا حضرت کا حکم ہے دوا نوش کرنے کے بعد ان کی خدمت میں حاضری دیں۔ میں نے تعجب کیا کہ میں حرکت پر قدر نہیں پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکتا کیوں کر آپ کی خدمت میں جاسکوں گا؟لیکن جیسے ہی میں نے شربت کو گلے سے اتارا گویا جکڑے ہوئے زنجیر سے آزاد ہوگیا۔میں اپنے پیروں پر چل کر در دولت امام (علیہ السلام) پر حاضر ہوا اور داخل ہونے کی اجازت چاہی ۔امام نے فرمایا۔صبح الجسم فادخل تیرا بدن صحت یاب ہوا اب داخل ہوجاو۔
میں گریہ کناں بیت الشریف میں داخل ہوا۔امام (علیہ السلام) کو سلام کیا۔آپ کے ہاتھوں اور سر کو بوسہ دیا۔فرمانے لگے اے محمد کیوں دو ر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا مولا میری جان آپ پر فدا ہو میں اپنی کمی قدرت ،غربت اور راہ کی دوری۔آپ سے جدائی اور آپ کی خدمت میں حاضر رہنے کی کمی سعادتی پر رورہا ہوں اور بار بار دیکھ رہا ہوں۔
فرمایا دیکھو قدرت و توانائی کی کمی سے ہمارے چاہنے والے شیعیان تمہاری طرح مشکلات اور مصیبتوں میں مبتلا رہتے ہیں۔لیکن جہاں تک تمھاری غربت کا تعلق ہے تو مومن اس دنیا میں شر پسند لوگوں کے درمیان غریب ہی غریب ہے یہاں تک کہ وہ رحمت خدا سے پیوستہ نہ ہوجائے ۔لیکن تمہارا یہ کہنا کہ میرا مکان مدینہ سے دور ہے تو تمہیں چاہئے کہ حضرت ابی عبدا للہ الحسین کی پیروی کرو کہ مدینہ سے دور نہر فرات کے کنارے خوابگاہ ابدی میں ہیں ۔باقی رہا ہماری محبت اورشوق دیدار کی تمنا۔پس خداوند کریم تمہارے دل کی کیفیت سے آگاہ ہے وہ تمہاری اس نیک نیتی کی صلہ یقنیاً عطا فرمائے گا۔
اس کے بعد فرمایا کیا امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کو جاتے ہو؟
میں نے عرض کیا ۔ہاں مگر بہت ڈر اور خوف کے ساتھ ،فرمانے لگے۔ماکان فی ھذا اشدفالثواب فیہ علی قد الخوف(نفس المہموم ص ۲۹۴) خصائص تالیف شیخ شوشتری)جتنا خوف اورسختی ہو گی اس کا ثواب اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس سفر میں جس کو خوف زیادہ ہوگا وہ روزقیامت کی ترس سے محفوط رہے گا۔اور گناہوں سے پاک ہو کر واپس لوٹے گا۔مزید ارشاد فرمایا تم نے اس شربت کو کیسا پایا۔میں نے کہا گواہی دیتا ہوں کہ آپ اہل بیت رحمت اور اوصیاء کے وصی ہیں۔جس وقت غلام شربت لے کر آیا مجھ میں اتنی قوت نہیں تھی کہ پیروں پر کھڑا ہوتا۔ میں اپنی زندگی سے مایوس ہو چکا تھا۔جب میں نے وہ شربت پیا تو میں نے محسوس کیا کہ میں نے اس سے پہلے اتنا خوش مزہ،سرد اور خوشبودار شربت کبھی نہیں پیا تھا۔
غلام نے کہا میرے مولا نے فرمایا کہ میرے پاس چلے آو میں نے طے کر لیا چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے میں اس حال میں بھی جاوں گا۔جب میں روانہ ہو ا تو مجھے محسوس ہوا گویا میری بیماری دور ہوگئی میں اس خدا کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے آپ کو شیعوں کے لئے سبب رحمت قرار دیا ہے۔فرمایا ان الشراب الذی شربتہ من طین قطر الحسین (علیہ السلام) وھو افضل مااستثقیٰ (کامل الزیارت تالیف ابن قولویہ)تم نے جو شربت پیا وہ قبر حضرت حسین (علیہ السلام) کی مٹی سے تھا وہ بہترین شئے ہے جسے میں شفاء کے لئے استعمال کرتا ہوں خبردار کسی چیز کو اس کے برابر نہ سمجھنا ہم اسے اپنے بچوں اور عورتوں کھلاتے ہیں اور اس سے بے شمار خیروبرکت محسوس کرتے ہیں۔میں نے عرض کیا میری جان آپ پر فدا ہو ہم بھی اسے اٹھا کر اپنے لئے طلب شفاء کریں گے ۔آپ نے فرمایا جب لوگ اس تربت کو اٹھا کر حایر حسینی)حدود کربلا) سے باہر نکل جاتے ہیں تو اس کی حفاظت میں احتیاط نہیں کرتے اور محفوظ طریقے سے باندھ کر نہیں رکھتے ہیں۔ایسی صورت میں ہر جن وجانور اور دوسری مخلوق جو کسی تکلیف میں مبتلا ہو اسے سونگھتے ہیں تو اس کی برکت دوسرے حاصل کر لیتے ہیں۔لیکن جس تربت سے شفاء ہوتی ہے اس کو اس طرح نہیں چھوڑنا چاہئے جس سے اس کا اثر زائل ہو ۔اگر حفاظت میں غفلت نہ ہو تو اسے اپنے بدن سے مس کر ے یا اسے کھائے اسی وقت شفاء پاجائے گا۔ تربت بالکل حجر اسود کی مانند ہے جو ابتداء میں سفید یاقوت کی طرح چمکتا تھا جو بیمار اپنے آپ کو اس سے مس کرتا اسی وقت شفا یا ب ہو جاتا۔چونکہ بیماریو میں مبتلا اہل کفر و جاہلیت اپنے آپ کو اس سے مس کرتے تھے اس لئے اسکا رنگ سیاہ پڑھاگیا اور اس کے اثر میں کمی واقع ہوگئی۔
میں نے عرض کیا میری جان آپ پر قربان ہو تربت مبارکہ کو کیسے اٹھاوں اور محفوظ رکھوں۔ ا مام (علیہ السلام) نے فرمایا تم بھی ترتب کو دوسروں کی مانند اٹھاتے ہو کسی چیز میں محفوظ کئے بغیر اپنے میلے تھیلے میں ڈال دیتے ہو اس طرح اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔
میں نے عرض کیا مولا آپ درست فرماتے ہیں پھر فرمایا میں اگر تھوڑی تربت تمہیں دے دوں تو کس طرح لے جاو گے؟ میں نے عرض کیا اپنے کپڑوں کے درمیان رکھ کر لے جاوں گا۔آپ نے فرمایا اسی قرار داد کے مطابق جب تم واپس جاو تو اسی شربت سے جس قدر چاہو پیو اور تربت ساتھ نہ لے جاو کہ تم سے اس کی حفاظت نہ ہوسکے گی۔آنحضرت نے اس شربت کومجھے دو مرتبہ پلایا اس کے بعد کبھی اس درد بیماری میں مبتلا نہیں ہوا۔(مستند الشیعہ ص ۲۰۲ ۔لئالی الاخبارص ۴۲۵ کلیات مفاتیح الجنان ص ۸۷۰ ملاحظہ فرمائیں)
جنازہ کے ساتھ تربت رکھنا
ایک زنا کر عورت تھی وہ جب بی زنا سے بچہ پیدا کرتی تو اپنے خاندان کے خوف سے اسے تنور میں جلادیتی۔اس کی ماں کے علاوہ کوئی دوسراشخص اس بدکاری سے واقف نہ تھا۔جب مرگئی اور اسے دفن کیا گیا تو زمین نے اسے قبول نہ کیا اور اسے قبر سے باہر نکال پھینکا۔کسی اور مقام پر دفن کیا گیا وہاں بھی اس کے ساتھ یہی حال رونما ہوا اس کے خاندان والوں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو اس واقعہ کی خبردی امام نے اس کی ماں سے پوچھا تیری بیٹی نے دنیا میں کیا کیا گناہ کئے ؟ جب اس کی ماں نے اس کے گناہوں کی تفصیل بیان کی تو امام نے فرمایا۔زمین ہر گز اسے قبول نہ کرے گی کیوں کہ وہ مخلوق خدا کو اس عذاب میں مبتلا کرتی تھی جس کا حق صرف خدا ہی کو ہے(آتش جہنم میں جلانا صرف رب العالمین کا مختص عذاب ہے کسی اور کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مخلوق خدا کو آگ مین جلائے)پھر فرمایا اس کی قبر میں تھوڑی سی تربت امام حسین (علیہ السلام) رکھ دو ۔لوگوں نے ایسا ہی کیا اس کے بعدزمین حرکت میں نہ آئی اور اسے قبول کیا۔(مستند الشیعہ کتاب طہارت ص ۲۰۲)
تربت کے ساتھ میت کی تجہیز
قبر میں میت کے چہرے کے سامنے تھوڑی مقدار میں تربت حسینی رکھنا مستحب ہے۔ میت کو حنوط دیتے وقت معمولی مقدار اس تربت شریفہ کا کافور میں ملانا بھی مستحب ہے۔ لیکن صرف پیشانی اور دونوں ہاتھوں کو تربت سے مسح کیا جائے۔دونوں گھنٹوں اور پاوں کی بڑی انگلیوں کو فقط کافور سے مسح کیا جائے کیونکہ گھنٹوں اور انگلیوں کوتربت سے مسح کرنا احترام کے منافی ہے۔
تربت ہر بیماری کا علاج ہے
شیخ طوسی اعلی اللہ مقامہ امالی میں اپنے مشائخ کرام سے روایت کرتے ہیں کہ محمد ازدی نے کہا میں مدینہ کی جامع مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور میرے برابر دو آدمی بیٹھے تھے جن میں سے ایک سفری لباس میں ملبوس تھا وہ دوسرے سے کہہ رہا تھا حضرت حسین (علیہ السلام) کی تربت ہر بیماری کے شفاء ہے۔میں ایک بیماری میں مبتلا تھا۔اور کسی دوا سے افاقہ نہیں ہو رہا تھا اور زندگی سے ناامید ہو چکا تھا۔موت سامنے نظر آنے لگی کہ ایسے میں کوفہ کی رہنے والی ایک بوڑھی عورت میرے پاس آئی۔میں اس وقت بیماری کی شدت سے درد وغم کے عالم میں مبتلا تھا وہ مجھ سے کہنے لگی میں دیکھ رہی ہوں روز بروز تمہاری حالت متغیر اور تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔میں نے کہاہاں!ایسا ہی ہے۔کہنے لگی اگر چاہو تو میں تمہارے اس مرض کا علاج کروں اور نجات دوں میں نے کہا معالجہ کی ضرورت ہے۔اس نے ایک برتن میں پانی ڈال کر مجھے دے دیا۔میں نے جیسے ہی ہو پانی پیا اسی وقت تندرست ہو ا گویا کبھی بیماری نہ تھا۔
چند ماہ گزرنے کے بعد عورت دوبارہ میرے گھر آئی۔اس کا نام سلمہ تھا میں نے اس سے خدا کی قسم دے کر پوچھا وہ دوا کیا تھی جو تم نے مجھے دی تھی؟ کہنے لگی میں نے اس تسبیح کے ایک دانہ سے جواس وقت میرے ہاتھ میں ہے تیرا علاج کیا۔ میں نے پوچھا اس تسبیح کو خصوصیت کیا ہے؟تو کہنے لگی یہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کی خاک ہے۔
میں نے اس سے کہا اے رافضیہ تو نے میرا علاج حسین کی قبر کی مٹی سے کیا؟ وہ عورت غضبناک حالت میں میرے پاس سے اٹھ کر چلی گئی اس وقت میری بیماری لوٹ آئی۔بیماری کی شدت اب اتنی بڑھ گئی کہ مجھے اپنی موت کا یقین ہو گیا۔
یہ واقعہ کتنا عبرتناک ہے! ہونا تویہ چاہیے تھا کہ اس کرامت کو دیکھ کر اس کی بصیرت میں اضافہ ہو جاتا وہ حق کو پہچان کر اس کی پیروی کرتا لیکن اس کے بجائے تربت مقدس کی توہین کی اور فوراًاس کی برکتوں سے محروم ہوا اور دوبارہ بیماری میں مبتلا ہو کر اس آیت کا مصداق قرار پایا۔ وننزل من القراٰن ما ھو شفاء و رحمتہ للمومنین ولا یزید الظالمین الاخسارا (سورہ اسراء آیت ۸۲) اور ہم قرآن میں وہی چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے سراسر شفاء اور رحمت ہے مگر نافرمانوں کے لئے گھاٹے کے سوا کچھ فائدہ نہیں۔
سعد ی نے کیا خوب کہا ہے آب باران رحمت الہی ہے اس کی لطافت و پاکیزگی میں شک نہیں لیکن اگر اس کے قطرے صدف میں گریں تو قیمتی موتی اور سانپ کے منہ میں گریں تو زہر قاتل بنتے ہیں۔
تربت کی توہین ہلاک کر دیتی ہے
شیخ طوسی کتاب مذکور میں موسی بن عبد العزیز سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا ایک نصرانی طبیب یوحنا مجھ سے ملاقات کے لئے آیا اور کہنے لگا ۔میں تم کو تمہارے دین اور پیغمبر کی قسم دیتا ہوں مجھے بتلاو کیا ہو شخص جو قصر ابن ہبیرہ(کربلا) میں دفن ہے اور لوگ جس کی زیارت کو جاتے ہیں کیا وہ تمھارے پیغمبر کے اصحاب میں سے ہے؟ میں نے کہا نہیں ۔وہ ہمارے پیغمبر کے نواسے حضرت حسین (علیہ السلام) ہیں۔تم مجھے یہ بتلاو قسم کے ساتھ یہ سوال کیوں کیا؟تو کہنے لگا میں نے اس کی عجیب داستان سنی ہے ۔اس نے کہا ایک رات ہارون الرشید ملعون کے خادم شاپورنے مجھے طلب کیا جب میں اس کے پاس گیا تو وہ مجھے ساتھ لے کر موسی بن عیسیٰ کے گھر لے گیا جو خلیفہ کا قریبی رشتہ دار تھا۔
