آداب معاشرت

مؤلف: اسلامى تحقيقاتى مركز
اخلاقی کتابیں


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تدوين : اسلامى تحقيقاتى مركز

ترجمہ: معارف اسلام پبلشرز

نشر: نور مطاف

سنہ اشاعت: شعبان المعظم ۱۴۲۴ ھ_ق

چاپ: دوم

تعداد: ۲۰۰۰

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _


بسم الله الرحمن الرحيم

و صلى الله على سيدنا و مولى نا ابى القاسم

محمد و على اهل بيته الطاهرين و لعنة الله

على اعدائهم اجمعين

قال امير المؤمنين عليه السلام : من اصلح ما بينه و بين الله اصلح الله ما بينه و بين الناس و من اصلح امر آخرته اصلح الله له دنياه


پيش لفظ:

موجودہ دور ميں بشر كے انفرادى اور اجتماعى روابط بظاہر بہت حسين ، خوب صورت و پرلطف دكھائي ديتے ہيں اور بظاہر ايسا لگتاہے كہ معاشرے ميں زندگى كے صحيح اصول اور آداب و رسوم موجود ہيں ليكن كبھى كبھى يہ روابط حسرت كا باعث اور انسانوں كو اس مدينہ فاضلہ كى ياد دلاتے ہيں جس كا ان سے وعدہ كيا گيا ہے _ اگر چہ آج كا انسان مادى وسائل اور اجتماعى آسائشے و رفاہ كے اعتبار سے توقع سے زيادہ اپنى آرزؤں اور اميدوں كو پاچكاہے اور ان تك رسائي حاصل كرچكاہے ليكن اس جذاب اور پرفريب ظاہر كوچھوڑ كر اگر اس كى حقيقى اور باطنى زندگى كى طرف چند قدم آگے بڑھ كر ديكھيں تو ايك عظيم اور ہولناك حالت كا مشاہدہ كريں گے جو بدترين قسم كے انفرادى اور اجتماعى روابط كى عكاس ہے_


يہ نكتہ قابل توجہ ہے كہ معنوى تلخى اور پستى و زبوں حالى كا اصل سبب انسان كى مادى كاميابياں نہيں بلكہ اس غم انگيز اور افسوس ناك صورت حال اور انسانوں كے اجتماعى آداب و رسومات كے آلودہ اور مريض ہونے كى علت ان كا آسمانى و آفاقى اعلى اسلامى اقدار سے دورى اختيار كرناہے_

يہ كتاب جو دوسرى بار طبع كى جارہى ہے ، ان بعض معاشرتى آداب كى بيانگر ہے جنہيں اسلام كى نگاہ ميں اجتماعى امنيت كے فراہم كرنے اور ايك اچھى اور دلپذير زندگى كو حاصل كرنے كيلئے اپنانا ضرورى ہے_

مؤسسہ معارف اسلامى خداوند متعال كا شكر گزار ہے كہ اس نے يہ توفيق عنايت فرمائي كہ اپنى اصل ذمہ دارى يعنى اسلامى معارف اور ثقافت كى نشر و اشاعت، كو پورا كرتے ہوئے اس كتاب كو نظر ثانى كے ساتھ دوسرى مرتبہ طبع كررہے ہيں _

آخر ميں ہم خداوند متعال سے دعا كرتے ہيں كہ مركز تحقيقات اسلامى كے محترم محققين_ جنہوں نے اس مفيد اثر كى تدوين ميں زحمت فرمائي اور ان محترم مترجمين كہ جنہوں نے ترجمہ اور تصحيح ميں زحمت فرمائي_ كو اجر وافر عنايت فرمائے اورہم سب كو اپنے فضل و كرم سے امام زمانہ(عج) كے انصار و اعوان ميں سے قرار دے _

معارف اسلام پبلشرز

۱۵ شعبان المعظم ۱۴۲۴


پہلا سبق:

اخلاق حسنہ

۱)_'' حسن خلق'' كا معني:

''حُسن خلق '' يعنى ''پسنديدہ اور اچھى عادت''، چنانچہ اس شخص كو ''خوش اخلاق'' كہا جاتا ہے كہ اچھى عادتيں اُس كى ذات و فطرت كا جزو بن چكى ہوں اور وہ دوسروں كے ساتھ كھلے چہرے اور اچھے انداز كے ساتھ پيش آنے كے ساتھ ساتھ پسنديدہ ميل جول ركھے_ امام جعفر صادق عليه السلام نے حسن خلق كى تشريح كرتے ہوئے فرمايا :

''تُلين جانبك' وتطيّبُ كلامك وتلقى ا خاك ببشر: حَسَن :''_

''تم اپنى ملاقات كے انداز ميںنرمى پيدا كرو' اپنى گفتگو كو شائستہ بنائو اور اپنے بھائي سے خندہ پيشانى سے ملو''(۱)

عام طور پر اخلاق و حديث كى كتابوں ميں حسن خلق سے يہى معنى مراد ليا جاتاہے_

____________________

۱_ اصول كافى _ ج ۳ ، ص ۱۶۲، (ايمان و كفر :حُسن بشر)_بحارالانوار ج ۷۱ ، ص ۳۸۹(مطبوعة اسلامية)


اسلام ميں اخلاق حسنہ كا مقام:

اسلام ہميشہ اپنى پيروكاروں كو دوسروں كے ساتھ نرمى اور خوش مزاجى سے پيش آنے كى طرف دعوت ديناہے، اسلام نے خوش اخلاق انسان كى اہميت كو صرف مسلمانوں تك محدود نہيں ركھا ہے بلكہ اگر غير مسلمان بھى اس نيك صفت كا حامل ہوں تو وہ بھى اس كے فوائد كو پاسكتاہے_ جيسا كہ تاريخ ميں بيان ہوا ہے كہ : آنحضور (ص) نے حضرت امام على عليه السلام كوايسے تين افراد كے ساتھ جنگ كرنے كا حكم ديا جو آپ (ص) كو شہيد كرنے كى سازش ميں متحد ہوچكے تھے، امام على عليه السلام نے ان ميں سے ايك كوقتل كيا اور باقى دو كو قيدى بنا كر آپ (ص) كے سامنے پيش كيا _ آنحضرت (ص) نے پہلے انہيں دين مبين اسلام كى طرف دعوت دي، ليكن انہوں نے اسے قبول كرنے سے انكار كيا ، پھر آپ (ص) نے قتل كى سازش كے جرم پر ان كے خلاف قتل كا حكم جارى فرمايا ، اسى دوران آپ (ص) پر جبرئيل (ع) نازل ہوئے اور عرض كى : ''اللہ تعالى فرماتا ہے كہ ان دونوں ميں سے ايك شخص كو معاف كريں كيونكہ وہ خوش اخلاق اور سخاوتمند ہے'' _ آپ (ص) نے بھى اس شخص كو معاف فرمايا، جب اس شخص كو معلوم ہو اكہ اللہ تعالى نے اسے ان دو نيك صفات كى خاطر معاف فرمايا ہے تو اس نے اسلام كو تہ دل سے قبول كرليا_ پھر آپ (ص) نے اس شخص كے بارے ميں فرمايا :

'' ان لوگوں ميں سے ہے جو خوش اخلاق اور سخاوتمند ہونے كى بناء پر جنت كا مستحق ہوے''(۱)

اسلامى مقدس نظر يہ ميں حسن خلق كا معنى كبھى يہ نہيں كہ اگر كسى نے كوئي غلط اور ناپسند يدہ فعل انجام ديا تو اس كے سامنے خاموش ہوجائيں يا ہنس ديں بلكہ ايسے موقع پر

____________________

۱_ بحارالانوار ج ۷۱، ص ۳۹۰


اس بات پر تاكيد كى گئي ہے كہ اس فعل كے خلاف مناسب رد عمل كا اظہار كرنا چاہئے' اگرچہ چند افراد كى ناراضگى كا سبب بن جائے _ كيونكہ ہميں اس وقت تك دوسروں كو ناراض نہيں كرنا چاہئے، جب تك اسلامى احكام اور اس كے اصول كى پامالى نہ ہوپائے_

۲)_معصومين (ع) كے ارشادات:

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومين عليہم اسلام اخلاق حسنہ كى اعلى ترين مثاليں ہيں اور يہ بے مثال ''حُسن خلق ''ان كے كردار اور گفتار سے عياں تھا_ ان ہى عظےم شخصيتوں كے ارشادات كى روشنى ميں ہم ''حُسن خلق'' كے اعلى درجہ پر فائز ہوسكتے ہيں_ چنانچہ ہم يہاں اُن كے ارشادات سے چند نمونے پيش كررہے ہيں تاكہ وہ ہمارى زندگى كے لئے مشعل راہ بن جائيں : رسول خدا (ص) نے صحابہ كو مخاطب كركے فرمايا :

''كيا ميں تمہيں وہ چيز نہ بتائوں كہ اخلاق كے لحاظ سے تم ميں سے كون مجھ سے زيادہ مشابہ ہے؟ صحابہ نے عرض كى : ''اے اللہ كے رسول (ص) ضرور بتايئے_'' تو آپ (ص) نے فرمايا :

''جس كا اخلاق بہت اچھا ہے''(۱)

آپ (ص) ہى كا ارشاد گرامى ہے:

''خوش نصيب ہے وہ شخص جو لوگوں سے خوش خلقى سے ملتا ہے ' ان كى مدد كرتا ہے اور اپنى برائي سے انہيں محفوظ ركھتا ہے''(۲)

____________________

۱_ اصول كافى (مترجم ) ج۲، ص ۸۴يا تحف العقول ص۴۸

۲_ تُحف العقول ، ص۲۸


امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں:

''خداوند عالم نے اپنے ايك پيغمبر كو مخاطب كركے فرمايا :

''خوش خلقى گناہوں كو اُسى طرح ختم كرديتى ہے جس طرح سورج برف كو پگھلاديتا ہے''(۱)

آپ (ع) ہى كا ارشاد ہے:

''بے شك بندہ اپنے حسن اخلاق سے دن كو روزہ ركھنے والے اور رات كو نماز قائم كرنے والے كا درجہ حاصل كرليتا ہے''(۲)

۳)_اخلاق معصومين (ع) كے چند نمونے:

ہمارے معصوم رہبروں (ع) نے جس طرح ''اخلاق حسنہ'' كے بارے ميں نہايت ہى سبق آموز ارشادات فرمائے ہيں ' اسى طرح دوست اور دشمن كے سامنے نيك اخلاق كے بہترين على نمونے بھى پيش كئے ہيں; ملاحظہ كيجئے:

۱_انس (پيغمبر اكرم (ص) كے خادم) سے مروى ہے كہ : ميں نے رسالت مآب (ص) كى نوسال تك خدمت كى 'ليكن اس طويل عرصے ميںحضور (ص) نے مجھے حتى ايك بار بھى يہ نہيں فرمايا: ''تم نے ايسا كيوں كيا؟'' _ ميرے كسى كام ميں كبھى كوئي نقص نہيں نكالا، ميں نے اس مدت ميں آنحضرت (ص) كى خوشبو سے بڑھ كر كوئي اور خوشبو نہيں سونگھي، ايك دن ايك باديہ نشين (ديہاتي) آيا اور آنحضرت (ص) كى عبا كو اتنى زور سے كھينچا كہ عبا كے نشان آپ (ص) كى گردن پر ظاہر

____________________

۱_ تحف العقول _ ص ۲۸_ بحارالانوار ج ۷۱، ص ۳۸۳

۲_ وسائل الشيعہ ج۸، ص ۵۶_ تحف العقول ص ۴۸


ہوگئے_ اس كا اصرار تھا كہ حضور اكرم (ص) اسے كوئي چيز عطا فرمائيں_ رسالتمآب (ص) نے بڑى نرمى اور مہربانى سے اُسے ديكھا اور مسكراتے ہوئے فرمايا:

''اسے كوئي چيز دے دو''_

چنانچہ خداوند عالم نے يہ آيت نازل فرمائي:

( انّك لَعلى خُلق: عظيم ) (۱)

''بے شك آپ اخلاق (حسنہ) كے اعلى درجہ پر فائز ہيں''_

۲_حضرت امام زين العابدين _ كے قريبى افراد ميں سے ايك شخص آپ (ع) كے پاس آيا اور بُرا بھلا كہنے لگا ' ليكن آپ (ع) خاموش رہے ، جب وہ شخص چلا گيا تو امام (ع) نے حاضرين كو مخاطب كركے فرمايا:

''آپ لوگوں نے سن ليا ہوگا كہ اس شخص نے مجھ سے كيا كہا ہے اب ميں چاہتا ہوں كہ آپ ميرے ساتھ چليں اور ميرا جواب بھى سن ليں''_

امام عليه السلام راستے ميں اس آيت كى تلاوت فرماتے جارہے تھے:

''( و الكاظمين الغيظ والعافين عن الناس والله يحب المحسنين ) ''(۲) ''جو لوگ غصے كو پى جاتے ہيں اور لوگوں كو معاف اور درگذر كرديتے ہيں اوراللہ تعالى ايسے احسان كرنے والوں كو دوست ركھتا ہے''_

ساتھيوں نے سمجھ ليا كہ امام (ع) آيت عفو كى تلاوت فرما رہے ہيں، لہذا اسے كوئي تكليف نہيں پہنچائيں گے ،جب اس كے گھر پہنچے تو امام (ع) نے اس كے خادم سے فرمايا

____________________

۱_منتہى الآمال، ج ا ، ص ۳۱_ سورہ قلم ، آيت ۴

۲ _ سورہ آل عمران آيت ۱۳۴


كہ اپنے مالك سے كہدو كہ على ابن الحسين عليه السلام تمہيں بلا رہے ہيں_

جب اس شخص نے سنا كہ امام (ع) فوراً ہى اس كے پاس آئے ہيں تو اس نے دل ميں كہا كہ يقينا حضرت (ع) مجھے ميرے كئے كى سزا ديں گے اور اس كا انتقام ليں گے_ چنانچہ اس نے يہ سوچ كر خود كو مقابلہ كے لئے تيار كرليا، ليكن جب باہر آيا تو امام (ع) نے فرمايا :

''ميرے عزيز تم نے اب سے كچھ دير پہلے ميرے متعلق كچھ باتيں كہى تھيں ' اگر يہ باتيں مجھ ميں پائي جاتى ہيں تو خدا مجھے معاف كرے' اور اگر ميں اُن سے پاك اور بَرى ہوں تو خدا تمہيں معاف كرے''_

اُس شخص نے جب يہ سنا تو بہت شرمندہ ہوا ' امام (ع) كى پيشانى پر بوسہ ديا اور معافى مانگنے لگا اور عرض كى :''ميں نے جو كچھ كہا ' غلط كہا' بے شك آپ (ع) ايسى باتوں سے پاك ہيں'ہاں ' ميرے اندر يہ باتيں موجود ہيں ''(۱)

۴)_ حسن خلق كے ثمرات و فوائد:

الف: ... دُنيوى فوائد:

۱_دوستانہ تعلقات مضبوط ہوتے ہيں_

چنانچہ حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں:

____________________

۱_منتہى الآمال، ج۳ ، ص ۵_ مطبوعہ انتشارات جاويدان


''حُسن خلق يُثبت المَوَدَّةَ'' (۱)

'' حسن خلق، دوستى اور محبت كو مستحكم كرتا ہے''_

۲_اس سے زمين آباد اور عمريں طولانى ہوتى ہيں_

چنانچہ حضرت امام جعفر صادق _ فرماتے ہيں:

'' انّ البرَّ و حُسن َ الخلق يَعمر ان الدّيارَ و يزيدان فى الاعمار''(۲)

''نيكى اور اچھے اخلاق سے زمينيں آباد اور عمريں طولانى ہوتى ہيں''_

۳_رزق و روزى ميں بركت پيدا ہوتى ہے_

امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں:

''حُسن الخلق منَ الدين و ہو يزيدُ فى الّرزق:''(۳)

''حسن خلق دين كا جزو ہے اور روزى ميں اضافہ كا سبب ہے''_

۴_عزّت اور بزرگى كا موجب بنتا ہے_

چنانچہ حضرت اميرالمومنين عليه السلام فرماتے ہيں:

''كَم من وَضيع: رَفَعہ حُسن خُلقہ''(۴)

''كتنے ہى پست لوگ ايسے ہيں كہ جنہيںاُن كے نيك اخلاق نے بلند كيا ''_

____________________

۱_ تحف العقول، ص ۳۸_ بحارالانوار ج ۷۱، ص ۱۵۰

۲_ اصول كافى ، ج ۳، ص ۱۵۷ _ بحارالانوار ج ۷۱، ص ۳۹۵

۳_ تحف العقول ، ص۳۷(۳) ۴_ شرح غررالحكم، ج ۷، ص ۹۴_


۵_كينہ پرورى اور كدورتوں كو دو ر كرتا ہے _

رسالتمآب (ص) كا ارشاد ہے:

''خندہ پيشانى اور كشادہ روئي كينوں كو دور كرديتى ہے''(۱)

ب: ...اُخروى فوائد:

۱_''حُسن خُلق'' كے سبب قيامت كے دن حساب ميں آسانى ہوگى _

حضرت اميرالمومنين على عليه السلام فرماتے ہيں :

''صلہ رحمى كرو كہ يہ تمہارى عمر كو بڑھائے گا ' اپنے اخلاق كو اچھا بنائو كہ خدا تمہارا حساب آسان كرے گا ''(۲)

۲_جنت ميں جانے كا موجب بنتا ہے _

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :

''ميرى امت ' تقوى اور حسن اخلاق جيسى صفت كے زيادہ ہونے كى وجہ سے جنت ميں جائےگي''(۳)

۳_بلند درجات كا سبب قرار پاتا ہے_

چنانچہ پيغمبر اكرم (ص) كا ارشاد ہے:

''بے شك حسن اخلاق كى وجہ سے بندہ آخرت كے بلند درجات اور اعلى

____________________

۱_تحف العقول، ص ۳(۸ ) ۲ _ بحارالانوار ج ۷۱، ص ۳۳(۸ ) ۳_اصول كافى ، ج ۲، ص ۱۰۰_ مستدرك الوسايل ج ۲، ص ۸(۲ )

مراتب تك جا پہنچتا ہے، اسكا حسن خلق اسكى عبادت كو چار چاند لگا ديتاہے(۱)

۵)_بدخلقي:

بدخُلقي' حُسن خُلق كى متضاد ہے_ جس قدر حُسن خُلق لائق تحسين اور قابل ستائشے ہے ' بدخلقى اسى قدر قابل مذمت اور قابل تنفر ہے_

اسلام نے جہاں اخلاق حسنہ كى بے حد تعريف كى ہے وہاں بدخُلقى كو نفرت كى نگاہ سے ديكھاہے _

رسول اكرم (ص) فرماتے ہيں :

''خَصلَتان لاَ تَجتَمعان فى مسلم:' اَلبُخلُ و سُوئُ الخلق'' (۲)

''كسى مسلمان ميں دو خصلتيں جمع نہيں ہوسكتيں' كنجوسى اور بداخلاقي''_

حضرت على عليه السلام اس بُرى خصلت كو ذلّت اور پستى كى علامت قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں :

''منَ اللوَّم سُوء الخُلق'' (۳)

''بداخلاقى ايك لعنت وپستى ہے ''_

دوسرى جگہ اسے جہالت اور نادانى كا نتيجہ قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں :

''الخلق المذموم من ثمار الجهل'' _

''بدخلقى جہالت كے ثمر ات ميں سے ہے''_

____________________

۱_ اصول كافى ، ج ۳، ص ۱۵(۷) ۲_ ميزان الحكمہ، ج ۳، ص ۱۵۳

۳_ شرح غررالحكم ، ج ۷، ص ۹۵


۶_بداخلاقى كا انجام:

بداخلاقى كا انجام بہت برا ہوتا ہے نمونے كے طور پر ملاحظہ فرمائيں :

الف_ انسان كو خدا كے قرب سے دور كرديتى ہے _

جيسا كہ امام محمد باقر عليه السلام كا ارشاد ہے:

''عُبُوس الوجه: وسوئُ البشر مكسَبَة لّلمقت وبعد من الله ''(۱)

''تُرش روئي اور بدخلقى خدا كى ناراضگى اور اس سے دورى كى سبب ہے''_

ب_ بداخلاقى انسان كى روح كو دكھ پہنچاتى ہے_

جيسا كہ حضرت امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں :

''مَن ساء خلقه عذب نفسه'' (۲)

''جو شخص بد اخلاق ہوتا ہے وہ خود ہى كو عذاب ميں مبتلا ركھتا ہے''_

ج_ نيك اعمال كو تباہ وبرباد كرديتى ہے_

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں:

''الخلق ُ السَّي يُفسد العمل كَما يُفسد الخَلُّ العَسَل'' (۳)

''بد اخلاقى ' انسان كے عمل كو ايسے ہى تباہ كرديتى ہے جس طرح سركہ شہد كو تباہ كرديتاہے''_

د_ توبہ كے قبول ہونے ميں ركاوٹ بنتى ہے_

جيسا كہ آنحضرت (ص) كا ارشاد ہے:

____________________

۱_تحف العقول ، ص ۲۹(۶) ۲ _ بحارالانوار ، ج۷۸، ص ۲۴(۶) ۳_ميزان الحكمة، ج ۳، ص ۱۵(۲ )

