شرح دعائے کمیل

مؤلف: استاد حسین انصاریان
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: شرح دعاء کمیل

مولف : استاد حسین انصاریان

مترجم: اقبال حیدر حیدری

ناشر: انصاریان پبلیشر

کمپوزنگ : ابو محمد ھندی

چاپ اول: ۱۴۲۵ ھ ق، ۱۳۸۳ ھ ش

چاپ خانہ : نگین، قم

تعداد : ۳۰۰۰


عرض مترجم

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمدُ لله ربّ العالمین و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین

جس طرح انسان کو اپنی مصنوعات اور ماں باپ کو اپنی اولاد محبوب ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ خداوندعالم اپنی مخلوقات کو دوست رکھتا ہے، خصوصاً اشرف المخلوقات انسان کو نھایت درجہ چاہتا ہے، کیونکہ یھی انسان خلیفة اللہ ہے، لہٰذا انسان کو بھی اپنے محبوب خالق سے غافل نہیں ہونا چاہئے، اس نے انسان کو صرف پیدا ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس کی آسائش کے لئے زمین و آسمان کے درمیان تمام نعمتوں کو خلق فرمایا ہے، لہٰذا انسان کو ہر حال میں خدا کی بے شمار نعمتوں کے مقابلہ میں کا شکر گزار بندہ رھنا چاہئے کیونکہ اگرانسان شکر کرے گا تو خدا بھی نعمتوں میں مزید اضافہ فرمائے گا۔

خداوندعالم کتنا رحیم ہے، اس کی رحمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، چنانچہ حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ خداوندعالم کی رحمت کے ۱۰۰ درجے ہیں ان میں سے ایک درجہ اس دنیا سے مخصوص ہے جس کی بنا پر وہ اپنے بندوں پر دنیا میں مھربان ہے ، اسی نے ماں کے دل میں رحم ڈالا تو وہ اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے، اور ۹۹ درجے آخرت کے لئے مخصوص ہیں اب آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ خداوندعالم روز قیامت اپنے بندوں پر کتنا مھربان ہوگا۔

قرآن کریم اور اہل بیت علیھم السلام کی احادیث کی بناپرانسان کتنا ہی بڑا خاطی او رگناھگار کیوں نہ ہو لیکن اگر خلوص نیت اور لازمی شرائط کے ساتھ خداوندمھربان کی بارگاہ میں حاضر ہوکر توبہ کرلے تو وہ معاف کردیتا ہے،یھی وجہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے: ”( وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی اسْتَجِبْ لَکُمْ ) “[۱] (اور تمھارے پروردگار کا کھنا ہے کہ مجھ سے دعائیں مانگو، میں تمھاری دعاؤں کو قبول کروں گا) ، پس اگر ہم تمام شرائط کے ساتھ دعا کریں تو دعا کے حکم کی حکمت متقاضی ہے کہ خداھماری دعاؤں کو قبول کر ے کیونکہ اگر وہ قبول نہ کرے اور پھر بھی دعا کا حکم دے تواس کا یہ حکم لغو و عبث ہوجائے گا۔

لہٰذا ہمیں کبھی بھی اپنی دعاؤں کے قبول نہ ہونے سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ مایوسی کفر ہے، بلکہ اگر ہماری دعا قبول نہیں ہورھی ہے تو ہمیں دعا کے شرائط اور اس کے طریقہ پر ایک بار پھر نظر کرنا چاہئے، الحمد للہ قرآن مجید اور احادیث معصومین علیھم السلام میں خود ایسی بھی دعائیں موجود ہیں جن کے اندر بارگاہ خداوندی میں دعا کرنے کے شرائط اور طریقہ بیان کئے گئے ہیں، ہمیں صرف غور سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، انھیں میں سے ایک دعاء کمیل ہے یہ ایک ایسی عظیم الشان دعا ہے جس کو امام المتقین امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے خاص شاگرد جناب کمیل کو تعلیم فرمائی ہے، اور اس عظیم الشان دعا کے مطالب اس قدر عالی ہیں کہ اگر انسان توجہ کے ساتھ اور خلوص نیت سے پڑھے تو اس کے تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ کھنا پڑتا ہے کہ ہمارے یھاں یا یہ دعاپڑھی ہی نہیں جاتی او راگر پڑھی بھی جاتی ہے تو خالی عربی دعا کو دس پندرہ منٹ میں پڑھ لیا جاتا ہے، لیکن اگر ہم اس دعا کے معنی پر توجہ کرتے ہوئے اس عظیم الشان دعا کوپڑھیں تو آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب جاری ہوسکتا ہے، اور جب انسان کی آنکھ میں آنسو ہوں اور اس کا دل بھرآیا ہواس وقت اگر خدا کی باگارہ میں توبہ کی جائے تو خدا ضرور قبول فرمائے گا، اور اگر انسان توبہ کرنے کے بعد پھر گناھوں میں ملوث ہوجائے اورپھر توبہ کرلے تو ممکن ہے کہ وہ اس توبہ کو بھی قبول کرلے، کیونکہ وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے، موت آنے سے پھلے پھلے توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، ہم کسی بھی وقت اس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر توبہ کرسکتے ہیں۔

حجة الاسلام و المسلمین استاد حسین انصاریان کی کتاب ”شرح دعاء کمیل“ کا ترجمہ حاضر خدمت ہے، واقعاً یہ ایک جامع شرح ہے، اس کتاب کے مطالعہ کے بعد دعاء کمیل کے پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے، خصوصاً دینی طلباء کے لئے یہ کتاب بہت مفید ہے انھیں حضرات پر لازم ہے کہ اس کتاب کے مطالب عام مومنین تک پھنچائیں تاکہ مومنین کی دعاؤں میں معنویت اور روحانیت پیدا ہو اور ان کی مرادیں پوری ہوجائیں،اگر اس کتاب کے مطالعہ کے دوران آپ حضرات کے بھی دل بھرآئیں اور آنکھوں میں آنسو آجائيں تو حقیر کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد کرلیجئے گا۔

آخر میں کتاب ہذا کی کمپوز نگ اور تصحیح میں تعاون کرنے والے رفقاء کا شکر گزار ہوں ، خداوندعالم ہم سب سے اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے۔ (آمین)

والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

اقبال حیدر حیدری۔

حوزہ علمیہ ۔قم۔


عرض مولف

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمدُ لله ربّ العالمین و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین

حقیر گیارہ سال کی عمر سے اپنے والد محترم کے ساتھ ماہ رمضان المبارک کی شبوں میں تھران کے مشھور مذھبی جلسوں میں شرکت کیا کرتا تھا، وھاں پر مرحوم آیت اللہ حاج سید محمد مھدی لالہ زاری لوگوں کی ہدایت کے لئے بہترین معارف الٰھی بیان فرماتے تھے، اور شب جمعہ کی تاریکی میں دعاء کمیل کو ملکوتی لہجہ، قلب سوزاں اور گریہ کناں آنکھوں سے اس طرح پڑھتے تھے کہ دعاء کمیل میں شرکت کرنے والا ہر شخص اس معنوی دعا اور گریہ کناں لہجہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

حقیر بھی دوسرے مومنین کی طرح اس عظیم الشان دعا سے متاثر تھااور بڑے ہی جوش و ولولہ کے ساتھ اس بابرکت دعا میں شرکت کیا کرتا تھا، مولائے عارفین امام عاشقین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیم کردہ یہ دعا واقعاًلوگوں کیپاکیزگی روح اور گناھوں سے توبہ کا راستہ ہموار کرنے والی ہے۔ پھلی مرتبہ جیسے ہی حقیر نے اس دعا کو سنا تو تین روز کے اندر ہی الحمد للہ اس دعا کو حفظ کرلیا، اور پھر گھر میں اور اپنے ہم کلاس دوستوں کے درمیان پڑھا کرتا تھا۔ حوزہ علمیہ قم میں تحصیل علم کے لئے مشرف ہونے کے بعد جب تبلیغ کے لئے جانے لگا تو حقیر نے دعائے کمیل کے جلسات منعقد کرنااپنے اوپر فرض کرلیا، اور کچھ ہی مدت کے بعد حقیر کی دعاء کمیل پورے ایران اور بیرون ملک بھی مشھور ہوگئی،اور تصور سے زیادہ لوگ شرکت کرنے لگے، دعائے کمیل کے سلسلہ میں مومنین نے بہت سے نتائج و فوائد حاصل کئے ہیں کہ اگر ان کے بارے میں بیان کیا جائے تو خود ایک کتاب مستقل بن جائے گی۔ شبِ ولادت حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ، حجة الاسلام و المسلمین جناب رحیمیان صاحب نے حقیر سے کھا کہ مومنین کے لئے دعاء کمیل کی ایک شرح لکھیں تاکہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اس دعا کی حقیقت کے سلسلے میں مزید معرفت حاصل کریں اور بصیرت کے ساتھ اس دعاکے جلسوں میں شرکت کریں ۔

چنانچہ خدا کا لطف و کرم اوراس کی توفیق شامل حال ہوئی کہ اپنی استطاعت کے مطابق دعاء کمیل کی شرح حاضر خدمت ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ حضرات اس کتاب سے کس قدر فیضیاب ہوتے ہیں۔

آخر میں ”موسسہ دار العرفان“ کے شعبہ تحقیق میں مشغول دوستوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس کتاب کی تصحیح وغیرہ اور زیور طبع سے آراستہ کرنے میں زحمتیں برداشت کی ہیں، خداوندعالم مزید توفیق عنایت فرمائے۔

احقر العباد

حسین انصاریان


دعائے کمیل کا متن

بسم الله الرحمن الرحیم

بنام خدائے رحمن و رحیم

اللّٰهُمَّ اِنّيِ اسْا لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَهَرْتَ

خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر محیط ہے۔ اس قوت کے واسطہ سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے

بِهٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ

اور اس کے لئے ہر شے خاضع اور متواضع ہے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر غالب ہے اور اس عزت کے واسطہ سے ہے

بِهٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَهٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاتْ کُلَّ

جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نہیں ہے۔اس عظمت کے واسطہ سے ہے جس نے ہر چیز کو پر کردیا ہے

شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْهِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اور اس سلطنت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے سے بلند تر ہے۔اس ذات کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رھنے والی ہے

وَبِاسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ،وَبِعِلْمِکَ الَّذي احٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ،

اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ہے جن سے ہر شے کے ارکان معمور ہیں ۔اس علم کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے

وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذي اضٰاءَ لَهُ کُلُّ شَيْءٍ، یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ،یٰا اوَّلَ الْاوَّلینَ،

اور اس نور ذات کے واسطہ سے ہے جس سے ہر شے روشن ہے۔اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر۔

وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ

اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِکُ الْعِصَمَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ

خدایا میرے گناھوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔

اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَیِّرُالنِّعَمَاللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ

ا ن گناھوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ہیں ۔ان گناھوں کو بخش دے جو دعاوں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ہیں ۔

الدُّعٰآءَاللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلآٰءَاللّٰهُمَّ اغْفِرْلي کُلَّ ذَنْبٍ اذْنَبْتُهُ، وَکُلَّ خَطٓیئَةٍ اخْطٰاتُهٰا

ان گناھوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ہوتے ہیں۔ خدایا میرے تمام گناھوں اور میری تمام خطاوں کو بخش دے۔

اللّٰهُمَّ إِنِّي اتَقَرَّبُ إِلَیْکَ بِذِکْرِکَ،وَاسْتَشْفِعُ بِکَ إِلٰی نَفْسِکَ،وَاسْالُکَ

خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رھاھوں اور تیری ذات ہی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رھا ہوں تیرے کرم کے سھارے میرا سوال ہے

بِجُودِکَ انْ تُدْنِیَني مِنْ قُرْبِکَ،وَاَنْ تُوزِعَنِي شُکْرَکَ،وَاَنْ تُلْهِمَنِي ذِکْرَکَ،اللّٰهُمَّ إِنّي اسْالُکَ

کہ مجھے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الھام کرامت فرما۔خدایامیں نھایت درجہ

سُوٰالَ خٰاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خٰاشِعٍ انْ تُسٰامِحَنيوَتَرْحَمَنِي وَتَجْعَلَنِي بِقِسْمِکَ رٰاضِیاً

خشوع ،خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کرر ہاھوں کہ میرے ساتھ مھربانی فرما۔مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میںھے مجھے

قٰانِعاً،وَفي جَمیعِ الْاحْوٰالِ مُتَوٰاضِعاً

اسی پر قانع بنادے۔مجھے ہر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔

اللّٰهُمَّ وَاسْا لُکَ سُوٰالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فٰاقَتُهُ،وَانْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدٰائِدِ

خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ہوں

حٰاجَتَهُ،وَعَظُمَ فیمٰا عِنْدَکَ رَغْبَتُهُاللّٰهُمَّ عَظُمَ سُلْطٰانُکَ،وَعَلٰا مَکٰانُکَ،وَخَفِيَ

اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ہو۔خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔تیری تدبیر مخفی ۔

مَکْرُکَ،وَظَهَرَ امْرُکَ،وَغَلَبَ قَهْرُکَ،وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ،وَلٰا یُمْکِنُ الْفِرٰارُمِنْ حُکُومَتِکَ

تیرا امر ظاھر۔تیرا قھر غالب اور تیری قدرت نافذ ہے اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ہے۔

اللّٰهُمَّ لاٰاجِدُ لِذُنِوبيغٰافِراً،وَلاٰ لِقَبٰائِحيسٰاتِراً،وَلاٰلِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبیحِ

خدایا میرے گناھوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،میرے قبیح اعمال

بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ،لاٰإِلٰهَ إِلاَّ انْتَ سُبْحٰانَکَ وَبِحَمْدِکَ،ظَلَمْتُ نَفْسِي،ُ

کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ تو وحدہ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ہے۔خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔

وَتَجَرَّات بِجَهْلي،وَسَکَنْتُ إِلٰی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لي،وَمَنِّکَ عَلَيَّ

اپنی جھالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ہوں کہ تونے مجھے ہمیشہ یا د رکھا ہے اور ہمیشہ احسان فرمایا ہے۔

اللّٰهُمَّ مَوْلاٰيَ کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَهُ،وَکَمْ مِنْ فٰادِحٍ مِنَ الْبَلآٰءِ اقَلْتَهُ،وَکَمْ مِنْ

خدایا میرے کتنے ہی عیب ہیں جنھیں تونے چھپا دیا ہے اور کتنی ہی عظیم بلائیں ہیں جن سے تونے بچایا ہے۔کتنی ٹھوکریں ہیں

عِثٰارٍوَقَیْتَهُ،وَکَمْ مِنْ مَکْرُوهٍ دَفَعْتَهُ،وَکَمْ مِنْ ثَنٰاءٍ جَمیلٍ لَسْتُ اهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ

جن سے تونے سنبھالا ہے اور کتنی برائیاں ہیں جنھیں تونے ٹالا ہے۔کتنی ہی اچھی تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نہیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ہے ۔

اللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَافْرَطَ بيسُوٓءُ حٰالي،وَقَصُرَتْ بياعْمٰالِي،وَقَعَدَتْ

خدایا میری مصیبت عظیم ہے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ہوئی ہے ۔میرے اعمال میں کوتاھی ہے۔مجھے کمزوریوں

بِياغْلاٰلِي،وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ امَلِي وَخَدَعَتْنِي الدُّنِّیٰا بِغُرُورِهٰاوَنَفْسي بِجِنٰایَتِهٰا

کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ہے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے،دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ہے ۔

وَمِطٰالي یٰاسَیِّدِي،فَاسْالُکَ بِعِزَّتِکَ انْ لاٰیَحْجُبَ عَنْکَ دُعٰائِي سُوٓءُ عَمَلِي و َفِعٰالِي،

میرے آقا و مولا! تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاوں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں

وَلاٰتَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنْ سِرِّي،وَلاٰ تُعٰاجِلْني بِالْعُقُوبَةِ عَلٰی مٰا عَمِلْتُهُ

اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاوں۔میں نے تنھا ئیوں میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی سزا فی الفور نہ

فيخَلَوٰاتي مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَإِسٰائَتِي،وَدَوٰامِ تَفْریطي وَجَهٰالَتِي، وَکَثْرَةِ شَهَوٰاتي وَ غَفْلَتِي

ملنے پائے، چاھے وہ غلطیاں بد عملی کی شکل میں ہو ں یا بے ادبی کی شکل میں،مسلسل کوتاھی ہو یا جھالت یا کثرت خواھشات و غفلت۔

وَکْنِ اللّٰهُمَّ بِعِزَّتِکَ لي فی کُلِّ الْاحْوٰالِ رَؤُوفاً،وَعَلَيَّ في جَمیعِ الْاُمُورِ

خدایا مجھ پرھر حال میں مھربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔خدایا۔پروردگار۔میرے پاس

عَطُوفاً،إِلٰهيوَرَبّيمَنْ لي غَیْرُکَ،اسْالُهُ کَشْفَ ضُرّي، وَالنَّظَرَ فيامْرِي

تیرے علاوہ کون ہے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرماسکے۔

إِلٰهي وَمَوْلاٰيَ اجْرَیْتَ عَلَيّحُکْماً اتَّبَعْتُ فیهِ هَویٰ نَفْسي،وَلَمْ احْتَرِسْ فیهِ مِنْ

خدایا مولایا۔تونے مجھ پر احکام نافذ کئے اور میں نے خواھش نفس کا اتباع کیا اور اس با ت کی پرواہ نہ کی کہ دشمن

تَزْیینِ عَدُوِّي،فَغَرَّنِي بِمٰااهْویٰ وَاسْعَدَهُ عَلٰی ذٰلِکَ الْقَضٰٓاءُ فَتَجٰاوَزْتُ بِمٰاجَریٰ عَلَيَّ مِنْ

(شیطان) مجھے فریب دے رھا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خواھش کے سھارے مجھے دھوکہ دیا اور میرے مقدر نے بھی اس کا سا تھ دےدیا

ذٰلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،وَخٰالَفْتُ بَعْضَ اوٰامِرِکَ

اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا ۔

فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَيَّ فيجَمیعِ ذٰلِکَ،وَلاٰحُجَّةَ لِي فِیمٰاجَریٰ عَلَيَّ فیهِ قَضٰاوکَ،

بھر حال اس معاملہ میں میرے ذمہ تیری حمد بجالانا ضروری ہے اور اب تیری حجت ہر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ہے اور میرے پاس

وَالْزَمَنِيحُکْمُکَ وَبَلٰاوکَ،وَقَدْ اتَیْتُکَ یٰاإِلٰهِي بَعْدَ تَقْصیرِي وَإِسْرٰافِيعَلٰی نَفْسِي،

تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔اب میں ان تمام کوتاھیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں

مُعْتَذِراًنٰادِماً مُنْکَسِراًمُسْتِقیلًا مُسْتَغْفِراً مُنیباًمُقِرّاً مُذْعِناًمُعْتَرِفاً، لاٰ اجِدُ مَفَرّاًمِمّٰا کٰانَ مِنّي،

کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ہو رھاھوں کہ میرے پاس ان گناھوں سے بھاگنے کے لئے کوئی

وَلاٰمَفْزَعاًاتَوَجَّهُ إِلَیْهِ فيامْرِي غَیْرَ قَبُولِکَ عُذْرِي،وَإِدخٰالِکَ إِیّٰايَ في سَعَةِ رَحْمَتِکَ

جائے فرار نہیں ہے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تواپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔

اللّٰهُمَّ فَاقْبَلْ عُذْري،وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي،وَفُکَّنِيمِنْ شَدِّ وَثٰاقِي،یٰارَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي،

لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما ۔میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔مجھے شدید قید وبند سے نجات عطا فرما۔پروردگار میرے بدن کی کمزوری،

وَرِقَّةَ جِلْدي،وَدِقَّةَ عَظْمي،یٰامَنْ بَدَاخَلْقِي وَذِکْرِي وَتَرْبِیَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِیَتي هَبْني لِابْتِدٰاءِ

میری جلد کی نرمی اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما۔اے میرے پیداکرنے والے ۔اے میرے تربیت دینے والے۔

کَرَمِکَ وَسٰالِفِ بِرِّکَ بي

اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرمادے۔

یٰاإِلٰهِيوَسَیِّدِي وَرَبِّي،اتُرٰاکَ مُعَذِّبِي بِنٰارِکَ بَعْدَ تَوْحیدِکَ،وَبَعْدَمَاانْطَویٰ

پروردگار!کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدہ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے، یا میرے

عَلَیْهِ قَلْبِيمِنْ مَعْرِفَتِکَ،وَلَهِجَ بِهِ لِسٰانِيمِنْ ذِکْرِکَ،وَاعْتَقَدَهُ ضَمیرِي مِنْ

دل میں اپنے معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابراسے برباد بھی کردے ،

حُبِّکَ،وَبَعْدَصِدْقِ اعْتِرٰافِيوَدُعٰائِيخٰاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ،هَیْهٰاتَ،انْتَ اکْرَمُ مِنْ انْ تُضَیِّعَ

تیری محبت جاگزیں رھی ہے۔میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ہوں۔اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے تونے پالا ہے

مَنْ رَبَّیْتَهُ،اوْ تُبْعِدَ مَنْ ادْنَیْتَهُ،اوْتُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَهُ،اوْتُسَلِّمَ إِلَی الْبَلاٰءِ مَنْ کَفَیْتَهُ وَرَحِمْتَهُ

جسے تونے قریب کیا ہے اسے دور کردے۔جسے تونے پناہ دی ہے اسے راندہ درگاہ بنادے اور جس پر تونے مھربانی کی ہے اسے بلاوں کے حوالے کردے۔

وَلَیْتَ شِعْري یٰاسَیِّدي وَإِلٰهي وَمَوْلٰايَاتُسَلِّطُ النّٰارَعَلٰی وُجُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ

میرے سردار ۔میرے خدامیرے مولا ! کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چھرے تیرے سامنے سجدہ ریز رھے ہیں ان پر بھی توآگ کو مسلط کردے گا

سٰاجِدَةً،وَعَلٰی الْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحیدِکَ صٰادِقَةً،وَبِشُکْرِکَ مٰادِحَةً،وَعَلٰی قُلُوبٍ

اور جو زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رھی ہیں اور تیری حمد وثنا کرتی رھی ہیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی

اعْتَرَفَتْ بِإِلٰهِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً،وَعَلٰی ضَمٰائِرَحَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتّٰی صٰارَتْ خٰاشِعَةً،وَ

کا اقرار ہے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ہیں کہ تیرے سامنے خاضع وخاشع ہیں یا جواعضاء و جوارح تیر ے مراکز

عَلٰی جَوٰارِحَ سَعَتْ إِلٰی اوْطٰانِ تَعَبُّدِکَ طٰائِعَةً،وَاشٰارَتْ بِاسْتِغْفٰارِکَ مُذْعِنَةً۔

عبادت کی طرف ہنسی خوشی سبقت کرنے والے ہیں اور تیرے استغفا ر کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ہیں ؛ان پر بھی تو عذاب کرے گا۔

مٰاهٰکَذَا الظَّنُّ بِکَ،وَلاٰاُخْبِرْنٰابِفَضْلِکَ عَنْکَ یٰاکَریمُ یٰارَبِّ،وَانْتَ تَعْلَمُ

ھر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نہیں ہے اور نہ تیرے فضل وکرم کے بارے میں ایسی کو ئی اطلاع ملی ہے ۔

ضَعْفيعَنْ قَلیلٍ مِنْ بَلاٰءِ الدُّنْیٰا وَ عُقُوبٰاتِهٰا، وَمٰا یَجْرِي فیهٰامِنَ الْمَکٰارِهِ عَلٰی اهْلِهٰا،

پروردگار اتو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نہیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں

عَلٰی انَّ ذٰلِکَ بَلاٰءٌ وَمَکْرُوهٌ قَلیلٌمَکْثُهُ،یَسیرٌ بَقٰائُهُ، قَصِیرٌ مُدَّتُهُ، فَکَیْفَ احْتِمٰالِي لِبَلاٰءِ الْآخِرَةِ،

قابل تحمل ہیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ہے۔تو میں ان آخرت کی بلاوں کو کس طرح برداشت کروں گا

وَجَلیلِ وُقُوعِ الْمَکٰارِهِ فیهٰا،وَهُوَبَلاٰءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ،وَیَدُومُ مَقٰامَهُ،وَلاٰیُخَفَّفُ عَنْ

جن کی سختیاں عظیم،جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ہے۔جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اس لئے کہ یہ بلائیں

اهْلِهِ،لِانَّهُ لاٰیَکُونُ إِلاّٰ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقٰامِکَ وَسَخَطِکَ،وَهٰذٰا مٰالاٰتَقُومُ لَهُ السَّمٰاوٰاتُ

تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کی تاب زمین وآسمان نہیں لاسکتے ،تو میں ایک بندہ ضعیف و ذلیل

وَالْاَرْضُ، یا سَیِّدِي،فَکَیْفَ لِي وَانٰاعَبْدُکَ الضَّعیفُ الذَّلیلُ الْحَقیرُ الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ

و حقیر ومسکین وبے چارہ کیا حیثیت رکھتا ہوں؟!

یٰاإِلٰهي وَرَبّي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ،لِايِّ الْاُمُورِإِلَیْکَ اشْکُو،وَلِمٰامِنْهٰااضِجُّ

خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔میرے مولا! میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور

وَابْکي،لِالیمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِهِ،امْ لِطُولِ الْبَلاٰءِ وَ مُدَّتِهِ،فَلَئِنْ صَیَّرْتَنيلِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ

گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تونے

اعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَیْني وَ بَیْنَ اهْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَیْنِي وَبَیْنَ احِبّٰائِکَ

ان سزاوں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اہل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احباء اور

وَاوْلِیٰائِکَ،فَهَبْنِِي یٰاإِلٰهي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ وَرَبِّي،صَبَرْتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکَیْفَ

ولیاء کے درمیان جدائی ڈال دی ۔تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں

اصْبِرُعَلٰی فِرٰاقِکَ،وَهَبْنِي صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نٰارِکَ فَکَیْفَ اصْبِرُ عَنِ النَّظَرِإِلٰی

تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نھیںکر سکتا۔اگر آتش جھنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو

کَرٰامَتِکَ،امْ کَیْفَ اسْکُنُ فِی النّٰارِ وَرَجٰائِي عَفْوُکَ

برداشت نہیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جھنم میں جلادیا جاوں ۔

فَبِعِزَّتِکَ یٰا سَیِّدي وَمَوْلٰايَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَنينٰاطِقاً،لَاضِجَّنَّ إِلَیْکَ بَیْنَ

تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جھنم کے درمیان بھی

اهْلِهٰا ضَجیجَ الْآمِلینَ،وَلَاصْرُخَنَّ إِلَیْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخینَ،وَلَابْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکٰاءَ

امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ”عزیز گم کردہ “کی طرح تیری دوری

الْفٰاقِدینَ،وَلَاُنٰادِیَنَّکَ ایْنَ کُنْتَ یٰاوَلِيَّ الْمُومِنینَ،یٰاغٰایَةَ آمٰالِ الْعٰارِفینَ،یٰا غِیٰاثَ

پر آہ وبکا کروں گا اور تو جھاں بھی ہوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس۔

الْمُسْتَغیثینَ،یٰاحَبیبَ قُلُوبِ الصّٰادِقینَ،وَیٰا إِلٰهَ الْعٰالَمینَ

صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ہے۔

افَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ یٰاإِلٰهي وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فیهٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فیهٰا

اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جھنم میں

بِمُخٰالَفَتِهِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِهٰا بِمَعْصِیَتِهِ ،وَحُبِسَ بَیْنَ اطْبٰاقِهٰا بِجُرْمِهِ وَجَریرَتِهِ وَهُوَ یَضِجُّ

گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جھنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے

إِلَیْکَ ضَجیجَ مُومِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَیُنٰادیکَ بِلِسٰانِ اهْلِ تَوْحیدِکَ،وَ یَتَوَسَّلُ

اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار ِرحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز

إِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ

نھیں سنتا ہے۔

یٰامَوْلاٰيَ،فَکَیْفَ یَبْقٰی فِي الْعَذٰابِ وَهُوَیَرْجُوْمٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ،امْ کَیْفَ تُولِمُهُ

خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رھے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ

النّٰارُوَهُوَیَامُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،امْ کَیْفَ یُحْرِقُهُ لَهیبُهٰاوَانْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَرٰی

کرنے والا کسطرح جھنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جھنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رھا ہو

مَکٰانَهُ،امْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ زَفیرُهٰاوَانْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ،امْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اطْبٰاقِهٰا

ور اس کی منزل کو دیکھ رھا ہو،جھنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رھا ہوگا۔

وَانْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ،امْ کَیْفَ تَزْجُرُهُ زَبٰانِیَتُهٰاوَهُوَ یُنٰادیکَ یٰارَبَّهُ،امْ کَیْفَ یَرْجُوفَضْلَکَ

وہ جھنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جھنم کے فرشتے اسے کس طرحجھڑکیں گے

فيعِتْقِهِ مِنْهٰافَتَتْرُکُهُ فیهٰا،هَیْهَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ

جبکہ وہ تجھے آواز دے رھا ہوگا اور تو اسے جھنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوگا ،ھر گزتیرے بارے

فَضْلِکَ،وَلامُشْبِهٌ لِمٰاعٰامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاحْسٰانِکَ

میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نہیں ہے ۔تونے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاو کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔

فَبِا لْیَقینِ اقْطَعُ لَوْلاٰمٰاحَکَمْتَ بِهِ مِنْ تَعْذیبِ جٰاحِدیکَ،وَقَضَیْتَ بِهِ مِنْ إِخْلاٰدِ

میں تویقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوھمیشہ جھنم

مُعٰانِدیکَ لَجَعَلْتَ النّٰارَکُلَّهٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِاحَدٍ فیهٰا مَقَرّاً وَلاٰ مُقٰاماً، لٰکِنَّکَ

میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جھنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔

تَقَدَّسَتْ اسْمٰاوکَ اقْسَمْتَ انْ تَمْلَاهٰا مِنَ الْکٰافِرینَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ اجْمَعینَ،وَ انْ

لیکن تونے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ہے کہ جھنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا اور معاندین کو اس میں

تُخَلِّدَ فیهٰاالْمُعٰانِدینَ،وَانْتَ جَلَّ ثَنٰاوکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ بِالْإِنْعٰامِ مُتَکَرِّماً،افَمَنْ

ھمیشہ ہمیشہ رکھے گا۔اور تونے ابتداھی سے یہ کہہ دیا ہے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ”مومن

کٰانَ مُومِناًکَمَنْ کٰانَ فٰاسِقاً لاٰیَسْتَوُوْنَ

اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے“۔

إِلٰهي وَسَیِّدِي،فَاسْالُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي قَدَّرْتَهٰا، وَ بِالْقَضِیَّةِ الَّتي

تو خدایا ۔مولایا۔میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت اور ہر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر

حَتَمْتَهٰا وَ حَکَمْتَهٰا، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْهِ اجْرَیْتَهٰا،انْ تَهَبَ لِي فِي هٰذِهِ اللَّیْلَةِ وَفي هٰذِهِ السّٰاعَةِ

تجھ سے سوال کرتاھوں کہ مجھے اِسی رات میں اور اِسی وقت معاف کردے ۔میرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری

کُلَّ جُرْمٍ اجْرَمْتُهُ،وَکُلَّ ذَنْبٍ اذْنَبْتُهُ،وَکُلَّ قَبیحٍ اسْرَرْتُهُ،وَکُلَّ جَهَلٍ عَمِلْتُهُ،کَتَمْتُهُ

ظاھری اور باطنی برائیاں اور ساری جھالتیں جن پر میں نے خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان ،چھپا کر یا ظاھر کر کے عمل کیا ہے اور میری

اوْاعْلَنْتُهُ،اخْفَیْتُهُ اوْ اظْهَرْتُهُ،وَکُلَّ سَیِّئَةٍ امَرْتَ بِإِثْبٰاتِهاَ الْکِرٰامَ الْکٰاتِبینَ،اَلَّذینَ وَکَّلْتَهُمْ

تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ہے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ہے اور میرے

بِحِفْظِ مٰایَکُونُ مِنِّي،وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداًعَلَيَّمَعَ جَوٰارِحِي،وَکُنْتَ انْتَ الرَّقیبَ عَلَيَّ

اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کررھا ہے اور جوان سے مخفی

مِنْ وَرٰائِهِمْ، وَالشّٰاهِدَ لِمٰاخَفِيَ عَنْهُمْ، وَبِرَحْمَتِکَ اخْفَیْتَهُ، وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَهُ،وَانْ تُوَفِّرَ حَظِّي

رہ جائے اس کا گواہ ہے سب کو معاف فرمادے۔یہ تو تیری رحمت ہے کہ تونے انھیں چھپا دیا ہے اور اپنے فضل وکرم سے ان عیوب پر پر

مِنْ کُلِّ خَیْرٍانْزَلْتَهُ ،اوْإِحْسٰانٍ فَضَّلْتَهُ،اوْ بِرٍّ نَشَرْتَهُ،اوْرِزْقٍ بَسَطْتَهُ،اوْذَنْبٍ

دہ ڈال دیا ہے۔میرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے ہر خیر و احسان اور نشر ہونے والی ہرنیکی ۔ھر وسیع رزق۔

تَغْفِرُهُ،اوْخَطَاءٍ تَسْتُرُهُ

ھر بخشے ہوئے گناہ۔عیوب کی ہر پردہ پوشی میں سے میرا وافر حصہ قرار دے۔

یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ، یٰاإِلٰهي وَسَیِّدِي وَمَوْلٰايَ وَمٰالَکَ رِقّي، یٰامَنْ بِیَدِهِ

اے میرے رب ۔اے میرے رب۔اے میرے رب۔اے میرے مولا اور آقا! اے میری بندگی کے مالک۔اے

نٰاصِیَتِي،یٰاعَلیماً بِضُرِّي وَمَسْکَنَتي،یٰاخَبیراً بِفَقْرِي وَ فٰاقَتِي

میرے مقدر کے صاحب اختیار۔ اے میری پریشانی اور بے نوائی کے جاننے والے ۔اے میرے فقر و فاقہ کی اطلاع رکھنے والے!

یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ،اسْالُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ،وَاعْظَمِ صِفٰاتِکَ

اے میرے پروردگار ۔اے میرے رب۔اے میرے رب! تجھے تیری قدوسیت ۔تیرے حق اور تیرے عظیم ترین اسماء

وَاسْمٰائِکَ،انْ تَجْعَلَ اوْقٰاتِي مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّهٰارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً،وَبِخِدْمَتِکَ

وصفات کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتاھوں کہ دن اور رات میں جملہ اوقات اپنی یاد سے معمور کردے۔اپنی خدمت کی مسلسل توفیق عطا

مَوْصُولَةً،وَاعْمٰاليعِنْدَکَ مَقْبُولَةً،حَتّٰی تَکُونَ اعْمٰاليوَاوْرٰادِي کُلُّهٰاوِرْداً

فرما۔میرے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول قرار دے تاکہ میرے جملہ اعمال اور جملہ اوراد (یعنی ورد کی جمع) سب تیرے لئے

وَاحِداً،وَحٰالِي في خِدْمَتِکَ سَرْمَداً

ھوں۔ اور میرے حالات ہمیشہ تیری خدمت کے لئے وقف رھیں۔

یٰاسَیِّدِي یَامَنْ عَلَیْهِ مُعَوَّلِي،یٰا مَنْ إِلَیْهِ شَکَوْتُ احْوٰالي،یٰارَبِّ یٰارَبِّ

میرے مولا۔میرے مالک! جس پر میرا اعتماد ہے اور جس سے میں اپنے حالات کی فریاد کرتا ہوں۔

یٰارَبِّ،قَوِّعَلٰی خِدْمَتِکَ جَوٰارِحِي،وَاشْدُدْ عَلَی الْعَزیمَةِ جَوٰانِحِي،وَهَبْ لِيَ الْجِدَّ في

۔اے رب۔ اے رب۔ اے رب! اپنی خدمت کے لئے میرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے میرے ارادہ دل کو

خَشْیَتِکَ،وَالدَّوٰامَ فِي الْإِتِّصٰالِ بِخِدْمَتِکَ،حَتّٰی اسْرَحَ إِلَیْکَ فيمَیٰادینِ السّٰابِقینَ،وَ

مستحکم بنادے۔اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے

اسْرِعَ إِلَیْکَ فِي الْبٰارِزینَ،وَاشْتٰاقَ إِلٰی قُرْبِکَ فِي الْمُشْتٰاقینَ،وَادْنُوَ مِنْکَ

بڑھوں اور تیز رفتار افراد کے ساتھ قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصین کی طرح تیری

دُنُوَّالْمُخْلِصینَ،وَاخٰافَکَ مَخٰافَةَ الْمُو قِنینَ،وَ اجْتَمِعَ فِي جِوٰارِکَ مَعَ الْمُومِنینَ

قربت اختیار کروں۔صاحبان یقین کی طرح تیرا خوف پیدا کروں اور مومنین کے ساتھ تیرے جوار میں حاضری دوں۔

اللّٰهُمَّ وَمَنْ ارٰادَنِي بِسُوءٍ فَارِدْهُ وَمَنْ کٰادَنِيفَکِدْهُ،وَاجْعَلْنِيمِنْ احْسَنِ عَبیدِکَ

خدایا جو بھی کوئی میرے لئے برائی چاھے یا میرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویساھی بدلہ دینا اور مجھے بہترین حصہ پانے

نَصِیباً عِنْدَکَ،وَاقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ،وَاخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَیْکَ،فَإِنَّهُ لاٰیُنٰالُ ذٰلِکَ

والا ،قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تیرے جود وکرم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

إِلاّٰبِفَضْلِکَ،وَجُدْ لِي بِجُودِکَ،وَاعْطِفْ عَلَيَّ بِمَجْدِکَ،وَاحْفَظْنِي بِرَحْمَتِکَ،وَاجْعَلْ

خدایا میرے اوپرکرم فرما۔اپنی بزرگی سے، رحمت نازل فرما اپنی رحمت سے میرا تحفظ فرمااورمیری زبا ن کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔

لِسٰانِي بِذِکْرِکَ لَهِجاً،وَقَلْبِي بِحُبِّکَ مُتَیَّماً،وَمُنَّ عَلَيَّ بِحُسْنِ إِجٰابَتِکَ،وَاقِلْنِي

میرے دل کو اپنی محبت کا عاشق بنادے اور مجھ پر بہترین قبولیت کے ساتھ احسان فرما۔

عَثْرَتِي،وَاغْفِرْ زَلَّتِي،فَإِنَّکَ قَضَیْتَ عَلٰی عِبٰادِکَ بِعِبٰادَتِکَ،وَامَرْتَهُمْ

میری لغزشوں سے در گذرفرما۔تو نے اپنے بندوں پر عبادت فرض کی ہے ۔انھیں دعا کا حکم دیا ہے

بِدُعٰائِکَ،وَضَمِنْتَ لَهُمُ الْإِجٰابَةَ

اوران سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔

فَإِلَیْکَ یٰارَبِّ نَصَبْتُ وَجْهِي،وَإِلَیْکَ یٰارَبِّ مَدَدْتُ یَدِي،

اب میں تیری طرف رخ کئے ہوئے ہوں اور تیری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے ہوں ۔تیری عزت کا واسطہ میری

فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِيدُعٰائِي،وَبَلِّغْنِي مُنٰايَ،وَلاٰتَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجٰائِي،

دعا قبول فرما، مجھے میری مراد تک پھنچادے۔ اپنے فضل وکرم سے میری امیدوں کو منقطع نہ فرمانا۔مجھے تمام

وَاکْفِنِي شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ اعْدٰائِي

دشمنان جن وانس کے شر سے محفوظ فرمانا۔

یٰا سَریعَ الرِّضٰا،إِغْفِرْ لِمَنْ لاٰیَمْلِکُ إِلَّا الدُّعٰاءَ،فَإِنَّکَ فَعّٰالٌ لِمٰا تَشٰاءُ،یٰا مَنِ

اے بہت جلد راضی ہوجانے والے ! اس بندہ کو بخش دے جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نہیں ہے کہ توھی ہر شے کا

اسْمُهُ دَوٰاءٌ،وَذِکْرُهُ شِفٰاءٌ،وَطٰاعَتُهُ غِنیً،إِرْحَمْ مَنْ رَاسُ مٰالِهِ الرَّجٰاءُ،وَسِلاٰحُه الْبُکٰاءُ،

صاحب اختیار ہے۔اے وہ پروردگار جس کانام دوا،جس کی یاد شفا اور جس کی اطاعت مالداری ہے، اس بندہ پر رحم فرماجس کا سرمایہ فقط

یٰاسٰابِغَ النِّعَمِ،یٰادٰافِعَ النِّقَمِ،یٰا نُورَ الْمُسْتَوْحِشینَ فِي الظُّلَمِ ،یٰا عٰالِماً لاٰ یُعَلَّمُ،صَلِّ عَلٰی

امیداور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے، اے کامل نعمتیں دینے والے ۔ اے مصیبتوں کو رفع کرنے والے اور تاریکیوں میں وحشت زدوں کو

مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ،وَافْعَلْ بِي مٰاانْتَ اهْلُهُ،وَ صَلَّی اللّٰه عَلٰی رَسُولِهِ وَالْائِمَّةِ الْمَیٰامینَ مِنْ

روشنی دینے والے ۔محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور میرے ساتھ وہ برتاو کر جس کا تواہل ہے۔اپنے رسول اور ان کی مبارک ”آل

آلِهِ ،وَسَلَّمَ تَسْلیماً کَثیراً

آئمہ معصومین(ع)“پر صلوات و سلام فراوان نازل فرما۔

دعا کی اھمیت

دعا؛ خداوندعالم کی بارگاہ میں احتیاج اور ضرورت کے اظھار کا نام ہے۔

دعا؛ کائنات کے مالک اور ہر شئے سے بے نیازکی بارگاہ میں فقر وناداری کے بیان کا نام ہے۔

دعا؛ کریم باوفا کے دروازہ پر بے نوا فقیر کی التجا اور قادر مطلق کی بارگاہ میںکمزوروناتواںکے جھولی پھیلانے کا نام ہے۔

دعا؛ رحمن ورحیم ،حکیم وکریم ،سمیع وبصیرپروردگارکی بارگاہ میں ؛ضعیف و ناتواں، فقیر و مسکین اور ذلیل و مستکین بندہ کی امداد طلب کرنے کا نام ہے۔

دعا؛ خداوندکریم ، مالک الملک ، غفور وودود ،علیم وقدیرخدائے یگانہ اور بے عیب حکمراںکی بارگاہ میں تواضع وانکساری خشوع اور خضوع سے پیش ہونے کا نام ہے۔

دعا؛ محبوب خدا، معشوق زاھدین، نور چشم عارفین،راز ونیاز مشتاقین، مصیبت کے ماروں کی رات کا اجالا،غریبوں کی تکیہ گاہ اور محتاجوں کے دل کا چراغ ہے۔

دعا ،قرآن کی روشنی میں

فیض بے نھایت کا مرکز، جود وکرم کا موجیں مارتا ہوا سمندر، ہدایت ورھبری کا انتظام کرنے والا، علم ودانش کو نازل کرنے والاخداوندرب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( قُلْ مَا یَعْبَا بِکُمْ رَبِّی لَوْلاَدُعَاؤُکُمْ ) ۔۔۔“[۲]

”(اے پیغمبر ! ) کہہ دو اگر تمھاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمھاری پروا بھی نہ کرتا“۔

دعا؛ خدا وندعالم کی توجہ کا وسیلہ اور دعا کرنے والے پر رحمت الٰھی کے نزول کا سبب ہے، جس کے ذریعہ انسانی زندگی سے شقاوت اور بدبختی کا خاتمہ ہوجاتا ہے، اور دعا کرنے والے کی زندگی میں سعادت او رخوش بختی آجاتی ہے۔

محبت کرنے والوں کا محبوب، عشق کرنے والوں کا معشوق، یاد کرنے والوں کا مونس و غنموا اور شکر گزاروں کا ہمنشین،نیز بندوںکا ناصر ومدد گار اور اہل دل حضرات کا معتمد قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَإِذَا سَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ اجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِی إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُونَ ) ۔“[۳]

”اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں، پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں، جب بھی پکارتا ہے ،لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں اور مجھ پر ہی ایمان و اعتماد رکھیں شاید اس طرح راہ راست پر آجائیں“۔

جی ہاں! خدا کے علاوہ کوئی بھی بندوں سے قریب نہیں ہے، وہ ایسا قریب ہے جس کی وجہ سے انسان وجود میں آیا ہے، اسی نے شکم مادر میں اس کی پرورش کی ہے، رحم مادر سے اس دنیا میں بھیجا ہے، اپنے اس مھمان کے لئے دنیا کی تمام مادی اور معنوی نعمتیں فراھم کی ہےں، اس کی ہدایت اور دنیا وآخرت میں اس کی سعادت اور خوشبختی کے لئے انبیاء کرام کو بھیجا ہے، اور قرآن کریم اور ائمہ معصومین علیھم السلام جیسی بے مثال نعمت سے نوازا ہے، اس کی پیاس کے وقت صاف اور شفاف پانی پیدا کیا ، اس کے کھانے کے لئے مناسب ترین لذیذ غذائیں فراھم کی ہیں اور اس کی بیماریوں کے علاج کا بندوبست کیا۔تنھائی کو دور کرنے کے لئے بیوی بچے اور دوست مھیا کئے۔بدن چھپانے کے لئے مختلف قسم کے کپڑے پھنائے۔لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈالی، اس کی سخت سے سخت مشکلات کو آسان کیا اس کی صحت و سلامتی کو باقی رکھا ،اس کے مرتبہ اور وقار میں اضافہ کیا۔

یہ تمام نعمتیں خدا کے علاوہ اور کون دے سکتا ہے، اور خدا کے علاوہ کون ہے جو انسان کی تمام ضرورتوں اور حاجتوں کو جانتا ہو؟ یقینا صرف خدا ہی ہے جو انسان کے سب سے زیادہ نزدیک ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ اقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ ) ۔“[۴]

” اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کا نفس کیا کیا وسوسے پیدا کرتا ہے اور ہم اس سے رگِ گردن سے زیادہ قریب ہیں“۔

انبیائے کرام جو عقل ودرایت ، بصیرت اور کرامت کے لحاظ سے تمام انسانوں سے افضل ہیں اور ان کے دل ودماغ دوسروں سے زیادہ نورانی ہیں، ان کا علم غیب و شھود دونوں کی بہ نسبت کامل اور ایک جیسا ہے، اور تمام چیزوں کی حقیقت کو اسی طرح جانتے ہیں جس طرح سے ہیں، وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے ساتھ وابستگی قائم کئے رکھتے تھے اور ان کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہ آتا تھا جس میں اپنی عمر کا کچھ حصہ دعا میں بسر نہ کرتے ہوں، اور دعا کے ذریعہ اپنے محبوب کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوتے ہوں۔

کیوں نہ ہو یہ حضرات دعا کو اپنی ترقی کا ذریعہ ،روح کے لئے رشد ، دل کی پاکیزگی اور باطن سے مادیت کا غبار ہٹانے کا ذریعہ اور زندگی کی راہ میں خداوندعالم کے فراق سے پیدا ہونے والی تمام مشکلات کا حل سمجھتے تھے،انھیں اس بات کا یقین تھا کہ خدا کی بارگاہ میں دعا کرنے والا کوئی بھی انسان اپنی حاجت لئے بغیر واپس نہیں پلٹتا۔ اسی وجہ سے دعا کے قبول ہونے پر ایمان رکھتے تھے اور ذرہ برابر بھی شک وترد ید کا شکار نہیں ہوتے تھے، وہ اپنی تمام دعاؤں کے قبول ہونے کے لئے نھایت خضوع کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کرتے تھے اور انھیں سوفیصد اطمینان ہوتا تھا کہ ایک محتاج اور نیازمند کی دعا بے نیاز کی بارگاہ میں قبول ہوگی۔

قرآن مجید نے اس حقیقت کو واضح طور پر حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زبان سے اس طرح بیان کیا ہے:

( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ ) ۔“[۵]

”شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی، بے شک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے“۔

دعااس طاقت کا نام ہے کہ جس کے ذریعہ حضرت زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے کے عالم میں خداوند رحمن کی بارگاہ میں بیٹے کی درخواست کی اور خداوندعالم نے آپ کی دعا کو مستجاب فرمایا اور آپ اور آپ کی بیوی (جو دونوں ہی بوڑھے تھے) کو حضرت یحییٰ جیسا فرزند عطا کیا۔[۶]

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی خواھش اور اصرار پر خداوندعالم کی بارگاہ میں آسمان سے دسترخوان نازل ہونے کی دعا فرمائی، جس کو خداوندعالم نے مستجاب فرمایا اور ان کے اصحاب ودوستوں کے لئے آسمان سے بہترین غدا نازل فرمائی۔[۷]

خداوندعالم نے اپنے بندوں کو ہر حال میں دعا کرنے ، ہرخوشی اورغم میں اپنی بارگاہ میں سرِ تسلیم خم کرنے کا حکم دیاھے، اور اس کی بارگاہ رحمت میں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کریں اور ٹوٹے ہوئے دل کی وجہ سے آنکھوں سے نکلے ہوئے آنسو وؤں کے ساتھ اپنی حاجتوں کو خدا کے سامنے پیش کریں اوراس کے حتمی وعدے کے پیش نظر اپنی دعا کے قبول ہونے کی امید رکھےں، اس کا واضح اعلان ہے :”جو شخص دعا سے منھ موڑے گا، ذلیل وخوار ہوگا، اور آخر کار جھنم میں داخل کردیا جائے گا، جیسا کہ سورہ مومن (غافر) میں خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی اسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَ ) ۔“[۸]

”اور تمھارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا، اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جھنم میں داخل ہوں گے“۔

دعا کی اھمیت احادیث کی روشنی میں

خداوندعالم کا تمام مخلوقات پربہت بڑا احسان ہے خصوصاً انسان پرکہ اس نے اپنی بے انتھا رحمت کا دسترخوان بچھایا اور اس کا لطف و کرم سبھی کے لئے عام ہے۔

اس کی بارگاہ سے کوئی ناامید نہیں ہوتا، اس کی بارگاہ سے کسی کو دھتکارا نہیں جاتااور اس کی بارگاہ میں کسی طرح کا کوئی بخل روا نہیں ہے۔

اس کا جود وکرم اور اس کی بخشش دائمی ہے، اور اس کی عطا سبھی تک پھنچے والی ہے، اور وہ خود منتظر ہے کہ اس کے بندے اس کی درگاہ میں پیش ہوں۔

حضرت داؤد علیہ السلام سے خطاب ہوا:

اہل زمین سے کھو: کیوں مجھ سے دوستی نہیں کرتے؟ کیا میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں ایسا خدا ہوں جس کے یھاں بخل نہیں ہے، اورمیرے علم میں جھل کا تصور نھیں، میرے صبر میں کمزوری کا دخل نھیں،میری صفت میں تبدیلی کا کوئی تصور نھیں، میرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا، میری رحمت بے کراں ہے، اور اپنے فضل وکرم سے واپس نہیں پلٹتا، روز ازل سے میں نے عھد کیا ہے، اور محبت کی خوشبومیں جل رھا ہوں، میں نے اپنے بندوں کے دل میں نور معرفت روشن کیا ہے، جو مجھے دوست رکھتا ہے میں بھی اس کو دوست رکھتا ہوں، اور جو میرا رفیق (اور ہمدم)ھے میں بھی اس کا رفیق (اور ہمدم )ھوں، اس کا ہم نشین ہوں جو شخص خلوت میں میرا ذکر کرتا ہے، اور اس کا مونس ہوں جو میری یاد سے مانوس ہوتاھے۔

اے داؤد ! جو شخص مجھے تلاش کرے گا میں اسے مل جاؤں گا، اور جس شخص کو میں مل جاؤں پھراس کو مجھے گم نہیں کرنا چاہئے۔ اے داود ! (تمام) نعمتیں ہماری طرف سے ہیں(تو پھر) دوسروں کا شکر کیوں ادا کیا جاتا ہے، ہم ہی تو بلاؤں کو دور کرتے ہیں، (پھر کیوں) دوسرے سے امید رکھی جاتی ہے، ہم ہی سب کو پناہ دینے والے ہیں تو پھر کیوں دوسروں کی پناہ تلاش کی جاتی ہے، مجھ سے دور بھاگتے ہیں لیکن آخر کار میری طرف آناھی پڑے گا۔!!