میں نے دیکھا وہ بستر پر بے ہوش پڑا ہوا ہے۔ اور اس کے سامنے طشت میں اس کے اندرونی اعضاء بدن پڑے تھے۔ہارون الرشید نے اس کو ان دنوں کوفہ سے طلب کیا تھا۔ شاپور نے موسی کے خصوصی خادم سے اس کے آقا کے متعلق پوچھا کہ اس کی کیا حالت ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ خادم نے جواب دیا اب سے ایک گھنٹے پہلے بہت ا چھی حالت میں تھا اور اپنے ساتھیوں سے گفتگو کر رہا تھا ۔ان میں سے ایک شخص نے جو بنی ہاشم میں سے تھا اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا میں شدید بیمار تھا کسی طبیب کے علاج سے فائدہ نہ ہوا یہاں تک کہ میرے کاتب نے مجھ سے کہا حضرت حسین (علیہ السلام) کی تربت سے اپنا علاج کرو۔میں نے ایسا ہی کیا اور صحت یاب ہو گیا۔
موسیٰ نے کہا کیا اس تربت کا کچھ حصہ تمہارے پاس باقی ہے؟ اس نے جواب دیا ہاں اور فوراً کسی کو بھجوا کر تھوڑی سی تربت منگوائی۔موسیٰ نے تربت لے کر توہین کے ارادے سے اسے اپنی نہاں گاہ کے سوارخ میں ڈال دیا۔موسیٰ نے اسی وقت ایک چیخ ماری النا ر النار یعنی میںآ گ میں جل رہا ہوں اس سے فوراً ایک طشت منگوایا اب جو کچھ تم طشت میں دیکھ رہے ہو وہ اس کے اندرونی اعضاء کے ٹکڑے ہیں۔اس کی یہ حالت دیکھ کر تمام ساتھی نکل گئے اور اس کا گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہوگیا۔
شاپور کہنے لگا تم درست کہتے ہو لیکن رات یہیں رہو تا کہ اس کی حالت پر نظر رکھ سکو اور انجام معلوم ہو۔میں اس رات وہیں سحر ٹھہر گیا وہ صحر کے نزدیک واصل جہنم ہوا۔
راوی کہتا ہے یوحنا نصرانی طبیب ایک عرصہ تک حضرت سید الشہداء (علیہ السلام) کی زیارت کو آتا رہا۔اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا اور دین دار رہا ۔یہ روایت بحار الانوار کی دسویں جلد کے آخری حصہ میں بھی نقل کی گئی ہے۔
سچے خواب
مرحوم الحاج مرزا حسین نوری نور اللہ مرقدہ اپنی کتاب دار السلام میں تحریر فرماتے ہیں میرا ایک بھائی والدہ کے گھر ملاقات کے لئے گیا۔اس کی نچلی جیب میں حضرت سیدا لشہداء (علیہ السلام) کی تربت کی مہر موجود تھی۔جب والدہ کو اس کے متعلق خبر ہوئی تو اسے تنبیہ کی اور کہنے لگیں اس جیب میں تربت کی مہر رکھنا بے ادبی اور اہانت ہے کیوں کہ بہت ممکن ہے بیٹھتے وقت ران کے نیچے کچل کر ٹوٹ جائے۔میرا بھائی کہنے لگا ہاں ایسا ہی ہے اب تک دوتربت کی مہریں (سجدہ گاہ) میری ران کے نیچے آکر ٹوٹ چکی ہیں۔اس نے والدہ سے کہا کہ آج کے بعد دوبارہ قبا کی نچلی جیب میں نہ رکھے گا۔میرے والد بزرگورا کو اس واقعہ کا کوئی علم نہ تھا اس کے چند دن بعد انہوں نے عالم خواب میں دیکھا کہ حضرت سیدا لشہداء (علیہ السلام) ان کے کتاب خانہ میں داخل ہو کر ان کے پاس بیٹھ گئے ان سے اظہار لطف و مہربانی فرمایا اور ارشاد فرمایا اپنے لڑکوں کو بلاو تا کہ میں ان کو انعام دوں ۔میرے والد کے پانچ بیٹے تھے ۔انہوں نے سب کو بلایا ان کوسامنے حجرے میں بٹھا یا۔امام کے سامنے کچھ لباس رکھے تھے ایک ایک کو طلب فرما کر انعام کے طور پر ایک ایک لباس دئیے جارہے تھے۔جب میرے اس بھائی کی باری آئی جس نے تربت کو قبا کی نچلی جیب میں رکھا تھا امام نے اس کے غضب کی نگاہوں سے دیکھا اور میرے والد کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے تمہارے اس لڑکے نے اب تک دوبار میری تربت کی اپنی ران کے نیچے دبا کر توڑا ہے۔امام نے اس بھائی کودوسرے بھائیوں کی مانند حجرے میں طلب نہیں کیا اس کو انعام بھی کم درجے کا دیا بلکہ اس کا انعام حجرے کے باہر ڈال دیا۔جب والد کی آنکھ کھلی تو انہوں نے اس خواب کو میری والدہ سے بیان کیا۔والدہ نے میرے بھائی کے ساتھ گزرا ہوا واقعہ بیان کیا ۔والد اپنے خواب کی سچائی پر تعجب کرنے لگے۔
ہم جناب سید الشہداء (علیہ السلام) کے مقدس نام پر جو خدا کی رحمت و کرم کا مظہر ہیں بارگاہ رب العزت میں دست بدعا ہمیں کہ میں گزشتہ گناہوں سے توبہ اور آئندہ کے لئے ان کی تکرار سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال وجواب
زیر نظر کتاب گناہان کبیرہ کی پہلی اشاعت کے بعد کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ جن گناہوں کا بیان ہو چکا ہے(تریسٹھ گناہ ہیں) ان کے علاوہ کوئی قطعی یا احتمالی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کیا اب بھی باقی ہے؟
کچھ اور لوگوں نے پوچھا جن گناہوں کا اس کتاب میں ذکر کیا گیا ہے کیا دین اسلام میں اور بھی کوئی گناہ ہے یا نہیں؟
ہم ان دو سوالوں کے جوابات تفصیل کے ساتھ لکھتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہم سب کو گناہوں سے بچنے اور پشیمان ہو نے کی توفیق عطا کرے۔
اس کے علاوہ بھی گناہ بہت ہیں
جاننا چاہئے کہ فقہائے اسلام رضوان اللہ علیہم نے تمام واجبات محرمات،مستحبات اور مکروہات کے احکام کو عبادات کے ضمن میں جیسے نماز و روزہ ،حج،زکوٰة ،خمس،جہاد،امر بالمعروف نہی عن المنکر ،اس کے علاوہ معاملات کے ضمن میں تمام خرید و فروخت،احکام اجارہ وغیرہ اور عقد و ایقاع کے عنوان میں مثلاً طلاق ونکاح،حد ،دیہ وغیرہ پر تفصیل کے ساتھ بے شمار کتابیں لکھ چکے ہیں،
شیخ حر آملی نے کتاب بدایة النہایة میں طہارت سے لے کر دیت تک کے جملہ واجبات اور محرمات کو بیان کیا ہے۔آپ کتاب کے اختتام پر فرماتے ہیں اس کتاب میں بیان کئے گئے واجبات کی تعداد ایک ہزار پانچ سو پینیتس( ۱۵۳۵) اور محرمات کی تعداد ایک ہزار چار سو اڑتالیس( ۱۴۴۸) ہے کل احکام دو ہزار نو سو تراسی( ۲۹۸۳) احکام الہی بیان کئے گئے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب گناہان کبیرہ کی جلدوں میں بیان کئے گئے گناہوں کی نسبت جو بیان نہیں کئے گئے دسویں حصہ سے بھی کم ہے۔چونکہ محرمات اور واجبات کی خلاف ورزی گناہاں کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔
کچھ دوسرے گناہ بھی کبیرہ ہونے کا احتمال ہیں
جہاں تک کبیرہ گناہوں کا تعلق ہے ہم نے اس کتاب کی جلد اول میں عرض کر دیا تھا کہ ہم نے صرف انہیں گناہوں کا تذکرہ کیا ہے جن کا کبیرہ ہونا قطعی اور مسلم ہے۔اور اس سے مراد یہ نہ لیا جائے کہ گناہاں کبیرہ کی تعداد اتنا ہی ہے جتنا کہ اس کتاب میں ذکر ہوا۔بنا برایں جن گناہوں کا اس کتاب میں ذکر نہیں وہ اپنے مبہم اور تردد کی حالت میں باقی ہیں بہ عبارت دیگر جن کے کبیرہ ہونا یا صغیرہ ہونے کا احتمال باقی ہے ۔جب کہ ہر وہ گناہ جن کا کبیرہ یا صغیرہ ہونے کا اندیشہ اور گماں پیدا ہو جائے تو اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی ابہام شارع اقدس کا مقصد اور حکمت ہے کہ ہر دین دار جہاں گناہ کا احتمال ہے اس سے اجتناب کرے۔
واضح ہو کہ ایسے گناہ جن کا ہونا مسلم او ر قطعی ہے اب تک کئی جلدوں پر مشتمل کتاب گناہان کبیرہ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکے ہیں،دوبارہ ترتیب وار ان کی فہرست ہم یہاں لکھتے ہیں اس کے علاوہ وہ محرمات جن میں عام طور پر مبتلا ہونے کا امکان ہے ان کی فہرست بھی پیش کی جارہی ہے۔
قطعی اور مسلم گناہان کبیرہ کی فہرست
( ۱) شرک بخدا اور ریاکاری ( ۲) رحمت خدا سے مایوسی( ۳) خدا سے قنوط اور بدگمانی ( ۴) خداپوشیدہ اوراچانک قہرسے نہ ڈرنا( ۵) انسان کا قتل کرنا( ۶) والدین کا عاق ( ۷) قطع رحم ( ۸) یتیم کا مال کھانا ( ۹) سودخوری ( ۱۰) زنا کرنا ( ۱۱) لواط کرنا( ۱۲) قذف( ۱۳) شراب خوری ( ۱۴) جوا کھیلنا( ۱۵) موسیقی کے آلات سے سرگرمی ( ۱۶) غنا گانے گانا ( ۱۷) جھوٹ بولنا ( ۱۸) جھوٹی قسم کھانا ( ۱۹) جھوٹی گواہی دینا ( ۲۰) گواہی نہ دینا ( ۲۱) وعدہ خلافی کرنا ( ۲۲) امانت میں خیانت کرنا ( ۲۳) چوری ڈکیتی کرنا ( ۲۴) کم بیچنا ( ۲۵) حرامخوری ( ۲۶) حقوق کا غصب کرنا ( ۲۷) جہاد سے فرار ( ۲۸) ہجرت کے بعد دار الکفر پلٹنا( ۲۹) ظالموں کی مدد کرنا ( ۳۰) مظلوموں کی مدد نہ کرنا ( ۳۱) جادو ٹونہ( ۳۲) اسراف ( ۳۳) تکبر کرنا ( ۳۴) مسلمانوں سے جنگ کرنا ( ۳۵) مردار اور سور کا گوشت کھانا ( ۳۶) عمداًنماز ترک کرنا ( ۳۷) زکوٰة نہ دینا ( ۳۸) حج کو نا چیز سمجھنا ( ۳۹) واجبات الہٰی میں سے کسی ایک کا ترک کرنا جیسا کہ شیخ حرآملی کی کتاب بدایة النہایہ میں کل واجبات ایک ہزار پانچ سو پینتیس شمار کئے گئے ہیں ( ۴۰) گناہ پر اصرار اور اسے معمولی سمجھنا ( ۴۱) وصیت کے ذریعہ کسی وارث کو محروم کرنا ( ۴۲) غیبت کرنا ( ۴۳) چلغوری کرنا ( ۴۴) مومن کا مذاق اڑانا ( ۴۵) دشنام اور طعنہ دینا ( ۴۶) مومن کو ذلیل کرنا ( ۴۷) مومن کی سرزنش اور رسوا کرنا ( ۴۸) شعر یا نثر کی ہجو کرنا ( ۴۹) مومن کو اذیت دینا ( ۵۰) ہمسایہ کو ستانا ( ۵۱) فریب اور دھوکہ دینا ( ۵۲) دوغلاپن ( ۵۳) اشیاء خوردنی کی ذخیرہ اندورزی کرنا ( ۵۴) حسدکرنا ( ۵۵) مومن سے دشمنی کرنا ( ۵۶) مساحقہ (عورتوں کا ایک دوسرے سے بد فعلی کرنا) ( ۵۷) قیادت دلالی اور دیاثت اپنی بیوی کو زنا پر آمادہ کرنا ( ۵۸) نطفہ خارج کرنا استمناء ( ۵۹) بدعت ( ۶۰) حکم ناحق نافذ کرنا ( ۶۱) محترم مہینوں میں جنگ کرنا ( ۶۲) راہ خدا سے روکنا ( ۶۳) کفران ناشکری نعمت ( ۶۴) فتنہ پردزی ( ۶۵) کفار کو اسلحہ فروخت کرنا( ۶۶) بہتان اور بد گمانی( ۶۷) ہتک حرمت قرآن ( ۶۸) ہتک حرمت کعبہ( ۶۹) ہتک حرمت مساجد( ۷۰) مزار معصومین (علیہم السلام) اور تربت حسنینی کی ہتک حرمت کرنا۔
درج ذ یل گناہان کبیرہ ہونے کا احتمال ہیں
