یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
كتاب:آئینۂ اخلاق
مصنف: آیۃ اللہ الشیخ عبد اللہ المامقانی طاب ثراہ
عرض مترجم
’’تبلیغات ایمانی‘‘ کے سلسلے کے آغاز کے طور پر ’’یاد شہید صدر طاب ثراہ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی مجالس میں بمبئی حاضر ہوا تو حجتہ الاسلام و المسلمین آقائی سید محمد الموسوی دام لطفہ نے اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی جسے میں ایک عرصہ سے محسوس کر رہا تھا لیکن حالات کی مجبوری کی بناپر منزل عمل میں نہ لاسکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے دینی اور دنیوی دونوں طرح کے نظام تعلیم میں اخلاقیات کا تقریباً فقدان ہے اور دو ایک علمی کتابوں کے علاوہ اخلاقی تعلیم اور تربیت نہ ہونے کے برابر ہے جسکے اثرات کا ہر صنف میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور جب علوم دین و دنیا کے طلاب اخلاقی تربیت سے بیگانہ ہو جائیں تو عوام کا کیا کہنا ہے انھیں تو ویساہی ہونا چاہئے جیسے کہ ہیں یا اس سے بھی بدتر ہونا چاہئے۔
اس سلسلہ میں میں نے تنقیدی مضامین بھی لکھے اور اپنے رفقاء کار کی مدد سے تنظیم المکاتب کا ’’اخلاقیات نمبر‘‘ بھی نکالا لیکن حسب توقع اثر ظاہر نہ ہو سکا۔ اور نقش اوّل اتنا موثر ہوتا بھی نہیں ہے۔ اب حضرت موسوی دام لطفہٗ نے اپنے اثرات کو استعمال کرتے ہوئے دو کتابیں رائج کرنے کا ارادہ کیا ہے اور کمال محبت و عنایت سے دونوں کے ترجمہ کا کام حقیر کے حوالے کر دیا ہے۔ حالانکہ ملک میں بڑے بڑے صاحبانِ قلم، اہل علم اور صحیح ادبی ترجمہ کرنے والے موجود ہیں لیکن موصوف کو ’’بے ہنگم‘‘ کام ہی پسند ہے اور میری تو عادت ہی عجلت پسندی کی ہے یہاں تک کہ میرے استاد شہید خامس سرکار محمد باقر الصدر طاب ثراہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اردو داں ہوتا اور اردو زبان میں کتاب لکھتا تو اتنی تیزی سے تالیف نہیں کر سکتا تھا جتنی تیزی سے یہ ’’سید‘‘ ترجمہ کرتا ہے۔ یا انھیں کے فیوض و برکات اور شہادت کے روحانی اثرات ہیں کہ دو ۲! دن میں ’’خلاصہ حلیتہ المتقین‘‘ کا ترجمہ کر کے روانہ کردیا اور اب تبلغاتِ ایمانی کے دوسرے دورہ میں حیدرآباد آیا تو چار دن کے مستقل قیام اور عمومی طور پر اہل علم و مال دونوں میں ’’دید و باز دید‘‘ کی ’’فرسودہ روایت‘‘ کے نہ ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’مرآۃ الرشاد‘‘ کا ترجمہ کرکے حاضر کر رہا ہوں۔ عجلت کا کام جیسا ہوتا ہے اور اس کا جو انجام ہوتا ہے وہ اس کتاب میں بھی ہوگا۔ لیکن میری مصروفیت اور کم علمی کا لحاظ کرتے ہوئے آپ حضرات صحت اور ادبی سلاست و لطافت پر توجہ دینے کے بجائے کتاب کے مطالب پر توجہ دیں تاکہ اپنی نسل کی صحیح اخلاقی تربیت کر سکیں اور تعلیمات اسلام کے زیرسایہ زندگی کا دستور العمل مرتب کرسکیں۔
السید ذیشان حیدر جوادی
۳! جمادی الثانیہ ۱۴۰۳ ھ حیدرآباد
فصل اوّل
مختصر اصولِ دین کا تذکرہ
میرے فرزند! خدا تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کرے اور ہر عالم میں گناہ و معصیت و لغزش سے محفوظ رکھے۔ یاد رکھو کہ سب سے پہلا اسلامی فریضہ اصول دین کے بارے میں غور و فکر کرنا ہے کہ دلائل کے ساتھ عقیدے کی بنیاد مضبوط کی جائے اور خالق کائنات، انبیاء اور اولیاء کے بارے میں یقین کو مستحکم بنایا جائے انسان انسان سے پیدا ہوا ہے حیوان نہیں ہے۔
مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان سراسر علم و حکمت اور کلام میں مشغول ہو جائے اور مفصل کتابوں کا مطالعہ شروع کر دے۔ اس کام سے تو میں کمال علم و عقل سے پہلے منع بھی کرتا ہوں کہ ان کتابوں میں ایسے شبہات موجود ہیں جو کسی وقت بھی انسان کو ہلاک کر سکتے ہیں اور اسی لئے ائمہ معصومین (ع) نے ان الجھنوں میں پڑنے سے منع کیا ہے بلکہ شدت سے منع کیا ہے۔
میرا مقصد یہ ہے کہ عقائد مجلسیؒ جیسی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور عقیدہ کو دلائل کے ذریعہ مضبوط بنایا جائے۔ مثلاً وجودِ خدا کے ثبوت کے لئے کائنات اور اس کے عجائبات کا مطالعہ کیا جائے اور سوچا جائے کہ کوئی اثر موثر کے بغیر نہیں پیدا ہو سکتا جیسا کہ شاعر نے کہا ہے۔
پئے وجودِ خدا کائنات کی ہر شے سکون ہو کہ ہو حرکت عظیم شاہد ہے۔
ہر ایک شے سے نمایاں ہے اسکی شان کمال یہ کائنات ہے آیت کریم واحد ہے۔
(جوادی)
امیر المومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’ان انسانوں کا خیال ہے کہ یہ وہ گھاس ہیں جن کا اُگانے والا کوئی نہیں ہے وہ صورت ہیں جن کا مصور کوئی نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے دعویٰ کی تحقیق بھی نہیں کی اور کسی دلیل کی جستجو بھی نہیں کی۔ کاش یہ سوچتے کہ کیا بغیر بانی کے کوئی بنا ہو سکتی ہے یا بغیر عامل کے کوئی عمل ہو سکتا ہے؟
اس ارشادِ گرامی سے امام علیہ السلام کا مقصد یہ ہے کہ محسوسات پر قیاس کر کے ایک ایسا طریقہ استدلال رائج کیا جائے جہاں منکر کو مدّعی کی صف میں کھڑا کر کے اس سے ثبوت کا مطالبہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ جب عالم محسوسات میں کوئی شے بغیر موجد کے وجود میں نہیں آسکتی تو عالم کے بارے میں اس کے خلاف دعویٰ کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ اس کا ثبوت پیش کرے اور یہ مناظرہ کا وہ بہترین طریقہ ہے جہاں منکر کو مدعی بنا کر بارِ ثبوت اس کے سر ڈال دیا جاتا ہے اکہ اس کا دعویٰ قانون ارتکاز کے خلاف ہے جیسا کہ اعرابی نے وجودِ خدا کا اندازہ کر لیا کہ میگنی اونٹ کے وجود کی دلیل ہے اور نشان قدم راہرو کے گزرنے کا ثبوت ہیں تو اتنی بڑی کائنات و جودِ خدا کی دلیل کیوں نہ ہوگی۔
یہی طریقۂ استدلال ضعیفہ نے بھی استعمال کیا تھا کہ جب میرے بغیر چرخہ نہیں چلتا ہے تو خالق کے بغیر کائنات کیسے چل سکتی ہے اور یہ فطری اور ارتکازی طریقہ اس قدر مستحسن اور سنجیدہ ہے کہ روایات میں ضعیفہ جیسے ایمان کی تاکید کی گئی ہے اور اسے بہترین طریقۂ استدلال قرار دیا گیا ہے۔
فرزند! خدا تمہیں شرک و نفاق سے محفوظ رکھے۔ توحید پروردگار کی دلیل کے لئے یہ کافی ہے کہ خداؤں کا تعدد عالم کی تباہی کا باعث ہے جیسا کہ پروردگار عالم نے خود فرمایا ہے کہ اگر دو خدا ہوتے تو زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جاتے اور امیر الموحدین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ’’اگر خدا کے علاوہ کوئی دوسرا بھی خدا ہوتا تو اس کے بھی پیغمبر اور رسول ہوتے‘‘۔ یہاں بھی امام(ع) نے منکر کو مدعی بنا دیا ہے کہ خدائی بغیر مرسلین کے نہیں ثابت ہو سکتی تو اگر کوئی دوسرے خدا مدعی ہو تو اس کے پیغمبر اور رسول بھی تلاش کرکے لائے۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ دو خدا ہوں گے تو دونوں میں ایک جہت مشترک ہوگی اور ایک جہت امتیاز اور اس طرح دونوں مرکب ہو جائیں گے اور یہ خود ایک نقص ہے جو خدائی کے لئے مضر ہے۔ پھر اگر دونوں میں کوئی بھی خدائی کے لئے کافی نہ ہوگا تو دونوں خدائی سے خارج ہو جائیں گے اور اگر کوئی ایک بھی کافی ہو گا تو دوسرا خدا نہ رہ جائے گا اور اگر دونوں الگ الگ کافی ہوں گے تو اظہار خدائی میں اختلاف پیدا ہوگا اور کوئی چیز عالم وجود میں نہ آسکے گی۔
فرزند! صفاتِ سلبیہ کی نفی کے لئے بہترین ثبوت یہ ہے کہ یہ سب نقائص ہیں اور خدا نقائص سے پاک و پاکیزہ ہے جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’کمال اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفات کی نفی کی جائے کہ صفت موصوف سے الگ ایک شے ہوتی ہے۔‘‘
فرزند! نبوت مطلقہ کے ثبوت کے لئے یہ کافی ہے کہ لطف پروردگار کا فریضہ ہے اور لطف کا تقاضا یہ ہے کہ خالق و مخلوقات کے درمیان ایک واسطہ رہے جو اُدھر کے فیض کو اِدھر پہونچاتا رہے اور اس کے ارشادات کے مطابق خیر و شر، نفع و نقصان کی خبر دیتا رہے اور اس کے اوامر و نواہی کی تبلیغ کرتا رہے اس لئے کہ حقیقی مصالح و مفاسد تک پہونچنا وحی و الہام کے بغیر ممکن نہیں ہے اور وحی و الہام کا مرتبہ خواہشاتِ نفس میں ڈوبے ہوئے انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ وہ مرکز اعلیٰ تک رسائی نہیں حاصل کر سکتا اس کے لئے ایسا نفس درکار ہے جو غفلت کی نیند اور خواہشات کے نشہ میں نہ ہو۔ نفس امارہ کا قیدی اور دار ظلمت میں طالب آرام ہو۔ روحانیات و مجاہدات سے نفس کی تکمیل کرے اور توجہات پروردگار کا مرکز بن کر مر کز وحی و الہام قرار پا جائے۔
یہ بھی یاد رہے کہ وحی و الہام کا اندازہ ہر شخص کے لئے ممکن نہیں ہے اسلئے معجزہ ضروری ہے تاکہ نبوت ثابت ہو سکے اور عبد و معبود کے درمیان خصوصی رابطہ کا اندازہ ہو سکے۔
نبوت خاصہ (نبوت مرسل اعظم(ص)) کے لئے یہ دلیل کافی ہے کہ حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم ہاشمی و قرشی نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے توحید اور نبوت کی دعوت دی ہے اور بے شمار معجزات کا اظہار کیا ہے اور جو ایسا کریگا وہ صاحبِ منصب ہوگا بشرطیکہ ویسے ہی کمالات کا حامل ہو جیسے کمالات سرکارِ دوعالم کو حاصل تھے اس لئے کہ خدا جھوٹے کی تائید نہیں کر سکتا اور اسے معجزہ نہیں دے سکتا۔
آپ(ص) کے معجزات میں قرآن مجید کا وجود کافی ہے کہ اسے قدرت نے آپ(ص) کو عطا فرمایا ہے جبکہ غلط مدعی کے ہاتھ میں معجزہ دینا قبیح اور تائید باطل ہے اور یہ شانِ عدالت پروردگار کے خلاف ہے۔
آپ(ص) کی نبوت سے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی نبوت بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ آپ(ص) نبی تھے اور آپ(ص) نے اس قدر انبیاء کی خبر دی ہے اور نبی غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا۔
قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آپ(ص) نے قرآن مجید کو پیش کر کے اہلِ زبانِ عرب کے سامنے دو راستے رکھے تھے یا اِس قرآن کا جواب لے آئیں یا آپ(ص) کی نبوت پر ایمان لے آئیں۔ ورنہ پھر جنگ و جدال اور قتال کیلئے آمادہ ہو جائیں۔ جس کے نتیجہ میں ہر طرح کی قید و بند اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا لیکن عرب نے صاحب زبان ہونے کے باوجود سارے مصائب برداشت کئے اور جواب پیش نہیں کیا جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ جواب پیش کرنے سے عاجز تھے ورنہ اس طرح قتل و غارت اور غلامی و اسارت پر راضی نہ ہوتے۔
اور یہ خیال کہ کلام معجزہ نہیں ہوتا۔ ایک خیالِ فاسد ہے۔ معجزہ ہر اس شے کا نام ہے جس کے جواب لانے سے لوگ عاجز رہ جائیں اور اس سے یہ واضح ہو جائے کہ اس شخص کا رب العالمین سے خاص ارتباط ہے۔ معجزہ کے مافوق عادت ہونے کا ثبوت اہل فن کا اقرار ہوتا ہے جس طرح کہ ساحروں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے بارے میں اقرار کیا تھا اور فصاحت و بلاغت کے رموز سے آشنا عرب نے قرآنِ مجید کے بارے میں اعتراف کیا ہے اور آیاتِ قرآن کے مقابلہ میں اپنے قصائد دیوار کعبہ سے اُتار لئے ہیں۔
ولایت مطلقہ کے بارے میں وہی تمام دلائل ہیں جو نبوت مطلقہ کے بارے میں بیان ہوئے ہیں اور ولایت خاصہ کے بارے میں وہ اخبار صریحہ دلیل ہیں جن میں پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا ہے اور اس کے بعد ان کی گیارہ اولاد کو امام قرار دیا ہے اسکے علاوہ ان حضرات کے کرامات خود بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بغض معاندین کا روایات کے بارے میں اعتراض کرنا ایک ہٹ دھرمی کے علاوہ کچھ نہیں ہے جس کے مکمل جوابات کتابوں میں مندرج ہیں اور یہ مسئلہ اس قدر واضح ہو چکا ہے کہ دشمن بھی دل کے اندر شبہ نہیں پیدا کر سکتا چاہے باہر سے کسی قدر انکار کیوں نہ کرے۔
قیامت کے بارے میں تمام اہل مذاہب کا اتفاق ہے کہ اس کا اقرار کرنا چاہئے اور انکار نہیں کرنا چاہئے اگر چہ بعض حکماء اور متکلمین نے تفصیلات میں شبہات پیدا کئے ہیں لیکن تفصیلات کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کے لئے اجمالی ایمان کافی ہے جیسا کہ آیات کریمہ اور روایاتِ متواترہ نے بیان کر دیا ہے اور طریقۂ استدلال بھی بتا دیا ہے کہ عادلِ حکیم کو اعمال کے مطابق جزا و سزا دینی چاہئے اور اسی جسم کو دینا چاہئے جس سے اعمال سرزد ہوئے ہیں۔ جسم کا فنا ہو جانا اس کی دوبارہ واپس نہ ہو سکنے کی دلیل نہیں کہ پیدا کرنے والے نے عدم سے وجود دیا ہے تو اب دوبارہ پیدا کرنے میں کیا زحمت ہے جبکہ مادہ باقی ہے چا ہے کسی شکل میں ہو جیسا کہ قرآن مجید نے ارشاد کیا ہے کہ ’’جیسے پیدا کیا ہے ویسے ہی دوبارہ ایجاد کریں گے۔‘‘
فصل دوم
دعوتِ اطاعت اور تنبیہ معصیت
فرزند! خدا تمہیں اطاعت کی توفیق دے اور معصیت سے محفوظ رکھے پروردگار اپنی مخلوق سے بے حد محبت کرتا ہے جس طرح کہ ہر صانع کو اپنی صنعت سے پیار ہوتا ہے۔ اس نے واجبات و مستحبات و محرومات و مکروہات کے احکام صرف بندوں کی مصلحت اور انھیں نقصان سے بچانے کے لئے معین کئے ہیں ورنہ اُسے نہ کسی کی اطاعت سے کوئی فائدہ ہے اور نہ کسی کی معصیت سے کوئی نقصان ہے۔ وہ غنی مطلق اور بے نیاز ہے۔ اس کا مقصد بندوں کے حالات کی اصلاح کرنا اور انھیں فائدہ پہونچانا ہے۔ اس کے احکام کی نافرمانی کرنا شکرِ منعم اور اطاعتِ مولا کی خلاف ورزی کے علاوہ سفاہت اور حماقت بھی ہے اس لئے کہ یہ اپنے فائدہ کی مخالفت ہے اور اپنے کو نقصان کے حوالے کرنا ہے۔
فرزند! معصیت سے بچو کہ یہ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کا باعث ہے۔ آدم کو ایک ترک اولیٰ پر جنت چھوڑنا پڑی ہے تو تمہاری کیا حقیقت ہے۔
فرزند! خبردار سُستی اور بیکاری سے کام نہ لینا کہ شیطان اور نفسِ امارہ جب برائیوں کو آراستہ کرنے اور اچھائیوں کو بدنام کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں تو انسان میں سُستی پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ انسان نیک اعمال نہ کر سکے یاد رکھو کہ کھانے، پینے، سونے، مال جمع کرنے، تفریح کرنے، باہمی اجتماعات اور میٹنگ کرنے میں اتنا وقت صرف نہ کرو کہ اصل عبادت میں سُستی پیدا ہو جائے بلکہ ہر امر دنیا میں صرف مقدار ضرورت پر اکتفا کرو۔
خبردار! بے معنی اور غیر مفید کاموں میں عمر صرف نہ کرنا۔ تمہاری زندگی کا ہر لمحہ ایک قیمتی جوہر ہے بلکہ جوہر سے زیادہ باارزش ہے کہ جو ہر دولت صرف کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے اور عمر دوبارہ واپس نہیں آتی۔ خبردار اسکا ایک لمحہ بھی بیکار ضائع نہ ہونے پائے۔
فرزند! ’’شباب کو ضعیفی آنے سے پہلے صحت کو مرض سے پہلے، فرصت کو مشغولیت سے پہلے، قوت کو ضعف سے پہلے اور حیات کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو۔‘‘( ۱ )
روایات کا مضمون ہے کہ اہل جنت کو صرف ان لمحات پر افسوس ہوگا جو زندگی میں ذکر خدا کے بغیر گزر گئے ہیں کہ وہ لمحہ بھی یادِ خدا میں گذر کیا ہوتا تو درجات میں اور بھی اضافہ ہو جاتا۔
ہر نفسِ نیک و بد روزِ قیامت اپنے کو اس بات پر ملامت کرے گا کہ کاش کچھ اور اعمالِ خیر کر لئے ہوتے تو درجات میں اور بھی اضافہ ہو جاتا یا جو برائی کی ہے وہ نہ کی ہوتی تو عذاب سے محفوظ رہ جاتے۔
مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے حضرت ابوذر کو وصیت فرمائی کہ اپنی عمر کے خرچ کرنے میں درہم و دینار سے زیادہ بخل کرنا۔( ۲ )
بعض روایات میں ہے کہ ’’اوقات کا محفوظ رکھنا بہترین اطاعت ہے اور جو شخص بھی زراعت کے وقت کو ضائع کریگا وہ نتیجہ کے وقت شرمندہ ہوگا۔
( ۳ ) فرزند! خدا کے لئے اپنی زندگی کو بچاؤ اور ایسے کام میں ضائع نہ کرو جو مرنے کے بعد کام نہ آئے۔ عاقل وہی ہے جو آج، کل کے لئے کام کرے اور وقت کو ہاتھ سے جانے نہ دے۔ ہوشیار وہی ہے جو موت کے بعد کے لئے کام کرے اور احمق وہی ہے جو خواہشات کی پیروی کر کے پھر مغفرت کی تمنا کرے۔( ۴ )
زندگی کو بیکار باتوں میں صرف کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اپنے جواہرات کو سڑک پر پھینک دے پھر پتھر کھودنے لگے (بچوں کے کھیلنے کے لئے) ظاہر ہے کہ یہ کام انتہائی احمقانہ ہے۔
فرزند! نور نظر! لخت جگر! اپنی زندگی کی قدر پہچانو اور اسے نجات دہندہ اعمال کے علاوہ دوسرے اعمال میں ضائع نہ کرو۔ ریشم کا کیڑا نہ بنو جو اپنی ہی ہلاکت کے لئے سعی کرتا ہے۔ اس کے بعد بہترین اوصاف و بلند ترین اخلاق کو اختیار کرو۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
____________________
[۱] ارشادات مرسل اعظم۔ مجموعہ ورام، ص ۲۷۹
[۲] مجموعہ ورام، ۲، ص۵۲
[۳] البلاغہ
[۴] مجموعہ ورام ص ۱۶
زبان کی حفاظت
زبان کو بے معنی باتوں سے محفوظ رکھو کہ فرزند آدم کی خطاؤں کا زیادہ حصہ زبان ہی سے متعلق ہے اور زبان سے زیادہ کسی عضو کے گناہ نہیں ہیں۔( ۱ )
٭ خاموشی حکمت کے ابواب میں سے ایک دروازہ ہے۔( ۲ )
٭ اپنی زبان کو ہمیشہ محفوظ رکھو اور صرف وہ بات کرو جو جنت تک پہنچا سکے۔
٭ بندۂ مومن جب تک خاموش رہتا ہے اسکا شمار نیک کرداروں میں ہوتا ہے۔
٭ جو شخص دنیا و آخرت کی سلامتی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ خاموش رہے۔
٭ انسان منھ کے بل جہنم میں صرف اپنی زبان کی وجہ سے پھینکا جاتا ہے۔
٭ پروردگار جب کسی بندے کو نیکی دینا چاہتا ہے تو اس کی زبان محفوظ بنانے میں اس کی مدد کرتا ہے اور اسے دوسروں کے عیوب کے بجائے اپنے جائزہ میں مصروف کردیتا ہے جس کا کلام کم ہوتا ہے اس کی عقل کامل اور قلب صاف ہوتا ہے اور جسکا کلام زیادہ ہوتا ہے اس کی عقل کم اور دل سخت ہوتا ہے۔
٭ انسان کا ایمان اس وقت درست ہوتا ہے جب دل درست ہوتا ہے اور دل اسی وقت درست ہوتا ہے جب زبان درست ہوتی ہے۔( ۳ )
٭ مومن کی زبان کو دل کے پیچھے رہنا چاہئے کہ پہلے فکر کرے پھر مناسب ہو تو کلام کرے ورنہ خاموش رہے۔ منافق کا معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے وہ صرف بکتا رہتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ کیا کہہ رہا ہے۔( ۴ )
٭ خاموشی سے شرمندگی نہیں ہوتی لیکن کلام بعض اوقات دنیا اور آخرت دونوں میں شرمندہ بنا دیتا ہے۔( ۵ )
٭ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا رہتا ہے۔( ۶ )
بیٹا! پہلے تولو پھر بولو۔ بات کو عقل و معرفت کے پیمانہ پر پرکھو برائے خدا ہو تو تکلم کرو ورنہ خاموش رہو۔ بالکل خاموش رہو بلکہ گونگے بن جاؤ۔
انسان کے جسم کا ہر عضو زبان سے فریاد کرتا رہتا ہے کہ خدا کے لئے ہمیں جہنم میں نہ ڈال دینا۔
تکلم اور خاموشی کا موازنہ کیا جائے تو تکلم چاندی ہے اور سکوت سونا۔( ۷ )
یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی کلام سونا بن جاتا ہے اور خاموشی مٹی بن جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب کلام فقہ، علم دین، موعظہ و نصیحت، آدابِ شریعت اور اخلاقیات سے متعلق ہو۔ بلکہ ایسے وقت میں سکوت زہر قاتل بن جاتا ہے جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ کر سکوت اختیار کیا جائے۔
____________________
[۱] اصول کانی
[۲] اصول کافی
[۳] مستدرک وسائل
[۴] نہج البلاغہ
[۵] مستدرک وسائل
[۶] نہج البلاغہ
[۷] اصول کافی
تفکّر
فرزند! ہمیشہ غور و فکر سے کام لو کہ یہ نفس کی بیداری اور قلب کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے کدورتیں دور ہوتی ہیں۔ خواہشات ٹوٹ جاتی ہیں اور انسان دنیا سے دوری اختیار کر کے آخرت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