قارئین کرام ! ایسی خوبصورت اور معنی سے لبریز عبارتیں اسلامی کتب میں بہت زیادہ ملتے ہیں، اور ایسے کلمات، قرآن کریم کی آیات کے ساتھ ساتھ خداوندعالم کی طرف سے ایک عظیم خوشخبری ہے، جن کے ذریعہ خداکے بندے اس کے فضل وکرم کے امیدوار ہوسکتے ہیں، اور اپنی حاجت روائی کے لئے اس کی عظیم باگارہ میں دست دعا پھیلاسکتے ہیں، اور اس یقین کے ساتھ کہ اپنے مقاصد کو دعا ہی کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے، اور ایسا کم ہوتا ہے کہ انسان بغیر دعا کے اپنے کسی اھم مقصد تک پھونچ جائے۔ اسی وجہ سے اسلامی روایات خصوصاً اہل بیت وعصمت وطھارت علیھم السلام کے کلمات میں دعا کی عظمت اوراھمیت بیان کی گئی ہے۔

حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

”إنَّ الدُّعاءَ هُو العِبادَة “[۹]

”یقینا دعا ہی عبادت ہے“۔

اسی طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے یہ بھی نقل ہوا ہے:

الدُّعاءُ مُخُّ العِِبادَةِ “[۱۰]

”دعا مغز عبادت ہے“۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:

افضَلُ العِبادَةِ الدُّعاءُ “[۱۱]

”دعا بہترین عبادت ہے“۔

اسی طرح آپ نے ارشاد فرمایا:

”۔۔مَا مِن شیءٍ افضَلُ عِندَاللّهِ عزَّوجلَّ مِن ان یُسئَلَ ویُطْلَبَ مِمّا عِندَه ،ومااحَدٌ ابغضُ إِلی الله مِمّن یَستَکبِرُعَن عِبادَتِهِ وَلا یَسئَلُ ماعِندَهُ “ [۱۲]

”خدا کے نزدیک کوئی بھی چیز اس سے بہتر نہیں ہے کہ اس سے ان فیوض و برکات کی درخواست کی جائے جن کا وہ مالک ہے، اور کوئی شخص خدا کے نزدیک اس شخص سے زیادہ مبغوض نہیں ہے جو خدا کی بارگاہ میں دعا کرنے سے منھ موڑے، اور خدا کی بارگاہ سے فضل وکرم کا طلب گار نہ ہو“۔

حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے :

اَحَبُّ الاعْمَالِ إلَی اللهِ تَعَالیٰ فِی الْارْضِ اَلدُّعَاءُ “۔[۱۳]

”روئے زمین پر خدا کے نزدیک سب سے محبوب عمل دعا ہے“۔

اسی طرح آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

الدُّعاءُ مَفاتِیحُ النِّجَاحِ،ومَقالیدُ الفَلاحِ،وَخَیْرُ الدُّعاءِ مَاصَدَرَ عَن صَدْرٍ نَقِیٍّ وَقَلْبٍ تَقِیٍّ، وَفِی المُناجاةِ سََبَبُ النَّجاةِ وَبِالإخلاصِ یَکُوْنُ الْخَلاٰصُ،فَاذا اشتَدَّ الفَزَعُ فَإلَی اللّهِ المَفزَعُ “[۱۴]

”دعاکامیابی کی کلیداورکامرانی کا خزانہ ہے۔ اور بہترین دعا وہ ہے جو پاک وپاکیزہ سینہ اور پرھیزگار قلب سے نکلے، مناجات، نجات کا وسیلہ اور چھٹکارے کا ذریعہ ہے، اور جب انسان مشکلات میں گھر جائے تو اس کو چاہئے کہخدا کی بارگاہ کو اپنی پناہ گاہ قرار دے“۔

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

” ۔۔۔فَإذا نَزَلَ البَلاءُ فَعَلَیکُم بِالدُّعاءِ وَالتَّضَرُّعِ إلَی اللّهِ “[۱۵]

”جس وقت بلائیں نازل ہوں تو تمھیں چاہئے کہ دعا کرو اور بارگاہ رب العزت میں گریہ وزاری کے ساتھ حاضر ہو“۔

اسی طرح آپ کا ارشاد ہے:

عَلَیکَ بِالدُّعاءِ؛فَإنَّ فیهِ شِفاءً مِن کُلِّ داءٍ “[۱۶]

”تم لوگوں کو دعا کرنا چاہئے کیونکہ یھی ہر درد کی دوا ہے“۔

ایک ساتھ مل کر دعا کرنے کی اھمیت

جس وقت مومنین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دعا کرتے ہیں اور اجتماعی شکل میں خداوندعالم کی بارگاہ میں راز ونیاز ،توبہ اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور تمام لوگ اس کی بارگاہ میں دست گدائی پھیلاتے ہیں حقیقت میں ان کی دعا باب اجابت سے نزدیک ہوجاتی ہے، کیونکہ دعا کرنے والے اس مجمع میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جس کا دل ٹوٹا ہوا ہو یا جو حقیر و بے نواھو یا کوئی خدا کا عاشق یا کوئی عارف ہوگا یا کوئی باایمان مخلص ہوگاجس کے اخلاص ،گریہ وزاری اور اضطرار اور نالہ وفریاد کی وجہ سے سب لوگ رحمت الٰھی کے مستحق قرار پائیںاور سب کی دعا مستجاب ہوجائے اور خداوندعالم کی مغفرفت کی بوچھار ہوجائے،جیسا کہ اسلامی روایات میں وارد ہواھے کہ ہوسکتا ہے خداوندعالم اپنے اس ایک بندہ کی وجہ سے سب لوگوں کی دعا قبول کرلے اور اس کی گریہ وزاری کی وجہ سے تمام لوگوں پر رحمت نازل کردے، سب کی حاجتیں پوری کردے اور ان سب کو معاف کردے، اور ان کی خالی جھولیوں کواپنے مخصوص فیض و کرم سے بھر دے۔

اس سلسلے میں وحی الٰھی کے منبع علم الٰھی کی منزل معرفت کے خزانہ ، رحمتوں کے باب یعنی ائمہ معصومین علیھم السلام سے روایات وارد ہوئی ہیںجن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

عَن ابی عَبدِاللّهِ(ع)قال:مَااجتَمَعَ اربَعَةٌ قَطُّ عَلی امرٍواحِدٍ فَدَعَوا إلّا تَفَرَّقواعَن إجَابَةٍ “[۱۷]

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب چار افراد مل کر کسی ایک چیز کے بارے میں دعا کرتے ہیں ، جب وہ ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں ان کی دعا قبول ہوچکی ہوتی ہے،(یعنی ان کے جدا ہونے سے پھلے پھلے ان کی دعا قبول ہوجاتی ہے)

”قَال النَّبِیُّ(ص) :لا یَجتَمِعُ اربَعونَ رَجُلاً فی امرٍ واحِدٍ إلّااسْتَجابَ الّلهُ تَعالی لَهُم حَتّی لَو دَعَوْا عَلی جَبَلٍ لَازالُوهُ ۔ “[۱۸]

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا: کوئی چالیس افراد مل کر کسی کام کے لئے دعا نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان کی دعا قبول کرلیتا ہے یھاں تک کہ اگر یہ لوگ کسی پھاڑ کے بارے میں دعا کرےں تو وہ بھی اپنے جگہ سے ہٹ جائے گا۔

عالم ربانی ، عارف عاشق ”ابن فھد حلّی“ اپنی عظیم الشان کتاب ”عدّة الداعی“ میں روایت نقل کرتے ہیں (جیسا کہ صاحب وسائل الشیعہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے):

إن الله اوحَی إلی عیسَی علیه ا لسلام : یا عِیسَی! تَقَرَّبْ إلَی المُومِنینَ،وَمُرْهُم ان یَدعُونِی مَعَکَ “[۱۹]

”خدا وندعالم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام پر وحی کی کہ اے عیسیٰ! مومنین کے مجمع کے قریب ہوجاؤ اور ان کو حکم دو کہ میری بارگاہ میں تمھارے ساتھ دعا کریں“۔

عَن ابی عَبدَاللهِعلیه ا لسلام قالَ:کانَ ابی علیه ا لسلام إذا احْزَنَهُ امرٌجَمَعَ النِساءَ وَالصِّبیانَ ثُم دَعا وَامَّنُوا “[۲۰]

”حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ہمارے والد بزرگوار ہمیشہ اس طرح کیا کرتے تھے کہ جب کسی کام کی وجہ سے غمگین اور پریشان ہوتے تھے تو عورتوں او ربچوں کو جمع کیا کرتے تھے اوراس وقت آپ دعا فرماتے تھے اور وہ سب آمین کہتے تھے“۔

ناامیدی اور مایوسی کفار سے مخصوص ہے

دعا کرنے والے کو اس کا علم ہونا چاہئے کہ خداوندعالم نے خود اس کو دعا کا حکم دیا ہے اور اس کے قبول ہونے کی ضمانت بھی لی ہے،نیز دعا کا قبول کرنا خداوند عالم کے لئے بہت ہی آسان ہے، کیونکہ اس کائنات کی تمام چیزیں اس کی حکمرانی کے تحت گردش کرتی ہیں اور وہ صرف ایک اشارہ سے دعا کرنے والوںکی دعا قبول ہونے کے سارے اسباب فراھم کرسکتا ہے۔

لہٰذا کسی بھی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ خدائے رحمن جس کی قدرت، بصیرت، کرم، لطف، فیض اور اس کی رحمت بے انتھا ہے؛ اس سے مایوس اور نا امید ہو چونکہ خداوندعالم اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے خصوصاً جب کوئی بندہ اس سے راز ونیاز اور دعا میں مشغول ہوتا ہے، اورمایوسی او رناامیدی قرآن مجید کے فرمان کے مطابق کفار سے مخصوص ہے:

” وَلاَتَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ إِنَّهُ لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ ۔“[۲۱]

”اور رحمت خدا سے مایوس نہ ہونااس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا“۔

قرآن مجید نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ رحمت خدا سے ناامید اور مایوس نہ ہوں:

”۔۔۔لاٰ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ ۔۔۔“ [۲۲]

نیز اس سلسلہ میں حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ارشاد فرماتے ہیں:

الفَاجِرُ الرَّاجِی لِرَحْمَةِ اللهِ تَعالَی اقْرْبُ مِنْها مِنَ العَابِدِ الْمُقَنَّطِ “[۲۳]

”رحمت الٰھی سے مایوس عبادت گزار کے مقابلہ میں رحمت الٰھی کا امیدوار بدکار ، رحمت الٰھی سے زیادہ نزدیک تر ہے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

الیَاسُ مِن رَوحِ اللهِ اشدُّ بَرداً مِنَ الزَّمهَریرِ “۔ [۲۴]

”رحمت خدا سے ناامیدی کی ٹھنڈک ، تیز سردی کی ٹھنڈک سے بھی زیادہ ہے“۔

معارف اسلامی اور روایات معصومین(ع) میں رحمت خدا سے مایوسی اور ناامیدی کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے،اور رحمت خدا سے مایوسی کے لئے عذاب کا حتمی وعدہ دیا گیا ہے۔

اگر دعا کرنے والے شخص کی دعا جلدی قبول نہ ہو تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ دعا کا قبول ہونا اس کے لئے مفید نہ ہوجیسا کہ قرآن کریم اور روایات معصومین(ع)سے معلوم ہوتا ہے، شاید دعا قبول ہونے کا موقع اور محل نہ ہو، اور شاید اس کی ایک وجہ یہ ہوکہ خدا چاہتا ہو کہ دعا کرنے والا اور مناجات کرنے والا اپنی دعا اور مناجات میں لگا رھے اس وجہ سے اس کی دعا قبول نہ ہوئی ہو، یا ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ دعا کرنے والے کو ا اس دعا کے بدلے میں آخرت میں ایک عظیم مرتبہ ملنے والا ہو، اور قیامت کے روز اس کی دعا قبول ہونے والی ہو، بھر حال رحمت خدا سے مایوسی کسی بھی صورت میں عقلی، شرعی، اخلاقی اور انسانی فعل نہیں کھا جاسکتا، اور ایک مومن کبھی بھی رحمت الٰھی سے مایوس نہیں ہوتا۔

چنانچہ دعاسے مربوط مسائل کے سلسلہ میں اسلامی کتب میں بہت اھم روایات بیان ہوئی ہیں، لہٰذا ہم یھاں پر اپنے موضوع کے لحاظ سے ان میں سے بعض کا تذکرہ مناسب سمجھتے ہےں:

۱ ۔ ”عَنْ ابِی عَبْدِ اللهِ عَلَیْهِ السَّلاٰمُ قَالَ : إِنَّ الْعَبْدَ لَیَدْعُو فَیَقُوْلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَکَیْنِ قَدِاُسْتَجَبتُ لَهُ، َولٰکِنِ اْْحْبِسُوهُ بِحاجَتِِهِ، فَاِنِّی احِبُّ انْ اسمَعَ صَوْتَهُ واِنَّ الْعَبْدَ لَیَدْعُو فَیَقُوْلُ اللهُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی : عَجِّلُوْا لَهُ حَاجَتَهُ، فَاِنِّی اُبْغِضُ صَوْتَهُ !![۲۵] “

”حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: بے شک جب بند ہ اپنے خدا کی بارگاہ میںدعا کرتا ہے، تو خداوندعالم اپنے دو فرشتوں سے فرماتا ہے: میں نے اس کی دعا قبول کرلی ہے، لیکن تم اس کی حاجت براری کوفی الحال روک لو، تاکہ وہ دعا کرتا رھے: کیونکہ میں اس کے گڑگڑانے کی آواز (بار بار)سننا چاہتا ہوں۔ اور کبھی بندہ کے دعا کرتے ہی خدااپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: اس کی حاجت کوبہت جلد پورا کردو کیونکہ مجھے اس کی آواز اچھی نہیں لگ رھی ہے“۔

۲ ۔”عن منصور الصیقل قال: قُلتُ لِابِی عَبدِاللهِعلیه السلام:رُبَّما دَعا الرَّجُلُ بِالدّعاءِ فَاستُجیبُ لَه ثُمّ اخِّرَ ذَلکَ اِلی حینٍ قالَ فقالَ :نَعَمْقُلتُ:وَلِمَ ذَاکَ لِیَزدَادَ مِنَ الدُّعاءِ؟قالَ نَعَمْ “۔[۲۶]

”منصور صیقل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت مبارک میں عرض کیا: کبھی کوئی شخص دعا کرتا ہے اور(دعا کرتے ہی) اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے ، اور ایک زمانہ تک اس کی حاجت پوری نہیں ہوتی ہے۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاںایسا ہی ہے، تو میں نے عرض کیا: ایسا کیوںتاکہ وہ اس سے بار بار مانگے ؟

تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں (ایسا ہی ہے)“۔

دعا کے شرائط

دعا کرنے والا اگریہ چاھے کہ اس کی دعا قبول ہوتواس کے لئے ضروری ہے کہ دعا سے پھلے دعا کے شرائط کا لحاظ کرے، اور یہ شرائط اہل بیت علیھم السلام سے مروی رویات کی صورت میں مختلف معتبر کتابوں جیسے کتاب”اصول کافی“ ،”محجة البیضاء“ ، ”وسائل الشیعہ“ اور ”جامع احادیث الشیعہ “وغیرہ میں بیان ہوئے ہیں۔

دعا کے شرائط بغیر کسی تفسیر ووضاحت کے اس طرح ہیں:

طھارت جیسے وضو، غسل اور تیمم ، حق الناس کی ادائیگی، اخلاص، دعا کو صحیح طریقہ سے پڑھنا، حلال روزی، صلہ رحم، دعا سے پھلے صدقہ دینا، خدا کی اطاعت کرنا، گناھوں سے پرھیز، اپنے عمل کی اصلاح، سحر کے وقت دعا، نماز وتر میں، فجر صادق کے وقت، طلوع آفتاب کے وقت اللہ سے گڑگڑا کر اپنی حاجت پوری ہونے کی دعا کرنا، بدھ کے روز ظھر وعصر کی نماز کے درمیان دعا کرنا دعاسے پھلے صلوات پڑھنا۔[۲۷]

شب جمعہ

اہل بیت عصمت وطھارت علیھم السلام کی روایات میں شب جمعہ کو دعاکابہترین اور مناسب وقت قرار دیا گیا ہے، اور شب جمعہ کو عظمت کے لحاظ سے شب قدر کی طرح قرار دیا گیا ہے۔

بزرگ علماء کرام، اہل بصیرت اوراولیاء اللہ کہتے ہیں:

اگر ہوسکے تم لوگ شب جمعہ کو دعا،ذکراور استغفار میںبسر کرو اور اس کے انجام سے غفلت نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنین پر رحم وکرم کرتے ہوئے اعمال کے اجرمیں اضافہ کے لئے فرشتوں کو آسمان اول پر بھیجتا ہے تاکہ تمھاری نیکیوں میں اضافہ کریں اور تمھارے گناھوں کو مٹادیں۔

ایک معتبر حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے:

ھوسکتا ہے کہ کوئی مومن کسی چیز کے لئے دعا کرے، اور خداوندعالم اس کی حاجت پوری کرنے میں دیر کرے، یھاں تک کہ جمعہ کا روز آجائے اور اس دن اس کی حاجت پوری کی جائے۔[۲۸]

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جس وقت برادران یوسف(ع) نے اپنے باپ سے یہ درخواست کی کہ وہ خدا کی بارگاہ میں ان کے گناھوں کی بخشش کی دعا فرمائیں توجناب یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: میں عنقریب تم لوگوںکی مغفرت کے لئے خداوندعالم سے استغفار کروں گا، اور اس دعا اور طلب مغفرت کو شب جمعہ کی سحر تک روکے رکھا تاکہ ان کی دعا (شب جمعہ کی سحر میں) قبول ہوجائے[۲۹]

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

خداوندعالم ہر شب جمعہ اپنے فرشتوں کوحکم دیتا ہے کہ اے فرشتو! اپنے رب اعلیٰ کی طرف سے شب جمعہ کی ابتداء سے آخر تک یہ آواز دیتے رھو کہ کیا کوئی ایسا مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پھلے پھلے دنیا وآخرت کی حاجت کے لئے اپنے پروردگار کوپکارے، تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کیا کوئی ایسا مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پھلے پھلے اپنے گناھوں کی توبہ کرے تاکہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کیا کوئی ایسا مومن بندہ ہے جس کی روزی میں نے کم کردی ہواور وہ مجھ سے روزی زیادہ کراناچاہتا ہو تاکہ میں طلوع فجر سے پھلے پھلے اس کی روزی زیادہ کردوں؟ تاکہ اس کی روزی میں وسعت کردوں۔کیا کوئی مومن مریض ہے اور طلوع صبح سے پھلے پھلے مجھ سے صحت وسلامتی چاہتاھے تاکہ میں اس کو شفا اور عافیت عطا کردوں؟کیا کوئی بندہ مومن غمگین اور قیدی ہے،اوروہ طلوع صبح سے پھلے پھلے مجھ سے زندان سے رھائی چاھے تاکہ میں اس کی دعا کو مستجاب کرلوں؟ کیا کوئی مظلوم مومن بندہ ہے جو طلوع صبح سے پھلے پھلے مجھ سے ظالم سے چھٹکارہ پانے کی درخواست کرے کہ میں ظالم سے بدلہ لوں اور اس کا حق اس کو دلوادوں؟ چنانچہ فرشتہ صبح تک اس طرح کی آواز لگاتا رہتا ہے۔[۳۰]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

شب جمعہ گناھوں سے پرھیز کرو کیونکہ اس شب میں گناھوں کی سزا کئی گُنا ہوجاتی ہے، جیسا کہ نیکیوں کا ثواب بھی چند برابر ہوتا ہے، اور جو شخص شب جمعہ میں معصیت خدا کو ترک کرے خداوند عالم اس کے گزشتہ گناھوں کو اس شب کی برکت سے معاف کردیتا ہے، اور اگر کوئی شخص شب جمعہ علی الاعلان گناہ کا مرتکب ہو تو خداوندعالم اس کی عمر کے برابر اس کوعذاب میں مبتلا کردیتا ہے، اور شب جمعہ علی الاعلان گناہ کرنے کا عذاب اس وجہ سے چند برابر ہوجاتا ہے کیونکہ اس نے ”شب جمعہ کی حرمت“ کو پامال کیا ہے۔[۳۱]

قارئین کرام ! شب جمعہ کے لئے بہت سی دعائیں ، ذکر اور ورد بیان ہوئے ہیں جن میں سے دعاء کمیل خاص اھمیت کی حامل ہے۔

کمیل بن زیاد نخعی

شیعہ سنی بزرگ علماء نے کمیل بن زیاد کی قوت ایمان، قدرت روح، پاک وپاکیزہ فکر، خلوص نیت، اخلاق حسنہ اور بہترین اعمال سے آراستہ ہونے کے لحاظ سے تعریف وتوصیف کی ہے۔

دونوں فرقوں کے علماء کمیل بن زیاد کی عدالت، جلالت، عظمت اور ان کی کرامت کے سلسلہ میں متفق ہےں۔

کمیل بن زیاد حضرت امیر المومنین اور حضرت امام حسن مجتبیٰ علیھما السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے [۳۲]

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے کمیل بن زیاد کو اپنے دس قابل اطمینان اصحاب میں شمار کیا ہے۔[۳۳]

جناب کمیل بن زیاد حضرت علی علیہ السلام کے بہترین شیعہ، عاشق ، محب اور دوستدار تھے۔[۳۴]

جو وصیتیں اور نصیحتیں حضرت علی علیہ السلام نے کمیل بن زیاد کو فرمائی ہیں ، وہ کمیل بن زیاد کے بہترین ایمان اور معرفت پر دلالت کرتی ہیں۔

اہل سنت حضرات جو حق وعدالت اور انصاف ومروت سے دوری کی وجہ سے اہل بیت علیھم السلام کے چاھنے والوں کے سلسلہ میں مثبت نظریہ نہیں رکھتے ہیں؛ لیکن پھر بھی کمیل بن زیاد کو تمام امور میں مورد اطمینان قرار دیتے ہیں۔[۳۵]

عرفاء ،صاحبان سیر وسلوک اور دیدار محبوب کے مشتاق افراد کمیل بن زیاد کو حضرت علی علیہ السلام کا ہمراز اور آپ کے معنوی معارف کا خزانہ سمجھتے ہیں۔

کمیل بن زیاد نے پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حیات طبیہ میں ۱۸ سال زندگی گزاری اور شمع رسالت کے نور سے بھرہ مند رھے۔

جناب کمیل ؛ایک عظیم انسان اور طیب وطاھر وجود کے مالک تھے، جو اپنی لیاقت کی بنا پر حجاج بن یوسف ثقفی کے ہاتھوں شھادت کے عظیم درجہ پر فائز ہوئے، جیسا کہ آپ کے محبوب (حضرت علی علیہ السلام) نے ان کی شھادت کے بارے میں پیشن گوئی فرمائی تھی۔

جب خونخوار حجاج بن یوسف ظالم اموی حکمراںکی طرف سے عراق کا گورنربنایا گیا، اس وقت اس نے کمیل بن زیاد کو تلاش کرنا شروع کردیاتاکہ ان کو محبت اہل بیت علیھم السلام کے جرم میں اور شیعہ ہونے کے جرم میں جو بڑا جرم تھا قتل کرے۔

کمیل بن زیاد ؛ حجاج کی نگاھوں سے چھپے ہوئے تھے ، جس کی بنا پر حجاج نے کمیل بن زیاد کے رشتہ داروں کا وظیفہ بیت المال سے بند کردیا ، جس وقت جناب کمیل کو اس چیز کی خبر پھنچی کہ میرے رشتہ داروں کا وظیفہ

میری وجہ سے بند کردیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا:

”اب میرا آخری وقت ہے میری وجہ سے میرے رشتہ داروں کا وظیفہ اور رزق بند ہونا مناسب نہیں ہے“۔

یہ کہہ کر اپنی مخفی گاہ سے باھر نکلے اور حجاج کے پاس خود چلے گئے، حجاج نے کھا:میں تجھے سزا دینے کے لئے تلاش کررھا تھا۔

جناب کمیل بن زیاد نے کھا: جو تو کرسکتا ہے کر گزر، یہ میری آخری عمر ہے، اور عنقریب ہی ہم اورتم خدا کی بارگاہ میں جانے والے ہیں، میرے مولا (علی بن ابی طالب علیہ السلام) نے مجھے پھلے ہی یہ خبر دے دی ہے کہ تو میرا قاتل ہے۔

حجاج نے حکم دیا کہ کمیل بن زیاد کا سر قلم کردیا جائے اس وقت اس مرد الٰھی اور نورانی شخصیت کی عمر ۹۰ سال تھی، چنانچہ حجاج کے ہاتھوں آپ کی شھادت واقع ہوگئی، آپ کامرقد مطھر ”ثویّہ“ نامی علاقے میں ہے جو نجف اور کوفہ کے درمیان ہے جھاں پر ہر روز عام وخاص سیکڑوں افرادیارت کے لئے جاتے ہیں۔

دعاء کمیل

عارفین عاشق اور عاشقین عارف، بیدار دل اور حقائق سے آشنا حضرات کی نظر میں دعاء کمیل کی وھی اھمیت ہے جو تمام مخلوقات میں انسان کی ہے، جس طرح انسان کو اشرف المخلوقات شمار کیا جاتاھے اسی طرح دعاء کمیل کواشرف دعا شمار کیا جاتا ہے، اور اس کو ”انسان الادعیہ“ (دعاؤں کا انسان) کھا جاتا ہے۔

علامہ کم نظیر ، محقق خبیر اور محدث بصیر حضرت علامہ مجلسی نے اس دعا کو دو سری اور دعاؤ ں میں سب سے بہتر قرار دیا ہے۔

چنانچہ علامہ موصوف اپنی کتاب ”زاد المعاد“ میں سید بن طاووس کی کتاب ”اقبال“ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”جناب کمیل نے فرمایا: ایک روز میں شھر بصرہ میں اپنے مولا وآقا حضرت علی علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں حاضر تھا، اس وقت ۱۵ شعبان المعظم کے سلسلہ میں گفتگو ہونے لگی، آپ نے فرمایا: جو شخص اس رات کو جاگ کر گزارے اور حضرت خضر علیہ السلام کی دعا پڑھے، تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی۔ جس وقت آپ وھاں سے گھر تشریف لائے تومیں بھی آپ کے پیچھے پیچھے پھونچا، جب امام علیہ السلام نے مجھے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی کام ہے؟ میں نے عرض کیا:

مولا! دعائے حضرت خضر(ع)کی خاطر آپ کی خدمت میں آیا ہوں۔

آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، اس کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا:

اے کمیل! جب اس دعا کو یاد کرلو تو اس کو ہر شب جمعہ یا مھینہ میں ایک بار یا سال میں ایک بار یا (کم سے کم) اپنی زندگی میں ایک بار (ضرور) پڑھ لینا، اس دعا کے پڑھنے سے دشمن کے شر سے محفوظ رھوگے، اور تمھاری غیبی مدد ہوگی، روزی زیادہ کردی جائے گی، اور تمھارے گناہ بخش دئے جائیں گے۔

اے کمیل ! (یاد رکھو) تمھارا ہمارے ساتھ زیادہ رھنا اور ہماری زیادہ تعریف کرنا اس بات کا سبب بنا کہ اس عظیم الشان دعاسے تمھیں سرفراز کروں۔

اور اس کے بعد آپ نے پوری دعا تلقین فرمائی۔

با معرفت مناجات کرنے والے عالم ربّانی مرحوم کفعمی اپنی عظیم الشان کتاب ”مصباح“ میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام اس دعا کو سجدہ کی حالت میں پڑھتے تھے۔[۳۶]

اس دعا کو پڑھنے والے کو چاہئے کہ شب جمعہ کو تمام شرائط کا لحاظ کرنے کے ساتھ روبقبلہ ہو اور خشوع وخضوع کے ساتھ آنسووں سے بھری آنکھیں اور لرزتی ہوئی آواز میں اس دعا کو پڑھے ، کہ اس طرح دعا پڑھنا باب اجابت سے نزدیک ہے اور اس کے آثار جلدی ظاھر ہوتے ہیں۔ [۳۷]

آنسو بھر ی آنکھیں خداوندعالم کی نظر میں بہت اھمیت رکھتی ہیںاور آنسو بھری آنکھیں اور سوز دل سے رونااور گڑ گڑانا گناھوں کی بخشش اور خدا وندعالم کے غضب کو خاموش کرنے نیز رحمت الٰھی نا زل ہونے کا سبب ہوتی ہیں۔[۳۸]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

”گریہ ونالہ اورفریاد کے علاوہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے لئے کوئی پیمانہ نہ ہو، کیونکہ گریہ کا ایک قطرہ دریامیں لگی آگ کو خاموش کردیتا ہے، جب آنکھیں آنسووں سے نم ہوجائیں، جب چھرہ پر ذلت و خواری کے آثار ظاھر ہوں اور جب انسان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں تو خداوندعالم اس پر آتش جھنم کوحرام کردیتا ہے، بےشک اگر امت میں کوئی ایک بھی رونے والا موجود ہو تو تمام امت شامل رحمت الٰھی ہوجاتی ہے۔[۳۹]

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ قیامت کے دن تین آنکھوں کے علاوہ سب آنکھیں گریاں کناں نظر آئیں گی:

۱ ۔ وہ آنکھ جو خدا کی حرام کردہ چیزوں کو نہ دیکھے۔

۲ ۔ وہ آنکھ جو راہ خدا میں جاگے۔

۳ ۔ وہ آنکھ جو راتوں کو خوف خدا سے روتی رھے۔[۴۰]

” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

”شروع کرتا ہوں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔“

دعاء شریف کمیل کا آغاز بے نھایت نورانی مرکز ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ سے ہونے کی چند دلیلیں ہوسکتی ہیں:

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام ؛ حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: پرودگار عالم کاارشاد ہے:

۱ ۔”کُلّ امرٍ ذِی بالٍ لا یُذکَر بِسمِ اللهِ فِیهِ فَهُوَ ابتَرُ “[ ۴۱]

”ھر وہ اھم کام جو خدا کے نام سے شروع نہ کیا جائے وہ بے فائدہ ہے یعنی وہ مقصد تک نہیں پھونچ سکتا“

۲ ۔ مرحوم طبرسی نے اپنی عظیم الشان کتاب ”مکارم الاخلاق“ میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے:

مَا مِن احدٍ دَهَمَهُ امرٌ یَغُمُّهُ اوکَرَّبَتهُ کُرْبَةٌ فَرَفَعَ رَاسَهُ اِلَی السَّمَاءِ ثُمَّ قالَ ثَلاثَ مَرّاتٍ بِسمِ اللهِ الرَّحمَنِ الَّرحِیمِ اِلّا فَرَّجَ اللهُ کُربَتَهُ وَاذْهَبَ غََمَّهُ اِن شآءَ اللهُ تَعالی “[۴۲]

” کوئی پریشان اور غمگین شخص ایسا نہیں جو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاکر تین بار ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ پڑھے ، اور خدا اس کی پریشانی اور غم واندوہ کودور نہ کرے، اگر خداوندمتعال کا ارادہ شامل حال ہو “۔

۳ ۔ ”لایُرَدُّ دُعاءٌ اوَّلُهُ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “[۴۳]

”جس دعا کی ابتداء ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ سے کی جائے وہ بارگاہ الٰھی میں ردّ نہیں ہوگی“۔

۴ ۔حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے جھنم کے شعلوں کو ۱۹ شمار کیا ہے اور فرمایا جو شخص ان ۱۹ شعلوں سے محفوظ رھنا چاھے اس کو ہمیشہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ کا ورد کرتے رھنا چاہئے ، جس کے ۱۹ حرف ہیں تاکہ خداوندعالم اس کے ہر حرف کو جھنم کے ایک شعلہ کے لئے سپر قرار دے۔

۵ ۔ نیز حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت ہے کہ جب کوئی استاد اپنے شاگرد کو ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ کی تعلیم دے تو خداوندعالم اس بچے ، اس کے ماں اور اس استاد کے لئے آتش جھنم سے نجات کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔

۶ ۔ اسی طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت ہے کہ میری امت کو روز قیامت حساب وکتاب کے میدان میں روک لیا جائے گا، اور ان کے اعمال کا حساب وکتاب کیا جائے گا ، اور ان کے اعمال کو ایک ترازو میں رکھا جائے گا ان کی نیکیاں ؛ برائیوں پر بھاری ہیں، یہ دیکھ کر دوسری امتیں چلائیں گی کہ اس امت کی تھوڑی سی نیکیوں کی وجہ سے کیوں ان کا پلہ بھاری ہے؟ تو اس وقت ان کے نبی جواب دیں گے: کیونکہ یہ امت اپنے ہر کام کا آغاز خداوندعالم کے تین ناموں سے کیا کرتی تھی: ”اللّٰہِ“”الرَّحْمٰنِ“”الرَّحِیْمِ“ کہ اگر ان ناموں کو ترازوکے ایک پلہ میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں تمام انسانوں کی نیکیاں اور برائیاںرکھ دیں جائیں تو ان تینوں ناموں کا پلڑا بھاری رھے گا۔

۷ ۔ حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ اسم اعظم سے اتنا نزدیک ہے جتنی آنکھ کی سیاھی سے سفیدی نزدیک ہوتی ہے۔[۴۴]

بے شک جب کوئی دعا (خصوصاً دعاء کمیل)حضرت حق کے اسم اعظم سے شروع ہو تو یقیناً باب اجابت سے ٹکرائے گی، اور پڑھنے والے کی مرادیں پوری ہوںگی۔

”بسم الله“ وہ شراب طھور ہے کہ اسے جس وقت ساقی عشق کے ہاتھوں سے دل وجان نوش کریں تو ایسا وجد اور نشاط طاری ہوتا ہے جس کی توصیف کرنا مشکل ہے، اور وہ معشوق کے عشق میں کھوجائے اور اپنے محبوب کے وصال کے لئے بغیر کسی خستگی اور تھکن کے راستہ کو طے کرتا چلا جاتا ہے۔

”بِسْمِ اللّٰہِ“ کے کچھ دل چسپ نکات

لفظ”اسم“ علم صرف ونحو کے لحاظ سے ”سمّو“ سے نکلا ہے جس کے معنی رفعت، بلندی، بزرگی اور برتری کے ہیں۔

خداوندمھربان نے اپنے اس نورانی اور اثر بخش کلام میں لفظ”اسم“ سے حرف ”با“ کو متصل کیا ہے، تاکہ انسان اس لفظ کو جاری کرتے وقت یہ توجہ کرے کہ محبوب کے نام سے محبوب کی بارگاہ میں متوسل ہونا چاہتا ہے اور اس محبوب سے متوسل ہونا صرف زبان سے اس کا نام لینا کافی نہیں ہے بلکہ جب تک اپنے دل سے اخلاقی اور معنوی گندگی کو دور نہ کرے اور اپنی زبان کو اور بے ہودہ باتوں نیز غیر خدا کے ذکر سے استغفار کے پانی سے پاک نہ کرے اس وقت تک اپنے اندر محبوب سے متوسل ہونے اور اس کے جلوہ کے نظارہکا امکان پیدا نہیں ہوسکتا، نیز اس اھم بات کی طرف بھی توجہ رھے کہ دل و جان کی طھارت، اخلاص نیت، اور اپنی نیازمندی اور حضرت حق کی بے نیازی کے اقرار کے بغیر ، خداوندمنان کا نام زبان پر جاری کرنا اس کی شان میں بے ادبی اور گستاخی ہے:

ہزار بار بشویم دھان بہ مشک وگلاب

ھنوز نام تو بردن کمال بی ادبی است

(اگر ہزار بار بھی مشک وگلاب سے اپنا منھ دھوکر بھی تیرا نام لیا جائے تو بھی انتھائی بے ادبی ہے)

خداوندمتعال چونکہ مصدرپاکیزگی، طھارت اور تقدس ہے اور یہ خاکی انسان بالکل بے بضاعت اور ہیچ ہے، لہٰذا یہ ادنیٰ درجہ والا انسان بغیر کسی واسطہ کے عزت وجلالت کی طرف عروج نہیں کرسکتا، اس لئے خداوندعالم نے ”بسم اللہ“ کو اپنے اور اس کے درمیان واسطہ قرار دیاتاکہ انسان اس عظیم المرتبت اور آسمانی کلام کے ذریعہ اپنے دل وجان میں اس کے اثرات مرتب کرکے رفعت وبلندی کی سیڑھی پر قدم رکھے اورغیبی طور پر جمال وجلال کا مشاھدہ کرنے کی صلاحیت کا راستہ ہموار کرے۔

ایک عارف عاشق اور صاحب دل فرماتے ہیں: حرف ”ب“ حرکت اور سلوک کی ابتداء پر اشارہ کرتاھے اور حرف ”ب“ سے حرف ”س“ تک معرفت کا ایک عظیم مید ان ہے، حرف”ب“ اور” اسم“کے درمیان سے لفظ ”اسم“ کے الف کا نہ پڑھا جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک اس راستہ پر چلنے والے کی انانیت اور غرور؛ نور توحید میں غرق نہ ہوجائے اور وہ اپنے کو دوست کی محبت کے عشق کی آگ میں نہ جلادے اس طرح کہ وہ تسلیم اور بندگی کا پتلا بن جائے ، اس وقت تک وہ رازِ معرفت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا ہے، اور اس نورانی سلسلہ میں ”میم“ تک نہیں پھونچ پائے گا۔

بعض حضرات کا کھنا ہے کہ ”ب“ اس کی نیکی واحسان کی طرف اشارہ ہے جو سب کے لئے ہے، اور اکثر اوقات عام لوگوں سے تعلق رکھتا ہے، اور ”سین“ سے مراد خداوندعالم کے اسراران خاص افراد کے لئے ہیں جو دل والے ہیں، اور ”میم“ اس محبت کی نشانی ہے جو خاص الخاص اور اصحاب اسرار کے لئے مخصوص ہے۔

عظیم الشان کتاب ”اصول کافی“ ، ”توحید صدوق“، ”معانی الاخبار“ اور ”تفسیر عیاشی“ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ان تینوں حروف سے خدا کے ایک ایک اسماء حسنیٰ کی طرف اشارہ ہے، ”با“ سے بھای الٰھی ، ”سین“ سے سناء الٰھی (جس کے معنی بلندی اور رفعت نور کے ہیں) اور ”میم“ سے خداوندعالم کی مجد اور عظمت مرادھے۔

بعض عرفاء کا کھنا ہے : ”با“ سے بصیر کی طرف اشارہ ہے اور سین سے سمیع کی طرف اور میم سے”مُحصی“ (شمار کرنے والے) کی طرف اشارہ ہے۔

گویا” بسم اللہ“ پڑھنے والے کو درج ذیل معنی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے:

میں بصیر ہوں؛ لہٰذا(اے انسان) تیرے ظاھری اور باطنی تمام اعمال کو جانتا ہوں، اورمیں سمیع ہوں جس کے نتیجہ میں تیری تمام باتوں اور دعاؤں کو سنتا ہوں، اور مُحصی ہوں جس کے نتیجہ میںتیرے ہر سانس کوشمار کرتا ہوں۔ اس بنا پر اپنے عمل میں ریاکاری اور خود نمائی سے اجتناب کر، تاکہ اس کی جزا میں تجھے دائمی ثواب عنایت کردوں، اور میرے سمیع ہونے کے سایہ میں باطل اور بے ہودہ باتوں سے پرھیز کر، تاکہ تجھے فیض وصفا اور غفران وصلاح کی خلعت پھناؤں، اور چونکہ میں مُحصی ہوں لہٰذا ایک لمحہ کے لئے بھی مجھ سے غافل نہ ہو تاکہ اس کے بدلے میں اپنی بارگاہ میں ملاقات کے لئے بلالوں۔

محبوب کے عشق میں مجذوب اور اس کی راہ میں آگے بڑھنے والے اس کی محبت میںجلنے والے عرفاء کہتے ہیں:

”بسم اللہ“ کے آسمانی اور عرفانی معنی سے وھی شخص واقف ہوسکتا ہے جو محبوب (خدا) کی بلاؤں پر صبر کرے، اور اپنے باطن کو صراط مستقیم پر قائم رکھے تاکہ ”میم“ کی نورانی فضا کا مشاھدہ کرسکے۔

لفظ مبارک ”الله“ اس ذات مقدس کا نام کامل اور اسم جامع ہے جس میں تمام صفات کمال وجمال اور جلال سبھی جمع ہیں۔

بعض علماء نے کلمہ ”الله“ میں تین معنی پوشیدہ بتائے ہیں:

۱ ۔دائم ازلی، قائم ابدی اور ذات سرمدی۔

۲ ۔ وھم وخیال اور عقل اس کی معرفت میں حیران اور سرگرداں ہے،اور روح ودرک اس کی طلب میں پریشان اور ناتواں ہے۔

۳ ۔ خدا کی ذات تمام مخلوقات اور موجودات کے پلٹنے کی آخری منزل اور سب کا مرجع ہے۔

علماء عرفان نے کھا ہے کہ لفظ ”الله“ اسم اعظم ہے اور توحید کی بنیاد اسی پر ہے ، اور یھی کلمہ اگر کافر اپنی زبان سے جاری کرے تو ایمان کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے (بشرطیکہ اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے)

کافر اسی کلمہ کے زبان پر لانے سے غفلت ، کثافت اوروحشت کی دنیا سے نکل کرے ہوشیاری، پاکیزگی و محبت اور امن کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے، لیکن اگر کوئی کافر ”لا الہ الا الله“ کے بجائے ”لا الہ الا الرحمن“ کھے تو وہ اپنے کفر سے نہیں نکل سکتا اور اسلام کے دائرہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ بندگان الٰھی کی فلاح ونجات اسی نوارانی اور طیب وطاھر کلمہ کے زیر سایہ ہے۔

ذکرکرنے والوں کا کمالِ منقبت اسی شریف اور کامل اسم کی وجہ سے ہے، ہر کام کی ابتداء اسی نام سے ہوتی ہے اور اس کا اختتام اسی کے انتظام میں ہے۔ رسالت کی بنیاد کا استحکام اسی نام سے ہے کہ ”محمد رسول الله“ اور بنیادی ولایت کی پائیداری اسی کے ذریعہ ہے جو ” علی ولی الله“ ہے۔

کلمہ ”الله“ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اگر اس کے شروع سے ”الف“ کوہٹا دیا جائے تو ”لله“ باقی بچتا ہے،: ۔۔۔”( لِلّٰهِ الامْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ) ۔۔۔“[۴۵] اور اگر اس کے شروع سے ”لام“ ہٹا دیا جائے تو ”لہ“ باقی بچتا ہے: ”۔۔۔( لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ ) ۔۔۔“ [۴۶]اور اگر دوسرے ”لام“ کو بھی ہٹا دیا جائے تو ”ھو“ باقی بچتا ہے جو ذات حق پر دلالت کرتا ہے: ”( قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ) “[۴۷]لہٰذا جو نام اس قدر خصوصیت رکھتا ہے وہ اسم اعظم ہے۔

لفظ ”رحمن“ رحمت سے نکلا ہے، اور علماء صرف ونحو اور لغوی حضرات کے لحاظ سے یہ کلمہ مبالغہ کا صیغہ ہے، جو کثرت (رحمت) پر دلالت کرتا ہے، لیکن علماء اسلام اور الہٰیات کے ماھر علماء کے نزدیک ”رحمن“ کے معنی ”تمام موجودات اور مخلوقات پر عام رحمت کرنے والے کے ہےں جس میں عبادت اور خدمت کو نہیں دیکھا جاتا“ (یعنی چاھے کوئی عبادت خدا کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اس کی رحمت عام سب کو شامل ہوتی ہے)

لیکن صاحبان کشف ویقین کے نزدیک ”رحمن“ کے معنی تمام ذرات کو اپنی قابلیت اور استعدادکے مطابق وجود او رکمالات سے نوازتا ہے“ کیونکہ اگر یہ عطا نہ ہوتا تو نہ کوئی وجود ہوتا اور نہ کوئی کمال !۔

بعض اہل بصیرت نے کھا ہے کہ ”رحمن“ کے معنی :”حضرت حق کا تمام موجودات کو خیر اور احسان پھونچانے کا ارادہ، اور ان سے شر کو دور کرنے کے ہیں“

تمام ظاھری اور باطنی نعمتیں اس ذات حق کے رحمانیت کے جلوے ہی ہیں جس کے بعض پھلو سورہ مبارکہ ”الرحمن“ میں بیان ہوئے ہیں۔

لفظ ”رحیم“ علماء لغت کے نزدیک صفت مشبہ ہے اور ثبات اور دوام (ھمیشگی) پر دلالت کرتا ہے، یعنی وہ خدا جس کی رحمت اور مھربانی ہمیشگی اور ثابت ہے۔

اس سلسلہ میں علماء اسلام نے کھا ہے: خداوندعالم کی رحمت رحیمیہ (رحیم ہونے کے لحاظ سے) مومنین اور صاحبان یقین سے مخصوص ہے، کیونکہ ان افراد نے ہدایت کوقبول کیا ہے اور خداوندعالم کے حلال وحرام کو مانا ہے، اور اخلاق حسنہ سے مزین ہیں نیز اس کی نعمتوں پر شکر گزار ہیں۔

اسلامی کتب میں بیان ہوا ہے : خدا وندعالم کی رحمت رحمانیہ کے معنی یہ ہیں: ”وہ تمام موجودات اور تمام انسانوں چاھے وہ مومن ہوںیاکافر، صالح ہوں یا بدکار ، کو روزی پھونچاتا ہے“ ،اور رحمت رحیمیہ کے معنی : ”نوع بشریت میں معنوی کمالات کا ودیعت فرمانا“ اور ”دنیا وآخرت میں مومنین کی بخشش کرنا ہے“۔

”رحمانیت “ اور ”رحیمیت“ میں عافیت کے معنی درج ہیں: ایک دنیاوی عافیت اور دوسری اُخروی عافیت۔ اور رحمت رحیمیہ صرف اطاعت گزاروں کے لئے ہے جن کی نیکیاں اور عبادات قبول ہیں، اور ان گناھگاروں کے لئے بھی ہے جو اہل ایمان ہیں جن کی وجہ سے ان کے لئے بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے اسباب ہیں، نیک افراد اپنی عبادتوں کے سبب رحمت کے منتظر رہتے ہیں، اور برے اور بدکار لوگ اپنی نیاز مندی، مفلسی، بے چارگی اور شرمندگی کی وجہ سے اس عطا کے امیدوار رہتے ہیں۔

ابن مبارک کہتے ہیں کہ ”رحمن“ اسے کہتے ہیں کہ اگر اس سے کوئی چیز طلب کی جائے تو وہ عطا کردے اور ”رحیم“ وہ ہے جس سے کوئی چیز طلب نہ کی جائے تو ناراض ہوجائے!