( ۱) نجس اشیاء کا کھانا پینا( ۲) جہاں نیک وبد و تمیز کرنے والا ناظر محترم موجود ہو وہاں شرمگاہوں سے پردہ ہٹانا( ۳) کسی ہم جنس یا غیر ہم جنس(عورت دوسری عورت یا ایک مرد دوسرے مرد یا شوہر اور بیوی کے علاوہ کسی مرد عورت یا عورت مرد کے)شرمگاہوں پر نگاہ ڈالنا( ۴) قبلہ کی جانب رخ یا پشت کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنا( ۵) حیض،نفاس یا جنابت کی حالت میں مسجد کے اندر توقت کرنا( ۶) مردوں کے لئے خالص ریشمی لباس اور سونا استعمال کرنا اگرچہ انگوٹھی بھی ہو( ۷) مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کی شکل و شباہت میں ظاہر کرنا( ۸) بیوی اور شوہر کے علاوہ کسی دوسرے پر شک و شبہ شہوت سے دیکھنا خواہ یہ نگاہ عورت پر ہو یا مرد پر( ۹) کسی دوسرے کے خط اس کی مرضی کے بغیر دیکھنا( ۱۰) گھر والوں کی مرضی کے خلاف کسی کے گھر میں نظر کرنا( ۱۱) گمراہ کن کتب اور مجلے محفوظ رکھنا ایسی کتب اور مجلے تلف کرنا واجب ہے ( ۱۲) مجسمہ سازی ( ۱۳) اجنبی کے بدن کو مس کرنا( ۱۴) تقیہ کے سوا کسی ظالم کی تعریف کرنا اور کلی طور کسی ایسے کی مدح کرنا جو مدح کا سزاوار نہ ہو اور کسی ایسے کی مذمت کرنا جو قابل مذمت نہ ہو( ۱۵) کسی معصیت کی مجلس میں ٹھہرنا( ۱۶) سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال( ۱۷) نماز جماعت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے شرکت نہ کرنا۔( ۱۸) نما زجماعت میں (انکار کے طور پر )شرکت سے روگردانی۔بلکہ بعض فقہاء عظام واضح طور پر فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں جماعت میں حاضرنہ ہونا گنا کبیرہ ہے کبیرہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جماعت سے روگردانی اور اہمیت نہ دینے والے شخص کی گواہی شرعاً قابل قبول نہیں۔( ۱۹) مراجع عظام کے رسائل عملیہ میں ظہارت،نماز روزہ وغیرہ کے ابواب میں جن محرمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا ترک کرنا واجب ہے۔اسی طرح وضو،غسل ،تیمم ،نماز،روزہ حج ،خمس اور زکوٰة کے واجبات کی ادائیگی میں بھی غفلت برتنا حرام ہے۔
نزی معاملات کے ابواب میں خرید و فروخت،کرایہ ،ہبہ،اجارہ،غصب وغیرہ کے احکام جاننا اور ان کے محرمات ترک کرنا واجب ہے۔یہاں تک اگر کسی سے کوئی چیز لینا چاہو اور اس کا مالک شرمندگی یا مجبوری میں اس کی اجازت بھی دے تو اس پر تصرت حرام ہے کیونکہ اس پر غصب کا حکم لاگو ہوتا ہے۔اس نکتے کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ غصب گناہان مستمرہ(مسلسل)میں سے ایک ہے جب تک غصب کردہ مال اس کے مالک کو واپش نہیں کرے گا تب تک ہر آن ایک نئے گناہ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
اسی طرح نکاح وطلاق،کھانے اور پینے والی چیزوں کے محرمات مکمل طور پر جاننا اور ان کو ترک کرنا واجب ہے اور خلاف ورزی گناہ ہے جبکہ مجتہدین کے عملی رسائل میں ان امور کا تفصیلی بیان موجود ہے اس لئے ہم مختصریاد دہانی پر اکتفا کرتے ہیں۔
توبہ
یہ بات اہل بصیرت سے پوشیدہ نہیں کہ توبہ خداوند کریم کے فضل عظیم کا ایک بڑا شعبہ اور رحمت واسعہ کا سب سے بڑ ادروازہ ہے۔جو اپنے بندوں کے لئے ہمیشہ کھلا رکھتا ہے اور کبھی بند نہیں ہوا۔اگر در توبہ اور باب رحمت بند ہوتا تو کوئی بندہ نجات نہیں پا سکتا تھا۔کیوں کہ گناہوں سے آلودگی اور خطاکاری بندوں کی سرشت میں داخل ہے چونکہ انسان سہو و خطا کا پتلا ہے خواہشات نفسانی اس کے دامن گیر ہے اس کے تمام اعضائے بد ن خواہ و باطنی ہوں یا خارجی گفتار و کردار سے متعلق ہوں یا افکار و تصورات سے بلکہ سارے حرکات سکنات گناہوں اور خطاوں سے خالی نہیں مگر یہ کہ ارحم الراحمین کی رحمت اس کا تحفظ اور راہنمائی شامل حال ہو۔
اس دنیا میں کوئی ایسا بندہ بشر مل نہیں سکتا جو کہ اپنے آپ کو کسی بھی گناہ اور خطا کی آلودگی سے پاک وپاکیزہ رکھنے میں کامیاب ہو گیا ہو۔اپنی فطرت اولیہ کو آخر عمر تک تازہ مولود کی طرح صاف ستھرا محفوظ رکھ سکا ہو۔انسان تو انسان حتی انبیاء کرام (علیہم السلام) بھی لغزشوں سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے لیکن پیغمبروں کی خطا اور ہماری خطا میں بہت فرق ہے جس کا عنقریب ذکر ہوگا۔
خداوند حکیم ور حیم نے توبہ کو تمام روحانی درد اور قلبی بیماریوں کی دوا اور ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے والا بہترین اور آسان تیرن نسخہ تجویز فرمایا ہے۔تا کہ انسان گناہوں میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کی برکت سے مغفرت کا اہل اور نجات کا مستحق بن جائے۔خوش نصیب ہے وہ بندہ جو اس باب رحمت کی قدر کرے اس کی سہولت سے فائدہ اٹھائے اور اس عنایت پروردگار کا شکر ادا کرے اس کے برعکس بد نصیب وہ ہے جو اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے۔روز قیامت جب بندے موقع حساب میں لائے جائیں گے اور اس سے ان کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا تو یہ بدنصیب بندے کہیں گے پروردگار میں ناداں و بے خبر تھا اپنی شہوت وغضب خواہشات نفسانی کا اسیر تھا اور میں شیطان کے وسوسوں کے سامنے بے بس تھا تو خدواند عالم جواب میں فرمائے گاکیا تم پر کوئی ایسی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی جو تمہاری قوت و استطاعت سے باہرتھی؟کیا میں نے توبہ کے بارے میں سخت شرائط عائد کئے تھے؟ تو بندہ گنہگار جواب میں عرض کرے گا۔
الهی ارحمنی اذ انقطعت حجتی وکل عن جوابک لسانی و طاش عند سئوالک (ابوحمزہ ثمالی) خدایا میری حالت پر رحم فرما تو نے میرے حیلہ وحجت کا خاتمہ کر دیا۔تجھے جواب دینے میں میری زبان کام نہیں کرتی تیرے سوالات سے میرے دل پر دہشت طاری ہوئی ہے اس لئے جواب سے قاصر ہے۔
حقیقت توبہ
حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)(توبہ کی تعریف میں)فرماتے ہیں الندامتہ توبتہ گناہ سے پشیمانی(کانام)توبہ ہے ،جناب امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا مامن عبد اذ نب ذنبا فندم علیہ الا غفر اللہ لہ قبل ان یستغفر(کافی جلد ۲ ص ۲۲۷) کوئی بندہ کسی قسم کا گناہ کرے اس کے بعد(دل سے ) پشیمان ہوتا ہے و خداوند رحیم اس سے پہلے کہ وہ (زبان سے)اپنے گناہ کی مغفرت طلب کرے اسے معاف کر دیتا ہے ۔پس معلوم ہوا گناہ سے پشیمانی ہی توبہ کی حقیقت ہے۔اور یہ کہ وہ محسوس کرے خدائے عزوجل کے نزدیک بہت بری چیز اس کی نافرمانی ہے جس سے وہ ناراض ہو تا ہے ۔اس طرح کے احساس رکھنے والا حساس انسان اس غلام کی مانند ہے جو اپنے مولا کی مرضی کے خلاف کوئی عمل اس غفلت میں انجام دیتا ہے کہ اس کامولا اس کا جرم نہیں دیکھ رہا لیکن وہ پوشیدہ طور سے تاک میں اچھی طرح دیکھ رہا تھا بعد میں یہ حالت غلام کو معلوم ہوتی ہے تو وہ دل سے سخت پچھتانے لگتا ہے اور زبان سے معذرت چاہتا ہے۔یا پھر اس تاجر کی مانند ہے جو اپنے کسی دانا دوست کے منع کرنے کے باوجود (کوئی)لین دین کرے اور اس میں اپنے تمام سرمائے سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔اور کافی مقدار میں قرضے بھی چڑھائے۔اس صورت میں وہ اس لین دین سے کس قدر پریشان اور حد درجہ پشیمان ہوگا۔
مزید وضاحت کے لئے ایسے شخص کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے جسے طبیب نے کوئی خاص غذا کھانے سے منع کیا ہو لیکن وہ جان بوجھ کر کھائے اور بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اس پر پچھتائے لیکن خداوند کریم کے حضور میں دل سے پشیمانی کافی ہے چنانچہ امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کفی باالندم توبة توبہ کے لئے یہ کافی ہے کہ بندہ اپنے کئے پر نادم ہو۔
پشیمانی گناہ ترک کرنے کا سبب ہے
اس میں شک نہیں کہ پروردگار عالم، روزجزا اور جو کچھ انبیاء کرام و آئمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین نے احکام خدا ہم تک پہنچائے ہیں ان پر جس قدر ایمان اور یقین کا درجہ بلند ہو گا اسی حساب سے پشیمانی کا احساس بھی سخت ہو گا۔چنانچہ گناہ پر ندامت اور تاسف کا لازمہ یہ ہے کہ اس گناہ کو آئندہ ترک کرنے کا پختہ عزم کرے ۔اگر ایسا ارادنہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت وہ اس گناہ سے پشیمان نہیں ہوا۔
حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں ان الندم علی الشر یدعو الی ترکہ(وسائل الشیعہ ج ۱۱ ص ۳۴۹) اس میں شک نہیں کہ کسی گناہ پر شرمندگی اس کے ترک کا سبب بن جاتا ہے۔
نیز گناہ سے پشیمانی اور اظہار افسوس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ آئندہ اس گناہ کے تدارک کے لئے اس طرح کوشش کرے کہ اگر گناہ حق اللہ میں سے ہو مثلاً نماز ،روزہ حج یا زکوٰة کو تر کر دیا ہو تو اس کا قضا بجالائے اگر حق الناس میں سے اگر مالی حق اس کے ذمہ واجب الادا ہو تو صاحب مال کو واپس کر دے اگر مالک مرچکا ہو تو اس کے وارثوں کو واپش کرے۔اگر وارثوں کو نہیں پہچانتا تو ان کی طرف سے صدقہ دے۔
اگر حق الناس عرضی( عزت و ناموس) سے متعلق ہو تو اسے بخشوانے اور اپنے آپ سے راضی کرے۔اگر حق قصاص یا دیت لی جاسکے یا معاف کر دی جائے۔اگر حق حد جیسا ہو مثلاًقذف تو لازم ہے کہ خود کو صاحب حق کے حوالے کرے تا کہ اس پر حد جاری ہو۔یا معافی حاصل کرلی جائے۔
لیکن اگر ایسے گناہ کا مرتکب ہوا ہو جس کے لئے خداوند عالم نے حد مقرر کر دی ہو جیسے زنا تو اس کے لئے یہ واجب نہیں کہ حاکم شرع کے پاس حد جاری کروانے کے لئے اقدار کیا جائے بلکہ اس کے توبہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے گناہ کا مرتکب ہواہو جس کیلئے خداوند عالم نے حد مقرر کر دی ہو جیسے زنا تو اس کے لئے یہ واجب نہیں کہ حاکم شرع کے پاس حد جاری کروانے کے لئے اقدار کیا جائے بلکہ اس کے توبہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے گناہ پر ندامت آئندہ نہ کرنے کا عزم اور باربار استغفار کرتے رہنا ہی کافی ہے ۔اسی طرح وہ گناہان کبیرہ جن کے لئے حد مقرر نہیں کی گئی جیسے غنا اور موسیقی سننا اور غیبت کرنا وغیرہ گناہوں کے لئے بھی ندامت و استغفار ضروری ہے۔اس بات کی توضیح ضروری ہے کہ اگر دنیا میں کسی گنہگار پرحد جاری کر دی جائے تو آخرت میں اس کے لئے قطعا سزا نہیں۔لیکن اگر صرف توبہ کر لی جائے اس صورت میں توبہ کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ قبولی توبہ او عذاب معاف کے متعلق خوف و رجاء کے درمیان غیر یقینی عالم میں طلب عفو کرتا رہے۔
