خودسازی (یعنی)تزكيه و تهذيب نفس

مؤلف: آيت اللہ ابراہيم اميني
اخلاقی کتابیں


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


خودسازی

ابراہیم امینی

ناشر: انتشارات شفق

نوبت چاپ: دہم ۱۳۸۰

تیراژ:۴۰۰۰

چاپ: قدس

شابک: ۰-۰۲۰-۴۸۵-۹۶۴


تقدیم

اس ناچیز تحریر کو جہاد اور شہادت کے راہ پیماؤں اور عرفاء کہ جنہوں نے سو سالہ راستے کو ایک شب میں طے کیا ہے اور محبوب کے عشق میں ایک لحظہ جلے ہیں اور بلند مقام (جو اپنے رب سے رزق حاصل کرتے ہیں) تک صعود کیا ہے کی خدمت میں اس امید پر تقدیم کرتا ہوں کہ وہ ایک نگاہ لطف ہماری طرف بھی مبذول کریں_

مؤلف

اس کتاب کا ترجمہ اس امید میں کر رہا ہوں کہ یہ میرے لئے صدقہ جاریہ قرار پاتے ہوئے پڑھنے والے اس پر عمل کر کے اس حقیر کے لئے دعاء مغفرت کریں اور دعا کریں میرا انجام محبت آل محمد(ص) پر قرار پائے_ اور خداوند عالم مجھے مرنے کے بعد اپنی جوار رحمت میں قرار دے_ آمین

مترجم


مقدمہ

الحمد لله رب العالمین و الصلوة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین حبیب اله العالمین ابی القاسم محمد صلی الله علیه و آله وسلم الذی بعثه رحمة للعالمین لیزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة و السلام علی عترته و ابل بیته الطیبین الطاهرین

خدایا ہمیں انسانیت کے سیدھے راستے اور کمال مدارج کے طے کرنے کی ہدایت فرما اور ہمارے تاریک دلوں کو معرفت اور یقین کے نور سے روشن کر_ خود پسندی، خودبینی خواہشات و تمینات نفسانی کے پردوں کو ہمارے دلوں سے ہٹا دے اور ہماری باطنی آنکھکو بے مثال جمال کے دیکھنے کی بینائی عطا کردے_ اور ہمیں اپنے آپ کو سنوار نے اور روح کو پاک و پاکیزہ کرنے کے راستوں کی طرف مدد فرما_ اپنے غیر کی طرف توجہہ اور محبت کو ہمارے دلوں سے نکال دے اور غفلت کے پردوں کو ہمارے دلوں سے دور کردے اور اپنی محبت اور انس کے شفاف چشمہ سے سیراب فرما_ تاکہ ہم اپنی طرف متوجہ ہوں اور باقی ماندہ گرانقدر عمر کو گذری ہوئی زندگی کی طرح سستی اور غفلت میں بسر نہ کردیں_

اس ناچیز بندہ جو خواہشات اور تمینات نفسانی میں گرفتار اور حیران و پریشان اور مقامات معنوی اور درجات کمال سے بے خبر اور مراتب سیر و سلوک سے نا واقف نے اس کا ارادہ کیا ہے کہ خود سازی تہذیب اور تزکیہ نفس کی بحث کے میدان میں وارد ہو اور قرآنی آیات اور پیغمبر اکرم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے فرامین اور تزکیہ اور


تہذیب نفس اور سیر اور سلوک الی اللہ کے قواعد کلیہ سے استفادہ کر کے پڑھنے والوں اور طالبین راہ معرفت کی خدمت میں پیش کرے اس امید پر کہ شاید سالکین راہ ہدایت کے لئے مددگار ثابت ہو اور خداوند عالم اس حقیر اور محروم پر احسان کرے اور میرا ہاتھ پکڑ کر نادانی خودخواہی غفلت کی تاریکیوں سے خارج کردے اور ذکر و انس و محبت و بقاء کی وادی کی طرف رہنمائی فرمائے شاید باقیماندہ عمر میں اگر ہو بعض گذرے ہوئے نقصانات کا جبران کر سکوں_ احب الصالحین و لست منہم نیکوں کو دوست رکھتا ہوں گر چہ ان میں سے نہیں ہوں_

اہم نقطہ

اس بحث میں وارد ہونے سے پہلے ایک مہم مطلب کا تذکرہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ خودسازی (اپنے آپ کو سدھارنا) اور تزکیہ نفس کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ انسان گوشہ نشین اور دنیاوی مشاغل کو ترک کردے اور اجتماعی اور معاشرتی ذمہ داریوں اور عہدوں سے دست بردار ہوجائے بلکہ خود اس کتاب کے مباحث میں واضح ہوجائیگا کہ گوشہ نشینی اور فردی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو قبول نہ کرنا خودسازی اور تکمیل و تہذیب نفس کے منافی ہے_ اسلام مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ با وجودیکہ عام لوگوں میں زندگی بسر کریں اور فردی اور اجتماعی وظائف انجام دیں اپنے آپ سے غافل نہ ہوں اور خودسازی اور تہذیب نفس کی تربیت کو اہمیت دین اور اسے مورد عنایت قرار دیں_

مؤلف


پیغمبروں کے بعثت کی اہم غرض نفوس کا پاکیزہ کرنا تھا

پیغمبروں کا سب سے بڑا ہدف اور غرض انسانی نفوس کی پرورش کرنا اور نفوس انسانی کو پاک و پاکیزہ بنانا تھا_

خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ '' خداوند عالم نے مومنین پر احسان کیا ہے کہ ان سے ایک رسول ان کے درمیان بھیجا ہے تا کہ وہ ان کے لئے قرآنی آیات کی تلاوت کرے اور ان کے نفوس کو پاک و پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گرچہ وہ اس سے پہلے ایک کھلی ہوئی گمراہی میں غرق تھے_(۱)

تعلیم و تربیت کا موضوع اس قدر مہم تھا کہ پیغمبروں کے بھیجنے کی غرض قرار پایا اور خداوند عالم نے اس بارے میں اپنے بندوں پر احسان کیا_ انسان کی فردی اور اجتماعی شخصیت کی سعادت اور دنیوی اور اخروی شقاوت اس موضوع سے وابستہ ہے کہ کس طرح انسان نے اپنے آپ بنایا ہے اور بنائے گا_ اسی وجہ سے انسان کا اپنے آپ کو بنانا ایک زندگی ساز سرنوشت ساز کام شمار ہوتا ہے_ پیغمبر(ص) آئے ہیں تا کہ خودسازی اور نفس انسانی کی پرورش اور تکمیل کا راستہ بتلائیں اور مہم ا ور سرنوشت ساز کام کی


رہنمائی اور مدد فرمائیں پیغمبر آئے ہیں تا کہ نفوس انسانی کو رذائل اور برے اخلاق اور حیوانی صفات سے پاک اور صاف کریں اور اچھے اخلاق اور فضائل کی پرورش کریں_ پیغمبر علیہم السلام آئے ہیں تا کہ انسانوں کو خودسازی کا درس دیں اور برے اخلاق کی شناخت اور ان پر کنٹرول اور خواہشات نفسانی کو قابو میں رکھنے کی مدد فرمائیں اور ڈرانے اور دھمکانے سے ان کے نفوس کو برائیوں اور ناپاکیوں سے پاک و صاف کریں_ وہ آئے ہیں تا کہ فضائل اور اچھے اخلاق کے پودے کو انسانی نفوس میں پرورش دیں اور بار آور بنائیں اور اپنی راہنمائی اور تشویق اور ترغیب سے ان کے مددگار بنیں_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ '' میں تمہیں اچھے اخلاق کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ خداوند عالم نے مجھے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے_(۲)

نیز پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' میں اسلئے بھیجا گیا ہوں تا کہ اچھے اخلاق کو نفوس انسانی میں مکمل کروں_(۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خداوند عالم نے پیغمبروں کو اچھے اخلاق کے لئے منتخب کیا ہے جو شخص بھی اپنے آپ میں اچھے اخلاق موجو د پائے تو خداوند عالم کا اس نعمت پر شکریہ ادا کرے اور جو شخص اپنے آپ میں اچھے اخلاق سے محروم ہو اسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں تضرع اور زاری کرنی چاہئے اور اللہ تعالی سے اچھے اخلاق کو طلب کرنا چاہئے_(۴)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اگر بالغرض میں بہشت کی امید نہ رکھتا ہوتا اور دوزخ کی آگ سے نہ ڈرتا ہوتا اور ثواب اور عقاب کا عقیدہ بھی نہ رکھتا ہوتا تب بھی یہ امر لائق تھا کہ میں اچھے اخلاق کی جستجو کروں کیونکہ اچھے اخلاق کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے_(۵)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ایمان کے لحاظ سے کاملترین مومنین وہ


ہیں کہ جن کے اخلاق بہتر ہوں_'' رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ '' قیامت کے دن نامہ اعمال میں کوئی چیز حسن خلق سے افضل نہیں رکھی جائیگی_(۶)

ایک آدمی رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ دین کیا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا ''حسن خلق'' وہ آدمی اٹھا اور آپ(ص) کے دائیں جانب آیا اور عرض کی کہ دین کیا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا ''حسن خلق'' یعنی اچھا اخلاق_ پھر وہ گیا اور آپ کے بائیں جانب پلٹ آیا اور عرض کی کہ دین کیا ہے ؟ آپ(ص) نے اس کی طرف نگاہ کی اور فرمایا کیا تو نہیں سمجھتا؟ کہ دین یہ ہے کہ تو غصہ نہ کرے_(۷)

اسلام کو اخلاق کے بارے میں خاص توجہہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں اخلاق کے بارے میں احکام کی نسبت زیادہ آیات قرآنی وارد ہوئی ہیں یہاں تک کہ قرآن کے قصوں میں بھی غرض اخلاقی موجود ہے_ تمہیں احادیث میں اخلاق کے بارے ہزاروں حدیثیں ملیں گی اگر دوسرے موضوعات سے زیادہ حدیثیں نہ ہوئیں تو ان سے کمتر بھی نہیں ہیں_ اخلاق کے بارے میں ثواب اور خوشخبریاں جو ذکر ہوئی ہیں دوسرے اعمال کے ثواب سے کمتر نہیں ہیں_ اور برے اخلاق سے ڈرانا اور سزا جو بیان ہوئی ہے وہ دوسرے اعمال سے کمتر نہیں ہیں_ اسی لئے اسلام کی بنیاد اخلاقیات پر تشکیل پاتی ہے_ مناسب نہیں کہ اسے دین کے احکام میں دوسرا درجہ دیا جائے اور دینداروں کے لئے آرائشے اور خوبصورتی کا درجہ دیا جائے اگر احکام میں امر اور نہی ہیں تو اخلاق میں بھی امر اور نہی موجود ہیں اور اگر احکام میں تشویق اور تخویف ثواب اور عقاب اور جزا ء اور سزا موجود ہے تو اخلاق میں بھی یہی امور موجود ہیں_

پس احکام شرعی اور اخلاق میں کونسا فرق موجود ہے؟ اگر ہم سعادت اور کمال کے طالب ہیں تو اخلاقیات سے لاپرواہی نہیں برت سکتے ہم اخلاقی واجبات کو اس بہانے سے کہ یہ اخلاقی واجبات ہیں ترک کردیں اور اخلاقی محرمات کو اس بنا پر کہ یہ اخلاقی محرمات ہیں بجالاتے رہیں_ اگر نماز واجب ہے اور اس کا ترک کرنا حرام اور موجب


سزا ہے تو عہد کا ایفا بھی واجب ہے اور خلاف وعدہ حرام ہے اور اس پر بھی سزا ہوگی پس ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

واقعی متدین اور سعادت مند وہ انسان ہے کہ جو احکام شرعیہ اور تکالیف الہی کا پابند ہو اور اخلاقیات کا بھی پابند ہو بلکہ سعادت اور کمال معنوی اور نفسانی میں اخلاقیات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جیسے کہ بعد میں ذکر کریں گے_

بزرگ شناسی و خودسازی

گرچہ انسان ایک حقیقت ہے لیکن یہ مختلف جہات اور اوصاف رکھتا ہے_ انسان کے وجود کا ایک مٹی کے جوہر سے جو بے شعور ہے آغاز ہوا ہے اور پھر یہ جوہر مجرد ملکوتی تک جاپہنچتا ہے خداوند عالم قرآن مجید میںفرماتا ہے کہ '' خداوند وہ ہے کہ جس نے ہر چیز کو اچھا پیدا کیا ے اور انسان کو مٹی سے بنایا ہے اور اس کی نسل کو بے وقعت پانی یعنی نطفہ سے قرار دیا ہے پھر اس نطفہ کو اچھا اور معتدل بنایا ہے اور پھر اس میں اپنی طرف منسوب روح کو قرار دیا ہے اور تمہارے لئے کان، آنکھ اور دل بنایا ہے اس کے باوجود تم پھر بھی بہت کم اس کا شکریہ ادا کرتے ہو_(۸)

انسان مختلف مراتب اور جہات رکھتا ہے ایک طرف تو وہ ایک جسم طبعی ہے اور اس جسم طبعی کے آثار رکھتا ہے دوسری طرف وہ جسم نامی ہے کہ وہ اس کے آثار بھی رکھتا ہے اور دوسرے لحاظ سے وہ ایک حیوان ہے اور وہ حیوان کے آثار بھی رکھتا ہے لیکن بالاخرہ وہ ایک انسان ہے اور وہ انسانیت کے آثار بھی رکھتا ہے جو حیوانات میں موجود نہیں ہیں_

لہذا انسان ایک حقیقت ہے لیکن یہ حقیقت وجود کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات کی حامل ہے_ جب یہ کہتا ہے کہ میرا وزن اور میری شکل و صورت تو وہ


اپنے جسم نامی ہونے کی خبر دے رہا ہوتا ہے اور جب وہ کہتا ہے کہ میری شکل و صورت تو وہ اپنے جسم نامی ہونے کی حکایت کر رہا ہوتا ہے اور جب وہ کہتا ہے کہ میرا چلنا اور شہوت اور غضب تو وہ اپنے حیوانی درجہ کی خبر دے رہا ہوتا ہے اور جب وہ کہتا ہے کہ میرا سوچنا اور عقل اور فکر تو وہ اپنے انسان اعلی درجہ کا پتہ دے رہا ہوتا ہے پس انسان کی میں اور خود مختلف موجود ہیں_ ایک جسمانی میں اور ایک میں نباتی اور ایک میں حیوانی اور ایک میں انسانی لیکن ان میں سے انسانی میں پر ارزش اور اصالت رکھتی ہے وہ چیز کہ جس نے انسان کو انسان بنایا ہے اور تمام حیوانات پر برتری دی ہے وہ اس کی روح مجرد ملکوتی اور نفخہ الہی ہے_

خداوند عالم انسان کی خلقت کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو ٹی سے خلق کیا ہے پھر اسے نطفہ قرار دیا ہے اور اسے ایک مضبوطہ جگہ رحم مادر میں قرار دیا ہے اور پھر نطفہ کو علقہ لو تھڑا اور پھر علقہ کو نرم گوشت بنایا ہے اور پھر نرم گوشت کو ہڈیاں بنایا ہے پھر ان ہڈیوں پر گوشت سے ڈھانپا ہے_ پر اس میں روح مجرد ملکوتی کو پھونکا ہے جس سے اسے ایک نئی مخلوق بنایا ہے_ شاباش اس کامل قادر پر جو بہترین خلق کرنے والا ہے_

انسان کی خلقت کے بارے خدائے دانا فرماتا ہے_ تبارک اللہ احسن الخالقین اسی ملکوتی روح کی وجہ سے انسان کایک ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ خداوند عالم کی طرف سے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ '' میں نے آدم (ع) کو پیدا کیا ہے اور اس روح کو جو میری طرف نسبت رکھتی ہے اس میں پھونکا ہے لہذا تم سب اس کی طرف سجدہ کرو_(۹)

اگر انسان تعظیم کا مورد قرار پایا ہے اور خدا نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو محترم قرار دیا ہے اور انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا ہے اور ہر قسم کی پاکیزہ اور لذیذ غذا اس کی روزی قرار دی ہے اور اپنی بہت سی مخلقو پر اسے


برتری دے ہے(۱۰) تو یہ سب اسی روح ملکوتی کے واسطے سے ہے لہذا انسان اگر خود سازی یعنی اپنے آپ کو سنوارنا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی انسانی میں کو سنوارے اور تربیت دے نہ وہ اپنی حیوانی میں یا جسمانی میں کی پرورش کرے پیغمبروں کی غرض بعثت بھی یہی تھی کہ انسان کو خودسازی اورجنبہ انسانی کی پرورش میں اس کی مدد کریں اور اسے طاقت فراہم کریں_ پیغمبر(ص) انسانوں سے فرمایا کرتے تھے کہ تم اپنے انسانی میں کو فراموش نہ کرو اور اگر تم نے اپنے انسانی خود اور میں کو خواہشات حیوانی پر قربانی کر دیا تو بہت بڑا نقصان تمہارے حصہ اور نصیب میں آجائیگا_

خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے '' اے پیغمبر_ ان سے کہہ دے کہ نقصان میں وہ اشخاص ہیں جو اپنے نفس انسانی اور اپنے اہل خانہ کے نفوس کو قیامت کے دن نقصان میں قرار دیں اور یہ بہت واضح اور کھلا ہوا نقصان ہے_(۱۱)

جو لوگ حیوانی زندگی کے علاوہ کسی دوسرے چیز کی سوچ نہیں کرتے در حقیقت وہی لوگ ہیں جنہوں نے انسانی شخصیت کو کھو دیا ہوا ہے کہ جس کی تلاش میں وہ کوشش نہیں کرتے_(۱۲)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''میں اس شخص سے تعجب کرتا ہوں کہ ایک گم کی ہوئی چیز کی تلاش تو کرتا ہے جب کہ اس نے اپنے انسانی روح کو گم کیا ہوا ہے اور اس کے پیدا کرنے کے درپے نہیں ہوتا_'' اس سے بدتر اور دردناک تر کوئی نقصان نہیں ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنی انسانی اور واقعی اور حقیقی شخصیت کو کھو بیٹھے ایسے شخص کے لئے سوائے حیوانیت کے اور کچھ باقی نہیں رہے گا_

روح انسانی اور نفس حیوانی

جو روایات اور آیات روح اور نفس انسانی کی بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ د و


قسم پر ہیں ایک قسم نفس انسانی کو ایک در بے بہا اور شریف ملکوتی کہ جو عالم ربوبی سے آیا ہے اور فضائل اور کمالات انسانی کامنشا ہے بیان کرتی ہیں اور انسان کو تاکید کرتی ہیں کہ ایسے کمالات اور جواہر کی حفاظت اور نگاہ داری اور تربیت اور پرورش میں کوشش کرے اور ہوشیار رہے کہ ایسے بے بہا در کو ہاتھ سے نہ جانے دے کہ اس سے اسے بہت زیاد نقصان اٹھانا پڑے گا_ نمونے کے طور پر قرآن مجید میں آیا ہے کہ '' اے محمد (ص) آپ سے روح کی حقیقت کا سوال کرتے ہیں ان کے جواب میں کہہ دے کہ یہ پروردگار کے عالم سے ہے اور وہ علم جو تمہیں دیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے_(۱۳)

اس آیت میں روح کو ایک موجود عالم امر سے جو عالم مادہ سے بالاتر ہے قرار دیا ہے_

امیرالمومنین علیہ السلام نے روح کے بارے میں فرمایا ہے کہ ''روح ایک در بے بہا ہے جس نے اس کی حفاظت کی اسے وہ اعلی مرتبہ تک پہنچائیگا اور جس نے اس کی حفاظت میں کوتاہی کی یہ اسے پستی کی طرف جائیگا_(۱۴)

آپ نے فرمایا ہے کہ '' جس شخص نے اپنی روح کی قدر پہچانی وہ اسے پست اور فانی کاموں کے بجالانے کی طرف نہیں لے جائی گی_(۱۵)

آپ نے فرمایا ''جس شخص نے روح کی شرافت کو پالیا وہ اسے پست خواہشات اور باطل تمینات سے حفاظت کردے گی_(۱۶)

''روح جتنی شریف ہوگی اس میں اتنی زیادہ مہربانی ہوگی_(۱۷)

آپ نے فرمایا کہ '' جس کا نفس شریف ہوگا وہ اسے سوال کرنے کی خواری سے پاک کردے گا_(۱۸)

اس قسم کی آیات اور روایات کے بہت زیادہ نمونے موجود ہیں_ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس انسانی ایک بیش بہا قیمتی در ہے کہ جس کی حفاظت و نگاہ داری اور تربیت کرنے میں کوشش کرنی چاہئے_

دوسری قسم کی روایات وہ ہیں کہ جس میں نفس انسانی کو ایک انسان کا سخت دشمن


تمام برائیوں کا مبدا بتلایا گیا ہے لہذا اس سے جنگ کی جائے اور اسے سرکوب کیا جائے ور نہ وہ انسان کے لئے بدبختی اور شقاوت کے ا سباب مہیا کردے گا_ نمونے کے طور پر جیسے قرآن مجید میں آیا ہے کہ '' جو شخص مقام رب سے ڈرتا ہو اور اپنے نفس کو خواہشات پر قابو پاتا ہو اس کی جگہ جنت ہے_(۱۹)

قرآن مجید حضرت یوسف علیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ '' میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا کیونکہ وہ ہمیشہ برائیوں کی دعوت دیتا ہے مگر جب خدا رحم کرے_(۲۰)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' تیرا سب سے بدترین دشمن وہ نفس ہے جو تیرے دو پہلو میں موجود ہے_(۲۱)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''نفس ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے جو شخص اسے امین قرار دے گا وہ اس سے خیانت کرے گا جس نے اس پر اعتماد کیا وہ اسے ہلاکت کی طرف لے جائیگا، جو شخص اس سے راضی ہوگا وہ اسے بدترین موارد میں وارد کردےگا_(۲۲)

نیز آپ نے فرمایا '' نفس پر اطمینان کرنا شیطان کے لئے بہترین اور مضبوط موقعہ ہوا کرتا ہے_(۲۳)

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''اے پروردگار کہ میں آپ سے نفس کی شکایت کرتا جو ہمیشہ برائی کی دعوت دیتا ہے اور گناہ اور خطاء کی طرف جلدی کرتا ہے او ربرائی سے علاقمند ہے اور وہ اپنے آپ کو تیرے غضب کا مورد قرار دیتا ہے اور مجھے ہلاکت کے راستوں کی طرف کھینچتا ہے_(۲۴)

اس قسم کی آیات اور روایات بہت زیادہ ہیں کہ جن سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفس ایک ایسا موجود ہے جو شریر اور برائیوں کا سرچشمہ ہے لہذا چاہئے کہ جہاد کر کے اس کی کوشش کو سرکوب کیا جائے_


ممکن ہے کہ بعض لوگ تصور کریں کہ ان دو قسم کی آیات اور روایات میں تعارض اور تزاحم واقع ہے یا خیال کریں کہ انسان میں دو نفس اور روح ہیں کہ ایک اچھائیوں کامنبع ہے اور دوسرا نفس حیوانی ہے جو برائیوں کا سرچشمہ ہے لیکن یہ دونوں تصور اور خیال غلط ہیں_ پہلے تو ان دو قسم میں تعارض ہی موجود نہیں ہے دوسرے علوم میں ثابت ہوچکا ہے کہ انسان کی ایک حقیقت ہے اور ایک روح ہے اور اس طرح نہیں ہے کہ انسانیت اور حیوانیت انسان میں ایک دوسرے سے جدا اور علیحدہ ہوں_

بلکہ نفس انسانی میں دو مرتبے اور دو وجودی حیثیت ہیں نیچے اور پست مرتبے میں وہ ایک حیوان ہے کہ جس میں حیوان کے تمام آثار اور خواص موجود ہیں اور ایک اعلی مرتبہ ہے کہ جس میں وہ ایک انسان ہے اور وہ نفخہ الہی اور عالم ملکوت سے آیا ہے_

جب یہ کہا گیا ہے کہ نفس شریف اور قیمتی اور اچھائیوں کا مبدا ہے اس کے بڑھانے اور پرورش اور تربیت میں کوشش کرنی چاہئے یہ اس کے اعلی مرتبے کی طرف اشارہ ہے اور جب یہ کہا گیا ہے کہ نفس تیرا دشمن ہے اس پر اعتماد نہ کرو تجھے ہلاکت میں ڈال دے گا اور اسے جہاد اور کوشش کر کے قابو میں رکھ یہ اس کے پست مرتبے کی طرف اشارہ ہے یعنی اس کی حیوانیت کو بتلایا گیا ہے_ جب کہا جاتا ہے کہ نفس کی تربیت اور پرورش کر اس سے مراد انسانی مرتبہ ہوتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ اس کو سرکوب اور مغلوب کر دے تو اس سے مقصود اس کا پست حیوانی مرتبہ ہوتا ہے_

ان دو مرتبوں اور دو حیثیتوں اور دو وجودوں میں ہمیشہ کشمکش اور جنگ رہتی ہے_ حیوانی مرتبہ کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ اپنی خواہشات اور تمینات کو پورا کرنے میں لگا رہے اور قرب الہی اور ترقی اور تکامل سے نفس انسانی کو روکے رکھے اور اسے اپنا غلام بنائے رکھے اس کے برعکس نفس انسانی اور مرتبہ عالی وجود انسانی ہمیشہ کوشش میں رہتا ہے کہ کمالات انسانی کے اعلی مراتب طے کرے اور قرب الہی کی مقام پر فائز


ہوجائے اس مقام تک پہنچنے کے لئے وہ خواہشات اور تمایلات حیوانی کو قابو میں کرتا ہے اور اسے اپنا نوکر اور غلام بنا لیا ہے اس کشمکش اورجنگ میں ان دو سے کون دوسرے پر غلبہ حاصل کرتا ہے اگر روح انسان اور ملکوتی نے غلبہ حاصل کر لیا تو پھر انسانی اقدار زندہ ہوجائیں گی اور انسان قرب الہی کے بلند مرتبے اور قرب الہی تک سیر و سلوک کر تا جائیگا اور اگر روح حیوانی اور حیثیت بہیمی نے غلبہ حاصل کر لیا تو پھر عقل کا چراغ بچھ جائیگا اور وہ اسے گمراہی اور ضلالت کی وادی میں دھکیل دے گا اسی لئے پیغمبر آئے ہیں کہ انسان کو اس مقدس جہاد اورجنگ میں حتمی اور یقینی مدد میں_


انسانی ارزش

انسان کی دو حیثیتیں اور دو وجود ہیں ایک وجود انسانی اور ایک وجود حیوانی_ انسان کی قدر اور قیمت انسانی وجود سے ہے اور حیوانی وجود سے نہیں ہے_ حیوانی وجود تو اس کا طفیلی ہے اور در حقیقت وہ کچھ بھی نہیں ہے_ گر چہ انسان حیوان تو ہے ہی اور اسے حیوانی وجود کے لئے اس کے لوازم زندگی حاصل کرنے کو اہمیت دینی بھی چاہئے_ لیکن انسان اس دنیا میں اس لئے نہیں آیا کہ وہ حیوانی زندگی بسر کرے بلکہ انسان اس اس جہان میں اسلئے آیا ہے کہ وہ اپنی حیوانی زندگی سے انسان زندگی کی تکمیل کرے اور اس حیوانی زندگی سے انسان زندگی کا فائدہ حاصل کرے انسان دونوں انسانی حیوانی زندگی میں کئی ایک چیزوں کا محتاج ہوتا ہے کہ جن کے تقاضے خود اس کے وجود میں رکھ دیئے گئے ہیں_ اس لحاظ سے کہ وہ ایک حیوان ہے اور نامی ہے پانی غذا مکان لباس ہوا محتاج ہے تا کہ وہ زندہ رہے پانی اور غذا کا محتاج اور اس لحاظ سے کہ ان کو پورا کرے اسے تلاش اور کوشش کرنی ہوتی ہے_ بھوک پیاس لذت پانی اور غذا کی طلب یہ اس کے وجود میں رکھ دی گئی ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے کہ نسل انسانی باقی رہے جنسی غریزہ اور بیوی کی طرف میلان اس کے وجود میں رکھ دیا گیا ہے_ انسان


اپنے باقی رہنے کا علاقمند ہوتا ہے زندگی کے باقی رکھنے میں حیوانی زندگی اور اس کے آثار کا پابند ہے جب غذا کو دیکھتا ہے اور بھوک کا احساس کرتا ہے تو غذا کھانے کی طرف میلان پیدا کرتا ہے اور اپنے آثار سے کہتا ہے کہ مجھے غذا حاصل کرنی چاہئے اور اسے کھانا چاہئے اور اس کے حاصل کرنے میں کوئی مانع آڑے آرہا ہو تو اس سے مقابلہ کرتا ہے_ یقینا ایسا احساس پر انہیں ہے کیونکہ اپنی زندگی کے دوام کے لئے انسان کو کام کرنا چاہئے تا کہ کھائے اور پیئے_ اسلام میں نہ صرف اس سے روکا نہیںگیا بلکہ اس کی سفارش بھی کی گئی ہے_ لیکن اس مطلب کو بھی جاننا چاہئے کہ حیوانی زندگی اخروی زندگی کا مقابلہ اور تمہید ہے یہ خود انسان کی خلقت کی غرض نہیں ہے بلکہ یہ طفیلی ہے اصیل نہیں ہے_ اگر کسی نے حیوانی زندگی کو ہی اصل اور ہدف قرار دے دیا اور دن رات خواہشات و تمینات حیوانی زندگی میں لگا رہا اور اس کی کوشش اور تلاش کرتا رہا اور اپنی زندگی کا ہدف خورد و نوش پہننا اور آرام کرنا اور شہوت رانی اور غرائز حیوانی کا پورا کرنا قرار دے دیا تو وہ ضلالت اور گمراہی میں ہی جا پڑے گا_ کیونکہ اس نے ملکوتی روح اور عقل انسانی کو حاکمیت سے دور کر کے فراموشی کے خانے میں ڈال دیا ہے ایسے شخص کو انسان شمار نہیں کرنا چاہئے بلکہ وہ ایک حیوان ہے جو انسان کی شکل و صورت میں ہے_ اس کے پاس عقل ہے لیکن وہ ایسی دور ہوئی ہے کہ جس سے انسانی کمالات اور فضائل کو نہیں پہچان رہا وہ کان اور آنکھ رکھتا ہے لیکن حقایق اور واقعات کو نہیں سنتا اور نہیں دیکھتا_ قرآن ایسے انسان کو حیوان بلکہ اس سے بھی گمراہ تر جانتا ہے کیونکہ حیوان تو عقل ہی نہیں رکھتا لیکن ایسا شخص عقل رکھتا ہے اور نہیں سمجھتا _

قرآن مجید میں ہے کہ '' اے پیغمبر اگر تیری دعوت کو قبول نہیں کرتے تو سمجھ لے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں اور کونسا شخص اس سے گمراہ تر ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کر ے گا_(۲۵) قرآن مجید فرماتا ہے _ کہ ''ہم نے بہت سے جنات اور انسان جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں کہ وہ اپنے سوء اختیار سے جہنم میں جائیں گے_


اس واسطے کہ ان کے پاس دل تو ہو لیکن اس سے سمجھتے نہیں_ آنکھیں رکھتے ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں_ کان رکھتے ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گمراہ ترین یہ غافل ہیں_(۲۶)

خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' وہ شخص کہ جس نے خواہشات نفس کو اپنا خدا بنا رکھا ہے با وجودیکہ وہ عالم ہے لیکن خدا نے اسے گمراہ کر رکھا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہرلگادی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں آپ نے دیکھا؟ کہ سوائے خدا کے اسے کون ہدایت کرے گا؟ وہ کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتا_(۲۷)

کون سا شخص اس سے بدبخت تر ہے جو ملکوتی نفس اور اپنی انسانی سعادت اور کمالات کو خواہشات نفس اور حیوانی زندگی پر قربان کر دیتا ہے؟ اور نفس انسانی کو حیوانی لذات کے مقابلے فروخت کر دیتا ہے؟

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''کہ خسارت میں وہ شخص ہے جو دنیا میں مشغول ہے اور اخروی زندگی کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ رہا ہے_(۲۸)

آپ نے فرمایا '' اپنے نفس کو پست کاموں سے روکے رکھ گرچہ تجھے ان امور کی طرف رغبت ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ جتنا تو اپنے نفس کو اس میں مشغول رکھتا ہے اس کا تجھے کوئی عوض حاصل نہ ہوگا_

اپنے آپ کو دوسروں کا غلام نہ بنا جب کہ خدا نے تجھے آزاد خلق کیا ہے_ وہ خیر جو شر کے وسیلے سے حاصل ہو وہ خیر نہیں ہے اور گشایش حاصل نہیں ہوتی مگر سختی کے ذریعے سے_(۲۹) _

آپ نے فرمایا '' وہ بری تجارت ہے کہ جس میں تو اپنے نفس کو اس کی قیمت قراردے اور جو تیرا ثواب اور اجر اللہ کے ہاں موجود ہے اسے اس تجارت کا عوض قرار دے دے_(۳۰)

انسان فقط حیوانی وجود کا خلاصہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک انسانی وجود بھی رکھتا ہے اسی حیثیت سے وہ جوہر مجرد اور ملکوتی موجود ہے جو عالم قدس سے آیا ہے اور حیوانی


خواہشات کے علاوہ بھی ارزش رکھتا ہے _ اگر انسان اپنی باطنی ذات اور ملکوتی روح میں فکر کرے اور اپنے آپ کو خوب پہچانے اور مشاہدہ کرے کہ وہ عالم قدرت و کرامت علم و رحمت وجود نور و احسان خیر و عدالت خلاصہ عالم کمال سے آیا ہے اور اسی عالم سے سنخیت اور مناسب رکھتا ہے_ تو اس وقت انسان ایک اور دید سے ایک اور عالم کو دیکھے گا اور کمال مطلق کو نگاہ کرے گا اور اسی عالم کی صفات سے علاقمند ہوگا اور اس گران بہار سرمایہ کیوجہ سے اپنے حیوانیت کے پست مرتبے سے حرکت کرے گا تا کہ کمال کے مدارج کے راستے طے کرے اور مقام قرب الہی تک جاپہنچے یہ وہ صورت ہے کہ اس کے سامنے اخلاقی اقدر واضح ہوجائیں گی اگر اخلاق اقدار مثل علم احسان، خیر خواہی، ایثار، عدالت جو دو سخا محروم طبقے کی حمایت سچائی امانتداری کا خواہشمند ہوا تو اس لحاظ سے اپنے آپ کو عالم کمال سے دیکھے گا اور ایسے مراتب اور اقدار کو اپنے انسانی بلند مقام کے مناسب پائیگا اور اسے اسی وجہ سے دوست رکھے گا یہاں تک کہ حاضر ہو گا کہ وہ حیوانی وجود اور اس کی خواہشات کو اس بلند مقام تک پہنچنے کے لئے قربان کر دے_

اخلاق اقدار اور مکارم روحانی اور معنوی جو ملکوتی روح انسان سے متناسب ہیں کہ ایک سلسلہ کا نام ہے اور انسان کمال تک پہنچنے کے لئے ان کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے_

اور اپنے آپ سے کہتا ہے کہ مجھے انہیں انجام دینا چاہئے اور اخلاقی انجام دی جانے والی اشیاء کا سرچشمہ شرافت اور کرامت نفس ہوا کرتا ہے_ اور کمال روحانی اور بلندی مقام تک پہنچنے کے لئے بجا لایا جاتا ہے_ جب انسان یہ کہتا ہے کہ مجھے راہ حق میں ایثار کرنا چاہئے یعنی ایثار تکامل ذات اور بلندی مرتبے کے لئے فائدہ مند ہے اور ضروری ہے کہ ایسے مرتبہ تک پہنچنا چاہئے_ معنوی کمالات تک پہنچنے کا راستہ صرف ایک ہے اور مقام انسان اس اقدار اور ان کی ضد کی پہچان میں مساوی خلق ہوئے ہیں_ اگر انسان اپنی محبوب اور پاک فطرت کی طرف رجوع کرے اور خواہشات اور ہوی


نفس کو دور پھینک کر خوب غور و فکر کرے تو وہ اخلاقی فضائل اور اس کی قدر و قیمت اور اس کی ضد اسی طرح اخلاقی پستیاں اور رذائل اور اس کی اضداد کو پہچان لے گا اور اس میں تمام انسان تمام زمانوں میں ایسے ہی ہوا کرتے ہیں اور اگر بعض انسان اس طرح کی مقدس سوچ سے محروم ہیں تو اس کی وجہ انکی حیوانی خواہشات اور ہوی نفس کی تاریکی نے اس کے نور عقل پر پردہ ڈال رکھا ہوتا ہے_ قرآن مجید بھی فضائل اور رذائل کی پہچان اور شناخت کو انسان کا فطری خاصہ قرار دیتا ہے جیسے فرماتا ہے کہ '' قسم نفس کی اور اس کی جس نے اسے نیک خلق کیا ہے اور انحراف اور تقوی کا اسے الہام دیا ہے جس نے اپنے نفس کی تربیت کی اسے پاک و پاکیزہ قرار دیا وہی کامیابی حاصل کرے گا اور جس نے اس کو گناہوں اور برے اخلاق سے آلودہ کیا وہ نقصان اٹھائے گا_(۳۱)

پیغمبر(ص) اسی غرض کے لئے مبعوث ہوئے ہیں تا کہ انسان کی فطرت کو بیدار کریں اور اس کے اخلاقی ناآگاہ شعور کو آگاہی میں تبدیل کریں وہ آئے ہیں تا کہ انسان کے فضائل اور کمالات کے طریقوں کو پہچاننے کی طرف متوجہ کریں اور اس پر عمل کر کے مقام قرب الہی کو پانے اور مدارج کمال کو طے کرنے کی مدد اور راہنمائی فرمائیں_ وہ آئے ہیں تا کہ انسان کو انسانیت کے بلند مقام اور انسانی اقدار کی ضرورت اور انکی حفاظت اور زندہ رکھنے اور قدر و قیمت کی طرف متوجہ کریں_ وہ آئے ہیں تا کہ انسان کو یہ نقطہ سمجھائیں کہ تو حیوان نہیں ہے بلکہ تو انسان ہے اور فرشتوں سے بالاتر ہے_ دنیاوی امور اور حیوانی تظاہر تیرے ملکوتی بلند مقام کے شایان شان نہیں تو اپنے آپ کو اس کے عوض فروخت نہ کر_

امام سجاد سے پوچھا گیا کہ سب سے معزز ترین او رشریف ترین اور با اہمیت انسان کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ '' جو انسان دنیا کو اپنے لئے اہمیت نہ دے اور اس کو اپنے لئے خطرہ قرار نہ دے_(۳۲)

اگر انسان اپنی انسان شخصیت کو پہچانے اور اپنی انسانی وجود کو قوی قرار دے اور


فضائل اور کمالات کو اس میں زندہ کرے اور رذائل اور پستیوں پر قابو پائے تو اس وقت انسان کو یہ مجال نہ ہوگی کہ وہ انسانی اقدار کو ترک کردے اور رذائل کے پیچھے دوڑے مثلا سچائی کو چھوڑ دے اور جھوٹ کے پیچھے جائے امانت داری کو چھوڑ دے اور خیانت کی طرف جائے_ عزت نفس کو چھوڑ دے اور اپنے آپ کو ذلت وخواری میں ڈالے احسان کو چھوڑ دے اور لوگ کو آزار اور تکلیف دینے کے پیچھے دوڑے_

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''جو شخص اپنے نفس کی عزت کرے اور اسے معزز قرار دے اس کی نگاہ میں خواہشات نفسانی ہیچ اور پست ہوں گی_''

پیغمبروں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ انسان کی فطرت کو بیدار کریں تا کہ وہ اپنے اس گرانقدر وجود کے جوہر کو پہچانے اور اپنا تعلق اور ربط ذات خدا سے دریافت کر لے اور تمام چیزوں کو رضا اور قرب پروردگار کے حاصل کرنے میں صرف کرے یہاں تک کہ کھانا پینا سونا جاگنا بولنا کام کرنا مرنا جینا سب کے سب پاک او راخلاقی ہوں_ جب انسان اللہ کا بندہ ہوجائے تو پھر اس کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے کوئی اور اس کی غرض و غایت نہ ہوگی اس کے تمام کام عبادت اور اخلاق اور ذی قدر ہونگے_قل ان صلواتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمین لا شریک له و بذلک امرت و انا اول المسلمین _

اسی لئے اپنے آپ کو پہچاننا اسلام میں ایک خاص قدر و قیمت رکھتا ہے_(۳۳)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''نفس کا پہچاننا سب سے زیادہ منفعت دار فائد ہے_'' آپ نے فرمایا کہ '' جس شخص نے اپنے آپ کو پہچانا اس کا کام بلند ہوگا_''

اپنے آپ کو پہچاننے سے مراد شناختی کارڈ نہیں بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ انسان اپنے واقعی مقام کو اس دنیا میں پہچانے اور جان لے کہ وہ فقط خاکی حیوان نہیں ہے بلکہ وہ عالم ربوبی کا عکس اور پرتو ہے اللہ کا خلیفہ اور اس کا امین ہے وہ ایک ملکوتی وجود ہے کہ جو دانا اور مختار اور آزاد خلق ہوا ہے تا کہ کمال غیر متناہی کی طرف سیر و سلوک کرے اور اپنی مخصوص خلقت کی وجہ سے اپنے آپ کو بنانے اور اس کی


پرورش کرنے کا پابند ہے انسان اپنی اس شناخت کیوجہ سے شرافت اور کرامت کو محسوس کرتا ہے اور اپنے مقدس اور پرارزش وجود کو پہچانتا ہے اور کمالات اور فضائل اس کے لئے پر معنی اور قیمت پیدا کرلیتے ہیں اس صورت میں وہ نا امیدی اور بے فائدہ اور بیہودہ خلق ہونے سے نجات حاصل کر لیتا ہے پھر زندگی اس کے لئے پر بہا اور مقدس اور غرض دار اور خوشنما ہوجاتی ہے_

باطنی زندگی

انسان اس دنیا میں ایک ظاہری زندگی رکھتا ہے کہ جو اس کے جسم اور تن سے مربوط ہے_ کھتا ہے ، پیتا ہے، سوتا ہے، چلتا ہے، اور کام کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ باطن میں ایک نفسانی زندگی بھی رکھتا ہے، اس حالت میں وہ دنیا میں زندگی کرتا ہے_ باطن میں وہ کمال اور سعادت اور نورانیت کی طرف بھی سیر و سلوک کرتا ہے یا تو وہ بدبختی اور شقاوت اور تاریکی کی طرف جا رہا ہوتا ہے یا وہ انسانیت کے سیدھے راستے سے بھٹکا ہوا ہوتا ہے اور تاریک وادی اور حیوانیت کے پست درجہ میں غلطاں ہوتا ہے یا وہ کمال کے مدارج طے کر کے نور اور سرور و کمال و جمال کے راستے طے کرتا ہے یا وہ عذاب اور تاریکی میں گر رہا ہوتا ہے گرچہ اکثر لوگ اس باطنی زندگی سے غافل ہیں لیکن وہ حقیقت اور واقعیت رکھتی ہے_

خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ '' وہ ظاہری دنیاوی زندگی کا علم تو رکھتے ہیں لیکن اخروی زندگی جو باطنی ہے سے غافل ہیں_(۳۴)

کسی چیز کا جان لینا یا نہ جاننا واقعیت میں موثر نہیں ہوتا_ قیامت کے دن جب انسان کی آنکھ سے مادیت کے سیاہ پردے اٹھا لیئے جائیں گے تو اس وقت وہ اپنی واقعیت اور اپنے آپ کو پہچانے گا_ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ '' قیامت کے دن انسان سے کہا جائیگا کہ تو دنیا میں اس امر سے غافل تھا لیکن آج تیری آنکھیں تیز بین


ہوچکی ہیں_(۳۵)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اخروی امراسی دنیا میں انسان کی ذات میں موجود ہیں لیکن انسان ان سے غافل ہے لیکن آخرت میں جب غفلت کے پردے ہٹا لے جائیں گے تو اس وقت ان تمام امور کا مشاہدہ کرے گا_

آیات او رآیات سے یوں مستفاد ہوتا ہے کہ انسان کا نفس اس جہان میں کئی ایک چیزوں کو بجالاتا ہے اور جن چیزوں کو وہ بجالاتا ہے وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہیں جو آخرت میں اس کی زندگی کا ماحصل اور نتیجہ آور ہوتی ہیں_

خداوند ارشاد فرماتا ہے کہ '' ہر نفس اس عمل کے مقابلے میں گروی ہے جو وہ بجا لاتا ہے_(۳۶)

ارشاد فرماتا ہے '' ہر نفس نے جو کچھ انجام دیا ہے اسے پورا کا پورا ملے گا_(۳۷)

خداوند فرماتا ہے کہ ''ہم کس کو اس کی قدرت سے زیادہ حکم نہیں دیتے_ انسان نے جو اچھائیں انجام دی ہیں وہ اسی کے لئے ہوں گی اور تمام برائیاں بھی اس کے اپنے نقصان کے لئے ہوں گی_(۳۸)

خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ '' ہر نفس جو خوبیاں انجام دی ہیں وہ اس کے سامنے حاضر ہوں گی اسی طرح جو برائی انجام دی ہے وہ آرزو کرے گا کہ کاش اس کے اور برے کام کے درمیان فاصلہ ہوتا_( ۳۹)

خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ '' جو شخص نیک عمل انجام دیتا ہے وہ اپنے لئے انجام دیتا ہے اور جوشخص برے کام انجام دیتا ہے وہ اس کے لئے زیان آور ہونگے پھر تم سب اللہ کی طرف لوٹ آوگے_(۴۰)

خداوند عالم فرماتا ہے ''جو شخص ذرہ برابر اچھے کام انجام دیتا ہے وہ انہیں قیامت کے دن دیکھے گا اور جو شخص ذرہ برابر برے کام انجام دیتا ہے وہ ان کو بھی دیکھے گا_''


خداوند فرماتا ہے '' انسان کے لئے نہیں ہوگا مگر وہ جسے تلاش اور حاصل کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش اور تلاش کو عنقریب دیکھے گا_(۴۱)

خدا فرماتا ہے '' جو اچھائی تم نے آگے اپنے لئے بھیجی ہے اسے اللہ کے پاس تم پاؤ گے_(۴۲)

خدا فرماتا ہے کہ '' جس دن مال اور اولاد تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے مگر وہ جو سالم قلب کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے_(۴۳)

پیغمبر علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا ''اے قیس تو مجبور ہے کہ اپنے لئے کوئی ساتھی بنائے جو قبر تیرے ساتھ ہوگا وہ ساتھی زندہ ہوگا اور تو اس کے ساتھ دفن ہوگا اگر تو تیرا ساتھی اچھا اور عمدہ ہوا تو وہ تیری عزت کرے گا اور اگر وہ پست اور برا ہوا تو وہ تجھے بھی پست اور ذلیل کرے گا تو قیامت میں اسی ساتھی کے ساتھ محشور ہوگا اور تجھے اس کے متعلق پوچھا جائے گا پس کوشش کر کہ تو اپنا نیک ساتھی اپنے لئے اختیار کرے کہ اگر وہ نیک اور صالح ہوا تو وہ تجھ سے انس و محبت کرے گا اور اگر ساتھی برا ہوا تو تجھے اس سے وحشت اور عذاب کے علاوہ کچھ نہ ملے گا اور وہ تیرا ساتھی تیرا عمل ہے_(۴۴)

انسان اس دنیا میں اخروی زندگی کے لئے اپنے نفس کی تربیت کرنے میں مشغول رہتا ہے اور عقائد اور افکار اور ملکات اور عادات محبت علاقمندی اور مانوس چیزوں کی طرف توجہات اوروہ کام جو روح انسانی پر اثر انداز ہوتے ہیں تدریجا ان سے ساختہ پرداختہ اور پرورش پاتا ہے انسان کس طرح بنے ان چیزوں سے مربوط ہوتا ہے_ معارف عقائد صحیح فضائل، مکارم اخلاق محبت اور خدا سے پیوند توجہہ اور اللہ سے انس خدا کی اطاعت اور اس کی رضایت کا حصول اور وہ نیک کام بجالانا کہ جس کا خدا نے حکم دیا ہے یہ انسان کی ملکوتی روح کو مدارج کمال تک پہنچاتے ہیں_ اور مقام قرب الہی تک لے جاتے ہیں_ انسان اسی جہان میں ایمان اور اعمال صالح کے سبب ایک پاکیزہ اور جدید زندگی حاصل کرتا ہے جو آخرت کے جہاں میں ظاہر اور آشکار ہوگی_

خداوند قرآن میں فرماتا ہے '' جو بھی مرد یا عورت نیک کام انجام دے جب کہ ایمان بھی رکھتا ہو تو ہم اسے پاک اور عمدہ زندگی میں زندہ کریں گے_(۴۵)


انسان اسی دنیا میں علاوہ ان نعمتوں کے کہ جن سے اس کا جسم لذت حاصل کرتا ہے وہ اخروی نعمت سے بھی بابہرہ ہو سکتا ہے اور ان کے ذریعے روح اور نفس کی پرورش بھی کر سکتا ہے اور اپنی معنوی اور اخروی زندگی کو بھی بنا سکتا ہے کہ جس کا نتیجہ آخرت کے جہان میں ظاہر ہوگا_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''خدا اپنے بندوں سے فرماتا ہے اے میرے دوست بندے دنیا میں عبادت کی نعمت سے فائدہ حاص کرو تا کہ اسی سے آخرت کے جہان میں فائدہ حاصل کر سکو_(۴۶)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''اللہ کا دائمی ذکر کرنا روح کی عذاب ہے_(۴۷)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''اللہ کے ذکر کو فراموش نہ کرو کیونکہ وہ دل کا نور ہے_(۴۸)

انسان کے لئے بہشت اور بہشتی نعمتیں جہنم اور جہنم کے عذاب عقائد اخلاق اور اعمال کے ذریعے سے ہی اسی دنیا میں بنتے ہیں گرچہ انسان اس سے غافل ہے لیکن آخرت کے جہان میں یہ سب حقیقت واضح ہوجائیگی _ امام سجاد علیہ السلام نے ایک بحیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ '' متوجہہ رہو جو بھی اولیاء خدا سے دشمنی کرے اور خدا کے دین کے علاوہ کسی دین کو اپنائے اور ولی خدا کے حکم کو پس پشت ڈالے اور اپنی رای اور فکر پر عمل کرے وہ شعلہ ور آگ میں ہوگا کہ جو جسم کو کھا جائیگی وہ بدن کے جنہوں نے اروح کو اپنے سے خالی کیا ہوا ہے اور بدبختی نے ان پر غلبہ کیا ہوا ہے یہ وہ مردے ہیں جو آگ کی حرارت کو محسوس نہیں کرتے اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ درد اور آگ کی حرارت کومحسوس کرتے _ اے صحابان بصیرت عبرت حاصل کر اور اللہ کا شکریہ ادا کرو کہ خداوند عالم نے تمہیں ہدایت کی ہے_(۴۹)

خداوند عالم فرماتا ہے '' جو لوگ یتیموں کا مال ظلم اور ناحق سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور یہ آگ عنقریب شعلہ ور ہوگی_(۵۰)

انسان اس دینا میں آخرت کے لئے نور و بصیرت فراہم کرتا ہے اور یا ظلمت


اور تاریکی اگر اس دنیا میں اندھا اور بے نور ہوا تو آخرت میں بھی اندھا اور بے نور محشور ہوگا خدا فرماتے ہے جو شخص اس دنیا میں اس کے دل کی آنکھ اندھی ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ محشور ہوگا_(۵۱)

علامہ طباطبائی رضوان اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نجف اشرف میں ایک شخص عابد زاہدانہ زندگی بسر کرتا تھا کہ جسے شیخ عبود کہا جاتا تھا کہا جاتا ہے کہ وہ ولی خدا اور اہل سیر و سلوک تھے ہمیشہ ذکر اور عبادت میں مشغول رہتے تھے کبھی قبرستان وادی السلام جاتے اور کئی گھنٹوں تک گوشہ و کنار میں بیٹھے رہتے تھے اور فکر کیا کرتے تھے اور کبھی ٹوٹی ہوئی قبروں میں چلتے اور نئی قبر کو با دقت ملاحظہ کرتے تھے ایک دن جب قبرستان میں سے واپس لوٹ رہے تھے کہ کئی ایک آدمیوں سے ان کی ملاقات ہوگئی اور انہوں نے ان سے ان کی احوال پرسی کی اور پوچھا اے شیخ عبودی وادی السلام نے کیا خبر تھی؟ اس نے کہا کہ کوئی تازہ خبر نہ تھی _ جب انہوں نے اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عجیب چیز دیکھی ہے کہ میں نے جتنا پرانی قبروں کو دیکھا ہے ان میں سانپ بچھو اور عذاب کی علامتیں نہیں دیکھیں_ میں نے ان میں سے ایک قبر والے سے سوال کیا (روایات میں آیا ہے کہ میت قبر میں سانپ اور دوسری موذی چیزوں سے عذاب دیا جاتا ہے لیکن میں تو آپ کی قبروں میں سانپ اور عقرب کو نہیں دیکھ رہا_ قبر والے نے جواب دیا ٹھیک ہے کہ سانپ اور بچھو ہماری قبروں میں نہیں لیکن تم خود ہو کہ دنیا سے سانپ اور بچھو اپنے ساتھ لے آتے ہو اور یہاں ان سے عذاب دیئے جاتے ہو_

انسانی باطنی اور نفسانی زندگی ایک حقیقی اور واقعی زندگی ہوا کرتی ہے انسان اپنی باطنی ذات میں ایک واقعی راستہ طے کرتا ہے یا وہ سعادت اور کمال تک پہنچاتا ہے او ر یا بدبختی اور ہلاکت لے جاتا ہے وہ واقعی ایک حرکت اور سیر کر رہا ہے اور عقائد اور اخلاق اور اعمال سے انسان مدد حاصل کرتا ہے_

خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' جو شخص بھی عزت چاہتا ہے _ تمام عزت خدا کے لئے اور اچھے کلمات اور(پاک نفوس) خدا کے لئے صعود کرتے ہیں اور عمل صالح کو خدا اوپر


لے جاتا ہے _(۵۲) ''

نفس کا فعلی ہونا کوشش اور کام کرنے کے نتیجہ میں ہوا کرتا ہے_ عقائد اور اخلاق اور ملکات اور خصائل اور ہمارے اعمال سے وہ بنتا ہے جو آخرت کے جہان میں اچھا یا برا نتیجہ جا کر ظاہر ہوتا ہے_

اپنے آپ کو کیسے بنائیں؟

علوم میں ثابت ہوچکا ہے کہ انسان کی روح جسمانی الحدوث اور روحانی البقا ہے یعنی اس کی ملکوتی روح کی وہی اس کی جسمانی صورت ہے کہ بالتدریج تکامل کرتے مرتبہ نازل روح انسانی تک آئی ہے اور اس کی حرکت اور تکامل ختم نہیں ہوگا بلکہ تمام عمر تک اسی طرح جاری اور ہمیشہ رہے گا_

ابتداء میں روح انسانی ایک مجرد اور ملکوتی موجود ہے جو عالم مادہ سے برتر ہے لیکن وہ مجرد تمام اور کامل نہیں ہے بلکہ ایسا مجرد کہ جس کا مرتبہ نازل جسم اور بدن سے تعلق رکھتا ہے یہ ایک دو مرتبے رکھنے والا موجود ہے اس کا ایک مرتبہ مادی ہے اور اس کا بدن سے تعلق ہے اور مادی کاموں کو انجام دیتا ہے اسی وجہ سے اس کے لئے استکمال اور حرکت کرنا تصور کیا جاتا ہے_

اس کا دوسرا مرتبہ مجرد ہے اور مادہ سے بالاتر ہے اسی وجہ سے وہ غیر مادی کام دیتا ہے ایک طرف وہ حیوان ہے اور جسم دار اور دوسری طرف انسان ہے اور ملکوتی_

جب کہ وہ صرف ایک حقیقت ہے اور اس سے زیادہ نہیں لیکن وہ حیوانی غرائز اور صفات رکھتا ہے اور حیوانات والے کام انجام دیتا ہے اس کے باوجود وہ انسانی غرائز اور صفات انسانی بھی رکھتا ہے اور انسانی کام انجام دیتا ہے_ اس عجیب الخلقت موجود کے بارے میں خداوند فرماتا ہے_فتبارک الله احسن الخالقین _ ابتداء میں ایک موجود خلق ہوا کہ جو کامل نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو بالتدریج بناتا ہے اور تربیت


اور پرورش کرتا ہے_

عقائد اور افکار ملکات اور عادات جو اعمال اور حرکات سے پیدا ہوتے ہیں وہ انسان کی ذات اور وجود کو بناتے ہیں اور تدریجا کمال تک پہنچاتے ہیں_ ملکات ایسے امور نہیں جو انسان کے وجود پر عارض ہوں بلکہ وہی انسان کے وجود اور ہویت کو بناتے ہیں_ تعجب انگیز یہ چیز ہے کہ افکار اور عقائد اور ملکات فقط انسان کے وجود میں موثر ہی نہیں ہوتے بلکہ اس کے ہونے میں بھی موثر ہیں یعنی عمل صالح کی وجہ سے جو افکار اور عقائد صحیح اور مکارم اخلاق اور عادات اور ملکات وجود میں آتے ہیں وہ انسان کو تدریجا مراتب کمال تک پہنچاتے اور لے جاتے ہیں اور ایک کامل انسان کے مرتبہ اور قرب الہی تک پہنچا دیتے ہیں اسی طرح جہالت اور عقائد باطل اور رذائل اخلاق اور ملکات اور قساوتیں جو برے کاموں کے انجام دینے سے موجود ہوتی ہیں وہ انسانی روح کو ضعف اور پستی کی طرف لے جاتے ہیں اور تدریجا اسے حیوانیت کے مرتبے تک لے جاتے ہیں اونتیجتًا حیوانیت کی تاریک وادی میں ساقط کردیتے ہیں اور انسان ان ملکات اور صفات حیوانی اور جہالت کے انبار اور استحکام سے اپنی باطنی ذات میں ایک حیوان کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے_ جی ہاں وہ واقعا حیوان ہوجاتا ہے اور حیوانی شخصیت پیدا کرلیتا ہے وہ پھر انسان نہیں ہوتا بلکہ حیوان ہوجاتا ہے بلکہ حیوانات س بھی بدتر کیونکہ یہ وہ حیوان ہے جو انسانی طریق سے حیوان ہوا ہے گرچہ ظاہری صورت میں وہ انسانی زندگی بسر کرتا ہے لیکن اندرونی طور سے وہ حیوان ہے اور پھر اسے خود بھی نہیں جانتا_ حیوانات کی حیوانیت ان کی شکل و صورت سے مخصوص نہیں ہوا کرتی بلکہ حیوانی نفس بغیر قید اور شرط اور تمایلات اور غرائز حیوانی کو بجالانے کا نام ہے_ بھیڑنا اپنی شکل و صورت کا نام نہیں ہے بلکہ درندگی اور بغیر قید اور شرکے غریزہ درندگی کے بجالانے اور عدم تعقل کا نام ہے_ عقل کی آنکھ اور اس کے درک کو اندھا کردیا ہے_ ایسا انسان ایک واقعی بھیڑیا میں تبدیل ہوچکا ہے_ انسان ایک ایسا بھیڑیا ہے جو جنگل کے بھیڑوں سے بھی زیاہ درندہ ہے کیونکہ انسان اپنی عقل


اور فہم کو درندگی کی صفت میں استعمال کرتا ہے_ بعض انسان ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں کہ جنہیں جنگل کے بھیڑیئےھی ا نجام نہیں دیتے کیا وہ بھیڑیئےہیں ہیں؟ نہ بلکہ وہ واقعی بھیڑیئےیں لیکن خود نہیں سمجھتے اور دوسرے بھی اسے انسان سمجھتے ہیں قیامت کے دن جب آنکھوں سے پردے ہٹادیئے جائیں گے ان کا باطن ظاہر ہو جائیگا اور یہ بھی معلوم ہے کہ جنت بھیڑیوں کی جگہ نہیں ہے بھیڑیا کبھی اولیاء خدا اور اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ بہشت میں نہیں رہ سکتا_ ایسا بھیڑیا جو انسان کے راستے سے بھیڑیا ہوا ہے ضروری ہے کہ جہنم کے تاریک اور دردناک عذاب میںڈ الا جائے اور زندہ رہے_ انسان اس دنیا میں ایک انسان غیر متعین ہے جو اپنی شخصیت خود بناتا ہے یا وہ انسان ہوجائیگا جو اللہ کے مقرب فرشتوں سے بھی بالاتر ہوجائیگا یا باطنی صورت میں مختلف حیوانات میں تبدیل ہوجائیگا یہ ایک ایسا مطلب ہے جو علوم عالی میں بھی ثابت ہوچکا ہے اور اسے اولیاء خدا بھی کشف اورمشاہدے کا ادعا کرتے ہیں اور نیز اسے پیغمبر اکرم اورائمہ علیہم السلام نے بھی فرمایا یعنی جو حقیقی انسان کو پہچانتے ہیں انہوں نے اس کی خبردی ہے_

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ ''لوگ قیامت کے دن ایسی شکلوں میں محشور ہونگے کہ بندر اور خنزیر کی شکلیں ان سے بہتر ہوں گی_(۵۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''مستکبر انسان چیونٹی کی شکل میں تبدیل ہوجائیگا جو محشر کے لوگوں کے پاؤں کے نیچے کچلا جائیگا یہاں تک کہ لوگوں کا حساب و کتاب ختم ہوجائے_(۵۵)

خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ ''قیامت کے دن وحشی حیوانات محشور ہونگے_(۵۶)


بعض مفسرین نے اس آیت کی یوں تفسیر کی ہے کہ وحشی حیوانات سے مراد وہ انسان ہیں جو حیوانات کی شکلوں میں محشور ہونگے ورنہ حیوانات تو مکلف نہیں ہوتے کہ جنہیں محشور کیا جائے_

خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' جن دن تمہاری جدائی اور علیحدگی کا دن ہوگا کہ جس وقت صور میں پھونکا جائیگا اور تم گروہ گروہ ہوجاؤگے(۵۷) _ بعض مفسرین نے اس آیت کی یوں تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن انسان ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے اور ہر ایک انسان اپنی باطنی صورت کے ساتھ اپنے دوسرے ہم شکلوں کے ساتھ محشور ہوگا_ اس آیت کی تفسیر میں ایک عمدہ حدیث پیغمبر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے_

معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ اس آیت یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا کے متعلق میں نے رسول خدا(ص) سے سوال کیا_آپ نے فرمایا کہ اے معاذ تم نے ایک بہت اہم موضوع سے سوال کیا ہے آپ کے اس حالت میں آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا کہ میری امت کے دس دستے مختلف شکلوں میں محشور ہوں گے جو ایک دوسرے سے مختلف ہونگے_ بعض بندروں کی شکل میں دوسرے بعض خنزیر کی شکل میں محشور ہونگے_ بعض کے سرزمین کی طرف اور پاؤں اوپر کی طرف ہونگے اور حرکت کریں گے_ بعض اندھے اور سرگرداں ہونگے_ بعض گونگے اور بہرے ہوں گے کہ کچھ نہیں سمجھتے ہونگے_

بعض اپنی زبانوں کو چباتے ہوں گے اور پیپ اور گندگی اورخون ان کے منہ سے نکل رہا ہوگا کہ جس سے محشر کے لوگ تنفر کریں گے_بعض کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہونگے _ اور بعض اس حالت میں محشور ہونگے کہ آگ کے ستون سے لٹکے ہوئے ہونگے _ بعض مردار سے بدبوتر ہونگے _ بعض مس کے لباس پہنے ہوئے ہونگے جو ان کے جسم سے چپکا ہوا ہوگا_ آپ نے اس وقت فرمایا کہ جو لوگ بندروں کی شکل میں محشور ہونگے وہ وہ ہونگے جو چغلخور اور سخن چین تھے اور جو خنزیر کی شکل


میں محشور ہونگے وہ رشوت خور اور حرام تھے اور جو الٹے لٹکے حرکت کر رہے ہونگے وہ سود خور تھے اور جو اندھے محشور ہونگے وہ ہونگے جو قضاوت اور حکومت میں ظلم و جور کرتے تھے اور جو اندھے اور بہرے محشور ہونگے وہ اپنے کردار میں خودپسند تھے اور جو اپنی زبان کو چبا رہے ہونگے وہ وہ علماء اور قاضی ہونگے کہ جن کا کردار ان کے اقوال کے مطابق نہ تھا اور جو ہاتھ پاؤں کٹے محشور ہونگے وہ ہمسایوں کوآزار اور اذیت دیتے تھے اور جو آگ کے ستوں سے لٹکے ہوئے ہونگے وہ بادشاہوں کے سامنے لوگوں کی شکایت لگاتے تھے اور جن کی بدبو مردار سے بدتر ہوگی وہ دنیا میں خواہشات اور لذت نفس کی پیروی کرتے تھے اور اللہ تعالی کا جو ان کے احوال میں حق تھا ادا نہیں کرتے تھے اور جن لوگوں نے مس کا لباس پہنا ہوا ہوگا وہ مستکبر اور فخر کیا کرتے تھے_(۵۸)

لہذا اخلاقی امور کو معمولی اور غیر مہم شمار نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ بہت اہم امور ہیں جو انسان کی انسانی اور باطنی زندگی کو بناتے ہیں یہاں تک کہ وہ کیسا ہونا چاہئے میں اثر انداز ہوتے ہیں_ علم اخلاق نہ صرف ایسا علم ہے کہ جو کس طرح زندہ رہنے کو بتلاتا ہے بلکہ یہ وہ علم ہے جو انسان کو کیسا ہونا چاہئے بھی بتلاتا ہے_


قرآن میں قلب

قلب کی لفظ قرآن اور احادیث میں بہت زیادہ استعمال ہوئی ہے اور اسے ایک خاص اہمیت قرار دی گئی ہے_ لیکن یہ خیال نہ کیا جائے کہ قلب سے مراد وہ دل ہے جو انسان کے دائیں جانب واقع ہوا ہے اور اپنی حرکت سے خون کو انسان کے تمام بدن میں پہچاتا ہے اور حیوانی زندگی کو باقی رکھتا ہے یہ اس لئے کہ قرآن مجید میں قلب کی لفظ کی طرف ایسی چیزیں منسوب کی گئی ہیں کہ جو اس قلب کے جس صنوبری سے مناسبت نہیں رکھتیں مثلاً

فہم اور عقل:

قرآن فرماتا ہے کہ ''کیوں زمین کی سیر نہیں کرتے تا کہ ایسا دل رکھتے ہوں کہ جس سے تعلق کریں_(۵۹)

عدم تعقل و فہم:

قرآن فرماتا ہے کہ ''ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے اور وہ نہیں سمجھتے_''

قرآن فرماتا ہے کہ ''انکے پاس دل موجود ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے اور آنکھیں موجود ہیں


لیکن وہ نہیں دیکھتے _(۶۰)

ایمان:

قرآن فرماتا ہے کہ ''خداوند عالم نے ان کے دلوں میں ایمان قرار دیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید کی ہے_ ( ۶۱)

کفر و ایمان:

قرآن فرماتا ہے_ '' جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کرتے ہیں اور تکبر بجالاتے ہیں''_

نیز فرماتا ہے_ ''کافر وہ لوگ ہیں کہ خدا نے ان کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر مہر ڈال دی ہے اور وہ غافل ہیں _(۶۲)

نفاق:

قرآن فرماتا ہے کہ '' منافق اس سے ڈرتے ہیں کہ کوئی سورہ خدا کی طرف سے نازل ہوجائے اور جو کچھ وہ دل میں چھپائے ہوئے ہیں وہ ظاہر ہوجائے(۶۳) _

ہدایت پانا:

قرآن میں ہے کہ ''جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کے دل کو ہدایت کرتا ہے اور خدا تمام چیزوں سے آگاہ ہے _(۶۴)

نیز خدا فرماتا ہے کہ ''گذرے ہوئے لوگوں کے ہلاک کردینے میں اس شخص کے لئے نصیحت اور تذکرہ ہے جو دل رکھتا ہو یا حقائق کو سنتا ہو اور ان کا شاہد ہو _(۶۵)

اطمینان اور سکون:

قرآن میں ہے کہ ''متوجہ رہو کہ اللہ کے ذکر اور یاد سے دل آرام حاصل کرتے


ہیں_(۶۶) اور نیز فرماتاہے _ خدا ہے جس نے سکون کو دل پر نازل کیا ہے تا کہ ان کا ایمان زیادہ ہو_(۶۷)

اضطراب و تحیر:

خدا قرآن میں فرماتا ہے ''فقط وہ لوگ جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور انکے دلوں میں شک اور تردید ہے وہ تم سے جہاد میں نہ حاضر ہونے کی اجازت لیتے ہیں اور وہ ہمیشہ شک اور تردید میں رہیں گے_( ۶۸)

مہربانی اور ترحم:

قرآن میں ہے '' ہم نے ان کے دلوں میں جو عیسی علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں مہربانی اور ترحم قرار دیا ہے_(۶۹)

نیز خدا فرماتا ہے کہ ''اے پیغمبر خدا ہے جس نے اپنی مدد اور مومنین کے وسیلے سے تیری تائید کی ہے اور ان کے دلوں میں الفت قرار دی ہے _(۷۰)

سخت دل:

قرآن میں خدا فرماتا ہے '' اے پیغمبر اگر تو سخت دل اور تند خو ہوتا تو لوگ تیرے ارد گرد سے پراگندہ ہوجاتے _(۷۱)

خلاصہ دل قرآن مجید میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے او راکثر کام اس کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں جیسے ایمان، کفر، نفاق، تعقل، فہم، عدم تعقل، قبول حق، حق کا قبول نہ کرنا_ ہدایت، گمراہی خطاء عہد طہارت_ آلودگی_ رافت و محبت غلظت_ رعب غصہ شک تردید_ ترحم_ قساوت_ حسرت آرام_ تکبر، حسد، عصیان و نافرمانی، لغزش اور دوسرے اس طرح کے کام بھی دل کی طرف منسوب کئے گئے ہیں جب کہ دل جو گوشت کا بنا ہوا ہے اور بائیں جانب واقع ہے وہ ان کاموں کو بجا نہیں لاتا بلکہ یہ کام انسان کے نفس اور روح کے ہوا کرتے ہیں_ لہذا یہ کہنا ہوگا کہ قلب اور دل سے


مراد وہ مجرد ملکوتی جوہر ہے کہ جس سے انسان کی انسانیت مربوط ہے _ قلب کا مقام قرآن میں ا تنا عالی اور بلند ہے کہ جب اللہ تعالی سے ارتباط جو وحی کے ذریعے سے انسان کو حاصل ہوتا ہے وہاں قلب کا ذکر کیا جاتا ہے_ خداوند قرآن مجید میں پیغمبر علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ''روح الامین (جبرئیل) نے قرآن کو تیرے قلب پر نازل کیا ہے تا کہ تو لوگوں کو ڈرائے_ نیز خدا فرماتا ہے اے پیغمبر(ص) کہہ دے کہ جو جبرائیل (ع) کا دشمن ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے کیونکہ جبرائیل (ع) نے تو قرآن اللہ کے اذن سے تیرے قلب پر نازل کیا ہے_( ۷۲) قلب کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ وہ وحی کے فرشتے کو دیکھتا اور اس کی گفتگو کو سنتا ہے خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ ''خدا نے اپنے بندے (محمد(ص) ) پر وحی کی ہے اور جو پیغمبر (ص) کے قلب نے مشاہدہ کیا ہے اسے فرشتے نے جھوٹ نہیں بولا_(۷۳ )

قلب کی صحت و بیماری

ہماری زندگی قلب اور روح سے مربوط ہے روح بدن کو کنٹرول کرتی ہے_

جسم کے تمام اعضاء اور جوارح اس کے تابع فرمان ہیں تمام کام اور حرکات روح سے صادر ہوتے ہیں_ ہماری سعادت اور بدبختی روح سے مربوط ہے_ قرآن اور احادیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ انسان کا جسم کبھی سالم ہوتا ہے اور کبھی بیمار اور اس کی روح بھی کبھی سالم ہوتی ہے اور کبھی بیمار_ خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ ''جس دن (قیامت) انسان کے لئے مال اور اولاد فائدہ مند نہ ہونگے مگر وہ انسان کہ جو سالم روح کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف لوٹے گا_(۷۴) _

نیز ارشاد فرماتا ہے کہ ''اس ہلاکت اور تباہ کاری میں تذکرہ ہے جو سالم روح رکھتا ہوگا_(۷۵) اور فرماتا ہے کہ '' بہشت کو نزدیک لائینگے جو دور نہ ہوگی یہ بہشت وہی ہے جو تمام ان بندوں کے لئے ہے جو خدا کی طرف اس حالت میں لوٹ آئے ہیں کہ جنہوں نے اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھا اور خدا نے ان کے لئے اس کا وعدہ کیا ہے


کہ جو خدا مہربان سے ڈرتا رہا اور خشوع کرنے والی روح کے ساتھ اللہ کی طرف لوٹ آیا ہے_(۷۶)

جیسے کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ ان آیات میں روح کی سلامت کو دل کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور انسان کی اخروی سعادت کو روح سے مربوط قرار دیا ہے کہ جو سالم قلب اور خشوع کرنے والے دل کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف لوٹ آیا ہو اور دوسری جانب خداوند عالم نے بعض والوں یعنی روح کو بیمار بتلایا ہے جیسے خداوند عالم فرماتا ہے کہ ''منافقین کے دلوں میں بیماری ہے کہ خدا ان کی بیماری کو زیادہ کرتا ہے_(۷۷) نیز فرماتا ہے کہ ''وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ یہود اور نصاری کی دوستی کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں کہ ایمان لانے کیوجہ سے مصیبت او گرفتاری موجود نہ ہوجائے(۷۸) _ ان آیات میں کفر نفاق کفار سے دوستی کو قلب کی بیماری قرار دیا گیا ہے_ اس طرح کی آیات اور سینکڑوں روایات سے جو پیغمبر (ع) اورائمہ علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں یوں مستفاد ہوتا ہے کہ انسان کی روح اور قلب بھی جسم کی طرح _ سالم اور بیمار ہوا کرتی ہے لہذا کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ دل کی بیماری کو مجازی معنی پر محمول کیا جائے_

خداوند عالم جو روح اور دل کا خالق ہے اور پیغمبر (ص) اور آئمہ علیہم السلام کہ جو انسان شناس ہیں دل او رروح کی بعض بیماریوں کی اطلاع دے رہے ہیں ہم کیوں نہ اس بیماری کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کریں_ وہ حضرات جو واقعی انسان شناس ہیں کفر نفاق حق کو قبول نہ کرنا_ تکبر کینہ پروری غصہ چغل خوری خیانت خودپسندی خوف برا چاہنا تہمت بدگوئی، غیبت، تندخوئی، ظلم، تباہ کاری، بخل، حرص، عیب جوئی، دروغ گوئی حب مقام ریاکاری حیلہ بازی، بدظنی، قساوت، ضعف نفس اور دوسری بری صفات کو انسان کی روح اور قلب کی بیماری بتلا رہے ہیں پس جو لوگ ان بیماریوں کے ساتھ اس دنیا سے جائیں گے وہ ایک سالم روح و دل خدا کے پاس نہیں جا رہے ہونگے


تا کہ اس آیت مصداق قرار پاسکیںیوم لاینفع مال و لا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم _

دل اور روح کی بیماریوں کو معمولی شمار نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ جسم کی بیماریوں سے کئی گناہ خطرناک ہیں اور ان کا علاج ان سے زیادہ سخت اور مشکل ہے_ جسم کی بیماریوں میں جسم کے نظام تعادل میں گڑبڑ ہوا کرتی ہے کہ جس سے درد اور بے چینی اور بسا اوقات کسی عضو میں نقص آجاتا ہے لیکن پھر بھی وہ محدود ہوتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ آخری عمر تک باقی رہتی ہیں_ لیکن روح کی بیماری بدبختی اور عذاب اخروی کو بھی ساتھ لاتی ہے اور ایسا عذاب اسے دیا جائیگا جو دل کی گہرائیوں تک جائیگا اور اسے جلا کررکھ دے گا_ جو روح اس دنیا میں خدا سے غافل ہے اور اللہ تعالی کی نشانیوں کا مشاہدہ نہیں کرتی اور اپنی تمام عمر کو گمراہی اور کفر اور گناہ میں گذار دیتی ہے در حقیقت وہ روح اندھی اور تاریک ہے وہ اسی اندھے پن اور بے نوری سے قیامت میں مبعوث ہوگا اور اس کا انجام سوائے دردناک اور سخت زندگی کے اور کچھ نہ ہوگا_

خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ '' جو ہماری یاد سے روگردانی کرتے ہیں ان کی زندگی سخت ہوگی اور قیامت کے دن ا ندھے محشور ہونگے وہ قیامت کے دن کہے گا خدایا مجھے کیوں اندھا محشور کیا ہے؟ حالانکہ میں دنیا میں تو بینا تھا خداوند عالم اس کے جواب میں فرمائے گا کہ میری نشانیاں تیرے سامنے موجود تھیں لیکن تو نے انہیں بھلا دیا اسی لئے آج تمہیں فراموش کردیا گیا ہے _(۷۹)

خدا فرماتا ہے '' تم زمین میں کیوں سیر نہیں کرتے تا کہ تم ایسے دل رکھتے ہوگے کہ ان سے سمجھتے اور سننے والے کان رکھتے ہوتے یقینا کافروں کی آنکھیں اندھی نہیں بلکہ انکے دل کی آنکھیں اندھی ہیں_(۸۰)

پھر فرماتا ہے '' جو شخص اس دنیا میں اندھی آنکھ رکھتا ہوگا آخرت میں بھی وہ نابینا اور زیادہ گمراہ ہوگا_(۸۱)


خدا فرماتا ہے کہ ''جس شخص کو خدا ہدایت کرتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جو شخص اپنے (اعمال کی وجہ) سے گمراہ ہوگا اس کے لئے کوئی دوست اور اولیاء نہ ہونگے اور قیامت کے دن جب وہ اندھے اور بہرے اور گونگے ان کو ایسے چہروں سے ہم محشور کریں گے_(۸۲)

ممکن ہے کہ اس گفتگو سے تعجب کیا جائے اور کہا جائے کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ قیامت کے دن انسان کی باطنی آنکھ آندھی ہوگی؟ کیا ہم اس آنکھ او رکان ظاہری سے کوئی اور آنکھ کان رکھتے ہیں؟ جواب میں عرض کیا جائیگا کہ ہاں جس نے انسان کو خلق فرمایا ہے اور جو اللہ کے بندے انسان شناس ہیں انہوں نے خبر دی ہے کہ انسان کی روح اور دل بھی آنکھ کان زبان رکھتی ہے گرچہ یہ آنکھ اور کان اور زبان اس کی روح سے سنخیت رکھتی ہے_ انسان ایک پیچیدہ موجود ہے کہ جو اپنی باطنی ذات میں ایک مخصوص زندگی رکھتا ہے_ انسان کی روح ایک تنہا مخصوص جہان ہے_ اس کے لئے اسی جہان میں نور بھی ہے اور صفا اور پاکیزگی بھی اس میں پلیدی اور کدورت بھی اس میں اس کے لئے بینائی اور شنوائی اور نابینائی بھی ہے لیکن اس جہاں کا نور اور ظلمت عالم دنیا کے نور اور ظلمت کا ہم سنخ نہیں ہے بلکہ اللہ اور قیامت اور نبوت اور قرآن پر ایمان روح انسانی کے لئے نور ہے_

خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ '' جو لوگ محمد(ص) پر ایمان لے آئے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں انہوں نے اس نور کی جو ان کی ہمراہ ہے پیروی کی ہے یہی لوگ نجات یافتہ اور سعادتمند ہونگے_(۸۳)

خدا فرماتا ہے_ ''یقینا تمہاری طرف خداوند عالم سے ایک نور اور کتاب مبین نازل کی گئی ہے_( ۸۴) نیز خدا فرماتا ہے کہ '' کیا وہ شخص کہ جس کے دل کو خدا نے اسلام کے قبول کرلینے کے لئے کھول دیا ہے اور اس نے اللہ تعالی کی طر ف سے نور کو پالیا ہے وہ دوسروں کے برابر ہے؟ افسوس اور عذاب ہے اس کے لئے کہ جس کا دل اللہ تعالی کے ذکر سے قسی ہوگیا ہے_ ایسے لوگ ایک واضح گمراہی میں ہونگے_( ۸۵) خداوند عالم


نے ہمیں خبردی ہے کہ قرآن ایمان، اسلام کے احکام اور قوانین تمام کے تمام نور ہیں_ انکی اطاعت اور پیروی کرنا قلب اور روح کو نورانی کردیتے ہیں یقینا یہ اسی دنیا میں روح کو نورانی کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ آخرت کے جہان میں جا ظاہر ہوگا_

خداوند عالم نے خبردی ہے کہ کفر نفاق گناہ حق سے روگردانی تاریکی روح کو کثیف کردیتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ آخرت کے جہان میں جا ظاہر ہوگا_ پیغمبروں کو اسی غرض کے لئے مبعوث کیا گیا ہے تا کہ وہ لوگوں کو کفر کی تاریکی سے نکالیں اور ایمان اور نور کے محیط میں وارد کریں_

خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' ہم نے قرآن کو تم پر نازل کیا ہے تا کہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکالے اور نور میں وارد کرے_( ۸۶)

مومنین اسی جہان میں نور ایمان تزکیہ نفس مکارم اخلاق یاد خدا اور عمل صالح کے ذریعے اپنی روح اور دل کو نورانی کرلیتے ہیں اور باطنی آنکھ اور کان سے حقائق کا مشاہدہ کرتے ہیں اور سنتے ہیں_ اس طرح کے لوگ جب اس جہان سے جاتے ہیں تو وہ سراسر نور اور سرور اور زیبا اور خوشنما ہونگے اور آخرت کے جہان میں اسی نور سے کہ جسے دنیا میں مہیا کیا ہوگا فائدہ حاصل کریں گے_ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' اس دن کو یاد کرو جب مومن مرد عورت کا نور انکے آگے اور دائیں جانب کو روشن کئے ہوگا (اور ان سے کہا جائیگا) کہ آج تمہارے لئے خوشخبری ایسی بہشت ہے کہ جس کی نہریں درختوں کے نیچے سے جاری ہیں اور تم ہمیشہ کے لئے یہاں رہوگے اور یہ ایک بہت بڑی سعادت اور خوشبختی ہے_(۸۷)

درست ہے کہ آخرت کے جہان کے نور کو اسی دنیا سے حاصل کیا جانا ہوتا ہے اسی لئے تو کافر اور منافق آخرت کے جہان میں نور نہیں رکھتے ہونگے_

قرآن میں آیا ہے کہ ''اس دن کو یاد کرو جب منافق مرد اور عورت مومنین سے کہیں گے کہ تھوڑی سے مہلت دو تا کہ ہم تمہارے نور سے استفادہ کرلیں ان سے


کہا جائیگا کہ اگر ہوسکتا ہے تو دنیا میں واپس چلے جاؤ اور اپنے لئے نور کو حاصل کرو _(۸۸)

قلب روح احادیث میں

دین کے رہبروں اور حقیقی انسان کو پہچاننے والوں نے انسان کی روح اور قلب کے بارے بہت عمدہ اور مفید مطالب بتلائے ہیں کہ ان میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کیا جاتا ہے کہ بعض احادیث کی بناپر قلب اور روح کو تین گروہ میں تقسیم کیا گیا ہے_ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''ہم تین طرح کے قلب رکھتے ہیں_ پہلی نوع_ ٹیڑھا قلب جو کسی خیر اور نیکی کے کاموں کو درک نہیں کرتا اور یہ کافر کا قلب ہے_ دوسری نوع وہ قلب ہے کہ جس میں ایک سیاہ نقطہ موجود ہے یہ وہ قلب ہے کہ جس میں نیکی اور برائی کے درمیان ہمیشہ جنگ و جدال ہوتی ہے ان دو میں سے جو زیادہ قوی ہوگا وہ اس قلب پر غلبہ حاصل کریگا_ تیسری نوع قلب مفتوح ہے اس قلب میں چراغ جل رہا ہے جو کبھی نہیں بجھتا اور یہ مومن کا قلب ہے_(۸۹)

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ ''آپ نے فرمایا کہ قلب کے لئے گناہ سے کوئی چیز بدتر نہیں ہے_ قلب گناہ کا سامنا کرتا ہے اور اس سے مقابلہ کرتا ہے یہاں تک کہ گناہ قلب پر غالب آجاتا ہے اور وہ قلب کو ان اور ٹیڑہا کردیتا ہے _(۹۰)

اور امام سجاد علیہ السلام نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ '' انسان کی چار آنکھیں ہیں اپنی دو ظاہری آنکھوں سے دین اور دنیا کے امور کو دیکھتا ہے اور اپنی دو باطنی آنکھوں سے ان امور کو دیکھتا ہے جو آخرت سے مربوط ہیں جب اللہ کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے قلب کی دو باطنی آنکھوں کو کھول دیتا ہے تا کہ اس کے ذریعے غیب کے جہان اور آخرت کے امر کا مشاہدہ کرسکے اور اگر خدا اس کی خیر کا


ارادہ نہ کرے تو اس کے قلب کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دیتا ہے _(۹۱)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' قلب کے دو کان ہیں ایمان کی روح آہستہ سے اسے کار خیر کی دعوت دیتی ہے اور شیطن آہستہ سے اسے برے کاموں کی دعوت دیتا ہے جو بھی ان میں سے دوسرے پر غالب آجائے وہ قلب کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے_(۹۲)

امام صادق علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نقل کیا ہے کہ ''آپ (ص) نے فرمایا کہ سب سے بدترین اندھاپن قلب کا اندھا پن ہے_(۹۳)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان کے قلب میں ایک سفید واضح نقطہ ہوتا ہے اگر گناہ کا ارتکاب کرلے تو اس کے قلب میں سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے اگر اس کے بعد توبہ کرلے تو وہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور اگر گناہ کرنے پر اصرار کرے تو وہ سیاہ نقطہ آہستہ سے بڑھنے لگ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس سفید نقطے کو گھیر لیتا ہے اس حالت میں پھر اس قلب کا مالک انسان نیکیوں کی طرف رجوع نہیں کرتا اور اس پر یہ آیت صادق آجاتی ہے کہ ان کے اعمال نے ان کے قلوب پرغلبہ حاصل کرلیا ہے اور انہیں تاریک کردیا ہے_(۹۴)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جس میں تقوی اور خوف خدا کم ہو اس کا قلب او ردل مرجاتا ہے اور جس کا دل مرجائے وہ جہنم میں داخل ہوگا _(۹۵)

حضرت امیرعلیہ السلام نے اپنے فرزند کو وصیت میں فرمایا کہ ''اے فرزند فقر اور ناداری ایک مصیبت اور بیماری ہے اور اس سے سخت بیماری جسم کی بیماری ہے اور دل کی بیماری جسم کی بیماری سے بھی زیادہ سخت ہے_ مال کی وسعت اللہ تعالی کی ایک نعمت ہے اس سے افضل بدن کا سالم رہنا ہے اور اس سے افضل دل کا تقوی ہے_(۹۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے_ کہ '' حضرت داود پیغمبر (ع) نے اللہ تعالی کی درگاہ میں عرض کیا خدایا تمام بادشاہوں کے خزانے میں تیرا خزانہ کہاں ہے؟


اللہ تعالی نے جواب میں فرمایا کہ میرا ایک خزانہ ہے جو عرش سے بڑا اور کرسی سے وسیع تر اور بہشت سے زیادہ خوشبودار اور تمام ملکوت سے زیادہ خوبصورت ہے اس خزانہ کی زمین معرفت اور اس کا آسمان ایمان_

اس کا سورج شوق اور اس کا چاند محبت اور اس کے ستارے خدا کی طرف توجہات اس کا بادل عقل اس کی بارش رحمت اس کا میوہ اطاعت اور ثمرہ حکمت ہے_ میرے خزانے کے چار دروازے ہیں پہلا علم، دوسرا عقل، تیسرا صبر، چوتھا رضایت، جان لے کہ میرا خزانہ میرے مومن بندوں کا قلب اور دل ہے_( ۹۷)

اللہ تعالی کے ان بندوں کے جو قلب اور دل اور روح کو پہنچانتے ہیں ان احادیث میں بہت مفید مطالب بیان فرمائے ہیں کہ کچھ کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں_

قلب کافر

کافر کے دل کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ الٹا اور ٹیڑہا ہے اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے_ اس طرح کا دل اپنی اصلی فطرت سے ہٹ چکا ہے اور عالم بالا کی طرف نگاہ نہیں کرتا وہ صرف دنیاوی امور کو دیکھتا ہے اسی لئے وہ خدا اور آخرت کے جہاں کا مشاہدہ نہیں کرتا اس کے بارے نیکی اور خوبی کا تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ نیک کام اس صورت میں درجہ کمال اور قرب الہی تک پہنچتے ہیں جب وہ رضا الہی کے لئے انجام دیئےائیں لیکن کافر نے اپنے دل کو الٹا کردیا ہے تا کہ وہ خدا کو نہ دیکھ سکے وہ اپنے تمام کاموں سے سوائے دنیا کے اور کوئی غرض نہیں رکھتا وہ صرف دنیا تک رسائی چاہتا ہے نہ خدا کا قرب_ اس طرح کا دل گرچہ اصلی فطرت والی آنکھ رکھتا تھا لیکن اس نے اپنی آنکھ کو اندھا کر رکھا ہے_ کیونکہ وہ واضح ترین حقیقت وجود خدا جو تمام جہاں کا خالق ہے کا مشاہدہ نہیں کرتا وہ اس دنیا میں اندھا ہے اور آخرت میں بھی اندھا ہوگا_ اس نے اس دنیا میں امور دنیا سے دل لگا رکھا ہے اور آخرت میں بھی اس کے لئے


امور دنیا سے ہی وابستگی باقی رہے گی لیکن وہ اسے وہاں حاصل نہ ہوں گے اور وہ اس کے فراق کی آگ میں جلتا رہے گا_ اس قسم کے دل میں ایمان کا نور نہیں چمکتا اور وہ بالکل ہی تاریک رہتا ہے_

۲_ کافر کے دل مقابل مومن کامل کا دل ہے_ مومن کے دل کا دروازہ عالم بالا اور عالم غیب کی طرف کھلا ہوا ہوتا ہے ایمان کا چراغ اس میں جلتا ہوا ہوتا ہے اور کبھی نہیں بجھتا_ اس کے دل کی دونوں آنکھیں دیکھ رہی ہوتی ہیں اور عالم غیب اور اخروی امور کو ان سے مشاہدہ کرتا ہے_ اس طرح کا دل ہمیشہ ہمیشہ کمال اور جمال اور خیر محض یعنی خداوند تعالی کی طرف متوجہ رہتا ہے اور اس کا تقرب چاہتا ہے وہ خدا کو چاہتا ہے اور مکارم اخلاق اور اعمال صالح کے ذریعے ذات الہی کی طرف حرکت کرتا رہتا ہے_ اس قسم کا دل عرش اور کرسی سے زیادہ وسیع اور بہشت سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے اور یہ قدرت رکھتا ہے کہ اللہ تعالی کا مرکز انوار الہی اور خزانہ الہی قرار پائے_ اس طرح کے دل کی زمین اللہ کی معرفت اور اس کا آسمان اللہ پر ایمان اور اس کا سورج لقاء الہی کا شوق اور اس کا چاند اللہ کی محبت_ مومن کے دل میں عقل کی حکومت ہوتی ہے اور رحمت الہی کی بارش کو اپنی طرف جذب کرلیتا ہے کہ جس کا میوہ عبادت ہے اس طرح کے دل میں خدا اور اس کے فرشتوں کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں ہوتی_

ایسا دل تمام کا تمام نور ا ور سرور اور شوق اور رونق اور صفا والا ہوتا ہے اور آخرت کے جہان میں بھی اسی حالت میں محشور ہوگا_ (ایسے دل والے کو مبارک ہو)

۳_ مومن کا دل جب کبھی گناہ سے آلودہ ہوجاتا ہے تو ایسے مومن کا دل بالکل تاریک اور بند نہیں رہتا بلکہ ایمان کے نور سے روشن ہوجاتا ہے اور کمال الہی اور تابش رحمت کے لئے کھل جاتا ہے لیکن گناہ کے بجالانے سے اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ موجود ہوجاتا ہے اور اسی طریق سے شیطن اس میں راستہ پالیتا ہے_ اس کے دل


کی آنکھ اندھی نہیں ہوتی لیکن گناہ کی وجہ سے بیمار ہوگئی ہے اور اندھے پن کی طرف آگئی ہے_ اس طرح کے دل میں فرشتے بھی راستے پالیتے ہیں اور شیطن بھی_ فرشتے ایمان کے دروازے سے اس میں وارد ہوتے ہیں اور اسے نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں شیطن اس سیاہ نقطہ کے ذریعے سے نفوذ پیدا کرتا ہے اور اسے برائی کی دعوت دیتا ہے_ شیطن اور فرشتے اس طرح کے دل میں ہمیشہ جنگ اور جدال میں ہوتے ہیں_ فرشتے چاہتے ہیں کہ تمام دل پر نیک اعمال کے ذریعے چھاجائیں اور شیطن کو وہاں سے خارج کردیں اور شیطن بھی کوشش کرتا ہے کہ گناہ کے بجالانے سے دل کو تاریک بلکہ تاریک تر کردے اور فرشتوں کو وہاں سے باہر نکال دے اور پورے دل کو اپنے قبضے میں لے لے اور ایمان کے دروازے کو بالکل بند کردے_ یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کو دکھیلنے پر لگے رہتے ہیں اور پھر ان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور اس کی کامیابی کتنی مقدار ہوتی ہے_ انسان کی باطنی زندگی اور اخروی زندگی کا انجام اسی سے وابستہ ہوتا ہے یہ وہ مقام ہے کہ جہاں نفس کیساتھ جہاد کرنا ضروری ہوجاتا ہے کہ جس کی تفصیل بیان کی جائیگی_

قسی القلب

انسان کی روح اور دل ابتداء میں نورانیت اور صفاء اور مہربانی اور ترحم رکھتے ہیں_ انسان کا دل دوسروں کے دکھ اور درد یہاں تک کہ حیوانات کے دکھ اور درد سے بھی رنج کا احساس کرتا ہے اسے بہت پسند ہوتا ہے کہ دوسرے آرام اور اچھی زندگی بسر کریں اور دوسروں پر احسان کرنے سے لذت حاصل کرتا ہے اور اپنی پاک فطرت سے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور عبادت اور دعا راز و نیاز اور نیک اعمال کے بجالانے سے لذت حاصل کرتا ہے اور گناہوں کے ارتکاب سے فوراً متاثر اور پشیمان ہوجاتا ہے_ اگر اس نے فطرت کے تقاضے کو قبول کرلیا اور اس کے مطابق عمل کیا تو


دن بدن اس کے صفا قلب اورنورانیت اور مہربان ہونے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے_

عبادت اور دعا کے نتیجے میں دن بدن عبادت اور دعا اور خدا سے انس و محبت میں زیادہ علاقمند ہوتا جاتا ہے_ اور اگر اس نے اپنے اندرونی اور باطنی خواہشات کو نظرانداز کیا اور اس کے مخالف عمل کیا تو آہستہ آہستہ وہ پاک احساسات نقصان کی طرف جانا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ ممکن ہے وہ بالکل ختم اور نابود ہوجائیں_ اگر اس نے دوسروں کے درد کے موارد کو دیکھا اور ان کے خلاف اپنے رد عمل کا مظاہرہ نہ کیا تو آہستہ آہستہ ان سے مانوس ہوجاتا ہے اور ان کے دیکھنے سے معمولی سا اثر بھی نہیں لیتا بلکہ ہوسکتا ہے کہ ایسے مقام تک پہنچ جائے کہ دوسروں کے فقر اور فاقہ اور ذلت و خواری بلکہ ان کے قید و بند اور مصائب سے لذت حاصل کرنا شروع کردے_ انسان ابتداء میں گناہ کرنے پر پشیمان اور ناخوش ہوتا ہے لیکن اگر ایک دفعہ گناہ کا ارتکاب کرلیا تو دوسری دفعہ گناہ کرنے پر تیار ہوجاتا ہے اور اسی طرح دوسری دفعہ گناہ کے بعد تیسری دفعہ گناہ کرنے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے اور گناہ کرنے کے اصرار پر ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ پھر گناہ کرنے سے پیشمانی کا احساس تو بجائے خود بلکہ گناہ کرنے کو اپنی کامیابی اور خوشی قرار دیتا ہے_ ایسے انسانوں کے اس طرح کے دل سیاہ اور الٹے ہوچکے ہوتے ہیں اور قرآن اور احادیث کی زبان میں انہیں قسی القلب کہا جاتا ہے شیطین نے ایسے دلوں پر قبضہ کرلیا ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے مقرب فرشتوں کو وہاں سے نکال دیا ہوتا ہے_ اس کے نجات کے دروازے اس طرح بند ہوجاتے ہیں کہ اس کے لئے توبہ کرنے کی امید بھی نہیں کی جاسکتی_

خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ ''جب ہماری مصیبت ان پر وارد ہوتی ہے تو توبہ اور زاری کیوں نہیں کرتے؟ ان کے دلوں پر قساوت طاری ہوچکی ہے اور شیطان نے ان کے برے کردار کو ان کی آنکھوں میں خوشنما بنادیا ہے_(۹۸)

نیز خدا فرماتا ہے_ '' افسوس ہے ان دلوں پر کہ جنہیں یاد خدا سے قساوت نے گھیر رکھا ہے ایسے لوگ ایک واضح گمراہی ہیں پڑے ہوئے ہیں_(۹۹)


امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''ہر مومن کے دل میں ایک سفید نقطہ ہوتا ہے اگر اس نے گناہ کا ارتکاب کیا اور دوبارہ اس گناہ کو بجالایا تو ایک سیاہ نقطہ اس میں پیدا ہوجاتا ہے اور اگر اس نے گناہ کرنے پر اصرار کیا تو وہ سیاہ نقطہ آہستہ سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس دل کے سفید نقطہ کو بالکل ختم کردیتا ہے اس وقت ایسے دل والا آدمی کبھی بھی اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور یہی خداوند عالم کے اس فرمان سے کہ ان کے کردار نے ان کے دلوں کو چھپا رکھا ہے مراد ہے_(۱۰۰)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان کے آنسو قساوت قلب کی وجہ سے خشک ہوجاتے ہیں اور قلب میں قساوت گناہون کے اثر کیوجہ سے ہوتی ہے_(۱۰۱)

رسول خدا نے فرمایا ہے '' چار چیزیں انسان میں قساوت قلب کی علامتیں ہیں_ آنسوں کا خشک ہوجانا_ قساوت قلب_ روزی کے طلب کرنے میں زیادہ حریص ہونا_

اور گناہوں پر اصرار کرنا_(۱۰۲)

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں_ '' اے میرے خدا میں دل کے سخت ہوجانے سے آپ سے شکایت کرتا ہوں ایسا دل جو وسواس سے ہمیشہ تغیرپذیر ہے اور آلودگی اور خشم سے جڑا ہوا ہے_ میں آپ سے ایسی آنکھ سے شکایت کرتا ہوں جو تیرے خوف سے نہیں روتی اور اس کی طرف متوجہ ہے جو اسے خوش رکھتی ہے_(۱۰۳)

پس جو انسان قلب کی سلامتی اور اپنی سعادت سے علاقمند ہے اس کو گناہ کے ارتکاب سے خواہ گناہ صفیرہ ہی کیوں نہ ہو بہت زیادہ پرہیز کرنی چاہئے_ اور ہمیشہ اپنی روح کو نیک کاموں عبادت دعا اور خدا سے راز و نیاز مہربانی احسان اور دوسروں کی مدد مظلوموں اور محروموں کی حمایت اور خیرخواہی نیک کاموں میں مدد عدالت خواہی اور عدالت برپا کرنے میں مشغول رکھے تا کہ آہستہ آہستہ نیک اعمال بجالانے کی عادت پیدا کرے اور باطنی صفا اور نورانیت کو حاصل کرلے تا کہ اس کی روح ملائکہ کا مرکز قرار پائے_


قلب کے طبیب اور معالج

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ دل اور روح بھی جسم کی طرح سالم ہوا کرتا ہے اور بیمار_ انسان کی اخروی سعادت اس سے مربوط ہے کہ انسان سالم روح کے ساتھ اس دنیا سے جائے_ ہمارے لئے ضروری ہے کہ روح کی سلامتی اور بیماریوں سے واقف ہوں_

ان بیماریوں کی علامات کو پہچانیں تا کہ روح کی مختلف بیماریوں سے مطلع ہوں ان بیماریوں کے اسباب اور علل کو پہچانیں تا کہ ان بیماریوں کو روک سکیں کیا ان بیماریوں کی پہچان میں ہم خود کافی معلومات رکھتے ہیں یا ان کی پہچان میں پیغمبروں کے محتاج ہیں_ اس میں کسی شک کی گنجائشے نہیں کہ ہم روح کی خلقت اور اس کے اسرار اور رموز سے جو اس موجود ملکوتی میںرکھے گئے کافی معلومات نہیں رکھتے_

قاعدتا ہم اپنی روحانی اور باطنی زندگی سے بے خبر ہیں_ نفسانی بیماریوں کے اسباب کو اچھی طرح نہیں جانتے اور ان بیماریوں کی علامتوں کی بھی اچھی طرح تشخیص نہیں کرسکتے اور ان مختلف بیماریوں کا علاج اور توڑ بھی نہیں جانتے اسی لئے پیغمبروں کے وجود کی طرف محتاج ہیں تا کہ وہ ہمیں اس کے طریق کار کی ہدایت اور رہبری کریں_ پیغمبر روح کے معالج اور ان بیماریوں کے علاج کے جاننے والے ہوتے ہیں_ اور اللہ تعالی کی تائید اور الہامات سے روح کے درد اور اس کے علاج کو خوب جانتے ہیں وہ انسان شناسی کی درسگاہ میں بذریعہ وحی انسان شناس بنے ہیں اور اس ملکوتی وجود کے اسرار اور رموز سے اچھی طرح مطلع اور آگاہ ہیں_ وہ صراط مستقیم اور اللہ کی طرف سیر و سلوک کو خوب پہچانتے ہیں اور انحراف کے اسباب اور عوامل سے واقف ہیں اسی لئے وہ انسان کی اس سخت راستے کو طے کرنے میں مدد کرتے ہیں اور انحراف اور کجروی سے روکتے ہیں_ جی ہاں پیغمبر اللہ کی طرف سے معالج ہیں کہ تاریخ انسانی