''خداوند عالم بداخلاق شخص كى توبہ كوقبول نہيں كرتا''_

لوگوں نے پوچھا: ''يا رسول اللہ (ص) ايسا كيوں ہے؟'' فرمايا :

''اس لئے كہ جب انسان كسى گناہ سے توبہ كرتا ہے ' تو پھر اس سے بڑے گناہ كا مرتكب ہوجاتا ہے''(۱)

ھ_ رزق كو كم كرديتى ہے_

اميرالمومنين عليه السلام فرماتے ہيں :

''مَن سَآء خلقه ضاقَ رزقه'' (۲) ''بداخلاقى روزى كو كم كرديتى ہے''_

و_ انسان كو جہنمى بناديتى ہے_

جيسا كہ رسول خدا (ص) كى خدمت ميںجب عرض كيا گيا كہ فلاں شخص دن كو روزہ ركھتا ہے' اور رات كو عبادت ميں گزار ديتا ہے' ليكن بداخلاق ہے اور ہمسايوں كو ستاتا ہے ' تو آنحضرت (ص) نے فرمايا :

''اس شخص ميں كوئي اچھائي نہيں' وہ جہنمى ہے''(۳)

____________________

۱_ بحارالانوار ، ج ۷۳، ص ۲۹۹

۲_ميزان الحكمة، ج ۳، ص ۱۵۵

۳ _ ميزان الحكمة ، ج ۳، ص ۱۵۴


دوسرا سبق:

نظم و ضبط

۱)_اسلام ميں نظم و ضبط كى اہميت

۲)_نجى زندگى ميں اس كى اہميت

الف) صفائي

ب)ستھرائي

۳)_ معاشرتى زندگى ميں اس كى اہميت

۴)_عہدپيمان ميں اس كى اہميت

۵)_عبادات ميں اس كى اہميت

۶)_اخراجات ميں اس كى اہميت

۷)_محاذ جنگ اور عسكرى امور ميں اس كى اہميت


خدا نے ہر ايك چيز كونظم كى بنيا دپر خلق فرمايا ہي، اس بھرى كائنات ميں ہر چيز كا اپنا ايك مقام ہے اور اس كى مخصوص ذمہ دارى ہي_

بقول ايك شاعر كے :

جہان چون خدوخال وچشم وابروست

كہ ہر چيزى بہ جاى خويش نيكوست

يعنى يہ كائنات شكل وصورت اور چشم وابرو كى مانند ہي' جس كى ہر ايك چيز اپنى اپنى جگہ پر نہايت ہى مناسب اور موزوں ہي_

۱_اسلام ميں نظم وضبط كى اہميت:

خدائے عالم وقادر نے اپنى پورى كائنات ميں محيّر العقول نظم كو جارى وسارى فرمايا ہے اور اس بات كو پسند كرتا ہے كہ بنى نوع انسان بھى اپنى نجى اور معاشرتى زندگى ميں نظم وضبط پيدا كريں_


اس نے آسمانى مذاہب كے ذريعے خصوصاً دين اسلام كے ذريعہ نظم وضبط كى اہميت بيان فرمائي ہے اور اس كى پابندى كا حكم ديا ہي_

ہم يہاں نظم وضبط سے متعلق كچھ اسلامى احكام بيان كرتے ہيں، اميد ہے كہ قارئين احكام الہى كو پيش نظر ركھ كر اپنى زندگى كو پورى طرح سنوار نے كى كوشش كريں گي_

۲_نجى اور فردى زندگى ميں نظم وضبط كى اہميت:

كسى مسلمان كى فردى زندگى ميں نظم وضبط كا تعلق' صحت وصفائي، لباس كى وضع و قطع ' سر اور چہرے كى اصلاح ' بالوں كو سنوارنا اور مسواك وغيرہ كرنے سے ہوتا ہي_

اختصار كے ساتھ ہم يہاں ان امور سے متعلق گفتگو كريں گي:

الف:___صفائي:

لباس ' بدن اور زندگى كے دوسرے امور ميںپاكيزگى اور صفائي كے حوالے سے اسلام نے بہت زور ديا ہے _ چنانچہ رسالتمآب (ص) كا ارشاد ہي:

''خداوند عالم پاك و پاكيزہ ہے اور پاكيزگى ' طہارت اور صفائي كو دوست ركھتا ہي''(۱)

____________________

۱_ ميزان الحكمة ، ج ۱۰، ص ۹۲


دوسرى جگہ فرمايا :

''جہاں تك ہوسكے اور جيسے بھى بن پڑي' پاك و پاكيزہ رہو كيونكہ اللہ تعالى نے اسلام كى بنياد صفائي پر ركھى ہي' اور جنت ميں سوائے صاف ستھرے شخص كے كوئي اور نہيں جا سكے گا''(۱)

امام رضا _ فرماتے ہيں:

''پاكيزگى كا شمار انبياء (ع) كے اخلا ق ميںہوتا ہي''(۲)

ب:___ سنوارنا:

سر' بدن ' لباس اور جوتوں وغيرہ كو آراستہ اور صاف ركھنا' اسلام كا ايك اخلاقى دستور ہے _ اس كا تعلق ايك پكّے اور سچے مومن كى نجى زندگى كے نظم وضبط سے ہي_

اسلامى تعليمات كى رو سے ايك مسلمان كو اپنى وضع و قطع ميں پاكيزگى كا خيال ركھنے كے علاوہ اپنے لباس اور جسمانى وضع و قطع كو بھى سنوارنا چاہئي_ بالوں ميں كنگھى ' دانتوں كى صفائي ' اور وقار اور ادب سے چلنا چاہئے _

ايك دن حضور سرور كائنات (ص) نے ايك بكھرے بالوں والے شخص كو ديكھا تو فرمايا :

''تمہيں كوئي چيز نہيں ملتى تھى كہ بالوں كوسنوار ليتي''(۳)

عباد بن كثير نے ' جو ايك ريا كار زاہد تھا اور كھردرا لباس پہنا كرتا تھا ' ايك دن

____________________

۱_ ميزان الحكمة ، ج ۱۰، ص ۹۲

۲_ بحارالانوار ، ج۷۸، ص ۳۳۵

۳_ ميزان الحكمة، ج ۱۰، ص ۹۲


اس نے حضرت امام جعفر صادق عليه السلام پر اعتراض كيا كہ :

''آپ (ع) كے دو جد امجد ''حضرت رسول خدا (ص) اور اميرالمومنين عليه السلام '' تو كھردرا لباس پہنا كرتے تھي''_

تو امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمايا :

'' وائے ہو تم پر كيا تم نے قرآن مجيد كى وہ آيت نہيں پڑھى جس ميں خداوند عالم نے اپنے پيغمبر (ص) كو حكم ديا ہے كہ :

( قُل مَن حَرَمَ زينة الله التى اخرج لعباده والطيّبات من الرزق'' ) (۱)

''اے پيغمبر (ص) ان لوگوں سے پوچھئے كہ خدا كى زينت اور حلال رزق وروزى كو كہ جو اس نے اپنے بندوں كے واسطے بنايا ہے ' كس نے حرام كرديا ہي؟''_

وہ شخص اپنے اس فضول اعتراض پر نادم ہوا او رسرجھكا كر چلاگيا(۲)

آيت :( خُذوا زينتكم عند كلّ مسجد'' ) _''ہر سجدہ كرنے كے وقت زينت كرليا كرو''،اس آيت كى تفسير ميں حضرت امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمايا :

''ان زينتوں ميں سے ايك زينت ' نماز كے وقت بالوں ميںكنگھى كرنا ہي''_(۳)

حضرت امام جعفر صادق عليه السلام دانتوں كى صفائي كے بارے ميں فرماتے ہيں:

''من اخلاق الانبياء (عليهم السلام)السَّواك ''(۴)

____________________

۱_سورہ اعراف ، آيت ۳۲

۲ _ فروع كافي، ج ۶، ص ۴۴۴ سے مفہوم حديث

۳_ فروع كافي، ج ۶، ص ۴۸۹

۴_ اصول كافى ج۶ ص ۴۵۹


''مسواك كرنا اخلاق انبياء ميں شامل ہي''_

حضرت على عليه السلام نے مناسب جوتا پہننے كے بارے ميں فرمايا :

''اچھا جوتا پہننا اور بدن كى حفاظت و طہارت نماز كے لئے مددگار ہونے كا ايك ذريعہ ہي''(۱)

رسول خدا (ص) جب بھى گھر سے مسجد يا مسلمانوں كے اجتماع ميں تشريف لے جانا چاہتے تھے تو آئينہ ديكھتي' ريش اور بالوں كو سنوارتي' لباس كو ٹھيك كرتے اور عطر لگايا كرتے تھي' اور فرمايا كرتے تھے :

''خداوند عالم اس بات كو پسند فرماتا ہے كہ جب اس كا كوئي بندہ اپنے دينى بھائيوں كى ملاقات كے لئے گھر سے باہر نكلے تو خود كو بناسنوار كر باہر نكلي''(۲)

لہذا اگر اس حساب سے ديكھاجائے تو پريشان حالت' آلودگى اور بدنظمى دين اسلام كى مقدس نگاہوں ميں نہايت ہى قابل مذمت او رموجب نفرت ہے ' اور رسول خدا (ص) كے ايك پيروكار مسلمان سے يہى توقع ركھى جانى چاہئے كہ وہ ہميشہ بن سنور كر رہے گا اور خود كو معطر اور پاك وپاكيزہ ركھے گا_

۳_ معاشرتى زندگى ميں اس كى اہميت:

سماجى امور اور دوسرے لوگوں كے ساتھ تعلقات قائم ركھنے كے لئے انسان كى كاميابى كا راز اس بات ميںمضمر ہے كہ وہ ايك مقرَّرہ ومرتَّبہ پروگرام كے تحت وقت

____________________

۱_ فروع كافي، ج ۶ _ ص ۴۶۲

۲ _ مكارم اخلاق ، ص ۳۵_


سے صحيح فائدہ اٹھائے ' چاہے اس پروگرام كا تعلق اس كے كاموں سے ہو' جيسے مطالعہ كرنا اور كسى جگہ آنا جانا يا كسى سے ملاقات كيلئے جانا، بدنظمى اور بے ترتيبى سے وقت ضائع ہوتا ہے جبكہ ترتيب ونظم وضبط سے انسانى كوششوں كا اچھا نتيجہ نكلتا ہي_

امور زندگى اور كاروبار ميں نظم وضبط كى اس قدر اہميت ہے كہ حضرت اميرالمومنين عليه السلام نے اپنى آخرى وصيت ميں كہ جو بستر شہادت پر ارشاد فرمائي ' اس بات پر زور ديا اور حسنين (ع) سے مخاطب ہوكر فرمايا :

''اُوصيكما وجميع ا هلى وَ ولدى ومَن بَلَغَهُ كتابى بتقوى الله ونظم امركم ''(۱)

''ميں تم دونوں كو اور تمام افراد خاندان كو اور اپنى تمام اولاد كو اور جن لوگوں تك ميرى تحرير پہنچي' سب كو خدا كے تقوى اور امور ميں نظم وضبط كى وصيت كرتا ہوں''_

حضرت امام موسى كاظم عليه السلام فرماتے ہيں كہ اپنے دن رات كے اوقات كو چار حصوں ميں تقسيم كرو:

۱_ايك حصہ خدا كى عبادت اور اس كے ساتھ راز و نيازكے لئي_

۲_ايك حصہ ذاتى كاموں اور ضروريات زندگى كے پورا كرنے كے لئي_

۳_ايك حصہ دوست واحباب اور رشتہ داروں كے ساتھ ملنے جلنے اور ملاقات كے لئے _

۴_اور ايك حصہ آرام و تفريح اور گھر ميں اہل خانہ كے ساتھ رہنے كے لئي(۲)

____________________

۱_ نہج البلاغہ (فيض الاسلام) خطبہ ۱۵۷_ ص ۹۷۷_

۲ _ تحف العقول ص۴۸۱_


۴_عہدوپيمان ميں اس كى اہميت:

وہ امور كہ جہاں سختى كے ساتھ نظم وضبط كى رعايت كرنا چاہئي' عہدوپيمان اور اقرار ناموں كى پابندى ہي_ مثلاً قرض دينے ' قرض لينے اور دوسرے لين دين ميں تحريرى سند كا ہونا ضرورى ہي_ تاكہ بعد ميں كسى قسم كى كوئي مشكل پيدا نہ ہونے پائے اور ايسا كرنے سے مشكلات كا راستہ بند اور اختلاف كى راہيں مسدود ہوجائيں_ يہ عہدوپيمان اور لين دين كے بارے ميں ايك طرح كا نظم وضبط ہي_

قرآن مجيد ميں ارشاد ہوا ہے :

''ايے ايمان لانے والو جب تم ايك مقررہ مدت كے لئے قرضہ ليتے يا ديتے ہو تو اسے لكھ ليا كرو' اور يہ تحرير ايك عادل شخص تمہارے لئے لكھي' اور اگر تم سفر كى حالت ميں ہو اور تمہيں كوئي لكھنے والا نہ ملے تو اسے گروى كى صورت لے ليا كرو ''(۱)

ايك اور آيت ميں ارشاد ہوتا ہے :

( اَوفوا بالعَهد انَّ العَهد كانَ مسئولاً'' ) (۲)

''عہد كو پورا كرو 'كيونكہ عہد كے بارے ميں تم سے پوچھا جائے گا''_

پيغمبر اسلام (ص) نے وعدہ كى پابندى كو قيامت كے اوپر عقيدہ ركھنے سے تعبير فرمايا ہي_ چنانچہ ارشاد ہي:

____________________

۱_ سورہ بقرہ آيت ۲۸۲_ ۲۸۳

۲ _ سورہ بنى اسرائيل _ آيت ۳۴


''مَن كان يؤمن بالله واليوم الآخرة فليف إذا وَعَدَ'' (۱)

''جو شخص خدا اور قيامت پر ايمان ركھتا ہے اسے اپنا وعدہ پورا كرنا چاہئي''_

ايك واضح پيمان مقررّ كرنے سے بہت سے اختلافات كا سدّ باب ہوسكتا ہي_ اور اس پر صحيح طريقہ سے عملدرآمد لوگوں كى محبت اور اعتماد حاصل كرنے كا موجب بن جاتا ہے _ چنانچہ روايت ہے كہ ايك دن حضرت امام على ابن موسى الرضا عليه السلام نے ديكھا كہ آپ (ع) كے ملازمين ميں ايك اجنبى شخص كام كر رہا ہي' جب آپ (ع) نے اس كے بارے ميں دريافت كيا تو بتا يا گيا كہ اسے اس لئے لے آئے ہيں تاكہ ہمارا ہاتھ بٹاسكي_ امام (ع) نے پوچھا: كيا تم نے اس كى اجرت بھى طے كى تھي؟ كہا گيا كہ نہيں_ امام (ع) سخت ناراض ہوئے اور ان كے اس عمل كو ناپسند فرماتے ہوئے كہا :

''ميں نے بارہا كہا ہے كہ جب تم كسى كو مزدورى كے لئے لاتے ہو تو پہلے اس سے اجرت طے كرليا كرو' ورنہ آخر ميں تم اسے جس قدر بھى مزدورى دوگے وہ خيال كرے گا كہ اسے حق سے كم ملا ہي' ليكن اگر طے كرلوگے اور آخر ميںطے شدہ اجرت سے جتنا بھى زيادہ دوگے خوش ہوجائے گا اور سمجھے گا كہ تم نے اس كے ساتھ محبت كى ہي''(۲)

بات پر قائم رہنا اور وعدہ وفائي انبياء اور اولياء خدا كا شيوہ ہي، ان كے پيروكاروں كو اس سلسلے ميں ان كى اقتدا كرنى چاہئي_

____________________

۱_ كافي_ ج ۲_ ص ۳۶۴

۲_ بحارالانوار _ ج ۴۹_ ص ۱۰۶


۵_عبادت ميں اس كى اہميت:

عبادت ميں بھى نظم وضبط كا اہتمام كرنا چاہئے اور وہ يوں كہ ہر عبادت كو بروقت اور بموقع بجالائيں' نماز كو اس كے اول وقت ميں اور جماعت كے ساتھ ادا كريں' ماہ رمضان ميں روزے ركھيں' اگر سفر يا بيمارى كى وجہ سے كوئي روزہ قضا ہوجائے تو اس كى قضا كريں ' خمس وزكوة ادا كريں' اور عبادت ميں افراط وتفريط سے اجتناب كريں بلكہعبادت ميں اعتدال كو ملحوظ ركھنا چاہئي' كيونكہ اعتدال پسندى عبادت ميں مفيد ہي_

عبادت اور مستحب امور ميں افراط سے كام لينے سے بسا اوقات انسان اكتا جاتا ہي' جس كى وجہ سے بعض اوقات وہ اجتماعى سرگرميوں سے محروم رہتا ہے بلكہ كبھى تو اس كا يہ عمل بجائے باعث ثواب كے عذاب كا باعث بن جاتا ہے ' جيسے دعا يا نوحہ خوانى كرنا يا كوئي اور مستحب عمل كہ رات گئے تك لائوڈ اسپيكر پر پڑھتا رہے 'ظاہر ہے اس سے ہمسايوں يا بيماروں كو تكليف ہوتى ہي_

مستحب عبادت اس وقت مفيد اور كار آمد ہوتى ہے جب وہ رضا ورغبت اور شوق و محبت كے ساتھ انجام دى جائے _ اُس مسلمان كى داستان مشہور ہے كہ جس نے اپنے غير مسلم ہمسائے كو اسلام قبول كرنے كى دعوت دى تھى ' جب اس كا وہ ہمسايہ مسلمان ہوگيا تو وہ اسے مسجد لے گيا اور صبح سے ليكر مغرب تك مسجد ميں نماز ودعائيں پڑھتا رہا ' قران كى تلاوت كرتا رہا ، غرض اسے صبح سے شام تك ان امور ميں مصروف ركھا_


چنانچہ جب وہ دوسرے دن اس كے پاس گيا كہ اسے عبادت كے لئے اپنے ہمراہ مسجد لے چلے تو اس نے ساتھ چلنے سے صاف انكار كرديا اور كہا :

''ميرے يہاں بيوى بچے بھى ہيں' ان كے اخراجات كے لئے بھى كچھ كرنا ہي' مجھے ايسا دين قبول نہيں جائو اپنى راہ لو_،،

۶_ اخراجات ميںاس كى اہميّت:

روٹي' كپڑے اور زندگى كے دوسرے اخراجات' جو كہ بيت المال يا ديگر اموال سے پورے ہوتے ہيں ان ميں اعتدال سے كام لينا چاہئے نہ افراط سے كام لياجائے اور نہ ہى بخل و مشكلات ميں پڑنا چاہئي_

اخراجات ميں نظم وضبط كا مطلب يہ ہے كہ آمد وخرچ ميں ماشہ، گرام كا حساب ركھاجائي، پيداوار اور اخراجات ميں توازن ركھاجائے اور اخراجات ميں اسراف اور فضول خرچى بد نظمى ہے كہ اس سے انسان مفلس اور نادار ہوجاتا ہي_

قرآن مجيد فضول خرچى اور بے حساب خرچ كرنے كى مذمت كرتا ہے اور فضول خرچ انسان كو شيطان كا بھائي قرار ديتاہے( ان المبذرين كانوا اخوان الشياطين'' ) (۱)

فردى اور نجى زندگى ميں بھى اخراجات ميں تعادل ركھنا چاہئے ،اسى طرح حكومت اور مسلمانوں كے بيت المال ميں بھى ميانہ روى اختيار كرنا چاہئي، معاشرہ ميں وہى حكومت كامياب ہوتى ہے كہ جس كے مال و منصوبے نظم وضبط پر مبنى ہوتے ہيں_ اخراجات ميں اعتدال ، يعنى بجلى ، پانى ، پھل ، لباس اور كھانے پينے كى چيزوں كو

____________________

۱_سورہ بنى اسرائيل _ آيت ۲۷


بے مقصد صرف كرنے سے اجتناب كرنا ، تاكہ انسان اپنے آپ اور معاشرہ كو خود كفيل بنا دے اور دوسرں سے بے نياز ہو جائے _

حضرت امير المومنين على ابن ابى طالب (ع) بيت المال سے خرچ كرنے كے بارے ميں اپنے كاركنوں كو ہدايت كرتے ہوئے فرماتے ہيں :

''قلم كى نوك كو باريك اور سطروں كے فاصلے كو كم كرو اضافى آداب والقاب كو حذف كرو ، اپنے مطالب كو خلاصہ كو طور پر تحرير كيا كرو اور فضول خرچى سے دور رہو كہ مسلمانوں كا بيت المال اس قسم كے اخرجات كا متحمل نہيں ہو سكتا _،،(۱)

۷_محاذ جنگ اور عسكرى امور ميں نظم وضبط كى اہميّت :

خاص طور پر جنگ ، جنگى آپريشن ، ميدان جنگ اور عسكرى امور ميں نظم وضبط كو ملحوظ ركھنا خصوصى اہميّت كا حاصل ہے _

واضح رہے ، جنگ ميں مجاہدين كى كاميابى كا دار ومدار اپنے كمانڈروں كى حكمت عملى اور جنگى تدابير پر پختہ يقين اور راستح عقيدہ كے بعد ان كى اطاعت اور عسكرى امور كے نظم وضبط پر ہے _