تفکر راس و رئیس عبادات ہے۔ یہ روح و جانِ بندگی ہے۔ بہترین عبادات، اللہ اور اس کی قدرت کے بارے میں غور و فکر ہے۔( ۱ )
علماء نے اس حدیث کی توجیہ یہ کی ہے کہ عبادت انسان کو ثواب تک پہونچاتی ہے اور فکر خود خدا تک پہونچاتی ہے اور ظاہر ہے خدا کا مرتبہ ثواب سے بالاتر ہے۔ اس کے علاوہ عبادت اعضا کا عمل ہے اور فکر دل کا عمل ہے اور دل کا مرتبہ اعضاء و جوارح سے بالاتر ہے۔ اس لئے ایک ساعت کی فکر کو ایک سال کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے اور بعض روایات میں ساٹھ، ستّر سال کی عبادت سے بہتر بھی وارد ہوا ہے۔( ۲ )
فکر، انسان کو جہنم سے بھی بچا سکتی ہے جس طرح حضرت حر بن یزید ریاحی نے ایک ساعت فکر کی اور نجات کا انتظام کر لیا ورنہ زندگی بھر عبادت کرتے رہتے تو کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ ایسی ہی ایک ساعت کی فکر ۷۰! سال کی عبادت سے بھی بہتر ہے اور ایسی ہی فکر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عبادت نماز و روزہ کا نام نہیں ہے عبادت اللہ کے بارے میں غور و فکر کرنے کا نام ہے۔
فرزند! کبھی گذشتگان کے بارے میں فکر کرو کہ وہ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے، کیا لے گئے اور کیا چھوڑ گئے؟ کیا کرتے رہے اور کس طرح سارا کاروبار چھوڑ کر روانہ ہو گئے؟ جو لوگ زمین پر قدم نہیں رکھتے تھے مخمل کے فرش پر آرام کرتے تھے، زمین پر اکڑ کر چلتے تھے اور اب اپنی دولت سے الگ عیال و اطفال سے دور، قصر و محلات، حشم و خدم سے جدا کفن پہنے خاک پر پڑے ہوئے ہیں۔ نرم و نازک رخسار مٹی میں ہیں اور کیڑے سانپ بچھو ان کے گرد ہیں۔ قبر کا کونہ ہے اور تنہائی ہے۔( ۳ )
٭ کبھی موت کے بارے میں سوچو کہ یہ اچانک آجاتی ہے اور ایک منٹ کی مہلت نہیں دیتی۔ ہر آن اس سے ہوشیار رہو اور ہر وقت اپنے کو آمادہ رکھو۔ توبہ و عمل میں تساہلی سے کام نہ لو اور کسی وقت بھی غافل نہ رہو۔ کتنے انسان ہیں جو اچانک چلے گئے اور انھیں توبہ و استغفار کی مہلت بھی نہ ملی۔ خبردار تمہارا شمار ایسے حسرت و ندامت والے افراد میں نہیں ہو اور تمہیں یہ نہ کہنا پڑے کہ پروردگار ایک مرتبہ اور واپس کردے۔( ۴ )
٭ کبھی اس بات پر غور کرنا کہ دنیا صرف محل تعب و رنج و مشقت و محنت ہے۔ اس کی صفائی میں گندگی ملی ہوئی ہے اور اس کی راحت میں بھی رنج کی آمیزش ہے۔ یہاں خالص آرام پیدا ہی نہیں ہوا جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہ لوگ ہم سے دنیا میں راحت طلب کرتے ہیں حالانکہ ہم نے یہاں راحت پیدا ہی نہیں کی اور جہاں پیدا کی ہے وہاں تلاش نہیں کرتے۔
فرزند! ان مسائل پر غور کرو گے تو دنیا کی تکلیفیں آسان ہو جائینگی اور آخرت کی طرف رغبت پیدا ہوگی۔ دنیا کی زحمتوں کو آخرت کے لئے اختیار کرنا بہترین اور آسان ترین عمل ہے۔
٭ کبھی عالم مستقبل کے بارے میں فکر کرو کہ تمہارے سامنے قبر، برزخ، حشر، نشر، نامۂ اعمال ، حساب، کتاب، صراط و میزان، جنت و جہنم کا مرحلہ ہے۔
٭ کبھی اس بات پر غور کرو کہ مرنے کے بعد وہی مال کام آئے گا جو راہِ خدا میں دے دیا ہے۔ ساتھ جانے والا صرف کفن ہے۔ اولاد و اطفال و احباب و اعزا صرف خاک میں لٹانا جانتے ہیں اور پھر اعمال کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کام آنے والے یہی اعمال ہیں جو تمہارے ساتھ رہیں گے اور تم سے جدا نہ ہوں گے۔ ان مسائل پر غور کرو گے تو نیک اعمال کروگے۔ نیت میں خلوص پیدا ہوگا اور وقت گزرنے سے پہلے آنے والے کل کی فکر کرو گے۔
٭ روایات میں وارد ہوا ہے کہ دنیا میں بہترین زہد یادِ موت ہے اور بہترین عبادت ذکر موت ہے۔ بہترین فکر بھی فکر موت ہے۔( ۵ )
ذکر موت سے غفلت برتنے والا بے معنی اعمال میں عمر ضائع کرتا ہے۔ اور موت کو یاد رکھنے والا بہترین اعمال میں وقت صرف کرتا ہے۔ موت بہترین واعظ اور بہترین ناصح ہے۔ ذکر موت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تنگیٔ حالات کو آسان بنا دیتی ہے۔ مالدار کو سخاوت پر آمادہ کرتی ہے۔ انسان کو بے فائدہ کاموں سے روک دیتی ہے۔ اور بقول بعض مصیبتوں کو آسان بنانے والی قیامت کے فائدہ کی طرف زغبت دلانے والی، توبہ پر آمادہ کرنے والی، تلافی پر تیار کرنے والی، امیدوں کو قطع کرنے والی اور لیت و لعل سے دل بہلا نے کو روکنے والی موت ہی ہے۔
صبر
فرزند! تین باتوں کا خیال رکھنا۔ مصیبت پر صبر، نعمت پر شکر، قضائے الٰہی پر رضا۔ یہ تینوں باتیں کشائش احوال کا بہترین سبب ہیں اور اہل ایمان نے انھیں کے ذریعہ دنیا و آخرت کے بلندترین درجات حاصل کئے ہیں۔
فرزند! اپنے نفس کو مصائب پر اس طرح خوش رکھنا جیسے نعمتوں پر خوش رہتا ہے۔ اللہ صحت، مرض، عافیت، بلاء، شباب، ضعیفی، قوت، ضعف، غنا، فقر جس حال میں رکھے اس کو پسند کرنا۔ اس لئے کہ اس حالت کو اس نے انتخاب کیا ہے جو تمہارے انجام سے باخبر اور تم سے زیادہ تمہاری ذات سے محبت کرنیوالا ہے۔ وہ تمہیں تمہارے ماں باپ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تمہارے حال پر مہربان ہے۔
فرزند! مصیبت کے موقع پر جزع فزع شکوہ و فریاد نہ کرنا۔ خدائے حکیم کی مرضی پر راضی رہنا۔ مصیبتوں کا اعلان کر کے اس کی شکایت نہ کرنا۔
٭ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بلاؤں میں شریفوں کی طرح صبر کرو اور مخلوقات سے خدا کی شکایت نہ کرو کہ یہ رحمن و رحیم کی شکایت بے رحموں سے ہے۔
فرزند! تکلیف میں راحت کی طرح، فاقہ میں مالداری کی طرح، بلاؤں میں عافیت کی طرح خوش رہنا۔ معصومین علیہم السلام کا ارشاد ہے کہ بلاء و مصیبت میں صبر سے بہتر اطاعتِ خدا پر صبر ہے اور اس سے زیادہ افضل محرمات سے پر ہیز کی منزل میں صبر ہے۔( ۱ )
مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے بھی مصیبت پر باقاعدہ صبر کر لیا اللہ اس کو تین سو درجات عنایت فرمائےگا کہ حد درجہ کی بلندی زمین و آسمان کے فاصلے سے زیادہ ہوگی اور جس نے اطاعت پر صبر کر لیا اسے چھ سو درجات عنایت کرے گا جن میں سے ہر ایک کی بلندی تحت الثریٰ سے عرش اعظم کے برابر ہوگی اور جس نے معصیت کے مقابلہ میں صبر کرلیا اسے نو سور ۹۰۰! درجات عنایت کرے گا جن میں سے ہر ایک کی بلندی آخر زمین سے آخر عرش تک ہوگی۔
٭ علماء اخلاق نے صبر کے چند مراتب قرار دیئے ہیں:
۱. خواہش کے مطابق صحت، سلامتی، مال، جاہ، کثرت عشیرہ، اسباب زندگی لذات دنیا کی طرف میلان سے صبر، کہ یہ انتہائی ضروری کام ہے اور اس میں غرق ہو جانا ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔
۲. اطاعتِ خدا پر صبر، کہ یہ ایک سخت مرحلہ ہے۔ نفس ذاتی طور پر بندگی سے آزاد اور مالکیت کا طلب گار ہے جیسا کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ ہر نفس میں فرعونیت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ فرعون کو سہارا مل گیا تو فرعونیت سامنے آگئی ورنہ اندر اندر ہر شخص اپنے نوکر، اولاد اور خدام کے ساتھ فرعون ہی جیسا برتاؤ کرتا ہے اور ذرا سی تقصیر ہو جائے تو بے حد غیظ و غضب کا مظاہرہ کرتا ہے جو تکبر کی بہترین نشانی ہے۔
فرزند! اطاعت کے معاملہ میں عمل سے پہلے عمل کے ساتھ اور عمل کے بعد ہر مرحلہ پر صبر لازم ہے۔
٭ عمل سے پہلے صبر کرے تاکہ نیت صحیح ہو۔ عمل کے ساتھ صبر کرے تاکہ یادِ خدا سے غافل نہ ہو اور ریاکاری کا جذبہ قریب نہ آنے پائے۔ عمل کے بعد صبر کرے کہ خودپسندی نہ پیدا ہو ورنہ عمل ضائع اور برباد ہو جائے گا۔
۳. گناہوں کا ارتکاب کرنے سے صبر، انسان اپنے خیال میں ہر وقت گناہوں کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغل خوری، بہتان اس کی عادت بن چکا ہے اور عادت فطرت کا درجہ پیدا کرلیتی ہے۔ اس کے ساتھ جب خواہش کا اضافہ ہو جاتا ہے تو شیطان کے دو لشکر بیک وقت حملہ آور ہو جاتے ہیں اور گناہوں میں لذت پیدا ہو جائے تو اور بھی قیامت ہے۔
۴. اس موقع پر صبر جو اپنے اختیار میں نہ ہو جیسے کوئی شخص ستائے اور انسان اس کا بدلہ نہ لے۔ اس موقع پر صبر بہت ضروری ہے اور انسان کو چاہئے کہ اپنے معاملہ کو خدا کے حوالے کر دے چاہے انتقام اس کے اختیار میں ہو۔ اس لئے اس طرح روایات اور تجربات دونوں کا اتفاق ہے کہ پروردگار بہترین انتقام لینے والا ہے اور آخرت سے پہلے دنیا میں بھی سزادے دیتا ہے۔
۵. اس کام پر صبر جو ابتدا و انتہا کسی وقت بھی اختیار میں نہ ہو جیسے اعزا و احباب کے فقدان پر صبر یا اموال کی بربادی پر، صحت کی خرابی، اعضاء کے فساد، آنکھوں کی بینائی کے زوال، فقر و فاقہ وغیرہ پر صبر، کہ ان معاملات میں صبر ذرا مشکل ہوتا ہے لیکن اس کا اجر بہت عظیم ہے جیسا کہ پروردگار نے صابرین کے واسطے صلوٰت و رحمت اور ہدایت کا وعدہ کیا ہے۔( ۲ )
فرزند! خدا تمہیں ہر طرح کا صبر عنایت کرے۔ یاد رکھو کہ صبر کی قوت چند باتوں کے لحاظ سے پیدا ہوتی ہے:
۱. انسان صابرین کے اجر و ثواب پر نگاہ رکھے کہ روایات میں صابرین کے واسطے جنت میں جانے کا ذکر ہے۔( ۳ )
٭ صبر کرنے والے کے لئے ہمیشہ روزہ رکھنے والے اور تمام زندگی نماز قائم کرنے والے کا ثواب ہے۔ صابر کو پیغمبر اسلام صلی علیہ و آلہٖ و سلم کے ساتھ جہاد میں شہید ہونے کا ثواب ملتا ہے۔( ۴ )
٭ فاقہ پر صبر جہاد کا رتبہ رکھتا ہے اور یہ ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
٭ جو مومن کسی بلاء پر صبر کرے اسے ہزار شہیدوں کا اجر ملتا ہے۔( ۵ )
۲. ان مراتب پر نگاہ رکھے جو تجربہ کی بنیاد پر صابرین کے لئے مشاہدہ میں آئے ہیں۔
۳. یہ خیال کرے کہ مصیبت چند لمحوں کے بعد ختم ہو جائے گی اور زندگی بہر حال فانی ہے جو ساعت گزر جاتی ہے اس کی راحت و تکلیف دونوں ختم ہو جاتی ہیں آنے والی ساعت کا حال یوں بھی کسی کو نہیں معلوم ہے۔
۴. اس بات پر غور کرے کہ اس آہ و فریاد کا کوئی اثر بھی نہیں ہے۔ مقدر میں جو ہے وہ ہو کر رہے گا۔ صرف نالہ و فریاد سے اجر و ثواب میں کمی ہو سکتی ہے۔ ورنہ قضا و قدر کو کون بدل سکتا ہے۔ بندہ بندہ ہے اس کے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔
۵. ان افراد کو یاد کرے جنھوں نے اس سے بڑے بڑے امتحانات دئے ہیں اور بہترین اجر حاصل کیا ہے۔
۶. یہ ملاحظہ کرے کہ امتحان ایک سعادت ہے اور بلاء اہل و لاہی کے لئے ہے بلکہ شدت بلاء مومنین کے لئے قرب الٰہی کی علامت ہے۔
۷. یہ یاد کرے کہ یہ مصیبت خدائے حکیم کی طرف سے ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے خیر ہی چا ہے گا وہ بے نیاز ہے غرض مند نہیں ہے کہ فائدہ اٹھائے۔
۸. یہ یاد کرے کہ یہ تزکیۂ نفس کا بہترین ذریعہ ہے۔
۹. یہ غور کرے کہ نالہ و فریاد سے دوست رنجیدہ ہوتے ہیں اور دشمن خوش حال ہوتا ہے۔
۱۰. یہ دیکھے کہ صبر کا انجام دنیا میں بھی اچھا ہی ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصیبت پر صبر کیا تو خدا نے کتنی بڑی عزت عنایت کی کہ اللہ نے انھیں حاکم بنا دیا اور حاکم کو غلام بنا دیا اور ان کے بھائیوں کو ان کی رعایا میں شامل کر دیا۔ زلیخا کو سر راہ لا کر بٹھا دیا۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کو دوبارہ اموال، ازواج و اولاد عطا کر دی۔ جبکہ راہِ امتحان میں سب کچھ فنا ہو چکا تھا اور ان کے گھر میں سونے کی بارش کر دی۔
اس سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کے مصائب کو یاد کیا جائے کہ ان پر سب سے زیادہ مصیبتیں پڑی ہیں جبکہ وہ سردار خلائق تھے اور انھیں کے لئے دنیا پیدا ہوئی تھی۔
اور خبردار تمہارا صبر عوام جیسا نہ ہو کہ وہ صبر سے زیادہ اظہار صبر کرتے ہیں اور یہ ریاکاری ہے۔ صبر کا طریقہ متقین کا صبر ہے جس میں اجر آخرت کی توقع ہوتی ہے۔ یا عارفین کا صبر ہے جس میں مصیبت پر لطف آتا ہے کہ یہ محبوب کی عطا ہے اور وہ انجام سے زیادہ باخبر ہے۔
فرزند! یہ بھی یاد رکھو کہ صبر منافی گریہ نہیں ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے اپنے فرزند ابراہیم کے انتقال پر گریہ کیا اور جب کسی نے ٹوکا کہ ہم سے صبر کے لئے کہتے ہیں اور خود گریہ فرماتے ہیں تو آپ نے ڈانٹ کر فرمایا خبردار! دل میں تپش ضرور پیدا ہوگی اور آنکھوں سے آنسو بہر حال گریں گے۔ یہ ہمارا صبر ہے کہ ہم رضائے خدا کے خلاف کچھ نہیں کہتے۔
فرزند! مصیبت کے وقتاِنَّا لِلّٰ ه ِ وَ اِنَّا اِلَی ه ِ رَاجِعُون کہا کرو کہ اس سے صلوات و رحمت کا استحقاق پیدا ہوتا ہے اور انسان ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
فرزند! امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جب صبر تمام ہوتا ہے تو فرحت نصیب ہوتی ہے اور تجربہ بھی اس کا گواہ ہے کہ ہر تنگی کے ساتھ ایک وسعت ہے۔
فرزند! یہ بھی یاد رکھو کہ صبر بہتیرے اوصاف و اخلاق کامرجع و مصدر ہے۔ حالات کے اعتبار سے اس کے نام الگ الگ ہیں ورنہ سب صبر کی شاخیں ہیں۔ شکم و شرمگاہ کے بارے میں صبر ہو تو اس کا نام عفت ہے۔ مصیبت پر صبر ہو تو اس کا نام صبر ہے جس کے مقابلہ میں جزع و فریاد ہے۔ ترک معصیت پر صبر ہو تو اس کا نام تقویٰ ہے۔ دولت کی برداشت پر ہو تو ضبط نفس ہے جس کی ضدا کڑہے۔ مصائب و حوادثِ دنیا پر ہو تو اس کا نام وسعت صدر ہے جس کی ضد تنگدلی ہے۔ جنگ میں ہو تو اس کا نام شجاعت ہے جس کی ضد بزدلی ہے۔ ضبط غیظ میں ہو تو اس کا نام حلم ہے جس کی ضد سفاہت ہے۔ کلام کے اخفاء میں ہو تو اس کا نام رازداری ہے جس کی ضدا فشاء راز ہے۔ فضول عیش کے مقابلہ میں ہو تو اس کا نام زہد ہے جس کی ضد حرص ہے۔ مختصر حصہ پر ہو تو اسکا نام قناعت ہے جس کی ضد لالچ اور ہوس ہے ۔ ۔ ۔ وغیرہ۔
____________________
[۱] اصول کافی ۲، ص۹۰
[۲] سورہ بقرہ ۱۵۶
[۳] وسائل الشیعہ ۳، ص ۴۵۱
[۴] وسائل الشیعہ
[۵] اصول کافی
توکل
فرزند! خدا تمہیں دنیا و آخرت کی نیکی عطا کرے۔ اپنے تمام امور میں خدا پر اعتماد کرو۔ تمام امور کی رفتار اسی کے ہاتھ میں ہے اور سب کچھ اسی کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ توکل سے انسان رنج و غم سے نجات پا جاتا ہے اور بیجا کوشش نہیں کرتا۔ یاد رکھو کہ کوشش اور مقصد کبھی مل جاتے ہیں اور کبھی الگ ہو جاتے ہیں تو اگر توکل نہ ہوگا تو جب بھی جدا ہو جائیں گے صدمہ ہوگا ورنہ جب بھی حاصل ہو جائے گا خوشی ہوگی اور نہ ملا تو سعی رائگاں کا صدمہ نہ ہوگا۔ قرآن میں ہمیشہ اسباب پر نگاہ رکھنے کو شرک سے تعبیر کیا گیا ہے.( ۱ )
لہٰذا اپنے تمام معاملات میں خدائے لطیف و خبیر مالک قضا و تقدیر پر بھروسہ کرو اور اسباب ظاہری پر اعتماد کرنا چھوڑ دو۔ اسباب کی اہمیت ایک مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔
خبردار! عالم اسباب کے نام پر یہ دھوکہ نہ کھا جانا کہ انسان کی نگاہ اسباب پر ہونی چاہئے یہ وسوسہ شیطانی ہے۔ عالم اسباب کے معنی فقط یہ ہیں کہ اشیاء کا وجود اسباب سے ہوگا نہ کہ بندہ کا اعتماد اسباب پر ہونا چاہئے۔ بندہ کا اعتماد تو خدا ہی پر ہونا چاہئے۔ وہ جب چاہے گا تو اسباب بھی پیدا کر دے گا۔
فرزند! تمہیں طلبِ رزق کے اوامر سے بھی دھوکہ نہ ہو جائے کہ انسان کو ہر وقت روزی کے لئے رواں دواں رہنا چاہئے اس لئے کہ یہ اوامر فقط تنظیم عالم کے لئے ہیں ورنہ عطائے خداوندی تمہاری طلب کی پابند نہیں ہے۔ اللہ پر اعتماد کرو اسباب کا کام مسبب الاسباب کے حوالے کر دو وہ خود اسباب پیدا کر کے روزی فراہم کر دے گا۔ البتہ طالب علم کے علاوہ ہر شخص کو بقدرِ ضرورت محنت کرنی چاہئے کہ تجربہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اسباب کا کام بھی خدا کے حوالے کر دیا ہے اور صرف اپنے فرائض پر عمل کرتے رہے وہ زیادہ بہتر حالت میں رہے ہیں اور جنہوں نے معرفت کے باوجود اسباب پر اعتماد کیا ہے انہیں نقصان ہوا ہے جس طرح کہ جناب یوسف علیہ السلام نے حاکم مصر سے کہا کہ مجھے خزانوں کا امین بنا دے تو خدا نے مدت امتحان ایک سال بڑھا دی ورنہ بندے کے بجائے خدا سے کہا ہوتا تو فوراً نجات مل جاتی یا جب قید خانہ کے ساتھی سے کہا کہ اپنے مالک سے میری بھی شفارش کر دینا تو اللہ نے قید کی مدت میں سات سال کا اضافہ کر دیا کہ میرے غیر سے کیوں کہا ورنہ براہ راست پروردگار سے کہا ہوتا تو فوراً نجات مل جاتی۔ پروردگار نے اس ترک اولیٰ پر تنبیہ کی تم نے بندہ کے ذریعہ بندہ سے کہلوایا جبکہ دونوںمیرے قبضہ میں ہیں۔ مجھ سے کیوں نہیں کہا جبکہ میں مالک الملوک ہوں۔ اسکے بعد جبرئیل امین کو بھیجا گیا اور انہوں نے پوچھا کہ کب تک قید میں رہنے کا ارادہ ہے تو کہا جب تک خدا چاہے تو جب انہوں نے ہمارا حوالہ دیا تو ہم نے دعائے توسل کے ذریعہ انہیں نجات دلوا دی۔( ۲ )
یہی حال جناب یعقوب علیہ السلام کا ہوا کہ انہوں نے عزیز مصر سے شکایت کی تو پروردگار نے اس وقت تک نجات نہیں دلائی جب تک اس سے رجوع نہیں کی کہ اولیاء کے لئے یہ باتیں ترکِ اولیٰ کا مرتبہ رکھتی ہیں۔
میرے فرزند! خبردار، اپنی حاجت کو غیر خدا سے بیان نہ کرنا جو کہنا ہے خدا سے کہنا وہی مالک و مہربان ہے۔ اسی نے ابراہیم علیہ السلام کو صرف اس بات پر خلیل بنا دیا کہ انہوں نے اس کے علاوہ کسی سے نہیں مانگا۔( ۳ )
مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ تمام خیر کا مرکز و مصدر یہ ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں سے امید منقطع کر کے خدا سے لو لگائے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر دعا قبول ہو جائے اسے چاہئے کہ بندوں سے امید قطع کر کے صرف خدا سے امیدیں وابستہ کرے۔ جب خداوند عالم یہ کیفیت دیکھ لے گا تو فوراً مراد پوری کر دیگا۔
اس سلسلے میں امام سجاد علیہ السلام کی صحیفۂ سجادیہ کی تیرہویں دعا کا مطالعہ نہایت درجہ مناسب رہے گا جس میں اسباب کی حقیقت کا اظہار کر کے خدا سے مانگنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔
قناعت
فرزند! قناعت اختیار کرو۔ اس میں عزت دنیا و آخرت ہے۔ قناعت کو ترک کرنے والا یا تو اہل دنیا کی نظر میں حقیر ہو جائے گا یا ایسے کام کرے گا جو اسے آخرت میں مبتلائے عذاب کر دیںگے۔
قناعت کے معنی پیسہ ہوتے ہوئے تنگ حالی سے زندگی گزارنا نہیں ہے۔ یہ توسعۂ رزق کے خلاف ہے جس کی اہل و عیال کے بارے میں تاکید کی گئی ہے۔ بلکہ کبھی کبھی یہ کام حقوق نفقہ میں کوتاہی کا مرادف ہو جائے گا۔ قناعت کے معنی ہر ممکن پر راضی رہنا اور آمدنی کے برابر خرچ کرنا ہے کہ اگر صاحبِ دولت ہے تو اہل و عیال کے لباس و غذا میں وسعت پیدا کرے اور اسراف نہ کرے اور اگر غریب و نادار ہو تو مقدارِ ممکن پر قانع رہے اور مقدر پر راضی رہے۔ اپنا راز کسی سے بیان نہ کرے اور اپنے فقر کا اظہار نہ کرے کہ اس طرح لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو جائے گا۔ لوگ بندگانِ دنیا ہیں انہیں غربت کا حال معلوم ہو گای تو کبھی عزت نہیں کریں گے۔
میرا تجربہ یہ ہے کہ غربت کا اظہار غربت میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ اور باعثِ ذلت و توہین ہو جاتا ہے تو خبردار اپنے راز کو افشاء نہ کرنا۔ رزق مقدر ہو چکا ہے وہ بہر حال ملے گا۔ اسے خدائے حکیم نے اپنی حکمت و مصلحت سے تقسیم کیا ہے نہ آبرو دینے سے اضافہ ہوگا نہ عفت و قناعت سے کمی ہوگی۔۔۔ بلکہ کبھی کبھی اظہارِ غربت کا سلسلہ خالق کی شکایت سے مل جاتا ہے تو موجبِ غضبِ جبّار بھی ہو جاتا ہے اور آخرت میں استحقاق عذاب بھی پیدا ہو جاتا ہے۔( ۴ )
حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے ’’میری عزت و جلال کی قسم جو شخص میرے غیر سے لَو لگائے گا اس کی امیدیں منقطع کر دوںگا اور اسے ذلت کا لباس پہنا دوں گا۔ اور اپنے فضل و کرم سے دور رکھوں گا.( ۵ )
حیاَ
فرزند!