میں انہوں نے انسان کی خدمت انجام دی ہے اور ان کی ایسی خدمات کئی درجہ زیادہ بدن کے معالجین سے بڑھ کر کی ہے پیغمبروں نے جوہر ملکوتی ورح کو کشف کرتے ہوئے انسانوں کو اس کی پہچان کرائی ہے اور ان کی انسانی شخصیت کو زندہ کیا ہے_ پیغمبر(ص) تھے کہ جنہوں نے انسانوں کا مکارم اخلاق اور معارف اور معنویات سے روشناس کیا ہے اور قرب الہی کے راستے اور سیرو سلوک کی نشاندہی کی ہے_ پیغمبر تھے کہ جنہوں نے انسان کو خدا اور جہان غیب سے آشنا اور واقف کیا ہے اور انسان کے تزکیہ نفس اور تہذیب کے پرورش کرنے میں کوشش اور تلاش کی ہے_ اگر انسان میں معنویت محبت اور عطوفت اور مکارم اخلاق اور اچھی صفات موجود ہیں تو یہ اللہ کے بھیجے ہوئے معالجین کی دائمی اور متصل کوشش بالخصوص خاتم پیغمبر علیہ السلام کی دائمی کوشش کی برکت سے ہیں واقعا پیغمبر اللہ تعالی کے صحیح اور ممتاز بشریت کے معالج ہیں اسی لئے احادیث میں ان کی عنوان طبیب اور معالج کے عنوان سے پہچان کرائی گئی ہے_

امیر المومنین علیہ السلام پیغمبر گرامی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ '' محمد(ص) چلتا پھر تا طبیب ہے کہ ہمیشہ انسانی روحوں کی طبابت کرنے میں کوشان تھا اور بیماریوں کے علاج کے لئے مرہم فراہم کر رکھی تھی اور اسے مناسب مورد میں کام میں لاتا تھا_ اندھی روح اور بہرے کان گنگی زبان کو شفا دیتے تھے_ اور داؤوں کو انسانوں پر استعمال کرتے تھے جو حیرت اور غفلت میں غرق اور تھے ان انسانوں کو جو حکمت اور علم کے نور سے استفادہ نہیں کرتے تھے اور حقائق اور معارف الہی کے ناشناس تھے اسی لئے تو ایسے انسان حیوانات سے بھی بدتر زندگی بسر کرتے تھے_(۱۰۴)

قرآن کو روح کے لئے شفاء دینی والی دواء بیان کیا گیا ہے_

خدا ارشاد فرماتا ہے کہ '' اللہ کی طرف سے موعظہ نازل ہوا ہے اور وہ قلب یعنی روح کے درد کے لئے شفا ہے_(۱۰۵)

نیز خدا فرماتا ہے کہ '' قرآن میں ہم نے بعض ایسی چیزیں نازل کی ہیں جو مومنین


کے لئے شفاء اور رحمت ہیں_(۱۰۶)

امیر المومنین علیہ السلام قرآن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ''قرآن کو سیکھو کہ وہ بہترین کلام ہے اس کی بات میں خوب غور کرو کہ عقل کی بارش روح کو زندہ کرتی ہے اور قرآن کے نور سے شفاء حاصل کرو کہ وہ دلوں کو یعنی روحوں کو شفا بخشتا ہے_(۱۰۷)

ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ '' جو شخص قرآن رکھتا ہو وہ کسی دوسری چیز کا محتاج نہ ہوگاہ اور جو شخص قرآن سے محروم ہوگاہ کبھی غنی نہ ہوگا_ قرآن کے واسطے سے اپنے روح کی بیماریوں کا علاج کرو اور مصائب کے ساتھے مٹھ بھیڑ میں اس سے مدد لو کیونکہ قرآن بزرگترین بیماری کفر اور نفاق اور گمراہی سے شفا دیتا ہے_(۱۰۸)

جی ہاں قرآن میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نفوس کے طبیب ہیں_ ہمارے درد اور اس کے علاج کو خوب جانتا ہے اور ایسے قرآن کو لایا ہے جو ہمارے باطنی درد کے لئے شفا دیتے کا ضابطہ ہے اور ہمیں ایسا قرآن دیا ہے_ اس کے علاوہ کئی اقسام کی باطنی بیماریوں اور ان کے علاج پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار نے واضح کیا ہے اور وہ حدیث کی شکل میں ہمارے لئے باقی موجود ہیں لہذا اگر ہمیں اپنے آپ کے لئے روح کی سعادت اور سلامتی مطلوب ہے تو ہمیں قرآن اور احادیث سے استفادہ کرنا چاہئے اور اپنی روح کی سعادت اور سلامتی مطلوب ہے تو ہمیں قرآن اور احادیث سے استفادہ کرنا چاہئے اور اپنی روح کی سعادت اور سلامتی کے طریق علاج کی مراعات کرنی چاہئے اور قرآن اور پیغمبر(ص) اور ائمہ اطہارعلیہم السلام کی راہنمایی میں اپنی روح کی بیماریوں کو پہچاننا چاہئے اور ان کی علاج کے لئے کوشش اور سعی کرنی چاہئے اور اگر ہم اس امر حیاتی اور انسان ساز میں کوتاہی کریں گے تو ایک بہت بڑے نقصان کے متحمل ہونگے کہ جس کا نتیجہ ہمیں آخرت کے جہان میں واضح اور روشن ہوگا_

تکمیل اور تہذیب نفس

پہلے بتاتا جا چکا ہے کہ روح کی پرورش اور تربیت ہمارے لئے سب سے زیادہ


ضروری ہے کیونکہ دنیا اور آخرت کی سعادت اسی سے مربوط ہے اور پیغمبر علیہم السلام بھی اسی غرض کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوئے ہیں_ روح کی تربیت اور خودسازی دو مرحلوں میں انجام دینی ہوگی_

پہلا مرحلہ: روح کی برائیوں سے پاک کرنا یعنی روح کو برے اخلاق سے صاف کرنا اور گناہوں سے پرہیز کرنا اس مرحلہ کا نام تصفیہ اور تخلیہ رکھنا گیا ہے_

دوسرا مرحلہ: روح کی تحصیل علم اور معارف حقہ فضائل اور مکارم اخلاق اور اعمال صالحہ کے ذریعے تبریت اور تکمیل کرنا اس مرحلہ کا نام تحلیہ رکھا گیا ہے یعنی روح کی پرورش اور تکمیل اور اسے زینت دینا_

انسان کو انسان بنانے کے لئے دونوں مرحلوں کی ضرورت ہوتی ہے اس واسطے کہ اگر روح کی زمین برائیوں سے پاک اور منزہ نہ ہوئی تو وہ علوم اور معارف حقہ مکارم اخلاق اعمال صالح تربیت کی قابلیت پیدا نہیں کرے گاہ وہ روح جو ناپاک اور شیطان کا مرکز ہو کس طرح انوار الہی کی تابش کا مرکز بن سکے گا؟ اللہ تعالی کے مقرب فرشتے کس طرح ایسی روح کی طرف آسکیں گے؟ اور پھر اگر ایمان اور معرفت اور فضائل اخلاق اور اعمال صالح نہ ہوئے تو روح کس ذریعے سے تربیت پا کر تکامل حاصل کرسکے گی_ لہذا انسان کو انسان بنانے کے لئے دونوں مرحلوں کو انجام دیا جائے ایک طرف روح کو پاک کیا جائے تو دوسری طرف نیک اعمال کو اس میں کاشت کیا جائے _ شیطن کو اس سے نکالا جائے اور فرشتے کو داخل کیا جائے غیر خدا کو اس سے نکالا جائے اور اشراقات الہی اور افاضات کو اس کے لئے جذب کیا جائے یہ دونوں مرحلے لازم اور ملزم ہیں یوں نہیں ہو سکتا کہ روح کے تصفیہ کے لئے کوشش کی جائے اور نیک اعمال کو بجا لانے کو بعد میں ڈالا جائے جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ باطنی امور کی اہمیت کو نظر انداز کیا جائے اور نیک اعمال بجالانے میں مشغول ہوا جائے بلکہ یہ دونوں ایک ہی زمانے میں بجا لائے جانے چاہئیں برائیوں اور برے اخلاق کو ترک کر


دینا انسان کو اچھائیوں کے بجالانے کی طرف بلاتا ہے اور نیک اعمال کا بالانا بھی گناہوں اور برے اخلاق کے ترک کر دینے کا موجب ہوتا ہے لہذا اس بحث میں ہم مجبور ہیں کہ ان دونوں مرحلوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیں لہذا پہلے ہم تہذیب نفس اور روح کی پاکی بحث کرتے ہیں_


پہلا حصہ

تخلیہ یا تہذیب نفس


تہذیب نفس

اس مرحلے میں ہمیں تین کام انجام دینے ہونگے_

۱_ باطل عقائد اور غلط افکار اور خرافات سے نفس کو پاک کرنا_

۲_ برے اخلاق اور رذائل سے نفس کو پاک کرنا_

۳_ گناہوں اور معاصی کا ترک کرنا_

خرافات اور عقائد باطل عین جہالت اور نادانی ہوتے ہیں اور انسان کی رو ح کو تاریک کر دیتے ہیں اور صراط مستقیم اور قرب الہی اور تکامل سے منحرف کر دیتے ہیں باطل عقائد رکھنے والے تکامل کے راستے کو نہیں بچانتے اسی واسطے گمراہی اور ضلالت کی وادی میں قدم رکھتے ہیں اور یقینا مقصد تک نہیں پہنچتے جو روح تاریک ہو کس طرح وہ انوار الہی کی تابش کا مرکز قرار پا سکتی ہے؟ اسی طرح برے اخلاق اور ان کے ملکات حیوانی عادات کو تقویت پہچانتے ہیں اور انسانی روح کو آہستہ آہستہ خاموش اور تنہا ہو جانے کی طرف لے جاتے ہیں ایسا انسان انسانی غرض خلقت جو قرب الہی اور کمال تک پہنچنا ہوتا ہے کبھی نہیں پہنچے گا اسی طرح گناہوں اور معصیت کو بجالانا انسان کی روح کو تاریک اور آلودہ کر دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تکامل اور قرب الہی سے دور ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان آخری غرض اور غایت تک نہیں پہنچنے پاتا_ اسی


واسطے نفس کا پاک و پاکیزہ کرنا ہمارے لئے انتہائی اہم اور ضروری کام شمار ہوتا ہے لہذا ضروری ہے کہ پہلے برے اخلاق اور گناہوں کو پہچانیں اور پھر عمل کے مرحلے میں قدم رکھیں اور اپنی روح کو پاک و پاکیزہ بنائیں_ اتفاق سے ہمیں پہلے مرحلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اس واسطے کہ ارواح کے اطباء اور خدا کے بھیجے ہوئے انسان شناسی یعنی پیغمبروں اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے برے اخلاق کو بطور کامل ہمارے لئے بیان کر دیا ہے اور ان کا علاج کرنا بھی بتلا دیا ہے_ معصیت اور نافرمانیوں کو ہمارے لئے شمار کر کے انکا علاج بھی بیان کر دیا ہے ہم تمام برے اخلاق کو جانتے اور پہچانتے ہیں اور ان کی برائیوں سے آگاہ ہیں _ ہم جانتے ہیں کہ نفاق ،تکبر ،حسد ،کینہ پروری، غضب چغلخوری خیانت ،خودپسندی ،برا چاہنا، شکایت کرنا، تہمت لگانا، برا بھلا کہنا، بد زبان ہونا، تندخوئی_ ظلم بے اعتمادی خوف، بخل، حرص، عیب جوئی، جھوٹ بولنا، حب دنیا اور مقام اور ریاست کی محبت ریاکاری، دھوکا دینا، حیلہ باز ہونا، براگمان، قسی القلب ہونا، ضعف نفس اور اس طرح کی دوسری صفات بری اور زشت ہیں_ اس کے علاوہ ہم فطرت کی رو سے ان کی برائیوں کو سمجھ پاتے ہیں_ سینکڑوں روایات اور آیات ان کی برائیوں اور قبیح ہونے کی گوہی دے رہی ہیں ہماری احادیث اس کے متعلق اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا_ اسی طرح تمام محرمات اور گناہوں کی وضاحت قرآن مجید اور انکی تشریح اور ان کا عذاب اور سزا احادیث میں موجود ہے_ غالبا ہم تمام کو جانتے ہیں لہذا برے اخلاق اور صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی پہچان میں ہمیں کوئی مشکل نہیں آتی اس کے باوجود ہم غالبا شیطن اور نفس امارہ کے قیدی ہیں اور توفیق حاصل نہیںکرتے کہ اپنی نفس گناہوں اور برے اخلاق سے پاک کریں اور یہی اساسی مشکل ہے کہ جس کا علاج ہمیں سوچنا چاہئے_ میری نگاہ میں اس کا مہم ترین سبب دو چیزیں ہیں_ پہلی کہ ہم اپنی اخلاقی بیماریوں کو نہیں پہچانتے اور اپنے بیمار ہونے کا اقرار نہیں کرتے اور دوسرے اخلاقی بیماری کو معمولی قرار دیتے ہیں اور اس کے برے اور دردناک انجام سے غافل ہیں اسی لئے تو اس کے علاج کرنے میں


کو شش نہیں کرتے یہی وہ دو مہم سبب ہیں کہ جنہوں نے ہمیں اپنی اصلاح اور تہذیب نفس سے غافل کر رکھا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس میں بحث کریں اور اس کا علاج بتلائیں_

بیماری سے غفلت

ہم غالبا اخلاقی بیماریوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے برے ہونے کو بھی جانتے ہیں لیکن یہ صرف دوسروں میں نہ اپنے وجود میں_ اگر ہم کسی دوسرے میں برے اخلاق اور برے رفتار کو دیکھیں تو اس کی برائی کو اچھی طرح جان لیتے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہی بری صفت بلکہ اس سے بدتر ہم میں موجود ہو تو اس کی طرف ہم بالکل متوجہ نہیں ہوتے مثلا دوسرے کے حقوق کو ضائع کرنا برا سمجھتے ہیں اور اس کے بجا لانے والے سے نفرت کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ہم خود دوسروں کے حقوق ضائع کر رہے ہوں لیکن اسے بالکل نہیں سمجھتے بلکہ اپنے کام کو تو دوسرے کے حقوق کو ضائع کرنا ہی نہیں جانتے بلکہ ہو سکتا ہے کہ اپنے ایسے کام کو ایک اپنی نگاہ میں بہت عمدہ اور اخلاقی قدر والا گر دانتا ہو اسی طریقے سے اپنے نفس کو مطمئن کر دیتے ہیں یہی حال دوسرے بری صفات کا بھی ہو سکتا ہے یہی تو وجہ ہوتی ہے کہ ہم اپنی کبھی اصلاح کرنے کی فکر میں نہیں جاتے کیونکہ اگر بیمار اپنے آپ کو بیمار نہ سمجھے تو وہ علاج کرنے کی فکر میں نہیں جاتا اور چونکہ ہم اپنے آپ کو بیمار نہیں سمجھتے لہذا اس کے علاج کرنے کے درپے بھی نہیں ہوتے ہماری سب سے بڑے مصیبت اور مشکل یہی ہے_ لہذا اگر ہم اپنی سعادت کی فکر میں جائیں تو اس مشکل کا حل ہمیں تلاش کرنا ہوگا اور جس ذریعے سے بھی ممکن ہو ہمیں اپنی نفسانی بیماریوں کے پہچاننے میں کوشش کرنی چاہئے_


نفس کی بیماریوں کے تشخیص کے راستے

بہتر ہوگا کہ نفس کی مختلف بیماریوں کی پہچان میں ان وسائل سے کہ جن سے ممکن ہے استفادہ کیا جائے یہاں چند ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے_

۱_ تقویت عقل: ملکوتی انسان کا اعلی مرتبہ اور اس کے وجود کا کاملترین امتیاز جو انسان کے لئے تمام مخلوقات سے امتیاز دینے کا منشا اور مبدا ہے اسے قرآن اور احادیث میں مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے روح نفس قلب عقل یہ تمام نام ایک حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کو مختلف جہات کیوجہ سے مختلف نام دیئے گئے ہیں_

اس لحاظ سے کہ وہ حقیقت موجب فکر اور سوچ اور سمجھنا اور تعقل ہے اسے عقل کا نام دیا گیا ہے احادیث کی کتابوں میں عقل کو ایک ممتاز مقام دیا گیا ہے یہاں تک کہ اس کے لئے ایک علیحدہ فصل احادیث کے کتابوں میں مخصوص کی گئی ہے_ احادیث میں عقل کو موجودات سے شریف ترین موجود اور احکام اور ثواب اور عقاب کا منشاء بتلایا گیا ہے جیسے امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' جب اللہ تعالی نے عقل کو پیدا کیا تو اسے بولنے پر قدرت دی اور پھر اسے کہا کہ اے عقل آگے آ؟ عقل نے اطاعت کی اور آگے آئی_ پھر اللہ تعالی نے فرمایا کہ لوٹ جا_ عقل نے پھر اطاعت کی اور لوٹ گئی اس وقت خداوند عالم نے فرمایا کہ'' مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ میں نے تجھ سے بہتر اور محبوب ترین مخلوق خلق نہیں کی تجھے کامل نہیں کرونگا مگر اس میں کہ جسے میں دوست رکھتا ہونگا_ جان لو کہ میرے اوامر اور نواہی تیری طرف متوجہ ہونگے اور تجھی ہی سے ثواب اور عقاب دونگا_(۱۰۹)

انسان عقل کے ذریعے فکر کرتا ہے اور حقائق کو معلوم کرتا ہے اچھائی اور برائی فائدہ مند اور ضرر رساں ذمہ داریوں کی تشخیص کرتا ہے اگر انسان کے پاس عقل نہ


ہوتی تواس کے اور حیوانات کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا اسی لئے خداوند عالم نے قرآن کریم میں تعقل اور تفکر اور تامل اور تفقہ پر اعتماد کیا ہے اور انسان سے چاہتا ہے کہ اپنی عقل کو اپنے آپ میں کام میں لائے_

قرآن مجید میں آیا ہے کہ خداوند ایسی نشانیاں تمہارے لئے بیان کرتا ہے_ شاید تم تعقل کرو اور تفکر کرو_''(۱۱۰) نیز خدا فرماتا ہے '' وہ زمین میں کیوں سیر نہیں کرتے تا کہ ان کے لئے دل ہو کہ فکر و غور کریں_(۱۱۱)

نیز خدا فرماتا ہے کہ '' سب سے بدتر حرکت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو بہرے گونگے اور سوچ نہیں کرتے_(۱۱۲)

خداوند عالم ان لوگوں کو جوعقل کان اور زبان رکھتے ہیں لیکن حقائق کی پہچان میں ان سے کام نہیں لیتے انہیں حیوانات کے زمرے میں شمار کرتا ہے بلکہ حیوانات سے بھی بدتر قرار دیتا ہے کیونکہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے_

خدا فرماتا ہے '' خدا پلیدی کو ان پر قرار دیتا ہے جو تعقل نہیں کرتے_(۱۱۳)

انسان میں جتنی اچھائی ہے وہ عقل سے ہے، عقل سے خدا کو پہچانتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے اور قیامت کو قبول کرتا ہے اور اس کے لئے مہیا ہوتا ہے_ پیغمبروں کو قبول کرتا ہے اور ان کی اطاعت کرتا ہے_ اچھے اخلاق کو پہچانتا ہے اور اپنے آپ کو ان میں ڈھالتا ہے برائیوں کو پہچانتا ہے اور ان سے پرہیز کرتا ہے_ اسی درجہ سے قرآن اور احادیث میں عقل کی عظمت اور جلالت بیان کی گئی ہے_

امام صادق علیہ السلام ایک سوال کرنے والے کے جواب میں فرماتے ہیں کہ '' عقل وہ چیز ہے کہ جس وجہ سے خدا کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے سے بہشت حاصل کی جاتی ہے_(۱۱۴)

نیز امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' جو شخص عاقل ہوگا دین رکھتا ہوگا اور جو شخص دین رکھتا ہوگا وہ بہشت میں داخل ہوگا_(۱۱۵)

امام موسی کاظم علیہ السلام نے ہشام سے فرمایا کہ '' خدا کی لوگوں پر حجت اور


دلیلیں دو ہیں ایک ظاہری اور دورسری باطنی_ ظاہری حجت انبیاء اور ائمہ علیہم السلام ہیں اور باطنی عقل ہے_(۱۱۶)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرماتا ہے _ '' عقل کے لحاظ سے کامل تر لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق تمام سے بہتر ہوں_(۱۱۷)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' مومن کا راہنما عقل ہے_(۱۱۸)

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ہر انسان کا دوست عقل ہے اور اس کا دشمن جہالت_(۱۱۹)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' انسان کا خودپسند ہونا اس کے عقل کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے_(۱۲۰)

امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے ہشام سے فرمایا کہ '' جو شخص بغیر مال کے بے نیازی اور روح کو حسد سے آرام اور اطمینان میں رکھے اور دین میں سالم رہے اسے تضرع اور زاری سے خدا سے دعا مانگی چاہئے کہ خدا اس کی عقل کو کامل کردے _ جو شخص عاقل ہوگا وہ قدر کفایت پر قناعت کرے گا اور جو شخص کفایت کی مقدر ارپر قناعت کرے گا وہ غنی اور بے نیاز ہوگا اور جس نے مقدار کفایت پر قناعت نہ کی وہ ہرگز بے نیاز نہ ہوگا_(۱۲۱)

امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں '' عقلمند انسان دنیا کے زائد امور کو ترک کرتے ہیں چہ جائیکہ گناہوں کو جب کہ ترک دینیا افضال ہے تو گناہوں کا ترک کرنا تو واجب ہے_(۲۲۲)

آپ نے فرمایا کہ '' عقلمند انسان جھوٹ نہیں بولتا گر چہ اس کی روح اس کی طرف مائل ہی کیوں نہ ہو_(۱۲۳)

آپ نے فرمایا کہ '' جو شخص مروت نہیںرکھتا اور جو شخص عقل نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا وہ مروت نہیں رکھتا سب سے قیمتی انسان وہ ہے جو دنیا کو اپنے نفس کی


قیمت قرار نہ دے اور جان لو کہ تمہارے جسم کی قیمت سوائے بہشت کے اور کوئی نہیں ہے لہذا اسے بہشت کے عوض کسی اور چیز کے مقابلے فروخت نہ کرو_(۱۲۴)

ان تمام احادیث سے عقل کے پردازش اور قیمتی ہونے کو سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے معارف اور علوم اور ایمان کا لانا عبادت خدا اور اس کی شناخت مکارم اخلاق سے استفادہ کرنا اور رذائل اور گناہوں سے اجتناب کرنا حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس نقطہ کی طرف متوجہہ ہونا چاہئے اور اس سے استفادہ کیا جانا چاہئے_ عقل انسان کے بدن میں ایک عادل قاضی ہے اور حاکم ہے لیکن یہ اس صورت میں اچھا فیصلہ دیتا ہے جب اس کے لئے امن کا ماحول میسر ہو اور اس کے فیصلے کو مورد قبول قرار دیا جائے یہ اس دانا اور قدرت مند اور مدبر اور خیر اندیش حاکم کے قائم ہے لیکن بشرطیکہ اس کے فیصلے اور حکومت کی تائید کی جائے یہ ایک دانا مشورہ دینے والے اور مورد اعتماد اور خیر اندیش کے قائم ہے لیکن بشرطیکہ اس سے مشورہ طلب کیا جائے اور اس کے فرمان کو درست سنا جائے_

اگر بدن پر عقل کی حکومت ہو اور خواہشات اور غرائز نفسانی پر اس کا تسلط ہو تو وہ بدن کی مملکت پر بہترین طریقہ سے حکومت کرے گا_ غرائز اور قومی میں تعادل برقرار کرے گا_ اور تمام کو تکامل اور سیر و صعود الی اللہ پر برقرار رکھے گا لیکن اس سادگی سے حیوانی خواہشات اور تمایلات عقل کی حکومت کو قبول کرلیں گے اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیں گے نہ بلکہ یہ اتنی فتنہ انگیزی اور خرابکاری کریں گے_ تا کہ وہ عقل کو میدان سے باہر نکال دیں اس کا علاج یہ ہے کہ عقل کو قوی کیا جاے کیونکہ عقل جتنا طاقت ور اور نافذ ہوگا وہ داخلی دشمنوں کو بہتر پہچانے گا اور ان پر تسلط حاصل کرنے اور انہیں دبانے پر زیادہ قادر ہوگا_ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عقل کو مضبوط بنانے کی کوشش اور جہاد کریں_

۲_ عمل سے پہلے فکر کرنا: عقل کے قوی کرنے میں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ


کسی کام کے انجام دینے سے پہلے سوچنا چاہئے اور اس کام کے نتائج اور آثار اور دنیاوی اخروی اثرات کو خوب دیکھناچاہئے اور یہ عہد کرلیں کہ کسی کام کو بھی اس کی عاقبت اندیشی سے پہلے انجام نہ دیں تا کہ آہستہ آہستہ سوچنے اور تفکر کے ذریعے اپنی روح کو آگاہ کیا کریں_

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' تفکر انسان کو اچھے کاموں اور ان پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے_(۱۲۵)

نیز حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' کام کرنے سے پہلے انجام کو سوچنا تجھے پشیمانی سے محفوظ کردے گا_(۱۲۶)

ایک شخص رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی '' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے کسی کام کی فرمائشے کریں''_ آپ(ص) نے فرمایاکہ '' کیا تم میرے کہنے پر عمل گروگے؟'' اس نے کہا'' ہاں یا رسول اللہ (ص) ''_ اس سے یہ سوال اور آپ کا یہ جواب تین دفعہ رد و بدل ہوا_ اس وقت رسول خدا نے فرمایا کہ '' میری فرمائشے یہ ہے کہ جب تم کسی کام کو انجام دینا چاہو تو اس کے انجام کے بارے میں پہلے خوب غور و فکر کرلو اگر اچھا ہوا تو اسے بجالائو اور اگر شک اور اشتباہ ہو تو اسے بجانہ لائو_(۱۲۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' جلد بازی لوگوں کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے اگر لوگ اپنے کاموں میں تدبر کرتے تو کبھی ہلاک نہ ہوتے_(۱۲۸)

پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ '' انجام کو سوچنا اور جلد بازی نہ کرنا خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازی کرنا شیطن کی طرف سے _(۱۲۹)

معصوم کی حدیث میں یوں آیا ہے کہ '' غور و فکر شیشہ کی طرح ہے جو تمہیں اچھائی اور برائی ظاہر کردے گا_(۱۳۰)

حیوانات اپنے کاموں میں غرائز اور حیوانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور غور اور فکر نہیں رکھتے لیکن انسان چونکہ اس کے پاس عقل ہے لہذا اسے پہلے کاموں میں غور و فکر کرنا چاہئے اور اسے عاقبت اندیش ہونا چاہئے گرچہ انسان بھی وہی حیوانی غرائز


اور خواہشات رکھتا ہے اسی وجہ سے جب کسی حیوانی خواہش کا طالب ہوتا ہے تو فورا اس کے بجالانے میں دوڑتا ہے اور اس کی حیوانی خواہش اور غریزہ اسے غور و فکر کی مہلت نہیں دیتا کہ کہیں عقل اس میدان میں نہ آجائے اور اس کی حیوانی خواہش کے لئے سد راہ نہ بن جائے لہذا اگر ہم سے ہو سکے کہ ہم اپنے آپ کو یوں عادت دیں کہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس میں خوب غور اور فکر کریں کے راستے کو کھول دیں اور اسے اس میدان میں کام کرنے دیں اور جب عقل اس میدان میں وارد ہوگا تو وہ اس اقدام کے واقعی مصالح اور مفاسد کو درک کرے گا اور حیوانی خواہش اور تمایلات میں اعتدال پیدا کرے گا اور ہمیں تکامل انسانی کے صراط مستقیم کی راہنمائی کرے گا اور جب عقل طاقت ور ہوگا اور جسم کی مملکت میں حاکم ہوجائے گا تو پھر وہ انسانیت کے داخلی دشمنوں اور نفسانی بیماریوں سے ہمیں آگاہ کردے گا اور اس کے علاج اور روکنے کی طرف متوجہ ہو جائیگا اسی لئے قرآن اور احادیث میں غور و فکر اور تعقل و تدبر کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے_

۳_ نفس کے بارے میں بدبینی: اگر انسان اپنے اندر کو دیکھے اور اپنی نفسانی صفات کو انصاف کی نگاہ سے تو لے تو پھر وہ اپنی نفسانی بیماریوں اور عیوب سے آگاہ ہوجائے گا کیونکہ انسان سب سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہے (یعنی اپنے اندر نیکی اور بدی کے وجود کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے لیکن عذر لانے کے پردے اپنی بصیرت کی آنکھ پر ڈالنا رہتا ہے_(۱۳۱)

لیکن ہم میں سب سے مشکل اور مصیبت یہ ہے کہ ہم فیصلے اور حکم دینے میں غیر جانبدار نہیں رہتے بلکہ اکثر اوقات ہم اپنے بارے میں خوش بین اور خودپسند ہوتے ہیں ہم اپنے آپ کو اور اپنے افعال اور صفات اور گفتار کو اچھا اور بلا عیب سمجھتے ہیں_ انسانی نفس امارہ ہمارے حیوانی کاموں کو ہمارے سامنے ایسا خوشنما بناتا ہے کہ ہم اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگ جاتے ہیں_ قرآن ارشاد فرماتا ہے کہ وہ شخص کہ جس کے کام اس کے سامنے خوشنما بنائے گئے ہیں اور انہیں نیک سمجھتا ہے ( آیا تو


نے نہیں دیکھا؟)

'' پس خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے_(۲۳۲)

اسی لئے ہم اپنے عیبوں کو نہیں دیکھ پاتے تا کہ ان کی اصلاح کی کوشش کریں_ اس مشکل کا حل یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے نفس پر بد گمان اور بدبین رہیں اور یہ احتمال دیں بلکہ یقین کریں ہم بہت سی برائیوں اور بیماریوں میں گرفتار ہیں ایسی حالت میں ہم اپنے نفس کے بارے میں سوچیں_

امیر ا لمومنین علیہ السلام نے متقیوں کے صفات میں فرمایا ہے کہ '' انکا نفس ان کے نزدیک مورد تہمت اور بدگمانی میں قرار پایا ہے اور وہ اپنے کاموں میں خوف کھاتے ہیں جب بھی ان میں سے کوئی کسی کی تعریف کا مورد قرار پاتا ہے تو وہ اپنی تعریف کئے جانے میں ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اپنے نفس سے زیادہ واقف ہیں اور خدا ہم سے بہت زیادہ آگاہ ہے_(۳۳۳)

بزرگ موانع میں سے ایک مانع جو اجازت نہیں دیتا کہ انسان اپنی نفسانی بیماریوں سے آگاہ ہو اور اس کی اصلاح کرے یہی اپنے آپ کو اچھا سمجھتا اور اپنے بارے میں حسن ظن رکھتا ہوتا ہے اگر یہ مانع دور کردیا جائے اور بطور انصاف اور یہ احتمال دیتے ہوئے کہ ہم میں عیب موجود ہیں اپنے آپ کو پایا جائے تو اس وقت ہم اپنی بیماریوں کو بھی پہچان لیں گے اور ان کی اصلاح بھی کریں گے_

۴_ روحانی طبیب کی طرف رجوع: انسان کا اپنے عیبوں کو پہچاننے کے لئے ایک ایسا اخلاق کے عالم کی طرف کہ جس نے اپنے نفس کی تہذیب کر رکھی ہو اور اچھے اخلاق سے متصف ہوچکا ہو رجوع کرنا چاہئے اپنے اندرونی صفات اور احوال کو بطور کامل اس کے سامنے بیان کرنا چاہئے اور اس عالم سے خواہش کرے کہ وہ اس کے نفسانی عیوب اور برے صفات سے اسے آگاہ کرے_

ایک روحانی طبیب جو اسلامی، اخلاقی اور نفسیات کو جانتا ہو اور خودعامل اور مکارم


اخلاق کا پابند ہو وہ تہذیب نفس اور سیر و سلوک کے راستے بتلانے کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اور موثر ہوا کرتا ہے اگر انسان اس قسم کا آدمی پیدا کرلے تو اسے خداوند عالم کا اس بزرگ نعمت پر شکریہ ادا کرنا چاہئے لیکن صد افسوس کہ اس قسم کے ادمی بہت کمیاب ہیں_ قابل توجہ یہ بات ہے کہ روح کی بیماریوں کی تشخیص کرنا بہت مشکل ہے لہذا بیمار پر فرض ہے کہ اپنی اندرونی صفات اور افعال کو بغیر چھپائے روحانی طبیب کے سامنے وضاحت سے بیان کردے تا کہ وہ اس کی بیماری کی تشخیص کر سکے اور اگر بیمار نے اس بارے میں روحانی طبیب کی مدد نہ کی اور واقعات کے اظہار میں پس و پیش کیا تو وہ اس مطلوبہ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے گا_

۵_ دانا دوست کی طرف رجوع کرنا: اچھا اور دانا اور خیر خواہ ادوست اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہوتا ہے جو تہذیب نفس اور بری صفات کے پہچان کے راستے میں انسان کی مدد کر سکتا ہے_ بشرطیکہ وہ دانا ہو اور بری اور اچھی صفات کو پہچانتا ہو اس کے علاوہ وہ خیر خواہ اور مورد اعتماد بھی ہو اس واسطے کہ اگر وہ اچھی اور بری صفات کو نہ پہچانتا ہو تو وہ اس کے متعلق اس کی مدد نہیں کر سکے گا اور اگر وہ مورد اعتماد اور خیر خواہ نہ ہوا تو ممکن ہے کہ وہ دوستی کی حفاظت اور ناراضگی کے مول نہ لینے کیوجہ سے اپنے دوست کے عیب کو چھپا لے بلکہ ممکن ہے کہ وہ خوشامد کرتے ہوئے اس کے عیب کو اس کے سامنے اچھا بیان کرے اور اس عیب پر اس کی تعریف اور تمجید شروع کردے اگر کوئی اس قسم کا دوست پیدا کرے اور اس سے خواہش کرے کہ جو نقص اور عیب اس میں دیکھے اسے اس کا تذکرہ کردے تو اسے اس کی یاد دھانی اور تذکر پر اس کی عزت اور قدردانی کرنی چاہئے_

اپنے نفس کی اصلاح کے لئے ایسے دوست سے استفادہ کرنا چاہئے اس کے تذکرات سے استفادہ اور اس کی عزت اور قدردانی پر اسے یہ باور کرائے کہ اس کے عیب بیان کرنے پر نہ صرف اسے برا معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس سے وہ خوشحال بھی ہو جاتا ہے_ اس دوست پر کہ جسے خیرخواہ قرار دیا گیا ہے ضروری ہے کہ وہ بھی اپنے


اخلاص اور صداقت کو عملی طور پر ثابت کرے_ بطور انصاف اور بغیر محبت اور بغض کے دوست کے صفات کو پر کھے اور دقت کرے اور اس بارے جو اس کا نظریہ ہوا سے وہ خیرخواہی اور دوستانہ زبان میں اسے بتلائے اور جہاں تک ہو سکے یہ اسے تنہائی اور مخفی طور سے بتلائے اور اس کے عیب کو لوگوں کے سامنے اظہار کرنے سے پرہیز کرے اس کی غرض واقع کا بتلانا ہو اور مبالغہ آمیزی سے پرہیز کرے کیونکہ وہ اپنے مومن بھائی کے لئے بطور آئینہ ہوتا ہے جو خوبیوں اور اچھائیوں کو بغیر کم اور زیادہ کے ظاہر کرتا ہے_ البتہ ایسے مہربان اور اصلاح طلب دوست جو انسان کے عیوب کو اصلاح کے لئے بیان کردیں بہت ہی کمیاب ہوتے ہیں_ لیکن اگر کسی کو ایسا دوست مل جائے تو وہ ایک بہت بڑی سعادت پر فائز ہوتا جائیگا اسے اس کی قدر پہچاننی چاہئے اور اس کی یاد دھانیوں پر خوشحال ہونا چاہئے اس کے شکریہ کا اظہار کرے اور اسے متوجہ ہونا چاہئے کہ جو دوست اصلاح کی غرض سے انسان کے عیب کی یاد دھانی کرا رہا ہے اور یاد دھانی سے رنجیدہ خاطر ہو اور اس کے دفاع یا انتقام لینے پر اتر آئے_ اگر کسی نے تجھے بتلایا کہ کئی ایک بچھو تیرے لباس پر موجود ہیں کیا اس کے اس بتلانے سے تو رنجیدہ خاطرہ ہوگا اور اس سے انتقام لینے پر اتر آئے گا اس کے اس کہنے سے خوشحال ہوگا اور اس کی قدردانی کرے گا؟

برے صفات بھی بچھو کی طرح ہوا کرتے ہیں بلکہ اس سے بدتر ہوتے ہیں اور انسان کے جسم پر ڈیگ مارتے ہیں اور ہمیشہ اس کے اندر چھپے رہتے ہیں جو ایسے بچھو سے بچانے میں ہماری مدد کرے اس نے ہماری بہت بڑی خدمت انجام دی ہے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ '' میرا بہترین بھائی وہ ہے جو میرے عیب کو میرے لئے بیان کرے_(۱۳۴)

۶_ دوسروں کے عیب سے نصیحت لینا: انسان غالبا اپنے عیب سے غافل ہوتا ہے


لیکن دوسروں کے عیب کو دیکھتا ہے اور اس کی برائی کو خوب سمجھتا ہے اور مثال مشہور ہے کہ دوسروں کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اسے پہاڑ سمجھتا ہے لیکن پہاڑ کو اپنی آنکھ میں نہیں دیکھتا لہذا ایک راستہ اپنے نفسانی عیوب کی پہچان کا دوسروں کے عیوب کو دیکھتا ہے_ جب کسی عیب کو دوسروں میں دیکھے تو اس پر اعتراض کرنے سے پہلے اسے اپنے میں ڈھونڈے اور اپنے آپ میں اسے مورد تفتیش قرار دے اور اپنے آپ میں رجوع کرے اگر وہی عیب اس میں موجود ہو تو اس کی اصلاح کرنے کی سعی اور کوشش کرے_ لہذا ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے عیب سے نصیحت حاصل کرے اور اپنے نفس کو اس سے پاک کرلے رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ'' وہ سعادتمند انسان ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے_(۱۳۵)

۷_ اعتراض کئے جانے سے نصیحت حاصل کرے: دوست اکثر عیب کے ذکر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اس کے بر عکس دشمن اکثر عیب پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں گرچہ وہ اعتراض کرنے میں مخلص نہیں ہوتے بلکہ حسد بغض انتقام لینے کی غرض انہیں تنقید کرنے پر ابھارتی ہے بہر حال انسان اپنے دشمنوں کے اعتراض اور تنقید اور عیب جوئی سے استفادہ کر سکتا ہے انسان اپنے دشمنوں کے اعتراض سے دو طریق میں سے کسی ایک سے روبرو ہو سکتا ہے پہلے یا تو وہ اپنے آپ کو ان اعتراضات سے دفاع کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے کیونکہ وہ عیب جوئی دشمن سے ظاہر ہوتی ہے اور وہ اس کے بیان کرنے میں اچھائی کی نیت نہیں رکھتا لہذا جس طرح سے بھی ہو وہ اپنے لئے دفاع کی حالت پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس کی اس طرح کی آواز کو خاموش کرنے کے در پے ہوتا ہے اس طرح کا انسان نہ فقط اپنے عیب کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ اس سے بڑھ کر دوسری غلطی اور خطا اور اشتباہ میں اپنے آپ کو گرفتار کر لیتا ہے دوسرے وہ دشمنوں کے اعتراضات کو اچھی طرح سے سنتا ہے اور پھر حقیقت شناسی کی نیت سے اپنے آپ میں رجوع کرتا ہے اور بطور انصاف اس اعتراض کی تحقیق کرتا


ہے اگر اس نے دیکھا کہ دشمن کا اعتراض درست ہے اور اس کا نفس معیوب ہے تو فورا اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اگر مصلحت کا تقاضا ہو کہ ایسے دشمن سے کہ جس نے اس کا عیب بیان کیا ہے اور وہ اس کے نفس کے پاک کرنے کا وسیلہ بنا ہے شکریہ ادا کرے ایسا دشمن اس لحاظ کرنے والے دوست سے کہ جو اس کے عیب کو چھپاتا ہے اور اس کی اس عیب پر تعریف کرتے ہوئے چاپلوسی کر کے اسے جہالت اور نادانی میں رکھے رہتا ہے بہت زیادہ بہتر اور مفید ہوگا اور اگر اس نے سوچ و بچار کے بعد دیکھا کہ دشمن کا بیان کردہ عیب اس میں موجود نہیں ہے تو پھر خدا کا شکریہ ادا کرے اور اپنے نفس کی حفاظت کرے کہ کہیں اس برے عیب میں بعد میں مبتلا نہ ہوجائے اس صورت میں انسان ایسے دشمن سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن اس کا اس طرح کرنا اس سے مانع نہیں ہوگا کہ وہ عقلدئی اور شرعی طریقے سے دشمن کی سازش اور خیانت کے نقشے کو ناکام بنادے_

۸_ روح کی بیماریوں کی علامتیں: بیماری کی پہچان کا ایک بہترین طریقہ اس کی علامتوں سے ہوا کرتا ہے_ جسم کی بیماری دو میں سے ایک طریقے سے پہچانی جاتی ہے یا تو درد کے محسوس کرنے سے اور یا کسی عضو کے اس کام کے انجام دینے سے کمزور پڑ جانے سے جو اس کے ذمہ قرار پایا ہے کیونکہ بدن کے نظام کے برقرار رہنے میں اس کے ہر عضو کا مخصوص عمل ہوا کرتا ہے اگر کوئی عضو اس کام کے انجام دینے میں کمزور ہو جائے تو معلوم ہوجائیگا کہ وہ عضو مریض ہوگیا ہے مثلا آنکھ اگر سالم ہو تو وہ خاص شرائط کے ساتھ دیکھتی ہے پس اگر شرائط کے ہوتے ہوئے یا تو بالکل نہ دیکھے یا اچھی طرح نہ دیکھے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ بیمار ہے اسی طرح بدن کے بقیہ تمام اعضاء اور جوارح مثل کان ، زبان، ہاتھ، پائوں، دل ، جگر، گردے و غیرہ ان میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص کام ہوا کرتا ہے کہ جسے وہ سلامتی کی حالت میں انجام دیتے ہیں اگر انہوں نے وہ مخصوص کام انجام نہ دیئے تو معلوم ہوجائیگا کہ وہ بیمار ہیں انسان کی روح اور نفس


بھی اسی طرح ہے کہ اس کے لئے فطرت اور خلقت کے لحاظ سے مخصوص کام قرار دیئے گئے ہیں جنہیں اس کو بجالانے ہوتے ہیں_ روح عالم ملکوت سے آئی ہے علم اور رحمت قوت احسان انصاف پسندی محبت معرفت نورانیت اور دوسرے کمالات اور مکارم اخلاق سے اسے سنخیت حاصل ہے اور ان سے مربوط ہے یہ فطرت کے لحاظ سے علت کو معلوم کرتی ہے اور خدا طلب ہے ایمان اور خدا کی طرف توجہ اور اس ذات سے محبت اور علاقمندی اس کی عبادت اور اس سے دعا اور راز و نیاز روح کی سلامتی اور صحت کی علامتیں ہیں_ اسی طرح علم و دانش اور اللہ کے بندوں کی رضا الہی کے لئے خدمت_ قربانی اور ایثار، عدالت خواہی اور دوسرے مکارم اخلاق روح کی صحت اور سلامتی کی علامتیں شمار ہوتی ہیں اگر انسان اس قسم کی صفات اپنے میں موجود پائے تو معلوم ہوجائیگا کہ اس کی روح سالم اور صحیح ہے اور اگر اسے حاصل ہو کہ وہ خدا کی طرف توجہہ نہیں رکھتا اور عبادت اور دعا اور مناجات سے لذت حاصل نہیں کرتا اور اس سے بھاگتا ہے خدا کو دوست نہیں رکھتا اور صرف مقام اور مرتبہ جاہ و جلال دولت اور ثروت اور اولاد اور بیوی شہوترانی اور لذات حیوانی کو اللہ کی رضا پر ترجیح دیتا ہے اور زندگی سے صرف منافع شخصی کا ہدف رکھتا ہے اور فداکاری اور قربانی اور ایثار اور احسان اور خدمت خلق سے لذت حاصل نہیں کرتا اور دوسروں کے درد اور مصیبت سے دردناک نہیں ہوتا_ ایسے شخص کو جان لینا چاہئے کہ اس کی روح واقعا بیمار ہے اگر وہ اپنی سعادت کو چاہتا ہے تو اسے بہت جلدی اپنی روح کی اصلاح اور علاج کرنا چاہئے_

علاج کرنے کا عزم

جب ہم نے نفس اور روح کی بیماریوں کو پہچان لیا اور یقین کر


لیا کہ ہم بیمار ہیں تو ہمیں فورا علاج شروع کرنا چاہئے اور سب سے اہم اس مرحلہ میں انسان کا ارادہ اور عزم ہے اگر واقعا ہم چاہئیں اور حتمی ارادہ کرلیں کہ ہم اپنے آپ کو برائیوں اور برے اخلاق سے اپنی روح کو پاک کریں گے تو یسا کر سکتے ہیں لیکن اگر اس کو معمولی شمار کریں اور ارادہ اور عزم نہ کریں تو پھر روح کی سلامتی اور اس کام صحیح ہوجانا غیر ممکن ہوگا یہ وہ وقت ہے کہ شیطن اور نفس امارہ اپنا کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور مختلف بہانوں کو سامنے لاتا ہو تا کہ ہمیں روح کی اصلاح کرنے سے روکے رکھے لیکن ہمیں بہت زیادہ ہوشیار ہونا چاہئے تا کہ اس کے حیلے اور بہانوں کا فریب نہ کھائیں_ ممکن ہے کہ ہماری بری عادت کو یوں بتلایا جائے کہ تم نے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے دوسرے بھی ایسی صفت رکھتے ہیں_ فلان فلان فلان کو دیکھو اسی صفت بلکہ اس سے بدتر صفت رکھتا ہے کیا تم تنہا زندگی گذار سکتے ہو؟ اگر تو چاہتا ہے کہ رسوائے زمانہ نہ ہو تو زمانے کی طرح چال چلو_ لیکن انسان کو اس فریب اور دھوکے کے سامنے ڈٹ جانا ہوگا_ اگر دوسرے اس مرض میں مبتلا ہیں تو ان کا مجھ سے کیا ربط ہے کسی دوسروں کا اس بیماری میں گرفتار ہوجانا میرے اس کے ارتکاب کا جواز نہیں بنتا_ اسے یوں کہنا ہوگا کہ یہ عیب اور بیماری تو مجھ میں موجود ہے اگر میں اس بیماری کے ساتھ مرگیا تو ہمیشہ بدبختی اور شقاوت میں جا پڑوں گا_ لہذا مجھے اس کا علاج کرنا چاہئے اور اپنے نفس کو اس سے پاک کرنا ہوگا_

ممکن ہے کبھی اور حیلے کے ذریعے سے کہ جس سے وقت گذرتا جائے اور تاخیر ہوجائے شیطن میدان میں آجائے اور ہمارے ارادہ کو منصرف کردے اور یوں خیال میں لائے کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ عیب تو تجھ میں موجود ہے اور اس کی اصلاح بھی کرنی چاہئے لیکن اتنی جلدی کیا ہے اور کیا دیر ہوگئی ہے؟ رہنے دو میں فلان کام انجام دے لوں_ اس وقت فارغ البال ہو کر نفس کے پاک کرنے میں مشغول ہو جائونگا_ ابھی تو میں جوان ہوں اور عیش کرنے کا زمانہ ہے جب بوڑھا پے میں جائونگا تو پھر توبہ کر لونگا اور نفس کے پاک کرنے میں مشغول ہوجائونگا_ انسان کو متوجہ رہنا چاہئے


کہ یہ بھی شیطن کا ایک فریب اور حیلہ ہے_ کیا معلوم کہ اس وقت تک انسان زندہ رہے گا؟ شاید اس سے پہلے مرجائے اور انہیں نفسانی بیماریوں میں فوت ہوجائے اس وقت ہمارا انجام کیا ہوگا؟ اور بالغرض اس وقت تک ز ندہ بھی رہ جائے تو کیا اس وقت شیطن اپنی حیلہ گری اور فریب دینے کو چھوڑ دے گا_ اور ہمیں آزاد چھوڑ دے گا تا کہ اپنے نفس کو پاک کر سکیں اس وقت شیطن کوئی اور فریب دے کر نفس کے پاک کرنے سے ہمیں روک دے گا لہذا کتنا ہی اچھا ہے کہ ابھی سے نفس کے پاک کرنے میں شروع ہوا جائے اور نفس امارہ پر قابو پایا جائے_ ممکن ہے کہ نفس امارہ ہمیں کہے کہ تم نے فلاں صفت کی عادت کر رکھی ہے اور عادت کا چھوڑنا تیرے لئے ممکن نہیں ہو گا تو خواہشات نفس کا قیدی ہے کس طرح تو اپنے آپ کو اس قید سے رہائی دلا سکتا ہے؟ تیری روح گناہ اور معصیت کی وجہ سے تاریک ہوچکی ہے ابھی اسے گلو خلاصی ممکن نہیں ہے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بھی شیطن کی ایک فریب کاری اور دھوکا دہی ہے تجھے اپنے نفس کو کہہ دینا چاہئے کہ عادت کا چھوڑنا غیر ممکن نہیں ہوتا بلکہ یہ ممکن ہے گرچہ یہ مشکل تو ہے لیکن اصلاح کرنے کے عمل میں شروع ہو جانا چاہئے اور اپنے نفس کو پاک کرنے میں کوشش کرنے چاہئے اگر گناہ اور بری عادت کا چھوڑنا ممکن نہ ہوتاتو یہ سارے حکم جو پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار کے اس بارے میں آئے ہیں تو ان سے صادر نہ ہوتے اور توبہ کے دروازے کسی وقت بند نہ ہوتے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے لہذا حتمی ارادہ کر لینا چاہئے اور روح کے پاک کرنے میں مشغول ہو جانا چاہئے_ ہو سکتا ہے کہ شیطان نفسانی بیماریوں اور بری صفات کو معمولی اور کم بتلائے اور کہے کہ تم واجبات کے بجالانے کے تو پابند ہو اور فلان فلان مستحب کام بھی بجالاتے ہو خدا تمہیں بخش دے گا اور تیری جگہ بہشت ہے اور یہ کئی ایک بری صفات جو تم میں موجود ہیں یہ اتنی اہم نہیں ہیں تیرے مستحبات کے بجالانے کی وجہ سے ان کا تدارک ہو جائیگا اور وہ بخش دی جائیں گی اس صورت میں بھی ملتفت رہنا چاہئے کہ اس قسم کے خیالات اور امیدیں دلانا بھی شیطن کا ایک مکر اور فریب ہوتا ہے


اور ہمیں اپنے نفس ا مارہ سے کہنا چاہئے کہ نیک اعمال تو صرف متقیوں سے قبول ہوتے ہیں اور تقوی کا حاصل کرنا نفس کو پاک کئے بغیر حاصل نہیں ہوتا اگر ہمارا نفس برائیوں سے پاک نہ ہوا تو نفس میں اچھائیوں کی نشو و نما نہیں ہو سکے گی اور اگر نفس سے شیطن باہر نہ گیا تو فرشتہ رحمت اس میں داخل نہیں ہو سکے گا اگر گناہ اور برے اخلاق سے نفس آلودہ ہوا تو آخرت کے جہان میں اس کے لئے نور نہ ہوگا_

ہمیں ہمیشہ ان بیماریوں کے انجام کی طرف جو پہلے بیان کی جاچکی ہیں متوجہ رہنا چاہئے اس کے ساتھ احادیث اور اخلاق کی کتابوں کے مطالعہ سے ان نفسانی بیماریوں اور ان کی اخروی سزا اور عقاب کو مورد توجہ قرار دینا چاہئے اس ذریعے سے ہمیں نفس امارہ کے حیلے اور بہانے اور نفس امارہ کے توہمات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور نفس کی اصلاح اور اسے پاک کرنے میں حتمی اور جزمی ارادہ کر لینا چاہئے اگر ہم نے ارادے کا مرحلہ طے کر لیا تو پھر عمل کرنے کا مرحلہ قریب تر ہوجائیگا_

نفس پس غلبہ کرنا

تمام اعمال اور افعال اور برائیاں اور اچھائیوں کو بجالانے والی در حقیقت روح ہوا کرتی ہے اگر روح سالم اور صحیح ہو تو انسان کی دنیا اور آخرت آباد ہوگی اور اگر روح فاسد ہوئی تو پھر وہ برائیوں کے بجالانے کا موجب ہوگی اور دنیا اور آخرت کی ہلاکت اسے لاحق ہوجائیگی اگر انسان نے انسانیت کے راستے پر قدم رکھا تو اللہ کے مقرب فرشتوں سے بھی بالاتر ہوجائیگا اور اگر اسے نے انسانی شرافت کو نظر انداز کیا اور حیوانیت کے راستے پر گامزن ہوا تو حیوانات سے بھی بدتر ہوجائیگا بلکہ وہ شیطنت کے مقام تک پہنچ جائیگا ان دونوں راستوں کے طے کرنے کے اسباب اور عوامل انسان کی فطرت میں رکھ دیئے گئے ہیں_


وہ عقل بھی رکھتا ہے اور فطرت کے ما تحت انسانی فضائل اور کمالات کا چاہنے والا بھی ہوتا ہے اور یہ حیوان بھی ہے اور حیوانی غرائز اور خواہشات بھی رکھتا ہے اور یوں بھی نہیں کہا جا سکتا کہ حیوانی خواہشات اور غرائز بالکل اور نقصان وہ ہوتی ہیں اور انسان کو پستی کی طرف دکھیل دیتی ہیں نہ بلکہ ان کا ہونا بھی انسان کی زندگی کے لئے ضروری ہے_ اگر ان سے صحیح اور تھیک استفادہ کیا جائے تو انہیں انسانی تکامل اور اللہ کی طرف سیر و سلوک کے لئے کام میں لایا جا سکتا ہے لیکن اصل مشکل یہ ہے کہ حیوانی خواہشات اور تمنیک ایک معین حد تک نہیں تھہر تیں اور دوسروں کا لحاظ نہیں کرتیں اور نہ ہی انسانی خصوصیات کی طرف متوجہ ہوتی ہیں اور نہ ہی دوسرے غرائز کا لحاظ کرتی ہیں بلکہ ان کی غرض اور غایت صرف اپنے آپ کو آخر تک پہچانا ہوتا ہے_

حیوانی غریزہ کی غرض صرف اسی غریزہ کو بطور کامل حاصل کرنا ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اس کی کوئی غرض نہیں ہوتی تمام حیوانی خواہشات اور غرائز جیسے کھانے پینے کی چیزوں سے لذت حاصل کرنا مقام اور منصب کی محبت حکومت اور شہرت مال اور دولت سے وابستگی زندگی کے تجملات اسی طرح غصہ انتقام لینا اور تمام وہ صفات جو ان سے پھوٹتی ہیں یہ تمام کی تمام کسی ایک معین حد تک نہیں تھہرتیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کو آخر تک حاصل کرنا مقصود ہوجاتا ہے_

اسی وجہ سے انسان کا نفس اور روح مختلف خواہشات اور غرائز کے لئے میدان جنگ اور شکست و ریخت کا میدان بنا رہتا ہے اور کبھی آرام اور سکون میں نہیں رہتا جو بھی اس جنگ میں کامیاب ہو جاتا ہے وہی روح اور نفس کو پوری طرح اپنا اسیر اور قیدی بنا لیتا ہے لیکن ان کے درمیان عقل بہت قدرت اور بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے_ عقل شرعیت کی راہنمائی میں حیوان خواہشات اور تمینات پر کنتڑل کر سکتی ہے اور انہیں اعتدال کی حالت میں قرار دے سکتی ہے اور افراط اور تفریط سے مانع بن سکتی ہے عقل اپنی حکومت کو کام میں لا سکتی ہے_ خواہشات کے درمیان اعتدال برقرار کر


سکتی ہے_ عقل اس وسیلے سے نفس اور روح کی مملکت کو گڑ بڑ اور نا آرامی اور زیادہ طلبی سے نجات دلا سکتی ہے اور انسانیت کے سیدھے راستے اور سیر اور سلوک کی راہ نمائی کر سکتی ہے_

لیکن عقل کا اسپر حاکم اور مسلط ہوجانا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ وہ باقی طاقت ور قوتوں اور خواہشات کے روبرو ہوتی ہے اور دھوکے باز دشمن کہ جس کا نام نفس امارہ ہے اور اس کے بہت زیادہ مددگار اور ساتھی ہیں جو اس کی حمایت کرتے ہیں_ اسے اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ'' نفس ہمیشہ برے کاموں کا حکم دیتا ہے مگر خدا رحم کردےں_(۱۳۶)

رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ '' تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے دو پہلو میں موجود دہے_(۱۳۷)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' عقل اور شہوت ایک دوسرے کی ضد ہیں علم عقل کی مدد کرتا ہے اور ہوی اور ہوس شہوت کی تائید کرتے ہیں_ انسانی نفس دو قوتوں کی لڑائی کا میدان ہوتا ہے ان میں سے جو دوسری قوت پر غلبہ حاصل کر لے انسانی نفس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے_(۱۳۸)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' برائی اور شر ہر ایک نفس میں موجود ہیں اگر نفس کے مالک نے اس پر غلبہ حاصل کر لیا تو وہ مخفی ہوجاتا ہے اور اگر اس پر غلبہ نہ کیا تو وہ ظاہر ہوجاتا ہے_(۱۳۹)

لہذا عقل بہت اچھا حاکم ہے لیکن مدد کئے جانے کا محتاج ہے اگر اس جنگ میں عقل کی مدد کریں اور نفسانی خواہشات اور شہوات اور ہوی و ہوس پر شورش کریں اور جسم کی مملکت کے انتظام کا کاکم عقل کے سپرد کردیں تو ایک بہت بڑی فتح اور کامرانی کو حاصل کر لیں گے_

یہی دو چیز ہے کہ جو دین کے پیشوائوں اور رہبروں اور شریعت اور طریقت پر


چلنے والوں نے ہم سے طلب کی ہوئی ہے اور اس کے متعلق بہت زیادہ تاکید کر رکھی ہے_

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ہوشیار رہنا کہ کہیں شہوات تمہارے دلوں پر غالب نہ آجائیں کیونکہ پہلے وہ تمہیں اپنی ملکیت میں لیں گی اور آخر میں تجھے ہلاک کردیں گی_(۱۴۰)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ '' جس نے اپنی خواہشات کو اپنی ملکیت میں قرار نہ دیا تو وہ اپنی عقل کا مالک بھی نہیں رہے گا_(۱۴۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ '' جو شخص خوف اور رغبت اور شہوت اور غضب کے وقت اپنے نفس پر مسلط ہوا تو خدا اس کے بدن کو جہنم کی آگ پر حرام قرار دے دے گا_(۱۴۲)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایاہے کہ'' تم اپنے نفس پر مسلط ہوجائو اور اسے گناہوں سے روکو تا کہ تم اسے اللہ کی اطاعت کی طرف آسان کردو_(۱۴۳)

روح انسانی کو پاکیز بنانے کے لئے نفس اور اس کی خواہشات اور ھوی اور ہوس پر کنتڑل کرنا ایک ضروری اور زندگی ساز کام ہے_ انسان کا نفس اور روح مثل ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے اگر وہ ریاضت کے ذریعے مطیع اور آرام میں ہوا اور اس کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھی اور اس کی پشت پر سوار ہوا تو پھر اس سے فائدہ حاصل کر سکے گا اور اگر وہ مطیع اور فرمانبردار نہ ہوا اور جس طرف چاہے وہ جانے لگا تو وہ تجھے اپنی پشت سے تہہ غار میں گرا دے گا لیکن سرکش نفس کو مطیع اور فرمانبردار بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے وہ ابتداء ہی میں تجھ سے مقابلہ کرے گا_ لیکن اگر تو مقاومت کرے اور مضبوط بنے تو وہ تیرا مطیع اور فرمانبردار ہوجائے گا_

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اگر تیرا نفس تیرے سامنے سختی سے پیش ائے اور مطیع اور فرمانبردار نہ ہو تو بھی اس پر سختی کر تا کہ وہ تیرا مطیع اور فرمانبردار ہوجائے تو اس کے ساتھ حیلے اور بہانے سے پیش آتا کہ وہ تیری اطاعت میں آ


جائے _(۱۴۴)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان خواہشات اور شہوات مار دینے والی بیماریاں ہیں اور انکا بہترین علاج اور دوا، صبر اور استقامت اور اس کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے_(۱۴۵)


نفس کے ساتھ جہاد

انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا نفس ہے اور وہ برابر عقل کے ساتھ جنگ اور تجاوز کی حالت میں رہتا ہے_ شیطان کے وسوسوں سے الہام لیتا ہے اور لاو لشکر کے ساتھ عقل پر حملہ آور ہوتا ہے تا کہ اسے جدا اور خاموش کردے اور وہ تن تنہا میدان پر قابو پائے رکھے اس کی غرض یہ ہے کہ فرشتوں کو نفس کی دنیا سے باہر نکال دے اور اسے پوری طرح شیطن کے قبضے میں دے ے ایسے غدار دشمن کو سرنگوں کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے_ اراہ حتمی اور مقابلہ بلکہ جہاد کرنا اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے اور وہ بھی ایک دفعہ اور دو دفعہ یا ایک دن یا دو دن ایک سال یا دو سال نہیں بلکہ تمام عمر پے در پے جہاد کرنا ضروری ہے _ اس سے سخت مقابلہ اور متصل جہاد چاہئے اور نفس اور روح کو رام کرنے اور اس کی خواہشات پر قابو پانے کے لئے بہت سخت جنگ کرنی پڑتی ہے_

پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ طاہرین سے الہام لے کر عقل کی مدد سے اس کے لائو لشکر سے جنگ کریں اور نفس کے تجاوزات اور زیادتیوں کو روکے رکھیں اور اس کی فوج کو گھیرا ڈال کر ختم کردیں تا کہ عقل جسم کی مملکت پر حکومت کر سکے اور شرعیت سے الہام لے کر کمال انسانی اور سیر و سلوک تک پہنچ سکے _ نفس کے ساتھ صلح اور آشتی نہیں کی جا سکتی بلکہ اس سے جنگ کرنی چاہئے تا کہ اسے زیر کیا جائے اور وہ اپنی


حد تک رہے اور شازش کرنے سے باز رہے سعادت تک پہنچنے کے لئے اس کے سوا اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے _ اسی وجہ سے نفس کے ساتھ جنگ کرںے کو احادی میں جہاد کہا گیا ہے_

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اپنے نفس پر پے در پے جہاد کرنے سے تسلط پیدا کرو_(۱۴۶)

آپ نے فرمایا '' نفس خواہشات اور ھوی اور ہوس پر غلبہ حاصل کرو اور ان سے جنگ کرو اگر یہ تمہیں جکڑ لیں اور اپنی قید و بند میں قرار دے دیں تو تمہیں بدترین درجہ میں جاڈالیں گے_(۱۴۷)

آپ نے فرمایا کہ '' نفس کے ساتھ جہاد ایک ایسا سرمایہ ہے کہ جس کے ذریعے بہشت خریدی جا سکتی ہے_ پس جو آدمی اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے وہ اس پر مسلط ہوجائیگا_ اور بہشت اس کے لئے جو اس کی قدر پہچان لے بہترین جزا ہوگی_(۱۴۸)

آپ نے فرمایا '' جہاد کر کے نفس کو اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرو_ اس کے ساتھ یہ جہاد ویسا ہو جیسے دشمن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس پر ایسا غلبہ کرو جو ایک ضد دوسری ضد پر غلبہ کرتی ہے لوگوں سے قوی ترین آدمی وہ ہے جو اپنے نفس پر فتح حاصل کرے_(۱۴۹)

آپ نے فرمایا کہ '' عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو نفس کے ساتھ جہاد میں مشغول رکھے اور اس کی اصلاح کرے اور اسے ھوی اور ہوس اور خواہشات سے روکے رکھے اور اس طرح سے اس کو لگام دے اور اپنے کنتڑل میں لے آئے_ عقلمند انسان اس طرح اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہتا ہے کہ وہ دنیا اور جو کچھ دنیا اور اہل دنیا میں ہے اس میں اتنا مشغول نہیں رہتا_(۱۵۰)

نفس کے ساتھ جہاد ایک بہت بڑی اہم جنگ اور نتیجہ خیز ہے ایسی جنگ کہ ہمیں کس طرح دنیا اور آخرت کے لئے زندگی بسر کرنی اور ہمیں کس طرح ہونا اور کیا کرنا ہے سے مربوط ہے اگر ہم جہاد کے ذریعے اپنے نفس کو کنتڑل کر کے نہ رکھیں


اور اس کی لگام اپنے ہاتھ میں نہ رکھین وہ ہم پر غلبہ کر لے گا اور جس طرف چاہئے گا لے جائیگا اگر ہم اسے قید میں نہ رکھیں وہ ہمیں اسیر اور اپنا غلام قرار دے دیگا اگر ہم اسے کردار اور اچھے اخلاق اپنا نے پر مجبور نہ کریں تو وہ ہمیں برے اخلاق اور برے کردار کی طرف لے جائیگا_ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد بہت اہم کام اور سخت ترین راستہ ہے جو اللہ کی طرف سیر و سلوک کرنے والے کے ذمہ قرار دیا جا سکتا ہے _ جتنی اس راستے میں طاقت خرچ کی جائے وہ قیمتی ہوگی_

جہاد اکبر

نفس کے ساتھ جہاد اس قدر مہم ہے کہ اسے پیغمبر اکبر نے جہاد اکبر سے تعبیر فرمایا ہے اتنا اہم جہاد ہے کہ جنگ والے جہاد سے بھی اسے بڑا قرار دیا ہے_

حضرت علی علیہ السلام نے نقل فرمایا ہے کہ'' رسول خدا(ص) نے ایک لشکر دشمن سے لڑنے کے لئے روانے کیا اور جب وہ جنگ سے واپس آیا آپ نے ان سے فرمایا مبارک ہو ان لوگوں کو کہ جو چھوٹے جہاد کو انجام دے آئے ہیں لیکن ابھی ایک بڑا جہاد ان پر واجب ہے آپ سے عرض کی گئی یا رسول اللہ(ص) بڑا جہاد کونسا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا اپنے نفس سے جہاد کرنا_(۱۵۱)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' بہترین جہاد اس شخص کا جہاد ہے کہ جو اپنے نفس سے جو اس کے دو پہلو میں موجود ہے جہاد کرے_(۱۵۲)

پیغمبر اکرم(ص) نے اس وصیت میں جو حضرت علی(ع) سے کی تھی فرمایا کہ '' جہاد میں سے بہترین جہاد اس شخص کا ہے جب وہ صبح کرے تو اس کا مقصد یہ ہو کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرونگا_(۱۵۳)

ان احادیث میں نفس کے ساتھ جہاد کرنے کو جہاد اکبر اور افضل جہاد کے نام


سے پہنچوانا گیا ہے یہ ایسا جہاد ہے کہ جو اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے سے فضیلت اور برتری رکھتا ہے حالانکہ اللہ تعالی کے راستے میں جہاد بہت ہی پر ارزش اور بہترین عبادت شمار ہوتا ہے اس سے جہاد نفس کا پر ارزش اور بااہمیت ہونا واضح ہوجاتا ہے نفس کے جہاد کا برتر ہونا تین طریقوں سے درست کیا جا سکتا ہے_

۱_ ہر ایک عبادت یہاں تک کہ اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنا بھی نفس کے جہاد کرنے کا محتاج ہے_ ایک عبادت کو کامل اور تمام شرائط کے ساتھ بجالانا نفس کے ساتھ جہاد کرنے پر موقوف ہے کیا نماز کا حضور قلب کے ساٹھ جالانا اور پھر اسکے تمام شرائط کی رعایت کرنا جو معراج مومن قرار پاتی ہے اور فحشا اور منکر سے روکتی ہے بغیر جہاد اور کوشش کرنے کے انجام پذیر ہو سکتا ہے؟ آیا روزہ کا رکھنا جو جہنم کی آگ کے لئے ڈھال ہے بغیر جہاد کے میسر ہو سکتا ہے_ کیا نفس کے جہاد کے بغیر کوئی جہاد کرنے والا انسان اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر جنگ کے میدان میں حاضر ہو سکتا ہے اور اسلام کے دشمنوں سے اچھی طرح جنگ کر سکتا ہے؟ اسی طرح باقی تمام عبادات بغیر نفس کے ساتھ جہاد کرنے کے بجالائی جا سکتی ہیں؟

۲_ ہر ایک عبادت اس صورت میں قبول کی جاتی ہے اور موجب قرب الہی واقع ہوتی ہے جب وہ صرف اللہ تعالی کی رضا کے لئے انجام دی جائے اور ہر قسم کے شرک اور ریاء خودپسندی اور نفسانی اغراض سے پاک اور خالص ہو اس طرح کے کام بغیر نفس کے ساتھ جہاد کئے واقع ہونا ممکن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ جنگ کرنے والا جہاد اور شہادت بھی اس صورت میں قیمت رکھتی ہے اور تقرب اور تکامل کا سبب بنتی ہے جب خالص اور صرف اللہ کی رضاء اور کلمہ توحید کی سربلندی کے لئے واقع ہو اگر یہ اتنی بڑی عبادت اور جہاد صرف نفس کی شہرت یا دشمن سے انتقام لینے یا نام کے باقی رہ جانے یا خودنمائی اور ریاکاری یا مقام اور منصب کے حصول یا زندگی کی مصیبتوں سے فرار یا دوسری نفسانی خواہشات کے لئے واقع ہو تو یہ کوئی معنوی ارزش اور قیمت نہیں رکھتی اور اللہ تعالی کے پاس تقرب کا موجب نہیں بن سکتی اسی وجہ سے نفس کے


ساتھ جہاد تمام عبادات اور امور خیریہ یہاں تک کہ اللہ تعالی کے راستے والے جہاد پر فضیلت اور برتری اور تقدم رکھتا ہے س واسطے کہ ان تمام کا صحیح ہونا اور باکمال ہونا نفس کے جہاد پر موقوف ہے یہی وجہ ہے کہ نفس کے جہاد کو جہاد اکبر کہا گیا ہے_

۳_ جنگ والا جہاد ایک خاص زمانے اور خاص شرائط سے واجب ہوتا ہے اور پھر وہ واجب عینی بھی نہیں ہے بلکہ واجب کفائی ہے اور بعض افراد سے ساقط ہے اور بعض زمانوں میں تو وہ بالکل واجب ہی نہیں ہوتا اور پھر واجب ہونے کی صورت میں بھی واجب کفائی ہوتا ہے یعنی بقدر ضرورت لوگ شریک ہوگئے تو دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے اور پھر بھی عورتوں اور بوڑھوں اور عاجز انسانوں اور بیمار لوگوں پر واجب نہیں ہوتا لیکن اس کی برعکس نفس کا جہاد کہ جو تم پر تمام زمانوں اور تمام حالات میں اور شرائط میں واجب عینی ہوا کرتا ہے اور زندگی کے آخر لمحہ تک واجب ہوتاہے اور سوائے معصومین علیہم السلام کے کوئی بھی شخص اس سے بے نیاز نہیں ہوتا_

۴_ نفس سے جہاد کرنا تمام عبادات سے یہاں تک کہ جنگ والے جہاد سے کہ جس میں انسان اپنی جان سے صرفنظر کرتی ہوئے اپنے آپ کو شہادت کے لئے حاضر کردیتا ہے_ مشکل تر ہے اور دشوار اور سخت تر ہے اس واسطے کہ محض اللہ کے لئے تسلیم ہو جانا اور تمام عمر نفسانی خواہشات سے مقابلہ کرنا اور تکامل کے راستے طے کرنا اس سے زیادہ دشوار اور مشکل ہے کہ انسان جنگ میں جہاد کرنے والا تھوڑے دن دشمن سے جنگ کے میدان میں جنگ کرے اور مقام شہادت پر فیض یاب ہوجائے_ نفس کے ساتھ مقابلہ کرنا اتنا سخت ہے کہ سواے پے در پے نفس کے ساتھ جہاد کرنے اور بہت زیادہ تکالیف کو برداشت کرنے کے حاصل نہیں ہو سکتا اور سوائے اللہ تعالی کی تائید کے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے_ اسی لئے نماز میں ہمیشہ اھدنا الصراط المستقیم بڑھنے ہیں_ صراط مستقیم پر چلنا اتنا دشوار اور سخت ہے کہ رسول گرامی اللہ تعالی سے کہتا ہے _الہی لا تکلنی الی نفسی طرفة عین ابدا_


جہاد اور تائید الہی

یہ ٹھیک ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد بہت سخت اور مشکل ہے اور نفس کے ساتھ جہاد کرنا استقامت اور پائیداری اور ہوشیاری اور حفاظت کا محتاج ہے لیکن پھر بھی ایک ممکن کام ہے اور انسان کو تکامل کے لئے یہ ضروری ہے اگر انسان ارادہ کرلے اور نفس کے جہاد میں شروع ہوجائے تو خداوند عالم بھی اس کی تائید کرتا ہے_ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' جو شخص اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستے کی ہدایت کرتے ہیں_(۱۵۴)

حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مبارک ہو اس انسان کے لئے جو اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اپنے نفس اور خواہشات نفس کے ساتھ جہاد کرے _ جو شخص خواہشات نفس کے لئے لشکر پر غلبہ حاصل کر لے تو وہ اللہ تعالی کی رضایت حاصل کر لیگا_ جو شخص اللہ تعالی کے سامنے عاجزی اور فروتنی سے پیش آئے اور اپنی عقل کو نفس کا ہمسایہ قرار دے تو وہ ایک بہت بڑی سعادت حاصل کرلیگا_

انسان اور پروردگار کے درمیان نفس امارہ اور اس کی خواہشات کے تاریک اور وحشت ناک پردے ہوا کرتے ان پردوں کے ختم کرنے کیلئے خدا کی طرف احتیاج خضوع اور خشوع بھوک اور روزہ رکھنا اور شب بیداری سے بہتر کوئی اسلحہ نہیں ہوا کرتا اس طرح کرنے والا انسان اگر مرجائے تو دنیا سے شہید ہو کر جاتا ہے اور اگر زندہ رہ جائے تو اللہ تعالی کے رضوان اکبر کو جا پہنچتا ہے خداوند عالم فرماتا ہے جو لوگ ہمارے راستے میں جہاد کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستوں کی راہنمائی کردیتے ہیں_ اور خدا نیک کام کرنے والوں کے ساتھ ہے_ اگر کسی کو تو اپنے نفس کو ملامت اور سرزنش اور اسے اپنے نفس کی حفاظت کرنے میں زیادہ شوق دلا_ اللہ تعالی کے اوامر او رنواہی کو


اس کے لئے لگام بنا کر اسے نیکیوں کی طرف لے جا جس طرح کہ کوئی اپنے ناپختہ غلام کی تربیت کرتا ہے اور اس کے کان پکڑ کر اسے ٹھیک کرتا ہے_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ(ص) کے پائوں مبارک ورم کر جاتے تھے اور لوگوں کے اعتراض کرنے پر انہیں یوں جواب دیتے تھے کہ کیا میں شکر ادا کرنے والا بندہ نہ بنوں؟ پیغمبر اکرم عبادت کرکے اپنی امت کو درس دے رہے تھے_ اے انسان تو بھی کبھی عبادت اور اس کی برکات کے مٹھاس کو محسوس کر لیا اور اپنے نفس کو اللہ تعالی کے انوار سے نورانی کر لیا تو پھر تو ایسا ہوجائیگا کہ ایک گھڑی بھی عبادت سے نہیں رک سکے گا گرچہ تجھے تکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ کردیا جائے_

عبادت سے روگردانی اور اعراض کی وجہ سے انسان عبادت کے فوائد اور گناہ اور معصیت سے محفوظ رہنے اور توفیقات الہی سے محروم ہوجاتا ہے_(۱۵۵)

نفس کی ساتھ جہاد بالکل جنگ والے جہاد کی طرح ہوتا ہے جو وار دشمن پر کریگا اور جو مورچہ دشمنوں سے فتح کرے گا اسی مقدار اس کا دشمن کمزور اور ضعیف ہوتا جائیگا اور فتح کرنے والی فوج طاقت ور ہوتی جائیگی_

اور دوبارہ حملہ کرنے اور فتح حاصل کرنے کے لئے آمادہ ہوجائیگی_ اللہ تعالی کا طریق کار اور سنت یوں ہی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان تنصر و اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم_

نفس کے ساتھ جہاد کرنا بھی اسی طرح ہوتا ہے_ جتنا وار نفس آمادہ پر وارد ہوگا اور اس کی غیر شرعی خواہشات اور ھوی و ہوس کی مخالفت کی جائیگی اتنی ہی مقدار نفس کمزور ہوجائیگا اور تم قوی ہوجائو گے اور دوسری فتح حاصل کرنے کے لئے آمادہ ہوجائو گے برعکس جتنی سستی کرو گے اور نفس کے مطیع اور تسلیم ہوتے جائوگے تم ضعیف ہوتے جائو گے اور نفس قوی ہوتا جاے گا اور تمہیں فتح کرنے کے لئے نفس آمادہ تر ہوتا جائیگا اگر ہم نفس کے پاک کرنے میں اقدام کریں تو خداوند عالم کی طرف سے تائید


کئے جائیں گے اور ہر روز زیادہ اور بہتر نفس امارہ پر مسلط ہوتے جائیں گے لیکن اگر خواہشات نفس اور اس کی فوج کے لئے میدان خالی کردیں تو وہ قوی ہوتا جائیگا اور ہم پر زیادہ مسلط ہوجائیگا_

اپنا طبیب خود انسان

یہ کسی حد تک ٹھیک ہے کہ پیغمبر اور ائمہ اطہار انسانی نفوس کے طبیب اور معالج ہیں لیکن علاج کرانے اور نفس کے پاک بنانے اور اس کی اصلاح کرنے کی ذمہ دار ی خود انسان پر ہے_ پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار انسان کو علاج کرنے کا درس دیتے ہیں اور نفس کی بیماریوں اور ان کی علامتیں اور برے نتائیج اور علاج کرنے کا طریقہ اور دواء سے آگاہی پیدا کرے اور اپنے نفس کی اصلاح کی ذمہ داری سنبھال لے کیونکہ خود انسان سے کوئی بھی بیماری کی تشخیص بہتر طریقے سے نہیں کر سکتا اور اس کے علاج کرنے کے درپے نہیں ہو سکتا_ انسان نفسانی بیماریوں اور اس کے علاج کو واعظین سے سنتا یا کتابوں میں پڑھتا ہے لیکن بالاخر جو اپنی بیماری کو آخری پہچاننے والا ہوگا اور اس کا علاج کرے گا وہ خود انسان ہی ہوگا_ انسان دوسروں کی نسبت درد کا بہتر احساس کرتا ہے اور اپنی مخفی صفات سے آگاہ اور عالم ہے اگر انسان اپنے نفس کی خود حفاظت نہ کرے تو دوسروں کے وعظ اور نصیحت اس میں کس طرح اثر انداز اور مفید واقع ہو سکتے ہیں؟ اسلام کا یہ نظریہ ہے کہ اصلاح نفس انسان داخلی حالت سے شروع کرے اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے رعایت کرتے ہوئے اسے اس کے لئے آمادہ کرے اور اسلام نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کی خود حفاظت کرئے اور یہی بہت بڑا تربیتی قاعدہ اور ضابطہ ہے_ خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ ہر انسان اپنی نیکی اور برائی سے خود آگاہ اور عالم ہے گرچہ وہ عذر گھڑتا


رہتا ہے_(۱۵۶)

حضرت صادق علیہ السلام نے ایک آدمی سے فرمایا کہ ''تمہیں اپنے نفس کا طبیب اور معالج قرار دیا گیا ہے تجھے درد بتلایا جا چکا ہے اور صحت و سلامتی کی علامت بھی بتلائی گئی ہے اور تجھے دواء بھی بیان کردی گئی ہے پس خوب فکر کر کہ تو اپنے نفس کا کس طرح علاج کرتا ہے_(۱۵۷)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' شخص کو وعظ کرنے والا خود اس کا اپنا نفس نہ ہو تو دوسروں کی نصیحت اور وعظ اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں دے گا_(۱۵۸)

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا '' اے آدم کے بیٹے تو ہمیشہ خوبی اور اچھائی پر ہوگا جب تک تو اپنے نفس کو اپنا واعظ اور نصیحت کرنے والا بنائے رکھے گا_(۱۵۹)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کمزور ترین وہ انسان ہے جو اپنے نفس کی اصلاح کرنے سے عاجز اور ناتواں ہو_(۱۶۰)

نیز امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان کے لئے لائق یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی سرپرستی کو اپنے ذمہ قرار دے _ ہمیشہ اپنی روح کی اور زبان کی حفاظت کرتا رہے_(۱۶۱)


تہذیب نفس کے مراحل

حفاظت قبلی: اخلاقی اصول صحت کا لحاظ اور گناہوں اور برے اخلاق سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا نفس کو پاک کرنے کا آسان ترین اور بہترین مرحلہ ہوا کرتا ہے جب تک نفس انسان گناہ میں آلودہ نہیں ہوا اور اس کا ارتکاب نہیں کیا تب فطری نورانیت اور صفا قطب رکھتا ہے_ اچھے کاموں کے بجالانے اور اچھے اخلاق سے متصف ہونے کی زیادہ قابلیت رکھتا ہے_

ابھی تک اس کا نفس تاریک اور سیاہ نہیں ہوا اور شیطن نے وہاں راستہ نہیں پایا اور برائیوں کی عادت نہیں ڈالی اسی وجہ سے گناہ کے ترک کردینے پر زیادہ آمادگی رکھتا ہے_ جوان اور نوجوان اگر ارادہ کرلیں کہ اپنے نفس کو پاک رکھیں گے اور گناہ کے ارتکاب اور برے اخلاق سے پرہیز کریں گے تو ان کے لئے ایسا کرنا کافی حد تک آسان ہوتا ہے_ کیونکہ ان کا یہ اقدام حفظ نفس میں آتا ہے اور حفظ نفس عادت کے ترک کرنے کی نسبت بہت زیادہ آسان ہوتا ہے لہذا جوانی اور نوجوانی بلکہ بچپن کا زمانہ نفس کے پاک رکھنے کا بہترین زمانہ ہوا کرتا ہے انسان جب تک خاص گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا وہ گناہ کے ترک پر زیادہ آمادگی رکھتا ہے لہذا جوانوں نوجوانوں اور وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا انہیں ایسی حالت کی فرصت کو غنیمت شمار کرنا چاہئے اور کوشش کریں کہ بالکل گناہ کا ارتکاب نہ کریں اور اپنے نفس کو اسی پاکیزگی اور طہارت کی حالت میں محفوظ رکھیں_ حفاظت کرنا گناہ کے ترک کرنے سے


زیادہ آسان ہوا کرتا ہے اور ضروری ہے کہ اس نقطے کی طرف متوجہہ رہیں کہ اگر گناہ کا ارتکاب کر لیا اور برے اخلاق کو اپنا لیا ور شیطن کو اپنے نفس کی طرف راستہ دے دیا تو پھر ان کے لئے گناہ کا ترک کرنا بہت مشکل ہوجائیگا_

شیطن اور نفس امارہ کی کوشش ہوگی کہ ایک دفعہ اور دو گناہ کے انجام دینے کو اس کے لئے معمولی اور بے اہمیت قرار دے تا کہ اس حیلہ سے اپنا اثر رسوخ اس میں جمالے اور نفس کو گناہ کرنے کا عادی بنا دے لہذا جو انسان اپنی سعادت ا ور خوشبختی کی فکر میں ہے اسے چاہئے کہ حتمی طور سے نفس کی خواہشات کے سامنے مقابلہ کرے اور گناہ کے بجالانے میں گرچہ ایک ہی مرتبہ کیوں نہ ہو اپنے آپ کو روکے رکھے_

امیر المومنین نے فرمایا ہے کہ '' کسی برے کام یا کلام کو اپنے نفس کو بجالانے کی اجازت نہ دو_(۱۶۲)

آپ نے فرمایا کہ '' اپنے نفس کی خواہشات پر اس سے پہلے کہ وہ طاقتور ہوجائے غلبہ حاصل کرو کیونکہ اگر وہ طاقتور ہوگیا تو پھر وہ تجھے اپنا قیدی بنالے گا اور جس طرف چاہے گا تجھے لے جائیگا اس وقت تو اس کے سامنے مقابلہ نہیں کر سکے گا_(۱۶۳)

آپ نے فرمایا کہ '' عادت چھاجانے والا دشمن ہے_(۱۶۴)

آپ نے فرمایا کہ'' عادت انسان کی ثانوی طبیعت ہوجاتی ہے_(۱۶۵)

آپ نے فرمایا کہ '' اپنی خواہشات پر اس طرح غلبہ حاصل کرو جس طرح ایک دشمن دوسرے دشمن پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور اس کے ساتھ اس طرح جنگ کرو کہ جس طرح دشمن دشمن کے ساتھ جنگ کرتا ہے_ شاید کہ اس ذریعہ سے اپنے نفس کو رام اور مغلوب کر سکو_(۱۶۶)

آپ نے فرمایا کہ '' گناہ کا نہ کرنا توبہ کرنے سے زیادہ آسان ہے ہو سکتا ہے کہ ایک گھڑی کی شہوت رانی طولانی غم کا باعث ہوجائے_ موت انسان کے لئے دنیا کی پستی اور فضاحت کو واضح اور کشف کرنے کا سبب ہوتی ہے_ اور عقلمند انسان کے لئے


کسی خوشی اور سرور کو نہیں چھوڑتی _(۱۶۷)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ '' اپنے نفس کو ان چیزوں سے جو نفس کے لئے ضرر رساں ہیں روح کے نکلنے سے پہلے روکے رکھ اور اپنے نفس کے لئے آزادی اس طرح آزادی کی کوشش کر کہ جس طرح زندگی کے اسباب کے طلب کرنے میں کوشش کرتا ہے_ تیرا نفس تیرے اعمال کے عوض گروی رکھا جا چکا ہے_(۱۶۸)

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ '' جو شخص اللہ تعالی کے مقام و مرتبت سے خوف کھائے اور اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے روکے رکھے اس کی جگہ اور مقام بہشت میں ہے_(۱۶۹)

بہر حال حفاظت قبلی سب سے آسان راستہ ہے اور جتنا انسان اس راستے کی تلاش اور عمل کرنے میں کوشش کرے گا یہ اس کے لئے پر ارزش اور قیمتی ہوگا_ اس جوان کو مبارک ہو جو زندگی کے آغاز سے ہی اپنے نفس امارہ پر قابو پائے رکھتا ہو اور اسے گناہ کرنے کی اجازت نہ دے اور آخری عمر تک اسے پاک و پاکیزہ اور اللہ کے تقرب کے لئے سیر و سلوک میں ڈالے رکھے تا کہ قرب الہی کے مرتبے تک پہنچ جائے_

یکدم ترک کرنا

اگر قبلی حفاظت کے مرحلے سے روح نکل جائے اور گناہ سے آلودہ ہو جائے تو اس وقت روح اور نفس کے پاک کرنے کی نوبت آجائیگی_ روح کے پاک کرنے میں کئی ایک طریق استعمال کئے جا سکتے ہیں لیکن سب سے بہتریں طریقہ اندرونی انقلاب اور ایک دفعہ اور بالکل ترک کر دینا ہوا کرتا ہے_ جو انسان گناہ اور برے اخلاق میں آلودہ ہوچکا ہوا ہے اسے کیدم خدا کی طرف رجوع اور توبہ کرنی چاہئے اور اپنی روح کو گناہ کی کثافت اور آلودگی سے دھونا چاہئے اور اسے پاک و پاکیزہ کرے ایک حتمی اور یقینی ارادے سے شیطن کو روح سے دور کرے اور روح کے دروازوں کو شیطن کے


لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردے اور دل کے گھر کو اللہ تعالی کے مقرب فرشتوں کے نازل ہونے اور انوار الہی کے مرکز قرار پانے کے لئے کھول دے اور ایک ہی حملہ میں نفس امارہ اور شیطن کو مغلوب کردے اور نفس کی لگام کو مضبوط اور ہمیشہ کے لئے اپنے ہاتھ میں لئے رکھے کتنے لوگ ہیں کہ جنہوں نے اس طریقے سے اپنے نفس پر غلبہ حاصل کیا ہے اور اپنے نفس کو یکدم اور یک دفعی طریقہ سے پاک کرنے کی توفیق حاصل کر لی ہے اور پھر آخری عمر تک اسی کے پابند رہے ہیں یہ اندرونی انقلاب کبھی واعظ او راخلاق کے پاک بنانے والے استاد کے ایک جملے یا اشارے سے پیدا ہوجاتا ہے یا ایک واقعہ غیر عادی سے کہ کسی دعا ذکر اور کی مجلس میں ایک آیت یا روایت یا چند دقیقہ فکر کرنے سے حاصل ہو جایا کرتا ہے_ کبھی ایک معمولی واقعہ مثل ایک چنگاری کے داخل ہونے سے دل کو بدل اور روشن کر دیتا ہے_ ایسے لوگ گذرے ہیں جنہیں اسی طرح سے اپنے نفس کو پاکیزہ بنانے کی توفیق حاصل ہوئی ہے اور وہ راہ خدا کے سالک قرار پائے ہیں جیسے بشر حافی کا واقعہ_ بشر حافی کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ ایک اشراف اور ثروتمند انسان کی اولاد میں سے تھا اور دن رات عیاشی اور فسق و فجور میں زندگی بسر کر رہا تھا اس کا گھر فساد رقص اور سرور عیش و نوش ارو غنا کامرکز تھا کہ غنا کی آواز اس کے گھر سے باہر بھی سنائی دیتی تھی لیکن اسی شخص نے بعد میں توبہ کر لی اور زاہد اور عابد لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگا_ اس کے توبہ کرنے کا واقعہ یوں لکھا ہے کہ ایک دن اسی بشر کی لونڈی کوڑا کرکٹ کا ٹوکراے کر دروازے کے باہر پھینکے کے لئے آئی اسی وقت امام موسی کاظم علیہ السلام اس کے دروازے کے سامنے سے گزر رہے تھے اور گھر سے ناچنے گانے کی آواز آپ کے کان میں پڑی آپ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ '' اس گھر کا مالک آزاد ہے یا غلام؟ اس نے جواب دیا کہ آزاد اور آقا زادہ ہے _ امام نے فرمایا تم نے سچ کہا ہے کیونکہ اگر یہ بندہ اور غلام ہوتا تو اپنے مالک اور مولی سے ڈرتا اور اس طرح اللہ تعالی کی معصیت میں غرق اور گستاخ نہ ہوتا_ وہ لونڈی گھر میں لوٹ گئی_ بشر جو شراب کے دسترخوان پر بیٹھا تھا اس نے لونڈی


سے پوچھا کہ تم نے دیر کیوں کی؟ لونڈی نے اس غیر معروف آدمی کے سوال اور جواب کو اس کے سامنے نقل کیا_ بشر نے لونڈی سے پوچھا کہ آخری بات اس آدمی نے کیا کہی؟ لونڈی نے کہا کہ اس کا آخری جملہ یہ تھا کہ تم نے سچ کہا ہے کہ اگر وہ غلام ہوتا اور اپنے کو آزاد نہ سمجھتا یعنی اپنے آپ کو خدا کا بندہ اور غلام سمجھتا تو اپنے مولی اور آقا سے خوف کھاتا اور اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے میں اتنا گستاخ اور جری نہ ہوتا_ امام علیہ السلام کا یہ مختصر جملہ تیر کے طرح بشر کے دل پر لگا اور آگ کی چنگاری کی طرح اس کے دل کو نورانی اور دگرگون کر گیا _ شراب کے دسترخوان کو دور پھینکا اور ننگے پائوں باہر دڑا اور اپنے آپ کو اس غیر معروف آدمی تک جا پہنچایا اور دوڑتے دوڑتے امام موسی کاظم علیہ السلام تک جا پہنچا اور عرض کی اے میرے مولی میں اللہ تعالی اور آپ سے معذرت کرتا ہوں_ جی ہاں میں اللہ تعالی کا بندہ اور غلام تھا اور ہوں لیکن میں نے اپنے اللہ تعالی کی غلامی اور بندگی کو فراموش کردیا اسی وجہ سے اس طرح کی گستاخیاں کرنے لگا لیکن اب میں نے اپنے آپ کو بندہ سمجھ لیا اور اپنے گذرے ہوئے کردار سے توبہ کرتا ہوں کیا میری توبہ قبول ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا ہاں_ اللہ تعالی تیری توبہ قبول کرلے گا اور تو اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کو ہمیشہ کے لئے ترک کردے_ بشر نے توبہ کی_ اور عبادت گذار اور زہاد اور اولیاء خدا میں داخل ہوگیا اور اس نعمت کے شکریہ کے طور پر اپنی ساری عمر ننگے پائوں چلتا رہا (جس کی وجہ سے اس کا نام بشر حافی یعنی ننگے پائوں والا ہوگیا_(۱۷۰)

ابو بصیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو ظالم بادشاہوں کا ملازم اور مددگار تھا میری ہمسایگی میں رہتا تھا اس نے بہت کافی مال حرام طریقے سے جمع کیا ہوا تھا اور اس کا گھر فساد اور عیاشی لہو و لعب رقص اور غنا کا مرکز تھا میں اس کی ہمسایگی میں بہت ہی تکلیف اور دکھ میں تھا لیکن اس کے سوا کوئی راہ فرار بھی نہ تھی کئی دفعہ اسے نصیحت کی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا لیکن ایک دن میں نے اس کے متعلق بہت زیادہ اصرار کیا_ اس نے کہا اے فلان _ میں شیطن کا قیدی اور اس کے پھندے میں آ چکار ہوں


اور عیاشی اور شراب خوری کا عادی ہوچکا ہوں اور اسے نہیں چھوڑ سکتا_ بیمار ہوں لیکن میں اپنا علاج بھی نہیں کرتا چاہتا_ تو میرا اچھا ہمسایہ ہے لیکن میں تیرا برا ہمسایہ ہوں کیا کروں خواہشات نفس کا قیدی ہو گیا ہوں کوئی نجات کا راستہ نہیں دیکھ پاتا_ جب تو امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں جائے تو آپ کے سامنے میری حالت بیان کرنا شاید میرے لئے کوئی نجات کا راستہ نکال سکیں ابو بصیر کہتا ہے کہ میں اس کی اس گفتگو سے بہت زیادہ متاثر ہوا_ کئی دن کے بعد جب میں کوفہ سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی زیارت کے مقصد سے مدینہ منورہ گیا اور جب آپ کی خدمت میں مشرف ہوا تو اپنے ہمسایہ کے حالات اور اس کی گفتگو کا تذکرہ آپ کی خدمت میں بیان کیا_ آپ نے فرمایا کہ جب تو کوفہ واپس جائے وہ آدمی تیرے ملنے کے لئے آئے گا_ اس سے کہنا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جس حالت میں تو ہے یعنی گناہوں کو چھوڑ دے تو میں تیرے لئے جنت کا ضامن ہوں_

ابوبصیر کہتے ہیں کہ '' جب میں اپنے کا مدینہ میں پورے کر چکا تو کوفہ واپس لوٹ آیا_ لوگ میرے ملنے کے لئے آرہے تھے انہیں میں میرا وہ ہمسایہ بھی مجھے ملنے کے لئے آیا احوال پرسی کے بعد اس نے واپس جانا چاہا تو میں نے اسے اشارے سے کہا کہ بیٹھا رہ مجھے آپ سے کام ہے_ جب میرا گھر لوگوں کے چلے جانے سے خالی ہو گیا تو میں نے اس سے کہا_ کہ میں نے تیری حالت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان کی تھی _ آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کوفہ جائے تو میرا سلام اسے پہنچا دینا اور اسے کہنا کہ اس حالت یعنی گناہوں کو ترک کردے میں تیری جنت کا ضامن ہوں_ اس تھورے سے امام کے پیغام نے اس شخص پر اتنا اثر کیا کہ وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگ گیا اور اس کے بعد مجھ سے کہا کہ اے ابو بصیر تجھے خدا کی قسم کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایسا فرمایا ہے؟ میں نے اس کے سامنے قسم اٹھائی کہ یہ پیغام بعینہ وہی ہے جو امام علیہ السلام نے دیا ہے_ وہ کہنے لگا بس یہی پیغام میرے لئے کافی ہے_ یہ کہا اور وہ میرے گھر سے باہر چلا گیا_ کافی دن تک مجھے اس کی کوئی خبر نہ ملی_ ایک دن اس نے


میرے لئے پیغام بھیجا کہ میرے پاس آ مجھے تم سے کام ہے_ میں نے اس کی دعوت قبول کی اور اس کے گھر کے دروازے پر گیا_ دروازے کے پیچھے سے مجھے آواز دی اور کہا_ اے ابو بصیر _ جتنا مال میں نے حرام سے اکٹھا کیا ہوا تھا وہ سب کا سب میں نے لوگوں میں تقسیم کر دیا ہے_ یہاں تک کہ میں نے اپنا لباس بھی دے دیا ہے_ اب ننگا اور بے لباس دروازے کے پیچھے کھڑا ہوں_ اے ابوبصیر میں نے امام جعفر صادق کے حکم پر عمل کیا ہے اور تمام گناہوں کو چھوڑ دیا ہے یعنی توبہ کر لی ہے_ ابوبصیر کہتا ہے کہ میں اس ہمسائے کے گناہوں کے چھوڑ دینے اور توبہ کر لینے سے بہت خوشحال ہوا اور امام علیہ السلام کی کلام کے اس میں اثر کرنے سے حیرت زدہ ہوا_ گھر واپس لوٹ آیا تھورے سے کپڑے اور خوراک لی اور اس کے گھر لے گیا_ کئی دن کے بعد پھر مجھے بلایا_ میں اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ بیمار اور علیل ہے اور وہ کافی دن تک بیمار رہا میں اس کی برابر عیادت اور بیمار پرسی اور بیمار داری کرتا رہا_ لیکن اس کے لئے کوئی علاج فائدہ مند واقع نہ ہوا_ ایک دن اس کی حالت بہت سخت ہوگئی اور جان کنی کے عالم میں ہوگیا_ میں اس کے سرہانے بیٹھا رہا جب کہ وہ جان سپرد کرنے کی حالت میں تھا یکدفعہ ہوش میں آیا اور کہا_ اے ابوبصیر امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے یہ جملہ کہا اور اس جہان فانی سے کوچ کر گیا_ میں کئی دنوں کے بعد حج کو گیا اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا_ میرا ایک پائوں دروازے کے اندر اور ایک پائوں دروازے سے باہر تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا_ اے ابوبصیر ہم نے تیرے ہمسائے کہ بارے میں جو وعدہ کیا تھا_ ہم نے وہ پورا کردیا ہے ہم نے جو اس کے لئے بہشت کی تھی اسے دلوادی ہے_(۱۷۱) اس طرح کے لوگ تھے اور اب بھی ہیں کہ حتمی ارادے اور شجاعانہ اقدام سے اپنے نفس امارہ کو مغلوب کر لیتے ہیں اور اس کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں_ ایک اندرونی اور باطنی انقلاب سے نفس کو پاک کردیتے ہیں اور تمام برائیوں کو چھوڑ کر اسے صاف اور شفاف بنا دیتے ہیں_ معلوم ہوا کہ اس طرح کا راستہ اختیار کر لینا


ہمارے لئے بھی ممکن ہے_

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ '' عادت کے ترک کرنے کے لئے اپنے نفس پر غلبہ حاصل کرو اور ہوی اور ہوس اور خواہشات کے ساتھ جہاد کرو شاید تم اپنے نفس کو اپنا قیدی بنا سکو_(۱۷۲)

نیز امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''سب سے بہتر عبادت اپنی عادات پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے_(۱۷۳)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے_ '' قیامت کے دن تمام آنکھیں سوائے تین آنکھوں کے رو رہی ہوں گی_

۱_آنکھ جو خدا کے راستے کے لئے بیدار رہی ہو_

۲_ وہ آنکھ جو خدا کے خوف سے روتی رہی ہو_

۳_ وہ آنکھ جس نے محرمات الہی سے چشم پوشی کی ہو_(۱۷۴)

جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ'' خداوند عالم نے جناب موسی علیہ السلام کو وحی کی کہ کوئی انسان میرا قرب محرمات سے پرہیز کر کے کسی اور چیز سے حاصل نہیں کر سکتا یقینا میں بہشت عدن کو اس کے لئے مباح کر دوں گا اور کسی دوسرے کو وہاں نہیں جانے دوں گا_(۱۷۵)

یہ بھی مانا جاتا ہے کہ نفس امارہ کو مطیع بنانا اور بطور کلی گناہ کا انجام نہ دینا اتنا آسان کام نہیں ہے لیکن اگر انسان ملتفت ہو اور فکر اور عاقبت اندیشی رکھتا ہو اور ارادہ اور ہمت کر لے تو پھر اتنا یہ مشکل بھی نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں اللہ تعالی کی تائید بھی اسے شامل حال ہوگی اور خدا فرماتا ہے کہ '' جو لوگ ہمارے راستے کے لئے جہاد کرتے ہیں ہم انہیں ہدایت کردیتے ہیں اور اللہ ہے ہی احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے_ والذین جاہلوا فینا لنہدینہم سبلنا و ان اللہ مع المحسنین_(۱۷۶)


