اسلامی اخلاق

مؤلف: احمد دیلمی ومسعود آذر بائیجانی
اخلاقی کتابیں


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


اسلامی ا خلاق

مولف: احمد دیلمی ومسعود آذر بائیجانی

shianet.in


پہلا باب : اخلاق کے اصول

پہلی فصل: کلّیات

علم اخلاق کیا ہے ؟ اس کا موضوع اور ہدف کیا ہے؟ دوسرے علوم سے اس کا کیا رابطہ ہے؟اخلاق کی تعلیم کیوں ضروری ہے ؟ مسلمان علماء کے درمیان موجود اخلاقی نظریات اور اُن کے طریقوں کی قسمیں کون سی ہیں؟

یہ وہ اہم سوالات ہیں جو علم اخلاق کے مسائل شروع ہوتے ہی ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ان کا مناسب اور شائستہ جواب نہ صرف اس علم کے موضوع، حدود اور مقام و منزلت کے واضح ہونے کا سبب بنے گا بلکہ ہماری امیدوںکی اصلاح کے ساتھ بہت سے ایسے شبہات اور ابہامات کو بڑھنے سے روک سکتا ہے جو ممکن ہے بعد کی بحثوں میں سامنے آسکتے ہیں۔

الف۔ علم اخلاق سے واقفیت

علم اخلاق کی ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات اور مفاہیم کا واضحہونا ضروری ہے:

١۔ لفظ اخلاق کا لغوی مفہوم

اخلاق خُلق کی جمع ہے جس کے معنی انسان کی باطنی قدرت اور عادت کے ہیں، جسے باطنی آنکھوں سے نہیں بلکہ چشم بصیرت سے درک کیا جا سکتا ہے یہ(خُلق) خَلق کے مقابلہ میں ہے جو ظاہراً قابل حس و درک شکل وصورت کے معنی میں ہے اور ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے۔(١)

اسی طرح خُلق کو واضح و پائیدار نفسانی صفت بھی کہتے ہیں کہ انسان اپنی صفت کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے اعمال کو انجام دیتا ہے۔مثلاً اگر کوئی انسان شجاع ہے تو وہ اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے میں شش وپنج میں نہیں پڑتا۔ یہ باطنی وراسخ وثابت حالت، ممکن ہے کسی انسان میں طبیعی، ذاتی و فطری طور پر پائی جاتی ہو جیسے کوئی

____________________

١۔ اصفہانی، راغب: معجم مفردات الفاظ قرآن، ص: ١٥٩۔


جلدی غصہ میں آجاتا ہے یا معمولی بات پر خوش ہو جاتا ہے۔خُلق پیدا ہونے کے دوسرے عوامل واسباب وراثت، تمرین و تکرار ہیں۔ مثلاًیہ کہ کوئی پہلے شجاعت والے کاموں کو تردّد اور تذبذب کی حالت میں انجام دیتا ہے پھر تمرین کی وجہ سے تدریجاً اس کے اندر شجاعت کی پائدار صفت اس طرح وجود میں آجاتی ہے کہ اُس کے بعد کسی جھجک کے بغیر شجاعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔(١)

یہ باطنی و نفسانی راسخ صفت ممکن ہے '' فضیلت'' یعنی اچھی خصلتوںکا سبب قرار پائے اور ممکن ہے ''رذیلت '' یعنی برائی اور بدکرداری کی ہو جائے۔بہر حال اُسے خُلق کہا جاتا ہے۔

٢۔علم اخلاق کی تعریف

اسلامی علوم میں علم اخلاق کے مستند و معروف اور سب سے اصلی منابع کی طرف رجوع کرنے سے اور قرآن واحادیث میں اس کے استعمال کے مقامات پر دقت کرنے سے علم اخلاق کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے: علم اخلاق وہ علم ہے جو ا چھی ا و ر بری نفسانی صفات اور ان کے مطابق اختیاری اعمال و رفتار کو بیان کرتا ہے اور ا چھی نفسانی صفات کو حاصل کرنے، پسندیدہ اعمال کو انجام دینے اور بری نفسانی صفات اور نا پسندیدہ اعمال سے پرہیز کرنے کے طریقوں کو بتاتا ہے۔(٢)

اس تعریف کی بناء پر علم اخلاق ا چھی ا و ر بری صفات کے بارے میںگفتگو کرنے کے علاوہ ان کے مطابق انجام پانے والے اعمال و رفتار کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نفسانی یا عمل فضائل تک پہنچنے اور برائیوں سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے۔

اس طرح علم اخلاق کے موضوع کو یوں بیان کیا گیا ہے: اچھی اور بری صفات اور اعمال، اس وجہ سے کہ انسان کے لئے ان کا حاصل کرنا اور انجام دینا یا ترک کرنا ممکن ہو۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: ابن مسکویہ: تہذیب الاخلاق و طہارة الاعراق، ص: ٥١۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج: ١، ص: ٢٢۔

٢۔ رجوع کیجئے: ابن مسکویہ: تہذیب الاخلاق، ص ٢٧، طوسی۔ خواجہ نصیر الدین: اخلاق ناصری: ص ٤٨۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج ١، ص ٢٦، ٢٧۔ صدر الدین شیرازی: الاسفار الاربعة، ج ٤، ص ١١٦، ١١٧۔


چونکہ انسان کے ا چھے اور برے صفات اور اس کے طرز عمل کی بازگشت اس کی جان و روح سے وابستہ ہے اس لئے بعض اخلاقی دانشوروں نے انسانی نفس کو علم اخلاق کا موضوع قرار دیا ہے۔(١) علم اخلاق کا آخری ہدف یہ ہے کہ انسان کو اس کے حقیقی کمال و سعادت تک پہنچائے کہ یہی کائنات اور انسان کی خلقت کا اصلی مقصد ہے. اس کمال و سعادت کی واقعی تفسیر اور اس کا محقق ہونا، اس بات میں ہے کہ انسان اپنی استعداد اور ظرفیت کے مطابق، نفسانی صفات اور کردارمیں الٰہی اسماء اور صفات کا مظہر بن جائے تاکہ جہاں پوری طبیعی دنیا کسی ارادہ کے بغیر، خدا کے جمال وجلال کی تسبیح میں مشغول ہے، وہیںانسان اپنے اختیار اور اپنی آزادی کے ساتھ سب سے زیادہ گویا، مقرب اور مکمل الٰہی مظہر بن کر سامنے آجائے۔

٣۔ اخلاق کا فلسلفہ

اخلاقی گفتگو میں قبل اس کے کہ ا چھی ا و ر بری صفات و اعمال کے مصادیق کو معین کیا جائے اور ان کو حاصل کرنے یا ان سے پرہیز کرنے کے طریقوں کو بیان کیا جائے، بعض ایسے بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں جو دوسرے اخلاقی مباحث پر مقدم ہیں اور مخصوصاً عقلی ماہیت رکھتے ہیں۔ اُن میں سے کچھ سوالات مندر جہ ذیل ہیں:

''اچھے'' اور' 'برے '' جیسے الفاظ اور عناوین کا مفہوم کیا ہے ؟

اخلاقی مفاہیم کی ماہیت و حقیقت کیا ہے ؟

اخلاقی قضیوں کی زبان، انشائی ہے یااخباری ؟

صحیح یا غلط اخلاقی قضیوں کا مبدأ اور معیار کیا ہے ؟

کسی اچھی یا بری صفت یا رفتار کا معیار کیا ہے ؟

آیااخلاقی قضیے مطلق (عالمی اور دائمی) ہیں یا نسبی(زمانی و مکانی ہیں) ؟

اخلاقی ذمہ داری کی حدیں اور شرطیں کیا ہیں ؟

اخلاقی مباحث وتحقیقات کا وہ حصہ جو اِن بنیادی سوالوں کا جوابدہ ہے اسے فلسفۂ اخلاق کہتے ہیں۔ اگر چہ اس کے مباحث کی ماہیت حتمی اور ہمیشہ عقلی نہیں ہوتی ہے، خاص طور سے فلسفۂ اخلاق کے جدید مکاتب فکر میں زبان و ادب کے لحاظ سے بھی (پہلے سوال کے مانند) گفتگو ہوتی ہے۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٢٦۔


٤۔ اخلاقی تربیت

لغت میں تربیت کے معنی کسی شئے کی صلاحیتوں کو پرورش دینا ہے۔یہ صلاحیتیں ممکن ہے جسمی و مادّی، علمی و عقلی ہوں اور ممکن ہے وہ قابلیتیں اخلاقی ہوں۔

اخلاقی تربیت سے مراد، پسندیدہ اخلاقی صفات و کردار کے حصول میں باطنی صلاحیتوں کو پرورش دینا، بلند اخلاقی فضائل کو حاصل کرنا اور برائیوں سے پرہیز اور ان کو نابود کرنا ہے۔اس بناء پر تربیت اخلاقی کا اہم کام، اخلاقی صلاحیتوں کو پیدا کرنا اور اخلاقی کمالات تک پہونچنا ہے۔ جبکہ علمی تربیت میں اصل مقصد علمی قابلیتوں کی پرورش کرنا اور اس کے اعلیٰ مراتب کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔اس بناء پر انسان کو ایک آلہ اور وسیلہ کی حیثیت دیکھاجاتا ہے۔

اخلاقی تربیت کا ربط علم اخلاق کے ایک اہم حصے سے ہے اور چونکہ اس کی اکثر باتیںعمل سے متعلق ہیں لہٰذا اس حصہ کو کبھی اخلاق عملی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں اخلاقی مباحث کا وہ حصہ جو اخلاقی لحاظ سے اچھائیوں اوربرائیوں کی تعریف کرتا ہے اُسے کبھی اخلاق نظری کے نام سے یاد کرتے ہیں۔


ب۔ علم اخلاق اور دوسرے علوم

علم اخلاق بھی دوسرے علوم کی طرح بعض موجودہ علوم سے مربوط ہے۔ہم یہاں دوسرے علوم پر علم اخلاق کے اثر اور اس سے مربوط بعض علوم جیسے علم فقہ، عرفان عملی و علوم تربیتی کا ایک جائزہ پیش کریں گے۔

١۔ علم اخلاق اور فقہ

علم فقہ مکلّف انسان کے اعمال و رفتار کے بارے میں دو جہت سے بحث کرتا ہے:

الف۔ اُخروی آثار کے لحاظ سے یعنی ثواب وعقاب کے لحاظ سے، جو واجب و حرام جیسے عناوین کے تحت بیان ہوتے ہیں۔

ب۔ دنیاوی آثار کے لحاظ سے جس میں صحیح و باطل جیسے عناوین کے تحت گفتگو ہوتی ہے۔

فقہ کی پہلی قسم کے احکام کی حیثیت اخلاقی ہے اور ان میں سے بہت سے علم اخلاق سے مربوط ہیں۔


فقہ کی دوسری قسم کے احکام کا ربط علم اخلاق سے نہیں ہے، ان کی حیثیت صرف فقہی اور حقوقی ہے۔(١)

٢۔ علم اخلاق اور حقوق

علم حقوق کا موضوع، معاشرے کے لئے وہ لازم الاجراء قوانین ہیں جنہیں حکومت پیش کرتی ہے اور وہ اس کی ذمہ دار ہے۔ اس بناء پر علم حقوق کا ربط فقط انسان کی اجتماعی و دنیاوی زندگی سے ہے اور اس کے سارے قوانین سب کے لئے ہوتے ہیں اور ان کا اجراء دنیاوی فلاح کے لئے ہوتا ہے۔ جبکہ علم اخلاق کا ربط، انسان کی فردی زندگی سے بھی ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری بھی نہیں ہوتا۔اس طرح اخلاق کا ربط، فردی و اجتماعی زندگی سے بھی ہے اور اس میں بعض پر عمل ضروری اور بعض پر عمل ضروری نہیں ہوتا ہے ۔ وہ اخلاقی احکام جن کی حقوقی حیثیت نہیں ہوتی۔(٢)

اور اُن میں دنیاوی فائدے بھی نہیں ہوتے وہ پاکیزگی ٔ نفس کے لئے اور اُخروی لحاظ سے لازم الاجرء ہوتے ہیں۔

علم اخلاق اور حقوق میں فرق ہونے کے باوجود دونوں میں یگا نگت بھی پائی جاتی ہے۔ ایک طرف حقوق عدالت اجتماعی کے اجراء میں جس کا شمار بلند اخلاقی اقدار میں ہوتا ہے، اخلاق کے لئے معاون ثابت ہوتا ہے تو دوسری طرف علم اخلاق، اخلاقی خوبیوں کی ترویج اور برائیوں سے مقابلہ کر کے معاشرے کو پاک و پاکیزہ بناتا ہے۔ اس طرح یہ معاشرے میں نظم و ضبط اور عدالت برقرار کرکے علم حقوق کا بہترین معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس وجہ سے دونوں میں سے کسی ایک کا بھی نہ ہونا معاشرے کے لئے بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔

٣۔ علم اخلاق اورعرفان عملی

عرفان ایک علمی اور ثقافتی نظام ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں: نظری اور عملی۔عرفان نظری کا رابطہ ہستی (وجود)، یعنی خدا، دنیا اور انسان سے ہے۔ عرفان کی یہ قسم فلسفہ سے زیادہ مشابہ ہے۔ عرفان عملی، خدا، دنیا اور خود سے

____________________

١۔ البتہ کبھی کبھی اُن احکام کو جن پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے مثلاً مستحب و مکروہ، احکام اخلاقی یا آداب کہا جاتا ہے اور فقہ میں ان کے شامل ہونے کا معیار حکم کا لازم ہونا مانا جاتا ہے۔ یہ استعمال صرف ایک خاص اصطلاح ہے اور عام طور پر اس کا واسطہ اخلاق سے نہیں ہے۔

٢۔غیر مذہبی حقوقی نظام میں حقوق کو اخلاق کے مقابل قرار دیاگیا ہے اور اُن دونوں کے لئے مشترک حدود اور موضوعات کے قائل نہیں ہیں۔ لیکن اسلامی حقوقی نظام میں بعض اجتماعی زندگی کے طریقے، اخلاقی ماہیت بھی رکھتے ہیں اور حقوقی ماہیت بھی۔جس کے نتیجہ میں وہ حقوقی حکم اور اجراء کی ضمانت بھی رکھتے ہیں، جیسے چوری اورقتل۔


انسان کے رابطے اور ان کے فرائض کوبیان کرتا ہے۔ عرفان کی یہ قسم جس کو سیر و سلوک کا علم بھی کہتے ہیں، علم اخلاق سے زیادہ مشابہ ہے۔ عرفان عملی میں گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ سالک کو انسانیت کی معراج (توحید) تک پہنچنے کے لئے کہاں سے آغازاور کن منزلوں کو ترتیب سے طے کرنا چاہئے اور اس سفر کی منزلوں میں کون سے حالات، اس سے روبرو ہوسکتے ہیں اور اس کے سامنے کون سے واقعات پیش آئیں گے۔ البتہ یہ تمام مراحل اس کامل اور تجربہ کار انسان کے زیر نظر ہوں جو خود اس سفر کو طے کر چکا ہو اور ان منزلوں کے قاعدے اور قانون سے آگاہ ہو اور اگر انسان کامل کی رہنمائی ہمراہ نہ ہو تو گمراہی کا خطرہ ہے۔(١)

اس طرح عرفان عملی کی بحثیںخاص طور پر اخلاقی تربیت اور معنوی مقامات تک پہنچنے کے طریقوں اور وسیلوں کے ارد گرد گھومتی ہیںاور حقیقت میں یہ مسئلہ علم اخلاق کے اصلی موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔

٤۔علم اخلاق اور تربیتی علوم

تربیتی علوم، علم نفسیات کے نتیجوں سے بہرہ مند ہو کر اور انسان کے سلیقوں پر حاکم قوانین کوپہچنواکر اور اُن فارمولوں سے آگاہی کی کوشش کر کے جو انسان کے عمل اور رد عمل کے دائر ہ میں ہیں، شکل اختیار کرتے ہیں اور علمی، اخلاقی و فنی مہارتوں کی قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لئے وسائل امکانات فراہم کرتے ہیں اور اگر ان کی توجہ اخلاقی عوامل پر ہے تو ان کی اُن عاملوں پر نظر وسیلہ اور آلہء کار کی حثیت رکھتی ہے اور چونکہ اخلاقی فضیلتوں کی وجہ سے تربیتی مرحلوں کو طے کرنے میں مدد ملتی ہے، لہٰذا اُن پر بھی توجہ کر تے ہیں۔(٢)

اگر چہ علم اخلاق اس سے بلند ہے کہ اس کو تربیت کے ایک وسیلہ کے عنوان سے پہچنوایا جائے لیکن بعض اخلاقی حدود میں علم اخلاق اور تربیتی علوم (دونوں) حدود اور مسائل میںاخلاق علمی کے مانندمشترک ہیں۔

علم اخلاق اس (اخلاق علمی کے) دائرہ میں بھی، اصل علم وموضوع اور متعلقات پر اخلاقی نظر رکھتا ہے اور معلم وشاگرد کے مقاصد کو بھی اخلاقی لحاظ سے منظم کرتا ہے اور ساتھ ہی ان کے ایک دوسرے سے متعلق رابطوں کو، اخروی معیار کے مطابق مستحکم کر تا ہے۔ علو م تربیتی کی تربیت کر نے والے ان اخلاقی فارمولوں سے اور علم نفسیات کی معلومات نیز، خطا و آزمائش کے نتیجوں سے بہرمند ہوکر اپنے بلند اور قیمتی اہداف تک تیزی سے اور آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: شہید مطہری، مرتضیٰ: آشنائی باعلوم اسلامی (عرفان) ص: ١٨١، ١٨٦۔

٢۔ تعلیم وتربیت کی تعریف اور ماہیت کے سلسلہ میں مجموعی نظریات سے زیادہ معلومات حاصل کر نے کے لئے''فلسفہء تعلیم وتربیت، دفتر ہمکاری حوزہ ودانشگاہ، جلد اول، بخش دوم، ، کی طرف رجوع کیجئے۔


ج۔ اخلاق سے متعلق نظریات

اخلاق کے بارے میںمسلمانوں کے درمیان خاص طور سے علمائے علم اخلاق کے درمیان تین نظریات پائے جاتے ہیں ابتداء میں اِن تین نظریوں کے بارے میں اجمالی طور پر گفتگو کی جائے گی پھر ان میں مورد قبول نظریہ کو پیش کیا جائے گا۔

١۔فیلسوفوں کا نظریۂ اخلاق

اس مکتب فکر کے افراد، افراط و تفریط کے مقابلہ میں جو رذائل اخلاقی میں سے ہیں، اخلاقی فضائل کے لئے حد اعتدال کو اختیار کرتے ہیں اور خوبی و بدی کے لئے اسی کو کسوٹی قرار دیتے ہیں۔اس بناء پر چونکہ انسان کے عمل کا سرچشمہ نفسانی قوتیں ہیں لہٰذا اس کے اعمال و کردار باطنی قوتوں میں اعتدال یا عدم اعتدال سے مربوط ہیں اس بناء پر اس مکتب میں قوائے نفسانی میں اعتدال اور اس میں افراط وتفریط سے بحث ہوتی ہے اور تمام دینی اخلاقی باتوں کو اسی معیار پر پیش کیا جاتا ہے۔ تربیت اخلاقی کے بارے میں یہ مکتب نفسانی قوتوں میں اعتدال کی نصیحت کرتا ہے ۔ ابن مسکویہ کی تہذیب الاخلاق و طہارت الاعراق، نصیر الدین طوسی کی اخلاق ناصر ی اور کافی حد تک جامع السعادات، تصنیف مولیٰ محمد مہدی نراقی اسی مکتب ونظریہ کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں۔

اعتدال کی توضیح کے سلسلہ میں موجود مشکلوں کی وجہ سے نیز اخلاق کے تمام مفاہیم کی تفسیر میں جامعیت کے نہ ہونے کی بناء پر یہ مکتب تنقید کا شکار ہوا ہے اور چونکہ یہ موضوع علمی اور بہت زیادہ خشک ہے لہٰذا علماء اور فلاسفر کو چھوڑ کر عوام کے درمیان رائج نہ ہو سکا۔(١)

٢۔ عارفوں کا نظریۂ اخلاق

یعنی وہ اخلاق جس کو رائج کرنے والے صوفی اور عرفاء تھے۔اس طرح کے اخلاق نے جس کازیادہ دار ومدار اخلاقی تربیت اور سیر سلوک پر ہے، ایک تربیتی نظام کو رائج کرنے اور اس کے آغاز وانجام و مراحل کے علاوہ

____________________

١۔ استاد مطہری، مرتضیٰ: تعلیم وتربیت در اسلام، ص: ٢٠٠۔


اس راہ پر چلنے کے لئے ضروری وسیلوں کو معیّن کرنے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ عارفانہ اخلاق کا محور (اصل مقصد) نفس سے جنگ وجہاد کرنا ہے۔پرہیز گار عارفوں کی ہمیشہ یہ کوشش تھی کہ اپنے اعمال و کردار کو شریعت کے ظاہر و باطن کے مطابق قرار دیں اور اس سلسلہ میں اُنھوں نے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ان لوگوں نے اسی طرح دل اور محبت کی قدرت پر زور دے کر اور اشعار کی نفوذی زبان سے استفادہ کر کے اور تشبیہات واستعارات وکنایات کو استعمال کر کے لوگوں کے درمیان زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے۔خواجہ عبداﷲ انصاری کی لکھی ہوئی کتاب ''منازل السائرین، ، اور بہت سے معنوی وعرفانی مضامین والے فارسی اشعار کے معتبر دیوان جیسے مولوی کی مثنوی معنوی اور عطار نیشاپوری کی منطق الطیر اسی طرح کے اخلاق کو بیان کرتی ہیں۔

اس نظریۂ اخلاق میں بھی متعدد نظریات پائے جاتے ہیں۔اس مکتب کا تنقیدی جائزہ اور اس کی قدر وقیمت کو طے کرتے وقت ضروری ہے کہ اس بات پر بھی توجہ کی جا ئے کہ اُن نظریات کو بطور کلی تقسیم کر نے پراُن کے دو گروہ بنتے ہیں:

پہلا گروہ: وہ نظریات جو معنوی سلوک میں اصولی طور پر شریعت کی پابندی کو ضروری نہیں جانتے یا مختصر مدت اور ایک خاص مرحلہ تک ہی لازم مانتے ہیں۔

دوسرا گروہ: وہ نظریات جو شرعی احکام کی پابندی کو بلند معنوی مقامات تک پہنچنے کے لئے تنہا راستہ اور اسے ہمیشہ ضروری جانتے ہیں۔

پہلے گروہ کی قدر وقیمت کا اگر اندازہ لگایا جائے توکہا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ ایک طرح سے نفس سے جنگ کرنے

میں افراط کا شکار ہوگئے اور اخلاق اسلامی کو زندگی سے موت کی طرف لے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اخلاق میں غور و فکر کی اہمیت کو بھی کافی حد تک فراموش کرچکے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ لوگ ایسی تعلیمات سے نزدیک ہو گئے ہیں جو قرآن وسنت کے بر خلاف ہے مثلاًخود پرستی (تکبر) اور نفس سے جہاد کے بہانے، نفس کی عزت اور کرامت کو فراموش کر دیا ہے۔


حالانکہ اخلاق اسلامی میں نفس کی شرافت و کرامت نہ صرف ایک اخلاقی فضیلت ہے(١) بلکہ اسے حاصل کرنا اور تقویت پہنچانا تربیت کا خود ایک طریقہ ہے۔(٢)

لیکن عرفانی نظریہ کے دوسرے گروہ والے جو شریعت سے وفاداری کو اپنی تعلیم کے لئے سرِ لوح (بنیاد) اور لازم قرار دیتے ہیں، معنوی سفر کے قاعد وں کو منظم کرنے اوراُن کے مبدأ و مقصد اور اس سفر کے مرحلوں کو معین کرنے سے حاصل نتیجوں کواور ان قدرتمند عناصر (جیسے محبت، ذکر، معنوی بلندی کے لئے نظارت) کے استعمال کر نے کی کیفیتوں کو جو اخلاقی تربیت کے سلسلہ میں بہت ہی کار آمد و مفید ہیں، اپنے ہمراہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اِن تمام امور کو قرآن و روایات کے مطابق جانتے ہیں۔ تربیت کے ان جذاب نتیجوں کو اخلاق اسلامی کے توصیفی مباحث کے ہمراہ کرنا اسلام کے اخلاقی نظام کے لئے مفید ثابت ہوگا۔

٣۔اخلاق نقلی(٣)

یعنی وہ اخلاق جسے محدثین نے اخبار واحادیث کو نقل ونشر کر کے لوگوں کے در میان بیان کیا ہے اور اس طرح اسے وجود میں لائے ہیں۔(٤)

اس نظریہ میں اخلاقی مفاہیم کو کتاب وسنت کی بنیاد پر بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل اُن مفاہیم پر حاکم، واقعی تربیت اور ان کے درمیان پائی جانے والی مناسبتوں پر کافی و وافی توجہ کے بغیر ہوتا ہے۔ اس طرح کے متن اکثر اخلاقی مفاہیم کی توصیف کو اپنا مقصد قرار دیتے ہیں اور ان کی بنیادوں اور عملی نمونوں پر کم توجہ دیتے ہیں۔ اس بناء پر (اس نظریہ میں ) اخلاق کی ابتداء و انتہا مخصوصاً اخلاقی تربیت زیادہ واضح نہیں ہے۔ اس اخلاقی روش میں ایسی کوئی چیز نظرنہیں آتی ہے جس کی بناء پر اسے ایک اخلاقی نظام کہا جاسکے اور جو اخلاق کی بنیادی بحثوں کو بھی شامل کئے ہو اور تربیتی و توصیفی بحثوں کو بھی عقلی ترتیب کے لحاظ سے پیش کئے ہو۔اس روش پر لکھی ہوئی

____________________

١۔ (وَ لِلّٰهِ العِزَّةُ وَ لِرَسُولِه وَ لِلمُومِنین ) (سورہ: منافقون، آیت: ٨)۔

''وَلاَ تَکُن عَبد غَیرکَ وَ قَد جَعَلَکَ اﷲُ حُرّاً ، ، (نہج البلاغہ: نامہ٣١)۔

٢۔ مقدس اسلامی کتابوں میں مکارم اخلاق (مکارم یعنی بڑی خوبیاں) سے مراد یہی ہے۔

بعض روایتیں، جیسے''مَن کَرُمَت عَلَیه نَفسَه هَانَت عَلَیه شَهوَاته ، ،۔(نہج البلاغہ، حکمت: ٤٤١)۔

ایضاً: ''مَن هَانَت عَلَیه نَفسَه فَلَا تَمَن شَرَّه ، ،۔(تحف العقول، ص: ٤٨٣) اس بات کو بیان کرتی ہیں۔

٣۔ نقلی سے مراد آیات و روایات یا کسی کے قو ل کو نقل کرنا ہے۔٤۔ استاد مطہری، مرتضیٰ: تعلیم وتربیت در اسلام، ص: ٢٠١۔


کتابیں، اخلاقی مواد و مطالب کے لحاظ سے غنی ہونے کے باوجود، شکل وصورت کے لحاظ سے مناسب ورضایت بخش نہیں ہیں۔محمد غزالی کی احیاء العلوم اور فیض کاشانی کی المحجة البیضاء جیسی کتابیں اس طرح کے اخلاقی مضامین کی ترجمانی کرتی ہیں۔

اس کتاب میں ایسا قابل قبول قاعدہ ہے جو تینوں مذکورہ طریقوں میں پائے جانے والے مثبت نکات کی ترکیب اور ان کا مجموعہ ہے۔اسی کے ساتھ اس قاعدہ میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ مذکورہ طریقوں میں پائی جانے والی کمیوں کو پورا کیا جائے۔ اس بناء پر اس قاعدہ میں اولاًیہ کوشش کی گئی ہے کہ حتی الامکان اخلاق اسلامی کو شکل ومضمون کے لحاظ سے منطقی و عقلی قاعدوں کی بنیاد پر بیان کیا جائے۔ثانیاًعارفوں کے نتیجوں اورتجربوں سے حتی المقدوراستفادہ کیا جائے اور ثالثاً اخلاقی فیصلوں کا معیار ہمیشہ قرآن و روایات کو قرار دیا جائے۔

اس روش میں کتاب خدا اور نبی اکرم اوراُن کے اہلبیت اطہار (ع) کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے جن خوبیوں کو گذشتہ اخلاقی طریقوں اور مکاتب میں شمار کیا گیا ہے، وہ سبھی موجود ہیں۔ اخلاق اسلامی میں وسعت کی بناء پر اصلی اخلاقی سوالوں کے جواب بھیملیں گے اور اس میں اخلاقی مفاہیم پر بحث بھی شامل ہوگی اور اسی کے ساتھ طریقۂ کار اور تربیت کے عملی طریقوں اور قوانین کی توضیح بھی کی گئی ہے۔ یہاں اسلامی مفاہیم پر ایک خاص نظام حاکم ہے۔ ہر مفہوم کی دوسرے مفاہیم سے نسبتوں پر اور اخلاقی نظام کے مجموعہ میں ان کی اہمیت پر بھی دقت کی گئی ہے۔ اخلاق تربیتی پر زیادہ توجہ کے ساتھ ہی مخاطبین کے شعور کی مناسبت سے راستوں اور وسیلوں کو پہچنوایا گیا ہے اور اس میں مبدأ و مقصد، درجات و مراتب کا بھی خیال کیا گیا ہے۔معر فت اور جہاد بالنفس پر خا ص توجہ کے ساتھ ہی انسان کی عزت و شرافت و بزرگی پر بھی تاکید کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ اخلاقی مفاہیم کو سمجھنے اور بیان کرنے اور عمل کی ترغیب کے لئے عقلی نتیجوں کو سامنے رکھ کر محبت و دوستی کو اس معنوی سفر کے لئے کامیاب اور نتیجہ تک پہنچانے والے وسیلہکے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

اس نظریہ کا وحی سے نسبت رکھنا اور اس کا شریعت کے مطابق ہونا اس کی جوہری خصوصیت ہے۔ اس کے باوجود، عقلی میزانوں، عرف و عقل کے مسلّم اصولوں، اور معنوی سفر میں پیش قدمی کرنے والے سچے لوگوں کے عملی تجربوں سے، نیز قرآن و سنت میں جو کچھ آیا ہے اسے سمجھنے، اس کی تفسیر، تطبیق و اجرا ء کر نے میں غفلت نہیں کی گئی ہے۔


اس بناء پر اس مقبول اخلاقی نظریہ کی کچھ خاص خصوصیتوں کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔مباحث کا کتاب و سنت کے مطابق ہونا اور ان کے بر خلاف نہ ہونے کو واضح کرنا۔

٢۔ایسا جامع نظام پیش کرنے کی کوشش کرنا جو تمام اخلاقی سوالوں کا جواب دے سکے۔

٣۔ایک ایسی تفسیر پیش کرنا جو معتدل اور اخلاقی مفاہیم کے موافق ہو۔

٤۔ اخلاقی بحثوں کوعقلی لحاظ سے مطالعات کے تین حصوں (اصولی، توصیفی، ترتیبی ) میں تقسیم و ترتیب دینا۔

٥۔اخلاقی تربیت کے وسیلوں اور ان کی طبیعی ترتیب پر توجہ دینا اور ان کا شرعی ہونا۔

٦۔ تہذیب اخلاق (خوش اخلاقی ) میں پیش قدم و کہنہ مشق (تجربہ کار ) لوگوں کے تجربوں سے عملی فائدہ حاصل کرنا۔

٧۔ کتاب و سنت میں وارد ہوئے مصداقوں کے درمیان سے اخلاق کے کلی اصولوں اور قاعدوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

٨۔عمل اور نفسانی ملکات کے مختلف حلقوںکے بارے میں اسلام کے نظریہ کو مستقل طور پر البتہ ہر ایک کی تثیر پر توجہ کرتے ہوئے بیان کرنا۔

٩۔ فکر، نفسانی ملکات، ر فتار و کردار پر آپس میں پڑنے والے ہر ایک کے اثرات پرتوجہ کرنا۔

١٠۔ اخلاقی مفاہیم کی تفسیر اور عمل میں، عقل، فطری رجحانات اور عملی آثار اور تجربوں کے مرتبہ پر توجہ کرنا۔

١١۔ اخلاقی لیاقتوں کے توازن اور اُن سب کی باہمی ترقی پر تا کید کرنا اور اُن میں افراط و تفریط سے پرہیز کرنا۔

١٢۔ اخلاقی قوانین کو استعمال کرنے میں مخاطبین کی خاص حالت و کیفیت پرتوجہ کرنا۔


د: اخلاق اسلامی کے مباحث کی تقسیم

یہ اخلاق، اسلامی مفہوم کے مطابق اور قرآن و عترت اطہار (ع) کے ذریعہ جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اس کی روشنی میں علم اخلاق کے اُن بنیادی سوالوں کا جن کی گفتگو آج فلسفہء اخلاق میں کی جاتی ہے، جواب دیتا ہے اور مطلوب و کامل انسان کو نفسانی صفات اور عمل کے مختلف نمونوں کے طور پر نمایاں بھی کرتا ہے۔ان دو مسئلوں کے علاوہ، مثالی انسان اور سب سے بلند معنوی مقامات تک پہنچنے کے لئے علمی و اجرائی، عملی قاعدوں اور ضابطوں کو پہچنواتا ہے۔ اس بناء پر اخلاق اسلامی منظّم ومرتّب طور پر مندرجہ ذیل تین فصلوں میں تقسیم وترتیب پاتا ہے:

١۔اخلاق کی بعض بنیادی اور فلسفی بحثیں

اخلاق کی حقیقت اوراخلاقی عمل کے ضروری عناصر سے واقفیت اور ان کو پہچنوانا۔

٢۔اخلاقی خوبیوںاوربرائیوں کی توصیف

نفسانی صفت کے عنوان سے بھی اور عمل کے مختلف حدود میں بھی۔

٣۔اخلاق تربیتی

انسان کو اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ اور برائیوں سے پاک کرنے کے لئے وسیلوں اور طریقوں کو بیان کرنا۔


دوسری فصل : اخلاق کی جاودانی

مقدمہ

١۔مسئلہ کی وضاحت:

ناقص بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنا، چوری کرنا، قومی برتری پر اعتقاد رکھنا وغیرہ بعض گذشتہ معاشرے میں جائز مانا جاتا تھا اور اُنھیں اخلاق کے خلاف شمار نہیں کیا جاتا تھا۔ آج معاشرے کی اکثریت ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانتی ہے۔اس زمانے میں بھی مختلف تہذیبیں اخلاقی فضائل ورذائل کے بارے میں متعدد قسم کے نظریات رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ بعض معاشرے ''چند بیویوں، ، کے ہونے کو جائز اور حجاب کو ضروری جانتے ہیں، اکثر عیسائی تہذیبوں میں ''چند بیویوں، ، کا ہونا غیر اخلاقی بات اور حجاب کو غیر ضروری جانا جاتا ہے۔

اس طرح کی حقیقتوں پر توجہ کر نے سے ہم اخلاق سے متعلق ایک اہم سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ کیا اچھی اور بری اخلاقی عادتیں اور خصلتیں آفاقی و جاودانی ہیں ؟ اخلاقی عدالتوں نے انسانوں کی ظاہری اور باطنی صفتوں کے لئے جن احکام کو صادر کیا ہے کیا وہ عالمی اور ابدی اعتبار رکھتی ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کیا اخلاقی خوبیا ں اور برائیاں مطلق اور عام ہیں یا نسبی خصوصیتیں رکھتی ہیں اور تنہا کسی خاص دور اور زمانہ یا خاص مکان و معاشرہ اور مخصوص حالات کے لئے اعتبار اور معنی رکھتی ہیں ؟

٢۔ بحث کی تاریخ:

اس بحث کی شروعات قدیم یونان کے زمانہ تک پہنچتی ہے اور مغربی ملکوں کے جدید علمی زمانہ میں بھی یہ سوال اخلاقی فلسفیوں کے لئے ایک بنیادی سوال بن گیا ہے۔ اسلامی مکاتب میں اخلاق کے نسبی رجحان کو اشعری متکلمین کے یہاں پایاجا سکتا ہے، اگرچہ ان لوگوں نے اشیاء کے عقلی وذاتی حسن وقبح

سے انکار کرنے میں '' اخلاقی نسبیت''( Ethical relataivity )کی اصطلاح سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ لیکن یہ بحث موجودہ زمانہ میں مسلمان دانشوروں کے علمی حلقوں میں بھی ایک بلند درجہ رکھتی ہے اور مختلف زاویوں سے اس پر بحث کی گئی ہے۔


٣۔ موضوع کی دینی اہمیت:

اُن آثار کے علاوہ جو اس بحث کے نتیجوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آگے بیان کئے جائیں گے یہ موضوع مسلمانوں کے سب سے زیادہ بنیادی و کلیدی عقیدوں اور اعتقادی و ایمانی ارکان میں سے کسی ایک سے بہت زیادہ نزدیکی رابطہ رکھتا ہے۔ اسلام کا مکمل اور خاتم ہونا اور نتیجةً اس کا عالمی اور جاودانی ہونا ایسی خصوصیت ہے کہ اسے گذشتہ و حال کے کٹگھروں سے آزاد کرتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ، گذشتہ وآئندہ کے ادیان سے بشر کے بے نیاز ہونے کو بیان کرتا ہے، اخلاق کا جاودانی ہونا اس بات کی تاکید ہے کہ جغرافیائی موقعیت، تاریخی ادوار، زمان و مکان کے حالات، دینی تعلیمات اور منجملہ ان کے اخلاقی احکام اس کو اپنے زیر اثر قرار نہیں دیتے ہیں مگر ان مجازو بہترراستوں سے جسے دین نے خود معین کیا ہے۔

وہ مبانی و نظریات جو نسبیت کو اچھائیوں اور برائیوں کے دائرہ میں قبول کرتے ہیں، اسلام کے کمال اور خاتمیت کی معقول تفسیر کے سلسلہ میں ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ اس بناء پر مذکورہ اصل کی پابندی، اخلاقی مفاہیم میں ثبات واطلاق کے اثبات کی مرہونی ہے۔ یہ بات ثابت ہو نا چاہئے کہ اخلاقی موضوعات کی ابتدائی طبعیت ہمیشہ ایک حکم رکھتی ہے اور جغرافیائی اختلاف زمانہ کا گذر، تہذیبوںکا اختلاف، ایک اخلاقی موضوع کے اچھائی یا برائی سے متّصف نے میں کوئی اثر نہیں رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ مذکورہ سوال کا جواب دینے کا ہمارا طریقہ اخلاق کے سلسلہ میں ہمارے نظریہ کو بھی بیان کرے گا اور اخلاقی تحقیقات کے تانے بانے پر بہت اثر ڈالے گا اور نہ صرف اخلاقی اچھائی اور برائی کے سلسلہ میں ہمارا فیصلہ بدل جائے گا بلکہ اخلاق میں بحث کے طریقے، اس کے منابع اور یہاں تک کہ اخلاقی احکام کے مخاطبین کے حدود کو بھی بیان کرے گا۔

٤۔اطلاق اور نسبیت کا مفہوم:

اخلاقی مطلق پسندی سے مراد اس عقیدہ پر زور دینا ہے کہ اخلاقی اصول و تعلیمات، ا خلاقی موضوعات کی ذات اور ان کے حقیقی آثار ونتائج کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز سے وابستہ نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی موضوع کے اچھے یا برے ہونے کی جو چیزیں سبب بنتی ہیں صرف موضوع کی ذات میں موجود عناصر کا مجموعہ اور اس پر پڑنے والے واقعی آثارہیں نہ کہ اس سے باہر کے حالات و حوادث۔جیسے کسی سماجی، اجتماعی، ثقافتی، اقتصادی زندگی کے حالات یا فاعل کے ذوقی ونفسیاتی حالات۔ا س بناء پر بوڑھوں کی مناسب طریقہ سے دیکھ بھال کرنا، ابتداء سے پرہیزگار و پاک دامن رہنا اور اخلاقی لحاظ سے دوسروں کی عزت کی حفاظت کرنا اگر ایک پسندیدہ عمل مانا گیا ہے تو اصولی طور پر ہر زمان ومکان میں اور ہر فاعل کے ذریعہ تمام حالات میں اسے سراہا گیا ہے اور اخلاقی بھی مانا گیا ہے مگر یہ کہ حالات کا بدل جانا عمل کی ماہیت میں تبدیلی کا سبب قرار پائے


یا قدروں کے درمیان کش مکش کا سبب بن جائے۔(١)

نسبیت یعنی ایک شئے کا اس کے اصلی آثار اور ذات سے خارج و متغیر امر یا امور سے وابستہ ہونا۔اس بناء پر ایک اخلاقی مفہوم کی نسبیت خواہ فضیلت ہو یا رذیلت اس طرح سے ہے کہ ایک باطنی صفت یا ظاہری رفتار پر اس کا صادق آنا یا نہ آنامعلوم ہو اور وہ صفات (باطنی یا ظاہری ہوں) اپنے اصلی آثار اور حقیقت سے خارج اور متغیّر عناصر سے وابستہ ہوں۔ جیسے اس صفت کا حامل انسان یا اس رفتار سے مربوط فاعل، وہ سماج جس میں وہ انسان زندگی گذار رہا ہے اور جس میں وہ قاعدہ و طریقہ پایا جاتا ہے، اور اس زمانہ کے حالات۔ مثلاًبوڑھوں سے متعلق رفتار، اخلاقی لحاظ سے ہمیشہ ایک حکم نہیں رکھتی۔ یا مختصر شراب پینا یا حجاب کی پابندی نہ کرنا، عیسائی سماج میں زندگی بسر کرنے والے کے لئے ایک اخلاقی برائی شمار نہیں کی جاتی لیکن اسلامی سماج میں زندگی گذارنے والے کے لئے ایک برا اور اخلاق کے خلاف عمل مانا جاتا ہے۔(٢)

ایک موضوع کو اخلاقی اچھائی یابرائی سے متّصف ہونے کے اعتبار سے موضوع کی ذات اور اس کے اصلی آثار سے باہر کس متغیّر چیز کے تابع قرار دیا جائے اس کے لئیاخلاقی نسبت پسندی کو مختلف قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

ایک کلی تقسیم کی بناء پر(٣) وہ لوگ جو اخلاقی اصول کو سماجی تہذیب کی تبدیلی کے تابع قرار دیتے ہیں وہ نسبیت قرار دادی(۴) کے طرفدار ہیں اور وہ لوگ جو اسے انسان کی خواہش اور انتخاب کے تابع قرار دیتے ہیں، نسبیت ذہنی(۵) کو قبول کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو اخلاقی اصول کے لئے عینی وخارجی اصل اور مبدأ کے قائل ہیں وہ اصالت عین(۶) کے طرفدار ہیں۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: اسی کتاب میں اخلاقی قدروں میں تزاحم اور ترجیح کا معیار اور سوالات وجوابات کی طرف (صفحہ ٦٧ پر) ۔

٢۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی: المیزان، ج: ١، ص: ٣٧٦، ٣٧٧۔

٣۔ رجوع کیجئے: لوئس پویمن۔ نقدی برنسبیت اخلاقی، ترجمہ فتح علی۔ ( بحوالۂ مجلّہ نقد و نظر، ش ١٣، ١٤، ص٣٢٦)

Objectivsm ۔۶ Subjectivism ۔۵ Conventional ۔۴


دوسری تقسیم کے لحاظ سے اخلاقی نسبیت پسندی کی قسموں کو مندرجہ ذیل طریقہ سے بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔علم حیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی اصول، انسان کی متغیر زندگی کے حالات کے تابع ہیں۔

٢۔علم سماجیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی اصول اس سماج کے متغیر حالات کے تابع ہیں جس میں انسان زندگی گذار تا ہے۔

٣۔ علم نفسیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی مفاہیم، انسان کے متغیر نفسیاتی حالات اور اس کے ذوق وشوق، رغبت وسلیقہ کے تابع ہیں۔ اس طرح کی قسم کو کبھی ذوقی نسبیت پسندی یا (نظریۂ اصالت وجود) { Egzistansialism } اگز سٹنسیا لیسٹی بھی کہتے ہیں۔

٤۔ تہذیب وثقافت کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی فضائل و رذائل اخلاقی سماج کے آداب و رسوم کے پابند ہیں۔

٥۔ مادہ پرستی کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: کسی صفت یا رفتار کی اچھائی یا برائی کا معیار، انسانوں کے درمیان مادی لحاظ سے برابری اور مساوات کو ایجاد کرنے اور امکانات کو مساوی لحاظ سے تقسیم کرنے کے سلسلہ میں اس کی تثیرو کار کردگی کو قرار دیا گیا ہے۔(١)

الف۔ اخلاقی نسبیت پسندی کے نتیجے:

کلی طور پر اور ہر اس دلیل و مبنیٰ کی بنیاد پر جسے دعوے کے طور پر پیش کیا جائے، اخلاقی نسبیت کا رجحان، تباہ کن نتائج کا حامل اور غیر قابل قبول ہے اور وہی دلیلیں اسے باطل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس کے بعض کلی اور مشترک نتیجے مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ ذمہ داری کا سلب ہونا:

اخلاق مطلق اور عمومی و جاودانی اصول سے انکار کرنے سے کسی بھی انسان کو اس کی رفتار کے مقابلہ میں، اخلاقی لحاظ سے اور بہت سی جگہوں پر حقوقی لحاظ سے بھی ذمہ دار نہیں مانا جاسکتا ہے۔(٢)

____________________

١۔ رجوع کیجئے: پُل رو بیجک: موافق و مخالف اگزسٹنسیالیزم، ترجمہ: سعید عدالت نژاد، نقل ازمجلہ ء نقد و نظر، ش١٣۔١٤، ص: ٣٠٠تا٣٢٣۔

٢۔ رجوع کیجئے: پُل رو بیجک: ایضاً، (نقل ازمجلہ ء نقد و نظر، شمارہ: ١٣۔١٤، ص: ٣٠٥)۔


٢۔اخلاقی احکام کا بے ثمر ہونا:

اخلاقی احکام اور قضیے اس صورت میں مفید ہیں جب وہ تاثیر گذار ہوں۔ اس کے علاوہ مخاطبین کے ذوق وشوق، تسلیم و رضا کو پروان چڑھائے اور ان کو ایثار و فداکاری کے لئے آمادہ کرے۔ یہ چیزیں عام ومطلق کی حقانیت اور اخلاقی اصول کی جاودانی کو قبول کرنے اور ان سے عشق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اخلاقی نسبیت کا رجحان ان تمام امور سے ٹکراؤ رکھتا ہے اور ہر طرح کے مشترک اخلاقی اصول کی سفارشوں سے لگاؤ اور اس سے محبت کی گرمی کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔(١) جس کے نتیجہ میں تبلیغ و ہدایت اور ارشاد و تربیت بے معنی ہیں اور خدا کے نبیوں اور ولیوں کو بشر کی ہدایت کے لئے نہ کسی اجازت کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی سماجی مصلحین اپنی دعوت پر لبیک کہنے کے لئے لوگوں کے کسی معقول جواب کے منتظر رہ سکتے ہیں۔

٣۔ دین کے مکمل اور جاودانی ہونے کی نفی:

اخلاق دین کی نظر میں ایک بلند اور وسیع مرتبہ کا حامل ہے۔ اور اتنا بلند ہے کہ اس کی نظر میںتکوین و تشریع کا اصل مقصد، اخلاق کی عالی فضیلتوں تک پہنچنا اور اسے حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔اسی وجہ سے دین کی تمام تعلیمات میں اخلاقی باتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اکثر دینی تعلیمات براہ راست اخلاقی موضوعات کے بارے میں ہوتی ہیں۔

اس حقیقت پر توجہ کر تے ہوئے اخلاقی احکام کے عدم ثبات اور تغیّر کو قبول کرنا دینی تعلیم کا عصری اور وقتی ہونا مانا جائے گا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین کے کامل اور خاتم ہونے کی نفی کردی جائے۔ اس بناء پر اخلاقی نسبیت اور دین کا عالمی و جاودانی ہونے میں ٹکرائو نظر آتا ہے جبکہ کمال اور خاتمیت دین کی شان ہے۔

٤۔ اخلاقی شکّاکیت :

اخلاقی نسبیت پر اعتقاد رکھنے سے کسی اخلاقی موضوع کے سلسلہ میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا امکان ختم ہوجا تا ہے۔ اخلاقی نسبیت پسندی سے تہذیبی ماحول اور کسی خاص سلیقہ کے تحت، صداقت کے قبیح ہونے کے بارے میں کسی فیصلہ کا جتنا احتمال ہوسکتا ہے اتنا ہی حسن صداقت کے سلسلہ میںبھی ممکن ہے۔ اخلاقی نسبیت پسندی، واقعیت کی توصیف اور اسے بیان کرنے والے کی حیثیت سے نہیں ہے بلکہ اخلاقی احکام کی ماہیت کے بارے میں اپنے نظریہ کوبیان کرنے کی حیثیت سے ہے اور اس کے مطابق اخلاقی اصول کا سالم وناسالم ہونا، انسان یا سماج کے متغیر عوامل پر منحصر ہے۔ اس بناء پر کسی اخلاقی موضوع کے بارے میں کوئی مستقل فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہی اخلاقی شکاکیت ہے۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: پُل رو بیجک: (نقل ازمجلہ ء نقد و نظر، شمارہ: ١٣۔١٤، ص: ٣١٢)۔


٥۔خادموں اور خائنوں کا یکساں ہونا:

اخلاقی نسبیت کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور وجدان کے خلاف نتیجہ یہ ہے کہ خدمت وخیانت، اصلاح وجنایت، خیر خواہی وشرارت وغیرہ اخلاقی دائرہ میں سبھی برابر اور سبھی ایک نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور ایک ہی طریقہ سے ان کی تعریف و تنقیص ہوتی ہے۔اس بناء پر فرعون و معاویہ کا عمل اتنا ہی معقول ہوگا جتنا حضرت آسیہ وحضرت زینب کے عمل کو پسندیدہ کیا گیا ہے۔

ب۔ ا خلاق میں مطلق پسندی اور اس کی دلیلیں

اخلاقی نسبیت کے رجحان کے تباہ کن نتیجوں پر توجہ کرنے کے بعد ضروری ہے کہ جاودانہ اخلاق کی معقول اور عقلی بنیادوں پر بیان کیا جائے اور اُن نظریاتی اختلافات اور نقصانات کو راستہ سے ہٹادیا جائے جو اس نظریہ کے لئے خطرہ کا باعث ہیں۔ اس نظریہ کو حاکم بنانا اور اس کا معقول قوام واقتدار حاصل کرنا اس شرط کے ساتھ ہے کہ اپنے دعوے کو عقل وبرہان کی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔

١۔پائدار اخلاق کی نشاندہی کی ضرورت:

اخلاقی نسبیت کے رجحان کے بعض نتیجوں پر اجمالی نظر ڈالتے ہی اخلاق کے جاودانی ہونے کی ضرورت آشکار ہوجاتی ہے۔ انسان کا با مقصد ہونا اور اس کا اپنی ذمہ د اری کو قبول کرنا، تعلیم وتربیت اور ترغیب وترہیب (ڈرانے) کی حکیما نہ توجیہ، عدل وظلم کے بارے میں گفتگو کا امکان، انسانی حقوق کا دفاع اور اس کی حق تلفی کے خلاف جنگ، فضیلت ورذیلت، خیر و شر، خائن وخادم، جزاء و سزا، ثواب وعقاب، جنت وجہنم، عادل وفاسق کے درمیان تمیز پیدا کرنا، انبیاء واولیاء کی رسالت، مصلحین اور خیر خواہوں کی کوششوں کا دفاع کرنا، ابدی اور کامل دین کی طرفداری، اخلاقی حسن وقبح کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے عمومی اصولوں اور معیاروں کی نشاندہی کا امکان اور دسیوں اور سیکڑوں ایسے انسانی زندگی کے اصول و ارکان جن کو نظر اندازکرنے سے انسانی زندگی کا شیرازہ بکھرجائے گا لہٰذا اُن کی بقاء صرف ثابت اور پائدار اخلاقی اصولوں کو قبول اور بیان کرنے اور اُن کی نشاندہی کرنے سے ممکن ہے۔

٢۔ اخلاق کے جاودانی اصولوں کو بیان کرنا:

مختلف اخلاقی مکاتب میں اخلاق کے جاودانی اصولوں کی عقلی تفسیر مختلف شکلوں میں کی جاتی ہے۔یہاں اختصار کے طور پر اخلاق کی صرف اُن بحثوں کا ذکر ہوگا جو اسلامی دائرہ میں داخل ہیں۔اس دائرہ میں اخلاق جاودانہ کے عقلی بنیاد وں کو بیا ن کرنے کے لئے جس مطلب کو سب سے زیادہ قوی مانا گیا ہے


وہ حقیقت میں اخلاقی فرائض کی بحث کے سلسلہ میں علامہ طبا طبائی کی قائم کردہ بنیادوں سے اخذشدہ نظریہ ہے۔اس نظریہ کی مختصر شرح درج ذیل عبارت میں بیان کی جارہی ہے۔

اخلاقی مفاہیم، انسان کے اختیاری افعال کے درمیان عینی اور حقیقی رابطوں کا نتیجہ اور مظہر ہوتے ہیں۔ حقیقت میں یہ مفاہیم اُن دونوں ( عینی اور حقیقی رابطوں) کے درمیان پائے جانے والے علت و معلول کے رابطہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ رابطہ فاعل کے علم وجہل و ارادہ اور سماج پر حاکم حالات سے آزاد ومستقل اور حقیقی ہوتا ہے۔ اخلاقی خوبی و بدی اور اوامر و نواہی اسی واقعی و تکوینی نسبت کا مظہر ہیں، اِسے جیسے انسان کے اختیاری فعل کا اس کے نفسانی کمال پر پڑنے والی تثیر کی نوعیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ رابطہ، عینی وتکوینی ہے اور علیت کے رابطہ کی نوعیت سے متعلق ہے لہٰذا وہ تغیّر وتحوّل سے دوچار نہیں ہوتا۔ دونوں (عینی اور حقیقی) روابط کے ثبات و پائداری کی وجہ سے یہ نسبت ثابت و جاودانی ہے۔ اس طرح اس سے حاصل اخلاقی مفا ہیم بھی عالمی اور جاودانی ہیں۔ کیونکہ انسان کی روح اور حقیقت میں جو رابطہ کا ایک سرا ہے تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اور وہ مشخص فعل اور عمل بھی جو اخلاقی حکم کا موضوع اور رابطہ کا دوسرا سرا ہے، اسے بھی واحد اور ثابت فرض کیا گیا ہے۔(١)

کتاب و سنت کی نظر میں بھی انسان کی واقعی شخصیت اور روح پر اس کے اختیاری اعمال کا رابطہ اور اثرایک حقیقی اورعینی امر ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں جابجا نظر آتی ہے۔ نمونہ کے طور پر چند مورد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے قرآن کریم اُن لوگوں کے بارے میں جو قیامت اور آیات الٰہی سے انکار کرتے ہیں، فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ان کی بد اعمالیوں کی تاریکی نے ان کے دلوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔(٢)

علامہ طباطبائی کے قول کے مطابق ا س آیت سے معلوم ہوتا ہے:

١۔برے اعمال کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں اور وہ انسان کے نفس کو اپنے مطابق بنادیتی ہیں۔

٢۔ یہ نقوش اور صورتیں، نفس اور حقیقت کو درک کرنے میں مانع اور حائل ہوجاتی ہیں۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: علامہ طبا طبائی، اصول فلسفہ و روش رئالیسم، مقالہء اعتباریات و رسائل سبعہ، مقالہء اعتباریات۔اسی طرح زیادہ معلومات کے لئے رجوع کیجئے: استاد مطہری کی جاودانگی و اخلاق، یاد نامہ استاد مطہری، ج: ١، ص: ٤١٠ ،٤١٨ وانہی استاد کی: حکمت عملی، ص: ١٤، ٢٠ و اسلام و مقتضیات زمان ج: ١، ص: ٣٤١ ، ٣٥١ و ج: ٢، ص: ٢٤٦۔

٢۔ سورہ ٔ مطففین، آیت: ١٤۔


٣۔نفس اپنی ابتدائی طبیعت کے لحاظ سے ایسا پاک اور نورانی ہوتا ہے کہ حقائق کو درک کرسکتا ہے اور حق و باطل کے درمیان تمیز پیدا کرسکتا ہے۔(١)

اسی طرح قرآن کریم میں آیا ہے کہ جو کوئی تقویٰ اختیار کرے گا خدا اس کے لئے نجات کا راستہ کھول دے گا۔(٢)

اور فرمایا کہ اے ایمان لانے والو! اگر تم تقوائے الہی اختیار کروگے تو حق وباطل میں تشخیص کی قدرت تم کو وہ عطا کر دے گا۔(٣)

علامہ طباطبائی مرحوم اِن آیات کی تفسیر کر تے ہوئے فرماتے ہیں:

''معرفت'' حاصل کرنے کے لئے تقویٰ ایک مستقل ذریعہ نہیں ہے بلکہ تقویٰ، انسان کی طبیعت کے اپنے فطری اعتدال پر پلٹنے کے لئے سبب بنتا ہے اور یہ اعتدال اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان کی رغبتیں پہلے کی بہ نسبت عالی بن جائیں اور اس کے ذریعہ بہتر اعمال انجام پائیں۔ یعنی اعمال صالح، پسندیدہ اور نیک اخلاق کی حفاظت کا ضامن نیز حقیقی معرفت، مفید علوم اور صحیح افکار کی پیدائش کا موجب بنتا ہے۔(٤)

اس بیان میں فضیلتوں اور رذیلتوں کے پیدا ہونے کے اسباب کے ثابت ہونے کی کیفیت کی شرح کے ساتھ خوبی اور بدی کے اطلاق اور اثبات کو نتیجہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یعنی جب انسان کی باطنی طاققتیں ثابت ہیں اور ان میں افراط وتفریط و اعتدال جیسی تینوں حالتیں بھی ایک ہی طرح ہیں، لہٰذا اخلاقی فضایل ورذایل جو انھیںحالات سے وجود میںآتے ہیں بالطبع ثابت ہوں گے اور نسبیت و تبدیلی سے دور ہوں گے۔ یہ بیان باطنی قوّتوں سے مربوط ایک خاص معرفت شناسی پر مبنی ہے۔یہاں کوشش کی گئی ہے کہ عقلی لحاظ سے اورانسان کی نفسانی قوّتوں کی مخصوص وضاحت پر تکیہ کرتے ہوئے تمام اخلاقی مفاہیم کی تفسیر کی جائے۔ اخلاق اسلامی کے وہ مشہور منابع جو فلسفی نظریات پر مبنی ہیں، اس شیوہ کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ روش ایک ایسے نظام سے متثر ہے جسے ارسطو نے اخلاقی قضیوں کو بیان کرنے کے لئے پیش کیا ہے۔

____________________

١۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج: ٢٠، ص: ١٣٤۔

٢۔ سورئہ: طلاق، آیہ: ٢۔

٣۔ سور١ئہ: انفال، آیہ: ٢٩۔

٤۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج: ٩، ص: ٥٦ وج:١٩، ص٣١٣و٣١٥۔


ج۔ سو ا لا ت اور جوابات

اس بحث کی تکمیل کے لئے مناسب ہے کہ ایسے بعض شبہات جو ممکن ہے اسی طرح بیان کئے جاتے ہوں، سوال و جواب کی شکل میں تحقیق کی جائے۔ اس مربوط واصلی سوالات مندرجہ ذیل ہیں:

پہلاسوال:

اگر اخلاقی اصول، مطلق اور جاودانی ہوتے ہیں تو استثنائات کے لئے کیا توجیہ اور تفسیر کی جا سکتی ہے؟

پہلا جواب:

حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی احکام استثنا نہیں ہوتے اور جس وقت اخلاقی حکم کا موضوع محقق ہوتا ہے اسی وقت اس کا حکم بھی اس کے لئے ثابت ہوجاتا ہے۔ہاں، کبھی اخلاقی حکم کے اصل معیار میں خطا نظر آتی ہے مثلاً ہم کہتے ہیں: ' 'سچ بولنا اچھا ہے'' لیکن اگر یہ کسی بے گناہ کا خون بہنے کا سبب بن جائے یا اسلام کے دفاعی نظام کے اسرار کے فاش ہونے کا موجب قرار پائے تو ایسے موقعوں پر ''سچ بولنا اچھا نہیں ہے، ، یہاں اخلاقی حکم عمومی اور کلی قاعدوں سے جدا ہوگیا ہے۔حالانکہ حقیقت میں ہم نے اخلاقی حکم کے موضوع کو اس کی تما م خصوصیتوں اور قیدوں کے ہمراہ پہچنوانے میں خطا کی ہے۔پہلے والے حکم میں اس کا واقعی موضوع ' 'سچ بولنا کسی بڑی خرابی اور فساد کے بغیر مفید ہونا '' ہے(١) قطعی طور پران تمام موارد میں جہاںیہ موضوع محقق ہوتا ہے سچ بولنے کا حکم موجود رہے گا۔سچ بولنا اگر بے گناہوں کا خون بہنے وغیرہ کا سبب بنے تو یہ معاملہ اخلاقی نہیں ہے۔(٢)

دوسرا جواب:

اخلاقی اصول استثناء کو قبول نہیں کرتے ہیں۔لیکن ایسی جگہ پر جہاں غیر ضروری اور نا مناسب نتائج کا سامنا ہوتا ہے ایسی حالت میں ایک خارجی فعل، دو عنوان کا مصداق بن جاتا ہے۔جیسے پہلے جواب میں درج مثال۔ اُن دو عنوانات میںایک سچ بولنا ہے اور دوسرا بے گناہ کا قتل یا اسلامی فوج کے اسرار کا فاش کرنا۔ اس بناء پر ایک ہی عمل ایک لحاظ سے اچھا ہے اور دوسرے لحاظ سے برا۔ ایسی جگہوں پر مجبوراً ایک ہی طرف کو انتخاب کیا جائے گا۔ کیونکہ یا اس عمل کو ترک کیا جائے یا انجام دیا جائے۔ یہاں تیسری صورت ممکن نہیں ہے۔ عمل کے ترک کرنے یا انجام دینے کے انتخاب میں مجبوراً اس کے حسن وقبح کے درجات کا بھی لحاظ کرنا پڑے گا۔

____________________

١۔ اشیاء اور افعال کے ذاتی وعقلی حسن وقبح کو قبول کرنے کی بناء پر۔ جسے شیعہ اور معتزلہ قبول کرتے ہیں۔انسان کا اختیاری عمل، مصلحت کی بناء پر اچھااور مفسدہ وفساد کی بناء پربرا ہوجاتا ہے۔البتہ مصلحت اور مفسدہ کی تشخیص میں اور ان کی اہمیت کے توازن میں عقل کے علاوہ وجدان، فطرت اور وحی بھی بہت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ ٢۔ ر جوع کیجئے: مصباح یزدی، محمد تقی: دروس فلسفہ ء اخلاق، ص: ٤١، ١٨٧تا ١٨٩۔


اگر ان کی اچھائی یا برائی مرتبہ کے لحاظ سے ایک ہے تو اسے انجام دینے میں انسان نہ مذمت کا مستحق ہے اور نہ تعریف کا۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر مقدم ہے تو اسی کو انتخاب کرنا چاہئے۔ اس بنا پر خوبی اور بدی (اچھائی اور برائی) مطلق ہیں لیکن کبھی عمل کے مرحلہ میں دونوں یکجا ہوجاتے ہے۔ یہاں ان دونوں کے تداخل کوپہلے بیان کی گئی ترتیب سے حل کرنا چاہئے(١)

تیسرا جواب:

اخلاقی فعل و رفتار، اخلاقی خصلت و عادت سے جدا ہے۔ اخلاق کا مطلق ہونا یعنی اخلاقی فعل ورفتار کا مطلق ہونا نہیں ہے۔ اس شبہہ کے پیدا ہونے کی وجہ، اس ظریف نکتہ سے غفلت کا نتیجہ ہے ممکن ہے۔ کہ ایک فعل ایک اعتبار سے اخلاقی ہو اور دوسرے اعتبار سے غیراخلاقی۔ مثال کے طور پر بچہ کی جسمانی تنبیہ کرنا مطلقاً اچھا ہے اور نہ ہی خراب۔ لیکن کبھی یہ رفتار زیادتی و ظلم کا مصداق اور اخلاقی لحاظ سے بری بن جا تی ہے۔ لیکن جب بچہ کی تادیب کے لئے یہی طریقہ باقی رہ جائے تو اخلاقی لحاظ سے یہی اچھا ہے۔اس بنا پر اخلاقی مفاہیم اور خصلتیں مطلق ہیں اور اخلاقی افعال و رفتارنسبی۔ یہاں اخلاقی احکام کا موضوع اخلاقی مفاہیم اور خصلتیں ہیں نہ کہ خاص افعال و رفتار۔ انسان کے افعال و رفتار پر اس وجہ سے کہ وہ کس اخلاقی مفہوم کا مصداق ہے، اخلاقی حکم لگایا جاتا ہے اور چونکہ ایک رفتار مختلف حالات میں مختلف اخلاقی مفاہیم کا مصداق بن سکتی ہے لہٰذا اُس پر مختلف اخلاقی احکام لگائے جائیں گے۔یہ بات '' اخلاقی احکام میں نسبیت '' کے معنی میں نہیں ہے۔(٢)

دوسرا سوال: بعض روایات کے مطابق عورت و مرد کے اخلاقی احکام میں فرق ہے۔ گویا یہ ایسا ہے کہ اسلام کی نظر میں بھی اخلاقی مفاہیم نسبی ہیں۔جیسے حضرت علی ـ کی یہ فرمائش کہ'' عورتوں کی سب سے اچھی خصلتیں مردوں کی سب سے بری خصلتیں ہیں: جیسے تکبر، بزدل ہونا، کنجوس ہونا۔ لہٰذا جب عورت مغرور ہوتی ہے سر

نہیں جھکاتی ہے اور جب کنجوس ہوتی ہے اپنا اور اپنے شوہر کا مال محفوظ رکھتی ہے اور جب بزدل ہوتی ہے اس کے سامنے جو آتاہے اس سے ڈرتی ہے۔(٣)

اس فرمائش سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اخلاقی مفاہیم، انسانوں کے آدھے حصہ ( مردوں ) کے لئے بُرے اور باقی آدھے حصّہ ( عورتوں ) کے لئے اچھے اور پسندیدہ ہیں۔

____________________

١۔ ر جوع کیجئے: مصباح یزدی، محمد تقی: دروس فلسفہ ء اخلاق، ص: ١٨٦و ١٨٧۔

٢۔ ر جوع کیجئے: استاد مطہری، مرتضیٰ: تعلیم وتربیت در اسلام، ص: ١٤٨ تا ١٥٦۔

٣۔ نہج البلاغہ، فیض اسلام، حکمت ٢٢٦۔


جواب: اس روایت میں اس فرمائش کا موضوع، خاص حالات و شرائط کے تحت رفتار و عمل کا وجود میں آنا ہے۔ عورتوں کے لئے تکبر کا پسندیدہ قرار پانا، نا محرم مردوں کی متکبرانہ رفتار کے مقابلہ میں ہے۔ کیونکہ روایت اس حکم کے بیان کی دلیل میں کہتی ہے:

'' اگر عورت، نا محرم مرد کے مقابلہ میں اس طرح کی بزرگانہ و متکبرانہ رفتار رکھتی ہے تو دوسروں کے لئے سوء استفادہ اور دست درازی کا امکان نہیں رہتا ہے''۔

عورتوں کے خوف کی تعریف بھی ان کی اپنی عفّت و پا کدامنی کے لئے محتاط رہنے کے معنی میں ہے۔ یعنی جب بھی ان کی عفّت خطرہ سے دوچار ہو تو انھیںاحتیاط کو ترک کرنا اور بے پروا نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح عورتوں کے لئے کنجوسی کو اچھا قرار دینا اصل میں ان کے اپنے شوہر کے مال کو استعمال کرنے کے لئے ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی ـ آگے فرماتے ہیں کہ: '' عورت کا بخل سے کام لینا سبب بنتا ہے کہ اس کے اور اس کے شوہرکے درمیان مشترک مال محفوظ رہے۔، ،

اس بنا پر تکبر، خوف اور بخل، عورت اور مرد کے تئیں نفسانی خصلتوں کے عنوان سے ایک ہی اخلاقی حکم رکھتے ہیں۔ لیکن نا محرم مرد کے مقابلہ میں عورت کی متکبرانہ رفتار اور اس کی اپنی عفّت کے واسطے محتاط رہنا، اور اپنے شوہر اوراپنے کنبہ کے مشترک مال کو استعمال کرنے میں بخل سے کام لینا ایک پسندیدہ عمل ہے۔اور اس طرح یہ وسیلہ اخلاقی نسبیت تک (یہ کہ وہی اخلاقی عادتیں اور خصلتیں ہیں) نہیں پہنچ سکتا ہے۔

تیسرا سوال:علوم انسانی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال ایک گروہ کے درمیان اچھے اور دوسرے گروہ کے نزدیک برے مانے جاتے ہیں، مثلاً بعض کے نزدیک احترام کی خاطر سر سے ٹوپی اتارنا اچھا اور بعض دوسروں کے یہاں بے احترامی اور بے ادبی مانا جاتا ہے۔ اس طرح کے دوسرے بہت سے اعمال ہیں یہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کے نسبی ہونے کی دلیل ہے۔(١)

جواب: مذکورہ رفتار اور ان سے متعلق نظریات میں اختلاف علم اخلاق کے دائرہ سے باہر ہے۔حقیقت میں اس طرح کے امور ایک سماج کے آداب و رسوم اور عرف کو تشکیل دیتے ہیں۔

آداب و رسوم قرار دادی (اعتباری) ماہیت رکھتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں قرار دادی اعتباریات کی قسموں میں سے ہیں، جو نہ ہی خارجی وجود رکھتی ہیں اورنہ ہی خارجی حصول کے لئے سبب بنتی ہیں بلکہ ایک سماج میں

____________________

١۔ر جوع کیجئے: ویل دورانٹ: لذات فلسفہ، ص ٨٣ تا ٩٩۔


رہنے والے لوگوں کے قولی یا عملی توافق سے وجود میں آتی ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف معاشرہ کے لوگوں سے وابستگی متفاوت اور نسبی ہے البتہ اُن کا نسبی ہونا اخلاقی احکام نسبیت کا سبب نہیں ہے۔(١)

چوتھا سوال:

ادیان و مکاتب اور جوامع کے درمیان ایسے موضوعات جو ذاتی طور پر علم اخلاق کے دائرہ میں داخل ہیں اُن کے سلسلہ میں موجود عقیدوں کے درمیان اختلاف، اخلاقی احکام میں نسبیت کی دلیل ہے۔ مثال کے طور پر، مسلمان نماز پڑھنے کو واجب اور سور کے گوشت کھانے کو حرام جانتے ہیں، جبکہ اس سلسلہ میں عیسائیوں کا عقیدہ دوسرا ہے۔ یا یہ کہ عیسائیوں کے درمیان چند بیویوں کا رکھنا حرام اور اخلاق کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے درمیان محدود طور پر مباح ہے اور اخلاق کے خلاف نہیں ما نا جاتا ہے۔

جواب:

کسی واقعیت اور حقیقت کی معرفت میں اختلاف یا ان کو پہچاننے کے ذریعوں، یا کسی بات کے صدق وکذب یا اخلاقی اچھائی یا برائی کے معیار کے سلسلہ میں نظریاتی اختلاف، واقعی امور کی نسبیت کی دلیل نہیں بن جاتا۔اس حقیقت کو قبول کرنے کے بعد کہ اخلاقی فضائل و رذائل جن کی جڑیں عالم عینی میں ہیں اور ان کی حقیقتیں ثابت اور انسان وجہان میں تکوینی اور وجودی آثار رکھتی ہیں ان کے سلسلہ میں نظریاتی اختلاف کا موجود ہونا، ثابت حقیقتوں کے بدلنے اور ان کے نسبی ہونے کا سبب نہیں بنتا اور نہ ہی وہ اخلاقی حقائق کی تغیّر کا نتیجہ ہوتا ہے، بلکہ ان کو پہچاننے میں بعض لوگوںکے خطا کرنے کی دلیل ہے۔جیسے وہ خطائیں جو مادی اور جسمانی حقیقتوں کو پہچاننیمیں انسان سے سر زد ہوتی ہیں۔ حقیقت میں جو کچھ اخلاقی احکام کے اسباب کے سلسلہ میں بیان ہوا، اس پر توجہ کرتے ہوئے دیکھا جائے تو اس طرح کے اختلافات یا انسان کی کمال مطلوب کے صحیح سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے ہیں یا انسان کے فعل کے سلسلہ میں کافی دقت کے باوجود غلطی ہو جانے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔ یعنی وہ عمل جو حقیقت میں اس مقصد کے خلاف ہے، اس کے مطابق مانا جاتا ہے اور اس کے بر خلاف بھی ہوتا ہے۔اس طرح اخلاق کے جاودانہ اصولوں کو عقلی اور عقلی طور پر بیان اور سوالوں کا جواب دینے کے بعد معلوم ہوا کہ جاودانہ اخلاق کے نظریے، ایسے نظریے ہیںجو قابل قبول اور شائستہ ہیں۔(٢)

____________________

١۔ استاد مطہری، مرتضیٰ: اسلام و مقتضیات زمان ج: ٢، ص: ٢٤٨ تا٢٥٨ کی طرف ر جوع کیجئے۔٢۔ البتہ جاودانہ اخلاق کے دفاع کے لئے دوسرے راستوں کو بھی طے کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض مشہور اخلاقی اصولوں کی جدا جدا تحقیق کی جائے تا کہ ان کا مطلق ہونا ثابت ہو جائے۔ (ر جوع کیجئے: استاد مطہری، مرتضیٰ، سیری د ر سیرئہ نبوی، ص: ٩١ تا ١١٦)۔


تیسری فصل: اخلا قی عمل

عناوین

اس حصہ میں اُن بنیادی موضوعات پرگفتگوکی جائے گی جوفلسفہ اخلاق کی بحثوں میں اخلاق کے عنوان سے بیان کئے گئے ہیں یعنی ''اخلاقی اچھائی اوربرائی کا معیار ''۔ وہ بنیادی سوالات جن کے جوابات اس فصل میں دئے جائیں گے مندرجہ ذیل ہیں:

١ ۔ ایک عمل کس صورت میں علم اخلاق کی عدالت کے دائرہ میں قرار پاتا ہے ؟

٢ ۔ اخلاق اسلامی کی نظر میں کن عام شرطوں کے تحت ایک عمل اچھا یا برا مانا جاتا ہے؟

٣ ۔ اسلام کی نظر میں اخلاقی ذمہ داری کی عام شرطیں کیا ہیں؟

٤۔ اخلاقی فضائل ورذائل کے کلی معیار کی شناسائی کے بعد اچھے یابرے عمل کے مصداق کی پہچان کے لئے دین میں کن وسیلوں کو پہچنوایا گیا ہے ؟

٥ ۔ کیا دین میں اخلاقی اچھائی اور برائی کو پہچنوانے کے لئے مشخص مفاہیم اور کلمات موجود ہیں؟

٦ ۔کبھی عمل کے مقام پر ایک وقت یاموضوع میں دو اخلاقی حکم اس طرح جمع ہوجاتے ہیں کہ انسان دونوں کا پابند ہوتا ہے دونوں کی پیروی کی قدرت نہیں رکھتا۔کیا اسلامی اخلاق کے نظام میں ان موارد کے لئے کوئی راہ حل تلاش کیا گیا ہے اور کیا ایک اخلاقی حکم کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لئے کوئی معیار بتایا گیاہے؟

ان تمام سوالوں کو ان چار محوروں میں خلاصہ کیا جا سکتاہے:

١لف ۔ اخلاقی عمل کے حدود اور ان کی کلی شرطیں۔

ب۔ اخلاقی ذمہ داری کی عمومی شرطیں۔

ج۔ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کو پہچنوانے کے راستے اوروسیلے۔

د۔ اخلاقی تعارض اور تزاحم کا معیاراس بناپراس فصل کے مطالب چار عنوان میں ترتیب پاتے ہیں۔


١لف ۔اخلاقی عمل کے قیمتی عناصر

اس بحث میں اخلاقی عمل سے مراد ''اچھا عمل'' ہے اسلامی اخلاق کے نظام میں، جہاں اخلاق کے لئے جزا وسزا کو ضروری مانا گیا ہے، اچھا عمل وہ عمل ہے جس کے ہمراہ اخروی بدلہ اور ثواب موجود ہو، خواہ اس کے ہمراہ دنیوی بدلہ ہو یا نہ ہو۔

اس بنا پراس بحث کا مقصد ایسی شرطوں کو بیان کرنا ہے کہ ایک عمل انجام دینے والا اُخروی ثواب اور جزا کو حاصل کر سکے۔

ایک مجموعی تقسیم بندی کے لحاظ سے ایک اچھے اور قیمتی اخلاقی عمل کے لئے اس کے ضروری عناصر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: فاعلی عناصر اور فعلی یاعینی عناصر۔ فاعلی عناصر سے مراد ایسے حالات ہیں جو ایک طرح سے فاعل کی طرف پلٹتے ہیں۔ فعلی یا عینی عناصر یعنی ایسے حالات جن کا فاعل کے ارادہ اور حالات سے آزاد ہو کر ایک واقعی اور عینی امر کے عنوان سے فعل میں موجود رہنا ضروری ہو۔ مجموعی طورپریہ دو طرح کے عناصر جو اخلاق کی اصلی فضیلتوں کی بنیادوں کوتعمیر کرتے ہیں، درج ذیل ہیں:(١)

١ ۔فاعلی عناصر

فاعل میں دو اساسی عنصر کی موجودگی لازم ہے تا کہ اس کے عمل فعل میں موجود دوسری شرطوں کے باوجود اخلاق کے اچھے اور قیمتی زیورسے آراستہ ہو۔ یہ دو عنصر جنھیں ''فاعل کی آزادی اور اس کے اختیار '' اور ''ایک خاص نیت اور مقصد کے وجود'' سے تعبیر کیا گیا ہے اس انسان میں فعل کے شروع ہونے سے تمام ہونے تک پائے جاتے ہیں۔

____________________

١۔ توجہ کرنی چاہئے کہ اخلاق اسلامی کی کلامی شرطیں جیسے مبدأ ومعاد ورسالت پر عقیدہ جو بعض عناصر کے محقق ہونے کے لئے مبنأاور ابتدائی شرطیں ہیں، یہاں ان کے سلسلہ میں بحث نہیں کی جائے گی۔ بلکہ علم اخلاق کے کلامی اصول کے عنوان سے ان کو مسلم جانا جاتا ہے۔ اس تصور کے ساتھ کہ کلامی بحثوں اور اسلامی معارف کے درسوں میں ان پر تحقیق ہوئی ہے اور ان کو قبول کیا گیا ہے۔


ایک: فاعل کی آزادی اور اس کا اختیار

جیسا کہ علم اخلاق کی تعریف سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اخلاق انسان کے اُن اختیاری اعمال اوراس کی اُن قدرتوں اور صفتوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو اختیاری مبدا ٔکی حیثیت رکھتی ہیں اوروہ چیزیں جو اس کی آزادی اور اختیار سے باہر ہیں اصولی طور پر وہ اخلاقی تحسین وتقبیح اور فیصلہ کے دائرہ سے باہرہیں اوروہ اخلاقی حکم کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اوروہ اس کی مستحق بھی نہیں ہیں۔

انسان دو طرح کے افعال انجام دیتا ہے: ایک وہ افعال ہیں جو فطری اور اضطراری (بے اختیاری) طور پر انجام دئے جاتے ہیں اور دوسرے وہ افعال ہیں جواختیاری اور ارادی طور پر انجام دئے جاتے ہیں۔

فطری اور اضطراری افعال انسان کی طبیعت سے صادر ہوتے ہیں اور ان کے انجام میں علم وآگاہی کا دخل نہیں ہوتا ہے جیسے سانس لینا۔ انسان کے ارادی اور اختیاری افعال اس کے علم وآگاہی کے ذریعہ صادر ہوتے ہیں۔ یعنی انسان ابتدا میں اس عمل کو پہچانتا ہے اور اسے دوسرے تمام اعمال سے جدا کرتا ہے، پھر اسے نفس کے کمال کا مصداق سمجھتا ہے۔ اس کے بعد اسے انجام دینے کے لئے اقدام کرتا ہے۔(١)

البتہ جس طرح فلسفی اور کلامی بحثوں میں ثابت ہوچکا ہے اوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان ان کاموں کی نسبت جوعلم وارادہ سے انجام دیتا ہے، اختیار تکوینی رکھتا ہے۔ ہاں یہ جاننا چاہئے کہ آدمی کا اختیار مطلق نہیں ہوتاہے، کیونکہ اس کااختیار سلسلہ ٔ علل کے اجزاکاایک جز ہے۔ خارجی اسباب وعلل بھی اس کے اختیاری افعال کے محقق ہونے میں دخیل ہیں۔ مثلاً تغذیۂ انسان، اس کے ارادہ وخواہش کے علاوہ غذا کے خارج میں موجود ہونے اور اس تک دسترسی و کھانے کی قابلیت و صلاحیت اور قوۂ ہاضمہ کی سلامتی اور دسیوں بلکہ سیکڑوں ایسی علتیں ہیں جو اس کے اختیار سے باہر ہیں، ان علتوں کے سلسلہ میں خدا کی مرضی و ارادہ کی بھی ضرورت ہے، یہ ایسی حالت میں ہے کہ انسان کے ارادہ کی بقا بھی اس کی مرضی سے وابستہ ہے۔(٢) اس بنا پر انسان کے ارادہ کی آزادی، اس کے ارادی افعال کے دائرہ میں بھی محدود اور مشروط ہوتی ہے لیکن اس کے عمل کی نسبت اخلاقی تعریفیں اور مذمتیں اس کے اختیاری فعل کے دائرہ کے لحاظ سے محدود ہیں۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی ، المیزان، ج١، ص ١٠٦،١٠٧۔

٢۔ ایضاً، ج١٦، ص٦٧۔


اختیاری اور ارادی فعل کے مقابلہ میں طبیعی اور جبری (غیر ارادی) فعل ہے، جبر واختیار کے الفاظ کا مختلف علوم کی اصطلاح میں مختلف طریقہ سے اور سماج کی عام بول چال میں اس کے بہت سے معانی میں استعمال ہونے کی بناپر لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے شبہے پیدا ہوتے ہیں۔یہاں مناسب ہے کہ جبر واختیار کے مختلف استعمالات اور ان کی اہم قسموں کو بیان کیا جائے۔

کلمۂ جبر مندرجہ ذیل مقامات پر استعمال ہوتاہے اورآزادی واختیارہر جگہ اس کے مقابل معنی رکھتا ہے:

١۔فلسفی جبر:

وہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں لیکن ان کے وجود میں آنے کے لئے اس کاکچھ بھی دخل نہیں ہوتاہے۔جیسے آدمی کا سانس لینا، اس کی طبیعت کے مطابق ہے۔اس طرح کے جبر کے مقابلہ میں، فلسفی آزادی اور اختیار ہے۔

٢۔ اخلاقی جبر:

وہ اعمال جنھیں اخلاقی حکم وتقاضہ کے مطابق انسان انجام دیتا ہے یا ترک کرتا ہے جیسے یہ کہ انسان اخلاقی لحاظ مامور سے ہے کہ نماز پڑھے یا حرام ہے کہ وہ شراب پئے اس طرح کا جبر، اخلاقی آزادی واختیار کے مقابلہ میں ہے۔

٣۔ حقوقی جبر:

قانونی لحاظ سے انسان کے لئے ضروری ہو تاہے کہ اپنی اجتماعی زندگی میں کچھ مخصوص اعمال کو انجام دے یا کچھ خاص اعمال کو ترک کرے۔جیسے قانون کے مطابق ہم سب مجبور ہیں کہ اپنی آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس اور مال گذاری ادا کریں یادوسروں کی ملکیت اوران کی خصوصی زندگی کے حقوق کا احترام کریں۔ ان امورکی مخالفت کی صورت میں قانونی سزائوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جبرکے اس مفہوم کے مقابلہ میں حقوقی آزادی اور اختیار ہے۔ علم حقوق میں جن ضروری اعمال کی مناسبت سے گفتگو ہوتی ہے وہ اسی زمرہ میں آتے ہیں۔

٤۔ نفسیاتی جبر:

کبھی ایساہوتاہے کہ انسان نفسیاتی وضعیت اور باطنی حالت سے متاثر ہوکر کچھ ایسے اعمال کو انجام دیتایاترک کرتاہے کہ وہ اس کے لئے ناگزیر ہوتاہے۔ جیسے کوئی انسان اپنی ماں کے انتقال کی وجہ سے غمگین ہوجاتاہے اوراس پر قلبی رقت طاری ہوجاتی ہے اوروہ اس حالت میں دوسرے کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آتا ہے یااپنی زوجہ کو تکلیف نہیں پہنچاتا ہے


یا اپنی روزانہ کی مالا مال آمد کی کثرت سے مست ہوجاتا ہے، یا اپنے عزیزوں سے ملاقات کے شوق وولولہ کی خاطر ناگزیر ہوکر خودسے متعلق دوسروں کی بداعمالیوں کو معاف کردیتا ہے اور بذل وبخشش سے کام لیتاہے۔اس طرح کا جبر نفسیاتی آزادی اور اختیار کے مقابلہ میں ہے۔ علم نفسیات میں، جبر واختیار کا اس طرح سے معنی کرنا زیادہ رائج ہے۔

٥۔سماجی جبر:

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اجتماعی اور سماجی حالات، آداب وتہذیب اس کی رسموں اور طور طریقوں کی وجہ سے انسان خود سے ایک خاص فعل کو ظاہر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور مجبوراً بعض اعمال کو ترک کردے۔ جیسے ہمارے سماج میں ایک بازاری دوکاندار پر یہ سماجی دبائو رہتا ہے کہ عاشور کے دن وہ اپنے کار وبار کو بند کردیتا ہے ، اگرچہ اس کی مرضی نہ بھی ہو۔ یا اجتماعی تحولات وتعمیرات کے موقع پر جو صنعتی ترقی کی بنا پر ہوتے ہیں، انسان مجبور ہے مٹرو سے اُترتے وقت تکلفات کونظر انداز کردے اور اس کے دروازوں کے بند ہونے سے پہلے مختصر وقت میں ہی اس سے باہر آجائے۔ سماجی آزادی اور اختیار، اس طرح کے جبر کے مقابلہ میں ہے۔ اجتماعی اور سماجی علوم میں جبر کا یہ مفہوم وسیع پیمانہ پر مستعمل ہے۔

کلمۂ جبر و اختیار کے مشہور طریقۂ استعمالات کی اجمالی شرح کے بعد اب ہم جبر واختیار کے نوعی مفہوم کو جو اخلاقی عمل کارکن ہے، آسانی سے جان اور سمجھ سکتے ہیں۔ کسی عمل کوجو چیزعلم اخلاق کی عدالت میں حاضر کرتی ہے وہ فلسفی مفہوم میں عمل کا اختیاراورآزادہونا ہے۔ فلسفی وتکوینی آزادی اور اختیار، اعتباری جبر جیسے حقوقی واخلاقی جبر سے مغایرت وبے گانگی نہیں رکھتا ہے اور اخلاقی یا حقوقی دستوروں کی موجودگی کسی خاص فعل سے متعلق انسان کی تکوینی آزادی اور اختیار کو سلب نہیں کرتی ہے۔ اُسی طرح جیسے اکراہ واجبار واضطرار، فاعل کی تکوینی آزادی اور اختیار سے ٹکرائو نہیں رکھتے ہیں۔(١)

اس طرح وہ چیزیں جو کبھی نفسیاتی یا سماجی جبر کے نام سے جانی جاتی ہیں، ہرگزتکوینی وفلسفی آزادی سے مغایرت نہیں رکھتی ہیں۔ ہاں، سبھی اخلاقی یاحقوقی اوامر ونواہی اور نفسانی اور سماجی عوامل کسی عمل کے انجام یا ترک سے متعلق، انسان کے عزم وارادہ کے پیدا ہونے میں اثرانداز ہوسکتے ہیں اوربہت سی جگہوں پر ایسا ہوتابھی ہے لیکن یہ دخالت وہیں سے گذرتی ہے جہاں انسان کی تکوینی آزادی اور ارادہ وجود میں آتاہے اور یہ کبھی انسان کو حقیقی لحاظ سے مجبور اور مسلوب الاختیار نہیں کرتی ہے۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی المیزان، ج١، ص١٠٧۔


دو: فاعل کی نیت اورمقصد

بہت سے دوسرے اخلاقی مکاتب کے برخلاف، مکتب اخلاق اسلامی، اخلاقی عمل کوانجام دینے کے لئے فاعل کی نیت اور مقصد پر بہت زیادہ زور دیتاہے۔ اصولی طور پر فلسفی لحاظ سے ایک آزاد اور مختار فاعل کے ذریعہ صادر ہونے والا فعل ان چار علتوں (فاعلی، مادی، صوری، غائی) کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہاں نیت اور مقصد سے مراد وہی علت غائی ہے جو فاعل کو کسی عمل پر مجبور کرتی ہے۔ اس بنا پر اختیاری عمل کے محقق ہونے میں مقصد کے موجود ہونے کی اصل ضرورت ایک ایسی بات ہے جس سے انکار نہیں کیا سکتا۔ لیکن بات اصل یہ ہے کہ عمل کو انجام دیتے وقت فاعل کے کسی خاص مقصد کی موجودگی آیااخلاقی عمل کے قابل قدر ہونے کے لئے ایک لازم شرط ہے؟ بہت سے اخلاقی مکاتب نے اس سوال کا جواب منفی دیاہے(١) ، اسلامی اخلاقی مکتب کے نظریہ کے مطابق فاعل میں نیت ومقصد کا ہونا، اخلاقی اقدار کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔

یہاں پر اس بات کی یاددہانی ضروری ہے کہ مخصوص نیت اورمقصد کے تحقق کے لئے دواساسی رکن کی موجودگی ضروری ہے، پہلا: فاعل کسی فعل کو انجام دینے کے لئے ارادہ اور توجہ رکھتاہو، دوسرا: فعل کو انجام دینے سے اس کا مقصدفقط خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو جسے اخلاص کہا جاتا ہے۔ اس طرح اخلاقی عمل کا فاعلی عنصر یا اس کی شرط اُس صورت میں مخدوش ہوتی ہے جب فاعل کسی کام کو غفلت اورسہوکی وجہ سے انجام دے یاخوشنودی پروردگار کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد رکھتا ہو۔ البتہ پہلے رکن کا فقدان ہمیشہ دوسرے رکن کے نہ ہونے کے برابر ماناجائے گا۔ لیکن دوسرارکن، پہلے رکن کے تابع نہیں ہے۔(٢)

اخلاق اسلامی کے فلسفہ میں کسی عمل کی اس وقت اخلاقی قدر وقیمت ہوتی ہے اور اس وقت نیک بدلہ اور اجر کا مستحق ہوتا ہے جب دوسری شرطوں کے محقق ہونے کے علاوہ فاعل کا مقصد خداکی مرضی حاصل کرنا ہو اورعمل کے انجام دینے کو کمال الٰہی اور اس کے جمال وجلال وصفات سے معنوی طور پر نزدیک ہونے کے لئے ایک وسیلہ اور ذریعہ قراردے۔ بس جب بھی کوئی مجنون یااحمق فاعل، پروردگار کی خوشنودی کے علاوہ کسی دوسری وجہ سے کوئی کام انجام دے تو اس کا عمل اخلاقی قدر و قیمت طے کرنے کے لئے ضروری نصاب سے محروم رہے گا۔

____________________

١۔ کانٹ کانظریہ یہ نہیں ہے وہ معتقد ہے کہ اخلاقی عمل کو انجام دینے کے لئے انجام فریضہ کے لئے ضروری مصداق ہونا چاہئے اس کے علاوہ انجام فریضہ کی نیت بھی اخلاقی عمل کے لئے شرط ہے۔ ر۔ک: ایمانوئل کانٹ: بنیاد مابعد الطبیعة اخلاق ترجمۂ (فارسی) حمید عنایت وعلی قیصری، ص٢٣،٢٤۔

٢۔رجوع کیجئے مطہری، مرتضیٰ، تعلیم وتربیت در اسلام(اسلام میں تعلیم وتربیت) ص١٩٥۔١٩٦۔


اس کے علاوہ فاعل کا مقصد یگانہ اورخالص ہونا چاہئے۔ یعنی فاعل کی نیت بہترین مقصدکے تحت اور خالص ہو۔ کبھی اس شرط کوضرورت کے تحت حسن فاعلی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ حسن فعلی کے مقابلہ میں ہے جوآگے بیان ہو گا۔

اخلاقی عمل کی قدروقیمت کو طے کرنے میںنیت کی اہمیت اور اس کی تاثیر کو عقل وفلسفہ کی نظرسے اوراسلام کی مقدس کتابوں کی زبان سے بھی بیان کیاجاسکتا ہے:

١۔مقصدکی عقلی اہمیت:

فلسفۂ اخلاق اسلامی کی نظرمیں انسان کا سب سے بلند و جودی مرتبہ اس کا روحانی مرتبہ ہے۔اس مرتبہ میں انسان کا حقیقی کمال خدا کے صفات کمالیہ زیادہ سے زیادہ معنوی تقرب حاصل کرنے میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کا سب سے بلند روحی مرتبہ اس چیز میں ہے کہ روح جو انسان کا جوہر ہے، الہی اسماء وصفات جمال وجلال کی جلوہ گاہ بن چائے۔ یہ چیز علم اخلاق کے کلامی شرائط اوراس کے مقصد ورسالت سے مربوط ہے۔ یہ عظیم کام اس صورت میں ممکن ہے جب انسان اپنے اختیاری عمل میں، جو روح کی ترقی وتنز لی میں وجودی تاثیر رکھتا ہے، خدا وند متعا ل سے نزدیک ہو نے کے لئے مقصداور نیت کے ساتھ حرکت کرے۔ نیت اور اخلاقی قدروں کے درمیان یہ تاثیر اور رابطہ ایک تکوینی اور حقیقی رابطہ ہے نہ کہ جعلی اور قرارداری۔

٢۔وحی کے مطابق مقصدکی اہمیت: اسلام کی مقدس کتابوں میں، خواہ وہ قرآن سے مربوط ہویا سنت سے اخلاقی عمل کے لئے خدائی مقصد کے موجود رہنے کی ضرورت پرواضح طریقہ سے تاکید کی گئی ہے۔ان کی چند مشہور مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

''یہ غنائم یا بلند درجہ اُن فقیرمہا جرین کے لئے ہے جن کو اپنے وطن اور مال سے محروم کردیا گیا۔ جبکہ وہ خوشنودی خدااور فضل الہی حاصل کرنے کے لئے کام کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے امورمیں مدد کرتے ہیں۔ یہ سچے اور حقیقت پسند لوگ ہیں۔''(١)

''وہ لوگ خداسے دوستی کی بناپرمسکین ویتیم واسیرکو کھانا کھلاتے ہیں۔ (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ) ہم خوشنودی خداکے لئے کھانا کھلاتے ہیں اورتم سے کوئی بدلہ اورشکریہ نہیں چاہتے ہیں۔''(٢)

____________________

١۔ سورۂ حشرآیت ٨۔

٢۔ سورۂ انسان۔آیت ٨و٩۔


''اور جن لوگوں نے اپنے خداکی خوشنودی کے لئے صبروشکیبائی سے کام لیا اور نمازکو قائم کیا اور ہم نے اُن کو جو روزی دی ہے اس میں سے پوشیدہ وآشکارطریقہ سے انفاق کیا اور بدی کو نیکی کے ذریعہ دفع کرتے ہیں آخرت کا گھر اِنھیں کے لئے ہے ''۔(١)

یہ بات واضح ہے کہ الٰہی مقصد پر قرآن کی یہ تاکید صرف مذکورہ موارد اور مقامات سے مخصوص نہیں ہے، اور مخصوص اعمال کا ذکر بعنوان مثال اورشاید الٰہی مقصد کی حفاظت میں انسان کے ذریعہ ہونے والی لغزشوں کے سب سے مشہور اور بنیادی مقامات کے ذکر کے عنوان سے ہے۔

پیغمبر اکرم سے یہ نقل ہواہے کہ فرمایا:

''بیشک اعمال کی اہمیت انہیں انجام دینے کی نیت پر منحصر ہے اورانسان کے لئے وہی چیزیں رہیں گی جن کی نیت کی ہے(٢) ، مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے''(٣)

نیت کے مراتب:

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حتیٰ وہ افراد جو خدا کے وجود کو قبول کرتے ہیںاور قیامت اور پیغمبروں کی بعثت پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی اپنے اعمال کو ثواب حاصل کرنے وبہشت میں جانے، اس کی لازوال نعمتوں سے بہرہ مندہونے اور دوزخ وجہنم کے کیفر اور سزائوں سے نجات کی غرض سے انجام دیتے ہیں، نہ کہ خداکی مرضی حاصل کرنے کے لئے۔مقدس اسلامی کتابیں خاص طور سے قرآن بہشت کی زیبائیوں اور خصوصیتوں سے نیز اخروی سزائوں کی شدت اور ان کے قطعی ہونے سے خبردار وہوشیا رکرکے ایک طرح سے کیفر سے ڈرنے اورجزاو ثواب کی امید کی نیت سے عمل کرنے کو صحیح مانتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح کے اخلاقی اعمال کی قبولیت بیان شدہ اخلاقی عمل کی قیمتی شرطوں سے سازگار ہے؟ اس بنیادپرکہ فاعل کو اپنے عمل میں فقط خداکی مرضی کا حصول مدّنظر رکھنا چاہئے۔

____________________

١۔ سورۂ رعد، آیت ٢٢، اسی طرح سورۂ مائدہ آیت نمبر١٥۔١٦، سورۂ بقرہ آیت ٢٠٧، ٢٢٥، ٢٦٤، ٢٧٢، ٢٨٤، سورۂ ممتحنہ آیت نمبر١، سورۂ نساء آیت نمبر٣٨، سورۂ روم آیت ٣٨۔٣٩ کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج٧٠، ص٢١٢، ح٣٨۔

٣۔ کلینی، کافی، ج٢، ص٨٤۔


اس سوال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ خدا کی مرضی کے متعدد مراتب ہیں اور انسان انہیں حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقہ اختیار کرتاہے۔کبھی خدا کی مرضی کواس وجہ سے اختیار کرتا ہے کہ وہ اخروی بدلہ وثواب کا باعث یا قیامت کے دن کیفر وسزا سے نجات کا ذریعہ وسبب ہے لہٰذا وہ اخلاقی عمل کے انجام میں انسان کے لئے توجہ کا مرکزقرار پاتی ہے اور کبھی صرف خدا کی مرضی کو حاصل کرنا صرف مقصد کے تحریک کرنے اور آگے بڑھانے کے لئے ہوتاہے(١) یعنی خدا کے نزدیک عمل کی محبوبیت ہے جوعمل کی انجام دہی میں انسان کی اس سے محبت اور اس کی طرف مائل ہونے کا سبب بنتی ہے لہٰذا خدا کے نزدیک بھی فاعل کی محبوبیت وجود میں آئے گی اورخدا اس سے محبت کرے گا۔ البتہ اس طرح کے اخلاقی عمل کی انجام دہی، خدا کے صرف خاص بندوں کے ذریعہ ہی میسر ہے۔

اس بناپر پہلی صورت میں بھی فاعل کا مقصد، خدا کی مرضی کا حصول ہے اس وجہ سے کہ وہ بدلہ دینے کا باعث اور کیفر وسزا سے بچنے کا سبب ہے۔

مقصد اور ایمان کارشتہ:

یہ بات ذکر ہوچکی ہے کہ اسلام کے اخلاقی نظام میں، اخلاقی عمل اس وقت اہمیت اورقیمت رکھتا ہے جب فاعل اسے انجام دینے میں معبود کی مرضی کاسودا کرے۔ چاہے خدا کی مرضی ذاتی طور پر مطلوب ہو اور چاہے پروردگار کی خوشنودی اس وجہ سے کہ وہ ثواب کا باعث اور عذاب سے بچنے کاسبب ہے، اس وجہ سے اسے اپنا مقصد قرار دیدے۔ (دونوں صورتوں میں اہمیت رکھتا ہے) عقلی طور پر اس امر کا محقق ہونااس صورت میں ممکن ہے جب فاعل خدا کے وجود روز قیامت اور جزا و سزا کی حقّانیت، انبیاء کی بعثت اور ان کی تعلیمات پر یقین اور عقیدہ رکھتا ہو۔ البتہ خدا پر ایمان رکھنے میں، معاد ونبوت سے متعلق ایمان بھی اس کے شامل حال ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری دینی کتابوں میں ایمان پر اخلاقی قدروں کے لئے ضروری شرط کے عنوان سے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اس کے کچھ نمونے مندرجہ ذیل ہیں:

''عورت اورمرد میں سے جوکوئی نیک اور شائستہ کام انجام دے اورمؤمن ہو، قطعی طور پر ہم اسے ایسی زندگی عطا کریں گے جو حیات طیبہ اور پاکیزہ ہے اور مسلّم طور پر جو کچھ انہوں نے انجام دیا ہے اس سے بہتر ان کے کئے ہوئے کا بدلہ دیں گے''۔(٢)

____________________

١۔رجوع کیجئے مصبا ح یزدی، محمد نقی، اخلاق درقرآن، ص٩٦۔

٢۔ سورۂ نحل، آیت٩٧۔


''نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ اپنے چہرہ کو مشرق ومغرب کی طرف کرلیں بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی خدا، قیامت، فرشتوں، آسمانی کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور(١)

''خدا کے پیغمبر اُن چیزوں پرجو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہیں ایمان لائے ہیں اور مؤمنین بھی سب خدا، فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے رسولوں میں کسی کے سلسلہ میں فرق نہیں کرتے ہیں اور وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم نے پیغام الٰہی کو سنا ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اے پروردگار! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور ہم تیری طرف پلٹ کے آنے والے ہیں''۔(٢)

ایمان کی حقیقت اور علم کے درمیان کے متعلق ایک طرف اوردوسری طرف اس کے اور اسلام کے درمیان فرق کے بارے میں یہ کہا جاچکا ہے کہ ایمان ایک قلبی بات ہے، اسی کے ساتھ اختیاری بھی ہے۔ جبکہ علم وعقیدہ انسان کے لئے ممکن ہے غیراختیاری صورت میں بھی حاصل ہوجائے، اس لئے علم اورایمان کے درمیان وجودی حقیقت کے لحاظ سے کوئی ملازمہ اور اُن میں وابستگی ضروری نہیں ہے۔ یعنی ممکن ہے کوئی انسان کسی حقیقت کے سلسلہ میں عالم ہو لیکن اسی سلسلہ میں کفر کا اظہار کرے''(٣)

قرآن کریم ایمان سے علم کے جداہونے کے بارے میں فرماتاہے:

''اس کے باوجود کہ ان کے دل اس کے سلسلہ میں یقین کرچکے تھے، لیکن ظلم وزیادتی اورتکبر کی بناپر اس سے انکار کردیا۔ بس دیکھ لو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوتاہے''(٤)

البتہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ایمان کا عام راستہ علم سے ہوکر گذرتا ہے۔ لیکن علم انفرادی طور پر ایمان کے محقق ہونے کے لئے کافی نہیں ہے۔

____________________

١۔ سورۂ بقرہ، آیت١٧٧۔

٢۔ سورۂ بقرہ، آیت ٢٨٥۔

٣۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی ، المیزان، ج١٨، ص٢٥٩۔

٤۔ سورۂ نحل، آیت ١٤۔


ایمان اور اسلام کے فرق کے بارے میں قرآن کی آیۂ شریفہ اس طرح بیان کرتی ہے:

اِنّ الْمُسلمینَ والمسلمات والمؤمنین والمؤمنات (١)

اوراسی طرح دوسری آیتیں بھی(٢) اسلام کو ایمان کے مقابلہ میں قراردیتی ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اسلام دین کے سامنے عملی طور پر تسلیم ہوجانے کے معنی میں ہے اور تسلیم عملی بدن کے ظاہری اعضاء وجوارح کے ذریعہ محقق ہوتی ہے۔ لیکن ایمان ایک قلبی، اعتقادی اور باطنی چیز ہے اور یہ چیز اس طرح ہے کہ اس کے آثار بدنی اور ظاہری اعمال میںبھی ظاہر ہوتے ہیں۔ اس بناپر ہر مؤمن مسلمان ہے لیکن ہر مسلمان مؤمن نہیں ہے(٣) جیسے منافق، جودین کے دستور وں پر عمل کرتاہے لیکن ایمان نہیں رکھتا۔

ایمان اورعمل کا رشتہ :

قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں ایمان کو قیمتی، موجب سعادت اور صالح عمل کے ساتھ شمارکیاگیا ہے۔ اُن میں سے اس مثال کو ملاخطہ فرمائیے:

''جولوگ ایمان لائے ہیں اورعمل صالح انجام دیتے ہیں ہم ان کو بہت جلدان باغ ہائے جنت میں داخل کریں گے جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہو نگی اوروہ ہمیشہ اس میں زندگی گزاریں گے .....۔''(٤)

بعض دوسری آیتوں میں صرف ایمان کو انسان کی سعاتمند ی اورکامیابی اوربہشت میں داخل ہو نے کے لئے ایک شرط کے طورپرپیش کیا گیا ہے۔