خدا وند عالم ،قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

( انَّ الله يحبّ: الذين يقاتلون فى سبيله صفا كانهم بنيان مرصوص ) ،،(۲)

____________________

۱_ بحارالانوار _ ج ۴۱_ ص ۱۰۵

۲_ سورہ وصف _ آيت ۴


''يقينا خداوند عالم ان لوگوں كو دوست ركھتا ہے جو اس كى راہ ميں يوں منظم طريقہ سے صف باندھ كر لڑتے ہيں جيسے سيسہ پلائي ہوئي ديوار ہوتى ہے _،،

جنگ كے دوران ، حملہ كے وقت ، پيچھے ہٹنے كے موقع پر اور آرام كے وقت نظم وضبط كا مظاہرہ فتح اور كاميابى كى علامت ہے _ جب كہ گربڑ ، سر كشى اور بدنظمى بعض اوقات جيتى ہوئي جنگ كو شكست ميںتبديل كر ديتى ہے _

حضرت رسو ل اكرم (ص) حملہ كا حكم دينے سے پہلے تمام فوجيوں كى صفيں درست كرتے تھے ، ہر شخص كا فريضہ مقرر فرماتے تھے اور نافرمانى پر تنبيہ اور سرزنش فرماتے تھے(۱)

جنگ ميں كمانڈر كى اطاعت اور عسكرى قوانين كى پابندى زبردست اہميّت اور حسّاس ذمہ دارى كى حامل ہوتى ہے _كمانڈر كے احكام كا احترام ،اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے رہنا ، خودرائي اور جذباقى طرز فكر سے اجتناب ، كاميابى كا ضامن ہوتا ہے _

تاريخ ميں بہت سے ايسے واقعات بھى ملتے ہيں كہ بدنظمي، بے ضابطگى اور قوانين كى خلاف ورزى كى وجہ سے جيتى ہوئي جنگيں شكست ميں تبديل ہوئي ہيں اور دشمن كے غالب آجانے كا سبب بن گئيں ہيں _ چنانچہ جنگ اُحُد ميںنبى (ص) نے كچھ مسلمان جنگجووًں كو عبداللہ ابن جبُير كى سر كردگى ميں ايك پہا ڑى درّے پر متعين فرمايا،

جنگ كے شروع ہو جانے كے بعد سپاہ اسلام كى سرفروشانہ جنگ سے دشمن كے پاوّں اكھڑ گئے اور لشكر اسلام آخرى كاميابى كى حدود تك پہنچ گيا اور دشمنان اسلام

____________________

۱_تاريخ پيامبر اسلام (ص) _ ص ۲۳۹(مولف ڈاكٹر آيتي)


شكست كھا كر بھاگنے لگے تو درّے پر متعين افراد نے كاميابى كى صورت حال ديكھ كر رسول خدا (ص) كے فرمان كو فراموش كر ديا اوراپنے مورچوں كو چھوڑ كر نيچے اتر آئے اور مال غنيمت جمع كرنے لگے ، اس بدنظمى اور رسول خدا(ص) كے عسكرى فرمان كى خلاف ورزى كى وجہ سے دشمن كے شكست خوردہ لشكر نے مسلمانوں كى غفلت سے فائدہ اٹھايا اور پہاڑ كے حسّاس درّے كو خالى پاكر سپاہ اسلام پر حملہ ور ہو گيا، آخر ميں اس بد نظمى اور كمانڈر كے حكم كى خلاف ورزى كے سبب مسلمانوں كو زبردست شكست كا منہ ديكھنا پڑا اور سنگين جانى نقصان بھى اٹھانا پڑا(۱)

محاذ جنگ ذمّہ دار افسران كے احكام كى پابندے نہايت ضرورى ہے :

محاذ جنگ پر كسى ڈيوٹى پر متعين ہونے ، كسى يونٹ ميں منتقل ہونے ، چھٹى پر جانے ، كسى پروگرام ميں پرجوش شركت ، غرض تمام امور ميں ذمہ دار افسران كے احكام وآرا ء كى پابندى ضرورى ہوتى ہے _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے :

'' مومن وہ لوگ ہيں جو خدا اور اس كے رسول(ص) پر ايمان لائے اور جب كسى اہم اور جامع كام( جنگ)ميں پيغمبر اكرم(ص) كے ہمراہ ہوتے ہيں تو ان كى اجازت كے بغير كہيں نہيں جاتے ،اجازت حاصل كرنے والے ہى صيحح معنوں ميں خدا اور اس كے رسول(ص) پر ايمان ركھتے ہيں ، پس جب بھى وہ اپنے بعض كاموں كے لئے آپ(ع) سے اجازت طلب كريں ، تو آپ(ع) جسے

____________________

۱_مزيد تفصيل كے لئے كتاب فروغ ابديت _ ج ۲_ ص ۴۶۶ كا مطالعہ كياجائے_


چاہيں اجازت عطا فرمائيں ،،(۱) اس سے يہ بات سامنے آتى ہے كہ چھٹى پر جانا بھى پيغمبر(ع) كى اجازت پر موقوف ہے _

ہمارى دعا ہے كہ راہ خدا ميں مسلسل جّدوجہد كرنے والے اور فى سبيل اللہ جہاد كرنے والے مجاہدين اسلام ايك محكم و مضبوط صف ميں اور مستحكم نظم و ضبط كے تحت متحّدو متّفق ہو كر دشمنان حق اور پيروان شيطان پر غالب آجائيں _آمين،،

____________________

۱_سورہ نور _ آيت ۶۲


تيسرا سبق :

سچ اور جھوٹ

۱) .........سچ اور جھوٹ كيا ہيں؟

۲) .........سچائي انبيائ(ص) كے مقاصد ميں سے ايك ہي

۳) .........جھوٹ كى وجوہات

۴) .........جھوٹ كيوں بولاجاتا ہے ؟

۵) جھوٹ كا علاج


۱) .........سچ اور جھوٹ كيا ہيں ؟

'' سچ ،،ايك نہايت بہترين اور قابل تعريف صفت ہے كہ جس سے مو من كو آراستہ ہونا چاہئے _ راست گوئي انسان كے عظيم شخصيت ہونے كى علامت ہے _

جب كہ '' جھوٹ بولنا،، اس كے پست ، ذليل اور حقير ہونے كى نشانى ہے ، جس سے ہر مو من كو پرہيز كرنا چاہئے _

احاديث ميں '' سچ ،، اور ''جھوٹ ،،كو كسى انسان كے پہچاننے كا معيار قرار ديا گيا ہے _ حضرت امام جعفر صادق عليہ السّلام فرماتے ہيں :

'' كسى انسان كے اچھّے يا برے ہونے كى پہچان اس كے ركوع اور سجود كو طول دينے سے نہيں ہوتى ، اور نہ ہى تم اس كے ركوع اور سجود كے طولانى ہونے كو ديكھو ،كيونكہ ممكن ہے ايسا كرنا اس كى عادت بن چكا ہو كہ جسكے چھوڑنے سے اسے وحشت ہوتى ہے ، بلكہ تم اس كے سچ بولنے اور امانتوں


كے ادا كرنے كو ديكھو ،،(۱) سچّے انسان كا ظاہر پر سكون اور باطن مطمئن ہوتا ہي، جب كہ جھوٹا آدمى ہميشہ ظاہرى طور پرپريشان اور باطنى طور پراضطراب و تشويش ميں مبتلا رہتا ہي_ حضرت اميرالمومنين (ع) فرماتے ہيں :

'' كوئي شخص بھى اپنے دل ميں كوئي راز نہيں چھپاتا ، مگر يہ كہ وہ اس كى بے ربط باتوں اور چہرے كے رنگ سے ظاہر ہو جاتا ہے (جيسے چہرے كى زردى خوف كے علامت اور سرخى شرمندگى كى نشانى ہے ) ،،(۲)

ايك شخص بہت سامان ليكر چند ساتھيوں سے ساتھ سفر پر گيا ہوا تھا ، اس كے ساتھيوں نے اسے قتل كر كے اس كے مال پر قبضہ كر ليا ، جب وہ واپس آئے تو كہنے لگے كہ وہ سفر كے دوران فوت ہو گيا ،انہوں نے آپس ميں يہ طے كر ليا تھا كہ اگر كوئي ان سے اس كى موت كا سبب پوچھے تو سب يہى كہيں گے كہ وہ بيمار ہو گيا تھا اور اس بيمارى ميں وہ فوت ہو گيا _

اس شخص كے ورثاء نے حضرت على عليہ السلّام كى خدمت ميں يہ واقعہ ذكر كيا تو حضرت على عليه السلام نے تفتيش كے دوران سے دريافت فرمايا كہ تمہارے ساتھى كى موت كس دن اور كس وقت واقع ہوئي ؟ ،اسے كس نے غسل ديا ؟ ،كس نے پہنايا؟اور كس نے نماز جنازہ پڑھائي ؟ _ ہر ايك سے بطور جدا گانہ سوالات كئے ، اور ہر ايك نے ايك دوسرے كے برعكس جواب ديا _

____________________

۱_ سفينة البحار_ ج ۲_ ص۱۸

۲_ نہج البلاغہ _ حكمت ۲۵


امام _ نے بلند آواز سے تكبير كہى اور تفتيش كو مكمل كر ليا ، اس طرح سے اُن كے جھوٹ كا پردہ فاش ہو گيا اور معلوم ہو گيا كہ ساتھيوں ہى نے اسے قتل كياتھا اور اس كے مال پر قبضہ كر ليا تھا(۱)

۲) ...سچّائي انبياء (ع) كے مقاصد ميں سے ايك ہے :

لوگوں كو سچّائي اور امانت دارى كے راستوں پر ہدايت كرنا، اور جھوٹ اور خيانت سے ان كو باز ركھنا تمام انبياء (ع) الہى كى بعثت كے مقاصد ميں سے ايك مقصد رہا ہے _ جيسا كہ حضرت امام جعفر صاد ق(ع) فرماتے ہيں :

''ان الله لم يبعث نبيا الا بصدق الحد يث وَاَدَائ الاَمَانة ،،(۲) '' خداوند عالم نے كسى نبى كو نہيں بھيجا مگر دو نيك اور پسنديدہ اخلاق كے ساتھ ، ايك تو سچ بولنا اور دوسرے امانتوں كى ادائيگى ہے _،،

حضرت على عليہ السلّام فرماتے ہيں :

''لايجدُ عبد حقيقة الايمان حتّى يدع الكذبَ جدَّه وهزله'' (۳) ''كوئي بندہ ايمان كى حقيقت كو اس وقت تك نہيں پاسكتا ، جب تك كہ وہ جھوٹ بولنا نہ چھوڑ دے ، چاہے وہ واقعاً جھوٹ ہو يا مذاق سے جھوٹ ہو_،،

____________________

۱_قضاوتہاى حضرت على عليه السلام

۲ _ سفينة البحار_ ج ۶_ ص ۲۱۸

۳_سفينة البحار _ ج ۲_ ص ۴۷۳


۳) جھوٹ كے اثرات :

الف: جھوٹ ، انسان كى شرافت اور اس كى شخصيت كے منافى ہے ،

يہ انسان كو ذليل كر ديتا ہے ، جناب اميرالمؤمنين عليہ السلّام فرماتے ہيں :

''الكذبُ وَالخيانة ليسا من اخلاق الكرام _،،(۱)

ترجمعہ :'' جھوٹ اور خيانت شريف لوگوں كا شيوہ نہيں ہے _،،

::: ب: جھوٹ ، ايمان كو برباد كر ديتا ہے _

حضرت امام محمد باقر عليہ السلّام فرماتے ہے :

''انَّ الكذب هوخراب الايمان ،،(۲) ''جھوٹ ايمان كى تباہى كا موجب بنتا ہے _ ،،

ج: جھوٹ دوسرے گناہوں كا سبب بنتا ہے

_ جبكہ سچّائي بہت سے گناہوں ميں ركاوٹ بنتى ہے _ جھوٹ بولنے والا كسى گناہ كے ارتكاب سے نہيں ہچكتا ، اور ہر قسم كى قيد و بند كو توڑ ڈالتا ہے اور جھوٹ سے ان تمام گناہوں كا انكار كر ديتا ہے _

حضرت امام محمد باقر عليه السلام فرماتے ہيں :

'' خداوند عالم نے تمام برائيوں كو ايك جگہ قرار ديا ہے اور اس كى چابى شراب ہے _ ليكن جھوٹ شراب سے بھى بدتر ہے _،،(۳)

____________________

۱_ شرح غررالحكم_ ج ۷_ص ۳۴۳

۲_ اصول كافى _ (مترجم)_ ج ۲_ ص ۳۳۹

۳_ سفينة البحار _ ج ۲_ ص ۴۷۳


د: جھوٹ ، كفر سے قريب ہے _

ايك شخص نے رسول خدا(ص) كى خدمت ميں حاضر ہو كر سوال كيا كہ جہنّمى كون سے جرم كى وجہ سے زيادہ جہنّم ميں جائيں گے ؟ ، حضور(ص) نے ارشاد فرمايا :

'' جھوٹ كى وجہ سے ، كيونكہ جھوٹ انسان كو فسق و فجور اور ہتك حرمت كى طرف لے جاتا ہے ، فسق و فجور كفر كى طرف اور كفر جہنّم كى طرف لے جاتا ہے _ ،،(۱)

ھ: ......جھوٹ بولنے والے پر كوئي اعتماد نہيں كرتا ،

جھوٹ بولنے سے انسان كى شخصيّت كا اعتبار ختم ہو جاتا ہے ، اور دروغگوئي كى صفت اس كے بے آبرو ہو جانے كا سبب بن جاتى ہے _ جھوٹے چروا ہے كى داستان آپ نے كتابوں ميں پڑھى ہو گى كہ جس نے دروغ گوئي سے شير آيا ، شير آيا،،چلا چلاكر اپنا اعتماد كھو ديا تھا ، چنانچہ ايك دن وہ ايك واقعى شير كا شكار ہو گيا _

حضرت امير المومنين عليہ السلّام فرماتے ہيں :

''جو شخص جھوٹا مشہور ہو جائے لوگوں كا اعتماد اس سے اٹھ جاتا ہے _،،(۲)

'' جو جس قدر زيادہ جھوٹا ہو گا ، اسى قدر زيادہ ناقابل اعتماد ہو گا _،،(۳)

ي: '' دروغ گورا حاقطہ نباشد ،، والى ضرب المثل صحيح ہے ،كيونكہ وہ ہميشہ حقيقت كے خلاف بات كرتا ہي، متعدد نشستوں ميں مختلف قسم كے جھوٹ بولتا ہي، جو ايك دوسرے كے برعكس ہوتے ہيں _

____________________

۱_ مستدرك الوسائل ج۲ ص ۱۰۱

۲_ شرح غررالحكم_ ج ۷_ ص ۲۴۵

۳_ اصول كافى (مترجم ) _ ج ۴ _ ص ۳۸


حضرت امام جعفر صادق عليہ السلّام فرماتے ہيں :

'' نسيان اور بھول چوك ايك ايسى چيز ہے كہ جو خدا جھوٹوں كے دامن ميں ڈال ديتا ہے _،،(۱)

۴) ......جھوٹ كى وجوہات :

ہر ايك گناہ اور برا كام ان اسباب وعلل كى وجہ سے سر زد ہوتا ہے جو كہ انسان كے اندر ہى اندر پروان چڑھتے رہتے ہيں ، لہذا گناہوں كا مقابلہ كر كے ان اسباب و علل كا خاتمہ كر دينا چاہئے _ جھوٹ ايك ايسى برى عادت ہے كہ جس كے كئي اسباب بتائے گئے ہيں ، جنہيں ہم ذيل ميں اختصار كے ساتھ ذكر كر رہے ہيں :

الف: احساس كمتري:

بعض لوگ چونكہ اپنے آپ ميں اپنى اہميت يا كوئي خاص ہنر نہيں پاتي، لہذا كچھ جھوٹى اور بے سروپا باتوں كو جوڑ كر لوگوں كے سامنے اپنى اس كمى كى تلافى كرتے ہيں اور اپنے آپ كومعاشرہ كى ايك اعلى شخصيت ظاہر كرنے كى كوشش كرتے ہيں، يہى وجہ ہے كہ رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :

''جھوٹا شخص ' احساس كمترى كى وجہ سے ہى جھوٹ بولتا ہي''_

ب: سزا اور جرمانہ سے بچنے كيلئے :

كچھ لوگ سزا كے خوف سے جھوٹ كا سہارا ليتے ہيں اور اس طرح وہ يا تو سرے ہى سے جرم كا انكار كرديتے ہيں يا پھر اپنے جرم كى توجيہہ ميں غلط بيانى كرتے ہيں اور اپنے جرم كا اقرار كرنے پر قطعاً آمادہ نہيں ہوتے اور جرم كى سزا بھگتنے يا جرمانہ ادا


كرنے كے لئے تيار نہيں ہوتي_

ج: منافقت اور دوغلى پاليسي_

منافق اور دوغلے لوگ خوشامد اور چاپلوسى كے پردے ميں جھوٹ بول بول كر ايسى حركتوں كے مرتكب ہوجاتے ہيں جن كے ذريعے وہ معاشرے كے افراد كى توجہ اپنى طرف مبذول كركے اپنے ناپاك عزائم كو پورا كرليتے ہيں_

خداوند عالم نے سورہ بقرہ كے اوائل ميں اس طريقہ كار كو منافقين كى صفت قرار ديا ہے اور فرمايا ہي:

( واذ القو الذين امنوا قالوا امنا واذا خلوا إلى شياطينهم قالو انا معكم انما نحن مستهزئون'' ) (۱)

''جب منافقين' مومنين سے ملتے ہيں تو كہتے ہيں كہ ہم ايمان لائے ہيں' اور جب اپنے شيطان صفت لوگوں سے تنہائي ميں ملاقات كرتے ہيں تو كہتے ہيں كہ ہم تو تمہارے ساتھ ہيں' ہم تو (مومنين كے ساتھ ) ٹھٹھا مذاق كرتے ہيں''_

د: ايمان كا فقدان:

قران مجيد اور روايات سے پتہ چلتا ہے كہ دروغگوئي كى ايك بنيادى وجہ ايمان كا كلى طور پر فقدان يا ايمان كى كمزورى ہي_ قرآن مجيد ميں ارشاد ہي:

( انما يفترى الكذب الذين لا يومنون بايات الله و اولئك هم الكاذبون'' ) (۱)

____________________

۱_ سورہ بقرہ_ آيت ۱۴

۲_ سورہ نحل _آيت ۱۰۵


''جھوٹ تو صرف وہى لوگ گھڑتے ہيں جو خدا كى آيات پر ايمان نہيں ركھتي' اور يہى لوگ ہى جھوٹے ہيں''_

حضرت على عليه السلام فرماتے ہيں :

'' كثرة الكذب تفسدالدين'' (۱)

۵_جھوٹ كا علاج:

اجمالى طور پر جھوٹ كے اسباب كو اوپر بيان كرديا گيا ہے _ اختصار كے ساتھ اس كا علاج بھى قلم بند كرر ہے ہيں:

الف : احساس كمترى كو دور كيا جائي_

ب: شجاعت وجوانمردى كى صفت كو تقويت دى جائے تاكہ بے خوف وخطر اور بغير جھوٹ كا سہارا لئے حقائق اور واقعات كو كسى كم وبيشى كے بغير بيان كرسكي' اور اگر كبھى اس كے نتيجے ميں جرمانہ يا سزا ہوئي تو اسے خندہ پيشانى سے قبو ل كرلياجائے _

ج: دوغلى پاليسى اور منافافقت كا علاج كياجائے جو كہ جھوٹ كى اصلى وجہ ہي_

د: اپنے اندر ايمان اور تقوى كے درجات كو بلند سے بلندتر كياجائے ' كيونكہ ايمان اور تقوى كا درجہ جس قدر بلند تر ہوگا' جھوٹ اور برى عادتوں سے اسى قدر جان چھوٹ جائے گي_

____________________

۱_ شرح غررالحكم _ ج ۷ _ ص ۳۴۴


ھ: ......قرآن مجيد كى ان آيات اور احاديث معصومين (ع) كا زيادہ سے زيادہ مطالعہ كياجائے اور ان ميں خوب غور وخوض كياجائے كہ جو جھوٹ كى مذمّت ميں وارد ہوئي ہيں اور اسے ہلاكت اور بدبختى كا موجب قرار ديتى ہيں_

و: اس بات كو مدّنظر ركھاجائے كہ جھوٹے انسان كى قدرو قيمت معاشرے ميں گرجاتى ہي، كوئي شخص اس كى باتوں پر عتماد نہيں كرتا اور نہ ہى اس كا احترام كرتاہي_

ي: ايسى آيات اور روايات ميں خوب غورفكر كياجائے جو صدق و سچّائي كى مدح كرتى ہيں، حضرت امام جعفر صادق عليه السلام نے اپنے ايك صحابى سے فرمايا :

''غور كروكہ حضرت على _ كو كن وجوہات كى بنا پر پيغمبر اكرم (ص) كے ہاںاس قدر قرب اور مقام ومنزلت حاصل ہوئي ' تم بھى وہى كام كرو 'يقينا على _ سچّائي اور ايماندارى كى بناء پر آنحضرت (ص) سے اس قدر قريب ہوئے تھي''(۱)