آہستہ آہستہ ترک کرنا

اگر ہم اتنی اپنے آپ میں طاقت اور ہمت نہیں رکھتے کہ یکدم تمام گناہوں کو ترک کر دیں تو اتنا تو مصمم ارادہ کر لیں کہ گناہوں کو آہستہ آہستہ انجام دے دیں پہلی دفعہ امتحان کے طور پر ایک گناہ یا کئی ایک گناہ کو ترک کرنا شروع کردیں اور مصمم ارادہ کرلیں_ اس کام کو دوام دیں کہ اس کے ترک پر اپنے نفس کو کامیاب قرار دے دیں اور ان گناہوں کا بالکل ختم کردیں پھر یہی کام دوسرے چند ایک گناہوں کے بارے میں انجم دینا شروع کردیں اور اس پر کامیابی حاصل کرلیں اور اسی حالت میں خوب ملتفت رہیں کہ کہیں اس ترک کئے ہوئے گناہ کو پھر سے انجام نہ دے دیں اور یہ واضح ہے کہ ہر گناہ یا چند گناہوں کے ترک کرنے پر نفس امارہ اور شیطن کمزور ہوتا جائیگا اور جتنا شیطن نفس سے باہر نکلے گا اس کی جگہ اللہ تعالی کا فرشتہ لے لے گا_ جس گناہ کا سیاہ نقطہ نفس سے دور ہوگا اتنی مقدار وہاں نورانیت اور سفیدی زیادہ ہوجائے گی_ اسی طریقے سے گناہوں کے ترک کو برابر انجام دیتے جائیں تو پھر بطور کامل نفس پاک ہوجائیگا اور نفس کو اس کے نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور فتح حاصل کرنے کی پوری طرح کامیابی حاصل ہوجائیگی اور ممکن ہے کہ اسی دوران ایک ایسے مرتبے تک پہنچ جائیں کہ تمام گناہوں کو یکدم ترک کرنے کی طاقت اور قدرت پیدا کرلیں ایسی صورت میں ایسی قیمتی اور پر ارزش فرصت سے استفادہ کرنا چاہئے اور یکدم تمام گناہوں کو ترک کر دینا چاہئے اور شیطن اور نفس امارہ کو باہر پھینک ڈالنے پر قابو پالینا چاہئے اور نفس کے گھر کو خدا اور اس کے فرشتوں کے لئے مخصوص کر لینا چاہئے اگر اس کے لئے کوشش اور جہاد کریں تو یقینا اس پر کامیاب ہوجائیں گے_ نفس کے ساتھ جہاد بعینہ دشمن کے ساتھ جہاد کرنے جیسا ہوتا ہے _ دشمن سے جہاد کرنے والا ہر وقت دشمن پر نگاہ رکھے اپنی طاقت کو دشمن کی طاقت سے موازنہ کرے اور اپنی طاقت کو


قوی کرنے میں لگا رہے اور فرصت ملتے ہی ممکن طریقے سے دشمن پر حملہ کردے اور اس کی فوج کو ہلاک کردے یا اپنے ملک سے باہر نکال دے_


وہ کام جو نفس کے پاک کرنے میں مدد دیتے ہیں

۱_ فکر کرنا_

نفس کے پاک کرنیکا ایک اہم مانع غفلت ہوا کرتی ہے اگر ہم دن رات دنیا کی زندگی میں غرق رہیں اور موت کی یاد سے غافل رہیں اور ایک گھڑی بھی مرنے کے بعد کے بارے میں سوچنے پر حاضر نہ ہوں اور اگر کبھی مرنے کی فکر آئی بھی تو اسے فوراًء بھلادیں ہیں اور اگر برے اخلاف کے نتائج سے غافل ہیں اور اگر گناہوں کی اخروی سزا اور عذاب کا فکر نہیں کرتے خلاصہ خدا اور آخرت پر ایمان ہمارے دل کی گہرائیوں میں راسخ نہیں ہوا اور خدا صرف ایک ذہنی مفہوم سے آگے نہیں بڑھا تو پھر ایسی غفلت کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح اپنے نفس کو پاک کرنے کا عزم بالجزم کرسکتے ہیں؟ کس طرح نفس کو اس کی خواہشات پر کنٹرول کرسکتے ہیں؟ کیا اس سادگی سے نفس امارہ کے ساتھ جہاد کیا جاسکتا ہے؟ غفلت خود ایک نفس کی بڑی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے اور یہ دوسری بیماریوں کے لئے جڑ واقع ہوتی ہے_ اس بیماری اور درد کا علاج صرف فکر کرنا عاقبت اندیشی اور ایمان کی قوت کو مضبوط اور قوی کرنا ہے_ انسان کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ اپنے نفس کا محافظ اور مراتب رہے_ کسی وقت بھی اسے فراموش نہ کرے اور نفسانی بیماریوں کے بدانجام اور گناہوں کی سزا اور دوزخ کی سخت


عذاب کو سوچنا رہے_ قیامت کے حساب اور کتاب کو ہمیشہ نگاہ میں رکھے اس صورت میں نفس کو پاک کرنے کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے اور حتمی فیصلہ کرسکتا ہے اور اپنے نفس کو برے اخلاق اور گناہوں سے پاک کرسکتا ہے_

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''جو شخص اپنے دل کو دائمی فکر سے آباد کرے گا اس کے ظاہری اور باطنی کام اچھے ہونگے_(۱۷۷)

۲_ تادیب و مجازات_

اگر ہم نفس کے پاک کرنے پر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہم تنبیہہ اور ادب دیئےانے اور جزائے اخروی سے استفادہ کرسکتے ہیں_ ابتداء میں ہم نفس کو خطاب کرتے ہوئے تہدید اور ڈرائیں کہ میں نے حتمی ارادہ کرلیا ہے کہ گناہوں کو ترک کردوں اور اگر اے نفس تو میری اس میں مدد نہیں کرے گا اور گناہ کا ارتکاب کرے گا تو میں فلاں سزا تیرے بارے میں جاری کردونگا مثلاً اگر تو نے کسی کی غیبت کی تو میں ایک دن روزہ رکھ لوں گا یا ایک ہفتے تک صرف لازمی گفتگو کروں گا یا اتنا روپیہ صدقے کے طور پر دے دونگا یا ایک دن پانی نہیں پیونگا یا صرف ایک وقت غذا سے تجھے محروم کردونگا یا کئی گھنٹے گرمیوں میں دھوپ میں بیٹھا رہونگا تا کہ تو جہنم کی حرارت کو نہ بھلاسکے یا اس طرح اور سزائیں اپنے نفس کو سنائیں_

اس کے بعد اپنے نفس پر اچھی طرح نگاہ رکھیں کہ وہ بعد میں غیبت نہ کرنے لگے اور اگر اس سے غیبت صادر ہوجائے تو حتمی ارادے سے بغیر کسی نرمی اور سستی کے اس کے مقابلے میں اڑجائیں اور وہ سزا جاسکا نفس سے وعدہ کیا ہوا تھا اس پر جاری کردیں جب نفس امارہ کو احساس ہوجائیگا کہ ہم گناہ کے نہ کرنے پر مصر ہیں اور بغیر کسی نرمی کے اسے سزادیں گے تو پھر وہ ہماری شرعی چاہت کوماننے لگے جائے گا_

اگر کافی مدت تک بغیر چشم پوشی کے اس طریقے پر عمل کرتے رہیں تو پھر ہم شیطن کے راستے کو روک سکیں گے اور نفس امارہ پر پوری طرح سے مسلط ہوجائیں


گے لیکن اس کی عمدہ شرط یہ ہے کہ ہم حتمی ارادہ کرلیں اور بغیر کسی معمولی نرمی کے سرکش نفس کو سزا دے دیں_ بہت تعجب کا مقام ہے کہ ہم دنیاوی امور میں معمولی غلطی کرنے والے کو سزا اور تنبیہہ کرتے ہیں لیکن اپنے نفس کے پاک کرنے میں اس روش پر عمل نہیں کرتے حالانکہ اخروی سعادت اور نجات نفس کے پاک ہونے پر موقوف ہوتی ہے_

اللہ تعالی کے بہت سے بندوں نے اپنے نفس کے پاک کرنے اور بہتر بنانے اور نفس پر قابو پانے میں اس طریقے پر عمل کرنے کی توفیق حاصل کی ہے_

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''نفس کو اپنا قیدی بنانے اور اس کی عادات کو ختم کرنے میں بھوک بہت ہی زیادہ مددگار ہوتی ہے_(۱۷۸)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے '' جو شخص اپنے نفس کو ریاضت اور تکلیف میں زیادہ رکھے گا وہ اس سے فائدہ اٹھائیگا_( ۱۷۹)

ایک صحابی فرماتے ہیں کہ سخت گرمی کے زمانے میں رسول خدا (ص) ایک دن ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک آدمی ایا اس نے اپنا لباس اتارا اور گرم ریت پر لیٹ گیا اور ریت پر لوٹنا پوٹنا شروع کردیا کبھی اپنی پیٹھ کو گرم ریت پر رکھ کر گرم کرتا اور کبھی اپنے پیٹ اور کبھی اپنے چہرے کو اور کہتا اے نفس امارہ اس ریت کی گرمایش کو چکھ اور جان لے کہ دوزخ کی آگ کی گرمی اس سے زیادہ اور سخت تر ہے_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کاخوب نظارہ کر رہے تھے_ جب اس آدمی نے اپنا لباس پہنا اور چاہا کہ وہاں سے چلا جائے تو رسول خدا(ص) نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ دیا_ اس آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم بجا لایا اور آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ(ص) نے اس سے فرمایا کہ میں نے تجھے ایسا کام کرتے دیکھا ہے کہ اسے دوسرے لوگ نہیں کرتے تمہاری اس کام سے کیا غرض تھی؟ اس نے جواب میں عرض کی یا رسول اللہ (ص) مجھے خدا کے خوف نے اس کام کے کرنے پر آمادہ کیا ہے_ میں یہ کام انجام دیتا تھا اور اپنے نفس سے کہتا تھا کہ اس گرمی کو چکھ اور جان


لے کہ دوزخ کی آگ کی گرمی اس سے زیادہ شدید اور دردناک ہے_ رسول خدا(ص) نے فرمایا واقعی تو خدا سے خوف زدہ ہوا ہے اور اللہ تعالی نے تیرے اس عمل سے آسمان کے فرشتوں پر فخر کیا ہے_ آنحضرت(ص) نے اس کے بعد اپنے اصحاب سے فرمایا کہ'' اس آدمی کے نزدیک جائو اور الس سے خواہش کرو کہ وہ تمہارے لئے دعا کرے اصحاب اس کے نزدیک گئے اور اس سے دعا کی خواہش کی اس آدمی نے دعا کے لئے ہاتھ ااٹعائے اور کہا الہم اجمع امرنا علی الہدی و اجعل التقوی زادنا و الجنتہ مابنا(۱۸۰)

یعنی اے اللہ ہمیں ہدایت پر جمع کردے اور تقوی کو ہمارا زاد راہ قرار دے اور جنت ہمارا ٹھکانا بنا امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اپنے نفس کو با ادب بنانے کے لئے کوشش کرو اور اسے سخت عادت سے روکو_(۱۸۱)

حضرت صادق علیہ السلام نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان نفس کی خواہشات سے زیادہ تاریک اور وحشت ناک پردہ نہیں ہوا کرتا اور اسے ختم کرنے کے لئے خدا کی طرف احتیاج اور اس کے سامنے خضوع اور خشوع اور دن میں بھوک اور پیاس اور رات کی بیداری سے کوئی بہتر ہتھیار نہیں ہے اگر انسان ایسی حالت میں مرجائے تو شہید دنیا سے جائے گا اور اگر زندہ رہے تو بالاخرہ اللہ تعالی کے رضوان اکبر کو حاصل کر لے گا خدا قرآن میں فرماتا ہے '' جو ہمارے راستے میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کردیتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے_(۱۸۲)

۳_ اللہ تعالی کی کرامت کی طرف توجہہ کرنا اور انسانی اقدار کو قوی بنانا

بیان ہوچکا ہے کہ انسانی روح اور نفس ایک گران بہا موتی ہے جو حیات و کمال و جمال و رحمت و احسان کے عالم سے وجود میں آیا ہے اور بطور فطرت انہیں امور سے


سنخیت رکھتا ہے اگر یہ اپنے بلند مقام اور منزلت اور قیمتی وجود کی طرف توجہ رکھے ہوئے ہو تو گناہوں کا ارتکاب اور برے اخلاق کو اپنی شان سے پست تر شمار کرے گا اور فطرتا ان سے متنفر ہوگا جب اس نے سمجھ لیا کہ وہ انسان ہے اور انسان ذات الہی کے خاص لطف و کرم سے عالم بالا سے اس دنیا میں آیا ہے تو پھر اس کی نگاہ میں حیوانی خواہشات اور ہوی اور ہوس بے قیمت جلوہ گر ہوں گی اور اپنے وجود میں مکارم اخلاق کو زندہ رکھنے کی طرف مائل ہوگا_

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص اپنے نفس کی عزت کرتا ہو اس کے لئے شہوات بہت معمولی اور بے ارزش ہوں گی_(۱۸۳)

امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ معزز اور گراں قدر انسان کون ہوتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا '' جو دنیا کو اپنے وجود کی قیمت قرار نہ دے _(۱۸۴) لہذا روح کے انسانی شرافت اور اس کے وجود کے قیمتی ہونے اور اس کے مقام و مرتبت کے بلند و بالا کی طرف توجہہ سے نفس کو گناہوں اور برے اخلاق سے پاک کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے _ اگر ہم اپنی روح سے مخاطب ہوں اور اسے کہیں کہ اے روح تو علم و حیات کمال و جمال احسان و رحمت اور قدس کے عالم سے آئی ہے تو اللہ تعالی کا خلیفہ ہے تو ایسا انسان ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے اور اللہ تعالی کے قرب حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو حیوان سے بلند و بالا ہے_ تیرے وجود کی قیمت حیوانی خواہشات کی پیروی کرنا نہیں ہے اگر انسان اس طرح سوچے تو پھر گناہوں کے ترک کر دینے اور روح کو پاک کرنے میں بہت آسانی ہوجائیگی اسی طرح نفس کو پاک کرنے کے لئے ہر بری صفت کی ضد کو قوی کرنا چاہئے تا کہ بری صفت آہستہ آہستہ دور ہو جائے نیک صفت کو اس کی جگہ لئے چاہئے تا کہ اس کی ثانوی عادت ہو جائے مثلا اگر کسی انسان سے حسد کرتے ہیں اور اس پر نعمت او رخوشی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور اس کی برائی اور اذیت اور توہین اور لاپروراہی کرنے اور اس کے کاموں میں روڑا اٹکانے سے ہم اپنے اندرونی بغض کو خوش کرتے ہیں تو اس صورت میں ہمیں


اس کی تعریف اور ثنا احترام اور احسان اور خیرخواہی اور مدد کرنے میں کوشش کرنی چاہئے جب ہمارے کام حسد کے اقتضا کے خلاف ہونگے تو پھر آہستہ آہستہ یہ بری صفت زائل ہوجائیگی اور خیرخواہی کی صفت اس کی جگہ لے لے گی_ اور اگر ہم کنجوسی اور بخل کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو پھر اپنے مال کو شرعی امور میں خرچ کردینے کو اپنے نفس پر لازم قرار دے دیں تا کہ تدریجا بخالت کی صفت زائل ہوجائے اور احسان اور خرچ کرنے کی عادت ہوجائے_ اور اگر حقوق اللہ خمس و زکوة و غیرہ کے ادا کرنے میں بخل کرتے ہیں تو پھر حتمی طور سے نفس کے مقابلے پر آجائیں اور اس کے وسوسے پر کان نہ دھریں اور مالی حقوق کو ادا کردیں اور اگر ہم اپنے مال کو اپنے اہل و عیال اور زندگی کے مصارف میں خرچ کرنے سے انکار کرتے ہیں تو پھر ان میں خرچ کرنے کے لئے اپنے نفس پر زور دیں تا کہ اس کی عادت ہوجائے اور اگر بخالت کیوجہ سے نیکی کے کاموں میں شریک نہیں ہوتے تو پھر جیسے بھی ہو ان امور میں شرکت کرتے رہیں اور کچھ اپنے مال کو اللہ تعالی کے راستے اور غریبوں کی اعانت کے لئے خرچ کرتے رہیں تا کہ آہستہ آہستہ اس کام کی عادت پڑ جائے معلوم ہے کہ یہ کام ابتداء میں بہت حد تک مشکل ہونگے لیکن اگر پائیداری اور کر گزرنا ہوجائے تو پھر یہ آسان ہوجائیں گے_

قاعدتا اپنے نفس کو پاک کرنے اور برے اخلاق سے جہاد کرنے کے لئے دو کاموں کو ہمیں انجام دینا ہوگا_

۱_ برے اخلاق اور نفس کی خواہش کا کبھی اثبات میں جواب نہ دیں یعنی جو نفس چاہتا جائے ہم اسے بجالاتے جائیں ایسا نہ کریں تا کہ اس کا بیج اور جڑ آہستہ آہستہ خشک ہو جائے_

۲_ نیک صفت جو بری صفت کی ضد ہے اسے قوی بنائیں اور نفس کو اس پر عمل کرنے کے لئے مجبور کریں تا کہ وہ آہستہ آہستہ اس کی عادت ڈال لے اور وہ اس کی عادت اور ملکہ بن جائے اور بری صفت کو بیخ سے اکھاڑ ڈالے_


امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' کہ اپنے نفس کو فضائل اور اچھے کام بجا لانے پر مجبور کر کیونکہ بری صفات تیرے اندر رکھ دی گئی ہیں_(۱۸۵)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ'' اپنے نفس کو اچھے کام انجام دیے اور سختی کا بوجھ اٹھانے کی عادت ڈال تا کہ تیرا نفس شریف ہو جائے اور تیری آخرت آباد ہو جائے اور تیری تعریف کرنے والے زیادہ ہوجائیں_(۱۸۶)

نیز آن حضرت(ع) نے فرمایا ہے کہ '' نفسانی خواہشات قتل کردینے والی بیماریاں ہیں ان کا بہترین علاج اور دواء صبر اور خودداری ہے_(۱۸۷)

برے دستوں سے قطع تعلق_

انسان ایک موجود ہے جو دوسروں سے اثر قبول کرتا ہے اور دوسروں کی تقلید اور پیروی کرتا ہے_ بہت سی صفات اور اداب اور کردار اور رفتار کو دوسرے ان انسانوں سے لیتا ہے کہ جن کے ساتھ بود و باش اور ارتباط رکھتا ہے_ در حقیقت ان کے رنگ میں رنگا جاتا ہے بالخصوص دوستوں اور میل جول رکھنے والوں سے زیادہ اثر لیتا ہے جو اس کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں_ بداخلاق اور فاسد لوگوں کے ساتھ دوستی انسان کو فساد اور بداخلاقی کی طرف لے جاتی ہے _ انسان کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کی طرح بناتا ہے اگر کسی کے ہم نشین بداخلاق اور گناہگاروں تو وہ ان کے برے اخلاق اور گناہ سے انس پیدا کر لیتا ہے اور صرف ان کی برائی کو برائی نہیں سمجھتا بلکہ وہ اس کی نگاہ میں اچھائی بھی معلوم ہونے لگتی ہے اس کے برعکس اگر ہم نشین خوش اخلاق اور نیک ہوں تو انسان ان کے اچھے اخلاق اور کردار سے مانوس ہوجاتا ہے اور اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو انہیں کی طرح بنائے لہذا اچھا دوست اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انسان کی ترقی اور کمال تک پہنچنے کا بہت اچھا کارآمد اور سعادت آور شمار ہوتا ہے_ اس کے برعکس برا دوست انسان کی بدبختی اور راستے سے ہٹنے اور مصائب کا موجب ہوتا ہے لہذا دوست کے


انتخاب اور اختیار کرنے کو ایک معمولی کام اور بے اہمیت شمار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے ایک اہم اور عاقبت ساز کام شمار کرنا چاہئے کیونکہ برا گناہگار دوست برے کاموں کو بھی اچھا بتلایا ہے اورچاہتا ہے کہ اس کے دوست بھی اسی کی طرح ہوجائیں برا دوست نہ دنیا میں کسی کی مدد کرتا ہے اور نہ آخرت کے امور میں مدد کرتا ہے اس کے پاس آنا جانا بے عزتی اور رسوائی کا موجب ہوتا ہے_(۱۸۸)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کسی مسلمان کے شایان شان نہیں کہ وہ فاسق احمق دروغ گو سے دوستی کرے_(۱۸۹)

پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان اپنے دوست اور ہم نشین کے دین پر ہوتا ہے_(۱۹۰)

حضرت علیہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' فاسق انسان سے دوستی کرنے میں حتمی طور سے اجتناب کرو اس واسطے کہ شر شر سے جا ملتا ہے_(۱۹۱)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' برے اور شریر لوگوں سے میل جول رکھنے سے حتمی طور سے پرہیز کر کیونکہ برا دوست آگ کی طرح ہوتاہے کہ جو بھی اس کی نزدیک جائیگا جل جائیگا_(۱۹۲)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' برے دوست کے ساتھ میل جول سے حتما پرہیز کر کیونکہ وہ اپنے ہم نشین کو ہلاک کردیتا اور اس کی آبرو کو ضرر پہنچاتا ہے_(۱۹۳)

لہذا جو انسان اپنے نفس کو پاک کرنا چاہتا ہے اگر اس کے برے دوست ہیں تو ان سے میل جول فورا ترک کردے کیونکہ برے دوست رکھتے ہوئے گناہوں کا چھوڑنا بہت مشکل ہے برے دوست انسان کے اپنے نفس کو پاک کرنے کے ارادے کو سست کردیتے ہیں اور اسے گناہ اور فساد کی طرف راغب کرتے ہیں گناہ کرنا بھی ایک عادت ہے اور یہ اس صورت میں چھوڑی جا سکتی ہے جب دوسرے عادت رکھنے والوں سے میل جول ترک کردے_


۵_ لغزش کے مقامات سے دور رہنا_

نفس کو پاک کرنا اور گناہ کا چھوڑ دینا اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ بہت مشکل کام ہے_ انسان ہر وقت لغزش اور گناہ کے میدان میں رہتا ہے_ نفس امارہ برائیوں کی دعوت دیتا رہتا ہے اور نفس جو جسم کے حکم ماننے کا مرکز ہے وہ ہمیشہ بدلتا اور دگرگون ہوتا رہتا ہے_ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہوتا ہے اور اسی کے مطابق فرمان جاری کرتا اور پھر وہ اسے کیسے سنتا اور دیکھتا اور کن شرائط میں قرار پاتا ہے_ انسان مجالس اور محافل معنوی اور عبادات اور احسان نیک کاموں کے ماحول میں جانے سے اچھے کاموں کے بجالانے کی طرف مائل ہوتا ہے برعکس فسق و فجور اور گناہ کے مراکز اور محافل میں جانے سے انسان گناہ کی طرف لے جایا جاتا ہے_

معنوی ماحول دیکھنے سے انسان معنویات کی طرف رغبت کرتا ہے اور شہوت انگیزی ماحول دیکھنے سے انسان شہوت رانی کے لئے حاضر ہوجاتا ہے اگر کسی عیش و نوش کی مجلس میں جائے تو عیاشی کی طرف مائل ہوتا ہے اور اگر کسی دعا و نیائشے کی مجلس میں حاضر ہو تو خدا کی طرف توجہ پیدا کرتا ہے_ اگر دنیا داروں اورمتاع کے عاشقوں کے ساتھ بیٹھے تو حیوانی لذت کی طرف جایا جاتا ہے اور اگر خدا کے نیک اور صالح بندوں کے پاس بیٹھے نیکی اور خوبی کی طرف رغبت کرتا ہے_ لہذا جو لوگ اپنے نفس کو پاک کرنے اور گناہوں کے ترک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کانوں کوشہوت انگیز اور خرابی و فساد اور گناہوں کے محافل اور مراکز سے دور رکھیں اور اس طرح کی محافل اور اجتماع میں شریک نہ ہوں اور اس طرح کے لوگوں کے ساتھ میل جول اور دوستی نہ رکھیں اگر انسان نہیں کریں گے تو پھر ہمیشہ کے لئے گناہ اور خطا اور لغزش کے میدان میں واقع ہوتے رہیں گے اس لئے تو اسلام نے حرام کے اجتماع اور محافل جیسے جوئے بازی شراب و غیرہ میں شریک ہونے


سے روکا ہے_ نامحرم کو دیکھنا اور غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا اور اس سے مصافحہ کرنا اور اس سے ہنسی اور مزاح کرنے سے منع کیا ہے_ اسلام میں پردے کے لئے سب بڑی حکمت اور مصلحت یہی چیز ہے_ اسلام چاہتا ہے کہ ماحول گناہوں کے ترک کردینے اور نفس کو پاک کرنے کے لئے سازگار ہو اس کے علاوہ کسی اور صورت میں نفس امارہ پر کنٹرول کرنا غیر ممکن ہے کیونکہ فاسد ماحول انسان کو فساد کی طرف لے جاتا ہے یہاں تک کہ صرف گناہ کی فکر اور سوچ بھی انسان کو گناہ کی طرف بلاتی ہے لہذا اسلام ہمیں کہتا ہے کہ گناہ کی فکر اور سوچ کو بھی اپنے دماغ میں راستہ نہ دو_

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جب آنکھ کسی شہوت کو دیکھ لے تو پھر اس کی روح اس کے انجام کے سوچنے سے اندھی ہوجاتی _(۱۹۴) حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' گناہ کا سوچنا اور فکر کرنا تجھے گناہ کرنے کا شوق دلائے گا_(۱۹۵)


خودپسندی اور خودخواہی تمام مفساد کی جڑ ہے

علماء اخلاق نے خودپسندی اور خودخواہی کی صفت کو ام الفساد یعنی فساد کی جڑی قرار دیا ہے اور تمام گناہوں اور تمام بری صفات کا سبب خودپسندی بتلایا ہے_ لہذا نفس کو اس سے پاک کرنے میں بہت ہی زیادہ کوشش کرنی چاہئے_ ہم کو پہلے خودپسندی اور خودخواہی کے معنی بیان کرنے چاہئیں اس کے بعد اس بری صفات کے برے اثرات اور اس سے مقابلہ کرنے کی تشریح کرنی چاہئے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ہر زندہ شے کو اپنی ذات اور صفات کمالات اور افعال اور آثار سے محبت اور علاقمندی ہوا کرتی ہے یعنی فطرت اور طبیعت میں خودپسند اور خودخواہ ہوا کرتے ہیں لہذا یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ خودپسند کو بطور کلی برا جانا جائے بلکہ یہ توضیح اور تشریح کا محتاج ہے_ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ انسان دو وجود اور دو خود اور دو میں رکھتا ہے ایک حیوانی وجود اور میں اور دوسرا انسانی وجود اور میں _ اس کا انسانی وجود اور میں اللہ تعالی کی ایک خاص عنایت ہے جو عالم ملکوت سے نازل ہوا ہے تا کہ وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ ہو_ اس لحاظ سے وہ علم اور حیات قدرت اور رحمت احسان اور اچھائی اور کمال کے اظہار سے سنخیت رکھتا ہے اور انہیں کا چاہنے والا ہے لہذا اگر انسان اپنے آپ کو پہچانے اور اپنے وجود کی قیمت کو جانے اور اسے محترم رکھے تو وہ تمام خوبیوں اور کمالات کے سرچشمہ کے نزدیک ہو


گا اور مکارم اخلاق اور فضائل اور اچھائیوں کواپنے آپ میں زندہ کرے گا لہذا اس طرح کی خودپسندی اور خودخواہی کو برا نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس قسم کی خودپسندی اور خودخواہی قاتل مدح ہوا کرتی ہے کیونکہ در حقیقت یہ خودخواہی والی صفت نہیں ہے بلکہ در حقیقت یہ خدا خواہی اور خدا طلبی والی صفت ہے جیسے کہ پہلے بھی تجھے معلوم ہو چکا ہے اور آئندہ بھی تجھے زیادہ بحث کر کے بتلایا جائیگا_ انسان کا دوسرا وجود اور مرتبہ حیوانی ہے اس وجود کے لحاظ سے انسان ایک تھیک تھاک حیوان ہے اور تمام حیوانی خواہشات اور تمایلات اور غرائز رکھتا ہے اس واسطے کہ اس جہان میں زندہ رہے اور زندگی کرتے تو اسے حیوانی خواہشات کو ایک معقول حد تک پورا کرنا ہوگا_ اتنی حد تک ایسی خودخواہی اور خودپسندی بھی ممنوع اور قاتل مذمت نہیں ہے لیکن سب سے اہم اور سرنوشت ساز بات یہ ہے کہ جسم کی حکومت عقل اور ملکوتی روح کے اختیار میں رہے یا جسم نفس امارہ اور حیوانی میں کا تابع اور محکوم رہے_

اگر تو جسم پر عقل اور انسانی خود اور میں حاکم ہوئی تو وہ حیوانی خود اور خواہشات کو اعتدال میں رکھے گا اور تمام انسانی مکارم اور فضائل اور سیر و سلوک الی اللہ کو زندہ رکھے گا_ اس صورت میں انسانی خود جو اللہ تعالی کے وجود سے مربوط ہے اصالت پیدا کرلے گی اور اس کا ہدف اور غرض مکارم اخلاق اور فضائل اور قرب الہی اور تکامل کا زندہ اور باقی رکھنا ہوجائیگا اور حیوانی خواہشات کو پورا کرنا طفیلی اور ثانوی حیثیت بن جائیگا لہذا خود پسندی اور خودخواہی اور حب ذات کو محترم شمار کرنا قاتل مذہب نہیں رہے گا ہو گیا تو وہ عقل اور انسانی خود اور میں کو مغلوب کرکے _ اسے جدا کر دیگا اور سراسر جسم ہی منظور نظر ہوجائیگا اس صورت میں انسان آہستہ آہستہ خدا اور کمالات انسانی سے دور ہوتا جائیگا اور حیوانی تاریک وادی میں جاگرے گا اور اپنے انسانی خود اور میں کو فراموش کر بیٹھے گا اور حیوانیت کے وجود کو انسانی وجود کی جگہ قرار دے دیگا یہی وہ خودپسندی اور خودخواہی ہے جو اقابل مدمت ہے اور جو تمام برائیوں کی جڑ ہوتی ہے


خود خواہ انسان صرف حیوانی خود کو چاہتا ہے اور بس _ اس کے تمام افعال اور حرکات کردار اور گفتار کا مرکز حیوانی خواہشات کا چاہنا اور حاصل کرنا ہوتا ہے_ مقام عمل میں وہ اپنے آپ کو حیوان سمجھتا ہے_ اور زندگی میں سوائے حیوانی خواہشات اور ہوس کے اور کسی ہدف اور غرض کو نہیں پہچانتا_ حیوانی پست خواہشات کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو آزاد جانتا ہے اور ہر کام کو جائز سمجھتا ہے اس کے نزدیک صرف ایک چیز مقدس اور اصلی ہے اور وہ ہے اس کا حیوانی نفس اور وجود_ تمام چیزوں کو یہاں تک کہ حق عدالت صرف اپنے لئے چاہتا ہے اور مخصوص قرار دیتا ہے اور بس _ وہ حق اور عدالت جو اسے فائدہ پہنچائے اور اس کی خواہشات کو پورا کرے اسے چاہتا ہے اور اگر عدالت اسے ضرر پہنچائے تو وہ ایسی عدالت کو نہیں چاہتا بلکہ وہ اپنے لئے صحیح سمجھتا ہے کہ اس کا مقابلہ کرے یہاں تک کہ قوانین اور احکام کی اپنی پسند کے مطابق تاویل کرتا ہے یعنی اس کے نزدیک اپنے افکار اور نظریات اصالت اور حقیقت رکھتے ہیں اور دین اور احکام اور قوانین کو ان پر منطبق کرتا ہے_

خودپسند اور خودخواہ انسان چونکہ فضائل اور کمالات اور اخلاق حقیقی سے محروم ہوتا ہے لہذا وہ اپنے آپ کو :جھوٹے کام اور مرہوم اور بے فائدہ اور شہوت طلبی مقام اور منصب حرص اور طمع تکبر اور حکومت کھانا پینا اور سنا اور لذات جنسی و غیرہ میں مشغول رکھتا ہے اور اسی میں خوشحال اور سرگرم رہتا ہے اور اللہ کی یاد اور اس کو کمالات تک پہنچانے کے لئے کوشش کرنے سے غافل رہتا ہے_

خودخواہ اور خودپسند انسان چونکہ نفس امارہ کا مطیع اور گروید ہوتاہ ے لہذا زندگی میں سوائے نفس کی خواہشات کی حاصل کرنے اور اسے جتنا ہو سکے خوش رکھنے کے علاوہ اس کی کوئی اور غرض نہیں ہوتی اور ان حیوانی خواہشات کے حاصل کرنے میں کسی بھی برے کام کے انجام دینے سے گریز نہیں کرتا اور ہر برے کام کی تاویل کرکے اسے جائز قرار دے دیتا ہے وہ صرف حیوانی خواہشات تک پہنچانا چاہتا ہے اور اس تک پہنچنے میں ظلم کرنے جھوٹ بولنے تہمت لگانے وعدہ خلافی کرنے دھوکا دینے خیانت


کرنے اور اس طرح کے دوسرے گناہوں کے بجالانے کو جائز اور صحیح قرار دیتا ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر گناہ در حقیقت ایک قسم کی خودخواہ یا ور خودپسند ہے کہ جو اس طرح اس کے سامنے ظاہر ہوئی ہے مثال کے طور پر ظلم اور دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا خودخواہی اور خودپسندی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے_

اسی طرح جھوٹ غیبت بد زبانی عیب جوئی حسد انتقام لینا یہ سب پستیاں خود اور خودپسندی شمار ہوتی ہیں جو ان صورتوں میں نمایاں ہو کر سامنے اتی ہیں اسی لئے تمام برائیوں کی جڑ خودپسندی کو قرار دیا جاتا ہے_

خودخواہی اور خودپسندی کے کئی مراتب اور درجات ہیں کہ سب سے زیادہ مرتبہ خود پرستی اور اپنے آپ کی عبادت کرنا ہوجاتا ہے_ اگر اس بری صفت سے مقابلہ نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ شدت پیدا کرلیتی ہے اور ایک ایسے درجہ تک پہنچ جاتی ہے کہ پھر اپنے نفس امارہ کو معبود اور واجب الاطاتمہ اور خدا قرا ردے دیتی ہے اور عبادت کرنے اور خواہشات کے بجالانے میں اطاعت گذار بنا دیتی ہے_ خداوند عالم ایسے افراد کے بارے میں فرماتا ہے کہ '' وہ شخص کہ جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا قرار دے رکھا ہے اسے تو نے دیکھا ہے؟ _(۱۹۶)

کیا عبادت سوائے اس کے کوئی اور معنی رکھتی ہے کہ عبادت کرنے والا اپنے معبود کے سامنے تواضع اور فروتنی کرتا ہے اور بغیر چون و چرا کے اس کے احکام اور فرمایشات کو بجلاتا ہے؟ جو انسان خودپسند ار خود خواہ ہوتا ہے وہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے نفس کو واجب الاطائمہ قرار دیتا ہے اور اس کے سامنے تواضع اور فروتنی اور عبادت کرتا ہے بغیر چون و چرا کے اس کی فرمایشات کو بجالاتا ہے جو انسان خودخواہ اور خودپسند ہوتا ہے وہ کبھی موحد نہیں ہو سکتا_

تمام گناہوں کی جڑ دنیا طلبی ہے

آیات قرآنی اور روایات اہل بیت علیہم السلام میں دنیا کی بہت زیادہ مذمت وارد


ہوئی ہے اور اسے لہو اور لعب یعنی کھیل اور کود غرور و تکبر کا سرمایہ قرار دیا گیا ہے کہ جس میں مشغول ہو جانا مومنین کی شان نہیں ہے اور اس سے بہت زیادہ پرہیز کیا جائے_ جیسے قرآن میں آیا ہے''تھوڑی دنیا بھی دھوکے دینے والے سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں_(۱۹۷)

نیز خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' دنیا سوائے کھیل اور ہوسرانی کے اور کچھ نہیں آخرت کا گھر نیکو کاروں کے لئے بہتر ہے کیا سوچ اور فکر نہیں رکھتے؟_(۱۹۸)

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے کہ '' جان لو کہ دنیا کی زندگی سوائے کھیل ہو سرانی زینت اور تفاخر اور اولاد کے زیا دہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس کی مثال اس بارش کی ہے جو وقت پر برسے اور سبزہ زمین سے نکلے کہ جو بڑوں کو تعجب میں ڈال دے اس کے بعد دیکھے گا کہ وہ زرد اور خشک اور خراب ہوجائے گی_ آخرت میں اس کے پیچھے سخت عذاب آ پہنچے گا_(۱۹۹)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' میں تمہیں دنیا سے ڈراتا ہوں کیونکہ دنیا شیریں اور خوشمنا ہوا کرتی ہے شہوات اور ھوی اور ہوس سے مخلوط ہے وہ اپنے آپ کو دل پسند جلدی ختم ہو جانے والی چیزوں کے ذریعے محبوب بناتی ہے اور معمولی چیزوں سے تعجب میں ڈالتی ہے_ امیدوں اور دھوکے دہی سے زینت کرتی ہے اس کی خوشی کو دوام حاصل نہیں اور اس کی مصیبتوں اور گرفتاریوں سے امان نہیں ہوتی بہت فریب دینی والی اور نقصان وہ ہے متغیر اور زوال پذیر ہے فنا اور ہلاک ہوجانے والی ہے انسانوں کو کھا جانے اور ہلاکت کردینی والی ہوا کرتی ہے_(۲۰۰)

نیز آنحضرت نے فرمایا'' دنیا آرزو اور تمنا کا گھر ہے اور فنا ہوجائیگی اس کے رہنے والے وہاں سے چلے جائیں گے شیرین اور خوشمنا ظاہر ہوتی ہے بہت جلدی دنیا کے طلب کرنے والوں کے پاس جاتی ہے اور ان کے دلوں میں جو اس سے علاقمندی ظاہر کرتے ہیں گھر کر جاتی ہے_(۲۰۱)

اس طرح کی آیات اور روایات بہت زیادہ موجود ہیں جو دنیا کی مذمت بیان کرتی


ہیں اور لوگوں کو اس سے ڈراتی ہیں بالخصوص نہج البلاغہ جیسے گران بہا کتاب میں دنیا اور اہل دنیا کی بہت زیادہ مذمت وارد ہوئی ہے_ حضرت علی علیہ السلام لوگوں سے چاہتے ہیں کہ دنیا کو ترک کریں اور آخرت کی فکر کریں آنحضرت لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک اہل دنیا اور دوسرا اہل آخرت اور ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک خاص پروگرام ہوا کرتا ہے_

قرآن میں آیا ہے کہ '' جو شخص دنیا مال و متاع کا خواہش مند ہو ہم اسے اس سے بہرہ مند کرتے ہیں اور جو آخرت کے ثواب کا طالب ہوگا ہم اسے وہ عنایت کرتے ہیں_(۲۰۲)

خدا فرماتا ہے کہ '' مال و متاع اور اولاد دنیا کی زینت ہیں لیکن نیک عمل باقی رہ جاتا اور وہی تیرے پروردگار کے نزدیک بہتر اور نیک آرزو اور تمنا ہے_(۲۰۳)

دنیا کیا ہے؟

بہر حال اسلام دنیا کو قاتل مذمت قرا ردیتا ہے اور اس سے زاہد رہنا طلب کرتا ہے لہذا ضروری ہے کہ واضح کریں کہ دنیا کیا ہے اور کس طرح اس سے پرہیز کیا جائے؟

کیا دنیا ہر وہ چیز جو اس جہان میں جیسے زمین سورج ستارے حیوانات ، نباتات، درخت، معاون اور انسان ہیں کا ناہم ہے؟ اس کے مقابلے میں آخرت یعنی ایک دوسرا جہان ہے؟ اگر دنیا سے یہ مراد ہو تو پھر دنیا کی زندگی کام کرنے خورد و نوش آرام اور حرکت و غیرہ جو دنیا کی زندگی سے مربوط ہیں کا نام ہوگا_ کیا اسلام میں کسب معاش اور کام کرنے اور روزی حاصل کرنے اور اولاد پیدا کرنے اور نسل کو بڑھانے کی مذمت کی گئی ہے؟ کیا زمین اور آسمان حیوانات اور نباتات بری چیزیں ہیں_ اور انسان کو ان سے پرہیز کرنا چاہئے؟ کیا اسلام کام اور کوشش کرنے روزی کو حاصل کرنے اور تولید نسل


کی مذمت کرتا ہے؟ یہ تو قطعا ایسا نہیں ہے یہ تمام چیزوں اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ہیں اگر یہ چیزیں بری ہوتیں تو اللہ تعالی ا نہیں پیدا ہی نہ کرتا _ خداوند عالم ان تمام چیزوں کو اپنی بہت بڑی خوشمنا نعمتیں جو انسان کے مطیع قرار پائی ہیں جانتا ہے تا کہ انسان ان سے فائدے حاصل کرے_ تنہا مال اور دولت قابل مذمت نہیں ہے بلکہ اسے قرآن میں خیر اور اچھائی کے طور پر ظاہر کیا ہے_

قرآن میں آیا ہے _ ''ان ترک خیرا الوصیته للوالدین و الاقربین (۲۰۴) _ حلال روزی کمانے اور کام اور کوشش کی مذمت ہی نہیں کی گئی بلکہ بہت سی روایات میں اسے بہترین عبادت بھی شمار کیا گیا ہے جیسے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' عبادت کی سترجزو ہیں ان میں سب سے زیادہ افضل حلال روزی کا طلب کرنا ہے_(۲۰۵)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص دنیا میں اپنی روزی حاصل کرے تا کہ لوگوں سے بے پرواہ ہوجائے اور اپنے اہل و عیال کی روزی کو وسیع کرے اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ احسان کرے وہ قیامت کے دن خدا سے ملاقات کرے گا جبکہ اس کی صورت چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہی ہوگی_(۲۰۶)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص اپنے اہل و عیال کی روزی کی تلاش کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خدا کے راستے سے جہاد کرتے ہیں_(۷ ۲۰)

روایات میں کام اور کوشش زراعت اور تجارت کرنے یہاں تک کہ نکاح کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور پیغمبر اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت بھی یوں ہی تھی کہ وہ کام کرتے تھے_ علی ابن ابیطالب جو تمام زاہدوں کے سردار ہیں کام کرتے تھے پس سوچنا چاہئے کہ جس دنیا کی مذمت کی گئی ہے وہ کونسی ہے؟ بعض علماء نے کہا کہ دنیا قاتل مذمت نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دل بستگی قابل مذمت ہے_ بعض آیات اور روایات میں دنیا سے وابستگی اور علاقمندی کی مذمت بھی وارد ہوئی ہے_

قرآن مجید میں آیا ہے ''خواہشات نفسانی سے وابستگی اور علاقمندی جیسے اولاد اور عورتیں زر و جواہر کی ہمیانوں اور اچھے گھوڑے چارپائوں اور زراعت نے لوگوں کے


سامنے آرائشے اور خوشمنائی کر رکھی ہے یہ سب دنیا کا مال اور متاع ہے لیکن نیک کام خدا کے نزدیک موجود ہیں_(۲۰۸)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' خبردار کہ دنیا کو دوست رکھو کیونکہ دنیا کی محبت ہر گناہ کر جڑ اور ہر مصیبت اور بلا کا سرچشمہ ہے_(۲۰۹)

حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دنیا سے دلبستگی اور علاقمندی ہر خطاء اور گناہ کا سرہے یعنی سب کچھ ہے_(۲۱۰)

اس طرح کی آیات اور روایات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے امور سے دلبستگی اور علاقمندی قابل مذمت ہے نہ یہ کہ خود دنیا قاتل مذمت ہے_ یہاں پر پھر سوال پیدا ہوگا کہ کیا دنیا سے بطور اطلاق محبت اور دلبستگی اور علاقمندی قابل مذمت ہے اورانسان کو اپنی بیوی اور اولاد مال اور دولت مکان اور متاع خورد اور خوراک سے بالکل دلبستگی اور علاقمندی نہیں کرنی چاہئے؟ آیا اس طرح کا مطلب کہا جا سکتا ہے؟ جب کہ ان امور سے محبت اور دلبستگی انسان کی فطری اور طبیعی چیز ہے خداوند عالم نے انسان کو اس فطرت پر خلق فرمایا ہے_ کیا انسان ایسا کر سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد سے محبت نہ رکھے؟ کیا انسان خوراک پوشاک اور اس دنیا کی زیبائی سے محبت نہ رکھے ایسا کر سکتا ہے؟ اگر ان چیزوں سے محبت کرنا برا ہوتا تو خداوند عالم انسان کو اس طرح پیدا نہ کرتا_ انسان زندہ رہنے کے لئے ان چیزوں کا محتاج ہے اور اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ طبعا ان چیزوں کی طرف میلان رکھے_ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ لوگ دنیا کے فرزند ہیں اور کسی کو مال سے محبت رکھنے پر ملامت نہیں کی جاتی_(۲۱۱)

روایات میں اولاد اور عیال سے محبت کرنے کی سفارش کی گئی ہے_ خود پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار اپنے اہل و عیال اور اولاد سے محبت کا اظہار کیا کرتے تھے_ بعض خوراک کو پسند فرماتے تھے اور ان سے بھی علاقہ کا اظہار کیا کرتے تھے لہذا زمین، آسمان، نباتات، درخت، معاون حیوانات اور دوسری اللہ کی نعمتیں نہ قابل مذمت ہیں اور نہ بری اور نہ ہی اہل و اعیال اور اولاد اور مال و متاع برے ہیں اور نہ ہی ان سے


محبت اور لگائو اور دنیاوی زندگی بری ہے بلکہ بعض روایات میں تو دنیا کی تعریف بھی کی گئی ہے_ امیرالمومنین علیہ السلام اس کی جواب میں جو دنیا کی مذمت کر رہا تھا فرمایا کہ دنیا سچائی اور صداقت کا گھر ہے اس کے لئے گھر ہے جو اس کی تصدیق کرے اور امن و امان اور عافیت کا اس کے لئے گھر ہے جو اس کی حقیقت کو پہچان لے اور اس کے لئے بے نیاز ہونے کا مکان ہے جو اس کے زادراہ حاصل کرے اور نصیحت لینے کا محل ہے اس کے لئے جو اس سے نصیحت حاصل کرے_ دنیا اللہ کے دوستوں کی مسجد اور اللہ کے فرشتوں کے لئے نماز کا مکان ہے_ دنیا اللہ تعالی کی وحی نازل ہونے کا مکان ہے اور خدا کے اولیاء کے لئے تجارت کی جگہ ہے انہوں نے دنیا میں اللہ کے فضل اور رحمت کو حاصل کیا ہے اور بہشت کو منفعت میں حاصل کیا ہیں_(۲۱۲)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دنیا آخرت کے لئے بہت بہترین مددگار ہے_(۲۱۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص حلال مال کو حاصل کرنا پسند نہیں کرتا تا کہ وہ اس کے ذریعے اپنی آبرو اور عزت کی حفاظت کرے اور قرض اداد کرے اور صلہ رحم بجالائے تو اس میں کوئی اچھائی اور بھلائی موجود نہیں ہے_(۲۱۴)

لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کونسی دنیا قابل مذمت ہے اور دنیا سے محبت کرنے کو تمام گناہوں کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے وہ کونسی دنیا ہے؟

میں نے ان تمام آیات اور روایات سے یوں استفادہ کیا ہے کہ دنیا داری اور دنیا کا ہو جانا اور دل دنیا کو دے دینا قابل مذمت ہے نہ فقط دنیاوی امور سے لگائو اور دنیا کے موجودات اور اس دنیا میں زندگی کرنا قابل مذمت ہے_ اسلام لوگوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا کوویسے پہچانیں کے جیسے وہ ہے اور اتنی ہی مقدار اسے اہمیت دیں اور اس سے زیادہ اسے اہمیت نہ دیں_ جہاں کی خلقت کی غرض اور اپنی خلقت کی غرض کو پہچائیں اور صحیح راستے پر چلیں اگر انسان اس طرح ہوجائیں تو وہ اہل آخرت ہونگے اور اگر ان کی رفتار اور کردار اس غرض کے خلاف ہو تو پھر وہ اہل دنیا کہلائیں گے اور


ہونگے_

دنیا کی حقیقت

اس مطلب کی وضاحت کے لئے پہلے دنیا کی اسلام کی رو سے حقیقت اور ماہیت کو بیان کرتے ہیں اس کے بعد جو اس سے نتیجہ ظاہر ہوگا اسے بیان کریں گے اسلام دو جہان کاعقیدہ رکھتا ہے ایک تو یہی مادی جہان کہ جس میں ہم زندگی کر رہے ہیں اور جسے دنیا کہا اور نام دیا جاتا ہے_ دوسرا اس کے بعد آنے والا جہان کہ جہاں مرنے کے بعد جائیں گے اسے آخرت اور عقبی کا جہان کہا اور نام دیا جاتا ہے_ اسلام عقیدہ رکھتا ہے کہ انسان کی زندگی اس جہان میں مرنے سے ختم نہیں ہوجاتی بلکہ مرنے کے بعد انسان آخرت کے جہاں کی طرف منتقل ہوجائیگا_ اسلام اس جہان کو گذر گاہ اور فانی مکان قرار دیتا ہے جو آخرت کے جہان جانے کے لئے ایک وقتی ٹھہرنے کی جگہ ہے_ اور آخرت کے جہان کو دائمی اور ابدی رہنے کی جگہ قرار دیتا ہے_ انسان اس دنیا میں اس طرح نہیں آیا کہ کئی دن زندگی کرے اور اس کے بعد مرجائے اور ختم اور نابود ہوجائے بلکہ انسان اس جہان میں اس لئے آیا ہے کہ یہاں علم او رعمل کے ذریعے اپنے نفس کی تربیت اور تکمیل کرے اور آخرت کے جہاں میں ہمیشہ کے لئے خوش اور آرام سے زندگی بسر کرے لہذا دنیا کا جہان آخرت کے جہاں کے لئے کھیتی اور تجارت کرنے اور زاد راہ کے حاصل کرنے کی جگہ ہے گرچہ انسان اس جہان میں زندہ رہنے اور زندگی کرنے کے لئے مجبور ہے کہ ان نعمتوں سے جون خدا نے اس جہان میں خلق کی ہیں استفادہ کرے لیکن ان نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنا انسان کی زندگی کی غرض اور ہدف نہیں ہے بلکہ یہ مقدمہ اور تمہید ہے انسان اور اس جہاں کے خلق کرنے کی غرض اور ہدف یہ نہیں کہ انسان یہاں کی زندگی کو خوب مرتب اور مرفح الحال بنائے اور مختلف لذائز اور تحقیقات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے بلکہ انسان کے خلق


کرنے کی غرض ایک بہت بلند اور عالی تر غرض ہے یعنی انسان اپنے انسانی شریف جوہر کی یہاں پر پرورش اور تربیت کرے اور اس کی نگاہ اللہ تعالی کی طرف سیر و سلوک اور تقرب کو حاصل کرنا ہو_ جیسے امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دنیا اس لئے خلق نہیں ہوئی کہ وہ تیرا ہمیشہ کے لئے گھر ہو بلکہ دنیا گذر نے کی جگہ ہے تا کہ نیک عمل کے ذریعے تو اپنی ہمیشہ رہنے والی جگہ کے لئے زاد راہ حاصل کرے لہذا تم دنیا سے چلے جانے کے لئے جلدی کرو اور یہاں سے جانے کے لئے اپنے لئے سواری کو آمادہ اور مہیا کرو_(۲۱۵)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اے دنیا کے لوگو دنیا گذر جانے کی جگہ ہے اور آخرت باقی رہنے کا محل ہے لہذا گزرنے والی جگہ سے ہمیشہ رہنے والے مکان کے لئے سامان اور زاد راہ حاصل کرو_ اور اپنے رازوں کے پردے کو اس کے سامنے جو تمہارے رازوں سے واقف ہے پارہ نہ کرو اپنے دلوں کو دنیا سے خالی کرو اس سے پہلے کہ تمہارے بدن اس دنیا سے خارج ہوجائیں_ تم اس دنیا میں امتحان میں واقع کئے جائو گے اور تم اس دنیا کے علاوہ کے لئے پیدا کئے گئے ہو جب انسان مرجاتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ کیا چھوڑ کرگیا ہے اور فرشتوں کہتے ہیں کہ کیا لے کرایا ہے اور کیا اپنے لئے یہاں کے لئے بھیجا ہے؟ خدا تمہارے باپ پر رحمت نازل کرے کہ تم اپنے مال سے کچھ آئندہ کے لئے روانہ کرو تا کہ خدا کے نزدیک تمہارے لئے بطور قرض کے باقی ہو اور تمام مال دنیا میں چھوڑ کرنہ رو کہ اس مال کے حقوق تمہاری گردن پر باقی رہ جائیں_(۲۱۶)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خبردار رہو کہ یہ دنیا کہ جس کی تم امید رکھتے ہو اور اس سے محبت اور علاقہ مند ہو کبھی تمہیں غضب میں لاتی ہے اور کبھی تمہیں خوش کرتی ہے یہ نہ تمہارا گھر ہے اور نہ ہی تمہاری ٹھہرنے کی جگہ ہے کہ جس کے لئے تم پیدا کئے گئے ہو اور نہ ہی یہ تمہارے لئے مکان ہے کہ جس کی طرف تم بلائے گئے ہو یہ جان لو کہ نہ ہی یہ دنیا تمہارے لئے ہمیشہ رہے گی اور نہ تم اس


میں ہمیشہ کے لئے باقی رہو گے گرچہ دنیا تمہیں اپنی زینت اور خوبصورتی کی وجہ سے دھوکا دیتی ہے_ لیکن برائیوں اور شر کے ہونے سے بھی تمہیں ڈراتی ہے لہذا ان ڈرانے والی چیزوں کو جو یہ رکھتی ہے اس کے غرور اور دھوکے میں نہ آئو اور اس سے دست بردار ہوجائو اس کی ڈرائی جانے والی چیزوں کی وجہ سے اس کے طمع دلانے سے دست بردار ہو جائو اور اس گھر کی طرف جلدی کرو کہ جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے اور اپنے دلوں کو دنیا سے خالی اور منصرف کرو_(۲۱۷)

آپ نے دیکھ لیا کہ اس حدیث میں دنیا کی حقیقت کس طرح بتلائی گئی ہے کہ یہ فناء ہونے والی اور سفر کی جگہ ہے یہ گذرنے اور سفر کر جانے کے لئے ٹھہرنے کا ایک مقام ہے_ یہ دھوکے اور غرور اور چالبازی کا گھر ہے_ انسان اس کے لئے خلق نہیں ہوا بلکہ آخرت کے جہان کے لئے خلق کیا گیا ہے انسان اس جہاں میں آیا ہے تا کہ اپنے علم اور عمل اور انسانیت کی تربیت اور پرورش کرے اور آخرت کے جہان کے لئے زاد راہ اور توشہ حاصل کرے_

اہل آخرت

اسلام لوگوں سے یہ چاہتا ہے کہ دنیا کو اس طرح پہچانیں کہ جیسے وہ ہے اور اپنے اعمال اور کردار کو اسی طرح بجالائیں جیسے کہ وہ دنیا ہے جن لوگوں نے دنیا کو جس طرح کہ وہ ہے پہچان لیا ہے تو پھر وہ اس دنیا کے عاشق اور دیوانے نہیں بنتے اور وہ زر و جواہر کے دھوکے میں نہیں آتے جب کہ وہ اسی دنیا میں زندگی کرتے ہیں اللہ تعالی کی شرعی لحاظ سے نعمتوں سے اور لذات سے استفادہ بھی کرتے ہیں_ لیکن وہ ان کے قیدی اور غلام نہیں بنتے وہ خدا اور آخرت کے جہان کو کبھی نہیں بھلاتے اور ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے نیک کاموں کے بجالانے سے آخرت کے جہان کے لئے زاد راہ اور توشہ حاصل کریں_ اس جہان میں زندگی کرتے ہیں لیکن ان کے دل کی آنکھ برتر و بالا افق کو دیکھتی ہے_ ہر لمحہ اور ہر حالت اور ہر عمل میں خدا اور آخرت


کے جہان پر نظر رکھتے ہیں اور آخرت کے جہان کے لئے اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں_ دنیا کو آخرت کی کھیتی اور تجارت کا محل جانتے ہیں_ کوشش کرتے ہیں کہ آخرت کے جہان کے لئے زاد راہ حاصل کریں _ دنیا کی تمام چیزوں سے آخرت کے جہان کے لئے فائدہ حاصل کرتے ہیں یہاں تک کہ کام اور کالج اور کھانے پینے ازدواج اور دوسرے دنیاوی کاموں سے بھی آخرت کے جہان کے لئے استفادہ حاصل کرتے ہیں اس طرح کے لوگ دنیا دار نہیں ہوتے بلکہ یہ اہل آخرت ہیں_ ابن ابی یعفور کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت عرض کیا کہ ہم دنیا کو دوست رکھتے ہیں_ آپ نے فرمایا ہے کہ '' دنیا کے مال سے کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کی اس کے ذریعے سے ازدواج کرتا ہوں اور اللہ کے راستے میں صدقہ دیتا ہوں_ آپ نے فرمایا کہ یہ تو دنیا نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو آخرت ہے_(۲۱۸)

حضرت علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اے خدا کے بندو متوجہ رہو کہ پرہیزگار دنیا میں بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں _ وہ دنیا داروں کے ساتھ دنیا سے فائدہ حاصل کرنے میں شریک ہیں لیکن دنیا دار ان کے ساتھ آخرت میں شریک نہیں ہیں_ انہوں نے دنیا میں عمدہ طریقے سے زندگی بسر کی ہے اور کھانے والی چیزوں سے عمدہ طریقے سے استفادہ کیا ہے انہوں نے دنیا سے وہی استفادہ کیا ہے جو عیاش لوگ اس سے استفادہ کیا کرتے تھے اور وہی استفادہ کیا ہے جو ظالم اور متکبر لوگ کیا کرتے تھے اس کے باوجود یہ لوگ آخرت کا زاد راہ اوردنیا کے تجارت کے محل سے پوری طرح کما کر آخرت کی طرف منتقل ہوگئے ہیں_ دنیا سے زہد کی لذت کو بھی حاصل کیا ہے اور انہیں یقین تھا کہ آخرت میں اللہ تعالی کے جوار رحمت میں اس طرح زندگی کریں گے کہ ان کی کوئی بھی خواہش رد نہیں کی جائیگی اور لذت اور خوشی سے انکا حصہ کم اور ناقص نہیں ہوگا_(۲۱۹)

لہذا کام اور کام میں مشغول ہونا اور صنعت اور تجارت اور زراعت اور اسی


طرح مقام اور منصب اور اجتماعی ذمہ داری کا قبول کرنا زہد اور اہل آخرت ہونے کے منافی اور ناساز نہیں ہوا کرتا یہ تمام امور اللہ کی رضایت حاصل کرنے اور آخرت کے راستے میں گامزن ہونے میں سموئے جا سکتے ہیں_ امرالمومنین جو اپنی تمام کوشش کام اور کاج میں استعمال کرتے تھے رات کو محراب عبادت میں گریہ و زاری کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے'' اے دنیا_ اے دنیا مجھ سے دور ہٹ جا_ کیا مجھے دھوکہ دینے کے لئے میر ے سامنے آئی ہے اور مجھ سے محبت کا اظہار کرتی ہے؟ یہ تیرا وقت نہیں ہے جا کسی دوسرے کو دھوکہ دے مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں ہے_ میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں کہ جن میں رجوع بھی نہیں کیا جا سکتا_ تیری زندگی کوتاہ سے اور تیری قیمت معمولی ہے_ اہ زاد راہ تھوڑا ہے اور راستہ اور سفر طویل ہے اور آگے کی منازل عظیم ہیں_(۲۲۰)

آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں ''اے دنیا مجھ سے دور ہوجا کہ میں نے تیری مہار تیری گرد پر ڈال دی ہے اور تجھے آزاد کردیا ہے_ میں تیرے چنگل سے نکل چکا ہوں اور تیرے جال سے بھاگ گیا ہوں اور تیری لغزش گاہ سے دور ہو چکا ہوں_(۲۲۱)

حضرت علی علیہ السلام نے اس حالت میں جب کہ ایک لشکر جرار کے ساتھ جنگ کرنے جا رہے تھے اپنی پھٹی پرانی جوتی ابن عباس کو دکھلائی اور فرمایا کہ '' خدا کی قسم یہ پھٹی پرانی جوتی میرے نزدیک حکومت اور امیر ہونے سے زیادہ محبوب ہے مگر یہ کہ میں حق کو برقرار کروں اور باطل کو رد کروں_(۲۲۲)

اللہ تعالی کے خاص بندے ایسے ہی تھے اور ہیں_ اس دنیا میں زندگی کرتے ہیں لیکن وہ عالم بالا کو دیکھتے ہیں اور اہل آخرت ہیں_ عام لوگوں کی طرح کام اور کاج کرتے ہیں_ بلکہ حکومت اور فرماندھی اور زمام داری اور زندگی کے امور کو بھی چلاتے ہیں_ اور ان تمام کاموں کو اللہ تعالی کی رضا اور اپنا عملی وظیفہ قرار دیتے ہیں اور شرعی حدود میں رہ کر اللہ تعالی کی نعمتوں سے بھی استفادہ کرتے ہیں اس کے باوجود دنیا کو تین طلاقیں دے رکھی ہیں اور اس کی محبت کو دل سے نکالا ہوا ہے_ حکومت لینے کے لئے


جنگ کرتے ہیں لیکن صرف حق کے دفاع اور عدالت کو برپا کرنے کے لئے نہ یہ کہ حکومت اور ریاست کریں_

اہل دنیا

اگر کسی انسان نے دنیا کو جیسے ہے اس طرح نہ پہچانا ہو دنیا میں ایسے زندگی کرنے میں مشغول ہوگیا ہو کہ گویا اس کے خلق ہونے کی غرض اور غایت یہی دنیا تھی اور آخرت میں کوئی حساب اور کتاب نہیں اور نہ ہی اس دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا ہے کہ جس کی طرف اس نے جانا ہے اور وہ مال اور دولت زن اور فرزند جاہ و جلال اور مقام و منصب کا قیدی اور فریفتہ ہوچکا ہو اور اسی دنیا کی زندگی کو خوب مضبوط پکڑ رکھا ہو اور اسی کے ساتھ ولی لگائو رکھا ہو اور آخرت کی زندگی اور خدا کو فراموش کردیا ہو اور معنوی بلندیوں سے چشم پوشی کر لی ہو اور صرف حیوانی خواہشات کے پورے کرنے اور لذائز دنیوی سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے میں کمر ہمت باندھ رکھی ہو_ اس طرح کا انسان اور افراد دنیا اور اہل دنیا شمار قسم ہوتے ہیں گرچہ وہ فقیر اور نادار اور گوشہ نشین ہی کیوں نہ ہوں اور ہر قسم کی اجتماعی زمہ داری کے قبول کرنے سے پرہیز ہی کیوں نہ کرتے ہوں_

خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے '' وہ صرف دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں لیکن آخرت سے غافل ہیں_(۲۲۳)

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے'' دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی کے مقابلے میں خریداہے_(۲۲۴)

نیز ارشاد ہوا ہے کہ ''کیا تم نے دنیا کی زندگی پر رضایت دے دی ہے؟ جب کہ یہ معمولی ثروت سے زیادہ نہیں ہے_(۲۲۵)

اللہ تعالی فرماتا ہے''جو لوگ ہماری ملاقات اور بقا کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی سے دل لگا رکھا ہے اور خوش ہیں اور وہ جو ہماری آیات سے غافل ہیں یہی وہ


لوگ ہیں کہ جن کا ٹھکانہ جہنم کی اگ میں ہے یہ اس وجہ سے ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے دنیا میں کسب کیا ہے_(۲۲۶)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان کی خدا سے دور ترین حالت اس وقت ہوتی ہے جب وہ سوائے شکم پری اور عورت کے اور کسی چیز کو ہدف اور غرض قرار نہیں دیتا_(۲۲۷)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو دل دنیا کا فریفتہ اور عاشق ہوگا اس میں تقوی اور پرہیزگاری کا داخل ہونا حرام ہوا کرتا ہے_(۲۲۸)

نیز آنحضرت(ص) نے فرمایا ہے کہ '' وہ بہت ہی برا معاملہ اور تجارت ہے کہ جس کی قیمت اور عوض اپنے نفس کو قرار دے دیا جائے اور دنیا کو اس کے عوض جو خدا کے نزدیک ہے عوض بنا لیا جائے_(۲۲۹)

اگر دنیا کی مذمت کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا غرور اور دھوکا دینے والی اور مشغول رکھ دینے کا مال اور متاع ہے_ دنیا اپنے آپ کو خوبصورت اور شیرین ظاہر کرتی ہے اور انسان کو اسی میں لگائے رکھتی ہے اور انسان کو خدا کی یاد آور آخرت کے لئے زاد راہ حاصل کرنے سے روکتی ہے_

اسی لئے دنیا کی مذمت وارد ہوئی ہے اور اسے بیان کیا گیا ہے تا کہ انسان ہوشیار رہیں اور اس کی چالوں کا دھوکانہ کھائیں اور اپنے آپ کو دنیا کے قیدی اور غلام نہ بنائیں اور اس پر فریفتہ نہ ہوجائیں_

قابل مذمت دنیا سے لگائو اور عشق ہے اور اپنے خلق ہونے کی غرض کو بھول جانا ہے اور آخرت کی ہمیشگی زندگی اور اللہ کی نعمتوں سے غافل ہو جانا ہے_

اہل دنیا اور اہل آخرت

جو دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے کام کرے وہ اہل آخرت ہے اور جو صرف دنیا میں رہ کر دینا کے لئے کام کرے وہ اہل دنیا اور دنیا دار ہے_


امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دنیا میں لوگ دو قسم پر عمل کرتے ہیں ایک وہ ہے جو دنیا میں رہ کر دنیا کے لئے کام کرتا ہے دنیا نے اسے مشغول کر رکھا ہے اور آخرت سے غفل بنا دیا ہے_ ڈرتا ہے کہ اس کی اولاد اس کے مرنے کے بعد فقیر وجائے لیکن آخرت کے جہان میں خالی ہاتھ جانے سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے اپنی عمر کو دوسروں کے منافع کے لئے خرچ کرتا ہے_ دوسرا وہ ہے جو دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے کام کرتا ہے_ اس کی روزی بعی بغیر کسی مشقت کے پہنچتی رہتی ہے یعنی دنیا اور آخرت کا حصہ اور نصیب اسے ملتا رہتا ہے اور یہ یہ دونوں جہانوں کا مالک ہو جاتا ہے یہ خدا کے نزدیک آبرومند اور محترم ہوگا اور جو کچھ خدا سے طلب کرے گا خدا سے قبول کریگا_(۲۳۰)

نیز امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دنیا عبور کرجانے کی جگہ ہے یہ ٹھہر جانے کا گھر نہیں ہے لوگ دو قسم کے ہیں ایک وہ ہے جو اپنے نفس کو دنیا کی بے قیمت اشیاء کے عوض فروخت کردیتا ہے اور اپنے نفس کو ذلت اور خواری میں ڈالتا ہے دوسرا وہ ہے جو اپنے انسانی نفس کو خرید لیتا ہے اور آزاد کر لیتا ہے_(۲۳۱)

اہل دنیا اور اہل آخرت میں فرق اس میں نہیں ہوتا کہ دولتمند ہے یا فقیر دنیا کے کاموں میں مشغول ہے ہے یا بیکار ہے_ اجتماعی زمہ داریوں کو قبول کیا ہوا ہے یا نہ لوگوں کے درمیان زندگی کر رہا ہے یا گوشہ نشین ہے کسب و کار تجارت میں مشغول ہے یا تحصیل علم درس تدریس تالیف کتاب وعظ اور نصیحت کرنے میں مشغول ہے_ دنیا کے نعمتوں سے استفادہ کر رہا ہے یا نہ دنیا منصب اور عہدہ پر فائز ہے یا نہ بلکہ ان دو میں اصلی تفاوت اور فرق اس میں ہے کہ دنیاوی امور سے وابستگی اور عشق رکھتا ہے یا امور آخرت کا فریفتہ ہے_ دنیا سے دل لگا رکھا ہے یا آخرت کی زندگی سے _ دنیا کی طرف متوجہہ ہے یا خدا کی طرف_ اپنی زندگی کی غرض اور ہدف حیوانی خواہشات کو قرار دے رکھا ہے یا مکارم اخلاق اور فضائل انسانی کا حصول اور تربیت کرنا_

جو چیز انسان کو اپنے میں مشغول رکھے اور خدا کی یاد آور آخرت کے جہاں کے


لئے سعادت اور کوشش سے روکے رکھے وہ دنیا شمار ہوگی گرچہ انسان تحصیل علم اور تدریس اور تالیف کتاب اور وعظ اور نصیحت امامت جماعت یہاں تک کہ گوشہ نشینی اور دنیا سے زہد اور عبادت بجالا رہا ہو اگر یہ تمام کے تمام غیر خدا کے لئے ہوں تو یہ بھی دنیا شمار ہوگی پس واضح ہوگیا کہ تمام دنیا کے لوگ ایک مرتبے اور قطار میں نہیں ہوتے اسی طرح تمام اہل آخرت بھی ایک رتبے میں نہیں ہوا کرتے بلکہ ایک گروہ اہل دنیا کا سوفیصدی اور بطور کامل دنیا سے لگاؤ رکھتا اور بطور کلی خدا اور آخرت کے جہان سے غافل ہوتا ہیں اس طرح کے ان لوگوں کو دنیا دار اور دنیاپرست کا نام دیا جانا ہوتا ہے_ ان کے مقابلے میں ایک گروہ لوگوں کا ہے جو اللہ تعالی کے خالص بندے ہیں کہ ان کی ساری توجہہ خدا اور آخرت کے جہان کے لئے ہوتی ہے اور سوائے اللہ کی رضا کے انکا کوئی اور ہدف نہیں ہوتا_ پھر ان دونوں گروہوں میں بہت زیادہ درجات اور مراتب ہوتے ہیں جو جتنا دنیا سے لگاؤ اور محبت رکھے گا وہ اسی مقدار کا دنیا دار ہوگا اور اللہ تعالی کے قرب سے دور ہوگا اس کے برعکس جو جتنا زیادہ خدا کی یاد میں آخرت کے جہاں کی فکر میں ہوگا وہ ا تنا تارک دنیا شمار ہوگا خلاصہ دنیادار ہونا اور اہل آخرت ہونا یہ دونوں امر اصطلاحی لحاظ سے اضافی اور نسبی ہوا کرتے ہیں_


تقوی تزکیہ نفس کا اہم عامل

اسلام میں تقوی کو ایک بہت اہم مقام حاصل ہے_ مومنین میں سے متقیوں کو ممتاز شمار کیا جاتا ہے_ تقوی کی لفظ قرآن مجید نہج البلاغہ اور احادیث کی کتابوں خاص طور پر نہج البلاغہ میں بہت زیادہ استعمال ہوئی ہے_ قرآن انسان کی شرافت اور قیمت کا معیار تقوی کو قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ '' خدا کے نزدیک تم میں سے زیادہ محترم اور معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار اور متقی ہو_(۲۳۲)

تقوی کو آخرت کے لئے بہترین زاد راہ اور سعادت کا بہت بڑا وسیلہ بتلایا گیا ہے قرآن مجید میں آیا ہے کہ ''تم اپنی آخرت کے لئے زاد راہ حاصل کرو قرآن مجید میں آیا ہے کہ تم اپنی آخرت کے لئے زاد راہ حاصل کرو اور بہترین زاد راہ تقوی ہے_(۲۳۳)

نیز فرماتا ہے '' جو لوگ نیک اور تقوی رکھتے ہیں ان کے لئے بہت بڑی جزاء ہوگی_( ۲۳۴)

اور پھر فرمایا ہے_ کہ '' جس نے تقوی اختیار کیا اور اچھے کام انجام دیئے اس کے لئے کوئی خوف و ہراس نہیں ہے_(۲۳۵) اللہ تعالی فرماتا ہے کہ '' اللہ تعالی کی مغفرت کی طرف جلدی کرو اور بہشت کی طرف جلدی کرو کہ جس کا عرض زمین اور آسمان کے برابر ہے اور جو متقیوں کے لئے آمادہ کی گئی ہے_(۲۳۶)

اور فرماتا ہے کہ ''متقی بہشت میں اور نعمت میں زندگی کرتے ہیں اور ان نعمتوں


سے کہ جو اللہ تعالی نے انہیں عطا کی ہیں خوش اور خرم ہیں_(۲۳۷)

اسی طرح نہج البلاغہ اور احادیث کی کتابوں میں تقوی کو اخلاق کا سردار اور سعادت حاصل کرنے کا بزرگترین وسیلہ بتلایا گیا ہے جیسے_

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ''تقوی کو تمام اخلاق کا راس ورئیس قرار دیا گیا ہے_(۲۳۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' ایک صفت ایسی ہے جو اسے نہ چھوڑے اور پکڑے رکھے تو اس کے اختیار میں دنیا اور آخرت ہوگی اور وہ بہشت حاصل کرلے گا_ آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ_ وہ صفت کونسی ہے؟ آپ نے فرمایا وہ تقوی ہے_ جو شخص چاہتا ہے کہ تمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہو تو تقوی کو اپنا پیشہ بنائے آپ نے اس کے بعد یہ آیت پڑھی کہ جو شخص تقوی کو اپنا پیشہ قرار دے تو خداوند عالم اس کے لئے گشائشے قرار دے دیگا اور اس کے لئے روزی وہاں سے دے گا کہ جس کا اسے گمان تک نہ ہوگا_(۲۳۸)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''تقوی کو ہاتھ سے نہ جانے دینا کیونکہ وہ تمام خوبیوں اور خیرات کا جامع ہے_ سوا_ے تقوی کے کوئی اچھائی وجود نہیں رکھتی جو اچھائی تقوی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے تقوی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی خواہ وہ دنیا کی اچھائی اور نیکی ہو یا آخرت کی_(۲۳۹)

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ہر کام کی شرافت اور قیمت تقوی کے واسطے سے ہوتی ہے صرف متقی سعادت اور نجات کو حاصل کرتے ہیں_ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تحقیق سعادت اور نجات صرف متقیوں کے لئے ہے_( ۲۴۰) حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے '' خدا کے بندو_ آگاہ رہو کہ دنیا اور آخرت کی نعمتیں صرف متقی حاصل کرتے ہیں_ دنیاداروں کے ساتھ دنیا کی نعمتوں سے استفادہ کرنے میں شریک ہوتے ہیں لیکن دنیاداروں کے ساتھ آخرت کی نعمتوں میں شریک نہیں ہوتے_ بہترین طریقے سے دنیا میں زندگی کرتے ہیں اور بہترین طریقے سے کھانے والی چیزوں سے


فائدہ حاصل کرتے ہیں_ متقی انہیں نعمتوں سے کہ جن سے مالدار اور سرکش اورمتکبر استفادہ کرتے ہیں وہ بھی استفادہ کرتے ہیں لیکن وہ بہت زیادہ زاد راہ اور منافع لیکر آخرت کے جہان کی طرف منتقل ہوتے ہیں_ دنیا میں زہد کی لذت کو حاصل کرتے ہیں اور علم رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کی رحمت کے جوار میں زندگی کریں گے اور جو کچھ خدا سے چاہئیں گے دیئے جائیں گے اور ان کا لذات سے بہرور ہونا ناقص نہیں ہوگا_(۲۴۱)

بعض احادیث میں تقوی کو نفس کے پاک کرنے اور نفس کی بیماریوں کو شفا دینے والا قرار دیا گیا ہے امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں_ ''یقینا تقوی تمہارے دل کی بیماریوں کا شفا دینے والا دارو ہے اور تمہارے نابینا دل کو روشنی دینے والا ہے اور تمہارے بدن کی بیماریوں کے لئے شفا بخش ہے اور تمہارے سینے کے فساد کا اصلاح کرنے والا ہے اور تمہارے نفس کی کثافتوں کو پاک کرنے والا ہے اور تمہاری دید کے پردوں کو جلا بخشنے والا ہے اور تمہارے اندرونی اضطرابات کو آرام دینے والا اور تمہاری تاریکیوں کو روشن کردینے والا ہے_(۲۴۲)

احکام کی غرض تقوی ہے

تقوی اسلام میں پردازش اخلاقی اصل اور احکام اسلامی کی تشریع کی غرض بتلائی گئی ہے_ جیسے

خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے_ '' لوگو اپنے پروردگار کی جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والے لوگوں کو خلق فرمایا ہے عبادت کرو شاید باتقوی ہوجاؤ_(۲۴۳)

نیز فرماتا ہے '' روزہ تم پر ویسے واجب ہوا ہے جیسے تم سے پہلے والوں پر واجب ہوا تھا شاید تم با تقوی ہوجاؤ_(۲۴۴)

اور فرماتا ہے کہ ''خون اور قربانیاں خدا کو نہیں پہنچتیں لیکن تمہارا تقوی خدا کو


پہنچتا ہے_(۲۴۵) اور فرماتا ہے ''آخرت کے لئے زاد راہ اور توشہ حاصل کرو اور بہترین توشہ اور زاد راہ تقوی ہے_(۲۴۶)

جیسا کہ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ بعض عبادتوں کی غرض بلکہ اصل عبادت کی غرض یہ تھی کہ لوگ اس کے بجالانے سے باتقوی ہوجائیں بلکہ اسلام کی نگاہ میں تقوی اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ تمام اعمال کے قبول ہونے کا معیار اور راس بتلایا گیا ہے اور عمل بغیر تقوی کے مردود اور بے فائدہ ہوتا ہے قر آن مجید میں سے ہے کہ خداوند عالم نیک اعمال کو صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا کہ '' تقوی کے حاصل کرنے میں بہت زیادہ عمل اور کوشش کر کیونکہ کوئی عمل بھی جو تقوی کے ساتھ ہو چھوٹا نہیں ہوتا اور کس طرح اسکو چھوٹا شمار کیا جائے جب کہ وہ اللہ تعالی کے ہاں مورد قبول ہوتا ہے جب کہ خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ خدا متقیوں سے قبول کرتا ہے_(۲۴۷) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کسی کا رونا تجھے دھوکا نہ دے کیونکہ تقوی دل میں ہوتا ہے_(۲۴۸)

قرآن میں ہے کہ '' اگر صبر کرو اور تقوی رکھتے ہو تو یہ بہت بڑا کام ہے_(۲۴۹)

جیسا کہ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ قرآن اور احادیث میں تقوی ایک اصلی ارزشمند اور آخرت کے لئے بہترین زاد راہ اور توشہ ہے اور دل کی اہم بیماریوں کے لئے شفا دینے والا دارو ہے اور نفس کو پاک کرنے کا بہت بڑا وسیلہ بتلایا گیا ہے اس کی اہمیت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ احکام الہی کے جعل اور تشریع کی غرض اور ہدف قرر پایا ہے_ اب ہم تقوی کی وضاحت کرتے ہیں_

تقوی کی تعریف

عام طور سے تقوی کو ایک منفی یعنی گناہوں سے پرہیز اور معصیت سے اجتناب


بتلایا جاتا ہے اور یوں گمان کیا جاتا ہے کہ امور اجتماعی میں شریک کرنے کی وجہ سے تقوی کو محفوظ رکھنا ایک بہت مشکل کام بلکہ ایک نہ ہونے والا کام ہے کیونکہ نفس کی سرشت میں گناہوں کی طرف میلان ہونا ہوتا ہے لہذا یا تقوی کو اپنائے اور پرہیزگار بنے یا اجتماعی کاموں سے کنارہ کشی کرے یا اجتماعی ذمہ داریوں کو عہدے پرلے اور تقوی کو چھوڑے کیونکہ ان دونوں کو اکٹھا ممکن نہیں ہوتا_ اس فکر اور نظریہ کا لازمہ یہ ہے کہ جتنا انسان گوشہ نشین ہوگا اتنا زیادہ تقوی رکھنے والا بنے گا_ لیکن بعض آیات اور احادیث اور نہج البلاغہ میں تقوی کو ایک مثبت پر ارزش عمل بتلایا گیا ہے نہ منفی_

تقوی کے معنی صرف گناہوں کا ترک کردینا نہیں ہے بلکہ تقوی ایک اندرونی طاقت اور ضبط نفس کی قدرت ہے جو نفس کو دائمی ریاضت میں رکھنے اور پے در پے عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور نفس کو اتنا طاقتور بنا دیتی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالی کے احکام کا مطیع اور فرمانبردار ہوجاتا ہے اور نفس اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ نفس غیر شرعی خواہشات کا مقابلہ کرتا ہے اور ثابت قدم ہوجاتا ہے_ لغت میں بھی تقوی اسی معنی میں آیا ہے_

تقوی کا مصدر وقایہ ہے کہ جس کے معنی حفظ اور نگاہداری کے ہیں تقوی یعنی اپنے آپ کو محفوظ کرنا اور اپنے نفس پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے_ تقوی ا یک اثباتی صفت ہے جو حفاظت دیتی ہے اور یہ منفی اور سلبی صفت نہیں ہے_ تقوی یعنی انسان کا عہد کرلینا کہ احکام شرعیت اور دستور الہی کی اطاعت کرونگا_ ہر گناہ کے ترک کا نام تقوی نہیں ہے بلکہ ترک گناہ اور کنٹرول کرنے کی قدرت اور طاقت اور نفس کو مضبوط رکھنے کی سرشت اور ملکہ کا نام تقوی رکھا جاتا ہے_ تقوی آخرت کے لئے بہترین زاد راہ ہے زاد راہ اور توشہ ایک مثبت چیز ہے منفی اور سلبی صفت نہیں ہے_ امیرالمومنین علیہ السلام کے چند جملات پر غور کیجئے_ آپ فرماتے _ ''اے خدا کے بندو میں تمہیں تقوی کی سفارش کرتا ہوں_ کیونکہ یہ نفس کے لئے ایک مہار ہے کہ جو نفس کو اچھائیوں


کی طرف کھینچ لے جاتا ہے_ تقوی کے مضبوط رسے کو پکڑے رکھو اور اس کے حقائق کی طرف رجوع کرو تا کہ تمہیں آرام اور رفاہیت وسیع اور عریض وطن مضبوط پناہ گا اور عزت کے منازل کی طرف لے جائے_(۲۵۰)

آپ فرماتے ہیں ''یقینا'' تقوی آج کے زمانے میں تمہارے لئے پناہ گا اور ڈھال ہے اور کل قیامت کے دن کے لئے جنت کی طرف لے جانے کا راستہ ہے ایسا واضح راستہ ہے کہ جس پر چلنے والا فائدہ حاصل کرتا ہے اور ایسی ودیعت ہے کہ جو اسے پکڑنے والے کی حفاظت کرتا ہے_(۲۵۱)

اے خدا کے بندو جان لو کہ تقوی ایک مضبوط پناہ گاہ ہے_ فسق اور فجور اور بے تقوائی ایک ایسا گھر ہے کہ جس کی بنیاد کمزور ہے اور رہنے والے کی حفاظت نہیںکرسکتا اور اس میں پناہ لینے والے کو محفوظ نہیں کرسکتا اور جان لو کہ تقوی کے ذریعے گناہوں کی زہر اور ڈنگ کو کاٹا جاسکتا ہے_ اے خدا کے بندو، تقوی خدا کے اولیاء کو گناہوں سے روکے رکھتا ہے اور خدا کاخوف ان کے دلوں میں اس طرح بٹھا دیتا ہے کہ وہ رات کو عبادت اور اللہ تعالی سے راز و نیاز میں مشغول رہ کر بیدار رہتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں_ اور جان لو کہ تقوی تمہارے لئے اس دنیا میں پناہ گاہ اور مرنے کے بعد سعادت ہے_ جیسے کہ آپ نے ان احادیث کا ملاحظہ کیا ہے ان میں تقوی کو ایک با قیمت اور اہم اور ایک مثبت طاقت اور قدرت بتلایا گیا ہے کہ جو انسان کو روکے رکھتا ہے اور اسکی حفاظت کرتا ہے ایک ایسی طاقت جو کنٹرول کرتی ہے_ بتلایا گیا ہے کہ تقوی حیوان کی مہار اور لگام کی طرح ہے کہ جس کے ذریعے سے انسان کے پرکشش نفس اور اس کی خواہشات پر کنٹرول کیا جاتا ہے اور اسے اعتدال پر رکھا جانا ہے_ تقوی ایک مضبوط قلعہ کی مانند ہے کہ انسان کو داخلی دشمنوں یعنی ہوی اور ہوس اور غیر شرعی اور شیطانی خواہشت سے محفوظ رکھتا ہے_ تقوی ڈھال کی مانند ہے کہ جو شیطانی کے زہر آلودہ تیر اور اس کے ضربات کو روکتا ہے_ تقوی انسان کو ہوی و ہوس اور خواہشات نفس کی قید سے آزادی دلواتا ہے اور حرص اور طمع حسد اور


شہوت غصب اور بخل و غیرہ کی رسیوں کو انسان کی گردن سے اتار پھینکتا ہے_ تقوی محدود ہوجانے کو نہیں کہتے بلکہ نفس کے مالک اور اس پر کنٹرول کرنے کا نام ہے_ انسان کو عزت اور شرافت قدرت اور شخصیت اور مضبوطی دیتا ہے_ دل کو افکار شیطانی سے محفوظ کرتا ہے اور فرشتوں کے نازل ہونے اور انوار قدسی الہی کے شامل ہونے کے لئے آمادہ کرتا ہے اور اعصاب کو طفیان اور آرم دیتا ہے_ تقوی انسان کے لئے مثل ایک گھر اور لباس کے ہے کہ جو حوادث کی گرمی اور سردی محفوظ رکھتا ہے خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہےلباس التقوی ذلک خیر ) ۲۵۲) تقوی ایک قیمتی وجود رکھتا ہے اور آخرت کے لئے زاد راہ اور توشہ ہے یہ ایک منفی صفت نہیں ہے البتہ قرآن اور حدیث میں تقوی خوف اور گناہ کے ترک کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے لیکن یہ تقوی کے لوازمات میں سے ہیں نہ یہ کہ تقوی کا معنی یہی ہے_

تقوی اور گوشہ نشینی

گوشہ نشینی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے قبول نہ کرنے کو نہ صرف تقوی کی علامتوں سے شمار نہیں کیا جائیگا بلکہ بعض موارد میں ایسا کرنا تقوی کے خلاف بھی ہوگا_ اسلام میں گوشہ نشینی اور رہبانیت نہیں ہے_ اسلام انسان کو گناہ سے فرار کرنے کے لئے گوشہ نشینی اور مشاغل کے ترک کرنے کی سفارش نہیں کرتا بلکہ انسان سے چاہتا ہے کہ اجتماعی ذمہ داریوں کو قبول کرے اور امور اجتماعی میں شریک ہو اور پھر اسی حالت میں تقوی کے ذریعے اپنے نفس پر کنٹرول کرے اور اسے قابو میں رکھے اور گناہ اور کجروی سے اپنے آپ کو روکے رکھے_

اسلام یہ نہیں کہتا کہ شرعی منصب اور عہدے کو قبول نہ کرو بلکہ اسلام کہتا ہے کہ اسے قبول کرو اور اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اللہ تعالی کے بندوں کی خدمت کرو اور صرف منصب اور مقام کا غلام بن کر نہ رہ جاؤ_ اور اپنے منصب اور عہدے کو نفسانی


خواہشات اور شہوات کے لئے وسیلہ قرار نہ دو اور حق کے راستے سے نہ ہٹو_ اسلام نہیں کہتا کہ تقوی حاصل کرنے کے لئے کام اور کار و کسب سے ہاتھ اٹھا لو اور حلال رزق طلب کرنے کے لئے کوشش نہ کرو بلکہ اسلام کہتا ہے کہ دنیا کے قیدی اور غلام نہ بنو_اسلام نہیں کہتا کہ دنیا کو ترک کردے اور عبادت میں مشغول ہوجانے کے لئے گوشہ نشین ہوجا بلکہ اسلام کہتا ہے کہ دنیا میں زندگی کر اور اس کے آباد کرنے کے لئے کوشش کر لیکن دنیا دار اور اس کا فریفتہ اور عاشق نہ بن بلکہ دنیا کو اللہ تعالی سے تقرب اور سیر و سلوک کے لئے قرار دے اسلام میں تقوی سے مراد یہی ہے کہ جسے اسلام نے گراں بہا اور بہترین خصلت بتلایا ہے_

تقوی اور بصیرت

قرآن اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تقوی انسان کو صحیح بصیرت اور بینش دیتا ہے تا کہ دنیا اور آخرت کی واقعی مصلحتوں کو معلوم کر سکے اور اس پر عمل کرے جیسے_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے _ '' اے ایمان والو اگر تقوی کو پیشہ قرار دو تو خدا تمہارے لئے فرقان قرار دے گا_(۲۵۳) یعنی بصیرت کی دید اور شناخت عطا کرے گا تا کہ سعادت اور بدبختی کی مصلحتیں اور مفسدوں کو پہنچان سکو_ ایک اور آیت میں ہے کہ ''صاحب تقوی بنو تا کہ علوم کو تم پر نازل کیا جائے اور اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھتا ہے_(۲۵۴)

گرچہ قرآن تمام لوگوں کے لئے نازل ہوا ہے لیکن صرف متقی ہیں جو ہدایت دیئے جاتے ہیں اور نصیحت حاصل کرتے ہیں_

اسی لئے قرآن لوگوں کے لئے بیان ہے اور اہل تقوی کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے_(۲۵۵)

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' تقوی دل کی بیماریوں کے لئے شفا دینے


والی دواء ہے اور دل کی آنکھ کے لئے بینائی کا سبب ہے_(۲۵۶)

پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اگر شیطان کا آدم کی اولاد کے دل کے اردگر چکر لگانا نہ ہوتا تو وہ علم ملکوت کا مشاہدہ کر لیتے_(۲۵۷)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ '' دل کے فاسد ہوجانے کے لئے گناہ کے بجالانے سے زیادہ اور کوئی چیز نہیں ہوتی_ دل گناہ کے ساتھ جنگ میں واقع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ گناہ اس پر غلبہ کر لیتا ہے اور اسے اوپر نیچے کردیتا ہے یعنی پچھاڑ دیتا ہے_(۲۵۸)

اس قسم کی آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تقوی عقل کی بینائی اور بصیرت کا سبب بنتا ہے اور سمجھنے اور سوچنے کی قوت کو طاقت ور بناتا ہے اور عقل ایک گوہر گران بہا ہے جو انسان کے وجود میں رکھدیا گیا ہے تا کہ اس کے ذریعے مصالح اور مفاسد خیرات اور شرور سعادت اور شقاوت کے اسباب خلاصہ جو ہونا چاہئے اور جو نہ ہونا چاہئے کو اچھی طرح پہچان سکے اور تمیز دے سکے_ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' بدن میں عقل حق کارسول ہے_(۲۵۹)

جی ہاں اس طرح کی رسالت اور پیغام عقل کے کندھے پر ڈال دی گئی ہوئی ہے اور وہ اس کے بجالانے کی قدرت بھی رکھتا ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ جسم کی تمام طاقتیں اور غرائز عقل کی حکومت کو قبول کر لیں اور اس کی مخالفت اور اس کی احکام کی خلاف ورزی نہ کریں_ خواہشات اور ہوس اور ہوس عقل کے دشمن ہیں عقل کو ٹھیک کام انجام نہیں دینے دیتے_(۲۶۰)

نیز آپ(ص) نے فرمایا '' جو شخص اپنے نفس کی خواہشات کا مالک نہیں ہوتا وہ عقل کا مالک بھی نہیں ہوگا_(۲۶۱)

آپ نے فرمایا ہے کہ '' خودبینی اور خودپسندی عجب اور تکبر عقل کو فاسد کردیتے ہیں_(۲۶۲)

آپ نے فرمایا ہے کہ '' لجباز اور ضدی انسان صحیح فکر اور فیصلہ نہیں کر سکتا_(۲۶۳)


یہ تو درست ہے کہ بدن پر حکومت اور اس کو چلانا عقل کے سپرد کیا گیا ہے اور عقل اس کی طاقت بھی رکھتا ہے لیکن خواہشات اور غرائز نفسانی اس کے لئے بہت بڑی مانع اور رکاوٹ ہیں اگر ایک غریزہ یا تمام غرائز اعتدال کی حالت سے خارج ہو جائیں اور بغاوت اور طغیان کرلیں اور کام نہ کردیں تو پھر عقل کیسے اپنی ذمہ داریوں کے انجام دینے میں کامیاب ہو سکتی ہے_ اس طرح کا انسان عقل تو رکھتا ہے لیکن بغیر سوچ اور فکر والا_ چراغ موجود ہے لیکن خواہشات اور شہوات اور غضب نے سیاہ بادل یا مہہ کی طرح اسے چھپا رکھا ہے اس کے نور کو بجھا دیا ہے اور واقعات کے معلوم کرنے سے روک دیا ہے_ ایک شہوت پرست انسان کی طرح اپنی واقعی مصلحتوں کو پہچان سکتا ہے اور شہوت کے طغیان اور سرکشی کی طاقت کو قابو کر سکتا ہے؟ خودپسند اور خودبین انسان کس طرح اپنے عیوب کو پہچان سکتا ہے تا کہ ان کے درست کرنے کی فکر میں جائے؟ اسی طرح دوسری بری صفات جیسے غصے حسد طمع کینہ پروری تعصب اور ضدبازی مال اور جاہ و جلال کا منصب مقام ریاست اور عہدہ ان تمام کو کس طرح وہ اپنے آپ سے دور کر سکتا ہے؟ اگر ان میں سے ایک یا زیادہ نفس پر مسلط ہوجائیں تو پھر وہ عقل عملی کو واقعات کے پہچاننے سے روک دیتی ہیں اور اگر عقل ان کی خلاف عمل کرنا بھی چاہئے تو پھر اس کے سامنے رکاوئیں کھڑی کر دیتی ہیں اور داد و فریاد شروع کر دیتی ہیں اور عقل کے محیط کو تاریک کر دیتی ہیں اور اسے اپنی ذمہ داری کے انجام دینے سے کمزور کر دیتی ہیں جو انسان ہوی اور ہوس اور خواہشات کا قیدی بن جائے تو پھر وہ وعظ اور نصیحت سے بھی کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر سکے گا بلکہ قرآن اور مواعظ اس کے دل کی قساوت کو اور زیادہ کردیں گے لہذا تقوی کو بصیرت روشن بینی اور وظیفہ شناسی کا بہترین اور موثر ترین عامل شمار کیا جا سکتا ہے_

آخر میں اس بات کی یاد دھانی ضروری اور لازم ہے کہ تقوی عقل عملی اور ذمہ داریوں کی پہچان اور یہ جاننا کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے_ بصیرت کی زیادتی کا موجب ہے نہ صرف عقل کے حقائق کو جاننے اور پہچاننے کے لئے کے جسے اصطلاحی


لحاظ سے عقل نظری کہا جا تا ہے کیونکہ اس طرح نہیں ہوتا کہ جو ا نسان تقوی نہیں رکھتا وہ ریاضی اور طبعی کے مسائل سمجھنے سے عاجز رہتا ہے گرچہ تقوی سمجھنے اور ہوش اور فکر کے لئے بھی ایک حد تک موثر واقع ہوتا ہے_

تقوی اور مشکلات پر قابو پانا

تقوی کے آثار میں سے ایک اہم اثر زندگی کی مشکلات اور سختیوں پر غلبہ حاصل کرلینا ہے_ جو بھی تقوی پر عمل کرے گا خداوند عالم اس کی مشکلات کے دور ہونے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال دے گا اور ایسے راستے سے کہ جس کا اسے گمان تک نہ ہو گا اسے روزی فراہم کردے گ)۲۶۴) خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' جس نے تقوی پر عمل کیا خداوند عالم اس کے کام آسان کر دیتا ہے_(۲۶۵) '' امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ '' جو شخص تقوی پر عمل کرے گا تو اس کی سختیاں اور مشکلیں جب کہ نزدیک تھا کہ اس پر وارد ہو جائیں دور ہوجائیں گی تلخیاں اس کے لئے شیرین ہوجائیں گی مشکلات کی لہریں اس کے سامنے پھٹ جائیں گی اور سخت سے سخت اور دردناک کام اس کے لئے آسان ہوجائیں گے_(۲۶۶) ''

اس قسم کی آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات کے حل ہونے اور ان پر غلبہ حاصل کرنے میں تقوی انسان کی مدد کرتا ہے_ اب دیکھا جائے کہ تقوی ان موارد میں کیا تاثیر کر سکتا ہے_ زندگی کی سختیوں اور مشکلات کو بطور کلی دو گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے _ پہلا گروہ_ وہ مشکلات کہ جن کا حل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے جیسے کسی عضو کا نقص اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہونا کہ جو لا علاج ہیں اور ایسے خطرات کہ جن کی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی اور اسی طرح کی دوسری مشکلات کہ جنہیں روکنا اور دور کرنا انسان کے امکان اور قدرت سے باہر ہے_

دوسرا گروہ_ ایسی مشکلات اور سختیاں کہ جن کے دور کرنے اور پیش بینی کرنے میں


ہمارا ارادہ موثر واقع ہو سکتا ہے _ جیسے اکثر نفسیاتی اور جسمی گھریلو اور اجتماعی اور کار و کسب کی بیماریاں و غیرہ_

تقوی ان دونوں مشکلات کے حل میں ایک مہم کردار ادا کر سکتا ہے_ گرچہ پہلے مشکلات کے گروہ کو روکنا اور ان کو دور کرنا ہمارے لئے عملی طور سے ممکن نہیں ہوتا لیکن ان مشکلات کے ساتھ کس طرح عمل کیا جائے یہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے_ وہ انسان جو با تقوی ہے اور اپنے نفس کی حفاظت کے لئے پوری طرح تسلط رکھتا ہے اور دنیا کے مشکلات اور خود دنیا کو فانی اور ختم خونے والا سمجھتا ہے اور آخرت کی زندگی کو حقیقی اور باقی رہنے والی زندگی سمجھتا ہے_

اور اللہ تعالی کی ذات لایزال کی قدرت پر اعتماد کرتا ہے_ دنیا کے واقعات اور مشکلات کو معمولی اور وقتی جانتا ہے اور ان پر جزع اور فزع نہیں کرتا تو ایسا انسان اللہ تعالی کی مشیت کے سامنے سر تسلیم خم کردے گا_ تقوی والا انسان آخرت کے جہان اور خدا سے مانوس اور عشق کرتا ہے ایسے انسان کے لئے گذر جانے والے مشکلات اور واقعات اس کی روح اور دل کے سکون کو مضطرب اور پریشان نہیں کر سکیں گے کیونکہ خود مشکلات اور حوادث اور مصائب درد نہیں لاتیں بلکہ نفس کا انہیں برداشت اور تحمل نہ کر سکنا_ انسان کیلئے ناراحتی اور نا آرامی کو فراہم کرتا ہے اور اس کے لئے تقوی انسان کے لئے زیادہ مدد کر سکتا ہے_

دوسرا گروہ_ اکثر مشکلات اور سختیاں کہ جو انسان کی زندگی کو تلخ کردیتی ہیں ہماری بری عادات اور انسانی ہوی اور ہوس اور خواہشات کی وجہ سے ہم پر وارد ہوتی ہیں اور یہی بری صفات ان کا سبب بنتی ہیں_ گھریلو زندگی کے اکثر مشکلات کو شوہر یا بیوی یا دونوں خواہشات نفسانی پر مسلط نہ ہونے کی وجہ سے وجود میں لاتے ہیں اور اس آگ میں جلتے رہتے ہیں_

جسے خود انہوں نے جلایا ہے اور پھر داد و قیل جزع اور فزع زد خورد کرتے ہیں_


دوسری مشکلات بھی اکثر اسی وجہ سے وجود میں آتی ہیں_ برا اخلاق جیسے حسد _ کینہ پروری، انتقام لینا، ضدبازی، تعصب، خودپسندی، خودبینی ، طمع، بلندپروازی، تکبر و غیرہ وہ بری صفات ہیں کہ انسان کے لئے مشکلات اور مصائب غم اور غصہ وجود میں لاتی ہیں اور بہترین اور شیرین زندگی کو تلخ اور بے مزہ کر دیتی ہیں _ ایسا شخص اتنا خواہشات نفسانی کا قیدی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے درد اور اس کی دواء کے پہچاننے سے عاجز ہوجاتا ہے_ سب سے بہتر چیز جو ان حوادث کے واقع ہونے کو روک سکتی ہے وہی تقوی ہے اور اپنے نفس پر کنٹرول کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہے_ متقی انسان کے لئے اس طرح کے دردناک واقعات بالکل پیش ہی نہیں آتے وہ سکون قلب اور آرامش سے اپنے زندگی کو ادامہ دیتا ہے اور آخرت کے لئے توشہ ور زاد راہ حاصل کرتا ہے _ دنیا کی محبت ان تمام مصائب اور گرفتاریوں کا سرچشمہ ہوتی ہے لیکن متقی انسان دنیا اور مافیہا کا عاشق اور فریفتہ نہیں ہوتا تا کہ اس کے نہ ہونے سے رنج اور تکلیف کو محسوس کرے_ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دنیا کی محبت سے پرہیز کر کیونکہ یہ دنیا کی ہر مصیبت کی جڑ اور ہر تکلیف کی کان ہے_(۲۶۷)

تقوی اور آزادی

ممکن ہے کہ کوئی گمان کرے کہ تقوی تو آزادی کو سلب کر لیتا ہے اور ایک محدودیت اور قید و بند وجود میں لے آتا ہے اور زندگی کو سخت اور مشکل بنا دیتا ہے لیکن اسلام اس گمان اور عقیدہ کو قبول نہیں کرتا اور رد کر دیتا ہے بلکہ اس کے بر عکس تقوی کو آزادی اور آرام اور عزت اور بزرگواری کا سبب قرار دیتا ہے اور انسان بغیر تقوی والے کو قید اور غلام شمار کرتا ہے_ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تقوی ہدایت اور استقامت اور آخرت کے زاد راہ اور توشہ کی چابی ہے_ تقوی غلامی سے آزادی اور ہلاکت سے نجات پانے کا وسیلہ ہے_(۲۶۸)


حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اسلام سے بالاتر کوئی شرافت نہیں ہے_ تقوی سے کوئی بالاتر عزت نہیں ہے_ اور سب سے زیادہ قوی تقوی سے اور کوئی پناہ گاہ نہیں_(۶۶۹)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' جو شخص تقوی کو وسیلہ بنائے تو وہ سختیاں اور دشواریاں جو نزدیک آچکی ہوں گی اس سے دور ہوجائیں گی تلخ کام اس کے لئے شیریں ہوجائیں گے_ گرفتاریوں کی سخت لہریں اس سے دور ہوجائیں گی اور سختیاں اس کے لئے آسان ہوجائیں گی_(۲۷۰)