حیا بہترین صفت اور محبوب ترین عادت ہے۔ اسے دنیا و آخرت دونوں میں ممدوح قرار دیا گیا ہے۔
روایت میں ہے کہ حیا جزوِ ایمان ہے۔ حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں۔ حیا جائے گی تو ایمان بھی چلا جائے گا۔جس میں چار چیزیں پائی جائیں گی وہ سر تا پا گناہ میں بھی ہوگا تو پروردگار اسے بخش دے گا:
۱. صداقت۔
۲. حیا۔
۳. حسنِ اخلاق۔
۴. شکر یا امانت۔( ۶ )
____________________
[۱] مجمع البیان
[۲] مجمع البیان
[۳] تفسیر صافی، ص ۱۲
[۴] وسائل الشیعہ ۲، ص ۵۳۲
[۵] وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۴۷
[۶] اصول کافی ۲، ص ۱۰
حُسنِ اخلاق
فرزند! بہترین اخلاق اختیار کرو کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کے فائدے ہیں۔ پروردگار نے حسنِ اخلاق کو اپنے حبیب کی صفت خاص قرار دیا ہے۔ حسنِ اخلاق نصف دین ہے۔( ۱ )
حسنِ اخلاق بہتبرین عطائے پروردگار ہے۔( ۲ )
روز قیامت انسان کی نیکی کے پلّے میں حسنِ اخلاق سے بہتر کوئی شے نہ ہوگی۔( ۳ )
احب حسن اخلاق مثلِ مستقل نمازی اور روزہ دار کے ہے۔ اسکے لئے مجاہد فی سبیل اللہ کا اجر و ثواب ہے۔( ۴ )
حسنِ اخلاق گناہوں کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ جنت جانے والوں کی اکثریت متقین اور صاحبان حسنِ خلق کی ہوگی۔( ۵ )
پروردگار کا ارشاد ہے کہ صاحب حسنِ اخلاق کے گوشت کو جہنم کے حوالے کرنے سے مجھے حیا آتی ہے۔( ۶ )
حسنِ اخلاق سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ حد یہ ہے کہ یہودی کا ساتھ بھی ہو تو حسنِ اخلاق کا مظاہرہ ضروری ہے۔( ۷ )
فرزند! میں نے حسنِ اخلاق کے بہترین آثار دیکھے ہیں اور امام صادق علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا کہ اگر لوگوں کے ساتھ مالی برتاؤ نہ کر سکو تو کم از کم حسنِ اخلاق کا مظاہرہ تو کرو۔( ۸ )
امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ ہر شخص کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو تاکہ چلے جاؤ تو محبت کرے اور مر جاؤ تو گریہ کرے اور اِنَّا لِلّٰہِ کہے ایسا نہ ہو کہ اَلحَمدُ لِلّٰہِ کہنا پڑے۔( ۹ )
امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ حسنِ اخلاق کی حد کیا ہے؟ تو فرمایا کہ پہلو کو نرم رکھو، کلام کو پاکیزہ رکھو اور خوش خلقی سے ملاقات کرو۔( ۱۰ )
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کا ارشاد ہے کہ مومنین کے ساتھ خوش اخلاقی بشاشت کے ساتھ ملاقات کرنا ہے اور مخالفین کے ساتھ حسن اخلاق مودت کے ساتھ گفتگو کرنا ہے تاکہ ایمان کی طرف کھنچ آئے۔ اور ایمان سے مایوس ہو تو کم سے کم مومنین اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔( ۱۱ )
فرزند! خبردار اہل و عیال کے ساتھ بد اخلاقی کا برتاؤ نہ کرنا کہ بد خلقی موجب جہنم ہے۔ بد اخلاقی سے ایمان یوں ہی برباد ہو جاتا ہے جس طرح سرکہ سے شہد۔
سعد بن معاذ کے مرنے پر ستّر ہزار فرشتوں نے مشائعت جنازہ کی ہے مگر اس کے باوجود فشار قبر میں مبتلا ہوئے ہیں کہ اہل و عیال کے ساتھ برتاؤ اچھا نہ تھا۔( ۱۲ )
حلم و عفو
فرزند! حلم اور عفو سے کام لو کہ اہل حلم و عفو جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے۔ ان صفات کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ پروردگار نے انہیں اپنے اوصاف میں شمار کیا ہے۔ حلم کے بارے میں انبیاء و اولیاء کے واقعات بکثرت پائے جاتے ہیں اور بعض روایات میں یہ ہے کہ انسان جب تک حلیم نہ ہو عبادت گذار نہیں ہو سکتا۔( ۱۳ )
اللہ بندۂ بردبار کو دوست رکھتا ہے۔
حلم صفات مومنین میں سے ہے۔( ۱۴ )
جو شخص اقدام کی طاقت رکھتا ہو اور حلم سے کام لے پروردگار روز قیامت اس کے دل کو رضا و امن و ایمان سے بھر دے گا اور قیامت کے بھرے مجمع میں اسے اختیار دے گا کہ جس حور العین کا چاہے انتخاب کر لے اور اسے اجر شہید عطا فرمائے گا۔( ۱۵ )
نگاہِ پروردگار میں بندۂ مومن کا کوئی گھونٹ اس گھونٹ سے زیادہ عزیز نہیں ہے جو غصہ کو پی جانے میں استعمال ہوتا ہے چاہے صبر کے ذریعہ ہو یا حلم کے ذریعہ۔ انسان جس قدر بھی غصہ کو ضبط کرتا ہے پروردگار اسی مقدار میں دنیا و آخرت میں عزت عطا کرتا ہے اور قیامت کے دن جب اولین و آخرین ایک زمین پر جمع ہوں گے تو ایک منادی آواز دےگا ’’صاحبانِ فضیلت کہاں ہیں؟‘‘
اس وقت ایک جماعت برآمد ہوگی اور ملائکہ سوال کریں گے ’’تمہاری فضیلت کیا ہے؟‘‘ وہ جواب دیں گے کہ ہم قطع تعلقات کرنے والوں سے صلۂ رحم کرتے تھے۔ محروم کرنے والوں کو عطا کرتے تھے، ظلم کرنے والوں کو معاف کر دیتے تھے۔ آواز آئے گی ’’سچ کہا تم نے، جاؤ جنت میں بلا حساب داخل ہو جاؤ۔‘‘( ۱۶ )
٭ معافی کامیابی کی زکوٰۃ ہے۔( ۱۷ )
٭ سب سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار وہی ہے جو سزا دینے پر سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔( ۱۸ )
فرزند! جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو تاکہ جس پروردگار کی نافرمانی کر کے تم نے ظلم کیا ہے وہ تمہیں معاف کر دے اور تمہیں بلند ترین درجات حاصل ہوں۔ خبردار غیظ و غضب سے کام نہ لینا کہ یہ غیظ و غضب سے کام نہ لینا کہ یہ ضعف عقیدہ کی علامت ہے۔ روایات میں ہے کہ غضب سے ایمان یوں ہی برباد ہو جاتا ہے جیسے سرکہ سے شہد۔( ۱۹ )
٭ کفر کے چار ارکان ہیں رغبت، خوف، غصہ اور غضب۔ اور غضب ہر برائی کی کنجی ہے۔( ۲۰ )
٭ غضب سے صاحبان حکمت کا دل بھی تباہ ہو جاتاہے۔( ۲۱ )
٭ جو اپنے غضب پر قابو نہ رکھ سکے وہ اپنی عقل پر بھی قابو نہ رکھے گا۔( ۲۲ )
٭ ابلیس کا قول ہے کہ غضب میرا جال اور میرا پھندا ہے۔ میں اس کے ذریعہ بہترین افراد کو جنت کی راہ سے شکار کرتا ہوں۔( ۲۳ )
علماء نے غضب پر قابو پانے کے لئے چند نسخے تجویز کئے ہیں۔
۱.اَعُوذُ بِاللّٰ ه ِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ کہنا۔
۲. خدا کو یاد کرنا کہ توریت میں ارشادِ احدیت ہے، ’’فرزند آدم جب تجھے غصّہ آئے تو مجھے یاد کرنا تاکہ میں اپنے غضب میں تجھے یاد رکھوں اور تجھے تباہ نہ کر دوں اور جب تجھ پر کوئی زیادتی ہو تو میرے انتقام کا انتظار کرنا کہ میرا انتقام تیرے انتقام سے بہر حال بہتر ہے۔( ۲۴ )
۳. اگر کھڑا ہے تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور لیٹا ہو تو کھڑا ہو جائے۔( ۲۵ )
۴. جگہ بدل دے کہ شیطان نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کرتے ہوئے یہ نصیحت کی کہ جب تمہیں غصہ آئے تو اپنی جگہ بدل دینا ورنہ میں مصیبت میں مبتلا کردوں گا۔
۵. وضو کرلے اور ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھو ڈالے۔( ۲۶ )
۶. اگر قرابتدار پر غصّہ ہے تو اس کے جسم سے اپنے جسم کو مس کر دے کہ اس طرح غصّہ فرو ہو جاتا ہے۔ (اصول کافی ۲ ، ص ۳۰۲)
۷. پانی پی لے۔ (محاسن برقی، ص ۵۷۲)
۸. کشمِش کھالے کہ اس سے غصّہ دب جاتا ہے۔ (مستدرک ۳ ، ص ۱۱۵)
۹. یہ دعا پڑھ لے:
اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنِّىْ غَيْظَ قَلْبِىْ وَ اَجِرْنِىْ مِنْ مُضِلاَّتِ الْفِتَنِ اَسْئَلُكَ جَنَّتَكَ وَ اَعَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشِّرْكِ اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِىْ عَلَى الْهُدٰى وَ الصَّوَابِ وَاجْعَلْنِىْ رَاضِيًا مَرْضِيًّا غَيْرَ ضَآلٍّ وَ لاَ مُضِلٍّ .( ۲۷ )
روایات میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص اپنے غصّہ کو روک لے گا، پروردگار روز قیامت اسے معاف کرے گا اور اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا اور اسے جنت عطا فرمائے گا۔( ۲۸ )
____________________
[۱] وسائل الشیعہ ۳، ص ۳۳۱
[۲] وسائل الشیعہ
[۳] اصول کافی ۲، ص ۹۹
[۴] اصول کافی ۲، ص ۱۰۱
[۵] اصول کافی ۲، ص ۱۰
[۶] وسائل الشیعہ ۲، ص ۲۲۱
[۷] مستدرک
[۸] اصول کافی ۲، ص ۱۰۳
[۹] وسائل ۲، ص ۲۷۷
[۱۰] اصول کافی ۲، ص ۱۰۳
[۱۱] وسائل ۲، ص ۵۱
[۱۲] مستدرک وسائل ۲، ص ۳۳۴
[۱۳] مستدرک ۲، ص ۳۰۴
[۱۴] مشکوٰۃ الانوار، ص ۱۹۵
[۱۵] مستدرک ۲، ص ۸۸
[۱۶] مستدرک ۲، ص ۸۷
[۱۷] نہج البلاغہ
[۱۸] وسائل الشیعہ ۲، ص ۲۲۳
[۱۹] اصول کافی ۲، ص ۳۰۲
[۲۰] اصول کافی ۲، ص ۳۰۳
[۲۱] اصول کافی ۲، ص ۳۰۵
[۲۲] اصول کافی ۲، ص ۳۰۵
[۲۳] مستدرک ۲، ص۳۲۶
[۲۴] وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۷۰
[۲۵] وسائل الشیعہ
[۲۶] جامع السعادات ۱، ص ۲۹۶
[۲۷] مستدرک۲، ص ۳۲
[۲۸] وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۷۰
انصاف و مروّت
فرزند! ان دونوں صفتوں کو اپنائے رہنا اور کبھی ترک نہ کرنا۔ یہ نجات دہندہ صفتیں ہیں اور ان کا ترک کر دینا باعثِ ہلاکت ہے۔
٭ روایات میں ہے کہ جس کے پاس مروت نہیں ہے اس کے پاس دین نہیں ہے۔( ۱ )
٭ سخت ترین فریضۂ پروردگار اپنے نفس سے انصاف کرنا ہے۔( ۲ )
انصاف کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور دوسروں کے لئے وہی ناپسند کرے جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہے۔
وفا و عہد
فرزند! خدا تمہارے بارے میں عہد محبت کو پورا کرے۔ جب بھی کسی شے کا وعدہ کرو تو اسے وفا ضرور کرو۔ کتاب و سنت میں اس کی بے حد تاکید وارد ہوئی ہے۔ ارشاد احدیت ہوتا ہے ’’عہد کو پورا کرو کہ اس کے بارے میں روز قیامت سوال ہوگا۔( ۳ )
٭ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جس سخص کا بھی خدا اور آخرت پر ایمان ہے اس کا فرض ہے کہ وعدہ کو وفا کرے۔( ۴ )
٭ امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ مومن کا مومن سے وعدہ ایک ایسی نذر ہے جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ لہٰذا جو شخص بھی وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا وہ حکم خدا کی مخالفت کرے گا اور اس کی ناراضگی کا حقدار ہوگا۔( ۵ )
٭ وفاء عہد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پروردگار عالم نے اسے جناب اسماعیل علیہ السلام کے اوصاف و کمالات میں شمار کیا ہے اور مومنین کو وعدہ کی خلاف ورزی پر سخت تنبیہ کی ہے کہ خبردار جو کرنا نہ ہو اسے کہنا بھی نہیں۔ پروردگار کو یہ بات سخت ناپسند ہے۔
٭ جناب اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں روایت ہے کہ ایک شخص سے انتظار کرنے کا وعدہ کر لیا تھا اور وہ جاکر بھول گیا تو آپ ایک سال تک اسی مقام پر کھڑے رہے۔ یہاں تک کہ شدت تمازتِ آفتاب میں بھی جگہ نہیں چھوڑی کہ کہیں وعدہ کی خلاف ورزی نہ ہو جائے۔ درختوں کے پتے چباتے رہے لیکن وعدہ پر قائم رہے۔( ۶ )
فرزند! ایفائے وعدہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا طریقہ اختیار کرو اور اگر ایسانہ کر سکو تو اس کے قریب تر رہنے کی کوشش کرو۔
خبردار جس وعدہ کے وفا کرنے کی طاقت نہ ہو اس کا وعدہ نہ کرنا۔ خلف وعدہ سے انسان بدنام ہو جاتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
’’نعم‘‘ سے پہلے ہی ’’لا‘‘ کہہ دے یہ ہے طرزِ حسن
کہ ’’لا‘‘ ہو بعد ’’نعم‘‘ یہ ہے غیر مستحسن
)جوادی(
سخاوت
فرزند! سخاوت اختیار کرو کہ اس کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں بہتر ہے۔ سخی ہر مقام پر با عزت ہوتا ہے۔ بخیل دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل رہتا ہے۔
٭ سخاوت کی فضیلت کے لئے یہ کافی ہے کہ حاتم طائی جہنم میں رہ کر بھی آگ کی شدت سے محفوظ ہے جیسا کہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حاتم کے فرزند عدی سے فرمایا تھا۔
٭ فرزند! بخل دنیا و آخرت کی روسیاہی ہے لیکن خبردار اتنی سخاوت کا شوق نہ کرنا کہ خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جاؤ۔ (اسراء ۲۹)
٭ میانہ روی سے کام لو اور بخل و اسراف کے درمیان سے زندگی کا راستہ نکالو۔
____________________
[۱] ومستمسک ۵، ص ۲۱۴
[۲] اصول کافی ۲، ص ۱۴۵
[۳] سورۂ اسراء ۳
[۴] اصول کافی ۲، ص ۳۶۴
[۵] اصول کافی ۲، ص ۳۶۳
[۶] اصول کافی ۲، ص ۱۰۵
فصل سوم
دیگر مختلف و صیتیں
فرزند! اللہ تمہیں ہر خیر کی توفیق دے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ حب دنیا کو دل سے نکال دو۔ یہ ایک زہر قاتل اور مرض مہلک ہے۔ اس کا انجام رحمت خدا سے دوری اور آتش جہنم ہے۔
محبت دنیا کے دل سے نکال لنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے بارے میں غور کر، کہ یہ کوئی عمدہ شے ہوتی تو رب کریم اپنے اولیاء و انبیاء کو اس سے محروم کیوں کرتا، جبکہ ان کی عقلیں سب سے زیادہ کامل تر تھیں اور وہ اس سے اس طرح الگ نہ رہتے جس طرح ہم لوگ شیر سے دور بھاگتے ہیں۔ (اصول کافی ۲ ، ۳۱۵)
٭ پروردگار نے مختلف آیات میں محبت دنیا کی مذمت کی ہے اور احادیث میں اس کی شدید تاکید وارد ہوئی ہے۔
امام سجاد علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ بہترین عمل بغض دنیا ہے کہ دنیا کی محبت میں گناہ کے بے شمار رخ نکلتے ہیں۔ ایک رخ تکبر ہے جس میں ابلیس مبتلا ہوا۔ ایک حرص ہے جس کی وجہ سے حوّا نے آدم علیہ السلام کو گندم کھانے کی دعوت دی۔ ایک حسد ہے جس کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد حب نساء، حب دنیا، حب ریاست، حب راحت، حب کلام، حب ثروت و بلندی وغیرہ ہے کہ جس میں حب دنیا تمام برایؤں کی اصل ہے۔ (اصول کافی ۲ ، ص ۳۱۵)
روایات متواترہ میں حب دنیا کی مذمت وارد ہوئی ہے اور بعض روایات میں حب دنیا کو آخرت کی فراموشی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی طلب کو آخرت کا نقصان بتایا گیا ہے۔
٭ دنیا و آخرت دو سَو٘ت ہیں جو ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ (مستدرک ۲ ، ص ۳۳۰)
٭ دنیا و آخرت مشرق و مغرب ہیں جو ایک سے قریب ہوگا وہ دوسرے سے دور ہو جائے گا۔ (مستدرک ۲ ، ۳۳۱)
٭ دنیا و آخرت مثل آگ اور پانی کے ہیں جن کا اجتماع ناممکن ہے۔ اور سچ پوچھئے تو محبت دنیا ایک طرح کا شرک ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان کو آخرت پر اعتماد اور کتاب و سنت کے بیانات پر اطمینان نہیں ہے۔ ورنہ آخرت کے ہوتے ہوئے دنیا سے دل لگانے کا کیا مطلب ہے۔
فرزند! دنیا میں زہد اختیار کرو حرام کو چھوڑو کہ عذاب کا خطرہ ہے۔ شبہات سے پرہیز کرو کہ عتاب کا اندیشہ ہے۔ حلال میں بھی حساب ہے لہٰذا اس سے بھی ہوشیار رہو۔ انھیں خواہشات پر عمل کرو جنھیں شریعت نے سہارا دیا ہے جیسے نکاح۔ اس کے بعد کم سے کم پر قناعت کرو۔ لباس و غذا معمولی رکھو۔ آخرت پر توجہ دو تاکہ لذت آخرت سے آشنا ہو سکو۔
یاد رکھو کہ زہد کے معنی کھانے پینے کے ترک کر دینے کے نہیں ہیں اس کے معنی مقدر پر راضی رہنے کے ہیں اور وسعت میں بھی میانہ روی اختیار کرنے کے ہیں۔
٭ امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ زہد مال کی بربادی اور حلال کی حرام سازی نہیں ہے۔ زہد کے معنی صرف یہ ہیں کہ اپنے ہاتھ کے مال پر وعدہ خدا سے زیادہ اعتماد نہ ہو۔ (مستدرک ۲ ، ص ۳۳۱)
٭ امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ دنیا میں زہد کے معنی امیدوں میں کمی نعمتوں پر شکر اور حرام سے پر ہیز ہے۔ (مستدرک ۲ ، ص ۳۳۳)
فرزند! رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آل رسول علیہم السلام سے توسل اختیار کرو کہ میں نے تمام روایات کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ پروردگار نے جس نبی(ص) کے ترک اولیٰ پر توبہ قبول کی ہے اسے انھیں کے وسیلہ سے قبول کیا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد انوار معصومین (ع) کو عرش سے ان کے صلب میں منتقل کردیا اور ملائکہ کا سجدہ درحقیقت اسی نور کے طفیل میں تھا اور اصل سجدہ پروردگار کا تھا کہ اس کے حکم پر سجدہ ہو رہا تھا یہ اللہ کی بندگی محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعظیم اور حضرت آدم علیہ السلام کی اطاعت کا ایک مظاہرہ تھا۔
جب آدم علیہ السلام نے سوال کیا پروردگار یہ انوار کس کے ہیں تو ارشاد ہوا کہ یہ بہترین مخلوقات ہیں۔ بزرگ ترین بندے ہیں۔ انھیں کے ذریعہ میں عطا کرتا ہوں اور انھیں کے ذریعہ ثواب و عتاب کا کام ہوتا ہے۔ آدم (ع) انھیں وسیلہ بناؤ تاکہ تمہاری مشکل حل ہو جائے۔ میں نے یہ طے کر لیا ہے کہ ان کے ذریعہ مانگنے والے کو مایوس نہ کروں گا اور سائل کو ردنہ کروں گا۔
اس کے بعد جناب یعقوب علیہ السلام جناب یوسف علیہ السلام سب نے انھیں کو وسیلہ بنایا ہے تو ان کی دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ (تفسیر صافی، ص ۲۴۲)
فرزند! عزائے سید الشہداء کا خیال رکھنا اور روزانہ بقدر امکان عزا قائم کرنا اور اگر مصارف نہ ہوں تو گھروالوں کو جمع کر کے مصائب سنا دینا اس لئے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام پروردگار کو بہت عزیز ہیں۔ انھوں نے شہادت کا عظیم درجہ حاصل کیا ہے اور راہ خدا میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے۔ ان سے توسل میں خیر دارین اور فلاحِ دنیا و آخرت ہے۔
فرزند! زیارت امام حسین علیہ السلام کا بھی خیال رکھنا اور روزانہ کم از کم ایک مرتبہ زیارت ضرور پڑھنا اور ممکن ہو تو ہر مہینہ کربلا جانا اور یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں سات مواقع پر کربلا میں ضرور حاضری دینا۔
(۱) شب عاشور اور روزِ عاشور(۲) اربعین(۳) اوّل رجب(۴) ۱۵! رجب(۵) ۱۵! شعبان(۶) شب عید الفطر(۷) روز عرفہ۔ (جوادی)
اور یہ بھی ممکن نہ ہوا تو کم از کم سال میں ایک مرتبہ حاضری دینا۔ (وسائل الشیعہ ۲ ، ص ۳۹۳)
اس لئے کہ اس کے بے شمار اثرات ہیں اور میں نے زیارت و عزاداری کے ایسے اثرات دیکھے ہیں جو عقل سے بالاتر ہیں اور کم از کم مشاہدہ یہ ہے کہ جب بھی زیارت حسین علیہ السلام کی ہے ایک نہ ایک مشکل ضرور حل ہوئی ہے اور رزق میں اضافہ ہوا ہے اس کے بعد ثواب تو سب سے بالاتر ہے۔ (وسائل الشیعہ ۲ ، ص ۳۹۰)
فرزند! خدا تمہیں ہر عمل خیر کی توفیق دے اور عمر طبیعی تک زندہ رکھے دیکھو بزرگوں کا احترام کرنا۔ پروردگار ان کے ذریعہ بلاؤں کو رد کرتا ہے۔ (حدیث قدسی) خبردار انھیں ناراض نہ کرنا کہ اس کے برے اثرات ہیں۔
جس قدر ممکن ہو ماں باپ کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی کرنا کہ قرآن و حدیث میں اس کی شدید تاکید وارد ہوئی ہے۔ خبردار ان کے معاملہ میں سستی نہ برتنا کہ امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جب جناب یعقوب علیہ السلام جناب یوسف علیہ السلام کے پاس آئے تو انھوں نے سواری سے اتر کر باپ کا استقبال نہیں کیا تو اس ترکِ اولیٰ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جناب جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور یوسف علیہ السلام کی ہتھیلی سے ایک نور نکال لیا۔ یوسف علیہ السلام نے سوال کیا، جبرئیل یہ کیا؟ فرمایا کہ اب نبوت آپ کی اولاد میں نہیں رہے گی اس لئے کہ آپ نے باپ کا مکمل استقبال نہیں کیا ہے اور پروردگار نے اس کے زیرِاثر آپ کی نسل سے سلسلۂ نبوت ختم کردیا ہے۔ (مجمع البیان ۵ ، ص ۲۶۴)
ظاہر ہے کہ یہ روایتیں اخلاقیات کی اہمیت کے اظہار کے لئے ہیں ورنہ نبوت کا فیصلہ روز اوّل ہو چکا ہے اس کا انحصار تعظیم اور عدم تعظیم پر نہیں ہے۔ (جوادی)
احترامِ علماء
فرزند! علماء عاملین کا احترام کرنا۔ یہ دین کے منارے، شریعت کے امانتدار اور امام عصر(ع) کے نائب ہیں۔ البتہ بے عمل علماء سے دور بھاگنا جس طرح شیر سے فرار کرتے ہیں کہ یہ بحکم امام (ع) عالم نہیں ہیں اور ان کا ضرردین کے بارے میں لشکر یزید بن معاویہ سے زیادہ ہے۔ (تفسیر برہان ۱ ، ص ۱۱۸)
احترام ذریت پیغمبر اسلام(ص)
فرزند! اولادِ رسول(ص) کا احترام کرنا کہ یہ ذریت علی (ع) و فاطمہ (ع) ہیں اور ان کی محبت مطلوب پروردگار ہے۔ جہاں تک ممکن ہو ان کا احترام کرنا کہ رضائے پروردگار اور خیر دنیا و آخرت ہے۔ (مستدرک، ص ۴۰۰)
اور دیکھو خبردار! اپنے احترام کو صرف نیک کردار سادات تک محدود نہ رکھنا کہ ان کا حکم علماء کا نہیں ہے کہ بے عمل قابل احترام نہ ہوں ان کا حکم اولاد کا ہے اور اولاد بہر حال اولاد ہوتی ہے۔ ہاں اگر ترک احترام سے ہدایت کا امکان ہو تو احترام نہ کرو تاکہ ہدایت کے راستے پر آجائیں اور یہ نہی عن المنکر کا ایک طریقہ ہے۔ اگرچہ اس میں بھی احتیاط یہی ہے کہ ظاہراً احترام کرتے رہو اور تنہائی میں نصیحت کر دو جیسا کہ احمد بن اسحاق اشعری کے واقعہ میں ہے کہ حسین بن حسن فاطمی ان سے ملنے کے لئے آئے تو انھوں نے شرابی ہونے کی وجہ سے ملنے سے انکار کر دیا اور جب حج میں جاتے ہوئے سامرہ میں امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے بھی ملاقات سے انکار کر دیا۔ جب اصرار شدید کے بعد اجازت ملی تو ابن اسحاق نے عرض کی فرزند رسول(ص) آپ ناراض کیوں ہیں؟ فرمایا تم نے حسین بن حسن کو کیوں روکا تھا۔ عرض کی میرا مقصد شراب سے پرہیز کرانا تھا۔ فرمایا صحیح ہے۔ نہی عن المنکر فریضہ ہے لیکن احترام میں فرق نہیں آنا چاہئے۔ ابن اسحاق نے یہ بات محفوظ کرلی اور واپسی پر حسین کا بے حد احترام کیا۔ انھوں نے گھبرا کر سبب پوچھا۔ احمد نے سبب بیان کیا۔ حسین پر اس بیان کا اس قدر اثر ہوا کہ توبہ کر کے شراب کے سارے ظروف توڑ کر پھینک دیئے اور مسجد میں اعتکاف کر کے انتقال کر گئے۔ (مستدرک مسائل ۲ ، ص ۴۰۰)
یہ بھی یادر کھو کہ یہ تاکید غیر فاطمی سادات کے لئے نہیں ہے۔ اگر چہ ہاشمی ہونے کے اعتبار سے اشرف اور محترم ہیں لیکن ان کا شمار ذریت و قربیٰ رسول میں نہیں ہے اور داخل النسب افراد کا احترام تو بالکل نہیں ہونا چاہئے اور ان کے احترام سے پر ہیز ہی اولیٰ اور النسب ہے۔ مشتبہ حالات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے البتہ جو لوگ ماں کی طرف سے سید ہیں ان کا احترام ہونا چاہئے اس لئے کہ بیٹی کی اولاد بھی اولاد ہی ہوتی ہے اور امام حسن اور امام حسین علیہم السلام اسی رشتے سے ابناء پیغمبر(ص) ہیں۔ صرف اس رشتہ کے لوگوں کو خمس کا استحقاق نہیں ہوتا کہ روایت مرسلہ جماد بن عیسیٰ میں خمس کے لئے باپ کی طرف سے سیّد ہونے کی شرط ہے ورنہ احترام میں دونوں برابر ہیں اور دونوں کا احترام ہونا چاہئے۔
صلۂ رحم
فرزند! قرابت داروں سے تعلقات قائم رکھو کہ اس سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور رزق میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ یہ رضا بے شمار نفع دنیا و آخرت کا ذریعہ ہے۔ وہ قطع تعلق بھی کریں تو تم رابطہ قائم رکھو جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ قطع تعلق کرنے والے قرابتداروں سے صلہ رحم کرنا زیادہ فضیلت اور ثواب رکھتا ہے اور نفس کی اطاعت سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے۔