____________________

۱_ جامع السعادات_ ج ۲_ ص ۳۳۴


چوتھا سبق:

ناروا گفتگو اور بدكلامي

۱)__________ تمہيد

۲)_________امام صادق عليه السلام كا بدزبان شخص سے قطع رابطہ

۳)_________بدكلامى كا انجام

۴)_________ معصوم پيشوائوں كے كردار

۵)_________ بدكلامى كا علاج


۱) ... تمہيد:

زبان' انسانى جسم كا ايك چھوٹا سا جز و ہي_ اگر اس چھوٹے سے جزو كى تربيت نہ كى جائے تو يہ بڑے بڑے گناہوں كا موجب بنے گا_ علماء علم اخلاق نے زبان كے حوالے سے تقريباً بيس گناہ تحرير كئے ہيں_

حضرت اميرالمومنين عليه السلام فرماتے ہيں :

''صلاَح الإنسان فى حَبس اللّسان'' (۱)

''انسان كى بہترى اس كى زبان كى حفاظت ميں ہے ''_

زبان انسان كى شخصيت اور اس كے كمال كا آئينہ دار ہي، زيرك اور ذى شعور انسان لوگوں كو چند باتوں كے ذريعہ پہچان ليتے ہيں_ بقول شيخ سعدي:

____________________

۱_ ...ميزان الحكمة ، ج ۸، ص ۴۹۹


تا مرد سخن نگفتہ باشد،

عيب وہنرش نہفتہ باشد،

جب تك انسان بات نہ كري' اس كے عيب اور ہنر چھپے رہتے ہيں ''_

اچھى بات اور مفيد گفتگو، متكلم كى پاك طينت اور باطنى پاكيزگى كى علامت ہوتى ہي_ ناشائستہ اور بيہودہ گفتگو متكلم كے آلودہ باطن كى نشانى ہي_ حضرت اميرالمومنين عليه السلام فرماتے ہيں :

''سنَّة اللَّئام قُبح الكلام'' _

''كمينہ اور پست فطرت لوگوں كا شيوہ بد كلامى ہوتا ہي''_

۲) امام صادق عليه السلام كا بدزبان شخص سے قطع رابطہ :

ايك شخص اكثر اوقات حضرت امام جعفر صادق _ كى خدمت ميں رہتا تھا يہاں تك كہ وہ حضرت (ع) كے ساتھ ہميشہ رہنے كى بنا پر خاصى شہرت حاصل كرچكا تھا، چنانچہ ايك دن وہ آپ (ع) كے ساتھ جوتا فروشوں كى بازار سے گزر رہا تھا اور اس كا غلام بھى اس كے پيچھے پيچھے چل رہا تھا ، اس شخص نے پيچھے مڑ كر غلام كو ديكھا تو وہ اسے نظر نہ آيا ' چند قدم چل كر اس نے پھر اسے ديكھا پھر بھى نظر نہ آيا' تيسرى مرتبہ اسے غلام كى اس حركت پر غصہ آگيا كہ وہ اس قدر پيچھے كيوں رہ گيا ہي' غلام كو پيچھے رہنے كى جرا ت كيسے ہوئي، جب چوتھى مرتبہ اس نے مڑكرديكھا تو وہ نظر آگيا _ وہ شخص اپنے جذبات پر قابو نہ ركھ سكا اور غلام كو ماں كى گالى دے كر كہا كہ : تو كہاں تھا؟

حضرت امام جعفر صادق عليه السلام نے اس كى بد زبانى كو ديكھ كر اپنا ہاتھ زور سے


پيشانى پر مارا اورفرمايا:

''سبحان اللہ تم اپنے غلام كو گالى دے رہے ہو؟ اور اس كى ماں كو برائي سے ياد كر رہے ہو؟ ميں تو سمجھتا تھا كہ تم متّقى انسان ہو' اب معلوم ہو اكہ تمہارے اندر تقوى نہيں ہي''_

وہ شخص اپنى اس بد زبانى كى توجيہہ كرتے ہوئے عرض كرنے لگا : '' فرزند رسول (ص) ' اس غلام كى ماں سندھى ہے اور آپ (ع) جانتے ہيں كہ وہ مسلمان نہيں ہيں'' _ حضرت (ع) نے فرمايا كہ : اس كى ماں كافرتھي' سوتھى ہر قوم اور ملت كے اپنے قوانين اور اپنے مذہب كے طور طريقے ہوتے ہيں' جن كے تحت وہ ازدواجى امور انجام ديتے ہيں ، اس لحاظ سے ان كا يہ عمل زنا نہيں ہوتا اور ان كى اولاد ''ولدالزّنا'' نہيں كہلاتي'' ، اس كے بعد فرمايا :

''اب تم مجھ سے دور ہوجائو''_

پھر اس شخص كو كسى نے آپ (ع) كے ساتھ كبھى نہ ديكھا(۱)

۳) ... بدكلامى كا انجام:

اب ہم مختصر طور پر بد زبانى كے بُرے انجام كے بارے ميں كچھ باتيں عرض كرتے ہيں:

الف: ... بدزبانى انسان كو خدا كے نزديك بے قدروقيمت بناديتى ہے اور اس كے اور خدا كے درميان جدائي ڈال ديتى ہي_

____________________

۱_ اصول كافى (مترجم) _ ج ۴، ص ۱۵_


حضرت امام محمد باقر عليه السلام فرماتے ہيں :

''انَّ الله يَبغَضُ الفَاحش المتَفحش'' (۱)

''خداوند عالم گالى گلوچ بكنے والے كو دشمن ركھتا ہے ''_

ب: ... بدزبان شخص كى دعا قبول نہيں ہوتي_

امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں كہ بنى اسرائيل ميں ايك شخص جو تين سال تك اللہ كى بارگاہ ميں گڑ گڑا كر دعا مانگا كرتا تھا كہ خدا اسے اولاد نرينہ سے نوازي' ليكن جب اس كى دعا قبول نہ ہوئي تو وہ بہت ہى افسردہ خاطر ہوا_ آخر كار اس نے خواب ديكھا كہ كوئي شخص اسے كہہ رہا ہے كہ تم تين سال سے خدا كو بُرى اور آلودہ زبان سے پكار رہے ہو ' اور پھر اس بات كى توقع ركھتے ہو كہ خدا تمہارى آرزوؤں كو پورا كرے ؟ جائو پہلے زبان كو ان آلودگيوں سے پاك كرو پھر دعا مانگو تاكہ خدا كے نزديك ہوجاؤ اور وہ تمہارى دعائوں كو قبول كري_

امام عليه السلام نے فرمايا :

''اس شخص نے انسان كى راہنمائي پر عمل كيا اور دعا مانگى ' لہذا خدا نے اسے فرزند عطا كيا''(۲)

ج: ... بدزبان شخص پر جنت حرام ہي_ رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :

''خداوند عالم نے جنت كو ہر اُس بدزبان اور بيہودہ بكنے والے شخص پر حرام كرديا ہے جسے اس بات كى پرواہ نہيں ہوتى كہ وہ كيا بك رہا ہے اور

____________________

۱_ ميزان الحكمة ' ج ۸، ص ۱۵

۲_ اصول كافى (مترجم) _ ج ۴، ص ۱۶


لوگ اس كے بارے ميں كيا كہتے ہيں''(۱)

د: ... بدزباني' نفاق كى علامت ہي_

حضرت امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں :

''گالى گلوچ ' بدزبانى اور بيہودہ گوئي نفاق كى ايك علامت ہي''(۲)

ھ: ... بدزبان شخص كا شمار' بدترين لوگوں ميں ہوتا ہي_

رسول اكرم (ص) فرماتے ہيں :

''خدا كى بدترين مخلوق ميںسے ايك ' بد زبان شخص بھى ہي' جس كى بدزبانى كى وجہ سے لوگ اس كے ساتھ ميل جول كو پسند نہيں كرتي''(۳)

و: ... بدزبانى كى وجہ سے انسان كى زندگى سے بركت اٹھ جاتى ہے اور وہ تباہ وبرباد ہوجاتاہي_

امام معصوم عليه السلام فرماتے ہيں :

''مَن فَحشَ على ا خيه المسلم نَزَعَ الله منه بَركةَ رزقه و وَكَلَهُ الى نفسه وَ اَفسَدَ عليه مَعيشته' (۴)

''جو شخض اپنے مسلمان بھائي كو گالى ديتا ہي' خداوند متعال اس كے رزق وروزى سے بركت اٹھاليتاہي' اور اسے اس كے نفس كے سپرد كرديتا ہے اور اس كى زندگى كو تباہ كرديتا ہي''_

____________________

۱_ ميزان الحكمة (مترجم) ، ج ۴، ص ۱۶

۲_ اصول كافى (مترجم)_ ج ۴، ص ۱۷

۳_ اصول كافى _ ج ۴، ص ۱۷

۴_ وسائل الشيعہ ، ج ۱۱_ص ۳۲۸


۴) ... معصوم پيشوائوں (ع) كے كردار:

مسلمانوں كو چاہئے كہ وہ پيغمبر خدا (ص) اور ائمہ اطہار عليہم السلام كے عظيم كردار اور رفتار كو اپنا اخلاقى نمونہ قرار دے _ محمد (ص) وآل محمد (ص) نے اپنى تمام عمر ميںنہ صرف كبھى كسى كو ناسزا نہيں كہا ' بلكہ اپنے بزرگوارانہ طرز عمل زندگى سے نازيبا اور نا مناسب گفتگو كرنے والوں كو شرمندہ كيا اور انہيں نيك راہ كى طرف ہدايت كي_ معصومين (ع) كے كردار كى ايك جھلك دكھانے كے لئے نمونے كے طور پر دو واقعات كو سپرد قلم كرتے ہيں_

الف: ... حضرت اميرالمومنين على عليه السلام فرماتے ہيں :

''كسى يہودى كا رسول خدا (ص) پر قرض تھا ، اس كى مقررَّ مدت جب ختم ہوگئي تو اس نے آنحضرت (ص) كے گھر كا رخ كيا ، مدينہ كى ايك گلى ميں اس كى آنحضرت (ص) سے ملاقات ہوگئي تو اس نے قرض كا مطالبہ كيا _ حضور (ص) نے فرمايا :

'' فى الحال ميرے پاس رقم نہيں ہے جس سے تمہارا قرض ادا كياجاسكي''_

يہودى نے كہا:

'' جب تك آپ (ص) ميرا قرضہ واپس نہيں كريں گے ميں آپ (ص) كو نہيں چھوڑوں گا''_

حضور اكرم (ص) كسى قسم كى ناراضگى يا غصّے كا اظہار كئے بغير اس كے ساتھ وہيں بيٹھ گئي_ نماز ظہر' عصر ' مغرب اور عشاء كو وہيں ادا كيا ' حتى كہ دوسرے دن كى


صبح كى نماز بھى وہيں پر ادا كي_ اصحاب نے خواہش كى كہ اسے ڈانٹ ڈپٹ كر بھگا دياجائے ' ليكن رسالت مآب (ص) نے فرمايا :

''خدا نے مجھے اس لئے نہيں بھيجا كہ ميں كسى پر ظلم وستم كروں خواہ كوئي يہودى ہو يا غير يہودي''_

غرض ظہر كى نماز كا وقت قريب آگيا' ليكن كسى كو كچھ معلوم نہيں تھا كہ انجام كار كيا ہوگا 'اچانك يہودى اپنى جگہ سے اٹھا او رمؤدبانہ اندا زميں حضور (ص) كے سامنے كھڑا ہوكر كہنے لگا :

''اشهدان لا اله الاّ الله واشهدان محمد رسول الله '' _

پھر اس نے عرض كيا : ''يارسول اللہ (ص) يہ جو مشكلات ميں نے آپ (ص) كے سامنے كھڑى كى تھيں' يہ اس لئے نہيںتھيں كہ ميں آپ (ص) سے اس ناچيز رقم كو واپس لے لوں' يا آپ (ص) كو كوئي دكھ اور تكليف پہنچائوں' بلكہ ميں آپ (ص) كو آزمانا چاہتا تھا كہ آپ (ص) واقعى خدا كے رسول ہيں يا نہيں ؟ ' كيونكہ ميں نے تورات ميں پڑھا ہے كہ پيغمبر خاتم الانبياء (ص) نہ تو سخت مزاج ہوگا نہ ہى تند خو ،بدزبان اور بيہودہ كلام كرنے والا ہوگا_ بلكہ كبھى بھى كسى كو گالى نہيں دے گا''(۱) ب: ... حضرت امام حسن_ ايك دن گھوڑے پر سوار ہوكر ايك گلى سے گذر رہے تھے كہ ايك شامى سے آپ (ع) كى ملاقات ہوئي' وہ شخص معاويہ كے غلط پروپيگنڈہ كى بناء پر دشمن اہل بيت (ع) بن چكا تھا، اس نے آپ (ص) كو ديكھتے ہى بُرا بھلا كہنا شروع كرديا، آپ (ص) خاموشى كے ساتھ اس كى باتيں

____________________

۱_ بحارالانوار _ ج ۱۶_ ص ۲۱۶


سنتے رہے ' جب وہ ختم كرچكا تو امام حسن عليه السلام نے خندہ پيشانى كے ساتھ مسكرا كر فرمايا :_

''معلوم ہوتا ہے كہ تم مسافر ہو اور ہمارے دشمنوں كے دھوكے ميں آكر ايسا كہہ رہے ہو_ اگر تمہيں اپنے گھر سے نكال ديا گيا ہے تو ہم تمہيں گھر ديتے ہيں ' اگر بھوكے ہو تو ہم تمہيں كھانا كھلاتے ہيں اور اگر لباس كى ضرورت ہے تو لباس ديتے ہيں_ آئو ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلو تاكہ وہاں پر تمہارى خاطر خواہ تواضع كى جائي''_

شامى آپ (ع) كى باتيں سن كر رونے لگا اور كہنے لگا :

''ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ (ع) ہى رسول خدا (ص) كے حقيقى جانشين اور خدا كى زمين ميں خدا كے خليفہ ہيں، اب تك آپ (ع) اور آپ(ع) كے والد ماجد على ابن ابى طالب _ ميرے نزديك دنيا كے بدترين انسان تھي' ليكن اب خدا كى مخلوق ميں سب سے محبوب ترين انسان ہيں ''_

پھر وہ اپنى جگہ سے اٹھا اور حضرت امام حسن عليه السلام كے ہمراہ آپ (ع) كے دولت كدہ پر حاضر ہوااور ايك عرصے تك آپ (ع) كا مہمان رہا ' اور اہل بيت اطہار عليہم السلام كا سچّا اور حقيقى محب بن گيا(۱)

حُسن كلام اور خوش گفتارى انبياء اور اولياء الہى كا شيوہ ہے ا ور دين خدا كى تبليغ اور لوگوں كو خدا كى طرف دعوت دينے كا ايك اہم سبب بھى ہي، اللہ تعالى نے اپنے دو انبياء ' موسى _ اور ہارون _ كو فرعون كى طرف بھيجا تو انہيں تاكيد كردى كہ اس كے

____________________

۱_ بحارالانوار _ ج ۴۳_ ص ۳۴۴


ساتھ نرمى سے بات كرنا' ہوسكتا ہے كہ وہ ہوش ميں آجائے اور خدا كى عبادت كرنے لگي_ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہي:

''اذهَبَا إلى فرعون إنّه طَغى فقولاَ لَه قولاً لينّاً لَّعلَّهُ يَتَذكَّرُ اَويَخشى ''(۱)

''تم دونوں (موسى (ع) اور ہارون(ع) ) فرعون كے پاس جائو ' وہ بہت سركش ہوگيا ہي، پھر اس سے نرمى كے ساتھ بات كرنا شايد (برغبت) نصيحت قبول كرلے يا (عذاب الہى سي) ڈرجائے _

۵) ... بدزبانى كا علاج:

اس سلسلے ميں چند نكات بيان كرنا ضرورى ہي:

الف: ... انبياء اور ائمہ عليہم السلام انسانى روح كے طبيب ہوتے ہيں ، چونكہ اخلاقى رذائل اور برى صفات انسانى روح اور جان كے لئے مرض ہيں لہذا ہميں چاہئے كہ ہم ان كے فرامين كو گوش دل سے سنيں اور اپنے روحانى درد اور امراض كاعلاج كريں_

حضرت اميرالمومنين عليه السلام بد زبان سے بچنے كے لئے تنبيہ كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

'' ايّاك وما يستهجن منَ الكلام فإنَّه يَحبس عليك اللئام و ينفرعنك الكرام'' _(۲)

____________________

۱_ سورہ طہ _ آےت ۴۳ اور ۴۴

۲_ ميزان الحكمة _ ج ۸_ ص ۴۳۶ و شرح غرر الحكم ج۲ ص ۳۱۴


''بدزبانى اور بے حيائي كى باتوں سے اجتناب كرو' كيونكہ بدزبانى كى وجہ سے پست اور ذليل لوگ تمہارے گرد جمع ہوجائيں گے 'شريف اور معزّز لوگ تم سے دور بھاگيں گي''_

يہ اس امام كا كلام ہے جس نے كبھى بھى كوئي نازيبا بات منہ سے نہيں نكالي، اس فرمان پر اگر غور كياجائے تو بدزبانى كا انجام انسان كے ذہن ميں مجسم ہوكر آجاتا ہے ' يعنى اگر انسان بدزبان بن جائے اور زبان پر كنڑول نہ كرے تو اس كايہى نتيجہ نكلے گا كہ اچھے اور صالح لوگوں كارابطہ اس سے منقطع ہوجائے گا او رلاابالى اور خدا سے بے خبر لوگوںكا اس سے تعلق استوار ہوجائے گا اور وہ اس كے ساتھى بن جائيں گي، اور يہ بات تو اظہر من الشمس ہے كہ بدكار لوگوں كى ہم نشينى كا انجام اچھا نہيں ہوتا اور انسان اس قسم كے لوگوں كى دوستى وہم نشينى سے اس وقت پشيمان ہوتا ہے جب ندامت كوئي فائدہ نہيں ديتى _

قرآن مجيد ايسے لوگوں كے بارے ميں خبردار كر رہا ہے كہ جو بُرے لوگوں كے ساتھ اپنى نشست وبرخاست ركھتے ہيں ' كيونكہ ان كى دوستى نے انہيں اس طرح تباہ وبرباد كرديا ہے كہ آخر كار پشيمان ہو كر اپنى تباہى و بربادى كا ماتم كرتے ہيں _ ملاحظہ فرمايئي:

''ويوم يَعضُّ الظالم على يديه يقول ُ ياليتنى اتَّخذتُ مع الرسول سبيلاً' ى ويلتى ليتنى لم اتخذُ فلاناً خليلاً ''(۱) '' او رجس دن ظالم اپنے ہاتھوں كو كاٹے گا اور كہے گا اے كاش ميں نے

____________________

۱_ سورہ فرقان _ آےت ۲۷اور ۲۸


پيغمبر (ص) (كے دين) كا راستہ اختيا ركرلياہوتا ' اے كاش كيا اچھا ہوتا كہ ميں فلاں كو اپنا دوست نہ بناتا''_

لہذا اگر ہم اس قسم كے انجام سے بچنا چاہتے ہيں تو ہميں چاہئے كہ نازيبا اور ناروا باتوں اور بد زبانى سے اپنے آپ كو بچائيں تاكہ اچھے لوگ ہمارے ساتھ دوستى كريں_

ب: ... قرآن مجيد نيك وشائستہ گفتگو كے بارے ميں فرماتا ہي:

''إلَيه يَصعَدُ الكم الطّيب'' (۱)

''پاك وپاكيزہ كلام ہى اسى (اللہ تعالى ) كى طرف جاتا ہي''_

بنابريں اگرانسان نيك اور پاك كلام زبان پر جارى كرے تو خداوند عالم ايسى باتوں كو سنتا ہي' ورنہ ناپسنديدہ اور بيہودہ باتوں كو كوئي سننے كا روا دار نہيں ہي_

اللہ تعالى ناشائستہ باتيں كرنے والوں كو دوست نہيں ركھتا اور كتنى برى بات ہے كہ مومن جس زبان سے اللہ تعالى كا ذكر كرتا ہے ' نماز پڑھتا ہے اور قرآن پاك كى تلاوت كرتا ہي' اسى زبان سے فحش' ناشائستہ' نازيبا اور ناروا الفاظ ادا كري_

ج: ... سكوت او رخاموشى بھى زبان پر كنڑول كرنے كا ايك ذريعہ ہي_ جہاں پر حق بات كے بيان كرنے كا موقع نہيں ہوتا وہاں زبان كو بند ركھنا كس قدر اچھا لگتا ہے كيونكہ زيادہ باتيں كرنا اور زبان كو بے لگام چھوڑدينا 'ناشائستہ گفتگو كرنے كا سبب بن جاتا ہي_

حضرت على عليه السلام فرماتے ہيں :

''ايَّاك وكثرةَ الكلام فإنَّه يكثرُ الزلل ويورثُ الملل'' (۲)

____________________

۱_ سورہ فاطر _ آيت ۱۰

۲_ ميزان الحكمة _ ج ۸_ ص ۴۳۹


''زيادہ باتيں كرنے سے پرہيز كرو كيونكہ اس سے لغزشيں زيادہ ہوتى ہيں اور سننے والے كے لئے نفرت كا موجب بن جاتى ہيں''_