ایک عارف نے فرمایا: خداوندعالم تمام جاندارووں کو روزی دینے کی وجہ سے رحمن ہے اور صرف اہل ایمان کی برائیوں کو معاف کرنے میں رحیم ہے۔ روزی روٹی کے بارے میں خدا کی رحمانیت پر بھروسہ کر اپنے کاروبار اور تجارت پر نھیں، لیکن اپنے کاروبار اور تجارت کو بھی نہ چھوڑدینا کہ ایسا کرنا عقل وشرع کے خلاف ہے، لیکن گناھوں کی بخشش کے لئے اس کی رحیمیت پر بھروسہ کر اپنے عمل پر نھیں، لیکن اپنے عمل کوبھی ترک نہ کر، کیونکہ ایسا کرنا خداوندعالم کی مرضی کے خلاف ہے اورایسا کرنے میں شیطان کی ہمراھی ہے۔

بعض علماء عرفان کا کھنا ہے : بندہ کی تین حالتیں ہوتی ہیں:

۱ ۔ حالت عدم جس میں وہ ہستی کا محتاج تھا۔

۲ ۔ حالت ہستی ، جس میں وہ باقی رھنے کے اسباب کا محتاج تھا۔

۳ ۔ قیامت میں حاضر ہونے اورمغفرت کی ضرورت کی حالت، اور یہ تین حالتیں ان تینوں ناموں میں درج ہیں:

”اللہ“ یعنی اس کی ذات تمام صفات وکمال کے جمع ہونے کا مرکز ہے، غور کر کہ اس نے کس طرح تجھے نیستی اور عدم سے خلعت وجود دے کر اس دنیامیں بھیج دیا۔

وھی”رحمن“ ہے ، سوچ کہ کس طرح تیری زندگی کی بقاء کے اسباب ووسائل فراھم کئے ہیں۔

وھی ”رحیم“ ہے کل روز قیامت دیکھنا کہ کس طرح تجھے اپنی رحمت رحیمیت میں شامل کرتا ہے اور کس طرح تیرے گناھوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔

اہل بصیرت، صاحبان درایت اورعاشقان حقیقت کہتے ہیں: انسان کے دل میں، نفس اور روح ہوتی ہے، نفس کو رزق اور احسان کی ہوس ہوتی ہے، دل کو تمنائے معرفت و ایمان ہوتی ہے، روح کو رحمت ورضوان کی آرزو ہوتی ہے، اور ان میں سے ہر ایک ان اسماء کی برکت سے کسب فیض کرتے ہیں:

دل ”اللہ“ کے نام سے ذوق معرفت اور ایمان حاصل کرتا ہے، اور نفس اسم ”رحمن“ سے رزق واحسان حاصل کرتا ہے، اور روح اسم ”رحیم“ کے نام سے رحمت ورضوان سے مالا مال ہوتی ہے۔

اگر کسی شخص کی روح ان تین مبارک ناموں سے انس پیدا کرلے تو پھر وہ خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی بھی معبود کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوگا ، اور دوسرے بندگان خدا کی نسبت بخشنے والا اور لطف ومھربانی کرنے والا ہوگا۔

لہٰذا اس کلام نورانی اورخزانہ فیض ربانی (یعنیبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )کا ذکر ہر موقع ومحل اور ہر کام کی ابتداء میں بہترین اورمحبوب ہے؛ اور اس بسم اللہ کا پڑھنے والا اس کے معنی اور مفھوم پر توجہ اور خلوص نیت سے خداوندعالم سے توسل کرنا چاہتا ہے اور روح کی پاکیزگی اور مادیت سے طھارت اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے اس بسم اللہ کو پڑھے تاکہ اس کے عظیم فوائد اورمھم آثار سے بھرہ مند ہوجائے۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مروی ہے کہ جو شخص دن میں دس بار ”( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) “)اور ”( لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم ) “ پڑھے تو وہ تمام گناھوں سے پاک ہوجاتا ہے، اور خداوندعالم اس کو ۷۰ بلاؤں جن میں سے برص، جذام اورفلج ہے؛ سے محفوظ رکھتا ہے

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مروی ہے کہ جو شخص بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے تو حق تعالیٰ اس کے ہر بسم اللہ کے بدلے چار ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے اور چار ہزار برائیاں مٹا دیتا ہے۔

ایک روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ جو شخص کھانا کھانے سے پھلے ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ کھے تو اس کی برکت کی وجہ سے شیطان اس کا ساتھی نہیں ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص بسم اللہ کھنا بھول جائے اور کھانا کھانا شروع کردے تو شیطان اس کا رفیق بن جاتا ہے۔

اللّٰهُمَّ اِنّيِ اسْا لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ

”خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر محیط ہے۔“

اس آسمانی جملے اور ملکوتی فقرہ میں اور اس عرشی خزانہ کے ہر لفظ کے رموز واشارات اور اسرار موجود ہیں، لیکن ہم اپنے لحاظ سے ان کی شرح اور تفسیر کررھے ہیں:

اللّٰهُمَّ “ کی اصل ”یا اللہ“ تھی جس میں سے ”یا“ کو حذف کردیا گیا اور جس کے بدلے آخر میں ”میم“ مشدد قرار دیدیا تاکہ خداوندعالم کی عظمت اور بزرگی کا اظھار ہوسکے، جس طرح اس کا وجود تمام موجودات اور مخلوقات سے مقدم اور پھلے ہے، اور تقدم ازلی رکھتا ہے یعنی کوئی چیز اس پر مقدم نہ تھی، لہٰذا کلمہ ”اللہ“ میں اس حقیقت کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اس کو تمام حرف پر مقدم رکھا گیا ہے، تاکہ وجود حقیقی اور وجود لفظی کے درمیان ایک رابطہ برقرار رھے، اور حقیقی اور لفظی شان میں ذرہ برابر بھی فرق نہ رہ جائے۔

دعا کرنے والا جو خداوندعالم کی طرف توجہ کرتا ہے اور اسی کی ذات اقدس کو پکارتا ہے اور اپنی زبان حال و مقال سے ”اللّٰهُمَّ “ کہتا ہے اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر خود خداوند منان کی طرف سے اس کی اذن واجازت اور کشش اور جاذبہ نہ ہوتا تو پھر یہ بندہ حقیر اپنے معشوق سے ایک حرف بھی نہیں کہہ سکتا تھا اوراسے اس کی بارگاہ میں دعا کرنے کی طاقت ہی نہ ہوتی، اس کا ناطقہ بند رہتا اور اپنے دل کی بات کو معبود کے سامنے رکھنا محال ہوتا۔

خدا وندعالم کو پکارنے والی زبان؛ حضرت حق سے متصل ہونے کے بعد ”اللّٰهُمَّ “ کہتی ہے اور دعا کرنے والے کی زبان حال اس کے لطف وکرم سے گویا ہوتی ہے، دعا پڑھنے والے کو اس حقیقت سے باخبر ہونا چاہئے کہ جب تک خدا نہ چاھے اس وقت تک اپنی درخواست کو بیان نہیں کیا جاسکتا، اور جب تک حضرت حق کا ارادہ بندہ میں تجلی نہ کرے تو اس وقت تک بندہ دعا اور اپنی حاجت کو طلب کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوسکتا۔

جی ہاں! دعا اس کی تعلیم کردہ شئے ہے، دعا پڑھنے والے کی حیات اس کے امر کی وجہ سے ہے، دعا پڑھنے والے کی زبان حال و مقال اسی کے ارادہ پر موقوف ہے، لہٰذا حقیقت میں انسان کی تمام چیزیں اس مالک الملک کے قبضہ اور قدرت میں ہےں۔

”إِنّیِ اسْا لُکَ “ إِنّیِ”میں“ کے معنی میں ہے لیکن یھاں پر اس ”میں“ سے جس میں فرعونیت کی بو آتی ہے؛ مراد نہیں ہے ، اور نہ ہی اس فقرہ اورباقی دعا کے تمام ہی فقروں میں طبیعی، عقلانی، عالی، وجودی اور استقلالی ”میں“ مراد نہیں ہے ، بلکہ اس معنوی سلسلہ (دعا) میں ذاتی فقر ، خالی ہاتھ ہونا اور نیازمندی اور خاکساری کے معنی میں ہے۔

دعا پڑھنے والا اس مقام پر ”میں“ کہہ کر اپنی ذات میں فقر وناداری، ذلت اور بے چارگی، تضرع و زاری ، خشوع وخضوع اور ذلت وخواری، فقر و ناداری کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا ہے، اور خداوند رحمن سے رحمت، کرامت، لطف ومحبت، احسان وعدالت، عفو ومغفرت کے علاوہ کسی دوسری چیز کا مشاھدہ نہیں کرتا ہے، اسی وجہ سے اپنی جھولی پھیلادیتا ہے تاکہ اس معبود کریم سے لطف وکرم کی بھیک لے اور ایک بے نیاز سے ایک نیازمند،اور ایک ناچیز و خاک نشین فقیر ایک بلند مرتبہ اور غنی بالذات کی طرف دست سوال پھیلادیتا ہے اور اپنی درخواست اور سوال کو اس کی رحمت کے پیش نظر ظاھر کرتا ہے۔

”بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ “ محبوب کی رحمت تمام چیزوں کے شامل حال ہے اور ظاھر وباطن تمام چیزوںپر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

یہ خدا کی و سیع رحمت اور فیض عام ہے جس کی برکت سے تمام چیزیں نِیستی کے اندھیرے سے نکل کر نورانی وجودکی طرف رواں دواں ہیں جس کی بنا پر ہر چیز اپنے محل پر مستقر ہے، اور رشد ونمواور بلندی کے تمام تر وسائل، مادی او رمعنوی تربیت اپنی اپنی لیاقت، قابلیت اور استعداد کے لحاظ سے بغیر کسی بخل کے ان کو عطا کردی گئی ہے۔

عظیم الشان کتاب ”انیس اللیل“[۴۸]میں بیان ہوا ہے کہ خداوندعالم کے فیض عام کی داستان او رمثال روز روشن کی طرح ہے جو افق سے طلوع ہوکر تمام چیزوں پر نور ا فشانی میں ذرہ برابر بھی بخل نہیں کرتا اور اپنی شعاووں سے مستفید ہونے میں ذرہ برابر بھی دریغ نہیں کرتا،اور جب اس کا نور تمام مخلوقات پر پڑتا ہے تو ہر چیز اپنی اپنی استعداد او رقابلیت کے لحاظ سے بھرہ مندھوکر کسب فیض کرتی ہے۔

اسی طرح تمام غیبی اور شھودی (ظاھری) مخلوقات چاھے وہ بڑی سے بڑی ہوں یا چھوٹی سے چھوٹی یہ تمام رحمت الٰھی کے زیر سایہ ہیں، اگر چھوٹی سے چھوٹی چیز بڑے میکرواسکوپ" Maicroscope "کے ذریعہ دیکھی نہ جاسکتی ہوں تب بھی وہ چیزیں خداوندرحمن کے دائرہ رحمت سے باھر نہیں ہیں، اور وہ تمام اپنی استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے خدا کی رحمت سے فیضیاب ہوتی رہتی ہیں، اور اسی کے زیر سایہ پروان چڑھ کر اپنے مادی اور معنوی کمال تک پھنچتی رہتی ہیں۔

کائنات کے اس کنارے سے اس کنارے تک اور اس کے غیب وشھود ،اس کے ظاھر وباطن غرض اس کے تمام نشیب و فراز اپنے وجود کے لحاظ سے خداوندعالم کے فیض بے نھایت اور رحمت واسعہ کے زیر سایہ زندہ ہیں، اور ایک لحظہ کے لئے بھی خدا کی رحمت اور اس کے فیض سے الگ نہیں ہیں، اور یھی نہیں بلکہ جدا ہونے کی قدرت بھی نہیں رکھتی ہیں، اور اگر بالفرض جدا بھی ہوجائیں تو ان کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اوران کا نام ونشان تک باقی نہ رھے گا۔

ایجاد موجودات، رزق مخلوقات، رشد ونمو نباتات، کمالِ جمادات، نزول آیات، ظھور بینات، بعثت انبیاء ہدایت گمراھان، بھٹکے ہووںکی راھنمائی، جانداروں کی زندگی، فرشتوں کا خلقت وجود پھننا، مردوں کا زندہ ہوجانا، نیکو کاروں کا ثواب حاصل کرنا، بدکاروں کو عذاب ملنا، مومنین کی شائستگی، کافروں کی ذلت، قیامت کا برپا ہونا، بھشت و دوزخ کا ظاھر ہونا، خطاکار مومنین کا بخشا جانا اوردنیا بھر کی وہ تمام چیزیں جن میں خیر ہے وہ تمام کی تمام خداوندعالم کے فیض عام اور رحمت واسعہ کی ایک شعاع اور اس کی ایک جھلک ہیں۔

خداوندعالم کی رحمت واسعہ اور اس کا فیض عام نیز بے کراں عنایت؛ ہم لوگوں کی سمجھ سے باھر ہے، طائر فکر اس فضا میں پرواز نہیں کرسکتا اور شاھباز عقل اس کی حقیقت کو معلوم کرنے سے قاصر ہے۔

”کل شیٍ“ کا شمار کرنا یا ان تمام مخلوقات کا گننا جو خدا کی رحمت کے زیر سایہ اپنا وجود رکھتے ہیں، سب پر اسی کا احاطہ ہے، اگرچہ تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام دریا روشنائی بن جائیںاور جن وانس اور ملائکہ اس کو لکھنا شروع کردیں تو اس کے موجودات کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ ان میں سے ایک حصہ کو بھی نہیں لکھ سکتے۔

قارئین کرام ! ہم یھاں پر خداوندعالم کی رحمت واسعہ کو کسی حد تک سمجھنے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ بعض مخلوقات کی حقیقت کے بارے میں بیان کریں تاکہ ان کے مادی یا معنوی حقائق سے باخبر ہوں، شاید ہماری تشنہ روح اس دریائے عظیم سے ایک قطرہ آب حاصل کرکے اپنی پیاس بجھانے کا سامان فراھم کرسکے، اور روحانی آفتاب کے طلوع ہونے کا نظارہ کریں جو آھستہ آھستہ افق وجود پر طلوع ہوتا ہے۔

جھان ہستی

خداوندعالم کی رحمت واسعہ کے زیر سایہ زندگی گزارنے والی موجودات کو شمار کرنا طول وعرض اور حجم کی شمارش کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

لیکن اس جھان ہستی کا ایک حصہ جس میںیہ انسان چند دنوں کا مھمان ہے اور اس کے لئے جو نعمتیں قرار دی گئی ہیں یا آسمان سے نازل ہونے والی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرتا ہے اگر ان کو دانش وعلم کی نگاہ سے دیکھا جائے تاکہ اس کے ایک معمولی سا نظارہ کرسکیںگے اور پھر سمجھ میں آئے گاکہ خدا کی رحمت واسعہ کے کیا معنی ہیں اور یہ معلوم ہوجائے گا کہ واقعاً یہ کتنی عظیم حقیقت اور حیران کن حقیقت ہے؟!

جھان ہستی کی تمام چیزیں باریک باریک بکٹری" Bacteria " اور چھوٹے چھوٹے وائرس " Virus " جو ایک ہزارم ملی میٹر سے بھی چھوٹے ہیں؛ سے لے کر بڑے بڑے کہکشانوں او رستاروں تک جو کروڑوں کلو میڑ سے بھی دور ہیں؛ تمام کی تمام چیزیں ذرہ " Itome "سے بنی ہیں۔

ذرہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ بڑی سے بڑی خوردبین میکرو اسکوپ " Maicroscope "کے ذریعہ بھی نہیں دیکھا جاسکتاھے، ایک سر کے بال میں ۵۵ ملین در ملین در ملین(۵۵,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰.) جوھری ذرات ہوتے ہیںاگر مثال کے طور پر اس بال کے سرے کو ایک بہت بڑی عمارت کے برابر بڑا کریں تو اس کا ہرذرہ اس کے ہر ستون پر مکھی کی طرح چلتا دکھائی دیگا۔

اور یہ ذرہ ”رحمت الٰھی “ کی بنا پر درج ذیل تین ذروں سے تشکیل پاتا ہے:

۱ ۔الکٹرن" E'lectron "

۲ ۔پروٹان " Proton "

۳ ۔نیوٹران " Neutron "

اور الکٹرون الکٹریسیٹ" Electricity "کا ایک منفی واحد ہے ، اسی طرح پروٹان " Electricity "کا ایک مثبت واحد ہے جبکہ نیوٹران برقی رو کے لحاظ سے خثنیٰ " Neturan " ہے۔

پروٹان اورنیوٹران مل کر اٹم کے مرکز کو تشکیل دیتے ہیں اور الکٹران ایک مرکز کے اردگردگھومتے ہیںجس طرح سے چاند زمین کے مدار میں گھومتا ہے۔ [۴۹]

تو جب اس جھان ہستی کی عمارت میں موجود ذرہ کو کوئی شمار نہیں کرسکتا تو ان کی خلقت اور اس عمارت میں لگی دوسری چیزوں اور ان کی پیدائش کی کیفیت کے بارے میں خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہے:

( مَا اشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ وَلاَخَلْقَ انفُسِهِمْ ) ۔۔۔“[۵۰]

”ھم نے ان شیاطین کو نہ زمین و آسمان کا گواہ بنایا ہے، اور نہ خود انھیں کی خلقت کا۔۔“۔۔

قارئین کرام ! جس کی تائید قرآن کریم بھی کرتا ہے اور بڑے بڑے دانشوروں نے بھی اپنی اپنی تحقیق کے اعتبارسے اپنی کتابوں میں لکھا ہے وہ یہ ہے کہ اس جھان ہستی کی عمارت میں کام آنے والے ساز وسامان یہ تھے: ذرات، دھواں اور گیس ، جو فضامیں بھٹک رھے تھے، لیکن ایک دوسرے سے اتنے دور تھے کہ کبھی کبھی ایک دوسرے سے مل پاتے تھے:جیسا کہ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَهِیَ دُخَان ) ۔۔۔“[۵۱]

”اس کے بعد ہم نے آسمان کا رخ کیا جو بالکل دھواں تھا۔۔“۔

اس آسمان کو اس نے ستاروں کے ذریعہ سجایااس طرح سے کہ کروڑوں ذرات اور گیس بادلوں کی شکل میں پیدا ہوگئے، اور بادلوں کے ٹکڑے ان ذروں کو ایک مرکز کی طرف جذب کرنے لگے، اور آخر کار بادل ایک جگہ جمع ہوگئے، اور وہ ذرات ایک دوسرے کے نزدیک ہوگئے، اور جب ان ذروں میں رگڑ پیدا ہوتی ہے تو گرمی ہونے لگتی ہے، اور کبھی کبھی ان بادلوں میں اس قدر گرمی پیدا ہوتی ہے کہ جن سے تاریک فضا میں روشنی ہونے لگتی ہے، آخر کارکروڑوں بادل ستاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے تاریک فضا میںروشنی پھیل جاتی ہے اور آسمان؛ ستاروں سے جگمگااٹھتا ہے۔

ادھر وسیع وعریض جنگل اور بیابانوں میں بادلوں کے جھرمٹ سبھی جگہ پر ہوتے ہیں، مادہ کے ذرات ٹکراکرپھر آپس میں مل جاتے ہیں،اور بادل متلاطم دریا کی مانند منڈلاتے ہوئے گیس میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ادھر اُدھر دوڑنے لگتے ہیں، اور یہ دھویں اور گیس کا دریا اس طرح گھومتے ہیں اور گڑگڑاتے ہیں ، اور یہ موج کا مخفی تلاطم اور ان مخفی امواج کا ٹوٹنا جو کہ ان میں سے ہر ایک بہت بڑا اقلیم ہوتا ہے، اس دریاکے اندر ایک طوفان برپا کردیتا ہے، موجیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور پھر مل جاتی ہیں۔

اس متلاطم دریا کے درمیان جوار بھاٹا کی طرح ایک دائرہ پیدا ہوا جس کے درمیان ایک ابھار تھا اس سے آھستہ آھستہ روشنی نکلی یہ سانپ کی چال جیسا راستہ جس کا نام ”کہکشان راہ شیری“ ہے اس کے ایک حصہ میں منظومہ شمسی پایا جاتا ہے۔ (تو آپ حضرات اس مخلوق کا اندازہ لگاسکتے ہیں)

خدا کی رحمت کے زیر سایہ اور اس کی قدرت کی وجہ سے آفتاب اور منظومہ (شمسی) کی خلقت کچھ اس طرح سے تھی کہ کہکشاں کے ایک حصہ میں پر آشوب طوفان پیدا ہوا، اور گیس کے تیز دوڑنے کی وجہ سے وہ گھومنے لگا، جس سے ایک بڑے گول پہئے کی طرح بن گیا اور اس کے اطراف سے روشنی نکلنے لگی۔

یہ بڑا گول دائرہ اس تعجب آور کہکشاں میںاسی طرح گھومتا رھا، یھاں تک کہ آھستہ آھستہ اس کی گیس اس کے مرکز تک پھنچ گئی، اس وقت اس بڑے دائرہ کی شگل بن گئی اور آخر کار آفتاب کی شکل میں ظاھر ہوگیا:

( وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ) ۔“[۵۲]

”اور قمر کو ان میں روشنی اور سورج کو روشن چراغ بنادیا“۔

اس کے بعد سورج کے اردگرد موجود گیس اور غبار نے ایک کنڈل کی شکل اختیار کرلی وہ اس سے جدا ہوگئے جس کا ہر ایک حصہ ایک گرداب (گڑھا) کی شکل بن گیا، جن میں سے ہر ایک گڑھے کا راستہ الگ الگ تھا اور وہ سب خورشید کے ارد گرد گھومتے رہتے تھے جن میں سے بعض نزدیک اور خورشید سے دورتھے۔

سورج کے نزدیک والی بھنورمیں گرمی اور دور والی میں سردی ہوتی تھی۔

اور ہر بھنور میں گیس اور غبار کے ذرات گھومتے رہتے تھے جن میں سے گیس کے ذرات سے بخار بنتا تھا اور شبنم کی طرح غبار کے ذرات پر گرتا تھا اور جب ذرات غبار پر گرتے تھے تو شبنم کی تری سے وہ ایک دوسرے سے چپک جاتے تھے، اور بعض اوقات پانی اور مٹی برف کی صورت اختیار کرلیتے تھے۔

ھر بھنور میں اس طرح کے ملیونوں حصے تھے ، قوت جاذبہ ان کو اپنی طرف کھینچتی تھی جس کی وجہ سے یہ حصہ ایک دوسرے سے مل جاتے تھے اور اس سے زیادہ بڑے بڑے ٹیلہ بن جاتے تھے جس سے ایک گھومتی ہوئی گیندبن جاتی تھی، اور یہ عظیم گینداپنی جاذبہ قوت کی بنا پر اپنے حصوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی جس کی بنا پر ہر روز بڑی سے بڑی ہوتی چلی جاتی تھی، آخر کار خدا کی قدرت اور اس کی رحمت سے یہ گیند زمین کی شکل میں بن گئی۔

اس کے بعد دوسرے سیاروں نے بھی گرداب سے نکلنا شروع کیا اور اپنے راستہ پر سورج کے اطراف گھومنا شروع کیا، عطارد سورج سے سب سے زیادہ قریب تھا اور اس کے بعد زھرہ، زمین اور مریخ تھے، اور مریخ کے اس طرف مشتری ،زحل اورانوس اور نیٹون جیسے عظیم سیارے سورج کے چاروں طرف گھومتے تھے اور نپٹون سے تھوڑے فاصلہ پر پلوٹو نامی سیارہ تھا۔[۵۳]

قارئین کرام ! یہ دنیا اتنی ہی بڑی ہے جتنا چھوٹا ایک ذرہ ہوتا ہے جس طرح انسان ایک ذرہ کی حدتک نہیں پھنچ سکتا اسی طرح وہ دنیا کی سرحد تک نہیں پھنچ سکتاھے، اس کی حد کو معین کرنا نوع بشر کے بس کی بات نہیں ہے۔ نور حیرت انگیز تیزی کے ساتھ ہر سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیڑ کی رفتار سے دوڑتا ہے ، اور اس رفتار کے پیش نظر ہمارے نزدیک والے ستارے کی روشنی چار سال کی مدت میں ہم تک پھنچ سکتی ہے۔!!

”کالی فورنیا “کی ایک ٹیلی اسکوپ " Telescop "جس کے شیشہ کا حجم پانچ میٹر ہے ، اس کے ذریعہ ایسے ستاروں کا پتہ لگایا گیا ہے جو ہم سے اتنی دور ہیں کہ ایک ہزار ملین سال کے بعد اس کا نور ہم تک پھونچتا ہے!!

ستاروں کی تعداد ان ٹیلی اسکوپوں کے ذریعہ دیکھا جائے تو ان ستاروں کی تعداد اس سے زیادہ ہے کہ اگر سو سال بھی دن رات ان کو شمار کریں اور ہر سیکنڈ میں ایک ستارہ کو شمار کریں تو بھی اس مدت میں تمام ستاروں کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔

کہکشاں ایک بہت بڑا دائرہ ہے جس کا مرکزی حصہ موٹا ہے جس میںہزار ملین ستارے ہوتے ہیں ، جس کی لمبائی ایک لاکھ نوری سال کے برابر ہے اور اس کے مرکز کی چوڑائی بیس ہزار نوری سال کے برابر ہے!!

اگر ہم آج کل کی بڑی سے بڑی نجومی دوربین کے ذریعہ آسمان پر موجود کہکشانوں کو دیکھ سکیں تو ایک احتمال کی بنا پر اس کائنات میں ۱۵۰ ملین کہکشاں پائے جاتی ہیں،اور ہر کہکشاں کا فاصلہ ایک دوسرے سے دو ملین نوری سال کے برابر ہے۔[۵۴]

قارئین کرام ! یہ سب کچھ اس ناشناختہ دنیا کا ایک حصہ ہے جو آج کل کی ٹیلی اسکوپ کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے، لیکن اس عالم ہستی کی اکثر چیزیں ٹیلی اسکوپ وغیرہ کے ذریعہ بھی نہیں دیکھی جاسکتیں، لہٰذا اس دنیاکی حدود کو معین کرنا انسانی علم کے بس میں نہیں ہے، اور ان کے خالق کے علاوہ کوئی دوسرا ن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہوسکتا۔

بصیر بے نظیر، آیت کبیر ، صالح خبیر حضرت امیر علیہ السلام کے قول کے مطابق: تمام مخلوقات، خدا کی رحمت کے زیر سایہ ہےں، وہ رحمت جس کی وجہ سے ان تمام مخلوقات کی خلقت ہوئی اور ان میں رشد ونمو ہوئی اور ان تک ان کے لئے ضروری غدا پھنچائی گئی اور نقصان دہ چیزوں کو دور کیا گیا۔

انسان کائنات کاسب سے شریف مھمان

جب خداوندعالم نے اس کائنات کو آراستہ کیا ،اس کے لئے نظام معین کیا ،ضروری اشیاء وسامان فراھم کیا،نیز اپنی کامل نعمتوں کا دسترخوان بچھایا، اس وقت خداوندمنان نے یہ ارادہ فرمایا کہ اپنی رحمت ومھربانی کی بنا پر ایک شریف مھمان، ایک محترم موجود جو جسم ، جان، روح، مغز، دل، فطرت اور کرامت سے مرکب ایک مخلوق کو اپنے معنوی خلیفہ کے عنوان سے اس قلیل مدت کے لئے ایک مھمان سرا میں ذمہ داریوں کے ساتھ بھیجاتاکہ اس کائنات کی تمام تر نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جسم میں قدرت اور طاقت جمع کرے اور اس قدرت کو کتاب آسمانی ،انبیاء علیھم السلام اور ائمہ علیھم السلام کے حکم کے مطابق خدا کی عبادت وبندگی اور مخلوق کی خدمت میں بروئے کار لائے،اور اس کے بعد موت کے راستہ سے دوسری دنیا میں پھنچ جائے اور وھاں پر ہمیشہ کے لئے اپنے کئے ہوئے اعمال کی جزا پائے، اور ہمیشہ حضرت حق کی رحمت کے زیر سایہ ایک مثالی زندگی بسر کرے۔

قارئین کرام ! ہم یھاں پر خداوندعالم کی وسیع رحمت جو ہر طرف سے انسان کو گھیرے ہوئے ہے اس کا ایک نظاھر کرتے ہیں،لہٰذا چند نکات کی طرف اشارہ کررھے ہیں:

انسانی زندگی کے مراحل:

قرآن مجید نے انسانی زندگی کے مراحل کو مختلف قسموں میں تقسیم کیا ہے، ارشاد رب العزت ہورھا ہے:

( وَقَدْ خَلَقَکُمْ اطْوَارًا ) ۔“[۵۵]

”جب کہ اسی نے تمھیں مختلف انداز میں پیدا کیا ہے“۔

پھلا مرحلہ : خاک

ارشاد قدرت ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ طِینٍ ) ۔“[۵۶]

”اور ہم ہی نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے“۔

اس انسانی نطفہ کی مختلف غذا ئیںھےں جو گھاس ، گوشت، دودھ وغیرہ سے تشکیل پاتی ہیں، حیوانات بھی نباتات سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں اور نباتات خاک او رمٹی سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔

لہٰذا یہ نطفہ جو بعد میں انسان کی شکل میںظاھر ہوا، یہ بھی خاک سے پیدا ہوا ہے، آج کل کی ہوئی ریسرچ نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ زمین میں پائے جانے والے عناصر جیسے آئیرن، مس کیلشم او راجزائے نمک وغیرہ ، یہ تمام چیزیں انسان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں، اور یہ انسان ہمیشہ نباتات اور حیوانات کے ذریعہ مٹی کے عناصر سے فائدہ حاصل کرتا ہے، اور پھر اسی طرح اس کی نسل آگے بڑھتی ہے۔

دوسرا مرحلہ: پانی

خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنْ الْمَاءِ بَشَرًا ) ۔۔۔۔“[۵۷]

”اور وھی وہ ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا ہے“۔

ماھرین زمین نے انسان کو ایک سوختہ کی مانند بتایا ہے جس میں پانی بھرا ہوا ہے ۔ ۷۰ کلو وزن والے انسان میں ۵۰ لیٹر پانی ہوتا ہے، اور ہمیشہ یھی نسبت باقی رہتی ہے۔

اور اگر کسی شخص کا ۲۰ فی صد پانی خشک ہوجائے تو پھر اس کی صحت وسلامتی خطرہ میں پڑجاتی ہے۔

انسان کے بدن کے خلیہ " Cellule "میں موجود پانی کے اندر کافی مقدار میں پوٹیشیم " Potassium "ھوتا ہے جس میں عملی طور پر نمک نہیں ہوتا اس کے برخلاف باھر کے پانی کے اجزاء میں " Potassium "نھیں ہوتا، بلکہ ایک مقدار میں نمک ہوتا ہے، باھر کے پانی کی یہ ترکیب بالکل دریا کے پانی سے مشابہ ہوتی ہے کیونکہ کروڑوں سال پھلے کسی جاندار کی زندگی دریا سے شروع ہوئی تھی اور جب دریائی موجودات نے زمین کی طرف رخ کیا اور دریا کے اندر کی اشیاء کو اپنے ساتھ لائے کیونکہ ان کے لئے بغیر ان کے خشکی میں زندگی بسر کرنا ممکن نہ تھا۔

جی ہاں! یہ ہے قرآن مجید کا تعجب خیز معجزہ کہ اس خشک وگرم صحراء میں بغیر کسی سائنسی آلات کے جاہل لوگوں میں یہ اعلان کیا: ”وھی (خدا) ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا ہے“۔

تیسرا مرحلہ: علق

( خَلَقَ الإنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ” ) [۵۸]

”اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے خلق کیا ہے“۔

لغت میں ”علق“ کے معنی ایک کیڑے کے ہیں جو رحم مادر کے پردہ سے چپکا رہتا ہے؛ نیز خون میں موجود ایک خاص قسم کے جراثیم کو بھی ”علق“ کھا جاتا ہے، جو ”جونک“ کی مانند ہوتا ہے آج جب سائنس نے ترقی کی اور اسپرمیٹوزائیڈ " Spermatozoide " [۵۹] کو مائیکرواسکوپ " Maicroscope " کے ذریعہ دیکھا تو اس میں بہت سے ایسے خلیے دیکھے گئے جو خون میں دوڑرتے ہیں اور جب یہ کیڑے عورت کے رحم میں جاتے ہےں تو وہ جوک مانند کیڑا رحم سے چمٹ جاتا ہے۔

اسپرمیٹوزائید" Spermatozoide " تقریباً چار سینٹی میٹر مکعب ہوتا ہے جس کے ایک سینٹی میٹر میں سو سے دوسو ملین تک کیڑے ہوتے ہیں اور یہ تعجب آور کیڑے سب کے سب عورت کے مادے بنام”اوول“ کی طرف دوڑتے ہیں۔

ایک جوان لڑکی کے رحم میں تقریباً تین لاکھ نارسیدہ تخم (کچے انڈے) ہوتے ہیں لیکن ان میں سے تقریباً چار رسیدہ (پکے) ہوتے ہیں۔

جس وقت عورت کو حیض آتا ہے اس وقت وہ تخم اپنی تھیلی سے نکل جاتے ہیں اور تخم دان اور بچہ دانی کے درمیان جو نالی ہوتی ہے ؛اس میں دوڑتے ہوئے بچہ دانی تک پھونچتے ہیں اور مرد کے نطفہ کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں!۔

چوتھا مرحلہ: ناچیز پانی سے پیدائش

( ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِینٍ ) ۔“[۶۰]

”اس کے بعد اس کی نسل کو ایک ذلیل پانی سے قرار دیا ہے“۔

یہ منی کا خلیہ اور قرآن کے الفاظ میں ”علق“ اورمرد کی منی جب عورت کے رحم میںپھونچتی ہے تو پھر ان میں عجیب جنگ شروع ہوجاتی ہے۔

اس عجیب وغریب جنگ میں تقریباًبیس کروڑ " Sper " جنگ کرتے ہیں اور ۱۵ کلومیٹر گھنٹہ کی رفتار سےعورت کی تخم دانی کی طرف دوڑتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں پھلی لائن میں موجود " Sper " تخم داں کے پردہ کی دیوار تک پھونچ جاتے ہیں۔

اور اچانک ہزاروں کیڑے عورت کے تخم داںکے چاروں طرف جمع ہوجاتے ہیں اور وہ کیڑے اپنی دُم ( پونچھ) ہلاتے رہتے ہیں ، اور اگر ان کو ذرہ بین کے ذریعہ دیکھا جائے تو ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملتا ہے جیسے کوئی چمن ہوا چلنے کی وجہ سے لھرارھا ہو، اور جب تک ایک کیڑا اس انڈے کے اندر داخل نہ ہوجائے تو یہ جنگ جاری رہتی ہے۔

ھر " Sper " یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ سب سے پھلے اس انڈے کے اندر پھنچ جائے اور جب پھلا " Sper " انڈے میں سوراخ کرکے اس کے اندر جاتا ہے اور اس کی دم جو پھلے سے زخمی رہتی ہے اس کے داخل ہوتے ہی اس حصہ میں ورم آجاتا ہے ادھر انڈے کے درمیان موجود پروٹوپلازم " Protoplasm " ایک پانی چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے کوئی دوسرا کیڑا س انڈے کے اندر داخل نہ ہوپائے۔

اس بنا پر بیس کروڑ " Sper "میں سے صرف ایک " Sper " اس انڈے میں داخل ہوتا ہے جس سے انسان بنتا ہے؛ اور اگر خدا کی رحمت واسعہ شامل حال ہوجائے تو دو یا تین " Sper "بھی داخل ہوسکتے ہیں جس کے بنا پر جڑوا ںبچے پیدا ہوتے ہیں۔

پانچواں مرحلہ: امشاج ”انڈے کا خلیہ“

( إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ امْشَاجٍ ) ۔۔۔“[۶۱]

”یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے“۔

انسان کی پیدائش کے لئے پھلے (عورت کا)انڈایعنی عورت کے جنسی خلیہ جس میں مرد کا " Sper " داخل ہوچکا ہے؛ اس کو عورت کے رحم میں داخل ہونا چاہئے ، اور یہ انڈا مرد کے جنسی " Sper " سے ۲۵ لاکھ برابر بڑا ہوتا ہے ؛ اور جب اس پر مرد کے جنسی " Sper " کا حملہ ہوتا ہے تو ایک " Sper " کو اندر داخل کرلیتا ہے اور مرد کے کرموزوم " Chromosome "نامی خلیہ جن کی تعداد آدھی رہ جاتی ہے عورت کے انڈے کے کرموزوم" Chromosome " نامی خلیے سے مل جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ” تخمی خلیہ“ بنتا ہے جس کو قرآن کی زبان میں ”امشاج “کھا گیا ہے۔

اگر مرد اور عورت کے ان خلیوں کے لئے بہترین زندگی کا موقع فراھم کیا جائے تو پھر بھی یہ زندہ نہیں رہ سکتے اور جلد ہی ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

لیکن جب یہ ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں تو پھر ان میں زندہ رھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ان کو ”تخمی خلیہ“ یا قرآن کی اصطلاح میں ”امشاج“ کھا جاتا ہے۔

اور جب اس طریقہ سے نطفہ ٹھھر جاتا ہے تو ” تخمی خلیہ“ تقسیم کرنا شروع کردیتا ہے پھلے دوحصوں میں پھر چار حصوں میں اور اس کے بعد آٹھ حصوں میں تقسیم ہوتا اور اسی طرح تقسیم ہوتے ہوتے ان خلیوں کا ایک ڈھیر لگ جاتا ہے۔

چھٹا مرحلہ: جنین کی صورت اختیار کرنا

( هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِیٴُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاسْمَاءُ الْحُسْنَیٰ ) ۔۔۔“[۶۲]

”وہ ایسا خدا ہے جو پیدا کرنے والا ہے، ایجاد کرنے والااور صورتیں بنانے والا ہے، اس کے لئے بہترین نام ہیں“۔

جب یہ خلیے پورے ہوجاتے ہیں یعنی جنین کے جسم کے ضروری ساز وسامان مھیا ہوجاتے ہیں تو پھر انسانی جسم کو تیار کرنے کے بہت سے خلیے رحم مادر کو دئے جاتے ہیں اور اس طرح شکم مادر میں انسان رشد ونمو کرتا ہے:

خدا کی رحمت واسعہ کے زیر سایہ اور اس کی قدرت سے یہ بے شمار خلیے سب سے پھلے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں اور ہر خلیہ اپنی مخصوص جگہ چلا جاتا ہے، مغزی خلیہ، آنکھ کا خلیہ اور کان وغیرہ کے خلیے، اور ہر ذرہ اپنے مخصوص حصہ کو حاصل کرکے انسان کے اعضاء کو تشکیل دیتے ہیں جس کی بنا پر یہ خلیے آھستہ آھستہ انسان کی شکل پیدا کرلیتے ہیں۔

جنین کی بائیں طرف ایک چھوٹی سی گولی جیسی ایک چیزھوتی ہے جو جنین کا غذائی مرکز قرار پاتی ہے اور یہ گولی خون میں دوڑتی رہتی ہے ، اور غذا، پانی اور سانس جو نظام ہاضمہ اور اوکسجن" Oxygen "کے ذریعہ خون میں داخل ہوتی ہیں؛ سے حاصل کرکے ناف کے ذریعہ بچے کے بدن میں داخل ہوتی ہے!

قارئین کرام! یہ ہے خدا کی رحمت واسعہ ، جس کے آثار خلقت کے ذرہ ذرہ میں آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہے۔

ساتواں مرحلہ: تین پردوں میں بچہ کا لپٹا ہونا:

( یَخْلُقُکُمْ فِی بُطُونِ امَّهَاتِکُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِی ظُلُمَاتٍ ثَلاَثٍ ) ۔۔۔“[۶۳]

”وہ تم کو تمھاری ماؤں کے شکم میں تخلیق کی مختلف منزلوں سے گزارتا ہے، اور یہ سب تین تاریکیوں میں ہوتا ہے۔۔“۔

آھستہ آھستہ بچہ کے اوپر درح ذیل تین قسم کے پردے پیدا ہوتے ہیں :

۱ ۔ Amnionic Membran ،پردہ امینوس اس پردہ کو کہتے ہیں جو بچہ کے باھری رشد ونمو کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ موٹا ہوتا رہتا ہے جس کی بنا پر بچہ کی پیٹھ پر امینوس نام کا گڈھا پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ سانس لیتا ہے۔

۲ ۔ chorion Membran ،پردہ کوریون امینوس کے پردہ کے اوپر ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچہ محفوظ رہتا ہے۔

۳ ۔ Disidua Membran ، یہ پردہ بچہ کے شکم کے پاس ہوتا ہے جو اس کے نظام ہاضمہ سے متعلق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بچہ کی غذا ہضم ہوتی ہے، اور یھی پردہ ہوا، نور، پانی اور (معمولی) چوٹ سے کوئی نقصان نہیں ہونے دیتا، نیز امینوس اور بچہ کے درمیان ایک پانی ہوتا ہے جو شکم مادر پر کوئی چوٹ لگنے پر سیال بن جاتا ہے جس کی وجہ سے بچے پر (معمولی) چوٹ کا کوئی ضرر نہیں پھونچتا۔

یہ ہے خدا کی رحمت واسعہ جو تمام چیزوں کے شامل حال ہے، اور جس کی ایک جھلک بچہ کے حالات میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ٹھواں مرحلہ: روح کا پھونکا جانا

( ” ثُمَّ انشَانَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ احْسَنُ الْخَالِقِینَ ) ۔“[۶۴]

”پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنادیا ہے تو کس قدر بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے“۔

بچہ کی صورت بننے کے بعد جو خود ایک تعجب خیز دنیا ہے اور خدا کی قدرت کا ایک مظھر ہے، اور جس کی بہت سی چیزیں ابھی پوشیدہ ہےں جس کو آج کی سائنس نے بھی کشف نہیں کیا ہے؛ روح پھونکنے کی باری آتی ہے جو خود بھی بہت حیرت انگیز چیز ہے۔

خداوندعالم اپنی رحمت او رارادہ کے ذریعہ جنین میں ایک اور تعجب خیز حالت پیدا کرتا ہے یعنی اس میں روح پیدا کردیتا ہے اور مردہ جنین کو زندگی عطا کردیتا ہے!!