خبردار! قطع رحم نہ کرنا کہ قرابت اللہ کی راہ میں فریادی رہتی ہے کہ پروردگار جو مجھ سے تعلق رکھے تو اس سے تعلق رکھنا اور جو مجھ سے قطع تعلق کر لے تو اس سے قطع تعلق کر لینا۔
میں نے صلۂ رحم کے بے شمار اثرات دیکھے ہیں اور قطع تعلق رکھنے والے کے ساتھ تعلقات کا عجیب و غریب اثر مشاہدہ کیا ہے لہٰذا تم اس باب میں سستی اور کمزوری سے کام نہ لینا اور برابر تعلقات کو استوار رکھنا۔
مفلوک الحال شیعوں کا خیال رکھنا بالخصوص ہمسایہ اور قرابت دار کہ ان کے خیال میں عزت دنیا و آخرت ہے اور مرضیٔ پروردگار بھی ہے۔ امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جناب یعقوب علیہ السلام پر فراق یوسف کی افتاد اس لئے پڑی تھی کہ انھوں نے ایک دنبہ ذبح کیا اور ہمسایہ کے حالات دریافت کئے بغیر استعمال کر لیا حالانکہ ہمسایہ میں ایک شخص فاقہ شکنی کے لئے آذوقہ کا محتاج تھا۔ (تفسیر صافی، ص ۲۶۹)
(یہ بھی ترک اولیٰ کی ایک قسم ہے جس پر انبیاء کرام(ع) کا امتحان سخت ہو جاتا ہے لہٰذا تم بھی نعمات دنیا سے استفادہ کرنے سے پہلے دوسروں کا لحاظ کرو ورنہ کسی وقت بھی تمہارا امتحان ہو سکتا ہے۔ جوادی)
فرزند! اپنے جملہ امور میں میانہ روی سے کام لینا۔ اس کا انجام بہتر اور عاقبت قابل تعریف ہے۔ مالک کائنات نے اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اقتصاد و میانہ روی کا حکم دیا ہے اور جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ راہِ خدا میں کیا خرچ کیا جائے تو قرآن نے یہی جواب دیا کہ ’’اپنی ضرورت سے زیادہ۔‘‘
فرزند! ہمیشہ اپنے سے پست افراد کے حالات پر نگاہ رکھنا اور شکر خدا کرتے رہنا کہ ان سے بہتر ہو۔ اپنے سے اچھے حالات والوں پر نگاہ نہ کرنا کہ نفس کو اذیت ہو اور راحت دنیا اور اجر آخرت دونوں کا خاتمہ ہو جائے۔
فرزند! جہاں تک ممکن ہو لوگوں سے زیادہ میل جول نہ رکھنا کہ اس طرح انسان حق سے غافل اور موت سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ عبادت کا وقت کم ہو جاتا ہے اور تحصیل علم دین، ذکر، فکر کے مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ لوگوں کے حالات کی طمع پیدا ہو جاتی ہے اور غیبت، بہتان وغیرہ سننے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی مہمل قسم کے لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے اور اس طرح فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے اور قیامت کے دن ندامت کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے خبردار وقت گزار نے سے پہلے ہوشیار ہوجاؤ۔
فرزند! خبردار خواہشات نفس کی مخالفت کرو۔ نفس کی متابعت ہلاکت اور زہر قاتل ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ خواہشات کے اتباع اور امیدوں کے طول طویل ہونے سے ہے کہ خواہشات کا اتباع حق سے روک دیتا ہے اور امیدوں کا طول آخرت کو بھلا دیتا ہے۔ (روضہ کافی، ص ۵۸) دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ’’اپنے خواہشات سے اس طرح بچو جس طرح دشمن سے بچتے ہو۔ خواہشات سے بدتر دنیا کا کوئی دشمن نہیں ہے۔ ہر تبائی خواہشات اور بدزبانی سے پیدا ہوتی ہے۔ (اصول کافی ۲ ، ص ۲۳۵) فرزند! صبح کے وقت شام اور شام کے وقت صبح کی فکر نہ کرو ورنہ امیدیں غافل بنادیں گی۔ ہر وقت یہ سوچو کہ دوسرے وقت نہیں رہنا ہے اور اپنی حیثیت اس جنازہ کی ہے جو غسال کے سامنے رکھا ہوا ہے۔
وصیت
فرزند! بلوغ کے بعد ہی اپنا وصیت نامہ تیار کرلو اور جب بدلنے کی ضرورت پڑے تو اسے بدل دو۔ اپنے قرضے اور مطالبے بھی لکھ کر رکھو۔ مجھے اکثر یہ اتفاق ہوا ہے کہ شدید سردی کے زمانے میں اگر بستر پر لیٹنے کے بعد یاد آیا کہ میں نے کسی سے ایک یا دو درہم قرض لیا ہے تو میں بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور پہلے اسے نوٹ کیا اور اس کے بعد آکر لیٹا کہ مبادا موت آجائے اور یہ قرض میرے ذمہ رہ جائے کہ اگر قرض خواہ مطالبہ نہ کرے تو میں مقروض رہ جاؤں اور اگر مطالبہ کرلے تو ورثہ اس سے گواہی یا قسم کا مطالبہ کریں گے اور یہ اسکو بلا سبب زحمت ہوگی۔ جبکہ اس نے قرض دے کر احسان کیا ہے اور احسان کا بدلہ یہ نہیں ہے کہ اسے گواہی یا قسم کی زحمت میں ڈالا جائے اور اگر ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ورثہ ادا نہ کریں تو میں مسؤل الذمہ رہ جاؤں۔
قرض کی گواہی
فرزند! جب بھی کوئی قرض لو یا دو تو حکم قرآن کے مطابق اسے ضبط تحریر میں لے آؤ اور اس پر گواہ بھی معین کرو کہ شریعت کے ایک حرف کا ترک کرنے والا بھی محتاج ہو سکتا ہے۔ رب کریم نے ہر قانون مصلحت سے بنایا ہے اور کوئی قانون بیکار نہیں بنایا لہٰذا خبردار ان مصلحتوں کو ضائع اور برباد نہ ہونے دینا۔
فرزند! خدا تمہاری عمر دراز کرے اور تمہارے امور کی اصلاح کرے اور تمہیں علم و عمل میں کمال عطا کرے۔ آداب شرعیہ کا التزام کرو جملہ حرکات و سکنات وضو، غسل، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، بیت الخلاء، ہمبستری، لباس، مکان ہر کام میں احکام شریعت کی پابندی کرو۔ یہ احکام بلا سبب نہیں بنائے گئے ہیں۔ ان کے دنیا و آخرت میں نتائج اور فوائد ہیں۔ ان کے بارے میں غفلت اور سستی سے کام نہ لینا۔ میں عنقریب تمہارے لئے یہ سارے آداب ایک رسالہ میں جمع کر دوںگا تاکہ تمہیں تلاش کرنے کی زحمت نہ ہو اور صرف عمل کرنے کی ذمہ داری باقی رہ جائے۔
ذکر خدا
فرزند! ہر وقت خدا کو یاد رکھنا۔ یادِ خدا سے دل کی زندگی، رب کا قرب، برکت کی زیادتی، ہلاکت سے نجات، شیطان سے دوری، رحمان سے قربت حاصل ہوتی ہے۔
معصوم علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ ہمارے شیعہ کی پہچان ہے کہ تنہائیوں میں برابر خدا کو یاد کرتا رہتا ہے اور جو بھی خدا کو یاد کرتا ہے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے نفاق اور جہنم دونوں سے محفوظ رکھتا ہے اور جنت میں جگہ دیتا ہے۔ اہل جنت کسی چیز پر نادم نہیں ہوں گے مگر اس لمحہ پر ضرور نادم ہوں گے جو یادِ خدا کے بغیر گزر گیا ہے کہ کاش اس لمحہ میں بھی یادِ خدا کی ہوتی تو درجات اور بلند ہو جاتے۔
فرزند! خبردار کوئی مجلس یادِ خدا سے خالی نہ رہے کہ امام علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جس مجلس میں ہمارا اور خدا کا ذکر نہ ہو وہ صاحب مجلس کے لئے وبال اور حسرت بن جائے گی۔( ۱ )
یہ یاد رہے کہ یاد سے مراد فقط زبانی تذکرہ نہیں ہے بلکہ توجہ قلب ہے جس کا مقدمہ ذکر لسان میں ہوتا ہے۔ پروردگار عالم نے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو اسی بات پر خلیل بنا دیا کہ خدا کو بہت یاد کرتے تھے۔ ذکر قلب ذکر زبان سے ستر گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے۔( ۲ )
استغفار
فرزند! سحر کے وقت استغفار کرو اور ہر صبح کو سو ۱۰۰! مرتبہ
مَا شآئَ اللّٰ ه ُ لاَ حَولَ وَ لاَ قُوَّ ة َ اِلاَّ بِاللّٰ ه ِ اَستَغفِرُ اللّٰ ه َ ۔
دس مرتبہ
سُبحَانَ اللّٰ ه ِ وَ الْحَمدُ لِلّٰ ه ِ وَلَآ اِلٰ ه َ اِلاَّ اللّٰ ه ُ وَ اللّٰ ه ُ اَکبَرُ کہا کرو۔
گھر سے نکلتے وقت عمامہ کا سرا لٹکادو اور یہ دعا پڑھو:
بِسمِ اللّٰ ه ِ وَ بِاللّٰ ه ِ اٰمَنتُ بِاللّٰ ه ِ مَا شَآئَ اللّٰ ه ُ لاَ حَولَ وَلاَ قُوَّ ة َ اِلاَّ بِاللّٰ ه ِ تَوَکَّلتُ عَلَی اللّٰ ه ِ ۔( ۳ )
کوئی بھی واقعہ دیکھو سوال کرنے کی کوشش نہ کرو۔ لقمان حکیم نے جناب داؤد کو زرہ بنا تے دیکھا تو ارادہ کیا کہ دریافت کریں پھر حکمت آڑے آگئی اور چپ ہوگئے۔ تھوڑی دیر میں جناب داؤد نے اسے مکمل کر کے پہن لیا اور پھر فرمایا کہ جنگ کے لئے بہترین زرہ ہے۔ لقمان نے کہا بیشک خاموشی ایک حکمت ہے مگر اس پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔
فرزند! مستحبات کو خلوتوں میں انجام دو تاکہ ریاکاری کا امکان نہ رہے لوگوں کے سامنے لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کہتے رہو کہ یہ بہترین ذکر بھی ہے اور خاموشی سے ہو بھی سکتا ہے کہ اس کے تمام حروف ساکت ہیں اور اسی لئے اسے ذکرِ خفی قرار دیا گیا ہے اور اس کا فضل دیگر اذکار پر ستر گنا زیادہ ہوگا۔
فرزند!لاَ اِلٰ ه َ اِلاَّ اللّٰ ه ُ لاَ حَولَ وَلاَ قُوَّ ة َ اِلاَّ بِاللّٰ ه ِ العَلِیِّ العَظِیمِ صَلَّی اللّٰ ه ُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ ه ِ الطَّا ه ِرِین
کثرت سے کہا کرو کہ اس میں شیاطین کو بھگانے کی عجیب و غریب تاثیر پائی جاتی ہے۔
فرزند! معصومین (ع) کی جتنی دعائیں ہیں سب کی تلاوت کرو چاہے زندگی میں ایک ہی مربتہ ہو اور ہر عمل پر عمل کرو چاہے ایک ہی بار ہو کہ ہر عمل کا ایک خاص اجر اور ہر دعا کی ایک خاص تاثیر ہے۔ تم اس اجر و اثر سے کیوں محروم رہ جاؤ۔ عبادتوں اور دعاؤں کا حساب پھلوں کا ہے کہ انسان جس باغ میں داخل ہوتا ہے اس کے ہر پھل کو چکھنا چاہتا ہے تو جب بستانِ عبادت میں داخل ہو تو اسے ہر عبادت اور ہر دعا کا ذائقہ محسوس کرنا چاہیئے۔
فرزند! روزانہ کسی نہ کسی مقدار میں قرآن ضرور پڑھو۔ بالخصوص سحر کے وقت تلاوت بھی کرو اور معانی پر غور بھی کرو تاکہ اس کے احکام پر عمل کر سکو۔ ائمہ معصومین (ع) کی تفسیر کا مطالعہ کرتے رہو تاکہ مشکلات قرآن حل ہوتے رہیں۔
فرزند! جہاں تک ممکن ہو باطہارت رہو۔ طہارت شیطان کے مقابلہ میں مومن کا اسلحہ ہے اس سے عذاب قبر دفع ہوتا ہے حاجت روائی ہوتی ہے۔ عمر میں زیادتی، رزق میں وسعت، جاہ و عزت میں اضافہ، بلندی رفعت و منزلت، صحت بدن، فرحت و نشاط اور حافظہ و ذہن حاصل ہوتا ہے۔ وضو نصف ایمان ہے۔( ۴ )
مومن جب تک باوضو رہے ثواب تعقیبات حاصل کرتا رہتا ہے۔( ۵ )
باطہارت مرنے والا شہید مرتا ہے۔( ۶ )
باوضو سونے والا تمام رات عبادت گزار شمار ہوتا ہے۔( ۷ )
باوضو بستر پر آنے والے کے لئے بستر مسجد کا مرتبہ رکھتا ہے۔( ۸ )
مومن کی روح خواب کے عالم میں ملاء اعلیٰ کی سیر کرتی ہے تو اسے باطہارت رہنا چاہئے تاکہ وہاں رب سے ملاقات کرنے کے قابل ہو اور برکتیں حاصل کر سکے۔
فرزند! وسوسہ شیطانی کے وقت اعوذ باللہ پڑھو اسکے بعد کہو
’’اٰمَنتُ بِاللّٰ ه ِ وَ رُسُلِ ه مُخلِصًا لَ ه ُ الدِّین ۔‘‘
فرزند! فرائض کو اول وقت ادا کرو کہ یہ افضل بھی ہے اور برائتِ ذمہ کا بہترین ذریعہ بھی ہے اس سے بدن کو راحت رہتی ہے اور روح کو سکون رہتا ہے۔ روایت میں ہے کہ نماز سے پہلے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا تو پہلے نماز ادا کرلو تاکہ ہر عمل قابل قبول ہوجائے اور رزق میں وسعت بھی ہو۔( ۹ )
نوافل کی پابندی
فرزند! دن و رات کے تمام نوافل ادا کر دو چا ہے مختصر طریقہ ہی پر کیوں نہ ہو۔ نوافل سے فرائض کی تکمیل ہوتی ہے اور تجربہ یہ کہتا ہے کہ نافلۂ شب سے وسعت رزق اور نافلۂ ظہرین سے توفیقات میں اضافہ ہوتا ہے۔
خبردار! نوافل کو اس لئے ترک نہ کرنا کہ مشغولیت زیادہ ہے۔ توافل مشغولیت کے مددگار ہیں منافی نہیں ہیں۔ علم عمل کا مقصد ہوتا ہے۔ علم کی خاطر عمل کا ترک کر دینا بے فائدہ ہے۔
فرزند! جہاں تک ممکن ہو فرائض کو جماعت کے ساتھ ادا کرو چاہے امام بنو یا ماموم کہ جماعت کا ثواب بے پناہ ہے وہ ضالع نہ ہونے پائے۔
(روایت میں ہے کہ جماعت میں ایک نفر کا ثواب ڈیڑھ سو گنا ہے پھر جیسے جیسے افراد بڑھتے جائیں گے ثواب دو گنا ہوتا جائے گا یہاں تک کہ جب مجمع اس سے بڑھ جائے گا تو ثواب بے حساب ہو جائے گا کہ انسان و جنات مل کر بھی حساب نہیں کر سکتے) جوادی۔
فرزند! نماز کے بعد تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پابندی کرو۔ اور سجدۂ شکر ضرور ادا کرو۔ کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو سجدۂ شکر کی نیت سے پیشانی خاک پر رکھو اور وہ دعا پڑھو جو جبرئیل امین نے حضرت یوسف علیہ السلام کو تعلیم دی تھی جس کے بعد وہ قید سے رہا ہو گئے تھے اور کنوئیں سے باہر نکل آئے تھے۔ وہ دُعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِاَنَّ لَكَ الْحَمْدُ لَأ اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ الْمَنَّانُ، بَدِيْعُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ، ذُو الجَلاَلِ وَ الْاِكْرَام، اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَ اَنْ تَجْعَلَ لِىْ مِمَّا اَنَا فِيْهِ فَرَجًا وَ مَخْرَجًا، وَارْزُقْنِىْ مِنْ حَيْثُ اَحْتَسِبُ وَ مِنْ حَيْثُ لاَ اَحْتَسِبُ، اَسْئَلُكَ بِمَنِّكَ الْعَظِيْم وَ اِحْسَانِكَ الْقَدِيْمِ.
اس کے بعد دایاں رخسار زمین پر رکھے اور یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَتْ ذُنُوْبِىْ قَدْ اَخْلَقَتْ وَجْهِىْ عِنْدَكَ فَلَنْ تَرْفَعَ لِىْ اِلَيْكَ صَوْتًا وَ لَنْ تَسْتَجِيْبَ لِىْ دَعْوَةً فَاِنِّىْ اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ نَبِىِّ الرَّحْمَةِ مُحَمَّدٍ وَ عَلِىٍّ وَّ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ وَ الْاَئِمَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمِ اِلاَّ مَا فَرَّجْتَ عَنِّىْ
اس کے بعد بایاں رخسار زمین پر رکھے اور یہ دعا پڑھے: جس کے پڑھنے سے جناب یعقوب علیہ السلام کی بصارت واپس آگئی اور ان کے فرزند سے ملاقات ہو گئی۔
يَا مَنْ لاَ يَعْلَمُ اَحَدٌ كَيْفَ هُوَ وَ حَيْثُ هُوَ وَ قُدْرَتُهُ اِلاَّ هُوَ، يَا مَنْ سَدَّ الْهَوَآءَ بِالسَّمَآءِ وَ كَبْسَ الْاَرْضَ عَلَى الْمَآءِ وَ اخْتَارَ لِنَفْسِه اَحْسَنَ الْاَسْمَآءِ اِئْتِنِىْ بِرُوْحٍ مِنْكَ وَ فَرِّجْ مِنْ عِنْدَكَ
فرزند! ہر مہینے کے پہلے اور آخری پنجشنبہ اور درمیانی چہار شنبہ کو روزہ رکھو کہ یہ تمام زندگی کے روزے کے برابر ہے۔( ۱۰ )
فرزند! روزانہ کم از کم تین مرتبہ سورۂ قل ہو اللہ پڑ ھو کہ ایک قرآن ختم کرنے کے برابر ہے اور اسی لئے جناب سلمان نے اس بات پر ناز کیا تھا کہ میں تمام روز روزہ رکھتا ہوں تمام رات عبادت کرتا ہوں اور روزانہ ختم قرآن کرتا ہوں اور جب عمر نے اعتراض کیا تو سلمان نے کہا کہ میں ہر مہینے کے تین روزہ رکھ کے (دس گنا ثواب لیکر) اسے مہینے کے برابر بناتا ہوں۔ ہر رات با وضو سو کر شب بیداری کا ثواب لیتا ہوں اور روزانہ تین مرتبہ قل ہو اللہ پڑھ کر پورے قرآن کا ثواب لیتاہوں۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلمان کے اس دعویٰ کی تصدیق فرما دی۔
فرزند! اگر مستحبی روزہ رکھ کر کسی مومن کے یہاں جاؤ اور وہ کھانے کے لئے کہے تو روزہ ا اظہار کئے بغیر کھا لو کہ اظہار سے اس کے اوپر ثواب افطار دینے کا احسان ہو جائے گا اور یہ شان مہمانی کے خلاف ہے۔ بغیر اظہار افطار کرینے میں پروردگار ایک سال کے روزے کا ثواب عنایت فرمائے گا۔( ۱۱ )
____________________
[۱] اصول کافی ۲، ص ۴۹۸
[۲] اصول کافی ۲، ص ۴۷۲
[۳] اصول کافی ۲، ص ۱۴۳
[۴] مستدرک ۱، ص۴۱
[۵] وسائل ۱، ص ۴۰۴
[۶] مستدرک ۱، ص ۴۲
[۷] وسائل ۱، ص ۵۰
[۸] وسائل ۱، ص۵۰
[۹] مستدرک ۱، ص ۱۷۱
[۱۰] مستدرک ۱، ص ۵۹۳
[۱۱] فروع کافی ۴، ص ۱۵۰
مطالعہ احادیث و مواعظ
فرزند! احادیث و مواعظ کا برابر مطالعہ کرتے رہو اور روزانہ کم سے کم ایک گھنٹہ مطالعہ کرو کہ اس میں عجیب و غریب تاثیر پائی جاتی ہے اس سے دل زندہ ہوتا ہے اور نفس امارہ سر کشی سے محفوظ رہتا ہے۔
فرزند! خبردار زیادہ کھانا نہ کھانا کہ اس سے سستی اور سنگ دلی پیدا ہوتی ہے۔
٭ روایات میں ہے کہ انسان شیطان سے اس وقت قریب تر ہو جاتا ہے جب اس کا پیٹ بھرا ہوتا ہے۔( ۱ )
٭ خدا کے نزدیک نا پسندیدہ ترین شے شکم سیری ہے۔( ۲ )
٭ مومن کے لئے مضرترین شے پیٹ کا بھرا ہونا ہے ہمیشہ ایک تہائی شکم پانی کے لئے رکھو۔ ایک تہائی سانس کے لئے اور ایک تہائی کے برابر کھانا کھاؤ کہ یہی مزاج کے لئے سازگار اور بدن کے لئے صالح ہے۔
خبردار! یہ نہ سمجھنا کہ قوت زیادہ کھانے سے پیدا ہوتی ہے ہرگز نہیں قوت کا تعلق ہاضمہ سے ہے کھانے سے نہیں۔ اور ہاضمہ کم کھا نے ہی میں کام کرتا ہے زیادہ کھانے میں نہیں۔ معدہ ایک پتیلی ہے او پتیلی میں جتنی جگہ خالی ہوگی اتنی ہی اچھی غذا پختہ ہوگی۔
خبردار! شکم سیری میں اشتہاء کے بغیر نہ کھانا کہ اس سے بد ہضمی، برص، حماقت اور نادانی پیدا ہوتی ہے۔( ۳ )
خبردار زیادہ سونا بھی نہیں کہ اس سے عمر عزیز ضائع ہوتی ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم ریاضت میں لگ جاؤ، نہیں، یہ کام تو اور بُرا ہے، اس سے تو الگ ہی رہنا چاہئے اور آب و ہوا کے مطابق غذا استعمال کرتے رہنا چاہئے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ہر کام بقدرِ ضرورت انجام دو اور زیادتی نہ ہونے پائے۔
زیادہ ہنسی
فرزند! خبردار، زیادہ ہنسی سے کام نہ لینا کہ اس سے دل مردہ اور چہرہ بے آبرو ہو جاتا ہے۔ ہنسی کا بہترین علاج انگوٹھے پر نگاہ کرنا ہے کہ اس سے ہنسی رک جاتی ہے اور ہنسی کا کفارہ اَللّٰہُمَّ لاَ تَمقُتنِی ہے۔
مختصر ہنسی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یہ خوش خلقی کی علامت ہے ممدوح صفت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہنسی بقدرِ تبسّم ہوا کرتی تھی۔
٭ ہنسی کی طرح زیادہ مذاق بھی نہ کرنا کہ اس سے آبرو جاتی رہتی ہے۔( ۴ )
٭ نورِ ایمان ختم ہوجاتا ہے۔( ۵ )
٭ مروّت کم ہو جاتی ہے۔( ۶ )
٭ عداوت پیداہوتی ہے۔( ۷ )
٭ مختصر مزاح بہترین شے ہے اور یہی ائمہ معصومین (ع) کا طریقہ رہا ہے۔ اور انھوں نے اصحاب کو بھی یہی تعلیم دی ہے کہ اس کا شمار مومن کو خوش کرنے میں ہے جو بہترین کارِ ثواب ہے۔
فرزند! خبردار کسی مومن کے قتل پر خوش نہ ہونا کہ امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے جو کسی کے عمل سے خوش ہوتا ہے اس کا شمار عمل کرنیوالوں میں ہوتا ہے۔
٭ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر مومن کا قتل مشرق میں ہوتا ہے اور دوسرا شخص مغرب میں اس سے خوش ہوجائے تو اس کا شمار بھی قاتلوں میں ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ امام عصر علیہ السلام ظہور کے بعد قاتلانِ حسین علیہ السلام کی اولاد سے انتقام لیں گے کہ وہ اپنے بزرگوں کے عمل سے راضی رہی ہے۔( ۸ )
فرزند! خبردار، غیبت اور بہتان سے اپنے کو محفوظ رکھنا کہ ان کی وجہ سے نامہ عمل نیکیوں سے خالی اور برائیوں سے پر ہو جاتا ہے۔ اور غیبت کرنے والے کی نیکیاں اس کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں جس کی غیبت کی ہے اور اس کی برائیاں اس کی طرف آجاتی ہیں اور اس طرح یہ بالکل خالی ہاتھ ہوجاتا ہے۔( ۹ )
حسد
فرزند! خبردار، حسد سے ہوشیار رہنا کہ حسد کرنے والے کا عمل چھٹے آسمان تک بھی نہیں پہونچتا اور راستے ہی سے اس کے منھ پر مار دیا جاتا ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں میں پریشان رہتا ہے۔ دنیا میں اپنے حسد کی بنا پر اور آخرت میں عذاب الٰہی کی بنا پر۔
٭ حسد کی برائی کے لئے یہ کافی ہے کہ شیطان حسد ہی کا مارا ہوا ہے، برادرانِ یوسف علیہ السلام کی ذلت و رسوائی حسدہی کا نتیجہ تھی۔( ۱۰ )
٭ حسد کرنے والا کبھی سردار ہو نہیں سکتا۔( ۱۱ )
٭ حسد ایمان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ خبردار! پروردگار کے افعال پر اعتراض نہ کرنا۔ یہ بھی نہ کہنا کہ ہوا کس قدر گرم یا سرد ہے۔ یا کاش اس نے مجھے مالدار بنایا ہوتا۔ کاش مجھے شفادے دی ہوتی۔ کاش لڑکی کی بجائی لڑکا دے دیا ہوتا۔ کاش میری اولاد، میرا مکان یا میری ملکیت باقی رہ جاتی۔ کاش ایسا ایسا ہوتا تو بہت بہتر ہوتا کہ ان سب کا مقصد مصالح خدا پر اعتراض کرنا ہے اور اس کا شمار مخفی شرک میں ہوتا ہے۔
فرزند! خبردار، اپنے لئے کسی برائی کو طلب نہ کرنا کہ پروردگار مجھے موت دے دے یا میری زندگی لے لے کہ یہ سب مصلحت خدا وندی کے خلاف ہے۔ جناب یوسف علیہ السلام نے قید خانہ میں دعا کی کہ پروردگار مجھے یہ زندان کیوں دے دیا گیا ہے تو ارشاد ہوا کہ تم نے کہا تھا کہ ان کے ملک سے قید خانہ بہتر ہے یہ کیوں نہ کہا کہ ان کی دعوت سے عافیت بہتر ہے۔( ۱۲ )
(یعنی انسان کو دعائے عافیت کرنی جاہئے اور اس کا طریقہ معین نہیں کرنا چاہئے۔ وہ پروردگار کی مصلحت پر ہے جس شے میں عافیت دیکھے گا وہی عطا کرے گا۔ بندہ کو اعتراض یا شکایت کرنے کا حق نہیں ہے۔ جوادی)
بردار! کسی کے خوف سے معصیت اختیار نہ کرنا کہ معصیت ترک کر دینے ہی میں نجات اور عافیت ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب یوسف علیہ السلام نے خوف خدا سے زلیخا سے دامن بچا لیا تو پروردگار نے انھیں ملک مصر عطا کردیا۔
کذب
فرزند! خبردار غلط بیانی سے کام نہ لینا کہ اس سے خدا ناراض ہوتا ہے اور بندہ کو ذلیل بنا دیتا ہے۔ جھوٹے کا دنیا میں کوئی اعتبار نہیں ہوتا اس کے اقوال و افعال کا بھروسہ نہیں رہ جاتا۔ حتی الامکان توریہ سے بھی پرہیز کرنا چاہئے اگرچہ یہ جھوٹ نہیں ہے لیکن تجربہ یہی کہتا ہے کہ نجات سچائی ہی میں ہے۔ اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ پروردگار نے سچ کے طفیل میں بڑے بڑے مصائب سے نجات دلا دی ہے۔
(توریہ کے معنی ایسے الفاظ کا استعمال کرنا ہے کہ سننے والا دوسرے معنی سمجھے اور کہنے والے کا منشا دوسرا ہو۔ مثال کے طور پر کوئی دروازہ پر آواز دے کر صاحب خانہ کے بارے میں سوال کرے اور نوکر کہہ دے کہ یہاں نہیں ہیں کہ سننے والا ’’یہاں‘‘ کا مطلب پورا گھر سمجھے اور کہنے والا ’’یہاں‘‘ سے وہ جگہ مراد لے جس جگہ وہ خود کھڑاہے۔ ظاہر ہے کہ ایک جگہ پر دو آدمی کھڑے نہیں ہو سکتے۔ جوادی)
اور دیکھو ایسی باتیں بھی نہ کرنا جن سے کوئی بد نفس جھوٹ بولنا سیکھ لے جیسا کہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جب جناب یعقوب علیہ السلام نے یہ کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یوسف (ع) کو بھیڑیا نہ کھا جائے تو انھوں نے اپنے علم غیب کا اظہار کیا تھا لیکن برادرانِ یوسف علیہ السلام نے اسی سے بھیڑئے کی داستان تیار کرلی۔ یعنی مومن کو ایسے الفاظ سے بھی پرہیز کرنا چاہئے جس سے دوسروں کو جھوٹ بنانے کا راستہ مل سکے۔
طعن و طنز
خبردار! کسی کو برے حالات کا طعنہ نہ دینا کہ ایسے آدمی کے اعمال اس کے منھ پر مار دیئے جاتے ہیں اور یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں پروردگار اسے بھی ایسے حالات میں مبتلا نہ کردے۔( ۱۳ )