ايك اور موقع پر فرماتے ہيں:

''الكلام كالدّوائ قليله ينفع وكثيره قاتل ''(۱)

''گفتگو دواء كى مانند ہے جس كا كم شفا بخش اور كثرت موت ہي''_

____________________

۱_ ميزان الحكمة_ ج ۸ _ ص ۴۴۴


ساتواں سبق :

غيبت اور تہمت

۱) .........غيبت اور تہمت كے معني

۲) .........قرآن وحديث ميں غيبت كى مذمت

۳) .........مومن كو غيبت سے بچنا چاہيئي

۴) .........غيبت كے آلات ( غيبت كا سر چشمہ )

۵) .........غيبت كے اسباب

۶) .........غيبت كا كفّارہ

۷) .........قرآن و حديث ميں تہمت كى مذّمت


(۱)_غيبت اور تہمت كے معني:

-----غيبت،، اور'' تہمت ،،گناہ كبيرہ اور اخلاقى لحاظ سے برى عادتيںہيں ، اورمومن كو ان كے ارتكاب سے بچنا چاہيے _''غيبت ،،سے مراد يہ ہے كہ دوسروں كے با رے ميں ايسى بات كر نا كے اگر وہ سُن ليں تو انہيں تكليف پہنچي، اور ''تہمت،، كا مطلب يہ ہے كہ دوسروںكى طرف كسى ايسے گناہ يا عيب كى نسبت ديناجو ان ميں نہ پائے جاتے ہوں_

حديث ميں ہے كہ رسول خدا صلى اللہ عليہ والہ وسلم نے كسى شخص سے پوچھا كيا جانتے ہو كہ''غيبت ''كيا ہوتى ہي؟اس نے جواب ديا:خدا اور اس كے رسول بہتر جانتے ہيں،تو حضور (ص) نے فرمايا :

''ذكرك اخاك بما يكره،،

''تم اپنے بھائي كا ذكر ايسى چيز كے ساتھ كرے جو اسے پسند نہ ہو''_


اس نے پو چھا :

''جو بات ميرے مومن بھائي ميںپائي جاتى ہي،اگر ميں اس كا ذكر كروں تو كيا وہ بھى اپ(ص) كى نظر ميں غيبت ہے ؟''فرمايا:

''وان كان فيه ما تقول فقد اغبته وان لم يكن فيه فقد بهته ،،(۱)

''جو اس ميں ہيں اس كا ذكر غيبت 'اور جو اس ميں نہيں ہے اسے بيان كرنا تہمت ہي_''

(۲)_قران اور حديث ميں غيبت كى مذمّت :

قران مجيد نے غيبت كى سخت مذمّت كى ہي'اور اسے مردہ بھائي كے گوشت كھانے كے برابر قرار ديا ہي،اور اس سے سختى سے منع فرمايا ہے _ارشاد ہي:

''ولا يغتب بعضكم بعضا ايحب احدكم ان يا كل لحم اخيه ميتا فكر هتموه'' (۲)

''تم ميں سے كوئي، كسى كى غيبت نہ كرے ،كيا تم ميں سے كوئي اس بات كو پسند كرتا ہے كہ وہ اپنے مردہ بھائي كا گوشت كھائي؟تم لوگ تو اس سے نفرت كرتے ہو''_

رسول خدا صّلى اللہ عليہ والہ وسلم سے منقول ہے كہ:

''الغيبة اسرع فى دين الرجل المسلم من الاكلته فى جو فه'' (۳)

____________________

۱_ جامع السعادات_ ج ۲_ ص ۳۰۳_ مطبوعہ: بيروت_

۲_ سورہ حجرات _ آيت ۱۲

۳_ اصول كافى _ ج ۲_ ص ۳۵۷


''مسلمان كى دين (كى تباہي)كے لئے غيبت ،اس كے با طن ميں پيداہونے والى بيمارى سے زيادہ مہلك ہوتى ہي''_

امير المو منين عليہ السّلام فرما تے ہيں -:

''لا تعود نفسك الغيبة فا ن معتادها عظيم الجرم'' (۱)

''خود كو غيبت كا عادى نہ بنائو،كيونكہ غيبت كے عادى شخص كا جرم بہت سنگين ہي''_

خدا وند متعال كى عبادت و اطاعت جہاں بذات خود اچّھى اور نيك چيز ہے اور اپنے دامن ميں اخرت كا ثواب ليے ہوئي ہي، وہاں دوسرے نيك كا موں كى انجام دہى كے لئے بھى راہ ہموار كرتى ہے ،اسى طرح معصيت جہاں بذات خود ايك جرم اور گنا ہ ہے اور اپنے ساتھ اخرت كا عذاب بھى ركھتى ہے ،وہاں بہت سے دوسرے نيك كاموں كى تباہى كا موجب بھى بن جا تى ہي_ چنا نچہ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلاّم فرماتے ہيں:

'الغيبته تاكل الحسنات كما تاكل النار الحطب _''(۲) ''غيبت نيك كاموں كو ايسے ہى كھا جاتى ہے جيسے اگ لكڑى كو''_

(۳)مومن كى غيبت سے بچنا چاہيي:

مومنين كے درميان برادرى كا رشتہ اس بات كا تقاضا كرتا ہے كہ ايك مومن اپنے بھائي كى نہ صرف جان و مال اور عزّت وابرو كو نقصان نہ پہنچائي'بلكہ دوسرے لوگوں كى

____________________

۱_ شرح غرر الحكم _ ج ۶_ ص ۲۹۳

۲_ مصباح الشريعہ_ ص ۲۷۶


دست درازى كى صورت اس كا دفاع كرے ،اور اس سے اپنے حمايت كا اعلان كري_

اسى بناپر كسى مومن كے لئے مناسب نہيں ہے كہ وہ اپنے بھائي كى عزّت و ابرو كى پامالى كو ديكھتا رہے ،اگر كوئي نا سمجھ انسان اس كى غيبت كے لئے زبان كھولے تو اسے اس بات سے منع كرنا چاہيئي_حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں:

''اگاہ رہو كہ جو شخص كسى محفل ميں اپنے بھائي كى غيبت سني،اسے چاہيے كہ وہ اس پر احسان كر تے ہوئے غيبت كر نے والے كو اس بات سے روكے ،كيو نكہ ايسا كر نے سے خدا وند عالم اس كى پا نچ ہزار برا ئياں دو نوں جہا نوں ميں اس سے دور كرے گا،ليكن اگر قدرت ركھنے كے با وجود ايسا نہ كرے تو غيبت كرنے والے كے گنا ہوں سے ستّر گناہ اور عذاب اس كے حصّے ميں اتے ہيں_''۱

(۴)_غيبت كے الات (غيبت كا سر چشمہ):

صرف زبان كى نوك ہى غيبت نہيں كرتى كہ جس سے سننے والے كو رو حانى دكھ ہو تا ہو ، بلكہ ہر قسم كا اشارہ،كنايہ،سر اور ہاتھ پائوں كى وہ تمام حر كتيں بھى غيبت شمار ہوتى ہيںجن سے كسى كى غيبت كا ارادہ كيا جائي_حضرت عائشيہ كہتى ہي:

''ايك دن ايك عورت ہمارے گھر ائي _جب وہ واپس جارہى تھى تو ميںنے ہا تھ كے اشارہے سے كہا كہ اس كا چھو ٹا قد ہي''

____________________

۱_وسائل الشيعہ_ ج ۸_ ص ۶


رسول خدا (ص) نے فر مايا :

''تم نے اس كى غيبت كى ہي_''۱

(۵)_غيبت كے اسباب:

غيبت ايك قسم كى روحا نى بيمارى ہي،جس ميں غيبت كر نے والا مختلف اسباب و عوامل كى وجہ سے مبتلا ہو جا تا ہے ،حضرت امام جعفر صادق عليہ السّلام نے ايك روايت ميںاس كے دس اسباب ذكر فرمائے ہيں،ملا حظہ كيجئي:

''واصل الغيبة متنوع بعشرة انواع،شفاء غيظ و مسا عدة قوم و تهمة و تصديق بلا خبر كشفه و سو ء ظن و حسد و سخرية و تعجب و تبرم وتزين'' (۲)

غيبت كے سرزد ہونے كے مند رجہ ذيل دس اسبا ب ہيں:

۱) ......غصّہ اور غيظ و غضب جو انسان كے اندر موجود ہو تا ہے ،وہ غيبت كے ذريعہ اسے ٹھنڈا كر كے خود كو تسكين پہنچاتا ہي_

۲) ......غيبت كر نے والوں كے گروہ كے ساتھ تعاون اور انكى مدد كر تا ہي_

۳) ......كسى پر الزام لگانے كے لئے غيبت كا سہارا ليتا ہي_

۴) ......كسى كى با ت كى تحقيق اور چھان بين كئے بغير تصديق كرتا ہے اور اسے سچّا ثا بت كرنے كے لئے غيبت كر تا ہي_

۵) ......دو سروں پر بد گمانى ،اسے غيبت پر اكساتى ہي_

____________________

۱_ جامع السعادات_ ج ۲_ ص ۳۰۳

۲_ مصباح الشريعة _ ص ۲۰۶


۶) ......حسد ،اسے غيبت پر بھڑ كا تا ہي_

۷) ......كسى كا مذاق اڑانے كے لئے اس كى غيبت كرتا_

۸) ......اس كا تعجّب كر نا بھى غيبت ہي_

۹) ......كسى سے تنگدل ہو جا تاہي، تو اس كى غيبت كر تا ہي_

۱۰) ......اپنى با ت كو بنا سنوار كر پيش كر نے كے لئے كسى كى غيبت كر تا ہي_

۶)غيبت كا كفا رہ :

چو نكہ غيبت خد اكے حرام كردہ امور ميں سے ايك ہے ،لہذا غيبت كر ناحُّق ُاللہ غصب كر نے كے زمرہ ميں اتى ہي،اور چونكہ كسى انسان كى ابرو كو بر با د كر تى ہے لہذا حق النّاس پر تجا وز _ بھى شما ر ہو تى ہي_پس غيبت كر نے والے كو چاہيئے كہ پہلے تو وہ خدا كى با ر گا ہ ميںتوبہ كر ے اور اور اپنے اس گنا ہ كى معا فى مانگے ،تا كہ خدا وند تعالى اس كے اس گنا ہ كو بخش دے اور اس كى توبہ كو قبول كرے ،پھر وہ اس انسان كے حق كاتدارك كرے جس جس كى اس نے غيبت كى ہي،اگر وہ زندہ ہے اور اس تك رسائي ممكن ہے ،اگر اس كے رنجيدہ خا طر يا غصّے ہو نے كا مو جب نہيں بنتا تو اس سے معا فى ما نگے ،بہر حال ہر طريقے سے اسے راضى كر نے كى كو شش كرے _اور اگر وہ اس دنيا سے رخصت ہو گيا ہے يا زندہ ہي،ليكن اس تك رسا ئي مشكل ہے تو خدا سے اس كے لئے گناہوں كى بخشش كى دعا كرے ، اور اگر اس تك رسائي ممكن ہي،ليكن وہ غيبت سن كر نا را ض يا رنجيدہ خا طر ہو جا تا ہي،يا فتنہ كھڑا ہو نے كا با عث ہو تا ہے تو بھى اس كے لئے استغفار اور گناہوں كى بخشش كى دعا كرے _ ايك


حديث ميں ہے كہ رسول صلّى اللہ عليہ و الہ وسّلم سے كسى نے سوال كيا:''غيبت كا كيا كفّارہ ہي''؟تو انحضرت (ص) نے فرمايا:

''تستغفر الله لمن اغتبته كلما ذكرته'' (۱)

''يعنى جب بھى تم اس شخص كو ياد كرتے ہو جس كى غيبت كى ہے ، تو اس كے لئے خدا سے استغفار كرو''_

حضرت امام جعفر صادق عليہ السّلام فرماتے ہيں:

''فان اغتبت فبلغ المغتاب فاستحل منه وان لم تبلغه ولم تلحقه فاستغفر الله له'' (۲)

'' اگر تم نے كسى كى غيبت كى ہے اور وہ اس كے كان تك جا پہنچى ہے تو تم اس سے معافى مانگ كر بخشش طلب كر ليا كرو ، اور اگراس تك نہيں پہنچى ہو تو اس كے لئے خدا سے دعائے مغفرت كرو'' _

قرآن و حديث ميں تہمت كى مذمّت :

جو برائياں ہم نے غيبت كے لئے ذكر كى ہيں وہ سب تہمت كو بھى شامل ہيں، علاوہ بريں تہمت لگانے والا جانتا ہے كہ جو متہَّم كى طرف نسبت دے رہا ہے وہ جھوٹى اور حقيقت كے خلاف ہے _

قران مجيد نے تہمت كو ''اثم مبين''(كھلا گناہ)كے نام سے ياد كيا ہي،اور خبر دار كيا ہے كہ تہمت لگانے والا اچھى طرح جا نتا ہے كہ وہ جو كام كر ر ہا ہے وہ نا جائز

____________________

۱_ اصول كافي_ ج۲ ص ۳۵۷

۲_ مصباح الشريعہ_ ص ۲۰۵


اور گناہ ہي،قر ان مجيد كا ارشادہي:

( والذين يو ذون المو منين والمومنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملو ابهتانا وا ثما مبينا'' ) (۱)

''جو لوگ مومن مر دوں اور عورتوں كو ان كے نا كر دہ گنا ہوں كى وجہ سے تكليف پہنچاتے ہيں، وہ بھتان اور كھلم كھلّا گناہ كے متحمل ہو تے ہيں_''

حضرت امام جعفر صادق _نے تہمت كو دين و ايمان كے تباہ كر نے والے مادّہ كا نام ديا ہي،فر ماتے ہيں:

''اذا اتهم المومن اخاه انماث الايمان من قبله كما ينماث الملح فى المائ'' (۲)

''جب مو من اپنے كسى بھائي پر تہمت لگاتا ہے تو اس كے دل سے ايمان يوں نيست ونابود ہو جاتا ہے جس طرح نمك پانى ميں گُھل جا تا ہي_''

حضرت امام ر ضا عليہ السّلام فر ما تے ہيں كہ رسول خدا (ص) نے فر مايا:

''من بهت مو منا او مو منة او قال فيه ما ليس فيه ا قامه الله يوم القيامة على تل من نا ر حتى يخرج مما قال فيه'' (۳)

''جو شخص كسى مو من مرد يا عورت پر تہمت لگا تا ہے يا اس كے بارے ميں كوئي ايسى بات كر تا ہے جو اس ميں نہيں ہي، تو خدا وند عالم اسے بروز قيامت آگ كے ايك ٹيلے پر اس وقت تك كھڑ ركھے گا جب تك وہ اس

____________________

۱_ سورہ احزاب _ آيت ۵۸

۲_ اصول كافى _ ج۲ ص ۳۶۱

۳_ بحارالانوار _ ج ۷۲_ ص ۱۹۴


كے عہدہ سے بر نہيں ائے گا (اپنى با توں كا ثبوت پيش نہيں كر يگا)_ليكن يہ با ت واضح ہے كہ وہ اس كا ثبوت تو نہيں پيش كر سكے گا ،لہذا عذاب ميں ہميشہ مبتلا رہے گا''

دعا ہے كہ خدا وند عا لم ہميں ان دو نوں گنا ہوں سے ہميشہ محفوظ ركھي_

آمين_


چھٹا سبق:

بھائي چارہ اور اتّحاد

۱) تمہيد

۲) ......ا خوّت ،ايك خدا ئي نعمت

۳) ......دينى بھا ئيوں كے حقوق

۴) ......بہترين بھائي

۵) ......ا تحاد ايك قرانى حكم

۶) ......فرقہ بندى كے خطرات

۷) تفرقہ پردازى ايك سا مر اجى شيوہ

۸) ......فرقہ بندي،خدا كا ايك عذاب


(۱) _ تمہيد:

رسول خدا (ص) كے مكّہ سے مدينہ كى طرف ہجرت كے فوراًبعد اور اسلامى حكومت كى تشكيل كے آغاز ہى ميں خدا وند عالم نے مومنين كو آپس ميں بھائي كے نام سے ياد فرمايا ، قرآن مجيد كا ارشاد ہے :

''انما المئومنون اخوة فاصلحو ابين اخويكم ،،(۱)

''يقينا تمام مومنين آپس ميں بھائي ہيں ، الہذا تم اپنے دو بھائيوں كے درميان صلح كرا ديا كرو _ ،،

رسول خدا (ص) نے بھى اسى آيت كى بنياد پر اپنے صحابہ كرام كے درميان اخوّت و بھائي چارہ قائم كيا ، اور حضرت على عليہ السلام كو اپنا بھائي بنايا(۲) _ بھائي چارے كى يہ رسم محض لفظى كاروائي نہيں تھى ، بلكہ اس كے عملى انجام كو پيش نظر ركھا گيا

____________________

۱_ سورہ حجرات _ آيت ۱۰

۲_ يرت ابن ہشام _ ج ۱_ ص ۵۰۵

تھا، اس طرح كے رشتے سے مومنين كا ايك دوسرے پر حق پيدا ہو گيا، وہ مشكلات ميں ايك دوسرے كا ہاتھ بٹاتے تھے ، كسى مومن كى غير حاضرى كى صورت ميں اس كا مومن بھائي اس كے گھريلو امور اور مال كى نگہداشت كرتا تھا ، اس قسم كا رشتہ ، كسى اور دين ميں نہيں ملتا اور يہ خصوصيت صرف اور صرف اسلام كو ہى حاصل ہے _

اسى طرح مسلمانان عالم خدائي محبت كے رشتہ كے تحت ايك دوسرے سے منسلك ہيں ، اور ان كے دل ايك دوسرے سے اس طرح نزديك ہيں گويا كہ سب كا دل ايك ہى ہے اور صرف خدا ہى كى خوشنودى كے لئے دھڑكتا ہے _

مسلمانوں كے درميان تفرقہ يا جدائي ايك بے معنى سى بات ہے ، وہ سب ايك دوسرے كى خوشى اور غم ميں برابر كے شريك ہيں _ بقول شاعر :

مومنان بى حدولى ايمان يكي --- جسمشان معدود وليكن جان يكي

جان حيوانى ندارد اتحاد ----- تو مجو اين اتحّاد از روح باد

جان گُر گان و سگان از ہم جداست --- متّحد جانہاى شيران خداست

مومنين تو حّد و حساب سے باہر ہيں ، ليكن ان سب كا ايمان ايك ہے _ ان كے جسم زيادئہ ليكن جان ايك ہے _ جانوروں كى جانوں ميں اتّحاد نہيں ہوتا ، تمہيں يہ اتحاد ہوا كى روح ميں تلاش نہيں كرنا چاہيئے بھيڑيوں اور كتّوں كى جانيں ايك


دوسرے سے عليحدہ ہيں ، اللہ كے شيروں كى جانيں متّحد اور ايك ہيں _

(۲) _اخّوت ، ايك خدائي نعمت :

د لوں كا ايك دوسر ے سے جو ڑ،دائمى اور اٹوٹ ہي_خدا كى يہ عظيم نعمت ، اسلامى اخوت اور بھا ئي چا رہ كے سا يہ ميں حاصل ہو تى ہي_اللہ تعا لى مسلمانو ں كو اس با ت كى تا كيد فر ما تا ہے كہ ميرى اس نعمت كو ہميشہ يا دركھيں،اس كى قدر جا نيں اور اس كا شكر بجا لا ئيں _ارشاد فر ما تا ہي:

''واذكروا نعمة الله عليكم اذكنتم اعداء فا لف بين قلو بكم فا صبحتم بنعمته ا خوا نا'' (۱)

''خدا كى نعمت كو ياد كرو جو اس نے تمہيں عطا كى ہي،كيو نكہ تم ايك دوسرے كے دشمن تھي_پس خدا نے تمہا رے دلوں كو الفت كے ر شتے ميں منسلك كر ديا اور اس كى نعمت كى وجہ سے تم ايك دوسرے كے بھا ئي بن گئي''_

مو من كے فر ائض ميں شا مل ہے كہ وہ خدا كى بے انتہا نعمتوں كا شكر ادا كر ے ،اور ہر ايك نعمت كا شكر ايك مخصوص طر يقہ سے ادا ہو تا ہي_اخوت اور بھائي چا رہ كى نعمت كا شكر اس طرح ادا ہو تا ہے كہ اسلامى احكام پر صحيح عمل كيا جائے اور اپنے دينى بھا ئيوں كے حقوق كا احترام ركھا جا ئي،ان حقوق ميں سے چند كى طرف ہم ذيل ميں اشارہ كر تے ہيں:

____________________

۱_ آل عمران آيہ ۱۰۳

(۳)_دينى بھا ئيوں كے حقوق:

حضرت امام جعفر صادق عليه السلام مو من كے حق كى ادائيگى كو ايك بہت بڑى عبا دت سے تعبير فر ما تے ہيں،چنا نچہ ارشاد ہي:

''ما عبد اللہ بشيئي افضل من اداء حق المو من ''(۱) ''مو من كے حق كى ادا ئيگى سے بہتر خدا كى كو ئي اور عبا دت نہيںہي_''

ايك اور روايت ميں حضرت امام جعفر صادق عليہ السّلام كى طرف سے مو من كے مند رجہ سا ت حق بتلائے گئے ہيں :