ان احادیث میں تقوی کو مشکلات کے حل کرنے اور انسان کی عزت اور آزادی کا سبب مصائب اور گرفتاریوں سے نجات زندگی کی دشواریوں اور تلخیوں کے لئے بہترین پناہ گاہ بتلایا گیا ہے_ لہذا تقوی انسان کے لئے محدودیت اور آزادی سلب کرنے کا موجب نہیں ہوتی بلکہ انسان کی شخصیت کو زندہ کرتا ہے اور تقوی، شہوت ، غضب، انتقام جوئی، کینہ پروری، خودخواہی، خودپسندی، تعصب، لج بازی، طمع، دولت پرستی ، خودپرستی، شہوت پرستی، مقام و منصب پرستی، شکم پرستی، شہرت پرستی سے آزاد کرتا ہے انسان کی شخصیت اور عقل کو قوی کرتا ہے تا کہ وہ غرائز اور طغیان کرنے والی قوتوں پر غالب آجائے اور انہیں اعتدال پر رکھے اور واقعی مصلحتوں کے لحاظ سے ہدایت اور رہبری کرے اور افراط اور تفریط کے کاموں سے رکاوٹ بنے_

قرآن مجید فرماتا ہے'' ان لوگوں کو دیکھتا ہے کہ جنہوں نے خواہشات نفس کو اپنا خدا بنا رکھا ہے اس کے باوجود جانتا ہے کہ خدا نے اسے گمراہ کردیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھوں پر تاریکی کے پردے ڈالے گئے ہیں پس کون اسے خدا کے بعد ہدایت کرے گا؟ کیا وہ نصیحت حاصل نہیں کرتا؟(۲۷۱)


درست ہے کہ جو شخص اپنی نفس خواہشات کے سامنے سر تسلیم کر چکا ہے اور ان کے حاصل کرنے میں کسی برائی اور قباحت کی پروا نہیں کرتا اور دیوانوں کی طرح اس کی تلاش اور کوشش کرتا ہے اور عقل کی بھلائی آواز کو نہیں سنتا اور پیغمبروں کی راہنمائی پر کان نہیں رھرتا ایسا شخص یقینا خواہشات نفس کا قیدی اور غلام اور نوکر اور مطیع ہے_ نفس کی خواہشات نے انسان کی شخصیت اور گوہر نایاب کو جو عقل ہے اسے مغلوب کر رکھا ہے اور اپنے دام میں پھنسا لیا ہے ایسے شخص کے لئے آزاد ہونے طور آزادی حاصل کرنے کے لئے تقوی کے اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے لہذا تقوی محدود نہیں کرتابلکہ انسان کو آزاد بخشتا ہے_

تقوی اور بیماریوں کا علاج

یہ مطلب پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ برے اخلاق جیسے حسد ، بغض، انتقام جوئی، عیب جوئی، غضب، تعصب، طمع، خودبینی، تکبر، خوف، بے آرادگی، وسوسہ و غیرہ یہ تمام نفسانی بیماریاں ہیں ان مرضوں میں مبتلا انسان مجازی طور سے نہیں بلکہ حقیقی لحاظ سے بیمار ہے اور یہ مطلب بھی علوم میں ثابت ہوچکا ہے کہ نفس اور جسم میں فقط مضبوط ربط اور اتصال ہی برقرار نہیں ہے بلکہ یہ دونوں متحد ہیں اور اسی ربط اور اتصال سے ایک دوسرے پر اثر انداز اور متاثر ہوتے ہیں_ جسمانی بیماریاں نفس انسان کو ناراحت اور پریشان کرتی ہیں اس کے بر عکس روحانی اور نفسانی بیماریاں جیسے معدے اور انتڑیوں میں زخم اور ورم اور بد ہضمی اور غذا کا کھٹا پن ہوجانا سر اور دل کا درد ممکن ہے کہ وہ بھی برے اخلاق جیسے حسد_ بغض اور کینہ طمع اور خودخواہی اور بلند پروازی سے ہی وجود میں آجائیں_ مشاہدہ میں آیا ہے کہ مضر اشیاء کی عادت شہوات رانی میں افراط اور زیادہ روی کتنی خطرناک بیماریوں کو موجود کر دیتی ہیں جیسے کہ پہلے گذر چکا ہے کہ نفسانی بیماریوں کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے تقوی لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ


انسانی کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں اور ان سے سلامتی اور صحت میں تقوی بہت ہی زیادہ تاثیر کرتا ہے_

حضرت علی علیہ السلام نے تقوی کے بارے میں فرمایا ہے کہ '' تقوی تمہارے جسموں کی بیماریوں کی دواء ہے اور تمہارے فاسد دلوں کی اصلاح کرتا ہے اور تمہارے نفوس کی کثافتوں کو پاک کرتا ہے؟(۲۷۲)


متقیوں کے اوصاف

اگر تقوی کو بہتر پہچاننا چاہئیں اور متقین کی صفات اور علامتوں سے بہتر واقف ہونا چاہئیں تو ضروری ہے کہ ہمام کے خطبے کا جو نہج البلاغہ میں سے اس کا ترجمہ کر دیں_

ہمام ایک عابد انسان اور امیرالمومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھا ایک دن اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا یا امیر المومنین_ آپ میرے لئے متقین کی اس طرح صفات بیان فرمائیں کہ گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں_ امیرالمومنین علیہ السلام نے اس کے جواب میں تھوڑی دیر کی اور پھر آپ نے اجمالی طور سے فرمایا اے ہمام تقوی کو اختیار کر اور نیک کام انجام دینے والا ہو جا کیونکہ خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ خدا متقین اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے ھمام نے آپ کے اس مختصر جواب پر اکتفا نہیں کی اور آنحضرت کو قسم دی کہ اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں_ اس وقت آنحضرت(ع) نے حمد و ثناء باری تعالی اور پیغمبر (ص) پر درود و سلام کے بعد فرمایا _ خداوند عالم نے لوگوں کو پیدا کیا جب کہ ان کی اطاعت سے بے نیاز تھا اور ان کی نافرمانیوں سے آمان اور محفوظ تھا کیونکہ گناہگاروں کی نافرمانی اسے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی اور فرمانبرداری کی اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی_ ان کی روزی ان میں تقسیم کردی اور ہر آدمی کو اس کی مناسب جگہ پر برقرار کیا_ متقی دنیا میں اہل فضیلت ہیں_ گفتگو میں سچے _ لباس پہننے میں میانہ رو_

راستہ چلنے میں متواضع _ حرام کاموں سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں_ جو علم


انہیں فائدہ دیتا ہے اے سنتے ہیں مصیبتوں اور گرفتاریوں میں اس طرح ہوتے ہیں جس طرح آرام اور خوشی میں ہوتے ہیں_ اگر موت ان کے لئے پہلے سے معین نہ کی جا چکی ہوتی تو ثواب کے شوق اور عتاب کے خوف سے ایک لحظہ بھی ان کی جان ان کے بدن میں قرار نہ پاتی_ خدا ان کی نگاہ میں بہت عظیم اور بزرگ ہے اسی لئے غیر خدا ان کی نگاہ میں معمولی نظر آتا ہے_ بہشت کی نسبت اس شخص کی مانند ہیں کہ جس نے بہشت کو دیکھا ہے اور بہشت کی نعمتوں سے بہرہ مندہ ہو رہا ہے_ اور جہنم کی نسبت اس شخص کی طرح ہیں کہ جس نے اسے دیکھا ہے اور اس میں عذاب پا رہا ہے_ ان کے دل محزون ہیں اور لوگ ان کے شر سے امان میں ہیں_ ان کے بدن لاغر اور ان کی ضروریات تھوڑی ہیں_ ان کے نفس عفیف اور پاک ہیں_ اس دنیا میں تھوڑے دن صبر کرتے ہیں تا کہ اس کے بعد ہمیشہ کے آرام اور خوشی میں جا پہنچیں اور یہ تجارت منفعت آور ہے جو ان کے پروردگار نے ان کے لئے فراہم کی ہے_ دنیا ان کی طرف رخ کرتی ہے لیکن وہ اس کے قبول کرنے سے روگرداغن کرتے ہیں_ دنیا انہیں اپنا قیدی بنانا چاہتی ہے لیکن وہ اپنی جان خرید لیتے ہیں اور آزاد کرا لیتے ہیں_ رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوجائے ہیں_ قرآن کی آیات کو سوچ اور بچار سے پڑھتے ہیں_ اس میں سوچنے اور فکر کرنے سے اپنے آپ کو غمگین اور محزون بناتے ہیں اور اسی وسیلے سے اپنے درد کی دواء ڈھونڈتے ہیں جب ایسی آیت کو پڑھتے ہیں کہ جس میں شوق دلایا گیا ہو تو وہ امید وار ہوجاتے ہیں اور اس طرح شوق میں آتے ہیں کہ گویا جزا اور ثواب کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں _ اور جب ایسی آیت کو پڑھتے ہیں کہ جس میں خوف اور ترس ہو تو دل کے کانوں سے اس کی طرف اس طرح توجہ کرتے ہیں کہ گویا دوزخ میں رہنے والوں کی آہ و زاری اور فریاد ان کے کانوں میں سنائی دے رہی ہے_ رکوع کے لئے خم ہوتے ہیں اور سجدے کے لئے اپنی پیشانیوں اور ہتھیلیوں اور پائوں اور زانوں کو زمین پر بچھا دیتے ہیں اپنے نفس کی آزادی کو خدا سے تقاضا کرتے ہیں_ جب دن ہوتا ہے تو بردبار دانا نیکوکار اور باتقوی ہیں_


خدا کے خوف نے ان کو اس تیر کی مانند کر دیا ہے کہ جسے چھیلا جائے اور لاغر اور کمزور کر دیا ہے_ انہیں دیکھنے والے گمان کرتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں جب کہ وہ بیمار نہیں ہیں_ کہا جاتا ہے کہ دیوانے ہیں جب کہ وہ دیوانے نہیں ہیں بلکہ قیامت جیسی عظیم چیز میں فکر کرنے نے ان کو اپنے آپ سے بے خود کر دیا ہے_

اپنے تھوڑے عمل پر راضی نہیں ہوتے اور زیادہ عمل کو زیادہ نہیں سمجھتے_ اپنی روح اور نفس کو اس گمان میں کہ وہ اطاعت میں کوتاہی کر رہے ہیں متہم کرتے ہیں اور اپنے اعمال سے خوف اور ہراس میں ہوتے ہیں_ جب ان میں سے کسی کی تعریف کی جائے تو جو اس کے بارے میں کہا گیاہے اس سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو دو سروں سے بہتر پہچانتے ہیں اوراللہ تعالی ہم سے زیادہ آگاہ اور باخبر ہے_ خدایا جو کچھ ہمارے بارے میں کہا گیا ہے اس پر ہمارا مواخذہ نہ کرنا اور اس سے بالاتر قرار دے جو وہ گمان کرتے ہیں اور ان گناہوں کو جو دوسرے نہیں جانتے بخش دے_

اہل تقوی کی نشانی یہ ہے کہ تو اسے دینی معاملہ میں نرمی اور دور اندیشی کے ساتھ قوی دیکھے گا اوریقیین میں با ایمان اور مضبوط _ علم کے حصول میں حریص بردباری میں دانشمند مالدار ہوتے ہوئے_ میانہ روی، عبادت باخشوع اور فقر میں آبرو مند اور با وقار_ سختیوں میں صبر کرنے والے _ حلال روزی کے حاصل میں کوشش کرنے وال_ ہدایت کے طلب کرنے میں علاقمندی_ طمع سے دور اور سخت جان_ نیک کام کرنے کے باوجود خوف زدہ ہیں_ رات کے وقت شکرانہ ادا کرنے میں ہمت باندھتے ہیں اور دن میں ذکر اور خدا کی یاد کو اہمیت دینے والے_ رات کو اس ڈر سے کہ شاید غفلت برتی ہو خوف زدہ_ دن کو اللہ تعالی کے فضل و کرم و رحمت کیوجہ سے خوشحال_ اگر نفس نے کہ جسد وہ پسند نہیں کرتا سختی برتی تو وہ بھی س کے بدلے جسے نفس پسند کرتا ہے بجا نہیں لاتے _ اس کا رابط اور علاقمند نیک کاموں سے ہوتا ہے اور فنا ہوتے والی دنیاوی چیز کی طرف میلان نہیں رکھتے_ تحمل اور بردباری کو عقلمندی سے اور گفتار


کو کردار کے ساتھ ملاتے ہے_ اسے دیکھے گا کہ اس کی خواہشات تھوڑی اور اس کی خطائیں بھی کم_ دل خشوع کرنے والا اور نفس قناعت رکھنے والا_ اس کی خوراک تھوڑی اور اسے کام آسان اس کا دین محفوظ اور اس کی نفسانی خواہشات ختم ہوچکی ہیں اور غصہ بیٹھ چکا ہے_ لوگ اس کے احسان اور نیکی کی امید رکھتے ہیں اور اس کے شر سے امن و امان میں ہیں اگر لوگوں میں غافل اور بے خبر نظر آ رہا ہو تو وہ اللہ تعالی کے ذکر کرنے والا شمار ہو رہا ہو گا اور اگر ذکر کرنے والوں میں موجود ہوا تو وہ غفلت کرنے والوں میں شمار نہیں ہوگا_

گالیاں دینے سے پرہیز کرتا ہے نرمی سے بات کرتا ہے_ برے کام اس سے نہیں دیکھے جاتے اور نیک کاموں میں ہر جگہ حاضر ہوتا ہے_ خیرات اور نیکی کی طرف قدم بڑھانے والا اور برائیوں سے بھاگ جانے والا ہوتا ہے_ سختیوں میں باوقار اور مصیبتوں میں صبر کرنے والا آرام اور آسائشے میں شکر گزار جو اس کے نزدیک مبغوض ہے اس پر ظلم نہیں کرتا _ جس کو دوست رکھتا ہے اس کے لئے گناہ نہیں کرتا گواہوں کی گواہی دینے سے پہلے حق کا اقرار کر لیتا ہے_ جسے حفظ کر لیا ہے اسے ضائع نہیں کرتا اور جو اسے بتلایا جائے اسے نہیں بھلاتا _ کسی کو برے لقب سے نہیں بلاتا_ ہمسایہ کو نقصان نہیں پہنچاتا_ لوگوں پر جب مصیبتیں ٹوٹ پڑیں تو اس سے خوشی نہیں کرتا_ باطل کے راستے میں قدم نہیں رکھتا اور حق سے خارج نہیں ہوتا_ اگر چپ رہے تو چپ رہنے سے غمگین نہیں ہوتا اگر ہنسے تو ہنسنے کی آواز بلند نہیں ہوتی اور اگر اس پر ظلم کیا جائے تو صبر کرتا ہے تا کہ اس کا انتقام اس کے لئے لے لے_ اس کا نفس اس کی طرف سے سختی میں ہوتا ہے لیکن لوگوں کے نفس اس کی طرف سے آرام اور آسائشے میں ہوتے ہیں آخروی کاموں کے لئے اپنے نفس کو سختیوں میں ڈالتا ہے اور لوگوں کو اپنی جانب سے آرام اور آسائشے پہنچاتا ہے_ اس کا کسی سے دور ہوجانا زہد اور عفت کی وجہ سے ہوتا ہے اور کسی سے نزدیک ہونا خوش خلقی اور مہربانی سے ہوتا ہے دور ہونا تکبر اور خودخواہی کیوجہ سے نہیں ہوتا اور نزدیک ہونا مکرر اور فریب


سے نہیں ہوتا_

راوی کہتا ہے کہ جب امیر المومنین کی کلام اس جگہ پہنچی تو ہمام نے ایک چیخ ماری اور بیہوش ہوگیا_ اور اپنی روح خالق روح کے سپرد کردی_ آنحضرت(ع) نے فرمایا ہیں '' اس طرح کی پیش آمد کیوجہ سے اس کے بارے میں خوف زدہ تھا_آپ نے اس کے بعد فرمایا لائق افراد میں وعظ اس طرح کا اثر کرتے ہیں_(۲۷۳)


نفس پر کنٹرول کرنے اور اسے پاک کرنے کا اہم سبب مراقبت ہوتا ہے

اپنے آپ کو بنانے او رسنوار نے اور نفس کو پاک کرنے کا ایک اہم سبب نفس پر مراقبت اور توجہ رکھنا ہوتا ہے_ جو انسان اپنی سعادت کے متعلق سوچنا اور فکر رکھتا ہو وہ برے اخلاق اور نفسانی بیماریوں سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اسے ہر وقت اپنے نفس پر توجہہ رکھنی چاہئے اور تمام اخلاق اور کردار ملکات اور افکار کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہئے اور اس پر پوری نگاہ رکھے_ ہم اس مطلب کو کئی ایک مطالب کے ضمن میں بیان کرتے ہیں_

اعمال کا ضبط کرنا اور لکھنا

قرآن اور احادیث پیغمبر اور اہلبیت علیہم السلام سے معلوم ہوتا کہ انسان کے تمام اعمال حرکات گفتار سانس لینا افکار اور نظریات نیت تمام کے تمام نامہ اعمال میں ضبط اور ثبت کئے جاتے ہیں اور قیامت تک حساب دینے کے لئے باقی رہتے ہیں اور ہر ایک انسان قیامت کے دن اپنے اچھے برے اعمال کی جزا اور سزا دیا جائیگا جیسے خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' قیامت کے دن لوگ گروہ در گروہ خارج ہونگے تا کہ وہ اپنے اعمال کو دیکھ لیں جس نے ایک ذرا بھر نیکی انجام دی ہوگی وہ اسے دیکھے گا اور


جس نے ذرا بھر برائی انجام دی ہوگی اسے دیکھے گا_(۲۷۴)

نیز فرماتا ہے کہ '' کتاب رکھی جائیگی مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ اس سے جو ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے خوف زدہ ہیں اور کہتے ہونگے کہ یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے تمام چیزوں کو ثبت کر رکھا ہے اور کسی چھوٹے بڑے کام کو نہیں چھوڑااپنے تمام اعمال کو حاضر شدہ دیکھیں گے تیرا خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا_(۲۷۵)

خدا فرماتا ہے ''قیامت کے دن جس نے جو عمل خیر انجام دیا ہوگا حاضر دیکھے گا اور جن برے عمل کا ارتکاب کیا ہوگا اسے بھی حاضر پائیگا اور آرزو کرے گا کہ اس کے اور اس کے عمل کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا_(۲۷۶)

خدا فرماتا ہے '' کوئی بات زبان پر نہیں لاتا مگر اس کے لکھنے کے لئے فرشتے کو حاضر اور نگاہ کرنے والا پائے گا_(۲۷۷)

اگر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال اور کردار حرکات اور گفتار یہاں تک کہ افکار اور نظریات سوچ اور فکر لکھے جاتے ہیں تو پھر ہم کس طرح ان کے انجام دینے سے غافل رہ سکتے ہیں؟

قیامت میں حساب

بہت زیادہ آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن بہت زیادہ وقت سے بندوں کا حساب لیا جائیگا_ بندوں کے تمام اعمال چھوٹے بڑے کا حساب لیا جائیگا اور معمولی سے معمولی کام سے بھی غفلت نہیں کی جائیگی جیسے خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ '' عدالت کے ترازو کو قیامت کے دن نصب کیا جائیگا اور کسی طرح ظلم نہیں کیا جائیگا اگر خردل کے دانہ کے ایک مثقال برابر عقل کیا ہوگا تو اسے بھی حساب میں لایا جائیگا او رخود ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں_(۲۷۸)

نیز فرماتا ہے '' جو کچھ باطن اور اندر میں رکھتے ہو خواہ اسے ظارہ کرو یا چھپائے رکھو خدا تم سے اس کا بھی حساب لے گا_(۲۷۹)


نیز خدا فرماتا ہے '' اعمال کا وزن کیا جانا قیامت کے دن حق کے مطابق ہوگا جن کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نجات پائیں گے اور جن کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا تو انہوں نے اپنے نفس کو نقصان پہنچایا ہے اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیات پر ظلم کیا ہے_(۲۸۰) قرآن مجید میں قیامت کو یوم الحساب کہا گیا ہے اور خدا کو سریع الحساب یعنی بہت جلدی حساب لینے والا کہا گیا ہے_

آیات اور بہت زیادہ روایات کی رو سے ایک سخت مرحلہ جو تمام بندوں کے لئے پیش لانے والا ہے وہ اعمال کا حساب و کتاب اور ان کا تولا جانا ہے_ انسانی اپنی تمام عمر میں تھوڑے تھوڑے اعمال بالاتا ہے اور کئی دن کے بعد انہیں فراموش کر دیتا ہے حالانکہ معمولی سے معمولی کام بھی اس صفحہ ہستی سے نہیں مٹتے بلکہ تمام اس دنیا میں ثبت اور ضبط ہوجاتے ہیں اور انسان کے ساتھ باقی رہ جاتے ہیں گرچہ انسان اس جہان میں بطور کلی ان سے غافل ہی کیوں نہ ہوچکا ہو_ مرنے کے بعد جب اس کی چشم بصیرت روشن ہوگی تو تمام اعمال ایک جگہ اکٹھے مشاہدہ کرے گا اس وقت اسے احساس ہوگا کہ تمام اعمال گفتار اور کردار عقائد اور افکار حاضر ہیں اور اس کے ساتھ موجود ہیں اور کسی وقت اس سے جدا نہیں ہوئے_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ '' ہر آدمی قیامت کے دن حساب کے لئے محشر میں اس حالت میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اسے لے آرہا ہوگا اور وہ اس کے ہر نیک اور بد کا گواہ بھی ہوگا اسے کہا جائے گا تو اس واقعیت اور حقیقت سے غافل تھا لیکن آج تیری باطنی انکھ بینا او روشن ہوگئی ہے_(۲۸۱)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' قیامت کے دن خدا کا بندہ ایک قدم نہیں اٹھائیگا مگر اس سے چار چیزوں کا سوال کیا جائیگا_ اس کی عمر سے کہ کس راستے میں خرچ کی ہے_ اس کی جوانی سے کہ اسے کس راستے میں خرچ کیا ہے_ اس کے مال سے کہ کس طریقے سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ہے_ اور ہم اہلبیت کی دوستی کے بارے میں سوال کیا جائیگا_(۲۸۲)


ایک اور حدیث میں پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے کہ '' بندے کو قیامت کے دن حساب کے لئے حاضر کریں گے_ ہر ایک دن کے لئے کہ اس نے دنیا میں زندگی کی ہے_ ہر دن رات کے ہر ساعت کے لئے چوبیس خزانے لائیں گے ایک خزینہ کو کھولیں گے جو نور اور سرور سے پر ہوگا _ خدا کا بندہ اس کے دیکھنے سے اتنا خوشحال ہوگا کہ اگر اس کی خوشحالی کو جہنمیوں کے درمیان تقسیم کیا جائے تو وہ کسی درد اور تکلیف کو محسوس نہیں کریں گے یہ وہ ساعت ہوگی کہ جس میں وہ اللہ تعالی کی اطاعت میں مشغول ہوا تھا_ اس کے بعد ایک دوسرے خزینہ کو کھولیں گے کہ جو تاریک او ربدبو دار وحشت آور ہوگا خدا کا بندہ اس کے دیکھنے سے اس طرح جزع اور فزع کرے گا کہ اگر اسے بہشتیوں میں تقسیم کیا جائے تو بہشت کی تمام نعمتیں ان کے لئے ناگوار ہوجائیں گی یہ وہ ساعت تھی کہ جس میں وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کر رہا تھا_ اس کے بعد اس کے لئے تیسرے خزانہ کو کھولیں گے کہ جو بالکل خالی ہوگا نہ اس میں خوش کرنے والا عمل ہوگا اور نہ غم لانے والا عمل ہوگا یہ وہ ساعت ہے کہ جس میں خدا کا بندہ سویا ہوا تھا یا مباح کاموں میں مشغول ہوا تھا_ خدا کا بندہ اس کے دیکھنے سے بھی غمگین اور افسوس ناک ہوگا کیونکہ وہ اسے دنیا میں اچھے کاموں سے پر کر سکتا تھا اور کوتاہی اور سستی کی وجہ سے اس نے ایسا کیا تھا_ اسی لئے خداوند عالم قیامت کے بارے میں فرماتا ہے کہ یوم التاغبن یعنی خسارے اور نقصان کا دن_(۲۸۳)

قیامت کے دن بندوں کا بطور وقت حساب لیا جائیگا اور انکا انجام معین کیا جائیگا تمام گذرے ہوئے اعمال کا حساب لیا جائے گا_ انسان کے اعضاء اور جوارح پیغمبر اور فرشتے یہاں تک زمین گواہی دے گی بہت سخت حساب ہوگا اور اس پر انسان کا انجام معین کیا جائے گا دل حساب کے ہونے کی وجہ سے دھڑک رہے ہونگے اور بدن اس سے لرزہ باندام ہونگے ایسا خوف ہوگا کہ مائیں اپنے شیرخوار بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتیں بچے سقط کردیں گی تمام لوگ مضطرب ہونگے کہ ان کا انجام کیا ہوگا کیا ان کے حساب کا نتیجہ اللہ تعالی کی خوشنودی اور آزادی کا پروانہ ہوگا اور پیغمبروں


اور اولیاء خدا کے سامنے سر خروی اور بہشت میں ہمیشہ کی زندگی ہوگی _ اللہ کے نیک بندوں کی ہمسایگی ہوگی یا اللہ تعالی کا غیظ اور غضب لوگوں کے درمیانی رسوائی اور دوزخ میں ہمیشہ کی زندگی ہوگی_

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بندوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوگا_ بعض انسانوں کا حساب بہت سخت اور مشکل اور طولانی ہوگا_ دوسری بعض کا حساب آسان اور سادہ ہوگا_ حساب مختلف مراحل میں لیا جائیگا_ اور ہر مرحلہ اور متوقف میں ایک چیز سے سوال کیا جائے گا سب سے زیادہ سخت مرحلہ اور موقف مظالم کا ہوگا اس مرحلہ میں حقوق الناس اور ان پر ظلم اور جور سے سوال کیا جائیگا اس مرحلہ میں پوری طرح حساب لیا جائیگا اور ہر ایک انسان اپنا قرض دوسرے قرض خواہ کو ادا کرے گا_ جائے تاسف ہے کہ وہاں انسان کے پاس مال نہیں ہوگا کہ وہ قرض خواہوں کا قرض ادا کر کرسکے ناچار اس کو اپنی نیکیوں سے ادا کرے گا اگر اس کے پاس نیکیاں ہوئیں تو ان کو لے کر مال کے عوض قرض خواہوں کو ادا کرے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو قرض خواہوں کی برائیوں کو اس کے نام اعمال میں ڈال دیا جائیگا بہرحال وہ بہت سخت د ن ہوگا_ خداوند عالم ہم تمام کی فریاد رسی فرمائے_ آمین_

البتہ حساب کی سختی اور طوالت تمام انسانوں کے لئے برابر نہ ہوگی بلکہ انسان کی اچھائیوں اور برائیوں کے حساب سے فرق کرے گی لیکن خدا کے نیک اور متقی اور لائق بندوں کے لئے حساب تھوڑی مدت میں اور آسان ہوگا_ پیغمبر اکرم نے اس شخص کے جواب میں کہ جس نے حساب کے طویل ہونے کے بارے میں سوال کیا تھا_ فرمایا_ ''خدا کی قسم کہ مومن پر اتنا آسان اور سہل ہوگا کہ واجب نماز کے پڑھنے سے بھی آسانتر ہوگا_( ۲۸۴)

قیامت سے پہلے اپنا حساب کریں

جو شخص قیامت حساب اور کتاب اور اعمال اور جزاء اور سزا کا عقیدہ اور ایمان


رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ تمام اعمال ضبط اور ثبت ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن بہت وقت سے انکا حساب لیا جائے گا اور ان کی اچھی یا بری جزاء اور سزا دی جائیگی وہ کس طرح اپنے اعمال اور کردار اور اخلاق سے لا پرواہ اور بے تغاوت نہیں ہوسکتا ہے؟ کیا وہ یہ نہ سوچے کہ دن اور رات ماہ اور سال اور اپنی عمر میں کیا کر رہا ہے؟ اور آخرت کے لے کونسا زاد راہ اور توشہ بھیج رہا ہے؟ ایمان کا لازمہ یہ ہے کہ ہم اسی دنیا میں اپنے اعمال کا حساب کرلیں اور خوب غور اور فکر کریں کہ ہم نے ابھی تک کیا انجام دیا ہے اور کیا کر رہے ہیں؟ حساب کرلیں اورخوب غور اور فکر کریں کہ ہم نے ابھی تک کیا انجام دیا ہے اور کیا کر رہے ہیں؟ بعینہ اس عقلمند تاجر کی طرح جو ہر روز اور ہر مہینے اور سال اپنی آمدن خرچ کا حساب کرتا ہے کہ کہیں اسے نقصان نہ ہوجائے اور اس کا سرمایہ ضائع نہ ہوجائے_

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اس سے پہلے کہ تمہارا قیامت کے دن حساب لیا جائے اسی د نیا میں اپنے اعمال کو ناپ تول لو_(۲۸۵) حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص اسی دنیا میں اپنا حساب کرلے وہ فائدہ میں رہے گا_(۲۸۶)

امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' وہ ہم میں سے نہیں ہے جو ہر روز اپنا حساب نہیں کرتا اگر اس نے نیک کام انجام دیئے ہوں تو اللہ تعالی سے اور زیادہ کی توفیق طلب کرے اور اگر برے کام انجام دیئے ہوں تو استغفار اور توبہ کرے_(۲۸۷)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو اپنے آپ کا جساب کرلے وہ فائدہ میں ہوگا اور جو اپنے حساب سے غافل ہوگا وہ نقصان اٹھائیگا_ جو اس دنیا میں ڈرے وہ قیامت کے دن امن میں ہوگا اور جو نصیحت حاصل کرے وہ آگاہ ہوجائیگا جو شخص دیکھے وہ سمجھے گا اور جو سمجھے گا وہ دانا اور عقلمند ہوجائیگا_(۲۸۸)

پیغمبر اکرم نے جناب ابوذر سے فرمایا '' اے ابوذر اس سے پہلے کہ تیرا حساب قیامت میں لیا جائے تو اپنا حساب اسی دنیا میں کرلے کیونکہ آج کا حساب آخرت کے حساب سے زیادہ آسان ہے اپنے نفس کو قیامت کے دن وزن کئے جانے سے پہلے اسی


دنیا میں وزن کرلے اور اسی وسیلے سے اپنے آپ کو قیامت کے دن کے لئے کہ جس دن تو خدا کے سامنے جائے گا اور معمولی سے معمولی چیز اس ذات سے مخفی نہیں ہے آمادہ کرلے_ آپ نے فرمایا اے آباذر انسان متقی نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ اپنے نفس کا حساب اس سے بھی سخت جو ایک شریک دوسرے شریک سے کرتا ہے کرے انسان کو خوب سوچنا چاہئے کہ کھانے والی پینے والی پہننے والی چیزیں کس راستے سے حاصل کر رہا ہے_ کیا حلال سے ہے یا حرام سے؟ اے اباذر جو شخص اس کا پابند نہ ہو کہ مال کو کس طریقے سے حاصل کر رہا ہے خدا بھی پرواہ نہیں کرے گا کہ اسے کس راستے سے جہنم میں داخل کرے_(۲۸۹)

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' اے آدم کی اولاد تو ہمیشہ خیر و خوبی پر ہوگا جب تک اپنے نفس میں وعظ کرنے والا رکھے رہے گا اور اپنے نفس کے حساب کرتے رہنے کا پابند رہے گا اور اللہ کا خوف تیرا ظاہر ہوا اور محزون ہونا تیرا باطن ہو_ اے آدم کا فرزند تو مرجائیگا اور قیامت کے دن اٹھایا جائیگا اور اللہ تعالی اور اللہ کے عدل کے ترازو کے سامنے حساب کے لئے حاضر ہوگا لہذا قیامت کے دن حساب دینے کے لئے آمادہ ہوجاؤ_(۲۹۰)

انسان اس جہان میں تاجر کی طرح ہے کہ اس کا سرمایہ اس کی محدود عمر ہے یعنی یہی دن اور رات ہفتے اور مہینے اور سال_ یہ عمر کا سرمایہ ہو نہ ہو خرچ ہو کر رہے گا_ اور آہستہ آہستہ موت کے نزدیک ہوجائیگا جوانی بڑھاپے میں طاقت کمزوری میں اور صحت اور سلامتی بیماری میں تبدیل ہوجائیگی اگر انسان نے عمر کو نیک کاموں میں خرچ کیا اور آخرت کے لئے توشہ اور زاد راہ بھیجا تو اس نے نقصان اور ضرر نہیں کیا کیونکہ اس نے اپنے لئے مستقبل سعادتمند اور اچھا فراہم کرلیا لیکن اگر اس نے عمر کے گران قدر سرمایہ جوانی اور اپنی سلامتی کو ضائع کیا اور اس کے مقابلے میں آخرت کے لئے نیک عمل ذخیرہ نہ بنایا بلکہ برے اخلاق اور گناہ کے ارتکاب سے اپنے نفس کو کثیف اور آلودہ کیا تو اس نے اتنا بڑا نقصان اٹھایا ہے کہ جس کی تلافی نہیں کی جا


سکتی_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے '' عصر کی قسم کہ انسان نقصان اور خسارہ میں ہے مگر وہ انسان جو ایمان لائیں اور نیک عمل بجالائیں اور حق اور بردباری کی ایک دوسرے کو سفارش کریں _(۲۹۱)

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں_ کہ ''عاقل وہ ہے جو آج کے دن میں کل یعنی قیامت کی فکر کرے اور اپنے آپ کو آزاد کرنے کی کوشش کرے اور اس کہ لئے کہ جس سے بھاگ جانا یعنی موت سے ممکن نہیں ہے نیک اعمال انجام دے_(۲۹۲)

نیز آنحضرت فرمایا ہے کہ ''جو شخص اپنا حساب کرے تو وہ اپنے عیبوں کو سمجھ پاتا ہے اور گناہوں کو معلوم کرلیتا ہے اور پھر گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور اپنے عیبوں کی اصلاح کرتا ہے_(۲۹۳)

کس طرح حساب کریں

نفس پر کنٹرول کرنا سادہ اور آسان کام نہیں ہوتا بلکہ سوچ اور فکر اور سیاست بردباری اور حتمی ارادے کا محتاج ہوتا ہے_ کیا نفس امارہ اتنی آسانی سے رام اور مطیع ہوسکتا ہے؟ کیا اتنی سادگی سے فیصلے اور حساب کے لئے حاضر ہوجاتا ہے؟ کیا اتنی آسانی سے حساب دے دیتا ہے؟ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' جس نے اپنے نفس کو اپنی تدبیر اور سیاست کے کنٹرول میں نہ دیا تو اس نے اسے ضائع کردیا ہے_(۲۹۴)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کہ جس شخص نے اپنے نفس کا فریب اور دھوکہ دینا مول لے لیا تو وہ اس کو ہلاک میں ڈال دے گا_(۲۹۵)

آنحضرت نے فرمایا ہے کہ ''جس شخص کے نفس میں بیداری اورآگاہی ہو تو خداوند عالم کی طرف سے اس کے لئے نگاہ بان معین کیا جائیگا_(۲۹۶)

نیز آنحضرت(ص) نے فرمایا ہے کہ ''پے در پے جہاد سے اپنے نفس کے مالک بنو


اور اپنے کنٹرول میں رکھو_( ۲۹۷) نفس کے حساب کو تین مرحلوں میں انجام دیا جائے تا کہ تدریجاً وہ اس کی عادت کرے اور مطیع ہوجائے_


۱_ مشارطہ اور عہد لینا

نفس کے حساب کو اس طرح شروع کریں دن کی پہلی گھڑی میں ہر روز کے کاموں کے انجام دینے سے پہلے ایک وقت مشارطہ کے لئے معین کرلیں مثال کے طور پر صبح کی نماز کے بعد ایک گوشہ میں بیٹھ جائیں اور اپنے آپ سے گفتگو کریں اور یوں کہیں_ ابھی میںزندہ ہوں لیکن یہ معلوم نہیں کہ کب تک زندہ رہوں گا_ شاید ایک گھنٹہ یا اس کم اور زیادہ زندہ رہونگا_ عمر کا گذرا ہوا وقت ضائع ہوگیا ہے لیکن عمر کا باقی وقت ابھی میرے پاس موجود ہے اور یہی میرا سرمایہ بن سکتا ہے بقیہ عمر کے ہر وقت میں آخرت کے لئے زاد راہ مہیا کرسکتا ہوں اور اگر ابھی میری موت آگئی اور حضرت عزرائیل علیہ السلام میری جان قبض کرنے کے لئے آگئے تو ان سے کتنی خواہش اور تمنا کرتا کہ ایک دن یاایک گھڑی اور میری عمر میں زیادہ کیا جائے؟

اے بیچارے نفس اگر تو اسی حالت میں ہو اور تیری یہ تمنا اور خواہش پوری کر دی جائے اور دوبارہ مجھے دنیا میں لٹا دیا گیا تو سوچ کہ تو کیا کرے گا؟ اے نفس اپنے آپ اور میرے اوپر رحم کر اور ان گھڑیوں کو بے فائدہ ضائع نہ کر سستی نہ کر کہ قیامت کے دن پشیمان ہوگا_

لیکن اس دن پشیمانی اور حسرت کوئی فائدہ نہیں دے گی_ اے نفس تیری عمر کی ہر گھڑی کے لئے خداوند عالم نے ایک خزانہ برقرار کر رکھا ہے کہ اس میں تیرے اچھے اور برے عمل محفوظ کئے جاتے ہیں اور تو ان کا نتیجہ اور انجام قیامت کو دیکھے گا اے نفس کوشش کر کہ ان خزانوں کو نیک اعمال سے پر کردے اور متوجہ رہ کر ان خزانوں کو گناہ اور نافرمانی سے پر نہ کرے_ اسی طرح اپنے جسم کے ہر ہر عضو کو مخاطب کر کے ان سے عہد اور پیمان لیں کہ وہ گناہ کا ارتکاب نہ کریں مثلاً زبان سے کہیں


جھوٹ، غیبت، چغلخوری، عیب جوئی، گالیاں، بیودہ گفتگو، توہین، ذلیل کرنا، اپنی تعریف کرنا، لڑائی، جھگڑا، جھوٹی گواہی یہ سب کے سب برے اخلاق اور اللہ کی طرف سے حرام کئے گئے ہیں اور انسان کی اخروی زندگی کو تباہ کردینے والے ہیں اے زبان میں تجھے اجازت نہیں دیتا کہ تو ان کو بجالائے_ اے زبان اپنے اور میرے اوپر رحم کر اور نافرمانی سے ہاتھ اٹھالے کیونکہ تیرے سب کہے ہوئے اعمال کو خزانہ اور دفتر میں لکھا جاتا ہے اور قیامت کے دن ان کا مجھے جواب دینا ہوگا_ اس ذریعے سے زبان سے وعدہ لیں کہ وہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے_ اس کے بعد اسے وہ نیک اعمال جو زبان بجالاسکتی ہے_ بتلائے جائیں اور اسے مجبور کریں کہ وہ ان کو سارے دن میں بجالائے مثلاً اس سے کہیں کہ تو فلان ذکر اور کام سے اپنے اعمال کے دفتر اور خزانے کو نور اور سرور سے پر کردے اور آخرت کے جہاں میں اس کا نتیجہ حاصل کر اور اس سے غفلت نہ کر کہ پیشمان ہوجائیگی_ اسی طرح سے یہ ہر ایک عضو سے گفتگو کرے اور وعدہ لے کہ گناہوں کا ارتکاب نہ کریں اور نیک اعمال انجام دیں_

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ '' جب رات ہوتی ہے تو رات اس طرح کی آواز دیتی ہے کہ جسے سوائے جن اور انسان کے تمام موجودات اس کی آواز کو سنتے ہیں وہ آواز یوں دیتی ہے_ اے آدم کے فرزند میں نئی مخلوق ہوں جو کام مجھ میں انجام دیئے جاتے ہیں_ میں اس کی گواہی دونگی مجھ سے فائدہ اٹھاؤ میں سورج نکلنے کے بعد پھر اس دنیا میں نہیں آؤنگی تو پھر مجھ سے اپنی نیکیوں میں اضافہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرسکے گا اور جب رات چلی جاتی ہے اور دن نکل آتا ہے تو دن بھی اسی طرح کی آواز دیتا ہے_(۲۹۸)

ممکن ہے کہ نفس امارہ اور شیطان ہمیں یہ کہے کہ تو اس قسم کے پروگرام پرتو عمل نہیں کرسکتا مگر ان قیود اور حدود کے ہوتے ہوئے زندگی کی جاسکتی ہے؟ کیا ہر روز ایک گھڑی اس طرح کے حساب کے لئے معین کیا جاسکتی ہے؟ نفس امارہ اور شیطن


اس طرح کے وسوسے سے ہمیں فریب دینا چاہتا ہے اور ہمیں حتمی ارادہ سے روکنا چاہتاہے_ ضروری ہے کہ اس کے مقابلے کے لئے ڈٹ جانا چاہئے اور اسے کہیں کہ اس طرح کا پروگرام پوری طرح سے قابل عمل ہے اور یہ روزمرہ کی زندگی سے کوئی منافات نہیں رکھتا اور چونکہ یہ میرے نفس کے پاک کرنے اور اخروی سعادت کے لئے ضروری ہے لہذا مجھے یہ انجام دینا ہوگا اور اتنا مشکل بھی نہیں ہے _ تو اے نفس ارادہ کر لے اور عزم کر لے یہ کام آسان ہوجائیگا اور اگر ابتداء میں کچھ مشکل ہو تو آہستہ آہستہ عمل کرنے سے آسان ہوجائیگا_

۲_ مراقبت

جب انسان اپنے نفس سے مشارطہ یعنی عہد لے چکے تو پھر اس کے بعد ان عہد پر عمل کرنے کا مرحلہ آتا ہے کہ جسے مراقبت کہا جاتا ہے لہذا تمام دن میں تمام حالات میں اپنے نفس کی مراقبت اور محافظت کرتے رہیں کہ وہ وعدہ اور عہد جو کر رکھا ہے اس پر عمل کریں_ انسان کو تمام حالات میں بیدار اور مواظب رہنا چاہئے اور خدا کو ہمیشہ حاضر اور ناظر جانے اور کئے ہوئے وعدے کو یاد رکھے کہ اگر اس نے ایک لحظہ بھی غفلت کی تو ممکن ہے کہ شیطن اور نفس امارہ اس کے ارادے میں رخنہ اندازی کرے اور کئے وعدہ پر عمل کرنے سے روک دے امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' عاقل وہ ہے جو ہمیشہ نفس کے ساتھ جہاد میں مشغول رہے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرتارہے اور اس ذریعے اسے اپنے ملکیت میں قرار دے عقلمند انسان نفس کو دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے مشغول رکھنے سے پرہیز کرنے والا ہوتا ہے_(۲۹۹)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' نفس پر اعتماد کرنا اور نفس سے خوش بین ہونا شیطن کے لئے بہترین موقع فراہم کرتا ہے_(۳۰۰) نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص نفس کے اندر سے روکنے والا رکھتا ہو تو خداوند عالم کی طرف سے بھی اسکے لئے محافظت کرنے والا معین کیا جاتا ہے_(۳۰۱)

جو انسان اپنے نفس کا مراقب ہے وہ ہمیشہ بیدار اور خدا کی یاد میں ہوتا ہے وہ


اپنے آپ کو ذات الہی کے سامنے حاضر دیکھتا ہے کسی کام کو بغیر سوچے سمجھے انجام نہیں دیتا اگر کوئی گناہ یا نافرمانی اس کے سامنے آئے تو فورا اسے اللہ اور قیامت کے حساب و کتاب کی یاد آجاتی ہے اور وہ اسے چھوڑ دیتا ہے اپنے کئے ہوئے عہد اور پیمان کو نہیں بھلاتا اسی ذریعے سے اپنے نفس کو ہمیشہ اپنی ملکیت اور کنٹرول میں رکھتا ہے اور اپنے نفس کو برائیوں اور ناپاکیوں سے روکے رکھتا ہے ایسا کرنا نفس کو پاک کرنے کا ایک بہترین وسیلہ ہے اس کے علاوہ جو انسان مراقبت رکھتا ہے وہ تمام دن واجبات اور مستحبات کی یاد میں رہتا ہے اور نیک کام اور خیرات کے بجالانے میں مشغول رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ نماز کو فضیلت کے وقت میں خضوع اور خشوع اور حضور قلب سے اس طرح بجالائے کہ گویا اس کے عمر کی آخری نماز ہے_ ہر حالت اور ہر کام میں اللہ کی یاد میں ہوتا ہے فارغ وقت بیہودہ اور لغویات میں نہیں کاٹتا اور آخرت کے لئے ان اوقات سے فائدہ اٹھاتا ہے وقت کی قدر کو پہچانتا ہے اور ہر فرصت سے اپنے نفس کے کام کرنے میں سعی اور کوشش کرتا ہے اور جتنی طاقت رکھتا سے مستحبات کے بجا لانے میں بھی کوشش کرتا ہے کتنا ہی اچھا ہے کہ انسان بعض اہم مستحب کے بجالانے کی عادت ڈالے _ اللہ تعالی کا ذکر اور اس کی یاد تو انسان کے لئے ہر حالت میں ممکن ہوا کرتی ہے_ سب سے مہم یہ ہے کہ انسان اپنے روز مرہ کے تمام کاموں کو قصد قربت اور اخلاص سے عبادت اور سیر و سلوک الی اللہ کے لئے قرار دے دے یہاں تک کہ خورد و نوش اور کسب کار اور سونا اور جاگنا نکاح اور ازدواج اور باقی تمام مباح کاموں کو نیت اور اخلاص کے ساتھ عبادت کی جزو بنا سکتا ہے_ کار و بار اگر حلال روزی کمانے اور مخلوق خدا کی خدمت کی نیت سے ہو تو پھر یہ بھی عبادت ہے_ اسی طرح کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سونا اور جاگنا اگر زندہ رہنے اور اللہ کی بندگی کے لئے قرا ردے تو یہ بھی عبادت ہیں_ اللہ کے مخصوص بندے اسی طرح تھے اور ہیں_

۳_ اعمال کا حساب

تیسرا مرحلہ اپنے ہر روز کے اعمال کا حساب کرنا ہے ضروری ہے انسان دن میں


ایک وقت اپنے سارے دن کے اعمال کے حساب کرنے کے لئے معین کرلے اور کتنا ہی اچھا ہے کہ یہ وقت رات کے سونے کے وقت ہو جب کہ انسان تمام دن کے کاموں سے فارغ ہوجاتا ہے اس وقت تنہائی میں بیٹھ جائے اور خوب فکر کرے کہ آج سارا دن اس نے کیا کیا ہے ترتیب سے دن کی پہلی گھڑی سے شروع کرے اور آخر غروب تک ایک ایک چیز کا دقیق حساب کرے جس وقت میں اچھے کاموں اور عبادت میں مشغول رہا ہے تو خداوند عالم کا اس توفیق دینے پر شکریہ ادا کرے اور ارادہ کر لے کہ اسے بجالاتا رہے گا_ اور جس میں وقت گناہ اور معصیت کا ارتکاب کیا ہے تو اپنے نفس کو سرزنش کرے اور نفس سے کہے کہ اے بدبخت اور شقی تو نے کیا کیا ہے؟ کیوں تو نے اپنے نامہ اعمال کو گناہ سے سیاہ کیا ہے؟ قیامت کے دن خدا کا کیا جواب دے گا؟ خدا کے آخرت میں دردناک عذاب سے کیا کرے گا؟ خدا نے تجھے عمر اور صحت اور سلامتی اور موقع دیا تھا تا کہ آخرت کے لئے زاد راہ مہیا کرے تو اس نے اس کی عوض اپنے نامہ اعمال کوگناہ سے پر کر دیا ہے_ کیا یہ احتمال نہیں دیتا تھا کہ اس وقت تیری موت آپہنچے؟ تو اس صورت میں کیا کرتا؟ اے بے حیا نفس _ کیوں تو نے خدا سے شرم نہیں کی؟

اے جھوٹے اور منافق _ تو تو خدا اور قیامت پر ایمان رکھنے کا ادعا کرتا تھا کیوں تو کردار میں ایسا نہیں ہوتا_ پھر اس وقت توبہ کرے اور ارادہ کر لے کہ پھر اس طرح کے گناہ کا ارتکاب نہیں کرے گا اور کزرے ہوئے گناہوں کا تدارک کرے گا_

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص اپنے نفس کو گناہوں اور عیوب پر سرزنش کرے تو وہ گناہوں کے ارتکاب سے پرہیز کر لے گا_( ۳۰۲)

اگر انسان محسوس کرے کہ نفس سرکش اور نافرمانی کر رہا ہے اور گناہ کے ترک کرنے اور توبہ کرنے پر حاضر نہیں ہو رہا تو پھر انسان کو بھی نفس کا مقابلہ کرنا چاہئے اور اس پر سختی سے پیش آنا چاہئے اس صورت میں ایک مناسب کام کو وسیلہ بنائے مثلا


اگر اس نے حرام مال کھایا ہے یا کسی دوسری نافرمانی کو بجالایا ہے تو اس کے عوض کچھ مال خدا کی راہ میں دے دے یا ایک دن یا کئی دن روزہ رکھ لے_ تھوڑے دنوں کے لئے لذیز غذا یا ٹھنڈا، پانی، پینا، چھوڑدے، یا دوسرے لذائذ کے جسے نفس چاہتا ہے اس کے بجالانے سے ایک جائے یا تھوڑے سے وقت کے لئے سورج کی گرمی میں کھڑا ہو جائے بہرحال نفس امارہ کے سامنے سستی اور کمزوری نہ دکھلائے ور نہ وہ مسلط ہوجائیگا اور انسان کو ہلاکت کی وادی میں جا پھینکے گا اور اگر تم اس کے سامنے سختی اور مقابلہ کے ساتھ پیش آئے تو وہ تیرا مطیع اور فرمانبردار ہوجائیگا اگر کسی وقت میں نہ کوئی اچھا کام انجام دیا ہو اور نہ کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو تو پھر بھی نفس کو سرزنش اور ملامت کرے اور اسے کہے کہ کس طرح تم نے عمر کے سرمایہ کو ضایع کیا ہے؟ تو اس وقت نیک عمل بجالا سکتا تھا اور آخرت کے لئے زاد راہ حاصل کر سکتا تھا کیوں نہیں ایسا کیا اے بدبخت نقصان اٹھانے والے کیوں ایسی گران قدر فرصت کو ہاتھ سے جانے دیا ہے_ اس دن جس دن پشیمانی اور حسرت فائدہ مند نہ ہوگی پشیمان ہوگا_ اس طریقے سے پورے وقت جیسے ایک شریک دوسرے شریک سے کرتا ہے اپنے دن رات کے کاموں کو مورد دقت اور مواخذہ قرار دے اگر ہو سکے تو اپنے ان تمام کے نتائج کو کسی کاپی میں لکھ کے_ بہرحال نفس کے پاک و پاکیزہ بنانے کے لئے مراقبت اور حساب ایک بہت ضروری اور فائدہ مند کام شمار ہوتا ہے جو شخص بھی سعادت کا طالب ہے اسے اس کو اہمیت دینی چاہئے گرچہ یہ کام ابتداء میں مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر ارادہ اور پائیداری کر لے تو یہ جلدی آسان اور سہل ہوجائیگا اور نفس امارہ کنٹرول اور زیر نظر ہوجائیگا_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ میں تمہیں عقلمندوں کا عقلمند اور احمقوں کا حق نہ بتلاؤں؟ عرض کیا گیا یا رسول اللہ(ص) _ فرمایئے آپ نے فرمایا سب سے عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے نفس کا حساب کرے اور مرنے کے بعد کے لئے نیک عمل بجالائے اور سب سے احمق وہ ہے کہ جو خواہشات نفس کی پیروی کرے اور دور دراز خواہشوں میں سرگرم ہے_ اس آدمی نے عرض کی_ یا رسول اللہ(ص) _ کہ


انسان کس طرح اپنے نفس کا حساب کرے؟ آپ (ص) نے فرمایا جب دن ختم ہوجائے اور رات ہوجائے تو اپنے نفس کی طرف رجوع کرے اور اسے کہے اے نفس آج کا دن بھی چلا گیا اور یہ پھر لوٹ کے نہیں آئیگا خداوند عالم تجھ سے اس دن کے بارے میں سوال کرے گا کہ اس دن کو کن چیزوں میں گذرا ہے اور کونسا عمل انجام دیا ہے؟ کیا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد کی ہے؟ کیا کسی مومن بھائی کا حق ادا کیا ہے؟ کیا کسی مومن بھائی کا غم دور کیا ہے؟ کیا اس کی غیر حاضری میں اس کے اہل و عیال کی سرپرستی کی ہے؟ کیا کسی مومن بھائی کی غیبت سے دفاع کیا ہے؟ کیا کسی مسلمان کی مدد کی ہے؟ آج کے دن کیا کیا ہے_ اس دن جو کچھ انجام دیا ہوا ایک ایک کو یاد کرے اگر وہ دیکھے کہ اس نے نیک کام انجام دیئے ہیں تو خداوند عالم کا اس نعمت اور توفیق پر شکریہ ادا کرے اور اگر دیکھے کہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور نافرمانی بجالایا ہے تو توبہ کرے اور ارادہ کرلے کہ اس کے بعد گناہوں کا ارتکاب نہیں کرے گا_ اور پیغمبر اور اس کی آل پر درود بھیج کر اپنے نفس کی کثافتوں کو اس سے دور کرے اور امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت اور بیعت کو اپنے نفس کے سامنے پیش کرے اور آپ کے دشمنوں پر لعنت بھیجے اگر اس نے ایسا کرلیا تو خدا اس سے کہے گا کہ '' میں تم سے قیامت کے دن حساب لینے سے سختی نہیں کرونگا کیونکہ تو میرے اولیاء کیساتھ محبت رکھتا تھا اور ان کے د شمنوں سے دشمنی رکھتا تھا_(۳۰۳)

امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' وہ ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے نفس کا ہر روز حساب نہیں کرتا اگر وہ اچھے کام انجام دے تو خداوند عالم سے زیادہ توفیق دینے کو طلب کرے اور اگر نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کیا ہو تو استعفا اور توبہ کرے_(۳۰۴)

پیغمبر علیہ السلام نے ابوذر سے فرمایا کہ '' غقلمند انسان کو اپنا وقت تقسیم کرنا چاہیئے ایک وقت خداوند عالم کے ساتھ مناجات کرنے کے لئے مخصوص کرے_ اور ایک


وقت اپنے نفس کے حساب لینے کے لئے مختص کرلے اور ایک وقت ان چیزوں میں غور کرنے ے لئے جو خداوند عالم نے اسے عنایت کی ہیں مخصوص کردے_(۳۰۵)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اپنے نفس سے اس کے کردار اور اعمال کے بارے میں حساب لیا کرو اس سے واجبات کے ادا کرنے کا مطالبہ کرو اور اس سے چاہو کہ اس دنیا فانی سے استفادہ کرے اور آخرت کے لئے زاد راہ اور توشہ بھیجے اور اس سفر کے لئے قبل اس کے کہ اس کے لئے اٹھائے جاو امادہ ہوجاؤ_(۳۰۶)

نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایاکہ '' انسان کے لئے کتنا ضروری ہے کہ ایک وقت اپنے لئے معین کرلے جب کہ تمام کاموں سے فارغ ہوچکا ہو_ اس میں اپنے نفس کا حساب کرے اور سوچے کہ گذرے ہوئے دن اور رات میں کونسے اچھے اور فائدہ مند کام انجام دیئے ہیں اور کونسے برے نقصان دینے والوں کاموں کو بجالایا ہے_(۳۰۷)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اپنے نفس سے جہاد کر اور اس سے ایک شریک کے مانند حساب کتاب لے اور ایک قرض خواہ کی طرح اس سے حقوق الہی کے ادا کرنے کا مطالبہ کرے کیونکہ سب سے زیادہ سعادتمند انسان وہ ہے کہ جو اپنے نفس کے حساب کے لئے آمادہ ہو_(۳۰۸)

علی علیہ السلام نے فرمایا کہ '' کہ جو شخص اپنے نفس کا حساب کرے تو وہ اپنے عیبوں سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اپنے گناہوں کو جان جاتا ہے اور ان سے توبہ کرتا ہے اور اپنے عیبوں کی اصلاح کرتا ہے_(۳۰۹)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اس سے پہلے کہ قیامت کے دن تمہارا حساب لیا جائے تم اس دنیا میں اپنا حساب خود کرلو کیونکہ قیامت کے دن پچاس مقامات پر بندوں کا حساب لیا جائیگا اور ہر ایک مقام میں ہزار سال تک اس کا حساب لیا جاتا رہیگا_ آپ نے اس کے بعد یہ آیت پڑھی وہ دن کہ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی_(۳۱۰)

اس بات کی یاد دھانی بہت ضروری ہے کہ انسان نفس کے حساب کے وقت خود


نفس پر اعتماد نہ کرے اور اس کی بابت خوش عقیدہ نہ ہو کیونکہ نفس بہت ہی مکار اور امارہ سو ہے_ سینکڑوں حیلے بہانے سے اچھے کام کو برا اور برے کو اچھا ظاہر کرتا ہے_ انسان کو اپنے بارے اپنی ذمہ داری کو نہیں سوچنے دیتا تا کہ انسان اس پر عمل پیرا ہو سکے_ گناہ کے ارتکاب اور عبادت کے ترک کرنے کی کوئی نہ کوئی توجیہ کرے گا_ گناہوں کو فراموشی میں ڈال دے گا اور معمولی بتلائے گا_ چھوٹی عبادت کو بہت بڑا ظاہر کرے گا اور انسان کو مغرور کردے گا_ موت اور قیامت کو بھلا دے گا اور دور دراز امیدوں کو قوی قرار دے گا_ حساب کرنے کو سخت اور عمل نہ کئے جانے والی چیز بلکہ غیر ضروری ظاہر کردے گا اسی لئے انسان کو اپنے نفس کی بارے میں بدگمانی رکھتے ہوئے اس کا حساب کرنا چائے_ حساب کرنے میں بہت وقت کرنی چاہئے اور نفس اور شیطن کے تاویلات اور ہیرا پھیری کی طرف کان نہیں دھرنے چائیں_

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اللہ تعالی کی یاد کے لئے کچھ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اللہ تعالی کے ذکر کو دنیا کے عوض قرار دے رکھا ہے لہذا ان کو کار و بار اللہ تعالی کے ذکر سے نہیں روکتا_ اپنی زندگی کو اللہ تعالی کے ذکر کے ساتھ گزارتے ہیں_ گناہوں کے بارے قرآن کی آیات اور احادیث غافل انسانوں کو سناتے ہیں اور عدل اور انصاف کرنے کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں_ منکرات سے روکتے ہیں اور خودبھی ان سے رکتے ہیں گویا کہ انہوں نے دنیا کو طے کرلیا ہے اور آخرت میں پہنچ چکے ہیں_ انہوں نے اس دنیا کے علاوہ اور دنیا کو دیکھ لیا ہے اور گویا برزخ کے لوگوں کے حالات جو غائب ہیں ان سے آگاہ ہوچکے ہیں_ قیامت اور اس کے بارے میں جو وعدے دیئے گئے ہیں گویا ان کے سامنے صحیح موجود ہوچکے ہیں_ دنیا والوں کے لئے غیبی پردے اس طرح ہٹا دیتے ہیں کہ گویا وہ ایسی چیزوں کو دیکھ رہے ہوں کہ جن کو دنیا والے نہیں دیکھ رہے ہوتے اور ایسی چیزوں کو سن رہے ہیں کہ جنہیں دنیا والے نہیں سن رہے_ اگر تو ان کے مقامات عالیہ اور ان کی مجالس کو اپنی عقل کے سامنے مجسم کرے تو گویا وہ یوں نظر آئیں گے کہ انہوں نے اپنے روز


کے اعمال نامہ کو کھولا ہوا ہے اور اپنے اعمال کے حساب کرلینے سے فارغ ہوچکے ہیں یہاں تک کہ ہر چھوٹے بڑے کاموں سے کہ جن کاانہیں حکم دیا گیا ہے اور ان کے بجالانے میں انہوں نے کوتاہی برتی ہے یا جن سے انہیں روکا گیا ہے اور انہوں نے اس کا ارتکاب کریا ہے ان تمام کی ذمہ داری اپنی گردن پر ڈال دیتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے بجالانے اور اطاعت کرنے میں کمزور دیکھتے ہیں اور زار زار گریہ و بکاء کرتے ہیں اور گریہ اور بکاء سے اللہ کی بارگاہ میں اپنی پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں_ ان کو تم ہدایت کرنے ولا اور اندھیروں کے چراغ پاؤگے کہ جن کے ارد گرد ملا مکہ نے گھیرا ہوا ہے اور اللہ تعالی کی مہربانی ان پر نازل ہوچکی ہے_ آسمان کے دروازے ان کے لئے کھول دیئےئے ہیں اور ان کے لئے محترم اور مکرم جگہ حاضر کی جاچکی ہے_(۳۱۱)


توبہ یا نفس کو پاک و صاف کرنا

نفس کو پاک اور صاف کرنے کا بہتریں راستہ گناہوں کا نہ کرنا اور اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھنا ہے اگر کوئی شخص گناہوں سے بالکل آلودہ نہ ہو اور نفس کی ذاتی پاکی اور صفا پر باقی رہے تو یہ اس شخص سے افضل ہے جو گناہ کرنے کے بعد توبہ کر لے_ جس شخص نے گناہ کا مزہ نہیں چکھا اور اس کی عادت نہیں ڈالی یہ اس شخص کی نسبت سے جو گناہوں میں آلودہ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ گناہوں کو ترک کردے بہت آسانی سے اور بہتر طریقے سے گناہوں سے چشم پوشی کر سکتا ہے امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''گناہ کا ترک کردینا توبہ کے طلب کرنے سے زیادہ آسان ہے_(۳۱۲)

لیکن جو انسان گناہوں سے آلودہ ہوجائیں انہیں بھی اللہ تعالی کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے کا راستہ کسی وقت بھی بند نہیں ہوتا بلکہ مہربان اللہ تعالی نے گناہگاروں کے لئے توبہ کا راسنہ ہمیشہ لے لئے کھلا رکھا ہوا ہے اور ان سے چاہا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف پلٹ آئیں اور توبہ کے پانی سے نفس کو گناہوں کی گندگی اور پلیدی سے دھوڈالیں_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے '' میرے ان بندوں سے کہ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے کہہ دو کہ وہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہ ہوں کیونکہ خدا تمام گناہوں کو بخش دے گا اور وہ بخشنے والا مہربان ہے_(۳۱۳)


نیز خدا فرماتا ہے کہ '' جب مومن تیرے پاس آئیں تو ان سے کہہ دے کہ تم پر سلام ہو_ خدا نے اپنے اوپر رحمت اور مہربانی لازم قرار دے دی ہے_ تم میں سے جس نے جہالت کی وجہ سے برے کام انجام دیئے اور توبہ کرلیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں اور اصلاح کرلیں تو یقینا خدا بخشنے والا مہربان ہے_(۳۱۴)

توبہ کی ضرورت

گمان نہیں کیا جا سکتا کہ گناہگاروں کے لئے توبہ کرنے سے کوئی اور چیز لازمی اور ضروری ہو جو شخص خدا پیغمبر قیامت ثواب عقاب حساب کتاب بہشت دوزخ پر ایمان رکھتا ہو وہ توبہ کے ضروری اور فوری ہونے میں شک و تردید نہیں کرسکتا_

ہم جو اپنے نفس سے مطلع ہیں اور اپنے گناہوں کو جانتے ہیں تو پھر توبہ کرنے سے کیوں غفلت کریں؟ کیا ہم قیامت اور حساب اور کتاب اور دوزخ کے عذاب کا یقین نہیں رکھتے؟ کیا ہم اللہ کہ اس وعدے میں کہ گناہگاروں کو جہنم کی سزا دونگا شک اور تردید رکھتے ہیں؟ انسان کا نفس گناہ کے ذریعے تاریک اور سیاہ اور پلید ہوجاتا ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ انسان کی شکل حیوان کی شکل میں تبدیل ہوجائے پس کس طرح جرت رکھتے ہیں کہ اس طرح کے نفس کے ساتھ خدا کے حضور جائیں گے اور بہشت میں خدا کے اولیا' کے ساتھ بیٹھیں گے؟ ہم گناہوں کے ارتکاب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے صراط مستقیم کو چھوڑ چکے ہیں اور حیوانیت کی وادی میں گر چکے ہیں_ خدا سے دور ہوگئے ہیں اور شیطن کے نزدیک ہوچکے ہیں اور پھر بھی توقع رکھتے ہیں کہ آخرت میں سعادتمند اور نجات یافتہ ہونگے اور اللہ کی بہشت میں اللہ تعالی کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کریں گے یہ کتنی لغو اور بے جا توقع ہے؟ لہذا وہ گناہگار جو اپنی سعادت کی فکر رکھتا ہے اس کے لئے سوائے توبہ اور خدا کی طرف پلٹ جانے کے اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے_


یہ بھی اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی مہربانی اور لطف اور کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے توبہ کا راستہ کھلا رکھا ہوا ہے زہر کھلایا ہوا انسان جو اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہے کسی بھی وقت زہر کے نکالے جانے اور اس کے علاج میں تاخیر اور تردید کو جائز قرا ر نہیں دیتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے دیر کی تو وہ ہلاک ہوجائیگا جب کہ انسان کے لئے گناہ ہر زہر سے زیادہ ہلاک کرنے والا ہوتا ہے_ عام زہر انسان کی دنیاوی چند روزہ زندگی کو خطرے میں ڈالتی ہے تو گناہ انسان کو ہمیشہ کی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے اور انسان کی آخرت کی سعادت کو ختم کر دیتا ہے اگر زہر انسان کو دنیا سے جدائی دیتی ہے تو گناہ انسان کو خدا سے دور کردیتا ہے_ اور اللہ تعالی سے قرب اور لقاء کے فیض سے محروم کر دیتا ہے لہذا تمہارے لئے ہر ایک چیز سے توبہ اور انابہ زیادہ ضروری اور فوری ہے کیونکہ ہماری معنوی سعادت اور زندگی اس سے وابستہ ہے_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے '' مومنو تم سب اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو_ شاید نجات حاصل کر لو_(۳۱۵)

خدا ایک اور مقام میں فرماتا ہے ''مومنو خدا کی طرف توبہ نصوح کرو شاید خدا تمہارے گناہوں کو مٹا دے اور تمہیں بہشت میں داخل کردے کہ جس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں_(۳۱۶)

پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ '' ہر درد کے لئے دوا ہوتی ہے_ گناہوں کے لئے استغفار اور توبہ دوا ہے_(۳۱۷)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ہر انسان کے دل یعنی روح میں ایک سفید نقطہ ہوتا ہے جب وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سفید نقطہ میں سیاہی وجود میں آجاتی ہے اگر اس نے توبہ کر لی تو وہ سیاہی مٹ جاتی ہے اور اگر گناہ کو پھر بار بار بجلاتا رہا تو آہستہ آہستہ وہ سیاہ نقطہ زیادہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس سارے سفید نقطہ پر چھا جاتا ہے اس وقت وہ انسان پھر نیکی کی طرف نہیں پلٹتا یہی مراد اللہ


تعالی کے اس فرمان میں کلا بل ران عن قلوبہم بما کانوا یکسبون_(۳۱۸) یعنی ان کے دلوں پر اس کی وجہ سے کہ انہوں نے انجام دیا ہے زنگ چڑھ جاتا ہے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے _ '' توبہ کو دیر میں کرنا ایک قسم کا غرور اور دھوکہ ہے اور توبہ میں تاخیر کرنا ایک طرح کی پریشانی اور حیرت ہوتی ہے_ خدا کے سامنے عذر تراشنا موجب ہلاکت ہے_ گناہ پر اصرار کرنا اللہ تعالی کے عذاب اور سزا سے مامون ہونے کا احساس ہے جب کہ اللہ تعالی کے عذاب سے مامون ہونے کا احسان نقصان اٹھانے والے انسان ہی کرتے ہیں_(۳۱۹)

بہتر ہے کہ ہم ذرا اپنے آپ میں فکر کریں گذرے ہوئے گناہوں کو یاد کریں اور اپنی عاقبت کے بارے میں خوب سوچیں اور اپنے سامنے حساب و کتاب کے موقف میزان اعمال خدا قہار کے سامنے شرمندگی فرشتوں اور مخلوق کے سامنے رسوائی قیامت کی سختی دوزخ کے عذاب اللہ تعالی کی لقاء سے محرومیت کو مجسم کریں اور ایک اندرونی انقلاب کے ذریعے اللہ تعالی کی طرف لوٹ آئیں اور توبہ کے زندگی دینے والے پانی سے اپنے گذرے ہوئے گناہوں کو دھوئیں اور نفس کی پلیدی اور گندگی کو دور کریں اور حتمی ارادہ کر لیں کہ گناہوں سے کنارہ کشی کریں گے_ اور آخرت کے سفر اور ذات الہی کی ملاقات کے لئے مہیا ہوجائیں گے لیکن اتنی سادگی سے شیطن ہم سے دستبردار ہونے والا نہیں ہے؟ کیا وہ توبہ اور خدا کی طرف لوٹ جانے کی اجازت دے دیگا؟

وہی شیطن جو ہمیں گناہوں کے ارتکاب کرنے پر ابھارتا ہے وہ ہمیں توبہ کرنے سے بھی مانھ ہوگا گناہوں کو معمولی اور کمتر بتلائے گا وہ گناہوں کو ہمارے ذہن سے ایسے نکل دیتا ہے کہ ہم ان تمام کو فراموش کردیتے ہیں_ مرنے اور حساب اور کتاب اور سزای فکر کو ہمارے مغز سے نکال دیتا ہے اور اس طرح ہمیں دنیا میں مشغول کردیتا ہے کہ کبھی توبہ نور استغفار کی فکر ہی نہیں کرتے اور اچانک موت سرپر آجائے گی اور پلید اور کثیف نفس کے ساتھ اس دنیا سے چلے جائیں گے_


توبہ کا قبول ہونا

اگر درست توبہ کی جائے تو وہ یقینا حق تعالی کے ہاں قبول واقع ہوتی ہے اور یہ بھی اللہ تعالی کے لطف و کرم میں سے ایک لطف اور مہربانی ہے_ خداوند عالم نے ہمیں دوزخ اور جہنم کے لئے پیدا نہیں کیا_ بلکہ بہشت اور سعادت کے لئے خلق فرمایا ہے پیغمبروں کو بھیجا ہے تا کہ لوگوں کو ہدایت اور سعادت کے راستے کی رہنمائی کریں اور گناہگار بندوں کو توبہ اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیں توبہ اور استغفار کا دروازہ تمام بندوں کے لئے کھلا رکھا ہوا ہ ے پیغمبر ہمیشہ ان کو اس کی طرف دعوت دیتے ہیں_ پیغمبر(ص) اور اولیاء خدا ہمیشہ لوگوں کو توبہ کی طرف بلاتے ہیں_ خداوند عالم نے بہت سی آیات میں گناہگار بندوں کو اپنی طرف بلایا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ ان کی توبہ کو قبول کرے گا اور اللہ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوا کرتا_ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ اطہار نے سینکٹروں احادیث میں لوگوں کو خدا کی طرف پلٹ آنے اور توبہ کرنے کی طرف بلایا ہے اور انہیں امید دلائی ہے_ جیسے_

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ '' وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اس سے آگاہ ہے_(۳۲۰)

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ '' میں بہت زیادہ انہیں بخشنے والا ہوں جو توبہ کریں اور ایمان لے آئیں اور نیک اعمال بجالائیں اور ہدایت پالیں_(۳۲۱)

اگر خدا کو یاد کریں اور گناہوں سے توبہ کریں_ خدا کے سوا کون ہے جو ان کے گناہوں کو بخش دے گاہ اور وہ جو اپنے برے کاموں پر اصرار نہیں کرتے اور گناہوں کی برائی سے آگاہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال کی جزا بخشا جانا اور ایسے باغات ہیں کہ جن کے درمیان نہریں جاری ہیں اور ہمیشہ کے لئے وہاں زندگی کریں گے اور عمل کرنے والوں کے لئے ایسے جزا کتنی ہی اچھی ہے_(۳۲۲)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی


طرح ہے کہ جسنے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو اور جو گناہوں کو بجالانے پر اصرار کرتا ہے اور زبان پر استغفار کے کلمات جاری کرتا ہے یہ مسخرہ کرنے والا ہوتا ہے_(۳۲۳) اس طرح کی آیات اور روایات بہت زیادہ موجود ہیں لہذا توبہ کے قبول کئے جائے میں کوئی شک اور تردید نہیں کرنا چاہئے بلکہ خداوند عالم توبہ کرنے والے کو دوست رکھتا ہے_ قرآن مجید میں فرماتا ہے '' یقینا خدا توبہ کرنے والے اور اپنے آپکو پاک کرنے والے کو دوست رکھتا ہے_(۳۲۴) امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اللہ تعالی کا اس بندہ سے جو توبہ کرتا ہے خوشنود ہونا اس شخص سے زیادہ ہوتا ہے کہ جو تاریک رات میں اپنے سواری کے حیوان اور زاد راہ اور توشہ کو گم کرنے کے بعد پیدا کر لے_(۳۲۵)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جب کوئی بندہ خالص توبہ اور ہمیشہ کے لئے کرے تو خداوند عالم اسے دوست رکھتا ہے اور اللہ تعالی اس کے گناہوں کو چھپا دیتا ہے_ راوی نے عرض کی _ اے فرزند رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالی کس طرح گناہوں کو چھپا دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے کہ وہ دو فرشتے جو اس کے اعمال کو لکھتے ہیں اس کے گناہ کو بھول جاتے ہیں اور اللہ تعالی اس کے اعضاء اور جوارح زمین کے نقاط کو حکم دیتا ہے کہ توبہ کرنے والے بندے کے گناہوں کو چھپا دیں ایسا شخص خدا کے سامنے جائیگا جب کہ کوئی شخص اور کوئی چیز اس کے گناہوں کی گواہ نہ ہوگی_(۳۲۶)

توبہ کیا ہے؟

گذرے ہوئے اعمال اور کردار پر ندامت اور پشیمانی کا نام توبہ ہے اور ایسے اس شخص کو توبہ کرنے والا کہا جا سکتا ہے جو واقعا اور تہہ دل سے اپنے گذرے ہوئے گناہوں پر پشیمان اور نادم ہو_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ پشیمان اور ندامت توبہ ہے_(۳۲۷)

یہ صحیح اور درست ہے کہ خداوند عالم توبہ کو قبول کرتا اور گناہوں کو بخش دیتا ہے لیکن صرف زبان سے استغفراللہ کا لفظ کہہ دینا یا صرف پشیمانی کا اظہار کر دینا یا گریہ


کر لینا دلیل نہیں ہے کہ وہ واقعا تہ دل سے توبہ کر چکا ہے بلکہ تین علامتوں کے ہونے سے حقیقی اور واقعی توبہ جانی جاتی ہے_

پہلے تو تہہ دل سے دل میں گذرے گناہوں سے بیزار اور متنفر ہوا اور اپنے نفس میں غمگین اور پشیمان اور شرمندہ ہو دوسرے حتمی ارادہ رکھتا ہو کہ پھر آئندہ گناہوں کو بجا نہیں لائے گا_

تیسرے اگر گناہ کے نتیجے میں ایسے کام انجام دیئے ہوں کہ جن کا جبران اور تدارک کیا جا سکتا ہے تو یہ حتمی ارادہ کرے کہ اس کا تدارک اور جبران کرے گا اگر اس کی گردن پر لوگوں کا حق ہو اگر کسی کا مال غضب کیا ہے یا چوری کی ہے یا تلف کر دیا ہے تو پہلی فرصت میں اس کے ادا کرنے کا حتمی ارادہ کرے اور اگر اس کے ادا کرنے سے عاجز ہے تو جس طرح بھی ہو سکے صاحب حق کو راضی کرے اور اگر کسی کی غیبت اور بدگوئی کی ہے تو اس سے حلیت اور معافی طلب کرے اور اگر کسی پر تجاوز اور ظلم و ستم کیا ہے تو اس مظلوم کو راضی کرے اور اگر مال کے حق زکواة خمس و غیرہ کو نہ دیا و تو اسے ادا کرے اور اگر نماز اور روزے اس سے قضا ہوئے ہوں تو ان کی قضا بجالائے اس طرح کرنے والے شخص کو کہا جا سکتا ہے کہ واقعا وہ اپنے گناہوں پر پشیمان ہوگیا اور اس کی توبہ قبول ہوجائیگی_ لیکن جو لوگ توبہ اور استغفار کے کلمات اور الفاظ تو زبان پر جاری کرتے ہیں لیکن دل میں گناہ سے پشیمان اور شرمندہ نہیں ہوتے اور آئندہ گناہ کے ترک کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھے یا ان گناہوں کو کہ جن کا تدارک اور تلافی کی جانی ہوتی ہے ان کی تلافی نہیں کرتے اس طرح کے انسانوں نے توبہ نہیں کی اور نہ ہی انہیں اپنی توبہ کے قبول ہوجانے کی امید رکھنی چاہئے گرچہ وہ دعا کی مجالس او رمحافل میں شریک ہوتے ہوں اور عاطفہ رقت کیوجہ سے متاثر ہو کر آہ و نالہ گریہ و بکاء بھی کر لیتے ہوں_

ایک شخص نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے سامنے استغفار کے کلمات زبان پر جاری کئے تو آنحضرت نے فرمایا '' تیری ماں تیری عزاء میں بیٹھے کیا جانتے ہو کہ


استغفار او توبہ کیا ہے؟ توبہ کرنا بلند لوگوں کا مرتبہ ہے توبہ اور استغفار چھ چیزوں کا نام ہے_ ۱_ گذرے ہوئے گناہوں پر پشیمانی ہونا_ ۲_ ہمیشہ کے لئے گناہ کے ترک کرنے کا ارادہ کرنا_۳_ لوگوں کے حقوق کو ادا کرنا کہ جب تو خدا کے سامنے جائے تو تیری گردن پر لوگوں کا کوئی حق نہ ہو_ ۴_ پوری طرح سے متوجہ ہو کہ جس واجب کو ترک کیا ہے اسے ادا کرے_ ۵_ اپنے گناہوں پر اتنا غمناک ہو کہ وہ گوشت جو حرام کے کھانے سے بنا ہے وہ ختم ہوجائے اور تیری چمڑی تیری ہڈیوں پر چمٹ جائے اور پھر دوسرا گوشت نکل آئے گا_ ۶_ اپنے نفس کو اطاعت کرنے کی سختی اور مشقت میں ڈالے جیسے پہلے اسے نافرمانی کی لذت اور شیرینی سے لطف اندوز کیا تھا ان کاموں کے بعد تو یہ کہے کہ استغفر اللہ) ۳۲۸) تو گویا یہ پھر توبہ حقیق ہے_ گناہ شیطن اتنا مکار اور فریبی ہے کہ کبھی انسان کو توبہ کے بارے میں بھی دھوکا دے دیتا ہے_ ممکن ہے کہ کسی گنہگار نے وعظ و نصیحت یا دعا کی مجلس میں شرکت کی اور مجلس یا دعا سے متاثر ہوا اور اس کے آنسو بہنے لگے یا بلند آواز سے رونے لگا اس وقت اسے شیطن کہتا ہے کہ سبحان اللہ کیا کہنا تم میں کیسی حالت پیدا ہوئی_ بس یہی تو نے توبہ کرلی اور تو گناہوں سے پاک ہوگیا حالانکہ نہ اس کا دل گناہوں پر پشیمان ہوا ہے اور نہ اس کا آئندہ کے لئے گناہوں کے ترک کردینے کا ارادہ ہے اور نہ ہی اس نے ارادہ کیا ہے کہ لوگوں اور خدا کے حقوق کو ادا کرے گا اس طرح کا تحت تاثیر ہوجانا توبہ نہیں ہوا کرتی اور نہ ہی نفس کے پاک ہوجانے اور آخرت کی سعادت کا سبب بنتا ہے اس طرح کا کا شخص نہ گناہوں سے لوٹا ہے اور نہ ہی خدا کی طرف پلٹا ہے_

جن چیزوں سے توبہ کی جانی چاہئے

گناہ کیا ہے اور کس گناہ سے توبہ کرنی چاہئے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالی کی طرف جانے اور سیر و سلوک سے مانع ہو اور دنیا سے علاقمند کر دے اور توبہ کرنے سے روکے رکھے وہ گناہ ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہئے اور نفس


کو اس سے پاک کرنا چاہئے گناہ دو قسم پر ہوتے ہیں_ ۱_ اخلاقی گناہ_ ۲_ عملی گناہ_

۱ _ اخلاقی گناہ

برے اخلاق اور صفات نفس کو پلید اور کثیف کر دیتے ہیں اور انسانیت کے صراط مستقیم کے راستے پر چلنے اور قرب الہی تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں_ بری صفات اگر نفس میں رسوخ کر لیں اور بطور عادت اور ملکہ کے بن جائیں تو ذات کے اندر کو تبدیل اور تغیر کر دیتے ہیں یہاں تک کہ انسانیت کے کس درج پر رہے اسے بھی متاثر کردیتے ہیں_ اخلاقی گناہوں کو اس لحاظ سے کہ اخلاقی گناہ ہیں معمولی اور چھوٹا اور غیر اہم شمار نہیں کرنا چاہئے اور ان سے توبہ کرنے سے غافل نہیں ہونا چاہئے بلکہ نفس کو ان سے پاک کرنا ایک ضروری اور زندگی ساز کام ہے_ برے اخلاق نام ہے_ ریائ، نفاق، غضب، تکبر، خودبینی، خودپسندی، ظلم، مکر و فریب و غیبت، تہمت نگانا، چغلخوری، عیب نکالنا، وعدہ خلافی، جھوٹ حب دنیا حرص اور لالچ، بخیل ہونا حقوق والدین ادا نہ کرنا، قطع رحمی_ کفر ان نعمت ناشکری، اسراف، حسد، بدزبانی گالیاں دینا اور اس طرح کی دوسری بری صفات اور عادات

سینکٹروں روایات اور آیات ان کی مذمت اور ان سے رکنے اور ان کے آثار سے علاج کرنے اور ان کی دنیاوی اور اخری سزا کے بارے میں وارد ہوئی ہیں_ اخلاقی کتابوں میں ان کی تشریح اور ان کے بارے میں بحث کی گئی ہے_ یہاں پر ان کے بارے میں بحث نہیں کی جا سکتی_ اخلاقی کتابوں اور احادیث میں ان کے بارے میں رجوع کیا جا سکتا ہے_

۲_ عملی گناہ

عملی گناہوں میں سے ایک چوری کرنا_ کسی کو قتل کرنا_ زناکاری، لواطت، لوگوں کا مال غصب کرنا، معاملات میں تقلب کرنا، واجب جہاد سے بھاگ جانا_


امانت میں خیانت کرنا، شراب اور نشہ آور چیز کا پینا، مردار گوشت کھانا، خنزیر اور دوسرے حرام گوشت کھانا، قمار بازی، جھوٹی گواہی دینا، بے گناہوں لوگوں پر زنا کی تہمت لگانا، واجب نمازوں کو ترک کرنا، واجب روزے نہ رکھنا، حج نہ کرنا، امر بہ معروف اور نہی منکر کو ترک کرنا، نجس غذا کھانا، اور دوسرے حرام کام جو مفصل کتابوں میں موجود ہیں کہ جن کی تشریح اور وضاحت یہاں ممکن نہیں ہے_ یہ تو مشہور گناہ ہیں کہ جن سے انسان کو اجتناب کرنا چاہئے اور اگر بجالایا ہو تو ان سے توبہ کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرے لیکن کچھ گناہ ایسے بھی ہیں جو مشہور نہیں ہیں اور انہیں گناہوں کے طور پر نہیں بتلایا گیا لیکن وہ اللہ کے برگزیدہ بندوں اور اولیاء خدا کے لئے گناہ شمار ہوتے ہیں جیسے مستحبات کا ترک کر دینا یا مکروہات کا بجالانا بلکہ گناہ کے تصور کو او رذات الہی سے کسی غیر کی طرف توجہہ کرنے کو اور شیطانی وسوسوں کو جو انسان کو خدا سے غافل کر دیتے ہیں_ یہ تمام اولیاء خدا اور اس کی صفات اور افعال کی پوری اور کامل معرفت نہ رکھنے کو جو ہر ایک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے اللہ تعالی کے خاص منتخب بندوں کے لئے گناہ شمار ہوتے ہیں اور ان سے وہ توبہ کرتے رہتے تھے بلکہ اس سے بالا تر ذات الہی اور اس کی صفات اور افعال کی پوری اور کامل معرفت نہ رکھنے کو ج و ہر ایک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے اللہ تعالی اور اس طرح کے نقص کے احساس سے ان کے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا تھا اور گریہ نالہ و زاری سے خدا کی طرف رجوع کرتے تھے اور توبہ اور استغفار کرتے تھے_ پیغمبروں اور ائمہ اطہار کے توبہ کرنے کو اسی معنی میں لیا جانا چاہئے_ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہر روز ستر دفعہ استغفار کرتے تھے جبکہ آپ پر کوئی گناہ بھی نہیں تھا_(۳۲۹) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ '' کبھی میرے دل پر تاریکی عارض ہوتی تھی تو اس کے لئے میں ہر روز ستر دفعہ استغفار کیا کرتا تھا_(۳۳۰)


دوسرا حصہ

نفس کی تکمیل اور تربیت


نفس کی تکمیل اور تربیت

نفس کو پاک صاف کرنے کے بعد اس کی تکمیل اور تربیت کا مرحلہ آتا ہے کہ جسے اصطلاح اخلاقی میں تحلیہ_ کہا جاتا ہے_ علوم عقلیہ میں ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کا نفس ہمیشہ حرکت اور ہونے کی حالت میں ہوتا ہے_ اس کی فعلیت اس کی استعداد اور قوت سے ملی ہوئی ہے_ آہستہ آہستہ اندر کی قوت اور استعداد کو مقام فعلیت اور بروز و ظہور میں لاتا ہے اور اپنی ذات کی پرورش کرتا ہے اگر نفس نے صراط مستقیم پر حرکت کی اور چلا تو وہ آہستہ کامل کامل تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ آخر کمال تک پہنچ جاتا ہے اور اگر صراط مستقیم سے ہٹ گیا اور گمراہی کے راستے پر گامزن ہوا تو پھر بھی آہستہ آہستہ کمال انسانی سے دور ہوتا جاتا ہے اور حیوانیت کی ہولناک وادی میں جا گرتا ہے_

خدا سے قرب

یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انسان کی حرکت ایک حقیقی اور واقعی حرکت ہے نہ کہ اعتباری محض اور یہ حرکت انسان کی روح اور نفس کی ہے نہ جسم اور تن کی اور روح کا حرکت کرنا اس کا ذاتی فعل ہے نہ کہ عارضی_ اس حرکت میں انسان کا جوہر اور گوہر حرکت کرتا ہے اور متغیر ہوتا رہتا ہے_ لہذا انسان کی حرکت کا سیر اور راستہ ایک واقعی


راستہ ہے نہ اعتباری اور مجازی_ لیکن اس کا مسیر اس کی متحرک ذات سے جدا نہیں ہے بلکہ متحرک اور حرکت کرنے والا نفس اپنی ذات کے باطن میں حرکت کرتا ہے اور مسیر کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے_ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر حرکت کے لئے کوئی غایت غرض ہوتی ہے_ انسان کی ذات کی حرکت کی غرض اور غایت کیا ہے؟ انسان اس جہان میں کس غرض اور غایت کی طرف حرکت کرتا ہے اور اس حرکت میں اس کا انجام کیا ہوگا؟

روایات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی حرکت کی جو غرض معین کی گئی ہے وہ قرب الہی ہے لیکن تمام انسان صراط مستقیم پر نہیں چلتے اور قرب الہی تک نہیں پہنچتے _ قرآن انسانوں کو تین گروہ میں تقسیم کرتا ہے_ ۱_ اصحاب میمنہ_ ۲_ اصحاب مشئمہ_ ۳_ سابقو کے جنہیں مقربین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے_ قرآن مجید میں آیا ہے کہ '' تم انسان تین گروہ ہو_ اصحاب میمنہ آپ کیا جانتے ہیں کہ اصحاب میمنہ کون اشخاص ہیں؟ اصحاب مشئمہ اور آپ کیا جانتے ہیں کہ وہ کون اشخاص ہیں ؟ بہشت کی طرف سبقت کرنے والے اور اللہ تعالی کی رحمت کو حاصل کرنے کے لئے بھی سبقت کرتے ہیں یہ وہ اشخاص ہیں جو خدا کے مقرب بندے ہیں ور بہشت نعیم میں سکونت رکھیں گے_''(۳۳۱)

اصحاب میمنہ یعنی سعادت مند حضرات اور اصحاب مشئمہ یعنی اہل شقاوت اور بدبخت_ اور سابقین وہ حضرات ہیں کہ جو صراط مستقیم کو طے کرنے میں دوسروں پر سبقت کرتے ہیں اور قرب الہی کے مقام تک پہنچتے ہیں_ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حرکت نفس کی غرض اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا ہے_ خدا ایک اور آیت میں فرماتا ہے _ '' اگر خدا کے مقربین سے ہوا تو قیامت کے دن آرام والی بہشت اور نعمت الہی سے جو خدا کا عطیہ ہے استفادہ کرے گا_ اور اگر اصحاب یمین سے ہوا تو ان کی طرف سے تم پر سلام ہے اور اگر منکر اور گمراہوں سے ہوا تو اس پر دوزخ کا گرم پانی ڈالا جائیگا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا_(۳۳۲)


نیز ایک اور آیت میں ہے کہ '' اس طرح نہیں ہے کہ کافرون نے گمان کیا ہوا ہے یقینا ابرار اور نیک لوگوں کا دفتر اور کتاب (اور جو کچھ اس میں موجود ہے) علین یعنی اعلی درجات میں ہے آپ کیا جانتے ہیں کہ علین کیا چیز ہے وہ ایک کتاب ہے جو خدا کی طرف سے ہوا کرتی ہے اور اللہ کے مقرب اس مقام کا مشاہدہ کریںگے_(۳۳۳) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا انتہائی کمال اور اسکے سیر اور حرکت کی غرض اور غایت اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا ہے تا کہ انسان حرکت کر کے اس مقام تک جا پہنچیں لہذا مقربین کا گروہ سعادتمندوں میں سے ایک ممتاز گروہ ہے قرآن مجید میں آیا ہے کہ '' جب ملائکہ نے کہا اے مریم خداوند عالم نے تجھے ایک کلمہ کی جو خداوند عالم کی طرف سے ہے یعنی عیسی بن مریم کی بشارت دی ہے کہ جو دنیا اور آخرت میں خدا کے نزدیک عزت والا اور اس کے مقرب بندوں میں سے ہے_(۳۳۴)

ان آیات اور روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے لائق اور ممتاز بندے کہ جنہوں نے ایمان اور نیک اعمال میں دوسروں پر سبقت حاصل کرلی ہے بہت ہی اعلی جگہ پر سکونت کریں گے کہ جسے قرب الہی کا مقام بتلایا گیا ہے اور شہداء بھی اسی مقام میں رہیں گے_ قرآن مجید میں آیا ہے کہ '' جو راہ خدا میں مارے گئے ہیں ان کے بارے میں یہ گمان نہ کر کہ وہ مرگئے ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں روزی پاتے ہیں_(۳۳۵)

لہذا انسان کا انتہائی اور آخری کمال خداوند عالم کا قرب حاصل کرنا ہوتاہے_

قرب خدا کا معنی

یہ معلوم کیا جائے کہ خدا کے قرب کا مطلب اور معنی کیا ہے؟ اور کس طرح تصور کیا جائے کہ انسان خدا کے نزدیک ہوجائے_ قرب کے معنی نزدیک ہونے کے ہیں اور کسی کے نزدیک ہونے کو تین معنی میں استعمال کیا جاتا ہے_

قرب مکان

دو موجود جب ایک دوسرے کے نزدیک ہوں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک


دوسرے کے قریب ہیں_

قرب زمانی

جب دو چیزیں ایک زمانے میں ایک دوسرے کے نزدیک ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب اور ہمعصر ہیں_ اور یہ واضح ہے کہ بندوں کا خدا کے نزدیک اور قریب ہونا ان دونوں معنی میں نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا کسی مکان اور زمانے میں موجود نہیں ہوا تھا تا کہ کوئی چیز اس مکان اور زمان کے لحاظ سے خدا کے قریب اور نزدیک کہی جائے بلکہ خدا تو زمانے اور مکان کا خالق ہے اور ان پر محیط ہے

قرب مجازی

کبھی کہا جاتا ہے کہ فلان شخص فلان شخص کے قریب اور نزدیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلان کا احترام او ربط اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی خواہش کو وہ بجالاتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ اسے انجام دے دیتا ہے اس طرح کی نزدیکی اور قرب کو مجازی اور اعتباری اور تشریفاتی قرب اور نزدیکی کہا جاتا ہے یہ قرب حقیقی نہیں ہوا کرتا بلکہ مورد احترام قرا ردینے والے شخص کو اس کا نزدیک اور قریبی مجازی لحاظ سے کہا جاتا ہے_ کیا اللہ کے بندوں کو خدا سے اس معنی کے لحاظ سے قریبی اور نزدیکی قرار ددیا جا سکتا ہے؟ آیا خدا سے قرب اس معنی میں ہو سکتا ہے یا نہ؟

یہ مطلب ٹھیک ہے کہ خدا اپنے لائق بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان سے علاقمند ہے اور ان کی خواہشات کو پورا بھی کرتا ہے لیکن پھر بھی بندے کا قرب خدا سے اس معنی میں مراد نہیں لیا جا سکتا_ کیونکہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے کہ علوم عقلیہ اور آیات اور روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان کی حرکت ذاتی اور اس کا صراط مستقیم پر چلنا اور مسیر ایک امر واقعی ہے نہ کہ امر اعتباری اور تشریفاتی خدا کی طرف رجوع کرنا کہ جس کے لئے اتنی آیات اور روایات وارد ہوئی ہیں ایک حقیقت فرماتا ہے_ ''اے نفس مطمئن تو اللہ تعالی کی طرف رجوع کر اس حالت میں کہ جب اللہ تعالی


تجھ سے راضی ہے اور تو اللہ تعالی سے راضی ہے_(۳۳۶)

نیز فرماتا ہے ''جس نے نیک عمل انجام دیا اس کا فائدہ اسے پہنچے گا اور جس نے برا عمل انجام دیا اس کا نقصان اسے پہنچے گا اس وقت سب اللہ کی طرف پلٹ آؤ گے_(۳۳۷)

خدا فرماتا ہے '' جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کا ملک ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے_(۳۳۸)

بہرحال اللہ تعالی کی طرف رجوع اور صراط مستقیم اور سبیل اللہ اور نفس کا کامل ہونا یہ ایسے امور ہیں جو واقعی ہیں نہ اعتباری اور تشریفاتی_ انسان کا خدا کی طرف حرکت کرنا ایک اختیاری اور جانی ہوئی حرکت ہے کہ جس کا نتیجہ مرنے کے بعد جا معلوم ہوگا_ وجود میں آنے کے بعد یہ حرکت شروع ہوجاتی ہے اور موت تک چلی جاتی ہے لہذا خدا سے قرب ایک حقیقی چیز ہے_ اللہ تعالی کے لائق بندے واقعا اللہ تعالی کے نزدیک ہوجاتے ہیں اور گناہنگار اور نالائق اللہ تعالی سے دور ہوجاتے ہیں لہذا غور کرنا چاہئے کہ خدا سے قرب کے کیا معنی ہیں؟

خدا سے قرب وہ قرب نہیں کہ جو متعارف اور جانا پہچانا ہوا ہوتا ہے بلکہ ایک علیحدہ قسم ہے کہ جسے قرب کمالی اور وجودی درجے کا نام دیا جاتا ہے _ اس مطلب کے واضح ہونے کے لئے ایک تمہید کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے _ فلسفہ اسلام اور کتب فلسفہ میں یہ مطلب پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ وجود اور ہستی ایک حقیقت مشکک ہے کہ جس کے کئی درجات اور مراتب ہیں_ وجود بجلی کی روشنی اور نور کی طرح ہے جیسے نور کے کئی درجے زیادہ اور کم ہوتے ہیں ایک درجہ مثلا کمتر ایک ولٹ بجلی کا ہے کہ جس میں روشنی تھوڑی ہوتی ہے اور اس کے اوپر چلے جایئےہ زیادہ سے زیادہ درجے پائے جاتے ہیں یہ تمام کے تمام نور اور روشنی کے وجود ہیں اور درجات ہیں کمتر اور اعلی درجے کے درمیاں کے درجات ہیں جو سب کے سب نور ہیں ان میں فرق صرف شدت اور ضعف کا ہوتا ہے بعینہ اس طرح وجود اور ہستی کے مختلف مراتب اور


درجات ہیں کہ جن میں فرق صرف شدت اور ضعف کا ہوتا ہے _ وجود کا سب سے نیچا اور پشت درجہ اسی دنیا کے وجود کا درجہ ہے کہ جسے مادہ اور طبیعت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وجود کا اعلی ترین درجہ اور رتبہ ذات مقدس خدا کا وجود ہے کہ جو ذات مقدس کمال وجود کے لحاظ سے غیر متناہی ہے ان دو مرتبوں اور درجوں کے درمیان وجود کے درجات اور مراتب موجود ہیں کہ جن کا آپس میں فرق شدت اور ضعف کا ہے_ یہیں سے واضح اور روشن ہوجائیگا کہ جتنا وجود قوی تر اور اس کا درجہ بالاتر اور کاملتر ہوگا وہ اسی نسبت سے ذات مقدس غیر متناہی خدائے متعال سے نزدیک تر ہوتا جائیگا اس کے برعکس وجود جتنا ضعیف تر ہوتا جائیگا اتنا ہی ذات مقدس کے وجود سے دور تر ہو جائیگا اس تمہید کے بعد بندہ کا اللہ تعالی سے قرب اور دور ہونے کا معنی واضح ہوجاتا ہے_ انسان روح کے لحاظ سے ایک مجرد حقیقت ہے جو کام کرنے کے اعتبار سے اس کا تعلق مادہ اور طبیعت سے ہے کہ جس کے ذریعے حرکت کرتا ہے اور کامل سے کاملتر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے انتہائی درجے تک جا پہنچتا ہے_ حرکت کی ابتداء سے لے کر مقصد تک پہنچنے کے لئے وہ ایک شخص اور حقیقت ہی ہوا کرتا ہے_ لیکن جتنا زیادہ کمال حاصل کرتا جائیگا اور وجود کے مراتب پر سیر کرے گا وہ اسی نسبت سے ذات الہی کے وجود غیر متناہی کے نزدیک ہوتا جائیگا_ انسان ایمان اور نیک اعمال کے ذریعے اپنے وجود کو کامل کاملتر بنا سکتا ہے یہاں تک کہ وہ قرب الہی کے مقام تک پہنچ جائے اور منبع ہستی اور چشمہ کمال اور جمال کے فیوضات کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر لے اور خود بھی بہت سے آثار کا منبع اور سرچشمہ بن جائے _ اس توضیح کے بعد واضح ہوگیا کہ انسان کی حرکت اور بلند پروازی ایک غیر متناہی مقصد کی طرف ہوتی ہے ہر آدمی اپنی کوشش اور تلاش کے ذریعے کسی نہ کسی قرب الہی کے مرتبے تک پہنچ جاتا ہے یعنی اللہ تعالی کے قرب کے مقام کی کوئی خاص حد اور انتہا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کے مقام قرب کی حقیقت کے کئی مراتب اور درجات ہیں_ قرب ایک اضافی امر ہے کہ انسان جتنی زیادہ محنت اور عمل کرے گا ایک اعلی مقام اور اس سے اعلی مقام تک پہنچتا جائیگا اور ذات اللہ کے فیوضات اور برکات سے زیادہ سے زیادہ بہرمند ہوتا جائیگا_


کمالات انسان کی بنیاد ایمان ہے

نفس انسانی کے کمالات تک پہنچنے اور ذات الہی کے قرب کی طرف حرکت کرنے کی اساس اور بنیاد ایمان اور معرفت ہے ایک کمال تک پہنچنے والے انسان کو اپنے مقصد اور حرکت کی غرض و غایت کو اپنے سامنے واضح رکھنا چاہئے اور اسے معلوم ہو کہ وہ کدھر اور کہاں جانا چاہتا ہے اور کس طریقے اور راستے سے وہ حرکت کرے ورنہ وہ مقصد تک نہیں پہنچ سکے گا_ اللہ تعالی پر ایمان اس کی حرکت کی سمت کو بتلاتا ہے اور اس کے مقصد اور غرض کو واضح کرتا ہے_ جو لوگ خدا پر ایمان نہ رکھتے ہونگے وہ صراط مستقیم کے طے کرنے سے عاجز اور ناتواں ہونگے_ خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ '' جو لوگ اللہ تعالی اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ سیدھے راستے سے منحرف ہیں_(۳۳۹)

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے بلکہ وہ لوگ کہ جو آخرت کے عالم پر ایمان نہیں رکھتے وہ کمال کے عالم سے دور ہوا کرتے اور صرف مادیات اور اپنے نفس کی حیوانی خواہشات کے پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں_(۳۴۰) اسی لئے اس کا مقصد اور غرض سوائے مادی جہان کے اور کچھ نہیں ہوتا وہ کمال کے راستے پر ہی نہیں ہے تا کہ قرب الہی تک پہنچنے کا اس کے لئے کوئی امکان باقی ہو اس کے حرکت کی سمت صرف دنیا ہے اور انسانیت کے صراط مستقیم کے مرتبے سے دور ہوچکا ہے اگر کافر کوئی اچھا کام بھی کرے تو وہ اس


کے نفس کے کامل ہونے اور قرب تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں بن سکے گا اس واسطے کہ اس نے اس کام کو خدا اور اس سے قرب حاصل کرنے کے لئے انجام نہیں دیا ہے بلکہ اس کا مقصد دنیا کے لئے اسے انجام دینا تھا کہ جس کا نتیجہ اسے اسی دنیا میں مل جائے گا اور قیامت کے دن اس کے لئے کوئی اثر نہیں رکھتا ہوگا_

خدا قرآن میں فرماتا ہے _ '' ان لوگوں کی مثال جو اپنے پروردگار کے کافر ہوئے ہیں ان کے اعمال خاکستر اور راکھ کی طرح ہیں کہ جو ان میں سخت اندھیری کے خطرے سے دو چار ہوں اور ادھر ادھر بکھر جائیں اور جسے انہوں نے کمایا ہے اس کی حفاظت کرنے پر قدرت نہیں رکھتے یہی نجات کے راستے سے گمراہ اور دور ہیں_(۳۴۱)