''خدا نے مومنین ومومنات سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جہاں درختوں کے نیچے نہریں جاری ہو ں گی اور وہ اُن میں سے ہمیشہ زندگی گزاریں گے، ان جنّات عدنٍ میں پاکیزہ جگہ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے اور خدا کی خوشنودی سب چیزوں سے بڑی ہے اوریہ سب سے بڑی کا میا بی ہے۔''(٥)

____________________

١۔ سورۂ احزاب ۔آیت: ٣٥۔

٢۔ جیسے سورۂ حجرات کی چودہویں اور پندرہویں آیت۔

٣۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی المیزان، ج١٦، ص٣١٣۔٣١٤۔

٤۔ سورۂ نساء آیت٥٧، ١٢٢، اورسورۂ بقرہ کی آیت ١٠٣، سورۂ نساء کی آیت١٢٤، اورسورۂ کہف کی آیت٣٠ کی طرف رجوع کیاجائے۔

٥۔ سورۂ توبہ، آیت٧٢۔


اس آیت میں واضح طریقہ سے خدا کی بڑی نعمتوں مثلاً ایمان کے ساتھ اس کی مرضی کی بشارت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کسی عمل کے موجود ہونے اور اس کی ضرورت پرکوئی گفتگونہیں کی گئی ہے۔ کیا اس طرح کی آیتیں، گزری ہوئی یاآگے آنے والی آیتوں سے، اس بناپر کہ اخلاقی قدروں کے محقق ہونے کے لئے عمل صالح کا موجود ہونا ضروری ہے، اختلاف نہیں رکھتیں؟ کیا اسلام کے اخلاقی نظام میں صرف ایمان، اخلاقی قدروں اور تعریف وجزا کے مستحق ہونے کا سبب بن سکتاہے؟ اس سوال کا جواب دینے اور ان دو طرح کی آیتوں کے مفہوم کے درمیان مناسب رابطہ برقرار کرنے کے لئے یہ کہاگیاہے:

'' ایمان کی حقیقت اور اسلام وعمل سے اس کی نسبت کے بارے میں جوکچھ بیان ہواہے اس پر توجہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ آیتیں جو ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر کرتی ہیں، وہ عام حالات پر نظر رکھتی ہیں، یعنی ان لوگوں سے مربوط ہیں جن کے لئے کام کرنے کی شرطیں جیسے قدرت، فرصت وغیرہ فراہم ہیں اور وہ ان حالات میں عمل کرتے ہیں اور وہ آیتیں جو صرف ایمان کو ہی کامیابی کا سبب قرار دیتی ہیں، ان حالات سے مربوط ہیں جن میں انسان ایمان لاتاہے لیکن عمل کو انجام دینے کے لئے حالات جیسے قدرت، فرصت وغیرہ اس کے لئے فراہم نہیں ہیں۔ ''(١)

کافروں کے نیک اعمال:

آخری سوال جو مقصداور نیت کے بارے میں جواب کا مستحق ہے یہ ہے: جو کافرین اور غیر مؤمن افراد مبدأ، معاد اور نبوت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں لہٰذا اپنے اعمال کی انجام دہی میں (اگر چہ ذاتی طور پر وہ عمل پسندیدہ ہیں) خداکی مرضی حاصل کرنے کی نیت نہیں رکھتے ہیں، کیا وہ لوگ اسلام کے اخلاقی اصول کی رو سے کسی طرح کی تعریف اور جزا کے مستحق نہیں ہیں؟ کیا ان کے نیک اعمال کی کوئی اہمیت وقیمت نہیں ہے اور کیاپروردگار کی جانب سے انہیں بدلہ نہیں ملے گا؟

اس سوال کے جواب میں یہ کہا گیاہے:

''وہ اعمال جو مذکورہ خصوصیت نہیں رکھتے ہیں لیکن شارع کے معین کردہ طریقوں کے مخالف بھی نہیں ہیں اور

____________________

١ ۔ر۔ک مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق درقرآن، ص١١٢،١١٣۔


کوئی منفی مقصد بھی نہیں رکھتے ہیں یعنی دین حق اور اس کے ماننے والوں سے دشمنی کے مقصد سے انجام نہیں دیتے اور فاعل انھیں انجام دینے کے لئے مادی اور حیوانی ضرورتوں کے پورا کرنے سے بالاتر مقصد دکھاتا ہے یعنی اس کا عمل، انسانی احساسات وعواطف کی خاطر انجام پاتاہے (جیسے کسی کو معاف کردیتا ہے اور سخاوت کو ظاہر کرتا ہے اس جیسے دوسرے اعمال) اگرچہ انسانی نفس کی بلندی وتکامل کے لئے ضروری شرطیں نہیں رکھتے اور اس کے لازمی نصاب تک نہیں پہنچتے لیکن وہ اس کے لئے مقدمہ فراہم کرتے ہیں یعنی انسان کی روح وجان کو معنوی سفر طے کرنے کے لئے آمادہ کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض روایتوں کی بناپر اُخروی سزائوں کے رفع ہونے یا اُن میں تخفیف ہونے کا سبب بن جاتے ہیں اور اگرچہ لازم شرطوں کے نہ ہونے کی بناپر بہشت میں داخل نہیں ہوگا اوراسے ابدی سعادت میسر نہیں ہوگی لیکن مطلق ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہ ہو''۔(١)

٢۔فعلی اور عینی عنصر

اخلاقی عمل کے لئے ان شرطوں کے علاوہ جو فاعل کے ذریعہ ان کی انجام دہی میں ہونی چاہئے، لازم ہے کہ وہ عمل فی نفسہ اورذاتی طور پربھی نیک، اچھا اور پسندیدہ ہو۔

اسلامی علوم میں رائج تعبیر کے مطابق اُسے حُسن فعلی کے عنوان سے یاد کرتے ہیں یہ حُسن فاعلی کے مقابلہ میں ہے جس کے بارے میں عنصر فاعلی کے عنوان کے تحت اس کتاب میں گفتگو ہوئی ہے۔

اس سوال کے بارے میں کہ کیا کوئی عمل ذاتی طور پر نیک اور شائستگی کا حامل ہے یانہیں ؟ اس سے پہلے اس سلسلہ میں اجمالی طور پر گفتگو ہوچکی ہے اور اس سلسلہ میں زیادہ تحقیق اورمعلو مات کے لئے اس سے مربوط منابع ومصادر میں جستجو کرنی چاہئے(٢) لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ اس عمل کا معیار اور اس کی نشانی انسان پر منحصر ہیں اور انھیںنشانیوں کی بنیاد پر اُسے نیکی اور برائی سے متّصف قرار دیاجاتاہے اور وہ ثواب یا عقاب کا مستحق ہوتا ہے اور محاسبہ وآزمائش کی بنیاد پر انسان خدا کے نزدیک جگہ پاتاہے۔ جب کہ اگر خارجی عمل پر اس کے علائم سے ہٹ کر اس پر توجہ کی جائے تو صرف ایک بدنی حرکت ہوگی اور وہ حرکت باقی تمام حرکتوں کی طرح نہیں ہوگی اور اس کی بہ نسبت اچھائی اور برائی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔(٣)

____________________

١۔ ر۔ک مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق درقرآن، ص١١٧١،١٧٢۔

٢۔ سبحانی، جعفر: حسن وقبح عقلی، پایہ ہائے جاودان اخلاق کی طرف رجوع کیجئے۔

٣۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج١٦، ص٨٢۔


اخلاقی عمل کے لئے حُسْن فعلی کی ضرورت کو عقلائی لحاظ سے بیان کرنے کے لئے کہا جاسکتاہے کہ انسان کا ارادی وآزادانہ (غیر ارادی) فعل اس کے نفس کے ذریعہ وجود میں آتاہے اورکمیّت، کیفیت، شکل، زمانی ومکانی خصوصیات وغیرہ کے لحاظ سے وہ فاعل کے مقصد کے تابع ہے۔ یعنی حقیقت میں فاعل کا مقصد اس کے عمل کی روح اور اسے وجود میں لانے والا ہے۔ اس بناپر ہر کام کو ہر مقصد کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا ہے اور ہر مقصد ایک خاص طریقہ سے کسی عمل کے ساتھ سنخیت اورمناسبت رکھتا ہے۔ سونے کی حالت میں کسی علمی امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ گھرمیں بیٹھ کر کعبہ کی زیارت نہیں ہو سکتی ہے اوردوسروں کی عزت وحرمت اور مال کے ساتھ زیادتی کر کے پروردگارکی خوشنودی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔(١)

اس طرح فلسفۂ اخلاق اسلامی میں فاعل کی نفسانی حالت اور مقصد پر بھی تو جہ کی جاتی ہے اس کے علاوہ عمل کی عینی ماہیت اوراس کے واقعی وحقیقی آثار کو بھی تو جہ کامرکزبنا یاجاتاہے۔یہ مکتب اُن اصالتِ فاعل کے طرفدار مکاتب کے برخلاف ہے جو عمل کی انجام دہی میں فقط فاعل کے نفسانی پہلووں پرتاکیدکرتے ہیں اور اصالت عین کے طرفدار مکاتب کے بر خلاف بھی ہے جو صرف خارجی عمل کی طبیعت اوراس کے عینی ومادی آثار کو اخلاقی اچھائی اوربرائی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔اس کے علاوہ جو شرائط وحالات اخلاق اسلامی میں فاعل کے مقصد کے لئے عمل کا معنوی عنصرہیں اوراسی طرح اخلاقی عمل کے مادی عنصرکے لئے ضروری مانے جاتے ہیں، وہ دوسرے اخلاقی مکاتب میں بیان ہونے والے شرائط وحالات سے بنیادی طورپرمختلف ہیں۔

____________________

١۔ر۔ک: مصباح یزدی، محمدتقی، دروس فلسفۂ اخلاق، ص١٦٧،١٦٨۔


ب: اخلاقی ذمہ د اری کی شرطیں

گزشتہ بحث میں اخلاقی عمل کی اہمیت کی شرطوں اور ان کے عنصروں کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے۔ اخلاقی تعریف، جزا اور اس کی اہمیت اور قدر وقیمت کے مقابلہ میں اخلاقی سرزنش، مذمّت وسزااوراس کی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اخلاق میں ''قدروقیمت ''اور''ذمہ داری'' دوفیصلہ کن بنیادی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں اور اُن میں سے کسی ایک کے فقدان کی وجہ سے ایک اخلاقی نظام کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ اس وجہ سے مناسب ہے کہ اخلاقی ذمہ داری کے اصلی عناصر اور ارکان کے بارے میں بھی کچھ بیان کیا جائے۔

اخلاقی ذمہ داری سے مراد پروردگار کے حضور میں ذمہ داری ہے اوراس کے نتیجہ میں اخروی جزاوسزاہوتی ہے خواہ دنیوی ذمہ داری اورسزا وجودرکھتی ہو یانہ رکھتی ہو۔دوسرے لفظوں میں اخلاقی ذمہ داری کی علامت، عمل پر مترتب ہو نے والااخروی عقاب اور سزا ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے اخلاقی قدر وقیمت آخرت میں جزا وثواب کو وجودمیں لاتی ہے ۔ مسلمان متکلمین، اخلاقی دستوروں کے مقابلہ میں ذمہ داری کی شرطوں کو چارحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ان شرطوں میں کچھ اصل دستور اور اخلاقی تکلیف سے مربوط ہیں، کچھ دوسری شرطیں، دستور دینے والے سے مربوط ہوتی ہیں اُن میں سے بعض شرطیں ایسی ہیں جواُن موضوعات کے لئے ہیں جن سے دستور کا رابطہ ہو تا ہے


اوربعض دوسری شرطیں مسئول وذمہ دارانسان سے مربوط ہو تی ہیں۔(١)

اخلاقی اوامر واحکام کے پسندیدہ ہونے کی وہ شرطیں جو شریعت کی اساس اور بنیاد کا اہم حصہ ہیں اور اسی طرح حاکم اور اخلاقی فرمان جاری کرنے کے لائق انسان کی خصوصیات، علم اخلاق کے کلامی موضوعات وافکار کی جزٔ ہیں اوران کے سلسلہ میں تحقیق وبحث کرنے کی جگہ، علم کلام ہے جہاں خداشناسی، نبوت اور دین کی ضرورت، جیسے مباحث میں بحث وتحقیق کی گئی ہے۔ اُن عملی شرطوں کو بیان کیا جاچکا ہے جن کے لئے حکم دیا جاتا ہے یا ان کی انجام دہی سے نہی کی جاتی ہے، اب اُن بنیادی عناصر کے سلسلہ میں گفتگو ہوگی جن کا انسان کے اندر موجود ہونا اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے شرط اور ضروری ہے۔

١۔بلوغ

بچے اورنا بالغ افراد اخلاقی ذمہ داری کے بارسے آزاداور بری ہیں۔البتہ اُن کے سرپرست اُن کے اعمال کی خاطر حقوقی طورپر ذمہ دارہیں۔اس وجہ سے اسلام کے اخلاقی نظام میں بچوں کے نیک اعمال اخلاقی اہمیت اور ثواب وجزا کے حامل ہیں لیکن ان کی اخلاقی برائیوں سے متعلق سوال نہیں ہو گا اور اُن کے لئے آخرت میں کوئی کیفروسزانہ ہوگی۔

اسلام کی مقدس کتابوں میں اخلاقی ذمہ داری کی بنیادی شرطوں میں سے بلوغ کو ایک شرط کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرحضرت امام محمد باقر ـ ایک روایت میں بلوغ کے زمانہ آغاز کو بیان کرتے ہو ئے فرماتے ہیں: ''انسان کے سنّ بلوغ تک پہنچنے کے بعد حدودالہی مکمل طورپراس کے نفع اورنقصان میں جاری ہو جائیں گے۔''(٢)

____________________

١۔ علامہ حلی: کشف المراد، ص ٣٢٢، شیخ طوسی: الاقتصاد فی ما یتعلق بالاعتقاد، ص١٠٧۔ حمصی رازی شیخ سدید الدین: المنقذسن التقلید، ص٢٨٨کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ رک۔ کلینی: کافی، ج: ٧، ص: ١٩٨۔ شیخ صدوق: فقیہہ، ج٤، ص١٦٤۔


٢۔عقل

طبیعی وفطری بلوغ کے علاوہ قوۂ عقل کی موجودگی اخلاقی ذمہ داری کی شرط ہے۔ اس بناپر وہ افراد جو عقل سلیم نہیں رکھتے اورقدرت تعقل کی کمی سے دوچارہیں وہ اخلاقی ذمہ داری کے حامل نہیں ہیں۔ اگر چہ ان کے سرپرست اُن کے اعمال کے نتیجہ میں دوسروں کو ہو نے والے نقصانات کے تئیں حقوقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔

فاعل میں عقل کے موجود ہو نے کی ضررت پر جودلیلیں ہیں اُن میں سے ایک وہ اثر ہے جو فاعل میں علم وآگاہی کے لئے عقل رکھتی ہے(١) ۔ آئندہ بیان ہو گا کہ اخلاقی ذمہ داری کی شرطوں میں سے ایک فعل کی اچھائی اور برائی سے متعلق فاعل کا علم اور اس کی آگاہی ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ شرط عقلی قدرت پر موقوف ہے انسان کے اندر عقل وادراک کی موجودگی آگاہی کے لئے ضروری مقدمہ ہے اور خود اخلاقی ذمہ داری کے لئے ایک شرط محسوب ہو تی ہے۔

٣۔علم یا اسے حاصل کرنے کا امکان

کو ئی انسان اخلاقی طور پراس وقت ذمہ دارہو تا ہے جب ترک کی جانے والے اعمال کی خرابی، برائی اور ممنوعیت کے بارے میں اورانجام دئے جانے والے اعمال کی خوبی، شائستگی، وجوب اور اسی طرح اُن کو انجام دینے کے سلسلہ کی کیفت میں علم وآگاہی رکھتا ہو یا یہ کہ ضروری علم حاصل کرنا اس کے لئے ممکن ہو۔یعنی ایسے حالات وشرائط کے تحت ہو جن میں وہ ان سے متعلق علم کو حاصل کرسکے۔(٢)

اس بنا پر بہت سے ایسے مسلمان یا غیر مسلمان جو اپنے اخلاقی فرائض کے بارے میں علم نہیں رکھتے لیکن اُن کے لئے اس طرح کا علم حاصل کرنا ممکن ہے، وہ اس طرح کے اپنے اعمال کے سلسلہ میں اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں اور اخروی سزائیں ان لوگوں سے بھی متعلق ہیں اگر چہ فی الحال علم نہ رکھتے ہوں ان کے مقابلہ میں وہ مسلمان یا غیرمسلمان جن کے لئے اس طرح کا امکان فراہم نہیں ہے اوران سے ممکن بھی نہیں ہے وہ اس طرح کی اخلاقی ذمہ داری سے بری ہونگے۔اخلاق کے علاوہ موجودہ حقوقی نظام بھی انسان کے علم یا اس کے لئے علم حاصل کرنے کے امکانات کو کیفری طور پر ذمہ دار ہونے کے لئے شرط سمجھتے ہیں۔

____________________

١۔ رک۔ شیخ طوسی: الاقتصاد فی ما یتعلق بالاعتقاد، ص١١٧۔

٢۔ ایضاً ١١٦، ١١٧۔ علامہ حلی: کشف المراد، ص٣٢٢۔


فرائض سے متعلق علم یااسے حاصل کرنے کے امکان کو اخلاقی ذمہ داری کے لئے ایک شرط کیوں مانا گیاہے؟

علم کی شرط اور اس کی موجو دگی کی ضرورت کے سلسلہ میں اس کیوں کا جواب دینے کے لئے فطری ، وجدانی، عقلی وعقلائی اور دینی لحاظ سے متعدد دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں:

پہلی دلیل :

انسان کا سالم وجدان کسی انسان کے لئے کیفر اورسزاکے اعلان وابلاغ کے بغیر اور اس وقت تک پسند نہیں کرتا جب تک وہ اپنے فریضہ سے متعلق علم کے حاصل کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔(١)

یہاں یہ بیان کرنا مناسب ہے کہ یہ شرط حتّیٰ اس نظریہ کی صورت میں بھی قابل قبول ہے کہ بدلہ اور سزاکو اخلاقی عمل کا طبیعی نتیجہ مان لیں، کیونکہ وہ لوگ بھی جو عمل اور بدلہ کے درمیان قراردادی رابطہ کی نفی کرتے ہیں اور تکوینی رابطہ کو قبول کرتے ہیں عمل کا لحاظ اس کے معنوی عناصر کے ساتھ کرتے ہیں نہ کہ فقط مادی عنصر کے ساتھ۔ یعنی اخلاقی عمل اس کے تمام عنصروں، منجملہ ان کے اس کا مادی پیکر کے ساتھ، فاعل کے مقصد اور نیت اور اس کے آگاہ ہونے اور نہ ہونے کے نتیجہ میں بدلہ اور کیفر کی صورت میں نتیجہ دیتاہے اور یہ فقط اس کے مادی پیکر میں نہیں ہے۔

دوسری دلیل:

عقل، فریضہ سے متعلق علم وآگاہی کو فریضہ کی انجام دہی کے لئے تکوینی اور فلسفی شرط کے طور پر مانتی ہے اور اس بنا پر اس کے فقدان کی صورت میں فریضہ کی انجام دہی کو محال جانتی ہے۔ کیونکہ فرائض سے متعلق جہل کی حالت میں فریضہ سے متعلق پابندی کے لئے فاعل میں کوئی مقصد اور اسے تحریک کرنے والی کوئی چیز موجود نہ ہوگی اس طرح مقصد کے بغیر فعل کا صادر ہوناعقلی طور پر محال ہے(٢) اس کے علاوہ عقل اصولی طورپر انسان کی جواب دہی، بازپرس اور سزائوں کو مجہول تکلیف (نامعلوم فریضہ) اوران حالات کی بناپر جن میں انسان نے اپنے اخلاقی فرائض سے آگاہی کے لئے پوری کوششیں کی ہیں، برا، ناپسند، اور حقیقت میں تشریعی عدالت کے خلاف جانتی ہے(٣) عقل کے اس فیصلہ کو علم اصول کے علماء قاعدہ ''قبح عقاب بلابیان'' کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔

____________________

١۔ رک۔ آخوند خراسانی: کفایة الاصول، ص: ٣٤٣۔

٢۔ میرزا نائینی: فوائد الاصول (تقریر شیخ محمد علی کاظمی) ، ج٣، ص٣٦٥۔٣٧١۔

٣۔ آخوند خراسانی: کفایة الاصول۔


تیسری دلیل:

عقلائی اور عرفی وجدان، مجہول تکلیف (نامعلوم فریضہ) کے ترک کرنے پر سزاکا مستحق نہیں جانتا ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ سماج کے عقلمند لوگ، اپنے ماتحت رہنے والوں کو اس دستور کی بنا پر جو ان کے لئے اعلان نہیں ہوا اوران تک نہیں پہنچا ہے یا جس کی دستیابی میں ان لوگوں نے کوتاہی اور تقصیر نہیں کی ہے، جواب دہی اور سزا کا مستحق نہیں جانتے ہیں اور اُن لوگوں کو سزا دینا غیر مناسب اور برا مانتے ہیں۔

چوتھی دلیل:

کتاب وسنت میں مذکورہ قاعدہ (قبح عقاب بلا بیان) کی تائید کثرت کے ساتھ کی گئی ہے۔ نمونہ کے طور پر ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیاجاتاہے:

خداوند عالم فرماتا ہے: ''ہم نے جب تک پیغمبر کو مبعوث نہیں کرتے، اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتے''۔(١)

معروف تفسیروں کے مطابق پیغمبر کو (بغیر کسی مقصد کے) بھیجنا اہم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک ضروری علم وآگاہی کو لوگوں تک نہیں پہنچا دیا جاتا، ان لوگوں کو ذمہ دار نہیں جاناجاسکتا ہے اور سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔

دوسری جگہ پر فرماتاہے: ''خداکسی کو بھی تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اتنی جتنی کہ اسے قدرت دی ہے''۔(٢) اس آیت کے مطابق بھی انسان اسی قدر ذمہ دار ہے جس قدر اس نے کچھ حاصل کیا ہے یا حاصل کرسکتا ہے۔ خواہ علم وآگاہی ہو یاقدرت واستعداد۔

پیغمبراکرم نے بھی فرمایا ہے:

''ہماری امت سے نو چیزوں (کے بدلہ) کو اُٹھا لیاگیا ہے: خطا، فراموشی، لاعلمی، ناتوانی، وہ امور جن کی خاطر قدرت نہیں ہے، وہ امور جن کو اضطرار یا اکراہ یا اجبار کی وجہ سے انجام دیا جاتا ہے، فال بد نکالنا، خلقت میں اور تفکّر وتدبّر میں وسوسہ پیدا ہونا اور حسد اس صورت میں کہ زبان یا ہاتھ سے ظاہر نہ ہو۔(٣)

____________________

١۔ سورۂ اسراء آیت١٥ (وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّیٰ نَبْعَثْ رَسُوْلاً

٢۔ سورۂ طلاق آیت٧(لَایُکَلِّفَ اللّٰهُ نَفْساً اِلّا مَا آتَاهَا

۳۔ کلینی، کافی، ج٢ ]کتاب الایمان والکفر، باب ما رفع عن الامة[ح٢۔ صدوق، فقیہہ، ج١، ص٣٦۔ خصال، ج٢، ص٤١٧۔


اس حدیث میں انسان نوچیزوں سے متعلق اپنی اخلاقی ذمہ داری اور جواب دہی وسزا سے معاف ہوگیا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ان تکلیفوں اور فرائض کے سلسلہ میں جواب دہ نہ ہوگا جن کے بارے میں علم وآگاہی نہیں رکھتا ہے مگر یہ کہ اس کی لاعلمی تقصیر اور کوتاہی کی بنا پر ہو، نہ کہ غلطی اورمجبوری کی بناپر۔ اس (غلطی کی) صورت میں بے خبررہنا ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا ہے۔اس وجہ سے کہ علم کا دوام اورباقی رہنابھی اخلاقی ذمہ داری کے تحقق کے لئے مؤثر ہے اور عقلی طور پر بھولنے والے انسان کے لئے تکلیف اور ذمہ داری نہ ہونے کی دلیل کی بنا پر وہ انسان جو پہلے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے متعلق علم رکھتا تھا لیکن اسے انجام دیتے وقت غفلت اور فراموشی کا شکار ہوگیا، اخلاقی طور پرذمہ دارنہ ہوگا۔

٤۔قدرت

اس شرط کی بنیاد پرانسان اُن چیزوں کے بارے میں جن کی پابندی کے لئے توانا ئی نہیں رکھتا اخلاقی طور پر ذمہ دارنہیں ہے۔ (خواہ وہ فعل کو انجام دینے کے لئے ہو یا ترک کرنے کے لئے) اور قیامت کے دن اس سلسلہ میں اس سے سوال وجواب نہ کیا جائے گا اور قابل توبیخ نہ ہو گا۔ اسلامی علوم میں یہ شرط ''تکلیف مالا یطاق'' کے عنوان کے تحت محال اور قبیح ہے اور یہ مسئلہ تمام لوگوں کے نزدیک مشہور، رائج اور قابل قبول ہے۔

مسلمان حکما اور متکلمین نے اس شرط کو ثابت کرنے کے لئے اس کے عقلی پہلو (یعنی یہ کہ نا قابل برداشت تکلیف اور فریضہ کی انجام دہی کا حکم دینا عدالت کے باخلاف اور ظلم کے واضح مصداقوں میں سے ہے) پر زور دینے کے علاوہ الہی حکمت اور خدا کے افعال کے بامقصد ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ خدا کے تکوینی اور تشریعی افعال کے حکیمانہ ہونے کی مصلحت کی بناپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اُنہیں تکلیفوں کو بندوں کے لئے مقرر کرتا ہے جن کے نتیجہ میں مقصد حاصل ہوسکے۔یہ بات واضح ہے کہ یہ مقاصد اس صورت میں قابل مقدور ہونگے کہ مقررشدہ فرائض کی انجام دہی افراد کی طاقت و توانائی سے باہر نہ ہو۔ اس بناپر ایسے امور کے لئے تکلیف معین کرنا جو انسان کے لئے غیر مقدور و ناممکن ہے، بے کار وبے فائدہ اور حکمت و مصلحت کے خلاف ہے اور اُن کا حکیم پرور دگار کی طرف سے نافذ ہو نامحال ہے۔(١)

____________________

١۔ رک۔ سبحانی ، جعفر، الہیات، ج١، ص٣٠١۔ شہیدصدر: دروس فی علم الاصول، حلقہ دوم، ص٢٣٥تا ٢٤٠۔


یہ شرط کتاب وسنت میں بھی کئی بار تائید اور تأکید کے مرحلہ سے گذری ہے۔اُن کی بعض مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

''خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگراسی قدر جتنی کہ اس کے پاس توانائی ہے۔ جو کچھ نیکی سے حاصل کیا اس کے لئے مفید اور جو کچھ برائی سے حاصل کیا اس کے لئے نقصان دہ ہے ''۔(١)

''ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اسی قدر جتنی کہ اس کے پاس طاقت ہے۔ اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جوحق بیان کرتی ہے اوران پرکوئی ظلم نہیں کیا جاتا ہے''۔(٢)

اس بات کے علاوہ کہ انسان کو اصل فعل کی انجام دہی پر قادرہونا چاہئے، یہ بھی ضروری ہے کہ اگر مکلّف کے لئے فریضہ کو انجام دینے میں وسائل ومقدمات فراہم کرنے کی ضرورت ہو تو مکلف کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مقدمات کو بھی حاصل کرنے کی قدرت رکھتا ہو، ورنہ حقیقت میں وہ اس فریضہ سے متعلق قدرت اور توانائی نہیں رکھتا۔(٣)

یاد رہے کہ جس طرح علم کا فقدان اس صورت میں اخلاقی ذمہ داری کو معاف کرتا ہے جب انسان نے اپنی لاعلمی کے سلسلہ میں تقصیر اور کوتاہی نہ کی ہو، اسی طرح قدرت اور توانائی کی شرط کے سلسلہ میں بھی کہنا چاہئے کہ ہم بہت سے مقامات پر قدرت وتوانائی حاصل کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں(٤) ، مثلاً ہمارا فریضہ ہے کہ اسلامی سرزمین اورملکوں کی حفاظت اور ان کے دفاع کی قدرت وتوانائی اور آمادگی کے وسائل کو فراہم کریں۔

''( اے ایمان لانے والو!) تم سب ان کے مقابلہ کے لئے ہر ممکن طاقت (جنگی سامان) اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کر لو تاکہ اُن کے ذریعہ خداکے دشمن اور خود اپنے دشمن اور اُن دشمنوں کو جن کو تم نہیں جانتے اور اﷲ جانتا ہے ڈرائو۔(٥)

____________________

١۔ سورہ ٔبقرة، آیت٢٨٦ ۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج٢، ص٤٤٣، ٤٤٤۔

٢۔ سورۂ مومنون، آیت ٦٢۔ اور اسی طرح سورۂ انعام، آیت١٥٢۔ اور علامہ طباطبائی: المیزان، ج١٥، ص٤١تا٤٣۔

٣۔ ر،ک۔ شیخ طوسی،الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد ، ص١١٨،١١٩۔

٤۔ ر،ک۔شہید مرتضیٰ مطہری: مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی (انسان درقرآن ) ، ص٢٧٦،٢٧٧۔

٥۔ سورہ ٔانفال، آیت٦٠


٥۔ اضطرار (مجبوری) کا نہ ہونا

اضطرار (مجبوری) بہت سی جگہوں پر اخلاقی ذمہ داریوں کو ختم کردیتا ہے۔'' مضطر''اس انسان کو کہتے ہیں جسے مشکل حالات کا سامنا ہو۔ جیسے یہ کہ کوئی انسان کسی بیابان میں عاجز وناتوان اور بھوکا ہو اور اسے کھانے کے لئے مردار کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی۔

٦۔ اکراہ واجبار کا نہ ہونا

اکراہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب انسان کو کسی دوسرے جابر انسان یا گروہ کے ذریعہ دھمکی دی جاتی ہے اور وہ اپنی باطنی مرضی کے برخلاف ایسے فعل کو ترک کرنے یا انجام دینے پر مجبور ہوتاہے جو اخلاقی لحاظ سے برا اور ناپسند ہے۔ جیسے یہ کہ اس سے کہا جائے کہ اگر تم نے اپنے روزہ کو نہیں توڑا تو تمہاری جان لے لوں گا یا یہ کہ اگر فلاں مسئلہ میں سچ بولوگے تم کو کام سے ہٹادیاجائے گا۔

وہ حدیث جسے حدیث رفع کہا جاتا ہے ایسے مختلف امور کو بیان کرتی ہے جن میں انسان کے لئے تکلیف اور ذمہ داری نہیں ہے، اُن امور میں سے ایک ''ما استکر ہوا علیہ'' ہے یعنی وہ امور جنہیں انجام دینے یا ترک کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔اکراہ اور اضطرار میں فرق یہ ہے کہ اضطرار میں دھمکی دینے والا کوئی نہیں ہوتا ہے بلکہ مجموعی حالات اس طرح ہوجاتے ہیں کہ وہ ناپسند حالات انسان کے اوپر بار ہو جاتے ہیں اور انسان ان نامطلوب حالات کو رفع کرنے کے لئے ناچار ہو جاتا ہے کہ اپنے اخلاقی فریضہ کے برخلاف عمل کرے اور اکراہ میں انسان اس مصیبت اور نقصان کو دفع کرنے کے لئے مجبور ہوتاہے کہ اپنے اخلاقی فریضہ کے برخلاف عمل کو انجام دے جو کسی دوسرے کی دھمکی کے نتیجہ میں اس کے سامنے ہے۔

اکراہ اور اضطرار مندرجہ ذیل دو بنیادی اسباب سے وابستہ ہے

ایک۔ ایسا صدمہ اور نقصان جس سے بچنا ضروری ہے۔

دو۔ اس تکلیف اور وظیفہ کی اہمیت کہ انسان اکراہ یا اضطرار کی بناپر اسے انجام دینے سے پرہیز کرتا ہے۔


اسلام کے اخلاقی نظام میں بعض اخلاقی فرائض کو اکراہ یا اضطرار کی بنا پر ہرگز ترک نہیں کیا جاسکتا ہے اور ہر حالت میں ان کی پابندی نہیں کی جاسکتی اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے نقصان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے، جیسے کبھی بھی اکراہ یا اضطرار کی بناپر دوسروں کی جانوں کو خطرہ میں نہیں ڈالاجاسکتاہے یاسماجی مصلحتوں کے خلاف عمل نہیں کیا جاسکتا ہے یا دین کی اہم مصلحتوں کو نظر اندازنہیں کیا جاسکتا ہے۔(١)

٧۔قصد وعمد

اخلاقی طور پر ذمہ دار (جوابدہ) ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ انسان قصداً اورعمداً اپنے اخلاقی فریضہ کو نظر انداز کردے۔ اس بناپر جب بھول چوک کی وجہ سے اپنے اخلاقی فریضہ کو ترک کردے تو اخلاقی لحاظ سے وہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

____________________

١۔رک۔ شہید مرتضیٰ مطہری: مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی، ٢٧٧۔٢٧٨۔


ج: ۔ اخلاقی عمل کی پہچان

کار آمد اخلاقی نظام کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی تعیین کے لئے عقلی اصولوں اور معیاروں کو پہچنوانے کے علاوہ ان کے مصداقوں کی بھی واضح طریقہ سے پہچان کرأے۔ انسانی اخلاقی نظام کے ناقص ہونے کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی فضائل ورذائل کو پہچنوانے کے لئے مفید قاعدوں، طریقوں اور راستوں کو پیش کرنے میں وہ ناکام ہیں حتی اگر یہ بھی قبول کر لیا جائے کہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کے سلسلہ میں اُن کی طرف سے پیش کردہ کلی اصول اور معیار صحیح ہیں۔(١)

اسلام کے اخلاقی نظام میں اخلاقی فضائل ورذائل کے مصداقوں تک پہنچنے کے لئے اِن تین بنیادی طریقوں پر تاکید کی گئی ہے جو اپنی خاص ماہیت رکھتے ہیں:

ا۔عقل(٢)

اعمال اور اشیاء کے ذاتی حُسن وقبح کو قبول کرنے اور اچھائی اور برائی کو درک کرنے اور پہچاننے کے لئے انسانی عقل کی توانائی کا اعتراف کرنے کے ساتھ انسانی عقل کو اسلام کے اخلاقی نظام میں ایک مستقل قاضی کی حیثیت سے مانا گیا ہے۔ عقلی راستہ ایک ایسا راستہ ہے جووحی سے جدا اور مستقل طریقہ ہے اور یہ بہت سی اچھائیوں اور برائیوں کو پہچنوانے کے لئے ذاتی طور پر قادر ہے۔

____________________

١۔ نمونہ کے طور پر کانٹ کے اخلاقی نظریہ میں جو ممتاز اخلاقی مکاتب میںسے ہے کہاگیا ہے کہ وہ عمل اخلاقی لحاظ سے اہمیت رکھتاہے جو تکلیف اور فریضہ کا مصداق ہو اور فاعل کی نیت اور مقصد صرف فریضہ کو انجام دینا۔ وہ اس سوال کے جواب میں کہ فریضہ کوکس طرح پہچانا جاسکتاہے ؟ جواب دیتا ہے کہ فریضہ ایک مطلق اور کلی بات ہے جو عام قانونی صورت میں مقرر ہوسکتا ہے۔ کانٹ اس بات کی تشخیص دینے کو انسان کی مشترک عقل یا وجدان کے سپرد کرتاہے۔یہ بات واضح ہے کہ یہ ضابطہ اور قانون بہت زیادہ کلی، غیرشفاف اور تفسیرکا محتاج ہے جس کے نتیجہ میں اس نظریہ کے کارگر اور مفید ہونے کو بہت زیادہ محدود کر دیتا ہے۔ (رجوع کیجئے: ایما نوئل کانٹ، ص١٢ تا ٣٤)۔

٢۔ یہاں پر ''عقل'' سے مراد عقلی احکام کی وہ قسم ہے جو قاعدۂ کلیہ: ''حکم عقل وشرع کے درمیان ملازمہ'' کے تحت قرار پا سکتی ہے اور اس قاعدہ کی مدد سے ارادۂ شریعت کی حکایت کرسکتی ہے۔ اس بات کے شرائط وکیفیات کو اصول فقہ کی کتابوں میں ملازمات عقلیہ کی بحث میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔


انسانی عقل قطعی طور پر درک کرتی ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کا احترام کرنا چاہئے، ان کے ساتھ ایسا برتائو کرنا چاہئے جوان کے لئے مناسب ہے، دوسروں کے مال پر ان کی ملکیت کا احترام کرنا چاہئے، اپنے فائدہ کو دوسروں کے نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہ بنائے، دوسروں کی زیادتیوں کی تلافی عادلانہ طریقہ سے کی جائے، افراد کے مخصوص حقوق کا احترام کیا جائے اور اس طرح کی دسیوں ایسی مثالیں ہیں جو اخلاقی فضیلتوں کے اصولوں میں سے ایک اصل ہیں۔ انسانی اور الٰہی اخلاقی مکاتب کے درمیان پائی جانے والی اخلاق کی بعض مشترک چیزیں، اخلاقی اچھائی اور برائی کے متعلق انسانی عقل کا حاصل کروہ نتیجہ اور معلول ہیں۔ البتہ اخلاق کی بہت سی جزئی چیزوں کو سمجھنے میں عقل کی ناتوانی کی بنا پروہ (عقل) ہر گز انفرادی حیثیت سے اخلاق کی جامع وکا مل عمارت نہیں کرسکتی ۔

٢۔فطرت(١)

اخلاق سے متعلق نیکیوں کی طرف فطرت کی رغبتیں اوربرائیوں سے باطنی طور پر نفرتیں آدمی کی سرشت میں ہیں اور یہ ایسا قابل اعتماد اور اطمینان بخش طریقہ اور راستہ ہے جس کا مقصد ومبداء انسانیت کا پاک اور غیر آلودہ گو ہر قلب سلیم ہے۔انسان کی فطری رغبتوں کو ان کے مثبت اور معنوی ہونے، ارادی اور زیادہ با خبر ہونے اور ان کا انسانی زندگی سے مخصوص ہونے جیسے معیا روںکے ذریعہ آسانی کے ساتھ ان غریزی اورطبیعی میلانات سے جدا کیا جاسکتا ہے جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو رائج عام تہذیب وتمدن اور علم و تعلیم و تربیت سے بے خبر ہیں لیکن اس (فطرت) کے جہاں ہیں جام اور حق نما آئینہ کا نظارہ کرنے کی برکت سے مکارم اخلاق کے شفاف سرچشموں سے سیراب اور اخلاقی فضائل کے زیور سے آراستہ ہیں۔اُویس قرنی وہ یمنی بادیہ نشین ہیں جو رسول خدا(ص) کے جمال کو دیکھے بغیر آپ کے فضائل ومکارم کے شیفتہ ہو جاتے ہیں اور آپ سے ملنے کے لئے اپنے وطن اورمال و دولت کو ترک کردیتے ہیں۔ سلمان فارسی فضیلت اور حقیقت کی جستجو میں ہر دَیر و خانقاہ کا چکر لگاتے ہیں اور عیسائی راہب اور یہودی خاخام سے جس کادل اس کے بارے میں خبر رکھتا تھا سوال کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں وہ بے حد مشقت کا سامنا کرتے ہیں اور آخر کار یثرب کے اطراف نخلستانوں میں اپنی آرزئوں کی تجلی، امیدوں کی کرن اور اپنے گم گشتہ محبوب کو جبیب خدا کی صورت میں پالیتے ہیں اوریہاں تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اہلبیت اطہار (ع) کے راز داروں میں شمار کئے جانے لگتے ہیں۔

____________________

١۔ یہاں فطرت سے مراد ایسے واضح، معلوم شدہ اور اختیاری، مثبت ، عالی ، غیر اکتسابی اور باطنی رجحانات ہیں جو تمام انسانوںمیں بالقوة پائے جاتے ہیں اور حالات کے فراہم ہونے پر فعلیت حاصل کرتے ہیں۔


قرآن کریم نے معرفت کے سرچشموں اور ترقی کی راہوں کو اور اس سلسلہ میں آنے والی رکاوٹوں کوباربار یاد دلایاہے اور ان کی نشان دہی کی ہے۔ سورۂ شمس میں کئی بار قسمیں کھانے کے بعد، جس میں آخری قسم آدمی کی جان اور نفس کی قسم ہے، فرماتاہے: ''پھر اُس کو بدی اور تقویٰ کا الہام کیا ہے''۔(١)

الہام سے مراد وہ علم ہے جو تصور اورتصدیق کی صورت میں انسانی جان کے سپرد کردیا گیا ہے۔خدا کی طرف سے فجور اور تقویٰ کا الہام اس معنی میں ہے کہ انسانی رفتار کی اچھائی اور برائی کو فطری طور پر اسے بتایا اور سکھایا گیا ہے۔ مثلاً انسان واضح طور پر یتیم کا مال کھانے کی برائی کو اپنے مال کے استعمال سے جدا کرنے کی صلاحیت اور قدرت رکھتاہے(٢)

خدا وند عالم سورۂ روم میں فرماتا ہے:

''بس (اے رسول!) اپنے رُخ کو دین توحید (اسلام) کی طرف رکھیئے اس حال میں کہ آپ دوسرے تمام ادیان ومذاہب سے منہ پھیرے رہیں اور حق پرست رہیں۔ یہ دین وہ فطرت الٰہی ہے جس پر خدا نے لوگوں کو خلق کیا ہے خدا کی خلقت (توحیدی فطرت) میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہی ہے سیدھا اور مستحکم دین۔ لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں''۔(٣)

اس آیت میں اس دین کوجو عقائد اور اخلاق، حقوق وغیرہ کی تعلیمات کا مجموعہ ہے، ایک فطری بات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جسے پہچاننا اور اس کی طرف رغبت پیدا کرنا انسان کی سرشت میں ڈال دیا گیا ہے۔(٤)

٣۔وحی

گذشتہ دو طریقے اگرچہ بہت سی جگہوں پر مشکل کشائی کرتے ہیں لیکن اُن کا مفید وکارگر ہونا کلی اور اصولی امور تک منحصر ہے اور جزئیات کی تفصیل بتانے اور اُن کو معین کرنے کے مرحلہ میں سخت نقصاندہ، ناکام اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔

____________________

١۔ سورۂ شمس، آیت٨۔

٢۔ علامہ طباطبائی ، المیزان، ج٢٠، ص٢٩٧، ٢٩٨۔

٣۔ سورہ ٔروم، آیت ٣٠۔

٤۔ رک۔ علامہ طباطبائی، المیزان ج١٦، ص١٧٨۔


اسی بنیاد پر خدا پرستی پر مبنی اخلاقی نظام میں''وحی'' پہچان کاتیسرا طریقہ جو گذشتہ دو طریقوں کو مکمل کرتی ہے۔ وحی کو اخلاقی مفاہیم کی تعیین وتفسیر میں اور ان کی جزئیات کو بیان کرنے کی قدرت رکھنے کی بناپر اخلاقی عمل کو پہچنوانے کے سلسلہ میں پہلا مرتبہ حاصل ہے۔ اگرچہ یہ کبھی بھی اُن دونوں کو نظرانداز نہیں کرتی ہے بلکہ ہمیشہ اُن کی ترقی اور زیادہ مفیدقرار دینے پر تاکید کرتی ہے۔

اسلام کے اخلاقی نظام میں اخلاقی فضیلتوں کو اِن عنوانات کے تحت پہچنوانا گیا ہے: حَسَنَہ(نیک، پسندیدہ) ، حلال، اجرو ثواب کا باعث اور جو کچھ انسان کے بہشت میں جانے کا سبب ہے۔ اور اس کے ساتھ اخلاقی برائیوں کو ذنب(جرم) ، اِثم(گناہ) ، حرام، گھاٹے اور جو کچھ، جہنم میں جانے کا باعث ہے ان جیسے عنوانات کے ذریعہ شناخت کرائی گئی ہے۔ اسی طرح اخلاقی لحاظ سے تمام مثبت اور منفی مفاہیم کی اہمیت اور اس سلسلہ میں داخل نمایاں باتیں جیسے سہل ودشوار، پوشیدہ وآشکار، فاعل کے مقصد اور نیت کی حالت وحقیقت اور اس کے ہمراہ یا بعد میں آنے والے کمی اور کیفی آثار ونتائج پر توجہ کرتے ہوئے کافی دقت کے ساتھ تحقیق کی گئی ہے اور انھیں جانچا اور پرکھا گیا ہے ۔ کتاب وسنت میں اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی طبقہ بندی کے سلسلہ میں پائے جانے والے بہت سے نکات پر دقت کی ضرورت ہے، جن کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنااس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے۔

د۔ اخلاقی اقدار کا تزاحم اورترجیح کا معیار

عمل کے مرحلہ میں اخلاقی قدروں کا تزاحم انسان کی اخلاقی مشکلات میں سے ایک ہے۔یعنی انسان ہمیشہ اپنی شخصی اور سماجی زندگی کے دوران ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زیادہ اخلاقی تکلیفوں سے سامنا کرتا ہے اس طرح سے کہ اُن سب کی پابندی ایک وقت میںممکن نہیں ہوتی اور اُن میں سے بعض فرائض کی انجام دہی دوسرے زمانہ میں بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس بناپر اس کے پاس اس کے سوادوسرا راستہ نہیں رہ جاتا ہے کہ وہ اُن میں سے ایک کا انتخاب کرلے۔ اس ناگزیر انتخاب کے سلسلہ میں ترجیح کا معیار کیاہے ؟ کیا اسلام کے اخلاقی نظام میں اس طرح کے انتخابات کے لئے کوئی معیار وملاک بیان کیا گیا ہے؟ ایک مفید اخلاقی نظام سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ اس طرح کی مشکلوں کو حل کرنے لئے ایسے معقول معیارکا مشورہ دیا جائے جسے سمجھا اور بروئے کار لایا جاسکے ۔ اسی بنیاد پر فلسفۂ اخلاق کی بعض کتابوں میں اس بات پر توجہ کی گئی ہے۔(١)

____________________

١۔ رک۔ فرانکنا: فلسفۂ اخلاق، ترجمۂ ہادی صادقی (فارسی) ص١٢١؛ اٹکینسون: فلسفۂ اخلاق، ترجمہ سہراب علوی نیا، ص ٣١، ٥٠۔


اسلامی علوم میں فرائض کے درمیان کا مسئلہ خواہ اخلاقی ہو یا حقوقی، علماء اصول کی توجہ کا خاص مرکزبنا ہوا ہے اور تزاحم کے باب میں اس پر گفتگو کی گئی ہے۔ اِن لوگوں نے مقام عمل میں قدروں کے ٹکرائو اور تزاحم وکشمکش کی قسموں کو بیان کرنے کے علاوہ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے معیاروں اور قاعدوں کو بھی بتایا اور پہچنوایا ہے۔(١)

اُن معیاروں میں سب سے زیادہ اہم اورقابل فہم مندرجہ ذیل ہیں:

اخلاق اور حقوق کے درمیان میں عقلی اور شرعی لحاظ سے ترجیح دینے کا بہترین معیار، ہر فریضہ کی اہمیت کا اندازہ کرنا ہے۔ یعنی جب مجبور ہوجائیں کہ دو یا چند اخلاقی تکلیفوں میں سے کسی ایک کو اطاعت اورپابندی کے لئے

انتخاب کریں تو اُن میں سب سے زیادہ اہم تکلیف کاانتخاب کرکے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ لیکن سب سے زیادہ اہم تکلیف کا انتخاب کس طرح کیا جائے؟ کیا سب سے زیادہ اہم تکلیف کی تشخیص کے لئے کوئی معیار ہے؟ انسانی عقل بہت سی جگہوں پر سب سے زیادہ اہم تکلیف کی پہچان کرنے پر قادر ہے۔ (مثال کے طور پر) جب مجبور ہوجائیں کہ دوسرے کی گاڑی کو اس سے پوچھے بغیراستعمال کرکے ایک مریض کی جان کو (ڈاکٹر کے پاس جاکر) خطرہ سے بچایا جائے یا دوسروں کے مال کا احترام کرنے کے اصول کی پابندی کی جائے، اِن دونوں باتوں

میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو عقلاً بیمار کی جان کو بچانا اہم اورنہایت ضروری ہوگا۔ انسانی عقل یہاں اور اس طرح کی دوسری جگہوں پر انسان کے حق مالکےّت کو نظر انداز کرنے کو موجّہ اور معقول مانتی ہے۔ بہت سی جگہوں پرعقل اور انسان کے وجدانی اور باطنی معلومات کے درمیان تزاحم سے حل کا راستہ نہیں ملتا لیکن شریعت نے اپنے خاص طریقوں سے اصولوں کو بیان کرکے اور اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی درجہ بندی اور قدر وقیمت کو طے کرکے مہم تر فریضہ کی نشاندہی کی ہے مثلاً اسلام کے اخلاقی نظام میں جب بھی انسان کے ذمہ خدا سے متعلق اور بندوں سے مربوط فرائض میں ٹکرائو ہو تو لوگوں سے مربوط فریضہ زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی بناپر دین کی مقدس کتابوں میں لوگوں کی جان ومال وآبرو کو اہم امور میں شمار کیا گیا ہے جن کے سلسلہ میں دست درازی اور زیادتی

نہیں ہونی چاہئے۔ اِن تینوںچیزوں میں سے لوگوں کی جان اور زندگی کی حفاظت بقیہ دو چیزوں پر مقدم ہے۔ اس بناپر اخلاقی مفاہیم کو کتاب وسنت میں موجود مطالب اور اُن کے سلسلہ میں پائی جانے والی تعبیر ات اور نظریات پر توجہ کرتے ہوئے حاصل کرنا چاہئے۔

____________________

١۔ رک: نائینی فوائد الاصول(تقریر شیخ محمد علی کاظمی) ، ج١، ٢، ص٣١٧، اور ٣٣٥۔


کبھی ممکن ہے عقلی اور وجدانی قاعدے اور دینی کتابوں کی تعبیریں ایک فریضہ کی دوسرے کے مقابلہ میں اہمیت اور برتری کو معین کرنے کے لئے موجود نہ ہوں تو ایسی جگہوں پر انسان کسی کو بھی حسب خواہش انتخاب کرسکتا ہے۔ اس طرح اسلام کے اخلاقی نظام نے اخلاق سے متعلق اچھائیوں اور برائیوں کی جزئیات اور مصادیق کو پہچنوانے کے سلسلہ میں ضروری تدبیروں پر غور وفکر سے کام لیا ہے جو ایک مفید اخلاقی نظام کے ارکان میں سے ہے اور اس سلسلہ میں بھی اس کی حیثیت بے مثال ہے۔


دوسرا باب :

اخلاق کے عام مفاہیم۔

پہلی فصل:

ہدایت کرنے والی نفسانی صفت

جیساکہ ذکر ہوچکا ہے اس طرح کی نفسانی صفتیں، انسان میں تاثیر گذار قوتوں کے طریقوں کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ بنیادی اور اصلی مفاہیم یقین اور ایمان ہیں۔ جو ایک نیک اور قدر وقیمت والی نفسانی صفت کی صورت میں بیان ہوئے ہیں۔ یقین ایمان کی سرپرستی میں عمل کرتا ہے۔ البتہ ناپسندیدہ صفات اور منفی مفاہیم بھی ہیں جو اسی نفسانی صفت کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس کتاب میں گفتگو کا محور فضیلتیں ہیں اس لئے رذائل کے بارے میں گفتگو آفات اور موانع کے عنوان سے فضائل کی تشریح کے بعد ہوگی۔

ایمان

اخلاق اسلامی میں ''ایمان'' ہدایت کرنے والی سب سے زیادہ اہم نفسانی صفت کے عنوان سے بہت زیادہ مقبول ہے اور اس پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے علم ویقین کی طرح اس کے مبادی اور مقدمات کو حاصل کرنے کے لئے ترغیب و تشویق سے کام لیا گیا ہے اور اسلام کے اخلاقی نظام میں اُن ذرائع اور طریقوں کی خاص اہمیت ہے جو انسان کوان نفسانی صفات تک پہنچاتے ہیں۔ جیسے پسندیدہ فکر، خاطرات وخیالات اور الہامات۔ نفسانی صفات کے سامنے ایسے موانع اور رکاوٹیں ہیں جو انسان کو باایمان ہونے سے روکتی ہیں جیسے جہل بسیط یا مرکب، شک اورحیرت، مکاری اور فریب کاری، ناپسندیدہ نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسہ وغیرہ۔ اِن سب کی ہمیشہ سے مذمت ہوئی ہے اوران سے روکا گیاہے۔

ایمان کی حقیقت اور اس کی شرطوں کے سلسلہ میں زمانۂ قدیم سے الٰہی مکاتب کے پیرؤوں خاص طور سے مسلمان متکلمین کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری ہے(١) ۔

____________________

١۔رک۔جواد محسن، نظریہ ایمان درعرصہ کلام وقرآن، ص١٩تا ١٨٠۔


اخلاق اسلامی کے دو اصلی منابع یعنی قرآن کریم اور روایات میں ایمان کی اہمیت اور اس کے مرتبہ کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے جس کا خلاصہ یہاں بیان کیا جاتاہے۔

١۔ایمان کی اہمیت

ایمان کے بلند مقام ومنزلت کو بیان کرنے کے لئے یہ حدیث کفایت کرے گی کہ پیغمبر نے اپنی نصیحتوں میں جناب ابوذر سے فرمایا:

''اے ابوذر !خداوندمتعال کے نزدیک اس پر ایمان رکھنے سے اور ان چیزوں سے پرہیز کرنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے جن چیزوں سے منع کرتا ہے ''۔(١)

یہ بات واضح ہے کہ خدا کے ذریعہ منع کی گئی چیزوں سے پرہیز، صرف اس پر ایمان کے سایہ میں ممکن ہے اور حقیقت میں یہ ایمان کی برکتوں میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

''خداوند متعال دنیا کو، اُن لوگوں کے واسطے بھی قرار دیتا ہے جن کو دوست رکھتا ہے اور اُن لوگوں کے واسطے بھی جن پر غضبناک ہے لیکن ایمان نہیں دیتا مگر اُن لوگوں کو جنہیں دوست رکھتا ہے ''۔(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـ مومن کے مقام ومنزلت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''جب بھی لوگوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹ جائے گا اور وہ لوگ خدا اور بندۂ مومن کے درمیان وصال ورابطہ پر نظر کریں گے اس وقت اُن کی گردنیں مومنین کے سامنے جھک جائیں گی، مومنین کے امور اُن کے لئے آسان ہوجائیں گے اور اُن کے لئے مومنین کی اطاعت کرنا سہل اور آسان ہوجائے گا''۔(٣)

یہ تمام بلند درجات جو روایتوں میں ایمان کے لئے بیان ہوئے ہیں اس اثر کی وجہ سے ہیں جو ایمان انسان کے کما ل اورسعادت میں رکھتا ہے۔ ایمان ایک طرف خلیفۂ الٰہی کی منزلت پانے کے لئے سب سے آخری کڑی اور قرب معنوی کا وسیلہ ہے اور دوسری طرف قرآن وروایات کے مطابق تمام پسندیدہ نفسانی صفات اور عملی نیکیوں کے لئے مبدأ اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

____________________

١۔ شیخ طوسی: امالی، ص ٥٣١، ح١١٦٢۔

٢۔ کافی، ج٢، ص٢١٥، ح٤،اور ح٣ بھی دیکھئے۔

٣۔ کافی، ج٨، ص٣٦٥، ح٥٥٦۔


٢ ۔ ایمان کی ماہیت

اگرچہ ایمان کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں مسلمان متکلمین کے درمیان اختلاف نظر پایاجاتاہے پھر بھی اُس کی اہم خصوصیتیں یہ ہیں:

ایک۔ ایمان وہ قلبی یقین، تصدیق اور اقرار ہے جو ایک طرف سے کسی امر کی نسبت نفسانی صفت اور حالت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے خالص شناخت اور معرفت سے فرق رکھتا ہے۔(١)

دو۔ ایمان کے محقق ہونے کی جگہ نفس اور قلب ہے اور اگرچہ اس کا قولی اور فعلی اثر ہے لیکن اس کا محقق ہونا قول یا عمل پر منحصر نہیں ہے۔

تین۔ اسلام اور ایمان کے درمیان کی نسبت عام وخاص مطلق جیسی ہے یعنی ہر مومن مسلمان ہے لیکن ممکن ہے بعض مسلمان صرف ظاہر میں حق کو تسلیم کئے ہوں۔

٣ ۔ایمان کے اقسام اوردرجات

اوّلاً:

ایک قسم کے لحاظ سے ایمان کی دو قسمیں ہیں: ''مستقر''اور'' مستودع''( مستودع یعنی وہ ایمان جو عاریت اور امانت کے طور پر لیا گیا ہو)۔

قرآن کریم میںارشاد ہورہاہے:

''وہ وہی ہے جس نے تم کو ایک بدن سے پیدا کیا ہے۔ پھر تمہارے لئے قرارگاہ اورامانت کی جگہ مقرر کردی۔ بے شک ہم نے اپنی نشانیوں کو اہل بصیرت اور سمجھدار لوگوں کے لئے واضح طور سے بیان کردی ہیں''۔(٢)

حضرت امام موسیٰ کاظم ـ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

''مستقر ایمان وہ ایمان ہے جو قیامت تک ثابت وپائدار ہے اور مستودع ایمان وہ ایمان ہے جسے خداوند موت سے پہلے انسان سے لے لے گا۔(٣)

____________________

١۔ ر۔ک: سید مرتضیٰ: الذخیرة، ص ٥٣٦۔ شیرازی، صدرالدین: تفسیر القرآن، ج١، ص٢٤٩۔ شیخ مفید: اوائل المقالات، ص٤٨۔ اس بارے میں مزید اطلاع کے لئے محسن جوادی کی کتابت نظریۂ ایمان درعرصہ کلام وقرآن، ص١١٩تا ١٥٨۔ کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ سورۂ انعام، آیت ٩٨۔٣۔ تفسیر عیاشی، ج١، ص٣٧١، ح٧٢۔ تفسیر قمی، ج١، ص ٢١٢، ح١۔


حضرت علی ـ ایمان کی قسموں کے بارے میں فرماتے ہیں:

''کچھ ایمان دل کے اندر ثابت ہوتے ہیں اور کچھ، دل اور سینہ کے درمیان، مرتے وقت تک بطور عاریت اور ناپائدار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی سے بیزار ہو تو اتنی دیر انتظار کرو کہ اس کی موت آجائے۔ اس وقت میں اس سے بیزار ہونا بر محل ہوگا۔(١)

ثانیاً:

ایمان کی حقیقت کے مراتب اور درجات ہیں اور اس میں نقصان اورکمی کا بھی امکان ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نے اس حقیقت پر تاکید کرنے کے علاوہ ایمان کو زیادہ کرنے یا اس کے کم ہونے کے اسباب کو بھی کثرت سے بیان کیا ہے، منجملہ ان کے قرآن کریم میں آیا ہے: ''مومنین وہی لوگ ہیں جن کے دل اس وقت ڈرنے اور لرزنے لگتے ہیں جب خدا کا ذکر ہوتا ہے اور جب اُن پر اس کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تواُن کاایمان زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہیں ''۔(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـنے اپنے ایک شیعہ سے فرمایا: ''اے عبدالعزیز! حقیقت یہ ہے کہ ایمان کے دس درجے ہیں سیڑھی کی طرح کہ اسے زینہ بہ زینہ طے کرنا چاہئے اور بلندی پر پہنچنا چاہئے۔ لہٰذا جس کا ایمان دوسرے درجہ پر ہے اسے پہلے درجہ والے مومن سے نہیں کہنا چاہئے کہ تمہارے پاس ایمان نہیں ہے اور اسی طرح تیسرے درجہ والا دوسرے درجہ والے کو یہاں تک کہ دسویں درجہ والے تک کو بھی یہی چاہئے کہ ایسا نہ کہے اور جس کا ایمان تم سے کم ہے اسے ایمان سے جدا (بغیر ایمان کے) نہ سمجھو اگر ایسا ہواتو جس کا ایمان تم سے بڑھ کر ہوگا اسے چاہئے کہ وہ تم کو ایمان سے جدا سمجھے۔ بلکہ اگر کسی کو اپنے سے کم دیکھو تو تمہیں چاہئے کہ اسے مہر ومحبت کے ساتھ اپنے درجہ تک لے آئو اور جو کچھ اس سے ممکن نہ ہو اسے اس پر بار نہ کرو کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے گی اور حق کی قسم اگر کوئی کسی مومن کی دل شکنی کر ے تو اس پر لازم ہے کہ اس کا جبران کرے اور اس کی دلجوئی کرے۔(٣) شیخ صدوق کتاب خصال میں اس روایت کے تما م ہونے پر تحریر فرماتے ہیں کہ مقداد ایمان کے آٹھویں درجہ پر، ابوذر نویں درجہ پر اور سلمان دسویں درجہ پر فائز تھے۔ البتہ اس بات پر توجہ ہونی چاہئے کہ اس روایت میں ایمان کے دس درجہ کو معین کرنا صرف دس مرتبہ تک منحصر کردینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صرف ایمان کے درجات کی کثرت کو بیان کرنا ہے۔ اسی وجہ سے دوسری روایتوںمیں ایمان کے لئے کمتر یا بیشتر درجات بھی بیان کئے گئے ہیں۔(۴)

____________________

١۔ نہج البلاغہ، خ١٨٩ چاپ انصاریان ص: ٣٦٨۔٢۔ سورۂ انفال آیت٢ ۔ سورۂ توبہ آیت ١٢٤۔ مدثر٣١، آل عمران ١٧١تا١٧٣۔ احزاب ٢٢کی طرف رجوع کیجئے۔

٣۔ کلینی: کافی، ج: ٢ص٤٥، ح٢؛ صدوق، خصال، ص٤٤٧، ح٤٨۔۴۔ رجوع کیجئے: صدوق: خصال، ص٣٥٢، ح٣١، کلینی: کافی، ج٢، ص٤٢، ح١، جن میں ایمان کے لئے سات درجہ بیان کئے گئے ہیں۔ تفسیر عیاشی، ج١، ص٢٠٥، ح١٠٥، درجات کو زمین وآسمان کے درمیان کے فاصلہ سے بیان کیا ہے۔


٤ ۔ ایمان کے متعلقات

اسلام کے اخلاقی نظام میں، ایمان کس چیز کے ذریعہ سے ہدایت، اخلاقی فضائل کی آراستگی اور معنوی رفتار کا سبب بنتا ہے ؟ قرآن کریم اورمعصومین (ع) کی سیرت میں ایمان کے اصلی ترین متعلقات کے بارے میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

ایک۔ عالم غیب پر ایمان :

قرآن کریم نے غیب اورغیبی طاقتوں یعنی ملائکہ (وغیرہ) پر ایمان کو کتاب الٰہی سے بہرہ مند ہونے اور ہدایت پانے کی شرطوں میں سے شمار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہورہاہے:

''یہ وہ کتاب ہے جس کی حقانیت میں کوئی شک نہیں اور یہ ان متقین اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت کا وسیلہ ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں .....''(۱)

عالم غیب سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جنہیں ظاہری حواس کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ عقلی سیر اور باطنی شہود کے ذریعہ ان تک رسائی ہوسکتی ہے، اصولی طور پر ایمان سے مشرف ہونے اور کفر والحاد دومادہ پرستی کی غلاظت و گندگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے غیب اور غیبی حقیقتوں، قوتوں اورامدادوںپر اعتقاد رکھنا ایک شرط ہے۔(۲)

صرف اسی شرط کے تحت حصول کے ذریعہ کتاب ہدایت کو پڑھا جاسکتا ہے اور اس کے نور کے پرتو میں کامیابی کی منزلوں کو طے کیا جاسکتا ہے۔

____________________

۱۔ سورۂ بقرہ، آیت٢۔

۲۔ سورۂ بقرہ، آیت: ١٧٧ ، ٢٨٥۔


دو۔ خدا اور اس کی وحدانیت پر ایمان:

قرآن کریم متعدد آیتوں میں خدا وند متعال پر ایمان کی ضرورت کو یاد دلاتا ہے۔ مثلاً فرماتا ہے: ''بس خدا اور اس کے پیغمبر اور اس نور پرجسے ہم نے نازل کیا ہے ایمان لائو اور تم جو کچھ انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے۔،،(١)

رسول خدا نے ایمان کی علامتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فرمایا:

'' ایمان کی نشانیاں چار ہیں: خدا کی وحدانیت کا اقرار، اس پر ایمان، اس کی کتاب پر ایمان اور خدا کے پیغمبروں پر ایمان۔، ،(٢)

تین۔ قیامت اور اس کی کیفیت پر ایمان:

قیامت اور اس کی کیفیت پر ایمان اخلاق اسلامی کی افادیت اور اس کے اجرا ہونے کی ضمانت ہے۔ قرآن کریم نے خدا اور اس کی وحدانیت پر ایمان کے بعد سب سے زیادہ تاکید قیامت اور اس کی کیفیت پر کی ہے۔ جیسے قبر میں ہونے والے سوالات، عذاب قبر، قیامت کا دن اور قیامت کا حساب و کتاب، اعمال کو پرکھنے کے لئے میزان کا وجود، پل صراط سے عبور اور جنت و جہنم پر اعتقاد و ایمان۔ ذیل میں بعض آیتوں اور روایتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے:

'' جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جو لوگ یہودی ، صائبی اور عیسائی ہیں ان میں جو خدا و قیامت پر واقعاً ایمان لائے ہیں اور نیک کام انجام دیتے ہیں ان کے لئے کچھ بھی ڈر اور خوف نہیں ہے۔(٣)

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

'' ایمان یہ ہے کہ انسان دین حق کو دل سے پہچانے اور زبان سے اقرار کرے اور اپنے اعضاء بدن سے اس کے فرائض کو انجام دے اور عذاب قبر، منکر و نکیر، موت کے بعد زندہ ہونے، حساب و کتاب، صراط اور میزان کو قبول کرے اور اگر خدا کے دشمنوں سے بیزاری نہ ہو تو ایمان موجو د نہیں ہے''۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ تغابن، آیت: ٨۔ اسی طرح سورئہ اخلاص آیت: ١، سورئہ بقرہ، آیات ١٣٦ ، ٢٨٥۔ سورہ ٔآل عمران، آیت: ٨٤۔ سورئہ مائدہ، آیات ٦٩، ١١١۔ سورئہ نساء آیت: ١٣٦، ١٦٢۔ سورئہ انعام، آیت: ٩٢۔ سورئہ شوریٰ، آیت: ١٥ کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ص: ١٩۔

٣۔ سورئہ مائدہ، آیت: ٦٩ اسی طرح سورئہ بقرہ، آیت: ٤، کی طرف رجوع کیجئے۔

٤۔ صدوق: خصال، ص: ٦٠٩ ، ح٩۔


دوسری حدیث میں پیغمبر خدا کی فرمائش کے مطابق جنت وجہنم پر ایمان بھی معاد کے دو اہم رکن ہیں۔(١)

اس بنا پر اخلاق اسلامی کی نظر میں معاد اور اس کے اساسی ارکان پر ایمان، رہنمائی کرنے والے دو اہم رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔

چار۔ انبیاء (ع) کی رسالت اور آسمانی کتابوں پر ایمان:

دینی تعلیم سے بہرہ مند ہونے اور دین بالخصوص اخلاق اسلامی کی طرف متوجہ ہونے کے لئے انسان کا یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اپنے صحیح کمال اور سعادت کو پہچاننے اور ان تک پہنچنے کے لئے مناسب وسیلوں اور طریقوں کو انتخاب کرنے میں عاجز اور قاصر ہے، ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ قطعی طور پر جسے بھی اس حقیقت میں شک ہے وہ انبیاء کی رسالت اور ان کی دعوت کے مطالب پر ایمان و اطمینان حاصل نہیں کر سکتا اور اسی کے ساتھ اعتماد اور اطمینان کے بغیر کسی کی خیر خواہ سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔

اس وجہ سے اخلاق اسلامی میں رسولوں کی رسالت اور ان کی کتابوں پر ایمان رکھنے کے لئے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ چونکہ سبھی انبیاء صرف ایک رسالت اور ایک ہی مقصد کے لئے کام کررہے تھے لہٰذا ان تمام انبیاء پر ایمان رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے: ''خدا کے پیغمبر اُن کے پرور دگارکی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور تمام مومنین بھی خدا اور فرشتے اور کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کی طرف سے بھیجے گئے پیغمبروں میں سے کسی کے ساتھ فرق نہیں کریں گے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پیغام الٰہی کو سنا اور اس کی اطاعت کی۔ اے پرورد گار! ہم تیری بخشش کے محتاج ہیں اور ہم کو تیری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے، ،۔(٢)

پانچ۔ امامت اور ائمہ (ع) پر ایمان:

شیعوں کے اصول عقائد کے مطابق امامت پر ایمان رکھنا اخلاق اسلامی کی بنیادوں اور کامیابی کی شرطوں میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں شیعہ حدیثی کتابوں میں بہت سی روایات موجود ہیں۔

____________________

١۔رجوع کیجئے: بیہقی: شعب الایمان، ج: ١، ص: ٢٥٧، ح: ٢٧٨۔

٢۔ سورئہ بقرہ، آیت: ٢٨٥، ١٣٦۔ اور اسی طرح سورہ ٔآل عمران، آیت: ٨٤ کی طرف رجوع کیجئے۔


ان روایتوں کے علاوہ یہ بات قرآن کے ذریعہ اور اس کی تفسیر کے سلسلہ میں مسلّم الثّبوت تاریخی واقعات سے ثابت ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہورہا ہے:

الْیَوْمَ َکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وََتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الِسْلاَمَ دِینًا (١)

''آج کفّار تمہارے دین سے نا امید ہوگئے ہیںلہٰذا ان سے خوف نہ کھاؤ۔ اور مجھ سے خوف کھاؤ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا ہے اور اسلام کو تمہارے لئے دین کی حیثیت سے پسند کرلیا ہے ۔ ''

اس آیت کے سلسلہ میں دو سوال قابل غور ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ وہ خاص دن کون سا دن ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ واقعہ جو اس دن رونما ہوا اور اکمال دین اور بندوں پر خدا کی نعمت کے تمام ہونے کا سبب بنا، کیا تھا؟ نا قابل انکار تاریخی شواہد اور تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک وہ ١٨ ذی الحجہ ١٠ ہجری کا دن تھا اور وہ واقعہ اس دن غدیر میں پیش آیا وہ پیغمبر کی طرف سے حضرت علی ـ کو اپنی جانشینی کے لئے انتخاب کر نا اور سلسلۂ امامت کا شروع ہونا تھا۔(٢)

ہم انبیاء (ع) کی رسالت اور ان کی کتابوں پر ایمان کی ضرورت کو اصطلاح میں دین کے نام سے یاد کرتے ہیں اور مذکورہ آیت کی روشنی میں امامت کا سلسلہ دین کی تکمیل کے لئے ہے اور اس کے بغیر دین ناقص رہے گا لہٰذا قرآن کریم کی نظر میں امامت پر ایمان بھی ایک لازمی بات ہے اور اخلاق اسلامی کے مستحکم اور مضبوط پایوں میں شمار ہوتا ہے۔

٥۔ایمان کی شرط

قرآن و راویات کے مطابق نیک عمل کا انجام دینا ایمان کی بہترین شرط ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں ایمان کو نیک عمل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اکثر آیتوں میں ایمان کے بعد بلا فاصلہ پسندیدہ اور صالح عمل کی گفتگو ہوئی ہے۔اگر چہ نیک عمل ایمان کے بنیادی عناصر میں سے نہیں ہے لیکن نیک عمل کے بغیر ایمان سے مطلوب اور مناسب فائدہ حاصل نہ ہوسکے گا۔ اس بنا پر شائستہ اور نیک عمل کو ایمان سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے شرط کے طور پر مانا جا سکتا ہے۔

____________________

١۔سورہ ٔ، مائدہ، آیت: ٣۔

٢۔ مزید معلومات کے لئے علامہ امینی کی کتاب '' الغدیر، ، کی طرف رجوع کریں۔


قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے:

'' اور جو کوئی ایمان لائے اور نیک عمل کو انجام دے اس کے لئے بہترین جزا ہے اور ہم بھی اس سے اپنے امور میں آسانی کے بارے میں کہیں گے''(١) قرآن مجیدنے نیک عمل کے بغیر، مومن ہونے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا ہے:

''اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا اور اس کے پیغمبر پر ایما ن لائے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں سے بعض لوگ منھ پھیر لیتے ہیں اور وہ لوگ واقعاً مومن نہیں ہیں۔، ،(٢) حضرت علی ـنے بھی اس مطلب کو یوں بیان فرمایا ہے:

'' جو خدا کے احکام پر عمل کرتا ہے فقط وہی مومن ہے۔، ،(٣) اس بنا پر اخلاق اسلامی کی نظر میں خدا کے احکام کی پابندی کے بغیر ایمان کا دعویٰ کرنا جھوٹ اور فریب ہے مگر یہ کہ مومن شخص عمل کرنے کی قدرت اور موقع نہ رکھتا ہو۔

٦۔ ایمان کے اسباب

دینی کتابوں میں ایمان کے وجود میں آنے، اور اس کے ثبات و کمال کے لئے مختلف عوامل بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض معرفت وشناخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے علم، عقل اور دین میں غور و فکر کرنا۔یہ سب ایمان کے نظری مقدمات کو فراہم کرتے ہیں اور وہ عوامل علم کلام میں پائے جاتے ہیں۔ کچھ دوسرے عوامل ایسے ہیں جو ایک اعتبار سے نفسیانی صفت اور ملکہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے تقویٰ، راہ خدا میں دوستی اور دشمنی، صبر، توکل، رضا وغیرہ اور کچھ ایسے ہیں جو انسان کے عمل سے مربوط ہیں۔ جیسے انفاق، نماز کے لئے اہتمام کرنا، دوسروں کے ساتھ احسان کرنا، گناہوں سے پرہیز کرنا وغیرہ۔

خاص نظری معارف جیسے دین میں غور وفکر، انسان کی مختلف نفسیانی صفتیں اور اعمال، ایمان کی آفرینش اور اس کے ثبات و کمال میں مؤثر ہوسکتے ہیں اور یہ بات اس حقیقت سے نہیں ٹکراتی ہے کہ ایمان اپنے لحاظ سے عمل صالح کی انجام دہی کے لئے مقدمہ فراہم کرتا ہے اور بہت سے نفسانی ملکات اور صفات کے وجود میں لانے کا موجب قرار پاتا ہے اور یہاں تک کہ انسان میں بعض نظری معارف کی پیدائش کے لئے باعث بنتا ہے۔ کیونکہ انسانی وجود کے تینوں شعبوں کے درمیان آپس میں تثیر اور تثر پایا جاتا ہے۔ اس بنا پر ایمان ایک واضح نفسانی حالت کی حیثیت سے دوسرے شعبوں پر اثر انداز بھی ہوتا ہے اور ان سے تثیر بھی قبول کرتا ہے۔

____________________

١۔ سورئہ کہف، آیت: ٨٨۔ اسی طرح سورئہ طہٰ، آیت: ٨٢۔ سورئہ فرقان، آیت: ٧٠۔ سورئہ قصص، آیت: ٦٧۔ سورئہ انفال، آیت: ٣ ،٤۔ سورئہ نسائ، آیت: ٦٥۔ سورئہ نور، آیت: ٤٧ کی طرف رجوع کریں۔ ٢۔ سورئہ نور، آیت: ٤٧۔٣۔ کلینی، کافی، ج: ٢، ص: ٣٨ ،ح: ٤۔


٧۔ایمان کے فوائد

یہ آثار اور فوائدایمان کے اسباب اور موجبات کی طرح علمی ماہیت بھی رکھتے ہیں۔ اور نفسانی حالات بھی اور بعض اعمال و عادات سے بھی متعلق ہیں۔ یہاں ان میں سے بعض اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

ایک۔ روحی تسکین:

انسان کے لئے اہم لذتوں میں سے ایک نفسانی تسکین اور اس کا آرام پانا ہے۔ بنی آدم کے لئے پریشانی اور اضطراب، سب سے بڑی تکلیف اور بہت سی گمراہیوں اور نا کامیوں کاسبب ہے۔ انسانی کوششیں اس جانکاہ درد سے نجات پانے کے لئے اس بارے میں تلخ تجربہ کی نشاندہی کررہی ہیں۔ خداوند متعال کی نظر میں انسان کو ایمان کے سایہ میں آرام و سکون میسّر ہوگا۔ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے:

''وہی ہے جس نے مومنین کے قلوب کو سکون دیا تاکہ وہ اپنے ایمان میں مزید ( ایمان کا ) اضافہ کریں، ،۔(١)

''باخبر رہو کہ خدا کے دوستوں کے لئے نہ کچھ خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور پرہیز گاری سے کام لیتے ہیں۔(٢)

خدا نے اس سے زیادہ واضح انداز میں قلبی سکون واطمینان کو اپنے ذکر اور یاد کے ذریعہ قابل تحصیل بتایا ہے اور اس سلسلہ میں وہ فرماتا ہے: '' وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور ان کے قلوب یاد خدا سے سکون حاصل کرتے ہیں آگاہ رہو کہ یاد خدا سے ہی دلوں کو آرام ملتا ہے۔، ،(٣)

____________________

١۔ سورئہ فتح، آیت: ٤۔

٢۔سورئہ یونس، آیت: ٦٢ ،٦٣۔ اور اسی طرح سورئہ مائدہ، آیت: ٦٩ کی طرف رجوع کیجئے۔

٣۔ سورئہ رعد، آیت: ٢٨۔


دو۔ بصیرت:

قرآن کی نظر میںایمان، حق وباطل کے درمیان تمیز دینے کے لئے انسان کو بصیرت اور سمجھداری عطا کرتا ہے۔

قرآن میں ارشاد ہورہا ہے: '' اے ایمان لانے والو! اگر خوف خدا رکھو گے تو خدا تم کو (حق وباطل کے درمیان) فرق کرنے کی قدرت وقوت عطا کرے گا۔، ،(١) دوسری طرف ایمان نہ رکھنے والوں کو نابینا قرار دیتا ہے:

'' جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ان کے کرداروں اور کارناموں کو ان کی نظر میں خوبصورت اور آراستہ بنا دیا ہے تا کہ وہ اسی طرح گمراہ وسرگرداں رہیں۔، ،(٢) ان دو آیتوں کا مقایسہ کر نے سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ ایمان اور تقویٰ ایک طرف خود خواہی اور خود پسندی کو ختم کرنے کا سبب ہے تو دوسری طرف خدائی نور اور الٰہی ہدایت سے متصل ہونے کی وجہ سے بصیرت اور سمجھداری عطا کرتے ہیں۔(٣)

تین۔ خدا پر بھروسہ:

خدا پر اعتماد اور بھروسہ کرنا کامیاب اور مفید زندگی کے ارکان میں سے ایک نادر اور قیمتی سرمایہ ہے۔ اس حالت کے ذریعہ انسان کی بہت سی الجھنیں اپنا بستر لپیٹ لیتی ہیں۔ اور حوادث کے ہولناک طوفان پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: '' بندہ کا ایمان اس وقت تک سچّا نہیں ہوسکتا جب تک کہ خدائی خزانہ پر خود اپنے ہاتھ کی دولت سے زیادہ اعتماد نہیں رکھتا ہے۔، ،(٤)

چار۔ دنیوی برکتیں :

قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے: '' اور اگر شہروں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم قطعی طور پر ان کے لئے آسمان و زمین سے برکتیں نازل کرتے۔، ،(٥)

یعنی ایمان نہ صرف اخروی مثبت آثار و فوائد کا حامل ہے بلکہ دنیاوی نعمتیںاور برکتیں بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی صحیح طریقہ سے دنیاوی نعمتوں کی تلاش میں ہے تو اسے چاہئے کہ ایمان کی جستجو کرے۔

____________________

١۔ سورئہ انفال، آیت: ٢٩۔ ٢۔ سورئہ نمل، آیت: ٤۔٣۔ علامہ طبا طبائی: المیزان، ج: ١٥، ص: ٣٤۔ ناصر مکارم شیرازی: تفسیر نمونہ، ج: ٧، ص: ٤٠ کی طرف رجوع کریں۔

٤۔ نہج البلاغہ، حکمت: ٣١٠۔٥۔وَ لَو اَنَّ اَهلَ القریٰ آمَنُوا وَالتَّقُوَا لفَتَحنا عَلَیهِم بَرکات مِنَ السّمائِ وَ الاَرضِ ( سورئہ اعراف، آیت: ٩٦)۔


پانچ۔نیک اعمال کی انجام دہی:

اس بات کے علاوہ کہ عمل صالح کی انجام دہی ایمان کی بنیادی شرط ہے، خود ایمان کے فوائد میں سے بھی ہے۔ کیونکہ ایمان، عمل کے لئے ظرف اور نیک عمل باطنی ایمان کا پھل اور نتیجہ ہے۔ علامہ طبا طبائی فرماتے ہیں:

ایمان عمل کے لئے مقدمہ فراہم کرتا ہے اور اس کے لئے لازمی شرط ہے اور عمل صالح کی سہولت یا دشواری انسان کے ایمان کے قوی یا ضعیف ہونے پر منحصر ہے اور اسی کے مقابلہ میں عمل صالح اور اس کی تکرار، ایمان کے عمیق اور زیادہ ہونے میں مفید اور مدد گار ثابت ہوتی ہے اور یہ دونوں اپنے اپنے لحاظ سے ان اخلاقی ملکات کے وجود میں آنے کے لئے ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں جو بے شک انسان سے صادر ہونے والے اعمال صالحہ کے انجام پانے کا سبب ہیں۔(١)

چھ۔ عوام میں محبوبیت:

ایمان کا دنیوی فائدہ یہ ہے کہ ایماندار انسان لوگوں کے دلوں میں محبوب ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان قلبی لحاظ سے محبوب ہونا سبھی پسند کرتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ انھیں محبت بھری نگاہوں سے دیکھیں اور لوگ اپنے لئے محبت کے آثار کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے لئے دوسروں کے اظہار محبت کی لذّت کو اتنا زیادہ شیرین پاتے ہیں کہ کسی چیز کے مقابلہ میں اس کا سودا کرنے پر تےّار نہیں ہوتے۔ بیشک محبت ایک ایسی دنیاوی نعمت ہے کہ یہ ہرمشکل کو آسان اور ہر تلخی کو شیرین اور ہر کانٹے کو پھول میں تبدیل کر دیتی ہے۔

خدا وند عالم فرماتا ہے: اگرخالص محبت کی تلاش میں ہو تو مومنین کی وادی میں داخل ہوجاؤ۔

''جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام انجام دیتے ہیں، جلد ہی(وہ) خدا( جو رحمن ہے) ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت قرار دے دے گا۔(٢)

سات۔ اُخروی فلاح اور کامیابی :

ایمان کے فوائد کی انتہا مومنین کی اُخروی کامیابی پر ہوتی ہے اس سے بہتر انجام اور کیا ہوسکتا ہے؟

____________________

١۔ علامہ طبا طبائی، فرازہا ئی از اسلام، ص٢٣٨۔

٢۔ سورئہ مریم، آیت: ٩٦۔


خدا وند متعال مومنین سے ایک معنی دار سوال کرتے ہوئے فرماتا ہے:

''اے ایمان لانے والو !کیا تمہیں ایک ایسی تجارت کی راہ دکھاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دلائے گی ؟ خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرو۔اس فداکاری کو اگر تم جان لو گے اور سمجھ لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہوگا۔، ،(١)

حکیم لقمان اپنے فرزند کی خیرخواہانہ نصیحت میں فرماتے ہیں:

''اے میرے بیٹے !سچ ہے کہ یہ دنیا گہرے سمندر کی طرح ہے جس میں بہت سے علماء اور دانشور ہلاک ہوگئے ہیں۔ بس اس میں اپنی نجات کی کشتی، خدا پر ایمان ہونے کو قرار دو۔ ''(٢)

٨۔ ایمان کے موانع

ایمان کے وجود میں آنے کے اسباب اور عوامل کے سلسلہ میںجو کچھ بیان کیا گیا اس کے پیش نظر ایمان پر تاثیر ڈالنے والے عوامل بہت ہیں اور ان میں سے کسی ایک کا نہ ہونا ایمان کے لئے رکاوٹ کاباعث ہوگا۔لیکن یہاں پر ایمان کے موانع سے مراد تنہا وہ عوامل ہیں جو ایمان کے ہادیانہ جوہر سے ٹکراتے ہیں اور مشہور اسلامی کتابوں میں عقلی قوت سے مربوط صفتوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔اس طرح کی مشہور موانع مندرجہ ذیل ہیں:

ایک۔ جہل:

جہل چاہے بسیط ہو یا مرکب، ایمان کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جہل بسیط سے مراد یہ ہے کہ انسان علم نہ رکھتا ہواور اسے اپنے عالم نہ ہونے اور نہ جاننے کا یقین بھی ہو۔اس طرح کی جہالت شروع میں مذموم اور قابل مذمت نہیں ہے۔کیونکہ یہ علم حاصل کرنے کے لئے مقدمہ ہے اور جب تک انسان خود کو جاہل نہ جانے اس وقت تک علم حاصل کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوگا۔لیکن اس جہالت پر باقی رہنا اخلاقی لحاظ سے برا اور قابل مذمت ہے۔(٣)

____________________

١۔ سورئہ صف، آیت: ١٠ ، ١١۔ ٢۔ شیخ صدوق: فقیہ، ج: ٢، ص: ٢٨٢، ح: ٢٤٥٧۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج: ١، ص: ١٠٠۔


لیکن جہل مرکب سے مراد یہ ہے کہ انسان عالم نہیں ہے اور اس کے ذہن میں واقعیت اور حقیقت سے متعلق کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر بھی اس کا خیال یہ ہے کہ وہ واقاً حقیقت تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا ہے۔ (یعنی وہ اپنے جاہل ہونے سے بھی بے خبر ہے)۔ اس طرح وہ دو امر میں جاہل ہے۔ اسی وجہ سے اسے جہل مرکب کہا گیا ہے۔ اس طرح کی جہالت کو اخلاقی لحاظ سے سب سے بڑی برائیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہاں انسان اصلاً اپنی بیماری کے بارے میں نہیں جانتا بلکہ وہ خود کو صحیح وسالم تصور کرتا ہے۔ حالانکہ اصلاح کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم فساد اور خرابی کا یقین ہونا ہے ۔(١)

اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ ـ نے فرمایا ہے: ''بے شک میں پیدائشی اندھے انسان اور سفید داغ کا علاج کرنے سے عاجز نہیں ہوں لیکن احمق انسان کا علاج کرنے سے عاجز ہوں''۔(٢)

دو۔ شک وتردید:

ابتدائی شک، علم ویقین تک پہنچنے کے لئے ایک مبارک قدم ہو سکتا ہے۔انسان جب تک کسی چیز کو پوری طرح جانتا ہے اور وہ کسی بھی گوشہ کو پنہان اور پوشیدہ نہیں سمجھتا اس کی کوئی خاص جستجو نہیں کرتا ہے۔ بہت سی گرانقدر حقیقتیں صرف ایک ابتدائی شک وتردید کی وجہ سے منظر عام پر آئی ہیں۔ اس بنا پر شک، علم و یقین اور ایمان تک پہنچنے کے لئے ایک با اہمیت اور بے مثال پل کی حیثیت رکھتا ہے اس طرح یہ اخلاقی لحاظ سے برا نہیں ہے۔ لیکن شک وتردید، کسی بھی حالت میں منزل نہیں ہے۔ شک 'مقصد اور منزل کے عنوان سے قطعی طور پر ایک اخلاقی برائی ہے اور یقین وایمان کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق اور باطل کی پہچان کرنے اور حق وباطل کو جدا کرنے کے لئے کمزور انسان کا نفس حیران وسرگرداں ہو جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر حضرت علی ـ نے سختی کے ساتھ شک وتردید سے منع فرمایا ہے اور اسے ایمان کے خلاف اور کفر کا سبب قرار دیا ہے۔مولائے متقیان حضرت علی ـارشاد فرماتے ہیں:

''لا ترتابوا فتشکّوا 'ولا تشکّوا فتکفّروا'' (٣)

(یعنی شک و تردید کو اپنے پاس جگہ نہ دو کہ شک میں پڑ جاؤ گے اور شک نہ کرو کہ کافر ہوجاؤ گے۔)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات ، ج: ١، ص: ١١٦۔

٢۔ مفید: اختصاص'ص: ٢٢١۔

٣۔ کلینی: کافی'ج: ١'ص: ٤٨' ح: ٦۔


تین۔ نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسہ:

خیالات سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے قلب پر عارض ہوتی ہے اور اگر وہ انسان کو شر کی طرف دعوت دے تو وسوسہ ہے اوراگر وہ خیر کی طرف ہدایت کرے تو اسے الہام کہا جاتا ہے۔ شیطانی وسوسہ جو ایمان کی رکاوٹوں میں شمار کیا جاتا ہے اس کی مختلف قسمیں اور متعدد اسباب ہیں اور ہر ایک سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک خاص طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے متعلق گفتگو اخلاق علمی یا تربیت اخلاقی کے ذیل میں ہونی چاہئے۔(١)

قرآن کریم، شیطانی وسوسہ کے بارے میں خود شیطان کی زبانی ارشاد فرما رہا ہے:

'' میں تیرے بندوں کو سیدھے راستے سے گمراہ کروں گا اس وقت ان کے سامنے سے 'پیچھے سے' داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے پہنچ جائوں گا''(٢)

چار۔ علمی وسواس:

یہ دقت' جستجو، تحقیق اور عقلانیت میں افراط کی ایک قسم ہے جو ایمان کے لئے آفت اور اسے برباد کر دینے کاسبب ہے۔ یہ بات کبھی عقلی دقت کے عنوان سے اس بات کا باعث ہوتا ہے کہ سب سے ابتدائی بدیہیات وواضحات میں بھی خدشہ وارد ہوجائے یہاں تک کہ انسان کو سفسطہ اور واقعیات وحقائق سے انکار کے گڑھے میں بھی گرا دیتا ہے۔ واضح ہے کہ اس طرح کا وسوسہ ہلاکت اور نابودی کو ہمراہ لاتا ہے اور ہر طرح کے ایما ن اور اطمینان سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔(٣)

پانچ۔ کفر اور شرک:

یہ دونوں ایمان وتوحید کے مقابلہ میںہیں اور ایمان میں رکاوٹ کا باعث شمار کئے جاتے ہیں۔ کفر اور شرک کی ماہیت اور ان کے دوسرے ابعاد و جوانب کے متعلق بہت زیادہ بحثیں پائی جاتی ہیں جن میں سے بعض کو عقائد وکلام کی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے، ان سبھی کے بارے میں گفتگو کرنا اس مختصر کتاب کی گنجائش سے باہر ہے۔

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج: ١، ص: ١٤٢، ١٥٨۔

٢۔ سورئہ 'اعراف' آیت: ١٦،١٧۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج: ١، ص ١٠٠ کی طرف رجوع کریں۔


دوسری فصل: مؤثر نفسانی صفات

گزشتہ بحث میں ان نفسانی صفات کے بارے میں جو انسان کی ہدایت کی ذمہ دارہیںنیزاخلاق اسلامی کے معروف مآخذمیں قوۂ عاقلہ سے متعلق قوت کے عنوان سے ان کا تذکرہ ہواہے، ہم نے اختصار سے گفتگو کی ہے۔ اس حصہ نیزبعد کے دوحصوں کی گفتگو میں صفات نفسانی کے دوسرے گروہ کے بارے میں جو انسانی نفس میں مؤثر قوت کے عنوان سے اپنا کردارادا کرتی ہیں ہم ان کے بارے میں گفتگو کریںگے۔ اس طرح کے نفسانی صفات اخلاق اسلامی کے معتبر مآخذ اور مشہور کتابوں میں قوت غضبیہ اور قوت شہویہ سے متعلق صفات کے عنوان سے ذکر ہوتے ہیں۔ یہاںسب سے پہلے اس نکتہ کی تاکید کی جاتی ہے کہ نفسانی صفات ان موارد میں جن کو ہم شمار کریں گے منحصر نہیں ہیں۔مؤثر نفسانی صفات کی طبقہ بندی: مؤثر نفسانی صفات کی بھی مختلف گروہوں میںطبقہ بندی کی جاسکتی ہے، ایک تقسیم بندی میں ان میں سے ہر ایک کے رجحان پر نظر کرتے ہوئے ان کو درج ذیل گروہوں میں جگہ دی جاسکتی ہے:

١۔وہ صفات جو خدا وندعالم اور مبدأہستی کی نسبت انسان کے باطنی رجحان پر ناظر ہیں جیسے توکل، تسلیم، اور رضا و....۔

٢۔وہ صفات جو معاد اور انسانی زندگی کے انجام کی نسبت اس کے باطنی رجحان کی طرف ناظر ہیں جیسے خوف، امید و رجائ، مایوسی اور ناامیدی.......۔

٣۔ وہ صفات اور ملکات جو ہمارے رجحان کا تعلق خود ہماری ہی نسبت بتاتے ہیں ؛جیسے عجب، خود پسندی، افتخار، عزت نفس، عصبیت، تعصب وغیرہ ۔

٤۔ وہ صفات جو کل اور آئندہ کی نسبت ہمارے رجحان کو بتاتے ہیں؛ جیسے امیدیں، جلد بازی، ہمت، تسویف (ٹال مٹول) وغیرہ.....۔

٥۔ وہ صفات جو دنیوی مواہب پر ناظر ہوتے ہیں؛ جیسے زہد، حرص، حسرت اور قناعت وغیرہ.....۔

٦۔ وہ صفات جو دوسروں کی نسبت انسان کا رجحان کو بتاتے ہیں ؛ جیسے خیر خواہی، حسد کرنا، کینہ، انصاف وغیرہ..... ۔

٧۔وہ صفات جو نفس کی طبیعی اور متعادل آرایش کو بیان کرنے والے اور اس کے تحفّظ میں کرداراداکرتے ہیں جیسے سکون، وقار، عفت، حیا وغیرہ وغیرہ۔

اخلاق اسلامی میںان گروہوں میں سے ہر ایک کی حیثیت سے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے مبدأ و معاد سے متعلق رجحان کا سرچشمہ اس کا ایمان ہے اور تمام نفسانی رجحانات خود اس کی نسبت، دوسروں کی نسبت، طبیعی مواہب کی نسبت، آئندہ کی نسبت اور نفس کی مطلوب حالت کی نسبت، عالم کے آغاز و انجام کی نسبت نفس کے رجحان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔


ہدایت کرنے والے نفسانی صفات اور اثر کرنے والے نفسانی صفات کا خاکہ

الف۔ خداکی طرف نفس کا مائل ہونا

بعض وہ نفسانی صفات جو خداوند متعال سے متعلق انسان کے باطنی رجحان اور مطلوب رابطہ کا کام کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

١۔ خداوندعالم کی محبت

بغیر کسی شک و تردید انسان کی قوت جاذبہ (جذب کرنے والی قوت) اور دافعہ (دفع کرنے والی قوت) محبتوں اور نفرتوں کے زیر اثر وجود میںآتے ہیں۔ جب انسان محبت وعشق کرتا ہے، تو لذت اور نیک بختی کا احساس کرتا ہے اور جب کراہت و نفرت کے عالم میں ہوتا ہے تو پریشانی، رنج و الم، دردوغم، کااحساس کرتا ہے۔ شاید اسی بنا پر اخلاق کے بعض بڑے حکماء اور فلاسفر نے انسان کی غایت اور اخلاق کا مقصد سعادت وخوش بختی یعنی لذت بخش حیات اور رنج والم سے دور زندگی کو جانا ہے۔ اس ہدف کی تکمیل صرف اور صرف محبت آمیز زندگی کے سایہ میںبالخصوص اس کے عالی مرحلہ یعنی عاشقانہ زندگی میںمیسر اور ممکن تصور کرتے ہیں، ان تمام فضیلتوں کا راز '' محبت ''اور'' عشق''کے الفاظ کے لئے اسی حقیقت میںتلاش کرنا چاہیے لیکن جو چیز اصل عشق و محبت سے بھی زیادہ اہم ہے محبوب اور معشوق کی شان و منزلت ہے۔ انسان کی سعادت کا معیار اس کے درجہ محبت سے وابستہ ہے اور محبت و عشق کے درجہ کو محبوب کے کمال و جما ل کے اندازوں میںتلاش کرنا چاہیے نیز اس کے دوام وبقا کو بھی جمالِ محبوب کا ظہور اور غروب معین کرتا ہے۔اب اصلی سوال یہ ہے کہ سر و جان کا سودا کس حقیقت جمال و جلال کے عشق میں کرنا چاہیے تاکہ ابدی محبت اور بلند وبالا عشق مثمر ثمر ہو اور پایدار لذت اور دائمی نیک بختی حاصل ہو ؟

خدا پر اعتماد رکھنے والوں کے لئے مناسب یہ ہے کہ اس سوال کا جواب خود اپنے خدا سے طلب کریں۔اخلاق اسلامی کے نقطۂ نظر سے وہ وجود جو ایسی محبت کا حقدار ہے خدا کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ اس کی محبت تخلیق عالم کی توجیہ کرنے والی اور عالم وبنی آدم کے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے والی نیز ان کی آرزؤں کی تکمیل کرنے و الی ہے، اسی وجہ سے خداوندعالم فرماتا ہے: ''والذین آمنوا اشدّ حبا ﷲ''!(١) ''جو لوگ ایمان لاچکے ہیں وہ خدا سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں'' اور یہ اعلان کرتا ہے '' یحبھم و یحبونہ''(٢) ''خدا انہیں دوست رکھتا ہے اور وہ لوگ (بھی) خدا کو دوست رکھتے ہیں''۔

____________________

١۔ سورئہ بقرہ ١٦٥۔

٢۔ سورئہ مائدہ آیت ٥٤۔


دوسری طرف، خداکی محبت ایک ایسی جزا ہے کہ خدا وند عالم قرآن میں اپنے خاص بندوں کو جس کی بشارت دیتا ہے، جیسے مجاہدین جو اس کے لئے اپنے سرا ورجان کو فدا کردیتے ہیں:

''ان اﷲ یحب الذین یقاتلون فی سبیله صفاً کانهم بنیان مرصوص'' (١) ۔

''بے شک اﷲ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں جس طرح سیسہ پلائی ہوئی دیواریں''۔ اور جس طرح محسنین، توابین، مطھرین، مقسطین، صابرین اور متوکلین (احسا ن کرنے والے، توبہ کرنے والے، پاکیزہ افراد، عدل وانصاف کے خو گر، خدا پر توکل و بھروسہ کرنے والے) قرآن کریم میں خداکے محبوب قرار دئیے گئے ہیں یہاںپر ہماری گفتگوکا موضوع انسان کا خدا وند سبحان سے محبت کرنا ہے، لیکن چونکہ درحقیقت بندوں کی اپنے پروردگار سے محبت اور خدا کی ان سے، محبت کے درمیان ایک قسم کا ملازمہ پایاجاتا ہے لہٰذا ناگزیر دونوں ہی نظر سے موضوع کو دیکھنا چاہئے۔

پہلی نظر: بندوں کی خدا سے محبت

الف۔ صرف خدا حقیقی محبوب ہے: در حقیقت صرف خدا ہے جو حقیقی محبت اور واقعی عشق کرنے کا سزاوار ہے دیگر اشیاء اور اشخاص اپنے اس رابطہ کے اعتبار سے جو اس سے رکھتے ہیںمحبوب واقع ہوتے ہیں۔

الف: محبت کی پیدائش کے اسباب:

علماء اخلاق کا نظریہ ہے کہ محبت اور اس کے شدید مراتب یعنی عشق درج ذیل اسباب ووجوہ کی بنا پر وجود میںآتے ہیں:

١۔ جو چیزیں انسان کی بقاء اور کمال کا سبب ہوتی ہیں:

اسی بنیاد پر، انسان اپنے وجود کو عزیز اور دوست رکھتا ہے اور اس کی بقا ء اور دوام کا خواہاں ہوتا ہے اور جو چیز بھی اسے اس بات میںمعاون و مدد گا رثابت ہوتی ہے وہ اس سے محبت بھی کرتا ہے، اور وہ موت کے اسباب سے کراہت رکھتا ہے۔( ٢)

٢۔ لذت:

لذت مادی ہو یا معنوی محبت کا سبب ہوتی ہے یعنی انسان جو کچھ لذت کا سبب ہوتا ہے اس کے لذت آور ہونے کی وجہ سے اسے دوست رکھتا ہے نہ کہ خود اس لذت مادی کی وجہ سے ؛ جیسے انسان کی لذت کھانے پینے کی اشیاء سے متعلق نیز وہ تمام چیزیں جو اس کے تمام غرائز وخواہشات پورا کرنے کا باعث ہوتی ہیں۔ اس طرح کی محبت آسانی کے ساتھ ہاتھ آجاتی ہے لیکن تیزی سے ختم بھی ہوجاتی ہے۔

____________________

١۔ سورئہ صف آیت٤۔٢۔ فیض کاشانی، محسن ؛المحجة البیضائ، ج٨، ص٩تا ١١۔ نراقی، محمدمہدی، جامع السعادات، ج٣، ص١٣٤، ١٣٥۔


اس طرح کی محبتیں پست مادی اور سریع الزوال ہونے کی وجہ سے محبت کا سب سے ادنی درجہ شمار ہوتی ہیں(١) اور معنوی لذت ؛ جیسے انسان کا ایک فدا کار مجاہد سے محبت کرنا، اس لذت کی بنا ء پر جو اس کی دلاوری اور اس کے مظاہرہ جنگ سے محسوس کرتا ہے اور ایک فنکار اور ورزش کرنے والے انسان سے محبت اس لذّت کی وجہ سے جو ہنر نمائی کے میدان میں محسوس کرتا ہے اور امانت و پاکدامنی سے محبت اس لذّت کی وجہ سے جو انسان امانت داری اور پاکیزگی سے محسوس کرتا ہے نیز خداوندعالم کی یاد اوراس سے راز و نیاز اس بناپر کہ وہ اس بات سے سرشار لذت محسوس کرتا ہے، اس طرح کی لذتو ں کی ان لوگوں کے لئے محبت آفرینی جو اس کے ایک گھونٹ سے سیراب ہوئے ہیں ایک واضح اور استدلال و برہان سے بے نیاز امر ہے، اس طرح کی لذتیں دراز عمر ہوتی ہیں، اگر چہ اس اعتبار سے خود مختلف درجات اور مراتب کی حامل ہیں، لیکن باقی اور دائم محبت کے خواہاں افراد اس کے پانے کی تمنا میں مادی لذتوں اور فانی محبتوں کا یکسر سودا کرتے ہیں۔

٣۔احسان:

انسان احسان اور نیکی کا اسیراور بندہ ہے اور فطری طور سے جو بھی اس کے ساتھ احسان کرتا ہے وہ اسے دوست رکھتا ہے اور جو انسان اس کے ساتھ برائی کرتا ہے وہ اس سے رنجیدہ خاطراور بیزارہوتا ہے اس بناء پر نیکی، منفعت اور احسان انسان سے


محبت کرنے کا سبب بنتے ہیں۔(٢)

٤۔ ظاہری و باطنی حسن و جمال:

خوبصورتی اور حسن و جمال کا ادراک محبت کا باعث ہو تا ہے ؛ یعنی انسان خواہ مادی خوبصورتی ہو یا معنوی اسے دوست رکھتا ہے اور اس کی یہ محبت خوبصورتی اور حسن کی ذات سے تعلق رکھتی ہے، نہ یہ کہ اس کے علائم اور لوازم سے اوروہ فطری اور باطنی سرچشمہ رکھتی ہے۔

٥۔باطنی اور روحی توافق ومناسب:

کبھی انسان دوسروں سے محبت کرتا ہے، لیکن نہ اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اور نہ ہی اس کے مال ومرتبہ سے امید اور لالچ رکھنے کے سبب بلکہ صرف اورصرف اس باطنی اور روحی تناسب اور توافق کے لحاظ سے جو اس کی روح و جان کے ساتھ رکھتا ہے۔

٦۔ الفت واجتماع:

افراد کا اجتماع اور آپس میں معاشرت رکھنا اور ایک ساتھ زندگی گذارنا آپسی میل جول، اتحاد و الفت اور انس و محبت کا باعث بنتا ہے۔ انس و محبت کا سرچشمہ انسان کی طبیعت اور سرشت میں ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لفظ''انسان'' اُنس سے ماخوذ ہے نہ کلمۂ'' نسیان ''سے ۔(٣)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص١٣٦۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص١٣٦۔

٣۔ راغب اصفہانی، معجم مفردات الفاظ قرآن، ص٩٤ ملاحظہ ہو۔


٧۔ ظاہری اوصاف میں شباہت:

ایک یا چند ظاہری خصوصیات میں اشتراک محبت کے پیدا ہونے کا باعث ہوتا ہے۔ بچوں کا ایک دوسروں سے لگاؤ اور بوڑھوں کا آپس میں تعلق نیز ہم پیشہ اور ہم صنعت افراد کا ایک دوسرے سے محبت رکھنا اسی وجہ سے ہے۔

٨۔ علیت کا رابطہ:

چونکہ معلول کا سرچشمہ علت ہے اور ا س سے تناسب اورسنخیت اور جنسیت رکھتا ہے، لہٰذا علت محبوب واقع ہوتی ہے کیونکہ علت کے بعض اجزاء اور اس کے بعض ٹکڑوں کے مانند ہے، معلول بھی علت کو اس لئے دوست رکھتا ہے کہ درحقیقت علت اس کی اصل و اساس ہے، اس بنا پر ان میں سبھی ایک دوسرے سے محبت کرنے میں درواقع اپنے آپ سے عشق کرتے ہیں(١)

اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ محبت ایجاد کرنے کے تمام اسباب وعلل مذکورہ موارد میں خلاصہ ہوسکتے ہیں یا نہیں ، اور مذکورہ اسباب میں سے ہرایک کے استقلال یا تداخل سے چشم پوشی کرتے ہوئے حقیقی طور پرمحبت آفرین تمام اسباب و علل صرف خدا وند سبحان میں پائے جاتے ہیں اور اس کے علاو ہ میں ان کا تصور کرنا ایک وہم اور خیال سے زیادہ نہیں ہے، اس حقیقت کے بیان میںکہاجاسکتاہے: ہرانسان کاوجود خداوند سبحان کے وجود کی فرع وشاخ ہے اور خداوندعالم کے وجود سے جداکوئی ہستی اور وجود نہیں رکھتا، اور اس کے وجود کاکمال اس کے ذریعہ اور اس کی طرف سے ہے نیز لذت و احسان کا سرچشمہ خداوندعالم ہی کی ذات ہے، احسان کاخالق وہ ہے اور ہر احسان اس کے قدرت اور فعل کی خوبیوں میں سے ایک خوبی و حسن کا بیان کرنے و الا ہے۔ بے شک کمال وجمال بالذات کامالک صرف ا ور صرف وہ ہے اوریہ صرف اسی میں پایا جاتاہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل بصیرت کے لئے معنوی جمال زیادہ دوست رکھنے کے لائق اور خوبصورت ترین شئی ہے۔ اسی طرح انسان کی روح وجان اپنے پروردگار سے ایک مخفی اور باطنی راز و رمز کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے، اور شاید آیۂ ''قل الروح من امر ربی'' (٢) (''کہو، روح ہمارے ربّ کے امر سے ہے '') اسی باطنی رابطہ کی طرف اشارہ ہو۔ خدا اور انسان کے درمیان رابطۂ علیت کا وجود آشکار اور توضیح سے بے نیاز ہے۔ لیکن دو دیگر اسباب یعنی '' مادی اجتماع '' اور ''ظاہری اوصاف میں اشتراک '' پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دونوں اسباب محبت آفرینی میں معمولی کردار ادا کرتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کا خدا وند سبحان کی طرف نسبت دینا نقص کا باعث ہے، اور درحقیقت محال ہے لہٰذا حقیقی طور پر اور عالی ترین درجات میں محبت کے تمام اسباب خدا وند عالم میںپائے جاتے ہیں اور چونکہ اس کے اوصاف میں کوئی شریک نہیں ہے لہٰذا کسی قسم کا شریک اس کی محبت میںبھی وجود نہیں رکھتا۔(۳)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات،، ج٣، ص١٣٩۔٢۔ سورئہ اسرائ، آیت ٨٥۔۳۔ فیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج٨ ص ١٦، ؛نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ص ١٤٢، اور ١٤٦ ملاحظہ ہو۔


ب۔ خدا وند عالم سے محبت کی نشانیاں:

بلند و بالا، مقدس و پاکیزہ فضائل ہمیشہ جھوٹے دعویداروں سے روبرو رہے ہیں، یہ غیر واقعی خیالات اور دعوے کبھی کبھی اس طرح پیچیدہ ہوگئے ہیں کہ حقیقت امر خود اشخاص پر بھی پوشیدہ ہوگئی، بہت سے طفل صفت ایسے ہیں جنہوں نے ابھی محبت خداوندی کا الفباء بھی نہیں سیکھا ہے، لیکن خود کو اللہ کے دوستوںمیں شمار کرتے اور اس سے عشق و محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

خدا وند عالم کے دوستوں کی ظاہری اور ملموس نشانیوں کا بیان خود شناسی اور دیگر شناسی کے لئے ایک مناسب راستہ اور خدا کی محبت ودوستی کے جھوٹے اور سچے دعوؤں کا ایک معیار ہے۔ ان علامتوں میںاہم ترین علامتیں اخلاق اسلامی کی اوّلین کتابوں کی روایت کے اعتبار سے درج ذیل ہیں:

١۔ موت کو دوست رکھنا:

سچا چاہنے والا اور حقیقی دوست اپنے محبوب کے دیدار کا مشتاق ہوتا ہے۔ اگر چہ موت خداوندعالم سے ملاقات کرنے اور اس کے جمال کے دیدار کی تنہا راہ نہیں ہے، لیکن عام طور پر اس ہدف کا تحقق اس راہ مرگ سے گذرے بغیر ممکن و میسر نہیں ہے۔ اگر کوئی انسان کسی مقصد سے عشق کرے، تو جو کچھ اس راہ میں راہنما واقع ہوگا وہ اس کا محبوب بنتا چلاجائے گا، قرآ ن کریم اس سلسلہ میںفرماتا ہے: '' کہو: اے وہ لوگوں جو یہودی ہوگئے ہو اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم لوگ خدا کے دوست ہو اور دوسرے لوگ دوست نہیں ہیںتو اگر اپنے قول میں سچے ہو تو موت کی تمنا کرو '' ۔(۱) البتہ جیسا کہ خدا وند سبحان کی محبت کے درجات ومراتب ہیں، موت کا چاہنا یا نہ چاہنا بھی افراد کی نظر میں درجات و مراتب رکھتا ہے۔

موت کو ناپسند کرنا خدا وند عالم کی محبت سے اس وقت سازگار نہیں ہے جب اس محبت کا سرچشمہ دنیاوی مظاہر جیسے اموال، اولاد، خاندا ن اور مقام و منصب ہو، لیکن جب دنیا میں باقی رہنے کا تعلق و لگاؤ پروردگار عالم سے ملاقات کے لئے آمادگی کا حصول اور نیک اعمال انجام دینا ہو تو خدا وندعالم کی دوستی سے منافات نہیں رکھتا۔(۲)

____________________

۱۔ سورئہ جمعہ، آیت ٦۔

۲۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣ ، ص ١٧٤ ،١٧٥۔


٢۔ خداوندعالم کی خواہش کو مقدم کرنا:

خداوندعالم کاحقیقی دوست اس کے ارادہ کواپنے ارادہ پر مقد م رکھتا ہے حتی کہ اگر محبوب فراق اور جدائی کاارادہ کرے تووہ اسے وصال پر ترجیح دے۔ اللہ کی محبت اس کے دستور اور قوانین کی پیروی کی طالب ہے اور محبوب کی رضایت کاحاصل کرنااس کے لوازمات میںسے ہے ۔ ''کہو: اگر خداکو دوست رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو تاکہ خداتمہیں دوست رکھے اور تمہارے گنا ہوںکو بخش دے خدا وند بخشنے والا مہربا ن ہے''۔(١)

٣۔ یاد خدا وندی سے غافل نہ ہونا:

محبوب کا ذکر، اس کی یاد اور جو کچھ اس سے مربوط و متعلق ہے اس کا تذکرہ ہمیشہ محب کے لئے لذت بخش اور دوست رکھنے کے قابل ہے، خدا کے دوست ہمیشہ اس کی اور اس کے دوستوں کی بات کرتے ہیں اور اس کی یاد کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور اس کے کلام کی تلاوت سے لذت حاصل کرتے ہیں اور خلوت میں اس سے مناجات اور راز و نیاز کر کے انس حاصل کرتے ہیں۔ جیسا کہ خدا نے موسٰی ـ سے فرمایا: ''اے عمران کے فرزند ! جھوٹ بولتا ہے وہ انسان جو خیال کرتا ہے کہ وہ مجھے دوست رکھتا ہے لیکن جب رات ہوتی ہے تو میری عبادت سے چشم پوشی کرتا ہے کیا ایسا نہیں ہے کہ ہر عاشق و دلدادہ اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ وہ اپنے دلدار و عاشق سے خلوت کرے ؟(٢)

٤۔خوشی و غم خدا کے لئے:

خدا کے چاہنے والے محزون ومغموم نہیں ہوتے مگر اس چیز کے لئے جو انھیںمحبوب سے دور کردے اور خوشحال و مسرور نہیں ہوتے جز اس چیز سے جو انھیںان کی مراد اور مقصد سے نزدیک کردے۔ وہ لوگ اطاعت سے شاد و مسرور اور معصیت سے محزون وغمزدہ ہوتے ہیں اور دنیا کا ہونا اور نہ ہونا ان کے لئے خوشی اور غم کا باعث نہیں ہوتا۔'' جوکچھ تمہارے ہاتھ سے ضائع ہو گیاہے اس پررنجیدہ خاطر نہ ہو اور جو تمہیں دیا گیا ہے اس کی (وجہ) سے شاد و مسرور نہ ہو''(٣)

٥۔خداکے دوستوںسے دوستی اور اس کے دشمنوںسے دشمنی:

''محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم'' ''محمد'' خدا کے پیغمبر ہیں اور وہ لوگ کہ جو ا ن کے ساتھ ہیں کافروں کے ساتھ سخت اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہیں(٤)

____________________

١۔ سورئہ آل عمران، آیت ٣١۔ ٢۔ شیخ صدوق، امالی، ص ٣٣٨، ح ٥٧٧۔ دیلمی، حسن ابی الحسن: اعلام الدین، ص٢٦٣۔ ارشاد القلوب، ص٩٣۔٣۔ سورئہ حدید، آیت ٢٣۔ ٤۔سورئہ فتح، آیت ٢٩۔


٦۔ محبت و امید کے ساتھ خوف:

خدا کے دوست اس کے جمال کے شیفتہ ہونے کے باوجود اس کی عظمت کے ادراک کے نتیجہ میں خوفزدہ اور ہراساں رہتے ہیں کیونکہ جس طرح اللہ کے جمال کا ادراک محبت کا پیش خیمہ ہے اسی طرح اس کی عظمت کا ادراک بھی ہیبت اور ہراس کا سبب ہوتا ہے، یہ خوف و رجاء پروردگار کی بندگی میں مکمل تکمیل کا کردار ادا کرتے ہیں راہ الہی کے بعض راہرئووں نے کہا ہے: ''خدا کی بندگی صرف محبت کے ساتھ اور بغیر خوف کے، امید کی زیادتی اور حد درجہ انبساط و سرور کی وجہ سے آدمی کی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے۔ نیز عبودیت صرف خوف وہراس کے ساتھ بغیر امید کے وحشت کی وجہ سے پروردگار سے دوری اور ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے، خدا وند ذوالجلال کی بندگی خوف ومحبت دونوں کے ساتھ اس کی محبت اور تقرب کا سبب ہوتی ہے ''۔(١)

٧۔اللہ کی محبت کا کتمان اور اس کا دعویٰ نہ کرنا:

محبت محبوب کے اسرار میںسے ایک سر ہے اور بسا اوقات اس کے اظہار میں کوئی ایسی چیز کہی جاتی ہے جو واقع کے برخلاف اور محبوب پرافترا پردازی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انسان کی محبت پروردگار کے خاص دوستوں یعنی عظیم ملائکہ اور ان انبیاء و اولیاء کی محبت واشتیاق کے مراتب کی نسبت قابل ذکر تحفہ نہیں ہے جو خود کو خدا کے شائستہ عشق ومحبت میں ناکام تصور کرتے تھے، بلکہ حقیقی محبت کی علامت یہ ہے کہ اپنی محبت کے درجات کو ہیچ خیال کرے اور اسے قابل ذکر نہ سمجھے اور خود کو ہمیشہ اس سلسلہ میں قاصر اور عاجز خیال کرے۔

ج۔ خداوند عالم کی محبت کے علائم:

خداوند عالم کی محبت کے علائم کثرت اور فراوانی کے ساتھ انسان کے مختلف وجودی پہلوئوں میںپائے جاتے ہیں۔ یہاں پر ان علائم کی طرف جو کہ نفسانی صفت کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں، اشارہ کیا جاتا ہے:

١۔ پروردگار سے انس:

جب انسان کادل اللہ کے قرب اور محبوب کے جمال مکشوف کے مشاہدہ سے شاد ومسرور ہوتا ہے تو انسان کے قلب میں ایک بشارت داخل ہوتی ہے کہ جسے'' انس'' کہا جاتا ہے۔ خداوندعالم سے انس کی علامت یہ ہے کہ گوشہ نشینی، خلوت اور اس کے ذکر میںمشغول ہونا خلائق سے انس اور ہم نشینی کرنے سے کہیں زیادہ بہتر اور خوشگوار ہے ایسا شخص لوگوں کے درمیان ہونے کے باوجو د بھی در حقیقت تنہا ہے۔ اور جس وقت وہ خلوت میں ہوتا ہے ، حقیقت میں وہ اپنے محبوب کے ساتھ ہمنشین ہوتا ہے۔ اس کا جسم تو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے لیکن اس کادل ان سے الگ اور جدا ہوتا ہے۔(٢)

____________________

١۔ ملافیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٨، ص ٧٦ ، ٧٧۔ ٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص١٢٤، ١٨٩، ١٩٠۔


حضرت امیر المومنین علی ـ نے ایسے صفات کے حامل افراد کے متعلق فرمایا ہے: '' انھیں علم نے بصیرت کی حقیقت تک پہنچا دیا ہے اور یہ یقین کی روح کے ساتھ گھل مل گئے ہیں، انھوں نے ان چیزوں کو آسان بنالیا ہے جنھیں راحت پسندوں نے مشکل بنا رکھا تھا اور ان چیزوں سے انھیں حاصل کیا ہے جن سے جاہل وحشت زدہ تھے اور اس دنیا میں ان اجسام کے ساتھ رہے ہیں جن کی روحیں ملأ اعلیٰ سے وابستہ ہیں، یہی روئے زمین پر اﷲ کے خلیفہ اور اس کے دین کے داعی ہیں''۔(۱)

٢۔ خداوند عالم کی جانب اشتیاق:

جمال الہی کا مشاہدہ کرنے کے خواہاں افراد جب وہ غیب کے پردوں کے پیچھے محبوب کے رخسار کا نظارہ کرنے بیٹھے ہوں اور اس حقیقت تک پہونچ چکے ہیں کہ اس کے جلال و عظمت کی حقیقی رویت سے قاصر و عاجز ہیںتو جو کچھ انہوں نے نہیں دیکھا ہے اس کے مشاہدہ کے لئے ان کی تشنگی اور شوق بڑھتا جاتا ہے، اس حالت کو '' مقام شوق '' کہا جاتا ہے بر خلاف مقام انس، جو محبوب کے کھلے چہرے کے مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے، مقام اشتیاق، محبوب کے محجوب (درپردہ) جمال و جلال کے ادراک کے شوق کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔(۴)

٣۔ قضائے الہی سے راضی ہونا:

'' رضا '' '' سخط'' یعنی ناراضگی کے مقابلہ میں ہے اور' 'رضا'' سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ خدا نے مقدر فرمایا ہے اس پر ظاہر و باطن، رفتار وگفتار میں اعتراض نہ کرنا۔ رضااللہ کی محبت کے علائم و لوازم میںشمار ہوتی۔ کیونکہ محب جو کچھ محبوب سے صادر ہوتا ہے اسے خوبصورت اور بہتر سمجھتا ہے جو انسان مقام رضا کا مالک ہوجاتا ہے اس کے نزدیک فقر و غنا، آرام وتکلیف، تندرستی اور بیماری، موت اور زندگی وغیرہ وغیرہ یکساںہوتی ہے اوران میں سے کسی ایک کا تحمل بھی دشوار نہیں ہوتا ہے، کیونکہ سب ہی کو محبوب کی طرف سے خیا ل کر تا ہے وہ ہمیشہ خود کو فرحت و سرور، آرام وآسائش میں محسوس کرتے ہوئے زندگی گذارتا ہے کیونکہ تمام چیزوںکو نگاہ رضایت سے دیکھتا ہے اور در حقیقت تمام امور اس کی مراد کے مطابق واقع ہوتے ہیں، نتیجہ کے طور پر ہر قسم کے غم و اندوہ سے دور ہوگا، قرآن کریم میں کئی جگہ اس مرتبہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، منجملہ ان کے ''حزب اﷲ'' کی شناخت کراتے ہوئے فرماتا ہے: ''خدا وند رحمان ان سے راضی و خوشنود اور وہ اس سے راضی و خوشنود ہیں، یہ لوگ خدا کے گروہ ہیں، حزب خدا ہی کامیاب ہے''۔(۳)

____________________

١۔ نہج البلاغہ: حکمت ١٤٧۔ ٢۔ ملافیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٨، ص ٥٥۔

٣۔ مجادلہ ٢٢ ؛ بینہ ٨، ملاحظہ ہو۔


حضرت امام زین العابدین ـ مقام رضا کی عظیم شان ومنزلت کے بیان میں فرماتے ہیں: ''زہد کا سب سے بلند درجہ ورع کا پست ترین درجہ ہے اور فدع کا بلندترین درجہ یقین کا پست ترین درجہ ہے اوریقین کا بلند ترین درجہ رضاکا سب سے پست مقام و درجہ ہے''۔(١) اس وجہ سے خداکے دوست جو کچھ وہ مقدّر فرماتا ہے اس پر رضامندی کے ساتھ ہرقسم کے غم و اندوہ سے دور ہوتے ہیںاور نہایت سرور شادمانی کے ساتھ خوشگوارزندگی گذارتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میںمذکور ہے: ''آگاہ ہوکہ خداکے دوستوںکو نہ کوئی غم و اندوہ ہے اور نہ ہی کوئی خوف و ہراس انہوںنے اپنے تمام امور خدا کے حوالے کردئیے ہیںاور اس کے ارادہ کے سامنے سراپا تسلیم ہیں''۔(٢)

د۔محبت پروردگارکاانجام:

محبت الہی کاخاتمہ دیگرساری محبتوں کی طرح محبوب کے وصال پر منحصر نہیں ہے۔ اس رویت کا تحقق خداو ندعالم کی معرفت پر موقوف ہے، جو خود ہی تطہیر باطن اور دنیوی لگاؤسے دل کو پاک وصاف رکھنے کامحتاج ہے، محبت الہی کی راہ میں سیر وسلوک کرنے والوں کے لئے دنیا میں اس کا حصول ہوتا ہے۔

اس ملاقات کی حقیقت کا سمجھنا ہمیشہ انسانی اذہان کے لئے دشوار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے راہ انکار اختیار کرلی ہے۔

حضرت علی ـ سے خوارج میں سے ایک شخص نے سوال کیا: '' کیا آپ نے اپنے رب کو اس کی عبادت کرتے وقت دیکھا ہے؟'' آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا: '' تم پر وائے ہو ! میں ان لوگوں میںسے نہیں ہوں جنھوں نے پروردگار کو نہ دیکھا ہو اور اس کی عبادت وپرستش کرتے ہوں '' اس وقت سوال کرنے والے نے اس ملاقات کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں سوال کیا: کس طرح آپ نے اسے دیکھا ہے ؟ آپ نے جواب دیا! ''تم پر وائے ہو ! نگاہیںدیکھنے کے وقت اس کا ادراک نہ کرسکیں لیکن قلوب حقایق ایمان کے ساتھ اسے دیکھتے ہیں''۔(٣)

____________________

١۔ اصول کافی، کلینی، ج٢، ص١٢٨، ح٤۔

٢۔یونس ٦٢۔

٣۔ اصول کافی، کلینی، باب ابطال الروےة، ح ٦، اسی طرح ملاحظہ ہو امام حسین ـ کی دعا ئے عرفہ۔


دوسری نظر: خدا وندسبحان کی بندوں سے محبت

قرآن و روایات ا ہل بیت (ع) ان آیات وروایات کے حامل ہیں جو پروردگار کی اپنے بعض بندوں سے خاص محبت ودوستی کی عکاسی کرتی ہیں، اس محبت کے خاص علائم ہیں جوصرف اور صرف خاص بندوں کو شامل ہوتے ہیں۔

البتہ خداوند سبحان کی عام رحمت و محبت، دنیوی مواہب و احکام شرعی کے قالب میں سب کو شامل ہے جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے کہ خدا وندعالم قرآن میںاپنی دوستی کو مجاہدین، نیکو کار افراد، زیادہ توبہ کرنے والوں، پرہیزگاروں، عدالت پیشہ افراد، صابروں، پاک وپاکیزہ افراد اور پروردگار پر اعتماد و بھروسہ کرنے والوں کی نسبت اعلان کرتا ہے۔(١)

جمال الہی کا دیداراور اس کا مشاہدہ اتنا لذت بخش اور سرور آور ہے جو ناقابل توصیف وتشریح ہے۔ جن لوگوں نے اس کے ادنیٰ مراتب کو بھی چکھا ہے وہ کبھی دیگر خیالی لذتوں سے اس کا سودا نہیں کرتے اسی وجہ سے انبیاء اور

اولیائے الہی نے اپنے محبوب سے اپنی مناجات میں مسلسل اپنے اشتیاق کااس کی بہ نسبت آشکار طور پر اظہار کیا ہے اورعرفاء اور سالکین نے اپنے اشعار اور قصائد میں جو انہوں نے بطور یادگار چھوڑے ہیں اپنے آتش عشق کے دلکش اور جاذب نظر مناظرکی، جمال محبوب کی مراد و ملاقات و شہود سے متعلق اظہار خیال کیا ہے نیز دوست کے فراق و جدائی کے غم انگیز اور حزن آور حالات کی منظر کشی کی ہے۔ ان کے نزدیک خدا کی ملاقات عرفان کی بلند ترین چوٹی اور سالکین کی سیرکا منتہیٰ ہے انھوں نے ایسی بہت سی کتابیں بھی تحریر فرمائی ہیں جن میں اس مقصد تک رسائی کے اسباب و ذرائع اور ان منازل ومراحل کو بیان کیا ہے جو اس راہ کے سالکوں کے لئے سرراہ پائے جاتے ہیں اور جو خطرات اس راہ میں ہیں ان سے بھی آگاہ کیا ہے نیز اس راہ میںجو زاد و توشہ کام آسکتا ہے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔

خدا وند عالم کی داؤد پیغمبر سے گفتگو کے درمیان مذکور ہے: ''اے داؤد! ہمارے زمین میں رہنے والے بندوں سے کہو ! میں اس کا دوست ہوں جو مجھے دوست رکھتا ہے اور اس کا ہمنشین ہوں جو مجھ سے ہمنشینی کرتا ہے اور اس کا ہمدم ہوں جو میری یاد اور نام سے انسیت حاصل کرتا ہے اور اس کے ہمراہ ہوں جو میرے ہمراہ ہے، میں اس کا انتخاب کرتا ہوں جو میرا انتخاب کرتا ہے اور اس کا فرمانبردار ہوں جو میرا فرمانبردار ہے، جو انسان مجھے قلبی اعتبار سے دوست رکھتا ہے اور میں اس پریقین کرلوں تو اسے اپنے ساتھ قبول کرلوں گا ( اور اسے ایسا دوست رکھوںگا ) کہ میرے بندوں میں سے کوئی بندہ اس پر سبقت نہ کر پائے، جو انسان واقعی مجھے تلاش کرے تو پالے گا

____________________

١۔ ترتیب وار رجوع کیجئے: سورئہ صف، ٤ ؛ بقرہ ١٩٥ ، ٢٢٢ ۔ آل عمران ٧٦، ١٤٦، ١٥٩ ؛ مائدہ ٤٢، اور توبہ ١٠٨۔ منجملہ ان کے میرزاجواد ملکی تبریزی کارسالہ، ' ' لقاء اللہ''ملاحظہ ہو ۔


اور جو کوئی میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کرے تو مجھے نہیں پائے گا، لہٰذا اے اہل زمین! دنیا کے فریبوں اور اس کی باطل چیزوںکو چھوڑ دو، اور میری کرامت، مصاحبت، ہمنشینی کے لئے جلدی کرو اور مجھ سے انس اختیار کرو تاکہ میں بھی تم سے انس اختیارکروں اور تم سے دوستی کے لئے جلدی کروں''۔(١)

٢۔توکل

اخلاق اسلامی میںایک دوسرا عام مفہوم جو نفسانی صفت پر ناظر اور انسان و خدا کے درمیان رابطہ کا بیان کرنے والا ہے''توکل''کامفہوم ہے۔ اس مختصر کتاب میںاس کے مقام و منزلت، ماہیت و درجات اورسعی و کوشش کے ساتھ اس کی نسبت کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔

ایک۔ توکل کی حقیقت و ماہیت:

توکل کی حقیقت و ماہیت کس طر ح بیان کی جائے ؟ علماء اخلاق نے اس کی تعریف کے باب میں یہ ذکر کیا ہے: توکل یعنی اپنے تمام امور میں انسان کا خدا پر قلبی اطمینان اور اعتماد کرنا نیز تمام قدرتوں سے بیزاری اختیار کرنا ہے، البتہ انسان کے اندر اس حالت کا تحقق اس بات پر موقوف ہے کہ اس کا ایمان و یقین اور قوت قلب اس بات کو قبول کرے کہ عالم وبنی آدم کے کسی کام میں خدا کے علاوہ کوئی قوت اورطاقت موثر و کار ساز نہیں ہے اور تمام اسباب و علل قدرت الہی کے مقہور اور زیر اثرہیں اوراسی کے ارادہ کے تحت عمل کرتے ہیں کہ یہ خود توحید کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ اس وجہ سے ''توکل'' کی اصل واساس توحید ہے اورحصول توحید کے بقیہ وہ وجود میں نہیں آسکتا۔(٢) یہ اس اعتبار سے ہے کہ خداوند عالم نے امور کو ان کے اسباب و علل کی طرف اور کاموںکو ان کے فاعل کی طرف منسوب کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ایک طرح سے ہے اور علل اور فاعلوں کو حوادث اور افعال پر مسلّط کیا ہے؛ اگر چہ یہ تسلط اور غلبہ اصلی اور ذاتی نہیں ہے اور طبیعی علل اور انسانی فاعل تاثیر گذاری میں استقلال نہیں رکھتے، صرف خدا وند عالم ہے جو مستقل سبب اور تمام اسباب سے بالا تر ہے۔ اس بنا ء پر جب ایک عاقل اور رشید انسان نے کسی کام کا ارادہ کیا اور اس کے عادی و معمول کے مطابق اسباب و وسائل کو فراہم کیا تو وہ جانتا ہے کہ تدبیر امور میں مستقل سبب تنہا خدا ہے اورکسی قسم کی اصالت اور استقلال کا اپنے لئے نیز ان اسباب و علل کے لئے جن کا وہ استعمال کرتا ہے قائل نہیں ہے، لہٰذا وہ خداوند سبحان پر توکل کرتا ہے، اس بنا ء پر توکل کے معنی انسان یا طبیعی اسباب و علل کی جانب امور کے انتساب کی نفی کرنا اوراصالت و استقلال کو خدا سے مخصوص سمجھنا ہے(٣)

____________________

١۔ سید بن طاؤوس، مسکن الفواد، ص ٢٧۔٢۔ اسی لئے بعض علماء اخلاق نے توکل اور توحید کو ایک ردیف میںذکرکیا ہے، رجوع کیجئے: فیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٧، ص ٣٧٧۔٣۔ علامہ طباطبائی کی المیزان، ج ١١، ص ٢١٦ ، ٢١٧ ملاحظہ ہو۔


دو۔ توکل کے درجات:

اخلاق اسلامی بعض علماء خداوند عالم پر توکل کے لئے تین درجات کے قائل ہیں کہ ان کا مختصر بیان درج ذیل ہے:

خداوندذ والجلال پرتوکل کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان اس پر اعتماد و اطمینان رکھے۔ بعینہ اس اعتما د کی طرح جو کسی وکیل پراپنے امور کی انجام دہی میں انتخاب کرکے رکھتا ہے۔ درحقیقت یہ توکل کا سب سے ادنی درجہ ہے اور آسانی کے ساتھ دسترسی کے قابل ہے اور زیادہ دن تک باقی رہتا ہے نیز انسان کے اختیار اور تد بیر سے بھی منافات نہیں رکھتا۔

توکل کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ انسان اصل توکل سے غافل اور اپنے وکیل یعنی خداوند سبحان کے بارے میں فانی ہے، بر خلاف پہلی قسم کے کہ انسان کی توجہ زیادہ تر وکالت کے قرار دادی رابطہ کی طرف ہوتی ہے۔ توکل کا یہ درجہ کم محقّق ہوتا ہے اور جلد ختم ہوجاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک دو دن سے زیادہ باقی نہیں رہتا ہے اور صرف خاص افراد کو حاصل ہوتا ہے انسان اس حالت میں اپنی بہتر سے بہتر کوشش گریہ اور خدا وند عالم سے دعا ودرخواست میں صرف کرتا ہے۔

توکل کا بلند ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی تمام حرکات و سکنات کو خداوند عالم کے اختیار میں سمجھتا ہے۔ اس قسم اور قسم دوم میں فرق یہ ہے کہ اس میں انسان حتیٰ التماس، درخواست، تضرع و زاری اور دعا کو بھی نظر انداز کردیتا ہے اور اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ خداوند عالم اپنی حکمت سے امور کی تدبیر کرتا ہے اگر چہ وہ درخواست والتماس نہ کرے۔ اس توکل کا واقعی نمونہ حضرت ابراہیم ـ کا (خداپر) توکل کرنا ہے۔ کیونکہ جب نمرودیوں نے انھیںمنجنیق میں رکھ کر آگ میں ڈالا تو الہی فرشتہ انھیںیاد آوری کرتا ہے کہ وہ خدا سے امداد کی درخواست کریں، لیکن وہ جواب میں کہتے ہیں: ''خدا وندعالم کا میرے حال سے آگاہ ہونا، مجھے اس سے نجات کی درخواست کرنے سے بے نیاز کرتا ہے ''۔(١)

البتہ ایسی قسم ندرت سے دیکھنے میں آتی ہے اور نہایت کمیاب ہے۔ یہ صد یقین کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوتی ہے اور اگر واقع ہو بھی گئی تو جلد ہی زائل ہوجاتی ہے اور چند لحظہ سے زیادہ اس کو دوام نہیں رہتا ۔(٢)

____________________

١۔ تفسیر قمی، ج٢، ص ٧٣ ملاحظہ ہو۔

٢۔ فیض کاشانی المحجة البیضائ، ج٧، ص ٤٠٨، ٤٠٩ ؛نراقی، ج٣، ص ٢٢٣تا ٢٢٥۔


دوسرے رخ سے، لوگ خداوند عالم پر توکل و اعتماد کرنے میںیکساں مراتب و درجات نہیں رکھتے۔ ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے توکل کے بقدر اپنے مقاصد تک پہنچنے میں اسباب و علل سے چارہ جوئی کرے۔ خداوند عالم ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے بالکل اسباب و علل طبیعی سے اپنا قطع تعلق کرلیا ہے اسی اعتماد کے تناسب سے برتائو کرے گا۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا ہے: ''خدا نہیں چاہتا ہے کہ مومنین کی روزی اس جگہ سے فراہم کرے جہاں سے وہ گمان نہیں رکھتے''(١) خداوند عالم کا یہ برتائو ان مومنین سے مخصوص ہے جو توکل کے اعلیٰ درجہ پرفائز ہیں ؛ لیکن جو لوگ اس درجہ پرفائز نہیں ہوئے ہیں اور ان کا خدا وند عالم پر اعتماد کے ساتھ ساتھ طبیعی اسباب و علل پر بھی اعتماد باقی ہے، خداوند عالم بھی اسباب و علل کے ذریعہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرے گا۔(٢)

تین۔ توکل کی اہمیت:

قرآن کریم نے دسیوں بار صراحت اورکنایہ کے ساتھ انسان بالخصوص مومنین کو خداوند عالم پر توکل کی دعوت دی ہے اور بندوں کے اس اعتماد و اطمینان کے مقابل ان کے امور کی کفالت سے متعلق خداوند عالم کے وعدہ کا اعلان کیا ہے۔ منجملہ ان کے قرآن میں ذکر ہے: '' مومنین کو چاہئے کہ صرف اور صرف خدا پر توکل کریں''۔(٣) ''خداوند عالم توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے''۔(٤) اسی طرح خدا پر اعتماد اور توکل کے انجام کی نسبت اطمینان حاصل ہونے کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: '' جو خدا پر اعتماد کرتا ہے اس کے لئے وہی کافی ہے ''(٥) احادیث نبوی اور اہل بیت (ع) کے ارشادات ان عبارتوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں توکل کی اہمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے، مثال کے طور پر حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''بے شک بے نیازی اور عزت گردش کی حالت میں ہیں وہ جیسے ہی توکل کی منزل سے گذرتی ہیں اس جگہ کو اپنا ٹھکانہ اور وطن بنالیتی ہیں''۔(٦)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٥، ص٨٣، ح١۔ ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ص٦٠۔شیخ طوسی، امالی، ص٣٠٠، ح٥٩٣۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص٢٢٩، ٢٣٠۔

٣۔ سورئہ آل عمران، آیت ١٢٢، ١٦٠۔ مائدہ ، آیت ١٢، ٢٦۔ توبہ آیت ٥٢۔ ابراہیم، آیت ١١۔ مجادلہ، آیت ١٠۔ تغابن، ١٣۔

٤ ۔سورئہ آل عمران، آیت ١٥٩۔

٥۔ سورئہ طلاق، آیت ٣۔

٦۔ کلینی، کافی ج٢، ص ٦٥، ح٣۔


چار۔ سعی وکوشش اور توکل:

اگر چہ توکل کی حقیقت کے بارے میں غور و فکرکرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ توکل سعی وتلاش اور اسباب ووسائل سے استفادہ کرنے سے منافات نہیں رکھتا لیکن کبھی ایسا شبہہ پیش آتا ہے کہ اس کی جانب اشارہ کرنا مفید ہے۔ انسان ان امور کی نسبت جن کے اسباب و علل اس کے ارادہ سے خارج ہیں وہ توکل کے سوا کوئی چا رہ کا ر نہیں رکھتا لیکن ان حوادث کی نسبت جن کے اسباب و علل کی ایجاد اس کے ہاتھ میں ہے باوجودیکہ توکل کے سبب اسباب ووسائل کے لئے مستقل تاثیر کا قائل نہیں ہے، لیکن اس کا فریضہ ہے کہ ان کی فراہمی کے لئے کوشش کرے اور جس چیز کی سببیت کے لئے یقین یا گمان رکھتا ہے اس کا استعمال کرے اور اس حیثیت میں اپنی عقل و ہوش سے استفادہ کرے۔ کیونکہ خدا کی سنت اس بات پر قائم ہے کہ امور عالم اپنے خاص اسباب و علل کے ساتھ آگے بڑھیں، اسی بنیاد پر اس نے فرمایا ہے: '' جنگ کے موقع پر خاص طریقہ اور اسلحہ کے ساتھ نماز پڑھو''(١) '' اور اپنے لئے دفاعی قوت پیدا کرو''۔(٢) موسیٰ ـ کو حکم دیا کہ ''ہمارے بندوں کو شب (کے سناٹے) میں فرعونیوں کی نگاہوں سے بچا کر شہر سے نکال لو''۔(٣) پیغمبر اکرم نے جب ایک اعرابی کو دیکھا کہ اس نے خداوند عالم پر توکل کے بہانہ اپنے اونٹوں کو جنگل میں چھوڑدیا تو فرمایا: ''اعقلھا و توکّل''(٤) ''اونٹ کو باندھ دو اور خدا پر توکل کرو''۔

٣۔شکر

یہ مفہوم بھی چند لحاظ سے تحقیق کے قابل ہے :

ایک۔ شکر کی ماہیت اور درجات:

شکر کی ماہیت کے سلسلہ میں متعدد عبارتیں استعمال کی گئی ہیں'' نعمت کا تصوراور اس کااظہار ''(٥) ''منعم کی نعمت کی شناخت اور اس کی بہ نسبت سرور و شادمانی، اس سرورکے مقتضیٰ کے مطابق عمل کرنا امور خیر پر عزم کے ساتھ، منعم کی شکرگذاری اور خداوند عالم کی راہ بندگی میں نعمت کا استعمال''(٦) اور ''اظہار نعمت''(٧) یہ ساری تعریفیں شکر کے لئے بیان کی گئی ہیں ان تمام تعریفوںکو یکجا کرکے کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت شکروہی ''نعمت کا اظہار'' ہے ۔

____________________

١۔ سورئہ نساء ١٠١۔ ٢۔ سورئہ انفال ٦١۔ ٣۔سورئہ دخان ٢٣۔ ٤۔ طوسی، امالی، ص ١٩٣، ح ٣٢٩۔٥۔ راغب اصفہانی، معجم مفردات الفاظ قرآن، ص ٢٧٢۔

٦۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص ٢٣٣۔ اسی طرح ملا حظہ ہو فیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج٧، ص٤٤تا ١٤٦۔

٧۔ علا مہ طباطبائی، المیزان، ج٤، ص ٣٨، اور ج٦، ص ٢١٥۔


نعمت کا اظہار ایک طرف اس کے تصورو ادراک کا مستلزم ہے اور دوسری طرف یہ اظہار مختلف مراتب اور پہلوؤں کا حامل ہے کیونکہ نعمت کے اظہار سے مراد اس کا ایسی راہ میںاستعمال کرنا ہے جس میں منعم نے ارادہ کیا ہو، اسی طرح اس کی کا ذکر اور اس کی نعمت کے لئے اس کی مدح و ثنا کرنا ہے۔ اس وجہ سے شکر سہ گانہ مراتب کا حامل ہے قلبی: (یاد کرنا ) ، زبانی (مدح و ثنا ) اورعملی۔ شکر خدا وندی سے مرادیہ ہے کہ انسان پہلے دل میں ہمیشہ اس کی نعمتوں کی طرف متوجہ ہواور اس کی نعمتوں کو یادرکھتا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ کی بیکراں نعمتوں سے استفادہ کرنے کے وقت اللہ کی حمد و ستائش کے لئے زبان کھولے۔ تیسرے خدا کی نعمتوں اور اس کی برکتوں کواس راہ میںاستعمال کرے جس میں اس کی مرضی اور خواہش ہو ۔(١) شکر کے مقابل کفر ہے جو کہ اللہ کی نعمتوں کو پوشیدہ و مخفی کرنے کے معنی میں ہے۔ البتہ واضح ہے کہ اللہ کی بے شمار نعمتوں کی بہ نسبت اللہ کے شاکر بندے بھی شکر گزاری سے عہدہ بر نہیں ہو سکتے ، اس کے باوجود ادب بندگی اقتضاء کرتا ہے کہ اس راہ میں اپنی انتھک کوشش کرے۔ قرآن اللہ کی نعمتوں کی وسعت اور نوع بشر کے میزان شکر کے بارے میں فرماتا ہے: ''اور تم نے جو کچھ مانگا اس نے عطا کیا، اور اگر خدا کی نعمتوں کو شمار کرو تو ان کا شمار نہیں کرسکتے یقینا انسان بڑا ظالم اور ناشکرا ہے''۔(٢)

دو۔ شکر کی اہمیت:

آیات و روایات میں شکر کی شرح میںذکر ہوا ہے: شکر گزاری خدا کے صفات میں سے ہے '' اور خدا شکر گزار اور برد بار ہے''۔(٣) شکر گزاری جنت میں رہنے والوں کے کلام کی ابتدا وانتہا ہے: ''شکر اس خدا کا جس نے ہم سے کئے گئے اپنے وعدہ کو ہم پر سچ کردکھا یا ''(٤) اور ان کی مناجات کا آخری کلام یہ ہے: ''الحمد لله رب العالمین ''۔(٥) خدا وند عالم نے شکر گزاری کو ایمان کے ساتھ ساتھ عذاب سے روکنے کا باعث قرار دیا ہے: '' اگر شکر گذار بنو اور ایمان لے آؤ تو خدا تم پر عذاب کر کے کیا کرے گا ؟ ''(٦)

____________________

١۔ شکر کے مراتب کو معتبر و مستند احادیث کے مضامین سے استنباط کیا جا سکتا ہے ؛ جیسے کافی، ج٢، ص ٩٦، ح ١٥، اور ص ٩٥، ح٩، ١١۔

٢۔ سورئہ ابراہیم، آیت ٣٤، اسی طرح ملاحظہ ہو سورئہ اعراف، آیت ١٠ اور ١٧، سورئہ یونس، آیت ٦٠ اور سورئہ غافر، آیت ٦١۔

٣۔ سورئہ تغابن، آیت١٧ اسی طرح ملاحظہ ہوسورئہ نساء آیت ١٤٧۔

٤۔ سورئہ زمر ٧٤۔ ٥۔ یونس ١٠۔ ٦۔ نساء ١٤٧۔


شکر گزاری کی فضیلت میںاتنا ہی کافی ہے کہ خداوندعالم صریحی طور پر بندوںکو اس کا حکم دیتا ہے: '' اور میرا شکر بجا لاؤ اور میرے ساتھ ناشکری نہ کرو ''(١) حضرت امام زین العابدین ـ کے بقول خداوند عالم کا شکر ادا کرنا انسان کو اللہ کی خاص محبت کے دائرہ میں قرار دیتا ہے: '' حقیقت میںخداوندعالم ہر محزون وغمزدہ دل اور ہر شکر گذار و قدرداں بندہ کودوست رکھتا ہے '' ۔(٢) اس وجہ سے حق شناسی اور شکر گزاری خداوند عالم اور انسان کے درمیان رابطہ بر قرارکرنے و الے اساسی وبنیادی عناصر میں سے ہے یہ انسان کا خدا کے ساتھ رابطہ ہے جس کی اصل الہٰی نعمتوں اور برکتوں کے ادراک اور ان کی نسبت قلبی اعتراف میں پوشیدہ ہے۔قابل ذکر بات ہے کہ ''شکر ''اپنے مجموعی مفہوم کے اعتبار سے لوگوں کی شکر گزاری بھی لوگوں کی خدمتوں کے سلسلہ میں شامل ہے اس طرح کے شکر کے سلسلہ میں اخلاق معاشرت کی بحث میںگفتگو کی جاتی ہے۔

تین۔ شکر خداوندی کا دنیوی نتیجہ:

سب سے اہم دنیوی اثر جو دینی کتابوں میں شکر گزاری کے لئے بیان کیا گیا ہے، پروردگار کی نعمتوں کا زیادہ ہونا ہے۔ قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے: ''جب کہ تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر شکر کروگے تو(نعمت) کو تم پر زیادہ کردوں گا اور اگرناشکری کروگے تو یقینا میرا عذاب سخت ہے''۔(٣) یہ حقیقت بہت سی روایات میں بیان ہوئی ہے ؛ منجملہ ان کے حضرت علی ـ نے فرمایا: ''خداوند عالم کسی بندہ پر شکر گذاری کا دروازہ نہیں کھولتا، اس حال میں کہ نعمت کا دروازہ اس پر بندکردے '' ۔(٤)

یہ سوال ہمیشہ ہوتا رہتا ہے کہ آیا خداوند سبحان کی شکر گزاری بندوں کے لئے مقدور ہے؟کیونکہ سپاس گذار ی کی توفیق اور اس کی قوت خود خدا کی ایک نعمت ہے اور دوسرے شکر کامستلزم ہے۔ اگراس فریضہ کاانجام دینا انسان کے امکان سے خارج ہے، توپھر کس طرح ا نسان کو اس کے کرنے کاحکم دیتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''وہ باتیں جن کی خداوندعالم نے موسٰی ـ کووحی کی تھی ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ موسیٰ میراشکر ایسا اداکرو، جو میرے شایان شان ہو '' موسٰی ـ نے جواب میں پوچھا: خدایا! کس طرح تیری شکرگذاری کا حق ادا کروں جب کہ ہرطرح میری شکرگذاری خود ہی ایک دوسری نعمت ہے ؟ خدا نے جواب میں فرمایا: اب (جب کہ تم نے جان لیا کہ تمہارا شکر کرنا خود ہی ایک دوسری نعمت ہے) تم نے میرے شکرکا حق ادا کردیا '' ۔(١) یعنی شکر الہی کا حق یہ ہے کہ انسان اپنی آخری کوشش کو اس راہ میں صرف کرے، اسی کے ساتھ یہ یقین رکھتاہو کہ اللہ کے شایان شان شکر ادا نہیں ہوسکتا۔

____________________

١۔ بقرہ ١٥٢ اسی طرح ملاحظہ ہو سورئہ اعراف ١٤٤ اور سورئہ زمر ٦٦۔٢۔ کافی، کلینی، ج٢، ص٩٩ح٣٠۔ ٣۔ ابراہیم ٧۔ ٤۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٣٥؛ کافی، ج ٢، ص ٩٤، ح٢اورص ٩٥، ح ٩ ؛ امالی، ص ٥٩۔


ب۔ نفس کا اپنی عاقبت کی طرف رجحان

بعض عام اخلاقی مفاہیم انسان کے نفسانی حالات کے نظام کو اپنی عاقبت اور انجام کار کے لئے وجود میں لاتے ہیں وہ اہم ترین مفاہیم جو اس باب میں ذکر ہوئے ہیں یہ ہیں: خوف، رجائ، مایوسی، نا امیدی اور تدبیر خداوندی سے حفاظت۔ چونکہ یاس و ناامیدی ''خوف وخشیت '' کے لئے نقصاندہ اور تدبیر خداوندی سے حفاظت، امید و رجاء کے لئے بلا شمار ہوتی ہے، نتیجہ کے طور پر بحث و گفتگوکا موضوع اس حصہ میں'' خوف و امید '' ہے اور دیگرمفاہیم انھیںدو عنوانوں کے تحت زیر بحث قرار پائیں گے۔

١۔خوف

الف۔ خوف کا مفہو م:

خوف یعنی مستقبل میں یقینی یاظنّی علامتوں کی بنیاد پر انسان کے لئے کسی ایسے ناگوار واقعہ کے پیش آنے کا احتمال(٢) جو فطری طور پر درد مندی اور پریشانی کا باعث ہے۔(٣) اس بناپر ''خوف'' ''بزدلی'' سے اساسی فرق رکھتا ہے کیونکہ'' جبن (بزدلی ) '' سے مراد ہے خود کو دفاع اور انتقام وغیرہ سے ایسی جگہوں پر روکنا جہاں شرعی اور عقلی دونوں لحاظ سے اس کا اقدام کرنا جائز اور بہتر ہے۔(٤)

____________________

١۔ کافی، کلینی، ج٢، ص٩٨، ص٩٨، ح٢٧ملاحظہ ہو۔

٢۔ راغب اصفہانی، معجم مفردات الفاظ قرآن، ص ١٦١۔

(٣۔ ملافیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٧، ص ٢٤٩؛ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص٢٠٩۔

٤۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٢٠٩۔


علماء اخلاق نے پہلی تقسیم میں خوف کو دو پسندیدہ اور ناپسندیدہ قسم میں تقسیم کیاہے۔ ناپسند خوف وہی خدا کے علاوہ کسی دوسری چیز سے خوف کھانا ہے اور خوف پسندیدہ عذاب خداوندی اور برے انجام سے خوف کھاناہے اور حقیقت میں اپنی بری رفتار اور اعمال کے ناگوار عواقب سے خوف کھانا ہے۔ یہاں پر ہماری بحث کا موضوع پسندیدہ خوف ہے۔

ب۔ خوف کے درجات:

اخلاق اسلامی کی مشہور کتابوں میں ''ورع'' ''تقویٰ'' اور ''صدق'' کو ''خوف '' کے درجات میں شمار کیا گیا ہے اس طرح سے خوف کا سب سے معمولی درجہ یہ ہے کہ وہ اس بات کا باعث ہو کہ انسان اخلاقی ممنوعات ومنہیات کے ارتکاب سے پرہیز کرے۔ ''خوف ''کے اس درجہ کو ''ورع ''کہتے ہیں۔ اور جب خوف کی قوت اورطاقت میںاضافہ ہوجائے اور وہ اس بات کا باعث ہوکہ انسان محرمات کے ارتکاب کے علاوہ مشکوک و مشتبہ چیزوں سے بھی پرہیز کرے تو اسے تقویٰ'' کہتے ہیں۔ تقویٰ میں صداقت یہ ہے کہ حتی بعض جائز و مباح امور کے ارتکاب سے بھی پرہیز کرے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ حرام کے ارتکاب کی راہ ہموار کردے اور آخر کار جب انسان خدا سے شدت خوف کی وجہ سے سراپا آمادئہ خدمت ہوتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کوئی گھر نہیں بناتا اور نہ کوئی مال ذخیرہ کرتا ہے اور اس مال کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا جس کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ اسے ایک دن چھوڑ جائے گا اور کوئی سانس بھی غیر خدا کی راہ میں نہیں لیتا تو درحقیقت اس نے ''صدق ''کی وادی میںقدم رکھ دیا ہے اور ایسے مرتبہ کے مالک کو صدّیق کہتے ہیں اس بنا پر مقام ''صدق'' اپنے اندر تقویٰ و ورع بھی رکھتا ہے اور تقویٰ و ورع کا حامل بھی ہے البتہ ''ورع'' عفّت کے ساتھ بھی ہے کیونکہ عفّت نفسانی شہوات وخواہشات سے پرہیز کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے لیکن اس کے بر عکس صادق نہیں ہے۔(١)

ج۔ خوف کی اہمیت:

اولاً

خدا کا خوف انسان کے لئے سعادت حاصل کرنے میں بڑا بنیادی کردار اداکرتا ہے، کیونکہ پہلے بیان کئے گئے مباحث کی روشنی میں انسان کی سعادت پروردگارسے ملاقات اور اس کے جوار میں سکونت اختیارکرنے کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ بات انس ومحبت الہی کے سایہ ہی میں ممکن و میسر ہے اور وہ خود معرفت الہی پر منحصر ہے اور معرفت خود فکر کی مرہون منت ہے اور انس محبت وذکرپر منحصر ہے۔

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٢١٩، ٢٢٠۔ ملافیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٧، ص ٢٧٠ ، ١ ٢٧۔


فکر وذکر الہی اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے دل کو دنیاوی محبت سے الگ کر لے اور دنیا سے قلبی لگاؤ کو قطع کرنے کے لئے شہوتوں اور لذتوں سے کنارہ کشی کرنے کے سواکوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اور خوف خدا وندی کی آگ لذتوں اور شہوتوںکی راہ میں ایک کار آمد اسلحہ ہے۔(١) نتیجةً خوف الہی انسان کا مقصد کی طرف حرکت کرنے کا پہلا سنگ بنیاد ہے۔

ثانیاً،

بہت سی آیات وروایات مختلف انداز سے خدا کے خوف کی اہمیت و منزلت پر تاکید کرتی ہیں۔ منجملہ ان کے قرآن نے خدا سے خوف کرنے والوں کورحمت و رضوان و ہدایت کا وعدہ دیا ہے: ''ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب کاخوف رکھتے تھے ہدایت و رحمت تھی''۔(٢) ''خدا ان لوگوں سے راضی و خوشنود ہے اور وہ لوگ بھی اس سے راضی و خوشنود ہیں یہ جزا اس کی ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے''۔(٣) اسی طرح قرآن خوف کا دعوی صرف حقیقی عالموں سے قبول کرتا ہے: ''خدا کے بندوں میں صرف علماء ہیں جواس سے ڈرتے ہیں''۔(٤) دوسری جگہ خوف کو ایمان کے لوازم میں شمار کیا ہے: ''مومنین وہی لوگ ہیںکہ جب خدا کاذکر ہو تو ان کے دل خوفزدہ ہوں''(٥) سر انجام قرآن نے خدا ترس لوگوں سے بہشت کا وعدہ کیا ہے: '' اور رہے وہ جو خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے ہراساں ہیں اور اپنے نفس کو ہواو ہوس سے روک رکھا ہے، اس کا ٹھکانہ بہشت ہے ''۔(٦) خداوندعالم کی حضرت عیسیٰ ـسے گفتگو میں مذکور ہے: ''اے عیسیٰ ! مجھ سے ڈرواور میرے بندوں کو میری نسبت خوف دلاؤ، شاید گناہگار لوگ جو وہ گناہ کرتے ہیں اس سے باز آجائیں اور نتیجہ کے طور پر ہلاک نہ ہوں سوائے ان کے جو جانتے ہیں''۔(٧)

____________________

١۔ ایضاً۔

٢۔ اعراف ١٥٤۔

٣۔ بینہ ٨۔

٤۔ فاطر ٢٨۔

٥۔انفال ٢ ۔ آل عمران ١٧٥۔

٦۔ نازعات ٤٠، ٤١۔

٧۔) کافی، ج ٨، ص ١٣٨، ح ١٠٣۔


د۔ خوف کے بارے میں ہوشیاری:

خداوند ذو الجلال سے خوف کھانا وادی قرب الہی میں بندوں کے سلوک کے لئے ایک تازیانہ ہے۔ جیسا کہ اس تازیانہ کا کمزور ہونا یا فقدان، الہی راہ کے سالکوں کے لئے بے زادو راحلہ بنادیتا ہے، حد سے زیادہ اس کی زیادتی بھی امید کی کرن کو اس کے دل میں منزل مقصود تک پہونچنے کے امکان میں خاموش کردے گی اور حرکت کرنے کی طاقت بھی اس سے سلب کرلے گی۔ لہٰذا خدا وند عالم سے خوف میں افراط کرنا رحمت الہی سے قنوط ومایوسی ہے جو خوف خدا کی عظیم آفت ہے۔ اور اخلاقی برائی شمار ہوتی ہے ]بعض ارباب لغت نے قنوط کو مایوسی کا شدید درجہ سمجھتے ہیں ۔(١) اسی بنیاد پر قرآن کریم رحمت خداوندی سے مایوسی کو محض گمراہی تصور کرتا ہے: '' کون ہے جز گمراہوں کے جو رحمت خداوندی سے مایوس ہوتا ہے ؟ ''(٢) اور دوسری جگہ رحمت خداوندی سے مایوسی کو کا فروںکا شیوہ تصور کرتا ہے: '' یقینا ً کافروں کے سوا کوئی رحمت الہی سے مایوس نہیں ہوتا ''۔(٣) بہت سے موارد میںانسان کاخوف زندگی کے برے انجام اور شوم عاقبت سے ہوتا ہے ؛ خوف اس بات کا کہ کہیں انسان کفر کی حالت یا خدا کے انکار یا شک وتردید کی حالت میں دنیا سے چلا جائے یا ایسے حال میں دنیا چھوڑے کہ اس کا دل خدا کی محبت اور اس کے انس سے خالی ہو، نتیجہ کے طور پر اپنے اعمال سے شرمندہ اور عذاب الہی میںگرفتار ہو۔ واضح ہے کہ جو بھی ایسا خوف و ہراس دل میں رکھے گا اسی وقت سے اپنی را ہ وروش اور گفتار کو بدلنا چاہے گا اور یہ وہی خدا سے خوف رکھنے کی فضیلت کا رمز ہے۔

٢۔ امید

الف۔ امید کا مفہوم: '' رجائ'' (''امید '' ) سے مراد قلبی سکون کا احساس ہے اور وہ کسی ایسے امرکے تحقق کے انتظار کے نتیجہ میں ہے جو محبوب اور خوش آیند ہے، البتہ ایسی صورت میں جبکہ اس محبوب امر کے اکثر اسباب اور موجبات محقق وثابت ہوں۔ لیکن جب اسباب کاوجود یا عدم معلوم نہ ہو تو ایسے انتظار کو '' تمنا'' اور '' آرزو'' کہا جاتا ہے۔ اگر امر محبوب کے وجود کے اسباب و علل فراہم نہ ہوں اور اس کے باوجود انسان اس کے تحقق کا انتظار رکھتا ہو توایسے انتظار کو '' فریب '' اور ''حماقت '' کہتے ہیں اور کبھی اس پر رجاء و امید کامفہوم صادق نہیں آتا ہے۔ ''امید ''بھی '' خوف وہراس '' کے مانند ایسی جگہ ذکر کی جاتی ہے جہاں واقعہ کا ظاہر ہونا عام طور سے محتمل ہو نہ کہ قطعی۔ اس وجہ سے امید سورج کے طلوع یا غروب کے متعلق جس کا تحقق قطعی ہے ، صحیح نہیں ہے۔(٤)

____________________

١۔ ملاحظہ ہو ابو ہلال عسکری اور نور الدین جزائری کی کتاب معجم الفروق اللغوےة، ص ٤٣٥، ٤٣٦۔ ٢۔ سورئہ حجر، آیت ٥٦۔ ٣۔ سورئہ یوسف، آیت ٨٧۔ ٤۔ ملافیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٧، ص٢٤٩۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٢٤٤۔


ب۔ امید کی اہمیت:

قرآن وروایات میں رحمت خداوندی ا ور نیک انجام سے امید مختلف جہات اور اسالیب میںمورد تاکید وترغیب واقع ہوا ہے کہ ذیل میں ان کے صرف اصلی محور کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔

١۔ وہ آیات وروایات جو رحمت خداوندی سے اس مایوسی اور نا امیدی کی مذمت میںہے جو '' امید '' کے مقابل ہے، وارد ہوئی ہیں، ان میں سے بعض بیان ہوچکی ہیں۔

٢۔ وہ آیات وروایات جو بندوں کو واضح طور پر فضل خداوندی کا امید وار بناتی ہیں اور اس کی تشویق وترغیب کرتی ہیں؛ منجملہ ان کے یہ ہے کہ خداوند ذوالجلال رسول اکرم سے فرماتا ہے: ''عمل کرنے والے (مومنین ) ان اعمال پر اعتماد نہ کریں جو میرے ثواب کے حصول کے لئے انجام دیتے ہیں، کیونکہ اگر اپنی تمام عمر میری عبادت کے لئے کوشاں ہوںاور زحمت کریں اس کے بعد بھی کوتاہی کی ہو اور میری عبادت کی کنہ و حقیقت کو کہ جس کے سبب سے وہ کرامت جو میرے نزدیک ہے اور میری بہشت کی نعمتوںکو تلاش کرتے ہیں، نہیں پہونچ سکتے، بلکہ انھیںچاہئے کہ میری رحمت پر اعتماد کریں اور میری بخشش کے امید وار رہیں''۔(١)

٣۔ قرآن وروایات میں مذکور ہے کہ فرشتے اور اللہ کے انبیاء ہمیشہ مومنین کے لئے خداوند عالم سے عفو و بخشش طلب کرتے رہتے ہیں اور یہ خود رحمت خداوندی سے امید رکھنے کا باعث ہے۔

قرآن میں مذکور ہے: ''فرشتے اپنے پروردگار کی حمد میں تسبیح پڑھتے ہیں اوران لوگوںکے لئے جو زمین میں ہیں عفو وبخشش طلب کرتے ہیں''۔(٢)

٤۔ وہ آیات وروایات جو اللہ کے بے کراں عفو ومغفرت پر دلالت کرتی ہیں: ''یقیناً تمہارا رب لوگوں کی نسبت ان کے ستم کے باوجود بخشنے والاہے''۔(٣)

اسی طرح جو کچھ پیغمبر اکرم کی شفاعت کے بارے میں ان کی امت کی نسبت وارد ہوا ہے،(٤) یا وہ آیات وروایات جو اس بات کو بیان کرنے والی ہیں کہ جہنم صرف اور صرف کافروں کے لئے فراہم کی گئی ہے،(٥) یا مومنین کے آتش (جہنم ) میں ہمیشہ رہنے کی نفی کرتی ہیں، اسی طرح گناہگاروں کو عفو و گذشت کی درخواست میں جلدی کرنے کی دعوت دیتی ہیں یہ تمام آیات وروایات درحقیقت خداوندعالم سے امید رکھنے اور حسن عاقبت کی تشویق کرتی ہیں۔(٦)

____________________

١۔ کافی، ج٢، ص٧١، ح ١۔ ٢۔سورئہ شوری، آیت٥۔ ٣۔سورئہ رعد، آیت ٦۔ ٤۔ سورئہ ضحی کی پانچویںآیت کی تفسیر ملاحظہ ہو۔

٥۔ سورئہ آل عمران، آیت ١٣١۔ ٦۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٢٤٧ تا ٢٥٤۔


ج۔ امیدکے نقصانات:

خداوندعالم کی رحمت سے امید اور نیک انجام کی توقع رکھنے سے دو لحاظ سے شدت کے ساتھ خطرہ محسوس ہوتاہے کہ ذیل میںا ن کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔

١۔ بغیر عمل کے امید وارہونا:

'' امید '' کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ کسی خوش آیند امر کے تحقق کے انتظار کے نتیجہ میں قلبی کو اس صورت میں امید واری کا نام دیا جاتا ہے کہ جب اس کے اکثر وبیشتر اسباب وعلل فراہم ہوں ورنہ خوش آیند سر انجام کا انتظار بغیر اس کے اسباب کے تحقق کے '' حماقت ''اور ''غرور'' کے سوا کوئی چیز نہیں ہوگی۔

امیدواری کی ایک اہم ترین مشکل درواقع جھوٹی اور بے بنیاد امیدیں ہیں، اسلام کے اخلاقی نظام میں سعادتمندی اور نیک بختی صرف عمل صالح کی راہ سے گذرتی ہے لیکن بہت سے ایسے افراد ہیں جو بغیر کوشش اور نیک عمل کے، نیک اور اچھے انجام کی امیدکے داعویدار ہیں۔ حضرت علی ـ اس گرو ہ کو ہوشیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں''کیا تم امید رکھتے ہو کہ تمہیںخدا متواضع افراد جیسا اجر دے دیگا جب کہ تم اس کے نزدیک سرکشوں میں شمار سے ہو اور صدقہ دینے والوں کے ثواب کی آرزو رکھتے ہو جب کہ تم نعمت سے مالامال ہو اوراسے بے چاروں اور بیوہ عورتوں پر خرچ کرنے سے دریغ کرتے ہو !آدمی نے جو کچھ کیا ہے وہ اسی کی جزا پاتا ہے اور جو اس نے پہلے روانہ کیا ہے اسی پر وارد ہوتا ہے''۔(١)

٢۔ تدبیر خداوندی سے اپنے کو محفوظ سمجھنا:

خداوند رحمان کی بخشش کا حد درجہ امیدوار ہونا تدبیر خداوندی (سزائے الہی) سے بے خوفی کا احساس دلاتا ہے جو کہ اخلاقی رزائل میںسے ایک ہے۔ خود کو اللہ کے عذاب سے محفوظ سمجھنا خوف الہی سے منافات رکھتا ہے، نیز تدبیر الہی سے امان کا احساس انسان کو گناہ و عصیان میںغوطہ لگانے کا آغاز ہے۔ اسی بنیاد پر انبیاء واولیاء خود کو امن وامان میں نہیں سمجھتے تھے اور ہمیشہ عذاب خداوندی سے خوفزدہ رہتے تھے۔ قرآن کریم تدبیر خداوندی سے امان کے احساس کی مذمت میں فرماتا ہے: ''آیا انہوں نے خود کو تدبیر خداوندی سے امان میں خیال کیا ہے ؟ (باوجودیکہ) خسارہ اٹھانے والے لوگوں کے علاوہ کوئی بھی خود کو تدبیر الہی سے محفوظ نہیں سمجھتا''۔(٢)

____________________

١۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٢١، اور ملاحظہ ہو خطبہ ١٦٠، حکمت١٥٠ حرانی، تحف العقول، ص ٢ ۔ کافی، کلینی، ج٢، ص ٦٨، ح٥۔

٢۔ اعراف ٩٩۔


۳۔ خوف ورجاء کے درمیان مناسبتیں:

اس سلسلہ میں دورخ سے توجہ کی جاسکتی ہے: ایک قلب انسان پر ان میں سے ہر ایک کی کیفیت اور اثر کے اعتبار سے، دوسرے یہ کہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کیا مقام ومنزلت اور کیا اہمیت رکھتے ہیں ،یعنی یہ کہ آیا امید، خوف سے زیادہ اہم چیز ہے یا اس کے عکس (خوف امید سے زیادہ اہم ہے؟)

پہلی بات تویہ ہے کہ خوف ورجاء گذشتہ مفہوم کے اعتبار سے اصل وجود میں ایک دوسرے کی نسبت لازم وملزوم ہیں ؛ کیونکہ ''خوف '' کسی ناگوار امر کے وقوع اور آئندہ ممکن الحصول چیز کے انتظار کے نتیجہ میں قلبی گھبراہٹ اور پریشانی ہے ، اس وجہ سے جس طرح اس کا واقع ہونا احتمال رکھتا ہے اسی طرح اس کاواقع نہ ہونا بھی احتمال رکھتا ہے نیز جس طرح اس کا واقع ہوناناگوار اور نا خوش آیند ہے اسی طرح اس کا واقع نہ ہونا بھی خوش آیند اور اس کے عدم کا انتظار خودہی مایۂ امید ہوگا۔اس وجہ سے ہرامید اپنے دامن میں خوف و ہراس رکھتی ہے اور اس کے برعکس ہر خوف و ہراس بھی اپنے دامن میں امید رکھتا ہے۔ رہا اس سوال کا جواب کہ ان دونوں کا اثر انسان پر کس درجہ ہے؟ کہا جا سکتا ہے: یہ نسبت اسی اندازہ اور میزان کے ساتھ ہونی چاہیے کہ ان دونوںمیں سے کوئی بھی دوسرے کے اثر حرکت اور کارآمد ہونے کو کم نہ کرے، کیونکہ خوف و رجاء عمل صالح اور خداوند عالم سے تقرب کا ذریعہ ہیں، اور یہ اس وقت ثابت ہوگا جب دونوں ہی تعادل وتوازن کے ساتھ( میانہ حالت پر) ہوں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اہمیت کے اعتبار سے جب دونوں کا ایک دوسرے سے مقایسہ کیا جائے تو یہی ذہن میں آتا ہے کہ اس قیاس کو دوسطح میں انجام دیا جا سکتا ہے: ١ فرداًفرداًافراد اور مصادیق کے اعتبار سے، ٢ مصادیق سے صرف نظر کرکے تنہاخوف ورجاء کی حقیقت پر غور کرتے ہوئے افراد کی نسبت ان دونوںمیں سے ہر ایک کا مقدم ہونا فردکی حالت سے وابستہ ہے۔ بعض کو ''امید '' متحرک کردیتی ہے تو بعض کو ''خوف '' متحرک بنادیتا ہے۔ واضح ہے کہ مناسب دوا ہرایک کے لئے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن معین افراد واشخاص سے قطع نظر اور خوف و رجاء کی حقیقت کے پیش نظر بعض آیات(١) و روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اگر عمل خداوندرحمان پر امید کے ذریعہ انجام پائے تو اس عمل پر جو خوف کی بنا پر وجود میں آتا ہے۔ برتری رکھتا ہے۔ منجملہ ان کے حضرت علی ـسے نقل ہوا ہے: ''رحمت الہی کی امید خوف الٰہی سے زیادہ قوی ہے۔کیونکہ خداوندعالم سے تمہارا خوف کھانا تمہارے گناہوں سے پیدا ہوتا ہے لیکن خدا سے تمہاری امید اس کی بخشش سے پیدا ہوتی ہے، لہٰذا خوف تمہاری طرف سے ہے اور امید اس کی طرف سے''۔(٢) دعائے جوشن کبیر میں وارد ہوا ہے:''یا من سبقت رحمته غضبه'' اے وہ ذات جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔

____________________

١۔ فصلت ٢٣ اور فتح ١٢۔ ٢۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدیدمعتزلی، ج٢٠، ص ٣١٩ ،ح ٦٦٦۔


ج۔ نفس کا خود اپنی طرف رجحان

نفس انسانی کے اپنی نسبت رجحان کا تعادل وتوازن بعبارت دیگر اپنے کام سے متعلق صحیح جانچ پڑتال رکھنا اخلاق اسلامی میں عام مفاہیم کے دوسرے گروہ کا ہدف ومقصد ہے۔ سب سے اہم وہ مفہوم جو انسانی کے اپنی نسبت مثبت رجحان اور صحیح جانچ پڑتال کا ذریعہ بیان کرتا ہے وہ '' انکساری '' یا '' خود شکنی '' اور '' تواضع '' ہے۔

١۔ انکسار نفس

نفس کی انکساری اور خود شکنی سے مراد یہ ہے کہ انسان بغیر اس کے کہ اپنا کسی غیر سے مقایسہ کرے خود کو سب سے حقیر چھوٹا سمجھے نیز خود پسند اور اپنے آپ سے راضی نہ ہو، خود شکنی تواضع کا سرچشمہ ہے اور بغیر اس کے تواضع محقق نہیں ہوتی۔ اس بنا پر جو کچھ تواضع کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں بیان کیا جائے گاوہ سب فروتنی اور خود شکنی کی فضیلت پر بھی دلالت کرے گا، اور شاید اسی وجہ سے آیات و روایات میں زیادہ تر ''تواضع '' کے سلسلہ میں تاکید کی گئی ہے اور انکساری نفس اور خود کو حقیر شمار کرنے کے بارے میں کم ذکر آیا ہے۔ انکساری نفس کی فضیلت کے مختلف پہلوئوں کو جب اس کے موانع سے مقایسہ کریں اور ان کے متضاد مفاہیم پر غور کریں تو بخوبی دریافت کرسکتے ہیں، یہ موانع درج ذیل ہیں:(١)

پہلی نظر عُجب(خود پسندی)

عُجب خود ستائی اور غرور فروتنی اور خودکو حقیر شمار کرنے کے اصلی و بنیادی موانع میں سے ایک ہے، چونکہ خودستائی حقیقت میں خود پسندی کی علامت اور اس کے ملحقات میں سے ہے لہذا ہم موانع کی بحث کو خود پسندی اور غرور کے محور پر بیان کریں گے۔

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٣٤٣ملاحظہ ہو۔


الف۔ عُجب کا مفہوم:

عُجب یعنی خود کو اس کمال کی وجہ سے عظیم اور بلند سمجھنا ا جو وہ اپنے اندر سمجھتا ہے خواہ وہ کمال واقعاً اس میں پایا جاتا ہو یا نہ پایا جاتا ہو، نیز جس چیز کو وہ کمال تصور کررہا ہے واقعاً بھی کمال ہو یا نہ ہو اس وجہ سے خود پسندی میں بھی انکسار نفس اور فروتنی کے مانند دوسرے سے مقایسہ نہیں پایا جاتا ہے اور بغیر اس کے کہ انسان اپنا دوسروں سے مقایسہ کرے اپنے اندرپائے جانے والے واقعی یاخیالی کمال کے تصوّر کی وجہ سے نیز اس بات سے غفلت کے سبب کہ ہر کمال خدا کی جانب سے ہے، اپنے آپ پر مغرور اور راضی و خوشنود ہے اور اپنی حالت کوپسند کرتا ہے۔ بر خلاف ''کبر '' کے کہ متکبر انسان اپنے آپ سے راضی و خوشنود ہونے کے علاوہ خود کو دوسروں سے مقایسہ کرکے اور اپنے آپ کو غیروں سے بہتر سمجھتا ہے نیز اپنے لئے دوسروں کے مقابل حق اور اہمیت و امتیاز کا قائل ہے(١)

اس بنا پر، ''کبر'' کا محقق ہونا اس بات کا مستلزم ہے کہ'' عُجب '' بھی پایا جائے، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں عُجب و خود پسندی ہووہاں کبر بھی ضروری ہو۔کبھی انسان کی خود پسندی اس درجہ بڑھ جاتی ہے کہ جو اس کے اندر کمال پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے اپنے لئے خدا وند عالم سے حقوق اور مطالبات کا انتظار کرتا ہے اور اپنے لئے خدا کے نزدیک حیثیت و مرتبہ کا قائل ہو جاتا ہے، اس طرح سے کہ ناگوار حوادث کا وقوع اپنے لئے بعید سمجھتا ہے ایسی حالت کو ''ادلال'' کہا جاتا ہے ،درحقیقت یہ حالت خود پسندی کا سب سے بڑا اور بدترین درجہ ہے۔(٢)

ب۔ خود پسندی کی مذمت :

قرآن کریم میں بارہاخود پسندی کی مذمت کی گئی ہے، منجملہ ان کے جنگ حنین میں مسلمانوں کی شکست کی علّت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ''یقیناً خداوندرحمان نے تمہاری بہت سے مواقع پر مدد کی ہے اورحنین کے روز بھی جب کہ تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں فخر وناز میں مبتلا کر دیا تھا لیکن اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم دشمن کی طرف پیٹھ کر کے فرار کر گئے''۔(٣)

اس آیت میں خود پسندی کا ذکر اخلاقی برائی کے عنوان سے ہوا ہے جو کہ لشکر اسلام کی شکست کا باعث بن گئی ۔ پیغمبر اکرم سے منقو ل ہے کہ خدا وند عالم نے حضرت داؤد ـ سے فرمایا: ''اے داؤد! گناہگاروں کو بشارت دے دو اور صدیقین (سچے اور پاک باز لوگوں کو ) ڈراؤ۔

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٣٢١، ٣٢٢ملاحظہ ہو۔ ٢۔ ایضاً، ص٣٢٢۔٣۔ سورئہ توبہ، آیت٢٥۔ اسی طرح ملاحظہ ہو سورئہ حشر، آیت ٢۔ سورئہ کہف، آیت ٤٠۔ اور سورئہ فاطر، آیت ٨۔


داؤد ـ نے عرض کی: گناہگاروں کو کس طرح مژدہ سنائوں اورصدیقین کوکیسے ڈراؤں ؟ خدا نے فرمایا: اے داؤد! گنہگاروں کو اس بات کی خوش خبری دو کہ میں توبہ قبول کروں گا اوران کے گناہوں کو معاف کر دوں گا اور صدیقین کو ڈراؤ کہ اپنے اعمال پر اترائیں نہیں ، کیونکہ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جس کا محاسبہ کروں مگر یہ کہ وہ ہلاک ہو۔(١)

بے شک خود پسندی اور خود بینی اخلاق اسلامی کی رو سے نہ صرف ایک غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ اخلاقی رذائل کی ایک شاہراہ ہے اورجو تعبیریں دینی کتابوںمیں اس کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں وہ اس مختصر کتاب کی گنجائش سے باہر ہیں۔(٢)

ج۔خود پسندی کے اسباب:

اسلامی اخلاق کے عالموںنیخود پسندی کے بہت سے اسباب و عوامل ذکر کئے ہیں کہ ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:

١۔ جسمانی بنیاد پر خود پسندی، جیسے خوبصورتی، جسم کا تناسب، اس کی صحت اور اس کا قوی ہونا، خوش آواز ہونا ِ اور اس کے مانند۔

٢۔ اقتداراور قدرت کے احساس کی بنا پر خود پسندی، جیسا کہ خدا وندعالم قوم عاد کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ لوگ اسی طرح کے توہم کا شکار ہوکر بولے: '' ہم سے زیادہ قوی کون ہے(٣) ؟'' اس طرح کی خود پسندی عام طور پر جنگ اور ظلم وستم ایجاد کرتی ہے۔

٣۔ عقل ودانش، ذہانت وآگاہی اور دینی اور دنیوی امور کے بارے میں دقیق اور وسیع علم رکھنے کی بنیاد پر خود پسندی۔ اس طرح کی خود پسندی کا نتیجہ خود رائی، ہٹ دھرمی، مشورہ سے بے نیازی کا احساس، دوسروں کو جاہل خیال کرنا اور عالموں اور دانشوروں کی باتوں کو سننے سے پرہیز کرنا ہے۔

٤۔ انتساب کی وجہ سے خود پسندی یعنی باشرف نسب اور با عظمت بزرگوں کی طرف منسوب ہونے کی بنا پر جیسے بنی ہاشم کی طرف منسوب ہونااور سید ہونا یا بزرگ خاندان سے تعلق یاشاہان وسلاطین کی طرف انتساب۔ انسان کاایسا خیال اپنے لئے لوگوں کی خدمت گذاری کی چاہت پیدا کرتا ہے۔

____________________

١۔ اصول کافی، کلینی، ج٢، ص ٣١٤، ح٨۔

٢۔ علامہ مجلسی ،بحار الانوار، ج ٧١، ص ٢٢٨تا ص ٢٣٥۔ کافی، ج ٢، ص ٣١٣، ٣١٤۔

٣۔ سورئہ فصلت، آیت ١٥۔


٥۔اولاد غلام، قبیلہ وخاندان، رشتہ دار اور پیروی کرنے والوں کی کثرت سے اترانا، چنانچہ خدا وندعالم نے کافروں کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا ہے: '' انہوں نے کہا ہماری دولت اور اولاد سب سے زیادہ ہے اور ہم عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے '' ۔(١)

٦۔ ایسی خود پسندی جو مال و دولت کی فراوانی سے پیدا ہو۔ قرآن دومالکین باغ میں سے ایک کی زبانی نقل کرتا ہے: ''میر ا مال تم سے زیادہ ہے اور افراد کے اعتبار سے بھی میں تم سے قوی ہوں ''(٢) اس نے اپنے مال و متاع کو اپنی جانب سے خیال کیا اور اسے اپنی برتری کا سبب جانا خدا وند عالم نے بھی جو کچھ اسے دیا تھا چھین لیا مجموعی طور پر جب بھی انسان خود کو صاحب کمال خیال کرے، خواہ جسے اس نے کمال سمجھا ہے واقعا ً کمال ہو یا نہ ہو اور اس بات کو بھول جائے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے خدا کا دیاہوا ہے اور اسی کی رحمت و توفیق سے میسر ہوا ہے تو یہ امر اس کے اندر خود پسندی کا سبب بن سکتا ہے، حتی اگر خدا کی عبادت اور تقوی ٰسے فیضیاب ہونے اور خدا سے ڈرنے کا احساس بھی ہو۔(٣)

د۔ خود پسندی کے نقصان دہ اثرات: جیسا کہ اشارہ ہوا، خود پسندی بہت سی اخلاقی برائیوں کی کنجی ہے ذیل میں ان میں سے بعض اہم ترین برائیوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں:

١۔ خود پسندی ''کبر'' کا سرچشمہ نیز اس کے علاوہ بہت سے دوسرے رذائل کا بھی منبع ہے۔ اور کبر خود بینی کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا ۔

٢۔ خود بینی گناہوں کے فراموش کرنے کا باعث ہے۔ اگر انسان اپنے بعض گناہوں کی طرف متوجہ بھی ہو، تو انھیںمعمولی اورقابل مغفرت شمار کرکے ان کی تلافی کی کوشش نہیں کرتا۔

٣۔خود پسند انسان خود بینی کے بالا ترین مراحل میں اپنے کو بہت زیادہ خدا سے نزدیک سمجھتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود کو عذاب الٰہی سے محفوظ جانتاہے، اسی وجہ سے وہ اپنے اعمال کی اصلاح اور اس کے نقائص کو برطرف کرنے کی کوشش نہیں کرتا آخر کار اپنے اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔

____________________

١۔سورئہ سبائ، آیت٣٥۔

٢۔ سورئہ کہف، آیت ٣٤۔

٣۔ ملافیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، ج ٦، ص٢٨٢تا٢٨٩۔


٤۔ خود پسند انسان چونکہ خداوند عالم سے اپنے لئے کچھ مطالبات رکھتا ہے لہٰذا شکر گذاری اور قدر شناسی کو اپنا فریضہ نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کی نسبت نا شکر ا ہو جاتا ہے۔

٥۔ خود پسند انسان چونکہ اپنے اعمال سے خوش بین رہتا ہے اس لئے وہ اپنی کمزوری اور احتیاج کا احساس نہیں کرتا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ خود کو سوال کرنے اور مشورہ سے بے نیاز سمجھتا ہے۔

٦۔ خود پسند انسان چونکہ اپنے اندر کوئی کمی اور نقص اور عیب نہیں سمجھتا، لہٰذا خود کو دوسروں کی نصیحت اور خیر خواہی سے بے نیاز تصور کرتا ہے اور ان کی نصیحتوں پر توجہ نہیں کرتا۔(١)

٧۔ خود ستائی یعنی اپنی آپ تعریف کرنا خود پسندی کا ایک دوسرااثر ہے۔ خود بین انسان کو جو بھی موقع ہاتھ لگتا ہے وہ صرف اپنی تعریف میں زبان کھولتا ہے اور جو کچھ اس سے متعلق ہے اسے اچھے عنوان سے ذکر کرتا ہے۔(٢) جب کہ آدمی کا حسن اوراس کی خوبی یہ ہے کہ خود کو نقائص، عیوب، گناہوں اور خطاؤں سے بری نہ جانے اور ہمیشہ بارگاہ خدا وندی میں اپنے جرم و گناہ کی معذرت کرتا رہے۔ قرآن کریم میں خود ستائی کی مذمت میں ارشاد ہوتا ہے: ''لہٰذا اپنے آپ کوپاکیزہ خیال نہ کرو وہ اس انسان (کے حال) سے جس نے پرہیز گاری اختیار کی ہے زیادہ آگاہ ہے''۔(٣)

ہ۔ خود پسندی کا علاج: ہر درد کا علاج اس کے اسباب و علل کو برطرف کرنا ہے، لہذا جو انسان اپنے حسن و جمال اور جسمانی صحت پر مغرور ہو گیا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اپنے آغاز پیدائش اور اپنے انجام پر نظر کرے اور یہ جان لے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ سریع الزوال اورفانی ہے۔ صاحب قدرت کو معلوم ہوناچاہیے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ ایک روز کی بیماری میں نابود ہوجائے گا اور ہر آن اس بات کا امکان ہے کہ جو کچھ خدا نے اسے دیا ہے واپس لے لے گا۔ صاحب علم و عقل بھی جان لے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اللہ کی امانت ہے لہذا ممکن ہے کہ ایک معمولی حادثہ کے ز یراثر اپنے تمام علم وشعور کو کھو دے۔ اسی طرح صاحبان حسب و نسب بھی جان لیں کہ دوسروںکے کمال کے سبب اظہار فضیلت و بلندی عین جہالت اور بیوقوفی ہے کیونکہ خدا کی بارگاہ میں کرامت وبزرگی تقویٰ وپرہیز گاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔

____________________

١۔ المحجة البیضائ، ص٢٧٥، ٢٧٦ ملاحظہ ہو۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٣٦٥، ٣٦٦۔

٣۔ سورئہ نجم ، آیت ٣٢۔


مال ودولت کے مضر اثرات کے بارے میں غور وفکر کرنا کافی ہے تاکہ دولتمندوں کو خود پسندی کے خواب سے بیدار کر دے۔ اہل عبادت اور تقویٰ کو بھی توجہ کرنی چا ہئے کہ عبودیت کی غایت خدا کے سامنے تواضع و انکساری کے سواکچھ نہیں ہے اور عبودیت خود بینی، خود پسندی سے میل نہیں کھاتی ۔(١)

دوسری نظر۔ غرور

''غرور ' 'جوکچھ نفسانی خواہشات کے موافق ہے اس کی نسبت قلبی سکون و اطمینان نیز انسانی طبیعت کا اس کی طرف مائل ہونا ہے۔ اس صفت کا سر چشمہ یا تو جہالت ہے یا شیطانی وسوسہ ہے۔ اس وجہ سے جو شخص اوہام اور شبہات کی بنیاد پر خود کو خیر و صلاح پر تصورکرتا ہے حقیقت میںوہ دھوکہ کھا گیا ہے اور مغرور ہو گیا ہے، وہ اپنا اور اپنے امورکا صحیح اندازہ لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ جیسے کوئی حرام طریقہ سے مال حاصل کرے اوروہ اسے راہ خیر مثلاً مسجد بنانے، مدرسہ تعمیر کرنے اوربھوکوں کو سیرکرنے میں خرچ کرے اس خیال سے کہ وہ راہ خیر اور نیکی میں قدم اٹھا رہاہے، جب کہ وہ مغرور اور دھوکہ کھایا ہوا ہے۔ اس وجہ سے '' غرور '' کے دو اساسی رکن ہیں:

١۔ جہل مرکب: یعنی اس کا قلبی اعتقاد یہ ہے کہ اس کا عمل نیک ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

٢۔ برخلاف اس کے کہ جو وہ ظاہر میں دعویٰ کرتا ہے اس کا اصلی سبب خیر و سعادت نہیں ہے، بلکہ خواہشات وغضب کی پیروی اور انتقام جوئی ہے۔قر آن و روایات میں غرور کی شدت سے مذمت کی گئی ہے۔ قرآن اس سلسلہ میںانسان کو ہوشیار کرتا ہے: ''تمہیں یہ دنیاوی زندگی دھوکہ ہرگز نہ دے اور شیطان تمہیں ہر گز مغرور (فریب خوردہ) نہ بنائے ''۔(٢) دوسری جگہ غرور کا سبب دنیا دوستی اور دنیا طلبی جانتا ہے: '' دنیوی زندگی مایۂ فریب کے سوا کچھ اور نہیں ہے ''۔(٣) اگر چہ لوگوں کے تمام گروہوں میں فریب خوردہ اور مغرور لوگ پائے جاتے ہیں، لیکن بعض گروہ کچھ زیادہ ہی غرور میں مبتلا ہیں یا بعبارت دیگر بعض امور زیادہ تر غرور کا باعث بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے علماء اخلاق سب سے اہم ان گروہوں کو جو غرور میں مبتلا ہوتے ہیں، درج ذیل گروہ جانتے ہیں:

الف۔ کفار:

کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا کا نقد آخرت کے ادھار سے بہتر ہے۔ اسی طرح دنیا کی یقینی لذت آخرت کی وعدہ شدہ لذت سے بہتر ہے۔

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی،جامع السعادات، ج١، ص ٣٢٦تا ٣٤٢۔ ٢ ۔سورئہ لقمان، آیت ٣٣۔ اسی طرح ملاحظہ ہو سورئہ حدید، آیت ١٤۔٣۔ سورئہ آل عمران، آیت ١٨٥ ۔ سورئہ حدید، آیت ٢٠۔


ب۔ فاسق اور گناہگار مومنین:

کیونکہ یہ لوگ اس بہانہ سے کہ خدا وندعالم عظیم اور وسیع رحمت کا مالک ہے، ان کے گناہ اس کے عفو ورحمت کے مقابل ناچیز ہیں، لہٰذا یقیناً رحمت خداوندی ان کے شامل حال ہوگی۔

ج۔علمائ:

کیونکہ ممکن ہے کہ یہ تصور کریں کہ علم ودانش، نجات وکامیابی کا ذریعہ ہے اور یہ سونچ کر اپنے علم پر عمل نہ کریں۔

د۔ مبلغین اور واعظین:

کیونکہ شاید یہ گمان کریں کہ ان کی نیت لوگوں کی ہدایت ہے جب کہ وہ اپنے نفس کو راضی کرنے کے چکر میں ہیں اور اس راہ میں خلاف واقع امور کی دین کی طرف نسبت دینے سے بھی گریز نہ کریں۔

ہ۔ اہل عبادت اور عمل:

چونکہ ممکن ہے کہ حقیقت میں وہ ریا اور خود نمائی کر رہے ہوں، لیکن تصور کریں کہ ان کی غرض اللہ کی رضا اور اس کے معنوی تقرب کا حصول ہے۔

و۔ عرفان کے دعویدار افراد:

کیو نکہ شاید یہ تصور کریں کہ صرف اہل معرفت کا لباس پہن کر اور ان کی اصطلاحیں استعمال کر کے (بغیر اس کے کہ وہ اپنی حقیقت اور باطن کو تبدیل کریں) سعادت وحقیقت تک پہونچ گئے ہیں۔


ز۔ مالدار اور ثروت مند افراد:

کیو نکہ یہ لوگ کبھی راہ حرام سے تحصیل کر کے لوگوں کو دکھانے کے لئے امور خیر یہ میں اس کا مصرف کرتے ہیں اور اس کو اپنی سعادت ونیک بختی کا ذریعہ سمجھ کر اپنے دل کو خوش رکھتے ہیں۔(١)

٢۔ تواضع

تواضع کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دوسروں کے مقابل اپنے امتیاز اور فوقیت کا قائل نہ ہو۔ کسی انسان میں اس حالت کا وجود باعث ہو تا ہے کہ دوسروں کو بزرگ اور مکرم سمجھے۔(٢) تواضع کبر وتکبر کے مقابل ہے اور یہ دونوں تواضع کے لئے مانع کے عنوان سے زیر بحث واقع ہوں گے۔

ایک۔ تواضع کی اہمیت:

خدا وند عالم قرآن کریم میں تواضع وفروتنی کو اپنے واقعی مومن بندوں کی خصوصیات میں جانتا ہے اور فر ماتا ہے:

''اور خدا وند رحمان کے بندے وہ لوگ ہیں جو روئے زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ونادان لوگ ان سے خطاب کر تے ہیں تو وہ سلامتی کا پیغام دیتے ہیں''(٣)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص ٢٣، ٣٣۔

٢۔ ایضاً ، ج١، ص ٣٥٨، ٣٥٩۔

٣۔ سورئہ فرقان، آیت ٦٣ ۔ اسی طرح ملاحظہ ہو سورئہ مائدہ، آیت ٥٤۔


دوسری جگہ خدا وند عالم پیغمبر اکرم سے فرماتا ہے: اپنے ماننے والوںکے ساتھ خاضعانہ رفتار رکھیں:

''اور ان مومنین کے لئے جنہوں نے آپ کی پیروی کی ہے اپنے شانوں کوان کے لئے جھکا دیجئے''(١) حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: خداوند عالم نے موسیٰ کو وحی کی: اے موسیٰ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے اپنی تمام مخلوقات میں تم کو اپنے سے بات کرنے کے لئے کیوں انتخاب کیا ؟ موسیٰ ـنے عرض کی: خدا یا ! اس کی علت کیا ہے ؟ خدا نے جواب دیا: ''اے موسیٰ! میں نے اپنے بندوں میں اپنے سامنے تم سے زیادہ کسی کو متواضع اور منکسر نہیں دیکھا۔ اے موسیٰ ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے رخسار کوخاک پر رکھتے ہو''۔(٢)

رسول خدا نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ''کیا بات ہے کہ تم میں عبادت کی شیرینی نہیں دیکھتا؟ ''انہوں نے سوال کیا: عبادت کی شیرینی کیا ہے ؟ فرمایا: '' عاجزی وانکساری ''۔(٣)

دو۔ تواضع کی علامتیں: بعض روایات میں متواضع اور خاکسار انسان کے لئے نشانیاں بیان کی گئی ہیں اگر چہ یہ نشانیاں نمونہ کے طور پر ہیں اور اس کا مفہو م صر ف انھیںنشانیوں میں منحصر ہونا نہیں ہے، انھیںنشانیوں میں سے بعض درج ذیل ہیں:

١۔ متواضع اور خاکسار انسان بیٹھنے میں بزم کے آخری حصہ میں بیٹھتا ہے۔(٤)

٢۔ متواضع انسان سلام کرنے میںدوسروں پر سبقت کرتا ہے۔(٥)

٣۔ جنگ وجدال سے بازرہتا ہے خواہ حق اس کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔(٦)

٤۔ وہ اس بات کو دوست نہیں رکھتا کہ اس کی پرہیز گاری کی تعریف کی جائے۔

تین۔ فروتنی کے موانع : کبر و تکبر، فخر و مباہات، تعصب، طغیانی و سر کشی، ذلت و رسوائی، فروتنی کے سب سے اہم موانع میں شمار ہوتے ہیں، اختصار کے ساتھ ان میں سے بعض کی توضیح دے رہے ہیں۔

الف) کبر:

فروتنی کی راہ میں سب سے بنیادی و اساسی مانع '' کبر '' ہے۔

____________________

١۔ سورئہ شعرائ، آیت ٢١٥۔٢۔ کافی، کلینی، ج٢، ١٢٣، ح٧۔ ٣۔ورام بن ابو فراس: تنبیہ الخواطر، ج١، ص٢٠١۔

٤۔کافی، ج٢، ص ١٢٣، ح٩۔٥۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج٧٥، ص١٢٠، ح٩۔ ٦۔ایضاً ، ص١١٨، ح٣۔


کبرکا مفہوم:

کبر یہ ہے کہ انسان عُجب و خود پسندی کے نتیجہ میں مقابلہ و مقایسہ کے موقع پر خود کو سب سے برتر اور بہتر خیال کرے اس وجہ سے کبر خود پسندی اور عُجب کامعلول ہے (یعنی کبر عُجب و خودپسندی کی وجہ سے وجود میں آتا ہے ) اور اس میںدوسروں سے مقایسہ پوشیدہ ہے۔ اگر خود کو بڑا اور برتر سمجھنے کی کیفیت ایک حالت کے عنوان سے فقط انسان کے اندر باطن میں پائی جائے تو اسے ''کبر '' کہتے ہیں، لیکن اگرخارجی اعمال و رفتار میں ظاہر ہو تو اسے ''تکبر'' کہتے ہیں، جیسے کسی کے ساتھ بیٹھنے یا کھانا کھانے سے پرہیز کرے، اور دوسروں سے سلام کا انتطار کرے اور گفتگو کرتے وقت مخاطب کی طرف نگاہ کرنے سے اجتناب کرے وغیرہ ...۔(١)

تکبّر کی مذمت:

خداوند عالم نے قرآن کریم میں ان لوگوں کی نسبت جو اللہ کی عبادت میں تکبّر کرتے ہیں، جہنم کا وعدہ دیا ہے ''در حقیقت جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب وہ لوگ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں چلے جائیں گے ''۔(٢) دوسری جگہ اعلان کرتا ہے کہ سرائے آخرت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو زمین میں فوقیت و برتری کے خواہاں نہ ہوں: ''اس دارآخرت کو ہم ان لوگوں سے مخصوص کردتے ہیں جو زمین میںفوقیت وبرتری اور فساد کے طا لب نہ ہوں ''۔(٣)

تکبّر کی قسمیں:

جس کی نسبت تکبّر کیا جاتا ہے اس کے اعتبار سے تکبّر کی تین قسمیں کی جاسکتی ہیں:

ایک۔ خداوندعالم کے مقابل تکبّر کرنا: جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: '' جو انسان اس کی پرستش سے امتناع کرے اور کبر کا اظہار کرے عنقریب ان سب کو اپنی بارگاہ میں محشور کرے گا''۔(٤)

دو۔ پیغمبر کے مقابل تکبّر کرنا:

پیغمبر کے مقابل تکبّر اس معنی میں ہے کہ انسان اپنی شان و منزلت کو اس بات سے افضل وبرتر تصور کرے کہ آنحضرت کی دعوت اور فرامین پر گردن جھکائے ۔جیسا کہ قرآن کفار کے ایک گروہ کے بارے میں اس طرح فرماتا ہے: '' آیا ان دو بشر پر جو کہ ہمارے ہی جیسے ہیں ایمان لے آئیں ''۔(٥)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٣٤٤۔ ٢۔ سورئہ مومن، آیت ٦٠۔٣۔سورئہ قصص ٨٣ ۔ جاثیہ ٣٧ ۔ اعراف ١٣، ١٤٦ ۔ ص ٧٣ ، ٧٤ ۔ سورئہ اسرائ، آیت ٣٧ ۔ لقمان ١٨۔ فرقان ٦٣ ۔ نحل ٢٩ اور ٢٣ ۔ غافر، آیت ٣٠، ٥٦، ٦٠ ۔ انعام، آیت ٩٣ ،سورئہ زمر، آیت ٧٢۔

٤۔سورئہ نسائ، آیت ١٧٢ ۔ سورئہ مریم، آیت ٦٩ ۔ نحل، آیت ٢٣۔ ٥۔سورئہ مومنون، آیت ٤٧۔


تین۔ لوگوںکے مقابل تکبّر: یعنی خود کو عظیم اور دوسرے لوگوں کو معمولی اور ذلیل و خوار سمجھنا۔ ایک روایت میں اس طرح کے تکبّر کو واقعی جنون سے تعبیر کیا گیا ہے۔(١)

تکبّر کا علاج:

علماء اخلاق نے تکبّر کے علاج کے لئے علمی اور بعض عملی راہیں بتائی ہیںکہ وہ اسباب تکبّر سے اجتناب یا ان کا برطرف کرنا ہے۔ چونکہ حقیقت میں تکبّر کے اسباب وہی خودپسندی کے اسباب ہیں، لہذا جوکچھ خودپسندی کے علاج سے متعلق بیان کیا گیا ہے، وہی تکبّر کے علاج کے لئے بھی کار آمد ہوگا۔

ب) ذلت وخواری:

جس طرح بزرگ طلبی اور برتری جوئی (کبر وتکبّر) تواضع کے لئے مانع ہے اسی طرح ذلت وخواری بھی تواضع کے لئے مانع ہے اور عزت نفس سے بھی منا فات رکھتی ہے اگر تکبّر اپنی اہمیت جتانے میںافراط اورزیادتی تو ذلت خواری بھی اس امر میں تفریط ہے(٢) اسی بنیاد پراخلاق اسلامی میں متکبّرین کے مقابل تواضع اور خاکساری کرنے کو شدت کے ساتھ منع کیا گیاہے کیونکہ متکبّر انسان ہرطرح کی خاکساری و فروتنی کو مقابل شخص کی پستی اورخواری شمار کرتا ہے۔(٣)

____________________

١۔شیخ صدوق، خصال، ص ٣٣٢، ح ٣١۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٣٦٢۔

٣۔ ورام بن ابی فراس، تنبیہ الخواطر، ج ١، ص ٢٠١ ملاحظہ ہو۔


تیسری فصل: مؤثر نفسانی صفات

د۔ نفس کی توجہ آئندہ کی نسبت

اخلاق اسلامی کے مفاہیم میں سے بعض یہ ہیں جو انسان کے نفس کی توجہ کو آئندہ سے متعلق بتاتا ہے۔ سب سے پہلے آئندہ کے متعلق نفس کے پسندیدہ رجحان پھر اس کے بعد اس کے موانع کے بارے میں گفتگوکریں گے۔

١۔ آئندہ کی نسبت نفس کا مطلوب رجحان

یہ رجحان درج ذیل شرح کے ساتھ چند مفاہیم کے قالب میں بیان ہوگا:

الف۔ حزم:

حزم لغت میں محکم و استوار کام کرنے اور امور کو متقن ومحکم بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔(١) روایات میںبھی حزم اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، لیکن اس کے مصادیق کثرت سے بیان کئے گئے ہیں، منجملہ آج کی اصلاح، کل کا تدارک، آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا، موت کے لئے آمادہ رہنا، ضد اورہٹ دھرمی نہ کرنا، صاحبان نظر سے مشورہ کرنا، کسی چیز کے طے کرنے میں قاطعیت کا اظہار، مشکوک امور میںتوقف کرنا، احتیاط اور عاقبت اندیشی۔ اس طرح سے آئندہ کے بارے میں غورو خوص کرنا اور دور اندیشی حزم کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے قریب وبعید مستقبل کا تدارک مطلوب صورت میں اسلام کے عالی اخلاقی فضائل میں شمار ہوتا ہے اس سے اخلاق اسلامی کی اصل کتابوں میں حزم کو چالاکی،(٢) ایک نوع سرمایہ اور پونجی،(٣) ہنر مندی(٤) جیسے اوصاف سے یاد کیا گیا ہے اور مومنین کے اوصاف میں سے ایک وصف شمار کیا گیا ہے۔

____________________

١۔ ابن اثیر، نہایہ، ج١، ص٣٧٩۔

٢۔شیخ صدوق، خصال، ج٢، ص٥٠٥، ح٣۔

٣۔ غررالحکم، ح٩۔

٤۔ ایضاً ، ح١١٧۔


(١) خلاصہ یہ کہ آئندہ کی نسبت نفس کی مطلوب توجہ (حزم) یہ ہے کہ پہلے اپنے کل کی حالت اور ان حوادث وواقعات کو جو آئندہ پیش آئیں گے منجملہ ان کے اپنی موت وزندگی کو نظر میں رکھے۔ دوسرے آج کی اپنی خواہشات ومیلانات کو کل کی بہ نسبت آمادہ کرے۔

ب۔ آرزؤوں کو کم کرنا:

کل ہمارے آج کی آرزؤوں کا بستر ہے، سارے انسان جس مقدار میں اپنی بقا و زندگی کے لئے آئندہ امید رکھتے ہیں اسی قدر اپنی آرزؤوں کے دائرہ کی نقشہ کشی کرتے ہیں۔ نیز کبھی کبھی آدمی کی آرزؤوں اور تمناؤں کا دامن اس کی آئندہ زندگی کے دوران کی نسبت امید کو تحت تاثیر قرار دیتا ہے۔ بہر صورت یہ دونوں عامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اخلاق اسلامی میںکوشش کی گئی ہے کہ انسان کی آرزوئیں اور اس کی امیدیں کو اس کی باقی بچی عمر کی نسبت فطری حقیقتوں اور گراں قیمت اخلاقی معیاروں کے مطابق شکل اختیار کرے۔ ایک طرف انسان کو آگاہ کرتاہے کہ آئندہ زندگی کے لئے کوئی اطمینان و ضمانت نہیں ہے اور ہر دن اور ہر آن ممکن ہے کہ اس کی زندگی کا آخری لمحہ ہو لہذا اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دنیوی مطالبات وخواہشات اور آخرت کے لئے اپنی ضرورتوںکو انھیںواقعیتوں کی بنیاد پر استوار کرے۔ دوسری طرف اسے یاد دلاتا ہے کہ اپنی ہمت کو بلند رکھے اور اپنی ا نسانی منزلت کا کھانے پینے، سونے اور زودگذر لذتوں، اعتباری منصبوں نیز ایسے لوگوں کی تعریف و توصیف سے جو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں، سودا نہ کرے۔

اخلاق اسلامی کی تاکید آرزؤوں کو کم کرنے کے سلسلہ میں اسی ہدف کی تکمیل کے پیش نظر ہے، کیونکہ علماء اخلاق کے بقول، طولانی آرزؤوںکی بنیاد دو چیزیں ہیں: ایک طولانی عمر پر اعتقاد اور دوسرے طویل مدت تک دنیوی لذتوں سے فائدہ اٹھانے کی رغبت۔ اس بنا پر طولانی آرزوئیں ایک طرف انسان کی جہالت اور اس کی موت سے غفلت کا باعث ہیں اور دوسری طرف دنیا سے لگاؤ اور محبت کا باعث ہیں۔(٢) یہ دونوں نہ تنہا رذیلت ہیں، بلکہ بہت سے اخلاقی رذائل کی کنجی ہیں۔ آیات وروایات میںطولانی و دراز آرزؤوں کی مختلف انداز سے مذمت کی گئی ہے۔ خداوند جبار نے حضرت موسٰی ـ سے فرمایا: ''اے موسی! دنیا میں دراز آرزوئیں نہ رکھو کہ سخت دل ہوجاؤ گے اور سخت دل انسان مجھ سے دور ہے''۔(٣)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص٢٢ ، ٢٢٩۔٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ص٣٢، ٣٥۔ ٣۔ شیخ کلینی، کافی، ج٢، ص ٣٢٩، ح١۔


حضرت علی ـ نے فرمایا: '' جو شخص یقین رکھتا ہے کہ ایک دن اپنے دوستوں سے جدا ہوجائے گا اورخاک کے سینہ میںچھپ جائے گا اور اپنے سامنے حساب وکتاب رکھتا ہے اور جو کچھ اس نے چھوڑا ہے اس کے کام نہیں آئے گا اور جو کچھ اس نے پہلے بھیجا ہے اس کا محتاج ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ آرزؤوں کے رشتہ کو کوتاہ اور عمل کے دامن کودراز کرے''(١) حضرت امام محمد باقر ـ نے بھی فرمایا ہے: ''آرزو کو کم کر کے دنیا سے رہائی کی شیرینی حاصل کرو''۔(٢)

ج۔ موت کی یاد:

اسلام کے تربیتی اخلاق میں بہت کارآمد وسیلہ ہے وادی معرفت کے سالک اور محبت پروردگار کے کوچہ کے دلدادہ افراد نے موت کی یاد سے متعلق قیمتی تجربے ذکر کئے ہیں، نیز آیات وروایات میں بھی ذکر موت، تربیت اخلاقی میں ایک مفید حکمت عملی اور تدبیرکے عنوان سے مورد تاکید واقع ہواہے ۔جیسا کہ کہا گیا ہے: طولانی عمر سے استفادہ کرنے کا یقین دراز مدت آرزؤوںکے ارکان میں سے ہے جو کہ دنیا سے محبت اور ذخیرہ آخرت سے غفلت کا نتیجہ ہے۔ اخلاق اسلامی اپنے بہت سے ارشادات سے ''یادمرگ '' کی نسبت اور اصل موت اور اس کے نا گہانی ہونے کے بارے میں دائمی نصیحت سے، ہمارے نفسانی رجحان کو کل کی نسبت ہمیں آمادہ کرتے ہے۔ ہماری کل کی زندگی کی امیدوں کی تصحیح کرکے ہمارے موقف اور ہماری رفتار کو آج کی نسبت بھی اصلاح کرتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر ـ نقل فرماتے ہیں کہ لوگوںنے پیغمبر اکرم سے سوال کیا: سب سے زیادہ چالاک مومنوں میں کون ہے ؟ رسول خدا نے جواب دیا: وہ انسان جوسب سے زیادہ موت کو یاد کرے اور سب سے زیادہ خودکو موت کے لئے آمادہ کرے۔(٣)

حضرت علی ـ نے فرمایا: جب تمہارے نفوس تمہیں خواہشات اور شہوات کی جانب کھینچیں، تو موت کو کثرت سے یاد کروکیونکہ موت سب سے بہتر واعظ ہے رسول خدا اپنے اصحاب کو موت کی یاد کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے اور فرماتے تھے: موت کا کثرت سے ذکر کرو، کیونکہ وہ لذتوں کو درہم برہم کرنے والی اور تمہارے اور تمہارے خواہشات کے درمیان حائل چیز ہے۔(٤)