سنگ دلی
خبردار! ایسا کوئی عمل نہ کرنا جس سے سنگ دلی پیدا ہو کہ سنگ دلی بدترین شے ہے۔ (شاید آخر کتاب میں سنگدلی کے اسباب پر روشنی ڈالی جا سکے)
____________________
[۱] مستدرک ۳، ص ۸۱
[۲] مستدرک وسائل ۳ ص ۸۰
[۳] وسائل ۳، ص ۲۶۳
[۴] وسائل ۲، ص ۲۰۶
[۵] مستدرک ۲، ص ۷۸
[۶] مستدرک ۲، ص۷
[۷] وسائل ۲، ص ۲۱۷
[۸] تفسیر صافی
[۹] مستدرک ۲، ۱۰۶
[۱۰] مجمع البیان ۵، ص ۲۱۱
[۱۱] مستدرک
[۱۲] تفسیر صافی، ص ۲۲۴
[۱۳] وسائل ۱، ص ۷۳
تکبر اور غرور
خبردار! تکبر سے محفوظ رہنا کہ میں نے بار بار دیکھا ہے کہ پروردگار نے متکبرین کو ذلیل کیا ہے اور مغرورین کی ناک رگڑی ہے۔ غرور کا نتیجہ ناکامی، مایوسی، ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
٭ خدا ان متکبروں کو سخت ناپسند کرتا ہے جن کی چال میں اکڑ ہوتی ہے اور ایسے لوگوں پر زمین و آسمان لعنت کرتے ہے۔( ۱ )
٭ اکڑنے والا خیار سماوات وارض خدا کا دشمن ہوتا ہے۔( ۲ )
یاد رکھنا کہ تکبر اور اکڑ سفاہت اور حماقت کا نتیجہ ہے ورنہ انسان کے پاس اکڑ کا ذریعہ کیا ہے۔ وہ اپنے اول و آخر کو یاد کرلے تو ابتدا میں نطفۂ نجس تھا اور آخر میں مردار ہوجائے گا تو اب تکبرّ اور اکڑ کی کیا وجہ ہے۔( ۳ )
٭ بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ انسان کے شکم میں پائخانہ کا وجود اس جذبۂ غرور کو مٹانے کے لئے ہے کہ جو اپنے ساتھ شکم میں غلاظت لئے پھرتا ہے وہ کس بات پر اکڑتا ہے۔( ۴ )
فرزند! خبردار، غرور، اکڑ اور اس کے اسباب سے محفوظ رہنا۔ زمین پر خط دینے والا لباس نہ پہننا کہ اس سے غرور پیدا ہوتا ہے اور ایسا آدمی بوئے جنت سے بھی محروم رہتا ہے۔( ۵ )
٭ ایسے شخص کی قبر جہنم کی طرف دھنس جاتی ہے اور اسکا حشر قارون کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ بھی زمین میں دھنس گیا تھا۔( ۶ )
دوسرے لوگ تعظیم کے لئے کھڑے ہوں اور تم بیٹھے رہو یہ بھی غرور کا انداز ہے پروردگار ایسے انسان کو اہل جہنم میں شمار کرتا ہے جو مغرورانہ انداز سے بیٹھا رہے اور لوگ اس کے گرد کھڑے رہیں۔( ۷ )
(اہل اقتدار و اہل ریاست اس نکتہ پر توجہ فرما ئیں۔ جوادی)
٭ ائمہ معصومین علیہم السلام نے غرور کا علاج پیونددار لباس، کہنہ نعلین گرد آلود چہرہ اور بازار سے سامان لا نے، معمولی سواری پر سوار ہونے اور مساکین کی ہم نشینی کو قرار دیا ہے۔ اور یہی طرز عمل اپنایا بھی ہے۔( ۸ )
٭ اللہ نے تکبر کرنے والوں سے نعمتیں سلب کرلی ہیں۔ شیطان کا انجام پیش نظر ہے کہ وہ اس ایک تکبر کی وجہ سے نعمت قرب الٰہی سے محروم ہو گیا۔ لہٰذا خبردار اس جلاد سے محفوظ رکھنا اور اس کے اسباب سے بھی اپنے کو بچائے رکھنا۔
تواضع و انکسار
فرزند! خاکساری اختیار کرنا کہ اس میں خیر دنیا و آخرت دونوں ہے روایات میں ہے کہ تواضح سے بلندی حاصل ہوتی ہے۔( ۹ )
٭ تواضع میں شرف ہے۔( ۱۰ )
٭ تواضع سے حکمت آباد ہوتی ہے۔( ۱۱ )
٭ تواضع و خشوع، خوفِ خدا اور حیا و غیرت کی کھیتی ہے۔( ۱۲ )
٭ پروردگار تواضع کرنے والوں پر فخر کرتا ہے اور اس نے ہر انسان پر ایک ملک کو معین کر کے اس کی پیشانی ملک کے قبضہ میں دے دی ہے۔ کہ جب وہ اکڑ کر سر اٹھاتا ہے تو ملک جھگا دیتا ہے اور جب انکسار سے سر جھکاتا ہے تو ملک اسے سربلند کر دیتا ہے۔( ۱۳ )
٭ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی تواضع و خاکساری کی بنا پر کلیم بنادیا تھا کہ انھوں نے خاک پر پیشانی رکھی تھی تو اللہ نے انھیں سب سے بلند کردیا اور پورے زمانہ سے ممتاز کردیا۔
فرزند! خبردار، دوسروں کو حقیر نہ سمجھنا کہ اس میں خالق کی توہین ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جناب نوح علیہ السلام ایک خارش زدہ کتے کے قریب سے گزرے اور انھوں نے حقارت سے فرمایا کہ یہ کیسا کتا ہے تو وہ بحکم خدا گویا ہوا کہ خداوند عالم نے مجھے ایساہی بنایا ہے اگر آپ کو پسند نہیں تو مجھے اس سے اچھا بنا دیجئے۔ جناب نوح علیہ السلام بے حد شرمندہ ہوئے اور اس ترک اولیٰ پر چالیس سال گریہ کرتے رہے جس کے بعد انھیں نوح خطاب ملا حالانکہ ان کا نام عبد الجبار تھا۔( ۱۴ )
اسی طرح جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ایک ایسی مخلوق کولے کر آؤ جس سے تم بہتر ہو تو وہ ایک خارش زدہ کتے کو لے کر چلے اور راستہ میں چھوڑ دیا تو مقام مناجات میں ارشاد ہوا کہ اگر تم اس کو لیکہ آجاتے تو میں تمہارا نام دیوان نبوت سے محو کردیتا کہ میرے مقربین کسی طرح کے غرور کا شکار نہیں ہوتے۔ بقول عارفین جب تک انسان میں یہ احساس رہے گا کہ وہ دنیا میں کسی ایک سے بھی بہتر ہے اس میں تکبر برقرار رہے گا۔
(کھلی ہوئی بات ہے کہ اس قسم کے واقعات درس اخلاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ورنہ کوئی نبی نہ مغرور ہو سکتا ہے اور نہ اس کا نام دیوانِ نبوت سے کٹ سکتا ہے۔ اللہ نے انبیاء کو ذریعہ بنایا ہے۔ عام انسانوں کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے لئے جیسا کہ اس سے پہلے جناب نوح علیہ السلام، جناب یعقوب علیہ السلام اور جناب یوسف علیہ السلام کے تذکرہ میں گزر چکا ہے۔ جوادی)۔
حرص
فرزند! خبردار، حرص اور لالچ سے محفوظ رہنا کہ جناب حوّا کو اسی راستہ سے سمجھایا گیا تھا کہ گندم استعمال کریں ورنہ ان کے پاس جنت میں کس نعمت کی کمی تھی اور پھر انھوں نے یہی مسئلہ جناب آدم علیہ السلام کے سامنے رکھ دیا تھا۔
حرص سے پرہیز کرنے کی نصیحت خود شیطان نے بھی کی ہے۔ جناب نوح علیہ السلام سے کہا ہے کہ لالچ سے محفوظ رہنا اور خبردار کسی ایسی جگہ پر نہ رہنا جہاں نا محرم عورت تمہارے ساتھ ہو اور کوئی تیسرا نہ ہو ورنہ تیسرا میں ہو جاؤں گا۔( ۱۵ )
خود پسندی
خبردار! خود پسندی کا شکار نہ ہونا کہ یہ دین کے لئے فساد اور عمل کے لئے بربادی کا ذریعہ ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھی ان کے ساتھ بسم اللہ کہہ کر دریا پر چل پڑا اور جب درمیان میں یہ خیال آیا کہ اب تو میں بھی عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہو گیا ہوں تو وہیں ڈوبنے لگا اور فریاد کی۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اسے سنبھال لیا اور سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ خود پسندی کا نتیجہ ہے۔ آپ نے توبہ کی تلقین کی اس نے توبہ کی اور پھر کمال واپس آگیا کہ بسم اللہ کہہ کر پانی پر سے گزر جانا تھا۔( ۱۶ )
ریاکاری
فرزند! ریاکاری سے بھی بچتے رہنا کہ یہ شرک کے مترادف ہے اور روایات میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص غیر خدا کو دکھانے کے لئے عمل کرتا ہے اللہ روز قیامت اس کو اسی کے حوالے کردے گا۔( ۱۷ )
٭ ریاکار قیامت کے دن چار ناموں سے بلایا جائے گا، فاجر، کافر، غدار اور خسارت کار۔ اس کے اعمال برباد، اجر معطل اور اسے انجام کار اس کے حوالے کر دیا جائے گا جسکے دکھانے کے لئے عمل انجام دیا تھا۔( ۱۸ )
٭ بعض روایات میں ہے کہ انسان خدا کے لئے قلیل عمل کرتا ہے تو وہ بندوں میں کثیر بنا کر پیش کردیتا ہے اور بندوں کیلئے کثیر عمل انجام دیتا ہے تو وہ قلیل بنا دیتا ہے چاہے رات بھر بیدار ہی کیوں نہ رہا ہو اور اپنے جسم کو تھکا ہی کیوں نہ ڈالا ہو۔( ۱۹ )
٭ عقل بھی اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ بظاہر خدا کی عبادت کی جائے اور واقعا غیر اللہ کیلئے عمل کیا جائے۔ آخر انسان کی بندگی میں کیا فائدہ ہے اور وہ بیچارہ جو ایک مچھر کو اپنے سے دفع نہیں کر سکتا وہ کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ جو مکھی کی چھینی ہوئی شے کو واپس نہیں لے سکتا اس سے انسان کیا توقع رکھتا ہے اور اس کی رضامندی کے لئے عمل کر کے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مايوسی
فرزند! خبردار، مایوسی کا شکار نہ ہونا کہ عذاب خدا کی طرف سے اطمینان اور رحمتِ خدا سے مایوسی گناہ کبیرہ میں ہے اور اس سے خدا سخت ناراض ہوتا ہے بلکہ اس میں توہین پروردگار بھی ہے۔
میں نے بعض ایسے گناہگاروں کو دیکھا ہے کہ جہنم کے بارے میں شیطان صرف گناہگار بنادینے پر راضی نہیں ہوا بلکہ انھیں رحمت خدا سے مایوس کر کے توبہ سے بھی روک دیا اور نتیجہ میں وہ دہرے گناہ کے مرتکب ہو گئے۔ معصیت بھی کی اور رحمت خدا سے مایوس بھی ہوئے اور آخر میں توبہ واجب کو بھی ترک کیا۔
____________________
[۱] وسائل ۲، ص ۴۷۲
[۲] وسائل ۲، ص ۴۷۲
[۳] مستدرک ۲، ص ۳۳۰
[۴] فروع کافی ۳، ص ۷۰
[۵] وسائل الشیعہ ۲۸۳
[۶] وسائل الشیعہ ۱، ص ۲۸۳
[۷] جامع السعادات ۱، ص ۳۰۹
[۸] مستدرک ۲، ص ۳۲۹
[۹] وسائل ۲، ص ۴۰۷
[۱۰] مستدرک ۲، ص ۳۰۶
[۱۱] وسائل ۲، ص ۴۰۷
[۱۲] مستدرک ۲، ص ۳۰۶
[۱۳] وسائل ۲، ۴۷۱
[۱۴] مستدرک ۲، ص ۲۶۲
[۱۵] مستدرک ۲، ص ۳۳۰
[۱۶] اصول کافی ۲، ص ۳۰۶
[۱۷] اصول کافی ۲، ص ۲۹۳
[۱۸] وسائل ۱، ص ۱۱
[۱۹] اصول کافی ۲، ص ۲۱۶
توبہ
فرزند! اگر شیطان تمہارے دل میں وسوسہ پیدا کر کے مخالفت پروردگار پر آمادہ بھی کردے تو خبردار توبہ کو فراموش نہ کردینا اور فی الفور توبہ کرلینا کہ توبہ گناہوں کو محو کردیتا ہے۔
ہمیشہ توبہ کرتے رہو کہ خدا جانے کب کون سی خطا ہوجائے اور قدم پھسل جائیں۔
فرزند! یاد رکھو توبہ فقط استغفار کا نام نہیں ہے کہ انسان گناہ کرتا رہے اور استغفر اللہ کہتارہے یہ توبہ نہیں ہے یہ تو پروردگار کا مذاق اڑانا ہے۔ توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس میں چھ چیزیں پائی جاتی ہوں۔
۱. گذشتہ پر ندامت۔
۲. آئندہ کے لئے عزم محکم کہ اب ایسا گناہ نہ کریں گے۔
۳. مخلوقین کے حقوق کی ادائیگی کہ مال ہے تو واپس کردیا جائے اور غیبت و غیرہ ہے تو معافی طلب کرلی جائے۔
۴. جن فرائض میں کوتاہی ہوگئی ہے ان کی قضا کی جائے۔
۵. جو گوشت مال حرام سے پیدا ہوا ہے اسے حزن و الم کے ذریعہ گھٹا دیا جائے کہ کھال اور ہڈی رہ جائے اور پھر سے نشو و نما ہو۔
۶. جتنی معصیت سے لذت حاصل کی ہے اتنی ہی اطاعت کی زحمت برداشت کی جائے۔
ان شرائط کے بعد توبہ مکمل ہوتی ہے اور اسے توبۂ کاملہ کہا جاتا ہے۔( ۱ )
یاد رکھو کہ یہ پروردگار عالم کا امت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر احسان ہے کہ اس نے توبہ و استغفار پر گناہوں کے بخشنے کا وعدہ کرلیا ہے ورنہ دورِ قدیم میں توبہ کا قانون اس قدر سخت تھا کہ آج کے انسانوں کے لئے ناقابل تصور ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام نے سورہ بقرہ کی آخری آیات کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ پروردگار نے اس امت سے بہت سے بوجھ اٹھا لئے ہیں اور اس کا بوجھ بالکل ہلکا کردیا ہے ورنہ زمانہ قدیم میں گناہ دروازے پر لکھ دیئے جاتے تھے توبہ کے لئے ترک لذات ضروری تھا اور اس امت میں پردہ پوشی سے کام لیا جاتا ہے اور آب و غذا بھی حرام نہیں ہوتا۔ سابق امتوں میں پچاس ۵۰! ، اسی ۸۰! اور سو ۱۰۰! سال توبہ کے بعد بھی ادنیٰ عتاب ضرور نازل ہوتا تھا اور اب مختصر توبہ پر بھی مستقل عذاب بر طرف ہو جاتا ہے چاہے انسان نے برسہا برس گناہ کئے ہوں۔( ۲ )
(اس روایت میں بے شمار نعمتوں اور رحمتوں کا تذکرہ ہے۔ تفسیر صافی کا مطالعہ اس باب میں بے حد مفید ہوگا۔ جوادی)
پروردگار عالم نے اس امت کے لئے توبہ کا مسئلہ اتنا آسان کردیا ہے کہ روایت میں ہے کہ ایک شخص نے ۹۹ آدمیوں کو قتل کر کے ایک عابد و زاہد سے دریافت کیا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ اس نے اسے بھی تہہ تیغ کردیا اور اب ایک عالم کے پاس پہونچا، اس نے کہا کہ خدا ارحم الراحمین ہے اب بھی توبہ قبول کر سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ فلاں سرزمین پر ایک نبی خدا ہے اس کے پاس جاکر توبہ کرو۔ یہ شخص نبی خدا کی جستجو میں چلا۔ اثنائے راہ انتقال ہو گیا تو مصلحت پروردگار نے ملائکۂ رحمت و عذاب دونوں بھیجے، ایک کا کہنا تھا کہ گناہگار ہے، دوسرے کا کہنا تھا کہ راہِ توبہ پر جارہا تھا۔ ارشادِ قدرت ہوا کہ زمین معصیت اور زمین توبہ کی پیمائش کی جائے کہ یہ کس سے زیادہ قریب ہے۔ پیمائش کی گئی۔ زمین توبہ ایک بالشت کم نکلی۔ حکم خدا ہوا کہ ملائکۂ رحمت اسے لے جائیں اس لئے کہ یہ توبہ سے ایک بالشت زیادہ قریب ہو چکا تھا۔ اور بعض روایات کی بناء پر خود پروردگار نے زمین توبہ کا فاصلہ کم کردیا کہ ارادۂ توبہ ہی سب سے بڑی توبہ ہے۔
(واضح رہے کہ اس طرح کی روایات ایک قسم کی تمثیل ہیں جن سے اصل مقصد کی تفہیم مقصود ہے ورنہ بغیر اذنِ خدا کے فرشتے حرکت نہیں کر سکتے دو طرح کے فرشتوں کے آنے اور آپس میں تکرار کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ جوادی)
فرزند! یاد رکھو، پروردگار اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے وہ توابین کو دوست رکھتا ہے۔( ۳ )
اور بعض روایات میں ہے کہ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو خداوند اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے شام کے وقت صبح کا کھویا ہوا جانور مل جائے اس لئے کہ جانور کا پلٹ آنا آسان ہے اور انسان کا توبہ کرنا مشکل ہے۔( ۴ )
توبہ میں عجلت
فرزند! توبہ کرو۔ مسلسل توبہ کرو اور گناہ کے بعد فوراً توبہ کرو کہ معاملہ ہاتھ سے نکلنے نہ پائے اور عتاب الٰہی نازل نہ ہونے پائے۔ خبردار توبہ میں سستی اور کاہلی نہ برتنا کہ اس تاخیر میں سخت آفتیں ہیں۔ شاید ملک الموت ہی آجائیں اور وقت توبہ نکل جائے۔
گناہ کا حساب ایک معمولی پودے کا ہوتا ہے کہ فی الفور اکھاڑ لیا تو اکھاڑ لیا ورنہ جڑپکڑلی تو اکھاڑنا مشکل ہوجائے گا۔ یہی حال گناہوں کا ہے کہ فوراً توبہ کرلی تو خیر ورنہ عادت پڑ گئی تو تاخیر ہی ہوتی رہے گی اور توبہ نصیب نہ ہوگی۔
روایات میں ہے کہ پروردگار گناہ کے بعد سات ساعت، نو ساعت یا ایک دن کی مہلت دیتا ہے اور اتنی دیر تک گناہ درج نہیں کئے جاتے۔ اس کے بعد اگر توبہ نہیں کی تو گناہ ثبت کر دیئے جائیں گے اور توبہ بھی مشکل ہوجائے گی۔( ۵ )
٭ توبہ سے طول عمر، وسعت رزق اور حسن حال پیدا ہوتا ہے۔ خبردار اس میں کوتاہی اور سستی نہ ہونے پائے کہ تمام نعمتوں سے محروم ہوجاؤ۔
تلخی حالات پر صبر
فرزند! اللہ تم کو رزق اور عفت عنایت فرمائے۔ ہمیشہ تلخی حالات میں صبر کو شعار بنائے رکھنا۔ مالک کائنات نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے ارشاد فرمایا تھا کہ جب بھی دنیا کو اپنی طرف آتے دیکھو تو کہو اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔ یہ ایک عذاب ہے جو آرہا ہے۔ اور جب دنیا کو منھ پھیر تے دیکھو تو فقر کا استقبال کرو کہ یہ صالحین کا شعار ہے۔( ۶ )
٭ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ فقیری قدرت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
٭ فقیری وہ نعمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نبی مرسل اور مومن کریم کو عطا کرتا ہے۔
٭ فقیری خدا کی طرف سے ایک کرامت اور عزت ہے۔( ۷ )
٭ فقیری مومن کی زینت ہے۔( ۸ )
٭ اہل جنت کی اکثریت فقراء کی ہے۔ جنت میں سب سے کم تعداد مالداروں اور عورتوں کی ہوگی۔ انسان جتنا ایمان میں ترقی کرتا جاتا ہے اتنی ہی معیشت میں تنگی بڑھتی جاتی ہے۔( ۹ )
٭ انبیاء میں سب سے آخر میں جناب سلیمان داخل جنت ہوں گے کہ انھیں پوری مملکت کا حساب دینا ہوگا۔
٭ فاقہ پر صبر ایک جہاد ہے۔ فاقہ ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے فقراء جنت میں اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے (جو آخرت کا آدھا دن ہوگا)۔ جنت میں یاقوت کے ایسے کمرے ہوں گے جنھیں اہل جنت اسی طرح حیرت سے دیکھیں گے جس طرح اہل زمین ستاروں کو دیکھتے ہے۔ ان کمروں کے ساکن نبی، شیعہ اور مومن نادار ہوں گے۔ فقراء جنت کے باشاہ ہیں۔ سارے انسان جنت کے مشتاق ہیں اور جنت فقیروں کی مشتاق ہے۔ فقراء جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے۔ ان کی شفاعت ان تمام لوگوں کے بارے میں مقبول ہوگی جنھوں نے ان پر ایک گھونٹ پانی سے بھی احسان کیا ہے۔ فقیر پر تصدق ہونے والا ایک درہم امیر کو دئے جانے والے ہزار درہم سے بہتر ہے۔ اللہ مردِ مومن فقیر سے اسی طرح پیش آئے گا جس طرح ایک مومن اپنے برادرِ مومن سے معذرت کرتا ہے۔ یعنی منادی آواز دے گا فقراء مومنین کہاں ہیں؟ تو کچھ لوگ سامنے آئیں گے اور پروردگار ارشاد فرمائے گا میری عزت و جلال و بلندی و نعمت کی قسم ہم نے تم کو نعمات دنیا سے محروم اس لئے نہیں رکھا تھا کہ تم ہماری نگاہ میں ذلیل تھے، ہم نے تمہاری نعمتوں کو یہاں کے لئے ذخیرہ کیا تھا۔ دیکھو جس نے تمہارے ساتھ ایک گھونٹ پانی سے بھی احسان کیا ہے اسے اپنے ہمراہ جنت میں لے جا سکتے ہو۔
فرزند یاد رہے کہ فقر ممدوح کے لئے بھی چند شرائط ہیں۔
پہلی شرط: اس طرح باعفت رہے کہ لوگ اسے مالدار سمجھیں اور لوگوں سے اپنی غربت کا اظہار نہ کرے۔ اپنی ضرورت کی بلا ضرورت شکایت نہ کرے، اور اگر دل تنگ ہو جائے تو معتبر دوست یا برادر مومن سے بیان کرے اور وہ بھی اس امید کے ساتھ کہ وہ ضرورت کو رفع کر دے گا ورنہ حالات کا پوشیدہ رکھنا ہی بہتر ہے کہ اس طرح پروردگار پر رزق کی ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے ورنہ وہ اسی کے حوالے کر دیتا ہے جس سے فریاد کی ہے اور لوگ اسے ذلیل بھی سمجھتے ہیں۔( ۱۰ )
٭ جناب لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کی کہ بیٹا میں نے مصبّر کا مزہ بھی چکھا ہے اور درخت کی چھال بھی کھائی ہے لیکن فقیری سے زیادہ تلخی کسی شے میں نہیں ہے لہٰذا کسی دن بھی فقیری پیدا ہو جائے تو لوگوں سے بیان نہ کرنا ورنہ لوگ ذلیل کریں گے اور کام بھی نہ آئیں گے۔ ان حالات میں مالک کی طرف رجوع کرو وہ حالات درست کرنے پر زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ کون ایسا ہے جس نے اس سے مانگا ہو اور اس نے نہ دیا ہو۔ کون ایسا ہے جس نے اس پر اعتماد کیا ہو اور اس نے مصیبت سے نجات نہ دلائی ہو۔( ۱۱ )
دوسری شرط: قناعت ہے جس کی تفصیل گذشتہ صفحات میں بیان کی جاچکی ہے۔
تیسری شرط: صبر اور قضائے الٰہی پر رضا ہے جس کے بارے میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جبریل امین نے مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ پروردگار نے آپ کو ایسا تحفہ بھیجا ہے جو کسی نبی کو نہیں دیا ہے اور وہ ہے صبر، پھر ایک تحفہ اس سے بہتر ہے اور وہ ہے قناعت، اور ایک تحفہ اس سے بھی افضل ہے اور وہ ہے رضا، رضا کے معنی یہ ہیں کہ مالک دنیا دے یا نہ دے بندہ بہر حال ناراض نہ ہو اور اپنے معمولی عمل سے بھی خوش نہ ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ عمل کرتا رہے۔( ۱۲ )
فرزند! قضائے الٰہی پر راضی رہنا بہت بڑا شرف ہے جس کیلئے جہاد ضروری ہے۔ حدیث قدسی میں ارشاد ہوتا ہے ’’جو شخص میری بلا پر صبر نہ کرے میری قضا سے راضی نہ ہو وہ میرے علاوہ کوئی دوسرا رب تلاش کرلے اور میرے زمین و آسمان سے نکل جائے۔‘‘( ۱۳ )
دوسری روایت میں ہے جو رزق خدا پر راضی رہے گا نہ ملنے پر بھی رنجیدہ نہ ہو گا اور جو شکوہ و فریاد کرے گا اسے کوئی نیکی نصیب نہ ہوگی بلکہ غضب خدا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فرزند! رضائے الٰہی حاصل کرو اور نفس کو اس کے فیصلہ پر مطمئن رکھو خبردار اس سے ناراض نہ ہونا اور نہ اس کی شکایت کرنا۔
چوتھی شرط: یہ ہے کہ ہر حالت میں شکر خدا کرتا رہے راحت ہو یا مصیبت، وسعت ہویا تنگی، پروردگار عالم نے قرآن مجید میں صبر کو شکر سے ملاکر رکھا ہے اور شاکر بندوں سے فضل و احسان کا وعدہ کرتے ہوئے کفرانِ نعمت پر عذاب شدید سے ڈرایا ہے۔
پانچویں شرط: یہ ہے کہ فقر و فاقہ کا مشتاق رہے اور اس کے فوائد کے پیش نظر اس کا استقبال کرے اور یہ دیکھے کہ پروردگار نے قارون جیسے دولت مند کو دھنسا دیا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام جیسے نادار پیغمبر کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔
چھٹی شرط: خدا پر اعتراض نہ کرے۔
ساتویں شرط: حرام اور شبہات سے پرہیز کرتا رہے اور فقر و فاقہ میں بھی حرام کا ارتکاب نہ کرے۔
آٹھویں شرط: امر و نہی میں خدا کی اطاعت کرتا رہے اور فقر کی وجہ سے عبادت میں سستی نہ کرے۔ جس قدر ممکن ہو فاقہ میں بھی صدقہ دتیا رہے۔
نویں شرط: اغنیاء کے ساتھ نہ رہے اور دولت کی بناپر ان کا احترام نہ کرے ورنہ روایت میں ہے کہ جو شخص دولت مند کے گھر جاکر ’’دولت کی وجہ سے‘‘ اسکا احترام کریگا اسکا ایک تہائی دین برباد ہو جائے گا۔ دوسری روایت میں نصف دین اور دو تہائی دین کا بھی ذکر ہے (تفسیر صافی سورہ حج) اور جو شخص بھی مالدار کی دولت کے سامنے جھکے گا وہ جنت کا حقدار نہ ہوگا بلکہ آسمانوں میں دشمن خدا و رسول کے نام سے پکارا جائے گا اس کی کوئی دعا قبول نہ ہوگی اور کوئی حاجت پوری نہ ہوگی۔
فرزند! اسباب فقر، اسباب رنج و غم، اسباب نسیان، اسباب نقصانِ عمر سے پرہیز کرتے ہوئے اسباب وسعتِ رزق و طول عمر پر عمل کرو۔ جن کی تفصیل انشاء اللہ دوسرے رسالہ میں بیان ہوگی۔
فرزند! خدا تمہیں مومنین میں قرار دے اور منافقین کے شر سے محفوظ رکھے۔ برادرِ مومن کے حقوق ادا کرتے رہو کہ ہر مومن پر حق ہے اور اس سے برائت ذمہ کا واحد راستہ حق کا ادا کردینا یا معافی طلب کر لینا ہے ورنہ روزقیامت اسکا جواب دینا پڑیگا۔
____________________
[۱] نہج البلاغہ، وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۸۲
[۲] تفسیر صافی، ص ۷۶
[۳] وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۷۲
[۴] اصول کافی ۲، ص ۳۴۰
[۵] وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۸۰
[۶] جامع السعادات ۲، ص ۷۶
[۷] جامع السعادات ۲، ص ۸۲
[۸] جامع السعادات ۲، ص ۸۱
[۹] اصول کافی ۲، ص ۲۶۱
[۱۰] اصول کافی ۲، ص ۱۴۸
[۱۱] وسائل الشیعہ ۲، ص ۵۴
[۱۲] وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۴۴
[۱۳] منہاج النجاۃ کا شانی ص ۴۰
فصل چھارم
دیگر مختلف و صیتیں ۲
طلب علم اور اسکی فضیلت سے متعلق وصیتیں
فرزند! خدا تمہیں اپنی مرضی حاصل کرنے کی توفیق دے اور تمہارے مستقبل کو ماضی سے بہتر قرار دے۔ میں تمہیں علم دین حاصل کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ اس پر واجبات کے ادا کرنے اور محرمات سے بچنے کا دارومدار ہے اور اسکے علاوہ وہ خود ایک امر حسن و مستحسن و باشرف و با فضیلت ہے۔ اس کا درجہ عظیم، منزل بلند، قدر و قیمت جلیل اور بحکم عقل و نقل وہ ایک شرف عظیم ہے۔