اس کے بعد بچہ اپنی انگلی چوسنے لگتا ہے تاکہ پیدائش کے بعد فوراً ماں کا دودھ پی سکے!!

نواں مرحلہ: پیدائش

( وَاللهُ اخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ امَّهَاتِکُمْ ) ۔۔۔“[۶۵]

”اور اللہ ہی نے تمھیںشکم مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے“۔

بچہ کی پیدائش کا مرحلہ بھی ایک حیرت انگیزحقیقت ہے جو اس نظام خلقت میں رونما ہوتی ہے، وہ بچہ جو نو مھینہ تک شکم مادر کے اندھیرے میں زندگی بسر کرتا ہے ، اور اس کے بعد خدا کی رحمت واسعہ کے سایہ میں اس نئی دنیا میں قدم رکھتا ہے جو اس کی پھلی منزل سے بالکل مختلف ہے، لیکن خداوندعالم نے اپنی وسیع رحمت سے اس بچے میںوہ صلاحیت عطا کی ہے جس کی بنا پر اس دنیا کی فضا سے اپنے آپ کو ہم آھنگ کرسکے۔

شکم مادر میں بچہ ۳۷ درجہ گرمی میں رہتا ہے لیکن جب اس دنیا میں آتا ہے تو کھیں اس سے زیادہ گرمی ہوتی ہے اور کھیں سردی، لیکن پھر بھی اس نئی فضا سے اپنے کو ہم آھنگ کرلیتا ہے۔البتہ یہ کیسے ہوتاھے یہ علم طب کا ایک معمہ ہے، یہ بچہ جو اندھیرے سے روشنی میں قدم رکھتا ہے اور اس دنیا کی چکاچوندھ روشنی اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے برداشت کرتا ہے۔ مرطوب اور چپکی ہوئی جگہ سے خشک مکان میں قدم رکھتا ہے، لیکن پھر بھی اس دنیا کی فضا سے اپنے کو ہم آھنگ کرلیتا ہے۔ ولادت سے پھلے تک ناف کے ذریعہ اپنی غذا حاصل کرتا تھا لیکن اب منھ کے ذریعہ اپنی غذا حاصل کرنا شروع کردیتا ہے، اور براہ راست ہوا کے ذریعہ سانس لینے لگتاھے۔[۶۶]

قارئین کرام ! یہ خداوندعالم کی رحمت واسعہ کے جلوے ہیں جو سب چیزوں پرسایہ فگن ہے، اور انسان اس مقام پر اپنے تمام وجود کے ساتھ خداوندعالم کی بے شمار نعمتوں پر شکر کرنے کے لئے قدم بڑھا دیتا ہے اور اپنے حال دل اور زبان سے روتے گڑگڑاتے ہوئے اپنے لئے مادی اور معنوی نعمتوں میں اضافہ کے لئے درخواست کرتا ہوا نظر آتا ہے:

”اللّٰهُمَّ اِنّیِ اسْا لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ

رحمت خدا کے عجیب وغریب جلوے

قارئین کرام ! یھاں پر انسان کے سلسلہ میں خداوندعالم کی عجیب وغریب رحمت کے بارے میں وضاحت کی جانامناسب ہے ،شاید اس کے بعد ہمارے دل کے آئینہ سے حجاب غفلت اٹھ جائے، ہماری روح اس کے نور سے روشن ہوجائے، ہماری عبادت اور خلوص میں اضافہ ہوجائے، اور حتی الامکان ہم گناھوں سے نفرت کرنے لگیں۔

انسان کا دماغ سائنس کے لحاظ سے ایک عجیب وغریب مشین ہے، اور ایسے ایسے کام انجام دیتا ہے جو آج کی ترقی یافتہ مشین بھی انجام دینے سے قاصر ہے۔

اس دماغ کا کام مختلف واقعات اور حادثات کو محفوظ رکھنا ہے، جس کو قوہ حافظہ کھا جاتا ہے۔ انسان کا حافظہ مغز کے صرف تھوڑے سے حصہ سے متعلق ہوتا ہے، حافظہ کی قدرت کو دکھانے کے لئے ایک مثال پیش کی جاتی ہے:

فرض کیجئے ایک ۵۰ سال کا انسان ہواور اپنی سوانح حیات کو بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لکھنا چاھے، تو اس کو لکھنے کے لئے تقریباًبیس صفحات پر مشتمل ۱۶ کروڑ اخباروں کی ضرورت ہے جس میں باریک باریک لکھا جائے ۔ گزرے زمانہ کی یاداشت کو ذھن میں لاناٹیپ آڈیو کیسٹ کی طرح ہے ، بس فرق یہ ہے کہ انسان کے ذھن کی کیسٹ خود انسان کے ذھن سے چلتی ہے لیکن اس کو گھمانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک دقیق حساب کے لحاظ سے اگر کوئی ایسی مشین بنائی جائے جو انسانی دماغ کے تمام کام انجام دے تو ایک ایسی بڑی مشین بنانے کی ضرورت ہوگی جو اس دنیا کی سب سے بڑی عمارت سے دگنی ہو، اور اس کے لئے بڑے سے بڑے جھرنوںکے ذریعہ بننے والی بجلی کی ضرورت ہے، اور چونکہ الکٹرونیک بلب اور تار وغیرہ اس میں اتنی گرمی پیدا کردیں گے جس سے اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اس جھرنے کا سارا کا پانی درکار ہوگا، تو اس وقت بھی ایسی مشین نہیں بنا پائےںگے جو ایک معمولی انسان کے تمام خیال وفکر کا کام انجام دے سکے۔

پستان مادر سے دودھ پینے کا حکم بچہ کے ذھن سے ہونٹوں کے ذریعہ جاری ہوتا ہے اور بچہ بغیر کسی غلطی کے ماں کادودھ پینے لگتا ہے۔

ماں کے جسم میں ایک اٹومیٹک کیمیائی " chimie "کارخانہ ہوتا ہے جو خون کو بہترین اور مفید غذا (یعنی دودھ) میں تبدیل کردیتا ہے، اور بچہ کے نظام ہاضمہ کے لئے بھی مناسب ہوتا ہے۔

اس کارخانہ سے حاصل شدہ دودھ پستان مادر میں جمع ہوجاتا ہے اور بچہ کے پیٹ میں داخل ہوکر بچے کے بدن کا جز بن جاتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس پستان کی نوک بچہ کے منھ کے لحاظ سے ہوتی ہے اور اس میں باریک باریک سوراخ ہوتے ہیں کہ جب بچہ دودھ پینا شروع کرتا ہے تو وہ سوراخ کھل جاتے ہیں، اور پھر خود بخود بند ہوجاتے ہیں تاکہ بچہ کا دودھ برباد نہ ہونے پائے۔

جس وقت سے عورت حاملہ ہوتی ہے اسی وقت سے دودھ بنانے والا سسٹم اپنی کارکردگی شروع کردیتا ہے اور جتنا بچہ رشد ونمو کرتا ہے اسی لحاظ سے یہ سسٹم بھی اپنی فعالیت میں اضافہ کردیتا ہے، اور ولادت کے وقت تک بچہ کے مزاج کے مطابق دودھ آمادہ ہوجاتا ہے۔

ولادت کے بعد بچہ جس قدر بڑا ہوتاجاتا ہے اور اس کا نظام ہاضمہ طاقتور ہوتا رہتا ہے اسی لحاظ سے دودھ کے ویٹامن بڑھتے رہتے ہیں!

قارئین کرام!

یہ عجیب وغریب اور حیرت انگیز حقائق ، فعل وانفعالات اور تغیر وتبدیلی تمام کی تمام انسان کی رشد ونمو کے لئے ہے، اور یہ سب بے انتھا رحمت الٰھی اور اس کے لطف وکرم ہی کا نتیجہ ہے؟!!

لہٰذا انسان کوان تعجب آور چیزوں پر غور وفکر کرنا چاہئے تاکہ ان کو دیکھ کر خدا کی شکر گزاری اور اس کی عبادت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرے جس کے نتیجہ میں خدا کے لطف وکرم اور مادی ومعنوی نعمتوں میں اضافہ ہوسکے اور انھیں تمام چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے اس کے درِ رحمت پر کاسہ گدائی پھیلاتے ہوئے کھے:

”اللّٰهُمَّ اِنّیِ اسْا لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ

تنفسی نظام ( Respiratoy System )

انسان کی عام زندگی میں پھیپھڑے کی فعالیت ۵۰۰ ملین بار انجام پاتی ہے۔

تنفسی مشین میں لاکھوں غدّے ہوتے ہیں جن میں سے ایک چپکنے والا پانی نکلتا رہتا ہے، اور ان غدوں کا کام نقصان دہ ذرات کو اپنی طرف جذب کرلینا ہے تاکہ جب انسان کے منھ میں گرد وغبار جائے تو وہ اس کے بدن میں داخل نہ ہونے پائے۔

اگر ان غدوں میںیہ پانی نہ ہوتا تو انسان کے سانس کی نالی منٹوں میںبند ہوجاتی اور انسان مرجاتا۔

سانس کی نالی میں بہت باریک باریک بال ہوتے ہیں جو اس نالی کو صاف کرتے رہتے ہیں۔

یہ بال ایک سیکنڈ میں ۱۲ دفعہ تمام نالی کو جھاڑو دیتے ہیں اور نقصان دہ گرد وغبار کے ذرات کو ہاضمہ سسٹم میں پھنچادیتے ہیں جھاں پھونچ کر وہ نقصان نہیں کرتے۔

سانس کی نالی ، ۷۵۰ ملین تھیلیوں کو صاف ہوا پھونچاتی ہے جھاںخون میں موجود کاربن " Carbon " آکسیڈ " oxide " زندگی بخش اوکسجن " Oxygen "میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہ سانس والی نالی، کتنی چھوٹی ہے لیکن کتنے عظیم اور حیرت انگیزکام انجام دیتی ہے اور ”کل شیءٍ“کاایک مصداق ہے جس پر خداوندعالم کی بے انتھا رحمت سایہ فگن ہے۔

کھال:

انسانی بدن کی کھال بھی بہت مفید ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱ ۔ کھال میں بہت ہی باریک باریک سوراخ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سانس کا کام بھی لیا جاتا ہے ؛ اور اگر یہ سوراخ بند ہوجائیں تو انسان موت کے گھاٹ اترجائے۔

۲ ۔ کھال میں بہت سے غدے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پسینہ باھر نکلتا ہے تاکہ جسم کی گرمی مناسب رھے اور زیادہ نہ ہونے پائے۔

۳ ۔ کھال میں چربی کے غدے بھی ہوتے ہےں جن کی وجہ سے بال نرم اور صحیح وسالم رہتے ہیں۔

۴ ۔ کھال کی وجہ سے بہت سے جراثیم بدن میں داخل نہیں ہوسکتے۔

۵ ۔ بدن میںپیدا ہوجانے والا زھر پسینہ بن کر اسی کھال سے باھر نکلتا ہے، اور اس سے انسان کے گردوں کو مدد ملتی ہے۔

۶ ۔ یہ غدّے بدن کے مفید پانی کو نکلنے سے روکتے ہیں۔

۷ ۔ حسّ لامسہ (چھونے والی قدرت) کا مرکز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سردی، گرمی، صاف، نرم ،سخت ، موٹا اور نازک وغیرہ جیسی چیزوں کا احساس ہوتا ہے۔

المختصر : انسان کی کھال بھی ان چیزوں میں سے جن پر خدا کی رحمت واسعہ سایہ فگن ہے اور اگر خدا کی رحمت نہ ہوتی تو پھر انسانی زندگی میں یہ فعل وانفعال اور مفید تبدیلیاں ممکن نہیں تھیں جن کی وجہ سے انسان زندہ ہے۔

بدن کا دفاعی نظام

جس وقت خداوندعالم نے انسان کے جسم کو پیدا کیا تو اپنے لطف وکرم اور محبت ورحمت کی بنا پر اس کے اندر ایسی قدرت عطا کی جس کی وجہ سے وہ حملہ آور دشمنوں سے مقابلہ کرسکتا ہے یعنی وہ ” میکروب “ " Microbe " اور بیماریاںاس سے (حتی الامکان) دور رہتی ہیں اور انسان کو اپنا دفاع کرنے کے لئے پانچ قدرت عطا فرمائیں:

۱ ۔ کھال، جس نے ہمارے پورے بدن کو ایک قلعہ کی طرح محفوظ بنایا ہے۔

۲ ۔ بافت ہای لنفی،" Lymphe "یہ انسان کے جسم کی کھال کے نیچے ہوتے ہیں جو کریم رنگ کے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان کا رنگ بدل بھی جاتا ہے۔

اور یہ جسم کے بعض حصے میں موٹے موٹے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی نازک ، اور جب ” میکروب “ " Microbe "اور بیماری کھال کے اندر داخل ہوجاتے ہیں تو یہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔

۳ ۔ پردہ مخاط: یہ وہ پردہ ہوتا ہے جو جسم کے اعضاء پر ہوتا ہے اور اس کا رنگ اسی عضو کے لحاظ سے ہوتا ہے اور اس کا کام بھی اس عضو کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

بعض اعضاء بدن جیسے دل پر دو پردے ہوتے ہیں ایک دل کے باھر ہوتا ہے جس کو ”مخاط خارجی“ کھا جاتا ہے اور دوسرا دل کے اندر ہوتا ہے جس ”مخاط داخلی“ کھا جاتا ہے۔

۴ ۔ معدہ کی ترشی: بالفرض اگر کوئی بیماری ان پردوں سے مقابلہ کرکے جسم کے اندر پھنچ جاتی ہے اور معدہ تک پھنچتی ہے تو معدہ کی ترشی (کھٹاس) اس کو نابود کردیتی ہے۔

۵ ۔ سفید گلوبل: یہ سفید گلوبل " Globule" ([۶۷ ]جو گیند جیسے ہوتے ہیں اور جب گندے ” میکروب “ " Microbe "بدن میں داخل ہوکر خون میں وارد ہوجاتے ہیں، تو یھی سفید گلوبل ان سے جنگ کرتے ہیں یھاں تک ان کو نیست ونابود کردیتے ہیں۔

قارئین کرام! یھاں پر ایک قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہ سفید گلوبل؛ اگر بدن میں مفید میکروب داخل ہوتے ہیں تو ان سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔[۶۸]

قارئین کرام! یہ تمام نعمتیں انسان کو مختلف بیماریوں اور حوادث سے محفوظ رکھنے کے لئے ہےں اور یہ تمام رحمت الٰھی اور رحمت رحمانیہ کی وجہ سے ہیں جو تمام انسانوں کے شامل حال ہےں، جن کی وجہ سے انسان کو زندگی کے پیچ وخم سے گزرنے میں مدد ملتی ہے۔

قارئین کرام! کیا واقعاً ہم اندازاہ لگاسکتے ہیں کہ خداوندعالم کی رحمت کس قدر ہمارے ساتھ ہے؟! وہ رحمت خدا جس نے ہمارے ذرہ ذرہ کے ظاھر وباطن پر سایہ کیا ہوا ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں تنھا نہیں چھوڑتی؟!!

گھاس اور ان کے تعجب خیز فوائد

گھاس اور نباتات کی تعداد اور ان کی کارکردگی نیز ان کے اندر موجود ویٹامن وغیرہ؛ انسانی زندگی کے لئے کس قدر مفید ہیں ان کو پیدا کرنے والے خدا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا۔

اور جیسا کہ گھاس اور نباتات بھی ”کل شیءٍ“ میں شامل ہیں اور رحمت الٰھی ان کے شامل حال ہے لہٰذا ان کے بعض اھم فوائد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

ھوا کے اندر کافی مقدار میں گیس اور اوکسجن" Oxygen "ھوتا ہے ، اوکسجن وہ حیات بخش شئے ہے جس سے انسان او رتمام حیوانات کا فطری تعلق ہے اس کے بغیر انسان اور حیوان کی زندگی ناممکن ہے۔

انسان کے سانس لیتے وقت ایک مقدار اوکسجن پھیپھڑے میں داخل ہوکرخون میں وارد ہوجاتا ہے اور پھر وہ وھاں سے بدن کے مختلف حصوں میں پھنچا دیا جاتا ہے۔

اوکسجن کا کام انسان کی غذا کو بدن کے مختلف خلیوں میں آھستہ آھستہ اور کم حرارت سے جلادینااور جنسی شھوت کو پیدا کرنا ہے۔ اور اس جلانے کی وجہ سے ایک زھریلی گیس بنام کاربن " Carbon "پیدا ہوتی ہے ، جو پھیپھڑے اورخون میں داخل ہوکر سانس کے ذریعہ باھر نکلتی ہے۔

سبھی جاندار ہواسے اوکسیجن لیتے ہیں اور کاربن باھر نکالتے ہیں۔

یھاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے:

ھوا میں کس قدر اوکسیجن ہوتا ہے جوتمام ہی نہیں ہوتا، آخر ہوا میں موجود اوکسیجن کی ایک معین مقدار ہوگی ، اور اربوں انسانوں اور حیوانوں کے سانس لینے سے اس مقدار میں کمی کیوں نہیں آتی، اس کو ہزاروں سال پھلے ہی تمام ہوجانا چاہئے تھا۔!!

ھر انسان ۲۴ گھنٹے میں تقریباً ۲۵۰ گرام خالص کاربن اپنے پھیپھڑے سے نکالتا ہے ۔ اگر بالفرض پوری دنیا کی آبادی کو تین ارب بھی مان لیں تو ایک سال میں تمام انسان ۲۷۳۷۵۰۰۰۰ ٹن زھریلا کار بن ہوا میں چھوڑتے ہیں اور تقریباً اتنا ہی جانوروں کے ذریعہ کاربن ہوا میں آتا ہے۔

یہ زھریلا کاربن ہر سیکنڈ چند گنا بڑھتا رہتا ہے تو پھر یہ جاتا کھاں ہے؟ اگر ہوا میں اوکسیجن اور کاربن ہوتا ہے تو یہ کاربن زیادہ ہوجانا چاہئے تھا کیونکہ آکیسجن کے مقابلہ میں کاربن کی مقدار بڑھتی جارھی ہے، یہ انسان اور حیوانات کس طرح زندہ ہیں یہ مر کیوں نہیں جاتے؟!!

قارئین کرام! اس سوال کا جواب یہ ہے:

رحمت الٰھی کی وجہ سے یہ مشکل آسان ہوگئی ہے اوربہت ہی آسان طریقہ سے خداوندعالم نے اس کا انتظام کیا ہے اور ان کو مرنے سے بچالیا ہے۔

خداوندعالم نے اس دنیا میں بہت سی مخلوقات پیدا کی ہیں جن کی تعداد کوئی نہیں جانتا، اس نے بہت سی ایسی جاندار چیزیں پیدا کی ہیں جن کا سانس لینا اس کے برخلاف ہے۔

جب وہ سانس لیتی ہیں تو ہوا میں موجود کاربن حاصل کرتی ہیںاور اوکسیجن ہاھر نکالتی ہیں ، جس کی بنا پر ہوا صحیح وسالم باقی رہتی ہے ، اوراس دیرینہ خدمت گزار موجود کا نام ”نباتات“ او رگھاس ہے۔

نباتات اپنے پتوں کے ذریعہ کاربن حاصل کرتی ہےں اور اپنے تنے میں اس کاربن کو محفوظ کرلیتی ہےںاور اس کے بدلے اوکسیجن ہوا میں چھوڑتی ہے ، اسی وجہ سے اکثر نباتات میں کاربن پایا جاتا ہے۔

قرآن کریم کی آیات ،امام متقین امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے نورانی کلام اور دعاء کمیل کی روشنی میںخداوندعالم کی رحمت درختوں کے ہرھر پتے میں شامل ہے جس کی بنا پر انسان موت کے خطرہ سے محفوظ ہے ، لہٰذا انسان ان تمام چیزوں کے پیش نظر پتے پتے اور ڈالی ڈالی میں رحمت خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ اور اگر ان تمام چیزوں کے واضح ہونے کے بعد بھی کسی کورحمت خدا دکھائی نہ دے تو وہ بیمار ہے جس کو جھل وغفلت کا کینسر ہے۔

انسان خدا داد عقل وشعور کے ذریعہ؛ سبزی، اناج اور پھلوں سے لذت اوراپنی سلامتی حاصل کرتا ہے اورانھیں کے ذریعہ اپنی بھوک مٹا تا ہے، یہ تمام چیزیں بدن کے عظیم کارخانے کے لئے ضروری اشیاء میںتبدیل ہوجاتی ہیں جیسے رنگ، ہڈی، کھال، رگ، خون، بال، ناخن، طاقت اور حرارت وغیرہ وغیرہ۔

زندگی میں حیوانات اور حشرات کا کردار

خشکی اور دریا میں بے شمار حیوانات ، حشرات (کیڑے مکوڑے) اور پرندہ نیز خزندے پائے جاتے ہیں جو عالم ہستی کو کتنے عظیم فائدے پھونچاتے ہیں، اور ان سبھی پر رحمت الٰھی سایہ فگن ہے ۔

خدا وندعالم کی بے انتھا رحمت کی وجہ سے ان کے اندر اتنے فوائد پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے انسان کو فائدہ پھنچتا ہے۔ لہٰذا ان میں چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ بارور کرنے والے حشرات: پھل دار درختوں میں بھی بعض درخت نر ہوتے ہیں اور بعض مادہ، ان میں سے بعض گردہ دار ( نرخلیہ) ہوتے ہیں جس طرح مرد کا نطفہ ہوتا ہے اور بعض تخمہ دار جو مادہ ہونے کی نشانی ہوتی ہے، اگر درخت نرکا خلیہ مادہ کے تخم تک نہ پھنچے یا اس کے برعکس تو پھر اس درخت پر پھل نہیں لگتے ۔

خداوندعالم نے اپنی رحمت واسعہ کی بنا پراس کام کو انجام دینے کے لئے چھوٹے چھوٹے حشرات پیدا کئے جو اس کام کو آسانی اور بہترین طریقہ سے انجام دیتے ہیں اور وہ ایک درخت کے خلیے کو دوسرے درخت تک پھنچادیتے ہیں۔

قارئین کرام! تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ حشرات اپنے اس کام میں کسی طرح کی کوئی غلطی نہیں کرتے، مثلاً سیب کے درخت کے خلیے آم کے درخت پر ڈالدیں یا آلو بخارہ کے خلیے کو خربوزہ کی بیل پر ڈال دیں بلکہ سیب کے خلیے کو سیب اور آلو بخارہ کو آلو بخارہ کے درخت ہی کے حوالے کرتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ درخت بھی ان حشرات کو بغیر انعام دئے واپس نہیں کرتے بلکہ یہ درخت اپنے اندر موجود مٹھاس کو ان کے حوالے کردیتے ہیں ، یہ حشرات اس مٹھائی کو کھاتے ہیں اور دولھا کو دلھن کے پاس پھنچادیتے ہیں تاکہ اپناثمر انسان کے حوالے کردیں، لیکن یہ حضرت انسان ہے جو تمام خدا داد نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنے کے بعد بھی شکر خدا سے غافل رہتا ہے!!

۲ ۔ بکری اور گائیں: ماھرین کا کھنا ہے کہ” دنیا میں ہر چیز موجودات کے لحاظ سے ہے“ یہ بات واقعاً بالکل صحیح ہے۔

جی ہاں، پستاندار (یعنی بچہ دینے والے ) حیوانات میں، ماں کے شکم میں بچے کو پلانے بھر کی مقدار میں دودھ ہوتا ہے، لیکن خداوندعالم نے اپنی رحمت کاملہ کی بنا پر گائے،بھینس اور بھیڑ بکری کو اس عام قانون سے الگ رکھا ہے، کیونکہ ان کا دودھ صرف ان کے بچوں ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ ان کا دودھ انسان کے لئے بہترین غذا شمارھوتا ہے۔

گائے، بھینس اور بکری کا دودھ بچوں اور بڑوں کے لئے بہت زیادہ مفید ہے اور دودھ سے حاصل ہونے والی چیزیں انسان کی غذا میں ایک بڑی ضرورت ہے۔[۶۹]

قارئین کرام! کیا ان تمام چیزوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد بھی خدا وندعالم کا لطف وکرم نظر نہیں آتااور رحمت خدا دکھائی نہیں دیتی؟!! خداوندمنان نے اپنی رحمت واسعہ کے ذریعہ ان حیوانات کو انسانی خدمت کے لئے خلق فرمایا ہے، ان حیوانات کے بے شمار فوائد ہےں اور احتمالی نقصانات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

انسان؛ بھینس بکری کے تمام اعضاء سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور یہ حیوانات ہر طرح سے انسانی خدمت کے لئے خلق کئے گئے ہیں۔

تعجب اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گوسفند (بھیڑ) کی تین قسمیں ہیں: پشم رکھنے والے، گوشت رکھنے والے اور دودھ دینے والی، جبکہ ان سب کی غذا ایک ہی ہے، واقعاً یہ قدرت خدا ہی کا ایک جلوہ ہے جو ایک ہی حیوان سے ایک ہی غذا کو تین چیزوں میں تبدیل کردیتی ہے، اور انسان کی غذا او رلباس اس کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔

گائے، بھینس اور بھیڑ بکری ”کل شیءٍ“کا ایک حصہ ہے جن پر رحمت الٰھی سایہ فگن ہے ، خدا کی رحمت کاملہ کے جلوے اس قدر زیادہ ہیں کہ اس کتاب میں ان کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔

۳ ۔ شھد کی مکھی : ماھرین کا کھنا ہے کہ اکثر پھول ہر وقت اپنا رس باھر نہیں نکالتے، بلکہ اس کا بھی ایک معین وقت ہے، اور اس کی مدت تین گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی، اور سب پھولوں کے رس نکلنے کا وقت بھی ایک نہیں ہوتا بلکہ بعض میں سے صبح کے وقت اور بعض سے ظھر کے وقت اور بعض سے ظھر کے بعد رس نکلتا ہے، شھد کی مکھی گیاہ شناس (یعنی پھولوں کو پہچانتی ہے) اور وقت شناس بھی ہیں، یعنی پھولوں کو بھی پہچانتی ہے اور ان سے رس نکلنے کے وقت کو بھی، لہٰذا اسی وقت معینہ پر ان میں رس اخذ کرتی ہے۔[۷۰]

اس کے بعد شھد کی مکھی پھولوں کے رس کو ایک بہترین ،لذیذ خوش رنگ اور طاقت بخش شئےمیں تبدیل کردیتی ہے جس کو شھد کھا جاتا ہے، جو تمام غذاؤں میں بے نظیر ہوتا ہے اور وہ خراب بھی نہیں ہوتا، نیز انسانوں کے لئے دواکا کام بھی کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

فِیْهِ شَفَاءٌ لِلنّٰاسِ “( ۱)

”جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفاء کا سامان ہے“۔

شھد کی مکھی اور اس کی زندگی کے بارے میں سیکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں جس کے ہر صفحہ پر خدا وندعالم کی رحمت واسعہ کے جلوے ہر پھلو سے ظاھر ہےں، اگرچہ یہ چھوٹی سی مخلوق ہے لیکن حقیقت میں بہت اھم مخلوق ہے۔

ھدایت ،بے مثل نعمت

جب خداوندعالم کے لطف کرم اور اس کی مھربانی نے یہ طے کرلیا کہ انسان کوکچھ دن کے لئے اس دنیا میں بھیجے، اور اس کو آفتاب ومہتاب اور زمین وآسمان جیسی مختلف نعمتوں سے نوازا ،تاکہ ان سے فائدہ حاصل کرے نیز سبزی، اناج اور پھل وغیرہ کے ذریعہ اس کی طاقت کو مکمل کیا اور دریائی، خشکی اور ہوائی جانوروں کے ذریعہ اس کے لئے حلال گوشت کا انتظام کیا، نیز اس کی زندگی میں پیش آنے والے مختلف ساز وسامان مھیا کئے تاکہ وہ اپنی عقل وخرد اور اپنے ارادہ واختیار اور آزادی وحریت پر بھروسہ کرتے ہوئے ہدایت تشریعی کا انتخاب کرے جس کو صراط مستقیم کھا جاتا ہے جو تمام آسمانی کتابوں، انبیاء علیھم السلام کی نبوتوں اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی ولایت خصوصاً قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے ، جس کا شمار خداوندعالم کی بے نظیر نعمتوں میں ہوتا ہے، تاکہ وہ خداوندعالم کی ان نعمتوں کے عوض میں جو ذمہ داری اور وظائف اس کے کاندھوں پر عائد ہوتے ہیں ان کو خلوص کے ساتھ صادقانہ طور پر انجام دے سکے، اور پھراپنے رشد وکمال کی منزلوں کو طے کرے، اس چند روزہ زندگی میں اپنی اُخروی اوردائمی زندگی کو سنوارے اورجنت الفردوس میںجانے کے بعد اپنے کو خدا وندعالم کی خوشنودی سے بھرہ مند ہونے کے لئے آمادہ کرے۔

انسان اگر خداوندعالم کی تمام مادی اور معنوی نعمتوں کو دیکھے اور ان پر غور وفکر کرے تو اس کو معلوم ہوجائے گا کہ خداوندمنان کی رحمت رحیمیہ اور اس کے فیضان خاص و عام نے اس کے ظاھر وباطن پر سایہ کررکھاھے، اور رحمت خدا زندگی کے ہر موڑ پر اس کے ساتھ ساتھ ہے ، خداوندعالم کی رحمت نے اس کو اس قدر چھپا رکھا ہے ، کہ اپنے مقرب ترین فرشتوں کو اس قدر اپنی رحمت ولطف وکرم عنایت نہیں کیا ہے!!

اور جب انسان معرفت کے ساتھ اپنے وظائف پر عمل کرتا ہے اور ایمانی طاقت کے بل بوتے پر خدا ئے محبوب سے ملاقات کے لئے قدم بڑھاتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی عبادت خدا او رخدمت خلق سے غافل نہیں ہوتا اور اپنے تمام وجود اور اعضاء وجوارح کے ذریعہ مکمل خضوع وخشوع کے ساتھ شب وروز اپنے پروردگار کی بارگاہ میںاس کی رحمت کی بھیک مانگتا ہے۔ انسان صراط مستقیم اور ہدایت الٰھی کے انتخاب اور وظائف الٰھی پر عمل کرنے نیز حلال وحرام کی رعایت کرنے اور خلق خدا کی خدمت (جو قرآن مجید کے فرمان کے مطابق اجر عظیم، اجر غیر ممنون، اجر کریم، اجر کبیر، رضاء حق او رھمیشہ کے لئے جنت الفردوس میں قیام، یہ تمام رحمت خدا کے جلوے ہیں) ؛کے ذریعہ رحمت الٰھی سے بھرہ مند ہوتا چلاجاتا ہے۔

رحمت خدا

انسان اگر اپنی زندگی میں جھل ونادانی یا غفلت ونسیان یا دوسرے اسباب کی بنا پر گناہ و معصیت میں ملوث ہوجائے تو انسان خدا کی بارگاہ میں توبہ اور گناھوں کی تلافی(جیسا کہ بیان ہوا ہے)؛کے ذریعہ اس کی بخشش ومغفرت اور رحمت کا حقدار ہوجاتا ہے، خصوصاً اگر اس کی توبہ اور استغفارشب جمعہ دعاء کمیل کے ذریعہ ہو، کیونکہ یہ شب؛ شب رحمت ہے ،یہ وہ رات ہے جس میں دعاء کمیل کے پڑھنے سے عفو بخشش اور رحمت خدا کی بارش ضرورھونے لگتی ہے:

( ”قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ اسْرَفُوا عَلَی انْفُسِهِمْ لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔“[۷۱]

”اے پیغمبر آپ پیغام پھنچادیجئے کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناھوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مھر بان ہے“۔

قرآن مجید میں درج ذیل آیات کے علاوہ بہت سی آیات ہیں جن میں رحمت خدا او راس کی عفو وبخشش کو بیان کیا گیا ہے:

” إ( ِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) “[۷۲] ”( وَاللهُ رَووفٌ بِالْعِبَادِ ) “[۷۳]”ِ( وَاللهُ یَدْعُو إِلَی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ ) “([۷۴] ”( انَّ اللهَ غَفُورٌ حَلِیمٌ ) “ [۷۵]”( وَاللهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ یَشَاء ) “”( وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ) “[۷۶] ”إ( ِنَّ اللهَ کَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ) “[۷۷]”ا( ِٕنَّ اللهَ کَانَ تَوَّابًا رَحِیمًا ) “ [۷۸]”( وَهُوَ ارْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) “[۷۹]”إ( ِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَة ) “[۸۰]

قارئین کرام ! اگر کوئی انسان ان آیات میں غور وفکر کرے تو پھر وہ خدا وندعالم کی طرف پلٹنے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کو واجب قرار دے گااور اس کی رحمت سے مایوسی او رناامیدی کو حرام او رگناہ کبیرہ مانے گا۔

رحمت کے سلسلہ میں احادیث

جناب ابوسعید خدری نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت کی ہے : جب گناھگار مومنین کو دوزخ کی آگ میں لے جایا جائے گا تو وہ ان کو نہیں جلائے گی، اس وقت خداوندعالم اپنے فرشتوں کو خطاب فرمائے گا: ان لوگوں کو میرے فضل وکرم اور رحمت کی بنا پر بھشت میں داخل کردو، چونکہ میرے لطف وکرم اور فضل واحسان کا دریا بے انتھا ہے۔

اہل بیت علیھم السلام سے روایت ہوئی ہے کہ جب روز قیامت آئے گا تو خداوندعالم مومنین کو ایک جگہ جمع کرکے فرمائے گا:

”تم پر جو میرے حقوق تھے میں ان کو معاف کرتا ہوں تم بھی ایک دوسرے کے حقوق کو معاف کردو تاکہ تم (سب) کو بھشت میں داخل کردیا جائے“۔

ایک روایت میں اس طرح وارد ہوا ہے کہ جب روز قیامت آئے گا ، اہل ایمان میں سے ایک بندہ کو حاضر کیا جائے گا اور اس سے خطاب ہوگا: اے میرے بندے ! تونے میری نعمتوں کو گناہ اور معصیت میں استعمال کیا، اور جیسے جیسے میں تجھ پر نعمتوں میں اضافہ کرتا گیا تو گناھوں میں اضافہ کرتا چلا گیا۔ اس وقت اس بندہ کا سر شرم کی وجہ سے جھک جائے گا۔ بارگاہ رحمت سے ایک بار پھر خطاب ہوگا: اے میرے بندے اپنے سر کو اوپر اٹھالے، جس وقت تو گناہ کرتا تھا میں اسی وقت تیرے گناھوں کو معاف کرتا جاتا تھا۔

اسی طرح یہ روایت بھی ملاحظہ فرمائیں: جب روز محشر ایک بندہ کولایا جائے گا،تو گناھوں کی وجہ سے اس کا سر بہت زیادہ جھکا ہوگااور شرم کی وجہ سے رونے لگے گا، اس وقت بارگاہ رحمت سے خطاب ہوگا: جس وقت تو گناہ کرتا ہوا ہنستا تھا، میں نے اس وقت تجھے شرمندہ نہ کیا آج جب کہ تو میری بارگاہ میں شرم کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے ہے اور گریہ وزاری کررھا ہے اور گناہ بھی نہیں کررھا ہے تو میں کس طرح تجھے عذاب دوں؟ اے میرے بندے میں نے تیرے گناھوں کو معاف کردیا اور تجھے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہوں۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مروی ہے کہ خدا کی سو رحمتیں ہیں، اور ان میں سے صرف ایک دنیا میں جلوہ فگن ہے جس کو اپنی تمام مخلوقات میں تقسیم کیا ہے، اور ۹۹ رحمت خداوندمنان کے خزانہ میں موجود ہے تاکہ روز قیامت اس ایک رحمت کو ۹۹ گنا کرکے اپنے بندوں پر نثار کرے گا۔[۸۱]

رئیس محدثین ، محدث کم نظیر حضرت شیخ صدوق علیہ الرحمة معصومین علیھم السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جب قیامت برپا ہوگی، خدا کی رحمت واسعہ اس قدر جلوہ نما ہوگی اور گناھگاروں کی فوج کی فوج معاف کردی جائے گی، یھاں تک کہ بارگاہ الٰھی کا مردود شیطان خدا کی عفوو بخشش کی امید کرنے لگے!!

ایک بہت اھم روایت میں وارد ہوا : جب کسی مومن بندہ کو قبر میں رکھا جائے اور قبر کو ڈھک دیا جائے، اور رشتہ دار اور احباء وھاں سے جدا ہوجائیں، اور وہ قبر میں تنھا رہ جائے، اس وقت خداوندعالم اپنی رحمت ومحبت کی بنا پر

خطاب فرمائے گا: اے میرے بندے! تو قبر کی تاریکی میں تنھا رہ گیا ہے ،اور جن کی خوشی کے لئے تو نے میری معصیت کی ہے اور ان کی رضا کی خاطر میری ناراضگی اختیار کی ہے، وہ لوگ تجھ سے جدا ہوگئے اور تجھے تنھا چھوڑگئے ہیں ، آج تجھے اپنی اس رحمت سے نوازوں گا جس سے مخلوقات تعجب کرنے لگے ، اس وقت فرشتوں کو خطاب ہوگا: اے فرشتو! میرا بندہ غریب وبے کس اور بے یار ومددگار ہے اور اپنے وطن سے دور ہوگیا ہے اور اس قبر میں میرا مھمان ہے، جاؤ اس کی مدد کرو، اور جنت کا دروازہ اس کی طرف کھول دو، اور عطروغذا اس کے پاس لے کر جاؤ ، اور اس کے بعد میرے اوپر چھوڑ دو تاکہ میں قیامت تک اس کا مونس وھمدم رھوں۔[۸۲]

رحمت کے بارے میں واقعات

ایک روایت میں منقول ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی، ایک بندہ کو حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جائے گا، اور اس کے نامہ اعمال جو گناھوں سے سیاہ ہوچکا ہے؛ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ بندہ اپنے نامہ اعمال کو لیتے وقت دنیا کی عادت کی طرح ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ کھے گا، اور جب رحمت خدا کے ذکر سے اس نامہ اعمال کو کھولے گا تو اس کو بالکل سفید پائے گا، جس میں کچھ بھی لکھا نہ ہوگا، یہ دیکھ کر کھے گا کہ اس میں تو کچھ بھی لکھا نہیں ہے میں کیسے پڑھوں، اس وقت فرشتے کھیں گے: اس نامہ اعمال میں تیری برائیاں اور خطائیں لکھی ہوئی تھیں لیکن اس بسم اللہ کی برکت سے تمام ختم ہوگئیں ہیں اور خداوندمنان نے تجھے معاف کردیا ہے۔[۸۳]

جناب عیسیٰ (ع) اور گناھگار

روایات میں بیان ہوا ہے کہ ایک روز جناب عیسیٰ علیہ السلام اپنے کچھ حواریوں کے ساتھ ایک راستہ سے گزر رھے تھے ناگھاں ایک بہت گناھگار شخص جو فسق وفجور سے معروف تھا راستہ میں ملا ، آتش حسرت اس کے سینے میں جلنے لگی، اور اس کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو بھنے لگے، اس نے اپنے اوپر ایک نظر کی ، افسوس کے ساتھ اس نے جگر سوز اور خون دل سے ایک آہ نکالی اور زبان حال سے کھا:

یارب کہ منم دست تھی چشم پر آشوب

جان خستہ ودل سوختہ وسینہ کباب

نامہ سیہ وعمر تبہ کار خراب

از روی کرم بہ فضل خویشم دریاب

”پالنے والے میرا ہاتھ خالی اور آنکھیں پُر آشوب ہیں،ذھن پراکندہ، دل جلا ہوا اور سینہ کباب ہے“۔

نامہ اعمال سیاہ ہے اور عمر برباد کار و کوشش بے ثمر ، لہٰذا اپنے فضل و کرم ہی سے میری مدد فرما“۔

اور اس نے یہ سوچا کہ میں نے عمر بھر کوئی کار خیر انجام نہیں دیا ہے لہٰذا میں کس طرح پاک افراد کے ساتھ چل پاؤں گا،لیکن چونکہ یہ خدا کے محبوب بندے ہیں اگر انھوں نے قبول کرلیا تو چند قدم ان کے ساتھ چلنے میں کوئی حرج (بھی) نہیں ہے، لہٰذا ان اصحاب کے ساتھ کتے کی شکل میں فریاد کرتا ہوا چلنے لگا۔

ایک حواری نے جب اس مشھور ومعروف بدکار کو اپنے پیچھے پیچھے آتا ہوا دیکھا تو کھا: یا روح اللہ! یہ مردہ دل اور نجس آدمی ہم لوگوں کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا او راس ناپاک کے ساتھ چلنا کس مذھب میں جائز ہے؟ اس کو بھگادیجئے تاکہ یہ ہمارے پیچھے نہ آئے ایسا نہ ہو کہ اس کے گناھوںکا دھبہ ہمارے دامن پر بھی لگ جائے!!

اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کچھ سوچنے لگے کہ اس شخص سے کیا کھےں ، اور کس طرح اس شخص سے معذرت کرےں(کہ ہمارے ساتھ نہ چلے) ناگاہ خداوندعالم کی طرف سے وحی نازل ہوئی: اے روح اللہ! اپنے اس خود پسند دوست سے فرمادیجئے کہ اپنی زندگی( کے اعمال کو دوبارہ شروع کرو) کیونکہ آج تک جو اس نے نیک کام کئے تھے وہ سب نامہ اعمال سے محو کردئے گئے کیونکہ اس نے میرے بندہ کو حقارت کی نظر سے دیکھا ہے اور اس فاسق کو بشارت دیدو کہ میں نے اس کی شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے اس کے لئے اپنی توفیق کا راستہ کھول دیا ہے اور اس کی ہدایت کے اسباب مھیا کردئے ہےں۔[۸۴]

ایک گناھگار جوان

مرحوم ملّا فتح اللہ کاشانی نے تفسیر ”منہج الصادقین“ میں اور آیت اللہ کلباسی نے کتاب ”انیس اللیل“ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے :

”مالک دینار“ کے زمانہ میں ایک گناھگار او رنافرمان شخص کی موت ہوگئی، عوام الناس نے اس کے گناھوں کی وجہ سے اس کی تجھیز وتکفین نہیں کی، بلکہ ایک گندی جگہ کوڑے کے ڈھیر میں ڈال دیا۔

مالک دینار نے رات میں خواب دیکھا کہ خدا وندعالم کا حکم ہے : ہمارے اس بندہ کو وھاں سے اٹھاؤ اور اس کو غسل وکفن کے بعد صالح افراد کے قبرستان میں دفن کرو، اس نے عرض کی : خدایا! وہ تو بدکاروں اور فاسقوں میں سے تھا، کس طرح اور کس چیز کی وجہ سے درگاہ احدیت میں مقرب بن گیا؟ تو جواب آیا: اس نے آخری موقع پر گریہ کناں آنکھوں سے یہ جملہ پڑھا:

”یَامَنْ لَہُ الدُّنْیَا وَالآخِرَةُ إِرْحَمْ مَنْ لَیْسَ لَہُ الدُّنْیَا وَالآخِرَةُ“۔

(اے وہ جودنیا وآخرت کا مالک ہے، اس شخص کے او پر رحم کر جس کے پاس نہ دنیا ہے او رنہ آخرت۔)

اے مالک! کون ایسا درد مند ہے جس کے درد کا ہم نے علاج نہ کیا ہو اور کون ایسا حاجت مند ہے جو ہماری بارگاہ میں روئے اور ہم اس کی حاجت پوری نہ کریں؟[۸۵]

مستجاب دعا

ایک بڑے عابد و زاھد منصور بن عمارکے زمانہ میں ایک مالدار شخص نے محفل معصیت سجائی اور اس نے اپنے غلام کو چار درھم دئے تاکہ وہ بازار سے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لائے۔

غلام راستہ میں چلا جارھا تھا کہ اس نے دیکھا منصور بن عمار کی نششت ہورھی ہے، سوچا کہ دیکھوں منصور بن عمار کیا کہہ رھے ہیں؟ تو اس نے سنا کہ عمار اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کچھ طلب کررھے ہیں اور کہہ رھے ہیں کہ کون ہے جو مجھے چار درھم دے تاکہ میں اس کے لئے چار دعائیں کروں؟ غلام نے سوچا کہ ان معصیت کاروں کےلئے طعام وشراب خریدنے سے بہتر ہے کہ یہ چار درھم منصور بن عمار کو کو دیدوں تاکہ میرے حق میں چار دعائیں کردیں۔

یہ سوچ کر اس نے وہ چار درھم منصور کو دیتے ہوئے کھا: میرے حق میں چار دعائیں کردو، اس وقت منصور نے سوال کیا کہ تمھاری دعائیں کیا کیا ہیں بیان کرو، اس نے کھا: پھلی دعا یہ کرو کہ خدا مجھے غلامی کی زندگی سے آزاد کردے، دوسری دعا یہ ہے کہ میرے خواجہ (آقا) کو توبہ کی توفیق دے، اور تیسری دعا یہ کہ یہ چار درھم مجھے واپس مل جائیں، اور چوتھی دعا یہ کہ مجھے اور میرے خواجہ اور خواجہ کے اہل مجلس کو معاف کردے۔

چنانچہ منصور نے یہ چار دعائیں اس کے حق میں کیں اور وہ غلام خالی ہاتھ اپنے آقاکے پاس چلا گیا۔

اس کے آقا نے کھا: کھاں تھے؟ غلام نے کھا: میں نے چار درھم دے کر چار دعائیں خریدی ہیں، تو آقا نے سوال کیا وہ چار دعائیں کیا کیا ہیں؟ تو غلام نے کھا: پھلی دعا یہ میں آزاد ہوجاؤں، تو اس کے آقا نے کھا جاؤ تم راہ خدا میں آزاد ہو، اس نے کھا: دوسری دعا یہ تھی کہ میرے آقا کو توبہ کی توفیق ہو، اس وقت آقا نے کھا: میں توبہ کرتا ہوں، اس نے کھا: تیسری دعا یہ کہ ان چار درھم کے بدلے مجھے چار درھم مل جائیں، چنانچہ یہ سن کر اس کے آقا نے چار درھم عنایت کردئے ، ’اس نے کھا: چوتھی دعا یہ کہ خدا مجھے ،تجھے اور اہل محفل کو بخش دے ، یہ سن کر اس آقا نے کھا: جو کچھ میرے اختیار میں تھا میں نے اس کو انجام دیا، تیری ، میری اور اہل مجلس کی بخشش میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔چنانچہ اسی رات اس آقا نے خواب میں دیکھا کہ ہاتف غیبی خدا کی طرف سے آوازدے رھا ہے کہ اے میرے بندے! تو نے اپنے فقر وناداری کے باوجود اپنے وظیفہ پر عمل کیا،کیا ہم اپنے بے انتھا کرم کے باوجود اپنے وظیفہ پر عمل نہ کریں، ہم نے تجھے، تیرے غلام اور تمام اہل مجلس کو بخش دیا۔

خدائے کریم کی بارگاہ میں حاضری

ایک مرد حکیم ایک راستہ سے چلا جارھا تھا راستہ میں اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جوان کو اس کے گناہ وفساد کی وجہ سے اس علاقہ سے باھر نکال رھے ہیں، اور ایک عورت اس کے پیچھے پیچھے بہت زیادہ روتی پیٹتی ہوئی جارھی ہے، میں نے سوال کیا کہ یہ عورت کون ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا اس کی ماں ہے، میرے دل میں رحم آیا لہٰذا میں نے ان لوگوں سے اس کے بارے میں سفارش کی اور کھا کہ اس دفعہ اس کو معاف کردو، اور اگر اس نے دوبارہ یھی کام کیا تو پھر اس کو شھر بدر کردینا۔

وہ مرد حکیم کہتا ہے: ایک زمانہ کے بعد اس قریہ سے دوبارہ گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک دروازہ کے پیچھے سے نالہ و فریاد کی آوازیں بلند ہیں، میں نے دل میں سوچا شاید اس جوان کو گناھوں کی وجہ سے شھر بدر کردیا گیا ہے اور اس کی ماں اس کی جدائی میں نالہ وفریاد کررھی ہے، میں آگے بڑھا اور دروازہ پر دستک دی ، ماں نے دروازہ کھولاتو میں نے اس جوان کے حالات دریافت کئے تو ماں بولی: وہ تو مرگیا ہے لیکن کس طرح مرا ہے، جس وقت اس کا آخری وقت تھا تو اس نے کھا: اے ماں! پڑوسیوں کو میرے مرنے کی خبر نہ کرنا، میں نے ان کو بہت تکلیف دی ہے، اور ان لوگوں نے بھی میرے گناھوں کی وجہ سے میری سرزنش کی ہے ، میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ لوگ میرے جنازے میں شریک ہوں، لہٰذا خود ہی میری تجھیز وتکفین کرنا ، اور ایک انگوٹھی نکال کر دی اور کھا کچھ دنوں پھلے میں نے اس کو خریدا ہے اور اس پر”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ لکھا ہوا ہے، اس کو بھی میرے ساتھ دفن کردینا او رقبر کے پاس خدا سے میری شفاعت کرنا تاکہ خدا میرے گناھوں کو بخش دے۔

چنانچہ میں نے اس کی وصیت پر عمل کیا اور جس وقت اس کی قبر کے پاس سے واپس آرھی تھی تو گویا مجھے ایک آواز سنائی دے:

”اے ماں! اطمینان سے چلی جاؤ، میں خدا وندکریم کے پاس پھنچ گیا ہوں“۔[۸۶]

توبہ کے بعد توبہ

عطّار ”منطق الطیر“ میں روایت کرتے ہیں: ایک شخص مسلسل گناہ اور معصیت کے بعد توبہ کرنے کی توفیق حاصل کرتا ہے، اور توبہ کے بعد پھر ہوائے نفس کے غلبہ کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہوجاتا ہے، ایک بار پھر اس نے توبہ کی ، لیکن پھر اپنی توبہ کو توڑ ڈالا اور گناھوں کا مرتکب ہوگیا، یھاں تک کہ اپنے بعض گناھوں کی سزا میں مبتلا ہوگیا، اور وہ اس نتیجہ پر پھنچ گیا کہ اس نے اپنی عمر کو تباہ کرڈالا ہے اور جب اس کا آخری وقت آگیا تو ایک بار پھر توبہ کے بارے میں سوچا، لیکن شرمندگی اور خجالت کی بنا پر توبہ نہ کرسکا، لیکن جلتے توے پر بھنتے دانہ کی طرح کرب وبے چینی میں کروٹیں بدلنے لگا، یھاںتک کہ سحر کا وقت ہوگیا، اس موقع پر ہاتف غیبی نے ندا دی : اے گناھگار خداوندعالم فرماتا ہے: جب تو نے پھلی دفعہ توبہ کی تو میں نے تجھے بخش دیا، لیکن تونے اپنی توبہ کوتوڑ ڈالا، حالانکہ میں تجھ سے انتقام لے سکتا تھا لیکن میں نے تجھے مھلت دی یھاں تک کہ تونے دوبارہ توبہ کی اور میں نے تیری توبہ قبول کرلی، لیکن تونے تیسری مر تبہ بھی اپنی توبہ کو توڑ ڈالا، اور گناہ ومعصیت میں غرق ہوگیا؛ اور اگر تو اب بھی توبہ کرنا چاہتا ہے تو توبہ کرلے میں تیری توبہ قبول کرلوں گا۔[۸۷]

دعا کے ذریعہ گمراھی سے نجات

عطّار ”منطق الطیر“ میں روایت کرتے ہیں: ایک روز حضرت روح الامین ”سدرة المنتھیٰ“ پر تھے دیکھا کہ پروردگار عالم کی طرف سے لبیک لبیک کی آواز آرھی ہے، لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ لبیک کس کے جواب میں کھی جارھی ہے، سوچا کہ اس شخص کو پہچانے جس کے جواب میں یہ لبیک کھی جارھی ہے، تمام زمین وآسمان میں نظر دوڑائی ، کوئی نظر نہیں آیا دیکھا اس وقت بھی بارگاہ رب العزت سے مسلسل لبیک لبیک کی آواز آرھی ہے۔

اس کے بعد پھر دیکھا کوئی ایسا شخص نظر نہیں آیا جو خداوندعالم کے لبیک کا مستحق ہو،عرض کیا: پالنے والے مجھے اس بندہ کو دکھادے جس کے گریہ وزاری کے جواب میں تو لبیک کہہ رھا ہے، اس وقت خطاب پروردگار ہوا: سر زمین روم پر دیکھ، دیکھا تو روم کے ایک بت کدہ میں ایک بت پرست ابر باراں کی طرح گریہ کر رھا ہے او راپنے بت کو پکارھا ہے۔

جناب جبرئیل نے اس واقعہ کو دیکھ کر جوش وخروش میں آکر عرض کی: پالنے والے میری آنکھوں سے حجاب اٹھالے کہ ایک بت پرست اپنے بت کو پکاررھا ہے اور اس کے سامنے رو رھا ہے اور توھے کہ اپنے لطف وکرم سے اس کے جواب میں لبیک کہہ رھا ہے!!

توآواز قدرت آئی: میرے بندہ کا دل سیاہ ہوچکا ہے اسی وجہ سے وہ راستہ بھٹک گیا ہے، لیکن چونکہ مجھے اس کا راز ونیاز اچھا لگا، لہٰذا اس کا جواب دے رھا ہوں،اوراس کی آواز پر لبیک کہہ رھا ہوں تاکہ اسی وجہ سے راہ ہدایت پر آسکے، چنانچہ اسی وقت اس کی زبان پر خداوند مھربان کا کلمہ جاری ہوگیا!!۔[۸۸]

بد بختوں کی فھرست سے نام کاٹ کر نیک بختوں کے فھرست میں لکھا گیا

صاحب تفسیر ”فاتحة الکتاب“ (جو عرفانی اور علمی کتابوں میںسے ایک اھم کتاب ہے اور فیض کاشانی کے زمانہ کے بعد ایک دانشور نے لکھی ہے) کہتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک عابد وزاھد تھا ، جس نے تمام لوگوں کو چھوڑ کر ایک خلوت گاہ بنائی ، اور ایسی عبادت کیا کرتا تھا جس کی بنا پر وہ محبوب ملائکہ بن گیا تھا ، وحی پروردگار کے رازدارجناب جبرئیل نے اس کی زیارت کی تمنا کی اور آسمان سے زمین پر آنے کی اجازت طلب کی تو آواز قدرت آئی: اے جبرئیل لوح محفوظ میں دیکھو اس کا نام کھاں لکھا ہے۔؟

جبرئیل نے دیکھا کہ اس کا نام بد بختوں کی فھرست میں لکھا ہوا ہے، تعجب کیا ، اور اس کے دیدار کے ارادے کو ترک کردیا اور بارگاہ پروردگار میں عرض کیا: پالنے والے! تیرے حکم کے مقابلہ میں کوئی بھیتاب نہیں رکھتا ، مجھ میں اس عجیب وغریب نظارہ کو دیکھنے کی طاقت نہیں ہے۔

خطاب ہوا: چونکہ تمھارے دل میں اس کے دیدار کی تمنا تھی لہٰذا اس کے پاس جاؤ اور جو کچھ دیکھا ہے اس کو باخبر کرو۔

جناب جبرئیل اس عابد کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوئے دیکھا تواس کا بدن بہت نحیف وکمزور ہے اس کے دل میں شوق ومحبت کی آگ لگی ہوئی ہے کبھی پروانہ کی طرح محراب عبادت میں سوزناک انداز میںعبادت کرنے میں مشغول ہوتا ہے اور کبھی سجدہ کی حالت میں گریہ وزاری اور تضرع کرتا ہے۔

جناب جبرئیل اس کو سلام کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے عابد! خود کو زحمت میں نہ ڈال، کیونکہ لوح محفوظ میں تیرا نام بدبختوں کی فھرست میں لکھا ہوا ہے۔

چنانچہ جب اس عابد نے یہ سنا تو نسیم سحر کی وجہ سے گلبرگ کے پھول کی طرح کھِل اٹھا ؛ ہنسا اوربلبل شیرین سخن کی طرح اپنی زبان پر ”الحمد لله“ جاری کیا۔

اس وقت جناب جبرئیل نے کھا: ا ے ناچار بوڑھے ! تجھے تو اس دلسوز درد ناک غم کی خبر سن کر ”انا لله“ کھنا چاہئے تھا او رتو ہے کہ ”الحمد لله“ کہتا ہے؟!! تیرے لئے تو تعزیت اور تسلیت کا مقام تھا تو خوشی اور مسرت کا اظھار کرتا ہے؟!!

یہ سن کر اس عابد نے کھا: ان باتوں کو چھوڑ، میں بندہ اور غلام ہوں اور وہ آقا ومولا، غلام کامولا کی باتوں سے کیا مقابلہ، اس کے مقابلہ میں کسی کی نہیں چلتی، وہ جو کچھ کرنا چاھے کرسکتا ہے، قدرت کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے، جھاں بھی ہمیں رکھنا چاھے رکھ سکتا ہے، سب کچھ اسی کی مشیت کے تحت ہے جو چاھے کرے، ”الحمد لله“ اگرمیں بھشت میں جانے کے لئے اس کی شایان شان نہیں ہوں تو کوئی بات نہیں میں دوزخ کا ایندھن بننے کے کام تو آسکتا ہوں۔

یہ سن کر جناب جبرئیل اس کی حالت پر رونے لگے، چنانچہ اسی حالت میں بارگاہ رب العزت میں پلٹ گئے، اس وقت حکم خدا ہوا اے جبرئیل دوبارہ لوح محفوظ کو دیکھو کہ ”یمحو الله ما یشاء ویثبت“[۸۹] کے لکھنے والے نے کیا لکھا اور ”یفعل الله ما یشاء“ [۹۰]کے مالک نے کیا کیا ہے؟

جبرئیل نے دیکھا تو اس کا نام نیک بختوں کی فھرست میں لکھا ہوا ہے، جناب جبرئیل کو بہت تعجب ہوا، عرض کیا: پالنے والے اس واقعہ کا راز کیا ہے ، کس طرح ایک مجرم ؛ مَحرم میں بدل جاتا ہے؟

جواب پروردگار آیا: اے امین اسرار وحی ! اور اے مھبط انوار امر ونھی، چونکہ وہ عابد اپنے لئے مقرر کی ہوئی جگہ کی خبر سن کر رویا نہیں اس نے نالہ وفریاد نہیں کیا بلکہ وادی صبر میں قدم رکھا اور حکم الٰھی پر راضی رھا نیز اپنی زبان پر ”الحمد لله“ جاری کیا اور مجھے میرے تمام صفات سے پکارا، میرے کرم اور رحمت کو جوش آگیا کہ ”الحمد لله“ کھنے والے کو بدبختوں کی فھرست سے نکال نیک بختوں کی فھرست میں لکھ دوں، لہٰذا میں نے اس کا نام نیک بختوں کی فھرست میں لکھ دیا ہے۔[۹۱]

____________________

[۱] سوره غافر، آیت۶۰.

[۲] سوہ فرقان آیت ۷۷۔

[۳] سورہ بقرہ آیت ۱۸۶۔

[۴] سورہ ق آیت۱۶۔

[۵] سورہ ابراھیم آیت۳۹۔

[۶] سورہ مریم ۵ تا ۷۔

[۷] سورہ مائدہ آیت ۱۱۲تا ۱۱۵۔

[۸] سورہ غافر(مومن)آیت۶۰۔

[۹] محجّةالبیضاء، ج۲،ص۲۸۲،کتاب الاذکار و الدعوات ،باب۲۔

[۱۰] محجّةالبیضاء، ج۲،ص۲۸۲،کتاب الاذکار و الدعوات ،باب۲۔

[۱۱] محجّةالبیضاء ،ج۲،ص۲۸۳،کتاب الاذکار و الدعوات ،باب۲۔

[۱۲] کافی ،ج۲ص۴۶۶،باب فضل الدعاء ۔۔۔،حدیث۲۔

[۱۳] کافی ،ج۲ص۴۶۷،باب فضل الدعاء ۔۔۔،حدیث۸۔

[۱۴] کافی ،ج۲ص۴۶۷،باب ان الدعا ء سلاح المومن ،حدیث ۲ ؛ محجّةالبیضاء :۲۸۴۲،باب الثانی فی آداب الدعا ء۔۔۔۔

[۱۵] کافی ،ج۲ص۴۷۱،باب ا لھام الدعا ء ،حدیث ۲ ؛محجّةالبیضاء :۲۸۴۲،باب الثانی فی آداب الدعا ء۔۔

[۱۶] کافی ،ج۲ص۴۷۰،باب ان الدعا ء شفاء ، من کل داء ،حدیث ۱ ؛ محجّةالبیضاء :۲۸۵۲،باب الثانی فی آداب الدعا ء۔

[۱۷] کافی ،ج۲ص۴۸۷،باب الاجتماع فی ا لدعا ء،حدیث ۲؛ جامع احادیث الشیعہ:۳۵۴۱۹۔

[۱۸] مستدرک الوسائل :ج۵ص۲۳۹،باب ۳۶،حدیث ۵۷۷۲؛ جامع احادیث الشیعہ:۳۵۴۱۹۔

[۱۹] وسائل الشیعہ :ج۷ص۱۰۴،باب ۳۹ حدیث۸۸۵۶۔

[۲۰] وسائل الشیعہ :ج۷ص۱۰۵،باب ۳۹ حدیث۸۸۶۰۔

[۲۱] سورہ یوسف آیت۸۷۔

[۲۲] سورہ زمر آیت ۵۳۔ ”۔۔۔۔خدا کی رحمت سے مایوس نہ ھونا۔۔“

[۲۳] کنز العمال :۵۸۶۹،میزان الحکمہ ج ۱۰ص۵۰۴۶،القنوط، حدیث۱۷۱۰۹۔

[۲۴] مستدرک الوسائل :ج۱۲ص۵۰،باب ۶۴ حدیث۱۳۵۰۷۔

[۲۵] کافی : ج۲ ص ۴۸۹ ،باب ابطات علیہ الاجابة، حدیث ۲۔

[۲۶] کافی : ج۲ ص۴۸۹ ،باب ابطات علیہ الاجابة، حدیث ۳۔

[۲۷] اصول کافی، ج۲ ص ۲۶۶، مختلف ابواب میں، محجة البیضاء ص ۲۴۹تا ۲۶۸۔

[۲۸] دعوات راوندی ص ۳۵،حدیث ۸۳، بحار الانوار ج۸۶ص۲۷۴ باب ۲، ص ۱۷۔

[۲۹] المقنعة ص ۱۵۵، بحار الانوار ج۸۶، ص ۲۷۱، باب ۲ حدیث ۱۳ و ۱۹۔

[۳۰] بحار الانوار ج۸۶ص۲۸۲،باب ۲حدیث ۲۷۔

[۳۱] بحار الانوار ج۸۶ص۲۸۳،باب ۲حدیث ۲۸(مضمون حدیث۔)

[۳۲] مستدرکات علم الرجال ج۶ص ۳۱۴۔

[۳۳] رسائل سید مرتضیٰ۔

[۳۴] بحار الانوار ج ۳۳ص۳۹۹، باب ۲۳حدیث ۶۲۰۔

[۳۵] مستدرکات علم الرجال ج۶ص ۳۱۴۔

[۳۶] مصباح کفعمی ص ۵۵۵۔

[۳۷] محجة البضاء ج۲ ص ۲۸۵، آداب دعا وھی عشرة۔

[۳۸] محجة البضاء ج۲ ص ۲۸۵، آداب دعا وھی عشرة۔

[۳۹] اصول کافی، ج۲ص۴۶۱ باب البکاء حدیث ۱۔

[۴۰] اصول کافی، ج۲ص۸۰ باب اجتناب المحارم حدیث ۲۔

[۴۱] تفسیرامام عسکری :۲۵ ،الافتتاح بالتسمیة۔۔۔ ؛وسائل الشیعہ :ج۷ص۱۷۰،باب ۱۷ حدیث ۹۰۳۲۔

[۴۲] مکارم الاخلاق :۳۴۶،فی المھمات ؛بحارالانوار :ج۹۲ ص۱۵۹ ،باب۱۵۔

[۴۳] مستدرک الوسائل :ج۵ص۳۰۴،باب ۱۶ حدیث ۵۹۲۹ ۔

[۴۴] روایات ۴ تا ۷ تفسیر فاتحة الکتاب میں موجود ہے۔

[۴۵] سورہ روم آیت ۴۔

[۴۶] سورہ تغابن آیت ۱۔

[۴۷] سورہ اخلاص آیت ۱۔

[۴۸] انیس اللیل ص ۲۱۔

[۴۹] افق دانش ص ۱۱۔

[۵۰] سورہ کہف آیت۵۱۔

[۵۱] سورہ فصلت آیت۱۱۔

[۵۲] سورہ نوح آیت۱۶۔

[۵۳] گزشتہ وآئندہ جھان ص ۲۰ تا ۲۷۔

[۵۴] افق دانش ص ۸۹تا ۹۴۔

[۵۵] سورہ نوح آیت۱۴۔

[۵۶] سورہ مومنون آیت۱۲۔

[۵۷] سورہ فرقان آیت۵۴۔

[۵۸] سورہ علق آیت ۲۔

[۵۹] بعض حیوانات اور انسان کے نطفہ میں موجود ایک خلیہ " Cellule "کا نام ہے۔(مترجم)

[۶۰] سورہ سجدہ آیت۸۔

[۶۱] سورہ دھر آیت۲۔

[۶۲] سورہ حشر آیت۲۴۔

[۶۳] سورہ زمر آیت ۶۔

[۶۴] سورہ مومنون آیت۱۴۔

[۶۵] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[۶۶] گزشتہ وآئندہ جھان، ص۵۱ تا ۷۰، تھوڑے دخل وتصرف اور اختصارکے ساتھ۔

[۶۷] انسان کے خون میں دو طرح کے گلوبل ھوتے ہیں ایک سفید رنگ کے اور دوسرے سرخ رنگ کے اور سرخ رنگ کے گلوبل میں جب کمی آجاتی ہے تو انسان میں خون کم ھوجاتا ہے، ایک ملی میٹر خون میں سرخ گلوبل کی تعداد پانچ ملین ھوتی ہے، جبکہ سفید گلوبل کی تعداد ایک میلی میٹر مکعب خون میں چھ سے سات ہزار تک ھوتی ہے۔(مترجم)

[۶۸] نشایہ ھای از او، ص ۸۸ تا ۱۳۳۔

[۶۹] نشانہ ھای از او، ج۱ ص ۱۷۴۔

[۷۰] نشانہ ھای از او ج ۲ ص ۹۲۔

[۷۱] سورہ زمر آیت۵۳۔

[۷۲] سورہ بقرہ آیات نمبر۱۷۳، ۱۸۲، ۱۹۲، ۱۹۹، اور سورہ مائدہ آیت ۳۹۔

[۷۳] سورہ بقرہ آیت۲۰۷، آل عمران آیت ۳۰۔

[۷۴] سورہ بقرہ آیت ۲۲۱۔

[۷۵] سورہ بقرہ آیت ۲۳۵۔

[۷۶] سورہ بقرہ آیت ۱۰۵۔

[۷۷] سورہ نساء آیت ۴۳۔

[۷۸] سورہ نساء آیت ۱۶۔

[۷۹] سورہ یوسف آیت ۶۴۔

[۸۰] سورہ نجم آیت ۳۲۔

[۸۱] محجة البیضاء ج۸ص ۳۸۴، باب فی سعة رحمة اللہ۔

[۸۲] روایات باب رحمت خدا مفصل طور پر کتاب بحار الانوار ج۷ص ۲۸۶ باب ۱۴ما یظھر من رحمتہ تعالی فی القیامة، میں نقل ھوئی ھوئی ہیں ، محجة البیضاء ج۸ ص ۳۸۳ باب فی سعة رحمة اللہ، وکتاب تفسیر فاتحة الکتاب وتفاسیر قرآن میں نقل ھوئی ھیں۔

[۸۳] تفسیر فاتحة الکتاب، ص ۷۴۔

[۸۴] تفسیر فاتحة الکتاب ص ۶۳۔

[۸۵] انیس اللیل ص ۴۵۔

[۸۶] تفسیر روح البیان جلد اول ص ۳۳۷۔

[۸۷] انیس اللیل ص ۴۵۔

[۸۸] انیس اللیل ص ۴۶۔

[۸۹] سورہ رعد آیت۳۹۔ترجمہ:”اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے“۔

[۹۰] سورہ ابراھیم، آیت ۲۷۔ترجمہ:”اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجا م دیتا ہے“۔

[۹۱] تفسیر فاتحة الکتاب ص ۱۰۷۔


بِقُوَّتِکَ الَّتي قَهَرْتَ بِهٰا کُلَّ شَيْ ءٍ“

” اور اس قوت کے واسطہ سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے،“

خداوندعالم کی قدرت اور توانائی اس کی عین ذات ہے اور بے نھایت اور بے انتھا ہے، دنیا کی تمام قدرتیں اس کی قدرت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔کسی بھی قدرت مند کی قدرت اس کی قدرت کے مقابلہ میں مستقل نہیں ہے، تمام قدرتیں اس کی قدرت کی شعاعوں کی ایک جھلک ہے: ”لا حول ولا قوة الا بالله “ ۔

گزشتہ صفحات میں ”کل شیءٍ“ کے بارے میں مختصر طور پر وضاحت کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا : ”کل شیءٍ“ یعنی: تمام مخلوقات اور تمام وہ چیزیں جو اس کے ارادہ سے پیدا ہوئی ہیں، ان کی تعداد اور ان میں سے بہت سی چیزوں کی کیفیت اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے، اور روز قیامت تک نہیں جان سکتا ہے۔

اربوں آسمانی موجودات، کہکشان اور نباتات، حیوانات،چرند پرند،اور خشکی ودریا کے خزندہ ، بے شمار کیڑے مکوڑے، ” وائیرس " Virus "، اورمیکروب “ " Microbe "اور غیبی موجودات نیز وہ فرشتے جن سے زمین وآسمان بھرا ہوا ہے، ان سب سے کون آگاہ ہوسکتا ہے اور ان کی تعداد کا حساب کون لگاسکتا ہے؟ خدائے مھربان اپنی بے نھایت قدرت سے ( کل شیءٍ) ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کے احاطہ قدرت سے باھر نہیں ہے اور کوئی چیزباھر ہوبھی نہیں سکتی ہے۔ اجرام آسمانی (فلکی ستارے) کہکشاں اور اس کے ستارے، منظومہ اور اس کے مابین موجودات جن میں سے بعض بعض کا وزن اربوں اور کھربوں ٹن بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے؛ بغیر ستون کے لٹکے ہوئے ہیں، اور اپنی معین شدہ رفتار کے ساتھ اپنے وقت پر گردش کرتے ہیں اور اربوں سال سے گردش کی حالت میں ہیں؛ یہ سب کے سب خدا کی قدرت کاملہ سے محفوظ ہیں ۔

”وَخَضَعَ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ

” اور اس کے لئے ہر شے خاضع اور متواضع ہے‘۔

تمام غیبی اور شھودی موجودات ؛ بڑی سے بڑی معنوی اور مادی موجود سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق تک، عظیم ترین کہکشاں اور ثابت ستاروں سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے اٹم " Atome "تک جس کو بڑی سے بڑی میکرواسکوپ " Maicroscope "بھی نہیں دکھاسکتی، تمام کی تمام چیزیں خداوندعالم کی مسخر کردہ اور اسی کی فرمانبردار ہیں، اس کے حکم کے سامنے سبھی سرِ تسلیم خم کئے ہوئے نظر آتی ہیں، اور سب کے سب اس کا حکم ماننے کے لئے حاضر ہیں، نیز ان کے اندر مخالفت او رمعصیت کا ذرا بھی تصور نہیں پایا جاتا۔

وہ موجودات جو بغیر کسی استثناء کے؛ خدا کی بے انتھا قدرت کے سامنے مقھور اور مغلوب ہیں ان تمام چیزوں کا وجود خضوع اور خشوع نیز عین ذلت ومسکنت ہے۔

حضرات معصومین علیھم السلام کی ایک فرد کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے دعا کے چند جملوں کی طرف توجہ کریں:

”یقیناً توھی وہ خدا کہ جس کی قدرت اور توانائی کے سامنے تمام چیزیں ذلیل ہیں، اور تمام ہی چیزوں کا سر تیری قدرت کے سامنے خم ہے، جو تو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے، اور جس چیز کا ارادہ کرلے وہ کر گزرتا ہے، تیری ہی مقدس ذات نے تمام چیزوں کو خلق فرمایا ہے، اور تیرے ہی دست قدرت میں تمام چیزوں کے امور ہیں، تو تمام چیزوں کا مولا وآقا ہے، اور تمام چیزیں تیری ہی مغلوب اور مسخر ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو عزیز وکریم ہے۔۔“۔

بے شک تیری رحمت سبھی چیزوں پر چھائی ہوئی ہے اور تیری بے نھایت قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے، تیرا ہی وجود بابرکت ہے جس کی قدرت کے سامنے تمام چیزیں ذلیل وخوار ہیں، لہٰذا اس کے لئے یہ کام بہت آسان ہے کہ اس بندہ کی دعا قبول کرلے جو خلوص وانکساری کے ساتھ حالت خضوع وخشوع میں روتے اور گڑگڑاتے ہوئے شب جمعہ جیسی مبارک رات میں دعا کررھا ہو ، اور اس کے لئے بہت ہی زیادہ آسان ہے کہ وہ اس بندہ کی حاجت روائی کے لئے زمین و آسمان میں موجود اپنے لشکر اس کی امداد کے لئے بھیجے تاکہ وہ اس کو دنیاوی او راُخروی مقاصد تک پھنچادیں۔

جو شخص تواضع او رانکساری کے ساتھ اس کی رحمت وقدرت کا واسطہ دے کر پکار رھا ہو اور اس کی رحمت وقدرت کے علاوہ کوئی رحمت وقدرت اس کے پیش نظر نہ ہو ، کیا اس کی دعا کاباب اجابت سے نہ ٹکرانا ممکن ہے ؟ ہر گز نھیں۔

کوئی ضعیف وناتوان موجود اس کی حاجت روائی نہیں کرسکتا اور دعا کرنے والے کی دعا کو مستجاب نہیں کرسکتا۔ مگر صرف وہ جو غنی ہے اور رحمت واسعہ اور قدرت کاملہ کا مالک ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام چیزیں ہیں اپنے بندوں کی مصلحت اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور مانگنے والوں کی جھولی بھر دیتا ہے۔

صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ۱۳ میں وارد ہوا ہے:

” تونے مخلوقات کو فقر کی طرف نسبت دی ہے کہ وہ واقعا تیرے محتاج ہیں لہٰذا جو شخص بھی اپنی حاجت کو تیری بارگاہ سے پورا کرانا چاہتا ہے اور اپنے نفس سے فقرکو تیرے ذریعہ دور کرنا چاہتا ہے اس نے حاجت کو اس کی منزل سے طلب کیا ہے اور مقصد تک صحیح رخ سے آیا ہے اور جس نے بھی اپنی حاجت کا رخ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف موڑدیا ،یا کامیابی کا راز تیرے علاوہ کسی اور کو قرار دیا ہے اس نے محرومی کا سامان مھیا کرلیا ہے اور تیری بارگاہ سے احسانات کے فوت ہوجانے کا استحقاق پیدا کرلیا ہے۔ خدایا ! میری تیری بارگاہ میں ایک ایسی حاجت ہے جس سے میری کوشش قاصر ہے اور میری تدبیریں منقطع ہوگئی ہیں اور مجھے نفس نے ورغلایا ہے کہ میں اسے ایسوں کے پاس لے جاؤںجو خود ہی اپنی حاجتیںتیرے پاس لے کر آتے ہیں اور اپنے ضروریات میں تجھ سے بے نیاز نہیں ہوسکتے ہیں اور یہ خطاکاروں کی لغزشوں میں سے ایک لغزش ہے اور گناھوں کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے اس کے بعد تیری یاددھانی کے ذریعہ میں خواب غفلت سے چونک پڑا اور تیری توفیق کے سھارے اپنی لغزش سے اٹھ کھڑاھوا اور تیری رھنمائی سے اپنی ٹھوکر سے پلٹ پڑا اور میں نے فورا اعلان کردیا کہ میرا رب پاک وپاکیزہ ہے کوئی محتاج کسی محتاج سے کیسے سوال کرسکتا ہے اورفقیر کسی فقیر کی طرف کس طرح رغبت کرسکتا ہے ۔

یہ سوچ کر میں نے تیری طرف ر غبت کی اور اپنی امیدوں کو لے کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا کہ مجھے تجھ پر بھروسہ تھا اور مجھے معلوم تھا کہ میں جس کثیرکا سوال کررھا ہوں وہ تیری عطا کے مقابلہ میں قلیل ہے اور جس عظیم کا تقا ضا کررھاھوں وہ تیری وسیع بارگاہ میںحقیر ہے تیرا کرم کسی کے سوال سے تنگ نہیں ہوتا ہے اور تیرے ہاتھ عطاکرنے میں ہر ہاتھ سے بالا تر رہتے ہیں ۔تمام ممکنات ایک روز عدم محض تھے، موجود ہی نہیں تھے کہ قابل ذکر ہوتے، تیرے ارادہ اور قدرت کے زیر سایہ پیدا ہوئے اور ان کی زندگی بھی تیرے ہی لطف وکرم کی بدولت ہے، کسی بھی طرح کا کوئی استقلال نہیں رکھتے ان کے پیشانی پر فقر ذاتی اور ذلت وخواری کی مھر لگی ہوئی ہے اور تیری قدرت ازلی کے سامنے خاکساری اور ذلت کی حالت میں سجدہ ریز ہیں۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں پھونچتا کہ وہ تیری بے نھایت قدرت کے سامنے اپنی قدرت کی بساط پھیلائے، انانیت کا ڈنکا بجائے، اور تکبر کا نعرہ لگائے، اپنی اس کم بضاعتی جس خلقت ایک مشت خاک سے ہوئی ہو محض ذلیل وخوار ہے اور اس کا وجود صرف ایک پھونک کا کام ہے اس کے علاوہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اپنی اس کم عقلی کی بنا پر جو ایک ذرہ کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر وناتوان ہے اپنے مولا و آقا ، مدبر اور پروردگار کی قدرت کے سامنے ؛ جس کی قدرت نے تمام چیزوں کو تحت الشعاع قرار دے رکھا ہے، اس کے سامنے اپنی قدرت کے نعرہ لگائے !! اور اگر ایسا کرے بھی تو اس کی قدرت کا بوریا بستر لپیٹ دیا جائے اوروہ ذلیل و خوار ہوجائے، نیز رحمت خدا سے محروم کردیا جائے اور عذاب الٰھی میں گرفتار ہوجائے۔

” وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ بِهٰا کُلَّ شَيْءٍ“

” اور اس جبروت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر غالب ہے“۔

”جبروت“ لغوی اعتبار سے” صیغہ مبالغہ“ ہے، یعنی تمام موجودات او رممکنات کے نقائص کا بہت سی نعمتوں اور بہت سے ساز وسامان کے ذریعہ ان کا جبران اور تدارک کرتا ہے، اور وہ بھی بلندترین درجہ اور کثیر تعداد میں۔

ابتدائے خلقت میںکوئی بھی موجودقابل ذکر نہ تھا، اس کی پھلی تصویر ایک ذرہ " Atome "کی شکل میں تھی یا ایک دانہ یا بے اھمیت نطفہ کی طرح تھی۔ ہر موجود ناقص تھا، خداوندعالم کی صفت جبروتیت نے تمام خامیوں اور نواقص کو پورا کےا تاکہ ان کو مکمل شکل وصورت مل جائے ،اور ایک بااھمیت شکل میں جلوہ نما ہو اور اپنی اصل صورت میں پیدا ہو۔

خدائے مھربان کے ذریعہ نقص کا پورا ہونا

خداوندعالم کی طرف سے کمیوں اور نواقص کا پورا ہونا ایک اھم اور قابل توجہ مسئلہ ہے، اس سلسلہ میں چند چیزوں کو ایک اھم کتاب سے نقل کرتے ہیں جس کی بنا پر ہمارے ایمان میں اضافہ ہو اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ خداوندعالم ہمارے یا دوسری مخلوقات کے نقص کوکیسے پورا کرتا ہے:

سورج کی خرچ شدہ طاقت کا جبران

جس سورج کی وجہ سے اکثر طاقت ملتی ہے یہ”کل شیءٍ“ کا ایک چھوٹا سا مصداق ہے۔

سورج کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ بہت زیادہ بھڑکتی ہوئی آگ بھی اس کے سامنے ٹھنڈی ہے، سورج کی گرمی تقریباً"۶۰۹۳ cg "ھے اور اس کے اندر کی گرمی تو اس سے بھی کھیں زیادہ ہے۔

سورج ہر سیکنڈ میں ۱۲۴۰۰,۰۰۰.ٹن انرجی" E`nergiee " (طاقت) فضا میں پھیلاتا ہے، کہ اگرسورج کی ایک منٹ کی گرمی کو کوئلہ کے ذریعہ حاصل کرنا چاھیں تو تقریباً ۶۷۹,۰۰۰,۰۰۰,۰۰.ٹن کوئلے کو جلانا ہوگا۔

اس ایک سیکنڈ میں حاصل شدہ سورج کی طاقت کا وزن تقریباً ۴۰۰۰,۰۰۰.ٹن ہوتا ہے اور یہ مقدار ایک سال میں تقریباً ۱۲۶,۱۴۴,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰.ھوجاتی ہے ، اور یہ طے ہے کہ اگرجلتی ہوئی آگ کا ایندھن ختم ہوجائے تو آگ خاموش ہوجاتی ہے،لہٰذا جب سورج کوئی ایندھن نہیں لےتا اور ہر سال اتنی طاقت خرچ کرتا ہے تو پھر اس کو ختم ہوجانا چاہئے تھا؟ !! جبکہ اگر سورج خالص کوئلہ سے بنا ہوتا تو ۶۰۰ سال کے بعد ختم ہوجاتا۔

قارئین کرام! اس سوال کا جواب صرف صفت ”جبروت“ کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے، اس نے سورج کوگیس کے ایک عظیم پھاڑ کی طرح بنایا ہے جس کا گیس سکڑنے اور پھیلنے کی بنا پر کھوئی طاقت دوبارہ لوٹا دیتا ہے۔

یہ بات مشرق ومغرب کے بڑے بڑے دانشوروں کی تحقیق کا نتیجہ ہے جس کے بارے میں کتاب کے ہزاروں صفحات لکھے جاچکے ہیں جو ایک سادہ جملہ میں ہم تک پھنچا ہے۔

جی ہاں! وھی ہے جو اشیاء کی کھوئی ہوئی طاقت کو لوٹاتا کرتا ہے ، اور سورج کی کھوئی ہوئی طاقت کو واپس پلٹانا اس کی صفت ”جبروتی“ کی ایک نشانی ہے۔

دریائے خزر کے جزر و مد[۱] کا جبران

دریا ئے خزرکی سطح آزاد دریا سے ۲۷۶ میٹر نیچے ہے، اور اس سے نیچے ہوتی جائے گی، دریائے خزر آزاد دریاؤں سے متصل نہیں ہے ، لہٰذا عمومی اقیانوس کے جزر ومد کے تابع بھی نہیں ہے۔ دریائے خز ر چونکہ چھوٹا ہے لہٰذا چاند کی قوت جاذبہ سے بھرہ مند نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس میں جزر ومد نہیں ہونا چاہئے اور اس کے پانی کو گندا ہوجانا چاہئے اس دریائے خزر کو پیدا کرنے والے کا وجود مبارک جانتا ہے کہ اس نقص کو کس طرح پورا کیا جائے ، اس نے ”سرنوک“ ، ”خزری“ اور ”میانوا“ نامی ہوائیں چلائیں تاکہ اپنی پوری طاقت کے ذریعہ پانی کو متحرک کرےں یھاں تک کہ جو دریا اس میں گرتے ہیں ان کے پانی کو اوپر نیچے کرے۔

یہ ہوائیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ دریائے خزر کے پانی کو اس قدر اوپر لے جاتی ہیں کہ اکثرکشتیوں کے ناخدااس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں،یہ ہوائیں ایک دوسرا کام بھی کرتی ہیںوہ یہ کہ دریائے خزر کے شمال میں موجود بادلوں کو جنوب کی طرف بھگادیتی ہیں جس کی بنا پر ایران کے شمالی علاقہ میں بارش ہوتی ہے تاکہ وھاں پر کھیتی ہری بھری ہوجائے۔

یہ ہوائیں اس دریاکے پانی کو”مرداب انزلی“ میں ڈھکیل دیتی ہیں تاکہ مرداب(بہت گھراتالاب اور گڑھا) کاپانی صاف ہوجائے، شھر گیلان کا دریا مسلسل بارشوں کی بنا پر اکثر اوقات مٹیالا ہوتا ہے جس میں جنگلی گھاس وغیرہ کے بیج وغیرہ ہوتا ہے اور جب اس مرداب میں مٹی بھرجاتی ہے ، اس سے پانی پر کف (جھاگ) پیدا ہوتا ہے ، گھاس کے بیج وغیرہ وھاں رشد ونموکرنے لگتے ہیں ، انھیں دو اسباب کی بنا پر اس مرداب کا پانی خشک ہوجانا چاہئے اور اسے دلدل کی شکل اختیار کرلینا چاہئے، لیکن ہزاروں سال سے یہ مرداب اسی طرح باقی ہیں، کیوں؟

اس لئے کہ خداوندعالم جبران کرنے والا ہے لہٰذا س مشکل سے روک تھام کے لئے اس دریا کا پانی سیلاب سے ملادیتا ہے اور جس وقت ”سرنوک“، ”خزری“ اور ”میانوا“ نامی ہوائیں بادلوں کو برسنے کے لئے جنوب کی طرف روانہ کرتی ہیں تو دریا کا پاک وصاف پانی ،گدلے پانی سے مل جاتا ہے جس کی بنا پر اس گدلے پانی کی غلظت ہلکی ہوجاتی ہے، بیج اور بیل وغیرہ دریاکے نمکین پانی میں نابود ہوجاتے ہیں۔

جس وقت یہ (مذکورہ) ہوائیں بند ہوجاتی ہیں ، اس وقت ”کرامو“، ”کناروا“ اور ”آفتاب بوشو“ نامی ہوائیں چلتی ہیں تو ان مرداب کے پانی کو دریائے خزر میں پھونچادیتی ہیں جس کی بنا پر وھاں گدلا پانی صاف ہوجاتا ہے۔

اسی طرح ”گیلوا“ اور ”درشتوا“ نامی ہوائیں مرادب کے پانی کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جاتی ہیں اور اس پانی کو ملانے میں کافی مدد کرتی ہیں۔!![۲]

پھلوں کے نقص کو دور کرنا

جب تک پھلوں کے بیج بوئے نہ جائیں اور خداوندعالم کی صفت جبروتی مختلف طریقوں سے اس کے نقائص کو پورا نہ کرے تو ان سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔

خوشمزہ اورلذیذسیب کے سلسلہ میں غور و فکر کریں کہ ایک روز یھی دانہ اور ایک ذرہ کی شکل میں دکاندار کے یھاں تھا۔

اور جس وقت وہ ایک دانہ تھا صرف اس کو بونے کے علاوہ دوسرے کام کے لئے کارگر نہ تھا اور جب کسان اس کوزمین میں ڈال دیتا ہے، تو ہوا ، نور ، پانی اور نمک اس کے پاس آتے ہیں، اور خدا وندعالم کے ارادے سے اس کی کمی پوری کی جاتی ہے ، جس کے نتیجہ میں ایک خوش رنگ اور لذیذ غذا بن جاتا ہے اور دسترخوان کی زینت بن جاتا ہے۔

قارئین کرام! خداوندعالم کی صفت جبروتی سے مزید آگاھی کے لئے درج ذیل مطالب کو غور وفکر کے ساتھ پڑھیں:

سیب کے اندر بطور خلاصہ درج ذیل چیزیں پائی جاتی ہیں:

نیٹروجن ترکیبات (پروٹین، امینوایسڈ، : لیزین، ارژنین، ہسٹاڈین اور ٹیروزن)

مواد معدنی: ( آیوڈین،پوٹاشیم، برم، فاسفورس، کیلشیم، آئرن، تانبا، سوڈیم، سفلر، میگنیز، قلعی،منیزایم)

اجزائے نشاستہ : (ڈکسٹروز، سیلولوز،پینٹازن،اسٹارچ(نشاستہ))

شکر: ( گلوکوز، فریکتٹوز،سیکروز)

مواد پکٹک: ( پکٹک ایسڈ،پیکٹن، پیکسٹک ایسڈ ،پروٹوپکٹین)

چربی اور ایسڈ: (مَیلک ایسڈ، سڑک ایسڈ، ایگزیلک ایسڈ،اسکوریک ایسڈ، لیکٹک ایسڈ)

ترکیبات رنگی: اینٹوسینیز، فلاوونز ، کلوروفل)

ویٹامن: ( A.B.C.G )

اینزایم: (کیٹلوز، ایکسیڈوز)

پانی: ۸۴ فی صد۔

قارئین کرام! غور فرمائیں کہ خدائے جبار کس طرح ایک پھل کی کمی اوراس کے نقص کو پورا کرتا ہے۔ اور اگر دوسری چیزوں کے مادی عناصر نیز معنوی چیزوں کے نواقص کے جبران کا ذکر کیا جائے تو تمام موجودات کے برابر صفحات بھر جائیں گے!!

” وَبِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَهٰا شَيْءٌ“

” اور اس عزت کے واسطہ سے ہے جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نہیں ہے“۔

وہ پاک وپاکیزہ ذات جس نے اپنی قدرت کے ذریعہ تمام چیزوں کو خلق فرمایا، اور سب پر اپنی رحمت نازل کی، اور وہ تمام چیزیں جو اپنے پورے وجود کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہیں کہ جو اس کی قدرت کے سامنے ذلیل وخوار ہیں اور وہ اپنے صفت جبروتی کے ذریعہ تمام چیزوں کے نواقص کو برطرف فرماتا ہے،اس کے مقابلہ میں کوئی بھی چیز قدرت نمائی نہیں کرسکتی؟

ایک چیز کا وجود اپنے تمام تر خواص وترکیبات کے ساتھ آسمان و زمین سے لے کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، چاھے وہ غیبی موجودات ہوں یا ظھاری اللہ ان کی عزت اور قدرت کا ایک معمولی عکس ہے ، اور اپنے مولا وآقا کے مقابلہ میں ایک معمولی سایہ کی طرح ہے؛ لہٰذا اس کی ازلی اور ابدی عزت اور لامتناھی قدرت کا مقابلہ کیونکر کیا جاسکتا ہے۔؟”عزت“ کے معنی قدرت وتوانائی ہیں، اور تمام ہی موجودات میں اس کی عزت کا ایک معمولی سا جلوہ پایا جاتا ہے۔ ایک معمولی اور بے مقدار شعاع کھاں اور بے نھایت اور ازلی وابدی نور کھاں!!

( فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعاً ) ۔“[۳] ”عزت سب پروردگار کے لئے ہے“۔

جی ہاں، قرآن مجید کے فرمان کے مطابق تمام ”عزت“ خداوندعالم ہی کے لئے ہے، اور جس کو چاھے اس کی صلاحیت کے لحاظ سے عطا کردیتا ہے، اور جس کو نہ چاھے اس کو یہ عزت نہیں دیتا، اور اگر چاھے تو عزت دینے کے بعد چھین سکتا ہے، لہٰذاکوئی بھی اس کے مقابلہ میں مستقل طور پر صاحب عزت نہیں ہے، اور کوئی بھی اس کی قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ شکست ناپذیر قدرت کا مالک اور غالب غیر مغلوب ہے۔

وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاتْ کُلَّ شَيْءٍ

”اور اس عظمت کے واسطہ سے ہے جس نے ہر چیز کو پر کردیا ہے“

فعل سے اس کے فاعل کی پہچان

قارئین کرام! آپ حضرات جانتے ہیں کہ کسی بھی فاعل (کام کرنے والا) کی عظمت اور بزرگی اس کے کام کے ذریعہ کافی حد تک پہچانی جاسکتی ہے۔ وہ انجینئر جو ایک سو دس ( ۱۱۰) منزلہ بلڈنگ یا اس سے کم وزیادہ منازل کی بلڈنگ بنالے تو اس فلک شگاف عمارت کو دیکھ کر انجینئر کی قوت فکر اور علمی صلاحیت کا اندازہ لگاجاسکتا ہے۔

ایک عظیم الشان مولف، جیسے صدر المتالھین جنھوںنے ”اسفار“ ، ”عرشیہ“، ”حکمت متعالیہ“ اور ”اسرارالآیات“ جیسی عظیم الشان کتابیں لکھ دے تو اس کی علمی صلاحیت اندازہ اس کی کتابوں سے لگایا جاسکتا ہے۔

برقی رو" E'lectricity "کا کارخانہ ایجاد کرنے والے کو دیکھ کر؛ جس کی وجہ سے رات کی تاریکی دن میں بدل جاتی ہے، اس کی عظمت اور قوت فکر کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

خداوندعالم کی عظمت اور بزرگی ”ازلی، ابدی اور بے نھایت“ ہونے کی وجہ سے ہے، اور ہم چونکہ وجود کے اعتبار سے محدود ہیں اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں، لیکن اس کی عظمت اور بزرگی کے جلووں کو دنیا میں غور وفکر کرکے اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جس کی عظمت کے جلوے تمام ہی چیزوں میں روز روشن کی طرح چمک رھے ہیں۔

ھم اس سلسلہ میں صرف دو روایت اور اس کے بعد ایک علمی مطلب کی طرف اشارہ کریں گے، اور اس اشارہ کی بنا پر ہم کافی حد تک اپنی مطلوب حقیقت تک پھنچ جائیں گے۔

چند عالم کی خلقت

کم نظیر کتاب ”اسلام و ہیئت“ تالیف علامہ کبیر دانشمند مصلح جناب ہبة اللہ شھرستانی صاحب کتاب” خصال“صدوق، ”بحار الانوار“علامہ مجلسی، اور ”انوار نعمانیہ“، و”شرح صحیفہ“ اور ”تفسیر نور الثقلین“ سے معتبر اور قوی سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

اِنَّ لِلّهِ عَزَّ وَجَلَّ اِثْنَیْ عَشَرَالْفَ عَالَمٍ کُلّ عَالَمٍ مِنْهُم اکبَرُ مِنْ سَبعِ سَماواتٍ وَسبعِ ارَضِینَ مَا یُریٰ عَالَمٌ مِنْهُمْ انَّ لِلّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَالَماً غَیْرَهُم “[۴]

”خداوندعالم کے بارہ ہزار جھان ہیں، جن میں سے ہر ایک ساتوں آسمان اور زمین سے بڑا ہے، اور ان میں سے ہر ایک کے رھنے والے دوسرے جھان کی خبر نہیں رکھتے“۔

آج کل کے ستارہ شناس ماھرین کہتے ہیں: جھان ہستی ہزاروں جھان سے مرکب ہے اور ہر جھان میں ہماری زمین وآسمان سے بڑے زمین وآسمان ہیں۔[۵]

اکثر اوقات عدد (مثلا بارہ ہزار) قرآن مجید اور روایات میں حدود او رتعداد کو بیان کرنے کے لئے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد کثرت اور زیادتی ہوتی ہے؛ لہٰذا یہ تصور نہ پیدا ہوجائے کہ ہستی بارہ ہزار جھان میں محدود ہے، جھان کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ہے جن کی تعداد قرآن مجید، روایات اور علم نجوم میں بیان ہوئی ہے۔

آسمان پر لٹکی ہوئی قندیلیں اور منظومہ شمسی

سید نعمت اللہ جزائری ”شرح صحیفہ“ میں حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے روایت ہے :

خداوندعالم نے ایک لاکھ قندیلیں خلق فرمائی ہیں، اور ان کو عرش پر لٹکایا ہے ، اور تمام آسمان وزمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے یھاں تک کہ بھشت ودوزخ ایک قندیل میں ہے ، اور خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ دوسری قندیلوں میں کیا کیا ہے!!