آیات کریمہ اور احادیث کی رو سے پشیمانی کے بعد استغفار کرنا واجب ہے بایں معنی کہ بارگاہ خداوندی میں گناہوں کی مغفرت کے لئے استغفار اور دعا کرتے رہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا:( و استغفروا الله ان الله غفور رحیم ) (سورہ بقرہ آیت ۹۹۱) اور خدا سے مغفرت کی دعا مانگو بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:لاکبیرة مع الاستغفار استغفار کے بعد کوئی گناہ کبیرہ باقی نہیں رہتا۔
وقال (صلی الله علیه و آله) الذنوب الاستغفارحضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا گناہوں کی بیماری کی دوا ستغفار ہے۔
وعن علی (علیه السلام) العجب ممن یقنط ومعه الممحاة قیل وماالممحاة؟قال علیه السلام الاستغفار (وسائل باب ۸۳ ج ۱۱ ص ۳۵۶) جناب علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں مجھے تعجب ہے اس شخص سے جو (گناہوں میں زیادہ ملوث ہونے کے بعد ناامیدی کی حالت میں حیران ہے جبکہ) اس کے ساتھ گناہوں کو مٹانے والا آلہ موجود ہے کسی نے عرض کیا مولا مٹانے والا آلہ سے کیا مراد ہے ؟فرمایا گناہوں کو مٹانے والا آلہ توبہ استغفار اور دعا ہے۔
توبہ کاملہ
کسی نے حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے سامنے کہا۔استغفر اللہ آپ نے فرمایا تیری ماں تیرے ماتم میں روئے۔تمہیں معلوم ہے کہ استغفار کیا ہے؟(اس کا استغفار زبان تک محدود تھا اور دل حقیقت توبہ سے نا آشنا تھا) فرمایا استغفار بلند مقام افراد اور صدر نشین اشخاص کا مرتبہ ہے۔استغفار کے معنی اور اس کی حقیقت سمجھنے کے لئے کچھ چیزیں لازم ہیں۔
۱) گزشتہ بد کرداری سے پشیمانی اور تئاسف۔
۲) ہمیشہ کے لئے گناہ ترک کرنے کا مصمم ارادہ۔
۳) لوگوں کے حقوق اس طرح اداکریں کہ مرتے وقت کسی قسم کا حق اس کے ذمہ نہ ہو اور پاکیزہ حالت میں رحمت خدا سے پیوستہ ہو جائے۔
۴) ہر وہ واجب جسے انجام نہ دیا ہو اسکا تدارک کرے۔
۵) مال حرام سے بدن پر چڑھنے والے گوشت کو غم آخرت سے اس طرح پگھلائے کہ بدن کی کھال ہڈیوں سے متصل ہو جائے اور پھر حلا ل گوشت بدن میں پیدا ہو جائے۔
۶) اپنے جسم کو عبادت کی ورزش و عادت سے اس طرح مزہ چکھائے جس طرح عیاشی اور دن رات گناہ کی لذت سے آشنا کیا تھا۔
جب تم میں یہ چھ صفتیں پیدا ہوں اس وقت تم استغفر اللہ کا ورد پڑھنے کے اہل ہو(وسائل کتاب جہاد باب ۸۵ ج ۱۱ ص ۳۶۱)
توبہ واجب ہونے کی دلیل اور اسکی فضیلت
علماء کرام کا یہ متفقہ فتویٰ ہے کہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ ان میں مرتکب ہونے کے بعد توبہ کرنا واجب ہے اور عقل انسان بھی اس حکم کو تسلیم کرتی ہے ۔چنانچہ محقق طوسی تجرید الکالم میں اور علامہ حلی اعلی اللہ مقامہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ توبہ دنیوی اوراخروی ضرر کو دور کرتی ہے اور ہر ضرر اور نقصان کا دفاع کرنا عقلاً واجب ہے اس لئے توبہ عقل کی رو سے واجب ہے۔اس بارے میں خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے( وتوبوا الی الله جمیعا ایها المومنون لعلکم تفلحون ) (سورہ نور آیت ۳۱) اور (اے ایماندارو)تم سب کے سب خدا کی بار گاہ میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاجاو۔
مزید فرماتا ہے( یا ایها الذین امنوا توبوا الی الله توبتة نصوحا عسیٰ ربکم ان یکفر عنکم سیئاتکم ) (سورہ تحریم آیت ۸) اے ایمانداروخدا کی بارگاہ میں توبہ نصوح (خالص توبہ صرف خدا کی خوشنودی کے لئے )کرو۔امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہارے گناہ دور کردے۔
توبہ نصوح کیا ہے؟
علامہ مجلسی اعلی اللہ مقامہ شرح کافی میں مفسرین کے حوالے سے توبہ نصوح کے چند معانی بیان فرماتے ہیں،
( ۱) صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بے لوث اور خالص توبہ کرے۔یعنی فقط حکم خدا کی مخالفت اور نافرمانی سے پشیمان ہو کر دل میں شرمندگی کا مکمل احساس کرتے ہوئے توبہ کرے۔جہنم کے ڈر سے توبہ کرے نہ جنت کے لالچ میں ۔اور محقق طوسی تجرید الکالم میں فرماتے ہیں دوزخ کے خوف کی بنا پر گناہوں سے پشیمان ہونا توبہ نہیں۔(کیوں کہ دوزخ اور بہشت دو مخلوق خدا ہیں اس کے حکم کے بغیر فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر)۔
( ۲) تو بہ اس طرح کی جائے جس کی حالت دیکھ کر دوسرں کے لئے درس عبرت حاصل ہو لوگوں کے دلوں میں توبہ کرنے کا شوق و ذوق پیدا ہو وہ اپنے اچھے گفتار وکردار سے گزشتہ گناہوں کی تلافی کرے اور خطاوں کا تدارک کرے یہاں تک کہ ہر مجرم اسکی توبہ کے آثار دیکھ کر رشک کرے اور وہ بھی توبہ کی طرف راغب ہو جائے۔اس صورت میں اس نے توبہ کرنے کا حق ادا کیا مخلوق خد اکو نصیحت کی اور ان کی رہنمائی کی ہے۔
اگر توبہ کرنے والا اپنے کردار کی نمایاں تبدیلی سے دوسروں کو متاثر نہ کر سکے تو کم از کم اپنے نفس کی اصلاح میں اس طرح کامیاب ہو نا چاہئے کہ توبہ کے بعد گناہوں سے مکمل طور پر دور رہے اور آخر تک کسی کبیرہ یاصغیرہ گناہ میں ملوث نہ ہوجائے۔
( ۳) توبہ نصوح کے معنی ہیں خالص توبہ جیسا کہ اس سے پہلے ذکر ہوا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ نصوح لفظ نصاحت کا مشق ہے اور نصاحت عربی زبان میں کپڑا سینے اور رفو کرنے کو کہتے ہیں۔بنا برایں ایسی توبہ کرے کہ گناہگار نے اپنے شرم وحیاء اور دیانت کے جس لباس کے بے حیائی اور لا پرواہی سے پارہ پارہ کیا ہے اسے توبہ کے ٹانکوں اور پشیمان ی کے رشتوں سے رفو کرے تاکہ وہ خدا اور اس کے دوستوں سے نزدیک ہو جائے۔
( ۴) ممکن ہے کہ نصوح توبہ کرنے والے کی صفت ہو اس صورت میں نصیحت اس کا مصدر ہوتا ہے اس لحاظ سے توبہ نصوح کے معنی ہوں گے کہ گناہگار کے لئے نصیحت کرنے والا توبہ یعنی گناہ کے ہر تصور کو اپنے دل سے مٹا دے۔اور گنا ہوں کی تاریکیوں کوتوبہ کے وسیلے سے مٹا کر نور ایمان سے دل کو روشن کریں۔
علامہ مزید فرماتے ہیں کہ کسی بزرگ کا قول ہے کہ آئینہ(دلی )چمکانے کے لئے صرف ظاہر کو صاف کرنا کافی نہیں بلکہ اس کا صقیل کرنا بھی لازم ہے تا کہ جمی ہوئی گندگی اور مساسات میں بیٹھی ہوئی سیاہی اچھی طرح صاف ہوجائے۔توبہ کرنے والے پر لازم ہے کہ ہمیشہ اپنے گناہوں کو تفصیل کے ساتھ پیش نظر رکھے اور ہر ایک گناہ کے برابر ایک نیکی بجا لائے تاکہ اس کی تلافی ہو۔مثلاً غنا اور موسیقی اور ان کے آلات کی آواز کو جتنا سنا ہو اسی کے برابر قرآن ،حدیث،وعظ و نصیحت ،دینی مسائل و دروس سننے کی کوششش کریں۔قرآن مجید کے حروف کو وضو اور غسل کے بغیر مس کیا ہو تو اس کا تدارک قرآن کی تلاوت اور مقدور بھی احترام سے کرنا چاہیے۔اگر حالت جنابت میں مسجد کے اندر توقف کیا ہو تو استغفار کے لئے اسی مسجد میں مثلاً اعتکاف کرے۔
اگر حرام چیزوں کی طرف نظر کی ہو تو اس کے بدلے ان چیزوں کو دیکھنا چاہئے جن کا صرف دیکھنا ہی عبادت ہو مثلاً قرآن مجید کے حروف و خطوط پر نظر کرنا۔والدین کو شفقت کی نگاہ ،مومنین باکردار سادات کرام اور عترت آل اطہار صلوات اللہ علیہم اجمعین و غیرہ کو دیکھنا۔
ٍ اگر لوگوں کے حقوق سے بری الذمہ ہونا مقصود ہو تو بہ و پشیمانی کے بعد اپنی ضرورت سے زائد مال کو صدقہ دے۔کسی مومن کی غیبت کی تلافی مطلوب ہو تو توبہ کے بعد اس مومن کی مدح و ثناء اور اس کی نیک صفات کو اجاگر کرے۔مختصر یہ کہ ہر گناہ میں ملوث ہونے کے بعد پہلے توبہ کرے پھر وہ عبادات بجالائیں جو کئے گئے گناہوں کی ضد ہیں۔ بایں معنی کہ ہر شر کا ضد خیر ہی ہو سکتا ہے۔اسلئے جیسا کہ جسمانی امراض کا علاج ان کی ضد سے کیا جاتا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں کا معالجہ بھی اس کی ضد سے کرتے ہیں۔(توبہ نصوح کے متعلق علامہ مجلسی کا بیان اختتام پذیر ہوا)
توبہ کی فضیلت
( ۱) توبہ کرنے والے محبوب خدا ہوتے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا۔
( ان اللّٰه یحب التوابین و یحب المتطهرین ) (سورہ بقرہ آیت ۲۲۲)
بے شک خداوند کرم بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور (اپنے آپ کو )پاک وصاف رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :ان اللہ یفرح بتوبتہ عبدہ المومن اذاتاب کما یفرح احدکم بضالتہ اذا وجد ھا(اصول کافی)
بے شک خداوند عالم اپنے بندہ مومن کی توبہ سے اس طرح خوش ہوتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گم شدہ مال کے واپس ملنے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔
( ۲) توبہ کرنے والے کا گناہ نیکی میں بدل دیتا ہے
توبہ کی برکت سے نہ صرف گناہ کی آلودگی اور تاریکی دور ہو جاتی ہے بلکہ اطاعت کے نور سے اس کا دل روشن اور روح تازہ ہوتی ہے چنانچہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے
( والذین لایدعون مع الله الها اخر ولا یقتلون النفس التی حرم الله الا بالحق ولایزنون ومن یفعل ذالک یلق اثاما یضاعف له العذاب یوم القیامته ویخلد فیه مهانا الامن تاب و امن و عمل عملا صالحا فاولئک یبدل الله سیئاتهم حسنات وکان الله غفور رحیما ) (سورہ فرقان آیت ۶۸،۶۹،۷۰)
وہ لوگ جو خدا کے ساتھ دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرتے ۔اور جس جان کے مارنے کو خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص ایسا کرے گا وہ اپنے جان کی سزا بھگتے گا کہ قیامت کے دن اس کا عذاب دگنا کر دیا جائے گا۔اور اس میں ہمیشہ ذلیل و خوار رہے گا۔مگر جس شخص نے توبہ کی اور ایمان قبول کیا اور اچھے کام کئے تو ان لوگولں کی برائیوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا اور خدا توبڑابخشنے والا اور مہربان ہے۔
( ۳) توبہ کرنے والا فرشتوں کی د عا و ثناء کا مستحق ہے
رب جلیل ارشاد فرماتا ہے :