۱) ......جو كچھ تم اپنے لئے پسند كر تے ہو،اپنے مو من بھائي كے لئے بھى و ہى چيز پسند كرو_اور جو اپنے لئے پسند نہيں كر تے اس كے لئے بھى پسند نہ كرو_

۲) ......جو با ت اس كى نا ر ضگى كا سبب ہي،اس سے پر ہيز كرو،اور اس كى خوشنودى حاصل كر نے كى كو شش كرو اور اس كى با تو ں پر عمل كرو _

۳) ......اپنى جان،مال،ہا تھ پا ئوں اور ز بان كے سا تھ اس كى مدد كيا كرو_

۴) ......اس كى انكھ كى مانند بنو اور اس كى راہ نمائي كرو_

۵) ......ايسا نہ ہو كے تم تو سيراب رہو اور وہ بھو كا اور پيا سا رہ جا ئي،تم كپڑے پہنو اور وہ عر يان رہي_

۶) ......ا گر تمہا رے بھائي كى خدمت كر نے والا كو ئي نہيں،تو كسى كو اس كے پاس بھيجو جو اس كے كپڑے دھوئي،اس كے لئے كھا نا تيار كرے اور

____________________

۱_ اصول كافى (مترجم)_ ج ۳_ ص ۲۴۷

اس كى زندگى كو سنواري_

۷) ......اس كى قسم كا اعتبار كر و،اس كى دعوت كو قبول كرو،اس كى بيما رى ميں عيادت كرو،اس كے جناز ميں شر كت كرو ،اگر اسے كوئي ضرورت پيش ہو تو اسكے اظہار سے پہلے اسے پورا كرو اگر ايسا كرديا تو يقين كرو كہ تم نے اپنى دو ستى كو مضبوط اور مستحكم كر ديا ہي''(۱) مو من كے حقوق ميں مند رجے ذيل امور كو بھى شا مل كيا جا سكتا ہي:

الف: ......نصيحت اور خير خو اہي_حضرت امام جعفر صادق عليہ السّلام فرماتے ہيں:

''يحب للمومن على المومن ان ينا صحه '' (۲) ''مو من پر وا جب ہے كہ وہ دو سرے مو من كے لئے خير خواہ ہو_''

ب: ......مہر با نى اور احترام_حضرت رسول اكرم صلّى اللہ عليہ وا لہ وسلّم سے روايت ہے كہ:

''ما فى امتى عبد الطف اخاه فى الله بشي من لطف اخدمه الله من خدام الجنته'' (۳) ''ميرى امت ميں كو ئي ايسا بندہ نہيں ہے جو خدا كى رضا كى خاطر اپنے بھائي پر مہر با نى كري،مگر يہ كہ خدا وند عا لم جنت كے خد مت كا روں ميں سے كچھ خد مت گار اس كے لئے بھيج ديتا ہي_''

____________________

۱_ اصول كافي_ (مترجم)_ ج ۳_ ص ۲۴۶

۲_ اصول كافى (مترجم)_ ج ۳_ ص ۲۹۶

۳_ اصول كافي_ (مترجم)_ ج ۳_ ص ۲۹۴

ج: حاجت برآوري، حضرت امام محمد باقر _ سے منقول ہے كہ خداوند عالم نے حضرت موسى عليه السلام كى طرف وحى فرمايا كہ ميرے بندوں ميں سے كچھ ايسے بھى ہيں جو ''حسنہ'' يعنى نيكى كے ذريعہ ميرا قرب حاصل كرتے ہيں ' اور ميں انہيں جنت كا حاكم بنائوں گا، موسى عليه السلام نے عرض كيا:' 'خداوندا وہ حسنہ يعنى نيكى كيا ہے ؟''_ خداوند تعالى نے فرمايا: ''كسى مومن كا اپنے بھائي كے لئے اس كى حاجت برآورى كے لئے چل پڑنا ' خواہ وہ حاجت پورى ہو يا نہ ہو ''(۱) د: ......خوش كرنا _ حضرت رسالتمآب (ص) فرماتے ہيں :

''ان الله احبَّ الاعمال الى الله عزوجل ادخال السُّرور على المومنين'' (۲) ''يقينا خدا كے نزديك بہترين عمل ' مومنين كو مسرور كرنا ہے ''_

(۴)_ بہترين بھائي :

ہم يہاں اميرالمومنين على عليه السلام كے فرمان كى روشنى ميں ايك بہترين بھائي كى چند صفات كو بيان كر رہے ہيں :

الف: ''خير اخوانك من دلك على هديً واكسبك تُقيً و صدَّك عن اتباع هويً'' )

____________________

۱_ اصول كافى (مترجم)_ ج۳_ ص ۲۸۱

۲_ اصول كافى (مترج) _ ج۳ _ ص ۲۸۱

۳_ شرح غررالحكم_ ج ۷_ ص ۸

''تمہارا بہترين بھائي وہ ہے جو تمہيں ہدايت اور راہ راست كى راہنمائي كري' تمہارى پرہيزگارى ميں اضافہ كرے اور تمہيں خواہشات نفسانى كى پيروى سے باز ركھي''_

ب:''خير إخوانك مَن دعاك الى صدق المقال بصدق مقاله وندبك إلى افضل الا عمال بحسن اعماله'' (۱)

''تمہارا بہترين بھائي وہ ہے جو اپنى سچى باتوں كے ذريعہ تمہيں سچ بولنے كى دعوت دي' اوراپنے اچھے كردار كے ذريعہ تمہيں نيك كاموں كى طرف پكاري''_

ج: ''خيرا الإخوان من كانت فى الله مَوَدته'' (۲)

''بہترين بھائي (اور دوست) وہ ہے جس كى دوستى خدا كيلئے ہو''_

۵)_ اتحاد' ايك قرآنى حكم:

اتحاد و اتّفاق ميں برادرى كا راز مضمر ہي، جب اسلامى معاشرہ كے تمام افراد آپس ميں برادرى اور اخوت كا مظاہرہ كريں گے تو ان كے درميان وسيع پيمانے پر اتحاد اور ہم آہنگى پيدا ہوگي_

عزّت و وقار اور سربلندى اور سرفرازى كا جامہ ايسے معاشرہ كے لئے زيبا ہے جس كے افراد كے دل اور افكار ايك ہوں' تفرقہ اور جدائي سے پرہيز كرتے ہوں' آپس ميں مہربان ہوں اور سينوں سے كينوں اور كدورتوں كو اكھاڑ پھنكا ہو''_

____________________

۱_ شرح غررالحكم _ ج ۷_ ص ۸

۲_ شرح غررالحكم _ ج ۷_ ص ۹

اتحاد اور اتفاق ايسى چيز ہے جس كے بارے ميں قرآن مجيد نے بڑى تاكيد كى ہي_ ارشاد خداوندى ہے :

( واعتصوا بحبل الله جميعاً وَّ لا تفرقوا'' ) (۱)

''تم سب (ملكر) خداكى رسى كو مضبوطى سے پكڑے رہو اور ايك دوسرے سے تفرقہ وجدائي اختيار نہ كرو ''_

پھر فرماتاہي:

( ولا تكونوا كالذين تفرَّقوا واختلفوا من بعد ما جآئهم البينات ) ''(۲)

''تم لوگ (مسلمان) ان لوگوں كى طرح مت ہوجانا جو اپنے پاس روشن آيات اور نشانيوں كے آجانے كے بعد تفرقہ اور اختلاف ميں پڑگئے تھے ''_

۶)_ فرقہ بندى كے خطرات :_

مسلمانوں كا ايك دوسرے كے خلاف فرقہ بندى اور باہمى اختلاف كے بہت سے نقصانات ہيں' جن ميں سے چند يہاں بيان كئے جاتے ہيں :

الف: صراط مستقيم سے ہٹ جانا ; جب رشتہ وحدت ٹوٹ جاتا ہے تو انسان كو شرك كى طرف كھينچ كر لے جانے كے لئے شيطان كو آسانى ہوجاتى ہے اور انسانى تخليق كا اصل مقصد جو كہ خدا كى عبادت اور اسكے بتائے ہوئے راستوں پر چلنا ہے اس سے ہٹ كر وہ طاغوت كى

____________________

۱_ سورہ آل عمران _ آيت ۱۰۳

۲_ سورہ آل عمران _ آيت ۱۰۵

اطاعت كرنے لگتا ہي_ اس سلسلے ميںقرآن مجيد فرماتا ہي:

( وانَّ هذا صراطى مستقيماً فاتبعوه ولا تتبعوا السُّبُل فتفرق بكم عن سبيله ذلكم وصى كم به لعلَّكم تتقون '' ) (۱) ''اور يہ (دين) ميرا سيدھا راستہ ہے ' لہذا تم اس كى پيروى كرو اور دوسرى راہوں كى پيروى نہ كرو كہ (وہ راہيں) تم كو اس (اللہ) كى راہ سے متفرق اور جدا كرديں گي، اللہ تعالى نے تمہيں اس كا حكم ديا ہے ( كہ اس كے خلاف چلنے سے اجتناب كرو) تاكہ شايد تم پرہيز گار بن جائو''_

ب: عظمت ختم ہوجاتى ہي: عظمت و اقتدار كاراز ' وحد ت اور اتحاد ميں مضمر ہي' جب كہ اس كے برعكس ضعف و ناتواني' اختلاف وانتشار كا نتيجہ ہوتى ہي_ چنانچہ قرآن مجيد مسلمانوں كو باہمى اختلاف سے باز ركھنے كے ساتھ ساتھ اسكے برے انجام سے بھى خبردار كر رہاہي، ارشاد ہي:

( واطيعواالله و رسوله ولا تناز عوا فتفشلوا وتذهب ريحكم'' ) (۲)

''خدا اور اس كے رسول (ص) كى اطاعت كرو ' اور آپس ميں جھگڑا نہ كرو كہ اس طرح تم سست ہوجائو گے اور تمہارى عظمت كى روح تم سے رخصت ہوجائے گي''_

ج: ذلّت; كوئي بھى قوم كہ جو وحدت كى حامل ہوتى ہي' وہ سرى طاقتوں كى يلغار سے محفوظ رہتى ہے اور كسى كو اس كى طرف آنكھ اٹھاكرديكھنے كى جرا ت نہيں ہوتي، ليكن اگر اتحاد كا دامن چھوڑ دے تو

____________________

۱_ سورہ انعام _ آيت ۱۵۳

۲_ سورہ انفال _ آيت ۴۶


معاشرہ كى عزت و عظمت اور حشمت و شوكت خاك ميں مل جاتى ہے ' اور وہ اغيار كى يلغار اور يورش كا تختہ مشق بن جاتا ہے ، تاريخ ہمارے اس دعوے كى گواہ ہي_ حضرت اميرالمومنين على عليه السلام نہج البلاغہ كے ايك خطبہ ميں اس چيز كو اس طرح بيان فرماتے ہيں :

''اب ذرا اسماعيل كى اولاد' اسحاق كے فرزندوں اور يعقوب كے بيٹوں كے حالات سے عبرت ونصيحت حاصل كرو_ (اقوام وملل كي) حالات كس قدر ملتے جلتے اور طور طريقے كتنے يكساں ہيں' ان كے منتشر اور پراگندہ ہوجانے كے بعد جو واقعات رونما ہوئے ہيں ان ميں غور وخوض كرو كہ جب كسرى (شاہان عجم) اور قيصر (سلاطين دوم) ان پر حكمران تھي، واقعات نے انہيں اطراف عالم كے سبزہ زاروں ' عراق كے دريائوں اور دنيا كى شادابيوں سے خاردار جھاڑيوں' ہوائوں كے بے روك گذرگاہوں اور معيشت كى دشواريوں كى طرف دھكيل ديا اور آخر كار انہيںفقير و نادار اور زخمى پيٹھ والے اونٹوں كا چرواہا اور بالوں كى جھونپڑيوں كا باشندہ بناكر چھوڑديا_ ' ان كے گھر بار دنيا سے بڑھ كر خستہ و خراب اور ان كے ٹھكانے خشك ساليوں سے تباہ حال تھي، نہ ان كى كوئي آواز تھى جس كے پرو بال كا سہارا ليں ' نہ انس ومحبت كى چھائوں تھى جس كے بل بوتے پر بھروسہ كريں، ان كے حالات پراگندہ' ہاتھ الگ الگ تھي' كثرت وجمعيت بٹى ہوئي تھي' جانگداز مصيبتوں اور جہالت كى تہ بہ تہ تہوں ميں پڑے ہوئے تھي' اور وہ يوں كہ لڑكياں زندہ در گور تھيں' (گھر


گھر) مورتى كى پوجاہوتى تھي، رشتے ناتے توڑے جاچكے تھي' اور لوٹ كھسوٹ كى گرم بازارى تھي''(۱)

بقول مولانا روم:

گفت پيغمبر (ص) كہ اندر ساق عرش ---- مُنشى نور اين چنين بنوشتہ نقش

ذلّت اولاد آدم بى خلاف ---- زاختلاف است' اختلاف است اختلاف

حضرت پيغمبر اكرم(ص) نے فر مايا كہ عرش كے ستون پر نور كے كا تب نے يہ لكھ ديا ہے كہ بنى ادم كى ذلّت كے اس راز ميںكسى كو اختلاف نہيں، ہے اور وہ اختلاف اختلاف ہے اور صرف اختلاف ہي_

۷)_تفرقہ پر دازى ايك سامراجى كا شيوہ:

شير و شكر اور اتّحاد كى دولت سے مالامال معا شرے كو منتشر اور پر اگندہ كرنا ايسے سامراجى عناصركا شيوہ ہے جس كے دل و دماغ ميںعالمى سطح پر لوٹ ما ر كر نے كا سودہ سما يا ہوا ہي،اور اقوام عالم كو اپنا محكومم بنانے كى فكر ميں ہي_چو نكہ كسى قوم پر فتح پانا اور اسے زير كر نا پہلے ہى مر حلہ ميں ممكن نہيں ہي،لہذا مر حلے وار اپنے مذموم مقا صد كو حاصل كر نے كے لئے ان كے در ميان فر قہ و اريت كا بيج بو ديتے ہيں،پھر اہستہ

____________________

۱_ نہج البلاغہ _ خطبہ ۱۹۲_ (خطبہ قاصعہ )_

اہستہ ان كے جان اور مال پر ڈاكے ڈالنا شروع كر ديتے ہيں 'اور اس طرح ان پر مسّلط ہو جا تے ہيں_فر عون،ہما رے اس دعوے كى روشن دليل ہي،جس كے بارے ميں قران فر ماتا ہي:

( ان فرعون علا فى الارض و جعل اهلها شيعا يستضعف طائفة منهم يذيح ابنا هم و يستحى نسا ئهم انه كان من المفسدين ) (۱) ''بے شك فرعون نے زميں ميں بہت سر اٹھايا تھا،اور اس نے وہاں كے رہنے والو ں كو كئي گرو ہوں ميں با نٹ ديا تھا،اُن ميں سے ايك گر وہ بنى اسرائيل كو عا جز اور كمزور كر ليا تھا اُن كے بيٹوں كو ذبح كر ديتا تھا اور ان كى عورتوں اور بيٹيوں كو زندہ رہنے ديتا تھا،بے شك وہ مفسدين ميں سے تھا_''

اس حقيقت كے پيش نظر،مسلمانوں پر وا جب ہے كہ وہ بيدارى اور ہو شيارى كا ثبوت ديں اور اپنى تقدير اور بھا گ دوڑ تفرقہ پر داز اور مفسدوں كے ہا تھوں ميں نہ ديں_

فرقہ بعدى ، خدا كا ايك عذاب :

قرآن مجيد ، ايسے لوگوں كو مختلف قسم كے عذابوں سے ڈراتا ہے جو خدائي قوانين سے رو گردانى كرتے ہيں، ان مختلف عذابوں ميں سے ايك '' فرقہ بندى ،، ہے ، ارشاد ہوتا ہے :

( قل هوا القادر على ان يبعث عليكم عذابا من فوقكم او من تحت ار جلكم او يلبسكم شيعا و يذيق بعضكم باس بعض انظر كيف

____________________

۱_ سورہ قصص _ آيت ۴

نصرف الاى ت لعلهم يفقهون ) ،،(۱)

''اے رسول (ص) ،، تم كہدو وہى ( خدا ) اس پر اچھى طرح قادر ہے كہ تم پر تمہارے سر كے اوپر سے كوئي عذاب نازل كرے يا تمہارے پائوں تلے سے ، يا تمہيں مختلف فرقوں ميں تقسيم كر دے ، اور تم ميں سے بعض كو بعض كے عذاب كا مزہ چكھا دے _ ذرا ديكھو كہ ہم كس طرح اپنے دلائل كو مختلف پہلوئوں سے بيان كرتے ہيں تاكہ شايد وہ سمجھ جا ئيں _''

جى ہاں جس طرح ارضى اور سماوى مصيبتيں اور بلائيں گناہگار قوموں كو نيسّت ونابود كر ديتى ہيں ، اسى طرح فرقہ بندى بھى معاشروں كى سردارى اور سعادت و خوشبختى كو تہس نہيں كر ديتى ہے _

ہميں اميد ہے كہ مسلمانان عالم باہم اتّحاد اور اتّفاق كے ساتھ ايك امّت بن جائيں گے ' اور خدا وند كريم ورحيم كے فضل وكرم سے اپنى عظمت رفتہ كو پاليں گے _ مثل مشہور ہے ، ''آرى بااتّفاق '' جھان را مى تو ان گرفت ،، جى ہاں اتّفاق كى بدولت ،كائنات كو مسّخر كيا جا سكتا ہے _

____________________

۱_ سورہ انعام _ آيت ۶۵


ساتواں سبق :

والدين كے حقوق

۱) .........معصومين(ع) كے كلام كى روشنى ميں

۲) اويس قرنى كا سبق آموز كردار

۳) .........باپ كا احترام ' امام زمانہ(ع) كا فرمان

۴) .........والدين كے لئے اولاد كا فريضہ

۵) .........مرنے كے بعد ياد ركھنا

۶) .........والدين سے نيك سلوك كى جزائ

۷) خدا كا فرمان ، يا والدين كى خواہش كى تكميل


جو حقوق انسان پر واجب ہيں ان ميں سے ايك والدين كے ساتھ نيك سلوك روا ركھنا ہے ' خواہ وہ زند ہوں يا مر چكے ہوں ' اچھے ہوں يا بُرے ، والدين كا احترام اور ان كى شرعى ضروريات كا پورا كرنا اس قدر اہميّت كا حامل ہے كہ خدا نے قرآن مجيد ميں چھ مقامات پر اس كر ذكر كيا ہے ، حتى كہ بعض مقامات پر تو اللہ تعالى نے اپنى عبادت كے بعد والدين كے ساتھ نيكى كرنے كا حكم ديا ہے _ مثال كے طور پر قرآن مجيد كى مندرجہ ذيل آيتيں ملاحظہ فرمائيں :

(۱)( وقضى ربك الا تعبد وا الا اياه وبالوالدين احساناً ) (۱)

'' اور تيرے پروردگار نے قطعى فيصلہ كر ديا ہے كہ اس كے سوا كسى كى عبادت نہ كرو اور والدين كے ساتھ نيكى كرو ''_

____________________

۱_سورہ بنى اسرائيل _ آيت ۲۳_ ۲۴

پھر ان كے ساتھ نيكى كى وضاحت كرتے ہوئے فرماتا ہے:

(۲)( اما يبلغن عندك الكبر احد هما او كلا هما فلا تقل لهما اُف ) :ّ''

''اگر ان ميں سے ايك ےا دونوں تمہا رى زندگى ميں بڑھاپے كو پہنچ جائيں تو(ان كى خد مت گزارى سے تھك كر )انہيں اُف تك نہ كہو_''

(۳)( ولا تنهر هما ) '' تر جمہ :''اور نہ انہيں جھڑ كو_''

(۴)( و قل لهما قولا كر يما' )

''ان سے ادب اور مہر با نى سے با ت كرو''_

(۵) ......''( وا خفض لهما جناح الذل من الر حمة '' ) _

''اور ان كے سا منے خا كسارى سے شا نے جھكا ئے ركھو_''

(۶)( و قل رب ار حمهما كماربيانى صغيرا'' ) _

''اور ان كے حق ميں دعا كرو،اور كہو بارالہا ان دو نوں پر رحم فرما،جس طرح كہ انہوں بچپن ميں مےرى تر بےت اور پرورش كى ہے''_

اب جب كہ ہم وا لدين كے سا تھ نيك سلوك كى اہميّت سے واقف ہو چكے ہيں تو بہتر معلوم ہو تا ہے كہ خدا كى ان دو نعمتوں كو اچھى طرح پہچا نيں تا كہ ہم ان كى بہتر خدمت كے لئے اچھى طرح كمر بستہ ہو كر صحيح معنوں ميں اپنے فريضے كو ادا كرسكيں،اس بارے ميں حضرت امام زين العا بدين عليه السلام كے ارشا دات ہمارے لئے مشعل راہ ہيں:

روايت:'' تمہا رى ماں كا تم پر يہ حق ہے كہ تمہيں معلوم ہو نا چا ہےئے كہ اس نے تمہيں ايسى جگہ ركھا اور تمہيں اپنے سا تھ اٹھائے پھر تى رہى جہاں پر