علامہ شھرستانی اس معجز نما روایت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

قندیل؛ منظومہ شمسی سے چند شباہت رکھتی ہیں:

پھلی شباہت: قندیل انڈے کی طرح ہے ، اور ہمارے نظام شمسی بھی آج کل کے ماھرین فلکیات کی بنا پر انڈے کی شکل کے ہیں۔

دوسری شباہت: قندیل ایک لطیف جسم والی ہے جو اس کے درمیان میں ہے اور وہ اپنے چاروں طرف نور ونار پھیلاتا ہے، اسی طرح ہمارا شمسی نظام ایک لطیف کرہ سورج پر مشتمل ہے جو وسط میں ہے اور اپنے اطراف موجود ستاروں کونور ونار عطا کرتا ہے۔[۶]

تیسری شباہت: قندیل ہوا میں لٹکی ہوئی ہے ، دیوار یا کسی دوسری چیز پر نصب نہیں ہے، اسی طرح ہمارا نظام شمسی فضا میں لٹکا ہوا ہے۔

چوتھی شباہت: قندیل کا نور بخش حصہ بالکل وسط میں نہیں ہے بلکہ وسط کے کافی حد تک قریب ہے، اسی طرح سورج بھی منظومہ شمسی کے بالکل وسط میں نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ شباہتوں کے پیش نظر یہ معجز نما روایت آج کل کے فلکیاتی ماھرین کے عقیدہ کے موافق ہے اور قدیم فلسفہ کے مخالف ہے ، جو اس بات کی طرف واضح طور پر اشارہ کررھی ہے کہ ہزاروں جھان ، منظومہ شمسی موجود ہیں، جو ایک دوسرے سے جدا اور مستقل ہیں اور ان میں بھی سورج، چاند، ستارے، شھر وبستی، اور بھشت ودوزخ وغیرہ ہیں؛ اور ان میں سے ہر ایک قندیل کے جھان میں نظام شمسی اور زمین وآسمان ہیں!![۷]

بے شمار سورج

بیسوی صدی کے آغازمیں جب عوام الناس نے یہ سنا کہ ہمارے اس کہکشاں میں جو رات کو واضح طور پر دیکھا جاتا ہے، تیس ملین سورج موجود ہیں، تو سب انگشت بدنداں ہوگئے، اور بھاگنے لگے۔ لیکن آج سائنس نے تحقیق کی کہ ہمارے کہکشاں میں دس ہزار ملین (۱۰.۰۰۰.۰۰۰.۰۰۰.) ستارے یعنی سورج موجود ہیں۔

ھم جب رات کے وقت بغیر دوربین کے اس کہکشاں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ چھوٹا دکھائی دیتا ہے، یھاں کہ برسات میں بادلوں کے ایک جھرمٹ کے برابر بھی دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر ایک فلکی بڑی دوربین جیسے رصد گاہ(جھاں سے ستاروں کاحال معلوم کیا جاتا ہے) کی دوربین ”ویلسون“ یا دوربین ”پالومر“ جس کا لینس پانچ میٹر کا ہوتا ہے؛ وغیرہ سے کہکشاں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کتنا بڑا اور عظیم ہے۔

کہکشاں میں سورج یکے بعد دیگرے اس طرح ہیں کہ ان کا صحیح طریقہ سے شمار بھی نہیں کیا جاسکتا، اور ابھی تک کسی بھی نجومی نے صحیح طور پریہ معین نہیں کیا ہے کہ ہمارے اس کہکشاں میں کتنے سورج ہیں بلکہ تخمینی طور پر کہتے ہیں: ہمارے اس کہکشاں میں دس ہزار ملین سورج ہیں۔!!

اس بنا پر کہکشاں کے ایک حصہ کو محدود کردہ سورج کو شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ہمارے اس کہکشاں میں دس ہزار ملین سورج ہیں۔

لیکن سورج کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ہونے کا امکان، کیونکہ اس کہکشاں میں ستاروں کی تعداد اس زیادہ ہے کہ ان میں سے بعض بعض کے مقابل آجاتے ہیں جس کے وجہ سے ان کے پیچھے کے ستاروں کو دیکھا نہیں جاسکتا، لیکن کہکشاں کے عجیب وغریب عمق (گھرائی) سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان دکھائی دینے والے سورجوں کے علاوہ دوسرے سورج بھی موجودھیں۔ اس کہکشاں کے سورجوں کے درمیان ایسے سورج بھی ہیں جوایک کروڑھمارے سورج سے بڑے ہیں!!

ھمارے اس جھان میں ملیونوں کہکشاں موجود ہیں اور کبھی ان کہکشاں میں دوسرے کہکشانوں سے بیس لاکھ نوری [۸]سال کی دوری سے بھی زیادہ کا فاصلہ ہے۔

آج کل کی سب سے بڑی اور طاقتور دوربین ”پالومر“امریکہ میں ہے ، اس دوربین کے ذریعہ ایک ارب نوری سال کے فاصلہ پر کہکشانوں کے مختلف رنگوںکو دیکھا جاسکتا ہے، لیکن کبھی کبھی اس دوری کے پیچھے بھی نور دکھائی دیتا ہے جس سے نجومی حضرات اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ اس کے بعد بھی کہکشاں موجود ہیں۔

سورج کا وزن ارب در ارب(۱۰۰۰۰۰۰۰۰۰.۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰) ہے، اور ہمارا یہ کہکشاں جو جھان عظیم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے تقریباً سورج کے ۱۶۵ ہزار ملین گنا وزن ہے۔

ان تمام مادہ او رعناصر کے باوجود ؛ جس کی عظمت اور بزرگی پورے جھان میں پھیلی ہوئی ہے؛ جھان کا زیادہ تر حصہ خالی یا تقریباً خالی ہے!!

ھم سے قریب ترین ستارے کا فاصلہ ۴۰ ملین ملین کلو میٹر ہے!![۹]

اس جھان عظیم کا ایک حصہ جس کو ایک محدود دور بین کے ذریعہ دیکھا گیا ہے ، ہم اسی کو دیکھ کر اور اس کے طول وعرض اور وزن کو ملاحظہ کرنے کے بعد کیا خدا ئے بزرگ کی عظمت اور بزرگی کا اندازہ لگاسکتے ہیں جس کی عظمت بے نھایت ہے اور پوری دنیامیں پھیلی ہوئی ہے؟!!

یہ جھان عظیم، خدائے عظیم کا کارخانہ اور اس کی کتاب ہے، فعل خدا کی تکوینی کتاب اور اس کی عظیم کتاب کو تھوڑا بہت پڑھ کر خداوندعالم کی عظمت کا اندازہ لگاسکتے ہیں ، اور پھر اپنے دل سے خلوص کے ساتھ یہ جملہ کھیں:

اللهُ اکْبَرُ مِنْ انْ ُیوصَفَ “[۱۰]

خدا اس کھیں زیادہ بزرگ ہے کہ اس کی توصیف کی جائے۔

کیونکہ بڑے سے بڑا عالم خدا کی توصیف کرنے والا اس کی توصیف سے عاجز ہے اور بلیغ ترین زبان اس کی تعریف کرنے سے گنگ ہے اور قوت فکر کی سب سے بڑی طاقت اس کی عظمت کے ایک حصہ تک بھی نہیں پھنچ سکتی ہے!

جی ہاں، اس کے بارے میں تو وھی جملہ کھا جس کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے تعلیم فرمایا ہے:

مَاعَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ “[۱۱]

”جوحق تیری معرفت کا ہے وہ معرفت ہم حاصل نہیں کرسکتے“۔

وَبِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ

” اور اس سلطنت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے سے بلند تر ہے“۔

قارئین کرام ! آپ حضرات نے گزشتہ صفحات میں جھان ہستی کی عظمت کے ناچیز گوشوںکے بارے میں پڑھا، اور خداوندعالم کی بے چون وچرا سلطنت کو ملاحظہ کیا، اسی کی ذات! جھان اور اس کی مخلوقات کے ظاھر وباطن سے مافوق ہے۔ اس کی قدرت تمام چیزوں پر مسلط ہے، اور تمام چیزیں اپنے تمام امور میں اسی مالک الملک کی فرمانروائی کے زیر سایہ ہیں۔ اس دنیا میں ہر شخص اپنی صلاحیت کے لحاظ سے فرمانروائی رکھتا ہے، اور اس کی فرمانروائی خدا وندعالم کی عطا کردہ بخشش ہے، اور اگر وہ چاھے تو اس سے لے کر دوسرے کو عطا کرسکتا ہے۔

حکام اپنی فرمانروائی کو خداوندعالم کی سلطنت، حاکمیت اور فرمانروائی کی ایک کرن تصور کریں اور عدل وانصاف سے کام لیں اور اگر عدل وانصاف کے علاوہ حکمرانی کریں تو ان کا شمار ظالمین میں ہوگا۔ اور جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اور تاریخ نے بھی یہ بات ثابت کی ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی، اور وہ انتقام لے لیتا ہے ، اور کچھ ہی مدت میں ظالم کو ذلیل وخوار کردیتا ہے، اور دردناک عذاب میں ڈھکیل دیتا ہے۔

اس کی فرمانروائی ،زمانہ نوح(ع) کے کفار ومشرکین کو موسلا دھار بارش اور زمین سے پانی کا چشمہ ابال کر طوفان کی شکل میں نیست ونابود کردیتی ہے۔

اس کی فرمانروائی، قوم عاد کو تیز آندھی اور طوفان کے ذریعہ سوکھی ہوئی گھاس کی طرح اڑا دیتی ہے، اور ایک منٹ میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اس کی فرمانروائی ، کے ذریعہ دریائے نیل میں ظالم وجابر اور ستمگرجیسا فرعون غرق ہوجاتا ہے۔

وَبِوَجْهِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ

” اور اس ذات کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رھنے والی ہے“۔

اس کی ذات مقدس ؛ عین حیات ہے، اس کی ہستی ازلی، ابدی اور سرمدی ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رھے گا، کوئی چیز اس کے پھلو میں نہیں تھی اور نہ ہے، اس نے اپنے ارادہ کے ذریعہ تمام چیزوں کو خلق فرمایا حالانکہ وہ تمام چیزوں سے بے نیاز ہے، تمام چیزیں فنا ہونے والی ہیں، جب کہ اس کی ذات ہمیشہ کے لئے باقی رھے گی۔

اس جھان ہستی میں کوئی بھی چیز اپنی طرف سے مستقل حیات نہیں رکھتی، اس کی حیات خداوندعالم کی ایک روح پھونکنے کا ایک معمولی اشارہ ہے، لہٰذا تمام چیزوں میں فنا ہونے کی قابلیت حتمی ہے، فنا صفات نقص اور بقا صفات کمال میں سے ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کمال مطلق باقی رھے گا، اور فنا ایک ایسی مُھر ہے جو تمام ہی موجودادت کی پیشانی اور تمام چیزوں کی دفتر حیات پر لگی ہوئی ہے۔

وَبِاسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ

” اور اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ہے جن سے ہر شے کے ارکان معمور ہیں“۔

دعا کے اس فقرہ میں”اسماء“ سے مراد لفظی اسماء نہیں ہیں جو حروف سے مرکب ہوتے ہیں، بلکہ وہ حقائق اور مصادیق مراد ہیں جن پر الفاظ دلالت کرتے ہیں۔

رحمت واقعی، لطف حقیقی، علم ذاتی، عدل عینی اور قدرت فعلی نے تمام چیزوں کی ضرورتوں کو پورا کردیا ہے، یا یوں کہئے کہ تمام چیزیں خدا کی حقیقی خالقیت، بارئیت، مصوریت، علم، بصیرت، عدل، حکمت، رحمت اور رافت کی مظھر ہےں۔

تمام موجودات انھیں حقائق کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں، اور انھیں کے ذریعہ باقی و قائم ہیں، نیز انھیں کی برکت سے ان کی زندگی باقی ہے اور انھیں کے سبب سے ان کو روزی ملتی ہے۔

انھیں تمام چیزوں میں غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حروف سے مرکب شدہ لفظی اسماء ”اسماء حقیقی“ ہیں۔ اور ”کلُّ شیءٍ“یعنی تمام موجودات کے مختلف حالات اور ان کی حقیقت و حیثیت موثر ہیں اسماء حقیقی موثرھیںاسماء لفظی نہیں ۔

بھر حال یھی اسماء حقیقی جھان ہستی کی مختلف حقائق کے تحقق کے لئے واسطہ ہیں۔ جیسا کہ معصومین علھیم السلام سے وراد شدہ ”دعاء سمات“ میں ہم پڑھتے ہیں:

”بار الہٰا! تیری بارگاہ میں تیرے بڑے نام سے، تیرے عظیم نام سے، تیرے عزیز نام سے، تیرے برجستہ نام سے، اور تیرے گرانبھا نام سے سوال کرتا ہوں ۔

قارئین کرام ! اس دعا میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ لفظ قدرت کے” ق د ر ت“سے نہیں ہے بلکہ حقیقت قدرت اور عین قدرت کی وجہ سے ہیں۔

جن اسماء کے ذریعہ ”کلّ شیءٍ“ ( یعنی تمام چیزوں) کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ، در حقیقت وہ موجودہ حقائق ہیں جن کو قرآن مجید اور احادیث معصومین علیھم السلام میں ”اسماء“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

انھیں اسماء کے حقائق میں سے ”ائمہ طاھرین علیھم السلام“ ہیں جو تمام ہی مخلوقات میں خاص عظمت و اھمیت کے حامل ہیں، جو بندوں اور خدا کے درمیان روز قیامت کے لئے ”واسطہ فیض“ ہیں۔ خداوندعالم کی رحمت، ہدایت، لطف، رافت، کرم و بخشش انھیں حضرات کے صدقہ میں بندوں تک پھنچتی ہیں،اور انھیں حضرات کی معرفت اور ولایت کے زیر سایہ بندوں کے اعمال بارگاہ الٰھی میں قبول ہوتے ہیں۔

حکیم بزرگوار فیض کاشانی اپنی عظیم الشان تفسیر ”صافی“ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

نَحْنُ وَاللهِ الاسْمَاءُ الْحُسْنیٰ اَلَّذِیْ لَا یَقْبَلُ اللّٰهُ مِنَ الْعِبَادِ عَمَلاً اِلّٰا بِمَعْرِفَتِنَا

”خدا کی قسم ہم خدا کے اسماء حسنیٰ ہیں، کہ خدا اپنے بندوں کے اعمال ہماری معرفت اور ہماری ولایت سے تمسک کے ذریعہ ہی قبول کرتا ہے“۔

لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ انسان اگرفقط الفاظ پر توجہ کرے تو کسی مقام پر نہیں پھنچ سکتا ، لہٰذا الفاظ کو چھوڑتے ہوئے حقیقت کی تلاش کریں، کیونکہ عالم ہستی میں جتنے بھی آثار پائے جاتے ہیں وہ اسماء حقیقی یا عین واقعیات ہیں۔

وَ بِالاسْمِ الَّذِیْ خَلَقْتَ بِهِ الْعَرشَ وَ بِالاسْمِ الَّذِیْ خَلَقْتَ بِهِ الْکُرْسِیَّ، وَ بِالاسْمِ الَّذِیْ خَلَقْتَ بِهِ الرُّوْحَ “۔

”اس اسم کی قسم جس کے وسیلہ سے عرش پیدا ہوا، اور اس اسم کی قسم جس کے ذریعہ کرسی کا وجود پیدا ہوا اور اس اسم کی قسم جس کی برکت سے روح کو خلق کیا“۔

وَبِعِلْمِکَ الَّذي احٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ “۔

” اوراس علم کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے “

خدا وندعالم کے علم کے سلسلہ میں جو علم فعلی اور علم حضوری ہے اور جو تمام موجودات کے ظاھر و باطن کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے (اگرچہ کروڑوں ذرات میں سے کوئی بھی ذرہ کیوں نہ ہو) تمام مخلوقات کی تعداد، ان کے ذرات ، اور مختلف قسم کے دانے یھاں تک کہ بارش کے قطروں کا علم اس کے پاس موجود ہے۔ھم یھاں پر اس سلسلہ میں قرآن مجید میں بیان شدہ آیات پر اکتفاء کرتے ہیں:

ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

َیَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْارْضِ ۔۔۔“[۱۲]

”وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے“۔

وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلاَّ یَعْلَمُهَا ۔۔۔“[۱۳]

”اور وہ خشک وتر سب کا جاننے والا ہے کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اسے اس کا علم ہے“۔

وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ “[۱۴]

”اور اللہ ہی تمھارے باطن و ظاھر دونوںسے باخبر ہے“۔

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْارْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا یَنزِلُ مِنْ السَّمَاءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیهَا وَهُوَ الرَّحِیمُ الْغَفُورُ “[۱۵]

”وہ جانتا ہے کہ زمین میں کیا چیز داخل ہوتی ہے اور کیا چیز اس سے نکلتی ہے اورکیا چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اورکیا اس میںبلند ہوتی ہے اور وہ مھربان اور بخشنے والا ہے“۔

ان آیات کی حقیقت کو بہتر سمجھنے کے لئے پھاڑ کے ایک حصہ کو دیکھ لینا کافی ہے جوہزاروں کی تعداد دنیا بھر میں موجود ہےں۔

ماھرین نےآج تک کی رپورٹ کے مطابق کیڑے مکوڑوں کی سات لاکھ قسموں کا پتہ لگالیا ہے، جبکہ ان کی تعداد اس قدر ہے کہ الفاظ میں ان کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔

گرمی کے دنوں میں جب آسمان صاف ہو تو اس وقت سوسک ، مکھی اور کنکھجوروں کی تعداد پھاڑ کی ایک دراڑھ میں اس قدر زیادہ ہے کہ ایک برّاعظم کے لوگوں سے بھی زیادہ ہے۔ اور اگر اس زمین سے ناگھاں نوع بشریت کا خاتمہ ہوجائے تو زمین پر دوسری موجودات اس قدر زیادہ ہیں کہ مشکل سے نوع بشریت کے خاتمہ کا احساس کرپائیں گے۔[۱۶]

وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذي اضٰاءَ لَهُ کُلُّ شَيْءٍ “۔

” اوراور اس نور ذات کے واسطہ سے ہے جس سے ہر شے روشن ہے“۔

آیات و روایات میں نور کے معنی

قرآن مجید اور روایات میں کمالات اور اقدار کو ”نور“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

”نور“ سے مراد ہدایت ہے[۱۷]، ”نور“ کے معنی ایمان کی طرف قدم بڑھانے کے ہیں۔[۱۸] ”نور“ یعنی اسلام۔ ”نور“ یعنی معرفت۔ ”نور“ یعنی علم۔ ”نور“ یعنی دلی روشنی۔[۱۹]

قرآن کریم میں ”نور“ کے معنی اس طرح بیان کئے گئے ہیں:

قَدْ جَاءَ کُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ “[۲۰]

”اے اہل کتاب !تمھارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو ان میںسے بہت سی باتوں کی وضاحت کررھا ہے جن کو تم کتاب خدا میںسے چھپا رھے تھے“۔

”نور“کے معنی احکام الٰھی ، مسائل اخلاقی اور اعتقادی حقائق ہیں:

” إِنَّا انزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُورٌ “[۲۱]

”بیشک ہم نے توریت کو نازل کیا جس میںھدایت اورنور ہے“۔

قارئین کرام ! مذکورہ معانی کے پیش نظر یہ بات کھی جائے کہ ”نور“ سے مراد خداوندعالم کے صفات، کمالات اور اسماء حسنیٰ ہیں جن سے ہر مخلوق اپنی استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے فیضیاب ہوتی ہے۔ اور اس کامرانی میں اپنی ظلمت و تاریکی سے نجات پیدا کرتی ہے۔

صاحب استعداد انسان؛ اس بہت اھم اور سنھرے موقع سے ظلمت عدم سے نورھستی کی طرف، ظلمت نقص سے نور کمال کی طرف، ظلمت جھل سے نور معرفت کی طرف، ظلمت ظلم سے نور عدالت کی طرف، ظلمت کفر سے نور ایمان کی طرف، ظلمت ضلالت سے نور ہدایت کی طرف اور ظلمت مادیت سے نور معنویت کی طرف آتا ہے ا ور اس سے آراستہ و مزین ہوتا ہے، در حقیقت خدا کے اسماء و صفات کا طلوع مطلع الفجرھوتا ہے جو نور محض اور نور خالص ہے۔

قرآن کریم کی آیات اور معصومین علیھم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر یہ بات کھی جاسکتی ہے کہ ”نوروجہ“ سے مراد وھی حقائق اور کمالات ہیں جس کے ایک ہزار نمونے ”دعاء جوشن کبیر“ میں بیان کئے گئے ہیں۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لفظ ”نور“ مفرد کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خداوندعالم کے تمام اسماء حسنیٰ اور اس کے بلند و بالا صفات، اس کی عین ذات ہیںاور اس کی ذات مقدس میں کسی طرح کی کوئی”ترکیب“ نہیں ہے یعنی صفت اور موصوف کا تصور نہیں پایا جاتا۔ خدا وندعالم کا علم، اس کی حکمت، اس کا عدل، رحمت، لطف اور اس کی رحمانیت وغیرہ تمام کی تمام اسی خدا ئے واحد ویگانہ کی ذات بابرکت ہے۔

اور چونکہ لفظ ”نور“ کا استعمال ہدایت پر ہونا معارف الٰھی میں بہت زیادہ بیان ہوا ہے جس کے پیش نظر شاید اس نورا نی جملے کے معنی یہ ہوں:

”خدایا! میں تجھ سے تیری اس ہدایت اور رھنمائی کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں جس کے ذریعہ تمام موجودات ہدایت یافتہ ہیں“۔

بھر حال لفظ ”نور“ میں تمام آسمانی اور ملکوتی معنی اور مفاھیم سمائے ہوئے ہےں،یہ تو ذوق سلیم اور قلب نورانی اپنے لحاظ سے مختلف معنی میں استعمال کرتا ہے؟

” یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ، یٰا اوَّلَ الْاوَّلینَ،وَیٰا آخِرَ الْآخِرینَ “۔

”اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر“۔

اے تمام کمالات، اے سب کے پیدا کرنے والے ، اے ظھور محض،اے ظاھر، اے آشکار اور اے واضح کہ روز عرفہ صحرائے عرفات میں تیرا عاشق بے قرار اور عارف دلدادہ نیز تیرا خالص بندہ اور تیرے نور کا مطلع الفجر یعنی حضرت امام حسین علیہ السلام تیری بارگاہ میں عرض کرتا ہے:

ایَکُونُ ِلغَیرِکَ مِنَ الظُّهورِما لَیسَ لَکَ حَتَّی یَکونَ هُوَ المُظهِرَ لَکَ؟ مَتَی غِبْتَ حَتَّی تَحْتاجَ ِالَی دَلیلٍ یَدُلُّ عَلَیکَ وَمَتی بَعُدْتَ حَتَّی تَکونَ الآثارُ هِیَ الَّتِی تُوصِلُ اِلَیکَ؟ “[۲۲]

”کیا تیرے علاوہ کسی غیر کے لئے کوئی ظھور ہے جو تیرے لئے نہیں ہے، جو کوئی دوسرا تیرے ظھورکے لئے وسیلہ بنے؟ بارالٰھا تو کب مخفی تھا جس کو ظاھر کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہوتی، تو کب دور تھا جو تجھ تک پھنچانے والے آثار کی ضرورت ہو؟“

” اے پرودگار عالم! جس وقت میں اپنی نفسانی حالت سے دور رہتے ہوئے اپنی حقیقت کو سمجھنے کے بعد غور سے دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ اس جھان ہستی میں تیرے جلال و جمال کی روشنی ہر چیز سے روشن تر ہے، تیرے وجود کے لئے کوئی خِفا اور پوشیدگی نہیں ہے، کہ کوئی چراغ جلا کر تیری ربوبیت کی جستجو کروں، کیونکہ جب بھی کسی حقیقت کے ذریعہ اپنے راستہ کی دلیل فرض کروں تو غور و فکر کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس دلیل کا پیدا کرنے والااور اس چراغ کو روشن کرنے والا بھی تو ہی ہے“۔

تو کس وقت غائب اور چھپا ہوا تھا کہ کسی دلیل کا محتاج ہوتا جو تیرے وجود پر دلالت کرتی، اور تو کب اور کس موقع پر دور تھاتاکہ تیرے ہی پیدا کردہ آثار کے ذریعہ ؛تجھ تک پھنچاجاتا؟

اے تمام عیوب سے پاک و پاکیزہ! اے تمام نواقص اور خامیوں سے پاک و منزہ! اے جو تمام توصیف بیان کرنے والوں کی توصیف سے بلند و بالا ہے! اے کل الکمال! اے حقیقت محض! یا نور یا قدوس! اے تمام چیزوں کی ابتداء بغیر اس کے تری ذات مقدس کے لئے کوئی ابتداء ہو، اے تمام چیزوں کی آخر کے آخر بغیر اس کے تیری ذات کے لئے کوئی آخر ہو، تو ہر چیز کی ابتداء کرنے والا ہے حالانکہ تیرے لئے کوئی ابتداء نہیں ہے، اور اے ذات ازلی! جو تمام چیزوں کے فنا ہونے کے بعد بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رھے گا۔

ابتداء اور آخر صفت ”کل شیءٍ“ کی ایک اصطلاح ہے۔ تمام چیزیں اول اور آخر نیز ابتداء اور انتھا رکھتی ہیں اور اس ابتداء و انتھا میں دو حقیقتیں ہیں جن کو تو نے ہر مخلوقات کے لئے قرار دے رکھا ہے۔ ابتداء کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ موجودات ایک دن نہیں تھیں، تو نے ان کو لباس خلقت سے آراستہ کیا، اور آخر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک دن فنا کی چادر اوڑھ لےںگی اور تیری ہی ذات ان کو فنا دے گی۔ لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ تو ”کل شیءٍ“ سے پھلے تھا اور ”کل شیءٍ“ کے بعد بھی باقی رھے گا، اور تیرے بعد کوئی چیز نہیں رھے گی۔

یٰا اوَّلَ الْاوَّلینَ،وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ ۔

اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِکُ الْعِصَمَ “۔

” خدایا میرے ان تمام گناھوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں“۔

گناہ

وہ اعمال و افعال، حالات ورفتار اور وہ اخلاق و کردار جو خداوندعالم اور انبیاء و ائمہ معصومین علیھم السلام کے احکام کے خلالف ہوں ؛ ان کو گناہ شمار کیا جاتا ہے۔

بعض گناھوں کی شدت اور جرم اس قدر زیادہ ہے جن کو انجام دینا خدا و رسول سے جنگ کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے[۲۳]

جو انسان اس دنیا میں گناہ کرتا ہے وھی روز قیامت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آتش جھنم بن کر گناھگارکے ساتھ ساتھ رھےں گے:

( إِنَّ الَّذِینَ یَاکُلُونَ امْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَاکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا ) ۔۔۔“[۲۴]

”جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموںکا مال کھاجاتے ہیںوہ درحقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رھے ہیں“۔

گناہ کرنا، خدائے رحمن و کریم کے دسترخوان پر نمک کھا کر نمک دان توڑ دینے کی طرح ہے۔

زندگی بھر نمک کھاکر نمک دان کو توڑنا بہت بے انصافی ہے۔

نمک کھاکر نمک دان توڑدینے والی حکایت

یعقوب لیث، سیستان کی مشھور و معروف شخصیت، جس نے خونخوار اور ظالم عباسی حکومت کے خلاف انقلاب کی بنیاد ڈالی، شروع میں” مسگر“ (تانبے کے برتن بنانے والے) کے علاوہ کچھ نہیں تھے۔

کافی دنوں تک اپنے کام میں مشغول رھے اور اپنے حاصل کردہ پیسہ کو فراخ دلی سے اپنے نوجوان دوستوں کو کھلاتے رھے۔

اس کی سخاوت اور شجاعت کی وجہ سے کچھ جوان بھادر اور محنت کش بھی اس کے پاس آگئے۔

اپنے اس ساتھی کی وجہ سے اس نے اپنا کام چھوڑ دیا ، اور ایک دوسرا کام شروع کردیا، لیکن کچھ مدت کے بعد ہی اس کام کو بھی چھوڑ دیا اور سیستان کے حاکم یا امیر کے مال پر نگاہ جمالی اور اس کے مال میں خیانت کرنے کا پروگرام بنالیا۔ لیکن چونکہ امیرکی طرف مال کی حفاظت کے لئے سخت محافظ قرار دئے گئے تھے، لہٰذا ایسا کرنا ممکن نہیں تھا، پروگرام یہ بنایا کہ بیرون شھر سے ایک سرنگ اس کے خزانہ تک کھودی جائے جس کے ذریعہ اس کا سارا مال حاصل کرلیا جائے۔

سرنگ کھودنے میں چھ مھینے لگ گئے، آخر کار وہ اس کے خزانہ تک پھنچ گیا اور ایک سوراخ کے ذریعہ خزانہ میں وارد ہوگیا تمام سونا، چاندی اور قیمتی جواھرات ، درھم و دینار آھستہ آھستہ مختلف بوریوں میں بھر لیا اور کسی محافظ و نگھبان کو خبر تک نہ ہوئی ، سرنگ کے ذریعہ ان کو باھر لا ہی رھا تھا کہ اس آدھی رات میں یعقوب کی نگاہ ایک چمکتی ہوئی گوھر جیسی چیز کی طرف رکی۔لیکن چونکہ کافی اندھیرا تھا اس کو نہ پہچان سکا، زبان سے چھک کر دیکھا تو بہترین چمکتا ہوا نمک تھا، اس موقع پر اس نے اپنے تمام ساتھیوں کو حکم دیا کہ تمام مال کو یھیں چھوڑدو اور خالی ہاتھ یھاں سے نکل چلو۔

اس کے تابع اور مطیع جوانوں نے تمام مال کو وھیں چھوڑ ا او رخالی ہاتھ شھر سے باھر آگئے، اور جب یعقوب سے اس کام کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ اگرچہ میں نے خزانہ تک پھنچنے کے لئے چھ مھینہ تک بہت زیادہ زحمت اٹھائی ہے اور چاہتا تو اس کا سارا مال لے جاتا، لیکن چونکہ میں نے امیر سیستان کا نمک کھالیا ہے لہٰذایہ میری غیرت اور انصاف سے دور ہے کہ اس کا نمک کھاکر اس کے مال کو غارت کرڈالوں!!

ادھر جب محافظوں نے خزانہ کا دروازہ کھوالا تو وھاں کی حالت دیکھ کر خصوصاً وھاں پر موجود سونا چاندی او ردرھم و دینار کو دیکھ کر مبھوت رہ گئے اور اس کی رپورٹ امیر سیستان کو دی۔ امیرنے یہ واقعہ سن کر شھر میں اعلان کرادیا کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہو وہ اپنے کو امیر کے سامنے حاضر کردے تاکہ امیر اس کو بہترین انعامات سے نوازے۔

ادھر جب یعقوب نے امیر کا یہ اعلان سنا تو فوراً امیر کے پاس پھنچے، اور کھا کہ میں نے تمھارا نمک کھالیاتھا، لہٰذا نمک کھاکر نمک دان توڑنا میری غیرت کے خلاف تھا۔

جب امیر سیستان نے ایسے شجاع، بھادر، محنتی ، انصاف پسند جوان کو دیکھا تو بہت خوش ہوا اور اس کو سیستان کے لشکر کا امیر بنادیا، اسی وقت سے یعقوب نے وھیں سے ترقی کرنا شروع کردی یھاں تک کہ عباسیوں کی ظالم حکومت سے مظلومین کو نجات دلانے کی کوششیں شروع کردیں اور ایک انقلاب کی بنیاد ڈالدی۔

گناہ ،ایک معنوی نجاست ہے جس کی وجہ سے انسان کی روح و جان اور خیال و فکر اور دل گندا ہوجاتا ہے ، جس کی بنا پر انسان رحمت الٰھی، لطف خداوندی اور فیض الہٰی سے محروم ہوجاتا ہے۔

گناہ کی وجہ سے انسان سے حفاظت کرنے والاعذاب و ذلت کا پردہ پھٹ جاتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں اس کے اسرار اور راز فاش ہوجاتے ہیں، اور وہ بندگی کی منزل سے خارج ہونے لگتا ہے، نیز خداوندعالم کی بخشش و مغفرت اور اس کی پردہ پوشی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے!

علماء اسلام نے قرآن مجید اور معصومین علیھم السلام کی احادیث کے پیش نظر گناھوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

۱ ۔ گناہ کبیرہ۔

۲ ۔ گناہ صغیرہ۔

گناہ کبیرہ وہ گناہ ہیں جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا ان گناھوںکے بدلے دوزخ کو واجب کردیتا ہے۔[۲۵]

اگر انسان گناہ کبیرہ سے دور رھے اور اس خطرناک وادی میں قدم نہ رکھے اور دامن انسانیت کو آلودہ نہ کرے تو خداوندعالم اس کے دوسرے گناھوں سے در گزر کرجاتا ہے اور اس پر اپنی رحمت و مغفرت نازل فرماتا ہے:

( إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُدْخَلًا کَرِیمًا ) “[۲۶]

”اگر تم بڑے بڑے گناھوںسے جن سے تمھیں روکا گیا ہے پرھیز کرلو گے تو ہم دوسرے گناھوںکی پردہ پوشی کردیں گے اور تمھیں باعزت منزل تک پھنچا دیں گے“۔

کتاب گرانقدر ”عیون اخبار الرضا(ع)“ میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام علیہ السلام نے گناھان کبیرہ کی فھرست اس طرح بیان فرمائی:

۱ ۔ نفس محترم کا قتل کرنا۔

۲ ۔ زنا۔

۳ ۔ چوری۔

۴ ۔ نشہ آور چیزیں کھانا۔

۵ ۔ عاق والدین ہونا۔

۶ ۔جنگ سے بھاگنا۔

۷ ۔ناجائز طریقہ سے مال یتیم کھانا۔

۸ ۔مردار ، خنزیر اور جس جانور پر ذبخ کرتے وقت غیر خدا کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھانا۔

۹ ۔سود۔

۱۰ ۔مال حرام کھانا۔

۱۱ ۔قمار بازی (جُوا)۔

۱۲ ۔کم تولنا۔

۱۳ ۔کسی پاک دامن پر تھمت لگانا۔

۱۴ ۔لواط۔

۱۵ ۔رحمت خدا سے مایوس ہونا۔

۱۶ ۔اپنے کو عذاب خدا سے محفوظ گرداننا۔

۱۷ ۔ظالموں کی مدد کرنا۔

۱۸ ۔ستمگروں سے دلی لگاؤ رکھنا۔

۱۹ ۔جھوٹی قسم کھانا۔

۲۰ ۔بغیر تنگدستی کے حقوق الناس کو ادا نہ کرنا۔

۲۱ ۔جھوٹ۔

۲۲ ۔تکبر۔

۲۳ ۔اسراف۔

۲۴ ۔ تبذیر (فضول خرچی کرنا)۔

۲۵ ۔خیانت کرنا۔

۲۶ ۔حج کو سبک اور کم اھمیت قرار دینا۔

۲۷ ۔اولیاء اللہ سے جنگ کرنا۔

۲۸ ۔بے فائدہ اور بے ہودہ کھیلوں میں مشغول رھنا۔

۲۹ ۔گناھوں پر اصرار کرنا۔[۲۷]

گناھوں کے برے آثار

قرآنی آیات اور روایات معصومین علیھم السلام کے پیش نظر گناھوں کے برے آثار کو درج ذیل عناوین کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

گناہ کے ذریعہ انسان کے نیک اعمال نابود ہوجاتے ہیں۔ گناہ کی وجہ سے انسان دنیاوی بلاؤں اور اُخروی درد ناک عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ گناہ کی وجہ سے انسان شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے محروم ہوجاتا ہے۔ گناہ دل کو سخت و تاریک بنادیتے ہیں۔ گناہ کی وجہ سے ایمان ختم ہوجاتا ہے۔ گناہ کی وجہ موعظہ و نصیحت بے اثر ہوجاتے ہیں۔ گناہ انسان کو ذلیل و رسوا کردیتے ہیں۔ گناہ کی وجہ انسان رزق الٰھی سے محروم ہوجاتا ہے۔ گناہ انسان کو منزل عبادت اور بندگی سے دور کردیتی ہے۔ گناھوں کی وجہ سے انسان پر شیطان کے مسلط ہوجانے کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے گھر، خاندان اور اجتماعی زندگی میں پریشانیاں پیدا ہوجاتی ہے۔ گناہ کی وجہ ایک دوسرے پر اعتماد اور اطمینان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ گناہ دل پر قبضہ کرلیتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے انسان کو جان کنی کی حالت، فشار قبر اور برزخ میں سختی اور پریشانی ہوتی ہے۔[۲۸]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے :

امَا اِنَّهُ لَیسَ مِن عِرقٍ یَضْربُ وَلا نَکْبَةٍ وَلاصُداعٍ وَلا مَرَضٍ الّا بِذَنبٍ وَذَلِکَ قَولُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِی کِتابِهِ: ” وَمَا اصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ ایْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ [۲۹]

”کوئی بھی رگ نہیں کٹتی اور کبھی ٹھوکر نہیں لگتی اور کسی کے سر میں درد نہیں ہوتااسی طرح کوئی بیماری یا مرض انسان کو نہیں ہوتا مگر یہ کہ انسان کے گناھوں کی وجہ سے۔ اسی وجہ سے خداوندعالم نے قرآن [۳۰]مجید میں ارشاد فرمادیا ہے:”اور تم تک جو مصیبت بھی پھنچتی ہے وہ تمھاری ہی وجہ سے ہے اور وہ بہت سی باتوںکو معاف بھی کردیتا ہے “۔

اسی طرح امام علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

انّ الرَّجُلَ یُذنِبُ الذَّنبَ فَیُحْرَمُ صَلَاةَ اللَّیلِ وَاِنَّ العَمَلَ السَّیِّیٴَ اسْرَعُ فِی صاحِبِهِ مِن السِّکِینِ فِی اللَّحْم “[۳۱]

”بے شک جب انسان گناھوں کا مرتکب ہوتا ہے تو خداوندعالم اس کو نماز شب پڑھنے کی توفیق سے محروم کردیتا ہے، گناہ کا اثر گوشت پر چاقو کی دھار سے تیز ہوتا ہے“۔

حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

اوحَی اللهُ عَزَّوَجَلَّ الَی نَبیٍّ مِنَ الَانبِیاءِ:اِذا اطِعْتُ رَضِیتُ ،وَاِذا رَضِیتُ بَاَرکْتُ،وَلَیْسَ ِلبَرَکَتِی نِهایَةٌ وَاِذا عُصِیتُ غَضِبْتُ،وَاِذاغَضِبتُ لَعَنتُ،وَلَعْنَتی تَبْلُغُ السَّابِعَ مِن الوَرَی “[۳۲]

”خداوندعالم نے اپنے پیغمبر پر وحی نازل فرمائی کہ جب کوئی شخص میری اطاعت کرتا ہے تو میں خوشنود ہوتا ہوں اور جب خوشنود ہوتا ہوں تو اس شخص کے لئے برکت قرار دیتا ہوں جبکہ میری برکت بے نھایت ہے۔ اور اگر کوئی شخص میری نافرمانی و معصیت کرتا ہے تو ناراض ہوتا ہوں اور جب ناراض ہوتا ہوں تو اس پر لعنت کرتا ہوں اورمیری لعنت سات پشتوں تک شامل رہتی ہے“۔

یہ بات تجربہ سے ثابت ہوئی ہے کہ جب نیک افراد پر غربت و ناداری، بیماری و ناتوانی یا رزق کی قلت جیسی بلائیں نازل ہوتی ہیں تو یہ بھی ان کے لئے خدا کا ایک لطف و کرم ہوتا ہے تاکہ دوسروں کی طرح گناہ اور طغیان میں مبتلا نہ ہوں۔

گناہ پر اصرار (یعنی ایک گناہ کو بار بار انجام دینے) کے بارے میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے روایت ہے:

”خداوندعالم ہر بندہ کی حرمت کے لئےچالیس پردہ قرار دیتا ہے، مگر یہ کہ جب انسان چالیس گناھوں کا مرتکب ہوجاتا ہے، (تو اس کے وہ پردہ ختم ہوجاتے ہیں) اس وقت خداوندعالم اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے پروں سے میرے بندے کو چھپالو۔ چنانچہ فرشتے اپنے بالوں سے اس کو چھپائے رکھتے ہیں، مگر وہ شخص گناھوں پر گناہ بجالاتا رہتا ہے یھاں تک کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے گناھوں پر فخر کرتا ہے، اس وقت فرشتے کہتے ہیں: پالنے والے! یہ تیرا بندہ ہر گناہ کا مرتکب ہوتاجاتا ہے اور ہمیں شرم آتی ہے۔ خداوندعالم ان پر وحی نازل کرتا ہے کہ اپنے پروں کو ہٹالو۔ اور جب نوبت یھاں تک پھنچ جاتی ہے تو اس وقت وہ شخص اہل بیت (علیھم السلام) سے دشمنی کرنا شروع کردیتا ہے، اس وقت زمین وآسمان میں اس کی حرمت و عظمت کا پردہ چاک چاک ہوجاتا ہے۔ اس وقت فرشتے کہتے ہیں : پروردگارا! تیرے بندہ کا پردہ پارہ پارہ ہوچکا ہے، اس وقت وحی الٰھی نازل ہوتی ہے کہ اگر خدا اس پر توجہ رکھتا تو تمھیں پروں کے ہٹا لینے کا حکم ہی نہیں دیتا![۳۳]

وہ باتقویٰ اور پاکدامن انسان جو ہمیشہ یاد خدا اور قیامت پر توجہ رکھتا ہے اور گناھوں کے برے آثار سے ظاھر اور مخفی طریقہ سے دوری اختیار کرتا ہے وہ زندہ ہے، لیکن خداوند عالم قیامت اور انجام گناہ سے نہ ڈرنے والا گناھگار شخص مردہ ہے۔[۳۴]

جن گناھوںکے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے:

محدث بزرگوار شیخ صدوق علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”معانی الاخبار“ میں گناھوں کے برے آثار کے سلسلے میں ایک بہت اھم حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جس کے ایک حصہ کو دعاء کمیل کے ”اللھم اغفر الی الذنوب“ سے شروع ہونے والے جملوں کی وضاحت میں فرمایا:

جن گناھوں کے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

۱ ۔ نشہ آورچیزیں پینا۔

۲ ۔ جُوا کھیلنا۔

۳ ۔بے ہودہ کاموں اورلوگوں کو ہنسانے کے لئے بے جا مذاق میں مشغول رھنا۔

۴ ۔ دوسروں کے عیوب بیان کرنا۔

۵ ۔ گناہ و بدکاری سے متھم افراد کی ہم نشینی۔

شراب خوری:

حضرت امام موسیٰ کاظم ، و امام رضااور امام محمد تقی علیھم السلام نے شراب پینے کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔

عصر حاضر کے مغربی و مشرقی دانشوروں اس بات کے قائل ہیں کہ نشہ آور اشیاء چاھے کم ہو یا زیادہ انسان کے دل و دماغ اور معدہ اور پھیپڑوں نیز سانس کی نالی اور خون کی روانی میں خطرناک اثرات پیدا کرتی ہیںجو اس کی اولاد میں بھی پھنچتے ہیں، اور بعض اوقات تو ان کا علاج کرنا ناممکن ہے، جس کے نتیجہ میں شراب پینے والے کی ہلاکت یقینی ہوجاتی ہے۔

”شیطانی بوٹل“ یعنی شراب ایک بہت خطرناک شیطان اور جانی دشمن ہے اور شرعی لحاظ سے نجس ہے۔

قرآن مجید نے سیال نشہ آور اشیاء کو ناپاک، رجس اور شیطانی کاموں میں شمار کیا ہے۔[۳۵] اور اس کے فائدہ کو اس نقصان کے مقابلہ میں بہت کم اور ناچیز شمار کیا ہے۔[۳۶]لہٰذا شراب انھیںنا قابل تلافی خطرات کی بنا پر تمام لوگوں پر حرام کی گئی ہے اور شراب پینے والے کو اگر توبہ نہ کرسکے تو اس کو دنیا وی اور اُخروی عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔

پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے شراب کے سلسلہ میں دس لوگوں پر لعنت کی ہے:

۱ ۔ جو کوئی شخص شراب بننے والی چیزوں کے درخت کو شراب کے لئے لگائے۔

۲ ۔ جو شخص اس درخت کی دیکھ بھال کرے۔

۳ ۔ جو شخص شراب بنانے کے لئے انگور یا کسی دوسری چیز کا رس نکالے۔

۴ ۔ شراب پینے والا۔

۵ ۔ شراب پلانے والا۔

۶ ۔ جو شخص شراب کو اپنے کاندھے پر یا سواری پر رکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے۔