____________________

١۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج٧٣، ص ١٦٧، ح ٣١۔

٢۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٨٥۔

٣۔ شیخ کلینی، کافی، ج٣، ص ٢٥٨ز۔

٤۔ شیخ طوسی، امالی، ص ٢٨، ح ٣١۔


د۔ بلند ہمتی:

آرزؤوں کے کوتاہ کرنے اور موت کے انتظار کی ضرورت کا ذکر ہونے کے بعد ممکن ہے کہ یہ تصور پیش آئے کہ بلند آرزؤوں کا فاقد انسان، مستقبل کے لئے سعی و کوشش کا کوئی سبب اور تدبیر، دور اندیشی اور محرّک نہ رکھے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طرف اگر چہ اسلام آرزؤوں کے کوتاہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری طرف انسان کی امید اور بلند ہمتی کو گراں قیمت الٰہی آرزؤوں اور امیدوں کی سمت موڑ دیتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ بلند ہمت افراد کی مذمت کرتا نہیں ہے بلکہ اس کی ایک اخلاقی فضیلت بتاتا ہے اور بلند ہمتی کو خدا کی دوستی اور محبت کی طلب میں جانتا ہے، جیسا کہ حضرت امام زین العابدین ـ خدا سے مناجات کرتے وقت فرماتے ہیں: '' خدایا! مجھے روحانی جسم، آسمانی دل اور ایسی ہمت جو مسلسل تجھ سے وابستہ ہو اور اپنی محبت میں صادق یقین عطا فرما۔ ''(١) دوسری مناجات میںبیان کرتے ہیں: اے وہ ذات! جس نے عارفین کو طولِ (یا عطرِ) مناجات سے مانوس کیا اور خائفین کو ولایت و دوستی کا لباس پہنایا، کب خوش ہوگا وہ انسان جس کی ہمت تیرے علاوہ دوسرے کی طرف متوجہ ہو اور کب وہ انسان آرام محسوس کرے گا جو تیرے علاوہ دوسرے کا عزم و ارادہ رکھتا ہے۔ معلوم ہوا سعادت وکمال حاصل کرنے کی راستہ میں سعی وکوشش اور بلند ہمت کی اسلام میں نہایت تاکید کی گئی ہے کہ جس کا راستہ اسی دنیا سے گذرتا ہے اور بہت سے دنیاوی عطیوں سے استفادہ کرنا اور بہرہ مند ہونا اس تک پہونچنے کی شرط ہے۔پیغمبر اسلام ان دونوں کے درمیان (جو بظاہر متعارض ہیں) جمع کرنے کے عنوان سے فرماتے ہیں: ''اپنی دنیا کے لئے اسی طرح کام کروکہ گویا ہمیشہ زندہ رہو گے اور اپنی آخرت کے لئے اسی طرح کام کروکہ گو یا کل مر جاؤگے۔ ''(٢)

٢۔موانع

سب سے اہم موانع جو کل کی نسبت نفس کے مطلوب رجحان کے مقابل ہیں،درج ذیل ہیں:

الف۔ طولانی آرزوئیں:

دراز آرزؤویں عام طور پر آئندہ سے متعلق انسان کو غیر واقعی تصویر دکھاتی ہیں، انسان کی دنیا سے محبت اور اس کی خوشیوں میںاضافہ کرتی ہیں اور دنیاوی محبت بھی دسیوں اور سیکڑوں اخلاقی رذیلتوں کا باعث ہے جیسا کہ رسول خدا نے فرمایا: ''حب الدنیا رأس کل خطیئہ''(٣) ''دنیا سے دلبستگی تمام گناہوں کی اصل و اساس ہے۔ '' اسی بنیاد پر دراز آرزؤوں کی شدت کے ساتھ ملامت کی گئی ہے۔

____________________

١۔ صحیفہ سجادیہ، دعا ١٩٩۔٢۔ ورام بن ابی فراس، تنبیہ الخواطر، ج٢، ص٢٣٤ ؛شیخ صدوق، فقیہ، ج ٣، ص ١٥٦، ح ٣٥٦٩؛ خزار قمی، کفاےة الاثر، ص ٢٢٨؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج ٤٤، ص ١٣٩، ح٦۔ ٣۔ شیخ صدوق، خصال، ج١، ص ٢٥، ح ٨٧ ؛ حرانی، تحف العقول، ص٥٠٨۔


قرآن کریم ایک گروہ کی مذمت میںفرماتا ہے: ''انہیں چھوڑ دو تاکہ کھائیں اور مزے اڑائیں اور امیدیں انھیںغفلت میں ڈالے رہیں، عنقریب وہ جان لیں گے''۔(١)

اسی طرح طولانی خواہشات انسان کو '' تسویف '' میںمبتلا کرتی ہیں یعنی انسان ہمیشہ پسندیدہ امور کو کل پر ٹالتا رہتا ہے۔ حضرت علی ـ اپنے اصحاب کونصیحت کرتے ہوئے اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''دنیا کو چھوڑ دو کہ دنیا کی محبت اندھا، بہرہ، گونگا اور بے حال بنادیتی ہے۔ لہذا جو کچھ تمہاری عمر کا حصہ باقی بچا ہے اس میں گذشتہ کی تلافی کرو اور کل اور پرسوں نہ کہو (ٹال مٹول نہ کرو) اس لئے کہ تم سے پہلے والے جو ہلاک ہوئے ہیں لمبی آرزؤوں اور آج اور کل کرنے کی وجہ سے، یہاںتک کہ اچانک ان تک فرمان خداوندی آپہنچا (انھیںموت آگئی) اور وہ لوگ غافل تھے''۔(٢)

ب۔ پست ہمتی:

پست ہمتی انسان کو بلند مقامات اور عالی اہداف و مقاصد تک پہونچنے سے روک دیتی ہے،

آئندہ کے بارے میں غور وفکر اورعاقبت اندیشی کی نوبت نہیں آنے دیتی اور صرف آج کی فکر اور وقتی فائدہ حاصل کرنے کی عادی بنادیتی ہے۔ آئندہ کی سعادت اور اس کے خوشگوا ر ہونے کی فکر کرنا اور ابھی سے کل کی مشکلات کا استقبال کرنا بلند ہمت اور عظیم روح کے مالک افراد کا ہنر ہے، اپنے مستقبل کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روشن اور درخشاں دیکھنا اور ابھی سے مستقبل کے لئے چارہ اندیشی کرنا بلند ہمت افرادکی شان ہے۔ اس وجہ سے مستقبل کی نسبت اور آج سے کل کی اصلاح کے متعلق نفس کے پسندیدہ رجحان کے لئے ایک مانع کے عنوان سے پست ہمتی کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے۔ منجملہ ان کے حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''تین چیزیں انسان کو مقامات عالیہ اور بلند اہداف تک پہونچنے سے روک دیتی ہیں: پست ہمتی، عدم تدبیر، غور وفکر میں تساہلی۔(٣)

____________________

١۔ سورئہ حجر، آیت ٣۔

٢۔ شیخ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٣٦، ح٢٣۔

٣۔ حرانی، تحف العقول، ص٣١٨۔


ہ۔ دنیوی نعمتوں کی طرف نفس کارجحان

انسان کے بہت سے اعمال ورفتاردنیا کی نسبت ان کے نفسانی رجحان سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ رجحان بہت سے نفسانی صفات اور ملکات کی پیدائش کا سر چشمہ ہے ایسا لگتاہے کہ اخلاق اسلامی میں مواہب دنیوی کی نسبت نفسانی مطلوب کا رجحان زہد کے محور پرگھومتا ہے اور وہ تمام عام مفاہیم جو اس باب میں ذکر ہوئے ہیں جیسے قناعت، عفت، حرص، طمع و حسرت وغیرہ ان سب کو زہد کی بنیاد پر بیان کیا جاسکتا ہے۔

زہد

ایک۔ زہد کا مفہوم

ارباب لغت کی نظر میں کسی چیز کی نسبت زہد اختیار کرنے کے معنی اس چیز سے اعراض اور اس سے بہت کم خوش ہونا ہے۔(١) علماء اخلاق کے فرہنگ میں '' زہد '' نام ہے دنیا سے قلبی اور عملی اعتبار سے کنارہ کشی اور اعراض کرنے کا مگر اتنی ہی مقدار میں جتنی انسان کو اس کی ضرورت ہے۔

بعبارت دیگر زہد یعنی آخرت کے لئے دنیا سے رو گردانی اور خدا کے علاوہ ہر چیز سے قطع رابطہ کرنا ہے۔ اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاً، زہد اس شخص پر صادق آتا ہے جس کے یہاںدنیا کے تحصیل کرنے اور اس سے بہرہ مندہونے کا امکان پایا جاتا ہو۔ دوسرے، دنیا سے روگرداں ہونا آخرت کی بہ نسبت دنیا کی پستی اور حقیر ہونے کے اعتبار سے۔ جب بھی دنیا کا ترک کرنا امکان تحصیل نہ ہونے کی وجہ سے ہو ( یعنی دنیا کی تحصیل کرنااس کے لئے ممکن ہی نہ ہو) یا خدا کی رضایت اور تحصیل آخرت کے علاوہ کوئی اورہدف و مقصد ہو جیسے لوگوں کی خوشنودی اور دوستی جذب کرنے کے لئے ہو یا اس کی تحصیل میں سختی اور مشقت سے فرار کرنے کی وجہ سے ہو تو اسے '' زہد '' نہیں کہا جائے گا۔(٢)

____________________

١۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص ٣٨٤ ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج ٣، ص ١٩٦ اور ص ١٩٧۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادت، ج ٢ ص ٥٥ اور ص ٥٦۔


دو۔ زہدکی اہمیت

آیات و روایات میں زہد اختیار کرنے کی نسبت جو تعبیریں وارد ہوئی ہیں نیز وہ علائم جو اس نفسانی صفات کے لئے بیان کئے گئے ہیں سب کے سب اسلام کے اخلاقی نظام میں دنیا کی نسبت اس کے بلند و بالا مرتبہ کو بیان کرنے والے ہیں ۔

جیسا کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا: ''دنیا میں زہد اختیار کرنا جسم و دل کے سکون کا باعث ہے ''۔(١) حضرت امام جعفر صادق ـ نے بھی فرمایا ہے: ''دنیا سے بے رغبتی اور بے توجہی آخرت کی جانب متوجہ ہونے کے لئے دل کی فراغت وسکون کا باعث ہے''۔(٢) خلاصہ یہ کہ پیغمبر اکرم اعلان فر ماتے ہیں: ''دنیا سے بے توجہ ہوئے بغیر تمہارے دلوں پر ایمان کی چاشنی حرام ہے''۔(٣)

تین۔ زہد کے مراتب اوردرجات

علماء اخلاق نے مختلف اعتباروں سے زہد کے انواع اور درجات ذکر کئے ہیں، اختصار کے ساتھ ہم انھیںذکر کررہے ہیں۔

١۔ زہد کے شدت و ضعف کے اعتبا ر سے مراتب:

زہد کو دنیا سے کنارہ کشی کی شدت و ضعف کے اعتبار سے تین درجوں تقسیم کرتے ہیں:

الف۔ انسان دنیا سے رو گرداں ہے اس حال میں کہ اس کی طرف مائل ہے اور حقیقت میں زحمت، مشقت اور تکلّف کے ساتھ خود کو دنیا سے دور کرتا ہے۔

ب۔ انسان خواہش، رغبت اور آسانی کے ساتھ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اس کی طرف کوئی میلان ہو کیونکہ اس کی نظر میں دنیا اخروی لذتوں کے مقابل حقیر و پست ہے، در حقیقت اس نے ایک ایسے معاملہ کا اقدام کیا ہے جس میں معمولی اور کم اہمیت چیز کو اس سے قیمتی جنس کی امید میں چھوڑ دیا ہے لیکن اس معاملہ سے وہ راضی وخوشنود ہے۔

____________________

١۔ شیخ صدوق ِ خصال، ص٧٣ ح ١١٤۔

٢۔ کافی، کلینی، ج ٢، ص ١٦، ح ٥۔

٣۔ کافی، ص ١٢٨، ح ٢۔


ج۔ زہد کا سب سے بلند درجہ یہ ہے کہ اپنی خواہش اور شوق سے دنیا کو ترک کرے اور کبھی کسی چیز کے ہاتھ سے نکل جانے کا احساس نہ کرے۔یعنی احساس نہ کرے کہ کوئی معاملہ ہوا ہے، اسی طرح جیسے کوئی ایک مشت خاک کو چھوڑ دے تاکہ یاقوت حاصل کرے، وہ کبھی احساس نہیں کرتا کہ کوئی چیز اس نے قیمتی چیز کے مقابل گنوائی ہے اور کوئی معاملہ کیا ہے۔

٢۔ زہد کے مراتب اعراض کی جانے والی چیزوں کے اعتبار سے:

اس اعتبار سے زہد کے چند درجے درج ذیل بیان کئے گئے ہیں:

الف۔ محرَّمات سے اعراض کرنا ؛ یعنی محرَّمات سے دوری اختیار کرنا کہ جسے '' واجب زہد '' کہتے ہیں۔

ب۔ شبہوںسے اعراض کرنا اور ان کی نسبت زہد اختیار کرنا جو کہ انسان کو ارتکاب گناہ اور محرمات سے سالم رکھنے کا باعث ہیں۔

ج۔ حلال چیزوں سے ضرورت سے زیادہ مقدار کی نسبت زہد اختیار کرنا، یعنی غذا، پوشاک، رہائش، زندگی کے ساز وسامان وغیرہ میں اور ان کو حاصل کرنا کے اسباب و ذرائع جیسے مال وجاہ میں ضرورت بھر پر اکتفا کرنا۔

د۔ زہد اختیار کرنا ان تمام چیزوں کی نسبت کہ جو نفس کی لذت کا باعث ہوتے ہیں، حتیٰ کہ دنیا سے ضرورت بھرچیزوں میں بھی اس معنی میں کہ ضروری مقدار سے فائدہ اٹھانا اور فیضیاب ہونا بھی اس کی لذت کے لئے نہ ہو، نہ یہ کہ دنیا کی ضرورت بھر چیزوں کو بھی ترک کردے کہ اصولی طور پر ایسی چیز کا امکان ہی نہیں ہے۔ زہد کا یہ درجہ اور اس سے ماقبل تیسری قسم حلال میں زہد اختیار کرنا ہے۔

رسول خدا نے فرمایا: ''وہ لوگ مبارک وخوشحال ہیں جو خدا کے سامنے فروتنی کرتے ہیں اور جو کچھ ان کے لئے حلال کیا گیا ہے اس میں زہد اختیارکرتے ہیں بغیراس کے کہ وہ میری سیرت سے رو گرداں ہوں''۔(١)

ہ۔ جو کچھ خدا کے علاوہ ہے اس سے روگرداں ہونا، حتیٰ خود سے بھی، لیکن بعض اشیاء کی طرف بقدر ضرورت توجہ جیسے خوراک، پوشاک اور لوگوں سے معاشرت زہد کے اس درجہ سے منافات نہیں رکھتی، کیونکہ خداوند رحمان کی جانب توجہ انسان کے زندہ اور باقی رہے بغیر ممکن نہیں ہے اور انسان کی زندگی کے لئے ضروریات حیات ضروری ہیں۔

____________________

١۔ کافی، ج٨، ص١٦٩، ح ١٩٠ ۔ حرانی، تحف العقول، ص٣٠۔ اسی طر ح ملاحظہ ہو صدوق، فقیہ، ج٤، ص ٤٠٠، ح ٥٨٦١، اور تفسیر عیاشی، ج٢، ص٢١١، ح٤٢۔


جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے: ''زہد جہنم سے برائت اور جنت کے دروازہ کی کنجی ہے اوروہ ہر اس چیز کا ترک کرنا ہے جو انسان کو خداسے غافل کردے، دنیا کے گنوادینے پر افسوس نہ کرنا اور اس کے ترک کردینے پر خود پسندی میں مبتلانہ ہونا ہے''۔(١) حضرت علی ـ زہد کی تعریف کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ''سارا زہد قرآن کے دو کلموں میں جمع ہے، خدا وند سبحان نے فرمایا ہے: ''تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھوںسے چلا ہو گیا ہے اس پر افسوس نہ کرواور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس پر شادمان اور مسرورنہ ہو''(٢) اور جو شخص گذشتہ پرافسوس نہ کرے اور آئندہ پر مسرور نہ ہو تو اس نے دو طرف سے زہد اختیا ر کیا ہے''۔(٣)

٣۔زہد کے مراتب اس چیز کے اعتبار سے کہ انسان جس کی طلب میں دنیا سے روگرداں ہو تا ہے:

اس وجہ سے زہد کے درج ذیل تین درجے ہیں:

١۔ خدا ترس لوگوں کا زہد: انسا ن آتش جہنم سے نجات اور اخروی عذاب سے بچنے کے لئے دنیا سے روگرداں ہوتا ہے۔

٢۔ امید واروں کا زہد: یعنی دنیا سے اس امید میں رو گرداں ہونا کہ خدا کا ثواب اور جنتی تعمتیں حاصل ہوں۔

٣۔ عرفاء کا زہد: نہ ہی درد والم کی طرف توجہ رکھتا ہے تاکہ اس سے نجات طلب کرے اور نہ ہی لذتوں کی اعتناء کرتا ہے تاکہ ان سے فیضیابی کا طالب ہو۔ بلکہ صرف اور صرف خدا سے ملاقات اور اس کے دیدار کااشتیاق رکھتاہے۔ ایسا زہد صرف اہل معرفت کی شان ہے ۔(٤)

جو کچھ زہد کی تعریف اور اس کے درجات کے سلسلہ میں کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے معلوم ہوتاہے کہ دنیا سے مرادصرف مال و ثروت، خوراک وپوشاک نہیں ہے، کیونکہ ان تمام امور سے اعراض ایسے افراد کے لئے جو شہرت کے طالب اورپارسائی کی تعریف کو دوست رکھتے ہیں۔ بہت آسان ہوجائے گا بلکہ دنیا تمام مرتبہ وریاست نیز وہ تمام نفسانی استفادے جو دنیا سے ممکن ہیں سب کو شامل ہے۔ حقیقی زہد یعنی مال و مرتبہ سے بے تعلق ہونا اوراس سے روگرداں ہونا ہے۔ سچا زہد وہ ہے جس کی نظر میں فقر و غنا، تعریف و برائی، عزت وذلت جو لوگوں کے نزدیک پائی جاتی ہیں، سب یکساں ہوں، اور و ہ صرف محبت خداوندی اور رضائے الہی کا طالب ہو ۔

____________________

١۔ گیلانی، عبدالرزاق، مصباح الشریعة، ص ١٣٧۔

٢۔ بقرہ ٢٣٧۔٣۔ نہج البلاغہ حکمت ٤٣٩ اسی طرح ملاحظہ ہو: کافی، ج٢، ص ١٢٨، ح٤۔ شیخ صدوق، امالی، ص ٧١٤، ح ٩٨٤ ۔ خصال، ص٤٣٧، ح ٢٦۔

٤۔ نراقی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٦٥ تا ص ٧٤ ۔فیض کاشانی، محسن، المحجة البیضا ئ، ج٧، ص ٣٥٧ تاص٣٦٤۔


چار۔ زہد کے علائم

زہد کے بعض اہم علائم کہ جو اپنی جگہ پر خود بھی ایک عام اخلاقی مفہوم ہیں، درج ذیل ہیں۔

١۔ قناعت:

عربی ادب میں بخشش کی معمولی مقدار پر راضی ہونے(١) اور اپنے سہم پر رضایت دینے کے معنی میںہے(٢) اخلاق اسلامی کے مشہور مآخذ میں '' قناعت '' '' حرص '' کے مقابل استعمال ہوئی ہے اور اس سے مراد وہ نفسانی ملکہ ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی ضرورت بھر اموال پر راضی اور خوش رہتا ہے اور خود کو اس سے زیادہ کی تحصیل کے لئے زحمت و مشقت میں مبتلا نہیں کرتا۔(٣) قناعت کے خود بہت سے مفید علائم ہیں اور دوسری طرف بہت سے اخلاقی رذائل بلکہ حقوقی جرائم سے بچنے کا ذریعہ ہے، اسی وجہ سے اسلام کے اخلاقی نظام میں اس کی تشویق وترغیب کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا: ''اور خبر دار ہم نے ان میں سے بعض لوگوں کو جو زندگانی دنیا کی رونق سے مالا مال کردیا ہے اُس کی طرف آپ نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں کہ یہ اُن کی آزمائش کا ذریعہ ہے اور آپ کے پروردگار کا رزق ہی بہتر اور پائدا رہے''۔(٤) حضرت علی ـ قناعت کی اہمیت کے بارے میںفرماتے ہیں: '' میں نے تونگری تلاش کی لیکن اسے قناعت کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا۔ لہٰذا قانع رہو تاکہ مالدار و تونگر ہو جائو ''(٥)

قناعت نہ یہ کہ صرف خود اخلاقی فضیلت ہے، بلکہ بہت سے اخلاقی اقدار کی حامل ہے۔ امام علی رضا ـ سے جب کسی نے قناعت کی حقیقت کے بارے میںسوال کیا تو آپ نے جواب میں اس کے علائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ''قناعت اپنی ضبط نفس، عزّت وبلندی، حرص وطمع کی زحمت سے آسودہ ہونے اور دنیا پرستوں کے مقابل بندگی کا باعث ہے۔ دوانسان کے علاوہ کوئی قناعت کا راستہ طے نہیں کرسکتا ہے: ایسا عبادت گذار جو آخرت کی اجرت کا خواہاں ہے، یا ایسا بزرگ و شریف انسان جو پست لوگوں سے دوری اختیار کرتا ہے۔(٦)

____________________

١۔ ابن اثیر، نہاےة، ج٤، ص ١١٤۔ ٢۔ ابن منظور، لسان العرب، ج ٨، ص ٢٩٨۔

٣۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٢، ص ١٠١۔ ٤۔ سورۂ طحہٰ: آیت ١٣١۔

٥۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج ٦٩، ص ٣٩٩، ح ٩١۔ ٦۔ بحار الانوار، ج٧٨، ص ٣٤٩، ح٦۔


درحقیقت انسان دنیا میں قناعت اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رکھتا ورنہ وہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص و ہوس اور حسرت و یاس کی آگ میں جلتا رہے گا۔ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق ـ سے شکوہ کیا کہ روزی حاصل کرتا ہے لیکن قانع نہیں ہوتا اور اس سے زیادہ کا خواہش مند رہتا ہے اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جس سے میری مشکل حل ہوجائے توحضرت نے فرمایا:'' اگراس قدر جو تیرے لئے کافی ہو اور تجھے بے نیاز کردے تو دنیا کی تھوڑی سی چیز بھی تجھے بے نیاز کر دے گی اور اگر جو کچھ تیرے لئے کافی ہے وہ تجھے بے نیاز نہ کر سکے تو پھر پوری دنیا بھی تجھے بے نیاز نہیں کر سکے گی''۔(١)

لیکن کس طرح قناعت کو اختیار کیا جا سکتا ہے ؟ عام طریقوں کے علاوہ بعض خاص طریقے بھی ذکر کئے گئے ہیں، منجملہ ان کے حضرت امام جعفر صادق ـ اس سلسلہ میںراہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''اپنے سے کمزور تر انسان کو دیکھو اور اپنے سے مالدارتر کو نہ دیکھو، کیونکہ یہ کام تمہیں اس چیز پر جو تمہارے لئے مقدر کیا گیا ہے، قانع کردے گا''۔(٢)

٢۔لوگوں کے اموال سے بے نیازی اور عفت:

عربی ادب میں '' عفّت '' نا پسند امور اور شہوتوں کے مقابل صبر وضبط کرنے کو کہتے ہیں ۔(٣)

جنسی عفّت اور کلام میں عفّت کے علاوہ عربی ادب اور دینی کتابوں میں دوسروں سے اظہار درخواست کرنے سے پرہیز کرنے کو بھی عفّت کہتے ہیں۔(٤) دنیا میں زہد کے علائم میں سے ایک علامت لوگوں کے اموال سے بے نیازی اور عفّت اختیار کرنا ہے، قرآن کریم ایسے صاحبان عفّت کے بارے میں فرماتا ہے: یہ صدقہ ''ان فقرائ'' کے لئے ہے جوراہ خدا میںگرفتار ہوگئے ہیں اور وہ( اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کے لئے ) زمین میں سفر نہیں کر سکتے، ان کی حیا وعفّت کی بنا پر ناواقف شخص انھیں تونگراور مالدار خیال کرتا ہے، حالانکہ انھیںتم ان کی علامتوں سے پہچان لوگے، اصرار کے ساتھ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگتے''۔(٥)

____________________

١۔ شیخ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٣٩، ح ١٠۔

٢۔ کافی، ج٨، ص ٢٤٤، ح ٣٨٨۔

٣۔ ابن فارس، مقاییس اللغة، ج ٤، ص ٣۔

٤۔ ابن منظور، لسان العرب، ج٩، ص ٢٥٣، ملاحظہ ہو۔

٥۔ سورئہ بقرہ، آیت ٢٧٣۔


حضرت امام جعفر صادق ـ لوگوں سے بے نیازی اختیار کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ''مومن کا شرف تہجّد سے اور اس کی عزّت لوگوں سے اس کے بے نیاز رہنے میں ہے''۔(١) اور حضرت علی ـاس بات کے بیان میں کہ لوگوں سے بے نیازی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ان سے معاشرت اور راہ و رسم نہ رکھی جائے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے مغائرت نہیں رکھتی فرمایا ہے:'' تمہارے دل میںلوگوں سے بے نیازی اور ان کی ضرورت و نیاز دونوں ہی ہونی چاہیے ان کے ساتھ تمہاری نیاز اور ضرورت تمہاری نرم کلامی اور خوشروئی میں ہے اور تمہاری بے نیازی آبرو کی حفاظت اور عزت کے باقی رہنے میں ہے''۔(٢) بے شک مالی امور میں یہ بے نیازی اور عفّت زہد اور دنیا سے قطع تعلق ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔

پانچ۔ زہد اختیار کرنے کے موانع

انسان کی پارسائی اور زہد اختیارکرنے کے مقابل دو بنیادی رکاوٹیں پائی جاتی ہیں:ایک اس کا دنیا سے محبت کرنا اور دوسرے اس سے بے فیض ہونا اور قطع رابطہ کرنا، تمام مفاہیم جیسے حرص، طمع درحقیقت دنیاوی محبت کے علائم میںشمار ہوتے ہیں اور دنیا طلبی کے نتائج کے عنوان سے مورد بحث واقع ہو تے ہیں۔

١۔دنیاکی محبت:

زہد کا مفہوم اور اس کی اہمیت کی توضیح کے موقع پر ایک حد تک دنیا کا مفہوم بھی آشکار ہوگیا اور اس کی مذمت میں آیات و روایات بیان کی گئیں، اب دنیا طلبی کہ جو زہد اختیار کرنے سے مانع ہے اس کے علائم اختصار کے ساتھ بیان کئے جائیں گے۔

بے شک اسلام کے اخلاقی نظام میں دنیا ہمیشہ مذمو م نہیں ہے بلکہ اہمیت اور تعریف کے قابل بھی ہے۔ دنیا ان تمام چیزوں کو شامل ہے جو انسان کے بہرہ مند ہونے کا باعث ہیں، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور مقاصد کی تکمیل کا باعث ہیں۔ یہ لذتیںاور استفادے ہمیشہ برے نہیں ہیں، بلکہ اچھے نتائج کے بھی حامل ہیں۔

''مذموم دنیا'' سے مراد وہ زود گذر استفادے ہیں جو نہ خود اخروی عمل صالح ہیں اور نہ اخروی عمل صالح کے لئے وسیلہ ہیں۔ نتیجہ کے طور پر مذموم دنیا حرام طریقہ سے لذ ت جوئی اور عیش و عشرت اور جو حلال چیزوں سے ضرورت و لازم مقدار سے زیاد ہ مالا مال ہونے کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔(٣)

____________________

١۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١٤٨، ح١۔٢۔ کافی، ج٢، ص١٤٩، ح٧۔

٣۔ محمد مہدی ، نراقی جامع السعادات، ج٢، ص ١٧، ٣٥۔


یہ وہی دنیاہے جس کی مذمت میں خدا وند سبحان نے فرمایا ہے: ''گونا گوں اور رنگا رنگ خواہشات کی دوستی یعنی عورتیں، اولاد، کثیر اموال سونے چاندی سے، علامت والے (تندرست) گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں یہ سب لوگوں کے لئے آراستہ کر دی گئی ہیں، (لیکن) یہ سب دنیاوی زندگی کے استفادہ کا ذریعہ ہیں۔(١)

بعض آیات میں ہوائے نفس کے عنوان کے تحت مذموم و نا پسند دنیا سے مخا لفت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔(٢)

قرآن اس کی حقیقت کی تو ضیح دیتے ہوئے فرماتا ہے:'' جان لو کہ دنیاوی زندگی در حقیقت صرف کھیل کود، تماشہ، آرائش، آپس میں فخرو مباہات اور اولاد واموال میں زیادتی کے مقابلہ کا نام ہے''۔(٣) سر انجام جو اپنی دنیوی زندگی کا دنیا سے سوداکرتے ہیں، قیامت میں ان سے کہا جائے گا: ''اب اسی میں ذلّت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔(٤) ''یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو دے کر دنیوی زندگی خرید لی ہے لہذا نہ ان کا عذاب کم ہوگا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی''۔(٥)

اس دنیا اور اس کے ناگوار علائم کے بارے میں، جو کہ دنیا وآخرت میں ہوں گے، روایات کثرت سے پائی جاتی ہیںاور ان کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ بعض میں یہ توہم ہوتا ہے کہ گو یا اسلامی اخلاق میں دنیاوی چیزوں کی ہمیشہ مذمت ہی کی گئی ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ہم ان روایات میں سے انھیں پر اکتفا کریں گے جو زہد کی بحث میں بیان کی جاچکی ہیں۔

ممدوح دنیا نام ہے اس سے اتنا ہی استفادہ کرنا جتنا اپنی بقائ، خدا کی عبودیت اور اعمال صالحہ انجام دینے کے لئے لازم ہے۔ یہ حقیقت میں تحصیل آخرت کا مقدمہ ہے۔ اس طرح کی دنیا اسلامی اخلاق میں قابل ستائش واقع ہوئی ہے اور انسانوں کو اس کی تحصیل اور اس سے بہرہ مندہونے کی ترغیب اور تشویق دلائی گئی ہے۔

بہت سی روایات میں دنیا و آخرت کے خیر کو بہت سے نیک اعمال کے نتیجہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے(٦)

____________________

١۔ آل عمران، ١٤ ؛ منافقون، ٩ ؛انفال ٢٨ اور کہف ٤٧۔

٢۔ نازعات ٤٠۔

٣۔ حدید ٢٠۔

٤۔ مومنون ١٠٨۔

٥۔ بقرہ ٨٦۔

٦۔ کلینی ، کافی، ج٢، ص ٤٩٩، ح ١۔ اور ص ٧١، ح ٢۔ اور ج ٥، ص ٣٢٧، ج ٢ ۔ صدوق، خصال، ص ٤٢، ح ٣٤۔


بہت سی دعاؤ ں میں ہمیشہ اولیاء خداکا مطلوب یہی رہا ہے۔ جیسا کہ خدا وندعالم قرآن مجید میںارشادفرماتا ہے: ''مومنین کی درخواست یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: '' خدا یا ! ہمیں اس دنیا میں بھی نیکی اور آخرت میں بھی نیکی عطا کر''۔(١) اس میں شک نہیں کہ خیر دنیا سے مراد وہی ممدوح اور پسندیدہ دنیا ہے اس کے مصادیق کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ بعض روایات میں ان کی طرف اشارہ ہوا ہے۔حضرت علی ـ ممدوح اورپسندیدہ دنیا کی ستا ئش میں فرماتے ہیں: ''دنیا مومن کی سواری ہے جس پر سوار ہو کر وہ خداوند سبحان کی طرف سفر کرتا ہے، لہٰذا اپنی سواریوں کو آمادہ (اصلاح) رکھو تاکہ وہ تمہیں تمہارے رب کی جانب پہنچادیں''۔(٢)

متعدد روایات میں مذکورہے '' جو انسان اپنی معیشت اور اپنے اہل و عیال کی دنیا اصلاح کرنے کے لئے حلال طریقہ سے کوشش کرے تو وہ راہ خدا میں مجاہد کے مانند ہے ''۔(٣)

دنیا کی محبت کی نشانیاں:

دنیا کی محبت کی اہم نشانیاں میں جو ایک مانع کے عنوان سے انسان کے زہدکے مقابل ہے وہ حرص وطمع ہے جس کو اختصا رکے ساتھ بیان کررہے ہیں۔

الف۔ دنیا کی حرص:

عربی لغت میں ''حرص '' محبوب و مطلوب چیز کی طلب میں شدید خواہش وارادہ ہوتا ہے۔(٤) نیکی کے حصول میںحرص کرنا ممدوح اورپسندیدہ ہے جیسا کہ رسول اکرم نے واقعی توبہ کرنے والوں کی خصوصیات میں نیکیوں اور خیرات پر حریص ہونا جانا ہے۔(٥) متعدد روایات میں علم حاصل کرنے(٦) ، فقاہت(٧) ، نیک اور پسندیدہ اعمال انجام دینے(٨) ، راہ خدا میں جہاد کرنا(٩) ، ١خروی درجات(١٠) حاصل کرنے اور ان کے مانند دوسری چیزوں ہیں حریص ہونے کی ستائش ہوئی ہے۔

____________________

١۔ سورئہ بقرہ، آیت ٢٠١۔ ٢۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ٢٠، ص ٣١٧، ح ٦٤٠۔٣۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٥، ص ٩٣، ح٣۔ ص٨٨، ح٢ ۔ حرانی، تحف العقول، ص ٤٤٥۔ ٤۔ ابن منظور، لسان العرب، ج٧، ص١١۔راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ص ٢٢٧، ٢٢٨ ملاحظہ ہو۔

٥۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٢۔ ٦۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٣ ۔ حرانی، تحف العقول، ص ١٦٠۔٧۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١ ٢٣، ح٤ ملاحظہ ہو۔

٨۔ شیخ صدوق، خصال، ص ٥١٥، ح ١۔٩۔ شیخ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٢٣١، ح ٤ ملاحظہ ہو۔ ١٠۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٨٦۔


دنیا کا حریص ہونا ناپسندیدہ صفات اور زہد کے موانع میں سے ایک مانع ہے۔ اسی بنیادپر متعدد آیات وروایات میں اس کی شدت سے مذمت کی گئی ہے اور اس کے نقصان دہ اثرات مختلف پہلوئوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ حریص انسان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ کبھی سیر نہیں ہوتا ہے۔ حرص کا اہم ترین نمونہ روایات معصومین(ع) کی روشنی میں علماء وحکماء کی حرص اور محرمات کے انجام دینے کی حرص ہے۔ سب سے اہم حرص کا سبب موت کو بھلادینا اور دنیا کی محبت ہے۔ ذلت وخواری، حیا و انسانیت کو ترک کرنا، گناہوںمیںڈوب جانا، انجام و عاقبت کو تباہ وبرباد کردینا دنیا کی حرص کے اہم ترین میں سے ہیں ۔ توکل، قناعت اور موت کی یاد کو دنیاکی حرص کے علاج کا بہترین وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ب۔ طمع اور لالچ :

عربی لغت میں طمع کسی شے سے متعلق(١) شہوت وخواہش نفس کے ساتھ اشتیاق کے مفہوم کو کہتے ہیں، علماء اخلاق کی نظر میں طمع سے مراد ہے لوگوںکے اموال کی خواہش اور لالچ کرنا۔(٢) حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''مومن کے لئے کتنی بری بات ہے کہ وہ ایسی چیز کی خواہش اور دلچسپی پیدا کرے جو اسے ذلیل و خوار کردے''۔(٣) حضرت امام زین العابدین ـ دوسرے کی چیزوں سے انسان کی طمع کے قطع کرنے کی ترغیب و تشویق کے متعلق فرماتے ہیں: '' میں تمام خیر کو لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے قطع طمع کرنے میں دیکھتا ہوں''۔(٤) ( یعنی اگر انسان تمام خیرکو جمع کرنا چا ہتا ہے تو لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے چشم پوشی کرے اور اس پر نظر نہ جمائے)۔ اس وجہ سے طمع اور لالچ بہت سے اخلاقی رزائل کا سرچشمہ ہے جیسے ذلت وخواری، پستی، حسد اور جلن، کینہ توزی، بد گوئی۔ محبت دنیا کے دیگر علائم میں ایک حسرت وافسوس ہے اور یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کو دنیا حاصل نہیں ہوپاتی ہے۔

۲۔ خمود:

خمود سے مراد زندگی کے لئے ضروری کسب معاش میں سستی و تفریط کرنا نیز جنسی اور تمام لذتوںسے بہرہ مند ہونے میں بے رغبتی، عدم دلچسپی اور سستی کرنا ہے ۔(٥) جس طرح دنیا کی محبت اور اس سے دلبستگی زہد کی راہ میںمانع محسوب ہوتی ہے اسی طرح حد سے زیادہ ضروریات زندگی کی لازم مقدار پورا کرنے اور دنیوی مواہب اور عطیوںسے استفادہ کرنے میں سستی کرنا دنیا کی نسبت صحیح موقف کی راہ میں ایک مانع ہے۔ جو آیات وروایات ممدوح اورپسندیدہ دنیا کے بارے میںبیان کی گئی ہیںوہ سب زندگی کی ضروری چیزوں کے حصول سے متعلق سستی اور خمود کا مظاہرہ کرنے کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں۔

____________________

١۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ص ٢١٦۔ ٢۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٢، ص ١٠٦۔ ٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٣٢، ح ١۔ ٤۔ ایضاً، ج٢، ص ٣٢٠، ح ٣۔ ٥۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٢، ص ١٣، ١٥۔


و۔ دوسروں کی نسبت نفس کا رجحان

ہمارے خیال میں دوسروں کی نسبت انسان کے نفسانی مطلوب رجحان کو اللہ کی دوستی اور دشمنی کے محو ربیان کیا جاسکتا ہے '' حب فی اللہ '' اور '' بغض فی اللہ '' یہ دونوں ایسے مفاہیم ہیں جو اسلامی کتابوں کے اندر شدت کے ساتھ مورد تاکید واقع ہوئے ہیں اور دراصل دوسروں کی نسبت ہمارے دراز مدت موقف اور ہماری حکمت عملی کی تعیین کرتے ہیں۔ اسی سے اس حصہ کے مطالب انھیںدو عنوان کے تحت بیان کئے جائیںگے اور دیگر وہ تمام مفاہیم جو دوسروں سے متعلق ایک طرح سے نفسانی رجحان کو بیان کرتے ہیں ان کو ان دونوں کے توابع اور ملحقات کے عنوان سے بیان کریں گے۔

١۔ خدا وندعالم کی محبت

ایک۔دیگر دوستی کی حقیقت اور اس کے اقسام

علماء اخلاق نے دیگر دوستی (دوسروں کو دوست رکھنے) کے لئے چار صورتیں بتائی ہیں کہ پہلے ان کے بارے میںبیان کر یں گے پھر ان کی پسند شکلوں کو واضح کریں گے۔

١۔ انسان کا اپنے لئے دوسروںسے محبت کرنا نہ اس لئے کہ وہ محبوب تک رسائی کے لئے ایک راہ ہے۔ چونکہ خود اسے قابل دوستی اور صاحب کمال و جمال محسوس کرتا ہے اور اس کے دیدار سے لذّت حاصل کرتا ہے لہٰذا اسے دوست رکھتا ہے۔

کبھی اس طرح کی دوستی ایک قسم کی محض و باطنی ہم آہنگی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے بغیراس کے کہ کوئی خوبصورتی اور کمال معلوم ہو۔ اس طرح کی دوستی کے مخفی اسرار کا کشف کرنا معمولی انسان کے بس سے باہر ہے، کہا گیا ہے: پیغمبر اکرم نے اس طرح کی دوستی کی طرف جو کہ مخفی ارتباط سے ہوتی ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:'' ارواح مثل لشکر کے ہیں، ان میں سے جو ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں وہ باہم مانوس ہوتی ہیں اور جوایک دوسرے کو نہیں پہچانتیں وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ''۔(١)

____________________

١۔ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ٣٨٠، ح ٥٨١٨ ؛ اعتقادات، ص ٤٨ ؛ جامع الاخبار، ص ٤٨٨، ح ١٣٥٩ ؛ علل الشرائع، ص ٨٤، ح١۔


اس طرح کی دیگردوستی خدا وند سبحان کی دوستی میں شمار نہیں ہوتی لیکن خود بخود مذموم اور بری بھی نہیں ہے، بلکہ انسان کی نفسانی خواہشات میںسے ایک ہے لیکن اگر مذموم اور نا پسند مقصد تک پہونچنے کا ذریعہ ہوتو خود بھی مذموم اور قابل ملامت ہوجائے گی۔

٢۔ ایسے محبوب تک رسائی کے لئے وسائل و ذرائع کے عنوان سے انسان کا دوسرے کو دوست رکھنا کہ جو اس کے لئے دنیاوی فوائد اور منافع رکھتا ہے، کیونکہ انسان ان وسائل و آلات جو اسے محبوب تک پہونچاتے ہیں عشق کرتا ہے۔ واضح ہے کہ اس طرح کی دوستی بھی خدا کی محبت شمار نہیں ہوتی۔

٣۔ دوسرے کودوست رکھنا ایک ایسے وسیلہ کے عنوان سے جو اسے ایسے ہدف تک پہونچا ئے کہ وہ ہدف اس کے لئے آخرت کے مثبت فوائد کاحامل ہو، جیسے وہ محبت جو اپنے استاد سے راہ حق کاسالک رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا ہدف سعادت اخروی کا حصول ہے اور معلم ایسا وسیلہ ہے جو اسے اس ہدف تک راہنمائی کرتا ہے

اسی طرح ہے وہ محبت بھی جو معلم اپنے شاگردوںسے رکھتا ہے، کیونکہ شاگردوں کے وجود کے واسطہ سے وہ استاد کے کمال و مرتبہ تک پہونچا ہے اور اس مرتبہ کو پا کر حضرت عیسیٰ ـ کے بقول ''اس کی بزرگی کا تذکرہ ملکوت اعظم میں ہوتا ہے''(١) بلکہ کلی طور پر ہر اس انسان کی دوستی جس کے علم وفن، صنعت وہنر، کام کاج اور عمل کے ذریعہ انسان خدا کے نزدیک ہوتا ہے جیسے ایسے لوگوں کو دوست رکھنا جو انسان کی دنیوی ضرورتوں کو فراہم کرتے ہیں تاکہ ان سے استفادہ کر کے اپنے اخروی و دنیوی اہداف تک پہنونچ سکیں، بے شک یہ تمام دیگر دوستی خدا کی دوستی محسوب ہوتی ہے۔

٤۔ دوسروں سے صرف خداکے لئے محبت کرنا، نہ اس لئے کہ اس کے علم و عمل سے فا ئدہ اٹھا ئے گا یا اسے کسی دوسرے ہدف تک پہونچنے کے لئے وسیلہ قرار دے گا، بلکہ اس لئے کہ وہ خدا سے ایک نسبت رکھتا ہے، وہ عام نسبت ہو جیسے یہ کہ وہ خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے یاخاص نسبت جیسے یہ کہ وہ خدا کا سچا اور واقعی دوست اور اس کا مقرب اور راہ خدا میں خدمت گذار ہے۔ اس کی محبت کی شدت کے نتائج نیز اس کے عالی مراتب سے میںیہ ہے کہ محبت اساسی طور پر محبوب سے متعلق تمام چیزوں تک سرایت کرجاتی ہے ( یعنی انسان محبوب کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق چیزوں کو بھی دوست رکھنے لگتا ہے ) خواہ رابطہ اور نسبت دور ہی کی کیوں نہ ہو۔ جیسے جو انسان کسی دوسرے سے شدید محبت کرتا ہے وہ ان لوگوں کو بھی دوست رکھتا ہے جو اس کے محبوب کو دوست رکھتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، اس کی تعریف توصیف کرتے ہیں یا اس کے محبوب کے محبوب ہیں۔(٢)

____________________

١۔ ابوفراس، تنبیہ الخواطر، ج١، ص ٨٢۔ ٢۔ نراقی، مولی محمد مہدی، جامع السعادات، ج٣، ص١٨٤تا ١٨٧۔


دو۔خداسے محبت کرنے کی فضیلت

اسلامی اخلاق میں خدا کی محبت بلند مرتبہ کی حامل ہے اور اس کی کثرت سے تاکید کی گئی ہے اور اس کے لئے دنیا اور آخرت میں بہت سے علائم بیان کئے گئے ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''ایک دن پیغمبر اکرم نے اپنے اصحاب سے سوال کیا: ''ایمان کی دستا ویزوںمیں سے کونسی زیادہ محکم و مضبوط ہے '' انہوں نے جواب دیا: خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ ا ن میں سے بعض نے کہا: نماز۔ کچھ نے کہا: زکات۔ کچھ نے کہا: روزہ۔ کچھ نے کہا حج و عمرہ اور بعض نے جہاد کوسب سے محکم خیال کیا۔ رسول خدا نے فرمایا: ''ان سب کی فضیلت ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی محکم ترین نہیں ہے بلکہ محکم ترین ایمان کی د ستاویز خدا کے لئے دوستی کرنا اور اسی کے لئے دشمنی کرنا، خدا کے دوستوں کو دوست رکھنا اور اس کے دشمنوں سے دشمنی اور بیزاری کرناہے'' ۔(١)

حضرت امام محمد باقر ـ انسان کے خیر و صلاح سے استفادہ کی علامت خدا کے لئے دوستی کو جانتے تھے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:'' جب تم جاننا چاہو کہ تم میں کوئی خیر پایا جارہا ہے تو اپنے دل کی طرف نگاہ کرواگر خدا کی اطاعت کرنے والے کو تم نے دوست رکھا اور اہل معصیت وگناہ کو دشمن توتم میں خیر ہے اور خدا بھی تم کو دوست رکھتا ہے لیکن اگر خدا کی اطاعت کرنے والوںکو دشمن اور خدا کی معصیت کرنے والوں کو دوست رکھا تو تم میں خیر کا وجود نہیں ہے نیز خدا بھی تمہیں دشمن رکھتا ہے، انسان( کا حساب و کتاب) اسی کے ساتھ ہے جسے وہ دوست رکھتا ہے''۔(٢)

آخرت میں خدا کی محبت کے علائم بارے میں حضرت امام زین العابدین ـ فرماتے ہیں: ''جب خدا وندعالم اولین سے لے کر آخرین تک تمام انسانوںکو جمع کرے گا تو ایک آوازلگانے والا اٹھے گا اور ایسی آواز سے کہ سب سن سکیں گے آواز لگائے گا: '' کہاں ہیں وہ لوگ جو خدا کے لئے دوستی کرتے تھے؟'' تو لوگوں کا ایک گروہ اٹھے گا اور ان سے کہا جائے گا : بغیر حساب و کتاب کے تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ ''۔(٣) خدا وند عالم سے دوستی اور دشمنی کی اہمیت و منزلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ متعدد روایات میں ایمان کی ساری حقیقت خدا کی دوستی اور دشمنی میں خلاصہ کی گئی ہے۔

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٢٥، ح ٢ ؛ برقی، محاسن، ج١، ص ٤١١ ؛مجلسی، بحار الانوار، ج ٦٩، ص ٢٤٢، ح ١٧۔

٢۔ ایضاً، ج ٢، ص ١٢٦، ح ١١ ؛ بر قی، محاسن، ج١، ص ٤١٠، ح ٩٣٥۔

٣۔ ایضاً، ج ٢، ص ١٢٦، ح ٨ ؛ بر قی، محاسن، ج١، ص ٤١٢، ح ٩٤٠۔


جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق ـکا ایک صحابی آپ سے سوال کرتا ہے:'' آیا دوستی اور دشمنی ایمان میں شمار کی جائے گی ؟ امام نے جواب دیا: ''کیا ایمان دوستی اور دشمنی کے علاوہ کوئی اورچیز ہے ؟ ''(١)

تین۔خدا سے محبت کرنے کی نشانیاں

ان میں سے بعض نشانیاں جو خود نفسانی صفات اور بہت سے گراں قیمت اور اہم اخلاقی نشانیاں نتائج کا سر چشمہ ہیں، درج ذیل ہیں:

١۔ نصیحت اور خیرخواہی:

نصیحت و خیر خواہی ''حقد '' (کینہ) اور حسد( جلن) کے مقابلہ میں ہے اوراس سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں سے دوسروں کے استفادہ کی نسبت راضی و خوشنود ہواور ان پر بلا اور مصیبت کا نازل ہونا اس کے لئے ناگوارہو۔ اس خیر خواہی کا لازمہ یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو اس بات کی طرف جس میں ان کے لئے خیر و صلاح ہے ہدایت کرے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ''لوگوں میں سب سے زیادہ خداکے نزدیک قیامت کے دن عظیم انسان وہ ہے جو خلق کی خیر خواہی میں دوسرے افرادسے زیادہ قدم اٹھائے''۔(٢) اسی طرح پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے:'' لوگوںمیںسب سے زیادہ عبادت گذار وہ انسان ہے جس کا دل تمام مسلمانوںکی نسبت سب سے زیادہ پاک و صاف ہو''۔(٣) جب رسول خدا سے لوگوں کی نصیحت اور خیر خواہی کی علامت کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: ''خیر خواہ انسان کی چار علا متیں ہیں: حق کے ساتھ فیصلہ کرنا اور اپنا حق دوسروں کو بخشنا، لوگوں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتا ہو، حق کے واسطے کسی کے ساتھ دست درازی نہ کرنا''۔(٤) دراصل چاروں علامتوں کو تیسری علامت میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر حضرت علی ـفرماتے ہیں: ''انسان کی خیر خواہی میں اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتا دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہو''۔(٥)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٢٥ ح ٥۔ اسی طرح ملاحظہ ہو کافی، ص١٢٧ ح ١٦ ؛ تفسیر عیاشی، ج١، ص ١٦٧، ح ٢٥۔

٢۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ٢٠٨ ،ح ٥۔

٣۔ ایضاً، ص ١٦٣، ح٢۔

٤۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٠۔

٥۔ اردبیلی، ابولفتح، کشف الغمہ، ج٣، ص١٣٧، ١٣٨۔


٢۔مومنین سے حسن ظن:

حسن ظن، انصاف، کرم وبخشش اور مروت جیسے مفاہیم کا بھی خدا وندعالم کی محبت کے علائم کے عنوان سے ذکر کیا جاسکتا ہے لیکن چونکہ یہ فضیلتیں حقیقت میںنصیحت اور خیر خواہی کی نشانی میں شمار ہوتی ہے لہٰذا حسن ظن کی طرف اشارہ کو اس مختصر کتاب میںکافی سمجھتے ہیں۔ مومنین سے بد گمانی کی مذمت میں قرآن کریم فرماتا ہے: '' اے صاحبان ایمان، بہت سے گمانوں سے پرہیز کروکیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں''۔(١) واضح ہے ان گمانوں سے مراد کہ جن سے اجتناب لازم ہے ناروا گمان ہیں، یعنی سوء ظن ( بد گمانی)۔ اسی طرح گمان سے اجتناب کرنے سے مراد اپنی بد گمانیوں پر ترتیب اثر نہ دینا ہے۔(٢) آیت کے استمرار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرآیت صرف مومنین سے بد گمانی کی مذمت سے متعلق نہ ہو، تب بھی کم از کم ان سے بد گمانی کی مذمت اور حقیقت میں مومنین کی نسبت حسن ظن آیت کی بعض مراد ہے۔امیرا لمومنین حضرت علی ـ مومنین سے حسن ظن رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ''اپنے بھائی کے عمل کو بہترین وجہ پرحمل کرو اس وقت تک جب تک کہ اس سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجو توجیہ کی راہ بند کردے اور جب بھی کوئی بات تمہارے برادر (ایمانی ) کے دہن سے نکلے تو جب تک اسکا بہترین معنی پائو بد گمانی نہ کرو۔(٣)

پیغمبر اکرم بھی حسن ظن کے نفسانی علائم کے بارے میں فرماتے ہیں: '' اپنے ایمانی بھائیوں سے حسن ظن رکھو تاکہ دل کی پاکیزگی اور صفائے نفس تک حاصل کرو ''۔(٤) بد گمانی کے جملہ تباہ کن اثرات میں غیبت، اختلافات کا ظاہر ہونا، بخل حسد ہے جن کو بحث کے تسلسل میں ان کے عوامل واسباب کو بیان کریں گے۔(٥)

بد گمانی ایجاد کرنے کا سب سے اہم عامل تہمت کی جگہ اور الزام کے مقام پر واقع ہوناہے۔ حضرت علی ـ ان لوگوں کی مذمت میں جو خود کو تہمت کی جگہ قرار دیتے ہیں،فرماتے ہیں: ''جو شخص کسی بری جگہ اور ٹھکانہ پر رفت و آمد کرے تووہ متہم ہوجائے گا اور جو اپنے آپ کو مقا م تہمت میںقرار دے تو اسے اس کو جو اس سے بد گمان ہوگیا ملامت نہیں کرنا چاہیے''۔(٦)

____________________

١۔ سورئہ حجرات، آیت ١٢۔

٢۔ طباطبائی ، المیزان، ج ١٨، ص ٣٢٣۔

٣۔ کافی ج٢، ص ٣٦٢، ح ٣۔نہج البلاغہ حکمت ٣٦٠ ۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٧١ ۔

٤۔ گیلانی، عبد الرزاق، مصباح الشریعة، ص ٤٦٤۔

٥۔ مصباح الشریعة، ص ٤٦٣تا٤٦٧ ۔مجلسی، بحار الانوار، ج ٧٥، ص ٢٠١ ۔ صدوق، فقیہ، ص ٤٠٩، ح ٨٩ ٥٨۔

٦۔ نہج البلاغہ حکمت ٥٩ا۔ شیخ صدوق، امالی، ص ٢٥٠، ح ٨ ۔ کراجکی، کنز الفوائد ج٢، ص١٨٢۔ حرانی، تحف العقول، ص ١٥٧تا ٢٧١۔


اپنے سے دوسروں کی بد گمانی کو دور کرنے کا طریقہ حضرت علی ـ مالک اشتر سے بیان فرماتے ہیں:

'' اگر رعیت تمہارے بارے میںظلم و ستم کا گمان کرے تو اپنے عذرکو ان کے درمیان آشکار طورپر بیان کرو اور ایسا کرکے ان کی بد گمانی دور کرو کہ اس میں تمہارے نفس کی تربیت بھی ہے اور رعیت کے ساتھ نرمی اور مدارا کا اظہار بھی اور وہ عذر خواہی بھی ہے جس کے ذریعہ تم انھیںحق کی راہ پر چلانے کا مقصد بھی حاصل کر سکتے ہو''۔(١)

جی ہاں، ہمیشہ حسن ظن پسندیدہ اور محبوب نہیں ہے بلکہ کبھی بے موقع اور ناپسند بھی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے زمانے میں حسن ظن رکھنا جب کہ ظلم و فساد حق اور خیر وصلاح پر غلبہ رکھتا ہے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے، جیسا کہ حضرت علی ـ نے فرمایا ہے: ''اگر زمانہ اور اہل زمانہ پر برائی غالب آجائے اورکوئی دوسرے پر حسن ظن رکھے تو گویا اس نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے ''۔(٢) دوسری جگہ دشمنوں سے حسن ظن رکھنے کی مذمت کے بارے میں مالک اشترکو ہوشیار کرتے ہیں: صلح کے بعد اپنے دشمن سے مکمل طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا کیونکہ دشمن کبھی کبھی اپنے آپ کو تم سے اس لئے نزدیک کرتا ہے تاکہ تمہیں غافل بنادے لہٰذا دور اندیش اور محتاط رہو اور اپنے دشمن سے حسن ظن نہ رکھو''۔(٣)

چار۔ خداوندسبحان سے دوستی کے موانع

یہاں پر خدا کی راہ میںموانع محبت سے مراد ایسے موانع ہیں جو خود نفسانی صفات میں سے ہیں اس طرح کے اہم ترین موانع، حسد، حقد اور کینہ توزی وغیرہ ہیں۔

١۔ حسد:

ارباب لغت کے نزدیک حسد، اس بات کا نام ہے کہ انسان دل میں کسی شخص کی ایسی نعمت سے محرومیت کی تمنا رکھتا ہو جس کا وہ استحقاق رکھتا ہو۔(٤)

علماء اخلاق نے اس مفہوم کی مزید شرح میں زیادہ کہا ہے: حسد یعنی ایسی نعمت کے زوال کی آرزو کرنا جس سے استفادہ کرنے میں مسلمان شخص کی صلاح ہے۔ اس تعریف میں دو معتبر عنصر تصور کئے گئے ہیں: اول یہ کہ انسان

____________________

١۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٥٣۔

٢۔ نہج البلاغہ حکمت ١١٤، اسی طرح ملاحظہ ہوکلینی کافی ج٥، ص ٢٩٨، ح٢ ؛ ؛حرانی، تحف العقول، ص٣٠٢۔

٣۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٥٣۔

٤۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص١٦ا۔


دل میں دوسرے انسان سے نعمت کے زوال کی تمنا رکھتا ہو اور دوسرے یہ کہ اس نعمت سے اس کا مالا مال ہونا اس کے لئے مصلحت کا حامل ہو، لیکن اگر اس کی آرزو ایسی نعمت کا رکھنا ہو جس سے دوسرا انسان مالا مال ہے تو ایسی حالت کو ''غبطہ''اور ''منافسہ' 'کہتے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم فرماتاہے: '' ان نعمتوں '' میں مشتاقین کو چاہئے کہ ایک دوسرے پر سبقت کریں''۔(١) اور اگر ایسی نعمت کہ مسلمان شخص کے پاس سے جس کے زوال کی تمنا رکھتا ہو اور اس کا اس شخص میں ہونا صلاح نہ ہو، مثال کے طور پر اس کے فساد اور تباہی میں مبتلا ہونے کا باعث ہو تو ایسی حالت کو ''غیرت '' کہتے ہیں۔(٢) اس لحاظ سے ''غبطہ'' ''منافسہ'' اور غیرت '' بااہمیت نفسانی حالات ہیں اور صرف ''حسد '' کہ جو دوسروں کی نصیحت اور خیر خواہی کے مقابلہ میں آتا ہے وہ اخلا ق کی برائی میں شمار ہوتا ہے۔

البتہ حسد اور خیر خواہی کے درمیان تشخیص یقین یا اطمینان کے ساتھ افرادکی واقعی مصلحت شناخت پر موقوف ہے اور جب بھی ایسی شناخت کا حصول ممکن نہ ہو تو انسان کو چاہیے کہ صرف دوسروں کی واقعی مصلحت کی تمنّا پر اکتفا ء کرے اور اس نعمت کی نسبت کوئی موقف نہ رکھتا ہو۔ روایات میں حسد کی متعدد علامتیں بیان کی گئی ہیں جیسے غیبت، شماتت، دوستی کا اظہار، دشمنی کا پوشیدہ کرنا، احسان کے مقابل ناشکری اور اہلیت و شائستگی سے کم تعریف کرنا وغیرہ۔ کہ ہم اختصار کی رعایت کرتے ہوئے اس کی تفصیل سے صرف نظر کرتے ہیں۔

لفظ ''حسد''قرآن کریم میں پانچ بارمختلف صورتوں میں ذکرہوا ہے کہ سب ہی صریحی طور پر یا اشارہ کے طور پر حسد کی مذمت پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ خدا پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تمام برائیوں با لخصوص ان کے بعض خاص مصادیق جیسے حاسدین کے حسد سے خداکی پناہ مانگو: '' کہو: ''میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں جو کچھ اس نے خلق کیا ہے اس کے شر سے اور ہر حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے ''۔(٣) اسی طرح بارہا کافروں کو پیغمبر اکرم ، وحی اور دینی معارف جیسی نعمتوں سے مسلمانوں کے مالامال ہونے کی نسبت ان کے حسد کرنے کی وجہ سے سرزنش کرتا ہے '' یا وہ ان لوگوں سے اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ خدا نے اپنے فضل سے انھیں عطا کیا ہے ''۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ مطففین، آیت ٢٦۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص١٩٢؛فیض کاشانی، المحجة البیضا ئ، ج٥، ص ٣٣٠۔

٣۔ سورئہ فلق، آیات، ١، ٢، ٣۔

٤۔ سورئہ نسا ئ، آیت ٤ ٥ ؛ اسی طرح ملا حظہ ہو طباطبائی، ا لمیزا ن، ج٤، ص٣٧٦۔


قرآن مجید کے بقول کفار مومنین سے حسد کی شدت کی بنا پر آرزو کرتے ہیں کہ مومنین کو ان کے ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف پلٹادیں: '' بہت سے اہل کتاب جب کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے، اس حسد کی وجہ سے جو ان کے اندر پایا جاتا ہے آرزو کرتے تھے کہ تمہیںایمان لانے کے بعد کا فر بناڈالیں''۔(١)

پیغمبر اکرم خبر دیتے ہیں کہ خداوند عظیم نے موسٰی ـ سے فرمایا: ''اے عمران کے فرزند ! جو کچھ میں نے لوگوں کو اپنے فضل سے دیا ہے اس پر حسد نہ کرو اور اس کے پیچھے اپنی نگاہ کو د ر ا ز نہ کرواور اس کے چکر میںاپنا دل نہ الجھاؤ کیونکہ میری نعمت سے حسد کرنے والا غمگین رہتا ہے اور جو تقسیم میں نے اپنے بندوں کے درمیان کی ہے اس میں حائل ہوتا ہے لہٰذا جو ایسا ہو گا وہ مجھ سے نہیں ہے اور میںاس سے نہیں ہوں۔(٢)

حسد کے نقصان دہ اور خطر ناک علائم روایات میں بیان کئے گئے ہیں، جیسے لذت کی کمی، حاسدوں کے سکون و اطمینان اور اس کی راحت وخوشی کا سلب ہونا، اس کی آہ و حسرت درد ورنج کی کثر ت حتیٰ کے جسمانی سلامتی اور قوت کا کھو دینا، اس کے دین و ایمان کا نابود ہونا اس کے علاوہ اخروی مقامات اور سعادت کا ضائع ہو جانا۔

علماء اخلاق نے حسد کے درجات ومراتب درج ذیل عنوان سے بیان کئے ہیں:

١۔ یہ کہ انسان دوسرے سے نعمت کے زائل ہو نے کی تمناو آرزو دل میں رکھتا ہو، خواہ وہ نعمت اس کے ہاتھ نہ لگے ۔ یہ حسد کی بد ترین قسم ہے۔

٢۔دوسرے سے نعمت زائل ہونے کی خواہش خو د اس تک پہو نچنے کیلئے۔ مثال کے طور پر وہ خاص مرتبہ تک پہنچنا چاتا ہے اور چونکہ اس کا اس مرتبہ تک پہونچنا دوسرے سے اس کے سلب پر موقوف ہے لہٰذ وہ اس کے دوسرے سے زائل ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ درج ذیل آیت اسی طرح کے حسد کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے: '' خبردار! جو کچھ خدا نے تم میں سے بعض کو بعض سے زیادہ دیا ہے اس کی آرزو نہ کرنا''۔(٣)

٣۔ اس نعمت کے مشابہ جوکسی دوسرے کے پاس ہے طلب کرے اور اگر خود اس نعمت تک نہ پہونچ سکے تو چاہے کہ دوسرے سے بھی سلب ہو جائے اور اگر دوسرے سے اسی نعمت کو سلب کرسکتا ہو تو اس کے لئے کوشش کرے۔

____________________

١۔ سو رئہ بقرہ ، آ یت ٩ ١٠۔

٢۔ کلینی کافی، ج ٢، ص٧ ٠ ٣، ح٦۔

٣۔ سو ر ئہ نسا ئ، آ یت ٣١۔


٤۔ وہی تیسری صورت، اس فرق کے ساتھ کہ اس کی عقل و دین کی قوت اس بات سے مانع ہوتی ہے کہ دوسرے سے اس نعمت کے سلب کرنے کا اقدام کرے اورا پنی اس نفسانی حالت سے (یعنی دوسرے سے نعمت کے سلب کرنے کی تمنا سے) ناراض اور غمگین ہے، یہ نفسانی حالت اگر چہ ناپسند ہے، لیکن عذاب خداوند ی کا باعث نہیں ہوگی اور ایسے انسان کی نجات کی امید پائی جاتی ہے۔(١) حسد کے اہم عوامل عوامل و اسباب مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ نفسانی پستی اور گندگی جس کے نتیجہ میں بغیر اس کے کہ کوئی خاص دشمنی اس کے اور دوسروں کے درمیان ہو دوسروں سے نعمت کے زوال پر خوش اور نعمت خدا وندی سے ان کے فیضیاب ہونے پر محزون و مغموم اور دوسروں کے درد والم، رنج و غم میںمبتلا ہونے سے خوش ہے، اگر چہ ان کے مالا مال ہونے سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

٢۔ دشمنی اور بغض حسد کے وسیع ترین عوامل میں سے ہے، کیونکہ خدا کے خاص دوستوں کے علاوہ تمام لوگ اپنے دشمن کے پریشانی میں مبتلا ہوجانے پر شاد و مسرور ہوجاتے ہیں۔

٣۔ ریاست طلبی اور مال و منصب سے لگاؤ، جو شخص دوست رکھتا ہے کہ اپنے فن میں منفرد جیسے شجاعت، عبادت اور اس کے مانند دوسری چیزوںمیں یکتا اور قابل مدح و ستائش رہے، جب وہ اپنے لئے کوئی رقیب اور نظیر دیکھتا ہے تو اس کے لئے ناگوارہوتا ہے، اور یہی چاہتا ہے کہ کسی صورت اس کے رقیب سے نعمت سلب ہوجائے۔

٤۔ اہداف ومقاصد تک نہ پہنچنے کا خوف، ایسی جگہ جہاں بہت سے افراد ایک ہی ہدف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اور ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ صرف اس ہدف تک پہنچے۔

٥۔ اپنے ہم پلّہ اور ہم پیشہ افراد کی برتری کا تحمل نہ کرنا، کیونکہ احساس کرتا ہے کہ اگر اس کاہم پلّہ فوقیت لے جائے گا تو اس پر فخرو مباہات کرتے ہوئے اس کی تحقیروتوہین کرے گا۔ اس بنا پر کہ سب ایک دوسرے کے برابر ہوں اور کوئی دوسرا اس پر تکبرنہ کرے، اپنے ہم پلّہ سے حسد کرتا ہے۔

٦۔ تکبر:

حاسد انسان چاہتاہے کہ دوسروں پربزرگی جتائے اور دوسرے لوگ اس کے پیرو اور تابع رہیں، چونکہ نعمت خدا وندی سے دوسروں کا فیضیاب ہونا اس تشویش کو اس کے اندر ابھارتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا بہرہ مند ہونا اس کے تہی دست ہونے کا باعث ہوجائے، جیسا کہ کفار پیغمبر اکرم کے بارے میں کہتے تھے: ''کیوں یہ قرآن ان دونوں شہروں (مکّہ ومدینہ) کے کسی بڑے شخص پر نازل نہیں ہوا ؟''(٢)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی ، جامع السعادات، ج ٢، ص ٩٨ ١، ٩ ٩ ١۔ ٢۔ زخرف ٣١۔


٧۔ دوسروںکے عظیم نعمتوں سے فیضیاب ہونے کی توقع نہ کرنا:

اور اس پر حیرت کرنا یعنی انسان کو اس لائق نہیں سمجھنا کہ اس طرح کی عظیم نعمتوں سے وہ بہرہ مند ہو، نتیجہ کے طور پر اس سے حسد کرتا ہے۔(١) جیسا کہ مشرکین پیغمبرسے کہتے تھے: '' تم ہمارے جیسے انسان کے سوا کچھ نہیں ہو''۔(٢)

رہا سوال یہ کہ ہم کس حد تک اپنے سے حسد کو دور رکھیں، اس کا جواب یہ ہے کہ حسد کبھی انسان کے قول و فعل سے غیبت اور تہمت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اورکبھی انسان کی رفتار وگفتار سے ظاہر نہیں ہوتابلکہ وہ صرف اپنے دل میں خواہش رکھتا ہے کہ دوسرے سے نعمت زائل ہوجائے۔ بلا شبہہ دونوں گناہ شمار ہوتے ہیں اور اس سے مقابلہ کرنا واجب ولازم ہے لیکن کبھی حسد کے علائم انسان کی گفتار و کردار سے ظاہر نہیں ہوتے اور انسان بھی اپنے اندر دوسروں سے زوال نعمت کے متعلق پائی جانے والی نفسانی خواہشات کی مذمت و ملامت کرتا ہے۔اس قسم کا حسد گناہ شمار نہیں ہوتا اور عقاب کا باعث نہیں ہے، اگر چہ اس سے مقابلہ بھی نیک اور معنوی بلندی کا باعث ہے۔(٣)

٢۔حقد اور کینہ توزی :

''حقد وکینہ '' کینہ سے مراد ہے دل میں دوسرے کی عداوت ودشمنی رکھنا اور اس کے ظاہر کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہنا۔(٤) در حقیقت حقد، وہ خشم وغضب ہے کہ جو ظاہر نہیں ہو پاتا ہے اوردل میں دب کر رہ جاتا ہے،یہاں تک کہ ایک دن موقع پا کر ظاہر ہو جائے ۔(٥) بلا شبہہ حقد نفسانی رذائل میں سے ایک رذیلت اور خداوند سبحان سے دوستی کے موانع میں سے ایک مانع ہے۔ معصومین (ع) کے گہر بارکلمات میں کینہ توزی، اس کے علائم و اسباب اور اس سے نجات کے بارے میں بہت سے ارشادات بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت علی ـ نے حقد و کینہ توزی کی مذمت میں فرمایا ہے: لہٰذا اپنے دلوں میں مخفی آتش تعصب کو خاموش کردو اور جاہلیت کے کینوں کو نکال پھینکو کہ مسلمانوں میں اس غرور کا ہونا شیطانی خصلتوں میں سے ہے ''(٦)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ١٩٩تا ٢٠٢۔

٢۔ یس ١٥ ۔مومنون ٣٤، ٤٨۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٢١٠ ، ١ ١ ٢۔

٤۔ ابن منظور، لسا ن العر ب، ج ٣، ص ٤ ٥ ١

٥۔ نراقی، جامع السعادات، ج ١، ص٣١١۔

٦۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٢۔


ایک دن پیغمبر اکرم نے لوگوں سے پوچھا: ''کیا میں تمہیں تم میں اپنے سے سب سے کم شباہت رکھنے والے انسان سے آگاہ نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں ، فرمایا: بدگو، بے آبرو، بے حیا، بخیل، متکبر، کینہ توز، حاسد، سنگدل، ایسا انسان جس سے کوئی خیر نہیں ہوتا اور کوئی اس کے شر سے محفو ظ نہیں ہے ''۔(١)

حضرت علی ـ سے کینہ توزی کے عوامل و اسباب کے بارے میں منقول ہے: ایسے انسان کے پاس علم بیان کرنے سے پرہیز کروجو اس کا شوق نہیں رکھتا نیز گذشتہ مرتبہ و شرف کے بیان سے پرہیز کرو ایسے انسان کے پاس جو ماضی میں کوئی افتخار آمیز چیز نہیں رکھتا تھا اس لئے کہ یہ ا مرتیری نسبت اس کی کینہ توزی کا سبب ہوگا۔(٢)

حقد و کینہ توزی کے علائم کے بارے میں حضرت امام حسن عسکری ـنے فرمایا: '' لوگوں میں سب سے زیادہ رنجیدہ اور سب سے کم آسودہ کینہ توز انسان ہے ''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''خداوند عالم ہر روز ایک فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ آسمان پر آواز لگائے اور میرے بندوں کو نوید دے کہ میں نے تمہارے گذشتہ گناہوں کو بخش دیا اور شب قدر میں تم میں سے بعض کو بعض کا شفیع قرار دیا جز اس انسان کے جو شراب سے افطارکرے یا اپنے مسلمان بھائی سے کینہ توز ی کرے۔(٤)

حقد کے دنیوی نقصانات میں ایک یہ ہے کہ کینہ توز انسان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔(٥) حقد اور کینہ توزی سے مقابلہ اس درجہ اہم ہے کہ قرآن کریم بعض مومنین کے قول کو نقل کرتاہے کہ وہ لوگ اپنی دعاؤں میں خداوند عالم سے اظہار کرتے ہیں: '' خدا یا! ہمیں اور ہمار ے ان بھائیوں کو جو ایمان میں ہم پر سبقت رکھتے ہیں بخش دے ا ور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کی نسبت کسی طرح بھی کینہ قرار نہ دے، خدا یا یقینا تو روؤف ومہربان ہے''۔(٦) وہ تمام چیز یں جو کینہ توزی کے بر طرف کرنے کا سبب ہیں، ان میں سے ایک ہدیہ دینا ہے۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا: ''ہدیہ دینا دلوں سے کینوں اور کدورتوں کو دور کردیتا ہے''۔(٧) اسی طرح ضیافت اور مہمانداری کرنا کینہ کے برطرف ہونے کاسبب ہوتا ہے، حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''کینوں کی آگ کو گوشت اورروٹی سے دورکرو'' (مہمان نوازی کرکے اسے ختم کرو)۔(٨)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١ ٩ ٢،ح٩۔ ٢۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ٢٠، ص ٣٢٢، ح ٩٦ ٦نیز ،ص٣٢٧، ح٧٤٣۔

٣۔ حرانی، تحف ا العقول، ص ٣٦٣۔ ٤۔ قطب راوندی، دعوات، ص ٣٠٧، ح٥٦١۔

٥۔ صدوق، معانی الاخبا ر، ص ٠٨ ٢، ح ٣۔ ٦۔ سورئہ حشر، آیت ١٠۔

٧۔ صدوق، عیون اخبارالرضا، ج ٢، ص ٧٣، ح ٣٤٣ ۔ کلینی، کافی، ج ٥، ص ١٤٣، ح ٧۔

٨۔ کلینی، کافی، ج ٦، ص٣١٨، ح ١٠۔


۲۔خدا وند سبحان کے لئے دشمنی

خدا وند سبحان کے لئے دشمنی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس انسان کو جو خدا کے سامنے عصیان وگناہ، طغیانی وسر کشی کرتا ہے دشمن رکھے۔ البتہ جس طرح خداکی معصیت کے درجات و مراتب ہیں اسی طرح خدا کے لئے دشمنی کے بھی درجات مراتب ہیں۔ خدا کے مقابل سر کشی کبھی عقیدہ کے ساتھ ہے جیسے کفر و شرک اختیارکرنا اوردین میں بدعت کرنا اور کبھی رفتار وگفتار اور کبھی قول وفعل کے ساتھ دوسروں کی اذیت و آزار سے جڑی ہوتی ہے، جیسے قتل، ضرب، زخم لگانا جھوٹی گواہی دینا۔ اور کبھی دوسروں کی اذیت وآزار کا باعث نہیں ہوتی۔ یہ قسم کبھی دوسروں کے فساد کا باعث ہوتی ہے، جیسے دوسروں کے لئے فساد کے اسباب و وسائل فراہم کرنا، اور کبھی دوسروں کے فساد کا باعث نہیں بنتی۔ یہ آخری قسم کبھی گناہ کبیرہ ہے تو کبھی گناہ صغیرہ ہے۔دشمنی بھی مختلف طرح کی ہوتی ہے جیسے دوری اختیار کرنا، جداہونا، بات چیت بند کرنا، سخت کلامی کرنا، توہین و تحقیر کرنا، اس کی پیروی نہ کرنا، اس کے لئے برائی کی کوشش کر نا اور اس کی ضرورتوں اور آرزوؤں کے پورانہ ہونے کی سعی کرنا۔

واضح ہے کہ خدا کے لئے بغض کے درجات ومراتب شدت و ضعف کے اعتبارسے خدا وند سبحان کی معصیت کے مراتب و درجات کے تابع ہیں، کہ درحقیقت وہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراتب ہیں۔ قابل ذکر بات ہے کہ اگر گناہگا ر انسان پسندیدہ صفات کا مالک ہو جیسے علم و سخاوت، تو پسندیدہ صفات کے لحاظ سے محبوب ہے لیکن خدا کی نافرمانی اور عصیان کی بنا پر مبغوض اور نا پسند ہے۔(١)

اس بنا پر بعض لوگوں سے محبت کرنا حرام اور بعض دیگرسے مکروہ اور خدا کے نزدیک نا گوار ہے یعنی ان سے بغض رکھنا واجب یا مستحب ہوگا۔(٢)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جا مع السعادات، ج ٣، ص ١٨٧، ١٨٨۔

٢۔ ان موارد کی مزید معلومات کے لئے رجوع کیجئے سورئہ مجادلہ، آیت ٢٢۔ سورئہ ممتحنہ، آیت ١، ٨، ٩ ۔سورئہ آل عمران، آیت ١١٩ ۔ سورئہ ھود، آیت ١١٣ ۔ صفات الشیعہ، ص ٨٥، ح ٩۔ صدوق، امالی، ص ٧٠٢ ح ٩٦٠۔ مجلسی، بحار الانوار، ج ٦٩، ص ٧ ٢٣، ح ٤۔ج ٧٤، ص ١٩٧، ح ٣١۔ اور ج ٩ ٦، ص ٢٣٧، ح ٣ ۔ کلینی، کافی، ج ٢ ص، ١٢٦، ح ١١، ج ٥ ص ١٠٨، ح ١٢ ۔ ابن ابی فراس، تنبیہ الخواطر، ج ١، ص ٧٢۔ شعیری، جامع الاخبار، ص ٤٢٨، ح ١١٩٨ ؛ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ١٧ ٤، ح ٥٩٠٧ ؛ تفسیر قمی، ج٢، ص٢٨٧۔


چوتھی فصل:

مؤثر نفسانی صفات

ز۔ نفس کو قابو میں رکھنے والے رجحان

نفس کو قابو میں رکھنے والے رجحان سے مراد وہ نفسانی صفات اور ملکات ہیں جو بہت سے اخلاقی رذائل سے روکنے کا کردار ادا کرتے ہیں اور دوسری طرف متعدد اخلاقی فضیلتوںکی راہ ہموار کرتے ہیں، اس قسم میں ممتاز نفسانی صفات درج ذیل ہیں:

١۔ نفس کی قوت

ایک ایسا نفسانی ملکہ ہے جو انسان کو اس بات کی قدرت بخشتاہے کہ پیش آنے والے حوادث خواہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں آسانی سے تحمل کر سکے۔ قوت نفس کی فضیلت و عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خدا وند عالم قرآن کریم میںارشاد فرماتا ہے: '' عزت خدا، پیغمبر خدا اور مومنین ہی کے لئے ہے ''۔(١)

حضرت امام جعفر صادق ـ نے اس سلسلہ میں فرمایا: ''خدا وند عالم نے مومنین کے تمام امور اس کے حوالے کر رکھے ہیں، لیکن اس نے اجازت نہیں دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کردے۔ آیا خدا وندعالم کا یہ کلام نہیں دیکھتے کہ اس نے فرمایا ہے: '' وللہ العزة و لرسولہ وللمومنین'' (عزت اﷲ، اس کے رسول اور مومنین ہی مخصوص ہے) لہٰذا سزاوار ہے کہ مومن با عزت ہو، ذلیل نہ ہو''۔(٢)

(ایک) قو ت نفس کے فوائد

نفسانی قوت وقدرت، نفس پر بہت سے سود مندو مفید اثرات و نتائج چھوڑتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک خود بھی نفسانی ملکہ اس کے مقابلہ نفس کیضعیف ہونے سے بہت سے اخلاقی رذائل مرتب ہوتے ہیں۔ ذیل میں انسان کی روحی عظمت فوائد کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔

____________________

١۔ سورئہ منافقون، آیت ٨۔

٢۔ کلینی، کافی، ج ٢۔


١لف۔ ثبات اور اطمینان ( عدم اضطراب ) :

ثبات ایک ایسا نفسانی ملکہ ہے جو انسان کو اس بات کی قدرت عطا کرتا ہے کہ خطروں میں پڑ کر مشکلات اور رنج والم کی سختیوں کا ،خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، مقابلہ کرے، بغیر اس کے کہ اس میں ذر ہ برابر بھی شکستگی پیدا ہو۔ اس کے مقابل مشکلات وخطرات کے وقت اضطراب، تزلزل ہے۔ ثبات وپا یداری کے گونا گوں مظاہر پائے جاتے ہیں کہ ان میں سب سے نمایاں شکوک وشبہات کے مقابل ایمان میں پایداری اور ثبات ہے۔ قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے: '' خدا وندعالم صاحبان ایمان کو دنیوی اور اخروی زندگی میں محکم واستوار سخن سے ثابت وپایداربناتا ہے ''۔(١)

واضح ہے کہ ایمان میں ثبات اور عد م تزلزل تمام اہم نفسانی رجحانا ت کی پایداری و ثبات کا مقدمہ ہے۔ یہ امر خود بھی عمل صالح انجام دینے میں پایداری و ثبات کاباعث ہوگا۔ ثبات و پایداری معرفت کا نتیجہ ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی قوت وعظمت کا بھی نتیجہ ہے جوکہ اہم نفسانی فضائل میں سے ایک ہے۔(٢)

ب۔ بلند ہمتی:

یعنی کمال و سعادت کے حصول اورعالی ترین امور تک پہنچنے کے لئے اس طرح سے کوشش کرنا کہ ان تک پہنچنے کی راہ میں دینوی نفع ونقصان کی طرف توجہ نہیں دے۔ بلند ہمت افراد کو دنیوی منافع شاد و مسرور اور اس کے نقصانات غمگین ومحزون نہیں کرتے حتی کہ بلند اہداف تک پہنچنے میں موت اور قتل کئے جانے کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔اس کے مدمقابل کوتاہی اورپست ہمتی ہے کہ پست ہمت شخص بلند اہداف کی طلب میںکوتاہی کرتا اور صرف پست اور معمولی امور پر قناعت کرتا ہے یہ نفسانی صفت خود ہی روح کی عظمت وقوت کا نتیجہ ہے اوربلا شبہہ نفسانی فضائل میں سے ایک ہے، کیونکہ قابل قدر اوربلند انسانی اہداف تک رسائی بلند ہمتی اور عظیم جد و جہد کے بغیر میسر نہیں ہے، شہامت ( شجاعت) جوکہ خود ایک با اہمیت نفسانی ملکہ ہے، اسے بلند ہمتی کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔(٣)

ج۔ غیرت وحمیت:

یعنی جس چیز کی حفاظت لازم ہے اس کی پاسداری و محافظت کی کوشش کرنا، یہ حالت روح وشہامت کی قوت و عظمت کے نتائج میں سے ایک ہے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا ہے: ''خدا وند تبارک و تعالی غیرت مند ہے اور ہر غیرت مند کو دوست رکھتاہے اس کی غیرت مندی ہی ہے کہ اس نے برائیوں کو خواہ ظاہر ہوں یا پنہاں، حرام کیا ہے''۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ ابراہیم، آیت ٢٧۔ ٢۔ نراقی، محمد مہدی، جا مع السعادات، ج ١، ص ٢٦٢۔ ٣۔ ایضاً، ج١، ص ٢٦٣، ٢٦٤۔ ٤۔ کلینی، کافی، ج ٥، ص ٥٣٥، ح ١۔


حضرت علی ـ نے بھی فرمایا ہے : '' نسان کی قدر وقیمت اس کی ہمت کے اعتبار سے ہے اور اس کی دلیری اس کے ننگ رکھنے کے بقدر ہے (پستیوں اور رذالتوں کو تسلیم کرنے کے اعتبار سے) ، اور اس کی پاکدامنی اس کی غیرت کے بقدر ہے''۔(١)

علماء اخلاق نے غیرت کے متعدد مقامات اور موارد ذکر کئے ہیں اور چونکہ بعض اخلاقی نصوص اس کے خاص موارد کی طرف ناظر ہیںلہٰذا بہتر ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے۔

١۔ دین میں غیرت:

دین میں غیرت کا لازمہ یہ ہے کہ بدعتوں اوراہانتوں کے مقابل دین کے تحفظ کی کوشش کریں، اور شبہہ ایجاد ہونے کی صورت میں اس کاشائستہ انداز میں دفاع کریں۔ دین کے احکام کی نشرو اشاعت کے لئے میں کوشاںرہیں اورامربہ معروف ونہی عن المنکر کرنے میں تساہلی سے کام نہ لیں۔

٢۔ نامو س کے لئے غیرت:

اسلام کے اخلاقی نصوص میں مردوں کو ایسی غیرت مندی کی طرف شدت کے ساتھ ترغیب دلائی گئی ہے اور ان کا یہ فریضہ بیان کیاگیا ہے اور جو انسان ایسی غیرت کا مالک نہیں ہے اس کی سختی کے ساتھ مذمت ہوئی ہے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: '' بے حس اور بے غیرت مردوں پربہشت حرام کردی گئی ہے '' ۔(٢) اور پیغمبر اکرم نے فرمایا: '' بہشت کی خوشبو پانچ سو سالہ راہ کے فاصلہ سے انسان کے مشام تک پہنچے گی لیکن نا خلف اولاد اور بے حس وبے غیرت انسان اسے سونگھ نہیں سکتا''۔(٣) امام محمد باقر ـ نقل کرتے ہیں: اسیروںکے ایک گروہ کو رسول خدا کے پاس لایا گیا توپیغمبر نے دستور دیا کہ ان کے درمیان ایک شخص کو آزاد اور باقی کوقتل کردیا جائے ۔ آزاد شدہ شخص نے سوال کیا: آپ نے مجھے کیوں آزاد کردیا ؟ پیغمبر اکرم نے جواب دیا: جبرئیل نے خدا کی طرف سے مجھے خبر دی ہے کہ تم میں پانچ ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جنھیں خدا اور اس کا رسول دوست رکھتا ہے اپنی ناموس کے سلسلہ میں غیرت مند، جود و سخا، خوش اخلاقی، قول میں صداقت اور شجاعت۔ وہ انسان اس بات کے سنتے ہی مسلمان ہو گیا اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہا یہاں تک کہ ایک غزوہ میں درجہ شہادت پر بھی فائز ہوا''۔(٤)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٥، ص ٥٣٧، ح ٨۔

٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٧، ٣٠٥۔

٣۔ صدوق، فقیہ، ج٣، ص ٤٤٤، ح ٤٥٤٢۔

٤۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج ٢٠، ص ١٥٥۔


یہ بات مخفی نہ رہے کہ ناموس کے سلسلہ میں حد سے زیادہ غیرت دکھانا ہرگز پسندیدہ نہیں ہے بلکہ بعض اوقات فساد کاباعث بھی ہوسکتا ہے۔ غیرت کا مقام وہاں ہے جہاںحرام کے ارتکاب کا یقین ہو یا انسان کو مقام تہمت وبد گمانی میں واقع ہونے کا خطرہ ہو۔ حضرت علی ـاپنے فرزند امام حسن ـ کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''بے جاغیرت سے پرہیز کرو کہ یہ چیز صحیح و سالم عورت کو بیمار بنادے گی اور پاکدامن کو بد گمانی (اور گناہ کی فکر) میں ڈال دے گی۔(١)

٣۔ اولاد کے سلسلہ میں غیرت:

اولاد کے سلسلہ میں غیرت کا مطلب یہ ہے کہ آغاز طفولیت سے ہی ان کی مادی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے حلال راستوںسے کوشش کرے۔ ان کی صحیح تربیت کرنے کے لئے کوشاں رہے اور ایسے خطرات سے اولاد کی حفاظت کرے جو ان کی جسمانی یا اخلاقی صحت و سلامتی کے لئے چیلنج ہوں۔

٤۔ مال کے سلسلہ میںغیرت:

اس میں کوئی شک نہیں کہ مال دنیا میں انسان کی بقا کا ضامن نیز علم و عمل اور اخروی سعادت کی تحصیل کا وسیلہ ومقدمہ ہے۔ اس وجہ سے ہر عاقل پر لازم ہے کہ اس کی تحصیل کے لئے جائز و مشروع راستوں سے کوشش کرے اور اس کی محافظت ونگہداری کے سلسلہ میںاپنی غیرت کا مظاہرہ کرے۔ مال کے متعلق غیرت دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی کے علاوہ کسی اور راہ میں ضایع نہ کرے، خود نمائی اور دکھاوے میں خرچ نہ کرڈالے، اسے بے نیازوں کے حوالے نہ کردے، اس کے خرچ کرنے اوربخشش کرنے کے سلسلہ میں اسراف کا راستہ نہ اپنائے(٢)

د۔ وقار اور قلبی سکون:

اخلاقی لغت میں ''وقار '' رفتار و گفتار اور حرکات میں پائے جانے والے سکون واطمینان کانام ہے۔ اس وجہ سے ''وقار'' ایک ایسا عام مفہوم ہے جو''تأنی ّ'' اور ''توقّف '' دونوں کو شامل ہوتا ہے؛ اس لئے کہ ''توقف '' ہر طرح کے اقدام سے پہلے لمحہ فکریہ اور اپنے اوپر کنٹرول کرنے کا نام ہے تاکہ اس اقدام کا درست ہونا انسان پر آشکار ہوجائے۔ ''تأنی ّ'' گفتار ورفتار کے شروع ہونے کے بعد ذہنی سکون و اطمینان کا نام ہے تاکہ امور کو شائستگی کے ساتھ مرحلہ انجام تک پہنچاسکے۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٣١۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج١، ص ٢٦٥، ٢٧٤۔


وقار اور قلبی اطمینان وسکون کے درمیان نسبت کے بارے میںکہا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان رفتار و گفتار میں زحمت و تکلف کے ساتھ سکون کو حاکم قرار دے تو ایسے انسان کو با وقار کہتے ہیں، لیکن قلبی سکون و اطمینان اس وقت حاصل ہوگا جب سکون ایک صفت اور ملکہ کی صورت میں نفس کے اندر موجود ہو۔ بعبارت دیگر وقار ظاہری سکون اور سکینہ باطنی سکون کو کہتے ہیں۔(١) رسول خدا وقار کی اہمیت کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''اسلام عریاں ہے اور اس کا لباس حیا اور اس کا زیور وقار ہے ''۔(٢)

حضرت علی ـ پرہیزگاروںکی خصوصیت کے بارے میں فرماتے ہیں: '' وہ لوگ زلزلوں (سختیوں) میں ہیں''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ اس گراں قیمت صفت کی تحصیل کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''طلب علم کی کوشش کرواور اس کے ساتھ ساتھ خود کو حلم و وقار سے آراستہ کرو'' ۔(٤) قرآن قلبی سکون و اطمینان کو مومنین کے صفات میں شمار کرتا ہے اور اس کی تحصیل کی راہ خداوند عالم کی یاد کو جانتا ہے۔ '' وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل یاد الہی سے مطمئن ہیں، آگاہ ہو جاؤ کہ یاد الہی سے دلوںکو اطمینان نصیب ہوتا ہے ''۔(٥) خداوند عالم متعدد مقامات پر اعلان کرتا ہے کہ ہم نے سکون و اطمینان کوپیغمبر اکرم اور مومنین کے دلوں پر نازل فرمایا ہے۔ '' وہ ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون نازل کیا تاکہ وہ اپنے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ کریں ''۔(٦)

واضح ترین اسباب و علل جو وقار کے حصول کے لئے روایات میں بیان ہوئے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ خدا وند عالم کی بندگی:

حضرت علی ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: جو شخص خاندان اور قبیلہ کے بغیر عزت، سلطنت کے بغیر ہیبت، مال کے بغیر بے نیازی اور جود و بخشش کے بغیر فرمانبرداری کا طالب ہو تو اسے چاہیے کہ خدا کی نافرمانی کی ذلّت سے نکل کر اس کی بندگی کی عزّت کی طرف آجائے۔(٧)

____________________

١۔ جامع السعادات، ص ٢٧٩ ،٢٨٠۔ ابو ہلال عسکری ؛ معجم الفروق اللغة، ص٢٨٠ ؛ المیزان، طباطبائی، ج٩، ص٧ ٢٢تا ٣ ٢٢۔ اورج٢، ص٢٨٩تا ٢٩١۔

٢۔ کلینی، کافی، ج٢، ص ٤٦، ح٢۔٣۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٣۔ اسی طرح ملاحظہ ہو: صدوق، فقیہ، ج ٤، ص٣٥٤، ح ٥٧٦٢۔

٤۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٣٦، ح١۔ ٥۔ سورئہ رعد، آیت ٢٨۔٦۔ سورئہ فتح، آیت ٤، نیز ملاحظہ ہو آیات ١٨، ٢٦ ؛ طباطبائی، المیزان، ج ٢ ص ٢٨٩تا ٢٩١ اور ج ٩، ص٢٢٣تا ٢٢٧۔٧۔ خزاز، قمی، کفاےة الاثر، ص ٢٢٨ ؛ مجلسی بحار الا نوار، ج ١ ٧، ص ٩ ١٧، ح ٢٩۔


٢۔ علم و حکمت:

حضرت علی ـاس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''جو شخص حکمت سے آگاہ ہے اس کو نگاہیں ہیبت اور وقار کی نظر سے دیکھتی ہیں ''۔(١)

٣۔ حلم:

حضرت علی ـسے منقول ہے: ''حلم وقا رکا باعث ہے '' ۔(٢)

٤۔سکوت:

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''زیادہ خاموشی انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے ''۔(٣) نیز مومنین اور پرہیز گاروں کی خصوصیات کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: '' اے ہمام ! مومن زیادہ سے زیادہ خاموش رہتا ہے اور باوقار ہوتا ہے ''۔(٤)

٥۔ تواضع و فروتنی:

حضرت علی ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''فروتنی تم پر بزرگی اور شان و شوکت کا لباس پہناتی ہے '' ۔(٥) اسی طرح روایات میںدوسرے اسباب جیسے آہستہ گفتگو کرنا(٦) وغیرہ بیان ہوا ہے کہ اختصار کی وجہ سے انھیںہم ذکر نہیں کررہے ہیں۔ آیات و روایات میںاطمینان قلب کے لئے بہت سے اسباب و علل بیان کئے گئے ہیں کہ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہے:

١۔ ازدواج:

قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے: ''اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم ہی میں سے تمہارے جوڑوں کو تمہارے لئے خلق فرمایا تاکہ ان سے سکون حاصل کرواور تمہارے درمیان محبت ورحمت قرار دی۔ ہاں، اس (نعمت ) میں صاحبان عقل و فکر کے لئے یقینا ً نشانیاںہیں''۔(٧) دوسری جگہ فرماتا ہے: ''وہ ایسی ذات ہے جس نے تم کو ایک نفس سے خلق فرمایا اور اس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ اس سے سکون حاصل کرو'' ۔(٨)

٢۔ عدالت:

حضرت فاطمہ زہرا ٭ فرماتی ہیں: ''خداوند عالم نے ایمان کو شرک دور کرنے کا ذریعہ....... اور عدالت کو دلوں کے سکون کا باعث قرار دیا ہے ''۔(٩)

____________________

١ ۔ کلینی، کافی، ج ٨، ص ٢٣، ح ٤، اور ملاحظہ ہو : صدوق، علل الشرائع، ج ١، ص ١١٠، ح ٩ ؛ مجلسی، بحار لا نوار، ج ١، ص ١١٧تا ١٢٤۔٢۔ آمدی، غرر الحکم، حکمت ٥٥٣٤۔ ٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٢٢٦، ح ١۔ ٤۔ ایضاً۔٥۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٤١٨٤۔ ٦۔ کافی، ج٥، ص٣٩،ح٤۔٧۔ سورئہ روم، آیت ١ ٢۔ ٨۔ سورئہ اعراف، آیت ١٨٩۔ ٩۔ صدوق، من لا یحضر الفقیہ،ج٣، ص٥٦٨،ح٤٩٤٠۔ علل الشرایع، ص٢٤٨، ح٢۔ طبرسی، احتجاج، ج١،ص١٣٤۔


٣۔ایمان:

حضرت امام جعفر صادق ـنے فرمایا: ''کوئی مومن نہیں ہے مگر یہ کہ خداوندعالم اس کے ایمان کے نتیجہ میں اس کے لئے ایک انس قرار دیتا ہے کہ جس سے وہ سکون حاصل کرتا ہے، اس طرح سے کہ اگر وہ پہاڑ کی چوٹی پر بھی ہو تو اپنے مخالفین سے وحشت نہیں رکھتا''۔(١) واضح ہے کہ اس سکون و اطمینان کا درجہ ایمان کے اعتبار سے ہے، جتنا ایمان کا درجہ زیادہ ہوگا اس سے حاصل شدہ سکون بھی زیادہ پایدار ہوگا۔

٤۔ خدا کی یاد:

قرآن کریم میں مذکور ہے: '' وہ لوگ جو ایمان لا چکے ہیںاور ان کے دل یاد الہی سے مطمئن ہیں آگاہ ہوجائیں کہ یاد الہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ''۔(٢)

٥۔ حق تک پہنچنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا:'' انسان کا دل ہمیشہ حق کی تلاش و جستجو میں مضطرب اور پریشان رہتاہے اور جب اسے درک کرلیتا ہے تو مطمئن ہو جاتا ہے ''۔(٣) اس لحاظ سے شک وتردید کے علائم میں سے ایک اضطراب اور عدم سکون ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا ذہنی درد و الم ہے۔ اُن تمام مذکورہ موارد کا فقدان جو سکون و وقار کے اسباب و علل میں شمار کئے گئے ہیں ان دونوں کے تحقق کے موانع شمار ہوتے ہیں مگر چونکہ بعض دیگر امور روایات میں سکون و وقار کے موانع کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں لہٰذا ذیل میںان میں سے اہم ترین امور کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:

۱۔ لوگوں سے سوال و درخواست کرنا:

حضرت امام زین العابدین ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ''لوگوں سے سوال کرنا انسان کی زندگی کو ذلت وخواری سے جوڑ دیتا ہے، حیا کو ختم کردیتا اور وقار کو کم کردیتا ہے ''۔(٤) حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''فقیر انسان میں ہیبت و عظمت کا وجود محال ہے

۲۔ حد سے زیادہ ہنسنا اور ہنسی مذاق کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''جو زیادہ ہنستا ہے اس کی شان و شوکت کم ہوجاتی ہے ''۔ رسولخدا فرماتے ہیں: ''زیادہ ہنسی مذاق کرنا انسان کی آبرو کو ختم کردیتا ہے''۔(٥)

____________________

١ ۔ مجلسی، بحار لا نوار ج ٦٧، ص ٨ ٤ ١، ح ٤۔ ٢۔ رعد ، ٢٨۔ ٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص٤٢١، ح ٥۔ ٤ ۔ مجلسی، بحار لا نوار، ج ٧٨، ص ١٣٦، ح ٣و ج ٧٥، ص ١٠٨۔

٥ ۔ کلینی، کافی، ج ٨، ص٢٢، ح ٤، اور ملاحظہ ہو حرانی، تحف العقول، ص ٩٦۔


نیز حضرت علی ـ سے وصیت فرماتے ہیں : ''ہنسی مذاق کرنے سے اجتناب کروکیونکہ تمہاری شان و شوکت اور عظمت ختم ہوجائے گی ''۔(١) حضرت علی ـ نے بھی فرمایا ہے: ''جو زیادہ ہنسی مذاق کرتا ہے وہ کم عقل شمار ہوتا ہے''۔(٢)

٣۔ مال، قدرت،علم، تعریف اور جوانی سے سر مست ہونا:

حضرت علی ـ کی طرف منسوب بیان کے مطابق عاقل انسان کو چاہیے کہ خود کو مال، قدرت، علم، ستائش و جوانی کی سرمستی سے محفوظ رکھے، کیونکہ یہ سر مستی انسان کی عقل کو زائل کردیتی ہے اوراس کے وقارکو ختم کردیتی ہے۔(٣)

٤۔ جلد بازی:

جلد بازی سے مراد کسی کام کو بغیر سونچے سمجھے انجام دینا ہے۔ حضرت علی ـ مالک اشتر کو لکھتے ہیں: ہر گز کسی ایسے کام میں جلد بازی نہ کرو جس کا ابھی وقت نہ ہوا ہو! یا جس کام کا وقت ہوچکا ہو اس کے کرنے میں سستی نہ دکھاؤ! کوشش کروکہ ہر کام کو اس کے موقع و محل اور اس سے مخصوص وقت میں ہی انجام دو''۔(٤) ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: '' کسی کام میں جب تک کہ واضح نہ ہو اس کے کرنے میں جلد بازی نہ کرو''۔(٥) اور فرماتے ہیں: اس چیز میں جس میںخدا نے جلد بازی لازم نہیں قرار دی ہے اس میںجلد بازی نہ کرو ۔ ''(٦)

اسلام کے خلاقی نظام میںجلد بازی ہمیشہ نا پسندنہیں ہے، بلکہ بعض امور میں اس کی تاکید بھی کی گئی ہے، لیکن درج ذیل موارد میں جلد بازی سے روکا گیا ہے جیسے سزادینے، جنگ و خونریزی کرنے، کھانا کھانے، نماز تمام کرنے اور غور خوص کرنے میں جلد بازی سے منع کیا گیا ہے۔ نیکیوں، خدا کی خوشنودی، توبہ، عمل صالح اور تحصیل علم وغیرہ کے لئے جلد بازی کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کریم نیک امور کی جانب سبقت کرنے کی تاکید فرماتا ہے: '' نیک کاموں میںایک دوسرے پر سبقت کرو''۔(٧)

____________________

١۔ صدوق، امالی، ص ٣ ٢٢، ح ٤۔ اختصاص، ص ٢٣٠ ؛ کلینی، کافی، ج ٢، ص ٦٦٤، ح ٦، اور ٦٦٥، ح١٦۔

٢۔ کلینی، کافی، ج ٨، ص٢٢، ح ٤۔ حرانی، تحف العقول، ص ٦٩۔ ٣۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٩٤٨ ١٠۔

٤۔ نہج البلاغہ، نامہ ٥٣۔ ٥۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٧٣۔ ٦ْ۔ ایضاً، خطبہ ٠ ١٩۔ ٧۔ سورئہ بقرہ، آیت ٤٨ اور سورئہ مائدہ، آیت ٨ ٤۔


دو۔ نفس کے لئے خطر ناک شئی

نفس کے لئے خطر ناک شئی اس کا ضعیف ہونا ہے جس کے مضر اثرات ہیں اور یہ نفس کے موانع میںشمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض اثرات جیسے عدم ثبات، پست ہمتی، غیرت و حمیت کا نہ ہونا ان مباحث کے ضمن میں جو قوت نفس کے علائم میںبیان ہوئے ہیں، آشکار ہوگئے۔ یہاں پر ایک دوسرا مانع یعنی ''تہاون'' اور ''مداہنہ ''کا ذکر اس کی اہمیت کی بنا پر کیا جا رہا ہے۔

''مداہنہ'' سے مراد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں نرمی، کوتاہی اور سستی سے کام لینا ہے''۔(١) امر

با لمعروف اور نہی عن المنکر میں سستی اور کوتاہی یا نفس کے ضعیف ہونے سے پیدا ہوتی ہے یا اس شخص کے مال اور اعتبار میں دنیوی طمع و آرزو کی وجہ سے جس کی نسبت سستی اور کوتاہی کو روا رکھتا ہے۔(٢)

آیات وروایات میں دین میں نرمی اور کوتاہی کرنے کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور اس کے نقصان دہ اثرات بیان کئے گئے ہیں ، جیسا کہ خدا وندعالم کفارو مشرکین کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتا ہے: ''وہ چاہتے ہیں کہ تم نرمی سے کام لو تو وہ بھی نرمی سے کام لیں ''۔(٣) یعنی طرفین میںسے ہر ایک دوسرے کے دین سے متعلق سہل انگاری اور نرمی سے کام لے۔(٤ ) حضرت علی ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: '' میری جان کی قسم، حق کے مخالفین گمراہی و فساد میں غوطہ لگا نے والوں سے ایک آن بھی مقابلہ و جنگ کرنے میں سستی نہیں کروں گا''۔(٥) حضرت امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں: '' خداوند سبحان نے حضرت شعیب کو وحی کی کہ تمہاری قوم میں سے ایک لاکھ افراد پر عذاب نازل کروں گا، ان میں سے ٤٠ ہزار افراد برے ہیں اور ٦٠ ہزار ان کے برگزیدہ ہیں۔ حضرت شعیب نے پوچھا: خدایا ! اخیار اور برگزیدہ افراد کا جرم و گناہ کیاہے ؟ تو خداوند سبحان نے جواب دیا: ان لوگوں نے گناہگاروں کے مقابل سستی اور نرمی سے کام لیا ہے اور میرے ناراض ہونے سے وہ ان پر ناراض نہیں ہوئے ''۔(٦)

____________________

١۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص ١٧٣ ؛ طریحی، مجمع البحرین، ج ١، ص ٦٦ ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج١٣، ص ٢ ١٦ ؛ مجلسی ،بحار الانوار، ج ٧٥، ص ٢٨٢۔ ٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٢٣٢ تا٢٤٠۔ ٣۔ قلم ٩۔