بہرحال اعمال کی بنیاد اور اساس ایمان ہے اور ایمان ہی عمل کو ارزش اور قیمت دیتا ہے اگر مومن کی روح ایمان اور توحید سے مخلوط ہوئی تو وہ نورانی ہوجائیگی اور خدا کی طرف صعود اور رجوع کرے گی اور پھر نیک عمل بھی اس کی مدد کرے گا_ قرآن مجید میں ہے '' جو شخص عزت کا طلبکار تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ تمام عزت خدا کے پاس ہے_ توحید کا اچھا کلمہ خدا کی طرف بلند ہوتا ہے اور نیک عمل اسے اوپر لے جاتا ہے_(۳۴۲)

نیک عمل انسان کی روح کو بلندی پر لے جاتا ہے اور قرب الہی کے مقام تک پہنچا دیتا ہے اور پاک و پاکیزہ اور خوشمنا زندگی اس کے لئے فراہم کرتا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ ایمان رکھتا ہو_ بغیر ایمان کے روح تا ریک اور ظلمانی ہے اور قرب الہی اور پاک و پاکیزہ زندگی کی لیاقت نہیں رکھتی قرآن مجید میں ہے_ ''جو بھی نیک عمل انجام دے خواہ مرد ہو یا عورت ایسی حالت میں کہ ایمان رکھتا ہو ہم اسے پاک و پاکیزہ زندگی کے لئے زندہ کریں گے_(۳۴۳)

لہذا کمال حاصل کرنے والے انسان کو پہلے اپنے ایمان کو قوی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ جتنا اس کا ایمان قوی تر ہوگا اتنا ہی وہ قوی درجات کمال کو حاصل کر سکے گا_ قرآن فرماتا ہے کہ '' خدا تم میں سے جو ایمان رکھتا ہوا سے بالا اور بلند لے جاتا


ہے اور ان کو جو علم رکھتے ہوں بلند کرتا ہے خدا اس سے کو جو تم انجام دیتے ہو عالم اور آگاہ ہے_(۳۴۴)


تکامل اور قرب حاصل کرنیکے اسباب

نفس کی تکمیل اور قرب خدا کئی ایک وسیلے اور ذریعے سے حاصل کیا جا سکتا ہے کہ ان میں مہم ترین کی طرف ہم اشارہ کریں گی_

۱_ ذکر خدا_ ۲_ فضائل اور مکارم اخلاق کی تربیت_ ۳ _ نیک عمل_ ۴_ جہاد اور شہادت_ ۵_ احسان اور خدمت خلق خدا_ ۶_ دعا_ ۷_ روزہ_ کہ ان تمام کو یہا_ں بیان کریں گے_

پہلا وسیلہ

ذکر خدا

ذکر کو نفس کی اندرونی اور باطنی قرب الہی کی طرف حرکت کرنے کا نقطہ آغاز جانتا چاہئے_ قرب کی طرف حرکت کرنے والا انسان ذکر کے ذریعے مادی دنیا سے بالاتر ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ عالم صفا اور نورانیت میں قدم رکھتا ہے اور کامل سے کامل


تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے قرب کا مقام حاصل کر لیتا ہے _ اللہ تعالی کی یاد اور ذکر عبادات کی روح اور احکام کے تشریع کرنے کی بزرگترین غرض اور غایت ہے_ اور ہر عبادت کی قدر و قیمت اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنے کیوجہ سے ہوا کرتی ہے_ آیات اور احادیث میں اللہ کے ذکر اور یاد کی بہت زیادہ سفارش کی گئی ہے_ جیسے قرآن مجید میں ہے کہ '' جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ اللہ کے ذکر کو بہت زیادہ کرتے ہیں_(۳۴۵)

نیز فرماتا ہے کہ '' عقلمند وہ انسان ہیں کہ جو قیام و قعود یعنی اٹھتے بیٹھتے ہوتے جاگتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمان کی خلقت میں فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں_ اے پروردگار اس عظیم خلقت کو تو نے بیہودہ اور بیکار پیدا نہیں کیا تو پاک اور پاکیزہ ہے ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھنا_(۳۴۶)

خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور اللہ تعالی کو یاد کیا اور نماز پڑھی وہی نجات پاگیا_(۳۴۷) خدا فرماتا ہے _ اپنے پروردگار کا نام صبح اور شام لیا کرو_(۳۴۸)

نیز فرمایا هے که اپنے خالق کو زیاده یاد کیاگر اور اس کی صبح اور شام تسبیح کیالر _(۲۴۹)

اور نیز فرمایا ہے کہ '' جب تم نے نماز پڑھ لی ہو تو خدا کو قیام او رقعود اور سونے کے وقت یاد کیا کر_(۳۵۰)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص اللہ تعالی کا ذکر زیادہ کرے خدا اسے بہشت میں اپنے لئے لطف و کرم کے سائے میں قرار دے گا_(۳۵۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ '' جتنا ہو سکتا ہے خدا کو یاد کیا کرو_ دن اور رات کے ہر وقت میں_ کیونکہ خداوند عالم نے تمہیں زیادہ یاد کرنے کا حکم دیا ہے_ خدا اس مومن کو یاد کرتا ہے جو اسے یاد کرے اور جان لو کہ کوئی مومن بندہ خدا کو یاد نہیں کرتا مگر خدا بھی اسے اچھائی میں یاد کرتا ہے_(۳۵۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خداوند عالم نے حضرت موسی علیہ السلام کو فرمایا کہ دن اور رات میں مجھے زیادہ یا د کیا اور ذکر کرتے وقت خشوع اور


خضوع کرنے والا اور مصیبت کے وقت صبر کرنے والا اور مجھے یاد کرنے کے وقت آرام اور سکون میں ہوا کر_ میری عبادت کر اور میرا شریک قرار نہ دے تم تمام کی برگشت اور لوٹنا میری طرف ہی ہوگا_ اے موسی مجھے اپنا ذخیرہ بنا اور نیک اعمال کے خزانے میرے سپرد کر_(۳۵۲)

ایک اور جگہ امام جعفر صادق نے فرمایا ہے کہ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی حد اور انتہا ہوتی ہے مگر خدا کے ذکر کے لئے کوئی حد اور انتہا نہیں ہے_ خدا کی طرف سے جو واجبات ہیں _ ان کے بجالانے کی حد ہے_ رمضان المبارک کا روزہ محدود ہے_ حج بھی محدود ہے کہ جسے اس کے موسوم میں بجالانے سے ختم ہوجاتا ہے_ مگر اللہ کے ذکر کے لئے کوئی حد نہیں ہے اور اللہ تعالی نے تھوڑے ذکر کرنے پر اکتفاء نہیں کی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی_

یا ایہا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکر کثیرا و سبحوہ بکرة و اصیلا_ ایمان والو اللہ تعالی کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو اور اس کی صبح اور شام تسبیح کیا کرو_ اللہ تعالی نے اس آیت میں ذکر کے لئے کوئی مقدار اور حد معین نہیں کی آپ نے اس کی بعد فرمایا کہ میرے والد بہت زیادہ ذکر کیا کرتے تھے_ میں آپ کے ساتھ راستے میں جا رہا تھا_ تو آپ ذکر الہی میں مشغول تھے اگر آپ کے ساتھ کھانا کھاتا تھا تو آپ ذکر الہی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ لوگوں کے ساتھ بات کر رہے ہوتے تھے تو اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہوتے تھے اور میں دیکھ رہا ہوتا تھا کہ آپ کی زبان مبارک آپ کے دھن مبارک کے اندر ہوتی تھی تو آپ لا الہ الا اللہ فرما رہے ہوتے تھے_ صبح کی نماز کے بعد ہمیں اکٹھا بٹھا دیتے اور حکم دیتے کہ دن نکلتے تک ذکر الہی کرو_ اور پھر آپ نے فرمایا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ کیا میں تمہیں بہترین عمل کی خبر نہ دوں جوہر عمل سے پہلے تمہارے درجات کو بلند کر دے ؟ اور خدا کے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ پاکیزہ اور پسندیدہ ہو؟ اور تمہارے لئے در ہم اور دینار سے بہتر ہو یہاں تک کہ خدا کی راہ میں جہاد سے بھی افضال ہو؟ عرض


کیا یا رسول اللہ _ ضرور فرمایئےآپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا ذکر زیادہ کیا کرو پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک آدمی نے رسول خدا کی خدمت میں عرض کی کہ مسجد والوں میں سب سے زیادہ بہتر کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جو دوسروں سے زیادہ اللہ تعالی کا ذکر کرے_ پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص ذکر کرنے والی زبان رکھتا ہو اس کو دنیا اور آخرت کی خیر عطاء کی جا چکی ہے_(۳۵۴)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ '' قرآن کی تلاوت کر اور اللہ تعالی کا ذکر بہت زیادہ کر تیرے لئے ذکر کا اجز آسمان میں ہوگا اور زمین میں تیرے لئے نور ہوگا_(۳۵۵)

امام حسن علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کیا ہے کہ '' آپ نے فرمایا ہے کہ جنت کے باغات کی طرف سبقت اور جلدی کرو اصحاب نے عرض کیا کہ بہشت کے باغ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ذکر کے حلقے اور دائرے_(۳۵۶)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو غافل لوگوں میں اللہ تعالی کے فکر کرنے والا ہو تو گویا وہ جہاد سے بھاگنے والوں کے درمیان مجاہد ہے اور اس طرح کے مجاہد کے لئے بہشت واجب ہے_(۳۵۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا ہے کہ '' بہشت کہ باغوں سے استفادہ کرو_ عرض کیا گیا_ یا رسول اللہ _ بہشت کے باغ کیا ہیں؟ آپ(ص) نے فرمایا کہ ذکر کی مجالس_ صبح شام اللہ کا ذکر کرو_ جو شخص چاہتا ہے کہ خدا کے ہاں اپنی قدر اور منزل معلوم کرے تو دیکھے کہ خدا کی قدر اور منزلت اس کے نزدیک کیا ہے کیونکہ خدا اپنے بندے کو اس مقام تک پہنچاتا ہے کہ جس مقام کو بندے نے خدا کے لئے اختیار کر رکھا ہے اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے بہترین عمل خدا کے نزدیک اور اعمال میں پاکیزہ ترین عمل جوہر ایک عمل سے بہتر ہو اور تمہارے درجات کو بلند کرے اور تمہارے لئے اس سے بہتر ہو کہ جس پر سورج چمکتا ہے وہ اللہ تعالی کا ذکر ہے_(۳۵۸)


یہ آیات اور روایات کہ جو بطور نمونہ ذکر ہوتی ہیں ان سے ذکر الہی کی قدر اور قیمت کو آپ نے معلوم کر لیا ہے_ اب یہ دیکھا جائے کہ ذکر خدا سے مراد کیا ہے؟

ذکر خدا کا مراد

یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر عبادت میں سے ایک بڑی عبادت ہے اور نفس کے پاک و پاکیزہ اور اس کی تکمیل اور سیر و سلوک الی اللہ کا بہترین وسیلہ ہے اب دیکھیں کہ ذکر خدا سے جو آیات اور روایات میں وارد ہوا ہے کیا مراد ہے_ کیا اس سے مراد یہی لفظی ذکر مثل سبحان و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ یا اس سے مراد کوئی اور چیز ہے؟ کیا یہ الفاظ بغیر باطنی توجہ کے اتنا بڑا اثر رکھتے ہیں یا نہ؟

لغت میں ذکر کے معنی لفظی ذکر کے بھی آئے ہیں کہ جو زبان سے کئے جاتے ہیں اور توجہ قلب اور حضور باطن کے معنی بھی آئے ہیں احادیث میں بھی ذکر ان دو معنوں میں استعمال ہوا ہے_ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے مناجات کرتے وقت عرض کی کہ '' اے خالق_ اس کی جزاء اور ثواب کہ جس نے تجھے زبان اور دل میں یاد کیا ہو کیا ہے؟ جواب آیا اے موسی(ع) میں اسے قیامت میں عرش کے سایہ اور اپنی پناہ میں قرار دونگا_) ۳۵۹) '' اس حدیث کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس میں ذکر لفظی جو زبان پر ہوتا ہے اور قلبی ذکر دونوں میں استعمال ہوا ہے اور دوسری بہت سی روایات موجود ہیں کہ جن میں ذکر ان دونوں میں استعمال ہوا ہے لیکن غالبا اور اکثر ذکر کو توجہ قلبی اور حضور باطنی میں استعمال کیا گیا ہے اور حقیقی اور کامل ذکر ابھی یہی ہوا کرتا ہے_ خدا کے ذکر سے مراد ایک ایسی حالت ہے کہ خدا کو روح کے لحاظ سے دیکھ رہا ہو اور باطن میں جہاں کے خالق کی طرف اس طرح متوجہ ہو کہ خدا کو حاضر اور ناظر جانے اور اپنے آپ کو خدا کے سامنے جانے جو شخص اس طرح کی حالت میں خدا کو یاد کرتا ہو تو و ہ اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرے گا اور واجبات کو بجالائیگا اور حرام چیزوں کو ترک کرے گا_ اس معنی کے لحاظ سے اللہ کا ذکر آسان ہے_ امام جعفر صادق


علیہ السلام نے فرمایا ہے '' سب سے مشکل ترین عمل کہ جو ہر شخص سے نہیں ہو سکتا_ تین ہیں اپنے آپ سے لوگوں کو اس طرح انصاف دینا اور عدل کرنا کہ را ضی نہ ہو دوسروں کے لئے وہ چیز کہ جس کو وہ خود اپنے لئے پسند نہیں کرتا_

۲_ مومن بھائی کے ساتھ مال میں مساوات اور غمگساری کرنا_ ۳_ ہر حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کرنا_

ذکر سے فقط سبحا ن اللہ اور لا الہ اللہ مراد نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کا ذکر یہ ہے کہ جب کوئی واجب کام سامنے آئے تو اسے بجالائے اور جب حرام کام سامنے ائے تو اسے ترک کرے_( ۳۶۰)

رسولخدا نے فرمایا کہ '' تین چیزیں ایسی ہیں جو اس امت کے لئے بلند و بالا اور مشکل ہیں_ ۱_ مومن بھائی کے ساتھ مال میں مساوات اور برابری اور غمگساری_ ۲_ اپنے آپ سے لوگوں کو انصاف دینا_ ۳_ تمام حالات میں خدا کا ذکر_ یہاں ذکر سے مراد سبحان اللہ اور لا الہ الا اللہ نہیں ہے بلکہ ذکر سے مراد انسان کا خدا کو اس طرح یاد کرنا ہے کہ جب کوئی حرام کام سامنے آئے تو خدا سے ڈرے اور اسے ترک کردے_(۳۶۱)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خدا کا سہو اور غفلت میں ذکر نہ کر اور اسے فراموش نہ کر_ اللہ تعالی کا کامل ذکر اس طرح کر کہ تیرا دل اور زبان ایک دوسرے کے ہمراہ ہوں تیرا باطن اور ظاہر ایکدوسرے کے مطابق ہو تو اللہ تعالی کا حقیقی ذکر سوائے اس حالت کے نہیں کرسکتا مگر تب جب کہ تو ذکر کی حالت میں اپنے نفس کو فراموش کردے اور بالاخرہ تو اپنے آپ کو نہ پائے_(۳۶۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے جو شخص حقیقتاً اللہ تعالی کی یاد میں ہو گاہ وہ اللہ کا مطیع اور فرمانبردار ہوگا جو شخص اللہ سے غافل ہوگا وہ اللہ کی معصیت اور نافرمانی کرے گا_ اللہ تعالی کی اطاعت ہدایت کی علامت ہے اور اللہ تعالی کی نافرمانی گمراہی کی نشانی ہے_ ذکر اور غفلت معصیت اور اطاعت کی بنیاد میں ہے_ ''

لہذا اپنے دل کو قبلہ قرار دے اور زبان کو سوائے دل کے حکم اور عقل اور


رضا الہی کی موافقت کے حرکت نہ دے کیونکہ اللہ تیرے باطن ظاہر سے آگاہ ہے اس شخص کی طرح ہو کہ جس کی روح قبض ہو رہی یا اس شخص کی طرح جو اعمال کے حساب دینے میں اللہ تعالی کے حضور کھڑا ہے_ اپنے نفس کو سوائے الہی احکام کے جو تیرے لئے بہت اہم ہیں_ یعنی اوامر اور نواہی الہی اور اس کے وعدے اور عہد کے علاوہ کسی میں مشغول نہ کر حزن اور ملال کے پانی سے اپنے دل کو دھوئے اور پاک و پاکیزہ کرے_ جب کہ خدا تجھے یاد کرتا ہے تو تو بھی خدا کو یاد کر کیونکہ خدا نے تجھے اس حالت میں یاد کیا کہ وہ تجھ سے بے نیاز ہے اسی لئے خدا کا تجھے یاد کرنا زیادہ ارزش اور قیمت رکھتا ہے اور زیادہ لذیذ اور کاملتر ہے اور تیرے یاد کرنے سے بہت پہلے ہے_

تیری اللہ تعالی کی صفت اور اس کا ذکر تیرے لئے خضوع اور حیاء اور اس کے سامنے تواضع کا موجب ہوگا اور اس کا نتیجہ اس کے فضل اور کرم کا مشاہدہ ہے اس حالت میں اگر تیری اطاعت زیادہ بھی ہوئی تو وہ اللہ تعالی کے عطاء کے مقابلے میں کم ہوگی لہذا اپنے اعمال کو صرف خدا کے لئے بجالا_ اگر اپنے خدا کے ذکر کرنے کو بڑا سمجھے تو یہ ریا اور خودپسندی جہالت اور لوگوں سے بداخلاقی اپنی عبادت کو بڑا قرار دینے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے غفلت کا موجب ہوگا_ اس طرح کا ذکر سوائے اللہ تعالی سے دور ہونے کے اور کوئی ثمر اور نتیجہ نہیں دے گا اور زمانے کے گذرجانے سے سوائے غم اور اندوہ کے کوئی اور اثر نہیں رکھے گا_ اللہ تعالی کا ذکر دو قسم پر تقسیم ہوجاتا ہے_ ایک خالص ذکر کہ جس میں دل بھی ہمراہی کر رہا ہو_ دوسرا وہ ذکر جو غیر خدا کی یاد کی نفس کردیتا ہو جیسے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں تیری مدح نہیں کرسکتا تو اس طرح ہے کہ جس طرح تو نے اپنی صفت خود بیان کی ہے_

لہذا رسول خدا نے اپنے ذکر کی کوئی وقعت اور ارزش قرار نہیں دی کیونکہ اس مطلب کی طرف متوجہ تھے کہ بندے کا خدا کے ذ کر کرنے پر اللہ تعالی کا بندے کا ذکر


کرنا مقدم ہے لہذا وہ لوگ جو رسول خدا(ص) سے کمتر ہیں وہ اپنے اللہ کے ذکر کو ناچیز اور معمولی قرار دینے کے زیادہ سزاوار ہیں لہذا جو شخص اللہ تعالی کا ذکر کرنا چاہتا ہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جب تک اللہ اسے توفیق نہ دے اور خود بندے کو یاد نہ کرے وہ اللہ کے ذکر کرنے پر قدرت نہیں رکھے سکتا_(۳۶۳)

جیسے کہ ملاحظہ کر رہے ہیں ان روایات میں قلبی توجہ اور باطنی حضور کو ذکر کرنے کا مصداق بتلایا گیا ہے نہ صرف قلبی خطور اور بے اثر ذہنی تصور کو بلکہ باطنی حضور جو یہ اثر دکھلائے کہ جس کی علامتوں میں سے اوامر اور نواہی الہی کی اطاعت کو علامت قرار دیا گیا ہے لیکن یہ اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ لفظی اور زبانی ذکر و اذکارش لا الہ الا اللہ سبحان اللہ الحمد و غیرہ کے اللہ کے حقیقی ذکر کا مصداق نہیں ہیں بلکہ خود یہ کلمات بھی اللہ تعالی کے ذکر کا ایک مرتبہ اور درجہ ہیں علاوہ اس کے کہ یہ اذکار بھی قلب اور دل سے پھوٹتے ہیں_

جو شخص ان لفظی اذکار کو زبان پر جاری کرتا ہے وہ بھی دل میں گرچہ کم ہی کیوں نہ ہو خدا کی طرف توجہ رکھتا ہے اس لئے کہ وہ خدا کی طرف توجہ رکھتا تھا تب ہی تو اس نے ان اذکار کو زبان پر جاری کیا ہے_ اسلام کی نگاہ میں ان کلمات اور اذکار کا کہنا بھی مطلوب ہے اور ثواب رکھتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ قصد قربت سے ہوں جیسے کہ ظاہری نماز انہیں الفاظ اور حرکات کا نام ہے کہ جس کے بجالانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے گرچہ نماز کی روح قلب کا حضور اور باطنی توجہ ہے_

ذکر کے مراتب

ذکر کے لئے کئی ایک مراتب اور درجات ہیں کہ سب سے کمتر مرتبہ اور درجہ لفظی اور ززبانی ذکر سے شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ انقطاع کامل اور شہود اور فتا تک جا پہنچتا ہے_


پہلا درجہ

پہلے درجے میں چونکہ ذکر کرنے والا خدا کی طرف توجہ کرتا ہے اور قصد قربت سے خاص اور مخصوص زبان پر بغیر معانی سمجھے اور متوجہہ ہوئے جار ی کردیتا ہے_

دوسرا درجہ _

قصد قربت سے ذکر کرتا ہے اور ذکر کرنے کی حالت میں ان کے معانی کو بھی ذہن میں خطور دیتا ہے_

تیسرا درجہ

زبان قلب کی پیروی کرتی ہے اور ذکر کہتی ہے اس معنی میں کہ جب دل خدا کی طرف توجہہ کرتا ہے اور اپنے باطن ذات میں ان اذکار کے معانی پر ایمان رکھتا ہے تو پھر وہ زبان کو حکم دیتا ہے کہ وہ خدا کا ذکر شروع کردے_

چوتھا درجہ

خدا کی طرف رجوع کرنے والا انسان خالق جہان کے بارے میں حضور قلبی اور توجہ کامل رکھتا ہے اور اسے حاضر اور ناظر اور اپنے آپ کو اس ذات کے سامنے حاضر دیکھتا ہے_ خدا کی طرف رجوع کرنے والے انسان اس حالت میں درجات رکھتے ہیں اور مختلف ہوتے ہیں بعض کاملتر ہیں جتنی مقدار غیر خدا سے قطع قطع کرے گا اتنی ہی مقدار خدا سے مانوس اور اس سے علاقمند ہوگا یہاں تک کہ انقلاع کامل اور لقاء اور فتاء کی حد تک پہنچ جائیگا_ اس درجے میں خدا کی طرف رجوع کرنے والا انسان اعلی ترین درجے پر ہوتا ہے_ اس کے سامنے دنیا کے حجاب اٹھ جاتے ہیں_ اور غیر حقیقی اور مجازی علاقہ اور ربط اس نے ختم کردیئے ہوتے ہیں اور خیرات اور کمال کے مرکز سے متصل ہوجاتا ہے لہذا اس کے سامنے تمام چیزیں یہاں تک کہ وہ اپنی ذات کو کبھی


چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع کرتا ہے_ غیر خدا سے قطع روابط رکھتا ہے اور صرف ذات الہی سے اپنی محبت کو مختص کردیتا ہے_ سوائے خدا کے اور کوئی کمال نہیں دیکھتا تا کہ اس سے دل کو لگائے اور وابستہ کرے کسی کو مونس نہیں دیکھتا تا کہ اس سے انس اور محبت کرے_ اس طرح کے خاص بندوں نے عظمت اور جلال و کمال او رخیر اور نور و ایمان کے سرچشمہ کو پالیا ہوتا ہے اور اپنی باطنی آنکھ سے جمال الہی کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں_ یہاں تک کہ ایک لحظہ بھی وہ دنیا کی مجازی چیزوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور انہیں ا پنا دل نہیں دیتے چونکہ وہ کمالات کے منبع تک پہنچ چکے ہیں لہذا ان کی نگاہ میں مجازی اور عارضی کمالات کوئی حیثیت نہیں رکھتے وہ اللہ تعالی کے لقاء اور عشق اور محبت میں جلتے رہتے ہیں اور خدا سے انس اور محبت کی لذت کو دنیاوی چیزوں سے تبادلہ نہیں کرتے اور اگر جہاں کی ظاہری چیزوں کو بھی دیکھتے ہیں تو اس میں بھی نو رجمال الہی اور وجود کامل کی نشانی اور علامت کا عکس مشاہدہ کرتے ہیں_(۳۶۴)

امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' کس طرح تیرے وجود کے ثابت کرنے کے لئے اس چیز سے استدلال کیا جائے کہ جو وہ خود تیری محتاج ہے؟ کیا تیرے غیر کے لئے ظہور ہے جو تیری ذلت کے لئے موجود نہیں ہے تا کہ تو اس کے ظہور کے ذریعے ظاہر کیا جائے؟ کب تو دور تھا تا کہ آثار اور علائم تیرے تک پہنچنے کے اسباب بن سکیں؟ وہ آنکھ اندھی ہے جو تجھے اپنا مراقب اور مشاہدہ کرنے والا نہیں دیکھتی؟ کتنا نقصان میں ہے وہ بندہ کہ جسے تو نے اپنی محبت سے کچھ حصہ نہیں دیا؟_(۳۶۵)

امیرالمومنین علیہ السلام شعبانیہ مناجات میں فرماتے ہیں_ '' اے خدا پوری طرح اپنے میں غرق اور کامل ہونے کو مجھے عطا کر اور میرے دل کی آنکھوں کو اپنے جمال کے نور کے مشاہدہ کرنے کا نور عطا فرما تا کہ میرے دل کی آنکھیں نور کے حجاب کو پار کر کے تیری عظمت تک پہنچ جائیں اور ہماری روحیں تیرے مقام قدس سے جا وصل ہوں_( ۳۶۶)


امام زین العابدین علیہ السلام اس طرح کے خاص بندوں کے حق میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:

'' خدایا تیر ی ثناء اور تعریف جو تیرے لائق اور سزاوار ہے زبان سے بیان کرنے میں وہ تیرے بندے عاجز ہیں تیری ذات کے جمال حقیقت تک پہنچنے سے وہ عاجز ہیں_ تیرے جمال کے انوار کو دیکھنے کی آنکھیں قدرت نہیں رکھتی _ تو اپنے بندوں کے لئے تیری معرفت کے مقام تک پہنچنے کے لئے سوائے عجز کے اظہار کے اور کچھ نہیں رکھا_ خدایا ہمیں ان بندوں سے قرار دے کہ تیرے لقاء کے شوق کا پودا جن کے دلوں میں بویا گیا ہے_ اور محبت کی آتش نے ان کی دلوں کو گھیر رکھا ہے لہذا وہ عالی افکار کے آشیانہ میں اترتے ہیں اور مقام قرب و شہود الہی کے باغات سے نعمتیں حاصل کرتے ہیں اور محبت کے چشمے سے لطف و کرم کے جام پیتے ہیں_ صفا اور محبت اور مودت کے چشمہ میں وارد ہوتے ہیں_ ان کے دل کی آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا ہے اور عقائد میں شک و تردید اور تاریکی ان کے دلوں سے دور ہوگئی ہے اور ان کے دلوں میں شک کا گذر زائل ہوچکا ہے_ تحقیق کے ذریعے ان کے دلوں کی معرفت نے وسعت پیدا کرلی ہے_ اور زہد کی دوڑ لگانے میں ان کی ہمت بلند ہوچکی ہے_ خدا کے ساتھ معاملہ کرنے میں پسندیدہ خاطر ہوتے ہیں اور خدا کے ساتھ انس کی مجلس میں پاکیزہ باطن رکھتے ہیں اور خوف کے مقامات میں امن اور آرام کا راستہ موجود پاتے ہیں اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرنے میں مطمئن نفس رکھتے ہیں_ سعادت اور نجات کے راستے میں یقین کے مرتبہ تک پہنچے ہوئے ہیں_ محبوب کے مشاہدہ کرنے میں ان کی آنکھیں روشن ہیں اور اس کے پانے میں کہ جس کی امید کرتے باطنی آرام اور اطمینان رکھتے ہیں_ دنیا کے معاملات میں آخرت کے لئے فائدہ حاصل کیا_ اے خدا_ تیرے ذکر کے الہام کے تصورات دلوں پر کتنے لذت آور ہوتے ہیں_ اور تیری طرف غیب کے تفکر کے ذریعے آنے میں کتنا مٹھاس اور شرینی ہے_ اور تیری محبت کا طعام کتنا مزے دار ہے_


اور تیرے قرب کا پانی کتنا لذیذ اور خوشگوار ہے_ ہمیں دور کرنے او رنکال دیئےانے سے پناہ دے اور ہمیں مخصوص تر عارف اور اپنے بندوں میں صالح ترین بندہ اور اطاعت کرنے میں صادق ترین اور عبادت کرنے والوں میں خالص ترین عبادت کرنے والا قرار دے_ اے بزرگتر اور عظیم اور کریم اور احسان کرنے والا خدا_ تجھے تیری عطا اور رحمت کی قسم_ اے ارحم الرحمین_''(۳۶۷)

خلاصہ چوتھا مرتبہ اور مقام بہت ہی عالی اور بلند و بالا ہے اور پھر اس کے کئی ایک درجات اور مراتب ہیں جو ذات مقدس واجب الوجود اور کمال و جمال غیر متناہی تک جاتے ہیں_ اہل اللہ اور عارفین کی اصطلاح میں ان کے مختلف نام ہیں جیسے مقام ذکر مقام انس مقام انقطاع مقام محبت، مقام شوق، مقام رضا، مقام خوف، مقام شہود، مقام عین الیقین، مقام حق الیقین، اور آخری مقام جسے مقام فنا نام دیتے ہیں یہ تعبیرات اکثر آیات اور احادیث سے لی گئی ہیں او رہر ایک نام کی کچھ نہ کچھ مناسبت بھی ہے_

جب عارف اور عبادت گذار واجب الوجود ذات الہی کے جمال اور عظمت غیر متناہی کی طرف توجہ کرے اور اس کی محبت اور فیوضات کو سامنے رکھے اور اپنی تقصیر اور ناتوانی اور مقام اعلی تک نہ پہنچنے کی مسافت سے دور ہونے کا احساس کرے تو پھر اس کے دل میں شوق اور عشق سوز اور گداز پیدا ہوتا ہے تو اس کیفیت اور مقام کا نام شوق کا مقام دیا جاتا ہے_ جب کمالات کے درجات اور مقامات پر کوئی پہنچ جائے تو وہ انہیں درجات اور معلومات سے انس کرنے لگتا ہے اور خوش اور شاد ہوجاتا ہے تو اسی مناسبت سے اس درجے اور رتبے کو مقام انس سے تعبیر کرتے ہیں اور جب عظمت اور کمال غیر متناہی ذات الہی کی طرف توجہ کرے اور اس عظمت کے مقام کے پانے میں اپنی کمزوری اور عجز اور قصور پر مطلع اور واقف ہو تو اس کا دل لرزتا او ردکھتا ہے اس کے تمام وجود پر خوف اور ڈر چھاجاتا ہے تو پھر وہ گریہ و زاری کرنے لگتا ہے تو اسی مناسبت سے اس حالت کا نام مقام خوف رکھ دیا جاتا ہے_ اسی طرح باقی تمام مقامات کسی نہ کسی انسان کی کیفیت اور حالت کی مناسبت سے رکھے جاتے ہیں_


بہتر یہی ہے کہ یہ ناچیز بندہ جو یہ کتاب لکھ رہا ہے او رجو خواہشات نفس اور مادی تاریکیوں اور ظلمات کا قیدی_ مقامات معنوی کے حاصل کرنے سے محروم ہے اس بحر بیکراں میں وارد نہ ہو اور ان مقامات عالیہ کی شرح اور توضح انہیں لوگوں کے لئے چھوڑ دے جو اس کی قابلیت اور اہلیت رکھتے ہیں کیونکہ جس نے محبت اور انس اور لقاء اللہ کا ذائقہ ہی نہ چکا ہو وہ ان مقامات عالیہ کی توضیح اور تشریح سے عاجز اور ناتوان ہوگا_ نیکوں کو دوست رکھتا ہوں اگر چہ انہیں سے نہیں ہوں_

خدایا ہمیں اپنے ذکر کی حلاوت عنایت فرما اور ہمیں حالات چکھنے والے افراد سے قرار دے یہاں بہتر ہوگا کہ جو اس کے اہل تھے ان کی بات اور گفتگو کو نقل کیا جائے_ عارف ربانی فیلسوف عالی ملاصدرا شیرازی لکھتے ہیں_ اگر کسی بندے پر اللہ تعالی کی رحمت کے سائے پڑ جائیں تو وہ خواب غفلت اور جہالت سے بیدار ہوجاتا ہے اور جان لیتا ہے کہ اس محسوس جہان کے علاوہ بھی کوئی دوسرا جہان ہے_ حیوانی لذت سے اعلی اور بھی لذات ہیں تو اس حالت میں وہ باطل اور بے ارزش امور سے روگردانی کرلیتا ہے اور گناہوں کے ارتکاب سے اللہ تعالی سے توبہ کرتا ہے پھر اللہ تعالی کی آیات اور نشانیوں میں فکر اور غور شروع کردیتا ہے اور مواعظ الہی کو سنتا ہے اور پیغمبر اکرم کی احادیث میں غور کرتا ہے اور شرعیت کے مطابق عمل کرتا ہے اور آخرت کے کمالات حاصل کرنے کے لئے دنیا کے لغویات اور فضولیات جیسے جاہ و جلال مقام و منصب مال اور متاع سے دستبردار ہوجاتا ہے اور اگر اس سے زیادہ اللہ کی رحمت اس کے شامل حال ہوجائے تو حتمی ارادہ کرلیتا ہے کہ غیر خدا سے چشم پوشی کرے اور اللہ تعالی کی جانب حرکت کرے اور خواہش نفس کے مقام کو چھوڑ کر اللہ تعالی کی طرف حرکت کرے اس حالت میں اس پر اللہ تعالی کے انوار ملکوتی ظاہر ہو جاتے ہیں او رعالم غیب کا دروازہ اس کے لئے کھل جاتا ہے اور عالم قدس کے صفحات آہستہ آہستہ اس کے لئے آشکار ہوجاتے ہیں اور غیبی امور کی مثالی صورت میں مشاہدہ کرتا ہے جب وہ امور غیبی کے مشاہدے کی لذت کو چکھ لے تو پھر خلوت او ر دائمی ذکر


کرنے سے علاقمند ہوجاتا ہے اس کا دل حسی مشاغل سے خالی ہوجاتا ہے اور تمام وجود کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف توجہ پیدا کرلیتا ہے_ اس حالت میں اس پر علوم لدنی آہستہ آہستہ اترنے لگتے ہیں اور معنوی انوار کبھی کبھی اس کے لئے ظاہر ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ کامل تمکن اور تحقق حاصل کرلیتا ہے_ تلون مزاجی اور تغیر دور ہو جاتی ہے اور آرام اور سکون اس پر نازل ہوجاتا ہے اس حالت میں وہ عالم جبروت میں وارد ہوجاتا ہے اور عقول مفارقہ کا مشاہدہ کرتا ہے او ران کے انوار سے نورانی ہوجاتا ہے اور اس کے لئے قدرت اور سلطان الہی اور عظمت اور کبریاء کا نور آشکار ہوجاتا ہے اور اس کی انانیت اور وجود کو متلاشی اور ھباء منشوارا کردیتا ہے اور ذات احدیت کی عظمت اور قدرت کے سامنے ساقط ہوجاتا ہے اس حالت اور مقام کو مقام احدیت کہا جاتا ہے اور اغیار سالک کی نگاہ میں مستہلک ہوجاتے ہیں اورلمن الملک الیوم الواحد القهار کی آواز کوسنتا ہے_(۳۶۸)

عارف ربانی ملا فیض کاشانی لکھتے ہیں کہ خدائی محبت اور اس کی تقویت اور رویت خدا اور اس کے لقاء کے لئے اسباب مہیا کرنے کا طریقہ معرفت اور اس کو تقویت دینا ہوا کرتا ہے_ معرفت حاصل کرنے کا طریقہ قلب کو دنیاوی علائق اور مشاغل اور کامل طور پر انقطاع الی اللہ کا وسیلہ اور ذریعہ صرف ذکر اور فکر اور غیر خدا کی محبت کو دل سے نکالنا ہے_ کیونکہ دل ایک برتن کی مانند ہے_ اگر برتن پانی سے بھرا ہوا ہو تو پھر اس میں سرکہ ڈالنے کی گنجائشے نہیں ہوتی پانی کو برتن سے خالی کیا جائے تا کہ اس میں سرکہ ڈالا جاسکے_ خداوند کریم نے کسی کے لئے دو دل پیدا نہیں کئے کامل محبت یوں ہوگی کہ سارے دل میں خدا کو دوست رکھے جب غیر خدا کی طرف توجہ رکھے گا تو دل کا کچھ حصہ غیر خدا میں مشغول ہوگا پس انسان جتنا غیر خدا کے ساتھ مشغول رہے گا اتنی مقدار خدا کی محبت میں کمی واقع ہوگی مگر غیر خدا کی طرف توجہ اس نیت سے ہو کہ وہ بھی خدا کی مخلوق اور خدا کا فعل ہے اور ہ اللہ تعالی کے اسماء اور صفات کا مظہر ہے_ خدا نے قرآن مجید میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے


قل اللہ ثم ذرہم یہ حالت شوق کے غلبہ سے حاصل ہوتی ہے بایں معنی کہ انسان کو شش کر

ے کہ جو کچھ اس کے لئے آشکار ہوا ہے اس سے زیادہ آشکار ہو اور اس کی طرف جو اسے ابھی تک حاصل نہیں ہوا ہے شوق پیدا کرے کیونکہ شوق اس چیز سے متعلق ہوتا ہے کہ کوئی چیز کچھ آشکار ہو اور کچھ آشکا رنہ ہو ہمیشہ ان دو میں رہے گا کہ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اس واسطے کہ جو درجات اور مراتب اسے حاصل ہوئے ہیں ان کی کوئی انتہا نہیں ہے اس واسطے کہ جو درجات اور مراتب اسے حاصل ہوئے ہیں ان کی کوئی انتہا نہیں ہے اسی طرح خدا کے کمال اور جمال جو باقی ہیں ان کی زیادتی کا کوئی کنارہ نہیں_ بلکہ وصال کے حاصل ہوجانے سے وہ لذت بخش شوق کا احساس کرتا ہے کہ جس میں کوئی الم اور درد نہیں ہوا کرتا پس شوق کبھی بھی ختم نہیں ہوتا بالخصوص جب بہت سے بالا درجا کو مشاہدہ کرتا ہے_ یسعی نورہم بین ایدیہم و بایمانہم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا_(۳۶۹)


ذکر اور بقاء کے آثار اور علائم

جیسے کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ذکر اور شہود اور لقاء ایک باطنی مقام اور معنوی اور روحانی پایہ تکمیل نفس کا ذریعہ ہے_ عارف انسان اس مقام تک جب پہنچ جائے تو وہ ایک ایسے مقام تک پہنچا ہے کہ وہ اس سے پہلے یہاں تک نہیں پہنچا تھا اگر یہ کہا جاتا ہے کہ مقام شہود ایک حقیقت اور واقعیت ہے اور اسی طرح جب کہا جاتا ہے کہ مقام انس یا مقام رضا یا مقام محبت یا مقام شوق یا مقام وصال یا مقام لقاء تو یہ مجاز گوئی اور مجازی معنی مراد نہیں ہوتے بلکہ یہ سب حقیقت ہیں لہذا مقام ذکر وجود واقعی کا ایک مرتبہ ہے اور رتبہ اور وہ نئے علائم اور آ ثار رکھتا ہے اس کمال کا وجود اس کے آثار اور علامتوں سے پہچانا جاتا ہے_ ہم یہاں اسکے کچھ اثرات بتلاتے ہیں:

خداوند عالم کی اطاعت

جب کوئی آدمی مقام شہود اور ذکر تک پہنچ چکا ہو اور اپنے باطن میں ذات احدیت کے جمال کا مشاہدہ کرلے اور اپنے آپ کو اس ذات کے سامنے پائے تو پھر بغیر کسی شک کے سوفیصدی اس کے احکام کی پیروی کرے گا اور جو کچھ خدا کہے گا اس بجالائیگا اور جس سے روکا ہوگا اسے ترک کرے گا اگر انسان یہ معلوم کرنا چاہے کہ آیا اس مقام تک پہنچا ہے یا نہ تو اسے اوامر اور نواہی الہی کی پابندی سے معلوم کرے اور جتنی اس میں پابندی کی نسبت ہو اسی نسبت سے اس مقام تک پہنچے کو سمجھ لے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان مقام شہود اور انس تک پہنچا ہوا ہو اور پھر اللہ تعالی کے


احکام کی کامل طور سے پابندی نہ کرے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ذکر کی شناسائی او رتعریف میں فرمایا ہے کہ '' ذکر کے یہ معنی ہیں کہ جب تیرے سامنے اللہ تعالی کی کوئی حکم آئے تو اسے بجالائے اور اگر منع کیا ہو تو اس سے رک جائے_(۳۷۰)

امام حسین علیہ السلام نے عرفہ کی دعا میں فرمایا ہے '' اے وہ ذات کہ جس نے اپنے ذکر کی مٹھاس اور شرینی کو اپنے دوستوں کے موہنہ میں ڈالا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تیری عبادت کے لئے تیرے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں_(۳۷۱)

اور تیرے سامنے خضوع اور خشوع کرتے ہیں_ اے وہ ذات کہ جس نے ہیبت کا لباس اپنے اولیاء کو پہنایا ہے کہ وہ تیرے سامنے کھڑے ہوں اور استغفار کریں_

خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' ان سے کہہ دو کہ اگر واقعی خدا کودوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تا کہ خدا بھی تمہیں دوست رکھے_(۳۷۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص واقعی خدا کا ذکر کرنے والا ہوگا تو وہ ذات الہی کا فرمانبردار اور مطیع بھی ہوگا اور جو شخض غافل ہوگا وہ گنہگار ہوگا_(۳۷۳)

خضوع اور عاجزی

جو انسان خدا کی عظمت اور قدرت کا مشاہدہ کرے گا تو وہ مجبوراً اس کے سامنے خضوع کرے گا اور اپنے قصور اور ناتوانی سے شرمندہ اور شرمسار ہوگا_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' تیرا یہ جان لینا کہ تو خدا کا مورد توجہہ ہے تو یہ تیرے خضوع اور حیا اور شرمندگی کا باعث بنے گا_(۳۷۴)

عشق اور محبت_ مقام شہود کی ایک علامت اور اثر عبادت سے زیادہ علاقہ اور اس سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے کیونکہ جس نے لذت الہی کی عظمت اور قدرت کو پالیا ہو اور اپنے آپ کو اس کے حضور میں سمجھتا ہو اور عظمت اور کمال الہی کا مشاہدہ کرلیا


ہو تو پھر وہ مناجات اور انس اور راز و نیاز کی لذت کو ہر دو سری لذت پر ترجیح دے گا_ جو لوگ معنوی لذات سے محروم ہیں وہ مجازی لذات اور جلدی ختم ہوجانے والی لذات سے جو در حقیقت سوائے الم اور غم کے ختم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتیں اپنا دل لگا لیتے ہیں_ لیکن جنہوں نے حقیقی لذات اور پروردگار کی مناجات اور عبادت کو چکھ لیا ہو تو وہ اپنی خوش حالی او رزیبائی کو کسی دوسری لذت سے معاملہ نہیں کرتے_ یہی وہ اللہ کے خالص بندے ہیں کہ جو خدا کی عبادت اس لحاظ سے کرتے کہ وہ عبادت کا سزاوار ہے نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اور نہ سزا کا خوف_

پیغمبر علیہ السلام اور حضرت علی علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کی عبادات اور سوز و گداز کو آپ نے سناہی ہے_

اطمینان اور آرام_ دنیا مصائب اور گرفتاری رنج و بلا کا گھر ہے_ دنیا کے ابتلات اور گرفتاریوں کو تین قسم پر تقسیم کیا جاسکتا ہے_

۱_ کئی طرح کی مصیبتیں جیسے اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی بیماریاں_ خود مرنا اور لواحقین کی موت_ ظلم اور تجاوز دوسروں کی حق کشی اور ایک دوسرے سے مزاحمت اور لڑائی جھگڑنے_

۲_ دنیاوی امور کے نہ ہونے کہ جنہیں حاصل نہیں کرسکتا_

۳_ اس کا خوف کہ جو ہاتھ میں وہ نہ نکل جائے اپنے مال کے چوری ہوجانے یا تلف ہوجانے کا ڈریا زمانے کے حوادث کیوجہ سے اولاد نہ چلی جائے اپنے بیمار ہونے یا اپنی موت کا خوف اور ڈر اور اس طرح کے د وسرے امور کے اکثر انسان کے آرام اور سکون کو ختم کردیتے ہیں ان تمام کی اصل وجہ دنیا سے علاقمندی اور محبت اور خدا کے ذکر سے غافل رہنا ہوا کرتا ہے_

قرآن مجید میں ہے کہ '' جو ہمارے ذکر سے روگردانی کرتا ہے_ اس کی زندگی سخت ہوگی_(۳۷۵)


لیکن اللہ کے خالص بندے جو کمالات اور خیرات کے مقامات تک پہنچ چکے ہیں اور اللہ تعالی کے بے نہایت کمال اور جمال کا مشاہدہ کرلیا ہے اور اللہ تعالی کے ذکر اور اس کی ذات کی محبت میں خوش ہیں اور کوئی غم اور غصہ نہیں رکھتے کیونکہ وہ جب خدا کو رکھتے ہیں تو سب چیزیں رکھتے ہیں دنیاوی امور سے لگاؤ نہیں لگا رکھا تا کہ ا ن کے نہ ہونے سے خوف اور ڈر رکھتے ہوں_ کمالات اور خیرات کے منبع اور مرکز سے دل لگا رکھا ہے اور خود بھی صاحب کمال ہیں_

امام حسین علیہ السلام عرفہ کی دعا میں فرماتے ہیں_ '' خدایا تیری ذات ہے کہ جس نے اجنبیوں کو اپنے اولیاء کے دلوں سے باہر نکال دیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تیرے سوا کسی کو دوست نہیںرکھتے اور تیرے غیر سے پناہ نہیں مانگتے وہ خوفناک مصائب میں تجھ سے انس اور محبت رکھتے ہیں اگر ان میں معرفت اور شناسائی حاصل ہوئی ہے تو وہ بھی تیری ہدایت کی وجہ سے ہے_ جو تجھے نہیں پاتا وہ کس چیز کو پاسکتا ہے؟ جو تجھے رکھتا ہو وہ کس چیز کو نہیں رکھتا؟ کتنا نقصان میں ہے وہ انسان جو تیرے عوض کسی دوسرے کو اختیار کرے؟ کتنا بدبخت ہے وہ انسان جو تیرے سوا کسی دوسرے کی طرف رجوع کرے_ کس طرح انسان کسی دوسرے سے امید رکھے جب کہ تیرے احسان اس سے قطع اور ختم نہیں ہوئے؟ کس طرح انسان اپنی حاجات کو دوسرے سے طلب کرے جب کہ تیرے احسان کرنے کی عادت نہیں بدلی؟(۳۷۶)

خلاصہ مقام ذکر اور شہود تک پہنچنے کی ایک علامت اور اثر انسان میں آرام اور سکون اور اطمینان قطب ہے اور سوائے خدا کے کوئی اور نہیں جو دل کی کشتی کو زندگی کی متلاطم امواج سے آرام اور سکون دے سکے_ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے '' جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان کے دل اللہ تعالی کے ذکر سے آرام اور اطمینان میں ہیں اور یاد رکھو کہ دل کو تو صرف خدا کے ذکر سے ہی آرام اور اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے_(۳۷۷)


خدا کی بندے کی طر توجہ _

جب بندہ خدا کو یاد کرتا ہے تو خدا بھی اس کے عوض بندے کو مورد عنایت اور توجہ قرار دیتا ہے_ یہ مطلب آیات اور روایات سے مستفاد ہوتا ہے_

خدا فرماتا ہے ''مجھے یاد کرو تا کہ میں تمہیں یاد کروں_(۳۷۸)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خدا نے فرمایا ہے_ اے ادم کے فرزند مجھے اپنے دل میں یاد کر تا کہ میں تجھے اپنے دل میں یاد کروں_ اے آدم کے فرزند مجھے خلوت اور تنہایی میں یاد کر تا کہ میں تجھے خلوت میں یاد کروں_ اے آدم زاد مجھے مجمع میں یاد کر تا کہ میں تیرے مجمع سے مجمع میں یاد کروں آپ نے فرمایا کہ جو انسان خدا کو لوگوں کے درمیان یاد کرے خدا اسے ملائکہ کے درمیان یاد کرتا ہے_(۳۷۹)

اللہ تعالی کا بندے کی طرف متوجہ ہونا اور لطف و کرم کرنا ایک اعتباری اور تشریفاتی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت اور واقعیت ہے اس کی دو میں سے ایک سے توجیہ کی جا سکتی ہے_

۱_ جب بندہ خدا کو یاد کرنا ہے تو اس کے ذریعے فیض الہی کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے خداوند عالم بھی اس پر کمال کو نازل کرتا ہے اور اس کے درجات کو بلند کر دیتا ہے_

۲_ جب اللہ تعالی کا ذکر کرنے والا انسان خدا کو یاد کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کی طرف حرکت کرتا ہے اور وہ اللہ تعالی کے لطف اور کرم کا مورد قرار پاتا ہے_ اسے خدا عالی مرتبہ کے لئے جلب اور جذب کر دیتا ہے اور اس کے دل کے کنٹرول کرنے کو اپنے ذمہ لے لیتا ہے_

پیغمبر گرامی نے فرمایا ہے کہ '' خداوند عالم فرماتا ہے کہ جب میں بندے کو اپنے میں مشغول اور متوجہ پاتا ہوں تو اسے سوال اور مناجات کرنے کا علاقمند بنا دیتا ہوں اور اگر بھی اس پر غفلت طاری ہو جائے تو اس کے عارض ہونے سے رکاوٹ کھڑی کر دیتا


ہوں_ یہ یندے میرے حقیقی اولیاء ہیں یہ واقعی بہادر اور شجاع ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر میں چاہتا ہوں کہ زمین والوں کو ہلاک کردں تو ان کے وجود کی برکت سے زمین والوں سے عذاب کو دور کردیتاہوں_(۳۸۰)

خلاصہ خدا کو اپنی بندے کی طرف توجہہ کرنا ایک اعتباری اور تشریفاتی کام نہیں ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت ہے جو ان دو میں سے ایک توجیہہ کی جا سکتی ہے اگر چہ دونوں کو بھی اکٹھا کیا جا سکتا ہے_

خدا کا بندے سے محبت کرنا_

ذکر خدا کی آثار میں سے ایک اثر اور علامت خدا کا ایسے بندے سے محبت کا ہو جانا ہوتا ہے_ آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بندہ خدا کی یاد میں ہو اور خدا اور اس کے پیغمبر علیہ السلام کے احکام پر عمل کرنے والا ہو تو خدا بھی اس کے عوض ایسے بندے کو دوست رکھتا ہے_ خدا قرآن میں فرماتا ہے '' اے لوگو اگر واقعاً خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تا کہ خدا بھی تمہیں دوست رکھے_(۳۸۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے پیغمبر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ '' جو شخص اللہ تعالی کا بہت زیادہ ذکر کرے تو وہ اللہ تعالی کا مورد محبت قرار پائیگا_ جو شخص اللہ تعالی کی یاد میں بہت زیادہ ہو گا اس کے لئے دو برات کے نامے لکھ دیئے جائیں گے ایک دوزخ سے برات اور دوسرے نفاق سے برات_(۳۸۲)

اللہ تعالی کی بندے سے محبت کوئی اعتبار اور تشریفاتی امر نہیں ہوتا اور یہ اس معنی میں بھی نہیں ہوتی جو محبت بندے کو خدا سے ہوتی ہے_ انسان میں محبت کے ہونے کے معنی اس کا کسی چیز سے کہ جس کا وہ محتاج ہے ولی لگاؤ اور علاقمندی ہوا کرتی ہے لیکن خدا کے محبت کرنے کے ایسے معنی مراد نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی اللہ تعالی میں یہ معنی صحیح ہے_ خدا کے محبت کرنے کی یوں وضاحت کی جائے کہ خدا بندے پر اپنا لطف و کرم زیادہ کرتا ہے اور اسے عبادت اور توجہہ اور اخلاص کی زیادہ توفیق


عنایت فرماتا ہے ک جس ذریعے کمالات اور قرب کے درجات کی طرف اسے جذب اور جلب کرتا ہے اور چونکہ خدا اپنے بندے کو دوست رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ راز اور نیاز کو سنے تو اسے دعا نماز ذکر اور مناجات کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور چونکہ اس کے تقرب کو دوست رکھتا ہے تو اس کے لئے کمال تک رسائی کا وسیلہ فراہم کر دیتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ خدا اپنے بندے کو دوست رکھتا ہے لہذا اس کے دل کو اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے اور توفیق دیتا ہے کہ وہ بہتر اور سریع تر اس کے مقام قرب کی طرف حرکت کرے_

اہم اثر:

اس مقام ذکر میں اس کے حاصل کرنیوالے کو بہت عالی فوائد حاصل ہو جاتے ہیں کہ جن کے بیان کرنے کے لئے قلم اور زبان عاجز اور ناتوان ہے اور سوائے اس مقام تک پہنچنے والوں کے اور کوئی بھی اس سے مطلع نہیں ہو سکتا_

عارف اپنے نفس کے صاف اور پاک اور اپنے باطن کو تصفیہ کرنے عبادت اور ریاضت تفکر اور دائمی ذکر کرنے کے ذریعے اسے ایسے مقام تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنی باطنی آنکھ اور کان کے ذریعے حقائق اور واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے اور انہیں سنتا ہے کہ جو ظاہری آنکھ اور کان کے ذریعے دیکھنے اور سننے کے قابل نہیں ہوتے_ کبھی کبھی وہ موجودات کی تسبیح اور تقدیس بلکہ ملائکہ کی تسبیح کو بھی سنتا ہے اور ان کے ساتھ ہم آواز ہو جاتا ہے جب کہ وہ اسی دنیا میں زندگی کر رہا ہوتا ہے اور دنیا کے لوگوں کے ساتھ معاشرت کر رہا ہو تا ہے لیکن اپنے اندر میں ایک اعلی نقطہ کو دیکھتا ہے اور کسی دوسرے جہان میں اس طرح زندگی کر رہا ہوتا ہے کہ گویا وہ اس جہان میں زندہ نہیں ہے دوسرے جہان کی دوزخ اور بہشت کا مشاہدہ کرتا ہے_ اور نیک اور صالح افراد اور فرشتوں سے ربط رکھتا ہے_ دوسرے جہان سے مانوس اور دوسری طرح کی نعمتوں کو پا رہا ہے لیکن وہ ان چیزوں کے بارے میں غالباً کسی سے ذکر نہیں کرتا کیونکہ


اس طرح کے افراد راز کو چھپانے والے ہوتے ہیں اور اس طرح کی شہرت کو پسند نہیں کرتے_

عارف کے قلب پر علوم اور معارف وارد ہوتے ہیں اور بعض ایسے کشف اور شہود رکھتا ہے جو متعارف علوم جیسے نہیں ہوتے_ عارف ایک ایسے مقام تک جا پہنچتا ہے کہ وہ تمام چیزوں سے یہاں تک کہ اپنے نفس سے بھی غافل ہوتا ہے اور سوائے ذات الہی کے اسماء اور صفات کے اور کسی طرف متوجہ نہیں ہوتا اللہ تعالی کی ذات کو ہر جگہ حاضر اور ناظر دیکھتا ہے کہ خود اس نے فرمایا کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے_ ہو الاول و الاخر و الظاہر و الباطن_

تمام دنیا کو اللہ تعالی کی صفات کا مظہر اور تمام کمال اور جمال کو اسی ذلت سے جانتا ہے_

تمام دنیا کو اللہ کی صفات کا مظہر اور تمام کمال اور جمال کو اسی ذات سے جانتا ہے _ تمام موجودات کو ذات کے لحاظ سے فقیر اور محتاج سمجھتا ہے اور صرف غنی مطلق بے نیاز اللہ تعالی کی ذات کو دیکھتا ہے_ اور ذات الہی کے جمال اور کمال مطلق کے مشاہدے میں غرق رہتا ہے_ اور یہ بھی معلوم رہے کہ خود مقام فناء کے کئی درجات اور مقامات ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ یہ مولف ان سے محروم ان مقامات کے بیان کرنے سے احتراز ہی کرے_ خدا ان کو مبارک کرے جو ان مقامات کے اہل ہیں_


پہنچنے کے راستے

ایمان کے کامل کرنے اور مقام ذکر اور شہود تک پہنچنے کے لئے مندرجہ ذیل امور سے استفادہ کیا جا سکتا ہے_

۱_ فکر اور دلیل

وہ دلائل اور استدلالات جو توحید اور وجود خدا کے ثابت کرنے کے لئے لائے جاتے ہیں وہ ایمان کو کامل کرنے کا سبب بن سکتے ہیں یا وہ دلیلیں جو فلسفہ اور علم کلام اور علم عرفان کی کتابوں میں بیان کی گئی ہیں ان سے ثابت کیا جاتا ہے کہ تمام موجودات عالم ذات کے لحاظ سے محتاج اور فقیر بلکہ عین احتیاج اور فقر ہیں وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے میں اور تمام افعال اور حرکات میں ایک ایسی ذات کے محتاج ہیں جو بے نیاز اور غنی ہو بلکہ اسی ذات سے ان کا ربط اور اتصال ہے_ تمام موجودات عالم محتاج اور محدود ہیں صرف ایک ذات ہے جو اپنے وجود میں مستفنی بالذات ہے اور کمال غیر متناہی رکھتی ہے اور وہ ذات واجب الوجود ہے کہ جس میں کوئی نقص اور احتیاج نہیں اور اسکے وجود میں کوئی احتیاج نہیں ہے_ وہ ذات تمام کمالات کی مالک ہے_ اس کے علم اور قدرت اور حیات اورتمام کمالات کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے ہر جگہ حاضر اور ناظر ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے_ تمام موجودات سے نزدیک ہے یہاں تک کہ وہ شاہ رگ سے خود انسان سے زیادہ نزدیک ہے_ بہت سی آیات اور احادیث خدا کی انہی صفات کو بیان کرتی ہیں_


خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ '' مشرق اور مغرب خدا کی ملکیت ہے پس تم جس طرف توجہ کرو گے خدا وہاں موجود ہے_(۳۸۳) نیز خدا فرماتا ہے کہ '' خدا تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور تمہارے کاموں کو جانتا ہے اور ان سے باخبر ہے_(۳۸۴)

نیز خدا فرماتا ہے کہ '' ہم انسان سے اس کی شاہ رگ سے زیادہ نزدیک ہیں_(۳۸۵)

نیز خدا فرماتا ہے کہ '' خدا ہر چیز کو دیکھنے والا اور حاضر ہے_(۳۸۶)

خدا کے پہچاننے میں غور اور فکر کرنا انسان کو کفر کی تاریکی سے نکال کر خدا پر ایمان لے آنے کی طرف لے جاتا ہے اور تکامل اور کمال تک پہنچنے کا راستہ کھول دیتا ہے اور عمل کی طرف جو ایمان کا لازمہ ہے دعوت دیتا ہے_

۲_ آیات ا لہی میں غور کرنا

خدا اس دنیا کی ہر ایک چیز کو خدا کی نشانی قرار دیتا ہے_ خدا متعدد آیات میں تاکید فرماتا ہے کہ خدا کی نشانیوں اور آیات میں خوب غور اور فکر کرو تا کہ ان کی رعنائیوں اور حسن سے اور ان کے نظم اور حساب سے ہونے کیوجہ سے جو تمام عالم پر برقرار ہے ایک دانا اور قادر اور علیم اور حکیم خدا کو معلوم کرلوگے_ انسان سے اس کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خلقت اور وہ اسرار اور رموز اور حیرت انگیز قدرت جو اس کے جسم اور روح میں رکھ دیئے گئے ہیں اور اسی طرح مختلف زبانوں اور رنگوں اور شکلوں اور ہمسر کے وجود کو خوب غور سے سوچو اور فکر کرو_ اسی طرح انسان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سورج اور ستاروں کی خلقت اور ان کی منظم حرکت اور حسن اور زیبائی میں غور اور فکر کرے اسی طرح انسان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زمین اور پہاڑوں اور درخت نباتات اور مختلف سمندری اور خشکی کے حیوانات میں غور اور فکر کرے_ قرآن مجید میں اس طرح کے مطالبے کے بہت سے نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بہت ہی صحیح اور درست ہے کہ یہ جہان حسن اور تعجب میں ڈالنے والی چیزوں سے ہے_ جس شی کو دیکھیں اس میں سینکڑوں مصلحتیں تعجب آور موجود ہیں_ سورج ستارے کہکشاں بادل حیرت انگیز ایٹم زمین آسمان، پہاڑ، درخت، نباتات، مختلف دریائی اور خشکی کے حیوانات معدنیات، سمندر دریا، بڑے بڑے جنگل، چھوٹے بڑے، درخت


اور نباتات، بڑے حیوانات، ہاتھی، اونٹ یہاں تک کہ چیونٹیوں اور مچھر بلکہ حیوانات جو دور بین سے دیکھے جاتے ہیں جیسے ویرس اور جراثیم و غیرہ انسان ان کی زیبائی اور ظرافت کو جب مشاہدے کرے اور موجودات جہاں میں جو رموز اور مصالح، ہیں اور اس جہاں کے نظم اور ضبط اور اس میں ربط اور اتصال کو جو ان پر حاکم ہے دیکھے تو ان تمام چیزوں سے ایک ایسے خالق اور پیدا کرنے والے کا جو عظیم اور صاحب قدرت اور بے انتہا علم اور حکمت رکھنے والا ہے کا علم پیدا کریگا_ اور حیرت اور تعجب میں غرق ہوجائیگا او ر تہ دل سے کہے گا اے میرے رب تو نے ان چیزوں کو بیہودہ اور لغعو پیدا نہیں کیا_ ربنا ما خلقت ہدا باطلا_ آسمان کو جو ستاروں سے اوپر ہے اسے دیکھے اور ان میں خوب غور اور فکر کرے جنگل کے پاس بیٹھ جائے اور اللہ تعالی کی عظمت اور قدت کا نظارہ کرے کہ کتنا عمدہ اور زیبا اور خوشمنا جہان ہے_

۳_ عبادت

ایمان اور معرفت کے بعد انسان کو نیک اعمال اور اپنے فرائض کے بجالانے میں سعی اور کوشش کرنی چاہئے اس واسطے کے عمل کے ذریعے ہی ایمان کامل سے کاملتر ہوتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے قرب کے مقام تک پہنچتا ہے_ یہ صحیح ہے کہ ایمان اور معرفت اور توحید بلندی کی طرف لے جاتی ہے لیکن نیک عمل اس میں اس کی مدد کرتے ہیں_ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' جو شخص عزت چاہتا ہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ تمام عزت خدا کے ہاں ہوتی ہے توحید کا نیک کلمہ خدا کیطرف جاتا ہے اور نیک عمل اسے اوپر لے جاتا ہے_(۳۸۷) نیک عمل کی نسبت ایمان اور معرفت کے لئے پٹرول کی ہے جو ہوائی جہاز میں ڈالا جاتا ہے جب تک ہوائی جہاز میں پٹرول ہو گا وہ بلندی کی طرف پرواز کرتا جائیگا اور جب بھی اس کا پٹرول ختم ہوجائیگا وہ تمام کا تمام گر جائیگا اسی طرح ایمان اور معرفت جب تک اس کے ساتھ نیک عمل انجام پاتا رہے گا وہ انسان کو اعلی مقامات کی طرف لے جاتا رہے گا لیکن جب اس کی نیک عمل مدد کرنا چھوڑ دے گا ایمان ختم ہوجائیگا_ خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ '' اپنے پروردگار کی عبادت کرتا کہ تجھے یقیقن کا مقام حاصل ہوجائے_(۳۸۸)


نفس کی تکمیل اور اس کی تربیت اور مقام یقین تک پہنچنے کا تنہا ایک راستہ ہے اور وہ ہے خدا کی عبادت اور بندگی اور اپنے فرائض کی بجا آوری_ اگر کوئی خیال کرے کہ عبادت کے علاوہ کسی اور راستے سے اعلی مقامات پر فائز ہو سکتا ہے تو وہ بہت ہی سخت اشتباہ کر رہا ہے_

انشاء اللہ بعد میں نیک عمل کے متعلق بھی بحث کریں گے_

۴_ اذکار اور دعائیں_

اسلام دعاؤں کے ہمیشہ پڑھنے رہنے کو بہت اہمیت دیتا ہے_ اذکار اور دعائیں پیغمبر اور ائمہ علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں اور ان کے پڑھنے پر ثواب بھی بتلائے گئے ہیں_ ذکر اذکار در حقیقت عبادت کی ایک قسم ہے جو نفس کی تکمیل اور قرب الہی کا سبب ہوتے ہے جیسے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' پانچ چیزیں ہیں جو انسان کے میزان عمل کو بھاری کر دیتی ہیں_ سبحان اللہ _ الحمد اللہ اور لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور نیک بیٹے کی موت پر صبر کرنا_(۳۸۹)

آپ(ص) نے فرمایا کہ '' جب مجھے معراج پر لے جایا گیا اور میں بہشت میں داخل ہوا تو میں نے ملائکہ کو دیکھا کہ وہ سونے چاندی کا محل بنانے میں مشغول تھے لیکن کبھی کام کرنا چھوڑ دیتے تھے اور کبھی کام کرنا شروع کر دیتے تھے_ میں نے ان سے کہا کہ کیوں کام کرنے لگ جاتے ہو اور کام کرنا چھوڑ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا جب محل تعمیر کرنے کا میٹریل آجاتا ہے تو کام کرتے ہیں اور جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں_ میں نے پوچھا کہ تمہارے کام کرنے میٹریل کونسا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سبحان اللہ و الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ہے_

جب مومن دنیا میں یہ ذکر کرتا رہتا ہے ہمیں میٹریل ملتا رہتا ہے اور ہم بھی کام کرتے رہتے ہیں اور جب وہ اس ذکر سے غافل ہوجاتا ہے اور اسے پڑھنا چھوڑ دیتا ہے تو ہم بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں_(۳۹۰)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص سبحان اللہ کہے تو اس کے لئے بہشت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے اور جو شخص الحمد اللہ کہے تو خدا


اس کے لئے بہشت میں درخت لگا دیتا ہے اور جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے خدا بہشت میں درخت لگا دیتا ہے_ اس وقت قریشی مرد نے عرض کی _ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر تو ہمارے لئے بہشت میں بہت ہی درخت ہونگے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ہاں اسی طرح ہی ہوگا لیکن خیال رکھنا کہ کوئی آگ نہ بھیجنا کہ جو ان درختوں کو جلا دے کیونکہ خداوند قرآن میں فرماتا ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تم خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو_(۳۹۱)

جو کلام بھی انسان کو خدا کی یاد دلائے اور اس میں اللہ تعالی کی تعریف اور تسبیح اور تمجید ہو تو وہ کلام ذکر کہلائیگا لیکن احادیث میں خاص خاص دعاؤں اور اذکار کا ذکر ہوا ہے اور ان کے پڑھنے کے اثرات اور ثواب بھی بتلایا گیا ہے کہ جن میں سے زیادہ اہم لا الہ الا اللہ سبحان اللہ _ الحمد اللہ _ اللہ اکبر_ لا حول و لا قوة الا باللہ_ حسبنا اللہ و نعم الوکیل _ لا الہ الا اللہ سبحانک انی کنت من الظالمین_ یا حی یا قیوم یا من لا الہ الا انت افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد_ لا حول و لا قوة الا باللہ العلی العظیم _ یا اللہ_ یا رب_ یا رحمن_ یا ارحم الراحمین_ یا ذالجلال و الاکرام_ یا غنی یا مغنی اسی طرح اور دوسرے اسماء حسنی کے جو دعاوں اور احادیث میں نقل ہوئے ہیں_ یہ تمام کے تمام ذکر ہیں اور انسان کو خدا کی یاد دلاتے ہیں اور اللہ تعالی کے ہاں تقرب کا وسیلہ بنتے ہیں_ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا انسان ان میں سے کسی ایک کو انتخاب کر کے اسے ہمیشہ پڑھتا رہے لیکن بعض اہل معرفت ان میں سے بعض کو ترجیح دیتے ہیں_ بعض لا الہ الا اللہ کے پڑھنے کی سفارش کرتے ہیں اور دوسرے بعض نے سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر کو انتخاب کیا ہے اور بعض نے دوسرے بعض کلمات کو ترجیح دی ہے لیکن بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب پر لا الہ الا اللہ ترجیح رکھتا ہے_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ بہترین عبادت لا الہ الا اللہ کہا ہے_(۳۹۲)

آپ(ص) نے فرمایا کہ '' لا الہ الا اللہ اذکار کا سردار اور ان سے بڑا ہے_(۳۹۳)


پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جبرائیل(ع) سے نقل کیا ہے کہ '' خداوند عالم فرماتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کا کلمہ میری پناہ گاہ اور قلعہ ہے جو اس میں داخل ہوجائے وہ عذاب دیئے جانے سے امان میں ہوگا_(۳۹۴)

لیکن ذکر کرنے کی غرض اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنا ہوتا ہے لہذا کہا جا سکتا ہے کہ جو کلام بھی اللہ تعالی کی طرف زیادہ توجہہ دلائے اس کا ذکر کرنا زیادہ مناسب ہوگا_ حالات اور افراد اور مقامات مختلف ہوتے ہیں_ لہذا ہو سکتا ہے کہ یا اللہ کا کلمہ بعض افراد کے لئے یا بعض حالات میں زیادہ مناسب افراد کے لئے لا الہ الا اللہ کا کلمہ اور دوسرے بعض افراد کے لئے یا غفار یا ستار مناسب ہو اسی طرح دوسرے اذکار_ اسلئے اگر کوئی انسان کسی استاد یا کامل مربی تک رسائل رکھتا ہو تو اس کے لئے بہتر ہے کہ و اس سے مدد طلب کرے اور اگر اسے کسی تک رسائی نہ ہو تو وہ دعاؤں اور احادیث کی کتابوں اور پیغمبر اکرم اور ائمہ علیہم السلام کے فرامین سے استفادہ کرے تمام اذکار اور عبادات اچھی ہیں جب کہ ان کو صحیح بجا لایا جائے تو وہ ان کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کر سکتا ہے اور مقامات عالیہ تک رسائل حاصل کر لے گا_ انسان ان تمام سے یا ان میں سے بعض سے استفادہ کر سکتا ہے لیکن مشائخ اور ماہرین استادوں نے مقام ذکر اور شہود تک پہنچے کے لئے بعض مخصوص اذکار کا انتخاب کیا ہوا ہے کہ جنہیں خاص کیفیت اور خاص عدد کے ساتھ ہمیشہ پڑھنے رہنے کی سفارش کی ہے تا کہ وہ اس مقصد کو حاصل کر سکے_

لیکن اس نقطہ کی طرف بہت زیادہ توجہہ دینے کی ضرورت ہے کہ جو دعائیں اور اذکار شرعیت میں وارد ہوئی ہیں گرچہ سب عبادت ہیں اور اجمالا تقرب کا موجب بھی ہوتی ہیں لیکن ان کی اصلی غرض غیر خدا سے بالکل اور کامل طور سے قطع قطع کرنا اور حضور قلب سے ذات الہی کی طرف توجہ کرنا ہے_ لہذا ہمیں صرف اذکار کے الفاظ کے تکرار پر ہی اکتفاء کرنی چاہیئے اور نہ ہی اصلی ا علی غرض و غایت اور معنی کی طرف توجہہ کرنے سے غافل ہو جائیں کیونکہ الفاظ کا تکرار بلکہ انہیں ہمیشہ پڑھتے رہنا اتنا مشکل نہیں ہے اس واسطے کہ الفاظ کے ذکر کرتے وقت کئی قسم کے افکار اور مختلف


طرح کے خیالات انسان پر ہجوم کرتے رہتے ہیں اور اسے خدا کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں اور جب تک خیالات اور افکار کو دور نہیں کیا جاتا اس وقت تک نفس افاضات اور اشراقات الہی کے قبول کرنے کی لیاقت پیدا نہیں کر سکتا_

صرف یہی کام انسان کو اصلی غرض تک نہیں پہنچا سکتا وہ جو مفید اور فائدہ مند ہے وہ ذات الہی کی طرف حضور قلب اور خیالات کا دور کرنا اور فکر کا ایک مرکز پر برقرار رکھنا ہوتا ہے اور یہ کام بہت زیادہ مشکل ہے اس واسطے کہ ذکر کرتے وقت کئی طرح کے فکر اور مختلف خیالات انسان پر ہجوم اور ہوتے ہیں اور اس کو خدا کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں اور جب تک دل سے خیالات کو دور نہ کرے اس وقت تک انسانی نفس اللہ تعالی کے فیض اور اشراق کی لیاقت پیدا نہیں کرتا وہ دل اللہ تعالی کے انوار کا محل بنتا ہے کہ جو اغیار سے خالی ہو_ خیالات کا دور کرنا اور فکر کو ایک جگہ جمع کرنا ایک حتمی ارادے اور جہاد اور محافظ اور پائیداری کا محتاج ہوتا ہے اور اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک دفعہ بغیر کسی ممارست اور دوام کے ایسا ممکن ہو جائے نفس کے ساتھ نرمی بر تنی چاہئے اور آہستہ آہستہ اسے اس کی عادت دی جانی چاہئے_


وظائف اور دستور

بعض عرفاء نے اس راستے کو طے کرنے کے لئے مندرجہ ذیل امور کے بجالانے کی سفارش کی ہے_

۱_ اس مقام کے طالب کو سب سے پہلے توبہ کے ذریے اپنے نفس کو گناہوں اور باطنی گندگیوں اور برے اخلاق سے پاک اور صاف کرنا چاہئے پہلے توبہ کی نیت سے غسل کرے اور غسل کی حالت میں اپنے گناہوں اور باطنی کثافتوں کو دل میں لائے اور اللہ تعالی سے عرض کرے اے خالق_ میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے اور تیری طرف لوٹ آیا ہوں اور ارادہ کر لیا ہے کہ پھر سے گناہ نہیں کروں گا جیسے میں اپنے جسم کو پانی سے پاک کرتا ہوں اپنے دل کو گناہوں اور برے اخلاق سے پاک کر رہا ہوں_

۲_ اپنے آپ کو ہر حالت اور ہر وقت خدا کے سامنے دیکھے اور کوشش کرے کہ تمام حالات میں خدا کی یاد میں رہے اور اگر غفلت طاری ہو جائے تو فوراً لوٹ آئے_

۳_ اپنے آپ پر اچھی طرح کنٹرول کرے تا کہ وہ پھر گناہ کو بجا نہ لائے_ اس خاص وقت دن اور رات میں نفس کے محاسبے کے لئے معین کردے اور پوری وقت سے دن اور رات کے اعمال کا حساب کرے اور اپنے نفس کو مورد مواخذہ


قرار دے_

۴_ سوائے ضرورت کے چپ رہے اور زیادہ کلام نہ کرے_

۵_ صرف ضرورت جتنی غذا کھائے اور زیادہ کھانے سے پرہیز کرے_

۶_ ہمیشہ با وضو رہے اور جس وقت وضوء باطل ہوجائے فوراً وضو کرلے_ روسل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ '' خداوند عالم فرماتا ہے کہ جو شخص وضو کے باطل ہوجانے کے بعد دوبارہ وضو نہ کرے اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور جو شخص وضو کرنے کے بعد دو رکعت نماز نہ پڑھے اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور اگر کوئی انسان پڑھے اورنماز کے بعد دنیا اور آخرت کے لئے دعا کرے اور میں اسے قبول نہ کروں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہے لیکن میں ظلم کرنے والا خدا نہیں ہوں_(۳۹۵)

۷_ دن اور رات میں ایک خاص وقت اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنے کے لئے مخصوص کردے اور اگر یہ رات میں بالخصوص سحری کے وقت ہو تو بہتر ہے خلوت اور تنہائی میں بیٹھ جائے اور اپنے سرکو زانوں میں رکھے اور تمام حواس کو اپنے آپ میں سموئے اور غلط خیالات اور افکار کو روکے_ ایک مدت تک اس عمل کو بجالائے اس عمل سے تجھ کچھ مکاشفات حاصل ہونگے_

۸_یا حی یا قیوم اور یا من لا اله الا انت کے ذکر کو اپنی زبان کو ورد قرار دے اور حضور قلب سے ہمیشہ اس کا تکرار کرے_

۹_ دن اور رات میں ایک طویل سجدہ بجالائے اور جتنا ہوسکتا ہے حضور قلب سے اس ذکر کا اس میں تکرار کرے_لا اله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین _ اس سجدہ کو طولانی بجالانا مجرب ہے اور اچھے اثرات رکھتا ہے_ بعض عرفا سے نقل ہوا ہے کہ وہ اس ذکر کو چار ہزار دفعہ پڑھا کرتا تھا_

۱۰_ دن اور رات میں ایک خاص وقت کو معین کر کے اس ذکر یا غنی یا مغنی کو کئی


بار پڑھے_

۱۱_ ہر روز حضور قلب سے کچھ مقدار قرآن مجید پڑھے اور آیات کے معانی میں غور اور فکر کرے اور اگر کھڑے ہو کر یڑھے تو بہتر ہے_ _

۱۲_ سحری کے وقت بیدار ہو اور وضو کرے اور خلوت اور تنہائی کی جگہ میں حضور قلب سے نماز تہجد پڑھے اور وتر نماز کے قنوت کو طویل کرے اور اپنے اور مومنین کے لئے مغفرت کو طلب کرے تہجد کی نماز کے بعد آیت سخرہ کو ستر دفعہ پڑھے یقین حاصل کرنے اور خیالات دور ہونے کے لئے مفید اور مجرب ہے_ آیت سخرہ یہ ہے ''ان ربکم الله الذی خلق السموات و الارض فی سته ایام ثم استوی علی العرش یغشی اللیل النهار یطلبه حثیثا و الشمس و القمر و النجوم مسخرات بامره الا له الخلق و الامر تبارک الله رب العالمین ادعوا ربکم تضرعا و خفیة انه لا یحب المعتدرین و لاتفسدوا فی الارض بعد اصلاحها و ادعوه خوفا و طمعا ان رحمة الله قریب من المسحنین (۳۹۶) نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چالیس شب و روز تک ان دستورات اور وظائف پر عمل کرے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے لطف کا مورد توجہہ قرار پاسکے اور اس کے لئے کچھ مکاشفات حاصل ہوجائیں اور پہلے چالیسویں میں اس طرح توفیق حاصل نہ ہو تو مایوس نہیں ہونا چاہئے اور دوسرا چالیسواں حتمی اور کوشش سے شروع کردے او رجب تک نتیجہ حاصل نہ ہو اسے بجالاتے رہنا چاہئے تیسرا اورچوتھا اور جب تک نتیجہ حاصل نہ ہو اس دستور العمل پر عمل کرتے رہنا چاہئے اور کبھی کوشش اور عمل کرنے سے دست بردار نہیں ہونا چاہیئےس طریقے پر محنت کرے اور خداوند عالم کی ذات سے توفیق طلب کرے اور جب بھی قابلیت اور استعداد پیدا ہوگئی تو اللہ تعالی کے فیض کا محل قرار پاجائیگا اور اگر انسان ابتداء میں ان تمام دستورالعمل پر


عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر ان میں تھوڑے سے دستور العمل پر عمل کرنا شروع کردے اور پھر آہستہ آہستہ ان میں اضافہ کرتا جائے لیکن ان میں سے اہم عمل غور اور فکر کرنا اور اپنے نفس پر کنٹرول اور حضور قلب اور خدا کی طرف توجہہ کرنا ہوتا ہے اور اہم یہ ہے کہ عارف کو اپنے نفس سے تصورات اور خیالات اور بیہودہ افکار اور غیر کو دور کرنا ہوتا ہے اور تمام کا تمام خدا کی طرف توجہہ ہو لیکن یہ کام بہت ہی مشکل اور سخت ہے خیالات کا دور کرنا تین مرحلوں میں انجام دیا جا سکتا ہے_

۱_ پہلے مرحلے میں کوشش کرے کہ پوری توجہہ صرف اسی ذکر پر ہو کہ جسے ادا کر رہا ہے اور دوسرے تمام خیالات کو اپنے سے دور رکھے اس کام کو اتنا زیادہ کرے کہ اپنے نفس پر پوری طرح کنٹرول کرلے اور اپنے سے دوسرے فکر رو کے رکھے_

۲_دوسرے مرحلے میں پہلے مرحلے والے کام میں مشغول رہے اور ساتھ ہی یہ کوشش بھی کرے کہ ذکر کو ادا کرتے وقت اس کے معانی اور مفہوم پر توجہہ کرے اور ان معانی کو ذہن پر جاری کرے اور دوسرے خیالات اور تصورات کے ہجوم و روکے رکھے اور اسی حالت میں ذکر کے معنی اور مفہوم کی طرف بھی پوری طرح متوجہ رہے_

۳_ تیسرے مرحلے میں کوشش کرے کہ معانی کو پہلے اپنی دل میں قرار دے اور جب دل نے معانی کو قبول کر لیا اور اس پر ایمان لے آیا تو پھر اس ذکر کو زبان پر جاری کرے کہ گویا زبان دل کی پیروی کر رہی ہے_

۴_ چوتھے مرحلے میں کوشش کرے کہ تمام خیالات اور تصورات اور معانی یہاں تک کہ ان کے تصوری مفہوم کو بھی دل سے دور کرے اور نفس کو اللہ تعالی کے فیوضات اور برکات کے نازل ہونے کے لئے آمادہ اور مہیا کرے اپنے تمام وجود کے ساتھ ذات الہی کی طرف متوجہہ رہے اور تمام غیر خدا کو دل سے دور کرے اور اشراقات اور افاضات سے استفادہ کرے اور اللہ تعالی کی توجہ سے سیر اور


صعود کے کمال کے درجات طے کرنے لگے_ عارف انسان اس حالت میں ممکن ہے کہ اس طرح مستفرق ہوجائے کہ سوائے خدا کے اور کوئی چیز نہ دیکھے اور صرف خدا سے ہی مانوس ہوجائے_ ایسے افراد کو یہ کیفیت مبارک ہو بہت ہی بہتر ہے کہ اس موضوع کو اولیاء خدا کے سپرد کردیں کہ جنہوں نے ان مراحل اور ان طریقوں کو طے کیا ہوا ہے اور مقام شوق اور ذوق انس اور بقاء کا مزہ چکھا ہوا ہے_

امیر المومنین(ع) کا حکم

نوف کہتے ہیں کہ میں نے امیر المومنین علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ جلدی سے جا رہے تھے_ میں نے عرض کی _ اے مولای_ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا اے نوف مجھے میری حالت پر چھوڑ دے کیونکہ میری آرزو او رتمنا مجھے اپنے محبوب کی طرف لے جا رہی ہے _ میں نے عرض کی _ اے میری مولا_ آپ کی آرزو کیا ہے؟ آپ نے فرمایا_ وہ ذات جو میری آرزو کو جانے وہ جانتی ہے کہ میری آرزو کیا ہے اور دوسروں کو اس آرزو کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ؟ ادب کا تقاضا یہی ہے کہ خدا کا بندہ اللہ تعالی کی نعمتوں اور حاجات میں کسی دوسرے کو شریک قرار نہ دے_

میں نے عرض کی_ یا امیرالمومنین میں خواہشات نفس اور دنیاوی امور کی طمع سے اپنے اوپر ڈرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا کہ تم کیوں اس ذات سے جو خوف کرنے والوں اور عارفین کی حفاظت کرنے والی ہے سے غافل ہو؟ میں نے عرض کی کہ اس ذات کی مجھے نشاندہی فرمایئےآپ نے فرمایا کہ وہ خداوند عالم ہے کہ جس کے فضل اور کرم سے تو اپنی آرزو کو حاصل کرتا ہے_ تو ہمت کر کے اس کی طرف متوجہ رہ اور جو کچھ دل پر خیالات آتے ہیں انہیں باہر نکال دے اور اگر پھر تجھ پر یہ کام دشوار ہوا تو میں اس کا ضامن ہوں _ خدا کی طرف لوٹنے جا اور اپنی تمام توجہہ خدا کی طرف کر خداوند عالم فرماتا ہے کہ مجھے اپنی ذات اور جلال کی قسم کہ اس کی امید جو میرے سوا کسی دوسرے سے امید رکھتا ہو قطع کر


دیتا ہوں اور اسے ذلت اور خواری کا لباس پہناتا ہوں اور اپنے قرب سے دور کر دیتا ہوں اور اس کا اپنے سے ربط توڑ دیتا ہوں اور اس کی یاد کو مخفی رکھتا ہوں_ ویل اور پھٹکار ہو اس پر کہ جو مشکلات میں میرے سوا کسی دوسرے سے پناہ لیتا ہے جب کہ تمام مشکلات کا حل کرنا میرے ہاتھ میں ہے_ کیا وہ میرے غیر سے امید رکھتا ہے جب کہ میں زندہ اور باقی ہوں_ کیا مشکلات کے حل کرنے میں میرے بندوں کے دروازے پر جاتا ہے جب کہ ان کا دروازہ بند ہے_ کیا میرے دروازہ کو چھوڑ رہا ہے جب کہ وہ کھلا ہوا ہے؟ کس نے مجھ سے امید رکھی ہو اور میں نے اسے نا امید کیا ہو؟

میں نے اپنے بندوں کی امیدوں کو اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اور میں ان کی ان میں حفاظت کرتا ہوں میں نے آسمان کو ان سے پر کردیا ہے جو میری تسبیح کرنے سے تھکتے نہیں ہیں اور فرشتوں سے کہہ رکھا ہے کہ کسی وقت بھی میرے اور میرے بندوں کے درمیاں دروازہ بند نہ کریں_ جب کسی کو مشکل پیش آئے کیا وہ نہیں جانتا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی بھی اس کی مشکل کو حل نہیں کر سکتا؟ کیوں بندہ اپنی ضرورات میں میری طرف رجوع نہیں کرتا جب کہ میں اسے وہ دیتا ہوں کہ جسے اس نے چاہا بھی نہیں ہوتا کیوں مجھ سے سوال نہیں کرتا اور میرے غیر سے سوال کرتا ہے؟ کیا تم یہ سوچ سکتے ہو کہ بغیر سوال کئے تو میں بندے کو دیتا ہوں اور جب وہ مجھ سے سوال کرے گا تو میں اسے نہیں دونگا؟ کیا میں بخیل ہوں کیا بندہ مجھے بخیل جانتا ہے؟ کیا دنیا اور آخرت میرے ہاتھ میں نہیں ہے؟ کیا جو داور سخا میری صفت نہیں ہے؟ کیا فضل اور رحمت میرے ہاتھ میں نہیں ہے؟ کیا تمام آرزوئیں میرے پاس نہیں آتیں؟ کون ہے جو انہیں قطع کرے گا؟ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اگر تمام لوگوں کی خواہشات اور آرزوں کو زمین پر اکٹھا کردیں اور ہر ایک کو ان تمام کے برابر بھی دے دوں تو ذرہ بھر میرے ملک میں کمی واقع نہ ہوگی_ جو کچھ میری طرف سے دیا جاتا ہے وہ


کس طرح نقصان والا ہوگا؟ کتنا بیچارہ اور فقیر ہے وہ شخص کہ جو میری رحمت سے نامید ہے؟ کتنا بیچارہ ہے وہ شخص جو میری نافرمانی کرتا ہے اور حرام کاموں کو بجا لاتا ہے اور میری عزت کی حفاظت نہیں کرتا اور طغیان کرتا ہے؟ امیر المومنین علیہ السلام نے اس کے بعد نوف سے فرمایا کہ اے نوف طغیان کرتا ہے؟ امیر المومنین علیہ السلام نے اس کے بعد نوف سے فرمایا کہ اے نوف یہ دعا پڑھنا_

''الهی ان حمدتک فبموا هبک، و ان مجدتک فبمرادک و ان قدستک فبقوتک و ان هللتک فبقدرتک، و ان نظرت فالی رحمتک، و ان غضصت فعلی یعقتک، الی انه من لم یشغله الو لوع بذکرک، و لم یزوه السفر بقربک، کانت حیاته علیه میتته علیه حسرة، الهی تناهت ابصارت رددون ما یریدون، هتکت بینک و بینهم حجت الغفلته ، فسکنوا فی نورک، تنقسؤا بروحک، فصارت قلوبهم مغارسا لهییتک و ابصارهم معا کفا لقدرتک و قربت ازواجهم من قدسک، فجالسؤا اسقک بوقار المجالسته، و خضوع المخاطبته، فاقبلت الیهم اقبال الشفیق، انصت لهم انصات الرفیق، واجبتهم اجابات الاحباء و انا جیتهم مناجاة الاخلائ، فبلغ بی المحل الذی الیه و صلوا، و انقلیی من ذکری الی ذکرک، و لا تترک بینی و بین ملکوت عزک بابا الافتحته، و لا حجابا من حجب الغفلته الا هتکته حتی تقیم روحی بین ضیاء عرشک، و تجقل لها مقاما نص نورک انک علی کل شی قدیر_

الهی ما اوحش طریقا لا یکون رفیقی فیه املی فیک ، و ابعد سفر الا یکون رجائی عنه دلیلی منک، خاب


من اعتصم بحبل غیرک، وضعف رکن من استند الی غیر رکنک، فیا معلم موملیه الامل فیذهب عنهم کابته الوجل، یا تخرمنی صالح العمل، و اکلاء نی کلاة من فیارقته الحیل، فکیف یلحق موملیک ذل الفقر و انت الغنی، عن مضار المذنبین، الهی و ان کل حلاوة منقطعته، و حلاوة الایمان تزداد حلاوتها اتصالا بک، الهی و ان قلبی قد بسط امله فیک، فاذقه من حلاوة بسطل ایاه البلوغ لما امل، انک علی کل شیء قدیر_

الهی اسئلک مسئلته من یعرفک کنته معرفتک من کل خیر ینتبغی للمومن ان یسلکه، و اعوذ بک من کل شر و فتنته اعذت بها احباء ک خلقک، انک علی کل شیء قدیر_

الهی اسئلک مسلته المسکین الذی قد تحیر فی رجاه، فلا یجد ملجا و لا مسنداً یصل به الیک، و لا یستدل به علیک الا بک و باز کانک و مقامتک التی لا تعطیل لها مسنک، فاسئلک باسمک الذی طهرت به لخاصته اولیائک، فوحدوک، و اعرفوک فعبدوک بحقیقک ان تعرفنی نفسک لا قرلک بربوبیتک علی حقیقته الایمان بک و لا تجعلنی یا الهی من یعبد الاسم دون المعنی


و الحظنی بالحظته من لحظاتک تنوربها قلبی بمعرفتک خاصته و معرفته اولیائک انک علی کل شیء قدیر _(۳۹۷)

امام جعفر صادق(ع) کا حکم

عنوان بصری چورا نوے سال کا کہتا ہے کہ میں علم حاصل کرنے کے لئے مالک بن انس کے پاس آتا جاتا تھا_ جب جعفر صادق علیہ السلام ہماری شہر آئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا کیونکہ میں دوست رکھتا تھا کہ میں آپ سے بھی کسب فیض کروں ایک دن آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جو مورد نظر اور توجہہ قرار پاچکا ہوں یعنی میرے پاس لوگوں کی زیادہ آمد و رفت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود میں دن او رات میں خاص ورد اور ذکر بجا لاتا ہوں تم میرے اس کام میں مزاحم اور رکاوٹ بنتے ہو تم علوم کے حاصل کرنے کے لئے پہلے کی طرح مالک بن انس کے پاس جایا کرو_ میں آپ کی اس طرح کی گفتگو سے غمگین اور افسردہ خاطر ہوا اور آپ کے ہاں سے چلا گیا اور اپنے دل میں کہا کہ اگر امام مجھ میں کوئی خیر دیکھتے تو مجھے اپنے پاس آنے سے محروم نہ کرتے میں رسول خدا کی مسجد میں گیا اور آپ پر سلام کیا دوسرے دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روضہ میں گیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا اے میرے اللہ تعالی میرے لئے جعفر صادق علیہ اسلام کا دل نرم کردے اور اس علم سے مجھے وہ عطا کر کہ جس کے ذریعے میں صراط مستقیم کی ہدایت پاؤں_ اس کے بعد غمگین اور اندوہناک حالت میں گھر لوٹ آیا اور مالک بن انس کے ہاں نہ گیا کیونکہ میرے دل میں جعفر صادق علیہ السلا کی محبت اور عشق پیدا ہو چکا تھا بہت مدت تک سوائے نماز کے میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا یہاں تک میرا صبر ختم ہوچکا اور ایک دن جعفر صادق کے دروازے پر گیا اور اندر جانے کی اجازت طلب کی آپ کا خادم باہر آیا اور کہا


کہ تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ میں امام کی خدمت میں مشرف ہونا چاہتا ہوں اور سلام کرنا چاہتا ہوں خادم نے جواب دیا کہ آقا محراب میں نماز میں مشغول ہیں اور وہ واپس گھر کے اندر چلا گیا اور میں آپ کے دروازے پر بیٹھ گیا_ زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ وہ خادم دوبارہ لوٹ آیا اور کہا کہ اندر آجاؤ میں گھر میں داخل ہوا آور آنحضرت پر سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ خدا تجھے مورد مغفرت قرار دے_ میں آپ کی خدمت میں بیٹھ گیا آپ نے اپنا سر مبارک جھکا دیا اور بہت دیر کے بعد اپنا سر بلند کیا اور فرمایا تمہاری کنیت کونسی ہے؟ میں نے عرض کی کہ ابوعبداللہ آپ نے فرمایا کہ خدا تجھے اس کنیت پر ثابت رکھے اور توفیق عنایت فرمائے_ تم کیا چاہتے ہو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر اس ملاقات میں سوائے اس دعا کہ جو آپ نے فرمائی ہے اور کچھ بھی فائدہ حاصل نہ ہو تو یہ بھی میرے لئے بہت قیمتی اور ارزشمند ہے_ میں نے عرض کی کہ میں نے خدا سے طلب کیا ہے کہ خدا آپ کے دل کو میرے بارے میں مہربان کردے اور میں آپ کے علم سے فائدہ حاصل کروں_ امیدوار ہوں کہ خداوند عالم نے میری یہ دعا قبول کر لی ہوگی_ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا _ اے عبداللہ _ علم پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ علم ایک نور ہے_ جو اس انسان کے دل میں کہ خدا جس کی ہدایت چاہتا ہے روشنی ڈالتا ہے پس اگر تو طالب علم ہے تو پہلے اپنے دل پر حقیقی بندگی پیدا کر اور علم کو عمل کے وسیلے سے طلب کر اور خدا سے سمجھنے کی طلب کرتا کہ خدا تجھے سمجھائے_ میں نے کہا_ اے شریف_ اپ نے فرمایا اے ابوعبداللہ_ کہہ میں نے کہا کہ بندگی کی حقیقت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا بندگی کی حقیقت تین چیزوں میں ہے_ پہلی بندہ کسی چیز کے مالک نہیں ہوا کرتا بلکہ مال کو اللہ تعالی کا مال سمجھے اور اسی راستے میں کہ جس کا خدا نے حکم دیا ہے خرچ کرے_ دوسری_ اپنے امور کی تدبیر میں اپنے آپ کو ناتواں


اور ضعیف سمجھے_ تیسری _ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے اوامر اور نواہی کے بجالانے میں مشغول رکھے اگر بندہ اپنے آپ کو مال کا مالک نہ سمجھے تو پھر اس کے لئے اپنے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنا آسان ہوجائیگا اور اگر اپنے کاموں اور امور کی تدبیر اور نگاہ داری اللہ تعالی کے سپرد کردے تو اس کے لئے مصائب کا تحمل کرنا آسان ہوجائیگا اور اگر وہ اللہ تعالی کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہے تو اپنے قیمتی اور گران قدر وقت کو فخر اورمباہات اور ریاکاری میں خرچ نہیں کرے گا اگر خدا اپنے بندے کو ان تین چیزوں سے نواز دے تو اس کے لئے دنیا اور شیطن اور مخلوق آسان ہوجائے گی اور وہ اس صورت میں مال کو زیادہ کرنے اور فخر اور مباہات کے لئے طلب نہیں کرے گا اور جو چیز لوگوں کے نزدیک عزت اور برتری شمار ہوتی ہے اسے طلب نہیںکرے گا اور اپنے قیمتی وقت کو سستی اور بطالت میں خرچ نہیں کرے گا اور یہ تقوی کا پہلا درجہ ہے اور خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ یہ آخرت کا گھر ہم اس کے لئے قرار دیں گے کہ جو دنیا میں علو اور فساد برپا نہیں کریں گے اور عاقبت اور انجام تو متقیوں کیلیئے ہے_

تلک الدار الاخرة نجعلها للذین لا یریدون علوا فی الارض و لا فسادا و العاقبته للمتقین _

میں نے عرض کیا کہ اے امام(ع) _ مجھے کوئی وظیفہ اور دستور عنایت فرمایئےآپ نے فرمایا کہ میں تجھے نو چیزوں کی وصیت کرتا ہوں اور یہ میری وصیت اور دستورالعمل ہر اس شخص کے لئے ہے جو حق کا راستہ طے کرنا چاہتا ہے اور میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ خدا تجھے ان پر عمل کرنے کی توفیق دے_ تین چیزیں اور دستور العمل نفس کی ریاضت کے لئے ہیں اور تین دستور العمل حلم اور بردباری کے لئے ہیں اور تین دستور العمل علم کے بارے میں ہیں_ تم انہیں حفظ کر لو اور خبردار کہ ان کے بارے میں سستی کرو_ عنوان بصری کہتا ہے کہ میری تمام توجہ آپ کی فرمایشات کی طرف تھی آپ نے فرمایا کہ وہ تین دستور العمل جو


نفس کی ریاضت کے لئے ہیں وہ یہ ہیں_

۱_ خبردار ہو کہ جس چیز کی طلب اور اشتہاء نہ ہو اسے مت کھاؤ_ ۲_ اور جب تک بھوک نہ لگے کھانا مت کھاؤ_ ۳_ جب کھانا کھاؤ تو حلال کھانا کھاؤ اور کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو_ آپ نے اس کے بعد رسول اللہ کی حدیث نقل کی اور فرمایا کہ انسان بر تن کویر نہیں کرتا مگر شکم کا پر کرنا اس سے بدتر ہوتا ہے اور اگر کھانے کی ضرورت ہو تو شکم کا ایک حصہ کھانے کے لئے اور ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ سانس لینے کے لئے قرار دے_

وہ تین دستور العمل جو حلم کے بارے میں ہیں وہ یہ ہیں_

۱_ جو شخص تجھ سے کہے کہ اگر تو نے ایک کلمہ مجھ سے کہا تو میں تیرے جواب میں دس کلمے کہونگا تو اس کے جواب میں کہے کہ اگر تو نے دس کلمے مجھے کہے تو اس کے جواب میں مجھ سے ایک کلمہ بھی نہیں سنے گا_

۲_ جو شخص تجھے برا بھلا کہے تو اس کے جواب میں کہہ دے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو خدا مجھے معاف کردے اور اگر تم جھوٹ کہہ رہے تو خدا تجھے معاف کردے_

۳_ جو شخص تجھے گالیاں دینے کی دھمکی دے تو تو اسے نصیحت اور دعا کا وعدہ کرے وہ تین دستور العمل جو علم کے بارے میں ہیں وہ یہ ہیں_

۱_ جو کچھ نہیں جانتا اس کا علماء سے سوال کر لیکن ملتفت رہے کہ تیرا سوال کرنا امتحان اور اذیت دینے کے لئے نہیں ہونا چاہئے_ ۲_ اپنی رائے پر عمل کرنے سے پرہیز کر اور جتنا کر سکتا ہے احتیاط کو ہاتھ سے نہ جانے دے_ ۳_ اپنی رائے سے (بغیر کسی مدرک شرعی) کے فتوی دینے سے پرہیز کر اور اس سے اس طرح بچ کے جیسے پھاڑ دینے والے شیر سے بچتا ہے_ اپنی گردن کو لوگوں کے لئے پل قرار نہ دے اس کے بعد اپ نے مجھ سے فرمایا کہ اب یہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ_ بہت کافی مقدار میں نے تجھ نصیحت کی ہے اور میرے ذکر اور اذکار کے بجالانے میں زیادہ مزاحم اور رکاوٹ نہ بنو کیونکہ میں اپنی جان کی قیمت اور ارزش کا قائل ہوں اور سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی


کرتا ہے_

''و السلام علی من اتبع الهدی'' _(۳۹۸)

مرحوم مجلسی کا دستور العمل

بہت بڑے بزرگوار عالم جو مقام عرفان میں عارف ربانی ملا محمد تقی مجلسی ہیں انہوں نے لکھا ہے_ کہ میں نے اپنے آپ کو صاف کرنے اور ریاضت کرنے میں کچھ حاصل کیا ہے اور یہ اس وقت تھا جب میں قرآن کی تفسیر لکھنے میں مشغول تھا_ ایک رات نیم نیند اور بیداری میں پیغمبر علیہ السلام کو دیکھا_ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں آنحضرت کے کمالات اور اخلاق میں خوب اور دقت کروں_ میں نے جتنی زیاددہ وقت کی اتنا ہی آنحضرت کی عظمت اور نورانیت کو اس طرح وسیع تر پایا کہ آپ کے نور نے تمام جنگوں کو گھیرا ہوا تھا اسی دوران میں جاگ اٹھا اور اپنے آپ میں آیا تو مجھے القاء ہوا کہ رسول خدا کا اخلاق عین قرآن ہے لہذا ہمیں قرآن میں غور اور فکر کرنا چاہئے میں جتنا قرآن میں زیادہ غور اور فکر کرتا جاتا تھا اتنا ہی زیادہ حقائق سامنے آتے جاتے تھے یہاں تک کہ ایک ہی دفعہ مجھ میں بہت زیادہ قرآن کے معارف اور حقائق آ موجود ہوئے میں جس آیت میں تدبر اور فکر کرتا تھا تو مجھے عجیب موحبت اور مطالب عطا کئے جاتے تھے گرچہ یہ مطالب اس شخص کے لئے کہ جس نے ایسی توفیق حاصل نہ کی ہو بہت دشوار اور ارشاد کرنا ہے_ نفس کی ریاضت او راپنے آپ کو سنوار نے کا دستور العمل یہ ہے کہ بے فائدہ گفتگو کرنے بلکہ اللہ تعالی کے ذکر بغیر بات کرنے سے اپنے آپ کو روکیں_ کھانے پینے اور لباس و غیرہ کی لذیذ چیزوں اور بہترین اور خوبصورت مکان اور عورتوں کو ترک کریں اور بقدر ضرورت استعمال کرنے پر اکتفاء کریں اولیاء خدا کے علاوہ لوگوں سے میل جول نہ رکھیں زیادہ سونے سے پرہیز کریں اور اللہ کے ذکر کو دائماً