۷ ۔ جو شخص اس لانے لے جانے والے سے لے کر رکھے۔

۸ ۔ شراب بیچنے والا۔

۹ ۔شراب خریدنے والا۔

۱۰ ۔ شراب سے حاصل شدہ منافع کو کھانے والا۔

روز قیامت شراب خوراس حال میں محشور کیا جائے گا کہ اس کا چھرہ سیاہ، منھ ٹیڑھا اور اس کی زبان پیاس کی شدت سے باھر نکلی ہوئی ہوگی، اس وقت اس کو زنا زادوں کی میل و گندگی گرنے والے کنویں سے پانی پلایا جائے گا۔[۳۷]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”شراب خوری بت پرستی کے برابر ہے“۔[۳۸] شراب خوار روز قیامت کافر محشور کیا جائے گا“۔[۳۹] ”شراب خواری تمام گناھوں کی بنیاد ہے“۔[۴۰]

حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کی نظر میں شراب خوری؛ چوری اور زنا سے بدتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں؛ کیونکہ زنا کرنے والا شاید کوئی دوسرا گناہ نہ کرے، لیکن شراب پینے والا جب شراب پی لیتا ہے تو وہ زنا بھی کرسکتا ہے، کسی کو قتل بھی کرسکتا ہے اور نماز کو بھی ترک کردیتا ہے۔[۴۱]

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

”جو شخص شراب پئے در حالیکہ مجھ سے اس کی حرمت کے بارے میں سن چکا ہو ، تو اگر ایسا شخص کسی لڑکی سے رشتہ لے کر آئے تو اس کو مثبت جواب دینا سزاوار نہیں ہے، شراب پینے والے کی سفارش قابل قبول نہیں ہے، اس کی بات کی تصدیق نہ کی جائے۔ اس کو کسی چیز پر امانت دار بھی نہ بنایا جائے، لہٰذا اگر ایسے شخص کو کوئی امانت دی جائے تو خدا کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں ہے“۔[۴۲]

قمار بازی (جوا کھیلنا)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت کے ضمن میں قمار بازی کو گناہ کبیرہ شمار کیا ہے۔[۴۳]

قرآن مجید نے نے صرف قمار بازی اور شراب کو گناہ کبیرہ سے تعبیر کیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( یَسْالُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیهِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ ) ۔۔۔“( ۴)

”یہ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میںسوال کرتے ہیں تو کھے دیجئے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ “۔

قمار بازی کے تمام وسائل و سامان بنانا، اور ان کے بنانے پر اجرت لینا نیز ان کی خرید و فروخت حرام ہے۔

بہت سے شیعہ فقھاء کرام کے نزدیک قمار بازی بغیر کسی شرط کے بھی شرعی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔

ان وسائل کا رکھنا حرام اور ان کو نابود کرنا ضروری ہے۔

قمار بازی کو دیکھنا ،وھاں بیٹھنا حرام اور اس جگہ کو ترک کردینا واجب شرعی ہے۔

لوگوں کے ہنسانے کے لئے بے ہودہ کام انجام دینا

بے ہودہ کام سے مراد ایسے اعمال وافعال ہیں جن کے کرنے سے دنیاوی یا اُخروی کوئی فائدہ نہ ہو، صرف انسان کا وقت برباد ہوتا ہے۔ انسان کی عمر کاایک لمحہ لاکھوں اور کر وڑوں اسباب کی باھم کارکردگی کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔

بے شک اپنی عمر برباد کرنا کفران نعمت ہے۔ کیونکہ انسان کی عمر خداوندعالم کی عطا کردہ ایک عظیم اور مفید نعمت ہے اور اس عظیم الشان نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس زندگی کا ایک ایک لمحہ خداوندعالم کی عبادت و بندگی ، اور حصول علم و دانش نیز بندگان خدا کی خدمت میں گزارا جائے۔

محدث قمی اپنی کتاب ”منازل الآخرة“ میں ایک حکایت نقل کرتے ہیں:

ابن صمد نامی شخص شب و روز اپنے وجود کا حساب کرتا تھا، اپنے زندگی کے گزرے ہوئے دنوں کو شمار کرتا تھا ، اور جب اس کے لحاظ سے اس کی عمر ساٹھ سال ہوگئی اس کے دنوں کو شمار کیا تو ۲۱۹۰۰ ہوگئے تو اس نے ایک فریاد بلند کی کہ اگر میں نے ہر روز بھی ایک گناہ کیا ہو تو ۲۱۹۰۰ گناہ ہوگئے ہیں اور میں اس قدر گناھوں کے ساتھ خدا سے ملاقات کروں گا، یہ کہتے ہی بے ہوش ہوکر زمین پرگر پڑا اور اسی حالت میں اس دنیا سے چل بسا۔

دوسروں کے عیوب بیان کرنا

مسلمین اور مومنین کی عزت و آبرو کی حفاظت ایک بہت اھم فریضہ ہے جس پر اسلام نے بہت زیادہ توجہ دی ہے یھاں تک کہ اسلامی تعلیمات کے پیش نظر مومن کی عزت و آبرو اس کے خون کے برابر قرار دی گئی ہے:

”عرض المومن کدمہ“

”مومن کی عزت اس کے خون کی طرح ہے“۔

لوگوںکی آبرو کے ختم ہونے سے اطمینان و اعتماد کی عمارت ویران ہوجاتی ہے، گھریلو زندگی اورمعاشرہ کا نظام درھم و برھم ہوجاتا ہے جس سے مسلمانوں کے امور میںخلل پیدا ہوجاتا ہے۔

فقط انبیاء اور ائمہ علیھم السلام نیز اولیاء اللہ بے عیب اور کامل انسان ہیں۔ ان کے علاوہ تمام انسانوں میں عیوب ہوتے ہیں جن کوسبھی چھپاتے ہیں۔

البتہ بعض ایسے بے شرم افراد ہوتے ہیںجو دوسروں کے سامنے اپنے عیب بیان کرتے ہوئے فخر کرتے ہےںاور ان کے بیان کرنے پر ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، لیکن اکثر لوگ اپنی عزت و آبرو کے قائل ہیں اور اپنی عزت و آبرو کو پامال کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔

پس جو شخص دوسروں کے عیب بیان کرتا ہے، چاھے وہ جسمانی عیب ہوں یا عملی و اخلاقی یا مالی ہوں یا دینی و دنیاوی ہوں، وہ شخص دوسروں کو بے آبرو کرتا ہے اور ان کی ذلت وخواری کا باعث بنتا ہے، اوراپنے کو ایک بہت بڑے گناہ میں ملوث کرتا ہے اور قیامت کے درد ناک عذاب و رسوائی کا مستحق ہوتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیھما السلام سے روایت ہے :

اقْرَبُ ما یَکونُ العَبدُ اِلَی الکُفْرِ ان یُواخِیَ الرَّجُلَ عَلَی الدِّینِ فَیُحْصِی عَلَیْهِ عَثَراتِهِ وَزَ لَّاتِهِ لِیُعَنِّفَه بِهَا یَوماً مَا “[۴۴]

”انسان کو سب سے زیادہ کفر سے نزدیک کرنے والی چیز یہ ہے کہ دینی بنیاد پر اپنے کسی برادر کی خطا و گناھوں کو شمار کرتا رھے تاکہ موقع آنے پر ان کے لحاظ سے اس کی ملامت و مذمت کرے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

یَا مَعْشَرَ مَن اسْلَمَ ِبلِسَانِهِ وَلَمْ یُخْلِصِ الإیمَانَ إِلَی قَلْبِهِ لَاتَذُمُّو الْمُسلِمِینَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِم ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَورَاتِهِم تَتَبَّعَ اللهُ عَوْرَتَهُ ،وَمَنْ تَتَبَّعَ الله تَعَالَی عَوْرَتَهُ یَفْضَحهُ وَلَوْ فِی بَیْتِهِ “[۴۵]

”اے وہ گروہ! جنھوں نے فقط زبان سے اسلام قبول کیا ہے جبکہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں، مسلمانوں کی سرزنش نہ کرو اور ان کے عیوب کو تلاش نہ کرو، کیونکہ جو کوئی بھی ان کے عیوب کو تلاش کرے گا تو اس کے عیوب کو خدا تلاش کرے گا، اور جس کے عیوب کی تلاش خداوندعالم کرے اگرچہ وہ گھر ہی میں کیوں نہ ہو تو اس کو رسوا کردے گا“۔

گناہ سے متھم افراد کے ساتھ ہمنشینی

انسان پر صحبت کا اثر دوسری چیزوں کی نسبت زیادہ ہوتاھے۔ انسان کے وجود میں ہمنشینی اور صحبت کا اثر سب چیزوں سے زیادہ ہے؛ اسی وجہ سے قرآن مجید او رآئمہ معصومین علیھم السلام کی روایات میں دوست اور ہم صحبت کے انتخاب کے لئے انسان خصوصاً اہل ایمان کے لئے تاکید کی گئی ہے۔

ان تمام چیزوں کی واقعیت بیان کرنے نیز آیات و روایات کی توضیح و وضاحت کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے، کہ الحمد لله علماء اسلام نے اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔

قرآن کریم و روایات معصومین علیھم السلام نے؛ لوگوں کوکفار، مشرک، فاسق و فاجر نیز یھود و نصاری بلکہ گناہ و معصیت سے متھم افراد کی دوستی سے منع فرمایا ہے، تاکہ ہم صحبت کے اخلاق اور شیطانی عقائد اس انسان میں موثر نہ ہونے پائیںاور اس کو رحمت الٰھی سے دور نہ کردیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

لَا یَنْبَغِی لِلْمُومِنِ انْ یَجْلِسَ مَجْلِساً یُعْصَی اللهُ فِیهِ وَلَایَقْدِرُ عَلَی تَغْیِیِرِهِ “[۴۶]

”کسی بھی مومن کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ ایسی جگہ جائے جھاں پر خدا کی نافرمانی ہوتی ہو اور اس کی اصلاح نہ کرسکتا ہو“۔

ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں : حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: تم کیوں عبد الرحمن بن یعقوب کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہو؟ میں نے کھا کہ وہ میرے ماموں ہیں۔ تب امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ خدا کے بارے میں ناسزا اور غیر قابل قبول باتیں کہتا ہے، ”ایسی باتیں جو قرآنی آیات اور اہل بیت (علیھم السلام) کی تعلیمات سے ہم آھنگ نہیں ہیں“۔ خدا کو دوسری چیزوں کی طرح توصیف کرتا ہے۔ لہٰذا یا اس کے ساتھ ہم نشینی کرو یا پھر ہمیں چھوڑدو یا ، یا ہمارے ساتھ ہم نشینی کرو اور اس کو ترک کردو۔

میں نے عرض کیا: وہ کچھ بھی کھے ہمیں تو کوئی نقصان نہیں پھنچتا، جب میں اس کی بات کی تائید نہیں کرتا ہوں تو مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

تب امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمھیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اس پر عذاب الٰھی نازل ہوجائے اور ساتھ میں تمھیں بھی لپیٹ لے!! کیا تم نے یہ واقعہ نہیں سنا کہ ایک شخص جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دوستوں میں سے تھا اور اس کا باپ فرعون کے دوستوں میں سے تھا، جس وقت فرعون کا لشکر دریاکے کنارے حضرت موسیٰ(ع) اور ان کے اصحاب کے پاس پھنچا وہ بیٹا جناب موسیٰ سے جدا ہوا تاکہ اپنے باپ کو نصیحت کرے، اور پھر پلٹ کر جناب موسیٰ(ع) کے ساتھ ہوجائے، لیکن اس کا باپ فرعون کے باطل راستہ پر چلتا رھا اور یہ بیٹا اسے دین کی باتیں بتا رھا تھا یھاں تک کہ دونوں دریا کے کنارے پھنچ گئے، اور دونوں غرق ہوگئے، چنانچہ جب جناب موسیٰ کو خبر ہوئی اس وقت انھوں نے فرمایا: اس پر خدا کی رحمت نازل ہورھی ہے ، لیکن جب عذاب آتا ہے جو شخص گناھگار کے پاس ہوتا ہے اس کا دفاع نہیں ہوسکتا۔[۴۷]

مَن کَانَ یُومِنُ بِاللهِ وَالْیُومِ الآخِرِ فَلَا یَقُومُ مَکَانَ رِیبَةٍ “[۴۸]

”جو شخص خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ مقام تھمت و شک سے دور رھے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

مَن قَعَدَ عِنْدَ سَبَّابٍ لِاوْلِیَاءِ اللهِ فَقَدْ عَصَی اللهَ تَعَالَی “[۴۹]

” جو شخص اولیاء اللہ کو گالی دینے والوں کے پاس بیٹھے بے شک وہ خدا کا نافرمان ہے“۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اپنی دوستی کو اہل گناہ و معصیت سے کینہ و دشمنی کے ذریعہ ظاھر کرو، اور اس سے دور ہوکر خدا سے نزدیک ہوجاؤ اور خدا کی خوشنودی کو اس طرح کے لوگوں کی ناراضگی کے بدلے حاصل کرو۔ چنانچہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کس کے ساتھ ہم نشینی کریں؟تو فرمایا: اس شخص کے ساتھ جس کو دیکھنے کے بعد خدا کی یاد آجائے، اور اس کی گفتگو تمھارے علم میں اضافہ کرے، اور تمھیں آخرت کی طرف رغبت دلائے۔[۵۰]

جی ہاں ! تقویٰ اور پاکدامنی، ورع و زھد، صداقت و درستی، عبادت و خدمت جیسے پردے ؛ انسان اور عذاب خدا کے درمیان مانع ہوتے ہیں، اور یہ پردے اس وقت مستحکم ہوجاتے ہیں جب انسان شراب پینے، قمار بازی، دوسروں کے عیوب بیان کرنے اور متھم افراد سے ہم نشینی وغیرہ سے پرھیز کرے؛ لیکن اگر خدا نخواستہ شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر گناہ سرزد ہوجائے تو اس نے گویا ان پردوں اور حجابات کو پارہ پارہ کردیا ہے، اور بلا و مصیبت کے نازل ہونے کا راستہ ہموار کرلیا ہے۔

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ “۔

” ان گناھوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں“۔

جن گناھوں کے ذریعہ بلائیں نازل ہوتی ہیں:

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے ایک اھم روایت میںنو گناھوں کو بلا نازل ہونے کا سبب قرار دیا ہے:

۱ ۔ بغی۔(حق کے مقابلہ میں سرپیچی کرنا)

۲ ۔ حقوق الناس کو پامال کرنا۔

۳ ۔ بندگان خدا کا مذاق اڑانا۔

۴ ۔ عھد و پیمان توڑدینا۔

۵ ۔ کھلم کھلا گناہ کرنا۔

۶ ۔ جھوٹی چیز مشھور کرنا۔

۷ ۔ حکم خدا کے بر خلاف قضاوت اور فیصلے کرنا۔

۸ ۔ زکوٰة ادا نہ کرنا۔

۹ ۔ ناپ و تول میں کمی کرنا۔[۵۱]

بغی:

لفظ ”بغی“ لغت میں حق سے سر پیچی اور حدود الٰھی سے تجاوز، لوگوں پر ظلم وستم، معصیت و گناہ، فساد اور زنا کے معنی میں ہے، چنانچہ قرآن مجید اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے مروی روایات میں موجود ہے:

( انَّ قَارونَ کانَ مِن قَوْمِ موسَیٰ فَبَغَیٰ عَلَیْهِمْ ) ۔۔۔“[۵۲]

”بیشک قارون ، موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر اس نے قوم پر ظلم کیا۔۔“۔

( وَلَوْبَسَطَ اللّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِی الارْضِ ) ۔۔۔۔“[۵۳]

”اگر خدا تمام بندوں کے لئے رزق کو وسیع کردیتا تو یہ لوگ زمین میں بغاوت کردیتے۔۔“۔

( یا اخْتَ هارُونَ ما کاَنَ ابُوکِ امْرَا سَوْءٍ وَمَا کانَتْ امُّکِ بَغِیّاً ) “[۵۴]

”اے ہارون کی بھن نہ تمھارا باپ بُرا تھا اور نہ تمھاری ماں بد کار تھی “۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا:

انَّ اسْرَعَ الْخَیرِ ثَوَاباً البِرُّ وَانَّ اسْرَعَ الشَرِّ عِقَاباً البَغیُ “[۵۵]

”بے شک کہ سب سے جلدی ثواب ملنے والی نیکی ، دوسروں کے ساتھ نیکی و بخشش اور اچھائی کرنے والی نیکی ہے اور جلد بلا نازل ہونے والی برائی بھی دوسروں پر ظلم و ستم اور تجاوز ہے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

سِتَّةٌ لاَتَکونُ فِی المُومِنِ:العُسْرُ وَ النَّکَدُ وَاللَّجَاجَةُ وَالکِذْبُ وَالحَسَدُ وَالبَغْیُ “( ۳)

”مومن میں چھ برے صفات نہیں ہوتے، عجز ودر ماندگی، خساست و کم خیر ہونا، لجاجت اور سرسختی، جھوٹ، حسد اور دوسروں پر ظلم و تجاوز کرنا“۔

حقوق الناس کا پامال کرنا

خداوندرحمن و مھربان نے عوام الناس میں ایک دوسرے کے حقوق قرار دئے ہیں جن کو ادا کرنا لازم و ضروری ہے، اور ان سے تجاوز کرنا خدا کی معصیت اور سبب نزول بلا ہے۔

ماں باپ کا حق اولاد پر، اولاد کا حق ماں باپ پر، رشتہ داروں پر ایک دوسرے کے حقوق، پڑوسی کا حق، حکومت پر عوام الناس کا حق، عوام الناس کا حق حکومت پر، شوھر کا حق زوجہ پر، زوجہ کا حق شوھرپر، ماتحت افراد کا حق صاحب نعمت پر، فقیر کا حق مالدار پر، اور ان کے علاوہ قرآن مجید اور احادیث میں بیان شدہ دوسرے حقوق۔

حقوق کے سلسلہ میں سب سے کامل اور بہترین کتاب؛ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا ”رسالہ حقوق“ ہے؛ چنانچہ اگر انسان اس رسالہ کا مطالعہ کرے تو حقوق کے سلسلہ میں بہترین معلومات حاصل ہوجائیں گی، جس کے بعد انسان ان حقوق کے ادا کرنے کی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔

ان حقوق سے تجاوز کرنا ایک مسلم گناہ اور یقینی معصیت ہے، اور اگر انسان ان کو ادا نہ کرے تو پھر عذاب و بلا ضروری اور یقینی ہیں۔

بندگان خدا کا مذاق اڑانا

بندگان خدا کا مذاق اڑانا ؛چاھے اس کی شکل و صورت کا مذاق بنائے یا اس کے فقر و غربت کا ، خواہ دینداری اور ایمان کے لحاظ سے ہو یا اس کے کام اور کاروبار کی وجہ سے یا کسی بھی دوسرے موقع و محل کی بنا پر؛ حقیقت میں ایک بہت بڑا گناہ اور عظیم معصیت ہے جس کی بنا پر دنیاوی اور اُخروی عذاب نازل ہوتا ہے۔

کسی کا مذاق اڑانا درحقیقت اس کی شخصیت کی توھین اور اس کو ذلیل و خوار کرنا ہے۔

قرآن مجید نے مذاق اڑانے والوں کو منافق، ستمگر اور مفسد کے نام سے یاد کیا ہے اور ان کو دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے:

( وَإِذَا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَی شَیَاطِینِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ) “[۵۶]

”جب یہ صاحبان ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایمان لے آئے اور جب اپنے شیاطین کی خلوتوں میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھاری ہی پارٹی میں ہیں ہم تو صرف صاحبان ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ “

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا کہ خداوندعالم فرماتا ہے:

مَن اهَانَ لِی وَلِیّاً فَقَد ارْصَدَ لِمُحَارَبَتِی “[۵۷]

”جو شخص میرے دوستوں کی توھین کرے تو اس نے میرے ساتھ جنگ کی تیاری کی ہے!!“

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جس وقت قیامت برپا ہوگی، ایک آواز آئے گی: میرے دوستوں سے منھ پھیرنے والے کھاں ہیں؟ اس آواز کو سن کر کچھ لوگوں کا گروہ ظاھر ہوگا جن کے چھروں پر گوشت نہیں ہوگا۔ اس وقت کھا جائے گا : یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اہل ایمان کو تکلیف پھنچائی ہے ،ان سے دشمنی کی ہے، ان سے بغض و عناد کیا ہے اور ان کے سامنے سختی اور شدت کے ساتھ ان کے دین میں سرزنش و ملامت کی ہے۔ اور اس کے بعدان کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا کہ خداوندعالم کا فرمان ہے:

قَد نَابَذَنِی مَن اذَلَّ عَبدِی المُومِنَ “ [۵۸]

جو شخص میرے مومن بندہ کو ذلیل کرے وہ کھلم کھلا مجھ سے جنگ کے لئے میدان میں نکل آیا ہے!!“

جی ہاں، لوگوں کا مذاق اڑانا، ان کا مسخرہ کرنا ؛ در حقیقت ان کی توھین کرنا اور ان کو روحی تکلیف دینا اور ذلیل کرنا ہے۔

قرآن مجید نے عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کا مسخرہ کرنے سے منع کیا ہے، اور اگر مسخرہ کرنے والے اپنے اس برے کام سے توبہ نہ کریں تو ان کو ستمگر شمار کیا ہے[۵۹]

عھد و پیمان توڑنا

عھد و پیمان اور ان کو وفاکرنا ، واقعاً دو اخلاقی اور انسانی صفات ہیں، قرآن مجید اور روایات معصومین علیھم السلام میں جن پر توجہ دی ہے، اور عھد وپیمان کو توڑنا گناہ و معصیت شمار کیا گیا ہے۔

عھد و پیمان اور ان کو وفا کرنے کے سلسلہ میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ عھد و پیمان خدا یا پیغمبر یا امام(ع) کے ساتھ ہو یا عوام الناس کے ساتھ، اور وہ عھد و پیمان جو راہ عبادت، خدمت عوام، یا کاروبار و تجارت یا دوسرے کاموں میں کیا گیا ہو، تو اس پر وفا کرنا واجب شرعی اور اخلاقی ہے، اور ان کا توڑنا حرام اور عذاب خدا کا باعث ہے۔

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

وَاوْفُو ا بِعَهْدِ اللّٰهِ اذَا عَاهَدتُمْ ۔۔۔“[۶۰]

”اور جب کوئی عھد کرو تو اللہ کے عھد کو پورا کرو“۔

الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیَقْطَعُونَ مَا امَرَ اللهُ بِهِ انْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الْارْضِ اوْلَئِکَ هُمْ الْخَاسِرُونَ “[۶۱]

”جو خدا کے ساتھ مضبوط عھد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یھی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں “۔

وَاوْفُوا بِالْعَهْدِ انَّ الْعَهْدَ کاَنَ مَسْئُولاً “[۶۲]

”اور اپنے عھدوں کو پورا کرنا کہ عھد کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔

یَاا یُّهَا الَّذِیْنَ ء امَنُوا اوْفُوا بِالْعُقُودِ ۔۔۔“[۶۳]

”ایمان لانے والو!اپنے عھدو پیمان اور معاملات کی پابندی کرو“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

ثَلٰثٌ مَن کُنَّ فِیْهِ کَانَ مُنَافِقاً وَانْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ انَّهُ مُسْلِمٌ :مَنْ إِذَا ائْتُمِنَ خَانَ،وَإِذَا حَدَّثَ کَذِبَ ، وَإِذَاوَعَدَ اخْلَفَ ۔“[۶۴]

جس شخص میں تین صفات پائے جائیں وہ منافق ہے،(اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو اور خود کو مسلمان جانتا ہو): اگر اس کو کوئی امانت دی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے، اور جب کوئی گفتگو کرے تو اس میں جھوٹ بولے، اور جب کوئی وعدہ کرے تو وفا نہ کرے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَن عَامَلَ النَّاسَ وَلَمْ یَظْلِمْهُم ،وَحَدَّثَهُم فَلَمْ یَکْذِبْهُمْ وََوَعَدَهُمْ فَلَمْ یُخْلِفْهُمْ ،فَهُوَ مِمَّن کَمُلَتْ مُرُوءَ تُهُ وَحُرِّمَتْ غِیْبَتُهُ وَظَهَرَ عَدْلُهُ وَوَجَبَتْ اخُوَّتُهُ “[۶۵]

”جو کوئی شخص اپنی رفتار میں لوگوں پر ستم نہ کرے اور گفتگو کے وقت جھوٹ نہ بولے، اور اپنے کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی نہ کرے، (تو وہ) ان لوگوں میں سے ہے جس کی مروّت کامل ہے اور جس کی غیبت حرام اور جس کی عدالت واضح ہے اور ایسے شخص کو اپنا دینی برادر سمجھنا چاہئے“۔

کھلم کھلا گناہ کرنا

قرآن مجید نے لوگوں کو برے کاموں اور آشکار و مخفی طریقہ سے گناہ کرنے سے منع کیا ہے۔[۶۶]

کھلم کھلا سب کے سامنے معصیت و گناہ کرنا ، گناھگار کی انتھائی بے شرمی و بے حیائی کی دلیل ہے نیز قوانین اور اسلامی معاشرہ کی بے احترامی و بے ادبی ہے۔

اسلام معاشرہ کے ماحول کا آلودہ ہونا پسند نہیں کرتا، اور جو لوگ اسلامی معاشرہ کو گناہ و فساد سے آلودہ کرتے ہیں ، اسلام نے ان کے لئے سزا اور تعزیرات معین کی ہیں۔

دلسوز و آگاہ مومنین خصوصاً اسلامی حکومت کے کار گزاروں پر واجب ہے کہ ہر بدکار کی بدکاری، ہر خطا کار کی خطا اور بے شرمی کی ممکن صورت میں روک تھام کریں، تاکہ گناہ کے خطرناک جراثیم عوام الناس خصوصاً جوانوںمیں نہ پھیلنے پائیں۔امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا وجوب اسی وجہ سے ہے کہ معاشرہ سے گناہ کی خطرناک برائیاں ختم ہوجائیں۔

اگر مدارس اور گھر دونوں مل کر جوان طبقہ کی اسلامی طریقہ سے پرورش کریں ، تاکہ وہ ان کے لئے ایک ثابت اور قائم صفت بن جائے، تاکہ خلوت اور جلوت (ظاھر و مخفی جگہ میں)انسان برائیوں سے پاک رھے۔

حیا ، خدا پر توجہ اور گناہ کے سر انجام پر غور و فکر کرنا، گناہ و معصیت سے بہترین روکنے والی چیزیں ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے :

اَلْحَیَاءُ مِنَ الإِیمَانِ وَالإِیمَانُ فِی الجَنَّةِ “[۶۷]

”حیا ایمان سے ہے اورایمان جنت میں ہے“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے کہ خدا سے حیا کرو اور حق حیا کی رعایت کرو۔ سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کس طرح؟ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص شب نہ بسر کرے ، مگر یہ کہ اپنی موت کو اپنی دو آنکھوں کے سامنے دیکھے؛ اپنی آنکھ، کان اور زبان کو حرام سے محفوظ رکھے، اور اپنے پیٹ کو مال حرام سے محفوظ رکھے؛ قبر اور اس میں اپنے بدن کے خاک میں ملنے کو یاد رکھے۔ اور جو شخص آخرت کو چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ فریب کار دنیاوی زرو زینت سے پرھیز کرے۔[۶۸]

ایک شخص نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے، تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

” إِسْتَحْیِ مِنَ اللَّهِ کَمَا تَسْتَحْیِی مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ مِن قَوْمِکَ “[۶۹]

”خدا سے حیا (و شرم) کرو جیسا کہ اپنی قوم کے شائستہ اور صالح انسان سے حیا کرتے ہو“۔

ایک با ایمان عورت کی حیا اور خوف

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: ایک شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ دریا کا سفر کررھا تھا۔ اتفاق سے کشتی ڈوبنے لگی اور اس شخص کی زوجہ کے علاوہ تمام لوگ دریا میں ڈوب گئے۔ اور وہ بھی ایسے کہ وہ عورت ایک تختہ پر بیٹھ گئی اور اس دریا کے ایک جزیرہ پر پھنچ گئی۔

اس جزیرہ میں ایک چور رہتا تھاجس نے حرمت خدا کے تمام پردوں کو چاک کررکھا تھا، ناگاہ اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے سوال کیا کہ توانسان ہے یا جن؟ اس نے کھا انسان ہوں۔ چنانچہ وہ چور بغیر کچھ بولے ہی اس عورت کی بغل میںاس طرح بیٹھا کہ جس طرح مرد اپنی زوجہ کے پاس بیٹھتا ہے، اور جب اس نے اس عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنا چاھا تو وہ عورت لرز گئی۔ اس چور نے کھا تو ڈر کیوں گئی پریشان کیوں ہوگئی؟ وہ عورت بولی کہ اس سے ڈرتی ہوں، اور آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اس چور نے کھا کہ کبھی اس طرح کا کام انجام دیا ہے تو اس عورت نے کھا: نھیں، بخدا ہرگز نھیں۔اس شخص نے کھا: تو خدا سے اس قدر خوف زدہ ہے حالانکہ تو نے ایسا کام نہیں کیا ہے اور میں جب کہ تم کو اس کام پر مجبور کررھا ہوں، خدا کی قسم، مجھے تو تجھ سے کھیں زیادہ خدا سے ڈرنا چاہئے۔ اس کے بعد وھاں سے اٹھا اور اپنے گھر چلا گیا، اور ہمیشہ توبہ و استغفار کی فکر میں رھنے لگا۔

ایک روز راستہ میں ایک راھب سے ملاقات ہوئی ، دو پھر کا وقت تھا ، چنانچہ اس راھب نے اس شخص سے کھا: دعا کرو کہ خدا ہمارے اوپر بادلوں کے ذریعہ سایہ کردے کیونکہ شدت کی گرمی پڑرھی ہے، تو اس جوان نے کھا کہ میں نے کوئی نیکی نہیں کی ہے اور خدا کی بارگاہ میں میری کوئی عزت و آبرو نہیں کہ میں اس سے اس طرح کا سوال کروں۔ اس وقت راھب نے کھا: تو پھر میں دعا کرتا ہوں اور تم آمین کھنا۔ اس جوان نے کھا: یہ ٹھیک ہے۔ چنانچہ راھب نے دعا کی اور اس جوان نے آمین کھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے بادلوں نے ان دونوں پر سایہ کردیا، دونوں راستہ چلتے رھے یھاں تک کہ ان کا راستہ الگ الگ ہونے لگا،دونوں نے اپنے اپنے راستہ کو اختیار کیا، تو بادل اس جوان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا!

چنانچہ یہ دیکھ کر اس راھب نے کھا: تو تو مجھ سے بہتر ہے، تیری ہی وجہ سے دعا قبول ہوئی ہے، نہ کہ میری وجہ سے، اور کھا کہ تم اپنے حالات بتاؤ۔ چنانچہ اس نے اس عورت کا واقعہ بیان کیا۔ تب راھب نے کھا: چونکہ خوف خدا تیرے دل میں پیدا ہوگیا تو خدا نے تیرے گناہ بخش دئے، لہٰذا آئندہ گناھوں سے پرھیز کرنا۔[۷۰]

جھوٹ:

حضرت رسول خدا ، امام صادق و امام رضا علیھم السلام نے جھوٹ کو گناھان کبیرہ بلکہ بزرگترین گناھان کبیرہ میں شمار کیا ہے[۷۱]

سب سے بڑا جھوٹ انسان کا؛ خدا و رسول اور ائمہ علیھم السلام اور آسمانی کتابوں پر جھوٹ باندھنا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔

ھمیشہ دنیائے کفر و شرک کے حکمراںاپنے سفید جھوٹ اور تھمتوں کو علم اور فلسفہ کے عنوان سے بیان کرکے بہت سے لوگوں کو دین، ایمان اور انبیاء و روز قیامت سے گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

یہ خناس اور بھانہ باز شیاطین، ایک نیا دین بنانے والے نیز وسوسہ ایجاد کرنے والے مکار یا حق و حقیقت سے دور امور کو ایک دوسرے سے ملاکر بہت سے لوگوں کی ہدایت ایمان اور صراط مستقیم میں مانع ہوتے تھے۔

یہ لوگ اپنے جھوٹ اور تھمتوں کے ذریعہ عوام الناس کے سامنے ہر باطل کو حق اور ہر حق و حقیقت کو باطل کی صورت میں پیش کیا کرتے تھے۔

انھوں نے ہمیشہ آسمانی کتابوں کی تکذیب کی ہے اور آسمانی کتابوں کو خدا کی طرف سے ہونے کو انکار کیا ہے، اور الٰھی نشانیوں کا ہر ممکن صورت میں مقابلہ کیا ہے اور لوگوں میں اس بات کا پروپیگنڈا کیا ہے کہ کوئی بھی چیز خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئی ہے۔!![۷۲]

ان لوگوں نے انسانوں کو فیض ہدایت سے دور کرنے اور آخرت کی سعادت و خوشبختی سے دور کرنے کے لئے تمام انبیاء علیھم السلام پر تھمتیں لگائیں اور ان سچے لوگوں پر جھوٹ و افترا باندھا ہے، وہ ان صاحبان عقل و بصیرت کو جادوگر شمار کیا کرتے تھے، اور ان انبیاء کرام (جو ہر لحاظ سے صحیح و سالم ہوتے تھے)؛ کو دیوانہ اور مجنون کہہ دیتے تھے!!

یہ لوگ کسی بھی طرح کے جھوٹ بولنے سے پرھیز نہیں کرتے تھے اور اپنی کارستانیوں کے ذریعہ حق و حقیقت کے معنی میں تحریف کیا کرتے تھے،یھاں تک کہ توریت و انجیل اور زبور میں بھی تحریف کر ڈالی، اور ان ہدایت کی کتابوں کو کفر و شرک اور گمراھی میں تبدیل کرڈالا، اور اگر ان میں اس قدر طاقت ہوتی اور خداوندعالم محافظ و نگھبان نہ ہوتا تو یہ لوگ دوسری آسمانی کتابوں کی طرح قرآن کریم میں بھی تحریف کرڈالتے۔

ان لوگوں نے عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے آیات کی تحریف میں ذرا بھی شرم و حیا سے کام نہ لیا، اور نہ ہی اس کے خطرناک انجام سے خوف زدہ ہوئے، اور نہ ہی روز قیامت کے درد ناک عذاب سے ہراساں ہوئے۔

ان لوگوں نے سقیفہ کی حکومت کی بنیاد مستحکم کرنے ، عوام الناس پر بنی امیہ و بنی عباس کی حکمرانی قائم کرنے ، ان کو حق کے راستہ کو منحرف کرنے اور اہل بیت علیھم السلام کو خانہ نشین کرکے لوگوں کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے حقیقی خلفاء کی راھنمائی و ہدایت سے دور کرنے کے لئے حدیث گھڑنے کا ایک بہت بڑا کارخانہ بنایا اور تقریباً دس لاکھ جھوٹی حدیثیں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی طرف منسوب کردیں، اور بنی امیہ و بنی عباس کے مال و زر اور طاقت کی بنا پر ان تمام جھوٹی حدیثوں کو اسلامی ثقافت کے عنوان سے امت اسلامی کے سامنے پیش کیا ہے، کہ اگر ائمہ علیھم السلام خصوصاً حضرت امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیھما السلام نے اپنے علم کا مظاھرہ نہ کیا ہوتا نیز ائمہ علیھم السلام کے تربیت یافتہ شاگرد اور علماء کرام فقھاء عظام نہ ہوتے تو واقعاً آج شیعہ بھی بنی امیہ و بنی عباس کے کارخانہ کی جعلی احادیث کو قبول کرنے پر مجبور ہوجاتے۔

لیکن حق و باطل کی تمیز کرنے کے لئے ائمہ معصومین علیھم السلام نے اصحاب و فقھاء کرام کو تعلیم کردہ مسائل کے ذریعہ رسول اکرم کی طرف منسوب جھوٹی احادیث سے محفوظ رکھا،جس کے نتیجہ میں حقیقی اسلام ؛ائمہ معصومین علیھم السلام کے ذریعہ اور شیعہ علماء کی زحمت و مشقت کے ذریعہ خیانت کاروں کی خیانت سے محفوظ رھا تاکہ تا قیام قیامت لوگوں پر خدا کی حجت تمام ہوجائے اورکل روز قیامت یہ نہ کہہ سکےں کہ ہمیں تو حقیقی اسلام کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔

ان جھوٹے اور خیانت کار لوگوںچاھے جس روپ میں بھی ہوں تقریباً ان دو صدیوں میں ایشیاء، یورپ اور امریکہ میں مختلف علوم، سیاست اور دوسرے مادی و معنوی مسائل میں ہزار وں دلفریب جھوٹ مختلف معاشروں میں رائج کردئے۔ اور اپنے اس کام سے لاکھوں انسانوں کو مختلف مسائل میں دھوکے میں ڈال دیا، اور جھوٹے و دلفریب اور جوانوں کی من پسند نعروں کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کر ڈالااور لاکھوں لوگوں کو کیمونسٹ " communiste " اور بے دین بنادیا ہے، نیز دوسرے سبھی لوگوں کو حیران و پریشان کرڈالا ہے، ان لوگوں کے نعرے کچھ اس طرح ہیں: دین ملتوں کا افیون ہے، متمدن انسان کی حکومت کامیاب اور غالب ہے، سائنس تمام مشکلات کا حل کرنے والا ہے، جمھوریت، آزادی، نیک او رصالحین کی حکومت کے بجائے جمھوری حکومت، مدنی اور لیبرل معاشرہ وجود میں آیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو حق و حقیقت کے راستہ سے بھٹکادیا ہے، اور ہر ملک میں رھنے والے مومنین پر ظلم وستم کرایا جارھا ہے، جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں فسادات اور ظلم وستم کا دور دورہ ہے۔

قارئین کرام! یہ قرآن مجید جو حق و حقیقت، نور و ہدایت اور شفا وروشنی کی بہترین کتاب ہے ذرا درج ذیل آیات پر توجہ کیجئے:

ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( فَنَجْعَل لَعْنَةَ اللّهِ عَلَی الْکاَذِبِیْنَ ) “[۷۳]

”اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں“۔

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( انَّ اللّهَ لا یَهْدِی مَنْ هُوَ کاَذِبٌ کُفَّارٌ ) “[۷۴]

”بیشک اللہ کسی جھوٹے اور ناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا “۔

قارئین کرام! پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) و اہل بیت علیھم السلام کی اعلیٰ تعلیمات میں جھوٹ سے پرھیز پر کس قدر زور دیا گیا ہے جھوٹ چاھے چھوٹا ہو یا بڑا، مادی مسائل میں ہو یا معنوی مسائل میں۔ چنانچہ درج ذیل کو ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتے ہیں:

الاَانَبِّئُکُمْ بِاکْبَرِالکَبَائِرِ؟ قُلْنَا :بَلَی یَارَسُوْلَ اللهِ قَال :الإشْرَاکُ بِاللهِ،وَعُقُوقُ الوَالِدَیْنِ وَکَانَ مُتَّکِئاً فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ:الاَوَقَوْلُ الزّور “[۷۵]

”کیا تم لوگوں کو گناھان کبیرہ میں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کھا: جی ہاں یا رسول اللہ، تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: خدا کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کے ساتھ بُرا سلوک کرنا ( یہ اس وقت فرمایا جب )آنحضرت اس وقت تکیہ لگائے تھے اس کے بعد بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے لوگو! جھوٹ سے پرھیز کرو۔۔۔“۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا:

” شَرُّ الرِّوَایَةِ روایَةُ الکِذبِ “[۷۶]

” جھوٹ پر مبنی بدترین گفتگو ہے“۔

اقَلُّ النَّاسِ مُرُوَّةً مَن کاَنَ کاَذِباً “[۷۷]

”جھوٹے انسان کی مروت تمام لوگوں سے کم ہے“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سوال کیا گیا کہ کیا ڈرنے والا مومن ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی، کھا کیا بخیل مومن ہوسکتا ہے؟ ک


اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلآٰءَ ۔“۔

”ان گناھوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ہوتے ہیں“۔

جن گناھوں کے ذریعہ بلائیں نازل ہوتی ہیں

جس گناھوں کے ذریعہ بلائیں نازل ہوتی ہے وہ تین گناہ ہیں:

۱ ۔ دل سوز اور پریشان حال کی فریاد پر بے توجھی کرنا۔

۲ ۔ مظلوم کی مدد نہ کرنا۔

۳ ۔ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کو ترک کرنا۔

دل سوز اور صاحب حزن و ملال کی فریاد پر بے توجھی کرنا

جس انسان کا مالی نقصان ہوجاتا ہے، یا اس کا کوئی عزیز مرجاتا ہے، یا کسی دوسری مصیبت اور رنج و غم میں گرفتار ہوجاتا ہے،اور اگر وہ اپنے دینی برادران سے اپنی مشکلات کو دور کرنے میں مدد و فریاد کرتا ہے، تو انسانی شرافت اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی مددکے لئے قدم بڑھائے، اور حتی الامکان اس کے رنج و غم کو دور کرنے کی کوشش کرے۔

جو لوگ درد مندوں کے درد اور دل سوز لوگوں کی آہ و فریاد سن کر ان کی مدد کے لئے قدم نہیں اٹھاتے تو ایسا شخص نہ یہ کہ مسلمان نہیں ہے بلکہ آدمیت و انسانیت کے دائرہ سے(بھی) خارج ہے۔

تو کز محنت دیگران بی غمی

نشاید کہ نامت نھند آدمی

(اگر تجھے کسی دوسرے کے رنج و غم میں کا کوئی درد نہیں ہے تو پھر تجھے آدمی کھلانے کا بھی حق نہیں ہے)

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ارشاد فرماتے ہیں:

مَنْ اصْبَحَ لَایَهْتَمُّ بِامُورِ المُسْلِمِینَ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ “[۱]

”جو شخص صبح اٹھے لیکن مسلمانوں کے مسائل و حالات پر اھمیت نہ دے وہ مسلمان نہیں ہے“۔

ایک دوسرے کی امداد کرنا اور مسلمانوں کے مسائل پر توجہ کرنا خصوصاً فریادیوں کی فریاد رسی کرنا، خدا و رسولاور ائمہ علیھم السلام کا حکم ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: جو کسی مرد مومن کے رنج وغم کو دور کرے، خداوندعالم اس کی آخرت کے رنج وغم کو دور کرے گا، اور مطمئن طور پر قبر سے نکلے گا۔ اور اگر کوئی شخص کسی مومن کی بھوک مٹائے،تو خداوندعالم اس کو بھشتی پھلوں سے نوازے گا، اور اگر کوئی شخص کسی مومن کو ایک گلاس پانی پلائے تو خداوندعالم اس کو رحیق مختوم سے سیراب فرمائے گا۔[۲]

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص کسی غم زدہ اور پیاسے مومن اور پریشانی کے وقت مدد کرے اور اس کاحزن و الم دور کرے اور اس کی حاجت روائی میں اس کی مدد کرے تو خداوند عالم اپنی طرف سے ۷۲ رحمتیں لکھ دیتا ہے جن میں سے ایک رحمت کے ذریعہ اس کی دنیا کے مسائل بہتر ہوجائیں گے اور ان میں کی ۷۱ رحمتیں قیامت کے ہولناک ماحول اور خوف و وحشت سے بچانے کے لئے محفوظ رھیں گی۔[۳]

مظلوم کی مدد نہ کرنا

اسلامی نقطہ نظر سے مظلوم کی مدد کرنا اس قدر اھمیت رکھتا ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام اپنی آخری عمرمیں (شب ۲۱ رمضان المبارک) میں حضرت امام حسن و حضرت امام حسین علیھما السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

کُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَلِلْمُظْلُومِ عَوْناً “[۴]

”ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مدد گاررھو“۔

جی ہاں! ظلم و ظالم اور مظلوم کے سلسلہ میں یہ اسلامی بہترین عملی شعار ہے ۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

مَنْ اخَذَ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَالِمِ کاَنَ مَعی فِی الجَنَّةِ مُصاحِباً “[۵]

”جو شخص ظالم سے کسی مظلوم کا حق دلائے وہ جنت الفردوس میں میرا ہم نشین ہوگا“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اگرکسی پر ظلم ہوتے دیکھو تو ظالم کے خلاف اس کی مدد کرو“۔[۶]

نیز آپ ہی کا فرمان ہے:

احْسَنَ العَدْلِ نُصْرَةُ المَظْلُومِ “[۷]

”بہترین عدل مظلوم کی مدد کرنا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”کسی مومن کا ؛مظلوم کی مدد کرنا ایک ماہ کے روزے اور مسجد الحرام میں اعتکاف سے بہتر ہے، اور اگر کوئی شخص کسی مومن کی مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اس کی مدد کرے تو خداوندعالم اس کی دنیا و آخرت میں مدد کرے گا، لیکن اگر کوئی شخص برادر مومن کی مدد کرسکتا ہو اور وہ مدد نہ کرے تو خداوندعالم بھی دنیا و آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا“۔[۸]

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے کہ خداوند عز وجل فرماتا ہے:

”اپنی عزت و جلالت کی قسم! میں دنیا و آخرت میں ظالم و ستمگر سے انتقام لوں گا، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی مظلوم کو دیکھے اور اس کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا ہو اور اس کی مدد نہ کرے تو اس سے بھی انتقام لوں گا۔[۹]

امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا ترک کرنا

امر بالمعروف و نھی عن المنکرالٰھی فرائض میں سے دو اھم فریضے ہیں،اور دینی واجبات میں سے دو واجب ہیں جن کو انجام دینے کے اگر شرائط پائے جاتے ہیں تو واجب ہے یعنی امر بالمعروف کرنے والا معروف ونیکی کو جانتا ہو اور خود بھی اس پر عمل کرتا ہو اور برائیوں سے دور ہو،اور ان دونوں فریضوں کو ترک کرنا گناہ عظیم اور سبب نزول بلاء ہیں۔

امر بالمعروف و نھی عن المنکر دین کا اھم ترین محور اور اس کی واضح حقیقت ہے جس کو برپا کرنے کے لئے انبیاء علیھم السلام مبعوث برسالت ہوتے تھے۔

اگر یہ دونوں فرائض (امر بالمعروف و نھی عن المنکر ) ختم ہوجائیں اور ان دونوں کے سلسلہ میں علم و عمل نہ ہو، تو پھرتحریک نبوت کا خاتمہ ہوجائے گا،اور دین تباہ و برباد ہوجائے گا، سب لوگ گمراہ ہوجائیں گے، اور ہر طرف جھل و نادانی پھیل جائے گی، لوگوں کے مسائل میں برائیاں جڑ پکڑ لیں گی، آبادی میں تباھی پھیل جائے گی اور انسانیت؛ ہلاکت کے گڑھے میں گرجائے گی۔

اس سلسلہ میں قرآن فرماتا ہے:

۱ ۔”( وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ امَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَامُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنْکَرِ وَاوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ ) “[۱۰]

”اور تم میں سے ایک گرو ہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے ،نیکیوں کا حکم دے ،بُرائیوں سے منع کرے اور یھی لوگ نجات یافتہ ہیں “۔