٤۔ طباطبائی، المیزان، ج١٩، ص ٣٧١۔ ٥۔ نہج البلاغہ، خطبہ ٢٤۔

٦۔ تہذیب، طوسی، ج ٦، ص ١٨١ ،ح ٣٧٢ ؛ کلینی، کافی، ج ٥، ص ٥٦، ح ١۔


دین میں سستی ،سہل انگاری اور کوتاہی سے متعلق روایات میں جو نقصان دہ اور ضرر رساں اثرات بیان کئے گئے ہیں ان میں سے انسانی سماج کی گراوٹ، فسادو تباہی، گناہ و عصیان کی زیادتی، سزا ودنیوی اور اخروی عذاب اور دنیا وآخرت میں نقصان وخسارہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔(١)

٢۔ حلم و برد باری اور غصہ کا پینا

'' حلم '' عربی زبان میں امور میں تامل، غوروفکر، تدبیر کرنے اور جلد بازی نہ کرنے کو کہتے ہیں۔ '' حلیم '' اس انسان کو کہتے ہیں جو حق پر ہونے کے باوجود جاہلوں کو سزا دینے میں جلد بازی نہ کرے اور مقابل شخص کی جاہلانہ رفتار سے وجود میں آنے والے غیض وغضب سے اپنے کو قابو میں رکھے۔(٢) بعض علماء اخلاق حلم کو اطمینان قلبی اور اعتماد نفس کا ایک درجہ خیال کرتے ہیں کہ اس کا مالک انسان آسانی سے غضبناک نہیں ہوتا اور ناگوار حوادث جلدی اسے پریشان اور مضطرب نہیں کرتے۔ اس وجہ سے حلم کی حقیقی ضد غضب ہے، کیونکہ حلم اصولی طور پر غضب کے وجود میں آنے سے مانع ہوجاتا ہے۔ حلم اور '' کظم غیظ '' ( غصہ کو پینے ) کے درمیان فرق کے بارے میں کہا گیا ہے کظم غیظ صرف خشم و غضب کے پیدا ہوجانے کے بعد اسے ضبط کر کے ٹھنڈا کردیتا ہے جب کہ حلم بے جا غیض و غضب کے پیدا ہونے سے مانع ہوتا ہے، پس حلم غیض و غضب کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتا ''کظم غیظ '' اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کے علائم کے ظاہر ہونے کو روک کر درحقیقت اس کا علاج کرتا ہے۔(٣)

قرآن کریم میں حلم ١٠ بار سے زیادہ خداوندسبحان کے صفات میں شمار کیا گیا ہے کہ ان موارد میں نصف سے زیادہ ''غفور'' اور ''حلیم '' ایک ساتھ ذکر ہوا ہے۔(٤)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٤٥، ح ٦، اور ج ٨، ص ٤ ٣ ١، ح ١٠٣، اور ص ١٢٨، ح ٩٨ ؛ حرانی، تحف العقول، ص ١٠٥، ٧ ٣ ٢؛ نہج البلاغہ، خ ٨٦، ٢٣٣؛ شیخ مفید، ارشاد، ص ٩٢۔

٢۔ ابن اثیر، نہایہ، ج ١، ص ٣٤ ٤، ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج ١٢، ص ١٤٦ ؛ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص ١٢٩، مجمع البحرین، ج ١، ص ٥٦٥۔ اور فیض کاشانی، ملا محسن، المحجةالبیضائ، ج ٥، ص ٣١٠۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٥ ٢٩، ٢٩٦۔

٤۔ عبد الباقی، محمد فؤاد، المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم، ص ٢١٦، ٢١٧۔


اسلام کے اخلاقی نظام میںحلم اور بردباری کی قدر و منزلت اس درجہ بلند ہے کہ لوگوں کی رہبری و امامت کے ایک لوازم میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول خدا فرماتے ہیں: ''امامت اوررہبری تین خصوصیات کے مالک افراد کے علاوہ کسی کے لئے سزاوار نہیں ہے، ایسا تقویٰ جو اسے خدا کی نافرمانی سے روکے، ایسا حلم وبرد باری جس کے ذریعہ وہ اپنے غصہ کو کنٹرول کرے اور لوگوں پر ایسی پسندیدہ حکمرانی کہ ان کے لئے ایک مہربان باپ کی طرح ہو''۔(١) حضرت علی ـ نے فرمایا: '' حلم ڈھانکنے والا پردہ اور عقل شمشیر براں ہے، لہٰذا اپنی اخلاقی کمی کو برد باری سے چھپاؤ اور اپنی نفسانی خواہشات کو عقل کی شمشیر سے قتل کرڈالو ''۔(٢) یعنی انسان کی اخلاقی کمی کے لئے حلم ایک پردہ ہے۔ دوسری جگہ حلم کو عزت کا بلند ترین مرتبہ(٣) عاقلوں کی سرشت ،(٤) اور قدرت کی علامت(٥) تصور کیا گیا ہے۔ کظم غیظ اور غصہ کو پینا در حقیقت تحلّم اور زحمت و کلفت کے ساتھ حلم اختیار کرنا ہے۔ اس وجہ سے کظم غیظ اہمیت کے اعتبار سے حلم سے کم درجہ رکھتا ہے، اگر چہ اپنی جگہ اہم اور قابل تعریف ہے۔ قرآن کریم کظم غیظ کو متقین کی صفت اور ایک قسم کی نیکی اور احسان جانتاہے۔ قرآن فرماتا ہے: ''اپنے پروردگار کی عفو و بخشش اورایسی بہشت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور وہ ان پرہیز گاروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے ۔(٦) وہ لوگ جو فراخی اور تنگی حالتوں میں انفاق کرتے ہیں اور اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور خدا وند عالم احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے''۔ پیغمبر اکرم نے غصہ کے پینے کی فضیلت میں فرمایا ہے: ''خدا تک انسان کے پہنچنے کے محبوب ترین راستے دو گھونٹ نوش کرنا ہے،ایک غصّہ کا گھونٹ جو حلم وبردباری کے ساتھ پیاجاتا ہے اور غصّہ بر طرف ہوجاتا ہے، دوسرا مصیبت کا گھونٹ کہ جو صبر وتحمّل سے زائل ہوتا ہے ''(٧)

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٤٠٧، ح ٨۔ ٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٢٤۔٣۔ کلینی، کافی ج ٨، ص ١٩، ح ٤۔

٤۔ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ٢٧٤، ح ٨٢٩۔٥۔ صدوق، خصال، ج ١، ص ١١٦، ح ٩٦۔

٦۔ سورئہ آل عمران، آیت ٣٣ ١ ، ١٣٤۔٧۔ کلینی، کافی، ج ٢، باب کظم غیظ، ح ٩۔


حضرت امام جعفر صادق ـ نے اس سلسلہ میں فر مایا ہے: ''جو کوئی ایسے خشم وغضب کو کہ جسے وہ ظاہر کرسکتا ہے پی جائے تو قیامت کے دن خدا وند تعالیٰ اپنی رضا سے اس کے دل کو پرکردے گا ''(١)

الف۔ حلم اور کظم غیظ کے اسباب و موانع:

روایات میں علم، عقل، فقہ، تحلم، بلند ہمتی اور حلیم و برد بار افراد کی ہمنشینی کو حلم اختیار کرنے کے اسباب و علل میں ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت امام علی رضا ـ فرماتے ہیں: ''فقاہت کی علامتوں میں سے حلم اور سکوت ہے''۔(٢)

نیز حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''اگر تم واقعاً حلیم نہیں ہو تو حلم کا اظہار کرو کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کسی قوم کی شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہوجائے''۔(١) اسی طرح آپ نے فرمایا: ''حلم اور صبر دونوں جڑواں ہیں اور دونوں ہی بلند ہمتی کا نتیجہ ہیں ''۔(٢) اس کے مقابل کچھ صفات ایسے ہیں جو حلم و برد باری کے موانع کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں کہ ان میں سے سفاہت ، بیوقوفی، حماقت ، دُرشت مزاجی، تند خوئی، غیض وغضب، ذلت وخواری اور ترش روئی کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔(٣)

ب۔حلم و برد باری کے فوائد:

اخروی جزا کے علاوہ آیات و روایات میں دنیوی فوائد بھی حلم و برد باری کے بیان کئے گئے ہیں۔ یہ فوائد خواہ انسان کی انسانی زندگی میں نفسانی صفات اور عملی صفات ہوں خواہ ا نسان کی اجتماعی زندگی کے مختلف ادوار میںظاہر ہوں، ان میں سب سے اہم فوائد یہ ہیں: سکون قلب، وقار، نجابت، رفق ومدارا، صبر، عفو و بخشش، خاموشی، سزادینے میںجلد بازی نہ کرنا، اور خندہ روئی فردی فائدے کے عنوان سے اور کرامت وبزرگواری، کامیابی ،صلح و آشتی، ریاست و بزرگی، لوگوں کے دلوں میں محبوبیت اور پسندیدہ وخوشگوارزندگی حلم و برد باری کے اجتماعی فوائد ہیں ۔ان میں سے بعض فوائد پر اس کے پہلے بحث ہوچکی ہے اور بعض دیگر ایک قسم کی رفتار (عمل) ہیں کہ عملی صفات کے بیان کے وقت ان میں سے بعض کا ذکر کریں گے۔

____________________

١۔کلینی، کافی، ج ٢، باب کظم غیظ، ح ٦۔ ٢۔ کلینی، کافی، ج ١، ص ٣٦، ح ٤۔٣۔ نہج البلاغہ، حکمت ٧ہ٢؛ کلینی، کافی، ج ٢، ص١١٢، ح ٦، ص ٢٠، ح ٤ اور تحف ا لعقول، ص ٦٩۔٤۔ نہج البلاغہ، حکمت ٤٦٠۔٥۔ صدوق، خصال، ج ٢، ص ٤١٦، ح ٧ ؛ مجلسی، بحار الانوار، ج ١٣، ص ٤٢١، ح ١٥ ؛ غرر الحکم، ح ٢٠٠٩ اور ٣٩٤٠ ؛نراقی، جامع السعادات، ج ١، ص ٢٧٥ اور ٢٩٥ ؛ فیض کاشانی، المحجة البیضائ، ج١٥، ص ٢٨٨، ٣٠٨۔


٣۔ حیا

حیا نفسانی صفات میںایک اہم صفت ہے جو ہماری اخلاقی زندگی کے مختلف شعبوں میں بہت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اس تاثیر کا اہم ترین کردار خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ '' حیا'' لغت میں شرم وندامت کے مفہوم میںہے اور اس کی ضد ''وقاحت'' اور بے حیائی ہے۔(١) علماء اخلاق کی اصطلاح میں حیا ایک قسم کا نفسانی انفعال اور انقباض ہے جو انسان میں نا پسندیدہ افعال کے انجام نہ دینے کاباعث بنتا ہے اور اس کا سر چشمہ لوگوں کی ملامت کا خوف ہے۔(٢)

آیات و روایات میں ''حیا '' کے مفہوم کے بارے میں مطالعہ کرنا بتاتا ہے کہ اس حالت کی پیدائش کا مرکز ایک آ گا ہ ناظر کے سامنے حضور کا احساس کرنا ہے، ایسا ناظر جو محترم اورگرامی قدر ہے۔ اس مفہوم کو کتاب و سنت میں مذکور حیا کے مسائل اور ابواب میں بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ مفہوم حیا کی تمام اقسام کے درمیان ایک مشترک مفہوم ہے اس وجہ سے حیا کے تین اصلی رکن ہیں: فاعل، ناظر اور فعل۔ حیا میں فاعل وہ ہے جو نفسانی کرامت و بزرگواری کا مالک ہے۔ ناظروہ ہے کہ جس کی قدرو منزلت فا عل کی نگاہ میںعظیم اور قابل احترام ہے اور فعل جو کہ حیا کے تحقق کا تیسرا رکن ہے، برا اور ناپسنددیدہ فعل ہے لہٰذا نتیجہ کے طور پر ''حیا ''''خوف '' و '' تقویٰ '' کے درمیان فرق کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ حیا میں روکنے والا محور ایک محترم اور بلند مرتبہ ناظر کے حضور کو درک کرنا اور اس کی حرمت کی حفاظت کرنا ہے، جبکہ خوف وتقویٰ میں روکنے والا محور، خدا کی قدرت کا درک کرنا اور اس کی سزا کا خوف ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حیا کا اہم ترین کردار اور اصلی جوہر برے اعمال کے ارتکاب سے روکنا ہے، لامحالہ یہ رکاوٹ نیک اعمال کی انجام دہی کا باعث ہوگی۔ اسی طرح یہ بات قابل توجہ ہے کہ حیا مختلف شعبوںمیںکی جاتی ہے کہ اس کی بحث اپنے مقام پر آئے گی، جیسا کہ عورتوں کی حیا '' اخلاق جنسی'' میں، گھرمیں حیا کی بحث '' اخلاق خانوادہ ''میں اور دوسروں سے حیا '' اخلاق معاشرت '' میں مورد تحقیق قرار دی جائے گی۔ یہاں پر حیا سے متعلق صرف عام اور کلی مباحث ذکر کررہے ہیں۔

____________________

١۔ ابن منظور، لسان العرب، ج٨، ص ٥١ ؛ مفرادات الفاظ قرآن کریم، ص ٢٧٠ اور ابن اثیر نہایہ، ج ١، ص ٣٩١۔

٢۔ ابن مسکویہ، تہذیب الاخلاق، ص ٤١، ؛طوسی اخلاق نا صری، ص ٧٧۔


الف۔ حیا کی اہمیت:

رسول خدا حیا کو انسان کی زینت شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''بے حیائی کسی چیز کے ہمراہ نہیں ہوئی مگر یہ کہ اس کو نا پسند اور برا بنا دیا، اور حیا کسی چیز کے ہمراہ نہیں ہوئی مگر یہ کہ اسے اس نے آراستہ کردیا ''۔(١) حضرت علی ـ نے بھی فرمایا ہے: ''جو حیا کا لباس پہنتا ہے کوئی اس کا عیب دیکھ نہیں پاتا''۔ (٢ ) اور دوسرے بیان میں فرماتے ہیں: ''حیا اختیار کروکیونکہ حیا نجابت کی دلیل و نشا نی ہے''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ حیا کے مرتبہ کو اخلاقی مکارم میں سر فہرست قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ''مکارم اخلاق میں ہر ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں، خدا وندعالم ہر اس انسان کو جو ان مکارم اخلاق کا طالب ہے دیتا ہے، ممکن ہے کہ یہ مکارم ایک انسان میں ہو لیکن اس کی اولاد میں نہ ہو، بندہ میں ہو لیکن اس کے آقا میں نہ ہو (وہ مکارم یہ ہیں ) صداقت و راست گوئی، لوگوںکے ساتھ سچائی برتنا، مسکین کو بخشنا، خوبیوںکی تلافی، امانت داری، صلہ رحم، دوستوں اور پڑوسیوںکے ساتھ دوستی اور مہربانی ،مہمان نوازی اور ان سب میں سر فہرست حیا ہے۔(٤) حضرت علی ـ نے حیا کے بنیادی کردار کے بارے میں فرمایا: ''حیا تمام خوبصورتی اور نیکی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے''۔(٥) حیا کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''جو حیا نہ رکھتا ہو اس کے پاس ایمان نہیں ہے''۔(٦) رسول اکرم کی سیرت کے بارے میں منقول ہے کہ آنحضرت جب بھی لوگوں سے بات کرتے تھے تو عرق شرم (حیا کا پسینہ ) آپ کی پیشانی پر ہوتا تھا اور کبھی ان سے آنکھیں چار نہیں کرتے تھے۔(٧)

____________________

١۔ شیخ مفید، امالی، ص ١٦٧۔ ٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٢٢٣ ؛ صدوق، فقیہ، ج ٤، ص ٣٩١ ح٥٨٣٤ ۔ کلینی، کافی، ج٨، ص ٢٣۔

٣۔ آ مدی، غرر الحکم، ح ٨٢ ٠ ٦۔٤۔ کلینی، کافی ج ٢، ص ٥٥ ح١۔ طوسی، امالی، ص ٣٠٨۔

٥۔ حرانی، تحف العقول ِ ،ص ٨٤۔٦۔ کلینی، کافی، ج٢، ص١٠٦۔٧۔ کافی ، ج٥ ،ص٥٦٥، ح٤١۔


کبھی حیا کا منفی رخ سامنے آتا ہے اور وہ اس صورت میں کہ جب اس کا سبب حماقت، جہالت، اور نفس کی کمزوری ہو۔ اسلامی اخلاق میں ایسی شرم و حیا کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور اسے اخلاقی فضیلت شمار نہیں کیا گیا ہے بلکہ انسان کے رشد و علو کے لئے رکاوٹ اور مختلف شعبوںمیں اس کے پچھڑنے کا سبب ہوتی ہے۔ روایات میں اس طرح کی شرم کو جہل و حماقت اور ضعف کی حیا کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔(١)

ب۔ حیا کے اسباب و موانع :

بعض وہ امور جو روایات میں حیا کے اسباب کے عنوان سے ذکر کئے گئے ہیں، درج ذیل ہیں:

١۔عقل:

رسول خدا نے ایک عیسائی راہب ( شمعون بن لاوی بن یہودا) کے جواب میں کہ اس نے آپ سے عقل کے علائم وماہیت کے بارے میں سوال کیا تھا، فرمایا: ''عقل حلم کی پیدائش کا باعث ہے اور حلم سے علم، علم سے رشد، رشدسے عفاف اور پاک دامنی، عفاف سے خوداری، خوداری سے حیا، حیا سے وقار، وقار سے عمل خیر کی پابندی اور شر سے بیزاری اور شر سے تنفرسے نصیحت آمیز اطاعت حاصل ہوتی ہے۔(٢)

٢۔ایمان:

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: '' جو حیا نہیں رکھتا وہ ایمان بھی نہیں رکھتا ''۔

اسی طرح روایات میں کچھ امور کو حیا کے موانع بے حیا ئی کے اسباب و علل کے عنوان سے پہچنوایا گیا ہے۔ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہیں: ایک۔ حرمتوں اور پردوں کو اٹھا دینا: حضرت امام موسیٰ کاظم ـ اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں: '' شرم وحیا کا پردہ اپنے اور اپنے بھائیوںکے درمیان سے نہ اٹھاؤ اور اس کی کچھ مقدار باقی رکھو، کیونکہ اس کا اٹھانا حیا کے اٹھانے کے مترادف ہے''۔(٣)

۳۔ لوگوںکی طرف دست سوال دراز کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: '' لوگوں کی طرف دست سوال دراز کرنا عزت چھین لیتا ہے اور حیا کو ختم کردیتا ہے''۔(٤)

____________________

١۔ صدوق، خصال، ج ١، ص٥٥، ح ٧٦ ؛ کلینی، کافی، ج٢، ص ١٠٦، ح ٦۔ ٢۔ حرانی، تحف العقول، ص ١٩، اسی طرح ملاحظہ ہو، ص ٢٧ ؛ صدوق، خصال، ج ٢، ص٤٠٤، ٤٢٧ ؛ کلینی، کافی، ج١، ص ١٠، ح ٢ ۔اور ج ٢، ص ٢٣٠۔ ٣۔ کافی، ج ٢، ص ٦٧٢، ح٥۔٤۔ ایضاً، ج٢، ص ١٤٨، ح ٤۔


٣۔ زیادہ بات کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''جو زیادہ بولتا ہے وہ زیادہ خطا کرتا ہے اور جو زیادہ خطا کرتا ہے اس کی شرم و حیا کم ہو جا تی ہے اور جس کی شرم کم ہوجاتی ہے اس کی پارسائی کم ہوجاتی ہے اور جس کی پارسائی کم ہوجاتی ہے اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے''۔(١)

٤۔ شراب خوری:

حضرت امام علی رضا ـ کی طرف منسوب ہے کہ آپ نے شراب کی حرمت کی علت کے بارے میں فرمایا: ''خداوندسبحان نے شراب حرام کی کیونکہ شراب تباہی مچاتی ہے، عقلو ں کو حقائق کی شناخت میں باطل کرتی ہے اورانسان کے چہرہ سے شرم و حیا ختم کردیتی ہے''۔(٢)

ج۔ حیا کے فوائد:

روایت میں حیا کے کثرت سے فوائد پائے جاتے ہیں خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی، فردی ہوں یا اجتماعی، نفسانی ہوں یا عملی، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

١۔ خدا کی محبت:

پیغمبر اکرم نے فرمایا: '' خدا وند سبحان، حیا دار،با شرم اور پاکدامن انسان کو دوست رکھتا ہے اور بے شرم فقیر کی بے شرمی سے نفرت کرتا ہے ''۔(٣)

٢۔عفّت اور پاکدامنی:

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''حیا کا نتیجہ عفّت اورپاکدامنی ہے''۔(٤)

٣۔ گناہوں سے پاک ہونا:

حضرت امام زین العابدین ـ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:'' چار چیزیں ایسی ہیں کہ اگر وہ کسی کے پاس ہوں تو اس کا اسلام کامل اور اس کے گناہ پاک ہوجائیں گے اور وہ اپنے رب سے ملاقات اس حال میں کرے گا، کہ خدا وند عالم اس سے را ضی و خوشنود ہوگا، جو کچھ اس نے اپنے آپ پر لوگو ں کے نفع میں قرار دیا ہے خدا کے لئے انجام دے اور لوگوں کے ساتھ اس کی زبان راست گوئی کرے اور جو کچھ خدا اور لوگوں کے نزدیک برا ہے اس سے شرم کرے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ خوش اخلاق ہو''۔(٥)

____________________

١۔ نہج البلاغہ، حکمت ٣٤٩۔٢۔ فقہ الرضا، ص ٢٨٢۔٣۔ طوسی، امالی، ص ٣٩، ح ٤٣۔ کلینی، کافی، ج ٢، ص ١١٢، ح٨ ؛ صدوق، فقیہ، ج٣، ص ٥٠٦، ح٤٧٧٤۔

٤۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٤٦١٢۔ ٥۔ صدوق، ، خصال، ج١، ص ٢٢٢، ح ١٥٠ ۔ مفید، امالی، ص ١٦٦، ح ١۔


٤۔ رسول خدا نے شرم و حیا کے کچھ فوائد کی شرح کے ذیل میں فرمایا ہے:

''جو صفات حیا سے پیدا ہوتے ہیں یہ ہیں: نرمی، مہربانی، ظاہر اورمخفی دونوں صورتوں میں خدا کو نظر میںرکھنا، سلامتی، برائی سے دوری، خندہ روئی، جود وبخشش، لوگوںکے درمیان کامیابی اور نیک نامی، یہ ایسے فوائد ہیں جنھیں عقلمند انسان حیا سے حاصل کرتا ہے''۔(١)

اسلام کی اخلاقی کتابوں میں ''وقاحت '' اور ''بے شرمی'' سے متعلق بہت سے بیانات ہیںکہ ہم اختصار کی خاطر صرف ایک روایت پر اکتفا کرتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق ـ اپنے شاگرد ''مفضل '' سے فرماتے ہیں: ''اے مفضل! اگرحیا نہ ہوتی تو انسان کبھی مہمان قبو ل نہیں کرتا، اپنے وعدہ کو وفا نہیں کرتا، لوگوں کی ضرورتوں کو پورا نہ کرتا، نیکیوں سے دور ہو تا اور برائیوں کا ارتکاب کرتا۔ بہت سے واجب اور لازم امور حیا کی وجہ سے انجام دئے جاتے ہیں، بہت سے لوگ اگرحیا نہ کرتے اور شرمسار نہ ہوتے تو والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے، کوئی صلہ رحمی نہ کرتا، کوئی امانت صحیح وسالم واپس نہیں کرتااور فحشاو منکر سے باز نہیں آتا''۔(٢)

د۔حیا کے مقامات :

بیان کیا جاچکا ہے کہ ''حیا'' ناظر محترم کے حضوربرے اعمال انجام دینے سے شرم کرنا ہے۔ اس بنا پر پہلے: اسلام کی اخلاقی کتابوں میں خدا، اس کی طرف سے نظارت کرنے والے، اس کے نمایندے، انسان اور دوسروں کی انسانی اور الہی حقیقت کا ذکر ایک ایسے ناظر کے عنوان سے ہوا ہے کہ جن سے شرم وحیا کرنی چاہیے۔(٣)

دوسرے: حیا کے لئے ناپسندیدہ اور امور ہیں اور نیکیوں کی انجام دہی میں شرم و حیا کبھی ممدوح نہیں ہے لیکن اس حد و مرز کی رعایت بہت سے افراد کی طرف سے نہیں ہوتی ہے، اس کا سبب کبھی جہالت ہے اور کبھی لاپرواہی۔ بہت سی روایات میں بعض موقع پر حیا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ حیا کے مفہوم میں پہلے بیان کئے گئے ضابطہ و قانون کے باوجود یہ تاکید اس وجہ سے ہے کہ انسان ان موارد کی نسبت ایک طرح علمی شبہہ رکھتا

____________________

١۔ حرانی، تحف العقول، ص ٢٠۔٢۔ مجلسی، بحار ج ٣، ص ٨١۔

٣۔ صدوق، عیون اخبار الرضا ، ج ٢، ص٤٥، ح ١٦٢ ؛ تفسیر قمی، ج ١، ص ٣٠٤ ؛ کراجکی، کنز الفؤائد، ج ٢، ص ١٨٢ ؛ طوسی، امالی، ص ٢١٠۔


ہے اور ایک حد تک ان موارد میں حیا کرنے کی تائید کے لئے توجیہات گڑھنے کی کوشش کرتا ہے، جب کہ اس کے خیالات و تصورات باطل ہیں۔ وہ بعض موارد اور مقامات جہاں حیا نہیں کرنی چاہیے، درج ذیل ہیں:

١۔ حق بات، حق عمل اور حق کی درخواست میں حیا کرنا: پیغمبر اکرم نے فرمایا: '' کوئی عمل بھی ریا اور خود نمائی کے عنوان سے انجام نہ دو اور اسے شرم و حیا کی وجہ سے ترک نہ کرو ''۔(١)

٢۔تحصیل علم سے حیاکرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' کوئی شخص جو وہ نہیں جانتا ہے اس کے سیکھنے میں شرم نہ کرے''۔(٢)

٣۔ حلال درآمد کے حصول میں حیا کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''اگر کوئی مال حلال طلب کرنے میں حیا نہ کرے تو اس کے مخارج آسان ہوجائیں گے اور خدا اس کے اہل و عیال کو اپنی نعمت سے فیضیاب کرے گا''۔(٣)

٤۔ مہمانوںکی خدمت کرنے سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' تین چیزیں ایسی ہیں جن سے شرم نہیں کرنی چا ہیے، منجملہ ان کے انہیں میں مہمانوں کی خدمت کرناہے''۔(٤)

٥۔دوسروں کا احترام کرنے سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''تین چیزوں سے شرم نہیں کرنی چا ہیے: منجملہ ان کے اپنی جگہ سے باپ اور استاد کی تعظیم کے لئے اٹھنا ہے''۔(٥)

٦۔ نہ جاننے کے اعتراف سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' اگر کسی سے سوال کریں اور وہ نہیں جانتا تو اسے یہ کہنے میں کہ ''میں نہیں جانتا'' شرم نہیں کرنی چاہیے''۔(٦)

____________________

١۔ حرانی، تحف العقول، ص ٤٧، ؛ صدوق، امالی، ص ٩٩ ٣ ، ح١٢، ؛ کلینی، کافی، ج٢، ص ١١ ١، ح ٢، اور ج ٥، ص ٥٦٨، ح ٥٣ ۔ ٢۔ نہج البلاغہ، حکمت ٨٢ ؛ حرانی، تحف العقول، ٣١٣۔٣۔ حرانی، تحف العقول، ص٥٩ ؛ صدوق، فقیہ ،ج ٤، ص ٤١٠، ح ٥٨٩٠۔ ٤۔ آمدی، غرر الحکم، ح ٤٦٦٦۔٥۔ غرر الحکم۔

٦۔ نہج البلاغہ، حکمت، ٨٢ ؛ صدوق، خصال، ج ١، ص ٣١٥، ح ٩٥۔


٧۔ خداوند عالم سے درخوست کرنے میں حیا کرنا:

امام جعفر صادق ـنے فرمایا: ''کوئی چیز خدا کے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب نہیں ہے کہ اس سے کسی چیز کا سوال کیا جائے، لہٰذا تم میں سے کسی کو رحمت خدا وندی کا سوال کرنے سے شرم نہیں کرنی چاہیے، اگر چہ اس کا سوال جوتے کے ایک فیتہ کے متعلق ہو ''۔(١)

٨۔ معمولی بخشش کرنے سے حیا کرنا:

حضرت علی ـ نے فرمایا: ''معمولی بخشش کرنے سے شرم نہ کروکہ اس سے محروم کرنا اس سے بھی کمتر ہے۔''(٢)

٩۔اہل و عیال کی خدمت کرنے سے حیا کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے مدینہ کے ایک انسان کو دیکھا کہ اس نے اپنے اہل و عیال کے لئے کوئی چیز خریدی ہے اور اپنے ہمراہ لئے جا رہا ہے، جب اس انسان نے امام کو دیکھا تو شرمندہ ہوگیا امام نے فرمایا: ''یہ تم نے خود خریدا ہے اور اپنے اہل و عیال کے لئے لے جا رہے ہو ؟ خدا کی قسم، اگر اہل مدینہ نہ ہوتے (کہ ملامت اور نکتہ چینی کریں) تو میں بھی اس بات کو دوست رکھتا کہ کچھ خرید کر اپنے اہل و عیال کے لئے لے جائوں''۔(٣)

٤۔ عفّت

نفسانی صفات میںایک دوسر ی روکنے والی صفت عفّت اور پاکدامنی ہے۔ '' عفّت '' لغت میں نا پسند اور قبیح امر کے انجام دینے سے اجتناب کرنے کے معنی میں ہے۔(٤) علم اخلاق کی اصطلاح میں ''عفت'' نام ہے اس نفسانی صفت کا جو انسان پر شہوت کے غلبہ اور تسلّط سے روکتی ہے۔(٥) شہوت سے مراد اس کا عام مفہوم ہے کہ جو شکم وخوراک کی شہوت، جنسی شہوت، بات کرنے کی شہوت اور نظر کرنے کی شہوت اور تمام غریزوں (شہوتوں) کو شامل ہوتی ہے، حقیقت عفّت یہ ہے کہ شہوتوںاورغریزوں سے استفادہ کی کیفیت میں ہمیشہ شہوتوں کی جگہ عقل و شرع کا غلبہ اور تسّلط ہو۔ اس طرح شہوتوں سے منظّم ومعیّن عقلی وشرعی معیاروں کے مطابق بہرہ مند ہونے میں افراط و تفریط نہیں ہوگی۔

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٤، ص ٢٠ ح ٤۔٢۔ نہج البلاغہ، حکمت، ٦٧۔٣۔ کلینی، کافی، ج٢، ص١٢٣، ح١٠۔٤۔ لسان العرب، ج ٩، ص ٢٥٣ ،٢٥٤ ؛ جوہری ،صحاح اللغة، ج ٤، ص ١٤٠٥، ١٤٠٦ ؛ نہایہ، ج ٣، ص ٢٦٤۔٥۔ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن ص ٣٥١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ١٥ ۔


الف۔ عفّت کے اقسام:

عفّت کے لئے بیان شدہ عام مفہوم کے مطابق عفّت کے مختلف ابعاد وانواع پائے جاتے ہیں کہ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:

١۔ عفّت شکم:

اہم ترین شہوتوںمیں سے ایک اہم کھانے کی شہوت و خواہش ہے۔ کھانے پینے کے غریزہ سے معقول ومشروع (جائز ) استفادہ کو عفّت شکم کہا جاتا ہے جیسا کہ اس عفّت کے متعلق قرآن میں اس آیت کی طرف اشارہ کیاجا سکتا ہے کہ فرماتا ہے: ''تم میں جو شخص مالداراور تونگر ہے وہ (یتیموں کا مال لینے سے) پرہیز کرے اور جو محتاج اور تہی دست ہے تو اسے عرف کے مطابق ( بقدر مناسب) کھا نا چاہیے''۔(١) اس عفّت کی تفصیلی بحث اقتصادی اخلاق میںکی جاتی ہے۔

٢۔ دامن کی عفت: جنسی غریزہ قوی ترین شہوتوں میں سے ایک ہے اسے جائز ومشروع استعمال میں محدود کرنا اور محرمات کی حد تک پہونچنے سے روکنا ''عفّت دامن '' یا پاکدامنی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اسی معنی میں عفّت کا استعمال درج ذیل آیت میں ہوا ہے: ''جن لوگوںمیں نکاح کرنے کی استطاعت نہیں ہے انھیں چاہیے کہ پاکدامنی اور عفّت سے کام لیں یہاں تک کہ خدا انھیںاپنے فضل سے بے نیاز کردے ''۔(٢)

اس عفّت کی بحث تفصیلی طور پراخلاق جنسی میں بیان کی جائے گی ۔اگر چہ اپنے آپ کو شہوتوںکے مقابل بچانا شکم اور دامن کی شہوت میں منحصر نہیں ہے، بلکہ تمام شہوتوں کو شامل ہے لیکن چونکہ یہ دونوں ان سب کی رئیس ہیں اور اخلاق کی مشہور کتابوں میں صرف انھیںدو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے حتیٰ بعض علماء نے ان دو کو عفّت کی تعریف میں بھی شامل کیا ہے،(٣) لہٰذا انھیں دو قسموں کے ذکر پر اکتفا کی جاتی ہے۔ دوسری طرف ان دو قسموں میں سے ہر ایک، ایک خاص عنوان سے مربوط ہے لہٰذا ہر ایک کی اپنے سے متعلق عنوان میں مفصل بحث کی جائے گی، یہا ں پر ان کے بعض کلی اور مشترک احکام کا ذکر کررہے ہیں۔

____________________

١۔ سورئہ نسائ، آیت ٦، اسیطرح سورئہ بقرہ، آیت ٢٧٣ ملاحظہ ہو۔

٢۔ سورئہ نور، آیت ٣٣؛ اسی طرح ملاحظہ ہو: آیت ٦٠۔

٣۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص١٥۔


ب۔عفّت کی اہمیت:

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' سب سے افضل عبادت عفّت ہے '' ۔(١) اور حضرت امام محمد باقر ـ سے منقول ہے: ''خدا کے نزدیک بطن اور دامن (شرمگاہ) کی عفّت سے افضل کوئی عبادت نہیں ہے ''۔(٢) اور جب کسی نے آپ سے عرض کیا کہ میں نیک اعمال انجام دینے میں ضعیف اور کمزور ہوں اور کثرت سے نماز نہیں پڑھ سکتا اور زیادہ روزہ نہیں رکھ سکتا، لیکن امید کرتا ہوںکہ صرف مال حلال کھاؤں اور حلال طریقہ سے نکاح کروں تو حضرت امام محمد باقر ـ نے فرمایا: '' عفّت بطن ودامن سے افضل کون سا جہاد ہے ؟''(٣) رسول خدا اپنی امت کے سلسلہ میں بے عفتی اور ناپاکی کے بارے میںاپنی پریشانی کا اظہار یوں کرتے ہیں: ''میں اپنے بعد اپنی امت کے لئے تین چیز کے بارے میں زیادہ پریشان ہوں معرفت کے بعد گمراہی، گمراہ کن فتنے اور شہوت بطن ودامن''۔(٤)

ایک دوسرے بیان میں فرماتے ہیں: ''میری امت کے جہنم میں جانے کا زیادہ سبب شہوت شکم ودامن کی پیروی کرناہے'' ۔(٥)

ج۔ عفّت کے اسباب:

شکم اور دامن کی عفّت میں سے ہرایک کے پیدا ہونے کے اسباب اقتصادی اور جنسی اخلاق سے مربوط بحث اور اس کے مانند دوسری بحثوں میں بیان کئے جاتے ہیں۔ لیکن روایت میں عام عوامل واسباب جیسے عقل، ایمان، تقویٰ حیا و مروت کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اختصار کی رعایت اور ایک حد تک ان کی علت کے واضح ہونے کی وجہ سے ان میں سے ہر ایک کے ذکر سے صرف نظر کرتے ہیں۔

____________________

١۔ کلینی، کافی، ج٢، ص٧٩ ،ح ٣۔

٢۔ جامع السعادات، ص ٨٠، ح ٨ ۔ ص ٧٩، ح ١۔

٣۔ جامع السعادات، ص ٧٩، ح ٤ ۔

٤۔ جامع السعادات، ح ٦ ۔

٥۔ جامع السعادات، ص ٨٠، ح ٧۔


د۔ عفّت کے موانع:

عفّت کے عام موانع میں ''شرارت '' اور ''خمود '' ( سستی اور سہل انگاری ) ہے، ان دونوں کی مختصرتوضیح درج ذیل ہے:

١۔ شرارت:

شرارت سے مراد اپنے عام مفہوم کے لحاظ سے شہوانی قوتوں کی پیروی کرنا ہے اس چیز میں جو وہ طلب کرتی ہیں،(١) خواہ وہ شہوت شکم ہو یا شہوت مال دوستی یا اس کے مانند کسی دوسری چیز کی شہوت ۔ شرارت یعنی جنسی لذتوں میں شدید حرص کا ہونا اور ان میں زیادتی کا پایا جانا۔(٢) حضرت علی ـ نے شرارت کی مذمت میں فرمایا ہے: '' شرارت تمام عیوب کی رئیس ہے''۔(٣) حضرت امام جعفر صادق ـ کا بیان اس سلسلہ میں یہ ہے: کہیںایسا نہ ہو کہ جو کچھ خدا نے تم پر حرام کیا ہے اس کا تمہارا نفس حریص ہوجائے کیونکہ جو شخص بھی دنیا میں حرام خدا وندی کا مرتکب ہوگا خداوند سبحان اسے جنت سے اور اس کی نعمتوں اور لذتوں سے محروم کردے گا ''۔(٤)

٢۔ خمود:

''شرارت'' کے مقابل ہے یعنی ضروری خوراک کی فراہمی میں کاہلی اور کوتاہی کرنا اور جنسی غریزہ سے ضروری استفادہ کرنے میں سستی اور کوتاہی کرنا اس طرح سے کہ صحت و سلامتی، خاندان کی تباہی اور نسل کے منقطع ہونے کا سبب بن جائے ۔ یہ واضح ہے کہ یہ حالت غریزوں اور شہوتوں سے استفادہ میں تفریط اور کوتاہی کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔(٥) ''خمود'' حکمت خلقت کے مخالف اور نسل انسان کے استمرار و دوام نیز اس کی بقا اور مصلحت کے مخالف ہے، اس کے علاوہ اسلامی اخلاق میں غرائز وشہوات سے جائز استفادہ کی جوکثرت سے تاکید پائی جاتی ہے اور جو کچھ رہبانیت اور دنیا سے کنارہ کشی کی مذمت کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے وہ سب '' خمود '' کی قباحت کو بیان کرتے ہیں ۔اس امر کی تفصیلی بحث '' اخلاق جنسی '' میں ہوگی۔

____________________

١۔ ابن منظور، لسان العرب، ج ١٣، ص ٥٠٦۔٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ٤۔ ٣۔ ؛ کلینی، کافی، ج٨، ص ٩ ١، ح٤ ؛ نہج البلاغہ، حکمت، ٣٧١۔٤۔ کلینی، کافی ، ج٨، ص ٤، ح ١۔٥۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٢، ص ١٣۔


ہ۔ عفّت کے فوائد :

روایات میں عفّت کے متعدد دنیوی اور اخروی فوائد بیان کئے گئے ہیں جیسے پستیوں سے نفس کی حفاظت کرنا، شہوتوں کو کمزور بنانا اور عیوب کا پوشیدہ ہونا کہ یہاں اختصار کے پیش نظررسول خدا کے ایک کلام کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کررہے ہیں۔

عفّت کے علائم یہ ہیں: جو کچھ ہے اس پر راضی ہونا، اپنے کو معمولی اور چھوٹا سمجھنا، نیکیوں سے استفادہ کرنا، آسائش اور راحت میں، اپنے ما تحتوں اور مسکینوں کی دل جوئی، تواضع، یا د آوری ( غفلت کے مقابل )، فکر، جو د و بخشش اور سخاوت کرنا۔(١)

٥۔ صبر

نفسانی صفات میں سب سے عام اور اہم روکنے والی صفت ''صبر '' ہے۔ ''صبر '' کے معنی عربی لغت میں حبس کرنے اور دباؤ میں رکھنے کے ہیں۔(٢) اور بعض نے اسے بے تابی اور بے قراری سے نفس کو باز رکھنے سے تعبیر کیا ہے۔(٣) اخلاقی اصطلاح میں صبرنام ہے نفس کو اس چیز کے انجام دینے اور آمادہ کرنے جس میں عقل و شرع کا اقتضاء ہونیز اس چیز سے روکنا جسے عقل وشرع منع کرتے ہیں۔(٤) مذکورہ تعریفوں کے پیش نظر ''صبر '' ایک ایسی عام اور روکنے والی نفسانی صفت ہے کہ جس میں دو اہم جہت پائے جاتے ہیں : صبر ایک طرف انسان کی غریزی اور نفسانی خواہش اور میلان کوحبس اور دائرئہ عقل وشرع میںمحدود کرتا ہے۔ دوسری طرف نفس کو عقل وشرع کے مقابل ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے سے روکتا ہے اور اسے اس بات پر ابھارتا ہے کہ اپنے کو فرائض الہی کی پابندی کے لئے زحمت اٹھانے اور دشواریوں کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کرے، البتہ اگر یہ حالت انسان میں سہولت و آسانی سے پیدا ہوجائے تو اسے ''صبر'' اور اگر انسان زحمت ومشقت میں خود کو مبتلا کرکے اس پر آمادہ کرے تو اسے '' تصبر '' (زبردستی صبر کرنا )کہتے ہیں۔

____________________

١۔ حرانی، تحف العقول، ص٢٠۔

٢۔ زبیدی، تاج العروس، ج ٧، ص ٧١ ؛ راغب اصفہانی، مفردات، ٤٧٤ ؛ ابن منظور، لسان العرب، ج ٤، ص ٤٣٨۔

٣۔ جوہری، صحاح اللغة، ج ٢، ص ٧٠٦۔ طریحی، مجمع البحرین، ج ٢، ص ١٠٠٤۔

٤۔ راغب اصفہانی، معجم مفردات الفاظ قرآن، ص ٤٧٤۔


الف۔ صبر کی قسمیں:

صبر کے لئے جو عام اور وسیع مفہوم بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق علماء اخلاق نے متعدد جہات سے صبر کے لئے مختلف اقسام و انواع بیان کی ہیں کہ ان میں سے اہم ترین اقسام کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔

١۔ مفہوم کے لحاظ سے:

مذکورہ تعریفوں کے مطابق کبھی صبر سے مراد نفسانی جاذبوں اور دافعوں میں ہر قسم کی محدودیت کا ایجاد کرنا ہے کہ جو ایک عام مفہوم ہے اور کبھی اس سے مرادناگوار امور کی نسبت عدم رضایت اور بے تابی کے اظہار سے نفس کو روکنا ہے۔ اس لحاظ سے صبر کے دو مفہوم ہیں کہ کبھی خاص مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

٢۔ موضوع کے لحاظ سے:

صبر اپنے عام مفہوم میں موضوع کے اعتبار سے متعدد انواع کا حامل ہے۔

کبھی صبر سختیوں اور مصیبتوںپر ہوتا ہے جو کہ ان سختیوں اور مصیبتوں کے مقابل مضطرب وپریشان نہ ہونا اور سعہ صدر کی حفاظت ہے، اسے '' مکروہات پر صبر '' کہتے ہیں اور اس کے مقابل ''جزع '' اور بے قرار ی ہے صبر کی رائج قسم یہی ہے۔ جنگ کی دشواریوں پر صبر کرنا '' شجاعت'' ہے اور اس کے مقابل '' جبن '' بزدلی اور خوف ہے۔ اور کبھی صبر غیض و غضب کی سرکشی اور طغیانی کے مقابل ہے کہ اسے '' حلم '' اور '' کظم غیظ '' کہتے ہیں۔ کبھی صبر عبادت کے انجام دینے میں ہے کہ اس کے مقابل ''فسق '' ہے جو شرعی عبادت کی پابندی نہ کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اور کبھی صبر شکم کی شہوت اور جنسی غریزہ کے مقابل ہے کہ جسے '' عفّت ''کہتے ہیں۔ اور دنیا طلبی اور زیادہ طلبی کے مقابل ہے جو کہ ''زہد '' ہے اور اس کے مقابل '' حرص '' ہے۔


اور کبھی صبر اسرار کے کتمان پر ہوتا ہے کہ جسے راز داری کہتے ہیں۔(١)

٣۔ حکم کے لحاظ سے:

صبر اپنے تکلیفی حکم کے اعتبارسے پانچ قسم میں تقسیم ہوتاہے: واجب صبرجو کہ حرام شہوات ومیلانات کے مقابل ہے۔ اور مستحب صبر مستحبات کے انجام دینے پر ہونے والی دشواریوں کے مقابل ہے۔ حرام صبر جو بعض اذیت و آزار پر ہے جیسے انسان کے مال، جان اور ناموس پر دوسروں کے تجاوز کرنے پر صبر کرنا۔ صبر ناگوار اور مکروہ امور کے مقابل جیسے عاشور کے دن روزہ رکھنے کی سختی پر صبر کہ جو مکروہ ہے ان موارد کے علاوہ مباح ہے، لہٰذا ہمیشہ صبر پسندیدہ اور محبوب شیٔ نہیں ہے، بلکہ کبھی حرام اور کبھی مکروہ بھی ہوجاتا ہے۔(٢)

____________________

١۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٣، ص٢٨٠، ٢٨١؛ رسول اکرم نے ایک حدیث میں صبر کی تین قسم بیان کی ہے: مصیبت کے وقت صبر، طاعت و بندگی پر صبر، اور معصیت و گناہ پر صبر۔ کلینی، اصو ل کافی، ج ٢، ص ٩١، ح ١٥۔ اسی طرح بعض علماء اخلاق نے صبر کو اس وجہ سے دو قسم پر تقسیم کیا ہے متاع دنیا (سراء ) پر صبر اور بلا (ضراء ) پر صبر۔ ملاحظہ ہو نراقی، جامع السعادات، ج٣، ص ٢٩٣، ٢٩٤۔

٢۔ نراقی، جامع السعادات، ج٣، ص ٢٨٥۔


ب۔ صبر کے درجات:

بعض علماء اخلاق اور اہل معرفت نا گوار امور پر صبر کرنے ( صبر خاص )کے لئے تین درجوں کے قائل ہوئے ہیں۔

١۔ تائبین کا صبر: اوراس سے مراد ہے شکوہ کا ترک کرنا، بے تابی اور بے قراری کا ثبوت نہ دینا، اور غیر فطری اور پریشان کن رفتارنہ رکھنا۔

٢۔ زاہدین کا صبر: یعنی اول درجہ کے علاوہ جوسختیاں، درد والم انسان کے لئے مقدر ہوئی ہیں ان پر قلبی طور سے راضی ہونا۔

٣۔ صدیقین کا صبر: یعنی پہلے دودرجہ کے علاوہ نسبت اس چیز سے جو خدا وند عالم نے اس کے لئے معین کر رکھا ہے، عشق کرنا اور اسے دوست رکھنا ۔(١)

ج۔ صبر کی اہمیت:

کلمہ ''صبر ''مختلف صورتوں میں سو بار سے زیادہ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے کہ جس سے خود ہی اس موضوع کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کریم بعض بنی اسرائیل کی ہدایت وپیشوائی کے منصب تک پہونچنے کی علت کے بیان میںفرماتا ہے: ''اور جب انہوں نے صبر کیا اس حال میں میری آیتوں پر یقین رکھتے تھے تو ہم نے ان میں سے بعض کو پیشوا قرار دیا کہ وہ ہمارے حکم سے (لوگوں کی) ہدایت کرتے تھے''۔(٢) اور آخرت میں صابروں کی کیفیت جزا کے بارے میں ایک جگہ پر ان کے عمل سے بہتر جزا کا وعدہ دیتا ہے: ''یقینا ً جن لوگوں نے صبر کیا تو جو انہوں نے عمل کیا ہے ہم انھیں اس سے بہتر جزا دیں گے''۔ ٣)

دوسری آیت میں صابروں کی مقدار جزا کی تعیین کے بارے میں ارشاد ہو تا ہے: ''وہ لوگ کہ جنہوں نے صبر کیا اور نیکیوں سے برائی کو دور کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیںروزی دی ہے اس میں سے انفاق کرتے ہیں اس لئے وہ لوگ دہر ی جزا پائیں گے''۔(٤)

____________________

١۔ نراقی، جامع السعادات، ج٣ ، ص ٢٨٤۔

٢۔ سجدہ ٢٤۔

٣۔ نمل ٩٦۔

٤۔ قصص ٥٤۔


دوسری جگہ پر اعلان کرتا ہے کہ صابروں کا اجر اور ان کی جزابے حد اور ناقابل شمار ہے اور وہ لوگ بے حساب جزا پائیں گے: ''بے شک صابرین اپنی جزا بے حساب پوری پوری پائیں گے''۔(١) اسی طرح خداوند عالم نے صابروں کو ہمراہی کا وعدہ دیا ہے: '' صبر کروکیونکہ خدا صابروں کے ساتھ ہے ''۔(٢ ) وہ نصرت اور کامیابی کو صرف اور صر ف صبر و شکیبائی کے سایہ ممکن جانتا ہے''۔(٣) ہدایت، درود اور رحمت پروردگار کو صابروں کے حق میں قرار دیتا ہے۔(٤) صابروں کو اپنے دوستوں اور محبوبوںکے زمرہ میں بیان کرتا ہے۔(٥) بارہا اور بارہا اپنے رسولوںاور تمام انسانوں کو صبر کی تاکید کرتا ہے۔(٦) اپنے خاص بندوں کے بارے میں نقل کرتا ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ خداوند سبحان سے صبر و شکیبائی کی توفیق کی درخواست کرتے رہے ہیں۔(٧) اس کے علاوہ مزید اور دسیوںمورد ہیں جو اسلام کے اخلاقی نظام میںصبر کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق ـ بھی فرماتے ہیں: ''صبر ایمان کے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو جسم کے لئے سر کی حیثیت ہے، جس طرح سر کے نہ ہونے سے جسم کا خاتمہ ہوجاتاہے اسی طرح اگر صبر نہ ہوتوایمان بھی جاتارہے گا ''۔(٨) حضرت امام محمد باقر ـ سے صبر کی اہمیت کے بارے میں نقل ہوا ہے : '' جنت نا گواریوں سے گھری ہوئی ہے لہٰذا جو بھی دنیا میں نا گوارچیزوں پر صبر کرے وہ بہشت میں جائے گا۔ اور دوزخ نفسانی خواہشات اور لذّات میں گھری ہوئی ہے، لہٰذا جو بھی نفسانی خواہشات ولذات کی تکمیل کرے گا، وہ جہنم میںجائے گا ''۔(٩)

____________________

١۔ زمر ١٠۔

٢۔ انفعال ٤٦۔

٣۔ آل عمران ١٢٥۔

٤۔ بقرہ ١٥٧۔

٥۔ آل عمران ١٤٦۔

٦۔ احقاف ٣٥۔

٧۔ بقرہ ٢٥٠ ؛ اعراف ١٢٦۔

٨۔ کلینی، کافی ج ٢، ص٨٩، ح ٥۔

٩۔ ایضاً، ح٧۔


د۔ صبر کے فوائد:

صبر کے بہت سے دینی و دنیوی فوائد شمار کئے جاسکتے ہیں، منجملہ ان کے حضرت علی ـ بعض گذشتہ امتوں کی عزت وذلت کے بارے میں اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: ''جب خدا نے دیکھا کہ وہ کس طرح اس سے دوستی کی راہ میں اذیت و آزار پر صابر ہیں اور اس کے خوف سے نا گواریوں پر صبر و تحمل کرتے ہیں تو اس نے انھیں گرداب بلا سے نکال کر گشائش عطا کی، اور ذلت و خواری کے بعد انھیں با آبرو بنایا اور سکون و اطمینان کو خوف کا جا گزیں بنادیا۔ پھر وہ حکمراں بادشاہ اور باعظمت و شان پیشوا ہوگئے اور خدا کی کرامت ان کے حق میں یہاںتک پہنچ گئی کہ دیدۂ آرزو ان کے آخری درجہ کہ وہ اس جگہ پہونچا ان کی نگاہ اور اس کی انتہا کو نہ دیکھ سکی''۔(١)

بعض علماء اخلاق نے صبر کو مقدّرات الٰہی پر راضی رہنے کے مقام رضایت تک پہونچنے کا دروازہ قراردیا ہے، اور مقام رضا کو محبت پروردگار کی وادی تک پہونچنے کا دروازہ جانا ہے۔(٢) اس لحاظ سے صبر کے اہم فوائد میں سے اسی دنیا میں مقام '' رضا '' و'' محبت '' تک رسائی کا نام لیا جا سکتا ہے۔

''صبر '' کے لئے دیگر متعدد موضوعات بھی قابل ذکر ہیں، جیسے صبر و شکر میں مناسبتیں، صبر کے حصول کی راہیں اور اس کے مانند دوسرے موضوعات کہ اختصار کے پیش نظر ان کا ذکر نہیں کیا جارہا ہے۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٢۔

٢۔ نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ٣، ص ٢٨٣۔


تیسرا باب :

اسلام کی نظر میں اخلا قی تر بیت

پہلی فصل :

اسلام میں اخلا قی تر بیت کے طر یقے

مقدمہ:

اخلاق اسلامی کے اصول اور مفاہیم سے آشنائی کے بعد یہ بات مناسب ہے کہ اپنے آپ سے سوال کریں '' نا مطلوب موجود '' کی حالت کو کس طرح '' ناموجود مطلوب '' سے تبدیل کیا جا سکتا ہے ؟ واضح عبارت میں اخلاقی تربیت کے طریقے کیا ہیں ؟

تربیتی طریقے، کبھی خود تربیتی اپنے ( لئے تربیتی) ہیں تو دیگر تربیتی کبھی دوسرے کے( لئے تربیتی) ہیں، کبھی قولی ہیں تو کبھی عملی، کبھی سلبی ( روکنے والے ) ہیں اور کبھی ایجابی (اصلاحی )، کبھی عام( یعنی تمام سن کے مراحل کے لئے ) ہیں اور کبھی خاص۔ رفتار کے مبادی(١) کے پیش نظر ان اخلاقی تربیت کی روشوں کو جو رفتار یا اس کے مبادی یعنی ابتدائی مرحلوں سے تعلق رکھتی ہیں، تین چیزوں: شناخت، سبب اور رفتار کے اعتبار سے مورد توجہ قرار دیں گے اور تفصیل سے آئندہ مباحث کے ضمن میں ان کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ چونکہ علوم تربیتی کی اصطلاحا ت (منجملہ اصول، روشیں، اہداف و مقاصد وغیرہ وغیرہ ) کی دقیق تعریف محل اختلا ف ہے اور ان کے سلسلہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں لہٰذا یہاںپر اس کتاب میں مورد نظر تعریف کی طرف اشارہ کریں گے۔ ''روش'' (طریقہ) سے مراد وہ کلی قوانین ہیں کہ ہر ایک جدا گانہ طور پر یا دوسری روشوں کی مدد سے مقصد تک پہنچانے کی خصوصیت کی حامل ہیں۔ ہر روش کے تحقق کیلئے ممکن ہے کہ ہر ایک کے لئے مختلف اسلوب اور متعدد فنون پائے جاتے ہوں جو روشوں کی نسبت جزئی تر قوانین کا مقصود ہیں۔

____________________

١۔گذشتہ علماء کے نظریات کے مطابق مبادی رفتار اس طرح ہیں: فائدہ کا تصوّر، اس کی تصدیق، شوق موکد۔ معاصر ماہرین نفسیات نے اس سے مشابہ ایک دوسری ترکیب پیش کی ہے ؛ وہ اس طرح ہے: شناخت، باعث اور عملی توانائی۔


روشوں کے بیان میں ایک عقلی ترتیب پائی جاتی ہے کہ آسان تر دیگر تربیتی روشوں سے شروع ہوتی ہے اور مشکل تر خود تربیتی روشوں پر ختم ہوتی ہے۔ یہ عقلی ترتیب انسان کے اخلاقی اور نفسیاتی رشد سے بھی منطبق ہے اور اسلام کی تربیتی تعلیمات سے بھی ہم آہنگ ہے۔

ہر روش کو اس کی تعریف اور توضیح سے شروع ہے اور بعد کے مرحلہ میں آیات وروایات سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا استناد اسلام سے ثابت کیا گیاہے پھراس کے بعد ( یا اس کے ضمن میں ) نفسیات کے علمی مطالعہ سے استفادہ کرتے ہوئے روش کی توضیح وتکمیل کی گئی ہے، یعنی نفسیات میں کون سے نظری اصول ومبانی کے ذریعہ اس روش کا دفاع کرسکتے ہیں اور اخلاقی تربیت میں اس کی تاثیر ثابت کی جاسکتی ہے، یہاں پر نفسیات کے اہم ترین نظریوں کے متعلق جو کہ تربیت اخلاقی سے مربوط ہیں بحث کی جارہی ہے۔

طریقے

١۔ تربیت کے لئے مناسب ماحول بنانا

انسان کی تکوین اور تغییر کا اہم ترین عامل مختلف ما حول کے حالات ہیں خواہ وہ زمانی یا مکانی یا اجتماعی ماحول ہو۔ بہت سے مقامات میں ماحول کی ترمیم واصلاح سے تربیت کے لئے مساعد اورسازگار ماحول فراہم کرکے جس کی تربیت کی جاتی ہے اس کی عادتوں، خصلتوں، افکار اور رفتار کو بدلا جا سکتا ہے اور جدیدخصوصیات کو اس کا جاگزین بنایا جا سکتا ہے، اس روش کی نفسیاتی بنیاد اس ماحول کے حالات سے انسان کے متاثر ہونے کی اصل ہے جو ماحول سازی ( بعض رفتار کی ہمراہی اور ہمنوائی بعض دیگر کے ساتھ ان کے ثابت کرنے کا باعث ہوتی ہے)، فعّال وکردار ساز ماحول سازی ( ایک ماحول میں خاص طرز عمل ورفتار پر جزا دی جاتی ہے ) یا اجتماعی تعلّم وتربیت ( رفتارکے مشاہدہ سے خاص نمونوں کی پیروی) کے نظریات کے بیان ہوتی ہے ضمن میں یہ روش خاص طور سے دوسروں کے ذریعہ اور انسان کے اولیاء کے ذریعہ بروئے کار لائی جاتی ہے، لیکن انسان خود بھی کسی حد تک موثر ہوسکتا ہے، اس روش کو وجود میں لانے کے جو طریقے لازم ہیں وہ ترتیب وار یہ ہیں:


مقدمہ سازی، نمونہ سازی، ماحول کو صحیح و سالم بنانا اور حیثیت اور ماحول کو بدلنا۔

الف۔ مقدمہ سازی:

اس سے مراد یہ ہے کہ مناسب ماحول فراہم کرکے اخلاقی فضائل کے وجود میں آنے کا امکان اعلی حد تک فراہم کریں اور اس کے برعکس ایسے مقدّمات جو کہ منفی رخ رکھتے ہیں اور اخلاقی رذائل پیدا کرسکتے ہیں، ان کے وجود ہیں آنے کی روک تھام کریں، اس حصہ میں اسلام کی ہدایات قابل توجہ ہیں۔

ایک۔زوج یا زوجہ کے انتخاب میں کہ جو خاندان کا ایک رکن ہے، اس کے اخلاقی فضائل پر توجہ دینی چاہیے، انظر فی ای شی تضع ولدک فان العرق دساس(١) اس کے مقابل ایسے افراد جو غیر شائستہ گھرانے کے پروردہ ہیں، یاکم عقل اور احمق ہیں تو ایسے لوگوں سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کرناچاہیے۔

حضرت امیرا لمومنین علی ـنے جومالک اشتر کو خط لکھا ہے اس میں اس کا رساز عنصر کی اس طرح تصریح فرمائی: ''ضروری ہے کہ اداری امور میں با فضیلت افراد سے استفادہ کرو ، وہی لوگ کہ جو نیک اور شریف خاندان سے ہوں اور اچھے ماضی اور نیک نامی کے ساتھ زندگی گذارچکے ہوں، جو لوگ عقل و ہوش، شجاعت و بہادری کے مالک، سخی اور بلند ہمت ہیں، وہ کرم کامرکز اور نیکی و فضیلت کا سرچشمہ ہیں''۔(٢)

لہٰذا ایسی اولاد جو شائستہ ماں اور با فضیلت باپ کی حمایت کے زیر سایہ پروان چڑھے ہیں اہم ترین مقدّمہ ساز عنصر ما حول اور تربیت کے لحاظ سے ان کا مددگار ہے۔(٣)

دو۔ اچھے نام کا انتخاب اولاد کا والدین پر جوحق ہے اور اس کی تاکید کی گئی ہے یہ ہے کہ۔''ہر انسان کی سب سے پہلے نیکی اس کے فرزند کے حق میںاس کا اچھا نام رکھنا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چا ہیے کہ اپنے فرزندوں کا اچھا نام رکھو''۔ ( اول ما یبر الرجل ولدہ ان یسمیہ باسم حسن فلیحسن احدکم اسم ولدہ)۔(٤)

نیک اور شائستہ نام تربیتی اور نفسیاتی اثر رکھتا ہے اور انسان کی صلاح و فلاح نیز خوبیوں کو فراہم کرنے کا مقدّمہ ہے یا پھر اسے فرو مائگی اور پستی کی سمت لے جاتا ہے۔ ( الاسم یدل علی المسمی ) ۔

____________________

١۔ فلسفی، کودک، ج ١، ص ٦٤۔ حسن الاخلاق، برہان کرم الاعراق، افراد کی اخلاقی خصلتیں خاندان کی پاکیزگی اور فضیلت کی دلیل ہیں، غرر الحکم۔٢۔ نہج البلاغہ، نا مہ ٥٣۔ ٣۔ جنٹک کے علاوہ کہ جن کا ذکر فی الحال مقصود نہیں ہے۔٤۔ وسائل الشیعہ: ج ١٥، ص ١٢٢۔


٣۔ محل زندگی کا انتخاب (ملک، شہر یا دیہات، محلہ اور پڑوسی کا انتخاب) بھی مقدّمہ ساز عنا صر میں ہے۔ اسی طرح محل تحصیل، کام کاج، احباب اور معاونین سب ہی ( تربیت کی ) راہ ہموار کر نے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔(١)

ب۔ نمو نہ سازی :

کہا جا سکتا ہے کہ ہر ماحول کو بنا نے والے اس سماج اور ماحول برگزیدہ اور سر بر آور دہ افراد ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذ ایک اچھے تر بیتی ماحول کی ایجاد کا ایک طریقہ اس ماحول میں اچھے نمونوں کو وجود میں لانا ہے اور برے نمونوں دور کر نا ہے۔ سماج میں پسندیدہ اور محبوب نمونہ خود بخود اس ماحول میں رہنے والوں کو ان کی طرف کھینچ لا تاہے اور ان کے مکارم اخلاق کو دوسرے لوگ نمونہ بنالیتے ہیں۔

آلبرٹ بنڈورا (١٩٧٨) کہ جو اجتماعی تعلّم کے نظریہ کا واضع ہے۔ تعلّم (سیکھنے) کا سب سے اہم طریقہ مشاہداتی تعلّم کو جانتا ہے کہ وہی تقلید یا نمونہ کا اختیار کرنا ہے انسان ایک نمونہ یا سر مشق کا انتخاب کرکے اس کے عمل کی تقلید کرنے لگتا ہے۔ بنڈ ور ا اس طرح کے تعلّم کو چار مر حلہ میں تو ضیح دتیا ہے: مر حلہ توجہ، حا فظہ کے حوالے کرنا، دوبارہ تخلیق اور سبب ومحرّک۔ ممتا ز صفات، عطو فت ومہر بانی کا بار، پیچید گی، برجستگی اور استعمالی اہمیت نمونہ میں اور حسّی ظرفیت، ابھارنے کی سطح، درک کرنے کی آماد گی اور گزشتہ تقویت مشا ہدہ کر نے والے کے اندر نمونہ شخص کے عمل سے منطبق نتیجۂ عمل کی مدد کرتی ہے۔(٢)

زندہ نمونوں کے علا وہ جو کہ مساعد اورسازگار تر بتیی ماحول ایجاد کر تے ہیں مر بی حضرات ماضی کے اخلاقی اور انسانی نمونوں کی شناخت کر ا کے انھیں حیات نو عطا کر سکتے ہیں اور بنڈورا کے نظریہ میں مذ کو رہ خصو صیات پر نظر کر تے ہو ئے بار عاطفی، ممتاز حالت، بر جستگی وغیرہ کے اعتبار سے ان کے متعلق تا کید اور سر مایہ گذاری کرسکتے ہیں نمونوں کے دقیق موئثر اور محبوب چہرہ کی ترسیم تربیت پانے والوں کے لئے ان کے ذہن وروح میں حسب ضرورت نمونوں کے فقدان کے خلا کو پر کرسکتی ہے اور وہ تدریجاً ان کے مثل بن سکتے ہیں۔

____________________

١۔ ہمنشینوں اور دوستوں کی تاثیر کے بارے میں اس کے بعد بحث کریں گے۔

٢۔ روانشناسی پرورشی، ص ٣١٤۔


قرآن کر یم میں اس شیوہ سے بہت زیادہ استفاد ہ کیا گیا ہے، بالخصوص اکثر قرآنی نمونے جو ان اور تا ثیر گذار ہیں۔ یوسف شہوت کے مقا بل قہرمان مقا ومت، کہف کے جوان راہ خدا میں رشد و ہد ایت کیلئے ہجرت کے نمونے، اسماعیل حکم خدا کے سا منے سر اپاتسلیم کی مثال اور ابر اہیم عادت شکن اور بت شکن جوان ہیں۔ قرآن کے جوان نمو نوں کے علا وہ دیگر نمونے بھی پائے جا تے ہیں کہ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

دین کی تبلیغ میں نوح پا یداری اور استقامت کا نمو نہ، مصا ئب زمانہ اور شدائد روز گا رپر ایوب صبر وتحمل کا نمونہ، طاغوت سے جنگ ومبازرہ کرنے میں داؤد شجاعت اور شہامت کا نمو نہ وغیر ہ وغیرہ، قرآن ان تما م حضرات کی شان میں فرماتا ہے: ''...... وہ لوگ(خدا کے پیغمبر ) ایسے لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے لہٰذ ان کی ہدایت کا اقتدا کرو''۔(١)

بالآخرہ پیغمبر اکرم زندگی کے تمام مراحل میں تمام عالمین کے لئے مطلق نمونہ ہیں ، '' لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنہ''(٢) کیو نکہ آپ ''خلق عظیم '' کے ما لک، ''مکارم اخلا ق کا آئینہ '' اور '' رحمة للعالمین '' ہیں۔

ماں باپ اور ان کے بعد اساتذہ اور تربیت کرنے والے بھی تربیت سیکھنے والوںکے لئے پہلا نمونہ ہیں۔ تربیت کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اہم موقعیت وحیثیت کے مالک، زیادہ کامیاب، زیادہ علم ودانش یا معنوی بلندی کے مالک اکثر دوسروں کی نظر کو اپنی طرف جلب کرتے ہیں اور ان کے لئے نمونہ بن جاتے ہیں۔

خوش قسمتی سے طالب علموں کی نظر میں عام طور پر اساتذہ اور والدین ان خصوصیات کے یا ان میں سے بعض کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن بہر صورت اس برتری اور برجستگی کا نہ ہونا معنوی، علمی اور اجتماعی شعبوں میں تربیت پانے والوں کوکسی اور سمت لے جاتا ہے۔

حضرت امیر المومنین علی ـ فرماتے ہیں:'' پیغمبر اکرم ہر روز میرے لئے اپنے مکارم اخلاق میں سے ایک کو بیان کرتے تھے اور مجھے اس کی پیروی کرنے کا حکم دیتے تھے ''۔(٣) حضرت امام موسیٰ کاظم ـ فرماتے ہیں: ''بچے اپنے والدین کی خوبیوںاور صلاحیتوں سے محفوظ ہوتے ہیں ''۔(٤)

____________________

١۔ اولئک الذین ھدی اللہ فبھد یھم اقتدہ، سورئہ انعام، آیت ٩٠۔ ٢۔ سورئہ احزاب، آیت، ٢١۔٣۔ یرفع لی کل یوم علما من اخلاقہ و یامرنی با لاقتداء بہ ؛نہج البلاغہ، خ ١٩٢۔

٤۔ یحفظ الاطفال بصلاح آبائھم، بحار الانوار ج ٥، ص ١٧٨۔


نمونہ سازی کے طریقہ سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں قرآن کریم نے کم از کم دو اخلاقی اور تربیتی نکتوں کی طرف توجہ دلائی ہے ؛ اول یہ کہ اس نے محبوب اور پسندیدہ افراد کو کلی طور پر نیز عام عنوان سے بیان کیا ہے، جیسے: تائبین، متطہّرین،متّقین، صالحین، صابرین، محسنین اور مجاہدین وغیرہ اور کبھی خاص طور سے اور نا م کے ساتھ (پیغمبروں سے متعلق) بیان کیا ہے، لیکن قابل نفرت ومذمّت افراد کا ذکر قرآن میں استثنائی موارد (جیسے ابو لہب) کے علاوہ کلی عناوین کے تحت ہوا ہے، جیسے: تجاوز کرنے والے، اسراف کرنے والے، خود پسند افراد، کفار، ظالمین اور متکبرین وغیرہ۔ اس وجہ سے ہم کو بھی چاہیے کہ قرآن کریم کی پیروی کرتے ہوئے اسی روش کا انتخاب کریں کہ اخلاقی فضائل کی شناخت کرانے میں کلی عناوین بھی اور صاحبان فضائل کے اسماء بھی بیان کریں، منفی مقامات پر اشخاص کے نام بیان کرنے سے اجتناب کریں۔

دوسرے نمونوں کا انتخاب کرنا ہے، قرآن کریم ایک ساتھ محبوب اور منفور افراد کا ذکر کرکے انسانی سماج کو علم وآگہی کے ساتھ اپنے منظور نظر نمونوں کے انتخاب کی دعوت دیتا ہے، حتیٰ کہ گذشتہ آباء اجداد کے سلسلہ میں بھی آگاہ کرتا ہے کہ بغیر علم و آگہی کے ان کی اندھی تقلید کرکے اپنی زندگی تباہ و برباد نہ کریں۔ انہوں نے کہا: ''ہم نے آباو اجداد کو ایک آئین پر پایا ہے لہٰذا ہم بھی انھیںکا اتباع کرتے ہیں ' اس (پیغمبر) نے کہا ''خواہ جس پر تم نے اپنے آباء واجداد کو پایا ہے اس سے زیادہ ہدایت کرنے والا بھی تمہارے لئے لے آؤں تب بھی ایسا کرو گے''؟(١) اس وجہ سے ہم پر لازم ہے کہ انسانوں کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے نیز مطلوب نمونوں اور معیاروں کا تعارف کراتے ہوئے تربیت پانے والوں کے لئے آگاہانہ انتخاب کی راہ فراہم کریں۔

ج۔ما حول کوصحیح و سالم رکھنا:

برے اور شر پسند افراد ہر ماحو ل اور سماج میںعام طور پر پائے جاتے ہیں۔ بیشک فاسد اور برے ماحول اخلاقی تربیت کے معاملہ کو دشوار بلکہ بعض اوقات نا ممکن بنا دیتا ہے، اس وجہ سے ماحول کو صحیح وسالم رکھنا کہ جو تقریبا ً امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کے زندہ کرنے کے مساوی فریضہ ہے،سب کے لئے ایک عقلی، انسانی نیز دینی فریضہ ہے۔ اس طرز اور شیوہ سے مراد معاشرے کے تمام افراد کے اندر خوبیوں کی ایجاد اور ان کا احیاء کرنا ہے اور برے امور کو ختم کرنا ہے۔ درج ذیل نکات امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت اور ان کے پہلوئوں کو کہ جو دراصل معاشرہ میں اخلاقی تربیت کو آسان کرنے والے ہیں، زیادہ واضح کرتے ہیں۔

____________________

١۔ سورئہ زخرف، آیت ٢٣، ٢٤۔


١۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس نکتہ کو واضح انداز میں اپنے دامن میں رکھتا ہے کہ دعوت ایک شناختہ شدہ شرعی اور عقلی معیار پر ہونی چاہیے۔(١) اس وجہ سے جب بھی بات شرعی واجب یا حرام کی ہوتو چاہیے کہ اس کی ثقافتی پشت پناہی ایجاد کی جائے ا ورایک معروف یامنکر کے عنوان سے اکثر لوگوں کے نزدیک متعار ف ہو۔ ایسے حالات میں امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کو عام مقبولیت حاصل ہو گی۔ بعبارت دیگر امر با لمعروف کی دشواری اور کلی طور پر اس کاقبول نہ ہونے میں مشکل نہیں ہے بلکہ مشکل ان خاص موارد اور مصادیق میں ہے کہ جن کا معروف یا منکر ہونا کافی حد تک مستدل طور سے لوگوں کے لئے واضح نہیں کیاگیا ہے۔

٢۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سب کا فریضہ ہے، لیکن امر و نہی کرنے والے خاص شرائط کے حامل ہوں، منجملہ ان کے امر و نہی کے شرائط کی شناخت(٢) نیز خود معروف اور منکر کی پہچان ضروری ہے، اس کے علاوہ یا د دہانی اور بیان کا طریقہ اس طرح ہو کہ زیادہ سے زیادہ تاثیر کی امید ہو۔

٣۔ امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کے موارد کو وسیع ہونا چاہئے اور خاص مصادیق میں کہ جو اس وقت سماج اور معاشرہ میں زیادہ رایج اور شائع ہے (جیسے بے حجابی) میں محصور نہ ہو۔ اخلاق کے خلاف اعمال جیسے رشوت لینا، تہمت لگانا، غیبت کرنا اور بد گوئی وغیرہ ایک عام ثقافت اور تہذیب کی صورت میں معیّن شدہ نصائح اور نہی عن المنکر کا مورد واقع ہوں، تاکہ مثال کے طور پر بے حجاب یہ خیال نہ کریں کہ نہی عن المنکر ہمیشہ انہیں کے بارے میں ہے۔

د۔ موقعیت کا تبدیل کرنا:

کسی ماحول کے حالات کی قوّت اور اس کی اثر گذاری اس حد تک ہوتی ہے کہ صرف موقعیت اور حالات کے تبدیل کرنے سے اخلاقی تربیت حاصل ہوپاتی ہے۔ اگر چہ ماحول کی تبدیلی بہت زیادہ مالی اخرجات اور نفسیاتی بوجھ کی حامل ہوتی اخراجات ہے، ایک سا ز گار تربیتی ماحول ایجاد کرنے کے لئے آخری طرز کے عنوان سے ضروری ہے۔ ''ہجرت'' منجملہ ان دستورات میں سے ہے کہ جس کی دین میں تاکید ہوئی ہے اور کبھی واجب حد تک پہونچ جاتی ہے۔ قرآن مجید کے بقول جب فرشتے کچھ لوگوں کی روح قبض کرنے آتے ہیں تووہ لوگ ماحول کے ناموافق ہونے کو اپنا عذر بیان کرتے ہیں، لیکن فرشتے کہتے ہیں ''.... کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ....''۔(٣)

____________________

١۔'' المعروف'' اسم لکل فعل یعرف بالعقل او الشرع حسنہ والمنکر ما ینکر ھما (المفردات ) معروف ہر اس فعل کو کہتے ہیں جسے عقل یا شرع کے ذریعہ نیک جانا جائے اور منکر ہر اس فعل کو کہتے ہیں جسے عقل یا شرع ناپسند کریں۔ ٢۔ سورئہ توبہ، آیت ٧١ اور ملاحظہ ہو: المیزان، ج ٣ ، ص ٣٧٣۔

٣۔ الم تکن ارض اللہ واسعة فتھاجروا فیھا۔۔۔ سورئہ نسا ئ، آیت ٩٧۔


جو انسان ایسے گھر یا محلہ میں زندگی بسر کرتا ہے کہ وہاں کے رہنے والے اپنی یا اپنی اولاد کی شائستہ تربیت کے لئے موافق اور ساز گار ماحول نہیں رکھتے وہ اسی طریقہ سے استفادہ کرتے ہوئے جدید امکانات کو اپنے اہل وعیال اور خاندان کے افراد کے رشد و تغیرّ کے لئے فراہم کرسکتا ہے۔ اپنے یا اپنے اقرباء کے نا پسند ناموں کا تبدیل کرنا بھی اس خاص نفسیاتی ماحول کو نظر میں رکھتے ہوئے جو اسی سے پیدا ہوتا ہے تغییر موقعیت کے موارد میں شمار ہوتا ہے۔(١) ایسی نشست جس میں اخلاق کے خلاف اعمال کی روک تھام نہ ہوسکے اسے ترک کردینا چاہیے: ''مجرمین کے بارے میں وہ سوال کررہے ہوں گے: کس چیز نے تمہیں جہنم کی آگ میں جھونک دیا؟ وہ کہیں گے: ہم لوگوں کے برے کاموں میں شامل ہوجایا کرتے تھے۔(٢)

اسلام ایک مسلمان کے روزانہ کے معمول کی تعیین میں اسی طر یقہ اور روش سے مدد لیتا ہے اور اسے مذہبی مراکز جیسے مساجد میں مسلسل حاضر ہونے کی دعوت دیتا ہے یہ اسے خود ہی ایک قسم کی تغییر موقعیت ہے اگر چہ ہجرت شمار نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ ایک قسم کی اخلاقی تازگی اورشادابی انسان کو عطا کرتی ہے اور اسے ایک ہی طرح کے ماحول سے اور بسا اوقات روزانہ کے نا مساعد اور غیرموافق ماحول سے جدا کردیتی ہے۔

٢۔ ضرورتوں کو صحیح طریقہ سے پورا کرنا

ضرورتو ںکو صحیح طریقہ سے پورا کرنے سے مراد یہ ہے کہ ضروریات زندگی کو ایک متعادل حد تک اخلاقی تربیت دینے اور بالاتر ضرورتوں کی تکمیل کرنے سے پہلے پورا کیا جائے۔ سبب اور محّرک کے ا ثر کے پیش نظر جو کہ عمل کے اصول ومبادی میں سے ایک ہے، جب تک کہ انسان بھوک کے زیراثر یاجنسی میلان کے تحت تاثیر ہے یا کم از کم اپنی زندگی کیلئے کوئی پناہ گا ہ نہیں رکھتا، ایسا انسان اخلاق کی بلندیوں کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا۔

اسلامی تعلیمات میں یہ نکتہ مورد توجہ واقع ہوا ہے، سورئہ ''قریش '' میں خدا وند سبحان کی عبادت کی دعوت کا ذکر ان کی خوراک فراہم کرنے اور امنیت کے ذکر کے بعدہوتی ہے: '' لہٰذا انھیں چا ہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، وہی ذات کہ جس نے انھیںبھوک سے نجات دی اورنا امنی سے انھیںرہائی دلائی''۔ ''فلیعبدو ا رب ھذا البیت الذی اطعمھم من جوع وآمنھم من خوف''۔(٣ )

____________________

(١) ان رسول ا للّہ کان یغےّرا لاسماء القبیحة فی الرجال والبلدان، وسائل الشیعہ، ج ١٥، ص ١٢٤۔

(٢)یتسائَ لون عن المجرمین ما سلککم فی سقر قالوا و کنا نخوض مع الخائضین ، سورئہ مدثر، آیت ٤٠ تا٤٥ ۔

(٣) سورہ ٔقریش، آیت ٣، ٤۔


مندرجہ ذیل آیات میں غور خوص کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی صفات، تقویٰ، شکر، اور عمل صالح وغیرہ انسان کی اوّلین ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد ذکر ہوئے ہیں:و کلوا مما رزقکم الله حلالاً طیبا واتقو الله ۔۔۔(١) ۔ اور جو کچھ خدا نے تمہیں حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھائو اور خدا سے درتے رہو....۔ ''یا ایا الذین آ منوا کلوا من طیبات ما رزقناکم واشکرو الله ۔۔ اے ایمان لانے والوں! جو ہم نے تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اس میں سے کھائو اور خدا کا شکر ادا کرو....۔(٢) ''یاایھا الرسل کلو ا من الطیبات و اعملوا صالحا۔۔۔'' اے میرے رسولو! تم پاکیزہ غذائیں کھائو اور نیک عمل انجام دو.....۔(٣) پیغمبر اکرم نے حدیث ایک شریف میں زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے اثر کے سلسلہ میں اس سے بلند تر ضرورتوں پر نظرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: '' اگر روٹی نہ ہوتی توہم نماز نہیں پڑھتے، روزہ نہیں رکھتے اور پروردگار کے واجبات کو ادا نہیں کرسکتے تھے ''۔(٤) اور دوسری جگہ پر فرماتے ہیں: ''قریب ہے کہ فخرو نا داری کفر و ناشکری کا سبب بن جائے '' ۔(٥) پیغمبر اکرم اور ائمہ طاہرین (ع) کی سیرت میں بھی ہم ملاحظہ کرتے ہیں آپ حضرات عملی طور پر محرومین کی طرف توجہ دیتے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے، شب کے سناٹے اور سردی اور گرمی کے موسم میں بھی ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے(٦) اور یہی بات انوارہدایت کے درک کرنے کے مقدمات ان کے لئے فراہم کرتی تھی۔ حتی کہ دشمنوں سے ملاقات کے موقع پر بھی صلاح وہدایت کی دعوت سے پہلے ان کی معاشی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔

____________________

١۔ سورہ ٔما ئدہ، آیت ٨٨۔

٢۔سورہ ٔبقرہ ، آیت ١٧٢۔

٣۔ سورئہ مومنون، آیت ٥١۔

٤۔فلو لا الخبز ما صلینا ولا صمنا ولا ادینا فرائض ربنا عز وجل ۔ کا فی ،ج ٦، ص ٢٨٧۔

٥۔کاد الفقر ان یکون کفرا، کا فی، ج ٥، ص ٣ ٧۔

٦۔ الحیاة، ج ٣، ص ٢٣٢تا ٢٣٤ ملاحظہ ہو۔


حضرت امام حسن ـکی سیرت نادان مخالفین کے ساتھ یہی انسانی روش اور سیرت تھی:

ایک شامی نے معاویہ کے ورغلانے پر ایک دن امام حسن کو گالی دی، امام نے اس سے کچھ نہیں کہا یہاں تک کہ خاموش ہو گیا، اس وقت آپ نے شیریں مسکراہٹ کے ساتھ اس کو سلام کیا اور فرمایا: '' بوڑھے آدمی! فکر کرتا ہوں کہ تو ایک پردیسی ہے اور خیال کرتا ہوں کہ تو راستہ بھول گیا ہے اگر مجھ سے رضایت طلب کرے گا تو تجھے رضایت دوں گا اور اگر کچھ ہم سے طلب کرے گا اور راہنمائی چاہے گا تو تیری راہنمائی کروں گا اور اگرتیرے دوش پر کوئی بوجھ ہے تو اسے اٹھا لوں گا اور اگر بھوکا ہے تو شکم سیر کردوںگا اور اگر محتاج ہے تو تیری ضرورت پوری کردوں گا، (خلاصہ ) جو کا م بھی ہو گا اسے انجام دیدوںگا اور اگر میرے پاس آئے گا تو بہت آرام سے رہے گا کہ مہمان نوازی کے ہر طرح کے وسائل و اسباب میرے پاس فراہم ہیں''۔

وہ شامی شرمندہ ہوگیا اور رو کر کہنے لگا: ''میں گواہی دیتا ہوں کہ روئے زمین پر آپ خدا کے جانشین ہیں، خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے۔ آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک مبغوض ترین انسان تھے لیکن اب آپ سب سے زیادہ محبوب ہیں ''بوڑھا آدمی اس دن امام حسن ـ کا مہمان ہوا اور جب وہاں سے گیاتو حضرت کی دوستی کا دم بھر نے لگا۔(١)

آبراھام مزلو ہیومینسٹ ماہر نفسیات نے آدمی کے اغراض واسباب کی طبقہ بندی کے لئے جدید طریقہ پیش کیا ہے، اس نے ضرورتوں کے ترتیب و ار سلسلہ کو پیش کیا کہ جو زندگی کی اساسی ضرورتوں سے شروع ہو تا ہے اور اس سے بالا تر سطحوں میں نفسیاتی اغراض واسباب تک پہونچ جاتا ہے وہ کہتا ہے: ''..... انسان کی با مقصد حیات میں تنظیم کی اہم اصل اساسی ضرورتوں کی ترتیب اولویت کے مراتب کے سلسلہ کی صورت میں کمتر یا بیشتر غلبہ کی قدرت کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ اہم محرّک جو اس تنظیم کا باعث ہوتی ہے وہ ضعیف تر ضرورتوں کا پیدا ہونا ہے جو کہ قوی تر ضرورتوںکو پورا کرنے سے ایک سالم انسان میں پائی جاتی ہے۔ جب بھی ضرورت زندگی پوری نہیں ہوتی، جسم پر غلبہ پا جاتی ہے اور تمام استعداد اور صلاحیتوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے اور ان صلاحیتوںکو اس طرح منظّم کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان سے استفادہ کرسکے۔ نسبی رضا مندی ان

____________________

١۔ بحار الانوار، ج، ٣ ٤، ص ٣٤٤۔


ضرورتوں کو محو کردیتی ہے اور بعدکے سلسلہ میں مراتب کی ضرورتوں سے بلند مجموعہ کو موقع دیتی ہے کہ وہ ظاہر ہوں، شخصیت پر غلبہ پاکر انھیںمنظّم کریں اس طرح کہ، بھوک کا درد اٹھانے کے بجائے امن و سلامتی کے لئے پریشان ہو۔ یہ اصل سلسلہ مراتب میں ضرورتوں کے دوسرے مجموعوں یعنی محبت، احترام اور خود آگے بڑھنے اور ترقی کرنے پر بھی صادق ہے۔(١)

اسی وجہ سے محتاج سماج اوراجتماع میں علمی، ہنری اور اخلاقی تخلیق کم وجود میں آتی ہے۔

مزلوکا نظریہ ہے کہ سالم افراد بلند ضرورتوں کی طرف رخ کرتے ہیں، یعنی اپنی با لقوة استعدادوں کے عمل ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور آس پاس کی دنیا کو پہچاننا چاہتے ہیں۔ مقصد، بے نیاز کرنا، تجربہ حیات کی توسیع، سرور و شادمانی کا اضافہ اور زندہ ہونے کی تحریک ہے.... نیک اخلاقی صفات جن کو و ہ'' وجود میں اقدار ''سے تعبیر کرتا ہے اس موقعیت کی طرف رخ کرتے ہیں۔ بعض ہستی کی قدریں اس کی نظر میں یہ ہیں: حقیقت (بے اعتمادی بد گمانی اور تشکیک کے مقابل)، نیکی (نفرت کے مقابل)، کمال (ناامیدی اور بے معنی ہونے کے مقابل)، یکتائی (بے ثباتی کے مقابل)، نظم (عدم امنیت واحتیاط کے احساس کے مقابل )، خود کفائی ( ذمہ داری کو دوسروں کے حوالے کرنے کے مقابل )(٢) ۔

یہ نظریہ کہ انسان کمتر ضرورتوں کی طرف توجہ کئے بغیر یا ایک حد تک ان کی تکمیل، انسانی فضائل کی طرف قدم نہیں اٹھاتا، یہ سماج کے اکثر افراد کے بارے میں صادق آتا ہے۔

دو نکتوں کی طرف توجہ دیتے ہو ئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ '' ضرورتوں کو صحیح طور سے پورا کرنے کی روش ''اس بات کے علاوہ کہ دوسری روشوں کا مقدمہ ہے، خود اسے بھی ایک اخلاقی تربیت کی روش کے عنوان سے پیش کیا جاسکتا ہے۔پہلے یہ کہ ادنی ضرورتوںکو پورا کرنے سے بلند ترین ضرورتیں پیدا ہو تی ہیں، یعنی علّت وسبب کا جنبہ پیدا کرتی ہیں۔ عمل کے علّی اور سببی جنبہ کا وجود تر بیت اخلاقی کے ایک اہم حصہ کو منظّم کرتا ہے۔

____________________

١۔ انگیزش و ہیجان، ص ١٠١۔


٢۔ اپنی جلوہ نمائی تحقق نفس تک ر سائی اور بالقوة توانائی کے لئے ذوقی تقارن خوبصورتی اور نظم تعارف، جاننا، سمجھنا، تلا ش کرنا، سنجیدگی، عزت نفس، کفایت، اجراء اور اصول تعلق و محبت کی ضرورت غیر سے وابستہ ہونا، سا لمیت کی ضرورت کی مقبولیت، امنیت کا احسا س اور خطرے سے دوری فیز یولوژیائی ضرورتیں، گرسنگی، تشنگی اور جنسی خواہشروانشناسی کمال، ص ١٢٥۔

دوسرے یہ کہ اس سے توانائیوں کو تخلیہ اورباطنی قوتوں کے اعتدال کے لئے آمادگی حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ علماء اخلاق کے اخلاقی نظام میں ذکر ہوا ہے یہ نکتہ نہایت قابل توجہ اور اہمیت کا حامل ہے کہ سہ گانہ قوتیں شہوت، غضب، اور عقل، عدالت اور اعتدل کے سایہ میں ایک دوسرے کے ساتھ اکھٹا ہو جائیں۔ یہ رویہ یعنی اعتدال قوتوں کے استعمال کرنے میں تربیت اخلاقی کی ترقی میں ایک نا گزیر امر ہے۔

سید قطب الدین لکھتے ہیں: انسان کی تربیت کے لئے اسلام کے اسباب و وسائل میں ان ذمہ دارریوں سے چھٹکارا دلانا ہے جو کبھی کبھی جسم و جان میں اکھٹا ہوتی ہیں اسلام ان باروں اور ذمہ داریوں کو اکھٹا جمع نہیں کرتا مگر یہ کہ انھیں چھوڑنے کے لئے


یکبارگی جمع کرے۔(١)

اس روش کے محقق ہونے کے لئے لازم طریقے یہ ہیں: معاشی نظام کی جانب توجہ، ازدواج، ورزش اور کام کاج ۔

الف ۔معاشی نظام کی طرف توجہ:

بہت سے اخلاقی جرائم کی بنیاد مال اور خوراک اور غذا کی کمی ہے۔ پہلے مرحلہ میں معاش کی فراہمی خانوادہ کے ذمہ ہے دوسرے مرحلہ میں حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے نیز اس نظام کے ذمہ ہے جو سماج پر حکومت کررہا ہے اور تیسرے مرحلہ میں نیکو کا راور قدرت مند افراد کے ذمہ ہے۔ بہر صورت تربیت کرنے والوں کی تگ و دو اس مسئلہ کی نسبت تربیتی نقطہ نظر سے تربیت اخلاقی میں بہت سے موانع کو دور کرنے والی ہے۔

ب۔ ازدواج:

ازدواج کے تربیتی اور اخلاقی فوائد (جیسے خود خواہی و خود غرض سے دور ہونا، دوسروں کی خدمت کے لئے آمادگی اور ان کی طرف توجہ، عواطف و جذبات کا بار آور ہونا، محبتوں کا ثمر دینا اور ذمہ داری قبول کرنے کے لئے آمادگی وغیرہ وغیرہ ) کے علاوہ ازدواج کا اہم اور ابتدائی کردار غریزہ جنسی کی ضرورت کو فطری اور شرعی طریقہ سے صحیح طور پر پورا کرنا۔ اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ ایسا جوان جس کا غریزہ جنسی شباب پر ہے اور ماحول کے بہت سے محرک بھی اس کے اندر اور زیادہ اس آگ کو بھڑکا رہے ہیں، وہ جوان سختی سے خود کو گناہ سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔(٢) پیغمبر نے فرمایا ہے : '' جب کوئی انسان شادی کرتا ہے تو اس کا نصف دین کامل ہو جاتا ہے لہٰذا بقیہ نصف کے سلسلہ میں اسے تقویٰ اختیار کرنا

____________________

١۔ روش تربیتی در اسلام، ص ٢٨٢۔

٢۔ مراد یہ ہے کہ جنسی غریزہ جوانوں کو زیادہ مشکلات سے دو چار کرتا ہے، نہ یہ کہ کلی طور پر تربیت اور اصلاح کا راستہ ہی بند کردے ۔


چاہئے''۔(١) پیغمبر کے اس حکیمانہ ارشاد سے یہ نکتہ بھی قا بل استفادہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ ا ور اخلاقی ورع، شادی کے بعد زیادہ آسان اور قابل حصول ہے۔

ج۔ورزش:

جسمانی ضرورتوں کو صحیح طور پر پوراکرنے میں اور جوانی کی قوتوں کی جلاء میں ورزش کا کردار قابل انکار نہیں ہے۔ اخلاقی تربیت میں ورزش کا کردار دو جہت سے قابل اہمیت ہے:

اول۔وہ جسمانی سلامتی اور فرحت کہ جو ورزش سے پیدا ہوتی ہے، روحی، ذہنی اور نفسیاتی سلامتی نیز اخلاقی فضائل کے لئے مقدمہ ہوتی ہے۔ ہماری تہذیب اور ثقافت میں قوت اورجوانمردی ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہی ہیں۔ ورزش اخلاقی توجیہ نبی اور ائمہ (ع) کی سیرت میںآتی ہے ۔ پیغمبر اکرم ایسے مردوں سے ملاقات کے وقت جو زور آزمائی کے لئے وزن اٹھا رہے تھے، فرماتے ہیں: ''لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر وہ انسان ہے جو خواہشات نفس پر غالب ہو''۔(٢) امیر المومنین ـ دعائے کمیل میں خدا سے جسمانی قویٰ کی تقویت کی درخواست خدمت الٰہی کے لئے کرتے ہیں،یارب.... قو علی خدمتک علی جوارحی ۔ اس کے مقابل کمزور اور پست افراد تربیت کے خلاف امور انجام دیتے ہیں۔دوسری جہت ۔ ضرورتوں سے توجہ ہٹانا ہے، بالخصوص جوانی کے زمانہ میں جنسی ضرورتیںاپنی تکمیل کا تقاضہ کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں کہ ابھی جائز اور مشروع طریقہ سے صحیح طور پر جنسی خواہشات کی تکمیل کے امکانات فراہم نہیں ہوئے ہیں، ورزش ضرورتوں سے توجہ ہٹانے کا ایک مفید اور اہم ذریعہ ہے۔

د۔ کام:

کام کاج کے مسئلہ کو '' معاشی نظام کی طرف تو جہ '' کی بحث میں ذکر کیا جاسکتا ہے، لیکن چونکہ اس کا اسلام میں ایک خاص مرتبہ ہے، اور استاد مطہری کے بقول: کام اسلام میں ایک مقدس اور پاکیزہ شے ہے،(٣) نیز بہت سے تربیتی جہات اس میں پائے جاتے ہیں، لہٰذا ہم نے اسے جدا گانہ طور پر ذکر کیا ہے، ایک طرف کام صحیح طور پر قوتوں کی جلاء اور اضافی بار کے تخلیہ کاموجب ہوتا ہے اور دوسری طرف شخصیت کے احساس، ذہنی علاج، تمرکز خیال، ضرورتوں سے توجہ ہٹانے کا باعث ہوتا ہے، کہ یہ سب اخلاقی تربیت کے لئے معاون وسیلہ ہیں۔(۴)

____________________

١۔ اذا تزوج العبد فقد استکمل نصف الدین فلیتق اللہ فی نصف الباقی ۔ بحا ر الانوار، ج ٣ ١٠، ص ٢١٩۔''من تزوج فقد احرز نصف دینہ ، فلیتق اللہ فی النصف الباق''۔بحار الانوار ،ج١٠٣، ص٢١٩۔٢۔ اشجع الناس من غا لب ھواہ۔ میزان الحکمة، ج ١٠، ص ٣٨٧۔٣۔ تعلیم وتربیت در اسلام، ص ٤١١۔۴ ۔ ان جملوں کی طرف توجہ دینا مذکورہ بالا مطلب کی تائید میں موثر ہے: سقراط: ''دیانت کے بعد کام نیک بختی اور سعادت کا سرمایہ ہے''۔ پاسکال: '' تما م فکری اور اخلاقی برائیوں کی جڑ بے کاری ہے جو ملک بھی اس عظیم عیب کو بر طرف کرنا چاہتا ہے اسے لوگوں کو کام پر آمادہ کرنا چائیے تاکہ اس سے روحی سکون کہ جس سے معدودے چند افراد آگاہ ہیں، حاصل ہو ''۔ ساموئل اسمایلز: '' دیانت کے بعد انسان کی تربیت کے لئے کام سے بہتر کوئی مدرسہ تعمیر نہیں کیا گیا ہے ''۔ بحوالۂ تعلیم و تربیت در اسلام، ص ٤٣٠۔


٣۔ ا حترام شخصیت کے طریقے

اخلاق اسلامی کی اساسی بنیاد انسان کا اپنی ذاتی کرامت اور شرافت کی طرف توجہ دینا ہے: ''یقینا ً ہم نے اولاد آدم کو کرامت سے نوازا ( انھیں عزت عطا کی ) ...اور انھیں اپنی بہت سی مخلوقات پر واضح فوقیت و برتری عطا کی۔(۱)

خود آگاہی اور اس بات کی طرف توجہ کہ انسان ایک بلند وبر ترمخلوق ہے اور اپنے اندر بے مثال اور قیمتی گوہر رکھتا ہے یہ بات اس کو (حبّ ذات کی بناپر) اپنی ذاتی کرامت کی حفاظت وپاسداری کے لئے دعوت دیتی ہے اور اخلاق کی بلند قدروں کی طرف کھینچتا ہے: ''اکرم نفسک عن کل دنےة و ان ساقتک الیٰ الرغائب فانک لن تعتاض بما تبذل من نفسک عوضا ً''(۲) اپنے نفس کو ہر طرح کی پستی سے پاکیزہ رکھو ! چاہے وہ پستی پسندیدہ اشیاء تک پہونچا ہی کیوں نہ دے کیونکہ جو اپنی عزّت نفس تم دوگے اس کی قیمت اور عوض تمہیں کبھی مل نہیں سکتا۔

'' انسان کی حقیقت'' چونکہ آسمانی قداست و پا کیزگی کی حامل ہے اور وہ علم، قدرت اور آزادی کے چشمہ سے سیراب ہوا ہے لہٰذا وہ جھوٹ، باطل، طبیعت کی اسیری، گراوٹ اور پستی و ذلت و شہوت اور جہل میں ہاتھ پاؤں مارنے کے مخالف ہے اسی وجہ سے ہوشیار انسان ہرطرح کے اخلاقی ر ذائل سے کہ جو اس کی عزت اور غیرت

____________________

۱۔لقد کرمنا بنی آدم...... و فضلناهم علی کثیرممن خلقنا تفضیلا ۔ سورئہ اسرائ، آیت ٧٠۔

۲ نہج البلاغہ، مکتوب ٣١۔


سے منافات رکھتے ہیں، بیزار ہوتا ہے۔(١) اس کے مقابل ایک ایسا انسان جو ذلّت، پستی اور فرومایہ ہونے کا احساس کرے اور اپنے اندر پائی جانے والی عظیم شرافت پر یقین نہ رکھے، وہ ہر طرح کے نا پسند اخلاقی افعال کے ارتکاب سے بے پرواہ ہوتا ہے:اللئیم لا یستحی، اللئیم اذا قدر ا فحش واذا وعد اخلف، اللئیم لا یرجیٰ خیره ولا یسلم من شره ولا تؤمن غوائله، اللئیم مضاد لسائر الفضا ئل و جامع لجمیع الرذائل ۔( ٢) کمینہ شخص شرم نہیں کرتا، کمینہ جب قدرت پاتا ہے برائی کرتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے، کمینہ سے خیر کی امید نہیں کی جا سکتی اور اس کے شر سے محفوظ نہیں رہا جا سکتا اور اس کے فسادوں سے بے خوف نہیں رہا جا سکتا، کمینہ تمام فضائل کا مخالف اور تمام رذائل کا حامل ہوتا ہے۔ من ھانت علیہ نفسہ فلا تامن شرہ۔(٣) جو انسان خود کو بے حیثیت سمجھتا ہو اس کے شر سے بے خوف نہ رہو۔

اس مطلب کی وضاحت نفسیاتی اعتبار سے خود انسان کے خیال واعتقاد سے ہماہنگ ہونا یا نہ ہونا ہے: اگر میں بے رحمانہ اور احمقانہ عمل کا مرتکب ہوں تو میری عزت نفس ملامت کا شکار ہوجائے گی۔ کیونکہ وہ عمل میرے ذہن کو اس امکان کی طرف متوجہ کرے گا کہ میں ایک بیوقوف اور ظالم انسان ہوں۔ سینکڑوں آزمائش کے درمیان کے عدم موافقت کے نظریہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ واضح ترین نتائج ایسے حالات میں حاصل ہوئے ہیں جو انسان کی عزت نفس سے مربوط ہیں، کیونکہ جس طرح امید کی جاتی ہے کہ جو افراد زیادہ عزت نفس کے مالک ہیں، اگر ان سے بے رحمانہ اور احمقانہ رفتار سرزد ہو جائے تو دوسروں سے زیادہ نا موافقت کا احساس کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی انسان معمولی عزت نفس رکھتا ہو تو کیا پیش آسکتا ہے؟ اگر ایسا انسان غیر اخلاقی اور احمقانہ عمل کا ارتکاب کرے تو زیادہ ناموافقت کا احساس نہیں کرے گا ...دوسری طرف وہ انسان جوزیادہ عزت نفس کا مالک ہے، غالباً وہ ایک برے عمل کے ارتکاب کے وسوسہ کے مقابل مقاومت کرتا ہے، اس لئے کہ بے برے کام اس کے اندر زیادہ سے زیادہ نا موافقت ایجاد کردیتا ہے۔(٤)

____________________

١۔ الصدق عزّ والکذب عجز، سچ عزت (کا سبب) ہے کتاریخ یعقوبی، ج ٢، ص ٢٤٦ ؛ الغیبة جھد العاجز، مازنی غیور قط،غیبت عاجز کی کوشش ہے، کسی غیرتمند نے کبھی زنا نہیں کیا ( نہج البلاغہ، ح ٢٩٧ ) ؛ الکذب والخیانة لیسا من اخلاق الکرام، جھوٹ اور خیانت اچھے اخلاق سے نہیں ہیں (غرر) وموت فی عز خیر من حیاة فی ذل ،عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر، (بحار الانوار، ج٤٤، ص ١٩٢)

٢۔ غرر الحکم، تیسری فصل، ص ٢٦٠۔

٣۔ بحار الانوار، ج ١٧، ص ٢١٤۔

٤۔ روانشناسی اجتماعی، ترجمہ شکرکن، ص ١٥٠ ، ١٥١ ۔


اس وجہ سے اخلاقی تربیت کی ایک روش شخصیت کااحترام ہے یعنی ایسے امور کا انجام دینا کہ جن سے خود کو یقین ہو یا جس کی تربیت کی جارہی ہے اس کو اپنی قدروقیمت کا یقین حاصل ہو۔ ایڈلر، A ، y.adler جوکہ ایک فردی نفسیات کاموجد ہے اس نے احساس کمتری کو اپنے نظریہ کی اساس قرار دی ہے اور اسے علت اور تمام غیر معمولی رفتار کی علت اور سر چشمہ سمجھتا ہے۔احساس کمتری رنگین دھاگہ کے مانندجو نفسیاتی اختلال کے تمام حالات میں کھنچا ہواہے۔ ایک غصہ وریا بے صلاحیت بچہ سن رسیدہ ہوکر بھی نفسیاتی تعادل کی قوت نہیں رکھتا ہے۔ نفسیاتی مریض، مجرمین، جنسی منحرفین اور روحی بیمار سباپنی نا رسائی اور ضعف کے احساس کا رنج و الم برداشت کرتے ہیں۔ اور مسلسل شک وتردید اور گمراہی میں زندگی بسرکرتے ہیں اورایک معتمد ومستحکم مرکزتلاش کرتے ہیں...احساس کمتری طبیعی ارتقا کے لئے رکاوٹ بنتاہے(١) اور یہ اس وقت ہوتاہے کہ بچہ مکمل اس احساس میںغوطہ لگاتا ہے اور لاحاصل ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود خود کواس حالت سے نجات دینا چاہتا ہے، اس حالت میںبد گمانی اور وحشت احساس کمتری کی راہ کوکھول دیتی ہے اور بچہ نفسیاتی اختلال کا شکار ہوجاتا ہے، اس موقع پر ذہنی ونفسیاتی حرکت، سکو ن اور سکوت کا شکار ہوجاتی ہے ، اس معنی میں کہ بچہ پھر اپنے ضعف اور نقائص کو دور کرنے پر قادر نہیں ہوتاہے، ناچار اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں رکھتا کہ خیالی تعادل بخشنے(جھوٹی تلافی) سے خود کو ماحول کے حوالے کردے۔(٢)

احساس کہتر نامی کتاب میں، ایڈلر کے نظریہ کی توضیح کے سلسلہ میں جو احساس کمتری سے پیدا شدہ زندگی کی روش کی اس طرح منظر کشی کرتے ہیں: احساس کمتری درجہ کیفیت اور سب سے پہلے نتیجہ کے اعتبار سے جو اس سے تجربے کے ضمن میں حاصل ہوتا ہے، انسان کے طرز زندگی کی تعیین کرتی ہے۔ یہاں پر تین اساسی ساز وسامان اور اس کے بعد تین طرز زندگی کو مشخص کیا جاسکتاہے ، طبیعی جبران کا سازو سامان، گریز وناامیدی کا ساز و سامان اور خیالی جبران کاساز وسامان۔