عقل کا فیصلہ ہے کہ انسان و حیوان کے درمیان وجہ امتیازیہی علم ہے۔ تمام قابل تصور اشیاء کی دو قسمیں ہیں، قابلِ نمو اور جامد اور واضح ہے کہ نامی جامد سے بہتر ہے۔ پھر نامی کی بھی دو قسمیں ہیں۔ حسّاس و غیر حسّاس۔ واضع سی با ت ہے کہ حساس کا مرتبہ غیر حساس سے بہتر ہے اور حساس کی بھی دو قسمیں ہیں، عالم اور جاہل، اور کھلی ہوئی بات ہے کہ عالم کا مرتبہ جاہل سے بہتر ہے اور اس طرح علم تمام معقولات اور قابل تصور امور میں سب سے عظیم درجہ کا مالک ہے۔
نقلیات میں سورہ اقراء جو بقول اکثر مفسرین قرآن مجید کا پہلا تنزیلی سورہ ہے۔ اس میں اعلان ہوتا ہے کہ رب اکرم نے انسان کو خلق کرنے کے بعد تمام امور کی تعلیم دے دی ہے اس طرح نعمت وجود کے بعد نعمت علم کا ذکر کیا گیا ہے جو دلیل ہے کہ علم کائنات کی سب سے عظیم نعمت ہے اور رب کریم نے انسان کو سب سے بڑا شرف یہی دیا ہے کہ اسے علق سے علم تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ارشاد ہوتا ہے:
٭ کیا صاحبانِ علم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ یہ نکتہ صاحبانِ عقل ہی سمجھ سکتے ہیں کہ علم کا مرتبہ جہل سے بالاتر ہے۔( ۱ )
٭ جسے حکمت عطا ہو گئی اسے خیر کثیر مل گیا۔ حکمت توفیق علم و عمل ہے۔( ۲ )
٭ بندوں میں اللہ سے ڈرنے والے صرف علماء ہیں۔( ۳ )
اس کے علاوہ مختلف آیات میں اہل علم کا تذکرہ اپنی ذات کے ساتھ کیا گیا ہے جو شرف و عظمت کی بہترین دلیل ہے۔ روایات میں بھی علم کے بے حد فضائل وارد ہوئے ہیں۔
٭ عبد اللہ بن میمون قداح نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص بھی دین کے راستے پر چلتا ہے خداوند کریم اسے جنت کے راستے پرلے جاتا ہے اور ملائکہ اس کے پیروں کے نیچے پر بچھا تے ہیں۔ آسمان و زمین کی ہر مخلوق یہاں تک کہ ماہیانِ دریا بھی اس کے حق میں استغفار کرتی ہیں۔ عالم کا مرتبہ عابد کے مقابلے میں جیسے چودہویں کا چاند ستاروں کے مقابلہ میں۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء اپنی وراثت کے لئے درہم و دینار کا انتظام نہیں کرتے بلکہ علم کو وراثت قرار دیتے ہیں کہ جسے یہ میراث مل جائے اسے بہت کچھ مل گیا۔
(واضح رہے کہ روایات میں انبیاء کے اہتمام کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ درہم و دینار کو اپنی میراث نہیں بناتے ہیں اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ اگر ان کے مرنے پر درہم و دینار بچ جائیں تو ان کے ورثہ کے علاوہ کسی اور کو مل جائیں گے۔ وارث بنانا اور ہے اور وارث ہونا اور ہے۔ علم کے لئے وارث بناتے ہیں اور مال کے لئے وارث ہوتے ہیں چاہے دونوں ایک ہی ہوں یا الگ الگ۔ جوادی)
٭ اصبغ بن بناتہ نے امیر المومنین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ علم حاصل کرو کہ اس کا پڑھنا نیکی ہے، مذاکرہ تسبیح ہے، بحث جہاد ہے اور تعلیم دینا ایک صدقہ ہے۔ علم صاحب علم کے لئے ذریعہ تقرب، وجہ معرفت حلال و حرام ہے اس کے ذریعہ جنت حاصل ہوتی ہے۔ وہ انیس وحشت، مونس تنہائی، سلاح جنگ اور زینت احباب ہے۔ اور پروردگار نے اسی کے ذریعہ افراد کو خیر کا قائد قرار دیا ہے کہ ان کے اعمال پر نگاہ رکھی جائے اور ان کے آثار کا اتباع کیا جائے۔ علم قلوب کی زندگی۔ آنکھوں کی بصارت، بدن کی قوت اور منازل ابرار تک جانے کا ذریعہ ہے۔ علم سے اللہ کی عبادت اور اطاعت، معرفت و توحید حاصل ہوتی ہے۔ علم کے ذریعہ صلۂ رحم، معرفت حلال و حرام ہوتی ہے۔ علم عقل کا امام ہے اور عقل علم کی تابع، علم نیک بختوں کے لئے الہام خداوندی ہے اور بد بختوں کی محرومی کا اظہار و اعلان ہے۔( ۴ )
٭ حسن بن ابی الحسن الفارسی نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے اللہ طالبان علم کو دوست رکھتا ہے۔( ۵ )
٭ ابو اسحاق نے اپنے وسیلہ سے امیر المومنین علیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’ایہا الناس‘‘ یاد رکھو دین کا کمال علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ طلب علم طلب مال سے زیادہ واجب ہے۔ مال مقدر اور مضمون ہے اسے ایک عادل نے تقسیم کر کے اس کی ضمانت لے لی ہے وہ اپنے وعد کو وفا کرے گا۔ علم صاحبان علم کے پاس ذخیرہ ہے وہ تمہیں حاصل کرنا پڑے گا۔ لہٰذا حکم خداوندی کے مطابق علم حاصل کرو۔( ۶ )
٭ بو حمزہ شمالی نے امام سجاد علیہ السلام کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اگر لوگوں کو طلب علم دین کا شرف معلوم ہوجائے تو جانیں دے کر اور دریاؤں میں گھس کر علم دین حاصل کرنے لگیں۔ پروردگار نے جناب دانیال کی طرف وحی کی کہ بد ترین بندہ جاہل اور اہل علم کی توہین کرنے والا، ان کی اقتداء نہ کرنے والا ہے اور محبوب ترین بندہ متقی۔ طالب ثواب۔ مصاحب علماء تابع علماء اور حکماء سے اثر قبول کرنے والا ہے۔( ۷ )
٭ وسری روایت میں ہے کہ جس عالم کے علم سے فائدہ اٹھایا جائے وہ ستر ہزار عابدوں سے بہتر ہے۔( ۸ )
٭ عاویہ بن عمار کی روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ جو روایت کرنے والا آپ کی احادیث نشر کرے اور اسے مومنین کے قلوب میں ثبت کرے اور جو عابد یہ شان نہ رکھتا ہو ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ فرمایا کہ ایسا بافضل راوی ہزار عابدوں سے بہتر ہے۔( ۹ )
٭ سول اکر صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم فرماتے ہیں کہ زندگی میں خیر صرف دو قسم کے لوگوں کے لئے ہے وہ عالم جس کی اطاعت کی جائے اور وہ سننے والا جو غور سے سنے اور حاصل کرے۔( ۱۰ )
٭ امام جعفر صادق علیہ السلام نے بشیر دہان سے فرمایا کہ میرے اصحاب میں جو شخص علم دین حاصل نہ کرے وہ لا خیرا ہے۔ بشیر یاد رکھو جو شخص اپنے کو فقہ کے ذریعہ بے نیاز نہ بنائے گا وہ لوگوں کے علم کا محتاج ہوگا اور لوگ اسے لا علمی میں گمراہی کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔( ۱۱ )
٭ لیمان بن جعفر کی روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ عالم کا مرتبہ روزہ دار، قائم اللیل مجاہدہ راہ خدا سے بہتر ہے۔ عالم کی موت سے اسلام میں وہ خلاء پیدا ہوتا ہے، جسے کوئی شے پر نہیں کر سکتی۔( ۱۲ )
٭ مام علیہ السلام نے فرمایا کہ ابلیس کی نظر میں عالم کی موت سے زیادہ محبوب کسی مومن کی موت نہیں ہے۔( ۱۳ )
٭ مام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ مومن کی موت پر آسمان کے ملائکہ، زمین کی تمام عبادت گاہیں اور آسمان کے تمام دروازے جن سے اس کے اعمال بلند ہوتے تھے سب گریہ کرتے ہیں اور اسلام میں ایک رخنہ پیدا ہوجاتا ہے کہ علمائے مومنین اسلام کے قلعے ہیں جس طرح شہر میں شہر پناہ کا قلعہ ہوتا ہے۔( ۱۴ )
اسکے علاوہ بے شمار روایات ہیں جو حدیث کی تفصیلی کتابوں میں پائے جاتے ہیں لہٰذا فرزند خبردار یہ عظیم مرتبہ، یہ بلند ترین شرف، یہ ثواب جسیم، یہ اجر جزیل تمہارے ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ خبردار مالِ دنیا کے چکر میں نہ پڑ جانا کہ اس کی وجہ سے علم دین کو ترک کردو بلکہ علم کے لئے فقر و فاقہ برداشت کرنے پر آمادہ ہو کہ اس کے ذریعہ دائمی بے نیازی اور ابدی عزت نصیب ہوتی ہے۔ امر معاش میں دشواری ہو تو آخرت کے جزا اور اجر جمیل کو یاد کرو اس کی وجہ سے تمام دشواریاں ہلکی ہو جائیں گی اور پھر یہ دیکھو کہ جن لوگوں نے علم دین کو ترک کر کے روزی کما نے کا راستہ اختیار کیا ہے وہی کون سے خوشحال اور مطمئن ہیں۔ وہ تو دنیا و آخرت دونوں کی سعادت سے محروم ہیں تمہیں کم از کم سعادتِ آخرت تو ہاتھ آگئی۔
اور فرزند دیکھو قناعت کو ساتھ رکھنا اور زینت دنیا کے چکر میں نہ پڑ جانا۔ اس دنیا نے فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی قدر نہیں کی تو تمہاری کیا حقیقت ہے۔ اس نے جب امام حسین علیہ السلام پر یزید نجس کو مقدم کر دیا تو ایسی بے وفا اور منحوس دنیا سے دل لگانا شعارِ عقل و محبت کے خلاف ہے۔ ابن سینا جیسے فلاسفہ نے بھی اس کی شدید مذمت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ اس کا نتیجہ ہمیشہ اخس مقدمات کا تابع ہوتا ہے۔ (یہ ایک منطقی قانون ہے کہ مقدمات میں جو مقدمہ سب سے کمزور ہوتا ہے نتیجہ اسی کا تابع ہوا کرتا ہے۔ جوادی)
فرزند! خواہ علم میں جو بھی زحمت اور فقیری سامنے آئے اس سے بددل نہ ہونا اور اپنا کام کئے جانا۔ یہ یاد رکھنا کہ یہ دار رنج و تعب ہے یہاں راحت کا تلاش کرنا غلط ہے۔ یہ دنیا تمہاری طرف متوجہ ہوگئی تو تمہیں آخرت سے بیگانہ بنا دے گی۔ تقویٰ سے روک دے گی۔ مہملات کے فریب میں مبتلا کردے گی اور دھوکہ میں ڈال کر اپنا سارا بوجھ تمہارے ذمہ ڈال دے گی۔ اس کا طالب ہمیشہ پریشان حال رہتا ہے۔ اس کا حال جہنم کے جیسا ہے جہاں سے ہمیشہ ھَل٘ مِن٘ مَزِی٘د کی آواز آتی رہتی ہے اور کسی کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ اس سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ آخرت سے دل لگاؤ پھر کوئی پریشانی، اضطراب اور رنج و غم باقی نہ رہ جائے گا۔
فرزند! میری جان کی قسم! ترکِ دنیا وہ لذت ہے جس کا ہزارواں حصہ بھی وہ شخص محسوس نہیں کر سکتا جو دنیا سے دل لگائے ہوئے ہے اور اس کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے مگر یاد رکھنا کہ ترک دنیا سے مراد صوفیت اور اظہار زہد یا ترک لذات اور تمام مال کا لٹا دینا نہیں ہے۔ یہ امور تو شریعت میں ناپسندیدہ ہیں۔ ترکِ دنیا سے مراد اس سے دل نہ لگانا۔ اس کی لذتوں کا عاشق نہ ہونا اور جو کچھ ہاتھ میں ہے اس پر خدا سے زیادہ بھروسہ نہ کرنا اور رضائے الٰہی پر راضی رہنا ہے جس کی طرف عبد اللہ بن ابی یعفور کی روایت صحیحہ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ میں دنیا سے محبت کرتا ہوں کہ وہ مجھے مل جائے۔ فرمایا اس قدر محبت ہے۔ مل جائے تو کیا کرو گے۔ عرض کی اپنے اوپر اور اپنے عیال پر خرچ کروں گا۔ راہِ خدا میں صدقہ دوں گا۔ حج و عمرہ کروں گا۔ فرمایا یہ طلبِ دنیا نہیں ہے طلب آخرت ہے۔( ۱۵ )
____________________
[۱] سورۂ زمر
[۲] صورہ بقرہ ۲۶۹
[۳] سورۂ فاطر ۲۹
[۴] بحار الانوار ص ۵۴
[۵] اصول کافی ص ۳۰
[۶] اصول کافی ۱، ص ۳۰
[۷] اصول کافی ۱، ص ۳۵
[۸] اصول کافی ۱، ص ۳۳
[۹] اصول کافی ۱، ص ۳۳
[۱۰] اصول کافی ۱، ص ۳۳
[۱۱] اصول کافی ۱، ص ۳۳
[۱۲] اصول کافی ۱، ص ۳۸
[۱۳] اصول کافی ۱، ص ۳۸
[۱۴] اصول کافی ۱، ص ۳۸
[۱۵] وسائل الشیعہ ۲، ۵۳۰
قصد قربت
فرزند! خدا تمہیں دنیا و آخرت کی نیکی نصیب کرے۔ دیکھو طلب علم میں نیت صاف رکھنا۔ دل دنیوی اغراض سے پاک اور نفس قوت عمل میں کمال کی طرف مائل رہے رذائل سے اجتناب کرو۔ اخلاقی فضائل کو اختیار کرو۔ قوت شہوت اور غضب کو قابو میں رکھو اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس ارشاد پر نظر رکھو کہ ’’جو شخص بھی علم حاصل کر کے اس پر عمل کرے گا اور دوسروں کو تعلیم دے گا وہ آسمانوں میں عظیم پکارا جائے گا، اور اعلان ہوگا کہ اس نے خدا کے لئے سیکھا، خدا کے لئے عمل کیا اور خدا کے لئے سکھایا ہے۔( ۱ )
٭ باد بن صہیب بصری نے امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے کہ طلاّبِ علم کی تین قسمیں ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو جہالت اور جھگڑے کے لئے علم حاصل کرتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو غرور اور فریب کے لئے علم حاصل کرتی ہے اور تیسری قسم فقہ و عقل کے لئے حاصل کرنے والی ہے صاحب جہالت موذی اور محفلوں میں فقط بات کرنے والا ہے۔ علم کے تذکرے کرتا ہے۔ علم کا انداز اختیار کر کے خشوع کا لباس پہنے ہوئے ہے اور اندر سے تقویٰ سے بالکل خالی ہے۔ اللہ اس کی ناک رگڑدے گا اور اس کی کمر توڑدے گا۔ طالب رفعت و فریب لوگوں سے اونچا ہونا چاہتا ہے۔ مالداروں کے سامنے تواضع اختیار کرتا ہے۔ ان کا حلوہ کھاتا ہے اور ان کے دین کو برباد کرتا ہے۔ اللہ نے اس کا رشتہ اہل علم سے قطع کردیا ہے اور یہ بالکل اندھا ہو گیا ہے۔ البتہ صاحب عقل و فقہ و فہم وہ ہے جو ہمیشہ رنجیدہ پریشان اور فکر آخرت میں سرگرداں رہتا ہے۔ رات کی تاریکیوں میں عمل کرتا ہے اور لرزتا رہتا ہے۔ اہل زمانہ کو پہچانتا ہے۔ قریب ترین برادر سے بھی مانوس نہیں ہوتا۔ اللہ نے اس کے ارکان کو مضبوط کردیا ہے اور قیامت کے دن اسکے نام امان لکھ دی ہے۔( ۲ )
٭ لیم بن قیس نے امیر المومنین علیہ السلام کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ دو پیاسے کبھی سیراب نہیں ہو سکتے۔ طالب دنیا اور طالب علم، لہٰذا جو شخص بھی دنیا میں حلال پر اکتفا کریگا وہ سلامت رہے گا ورنہ ہلاک ہوجائے گا جب تک توبہ و رجوع نہ کرلے اور جو شخص بھی علم کو اس کے اہل سے حاصل کر کے اس پر عمل کرے گا وہ نجات یافتہ ہوگا ورنہ فقط تحصیل دنیا کا ارادہ ہے تو وہی ہاتھ آئے گی اور آدمی محروم ہی رہے گا۔
٭ بو خدیجہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ جو شخص حدیث کا طلب گار منفعت دنیا کے لئے رہتا ہے وہ آخرت سے محروم رہتا ہے اور جو خیر آخرت کا طلب گار ہوتا ہے وہ دنیا و آخرت دونوں سے بہرہ ور ہوتا ہے( ۳ )
٭ حصض بن غیاث نے امام صادق علیہ السلام کا قول نقل کیا ہے کہ عالم کو دنیا کی طرف متوجہ دیکھو تو اپنے دین کے بارے میں اس سے ہوشیار رہو اس لئے کہ ہر دوست اپنے محبوب کی فکر میں رہتا ہے۔
٭ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ نے جناب داؤد علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ خبردار میرے اور اپنے درمیان کسی فریفتہ دنیا عالم کو واسطہ نہ قرار دینا کہ وہ تمہیں راہِ محبت سے ہٹادے گا ایسے لوگ رہزن ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ میرا کمترین سلوک یہ ہوگا کہ میں ان کے دل سے اپنے مناجات کی لذت سلب کرلوں گا۔( ۴ )
٭ سکونی نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا فقہاء مرسلین کے امین ہیں جب تک دنیا میں داخل نہ ہو جائیں۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ یہ دنیا میں داخل کیسے ہوگا؟ فرمایا بادشاہوں کا اتباع کرنا اور جب ایسا کرنے لگیں تو ان سے اپنے دین کے بارے میں ہوشیار رہنا۔( ۵ )
٭ ربعی بن عبد اللہ نے اپنے واسطے سے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ جو شخص بھی علم دین علماء سے مقابلہ، سفہاء سے مجادلہ اور عوام کی توجہ جذب کرنے کی غرض سے حاصل کرتا ہے وہ روز قیامت جہنم میں ہو گا اور ریاست تو صرف اہل ریاست کا حق ہے۔( ۶ )
فرزند! خبردار علم کے بعد گناہ نہ کرنا کہ عالم پر حجت پروردگار زیادہ شدید و اکید ہے۔ توبہ صرف جاہلوں کی قبول ہوتی ہے جو غلطی سے گناہ کر بیٹھتے ہیں عالم کے لئے نہیں۔( ۷ )
٭ امام صادق علیہ السلام نے ابن غیاث سے فرمایا کہ اللہ جاہل کے ستر گناہ بخش دتیا ہے قبل اس کے کہ عالم کا ایک گناہ بخش دے ۔( ۸ )
(اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر انسان بخشش کے خیال سے جاہل ہی رہ جائے اس لئے کہ قصداً علم دین حاصل نہ کرنا خود ایک گناہ اور معصیت ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حالات کی بناء پر علم حاصل نہیں کر سکے اور ان کی رسائی اہل علم تک نہیں ہو سکی۔ جوادی)
فرزند! جب بھی علم حاصل کرنا تو صالح، نیک کردار اور پرہیزگار استاد تلاش کرنا۔ اس لئے کہ غیر متقی سے ہر وقت دین کو خطرہ رہتا ہے۔ اسلئے امام جعفر صادق علیہ السلام نے پروردگار کے ارشاد ’’انسان کو اپنے طعام پر غور کرنا چاہئے‘‘ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد علم ہے جہاں انسان کو ہر وقت نگاہ رکھنی چاہئے کہ کس سے حاصل کر رہا ہے۔( ۹ )
فرزند! شہید ثانی علیہ الرحمہ کی کتاب ’’منیتہ المرید‘‘ کا مطالعہ کرو کہ اس میں استاد و شاگرد کے آداب کا مفصل تذکرہ کیا گیا ہے اور آداب کے بغیر کوئی عمل قابل تعریف نہیں ہوتا۔ علماء کا احترام کرو ان کی تعظیم کرو خصوصیت سے جو تمہارے استاد ہوں ان کا زیادہ احترام کرو کہ استاد باپ کے برابر ہوتا ہے۔( ۱۰ )
٭ ثابت بن دینار ثمالی نے امام سجاد علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ جو علم میں تمہاری رہبری کرے اس کا حق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اس کی نشست کی توقیر کی جائے۔ توجہ سے اس کی بات سنی جائے اور اس کی طرف سراپا توجہ رکھی جائے۔ اس کی آواز پر آواز بلند نہ کی جائے اس سے سوال کیا جائے تو اس سے پہلے جواب دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس کی مجلس میں کسی کی بات نہ کی جائے۔ کسی کی غیبت نہ کی جائے۔ کسی کی برائی کی جائے تو اس کی طرف سے دفاع کیا جائے اسکے عیوب پر پردہ ڈالا جائے اور اسکے مناقب کا اعلان کیا جائے، اسکے دشمن کا ہم نشین نہ بنے، اس کے دوست سے دشمنی نہ کرے۔ ان سب کی پابندی کرے گا تو ملائکہ بھی گواہی دیں گے کہ خدا کے لئے علم حاصل کیا ہے لوگوں کے لئے نہیں۔
شاگرد کا حق یہ ہے کہ یہ خیال رکھا جائے کہ اللہ نے تمہیں اسکا نگراں قرار دیا ہے اور اس کے لئے تمہارے خزانے کھول دیئے ہیں۔ اب اگر تم نے تعلیم میں اچھا برتاؤ کیا جھڑکا نہیں، ڈانٹا نہیں تو خدا مزید عنایت کرے گا ورنہ اگر تعلیم دینے سے منع کردیا یا ان کی طلب کو ٹھکرا دیا تو خدا پر فرض ہو جائے گا کہ تم سے علم کی رونق سلب کرلے اور لوگوں کے دلوں سے تمہارے مرتبہ کو ساقط کردے۔( ۱۱ )
٭ سلیمان بن جعفر جعفری نے امام صادق علیہ السلام کے حوالہ سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے کہ عالم کا حق یہ ہے کہ اس سے زیادہ سوال نہ کرو۔ اسکا کپڑا نہ کھینچو اور محفل میں اس کے پاس وارد ہو تو اجتماعی کے علاوہ اسے خصوصی سلام کرو۔ اس کے سامنے بیٹھو، پیچھے نہ بیٹھو، آنکھوں اور ہاتھوں سے اِدھر اُدھر اشارہ نہ کرو۔ زیادہ باتیں نہ کرو۔ اس کے مقابلہ میں دوسروں کے اقوال کا تذکرہ نہ کرو۔ زیادہ دیر بیٹھ کر اسے پریشان نہ کرو۔ اس کی مثال ایک درخت خرما کی ہے جس کے پاس بیٹھنے والا خاموشی سے پھلوں کا انتظار کرتا رہتا ہے اور جو مل جاتا ہے لے لیتا ہے۔( ۱۲ )
فرزند! خدا تمہیں علماء دین میں قراردے۔ جو بھی علم حاصل کیا ہے اُس پر عمل کرو۔ علم کی محبوبیت عمل کی وجہ سے ہے ورنہ عالم بلا عمل مثل شجر بلا ثمر کے ہے۔
خبردار! عمل ترک نہ کرنا کہ ایسا علم وبال بن کر رہ جائے گا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ ’’تمام بندوں پر عمل کی ذمہ داری ہے لیکن عالم پر یہ ذمہ داری زیادہ شدید ہے اور اسی لئے ازواجِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اطاعت گزار بیویوں کا اجر زیادہ ہے اور گنہگاروں کا عذاب بھی زیادہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے ثواب و عقاب میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
٭ سلیم بن قیس کی روایت میں امیر المومنین علیہ السلام سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ علماء دو طرح کے ہیں بعض اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اور نجات یافتہ ہیں اور بعض بے عمل ہیں اور یہ ہلاک ہونے والے ہیں اہل جہنم بے عمل عالم کی بدبو سے پریشان ہوں گے۔ بدبخت ترین انسان روز قیامت وہ عالم ہے جس کی دعوت و تبلیغ پر لوگ عمل کر کے جنت میں چلے جائیں گے اور وہ خود بے عملی کی بنا پر داخل جہنم ہو جائے گا۔ خبردار خواہشوں کے اتباع اور امیدوں کے طول سے ہوشیار رہنا کہ خواہشات کا تباع حق سے روک دیتا ہے اور طول امل آخرت کو فراموش کر دیتا ہے۔( ۱۳ )
٭ اسماعیل بن جابر کی روایت میں امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ علم عمل کے ساتھ ملا ہوا ہے جو علم حاصل کرے اسے عمل بھی کرنا چاہئے اور جو عمل کرے اسے صاحبِ علم ہونا چاہئے۔ علم عمل کے نام پر آواز دیتا ہے اور عمل نہیں ہوتا تو چل دیتا ہے۔( ۱۴ )
٭ عبد اللہ بن القسم الجعفری امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ جو عالم اپنے علم پر عمل نہیں کرتا اس کا موعظہ اسی طرح دلوں سے پھسل جاتا ہے جس طرح صاف چٹان سے پانی بہہ کر نکل جاتا ہے۔
٭ ابن علی ہاشم بن برید کہتے ہیں کہ ایک شخص امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے چند مسائل دریافت کئے۔ حضرت نے جواب دیا۔ پھر مزید سوال کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ انجیل میں لکھا ہوا ہے۔ کہ جس چز کا علم نہیں ہے اس کا علم حاصل کرنے سے پہلے جس کا علم ہے اس پر عمل کرو۔ علم بے عمل ہوجائے تو موجب کفر ہوجاتا ہے اور صاحب علم خدا سے دور تر ہوجاتا ہے۔( ۱۵ )
٭ امیر المومنین علیہ السلام کے بعض خطبوں میں مذکور ہے کہ ’’اپنے علم پر عمل کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔ عالم بے عمل اس جاہل کے مانند ہے جو جہالت سے نجات نہیں پاتا اور اسی میں حیران و سرگرداں رہتا ہے بلکہ اس کے خلاف حجت پروردگار زیادہ شدید ہے اور اس کی حسرت و ندامت بھی زیادہ ہے۔ ایسا عالم اور جاہل دونوں ہلاک و برباد ہیں لہٰذا خبردار شک و شبہہ پیدا نہ کرنا ورنہ کافر ہو جاؤ گے اور حق کو نظر انداز نہ کرو ورنہ گھاٹے میں رہوگے۔ حق یہ ہے کہ علم دین حاصل کرو اور علم دین یہ ہے کہ دھوکہ نہ کھاؤ۔ اپنے نفس کو نصیحت کرو کہ رب کی اطاعت کرے۔ نفس کو دھوکہ نہ دو کہ یہ معصیت پروردگار ہے۔ اطاعتِ خدا کرنے والا مامون و مسرور رہتا ہے اور معصیت کرنے والا خائف و پشیمان ہوتا ہے۔( ۱۶ )
٭ عبد اللہ بن میمون بن قداح نے امام صادق علیہ السلام کے ذریئے انکے بزرگوں سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ علم کیا چیز ہے؟ فرمایا خاموشی، پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا توجہ سے سماعت، عرض کی اس کے بعد؟ فرمایا حفظ۔ عرض کی اس کے بعد؟ فرمایا: عمل۔ سوال کیا اس کے بعد؟ فرمایا نشر و اشاعت۔( ۱۷ )
٭ حرث بن مغیرہ نے ’’انما یخشی اللہ‘‘ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ عالم وہی ہے جس کا عمل اس کے قول کی تصدیق کرے ورنہ قول و فعل میں فرق ہو جائے تو انسان عالم نہیں ہے۔ فرزند! دیکھا تم نے کہ حضرت نے عالم بے عمل کو علم ہی سے برخاست کردیا ہے اور اسے عالم ہی تسلیم نہیں کیا ہے لہٰذا خبردار عمل کا دامن ہاتھ سے نہ جانے پائے ورنہ علم کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