اور پابندی سے بجالائیں_ اولیاء خدا نے یا حی یا قیوم او ریا _ من لا الہ الا انت کا زیادہ تجربہ کیا ہے اور میں نے بھی اسی ذکر کا تجربہ کیا ہے لیکن میرا غالبا ذکر _ یا اللہ _ جب کہ دل کو خدا کے علاوہ سے نکال کر اور خداوند عالم کی طرف پوری توجہہ سے ہوا کرتا تھا_

لیکن سب سے زیادہ اہم اللہ تعالی کا پوری توجہ اور پابندی سے ذکر کرنا ہوا کرتا ہے باقی چیزیں اللہ تعالی کے ذکر کے برابر نہیں ہوا کرتیں اگر اللہ کا ذکر چالیس دن اور رات تک متصل کیا جائے تو حکمت اور معرفت اور محبت کے انوار کے دروازے ایسے کرنے والے پر کھول دیئے جاتے ہیں اس وقت وہ فناء فی اللہ اور بقاء باللہ کے مقام تک ترقی کر جاتا ہے_(۳۹۹)

ملا آخوند حسین قلی کا خط

آخوند ملا حسین قلی ہمدانی جو عالم ربانی اور زاہد اور عارف تھے انہوں نے ایک خط تبریز شہر کے ایک عالم کو لکھا کہ جس میں آپ نے فرمایا _بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله رب العالمین و الصلواة و اسلام علی محمد و آله الطاهرین و لعنته الله علی اعدائهم اجمعین _ دینی اور ایمانی بھائیوں پر واضح ہونا چاہئے کہ ذات الہی تک قرب حاصل کرنا سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہے کہ انسان کو تمام حرکات اور سکنات اور تمام اوقات میں شریعت اسلامی کا پابند ہونا چاہئے_

جاہل صوفیاء کی لغویات اور خرافات سے جو ان کی عادت بن چکی ہے اس کے اپنا نے سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ ان کے طریقے اور ذکر اور ورد پر عمل کرنا اللہ سے دور ہو جانے کے اور سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص موچھوں کو بڑھانے رکھے جیسے کہ یہ ایران کے صوفیوں کی جو اپنے آپ کو شیعہ کہلاتے ہیں علامت ہے_ ) اور اسے ضروری سمجھتے ہیں اور گوشت کو نہ کھائے تو یہ بھی خرافات اور لغویات میں شمار ہوتا ہے اگر کوئی شخص ائمہ علیہم السلام کے معصوم ہونے


پر ایمان رکھتا ہے تو اسے سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسے اعمال سے جو ایران کے شیعہ صوفی انجام دیتے ہیں اور اسی طرح خاص ذکر جو ائمہ علیہم السلام سے وارد نہیں ہوئے بجا لاتے ہیں ان سے وہ ذات خدا کے قرب سے دور ہو رہے ہوتے ہیں اور ان سے انہیں قرب الہی حاصل نہیں ہوتا_ لہذا سب سے پہلے شرعیت اسلامی کو مقدم کرے اور جو کچھ شریعت میں وارد ہوا اس پر عمل کرنے کا پابند بنے_ اس ناتوان اور کمزور بندے نے عقل اور روایات سے جو کچھ سمجھا اور استفادہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے سب سے زیادہ اہم خدا کی معصیت اور نافرمانی کو ترک کرنا ہوگا اور جب تک یہ نہیں کرے گا تب تک نہ کوئی ذکر اور نہ کوئی فکر تیرے دل کو فائدہ پہنچا سکے گا کیونکہ شیطان کی اطاعت اور خدمت کرنے والا جو ذات الہی کا نافرمان اور انکاری ہے کس طرح اس ذات کا قرب حاصل کر سکے گا کیا کوئی بادشاہ او راس کی سلطنت خداوند عالم کی سلطنت سے عظیم الشان ہے_

جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اسے خوب سمجھ تیرا اللہ تعالی کی محبت کو طلب کرنا جب کہ تو اس کی معصیت بجالا رہا ہے ایک غلط اور فاسد کام ہے_ کس طرح تم پر مخفی ہے کہ اللہ تعالی کی نافرمانی نفرت کا سبب ہوا کرتی ہے اور اللہ تعالی کا نفرت کرنا محبت کے ساتھ اکٹھا نہیں ہوا کرتا _ جب تیرے نزدیک ثابت ہوچکا ہے کہ نافرمانی نہ کرنا اول اور آخر ظاہر اور باطن دین ہے تو پھر مجاہدہ اور کوشش کرنے کی طرف جلدی کر اور پوری کوشش سے نیند سے بیدار ہونے سے لے کر تمام اوقات میں مراقبہ میں مشغول رہ اور اللہ تعالی کی ذات اقدس کے ادب بجالانے کی پابندی کر اور یہ جان لے کہ تو اپنے تمام وجود کے ذرہ ذرہ میں اس کی قدرت کا قیدی ہے اور اللہ تعالی کے حضور کا احترام کر اور اس کی یوں عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ ذات تجھے دیکھ رہی ہے_ ہمیشہ اس کی عظمت اور اپنے حقیر ہونے اس کی بلندی اور اپنی پستی اس کی عزت اور اپنی ذلت اور اس کا مستفی ہوتا اور تیرا محتاج ہونے کی طرف متوجہہ رہ_ اور اس ذات کی طرف غفلت سے جب کہ وہ تیری


طرف ہمیشہ ملتفت ہے غافل نہ رہ_ اس ذات کے سامنے ایک ذلیل ضعیف بندے کی طرح کھڑا ہو اور اپنے قدموں کو اس کے سامنے یوں جھکا جیسے ایک کمزور کتا اپنے قدم زمین پر رگڑتا ہے_ کیا تیرے لئے یہ شرف اور فخر کافی نہیں کہ اس نے تجھے اپنے عظیم نام لینے کی تیری کثیف اور معصیت کی گندگی سے نجس زبان سے ذکر کرنے کی اجازت دی ہے_

عزیز من_ اس رحیم اور کریم ذات نے زبان کو اپنے شریف ذکر کا مرکز قرا ردیا ہے کتنی بے حیائی ہوگی کہ اس کے مرکز کو غیبت جھوٹ گالیاں دینا آزار اور اذیت اور دوسری نافرمانیوں کی گندگی اور نجاست سے آلودہ کیا جائے_ ذات الہی کے مرکز کو خوشبو اور گلاب سے معطر ہونا چاہئے نہ کہ گندگیوں سے نجس ہو_بلا شک جب مراقبت اور حفاظت کرنے میں وقت نہیں کرے گا تو تجھے علم نہ ہوگا کہ تیرے سات اعضاء یعنی کان زبان ہاتھ پاؤں پیٹ اور شرمگاہ کیا کیا نافرمانی کرتے ہیں اور کتنی آگ لگاتے ہیں؟ اور تو ان سے قتل نہ کیا جا چکا ہو_ اگر میں ان مفاسد کی شرح بیان کروں تو اس خط میں ممکن نہیں ہے میں آیک ورقہ پر کیا کچھ لکھ سکتا ہوں_ تم نے ابھی تک اپنی اعضاء کو معصیت سے پاک نہیں کیا پھر تو کس طرح انتظار رکھتا ہے کہ میں دل کے حالات کی تیرے لئے شرح لکھ دوں پس سچی توبہ کرنے کی طرف جلدی کر اور پھر مراقبت اور کوشش کرنے کی طرف دوڑ لگا_ خلاصہ مراقبت اور حفاظت نفس کے بعد قرب الہی کو طلب کر اور سحری کے وقت بیدا ہو اور تہجد کی نماز کو آداب اور حضور قلب سے بجا لا اور اگر زیادہ وقت مل سکے تو اللہ کے ذکر اور اس کی مناجات میں مشغول ہوجا لیکن رات کے ایک خاص وقت میں حضور قلب کے ساتھ ذکر الہی میں مشغولل رہ اور تمام حالات میں حزن اور رنج سے خالی نہ رہتا اور اگر حزن اور رنج موجود نہ ہو تو اسے اس کے اسباب سے حاصل کر اور فارغ ہونے کے بعد حضرت زہرا علیہ السلام کی تسبیح اور بارہ دفعہ سورہ توحید دس مرتبہ لا الہ الا اللہ و حدہ لا


شریک لہ لہ الملک کو آخر تک اور سہ مرتبہ لا الہ الا اللہ اور ستر مرتبہ استغفار_ اور تھوڑا سا قرآن پڑھ اور دعا صباح بھی ضرور پڑھا کر اور ہمیشہ با وضو رہ اور اگر ہر وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لے تو بہت اچھا ہے_ مومنین کی حاجات اور بالخصوص علما اور بالاخص جو متقی ہیں کے بجالانے میں بہت کوشش کر اور جس محفل میں گناہ کے واقع ہونے کا گمان ہو حتمی طور سے اس کے جانے سے پرہیز کر بلکہ غافل لوگوں کے ساتھ بغیر ضروری کام کے اٹھ بیٹھ کرنا نقصان وہ ہے گرچہ اس میں معصیت بھی نہ ہوتی ہو_ مباح چیزوں میں زیادہ مشغول رہنا زیادہ مزاح کرنا اور لغویات کہنا اور غلط چیزوں کو سننا انسان کے دل کو مار دیتے ہیں اور اگر مراقبہ کے بغیر ذکر اور فکر میں مشغول ہو تو وہ بھی بے فائدہ ہوگا گرچہ حال بھی لے آئے کیونکہ ایسا حال دائمی نہ ہو گا بغیر مراقبہ کے حال پیدا ہونے سے دھوکا نہ کھا_ اس سے زیادہ کہنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے_ التماس دعا اور تم تمام سے دعا کا ملتمس ہوں_ اس بندہ حقیر پر تقصیر اور معاصی کو فراموش نہ کرنا_ شب جمعہ میں سو دفعہ اور جمعہ کے عصر میں سو دفعہ سورہ قدر کو پڑھا کرو_(۴۰۰)

میرزا جواد آقا تبریزی کا دستور العمل

عالم ربانی عارف کامل آقا ملکی تبریزی لکھتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے طویل سجدہ کرنے کی بہت زیادہ سفارش فرمائی ہے کہ یہ ایک بہت ہی اہم کام ہے_ طویل سجدہ کرنا بندگی کی قریب ترین کیفیت اور علامت ہے اسی لئے تو ہر ایک رکعت میں دو سجدہے قرار دیئے گئے ہیں_ ائمہ اطہار اور خالص شیعوں سے طویل سجدے کے بارے میں مہم مطالب ثقل ہوئے ہیں_ امام زین العابدین علیہ السلام کو ایک سجدے میں ایک ہزار مرتبہلا اله الا الله حقا حقا لا اله الا الله تعبدا و رقا لا اله الا ایمانا و صدقا پڑھتے سنا گیا_

امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ کبھی آپ کا سجدہ صبح کی


نماز کی بعد ظہر تک ہوا کرتا تھا اور ائمہ علیہم السلام کے اصحاب میں سے ابن ابی عمیر و جمیل و خربود کے بارے میں بھی ایسا نقل کیا گیا ہے_ نجف اشرف میں طالب علمی کے زمانے میں میرے ایک استاد تھے جو متقی طلبہ کے لئے مرجع تھے میں نے آپ سے سوال کیا آپ نے کو ن سے عمل کا تجربہ کیا ہے کہ جو سالک الی اللہ کے حق میں موثر اور مفید ہو؟ آپ نے فرمایا کہ دن اور رات میں اسیک طویل سجدہ بجا لایا جائے اور سجدہ کی حالت میں یہ کہا جائےلا اله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین اور اس کے ذکر میں اس طرح توجہہ کرے کہ میرا خدا کسی پر ظلم کرنے سے پاک و پاکیزہ ہے بلکہ میں خود ہوں جو اپنے اوپر ظلم کرتا ہوں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہوں_ میرے یہ استاد اپنے مریدوں اور علاقمندوں سے ایسے سجدہ کی سفارش کیا کرتے تھے اور جو بھی یہ سجدہ بجالاتا تھآ اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا کرتا تھا _ بالخصوص وہ حضرات جو اس سجدے کو بہت زیادہ طویل انجام دیتے تھے ان میں سے بعض اس ذکر کو سجدہ میں تکرار کیا کرتے تھے بعض تھوڑا اور بعض زیادہ تکرار کرتے تھے میں نے سنا ہے کہ ان میں سے بعض اس ذکر کو تین ہزار مرتبہ سجدہ میں پڑھا کرتے تھے_(۴۰۱)

شیخ نجم الدین کا دستور العمل

شیخ نجم الدین رازی لکھتے ہیں کہ اداب اور شرائط کے بغیر زیادہ ذکر کرنا مفید نہیں ہوتا_ پہلے شرائط اور ترتیب سے قیام کیا جائے اور جب سچے مرید کو سلوک الی اللہ کا دل میں درد پیدا ہوجائے تو یہ علامت ہوگی کہ اس نے ذکر سے انس پیدا کر لیا ہے اور اسے مخلوق سے وحشت اور نفرت پیدا ہوگئی ہے جو تمام مخلوق سے نامید ہو کر ذکر الہی کی پناہ میں چاپہنچا ہے_ قل اللہ ثم ذرہم (یعنی اللہ کا ذکر کر اور تمام مخلوق کو چھوڑ دے کہ وہ اپنی لغویات میں کھیلتے رہیں) جب ذکر کو پے در پے بجالائے جو صحیح اور خالص توبہ کے بعد ہو اور ذکر کرنے کی حالت میں با غسل ہو اور اگر یہ نہ کر


سکے تو با وضو ہو کیونکہ ذکر الہی کرنا دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے مانند ہوا کرتا ہے اور بغیر اسلحے کے دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور وضو مومن کا اسلحہ ہوا کرتا ہے_ الوضوء سلاح المومومن پاک کپڑے پہنے ہوا ہو اور کپڑے کے پاک ہونے کی چار شرطیں ہیں_ ۱_ نجاست سے پاک ہو_ ۲_ لوگوں پر ظلم کئے ہوئے مال سے پاک ہو_ ۳_ حرام سے یعنی ابریشم سے پاک ہو یعنی ابریشمی کپڑا نہ ہو_ ۴_ رعونت اور تکبر سے پاک ہو یعنی کپڑا کوتاہ ہو بہت لمبا نہ ہو_ ثیابک فطہر سے مراد کوتاہ کرنا ہے_ اور گھر میں خلوت اور تاریکی اور صفات ستھرا کر کے بیٹھے اور اگر تھوڑی خوشبو یعنی دھونی کرے تو بہتر ہے_ قبلہ رخ بیٹھے اور چار زانوں یعنی پلٹھی مار کر گرچہ تمام حالا میں بیٹھنا منع ہے لیکن ذکر کرنے کی حالت میں خواجہ علیہ السلام جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو اسی جگہ پلتھی مار کر یعنی چار زانوں سورج کے نکلنے تک بیٹھے رہتے تھے_ ذکر کرنے کے وقت اپنے ہاتھوں کو رانوں پر رکھے اور دل کو حاضر کرے اور آنکھیں بند کر لے اور پوری تعظیم کے ساتھ ذکر کرنا شروع کردے اور لا الہ الا اللہ کے جملے کو پوری طاقت سے گویا اس کی ناف لا الہ سے اٹھے اور الا اللہ دل پر بیٹھ جائے اور اس کا تمام اعضاء پر اثر ظاہر ہو رہا ہو لیکن اپنی آواز کو بلند نہ کرے اور جتنا ہو سکے آہستہ اور کمتر آواز سے ذکر کرے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے _و اذکر ربک فی نفسک تضرعا و خیفة و دون الجہر من القول اس طرح سے تحت ذکر کرتے ہوئے اس کے معنی کو دل میں فکر کرے دوسرے خیالات کو دور کرے جیسے کہ لا الہ کے معنی سے یہی مراد ہے کہ جو بھی خدا کے علاوہ خیالات ہوں انہیں دور کرے اور گویا یوں سوچے کہ میں سوائے الا اللہ کے کوئی چیز نہیں چاہتا اور میرا مقصود اور محبوب صرف الا اللہ ہے اور تمام خیالات کو الا اللہ کے ذریعے دور کر رہا ہوں اور اللہ تعالی کو اپنا مقصود اور محبوب اور مطلوب الا اللہ کے ذریعے سے کر رہا ہوں اور جان لینا چاہئے کہ ہر ذکر میں اول سے لے کر آخر تک دل نفی اور اثبات میں


حاضر ہو اور لگا رہے_ اور جس وقت دل کے اندر نگاہ کرے اگر کوئی چیز دل کو لبھانے والی ہو تو اسے نظر انداز کر کے دل کو ذات الہی کی طرف توجہہ دے اور الا اللہ کے ذریعے اس چیز کو دل سے اکھیڑ دے اور اس کے ربط کو باطل کردے اور الا اللہ کو اس چیز کی محبت کی جگہ قرار دے دے اسی روش کو دوام دے تا کہ دل آہستہ آہستہ تمام چیزوں کی محبت اور انس سےے خالی ہو کر ذکر الہی سے سرشار ہوجائے_ اس کا باحال ہونا ذکر کے غالب ہوجائے سے ہو_ ذکر کرنے والے کا وجود ذکر کے نور میں مضمحل ہو جائے اور ذاکر کو ذکر مفرد بنا دے اور تمام تعلقات اور موانع کو اس کے وجود سے ختم کر دے اور اسے جسمانی دنیا سے اخروی دنیا کے لئے آمادہ کردے جیسے وارد ہوا ہے کہ سیروا فقد سبق المفردون جان لے کہ دل اللہ تعالی کے لئے خلوت کی جگہ ہے_ لا یسعنی ارضی و لا سمائی و انما یسعنی قلب عبدی المومن یعنی مجھے نہ زمین اور نہ آسمان سمو سکتا ہے مجھے صرف مومن کا دل سمو سکتا ہے_ اور جب تک دل میں اغیار کا وجود ہوگا اس وقت تک اللہ تعالی کی عظمت کی غیرت اس سے نفرت کرے گی لیکن جب لا الہ کا چابک دل کو اغیار سے خالی کر دے گا اس وقت الا اللہ کی بادشاہ کی تجلی کا انتظار کیا جا سکتا ہے_اذا فرغت فانصب و الی ربک فارغب (۴۰۲) جیسے کہ آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ عرفان کے استاذہ نے ذکر کے دوامی بجالانے کو سیر و سلوک کے لئے بہترین طریقہ قرار دیا ہے اور اس کے پہنچنے کے لئے مختلف طریقے اور تجربات اور وصیتیں فرمائی ہیں_ اس مطلب کی علت یہ ہے کہ جتنے ذکر کے طریقے شرعیت میں وارد ہوئے ان کے بنانے کی اصلی غرض غیر خدا سے قطع تعلق کرنا اور پوری توجہہ خدا تعالی کی طرف کرنے کو حاصل کرنا ہے لیکن یہ کام افراد اور مقامات اور حالات کے لحاظ سے فرق رکھتا ہے لہذا کسی نہ کسی استاذ اور مربی کی ضرورت ہے کہ جو اس کام میں رہبری انجام دے احادیث اور دعاؤں کی کتابوں میں بہت زیادہ دعائیں نقل ہوئی ہیں_ اور ہر ایک کے لئے ثواب اور خاصیت ذکر کی گئی ہے_ مطلق دعا اور ذکر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک مطلق اور دوسرا مقید_ بعض ذکر


کے لئے خاص زمانہ اور خاص ترکیب اور خاص عدد بتلایا گیا ہے ایسے ذکر کو اسی طرح بجالانا چاہئے جیسکہ ائمہ علیہم السلام سے نقل ہوا ہے تا کہ اس کے ثواب اور خاص اثر کو حاصل کیا جا سکے_ اس کے بر عکس بعض ذکر مطلق ہیں جن میں کوئی قید نہیں ہے اسے انسان اپنے اختیار سے خاص شرائط اور حالات اور عدد اور زمانے کا تعین کر سکتا ہے_ اور اسے دائمی بجالاتا رہے یا اپنے کسی استاد اور رہنما سے اس میں راہنمایی حاصل کرے آپ اس بارے میں احادیث اور دعاؤں کی کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں_

آخر میں دو مطلب کی طرف توجہہ دلانا ضروری ہے_ پہلا_ عارف انسان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ذکر کرنے کی اصلی غرض و غایت خداوند عالم کی طرف حال اور حضور قلب کا حاصل کرنا ہوتا ہے لہذا ذکر کی تعداد اور زمانے اور کیفیت میں یہ مطلب مد نظر رہے اور پھر اس کو دائمی بجالائے اور جب تھک جائے یا بے میل اور رغبت ہو تو اسے چھوڑ دے اور پھر مناسب وقت میں دوبارہ شروع کر دے_ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' دل اور روح کبھی حالت اقبال اور توجہہ رکھتی ہے اور کبھی سب اور بے میل اور بے رغبت نہ ہوتی ہے لہذا جب دل مائل اور رغبت رکھتا ہو اس وقت عمل کیا جائے کیونکہ اگر روح کو عمل کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے_(۴۰۳)

البتہ اس بارے میں افراد اور مقامات اور حالات کا فرق ہوا کرتا ہے_

دوسرا_ یہ جاننا چاہئے کہ ریاضت نفس اور ذکر کی اصلی غرض اور غایت نفس اور روح کا تکامل اور قرب خداوند ہے_ اللہ تعالی کا تقرب بغیر احکام پر عمل کرنے سے ممکن نہیں ہوا کرتا اگر کوئی انسان شرعی یا اجتماعی ذمہ داری رکھتا ہو تو وہ اسی حالت میں اللہ تعالی کی یاد میں ہو سکتا ہے اور جتنا ہو سکے ذکر کو بھی انجام دے اور فراغت کی حالت میں ذکر کو دائمی بجالائے گوشہ نشین نہیں ہو جانا اور اجتماعی اور شرعی ذمہ داری کو نظر کردینے سے انسان اللہ کا قرب اور تقرب حاصل نہیں کر سکتا_


موانع (رکاوٹیں)

کمالات اور مقامات عالیہ تک پہنچنا اتنا سادہ اور آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ راستہ طے کرنا بہت مشکل اور دشوار ہے اس راستے میں کئی ایک موانع اور رکاوٹیں موجود ہیں اور جو انسان کمال حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے ان کو دور کرنا ہوگا ورنہ وہ کبھی کمال تک نہیں پہنچ سکے گا_

پہلی رکاوٹ

قرب الہی حاصل کرنے اور سر و سلوک الی اللہ کی سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی قابلیت کا نہ ہونا ہے_ جو روح اور دل گناہوں کے ارتکاب کرنے کی وجہ سے تاریک اور آلودہ ہوچکا ہو وہ انوار الہی کی تابش کا مرکز قرار نہیں پا سکتا_ جب انسان کا دل گناہوں کی وجہ سے شیطن کی حکومت کا مرکز پا چکا ہو وہاں کس طرح اللہ کے مقرب فرشتے داخل ہو سکے ہیں ؟ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب انسان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے اگر تو اس نے توبہ کر لی تو وہ نقطہ مٹ جاتا ہے_ اور اگر وہ اسی طرح گناہ بجالاتا رہا


تو و سیاہ نقطہ تدریجاً بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے ت مام دل کو گھیر لیتا ہے اس حالت میں وہ کبھی کامیابی اور چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے گا_(۴۰۴)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' میرے والد فرمایا ہے کہ انسان کے دل اور روح کے لئے گناہ سے کوئی چیز بدتر نہیں ہوا کرتی کیونکہ گناہ انسان کی روح اور قلب سے جنگ کرنا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ اس پر قابو اور غلبہ حاصل کر لیتا ہے اس صورت میں اس کا دل الٹا اور سرنگوں ہو جاتا ہے_(۴۰۵) گناہ گار انسان کی روح سرنگوں اورالہی ہوجاتی ہے اور وہ الٹے راستے چلتی ہے تو پھر وہ کس طرح قرب الہی کے رساتے کی طرف حرکت کر سکی گی اور اللہ تعالی کے فیوضات اور اشراقات کو قبول کرے گی؟ لہذا کمال تک رسائی حاصل کرنے والے انسان کے لئے ضروری اور واجب ہوجاتا ہے کہ وہ ابتداء ہی سے اپنے نفس اور روح کو گناہوں سے پاک اور صاف کرے اور پھر ریاضت اور ذکر الہی میں داخل ہو ور نہ اس کا ذکر اور عبادت میں کوشش کرنا اس کو قرب الہی تک نہیں پہنچا سکے گا_

دوسری رکاوٹ

کمال حاصل حاصل کرنے سے ایک بڑی رکاوٹ مادی اور دنیاوی تعلقات ہیں جیسے مال اور دولت سے اہل و عیال سے یا مکان اور زندگی کے اسباب سے جاہ و جلال مقام اور منصب سے مال باپ سے بہن بھائی سے یہاں تک کہ علم اور دانش سے اور اس طرح کی دوسری چیزوں سے علاقہ اور تعلق یہ وہ تعلقات ہیں کہ انسان کو اللہ تعالی کے قرب حاصل کرنے اور اس کے طرف حرکت اور ہجرت کرنے سے روک دیتے ہیں_

جس دل نے محسوسات سے محبت اور انس کر رکھا ہو اور اس کا فریفتہ اور عاشق ہو کس طرح وہ ان چیزوں کو چھوڑ کر عالم بالا کی طرف حرکت کرے گا جو دل دنیاوی


امور کا مرکز اور مکان بن چکا ہو وہ کب انوار الہی کی تابش کا مرکز قرار پاسکتا ہے؟ بہت سی روایات کے مطابق دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے_ گناہ گار انسان اللہ تعالی سے قرب کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا_ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دنیا کی محبت ہر ایک گناہ کی جڑ ہے( ۴۰۶)

رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' سب سے پہلی چیز کہ جن سے اللہ تعالی کی نافرمانی کی گئی وہ چھ تھیں دنیا سے محبت حکومت اور مقام منصب سے محبت_ عورت سے محبت_ خوراک سے محبت نیند سے محبت اور آرام اور سکون سے محبت_(۴۰۷)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' انسان اللہ تعالی سے اس حکومت میں زیادہ دور ہوتا ہے جب اس کی غرص و غایت صرف پیٹ کا بھرنا اور شہوات حیوانی کا پورا کرنا ہو_

جناب جابر فرماتے ہیں کہ میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے فرمایا اے جابر_ میں محزون اور مشغول دل والا ہوں_ میں نے عرض کی کہ میں آپ پر قربان جاؤں آپ کا محزون اور غمگین ہونا اور مشغول ہونا کس سبب اور وجہہ سے ہے_ آپ نے فرمایا کہ جس کے دل میں خالص اور صاف دین داخل ہو چکا ہو اس کا دل غیر خدا سے خالی ہوجاتا ہے_ اے جابر_ دنیا کیا ہے اور کیا قیمت رکھتی ہے؟ کیا وہ صرف لقمہ نہیں ہے کہ جسے تو کھاتا ہے اور لباس ہے کہ جسے تو پہنتا ہے یا عورت ہے کہ جس سے شادی کرتا ہے کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہے؟ اے جابر_ مومنین دنیا اور زندگی پر بھروسہ نہیں کرتے اور آخرت کے جہاں میں جانے سے اپنے آپ کو امان میں نہیں دیکھتے_ اے جابر_ آخرت ہمیشہ رہنے والی منزل اور مکان ہے اور دنیا مرنے اور چلے جانے کا محل اور مکان ہے_ لیکن دنیا والے اس مطلب سے غافل ہیں صرف مومنین جو فکر او رعبرت اور سمجھ رکھتے ہیں انہیں جوان کے کانوں پر پڑتا ہے اللہ تعالی کے ذکر سے نہیں روکتا_ زرو جواہرات کا دیکھنا انہیں اللہ تعالی کے


ذکر سے غافل نہیں کرتا وہ آخرت کے ثواب کو پالیتے ہیں گویا کہ انہوں نے اس کے علم حاصل کرلیا ہے_(۴۰۹)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' انسان ایمان کی شرینی کو نہیں چکھ سکتا مگر جب وہ جسے کھاتا ہے اس سے لاپرواہی نہ برتے_(۴۱۰)

لہذا عارف انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس طرح کا علاقہ اور محبت اپنے دل سے نکال دے تا کہ اللہ تعالی کی قرب اور مقامات عالیہ کی طرف اس کا حرکت اور ہجرت کرنا ممکن ہوسکے_ دنیا کے اور اور فکر کو اپنے دل سے باہر نکال دے تا کہ اللہ کی یاد اس کے دل میں جگہ پاسکے_ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دنیاوری امور سے علاقہ مندی اور دل دے دنیا صرف قابل خدمت ہے نہ کہ خود دنیا مذموم ہے کیونکہ عارف انسان دوسرے انسانوں کی طرح زندگی کو باقی رکھنے میں غذا اور لباس اور مکان اور بیوی کا محتاج ہے اور ان کے حاصل کرنے کے لئے اسے ضرور کام کرنا ہوگا_ نسل کی بقاء کے لئے اسے شادی ضرور کرنی ہوگی_ اجتماعی زندگی بسر کرنے کے لئے اسے اجتماعی ذمہ داریاں قبول کرنی ہونگیں اسلامی شرعیت میں ان میں کسی کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ ان کے بجالانے میں اگر قصد قربت کرلے تو وہ عبادت بھی ہوجائیں گی اور اللہ سے تقرب کا موجب ہونگیں خود یہ چیزیں اللہ تعالی کے قرب حاصل کرنے کی مانع نہیں ہوا کرتیں وہ جو مانع ہے ان امور سے وابستگی اور محبت ہے_

اگر یہی امور زندگی کی غرض اور غایت قرار پائیں اور اللہ تعالی کے ذکر اور فکر سے غافل بنادیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان خدا سے غافل ہوجائے اور پیسہ او رعورت مقام اور منصب اور علم پرست ہوجائے جو قابل مذمت ہے اور انسان کو اللہ تعالی کی طرف حرکت کرنے سے روک دیتا ہے ورنہ خود پیسہ اور زن علم اور مقام منصب اور ریاست قابل مذمت نہیں ہیں_ کیا پیغمبر اسلام امام سجاد اور امیرالمومنین علیہ السلام اور دوسرے ائمہ اطہار کام اور کوشش نہیں کیا کتے تھے اور اللہ تعالی کی نعمتوں سے استفادہ نہیں کیا کرتے تھے، اسلام کی سب سے بزرگ خصوصیت یہ ہے کہ


دنیاوی اور اخروی امور کے لئے کسی خاص حد اور مرز کا قائل نہیں ہے_

تیسری رکاوٹ

خواہشات نفس اور اس کی ہوی اور ہوس سے پیروی کرنا قرب الہی حاصل کرنے کا بہت بڑا مانع ہے_ نفسانی خواہشات دل کے گھر کو سیاہ دھوئیں کی طرح سیاہ کر دیتے ہیں اس طرح کا دل اللہ تعالی کے انوار کی تابش کی قابلیت نہیں رکھتا_ نفسانی خواہشات انسان کے دل کو ادھر ادھر کھینچتے رہتے ہیں اور اسے مہلت نہیں دیتے کہ وہ خداوند عالم سے خلوت کرسکے اور اس ذات سے انس اور محبت کرسکے_ وہ دن رات نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کی تلاش اور کوشش میں لگا رہتا ہے_ وہ کب دنیا کو چھوڑسکتا ہے تا کہ بارگاہ الہی کی طرف پرواز کرسکے_ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے_ '' ہوی او رہوس کی پیروی نہ کر کیونکہ وہ تجھے خدا کے راستے سے دور کئے رکھیں گے_(۴۱۱) امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' سب سے بہادر انسان وہ ہے جو خواہشات نفس پر غلبہ حاصل کرے _(۴۱۲)

چوتھی رکاوٹ

خدا کی یادسے ایک رکاوٹ او رمانع شکم پرستی ہے_ جو شخص دن رات کوشش کرتا رہتا ہے کہ اچھی اور لذیذ غذا مہیا کرے اور اپنے پیٹ کو مختلف قسم کی غذاؤں سے پر کرے وہ کس طرح اپنے خدا سے خلوت اور راز و نیاز اور انس کرسکتا ہے_ غذا سے بھرا ہوا پیٹ کس طرح اللہ تعالی کی عبادت اور دعا کرنے کی حالت پیدا کرسکتا ہے_ غذا سے بھر ہوا پیٹ کس طرح اللہ تعالی کی عبادت اور دعا کرنے کی حالت پیدا کرسکتا ہے_ جو انسان کھانے اور پینے میں لذت سمجھتا ہے وہ کس طرح اللہ تعالی سے مناجات کی لذت کو محسوس کرسکتا ہے؟ اسی لئے تو اسلام نے شکم پرستی کی مذمت کی ہے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابوبصیر سے فرمایا ہے کہ '' انسان کا پیٹ بھر جانے


سے طغیان کرتا ہے اللہ تعالی سے زیادہ نزدیک ہونے کی حالت انسان کے لئے اس وقت ہوتی ہے جب کہ اس کا پیٹ خالی ہو اور بدترین حالت اس وقت ہوتی ہے جب اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو_( ۴۱۳)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' مومن کے دل کے لئے پرخوری سے اور کوئی چیز نقصان دہ نہیں ہے_ پرخوری قساوت قلب کا سبب ہوا کرتی ہے او رشہوت کو تحریک کرتی ہے_ بھوک مومن کا سالن اور روح کی غذا اور طعام ہے اور بدن کی صحت ہے(۴۱۴) امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جب اللہ تعالی کسی بندے کی مصلحت دیکھتا ہے تو اسے کم غذا کم کلام اور کم خواب کا الہام کرتا ہے_(۴۱۵)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' نفس پر کنٹرول کرنے اور عادت کے ختم کرنے کے لئے بھوک بہترین مددگار ہے(۴۱۶) امیرالمومنین علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ '' خداوند عالم نے معراج کی رات رسول خدا سے فرمایا_ اے احمد_ کاش تم بھوک اور ساکت رہنے اور تنہائی اور اس کے آثار کی شیرینی کو چکھتے_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عرض کی اے میرے خدا_ بھوک کا کیا فائدہ ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا _ دا_نائی دل کی حفاظت میرا تقرب ہمیشگی حزن تھوڑا خرچ_ حق گوئی اور آسائشے اور تنگی میں بے خوف _(۴۱۷)

درست ہے کہ عارف انسان بھی دوسرے انسانوں کی طرح زندہ رہنے اور عبادت کی طاقت کے لئے غذا کا محتاج ہے اسے اتنی مقدار جو بدن کی ضرورت کو پورا کرے کھانا کھانا چاہئے اور شکم پری سے پرہیز کرنا چاہئے_ کیونکہ شکم پری سستی بے میلی اور عبادت کی طرف بے رغبتی قساوت قلب اور اللہ تعالی کی یاد سے غفلت کا سبب ہوا کرتی ہے اور اگر تھوڑا کھائے اور بھوکا رہے تو عبادت کے لئے آمادگی اور خداوند عالم کی ذات کی طرف توجہہ کرنے کا سبب ہوا کرتی ہے_ اس کا تجربہ کیا جا چکا ہے انسان بھوک کی حالت میں با نورانیت روح با صفا اور ہلکا پھکا رہتا ہے لیکن پیٹ بھری ہوئی حالت میں ایسا نہیں ہوا کرتا لہذا ایک عارف انسان کے لئے ضروری ہے کہ جتنی بدن


کو غذا کی ضرورت ہے اتناہی کھائے بالخصوص جب عبادت اور دعا اور ذکر میں مشغول ہو تو بھوکا ہی رہے_

پانچویں رکاوٹ

عارف اور سالک انسان کو اس کے قرب الہی کے مقصد اور حضور قلب اور خدا کی طرف توجہہ سے ایک رکاوٹ غیر ضروری اور بے فائدہ گفتگو کرنا ہوا کرتی ہے_ خداوند عالم نے انسان ضرورت کی مقدار تک گفتگو کرے تو اس نے اس بہت بڑی نعمت سے صحیح فائدہ حاصل کیا ہوگا اور اگر بیہودہ اور غیر ضروری گفتگو کرے تو اس نے اس بہت بڑی نعمت کو ضائع اور بردبار کر دیا ہوگا اس کے علاوہ زیادہ اور ادھر ادھر کی گفتگو اور باتیں کرنا انسان کی فکر کو پریشان کر دیتی ہیں اور پھر وہ پوری طرح سے اللہ تعالی کی طرف حضور قلب اور توجہہ پیدا نہیں کر سکتا_ اسی لئے احادیث میں زیادہ اور بے فائدہ باتیں کرنے کی مذمت وارد ہوئی ہے_

پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' سوائے اللہ تعالی کے ذکر کرنے کے زیادہ کلام کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ اللہ تعالی کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں کرنا قساوت قلب کا سبب ہوتا ہے اللہ تعالی سے سب سے زیادہ دور انسان وہ ہے کہ جس کا دل تاریک ہو_(۴۱۸)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اپنی زبان کی حفاظت کر اور اپنی گفتگو کو شمار کرتا رہے تا کہ تیری گفتگو امر خیر کے علاوہ کمتر ہوجائے_(۴۱۹)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' گفتگو تین قسم کی ہوا کرتی ہے _ مفید _ سالم _ شاحب یعنی بیہودہ_ مفید گفتگو ذکر خدا_ سالم گفتگو وہ ہے کہ جسے خدا دوست رکھے_ شاحب گفتگو وہ ہے جو لوگوں کے متعلق بیہودہ بات کی جائے_(۴۲۰)


پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' اپنی زبان کو قابو اور اس کی حفاظت کر یہ نفس کے لئے بہترین ہدیہ ہے_ انسان صحیح اور حقیقی ایمان تک نہیں پہنچتا مگر یہ کہ وہ اپنی زبان کی نگاہ داری اور حفاظت کرے_(۴۲۱)

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' تین چیزیں فہم اور فقہ کی علامت ہیں تحمل اور بردباری _ علم اور سکوت_ ساکت رہنا دانائی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے_ ساکت رہنا محبت کا سبب ہوتا ہے اور ہر نیکی کی دلیل ہے_(۴۲۲)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' جب عقل کامل ہوتی ہے تو گفتگو ہو جاتی ہے_(۴۲۳)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے ''کوئی بھی عبادت ساکت رہنے اور خانہ کعبہ کی طرف پیدل جانے سے افضل نہیں ہے_(۴۲۴)

رسول خدا نے جناب ابوذر سے فرمایا کہ '' میں تجھے زیادہ ساکت رہنے کی سفارش کرتا ہوں اس واسطے کہ اس وسیلے سے شیطن تم سے دور ہوجائے گا_ دین کی حفاظت کے لئے ساکت رہنا بہتر مددگار ہے_(۴۲۵)

خلاصہ انسان سالک اور عارف پر ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان پر پوری طرح کنٹرول کرے اور سنجیدہ اور سوچ سمجھ کر بات کرے اور زیادہ اور بیہودہ باتیں کرنے سے پرہیز کرے دنیاوی امور میں ضرورت کے مطابق باتیں کرے جو اسے زندگی کرنے کے لئے ضروری ہیں اور اس کے عوض اللہ تعالی کا ذکر اور ورد اور علمی مطالب اور فائدہ مند اور اجتماع کے لئے مفید گفتگو کرنے میں مشغول رہے _ ہمارے بزرگاور عارف ربانی استاد علامہ طباطبائی فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ساکت رہنے کے گراں قدر آثار مشاہدہ کئے ہیں_ چالیس شب و روز ساکت رہنے کو اختیار کیجئے اور سوائے ضروری کاموں کے باتیں نہ کریں اور فکر اور ذکر خدا میں مشغول رہیں تا کہ تمہارے لئے نورانیت اور صفاء قلب حاصل ہو سکے_


چھٹی رکاوٹ

اپنی ذات اور اپنے اپ سے محبت ہے اگر عارف انسان نے تمام رکاوٹیں دور کر لی ہوں تو پھر اس کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ سامنے آتی ہے اور وہ ہے اس کا جب ذات یعنی اپنی ذات سے محبت کرنا_ وہ متوجہ ہوگا کہ اس کے تمام کام اور حرکات یہاں تک کہ اس کی عبادت و غیرہ کرنا سب کے سب اپنی ذات کی محبت کیوجہ سے انجام پارہے ہیں_ عبادت ریاضت ذکر اور دعا نماز اور روزے اس لئے انجام دے رہا ہے تا کہ اپنے نفس کو کامل کرے اور اسے ان کی اجزاء آخرت میں دی جائے گرچہ اس طرح کی عبادت کرنا بھی انسان کو بہشت اور آخرت کے ثواب تک پہنچا دیتی ہے لیکن وہ ذکر اور شہود کے بلند و بالا مقام اور رتبہ تک نہیں پہنچاتی جب تک اس کا نفس حب ذات کو ترک نہ کرے اور وہ اللہ تعالی کے بے مثال جمال کا مشاہدہ نہیں کر سکے گا جب تک تمام حجاب اور موانع یہاں تک کہ حب ذات کا حجاب اور مانع بھی ترک نہ کرے اس صورت میں وہ انوار الہی کا مرکز بننے کی قابلیت اور استعداد پیدا نہیں کر سکے گا_ لہذا عارف اور سالک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریاضت اور مجاہدہ کر کے اپنے آپ کو حب ذات کی حدود سے باہر نکالے اپنی ذات کی محبت کو خدا کی محبت میں تبدیل کر دے اور تمام کاموں کو صرف اور صرف اللہ تعالی کی رضا کے لئے بجا لائے اگر غذا کھاتا ہے تو اس غرض سے کھائے کہ اس کے محبوب نے زندہ رہنے کے لئے اسے ضروری قرار دیا ہے اور اگر عبادت کرتا ہے تو اسے اس نیت سے بجالائے کہ ذات الہی ہی عبادت اور پرستش کی سزاوار اور مستحق ہے_ اس طرح کا انسان نہ دینا کا طلب کرنے والا ہوتا ہے اور نہ آخرت کا بلکہ وہ صرف خدا کا طلب کرنے والا ہوتا ہے_ یہاں تک کہ وہ کشف اور کرامت کا طلبکار بھی نہیں ہوتا اور سوائے حقیقی معبود کے اس کا کوئی اور مطلوب اورمنظور نظر نہیں ہوتا_ اگر کوئی اس مرحلے کو طے کر لے یہاں تک کہ اپنی شخصیت اور ذات کو اپنے آپ سے جدا کردے تو وہ مقام توحید میں


قدم رکھ لے گا اور شہود اور لقاء اللہ کے بلند اور بالا مقام تک ترقی کر جائیگا اور بارگاہ مقعد صدق عند ملیک مقتدر میں نازل ہوجائیگا_

ساتویں رکاوٹ

کمال اور عرفان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور شاید یہ سابقہ تمام رکاوٹوں سے بھی زیادہ ہو وہ ہے ارادہ کا ضعیف ہونا_ اور حتمی فیصلے کرنے کی قدرت نہ رکھنا _ یہ رکاوٹ اور مانع انسان کو عمل شروع کرنے سے روک دیتی ہے_ شیطن اور نفس کرتا ہے کہ انسان کو ظاہر ی ذمہ داری اور وظائف شرعی کی بجالانے کو کافی قرار دے گرچہ اس میں حضور قلب اور توجہہ نہ بھی ہو_ شیطن انسان کو کہتا ہے کہ تو صرف انہیں عبادت کے بجالانے کے سوا اور کوئی شرعی وظیفہ نہیں رکھتا تجھے حضور قلب اور توجہہ اور ذکر سے کیا کام ہے؟ اور اگر کبھی انسان اس کی فکر کرنے بھی لگے تو اسے سینکٹروں حیلے اور بہانوں سے روک دیتا ہے اور کبھی اس مطلب کو اس کرے لئے اتنا سخت نمایاں کرتا ہے کہ انسان اس سے مایوس اور نامید ہوجاتا ہے لیکن اس انسان کے لئے جو کمال حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے ضروری ہے کہ وہ شیطن اور نفس امارہ کے ایسے وسوسوں کے سامنے رکاوٹ بنے اور احادیث اور آیات اور اخلاق کی کتابوں کے مطالعے کرنے سے معلوک کرے کہ سیر اور سلوک کے لئے حضور قلب اور ذکر و شہود کی کتنی ضرورت اور اہمیت ہے اور جب اس نے اس کی اہمیت کو معلوم کر لیا اور اپنی ابدی سعادت کو اس میں دیکھ لیا تو پھر حتمی طور سے اس پر عمل کرے گا اور مایوسی اور ناامیدی کو اپنے سے دور کردے گا اور اپنے آپ سے کہے گا کہ یہ کام گرچہ مشکل ہے اور چونکہ اخروی سعادت اس سے وابستہ ہے لہذا ضرور مجھے اس پر عمل کرنا چاہئے_ اللہ تعالی فرماتا ہے جو ہمارے راستے


میں کوشش اور جہاد کرتے ہیں ہم اس کو اپنے راستوں کی راہنمائی کر دیتے ہی_

و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا (۴۲۶)

ہماری یہ ساری بحث اور کلام تکامل اور تقرب الہی کے پہلے وسیلے اور ذریعے میں تھی یعنی اللہ تعالی کے ذکر میں تھی _ بحث کی طوالت پر ہم معذرت خواہ ہیں_


دوسرا وسیلہ

فضائل اور مکارم اخلاق کی تربیت

نفس کے کمال تک پہنچنےاور قرب الہی کے حاصل کرنے کے لئے ایک وسیلہ ان اخلاقی کی جو انسان کی فطرت اور سرشت میں رکھ دیئے گئے ہیں پرورش اور تربیت کرنا ہے_ اچھے اخلاق ایسے گران بہا امور ہیں کہ جن کا ربط اور سنخیت انسان کے ملکوتی روح سے ہے ان کی تربیت اور پرورش سے انسان کی روح کامل سے کاملتر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے بلند و بالا مقام قرب تک پہنچتا ہے_ اللہ تعالی کی مقدس ذات تمام کمالات کا منبع اور سرچشمہ ہے_ انسان چونکہ عالم بالا سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنی پاک فطرت سے کمالات انسانی کو کہ جن کی عالم بالا سے مناسبت ہے انہیں خوب پہچانتا ہے اور فطرتا ان کی طرف مائل ہے اسی لئے تمام انسان تمام زمانوں میں نیک اخلاق کو جانتے اور درک کرتے ہیں جیسے عدالت_ ایثار_ سچائی_ امانتداری _ احسان _ نیکی_ شجاعت_ صبر اور استقامت علم خیر خواہی مظلوموں کی مدد شکریہ احسان شناسی سخاوت اور بخشش_ وفا


عہد_ توکل_ تواضع اور فروتنی_ عفو اور درگزر_ نرمی مزاجی _ خدمت خلق و غیرہ ان تمام کو ہر انسان خوب پہچانتے اور جانتے ہیں خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتاہے_ کہ قسم نفس کی اور اس کی کہ اسے نیک اور معتدل بنایا ہے اور تقوی اور منحرف ہوجانے کا راستہ اسے بتلایا ہے کامیاب وہ ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک بنایا اور نقصان میں ہوگا وہ کہ جس نے اپنے نفس کو آلودہ اور ناپاک بنایا_(۴۳۷)

جب اخلاقی کام بار بار انجام دیئے جائیں تو وہ نفس میں راسخ اور ایک قسم کا ملکہ پیدا کر لیتے ہیں وہی انسان کو انسان بنانے اور اپنا نے اور ہوجانے میں موثر اور اثر انداز ہوتے ہیں اسی واسطے اسلام اخلاق کے بارے میں ایک خاص طرح کی اہمیت قرار دیتا ہے_ اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ اخلاقیات پر مشتمل ہے_ سینکٹروں آیات اور روایات اخلاق کے بارے میں وارد ہوئی ہیں_ قرآن مجید کی زیادہ آیتیں اخلاق کے بارے میں اور اخلاقی احکام پر مشتمل ہیں یہاں تک کہ اکثر قرآن کے قصوں سے غرض اور غایت بھی اخلاقی احکام امور ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید ایک اخلاقی کتاب ہے _ قاعدتا پیغمبروں کے بھیجنے کی ایک بہت بڑی غرض اور غایت بھی نفس کو پاک اور صاف بنانا اور اخلاق کی اور پرورش کرنا ہے_ ہمارے پیغمبر علیہ السلام نے بھی اپنی بعثت اور بھیجے جانے کی غرص اخلاق کی تکمیل کرنا اور نیک اخلاق کی تربیت کرنا بتلائی ہے اور فرمایا ہے کہ '' میں اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں تا کہ نیک اخلاق کو پورا اور تمام کروں_(۴۲۸)

پیغمبر اسلام لوگوں سے فرماتے تھے کہ '' میں نیک اخلاق کی تمہیں نصیحت اور وصیت کرتا ہوں کیونکہ خداوند عالم نے مجھے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے_(۴۲۹)

نیز پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں اخلاق حسنہ سے کوئی چیز افضل ہو نہیں رکھی جائیگی_(۴۳۰)


تیسرا وسیلہ

عمل صالح

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے بعد انسان کے تکامل کا وسیلہ اعمال صالح ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان قرب خدا اور درجات عالیہ کو حاصل کر سکتا ہے اور اپنی اخروی زندگی کو پاک و پاکیزہ بنا سکتا ہے_ قرآن مجید میں ہے کہ '' جو شخص نیک اعمال بجا لائے خواہ مرد ہو یا عورت جب کہ ایمان رکھتا ہو ہم اس کو ایک پاکیزہ میں اٹھائیں گے اور اسے اس عمل سے کہ جسے وہ بجا لایا ہے_ بہتر جزاء اور ثواب دیں گے_(۴۳۱)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لئے دنیا کی زندگی کے علاوہ ایک اور پاک و پاکیزہ زندگی ہے اور وہ نئی زندگی اس کے ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے_ قرآن فرماتا ہے کہ '' جو لوگ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ خداوند عالم کی طرف لوٹیں یہی وہ لوگ ہیں جو مقامات اور درجات عالیہ پر فائز ہوتے ہیں_(۴۳۲)

خداوند عالم فرماتا ہے کہ '' جو انسان اللہ تعالی کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے نیک عمل بجالانا چاہئے اور عبادت میں خدا کا کوئی شریک قرار نہ دینا چاہئے_(۴۳۳)

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جو شخص عزت کا طلبکار ہے تو تمام عزت اللہ تعالی کے


پاس ہے کلمہ طیبہ اور نیک عمل اللہ تعالی کی طرف جاتا ہے_(۴۳۴)

اللہ تعالی اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام عزت اور قدرت اللہ کے لئے مخصوص ہے اسی کے پاس ہے اور کلمہ طیبہ یعنی موحد انسان کی پاک روح اور توحید کا پاک عقیدہ ذات الہی کی طرف جاتا ہے اور اللہ تعالی نیک عمل کو اپنے پاس لے جاتا ہے_ نیک عمل جب خلوص نیت سے ہو تو انسان کی روح پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے ترقی اور کمال دیتا ہے_ قرآن مجید سے معلوم ہوتاہے کہ آخرت کی پاک و پاکیزہ زندگی اور اللہ تعالی سے قرب اور القاء کا مرتبہ ایمان اور عمل صالح کے ذریعے حاصل ہوتا ہے_ قرآن مجید نے نیک اعمال کے بجا لانے پر بہت زیادہ زور دیا ہے خدا سعادت اور نجات کا وسیلہ صرف عمل صالح کو جانتا ہے نیک عمل کا معیار اور میزان اس کا شریعت اور وحی الہی کے مطابق ہونا ہوا کرتا ہے_ خداوند عالم جو انسان کی خصوصی غرض سے واقف ہے اس کی سعادت اور تکامل کے طریقوں کو بھی جانتا ہے اور ان طریقوں کو وحی کے ذریعے پیغمبر اسلام کے سپرد کر دیا ہے تا کہ آپ انہیں لوگوں تک پہنچا دیں اور لوگ ان سے استفادہ حاصل کریں_

خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ '' جو لوگ ایمان لے آئے ہیں جب خدا اور اس کا رسول تمہیں کسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی عطا کرتی ہیں تو اسے قبول کرو_(۴۳۵)

نیک اعمال شرعیت اسلام میں واجب اور مستحب ہوا کرتے ہیں_ عارف اور سالک انسان ان کے بجالانے سے اللہ تعالی کی طرف سیر و سلوک کرتے ہوئے قرب الہی کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اور یہی تنہا قرب الہی تک پہنچنے کا راستہ ہے اور دوسرے جتنے راستے ہیں وہ عارف کو اس مقصد تک نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ ٹیڑھے راستے ہیں_ عارف انسان کو مکمل طور سے شرعیت کا مطیع اور فرمانبردار ہونا چاہئے اور سیر و سلوک کے لیے شرعیت کے راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے اور ان اذکار اور اوراد اور حرکت سے کہ جس کا شرعیت اسلام میں کوئی مدرک اور


ذکر موجود نہ ہو اس سے اجتناب اور پرہیز کرنا چاہئے نہ صرف وہ مقصد تک نہیں پہنچاتے بلکہ وہ اس کو مقصد سے دور بھی کر دیتے ہیں کیونکہ شرعیت سے تجاوز کرنا بدعت ہوا کرتا ہے_ عارف اور سالک انسان کو پہلے کوشش کرنی جاہئے کہ وہ واجبات اور فرائض دینی کو صحیح اور شرعیت کے مطابق بجالائے کیونکہ فرائض اور واجبات کے ترک کردینے سے مقامات عالیہ تک نہیں پہنچ سکتا گرچہ وہ مستحبات کے بجالائے اور ورد اور ذکر کرنے میں کوشاں بھی رہے_ دوسرے مرحلے میں مستحبات اور ذکر اور ورد کی نوبت آتی ہے_ عارف انسان اس مرحلے میں اپنے مزاجی استعداد اور طاقت سے مستحبات کے کاموں کا بجا لائے اور جتنی اس میں زیادہ کوشش کرے گا اتنا ہی عالی مقامات اور رتبے تک جا پہنچے گا_ مستحبات بھی فضیلت کے لحاظ سے ایک درجے میں نہیں ہوتے بلکہ ان میں بعض دوسرے بعض سے افضل ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بہتر اور جلدی مقام قرب تک پہنچاتے ہیں جیسے احادیث کی کتابوں میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے_ عارف انسان نمازیں دعائیں ذکر اور اوراد کتابوں سے انتخاب کرے اور اس کو ہمیشہ بجا لاتا رہے جتنا زیادہ اور بہتر بجا لائیگا اتنا صفا اور نورانیت بہتر پیدا کرے گا اور مقامات عالیہ کی طرف صعود اور ترقی کرے گا ہم یہاں کچھ اعمال صالح کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور باقی کو کتابوں کی طرف مراجعہ کرنے کا کہتے ہیں لیکن اس کا ذکر کر دینا ضروری ہے کہ فرائض اور نوافل ذکر اور ورد اس صورت میں عمل صالح ار موجب قرب ہونگے جب انہیں بطور اخلاص بجا لایا جائے_ عمل کا صالح اور نیک اور موجب قرب ہونا اخلاص اور خلوص کی مقدار کے لحاظ سے ہوگا لہذا پہلے ہم اخلاص اور خلوص میں بحث کرتے ہیں پھر کچھ تعداد اعمال صالح کی طرف اشارہ کریںگے_

اخلاص

اخلاص کا مقام اور مرتبہ تکامل اور سیر و سلوک کے اعلی ترین مرتبے میں سے ایک ہے اور خلوص کی کی وجہ سے انسان کی روح اور دل انوار الہی کا مرکز بن جاتا ہے


اور اس کی زبان سے علم اور حکمت جاری ہوتے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص خدا کے لئے چالیس دن خالص اور فارغ ہوجائے تو اس کے دل سے حکمت اور دانائی کے چشمے ابلتے اور جاری ہوجاتے ہیں_(۴۳۶)

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' کہاں ہیں وہ لوگ جو اپنے اعمال کو خدا کے لئے خالص بجالاتے ہیں اور اپنے دلوں کو اس لئے کہ اللہ تعالی کی وجہ کا مرکز پاک رکھتے ہیں_(۴۳۷)

حضرت زہراء علیہا السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص خالص عبادت اللہ تعالی کی طرف بھیجے اللہ تعالی بھی بہترین مصلحت اس پر نازل فرماتا ہے_(۴۳۸)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے '' بندوں کا پاک دل اللہ تعالی کی نگاہ کا مرکز ہوتا ہے جس شخص نے دل کو پاک کیا وہ اللہ تعالی کا مورد نظر قرار پائیگا_(۴۳۹)

پیغمبر علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے نقل کیا ہے اور اس نے اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ '' خلوص اور اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے کہ جس شخص کو میں دوست رکھتا ہوں اس کے دل میں یہ قرار دے دیتا ہوں_(۴۴۰)

خلوص کے کئی مراتب اور درجات ہیں_ کم از کم اس کا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی عبادت کو شرک اور ریاء اور خودنمائی سے پاک اور خالص کرے اور عبادت کو صرف خدا کے لئے انجام دے خلوص کی اتنی مقدار تو عبادت کے صحیح ہونے کی شرط ہے اس کے بغیر تو تقرب ہی حاصل نہیں ہوتا عمل کی قیمت اور ارزش اس کے شرک اور ریاء سے پاک اور خالص ہونے پر موقوف ہے_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' خداوند عالم تمہاری شکل اور عمل کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے_(۴۴۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں بہترین شریک ہوں جو شخص کسی دوسرے کو عمل میں شریک قرار دے (تو تمام عمل کو اسی


کے سپرد کر دیتا ہوں) میں سوائے خالص عمل کے قبول نہیں کرتا _(۴۴۲) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خداوند عالم لوگوں کو قیامت میں ان کی نیت کے مطابق محشور کرے گا_(۴۴۳)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' خوش نصیب ہے وہ شخص جو عبادت اور دعا کو صرف خدا کے لئے انجام دیتا ہے اور اپنی آنکھوں کو ان میں مشغول نہ کرے جو آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس کی وجہ سے جو اس سے کان پر پڑتا ہے اللہ تعالی کے ذکر کو فراموش نہ کرے اور جو چیزیں دوسروں کو دی گئی ہیں ان پر غمگین نہ ہو_(۴۴۴)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے_ ''عمل میں خلوص سعادت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے_(۴۴۵) اللہ تعالی کے ہاں وہ عبادت قبول ہوتی ہے اور موجب قرب اور کمال ہوتی ہے جو ہر قسم کے ریاء اور خودپسندی اور خودنمائی سے پاک اور خالص ہو اور صرف اور صرف خدا کے لئے انجام دی جائے عمل کی قبولیت اور ارزش کا معیار خلوص اور اخلاص ہے جتنا خلوص زیادہ ہوگا اتناہی عمل کامل تر اور قیمتی ہوگا_ عبادت کرنے والے کئی طرح کے ہوتے ہیں_

ایک وہ لوگ جو اللہ تعالی کے عذاب اور جہنم کی آگ کے خوف اور ڈر سے عبادت بجا لاتے ہیں_

دوسرے وہ لوگ ہیں جو بہشت کی نعمتوں اور آخرت کے ثواب کے لئے اوامر اور نواہی کی اطاعت کرتے ہیں ان کا اس طرح کا عمل اس کے صحیح واقع ہونے کے لئے تو مضر نہیں ہوتا ان کا ایسا عمل صحیح اور درست ہے اور موجب قرب اور ثواب بھی ہے کیونکہ قرآن مجید اور احادیث میں لوگوں کو راہ حق کی ہدایت اور ارشاد اور تبلیغ کے لئے غالبا انہیں دو طریقوں سے استفادہ کیا گیا ہے بالخصوص پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار اور اولیاء اللہ خداوند عالم کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جزع اور فزع کیا کرتے تھے اور بہشت اور اس کی نعمتوں کے لئے شوق اور امید کا اظہار کیا کرتے تھے_


تیسرے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالی کی نعمتوں کے شکرانہ کے لئے اللہ تعالی کی پرستش اور عبادت کیا کرتے ہیں اس طرح کا عمل بجا لانا اسکے منافی نہیں جو عمل کے قبول ہونے میں خلوص شرط ہے اسی واسطے احادیث میں لوگوں کو عمل بجالانے کی ترغیب اور شوق دلانے میں اللہ تعالی کی نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے تا کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالی کے احکام کی اطاعت کریں بلکہ خود پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار نے عبادت میں انہماک اور کوشش کرنے کا سبب یہ بتلایا ہے کہ کیا ہم اللہ کے شکر گزار بندے قرار نہ پائیں(افلا اکون عبدا شکورا)گر چہ ان تینوں کے اعمال قابل قبول واقع ہوتے ہیں لیکن تیسرے قسم کے لوگ ایک خاص امتیاز اور قیمت رکھتے ہیں کیونکہ ان میں خلوص زیادہ ہوتا ہے_ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں وہ تین قسم کے ہوتے ہیں ایک قسم وہ ہے جو آخرت کے ثواب حاصل کرنے کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں_ ان لوگوں کا کردار تاجروں والا ہے دوسری قسم وہ ہے جو جہنم کے خوف سے اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں یہ اطاعت اور عبادت غلاموں اور نوکر والی ہے_ تیسری قسم وہ ہے جو اللہ تعالی کی نعمتوں کے شکرانے کے ادا کرنے کے لئے عبادت کرتے ہیں یہ عبادت آزاد مردوں والی عبادت ہے_(۴۴۶)

چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو نفس کی تکمیل اور روح کی تربیت کے لئے عبادت کرتے ہیں اس طرح کا م قصد بھی اس خلوص کو جو عبادت کے صحیح ہونے میں شرط ضرر نہیں پہنچاتا_

پانچویں قسم اللہ کے ان ممتاز اور مخصوص بندوں کی ہے کہ جنہوں نے خدا کو اچھی طرح پہنچان لیا ہے اور جانتے ہیں کہ تمام کمالات اور نیکیوں کا منع اور سرچشمہ خدا ہے اس کی عبادت کرتا ہے اور چونکہ وہ اللہ کی بے انتہا قدرت اور عظمت کی طرف متوجہ ہیں اور اس ذات کے سوا کسی اور کو موثر نہیں دیکھتے صرف اسی ذات کو پرستش اور عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اسی لئے خدا کو دوست رکھتے ہیں اور اس کی قدرت اور


عظمت کے سامنے خضوع اور خشوع کرتے ہیں اور یہ اخلاص اور خلوص کا اعلی ترین درجہ اور مرتبہ ہے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ عبادت کرنے والے تین گروہ ہیں_ ایک گروہ ثواب کی امید میں عبادت کرتا ہے یہ عبادت حریص لوگوں کی ہے کہ جن کی غرض طمع ہوتا ہے دوسرا گروہ وہ ہے جو دوزخ کے ڈر سے عبادت کرتا ہے_ یہ عبادت غلاموں کی عبادت ہے کہ خوف اس کا سبب بنتا ہے لیکن میں چونکہ خدا کو دوست رکھتا ہوں اسی لئے اس کی پرستش اور عبادت کرتا ہوں یہ عبادت بزرگوں اور اشراف لوگوں کی ہے اس کا سبب اطمینان اور امن ہے اللہ تعالی فرماتا ہے (و ہم فزع یومئسذ امنون کہ وہ قیامت کے دن امن میں ہیں_ نیز اللہ فرماتا ہے ''قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله و یغفر لکم ذنوبکم _(۴۴۷) امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے '' اے میرے مالک_ میں تیری عبادت نہ دوزخ کے خوف سے اور نہ بہشت کے طمع میں کرتا ہے بلکہ میں تیری عبادت اس لئے کرتا ہوں کے تجھے عبادت اور پرستش کے لائق جانتا ہوں_(۴۴۸)

یہ تمام گروہ مخلص ہیں اور ان کی عبادت قبول واقع ہوگی لیکن خلوص اور اخلاص کے لحاظ سے ایک مرتبے میں نہیں ہیں بلکہ ان میں کامل اور کاملتر موجود ہیں پانچویں قسم اعلی ترین درجہ پر فائز ہے لیکن یہ واضح رہے کہ جو عبادت کے اعلی مرتبہ پر ہیں وہ نچلے درجہ کو بھی رکھتے ہیں اور اس کے فاقد نہیں ہوتے بلکہ نچلے درجے کے ساتھ اعلی درجے کو بھی رکھتے ہیں_ اللہ تعالی کے مخلص اور صدیقین بندے بھی اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں اور ان کے لطف اور کرم کی امید رکھتے ہیں اللہ تعالی کی نعمتوں کے سامنے شکر ادا کرتے ہیں اور معنوی تقرب اور قرب کے طالب ہوتے ہیں لیکن ان کی عبادت کا سبب فقط یہی نہیں ہوتا اور چونکہ وہ خدا کی سب سے اعلی ترین معرفت رکھتے ہیں اسی لئے اس کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں یہ اللہ تعالی کے ممتاز اور منتخب بندے ہیں مقامات عالیہ کے علاوہ نچلے سارے درجات رکھتے ہیں کیونکہ جو انسان تکامل


کے لئے سیر و سلوک کرتا ہے جب وہ اعلی درجے تک پہنچتا ہے تو نچلے درجات کو بھی طے کر کے جاتا ہے_

اب تک جو ذکر جو ذکر ہوا ہے وہ عبادت میں خلوص اور اخلاص تھا لیکن خلوص صرف عبادت میں منحصر نہیں ہوتا بلکہ عارف انسان تدریجا ایک ایسے مقام تک جا پہنچتا ہے کہ وہ خود اور اس کا دل اللہ تعالی کے لئے خالص ہو جاتا ہے اور تمام غیروں کو اپنے دل سے اس طرح نکال دیتا ہے کہ اس کے اعمال اور حرکات اور افکار خداوند عالم کے ساتھ اختصاص پیدا کر لیتے ہیں اور سوائے اللہ تعالی کی رضایت کے کوئی کام بھی انجام نہیں دیتا اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور خدا کے سوا کسی پر اعتماد نہیں کرتا_ اس کی کسی سے دوستی اور دشمنی صرف خدا کے لئے ہوا کرتی ہے اور یہ اخلاص کا اعلی ترین درجہ ہے_

امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جس کا عمل اور علم محبت اور بغض کرنا اور نہ کرنا بولنا اور ساکت رہنا تمام کا تمام خدا کے لئے خالص ہو_(۴۴۹)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جس شخص کی محبت اور دشمنی خرچ کرنا اور نہ کرنا صرف خدا کے لئے ہو یہ ان انسانوں میں سے ہے کہ جس کا ایمان کامل ہوتا ہے_(۴۵۰) امام جعفر صادق علیہ السلام نے ''فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے جس بندے کے دل میں سوائے خدا کے اور کوئی چیز نہ رکھی ہو تو اس کو اس سے اور کوئی شریف ترین چیز عطا نہیں کی_(۴۵۱)

امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کہاں ہے وہ دل جو اللہ تعالی کو بخش دیا گیا ہو اور اس کی اطاعت کا پیمان اور عہد بناندھا گیا ہو_(۴۵۲)

جب کوئی عارف انسان اس مرتبے تک پہنچ جائے تو خدا بھی اس کو اپنے لئے خالص قرار دے دیتا ہے اور اپنی تائید اور فیض اور کرم سے اس کو گناہوں سے محفوظ


کر دیتا ہے اس طرح کا انسان مخلص پہچانا جاتا ہے اور مخلص انسان اللہ تعالی کے ممتاز بندوں میں سے ہوتے ہیں_

خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ '' ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے خالص قرار دے دیا ہے_(۴۵۳)

قرآن کریم حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے کہ '' یقینا و ہ خالص ہوگیا ہے اور رسول اور پیغمبر ہے_(۴۵۴)

اللہ تعالی کے خالص بندے ایک ایسے مقام تک پہنچتے ہیں کہ شیطن ان کو گمراہ کرنے سے ناامید ہوجاتا ہے قرآن کریم شیطن کی زبان نقل کرتا ہے کہ اس نے خداوند عالم سے کہا کہ '' مجھے تیری عزت کی قسم کہ میں تیرے تمام بندوں کو سوائے مخلصین کے گمراہ کروں گا اور مخلصین کے گمراہ کرنے میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے_(۴۵۵) بلکہ اخلاص کے لئے روح اور دل کو پاک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور عبادت کرنے میں کوشش اور جہاد کرنا ہوتا ہے_ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''عبادت کا نتیجہ اور ثمر اخلاص ہوتا ہے_(۴۵۶)

جیسے کہ احادیث میں وارد ہوا ہے کہ چالیس دن تک عبادت اور ذکر کو برابر بجا لانا دل کے صفا اور باطنی نورانیت اور مقام اخلاص تک پہنچنے کے لئے سبب اور موثر اورمفید ہوتاہے نہ صرف ایک دفعہ بلکہ تدریجا اور اخلاص کے باطنی مراحل طے کرتے رہنے سے ایسا ہو سکتا ہے_


کچھ نیک اعمال

پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ انسان کو تکامل تک پہچانے اور قرب اور ارتقاء کے مقام تک لے جانے کا راستہ صرف اور صرف وحی الہی اور شرعیت کی پیروی کرنے میں منحصر ہے اور یہی وہ راستہ ہے کہ جسے انبیاء علیہم السلام نے بیان کیا ہے او رخود اس پر عمل کیا ہے اور اسے واجبات اور مستحبات سے بیات کیا ہے یہی عمل صالح ہے_ عمل صالح یعنی واجبات اور مستحبات جو اسلام میں بیان کئے گئے ہیں اور انہیں قرآن اور احادیث اور دعاؤں کی کتابوں میں لکھا گیا ہے آپ انہیں معلوم کر سکتے ہیں اور ان پر عمل کر کے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم یہاں پر ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں_

اول: واجب نمازیں

قرب الہی اور سیر و سلوک معنوی کے لئے نماز ایک بہترین سبب اور عامل ہے_ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ہر پرہیزگار انسان کے لئے نماز قرب الہی کا وسیلہ ہے_(۴۵۷)

معاویہ بن وھب نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ بہترین وسیلہ جو بندوں کو خدا کے نزدیک کرتا ہے اور خدا اسے دوست رکھتا ہے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا


اللہ کی معرفت کے بعد میں نماز سے بہتر کوئی اور کسی چیز کو وسیلہ نہیں پاتا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی کے نیک بندے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خدا نے مجھے جب تک زندہ ہوں نماز اور زکوة کی سفارش ہے_(۴۵۸)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اللہ تعالی کے نزدیک نماز محبوب ترین عمل ہے_ انبیاء کی آخری وصیت نماز ہے_ کتنا ہی اچھا ہے کہ انسان غسل کرے اور اچھی طرح وضوء کرے اس وقت ایک ایسے گوشہ میں بیٹھ جائے کہ اسے کوئی نہ دیکھے اور رکوع اور سجود میں مشغول ہوجائے جب انسان سجدے میں جائے اور سجدے کو طول دے تو شیطن داد اور فریاد کرتا ہے کہ اس بندے نے خدا کی اطاعت کی اور سجدہ کیا اور میں نے سجدے کرنے سے انکار کر دیا تھا_(۴۵۹)

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ایک بندہ کی خدا کے نزدیک ترین حالت اس وقت ہوتی ہے جب وہ سجدے میں ہوتا اس واسطے کہ خداوند عالم فرماتا ہے کہ واسجد و اقترب_(۴۶۰)

حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''جب انسان نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو آسمان سے اس پر اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اس کے ارد گرد ملائکہ گھیرا کر لیتے ہیں ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اگر یہ نماز کی ارزش اور قیمت کو جانتا تو کبھی نماز سے روگردانی نہ کرتا_(۴۶۱)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے '' جب مومن بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو خداوند عالم نماز سے فارغ ہونے تک اس کی طرف نگاہ کرتا ہے اور آسمان سے اللہ تعالی کی رحمت اسے گھیر لیتی ہے اور فرشتے اس کے اردگرد گھیرا ڈال دیتے ہیں خداوند اس پر ایک فرشتے کو معین کر دیتا ہے جو اسے کہتا ہے کہ اے نماز پڑھتے والے اگر تو جان لیتا کہ تو کس کی توجہ کا مرکز ہے اور کس سے مناجات کر رہا ہے تو پھر تو کسی دوسری چیز کی طرف ہرگز توجہ نہ کرتا اور کبھی یہاں سے باہر نہ جاتا_(۴۶۲)


نماز میں حضور قلب

نماز ایک ملکوتی اور معنوی مرکب ہے کہ جس کی ہر جزو میں ایک مصلحت اور راز مخفی ہے_ اللہ تعالی سے راز و نیاز انس محبت کا وسیلہ اور ارتباط ہے_ قرب الہی اور تکامل کا بہترین وسیلہ ہے_ مومن کے لئے معراج ہے برائیوں اور منکرات سے روکنی والی ہے_ معنویت اور روحانیت کا صاف اور شفاف چشمہ ہے جو بھی دن رات میں پانچ دفعہ اس میں جائے نفسانی آلودگی اور گندگی سے پاک ہو جاتا ہے اللہ تعالی کی بڑی امانت اور اعمال کے قبول ہونے کا معیار اور ترازو ہے_

نماز آسمانی راز و اسرار سے پر ایک طرح کا مرکب ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ اس میں روح اور زندگی ہو_ نماز کی روح حضور قلب اور معبود کی طرف توجہہ اور اس کے سامنے خضوع اور خشوع ہے_ رکوع اور سجود قرات اور ذکر تشہد اور سلام نماز کی شکل اور صورت کو تشکیل دیتے ہیں_ اللہ تعالی کی طرف توجہ اور حضور قلب نماز کے لئے روح کی مانند ہے_ جیسے جسم روح کے بغیر مردہ اور بے خاصیت ہے نماز بھی بغیر حضور قلب اور توجہ کے گرچہ تکلیف شرعی تو ساقط ہو جاتی ہے لیکن نماز پڑھنے والے کو اعلی مراتب تک نہیں پہنچاتی نماز کی سب سے زیادہ غرض اور غایت اللہ تعالی کی یاد اور ذکر کرنا ہوتا ہے_ خداوند عالم پیغمبر علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ '' نماز کو میری یاد کے لئے برپا کر_( ۴۶۴)

قرآن مجید میں نماز جمعہ کو بطور ذکر کہا گیا ہے یعنی '' اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو موجب نماز جمعہ کے لئے آواز دی جائی تو اللہ تعالی کے ذکر کی طرف جلدی کرو_(۴۶۵)

نماز کے قبول ہونے کا معیار حضور قلب کی مقدار پر قرار پاتا ہے جتنا نماز میں حضور قلب ہوگا اتنا ہی نماز مورد قبول واقع ہوگی_ اسی لئے احادیث میں حضور قلب کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے_ جیسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے ''کبھی آدھی نماز قبول ہوتی ہے اور کبھی تیسرا حصہ اور کبھی چوتھائی اور کبھی پانچواں حصہ


اور کبھی دسواں حصہ_ بعض نمازیں پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر نماز پڑھنے والے کے سرپر مار دی جاتی ہے_ تیری نماز اتنی مقدر قبول کی جائیگی جتنی مقدار تو خدا کی طرف توجہ کرے گا_( ۴۶۶) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جب انسان نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو خدا اس کی طرف توجہہ کرتا ہے اور اپنی توجہ کو اس سے نہیں ہٹاتا مگر جب تین دفعہ وہ خدا سے غافل ہو جائے اس وقت خداوند عالم بھی اس سے اعراض اور روگردانی کر لیتا ہے_(۴۶۷)

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' سستی اور بیہودہ حالت میں نماز نہ پڑھو_ نماز کی حالت میں اپنی فکر میں نہ رہو کیونکہ تم خدا کے سامنے کھڑے ہو_ جان لو کہ نماز سے اتنی مقدار قبول ہوتی ہے جتنی مقدار تیرا دل اللہ کی طرف توجہ کرے گا_(۸ ۴۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' جو بندہ نماز کی حالت میں خدا کے علاوہ کسی کی طرف متوجہ ہو تو خدا اس سے کہتا ہے کہ اے میرے بندے کس کا ارادہ کیا ہے اور کس کو طلب کرتے ہو؟ کیا میرے علاوہ کسی کو خالق اور حفاظت کرنے والا ڈھونڈتے ہو؟ کیا میرے علاوہ کسی کو بخشنے والا طلب کرتے ہو؟ جب کہ میں کریم اور بخشنے والوں سے زیادہ کریم اور بخشنے والا ہوں اور سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہوں میں تمہیں اتنا ثواب دونگا کہ جسے شمار نہیں کیا سکے گا میری طرف توجہ کر کیونکہ میں اور میرے فرشتے تیری طرف توجہ کر رہے ہیں اگر نمازی نے خدا کی طرف توجہ کی تو اس دفعہ اس کے گزرے ہوئے گناہ مٹ جاتے ہیں اور اس نے دوسری دفعہ خدا کے علاوہ کسی طرف توجہہ کی تو خداوند عالم دوبارہ اسے سابقہ گفتگو کی طرح خطاب کرتا ہے اگر اس نے نماز کی طرف توجہ کر لی تو اس کا غفلت کرنے والا گناہ بخشنا جاتا ہے اور اس کے آثار زائل ہوجاتے ہیں اور اگر تیسری دفعہ نماز سے توجہہ ہٹا لے خدا


پھر بھی پہلے کی طرح اسے خطاب کرتا ہے اگر اس دفعہ نماز کی توجہ کر لے تو اس دفعہ اس کا غفلت والا گناہ بخش دیا جاتا ہے اور اگر چوتھی دفعہ نماز سے توجہ ہٹا لے تو خدا اور اس کے ملائکہ اس سے توجہ ہٹا لیتے ہیں_ خدا اس سے کہتا ہے کہ تجھے اسی کی طرف چھوڑے دیا ہے کہ جس کی طرف توجہ کر رہا ہے_(۴۶۹)

نماز کی ارزش اور قیمت خدا کی طرف توجہ اور حضور قلب سے ہوتی ہے توجہ اور حضور قلب کی مقدار جتنا اسے باطنی صفا اور تقرب الی اللہ حاصل ہوتا ہے_ بلا وجہ انبیاء علیہم السلام اور ائمہ اطہار اور اولیاء کرام نماز کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تھے_ امیر المومنین علیہ السلام کے حالات میں لکھا ہے کہ جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو آپ کے بدن پر لزرہ طاری ہوجاتا تھا اور آپکے چہرے کا رنگ بدن جاتا تھا_

آپ سے تبدیلی اور اضطراب کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا ''کہ اس وقت اس امانت کے ادا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جو آسمان اور زمین پر ڈالی گئی تھی لیکن وہ ڈرگئے تھے اور اس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا لیکن انسان نے اس بڑے امانت کے اٹھانے کو قبول کر لیا تھا میرا خوف اس لئے ہے کہ آیا میں اس امانت کو ادا کر لونگا یا نہ؟(۴۷۰)

امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے احوال میں کہا گیا ہے کہ نماز کے وقت ان کے چہرے کا رنگ زرد اور سرخ ہو جاتا تھا اور نماز کی حالت میں اس طرح ہوتے تھے کہ گویا اس گفتگو کر رہے ہیں کہ جسے وہ دیکھ رہے ہیں_(۴۷۱)

امام زین العابدین کے حالات میں لکھا ہے کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوجاتا تھا اور ایک حقیر بندے کی طرح خدا کے سامنے کھڑے ہوتے تھے آپ کے بدن کے اعضاء خدا کے خوف سے لرزتے تھے اور آپ کی نماز ہمیشہ و داعی اور آخری نماز کی طرح ہوا کرتی تھی کہ گویا آپ اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھ سکیں گے_(۴۷۲)

حضرت زہرا علیہا السلام کے بارے میں ہے کہ نماز کی حالت میں سخت خوف کی


وجہ سے آپ کی سانس رکنے لگ جاتی تھی_(۴۷۳)

امام حسن علیہ السلام کے حالات میں لکھا ہے کہ نماز کی حالت میں آپ کا بدن مبارک لرزنے لگتا تھا اور جب بہشت یا دوزخ کی یاد کرتے تو اس طرح لوٹتے پوٹتے کہ جیسے سانپ نے ڈس لیا ہو اللہ تعالی سے بہشت کی خواہش کرتے اور دوزخ سے پناہ مانگتے تھے_(۴۷۴)

حضرت عائشےہ رسول خدا(ص) کے بارے میں فرماتی ہیں کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے گفتگو کر رہی ہوتی جب نماز کا وقت آیات تو آپ اس طرح منقلب ہوتے کہ گویا آپ مجھے نہیں پہچانتے اور میں انہیں نہیں پہچانتی_(۴۷۵)

امام زین العابدین علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ نماز کی حالت میں تھے کہ آپ کے کندھے سے عبا گر گئی لیکن آپ متوجہ نہیں ہوئے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کے اصحاب میں سے ایک نے عرض کی اے فرزند رسول(ص) آپ کی عباء نماز کی حالت میں گر گئی اور آپ نے توجہ نہیں کی؟ آپ نے فرمایا کہ افسوس ہو تم پر جانتے ہو کہ میں کس ذات کے سامنے کھڑا ہوا تھا؟ اس ذات کی توجہ نے مجھے عباء کے گرنے کی توجہ سے روکا ہوا تھا_ کیا تم نہیں جانتے کہ بندہ کی نماز اتنی مقدار قبول ہوتی ہے کہ جتنا وہ خدا کی طرف حضور قلب رکھتا ہو_ اس نے عرض کی _ اے فرزند رسو ل(ص) پس ہم تو ہلاک ہوگئے؟ آپ نے فرمایا '' نہیں _ اگر تم نوافل پڑھو تو خدا ان کے وسیلے سے تمہاری نماز کو پورا کر دے گا_(۴۷۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ نماز کی حالت میں آپ کا چہرہ متغیر ہوجاتا تھا اور آپ کے سینے سے غلفے کی طرح آواز اٹھتی ہوئی سنی جاتی تھی اور جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اس لباس کی طرح جو زمین پر گرا ہوا ہو حرکت نہیں کیا کرتے تھے_


حضور قلب کے مراتب

حضور قلب اول اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنے کے مختلف درجات ہیں کہ ان میں سے بعض کامل اور دوسرے بعض زیادہ کامل ہیں_ عارف انسان آہستہ آہستہ ان درجات کو طے کرے تا کہ قرب اور شہود کے اعلی درجے اور عالیتر مقام کو حاصل کر لے_ یہ ایک طویل راستہ ہے اور متعدد مقامات رکھتا ہے کہ جس کی وضاحت مجھ جیسے محروم انسان سے دور ہے دور سے دیکھتے والا جو حسرت کی آگ میں جل رہا ہے یہ اس کی قدرت اور طاقت سے خارج ہے لیکن اجمالی طور سے بعض مراتب کی طرف اشارہ کرتا ہوں شاید کہ عارف انسان کے لئے فائدہ مند ہو_

پہلا مرتبہ

یوں ہے کہ نماز پڑھنے والا تمام نماز یا نماز کے بعض حصے میں اجمالی طور سے توجہ کرے کہ خداوند عالم کے سامنے کھڑا ہوا ہے اور اس ذات کے ساتھ ہم کلام اور راز و نیاز کر رہا ہے گرچہ اسے الفاظ کے معانی کی طرف توجہ نہ بھی ہو اور تفضیلی طور سے نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے_

دوسرا مرتبہ

قلب کے حضور اور توجہ کا یوں ہونا کہ نمازی علاوہ اس کے کہ وہ نماز کی حالت میں اپنے آپ کو یوں جانے کہ خدا کے سامنے کھڑا اور آپ سے راز و نیاز کر رہا ہے ان کلمات کے معانی کی طرف بھی توجہ کرے جو پڑھ رہا ہے اور سمجھے کہ وہ خدا سے کیا کہہ رہا ہے اور کلمات اور الفاظ کو اس طرح ادا کرے کہ گویا ان کے معانی کو اپنے دل پر خطور دے رہا ہے مثل اس ماں کے جو الفاظ کے ذریعے اپنے فرزند کو معانی کو تعلیم دیتی ہے_


تیسرا مرتبہ

یہ ہے کہ نمازی تمام سابقہ مراتب بجا لاتے ہوئے تکبیر اور تسبیح تقدیس اور تحمید اور دیگر اذکار اور کلمات کی حقیقت کو خوب جانتا ہو اور ان کو علمی دلیلوں کے ذریعے پہچانتا ہو اور نماز کی حالت میں ان کی طرف متوجہ ہو اور خوف جانے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا چاہتا ہے اور کس ذات سے ہم کلام ہے_

چوتھے مرتبہ

یہ ہے کہ نمازی ان سابقہ مرحلوں کے ساتھ کلمات اور اذکار کے معانی اور معارف کو اچھی طرح اپنی ذات کے اندر سموئے اور کامل یقین اور ایمان کے درجے پر جا پہنچے اس حالت میں زبان دل کی پروی کرے گی اور دل چونکہ ان حقائق کا ایمان رکھتا ہے زبان کو ذکر کرنے پر آمادہ اور مجبور کرے گا_

پانچواں مرتبہ

یہ ہے کہ نمازی سابقہ تمام مراحل کے ساتھ کشف اور شہود اور حضور کامل تک جاپہنچے اللہ تعالی کے کمالات اور صفات کو اپنی باطنی آنکھوں سے مشاہدہ کرے اور سوائے خدا کے اور کسی چیز کو نہ دیکھے یہاں تک کہ اپنے آپ اور اذکار اور افعال اور حرکات کی طرف بھی متوجہ نہ ہو خدا سے ہم کلام ہے یہاں تک کہ متکلم اور کلام سے بھی غافل ہے اپنے آپ کو بھی گم اور ختم کر چکا ہے_ اور اللہ تعالی کے جمال کے مشاہدے میں محو اور غرق ہے_ یہ مرتبہ پھر کئی مراتب اور درجات رکھتا ہے کہ عارف انسانوں کے لحاظ سے فرق کر جاتا ہے _ یہ مرتبہ ایک عمیق اور گہرا سمندر ہے بہتر یہی ہے کہ مجھ جیسا محروم انسان اس میں وارد نہ ہو اور اس کی وضاحت ان کے اہل اور مستحق لوگوں کی طرف منتقل کردے_اللهم ارزقنا حلاوة ذکرک و


مشاهدة جمالک

حضور قلب اور توجہ کے اسباب

جتنی مقدار حضور قلب اور توجہ کی ارزش اور قیمت زیادہ ہے اتنی مقدار یہ کام مشکل اور سخت دشوار بھی ہے _ جب انسان نماز میں مشغول ہوتا ہے تو شیطان وسوسہ ڈالنا شروع کردیتا ہے او ردل کو دائما ادھر ادھر لے جاتا ہے اور مختلف خیالات اور افکارمیں مشغول کر دیتا ہے_ اسی حالت میں انسان حساب کرنا شروع کر دیتا ہے بقشے بناتا ہے اور گذرے ہوئے اور آئندہ کے مسائل میں فکر کرنا شروع کر دیتا ہے_ علمی مطالب کو حل کرتا ہے اور بسا اوقات ایسے مسائل اور موضوعات کو کہ جن کو بالکل فراموش کر چکا ہے نماز کی حالت میں یاد کرتا ہے اور اس وقت اپنے آپ میں متوجہ ہوتا ہے کہ جب نماز ختم کر چکا ہوتا ہے اور اگر اس کے درمیان تھوڑا سا نماز کی فکر میں چلا بھی جائے تو اس سے فورا منصرف ہوجاتا ہے_

بہت سی تعجب اور افسوس کا مقام ہے _ کیا کریں کہ اس سرکش اور بیہودہ سوچنے والے نفس پر قابو پائیں کس طرح نماز کی حالت میں مختلف خیالات اور افکار کو اپنے آپ سے دور کریں اور صرف خدا کی یاد میں رہیں_ جن لوگوں نے یہ راستہ طے کر لیا ہے اور انہیں اس کی توفیق حاصل ہوئی ہے وہ ہماری بہتر طریقے سے راہنمایی کر سکتے ہیں_ بہتر یہ تھا کہ یہ قلم اور لکھنا اس ہاتھ میں ہوتا لیکن یہ حقیر اور محروم بھی چند مطالب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو حضور قلب اور توجہہ کے فائدہ مند ہوں گے_

۱_ گوشہ نشینی

اگر مستحب نماز یا فرادی نماز پڑھے تو بہتر ہے کہ کسی تنہائی کے مکان کو منتخب کرے کہ ج ہاں شور و شین نہ ہو اور وہاں کوئی فوٹو و غیرہ یا کوئی ایسی چیز نہ ہو کہ جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرے اور عمومی جگہ پر نماز پڑھے اور اگر گھر میں نماز پڑھے تو


بہتر ہے کہ کسی خاص گوشے کو منتخب کر لے اور ہمیشہ وہاں نماز پڑھتا رہے نماز کی حالت میں صرف سجدہ گاہ پر ن گاہ رکھے یا اپنی آنکھوں کو بند رکھے اور ان میں سے جو حضور قلب اور توجہہ کے لئے بہتر ہو اسے اختیار کرے اور بہتر یہ ہے کہ چھوٹے کمرے یا دیوار کے نزدیک نماز پڑھے کہ دیکھنے کے لئے زیادہ جگہ نہ ہو اور اگر نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھے تو پھر صرف سجدہ گاہ پر نگاہ کرے اور اگر پیش نماز بلند آواز سے قرات پڑھے تو اس کی قرائت کی طرف خوب توجہ کرے_

۲_ رکاوٹ کا دور کرنا

نماز شروع کرنے سے پہلے جو حضور قلب اور توجہ کا مانع اور رکاوٹ ہے اسے دور کرے پھر نماز پڑھنے میں مشغول ہوجائے اور اگر پیشاب اور پاخانے کا زور ہو تو پہلے اس سے فارغ ہو جائے اس کے بعد وضو کرے اور نماز میں مشغول ہو اور اگر سخت بھوک اور پیاس لگی ہوئی ہو تو پہلے کھانا اور پانی پی لے اور اس کے بعد نماز پڑھے اور اگر پیٹ کھانے سے بھرا ہوا اور نماز پڑھنے کو دل نہ چاہتا ہو تو پھر ٹھہر جائے اور صبر کرے یہاں تک کہ نماز پڑھنے کو دل چاہنے لگے_

اور اگر زیادہ تھکاوٹ یا نیند کے غلبے سے نماز پڑھنے کو دل نہ چاہتا ہو_ تو پہلے اپنی تکاوٹ اور نیند کو دور کرے اس کے بعدنماز پڑھے_ اور اگر کسی مطلب کے واضح نہ ہونے یا کسی واقعہ کے رونما ہونے سے پریشان ہو اگر ممکن ہو تو پہلے اس پریشانی کے اسباب کو دور کرے اور پھر نماز میں مشغول ہو سب سے بڑی رکاوٹ دنیاوی امور سے محبت اور علاقہ اور دلبستگی ہوا کرتی ہے_ مال و متاع _ جاہ و جلال اور منصب و ریاست اہل و عیال یہ وہ چیزیں ہیں جو حضور قب کی رکاوٹ ہیں ان چیزوں سے محبت انسان کے افکار کو نماز کی حالت میں اپنی طرف مائل کر دیتے ہیں اور ذات الہی کی طرف متوجہ ہونے کو دور کر دیتے ہیں_ نماز کو ان امور سے قطع تعلق کرنا چاہئے تا کہ اس کی توجہ اور حضور قلب اللہ تعالی کی طرف آسان ہوجائے_


۳_ قوت ایمان

انسان کی اللہ تعالی کی طرف توجہ اس کی معرفت اور شناخت کی مقدار کے برابر ہوتی ہے اگر کسی کا اللہ تعالی پر ایمان یقین کی حد تک پہنچا ہوا ہو اور اللہ تعالی کی قدرت اور عظمت اور علم اور حضور اور اس کے محیط ہونے کا پوری طرح یقین رکھتا ہو تو وہ قہر اللہ تعالی کے سامنے خضوع اور خشوع کرے گا_ اور اس غفلت اور فراموشی کی گنجائشے باقی نہیں رہے گی_ جو شخض خدا کو ہر جگہ حاضر اور ناظر جانتا ہو اور اپنے آپ کو اس ذات کے سامنے دیکھتا ہو تو نماز کی حالت میں جو ذات الہی سے ہم کلامی کی حالت ہوتی ہے کبھی بھی اللہ تعالی کی یاد سے غافل نہیں ہوگا_ جیسے اگر کوئی طاقت ور بادشاہ کے سامنے بات کر رہا ہو تو اس کے حواس اسی طرف متوجہ ہونگے اور جانتا ہے کہ کیا کہہ رہاہے اور کیا کر رہا ہے اگر کوئی اللہ تعالی کو عظمت اور قدرت والا جانتا ہو تو پھر وہ نماز کی حالت میں اس سے غافل نہیں ہوگا لہذا انسان کو اپنے ایمان اور معرفت الہی کو کامل اور قوی کرنا چاہئے تا کہ نماز میں اسے زیادہ حضور قلب حاصل ہوسکے_

پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے کہ '' خدا کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے_(۴۷۸)

ابان بن تغلب کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے امام زین العابدین علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ آپ کا نماز میں ایک رنگ آتا تھآ اور جاتا تھا؟ آپ نے فرمایا '' ہاں وہ اس مبعود کو کہ جس کے سامنے کھڑے تھے کامل طور سے پہچانتے تھے_(۴۷۹)

۴_ موت کی یاد

حضور قلب اور توجہ کے پیدا ہونے کی حالت کا ایک سبب موت کا یاد کرنا ہو


سکتا ہے اگر انسان مرنے کی فکر ہیں اور متوجہ ہو کہ موت کا کوئی وقت نہیں ہوتا ہر وقت اور ہر شرائط میں موت کاواقع ہونا ممکن ہے یہاں تک کہ شاید یہی نماز اس کی آخری نماز ہو تو اس حالت میں وہ نماز کو غفلت سے نہیں پڑھے گا بہتر ہے کہ انسان نماز سے پہلے مرنے کی فکر میں جائے اور یوں تصور کرے کہ اس کے مرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور حضرت عزرائیل علیہ السلام اس کی روح قبض کرنے کے لئے حاضر ہو چکے ہیں تھوڑا سا وقت زیادہ نہیں رہ گیا اور اس کے اعمال کا دفتر اس کے بعد بند ہو جائیگا اور ابدی جہاں کی طرف روانہ ہوجائے گا وہاں اس کے اعمال کا حساب و کتاب لیا جائے گا جس کا نتیجہ یا ہمیشہ کی سعادت اور اللہ تعالی کے مقرب بندوں کے ساتھ زندگی کرنا ہوگا اور یا بدبختی اور جہنم کے گڑھے میں گر کر عذاب میں مبتلا ہونا ہوگا_

اس طرح کی فرک اور مرنے کو سامنے لانے سے نماز میں حضور قلب اور توجہ کی حالت بہتر کر سکے گا اور اپنے آپ کو خالق کائنات کے سامنے دیکھ رہا ہوگا اور نماز کو خضوع اور خشوع کی حالت میں آخری نمازسمجھ کر بجا لائیگا نماز کے شروع کرنے سے پہلے اس طرح اپنے آپ میں حالت پیدا کرے اور نماز کے آخر تک یہی حالت باقی رکھے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' واجب نماز کو اس کے وقت میں اس طرح ادا کرو کہ وہ تمہاری وداعی اور آخری نماز ہے اور یہ خوف رہے کہ شاید اس کے بعد نماز پڑھنے کی توفیق حاصل نہ ہو_ نماز پڑھنے کی حالت میں سجدہ گاہ پر نگاہ رکھے اور اگر تجھے معلوم ہوجائے کہ تیرے نزدیک کوئی تجھے دیکھ رہا ہے اور پھر تو نماز کو اچھی طرح پڑھنے لگے تو جان لے کہ تو اس ذات کے سامنے ہے جو تجھے دیکھ رہا ہے لیکن تو اس کو نہیں دیکھ رہا_(۴۸۰)

۵_ آمادگی

جب نمازی نے تمام رکاوٹیں دور کر لی ہوں تو پھر کسی خلوت اور تنہائی کی


مناسب جگہ جا کر نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوجائے اور نماز شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بے پناہ عظمت اور قدرت اور اپنی ناتوانی اور کمزوری کو یاد کرے اور یہ یاد کرے کہ وہ پروردگار اور تمام چیزوں کے مالک کے سامنے کھڑا ہے اور اس سے ہمکلام ہے_ ایسی عظیم ذات کے سامنے کھڑا ہے کہ جو تمام افکار یہاں تک کہ مخفی سوچ اور فکر کو جانتا ہے_ موت اور اعمال کے حساب اور کتاب بہشت اور دوزخ کو سامنے رکھے اور احتمال دے کہ شاید یہ اس کی آخری نماز ہو اپنی اس سوچ اور فکر اتنا زیادہ کرے کہ اس کی روح اس کی تابع اور مطیع ہوجائے اس وقت توجہ اور حضور قلب سے اذان اور اقامہ کہتے اور اس کے بعد نماز کی طرف مہیا ہونے والی یہ دعا پڑھے _ اللہم الیک توجہت و مرضاتک طلبت و ثوابک ابتقیت و بک امنت و علیک توکلت اللہم صل علی محمد و آلہ محمد و افتح مسامع قلبی لذکرک و ثبتنی علی دینک و دین نبیک و لا تزغ قلبی بعد اذ ہدیتنی و ہب لی من لدنک رحمة انک انت الوہاب

اس دعا کے پڑھتے کے وقت ان کلمات کی معانی کی طرف توجہ کرے پھر یہ کہے _ یا محسن قد اتاک المسئی یا محسن احسن الی

اگر حضور قلب اور توجہہ پیدا ہوجائے تو پھر تکبیر الاحرام کہے اور نماز میں مشغول ہوجائے اور اگر احساس ہوجائے کہ ابھی وہ حالت پیدا نہیں ہوئی تو پھر استغفار کرے اور شیطانی خیالات سے خداوند عالم سے پناہ مانگے اور اتنا اس کو تکرار کرے کہ اس میں وہ حالت پیدا ہوجائے تو اس وقت حضور قلب پیدا کر کے تکبیرة الاحرام کے معنی کی طرف توجہہ کرے نماز میں مشغول ہوجائے لیکن متوجہ رہے کہ وہ کس ذات سے ہمکلام ہے اور کیا کہہ رہا ہے اور متوجہ رہے کہ زبان اور دل ایک دوسرے کے ہمراہوں اور جھوٹ نہ بولے کیا جانتا ہے کہ اللہ اکبر کے معنی کیا ہیں؟ یعنی اللہ تعالی اس سے بلند و بالا ہے کہ اس کی تعریف اور وصف کی جا سکے درست متوجہ رہے کہ کیا


کہتا ہے آیا جو کہہ رہا ہے اس پر ایمان بھی رکھتا ہے_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جب تو نماز کے قصد سے قبلہ رخ کھڑا ہو تو دنیا اور جو کچھ اس میں ہے لوگوں اور ان کے حالات اور اعمال سب کو ایک دفعہ بھولا دے اور اپنے دل کو ہر قسم کے ایسے کام سے جو تجھے یاد خدا سے روکتے ہوں دل سے نکال دے اور اپنی باطنی آنکھ سے ذات الہی کی عظمت اور جلال کا مشاہدہ کر اور اپنے آپ کو خدا کے سامنے اس دن کے لئے حاضر جان کہ جس دن کے لئے تو نے اپنے اعمال اگلی دنیا کے لئے بھیجے ہیں اور وہ ظاہر ہونگے اور خدا کی طرف رجوع کریں گے اور نماز کی حالت میں خوف اور امید کے درمیان رہ تکبرة الاحرام کہنے کے وقت جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے معمولی شمار کر کیونکہ جب نمازی تکبیرة الاحرام کہتا ہے خداوند عالم اسکے دل پر نگاہ کرتا ہے اگر تکبیر کی حقیقت کی طرف متوجہ نہ ہو تو اسے کہتا ہے اے جھوٹے_ مجھے دھوکا دینا چاہتا ہے؟ مجھے عزت اور جلال کی قسم میں تجھے اپنے ذکر کی لذت سے محروم کرونگا اور اپنے قرب اور اپنی مناجات کرنے کی لذت سے محروم کر دونگا_(۴۸۱)

درست ہے کہ نیت اور تکبرة الاحرام کے وقت اس طرح کی تیاری قلب کے حضور کے لئے بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے لیکن سب سے مہم تر یہ ہے کہ ایسی حالت استمرار پیدا کرے اگر معمولی سے غفلت طاری ہوگئی تو انسان کی روح ادھر ادھر پرواز کرنے لگے گی اور حضور اور توجہہ خداوند عالم کی طرف سے ہٹ جائیگی_ لہذا نمازی کو تمام نماز کی حالت میں اپنے نفس کی مراقبت اور حفاظت کرنی چاہئے اور مختلف خیالات اور افکار کو روکنا چاہئے ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے حاضر سمجھے اور اس طرح نماز پڑھے کہ خدا کے ساتھ کلام کر رہا ہے اور اس کے سامنے رکوع اور سجود کر رہا ہے اور کوشش کرے کہ قرائت کرتے وقت ان کے معانی کی طرف متوجہ رہے اور غور کرے کہ کیا کہہ رہا ہے اورکس عظیم ذات کے ساتھ گفتگو کر رہا ہے اس حالت کو


نماز کے آخر تک باقی رکھے گرچہ یہ کام بہت مشکل اور دشوار ہے لیکن نفس کی مراقبت اور کوشش کرنے سے آسان ہو سکتا ہے و الذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا اگر اسے اس کی ابتداء میں توفیق حاصل نہ ہو تو ناامید نہ ہو بلکہ بطور حتمی اور کوشش کر کے عمل میں وارد ہوتا کہ تدریجاً نفس پر تسلط حاصل کرلے_ مختلف خیالات کو دل سے نکالے اور اپنے آپ کو خدا کی طرف توجہ دے اگر ایک دن یا کئی ہفتے اور مہینے یہ ممکن نہ ہوا ہو تو مایوس اور نا امید نہ ہو اور کوشش کرے کیونکہ یہ بہرحال ایک ممکن کام ہے_ انسانوں کے درمیان ایسے بزرگ انسان تھے اور ہیں کہ جو اول نماز سے آخر نماز تک پورا حضور قلب رکھے تھے اور نماز کی حالت میں خدا کے علاوہ کسی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے تھے_ ہم بھی اس بلند و بالا مقام تک پہنچنے سے نا امید نہ ہوں اگر کامل مرتبہ تک نہیں پہنچے پائے تو کم از کم جتنا ممکن ہے اس تک پہنچ جائیں تو اتنا ہی ہمارے لئے غنیمت ہے_(۴۸۲)