١۔ طبیعی تلافی:

یہ تلافی ایک نتیجہ خیز اساسی روش کے پایہ پر استوار ہے کہ جو نفسیاتی محوروں کی واقعی تعیین کرتا ہے، مثال کے طور پر ایک حادثہ کا شکار انسان کہ جو جسمی اور عضوی نقص رکھتا ہے، اسے صحیح کرنے یا مرکزی اعصبابی مشین اور دیگر اعضاء کے وسیلہ سے اسی ایک تلافی کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے۔

____________________

١۔ ایڈلر: روانشناسی فردی، ترجمہ حسن زمانی، ص ٥٩۔

٢۔ ایضاً، ص٥٧۔


٢۔ گریز اور ناامیدی:

واقعیت سے فرار کرنے کے علاج یا نا کامی اور محرومیت کے ظاہر ہونے کے علاج کا ساز وسامان ایسے موارد میں استعمال ہوتاہے کہ جب طبیعی تلافی ممکن نہیں ہوتی ہے یا اس کے لئے راہ بند ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میںانسان اپنے آپ کوناتوانی اور شکست دوچار سمجھتاہے، اپنی نسبت شک کرتا ہے اور اس کے اندر قوت وجرأت کی کمی محسوس ہوتی ہے، اس وقت وہ متعدد اور پے درپے شکستوں اپنے آپ کو پاتا ہے اور ناکامی کی وادی میں پے در پے غوطہ لگاتا رہتاہے، اور یہی شکستیں اس کے پہلے احساسات کو تقویت بخشتی ہیں ایسے موارد میں زندگی کا نقشہ مسئولیت اور ذمہ داری سے گریز اور ہر قسم کی سعی و کوشش سے لاشعوری کے طور پردوری کری بنیاد کھنچے جاتا ہے

یہ المناک تغیر تدریجاً اور ہر دفعہ زیادہ خلاق انسان کی فعالیت کے دائرہ کو زیادہ سے زیادہ محدود کردیتا ہے۔

٣۔ خیالی تلافی:

کچھ موارد میں گریز اور یاس کے غالب ہونے کے بجائے، انسان یا تو خیالی تلافی کی راہ کا انتخاب کرتا ہے یا ان صفات کو معمولی اور بے قیمت شمار کرتاہے جو دوسروںکے اندر پائی جاتی ہیں اور اس میں نہیں ہیں ۔ یا بلافاصلہ ایسی عیاشیوں میں لگ جاتا ہے کہ جو فکراور مشکلات کو وقتی طور پر اس کے ذہن سے دور کردیتی ہیں اور اسے ایسی لذتیں دیتی ہے کہ جو ایک منطبق وموافق عمل کے نتیجہ میں اس کو نصیب ہوتی ہیں ۔(١)

جیسا کہ ملاحظہ ہوا، ایڈلر کے نظریہ کی بنیاد عملیاختلال کی وضاحت کے سلسلہ میں عز ت نفس کے فقدان اور خود اس کی تعبیر کے مطابق احساس کمتری کے اثرپر استوار ہے۔

نفسیات میں من ازم کے نظرئیے بھی کلی طور پر انسان کے نفسیاتی وجذباتی ابعاد و جوانب اور اس کی نظر پر تا کید کرتے ہیں ان کے مشترک اصول درج ذیل ہیں:

١۔ تمام انسان انقلاب و تحول کے بالاترین درجہ تک پہونچ سکتے ہیں،

٢۔ انقلاب و تحول کے راستہ میں آزادی کا وجود ان بلندیوں تک پہونچنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے

٣۔ عام طور پر موانع خارجی اور بیرونی ہیں۔

____________________

١۔ دکتر منصور، احساس کہتری، ص٦٠، ٦١۔


''مزلو''اور ''راجرز'' انسان کے اپنے شخصی اور تحقق کے لئے دوسروں سے زیادہ تاکید کرتے ہیں وہ طریقے اور فنون کہ شخصیت کی تعظیم کے حصول کے لئے جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

الف۔اکرام واحترام:

مزلو ضرورت احترام کو مستقل طو ر پر ذکر کرتاہے معاشرے کے نفسیاتیبیماروں کے علاوہ تمام افراد اپنے لئے احترام کے قائل ہیں، ان کی خواہش ہے کہ خود کو بااہمیت محسوس کریں اور اس اہمیت کی بنامحکم اور استوار پایہ پر رکھی گئی ہو۔۔۔توانائی، کامیابی، تجربہ، مہارت ، شایستگی، دنیا کا مقابلہ، استقلال ، آزادی، مرتبہ اور اعتبار کی ضرورت، (ایسی عزت واحترام کہ لوگ اس کے قائل ہوں) قدرومنزلت، افتخار، شہرت، نفوذاہمیت وبزرگی ان سب چیزوں کی طرف میلان اسی خواہش سے پیداہوتی ہیں۔۔۔جب اپنے احترام کی خواہش پوری ہوجائے توانسان اپنے خوداعتمادی، اہمیت، توانائی اور کفایت کا احساس کرتاہے اور اپنے وجود کو دنیا میں مفید اور لازم سمجھتا ہے۔ لیکن ان ضرورتوں اور خواہشوں کا پورا نہ ہونااحساس کمتری، کمزوری اورناامیدی کا باعث ہوتاہے۔۔۔سالم ترین اور ثابت ترین عزت نفس، احترام کے اُس پایہ پر استوار ہے جس کے ہم مستحق ہیں۔نہ یہ کہ ظاہری شہرت چاپلوسی اور خواہشات پر۔۔۔(١) کارل راجرز بھی مکمل طور پر اس کا قائل ہے اور اپنے علاج کا طریقۂ کاراُسی کی بنیادپر تلاش کرتا ہے۔ اس کی نظر میں دو اساسی چیزیں درج ذیل ہیں:

١۔ہر انسان کی عظمت وبزرگی نیز اس کی اہمیت کا نظریہ رکھنا۔

٢۔اس بات کا معتقد ہونا کہ لوگ اچھے اور قابل اعتماد ہیں۔

راجرز کے علاج اور مشورت کا طریقہ مُراجع محوری کی بنیاد پر ہے؛یعنی تیکنیکی صرف اصالت و حقیقت ، غیر مشروط مثبت تعیین اور مخلصانہ درک کی نشاندہی کے لئے ہیں۔ احساسی اورجذباتی عناصر معالج اور مُراجع کے رابطہ میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ وتیکنیکیجو اس اکرام واحترام کے احساس کو ،جس کی تربیت کی جاتی ہے اس تک منتقل کرسکتی ہیں، یہ ہیں:موقع ومحل کی طرف توجہ اورحضور ذہن رکھنا، اُس پرکان دھرنا، احساسات یا اس کی باتوںکے محتوا اور مفہوم کا ضروری مواقع میں انعکاس ( اس لئے کہ تربیتپانے والاسمجھے کہ اس کی باتوں پر توجہ دے رہا ہے) گفتگو کے علاوہ دوسری نشانیاںیعنی چہرہ، رخ اور جسم کی حرکتیں اس بات کی عکاسی کررہی ہوں کہ گویا وہ اس کی باتوں کو اہمیت دے رہاہے۔

____________________

١۔ مزلو، روان شناسی شخصیت سالم، ص١٥٤،١٥٥۔


''خلوص یا مخلصانہ درک'' متربی (یعنی جس کی تربیت کی جاتی ہے ) سے رابطہ ایجاد کرنے میںاساسی کردار ادا کرتا ہے۔ راجرز کے بقول ہمدلی وخلوص ایک ایسا طریقۂ کار ہے جودیگرافرادکے متغیراحساسات کی نسبت حساس ہو نے اوران کے درمیان عاطفی وجذباتی پیوند کامتضمن ہے۔ایک مدت تک دوسروں کی زندگی جینا اور ان کی احساساتی دنیامیں واردہونا اور ان کے احساسات کے بارے میں قضاوت سے اجتناب کرنا (ان کے احساسات کو سمجھنے کے لئے کوشش کرنا)۔ اسی طرح ہمدلی وخلوص مخاطب کے غیر کلامی علائم کے درک کا مستلزم ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہمدلی کے لئے سب سے پہلے تربیت پانے والے کے عاطفی تجربہ کو دقیق انداز میں درک کریں پھراس کے بعد جوکچھ ہم نے سمجھاہے کلما ت اوراشاروں کے قالب میں اُس تک منتقل کریں۔ ہلکی مسکراہٹ، امیدبخش نظر، کبھی اس کے شانہ اور جسم پر ہاتھ رکھنا اور ظریف انداز میں ہنسی مذاق کرنا اس سلسلہ میں مؤثرہیں۔

ہمدلی ، دوستی اوررابطہ برقرار کرنے کے لئے ایک مہارت ضروری ہے جن کا اکثر تربیتی طریقوں جیسے احترام واکرام میں مربی محتاج ہو تا ہے۔اور اس کوچاہئے کہ اُس تک پہنچنے کے لئے اپنے اندراس کی آمادگی پیدا کرے ''خود تربیتی طریقہ'' میں اپنی شخصیت کے ساتھ اسی رابطے کا ایجاد کرنالازم وضروی ہے۔

پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین (ع) کی سیرت دوسروں کے حق میں ان کے احترام واکرام سے بھری پڑی ہے جیسے: سلام کرنا نیز سلام کرنے میں پہل کرنا حتیٰ بہ نسبت بھی، بچوںبچوں کے ساتھ کھیلنا ؛بچوںکے اچھے نام رکھنے کی تاکیدکرنا نیز انہیں اچھے القاب سے پکارنا، نو واردانسان کو جگہ دنیاجس کے بارے میں قرآن کریم کا صر یحی حکم ہے۔(١)

نیک گفتاری اورخوش زبانی کی تاکید کرناقُلْ لِعِبَادِیْ یَقُولُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ .(٢) دسیوںدیگراحکام اورتاکیدات کے جواسلامی معاشرہ میں مومنین کے احترام واکرام کی جانب تو جہ کی حکایت کرتے ہیں یہاںتک کہ مومن کی حرمت اوراُس کی رعایت حرمت کعبہ سے بالاترتصورکی گئی ہے۔(٣)

____________________

١۔ (یَااَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَکُمْ ...)سورہ ٔمجادلہ، آیت ١١ .''ایمان والو! جب تم سے مجلس میں وسعت پیدا کرنے کے لئے کہا جائے تو دوسروں کو جگہ دیدو تاکہ خدا تمھیں (جنت میں) وسعت دے... ''۔

٢۔سورہ ٔاسراء آیت٥٣. ''میرے بندوں سے کہدیجئے کہ صرف اچھی باتیں کیا کریں''

٣۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''المؤمن اعظم حرمة من الکعبة'' بحار، ٦٨، ص١٦۔


مومن حرمت کے لحاظ سے کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے۔

اس کے علاوہ جو چیز بھی مسلمان کی ہتک حرمت اور توہین کا باعث ہو، اسلام میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔ حضرت علی ـ نے انبارشہرکے رہنے والوں سے جوان کے استقبال میں پیادہ اورغلامانہ انداز میں آئے تھے، فرمایا:

یہ کون سا کام ہے جو تم انجام دیتے ہو؟انھوں نے جواب دیا کہ یہ ایک رسم ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے حکّا م اور فرمانرواؤں کا احترام کرتے ہیں۔حضرت نے فرمایا:

خداکی قسم تمہارے فرمانروااور حکّام اس کام سے کوئی استفادہ نہیں کرتے اور تم لوگ بھی اپنے اس عمل سے دنیا میں زحمت ومشقت اٹھاتے ہو۔اور آخرت میں بھی تمہاری بدنجتی کا سبب ہے۔(١)

حتّٰی اُن مواردمیں بھی کہ ایک عمل ظاہری طورپراکرام ہے لیکن حقیقت میں دوسروں کے ذلیل وخوار ہونے کا باعث ہے۔اس پر تنبیہ فرماتے تھے۔حسین بن ابی العلأکچھ لوگوں کے ہمراہ مکہ کے سفرمیں ہم سفر ہوا۔ اورہر منزل پراپنے دوستوں کی مہمان نوازی میں ایک بھیڑذبح کرتا تھا۔اور جب سفرکے دوران حضرت امام جعفر صادق ـ کی خدمت میں آیا تو حضرت نے اُس سے کہا: آیامو منین کوذلیل وخوارکرتے ہو؟ حسین بن ابی العلأنے امام کے سوال وجواب سے سمجھ گیا کہ اُس کے احباب تنگدستی کی وجہ سے اس کے مانند عمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے لہٰذ اوہ اپنے آپ میں ذلت وخواری کا احساس کرتے تھے۔

تربیت پانے والے یا فرزند سے مشورہ کرنا بھی اس کے احترام و اکرام کے مانند ہے وہ اس طریقۂ عمل سے خود کو عالی مرتبہ اور عظیم شخصیت خیال کرتا ہے، خداوند عالم حتیٰ پیغمبر اکرم سے فرماتا ہے: ''اپنی امت اور ماتحت افراد سے مشورہ کرو''۔(٢)

فرزند کے لئے کسی گھر یا کمرہ کا مخصوص کرنا (جبکہ اس کا امکان ہو ) اور بطور کلی ہر قسم کی مالکیت اور تملک کا احساس بھی ان امورمیں سے ہے کہ جوانسان کے احترام و اکرام کے احساس کا باعث ہے۔

____________________

١۔نہج البلاغہ، حکمت ٣٧۔

٢۔(وَشَاوِرْهُم فِی الْاَمْرِ ) سورہ ٔآل عمران، آیت١٥٩۔


ب۔بغیر شرط کے مثبت توجہ:

محبت اور علاقہ انسان کی اساسی ضررتوں میں سے ہیںجن کا مختلف ماہرین نفسیات نے مختلف انداز میں کیا ہے، کارن ہورنائے ] Hornay,k [ان دونوں کو ''محبت'' اور ''تصویب اعتبار ومحبوبیت '' کے عنوان کے تحتذکر کرتا ہے، جان بالبی ] Bowlbyj [نے''محبت ودل بستگی''کے مفہوم کو اپنے نظریہ کی بنیاد قرار دی ہے اور بچے کی سیرت کے رشدوارتقاء کو دلبستگی کی ضرورت صحیح طور سے پوری کرنے میں خیال کیاہے۔ مزلو جسمانی اور امن وسلامتی کی ضرورتوں کی تأمین وتضمین کے بعد تعلق اور محبت کی ضرورت کوسب سے اہم ضرورت سمجھتاہے۔

محبوب دوستوں کانہ ہونا ایک بیوی اورایک بچے کو شدت سے احساس ہوتاہے۔وہ دوسروںکے ساتھ عاطفی روابط کے محتاج ہیں بعبارت دیگروہ اپنے گروہ یاخاندان اور فیملی میںایک مرتبہ کامحتاج ہیں... نفسیاتی کے ماہرین اس بات پر متقق ہیں کہ عشق و محبت کی ضرورتوں سے بے بہرہ ہونا ناکامی اور ناساز گاری کی بنیادہے۔(١)

راجرز کے نظریہ کے مطابق مثبت توجہ بغیر شرط کے انسان کے اندر عزت ونفس کا احساس پیدا کرتی ہے جو کہ دوسروں کی طرف سے خصوصاً اپنے سرپرستوں کی طرف سے گرم اور محبت آمیز، تعلقات روابط،قلبی لگائو، قبولیت اور مہربانی کو شامل ہے بے قید وشرطتوجہ مثبت اس معنی میں ہے کہ جوتاثیر وتاثرایک انسان سے دوسرے انسان کے روابط کی بنیاد پر اور اس احساس سے وجود میں آتی ہے کہ تربیت پانے والا ہرصورت میں ایک بااہمیت شخص ہے۔ اگر انسان احساس کرے کہ محبت(مثبت توجہ) اُس صورت میں حاصل کرے گاکہ جب دوست رکھنے کے قابل ہو تو اپنے اندر سے تنفر وبیزاری کے احساس کو دور کرکے دوست رکھنے والی تصویر باقی رکھنے کی کوشش کرتاہے، یہاں پر نہ یہ کہ احساس تنفر خود اس کے خیال میں ناموافق ہے بلکہ انسان کو مثبت توجہ کے کھو جانے پر بھی تہدید کرتا ہے ، ایسے موقع پر زبردستی اس پر فضیلت پیدا کرنے کے شرائط کو لادنا تجربیات کے انکار کا موجب ہوتاہے اور جسم اور اس کی شخصیت درمیان شگاف پیدا ہوجاتا ہے، لیکن اگر والدین (یا مربی) اپنے فرزند کی طرف بدون شرط اور مثبت توجہ رکھتے ہوں اور وہ احساس کرے کہ والدین اس کی اہمیت کے قائل ہیں، تو انکار تجربیات کی پھر کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔(٢)

____________________

١۔ روانشناسی شخصیت سالم، ص١٥٠تا١٥٤۔

٢۔ روانشناسی شخصیت ، ص٢٢١۔


بے شک توجہ مثبت بدون شرط تربیت حاصل کرنے والے کی شخصیت کے احترام وتکریم کا باعث ہوگی اور اس کے اندر عزت نفس کا احساس پیدا کرے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ تربیت پانے والا خود ہی یہ احساس کرے کہ وہ ایک منفرد اور مشخص انسان کے عنوان سے مربی کی توجہ اور عنایت کا مرکز ہے، اگر یہ احساس ثابت ہوجائے تو اس کی ہر ناپسند رفتار وکردار کی (صحیح طرز کے ساتھ) مخالفت کی جا سکتی ہے لیکن اسی حال میں یہ احساس بھی رکھتا ہو کہ خود اُس کو لوگ دوست رکھتے ہیں اور مخالفت حقیقت میں اس کے ناپسندیدہ اعمال ورفتار سے ہے، جیسا کہ قرآن کریم حضرت لوط ـ کی زبانی ان کی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:

(قَالَ اِنِّی لِعَمَلِکُمْ مِنَ الْقَالین )(١)

'' انھوں نے کہا: میں تمہارے کردار کا دشمن ہوں ''۔

حضرت علی ـ نے بھی حضرت رسول خدا کی حدیث نقل فرمائی ہے:

''اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْعَبْدَ وَیَبْغُضَ عَمَلَهُ ....''۔(٢)

''خداوند سبحان کبھی کبھی کسی بندے کو دوست رکھتا ہے لیکن اس کے عمل کو دشمن رکھتا ہے ''۔

بچوں کے ساتھ برتائو کے سلسلہ میں بھی روایات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ قلبی لگائو اور نرمی کے ساتھ برتائو کرو، انھیں بوسہ دو، ان کے مہرو محبت میں کمی نہ کرو تاکہ محبت کی احتیاج ان کے اندر نفسیاتی الجھنوں وبیماریوں میں تبدیل نہ ہوجائے، جو شخص دوسروں کی محبت سے بہرہ مند ہو!، وہ دوسروں کے ساتھ احسان ومحبت کر سکتا ہے۔ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں:

'' بچوں کو دوست رکھو اور انہیں اپنے رحم وکرم کے سایہ میں قرار دواور جب بھی اُن سے وعدہ کرو تو اُسے وفا کرو''۔(٣)

____________________

١۔ سورہ ٔشعرائ، آیت ١٦٨۔

٢۔ نہج البلاغہ، خ١٥٤۔

٣۔''أَحِبُّوا الصبیان وارحموهم وَاذا وعدتموهم شیئاً ففولهم'' کافی، ج٦، ص٥٢۔


حضرت امام جعفر صادق ـ بھی فرماتے ہیں:

''خداوند سبحان ضرور بالضرور اپنے اُس بندے کو جو اپنی اولاد سے بہت محبت کرتا ہے مورد رحمت قرار دیتا ہے''(١)

''اپنے فرزندوں کو زیادہ بوسہ دو، کیونکہ بہشت میں ہر بوسہ کے بدلہ ایک درجہ ہوگا''(٢)

محبت اور مہربانی پیغمبر اکرم کی سنت اورسیرت ہے، نیز انسانوں کی اخلاقی تربیت ہدایت میں آپ کی کامیابی کا راز بھی یہی نکتہ ہے: ''فَبِمَارَحْمَةٍ مِنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَو کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَولِکَ فَاعْفُ عَنهُم وَاسْتغفِر لَهُم'' (٣) ۔ پس اﷲ کی رحمت وبرکت سے آپ کے ساتھ نرم خو اور پُرمحبت ہیں، اور اگر تند خو اور سخت دل ہوتے تو یقیناً آپ کے آس پاس سے وہ لوگ پراگندہ ہوجاتے۔ لہٰذااُن سے درگذر کیجئے اور اُن کے لئے بخشش ومغفرت طلب کیجئے۔

پیغمبر اکرم کی سنت اور سیرت کے لئے بھی جو اُن کو پتھرمارتے تھے، دعا کرتے تھے: ''اَللّٰہُمَّ اہْد ِقَوْمِیْ فَاِنَّہُمْ لَایَعْلَمُونَ'']خدایا! میری قوم کی ہدایت کر اس لئے کہ وہ نہیں جانتی ہے[ وہ انسانوں کے ساتھ بدون شرط مثبت توجہ کا بالاترین درجہ ہے کہ جو اﷲکی تمام مخلوقات سے گہرے لگائو اور عشق سے حاصل ہوتا ہے۔

البتہ توجہ مثبت بلاشرط کی توفیق، صرف تمام انسانوں کے ساتھ عشق کرنے کے نتیجہ میں ممکن ہے۔ اہم یہ ہے کہ نکتہ خالص اور بے ریا محبت دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور گہرے لگائو اور شخصیت کے احترام کا باعث ہوتی ہے، نہ کہ جو کچھ تکلف اور دکھاوے سے پیدا ہوتی ہے ۔

اپنے عشق و محبت کو اپنے فرزندوں یاتربیت پانے والوں میں ظاہر کرنے کے لئے ہر فرصت سے استفادہ کرنا چاہئے، جیسے اوقات ان کے ساتھ ہم گذاریں؛ مشترک رابطوں اور چاہتوں کو پروان چڑھائیں؛ باہم کھیلیں، ان سے کہیں کہ ہم تمھیں دوست رکھتے ہیں، اُن کے ساتھ اس طرح برتائو رکھیں کہ گویا وہ روئے زمین کی سب سے اہم انسان ہیں، ان کے پائداراور ناقابل فراموش آثار وواقعات وجود میں لائیں، ان کی تعریف کریں وغیرہ وغیرہ...۔(٤)

____________________

١۔''انّ اللّٰه لیرحم العبد لشدّة حُبّه لولده'' کافی، ج٦، ص٥٢۔

٢۔ ''اکثرو من قبلة اولادکم فانّ لکم بکلّ قبلةٍ درجةً فی الجنّة ۔''وسائل الشیعہ، ج١٥، ص٢٠٢۔

٣۔ سورہ ٔآل عمران، آیت ١٥٩۔

٤۔ استفان مارستون، معجزہ تشویق، ترجمہ تور اندخت تمدن، ص٨١۔


محبت کا ظاہر کرنا اور اس کابیان کرناعاطفی روابط میں بہت اہم ہے۔ روائی کتابوں میں اس سلسلہ میں مستقل اور جداگانہ باب پایاجاتاہے: حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: ''جب کوئی کسی انسان کو دوست رکھے تو اسے اطلاع دے کیونکہ یہ دوستی کے پائدار ہونے کا موجب ہوگا''(١) خداوند سبحان بھی حضرت موسٰی ـ کی نسبت اس طرح سے محبت کا اظہار کرتا ہے: ''یقیناً دوبارہ بھی ہم نے تم پر احسان کیا جب ہم نے تمہاری ماں کو وحی کی اور اپنی مہر و محبت کو تم پر ڈال دیا تاکہ میرے زیر نگرانی پرورش پائو۔''(٢) اور اپنے حبیب محمد مصطفی کی جان کی قسم کھاکر محبت اور لطف کا اعلان کرتا ہے: ''آپ کی جان کی قسم وہ لوگ اپنی مستی میں سر گرادں ہیں ''(٣)

قرآن کی مختلف تعبیریں لوگوں بالخصوص مومنین کی نسبت خداوند عالم کے بے پایان لطف وکرم کو بیان انسانوں کے عظیم مربی کے عنوان سے بیان کرتی ہیں،قومی، عبادی، ''انِّی اَخَافُ عَلَیْکُم، هَلْ لَکَ یَااَیُّهَا الَّّّذِیْنَ آمنوا ۔۔۔''وغیرہ۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ محبت کے اظہار میںہمیں اعتدال اور میانہ روی کی رعایت کرنا چاہئے اور محبت میں افراط سے ہمیں اجتناب کرنا چاہئے؛ کیونکہ یہ چیز فرزندوں کو بے حوصلہ وبے اعتماد بنادیتی ہیں، اس وجہ سے مشکلات زندگی کے موقع پر حقارت (کمتری) اور ناتوانی کا احساس کرتے ہیں، کیونکہ سماج اور جس ماحول میں وہ ہیں اس میں اتنی محبت اور مہربانی انھیں نصیب نہیں ہوگی۔ محبت میں افراط تربیت پانے والے کی تربیت میں تاثیر کو زائل کردیتی ہے۔

حضرت امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں: ''سب سے بُرے آباء وہ ہیں جو محبت اور نیکی میں افراط سے کام لیتے ہیں ''(٤)

____________________

١۔ ''اذا احببت رجلاً فاخبره بذلک فانّه اثبت للمودة بینکما '' کافی، ج٢، ص٦١٥، باب اخبار الرجل اخاہ بحبہ (انسان کا اپنے برارد ایمانی ) اپنی محبت کی اطلاع دینا کو۔

٢۔ (وَلَقَدْ مَنَّنَا عَلَیْکَ مَرَّةً اُخْریٰ والقیت علیک محبّةً منی ولتضع علی عینی )(سورہ ٔطٰہٰ، آیت ٣٧تا ٣٨)

٣۔ (لَعَمْرُکَ اِنَّهُمْ لَفِی سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ )سورۂ حجر، آیت٧٢۔

٤۔ ''شر الاٰباء من دعاه البرالی الافراط ''(تاریخ یعقوبی، ج٣، ص ٥٣)۔


ج۔ اغماض (چشم پوشی) :

کمزوریوںاور خطائو ں کا اظہار عزت نفس کے برباد ہونے اور شخصیت کے پامال ہونے کا باعث ہوتاہے،لہٰذا ان سے اغماض اورچسم پوشی ان کے لئے تربیت پانے والے کی شخصیت کی تعظیم وتکریم ہوگی۔جب کسی سے کوئی خطا سرزد ہو یا خطا کا احتمال دیں۔ تو اس کی اخلاقی تربیت اور حفظ عزّت نفس کے لئے تین مرحلے نظر میں رکھے جاسکتے ہیں:

١۔ صحت پر حمل کرنا چاہئے یا اس کی اچھے طریقہ سے توجیہ کرنی چاہئے؛

خطا کے ثابت ہونے سے پہلے اگر خطا کی توجیہ کرنے کے قرائن اور احتمالات موجود ہوں تو صحت پر حمل کیا جا سکتا ہے جو کہ اسلامی فقہ میں ایک مسلم الثبوت اصل ہے۔ لہٰذا احتمال خطا کی ٹوہ میں نہیں رہنا چاہئے اور اپنے تجسس اور کھوج سے کشف فساد اور ایک مسلمان کی آبروریزی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔

حضرت علی ـ نے فرمایا:

'' اپنے ]ایمانی[ بھائیوں کے کام کی اچھے سے اچھے عنوان سے توجیہ کرو یہاں تک کہ اس کے خلاف تم پر ثابت ہوجائے، نیز ان کی باتوں کی نسبت بھی جب تک کہ اچھی توجیہ کا امکان ہے بدگمانی نہ کرو''۔(١)

٢۔تغافل اور تجاہل:

اگر تربیت پانے والے کی خطا ثابت ہوجائے لیکن وہ پہلی مرتبہ تھی اور حالات کے مطابق ہم تشخیص دیں کہ اس کو نظرانداز کرنا اور اس کی شخصیت کاتحفظ اصلاح کا باعث ہو گا تو تغافل اورتجاہل سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ؛یعنی یہ ظاہرکریں کہ یہ خطااس سے سرزدنہیں ہو ئی ہے اوراس کی توجیہ کو بھی قبول کریں، باوجودیکہ کہ اس کے صحیح نہ ہو نے سے با خبر ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

''دوسروں کے ساتھ معاشرت اور زندگی گزارنے کے حالات کی اصلاح ایک ایسے ظرف کے مانند ہے جس کا دوثلث ]دو تہائی[زیرکی اور ایک ثلث ]ایک تہائی[تغافل ہے''۔(٢)

'' جزئی امورسے تغافل کرکے خودکو بلند مرتبہ اور عالی قدر بناؤ''۔(٣)

____________________

١۔''ضَع اَمر اَخِیکَ عَلیٰ اَحسنه حتّیٰ یاتِیکَ مَایقلبک عنه وَلَاتظنُّنَّ بکلمة خرجت من اخیک سوائً وانت تجد فی الخیرسبیلاً'' (کافی، ج٢، ص٣٦٢)۔

٢۔ ''صلاح حال التعایش والتعاشر ملاء مکیال ثلثاه فطنة وثلثه التغافل ''۔(اخلاق فلسفی، ص٣٥٩)۔

٣۔''عظموا اقدارکم بالتغافل عن الدنی من الامور'' ۔( ایضاً، ص٢٢٤)۔


حضرت علی ـ نے فرمایا: ''تجاہل وتغافل سے بہتر کوئی زندگی نہیں ہے۔''(١) تغافل تربیت حاصل کرنے والے کی تکریم وتعظیم کے علاوہ اسے اس بات کے لئے آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے مربی کے کرم وبخشش کی تلافی کرے اور یہی امر اس کی اصلاح اورخطاکے دوبارہ نہ کرنے کا سبب بنے گا۔

٣۔عفوودرگذر:

خطاکے مسلم اورآشکارہونے کے بعد، اب بھی چشم پوشی اورنظرانداز کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ اگرہم یہ احتمال دیں کہ دوسروں کی خطاکو معاف کرنا ان کی بیداری اوراصلاح کا باعث ہوگی (کہ عام طور پر ایساہی ہے) توعفوکرناہی بہترہے۔خداوندغفور سماج اور معاشرہ میں ایک جاری وساری سیرت کے عنوان سے عفوودرگذرکی تاکیدکرتاہے: (خُذِ الْعَفْو )۔(٢) ''اے پیغمبر!عفوودرگذرکواپنا شعار بنالو''۔

......''ان لوگوں سے درگذرکرو اور ان سے چشم پوشی کرو کہ خدانیکوکا روں کودوست رکھتاہے''۔(٣)

عفوودرگذرکرنا چاہئے کیا تم نہیں چاہتے کہ خداتمہیں معاف کردے اور خدابخشنے والااورمہربان ہے''۔(٤)

روایات کی نظرسے بھی عفوودرگذشت مکارم اخلاق اورسماجی اور اجتماعی روابط میں نمایاں مرتبہ کا حامل ہے اور دوسروں میں اخلاقی فضائل کی راہ ہموارکرنے والاہے:

پیغمبراکرم نے فرمایا ہے: ''ایک دوسرے کو معاف کروتاکہ تمہارے درمیان سے کینے اور کدورتیں ختم ہوجائیں۔''(٥)

عفوودرگذرخداکے بندوں کی عزت میں اضافہ کرتاہے، لہٰذاعفوکرو تاکہ خداتمیں عزیز قرار دے۔(٦)

حضرت علی ـ سے منقول ہے: ''عفوودرگذشت تمام مکارم اخلاق کا تاج ہے۔''(٧)

____________________

١۔''لاعقل کالتجاهل ''(غرر الحکم ودرر الکلم۔) ٢۔ سورہ ٔاعراف، آیت١٩٩۔

٣۔ (فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ، اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ )(سورہ ٔمائدہ، آیت ١٣)۔

٤۔ (وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا، اَلَاتُحِبُّوْنَ اَن یَغْفِرَ اللّٰهُ لَکُمْ ۔)(سورہ ٔنور، آیت٢٢)۔

٥۔''تعافوا تقسط الضغائن بینکم'' (کنز، ٧٠٠٤)۔

٦۔''العفو لایزید الّا عزاًفاعفوا یعزکم اللّٰه'' ۔ (ایضاً، ١٢،٧٠)۔

٧۔''العفو تاج المکارم ۔''(غرر الحکم، فصل دوم، ص٢٤٥)۔


قرآن بھی فرماتاہے: (فَاصْفَح الصَّفحَ الْجَمِیْل )(١) ''آپ خوبصورتی کے ساتھ درگذر کردیں۔ ''صفح'' ترشروئی اورعتاب کے بغیردرگذر کرنے کے معنی میں ہے۔قدرت رکھنے کے باوجودمعاف کردینے کے بارے میں روایات میں بہت زیادہ تاکید ہو ئی ہے۔ حضرت امام حسین ـ فرماتے ہیں: ''لوگوںمیں سب سے زیادہ درگذر کرنے والا وہ ہے جو قادر ہو نے کے باوجود معاف کردے۔''(٢)

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''بہترین عفو درگذشت وہ عفوودرگذشت ہے کہ جوقادرہو نے کے باوجودمعاف کردی جائے۔''(٣) انھوںنے اپنے فرزند حضرت امام حسن ـ سے وصیت میں عفو و درگذر کو سزا سے زیادہ انسان کی صلاح کاباعث جاناہے: ''جب تمہارے نزدیک کسی سے کوئی خطاسرزد ہوجائے، تو عادلانہ درگذر عقلمندکے لئے سزاسے زیادہ موثرہے۔''(٤)

پیغمبر اکرم بھی عفوکو موجب اصلاح جانتے ہیں:

ایک انسان نے اپنے خدمت گزار وں کے رویہ کی رسول اکرم کی خدمت میں شکایت کی۔تو حضرت نے فرمایا: انھیں معاف کردو تا کہ ان کے دل نیکیوں کی طرف مائل ہوں ''۔عرض کیا: اے پیغمبر خدا !وہ لوگ کاموں میں سستی کرتے ہیں !فرمایا: انھیں معاف کردو''۔(٥)

اغماض وچشم پوشی کے ذریعہ بغیر رفتار کے نفسیاتی نقطۂ نظر (اس کے تحریکی پہلو کے علاوہ) ''خاموشی'' کے طریقہ سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے: خاموشی اس طریقۂ کارکو کہا جاتا ہے کہ اُس میں رفتار کا واقع ہونا بغیرتقویت کے رہ جائے اور تکرار ایک رفتار کی تقویت کے بغیر اُس رفتار کے مکمل توقف کا باعث ہوتی ہے... مثال کے طور پر استاد نامطلوب رفتارسے بے اعتنائی کرے تو طالب علموں کے شور شرابہ کو خاموش کرسکتا ہے(٦) البتہ عفو و درگذر کے خاموشی سے بھی کہیں زیادہ عمیق معنی پائے جاتے ہیں، اگرچہ عام طور وہ پر خاموشی کا مستلزم ہے۔

____________________

١۔ سورہ ٔحجر، آیت٨٥۔

٢۔''ان اعفی الناس من عفی عنه قدرته '' (بحار، ج٧٤، ص٤٠١)۔

٣۔''احسن العفو کان عن قدرة'' (غرر الحکم، فصل دوم، ص٢٤٦)۔

٤۔''اذا استحق احد منک ذنبا فان العفو اشدّ من الضرب لمن کان له عقل'' (بحار، ج٧٧، ص٣١٦)

٥۔ مستدرک الوسائل، ج٢، ص٨٧۔

٦۔ سیف، تغییر رفتار ورفتار درمانی، ص٣٨٢۔


د۔ ذمہ داری دینا:

جب انسان خود کو قوی اور توانا محسوس کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اُس سے کوئی کام ہوسکتا ہے تو وہ افتخار وعزت کا احساس کرتا ہے، تربیت پانے والے انسان کی تکریم کے لئے اُس کے اندر عزت کا احساس پیدا کرنا چاہئے، تاکہ اُس سے ذلت اور کمتری کا احساس جاتا رہے، لہٰذا ضروری ہے کہ تربیت پانے والے کی توانائیوں کے ظاہر ہونے کا امکان پیدا کریں تاکہ اسے یقین ہو کہ اس سے بھی کام ہوسکتا ہے اور وہ بھی کسی کام کا آدمی ہے تربیت پانے والوں اور فرزندوں کے درمیان ذمہ داری دینا اور کاموں کوتقسیم کرنا اُن کی شخصیت کی تعظیم و تکریم کا باعث ہوتا ہے اس کے دوسرے موارد اخراجات کی تنظیم کا امکان ،انتخاب اور کسی بات کے طے کرنے کے لئے مہلت دینا، بعض ذمہ داریوں کو سپرد کرنا وغیرہ ہے، اور ذمہ داری کی سپردگی اگر عاقلانہ اور ظریف نگرانی کے ساتھ ہو تو اخلاقی تبدیلی کا باعث ہوسکتی ہے، مندرجہ ذیل داستان نے ''پیاژہ'' نامی معاصر نفسیات کو حیرت میں ڈال دیا ہے، توجہ فرمائیے: ١٩٣٠۔ اور ١٩٣٥۔ کے درمیان میں نے ایک مؤسسہ وادارہ کا دیدار کیا تو وہ مجھ پر کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہوا، یہ مؤسسہ مجرم بچوں سے مخصوص تھا اور یورپ کے مشرقی علاقے میں واقع تھا، یہ ایک ماہر اور مدبر مدیرکے زیر ادارت تھا ، وہ چاہتاتھا کہ جن بچوں اور نوجوانوں کی اُس نے ذمہ داری لے رکھی ہے، ان پر اعتماد کرے، یہاں تک کہ مؤسسہ کے نظم وضبط کو ان کے حوالے کردے اور اہم ترین ذمہ داری اُن میں سے شریرترین کے حوالے کردے ، اس تجربہ کے دو پہلو نے ہمیں مخصوص انداز میں اپنی طرف مائل کیا، ایک نووارد اور تجربہ کار افراد کی ''تربیت'' دیگر نوجوانوں کے اجتماعی گروہ کے ذریعہ اور دوسرے موسسہ کی داخلی نظم وضبط اور اشارے عدالتی امور بھی ان شاگردوں کے سپرد تھے جو روز شب پر محیط تھے، ذرا تصور کریں ان پر اس قدر اعتمادکہ مدرسہ کے قواعد اور دستورات کو شاگردوں کی جماعت معین کرتی ہے نہ بزرگ افراد ، نو واردافراد میں کیا اثر رکھتی ہے۔ جہاں پر جو بچے اور نو جوان کسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے اور بچوں کے عدالتی محکمہ نے انھیں مجرم قرار دیاتھا اور وہ لوگ طولانی تادیب اور سزا کے منتظر تھے، یکبارگی خود کو اُن نوجوانوں کے درمیان دیکھتے تھے کہ جو جرم کے تمام مراحل گذارنے کے بعد اپنا علاج کرکے ئنی زندگی چاہ رہے تھے ، ایک منظم گروہ رکھتے تھے اوربلافاصلہ نووارد افراد کو اپنے جرگہ میں قبول کرکے تمام امور، فرائض اور ذمہ داریاں ان کے حوالے کردیتے تھے ، کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جب ایسے افراد زندان کے داروغہ سے روبرو ہونے کے بجائے اپنے ساتھیوں سے ملاقات کرتے تھے تو یکبارگی بدل جاتے تھے اور پھر اس کے بعد ان میں کج رفتاری کی تکرار نہیں ہوتی تھی اس مؤسسہ کے ادارہ کرنے والے عظیم مربی کی خوبصورت ترین ایجاد یہی بات تھی


اگر اس ادارہ کے شاگردوں سے کوئی خطا سرزد ہوتی تھی تو وہ عدالت اُس خطا کی تحقیق کرتی کہ جو ان ہی شاگردوں سے تشکیل پائی تھی اس حیرت انگیز عدالت کی نظریہ اور اس کے احکام وہاں کے اخبار میں شائع ہوئے تھے...۔(١)

قرآنی آیات اور پیغمبر اکرم کی سیرت دوسروں کو (خصوصاً نوجوانوں کو)ذمہ داریاں سونپنے کے بارے میں اُن کی استعداد کو بڑھانے اور ان کی شخصیت کاا حترام کرنے کے لئے بہت سے واقعات کی نشاندہی کرتی ہیں مثلاً طالوت جیسے جوان کا انتخاب بنی اسرائیل کی قیادت کی ذمہ داری کے لئے ، اسامہ کی کمانڈری اور مصعب بن عمیر نامی جوان کا مدینہ کے لئے سب سے پہلے مبلغ کے عنوان سے تعارف کرانا وغیرہ۔

٤۔ اخلاقی اقدار کی دعوت دینا

جبکہ پہلی دو روشوں کے مطابق موانع برطرف ہوجائیں اورماحول موافق وسازگار ہوجائے نیز تکریم شخصیت کی روش سے باطنی آمادگی پیدا ہوجائے مربی کلی استفادہ کے ذریعہ اخلاقی اقدار کی دعوت کی کلی روش سے استفادہ کے ذریعہ تربیت پانے والوں کو اخلاقی فضائل کی طرف مائل وجذب کرسکتا ہے، بعبارت دیگر ''اقدار کی تبلیغ '' کرسکتا ہے۔(٢)

علم نفسیات تبلیغ کے مخصوص شرائط کو تین عنصر پیغام دینے والے (مبلغ) پیغام لینے والے اور پیغام میں لحاظ کرتا ہے کہ جو پیغام کی تاثیر اور نفوذ کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔

پیغام کی بعض مسلّم الثبوت خصوصیات درج ذیل ہیں:

١۔مخاطب کو اپنی جانب جلب (مائل) کرے۔(نیاپن رکھتا ہو اور دیگر امور سے الگ اورممتاز ہو )۔

٢۔ مخاطب کے نزدیک قابل درک ہو۔

____________________

١۔ پیازہ: تربیت رہ بہ کجا می سپارد، ١٠١، ١٠٢۔

٢۔ تربیت پانے والا بھی ''خود تربیتی'' روش سے استفادہ کے ذریعہ پیغام دینے والے، پیغام لینے والے اور پیغام کی شرائط ملاحظہ کرسکتا ہے اور زیادہصحیح اور مطلوب کاانتخاب کرسکتا ہے۔


٣۔اہمیت کے لحاظ سے مخاطب کے نزدیک قابل قبول ہو۔

٤۔اسے حفظ کرسکتا ہو اور بوقت ضرورت اُسے یاد کرسکتا ہو۔

٥۔ایک موضوع کے مثبت اور منفی (قوت وضعف) دونوں پہلو بیان کئے جائیں۔

٦۔پیغام کی تکرار، ترغیب و دلچسپی کے اثر کو مزید بڑھا دیتی ہے، اس شرط کے ساتھ سستی اورخستگی کا باعث نہ ہو۔

٧۔ایسے پیغامات جو زیادہ خوف ودہشت کے حامل ہوتے ہیں کمتر تاثیر رکھتے ہیں، کیونکہ اضطراب اور گھبراہٹ کو اس درجہ بڑھا دیتے ہیں کہ انسان اس کی صحت کا انکار کرنے لگتاہے، مگر یہ کہ اُسے کسی اور ذریعہ سے یقین ہوچکا ہو۔

٨۔پیغام دینے والا یا مبلغ محبوب، باحوصلہ، مخلص، مطمئن، وفادار، قابل اعتماد، عاقبت اندیش، ہوشیار اور صادق ہو۔

پیغام اس بات کے لئے جو کہ خارجی اور مخالف دبائو کے مقابل تاب لاسکے (قدرت بخش سکے) اس طرح سے جاگزین ہو کہ پیغام قبول کرنے والے کی دلچسپی میں اضافہ ہوجائے:

١۔نئے پیغام کو دیگر یقین واعتقاد کے ساتھ مخلوط کرے۔

٢۔اپنے یقین واعتقاد کی دلیلوں کی تحقیق کرے۔

٣۔متعارض دلیلوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے اور صحیح ترمیم یا اہم تر کا انتخاب کرے۔

٤۔رائے اور نظریہ کا بدلنا اپنے آزادنہ انتخاب کے زیر اثر ہو نہ کہ ترغیب دلانے والے کی زور زبردستی سے۔

اس روش کو منطق کی کتابوں میں ''خطابہ'' کہتے ہیں(١) اور اس طرح تعریف کرتے ہیں: خطابہ ایک ایسا علمی طریقہ ہے جس کی مدد سے لوگوں کو اُس چیز میں خاموش جس کی تصدیق کی ہم امید رکھتے ہیں، بصورت امکان خاموش اور قبول کرایا جاسکتا ہے۔ جو امور خطابہ کی تاثیر کو زیادہ کردیتے ہیں، بعض قائل سے متعلق ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں:

١۔ علمی یااجتماعی اعتبار سے اپنا تعارف کرائے (دوسرے لوگ بھی یہ کام کر سکتے ہیں)

____________________

١۔ مظفر، المنطق، ص٤١٥اور اس کے بعد (اس فرق کے ساتھ کہ یہاں پر مفہوم زیادہ عام اور صناعت شعر کو بھی شامل ہوتا ہے)۔


٢۔اس طرح ظاہر ہوکہ اس کی تعظیم وتکریم نیز اس کی باتوں کی تصدیق کا باعث ہو، جیسے یہ کہ لباس، ہاتھ اور جسم کی حرکتوں، آنکھوں کے اشاروں، حزن و مسرت کی حالت وغیرہ کے اعتبار سے میٹنگ (جلسہ) اور موضوع سخن سے ہم آہنگ اور مرتبط ہو۔

٣۔ ''بات کرنے میں'' اس کی آوازغرض کے مطابق ہو (کبھی بلند تو کبھی آہستہ اور کبھی ترجیع تو کبھی تقطیع و....) آواز کا اچھا ہونا، اچھے انداز میں پیش کرنا اور طرز بیان میں تصرف اورتبدیلی بھی اہم امور میں سے ہے۔

٤۔ ''مخاطبین'' کے عواطف واحساسات کو جلب کرے اور ان کے اندر اس طرح نفسانی تأثّر کی حالت اور ذہنی آمادگی ایجاد کرے کہ جو غرض کے مطابق ہو، کبھی رقت و ر حمت کی حالت تو کبھی خشم ونفرت کا انداز اور کبھی تبسم اور مسرت ایجاد کرے، اس بات کے لئے کہ جلسہ خشکی اور جمود کی حالت سے خارج ہوجائے اور قائل کی طرف متوجہ ہونیکی کیفیت حالت ، ان کے اندر ایجاد کرے، کبھی ضروری ہے کہ انھیں لطیفوں کے ذریعہ ہنسائے یا کسی حکمت آمیز نکتہ سے انھیں حیرت میں ڈال دے ۔ کبھی مخاطبین کی تعریف وتوصیف لازم ہے (اعتدال کی حد میں) لیکن ان کی ہر طرح کی توہین و تحقیر سے پر ہیز کیا جائے۔

٥۔ شہادت حال، یعنی عملی صداقت کے گواہ بھی قائل کی بات کے نفوذ میں موثر امور میں شمار ہوتے ہیں، اس طرح سے کہ فضیلت، صدق، امانت، علم اور معرفت سے مشہور ہو یا دوسری جہت سے محبوبیت رکھتا ہو یا یہ کہ اس کی گفتگو میں صدق وصفا اور اخلاص کی علامتیں ظاہر ہوں حضرت امیر المومنین علی ـ کے بقول: ''کوئی بھی شخص کچھ اپنے دل میں پنہاں نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کی زبان کے اچانک کلماتہیں یا چہرے کے آثار سے ظاہر ہوجاتا ہے''۔(١) بعبارت دیگر قائل کو چاہئے اپنے بیان پر ایمان رکھتا ہو، کیونکہ جو بات دل سے نکلتی ہے دل میں اثر کرتی ہے''

''آپ حکمت اور اچھی نصیحت (موعظہ) کے ذریعہ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیجئے اور اُن سے بہترین انداز میں بحث وجدال کیجئے(٢)

____________________

١۔''ما اضمر احد شیئاً الّا ظهر فی فلتات لسانه وصفحات وجهه'' (نہج البلاغہ کلمات قصار ٢٦)۔

قرآن کریم کی زبان میں اس روش کو ''موعظہ'' سے تعبیر کیا گیا ہے البتہ موعظہ ونصیحت روش کے مرادی جنبہ کی طرف بھی اشارہ کرتاہے، لیکن قرآن کی اس سہ گانہ تقسیم میں تقریباً اقدار کی دعوت کی روش سے ہم آہنگ ہے۔

٢۔ سورہ ٔنحل، آیت١٢٥۔


موعظہ یعنی انسانوں کے عواطف واحساسات سے(١) انھیں حق کی دعوت دینے کے لئے استفادہ کرنا۔ قرآن نے موعظہ کو صفت ''حسنہ '' سے مقید کیا ہے، کیونکہ: نصیحت اُس صورت میں موثر واقع ہوتی ہے کہ ہر طرح کی خشونت ، تند کلامی، فوقیت طلبی، طرف مقابل کی تحقیر وتوہین، ضد اور ہٹ دھرمی وغیرہ سے خالی ہو لہٰذا مو عظہ اُس وقت اپنا گہرا اثر چھوڑتا ہے کہ احسن اور خوبصورت اندازمیں بیان ہو۔(٢)

اخلاقی اقدارکی دعوت کے طریقے درج ذیل ہیں:

الف۔ انذار وبشارت:

انذار(٣) یا ترہیب ڈرانے اور ہوشیار کرنے نیز بُرے اعمال کے بُرے نتائج اور عواقب کی طرف انسان کو متوجہ کرنے کے معنی میں ہے کہ اس میں ایک قسم کا ڈرانا بھی ہے۔ ''تبشیر''(بشارت دینا) یا ترغیب انسان کو نیک امور اور مطلوب کاموں کے نتائج سے آگاہ کرنے کے معنی میں ہے کہ جو سرور و شادمانی کا باعث ہے۔ انسان فطری طور پر لذت اور نعمت کی طرف راغب ہوتا ہے اور درد والم سے اجتناب و دوری چاہتا ہے۔ اسی لئے اگر انذار وتبشیرمخاطب کے قبول کرنے اور اس کے یقین کے مطابق ہو تو موثر ہے، یعنی اگر مخاطب فکری واعتقادی اصول ومبانی کے لحاظ سے تصدیق کرے کہ یہ عمل ان لذتوں کا حامل ہے یا فلاں آلام کا باعث ہے تو بلاشبہہ ایسا انذار یا تبشیر موثر واقع ہوگا۔

قرآن کریم اور انبیائے الٰہی نے اس وسیلہ سے کثرت سے استفادہ کیا ہے، جیساکہ قرآن تمام انبیاء کو ''مبشرین اور منذرین'' کہتا ہے(٤) اور خود کو ''نذیر''(٥) اور ''بشریٰ''(٦) کہتا ہے۔

____________________

١۔ مفردات راغب معجم مفردات الفاظ قرآن، میں اس کے دومعنی ذکر ہوئے ہیں: ١۔''ایسی زجر وتوبیخ جو خوف دلانے کے ساتھ ہو''کہ جو اقدار کی دعوت کے فنون اور طریقوں میں شمار ہے۔ ٢۔''هو التذکیر بالخیر فیما یرق له القلب '' خیر کے ساتھ نیصیحت کرنا اس چیز کے بارے میں جس کے لئے دل نرم ہوجائے۔کہ یہی عام معنی یہاں پر مراد ہے۔ المیزان، ج١٢، ص٣٧٣۔ تفسیر نمونہ، ج١١، ص٤٥٥ پراسی عام معنی کو قبول کیا ہے۔٢۔ تفسیر نمونہ، ج١١، ص ٤٥٦۔ المیزان میں بھی یہ بات ایک دوسرے انداز سے بیان کی گئی ہے:''من هنا یظهر انّ حسن الموعظه انما هو من حیث حسن اثره فی الحق الذی یراد به بأن یکون الواعظ نفسه متعظا بمایعظ ویستعمل فیها من الخلق ما یزید وقوعها من قلب السامع موقع القبول فیرق له القلب ویقشعر به الجلد ویعیه السامع ویخشع له البصر'' ۔

٣۔ ''الانذار اخبار فیہ تخویف کما ان التبشیر اخبار فیہ سرور۔'' (المفردات)۔٤۔ سورہ ٔانعام، آیت٨۔ ٥۔ سورہ ٔمدثر، آیت٣٦۔ ٦۔ سورہ ٔبقرہ، آیت٩٧۔


انذار وتبشیر سے استفادہ کرنے میں قرآن کریم کے تربیتی انداز میں دو نکتہ قابل توجہ ہے:

ایک۔قرآن کریم میںانذار وتبشیر کا انسانی عواطف واحساسات کے اجاگر کرنے کا اہم رول ہے کہ ایک طرف خوف(١) ، خشیت(٢) اورخشوع(٣) خداوندعالم کی نسبت مخاطبین میں برانگیختہ کرتا ہے اور دوسری طرف محبت(٤) ، شوق(٥) اور امید ان کے دل میں پروان چڑھاتا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے درمیان ایک موازنہ ایسا توازن وتعادل ایجاد کرتا ہے کہ جو نہ یاس اور ناامیدی کا باعث ہوتا ہے اور نہ ہی غرور و بے خیالی کا روایات میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ مبلغ کو چاہئے کہ مخاطبین کو خوف ورجا کے درمیان رکھے۔(٦)

دو۔ انذار وتبشیر کے مصادیق کا استعمال: قران کریم میں اس کا دائرہ وسیع ہے، خداوندعالم ہر انسان کے لئے ''رضوان'' اور ''روح''و ''ریحان'' کی بات نہیں کرتا، بلکہ بعض کو لذیذ غذائوں خوبصورت اور زربخت لباسوں، فرحت بخش تفریح گاہوں وغیرہ کے وعدہسے امید وار کرتاہے ۔ لہٰذا اخلاقی تربیت کے سلسلہ میں بلند پروازی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ افراد کی استعداد اور ظرفیت کے مطابق، مختلف بشارتوں اور نعمتوں سے متعلق گفتگو کرنی چاہئے۔

ب۔ داستان گوئی :

داستان میںایسا جادو ہوتا ہے کہ جو روحوں کو مسحور کرلیتا ہے، وہ کونسا جادو ہے اور کس طرح روحوں پر اثر انداز ہوتا ہے؟کوئی انسان بھی اس کے لئے حد و حدود معین نہیں کرسکتا آیا یہ خیال ہے کہ جو داستان سے پیدا ہوتاہے اور داستان کے محل وقوع اور منزلوں کی یکے بعد دیگر تعقیب کرتا ہے اور اُسے ذہن میں ایک محسوس واقعیت سے تبدیل کردیتا ہے؟ یا انسان کے ''وجدان کی مشارکت'' داستان کے ہیرو کے ساتھ ہوتی ہے کہ جو آدمی کی روح میں اس کی تاثیر کا باعث ہوکرواضح اور روشن انداز میں احساسات وافکار میں جاگزیں ہوجاتی ہے؟

____________________

١۔ (لمن خاف مقام ربه جنتان )(سورہ ٔرحمن، آیت٤٦)۔ ٢۔ (انما انت منذر من یخشاها ۔)(سورہ ٔنازعات، آیت ٤٥)۔٣۔ (الم یأن للذین آمنوا ان تخشع قلوبهم لذکر اللّٰه ۔) (سورہ ٔحدید، آیت١٦)۔٤۔ (والذین آمنوا اشدُّ حبّاً للّٰه ۔)(سورہ ٔبقرہ، آیت١٦٥)۔٥۔ (ان الذین آمنوا اولٰئک یرجون رحمة اللّٰه ۔)(سورہ ٔبقرہ، آیت٢١٨)۔٦۔''خیر الاعمال اعتدال الرجاء والخوف'' ۔ (غرر الحکم، فصل ٤،ص ١٥٦)۔


یا داستانی موقعیت سے انسان کی روح کے متاثر ہونے کی وجہ سے ہے، جب انسان عالم خیال میں خود کو اس کے حوادث وواقعات کے درمیان داخل تصور کرتا ہے اور دور سے ماجرے کا نظارہ کرتا ہے، لیکن یہ چاہتاہے کہ نجات دینے والا یا نجات یافتہ ہو؟ جو بھی ہو داستان کی یہ سحر انگیز تاثیر قدیم الایّام سے انسان کے ساتھ رہی ہے، ہمیشہ اس کی زندگی کے ساتھ روئے زمین پر سیر کرتی رہی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوگی۔(١)

داستان گوئی ایک ایسا طررز اوراسلوب ہے کہ جوجذابیت اور سامع کو اپنے ہمراہ کرنے کے علاوہ داستان کے اغراض ومقاصد کو قبول کرنے کے لئے عاطفی راہ بھی ہموار کرتی ہے قرآن کریم نے انسانوں کی اخلاقی تربیت کے لئے داستان کا زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا ہے داستان سن وسال کے تمام مراحل میں مفید اور مورد توجہ ہے، البتہ داستان کا مضمون سامعین کی سطح اطلاع وآگاہی کے مطابق ہونا چاہئے۔ خداوندعالم اپنے قصہ گوئی کے اہداف سے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے:

(لَقَد کَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَة لِاُوْلِی الْاَلْبَابَ، مَاکَانَ حَدِیْثاً یُفْتَریٰ وَلٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَتَفْصِیْلَ کُلَّ شَیٍٔ وَهُدًی وَرَحْمَةً لِّقَومٍ یُؤمِنُوْنَ )(٢)

''یقینا ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گھڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبان ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت بھی ہے ''۔

یہ اہداف درج ذیل ہیں:

ایک۔عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے۔

دو۔واقعیت اور حقیقت کا بیان ہے اورجھوٹ اورافتراء پردازی سے مخلوط نہیں ہے۔

تین۔حقائق امور کو بیان کرکے تجزیہ وتحلیل کرتا ہے۔

چار۔ہدایت و رحمت کا ایک وسیلہ ہے۔

____________________

١۔ نگاہی دوبارہ بہ تربیت اسلامی، ص١٢٤۔

٢۔ سورہ ٔیوسفآیت١١١۔


قرآنی داستان میں عواطف کو تحریک کرنے اور اُسے ابھارنے کے علاوہ، تعقل وخردمندی کی پرورش بھی پائی جاتی ہے، قرآنی قصے انسانوں کے درمیان اخلاقی روابط کو واضح انداز میں بیان کرتے ہیں اور آخر کار، یہ اخلاقی فضائل ہیں جو کامیابی کے ساتھ میدان سے باہر آتے ہیں اور پستیاںاور ذلتیں اورسیاہ رو ہوجاتی ہیں ہابیل وقابیل ، موسیٰ وفرعون، موسیٰ وقارون، موسیٰ اور عبد صالح، آدم وحوّا، بنی اسرائیل کی گائے، ابراہیم اور اسماعیل، یوسف اور ان کے بھائی، لوط اور ان کی قوم وغیرہ کی داستانیں بہت سے اخلاقی اور تربیتی نکات کی حامل ہیں۔ وہ نکتہ جو قرآنی داستانوں میں توجہ کو جلب کرتا ہے ، یہ ہے کہ پست میلانات کا ذکر نہیں چھیڑتا اور مردو عورت کے روابط سے متعلق داستانوں میں حریم حیا کو محفوظ رکھتا ہے اور جزئیات کے ذکر سے اجتناب کے ذریعہ پردہ دری نہیں کرتا ہے۔

داستان سے مناسب اور بجا استفادہ خصوصاً قرآنی داستانوں یاائمہ طاہرین علیہم السلام اور بزرگان دین سے متعلق داستانوں سے آسان زبان میں بیانات کی مقبولبت میں حیرت انگیز اثر ایجاد کرتاہے۔(١)

ج۔تشبیہ وتمثیل:

''تمثیل ''ایک موضوع کا کسی دوسری صورت میں بیان کرنا ہے اس طرح سے کہ دونوں قسموں کے درمیان شباہت پائی جاتی ہو اور اس کے ذکر سے پہلا موضوع زیادہ سے زیادہ واضح ہوجائے۔(٢) مَثَل جو کچھ پوشیدہ اور نامعلوم ہے اسے آشکار کردیتی ہے اور ماہیت امور کو واضح کردیتی ہے، مسائل کا بیان امثال کی صورت میں مخفی اور پوشیدہ معانی سے پردہ اٹھادیتا ہے اور مبہم اور پیچیدہ نکات کو واضح کردیتا ہے۔ مثل پند ونصیحت کی تلخی کو کم کرتی اور مسرت وشادمانی کا باعث ہوتی ہے اورمختصر الفاظ میں بہت سے معانی کا افادہ کرتی ہے اور کنایہ کے پردہ میں مطالب کی تعلیم دیتی ہے اورنہایت سادہ، آسان نیز محسوس زبان میں عقلی پیچیدگیوں کو ذکر کرتی ہے۔(٣) بلاشبہہ عام لوگوں کے درمیان متعارف اور شناختہ شدہ تربیتی وسائل میں سے ایک ضرب الامثال، تمثیلوں اور تشبیہوں سے مناسب استفادہ کرنا ہے۔ قرآن کریم نے بھی متعدد مقامات پر ان مثلوں سے استفادہ کیا ہے۔(٤)

____________________

١۔ مثنوی معنوی اخلاقی داستانیں اسی طرح کی ہیں۔

٢۔''المثل عبارة عن قوله فی ش ء یشبه قولاً فی شء آخر بینهما مشابهة لیبین احدهما الاخر ویصوره'' المفردات راغب۔

٣۔ اصول وروش ہای تربیت در اسلام، ص ٢٦٢ ملاحظہ ہو۔

٤۔ ٢٤٥ضرب المثل اور ٥٣ مورد تمثیل ہاے دینی۔


حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

''قرآنی مثلیں بہت سے فوائد کی حامل ہیں لہٰذادقیق انداز میں ان کے معنی کے بارے میں غور وخوض کرو اور (بغیر توجہ کے) ان سے گزر نہ جائو''۔(١)

قرآنی مثالیں، جیسے دنیا کے سرانجام کی تشبیہ سرسبزگھاس کے پژمردہ ہونے سے، کفار کے اعمال کی تشبیہ سراب سے، منافقین کے بارے میں متعدد تشبیہیں، اُس بوڑھی عورت سے تشبیہ جو دھاگا کاتتی ہے وغیرہ وغیرہ، یہ سب مثالیں قابل غور ہیں۔ قرآنی مثلیں تربیت کے لحاظ سے درج ذیل فوائد کی حامل ہیں:

تعلیم عبرت، تفکر وتامل، تشویق وترغیب، تنبیہ وآگاہی، تبیین وتقریر، پند ونصیحت اور پیچیدہ مسائل کو ذہن سے قریب کرنا۔

مثالوں میں اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کے سطحی معانی میں توقف نہیں کرنا چاہئے بلکہ تعقل وتفکر کے ساتھ اُس کے عمیق اور گہرے معانی میں ڈوب جانا چاہئے۔ تربیت کے لحاظ سے بھی مربی کو یہ نہیں چاہئے کہ مثل میں موجود تمام نکتوں کو تربیت پانے والے کے لئے واضح وبیان کرے بلکہ اسے موقع دے کہ وہ اپنی تلاش وکوشش سے زیادہ سے زیادہ معانی کشف کرے۔

د۔سوال وجواب:

کبھی ایک سوال کا ذکر مطلب کی طرف افراد کی توجہ اور حواس کے یکجا ہونے کا باعث ہوتا ہے، سوال کا ذکر کرنا اس بات کاباعث ہوتاہے کہ مخاطبین کی تحقیق وتلاش کی حس بیدار ہو اور جواب دہی کے لئے ضرورت محسوس کریں، بالخصوص اگر سوال اس طرح پیش کیا جائے کہ ان کے لئے نیاپن اور جاذبیت رکھتا ہو اور اس آسانی سے جواب نہ دے سکیں، ایسی صورت میں دل وجان سے قائل کی طرف آئے تاکہ اس کی باتیں سنیں۔ قرآن نے بھی متعدد مقامات پر اس روش سے استفادہ کیا ہے:

(هَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِّیَة )(٢) ''کیا تمھیں ڈھاپنے والی قیامت کی بات معلوم ہے؟''۔

(اَلْقَارِعَة مَا الْقَارِعَة وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْقَارِعَة )(٣) '''کھڑکھڑانے والی، اور کیسی کھڑکھڑانے والی اور تمھیں کیا معلوم کہ وہ کیسی کھڑکھڑانے والی (قیامت) ہے؟''۔

____________________

١۔''امثال القرآن لها فوائد فامنعوا النظر فتفکروا فی معانیها ولا تمروا بها'' ۔

٢۔ سورہ ٔغاشیہ، آیت١۔

٣۔ سورہ ٔقارعہ، آیت ١تا٣۔


(هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنَ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَذْکُوراً )(١)

''کیا انسان پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے سے نہیں تھا؟''۔

کبھی سوالات کودوسروں کی زبان سے بھی بیان کرتا ہے:

( ٰیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ )(٢)

''(اے پیغمبر!) آپ سے یہ لوگ انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں''۔

(یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَهِلَّةِ )(٣)

''(اے پیغمبر!)یہ لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں''۔

(یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰه یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَةِ )(٤)

''(اے پیغمبر!) یہ لوگ آپ سے فتویٰ دریافت کرتے ہیں تو آپ ان سے کہدیجئے کہ خداوند کلالہ (بھائی بہن) کے بارے میں حکم بیان کرتا ہے...''۔

پیغمبر اکرم کے بیانات میں بھی سوال وجواب کے طریقے کثرت سے پائے جاتے ہیں:

''آیا تم میں سب سے افضل شخصکے بارے میں خبر نہ دوں... ''؟

''آیا خدا کے نزدیک بہترین اعمال کی خبر نہ دوں...''؟

''آیا تمہیں لوگوں میں سب سے بڑے انسان کی خبر نہ دوں...''؟

''آیا تمہیں ایسے لوگوں سے باخبر نہ کروں جو اخلاق میں مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں...؟

اخلاقی اقدار کی دعوت کے لئے کلی طور پر آیات وروایات، نصیحت آمیز اشعار اور بزرگوں کے کلمات سے استفادہ کہ جو ''مقبولات عقلی '' شمار ہوتے ہیں، دعوت کی تاثیر میں دوگنا اضافہ کردیتا ہے۔

اخلاقی اقدار کی طرف دعوت کی روش سے استفادہ ''خود تربیتی'' کی صورت میں یہ ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو اس دعوت کے معرض میں قرار دیتے ہیں۔

____________________

١۔ سورہ ٔانسان، آیت١۔ ٢۔ سورہ ٔانفال، آیت١۔ ٣۔ سورہ ٔبقرہ، آیت١٨٩۔ ٤۔ سورہ ٔنسائ، آیت١٧٦۔


دوسری فصل:

ا سلا م میں ا خلا قی تر بیت کے طر یقے

۱۔ عقلانی قوت کی تربیت

(اقدار اور موعظہ کی دعوت)گذشتہ روش کے برعکس کہ عام طور پر انسان کے عاطفی پہلو پر تاکیدکرتی ہے، اس روش میں بنیادی تاکید انسان کے شناختی، معرفتی اور ادراکی پہلو پر ہے، جس طرح عاطفی محرّک رفتار کے اصول ومبادی میںشمار ہوتا ہے، فائدہ کا تصور وتصدیق بھی شناخت کیاصول ںومبادی میں سے ہے کہ یہ روش اس کی ضرورت پوری کرنے کی ذمہ دار ہے۔

قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کے ارشادات وتعلیمات اس روش اور طریقے پرتاکید کرتے ہیں، اور اس کے حدود، موانع اور مقتضیات کو بیان کرتے ہیں۔

قرآن نے تعقل، تفقہ، تدبر، لبّ، حجر، نہیٰ، حکمت، علم وفہم جیسے الفاظ کا استعمال (ان ظریف تفاوت کے لحاظ سے بھی جو ان کے درمیان پائے جاتے ہیں) کا اس روش سے استفادہ کے لئے کیا ہے۔ قرآنی آیات مندرجہ باتوں کے ذریعہ اپنے مخاطبین کی معرفت اور عقثلانی قوت کی پرورش کرتی ہے:

استفہام تقریری یا تاکیدی کے ذریعہ سے(١) گذشتہ افراد یا اکثریت کی اندھی تقلیداورپیروی کرنے کی ممانعت ہے،(٢) ان لوگوں کی مذمت جوتعقل نہیں رکھتے،(٣) ان لوگوں کی مذمت جوبغیر دلیل کے کسی چیز کو قبول کرلیتے ہیں،(٤) تعقل وتدبرکی دعوت،(٥) موازنہ اور تنظیر،(٦) احسن انتخاب پرترغیب وبشارت(٧) وغیرہ۔

____________________

١۔ سورہ ٔبقرہ، آیت٤٤۔سورہ ٔقیامت، آیت٢۔

٢۔ سورہ ٔزخرف، آیت٢٢۔٢٣۔٢٤ اور سورہ ٔانعام، آیت١١٦۔

٣۔ سورہ ٔانفال، آیت٢٢۔

٤۔ سورہ ٔانعام، آیت١١٦۔ سورہ ٔزخرف، آیت٢٠۔

٥۔ سورہ ٔیوسف، آیت ١٠٥۔

٦۔ سورہ ٔزمر، آیت٩، سورہ ٔرعد، آیت ١٦ اور سورہ ٔنحل، آیت٧٦۔

٧۔ سورہ ٔزمر، آیت ١٨۔


روایات بالخصوص اصول کافی کی کتاب عقل وجہل اور دیگرروائی ماخذمیں بھی عقل وتعقل کو عظیم مرتبہ کا حامل قرار دیا گیاہے اورانسان کے اخلاقی تربیت سے متعلق خاص طورپر اس کے نقش وکردارکو موردتوجہ قراردیا گیا ہے۔(١)

علمائے اخلاق کی تربیتی روش میں بھی ان کی اصلاحی تدبیروں راہنمائیوں کا ایک قابل توجہ حصہ انسان کی شناختی پہلوسے متعلق ہے ،جیسے انسان کے ذہنی تصورات کی ایجاد یا تصحیح خود عمل یا اخلاقی صفت سے، اعمال کے دنیوی اور اخروی عواقب و نتائج کی ترسیم، اخلاقی امور کے بُرے یا اچھے لوازم اور ملزومات ان کے اخلاقی نظریہ میں بھی، غضب اور شہوت کی قوتوں پر عقلانی قوت کے غلبہ کواخلاقی رذائل سے انسان کی نجات اور اخلاقی فضائل کی طرف حرکت کا سبب ہے، اس لئے کہ قوۂ عقل کے غلبہ سے تمام قوتوں کے درمیان اعتدال پیدا ہوتا ہے اور فضیلت کا معیار بھی اعتدال۔ تفکر وتعقل کے وہ موارد جو اخلاقی تربیت میںموثر ہوسکتے ہیں، آیات وروایات میں ان کا تعارف کرایاگیا ہے:

١۔ طبیعت:

''زمین وآسمان میں کتنی زیادہ علامتیں اور نشانیاں ہیں کہ جن پر سے لوگ گذرتے ہیںاس حال میں کہ اُن سے روگرداں ہوتے ہیں''۔(٢)

٢۔تاریخ:

حضرت علی ـ فرماتے ہیں:

''حضرت اسماعیل کے فرزندوں، اسحاق کے فرزندوںاور یعقوب کے فرزندوں سے عبرت حاصل کرو، کس قدر ملتوں کے حالات آپس میں مشابہ اور ان کے افعال وصفات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ اُن کے پراگندہ اور متفرق ہونے کے بارے میں غور کرو، جس وقت روم وفارس کے بادشاہ اُن کے ارباب بن گئے تھے(٣) میرے بیٹے! یہ سچ ہے کہ میں نے اپنے گذشتہ افراد کی عمر کے برابر زندگی نہیں پائی ہے، لیکن اُن کے کردار میں غور وفکر کیا ہے، ان کے اخبار کے بارے میں تفکر کیا ہے اور ان کے آثار میں سیر وسیاحت کی ہے کہ ان میں سے ایک کے مانند ہوگیا، بلکہ گویا جو کچھ ان کی تاریخ سے مجھ تک پہنچا ہے ان سب کے ساتھ میں اول سے آخر تک ہمراہ تھا''۔(٤)

____________________

١۔ اصول کافی، ج١، باب جنود عقل وجنود جہل۔٢۔ سورہ ٔیوسف، آیت١٠٥۔٣۔ نہج البلاغہ، خطبہ قاصعہ، ١٩٢۔ ٤۔ نہج البلاغہ، مکتوب ٣١۔


٣۔قرآن:

''آیا قرآنی آیات میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا (یہ کہ) ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں''۔(١)

٤۔انسان:

حضرت امام حسین ـ کی دعائے عرفہ کے پہلے فقرات سے اور توحید مفضل(بحار، ج٣) سے مفید اور کار آمد نکات معلوم ہوتے ہیں: اخلاقی قواعد کا اثبات اور تزکیہ باطن عام طور پر بغیر عقلانی قوت کی تربیت کے ممکن نہیں ہے، یہ روش خود سازی اور دوسروں کی تربیت سے وجود میں آسکتی ہے شناخت و معرفت کے ماہرین نفسیات بالخصوص ''پیاژہ'' اس روش کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے وہ اخلاقی نمونوں تک رسائی کو ''قابل تعمیر'' اور فعّال وخود سازی روش جانتا ہے نیز معتقد ہے کہ اخلاقی تحول وانقلاب شناخت کے رشد وتحول کے بغیرممکن نہیں ہے:یہاں پر ایک قسم کی عجیب وحیرت انگیز ہماہنگی، اخلاقی وعقلانی تربیت میں پائی جاتی ہے جسے یوں ذکر کیاجاتا ہے کہ آیا جو کچھ تربیت خارج سے انسان کو دیتی ہے تاکہ اس کے اکتسابی یا فردی ادراک کو بے نیازاور مکمل کرے، سادہ قواعد اور حاضر آمادہ معراف میں محدود منحصر ہوسکتا ہے ؟ ایسی صورت میں آیا مراد یہ نہیں ہے کہ (صرف) کچھ تکالیف ایک طرح کی اور حس اطاعت انسان پر لازم کی جائے... یایہ کہ اخلاقی تربیت سے استفادہ کا حق عقلی تربیت حق کے مانند یہ ہے کہ انسان حق رکھتا ہو کہ عقل واخلاق کو اپنے اندر واقعاً جگہ دے یا کم ازکم ان کے فراہم کرنے اور ان کی تعمیر میں شریک اور سہیم ہو، تاکہ اس مشارکت کے نتیجہ میں وہ تمام افراد جو ایک دوسرے کے معاون اور مددگار ہیں، ان کی تعمیر پر مجبور ہوجائیں۔ لہٰذا اخلاقی تربیت کی راہ میں، ''خود رہبری'' کا مسئلہ عقلی خود سازی کے مقابلہ میں ان افراد کے درمیان جو اس کی تلاش میں ہیں ذکرکیا جاتا ہے۔(٢)

جو طریقے اس روش کے تحقق میں استعمال کئے جاسکتے ہیں درج ذیل ہیں:

الف ۔افکار کی عطا اور اصلاح:

اخلاقی اعمال فکر کی دوقسموں سے وجود میں آتے ہیں:

پہلی قسم :

انسان کا اپنی ھستی کے بارے میں آگاہ ہونا، دنیا، نظام عالم، مبدأ اور معادکی نسبت وہ کلی یقین ومعتقدات ہیں کہ انھیں خداشناسی اور فلسفہ حیات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ واضح ہے کہ انسان کی نگاہ اپنے اطراف کے عالم پر اُس کی اخلاقی رفتار میںموثر ہے۔ اعتقادات جیسے خدا کی قدرت کااحاطہ اور حضور عالم کا توحیدی انسجام یا نظام تقدیر، خدا پر توکل، تمام امور کا اس کے حوالہ کرنا، تسلیم ورضا وغیرہ سارے کے سارے ہمارے اخلاقی رفتار میں ظاہر ہوتے ہیں۔

____________________

١۔ (اَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرآنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوبٍ اَقْفَالُهَا )(سورہ ٔمحمد، آیت٢٤) ٢۔ پیاژہ: تربیت رہ بہ کجا می سپرد، ص٥٣۔


آج کل سلامتی کے ماہرین نفسیات اس نکتہ کی طرف توجہ رکھتے ہیں کہ خدا شناسی اور انسجام عالم کی حس کی نسبت، انسان کی مقاومت کے لئے ایک ایسا مرکز فراہم کرتی ہے کہ جو اخلاقی متانت کہ انسان کی سلامتی کے لئے عالم کو دبائو میں ڈالنے والے حوادث کے مقابل تاثیر گذار ہے۔

انسجام کی حس ایک مقابلہ کا مأخذ ہے، حس انسجام (دنیا کے نظم وضبط میں تنظیم ویگانگی کا احساس کرنا) ایک قسم کی خداشناسی ہے کہ جس سے مراد مندرجہ امور کی نسبت دائمی اور مستمرّ اطمینان کے احساس ہے:

١۔ ایسے محرک جو انسان کی پوری زندگی میں باطنی اور بیرونی ماحول سے پیدا ہوتے ہیں، تشکیل شدہ منظم، پیشین گوئی کے قابل اور قابل توجیہ ہیں۔

٢۔انسان ان ضرورتوں سے روبرو ہونے کے لئے کہ جن کو ان محرکات نے ایجاد کیا ہے، کچھ وسائل ماخذ رکھتا ہے؟

٣۔یہ ضرورتیں، ایسی کوششیں ہیں جو سرمایہ گذاری اور وقت صرف کے لائق ہیں۔ یہ لوگ دنیا کو قابل درک اور قابو میں کرنے کے لائق جانتے ہیں اور زندگی کے واقعات وحوادث کو بامعنی محسوس کرتے ہیں۔(١)

دوسری قسم :

ایسے افکار ہیں کہ جو عمل کی اصلاح اورصحت سے متعلق ہیں اور یہ کہ یہ خاص رفتار عمل کرنے والے کے ہدف سے یگانگت رکھتی ہے۔اور حقیقت میں اطلاعات دینے کے ایک طریقہ سے مربوط ہے۔

البرٹ الیس شناخت سے متعلق ماہرنفسیات ہے کہ جو اپنی نجاتی روش کے سلسلہ میں عقلی اور عاطفی علاج سے استفادہ کرتا ہے اُس نے غیر عقلی تفکر کے نمونے پیش کرنے کے شاتھ اُس کا علاج جدید آمادگی اور جدید افکار ومعتقدات کو اُن کا جاگزین کیا جانا ہے کبھی غیر اخلاقی رفتار یانامطلوب صفات غلط نظریہ اور خیال کا نتیجہ ہوتے ہیں کہ جو دھیرے دھیرے انسان کے فکری نمونے بن جاتے ہیں اورایسے نظریوں کا تبدیل ہونا اخلاقی تربیت کے لئے ضروری ہے، غیر عقلی (غیر معقول) تفکر کے بعض نمونے ہر طرح کی اخلاقی رفتار کی تبدیلی سے مانع ہوسکتے ہیں، الیس ان موارد کو اس طرح بیان کرتا ہے:

١۔انسان اس طرح فرض کرے کہ اُن افراد کی جانب سے جو اس سے متعلق اور اُس کے لئے اہم ہیں مورد تائید، اور لائق محبت و احترام واقع ہو۔

____________________

١۔ Psyhology Health/.p۳۲۷


٢۔جب بھی انسان سے کوئی لغزش ہوجائے تو اس کے لئے صرف اتنا اہم ہے کہ وہ مقصّر کا سراغ لگائے اور اسے سزا دے۔

٣۔اگر مسائل اس کی مراد کے مطابق نہ ہوں تو اُس کے لئے حادثہ آمیز چیز ہوگی۔

٤۔سب سے زیادہ آسان یہ ہے کہ انسان مشکلات اور ذمہ داریوں سے فرار کرے، نہ کہ اُن کا سامنا کرے۔

ب۔ ا خلاقی استدلال:

پیاژہ اور کلبرگ نے اس روش سے استفادہ کیا ہے اس طرح سے کہ داستانوں کو بچوں کے شناختی تحوّل وانقلاب کی میزان کے مطابق اس طرح بیان کرتے تھے کہ ان کے ضمن میں داستان کا ہیرو اخلاقی دوراہہ پر کھڑا ہے اوریہاں پر داستان کے مخاطب کو چاہئے کہ جو استدلات وہ بیان کرتا ہے ان سے اپنی اخلاقی قضاوت کااستخراج کرے مربی جزئی دخالتوں سے اس اخلاقی بحران کی بحث چھیڑے ( البتہ ان سے آگے قدم نہ بڑھائے یا کوئی استدلال پیش نہ کرے) اور صرف بالواسطہ ہدایت کرے اور ان کے استدلات کو صاف وشفاف کرے۔ یہ استدلات تربیت پانے والے کے ذہن میں نقش چھوڑتے ہیں اور اُسے انجانے طریقہ سے اس کی اخلاقی رفتار میں ہدایت کرتے ہیں۔

اخلاقی استدلال بلاواسطہ اورخود عمل پر بھی ناظر ہوسکتے ہیں؛ یعنی انسان کا روبرو ہونا اپنے اعمال کے نتائج کے ساتھ۔ علمائے اخلاق کی روش میں بھی اس طرح کے اقدامات پائے جاتے ہیں: عمل کے نتائج و آثار روش سے واضح انداز میں انسان کے لئے مجسّم ہوتے ہیں اور مخاطب کو یقین حاصل ہوتا ہے کہ یہ عمل اس طرح کے نتائج وآثار کا حامل ہے، درحقیقت ہم اس کے لئے موقعیت کی توصیف کرتے ہیں ( بغیر اس کے کہ اُس میں امرو نہی درکار ہو) اوریہ خود انسان ہے کہ جو ان نتائج کو درک کرکے انتخاب کرتا ہے اور اس کے عمل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے قرآنی آیات کبھی عمل کے ملکوتی کو مجسّم کرکے اس روش اور اسلوب سے استفادہ کرتی ہیں:

''اے صاحبان ایمان !... تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کرے آیا تم میں سے کوئی چاہتاہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً اُسے ناپسند کروگے (لہٰذا) بے شک خدا سے ڈرو کہ خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے''۔(١)

____________________

١۔ سورہ ٔحجرات، آیت ١٢۔


کبھی اعمال کے دنیوی یا اخروی نتائج کی منظر کشی کرکے افراد کو ان کے عواقب سے آشنا کرتا ہے:

''ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں سوال کریں گے : ''کس چیز نے تمہیں سقر (کی آگ) میں جھونک دیا ہے؟ '' وہ کہیں گے : ''ہم نمازگذاروں میں سے نہیں تھے، اور مسکینوں اور بے نوائوں کو ہم کھانا نہیں دیتے تھے...''(١)

ج۔ مطالعہ اور اطلاعات کی تصحیح:

مطالعہ لغت میںان معانی میں استعمال ہوتا ہے: کسی چیز کے معلوم کرنے کے لئے اُس کو دیکھنا ، کسی کتاب یا کسی نوشتہ کا پڑھنا اور اس کا سمجھنا.......۔

آخری سالوں میں اطلاعات فراہم کرنے والوں کے اقدام نے بہت سے ماہرین نفسیات کی توجہ اپنی طرف جلب کرلی ہے(٢) کیونکہ جو اطلاعات انسان کے ذہنی سسٹم میں وارد ہوتی ہیں، وہ انسانی رفتار کو جہت دینے میں ایک اہم اور قابل تعیین کردار ادا کرتی ہیں۔ البتہ اطلاع کی فراہمی کا اندازبھی اہم ہوتا ہے کہ افکار کی عطا کی بحث میں ان کی طرف اشارہ ہواہے۔ بِک ] Beck [منجملہ ان کے ماہریں نفسیات میں سے ہے کہ جو اسی طریقۂ عمل سے افسردگی کی بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔ اخلاقی بیماریوں کا علاج کرنے یا کلی طور پر صحیح اخلاقی تربیت یا فضائل اخلاقی کی ر اہ پیدا کرنے میں اسی طرز واسلوب سے مدد لے سکتے ہیں، یعنی اخلاقی مشکلات کے سلسلہ میں علم اخلاق کی مناسب کتابوں کا مطالعہ اور جدید اطلاعات کے حصول سے انسان اپنے عمل کے اسباب وعوامل کو پہچان لیتا ہے اور اس میں تبدیلی یااصلاح انجام دیتا ہے اور بالواسطہ طور پر اخلاقی تربیت کا باعث ہوتاہے۔ کبھی اس کی سابق اطلاعات سے متعارض اطلاعات اُسے غور وفکر اور فیصلہ کرنے نیز تجدید نظر کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

د ۔مشورت ومشاورہ:

اس سے مراد مربی اور تربیت دیئے جانے والے یاوالدین اور فرزندوں کے درمیان ایک طرح کا معاملاتی رابطہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت سے مسئلہ کا تجزیہ وتحلیل کریں اور اخلاقی مسائل میں ایک مشترک راہ حل تک رسائی حاصل کریں۔ یہ طرز تربیت پانے والی شخصیت کے احترام واکرام

____________________

١۔ سورہ ٔمدثر، آیت ٤٠تا ٤٤۔

٢۔ روان شناسی رشد بانگرش بہ منابع اسلامی، ج٢، ص٦٢٦۔


کے علاوہ اخلاقی تربیت کے اعتبار سے رشد عقلی کا باعث ہوتا ہے:

''مَنْ شَاوَرَ ذَوِی الْعُقُوْل اسْتَضَاء بانوار العقول ''(١)

''جو انسان صاحبان عقل وہوش سے مشورہ کرے، وہ ان کے نور عقل وخرد سے استفادہ کرتا ہے''۔

اسلامی روایات، مشورہ کو رشد وہدایت کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور شایستہ افراد سے مشورہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ تاکید کرتی ہیں:

''دوسروں سے مشورہ کرنا ہدایت کا چشمہ ہے اور جوکوئی خود کو دوسروں کے مشورہ سے بے نیاز تصور کرے تو اُس نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دیا ہے''۔(٢)

اس روش میں تربیت پانے والے کا مقصد عقلانی توانائی کا حصول اور اخلاقی مسائل میں فیصلہ کرنا ہے، یعنی مشورت کے ذریعہ اسے آمادہ کریں کہ ''خود رہبری'' اور ''فعّال'' کی روش کو ہدایت کے ساکنین کو اخلاقی تربیت کی راہ میں لے آئے اور اپنی اخلاقی مشکل کو حل کرسکے، مشورہ میں پہلا قدم مراجع (تربیت دیا جانے والا) نہیں اٹھاتا؛ بلکہ مربی کو اس سے نزدیک ہونا چاہئے اور رابطہ ایجاد کرکے یا کبھی مسائل میں اُس سے راہ حل طلب کرکے، اُسے اپنے آپ سے مشورت سے کرنے کی تشویق کرنی چاہئے۔(٣)

۲-۔ عبرت حاصل کرنے کے طریقے

کلمہ ''عبر'' ایک حال سے دوسرے حال میں گذرنے اور عبور کرنے کو کہتے ہیں اوراعتبار (عبرت آموزی) ایک ایسی حالت ہے کہ مشہور چیز دیکھنے اورجوکچھ اس کے نزدیک حاضر ہونے سے ایک نامشہود پیغام تک رسائی حاصل کرلیں لہٰذا اس روش سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اندر امور وحوادث کے دقیق مشاہدہ اور اس میں غور وخوض کرنے سے باطنی تبدیلی حاصل ہوجاتی ہے کہ اس انفعال نفسانی کی حالت کے نتیجہ میں، اُس حادثہ کی گہرائی میں موجود پیغام کو قبول کرنے کے لئے آما دہ ہوجائے، عینی مشا ہدہ وہ بھی نزدیک سے انسان میں ایسا اثر کرتا ہے کہ سننا اوردوسروں کا بیان کرنا اتنا اثر نہیں رکھتا۔

____________________

١۔ غرر الحکم ودرر الکلمج٥ص٣٣٦ش ٨٦٣٤۔

٢۔ الاستشارة عین الہدایة وقد خاطر من استغنی برایہ نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج١٩ص٣١۔


٣۔ اسلامی تعلیمات مختلف جہات سے مشورت کے مسئلہ پر تاکید کرتی ہیں؛ مزید معلومات کے لئے سید مہدی حسینی کی کتاب ''مشاورہ وراہنمائی درتعلیم وتربیت '' ملاحظہ ہو۔

اس کی دلیل پہلے مشاہدات کا زیادہ سے زیادہ قابل قبول ہونا ہے؛ سنی سنائی چیزوں کے برعکس کہ اُس میں عام طور پرشکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔ برہان عقلی میں یقینیات میں سے ایک مشاہدات یا محسوسات ہیں۔ دوسرے حادثہ کی جانب اس کے جزئیات سمیت توجہ دینا،کے شناختی وعاطفی قالب اور ڈھانچوں کے مطابق دیکھنے والے اس بات کا باعث ہوتا ہے کہ وہ واقعہ بہتر جا گزیں ہو اور انسان کے نفسیاتی قالب میں جگہ پائے۔ البتہ کبھی تاریخی یاداستانی بیانات بیان کرنے والے کی ہنر نمائی کے زیر اثر اس درجہ دقیق ہوتے ہیں کہ گویا سننے والا یاپڑھنے والاخود اس حادثہ کے اندر اپنے موجود محسوس کرتاہے ۔ نمائشی ہنر میں جیسے فیلم وغیرہ میں اس طرح کا امکان پایاجاتا ہے۔ قرآن وروایات میں عبرت آموزی کا طریقہ کثرت سے استعمال کیا گیا ہے، عبرت آموزی کے طریقے درج ذیل ہیں:

الف۔گذشتگان کے آثار کا مشاہدہ :

تاریخ کے صفحات ایسے لوگوں کے وجود سے بھرے پڑے ہیں جنھوں نے خطا کے بار کو کاندھے پر اٹھایا اور غیر صحیح راہ پر گامزن ہوگئے ہیں، گذشتگان کے باقی ماندہ آثار میں غور وفکر کرنے سے ہمیں تعلیم کرناپڑتا ہے کہ ہر گناہ وخطا سے کنارہ کشی کے لئے لازم نہیں ہے کہ خود تجربہ کریں اور اس کی سزا اور انجام دیکھیں۔ تاریخی عمارتیں، میوزیم، کھنڈر، دفینے وغیرہ ان انسانوں کی علامتیں ہیں جنھوں نے انھیں وجود بخشا ہے۔ قرآن ہمیں ان کی جانب سیر وسفر اور گذشگان سے تجربہ حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے: ''آیا ان لوگوں نے زمین میں گردش نہیں کی ہے تاکہ اپنے پہلے والوں کے انجام کا مشاہدہ کریں کہ وہ کس طرح تھا؟ وہ لوگ ان سے زیادہ قوی تھے اور انھوں نے روئے زمین پر زیادہ ثابت اور پائدار آثار چھوڑے ہیں، خدا نے انھیں ان کے گناہوں کے عذاب میں گرفتار کردیا اورخدا کے مقابل ان کا کوئی بچانے والا نہیں تھا''۔(١) عمار ساباطی نقل کرتے ہیں:حضرت امیر المومنین علی ـ مدائن آئے اور ایوان کسریٰ میں نازل ہوئے اور ''دلف بن بحیر'' ان کے ہمراہ تھا، آپ نے وہاں نماز پڑھی اور اٹھ گئے.... حضرت کی کے خدمت میں ساباطیوں کا ایک گروہ تھا، آپ نے منازل کسریٰ میں چکر لگایا اور دلف سے فرمایا: ''کسریٰ اس جگہ مقام ومنزلت کا حامل تھا''دلف نے کہا: خدا کی قسم ایسا ہی ہے جیسا آپ فرمارہے ہیں۔

____________________

١۔ سورہ ٔمومن آیت٢١۔


پھر اس گروہ کے ہمراہ اُن تمام جگہوں پر گئے اور دلف کہہ رہے تھے: ''اے میرے سید وسردارآپ اس جگہ کے بارے میں اس طرح آگاہ ہیں گویا آپ ہی نے ان چیزوں کویہاں رکھا ہے۔ جب حضرت مدائن کی طرف سے گذرے اور کسریٰ اور اس کی تباہی کے آثار مشاہدہ کئے تو حضرت کی خدمت میں موجود افراد میں سے ایک نے یہ شعرپڑھا:

جرت الریاح علی رسوم دیارہم

فکأنهم کانوا علی میعاد

ان کے گھروں کے مٹے ہوئے نشانات پر ہوائیں چل رہی ہیںپس گویا وہ اپنی وعدہ گاہ پر ہیں۔

حضرت نے فرمایا: تم نے یہ آیات کیوں نہیں پڑھیں؟

واہ! انھوں نے کیسے کیسے باغات اور بہتے چشمے چھوڑے ہیں، کھیتیاں اور عمدہ مکانات چھوڑ گئے ہیں اور وہ نعمتوں میں مزے اڑا رہے ہیں، (ہاں) ایساہی تھا اور ہم نے دیگرلوگوں کو ان کی میراث دے دی پھر تو ان پر آسمان وزمین نے گریہ وزاری نہیں کی اور نہ انھیں مہلت دی گئی ۔(١)

اس کے بعد حضرت نے فرمایا: یہ لوگ گذشتگان کے وارث تھے،پس وہ خود بھی آئندہ والوں کے لئے میراث چھوڑکر گئے ، انھوں نے نعمت کا شکر ادا نہیں کیا لہٰذا ناشکری کے زیر اثر اُن سے ساری نعمتیں سلب ہوگئیں، نعمات کی ناشکری سے پرہیز کرو کہ تم پر بلائیں نازل ہوجائیں گی...۔(٢)

نہج البلاغہ میں اس نکتہ کی طرف زیادہ توجہ دلائی گئی ہے:

''تمہارے لئے گذشتہ امتوں کی سرنوشت میں عبرتیں ہیں، عمالقہ اور ان کی اولاد کہاں ہیں؟ فراعنہ اور ان کے اخلاف کہاں ہیں؟ اصحاب رس جنھوں نے پیغمبروں کو قتل کیا ہے کی سنتوں کو پامال کیاہے اور جبّاروں کی رسومات کو باقی رکھا ، کہاں ہیں؟ ۔''(٣)

خداوند متعال فرماتاہے: ''پھر آج تم ]فرعون[ کوتمھارے بدن کے ساتھ بچالیتے ہیں تاکہ ان کے لوگوں کے لئے جو تمہارے بعد آئیں گے، عبرت ہو۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔدخان آیات ٢٥، ٢٩۔٢۔ بحارالانوار ج٧٨ص٩٢۔

٣۔ نہج البلاغہ خطبہ١٨٢۔٤۔ (فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک آیة )(سورہ ٔیونس آیت٩٢ )۔


قبروں کی زیارت اور ان لوگوں کے حالات کے بارے میں غور وفکرجو روئے زمین پر سرکشی اور تکبر کرتے تھے اور آج بغیر حرکت کے اورانتہائی ذلت وخواری کے ساتھ خاک میں دفن ہیں، انسان کو خاضع بلکہ اسے فرمانبردار بنا دیتا ہے، کبرو نخوت کو فروتنی وخاکساری سے تبدیل کردیتا ہے اورآدمی کو یہ فرصت دیتا ہے کہ خود کو درک کرے اور اپنی عاقبت کے بارے میں غور کرے۔

حضرت علی ـ نے آیہ شریفہ: ''کثرت مال واولاد کے باہمی مقابلہ (یا اس پر تفاخر) نے تمہیں غافل بنادیا ہے یہاں تک کہ تم نے قبروں سے ملاقات کرلی''(١) کی تلاوت کے بعد فرمایا:

''آیا اپنے آباء واجداد کے مقام نزول پر افتخار کرتے ہیں ؟ یہ لوگ فخر وافتخار سے زیادہ عبرت کے سزاوار ہیں اگرچہ اُن کے آثار بینانہیں ہیں اور ان کی زندگی کی داستان ختم ہوچکی ہے، لیکن عبرت آموز نگاہیں ان کی طرف دیکھ رہی ہیں اور عقلمندوں کے گوش شنواآوازوں کودرک کرتے ہیںاور بے زبانی سے ہم سے گفتگو کرتے ہیں...۔(٢)

مربی حضرات معمولی توجہ اور بصیرت و عبرت آموزی کی دعوت سے، ان تفریح گاہوں سے جو تاریخی جگہوں پر برپاہوتی ہیں، اخلاقی اور تربیتی ضرورت کااستفادہ کرسکتے ہیں، گروہی یا فردی مسافرت وسعت نظر اور دل ایجاد کرنے کے علاوہ بہت زیادہ مفید اورعبرت آمیز ہے۔

ب ۔ طبیعت اور موجودات کی طرف نظر:

زمین میں سیر وسیاحت کرنے سے انسان کو عجائب خلقت سے بہرہ مند ہوتا ہے ''اے پیغمبر! آپ کہہ دیجئے! زمین میں گردش کرو پھر موجودات کی وجہ تخلیق کے بارے میں غورو فکر کرو۔ '' قرآن کریم نے موجودات طبیعت سے عبرت حاصل کرنے کو مورد توجہ قراردیاہے:

''چوپائوں کے وجود میں تمہارے لئے عبرت کے (اسباق) ہیںکہ ان کے شکم اندر سے گوبر اور خون کے درمیان سے تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیںجو پینے والوں کے لئے انتہائی خوشگوار معلوم ہوتا ہے اور کجھور اورانگور کے پھلوں سے اچھی اور پاکیزہ روزی حاصل کرتے ہو، صاحبان عقل وہوش کے لئے اس میں واضح نشانیاں ہے''۔(٣)

____________________

١۔ سورہ ٔتکاثر آیت ١، ٢۔

٢۔ بحار الانوار ج٧٧ ص٤٣٠و٤٣٢۔

٣۔ سورہ، نحل آیت ٦٦تا٦٧۔


''خدا شب وروز کو دگرگوں کرتا ہے، اس میں صاحبان بصیرت کے لئے ایک عبرت ہے ''۔(١)

عالم کی حیرت ا نگیز چیزیں، انسان کو خاضع اور خاشع بناتی ہیں، بہت سی گندگیوں کاسرچشمہ اور اخلاقی پستیوں کا منبع ''خود خواہی ''(٢) اور خود بینی وتکبر ہے ، اس وجہ سے اخلاقی تربیت کے اہداف میں ''خود خواہی '' سے دوری اختیار کرنا ہے، پیاژہ کے بقول: ''... اخلاقی تربیت کے دو بنیادی مسئلے یہ ہیں: ''انضباط کا برقرارکرنا'' اور ''خود پسندی سے نکلنا ''(٣) عالم کی عظمت کی اور اس کے عجائب کی طرف ، انسان کو خودی سے باہر نکالتے ہیں اور مکارم اخلاق کے قبول کرنے کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔

ج ۔ موجودہ حوادث اور واقعات کی جانب توجہ:

ہم اپنے زمانے میں زندگی گزارتے ہیں اور قبل اس کے کہ تاریخ کے سینہ میں حوادث اور واقعات دفن ہوجائیں ہم اُن سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں حضرت امیر المومنین علی ـ فرماتے ہیں: ''میں اپنے قول کا خود ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں، جو شخص بھی زمانے کے ناگوار حوادث سے عبرت حاصل کرے، شبہات میں مبتلا ہونے کے وقت تقویٰ اس کی حفاظت کرے گا''۔(٤)

اپنے بارے میں ایک سرسری نظر اوران مختلف واقعات کا نظارہ کہ کبھی ہم زمان ہونے کا حجاب ہمیں اُس سے غافل کردیتا ہے، شخصیتوں کی پستی وبلندی اور ان کی ظاہری عزت وذلت کا گردش زمانہ میں ہمیں پتہ دیتا ہے، عمل کی جزائیں اور پوشیدہ حکمتیں راہ حوادث کے پس پردہ انتہائی نصیحت آموز ہیں اور یہ عینی تجربے عبرت کے قیمتی ذخیروں میں سے ہیں۔

د۔ گذشتگان کے قصوں میں غور و فکر:

گذشتہ افراد کی داستان زندگی بھی ہمارے لئے عبرت آموز ہوسکتی ہے۔ یہاں پر عبرت حاصل کرنے والا گذشتہ افراد کے آثار کے واقعی میدانوں اور وقت حاضر نہیں ہوتا، لیکن داستان اور اس کے نشیب وفراز میں غور وفکرکے ساتھ ، اس کی خالی فضا میں پرواز کرتا ہے کہ اس کاعبرت آمیز رخ عینی مقامات سے کمتر ہے لیکن اس سے نزدیک ہے۔

____________________

١۔ سورۂ نورآیت ٤٤۔٢۔من رضی عن نفسه ظهرت علیه المعایب، ما اضرّالمحاسن کا لعجب ( غررالحکم ) فصل ٦، ص٣٠٨)۔

٣۔ تربیت رہ بہ کجا می سپرد، ص٩٣۔٤۔ نہج البلاغہ خطبہ ١٦۔


قرآن حضرت یوسف کی داستان نقل کرتے ہوئے فرماتاہے: ''ان کی داستانوں میں صاحبان عقل کے لئے درس عبرت ہے''۔(١)

یا غزوہ نضیر کے واقعات نقل کرنے کے بعد فرماتاہے: ''پس اے صاحبان بصیرت عبرت حاصل کرو''۔(٢)

ایک دوسرے جگہ پر جنگ بدر کے اہم واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمیں عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے: ''یقیناً اس ماجرہ میں صاحبان بصیرت کے لئے ایک عبرت ہے ''۔(٣)

قرآنی آیات اور روایات کے طرز تربیت میں جو کہ عبرت آموز ی کی تاکید کرتی ہیں، دونکتے قابل توجہ ہیں:

١۔ عبرت حاصل کرنا ایک(٤) دور اندیش عقل(٥) اور بیدار دل(٦) رکھنے کا مستلزم ہے۔

اسی لئے یہ روش عقلانی قوت کی روش کی پرورش کے بعد ذکر ہوئی ہے، یعنی عام طور پر عقلانی عمیق نظر کے بغیر عبرت آموزی ممکن نہیں ہے۔ اسی لئیحضرت امیر المومنین علی ـ نے مکرر فرمایا ہے: ''عبرتیں کتنی زیادہ ہیں اور عبرت حاصل کرنے والے کتنے کم ہیں''۔(٧)

٢۔ دوسرے یہ کہ آیات وروایات کی روشنی میں عبرت کے لئے ان صفات کا ہونا ضروری ہے:

عصمت وپاکدامنی، دنیا سے کنارہ کشی، لغزش وخطا کی کمی ، اپنی معرفت ، طمع وآرزو کا کم ہونا، فہم ودرک اور تقویٰ۔(٨)

____________________

١۔ سورہ ٔیوسف آیت ١١١۔

٢۔ سورہ ٔحشر آیت٢۔

٣۔ سورہ ٔآل عمران، آیت١٣۔

٤۔(ان فی ذلک لعبرة لاولی الابصار )سورہ ٔآل عمران، آیت١٣۔

٥۔ (لقد کان فی قصصهم عبرة لاولی الالباب )سورہ ٔیوسفآیت١١١۔

٦۔(ان فی ذلک لعبرة لمن یخشی ) سورہ ٔنازعات، آیت ٢٦۔

٧۔ نہج البلاغہ خطبہ ٢٩٧۔

٨۔ میزان الحکمة ج٦ص٣٨تا ٣٩۔


۳۔عمل کی پابندی اور مداومت

یہاں تک ان طریقوں کی بحث تھی جو اخلاقی( عاطفی یا شناختی رفتار کے مبادی پر اثر انداز ہوتی ہیں یا وہ روشیں جو ماحول کے عوامل میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔ پیاژہ نفسیاتی عوامل کے تحول کے شمار میں رشد داخلی کے علاوہ اجتماعی تعامل وتعویض اور اکتسابی تعادل جوئی، تمرین ومشق اور اکتسابی تجربہ کو ایک مستقل عامل جانتا ہے۔(١)

اخلاقی تربیت میں ہدف یہ ہے کہ تربیت پانے والا اخلاقی رفتارکے کمال تک پہنچ جائے یعنی عمل کرے۔ جتنا اس عملی تجربہ کی تکرار ہوگی اور اس کی مداومت کی جائے گی''ظاہر سازی ''(٢) کی صورت میں جدید نفسیانی شکلیں تشکیل پاجائیں گی، بعینہ جیسے اخلاق کی اصطلاح میں جنھیں ملکات اخلاقی کہتے ہیں۔

قرآن کریم عمل کو خاص اہمیت دیتا ہے: ''انسان کے لئے اس کی کوشش اور تلاش کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس کی کوشش ]کانتیجہ[ عنقریب دکھائی دے گا''۔(٣)

بہت سی آیات میں قرآن ایمان کو کافی نہیں جانتابلکہ عمل کو اس کی تکمیل کے لئے لازم وضروری شمار کرتا ہے:

جو لوگ نیک عمل کرتے ہیںخواہ مرد ہوں یا عورت، جبکہ مومن ہوں، وہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور خرمے کی گٹھلی کے گڑھے کے برابر بھی ان پر ستم نہیں ہوگا''۔(٤)

شایستہ کاموں (عمل صالح) سے مراد غالباً وہی اخلاقی اعمال ہیں۔ افراد کے درجات ومراتب بھی ان کے اعمال کے اعتبار سے ہیں، یعنی افراد کی درجہ بندی کا ایک معیار ان کا عمل ہے۔

''ان میں سے ہر ایک کے لئے جو عمل انھوں نے انجام دیا ہے، اس کے مطابق مرتبے ہیں اورتمہا را رب وہ جو کچھ کرتے ہیں اس سے غافل نہیں ہے''۔(٥)