فرزند! علماء اعلام کے مذکورہ صفات سے انصاف پیدا کرو کہ امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ علم حاصل کرو اپنے کو علم سے آراستہ کرو جسے علم دو اس سے بھی تواضع برتو اور جس سے علم لو اس کے سامنے بھی متواضع رہو۔ خبردار عالم جابر نہ بن جانا۔ کہ اس طرح باطل حق کو ضائع اور برباد کر دیتا ہے۔( ۱۸ )
٭ صحیحہ حلبی میں امام صادق علیہ السلام نے امیر المومنین علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے کہ میں تمہیں واقعی فقیہہ سے باخبر کرنا چاہتا ہوں۔ واقعی فقیہہ اور عالم دین وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایوس نہ کرے اور انھیں عذاب خدا کی طرف سے مطمئن نہ بنا دے۔ معصیت کی اجازت نہ دے دے اور قرآن کو چھوڑ کر کوئی دوسری شئے اختیار نہ کرلے۔ ایسے علم میں کوئی خبر نہیں ہے جس میں فہم نہ ہو اور ایسی قرائت میں کوئی خوبی نہیں جس میں غور و فکر نہ ہو۔ ایسی عبادت بے کار ہے جس میں علم دین شامل نہ ہو اور ایسے اعمال بے فیض ہیں جن میں خوفِ خدا کا دخل نہ ہو۔( ۱۹ )
٭ معاویہ بن وہب نے امام صادق علیہ السلام کے حوالے سے امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’اے طالبِ علم، علم کی تین نشانیاں ہیں علم، حلم، خاموشی۔ اور بنے ہوئے عالم کی بھی تین علامتیں ہیں۔ اپنے سے اونچے سے معصیت کے ذریعہ جھگڑا کرنا، اپنے سے کمتر پر غلبہ پیدا کر کے ظلم کرنا اور ظالموں کی مدد کرنا۔( ۲۰ )
٭ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ عالم کے دل میں جہالت اور فریب کا گزر نہیں ہو سکتا۔
٭ ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے امیر المومنین علیہ السلام کا یہ ارشاد سنا ہے کہ ’’ اے طالب علم یاد رکھ کہ علم کے بہت سے فضائل ہیں اس کا سر تواضع ہے۔ اسکی آنکھیں حسد سے بیزاری ہے اسکا کان فہم ہے اس کی زبان صداقت ہے اس کا حافظہ جستجو ہے اس کا قلب حسن نیت ہے اس کی عقل معرفت اشیاء و امور ہے اسکے ہاتھ رحمت ہیں، اسکے پیر زیارتِ علماء ہیں۔ اس کی ہمت سلامتی ہے۔ اسکی حکمت تقوی ہے اسکے مرکز نجات ہے اسکا فائدہ عافیت ہے اس کا مرکب وفا ہے اسکا اسلحہ نرم کلامی ہے۔ اس کی تلوار رضا ہے، اس کی کمان مدارات ہے اسکا لشکر مباحثہ ہے۔ اس کا مال ادب ہے اسکا ذخیرہ گنا ہوں سے اجتناب ہے اسکا زادِ راہ نیکی ہے اس کی پناہ باہمی تعلقات ہیں۔ اس کی دلیل ہدایت ہے۔ اسکی رفیق نیکوں کی محبت ہے۔( ۲۱ )
٭ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ایمان کا بہترین وزیر علم ہے اور علم کا بہترین وزیر حلم ہے اور حلم کا بہترین وزیر نرمی ہے اور نرمی کا بہترین وزیر صبر ہے۔( ۲۲ )
فرزند! خبردار کوئی بات بغیر علم کے نہ کہنا کہ امام صادق علیہ السلام نے مفضل سے فرمایا ہے کہ دو خصلتوں سے ہوشیار رہنا اسی میں انسانوں کی ہلاکت ہے۔ باطل کے ذریعہ دینداری اور علم کے بغیر فتویٰ۔
امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے جو شخص علم اور ہدایت کے بغیر فتوی دے گا اس پر ملائکہ رحمت اور ملائکہ عذاب دونوں لعنت کریں گے اور اس کے ذمہ تمام عمل کرنے والوں کا عذاب ہوگا۔( ۲۳ )
مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے جو ناسخ و منسوخ محکم و متشابہ کو پہچانے بغیر فتوی دے گا وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور دوسروں کو بھی ہلاک کر دے گا۔( ۲۴ )
فرزند! یاد رکھو جو بات معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں صاف کہہ دو کہ نہیں معلوم ہے۔ اللہ اعلم نہ کہو۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ اعلم کہنے سے سننے والے کے دل میں شبہ پیدا ہوجاتا ہے کہ شاید جانتے ہیں جبکہ ’’نہیں معلوم ہے‘‘ سے بات واضح ہے کہ دیانتداری سے کام لے رہا ہے۔( ۲۵ )
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ عالم کو مسئلہ نہیں معلوم ہے تو ’’اللہ اعلم‘‘ کہہ سکتا ہے لیکن جاہل کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے (اس لئے کہ اس میں جستجو ہی کی صلاحیت نہیں ہے تو اسے صاف اقرار جہل کرنا چاہئے۔)( ۲۶ )
ایک مقام پر فرمایا کہ جس حکم کو نہیں جانتے ہو اس کے بارے میں سکوت اور احتیاط سے کام لو اور صاحبانِ عصمت کی طرف پلٹا دو تاکہ وہ سیدھے راستے پر چلائیں اور تاریکیوں کو دور کر دیں اور حق کو واضح کر دیں۔ پروردگار کا حکم ہے جو نہیں جانتے ہو اس کے بارے میں اہل ذکر اور علماء سے دریافت کرو۔( ۲۷ )
فرزند! خبردار علم کے بغیر عمل نہ کرنا کہ اس طرح انسان غلط راستے پر چلا جاتا ہے اور جتنا آگے بڑھتا جاتا ہے حق سے گمراہ ہوتا جاتا ہے۔( ۲۸ )
٭ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ بغیر علم کے عمل کرنے والا اصلاح سے زیادہ فساد برپا کرتا ہے۔ فرزند! علماء عاملین سے محبت کرو۔ ان کے ساتھ رہو۔ اللہ ہر محبت کرنے والے کو محبوب کے ساتھ محشور کرتا ہے اور جو جس قوم کے عمل کو پسند کرتا ہے اسے اس کے عمل میں شریک قراردے دیتا ہے۔( ۲۹ )
٭ امام صادق علیہ السلام نے ابو حمزہ ثمالی سے فرمایا کہ عالم بنویا متعلم بنویا علم دوست بنو کہ علماء کی دشمنی میں ہلاکت ہے۔( ۳۰ )
٭ امام سجاد علیہ السلام کی یہ روایت مشہور ہے کہ ثواب کا طلبگار علماء کا ہم نشین اور پرہیزگار انسان اللہ کا محبوب ترین بندہ ہے۔
فرزند! علم کو اس کے اہل کے حوالے ضرور کرو کہ تعلیم دینا ہی علم کی زکوۃ ہے۔( ۳۱ )
٭ پروردگار نے جاہلوں سے طلب علم کا عہد اسی وقت لیا ہے جب عالموں سے تعلیم دینے کا عہد لے لیا ہے۔( ۳۲ )
٭ جناب عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ خبردار جاہلوں سے حکمت کی بات نہ کرنا کہ یہ حکمت پر ظلم ہے اور صاحبانِ صلاحیت سے حکمت کو محفوظ نہ رکھنا کہ یہ ان پر ظلم ہے۔
فرزند! خدا تمہیں زندہ رکھے اور اپنی مرضی کی توفیق کرامت فرمائے۔ خبردار تمام علوم کے حاصل کرنے میں صرف مقدارِ ضرورت ہی پر اکتفا کرنا اور باقی وقت صرف علم فقہ کے حاصل کرنے میں صرف کرنا کہ علم کی محبوبیت کا راز عمل ہے اور عمل کا تعلق فقہ سے ہے اور فقہ سے ہی اوامر و نواہی پروردگار کا علم ہوتا ہے اور احکام الٰہیہ ہی کائنات میں اشرف معلومات ہیں انھیں سے امور معاش و معاد کی تنظیم ہوتی ہے اور انھیں سے کمال انسانیت حاصل ہوتا ہے۔
صاحب معالم الاصول نے بہت خوب فرمایا ہے کہ اللہ نے تمام محکم افعال کسی غرض و غایت کے تحت انجام دیئے ہیں اور انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کی خلقت کی غرض و غایت بھی تمام اغراض سے اشرف ہوگی اور ظاہر ہے کہ یہ غرض بندوں کو نقصان پہنچانا نہیں ہو سکتا کہ یہ کام جاہل اور محتاج کا ہوتا ہے اور خداوند عالم عالم اور مستغنی ہے لہٰذا غرض خلقت بندوں کو فائدہ پہونچانا ہے اور دنیاوی فوائد حقیقتاًفوائد نہیں ہیں یہ توفقط نقصانات کو دفع کرنے کا نام ہیں۔ فائدہ تو اسے شاذ و نادر ہی کہا جاتا ہے۔ اور ایسی چیز غرض خلقت نہیں بن سکتی۔ لہٰذا غرض فائدہ آخرت ہے اور یہ وہ بہترین فائدہ ہے جو ہر کس و ناکس کو حاصل نہیں ہوتا اس کے لئے استحقاق ضروری ہے اور استحقاق عمل سے پیدا ہوتا ہے اور عمل علم سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا اس عظیم فائدہ آخرت کی تحصیل کے لئے علم لازم ہے اور جو علم اس عظیم فائدہ تک پہنچا دے اس سے عظیم کوئی علم نہیں ہے اور اسی لئے امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابان بن تغلب سے فرمایا تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے اصحاب کو کوڑوں سے ماروں تاکہ یہ علم دین حاصل کریں۔( ۳۳ )
٭ علی بن حمزہ کی روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ علم دین حاصل کرو۔ علم دین حاصل نہ کرنے والا گنوار اور دیہاتی ہے۔ پروردگار نے علم دین کی تحصیل کو واجب قرار دیا ہے اور پھر قوم میں انذاز و تبلیغ کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔( ۳۴ )
٭ مفضل بن عمر کی روایت میں امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جو شخص بھی علم دین حاصل نہ کریگا وہ روز قیامت نگاہِ مرحمت پروردگار کا حقدار نہ ہوگا اور اس کے اعمال طیب و طاہر نہ ہوں گے۔( ۳۵ )
٭ ابراہیم بن عبد الحمید امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ ایک جماعت ایک شخص کو گھیرے بیٹھی ہے۔ فرمایا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ علامہ ہے۔ فرمایا علامہ کیا ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ انسابِ عرب، وقائع عرب، اشعار عرب اور ایام جاہلیت کا اعلم ہے۔ آپ نے فرمایا، ہوشیار! یہ وہ علم ہے جس کا جاننا مفید نہیں ہے اور نہ جاننا مضر نہیں ہے علم کی تین ہی قسمیں ہیں، محکم آیت، عادل فریضہ، مستقیم سیرت، اسکے علاوہ سب فضیلت ہے (یعنی علامہ وہ ہے جو ان تین علوم کا ماہر ہو جسے شریعت نے علم کہا ہے اسکے علاوہ اچھا شاعر، اچھا ادیب، اچھا مفکر یا پروفیسر علامہ نہیں ہو سکتا۔ جوادی)
٭ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ انسان کا سب سے بڑا کمال علم دین حاصل کرنا مصائب پر صبر کرنا اور معیشت کو معین رکھنا ہے۔( ۳۶ )
٭ حماد نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ پروردگار جب کسی بندے کو خیر دینا چاہتا ہے تو علم دین دیتا ہے۔( ۳۷ )
٭ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ علماء امانتدار ہیں متقی قلعے ہیں اور اوصیاء سردار ہیں۔
فرزند! یاد رکھو کہ علم کا مذاکرہ عبادت ہے اس سے غافل نہ رہنا۔ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ مذاکرۂ علمی کرو۔ آپس میں ملاقات اور گفتگو کرو کہ حدیث سے دل پر جلا ہوتی ہے قلوب بھی تلوار کی طرح زنگ آلود ہو جاتے ہیں اور ان کی صیقل حدیث ہے۔( ۳۸ )
٭ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ اس بندے پر رحمت نازل کرتا ہے جو علم کو زندہ کرے۔ یعنی اہل دین اور اہل تقویٰ سے مذاکرہ کرے۔( ۳۹ )
فرزند! خدا تمہیں علم اور عمل صالح کی توفیق کرامت فرمائے۔ اگر حالات زمانہ کی بناپر کسب معاش ضروری ہوجائے اور کسب معاش نہ کرنا موجب ذلت اور باعث ارتکابِ محرمات ہو جائے تو خبردار کسب معاش کے پیچھے تحصیل علم کو یکسر نظر انداز نہ کر دینا بلکہ تھوڑی دیر تحصیل علم کرنا اور تھوڑی دیر کسب معاش۔ روایات و تجربات کا خلاصہ یہ ہے کہ زیادہ دوڑ دھوپ کرنے سے رزق میں اضافہ نہیں ہوتا اور کم وقت صرف کرنے سے اس میں کمی نہیں ہوتی۔( ۴۰ )
خبردار تحصیل علم چھوڑ کر تمام عمر معیشت جمع کرنے میں صرف نہ کر دینا کہ یہ حیوانوں کا انداز ہے بلکہ ان سے زیادہ گمراہی ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں سے ناواقف رہے اور اس کی تلاوت و دعا فقط ایک جنبش زبان بن جائے جس کا کوئی مفہوم نہ ہو۔
سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ مجالس عزا کو ذریعہ زندگی بنایا جائے کہ اس میں دین اور دنیا دونوں ہیں۔ منفعت مادی بھی ہے اور تحصیل علم بھی ہے۔
(کاش مصنف مرحوم کی نگاہ اس دور پر بھی ہوتی جبکہ عام تقریریں تحصیل علم سے بے نیاز ہوتی جا رہی ہیں اور ذکر و بیان کیلئے کسی طرح کا علم دین ضروری نہیں ہے۔ جوادی)
لیکن یہ خیال رہے کہ زبان کو کذب اور بہتان سے پاک رکھنا۔ ائمہ معصومین (ع) کی طرف بغیر تحقیق کسی بات کو منسوب نہ کرنا۔ مصائب میں فقط معتبر روایات پر اکتفا کرنا۔ یہ خیال کبھی نہ آئے کہ کثرتِ بکا کثرت ذکر مصائب پر موقوف ہے۔ گریہ دل پر اثر سے پیدا ہوتا ہے روایات کی تشکیل سے نہیں اور اثر کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ پہلے اہل بیت طاہرین (ع) کی کرامت و فضیلت بیان کی جائے تا کہ ان کی عظمت اور شخصیت کا احساس پیدا ہو جائے اس کے بعد مصیبت کا ذکر کیا جائے کہ اس طرح ذکر بے ساختہ دل پر اثر کرتا ہے۔
فرزند! خبردار طبابت کا پیشہ اختیار نہ کرنا کہ اس کا خطرہ بہت عظیم ہے اور اس سے نجات بہت مشکل ہے خصوصاً اگر ہاتھ لگا کر علاج کرنا پڑے کہ ہر آن وسوسۂ شیطان کا اندیشہ رہتا ہے (حکیم اور ڈاکٹر صاحبان کو اس نکتہ پر نگاہ رکھنی چاہئے کہ پروردگار دلوں کے حالات سے بھی باخبر ہے۔ کسی خاتون کے علاج میں نبض پر ہاتھ رکھتے وقت اور اسکے جسم کی تفتیش کرتے وقت ذرابھی نیت میں فتور پیدا ہو گیا تو فیس تو بعد میں ملے گی جہنم کا استحقاق پہلے پیدا ہوگا۔ علاج سامانِ تفریح نہیں ہے۔ سبب حیات انسانی ہے۔ جوادی)
فرزند! خبردار علم کے بلند ترین درجہ پر پہونچنے کے بعد بھی ریاست کی فکر نہ کرنا کہ یہ باعث ہلاکت اور سبب فنائے دین ہے۔ میں تمہیں تجربہ کی بات بتاتا ہوں کہ ریاست پانے کے بعد تم حق کی تلخی برقرار رکھو گے تو راحت ختم ہو جائے گی اور لوگ برا بھلا کہیں گے اور اگر لوگوں کی خواہش کے ساتھ چلو گے تو آخرت کا خسارہ ہوگا ۔
فرزند! ریاست سے اسی طرح بھاگو جس طرح شیر سے فرار کیا جاتا ہے اس لئے کہ جو چیز عبادت سے غافل کر دے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کوئی رئیس ایسا نہیں دیکھا جو دیانتداری سے کام کرلے اور لوگوں کے طعن و طنز کا نشانہ نہ بنے۔ لوگ اس کے مال و آبرو کو مباح سمجھ لیتے ہیں اور ان کی نظروں میں اسے گالیاں دینا بھی جائز ہو جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ کافر حربی جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
خبردار! ریاست کے اسباب فراہم نہ کرنا۔ اس کے جال نہ بچھانا۔ اس کے مقدمات فراہم نہ کرنا کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں ڈال دو اور دین و دنیا کی راحت سے محروم ہو جاؤ۔ ہاں از خود آجائے تو قبول کر لو لیکن ہر آن اپنے نفس کی نگرانی کرتے رہنا کہ نفس کا خطرہ عظیم ہے اور لغزش کے امکانات کثیر ہیں منفعت کم ہے اور نقصان زیادہ۔ محفوظ رہنے والے قلیل ہوتے ہیں اور پھسل جانے والے زیادہ۔ صاحب ریاست عالم کے لئے چند طرح کے خطرات پائے جاتے ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے۔
پہلا خطرہ قضاوت:
قضاوت ایک سم قاتل اور زہر ہلاہل ہے اس سے ہوشیار رہنا۔ اس میں اکثر پیر پھسل جاتے ہیں اور انسان تباہ ہو جاتا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اس زمانے میں جبکہ دیانتدار کم اور شیطان کے بندے زیادہ ہو گئے ہیں۔ مرد عاقل ایسے عمل پر کیسے اقدام کرے گا جس کے تین چوتھائی عمل کرنے والے جہنمی ہیں اور صرف ایک چوتھائی جنتی۔ (اس لئے کہ جو دیدہ و دانستہ غلط فیصلہ کرے گا وہ بھی جہنمی ہے اور جو لا علمی میں غلط فیصلہ کرے گا وہ بھی جہنمی ہے اور جو لا علمی میں صحیح فیصلہ کریگا وہ بھی جہنمی ہے کہ ایسا اقدام کیوں کیا جس میں غلطی کا واضح امکان تھا۔ صرف وہ شخص جنتی ہے جو حق کا فیصلہ کرے اور وہ بھی علم و اطلاع کے ساتھ۔ اس طرح تین چوتھائی افراد جہنمی ہوئے ایک چوتھائی جنتی۔ جوادی)
صاحب عقل ایسے معاملہ پر کیسے تیار ہوگا جس میں خسارہ کا امکان زیادہ ہے اور فائدہ کا امکان کم۔ دیندار ایسی جگہ بیٹھنے کی ہمت کیسے کرے گا جہاں نبی و وصی بیٹھتے ہیں یا مردِ شقی۔( ۴۱ )
کسے اپنے نفس کی طرف سے اطمینان کامل ہے اور کون اپنے بارے میں نبوت و وصایت کا احتمال دیتا ہے کہ شقاوت سے محفوظ ہو جائے۔
خبردار! شیطان کے بہکانے میں نہ آنا اور قضاوت کو واجب عینی سمجھ کر اس کے چکر میں نہ پڑجانا کہ لاعلمی میں ہلاک ہو جاؤ۔ ہاں کسی ایسے علاقہ میں پہنچ جاؤ جہاں کوئی دوسرا نہ ہو اور خالی الذہن ہو کر سوچنے پر بھی قضاوت واجب عینی نظرآئے تو حتی الامکان فریقین میں صلح کرانے کی کوشش کرو اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی احتیاط سے کام لینا۔
دوسرا خطرہ خیانت:
فقراو مساکین، اولاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، رعایا کے حقوق میں خیانت کبھی بغیر دلیل شرعی کے اپنے اور اپنے اہل و عیال کو دوسروں پر مقدم کرنے میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی مال کے صرف کرنے میں خواہش کے اتباع اور حقدار تک پہونچا نے میں خلوص کی کمی سے نمایاں ہوتی ہے۔
خبردار! حقوق شرعیہ میں مرجع بن جاؤ تو میرے والد مرحوم طاب ثراہ کی ان نصیحتوں کو نگاہ میں رکھنا۔
(۱) حتی الامکان حقوق شرعیہ کو اپنی ذات پر صرف نہ کرنا اور ہدیہ و تحفہ پر گزارا کرنا۔ اس لئے کہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر ابتدا میں بقدر ضرورت حق لینے کی عادت پڑگئی تو آگے چل کر ضرورت کا دائرہ وسیع ہو جائے گا اور زینت و جمال پر بھی مال صرف ہوگا اور آخر میں ملکیت و جائداد کی فراہمی بھی ضرورت کے دائرہ میں شامل ہوجائے گی جو ہلاکت کا بہترین ذریعہ ہے اور جس کے بعد انسان عذاب دائمی کا حقدار ہوجاتا ہے۔ حقوق کی حیثیت شبہات کی ہے کہ جو اس کے گرد چکر لگائے گا ایک دن مبتلا ضرور ہوجائے گا۔
ہاں اگر مرجع تقلید و حقوق نہیں ہو تو بقدر ضرورت اپنا حق لے سکتے ہو اور خبردار یہ خیال نہ کرنا کہ اگر حقوق شریعہ کو استعمال نہ کرو گے تو بھوکے مرجاؤ گے اس لئے کہ رزق کا مسئلہ مضمون ہے۔ اس کا ذمہ دار معتبر ہے۔ وہ حقوق سے اجتناب کرتے دیکھے گا تو ہدیہ و تحفہ سے پیٹ بھر دے گا جیسا کہ مسلسل دیکھنے میں آیا ہے اور حقوق شریعہ استعمال نہ کرنے کے عجیب و غریب اثر دیکھے گئے ہیں۔ اس سے قلب میں نور، عمر میں برکت، اطاعت کی توفیق اور لغزشوں سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ رب کریم تمہیں بھی ایسے مشاہدے کرا دے کہ اعتماد اور بھی پختہ ہو جائے کہ بیان مثل عیان نہیں ہوتا۔
(۲) ہمیشہ حقوق کی تقسیم میں قربتِ خدا کا خیال رہے اور اپنے ذاتی اغراض کو محور نہ بنانا کہ اپنے خدام اور مریدوں پر تقسیم کر دو اور جو دور رہے اسے محروم کرو یا قریب والے کا حصہ زیادہ رکھو اور دور والے کا کم۔ صرف اس لئے کہ وہ اظہار خلوص و محبت کرتا ہے اور دوسرا ایسا نہیں کرتا۔ خبردار ہمیشہ وجوہ شریعہ پر نگاہ رکھنا اور شرعی اسباب کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا، اس لئے کہ ایصال حقوق عبادت ہے اور عبادت میں قصد قربت ضروری ہے۔ اگر نیت صادق نہ ہوگی تو صاحب حق اور فقیر دونوں کی طرف سے ذمہ داری باقی رہ جائے گی اور روزِ قیامت شفاعت کرنے والے ہی فریق بن جائیں گے۔ دنیا میں بھی خسارہ ہوگا کہ مال ہاتھ سے نکل گیا اور آخرت میں بھی خسارہ ہوگا کہ نیت صاف نہ ہونے کی بناء پر ثواب بھی نہیں ملا اور آخر کار ’’نہ خداہی ملا نہ وصال صنم‘‘ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔
تیسرا خطرہ فتوی میں جلد بازی:
خبردار فتویٰ میں جلد بازی سے احتیاط کرنا کہ یہ بدترین مرض ہے اور تمام ابواب فقہ پر نظر کئے بغیر فتویٰ نہ دینا۔ ممکن ہے کہ ایک باب کے مسئلہ کی دلیل دوسرے باب میں پائی جاتی ہو اور تم صرف ایک متعلقہ باب کا مطالعہ کر کے فتویٰ دے دو اور اس طرح مستحق عذاب الیم ہو جاؤ۔
میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ بعض علماء نے صرف ایک باب کی روایت کو دیکھ کر یا اطلاقات پر اعتماد کر کے فتوی دے دیا اور بعد میں ان کا فتوی اجماع اصحاب کے خلاف ثابت ہوا اس لئے کہ انھوں نے دوسرے ابواب کے مطالعہ کی زحمت ہی گوارا نہ کی۔
اگر تم خچر کو کرایہ پر دینے کے بارے میں ابو ولاّد کی روایت کا مطالعہ کرو گے تو تمہیں اندازہ ہو گا کہ فتویٰ کا مسئلہ کس قدر سنگین ہے اور جب چند درہم کے بارے میں غلط فتویٰ آسمان کے پانی اور زمین کی برکتوں کے رک جانے کا سبب بن جاتا ہے تو کثیر اموال، آبرو ااور نفس محترم کے بارے میں غلط فتویٰ کا انجام کیا ہوگا۔
علامہ حلّیؒ کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے مرنے کے بعد خواب میں اپنے فرزند کو خبردی کہ اگر کتاب الفتن اور زیارت امام حسین (ع) نہ ہوتی تو فتووں نے مجھے برباد ہی کردیا تھا حالانکہ وہ واقعی آیت اللہ تھے اور ان کی نگاہ تمام مدارک بروایات، استاد اور رجال پر تھی تو دوسروں کا کیا انجام ہوگا؟
خبردار! مکمل اطلاع سے پہلے فتویٰ نہ دینا اور مکمل اطلاع کے بعد بھی حتی الامکان پرہیز کرنا۔ ہاں عوام کے گمراہ ہوجانے اور جاہلوں کے منظر عام پر آجانے کا خطرہ ہو تو ضرور اقدام کرنا لیکن پوری احتیاط کو پھر بھی نگاہ میں رکھنا۔
چوتھا خطرہ حب جاہ:
مرجعیت کے ساتھ عام طور سے جاہ و جلال کی محبت بھی آجاتی ہے اور یہی چیز اجر کو فنا کر دینے والی اور انسان کو ہلاکت میں ڈال دینے والی ہے۔ خبردار اس خطرہ سے ہوشیار رہنا اور اپنے نفس کی نگرانی کرتے رہنا۔ نفس ہمیشہ برائیوں کا حکم دیتا ہے جب تک رحمت پروردگار شامل حال نہ ہو جائے، خدا تمہیں اور مجھے اصلاح نفس اور خواہشات سے دور رہنے کی توفیق کرامت فرمائے وہی اپنے بندوں پر لطف کرنے والا اور اپنے مقصد کو نافذ کرنے والا ہے۔
پانچواں خطرہ جعلسازی:
خبردار! تمہارا باطن ظاہر کے خلاف نہ ہونے پائے کہ باہر سے زہد و قناعت کا اظہار کرو اور اندر یہ جذبہ نہ ہو کہ دورِ حاضر میں یہ بات عام ہوگئی ہے۔
خبردار ہوشیار رہنا کہ یہ شرک خفی ہے اور غور کرو تو شرکِ جلی بھی ہے کہ گویا بندہ خدا کے علاوہ دوسروں کی عبادت کرنا چاہتا ہے اور ان کے خیال میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ باطن بھی چھپنے والا نہیں ہے ایک دن اس کا بھی اظہار ہوگا تو انسان نگاہوں سے گر جائے گا اور عوام کے درمیان رسوا ہو جائے گا۔( ۴۲ )
____________________
[۱] اصول کافی ۱، ص ۳۵
[۲] اصول کافی ۱، ص ۴۹
[۳] اصول کافی ۱، ص ۴۶
[۴] اصول کافی ۱، ص ۴۶
[۵] اصول کافی ۱، ص ۴۶
[۶] اصول کافی ۱، ص ۴۷
[۷] سورۂ نسائ
[۸] اصول کافی ۱، ص ۴۷
[۹] اصول کافی ۱، ص ۵۰
[۱۰] اثناعشریہ، ص ۸۱
[۱۱] بحار ۴، ص ۶۴
[۱۲] اصول کافی ۱، ص ۳۷
[۱۳] اصول کافی ۱، ص ۴۲
[۱۴] صول کافی ۱، ص۴۴
[۱۵] اصول کافی ۱، ص ۴۴
[۱۶] اصول کافی ۱، ص ۴۰
[۱۷] اصول کافی ۱، ص ۴۸
[۱۸] اصول کافی ۱، ص ۳۶
[۱۹] اصول کافی ۱، ص ۳۶
[۲۰] اصول کافی ۱، ص ۳۷
[۲۱] اصول کافی ۱و ص ۴۲
[۲۲] اصول کافی ۱، ص ۴۸
[۲۳] اصول کافی ۱، ص ۴۲
[۲۴] اصول کافی ۱، ص ۴۲
[۲۵] اصول کافی ۱، ص ۴۲
[۲۶] اصول کافی ۱، ص ۴۲
[۲۷] سورہ نمل ۴۳
[۲۸] اصول کافی ۱، ص ۴۳
[۲۹] تفسیر صافی، ص ۵۶
[۳۰] اصول کافی ۱، ص ۳۴
[۳۱] اصول کافی ۱، ص ۴۱
[۳۲] اصول کافی ۱، ص ۴۱
[۳۳] معالم الاصول ۲۰، ۲۱
[۳۴] اصول کافی ۱، ص ۳۱
[۳۵] اصول کافی ۱، ص ۳۳
[۳۶] اصول کافی ۱، ص ۳۲
[۳۷] اصول کافی ۱، ص ۳۲
[۳۸] اصول کافی ۱، ص ۳۲
[۳۹] اصول کافی ۱، ص ۴۱
[۴۰ مستدرک وسائل الشیعہ ۲، ص ۴۱۸
[۴۱] وسائل الشیعہ۳، ص۳۶۹
[۴۲] اصول کافی ۲، ص ۲۹۳
فصل پنجم
امور معاش سے متعلق وصیتیں
فرزند!