دوم _ نوافل

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سیر اور سلوک اور اللہ تعالی سے تقرب کا بہترین راستہ نماز ہے_ اللہ تعالی انسان کی خلقت کی خصوصیت کے لحاظ سے اس کے تکامل اور کمال حاصل کرنے کے طریقوں کو دوسروں سے زیادہ بہتر جانتا ہے_ اللہ تعالی نے نماز کو بنایا ہے اور پیغمبر علیہ السلام کے ذریعے انسانوں کے اختیار میں دیا ہے تا کہ وہ اپنی سعادت اور کمال حاصل کرنے کے لئے اس سے فائدہ حاصل کریں _ نماز کسی خاص حد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے ہر زمانے میں ہر مکان اور ہر شرائط میں فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے نماز کی دو قسمیں ہیں ایک واجب نمازیں اور دوسری مستحب نمازیں_

چھ نمازیں واجب ہیں پہلی پنجگانہ نمازیں یعنی دن اور رات میں پانچ نمازیں دوسری نماز آیات تیسری نماز میت چوتھی نماز اطراف پانچویں وہ نمازیں جو نذر یا قسم یا


عہد سے انسان پر واجب ہوتی ہیں چھٹی باپ کی نمازیں جو بڑے لڑکے پر واجب ہیں_

پنجگانہ نمازیں تو تمام مکلفین مرد اور عورت پر واجب ہیں لیکن باقی نمازیں خاص زمانے اور خاص شرائط سے واجب ہوتی ہیں_ جو انسان اپنی سعادت اور کمال کا طالب ہے اس پر پہلے ضروری ہے کہ وہ واجب نمازوں کو اس طرح جس طرح بنائی گئی ہیں انجام دے_ اگر انہیں خلوص اور حضور قلب سے انجام دے تو یہ بہترین اللہ تعالی سے تقرب کا موجب ہوتی ہیں_ واجبات کو چھوڑ کر مستحبات کا بجا لانا تقرب کا سبب نہیں ہوتا_ اگر کوئی خیال کرے کہ فرائض اور واجبات کو چھوڑ کر مستحبات اور اذکار کے ذریعے تقرب یا مقامات عالیہ تک پہنچ سکتا ہے تو اس نے اشتباہ کیا ہے_ ہاں فرائض کے بعد نوافل اور مستحبات سے مقامات عالی اور تقرب الہی کو حاصل کر سکتا ہے_ دن اور رات کے نوافل پینتیں ہیں ظہر کی آٹھ ظہر سے پہلے اور عصر کی آٹھ عصر سے پہلے اور تہجد کی گیارہ رکعت ہیں_ احادیث کی کتابوں میںنوافل کے پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے اور انہیں واجب نمازوں کا متمم اور نقص کو پر کرنے والا بتلایا گیا ہے_ دن اور رات کی نوافل کے علاوہ بھی بعض نوافل خاص خاص زمانے اور مکان میں بجالانے کا کہا گیا ہے او ران کا ثواب بھی بیان کیا گیا ہے آپ مختلف مستحب نمازوں اور ان كّے ثواب اور ان کے فوائد اور اثرات کو حدیث اور دعا کی کتابوں سے دیکھ سکتے ہیں اور نفس کے کمال تک پہنچنے میں ان سے استفادہ کرسکتے ہیں ان سے فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ ہمیشہ کے لئے کھالا ہوا ہے_ اس کے علاوہ بھی ہر وقت ہر جگہ اور ہر حالت میں نماز پڑھنا مستحب ہے_

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا '' مستحب نمازیں مومن کے لئے تقرب کا سبب ہوا کرتی ہیں_(۴۸۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کبھی آدھی اور کبھی تہائی اور چوتھائی نماز اوپر جاتی ہے_ یعنی قبول ہوتی ہے_ اتنی نماز اوپر جاتی ہے اور قبول ہوتی ہے کہ


جتنی مقدار اس میں حضور قلب ہو اسی لئے مستحب نمازوں کے پڑھنے کا کہا گیا ہے تا کہ ان کے ذریعے جو نقصان واجب نماز میں رہ گیا ہے پورا کیا جائے_(۴۸۴)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' مومن بندہ میرے نزدیک محبوب ہے اور اس کے لئے واجبات پر عمل کرنے سے اور کوئی چیز بہتر نہیں ہے مستحبات کے بجالانے سے اتنا محبوب ہوجاتا ہے کہ گویا میں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں کہ جس سے وہ دیکھتا ہے اور گویا میں اس کی زبان ہوجاتا ہوں کہ جس سے وہ بولتا ہے اور گویا میں اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں کہ جس سے وہ چیزوں کو پکڑتا ہے اور گویا میں اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں کہ جس سے وہ چلتا ہے اگر وہ مجھے پکارے تو میں قبول کرتا ہوں اور جواب دیتا ہوں اور اگر کوئی چیز مجھ سے مانگے تو اسے عطا کرتا ہوں میں نے کسی چیز میں تردید اور ٹھہراؤ پیدا نہیں کیا جتنا کہ مومن کی روح قبض کرنے میں کیا ہے وہ مرنے کو پسند نہیں کرتا اور میں بھی اس کا ناپسندی کو ناپسند کرتا ہوں_(۴۸۵)

سوّم_ تہجّد

مستحبات میں سے تہجد کی نماز کی بہت زیادہ فضیلت حاصل ہے قرآن مجید اور احادیث میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے خداوند عالم کی ذ ات پیغمبر علیہ السلام کو فرماتا ہے کہ ''رات کو تھوڑے سے وقت میں تہجد کی نماز کے لئے کھڑا ہو یہ تیرے لئے مستحب ہے شاید خدا تجھے خاص مقام کے لئے مبعوث قرار دے دے_(۴۸۶)

اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ '' کچھ لوگ رات کو اپنے پروردگار کے لئے سجدے اور قیام کے لئے رات گذارتے ہیں_(۴۸۷)

اللہ تعالی مومنین کی صفات میں یوں ذکر کرتا ہے کہ '' رات کو بستر سے اپنے آپ کو جدا کرتے ہیں اور امید اور خوف میں خدا کو پکارتے ہیں اور جو کچھ انہیں دیا گیا ہے


خرچ کرتے ہیں کوئی نہیں جان سکتا کہ کتنی نعمتیں ہیں جو ان کی آنکھ کے روشنی اور ٹھنڈک کا موجب بنیں گی جنہیں ان کے اعمال کی جزاء کے طور پر محفوظ کیا جاچکا ہے_(۴۸۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ خداوند عالم نے دنیا کو وحی کی ہے کہ اپنی خدمت کرنے والوں کو مصیبت اورمشقت میں ڈال اور جو ترک کر دے اس کی خدمت کر جب کوئی بندہ رات کی تاریکی میں اپنے خالق سے خلوت اور مناجات کرتا ہے تو خدا اس کے دل کو نورانی کردیتا ہے جب وہ کہتا ہے با رب یا رب تو خدا کی طرف سے کہا جاتا ہے_ لبیک یا عبدی_ تو جو چاہتا ہے طلب کرتا کہ میں تجھے عطا کروں مجھ پر توکل اور آسرا کرتا کہ میں تجھے کفایت کروں اس کے بعد اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے بندے کو دیکھو کس طرح تاریکی میں میرے ساتھ مناجات کر رہا ہے جب کہ بیہودہ لوگ لہو اور لعب میں مشغول ہیں اور غافل انسان سوئے ہوئے ہیں تم گواہ رہو کہ میں نے اسے بخش دیا ہے_(۴۸۹)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرماتے ہیں کہ '' جبرائیل مجھے تہجد کی نماز میں اتنی سفارش کر رہا تھا کہ میں نے گمان کیا کہ میری امت کے نیک بندے رات کو کبھی نہیں سوئیں گے_(۴۹۰)

پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' آدھی رات میں دو رکعت نماز پڑھنا میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے_(۴۹۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' تہجد کی نماز شکل کو خوبصورت اور اخلاق کو اچھا اور انسان کو خوشبودار بناتی ہے اور رزق کو زیادہ کرتی ہے اور قرض کو ادا کراتی ہے اور غم اور اندوہ کو دور کرتی ہے اور آنکھوں کو روشنائی اور جلادیتی ہے_(۴۹۲)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' تہجد کی نماز اللہ تعالی کی خوشنودی اورملائکہ سے دوستی کا وسیلہ ہے_ تہجد کی نماز پیغمبروں کاطریقہ اور سنت اور ایمان اور معرفت کے لئے نور اور وشنی ہے_ کیونکہ تہجد کی نماز کے ذریعے ایمان قوی ہوتا ہے) بدن کو آرام دیتی ہے اور شیطان کو غضبناک کرتی ہے_ دشمنوں


کے خلاف ہتھیار ہے دعا اور اعمال کے قبول ہونے کا ذریعہ ہے انسان کی روزی کو وسیع کرتی ہے_ نمازی اور ملک الموت کے درمیان شفیع ہوتی ہے_ قبر کے لئے چراغ اور فرش ہے اور منکر اور نکیر کا جواب ہے_ قبر میں قیامت تک مونس اور نمازی کی زیارت کرتی رہے گی_ جب قیامت برپا ہوگی تو نمازی پر سایہ کرے گی اس کے سرکا تاج اور اس کے بدن کا لباس ہوگی_ اس کے سامنے نور اور روشنی ہوگی اور جہنم اور دوزخ کی آگ کے سامنے نور اور روشنی ہوگی اور جہنم اور دوزخ کی آگ کے سامنے رکاوٹ بنے گی_ مومن کے لئے اللہ تعالی کے نزدیک حجت ہے اور میران میں اعمال کو بھاری اور سنگین کردے گی پل پر عبور کرنے کا حکم ہے اور بہشت کی چابی ہے کیونکہ نماز تکبیر اور حمد تسبیح اور تمجید تقدیس اور تعظیم قرات اور دعا ہے_ یقینا جب نماز وقت میں پڑھی جائے تو تمام اعمال سے افضل ہے_(۴۹۳)

تہجد کی نماز میں بہت زیادہ آیات اوراحادیث وارد ہوئی ہیں_ تہجد کی نماز کو پڑھنا پیغمبروں اور اولیاء خدا کا طریقہ اور سنت ہے_ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ اطہار نماز تہجد کے بارے میں خاص اہمیت اور توجہ اور عنایت رکھتے تھے_ اللہ کے اولیاء اور عرفاء شب کو ہمیشہ بجالانے سے اور سحر کیوقت دعا اور ذکر سے عالی مراتب تک پہنچے ہیں_ کتنا ہی اچھا اور بہتر اور لذت بخش ہے کہ انسان سحری کے وقت نیند سے بیدار ہوجائے اور نرم اور آرام وہ بستر کو چھوڑ دے اور وضوء کرے اور رات کی تاریکی میں جب کہ تمام آنکھیں نیند میں گم اور سوئی ہوئی ہیں اللہ تعالی کے حضور راز و نیاز کرے اور اس کے وسیلے روحانی معراج کے ذریعے بلندی کی طرف سفر کرے اور آسمان کے فرشتوں سے ہم آواز بنے اور تسبیح اور تہلیل تقدیس اور تمجید الہی میں مشغول ہوجائے اس حالت میں اس کا دل اللہ تعالی کے انوار اور اشراقات مرکز قرار اپائیگا اورخدائی جذب سے مقام قرب تک ترقی کرے گا (مبارک ہو ان لوگوں کو جو اس کے اہل ہے)


نماز شب کی کیفیت

تہجد کی نماز گیارہ رکعت ہے دو دو رکعت کر کے صبح کی نماز کی طرح پڑھی جائے باین معنی کہ اٹھ رکعت کو تہجد کی نیت سے اور دور رکعت نماز شفع کی نیت سے اور ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے پڑھے_ کے لئے کچھ آداب اور شرائط بیان کئے گئے ہیں_ جنہیں دعاؤں اور احادیث کی کتابوں میں دیکھےا جا سکتا ہے_


چوتھا وسیلہ

جہاد اور شہادت

اسلام کو وسعت دینے اور کلمہ توحید کے بلند و بالا کرنے اسلام کی شوکت اور عزت سے دفاع کرنے قرآن کے احکام اور قوانین کی علمداری اور حاکمیت کو برقرار کرنے ظلم اور تعدی سے مقابلہ کرنے محروم اور مستضعفین کی حمایت کرنے کے لئے جہاد کرنا ایک بہت بڑی عبادت ہے اور نفس کے تکامل اور ذات الہی سے تقرب اور رجوع الی اللہ کا سبب ہے_ جہاد کی فضیلت میں بہت زیادہ روایات اور آیات وارد ہوئی ہیں_

خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور اپنے وطن سے ہجرت کر لی ہے اور اپنے مال اور جان سے خدا کے راستے میں جہاد کرتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک ایک بلند و بالا مقام اور رتبہ رکھتے ہیں اور وہی نجات پانے والے لوگ ہیں خدا انہیں اپنی رحمت اور رضوان اور بہشت کی کہ جس میں دائمی نعمتیں موجود ہیں خوشخبری اور بشارت دیتا ہے_ وہ بہشت میں ہمیشہ رہیں گے اور یقینا اللہ تعالی کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی جزا اور ثواب ہے_(۴۹۴)

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ '' اللہ تعالی نے مجاہدوں کو جہاد نہ کرنے والوں پر بہت زیادہ ثواب دیئے جانے میں برتری اور بلندی دی ہوئی ہے_(۴۹۵)


رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' بہشت کا ایک دروازہ ہے کہ جس کا نام باب المجاہدین ہے_ جب مجاہد بہشت کی طرف روانہ ہوں گے تووہ دروازہ کھل جائیگا جب کے جانے والوں نے اپنی تلواروں کو اپنے کندھوں پر ڈال رکھا ہو گا دوسرے لوگ قیامت کے مقام پر کھڑے ہونگے اور فرشتوں ان کا استقبال کریں گا_(۴۹۶)

پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ '' ہر نیکی کے اوپر کوئی نہ کوئی اور نیک موجود ہے یہاں تک کہ انسان اللہ کے راستے میں مارا جائے کہ پھر اس سے بالاتر اور کوئی نیکی موجود نہیں ہے_(۴۹۷)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص اللہ کے راستے میں شہادت پالے تو خداوند عالم سے اس کا کوئی یاد نہیں دلائے گا_(۴۹۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' خداوند عالم شہید کو سات چیزیں عنایت فرمائیگا_ ۱_ جب اس کے خون کا پہلا قطرہ بہتا ہے تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے_ ۲_ شہادت کے بعد اس کا سر دو حوروں کے دامن میں قرار دیتا ہے اور وہ اس کے چہرے سے غبار کو ہٹاتی ہیں اور کہتی ہیں_ تم پر شاباش ہو وہ بھی ان کے جواب میں ایسا کہتا ہے_ ۳_ اسے بہشت کا لباس پہنایا جاتا ہے_ ۴_ بہشت کے خزانچی اس کے لئے بہترین عطر اور خوشبو پیش کرتے ہیں کہ ان میں سے جسے چاہے انتخاب کرلے_

۵_ شہادت پانے کے وقت وہ اپنی جگہ بہشت میں دیکھتا ہے_ ۶_ شہادت کے بعد اس کی روح کی خطاب ہوتا ہے کہ بہشت میں جس جگہ تیرا دل چاہتا ہے گردش کر_ ۷_ شہید اللہ تعالی کے جمال کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس میں ہر پیغمبر اور شہید کو آرام اور سکون ہے_(۴۹۹)

خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ '' خداوند عالم مومنین کے جان اور مال کو خرید تا ہے تا کہ اس کے عوض انہیں بہشت عنایت فرمائے یہ وہ مومن ہیں جو اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہوجاتے ہیں یہ ان سے


اللہ تعالی کا وعدہ ہے جو تو رات اور انجیل اور قرآن میں اللہ تعالی نے لکھ دیا ہے اور اللہ تعالی سے کون زیادہ وعدہ کو پورا کرنے والا ہے؟ تمہیں یہ معاملہ مبارک ہو کہ جو تم نے خدا سے کر لیا ہوا ہے اور یہ ایک بڑی سعادت ہے_(۵۰۰)

قرآن مجید کی یہ آیت ایک بڑی لطیف اور خوش کن آیت ہے کہ جو لوگوں کو عجیب اور لطیف ارو ظریف انداز سے جہاد کا شوق دلاتی ہے _ ابتداء میں کہتی ہے _ کہ اللہ تعالی نے مومنین کے مال اور جان کو خرید لیا ہے اور اس کے عوض ان کو بہشت دیتا ہے یہ کتنا بہترین معاملہ ہے؟ اللہ تعالی جو غنی مطلق اور جہان کا مالک ہے وہ خریدار ہے اور فروخت کرنے والے مومنین ہیں جو خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں_ اور جن چیزوں پر معاملہ کیا ہے وہ مومنین کے مال اور جان ہیں اور اس معاملہ کا عوض بہشت ہے اس کے بعد خدا فرماتا ہے کہ تورات اورانجیل اور قرآن یعنی تین آسمانی بڑی کتابیں ہیں جن میں اس طرح کا ان سے وعدہ درج کیا گیا ہے_ پھر خدا فرماتا ہے کہ کس کو پیدا کر سکتے ہو کہ اللہ تعالی سے وعدہ پر عمل کرے آخر میں خدا مومنین کو خوشخبری دیتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نیک بختی اورسعادت ہے_

قرآن مجید ان لوگوں کے لئے جو خدا کے راستے میں شہید ہوجاتے ہیں مقامات عالیہ کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ '' ان لوگوں کو مردہ گمان نہ کرو جو اللہ کے راستے میں شہید ہوجاتے ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور اللہ تعالی کے ہاں روزی پاتے ہیں_(۵۰۱) لفظ عندہم جو اس آیت میں ہے وہ بلند و بالا مقام کی طرف اشارہ ہے مرنے کے بعد انسان کی روح کا زندہ رہنا شہیدکے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انسان زندہ ہیں لیکن شہداء کی خصوصیت یہ ہے کہ شہید اللہ کے ہاں عالیترین مقامات اور درجات میں زندہ رہتا ہے اور انہیں مقامات عالیہ میں روزی دیا جاتا ہے اور یہ واضح ہے کہ ان مقامات میں روزی دیا جانا دوسروں کے ساتھ مساوی اور برابر نہیں ہے_ اللہ تعالی کے راستے میں شہادت بہت بڑی قیمت اور بڑی عبادت ہے_ عارف اس ممتاز راستے میں عالی مقامات تک جاپہنچتا ہے_ اس بزرگ عبادت کو دوسری عبادت سے دو چیزوں کی وجہ


سے خصوصیت اورامتیاز حاصل ہے_ پہلی_ مجاہد انسان کی غرض اور غایت اپنے ذاتی مفاد اور لواحقین کے مفاد کو حاصل کرنا نہیں ہوتا وہ کوتاہ نظر اور خودخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ جہاں میں خدا خواہ ہوا کرتا ہے_ مجاہد انسان کلمہ توحید اور اسلام کی ترویج اور وسعت کو چاہتا ہے اور ظلم اور ستم اور استکبار کے ساتھ مبارزہ اور جہاد کرتا ہے اور محروم طبقے اور مستضعفین سے دفاع کرتا ہے اور اجتماعی عدالت کے جاری ہونے کا طلبکار ہوتا ہے اور چونکہ یہ غرض سب سے بلند اور بالا ترین غرض ہے لہذا وہ اعلی درجات اور مراتب کو پالیتا ہے_

دوسری _ ایثار کی مقدار

مجاہد انسان اللہ تعالی سے تقرب اور اس کی ذات کی طرف سیر اور سلوک کے لئے ارزشمند اور قیمتی چیز کا سرمایہ ادا کرتا ہے اگر کوئی انسان صدقہ دیتا ہے تو تھوڑے سے مال سے درگذر اور صرف نظر کرتا ہے اور اگر عبادت کرتا ہے تو تھوڑا سا وقت اور طاقت اس میں خرچ کرتا ہے لیکن مجاہد انسان تمام چیزوں سے صرف نظر اور درگذر کرتا ہے اور سب سے بالاتر اپنی جان سے ہاتھ دھولیتا ہے اور اپنی تمام ہستی کو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے سپرد کر دیتا ہے_ مال اور جاہ و جلال مقام اور منصب اور اہل اور عیال اور رشتہ داروں سے صرف نظر کرتا ہے اور اپنی جان اور روح کو اپنے پروردگار کے سپرد کر دیتا ہے_ جس کام کو متدین اور عارف لوگ پوری عمر کرتے ہیں مجاہد انسان ان سب سے زیادہ تھوڑے سے وقت میں انجام دے دیتا ہے_ مجاہد انسان کی عظیم او رنورانی روح کے لئے مادیات اور مادی جہان تنگ ہوتا ہے اسی واسطے وہ شیر کی طرح مادی جہان کے پنجرے کو توڑتا ہے اور تیز پرواز کبوتر کی طرح وسیع عالم اور رضایت الہی کی طرف پرواز کرتا ہے اور اعلی مقامات اور مراتب تک اللہ تعالی کی طرف جاپہنچتا ہے_ اگر دوسرے اولیاء خدا ساری عمر میں تدریجاً محبت اور عشق اور شہود کے مقام تک پہنچتے ہیں تو مجاہد شہید ایک رات میں سو سال کا راستہ طے کر لیتا ہے اور


مقام لقاء اللہ تک پہنچتا ہے _ اگر دوسرے لوگ ذکر اور ورد قیام اور قعود کے وسیلے سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں_ تو اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والا انسان زخم اور درد سختی اور تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے کر اللہ تعالی کا تقرب ڈھونڈتا ہے_

ان دو میں بہت زیادہ فرق ہے_ جنگ اور جہاد کا میدان ایک خاص قسم کی نورانیت اور صفا اور معنویت رکھتا ہے_ شور و شفب اور عشق اور حرکت اور ایثار کا میدان ہے_ محبوب کے را ستے میں بازی لے جانے اور ہمیشگی زندگی کا میدان ہے_ مورچے میں بیٹھتے والوں کا زمزمہ ایک خاص نورانیت اور صفا اور جاذبیت رکھتا ہے کہ جس کی نظیر اور مثال مساجد اورمعابد میں بہت کم حاصل ہوتی ہے_


پانچواں وسیلہ

خدمت خلق اور احسان

خداوند عالم سے تقرب اور قرب صرف نماز روزہ حج اور زیارت ذکر اور دعا میں منحصر نہیں ہے اور نہ ہی مساجد اور معابد میں منحصر ہے بلکہ اجتماعی ذمہ داریوں کو انجام دینا اور احسان اور نیکوکاری مخلوق خدا کی خدمت کرنا بھی جب اس میں قصد قربت ہو تو وہ بھی بہترین عبادت ہے کہ جس کے ذریعے سے اپنے آپ کو بنانا اور نفس کی تکمیل کرنا اور نفس کی تربیت کرنا اور ذات الہی کے تقرب کا موجب ہوتا ہے_ اسلام کی نگاہ میں اللہ کا قرب اور سیر و سلوک اور تعبد کے معنی لوگوں سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی نہیں ہے بلکہ اجتماعی ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہوئے لوگوں میں رہ کر لوگوں کے ساتھ احسان اور نیکی انجام دینا اور مومنین کے ضروریات کو پورا کرنا اور انہیں خوش کرنا محروم طبقے کا دفاع مسلمانوں کے امور میں اہتمام کرنا اور ان کے مصائب کو دور کرنا اور خدا کے بندوں کی مدد کرنا یہ تمام اسلام کی نگاہ میں ایک بہت بڑی عبادتیں ہیں کہ جن کا ثواب حج اور عمرے کے کئی برابر زیادہ ہوتا ہے_ اس کے متعلق سینکٹروں احادیث پیغمبر اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں _ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ '' اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری مخلوق میرے عیال ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب انسان وہ ہے جو میری مخلوق پر مہربان ہو اور ان کے ضروریات کے بجا


لانے میں زیادہ کوشش کرلے_(۵۰۲)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ '' لوگ اللہ کہ اہل و عیال ہیں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب انسان وہ ہے جو اللہ کے اہل و عیال کو فائدہ پہنچائے اور ان کے دلوں کو خوشنود کرے_(۵۰۳)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کسی مومن کا کسی دوسرے مومن کے سامنے مسکرانا ایک حسنہ اور نیکی ہوا کرتا ہے اور اس کی تکلیف اور گرفتاری کو دور کرنا بھی ایک نیکی ہے خدا کسی ایسی چیز سے عبادت نہیں گیا کہ جو اس کے نزدیک مومن کے خوش کرنے سے زیادہ محبوب ہو_(۵۰۴)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' جو کسی مومن کو خوش کرے اس نے مجھے خوش کیا ہے اور جس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خوش کیا ہوا اس نے خدا کو خوش کیا ہے اور جس نے خدا کو خوش کیا ہو اور وہ جنت میں داخل ہوگا_(۵۰۵)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' ایک مومن کی حاجت اور ضرورت کو پورا کر دینا اللہ تعالی کے نزدیک بیس ایسے حج سے کہ جسمیں ایک لاکھ خرچ کیا ہو زیادہ محبوب ہے_(۵۰۶)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' مسلمان کی ضرورت اور حاجت کے پورے کرنے میں کوشش کرنا خانہ کعبہ کے ستر دفعہ طواف کرنے سے بہتر ہے_(۵۰۷)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' اللہ تعالی کے ایسے بندے ہیں جو لوگوں کو ان کی حاجات میں پناہ گاہ بنتے ہیں یہ وہ ہیں کہ جو قیامت میں اللہ تعالی کے عذاب سے محفوظ ہونگے_(۵۰۸)

جیسے کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ احسان نیکوکاری اللہ کے بندوں کی خدمت لوگوں کے مصائب دور کرنے میں کوشش اسلام کی نگاہ میں ایک بہت بڑی عبادت شمار ہوتے ہیں کہ اگر انسان اسے قصد قربت سے بجالائے تو یہ تکمیل نفس اور اس کی تربیت اور قرب الہی کا وسیلہ بنتا ہے_ افسوس کہ اکثر لوگ صحیح اسلام کو نہ پہنچاننے


کی وجہ سے اس بہت بڑی اسلامی عبادت سے غفلت برتتے ہیں اور عبادت اور قرب الہی کو فقط نماز روزہ دعا اور زیارت ذکر اور ورد میں منحصر جانتے ہیں_


چھٹا وسیلہ

دعا

تکمیل روح اور قرب خدا کی بہترین عبادت اور سبب دعا ہے اسی لئے خداوند عالم نے اپنے بندوں کو دعا کرنے کی دعوت دی ہے_ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے ''مجھ سے مانگو اور دعا کرو تا کہ میں تمہیں عنایت کروں جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ بہت جلدی اور خواری کی حالت میں جہنم میں داخل ہونگے_(۵۰۹) پھر اللہ تعالی نے فرمایا ہے '' تضرع اور مخفی طور سے خدا سے مانگو یقینا خدا تجاوز اور ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا_(۵۱۰) اور فرمایا '' اے میرے بندو مجھ سے سوال کرو ان سے کہہ دو کہ میں ان کے نزدیک ہوں اگر مجھ پکاریں تو میں ان کا جواب دونگا_(۵۱۱)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' دعا عبادت کی روح اور مغز ہے_(۵۱۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' دعا عبادت ہے_ خدا فرماتا ہے کہ لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں_ خدا کو پکار اور یہ نہ کہہ کہ بس کام ختم ہوچکا ہے_(۵۱۳)

حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کبھی دعا کو ترک نہ کرو کیونکہ تم ایسا عمل پیدا نہیں کرو گے جو دعا سے زیادہ تقرب کا موجب ہو یہاں تک کہ معمولی چیزوں


کو کبھی خدا سے طلب کرو اور ان کے معمولی ہونے کی وجہ سے دعا کرنے کو ترک نہ کرو کیونکہ معمولی چیزوں کا مالک بھی وہی ہے جو بڑے امور کا مالک ہے_(۵۱۴)

لہذا خدا کے بندے کو دعا کرنی چاہئے کیونکہ وہ تمام وجود میں خدا کا محتاج ہے بلکہ عین احتیاج اور فقر ہے اگر ایک لحظہ بھی اللہ تعالی کا فیض قطع ہو جائے تو وہ نابود ہوجائیگا_ جو کچھ بھی بندے کو پہنچتا ہے وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے لہذا بندے کو اس تکوینی اور طبعی احتیاج کو زبان سے اظہار کرنا چاہئے اپنی احتیاج اور فقر اور بندگی کو عملی طور سے ثابت کرنا چاہئے اور اس کے سوا کوئی عبادت کا اور مفہوم اور معنی نہیں ہے_ انسان دعا کرنے کی حالت میں خدا کی یاد میں ہوتا ہے اور اس کے ساتھ راز اور نیاز کرتا ہے اور تضرع اور زاری جو عبادت کی رسم ہے غنی مطلق کے سامنے پیش کرتا ہے_

دنیا جہاں سے اپنے فقر اور احتیاج کو قطع کرتا ہے خیرات اور کمالات کے مرکز اور منبع کے ساتھ ارتباط برقرار کرتا ہے_ عالم احتیاج سے پرواز کرتا ہے اور اپنی باطنی آنکھ سے جمال حق کا مشاہدہ کرتا ہے_ اس کے لئے دعا اور راز و نیاز کی حالت ایک لذیذ ترین اور بہترین حالت ہوتی ہے_ خدا کے نیک بندے اور اولیاء اسے کسی قیمت پر کسی قیمت سے معاملہ نہیں کرتے صحیفہ سجادیہ اور دوسری دعاؤں کی کتابوں کی طرف رجوع کیجئے کہ کس طرح ائمہ اطہار علیہم السلام راز و نیاز کرتے تھے_ خدا سے ارتباط اور دعا کی قبولیت کی امید دعا کرنے والے کے دل کو کس طرح آرام اور دل کو گرمی دیتی ہے_ اگر انسان مصائب اور مشکلات کے حل کے لئے خدا سے پناہ نہ مانگے تو کس طرح وہ مشکلات کا تحمل کر سکتا ہے اور زندگی کو گرم و نرم رکھ سکتا ہے؟

دعا مومن کا ہتھیار ہے کہ جس کے وسیلے سے ناامید اور یاس کا مقابلہ کرتا ہے اور مشکلات کے حل کے لئے غیب کی خدا سے پناہ نہ مانگے تو کس طرح وہ مشکلات کا تحمل کر سکتا ہے اور زندگی کو گرم و نرم رکھ سکتا ہے؟


دعا مومن کا ہتھیار ہے کہ جن کے وسیلے سے نا امیدی اورپاس کا مقابلہ کرتا ہے اور مشکلات کے حل کے لئے غیب طاقت سے مدد طلب کرتا ہے_ پیغمبر اور ائمہ علیہم السلام ہمیشہ اس ہٹھیار سے استفادہ کیا کرتے تھے اور مومنین کو ان سے استفادہ کرنے کی سفارش کیا کرتے تھے_

امام رضا علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ '' انبیاء کے ہتھیار سے فائدہ حاصل کرو_ پوچھا گیا کہ انبیاء کا ہتھیار کیا تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ دعا_(۵۱۵)

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خدا اپنے بندوں میں اسے زیادہ دوست رکھتا ہے جو زیادہ دعا کرتا ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہؤں کہ سحر کے وقت سے لے کر سورج نکلنے تک دعا کیا کرو کیونکہ اس وقت آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور لوگوں کا رزق تقسیم کیا جاتا ہے اور ان کی بڑی بڑی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں_(۵۱۶)

دعا ایک عبادت ہے بلکہ عبادت کی روح ہے اور آخرت میں اس کا اجر دیا جاتا ہے اور مومن کی معراج ہے اور عالم قدس کی طرف پرواز ہے روح کو کامل اور تربیت دیتی ہے اور قرب خدا تک پہنچاتی ہے_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' مومن کا ہتھیار دعا ہے اور دعا دین کا ستون اور زمین اور آسمان کا نور ہے_(۵۱۷) امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ''نیک بختی اور سعدت کی چابی دعا ہے_ بہترین دعا وہ ہے _ جو پاک اور تقوی والی دل سے ہو خدا سے مناجات کرنا نجات کا سب ہوتا ہے اور اخلاص کے ذریعے نجات حاصل ہوتی ہے جب مصائب اور گرفتاری میں شدت آجائے تو خدا اسے پناہ لینی چاہئے_(۵۱۸) لہذا دعا ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر اس کے شرائط موجود ہوں اور درست واقع ہو تو نفس کے کمال تک پہنچنے اور قرب خدا کا موجب ہوتی ہے اور یہ اثر یقینی طور سے دعا پر مرتب ہوتا ہے_ اس لئے خدا کے بندے کو کسی حالت اور کسی شرائط میں اس بڑی عبادت سے غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ کسی وقت بھی بغیر اثر کے نہیں ہوا کرتی گرچہ اس کا فوری طور سے ظاہر بظاہر اثر مرتب نہ ہو رہا ہو_ ہو سکتا ہے کہ


دعا کرنے والے کی خواہش اور سوال کو موخر کر دیا جائے یا دنیا میں بالکل پوری ہی نہ کی جائے لیکن ایسا ہونا بھی بغیر مصلحت کے نہ ہوگا_ کبھی مومن کی دنیاوی خواہش کے قبول کرنے میں واقعاً مصلحت نہیں ہوتی _ خداوند عالم بندے کی مصلحتوں کو اس سے زیادہ بہتر جانتا ہے لیکن بندے کو ہمیشہ اپنے احتیاج اور فقر کے ہاتھ کو قادر مطلق کے سامنے پھیلاتے رہنا چاہئے اور اپنی حاجتوں کو پورا کیا جائیگا لیکن خدا کبھی مصلحت دیکھتا ہے کہ اپنی بندے کی حاجت کو موخر کر دے تا کہ وہ اللہ تعالی سے زیادہ راز و نیاز اور مناجات کرے اور وہ اعلی مقامات اور درجات تک جا پہنچے اور کبھی اللہ تعالی اپنے بندے کی مصلحت اس میں دیکھتا ہے کہ اس کی حاجت کو اس دنیا میں پورا نہ کیا جائے تا کہ ہمیشہ وہ خدا کی یاد میں رہے اور آخرت کے جہان میں اس کو بہتر اجر اور ثواب عنایت فرمائے_

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' خدا اس بندے پر اپنی رحمت نازل کرے_ جو اپنی کو خدا سے طلب کرے اور دعا کرنے میں اصرار کرے خواہ اس کی حاجتیں پوری کی جائیں یا پوری نہ کی جائیں آپ نے اس وقت یہ آیت تلاوت کیوادعوا ربی عسی الا اکون بدعا ربی شقیاً _(۵۱۹)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' کبھی مومن اپنی حاجت کو خدا سے طلب کرتا ہے لیکن خدا اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میری بندے کی حاجت کے پورے کئے جانے کو موخر کر دو کیونکہ دوست رکھتا ہے کہ اپنے بندے کی آواز اور دعا کو زیادہ سنتا رہے پس قیامت میں اس سے کہے گا اے میرے بندے تو نے مجھ سے طلب کیا تھا لیکن میں نے تیرے قبول کئے جانے کو موخر کر دیا تھا اب اس کے عوض فلاں ثواب اور فلاں ثواب تجھے عطا کرتا ہوں اسی طرح فلانی دعا اور فلانی دعا_ اس وقت مومن آرزو کرے گا کہ کاش میری کوئی بھی دعا دنیا میں قبول نہ کی جاتی یہ اس لئے تمنا


کرتا ہے_ جب وہ آخرت کا ثواب دیکھتا ہے_(۵۲۰) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے _ دعا کے آداب کو حفظ کر اور متوجہ رہ کہ کس کے ساتھ بات کر رہا ہے اور کس طرح اس سے سوال کر رہا ہے اور کس لئے اس سے سوال کرتا ہے_ اللہ تعالی کی عظمت اور بزرگی کو یاد کر اور اپنے دل میں جھانک اور مشاہدہ کر کہ جو کچھ تو دل میں رکھتا ہے_ خدا اسے جانتا ہے اور تیرے دل کے اسرار سے آگاہ ہے تیرے دل میں جو حق یا باطل پنہاں اور چھپا ہوا ہے اس سے مطلع ہے اپنی ہلاکت اور نجات کے راستے کو معلوم کر کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا سے ایسی چیز کو طلب کرے کہ جس میں تیری ہلاکت ہو جب کہ تو خیال کرتا ہے کہ اس میں تیری نجات ہے_

خدا قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ '' کبھی انسان خیر کی جگہ اپنے شر کو چاہتا ہے انسان اپنے کاموں میں جلد باز اور جلدی کرنے والا ہے_ پس ٹھیک فکر کر کہ خدا سے کس کا سوال کر رہا ہے اور کس لئے طلب کر رہا ہے_ دعا اپنے دل کو پروردگار کے مشاہدے کے لئے پگھلانا ہے_ اور اپنے تمام اختیارات کو چھوڑنا اور تمام کاموں کو اللہ تعالی کے انتظار میں نہ رہ کیونکہ خدا تیرے راز اور سب سے زیادہ مخفی راز سے بھی آگاہ اور مطلع ہے_ شاید تو خدا سے ایسی چیز طلب کر رہا ہے جب کہ تیری نیت اس کے خلاف ہے_(۵۲۱)


ساتواں وسیلہ

روزہ

تزکیہ نفس اور اس کی پاک کرنے اور خودسازی کے لئے ایک بہت بڑی عبادت کہ جس کے بہت زیادہ اثرات پائے جاتے ہیں وہ روزہ ہے_ روزے یک فضیلت میں بہت زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں جیسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ '' روزہ جہنم کی آگ سے حفاظت کرنے والی ڈھال ہے_(۵۲۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' خدا فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا_(۵۲۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' روزہ رکھنے والا بہشت میں پھرتا ہے اور فائدہ حاصل کرتاہ ے اس کے لئے فرشتے افطار کرنے تک دعا کرتے ہیں_(۵۲۴)

پیغمبر علیہ السلامم نے فرمایا ہے کہ '' جو شخص ثواب کے لئے ایک مستحبی روزہ رکھے اس کے لئے بخشا جانا واجب ہے_ (۲۵۵ ) حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' روزہ دار کا سونا بھی عباد ہے اور اس کا چپ رہنا تسبیح ہے_ اور اس کا عمل مقبول اور اس کی دعا قبول کی جاتی ہے_(۵۲۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ '' اللہ تعالی فرماتا ہے نیک


بندوں کے اعمال دس برابر سے سات سو برابر ثواب رکھتے ہیں سوائے روزے کہ جو میرے لئے مخصوص ہو تو اس کی جزاء میں دونگا پس روزے کا ثواب صرف خدا جانتا ہے_(۵۲۷)

امیر المومنین علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے معراج کی رات فرمایا _ ''اے میرے خالق_ پہلی عبادت کونسی ہے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ پہلی عبادت ساکت رہنا اورروزے _ پیغمبر علیہ السلام نے عرض کی اے میرے خالق روزہ کا اثر کونسا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا کہ روزے کا اثر دانائی ہے اور دانائی معرفت کا سبب ہوتی ہے_ اور معرفت یقین کا سبب بنتی ہے اور جب انسان یقین کے مرتبے تک پہنچتا ہے تو پھر اس کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ سختی میں یا آرام میں زندگی کرے_(۵۲۸)

روزہ ایک خاص عبادت ہے کہ جس میں دو پہلو نفی اور ثبات موجود ہوتے ہیں پہلا اپنے نفس کو کھانے پینے اور عزیز لذت سے جو شرعا جائز ہے روکنا اور محافظت کرنا_ اسی طرح خدا اور رسول پر جھوٹ نہ باندھنا اور بعض دوسری چیزوں کو ترک کرنا ہوتا ہے_ دوسرا_ قصد قربت اور اخلاص کو جو در حقیقت اس عبادت کے روح کے بمنزلہ ہے_ روزے کی حقیقت نفس کو روکنا اورمادی لذات سے حتمی طور سے قصد قربت سے محافظت کرنا ہوتا ہے_ کھانا پینا جنسی عمل خدا اور رسول پر جھوٹ باندھنا روزے کو باطل کردیتے ہیں فقہی کتابوں میں روزے کی یوں تعریف کی گئی ہے کہ اگر کوئی ان امور یعنی کھانے پینے جماع خدا اور رسول پر جھوٹ باندھے _ انزال منی_ حقنہ کرنا_ غسل ارتماسی _ جنابت پر باقی رہنا کو قصد قربت سے ترک کرے تو اس کی عبادت صحیح ہے اور اس کی قضاء اور کفارہ نہیں بتلایا گیا ہے بلکہ روزہ اس سے زیادہ وسیع معنی میں بیان کیا گیا ہے_ حدیث میں آیا ہے کہ روزہ صرف کھانے پینے کے ترک کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ حقیقی روزہ دار وہ ہے کہ حس کے تمام اعضاء اور جوارح گناہوں کو ترک کریں یعنی آنکھ آنکھوں کے گناہوں سے اسی طرح زبان اور کان ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء اپنے اپنے گناہوں کو ترک کریں ایسا روزہ اللہ کے خاص بندوں کا ہے_


اس سے بلند اور بالا ایک وہ روزہ ہے جو خاص الخاص لوگوں کا روزہ ہے اور وہ ان چیزوں کے ترک کرنے کے علاوہ اپنے دل کو ہر اس خیال اور فکر سے فارغ کردے جو خدا کی یاد سے روکے اور ہمیشہ خدا کی یاد میں رہے اور اسے حاضر اور ناظر جانے اور اپنے آپ کو خدا کا مہمان جانے اور اپنے آپ کو خدا کی ملاقات کے لئے آمادہ کے_ نمونے کے طور پر اس حدیث کی طرف توجہ کیجئے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں روزہ صرف کھانے اور پینے کو ترک کرنے سے حاصل نہیں ہوتا_ جب روزہ رکھے تو پھر کان اور آنکھ اور زبان اور شکم اور شرمگاہ کو بھی گناہوں سے محفوظ کرے اور ساکت رہے سوائے نیکی اور مفید کلام کے بات کرنے سے رکا رہے اور اپنی خدمت کرنے والوں اور نوکروں سے نرمی کرے جتنا ہو سکتا ہے ساکت رہے سوائے خدا کے ذکر کے اور اس طرح نہ ہو کہ روزے والا دن اس طرح کا ہو کہ جس دن روزہ نہ رکھا ہوا ہو _ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا ہے جو شخص ماہ رمضان کا روزہ ساکت ہو کر رکھے اور کان اور آنکھ اور زبان اور شرمگاہ اور دوسرے بدن کے اعضاء کو جھوٹ اور حرام اور غیبت سے اللہ کے تقرب کی نیت سے روکے رکھے تو وہ روزہ اس کے تقرب کا اس طرح سبب بنے گا کہ گویا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہم نشین ہو_

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ '' روزہ صر ف نہ کھانے اور پینے کا نام نہیں ہے_(۵۲۹) بلکہ اس کے شرائط ہیں کہ ان کی محافظت کرنی چاہئے تا کہ روزہ کامل اور تام ہو سکے وہ ہے سکوت اور چپ رہنا_ کیا تم نے حضرت مریم علیہا السلام کی بات نہیںسنی کہ جو آپ نے لوگوں کے جواب میں کہا تھا کہ میں نے اللہ تعالی کے لئے نذر کی ہوئی ہے کہ آج کے دن کسی سے بات نہ کروں یعنی چونکہ روزے سے ہوں مجھے چپ رہتا چاہئے لہذا جب تم روزہ رکھو تو اپنی زبان کو جھوٹ بولنے سے روکو_ اور غصہ نہ کرو_ گالیاں نہ دو بری باتیں نہ کرو_ جھگڑا اور لڑائی نہ کرو_ ظلم اور ستم سے پرہیز کرو_ جہالت اور بد اخلاقی اور ایک دوسرے سے دوری سے پرہیز کرو_ اللہ تعالی کے


ذکر اور نماز سے غافل نہ رہو_ سکوت اور تعقل اور صبر و صدق اور برے لوگوں سے دوری کا خیال کرو_ باطل کلام جھوٹ بہتان دشمنی سوء ظن غیبت چغل خوری سے اجتناب کرو_ اور آخرت کی طرف توجہ رکھو اور اس دن کے آنے کے انتظار میں رہو کہ جس دن خدا کا وعدہ پورا ہوگا اور اللہ تعالی کی ملاقات کا سامان مہیا کرو_ آرام اور وقار خشوع خضوغ ذلت کہ جب کوئی بندہ اپنے مولی سے ڈرتا ہے اس کی رعایت کرو_ خوف اور امید خوف اور ترس کی حالت میں رہو اور اگر اپنے دل کو عیبوں سے اور باطل کو دھوکا دینے سے اور بدن کو کثافت سے پاک اور صاف کرو_ اللہ تعالی کے علاوہ ہر ایک چیز سے بیزاری کرو_ اور اللہ کی حکومت کو روزے کے وسیلے سے اور ظاہر اور باطن کو جس سے خدا نے منع کیا ہے خالی کرنے سے قبول کر لیا اور اللہ تعالی سے خوف اور خشیت کو ظاہر اور باطن میں ادا کیا اور روزہ کے دنوں اپنے نفس کو خدا کے لئے بخش دیا اور اپنے دل کو خدا کے لئے خالی کر دیا اور اسے حکم دیا تا کہ وہ اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرے اگر اس طرح اور اس کیفیت سے روزہ رکھا تو پھر تو واقعا روزہ دار ہے اور اپنے وظیفہ پر عمل کیا ہے اور ان چیزوں میں جتنی کمی اکرو گے اتناہی تیرا روزہ ناقص ہوجائیگا کیونکہ روزہ رکھنا صرف نہ کھانے اور پینے سے نہیں ہوتا بلکہ خدا نے روزے کو تمام افعال اور اقوال جو روزے کو باطل کردیتے ہیں حجاب اور مانع قرار دیا ہے پس روزے رکھنے والے کتنے تھوڑے ہیں اور بھوکے رہنے والے بہت زیادہ ہیں_(۵۳۰)

اپنے آپ کو سنوار نے میں روزے کا کردار

اگر روزے کو اسی طرح رکھا جائے کہ جس طرح پیغمبر اسلام نے چاہا ہے اور اسی کیفیت اور شرائط سے بجالا جائے کہ جو شرعیت نے معین کیا ہے تو پھر روزہ ایک بہت بڑی قیمتی اور مہم عبادت ہے اور نفس کے پاک کرنے میں بہت زیادہ اثر کرتا ہے روزہ ہر حالت میں نفس کو گناہوں اور برے اخلاق سے خالی کرنے اور نفس کو کامل اور


زینت دیئے جانے والے اور اللہ تعالی کے اشراقات سے استفادہ کرنے میں کامل طور سے موثر ہوتا ہے_ روزہ رکھنے والا گناہوں کے ترک کرنے کے وسیلے سے نفس امارہ پر کنٹرول کر کے اپنے قابو میں رکھتا ہے_ روزے کے دن گناہوں کے ترک کرنے سے نفس کی ریاضت اور عملی تجربے کا زمانہ ہوتا ہے_ اس زمانے میں نفس کو گناہوں اور کثافت سے پاک کرنے کے علاوہ جائز لذات کھانے پینے سے بھی چشم پوشی کرتا ہے اور اس وسیلے سے اپنے نفس کو صفا اور نورانیت بخشتا ہے کیونکہ بھوک باطن کے صفا اور خدا کی طرف توجہہ کا سبب ہوتی ہے_ انسان بھوک کی حالت میں غالباً خوش حالی کی حالت پیدا کر لیتا ہے کہ جو پیٹ بھری حالت میں اسے حاصل نہیں ہوتی_ خلاصہ روزہ تقوی حاصل کرنے میں بہت زیادہ تاثیر رکھتا ہے اسی لئے قرآن مجید میں تقوی حاصل کرنے کو روزے کے واجب قرار دینی کی غرض بتلایا گیا ہے_ قرآن میں ہے _ ''اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے روزہ تم پر واجب کیا گیا ہے جیسے کہ پہلے لوگوں پر واجب کیا گیا تا کہ تھا تم اس وسیلے سے صاحب تقوی ہو جاؤ_(۵۳۱) جو شخص ماہ رمضان میں روز رکھے اور چونکہ روزہ دار پورے مہینے میں گناہوں اور برے اخلاق سے پرہیز کرتا ہے اور اپنے نفس پر قابو پالیتا ہے تو وہ ماہ رمضان کے بعد بھی گناہوں کے ترک کرنے کی حالت کو باقی رکھے گا_

یہاں تک جو کچھ کہااور لکھا گیا ہے وہ روزے کا نفس انسانی کے پاک کرنے اور نفس کو گناہوں اور کثافتوں سے صاف کرنے کا اثر لیکن روزہ کچھ مثبت اثرات بھی رکھتا ہے جو نفس کو کمال تک پہنچنے اور باطن کے خوشمنا ہونے اور ذات الہی تک تقرب کا موجب اور سبب بنتا ہے _ جیسے_

۱_ روزہ یعنی نفس کو مخصوص مفطرات سے روکنا ایک ایسی عبادت ہے کہ جس میں اخلاص اور قصد قربت سے نفس کی تکمیل اور تربیت ہوتی ہے اور قرب الہی کا دوسری عبادتوں کی طرح سبب بنتی ہے_

۲_ گناہوں اور اور لذات کے ترک کرنے سے روزہ دار کا دل صاف اور پاک ہو جاتا


ہے اور خدا کے سوا ہر فکر اور ذکر سے فارغ ہوجاتا ہے اس وسیلے سے اللہ تعالی کے اشراقات اور افاضات اور القاء اللہ کی استعداد اور قابلیت پیدا کر لیتا ہے اور اس حالت میں اللہ تعالی کے الطاف اور عنایات اسے شامل حال ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالی کے جذبے سے قرب الہی کو حاصل کر لیتا ہے_ اسی لئے احادیث میں وارد ہوا ہے کہ روزے دار کا سانس لینا اور سونا بھی ثواب اور عبادت ہے_

۳_ روزے کے دن عبادت اور نماز اور دعا اور قرآن پڑھنے ذکر اور خیرات اور مبرات کے بہترین دن ہوتی ہیں کیونکہ نفس حضور قلب اور اخلاص اور اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنے کے لئے دوسرے دلوں سے زیادہ آمادہ اور حاضر ہوتا ہے_ ماہ رمضان عبادت کی بہار اور خدا کی طرف توجہ کرنے کے لئے بہترین وقت ہوا کرتا ہے اسی لئے احادیث میں ہے کہ جب ماہ رمضان آتا تھا تو امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے فرزند سے سفارش کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ '' عبادت کرنے میں کوشش کرو کیونکہ اس مہینے میں رزق تقسیم کیا جاتا ہے_ اور اجل اور موت لکھی جاتی ہے_ اس میں وہ لوگ جو خدا کے پاس جائیں گے لکھے جاتے ہیں_ ماہ رمضان میں تک ایک رات ایسی کہ جس میں عبادت کرنا ہزار مہینے سے زیادہ افضل ہے_(۵۳۲) امیرالمومنین نے لوگوں سے فریاد کہ '' ماہ رمضان میں دعا زیادہ کیاکرو اور توبہ اور استغفار کرو کیونکہ دعا کے وسیلے سے تم سے مصیبتیں دور کی جائیں گی اور توبہ اور استغفار کے ذریعے سے تمہارے گناہ مٹ جائیں گے_(۵۳۳)

امیرالمومنین نے روایت کی ہے کہ '' رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دن ہمارے لئے خطبہ بیان کیا اور اس میں فرمایا لوگو_ ماہ رمضان کا مہینہ برکت اور رحمت اور مغفرت کی ساتھ تمہارے طرف آیا ہے یہ مہینہ دوسرے مہینوں سے خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے_ اس کے دن دونوں سے بہترین دن ہیں اور راتیں راتوں میں سے بہترین راتیں ہیں اس کی گھڑیاں گھڑیوں میں سے بہترین گھڑیاں ہیں یہ ایسا مہینہ ہے کہ جس میں تم خدا کی طرف اس میں دعوت دیئے گئے ہو اور اللہ تعالی کی نزدیک


صاحب کرامت قرار دیئے گئے ہو_ اس میں تمہارا سانس لینا تسبیح کا ثواب رکھتا ہے اور تمہارا سونا عبادت کا ثواب رکھتا ہے_ اس مہینے میں تمہارے اعمال قبول کئے جاتے ہیں اور تمہاری دعائیں قبول کی جاتی ہیں پس تم سچی نیت اور پاک دل سے خدا کو پکارو کہ اس نے تمہیں اس میں روزہ رکھتے اور قرآن پڑھنے کی توفیق عنایت فرمائی ہے کیونکہ بدبخت اور شقی ترین وہ شخص ہے جو اس بزرگ مہینے میں اللہ تعالی کے بخشنے جانے سے محروم رہے اس میں اپنی بھوک اور پیاس سے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو_ فقراء اور مساکین کو صدقہ دو اور بڑوں کا احترام کرو اور اپنے سے چھوٹوں پر رحم کرو_ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو_ اپنی زبان کی حفاظت کرو اور حرام چیزوں سے اپنی آنکھوں کو بندہ کرو اور کانوں کو احرام کے سننے سے بند کرو_ یتیموں پر رحم اور مہربانی کرو_ اور اپنے گناہوں سے توبہ کرو_ اور نماز کے اوقات میں اپنے ہاتھوں کو دعا کرنے کے لئے بلند کرو کیونکہ یہ وقت بہترین وقت ہے کہ خدا لوگوں پر رحمت کی نگاہ ڈالتا ہے اور ان کی مناجات کو قبول کرتا ہے اور ان کی پکار پر لبیک کہتا ہے جب کوئی سوال کرے اسے عطا کرتا ہے اور اس کی دعا کو قبول کرتا ہے_ لوگو تمہاری جانیں تمہارے اعمال کے مقابلے میں گروہی میں پس استغفار کے ذریعے انہیں آزاد کراؤ_

تمہاری پشت گناہوں کی وجہ سے سنگین ہوچکی ہے طویل سجدوں سے اس بار سنگین کو ہلکار کرو اور جان لو کہ خدا نے اپنے عزت کی قسم کھا رکھی ہے کہ نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہ کرے اور ان کو قیامت کے دن جہنم کی آگ سے ڈرائے_

لوگو جو شخص اس مہینے میں روزہ دار کو افطاری کرائے اسے ایک بندے کے آزاد کرنے کا ثواب دیا جائیگا اور گذرے ہوئے گناہوں کو معاف کردیا جائیگا_ کہا گیا_ یا رسول اللہ_ ہم تمام افطاری دینے پر قدرت نہیں رکھتے _ آپ نے فرمایا کہ دوزخ کی آگ سے بچو خواہ ایک ٹکڑا یا پانی کا ایک گھونٹ پلانا ہی کیوں نہ ہو _ لوگو جو شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق کو اچھا کرے قیامت کے دل پل صراط سے عبور کرے گا_ اور خدا


اسے آزاد کرے گا_ جو شخص اس مہینے میں کسی بندے کے کام کو آسان کردے خداوند عالم قیامت کی دن اس کے کام کو آسان کردے گا_ جو شخص اس مہینے میں اپنی برائی کو لوگوں سے روکے خدا قیامت کے دن اپنے غضب کو اس سے روکے گا_ جو شخص کسی یتیم کی عزت کرے خدا قیامت کے دن اسے اپنی رحمت سے متصل کرے گا جو شخص قطع رحمی کرے خدا قیامت کے دن اس سے اپنی رحمت کو قطع کردے گا_ جو شخص اس مہینے میں مستحب نمازیں پڑھے خدا اس کے لئے جہنم سے برات لکھ دے گا_ جو شخص اس مہینے میں مجھ پر زیادہ درود بھیجے خدا اس کے نامہ اعمال کے ترازو کو بھاری قرار دے گا_ جو شخص اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت پڑھے اس کو ایک قرآن کے ختم کرنے کا جو دوسرے مہینوں میں پڑھے گا ثواب دیا جائیگا_ لوگو اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اللہ تعالی سے طلب کرو کہ وہ تم پر بند نہ کرے _ اس مہینے میں دوزخ کے دروازے بند کردیئےاتے ہیں_ خدا سے طلب کرو کہ وہ تم پر کھول نہ دیئے جائیں_ اس مہینے میں شیطانوں کو زنجیروں میں بند کر دیا جاتا ہے خدا سے طلب کرو کہ ان کو تم پر تسلط اور غلبہ نہ دیا جائے_

امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا_ یا رسول اللہ اس مہینے میں سب سے بہترین عمل کونسا ہے؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے ابوالحسن_

اس مہینے میں محرمات سے پرہیز کرنا سب سے زیادہ افضال عمل ہے_(۵۳۴)

جیسے کہ ان حادیث سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ ماہ رمضان پر برکت اور بافضیلت مہینہ ہے یہ عبادت اور اپنے آپ کو بنانے دعا اور تہجد نفس کی تکمیل اور تربیت کا مہینہ ہے_ اس مہینے میں عبادت دوسرے مہینوں کی نسبت کئی برابر ثواب رکھتی ہے یہاں تک کہ اس مہینے میں مومن کا سانس لینا بھی عبادت ہے_ اس مہینے مین جنت کے دروازے مومنین کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں_ اللہ تعالی کے فرشتے خدا کے بندوں کو عبادت کی طرف بلاتے


رہتے ہیں بالخصوص سحری اور شب قدر کہ جس میں جاگتے رہنا اور عبادت کرنا ہزار مہینے سے افضل ہے خدا نے اس مہینے میں عام دربار لگایا ہے اور تمام مومنین کو اپنی طرف مہمانی کے لئے بلایا ہے اس دعوت کا پیغام پیغمبر علیہم السلام لائے ہیں_

میزبان جواد مطلق ہے _ اللہ کے مقرب فرشتے مہمان مومنین کے خدمت گزار ہیں_ اللہ تعالی کی نعمتوں کا عام دسترخوان بچھا ہوا ہے_ مختلف قسم کی نعمتیں اور جوائز کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے_ اور نہ کسی کے دل پر خطور کیا ہے مہیا کر دی گئی ہیں_ رمضان کا مہینہ پر برکت اور با فضیلت مہینہ ہے_اللہ تعالی کی توفیق ہر طرف سے آمادہ اور مہیا ہے_ دیکھیں کہ ہماری ہمت اور لیاقت کتنی ہے اگر ہم نے غفلت کی تو قیامت کے دن پشیمان ہونگے لیکن اس دن پشیمانی کوئی قائدہ مند نہ ہوگی_ ماہ رمضان کی دعائیں مفاتیح الجنان اردو اور دوسری دعاؤں کی کتابوں میں موجود ہیں جیسے مفاتیح الجنان جدید و غیرہ_ خلوص اور توجہہ کے ساتھ اللہ تعالی کے تقرب اور سیر و سلوک کے لئے ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے_

آخر میں بتلا دینا چاہتا ہوں کہ باقی تمام عبادات بھی نماز اور روزے ذکر اور دعا کی طرح اپنے آپ کو بنانے اور سنوارنے اور تکمیل اور تربیت نفس میں مفید اور موثر ہوتے ہیں چونکہ ہماری بنا اختصار پر تھی لہذا ان کو توضیح اور تشریح سے صرف نظر کیا ہے_


حواشی-۱

۱_لقد منّ الله علیه المؤمنین اذ بعث فیهم رسولاً من انفسهم یتلوا علیهم آیاته و یزکیهم و یعلّمهم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین_ آل عمران/ ۱۶۴

۲_ قال رسول الله صلّی الله علیه و آله: علیکم بمکارم الاخلاق فانّ الله عزوجل بعثنی بها_ بحار/ ج ۶۹ ص ۳۷۵_

۳_ عن النبی صلی الله علیه و آله انه قال: انّما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق_ مستدک /ج ۲ ص ۲۸۲_

۴_ قال ابوعبدالله علیه السلام: انّ الله تبارک و تعالی خصّ الانبیا_ بمکارم الاخلاق، فمن کانت فیه فلیحمد الله علی ذلک، و من لم یکن فلیتضرع الی الله و لیسئله_ مستدرک/ ج ۲ ص ۲۸۳_

۵_ قال امیرالمؤمنین علیه السلام: لو کنّا لا نرجو جنة و لا نخشی ناراً و لا ثواباً و لا عقاباً لکان ینبغی لنا ان نطلب مکارم الاخلاق فانها مما تدّل علی سبیل النجاح_ مستدرک/ ج۲ ص ۲۸۳_

۶_ عن ابی جعفر علیه السلام قال: انّ اکمل المؤمنین ایماناً احسنهم خلقاً_ کافی/ ج ۲ ص ۹۹_

۷_ جاء رجل الی رسول الله علیه و آله من بین یدیه فقال: یا رسول الله ماالدین؟ فقال: حسن الخلق_ ثم اتاه من قبل یمینه فقال: یا رسول الله ما الدین؟ فقال: حسن الخلق_ ثم اتاه من قبل شماله فقال: ما الدین؟ فقال: حسن الخلق_ ثم اتاه من ورائه فقال: ما الدین؟ فالتفت الیه فقال: اما تفقه؟ هو ان لا تغضب_ محجة البیضائ/ ج ۵ ص ۸۹_

۸_الذی احسن کلّ شیء خلقه و بدا خلق الانسان من طین، ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهین ثمّ سوّاه و نفخ فیه من روحه و جعل لکم السمع و الابصار و الافئدة قلیلاً ما تشکرون _ سجدة/ ۷_


۹_فاذا سوّیته و نفخت فیه من روحی فقعوا له ساجدین _ حجر/ ۲۹_

۱۰_و لقد کرّمنا بنی آدم و حملناهم فی البر و البحر و رزقناهم من الطیبات و فضّلناهم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً _ اسرائ/ ۷۰_

۱۱_قل ان الخاسرین الذین خسروا انفسهم و اهلیهم یوم القیامة الا ذالک هو الخسران المبین _ زمر/ ۱۵_

۱۲_ قال علی علیه السلام: عجبت لمن ینشد ضالته و قد اضلّ نفسه فلا یطلبها_ غرر الحکم/ ص ۴۹۵_

۱۳_و یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی و ما اوتیتم من العلم الّا قلیلاً _ اسرائ/ ۸۵_

۱۴_ قال علی علیه السلام: ان النفس لجوهرة ثمنیة من صانها رفعها و من ابتذلها وضعها_ غرر الحکم/ ص ۲۲۶_

۱۵_ قال علی علیه السلام: من عرف نفسه لم ینهنا بالفانیات_ غرر الحکم/ ص ۶۶۹_

۱۶_ قال علی علیه السلام: من عرف شرف معناه صانه عن دنائة شهوته و زور مناه_ غرر الحکم/ ص ۷۱۰_

۱۷_ قال علی علیه السلام: من شرف نفسه کثرت عواطفه_ غرر الحکم / ص ۶۳۸_

۱۸_ قال علی علیه السلام: من شرف نفسه نزّها عن ذلّه المطالب_ غرر ا لحکم/ ص ۶۹۹_

۱۹_و امّا من خاف مقام ربّه و نهی النفس عن الهوی فانّ الجنة هی الماوی _ نازعات/ ۴۱_

۲۰_و ما ابرّء نفسی انّ النفس لا مّارة بالسوء الا ما رحم ربّی _ یوسف/ ۵۳_

۲۱_ قال النبی صلی الله علی و آله: اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک_ بحار/ ج ۷۰ ص ۶۴_

۲۲_ قال علی علیه السلام: انّ النفس لامّارة بالسوء فمن ائتمنها خانته و من استنام الیها اهلکته و من رضی عنها اوردته شرّ الموارد_ غرر الحکم/ ص ۲۲۶_

۲۳_ قال علیه بن الحسین علیه السلام فی دعاه: الهی الیک اشکو نفساً بالسوء امّارة و الی الخطئیة مبادرة و بمعاصیک مولعة و لسخطک متعرضه تسلک بی مسالک المهالک_ بحار/ ج ۹۴ ص ۱۴۳_

۲۵_فان لم یستجیبوا لک فاعلم انّما یتّبعون اهوائهم من اضلّ ممن اتّبع هواه بغیر هدی من الله انّ الله لایهدی القوم الضالمین _ قصص/ ۵۰_

۲۶_و لقد ذرانا لجهنم کثیراً من الجن و الانس لهم قلوب لا یفقهون بها و لهم اعین لایبصرون بها و لهم اذان لایسمعون بها اولئک کالانعام بل هم اضلّ اولئک هم الغافلون _ اعراف/ ۱۷۹_


۲۷_افرا یت من اتخذ الهه هواه و اضلّه الله علی علم و ختم علی سمعه و قلبه و جعل علی بصره غشاوة فمن یهدیه من بعد الله افلا تذکرون _ جاثیہ/ ۲۳_

۲۸_ قال علی علیه السلام: المغبون من شغل بالدنیا و فاته حظه من الاخرة_ غرر الحکم/ ج ۱ ص ۸۸_

۲۹_ قال علی علیه السلام: اکم نفسک من کل دنيّه و ان ساقتک الی الرغائب، فانک لن تعتاض بما تبذل من نفسک عوضا و لا تکن عبد غیرک و قد جعلک الله حرّاً و ما خیر خیرا لا ینال الا بشّر و یسر لا ینال الّا بعسر_ نهج البلاغه صبحی صالح/ ص ۴۰۱ کتاب ۳۱_

۳۰_ قال اامیرالمؤمنین علیه السلام: لبئس المتجر ان تری الدنیا لنفسک ثمناً و ممالک عند الله عوضا_ نهج البلاغه / خطبه ۳۳_ ۷۵_

۳۱_و نفس و ما سوّیها فا لهمها فجورها و تقوی ها، قد افلح من زكّیها و قد خاب من دسی ها _ شمس/ ۷ تا ۱۰_

۳۲_ قیل لعلی بن الحسین علیه السلام: من اعظم الناس خطراً؟ قال: من لم یر الدنیا خطراً لنفسه_ تحف العقول/ ص ۲۸۵_

۳۳_ قال علی علیه السلام: من کرمت علیه نفسه هانت علیه شهواته_ نهج البلاغه/ قصار ۴۴۹_

۳۴_یعلمون ظاهراً من الحیاة الدنیا و هم عن الاخرة غافلون _ روم/ ۷_

۳۵_لقد کمنت فی غفلة من هذا فبصرک الیوم حدید _ ق/ ۲۲_

۳۶_کل نفس بما کسبت رهینة _ مدثر/ ۳۸_

۳۷_ثم توفی کل نفس ما کسبت و هم لا یظلمون _ آل عمران/ ۱۶۱_

_لا یؤاخذکم الله باللغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم و الله غفور حلیم _ بقرہ/ ۲۲۵_

۳۸_لا یکلّف الله نفساً الّا وسعها لها ما کسبت و علیه ما اکتسبت _ بقرہ/ ۲۸۶_

۳۹_یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضراً و ما عملت من سوئ: تودّ لو انّ بینها و بینه امداً بعیداً _ آل عمران/ ۳۰_

۴۰_من عمل صالحاً فلنفسه و من اساء فعلیها ثم الی ربکم ترجعون _ جائیہ/ ۱۵_

۴۱_فمن یعمل مثقال ذرّه خیراً یره و من یعمل مثقال ذرّة شرّاً یره _ زلزال/ ۷_

۴۲_و ما تقدّموا لا نفسکم من خیر تجدوه عندالله _ بقرہ/ ۱۱_

۴۳_یوم لا ینفع مال و لا بنون الّا من اتی الله بقلب سلیم_ شعرائ/ ۸۵_


۴۴_ قال النبی صلی الله علیه و آله: یا قیس لا بّد لک من قرین یدفن معک و هو حيّ و تدفن معه و انت میت فان کان کریماً اکرمک و ان کا ن لئیماً لا ملک ثمّ لا یحشر الّا معک و لا تحشر الّا معه و لا تسا ل الّا عنه فلا تجعله الّا صالحاً فان ان صلح آنست به و ان فسد لاتستوحش الّا منه و هو فعلک_ جامع السعادات/ ج ۱ ص ۱۷_

۴۵_من عمل صالحاً من ذکر او انثی و هو مؤمن فلنحیینه حیاة طيّبة _ نحل/ ۹۷_

۴۶_ قال ابو عبدالله علیه السلام: قال الله تبارک و تعالی: یا عبادی الصدیقین تنعّمو بعبادتی فی الدنیا فانکم تنعمون بها فی الاخرة_ بحارالانوار/ ج۷۰ ص ۲۵۳_

۴۷_ قال علی علیه السلام: مداومة الذکر قوت الارواح_ غرر الحکم/ ص ۷۶۴_

۴۸_ قال علی علیه السلام: علیک بذکر الله فانه نور القلوب_ غرر الحکم/ ص ۴۷۹_

۴۹_ قرة العیون_ تا لیف مرحوم فیض/ ص ۴۶۶_

۵۰_الذین یاکلوم اموال الیتامی ظلما انّما یاکلوم فی بطونهم ناراً و سیصلون سعیراً _ نسائ/ ۱۰۰_

۵۱_من کان فی هذه اعمی فهو فی الاخرة اعمی و اضلف سبیلاً _ اسرائ/ ۷۲_

۵۲_من کان یرید العزّه فللّه العزّة جمیعاً الیه یصعد الکلم الطيّب و العمل الصالح یرفعه _ فاطر/ ۱۰_

۵۳_ و فی الحدیث النبوی یحشر بعض الناس علی صور یحسن عندها القردة و الخازیر_ قرة العیون/ ص ۴۷۹_

۵۴_ قال علی علیه السلام: فالصورة صورة انسان و القلب حیوان، لایعرف باب الهدی فیتّبعه و لا باب العمی فیصدّ عنه و ذالک ميّت الاحیائ_ نهج البلاغه خطبه/ ۸۷_

۵۵_ قال ا بو عبدالله علیه السلام: ان المتکبرین یجعلون فی صور الذرّ، یتوطؤهم الناس حتی یفرق الله من الحساب_ بحارالانوار/ ج ۷ ص ۲۰۱_

۵۶_ تکویر/ ۵_

۵۷_ نبا / ۱۸_

۵۸_ تفسیر مجمع البیان/ ج ۱۰ ص ۴۲۳، روح البیان/ ج ۱۰ ص ۲۹۹، نورالثقلین/ ج ۵ ص ۴۹۳_

۵۹_افلم یسیروا فی الارض فتکون لهم قلوب یعقلون بها _ حج/ ۴۶_

۶۰_لهم قلوب لا یفقهون بما و لهم اعین لایبصرون بها _ اعراف/ ۱۷۹_

۶۱_اولئک کتب فی قلوبهم الایمان و ايّدهم بروح منه _ مجادلہ/ ۲۲_

۶۲_و طبع علی قلوبهم فهم لا یفقهون _ توبہ/ ۷۸_


۶۳_یحذر المنافقون ان تنزّل علیهم سورة تنبئهم بما فی قلوبهم _ توبہ/ ۶۴_ ۶۴_و من یؤمن بالله یهد قلبه و الله بکل شیء علیم _ تغابن/ ۱۱_

۶۵_انّ فی ذالک لذکری لمن کان له قلب او القی السمع و هو شهید _ ق/ ۳۷_ ۶۶_الا بذکر الله تطمئن القلوب _ رعد/ ۲۸_

۶۷_هو الذی انزل السکینة فی قلوب المؤمنین لیزدادوا ایماناً _ فتح/ ۴_ ۶۸_انما یستا ذنک الذین لا یؤمنون بالله و الیوم الاخر و ارتابت قلوبهم فهم فی ریبهم یترددون _ توبہ/ ۴۵_

۶۹_و جعلنا فی قلوب الذین اتّبعوه را فة و رحمة _ حدید/ ۲۷_

۷۰_هو الذی ايّدک بنصره و بالمؤمنین و الّف بین قلوبهم _ انفال/ ۶۳_

۷۱_و لو کنت فظاً غلیظ القلب لا نفضّوا من حولک _ آل عمران/ ۱۵۹_

۷۲_نزل به الروح الامین علی قلبک لتکون من المنذرین _ شعرا/ ۱۹۴_

۷۳_فاوحی الی عبده ما اوحی ما کذب الفؤاد ما را ی _ نجم/ ۱۱_

۷۴_یوم لا ینفع مال و لا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم _ شعرا/ ۸۹_

۷۵_انّ فی ذالک لذکری لمن کانه له قلب _ ق/ ۳۷_

۷۶_و ازلفت الجنة للمتقین غیر بعید_ هذا ما توعدون لکل اوّاب حفیظ_ من خشی الرحمان بالغیب و جاء بقلب منیب _ ق/ ۳۱_ ۳۳_

۷۷_فی قلوبهم مرض فزادهم الله مرضاً _ بقرہ/ ۱۰_

۷۸_فتری الذین فی قلوبهم مرض یسارعون فیهم یقولون نخشی ان تصیبنا دائرة _ مائدہ/ ۵۲_

۷۹_و من اعرض عن ذکری فانّ له معیشة ضنکا و نحشره یوم القیامة اعمی_ قال لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیراً قال کذالک اتتک آیاتنا فنسیتها و کذالک الیوم تنسی_ طہ/ ۱۲۵_

۸۰_افلم یسیروا فی الارض فتکون لهم قلوب یعقلون بها و آذان یسمعون بها فانها لا تعمی الابصار و لکن تعمی القلوب التی فی الصدور _ حج/ ۴۶_

۸۱_و من کان فی هذه اعمی فهو فی الاخرة اعمی و اضلّ سبیلاً _ اسرائ/ ۷۲_

۸۲_و من یهدی الله فهو المهتدی و من یضلل فلن تجد لهم اولیاء من دونه و نحشرهم یوم القیامة علی وجوهم عمیاً و بکماً و صمّاً _ اسرائ/ ۹۷_

۸۳_فالذین آمنوا به و عزّروه و نصروه و اتّبعوا النور الذی معه اولئک هم المفلحون _ اعراف/ ۱۵۷_

۸۴_قد جائکم من الله نور و کتاب مبین _ مائدہ/ ۱۵_


۸۵_افمن شرح الله صدره للاسلام فهو علی نور من ربه، فویل للقاسیة قلوبهم من ذکر الله اولئک فی ضلال مبین _ زمر/ ۲۲_

۸۶_کتاب انزلناه الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور _ ابراہیم/ ۱_

۸۷_یوم تری المؤمنین و المؤمنات یسعی نورهم بین ایدیهم و بایمانهم بشراکم الیوم جنات تجری من تحتها الانهار خالدین فیها ذالک هو الفوز العظیم _ حدید/ ۱۲_

۸۸_یوم یقول المنافقون و المنافقات للذین آمنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا ورائکم فالتمسوا نوراً _ حدید/ ۱۳_

۸۹_ عن ابی جعفر علیه السلام قال: القلوب ثلاثة: قلب منکوس لایعثر علی شیء من الخیر و هو قلب الکافر و قلب فیه نکتة سوادء فالخیر و الشر یعتلجان، فما کان منه اقوی غلب علیه، و قلب مفتوح فیه مصباح یزهر فلا یطفا نوره الی یوم القیامة و هو قلب المؤمن_ بحار/ ج ۷۰ ص ۵۱_

۹۰_ عن ابی عبدالله علیه السلام قال: کان ابی یقول: ما من شء افسد للقلب من الخطیئة، انّ القلب لیواقع الخطیئة فما تزال حتی تغلب علیه فیصیر اسفله اعلاوه و اعلاه اسفله_ بحار/ ج ۷۰ ص ۵۴_

۹۱_ عن علی بن الحسین علیه السلام فی حدیث طویل یقول فیه: الا انّ للعبد اربع اعین: عینان یبصر بهما امر دینه و دنیاه، و عینان یبصر بهما امر آخرته_ فاذا اراد اله بعبد خیراً فتح لیه العینین اللتین فی قلبه فابصر بهما الغیب و امر آخرته و اذا اراد به غیر ذالک ترک القلب بما فیه_ بحار/ ج ۷۰ص ۵۳_

۹۲_ عن ابیعبدالله علیه السلام قال: ان للقلب اذنین، روح الایمان یسارّه بالخیر و الشیطان یسارّه بالشر فايّهما ظهر علی صاحبه غلبه_ بحار/ ج ۷۰ ص ۵۳_

۹۳_ عن الصادق علیه السلام قال: قال رسو ل الله صلی الله علیه و آله: شرّ العمی وعمی القلب_ بحار/ ج ۷۰ ص ۵۱_

۹۴_ عن ابی جعفر علیه السلام قال: ما من عبدا الّا و فی قلبه نکتة بیضاء فاذا اذنب ذنباً خرج فی النکتة نکتة سواء _ فان تاب ذهب ذالک السوائ، و ان تمادی فی الذنوب زاد ذالک السواد حتی یغطّی البیاض، فا ذا غطّی البیاض لم یرجع صاحبه الی خیر ابداً و هو قول الله تعالی: کلّا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون_ کافی / ج ۲ ص ۲۷۳_

۹۵_ قال علی علیه السلام: و من قلّ ورعه مات قلبه و من مات قلبه دخل النار_ نهج البلاغة_

۹۶_ فیما اوصی به امیر المؤمنین علیه السلام ابنه، قال: یا بنی انّ البلاء الفاقة و اشدّ من ذالک مرض البدن و اشدّ من ذالک مرض القلب_ و ان من النعم سمة المال و افضل من ذالک صحة البدن و افضل من ذالک تقوی القلوب_ بحارالانوار/ ج ۷۰ ص ۵۱_


۹۷_ انس بن مالک قال قال رسو ل الله صلی الله علیه و آله: ناجی داود ربّه فقال الهی لکلّ ملک خزانة فاین خزانتک؟ قال جلّ جلاله: لی خزینة اعظم من العرش و اوسع من الکرسی و اطیب من الجنة و ازین من الملکوت_ ارضها المعرفة و سمائها الایمان و شمسها الشوق و قمرها المحبّة و نجومها الخواطر و سحابها العقل و مطرها الحرمة و اثمارها الطاعة و ثمرها الحکمة_ و لها اربعة ابواب: العلم و الحلم و الصبر و الرضا_ الا وهی القلب_ بحار الانوار/ ج ۷۰ ص ۵۹_

۹۸_فلو لا اذ جائهم با سنا تضرّعوا و لکن قست قلوبهم و زيّن لهم الشیطان ما کانوا یعمولن _ انعام ۴۳_

۹۹_فویل للقاسیة قلوبهم من ذکر الله اولئک فی ضلال مبین _ زمر/ ۲۲_

۱۰۰_ عن ابی جعفر علیه السلام قال: ما من عبد مؤمن الّا و فی قلبه نکتة بیضاء فان اذنب و ثنّی خرج من تلک النکتة سواد فان تمادی فی الذنوب اتسع ذالک السواد حتی یغطی البیاض فاذا غطّی البیاض لم یرجع صاحبه الی خیر ابداً و هو قول الله '' کلّا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون، بحار/ ج ۷۳ ص ۳۶۱_

۱۰۱_ قال امیرالمؤمنین علیه السلام: ما جفّت الدموع الّا لقسوة القلوب و ما قست القلوب الّا لکثرة الذنوب_ بحار/ ج ۷۳ ص ۳۵۴_

۱۰۲_ قال رسول الله صلی الله علیه و آله : من علامات الشقائ: جمود العین و قسوة القلب و شدة الحرص فی طلب الرزق و الا صرار علی الذنب_ بحارالانوار/ ج ۷۳ ص ۳۴۹_

۱۰۳_ قال علی بن الحسین(ع) فی دعائه: الهی الیک اشکو قلباً قاسیاً، مع الوسواس متقلباً و بالرین و الطبع متلبسا و عیناً عن ابکاء من خوفک جامدة و الی ما تسرها طامحه_ بحار/ ج ۹۴ص ۱۴۳_

۱۰۴_ طبیب دوّاره بطبّه قد احکم مراهمه و احمی مواسمه یضع من ذالک حیث الحاجة الیه، من قلوب عمی و آذان صمّ و السنة بکم_ متّبع بدوائه مواضع الغفلة و مواطن الحیرة لم یستضیثوا باضواء الحکمة و لم یقد حوابزناد العلوم الثاقبة، فهم فی ذالک کالانعام السائمة و الصخور القاسیة نهج البلاعه/ خطبه ۱۰۸_

۱۰۵_قد جائتکم موعظة من ربکم و شفاء لما فی الصدور _ یونس/ ۵۷_

۱۰۶_و ننزّل من القرآن ما هو شفاء و رحمة للمؤمنین _ اسرائ/ ۸۲_

۱۰۷_ قال علی علیه السلام: و تعلّموا القرآن فانّه احسن الحدیث و تفقّهوا فیه فانّه ربیع القلوب و استشفوا بنوره فانه شفاء الصدور_ نهج البلاغه/ خطبه ۱۱۰_

۱۰۸_ قال علی علیه السلام: و اعلموا انّه لیس علی احد بعد القرآن من فاقة و لا لاحد قبل القرآن من غنی، فاستشفوه من اودائکم و استعینوا به علی لا وائکم فانه فیه شفاء من اکبر الداء و هو الکفر و الغيّ و الضلال_ نهج البلاغه/ خطبه ۱۷۶_


۱۰۹_ عن ابی جعفر علیه السلام قال: لما خلق الله العقل استنطقه، ثم قال له: اقبل، فاقبل_ ثم قال له: ادیر_ فادبر ثم قال: و عزتی و جلالی ما خلقت خلقا احب اليّ منک و لا اکملتک الّا فیمن احب_ اما انّی ايّاک آمر و ايّاک انهی و ايّاک اثیب_ کافی/ ج ۱ ص ۱۰_

۱۱۰_کذالک یبيّن الله لکم آیاته لعلکم تعقلون _ بقرہ/ ۲۴۲_

۱۱۱_افلم یسیروا فی الارض فتکون لهم قلوب یعقلون بها _ حج/ ۴۶_

۱۱۲_انّ شر الدواب عندالله الصمّ البکم الذین لا یعقلون _ انفال/ ۲۲_

۱۱۳_و یجعل الرجس علی الذین لایعقلون _ یونس/ ۱۰۰_

۱۱۴_ بعض اصحابنا رفعه الی ابی عبدالله علیه السلام قال: قلت له ما العقل؟ قال: ما عبد به الرحمان و اکتسب به الجنان_ کافی/ ج ۱ ص ۱۱_

۱۱۵_ قال ابو عبدالله علیه السلام: من کان عاقلاً کان له دین و من کان له دین دخل الجنة_ کافی/ ج ۱ ص ۱۱_

۱۱۶_ قال ابوالحسن موسی بن جعفر علیه السلام (فی حدیث): یا هشام ان الله علی الناس حجتین: حجة ظاهرة و حجة باطنة فاما الظاهرة فالرسل و الانبیاء و الائمه_ و اما الباطنة فالعقول کافی/ ج ۱ ص ۱۶_

۱۱۷_ قال ابو عبدالله علیه السلام: اکمل الناس عقلاً احسنهم خلقاً_ کافی/ ج ۱ ص ۲۳_

۱۱۸_ قال ابو عبدالله علیه السلام: العقل دلیل المؤمن_ کافی / ج / ص ۲۵_

۱۱۹_ قال الرضا علیه السلام: صدیق کل امرء عقله و عدوه جهله_ کافی/ ج / ص ۱۱_

۱۲۰_ قال امیرالمؤمنین(ع): اعجاب المرء بنفسه دلیل علی ضعف عقله_ کافی/ ج ۱ ص ۲۷_

۱۲۱_ قال موسی بن جعفر علیه السلام: یا هشام من اراد الغنی بلامال و راحة القلب من الحسد و السلامة فی الدین فلیتضرع الی الله فی مسالته باکن یکمّل عقله_ فمن عقل قنع بما یکفیه و من قنع بما یکفیه استغنی و من لم یقنع بما یکفیه لم یدرک الغنی ابدا_ کافی / ج ۱ ص ۱۸_

۱۲۲_ قال موسی بن جعفر علیه السلام: یا هشام ان العقلاء ترکوا فضول الدنیا، فکیف الذنوب، و ترک الدنیا من الفضل و ترک الذنوب من الفرض_ کافی/ ج ۱ ص ۱۷_

۱۲۳_ قال موسی بن جعفر(ع): یا هشام ان العاقل لا یکذب و ان کان فیه هواه_ کافی /ج ۱ ص ۱۹_

۱۲۴_ قال موسی بن جعفر(ع): یا هشام لا دین لمن لا مروة له و لا مروة لمن لا عقل له وان اعظم الناس قدراً الذی لا یری الدنیا لنفسه خطراً_ اما ان ابدانکم لیس لها ثمن الّا الجنة فلا تبیعوها بغیرها_ کافی /ج ۱ ص ۱۹

۱۲۵_ قال امیرالمؤمنین علیه السلام: ان التفکر یدعو الی البّر و العمل به_ کافی/ ج ۲ ص ۵۵_


۱۲۶_ قال امیرالمؤمنین علیه السلام: التدبیر قبل العمل یؤمنک من الندم_ بحار/ ج ۷۱ ص ۳۳۸_

۱۲۷_ ان رجلاً اتی رسول الله صلی الله علیه و آله فقال: یا رسول الله اوصنی_ فقال له: فهل انت مستوص ان اوصیتک؟ حتی قال ذالک ثلاثا فی کلها یقول الرجل: نعمت یا رسول الله، فقال له رسول الله: فانی اوصیک اذا هممت بامر فتدبر عاقبته، فان یک رشداً فامضه و ان یک غیا فانته عنه_ بحارالانوار/ ج ۷۱ ص ۳۳۹_

۱۲۸_ قال رسول الله صلی الله علیه و آله: انّما اهلک الناس العجلة و لو ان الناس تثبتوا لم یهلک احد_ بحار/ ج ۷۱ ص ۳۴۰_

۱۲۹_ قال رسول الله صلی الله علیه و آله: الاناة من الله و العجلة من الشیطان_ بحار/ ج ۷۱ص ۳۴۰_

۱۳۰_ و اروی: التفکر مراتک ترایک سیئاتک و حسناتک_ بحار/ ج ۷۱ ص ۳۲۵_

۱۳۱_بل الانسان علی نفسه بصیرة، و لو القی معاذیره _ قیامت/ ۱۴ و ۱۵_

۱۳۲_افمن زيّن له سوء عمله فراه حسنا فان الله یضلّ من یشاء و یهدی من یشائ _ فاطر/ ۸_

۱۳۳_ قال علی (ع): فهم لانفسهم متهمون و من اعمالهم مشفقون و اذا زكّی احد منهم خاف مما یقال له فیقول: انا اعلم بنفسی من غیری و ربی اعلم من بنفسی_ نهج البلاغه/ خطبه ۱۹۳_

۱۳۴_ قال الصادق علیه السلام: احب اخوانی اليّ من اهدی اليّ عیوبی_ تحف العقول/ ص ۳۸۵_

۱۳۵_ قال رسول الله صلی الله علیه و آله: السعید من وعظ بغیره_ بحارالانوار/ ج ۷۱ ص ۲۳۴_

۱۳۶_انّ النفس لا مّارة بالسوء الّا ما رحم ربّی _ یوسف/ ۵۳_

۱۳۷_قال النبی الله صلی الله علیه و آله:اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک _ بحار/ ج ۷۰ ص ۶۴_

۱۳۸_قال علی علیه السلام: العقل و الشهوة ضدان، و مؤید العقل العلم و مؤيّد الشهوة الهوی، و النفس متنازعة بینهما_ فايّهما قهر کانت فی جانبه _ غرر الحکم/ ج ۱ ۹۶_

۱۳۹_قال علی علیه السلام: الشرّ کامن فی طبیعة کل احد فان غلبه صاحبه بطن و ان لم یغلبه ظهر _ غرر الحکم/ ج ۱ ص ۱۰۵_

۱۴۰_قال علی علیه السلام: ايّاکم و غلبة الشهوات علی قلوبکم فان بدایتها ملکة و نهایتها هلکة _ غرر الحکم/ ۱۶_

۱۴۱_قال علی علیه السلام: من لم یملک شهوته لم یملک عقله_ غرر الحکم / ج ۲ ص ۷۰۲_

۱۴۲_قال الصادق علیه السلام: من ملک نفسه اذا رغب و اذا رهب و اذا اشتهی و اذا غضب و اذا رضی حرّم الله جسده علی النار _ وسائل الشعیہ/ ج ۶ ص ۱۲۳_

۱۴۳_قال علی علیه السلام: غالبوا انفسکم علی ترک المعاصی یسهل علیکم مقادتها الی الطاعات غرر الحکم / ج ۲ ص ۵۰۸


۱۴۴_ قال علی علیه السلام: اذا صعب علیک نفسک فاصعب لها تذل لک و خادع نفسک عن نفسک تنقدلک_ غرر ا لحکم/ ج ۱ ص ۳۱۹_

۱۴۵_ قال علی علیه السلام: الشهوات اعلال قاتلات و افضل دوائها اقتناء الصبر عنها_ غررالحکم/ ج ۱ ص ۷۲_

۱۴۶_ قال علی علیه السلام: املکوا انفسکم بدوام جاهدها_ غرر ا لحکم/ ج۱ ص ۱۳۱_

۱۴۷_ قال علی علیه السلام: اغلبوا اهوائکم و حاربوها فانها ان تقيّدکم توردکم من الهلکة ابعد غایة غرر ا لحکم/ ج۱ ص ۱۳۸_

۱۴۸_ قال علی علیه السلام: الا و ان الجهاد ث۴من الجنة فمن جاهد نفسه ملکها و هی اکرم ثواب الله لمن عرفها_ غرر ا لحکم/ ج۱ ص ۱۶۵

۱۴۹_ قال علی علیه السلام: جاهد نفسک علی طاعة الله مجاهدة العدوّ عدوّه، و غالبها مغالبة الضد صده فان اقوی الناس من قوی علی نفسه_ غرر ا لحکم/ ج۱ ص ۳۷۱_

۱۵۰_ قال علی علیه السلام: ان الحازم من شغل نفسه بجهاد نفسه فاصلحها و حبسها عن اهویتها و لذاتها فملکها و ان للعاقل بنفسه عن الدنیا و ما فیها و اهلها شغلاً_ غرر ا لحکم/ ج۱ ص ۲۳۷_

۱۵۱_عن امیرالمؤمنین علیه السلام:ان رسول الله صلی علیه و آله بعث سریة فلمّا رجعوا قال: مرحباً بقوم قضوا الجهاد الاصغر و بقی علیهم الجهاد الاکبر: قیل: یا رسول الله و ما الجهاد الاکبر؟ فقال: جهاد النفس_ وسائل الشیعه/ ج ۱۱ ص ۱۲۴_

۱۵۲_ قال علی علیه السلام: ان افضل الجهاد من جاهد نفسه التی بین جنبیه_ وسائل الشیعه/ ج ۱۱ ص ۱۲۴_

۱۵۳_فی وصیة النبی لعلی علیهم السلام قال: یا علی افضل الجهاد من اصبح لا یهمّ بظلم احد_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۱۲۳

۱۵۴_والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا _ عنکبوت/ ۶۹_

۱۵۵_قال الصادق علیه السلام:طوبی لعبد جاهد الله نفسه و هواه و من هزم جند هواه ظفر برضالله و من جاور عقله نفس الامّارة بالسوء با الجهد و الاستکانة و الخضوع علی بساط خدمة الله تعالی فقد فاز فوزاً عظیماً، و لا حجاب اظلم و اواحش بین العبد و بین الرب من النفس و الهوی و لیس لقتلها فی قطعهما سلاح و آلة مثل الافتقار الی الله و الخشوع و الجوع و الظماء بالنهار و السهر باللّیل_ فان مات صاحبه مات شهیداً، ان عاش و استقام ادّاه عاقبته الی الرضوان الاکبر_ قال الله تعالی: '' و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا و ا ن الله لمع المحسنین '' و اذا رایت مجتهداً ابلغ منک فی الاجتهاد فوبّخ نفسک و لمّها و عيّرها و حثّها علی الازدباد علیه_ و اجعل لها زماماً من الامر و عناناً من النهی و سقها کاالرائض للفاره الذی لا یذهب علیه خطوة الّا و قد صححّ اولها و


آخرها_ و کان رسول الله یصلّی حتی یتورّقد ماه و یقول: افلا اکون عبدا شکوراً؟ اراد ان یعتبر به امته_ فلا تغفلوا عن الاجتهاد و التعبد و الریاضة بحال_ الا و انک لو وجدت حلاوة عبادة الله و رایت برکاتها و استضات بنورها لم تصبر عنها ساعة واحدة، و لو قطعت ارباً ارباً، فما اعرض من اعرض عنها الّا بحرمان فوائد السبق من العصمة و التوفیق_ بحار/ ج ۷۰ ص ۹۶_

۱۵۶_بل الانسان علی نفسه بصیرة و لو القی معاذیره _ قیامة / ۱۵_

۱۵۷_قال ابو عبدالله علیه السلام لرجل: انک قد جعلت طبیب نفسک و بيّن لک الداء و عرّفت آیة الصحة و دلّلت علی الدواء فانظر کیف قیامک علی نفسک_ کافی/ ج ۲ ص ۴۵۴_

۱۵۸_قال ابوعبدالله علیه السلام:من لم یجعل له نفسه واعظاً فان مواعظ الناس لن تغنی عنه شیئاً_ بحار/ ج ۷۰ ص ۷۰_

۱۵۹_قال ابوعبدالله علیه السلام یقول:ابن آدم لاتزال بخیر ما کان لک واعظ من نفسک_ بحار الانوار/ ج ۷۰ ص ۶۴_

۱۶۰_ قال علی علیه السلام: اعجز الناس من عجز عن اصلاح نفسه_ غرر الحکم/ ج ۱ ص ۱۶۹_

۱۶۱_ قال علی علیه السلام: ینبغی ان یکون الرجل مهیمنا علی نفسه مراقباً قلبه حافظاً لسانه_ غرر الحکم/ ج ۲ ص ۸۶۲_

۱۶۲_ قال علی علیه السلام: لا ترخص لنفسک فی شیء من سيّیء الاقوال و الافعال_ غرر الحکم/ ج ۲ ص ۸۰۱_

۱۶۳_ قال علی علیه السلام: غالب الشهوة قوة ضراوتها فان ان قویت ملکتک و استقادتک و لم تقدر علی مقاومتها_ غرر الحکم/ ۵۱۱_

۱۶۴_ قال علی علیه السلام: العادة عدوّ متملک_ غرر الحکم/ص ۳۳_

۱۶۵_ قال علی علیه السلام: العادة طبع ثان_ غرر الحکم/ ص ۲۶_

۱۶۶_ قال علی علیه السلام: غالب الهوی مغالبة الخصم خصمه و حاربه محاربة العدوّ عدوه لعلک تملکه_ غرر الحکم/ ص ۵۰۹

۱۶۷_ قال امیرالمؤمنین علیه السلام: ترک الخطئیة ایسر من طلب التوبه و کم من شهوة ساعة اورثت حزنا طویلاً و الموت فضح الدنیا فلم یترک لذی لب فرحاً_ کافی/ ج ۲ ص ۴۵۱_

۱۶۸_قال ابو عبدالله علیه السلام: اقصر نفسک عما یضّرها من قبل ان تفارقک واسع فی فکاکها کما تسعی فی طلب معیشتک فان نفسک رهینة بعملک_ کافی/ ج ۲ ص ۴۵۵_

۱۶۹_و اما من خاف مقام ربّه و نهی النفس عن الهوی فانّ الجنة هی الماوی _ نازعات/ ۴۰_


۱۷۰_منتهی الامال/ ج ۲ ص ۱۲۶_

۱۷۱_منتهی الامال/ ج ۲ ص ۸۶_

۱۷۲_ قال علی علیه السلام: غالبوا نفسکم علی ترک العادات و جاهدوا اهوائکم تملکوها_ غرر الحکم/ ص ۵۰۸_

۱۷۳_ قال علی علیه السلام: افضل العبادة ترک العادة_ غرر الحکم/ ص ۱۷۶_

۱۷۴_عن ابی جعفر علیه السلام قال: کل عین باکیة یوم القیامة غیر ثلاث: عین سهوت فی سبیل الله و عین فاضت من خشیة الله و عین غضت عن محارم الله_ کافی/ ج ۲ ص ۸۰_

۱۷۵_عن ابی عبدالله (ع) قال: فیما ناجی الله عزوجل موسی (ع): یا موسی ما تقرب اليّ المتقربون بمثل الورع عن محارمی_ فانی ابیحهم جنات عدن لا اشرک معهم احداً_ کافی/ ج ۲ ص ۸۰_

۱۷۶_عنکبوت/ ۶۹_

۱۷۷_ قال علی علیه السلام: من عمّر قلبه بدوام الفکر حسنت افعاله فی السرّ و الجهر_ غرر الحکم/ ص ۶۹۰_

۱۷۸_ قال علی علیه السلام: نعم العون علی اسر النفس و کسر عادتها الجوع_ غرر الحکم/ ص ۷۷۳_

۱۷۹_ قال علی علیه السلام: من استدام ریاضة نفسه انتفع_ غرر الحکم/ ص ۶۴۷_

۱۸۰_محجة البیضائ/ ج ۷ ص ۳۰۸_

۱۸۱_ قال علی علیه السلام: تولوا من انفسکم تادیبها و اعدلو ابها عن ضراوة عداتها_ غرر الحکم/ ص ۳۵۰_

۱۸۲_محجة البیضائ/ ج ۸ ص ۱۷۰_

۱۸۳_ قال علی علیه السلام: من کرمت علیه نفسه هانت علیه شهواته_ نهج البلاغه/ قصار ۴۴۹_

۱۸۴_قیل لعلی بن الحسین علیه السلام: من اعظم الناس خطراً؟ قال: من لم یر الدنیا خطراً لنفسه_ تحف العقول/ ص ۲۸۵_

۱۸۵_ قال علی علیه السلام: اکره نفسک علی الفضائل فان الرذائل انت مطبوع علیها_ غرر الحکم/ ج ۱ ص ۱۳۰_

۱۸۶_ قال علی علیه السلام: عوّد نفسک فعل المکارم و تحمّل اعباء المغارم تشرف نفسک و تعمر آخرتک و یکثر حامدوک_ غرر الحکم/ ص ۴۹۲_

۱۸۷_ قال علی علیه السلام: الشهوات اعلال قاتلات و افضل دوائها اقتناء الصبر عنها_ غرر الحکم/ ص ۷۲_

۱۸۸_قال امیرالمؤمنین علیه السلام:لا ینبغی للمرء المسلم ان یواخی الفاجر فانه یزین له فعله و یحب ان یکون مثله و لا یعینه علی امر دنیاه و لا امر معاده، و مدخله و مخرجه من عنده شین علیه_ کافی/ ج ۲ ص ۶۴۰_


۱۸۹_عن ابی عبدالله علیه السلام قال: لا ینبغی للمرء المسلم ان یواخی الفاجر و لا الاحمق و لا الکذاب_ کافی/ ج ۲ ص ۶۴۰_

۱۹۰_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:المرء علی دین خلیله و قرینه_ کافی / ج ۲ ص ۶۴۲_

۱۹۱_ قال علی علیه السلام: ایاک و مصاحبة الفساق فان الشر بالشر یلحق_ غرر الحکم/ ص ۱۴۷_

۱۹۲_ قال علی علیه السلام: ایاک و معاشرهة الاشرار فانهم کالنار مباشهرتها تحرق_ غرر الحکم/ ص ۱۴۷_

۱۹۳_ قال علی علیه السلام: احذر مجالسة قرین السوء فانه یهلک مقارنه و یردی مصاحبه_ غرر الحکم/ ص ۱۴۲_

۱۹۴_ قال علی علیه السلام:اذا ابصرت العین الشهوة عمی القلب عن العاقبة_ غرر الحکم/ ص ۳۱۵_

۱۹۵_ قال علی علیه السلام: فکرک فی المعصیة یحدوک علی الوقوع فیها_ غرر الحکم/ ص ۵۱۸_

۱۹۶_افرایت من اتخذ الهه هواه _ فرقان/ ۴۳_

۱۹۷_و ما الحیاة الدنیا الّا متاع الغرور _ آل عمران/ ۱۸۵_

۱۹۸_و ما الحیاة الدنیا الّا لعب و لهو و للدار الاخرة خیر للذین یتقون افلا تعقلون _ انعام/ ۳۲_

۱۹۹_اعملوا انّما الحی وة الدنیا لعب و لهو و زینة و تفاخر بینکم و تکاثر فی الاموار و الاولاد کمثل غیث اعجب الکفار نباته ثم یهیج فتراه مصفراً ثم یکون حطاماً و فی الاخرة عذاب شدید _ حدید/ ۲۰_

۲۰۰_امام بعد فانّی احذّرکم الدنیا فانها حلوة خضرة حفت بالشهوات و تحببت بالعجالة و راقت بالقلیل و تحلّت بالآمال و تزینت بالغرور_ لا تدوم حبرتها و لا تؤمن فجعتها، غرّارة ضرّارة حائلة زائلة نافدة بائدة اكّالة غوّالة_ نهج البلاغه/ خ ۱۱۱_

۲۰۱_و الدنیا دار منی لها الفناء و لا هلها منها الجلاء و هی حلوة خضراء و قد عجبت للطالب و التبست بقلب الناظر_ نهج ابلاغه/ خ۴۵

۲۰۲_و من یرد ثواب الدنیا نؤته منها و من یرد ثواب الاخرة نؤته منها _ آل عمران/ ۱۴۵_

۲۰۳_المال و البنون زینة الحیاة الدنیا و الباقیات الصالحات خیر عند ربک ثواباً و خیر املاً _ کہف/ ۴۶

۲۰۴_بقره/ ۱۸_

۲۰۵_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:العبادة سبعون جزاً افضلها طلب الحلال_ کافی/ ج ۵ ص ۷۸_

۲۰۶_عن ابی جعفر (ع) قال: من طلب الرزق فی الدنیا استعفافاً عن الناس و توسیعاً علی اهله و تعطفاً علی جاره لقی الله عزوجل یوم القیامة و وجهه مثل القمر لیلة البدر_ کافی/ ج ۵ ص ۸۸_

۲۰۷_عن ابی عبدالله علیه السلام قال: الکادّ علی عیاله کالمجاهد فی سبیل الله_ کافی/ ج ۵ ص ۸۸_

۲۰۸_زيّن للناس حبّ الشهوات من النساء و البنین و القناطیر المنقنطرة من الذهب و الفضة و الخیل المسوّمة و الانعام و الحرث ذالک متاع الحیاة الدنیا و الله عنده حسن المآب _ آل عمران/ ۱۴_


۲۰۹_ قال علی علیه السلام: ايّاک و حبّ الدنیا فانها اصل کل خطیئة و معدن کل بليّه_ غرر الحکم/ ص ۱۵۰_

۲۱۰_عن ابی عبدالله علیه السلام قال: راس کل خطیئة حبّ الدنیا_ بحارالانوار/ ج ۳ ص ۷_

۲۱۱_ قال علی علیه السلام: الناس ابناء الدنیا و لا یلام الرجل علی حبّ امه_ نهج البلاغه/ قصار ۳۳_