____________________

١۔ دیدگاہ پیاژہ ص ٣٥تا٣٧۔

٢۔ وہ فعالیت جو آدمی کے پہلے والے نفسیاتی تار وپود کو کو تبدیل کرتی ہے تاکہ وہ خود کو اس ماحول کے حالات کے موافق بنائے جس میں وہ موجود ہے۔ (روانشناسی ژنیتک، ص٢٤٤)۔٣۔ سورہ ٔنجم آیت٣٩، ٤٠۔٤۔ (مَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثیٰ وَهُوَ مُؤمِن فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَایُظْلَمُوْنَ نَقِیْراً )(سورہ ٔنسائ، آیت١٢٤)۔

٥۔ (لِکُلٍّ دَرَجَات مِمَّا عَمِلُوا، وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔)(سورہ ٔانعام، آیت١٣٢)۔


روایات بھی عمل کی ترغیب وتشویق کے ساتھ اسے ایک فائق مرتبہ دیتی ہیں:

حضرت علی ـ: ''آج عمل کا دن ہے اور کوئی محاسبہ نہیں ہے، اور کل محاسبہ کا وقت ہے اور عمل کی گنجائش نہیں ہے''۔(١)

حضرت امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں : ''کوئی بھی شخص جو کچھ خدا کے نزدیک اُس کے لئے فراہم ہوا ہے اسے نہیں پاسکتا مگر عمل کے ذریعہ ''(٢) حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''انسان کی ہمراہی عمل کے سوا کوئی بھی نہیں کرے گا''۔(٣)

عمل کے استمرار اور اس کی مداومت کے بارے میں درج ذیل آیات و روایات کو بعنوان شاہد پیش کیا جاسکتا ہے:

''اگروہ لوگ راہ راست میں ثبات قدمی اور پائداری کا مظاہرہ کریں تو یقیناً انھیں خوشگوار پانی نوش کرائیں گے''۔(٤)

حضرت علی ـ: '' وہ کم اعمال جس کی پابندی اور مداومت کرو، ایسے زیادہ اعمال سے زیادہ امید بخش ہیں کہ جن سے تھک جاتے ہو۔''(٥) امام محمد باقر ـ : ''خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ عمل ہے جس پر مداومت اور پابندی ہو، اگرچہ کم ہی ہو''۔(٦)

سلوکی مکتب کے ماہرین نفسیات پاولف، ثراندایک اور ا سکینر میں سے ہر ایک حصول تعلیم کے متعلق عمل کی مشق اور تکرار کے بارے میں ایک نظر رکھتے ہیں، ثراندایک اپنے قانون تمرین(٧) میں کہتا ہے: ''محرک اور جواب کے درمیان پیوند اور ارتباط استفادہ کے زیر اثر قوی ہوجاتے ہیں''(٨)

____________________

١۔''الیوم عمل ولا حساب وغداً حساب ولا عمل '' ۔(نہج البلاغہ، خ٤٢)۔

٢۔''لا ینال ما عند اللّٰه الّا بالعمل'' (وسائل الشیعہ ج١ص ٦٩)۔

٣۔''المرء لایصبحه الّا العمل'' (غرر الحکم، فصل٤، ص١٥١)۔

٤۔ (وَاَنْ لَواسْتَقَامُوا عَلَی الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنَاهُم مَائً غَدْقاً )(سورہ ٔجن، آیت١٦)۔

٥۔''قلیل تدوم علیه ارجی من کثیر مملول منه ۔''(شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج١٩، ص١٦٩)۔

٦۔''احب الاعمال الی اﷲ عزوجل مادام العبد علیه وان قلّ'' (وسائل الشیعہ ج١ ص٧٠ )۔

٧۔ ہرگنہان نظریہ ھای یاد گیری، ترجمہ یوسف،٢٧٥۔

٨۔ ہرگنہان نظریہ ھای یاد گیری، ترجمہ یوسف، ص٧٨۔


گاتری ایک دوسرا سلوکی ماہر نفسیات ہے جو اپنے تعلیم وتربیت کے نظریہ میں اس سلسلہ میں کہ کیوں مشق نتیجۂ عمل کو بہتر بناتی ہے لکھتا ہے: کسی عمل کا سیکھنا یقیناً مشق کا محتاج ہے، ہماری نظر میں اس امر کی دلیل یہ ہے کہ عمل ایسا نتیجہ دیتا ہے کہ جو مختلف موقعیت کے تحت اور مختلف حرکتوں کے ذریعہ کہ جو ان موقعیتوں سے مناسبت رکھتی ہیں حاصل ہوتا ہے، ایک عمل کا سیکھنا ایک حرکت کے (جیسے جسم کے کسی حصہ کاعام طور سے سکڑنل جو کہ تداعی سے حاصل ہوتا ہے) سیکھنے کے برعکس یقیناتمرین ومشق کا محتاج سے۔ اس لئے کہ ضروری ہے کہ مقتضی حرکتیں اپنی نشانیوں کے ساتھ ایک دوسرے کو وجود بخشیں۔حتی کہ ایسا سادہ عمل جیسے کہ ایک کھلونا ، فاصلہ جہت اور کسی چیز کی موقعیت کی بنیاد پر مختلف حرکتوں کو شامل ہوتا ہے۔ ایک کامیاب تجربہ اس بات کے لئے کہ بچوں کو کسی عمل کے لئے آمادہ کرے، کافی نہیں ہے، کیونکہ جو حرکت ایک حالت میں حاصل ہوتی ہے ممکن ہے کہ دوسری بار کامیاب نہ ہو''۔(١)

پھرمہارت اورتشکیل عادت کے بارے میں کہتاہے:

دلیل اس بات کی کہ کامل مہارت حاصل کرنے کے لئے کیوں زیادہ مشق اور تکرار کی ضرورت ہے؟ یہ ہے کہ یہ مہارتیں محتاج ہیں کہ زیادہ اور خاص حرکتیں بہت سی محرکانہ موقعیتوں کے ساتھ جڑی ہوں، ایک مہارت، ایک عام عادت نہیں ہے، بلکہ عادتوں کا ایک عظیم مجموعہ ہے کہ جو مختلف موقعیتوں میں ایک معین نتیجہ دیتا ہے... خلاصہ یہ کہ ایک مہارت کثرت عمل سے تشکیل پاتی ہے(٢) تھوڑا سا غور کہا جاسکتا ہے کہ اخلاقی ملکات اور فضائل بھی اس نظریہ میں مہارتوں سے مانند وجود میں آتے ہیں اور انسان میں ثبات پاتے ہیں، اس وجہ سے اگرچہ صرف مکتب سلوکیت کا نظریہ (تعلیم وتعلم میں شناختی یا عاطفی کے عوامل کی جانب توجہ نہ ہونا) ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں ہے(٣) لیکن کسی عمل کی مشق کا اثر ایک اساسی عامل کے عنوان سے قابل انکار نہیں ہے۔ ارسطو'' اخلاق'' نامی کتاب میں کہتا ہے: ''جس طرح ہم گھر بنا کے معمار ہوجاتے ہیں، عادلانہ عمل انجام دینے سے عادل ہوجاتے ہیں اور پرہیزگاری کا عمل انجام دے کر پرہیزگار بن جاتے ہیں اورکوئی بہادری کا کام کرنے سے بہادر ہوجاتے ہیں''(٤) اور یہ بالکل اسی دقیق طور پر مداومت عمل کی روش کو بیان کرتاہے۔

____________________

١۔ ہرگنہان نظریہ ھای یاد گیری، ترجمہ یوسف ، ص٢٧٥و٢٧٦۔٢۔ ایضاً، ص٢٧٧۔٣۔ مکاتب روانشناسی ونقد آن ج٦ص١٤١۔٤۔ ارسطو، اخلاق نیکو ماخس، ترجمہ ابو القاسم حسینی، ج١، ص٣٧۔


اخلاقی کتابوں کے مؤلفین بھی عملی روش پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اخلاقی بیماریوں کے علاج کے سلسلہ میں نظری روش ساتھ یا اس عمل پہلو پر بڑی تاکید کرتے ہیں کہ جس سے مقصود اخلاقی فضائل کے مطابق افعال انجام دینے کا اہتمام وتمرین ہے ایسے اعمال میں مشغول ہونا ہے جو اخلاقی رذائل کے خلاف ہیں ۔

ملا محمد مہدی نراقیاخلاقی بیماریوں کے طریقہ علاج کے بارے میں فرماتے ہیں:

''انحراف اور کج روی (عدم اعتدال)کی علت اگر جسمانی بیماری ہو تو اس کے برطرف کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جلد سے جلد طبی علاج کریں، اور اگر اس کی علت نفسانی ہو تو اس کا علاج وہی بالکل جسمانی علاج کی طرح ہے، جسمانی علاج میں سب سے پہلے ایسی غذا سے جو بیماری کی ضد ہو علاج کرتے ہیں، مثال کے طور پر سرد مزاج بیماری کا علاج گرم مزاج اور تند غذائوں سے کرتے ہیں، اگر فائدہ نہ ہوا تو پھر دوا سے ، اس کے بعد زہر مار کے ذریعہ آخر میں عضو کو جلاکے یاکاٹ کے (جراحی) کے ذریعہ معالجہ کرتے ہیں۔ نفسانی بیماریوں میں بھی قانون ایسا ہی ہے، اس طرح سے کہ انحراف اور کجروی کو جاننے کے بعد اس اخلاقی فضیلت کو حاصل کرنے لئے کہ جو اس انحراف کی ضد ہے، اقدام کرے اور ان افعال سے جو اس فضیلت کے آثار شمار ہوتے ہیں یہ امر غذا کے مانند اس اخلاقی رذیلت کو زائل کرنے میں اثر کرتا ہے۔ پھر اگر مفید واقع نہ ہوتو پھر مختلف صورتوں میں فکری، زبانی اورعملی طور پر اپنے نفس کو مورد توبیخ وسرزنش قرار دے، پھر اگر وہ بھی موثر نہ ہو تو پھر ایک منفی اور متضاد صفت کے آثار کو کہ جو اس اخلاقی صفت سے تضاد رکھتے ہوں حدّاعتدال میں انجام دے گا، جیسے ڈرپوک انسان دلیرانہ عمل انجام دے اورخود کو خطرناک کام میں ڈال دے اور کنجوس انسان اس صفت کے زوال کے لئے جود و بخشش کا سہارا لے ۔ یہ مرحلہ جسمانی مداوا میں تریاق اور زہرمار دواکے مانند ہے۔ اگر اس مرحلہ تک بھی اخلاقی بیماری مستحکم طور پر برطرف نہ ہوئی، تو پھر خود کو طرح طرح کی ان سخت تکلیفوں اور ریاضتوں کے ساتھ رنج وزحمت میں مبتلا کرے جو اس اخلاقی رذیلت کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کا باعث ہوں، یہ مرحلہ جسمانی علاج میں عضو کے جلانے اور قطع کرنے کے مشابہ ہے کہ جو آخری مرحلہ ہے''۔(١)

____________________

١۔ جامع السعادات ج١ ص٩٧، ٩٨۔


جیساکہ معلوم ہے کہ اخلاقی تربیت کے سلسلہ میں علمائے اخلاق نے عمل اور مشق پر خاص طور سے توجہ دی ہے، اس وجہ سے اس روش کے تحقق کے لئے درج ذیل طریقوں کو بیان کیا جاسکتا ہے:

الف ۔مشق اور عادت ڈالنا:

ہم یہاں پر ''عادت'' کے متعلق اخلاقی فلسفہ کے لحاظ سے بحث نہیں کرنا چاہتے جیسے یہ بحث کہ آیا اخلاقی فعل عادت کی حاکمیت اور اس کے غلبہ کے ساتھ اخلاقی ہونے سے خارج ہوجاتا ہے یا نہیں ؟(١) اور نہ نفس شناسی کے لحاظ سے بحث کرنا چاہتے ہیں مثال کے طور پر عادت کیا ہے، اس کی کتنی قسمیں ہیں اور کس طرح وجود میں آتی ہے؟(٢) بلکہ اس سے یہاں پر مراد یہ ہے کہ مشق اور تکرار کے ذریعہ ایسے مرتبہ تک پہنچاجاسکتا ہے کہ اخلاقی مسائل ملکات میں تبدیل ہوجائیں، جیساکہ حضرت علی ـ نے فرمایا ہے:''اَلْعَادَة طبع ثانٍ'' (٣) ''عادت انسان کی دوسری طبیعت اور شرست ہے''۔

بلند ترین اصول ومبادی اور مکارم اخلاق میں تربیت کی مرکزیت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تربیت پانے والے کے لئے کچھ حد تک جسمانی، نفسیاتی اور اخلاقی پسندیدہ عادات حاصل ہوں، تاکہ زیادہ سے زیادہ ارادہ اور توانائی کا مصرف ان کی جانب توجہ دینے سے آزاد ہوجائے۔اس موضوع میں اسلام کی تربیتی روش سے متعلق دو نکتے قابل توجہ ہیں:

١۔دینی واجبات اور فرائض میں عمل کا استمرار اور پابند:

۔دینی واجبات اور فرائض میں عمل کا استمرار اور پابند اس حد تک اہمیت کی حامل ہے کہ ترک عمل کے لئے اس کی قضا اور کبھی کفار بھی لازم ہوجاتا ہے، اخلاقی امور میں بھی ''نذر'' اور ''عہد وقسم'' کو اخلاقی فعل کو اپنے لئے ایک فریضہ کی صورت میں اپنا سکتا ہے، اگرچہ ان روشوں سے زیادہ استفادہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اپنی حیثیت اور منزلت کو کھو بیٹھے گایا انسان پر بہت گراں اور شاق گزرے گا، البتہ معمولی انداز میں بھی خود سے تعہد کرسکتا ہے کہ اخلاقی فعل کو پابندی کے ساتھ انجام دے گا، تاکہ اُس کا ملکہ نفس میں راسخ ہوجائے۔

____________________

١۔ استاد مطہری، تعلیم وتربیت دراسلام، ص٧٥ پر ملاحظہ ہو۔

٢۔ احمد صبور اردوبادی: معمائے عادت۔

٣۔ غررالحکم، فصل٢، ص٣٢٢۔


٢۔کیفیت عمل کی جانب توجہ کرنا:

اسلام میں عمل کی ظاہری شکل وصورت آخری مقصود نہیں ہے، بالخصوص اخلاقی فعل اسلام کی نظر میں خاص اخلاقی اصول و مبادی کا حامل ہونا چاہئے ، جیسے صحیح نیت، عمل کی صحیح شکل وصورت اور لوازم عمل کی جانب توجہ (جیسے یہ کہ عمل کے بعد ریا، منّت گذاری اور اذیت کے ذریعہ اس عمل کو ضائع نہ کرے)۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے خداوندعالم کے ارشاد:(لِیَبْلُوَکُم اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً )(١) (تاکہ خدا تمھیں آزمائے کہ تم میں سب سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے ؟) کے متعلق فرمایا: ''اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی زیادہ عمل کا مالک ہو، بلکہ خشیت خداوندی اور درست نیت کے لحاظ سے بہتر اعمال مراد ہیں''۔(٢)

ب ۔ اضداد سے استفادہ:

اخلاقی رذائل کو زائل کرنے سے متعلق یہ طریقہ تربیتی طریقوں میں سے سب سے زیادہ مؤثر ہے، اضداد سے سلوکی مکتب کے نظریات میں ''تقابلی ماحول سازی'' کے عنوان سے رفتار بدلنے کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے۔ تقابلی ماحول سازی ایسا نتیجہ ہے کہ جس میں ایک ماحول کا جواب ایک دوسرے ماحول کے جواب سے جو اُس سے ناسازگار اور ناموافق ہوتا ہے ،جانشین ہوتا ہے، اور یہ سبب ہوتا ہے کہ اس ماحول کا جواب جو کہ نامطلوب ہے (اورہم چاہتے ہیں کہ تبدیل ہوجائے) جدید ماحول کے محرک کے ہوتے ہوئے نہ دیا جائے، اس کا اہم ترین فن منظم طریقہ سے (خیالی) حساسیت کا ختم کرنا اور واقعی حساسیت اور خود حساسیت کاختم کرنا ہے۔(٣) اخلاقی کتابوں میں بھی اس روش سے کثرت کے ساتھ استفادہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرابو حامد غزالی ''کبر'' کے ختم کرنے سے متعلق لکھتا ہے:

''اگر کوئی اپنے دوست ورفیق سے علمی مناظرہ میں کوئی حق بات سنے اور احساس کرتا ہے کہ رقیب کی حقانیت کا اعتراف اُس کے لئے مشکل ودشوار ہے، تو اسے چاہئے کہ اس کبر کے معالجہ کے لئے اپنے اندر کوشش کرے...... عملی طریقہ اس طرح ہے کہ رفیق کی حقانیت کا اعتراف جو کہ اس کے لئے دشوار ہے، اپنے اوپر لازم کرے اور اُسے برداشت کرے اور اس کی تعریف وتوصیف کے لئے اپنی زبان کھولے اور مطلب سمجھنے کے سلسلہ میں اپنی ناتوانی اور کمزوری کا اقرار کرے اور اس کا چونکہ اُس نے اُس سے ایک بات سیکھی ہے، شکریہ ادا کرے.... لہٰذا جب بھی اس امر کی متعدد بار پابندی کرے گا، اُس کے لئے طبیعی اور عادی ہوجائے گا اور حق قبول کرنے کی سنگینی، آسان ہوجائے گی''۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔہود آیت ٧۔ ٢۔ کافی ج٢ص ١٦۔٣۔ علی اکبر سیف، تغییر رفتار و درمانیص ٢٥٢۔٤۔ احیاء علوم الدین ، ج٣ ،ص ٣٤٤۔


مرحوم نراقی نے بھی علاج کے طریقوں میں ایک طریقہ اخلاقی رذائل کے خلاف افعال کا انجام دینا قرار دیا ہے، اس توضیح کے ساتھ کہ کبھی اخلاق کی ایک منفی صفت کے زائل ہونے کے لئے ایک دیگر منفی صفت (کہ جو اعتدال کی حد میں ہو) کا سہارا لیں، مثال کے طور پرخوف ختم کرنے کے لئے جسارت آمیز اور شجاعانہ عمل انجام دینا چاہئے تاکہ خوف ختم ہوجائے۔

حضرت امیر المومنین علی ـ فرماتے ہیں: '' جب کسی چیز سے ڈر محسوس کرو تو اُس میں کود پڑو، کیونکہ کبھی کسی چیز سے ڈرنا، خود اس چیز سے سخت اور ناگوار ہوجاتا ہے''۔(١) اس روش سے متعلق قرآن کاتربیتی نکتہ یہ ہے کہ بری عادات اور اخلاقی رذائل کا یکبارگی اوراچانک ترک کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ اسے مرحلہ وار اور تدریجاً انجام دیا جائے۔ شرابخوری، ربا، جوئے بازی اور بعض دیگر امور کے بارے میں قرآن نے تدریجی مقابلہ پیش کیا ہے۔

ج ۔ ابتلاء اور امتحان:

''ابتلا'' ''بلیٰ'' کے مادہ سے ہے یعنی اس کی اصل ''بلیٰ'' ہے بوسیدہ اور فرسودہ ہونے کے معنی میں اور ابتلا(یعنی آزمائش )کو اس لئے ابتلا کہتے ہیں کہ گویا کثرت آزمائش کی وجہ سے فرسودہ ہوجاتا ہے۔ ابتلا افراد کے متعلق دو نکتوں کا حامل ہے:

١۔ جو کچھ اس کے لئے مجہول اور نامعلوم ہے اُس سے آگاہی اور شناخت۔

٢۔انسان کی یکی یابرائی کا ظاہر ہونا(٢) ۔ امتحان کی تعبیر بھی ابتلا اور آزمائش کی نوع پر بولی جاتی ہے(٣) امتحان اور آزمائش ہمیشہ عمل کے ذریعہ ہے، کیونکہ ابتلا بغیر عمل کے بے معنی ہے، عمل کے میدان میں انسان کے باطنی صفات ظاہر ہوتے ہیں اور اس کی صلاحتیں قوت سے فعلیت تک پہنچتی ہیں۔ اسی لئے ابتلا اور امتحان فیزیکل اعتبار سے ایک عملی طرز ہے یاعمل کی پابندی کرنا ہے۔ اس میں اور تمرین و عادت میں فرق یہ ہے کہ مشق وتمرین ایک اخلاقی فضیلت کی نسبت ملکہ ایجاد کرنے کے لئے معین ہے لیکن طرز ابتلاء میں، کام عمل اور سختیوں اور مشکلوں کی تہ میں واقع ہونا مقصود ہے۔ اس روش اور طرز کی بنیاد پر مربی کو چاہئے کہ تربیت حاصل کرنے والے کو عمل میں اتار دے تاکہ خود ہی پستیوں اور بلندیوں کو پرکھے اور تلخ وشیرین کا تجربہ کرکے میدان سے سرفراز اور سربلند باہر آئے۔ تربیت پانے والے خود بھی مستقل طور سے ایسے شیوہ پر عمل کرسکتے ہیں۔

____________________

١۔''اذا هبت امراً فقع فیه فانّ شدّة توقیه اعظم ممّاتخاف منه'' ۔(نہج البلاغہ، ح١٧٥)۔

٢۔ المفردات۔

٣۔ ایضاً۔


''المیزان'' میں مرحوم علامہ طباطبائی کا کلام الٰہی کے امتحانوں کے سلسلہ میں تربیتی عنوان سے قابل توجہ ہے: ''... اس وجہ سے انسانوں کے لئے عام الٰہی تربیت حُسن عاقبت اور سعادت اس دعوت دینے کے اعتبار سے امتحان ہے کیونکہ انسان کے لئے حالات کو مشخص و معین اور آشکار کرتی ہے کہ آیا یہ شخص کس عالم سے متعلق ہے: عالم ثواب وا جزا یا عالم عقاب و سزا۔ اس وجہ سے خداوند متعال اپنے تصرفات کو حوادث کی تشریع اور توجیہ کے عنوان سے بلائ، ابتلأ اور فتنہ نام دیتا ہے، مثال کے طور پر عام عنوان سے فرماتا ہے: (اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً )(١) ''بے شک ہم نے روئے زمین کی ہر چیز کو زمین کی زینت قرار دیا ہے تاکہ ان لوگوں کا امتحان لیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے '' یا فرماتا ہے: (وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَةً )(٢) ''... اور ہم اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے...'' یافرماتا ہے:(اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَة )(٣) '' تمہارے اموال اور اولاد فتنہ ہیں'' وغیرہ۔

یہ آیات جیسا کہ آپ ملاحظہ کررہے ہیں انسان سے متعلق ہر مصیبت وبلا کو ''الٰہی امتحان وآزمائش'' شمار کرتی ہیں تمام امور کے لئے جیسے اس کا وجود، اس کے اجزا اور اعضاء جیسے آنکھ، کان یا اس کے وجود سے خارج چیزیں جو اُس سے مربوط ہیںجیسے اولاد بیوی، رشتہ دار، احباب، مال، جاہ و مرتبہ مقام اور وہ تمام امور کہ جن سے وہ کسی قسم کا فائدہ حاصل کرتاہے، اسی طرح ان کے مقابل امور جیسے موت اور تمام مصیبتیں ۔ ان آیات میں افراد کے اعتبار سے بھی ایک عمومیت پائی جاتی ہے یعنی مومن وکافر، نیکوکار اور گناہگار، انبیاء اور ان سے کم درجہ والے سارے افرادمعرض بلا و امتحان میں ہیں، لہٰذا یہ اﷲ کی ایک جاری وساری سنت ہے کہ کوئی اس سے الگ نہیں ہوسکتا''۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔکہف آیت ٧۔

٢۔ سورۂ انبیاء آیت ٣٥۔

٣۔سورۂ تغابن آیت ١٥ ۔

٤۔ المیزان ج٤ ص٣٦۔


یہ بات کہ امتحان اور ابتلاء جملہ امور میں تمام افراد کے لئیاﷲ کی بلا استثناء ایک جاری سنت ہے ، ابتلا کے تربیتی روش سے منافات نہیں رکھتی، کیونکہ اس طرح کے امور کے ساتھ ہمارے طرز عمل کو ایک تربیتی طرز کے عنوان سے مانا جاسکتا ہے یعنی مشکلات میں صبر وتحمل اور نعمات میں شکر کہ جس کی بازگشت ہمارے طرز عمل ہی کی جانب ہے، خود اخلاقی تربیت کے عوامل میں محسوب ہوسکتا ہے: اور ہم قطعی طور پر تم کو کچھ چیزوں جیسے خوف،بھوک، اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور ان صابروں کو بشارت دیدو، (وہی لوگ) کہ جب ان پر مصیبت پڑتی ہے، کہتے ہیں: ''ہم خدا ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے''(١)

اس کے علاوہ اگرچہ آیات میں خیر وشر، نعمت ونقمت، سختی اور سہولت سب کو امتحان اور ابتلا کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے حتی کہ بعض روایات میں شکر و کشادگی کی منزل میں طرز عمل کو صبر وناگواری کے وقت سے زیادہ سخت جانا گیا ہے، لیکن جو چیز امتحان کے موقع پر افراد کی توجہ کا زیادہ تر مرکز ہوتی ہے وہ ناگوار ، رنج آمیز اور اندوہگین حوادث وواقعات کا مقابلہ کرنا ہے، چنانچہ مذکورہ آیت میں تصریح کی گئی ہے کہ خوفناک اور ہولناک امور، بھوک، دلبندوں اور عزیزوں کے فقدان، اموال اور سرمایہ حیات کی نسبت آفات وحوادث وغیرہ سے (کہ جنھیں اصطلاح میں ''مصیبت'' کہا جاتا ہے) تمھیں آزمائیں گے، ان امور کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادگی اور اُن سے ہمارا طرز مقابلہ ان میدان کو ایک تربیتی اور اصلاحی مدرسہ بناسکتا ہے۔

ابتلاء اور سختیوں سے مقابلہ کے تربیتی علائم روایات میں یوں بیان ہوئیہیں: گناہ سے پاک ہونا، باطنی خاکساری وتذلل اور خارجی سرافرازی وسربلندی، کبرونخوت کا زائل ہونا، درجہ بلند ہونا، شدائد ومشکلات کے سامنے ثابت قدمی، آخرت اور خدا کی ملاقات کا اشتیاق۔

''...یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ خدا نے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے (عمل میں) آزمائش کرے اور جوکچھ تمہارے ضمیر کی حقیقت ہے اُسے آشکار کردے اور خدا سینوں کے اسرار سے آگاہ ہے''۔(٢)

____________________

١۔ سورہ ٔبقرہ آیت ١٥٥۔١٥٦۔

٢۔ (وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِی صُدُوْرِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِی قُلُوبِکُم، وَاللّٰهُ عَلِیْم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ )(سورہ ٔآل عمران آیت ١٥٤)۔


حضرت امام جعفر صادق ـنے بھی فرمایا: '' وہ لوگ آزمائش کی بھٹی میں آزمائے جائیں گے، جس طرح سونے کو بھٹی میں آزمایا جاتا ہے اور خالص کئے جائیںگے جس طرح سونا کھرا اور خالص کیا جاتا ہے''۔(١)

سید قطب کی تحریر کے مطابق: تمام وسائل پر حوادث کی ایک تربیتی وسیلہ کے عنوان سے فضیلت وبرتری یہ ہے کہ ایسی خاص حالت روح میں پیدا کرتے ہیں کہ گویا اس کو پگھلادیتے ہیں۔ حادثہ روح کو کامل طور سے جھنجھوڑدیتا ہے وردّ عمل (تاثیر وتاثر) ایک حرارت اس کے باطن میں ایجاد کردیتا ہے کہ کبھی نرم کرنے کے لئے یانرم کرنے کی حد تک پہنچنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہ حالت روح میں نہ ہمیشہ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی نفس کے لئے آسان ہے کہ سکون واطمینان اور امن وامان یا راحت طلبی کی حالت میں اس تک پہنچ جائے۔

''... ایک مثل لوگ کہتے ہیں: جب تک لوہا گرم ہے کوٹ لو، () کیونکہ لوہے کی گرمی کے وقت اُس پر ہتھوڑا مارنا آسان ہے اور اسے جس شکل میں چاہے بدل سکتے ہیں... اس وجہ سے سختیوں اور حوادث سے استفادہ کرنا تربیت کے اہم مطالب میں سے ہے، کیونکہ نفس کے پگھلنے اور گداز ہونے کی صورت میں مربی تربیت دئے جانے والے کو ارشاد وتہذیب کے جس رنگ میں چاہے رنگ سکتا ہے وہ اس طرح کہ کبھی اس کا اثرزائل نہیں ہو گا یا کم ازکم جلدی زائل نہیں ہو گا''۔(٢)

اسی طرح سختیو ں سے استفادہ اور عیش وراحت سے دوری کو اس شیوہ کا مکمِّل (پوراکرنے والا) جانا جا سکتا ہے، سختیاں انسان کے گوہروجودکو جلابخشتی ہیں، اور اس میں نکھاراورچمک پیدا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سختی، مقاومت کہ جوحادثوں اور سختیوں کی طوفان میں ہمیں حاصل ہو تی ہے، انسان کو نادرست اخلاقی میلانات اور رجحانات کے مقابل محفوظ رکھتی ہے اس وجہ سے روایات میں تاکیدکی گئی ہے کہ بچہ تھوڑا سا کو مشکلات اور سختیوں سے دوچارکرو۔

حضرت امام موسیٰ کاظم ـ فرماتے ہیں:

''بہترہے بچہ عہدطفولیت میںزندگی کی ناگزیرسختیوں اور مشکلوں کا سامنا کرے جو کہ حیات کا تاوان ہے تاکہ جوانی اوربڑھاپے میں بردباراورصابرہو'' ۔(٣)

____________________

١۔''یفتنون کما یفتن الذهب، یخلصون کما یخلص الذهب'' ۔(کافی ج١ص ٣٧٠۔)

٢۔ روش تربیتی اسلام، ص٢٨٧،٢٨٨۔

٣۔ وسائل الشیقہ، ج٥، ص١٢٦۔


حضرت علی ـ فرماتے ہیں:

''جنگل، ہوا اور طوفان میں پرورش پانے والے درخت باغبا ن کے پر و ر دہ اور تروتازہ درختوں سے بہتر ہوتے ہیں''۔(١)

اسلام میں جہاد اسی زاویہ سے قابل تو جہ و تحقیق ہے دین کے دشمنوں سے جہاد اور مقابلہ خواہ صدر اسلام میں ہو یا بعد کے زمانوں میں ( بالخصوص آخری دفاع مقدس کے دوران) ایک تربیتی اور اخلاقی مدرسہ رہا ہے ، اور اخلاق کی بلندیوں پر فائز انسان اُس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں:

''ہم یقینا تمہیں آزمائیں گے تاکہ تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جان لیں اور (اس طرح) تمھارے حالات کو باقاعدہ جانچ لیں ''۔(٢)

ڈاکٹر'' ویکٹور فرانکل ''سویڈن کا ماہر نفسیات ہے اور ہیومنسٹ معالجین میں سے محسوب ہوتا ہے اور خود بھی ایک طولانی مدت تک جرمنی کے نازیوں چھائونی میں دوسری عالمی جنگ میں اسیر رہا ہے، اس نے اپنی آنکھوں سے جو انسان سوزی کی بھٹیاں دیکھیں اور بھوک، سردی، بیماری اور سخت ترین رنج والم اٹھائے لیکن اس کی جان بچ گئی۔ چھائونی سے آزاد ہونے کے بعد اُس نے اپنے معنوی علاج کے مکتب ( Logothrapy )کی بنیاد ان تین راہوں میں سے ایک راہ کے کشف وتفہیم پر رکھی:

١: ۔اچھے امور کا انجام دینا۔

٢: ۔تجربۂ اعلیٰ جیسے عشق۔

٣رنج والم برداشت کرنا۔

وہ تیسری راہ کی وضاحت میں کہتا ہے: رنج والم کابرداشت کرنا انسان کی بہترین وجودی جلوہ گاہ ہے اور جو بات اہم ہے وہ انسان کا رنج والم کے ساتھ فکر اور سلوک کا انداز ہے۔ ہدف زندگی رنج والم سے فرار کرنا نہیں ہے، بلکہ زندگی کو بامعنی بنانا ہے کہ اُسے واقعی مفہوم عطا کرے۔ ہر چیز کو ایک انسان سے لیاجاسکتا ہے مگر انسان کی آخری آزادی کو اس کی رفتار کے انتخاب میں ڈاسٹایوفسکی کے بقول: میں صرف ایک چیز سے ڈرتاہوں اور وہ یہ کہ اپنے رنج والم کی شایستگی اور لیاقت نہ رکھوں۔(٣)

____________________

١۔ نہج البلاغہ، نامہ، ٤٥۔

٢۔ سورہ ٔمحمد آیت٣١۔

٣۔ دیکٹور فرانکل: انسان درجستوی معنا۔


د ۔معاشرت و مجالست:

اخلاقی ملکات کے رسوخ کے لئے ایک دوسرا عملی شیوہ صالح اور اخلاقی فضائل کے حامل افراد کے ساتھ زندگی گذارنا اور ناپاک نیز اخلاقی رذائل میں مبتلا افراد کی مجالست وہمنشینی سے اجتناب کرنا ہے، نفس شناسی کے دلائل بہت سی جہتوں سے قابل توجہ ہیں کہ جو تفصیل اور تکرار کے محتاج نہیں ہیں، منجملہ ان کے تقلید اور دوسروں کے اعمال کا مشاہدہ (باندوار کا نظریہ)،قوت بخش چیزوں کے وجود کے ساتھ ماحول سازی اور تداعی (موافقت وہماہنگی) کی ایجاد (ا سکینر کا فعال ماحول سازی کا نظریہ ، یعنی مثال کے طور پر ایک اچھے اور صالح گروہ میں اگر ایک اچھا باعمل انسان سے صادر ہو تو دیگر تمام افراد کے ذریعہ اس کی تقویت کی جائے)۔ (نظریہ تسہیل اجتماعی )(١) ہے (دوسروں کا وجود حتی غیر فعال تماشائیوں کا وجود انسان کی فعّالیت کو قوت بخشتا ہے (کیونکہ انسان کے مقصد کو بلندی عطا کرتا ہے) ۔

آیات وروایات میں نیکو کاروں کی معاشرت اخلاقی تربیت کے ایک شیوہ کے عنوان سے مورد تاکید واقع ہوئی ہے اور بزرگوں نے بھی اس سلسلہ میں مستقل کتابیں تالیف کی ہیں۔

قال الحواریون لعیسیٰ ـ: یاروح اللّٰہ مَن نجالسُ اذاً؟ قال: من یذکرکم اللّٰہ رؤیتہ ویزید فی عملکم منطقہ ویرغبکم فی الآخرة عملہ۔(٢) حواریوں نے حضرت عیسیٰ ـ سے پوچھا:

اے روح اﷲ! اس وقت ہم کس کے ساتھ ہمنشینی رکھیں؟ انھوں نے فرمایا: جس کا دیدار تمھیں اﷲ کی یاد دلائے، جس کی بات تمھارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمھارے اندر آخرت کے متعلق رغبت پیدا کرے۔

یا ابن مسعود، فلیکن جلساؤک الابرار واخوانک الاتقیاء والزهاد لانّ اللّٰه تعالیٰ قال فی کتابه : (الاخلاء یومئذ بعضهم لبعض عدو الّا المتقین(٣) اے ابن مسعود! تمھارے ہمنشین نیک لوگ ہونے چاہئیں اور تمھارے بھائی (دوست) متیقن وزاہدین ہونے چاہئیں اس لئے کہ تم خدائے تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ''اس دن صاحبان تقویٰ کے علاوہ تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیںگے'' ۔

____________________

١۔زمینہ روانشناسی ج٢ ص٢ ٣٧۔

٢۔ بحار الانوار ج٧٧ ص١٤٧۔

٣۔ بحار الانوار ج٧٧ ص١٠٠۔


امام علی ـ:جالس العلماء تزدد حلماً ۔(١) علمائے کی ہمنشینی اختیار کرو کہ ان کی ہمنشینی حلم میں اضافہ کرتی ہے۔

امام حسین ـ:مجالس الصالحین داعیة الی الصلاح ۔(٢) صالحین کی مجالس (نشست) صلاح ونیکی کی طرف دعوت دیتی ہے۔

امام علی ـ:جالس العلماء یزددعلمک ویحسن ادبک وتزکوا نفسک ۔(٣) علماء کی ہمنشینی اختیار کرو کہ اس سے تمھارے علم میں اضافہ ہوگا، تمھارا ادب اچھا ہوگا اور تمھارا نفس پاک ہوگا۔

امام علی ـ:علیک باخوان الصدق فاکثر من اکتسابهم فانّهم عدة عند الرخاء وجُنَّة عند البلائ ۔(٤) تم پر سچے (نیک) دوستوںکی ہمنشینی لازم ہے پس ان سے زیادہ زیادہ سے زیادہ کسب فیض کرو اس لئے کہ وہ آسائش کے وقت وسیلۂ دفاع ہیں اور مصیبت کے وقت سپر ہیں۔

امام علی ـ:جانبوا الاشر وجالسوا الاخیار ۔(٥) بروں سے پرہیز کرو اور نیکوں کی ہمنشینی اختیار کرو۔

حضرت امام محمد باقرـ:لاتقارن ولاتواخ اربعة: الاحمق والبخیل والجبان والکذاب ۔(٦) چار افراد سے ہمنشینی اور دوستی اختیار نہ کرو: احمق، کنجوس، ڈرپوک اور جھوٹے سے۔

امام علی ـ:مجالسة اهل الهویٰ منساة للایمان ۔(٧) خواہش پرست کی ہمنشینی ایمان کو بھلادیتی ہے۔

____________________

١۔ غرر الحکم فصل ٣ص ٤٧۔

٢۔ بحار الانوار ج٧٨ ص١٤١۔

٣۔ غرر الحکم فصل ١ص ٤٣٠۔

٤۔ بحار الانوار ج٧٤ ص١٨٧۔

٥۔ غرر الحکم

٦۔ بحار الانوار ج٧٤ ص١٨٧۔

٧۔ نہج البلاغہ ج٨٦۔


۴: ۔ تشویق اور تنبیہ کا طریقہ

''تشویق ''لغت میں آرزومند کرنے، شوق دلانے اور راغب کرنے کے معنی میں ہے۔(فرہنگ معین)

یہاں پر ''تشویق'' سے مراد انسان کی درخواست سے متعلق اور مطلوب امور سے عمل انجام دینے کے بعد عمل کے اضافہ یا اس کی تثبیت کے لئے استفادہ کرناہے۔

''تنبیہ''بھی لغت میں آگاہ کرنے، بیدار کرنے، تادیب اورسزادینے کے معنی میں ہے (فرہنگ معین)۔ یہاں پر تنبیہ سے مراد انسان کے لئے تکلیف دہ اسباب ووسائل سے عمل انجام دینے کے بعد عمل کو دور یا کم کرنے کے لئے استفادہ کرناہے۔ اس وجہ سے تشویق یا تنبییہ کو خود انسان یا دوسروں کے ذریعہ عملکو کنٹرول کرنے کا ایک سسٹم جاننا چاہئے کہ پسندیدہ یا ناپسندیدہ عمل کے بعد اس عمل کی زیادتی یا کمی کے لئے ان چیزوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔

تشویق یا تنبیہ کا نفسیاتی مبنیٰ، فعال ماحول سازی کے نظریہ کے مطابق، درج ذیل آزمائشوں پر استوار ہے:

١ ۔ہر جواب جو ایک قوت بخش محرک کے نتیجہ میں حاصل ہو، اس کی تکرار کی جاتی ہے ۔

٢ ۔قوت بخش محرک ایک ایسی چیز ہے کہ جواب ملنے کے احتمال کو بڑھاتا ہے۔

٣۔ان قوت بخش چیزوں جو ذاتی طور پر تقویت کرنے کی خاصیت کے حامل ہیں،اولین یا غیر شرطی قوت بخش کہتے ہیں، اوّلین مثبت قوت بخش جاندار کی جسمانی قوت ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں جیسے: پانی، غذا، ہوا، وغیرہ۔ اوّلین منفی قوت بخش چیزیں ذاتی طور پر تکلیف دہ خاصیت رکھتی ہیں جیسے: مارپیٹ، گالم گلوج ، زیادہ حرارت اور زیادہ نور وغیرہ۔

٤ ۔ثانوی یاشرطی قوت بخش چیزیںوہ ہیں جو کلاسیک ماحول سازی (اوّلین بخش چیزوں کے ساتھ ہمراہی چیزوں کے ساتھ ہمراہی اور تداعی ) کے اصول کے مطابق تقویت کرنے کی خاصیت رکھتی ہیں جیسے: روپیہ، انعام، نمبر وغیرہ ۔

٥ ۔اگر کوئی رفتار کسی چیز کی تقویت سے بڑھ جائے اور اسے ایک مدت تک تقویت نہ کریں، تو وہ تدریجاً موقوف ہوجائے گی کہ اُسے ''خاموشی''بھی کہتے ہیں۔

٦ ۔تنبیہ، ایک نادرست اورنامطلوب رفتار کے دور کرنے کے لئیتکلیف دہ محرک وسبب کے واردکرنے کے معنی میں ہے۔


٧ ۔ کبھی کبھی تقویت مسلسل تقویت سے زیادہ اثر رکھتی ہے، لہٰذا اگر مربی (تربیت دینے والا) ہر بار مطلوب اور پسندیدہ رفتار کے ظاہر ہونے کے بعد جزاوسزا دے، تو ناخواستہ طور پر اس کے وقوع کا احتمال کم ہوتا جائے گا، لیکن اگر مربی کبھی کبھی چند بار مطلوب رفتار انجام دینے کے بعد جزا دے، تو اس کے توقعکا احتمال زیادہ ہوجائے گا زیادہ موثر یہ ہے کہ تربیت کی ابتدا میں مسلسل جزا ہو اور رضایت بخش سطح تک پہنچنے کے بعد نوبت وار کبھی کبھی ہوجائے ۔

٨۔ آغاز میں اجتماعی قوت بخش (ستائش، تائید اور مسکراہٹ وغیرہ) محسوس طور پر قوت بخش چیزوں کے ساتھ استعمال کی جائے اور اس کے بعد محسوس قوت بخش چیزیں ترک کردی جائیں ، آیات وروایات میں تشویق وتنبیہ کے تربیتی کردار پر تاکید کی گئی ہے۔

حضرت امیر المومنین علی ـ مالک اشتر کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''تمہارے نزدیک نیکو کار اور بدکاریکساں نہ ہوں، کیونکہ یہ امر (یکساں قرار دینا) نیکو کاروں کے نیکی ترک کرنے اور نااہلوں کی بدکاری میں اضافہ کا باعث ہوگا، لہٰذا ادب کی رعایت کے لئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ حالات کے مطابق برتائو رکھو''۔(١)

''نیکوکاروں کی اصلاح ان کا ادب و احترام کرنے سے ہوتی ہے اور بدکاروں کی اصلاح ان کی تادیب کرنے (سزا دینے)سے''۔(٢)

''جوکچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب خدا کے لئے ہے، تاکہ جن لوگوں نے برا کیا ہے وہ ان کے کرتوت کی انھیں سزا دے اور جن لوگوں نے احسان ونیکی ہے انھیں اچھا بدلہ دے ''۔(٣)

''خداوند سبحان نے جزا اپنی اطاعت پراور سزا اپنی معصیت پر قرار دی ہے، تاکہ اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے باز رکھے اور بہشت کی طرف روانہ کرے''۔(٤)

____________________

١۔ بحار الانوار ج٧٧ ص٤٦۔

٢۔''استطلاح الاخیار باکرامهم والاشراربتأدیبهم'' (بحار الانوار ج٧٨ ص٢٤٥)۔

٣۔ سورہ ٔنجم آیت ٣١۔

٤۔ نہج البلاغہ حکمت ٣٦٨۔


ادیان الٰہی اور اسلام میں قانون عذاب وثواب کو دو اعتبارسے دیکھا جاسکتا ہے

: اول

یہ کہ ان کا اعلان کرنا انذار وتبشیر کا پہلو رکھتا ہے ، دوسرے یہ کہ ثواب وعقاب کی واقعیت عینی ہے کہ اُن میں سے بعض دنیا میں (جیسے سکون واطمینان، راحت وچین ، زندگی کی آسائش اور عیش وعشرت کو احساس ) اور درک کرتا ہے، اس لحاظ سے تشویق وتنبیہ اُن دونوں کی تطبیق واقع سے دور نہیں ہے۔ اُس کا اخروی حصہ جیسے حور وقصر ومحلات وغیرہ بھی ایمانی بصیرت (انسان کا دوسرے عالم اور وعدہ الٰہی کے قطعی ہونے اور اس بات پر اعتقاد رکھنا کہ انسان اپنے اعمال سے اس ثواب یاعقاب کو اس وقت بھی عینی تجسم بخشتا ہے ) کے اقتضا کے مطابق حاضر وموجود ہیں اور انھیں بھی تنبیہ وتشویق کے مصادیق میں شمار کرسکتے ہیں۔ اس بناپر بہشت ودوزخ اور ا ﷲ کے وعدہ و وعید سے متعلق تمام آیات ایک طرح بندوں کی تشویق اورتنبیہ کے لئے ہیں تاکہ وہ اپنی عادت اور روش کو بدل ڈالیں اور فلاح وکامیابی اور فضائل اخلاقی کے حامل ہونے کی راہ میں گامزن ہوجائیں۔ لیکن ان لوگوں کے لئے جن کا عقیدہ وایمان کمزور ہے، ان کے لئے وہ آیات انذار وتبشیر ہی کی حد میں ہوں گی ۔

دوسرانکتہ

جس کی ہمیں تاکید کرنی ہے یہ ہے کہ یہاں پر تشویق، ترغیب اور تحریض (ابھارنے) کے علاوہ ایک چیز ہے، تشویق عمل انجام دینے کے بعد کی چیز ہے، لیکن ترغیب وتحریض قبل ازعمل سے مربوط ہیں۔ تشویق وتنبیہ کے وہ طریقے جن میں ایک طرح منطقی ترتیب کا لحاظ کیا جاسکتا ہے، درج ذیل ہیں:

الف ۔ عاطفی توجہ:

محبت آمیز نگاہ ، مسکرانا، اور ہر قسم کی تائید ، مہر ومحبتاور طلف کا احساس تربیت پانے والے کو عزت نفس کے عمیق احساس میں مبتلا کردیتاہے، کیونکہ ہر انسان حُبّ ذات کے زیر اثر غیروں کی محبت اورتوجہ حاصل کرنے کا محتاج ہوتا ہے۔(١) درج ذیل آیات اس سلسلہ میں قابل توجہ ہیں: (وَاخْفِضْ جِنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ المُؤمِنِیْنَ )(٢) ''اور جو صاحبان ایمان آپ کی اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکادیجئے''۔

____________________

١۔اس بات کی مزید توضیح ''تکریم شخصیت کی روش ''کی بحث میں گذر چکی ہے۔

٢۔ سورہ ٔشعراء آیت٢١٥۔


(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰواةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهُ وَلَاتَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْهُمْ )(١)

''اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر آمادہ کرو جو صبح وشام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اسی کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خبردار تمھاری نگاہیں ان کی طرف سے نہ پھرجائیں...''۔

ان آیات میں خداوند متعال اپنے مہربان حبیب سے چاہتا ہے کہ مومنین کے لئے لطف ومرحمت کے بازو جھکادیں، ان کی طرف سے چشم محبت نہ ہٹائیں اوران کے ساتھ ہمراہی اور صبر وشکیبائی کریں دوسری آیت میں اپنے رسول کی بلند ترین ان صفات کے حامل ہونے اور مومنین کے ساتھ ایسی معاشرت رکھنے پر معاملات کرنے کی توصیف کرتا اورفخرو مباہات کرتا ہے:

''یقیناً تمھارے پاس تمھیں میں سے وہ پیغمبر آیا ہے کہ تمہاری ہر مصیبت پراس کے لئے بہت ناگوار ہے وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین پر دلسوز ومہربان ہے''۔(٢)

جی ہاں، وہ روح پرورنگاہ جو انسانوں پر عشق ومحبت کے ساتھ پڑتی ہے، انسان کو متحرک کرنے کے لئے کافی ہے اور بلال وسلمان کی صف میں بٹھادیتی ہے۔

ب ۔ زبانی تشویق:

تعریف وتمجید ، دعا، شکریہ ادا کرنا اور زبانی قدردانی بھی اُن عام وسائل اور اسباب میں سے ہیں کہ بلند مقاصد اور گرانمایہ اخلاقی اعمال تک رسائی کے لئے اُن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے خداوند عالم اپنے پیغمبر سے چاہتا ہے کہ مومنین سے زکات لینے کے بعد ان کے لئے دعا کریں۔(٣)

حضرت امیر المومنین علی ـ نے بھی مالک اشتر سے خطاب کرتے ہوئے انھیں اس نکتہ کی یاد آوری کی ہے:

... ان کی پے درپے تشویق کرو اور جو انھوں نے اہم کام انجام دئے ہیں انھیں شمار کرو (اہمیت دو) کیونکہ ان کے نیک کاموں کی یاد آوری ان کے دلیروں کو زیادہ سے زیادہ حرکت کرنے پر ابھارتی ہے، اور وہ لوگ جو کام میں سستی کرتے ہیں انھیں کام کرنے کا شوق پیدا ہوگا، انشاء اﷲ ۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔکہف آیت٢٨۔ ٢۔ سورہ ٔتوبہآیت ١٢٨۔٣۔ سورہ ٔتوبہ آیت ١٠٣۔ ٤۔ نہج البلا غہ نامہ ٥٣۔


زبانی تشویق میں اہم نکتہ یہ ہے کہ اور موقع ومحل سے اس حد تک استفادہ ہو اور افراط وتفریط یا چاپلوسی کی حالت پیدا نہ ہو امام علی ـ نے فرمایا ہے:

جب تم تعریف وثنا کر و تو اختصار پر اکتفاکرو۔(١)

سب سے زیادہ بے عقلی اور حماقت، تعریف وستائش یا مذمت میں زیادتی کرناہے۔(٢)

''استحقاق سے زیادہ تعریف کرناچاپلوسی ہے اور اس (استحقاق) سے کم تعریف کرنا حسد یا عاجزی کی علامت ہے''۔(٣)

بہت سے افراد اپنی تعریف وتمجید ہونے سے مغرور ہوجاتے ہیں۔(٤)

ج ۔ عملی تشویق:

انعام، ہدیہ، تحفہ وغیرہ دینا، نمبر، تنخواہ یا حقوق یا مزدوری میں اضافہ کرنا، سیاحت اور تفریح کے لئے لے جانا، کھیلنے کی یا دوستوں کے ہمراہ باہر جانے کی اجازت دیناوغیرہ ، یہ سب عملی تشویق شمار ہوتی ہے کہ موقعیت کے اعتبار سے ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پیغمبر اکرم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت میں ایسے متعددمقامات پائے جاتے ہیں کہ کسی ایک آدمی کے نیک عمل کا مشاہدہ کرنے کے بعد اُسے صلہ اورہدیہ دیتے ہیں حتی کبھی اپنا لباس بھی دیدیتے تھے، جیسے کمیت بن زیاداسدی کی داستان کہ حضرت امام زین العابدین ـ کی خدمت میں پہنچے اور کہا: میں نے آپ کی مدح وثنا میں کچھ اشعار کہے ہیں اور چاہتا ہوں کہ انھیں پیغمبر سے تقرب کا وسیلہ قراردوں۔پھر اپنا معردف قصیدہ آخرتک پڑھا، جب قصیدہ تمام ہو گیا، امام ـ نے فرمایا: ''ہم تمہاری جزا نہیں دے سکتے، امید ہے کہ خداوندعالم تمہیں جزادے۔''پھر اس کے بعد اپنے بعض لباس انھیں دیدیئے اوراُن کے حق میں اس طرح دعا کی: ''خدا یا! کمیت نے تیرے پیغمبر کے خاندان کی نسبت، اس حالت میں نیک فریضہ اداکیا کہ اکثرلوگوں نے اس کام سے نجل کیا اور شانہ خالی کیا ہے جوحق دوسروں نے پوشیدہ رکھا تھا اس نے آشکار کردیا۔ خدایا! اسے سعادت مندزندگی عطا کر اور اُسے شہادت نصیب کر اور اُسے نیک جزا دے کہ ہم اُس کی جزا نہیں دے سکتے جزا ور ناتواں ہیں۔

____________________

١۔ ''اذا مدحت فاختصر ''(غرر الحکم، فصل ٤ص٤٦٦)۔٢۔ ''اکبر الحمق الاغراق فی المدح والذم '' (غرر الحکم، فصل ٧ص٧٧)۔٣۔''الثناء بأکثر من الاستحقاق ملق والتقصیر عن الاستحقاق عیّ أوحسد'' (بحارالانوار ج٧٣ص ٢٩٥)۔٤۔''رُبّ مفتون بحسن القول فیه'' (بحارالانوار ج٧٣ص ٢٩٥)۔


کمیت نے بعد میں کہا: ''میں ہمیشہ ان دعائوں کی برکت سے بہرہ مند رہا ہوں'' حضرت نے اس طریقہ سے کمیت کی روح شجاعت اور حق گوئی کی تشویق اور تائیدکی۔ اسی کے مشابہ داستان حضرت امام علی رضا ـ کے بارے میں بھی دعبل خز اعی کی نسبت ہے جب وہ قصیدہ پڑھ چکے تو حضرت نے وہ دس ہزار درہم کہ جن پر آپ کا نام کندہ تھا اُنھیں عطا کیا اور دعبل نے ہر درہم کو اپنی قوم کے درمیان (دس) درہم میں فروخت کیا۔(١)

درج ذیل نکات کی رعایت تشویق کی تاثیرمیں اضافہ کرتی ہے:

١۔تشویق ابھارنے اور قوت بخشنے کا ذریعہ ہے لہٰذا خودوہی ھدف نہیں بن جانا چاہئیکہ اور تربیت پانے والے کے تمام افکار داذہان کو اپنے ہی لئے سرگرم رکھے۔ تشویق کبھی کبھی کرنا، اس کا فیزیکی سطح سے اجتماعی ومعنوی بلندی کی طرف لے جانااور تشویق کا مستحق ہونا (رشوت کی حالت کا نہ رکھنا ) ایک حدتک مذکورہ اشکال واعتراض کو برطرف کردیتاہے۔

٢۔ تربیت پانے والے کو تشویق کی علت مکمل طور پرواضح اور معلوم ہونی چاہئے۔

٣۔تشویق موقع ومحل کے اعتبار سے ہو تاکہ کار آمد اور موثر ثابت ہو۔

٤۔تشویق کرتے وقت اُس کا کسی دوسرے سے مقائسہ اور موازنہ نہیں کرنا چاہئے ؛کیونکہ اُس پر بُرااثرپڑے گا۔

٥۔ مجمع میں تشویق وتحسین کرنا زیادہ اثر رکھتا ہے کیونکہ دوسروں کو بھی آمادہ کرتا ہے۔

د۔ جزاسے محرومیت اور نیکو کار کو جزادینا:

اس مرحلہ کے بعد تبنیہ کے طریقوں میںداخل ہو جائیں گے۔ مربی تربیت دئے جانے والے کی نا شائستہ حرکات وسکنات کو ختم کرنے کے لئیاسے ان بعض جزائوں اورمواہب سے محروم کردے جن کی وہ امید رکھتا ہے یایہ کہ نیکوکاروں کو جزادے کر اُسے اپنی محرومیت کی جانب متوجہ کرے اور اس کے اشتباہ وخطا کی نشاندہی کرے۔حضرت علی ـ کے گہربار اور زریں کلام میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ''نیکو کار کو جزا دے کر بدکار کو ان کی بدکاری سے روک دو''۔(٢)

____________________

١۔عیون اخبارالرضا ـ، ج١، ص١٥٤۔

٢۔ ''از جرالمسء بثواب المحسن''بحار، ج٧٥، ص٤٤، باب ٣٦


(اَفَمَنْ کَانَ مُؤمِناً کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً لَایَسْتَوُونَ(١)

''کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہے اس کے مثل ہوجائے گا جو فاسق ہے؟ ہرگز نہیں ، دونوں برابر نہیں ہوسکتے''۔

(لَایَسْتَوِی اَصْحَابُ النَّاسِ وَاَصْحَابُ الْجَنََّةِ ۔۔۔)(٢)

''اصحاب جنت اور اصحاب جہنم ایک جیسے نہیں ہوسکتے''۔

(وَمَایَسْتَوِی الاعمیٰ والبصیروالّذین آمنواوعملواالصالحات ولاالمسء قلیلا ماتتذکرون(٣)

''اور یاد رکھو کہ اندھے اور نابینا برابر نہیں ہوسکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بدکاروں جیسے نہیں ہوسکتے ہیں، مگر تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو''۔

خداوند عالم ان آیات میں واضح طورپر نیکوکاروں اوربدکار روں کے مسادی نہ ہو نے کا اعلان کرتا ہے، اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ سب جان لیں کہ اچھے لوگوں کے لئے جزا ہے اور ناشائستہ اور قبیح اعمال والوں کے لئے محرومیت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہ۔جرمانہ اور تلافی:

جرمانہ نمبرکم کرنے ، پیسہ دینے، دوستوں کے لئے مٹھائی خریدنے وغیرہ کی صورتوں میں ہوتا ہے۔ تلافی جیسے اس انسان سے عذر کرنا جس کی توہین کی ہے یا جس جگہ کوئی نقصان پہنچایا ہے اس کی تعمیر کرے یا مرمت کرے جرمانہ کے سلسلہ میں توجہ رکھنا چاہئے کہ ادا کرنے یا کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اوربے چارگی اوربیزاری کی حالت پیدا نہ ہو۔ جرمانہ کے شیوہ سے استفادہ کی شرط یہ ہے کہ انسان کی ایک مدت تک تقویت کی جائے تاکہ پہلے جو اُسے جزائیں دی گئی ہیں بعد میں اُس سے واپس لی جاسکیں۔

اسلام میں دیت کاقانون اس کے حقوقی جنبہ کے علاوہ تربیتی جنبہ سے بھی ایک قسم کا جرمانہ حساب ہوتا ہے۔

و۔ سرزنش وتوبیخ اور جسمانی توبیخ وتنبیہ:

توبیخ ، غیض وغضب کی نظر سے شروع ہوتی ہے اور علانیہ توبیخ تک پہنچتی ہے۔(٤)

____________________

١۔ سورئہ سجدہ، آیت ١٨۔ ٢۔ سورہ ٔحشرآیت ٢٠۔

٣۔ سورہ ٔغافر، آیت ٥٨۔ ٤۔ ایک اعتبار سے مخفی اور پوشیدہ توبیخ کو جرمانہ اور تلافی سے قبل جاننا چاہئے)۔


حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''عقلمندوں کی سزا کنایہ اور اشارہ کی صورت میں ہوتی ہے اورنادانوں کی سزا واضح اور صریح انداز میں ہوتی ہے۔(١)

''تعریض (کنایہ میں توبیخ کرنا) عقلمند کے لئے آشکار توبیخ سے کہیں زیادہ سخت ہے''(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـ ''شعرانی'' جوکہ پیغمبر کے چاہنے والوں میں سے تھے، خلوت میں بالواسطہ طور پر نصیحت کے ذریعہ انھیں ان کے ناپسند عمل (شرابخوری ) کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''اچھا کام سب کے لئے اچھا ہے اور تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اس انتساب کی وجہ سے جو تم ہم (اہل پیغمبر)سے رکھتے ہو اور برا کام سب کے لئے برا ہے لیکن تم سے سب سے زیادہ برا ہے اس انتساب کی وجہ سے کہ جو تم ہم سے رکھتے ہو''۔(٣)

جسمانی تنبیہ سب سے آخری مرحلہ میں ہے کہ گذشتہ مراحل میں ناکامی کی صورت میںخاص شرائط وحالات پائے جانے کی صورت میں اُس سے استفادہ ہوتا ہے، تنبیہی طریقہ کلی طریقے پر اور جسمانی تنبیہ خاص طور پر صاحبان نظر کے نزدیک محل اختلاف میں ہے، بعض جیسے سعدی ومولوی جسمانی تنبیہ کے طرفدار تھے، اور اس سے استفادہ کو جائز سمجھتے ہیں کہ بعض دیگر جیسے غزالی، بوعلی اور ابن خلدون نے مربی کو جسمانی تنبیہ سے تین بار سے زیادہ یا غصہ کی حالت میں روکا ہے۔(٤)

ماہرین نفسیات کے درمیان بھی بعض جیسے رین اور ہولز خاص شرائط وحالات پائے جانے کی صورت میں تنبیہ سے استفادہ کو رفتار تغییر کے معاملہ میں مفید جانتے ہیں(٥)

____________________

١۔''عقوبة العقلاء التلویح وعقوبة الجهال التصریح ''(میزان الحکمة ج١ص ٧٢)۔

٢۔''التعریض للعاقل اشد من عقابه'' (میزان الحکمة ج١ص ٧٢)۔

٣۔''یا شقر ان انّ الحسن لکل احد حسن وانه منک احسن لمکانک منّا وان القبیح لکل احدٍ قبیح وانّه منک اقبح'' (بحار الانوار ج٤٧ ص٣٤٩ باب ١١)۔

٤۔ نقش تربیت معلم، دفتر ہمکاری حوزہ ودانشگاہ۔

٥۔ ہیلگارد:روان شناسی یادگیر ص ٣٣٧۔


اس کے باوجود اکثر ماہرین نفسیات رفتار کی تبدیلی اور تربیت کے لئے تنبیہ سے استفادہ کے مخالف ہیں۔

ا سکینرنہایت تاکید کے ساتھ تنبیہ سے استفادہ کو کلی طور پر خطرناک ، نامطلوب اور بے اثر شمار کرتا ہے اور متعدد دلائل بھی اپنے مدعا کے لئے پیش کرتا ہے:(١)

١ ۔تنبیہ دوسرے نامطلوب مضر آثار کا پیش خیمہ ہوتی ہے، جیسے عمومی خوف۔

٢ ۔تنبیہ اجسم کو پتہ دیتی ہے کہ کیا کام نہ کرے نہ یہ کہ کیا کام کرے۔

٣ ۔تنبیہ دوسروں کو صدمہ پہنچانے کی توجیہ کرتی ہے۔

٤۔تربیت پانے والا اگر مشابہ موقعیت میں واقع ہو جائے اور قابل تنبیہ نہ ہوتو ممکن ہے وہ اسی کام کے کرنے پر مجبور ہوجائے۔

٥ ۔تنبیہ، تنبیہ کرنے والے اور دوسروں کی نسبت پر خاش ایجاد کرتی ہے۔

٦ ۔تنبیہ عام طور پر ایک نامطلوب جواب کو دوسرے نامطلوب جواب کا جانشین بنادیتی ہے، جیسے بد نظمی کی جگہ رونا۔

ا سکینر اس کے بعد تنبیہ کے لئے بہت سی جانشین چیزوں کا ذکر کرتا ہے، جیسے ایسے مقتضیات کی تبدیلی جو نامطلوب رفتار کا باعث ہوتی ہے اور ناموافق رفتار کی نامطلوب رفتار سے تقویت ، آخر میں نتیجہ نکالتا ہے کہ نامطلوب عادات کے ختم کرنے کا بہترین طریقہ انھیں نظرانداز کرنا یا پھرخاموشی (تغافل اسی کے مانند ہے) اسلام کی نظر میں(٢) اگرتربیت نچلے درجوں اور طریقوں سے ممکن ہو تو جسمانی تنبیہ سے استفادہ جائز نہیں ہے اور اس کے علاوہ جسمانی تادیب اور تنبیہ (اس شرط کے ساتھ کہ اس حد میں نہ ہو کہ دیت لازم آجائے تو) جائز ہے انسان کے ولی کے علاوہ کی طرف سے بھی اجازت کے ساتھ ہونا چاہئے۔اس کی مقدار بھی محدود ہے (زیادہ سے زیادہ تین سے دس ضرب تک) فقہاء کے فتاویٰ بھی اسی طرح ہیں۔(٣)

____________________

١۔ ہرگنھان: روان شناسییاد گیری ص١٣٣۔

٢۔ البتہ تنبیہ کے موضوع پر اسلام کی فقہی نظر کا استخراج (حکم اولیہ اور ثانویہ کی صورت میں) مستقل فرصت کا محتاج ہے۔

٣۔ امام علی رضا ـ: ''التادیب ما بین ثلاث الی عشرةٍ''مستدرک الوسائل ج٣ص٢٤٨۔تحریر الوسیلة ج٢ص ٤٧٧۔


تنبیہ کی نفی پر ا سکینرکے اعتراضات کے بارے میں کلی طور پر کہا جاسکتا ہے:

١۔ بعض ماہرین نفسیات جیسے رین اور ہولز خاص شرائط وحالات کے تحت( جیسے یہ کہ تنبیہ نامطلوب کاموں کے بعد فوراًبلافاصلہ ہو اور اس حد تک ہو کہ انسان کے لئے تکلیف دہ ہو... تنبیہ کو رفتار کی تبدیلی میں موثر جانتے ہیں اور اس سلسلہ میں آزمائشیں بھی کی ہیں۔

٢ ۔تنبیہ کے ہیجان آور نتائج (جیسے خوف یا پرخاش) کہ اسکینز جس کا ذکر کرتا ہے اس صورت میں منفی ہوجائیں گے جبکہ پہلے سے مربی اور تربیت پانے والے کے درمیان صرف ایک عاطفی ررابطہ رہا ہو کہ تنبیہ کی تاثیرکی شرط بھی اس طرح کے رابطہ موجود ہونا ہے۔

حضرت امیرالمومنین ـ کے ایک چاہئے والے نے چوری کی تو حضرت نے اُس کے ہاتھ کو قطع کردیا۔ ''ابن کوائ'' جو کہ خوارج میں سے تھا اس نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے اس سے سوال کیا: کس نے تمھارے ہاتھ کو قطع کردیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میرے ہاتھ کو پیغمبروں کے اوصیاء کے سید وسردار، قیامت کے دن سرخرو حضرات کے پیشوا، مومنین کی نسبت سب سے زیادہ حقدار نے ابن کواء غصہ میں بولا: وائے ہو تم پر! وہ تمہارے ہاتھ کو قطع کرتے ہیں اور تو ان کی اس طرح مدح و ثنا کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا: کیوںتعریف نہ کروں جبکہ ان کی محبت میرے گوشت وخون میں ملی ہوئی ہے، خدا کی قسم میرے انھوں نے ہاتھ کو صرف حق کی خاطر قطع کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ مجھے آخرت کی سزا سے نجات دیں۔(١)

٣ ۔تنبیہ نا پسند استعدادوں اور صلاحیتوں کے کنٹرول کرنے اور خاموش کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے جن کے بارے میں نرم رویّہ نتیجہ بخش ثابت نہیں ہوتا ہے، صرف ممکن طریقہ یہ ہے کہ ایک توبیخ وسرزنش یا پھر نفسیاتی جھنجھوڑ ان کے اندر ایجاد کریں، بالخصوص اگر تسلط پسند اور طغیان آمیز طبیعت رکھتے ہوں، جس طرح انسان کے جسم میں بدبودار اور کثیف غدود کو قطع کردیتے یا جلادیتے ہیں تاکہ دیگر حصوں تک سرایت نہ کرے۔ ''البرٹ الیس ''ان ماہرین نفسیات میں ہے کہ جواپنے علاج اور مشاورہ میں ناگہانی سرزنش وتوبیخ اور اس کے مانند دوسری چیزوں سے استفادہ کرتا ہے اور ایک جھٹکا دے مشاورہ کے درمیان مراجع کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔

____________________

١۔ بحار الانوار ج٤٠ ص٢٨١،٢٨٢۔


اسلام کا سزائی اور جزائی نظام بھی جوکہ خاص جسمانی سزائوں پر مشتمل ہے، اپنے حقوقی پہلوئوں کے علاوہ، تربیتی رخ سے بھی قابل توجہ ہے، کیونکہ انسان کو جرم کی تکرار سے روکتا ہے۔

مذکورہ نکات کے علاوہ تنبیہ کے استعمال میں درج ذیل چیزیں اس کی تربیتی تاثیر میں اضافہ کرتی ہیں:

١۔ہر قسم کی تنبیہ سے پہلے ناپسند عمل کی علت کی شناخت سے مطمئن ہوں، بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مختلف گھریلو اور روحی مسائل ومشکلات کی بنا پر جوکہ ہم پرپوشیدہ ہیں، یہ خطا سرزد ہوگئی ہو، ایسی صورت میں تنبیہ مشکلات اور پیچیدگی کواضافہ کرتی ہے۔

٢ ۔ وہ تنبیہ مؤثر ہے جو جذبۂ انتقام اور غیض وغضب کی عنوان سے نہ ہو، اس وجہ سے بے جاسرزنش اور حد سے زیادہ تحقیر وتوہین سے پرہیز کیاجانا چاہئے۔

٣ ۔تنبیہ سنجیدہ اور حسب ضرورت ہو اور میزان خطا سے آگے نہ بڑھ جائے۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''ملامت میں زیادہ روی ضد اور ہٹ دھرمی کی آگ کو بھڑکادیتی ہے''۔(١)

٤۔تنبیہ انسان کی نامطلوب صفت یاعمل سے دقیق رابطہ رکھتی ہو اور اسے تنبیہ کی علت کی نسبت مکمل آگاہی حاصل ہو۔

٥ ۔اگر انسان اپنے عمل سے شرمندہ وپشیمان ہوگیا اور اپنی رفتار سے باز آگیا تو اسے لطف ومہربانی کے ساتھ قبول کرلینا چاہئے۔

____________________

١۔''الافراط فی الملامة یشبّ نار اللجاجة'' (غرر الحکم ،ج١،ص ٨٨)۔


تیسری فصل :

اسلام میں اخلا قی تر بیت کے طر یقے

۱۔خود پر ناظر ہونا

یہ روش مکمل طور پر ''خود تربیتی'' صورت میں انجام پائے گی، اپنے آپ پر نظارت سے مراد یہ ہے کہ انسان کامل ہوشیاری اور مراقبت کے ساتھ قبول شدہ اخلاقی اقدار کی نسبت کوشش کرے کہ جو (جوارحی یا جوانحی) رفتار وکردار اخلاقی فضائل کے منافی ہیں اس کے وجود میں راستہ پیدا نہ کرنے پائیں اور اُس کے اخلاقی ملکات وقوّتوں کے زوال اور سستی کا باعث نہ بنیں۔

اپنے آپ پر روش نظارت کے نفسیاتی مبانی میں دو مرحلے قابل تفکیک ہیں: پہلا مرحلہ اس روش کے استعمال سے متعلق ہے کہ تربیت پانے والا شوق اور مقصد کے اعتبار سے باندازۂ کافی آمادگی رکھتا ہو۔(١)

یہ مرحلہ گذشتہ روشوں کی مدد سے بالخصوص اقدار کی طرف دعوت کی روش اور عقلانی توانائی کی تربیت کی روش کے ذریعہ عملی ہونا چائیے، یعنی ایک شخص اس نظریہ تک پہنچے کہ یہ اقدار اور اخلاقی مقاصد اُس کے وجود میں پائدار رہیں اور اخلاقی رذائل اُس سے مٹ جائیں دوسرا مرحلہ اس روش کی تاثیر کی کیفیت کو واضح کرنا ہے۔ نفسیاتی نظام کے صادرات اور واردات تدریجی صورت میں بیماری وجود ی شکل کی تعمیر کرتے ہیں ، اور نفس شناسی کی اصطلاح میںہمارے تزکیہ باطن اور ظاہر کو ایک تعادل پسندی کی طرف آگے بڑھاتی ہے، اس وجہ سے واردات وصادرات کی نوع کیفیت پر نظارت (کہ جو ہماری نیّات اور مقاصد کو بھی شامل ہوتی ہے)اس شکل کو جہت دینے میں کہ جو ان کا نتیجہ ہے، مؤثر بلکہ قابل تعیین ہوسکتی ہے۔

____________________

١۔ اخلاقی کتب میں اسے ''مقام یقظہ'' یعنی مقام بیداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


(اسکینز کے )فعال ماحول سازی کے نمونہ میں یہ روش تقریبی طور پر ایک مستقل روش کے عنوان کے تحت تین مرحلہ بیان کی جاتی ہے ۔(١)

١ ۔اپنا مشاہدہ : اپنی رفتارکو دقت کے ساتھ جزئی اورکمّی (مقدار ک )لحاظ سیثبت وضبط کرتا ہے۔

٢ ۔خود سنجی: (اپنے کو تولنا) موجودہ رفتاروں آئیڈیل نمونہ کے ساتھ کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے مقایسہ اور موازنہ کیا جاتا ہے۔

٣ ۔ خود تقویتی: (اپنے آپ کو قوت پہنچانا) ایسی رفتار جو ہدف کو زیادہ قریب کرتی ہے اور اُس سے سنخیت رکھتی ہے ، اس پر جزا دی جاتی ہے اور اس کے مدمقابل رفتار کومنفی تقویت کے ساتھ اور کبھی تنبیہ کے ذریعہ قابو اور کنٹرول میں رکھا جاتا ہے ۔

اس طرح سے رفتاری آثار ونتائج (پاداش اور تنبیہ)سے استفادہ کرنے سے اپنے آپ پر ایک دائمی نظارت اور مراقبت عمل میں آتی ہے دوسرے طریقے جو ا سکینر اپنے کنٹرول اور ضبط نفس کے لئے اس سلسلہ میں ذکر کرتا ہے، یہ ہیں: اور اسباب وشرائط کا آسان یا تنگ کرنا (مثال کے طور پر فضول خرچ انسان، اپنی جیب میں کم پیسہ رکھے)، محرومیت، عاطفی شرائط وحالات پر تسلط، تکلیف دہ محرک سے استفادہ (جیسے گھنٹی والی گھڑی) اور دوسرے امور کی انجام دہی۔

مکتب سلوکیت کا نمونہ ا سکینر کے نظریہ کے مطابق رفتار کی نظارت اور جانچ معمولی اور کم اہمیت کی حامل ہیں ، لیکن ہم اس نمونہ اور توضیح سے بالاترین سطحوں کے لئے اور اپنے آپ پر نظارت کے لئے استفادہ کرسکتے ہیںاور تیّات ، اہداف ومقاصد حتی کہ اپنی رفتار وکردار کی خوبیوں پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اخلاقی کتابوں میں یہ روش بہت زیادہ مورد توجہ رہی ہے اور اس سے متعلق مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔(٢) ان کتابوں میں مراقبہ، محاسبہ یا مرابطہ مرز بانی]دشمن سے سرحد کی حفاظت[ کے عناوین کے تحت یہ بحث کی گئی ہے۔(٣)

____________________

.۱ Psychoegyobhelthp.۱۰۳;۱۰k

٢۔جیسے ان کے محاسبة النفس از سید ابن طائوس اور محاسبة النفس کفعمی)

٣۔اخلاقی تربیت کی روش میں عرفاء شیعہ نے آخری دوسو سال میں (ملاحسین قلی ہمدانی، میرزا علی آقا قاضی، مرحوم بہاری، حاج میرزا جواد تبریزی ، مرحوم علامہ طباطبائی اور امام خمینی تک نے )اپنے آپ پر نظارت (مراقبہ ومحاسبہ) کی روش پر بہت تاکید کی ہے اور اسے اپنے سلوک کی بنیاد قرار دیا ہے۔


'' ابو حامد بندوں کے درمیان صرف صاحبان بصیرت جانتے ہیں کہ خداند عزوجل ان کا محافظ اورنگراں ہے اورمحاسبہ میں دقت سے کام لیا ہے اور ان کی نسبت بہت جزئی امور میں بھی سوال اوربازپرس کرتا ہے، لہٰذا یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان امور سے نجات کا راستہ محاسبہ اورمراقبہ کے لزوم کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ کہ نفس کو حرکات اور لحظات کی نسبت جانچتے رہیں، لہٰذا جو اپنے نفس کو روز قیامت کے حساب وکتاب سے پہلے مورد محاسبہ قرار دے تو اُس دن اُس کا حساب آسان اور سوال کے وقت اُس کا جواب آمادہ ہوگا اورنتیجہ نیک اور اچھا ہوگا۔ اورجو کوئی اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے گا اس کی حسرت دائمی اور قیامت کے مواقف میں اُس کا توقف طولانی ہوگااور اس کی برائیاں اسے ایسی ذلت وخواری کے گڑھے میں ڈھکیل دیں گی۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ خداوندعالم کی اطاعت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور اُسی نے صبر مرزبانی کا حکم دیا ہے:

(یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوْا ۔۔۔)۔(١)

''اے صاحبان ایمان تم لوگ صبر کرو، صبر کی تعلیم دو اور مرابطہ یعنی دشمن سے جہاد کے لئے تیاری کرو...'' لہٰذا تم مرابطہ ومرزبانی کرو پہلے مشارطہ کے ذریعہ اس کے بعد مراقبہ کے ذریعہ پھر محاسبہ اور پھر معاقبہ (سزا دینے) کے ذریعہ پھر اس کے بعد مجاہدہ اورمعاتبہ (عتاب کرنے) کے ذریعہ ...''(٢) اس لحاظ سے ایک دوسرے رخ سے بھی اپنے آپ پر نظارت اور نگرانی کا لزوم معلوم ہوا، محاسبۂ اعمال کردار کے تولنے کے لئے موازین قسط کے قرار دینا، قیامت کے دن حساب وکتاب کرنااور ہمارے نامہ اعمال میں ان کے جزئیات کو ضبط کرنا کہ جن کو ہر شخص واضح طور پر دیکھے گا، ان سب باتوں کے قطعی ہونے کے پیش نظر محاسبہ اوراعمال پر نظارت کے لزوم کے سلسلہ میں کوئی تردید نہیں رہ جاتی اورخداوند اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ اپنے بندوں سے دوبارہ حساب کا مطالبہ کرے۔ قرآنی آیات اس سلسلہ میں بہت زیادہ واضح ہیں: ''ہم عدل وانصاف کا ترازو قیامت کے دن قرار دیں گے، پس کسی نفس پر بھی کسی چیز میں ستم نہیں جائے گا، اگر( کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا اُسے ہم لے آئیں گے اور ہم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ہیں ''۔(٣) ''اور جب نامۂ اعمال سامنے رکھا جائے گا، اُس وقت مجرمین کو اپنے نامۂ اعمال کے مندرجات سے خوفزدہ دیکھوگے اور وہ کہیں گے : اے ہم پروائے ہو، یہ کیسا نامۂ اعمال ہے کہ جس میں کوئی ]کام[ چھوٹا ہو یابڑاچھوڑا نہیں گیاہے، بلکہ سب کو جمع کرلیاہے اور جوکچھ انھوں نے انجام دیا ہے وہ سب اس میں موجود پائیں گے اور تمہارا رب کسی پر ستم روا نہیں رکھتا''۔(٤) اپنے آپ پر نظارت کے طریقے درج ذیل ہیں:

____________________

١۔ سورہ ٔآل عمران آیت ٢٠٠۔ ٢۔ احیاء العلوم، غزالی ج٤ص ٤١٧، ٤١٨۔٣۔ سورہ ٔانبیاء آیت٤٧۔ ٤۔سورہ ٔکہف آیت٤٩۔


الف۔توبہ:

اپنے آپ پر نظارت کی روش میں جب بھی انسان اپنے آپ پر نظر ڈالتا ہے تو عام طور پر اپنے صحیفۂ اعمال کو اخلاقی رذائل سے آلودہ دیکھتا ہے۔ ایسی صورت میںاگر ان برائیوں سے الگ اورجدا ہونے کی کوئی راہ اورامید نہ ہو تو انسان بدبختی اور شقاوت کے بھنور میں مکمل طور پر پھنس جائے گا، اورنا امیدی اور رذائل کے ہلاکت بار گڑھے میں گرجائے گا، اس کے علاوہ روحی اور نفسیاتی اعتبار سے گناہ کے اندر اسی حالت پیدا کرتا ہے کہ اگر رذائل نہ ہوں تو آئندہ مواقع پر اور بھی زیادہ گناہوں کے ارتکاب کرنے پر آمادہ ہوجاتاتا ہے۔ اس وجہ سے اپنے اعمال کی غیر ارادی بنیادوں کے لحاظ سے ضروری ہے جیساکہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں:

''جب انسان سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اُس کے دل میں سیاہ نقطہ ایجاد ہوجاتا ہے، پس اگر توبہ کرلیتا ہے تو مٹ جاتا ہے اوراگروہ گناہ جاری رکھا تو سیاہی اس کے پورے دل کوڈھانپ لیتی ہے اور کامیابی کی راہ مسدود ہوجاتی ہے''۔(١)

دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ''گناہ'' کے مختلف مفاہیم ہیں:

نافرمانی اور بے وفائی کا احساس، اپنے آپ کو صدمہ پہنچانا، روح کو خراش لگانااور سزا کا مستحق ہونا۔ اگر یہ احساس گناہ انسان کی روح پر غالب آجائے اور سلسلہ باقی رہے، تو ذہنی افسردگی کا پیش خیمہ ہوگا اور انسان کو ہر قسم کی اپنی معنوی تعمیر اور اخلاقی فضائل کسب کرنے سے روک دے گا، اس وجہ سے توبہ اپنی ازسرِنو تعمیر کے لئے دوبارہ بازگشت کو کہتے ہیں، وہ تجدید اعمال کے لئے صاف وروشن نامۂ اعمال کے ہمراہ رحمت خداوندی کی امیدوار، منقلب، پختہ ارادہ کی مالک تعمیر کرتی ہے اور یہ توبہ وہی خدا کا لطف اور اس کی رحمت ہے، حضرت امام جعفر صادق ـ کے بقول ''توبہ اﷲ کی رسی اور عنایت ربوبی ہے، لہٰذا بندے ہمیشہ توبہ کی کوشش کریں اور ہر گروہ کا ایک خاص توبہ ہے......''۔(٢)

____________________

١۔''اذا أذنب الرجل خرج فی قلبه نقطة سوداء فان تاب انمحت وان زاد زادت حتّی تغلب علی قلبه فلا یفلح بعدها ابداً' '(کافی ج٢ص ٢٧١)۔

٢۔ مصباح الشریعة ص ٩٧۔


توبہ درحقیقت اپنے اوپر نظارت ہے۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''اپنے نفس سے جہاد کرو اورتوبہ کو مقدم رکھو تاکہ اپنے رب کے مقام طاعت تک پہنچ جائو''۔(١)

یہاںپر توبہ سے مراد راہ خطا اور عمل خلاف سے حسرت وندامت کے ساتھ واپس آنا ہے، یہ حسرت وندامت ہی کی آگ ہے جو اخلاقی گراوٹ اور پستی سے پاکسازی کے لئے راہ ہموار کرتی ہے اورایسا سوز وگذار ہے کہ جو انسان کے ذہن میں عفو وبخشش کا مزہ شیریں بناتی ہے اورطراوت، تازگی، طہارت وپاکیزگی کو انسان کے اندر وجود بخشتی ہے، ہر ابتدا اور ہر قدم کے لئے اپنی تربیت کے سلسلہ میں توبہ لازم ہے تاکہ وہ انسانی عزّت وکرامت کا احساس واپس آجائے، '' اپنے متعلق اپنے قیمتی تصوّرات کا مشاہدہ کرے اور اخلاقی تربیت کے لئے آمادہ ہوجائے۔

''گناہوںکے اشجار کو اپنے قلب ونگاہوں کے سامنے قرار دیتے ہیں اور آب ندامت سے اُس کی آبیاری (سینچائی) کرتے ہیں، پھر صحت وسلامتی، رضا وکرامت کا پھل حاصل کرتے ہیں''۔(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

''جب کوئی بندہ واقعی (نصوح، خالص) توبہ کرتا ہے تو خدا کا محبوب ہوجاتا ہے اورخداوندعالم دنیا وآخرت میں اس کے گناہ کو پوشیدہ کردیتا ہے....... وہ دو فرشتے جو نامہ اعمال کو ثبت کرتے ہیں انھیں غافل بنا دیتا ہے اور اعضا وجوراح کو حکم دیتا ہے کہ اس کے گناہوں کو مخفی رکھیں اور زمین کے مختلف حصوں سے کہتا ہے کہ وہ سارے گناہ جو تم پر انجام دئے ہیں انھیں نظر انداز کردو، پھر خدا سے وہ ایسی حالت میں ملاقات کرتا ہے کہ ایسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی جو اس کے گناہوں کی گواہی دے''۔(٣)

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''توبہ دلوں کو پاک کرتی ہے اورگناہوں کو دھودیتی ہے''۔(٤)

____________________

١۔ غررالحکم۔

٢۔ بحار الانوار ج٧٨ ص٧٢۔

٣۔ کافی ج٢ص٤٢٣۔

٤۔ ''التوبة تطہر القلوب وتغسل الذنوب''۔(غرر الحکم، فصل٥،ص١٩٥)۔


امام خمینی بھی توبہ کے بارے میںبیان کرتے ہیں:

توبہ نام ہے نفس کا مادیت روحانیت کی طرف رجوع کرنے کا، جبکہ گناہوں اور نافرمانی کی کدورت کے ذریعہ روحانیت (معنویت) اورنورانی فطرت، طبیعت کی ظلمت میں محجوب ہوجاتی ہے۔ اور اس اختصار کی تفصیل یہ ہے کہ نفس ابتدائے فطرت میں ہر طرح کے کمال، جمال، نور اور درخشندگی اور چمک دمک سے خالی ہوتا ہے، جس طرح سے کہ ان کے مقابل ومخالف صفات سے بھی خالی ہوتا ہے، گویا ایک ایسا صفحہ ہوتا ہے جو مطلق نقوش سے خالی ہوتا ہے، جس میں نہ کوئی روحانی اورمعنوی کمالات پائے جاتے ہیں اورنہ ہی صفات اضداد سے متصف ہوتا ہے۔ لیکن ہر مقام ومنصب کے حصول کی استعداد ولیاقت کا نور اُس میں بطور ودیعت رکھا گیا ہے اور اس کی فطرت استقامت پر ہے اور اس کا خمیر انوار ذاتیہ سے گوندھا ہوا ہے اورجب معاصی کا ارتکاب کرتا ہے تواس کے ذریعہ اُس کے دل میں ایک کدورت پیدا ہوجاتی ہے اورگناہ جس قدر زیادہ ہوتے ہیں، کدورت اور ظلمت بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ دل بالکل ہی تاریک اور ظلمانی ہوجاتا ہے (یعنی گناہوں کی کثرت سے دل میں سیاہی اور ظلمانی پردہ حائل ہوجاتا ہے پھر اُس پر کوئی بات اثر نہیں کرتی) اور نور فطرت خاموش ہوجاتا ہے اور ابدی شقاوت وبد بختی تک پہنچ جاتا ہے، اگر ان حالات کے دوران، دل کے تما م صفحہ پر ظلمت کے چھانے سے قبل خواب غفلت سے بیدار ہوجائے توپھر بیداری کی منزل کے بعد توبہ کی منزل میں وارد ہو جاتا ہے اور طبیعی کدورت اصلی نور فطرت اور ذاتی معنویت کی طرف واپس ہوجاتی ہے گویا کہ تمام کمالات اور اس کی اضداد سے خالی ایک صفحہ ہوجاتا ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے: ''التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۔۔۔''۔گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مانند ہے۔(١)

اس بات کے لئے کہ انسان توبہ کرے اورمایوسی وناامیدی اس پر غالب نہ آئے، توبہ کی طرف دعوت دینے والی آیات کو پے درپے پڑھنا چاہئے اور یہ جاننا چاہئے کہ خداوندعالم کی عفو و بخشش اور رحمت ورأفت کا دامن نہایت وسیع ہے:

(وَتُوبُوا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعاً اَیُّهَا المؤمِنُونَ لَعَلَّکُم تَفْلِحُون )(٢)

''اور اے صاحبان ایمان! تم سب اﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہو کہ شاید اسی طرح تمھیں فلاح اور نجات مل جائے''۔

____________________

١۔ چہل حدیث ص٢٣١، ٢٣٢۔

٢۔ سورہ ٔنور آیت٣١۔


(قُل یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اسْرِفُوا عَلیٰ أنفسِهِمْ لَا تَقْنُطُوا مِن رَحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمِ ۔)(١)

''پیغمبر! آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا، بے شک اﷲ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے''۔

(یَا اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوبَةً نَّصُوحاً عَسیٰ رَبُّکُم اَنْ یُکَفِّرَ عنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ )(٢)

''اے ایمان والو! خلوص دل کے اﷲ سے توبہ کرو عنقریب تمھارا پروردگار تمھاری برائیوں کو مٹادے گا''۔

ان باتو ںکو بھی جا ن ودل سے سماعت فرمائیں:

...بالفرض اس فرض کی بنیاد پر ہے کہ اہل نجات اور اس کی عاقبت سعادت ہو پھر بھی اُس عالم میں گناہوں کی تلافی کوئی آسان کام نہیں ہے،پہلے شدائد، زحمات ومشکلات کا برداشت کرنا ضروری ہے تاکہ انسان شفاعت کے قابل بنے اور ارحم الراحمین کی رحمت اُس کے شامل حال ہوجائے، پس اے عزیز!جتنا جلدی ممکن ہو کمرہمت کس لو اورعزم کو محکم اور ارادہ کو قوی کرلو اورگناہوں سے توبہ کرو کیونکہ ابھی جوانی کی عمر یا دنیاوی زندگی میں ہو، اور خداداد فرصت کو ہاتھ سے نہ گنوائو اور شیطانی دھوکوں اور نفس امارہ کی چالوں پر توجہ نہ دو۔(٣)

فرعون کے جادوگروں نے ایک دلیرانہ قدم اٹھایا اور توبہ کرلیا اوربارگاہ الٰہی کے مقربین کے درجہتک پہنچ گئے ابراہیم ادہم، فضیل بن عیاض، حربن یزیدریاحی، جابر جعفی اور بدھ واقعی منقلب ہونے والوں کے نمونے ہیں۔

توبہ کرن یکے بعد اس کے استحکام کے لئے اور گذشتہ گناہ کی تکرار نہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ درج ذیل باتوں کو یاد رکھیں: پیغمبر اکرم نے فرمایا: ''گناہ سے توبہ یہ ہے کہ پھر اس کی طرف واپس نہ آ ئے''۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔزمر آیت٥٣۔

٢۔ سورہ ٔ :تحریم آیت٨۔

٣۔ چہل حدیث ص ٢٣٣، ٢٣٤۔

٤۔ نہج الفصاحةحدیث ١٢١١۔


''خداوند سبحان کے نزدیک توبہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی اور جہالت کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں کہ خداوندکریم ان کی توبہ قبول کرتا ہے، اور خداوند متعال علیم دانا اور حکیم ہے''۔(١)

''وہ لوگ وہ ہیںکہ جب برا کام کرتے ہیں، یا اپنے نفس پر ستم کرتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں، کون ہے خدا کے سوا جو گناہوں کو بخش دے؟ اورجو گناہ وقصور (ناگہانی) کر بیٹھے ہیں اس پر جان بوجھ کراصرار نہیں کرتے ''۔(٢) تمام متعلق اور مربوط امور میں اصلاح اور تبدیلی: ''مگر جن لوگوں نے توبہ کیا اور اپنے عمل کی اصلاح کی اور خدا سے تمسک رکھا اور اپنے دین کو خدا کے لئے خالص طور پر اختیار کیا تو نتیجہ کے طور پر وہ لوگ مومنین کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب خداوند عالم مومنین کو اجر عظیم جزا دے گا''۔(٣)

خود کو خدا کے حضور میں تصور کریں اوریہ جانیں کہ خدا ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے:

ایک حبشی شخص رسول اکرم کی خدمت میں آیا اور بولا: اے رسول خدا! میں ایک بُرے کام کا مرتکب ہوا ہوں، آیا میرے لئے توبہ ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر وہ چلا گیا مگر تھوڑی ہی دیر بعد واپس آکر بولا: اے رسول خدا! آیا اس وقت خدا نے مجھے دیکھا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر اُس حبشی نے اس طرح چیخ ماری کہ روح اس کے جسم سے نکل گئی۔(٤)

آخری نکتہ:

توبہ کے بعد اپنے آپ پر نظارت اور تحفظ کے لئے اپنے آپ سے عہد کرے اور مشارطہ کرے۔

مشارطہ یہ ہے کہ پہلے دن مثال کے طو رپر اپنے آپ سے شرط کرے کہ آج خداوند عزوجل کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرے گا اور اس بات کا عزم بالجزم کرے اور معلوم ہے کہ ایک دن خلاف ورزی نہ کرنا، بہت آسان امر ہے اور انسان آسانی سے عہدہ بر آہو سکتا ہے، تم عازم ہوکر شرط کرو اورتجربہ کرو تودیکھو گے کہ کتنا آسان ہے۔ ممکن ہے کہ شیطان اور اُس ملعون کالشکر تم پراس امر کو بہت سخت دکھائے، لیکن یہ اُس ملعون کا دھوکا ہے۔ اُس پر دل سے حقیقتاً لعنت کرو اور باطل اوہام وخیالات کو دل سے نکال دو اور ایک دن تجربہ تو کرو، اس وقت اس کی تصدیق کروگے۔(٥)

____________________

١۔ سورہ ٔنسائ آیت١٧۔ ٢۔ سورہ ٔآل عمران آیت١٣٥۔ ٣۔ سورہ ٔنساء آیت١٤٦۔٤۔ احیاء العلوم، ابو حامد غزالیج٤ص١٥۔ ٥۔ چہل حدیث ص٨۔


یہ مشارطہ اور معاہدہ کلی طور پر ہفت گانہ اعضا (آنکھ، کان، زبان، شکم، دامن، ہاتھ اور پائوں) کے ساتھ ہو یا یہ کہ ایک ایسی خالص اخلاقی رفتار یا خاص صفت سے متعلق ہو کہ انسان جس سے دوچار ہے، بہتر ہے کہ یہ مشارطہ پہلے ہی دن انجام دیا جائے۔ ملا مہدی نراقی اس سلسلہ میں بڑی خوبصورت تمثیل پیش کرتے ہیں:

''جان لوکہ عقل آخرت کی راہ میں ایک تاجر کے مانند ہے جس کا سرمایہ اور پونجی عمر ہے اور اُسے وہ نفس کی مدد سے استعمال کرتا ہے کہ اس لحاظ سے عقل کے شریک کی مانند ہے کہ اُس کے مال میں تجارت کرتا ہے اور اس تجارت کا فائدہ اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کا حصول ہے کہ انسان کو دائمی سعادت اور ابدی نعمت کی جانب راہنمائی کرتے ہیں۔ اُس کا نقصان اس صورت میں ہے کہ اس سے ایسے گناہ سرزد ہوں کہ جو دوزخ کے دردناک عذاب تک منتہی ہوجاتے ہیں... اور اس تجارت کی مدت پوری عمر ہے۔ جس طرح تاجر کی ابتدا میں اپنے شریک سے مشارطہ ومعاہدہ کرتا ہے پھر اس کا مراقب اورنگران ہوجاتا ہے اور آخر میں اس کا محاسبہ کرتا ہے اور ممکن ہے کہ اُس سے تاوان بھی مانگ لے، اسی طرح عقل کو بھی اپنی نفس کے ساتھ مشارکت میں ان امور کی رعایت کرنی چاہئے''۔(١)

ب۔مراقبہ:

امام خمینی اس کی توضیح میں فرماتے ہیں:

'' ایسا ہے کہ تمام شرط کی مدت میں اس پر عمل کر نے کی طرف متوجہ رہو اورخود کو اُس پر عمل کرنا لازم سمجھواور اگر خدانخواستہ تمھارے دل میں خیال آئے کہ ایسے کے مرتکب ہو رہے ہو جوکہ حکم خداوندی کے خلاف ہے تو جان لو کہ یہ شیطان اور اس کے لشکر کی طرف ہے وہ چاہتے ہیں کہ جو تم نے شرط کی ہے اُس سے روک دیں اُن پر لعنت کرو اور اُن کے شرّ سے خدا کی پناہ مانگو اور باطل خیال کو دل سے نکال دو اور شیطان سے کہو کہ ایک دن میں نے خود سے شرط کی ہے کہ خدا کے حکم کے خلاف نہ کروں لیکن ولیّ نعمت نے سالوں سال سے مجھے نعمت دی ہے، صحت، سلامتی اور امنیت مرحمت فرمائی ہے کہ اور اس نے مجھ پر ایسے لطف کئے ہیں کہ اگر تاابد اس کی خدمت کروں تب بھی ان میں سے کسی ایک کا حق ادا نہیں کرسکتا ، لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ ایک معمولی سی شرط کو بھی وفا نہ کروں... یہ مراقبہ تمہارے کاموں میں بھی جیسے کسب اورکمائی ، تعلیم وتعلم اور مسافرت، کسی ایک سے بھی منافات نہیں رکھتا ہے اور اسی حال پر رات تک باقی رہو کہ وہ محاسبہ کا وقت ہے...۔(٢)

____________________

١۔ جامع السعادات ج٣ص٩٣۔ ٢۔ چہل حدیث ص٨۔٩۔


حضرت حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''سزاوار ہے کہ انسان اپنے نفس پر حاکم، قلب کا نگراں اور زبان کا محافظ ہو''۔(١)

حضرت امام حسین ـ نے فرمایا: ''تین چیزیں اگر ہرمومن میں پائی جائیں تووہ خدا کی پناہ میں ہے... (تیسرے یہ کہ) اپنے نفس سے محاسبہ کرے اور اُس وقت تک اپنے ہاتھ پائوں کو حرکت نہ دے جب تک یہ نہ جان لے کہ خدا کی راہ میں قدم اٹھایا ہے یا اُس کی نافرمانی کی راہ میں اور یہ کہ اپنے بھائی کے کسی عیب پر ملامت نہ کرے مگر یہ کہ خود اُس کا ترک کرنے والاہو''۔(٢)

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں:

''اُس بندہ پر آفرین ہو جو اپنے نفس سے جہاد کے لئے قدم اٹھائے، جو انسان ہوائے نفس کے سپاہیوں کو مغلوب بنادے اُس نے رضائے خداوندی کاراستہ پا لیا ہے اورجس شخص کی عقل کو شش وتلاش کے ساتھ نفس امارہ پر غلبہ کرے اورخضوع وخاکساری کے ساتھ عقل کی خدمت میں پہنچے تو اس نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے، خود نفس اور ہوائے نفس سے زیادہ تاریک اوروحشتناک خداوند متعال اوربندہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے اور اُس سے مقابلہ کے لئے خدا کی درگاہ میں احتیاج اوراس کے لئے خضوع وخشوع، دن میں بھوکا اور پیاسا رہنے اور تہجد کے علاوہ کوئی تیزتر اسلحہ نہیں ہے، لہٰذااگر راہ جہاد میں مرگیاتو وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوگا اوراگر زندہ رہ گیا اور ثبات وپائداری کا ثبوت دیا تو نتیجہ میں ''رضوان اکبر''کے حاصل کرے۔ خداوند عزّوجل فرماتا ہے:

(وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُم سُبُلَنَا، وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ(٣)

'''اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اﷲ حسن عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے''۔

____________________

١۔ غرر الحکم۔

٢ بحار الانوار ج٧٨ص ١٤١۔

٣۔ سورہ ٔعنکبوت آیت ٦٩۔المحجة البیضاء ج٨ص ١٧٠۔


لہٰذا مراقبہ اعضائے ہفتگانہ کے عمل کرنے کے وقت انسان کا فعّالانہ حضور ہے ، عمل سے پہلے فکر و تامل کے ساتھ اپنی نیت اور مقصد کی نسبت توجہ اورمراقبت کرے، عمل کے وقت مراقبت کرے کہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اخلاقی اقدار اور الٰہی تعلیمات کے خلاف کوئی عمل اُس سے سرزد ہوجائے اورعمل کے بعد بھی مراقبت کرے کہ اس کے خاص آثار جیسے ریا، منّت، اذیت وغیرہ اس سے صادر ہوکر عمل کو ضائع نہ کریں یہاں پر اگر اس کی نظر میں کوئی خاص اخلاقی صفت ہو تو وہ مراقبہ کو اسی صفت پر یا اس کے مناسب اعمال پر مرکوز کردے ، اس لحاظ سے اپنے آپ پر نظارت کا اساسی مرحلہ یہی مراقبہ ہے۔

مراقبہ کے سلسلہ میں اہم نکتہ یہ ہے کہ آغاز امر میں اپنے اوپرزیادہ سختی نہیں کرنی چاہئے اورعمل کے جزئیات اورظرائف کو بھی انجام نہیں دینا چاہئے ، یہ رویہ موجب ہوگا کہ اُس کی سختی اُسے اس عظیم جہاد سے روک دے گی، آغاز کار میں اُسے چاہئے کہ صرف اپنے بارے میں حلال وحرام کے سلسلہ میں نفرت کا اظہار کرے یا ایک اخلاقی رذیلت کی نسبت اپنا محاسبہ کرے تاکہ بعد کے مراحل میں خلوص نیت اور اُس سے بالاتر مراقبہ مراتب پر عمل کرے ۔

توجہ رکھنی چاہئے کہ خداوندعالم پر ایمان کی پشت پناہی کے بغیر مراقبہ بہت دشوار اور مشکل ہے، ایک بصیر وناظر کے حضور پر یقین واعتقاد ہی مراقبہ کو آسان کرتا ہے اور یہ بات ایمان کی تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔

ج۔محاسبہ:

یعنی کوئی وقت معین کرے (بہتر ہے کہ سونے سے قبل ہو) اور روزانہ کے اعمال کا حساب وکتاب کرے، اگر یہ محاسبہ انجام نہ پائے تواپنے آپ پر نظارت اور مراقبہ آئندہ ایّام میں عملی طور پرممکن نہیں ہوگا۔

''اے صاحبان ایمان! خدا سے ڈرو اورہرانسان کو غور کرنا چاہئے کہ اپنے کل (آئندہ) کے لئے پہلے سے کیا بھیجا ہے''۔(١)

''تم لوگ اپنے دل کی باتوں کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو ، خدا تمہارا ان سب کے سلسلہ میں محاسبہ کرے گا''۔(٢)

''حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں اس طرح مذکور ہے: عقلمندانسان جب تک کہ اس پر اس کی عقل حاکم ہے اس کو چاہئے کہ اپنے لئے چار اوقات معین کرے... اورایک ساعت اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کے لئے معین کردے''۔(٣)

____________________

١۔ سورہ ٔحشر آیت١٢۔

٢۔ سورہ ٔبقرہ آیت٢٨٤۔

٣۔ بحار الانوار ج٧٧ ص٧١۔


''اپنے نفس کو محاسبہ کے ذریعہ کنٹرول کرو اور اس (نفس) کی مخالفت کرکے اُس کے مالک ہوجائو''۔(١)

''اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارامحاسبہ کیا جائے اورخود کو بھاری اورہلکا کرو قبل اس کے کہ اس کا وزن دیکھیں اور اپنے اعمال کو پیش کرنے کے لئے آمادہ ہوجائو''۔(٢)

عاقل انسان کے لئے مناسب ہے کہ اپنی برائیوں کا دین، اعتقاد، اخلاق وادب کے اعتبار اپنے نزدیک حساب کرے پھر انھیں سینوں میں یا کسی کاغذ پر محفوظ کرے اور ان کی اصلاح کرے۔

محاسبہ کی ترکیب اس طرح ہے کہ دن کی ابتدا سے شروع کرے اور جوکچھ اُس سے اعمال سرزد ہوئے ہیں ان کی جانچ کرے کہ آیا اخلاقی معیار کے مطابق ہیںیا نہیں ؟ آیااُن کے اندر خدا کی رضایت اورخوشنودی پائی جاتی ہے... ؟ حضرت امیر المومنین علی ـ سے سوال کیا گیا: انسان کس طرح اپنا محاسبہ کرے؟ فرمایا:

''جب صبح کو بیدار ہو تواُس وقت سے عصر تک اپنے نفس کی طرف رجوع کرے اور کہے: اے نفس! آج کا دن ایسا دن تھا جو تم پر گذر گیا اوردوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا اور خدا اُس سے متعلق تم سے بازپرس کرے گا کہ تم نے اس کو کس طرح سے گذارااور اس میں کونسا عمل انجام دیا آیا خدا کی یاد اوراس کے شکرانہ میں مشغول تھے؟ آیا اپنے مومن بھائی کا حق ادا کیا؟ آیا اس کی مشکلات کو برطرف کیا؟ آیا اس کی غیبت میں اُس کے اہل وعیال کی سرپرستی کی؟ آیامرنے کے بعد اُس کے ورثاء کی نسبت مہربان رہے ہو؟ آیا اپنی موقعیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برادرمومن کی غیبت سے روکا ہے؟ آیا کسی مسلمان کی مدد کی ہے؟ اس دن تم نے کیا کیا؟ پھر دل میں سوچے جو کچھ اُس سے سرزد ہوا ہے: اگر نیک اورخیرکام تھے، تو خدا کی حمد وستائش کرے اور اس توفیق پر اس کی تعریف وتمجید کرے۔ اگر گناہ اورکوتاہی اُس سے سرزد ہوئی تو خدا سے طلب مغفرت کرے اوراُسے ترک کرے اور توبہ کرے۔اخلاقی تربیت سے متعلق محاسبہ نفس بہت سے آثاراور فوائد کا حامل ہے کہ ان میں سے بعض فوائد اپنے ناپسند صفات و عیوب سے واقف ہونا اور گناہوں سے خالی ہو نا اوراصلاح وسعادت کی راہ ہموار ہیں۔