خدا تمہارے امور کی اصلاح کرے۔ تمہاری عمر دراز کرے اور تمہیں اپنی مرضی کے لئے موفق قراردے۔ جہاں تک ممکن ہو نجف اشرف میں قیام کرنا کہ یہ جوار امیر المومنین علیہ السلام ہے اور امیر المومنین علیہ السلام اپنے ہمسایہ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اسے شرِّ اشرار سے محفوظ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ اس آخری دور ۱۳۲۴ ھ میں تجربہ ہوا ہے۔ نجف و کوفہ دونوں کے بارے میں روایات ہیں کہ جو ظالم و جابر انھیں فنا کرنا چاہے گا وہ خود تباہ و برباد ہو جائے گا۔
(خدا دورِ حاضر کے ظالم و جابر کو بھی قرار واقعی سزادے اور نجف اشرف کا تحفظ کرے۔ انشاء اللہ خونِ شہیداں رائگاں نہ ہوگا اور ظالم و جابر کو اس کے کیفر کردار تک پہونچایا جائے گا۔ جوادی)
نجف میں امیر المومنین علیہ السلام کی زیارت ہے اور ان کی زیارت اور ان کے پاس نماز پڑھنے کی فضیلت سے کوئی عاقل اپنے کو محروم نہیں کرسکتا ہے۔( ۱ )
نجف کا قیام انسان کو بہت سے گناہوں سے قہری طور پر محفوظ رکھتا ہے کہ یہاں گناہ کے وہ اسباب فراہم نہیں ہیں جو دوسرے مقامات پر پائے جاتے ہیں جیسے ایران وغیرہ میں۔
(مصنف نے اس مقام پر ایران کا حوالہ دیا ہے حالانکہ تاریخ نے اپنا نظام الٹ دیا ہے اور اب ایران مرکز خیر بن گیا ہے اور بے دین حکام نے نجف اشرف میں فساد اخلاق کے مراکز قائم کر دیئے ہیں۔ خدا ان ظالموں سے ان جرائم کا انتقام لے اور انھیں توہین حرم امیر المومنین علیہ السلام کی قرار واقعی سزادے۔ جوادی)
اور اگر کسی وجہ سے نجف اشرف میں قیام ممکن نہ ہو یا اس میں توہین و ذلت کا خطرہ ہو تو کربلا کے علاوہ دوسرے عتبات عالیات کے جوار میں قیام کرنا کہ کربلا میں قیام کو مکروہ قرار دیا گا ہے۔ وہاں کے آداب میں ہے کہ زیارت کر کے واپس ہو جاؤ اس لئے کہ قیام سے سنگدلی پیدا ہوتی ہے اور مصائب مظلوم کربلا کی طرف سے بے توجہی پیدا ہو جاتی ہے جو بہت بڑا دینی خسارہ ہے (ہاں کوئی شخص اس طرف سے مطمئن ہو اور اس کے نفس میں اتنی پاکیزگی پائی جاتی ہو تو کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔ جوادی)
فرزند! جب تک عتبات عالیات میں زندگی کا سہارا رہے دوسرے مقام پر قیام نہ کرو اور جب مجبور ہو جاؤ تو وہ علاقہ تلاش کرو جہاں اہل صلاح و تقوی اور صاحبانِ علم و فہم رہتے ہوں۔ عتبات عالیات میں بھی حرم محترم سے قریب تر مکان میں رہنا کہ ہر حال میں زیارت سے مشرف ہو سکو۔ اور دوسرے شہروں میں وسطِ شہر میں قیام کرنا کہ وسط بلاؤں سے زیادہ محفوظ رہتا ہے۔
اور یاد رکھو کہ جب تک ملکیت یا وقف کا مکان مل سکے کرایہ کے مکان میں نہ رہنا کہ وقف و ملکیت کا معمولی مکان بھی کرایہ کی کوٹھی سے بہتر ہوتا ہے۔ کرایہ کے مکان میں ہر وقت ذلت کا اندیشہ رہتا ہے۔
٭ مکان خریدنا چاہو یا کرایہ پر لینا چاہو تو پہلے ہمسایہ کی تحقیق کرو کہ میں نے جب بھی اس نکتہ سے غفلت برتی ہے تلخ تجربات کا سامنا کیا ہے۔
٭ مکان کی تعمیر کرنا چاہو تو سارا مکان ایک سال میں نہ بناؤ بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے تعمیر کرو اور بلا وجہ سارا مکان منہدم نہ کر دو بلکہ جس قدر قابل تعمیر ہو اسی کی مرمت کرو تاکہ اسراف اور فضول خرچی نہ ہونے پائے۔
٭ مال دنیا کتنا ہی زیادہ ہو مکان زیادہ منظم اور آراستہ تعمیر نہ کرو کہ دنیا رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس میں صرف مقدار ضرورت پر اکتفا کرنا چاہئیے اور باقی مال کو تعمیر آخرت پر صرف کرنا چاہئے کہ دوسروں کے مکان کی مرمت کرادے ناکتخداؤں کی شادی کرا دے اور محتاجوں کی حاجت روائی کر دے۔
٭ ممکن ہو تو وسیع مکان میں قیام کرو کہ مکان کی وسعت اسباب سعادت و نیک بختی میں ہے چاہے دنیا میں ہو یا آخرت میں۔( ۲ )
فرزند! لباس میں بھی متوسط درجہ کے لباس پر اکتفا کرو جسے مالدار اور فقیر دونوں اختیار کر سکیں کہ اگر تم فقیر ہو تو اپنی حد کے اندر رہو گے اور کسی اسراف میں مبتلا نہ ہو گے اور صاحب دولت ہو تو تمہارا یہ عمل زہد و تقویٰ میں شمار ہوگا اور اس سے فقراء کی تسکین خاطر بھی ہوگی۔ یاد رکھو کہ دنیادار انقلاب ہے۔ یہ کسی وقت بھی پلٹا کھا سکتی ہے۔ ایسا طریقہ نہ اختیار کرو کہ انقلاب کے بعد پریشانی پیدا ہو جائے۔
خبردار! ایسا لباس اختیار نہ کرنا جو غربت یا دولت کی شہرت کا ذریعہ ہے کہ یہ دونوں باتیں روایات میں مذموم قرار دی گئی ہیں۔ لباس میں نظافت اور طہارت کا خاص خیال رکھنا کہ یہ بات شرعاً مطلوب ہے۔
فرزند! ہم نشینی کے لئے اچھے انسانوں کا انتخاب کرنا کہ انسان اپنے ہم نشین سے پہچانا جاتا ہے اور خبردار فاسد العقیدہ، بد عمل، پست کردار انسانوں کے ساتھ نہ بیٹھنا کہ انسان پر صحبت کا بہرحال اثر پڑتا ہے۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے ’’دیوانِ مشہور‘‘ میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اور لقمان حکیم نے بھی اپنے فرزند کو وصیت کی ہے کہ مجالس کا دیکھ بھال کر انتخاب کرنا جہاں دیکھو کہ ذکر خدا ہو رہا ہے وہاں بیٹھ جاؤ کہ تم عالم ہو گے تو لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور جاہل ہوگے تو تمہیں علم دیں گے۔ شاید خدا ان پر رحمت نازل کرے تو تم بھی شریک رحمت ہو جاؤ۔( ۳ )
٭ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مزبلہ کے قریب کھڑے ہو کر عالم سے گفتگو کرنا فرش مخمل پر بیٹھ کر جاہل سے بات کرنے سے بہتر ہے۔( ۴ )
٭ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم فرماتے ہیں کہ حواریین نے جناب عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ ہم کس کے پاس بیٹھیں تو آپ نے فرمایا کہ جس کا دیدار خدا کو یاد دلائے، جس کی گفتگو علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل آخرت کی طرف رغبت پیدا کرائے۔( ۵ )
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشاد ہے ’’اہل دین کی ہم نشینی شرف دنیا و آخرت ہے۔( ۶ )
٭ امام محمد باقر علیہ السلام فرما تے ہیں معتبر افراد کے پاس بیٹھنا ایک سال کے عمل سے زیادہ بہتر ہے۔
٭ امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ خبردار پست انسانوں کے ساتھ نہ رہنا کہ ان سے کسی خیر کی امید نہیں ہے۔
٭ شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ روایات میں پست انسانوں کی تفسیر حسب ذیل معانی سے کی گئی ہے۔
۱ ۔ پست وہ ہے جسے نہ یہ خیال ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور نہ یہ ہوش ہو کہ میرے بارے میں کیا کہا جارہا ہے۔
۲ ۔ پست آدمی باجا بجانے والے کو کہتے ہیں۔
۳ ۔ پست آدمی وہ ہے جسے نہ نیک برتاؤ سے خوشی ہو نہ بد سلوکی سے افسوس ہو۔
۴ ۔ پست آدمی وہ ہے جو اہلیت نہ رکھنے کے باوجود قیادت کا دعویٰ کرے۔
٭ البتہ اگر ایسے لوگوں کی صحبت سے اصلاح کی امید ہو اور یہ خیال ہو کہ ان کی اصلاح ہوجائے گی اور ان کے کردار کا اپنے اوپر کوئی اثر نہ ہوگا تو بقدرِ ضرورت ان کے ساتھ رہنا چاہئے۔ اس لئے کہ مردانگی فقط اپنے نفس کی اصلاح کر کے اسے جہنم سے بچا لینے کا نام نہیں ہے بلکہ دوسروں کی تادیب کرنا اور ان کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے اور اسی لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو واجب کیا گیا ہے اور اس پر سارا زور اسی لئے دیا گیا ہے کہ دوسروں کو اطاعت کی طرف لایا جائے اور جہنم سے بچایا جائے۔
فرزند! عقد کرنا ہو تو صحیح النسب عورت کا انتخاب کرنا کہ اس سے اولاد کو پیدا ہونا ہے اور وہ تمہاری نسل کے لئے ایک ظرف ہے اور ظرف اور دودھ کا بچہ پر اثر ہوتا ہے۔ اس میں نیک اوصاف کا بھی لحاظ رکھو اور ایمان و تقوی کے ساتھ شکل و صورت کا بھی لحاظ کرو کہ پھر دوسری عورت کی طرف میلان نہ پیدا ہو اور خاطر خواہ انس فراہم ہوتا رہے۔
حسن و جمال کی خاطر عقد سے ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ دین و کردار کے بجائے انھیں بنیاد نہ بناؤ۔ اس کا یہ طلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کالحاظ ہی نہ کرو۔ یہی حال مال و دولت کا ہے کہ اسے دین و کردار کا بدل نہ قرار دو ورنہ صاحبِ مال عورت ادائے حقوق کی پابند ہے تو اس سے عقد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ اس کے اختیار کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ اس کا مال تمہاری اولاد کے کام آئے گا۔ وہ سکون کے ساتھ علم دین حاصل کر سکیں گے اور بے فکری سے کام کر سکیں گے بشرطیکہ دین و نجابت کا معاملہ استوار رہے اور خبردار ’’نودولت‘‘ خاتون سے عقد نہ کرنا کہ اس میں دولت کا غرور ہوگا اور وہ تمہیں حقیر سمجھے گی۔ روایات میں ’’نودولت‘‘ شخص سے قرض لینا تک مکروہ قرار دیا گیا ہے کہ اس میں احساس بلندی زیادہ ہوتا ہے۔
بلکہ ’’نودولت امیر‘‘ اور نجیب و شریف فقیر خاتون میں معالمہ دائر ہو جائے تو فقیر سے عقد کر لے کہ نودولت عورت بھی بنیادی طور پر فقیر ہی ہوتی ہے۔ صرف دولت کے غرور کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ فارسی شاعر نے خوب کہا ہے (ترجمہ)
نعیم زادہ ہو مفلس تو کیا برائی ہے
خزاں کے بعد شجر پھر سے بارور ہو گا
لئیم زادہ کی دولت سے ہوشیار رہو
کہ مزبلہ پہ اضافہ بھی گندہ و تر ہو گا۔
جوادی
فرزند! اپنی زوجہ، دختر اور تمام اہل حرم خواتین کو گھر کے اندر رکھو اور بلا ضرورت نہ جانے دو کہ عورت قوتِ امتیاز کی کمزوری کی بنا پر دوسری عورتوں سے اثر قبول کر کے دین و دنیا دونوں کو تباہ کر سکتی ہے۔
اور دیکھو اپنی اولاد کی تربیت کا مکمل خیال رکھنا اور انھیں شرعی اور عقلی آداب سے آراستہ کرنا۔ یہ کبھی نہ سوچنا کہ ابھی بچے ہیں اور حکم خدا کے مخاطب نہیں ہیں کہ جن کی تربیت بچپن سے نہیں ہوتی ہے ان کی تربیت بڑے ہو کر بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
بچوں کو احکام دین، آثارِ شریعت کی تعلیم دو کہ بچپنے کا نقش محو نہیں ہوتا۔ قرآن مجید کے بعد معجزات کی کتابوں کی تعلیم دو کہ عقیدہ صرف موروثی نہ ہو بلکہ دلیل و برہان سے حاصل ہو۔
سب سے زیادہ خیال اس بات کا رکھو کہ بچے گھر سے تنہا نہ نکلنے پائیں اور دوسروں کے ساتھ نہ کھیلنے پائیں اور کھیلیں تو اپنے ہی گھر میں کھیلیں کہ بچوں کی طبیعت بہت جلد اثر قبول کرتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اغیار سے متاثر ہو جائیں طلب علم کے مرحلہ میں بھی اپنے بچے کو ضرورت سے زیادہ دوسرے بچوں کے ساتھ نہ رہنے دو اور وہاں مذاکرہ اور مباحثہ کا انتظام کرو جہاں تیسرا دیکھنے والا ہو تاکہ اپنے ساتھی سے شیطانت اور فساد نہ سیکھ سکیں۔
یہ تمام باتیں میں نے تجربہ کی بنا پر لکھی ہیں کہ بچپنے میں میرا ایک ساتھی انتہائی شریف اور شریف خاندان کا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی وجہ سے میں نے سگریٹ نوشی سیکھ لی اور اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہا ہوں۔ جب چھوڑنے کا ارادہ کیا عادت کی وجہ سے کوئی نہ کوئی بیماری پیدا ہو گئی اور پھر ترک نہ کرسکا اور آج تک اس اثر صحبت کو برداشت کر رہا ہوں۔ اور خبردار بچوں کو پیسے کاعادی نہ بنانا کہ اس میں بڑے عظیم مفاسد ہیں۔ ان کا دل دولت سے آشنا ہو جاتا ہے اور یہ محبت دل سے نہیں نکلتی پھر وہ اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ فساد اخلاق کا بدترین ذریعہ ہے۔
فرزند! خبردار اولاد لڑکا ہو یا لڑکی اسے اچھے کھانے کپڑے کا عادی نہ بنانا ورنہ اگر زمانہ نے ساتھ نہ دیا تو وہ سخت مصیبت میں پڑ جائیں گے اور اگر اوسط درجہ کے عادی رہے تو بہتر مل جانے پر خوش ہوں گے۔ اس بات کا خصوصیت سے خیال رکھنا کہ اولاد کی شادی ابتدائِ بلوغ ہی میں کر دینا کہ ان کا دین اور آبرو محفوظ رہے اور کسی طرح کا فساد نہ پیدا ہو سکے۔ اس سلسلہ میں غربت کا خیال نہ کرنا کہ پروردگار نے رزق کا وعدہ کیا ہے۔
اگر تم نے میرے ان احکامات پر عمل نہ کیا تو میرے لئے عاق شمار ہوگے اور میری روح تم سے خوش نہ ہوگی۔ زیادہ غربت ہو تو متعہ ہی کا انتظام کردو کہ وہ جنسی فساد کا شکار نہ ہوں (متعہ ممکن نہ ہو تو غریب گھرانے کی لڑکی سے شادی کردو۔ اس کے بعد استطاعت پیدا ہونے پر دوسرا عقد بھی کر دینا اس میں کوئی شرعی مضائقہ بھی نہیں ہے اور سماجی فساد بھی نہیں ہے خصوصاً اگر عقد اوّل کے موقع پر یہ بات واضح کردی جائے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دور حاضر میں لڑکیوں کی تعداد کی زیادتی اور ان میں بعض معذور، مجبور، مریض ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ تعداد ازواج کا سلسلہ رائج کیا جائے ورنہ ایک بڑی تعداد روحانی قلق کا شکار ہو کر گونا گوں امراض میں مبتلا ہوجائے گی یا بے راہ روی کا شکار ہوجائے گی۔ جوادی)
فرزند! میری تمام وصیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیشہ معاش و معاد کے مسائل پر غور کرتے رہنا، شرعاً بہتر ہو اسے اختیار کرنا۔ انجام کار نگاہ میں بہر حال رہے تاکہ پروردگار تمہیں جملہ پسندیدہ اعمال کی توفیق دے اور تمہارے مستقبل کو ماضی سے بہتر بنا دے۔
وَ الْحَمُدُ لِلّٰهِ وَ الصَّلٰوةُ وَ السَّلاَمُ عَلَى النَّبِىِّ الْاَمِيْنِ وَ اٰلهِ الغُرا المياميْن وَ لَعْنَةُ اللهِ عَلٰى اَعْدَآئِهِمْ اَجْمَعِيْن مِنَ الْاٰن اِلٰى يَوْمِ الدِّيْن
عبد اللہ المامقانی
۷ جمادی الاولیٰ ۱۳۲۴ ھ
ترجمہ السید ذیشان حیدر جوادی
۳۰! جمادی الثانیہ ۱۴۰۳ ھ
____________________
[۱] مستدرک ۲، ص ۱۹۵
[۲] مستدرک ۲، ص ۵۳۴
[۳] وسائل الشیعہ ۱، ص ۴۴۲
[۴] اصول کافی ۱، ص ۳۹
[۵] اصول کافی ۱، ص ۳۹
[۶] اصول کافی ۱، ص ۳۹
فہرست
عرض مترجم ۴
فصل اوّل ۵
مختصر اصولِ دین کا تذکرہ ۵
فصل دوم ۹
دعوتِ اطاعت اور تنبیہ معصیت ۹
زبان کی حفاظت ۱۱
تفکّر ۱۳
صبر ۱۵
توکل ۱۹
قناعت ۲۰
حیاَ ۲۱
حُسنِ اخلاق ۲۲
حلم و عفو ۲۳
انصاف و مروّت ۲۷
وفا و عہد ۲۷
سخاوت ۲۸
فصل سوم ۲۹
دیگر مختلف و صیتیں ۲۹
احترامِ علماء ۳۱
احترام ذریت پیغمبر اسلام(ص) ۳۱
صلۂ رحم ۳۲
وصیت ۳۴
قرض کی گواہی ۳۴
ذکر خدا ۳۴
استغفار ۳۵
دس مرتبہ ۳۵
نوافل کی پابندی ۳۶
مطالعہ احادیث و مواعظ ۳۹
زیادہ ہنسی ۳۹
حسد ۴۰
کذب ۴۱
طعن و طنز ۴۱
سنگ دلی ۴۲
تکبر اور غرور ۴۳
(اہل اقتدار و اہل ریاست اس نکتہ پر توجہ فرما ئیں۔ جوادی) ۴۳
تواضع و انکسار ۴۳
حرص ۴۴
خود پسندی ۴۵
ریاکاری ۴۵
مايوسی ۴۵
توبہ ۴۸
توبہ میں عجلت ۴۹
تلخی حالات پر صبر ۵۰
فصل چھارم ۵۴
دیگر مختلف و صیتیں ۲ ۵۴
طلب علم اور اسکی فضیلت سے متعلق وصیتیں ۵۴
قصد قربت ۵۹
پہلا خطرہ قضاوت: ۶۷
دوسرا خطرہ خیانت: ۶۸
تیسرا خطرہ فتوی میں جلد بازی: ۶۹
چوتھا خطرہ حب جاہ: ۶۹
پانچواں خطرہ جعلسازی: ۷۰
فصل پنجم ۷۳
امور معاش سے متعلق وصیتیں ۷۳