كوئي دو سر كسى كو نہيں اٹھتا،اس نے تمہيں اپنے دل كے مےوے سے اےسى چےز كھلائي ہے جو كسى كو كوئي نہيں كھلاتا، اس نے اپنے ہاتھ' پائوں،انكھ،كان، حتى كہ اپنے بدن كى جلد اور تمام اعضاء كے ساتھ بڑى خوشى اور خندہ پےشانى كے ساتھ تمہا رى نگہداشت كي،اور اپنے حمل كے دوران تمام نا خوش گوا ر با توں،دردو غم،رنج و الم اور سختےوں كو بر داشت كےا،يہاں تك كہ قدرت خدا نے تجھے ا س سے جدا كر كے دنےاميں بھيج ديا_ اگاہ ہو جائو كے تمہا رے باپ كا تم پر ےہ حق ہے كہ:وہ تمہا رى اصل اور جڑہے،اور تم اس كى فرع اور شا خ ہو،اگروہ نہ ہو تا تو تم بھى نہ ہوتے، تم اپنے اندر جو نعمتيں ديكھ رہے ہو وہ سب اس كے وجود كے بر كت سے ہيں، لہذا خدا كا شكر كرتے ہو ئے اپنے باپ كا شكر ےہ بھى ادا كرو اور اس كى عزّت و تكرےم بھى كرو''(۱) اس جملے ميں حضرت امام زين العا بد ين عليه السلام نے والدين كى اہميّت اور ان كى قدر و قےمت كو بےان فر ما يا ہے،اور سا تھ ہى ہميںان كى قدر دانى اور ان كا شكرےہ ادا كرنے كا حكم ديا ہے_

علاوہ ازيں ہميں با ور كرا يا ہے كہ اگر ہم اپنى سا رى زندگى ان كى خدمت كر تے رہيں پھر بھى ہم ان كى خد ما ت كے ہزارويں حصّے كا بدلہ بھى نہيں چكا سكتے_

____________________

۱_ تحف العقول _ ص ۱۸۹_ رسالة الحقوق_ امام سجاد عليه السلام


(۱)_معصومين (ع) كے كلام كى روشنى ميں :

ہم ايك با ر پھر معصومين علےھم السّلام كے ار شا دات كو پےش كر تے ہيں تا كہ اس اہم فر ےضے كى ادا ئےگى ميں وہ ہما رے راہنما قرار پا ئيں _

الف : ......ايك شخص حضرت ختمى مر تبت (ص) كى خد مت ميں حا ضر ہوا اور اپ(ص) سے نصےحت كى درخو است كي،اپ(ص) نے فر ماےا :

''والديك فا طعهما وبر هما حيين كانا او ميتين'' (۱) ''تم اپنے وا لدين كى اطاعت كر واور ان كى ساتھ نيك سلوك كرو ' خواہ وہ زندہ ہوں يا مر چكے ہوں _ ،،

منصوربن جازم كہتے ہيں كہ ميں حضرت امام جعفر صادق عليہ السلّام كى خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كيا : كس عمل كى زيادہ قدر وقيمت ہے ؟

آپ نے فرمايا :

''الصلوة لوقتها وبرَّ الوالدين والجها د فى سبيل الله ''(۲) '' اول وقت ميں نماز كى ادائيگى ، والدين كے ساتھ نيكى اور راہ خدا ميں جہاد _ ''

ج: ايك شخص نے رسول خدا(ص) كى خدمت ميں عرض كيا كہ ميںاپنے وطن اور علاقے اور والدين سے جدا ہو كر ، آپ(ص) كى خدمت ميں مسلمان ہونے

____________________

۱_ اصول كافى _ ج ۲_ ص ۱۵۸

۲_ اصول كافى ج۲ ص ۱۵۸

كى غرض سے حاضر ہوا ہوں ، اور جس وقت ميں رخت سفر باندھ رہا تھا ميرے والدين ميرى جدائي كے صدمہ سے رو رہے تھے _

رسول خدا (ص) نے فرمايا :

'' تم واپس چلے جائو ، پہلے ماں باپ كو راضى كرو پھر ہمارے پاس آئو _ ،، يہ سنكر اس نے آپ (ص) كے فرمان پر عمل كيا ''(۱)

د : رسول خدا(ص) فرماتے ہيں :

''رَضى الرب فى رضى الوالدين وسخط الرب فى سخط الوالدين ''(۲) '' رب كى رضا ، والدين كى رضامندى ميں ہے اور خالق كى ناراضگى والدين كى ناراضگى ميں ہے _''

ھ : رسول خدا(ص) سے مروى ہے كہ حضرت موسى (ع) نے اللہ تعالى سے اپنے ايك شہيد دوست كے انجام كا سوال كيا تو خدا نے فرمايا كہ وہ جہنّم ميں ہے ، انہوں نے عرض كيا كہ كيا تو نے شھداء سے جنّت كا وعدہ نہيں فرمايا ؟ ،ندا آئي : '' كيوں نہيں ؟ ' ليكن وہ اپنے والدين كو ہميشہ ستايا كرتا تھا ، اور ميں والدين كى نافرمانى كرنے والوں سے كوئي بھى عمل قبول نہيں كرتا _ '' ۱

و: حضرت امام محمد باقر عليہ السلّام فرماتے ہيں :

'' انَّ العبد ليكون برابو الديه فى حيا تهما ثم يموتان فلا يقضي عَنهماَ ديونهما وَلاَ يستغفر لهما فيكتبه الله عاقاً '' (۳) ____________________

۱_ مستدرك الوسائل _ ج ۲_ ص ۶۲۷

۲_ مستدرك الوسائل _ ج ۲_ ص۲۷

۳_ اصول كافى ج ۲_ ص ۱۶۳

'' بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ كوئي بندہ ، اپنے والدين كى زندگى ميں ان كے ساتھ نيكى كرتا ہے ، ليكن جب وہ مر جاتے ہيں تو وہ نہ ان كے قرضے ادا كرتا ہے اور نہ ہى خدا سے ان كے گناہوں كى بخشش طلب كرتا ہے ، تو ايسى صورت ميں خدا اسے والدين كا نافرمان اور عاق لكھ ديتا ہے '' _

(۲)_ اويس قرنى كا سبق آموز كردار :

حضرت اويس قرنى رسالتمآب (ص) كے ايك سچے عاشق اور حقيقى پيروكار تھے ، جن كا كام سار بانى تھا ، اور اس سے وہ اپنا اور اپنى والدہ كا خرچ چلاتے تھے ، وہ اپنے اس عشق و محبّت كے باو جود آنحضرت صّلى اللہ عليہ وآلہ وسّلم كى زيارت سے شرفياب نہيں ہو پائے تھے _

ايك دن انہوں نے اپنى والدہ سے حضور(ص) كى زيارت كى اجازت مانگى ، تاكہ مدينہ پہنچ كر آنحضرت(ص) كى زيارت كا شرف حاصل كر سكيں ، ليكن وہ اس شرط پر اجازت دينے پر راضى ہوئي كہ مدينہ ميں آدھے دن سے زيادہ نہيں ٹھہريں گے _

حضرت اويس قرنى نے مدينہ كا سفر اختيار كيا اور بڑے شوق اور بے پناہ مشكلات كے ساتھ سفر طے كر كے حضور(ص) پاك كے در دولت پر حاضرى دى ، ان كا دل محبوب كے ديدار كے لئے تڑپ رہا تھا اور اشك شوق آنكھوں سے رواں تھے ، ليكن انہيں بتايا گيا كہ سر كار دو عالم (ص) تو مدينہ ميں تشريف فرما نہيں ہيں ، اور كہيں سفر پر گئے ہيں، اپنى ماں سے كئے ہوئے وعدے كے پيش نظر صرف آدھے دن تك آنحضرت(ص) كا انتظار كيا ، ليكن حضور(ص) تشريف نہيں لائے ، لہذ وہ ختمى مرتبت(ص) كى زيارت كا شرف


حاصل كئے بغير مدينہ سے واپس چلے گئے _

جب حضور(ص) پاك مدينہ تشريف لے آئے اور اپنے گھر پہنچے تو آپ(ص) كو اويس قرنى كے آنے كى خبر دى گئي _ حضور(ص) نے فرمايا :

'' اويس قرنى ہمارے گھر ميں نور چھوڑ گئے ہيں ''_

پھر فرمايا :

''يفوح روائح الجنة من قبل القرن واشو قاه اليك يا اويس القرن ''(۱)

'' نسيم جنّت قرن كى طرف سے آ رہى ہے ، اے اويس قرنى ہم تمہارى ملاقات كے كس قدر خواہشمند ہيں '' _

( ۳) _ باپ كا احترام ، امام زمانہ (ع) كا فرمان :

سيد محمود موسوى نجفى المعروف سيد محمود ہندى كا شمارا اپنے زمانہ كے زاہد لوگوں ميں ہوتا تھا ، اور وہ حضرت امير المومنين عليہ السلام كے حرم مقّدس ميں نماز پڑھايا كرتے تھے، انہوں نے ايك عالم كى زبان سے نقل كيا ہے كہ ان كا ايك دوست تھا جو حمّام ميں كام كيا كرتا تھا،اس نے ذكر كيا ہے كہ ميرے والد نہايت ہى بوڑھے ہو چكے تھے، ميں ان كا بہت ہى احترام كيا كرتا تھا ، اور ان كا ہر كام پورا كيا كرتا تھا ، سوائے بدھ كى رات كے ، كيونكہ اس رات ميں امام زمانہ ( عج) كے شوق زيارت كے پيش نظر مسجد سہلہ جايا كرتا تھا _

____________________

۱_ منتہى الآمال _ ج ۱_ ص ۲۳۹

چنانچہ جب چاليس بدھ كى راتيں مكمل ہو گئيں اور آخرى رات كو ميں بڑى آرزوئيں لے كر گيا تھا كہ يقينا آنجناب(ع) كى زيارت ہو گى ، اور جب ميں واپس پلٹ رہا تھا تو راستے ميں ايك نورانى صورت كے شخص كو ديكھا جو گھوڑے پر سوار تھا ، جب ميرے نزديك پہنچا تو ميرے نام سے مجھے پكارا اور تين مرتبہ كہا :'' تم اپنے باپ كا خاص خيال ركھا كرو اور اس كا احترام كيا كرو ، '' يہ كہا اور ميرى نگاہوں سے غائب ہو گيا _ ميں نے لمحہ بھر سوچا كہ يہ شخص كون تھا ؟ ، پھر فو راً خيال آيا كہ يہ تو وہى عظيم الشّان شخصيّت ہيں ، جن كے شوق ديدار كے لئے ميں چاليس بدھ كى راتيں مسجد سہلہ جا چكا ہوں _

ميں نے آنجناب(ع) كى سفارش كو اپنے ذہن ميں محفوظ كر ليا اور والد كى خدمت كے لئے يوں كمر بستہ ہو گيا جيسے كوئي نوكر ہوتا ہے(۱)

۴)_ والدين كيلئے اولاد كا فريضہ :

ہم يہاں والدين كے لئے اولاد كے شرعى فريضے كى طرف اشارہ كريں گے ،بہتر ہے كہ اولاد اپنے والدين كى ضروريات كو پورا كرے ، زندگى كى مشكلات ميں ان كا ہاتھ بٹائے ، جب انہيں كوئي چيز دينا چاہے تو ان كے ہاتھ كے اوپر اپنا ہاتھ نہ لے جائے ، ان كے آگے نہ چلے ، بيٹھتے وقت ان كا سہارا نہ لے _

منقول ہے كہ حضرت امام زين العابدين عليہ السلّام نے ايك شخص كو ديكھا جو كہ اپنے باپ كے ساتھ ٹيك لگائے بيٹھا تھا ، امام نے اس كى اس گستانى كى وجہ سے مرتے دم تك اس سے بات نہيں كى(۲)

____________________

۱_ منتہى الآمال _ ج ۳_ ص ۳۲۴

۲_ اصول كافى _ ج ۲_ ص ۲۶۱

اولاد كے لئے مناسب نہيں ہے كہ وہ تند مزاجى اور درشت لہجے كے ساتھ والدين كے ساتھ بات كرے يا ان كے سامنے تيورى چڑھا كر آئے كہ اس طرح سے وہ آزردہ ہوجائيں ' اونچى آواز ميں ان سے بات نہ كريں' ان سے ناراضگى كا اظہار يا ان پر كسى قسم كا اعتراض نہ كرے كہ كھانا كھانے ميں ان سے پہل نہ كرے ' كھانا كھالينے كے بعد خود ہى دسترخوان كو اكٹھا كرے ' انہيں ان كے نام سے نہ پكارے بلكہ بڑے ادب اور احترام كے ساتھ آواز دے' تعظےم اور ادب كے ساتھ ان سے گفتگو كرے ' ان كے حق ميں دعائے خير كرے 'ان كے زحمتوں اور تكليفوں كا شكريہ ادا كرے اور قدر كرے' اور كہے:

''بار الہا ميں انہيں جزا دينے كى طاقت نہيں ركھتا تو خود ہى ان پر رحمت نازل فرما''_

(۵)_مرنے كے بعد ياد ركھنا :

والدين كى موت كے ساتھ اولاد كا فريضہ ختم نہيں ہوتا ہے_ وہ وفات پانے سے ايك جگہ سے دوسرى جگہ منتقل ہوجاتے ہيں اور عالم برزخ ميں رہتے ہيں' اور اولاد كى نيكى ان كو مل جاتى ہے_ لہذا اولاد كا فرض ہے كہ والدين كے جو فرائض ان سے چھوٹ گئے ہيں وہ انہيں ادا كرے' ان كے قرض چكائے تاكہ انہيں مشكلات سے چھٹكارا ملے' اس بارے ميں رسول خدا (ص) سے دريافت كيا تو آنحضرت (ص) نے فرمايا :

''مرنے كے بعد ان كے لئے نماز پڑھے ' ان كے گناہوں كى بخشش كى دعا مانگے ان كے كئے ہوئے وعدے پورا كرے' ان كے دوستوں كا احترام


كرے اور ان كے رشتہ داروں سے ميل ملاقات ركھے''(۱) آپ (ص) ہى كا ارشاد ہے :

''سيد الابرار يوم القيامة رجل برَّ والديه بعد موتهما'' (۲)

''بروز قيامت نيك لوگوں كا سردار وہ شخص ہوگا جو والدين كے مرنے كے بعد بھى ان كے ساتھ نيكى كرتا ہے''_

(۶)_ والدين سے نيك سلوك كا انجام:

ہم يہاں اس الہى پسنديدہ فعل كے كچھ فوائد قلم بند كررہے ہيں:

الف: جنت ميں پيغمبروں (ص) كے ساتھ ہم نشيني_

حضرت موسى عليه السلام نے خداوند عالم سے درخواست كى كہ انہيں جنت ميں ان كے ہم نشين كا تعارف كرايا جائے، خداوند عالم نے انہيں ايك قصاب كا پتہ بتايا ، حضرت موسى عليه السلام اس جوان كى دوكان پر پہنچ گئے اور غروب آفتاب كے وقت اس كے ہمراہ اس كے گھر گئے، اس نے كھانا تيار كيا پھر چھت سے لٹكى ہوئي ٹوكرى كو نيچے اُتارا ' اس ميںايك نہايت ہى بڈھى فرتوت عورت بيٹھى ہوئي تھي، اس نے اسے اپنے ہاتھ سے كھانا كھلايا اور اسے بنايا سنوارا' پھر دسترخوان بچھا كر حضرت موسى عليه السلام كے ساتھ كھانا كھانے ميں مصروف ہوگيا_

حضرت موسى عليه السلام نے اس سے بڑھيا كے بارے ميں سوال كيا تو اس نے كہا:'' يہ

____________________

۱_ مستدرك الوسائل _ ج ۲_ ص ۶۳۲

۲_ بحارالانوار _ ج ۷۱_ ص ۸۶

بڑھيا ميرى والدہ ہے اور چونكہ ميرى مالى حالت كمزور ہے' لہذا اس كے لئے كوئي نوكر چاكر نہيں ركھ سكتا اور خود ہى اس كى خدمت پر كمر بستہ رہتا ہوں، حضرت موسى _ نے اس سے پوچھا كہ اس بڑھيا نے كيا باتيں كيں؟ اس نے كھا كہ ميں جب بھى اسے كھانا كھلاتا اور اسے سنوار تاہوں تو وہ مجھے يہى دعا ديتى ہے كہ خدا تمہارى مغفرت كرے اور قيامت كے دن تمہيں حضرت موسى عليه السلام كا ہمنشين بنائے_

يہ سن كر حضرت موسى عليه السلام نے فرمايا : تمہيں خوشخبرى كہ اس كى دعا تمہارے بارے ميں قبول ہوچكى ہے اور جبرئيل (ع) نے مجھے خبر دى ہے كہ تم جنت ميں ميرے ہم نشين ہوگے(۱)

ب: عمرميں اضافہ كا موجب_

حضرت امام محمد باقر عليه السلام فرماتے ہيں :

''البرُّ و صدقة السّرّ ينفيان الفقر ويزيد ان فى العمر و يدفعان عن سبعين ميئة سوئ'' (۲) ''نيكى كرنا (جن ميں سے والدين كے ساتھ نيكى بھى شامل ہے) اور چھپا كر صدقہ دينا فقر كو دور كرديتے ہيں اور ستر قسم كى برى موت سے بچاتے ہيں اور اس كے برعكس والدين كے ساتھ بدسلوكى عمر كو كم كرديتى ہے''_

ج: رسول خدا (ص) اور ائمہ طاہرين عليہم السلام كى رضا كا سبب ہے_

ايك دن رسول خدا (ص) كى رضاعي(دودھ شريك)بہن ان كے پاس آئيں

____________________

۱_ پند تاريخ_ ج ۱_ ص ۷۰

۲_ بحارالانوار _ ج ۷۱_ ص ۸۱

تو حضور (ص) نے ان كے لئے اپنى عبا بچھادى اور بڑى خندہ پيشانى كے ساتھ ان سے ملاقات كي، اتفاق سے اسى دن آپ (ص) كا رضاعى بھائي بھى آگيا ، ليكن حضور (ص) نے بہن كى مانند اس سے سلوك نہيں كيا ، كسى نے آپ(ص) سے اس بارے ميں سوال كيا تو آپ (ص) نے فرمايا :

''چونكہ يہ لڑكى اپنے ماں باپ كے ساتھ بہت محبت كرتى ہے''(۱)

عمادبن حيّان كہتے ہيں كہ ميں نے حضرت امام جعفر صادق عليه السلام كى خدمت ميں عرض كيا كہ ميرا بيٹا اسماعيل مجھ سے بہت محبت كرتا ہے، تو حضرت (ع) نے فرمايا:

''ميں اسے پہلے بھى دوست ركھتا تھا اب ميرى اس سے محبت بڑھ گئي ہے''(۲)

د: حج كا ثواب_

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :

''جواولاد اپنے والدين كى طرف محبت بھرى نگاہوں سے ديكھتى ہے تو ہر نگاہ كے بدلے ايك مقبول حج كا ثواب ہوتا ہے''_

پھر زوردے كر فرمايا :

''والدين كى طرف محبت بھرى نگاہ سے ديكھنا عبادت ہے''(۳)

ھ: موت كى آساني_

____________________

۱_ اصول كافي_ ج ۲_ ص ۱۲۹

۲_ اصول كافي_ ج ۲_ ص ۱۲۹

۳_ بحارالانوار _ ج ۷۱_ ص ۸۰

حضرت امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں :

''جو شخص اس بات كو پسند كرتا ہے كہ خداوند عالم اس پر موت كى سختى آسان كردے' اسے چاہئے كہ وہ اپنے ماں باپ كے رشتہ داروں كے ساتھ نيك سلوك كرے''(۱)

ذ: اپنى اولاد كى نيكى كا سبب ہے_

مثل مشہور ہے كہ ''جيسى كرنى ويسى بھرني'' اور يہ ضرب المثل ہمارى اس گفتگو پر بخوبى صادق آتى ہے ، اولاد زيادہ تر اپنے والدين سے سيكھتى ہے اگر وہ اپنے والدين كو ان كے ماں باپ كے ساتھ محبت اور اچھا سلوك كرتے ديكھتى ہے تو خود بھى اپنے والدين سے اچھا سلوك كرتى ہيں اور اگر انہيں برا سلوك كرتے ديكھتى ہيں تو وہ بھى ان سے براسلوك كرتى ہيں_ حضرت امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہيں :

'' برُّوا ابائكم يبركم ابنائوكم'' (۲)

''تم اپنے والدين كے ساتھ نيكى كرو تمہارى اولاد تمہارے ساتھ نيكى كرے گي''_

ي: خدا كا حكم يا والدين كى خواہش ؟

اس كے باوجود كہ خداوند عالم نے ماں باپ كے ساتھ نيكى كرنے اور ان كى رضامندى حاصل كرنے كى بڑى تاكيد ہے_ يہ بات بھى ضرور پيش نظر ركھنى چاہئے كہ اسلام كا يہ حكم اس حد تك قابل عمل ہے جب تك كہ والدين كى خواہشات خدا كے

____________________

۱_ بحارالانوار _ ج ۷۱_ ص ۸۱

۲_ بحارالانوار _ ج ۷۱_ ص ۲۱

حكم سے نہ ٹكرائيں_ ليكن جس موقع پر ان كى خواہشات اسلام كے واجب احكام سے متصادم ہوتى نظر آئيں تو پھر اسلام كے حكم كو فوقيت حاصل ہوگي، قرآن مجيد اس بارے ميں ہمارى راہنمائي فرماتا ہے:

( وان جاهداك على ان تُشرك بى ماليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما فى الدُّنيا معروفاً'' ) (۱)

''اور اگر وہ دونوں اس بات كى كوشش كريں كہ تم جس كے بارے ميں علم اور دليل نہيں ركھتے اسے ميرا شريك قرار دو' تو ان كى بات نہ مانو' اور دنيا ميں ان كے ساتھ نيك سلوك كرو''_

حضرت اميرالمومنين على عليه السلام فرماتے ہيں :

''لاطاعة لمخلوق فى معصية الخالق'' (۲) '' خالق كى نافرمانى ميں مخلوق كى اطاعت نہيں كى جاسكتي''_

____________________

۱_ سورہ لقمان_ آيت ۱۵

۲_ بحارالانوار _ ج ۷۱_ ص ۵


آٹھواں سبق:

تواضع يا انكساري

۱)_ تواضع كے بارے ميں روايات

۲)_تواضع كے آثار

۳)_ تواضع كن لوگوں كے سامنے ؟

۴)_ رسول اكرم (ص) كى تواضع

۵)_ حضرت عيسى عليه السلام سے ايك سبق

۶)_امام زين العابدين عليه السلام كى انكساري

۷)_ تواضع اپناے سے متعلّق چند نكات


''تواضع يا فروتنى '' كے معنى ہيں '' خود كو دوسرں سے چھوٹا ظاہر كرنا ' ،،جسے ''كسرنفسى '' اور '' عاجزى '' بھى كہتے ہيں _ تواضع يا انكسارى ، انسانى روح كے صحيح سالم ہونے كى ايك علامت ہے، انسان دوسروں سے خواہ كتنا ہى بہتر اور برتر ہو ، ليكن پروردگار عالم كى عظمت كا ادراك اسے اس بات پر آمادہ كرتا ہے كہ وہ خدا كے حضور سر جھكا دے اور بندگان خدا كے سامنے انكسارى كا اظہار كرے _

(۱) _تواضع كے بارے ميں روايات :

حضرت امام رضا عليه السلام فرماتے ہيں :

''ان من التواضع ان يجلس الرجل دوں شرفه ''(۱)

'' يہ بات تواضع ميں سے ہے كہ انسان ايسى جگہ پر بيٹھے جو اس كے مقام و

____________________

۱_ اصول كافى _ ج۲ ص۱۲۳ _

منزلت سے كمتر ہو _ '' آپ (ع) ہى كا ارشاد ہے كہ :

''من التواضع ان ترضى بالمجلس دون المجلس وان تسلم على من تلقى وان تترك المراء وان كنت محقاً وان لاتحب ان تحمد على التقوى ''(۱)

'' يہ بھى تواضع ہى ميں سے ہى كہ تم ايسى جگہ پر بيٹھنے پر راضى ہو جائو جو تمہارى شان سے كمتر ہے ، جس سے ملو اس پر سلام كرو ، خواہ تم حق پر ہى ہو پھر بھى لڑائي جھگڑے والى بحث كو ترك كرو اور اس بات كو پسند نہ كرو كہ تمہارے تقوى كى تعريف كى جائے _ ''

حضرت امير المومنين على عليہ السلّام فرماتے ہيں :

'' عليك بالتواضع فانه من اعظم العبادة ''(۲)

'' تم پر تو اضع كرنا واجب ہے ، كيونكہ فروتنى بہت بڑى عبادت ہے _ ''

ايك دن رسالتماب(ص) نے اصحاب سے فرمايا :

''ميںتم ميں عبادت كى مٹھاس كيوں نہيں ديكھ رہا ہوں _ انہوں نے عرض كيا:''حضور(ص) عبادت كى مٹھاس كيا ہوتى ہے؟''فرمايا : ''تواضع_''(۳)

(۲) تواضع كے آثار :

بہت سے اچھے اور نيك كام ايسے ہيں جن كے اخروى اور جنّت كے علاوہ

____________________

۱_ اصول كافى _ ج۲ ص ۱۲۴

۲_ بحارالانوار _ ج ۷۲_ ص ۱۱۹

۳_ جامع السادات _ ج ۱ ص ۳۵۵


دنيوى بركتيں اور دوسرے فوائد بھى ہيں ، جيسا كہ كچھ گناہ ايسے ہوتے ہيں جو اخروى عذاب اور سزا كے علاوہ اس دنيا ميں بھى مصيبت اور تباہى كاموجب ہوتے ہيں ، چنانچہ حضرت اميرالمومنين على عليہ السلّام دعائے كميل كے اوائل ميں انہى كى طرف اشارہ فرماتے ہيں :

اللهم اغفرلي الذنوب التى تغيرا لنعم ' ''

'' خداوندا ميرے وہ گناہ معاف كر دے جو تيرى نعمتوں كو الٹ پلٹ كر ديتے ہيں _''

اب ہم يہاں تواضع جيسى محبوب صفت كے فوائد اور آثار كو بيان كرتے ہيں ، اس اميد كے ساتھ كہ اللہ تعالى ہميں بھى تواضع كرنے والوں ميں سے كچھ قرار دے_

الف : تواضع _ انسان كى سربلندى كا سبب ہے ، چنانچہ رسول اكرم(ص) فرماتے ہيں :

'' ان التواضع لايزيد العبد الا رفعة فتو اضعو ار حمكم الله'' (۱) تواضع انسان كى سر بلندى كے علاوہ كسى چيز ميں اضافہ نہيں كرتى ، لہذا تم تواضع كيا كرو ، خدا تم پر رحمت نازل كرے _ ''

حافظ شيراز ى فرماتے ہيں :

در كوے عشق شوكت شاہى نمى خرند

اقرار بندگى كن و اظہار چاكرى

يعنى عشق كے كوچہ و بازار ميں شاہانہ ٹھاٹھ باٹ كا كوئي خريدار نہيں ہے ،

____________________

۱_ وسائل الشيعہ _ ج ۱۱_ص ۲۱۵


لہذا (اگرعشق كا سودا كرنا ہے تو )بندگى ، غلامى اور نوكرى چاكرى كا اقرار و اظہار كرنا پڑے گا _ ''

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلّام سے روايت نقل كى گئي ہے كہ :

'' ان فى السمآء ملكين موكلين بالعناد فمن تواضع الله رفعاه ومن تكبر فضعاهُ '' (۱) ''آسمان ميں خدا كى طرف سے بندوں پر دو فرشتے مقرر ہيں ' اگر كوئي شخص خدا كے لئے تواضع اور انكسارى كرے تو وہ اسے بلند كر ديتے ہيں اور اگر كوئي شخص تكبرّ كرے تو وہ اسے پست كر ديتے ہيں _ ''

ب تواضع ترّقى كى زينہ ہے _ حضرت امير المومنين على عليہ السلّام فرماتے ہيں :

'' التواضع سلم الشرف '' (۲)

ج تواضع دوسرے كاموں كے منظّم ہونے كا سبب ہے ، حضرت امير (ع) ہى كا ارشاد ہے :

'' بخفض الجناح تنتظم الا مورُ '' ۳

'' تواضع كے سبب بہت سے امور منظم ہو جاتے ہيں _ ''

د تواضع دلوں ميں محبّت پيدا كرتى ہے ، حضرت على عليہ السلّام فرماتے ہيں كہ :

____________________

۱_ وسائل الشيعہ_ ج ۱۱_ ص ۲۱۵

۲_ شرح غررالحكم_ ج۱_ ص ۲۶۳

۳_ شرح غررالحكم_ ج ۳_ ص ۲۲۹


ثمرة التواضع المحبّةَ ''

'' تواضع كا پھل محبت ہے ''

(۳)_ تواضع كن لوگوں كے سامنے ؟

اسلامى نقطہ نظر سے ، تواضع صرف دينى بزرگوں ، علمى شخصتيوں اور خدا كى ذات پر ايمان ركھنے والے افراد ہى كے لئے ہونى چاہيئے ، ليكن ذليل لوگوں ، مغروروں يا دولتمندوں كے سامنے ان كى قدرت ، طاقت اور مال و دولت كى وجہ سے تواضع بہت ہى مذموم فعل ہے، اگر خدا كى خوشنودى اور رضا كے حصول سے ہٹ كر كسى اور مقصد كے لئے تواضع كى جائے تو وہ ''ذلّت ،، ميں بدل جائے گى اور انسان كى حقارت اور اس كى انسانى عظمت كى پستى كا موجب بن جائے گى _

''من اتى غنيا يتواضع له لاجل دنياه ذهب ثلثا دينه '' (۱) ''جو كسى مالدار شخص كے پاس جاكر اس دولت و دنياكى وجہ سے اس كے سامنے تواضع كرتا ہے تو اس كا دوتہائي دين ختم ہو جاتا ہے ''_

(۴) _ رسول اكرم (ص) كى تواضع :

خدا وند عالم كے برگزيدہ لوگوں ميں سے رسول خدا محمّدمصلفى صّلى اللہ عليہ وآلہ وسّلم كى ذات وشخصيت اعلى درجہ كى حامل تھى ، ليكن اس كے باوجود آپ(ع) كے اندر اعلى درجہ كى فروتنى اور انكسارى پائي جاتى تھى _

آپ(ص) تواضع كى بنا پر اپنى بھيڑ بكريوں كو خود ہى چارہ ديتے تھے ،اپنے مقّدس

____________________

۱_ بحارالانوار_ ج ۷۵_ ص ۶۹


ہاتھوں سے ان كا دودھ دوہتے تھے ، اپنے پھٹے پرانے كپڑوں اور جوتوں كو خود ہى ٹانكے لگاتے تھے ، اپنے نوكروں كے ساتھ بيٹھ كر كھانا كھاتے تھے ، چكّى پيسنے ميں اپنے خدمتگاروں كا ہاتھ بٹاتے تھے ، بازار سے سودا سلف خريد كر اپنے گھر خود لے جاتے تھے ، ہر امير غريب اور چھوٹے بڑے شخص سے مصافحہ كرتے تھے ، سلام كرنے ميں پہل كرتے تھے اور تمام مومنين كى دعوت كو قبول فرماتے تھے(۱)

(۵) _ حضرت عيسى عليه السلام سے ايك سبق :

ايك دن حضرت عيسى _نے اپنے ساتھيوں سے فرمايا : '' تم سے ميرى ايك درخواست ہے '' انہوں نے عرض كيا : '' اے روح خدا حكم فرمائيں ، ہم آپ كى خدمت ميں حاضر ہيں '' ،فرمايا : '' آج ميں چاہتا ہوں كہ تمہارے پائوں دھلائوں ''_

يہ كہا اور اٹھ كھڑے ہوے اور ان كے پائوں دھلا دئے _ انہوں نے عرض كيا : ''اے روح خدا يہ كام تو ہميں كرنا چاہئے ، آپ نے ايسا كيوں كيا ؟ ، فرمايا :

'' لوگوں كى خدمت كرنے ميں عالم اس بات كا زيادہ حقدار ہوتا ہے ، ميں نے اس طرح سے تواضع كر كے تمہيں سبق ديا ہے كہ ميرے بعد تمہيں لوگوں كے درميان تواضع سے كام لينا ہے _ ''

پھر فرمايا : ''تواضع ہى كى وجہ سے حكمت اور دانائي كى عمارت استوار ہوتى ہے نہ كہ تكبرّ كى وجہ سے ' زراعت ہموار زمين ميں نشوونما پاتى ہے نہ كہ پہاڑوں پر _ '' ۲

____________________

۱_ بحارالانوار ۰ ج ۷۰_ ص ۲۰۸

۲_ اصول كافى _ ج۱_ ص ۴۵ _ ترجمہ مصطفوي_


(۶) حضرت امام زين العابدين (ع) كى انكسارى :

حضرت امام محمد باقر عليه السلام فرماتے ہيں كہ ميرے والد ( امام زين العابدين عليہ السلّام ) ايسے لوگوں كے ساتھ سفر كرتے تھے جو انہيں نہيں پہچانتے تھے ، اور قافلہ والوں سے يہ عہد ليتے تھے كہ ميں تمہارى ضروريات كو پورا كروں گا _

ايك سفر كے دوران آپ(ع) مسافروں كى خدمت ميں سرگرم عمل تھے كہ ايك شخص نے آپ(ص) كو پہچان ليا ، اور قافلہ والوں سے كہا :

'' تمہيں معلوم نہيں كہ يہ كون ہيں ؟ يہ تو على ابن الحسين (عليه السلام) ( امام زين العابدين (عليه السلام) ) ہيں _ ''

يہ سنكر سب لوگ آپ(ع) كے گرد جمع ہو گئے اور آپ(ع) كے ہاتھ پائوں كو بوسے دينے لگے، اورعرض كرنے لگے فرزند رسول (ص) آيا آپ (ع) چاہتے ہيں كہ ہم جہّنم ميںچلے جائيں ؟ اگر ہم آپ(ع) كى شان ميں گستاخى كرتے تو بدبخت ہو جاتے ، آخر آپ(ع) ايسا كيوں كر رہے ہيں ؟

امام (ع) نے جواب ديا : '' ايك مرتبہ ميں نے واقف كار لوگوں كے ساتھ سفر كيا ، انہوں نے رسول (ص) خدا كے احترام كى وجہ سے ميرا بے حداحترام كيا ، مجھے اس بات كا خوف تھا كہ تم لوگ بھى ميرے ساتھ وہى سلوك كرو ، اسى لئے ايك اجنبى كى صورت ميں نے تمہارے ساتھ سفر كو اختيار كيا ''(۱ )

____________________

۱_ سفينة البحار _ ج ۱_ ص ۳۸۲


(۷) تواضع سے متعلّق چند نكات :

۱) ہم سلام كرنے ميں دوسروں سے پہل كريں اور كسى سے سلام كى اميد نہ ركھيں _

۲) مجلس ميں جہاں جگہ خالى ہو وہيں بيٹھ جائيں _

۳) دوسرے لوگوں پر حكم نہ چلائيں يا انہيں كسى كام كا حكم نہ ديں _

۴) اپنے ذاتى كاموں كو خود انجام ديں _

۵) اپنے ماتحت لوگوں كو اپنا معاون سمجھيں _

۶) ......بحث و مباحثہ اور لڑائي جھگڑا سے دور رہيں _

۷) خدا ہى كے لئے كام كريں اور لوگوں سے داد وتحسين وصول كرنے كى اميد نہ ركھيں _

۸) خود كو قيمتى اور فاخرہ لباس پہننے كا پابند نہ بنائيں _

۹) سفر كے دوران اپنے ہمسفر لوگوں كى خدمت كريں

۱۰) حق اور حق كے قانون كى اطاعت كريں _

۱۱) بزرگوں كى زندگى كا مطالعہ كريں اور اس سے سبق حاصل كريں _


فہرست

پيش لفظ: ۵

پہلا سبق: ۷

اخلاق حسنہ ۷

۱)_'' حسن خلق'' كا معني: ۷

اسلام ميں اخلاق حسنہ كا مقام: ۸

۲)_معصومين (ع) كے ارشادات: ۹

۳)_اخلاق معصومين (ع) كے چند نمونے: ۱۰

۴)_ حسن خلق كے ثمرات و فوائد: ۱۲

الف: ... دُنيوى فوائد: ۱۲

ب: ...اُخروى فوائد: ۱۴

۵)_بدخلقي: ۱۵

۶_بداخلاقى كا انجام: ۱۶

دوسرا سبق: ۱۸

نظم و ضبط ۱۸

۱_اسلام ميں نظم وضبط كى اہميت: ۱۹

۲_نجى اور فردى زندگى ميں نظم وضبط كى اہميت: ۲۰

الف:___صفائي: ۲۰

ب:___ سنوارنا: ۲۱

۳_ معاشرتى زندگى ميں اس كى اہميت: ۲۳


۴_عہدوپيمان ميں اس كى اہميت: ۲۵

۵_عبادت ميں اس كى اہميت: ۲۷

۶_ اخراجات ميںاس كى اہميّت: ۲۸

۷_محاذ جنگ اور عسكرى امور ميں نظم وضبط كى اہميّت : ۲۹

تيسرا سبق : ۳۳

سچ اور جھوٹ ۳۳

۱) .........سچ اور جھوٹ كيا ہيں ؟ ۳۴

۲) ...سچّائي انبياء (ع) كے مقاصد ميں سے ايك ہے : ۳۶

۳) جھوٹ كے اثرات : ۳۷

الف: جھوٹ ، انسان كى شرافت اور اس كى شخصيت كے منافى ہے ، ۳۷

::: ب: جھوٹ ، ايمان كو برباد كر ديتا ہے _ ۳۷

ج: جھوٹ دوسرے گناہوں كا سبب بنتا ہے ۳۷

د: جھوٹ ، كفر سے قريب ہے _ ۳۸

ھ: ......جھوٹ بولنے والے پر كوئي اعتماد نہيں كرتا ، ۳۸

۴) ......جھوٹ كى وجوہات : ۳۹

الف: احساس كمتري: ۳۹

ب: سزا اور جرمانہ سے بچنے كيلئے : ۳۹

ج: منافقت اور دوغلى پاليسي_ ۴۰

د: ايمان كا فقدان: ۴۰

۵_جھوٹ كا علاج: ۴۱


چوتھا سبق: ۴۳

ناروا گفتگو اور بدكلامي ۴۳

۱) ... تمہيد: ۴۴

۲) امام صادق عليه السلام كا بدزبان شخص سے قطع رابطہ : ۴۵

۳) ... بدكلامى كا انجام: ۴۶

ب: ... بدزبان شخص كى دعا قبول نہيں ہوتي_ ۴۷

ج: ... بدزبان شخص پر جنت حرام ہي_ رسول خدا (ص) فرماتے ہيں : ۴۷

د: ... بدزباني' نفاق كى علامت ہي_ ۴۸

ھ: ... بدزبان شخص كا شمار' بدترين لوگوں ميں ہوتا ہي_ ۴۸

و: ... بدزبانى كى وجہ سے انسان كى زندگى سے بركت اٹھ جاتى ہے اور وہ تباہ وبرباد ہوجاتاہي_ ۴۸

۴) ... معصوم پيشوائوں (ع) كے كردار: ۴۹

۵) ... بدزبانى كا علاج: ۵۲

ساتواں سبق : ۵۶

غيبت اور تہمت ۵۶

(۱)_غيبت اور تہمت كے معني: ۵۷

(۲)_قران اور حديث ميں غيبت كى مذمّت : ۵۸

(۳)مومن كى غيبت سے بچنا چاہيي: ۵۹

(۴)_غيبت كے الات (غيبت كا سر چشمہ): ۶۰

(۵)_غيبت كے اسباب: ۶۱

۶)غيبت كا كفا رہ : ۶۲


قرآن و حديث ميں تہمت كى مذمّت : ۶۳

چھٹا سبق: ۶۶

بھائي چارہ اور اتّحاد ۶۶

(۱) _ تمہيد: ۶۷

(۲) _اخّوت ، ايك خدائي نعمت : ۶۹

(۳)_دينى بھا ئيوں كے حقوق: ۷۰

(۴)_ بہترين بھائي : ۷۲

۵)_ اتحاد' ايك قرآنى حكم: ۷۳

۶)_ فرقہ بندى كے خطرات :_ ۷۴

۷)_تفرقہ پر دازى ايك سامراجى كا شيوہ: ۷۷

فرقہ بعدى ، خدا كا ايك عذاب : ۷۸

ساتواں سبق : ۸۰

والدين كے حقوق ۸۰

(۱)_معصومين (ع) كے كلام كى روشنى ميں : ۸۴

(۲)_ اويس قرنى كا سبق آموز كردار : ۸۶

( ۳) _ باپ كا احترام ، امام زمانہ (ع) كا فرمان : ۸۷

۴)_ والدين كيلئے اولاد كا فريضہ : ۸۸

(۵)_مرنے كے بعد ياد ركھنا : ۸۹

(۶)_ والدين سے نيك سلوك كا انجام: ۹۰

الف: جنت ميں پيغمبروں (ص) كے ساتھ ہم نشيني_ ۹۰


ب: عمرميں اضافہ كا موجب_ ۹۱

ج: رسول خدا (ص) اور ائمہ طاہرين عليہم السلام كى رضا كا سبب ہے_ ۹۱

د: حج كا ثواب_ ۹۲

ھ: موت كى آساني_ ۹۲

ذ: اپنى اولاد كى نيكى كا سبب ہے_ ۹۳

ي: خدا كا حكم يا والدين كى خواہش ؟ ۹۳

آٹھواں سبق: ۹۵

تواضع يا انكساري ۹۵

(۱) _تواضع كے بارے ميں روايات : ۹۶

(۲) تواضع كے آثار : ۹۷

(۳)_ تواضع كن لوگوں كے سامنے ؟ ۱۰۰

(۴) _ رسول اكرم (ص) كى تواضع : ۱۰۰

(۵) _ حضرت عيسى عليه السلام سے ايك سبق : ۱۰۱

(۶) حضرت امام زين العابدين (ع) كى انكسارى : ۱۰۲

(۷) تواضع سے متعلّق چند نكات : ۱۰۳


آداب معاشرت

آداب معاشرت

مؤلف: اسلامى تحقيقاتى مركز
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 108