اسی طرح بھولنا نہیں چاہئے کہ اگرمحاسبہ کچھ سخت معلوم ہو ، تو اُس پر مجاہدہ (جہاد بالنفس) کے ذریعہ غالب آجانا چاہئے اور اس کے آثار و فوائد کے بارے میں غور کرنا چاہئے۔ پھر کچھ مدت بعد روزانہ ایٹومیٹک صورت میں دن بھر یہ محاسبہ اور مراقبہ انجام پائے گا اور رات کے لئے کوئی کام نہیں رہ جائے گا ۔

____________________

١۔ غررالحکم۔ ٢۔ بحار الانوار ج٧٠ ص٧٣۔


امام موسیٰ بن جعفر ـ نے فرمایا ہے:

''جو شخص روزانہ اپنا محاسبہ نہ کرے وہ ہم سے نہیں ہے، لھٰذااگراُس نے کو ئی اچھااور نیک کام کیا ہے تو خدا سے اس کی زیادتی کی دعا کرے اور اس کی حمدوستائش کرے اور اگر برا کام کیا ہے تو خداسے مغفرت طلب کرے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرے''۔(١)

د۔معاقبہ:

محاسبہ کے بعد قانون تقویت (فعال ماحول سازی ) کے مطابق ان مقامات پر جہاں انجام دیئے گئے اعمال اخلاقی معیار کے مطابق تھے اس کے لئے ایک جزا معین کرے (جیسے مناسب تفریح وگردش، اچھی غذا...) اور اگر اس کے برخلاف ہو تو اُس کے لئے مناسب سزا تجویز کرے، جیسے یہ کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو سرز نش اور ملامت کرے اس کے بعد مشقت آمیز اعمال کو برداشت کرے ؛جیسے روزہ رکھے یا خود کو وقتی طور پر بعض لذیذ چیزوں اور عطیوں سے محروم کرے۔ان موارد میںبرے عمل سے مشابہت کا لحاظ کیا جاسکتا ہے؛ مثال کے طورپر حرام غذا ئوں سے پرہیز نہ کرنے کے سلسلہ میں، خودکو بھوکا رکھے اور نا محرم کی طرف نگاہ کرنے کے سلسلہ میں بعض پسند یدہ اور محبوب امورکو دیکھنے سے اپنی آنکھ کو (جسے ایک جالب نظرفیلم دیکھنے سے ) دور کرے اور اگر زبان سے متعلق ہو تو اُسے سکوت کے ذریعہ سزادے اور اگر کسی کو رنج پہنچا یا ہو تو اس کے پاس جائے اور اُس سے عذر خواہی کرکے اپنے آپ کو ذلیل وخوار کرے...۔ مجازات معاقبہ پر جو کہ جہاداکبرہے ضرور بالضرور عمل کریںورنہ انسان کے لئے برے اعمال اور اخلاقی رذائل آسان ہو جائیں گے اور وہ اُن سے اس حدتک مانوس ہو جائے گاکہ اس کا ترک کرنا مشکل اور دشوار ہو جائے گا۔ حضرت علی ـ نے فرمایا: ''سب سے بڑاجہاد نفسانی خواہشات سے مقابلہ کرنا اور اسے دنیاوی لذّتوں سے بازرکھنا ہے ''۔(٢)

''جان لوکہ جہاد اکبر نفسانی خواہشات سے مقابلہ کرنا ہے لہٰذا اس جہاد میں مشغول رہو تاکہ کامیابی کی سعادت نصیب ہو''۔(٣)

آخرمیں دوباتوں کی یاد دہانی ضروری اور لازم ہے: اوّل یہ کہ اپنے آپ پر نظارت کی بحث میں آداب ورسوم (عرفی عادات ) اصول اور افعال اخلاقی کے درمیان فرق رکھنا چاہئے: اول کلیت نہیں رکھتے لہٰذاان کی ہمیشہ مراعات کرنا ضروری نہیں ہے ؛بر خلاف دوسرے کے۔دوسرے یہ کہ تقویت ارادہ کی ترکیبوں سے استفادہ کرنا اپنے آپ پر نظارت کرنے کی کامیابی میں بہت زیادہ موثرہے۔

____________________

١۔ بحار الانوار ،ج٧٠ ،ص٧٣۔٢۔ غررا لحکم، فصل١، ص١٤٢۔٣۔ غررا لحکم، فصل ٧، ص٢٢٦۔


۲:۔ ایمان کی تربیت

ایمان ایک قلبی حالت اور روحی اثر ہے کہ جس کی تاثیر افکار، احساسات اور اعمال میں آشکارہو تی ہے۔ حضرت امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں:

''الایمان ما کان فی القلب والاسلام ما علیه التناکح والتوارث ''(١)

''ایمان وہ ہے جو دل میں ہوتا ہے اور اسلام وہ ہے جو جس پر تناکح وتوازث ہوتا ہے''۔

پیغمبر اکرم نے فرمایا:

''الایمان قول مقول وعمل معمول وعرفان العقول ''۔(٢)

''ایمان وہ قول جو بولا جاتا ہے اور وہ عمل ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے اور عقلوں کی معرفت ہے''۔

خداوندمتعال روز قیامت، ملائکہ یا تدبیرعالم کے مامورین پر ایمان رکھنے سے (کہ یہ سب ایمان بالغیب کے مصداق ہیں) انسان کی معرفتی، عاطفی، اور اخلاقی جہات تبدیل ہوجاتی ہیں اور اس نظر جسمانی، کمّی اور فائدہ طلب محاسبات کے حدود میں محدود نہیں رہتی ہے، بلکہ اُس کی یہ فکر، یہ نظر اورخدا شناسی اس کی باطنی استعدادوں کی بالیدگی کا سبب بنتی ہے اور اس کے وجود کی وسعت کو کمال مطلق کے امتداد میں محقّق بناتی ہے۔ ایک بے کراںاور لامتناہی علیم وقدیر وجود مقدس کے سامنے حضور کاا حساس انسان کے اخلاقی کنٹرول اور تربیت میں ایک اہم عامل ہوگا، لہٰذا ایمان کی پرورش انسان کے پورے وجود میںبہت سے قوی وسائل انسان کے پورے وجود میں(جوکہ وہ اختیار میں رکھتی ہے، اخلاقی تربیت کو آسان بنادیتی ہے، بلکہ خود انسان کے وجود میں مکارم اخلاق کو پیدا کرتی ہے۔

____________________

١۔ میزان الحکمةج١ ص٣٠٠۔

٢۔ میزان الحکمةج١ ص٣٠٢۔


الیکس کارل انسان کے مذہبی ایمان اور اخلاقی پہلو کے رابطہ کی اس طرح منظر کشی کرتا ہے:

اخلاقی اور مذہبی افعال عملی طور پر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اخلاقی احساس، عرفانی احساس کے ختم ہونے کے بعد دیر تک باقی نہیں رہتا انسان مذہب سے مستقل اور الگ ایک اخلاقی سسٹم بنانے میں جیسا کہ سقراط نے چاہا تھا کامیاب نہیں ہوا ہے ، وہ سماج اور معاشرہ جس نے دعا اور راز ونیاز کو اپنے اندر ترک کردیا ہے عام طور پر فساد اور زوال سے محفوظ نہیں رہے گا۔ لہٰذا بے ایمان (نام نہاد)متمدن افراد دیندار لوگوں کی طرح فریضہ رکھتے ہیں کہ اپنے باطنی افعال کے رشد کے مسئلہ میں کہ جو ایک انسانی وجود کا لازمہ ہے، دلبستگی پیدا کریں۔(١) علامہ طباطبائی اخلاقی اسلوب وطریقے کی توضیح میں، تین مسلک کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

پہلا مسلک:

دنیوی صالح غایات کی راہ سے تہذیب ہے کہ یہی یونانی فلاسفہ کا عقلی مسلک ہے۔

دوسرا مسلک:

اخروی غرض وغایت کے لحاظ سے تہذیب ہے جیسے حور، قصور، بہشت ودوزخ و۔۔۔ کہ اس کے سلسلہ میں قرآنی آیات بہت زیادہ ہیں اور انبیاء کا تربیتی طرز عمل بھی اسی روش پر رہا ہے۔

تیسرا مسلک:

یہ قرآن کریم سے مخصوص ہے کہ ایک طرح سے ایمان کی پرورش اور معارف الٰہی سے استفادہ کے ذریعہ اخلاقی رذائل کو بنیاد سے اکھاڑ پھینکتا ہے... جو عمل بھی انسان انجام دیتا ہے اس کا ہدف اور غایت یا اُس میں عزت کا حصول مطلوب ہے یا وہ قدرت ہے جس سے ڈرتا ہے۔ لیکن خداوند سبحان فرماتا ہے: (اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعاً )(٢) تمام عزت اﷲ کے لئے ہے اور فرماتا ہے ۔

(اِنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعاً )(٣) تمام قدرت اﷲ کے لئے ہے ۔اگر یہ معرفت اور یقین محقق ہوجائے تو ریا، سمعہ، (دکھاوا)، خدا کے علاوہ سے خوف، خداکے سوا کسی اور سے امید نہ رکھنے، اس کے علاوہ پر تکیہ کرنے کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی، یہ دو جملے جب بھی انسان کو معلوم ہوجائیں ( قلبی یقین کی حد میں) تمام اخلاقی ورذیلت کو انسان سے پاک کردیتے ہیں( خواہ صفت) ہو یا فعل اور اس کے مقابل اخلاقی فضائل جیسے تقوائے الٰہی، عزت خدا وندی ، عظمت وشوکت ،بے نیازی اور ربانی ہیبت وغیرہ سے آراستہ کردیتے ہیں۔(٤)

____________________

١۔ نیائش ص٢٨۔ ٢۔سورۂ یونس، آیت٦٥۔٣۔ سورہ ٔبقرہ آیت١٦٥۔ ٤۔ المیزان ج١ص ٣٥٤۔٣٦٠۔


خداوند ذوالجلال کی وحدانیت پر ایمان رکھنا انسان کے توحید ی مکتب فکر کو تنظیم کرتا ہے اور اسے انسجام بخشتا ہے، اہداف ومقاصد، افکار، عواطف وجذبات، عادات واطوار، افعال، سارے کے سارے ایک ہدف کے تحقّق کے لئے (کہ اﷲ کی حاکمیت اور اس کی رضاہے) ہم آہنگ اور متحد ہوجاتے ہیں اور اس وجہ سے دنیوی، شیطانی اور نفسانی خواہشات ، اہداف کے اسباب ہیں اس لئے کہ وہ غیر خدا کوئی اور ہیں تفرقہ اور اختلاف ، لڑائی جھگڑے ، کینہ وحسد اور دیگر اخلاقی رذائل ۔

اور خداوند عالم رقیب وعقید فرشتوں،پرشکوہ حضور روز قیامت کا یقین اخلاقی مراقبت اورکنٹرول کو انسان کے لئے سہل وآسان بنادیتا ہے اور جس قدر ایمان کی قوت زیادہ ہوگی احساس حضور زیادہ ہوگا اور اخلاقی تربیت آسان تر ہوگی: ''خداوند عالم تم پر ہمیشہ نگہبان ہے''۔(١) انسان کوئی بات نہیں کرتا، مگریہ کہ اس کے پاس ایک مراقب وآمادہ (فرشتہ) ہوتا ہے جسے وہ ضبط وثبت کرتا ہے۔(٢) حضرت علی ـ نے فرمایا:'' خداوند عالم نے ہرعمل کے لئے ثواب اور ہرچیز کے لئے حساب قرار دیا ہے''۔(٣)

علمائے اخلاق کے شیوہ میں بالخصوص غزالی کے زمانے سے اب تک یہ روش بہت مورد توجہ رہی ہے اور اخلاقی کتابوں کاقابل توجہ حصّہ باواسطہ یا بلاواسطہ اس سے مخصوص رہا ہے اس کے علاوہ چونکہ لوگوں کے اخلاق کو

آراستہ کرنااوران کی اصلاح انبیاء کی بعثت کا اصلی وبنیادی ہدف رہا ہے (بعثت لاتمم مکارم الاخلاق) میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔]رسول خدا[) اور انبیاء کی تعلیمات میں اخلاقی پیغامات اور موعظے ان کی سیرت وسلوک کا عظیم باب رہے ہیں لہٰذا پرورش ایمان اور اخلاقی تربیت کے درمیان رابطہ کے اثبات کے سلسلہ میں تفصیل ضروری نہیں ہے۔ درج ذیل احادیث مطلب کی وضاحت کے لئے کافی ہیں:

پیغمبر اکرم نے فرمایا: ''ایمان حرام امورسے دوری اور دنیوی خواہشات سے پاکیزگی کا سبب ہے''۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔنساء آیت١۔

٢۔ سورہ ٔقآیت ١٨۔

٣۔ غرر الحکم۔

٤۔ کنز العمال خ٥٨۔


''ایمان حلم وبردباری اور جودو بخشش کے سواکچھ نہیں ''۔(١)

حضرت علی ـ نے فرمایا: '' ایمان ایک ایسا درخت ہے جس کی جڑ وبنیاد یقین، شاخ تقویٰ، کلیاں شرم وحیا، اور اس کا ثمر سخاوت ہے'' (غررالحکم) ''سچائی ایمان کے لئے سر کے مانند ہے''۔(غرر الحکم)

حضرت علی ـ فرماتے ہیں''مومن کی شادمانی اُس کے چہرہ پر اور غم و اندوہ اس کے دل کے اندر ہوتا ہے، وہ کشادہ سینہ اور خاکسار وخاضع نفس کا مالک ہوتا ہے، فوقیت طلبی کو ناپسند کرتا ہے... اس کا سکوت طولانی ہوتا ہے ، اُس کے اوقات مشغول ہوتے ہیں ، وہ شاکر اورصابر ہوتاہے...''۔(٢)

پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: ''تم میں ایمان کے لحاظ سے کاملترین انسان وہ ہے جو سب سے اچھا اخلاق رکھتا ہو'' ۔(٣)

ویکٹورفرانکل ماہر نفسیات اورعلاج معنوی مکتب کا حامل مذہبی ایمان کو جیلوں کے اندر افراد کے اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لئے اہم ترین وسیلہ شمار کرتا ہے، آغاز میں جیلوں کے متعلق اس طرح بیان کرتا ہے:

''...ایک دن ایک پولیس جو کہ ہمارے جیلوں میں کام کررہا تھا اس نے مجھ سے کہا: چھائونی میں انسان مردار کا ایک ٹکڑا گوشت کو تلاش کررہا ہے ، آخرکار اُسے آگ پر چڑھے ایک برتن میں پایا... ہمارے جیل چھائونی آدم خوری سے بھری ہوئی تھی۔(٤) ہم نے تو اسیروں کے جیل میں زندگی گذار دی ہے ، اس وقت ہم ایسے لوگوں کو یاد کرتے ہیں جوکمرہ کمرہ میں جاتے اور دیگر قیدیوں کی دلداری کرتے حتی کہ روٹی کا آخری ٹکڑا بھی انھیں بخش دیتے تھے۔(٥)

انسان کبھی اخلاقی رفتار کی سمت کھینچ کر لے جایا نہیں جاتا بلکہ فیصلہ کرتا ہے کہ اخلاقی رفتار رکھے، وہ اس کام کو میلان کی تکمیل یاوجدان کی آسودگی کے لئے انجام نہیں دیتا ہے، بلکہ اس دلیل اور علت کی وجہ سے کہ جس کا پابند ہے اُس انسان کے لئے جسے دوست رکھتا ہے یااپنے خدا کے لئے انجام دیتا ہے... ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ تمام مقدس افراد کا مقصد اپنے خدا کی خدمت کے سوا کچھ نہیں تھا اورمیں یہ خیال نہیں کرتا کہ ان کااصلی وبنیادی ہدف مقدس ہونا تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ مکتب کمال کو انتخاب کرتے۔(٦)

____________________

١۔ کنز العمال خ٥٧۔ ٢۔ بحار الانوار ج٦٩ص ٤١١۔ ٣۔ بحار الانوار ج٧١ص ٣٨٧۔٤۔ انسان درجستجو ی معنا ص٦٢۔

٥۔ انسان درجستجو ی معنا ص٤٧۔ ٦۔ انسان درجستجو ی معنا ص ١٤٥و١٤٦۔


اُس نے نیچہ کے جملہ سے استناد کیا کہ اس نے کہا تھا''جس انسان نے زندگی کی کیوں علت دریافت کرلیا ہے وہ ہر کیفیت کے ساتھ نبھالے گا '' فرانکل کہتا ہے: جرمن نازیوں کے جیل میں یہ بات بخوبی ثابت ہوگئی ہے کہ وہ تمام وہ لوگ جو خیال کرتے تھے کہ ان کو کام اور ذمہ داری انجام دیناہے (اس معنی کے مقابل جس کا وہ اعتقاد رکھتے تھے) انھوں نے زیادہ سے زیادہ زندہ رہنے کا چانس رکھا (بعد میں یہ بات کوریا اور جاپان میں امریکی ماہرین کے ذریعہ ثابت ہوگئی ہے) ۔(١)

امریکا کا عظیم ماہر نفسیات ویلیام جیمزبھی دینی ایمان کے اخلاقی پہلو کی امر سون نامی انسان کے قول کو نقل کرتے ہوئے اس طرح تصویر کشی کرتا ہے:

... آدمی کی روح میں ایک عدالت پائی جاتی ہے کہ جس کی سزا اور جزا قطعی اور یقینی ہے جو شخص آلودگی اور برائی کو اپنے سے دورے کرے تو اس نے پاکی اور خوبی کو حاصل کرلیا ہے اور جو انسان پہلے ہی سے قلبی اعتبار سے اچھا انسان ہو اس کے دل میں خداوندعالم جگہ رکھتا ہے، اس عدالت اور اچھائی دوستی کے ساتھ جو یہ شخص اپنے دل میں رکھتا ہے، خداوند ازلی وابدی ، خدائے عظیم کو اپنے دل میں رکھتا ہے۔ اگر کوئی دھوکہ دے اور مکر سے کام لے گویااُس نے خود کو دھوکا دیا اور اپنی معرفت بھی نہیں رکھتا ہے، ہر انسان کا باطن بخوبی پہچان لیا جاتا ہے، چور کبھی مالدار نہیں ہوتا اور جوانسان فقرا کی مدد کرتا وہ کبھی محتاج نہیں ہوتا ہے۔ پتھریلی دیوار کی پشت

سے بھی قتل آواز دیتا ہے یعنی قتل کو چھپایا نہیں جاسکتا۔

جھوٹ اور ملاوٹ کا ادنیٰ ذرہ بھی اگر کسی چیز میں ہو، مثال کے طور پر خود خواہی کا شائبہ، وسوسہ، تظاہر، ریاتو تمہارے کام کے نتیجہ کو فاسد کردے گا لیکن اگر صداقت اور راستگوئی سے کام لو گے تو ساری چیزیں اور ہرکوئی جاندار ہو یا بے جان تمہاری صداقت کا گواہ ہوگا...۔

عشق، عدالت، محبت، خوش خلقی اور صبر سبھی کا سرچشمہ ایک ہی ہے ، لہٰذا جتنا آدمی ان ''مقاصد''سے دور ہوگا، قدرت ونفرت کے سرچشمہ سے بھی ممکن ہے کہ اس سے فیضیاب ہو، دور ہوجائے گا نتیجہ کے طور پر اس کا وجود بے پناہ اور متزلزل ہوکر تدریجاً کمزوراور معمولی ہوکر ذرّہ اور نقطہ میں تبدیل ہوکر نہایت برائی اور پستی کے ساتھ

____________________

١۔ ا انسان درجستجو ی معنا ص١٥٥۔


وجہ موت اور نابودی کے گڑھے میں گرجائے گا۔ اس قانون کا فہم وادراک آدمی میں ایسی فکر واحساس پیدا کرتا ہے کہ ہم اُسے احساس مذہبی کے نام سے یاد کرتے ہیںایک عجیب وغریب قوت کہ خود جذب بھی کرتی ہے اور شاد ومسرور بھی کرتی ہے۔ پہاڑوں سے چل کر جو عطر نسیم عالم کو معطر بنادیتی ہے وہ اسی کی ذات سے ہے، آسمانوں اور بلند وبالاپہاڑوں کو عظمت وجلالت وہی عطا کر تا ہے، ستاروں کے سکوت آمیز آواز اُسی کی دین ہے، تمام خوبصورتیاں اور خوبیاں اسی کی ذات سے ہیں، وہ ہے کہ آدمی کو ابدی بنادیتا ہے۔

جب انسان کہتا ہے: ''میرا فریضہ وفریضہ ہے'' جب عشق ومحبت اسے حکم دیتی ہے، جب عالم بالا سے الہام نیک اورعظیم کام کا انتخاب کرتا ہے، ایسے موقع پراس کی روح عالمِ عقل کے عالم گیر نغموں سے سرشار ہوجاتی ہے... (ویلیام جیمنرص٧،٨)

درحقیقت انسان کا خدا پر ایمان، غیرا ارادی طور پر ضمیر میں وارد ہونے سے (گوستاویونگ) کہ غیر ارادی ضمیری چیزوں کو ناخود آگاہ ضمیر کا مفہوم روح، خدا اور غیبی قوتوں پر مشتمل جانتا ہے۔(١)

اس کے بہت سے دیگر افکار ونظریات پر براہ راست نہایت تاثیر رکھتا ہے جیسے اُس کا زندگی اور زندگی ہدف کے بارینظریہ۔ اور یہ نظریات خود اپنی جگہ پر خوب وبد، درست ونادرست کے بارے میں انسان کے افکار کو تشکیل دیتے ہیں، یہاں تک کہ آخرکار انفرادی، اجتماعی اور اخلاقی عمل اور انفرادی مناسبتیں بھی اوّلی اور اساسی افکار ونظریات سے تاثیر قبول کرتی ہیں۔

انسان کے غیر ارادی طور پر وارد ہونے کے طریقے، چار اساسی راہ کے حامل ہیں کہ آخری کے علاوہ سبھی طبیعی ہیں:

١۔عہد طفولیت میں منصوبہ بنانا۔

٢۔مثبت یا منفی شدید ہیجانات کے وقت۔

٣۔ہوشیاری کے وقت نفس کی تلقین: اس طرح سے کہ اچھے اورمثبت جملات اورمفاہیم کی مناسب وقت میں آہستہ آہستہ توجہ کے ساتھ بلند آواز سے تکرار کرے۔

٤۔ہیپنا ٹزم کی روش۔

____________________

١۔ رواشناسی ضمیر خود آگاہ ص٩٢۔


وہ دینی تعلیمات اوردستورات کہ جو ایمان کی تربیت کے لئے مد نظر قراردئے گئے ہیں، اوّل تین راستوں سے افراد معاشرہ کی ہدایت اورسماج کے اخلاقی اصلاح کے عنوان سے بہترین استفادہ کیا ہے۔ ایمان کی پرورش کے وہ اسلوب جو دینی معارف کے ضمن میں بیان کئے گئے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

الف۔عبادت:

عبودیت تذلل اورخاکساری کے اظہار کے معنی ہے کہ جو فارسی میں ''بندگی ''کے معنی میں ہے اور عبادت اس سے بھی بالاتر چیز ہے، یعنی انتہائی درجہ تذلل، اسی وجہ سے خدا کے علاوہ کوئی اس کا مستحق نہیں ہے۔(المفردات) اس بناپر مختلف عبادی اعمال، جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ اسی تذلل وبندگی کا اعلان ہے۔ سید قطب اس مطلب کی اچھی طرح منظر کشی کرتے ہیں:

نماز، روزہ، زکات، حج اور تمام تعبدی شعائر واعمال ایک کنجی کے سوا کچھ نہیں ہیں، وہ صرف ایسی کنجیاں ہیں جن کے ذریعہ اپنے لئے عبادت کے دروازوں کو کھول سکیں، یا ایسے منازل اورقیامگاہ ہیں کہ طریق عبادت کے راہی اورمنزل معبود کے سالکیں راستہ میں اُس قیام گاہ میں کچھ دیر قیام کرکے توشۂ راہ حاصل کرتے ہیں، تازہ دم ہوتے ہیں پھر کافی زادۂ راہ کے ساتھ اپنی راہ طے کرتے ہوئے معشوق کی منزل کی طرف چل پڑتے ہیں، یہ راہ وہی عبادت ہے لہٰذا جو کچھ اس راہ میں واقع ہو، عبادت سے لے کر روز مرہ کی زندگی کے امور یا غور وخوض اور ادراک تک جب تک کہ ہدف خدا ہو، وہ سب کا سب عبادت ہے۔ یہ اساس اور بنیاد اُس وقت زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے جب حقیقت اور عملی اعتبار سے (نہ کہ صرف زبان ) سے گواہی دے کہ کوئی بھی مقام اور شخصیت نیز مظہر قدرت عبادت کے قابل نہیں ہیسوائے اس خداوند واحد و خالق کے کہ جو حکیم وعلیم ہے۔(١)

اس طرح کی عبادت انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں سرایت کرکے ایمان کی پرورش کا باعث ہے اور اس کانتیجہ وثمرہ اخلاقی تربیت اور انسانی فضائل ہیں۔

''اے لوگو! تم سب اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے والوں کو خلق کیا ہے، لہٰذا اس کی عبادت کرو، شاید تقویٰ اختیار کرو''۔(٢)

____________________

١۔ روش تربیتی در اسلامص٣٩۔

٢۔ سورہ ٔبقرہ آیت ٢١۔


روزانہ کی عبادتوں کی راہ میں، جیسے روزانہ کی نمازیں اور موسمی عبادتیں جیسے روزہ، حج اور اعتکاف نفسیات کے مختلف فنون سے استفادہ کرکے (جیسے اپنے آپ کو تلقین کرنے، عادت دینے اور عمل کرنے، شرطی سازی وغیرہ کے ذریعہ) خدا کی بندگی اور پرستش کی اس حالت کو اپنے اندر ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یعنی اپنے ناخود آگاہ ضمیر میں جاگزین کرسکتا ہے۔ لہٰذا عبادت میں جتنا اخلاص زیادہ ہوگا اور عمل جتناہی صاف وشفاف اور خالص ہوتا ہوگا اتنا ہی انسان تیزی کے ساتھ اس مقصد تک پہنچ جائے گا۔ لیکن عبادت کے نچلے مراتب بھی اس ہدف تک رسائی کے لئے مقدمہ کے عنوان سے کار ساز ہیں۔

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''عبادت کی تین قسمیں ہیں: ''کچھ لوگ خدا کے خوف سے عبادت کرتے ہیں، یہ غلاموں کی عبادت ہے کچھ لوگ ثواب خداوندی کے حصول کے لئے عبادت کرتے ہیں، یہ مزدوروں کی عبادت ہے، کچھ لوگ خدا سے عشق ومحبت کی بناپر عبادت کرتے ہیں، یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور یہی عبادت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے''(١) ''سب سے افضل عبادت عمل کو خدا کے لئے خالص کرنا ہے''۔(٢)

عبادت کی تاثیر میں اہم نکتہ یہ ہے کہ رغبت ودلچسپی کی بنیاد پر ہو، نہ کہ کراہت اورسستی کی بنیاد پر ہو۔ اسی لئے پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے:

''اُس بندہ پر آفرین ہوجو عبادت سے عشق کرتا ہے، جسم سے عبادت کرتا ہے اور قلب سے اُسے دوست رکھتا ہے اورخود کو اُس کے لئے فارغ کرتا ہے''۔

جو لذت و شیرینی عبادت میں ہے وہ اس کے استمرار اور اُسے قوت پہنچانے کا باعث ہوتی ہے، لیکن اس لذت کا احساس دو شرط پر مبنی ہے:

١۔ہوا پرستی (نفسانی خواہشات) سے دوری ۔

٢۔ حبّ دنیا سے اجتناب۔

حضرت علی ـنے فرمایا:

''جو نفسانی خواہشات سے اجتناب نہیں کرتاوہ کس طرح عبادت کی لذت محسوس کرتا ہے''؟۔ (غرر الحکم)

''جس طرح کوئی ایسا بیمار کہ جو شدید درد کا احساس کرتا ہے، اچھی غذا کی لذت محسوس نہیں کرتا، دنیا پرست بھی دنیا سے لگائو کی بناپر عبادت کی لذت محسوس نہیں کرتا اور اس کی حلاوت وشیرینی کو درک نہیں کرتا''۔(٣)

____________________

١۔ بحارالانوار ج٧٠ ص ٢٥٥۔ ٢۔ غرر الحکم۔ ٣ ۔ بحارالانوار ج١٤ ص٣١٠۔


ایک دوسرا نکتہ جو عبادت میں قابل توجہ ہے، یہ ہے کہ عبادت کا ہدف خداوند عالم کے سامنے صرف اطاعت ہے اور ''تعبد''کے معنی بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر باوجودیکہ ہم نہیں جانتے کہ نماز صبح دو رکعت کیوں ہے اور بلند آواز سے ہمیں پڑھنا چاہئے، تو ہم صرف اُس کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔ فضل بن شاذان حضرت امام علی رضا ـ سے نقل کرتے ہیں: ''اس لئے کہ اُسے فراموشی کے حوالے نہ کردیں، اس کے مراتب ادب کو ترک نہ کریں، اس کے امر ونہی سے غافل نہ ہو جائیں....''۔(١) اسی وجہ سے (فرمان خدا کی اطاعت) اﷲ کے حدود حلال وحرام کی رعایت اورخدا کے فرائض اور واحبات کی مراعات کرنا عبادت کا اہم حصّہ شمار ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: عبادت کے دس جز ہیں کہ اس کے نو جز حلال کے سراغ میں جانا ہے۔(٢) خداوندسبحان ارشاد فرماتا ہے: ''اے اولاد آدم! جو کچھ ہم نے تم پر واجب کیا ہے اُس پر عمل کرو تاکہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گذار بن جائو''۔

ب۔ذکر:

ذکر ''یاد آوری'' کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اسی طرح کسی چیز کے معنی کا یاد رکھنایا اُس کا حاضر ہونا ذکر کہلاتا ہے۔ دقیق تر تعبیر میں کبھی ذکر سے مراد ایک نفسانی حالت ہوتی ہے جس کے ذریعہ انسان اُس چیز کو جس کی اس سے پہلے شناخت اور معرفت یاد رکھ سکتا ہو۔ ذکر اس معنی میں حفظ کے مانند ہے اس فرق کے ساتھ کہ ذکر اس جگہ استعمال ہوتا ہے کہ کوئی بات حافظہ کے خزانہ میں موجود ہونے کے علاوہ اس کی نظر میں بھی حاضر ہو، کبھی سے مراد دل وزبان پر کسی مطلب کا حاضر ہونا ہے اور اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ذکر کی دوقسم ہے قلبی اور لسانی۔(٣) اس بنا برایمان کی تربیت کا ایک دوسرا شیوہ ذکر ہے کہ جو خدا کے قطعی اور یقینی حضورکی انسان کے نزدیک تقویت کرتا ہے۔ زبانی اذکا ر جو اسلامی تعلیمات میں وارد ہو ئے ہیں اس لئے ہیں کہ وہی حضور قلبی کی حالت انسان میں ایجاد کریں ہے۔البتہ اذکار کی تربیتی تاثیرسے بھی غافل نہیں ہو نا چاہئے ؛کیونکہ معین باتوں کو زبان پر لانا تلقین نفس سے استفادہ کے ساتھ ساتھ اُس کے متقضیٰ سے انسان کے ضمیر میں ایک تبدیلی ایجاد کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے غیرہو شیار ضمیر کی راہ ورود کے سلسلے میں ذکر کیا ہے، یہ شیوہ اسلامی تعلیمات میں بہت زیادہ مور دتوجہ واقع ہوا ہے اور ہماری پوری زندگی خواب وبیداری، کام اور راحت، خوشی اور غم سب کے وقت خدا پرستانہ اذکا ر اور تلیقنات سے بھری پڑی ہے جو ہم میں اثر انداز ہوتے ہیں۔

____________________

١۔ علل الشرائع ص٢٥٦۔ ٢۔ بحار الانوار ج١٠٣ ص١٨۔ ٣۔(مفردات )


یومیہ نمازیں (نافلہ اور فریضہ ) ان کے مقدمات اور تعیقبات مخصوص اذکار کے ساتھ، کاموں کا آغاز ''بسم اللّٰہ'' سے اور ہر کام کا خاتمہ ''الحمد لِلّٰہ''سے اور دیگر اذکار کہ جو گھر سے نکلتے وقت، کام کی جگہ میں داخل ہو تے وقت، مسجد میں وارد ہونے کے وقت... یہ ساری تلقینیں پوشیدہ اور آشکاراذکار کی صورت میں صاف وشفاف اور زلال بارش کے مانند مومینن کے قلب وروح کو بارآورکرکے ایمان وفضلیت کے ثمرات اُن کے اختیار میں قرار دیتے ہیں۔

ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ زبان کے اذکارقلب کو زیادہ سے آمادہ کرتے ہیں، امام خمینی اپنے استاد کے قول کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ہمارے عارف کامل شیخ (استاد ) جناب شاہ آبادی (روحی فداہ)فرماتے تھے: ذاکرانسان ذکرمیں اُس انسان کے مانند ہے جو چھوٹے بچے کو کہ جس نے ابھی ڈھنگ سے بولنا نہیں سیکھا ہے اُسے اگرکوئی کلمہ یاد کراتا ہے تو اُس کی تکرار کرتا ہے تاکہ اُس کی زبان کھل جائے اور کلمہ کو ادا کرے اورجب وہ کلمہ اداکردیتاہے تو معلم بچہ کا اتباع کرتا ہے اور اس تکرار کی تھکن ختم ہو جاتی ہے گویا کہ اُسے بچہ سے مددملتی ہے، یہی صورت ہے اس کی جو ذکرکرتا ہے اُسے چاہئے کہ اپنے دل کو کہ جس نے زبان ذکر نہیں کھولی ہے ذکر کی تعلیم دے اور ان اذکار کی تکرار میں نکتہ یہ ہے کہ ز با ن دل کھل جائے اور زبان قلب کے کھلنے کی علامت یہ ہے کہ زبان، دل کی تبعیت کرتی ہے اور تکرا ر کی زحمت اور تھکن بر طرف ہو جاتی ہے۔(١)

پس اے عزیز!ذکرو یاد محبوب کے راستہ میں تونے جتنی زحمتیں برداشت کی ہیں کم ہیں، دل کو یاد محبوب کی عادت دے، بلکہ خدا کی خواہش اور مرضی سے قلب کی صورت ذکر حق کی صورت ہوجائے اور کلمۂ ''لاالٰہ الا اﷲ'' کمال نفس کی انتہاہوجائے کہ اس سے بہتر سلوک الیٰ اﷲکے لئے کوئی زادہ راہ اور نفس کے معایب (عیوب) کے لئے سب سے اچھا مصلح اور معارف الٰہیہ میں بہترین رہبر نہیں ملے گا، لہٰذا اگر صوری اور معنوی کمال کے طالب ہو اور طریق آخرت کے سالک، مسافر و مہاجر الیٰ اﷲہو تو قلب کو محبوب کے ذکر کی عادت دو اور دل کو یاد حق تبارک وتعالیٰ سے عجین کردو(گوندھ دو)(٢)

____________________

١۔ چہل حدیث، ص٢٥٠۔٢۔ چہل حدیث، ص٢٥٠۔


خداوند سبحان کی یاد انسان کو غفلت اور نسیان سے نکال دیتی ہے اور اخلاقی تربیت کی راہ ہموار کرتی ہے، کیونکہ اخلاقی انحراف اور برے افعال کے اسباب وعلل غفلت اور نسیان ہیں:

'' اس انسان کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اس نے اپنی ہوا وہوس کی پیروی کی ہے اوراس کے کام کی بنیاد زیادہ روی پر ہے''۔(١)

''در حقیقت جو لوگ صاحبان تقویٰ ہیں، جب شیطان کی جانب سے انھیں وسوسہ ہوتا ہے تو ]خداکو[ یاد کرتے ہیں اور حقائق کو دیکھنے لگتے ہیں''۔(٢)

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''خداوند سبحان نے اپنی یاد کو دلوں کے لئے روشنی قرار دیا ہے، قلوب اس وسیلہ سے بہر ے پن کے بعد سننے والے، نابینائی کے بعد بینا اور سرکشی و طغیانی کے بعد مطیع وفرمانبردار ہوجاتے ہیں''۔(٣)

آیات ورایات میں ذکر کثرت ومداومت کی تاکید کی گئی ہے: ''اے صاحبان ایمان! خدا کو بہت زیادہ کرو''۔(٤)

ذکر الٰہی کی مداومت قلب کی اصلاح اور اخلاقی فضائل سے کہ جو بالیدگی وحیات نو کا سبب ہے:''جو انسان اپنے دل کو ذکر کی مداومت سے آباد کرے تو اس کا کردار ظاہر وباطن دونوں صورتوں میں نیک ہوجائے گا''۔(٥)

''قلب کی اصلاح کی بنیاد، انسان کا ذکر خداوندی میں مشغول ہونا ہے''۔(٦)

ذکر کی روش میںذکر خداوندی کے علاوہ خدا کی نعمتوں کا یاد کرنا بھی منعم ]نعمت دینے والے[ کے احترام کے عنوان سے انسان کو خداوندعالم کی بے نظیر اور لاثانی ذات کے سامنے سراپا تسلیم ہونے اور اس کی تعظیم کرنے پر آمادہ کرتا ہے، بالخصوص جس قدر نعمت عظیم اور اس کا منعم بے غرض ہوگا، اس کا احترام فطرت کی نظر میں اتنا ہی زیادہ لازم ہوگا:''اے لوگو! اپنے اوپر خداوند سبحان کی نعمت کو یاد کرو، آیاخدا کے علاوہ کوئی خالق ہے کہ تمہیں زمین وآسمان سے رزق دے ''۔(٧)

____________________

١۔ سورہ ٔکہف آیت٢٨۔ ٢۔ سورہ ٔاعراف آیت٢٠١۔٣۔ نہج البلاغہ خطبہ ٢٢٢۔ ٤۔ سورۂ احزاب آیت٤١۔المیزان ج١ ص٣٤٠۔

٥۔ غرر الحکم۔ ٦۔ غرر الحکم۔ ٧۔ سورہ ٔفاطر آیت ٣۔


چونکہ قرآن کریم خود کو ذکر اور حامل ذکر کے عنوان سے تعارف کراتا ہیلہٰذا تلاوت قرآن بھی ذکر کی حالت انسان کے اندر پیدا کیااور ایمان کی پرورش کا باعث ہوتی ہے:

(اِنْ هُوَ الّا ذِکْر لِلْعَالَمِیْن )(١)

''یہ عالمین کے لئے صرف ذکر (نصیحت) کا سامان ہے''۔

(ص، والقرآن ذی الذکر )(٢)

''ص ذکر (نصیحت) والے قرآن کی قسم''۔

(وَاِذَا تَلِیَتْ عَلَیْهِم آیَاتِهِ زَادَتْهُمْ اِیْمَاناً )(٣)

''اور جب ان کے سامنے آیات الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے''۔

ذکر کی بحث میں آخری نکتہ ''موت کی یاد'' سے متعلق ہے، اس بات کی طرف توجہ دیتے ہوئے کہ آخرت پر ایمان رکھنا اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، موت کا تذکرہ اور اس کا ]ذہن میں[حضور ایمان کی پرورش اور اخلاقی آثار کے مجسم ہونے کا باعث ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ موت کی یاد، دنیا کی دوستی اور محبت کو ختم کرنے میںجوکہ بہت سے اخلاقی رذائل کا سرچشمہ ہے، اہم کردار اداکرتی ہے:

(کلّ نفس ذائقة الموت، وانّما توفون اجورکم یوم القیامة فمن زحزح عن النار وادخل الجنة فقد فاز وما الحیاة الدنیا الّا متاع الغرور )(٤)

''ہرنفس موت کامزہ چکھنے والا ہے اور تمھارا مکمل بدلہ تو صرف قیامت کے دن ملے گا اس وقت جسے جہنم سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہے اور زندگانی دنیا تو صرف دھوکہ کا سرمایہ ہے''۔

ائمہ اطہار علیہم السلام کے بیانات میں بھی موت کی یاد کا تربیتی اثر ملتا ہے:

''جو شخص ]مرنے کے بعد[ سفر کی دوری کو یاد کرے گا وہ آمادہ سفر ہوجائے گا''۔(٥)

''جو انسان موت کی آمد کا انتظار کرے گا وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا''۔(٦)

____________________

١۔ سورہ ٔتکویر آیت٢٧۔ ٢۔ سورہ ٔصآیت١۔٣۔ سورہ ٔانفالآیت ٢۔ ٤۔ سورہ ٔآل عمران آیت١٨٥۔

٥۔ غرر الحکم ٦۔ غرر الحکم۔


موت کی یاد نفسانی خواہشات اور شہوات کو مار دیتی ہے ، غفلت کی جڑوں کو اکھاڑ دیتی ہے، دل کو خداوند سبحان کے وعدوں سے قوی اور مضبوط بنا دیتی ہے ، انسان کے وجود کو لطیف ونرم کرتی ہے اور ہوا وہوس کی نشانیوں کو درہم وبرہم کردیتی ہے اورحرص وطمع کی آگ کو خاموش کردیتی ہے اور دنیاکوانسان کی نظر میں بے وقعت اور ذلیل وخوار کردیتی ہے۔(١)

راہ آخرت کے سالکین نے اپنے شاگردوں کو ہمیشہ قبرستان میں جانے کی تاکید کی ہے کہ کم از کم ہفتہ میں ایک بار جائیں اور اہل قبور کی زیارت کریں اور موت کی یاد سے اپنے آپ کو تقویت کریں۔(٢)

ج۔دعا :

دعا در اصل عالم کے غیر مادی مرکز کی جانب روح کی کشتی کا نام ہے عام طور سے عام طور سے دعا سے مراد تضرع وزاری، اضطراب اور نالہ وشیون، استعانت اور مددطلبی ۔ اور کبھی ایک روشن کشف وشہود کی حالت جو تمام محسوسات کی دنیا سے دورمستمر اور باطنی آرام ہے۔ بعبارت دیگر کہا جاسکتا ہے کہ دعاخدا کی سمت پروازِ روح کا نام ہے یا عاشقانہ پر ستش کی حالت ہے اس مبدأ کی نسبت جس سے معجزہ حیات صادر ہوا ہے اور بالآخر دعاانسان کی کوشش ہے اس نامرئی اور ناقابل دید وجود سے ارتباط کے لئے جو تمام ہستی کا خالق ، عقل کل، قدرت مطلق اورخیر مطلق ہے۔ خاص اورادکے نقل سے صرف تطر کرتے ہوئے، حقیقت دعا سوزو گذار سے بھری ایک عرفانی حالت کو مجسم کرتی کہ دل اس میں خدا سے جذب ہوجاتا ہے ۔(٣)

راز ونیاز ،دعا و مناجات بھی پرورش ایمان کا ایک طریقہ ہے۔دعا احتیاج کا اظہار ہے بلکہ دعایہ ہے کہ انسان یکسر احتیاج بن جائے ۔دعا اشتیاق کا اظہار ہے ، بلکہ انسان کی تمام احتیاج یہی شوق و اشتیاق ہے۔دعا سنوار نے اور تربیت دینے کا ایک عامل ہے کہ نہ صرف انسان کو اس کی کمیوں سے متعلق ہوشیار کرتی ہے بلکہ اس کی تمام کوششوں اور توانائیوں کو اس کے مطلوب کے حصول کی خاطر صرف کردیتی ہے۔

____________________

١۔ المحجة البیضا ج٨ص ٢٤٢۔

٢۔ ہم بالخصوص ملا حسین قلی ہمدانی ، بہاری ہمدانی اور میرزا جواد انصاری ہمدانی کی وصیتوں میں ملاحظہ کرتے ہیں۔

٣۔ الکسین کارل: نیایش، ص ٥١۔


جب کوئی بیمار درد وسوز سے پیچ وتاب کھاتا ہے اور ڈاکٹر سے مدد مانگتا ہے خود ہی ابتدائی کاموں کو انجام دیتا ہے تاکہ معالجہ کی راہ ہموار ہوجائے پس یہی بات ہے کہ دعا اور طلب اپنے حقیقی معنی کو پالیتی ہے اور نتیجہ کے طور پر اجابت اور قبولیت سے ہمکنار ہوتی ہے:

(وَاِذَا سَئَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی فَاِنِّی قَرِیْبُ، اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوا لِی وَلْیُؤمِنُوا بِیْ لَعَلَّهُم یَرْشُدُونَ )(١)

''اور اے پیغمبر! اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں، پکارنے

والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے لہٰذا مجھ سے طلب کرو قبولیت کریں اور مجھ ہی ایمان واعتماد رکھیں کہ شاید اس طرح راہِ راست پر آجائیں''۔

ابھی دعا کے عینی آثار ]حاجتوں کی برآوری اور قبولیت واجابت [ مورد نظر نہیں ہیں، بلکہ ان کے علاوہ دعا ومناجات ہے، معبود سے باتیں کرنا اورراز ونیاز کا اظہار کرنا ہے، اس وجہ سے محبوب کے حضور کو دعا کرنے والے کے دل وجان میں تقویت کرتی ہے، کیونکہ دعا ومناجات حاضر مخاطب سے بات کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، اسی وجہ سے کہ دعا عارفوں کے روح کی غذااور مومنین کے لئے خالص شراب ہے۔ خداوند سبحان نے اپنی توجہ وعنایت کو دعا وعبادت میں قراردیا ہے: ''کہو: اگر تمہاری دعا نہ ہو تو تمہارا رب تمہاری کوئی اعتنا نہیں کرتا''۔(٢)

حضرت علی ـ فرماتے ہیں: ''دعا ]مراد تک [پہنچنے کا خزانہ اور کامیابی کا چراغ ہے۔''(٣)

خداوند رحیم وکریم نے کشائش ، اور آسمانوں کے فتح باب اور معلومات ]فضائل ومکارم اخلاق[کے راستہ کو اپنی بارگاہ میں درخواست اور دعا کرنا قرار دیا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: زیادہ سے زیادہ دعا کرو کیونکہ وہ رحمت رحمت اور حاجت پوری ہونے کا ذریعہ ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ صرف دعا کے ذریعہ حاصل کرسکتے ہو...۔(٤)

____________________

١۔ سورہ ٔبقرہآیت ١٨٦۔

٢۔ سورہ ٔفرقان آیت ٧٧۔

٣۔ بحار الانوار ج٩٣ص٣٤١۔

٤۔ بحار الانوار ج٩٣ص٢٩٥۔


استجابت وقبولیت دعا کے شرائط میں حضور قلب اور رقت کی شرط کی گئی ہے، کیونکہ جو چیزسوز ونیاز کے ساتھ ہوتی ہے وہ حقیقت میں ارزش وقیمت رکھتی ہے اور ایک حقیقت کو اپنے اندر پروان چڑھاتی ہے:جان لو کہ خداوندسبحان دعا کو غافل اور بے خبر دل سے قبول نہیں کرتا۔(١)

''دعا کو رقت قلب کے وقت غنیمت سمجھو اس لئے کہ وہ نزولِ رحمت کی نشانی ہے''۔(٢)

ائمہ معصومین (ع) کی دعائوں اور مناجاتوں میں ایسے عارفانہ مضامین ہیں کہ ائمہ معصومین (ع) نے محبوب ازلی کے ساتھ اپنی خلوتوں میں ان کو انشأ فرمایا ہے اورراز ونیاز کیا ہے۔ ان دعا ئو ں کے بعض فقرات کو حفظ کرکے اور مناسب مواقع پر ان کی تکرار کرکے تربیتی مکتب میں طرز دعا کو ہم سیکھ سکتے ہیں۔ البتہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ راز ونیاز، دعا ومناجات سوز دل کے ساتھ ہونی چاہئے اور دل کی گہرائی سے نکلنی چاہئے، اس لحاظ سے ہمیں سعی وکوشش کرنی چاہئے کہ اپنی زبان سے بھی دلوں کے محبوب سے راز ونیاز کریں اور اس سے شفیق و مہربان دوست اور اپنی خلوتوں کا مونس وغمخوار جانیں:''یَارَفِیقَ مَنْ لَا رَفِیقَ لَهُ، یَا اَنِیْسَ مَن لَا اَنِیْسَ لَهُ '' اے اس کا رفیق جوکوئی رفیق نہیں رکھتا، اے اس کا انیس جو کوئی انیس نہیں رکھتا۔

اس کے علاوہ بعض دعائیں ( بالخصوص صحیفۂ سجادیہ کی دعائیں) ہمیں باطنی دردوں اور بیرونی خطائوں سے آشنا کرتی ہیں کہ ہم ان دعائوں کے مضامین سے بھی استفادہ کرتے ہوئے اپنی اخلاقی تربیت کے بارے میں کوشش کریں۔

حضرت امام زین العابدین ـکی دعائے مکارم الاخلاق خاص اہمیت کی حامل ہے:

خدایا! میں تیری پناہ چاہتا ہوںحرص وطمع کی طغیانی سے، غیض وغضب کی تندی سے ، حسد کے غلبہ سے، صبر کی کمی اور قناعت کی کمی سے، بداخلاقی سے، شہوت افراط سے، تعصب کے غلبہ سے، نفسانی خواہشات کی پیروی سے، درستگی اورہدایت کی مخالفت سے، خواب غفلت سے، (دنیا کے) کاموں پر سخت راضی ہونے سے، حق پر باطل کے انتخاب سے، گناہوں پر اصرار سے، گناہوں کو معمولی اورکم سمجھنے سے اورعبادت و اطاعت کو عظیم خیال کرنے سے ۔(٣)

____________________

١۔ بحار الانوار ج٧٧ص١٧٣۔

٢۔ بحار الانوار ج٩٣ص٣١٣۔

٣۔ صحیفہ سجادیہ دعائے مکارم اخلاق۔


د۔اولیائے خدا سے محبت:

جو کسی شخص کوانسان کامل سمجھے اور اس کے اخلاق ومعنویات کا سخت دلدادہ ہو تو اس کے تحت تاثیر واقع ہوجاتا ہے ۔

استاد مطہری اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

محبت مشابہت ومشاکلت کی طرف کھینچتی ہے اور اس کی قدرت باعث ہوتی ہے کہ محب محبوب کی شکل اختیار

کرلے۔ محبت الکٹریک تار کی طرح ہے کہ جو محبوب کے وجود سے وصل ہوتا ہے اور اُس میں محبوب کے صفات کو منتقل کرتا ہے۔(١)

تہذیب اخلاق میں محبت کی تربیتی تاثیر کے بارے میںفرماتے ہیں:

اہل عرفان اورصاحبان سیر وسلوک راہ عقل واستدلال سے کام لینے کے بجائے محبت وعقیدت کی تاکید اور پیشکش کرتے ہیں]اور[ کہتے ہیں: کسی کامل کو تلاش کرو اور اس کی محبت وعقیدت کے رشتہ کو گردن دل میں آویزاں کرلو کہ راہ عقل واستدلال سے بھی زیادہ بے خطر ہے اور سریع تر ہے۔ محبت اور عقیدت کی قوت کی تاثیر دل سے اخلاقی رذائل کو زائل کرنے میں لوہے پر کیمیکل مواد ڈالنے کے مانند ہے، مثال کے طورپر ایک اچھے چھاپے کی ]پھولدار[ پلیٹ بنانے والا تیزاب کے ذریعہ حروف کے اطراف کو مٹادیتاہے، نہ کہ ناخن سے اور نہ ہی چاقو کی نوک سے۔ لیکن عقلی توانائی کا اثر اُس انسان کے کام کے مانند ہے جو لوہے کے ذرّوں کو ہاتھ کے ذریعہ خاک سے جدا کرنا چاہتا ہے، اس میں کس قدر زحمت ومشقت ہے؟ اگر ایک قوی ومضبوط آہن ربا ]مقناطیس[ ہاتھ میں ہو، ممکن ہے کہ ایک گردش میں اُن سب کو جدا کردے، عقیدت ومحبت کی طاقت آہن ربا کے مانند صفات رذیلہ کو جمع کرکے دورپھینک دیتی ہے۔ صاحبان عرفان کے عقیدہ کے مطابق پاک و پاکیزہ اور کامل واکمل افراد کی محبت وعقیدت ایک ایٹومیٹک مشین کے مانند ہے جو خود بخود رذائل کو جمع کرکے باہر پھینک دیتی ہے(٢)

____________________

١۔ جاذبہ ودافعہ علی ـ ، ص٧٣۔

٢۔ جاذبہ و دافعہ علی ـ ص٧٧۔٧٨۔


ان لوگوں کے نمونے جو صدر اسلام میں اس جذب وانجذاب کے تحت تاثیر واقع ہوئے ہیں اور حضرت رسول اکرم کے شیفتہ اور دلدادہ ہوگئے ہیںابوذر غفاری، بلال حبشی ،اویس قرنی اورسلمان فارسی ہیں اس محبت نے ایک عظیم اکسیر کے مانند انھیں بے مثال گوہر کے مثل کرامت انسانیمیں تبدیل کردیا، اُس کے بعد بھی پوری تاریخ میں ایسے نمونے ]شدت وضعف[کے ساتھ کثرت سے پائے جاتے ہیں جلال الدین محمد رومی جو ''مولوی''کے نام سے معروف ہیں اس مسیر کے بارزترین نمونوں میں سے ایک نمونہ ہیں۔ جب وہ ایک کمسن بچہ تھے اور اپنے والد کے ہمراہ نیشاپور سے گذر رہے تھے تو نیشاپور کے بزرگ شیخ عطار نے بہاء الدولہ بچہ کو عام انسانوں سے زیادہ افضل بچہ پایا اور کسی تردید اور تأمل کے بغیر، بہاء الدولہ کو مبارک باد دی کہ عنقریب یہ بچہ سوختگان عالم میںآگ روشن کردے گا اوررہروان طریقت کے درمیان ایک اورشور وغوغا مچادے گا۔(١)

اس واقعہ کو گذرے ہوئے چند عشرے بھی نہ گذرے تھے کہ یہ پیشینگوئی مولانا کی شمس تبریزی سے ملاقات اور اُن سے عشق وعقیدت میں ظاہر ہوئی۔اسلام میں یہ محبت اور شیفتگی ''ولایت ''کے عنوان سے معصومین علیہم السلام کی نسبت مکمل طور پر ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ان اولیائے الٰہی کی محبت کہ جو حق کے مکمل آئینہ دار اور اس کی تجلی کی کاملجلوہ گاہ ہیں، انسان کو خدا پر ایمان اورعقیدت کی طرف منتقل کرتی ہے، اور اسی وجہ سے دعائوں میں اس محبت کو ہم خدا سے طلب کرتے ہیں:

خدایا! میرے نفس کو اپنی قدر سے ہماری جان کو قدرسے مطمئن اور اپنی قضا سے راضی قرار دے اور اپنے ذکر ودعا کا مشتاق اور حریص قرار دے اور اپنے خاص الخاص اولیاء کا دوستدار قرار دے اورزمین وآسمان کے درمیان محبوب قرار دے... ۔(٢)

آیات وروایات میں عام طور سے ائمہ ہدیٰ (ع) کی محبت اورمودت عمومی اورخالص طور پر امیر المومنین ـ کی محبت ومودت قابل توجہ و تاکید قرار پائی ہے:

(قُلْ لَا اَسْئَلُکُم عَلَیهِ اَجْراً اِلّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ )(٣) ''اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو''۔

____________________

١۔ عبد الحسین، زرین کوب، پلہ پلہ تا ملاقات خداص٥٠۔

٢۔ مفاتیح الجنان ،شیخ عباس قمی، زیارت امین اللہ۔

٣۔سورہ ٔشوریٰ آیت٢٣۔


اس آیت کے ذیل میں بہت سی احادیث شیعہ اور سنی سے نقل ہوئی ہیں کہ ''پیغمبر کے قربیٰ'' سے مراد ا

١س آیت میں علی، فاطمہ، اور آپ کے دونوں فرزند]حسن وحسین[ (ع) ہیں۔(١)

اس بناپر پیغمبر اور ائمہ اطہار (ع) کی محبت و ولایت کہ جو کامل انسان ہیں جس قدر بھی زیادہ ہوگی ، یہ درحقیقت مکارم اخلاق اور فضائل سے عشق ہے اور یہ عشق خدا کی محبت سے جدا نہیں ہوسکتا۔

اولیائے خداوندی سے قلبی طور پر محبت آمیز رابطہ اور توسل اسی وجہ سے پرورش ایمان کا باعث ہے۔

ہمیں توجہ رکھنی چاہئے کہ انسان کی خصوصیات میں ہے کہ وہ صرف یہ نہیں چاہتا کہ دوسروں کی توجہ کا مرکز رہے، بلکہ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ایسا ہو جس سے اظہار محبت کرے اور عشق رکھے جیساکہ مزلو ذکر کرتا ہے: ''... اسی طرح ہمیں اس حقیقت سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ محبت کی ضرورتیں دونوں ضرورتوں کو یعنی محبت کرنے اور محبت دیکھنے کو شامل ہیں''۔(٢)

اس بناپر اگر محبت کا متعلَّق ]ظرف[، اولیائے الٰہی اورانسان کامل کی محبت ہوں، تویہ سرگرداں قوّت مجازی عشقوں اوربے قیمت محبتوں میں صرف نہیں ہوگی، بلکہ کمال انسانیت کے اعلیٰ مقصد میں پھولے پھلے گی۔

سعدی اگر عاشقی کنی وجوانی

عشق محمد بس است وآل محمد

اے سعدی! اگر تم عاشقی اور جواں مردی کرو تواس کے لئے عشق محمد وآل محمد (ع) کافی ہے۔

اس موضوع میں آخری نکتہ ''زیارت'' ہے ائمہ اطہار (ع) کے مشاہد مشرفہ کی زیارت ان امور میں سے ہے جو ان کی محبت اور ولایت کو تقویت کرتی ہے اور باغ ایمان کو سر سبز وشاداب بنا دیتی ہے۔ متعدد روایات میں یہ نکتہ بیان ہوا ہے، نمونہ کے طور پر چند حدیث کی جانب ہم اشارہ کررہے ہیں:

''کسی قبر کی زیارت کے لئے سامان سفر آمادہ مت کرو، جز ہماری قبروں کی زیارت کے۔ جان لو کہ میں زہر سے شہید کیا جائوں گا اور پردیس اور عالم غربت میں دفن کیا جائوں گا۔ جو شخص میری زیارت کو آئے گا اس کی دعا مقبول ومستجاب ہے اور اس کا گناہ معاف ہے۔(٣)

____________________

١ ۔منجملہ تفسیر فخر رازیج٢٧ ص١٦٦۔بحارالانوار ج٢٧ ص١٣۔٢۔ روانشناسی شخصیت سالم ص١٥٤۔٣۔ عیون اخبار الرضا ـ ج١ ص٢٨٥۔


محبت کے عنوان سے برادران دینی وایمانی کی زیارت بھی قلوب کی حیات کا باعث، ایمان اور محبت میں رشد

و اضافہ کا موجب ہے، بالخصوص صالح انسان اور ربانی علماء کی زیارت جو کہ دوگنا اخلاقی تاثیر رکھتی ہے:

''تم لوگ ایک دوسرے کی زیارت اور ملاقات کو جائو کہ یہ تمہارے دلوں کی حیات کا باعث ہے اورہماری باتیں بھی ذکر ہوں اورہماری احادیث تمہارے درمیان رابطہ برقرار کرتی ہیں، لہٰذا اگر ان سے تمسک اختیار کرو گے تو تمہارے رشد اورنجات کا باعث ہے''۔(١)

''زیارت دلوں میں دوستی اورمحبت ایجاد کرتی ہے''۔(٢)

نیک اور صالح افراد سے ملاقات کرنا قلب کی اصلاح کا باعث ہے۔(٣)

____________________

١۔بحارالانوارج٧٤ ص٢٥٨۔

٢۔ بحارالانوارج٧٤ ص٣٥٥۔

٣۔ بحارالانوارج٧٧ ص٢٠٨۔


منابع

١۔ قرآن مجید

٢۔ نہج البلاغہ

٣۔آدلر، آ لفرد، روان شناسی فردی، ترجمہ حسن زمانی شرفشاہی، تصویر، ١٣٧٥۔

٤۔آمدی، عبدالواحد، غررالحکم ودرالکلیم، تہران، محمد علی الانصاری القمی، ١٣٣٧۔

٥۔ آندرہ، پی تیر، مارکسومارکسیم، ترجمہ شجاع الدین ضیائیان، تہران انتشارات دانشگاہ تہران، ، ١٤٠٢۔

٦۔ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ٢٠ جلد، بیروت، دار احیاء التراث، ١٣٨٥ ق۔

٧۔ ابن اثیر، مبارک بن محمد، نہایہ، قم، اسماعیلیان، ١٤٠٨ ق۔

٨۔ ابن شعبہ حرّانی، تحف العقول، قم، مؤسسہ النشرالاسلامی، ١٤٠٤ ق۔

٩۔ابن طاووس، علی ابن موسی، الملاحم و الفتن، قم، مؤسسہ صاحب الامر (عج ) ، ١٤١٦ ق۔

١٠۔ ابن فارس، معجم مقاییس اللغة، مصر، مطبعة المصطفی، ١٣٨٩۔

١١۔ ابن فہد حلّی، عدّة الداعی، قم، مکتبة الو جدانی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٢۔ابن مسکویہ، تہذیب الاخلاق و تطہیر الاعراق، قم، بیدار، ١٣٧١ ش۔

١٣۔ ابن منظور، لسان العرب، بیروت، دار صار، ١٤١٥ق۔

١٤۔ اتکینسون، رتیال، زمینئہ روان شناسی، ترجمہ محمد تقی براہنی اور دیگر افراد، تہران، رشد، ١٣٦٦۔

١٥۔ اتکینسون، فلسفئہ اخلاق، ترجمہ سہراب علوی نیا، تہران، مرکز ترجمہ و نشر کتاب، ١٣٧٥۔

١٦۔ احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، قم، مؤسسہ ونشر فرھنگ اہل بیت، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٧۔ احمدی سید احمد، اصول و روشہای تربیت در اسلام، تہران، جہاد دانشگاہی، ١٣٦٤۔

١٨۔ ادگاردپش، اندیشہ ہای فروید، ترجمہ غلام علی توسّلی، تہران، انتشارات کتاب فروشی ابن سینا، ١٣٣٢۔

١٩۔ اربلی، ابوالفتح، کشف الغمہ، بیروت، دارالکتاب الاسلامی، ١٤٥١ ق۔

٢٠۔ ارسطو، اخلاق نیکو ماخس، ترجمہ سید ابو القاسم پور حسینی، تہران، انتشاردانشگاہ تہران، ١٣٦٨۔

٢١۔ ارون سون، الیوت، روان شناسی اجتماعی، ترجمہ حسین شکر کن، تہران، رشد، ١٣٦٦۔

٢٢۔ اسکانی، محمد بن ہمام، التمحیص، قم، مدرسہ امام مہدی (عج) ، ١٤٥٤ق۔


٢٣۔اشعث کوفی، جعفریات، تہران، مکتبة نینوی الحدیثة، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٢٤۔ الراغب اصفہانی، الحسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، تہران، المکتبة المرتضویة لاحیاء آثار لمرتضویة۔

٢٥۔ المظفر، محمد رضا، المنطق، قم، اسماعیلیان، ١٣٦٦۔

٢٦۔ امام خمینی ، تحریر الوسیلہ، تہران، المکتبة العلمیة الاسلامیة، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٢٧۔ امام خمینی ، چہل حدیث، تہران، مرکز نشر دانشگاہی رجائ، ١٣٦٨۔

٢٨۔ حضرت امام جعفر صادق ـ ، مصباح الشریعة۔

٢٩۔ حضرت امام جعفر صادق ـ، نہج الفصاحہ۔

٣٠۔ باب الحوائجی، نصر اﷲ، فروید چہ می گوید، تہران، انتشارات دریا، ١٣٤٧۔

٣١۔ باقری، خسرو، مبانی شیوہ ہای تربیت اخلاقی، تہران، سازمان تبلیغات اسلامی، مرکز چاپ و نشر، ١٣٧٧۔

٣٢۔ باقری، خسرو، نگاہی دوبارہ بہ تربیت اسلامی، تہران، وزارت آموزش وپرورش، ١٣٦٨۔

٣٣۔برقی، محمد بن خالد، محاسن، قم مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤١٣ ق۔

٣٤۔ بلاکہام، ھ۔ج، شش متفکر اگز یستانسیا لیست، ترجمہ محسن حکیمی، تہران، نشر مرکز، ١٣٧٢۔

٣٥۔ بی ناس، جان، تاریخ جامع ادیان، تہران، شرکت انتشارات علمی فرہنگی، ١٣٧٣۔

٣٦۔ بیہقی، احمد بن الحسین، شعب الایمان، بیروت، دارالکتب العلمیة، ١٤١٥ ق۔

٣٧۔ پاپکین و استرول، کلیات فلسفہ، ترجمہ جلال الدین مجتبوی، تہران، حکمت، ١٣٧٥ ش۔

٣٨۔ پروین، لارنس، روان شناسی شخصیت: نظر یہ وتحقیق، ترجمہ محمد جعفر جوادی، تہران، رسا، ١٣٧٢۔

٣٩۔ پیاژہ، ژان، تربیت بہ کجا می سپرد، ترجمہ دادستان و منصور، تہران، دانشگاہتہران، ١٣٦٩۔

٤٠۔ پیاژہ، ژان، دیدگاہ پیاژہ در گسترہ تحول روانی، ترجمہ وگردآوری ازمنصور، محمود وپریرخ دادستان، تہران، نشرژرف، ١٣٦٧۔

٤١۔ تفتازنی، سعد الدین، شرح مقاصد، قم، انتشارات شریف رضی، ١٣٧٥۔

٤٢۔ ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تہران، انجمن آثار ملّی، ١٣٩٥ ق۔

٤٣۔ جرجانی، سید شریف، شرح المواقف، قم، انتشارات شریف رضی، ١٣٧٥۔


٤٤۔ جعفری، محمد تقی، بررسی و نقد افکار راسل، تہران، امیر کبیر، ١٣٧٥۔

٤٥۔ جوادی، محسن، مسلہ باید و ہست، قم، تبلیغات اسلامی، ١٣٧٥۔

٤٦۔ جوادی، محسن، نظریہ ایمان درعرصہ کلام وقرآن، قم، معاونت امور اساتیدو دروس معارف اسلامی، ١٣٧٦۔

٤٧۔ جونز ارنست ودالبی یزو، اصول روانکاوی، ترجمہ ہاشم رضی، تہران، کاوہ، ١٣٤٢۔

٤٨۔ جوہری، اسماعیل بن حمّاد، صحاح اللّغة، بیروت دارالعلم للملایین، ١٩٩٠ م۔

٤٩جیمز، ویلیام، دین وروان، ترجمہ مہدی قائنی، قم، دارالفکر، ١٣٦٧۔

٥٠۔ حسینی، سید مہدی، مشاورہ وراہنمائی در تعلیم و تربیت اسلامی۔

٥١۔ حکیمی، محمد رضا، الحیاة، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ١٤٥٩ ق۔

٥٢۔ حمصی رازی، سدیدالدین محمود، المنقذ من التقلید، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٥٣۔ خراسانی، محمد کاظم، کفایة الاصول، قم، مؤسسہ آل البیت (ع) لاحیاء التراث، ١٤١٧ ق۔

٥٤۔ خزّاز القمی، کفایة الاثر، قم، بیدار، ١٤٥١ ق۔

٥٥۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، مدینہ منوّرہ، مکتب سلفیّہ، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٥٦۔ دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ، روان شناسی رشد با نگرش بہ منابع اسلامی، تہران، سمت، ١٣٧٤۔

٥٧۔ دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ، مکتب ہای روان شناسی و نقد آن، ٢ جلد، تہران، سمت، ١٣٦٩۔

٥٨۔ دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ، نقش تربیتی معلم۔

٥٩۔ دیلمی، حسن بن ابی الحسن، ارشاد القلوب ٢ جلد، قم، مؤسسہ آل البیت(ع) ا١٤١٣ ق۔

٦٠۔ دیلمی، حسن بن ابی الحسن، اعلام الدین، قم، مؤسسہ آل البیت(ع) ١٤٥٨ ق۔

٦١۔ راسل برتر اند، تاریخ فلسفہ غرب، ٢جلد، ترجمہ نجف دریابندی، تہران، شرکت سہامی کتاب داری جیبی، ١٣٥١۔

٦٢۔ راسل برتر اند، زناشویی واخلاق، ترجمہ مہدی افشار، تہران، کاویان، ١٣٥٥۔

٦٣۔ راوندی، قطب الدین، دعوات، قم، مؤسسہ الامام المہدی (عج) ، ١٤٥٧ ق۔

٦٤۔ روحانی، شہر یار، خانودہ موعود مارکسیم، تہران، قلم، ١٣٦٤۔


٦٥۔ زبیدی، سید محمد بن محمد، تاج العروس، بیروت، دارالفکر، ١٤١٤ ق۔

٦٦۔ زرین کوب، عبد الحسین، پلہ پلہ تا ملاقات خدا، مولانا جلال الدین رومی کی زندگی اور ان کی فکر کے بارے میں، تہران، علمی، ١٣٧٢۔

٦٧۔ سبحانی، جعفر، حسن و قبح عقلی، پایہ ہای جاودان اخلاق، تہران، پژوہشگاہ علوم انسانی و مطالعات فرہنگی، ١٣٧٧۔

٦٨۔ سید ابن طاووس، مسکن الفوائد، قم، مؤسسہ آل البیت(ع) ١٤١٢ ق۔

٦٩۔ سیف، علی اکبر، تغییر رفتار و رفتار درمانی (نظریہ ہا وروش ہا) ، تہران، دانا، ١٣٧٣۔

٧٠۔ سیف، علی اکبر، روان شناسی پرورشی (روان شناسی یاد گیری و آموزش ) ، تہران، آگاہ، ١٣٦٨۔

٧١۔ شالہ، فیلیسین، فروید و فروید یسم، ترجمہ اسحاق وکیلی، تہران، بنگاہ مطبو عاتی قائم مقام، ١٣٤١۔

٧٢۔ شعیر سبزواری، جامع الاخبار، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، ٤١٤ ق۔

٧٣۔ شیخ صدوق، اعتقادات، قم، کنفرانس جہانی ہزارہ شیخ مفید، ١٤١٣ ق۔

٧٤۔ شیخ صدوق، توحید، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٧٥۔شیخ صدوق، خصال، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، ١٤٥٣۔

٧٦۔ شیخ صدوق، صفات الشیعہ، قم، مؤسسہ الامام المہدی (عج) ١٤١٥۔

٧٧۔شیخ صدوق، علل الشرایع، بیروت، دار احیاء التراث، ١٣٨٥ ق۔

٧٨۔شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا ـ ، تہران، مکتبة جہان، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٧٩۔ شیخ صدوق، مقنع، قم، مؤسسہ ا مام ہادی ـ، ١٤١٥ ق۔

٨٠۔ شیخ صدوق، تومن لا یحضر الفقیہ، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٨١۔ شیخ طوسی، امالی، قم، مؤسسہ البعثة، دارالثقافة، ١٤١٤ ق۔

٨٢۔ شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، بیروت، دارالتعارف و دار صعب، ١٤٥١ ق۔

٨٣۔ شیخ مفید، ارشاد، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، ١٤١٣ ق۔

٨٤۔شیخ مفید، اوائل المقالات، قم، کنگرہ جہانی شیخ مفید، ١٤١٣ ق۔


٨٥۔ شیرازی، صدرالدین، تفسیر القرآن، قم، بیدار، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٨٦۔صبور اردو باری، احمد، معمای عادت۔

٨٧۔ صحیفہ سجادیہ، الکاملة، دمشق، رایزنی فرہنگی جمہوری اسلامی ایران، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٨٨۔ صدرا لدین شیرازی، الاسفار الاربعة، قم، مصطفوی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٨٩۔ صدر، سید محمد باقر، فلسفتنا (نظریہ المعرفة) ، قم، دارالکتاب الاسلامی، ١٤٥١ ق۔

٩٠۔ صدر، محمد باقر، بحث فی علم الاصول (تقریر سید محمود ہاشمی ) ، ٧جلد، قم، مکتب الاعلام اسلامی، ١٤٠٥ ق۔

٩١۔ صدر، محمد باقر، دروس فی علم الاصول، ٣حلقہ، بیروت، دارالکتاب اللبنانی، قاہرہ، دارالکتاب المصری، ١٩٨٧۔

٩٢۔ صدوق، عیون اخبارالرضا ـ تعلیق حسین اعلمی، بیروت، مؤسسہالاعلمی للمطبوعات، ١٤٠٤۔

٩٣۔ طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ١٤١٤ ق۔

٩٤۔ طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، قم، مؤسسہ البعثہ، ١٤١٥ ق۔

٩٥۔ طوسی، خواجہ نصیر الدین، اخلاق ناصری، شیراز انتشارات علمیہ اسلامیہ، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

٩٦۔ عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ، ٢٠ جلد، تہران، کتاب فروشی اسلامیہ، ١٤٠٣ ق۔

٩٧۔ عبد الباقی، محمد فواد، المعجم لالفاظ القرآن الکریم، قاہرہ، مطبعہ دارالکتب المصریہ، ١٣٦٤ ق۔

٩٨۔ عدة من الرواة، اصول ستہ عشر، قم، دارالشبستری، ١٤٠٥ ق۔

٩٩۔ عسکری، ابو ہلال و جزایری، سید نور الدین، معجم الفروق اللغویہ، قم، مکتبہ بصیرتی، ١٣٥٣۔

١٠٠۔ علامہ امینی، احمد، الغدیر، بیروت، دارالکتاب العربی، ١٤٠٢ ق۔

١٠١۔علامہ حلی، کشف المراد، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ١٤١٣ ق۔

١٠٢۔ علامہ طبا طبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القران، ٢٠ جلد، قم، جامعةالمدرسین، مؤسسہ نشر اسلامی۔

١٠٣۔ علامہ طبا طبائی، سید محمد حسین، رسائل سبعہ، قم، نمایش گاہ ونشر کتاب، ١٣٦٢۔

١٠٤۔ علم الہدی، سید مرتضی، الذخیرہ، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، ١٤١١ ق۔

١٠٥۔ عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تہران، المکتبہ العلمیہ الاسلامیہ، ١٣٨٠ ق۔


١٠٦۔ غزالی، ابو حامد محمد، احیاء علوم الدین، بیروت، دارالعلم، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٠٧۔ فرانکل، ویکتور، انسان در جستجوی معنا، ترجمہ نہضت صالحیان ومیلانی، درسا، ١٣٧٣۔

١٠٨۔ فرانکنا، فلسفہ اخلاق، ترجمہ ہادی صادقی، قم، مؤسسہ فرہنگی طہ، ١٣٧٦۔

١٠٩۔ فقہ الرضا ( فقہ منسوب بہ امام رضا ـ) ، مشہد، کنفرانس جہانی امام رضا ـ ١٤٠٦ ق۔

١١٠۔ فلسفی، محمد تقی، اخلاق، تہران، نشر معارف اسلامی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١١١۔ فلسفی، محمد تقی، کودک ازنظر وراثت و تربیت، تہران، ، نشر معارف اسلامی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١١٢۔ فیض کاشانی، محسن، المحجة البیضائ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١١٣۔ فیض کاشانی، ملا محسن، المحجة البیضا فی تہذیب الاحیائ، ٨ جلد، بیروت، مؤسسہ اعلمی مطبوعات، ١٤٠٣ ق۔

١١٤۔ قطب محمد، روش تربیتی در اسلام، ترجمہ محمد مہدی جعفری، تہران، انجام کتاب، ١٣٦٢۔

١١٥۔ قمی، شیخ عباس، کلیات مفاتیح الجنان، بہ خط طاہرہ خوشنویس، تہران، کتابچی، ١٣٧٠۔

١١٦۔قمی، علی بن ابر ا ہیم، تفسیر قمی، قم، دارالکتاب، ١٤٠٤ ق۔

١١٧۔ کارل الکسیس، نیایش، ترجمہ علی شریعتی، تہران، حسینیہ ارشاد، ١٣٥٨۔

١١٨۔ کانت، ایمانوئل، بنیاد ما بعد الطبیعہ اخلاق، ترجمہ حمید عنایت و علی قیصری، تہران، شرکت سہامی انتشار خوارزمی، ١٣٦٩۔

١١٩۔کتاب مقدس، ترجمہ فارسی، قطع جیبی، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٢٠۔ کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، قم، دارالذخائر، ١٤١٠ ق۔

١٢١۔ کریستیانی، ترزاس، روان شناسی مشاورہ، ترجمہ رضا فلاحی و حاجی لو، مؤسسہ رشد، ١٣٧٤۔

١٢٢۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، ٢جلد، بیروت، دارالاضوائ، ١٤١٤ ق۔

١٢٣۔ مارستون، انتفانی، معجزئہ تشویق، ترجمہ توراندخت تمدن (مالکی ) ، تہران، علمی، ١٣٧٥۔

١٢٤۔ مثولتز، دوان، روان شناسی کمال، ترجمہ گیتی خوش دل، تہران، نشر نو، ١٣٦٢۔

١٢٥۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ١١١ جلد، بیروت، دارالاضوائ، ١٤١٣ ق۔


١٢٦۔ محمد قاسمی، حمید، اخلاق جنسی اسلام کی نظر میں، تہران، سازمان تبلیغات اسلامی، ١٣٧٣۔

١٢٧۔ محمدی ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، ١٠ جلد، قم، حوزہ علمیہ قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ١٣٦٢۔

١٢٨۔ مزلو، آبراہام، روان شناسی شخصیت سالم، ترجمہ شیوا روی گردان، تہران، ہدف، ١٣٦٧۔

١٢٩۔ مزلو، آبراہام، انگیزش و شخصیت، ترجمہ احمد رضوانی، مشہد، آستانہ قدس رضوی، ١٣٦٧۔

١٣٠۔ مشکور، محمد جواد، خلاصئہ ادیان، تہران، شرق، ١٣٧٢۔

١٣١۔ مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق در قرآن، تہران، امیر کبیر، ١٣٧٢۔

١٣٢۔ مصباح یزدی، محمد تقی، دروس فلسفہ اخلاق، تہران، اطلاعات، ١٣٦٧۔

١٣٣۔ مطہری، مرتضی، آشنایی با علوم اسلامی ( حکمت عملی) ، قم، صدرا، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٣٤۔ مطہری، مرتضی، آشنایی با علوم اسلامی ( عرفان) ، قم، صدرا، ١٣٧١۔

١٣٥۔ مطہری، مرتضی، اخلاق جنسی در اسلام و جہان غرب، قم، صدرا، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٣٦۔ مطہری، مرتضی، اسلام و مقتضیات زمان، ٢جلد، قم، صدرا، ١٣٧٤۔

١٣٧۔ مطہری، مرتضی، تعلیم وتربیت در اسلام، تہران، ، صدرا، ١٣٦٧۔

١٣٨۔ مطہری، مرتضی، جاذبہ ودافعہ علی ـ ، تہران، ، صدرا، ١٣٦٨۔

١٣٩۔ مطہری، مرتضی، جاودانگی اخلاق، (چاپ شدہ در یاد نامہ استاد مطہری، ج١) ، تہران، سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ٦٠ ١٣۔

١٤٠۔ مطہری، مرتضی، سیر ی در سیرئہ نبوی، قم، صدرا، ١٣٧٦۔

١٤١۔ مطہری، مرتضی، مسلہ حجاب، قم، صدرا، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٤٢۔ مطہری، مرتضی، مسلہ شناخت، قم، صدرا، ١٣٧٤۔

١٤٣۔ مطہری، مرتضی، مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی (انسان در قرآن) ، قم، صدرا، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٤٤۔ مطہری، مرتضی، نظام حقوق زن در اسلام، قم، صدرا، ١٣٧٥۔

١٤٥۔ مطہری، مرتضی، نقدی بر مارکسیسم، قم، صدرا، ١٣٦٢۔


١٤٦۔ معین، محمد، فرہنگ فارسی( متوسط) ، ٦جلد، تہران، امیر کبیر، ١٣٧١۔

١٤٧۔ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامےة، ١٣٧٢۔

١٤٨۔ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، ٢٧ جلد، تہران، دارالکتب الاسلامےة، ١٣٧١۔

١٤٩۔ملکی تبریزی، میرزا جواد آغا، رسالئہ لقاء اﷲ، ترجمہ ومقدمہ واضافات سید احمد فہری، نہضت زنان مسلمان، ١٣٦٠۔

١٥٠۔منصور، محمود، احساس کہتری، تہران، دانشگاہ تہران، مؤسسہ انتشارات وچاپ، ١٣٦٩۔

١٥١۔ منصور، محمود، روان شناسی ژنتیک: تحول روانی از کودکی تا پیری، تہران، ترمہ، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٥٢۔ مہرین، مہراد، فلسفہ شرق، تہران، مؤسسہ مطبو عاتی، عطائی، ١٣٥٧۔

١٥٣۔ نائینی، میرزا محمد حسین، فوائد الاصول ( تقریر محمد علی کاظمی ) ، ٤جلد، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ١٤٠٤ ق۔

١٥٤۔ ناطق، ناصح، بحثی دربارئہ زندگی مانی وپیام او، تہران، امیر کبیر، ١٣٥٧۔

١٥٥نراقی، ملا احمد، معراج السعادہ، تہران، رشیدی، ١٣٦٢۔

١٥٦۔ نراقی، ملا مہدی، جامع السعادات، قم، اسماعیلیان، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٥٧۔ نعمانی، محمد بن ابراہیم، الغیبہ، تہران، مکتبة الصدوق، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٥٨۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسہ آل البیت، ١٤٠٧ ق۔

١٥٩۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل ومستنبط المسایل، بیروت، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ١٤٠٨ ق۔

١٦٠۔ ورام بن ابی فراس، تنبیہ الخواطر، ٢ جلد، بیروت، دارالتعارف ودار صعب، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٦١۔ ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ گروہی ازمترجمین، تہران، اقبال، (تاریخ طبع مشخص نہیں ہے)۔

١٦٢۔ ویل دورانت، لذات فلسفہ، تہران، شرکت سہامی انتشار اندیشہ، ١٣٥٤۔

١٦٣۔ہرگنہان، بی۔ آر۔ مقدمہ ای بر نظریہ ہای یاد گیری، ترجمہ علی اکبر سیف، تہران، دانا، ١٣٧٤۔

١٦٤۔ ہرمان الدنبورک، فروغ خاور، ترجمہ بدر الدین کتابی، اصفہانی، انتشارات کتاب فروشی تیید، ١٣٤٠۔

١٦٥۔ ہیلگارد، ارنست، نظریہ ہای یاد گیری، ترجمہ محمد نقی براہنی، تہران، ستاد انقلاب فرہنگی مرکز نشر دانشگاہی، ١٣٧٦۔

١٦٦۔یونگ، روان شناسی ضمیر نا خود آگاہ، ترجمہ محمد علی امیری، تہران، انتشارات آموزش و انقلاب اسلامی، ١٣٧٢۔

۱۶۷- The Psychology of Healthe ,M.Robin Dimatteo, colifornia,۱۹۹۱


فہرست

پہلا باب : اخلاق کے اصول ۴

پہلی فصل: کلّیات ۴

الف۔ علم اخلاق سے واقفیت ۴

١۔ لفظ اخلاق کا لغوی مفہوم ۴

٢۔علم اخلاق کی تعریف ۵

٣۔ اخلاق کا فلسلفہ ۶

٤۔ اخلاقی تربیت ۷

ب۔ علم اخلاق اور دوسرے علوم ۸

١۔ علم اخلاق اور فقہ ۸

٢۔ علم اخلاق اور حقوق ۹

٣۔ علم اخلاق اورعرفان عملی ۹

٤۔علم اخلاق اور تربیتی علوم ۱۰

ج۔ اخلاق سے متعلق نظریات ۱۱

١۔فیلسوفوں کا نظریۂ اخلاق ۱۱

٢۔ عارفوں کا نظریۂ اخلاق ۱۱

٣۔اخلاق نقلی(٣) ۱۳

د: اخلاق اسلامی کے مباحث کی تقسیم ۱۶

١۔اخلاق کی بعض بنیادی اور فلسفی بحثیں ۱۶

٢۔اخلاقی خوبیوںاوربرائیوں کی توصیف ۱۶


٣۔اخلاق تربیتی ۱۶

دوسری فصل : اخلاق کی جاودانی ۱۷

مقدمہ ۱۷

١۔مسئلہ کی وضاحت: ۱۷

٢۔ بحث کی تاریخ: ۱۷

٣۔ موضوع کی دینی اہمیت: ۱۸

٤۔اطلاق اور نسبیت کا مفہوم: ۱۸

الف۔ اخلاقی نسبیت پسندی کے نتیجے: ۲۰

١۔ ذمہ داری کا سلب ہونا: ۲۰

٢۔اخلاقی احکام کا بے ثمر ہونا: ۲۱

٣۔ دین کے مکمل اور جاودانی ہونے کی نفی: ۲۱

٤۔ اخلاقی شکّاکیت : ۲۱

٥۔خادموں اور خائنوں کا یکساں ہونا: ۲۲

ب۔ ا خلاق میں مطلق پسندی اور اس کی دلیلیں ۲۲

١۔پائدار اخلاق کی نشاندہی کی ضرورت: ۲۲

٢۔ اخلاق کے جاودانی اصولوں کو بیان کرنا: ۲۲

ج۔ سو ا لا ت اور جوابات ۲۵

پہلاسوال: ۲۵

پہلا جواب: ۲۵

دوسرا جواب: ۲۵


تیسرا جواب: ۲۶

چوتھا سوال: ۲۸

جواب: ۲۸

تیسری فصل: اخلا قی عمل ۲۹

عناوین ۲۹

١لف ۔اخلاقی عمل کے قیمتی عناصر ۳۰

١ ۔فاعلی عناصر ۳۰

ایک: فاعل کی آزادی اور اس کا اختیار ۳۱

١۔فلسفی جبر: ۳۲

٢۔ اخلاقی جبر: ۳۲

٣۔ حقوقی جبر: ۳۲

٤۔ نفسیاتی جبر: ۳۲

٥۔سماجی جبر: ۳۳

دو: فاعل کی نیت اورمقصد ۳۴

١۔مقصدکی عقلی اہمیت: ۳۵

نیت کے مراتب: ۳۶

مقصد اور ایمان کارشتہ: ۳۷

ایمان اورعمل کا رشتہ : ۳۹

کافروں کے نیک اعمال: ۴۰

٢۔فعلی اور عینی عنصر ۴۱


ب: اخلاقی ذمہ د اری کی شرطیں ۴۳

١۔بلوغ ۴۴

٢۔عقل ۴۵

٣۔علم یا اسے حاصل کرنے کا امکان ۴۵

پہلی دلیل : ۴۶

دوسری دلیل: ۴۶

تیسری دلیل: ۴۷

چوتھی دلیل: ۴۷

٤۔قدرت ۴۸

٥۔ اضطرار (مجبوری) کا نہ ہونا ۵۰

٦۔ اکراہ واجبار کا نہ ہونا ۵۰

٧۔قصد وعمد ۵۱

ج: ۔ اخلاقی عمل کی پہچان ۵۲

ا۔عقل(٢) ۵۲

٢۔فطرت(١) ۵۳

٣۔وحی ۵۴

د۔ اخلاقی اقدار کا تزاحم اورترجیح کا معیار ۵۵

دوسرا باب : ۵۸

اخلاق کے عام مفاہیم۔ ۵۸

پہلی فصل: ۵۸


ہدایت کرنے والی نفسانی صفت ۵۸

ایمان ۵۸

١۔ایمان کی اہمیت ۵۹

٢ ۔ ایمان کی ماہیت ۶۰

٣ ۔ایمان کے اقسام اوردرجات ۶۰

اوّلاً: ۶۰

ثانیاً: ۶۱

٤ ۔ ایمان کے متعلقات ۶۲

ایک۔ عالم غیب پر ایمان : ۶۲

دو۔ خدا اور اس کی وحدانیت پر ایمان: ۶۳

تین۔ قیامت اور اس کی کیفیت پر ایمان: ۶۳

چار۔ انبیاء (ع) کی رسالت اور آسمانی کتابوں پر ایمان: ۶۴

پانچ۔ امامت اور ائمہ (ع) پر ایمان: ۶۴

٥۔ایمان کی شرط ۶۵

٦۔ ایمان کے اسباب ۶۶

٧۔ایمان کے فوائد ۶۷

ایک۔ روحی تسکین: ۶۷

دو۔ بصیرت: ۶۸

تین۔ خدا پر بھروسہ: ۶۸

چار۔ دنیوی برکتیں : ۶۸


پانچ۔نیک اعمال کی انجام دہی: ۶۹

چھ۔ عوام میں محبوبیت: ۶۹

سات۔ اُخروی فلاح اور کامیابی : ۶۹

٨۔ ایمان کے موانع ۷۰

ایک۔ جہل: ۷۰

دو۔ شک وتردید: ۷۱

تین۔ نفسانی خیالات اور شیطانی وسوسہ: ۷۲

چار۔ علمی وسواس: ۷۲

پانچ۔ کفر اور شرک: ۷۲

دوسری فصل: مؤثر نفسانی صفات ۷۳

الف۔ خداکی طرف نفس کا مائل ہونا ۷۴

١۔ خداوندعالم کی محبت ۷۴

پہلی نظر: بندوں کی خدا سے محبت ۷۵

الف: محبت کی پیدائش کے اسباب: ۷۵

١۔ جو چیزیں انسان کی بقاء اور کمال کا سبب ہوتی ہیں: ۷۵

٢۔ لذت: ۷۵

٣۔احسان: ۷۶

٤۔ ظاہری و باطنی حسن و جمال: ۷۷

٥۔باطنی اور روحی توافق ومناسب: ۷۷

٦۔ الفت واجتماع: ۷۷


٧۔ ظاہری اوصاف میں شباہت: ۷۸

٨۔ علیت کا رابطہ: ۷۸

ب۔ خدا وند عالم سے محبت کی نشانیاں: ۷۹

١۔ موت کو دوست رکھنا: ۷۹

٢۔ خداوندعالم کی خواہش کو مقدم کرنا: ۸۰

٣۔ یاد خدا وندی سے غافل نہ ہونا: ۸۰

٤۔خوشی و غم خدا کے لئے: ۸۰

٥۔خداکے دوستوںسے دوستی اور اس کے دشمنوںسے دشمنی: ۸۰

٦۔ محبت و امید کے ساتھ خوف: ۸۱

٧۔اللہ کی محبت کا کتمان اور اس کا دعویٰ نہ کرنا: ۸۱

ج۔ خداوند عالم کی محبت کے علائم: ۸۱

١۔ پروردگار سے انس: ۸۱

٢۔ خداوند عالم کی جانب اشتیاق: ۸۲

٣۔ قضائے الہی سے راضی ہونا: ۸۲

د۔محبت پروردگارکاانجام: ۸۳

دوسری نظر: خدا وندسبحان کی بندوں سے محبت ۸۴

٢۔توکل ۸۵

ایک۔ توکل کی حقیقت و ماہیت: ۸۵

دو۔ توکل کے درجات: ۸۶

تین۔ توکل کی اہمیت: ۸۷


چار۔ سعی وکوشش اور توکل: ۸۸

٣۔شکر ۸۸

ایک۔ شکر کی ماہیت اور درجات: ۸۸

دو۔ شکر کی اہمیت: ۸۹

تین۔ شکر خداوندی کا دنیوی نتیجہ: ۹۰

ب۔ نفس کا اپنی عاقبت کی طرف رجحان ۹۱

١۔خوف ۹۱

الف۔ خوف کا مفہو م: ۹۱

ب۔ خوف کے درجات: ۹۲

ج۔ خوف کی اہمیت: ۹۲

اولاً ۹۲

ثانیاً، ۹۳

د۔ خوف کے بارے میں ہوشیاری: ۹۴

٢۔ امید ۹۴

ب۔ امید کی اہمیت: ۹۵

ج۔ امیدکے نقصانات: ۹۶

١۔ بغیر عمل کے امید وارہونا: ۹۶

٢۔ تدبیر خداوندی سے اپنے کو محفوظ سمجھنا: ۹۶

۳۔ خوف ورجاء کے درمیان مناسبتیں: ۹۷

ج۔ نفس کا خود اپنی طرف رجحان ۹۸


١۔ انکسار نفس ۹۸

پہلی نظر عُجب(خود پسندی) ۹۸

الف۔ عُجب کا مفہوم: ۹۹

ب۔ خود پسندی کی مذمت : ۹۹

ج۔خود پسندی کے اسباب: ۱۰۰

دوسری نظر۔ غرور ۱۰۳

الف۔ کفار: ۱۰۳

ب۔ فاسق اور گناہگار مومنین: ۱۰۴

ج۔علمائ: ۱۰۴

د۔ مبلغین اور واعظین: ۱۰۴

ہ۔ اہل عبادت اور عمل: ۱۰۴

و۔ عرفان کے دعویدار افراد: ۱۰۴

ز۔ مالدار اور ثروت مند افراد: ۱۰۵

٢۔ تواضع ۱۰۵

ایک۔ تواضع کی اہمیت: ۱۰۵

الف) کبر: ۱۰۶

کبرکا مفہوم: ۱۰۷

تکبّر کی مذمت: ۱۰۷

تکبّر کی قسمیں: ۱۰۷

دو۔ پیغمبر کے مقابل تکبّر کرنا: ۱۰۷


تکبّر کا علاج: ۱۰۸

ب) ذلت وخواری: ۱۰۸

تیسری فصل: مؤثر نفسانی صفات ۱۰۹

د۔ نفس کی توجہ آئندہ کی نسبت ۱۰۹

١۔ آئندہ کی نسبت نفس کا مطلوب رجحان ۱۰۹

الف۔ حزم: ۱۰۹

ب۔ آرزؤوں کو کم کرنا: ۱۱۰

ج۔ موت کی یاد: ۱۱۱

د۔ بلند ہمتی: ۱۱۲

٢۔موانع ۱۱۲

الف۔ طولانی آرزوئیں: ۱۱۲

ب۔ پست ہمتی: ۱۱۳

ہ۔ دنیوی نعمتوں کی طرف نفس کارجحان ۱۱۴

زہد ۱۱۴

ایک۔ زہد کا مفہوم ۱۱۴

دو۔ زہدکی اہمیت ۱۱۵

تین۔ زہد کے مراتب اوردرجات ۱۱۵

١۔ زہد کے شدت و ضعف کے اعتبا ر سے مراتب: ۱۱۵

٢۔ زہد کے مراتب اعراض کی جانے والی چیزوں کے اعتبار سے: ۱۱۶

چار۔ زہد کے علائم ۱۱۸


١۔ قناعت: ۱۱۸

٢۔لوگوں کے اموال سے بے نیازی اور عفت: ۱۱۹

پانچ۔ زہد اختیار کرنے کے موانع ۱۲۰

١۔دنیاکی محبت: ۱۲۰

دنیا کی محبت کی نشانیاں: ۱۲۲

الف۔ دنیا کی حرص: ۱۲۲

ب۔ طمع اور لالچ : ۱۲۳

۲۔ خمود: ۱۲۳

و۔ دوسروں کی نسبت نفس کا رجحان ۱۲۴

١۔ خدا وندعالم کی محبت ۱۲۴

ایک۔دیگر دوستی کی حقیقت اور اس کے اقسام ۱۲۴

دو۔خداسے محبت کرنے کی فضیلت ۱۲۶

تین۔خدا سے محبت کرنے کی نشانیاں ۱۲۷

١۔ نصیحت اور خیرخواہی: ۱۲۷

٢۔مومنین سے حسن ظن: ۱۲۸

چار۔ خداوندسبحان سے دوستی کے موانع ۱۲۹

١۔ حسد: ۱۲۹

٦۔ تکبر: ۱۳۲

٧۔ دوسروںکے عظیم نعمتوں سے فیضیاب ہونے کی توقع نہ کرنا: ۱۳۳

٢۔حقد اور کینہ توزی : ۱۳۳


۲۔خدا وند سبحان کے لئے دشمنی ۱۳۵

چوتھی فصل: ۱۳۶

مؤثر نفسانی صفات ۱۳۶

ز۔ نفس کو قابو میں رکھنے والے رجحان ۱۳۶

١۔ نفس کی قوت ۱۳۶

(ایک) قو ت نفس کے فوائد ۱۳۶

١لف۔ ثبات اور اطمینان ( عدم اضطراب ) : ۱۳۷

ب۔ بلند ہمتی: ۱۳۷

ج۔ غیرت وحمیت: ۱۳۷

١۔ دین میں غیرت: ۱۳۸

٢۔ نامو س کے لئے غیرت: ۱۳۸

٣۔ اولاد کے سلسلہ میں غیرت: ۱۳۹

٤۔ مال کے سلسلہ میںغیرت: ۱۳۹

د۔ وقار اور قلبی سکون: ۱۳۹

١۔ خدا وند عالم کی بندگی: ۱۴۰

٢۔ علم و حکمت: ۱۴۱

٣۔ حلم: ۱۴۱

٤۔سکوت: ۱۴۱

٥۔ تواضع و فروتنی: ۱۴۱

١۔ ازدواج: ۱۴۱


٢۔ عدالت: ۱۴۱

٣۔ایمان: ۱۴۲

٤۔ خدا کی یاد: ۱۴۲

٥۔ حق تک پہنچنا: ۱۴۲

۱۔ لوگوں سے سوال و درخواست کرنا: ۱۴۲

۲۔ حد سے زیادہ ہنسنا اور ہنسی مذاق کرنا: ۱۴۲

٣۔ مال، قدرت،علم، تعریف اور جوانی سے سر مست ہونا: ۱۴۳

٤۔ جلد بازی: ۱۴۳

دو۔ نفس کے لئے خطر ناک شئی ۱۴۴

٢۔ حلم و برد باری اور غصہ کا پینا ۱۴۵

الف۔ حلم اور کظم غیظ کے اسباب و موانع: ۱۴۷

ب۔حلم و برد باری کے فوائد: ۱۴۷

٣۔ حیا ۱۴۸

الف۔ حیا کی اہمیت: ۱۴۹

ب۔ حیا کے اسباب و موانع : ۱۵۰

١۔عقل: ۱۵۰

٢۔ایمان: ۱۵۰

۳۔ لوگوںکی طرف دست سوال دراز کرنا: ۱۵۰

٣۔ زیادہ بات کرنا: ۱۵۱

٤۔ شراب خوری: ۱۵۱


ج۔ حیا کے فوائد: ۱۵۱

١۔ خدا کی محبت: ۱۵۱

٢۔عفّت اور پاکدامنی: ۱۵۱

٣۔ گناہوں سے پاک ہونا: ۱۵۱

د۔حیا کے مقامات : ۱۵۲

٢۔تحصیل علم سے حیاکرنا: ۱۵۳

٣۔ حلال درآمد کے حصول میں حیا کرنا: ۱۵۳

٤۔ مہمانوںکی خدمت کرنے سے حیا کرنا: ۱۵۳

٥۔دوسروں کا احترام کرنے سے حیا کرنا: ۱۵۳

٦۔ نہ جاننے کے اعتراف سے حیا کرنا: ۱۵۳

٧۔ خداوند عالم سے درخوست کرنے میں حیا کرنا: ۱۵۴

٨۔ معمولی بخشش کرنے سے حیا کرنا: ۱۵۴

٩۔اہل و عیال کی خدمت کرنے سے حیا کرنا: ۱۵۴

٤۔ عفّت ۱۵۴

الف۔ عفّت کے اقسام: ۱۵۵

١۔ عفّت شکم: ۱۵۵

ب۔عفّت کی اہمیت: ۱۵۶

ج۔ عفّت کے اسباب: ۱۵۶

د۔ عفّت کے موانع: ۱۵۷

١۔ شرارت: ۱۵۷


٢۔ خمود: ۱۵۷

ہ۔ عفّت کے فوائد : ۱۵۸

٥۔ صبر ۱۵۸

الف۔ صبر کی قسمیں: ۱۵۹

١۔ مفہوم کے لحاظ سے: ۱۵۹

٢۔ موضوع کے لحاظ سے: ۱۵۹

٣۔ حکم کے لحاظ سے: ۱۶۰

ب۔ صبر کے درجات: ۱۶۱

ج۔ صبر کی اہمیت: ۱۶۱

د۔ صبر کے فوائد: ۱۶۳

تیسرا باب : ۱۶۴

اسلام کی نظر میں اخلا قی تر بیت ۱۶۴

پہلی فصل : ۱۶۴

اسلام میں اخلا قی تر بیت کے طر یقے ۱۶۴

مقدمہ: ۱۶۴

طریقے ۱۶۵

١۔ تربیت کے لئے مناسب ماحول بنانا ۱۶۵

الف۔ مقدمہ سازی: ۱۶۶

ب۔ نمو نہ سازی : ۱۶۷

ج۔ما حول کوصحیح و سالم رکھنا: ۱۶۹


د۔ موقعیت کا تبدیل کرنا: ۱۷۰

٢۔ ضرورتوں کو صحیح طریقہ سے پورا کرنا ۱۷۱

حضرت امام حسن ـکی سیرت نادان مخالفین کے ساتھ یہی انسانی روش اور سیرت تھی: ۱۷۳

الف ۔معاشی نظام کی طرف توجہ: ۱۷۶

ب۔ ازدواج: ۱۷۶

ج۔ورزش: ۱۷۷

د۔ کام: ۱۷۷

٣۔ ا حترام شخصیت کے طریقے ۱۷۸

١۔ طبیعی تلافی: ۱۸۰

٢۔ گریز اور ناامیدی: ۱۸۱

٣۔ خیالی تلافی: ۱۸۱

الف۔اکرام واحترام: ۱۸۲

ب۔بغیر شرط کے مثبت توجہ: ۱۸۵

ج۔ اغماض (چشم پوشی) : ۱۸۹

١۔ صحت پر حمل کرنا چاہئے یا اس کی اچھے طریقہ سے توجیہ کرنی چاہئے؛ ۱۸۹

٢۔تغافل اور تجاہل: ۱۸۹

٣۔عفوودرگذر: ۱۹۰

د۔ ذمہ داری دینا: ۱۹۲

٤۔ اخلاقی اقدار کی دعوت دینا ۱۹۳

الف۔ انذار وبشارت: ۱۹۶


ب۔ داستان گوئی : ۱۹۷

ج۔تشبیہ وتمثیل: ۱۹۹

د۔سوال وجواب: ۲۰۰

دوسری فصل: ۲۰۲

ا سلا م میں ا خلا قی تر بیت کے طر یقے ۲۰۲

۱۔ عقلانی قوت کی تربیت ۲۰۲

١۔ طبیعت: ۲۰۳

٢۔تاریخ: ۲۰۳

٣۔قرآن: ۲۰۴

٤۔انسان: ۲۰۴

الف ۔افکار کی عطا اور اصلاح: ۲۰۴

پہلی قسم : ۲۰۴

دوسری قسم : ۲۰۵

ب۔ ا خلاقی استدلال: ۲۰۶

ج۔ مطالعہ اور اطلاعات کی تصحیح: ۲۰۷

د ۔مشورت ومشاورہ: ۲۰۷

۲-۔ عبرت حاصل کرنے کے طریقے ۲۰۸

الف۔گذشتگان کے آثار کا مشاہدہ : ۲۰۹

جرت الریاح علی رسوم دیارہم ۲۱۰

ب ۔ طبیعت اور موجودات کی طرف نظر: ۲۱۱


ج ۔ موجودہ حوادث اور واقعات کی جانب توجہ: ۲۱۲

د۔ گذشتگان کے قصوں میں غور و فکر: ۲۱۲

۳۔عمل کی پابندی اور مداومت ۲۱۴

الف ۔مشق اور عادت ڈالنا: ۲۱۸

١۔دینی واجبات اور فرائض میں عمل کا استمرار اور پابند: ۲۱۸

٢۔کیفیت عمل کی جانب توجہ کرنا: ۲۱۹

ب ۔ اضداد سے استفادہ: ۲۱۹

ج ۔ ابتلاء اور امتحان: ۲۲۰

د ۔معاشرت و مجالست: ۲۲۵

۴: ۔ تشویق اور تنبیہ کا طریقہ ۲۲۷

: اول ۲۲۹

دوسرانکتہ ۲۲۹

الف ۔ عاطفی توجہ: ۲۲۹

ب ۔ زبانی تشویق: ۲۳۰

ج ۔ عملی تشویق: ۲۳۱

د۔ جزاسے محرومیت اور نیکو کار کو جزادینا: ۲۳۲

ہ۔جرمانہ اور تلافی: ۲۳۳

و۔ سرزنش وتوبیخ اور جسمانی توبیخ وتنبیہ: ۲۳۳

تیسری فصل : ۲۳۸

اسلام میں اخلا قی تر بیت کے طر یقے ۲۳۸


۱۔خود پر ناظر ہونا ۲۳۸

الف۔توبہ: ۲۴۱

آخری نکتہ: ۲۴۵

ب۔مراقبہ: ۲۴۶

ج۔محاسبہ: ۲۴۸

د۔معاقبہ: ۲۵۰

۲:۔ ایمان کی تربیت ۲۵۱

پہلا مسلک: ۲۵۲

دوسرا مسلک: ۲۵۲

تیسرا مسلک: ۲۵۲

الف۔عبادت: ۲۵۷

ب۔ذکر: ۲۵۹

ج۔دعا : ۲۶۳

د۔اولیائے خدا سے محبت: ۲۶۶

منابع ۲۷۰


اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق

مؤلف: احمد دیلمی ومسعود آذر بائیجانی
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 296