( اَلذِّیْنَ یَعْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ یُسَبِحُّوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَیُومِنُوْنَ بِه وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّناٰ وَسِعَتْ کُلَّ شَئٍیء رَّحْمَةً وَّ عِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تٰابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِهِمْ عَذٰابَ الْجَحِیْمِ ) (سورہ مومن آیت ۷)
ترجمہ: جو فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد(تعنیات)ہیں (سب)اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنین کے لئے دعا نگتے ہیں کہ پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے(سچے)دل سے توبہ کر لی اور تیرے راستہ پر چلے ان کو بخش دے اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچالے۔(سورہ مومن آیت ۷)
( رَبَّنٰا وَادْخِلْهُمْ جَنّٰاتِ عَدْنِ نِ الَّتی وَعَدتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبٰآئِهِمْ وَاَزْوٰاجِهِمْ وَذُرِّیّاتِهِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمِ وَقِهِمُ السَّیِئّاٰتِ وَمَنْ تَقِ السَّیئّاٰتِ بَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذٰالِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمِ ) (سورہ مومن آیت ۸،۹)
"اے ہمارے پالنے والے ان کو سدا بہار باغوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے داخل کر۔ اور ان کے باپ داداوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جولوگ نیک ہوں ان کو (بھی بخش دے)بے شک توہی زبردست (اور )حکمت والا ہے۔"
اور ان کو ہر قسم کی برائیوں سے محفوظ رکھ اور جس کو تو نے اس دن کے عذابوں سے بچا لیا(گویاتو نے اس پر بڑا رحم کیا اور یہی توبڑی کامیابی ہے(سورہ مومن آیت ۸،۹)
( ۴) توبہ کرنے والا جنتی ہے
اس بارے میں پروردگار عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:
( وَالَّذِیْنَ اِذاٰ فَعَلُوْا فٰاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْا اَنْفُسُهَمُ ذَکَرُواللّٰهِ فَاَنْستَغْفَروُا لِذُنُوْبِهِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبُ اِلاَّ اللّٰه وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مٰافَعَلُوْا وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ اُولٰئِکَ جَزٰاوهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رّبَهِّمْ وَجَنّاٰتٍ تَجِرْیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنَهْارُ خٰالِدِیْنَ فِیْهٰا نِعْمَ اَجْرُ الْعٰامِلِیْنَ ) (سورہ آل عمران آیت ۱۳۵،۱۳۶)
لوگ جب کوئی بد کاری کر بیٹھتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں تو خدا کا یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو جانتے بوجھتے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے۔
ایسے لوگوں کے لئے خدا کی طرف سے بخشش ہے۔ان کے لئے پروردگار کی طرف سے بہشت کے باغات ہیں۔جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اورہمیشہ ان میں رہیں گے اور اچھے چلن والوں کے لئے کیا خوب مزدوری ہے۔(سورہ آل عمران آیت ۱۳۵،۱۳۶)
( ۵) توبہ طول عمر،رزق کی فراوانی اور خوشحالی کا سبب ہے
( وَاِنَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا مَتٰاعاً اِلٰی اَجَل مُّسَمًّی وَّیُوتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهُ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنّیْ اَخٰافُ عَلَیکُمْ عَذاٰبِ یَوْمٍ کَبِیْرٌ ) (سورہ ھود آیت ۳)
"اور اپنے پرودگار سے مغفرت کی دعا مانگو پھر اس کی بارگاہ میں(گناہوں سے) توبہ کرووہی تمہیں ایک مقررہ مدت(موت)تک اچھے لطف کے فائدے اٹھانے دے گا اور وہی ہر صاحب بزرگی کو اسکی بزرگی(کی داد)عطا فرمائے گا اور اگر تم نے (اس کے حکم سے )منہ موڑا تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے (خوفناک) دن کے عذب کاڈر ہے۔"
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے من یموت بالذنوب اکثر ممن یموت بالاجال۔(جلد اول سفینہ البحارص ۴۸۸) جو لوگ گناہوں کے سبب کم عمری کی حالت میں جلد مرجاتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔بہ نسبت ان افراد کے جو مقدار اجل پر مرتے ہیں۔
یعنی گناہ عمر کم کرنے اور توبہ عمر درازی کا سبب بنتی ہے ۔سورہ نوح میں ارشاد فرمایا گیا:
( فَقُلْتُ اسْتَغِفْرُوْا رَبّکُمْ اِنَّهُ کٰانَ غَفّٰاراً یُرْسِلُ السَّمَآءَ عَلَیْکُم مِدْرٰاراً وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوٰالٍ وَّ بَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّاٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْهٰارا )
"میں (نوح) نے ان سے کہا اپنے پروردگار سے مغفرت ی دعا مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے اور تم پر آسمان سے موسلادھار پانی برسائے گا اور تمہیں مال اور اولاد میں مدد (ترقی)دے گا اور تمہارے لئے باغ بنائے گا اور تمہارے لئے نہریں جادی کرے گا"۔
(سورہ نوح آیت ۱۰،۱۱،۱۲)
فہرست
آیة اللہ دستغیب کی مختصر سوانح حیات ۴
تقویٰ کی حقیقت ۵
روایات میں ترکِ حرام کی اہمیت ۶
پہلی روایت: ۶
دوسری روایت: ۶
تیسری روایت: ۶
بہشت کے درخت کو جلانے والی آگ ۷
چوتھی روایت: ۷
پانچویں روایت: ۷
حرام خوری عبادت کو جلا دیتی ہے ۷
چھٹی روایت: ۷
حق الناس قبولیت اعمال میں رکاوٹ ہے ۷
ساتویں روایت: ۸
آ ٹھویں روایت: ۸
نویں روایت: ۸
گناہ دعا کی قبولیت میں مانع ہے ۸
دسویں روایت: ۸
گناہ ترک کرنا حقیقی عبادت ہے ۹
گیارہویں روایت: ۹
گناہ سے بچنا چاہیئے ۹
نیک اعمال گردوغبار کی طرح پراگندہ ہو سکتے ہیں ۱۰
بے شمار پرھیز گار لوگ جنت میں جائیں گے ۱۰
گناہانِ ِ کبیرہ و صغیرہ کی تقسیم ۱۱
کبیرہ سے اجتناب صغیرہ سے درگزر کا سبب بنتا ھے ۱۱
بہشت کے دروازے پرہیزگاروں کے سامنے کھلے ہیں ۱۱
شفاعت ۱۱
شفاعت معصیّت کرنے پر دلیری کا سبب نہیں ہونی چاہیئے ۱۲
نجات کی امید میں خودکشی کرنا ۱۲
موت کی تین قسموں میں سے ایک قسم واقع ہوتی ہے ۱۳
میں تمہارے بارے میں برزخ سے ڈرتا ہوں ۱۳
کل خون کے آنسو بہائے گا ۱۴
نماز کو حقیر شمار کرنے والوں کے لیے شفاعت نہیں ۱۵
زیادہ گناہ ایمان کو ختم کر دیتا ہے ۱۵
گناہ دل کو سیاہ کر د یتا ہے ۱۶
قلب ِسیاہ پر وعظ و نصیحت کا اثر نہیں ہوت ۱۷
گذ شتہ گناہوں سے ڈرنا ۱۷
شفاعت امید کا موجب ہے نہ مغرور ہونے کا سبب ۱۸
پھر بھی خوف و ہراس ہونا چا ہیئے ۱۸
شیعیان ِ اہل ِ بیت علیہم السّلام ۱۸
شیعہ اور محبّ ۱۸
محمد بن مسلم کی قاضی شریک سے گفتگو ۱۹
امام کی پیروی کرنے والے حقیقی شیعہ ہیں ۱۹
کچھ شیعوں کے ساتھ حضرت علی (علیہ السلام) کی گفتگو ۱۹
شیعہ ہونے کے لیے دعویٰ کافی نہیں ۲۰
ولایت ۲۱
مگر جاننا چاہیئے کہ ولایت کے معنی کیا ہیں ۲۱
حضرت علی(علیہ السلام) کی ولایت خدا کا مضبوط قلعہ ہے ۲۲
درندہ شیر سے قلعے میں پناہ لینا ۲۲
قلعے میں داخل ہونا چا ہیئے ۲۳
کیا کردار کے بغیر زبانی دعویٰ کافی ہے؟ ۲۳
عمل ہی سے مقصد حاصل ہوتا ہے ۲۳
تقویٰ کی اقسام کے متعلّق علّامہ مجلسی کی رائے ۲۴
محبت ۲۴
محبّت انسان کو ثابت قدم کرتی ہے ۲۵
جناب جابر انصاری کی وصیّت ۲۵
حضرت علی کے دوستداروں کے لیے فرشتوں کی استغفار ۲۶
حضرت علی(علیہ السلام) کی محبت گناہوں کو جلا ڈالتی ہے ۲۶
پریشا نیاں اور بلا ئیں گنا ہوں کو زائل کر د یتی ہیں ۲۷
محبّت کے انداز سے فیض حاصل کر سکتا ہے ۲۷
خواہشات محبت کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۲۸
سودا خوش است کہ یکجا کند کسی ۲۹
نعمت کو معصیت میں استعمال نہ کریں ۲۹
گناہ کی تاریکی اور توبہ کا نور ۲۹
کبیرہ اور صغیرہ کے معنی ۳۰
گناہ کبیرہ کیا ہے؟ ۳۱
مذکورہ چار طریقوں سے متعلّق عروة الوثقیٰ کی اصل عبارت ۳۲
پہلی روایت ۳۲
( ۲۰) وَنَقْضُ اِلْعَھْدِ ۳۷
د وسری روا یت ۳۸
تیسری روایت ۳۸
چوتھی روایت ۳۹
ایک مشکل مسئلہ کا حل ۴۱
( ۱) پہلے اعتراض کا جواب ۴۱
گناہ صغیرہ کا اصرار (تکرار) بھی کبیرہ ہے ۴۳
خرابی میں پڑنا ثواب سے محرومی کا سبب ہے ۴۳
( ۲) اھلِ بیت کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۴۴
اہل بیت اطہاراہل ذکر کیوں ہیں؟ ۴۴
دوسرے اعتراض کا جواب ۴۵
گناہ کبیرہ دوسرے عنوان میں ۴۶
پہلامقام ۴۸
توحید ذاتِ خد ۴۸
نصاریٰ بھی مشرک ہیں ۴۹
بت پرستی خدا کو شریک قرار دینا ہے ۴۹
دوسرا مقام ۵۰
صفات خدا میں توحید ۵۰
مخلوقات کی اچھی صفات سب کی سب خدا کی جانب سے ہیں: ۵۰
کبھی غفلت سے اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہیں: ۵۰
پرہیز گار لوگ تعریف سے ڈرتے ہیں: ۵۱
خدا کی صفات میں کوئی بھی شریک نہیں: ۵۱
خلاصہ ۵۲
حضرت پیغمبر کا ارشاد گرامی ۵۲
قارون مشرک ہو گیا ۵۲
افعال میں توحید اور شرک ۵۳
بے رنگ پانی سے لاکھوں رنگ ۵۴
( فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّویٰ ) (بیج اور گٹھلی کو پھاڑنے والا) ۵۴
( فِیْ ظُلُمَاتٍ ثلاثٍ ) (تین تاریکیوں میں) ۵۴
گندے خون سے خوشگوار دودھ ۵۵
روزی دیتا ہے، قبول کرتا ہے ۵۵
ہر چیز کا موثر خدا ہے ۵۵
شان ربوبیت کی انتہا نہیں ۵۶
انسان کی توانائی ۵۶
انسان کی قوّت خدا کی مشیّت میں مقیّد ہوتی ہے ۵۸
خوفِ خُد ۵۹
اُمید بخد ۶۰
منعم کا شکر ادا کرنا ۶۱
شکرو ثنائی وسائط (ذرائع) بھی لازم ہے ۶۱
مخلوق کی مدح میں پوشید ہ شرک ۶۱
حضرت امام صادق (علیہ السلام) اور سائل شکور ۶۲
توحید اور توکل ۶۳
توحید اور تسلیم ۶۳
توحید اور محبت ۶۴
اطاعت میں توحید اور شرک ۶۶
اللہ کے پسندیدہ احکام ۶۶
اولی الامر کون ہیں ؟ ۶۷
حب علی حکم ِپیغمبر سے ہونی چاہیئے یا معاویہ کی نسبت سے؟ ۶۷
اولی الامر ایک گروہ کے لیے مخصوص نہیں ۶۸
کیا اولی الامر سے مراد علماء ہیں ۶۸
بارہ امام اولی الامر ہیں ۶۸
پیغمبر اولی الامر کا بیان فرماتے ہیں ۶۸
عاد ل مجتہد کی اطاعت ۶۹
آزادفقیہ پیروی کے قابل ہے ۷۰
والد ین کی اطاعت بھی اطاعت خدا ہے ۷۰
والد ین واجب سے منع اورحرام کاامرنہیں کرسکتے ۷۱
والدین کی مخالفت میں اذیت کی تفصیل ۷۱
شوہرسے بیوی کی اطاعت ۷۱