۲۱۲_ان الدنیا دار صدق لمن صدقها و دار عاقبة لمن فهم عنها_ و دار غنی لمن تزوّد منها و دار موعظة لمن اتّعظ بها_ مسجد احبّاء الله و مصلّی ملائکة الله و محبط وحی الله و متجر اولیاء الله، اکتسبوا فیها الرحمة و ربحوا فیها الجنة_ نهج البلاغه/ کلمات قصار ۱۳۰_

۲۱۳_عن ابی جعفر علیه انه کان یقول: نعم العون علی الاخرة_ بحار/ ج ۷۳ ص ۱۲۷_

۲۱۴_قال ابو عبدالله علیه السلام: لا خیر فی من لا یحبّ جمع المال من حلال، یکفّ به وجهه و یقضی به دینه و یحصل به رحمه_ کافی/ ج۵ ص ۷۲_

۲۱۵_فان الدنیا لم تخلق لکم دار مقام_ بل خلقت لکم مجازاً لتزوّدوا منها الاعمال الی دار القرار فکونوا منها علی اوفار و قرّبوا الظهور للزیال_ نهج البلاغه/ خطبه ۱۳۲۳_

۲۱۶_ايّها الناس انّما الدنیا دار مجاز و الاخرة قرار فخدوا من ممرّکم لمقرّکم و لا تهتکوا استارکم عند من یعلم اسرارکم، و اخرجوا من الدنیا قلوبکم من قبل ان تخرج منها ابدانکم، ففیها اختبرتم و لغیرها خلقتم_ ان المرء اذا هلک قال الناس: ما ترک؟ و قالت الملائکة: ما قدّم ؟ الله آبائکم فقدّموا بعضا یکن لکم قرضاً، و لا تخلفوا کلاً فیکون فرضاً علیکم_ نهج البلاغه/ ۲۰۳_

۲۱۷_ الا و ان هذه الدنیا التی اصبحتم تتمنّونها و ترغبون فیها و اصبحت تغضبکم و ترضیکم لیست بدارکم و لا منزلکم الذین خلقتم له و لا الذی دعیتم الیه_ الا و انها لیست بباقیة لکم و لا تبقون علیها و هی و ان غرتکم منها فقد حذرتکم شرّها_ فدعوا غرورها لتحذیرها و اطماعها لتخویفها و سابقوا فیها الی الدار التی دعیتم الیها و انصرفوا قلوبکم عنها_ نهج البلاغه/ خ ۱۷۳_

۲۱۸_ ابن ابی یعفور قال قلت لا بیعبد الله علیه السلام: انا لنحب الدنیا فقال لی: تصنع بها ماذا؟ قلت اتزوج منها و احج و انفق علی عیالی و انیل اخوانی و اتصدق_ قال: لیس هذا من الدنیا، هذا من الاخرة_ بحارالانوار/ ج ۷۳ ص ۱۰۶_

۲۱۹_ و اعلموا عبادالله انّ المتقین ذهبوا بعاجل الدنیا و آجل الاخرة فشارکوا اهل الدنیا فی دنیاهم و لم یشارکهم اهل الدنیا فی آخرتهم_ سکنوا الدنیا بافضل ماسکنت و اکلوها بافضل ما اکلت فحظوا من الدنیا بما حظی به المترفون، و اخذوا منها ما اخذه الجبابرة المتکبرون، ثم انقلبوا عنا بالزاد المبّلغ و المتجر الرابح_ اصابوا لذة زهد الدنیا فی دنیاهم و تیقّنوا انهم جیران الله غداً فی آخرتهم_ لا ترد لهم دعوة و لا ینقص لهم نصیب من لذة_ نهج البلاغه/ کتاب ۲۷_


۲۲۰_ یا دنیا یا دنیا الیک عنّی، ابی تعرّضت؟ ام اليّ تشوّقت؟ لا حان حینک؟ هیهات غرّی غیری، لا حاجة لی فیک، قد طلّقتک ثلاثاً لا رجعة فیها فعیشک قصیر و خطرک یسیر و ملک حقیر_ آه من قلّة الزاد و طول الطریق و بعد السفر و عظیم المورد_ نهج البلاغه/ کلمات قصار ۷۷_

۲۲۱_ الیک عنفی یا دنیا فحبلک علی غاربک،قد انسللت من مخالبک و افلّت من حبائلک و اجتنبت الذهاب فی مداحضک_ نهج البلاغه/ نامه ۵۴_

۲۲۲_ نهج البلاغه/ خطبه ۳۳_

۲۲۳_یعلمون ظاهراً من الحیاة الدنیا و هم عن الاخرة هم غافلون _ روم/ ۷_

۲۲۴_اولئک الذین اشتروا الحیاة الدنیا بالاخرة _ بقرہ/ ۸۶_

۲۲۵_ارضیتم بالحیاة الدنیا من الاخرة فما متاع الحیاة الدنیا فی الاخرة الا قلیل _ توبہ/ ۳۸_

۲۲۶_ان الذین لا یرجون لقائنا و ضوا بالحیاة الدنیا و اطمانوا بها و الذین هم عن آیاتنا غافلون_ اولئک ماواهم النار بما کانوا یکسبون _ یونس/ ۸_

۲۲۷_ عن ابیعبدالله علیه السلام قال: ابعد ما یکون العبد من الله اذا لم یهمّه الاّ بطنه و فرجه_ بحار/ ج ۷۳ ص ۱۸_

۲۲۸_ قال علی(ع): حرام علی کل قلب متولّه بالدنیا ان یسکنه التقوی_ غرر الحکم/ ص ۳۸۳_

۲۲۹_ قال علی علیه السلام: و لبئس المتجر ان تری الدنیا لنفسک ثمناً و ممالک عندالله عوضا_ نهج البلاغه/ خطبه ۳۲_

۲۳۰_ قال علی علیه السلام:الناس فی الدنیا عاملان: عامل عمل فی الدنیا للدنیا، قد شغلته دنیاه عن آخرته_ یخشی علی من یخلفه الفقر و یامنه علی نفسه فیفنی عمره فی منفعة غیره_ و عامل عمل فی الدنیا لما بعدها فجائه الذی له من الدنیا بغیر عمل_ فاحرز الحظین معا و ملک الدارین جمیعا_ فاصبح وجیهاً عندا لله لا یسال الله حاجة فیمنعه_ نهج البلاغه/ کلمات قصار ۲۶۹_

۲۳۱_ قال علی علیه السلام:الدنیا دار ممر لا دار مقرّ، فیها رجلان: رجل باغ فیها نفسه فاوبقها و رجل ابتاع نفسه فاعتقها_ نهج البلاغه/ کلمات قصار ۱۳۳_

۲۳۲_انّ اکرمکم عندالله اتقاکم _ حجرات/ ۱۳_

۲۳۳_قال علی علیه السلام: فانّ تقوی الله شفاء مرض اجسادکم و صلاح فساد صدورکم و طهور دنس انفسکم_ نهج ابلاغه/ خطبه ۱۹۸_

۲۳۴_للذین احسنوا منهم و اتّقوا اجر عظیم _ آل عمران/ ۱۷۲_

۲۳۵_فمن اتقی و اصلح فلا خوف علیهم و لا هم یحزنون _ اعراف/ ۳۵_

۲۳۶_و سارعوا الی مغفرة من ربّکم و جنة عرضها السموات و الارض اعدّت للمتقین _ آل عمران/ ۱۳۳_

۲۳۷_ان المتقین فی جنات و نعیم فاکهین بما آتاهم ربّهم _ طور / ۱۸_


۲۳۸_ قال علی علیه السلام:التقی رئیس الاخلاق_ نهج البلاغه/ کلمات قصار ۴۱_

۲۳۹_ قال علی علیه السلام:علیکم بتقوی الله فانها تجمع الخیر و لا خیر غیرها و یدرک بها من الخیر ما لا یدرک بغیرها من خیر الدنیا و الاخرة_ بحارالانوار/ ج ۷۰ ص ۲۸۵_

۲۴۰_ قال السجاد علیه السلام: شرف کل عمل بالتقوی و فاز من فاز من المتقین، قال الله تبارک و تعالی: ان للمتقین مفازاً_ بحارالانوار/ ج ۷۷ ص ۳۸۶_

۲۴۱_ قال علی علیه السلام:و اعلموا عبادالله انّ المتقین ذهبوا بعاجل الدنیا و آجل الاخرة فشارکوا اهل الدنیا فی دنیا هم ولم یشارکهم اهل الدنیا فی آخرتهم_ سکنوا الدنیا بافضل ما سکنت و اکلوها بافضل ما اکلت، فحظوا من الدنیا بما حظی به المترفون و اخذوا منها ما اخذه الجبابرة المتکبرون_ ثم انقلبوا عنها بالزاد المبلغ و المتجر اصابو لذّة زهد الدنیا فی دنیاهم و تیقّنوا انّهم جیران الله غداً فی آخرتهم لا تردّ لهم دعوة و لا ینقص لهم نصیب من لذة_ نهج البلاغه/ کتاب ۲۷_

۲۴۲_قال علی علیه السلام:فانّ تقوی الله دواء داء قلوبکم و بصر عمی افئدتکم و شفاء مرض اجسادکم و صلاح فساد صدورکم و طهور دنس انفسکم و جلاء غشاء ابصارکم و امن فزع جاشکم و ضیاء سواد ظلمتکم_ نهج البلاغه/ خطبه ۱۹۸_

۲۴۳_یا ایها الناس اعبدوا ربّکم الذی خلقکم و الذین من قبلکم لعلّکم تتّقون _ بقرہ/ ۲۱_

۲۴۴_کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلّکم تتقون _ بقرہ/ ۱۸۳_

۲۴۵_لن ینال الله لحومها و لا دمائها و لکن یناله التقوی منکم _ حج/ ۳۸_

۲۴۶_و تزوّدوا فانّ خیر الزاد التقوی _ بقرہ/ ۱۹۷_

۲۴۷_انّما یتقبّل الله من المتقین _ مائدہ/ ۲۷_

۲۴۸_ قال ابو عبدالله علیه السلام: لا یغّرنک بکائهم انّما التقوی فی القلب_ بحار/ ج ۷۰ ص ۲۸۶_

۲۴۹_و ان تصبروا و تتقوا فان ذالک من عزم الامور _ آل عمران/ ۱۸۶_

۲۵۰_ قال علی(ع): اوصیکم عبادالله بتقوی ا لله فانّها الزمام و القوام فتمسّکویوثائقها و اعتصموا بحقائقها تؤول بکم الی اکنان الدعة و اوطان السعة و معاقل الحرز و منازل العزّ_ نهج البلاغه/ خ ۱۹۵_

۲۵۱_ قال علی علیه السلام:فان التقوا فی الیوم الحرز و الجنّة و فی غد الطریق الی الجنّه مسکلها واضح و سالکها رابح و مستودعها حافظه_ نهج البلاغه/ ۱۹۱_

۲۵۲_ قال امیرالمومنین علیه السلام: ان التقوی عصمة لک فی حیاتک و زلفی بعد مماتک_ غرر الحکم/ ص ۲۲۲_

۲۵۳_یا ايّها الناس الذین آمنوا ان تتّقوا الله یجعل لکم فرقاناً _ انفال/ ۲۹_

۲۵۴_و اتّقوا الله و یعلّمکم الله و الله بکلّ شیء علیم _ بقرہ/ ۲۸۲_

۲۵۵_هذا بیان للناس و هدی و موعظة للمتقین _ آل عمران/ ۱۳۸_


حواشی-۲

۲۵۶_ قال علی علیه السلام:فان تقوی الله داء قلوبکم و بصر عمی افئدتکم_ نهج البلاغه/ خ ۱۹۸_

۲۵۷_قال النبی صلی الله علیه و آله: لو لا انّ الشیاطین یحرمون علی قلوب بنی آدم لنظروا الی المکوت بحارالانوار/ ج۷۰ ص ۵۹_

۲۵۸_عن ابیعبدا لله علیه السلام قال: کان ابی یقول: ما من شیء افسد للقلب من الخطیئة انّ القلب لیواقع الخطیئة فما تزال به حتی تغلب علیه فیصیر اسفله اعلاه و اعلاه اسفله_ بحارالانوار/ ج۷۰ ص ۵۴_

۲۵۹_قال علی علیه السلام: العقل رسول الحق_ غرر الحکم/ ج ۱ ص ۱۳_

۲۶۰_ قال علی علیه السلام: الهوی عدوّ العقل_ غرر الحکم/ ص ۱۳_

۲۶۱_ قال علی علیه السلام: من لم یملک شهوته لم یملک عقله_ غرر الحکم/ ص ۷۰۲_

۲۶۲_ قال علی علیه السلام: العجب یقسد العقل_ غرر الحکم/ ص ۲۶_

۲۶۳_قال علی علیه السلام: اللجوج لا رای له_ غرر الحکم/ ص ۳۱_

۲۶۴_و من یتّق الله یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب _ طلاق/ ۲_

۲۶۵_و من یتقل الله یجعل له من امره یسرا _ طالق/ ۴_

۲۶۶_ قال علی علیه السلام:فم اخذ بالتقوی عزبت عنه الشدائد بعد دنوها و احلولت له الامور بعد مرارتها و انفرجت عنه الامواج بعد تراکمها و اسهلت له الصعاب بعد انصابها_ نهج البلاغه/ خطبه۱۹۸_

۲۶۷_قال علی علیه السلام:ايّاک و حبّ الدنیا فانها اصل کل خطیئة و معدن کل بليّة_ غرر الحکم/ ص ۱۵۰_

۲۶۸_قال علی علیه السلام:فانّ تقوی الله مفتاح سداد و ذخیرة معاد و عتق من کل ملکة و نجاة من کل هلکة_ نهج البلاغه/ خطبه۲۳۰_

۲۶۹_قال علی علیه السلام:لا شرف اعلی من الاسلام و لا عزّ اعزّ من التقوی و لا معقل احسن من الورع_ نهج البلاغه/ باب المختار من الحکم، ۳۷۱_

۲۷۰_قال علی علیه السلام:فمن اخذ بالتقوی عزبت عنه الشدائد بعد نوها و احلولت له الامور بعد مرارتها و انفرجت عنه الامواج بعد تراکمها و اسهلت له الصعاب بعد انصابها_ نهج البلاغه/ خطبه۱۹۳_

۲۷۱_افرایت من اتّخذ الهه هواه و اضلّه الله علی علم و ختم علی سمعه و قلبه و جعل علی بصره غشاوة فمن یهدیه من بعد الله افلا تذکرون _ جاثیہ/ ۲۳_

۲۷۲_قال علی علیه السلام:فانّ تقوی الله شفاء مرض اجسادکم و صلاح فساد صدورکم و طهور دنس انفسکم_ نهج البلاغه/ خطبه۱۹۸_

۲۷۳_نهج البلاغه/ خطبه ۱۹۳_


۲۷۴_یومئذ: یصدر الناس اشتاتاً لیروا اعمالهم فمن یعمل مثقال ذرّه خیراً یره و من یعمل مثقال ذرّه شرّاً یره _ زلزال/ ۹_

۲۷۵_و وضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین ممّا فیه و یقولون یا ویلتنا ما لهذا الکتاب لا یغادر صغیرة و لا کبیر الّا احصاها و وجدوا ما عملوا حاضراً و لا یظلم ربّک احداً _ کہف/ ۵۰_

۲۷۶_یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا و ما عملت من سوء تودّ لو انّ بینها و بینه امداً بعیداً آل عمران/ ۳۰_

۲۷۷_ما یلفظ من قول الّا لدیه رقیب عتید _ ق/ ۱۸_

۲۷۸_و نضع الموازین القسط لیوم القیامة فلاتظلم نفس شیئاً و ان کان مثقال حبّة من خردل اتینا بها و کفی بنا حاسبین _ انبیائ/ ۴۷_

۲۷۹_و ان تبدوا ما فی انفسکم وتخفوه یحاسبکم به الله _ بقرہ/ ۲۸۴_

۲۸۰_و الوزن یومئذ الحق فمن ثقلت موازینه فاولئک هم المفلحون و من خفّت موازینه فاولئک الذین خسروا انفسهم بما کانوا بایاتنا یظلمون _ اعراف/ ۸_

۲۸۱_و جائت کل نفس معها سائق و شهید لقد کنت فی غفلة من هذا فبصرک الیوم حدید _ ق / ۲۲_

۲۸۲_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: لا تزول قد ما عبد یوم القیامة حتی یسال عن اربع: عن عمره فیما افناه، و شبابه فیما ابلاه، و عن ماله من این اکتسبه و فیما انفقه، و عن حبنا اهل البیت _ بحارالانوار/ ج۷ ص ۲۵۸_

۲۸۳_فی الخبر النبوی: انه یفتح للعبد یوم القیامة علی کل یوم من ایام عمره اربعة و عشرون خزانة عدد ساعات اللیل و النهار_ فخزانة یجدها مملوّة نوراً و سروراً فیناله عند مشاهدتها من الفرح و السرور ما لو وزع علی اهل النار لا دهشهم عن الاحساس بالم النار و هی الساعة التی اطاع فیها ربّه ثم یفتح له خزانة اخری فیراها مظلمة منتتة مفزعة فیناله عند مشاهدتها من الفزع و الجزع ما لو قسّم علی اهل الجنة لنقص علیهم نعیمها و هی الساعة التی عصی فیها ربّه_ ثم یفتح له خزانة اخری فیراها فارغة لیس فیها ما یسّره و لا ما یسوئه و هی الساعة التی نام فیها او اشتغل فیها بشیء من مباحات الدنیا من الغبن و لاسف علی فواتها حیث کان متکمنا من ان یملا حسنات ما لا یوسف و من هذا قوله تعالی، ذالک یوم التغابن_ بحارالانوار/ ج۷ ص ۲۶۲_

۲۸۴_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: لمّا سئل عن طول ذالک الیوم فقال: والذی نفسی بیده انّه لیخفّف علی المؤمن حتی یکون اهون علیه من الصلوة المکتوبة یصلّیها فی الدنیا_ مجمع الزوائد/ ج ۱ ص ۳۳۷_

۲۸۵_قال علی علیه السلام:حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا و وازنوها قبل ان توازنوا_ غرر الحکم/ ص ۳۸۵_


۲۸۶_قال علی علیه السلام: من حاسب نفسه ربح_ غرر الحکم/ ص ۶۱۸_

۲۸۷_عن ابی الحسن الماضی علیه السلام قال: لیس منّا منه لم یحاسب نفسه فی کل یوم فان عمل حسنا استزاد الله و ان عمل سيّئاً استغفر الله منه و تاب الیه_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۷۷_

۲۸۸_قال علی علیه السلام:من حاسب نفسه ربح و من غفل عنه خسرو من خاف امن و من اعتبر ابصر و من ابصرفهم و من فهم علم_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۷۹_

۲۸۹_فی وصیة النبی انه قال: یا اباذر حاسب نفسک قبل ان تحاسب، فانه اهون لحسابک غذا وزن نفسک قبل ان توزن و تجهّز للعرض الاکبر یوم لایخفی علی الله خافیة (الی ان قال:) یا اباذر لا یکون الرجل من المتقین حتی یحاسب نفسه اشدّ من محاسبة الشریک شریکه فیعلم من این مطمعه و من این مشربه و من این ملبسه؟ امن حلال او حرام؟ یا اباذر من لم یبلا من این اکتسب المال لم یبال الله من این ادخله النار_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۷۹_

۲۹۰_کان علی بن الحسین علیه السلام یقول: ابن آدم انک لا تزال بخیر ما کان لک واعظ من نفسک و ما کان المحاسبة من همفک و ما کان الخوف لک شعاراً و الحزن دثاراً، ابن آدم انّک میت و مبعوث و موقوف بین یدی الله فاعدّ جواباً_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۷۸_

۲۹۱_بسم الله الرحمان الرحم_ و العصر انّ الانسان لفی خسر الّا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر_ سوره والعصر_

۲۹۲_قال علی علیه السلام:ان العاقل من نظر فی یومه لغده و سعی فی فکاک نفسه و عمل لما لا بدّ له و لا محیص عنه_ غرر الحکم/ ص ۲۳۸_

۲۹۳_قال علی علیه السلام: من حاسب نفس وقف علی عیوبه و احاط بذنوبه فاستقال الذنوب و اصلح العیوب غرر الحکم/ ص ۶۹۶_

۲۹۴_قال علی علیه السلام:من لم یسس نفسه اضاعها_ غرر الحکم/ ص ۶۴۰_

۲۹۵_ قال علی علیه السلام:من اعترّ بنفسه سلّمته الی المعاطب_ غرر الحکم/ ص ۶۸۵_

۲۹۶_قال علی علیه السلام:من کان له من نفسه یقظة کان علیه من الله حفظة_ غررالحکم/ ص ۶۷۹_

۲۹۷_قال علی علیه السلام: املکوا انفسکم بدوام جهادها_ غرر الحکم/ ص ۱۳۱_

۲۹۸_عن الصادق علیه السلام قال: اللیل اذا اقبل نادی مناد بصوت یسمعه الخلائق الّا الثقلین یا ابن آدم انّی خلق جدید، انّی علی ما فيّ شهید فخذ منّی فانی لو طلعت الشمس لم ارجع الی الدنیا و لم تزوّد فيّ من حسنة و لم تستعتب فيّ من سیئة و کذالک یقول النهار اذا ادبر اللیل_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۸۰_

۲۹۹_قال علی علیه السلام: ان الحازم من شغل نفسه بجهاد نفسه فاصلحها و حبسها عن اهویتها و لذاتها فملکها و ان العاقل بنفسه عن الدنیا و ما فیها و اهلها شغلاً_ غرر الحکم/ص ۲۳۷_


۳۰۰_قال علی علیه السلام:الثقة بالنفس من اوثق فرص الشیطان_ غرر الحکم/ ص ۵۴_

۳۰۱_ قال علی علیه السلام: من کان له من نفسه زاجر کان علیه من الله حافظ_ غرر الحکم/ ص ۶۹۸_

۳۰۲_قال علی علیه السلام: من وبّخ نفسه علی العیوب ارتدعت عن کثرة الذنوب_ غرر الحکم/ ص ۶۹۶_

۳۰۳_قال رسو ل الله صلی الله علیه و آله: الا انبئکم باکیس الکيّسین و احمق الحمقائ؟ قالوا: بلی یا رسول الله قال اکیس اکيّسین من حاسب نفسه وعمل لما بعدالموت_ و احمق الحمقاء من اتّبع نفسه هوا ه و تمنّی علی الله الامانّی_ فقال الرجل: یا رسول الله و کیف یحاسب الرجل نفسه؟ قال: اذا اصبح ثم امسی رجع الی نفسه و قال: یا نفس انّ هذا یوم مضی علیک لا یعود الیک ابداً والله سائلک عنه فیما افنیته، فما الذی عملت فیه؟ اذکرت الله ام حمدته؟ اقضیت حق اخ مؤمن؟ انفست عنه کربته؟ احفظته بظهر الغیب فی اهله و ولده؟ احفظته بعد الموت فی مخلفیه؟ اکففت عن غیبه اخ بفضل جاهک؟ ااعنت مسلماً؟ ماالذی صنعت فیه؟ فیذکر ما کان منه فان ذکر انه جری منه خیر حمدالله عزّو جلّ و کبّره علی توفیقه_ و ان ذکر معصیة او تقصیراً استغفرالله و عزم علی ترک معودته و محاذا لک عن نفسه بتجدید الصلاة علی محمد و آله الطيّبین و عزض بیعة امیرالمؤمنین علی نفسه و قبولها و اعاد الله لعن شائنیه و اعدائه و دافعیه عن حقوقه_ فاذا فعل ذالک قال الله: لست اناقشک فی شیء من الذنوب مع موالاتک اولیائی و معاداتک اعدائی _بحارالانوار/ ج۷۰ ص ۶۹_

۳۰۴_عن الکاظم علیه السلام قال: لیس منّا من لم یحاسب نفسه من کلّ یوم فان عمل حسناً استزاد الله و ان عمل سیئاً استغفر الله و تاب الیه_ کافی/ ج ۱ ص ۴۵۳_

۳۰۵_فی وصيّة ابی ذر قال النبی صلی الله علیه و آله: علی العاقل ان یکون له ساعات: ساعة یناجی فیها ربّه و ساعة یحاسب فیها نفسه و ساعة یتفکر فیما صنع الله عزّ و جلّ الیه_ بحار/ ج ۷۰ ص ۶۴_

۳۰۶_قال علی علیه السلام: حاسبوا انفسکم باعمالها و طالبوها باداء المفروض علیها و الاخذ من فنائها لبقائها و تزودوا و تاهبوا قبل ان تبعثوا_ غرر الحکم/ ص ۳۸۵_

۳۰۷_قال علی علیه السلام: ما احق الانسان ان یکون له ساعة لا یشغلة عنها شاغل یحاسب فیها نفسه فینظر فیما اکتسب بها و علیها فی لیلها و نهارها_ غرر الحکم/ ص ۷۵۳_

۳۰۸_قال علی علیه السلام:جاهد نفسک و حاسبها محاسبة الشریک شریکه و طالبها بحقوق الله مطالبة الخصم خسمه فان اسعد الناس من انتدب لمحاسبة نفسه_ غرر الحکم/ ص ۳۷۱_

۳۰۹_قال علی علیه السلام: من حاسب نفسه وقف علی عیوبه و احاط بذنوبه فاستقال الذنوب و اصلح العیوب_ غرر الحکم/ ص ۶۹۶_

۳۱۰_عن ابیعبدالله (ص)قال: فحاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا فان فی القیامة خمسین موقفاً کل موقف مقام الف سنة ثم تلا هذه الآیة فی یوم کل مقداره خمسین الف سنة_ بحار/ ج ۷۰ ص ۶۴_


۳۱۱_قال علی علیه السلام:و انّ للذکر لا هلاً اخذوه من الدنیا بدلا فلم تشغلهم تجارة و لا بیع عنه یقطعون به ا یام الحیاة و یهتفون بالزواجر عن محارم الله فی اسماع الغافلین، و یامرون به، و ینهون عن المنکر و یتناهون عنه_ فکانّما قطعوا الدنیا الآخرة و هم فیها، فشاهدوا ما وراء ذالک فکانفما اطلعوا غیوب اهل البرزخ فی طول الاقامة فیه و حقّقت القیامة علیهم عداتها فکشفوا غطاء ذالک لاهل الدنیا حتی کانّهم یرون ما لا یری الناس و یسمعون ما لا یسمعون فلو مثّلتهم لعقلک فی مقاومهم المحمودة و مجالسهم المشهودة و قد نشروا دو اوین اعمالهم و فرغوا لمحاسبة انفسهم علی کل صغیره و کبیره امروابها فقصّروا عنها و نهوا عنها ففرّطوا فیها و حملوا ثقل اوزارهم ظهورهم فضعفوا عن الاستقلال بها فنشجوا نشیجاً و تجاوبوا نحیباً یعجون الی ربّهم من مقام ندم و اعتراف، لرایت اعلام هدی و مصابیح دجی، قد حفّت بهم الملائکة و تنزلت علیهم السکینة و فتحت لهم ابواب السماء و اعدّت لهم مقاعد الکرامات_ نهج البلاغه/ کلام ۲۲_

۳۱۲_قال علی علیه السلام:ترک الذنب اهون من طلب التوبه_ بحارالانوار/ ج ۷۳ ص ۳۶۴_

۳۱۳_قال یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله انّ الله یغفر الذنوب جمیعاً انّه هو الغفور الرحیم _ زمر/ ۵۳_

۳۱۴_و اذا جاء ک الذین یؤمنون بآیاتنا فقل سلام علیکم کتب ربّکم علی نفسه الرحمة انّه من عمل منکم سوء بجهالة ثم تاب من بعده و اصلح فانّه غفور رحیم _ انعام/ ۵۴_

۳۱۵_و توبوا الی الله جمیعا ايّها المؤمنون لعلکم تفلحون _ نور/ ۳۱_

۳۱۶_یا ایها الذین آمنوا توبوا الی الله توبة نصوحاً عسی ربّکم ان یکفّر عنکم سیئاتکم و یدخلکم جناب تجری من تحتها الانهار _ تحریم/ ۸_

۳۱۷_قال رسول الله(ص): لکل داء دواء و دواء الذنوب الاستغفار_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۵۴_

۳۱۸_قال ابوجعفر(ع): ما من عبد الّا و فی قلبه نکتة بیضاء فاذا الذنب خرج فی النکتة نکتة سوائد، فان تاب ذهب تلک السواد و ان تمادی فی الذنوب زاد ذالک السواد حتی یغطّی الیباض فاذا غطّی البیاض لم یرجع صاحبه الی خیر ابداً و هو قول الله: کلّا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون_ بحار/ ج ۷۳ ص ۳۳۲_

۳۱۹_قال الصادق علیه السلام: تاخیر التوبة اغترار، و طول التسویف حیرة و الاعتدال علی الله هلکة و الاصرار علی الذنب امن لمکرالله و لا یامن مکر الله الّا القوم الخاسرون_ بحارالانوار/ ج۷۳ ص ۳۶۵_

۳۲۰_و هو الذی یقبل التوبة عن عباده و یعفوا عن السیئات و یعلم ما تفعلون _ شوری/ ۲۵_

۳۲۱_وانّی لغفّار لمن تاب و آمن و عمل صالحاً ثم اهتدی _ طہ/ ۸۲_

۳۲۲_و الذین اذا فعلوا فاحشة و ظلموا انفسهم ذکرو الله فاستغفرو الذنوبهم و من یغفر الذنوب الّا الله و لم یصرّو علی ما فعلوا و هم یعلمون_ اولئک جزائهم مغفرة من ربّهم و جنّات تجری من تحتها الانهار خالدین فیها و نعم اجر العاملین _ آل عمران/ ۱۳۵_


۳۲۳_قال ابوجعفر علیه السلام: التائب من الذنب کمن لاذنب له و المقیم علی الذنب و هو مستغفر منه کا لمستهزئ_ کافی/ ج ۲ ص ۴۳۵_

۳۲۴_ان الله یحب التوابین و یحبّ المتطهرین _ بقرہ/ ۲۲۲_

۳۲۵_ قال ابوجعفر علیه السلام: انّ الله اشدّ فرحاً بتوبة عبده من رجل اضلّ راحلته و زاده فی لیلة ظلماء فوجدها فالله اشدّ فرحاً بتوبة عبده من ذلک الرجل براحلته حین وجدها_ کافی/ ج ۲ ص ۴۳۶_

۳۲۶_قال ابوعبدالله(ع): اذا تاب العبد توبة نصوحا احبّه الله فسترعلیه، فقلت و کیف یستر علیه؟ قال ینسی ملکیه ما کانا یکتبان علیه و یوحی اله الی جوارحی و الی بقاع الارض ان اکتمی علیه ذنوبه، فیلقی الله عزّوجل حین یلقاء و لیس شیء یشهد علیه بشیء من الذنوب_ کافی/ ج ۲ ص ۴۳۶_

۳۲۷_حقائق/ ص ۲۸۶_

۳۲۸_عن المیرالمؤمنین علیه السلام: انّ قائلاً قال بحضرته: استغفرالله، فقال: ثکلتک امک اتدری ما الاستغفار؟ الاستغفار درجة العلّیین و هو اسم واقع علی ستة معان اولها الندم علی مامضی و الثانی العزم علی ترک العود الیه ابداً و الثالث ان تؤدی الی المخلوقین حقوقهم حتی تلقی الله املس لیس علیک تبعة_ و الرابع ان تعمد الی کل فریضة علیک ضيّعتها فتؤدی حقها و الخامس ان تعمد الی اللحم الذی نبت علی السحت فتذیبه بالاحزان حتی یلصق الجلد بالعظم و ینشا بینهما لحم جدید و السادس ان تذیق الجسم الم الطاعة کما اذقته حلاوة المعصیة، فعند ذالک تقول: استغفرالله_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۳۶۱_

۳۲۹_قال الصادق علیه السلام: ان رسول الله صلی الله علیه و آله کان یتوب الی الله فی کل یوم سبعین مرة من غیر ذنب_ کافی/ ج ص ۴۵۰_

۳۳۰_قال النبی(ص): انّه لیغان علی قلبی حتی استغفرالله فی الیوم و اللیلة سبعین مرة_ حجة/ ج ۷ ص ۱۷

۳۳۱_و کنتم ازواجاً ثلاثه، فاصحاب المیمنة ما اصحاب المیمنة و اصحاب المشامة ما اصحاب المشامة؟ و السابقون السابقون اولئک المقربون، فی جنات النعیم _ واقعہ/ ۱۲_

۳۳۲_فاما ان کان من المقرّبین فروح و ریحان و جنة نعیم_ و اما ان کان من اصحاب الیمین فلام لک من اصحاب الیمین و اما ان کان من المکذّبین الضالفین فنزل من حمیم و تصلیة حجیم _ واقعہ/ ۸۸_۹۴_

۳۳۳_کلّا ان کتاب الابرار لفی علّيّین و ما ادراک ما علّیون کتاب مرقوم یشیهده المقرّبون _ مطفّفین/ ۲۱_

۳۳۴_اذ قالت الملائکة: یا مریم انّ الله یبشرک بکلمة منه المسیح عیسی بن مریم وجیهاً فی الدنیا و الآخرة و من المقرّبین _ آل عمران/ ۴۵_

۳۳۵_و لا تحسبّن الذین قتلوا فی سبیل الله امواتابل احیاء عند ربهم یرزقون _ آل عمران/ ۱۶۹_

۳۳۶_یا ایتهاالنفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة _ فجر/ ۲۸_


۳۳۷_من عمل صالحاً فلنفسه و من اساء فعلیها ثم الی ربّکم ترجعون _ جاثیہ/ ۱۵_

۳۳۸_الذین اذا اصابتهم مصیبة قالوا انّا الله و انّا الیه راجعون _ بقرہ/ ۱۵۶_

۳۳۹_و ان الذین لا یؤمنون بالآخرة عن الصراط لناکبون _ مؤمنون/ ۷۴_

۳۴۰_بل الذین لا یؤمنون بالآخرة فی العذاب و الضلال البعید _ سبا/ ۸_

۳۴۱_مثل الذین کفروا بربّهم اعمالهم کرماد اشتدّت به الریح فی یوم عاصف لا یقدرون ممّا کسبوا علی شیء ذالک هو الضلال البعید _ ابراہیم/ ۱۸_

۳۴۲_من کان یرید العزّة فللّه العزة جمیعا، الیه یصعد الکلم الطيّب و العمل الصالح یرفعه _ فاطر/ ۱۰_

۳۴۳_من علم صالحاً من ذکر او انثی و هو مؤمن فلنحینّه حیاة طيّبة _ نحل/ ۹۷_

۳۴۴_یرفع الله الذین آمونا منکم و الذین اوتو العلم درجات و الله تعملون خبیر _ مجادلہ/ ۱۱_

۳۴۵_یا ایها الذین آمنوا ذکروا الله ذکراً کثیراً _ احزاب/ ۴۱_

۳۴۶_الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً و علی جنوبهم و یتفکفرون فی خلق السموات و الارض ربنا ما خلقت هذا باطلاً آمنوا اذکرو الله ذکراً کثیراً _ احزاب/ ۴۱_

۳۴۷_قد افلح من تزكّی و ذکر اسم ربّه فصلّی _ اعلی۱ ۱۵_

۳۴۸_و اذکر اسم ربّک بکرة واصیلاً _ انسان/ ۲۵_

۳۴۹_و اذکر ربّک کثیراً و سبّح بالعشی و الابکار _ آل عمران/ ۴۱_

۳۵۰_فاذا قضیتم الصلوة فاذکرو الله قیاماً و قعوداً و علی جنوبکم _ نسائ/ ۱۰۳_

۳۵۱_عن ابی عبدالله (ع) قال: من اکثر ذکر الله عزّوجل اظلّه الله فی جنته_ وسائل/ ج ۴ ص ۱۱۸۲_

۳۵۲_عن ابی عبدالله علیه السلام فی رسالته الی اصحابه قال: و اکثرو اذکر الله ما استطعتم فی کل ساعة من ساعات اللیل و النهار، فان الله امر بکثرة الذکر، والله ذاکر لمن ذکره من المؤمنین_ و اعلموا انّ الله لم یذکره احد من عباده المؤمنین الّا ذکره بخیر_ وسائل/ ج ۴ ص ۱۱۸۳_

۳۵۳_عن ابیعبدالله علیه السلام: قال الله لموسی : اکثر ذکری باللیل و النهار و کن عند ذکری خاشعاً و عند بلائی صابراً و اطمئن عند ذکری و اعبدنی و لا تشرک بی شیئاً اليّ المصیر_ یا موسی اجعلنی ذخرک وضع عندی کنزک من الباقیات الصالحات_ وسائل/ ج ۴ ص ۱۱۸۲_

۳۵۴_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: ما من شیء الّا وله حدّ ینتهی الیه الّا الذکر فلیس له حدّ ینتهی الیه فرض الله عزّوجلّ الفرائض فمن ادّاهنّ فهو حدّهن، و شهر رمضان فمن صامه فهو حدّه_ و الحجّ فمن حجّ فهو حدّه_ الّا الذکر فانّ الله عزّوجل لم یرض منه بالقلیل و لم یجعل له حدّاً ینتهی الیه ثم تلا: یا ایها الذین آمنوا اذکرو الله ذکراً کثیراً و سبحوه بکرة واصیلاً_ فقال: لم یجعل الله له حداً ینتهی الیه قال: و کان ابی کثیر الذکر لقد کنت امشی معه و انّه لیذکر الله و آکل معه الطعام و انّه لیذکر الله و لقد کان یحدّث القوم و ما یشغله ذالک عن ذکر الله و کنت اری لسانه لازقاً


بحنکه یقول: لا اله الا الله، و کان یجمعنا فیامرنا بالذکر حتی تطلع الشمس_ (الی ان قال) و قال رسول الله صلی الله علیه و آله: لاا خبرکم بخیر اعمالکم و ارفعها فی درجاتکم و ازکاها عند ملیککم و خیر لکم من الدینار و الدّرهم و خیر لکم من ان تلقوا عدّوکم فتقتلوهم و یقتلوکم؟ فقالوا بلی_ فقال ذکر الله کثیرا ثم قال: جاء رجل الی النبی فقال: من خیر اهل المسجد؟ فقال: اکثرهم الله ذکرا_ و قال رسول الله صلی الله علیه و آله: من اعطی لسانا ذاکراً فقد اعطی خیرالدنیا و الآخرة وسائل/ ج ۴ ص ۱۱۸۱_

۳۵۵_فی وصیة ابی ذرّ قال رسول الله صلی الله علیه و آله: علیک بتلاوة القرآن و ذکر الله کثیراً فانّه ذکر لک فی السماء و نور لک فی الارض_بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۴_

۳۵۶_عن الحسن بن علی علیه السلام قال: قال رسول الله صلی الله علیه و آله:با دروا الی ریاض الجنة، فقالوا: ما ریاض الجنّة؟ قال: حلق الذکر_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۶_

۳۵۷_عن الصادق علیه السلام قال: قال رسول الله صلی الله علیه و آله:ذاکر الله فی الغافلین کالمقاتل فی الفارّین له الجنة_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۶۳_

۳۵۸_انّ رسول الله صلی الله علیه وآله خرج علی اصحابه فقال: ارتعوا فی ریاض الجنة_ قالوا یا رسول الله و ما ریاض الجنة؟ قال: مجالس الذکر، اغدوا و روّحوا و اذکروا_ و من کان یحب ان یعلم منزلته عندالله فلینظر کیف منزلة الله تعالی عنده، ینزل العبد حیث انزل العبد الله من نفسه و اعملوا انّ خیر اعمالکم عند ملیککم و ازکاها و ارفعها فی درجاتکم و خیر ما طلعت علیه الشمس ذکر الله فانه تعالی اخبر عن نفسه فقال: انا جلیس من ذکرنی_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۶۳_

۳۵۹_فیما ناجی به موسی علیه السلام ربّه: الهی ما جزاء من ذکرک بلسانه و قلبه؟ قال: یا موسی اظلّه یوم القیامة بظلّ عرشی و اجعله فی کنفی_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۶_

۳۶۰_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: اشدّ الاعمال ثلاثة: انصاف الناس من نفسک حتی لاترضی لها منهم بشیء الّا رضیت لهم منها بمثله_ و مواساتک الاخ فی المال و ذکر الله علی کل حال، لیس سبحان الله، و الحمدالله، و الا اله الّا الله، و الله اکبر فقط، و لکن اذا ورد علیک شیء امرالله به اخذت به و اذا ورد علیک شیء نهی عنه ترکته_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۵_

۳۶۱_فیما اوصی به رسول الله (ص) علیاً: یا علی ثلاث لا تطیقها هذه الامة: المواسات للاخ فی ماله_ و انصاف الناس من نفسه_ و ذکر الله علی کل حال_ و لیس هو سبحان الله و الحمدالله و لا اله الّا الله و الله اکبر، و لکن اذا ورد علی ما یحرم علیه خاف الله عنده وترکه_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۱_

۳۶۲_قال علی علیه السلام: لا تذکروا الله سبحانه ساهیا و لا تنسه لاهیاً و اذکره ذکراً کاملاً یوافق فیه قلبک لسانک و یطابق اضمارک اعلانک و لن تذکره حقیقة الذکر حتی تنسی نفسک فی ذکرک و تفقدها فی امرک_ غرر الحکم/ ص ۸۱۷_


۳۶۳_قال الصادق علیه السلام: من کان ذاکراً علی الحقیقة فهو مطیع و من کانه غافلاً عنه فهو عاص و الطاعة علامة الهدایه و المعصیة علامة الضلالة و اصلهما من الذکر و الغفلة فاجعل قلبک قبلة و لسانک لا تحرّکه الّا باشارة القلب و موافقة العقل و رضی الایمان، فان الله عالم یسرّک و جهرک، و کن کالنارع، وحه او کا لواقف فی العرض الاکبر غیر شاغل نفسک عما عناک ممّا کلّفک به ربّک فی امره و نهیه و وعده و وعیده و لا تشغلها بدون ما کلّفک و اغسل قلبک بماء الحزن و اجعل ذکر الله من اجل ذکره لک فانّه ذکرک و هو غنی عنک فذکره لک اجلّ و اشهی و اتّم من ذکرک له و اسبق، و معرفتک بذکره لک یورثک الخضوع و الاستحیاء و الانکسار و یتولد من ذلک رؤیه کرمه و فضله السابق و یصغر عند ذلک طاعاتک و ان کثرت فی جنب مننه_ فتخلّص بوجهه و رؤیتک ذکرک له تورثک الریا و العجب و السفه و الغلظة فی خلقه و استکثار الطاعة و نسیان فضله و کرمه_ و ما تزداد بذلک من الله الّا بعداً و لا تستجلب به علی مضيّ الایام الّا وحشة_ و الذکر ذکران: ذکر خالص یوافقه القلب، و ذکر صارف ینفی ذکر غیره کما قال رسول الله صلی الله علیه و آله:انّی لا احصی ثناء علیک، انت کما اثنبت علی نفسک فرسول الله لم یجعل لذکره لله عزّوجل مقداراً عند علمه بحقیقة سابقة ذکر الله له من قبل ذکره له_ فمن دونه اولی_ فمن اراد ان یذکر الله تعالی فلیعلم انه ما لم یذکر الله العبد بالتوفیق لذکره لا یقدر العبد علی ذکره_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۸_

۳۶۴_سئل امیرالمؤمنین علیه السلام: هل رایت ربک حین عبدته؟ فقال: ویلک ما کنت اعبد رباً لم اره_ قیل: و کیف رایته؟ قال: ویلک لا تدرکه العیون فی مشاهدة الابصار ولکن راته القلوب بحقائق الایمان_ حقائق فیض/ ص ۱۷۹_

۳۶۵_قال حسین بن علی علیه السلام: کیف یستدل علیک بما هو فی وجوده مفتقر الیک؟ ایکون لغیرک من الظهور ما لیس لک؟ حتی یکون هو المظهر لک_ متی غبت حتی تحتاج الی دلیل یدل علیک؟ و متی بعدت حتی تکون الآثار هی التی توصل الیک؟ عمیت عین لا تراک علیها رقیباً و خسرت صفقة عبد لم تجعل له من حبک نصیباً_ اقبال الاعمال/ دعاء عرفه_

۳۶۶_الهی هب لی کمال الانقطاع الیک و انر ابصار قلوبنا بضیاء نظرها الیک حتی تخرق ابصار القلوب حجب النور فتصل الی معدن العظمة و تصیر ارواحنا معلّقة بعزّ قدسک_ اقبال الاعمال/ مناجات شعبانیه_

۳۶۷_قال علی بن الحسین علیه السلام: بسم الله الرحمان الرحیم_ الهی قصرت الان عن بلوغ ثنائک کما یلیق بجلالک و عجزت العقول عن ادراک کنه جمالک و انحسرت الابصار دون النظر الی سبحات وجهک و لم تجعل للخلق طریقا الی معرفتک الّا بالعجز عن معرفتک_ الهی فاجعلنا من الذین ترسّخت اشجار الشوق الیک فی حدائق صدورهم و اخذت لوعة محبتک بمجامع قلوبهم فهم الی اوکار الافکار یاوون و فی ریاض القرب و المکاشفة یرتعون و من حیاض المحبة بکاس الملاطفة یکرعون و شرایع المصافات یردون_ قد کشف الغطاء عن ابصارهم و


انجلت ظلمة الریب عن عقائدهم و ضمائرهم و انتفت مخالجة الشک عن قلوبهم و سرائرهم و انشرحت بتحقیق المعرفة صدورهم وعلت لسبق السعادة فی الزهاة هممهم و عذب فی معین المعاملة شریهم و طاب فی مجلس الانس سرهم و امن فی موطن المخافة سربهم و اطمانت بالرجوع الی ربّ الارباب انفسهم و تیقنت بالفوز و الفلاح ارواحهم و قرّت بالنظر الی محبوبهم اعینهم و اسقرّ بادراک السؤل و نیل المامول قرار هم و ربحت فی بیع الدنیا بالاخرة تجارتهم_ الهی ما الذّخواطر الالهام بذکرک علی القلوب و ما احلی المسیر الیک بالاوهام فی مسالک الغیوب و ما اطیب طعم حبّک و ما اعذب شرب قربک فاعذنا من طردک و ابعادک و اجعلنا من اخص عارفیک و اصلح عبادک و اصدق طائعیک و اخص عبّادک یا عظیم یا جلیل یا کریم یا منیل برحمتک و منک یا ارحم الراحمین_ بحار/ ج ۹۴ص ۱۵۰، مناجات العارفین_

۳۶۸_مفاتیح الغیب/ ص ۵۴_

۳۶۹_حقائق/ ص ۱۸۱_

۳۷۰_قال ابوعبدالله علیه السلام: (فی حدیث الی ان قال) و لکن اذا ورد علیک شیء امر الله به اخذت به و اذا ورد علیک شیء نهی ترکته_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۵_

۳۷۱_یا من اذاق احبائه حلاوة المؤانسة فقاموا بین یدیه متملقین و یا من البس اولیائه ملا بس هیبته فقالوا بین یدیه مستغفرین_ اقبال الاعمال/ دعاء عرفة_

۳۷۲_قل ان کنتم تحبّون الله فاتّبعونی یحببکم الله _ آل عمران/ ۳۱_

۳۷۳_قال لصادق علیه السلام: من کا اذکر الله علی الحقیقة فهو مطیع و من کان غافلاً عنه فهو عاص_ بحار/ ص ۹۳ ص ۱۵۸_

۳۷۴_قال الصادق علیه السلام (فی حدیث الی قال) و معرفتک بذکره لک یورثک الخضوع و الاستحیاء و الانکسار_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۵۸_

۳۷۵_و من اعرض عن ذکری فان له معیشة ضنکا _ طہ/ ۱۲۴_

۳۷۶_وانت الذی ازلت الاغیار عن قلوب احبّائک حتی لم یحبّوا سواک و لم یلجوا الی غیرک، انت المونس لهم حیث اوحشتهم العوالم و انت الذی هدیتهم حیث استبانت لهم العالم ماذا وجد من فقدک؟ و ما الذی فقد من وجدک؟ لقد خاب من رضی دونک بدلاً و لقد خسر من بغی عنک متحولاً کیف یرجی سواک و انت ما قطعت الاحسان و کیف یطلب من غیرک و انت ما بدلت عادة الامتنان_ اقبال الاعمال/ دعاء عرفه_

۳۷۷_الذین آمنوا و تطمئن قلوبهم بذکر الله الا بذکر الله تطمئن القلوب _ رعد/ ۲۷

۳۷۸_فاذکرونی اذکرکم _ بقرہ/ ۱۵۲_


۳۷۹_عن ابیعبدالله علیه السلام: قال الله عزّوجلّ: یابن آدم اذکرنی فی نفسک اذکرک فی نفسی، یابن آدم اذکرنی فی خلا اذکرک فی خلا، یابن آدم اذکرنی فی ملا اذکرک فی ملا خیر من ملاک_ و قال: ما من عبد ذکر الله فی ملا من الناس الّا ذکره الله فی ملامن الملائکة_ وسائل/ ج ۴ ص ۱۱۸۵_

۳۸۰_عن النبی صلی الله علیه و آله قال: قال الله تعالی: اذا عملت ان الغالب علی عبدی الاشتغال بی نقلت شهوته فی مسالتی و مناجاتی فاذا کان عبدی کذالک فاراد ان یسهو حلت بینه و بین ان یسهو حلت بینه و بین ان یسهو_ اولئک اولیائی حقاً، اولئک الابطال حقاً، اولئک الذین اذا اردت ان اهلک اهل الارض عقوبة زویتها عنهم من اجل اولئک الابطال_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۶۲_

۳۸۱_قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله _ آل عمران/ ۳۱_

۳۸۲_عن ابیعبدالله علیه السلام: قال رسول الله صلی الله علیه و آله: من اکثر ذکر الله احبّه الله و من ذکر الله کثیرا کتبت له برائتان برائة من النار و برائة من النفاق_ وسائل/ ج ۴ ص ۱۱۸۱_

۳۸۳_و لله المشرق و المغرب فاینما تولّوا فثمّ وجه الله _ بقرہ/ ۱۱۵_

۳۸۴_و هو معکم اینما کنتم و الله بما تعملون بصیر _ حدید/ ۴_

۳۸۵_و نحن اقرب الیه من حبل الورید _ ق/ ۱۶_

۳۸۶_ان الله علی کلّ شیء شهید _ حج/ ۱۷_

۳۸۷_من کان یرید العزة فللّه العزة جمیعاً الیه یصعد الکلم الطيّب و العمل الصالح یرفعه _ فاطر/ ۱۰_

۳۸۸_و اعبد ربک حتی یاتیک الیقین _ حجر/ ۹۹_

۳۸۹_عن ابی سلام قال: سمعت رسول الله صلی الله علیه و آله یقول: خمس ما اثقلن فی المیزان: سبحان الله، و الحمدالله، و لا اله الا الله، و الله اکبر و الولد الصالح یتوفی لمسلم فیصبر و یحستب_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۶۹_

۳۹۰_قال رسول الله صلی الله علیه وآله: لما اسری بی الی السماء دخلت فرایت ملائکة یبنون لبنة من ذهب و لبنة من فضة و ربما امسکوا فقلت لهم: مالکم ربما بنیتم و ربما امسکتم؟ فقالوا حتی تجیئنا النفقة فقلت لهم: وما نفقتکم: فقالوا: قول المؤمن من فی الدنیا: سبحان الله، و الحمدالله، و لا اله الّا لله، و الله اکبر: فاذا قال_ بنینا و اذا امسک امسکنا_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۶۹_

۳۹۱_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: من قال سبحان الله غرس الله بها شجرة فی الجنة و من قال الحمدلله غرس الله بها شجرة فی الجنة و من قال: لا اله الا الله غرس الله له بها شجرة فی الجنة و من قال: الله اکبر غرس الله بها شجرة فی الجنة: فقال رجل من قریش; یا رسول الله انّ شجرنا فی الجنة لکثیر، قال: نعم_ و لکن ايّاکم ان ترسلوا علیها نیراناً فتحرقوها_ و ذالک انّ الله عزّوجلّ یقول: یا ایها الذین آمنوا اطیعوا لله و اطیعوا الرسول و لا تبطلوا اعمالکم_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۹۵_

۳۹۲_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: خیر العبادة قول لا اله الله_ بحار/ ج۹۳ ص۱۹۵_


۳۹۳_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:سيّد القول لا اله الله_ بحار/ ج ۹ ص۲۰۴_

۳۹۴_عن النبی صلی الله علیه و آله عن جبرئیل قال الله عزوجل: کلمة لا اله الا الله حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی_ بحار/ ج ۹۳ ص ۱۹۲_

۳۹۵_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: یقول الله تعالی: من احدث و لم یتوضاً فقد جفانی، و من احدث و توضا و لم یصلّ رکعتین فقد جفانی، و من احدث و توضا و صلّی رکعتین و دعانی و لم اجبه فیما سالنی من امر دینه و دنیاه فقد جفوته ولست بربّ جاف_ وسائل/ ج۱ ص ۲۶۸_

۳۹۶_اعراف/ ۵۴_ ۵۶، اصول کافی/ ج ۱ ص ۳۴۴_

۳۹۷_بحار/ ج ۹۴ ص۹۴

۳۹۸_کشکول شیخ بهائی/ ج ۲ ص ۱۸۴ چاپ فراهانی، بحارالانوار/ ج ۱ ص ۲۲۴_

۳۹۹_روضة المتقین/ ج ۱۳ ص ۱۲۸_

۴۰۰_تذکرة المتقین/ ص ۲۰۷_

۴۰۱_المراقبات/ ص ۱۲۲_

۴۰۲_مرصاد العباد/ ص ۱۵۰_

۴۰۳_قال علی علیه السلام: انّ للقلوب شهوة و اقبالاً و ادبارا فتاوها من قبل شهوتها و اقبالها فان القلب اذا کره عمی_ بحار/ ج۷۰ ص۶۱_

۴۰۴_عن ابی بصیر قال سمعت ابا عبدالله علیه السلام یقول: اذا اذنب الرجل فی قلبه نکتة سوداء فان تاب انمحت و ان زاد زادت حتی تغلب علی قلبه فلا یفلح بعدها ابدا_ بحار/ ج۷۳ ص۳۲۷_

۴۰۵_عن ابیعبدالله علیه السلام قال کان ابی یقول: ما من شیء افسد للقلب من خطیئته ان القلب لیواقع الخطیئة فلا تزال به حتی تغلب علیه فیصیر اعلاه سفله_ بحار/ ج۷۳ص ۳۱۲_

۴۰۶_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: حبّ الدنیا راس کل خطئیة_بحار/ ج۷۳ ص۹۰_

۴۰۷_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: اول ما عصی الله تابرک و تعالی بستّ خصال: حبّ الدنیا و حبّ الریاسه و حب الطعام و حبّ الراحة_ بحار/ ج ۷۳ص۹۴_

۴۰۸_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: ابعد ما یکون العبد من الله عزوجل اذ الم یهمّه الّا بطنه و فرجه بحار/ ج۷۳ ص۱۸_

۴۰۹_عن جابر قال: دخلت علی ابن جعفر علیه السلام فقال: یا جابر و الله انی لمحزون و انی لمشغول القلب، قلت: جعلت فداک، و ما شغلک و ما حزن قلبک؟ فقال یا جابر انّه من دخل قلبه صافی خالص دین الله شغل قلبه عمّا سوائ_ یا جابر ماالدنیا و ما عسی ان تکون الدنیا؟ هل هی الّا طعام اکلته اوثوب لبسته او امراة اصبتها؟ یا جابر انّ المؤمنین لم یطمئنّوا الی الدنیا


ببقائهم فیهاو لم یامنوا قدومهم الآخرة یا جابر الآخرة دار قرار و الدنیا دار فناء و زوال، و لکن اهل الدنیا اهل غفلة، و کانّ المؤمنین هم الفقهائ، اهل فکرة و عبرة لم یصمّهم عن ذکر الله ما سمعوا بآذانهم و لم یعمهم عن ذکر الله ما رؤا من الزینة ففازوا بثواب الآخرة کما فازوا بذلک العلم_ بحار/ ج ۷۳ ص۳۶_

۴۱۰_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: لا یجد المؤمن حلاوة الایمان فی قلبه حتی لا یبالی من اکل الدنیا_ بحار/ ج۷۳ ص۴۹_

۴۱۱_و لا تتّبع الهوی افیضلک عن سبیل الله _ ص/ ۲۶_

۴۱۲_قال المیرالمؤمنین علیه السلام: اشجع الناس من غلب هواه_ بحار/ ج۷۰ ص۷۶_

۴۱۳_ابوبصیر عن ابیعبدالله علیه السلام قال: قال لی: یا ابا محمد ان البطن لیطغی من اکله، و اقرب ما یکون العبد من الله اذا خفّ بطنه و ابغض ما یکون العبد الی الله اذا امتلا بطنه_ وسائل ج ۱۶ ص ۴۰۵_

۴۱۴_قال الصادق علیه السلام: لیس شیء اضرّ لقلب المؤمن و من کثرة الاکل و هی مورثة شیشین: قسوة القلب و هیجان الشهوة، والجوع ادام للمؤمنین و غذاء للروح و طعام للقلب و صحة للبدن_ مستدرک/ ج ۳ ص ۸۰_

۴۱۵_قال امیرالمؤمنین علیه السلام: اذا اراد الله صلاح عبده الهمم قلّة الکلام و قلّة الطعام و قلّة المنام_ مستدرک/ ج ۳ ص ۸۱_

۴۱۶_قال علی علیه السلام: نعم العون علی اسر النفس و کسر عادتها التجوع_ مستدرک/ ۳ ص ۸۱_

۴۱۷_قال علی علیه السلام: قال الله تبارک و تعالی لیلة المعراج: یا احمد لو ذقت حلاوة الجوع و الصمت و الخلوة و ما ورثوا منها_ قال یا ربّ ما میراث الجوع؟ قال: الحمکة و حفظ القلب و التقرب اليّ و الحزن الدائم و خفّة بین الناس و قول الحق، و لا یبالی عاش بیسر اور بعسر_ مستدرک/ ج ۳ ص ۸۲_

۴۱۸_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: لاتکثروا الکلام بغیر ذکر الله فانّ کثرة الکلام بغیر ذکر الله تقسوا لقلب_ انّ ابعد الناس من الله القلب القاسی_ بحار/ ۷۱ ص ۲۸۱_

۴۱۹_قال علی علیه السلام:اخزن لسانک و عدّ کلامک یقلّ کلامک الّا بخیر_ بحار/ ج ص ۲۸۱_

۴۲۰_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: الکلام ثلاثة: فرابح و سالم و شاحب_ فاما الرابح فالّذی یذکر الله، و اما السالم فالذی یقول ما احبّ الله، و اما الشاحب فالّذی یخوض فی الناس_ بحار/ ج ۷۱ ص ۲۸۹_

۴۲۱_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:امسک لسانک فانّها صدقه تصدّق بها علی نفسک، ثم قال: و لا یعرف حقیقه الایمان حتی یحزن من لسانه_ بحار/ ج ۷۱ ص ۲۹۸_


۴۲۲_قال ابوالحسن الرضا علیه السلام: من علامات الفقه: الحلم و العلم و الصمت_ انّ الصمت باب من ابواب الحکمة انّ الصمت یکسب المحبة، انه دلیل علی کل خیر_ بحار/ ج۷۱ ص ۲۹۴_

۴۲۳_قال علی علیه السلام: اذا تمّ العقل نقص الکلام_ بحار/ ج ۷۱ ص ۲۹۰_

۴۲۴_عن ابی عبدالله علیه السلام قال: ما عبدالله بشیء افضل من الصمت و المشی الی بیته_ بحار/ ج ۷۱ ص ۲۷۸_

۴۲۵_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:علیک بطول الصمت فانه مطردة للشیطان و عون لک علی امر دینک بحار الانوار/ ج۷۱ ص ۲۷۹_

۴۲۶_عنکبوت/ ۶۹_

۴۲۷_و نفس و ما سوّاها فالهمها فجورها و تقوی ها، قد افلح من زكّاها و قد خاب من دسّاها _ شمس/ ۹_

۴۲۸_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:انّما بعثت لا تمّم مکارم الاخلاق_ مستدرک/ ج ۲ ص ۲۸۲_

۴۲۹_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:علیکم بمکارم الاخلاق فان الله بعثنی بها_ بحار الانوار/ ج۶۹ ص۳۷۵_

۴۳۰_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:ما یوضع فی میزان امرء یوم القیامة افضل من حسن الخلق_ کافی/ ج ۲ ص ۹۹_

۴۳۱_من علم صالحاً من ذکر او انثی و هو مؤمن فلنجینّه حیاةً طيّبة و لنجزینهم اجرهم باحسن ما کانوا یعملون _ نحل/۹۷_

۴۳۲_و من یاته مؤمناً قد عمل الصالحات فاولئک لهم الدرجات العلی _ طہ/ ۷۵_

۴۳۳_فمن کان یرجوا لقاء ربه قلفیعمل عملا صالحا و لا یشرک بعباده ربه احدا - کهف / ۱۱۱_

۴۳۴ _من کان یرید العزّة فللّه العزة جمیعاً الیه یصعد الکلم الطيّب و العمل الصالح یرفعه _ فاطر/ ۱۰_

۴۳۵_یا ایها الذین آمنوا استجیبوا لله و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم _ انفال/ ۲۴_

۴۳۶_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:ما اخلص عبد اربعین صباحاً الّا جر ت ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۴۲_

۴۳۷_قال علی علیه السلام: این الذین اخلصوا اعمالهم لله و طهّروا قلوبهم لمواضع نظرالله_ غرر الحکم/ ص ۱۷۲_

۴۳۸_ قالت سیدة النساء صلوات الله علیها : من اصعد الی الله خالص عبادته اهبط الله الیه افضل مصلحته - بحار / ج ۷۰ ص ۲۴۹

۴۳۹_قال علی علیه السلام: قلوب ا لعباد الطاهرة مواضع نظر الله سبحانه فمن طهّر قلبه نظر الله الیه غرر الحکم/ ص۵۳۸_


۴۴۰_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:مخبراً عن جبرئیل عن الله عزّوجلف انّه قال: الاخلاص سرّ من اسراری استودعته قلب من احببت من عبادی_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۴۹_

۴۴۱_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:انّ الله لا ینظر الی صورکم و اعمالکم و انّما ینظر الی قلوبکم_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۴۸_

۴۴۲_قال ابوعبدالله علیه السلام: یقول الله: انا خیری شریک، من اشرک معی غیری فی عمله لم اقبله الّا ما کان خالصاً_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۴۳_

۴۴۳_قال ابوعبدالله علیه السلام: ان الله یحشر الناس علی نيّاتهم یوم القیامة_ بحار الانوار/ ج

۴۴۴_قال علیه السلام: طوبی لمن اخلص الله العبادة و الدعاء و لم یشغل قلبه بما تری عیناه و لم ینس ذکر الله بما تسمع اذناه و لم یحزن صدره بما اعطی غیره_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۲۹_

۴۴۵_قال علیه السلام: امارات السعادة اخلاص العمل_ غررالحکم/ ص ۴۳_

۴۴۶_قال علیه السلام: ان قوماً عبدوالله رغبة فتلک عبادة التجار و ان قوماً عبدوا لله رهبة فتلک عبادة العبید و ان قوماً عبدوا لله شکراً فتلک عبادة الاحرار_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۱۹۶_

۴۴۷_قال الصادق علیه السلام: ان الناس یعبدون الله علی ثلاثة اوجه: فطبقة یعبدونه رغبة فی ثوابه فتلک عبادة الحرصاء و هو الطمع، آخرون یعبدونه فرقاً من النار فتلک عبادة العبید و هی رهبة، ولکنّی اعبده حبّاً له عزّوجلّ فتلک عبادة الکرام، و هو الا من لقوله عزّوجلّ '' و هم من فزع یومئذ آمنون'' و بقوله '' قل ان کنتم تحبّون الله فاتّبعونی یحببکم الله و یغفر لکم ذنوبکم'' فمن احبّ الله احبّه الله و من احبّه الله کان من الآمنین_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۱۹۷_

۴۴۸_قال علی علیه السلام: ما عبدتک خوفاً من نارک و لا طمعاً فی جنتک و لکن وجدتک اهلاً للعبادة فعبدتک_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۱۹۷_

۴۴۹_قال علی علیه السلام: طوبی لمن اخلص الله عمله و علمه وحبّه و بغضه و اخذه و ترکه و کلامه وصمته_ غررالحکم/ ص ۴۶۲_

۴۵۰_قال ابوعبدالله علیه السلام:من احب الله و ابغض لله و اعطی لله و منع لله فهو ممن یکمل ایمانه_ بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۴۸_

۴۵۱_ قال الصادق علیه السلام: ما انعم الله علی عبداجلّ من ان لا یکون فی قلبه مع الله غیره_بحار الانوار/ ج۷۰ ص ۲۴۹_

۴۵۲_قال علی علیه السلام: این القلوب التی و هبت الله و عوقدت علی طاعة الله_ غررالحکم/ ص ۱۷۲_

۴۵۳_انا خلصناهم بخالصة ذکری الدار _ ص / ۴۶_

۴۵۴_و اذکر فی الکتاب موسی انّه کان مخلصاً و کان رسولاً نبيّاً _ مریم/ ۵۱_


۴۵۵_قال: فبعزتک لاغوینّهم اجمعین الّا عبادک منهم المخلصین _ صافات/ ۸۳_

۴۵۶_قال علی علیه السلام: الاخلاص ثمرة العبادة_ غرر الحکم/ ص ۱۷_

۴۵۷_قال الرضا علیه السلام: الصلواة قربان کل تقی_ کافی/ ج ۳ ص ۲۶۵_

۴۵۸_معاویة بن وهب قال: سالت ابا عبدالله علیه السلام عن افضل ما یتقرّب به العباد الی ربّهم و احبّ ذلک الی الله عزّوجلّ ما هو؟ فقال ما اعلم شیئاً بعد المعرفة افضل من هذه الصلاة، الا تری ان العبد الصالح عیسی ابن مریم علیه السلام قال: و اوصانی بالصلاة و الزکوة ما دمت حيّا_ کافی/ ج۳ ص ۲۶۴_

۴۵۹_زید الشحام عن ابیعبدالله علیه السلام قال سمعته یقول: احبّ الاعمال الی الله عزّوجلّ حیث الصلاة و هی آخر وصایا الانبیاء فما احسن الرجل یغتسل او یقوضّا فیسبغ الوضوء ثم یتنحی حیث لا یراه انیس فیشرف علیه و هو راکع او ساجد_ انّ العبد اذا سجد فاطال السجود نادی ابلیس: یا ویلاه اطاع و عصیت و سجد و ابیت_ کافی/ ج ۳ ص ۲۶۴_

۴۶۰_قال الرضا علیه السلام:اقرب ما یکون العبد من الله و هو ساجد و ذالک قوله تعالی '' و اسجد و اقترب'' کافی/ج ۲ ص ۲۶۵_

۴۶۱_قال ابوعبدالله علیه السلام:اذا قام المصلّی الی الصلاة نزلت علیه الرحمة من اعنان السماء الی اعنان الارض و حفّت به الملائکه و ناداه ملک: لو یعلم هذا المصلی ما فی الصلاة ما انفتل_ کافی/ ج ۳ ص ۲۶۵_

۴۶۲_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:اذا قام العبد المؤمن فی صلاته نظر الله الیه_ او قال: اقبل الله علیه_ حتی ینصرف، اظلته الرحمة من فوق راسه الی افق السمائ، والملائکة تحفّه من حوله الی افق السمائ، و وكّل الله به ملکاً قائماً علی راسه یقول له: ايّها المصلّی لو تعلم من ینظر الیک و من تناجی ما التفت و لا زلت من موضعک ابداً_ کافی/ ج ۳ ص ۲۶۵_

۴۶۳_

۴۶۴_و اقم الصلاة لذکری _ طہ/ ۱۴_

۴۶۵_یا ایها الذین آمنوا اذا نودی للصلوة من یوم الجمعة فاسعوا الی ذکر الله _ جمعہ/۹_

۴۶۶_قال النبی صلی الله علیه و آله: انّ من الصلوة لما یقبل نصفها و ثلثها و ربعها و خسمها الی العشر، و انّ منها لما یلفّ کما یلفّ الثوب الخلق فیضرب بها وجه صاحبها، و انّما لک من صلاتک ما اقبلت علیه بقلبک_ بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۶۰_

۴۶۷_عن ابیعبدالله علیه السلام یقول: اذا قام العبد الی الصلوة اقبل الله عزّوجلّ علیه بوجهه فلا یزال مقبلاً علیه حیث یلتفت ثلاث مرات فاذا التفت ثلاث مرات اعرض عنه_ بحار/ ج ۸۴ ص ۲۴۱_

۴۶۸_قال امیرالمؤمنین علیه السلام: لا یقومنّ احدکم فی الصلاة متکاسلاً و لا ناعساً و لایفكّرن فی نفسه فانه بین یدی ربّه، و انّما للعبد من صلاته ما اقبل علیه منها بقلبه_ بحار/ج ۸۴ ص ۲۳۹_


۴۶۹_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:ايّما عبدالتفت فی صلاته قال الله: یا عبدی الی من تقصد و من تطلب؟ ارباً غیری ترید اور رقیباً سوای تطلب؟ او جواداً خلای تبغی؟ و انا اکرم الاکرمین و اجود الاجودین و افضل المعطین، اثیبک ثواباً لا یحصی قدره_ اقبل علی فانی علیک مقبل و ملائکتی علیک مقبلون_ فان اقبل زال عنه اثم ما کان منه_ فان التفت ثانیة اعادالله مقالته فان اقبل علی صلاته غفر الله له و تجاوز عنه ما کان منه_ فان التفت ثالثة اعاد الله مقالته، فان اقبل علی صلاته غفر الله ما تقدّم من ذنبه_ فان التفت رابعة اعرض الله عنه و اعرضت الملائکة عنه و یقول: ولّیتک یا عبدی الی ما تولیت_ بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۴۴_

۴۷۰_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۴۸_

۴۷۱_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۴۸_

۴۷۲_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۵۰_

۴۷۳_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۵۸_

۴۷۴_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۵۸_

۴۷۵_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۵۸_

۴۷۶_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۶۵_

۴۷۷_بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۴۸_

۴۷۸_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:اعبدالله کانک تراه فان کنت لا تراه فانّه یراک_ نهج الفصاححة/ ص ۶۵_

۴۷۹_ابان بن تغلت قال قلت لا بیعبدالله علیه السلام: ان رایت علی بن الحسین علیه السلام اذا قام فی الصلوة غشی لونه لون آخر_ فقال لی: و الله ان علی بن الحسین کان یعرف الذی یقوم بین یدیه _ بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۳۵_

۴۸۰_قال ابوعبدالله علیه السلام: اذا صلّیت صلاة فریضة فصلّها صلاة مودّع یخاف ان لا یعود الیها ابداً_ ثم اصرف ببصرک الی موضع سجودک، فلو تعلم من عن یمینک و شمالک لا حسنت صلاتک، و اعلم انک بین یدی من یراک و لا تراه_ بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۳۳_

۴۸۱_قال الصادق علیه السلام: اذا استقبلت فانس الدنیا و ما فیها و الخلق و ما هم فیه و استفرغ قلبک عن کل شاغ یشغلک عن الله و عاین بسرّک عظمة الله و اذکر وقوفک بین یدیه تبلوکل نفس ما اسلفت و ردّوا الی الله مولاهم الحق_ وقف علی قدم الخوف و الرجاء فاذا کبّرت فاستصغر ما بین السماوات العلی و الثری دذون کبریائه: فان الله تعالی اذا اطلع علی قلب العبد و هو یکبّر و فی قلبه عارض عن حقیقة تکبیره قال: یا کاذب اتخدغنی؟ و عزتی و جلالی لا حرمنک حلاوة ذکری و لا حجبنک عن قربی و المسارة بمناجاتی_ بحار الانوار/ ج۸۴ ص ۲۳۰_

۴۸۲_برای اینکه در نماز حضور قلب پیدا کنیم می توانیم از کتابهایی که در اسرار نماز نوشته شده مانند کتاب '' سرّالصلوة'' تالیف عالم ربانی و رهبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (قدس سره الشریف) استفاده کنیم_


۴۸۳_عن ابی الحسن علیه اسلام قال: صلاة النوافل قربان کل مؤمن_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۳۶_

۴۸۴_قال ابو عبدالله علیه السلام: ان العبد لترفع له من صلاته نصفها او ثلثها او ربعها او خسمها و ما یرفع له الّا ما اقبل علیه منها بقلبه و انّما امرنا بالنوافل لیتمّ لهم بها ما نقصوا من الفریضة_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۲۸_

۴۸۵_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: قال رسول الله صلی الله علیه و آله: قال الله تعالی: ما تحبّب اليّ عبدی بشیء احبّ اليّ مما افترضته علیه و انّه یتحبّب اليّ بالنوافل حتی احبّه فاذا احببته کنت سمعه الذی یسمع به و بصره الذی یبصر به و لسانه الذی ینطق به و یده التی یبطش بها و رجله التی یمشی بها، اذا دعانی اجبته و اذا سالنی اعطیته و ما تردّدت فی شیء انا فاعله کترددی فی موت المؤمن: یکره الموت و انا اکره مسائته_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۳۱_

۴۸۶_و من اللیل فتهجّد به نافلة لک عسی ان یبعثک ربّک مقاماً محمودا _ اسری/ ۷۹_

۴۸۷_والذین یبیتون لربّهم سجداً و قیاماً _ فرقان/ ۶۴_

۴۸۸_تتجافی جنوبهم عن المضاجع یدعون ربّهم خوفاً و طمعاً و مما رزقناهم ینفقون فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرة اعین جزائٌ بما کانوا یعملون _ سجدہ/ ۱۶_

۴۸۹_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:انّ الله جلّ جلاله اوحی الی الدنیا: ان اتعبی من خدمک و اخدمی من رفضک_ و انّ العبد اذا تخلّی بسيّده فی جوف اللیل المظلم و ناجاه اثبت الله النور فی قلبه فاذا قال: یا ربّ یا ربّ ناداه الجلیل جلّ جلاله: لبیک عبدی، سلنی اعطک و توكّل عليّ اکفک ثم یثول جلّ جلاله لملائکته: یا ملائکتی انظروا الی عبدی فقد تخلّی فی جوف هذا اللیل المظلم و البطالون لاهون و الغافلون ینامون_ اشهدوا انّی قد غفرت له _ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۱۳۷_

۴۹۰_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:اشراف امتی حملة القرآن و اصحاب اللیل_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۱۳۸_

۴۹۱_انس بن مالک قال: سمعت رسول الله صلی الله علیه و آله یقول: رکعتان فی جوف اللیل احبّ اليّ من الدنیا و ما فیها_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۱۴۸_

۴۹۲_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: صلاة اللیل تحسّن الوجه و تحسّن الخلق و تطيّب الریح و تدرّ الرزق و تقضی الدین و تذهب بالهمّ و تجلوا البصر_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۱۵۳_

۴۹۳_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:صلاة اللیل مرضاة الربف و حبّ الملائکة و سنّة الانبیاء و نور المعرفة و اصل الایمان و راحة الابدان و کراهیة الشیطان و سلاح علی الاعداء و اجابة للدعاء و قبول الاعمال و برکة فی الرزق و شفیع بین صاحبها و ملک الموت و سراج فی قبره و فراش تحت جنبه و جواب مع منکر و نکیر و مونس و زائر فی قبره الی یوم القیامة، فاذا کان یوم القیامة کانت الصلاة ضلّا فوقه و ناجاً علی راسه و لباساً علی بدنه و نوراً یسعی بین یدیه و ستراً بینه و بین النار و حجة للمؤمن بین یدی الله تعالی و ثقلاً فی المیزان و جوازاً علی الصراط و مفتاحاً للجنة_ لانّ الصلاة تکبیر و تحمید و تسبیح و تمجید و تقدیس و تعظیم و قرائة و دعاء و ان افضل


الاعمال کلّها الصلاة لوقتها_ بحار الانوار/ ج۸۷ ص ۱۶۱_

۴۹۴_الذین آمنوا و هاجروا و جاهدوا فی سبیل الله باموالهم و انفسهم اعظم درجة عندالله و اولئک هم الافائزون_ یبشّرهم ربّهم برحمة منه و رضوان و جنات لهم فیها نعیم مقیم_ خالدین فیها ابداً انّ الله عنده اجر عظیم _ توبہ/ ۲۰

۴۹۵_و فضّل الله المجاهدین علی القاعدین اجراً عظیما _ نساء / ۹۵_

۴۹۶_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:للجنّة باب یقال له باب المجاهدین یمضون الیه فاذا هو مفتوح و هم متقلّدون بسیوفهم و الجمع فی الموقف و الملائکة ترحب بهم_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۵_

۴۹۷_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:فوق کل ذی برّ برّ حتی یقتل فی سبیل الله، فاذا قتل فی سبیل الله فلیس فوقه برّ_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۱۰_

۴۹۸_قال ابوعبدالله (ع): من قتل فی سبیل الله لم یعرفه الله شیئاً من سیئاته_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۹_

۴۹۹_قال رسول الله صلی الله علیه و آله:للشهید سبع خصال من الله: اول قطرة من دمه مغفور له کل ذنب_ و الثانیة یقع راسه فی حجر زوجته من الحور العین و تسمحان الغبار عن وجهه و تقولان مرحبا بک و یقول هو مثل ذالک لهما_ و الثالثة یکسی من کسوة الجنة_ و الرابعة تبتدره خزنة الجنة بکل ریح طيّبه ايّهم یاخذه معه_ و الخامسة ان یری منزله_ والسادسه یقال لروحه اسرح فی الجنة حیث شئت_ والسابعة ان ینظر فی وجه الله و انّها لراحة لکل نبيّ و شهید_ وسائل/ ج ۱۱ ص ۹_

۵۰۰_انّ الله اشتری من المؤمنین انفسهم و اموالهم بانّ لهم الجنة_ یقاتلون فی سبیلالله فیقتلون و یقتلون وعداً علیه حقاً فی التورات و الانجیل و القرآن و من اوفی بعهده من الله فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم به و ذالک هو الفوز العظیم _ توبہ/ ۱۱۱_

۵۰۱_و لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل الله امواتاً بل احیاء عند ربّهم یرزقون _ آل عمران/ ۱۶۹_

۵۰۲_قال ابو عبدالله علیه السلام: قال الله عزّوجلّ: الخلق عیالی فاحبّهم اليّ الطفهم بهم و اسعاهم فی حوائجهم_ کافی/ ج ۲ ص ۱۹۹_

۵۰۳_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: الخلق عیال الله فاحبّ الخلق الی الله من نفع عیال الله و ادخل علی اهل بیت سروراً_ کافی/ ج ۲ ص ۱۶۴_

۵۰۴_عن ابی جعفر علیه السلام قال: تبسم الرجل فی وجه اخیه حسنة و صرف القذی عنه حسنة و ما عبدالله بشیء احبّ الی الله من ادخال السرور علی المؤمن_ کافی/ ج ۲ ص ۱۸۸_

۵۰۵_قال الصادق علیه السلام: من سرّ مؤمناً فقد سرّنی و من سرّنی فقد سرّ رسول الله و من سرّ رسول الله فقد سرّ الله و من سرّ الله ادخله جنته_ بحار/ ج ۷۴ ص ۴۱۳_

۵۰۶_قال ابوعبدالله علیه السلام: لقضاء حاجة امری مؤمن احبّ الی الله من عشرین حجة کل حجة ینفق فیها صاحبها ماة الف_ کافی/ ج ۲ ص ۱۹۳_


۵۰۷_قال الصادق علیه السلام: مشی المسلم فی حاجة المسلم خیر من سبعین طوافاً بالبیت الحرام_ بحار/ ج ۷۴ ص ۳۱۱_

۵۰۸_قال الصادق علیه السلام: انّ الله عباداً من خلقه یفزع العباد الیهم فی حوائجهم اولئک هم الآمنون یوم القیامة_ بحار/ ج ۷۴ ص ۳۱۸_

۵۰۹_و قال ربّکم ادعونی استجب لکم انّ الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جهنم داخرین_ مؤمن/ ۶۳

۵۱۰_ادعوا ربکم تضرّعاً و خفیة انّه لا یحب المعتدین_ اعراف/ ۵۵_

۵۱۱_و اذا سالک عبادی عنّ فانّی قریب اجیب دعوة الداع اذا دعان_ بقره/ ۱۸۳_

۵۱۲_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: الدعاء هو العبادة قال الله: '' ان الذین یستکبرون عن عبادتی '' الایه، ادع الله و لا تقل انّ الامر قد فرغ منه_ کافی/ ج ۲ ص ۴۶۷_

۵۱۳_قال ابوعبدالله علیه السلام: علیکم بالدعاء فانّکم لاتقربون بمثله و لا تترکوا صغیرة لصغرها ان تدعوا بها، ان صاحب الصغار هو صاحب الکبار_ کافی/ ج ۲ ص ۴۶۷_

۵۱۴_قال ابوعبدالله علیه السلام: علیکم بالدعاء فانّکم لاتقربون بمثله و لا تترکوا صغیرة لصغرها ان تدعوا بها، ان صاحب الصغار هو صاحب الکبار_ کافی/ ج ۲ ص ۴۶۷_

۵۱۵_عن الرضا علیه السلام انه کان یقول لاصحابه: علیکم بسلاح الانبیاء فقیل و ما سلاح الانبیائ؟ قال: الدعائ_ کافی/ ج ۲ ص ۴۶۸_

۵۱۶_قال ابوجعفر علیه السلام: انّ الله یحبّ من عباده المؤمنین کلّ عبد دعّاء فعلیکم بالدعاء فی السحر الی طلوع الشمس، فانها ساعة تفتح فیها ابواب السماء و تقسم فیها الارزاق و تقضی فیها الحوائج العظام_ کافی/ ج ۲ ص۴۷۸_

۵۱۷_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: الدعاء سلام المؤمن و عمود الذین و نورالسموات و الارض_ کافی/ج ۲ ص ۴۶۸_

۵۱۸_قال امیرالمؤمنین علیه السلام: الدعاء مفاتیح النجاح و مقالید الفلاح و خیرالدعا ما صدر عن صدر نقيّ و قلب تقيّ و فی المناجات سبب النجاة و بالاخلاص یکون الخلاص فاذا اشتدّ الفزع فالی الله المفزع_ کافی/ ج ۲ ص ۴۶۸_

۵۱۹_قال رسول الله صلی الله علیه و آله: رحم الله عبداً طلب من الله حاجة فالحّ فی الدعاء استجیب له اولم یستجب له و تلا هذه الآیه و ادعوا ربّ عسی الّا اکون بدعاء ربّی شقيّاً_ کافی/ ج ۲ ص ۴۷۵_

۵۲۰_عن ابیعبدالله علیه السلام قال: ان المؤمن لیدعوا لله فی حاجته فیقول الله تعالی: اخّروا اجابته شوقاً الی صوته و دعائه فاذا کان یوم القیامة قال الله: عبدی دعوتنی فاخرت اجابتک، و ثوابک کذا و کذا و دعوتنی فی کذا و کذا فاخرت اجابتک و ثوابک کذا و کذا_ فیتمنّی المؤمن انّه لم یستجب له دعوة فی الدنیا ممّا یری من حسن الثواب_ کافی/ ج ۲ ص ۴۹۰_


۵۲۱_قال الصادق علیه السلام: احفظ ادب الدعاء و انظر من تدعو و کیف تدعو و لماذا تدعو و حقّق عظمة الله و کبریائه و عاین بقلبک علمه بما فی ضمیرک و اطلاعه علی سرک و ما یکنّ فیه نجاتک قال الله تعالی: و یدع الانسان بالشرُ دعائة بالخیر و کان الانسان عجولا و تفکر ما ذا تسال و لماذا تسال و الدعاء استجابه لکل منک للحق و تذویب المهجة فی مشاهدة الرب و ترک الاختیار جمیعا و تسلیم المور کلها ظاهرها و باطنها الی اله فان لم تات بشرط الدعاء فلا تنتظر الاجابه فانه یعلم السر و اخفی _ فلعلک تدعوه بشیء قد علم من نیتک بخلاف ذلک _ حقائق فیض ، ص ۲۴۲_

۵۲۲_ قال رسول الله صلی الله علیه و آله: الصوم جنة من النار _ وسائل ، ج ۷ ص ۲۸۹_

۵۲۳_ عن ابی عبدالله علیه السلام قال : ان الله تعالی یقول : الصوم لی و انا اجزی علیه _ وسائل ، ج ۷ ص ۲۹۰_

۵۲۴_ قال رسول الله صلی الله علیه و آله : من صام یوما تطوعا ابتغاء ثواب الله وجبت له المغفرة وسائل ، ج ۷ ص ۲۹۳_

۵۲۶_ عن ابی عبدالله علیه السلام قال : نوم الصائم عبادة و صمته تسبیح و عمله متقبل و دعائه مستجاب _ وسائل ، ج ۷ ص ۲۹۴_

۵۲۶_ عن ابی عبدالله علیه السلام قال: نوم الصائم عبادة و صمته تسبیح و عمله متقبل و دعاء ه مستجاب _ وسائل ، ج ۷ ص ۲۹۴_

۵۲۷_ قال رسو الله صلی الله علیه و آله: قال الله عزّ و جل : کلّ اعمال ابن آدم بعشرة اضعافها الی سبعماة ضعف الاّ الصبر فانّه لی و انا اجزی به ، فثواب الصبر مخزون فی علم الله و الصبر الصوم وسائل ، ج ۷ ص ۲۹۵_

۵۲۸_امیر المؤمنین علیه السلام عن النبی صلی الله علیه و آله انه قال: فی لیلة المعراج یا ربّ ما اوّل العبادة؟ قال : اوّل العبادة الصّمت و الصوم _ قال یاربّ و ما میراث الصوم؟ قال یورث الحکمة و الحکمة تورث المعرفة و المعرفة تورث الیقین فاذا استیقن العبد لا یبالی کیف اصبح بعسر ام بیسر _ مستدرک ، ج ۱ ص ۵۹۰_

۵۲۹_ قال ابو عبدالله علیه السلام : لیس الصیام من الطعام و الشراب ان لا یاکل الانسان و لا یشرب فقط و لکن اذا صمت فلیصم سمعک و بصرک و لسانک و بطنک و فرجک و احفظ یدک و فرجک و اکثر السکوت الاّ من خیر و ارفق بخادمک _ وسائل ، ج ۷ ص ۱۱۸_

۵۳۰_ عن ابی عبدالله علیه السلام قال: ان الصیام لیس من الطعام و الشراب وحده ، انّما للصوم شرط یحتاج ان یحفظ حتی یتمّ الصوم و هو الصمت الداخل ، اما تسمع قول مریم بنت عمران ، انّی نذرت للرحمان صوما فلن اکلّم الیوم انسیا، یعنی صمتا_ فاذا صمتم فاحفظوا السنتکم عن الکذب و غضّوا ابصارکم و لا تنازعوا و لا تحاسدوا و لا تشاتموا و لا تنابزوا و لا تجادلو ا ولا تبادوا و لا تظلموا و لا تسافهوا و لا تزاجروا و لا تغفلوا عن ذکر الله و عن الصلاة والزموا الصمت و


السکوت و الحلم و الصبر و الصدق و مجانبة اهل الشر و اجتنبوا قول الزور و الکذب و الفراء و الخصومة و ظنّ السوء و الغیبة و النمیمة و کونوا مشرفین علی الاخرة منتظرین لا يّامکم ، منتظرین لما وعدکم الله متزوّدین للقاء الله و علیکم السکینه و الوقار و الخشوع و الخضوع و ذلّ العبد الخائف من مولاء راجین خائفین راغبین راهبین قد طهّرتم القلوب من العیوب و تقدّست سرائرکم من الخبّ و نظفت الجسم من القاذورات ، تبرّا الی الله من عداه و والیت الله فی صومک بالصمت من جمیع الجهات مما قد نهاک الله عنه فی السرّ و العلانیة و خشیت الله حق خشیته فی السرّ و العلانیة ووهبت نفسک الله فی ایام صومک و فرغت قلبک له و نصبت قلبک له فیما امرک و دعاک الیه ، فاذا فعلت ذلک کله فانت صائم الله بحقیقة صومه صانع لما امرک و کلّما نقصت منها شیئا مما بيّنت لک فقد نقص من صومک بمقدار ذلک (الی ان قال) ان الصوم لیس من الطعام و الشراب انما جعل الله ذلک حجابا مما سواها من الفواحش من الفعل و القوم یفطر الصوم _ ما اقل الصوّام و اکثر الجوّاع ؟ _ وسائل ، ج ۷ ص ۱۹۹_

۵۳۱_یا ایها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلّکم تتّقون _ بقرہ ، ۱۸۳_

۵۳۲_ ان ابا عبدالله علیه السلام یوصی ولده اذا دخل شهر رمضان : فاجتهدوا انفسکم فان فیه تقسم الارزاق و تکتب الاجال و فیه یکتب وفد الله الذی یفدون الیه و فیه لیلة العمل فیها خیر من الف شهر _ وسائل، ج ۷ ص ۲۲۱_

۵۳۳_ قال امیر المؤمنین علیه السلام : علیکم فی شهر رمضان بکثرة الدعاء و الاستغفار فاما الدعاء فیدفع به عنکم البلاء و اما الاستغفار فتمحی به ذنوبکم _ وسائل ، ج ۷ ص ۲۲۳_

۵۳۴_ علی علیه السلام قال: ان رسول الله خطبنا ذات یوم فقال: ایها الناس انه قد اقبل الیکم شهر الله بالبرکة و الرحمة و المغفرة _ شهر هو عند الله افضل الشهور و ایامه افضل الایام و لیالیه افضل اللیالی و ساعاته افضل الساعات ، هو شهر دعیم فیه الی ضیافة الله و جعلتم فیه من اهل کرامة الله انفاسکم فیه تسبیح و نومکم فیه عبادة و عملکم فیه مقبول و دعائکم فیه مستجاب ، فاسالوا الله ربّکم بنیات صادقة و قلوب طاهرة ان یوفقکم لصیامه و تلاوة کتابه ، فان الشقی من حرم غفران الله فی هذا الشهر العظیم واذکروا بجوعکم و عطشکم فیه جوع یوم القیامة و عطشه ، و تصدّقوا علی فقرائکم و مساکینکم ، ووقّروا کبارکم وارحموا صغارکم وصلوا ارحامکم واحفظوا السنتکم و غضّوا عمّا لا یحلّ النظر الیه ابصارکم و عمّا لا یحلّ الاستماع الیه اسماعکم و تحنّنوا علی ایتام الناس یتحنن علی ایتامکم وتوبوا الی الله من ذنوبکم وارفعوا الیه ایدیکم بالدعاء فی اوقات صلاتکم فانها افضل الساعات ینظر الله عزّ وجل فیها بالرحمة الی عباده ، یجیبهم اذانا جوه و یلبیهم اذا نادوه و یعطیهم اذا سالوه و یستجیب لهم اذا دعوه ...

ایها الناس ان انفسکم مرهونة باعمالکم ففكّوها باستغفارکم ، و ظهورکم ثقیلة من اوزارکم فخفّفوا عنها بطول سجودکم واعملوا ان الله اقسم بعزّته ان لا یعذّب المصلّین والساجدین و ان لا یروعهم بالنار یوم یقوم الناس لربّ العالمین _ ایها الناس من فطر منکم صائما مؤمنا فی هذا الشهر کان له بذلک عند الله عتق نسمة و مغفرة لما مضی من


ذنوبه _ قیل یا رسول الله فلیس کلّنا نقدر علی ذلک ، فقال صلی الله علیه و آله : اتقوا النار و لو بشقّ تمرة ، اتقوا النار و لو بشربة من مائ، ایها الناس من حسّن منکم فی هذا الشهر خلقه کان له جوازاعلی الصراط یوم تزلّ فیه الاقدام و من خفف فی هذا الشهر عما ملکت یمینه خفّف الله علیه حسابه و من کفّ فیه شرّه کفّ الله عنه غضبه یوم یلقاء و من اکرم فیه یتیما اکرمه الله یوم یلقاه و من وصل فیه رحمه و صله الله برحمته یوم یلقاه و من قطع فیه رحمه قطع الله عنه رحمته یوم یلقاه و من تطوّع فیه بصلاة کتب الله برائة من النار و من ادّی فیه فرضا کان له ثواب من ادّی سبعین فریضة فیما سواه من الشهور و من اکثر فیه الصلاة عليّ ثقّل الله میزانه یوم تخفّ الموازین و من تلا فیه آیة من القرآن کان له مثل اجر من ختم القرآن فی غیره من الشهور_ ایها الناس ان ابواب الجنان فی هذا الشهر مفتّحةفاسالوا ربّکم ان لا یغلقها علیکم و الشیاطین مقلولة فاسئلوا من ربکم ان لا یسلّطها علیکم ، قال امیر المؤمنین علیه السلام فقمت فقلت: یا رسول الله ما افضل الاعمال فی هذا الشهر؟ فقال: یا ابا الحسن افضل الاعمال فی هذا الشهر الورع عن محارم الله _ وسائل ، ج ۷ ص ۲۲۷_


فہرست

تقدیم ۴

تقدیم ۴

مقدمہ ۵

مقدمہ ۵

اہم نقطہ ۶

پیغمبروں کے بعثت کی اہم غرض نفوس کا پاکیزہ کرنا تھا ۷

بزرگ شناسی و خودسازی ۱۰

روح انسانی اور نفس حیوانی ۱۲

انسانی ارزش ۱۷

باطنی زندگی ۲۳

اپنے آپ کو کیسے بنائیں؟ ۲۸

قرآن میں قلب ۳۳

قرآن میں قلب ۳۳

فہم اور عقل: ۳۳

عدم تعقل و فہم: ۳۳

ایمان: ۳۴

کفر و ایمان: ۳۴

نفاق: ۳۴

ہدایت پانا: ۳۴


اطمینان اور سکون: ۳۴

اضطراب و تحیر: ۳۵

مہربانی اور ترحم: ۳۵

سخت دل: ۳۵

قلب کی صحت و بیماری ۳۶

قلب روح احادیث میں ۴۱

قلب کافر ۴۳

قسی القلب ۴۵

قلب کے طبیب اور معالج ۴۸

قلب کے طبیب اور معالج ۴۸

تکمیل اور تہذیب نفس ۵۰

پہلا حصہ ۵۳

پہلا حصہ ۵۳

تخلیہ یا تہذیب نفس تہذیب نفس ۵۳

تہذیب نفس ۵۴

بیماری سے غفلت ۵۶

نفس کی بیماریوں کے تشخیص کے راستے ۵۷

نفس کی بیماریوں کے تشخیص کے راستے ۵۷

علاج کرنے کا عزم ۶۸

نفس پس غلبہ کرنا ۷۱


نفس کے ساتھ جہاد ۷۶

نفس کے ساتھ جہاد ۷۶

جہاد اکبر ۷۸

جہاد اور تائید الہی ۸۱

جہاد اور تائید الہی ۸۱

اپنا طبیب خود انسان ۸۳

تہذیب نفس کے مراحل ۸۵

تہذیب نفس کے مراحل ۸۵

یکدم ترک کرنا ۸۷

آہستہ آہستہ ترک کرنا ۹۳

آہستہ آہستہ ترک کرنا ۹۳

۱_ فکر کرنا_ ۹۵

۲_ تادیب و مجازات_ ۹۶

۳_ اللہ تعالی کی کرامت کی طرف توجہہ کرنا اور انسانی اقدار کو قوی بنانا ۹۸

برے دستوں سے قطع تعلق_ ۱۰۱

۵_ لغزش کے مقامات سے دور رہنا_ ۱۰۳

خودپسندی اور خودخواہی تمام مفساد کی جڑ ہے ۱۰۵

خودپسندی اور خودخواہی تمام مفساد کی جڑ ہے ۱۰۵

تمام گناہوں کی جڑ دنیا طلبی ہے ۱۰۸

دنیا کیا ہے؟ ۱۱۰


دنیا کی حقیقت ۱۱۴

اہل آخرت ۱۱۶

اہل دنیا ۱۱۹

اہل دنیا اور اہل آخرت ۱۲۰

تقوی تزکیہ نفس کا اہم عامل ۱۲۳

تقوی تزکیہ نفس کا اہم عامل ۱۲۳

احکام کی غرض تقوی ہے ۱۲۵

تقوی کی تعریف ۱۲۶

تقوی اور گوشہ نشینی ۱۲۹

تقوی اور بصیرت ۱۳۰

تقوی اور مشکلات پر قابو پانا ۱۳۳

تقوی اور آزادی ۱۳۵

تقوی اور بیماریوں کا علاج ۱۳۷

متقیوں کے اوصاف ۱۳۹

متقیوں کے اوصاف ۱۳۹

نفس پر کنٹرول کرنے اور اسے پاک کرنے کا اہم سبب مراقبت ہوتا ہے ۱۴۴

نفس پر کنٹرول کرنے اور اسے پاک کرنے کا اہم سبب مراقبت ہوتا ہے ۱۴۴

اعمال کا ضبط کرنا اور لکھنا ۱۴۴

قیامت میں حساب ۱۴۵

قیامت سے پہلے اپنا حساب کریں ۱۴۸


کس طرح حساب کریں ۱۵۱

۱_ مشارطہ اور عہد لینا ۱۵۳

۲_ مراقبت ۱۵۵

۳_ اعمال کا حساب ۱۵۶

توبہ یا نفس کو پاک و صاف کرنا ۱۶۳

توبہ یا نفس کو پاک و صاف کرنا ۱۶۳

توبہ کی ضرورت ۱۶۴

توبہ کا قبول ہونا ۱۶۷

توبہ کا قبول ہونا ۱۶۷

توبہ کیا ہے؟ ۱۶۸

جن چیزوں سے توبہ کی جانی چاہئے ۱۷۰

۱ _ اخلاقی گناہ ۱۷۱

۲_ عملی گناہ ۱۷۱

دوسرا حصہ ۱۷۳

نفس کی تکمیل اور تربیت ۱۷۳

نفس کی تکمیل اور تربیت ۱۷۴

نفس کی تکمیل اور تربیت ۱۷۴

خدا سے قرب ۱۷۴

قرب خدا کا معنی ۱۷۶

قرب مکان ۱۷۶


قرب زمانی ۱۷۷

قرب مجازی ۱۷۷

کمالات انسان کی بنیاد ایمان ہے ۱۸۰

کمالات انسان کی بنیاد ایمان ہے ۱۸۰

تکامل اور قرب حاصل کرنیکے اسباب ۱۸۳

تکامل اور قرب حاصل کرنیکے اسباب ۱۸۳

پہلا وسیلہ ۱۸۳

ذکر خدا ۱۸۳

ذکر خدا کا مراد ۱۸۷

ذکر کے مراتب ۱۹۰

پہلا درجہ ۱۹۱

پہلا درجہ ۱۹۱

دوسرا درجہ _ ۱۹۱

تیسرا درجہ ۱۹۱

چوتھا درجہ ۱۹۱

ذکر اور بقاء کے آثار اور علائم ۱۹۸

ذکر اور بقاء کے آثار اور علائم ۱۹۸

خداوند عالم کی اطاعت ۱۹۸

خضوع اور عاجزی ۱۹۹

خدا کی بندے کی طر توجہ _ ۲۰۲


خدا کی بندے کی طر توجہ _ ۲۰۲

خدا کا بندے سے محبت کرنا_ ۲۰۳

اہم اثر: ۲۰۴

پہنچنے کے راستے ۲۰۶

پہنچنے کے راستے ۲۰۶

۱_ فکر اور دلیل ۲۰۶

۲_ آیات ا لہی میں غور کرنا ۲۰۷

۳_ عبادت ۲۰۸

۴_ اذکار اور دعائیں_ ۲۰۹

وظائف اور دستور ۲۱۳

وظائف اور دستور ۲۱۳

امیر المومنین(ع) کا حکم ۲۱۷

امام جعفر صادق(ع) کا حکم ۲۲۱

مرحوم مجلسی کا دستور العمل ۲۲۵

ملا آخوند حسین قلی کا خط ۲۲۶

میرزا جواد آقا تبریزی کا دستور العمل ۲۲۹

شیخ نجم الدین کا دستور العمل ۲۳۰

موانع (رکاوٹیں) ۲۳۴

موانع (رکاوٹیں) ۲۳۴

پہلی رکاوٹ ۲۳۴


دوسری رکاوٹ ۲۳۵

تیسری رکاوٹ ۲۳۸

چوتھی رکاوٹ ۲۳۸

پانچویں رکاوٹ ۲۴۰

چھٹی رکاوٹ ۲۴۲

چھٹی رکاوٹ ۲۴۲

ساتویں رکاوٹ ۲۴۳

دوسرا وسیلہ ۲۴۵

دوسرا وسیلہ ۲۴۵

فضائل اور مکارم اخلاق کی تربیت ۲۴۵

تیسرا وسیلہ ۲۴۷

تیسرا وسیلہ ۲۴۷

عمل صالح ۲۴۷

اخلاص ۲۴۹

کچھ نیک اعمال ۲۵۶

کچھ نیک اعمال ۲۵۶

اول: واجب نمازیں ۲۵۶

نماز میں حضور قلب ۲۵۸

نماز میں حضور قلب ۲۵۸

حضور قلب کے مراتب ۲۶۲


حضور قلب کے مراتب ۲۶۲

پہلا مرتبہ ۲۶۲

دوسرا مرتبہ ۲۶۲

تیسرا مرتبہ ۲۶۳

تیسرا مرتبہ ۲۶۳

چوتھے مرتبہ ۲۶۳

پانچواں مرتبہ ۲۶۳

حضور قلب اور توجہ کے اسباب ۲۶۴

۱_ گوشہ نشینی ۲۶۴

۲_ رکاوٹ کا دور کرنا ۲۶۵

۳_ قوت ایمان ۲۶۶

۳_ قوت ایمان ۲۶۶

۴_ موت کی یاد ۲۶۶

۵_ آمادگی ۲۶۷

دوم _ نوافل ۲۷۰

سوّم_ تہجّد ۲۷۲

نماز شب کی کیفیت ۲۷۵

نماز شب کی کیفیت ۲۷۵

چوتھا وسیلہ ۲۷۶

چوتھا وسیلہ ۲۷۶


جہاد اور شہادت ۲۷۶

دوسری _ ایثار کی مقدار ۲۷۹

پانچواں وسیلہ ۲۸۱

پانچواں وسیلہ ۲۸۱

خدمت خلق اور احسان ۲۸۱

چھٹا وسیلہ ۲۸۴

چھٹا وسیلہ ۲۸۴

دعا ۲۸۴

ساتواں وسیلہ ۲۸۹

ساتواں وسیلہ ۲۸۹

روزہ ۲۸۹

اپنے آپ کو سنوار نے میں روزے کا کردار ۲۹۲

حواشی-۱ ۲۹۸

حواشی-۲ ۳۱۴


خودسازی (یعنی)تزكيه و تهذيب نفس

خودسازی (یعنی)تزكيه و تهذيب نفس

مؤلف: آيت اللہ ابراہيم اميني
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 346