میاں بیوی کے امور میں تمکین واجب ہے ۷۲
مستحب اخراجات خاوند کی اجازت سے ہونے چاہیئیں ۷۳
ظالم حاکم کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیئے ۷۳
بے عمل عالم پیروی کے قابل نہیں ۷۴
د نیا پرست علماء راہ خدا کے لٹیرے ہیں ۷۴
صرف اللّٰہ کے لیے فقیہ ہونا چاہیئے ۷۴
عوام مقصّر ہیں ۷۵
عبادت میں توحید اور شرک ۷۶
بشر خاکی کجا، ربّ العالمین کجا ۷۶
نیت میں خلوص ۷۷
ریا کار مشرک ہے ۷۷
ریاء شرک ِاصغر ہے ۷۸
ریا کار اپنے آپ کو دھو کہ دیتا ہے ۷۹
جھنم کی آگ ریا کاروں سے روتی ہے ۷۹
کبھی عباد ت گذ ا ر کو اس کی عبادت ا ٓگ کی طرف کھینچتی ہے ۸۰
خلوص کی فضیلت اور ریا کار کی مذمت ۸۰
کھرا عمل جلوہ گر ہوتا ہے ۸۱
د کھاوا، فقہی نظر سے ۸۲
غیر عبادت میں ریا ۸۳
( ۱) بدنی ریا ۸۳
( ۲) شکل و صورت اور لباس کی ریا ۸۳
( ۳) قولی ریا ۸۴
( ۴) عمل کی ریا ۸۴
( ۵) بیرونی اور خارجی امور میں ریا ۸۵
ریا قصد سے مربوط ہوتی ہے ۸۵
یاس ۸۵
شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ۸۶
اسباب اور مسبب الاسباب ۸۶
سبب کام نہیں کرتا ۸۷
پہلی مثال ۸۷
آگ نہیں جلاتی اور چاقو نہیں کاٹتا ۸۷
دوسری مثال ۸۸
موسیٰ و فرعون ۸۸
تیسری مثال ۸۸
ابرہہ کا حملہ اور کعبہ کا خراب نہ ہونا ۸۸
چوتھی مثال ۸۹
حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا تحفّظ ۸۹
پانچویں مثال ۸۹
وہ ظاہری سبب کے بغیر پیدا کرتا ہے ۹۰
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا علم و حکمت کی کسی درسگاہ میں نہ جانا ۹۰
وہ بغیر سبب کے حاجتیں پوری کرتا ہے ۹۰
حبِّ علی (علیہ السلام) ۹۱
بشر کا انجام ۹۲
بلعم باعور اور اس ابدی بد بختی ۹۲
تنبیہ ۹۲
حسنِ عاقبت ۹۳
فرعونی جاد وگر ۹۳
آسیہ ایک مومنہ خاتون تھی ۹۳
اصحابِ کہف ۹۴
موت سے پہلے بیداریا ۹۴
مسلمان ہوتے ہی وفات پا گئے ۹۴
ابدی خوش بختی ۹۵
کیا عقل مند نا امید ہوتا ہے ۹۵
نا امید ی گناہِ بزرگ ۹۶
خلقت انسانی پر ایک نظر ۹۶
نا امیدی کفر یا کم علمی کی علامت ہے ۹۷
ہر ایک کی فطرت امید سے وابستہ ہوتی ہے ۹۷
نا امیدی کا علاج ۹۸
پہلا: دنیا کے ماّدی امور کا علاج ۹۸
( ۱) قدرت خد ۹۸
( ۲) ذاتی تجربات ۹۸
( ۳) خارجی مثا لیں ۹۹
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور فرزند نرینہ ۹۹
حضرت زکریااور ان کے فرزند حضرت یحیٰی ۱۰۰
حضرت ایوب (علیہ السلام) اور بلا ئیں ۱۰۱
فقر و تنگ دستی میں حکمت پوشیدہ ہے ۱۰۱
خالی ہاتھ میں دولت ۱۰۱
مشکلا ت میں نا امیدی کا علاج ۱۰۳
قَابِلِ توجّہ ۱۰۵
بغیراستثناء سارے گناہ قابلِ بخشش ہیں ۱۰۵
لطیف نکات ۱۰۶
نا امیدی حرام ہے ۱۰۶
پیغمبر کے قاتل کی بھی توبہ قبول ہوتی ہے ۱۰۷
قبولیت دعاء میں بھی ناامیدی غلط ہے ۱۰۷
گناہوں کے باعث دعا قبول نہیں ہوتی ۱۰۸
قبولیت ِدعاء میں تاخیر باعث قربت ہے ۱۰۸
قنوط ۱۱۱
دعا سے نا امیدی برتنا یاس ہے ۱۱۱
بد گمانی سزا کا باعث ہے ۱۱۲
امید مغفرت اور دعا کی قبولیت ۱۱۲
دنیوی اور اخروی امور میں نا امیدی ۱۱۳
یا س کی نسبت قنوط بہتر ہے ۱۱۳
خدا کے قہر و غضب سے غفلت ۱۱۴
املاء ۱۱۵
بد کردار کو مہلت دینا (غلط ہے) ۱۱۶
استد را ج ۱۱۶
استد راج کا معنٰی ترکِ استغفار ہے ۱۱۷
ستد راج کا معنٰی ترکِ استغفار ہے ۱۱۸
خوف و امید معرفت کی نشانی ہے ۱۱۹
گناہ کے ارتکاب سے ڈرنا چاہیئے ۱۱۹
کردار و گفتار ہمیشہ خوف و رجآء کے درمیان ہونا چاہیئے ۱۲۰
حاجت پوری ہونے کی صورت میں بھی خوف لازم ہے ۱۲۱
جدائی سخت ترین د رد ہے ۱۲۱
آخر عمر تک کس حالت میں رہنا چاہیئے ۱۲۱
سب سے امتحان لیا جاتا ہے ۱۲۲
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آگ ۱۲۲
امتحان میں کام یاب ۱۲۲
نیکی کی توفیق اللّٰہ سے ہے ۱۲۳
دانش مند لوگ خدا سے ڈرتے ہیں ۱۲۳
حضرت ام سلمہ سے پیغمبر کی گفتگو ۱۲۴
انبیاء اور آئمہ ہدیٰ (علیہم السلام) سب سے زیادہ خائف رہتے تھے ۱۲۴
مومن خوف اور امید کے درمیان ہوتا ہے ۱۲۵
امید غرور کا باعث نہ بنے ۱۲۵
عمل خوف و امید کے مظہر ہے ۱۲۶
نصیحت ۱۲۷
دو خوف کے درمیان رہنا چاہیئے ۱۲۸
آخرت کے لیے سعی کرنا چاہیئے ۱۲۸
دعویٰ عمل سے ظاہر ہونا چاہیئے ۱۲۹
خدا سے اس طرح ڈرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو ۱۲۹
خوف و رجأ میں کامل شخصیت ۱۳۰
امیر المومنین (علیہ السلام) کی ذات ہمارے لیے نمونہ عمل ہے ۱۳۱
امیر المومنین کی وصیت کا کچھ حصہ ۱۳۲
ہم علی(علیہ السلام) کی پیروی کریں گے! ۱۳۲
خطرے کا اعلانا ۱۳۴
سالار قافلہ خوف زد ہ ہے ۱۳۴
مومن کی اہانت کرنے پر انسان ولایت سے خارج ہو جاتا ہے ۱۳۵
قتل نفس ۱۳۵
دائمی عذاب کفار کے لیے مخصوص ہے ۱۳۶
مسلمان کا خون اور مال محترم ہے ۱۳۶
ایک قتل تمام انسانیت کے قتل کے برابر ہے ۱۳۷
خود کشی بھی قتل کے برابر ہے ۱۳۷
تمام لوگوں کو زندہ کرنے کے برابر ۱۳۸
قاتل مسلمانی کی حالت میں نہیں مرت ۱۳۸
دوسری حدیث: ۱۳۸
قتل کے شرکاء بھی قاتل ہیں ۱۳۹
حمل گرانا بھی حرام ہے ۱۴۰
عمداً نطفہ ضایع کرنا حرام ہے ۱۴۰
قتل کی توبہ ۱۴۰
اتفاقی اور خطائی قتل ۱۴۱
والد ین کا عاق کرنا ۱۴۱
عاق والدین سے متعلق احادیث ۱۴۲
ولادین کا عاق قابل مغفرت نہیں ۱۴۳
عاق والدین کی نماز قبول نہیں ۱۴۴
احتضار کی حالت میں ایک جوان کے لیے پیغمبر کی شفاعت ۱۴۴
عاق سے کیا مراد ہے ۱۴۵
والدین سے نیک کرنا واجب ہے ۱۴۶
والد ین کی خدمت جہاد ہے بہتر ہے ۱۴۸
والدین سے نیکی گناہوں کا کفارہ ہے ۱۴۸
والدین کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے ۱۴۸
والدین کے ساتھ نیکی کرنے والے کے لیے ملائکہ کی دعائیں ۱۴۹
عا ق کا دنیوی اثر ۱۴۹
عاقِ والدین گدائی و بد نصیبی کا سبب بنتا ہے ۱۵۰
عاق والد ین کا بُرا انجام ۱۵۱
والدین کی دعا جلد مستجاب ہوتی ہے ۱۵۲
ماں حسنِ سلوک کی سب سے زیادہ سزا وار ہے ۱۵۲
ماں باپ کے حقوق ۱۵۳
ایک جوان اور اس کی اپاھج ماں ۱۵۳
والدین مسلمان ہوں یا کافر، ان کے ساتھ نیکی کرو ۱۵۳
سُنّی ماں باپ کے لیے دع ۱۵۴
تین چیزوں میں مومن و کافر برابر ہیں ۱۵۴
زکریا بن ابراہیم کو صادق آل محمد کی نصیحت ۱۵۵
والد ین سے زند گی اور موت کے بعد نیکی کرنا ۱۵۶
مرنے کے بعد والدین کے حقوق ۱۵۶
والدین کے عقوق ان کی وفات کے بعد ۱۵۶
عمل ایک ، ثواب متعدد ۱۵۷
والدین کے لیے دعا و استغفار ۱۵۷
اطاعت والدین واجب ہونے کے مواقع ۱۵۷
والدین کے امرو نہی میں تضاد ۱۵۸
والدین کی اجازت لازم ہے ۱۵۹
اولاد کے سفر کے متعلق قول شہید ۱۵۹
نماز جماعت سے منع کرنا ۱۶۰
احترام والدینا ۱۶۱
اولاد کے حقوق جو کہ والدین پر واجب ہیں ۱۶۲
نفقہ باپ پر واجب ہے ۱۶۳
اولاد کی شادی کے لیے کوشش کرنا ۱۶۳
د ینی تعلیم و تربیت ۱۶۳
اولاد سے پیار و محبت کرنا ۱۶۴
شفقت سے بچوں کو چومنا ۱۶۴
والدین کے بعد اولاد کے حق میں نیکی کرنا ۱۶۴
لڑکی نیکی کی زیاد ہ سزاوار ہے ۱۶۵
روحا نی باپ نیکی کا زیاد ہ مستحق ہوتا ہے ۱۶۵
ثوا ب زیاد ہ عذاب سخت ۱۶۶
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) و حضرت علی کی سپاس گزاری ۱۶۶
روحا نی والد ین کے عقوق ۱۶۷
حبس الحقوق من غیرعسر ۱۶۸
مجبوری و سختی کے بغیر کسی کا حق روکنا حقوق کا ادا نہ کرنا ۱۶۸
روزِ قیامت حقوق کا مطالبہ ۱۶۹
مفلس حقیقی ۱۷۰
قرض اورحقوق نہ ادا کرنے کے مقامات ۱۷۰
قرض کو لازمی طور پر ادا کرناچاہیئے ۱۷۱
قرض کا ادا نہ کرنا سب کے ساتھ خیانت ہے ۱۷۴
قرض د ینے اور لینے کے احکام ۱۷۴
قرض دینے کا ثواب اور نہ دینے کا عذاب ۱۷۵
لازمی طور پر قرض کی ادائیگی کا ارادہ رکھنا چاہیئے ۱۷۶
مجبور و مقروض کو مہلت دینا چاہئیے ۱۷۶
ہر روز کی مہلت کے لئے صدقے کا ثواب ۱۷۸
خد اوندِ عالم تلافی کرے گ ۱۷۸
وہ مقروض جس کی نیکیاں قرض خواہ کو دی جاتی ہیں ۱۷۹
معاوضہ کتنا ہوگ ۱۸۰
قرض ادا کرنے میں جلدی کرنا مستحب ہے ۱۸۱
لوگوں کے حقوق کی اد ا ئیگی ۱۸۴
(الف) مال کی مقدار اور صاحب مال کا معلوم کرنا ۱۸۵
(ب) مال کی مقدار کا معلوم ہونا اور صاحب مال کا معلوم نہ ہونا ۱۸۵
(ج) مال کی مقدار کا معلوم نہ ہونا اورمالک کا معلوم ہونا ۱۸۵
(د) مال کی مقدار اورمالک ہر دو کا معلوم نہ ہونا ۱۸۶
جہاد سے فرار ۱۸۷
ابتدا ئی اور دفاعی جہاد ۱۸۸
ہجرت کے بعد اعرابی ہونا ۱۸۹
ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ ۱۸۹
تم ہجرت کیوں نہیں کرتے ۱۹۰
حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے بعد اعرابی ہونا ۱۹۲
ضروری ہے کہ ہجرت فقیہ کی طرف کی جائے ۱۹۲
ہجرت کا واجب ہونا ہمیشہ کے لئے ہے ۱۹۳
مکہ معظمہ سے دوسری جگہ ہجرت نہیں کی جاسکتی ۱۹۳
واجب، مستحب اور مباح ہجرت ۱۹۴
ہجرت واجب ۱۹۴
ہجرت مستحب ۱۹۴
اہل سنّت کے علاقے سے ہجرت نہیں ہے ۱۹۴
شہید کے فرمان پر استدلال ۱۹۵
کفار کے علاقے میں تبلیغ ولایت ۱۹۵
اعرابیت اور ہجرت کے بعد اعرابی ہونے کے موارد ۱۹۶
احکام دین میں نادانی بھی اعرابیت ہے ۱۹۷
سیکھنے کے بعد عمل نہ کرنے والا بھی اعرابی ہے۔ ۱۹۸
جہالت وغفلت کا صحر ۱۹۹
علوم د ین کوترک کرنا ۲۰۰
معونة الظالمین والرکون الیھم ۲۰۱
ظالموں کی مدد کرنا اور ان سے رغبت ۲۰۱
ظالموں کی مدد کرنا اور ان کی طرف مائل ہونا گناہِ کبیرہ ہے۔ ۲۰۱
ظالموں کی اقسام ۲۰۳
ظالم کی ظلم میں مدد کرنا ۲۰۴
ظالم کی مدد اور روایات اہل بیت (ع) ۲۰۵
ظالم کی تعریف کرنا بھی حرام ہے ۲۰۶
ظالم کی طرف سے منصب قبول نہیں کرنا چاہئے ۲۰۷
وہ موارد جہاں پر حکومت قبول کرناجائز ہے۔ ۲۰۹
ایک صورت میں حکومت یا کسی منصب کا قبول کرنا واجب ہے ۲۱۲
ظالم کی ظلم کے علاوہ کسی اور کام میں مدد کرنا ۲۱۳
ایسی مدد جس پر حرام ہونا اور تقویت پہنچانا صدق نہ آئے ۲۱۶
صفوان جمال سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا فرمانا ۲۱۷
ایسے ظالم کی مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو ۲۱۸
ظلم کی روک تھام ضروری ہے ۲۱۹
ایسے ظالم کی اس کے ظلم کے علاوہ مدد کرنا کہ ظلم جس کا پیشہ نہ ہو ۲۲۰
گناہ میں بھی مدد نہیں کرنی چاہیئے ۲۲۰
گناہ میں مدد کرنے کی دو قسمیں ہیں ۲۲۱
گناہ گار کی گناہ کے علاوہ کسی کام میں مدد کرنا ۲۲۱
برائی سے روکنا اہم اور مقدم ہے ۲۲۳
مراتب کا لحاظ رکھنا چاہیئے ۲۲۴
تَرْک اِعَانة المظلومین ۲۲۵
مظلوموں کی مدد نہ کرنا ۲۲۵
ضروری نہیں کہ صرف مدد طلب کرنے والے ہی کی مدد کی جائے ۲۲۸
مظلوم کی مدد کرنا صرف مومن کے ساتھ مخصوص نہیں ۲۲۹
عابد زمین میں دھنس جاتا ہے ۲۳۱
وہ ثواب جو مومن کی مدد کرنے سے دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتے ہیں ۲۳۱
امام جعفر صادق علیہ السلام کا خط اھواز کے حاکم کے نام ۲۳۲
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور علی بن یقطینا ۲۳۴
جھوٹ ۲۳۸
جھوٹ بڑے گناہوں میں سے ایک ۲۳۸
فرشتے لعنت بھیجتے ہیں ۲۳۸
جھوٹ کی مذمت میں آیات ۲۳۹
( ۱) جھوٹ،فسق ہے ۲۴۰
( ۲) " قَوْلَ الزُّوْر" سے مُراد ۲۴۰
( ۳) جھوٹ بولنے والا مومن نہیں ہوت ۲۴۰
( ۴) جھوٹ اثم اور گناہ ہے ۲۴۰
( ۵) جھوٹا شخص ملعون ہے ۲۴۱
( ۶) جھوٹے کاسیاہ چہرہ ۲۴۱
( ۷) جھوٹ کا گناہ شراب سے بڑھ کر ہے ۲۴۱
( ۸) جھوٹے کا بدبو دار مُنہ ۲۴۲
( ۹) ملائکہ کا اظہارِبیزاریا ۲۴۲
جھوٹ کفر کا سبب ۲۴۲
جھوٹ نسیان اور بھول پیدا کرتا ہے ۲۴۴
جھوٹ بولنے والوں پر سخت عذاب ۲۴۴
جھوٹ کے مختلف درجات ۲۴۶
اللّٰہ، رسول اور امام کے خلاف جھوٹ ۲۴۶
جھوٹ خواہ کیسا بھی ہو ۲۴۷
آیات واحادیث کو اپنے مطلب میں ڈھال لینا ۲۴۷
ہرکسی کے بس کی بات نہیں ۲۴۸
خدا کے خلاف جھوٹ کا ایک مقام ۲۴۸
پیغمبروامام کے خلاف جھوٹ ۲۴۸
روایات کوسند کے ساتھ نقل کریں ۲۴۹
( ۱) روایت کے مضمون کو بیان کرنا ۲۵۰
( ۲) جھوٹی قسم اور گواہی سے اجتناب ۲۵۰
( ۳) جھوٹ کے مُضر اثرات ۲۵۱
( ۴) ہنسی مذاق میں جھوٹ ۲۵۱
جھوٹ سے مکمّل اجتناب ۲۵۱
مبالغہ ، جھوٹ نہیں ۲۵۳
کسی بھی جھوٹ کومعمولی نہیں سمجھنا چاہیئے ۲۵۳
جھوٹا خواب ۲۵۴
مثال میں جھوٹ ۲۵۵
امام حسن (علیہ السلام) نے مثال بیان فرمائی ۲۵۵
جھوٹ سننا بھی حرام ہے ۲۵۵
"توریہ" کیا ہے؟ ۲۵۶
"توریہ" کا حکم ۲۵۷
پہلی قسم ۲۵۷
دوسری قسم ۲۵۷
تیسری قسم ۲۵۷
وہ مقامات جہاں جھوٹ بولنا جائز ہے ۲۵۸
مسلمانوں کی نجات کے لئے جھوٹی قسم ۲۵۸
مالی نقصان اور جھوٹ ۲۵۹
جہاں تک ہوسکے توریہ کریں ۲۵۹
دو مومنوں میں جھوٹ کے ذریعے صُلح وصفائی ۲۶۰
دوسروں کا سخت پیغام ۲۶۰
لوگوں کے درمیان مصالحت ۲۶۰
آبِ کُر اور اتحادِ قلبی ۲۶۱
جنگ میں جھوٹ ۲۶۲
اہلیہ سے وعدہ ۲۶۲
خوفِ عذاب اور اعمالِ صالحہ ۲۶۲
جو زبا ن پر، وہی دل میں ۲۶۳
اظہارِ بندگی اور جھوٹ ۲۶۴
دعاوں میں جھوٹ ۲۶۴
اقرارِ آئمہ (علیہم السلام) اور جھوٹ ۲۶۵
کیا سچ کہتا ہے؟ ۲۶۵
امام (علیہ السلام) سے جھوٹ ۲۶۶
پھر ہم دعا کیسے کریں؟ ۲۶۶
ہر شخص کے مختلف مراتب ۲۶۷
پُختہ یقین اور انحراف ۲۶۸
جھوٹی قسم ۲۶۹
جھوٹی قسم کا عذاب ۲۶۹
رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے قسم کھانے کا حکم د ی ۲۶۹
جھوٹی قسم کے بُرے اثرات ۲۷۰
قسم کی اقسام ۲۷۱
قسم کھا ناکب واجب ہے ؟ ۲۷۱
قسم کھا نا مستحب ہے ۲۷۲
سیّد سّجاد (علیہ السلام) قسم نہیں کھاتے ۲۷۳
حق بات پر زور دینے کے لئے قسم ۲۷۳
قسم کھا نا مکروہ ہے ۲۷۴
حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کی ہدایت ۲۷۵
قابلِ احترام چیزوں کی قسم ۲۷۵
وہ قسم کہ جس کا کھانا ہمیشہ حرام ہے ۲۷۶
حرمت والی قسم کا کفّارہ ۲۷۶
امام جعفر صادق اور منصور دوانیقی ۲۷۷
کیا یہ بات حرمت والی قسم کے خلاف ہے؟ ۲۷۸
جھوٹی قسم سے توبہ ۲۷۸
قسم کب صحیح ہوگی؟ ۲۷۹
بے کار کام کی قسم ۲۸۰
قسم کی قسمیں ۲۸۱
قسم کی تین قسمیں ہیں: ۲۸۱
جھوٹی گواہی ۲۸۲
"قولِ زور" سے مراد غنا اور جھوٹ ۲۸۲
جھوٹی گواہی دینے والے پر عذابِ جہنم ۲۸۳
کسی چیز کا علم ہونے کے بعد گواہی دی جائے ۲۸۴
جھوٹی گوا ہی دینے والے کی رسوائی ۲۸۵
ان کی گواہی کو کبھی قبول نہ کیا جائے ۲۸۶
خسا رے کو پورا کرے ۲۸۶
اسِ گناہ سے توبہ ۲۸۷
سچی گواہی سے اجتناب ۲۸۷
سچّی گواہی دیجئے ، خواہ آپ کو نقصان ہو ۲۸۸
دشمن کے حق میں بھی انصاف ۲۸۸
سچّی گواہی چھپانے والے ۲۸۹
کیا گواہ بنناواجب ہے؟ ۲۹۰
وہ لوگ جن کی دُعا قبول نہیں ہوتی ۲۹۱
گواہی د ینا واجب اور اس کاچھپا نا حرام ۲۹۲
جس بات پر یقین ہے اس کی گواہی دو ۲۹۲
جب سچّی گواہی سے کسی پر ظلم ہو ۲۹۳
امام موسٰی کاظم سے ایک روایت ۲۹۴
جب گواہی دینے سے ضرر پہنچے ۲۹۴
نقصان اور فائدہ نہ ہونا ۲۹۵
وعدہ خلافی ۲۹۶
وَعدہ خَلافی کی قسمیں ۲۹۸
خداوندِ عالم نے دُعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے ۲۹۹
نذر اور عہد میں زبان سے کہنا ۳۰۰
بیکار کام کی نذر یا عہد ۳۰۰
نذر مفید کام کی ہونی چاہیئے ۳۰۱
عہدِ مطلق اور عہدِ مشروط ۳۰۱
نذرو عہد کا کفّارہ ۳۰۱
خدا سے عہد کی تین قسمیں ۳۰۲
وعدہ خلافی اور نفاق ۳۰۲
آپس میں عہد وپیمانا ۳۰۴
منافق، وعدہ خلافی کرتے ہیں ۳۰۵
کوئی چھوٹ نہیں ۳۰۶
مشرکوں سے معاہدہ ۳۰۶
حضور کا مشرکو ں سے ایفاءِ عہد ۳۰۷
قریش سے کئے گئے عہد کا احترام ۳۰۷
کافر باپ اپنے مسلمان بیٹے کو لے گی ۳۰۸
اپنی موت تک یہیں رہوں گا! ۳۰۸
جناب ِاسماعیل اور ایفاءِ عہد ۳۰۹
وعدہ خلافی کفر کا نیتجہ ہے ۳۰۹
مسلمان دھوکہ باز نہیں ۳۱۰
وعدہ خلافی اور جھوٹ ۳۱۰
اگر کسی معاملے میں شرط ہو ۳۱۱
ہر حال میں وعدہ وفاکرنا چاہیئے ۳۱۱
انشاء الله کہہ کرنذر وعہد کرنا ۳۱۲
گناہ انجام دینے کاوعدہ ۳۱۲
جنابِ ایوب نے اپنی زوجہ کو سوتا زیانے مارنے کی قسم کھائی ۳۱۲
گانا ۳۱۴
گانا کیا ہے؟ ۳۱۴
گانے کے بارے میں ۳۱۵
( ۱) گانا، گناہِ کبیرہ ۳۱۵
( ۲) آیت میں "لَہْوَالْحَدِیْثِ" سے مرادگانا ۳۱۵
قولَ الزُّوْرِ" کی تفسیر ۳۱۶
( ۴) گا نا "لَغُو" ہے ۳۱۶
( ۵) آپس میں نفاق اور گانا ۳۱۷
گانے کا پروگرام ۳۱۷
( ۷) گانا اور فقر و فاقہ ۳۱۷
( ۸) گانے کا عذاب ۳۱۸
رحمتِ خداسے محرومی ۳۱۸
گلوکار سے محبت ۳۱۸
بہشت میں سُریلی آوازیں ۳۱۹
جنت میں خوبصورت نغمے ۳۱۹
سخت تنبیہ ۳۱۹
گانا اور زنا ۳۲۰
گانے کے حرمت ۳۲۰
قرآنِ مجید گانے کے انداز میں ۳۲۱
اچھّی آواز میں قرآن پڑھنا ۳۲۱
خوبصورت آواز اور گانا ۳۲۱
لڑکی کی شادی میں گانا بجانا ۳۲۲
امانت میں خیانت ۳۲۲
قرآن مجید میں خیانت کار کاعذاب ۳۲۳
روایات میں خیانت کی مذّمت ۳۲۴
خیانت باعث فقر و فاقہ ۳۲۵
امانت خواہ کسی کی بھی ہو ۳۲۵
شیطان بہکاتاہے ۳۲۷
حضرت محمد کا لقب امینا ۳۲۸
خیانت کی قسمیں ۳۲۸
( ۱) امانتِ خد ۳۲۸
د ولت عقل اور امانت د اریا ۳۲۹
احکامِ دین دوسروں تک پہنچائیں ۳۳۰
اما نت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) ۳۳۰
اہل بیت رسول امانتدارہیں ۳۳۰
لوگوں کی امانت ۳۳۱
شرعی امانتیں ۳۳۲
لوگوں کے مال میں خیانت ۳۳۲
( ۱) دوسروں کے مال میں بغیر اجازت تصرف ۳۳۲
( ۲) امانت کی حفاظت میں لاپرواہی ۳۳۳
( ۳) امانت کے لوٹانے میں سستی ۳۳۴
کرائے پر دینا، عاریتاً دینا، رہن پر دینا اور مضاربہ ۳۳۵
مالک کی تلاش اور اس کی طرف سے صدقہ ۳۳۵
امانت دینے والا اور لینے والا بالغ وعاقل ہو ۳۳۶
قرآن میں امانتداروں کا مدح ۳۳۶
امانت رکھے ہوئے مال سے اپنا نقصان پورا کرلینا ۳۳۷
خیانت کا بوجھ اور روز قیامت ۳۳۸
( یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْما هُمْ ) سے مراد ۳۳۹
رسولِ اکرم اور امانت ۳۴۰
راز کی باتیں بھی امانت ہیں ۳۴۰
آپس کی باتیں بھی امانت ہیں ۳۴۱
راز کی باتیں بتا دینا امانت میں خیانت ہے ۳۴۲
مسلمانوں کے جنگی راز کفار تک پہنچانا ۳۴۳
چوریا ۳۴۴
تئیسواں گناہ چوریا ۳۴۴
چوری کی سز ۳۴۵
چوری کی حد جاری کرنے کی شرطیں ۳۴۷
مال اور آبرو کی حفاظت ۳۵۱
کس طرح حد جاری کی جائے؟ ۳۵۲
دِ یَہ ۳۵۲
ناپ تول میں کمی کرنا ۳۵۳
اعمال سجین میں ہوں گے ۳۵۳
ناپ تول میں کمی کرنے والا مومن نہیں ۳۵۴
پانچ گناہ اور پانچ مصیبتیں ۳۵۵
کاروبا رکرنے والوں کو امیر المومنین کی نصیحت ۳۵۶
آگ کے پہاڑوں کے درمیانا ۳۵۶
کم گن کردینا بھی حرام ہے ۳۵۷
کم بیچنے والا خریدار کا مقروض ہے ۳۵۷
دھوکہ بازی بھی کم فروشی ہے ۳۵۷
ملاوٹ حرام ہے ۳۵۸
خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حق میں کمی ۳۶۰
جواپنے لئے چاہتے ہو ۳۶۱
عدل وانصاف سب سے بہتر ہے ۳۶۱
انصا ف کا ترازو ۳۶۲
ہر چیز کا پیمانہ ہوا کرتا ہے ۳۶۳
علی(علیہ السلام) میزان اعمال ہیں ۳۶۳
حرام خوریا ۳۶۵
رشوت کی قسمیں ۳۶۷
خمس اور ہدیہ کے نام پر رشوت ۳۶۸
اپنا حق حاصل کرنے کے لئے رشوت د ینا ۳۶۸
جائز کام کے لئے رشوت لینا ۳۶۹
حرام خور کی پہچانا ۳۷۰
حرام خور کی دُعا قبول نہیں ہوتی ۳۷۱
حرام خور سنگ دل ہوجاتا ہے ۳۷۱
لقمہ حلال ۳۷۳
خدا، حرام روزی نہیں دیت ۳۷۴
انسان اپنا رزق مکمل طور پر حاصل کئے بغیر نہیں مرت ۳۷۴
چور رزقِ حلال سے محروم ہو گیا ۳۷۵
تکبر کرنا ۳۷۶
کبر اورتکبر اور اس کی قسمیں ۳۷۹
تکبر کی بناء پر دعا کو ترک کرنا بھی کفر ہے ۳۸۲
حرمات الہٰی کے مقابل تکبر کرنا ۳۸۳
تکبر دنیا اور آخرت کی ذلت کا سبب بنتا ہے ۳۸۴
پیغمبر اور امام کے مقابل تکبر کرنا ۳۸۴
تکبر کرنے والے جہنمی ہیں ۳۸۶
لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا ۳۸۷
لوگوں کے ساتھ تکبر ازروی قرآنا ۳۸۸
مال ودولت کی نمائش کرنا بھی تکبر ۳۹۰
تکبر کرنے والے حقیقی معنوں میں دیوانے ہیں ۳۹۱
اپنے آپ کی پاکیزہ کو ظاہر کرنا بھی تکبر ہے ۳۹۲
تکبر کی علامات ۳۹۳
تکبر کے مرض کا عملی علاج ۳۹۴
مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ ۳۹۶
نسبت بالا تر کو پیش نظر رکھنا چاہئیے ۳۹۶
پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حالات توضع کا نمونہ ہے ۳۹۷
تکبر کے بنیادی عوامل کا خاتمہ ہونا چاہئیے ۳۹۸
مقبول عمل کی اہمیت ہوتی ہے ۳۹۸
نسبی شرافت تکبر کا سبب نہیں بننی چاہئیے ۳۹۹
مال پر تکبر کرنا حماقت ہے ۴۰۰
جا ہ ومنصب ومقام امور اعتباری ہیں ۴۰۱
جسمانی قوت بھی وقتی ہے ۴۰۲
تکبر کے مرض کا عملہ علاج ۴۰۳
تواضع کی فضیلت ۴۰۳
عباد ت تکبر کو ختم کر د یتی ہے ۴۰۴
تواضع کے معنی اور اسکی قسمیں ۴۰۵
خداوند عالم کے ساتھ تواضع ۴۰۵
خدا کی نعمتوں کے سامنے عاجزی ۴۰۶
پیغمبر اور امام کے سامنے تواضع ۴۰۷
لوگوں کے ساتھ تواضع ۴۰۷
کافر اور فاسق کے ساتھ تواضع غلط ہے ۴۰۸
متکبر کے ساتھ بھی تواضع غلط ہے ۴۰۹
تواضع نہ کرنے اور تکبر کرنے میں فرق ہے ۴۰۹
تکبر اور بند گی ایک سا تھ سازگار نہیں ۴۱۰
دولت کی وجہ سے دولت مند کی تواضع کرنا ہلاکت کا سبب ہے ۴۱۱
دولت مند کی تواضع اور فقیر کا تکبر رضائے خدا کیلئے ۴۱۲
تواضع میں افراد کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ۴۱۳
تواضع کی علامات ۴۱۴
تکبر کی جڑ کا ٹنا چا ہئیے ۴۱۵
محاربة المسلمینا ۴۱۷
(مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنا) ۴۱۷
محا رب کون ہے ۴۱۸
خداوپیغمبر سے جنگ کرنا ۴۱۹
محارب کی حد ۴۱۹
چور سے دفاع کرنا ۴۲۲
( مردار ،خون اور خنزیر کا گوشت کھانا) ۴۲۳
مرد ا ر ۴۲۳
زمینی حیوانات ۴۲۴
ہوائی حیوانات ۴۲۵
آبی حیوانات ۴۲۵
حیوانات کا تذکیہ ۴۲۶
گوشت کھانے کے با رے میں گفتگو ۴۲۶
( ۱) گوشت کھانے کے بارے میں طرح طرح کے عقائد ۴۲۷
( ۲) کسی جاندار کو مارنا کیا رحم کے خلاف ہے؟ ۴۲۸
( ۳) اسلام نے زبح کا حکم کیوں دیا؟ ۴۳۰
ذ بح شرعی کے ذریعے تذ کیہ ۴۳۱
حرام گوشت جانور تذ کیہ سے پاک ہوجا تے ہیں ۴۳۲
مردار کیوں حرام ہے؟ ۴۳۳
خونا ۴۳۴
خون کے حرام ہونے کا سبب ۴۳۵
خنزیر ۴۳۶
گوشت خنزیر کے نقصانات کی تفصیل ۴۳۷
( ۲) جسمانی نقصانا ۴۳۸
( ۳) تڑیکینا ۴۳۸
( ۴) پیچش کی بیماریا ۴۳۹
تَرْکُ الصَّلٰاةِ عَمْداً ۴۴۱
(نماز کو عمدا ًترک کرنا) ۴۴۱
کچھ بے عقل لوگوں کی غلط فہمی ۴۴۳
قرآن مجید میں عذاب کا وعدہ ۴۴۳
ترک نماز پر پندرہ د نیوی اور اُخروی نتائج ۴۴۵
وہ تین بلائیں جو موت کے وقت سے متعلق ہیں: ۴۴۵
اور وہ تین بلائیں جو قبر میں اس تک پہنچیں گی: ۴۴۶
اور قیامت سے متعلق تین بلائیں یہ ہیں ۴۴۶
اہم ترین واجب الہیٰ ۴۴۶
نماز ترک کرنے والے کی مدد ۴۴۸
نماز ترک کرنے کی کچھ قسمیں ہیں ۴۴۹
اوّل وقت میں نماز پڑھنے کی تا کید ۴۵۱
واجبات نماز میں سے کسی واجب کو ترک کرنا ۴۵۲
عدم دفع الزکاة ۴۵۴
( زکوٰة نہ دینا) ۴۵۴
زکات نہ دینے والا کافر ہے ۴۵۸
زکوٰہ واجب ہونے کا سبب ۴۶۰
زکوٰة اور صد قہ مال کو زیاد ہ کرتا ہے ۴۶۱
زکوٰة کی قسمیں ان کے موارد اور مقدار ۴۶۴
تین طرح کے مویشیوں کا نصاب ۴۶۵
( ۱) گوسفند کے پانچ نصاب ہیں: ۴۶۵
( ۲) گائے کے دو نصاب ہیں: ۴۶۵
( ۳) اونٹ کے بارہ نصاب ہیں: ۴۶۶
سونے اور چاندی کانصاب ۴۶۶
سکّے دار چاندی کے دونصاب ہیں: ۴۶۶
سکے د ارسونے کے بھی دو نصاب ہیں ۴۶۷
زکوٰة فطرہ ۴۶۷
زکوٰة کا مصرف ۴۶۸
مستحب زکوٰة ۴۶۹
فوت شدہ نماز کی قضاء ضرور ادا کرنا چاہیئے ۴۶۹
د وسرے واجب انفاق ۴۷۰
رزق کی وسعتِ مال کی پاکیزگی کل کاذخیرہ ۴۷۱
وجوب خمس کے موارد اور ان کا مصرف ۴۷۲
وہ عیال کہ جن کا نفقہ واجب ہے ۴۷۳
( ۱) مستحب انفاق ۴۷۴
( ۲) ہد یہ ۴۷۴
( ۳) ضیافت ۴۷۴
( ۴) حق معلوم اورمحروم ۴۷۵
( ۵) حق حصاد ۴۷۶
( ۶) قرض الحسنہ ۴۷۶
( ۷) مقروض کو مہلت دینا یا اس کو بخشنا ۴۷۷
ضرورت مندوں کے لئے لباس ومسکن میں سخاوت ۴۷۷
( ۹) عزت واحترام نفس کی حفاظت ۴۷۸
( ۱۰) خیرات جاریہ ۴۷۸
حج کی توہینا ۴۸۰
استطاعت اور مقدرات کے وقت سال آگے ٹالنا حرام ہے ۴۸۰
وہ آیتیں جن سے حج ترک کرنے والا مراد ہے ۴۸۲
حج میں ڈھیل ڈالنے کے دُنیاوی نتائج ۴۸۲
حج کی فضیلت ۴۸۴
حج کے واجب ہونے کی شرطیں ۴۸۵
اوّل بالغ ہونا ۴۸۵
دوسری شرط عقل ۴۸۶
تیسری شرط اس کا آزاد ہونا (غلام نہ ہونا) ۴۸۶
پانچویں شرط یہ ہے کہ حج پر جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔ ۴۸۶
استطاعت کی شرطیں ۴۸۶
اوّل ۴۸۶
دوسری ۴۸۶
تیسری ۴۸۶
چوتھی ۴۸۶
پانچویں ۴۸۷
چھٹی ۴۸۷
زندہ یا مردہ کے لیے نائب مقرر کرنا مستحب ہے ۴۸۸
امام کا نائب پرہیز گار ہونا چاہیئے ۴۸۸
حج واجب ہونے کے اسباب ۴۸۹
خدا کی بند گی، فرشتوں سے مشابہت ۴۹۰
واجب کا ترک کرنا ۴۹۲
فتنہ اور دردناک عذاب ۴۹۳
واجبات کیا ہیں ؟ ۴۹۴
ماہِ رمضان کا روزہ ۴۹۴
خدا کی راہ میں جہاد ۴۹۵
امر بہ معروف اور نہی از منکر ۴۹۶
آیت میں نہی از منکر کو ترک کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ ۴۹۷
روایتوں میں امر بہ معروف اور نہی از منکر ۴۹۸
امر بہ معروف اور نہی از منکر واجب ہو جاتا ہے ۴۹۸
مشکوک یا ذرا سا نقصان قابلِ توجہ نہیں ہے ۵۰۰
کم اہم اور زیادہ اہم خیال رکھنا چاہیئے ۵۰۰
نہی از منکر کی قسمیں ۵۰۱
زند وں کے بیچ میں مردہ ۵۰۲
تولّااور تبرّ ۵۰۳
اہل بیت کے حق سے انکار ۵۰۴
گناہ پر اصرار ۵۰۶
اس شرط سے گناہ کی معافی کہ اس پر اصرار نہ ہو ۵۰۶
سب سے بڑا گناہ کبیرہ ۵۰۷
گناہ پر اصرار کیا ہوتا ہے ؟ ۵۰۷
( ۱) گناہ کو چھوٹا سمجھنا ۵۰۹
( ۲) گناہ پر خوشی ۵۱۰
( ۳) گناہ کا ظاہر کرنا ۵۱۰
( ۴) انسان کی سماجی حیثیت اور گناہ ۵۱۱
سچ مچ کے گناہ کبیرہ میں شمار ہے ۵۱۲
اصرار کا تعین عمومی اور روایتی ہے ۵۱۲
قابلِ توجہ ! ۵۱۳
الجنف فی الوصیة ۵۱۳
مفلس وارث کا لحاظ کرنا ضروری ہے ۵۱۳
وارث دوسروں پر مقدم ہے ۵۱۴
قاعدے کے مطابق ترکے کی تقسیم ۵۱۴
غیرواضح کبیرہ گناہ ۔ ۵۱۵
غیبت ۵۱۶
غیبت اور اہل بیت (علیھم السلام) کی روایات ۵۱۸
غیبت کے معنی اور اس کے مواقع ۵۲۰
غیبت کی قسمیں ۵۲۱
ایک غیر معین شخص کی غیبت ۵۲۲
غیبت کا کفارہ اور توبہ ۵۲۲
غیبت کے جائز ہونے کے مواقع ۵۲۳
غیبت سُننا بھی حرام ہے ۵۲۶
غیبت کی کاٹ کے مستثنٰی موقعے ۵۲۷
دوزخ اور دوزبانا ۵۲۸
چُغل خوری ۵۲۹
چغل خور کی وجہ سے بارش نہیں ہوتی ۵۳۰
چغل خوری کے معنی ۵۳۰
مومن کی آبروریزی کرنا ۵۳۳
مومن باعزت ہوتا ہے ۵۳۳
( ۱) مذاق اُڑانا ۵۳۴
آج مومنین کافروں پر ہنسیں گے ۵۳۵
شاید وہ لوگ بہتر ہوں ۵۳۵
( ۲) گالی اور طعنا ۵۳۶
بد ترین موت ۵۳۷
کبھی کبھی مظلوم بھی ظالم ہو جاتا ہے ۵۳۷
گالی دُہرا کر یا زیادہ سخت گالی دے کر حد سے تجاوز کرنا ۵۳۸
بدزبان پر بہشت حرام ہے ۵۳۸
گالی جس کسی کو دی جائے ۵۳۹
جواب میں گالی کا حرام ہونا ۵۳۹
( ۳) مومن کو ذلیل اور بے وقار کرنا ۵۴۰
( ۴) مومن کو بُرا بھلا کہنا اور رسوا کرنا ۵۴۱
( ۵) مومن کی ہجو شعر یا نثر میں ۵۴۳
( ۶) مومن کو دُ کھ د ینا ۵۴۳
پڑوسی کو ستانے کی سزا بہت سخت ہوتی ہے ۵۴۴
پڑوسی کے حقوق ۵۴۵
شوہر/ بیوی کو ستا نا ۵۴۶
مفلس کو ستا نا ۵۴۷
مکروفریب ۵۴۸
مکر، غد ر اور خد عہ کے معنی ۵۴۸
خدا سے دھوکا ۵۴۸
روحا نی مقاما ت کا دعویٰ ۵۴۹
بزرگا نِ دین سے دھوکے بازی ۵۴۹
خدا کے بندوں سے دھوکا ۵۵۰
منافقت اور تضاد بھی د ھوکا ہے ۵۵۲
منا فقت اور تضا د کیا ہے؟ ۵۵۲
ملاوٹ بھی لوگوں کے ساتھ دھوکا ہے ۵۵۳
مہنگا بیچنا بھی د ھوکا ہے ۵۵۴
ذخیرہ اندوزی ۵۵۴
حسد ۵۵۵
حسد آگ کی طرح ایمان کو کھا جاتا ہے ۵۵۶
کفر کی جڑ ۵۵۶
حسد کا ظاہر کرنا ۵۵۷
حسد اختیار میں ہوتا ہے ۵۵۸
حسد کو روکنے کا عِلمی اور عملی طریقہ ۵۵۸
حد یث رفع کی توجیہ ۵۵۹
با قی تما م روا یتوں سے تضا د نہیں ۵۶۰
رشک حرام نہیں ہے ۵۶۰
مومن سے دشمنی کرنا ۵۶۱
چپٹی لڑنا ۵۶۳
چپٹی کی حد ۵۶۳
دلالی اور بھاڑو پنا ۵۶۴
د لالی ۵۶۴
دلالی کی حد ۵۶۵
بھا ڑو پنا ۵۶۵
جلق ۵۶۶
جلق کا رواج ۵۶۷
جلق کے جسمانی وروحانی نقصانات ۵۶۷
بدعت ۵۶۹
بدعت کیا ہے؟ ۵۷۰
شہید کے نقطہ نظر سے بدعت کی قسمیں ۵۷۰
علّامہ مجلسی کا قول ۵۷۲
بدعت یعنی خدا کا حکم تبدیل کر د ینا ۵۷۲
غیر واجب حکم ۵۷۳
حرام مہینوں میں جنگ اورخدا کی راہ سے روکنا ۵۷۵
صد عن سبیل اللّٰہ کے واقعات اور معاملات ۵۷۵
کفرانِ نعمت ۵۷۶
نعمت نقمت ہو جا تی ہے ۵۷۷
ناشکرا پن ایک قسم کا کفر ہے ۵۷۷
ناشکرا پن اور اہل بیت علیھم السلام کی روایات ۵۷۸
کفرانِ نعمت کے معنی ۵۷۸
اگر شکر نہ کرے تو انسان جانور سے بھی گھٹیا ہے ۵۷۹
واسطوں اور ذریعوں سے انکار (کفران) ۵۸۰
نیکی کے واسطے شکریے کہ حقیقت ۵۸۱
ولایت سب سے اعلیٰ نعمت ہے ۵۸۲
علماء کے وجود سے انکار ۵۸۲
نائب امام کون ہے؟ ۵۸۳
روحانی عالم کے وجود سے انکار ۵۸۳
علماء کے وجود سے انکار پر سخت سزائیں ۵۸۴
فتنہ ۵۸۴
فتنے کے معنی ۵۸۵
بنی اُمیّہ کا فتنہ بد ترین تھا ۵۸۶
بدعت اور جاسوسی ۵۸۸
شیعوں کے بھید اور مشکل حد یثوں کا فا ش ۵۸۸
د ینی جماعتوں کی پراگندگی ۵۸۹
فتنے کا گناہ قتل سے بھی بڑا ہے ۵۸۹
وہ قتل جو سرکاٹنے سے بھی بدتر ہوتا ہے ۵۸۹
دنیوی فتنہ ۵۹۰
ظالم کے لیے جاسوسی ۵۹۰
کافروں کو ہتھیار بیچنا ۵۹۱
بہتانا ۵۹۱
سورة نور میں افک کی آیتیں ۵۹۲
بہتان اور اہل بیت علیھم السلام کی روایات ۵۹۴
بہتان کی قسمیں ۵۹۵
خدا پر بہتانا ۵۹۵
پیغمبر اکرم اور امام پر بہتانا ۵۹۵
لوگوں پر بہتانا ۵۹۵
کافر پر بھی بہتان لگانا حرام ہے ۵۹۶
دغابازی کا انجام ۵۹۷
اس کا علاج ایمان کا حاصل کرنا ہے ۵۹۷
بد گمانی ۵۹۷
بعض خیالات گناہ ہوتے ہیں ۵۹۷
اچھا گمان کرنا چاہیئے ۵۹۸
مومن سے بدگمانی حرام ہے ۵۹۹
قرآن مجید کی بے احترامی کرنا ۶۰۰
قرآن کا احترام مذ ہب کی ضروریات میں سے ایک ہے ۶۰۰
بہترین ثواب ۶۰۱
قرآن اور اس کے احکام کی توہین کے معنی ۶۰۲
ایک ضروری یاد دہانی ۶۰۳
ہتک حرمتِ کعبہ ۶۰۵
احترام کعبہ کے متعلق تاکید ۶۰۵
اہانت کے مراتب ۶۰۶
حرم میں الحاد ۶۰۶
حرم محل امن ہے ۶۰۷
حیوانات کاذبح کرنا اور نباتات کا اکھاڑنا ۶۰۸
احرام کے بغیر حرم میں داخل ہونا ۶۰۸
روبہ قبلہ یا پشت کر کے رفع حاجت کرنا ۶۰۸
ہتک حرمت مساجد ۶۰۹
( ۱) مسجد کا نجس کرنا حرام ہے ۶۰۹
( ۲) مسجد کی تطہیر واجب ہے ۶۱۰
( ۳) مسجد میں جنابت ،حیض اور نفاس کی حالت میں ٹھہرنا ۶۱۰
( ۴) مسجد کے مستحبات ۶۱۰
( ۵) مسجد کے مکروہات ۶۱۱
فضیلت کے اعتبار سے مساجد کے مراتب ۶۱۱
ہتک حرمت قبور معصومین (علیہم السلام) ۶۱۱
معصوم کی قبر کی توہین کفر ہے ۶۱۲
قبر معصوم کے کنارے نماز پڑھنا ۶۱۲
تربت حسینی کی ہتک حرمت ۶۱۳
تربت حسینی کی فضیلت ۶۱۴
جنازہ کے ساتھ تربت رکھنا ۶۱۶
تربت کے ساتھ میت کی تجہیز ۶۱۶
تربت ہر بیماری کا علاج ہے ۶۱۷
تربت کی توہین ہلاک کر دیتی ہے ۶۱۷
سچے خواب ۶۱۸
سوال وجواب ۶۲۰
اس کے علاوہ بھی گناہ بہت ہیں ۶۲۰
کچھ دوسرے گناہ بھی کبیرہ ہونے کا احتمال ہیں ۶۲۰
قطعی اور مسلم گناہان کبیرہ کی فہرست ۶۲۱
درج ذ یل گناہان کبیرہ ہونے کا احتمال ہیں ۶۲۱
توبہ ۶۲۲
حقیقت توبہ ۶۲۳
پشیمانی گناہ ترک کرنے کا سبب ہے ۶۲۴
توبہ کاملہ ۶۲۵
توبہ واجب ہونے کی دلیل اور اسکی فضیلت ۶۲۶
توبہ نصوح کیا ہے؟ ۶۲۶
توبہ کی فضیلت ۶۲۸