۲ ۔”( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اوْلِیَاءُ بَعْضٍ یَامُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنکَرِ ) ۔۔۔“[۱۱]

”مومن مرد اور مومن عورتیں سب آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور مدد گار ہیں کہ یہ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور بُرائیوں سے روکتے ہیں “۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

لَتَامُرُنَّ بِالمَعروفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ المُنْکَرِ او لَیُسَلِّطَنَّ اللهُ عَلَیْکُم شِرارَکُم ثُمَّ یَدعُو خِیارُکم فلا یُستَجَابُ لَهُم “[۱۲]

”اے لوگو! (یا)تم امر بالمعروف و نھی عن المنکر کیا کرو، ورنہ دشمن تمھارے اوپر مسلط ہوجائیں گے، اور تم سے اچھے لوگ (بھی) دعا کریں گے لیکن دعا مستجاب نہیں ہوگی“۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے تھے: تم لوگ آنے جانے والوں کے راستہ پر نہ بیٹھا کرو، لوگوں نے کھا: ہم وھاں بیٹھ کر باتیں کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اگر تم لوگ مجبور ہو تو راستہ کے حق کا لحاظ رکھو۔ لوگوں نے سوال کیا: (یا رسول اللہ) راستہ کا کیا حق ہے؟ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: نامحرم کو نہ دیکھو، لوگوں کو اذیت نہ دو، سلام کرنے والوں کو جواب دو، امر بالمعروف و نھی عن المنکر کیا کرو۔[۱۳]

اسی طرح آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں: امر بالمعروف ، نھی عن المنکر اور ذکر خدا کے علاوہ انسان کی تمام باتیں اس کے نقصان میں ہیں۔[۱۴]

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: خداوندعالم نے (حضرت) شعیب پر وحی فرمائی: تمھاری قوم کے ایک لاکھ افراد پر جن میں سے چالیس ہزار برے لوگوں پر اور ساٹھ ہزار اچھے لوگوں پرعذاب کروں گا، (جناب شعیب(ع) نے) کھا: پالنے والے! برے لوگوں پر عذاب کرنا تو صحیح ہے، لیکن اچھے لوگوں پر کیوں؟ تو خداوندعالم نے فرمایا: (کیونکہ) نیک لوگوں نے برے لوگوں کے لئے بھلائی نہیں چاھی، ان کو برائیوں سے نہیں روکا، ان پر اعتراض نہیں کیا اور میرے خشم و غضب کی وجہ سے ان پر غضبناک نہیں ہوئے۔[۱۵]

قبیلہ ”خثعم“ کا ایک شخص پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں پھنچا اور کھا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام کی بہترین چیز سے باخبر فرمائیں؟

اس نے سوال کیا کہ اس کے بعد؟

فرمایا: صلہ رحم۔

اس نے سوال کیا کہ اس کے بعد؟

فرمایا: امر بالمعروف و نھی عن المنکر۔

اس نے سوال کیا: کونسا عمل خدا کے نزدیک سب سے بُرا ہے؟

آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:خدا کا شریک قرار دینا۔

اس نے سوال کیا کہ اس کے بعد؟

فرمایا: قطع تعلق کرنا۔

اس نے سوال کیا کہ اس کے بعد؟

آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: برائیوں کا حکم دینا اور نیکیوں سے روکنا۔[۱۶]

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي کُلَّ ذَنْبٍ اذْنَبْتُهُ،وَکُلَّ خَطٓیئَةٍ اخْطٰاتُهٰا “۔

”خدایا میرے تمام گناھوں اور میری تمام خطاوں کو بخش دے “۔

گناہ کی لذت و کشش جب تک انسان کے دل میں مستحکم جگہ نہ بنالے بلکہ کبھی کبھی انسان کو بُرے اعمال میں مبتلاء کردے تو اسی کو اہل تحقیق کی نظر میں ”ذنب“ (گناہ) کھا جاتا ہے، اور جب یہ چیزیں انسان کے دل میں اپنی جگہ مستحکم کرلیں ، اور انسان کے دل میں راسخ ہوجائے یھاں تک کہ انسان کسی بھی جگہ ہو کیسا بھی موقع ہو ، کیسے بھی حالات ہوں؛ وھاں پر گناہ کرتا ہے، اہل لغت کی اصطلاح میں اس کو ”خطیئة“ کھاجاتا ہے۔

درگاہ ربّ العزت کا بھکاری اور خدائے مھربان کے در کا سوالی اپنے ان گناھوں کی طلب بخشش کے بعد جن کے ذریعہ خدااور انسان کے درمیان موجود پردہ ختم ہوجاتا ہے، اور جن کے ذریعہ بلاء ومصیبت اور عذاب نازل ہوتے ہےں اور جن کے ذریعہ نعمتیں بدل جاتی ہےں، اور جو دعا قبول ہونے میں مانع ہوتے ہیں، اور جن کے ذریعہ انسان پر بڑی بڑی مصیبت و بلاء نازل ہوتی ہیں؛ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے:

پالنے والے میرے تمام گناھوں کو بخش دے جو میری زندگی میں ہوئے ہیں چاھے چھوٹے گناہ ہوں یا بڑے گناہ، چاھے میں نے ان کو جان بوجھ کر انجام دیا ہو یا بھولے سے ہوگئے ہوں، چاھے بچپن کے گناہ ہوں یا نوجوانی کے، چاھے بلوغ کے شروعات کے ہوں یا بھر پور جوانی کے عالم میں، اور چاھے میں نے ان کو مخفی طور پر انجام دیا ہو یا علی الاعلان انجام دیا ہو،کیونکہ تیرے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے کہ تمام گناھوں کو بخش دے۔ تونے ہی اپنے لطف و مھربانی اور عظمت و بزرگی کا اعلان کیا ہے:

لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔“[۱۷]

”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بیشک اللہ تمام گناھوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

اللّٰهُمَّ انّي اتَقَرَّبُ الَیْکَ بِذِکْرِکَ

”خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رھاھوں “۔

فانی دنیاکے کھنڈر

حد سے زیادہ مادی امور سے لگاؤ اورایسی محبت جو خدا اور بندے کے درمیان حجاب کی طرح حائل ہوجائے، حد سے زیادہ شھوات، لذت کی دنیا میں غرق ہوجانا،مال دنیا حاصل کرنے کے لئے دن رات ، ہفتوں اور مھینوں کا صرف کردینا، جاہل وں اور غافلوں کے ساتھ نشست و برخاست کرنا، خیر و خیرات سے دور رھنا، لباس و پوشاک میں اسراف (فضول خرچی) کرنا، مختلف سامان میں پیسے کو بے جا خرچ کرنا، عوام الناس اور رشتہ داروں سے بے خبر ہوجانا، واجبات کی ادائیگی میں سستی اور کاہل ی کرنا، محرمات وگناھوںمیں آلودہ ہونا اور معرفت و حقیقت سے خالی ہونا؛یہ تمام کی تمام چیزیں اس فانی دنیا میںزندگی بسر کرنے کی نشانی ہیں۔

اس فانی دنیاکے یہ کھنڈر ؛جن میںسانپ، بچھو، مکاری، دھوکہ بازی، حیوان صفتی، شیطنت و مستی، غارت ولوٹ مار، جھوٹ و ریاکاری و خود پسندی، غیبت و تھمت، سود و غصب، شھوت و خیانت، آلودگی و دنائت (پستی) زنا و چوری، قتل و شرارت، کبر و نخوت، حرص و طمع، بخل و حسد، کینہ و دشمنی، خشم وغضب اور گناہ و معصیت کے علاوہ اس میں کچھ نہیں ملتا!!

اس فانی دنیاکے یہ کھنڈر ؛ جس میں انسانیت کا (عظیم)خزانہ شیطان صفت لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جس سے انسان کی عمر تباہ و برباد ہوجاتی ہے اور انسان کا معنوی سرمایہ نابود ہوتا ہے، جھاں انسانیت کا جنازہ نکل جاتا ہے، اور انسان کو ہمیشہ کے لئے خسارہ اٹھانا پڑتا ہے،اور جس سے ناشکری، شرک و نفاق اور کفر کا سایہ دل پرچھاجاتا ہے۔

اس فانی دنیاکے یہ کھنڈر ؛ جس میں خرید و فروخت کا بازار شیطان صفت لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور جس میں اکثر لوگ انسان کی صورت میں حیوان ہوتے ہیں؛ جس کا ظاھر کافر کی قبر کی طرح زر و زیور سے مزین ہوتا ہے لیکن باطن میں دوزخ کے درد ناک عذاب سے بھرا ہوتا ہے۔

فانی دنیاکے یہ کھنڈر ؛ جس کے رھنے والے ظاھری طور پر انسان ہوتے ہیں لیکن کردار و عمل کے لحاظ سے حیوان، سبھی چون چرا میں مشغول، لیکن عبادت و بندگی کی لذت سے بے خبر، جن کی تصدیق تصور سے مبرّا، اور جن کی تحقیق حقیقت سے جدا، بیھودہ باتیں اور بکواس کرنے والے زیادہ، سبھی اندھے او رگونگے، وھم و گمان کرنے والے لیکن ایمان و یقین سے دورھوتے ہیں۔

یہ کھنڈر ؛ جس کے رھنے والے گناھوں میں مدھوش، فسق و فجور سے ہم آغوش، گناھوں کا پردہ چاک کئے ہوئے، شھوت کا پرچم اٹھائے ہوئے، سبھی ہوا و ہوس کے بستر پر سوئے ہوئے، عیاش مرد بدکار عورتوں کو لئے ہوئے، جس میںمکّار لڑکیاں غدّار لڑکوں کے ساتھ، جس کے جوان ناشناختہ اور بے کار، جس کے بوڑھے فاسق و بدکردار، جو طور و طریقہ کے لحاظ سے چوھے ہیں اور کردار کے لحاظ سے خرگوش، ایک سانپ کی شکل میں تو دوسرا بچھو کی شکل میں، یہ دانتوں سے کاٹتا ہے ، تو وہ دُم کی طرف سے، اس کھنڈر کا نام جنگل ہے جس کا بادشاہ جھل ہے تو اس کا سپاھی برائی، اس کا مادہ حرام ہے اور اس کا کام انسان کو نابود کرنا ہے!!

مُلک وصال اس فانی دنیا کے کھنڈروں سے کوچ کرنا عقل وشرع کے لحاظ سے واجب ہے، بے ثمر چیزوں کی محبت کا سنگین وزن دل سے نکال پھنیک دیا جائے اور مُلک وصال کے سفر کے لئے اپنے بال وپر کھول دئے جائیں، اور پوری طاقت سے اڑان بھری جائے اور ”ذکر و اذکار“ کی قدرت سے مدد لیتے ہوئے اس مُلک کے سفر کے لئے تیار ہوجائیں وہ مُلک جو معرفت و فضیلت، صدق و صفا، امانت و صداقت، حق و حقیقت، وفا و صفا، شور و وجد، بندگی و عبادت، شرافت و کرامت، محبت و صمیمیت، زھد و قناعت، صبر و توکل، بصیرت و استقامت، تقویٰ و پرھیزگاری، ورع و پارسائی، واقعیت و عزت اور احسان و عدالت کا مُلک ہے۔ (اس مُلک میں پھنچ کر) مقام قرب خدا کی چاشنی کا مزہ لیں، اور وصال محبوب کی خوشبو سونگھےں، اور معشوق کے اخلاق سے مزین ہوں، اور انبیاء و صدقین اور شھداء وصالحین جیسے دوستوں کی ہم نشینی حاصل کریں۔

قرآن مجید اس روحانی اور عاشقانہ سفرکے بارے میں جس میں تمام برائیوں اور پلیدیوں سے ؛ تمام اچھائیوں اور نیکیوں کی طرف کوچ کیا جاتا ہے ؛ فرماتا ہے:

( وَمَنْ یُهَاجِرْ فِی سَبِیلِ اللهِ یَجِدْ فِی الْارْضِ مُرَاغَمًا کَثِیرًا وَسَعَةً وَمَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَی اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ یُدْرِکْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اجْرُهُ عَلَی اللهِ وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ) “[۱۸]

ذکر محققین فرماتے ہیں: لفظ ”بذکرک“ میں حرف ”با“سببت کے معنی میں ہے۔ لہٰذا اس نورانی جملہ کے معنی یہ ہوں گے: خدا یا! میں تیرے ذکر کے سبب تجھ سے تقرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

معنی ذکر لفظ ”ذکر“ کے لئے تین معنی بیان کئے گئے ہیں:

۱ ۔ خداوندعالم پر توجہ اور دل میں اس کی یاد۔

۲ ۔ قرآن۔

۳ ۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور اہل بیت علیھم السلام۔

خداوندعالم پر توجہ اور دل میں اس کی یاد

توجہ اور یاد، ذکر و تذکر ؛ یہ سب غفلت کی ضد ہیں، خدا سے غافل رھنے والے کو کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس کی عمربر باد ہو، وہ گناھوں میں غرق ہوجائے، حقوق الناس کو پامال کرڈالے، عبادت و بندگی سے محروم ہوجائے، حرام خوری کرنے لگے اور بد بختی و شقاوت اس پر مسلط ہوجائے۔

لیکن جس شخص کے دل میں خدا کی یاد اور اس کا سینہ ذکر محبوب کا گھر ہو، اور اسی کے لئے اس کا دل دھڑکے، ایسا شخص اس حقیقت کو جانتا ہے کہ خداوندعالم نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے انبیاء علیھم السلام کو بھیجا، آسمانی کتابیں نازل کیں، اور نیکیوں کے لئے بہترین جزا مثل جنت قرار دی اور برائیوں کے لئے دوزخ جیسی سزا معین کی، ایسا شخص شب و رزعبادت و بندگی، انسانوں کی خدمت، محرمات سے دوری، حقوق الناس کی رعایت، تقویٰ و عفت کا لحاظ، علم و معرفت کی تحصیل، جائز کاموں کے ذریعہ کسب حلال، پریشان حال لوگوں کی دست گیری، ضرورت مندوں کی حاجت برآری او رغریب و فقراء کی امداد کرتا ہے، اور ان تمام کاموں میں صرف خوشنودی خدا کو مد نظر رکھتا ہے۔

خدا کا ذکر کرنا اس پر توجہ کرنا یہ باطن اور دل کا کام ہے، جس کی وجہ سے نیکیوں سے آراستہ ہونے کی قدرت عطا ہوتی ہے اور کچھ ہی مدت میں خداوندعالم کی بارگاہ کا محبوب بندہ ہوجاتا ہے، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کے لئے بے چین رہتا ہے، اور اس سے مناجات ، عبادت اور بندگان خدا کی خدمت کی لذت محسوس کرتا ہے۔

جناب یونس(ع) کی قوم بہت زیادہ غفلت کی شکار ہوگئی تھی، ایک عالم و عارف کی تبلیغ سے خدا کی یاد آنے لگی، اور خدا کی یاد سے غفلت کا پردہ اس کی آنکھوں سے اٹھ گیا، اور یہ قوم جنگل و بیابان میں نکل گئی اور وھاں پر جاکر سجدہ ریز ہوگئی، آنسوؤں سے اپنے باطن کو صاف کیا اور حقیقی توبہ کے ذریعہ اپنے وجود کو پاک کیا ، اور اپنے اس کام سے آنے والے درد ناک عذاب (صاعقہ) کو اپنی بستی سے دور کردیا، اور پھر بارگاہ الٰھی میں حقیقی بندے بن گئے اور باقی عمر کو عبادت و بندگی میں صرف کیا اور آخر کار خوشنودی خدا اور رحمت الٰھی کے زیر سایہ ان کو موت آئی ، او رآخرت میں قدم رکھا یھاں تک کہ ہمیشہ کے لئے بھشت رضوان میں اپنی جگہ بنالی۔

بہت سے ایسے فاسق و گناھگار لوگ تھے جن کی عاقبت بخیر ہوگئی اپنے گناھوں سے ہاتھ کھینچ لیا اور ضلالت و گمراھی کے کھنڈر سے نور وھدایت کے باغ وبوستاں میں داخل ہوگئے ، اور اپنی شیطنت و مکاری سے ہاتھ روک کر سلامت و امنیت کے دائرہ میں آگئے، اور خدا کی عبادت و بندگی کے ذریعہ اپنے گزشتہ تمام گناھوں کا جبران کردیا۔ ایسے لوگ یاد خدا اور قلبی توجہ کی برکت سے اس بلندمقام پر پھنچے ہیں، اور اپنی توبہ کے ذریعہ آئندہ کے لئے نمونہ عمل بن گئے ہیں، اور خدا کی حجت کو تمام لوگوں پر تمام کردیا ہے۔

تاریخ کے اوراق پر ایسے حضرات کا ذکر ہمارے لئے نمونہ ہے اور ہماری زندگی کے لئے روشنی بخش ہے جیسے آسیہ، اصحاب کہف، بھلول نبّاش، حر بن یزید، فضیل عیاض وغیرہ، جن لوگوں نے اپنے گزشتہ گناھوں سے توبہ کرکے یاد خدا کو اپنا شعار بنالیا اور اپنی تاریک زندگی کو منور کرلیا، اور شیطان کے چنگل سے نکل کر رحمت الٰھی کے زیر سایہ آگئے، اور لمحات میںاپنے کو پستی سے نکال کرکرامت و سعادت کی بلندی پر پھنچادیا اور خدا کی رحمت و وصال تک پھنچ گئے۔

قرآن

خداوند مھربان نے متعدد آیات میں قرآن مجید کو ”ذکر“ سے یاد کیا ہے منجملہ:

( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) “[۱۹]

”ھم نے ہی اس قرآن کونازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔

قرآن مجید میں ایسے معارف و احکام بیان ہوئے ہیں جن کے بروئے کار لانے سے انسان کو دنیا و آخرت کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے۔

قرآن کریم ، ہماری زندگی کی کتاب ہے، اور انسان کی ہدایت کے لئے تمام مراحل میں پیش آنے والی ضرورتوں کے تمام حل اس میں موجود ہیں۔

قرآن کریم ، انسان کو بہترین اور مستحکم ترین راستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے، اور اپنی آیات پر عمل کرنے والے کے لئے اجر کریم کی بشارت دیتا ہے۔

قرآن کریم کی آیات پر غور و فکر کرنے سے جھل جیسی خطرناک بیماری کا علاج ہوجاتا ہے اور انسان کا دل معرفت کامکان بن جاتا ہے۔

قرآن مجید کی نیکیاں بیان کرنی والی آیات پر عمل کرنا اسی طرح برائیوں کو بیان کرنے والی آیات پر عمل کرنے سے انسان کو نجات کی امید پیدا ہوتی ہے اور قرب خدا کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔

قرآن کریم پر عمل کرنے سے انسان تمام نیکیوں سے آراستہ ہوجاتا ہے، اور برائیوں سے دوری اختیار کرتا ہے، اور دنیاوی و اُخروی خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔

گزشتہ کا علم اور آئندہ کی خبر ، دردوں کا علاج اور امور زندگی کا نظم قرآن مجید میں موجود ہے۔

پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے قرآن کی تبلیغ کے ذریعہ برے لوگوں کو نیک و صالح افراد بنادیا، اور جاہل عرب و حقیقت سے دور عجم کو جھنم کی آتش سے نجات دلادی، اور آخرت کی خوشبختی و سعادت اور بھشت کی سر حد تک پھنچا دیا۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

فَإِذَا الْتَبَسَتْ عَلَیْکُمُ الفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیْلِ المُظْلِمِ فَعَلَیْکُم بِالْقُرآنِ فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وَمَاحِلُ مُصَدَّقٌ وَمَنْ جَعَلَهُ امَامَهُ قَادَهُ إِلَی الجَنَّةِ وَمَنْ جَعَلَهُ وَرَاءَ هُ سَاقَهُ إِلَی النَّارِ “[۲۰]

”جب فتنہ و فساد کی وجہ سے حقیقت کا پتہ نہ چل سکے، اس وقت قرآن کی طرف رجوع کرو، کیونکہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت مقبول ہے، اور ایسا شکایت کرنے والا ہے کہ اس کی شکایت (بھی) مقبول ہے، جو شخص قرآن کو اپنے لئے ہادی و رھبر قرار دے وہ اس کو بھشت میں لے جائے گا، اور اگر کوئی اس سے منھ موڑے تو اس کو جھنم میں ڈھکیل دے گا“۔

حضرت مام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

لَوْ مَاتَ مَنْ بَیْنَ المَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَمَا اسْتَوْحَشْتُ بَعْدَ ان یَکُونَ القُرآنُ مَعِی “ [۲۱]

” مغرب و مشرق کے رھنے والے اگر تمام افرادمرجائیں اور قرآن میرے ساتھ ہو تو مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہوگا“۔

جی ہاں ،امام سجاد علیہ السلام کے وجود میں توحید کی آیات تحقق پیدا کرچکی تھیں جس کی بنا پر دل کی آنکھوں سے خدا کا مشاھدہ کرتے تھے، اور اپنے ازلی و ابدی محبوب سے انس رکھتے تھے، اور اخلاق کی آیات باطن کے مشرق سے طلوع کرکے روشن و منور تھیں، آپ احکام و وظائف کی آیات پر مکمل طور پر عمل کیا کرتے تھے، اور ان کو نافذ کرنےمیں مکمل طور پر اخلاص کی رعایت فرماتے تھے، اور قیامت کے بارے میں موجود آیات سے اس قدر مانوس تھے کہ اپنے کو نجات کے بلند درجہ پر دیکھتے تھے ، تنھائی کے عالم میں بھی ذرہ برابر خوف و وحشت نہیں تھا۔

چنانچہ آپ کا ارشاد ہے:

آیاتُ القُرآنِ خَزَائِنُ فَکُلَّمَا فُتِحَتْ خَزانَةٌ یَنْبَغِی لَکَ انْ تَنْظُرَ مَا فِیهَا “[۲۲]

”قرآن مجید کی آیات (ایک عظیم) خزانہ ہے اور جس وقت خزانہ کھلتا ہے تو پھر اس کا غور سے دیکھا جاناضروری ہے “۔

قرآن کریم کی آیات میں غور و فکر کرنے والا اور عرفانی و ملکوتی معنی و مفاھیم تک پھنچنے والا ان پر عمل کرکے اپنے ظاھر و باطن کو قرآن مجید کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے، جس کی وجہ سے قرب خدا تک پھنچنے کے لئے قدرت و طاقت حاصل کرلیتا ہے، اور قرآن کریم ( جو ذکر خدا ہے) کے ذریعہ قرب محبوب کی بارگاہ میں قرار پاتا ہے، اور اپنے دل کی آنکھ سے ہر وقت اس کے جمال کا نظارہ کرتا رہتا ہے اور زبان حال سے کہتا ہے:

تا مرا نور در بصر باشد

بہ جمال ویم نظر باشد

نظری را کہ او کند نظری

آن نظر کیمیا اثر باشد

کافرم گر بہ جنب رخسارش

نظرم جانب دیگر باشد

( جب تک میری آنکھوں میں نور باقی رھے گا، اس کے حسن جمال کا نظارہ کرتا رھوں گا۔ اور اگر وہ مجھ پر ایک نظر کرلے تو اس کی یہ نظر کیمیاوی اثر رکھتی ہے۔ اگر میں اس سے نظر پھیر لوں تو میں کافر ہوجاؤں گا۔)

پیغمبر(ص) اور اہل بیت علیھم السلام

حضرت باقر العلوم علیہ السلام ایک بہت اھم روایت میں بہترین مطالب بیان فرماتے ہیں، مرحوم کلینی نے اس روایت کو اپنی گرانقدر کتاب ”کافی“ میں قرآن کی فضیلت میں پھلی روایت کے عنوان سے بیان کیا ہے جس میں قرآن مجید کی درج ذیل آیت کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے:

( إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَی عَنْ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللهِ اکْبَرُ ) “[۲۳]

”بیشک نماز ہر بُرائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی شئے ہے“۔

وَنَحْنُ ذِکْرُ اللهِ وَنَحْنُ اکْبَرُ “[۲۴]

بے شک ”ذکر“ سے مراد پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور بارہ امام ہیں، وہ بارہ امام جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ایمان واخلاق علم و معرفت اور بصیرت کے وارث ہیں۔

وہ بارہ امام جو مفسر قرآن، احکام بیان کرنے والے، محافظ دین اور خداوندعالم کی طرف حق کے امانتدار ہیں۔

وہ بارہ امام جو قرآن مجید کے عینی مصداق ، چراغ ہدایت، راھنمائے انسانیت اور دین و دنیا کی بھلائی دینے والے ہیں۔

ائمہ علیھم السلام حقائق کی طرف متوجہ کرنے والے، واقعیات کو واضح وروشن کرنے والے،علم و عرفان کا مخزن اور صفات الٰھی کا مظھر ہیں۔اور چونکہ ائمہ معصومین علیھم السلام قرآن ناطق ہیں لہٰذا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ھم ہی ذکر اللہ ہیں اور ہم ہی اکبر ہےں“۔

بے شک ائمہ علیھم السلام کی سرپرستی اور ان کی تعلیمات کو قبول کئے بغیرنیز حقیقی جانشین رسول کی اطاعت کئے بغیر، اور ان کی ولایت کے دائرہ میں آئے بغیر ؛ ایمان ناقص، اخلاق فاسد ، اعمال نامناسب، دنیا میں بے نظمی اور آخرت میں درد ناک عذاب تیار ہے۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنی آخری عمر میں یہ اعلان فرمایا: ”میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارھا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت و اہل بیت، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی یھاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پھنچ جائیں گی، لہٰذا اگر تم ان دونوں سے متمسک رھے تو کبھی بھی میرے بعد گمراہ نہ ہوں گے“۔[۲۵]

اس حقیقت پر توجہ کرنا ضروری ہے کہ اپنے دل کو برائیوں اور آلودگی سے پاک کرا، اس کو برائیوں سے دھونا، خداوندعالم کے صفاتِ علیا اور اسماء حسنیٰ کے معنی و مفھوم کو دل میں حاضر کرنا، ان عظیم حقائق و کریم مراتب کو شیاطین جن و انس سے محفوظ کرنا، ہمیشہ اس کے حضور میں حاضر ہونا اور ہر کام میں اسی پر توجہ رکھنا، اور کسی بھی موقع پر اس کی یاد سے غافل نہ ہونانیز اپنے تمام واجبات کو بجالانا، اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر نیک کام اور عوام الناس کی خدمت کرنا ؛ ”ذکرخدا“ ہے۔

بعض صاحبان دل، اور آب و گِل سے آزاد شدہ حضرات اور بعض عارفین نیزذکر کی طرف دعوت دینے والی قرآن مجید کی آیات ، اسی طرح معصومین علیھم السلام سے وارد شدہ احادیث میں کلمہ ”ذکر“ کو ان ہی باطنی حقائق اور اعمال میں شمار کیا گیا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی آیات ، کلمات نبوت اور روایات معصومین علیھم السلام کے ذریعہ اپنی زندگی کو ڈھالنا ”ذکر“ کے کامل مصداق میں سے ہے۔

جی ہاں! قرب الٰھی کو ذکر خدا ہی کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے،جیسا کہ گزشتہ حقائق کو ذکر کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے، اور ذکر خد ا کے علاوہ ؛ قرب الٰھی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

قارئین کرام! ہمارے دل پر یاد خدا کی حکومت ہونا چاہئے، اور قرآن مجید کی آیات پر عمل کریں، اور دل وجان سے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی نبوت اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی امامت کو قبول کرتے ہوئے ان کی پیروی کریں، تاکہ قرب الٰھی حاصل ہوجائے، اور مقربین الٰھی کے دائرہ میں شامل ہوجائیں، اور انس خدا اور اس کے احکامات کو جاری کرکے نیز پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور اہل بیت علیھم السلام کی ہمراھی کی شیرینی کا احساس کریں، جس کے بعد تمام ہی سعادت و خوشبختی کو اپنی آغوش میں لے لیں۔

جس وقت ہمارا یہ دل خداوندعالم کے اسماء و صفات کے معنی و مفھوم کا مظھر قرار پائے، اور ان معنی و مفاھیم کے آثار ہماری روح اور اعضاء و جوارح میں سے ظاھر ہونے لگےں، خوشبو دینے والی محبت اور آگ لگانے والا عشق (جو خود معرفت اسماء الٰھی کا بہترین ثمرہ ہے) ہمارے دل میں اپنا گھر بنالے اور ”اشَدُّ حُبّاً لِلّہِ“[۲۶]”ایمان والوں کی تمام ترمحبت خدا سے ہوتی ہے “ھمارے تمام وجود پر سایہ کرلے اور انسان اس آیت

( رِجَالٌ لَا تُلْهِیهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَیْعٌ عِنْ ذِکْرِ اللّهِ ) “[۲۷]

”وہ مرد جنھیں کارو بار یا دیگر خریدو فرخت ذکر خدا ،قیام نماز اور ادائے زکوةسے غافل نہیں کر سکتی “کا مصداق بن جائے جو خود ایک بلند وبالا مقام ہے تو پھر انسان مسند خلافت وجانشینی خدا پر بیٹھا ہوا نظر آتا ہے اور پھر قرب خدا کی شیرنی کی لذت حاصل کرتا ہے۔

یہ بلند و بالا مقام ہر جال میں پھنسانے والے شیطان سے محفوظ ہے اور جب انسان اس مقام پر پھنچ جاتا ہے تو پھر کوئی بھی طاقت اس کو خدا سے دور نہیں کرسکتی، اور اس نورانی مقام پر پھنچنے کے بعد وہ خدا کے علاوہ کسی اور کو نہیں پہچانتا، اور خدا کے علاوہ کسی غیر کو نہیں دیکھتا، خدا کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا اور خدا کے علاوہ کسی کو نہیں پاتا ہے۔

سید العارفین، امام المتقین،اسوہ عاشقین، رھبر شیعیان، مقتداء بزرگان اپنے تمام وجود سے یہ عاشقانہ ترانہ زبان پر لاتا ہے:

مَا رَایْتُ شَیْئاً اِلَّا وَرَایْتُ اللهَ قَبْلَهُ وَ مَعَهُ وَ بَعْدَهُ “۔

”میں نے کچھ نہیں دیکھا مگر یہ کہ اس سے پھلے اس کے بعد اس کے ساتھ خدا کو دیکھا ہے“۔

حضرت امام حسین علیہ السلام ، دامن معرفت اور علم و بصیرت کی آغوش کے تربیت یافتہ؛ اپنی انتھائی بھوک و پیاس اور مصائب و آلام کی حالت میں ۷۱ ٹکڑے ٹکڑے لاشوں کے درمیان اور اہل حرم کے درد ناک نالہ و شیون کی آواز کو سنتے ہوئے بارگاہ رب العزت میں سجدہ کی حالت میں زبان پر ان کلمات کو جاری کرتے ہیں:

”اللّٰهُمَّ عَظُمَ سُلْطٰانُکَ“

”خدایا تیری سلطنت عظیم ہے“۔

خداوندعالم کی سلطنت اور بادشاھی ذاتی اور حقیقی ہے، جبکہ دوسری سلطنتیں اعتباری اور ختم ہونے والی ہیں؛ خداوندعالم کی سلطنت اور بادشاھی دائمی، ہمیشگی اور لا محدود ہے، جبکہ دوسری سلطنتیں کم مدت والی اور بہت محدود ہیں۔

خداوندعالم کی بادشاھی تمام چیزوں پر احاطہ کئے ہوئے ہے چاھے وہ ظاھری چیزیں ہوں یا پوشیدہ، حقیقت یہ ہے کہ اس کی سلطنت کے علاوہ کسی غیر کی سلطنت ہے ہی نھیں، کیونکہ اس کا غیر بھی خود اسی کا محتاج اور نیازمند ہے، اس کے پاس اپنا کچھ نہیں ہے۔

خدا کی حجت اور اس کی برھان عظیم اور مضبوط ہے، جبکہ اس کے بالمقابل کوئی دلیل، حجت اور برھان نہیں ہے۔ عقل، نبوت، قرآن اور امامت خدا کی حجتیں ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم تمام مخلوقات کا فیصلہ کرے گا، اور ان کے گناھوں کے ارتکاب اور عمل صالح سے دوری کے بھانوں کو ختم کردے گا۔

”وَعَلٰا مَکٰانُکَ“

”اور تیری منزلت بلندھے“۔

وہ پاک و پاکیزہ ذات جس نے اپنے کو قرآن مجید میں ”لیس کمثله شیء “ [۱]

سے پہچنوایا ہے، وہ ہر عیب و نقص سے پاک و پاکیزہ ہے تمام صفات کمال و جلال اس میں موجود ہیں، اس کے صفات عین ذات ہیں، اعلیٰ صفات اور اسماء حسنیٰ اسی کی ذاتِ بابرکت سے مخصوص ہیں، تمام ظاھری اور پوشیدہ چیزوں کا وجود اس کی قیومیت کی وجہ سے ہے، یہ تمام کائنات اس کے علم و ارادہ اور قدرت و رحمت کا ایک جلوہ ہے، اس کے صفات کی کوئی حد نھیں، اس کی قوت تمام قوتوں سے بالاتر، اس کی قدرت تمام قدرتوں سے بلند، اس کی عظمت تمام عظمتوں سے مافوق ، اس کی سطوت تمام سطوتوں سے بلند وبالا ہے،اور اس کی شان و منزل اس کا مرتبہ ہر چیز سے اعلیٰ و ارفع ہے۔

”وَخَفِيَ مَکْرُکَ“

” اور تیری تدبیر مخفی ہے“۔

”مکر “خدا کے علاوہ حیلہ اور دھوکہ دینے کے معنی میں آتا ہے، جیسے کسی کو دھوکا دیا جائے، اس معنی میں خدا کے لئے یہ لفظ استعمال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ مکر کے یہ معنی جاہل و عاجز انسان کی صفت ہے، جبکہ خداوندعالم جھل و عجزسے پاک و پاکیزہ ہے۔ اس کا وجود بے نھایتعلم، قدرت، رحمت اور کرم ہے،یہ ایک مسلّم اور ثابت حقیقت ہے کہ تمام موجودات اس کے محتاج ہیں،حالانکہ وہ سب سے بے نیاز ہے ۔

خدا کے سلسلہ میں”مکر“ کا استعمال کرنا اس کے عذاب و سزا کے معنی میں ہے یعنی جس کو مستحق عذاب سمجھے گا اس کو عذاب میں گرفتار کردے گا اور وہ اس سے بھاگ کر نکل بھی نہیں سکتا۔

گناھوںاور لذت دنیا میں غرق اور غرور و تکبر کرنے والوںکے لئے عذاب الٰھی کی مختلف صورتیں ہیں۔ جس کا پھلا مرتبہ بہ صورت استدراج و استھمال ہے یعنی:جس قدر گناھگار معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور گناھوںمیں بہت زیادہ غرق ہوتا جاتا ہے، تو خدا اس کی نعمتوں میں اضافہ کرتا رہتا ہے،یھاں تک کہ کثرت نعمت کی وجہ سے اس کی غفلت بڑھتی رہتی ہے،اور توبہ و استغفار کو بھول جاتا ہے، اور پھر اچانک اس پر عذاب نازل ہوجاتا ہے جس کے بارے میں وہ بالکل بھی نہیں سوچ پاتا اور وہ عذاب میں گرفتار ہوجاتا ہے، اور اس کی بے خبری کاانتقام لیا جاتا ہے، در حقیقت اس پر خفیّ طریقہ سے بلائیں نازل ہوتی ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

”إِذَا ارَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَیْراً فَاذْنَبَ ذَنْباً اتْبَعَهُ بِنِعْمَةٍ وَیُذْکِّرُهُ الاسْتِغفَارَ،وَإِذَا ارادَ بِعَبْدٍ شَراً فَاذْنَبَ ذَنْباً اتْبَعَهُ بِنِعْمَةٍ لِیُنْسِیَهُ الاستِغْفارَ وَتَمَادَی بِها وَهُوَ قولهُ: ”سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَیْثُ لاَیَعْلَمُونَ ۔“[۲] “[۳]

”بے شک جب خداوندعالم کسی بندے کے لئے خیرو نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اگرانسان گناہ کرتا ہے، تو خدا اس کو نعمت عطا کرتا ہے ، اور اس کو اس نعمت کے ذریعہ توبہ و استغفار کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور اگر خدا کسی کے لئے شر کا ارادہ کرتا ہے ، تو خدا اس کو (بھی) نعمت عطا کرتا ہے اور انسان اس نعمت کی وجہ سے توبہ و استغفار کو بھول جاتا ہے اور اس نعمت کی وجہ سے اس کے گناہ بڑھتے جاتے ہیں۔ اور یھی معنی ہیں خداوندعالم کے (مذکورہ بالا قول کے) کہ ان کو عذاب و بلاء میں اس طرح گرفتار کردیتا ہے کہ اس کو پتہ (بھی) نہیں چلتا (کہ کس چیز کی وجہ سے بلائیں نازل ہوئی ہیں)!“

”وَظَهَرَ امْرُکَ“

” اور تیرا امر ظاھرھے“۔

خدا کا حکم ایک مرحلہ میں ”فرمان تکوینی“ ہوتا ہے کہ جس کے سبب تمام موجوات جھان ہستی میں قدم رکھتے ہیں، اور ظھور کی کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ اس کا دوسرا حکم ”فرمان تشریعی“ ہوتا ہے جس کی برکت سے قرآن مجید قلب رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر نازل ہوا ، اور اس حکم کے جلوے قواعد و احکامات اور حلال و حرام کی شکل میں ظاھر ہوئے، جو دوسری آسمانی کتابوں،انبیاء کی نبوت اور ائمہ علیھم السلام کی امامت کے ذریعہ تمام نوع بشر کے ذریعہ نشر ہوئے ہیں۔

” وَغَلَبَ قَهْرُکَ،وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ“

”اور تیرا قھر غالب اور تیری قدرت نافذ ہے“۔

قھر و قدرت کی وضاحت اورضروری تفسیر شروع کتاب میں بیان ہوچکی ہے۔

وَلٰا یُمْکِنُ الْفِرٰارُمِنْ حُکُومَتِکَ “۔

” اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ہے“۔

خداوندعالم کی ذات اقدس تمام چیزوں پر تمام موجودات پر اور ہر چیز پر محیط ہے، اور کوئی بھی چیز اس کے احاطہ سے باھر نہیں ہے۔ تمام موجودات اسی کے ارادہ سے وجود میں آئیں، لہٰذا تمام ہی چیزیں اس کے پاس موجود ہیں اور اس کی رحمت و لطف و کرم اور اس کی نعمتو ں کے زیر سایہ اپنی زندگی بسر کرتی ہیں، لہٰذا وہ ان سب کے ساتھ میں موجود ہے، اور تمام چیزیں اسی کی طرف پلٹیں گی، لہٰذا وہ سب چیزوں کے بعد میں بھی باقی رھے گا، تو پھر کونسا ایسا راستہ ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی چیز اس کی حکومت سے فرار کرے؟!

ایک بہت اھم روایت میں بیان ہوا ہے کہ: ایک شخص حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کھا: میں ایک گناھگار شخص ہوں اورگناہ پر صبر نہیں کرسکتا، لہٰذا مجھے موعظہ فرمائیئے، تو امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: تو پانچ چیزوں کو انجام دے اس کے بعد جو چاھے گناہ کرنا:

اول: خداکا عطا کردہ رزق نہ کھا۔

دوم: خدا کی حکومت و ولایت سے نکل جا۔

سوم: ایسی جگہ تلاش کر جھاں تجھے خدا نہ دیکھ رھا ہوں۔

چھارم: جس وقت ملک الموت تمھاری روح قبض کرنے آئے اس کو اپنے سے دور کردینا۔

پنچم: جب (روز قیامت) تجھے مالکِ دوزخ ، دوزخ میں ڈالنا چاھے تو اس وقت دوزخ میں نہ جانا۔[۴]

جی ہاں! اگر انسان بھاگنے کا ارادہ رکھتا ہے تو کیا اچھا ہو کہ انسان جھالت و نادانی سے نکل کر علم و معرفت کی طرف بھاگے، خبراور سنی ہوئی باتوں سے نکل کر مشاھدہ کی طرف فرار کرے، اور آخر کار مخلوق سے نکل کر خداوندعالم کی طرف فرار کرے، جس کے نتیجہ میں اس کو دنیاوی اور اُخروی منافع حاصل ہوں اور سعادت ابدی اس کے شامل حال ہو، در حقیقت یہ فرار ؛ھوائے نفس سے عقل و خرد ،دنیا سے آخرت نیز دوزخ سے بھشت کی طرف فرار ہو ، اور آخر کار شیطان سے خدا کی طرف فرار ہونا چاہئے۔

” اللّٰهُمَّ لاٰاجِدُ لِذُنِوبيغٰافِراً،وَلاٰ لِقَبٰائِحيسٰاتِراً،وَلاٰلِشَیْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبیحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَ کَ

”خدایا میرے گناھوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،میرے قبیح اعمال کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے “۔

گناھوں کا بخشنے والا

خداوندعالم کے اسماء حسنیٰ اور اس کے بلند و بالا صفات میں؛ صفت ”غافر“ اور ”غفور“ ہے، یعنی بخشنے والی ذات، بلکہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ صرف شرط یہ ہے کہ انسان واقعی اور حقیقی توبہ کرے۔

گناھگار کو چاہئے کہ خدا کی صفت ”غفور“ پر توجہ کرے اور اسی سے امیدوار رھے، کہ اگر وہ اپنے گناھوں سے توبہ کرلے، برائیوں سے ہاتھ کھیچ لے، گناھوں سے دوری کرے اور ایمان و عمل صالح سے مزین ہوجائے تو یقینا خدا وندعالم اس کے تمام گناھوں کو معاف کردیتا ہے۔

اس سلسلہ میں ناامید اور مایوس ہونا ایک گناہ عظیم اور عذاب الٰھی کا سبب ہے، بلکہ قرآن مجید کے فرمان کے مطابق کفر کے برابر ہے:

”۔۔۔لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ ۔“[۵]

”اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا“۔

قرآن مجید نے گناھگاروں کے بارے میں اعلان کیاھے کہ ان کوخدا کی رحمت سے ناامید اور مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ خداوند عالم تمام گناھوں کا بخشنے والا ہے۔

ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

( قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ اسْرَفُوا عَلَی انْفُسِهِمْ لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) “ ۔ [۶]

”پیغمبر آپ پیغام پھنچا دیجئے کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے، رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا، اللہ تمام گناھوں کا معاف کرنے والا ہے،اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے “۔

قارئین کرام ! درج ذیل آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا ہر گناہ کو بخش سکتا ہے:

” إ( ِنَّ اللهَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔“[۷]

” یقینا اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے “۔

”ْ( وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔“[۸]

” اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے “۔

( فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ یَتُوبُ عَلَیْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔“[۹]

”پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو خدا اس کی توبہ قبول کرے گا کہ اللہ بڑا بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

”۔۔۔( وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفورٌ رَحیمٌ ) ۔“[۱۰]

” اللہ سے ڈرو یقینا وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے “۔

جی ہاں! اگر کوئی شخص اپنے گناھوں سے توبہ کرے، توبہ کے بعد گناھان کبیرہ سے اجتناب کرے اور گناھان صغیرہ پر اصرار نہ کرے، اور اپنے قضا شدہ واجبات کو ادا کرے، لوگوں کے غصب شدہ مال کو ان تک لوٹادے، یقیناایسی ہی توبہ ، ”واقعی توبہ“ ہے جس کی بنا پر اس کی تمام برائیاں بخش دی جائیں گی۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حقیقی طور پر توبہ کرنے والے کی نشانیاں بیان فرماتے ہیں:

امَّا عَلّامةُ التّائِبِ فَاربَعَةٌ:النَصِیحَةُ لِلّٰهِ فِی عَمَلِهِ،وَتَرْکُ البَاطِلِ، وَلُزُومُ الحَقِّ وَالحِرْصُ عَلَی الخَیْرِ “[۱۱]

”توبہ کرنے والے کی چار نشانیاں ہیں: اپنے اعمال و کردار میں خدا وندعالم کی مطلق طور پر فرمانبرداری کرنا، باطل کو چھوڑ دینا، حق کا پابند ہونا اور نیکی و بھلائی میں بہت زیادہ رغبت رکھنا“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”خدا ایسا نہیں کرتا کہ بندے کے لئے شکر کا دروازہ کھولے رکھے اور اس پر نعمتوں کے اضافہ کا دروازہ بند کردے، اسی طرح دعا کا دروازہ کھولے رکھے، لیکن باب اجابت کوبند کردے، نیز توبہ کا دروازہ کھلا رکھے اور عفو و بخشش کا دروازہ بند کردے“۔[۱۲]

برائیوں کو چھپانے والا

خداوندعالم کی ایک اھم صفت یہ ہے کہ جو شخص چھپ کر کسی گناہ کو انجام دیتا ہے اوریہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے گناہ سے آگاہ ہوجائے، تو خدا بھی اس کو چھپاتا ہے۔

خداوندعالم نے خود کو ”ستار العیوب“ کھا ہے، تاکہ اس کے بندوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ جب تک وہ چھپ کر او رمخفی طریقہ سے گناہ کرتے ہیں تو ان کی عزت و آبروکی حفاظت کرتا ہے، اور دوسروں کے سامنے اس کے گناہ کی فایل کو نہیں کھولتا؛ مگر یہ کہ گناہ کرنے والا اپنی بے حیائی اور جرائت کی بنا پر سب کے سامنے گناھوں میں غرق ہوجائے اور اپنی عزت و آبرو کا خیال نہ کرے، کیونکہ اس صورت میں اس کے گناھوں پرپردہ ڈالنا اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کے کوئی معنی نظر نہیں آتے۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے منقول ہے:

مَن تَابَ، تَابَ اللهُ عَلَیْهِ،وَاُمِرَتْ جَوارِحُهُ اَنْ تَسْتُرَ عَلَیْهِ،وَبِقاعُ الارْضِ انْ تَکْتُمَ عَلَیْهُ،وَانْسِیَتِ الحَفَظَةُ مَا کانَتْ تَکْتُبُ عَلَیهِ “[۱۳]

”جو شخص توبہ کرے، تو خداوندعالم اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے، اور اس کے اعضاء کو حکم دیتا ہے کہ اس کے گناھوں پر پردہ ڈالے رھو، اور زمین کو بھی حکم ہوتا ہے کہ اس کے گناھوں کو چھپائے رکھے، اور نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتوں کو اس کے گناھوں کو بھلا دیتا ہے“۔

معاویہ بن وھب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

إِذَا تَابَ العَبْدُ المُومِنُ تَوبَةً نَصوحاً اَحَبَّهُ اللهُ فَسَتَرَ عَلَیهِ فِی الدُّنْیا وَالآخِرةِقُلتُ فَکَیْفَ یَسْتُرُ عَلَیهِ؟قَالَ:یُنْسِی مَلَکَیْهِ مَا کَتَبا عَلَیهِ مِنَ الذُّنوبِفَیَلْقَی اللهَ حِینَ یَلْقاهُ وَلَیسَ شَیْءٌ یَشْهَدُ عَلَیهِ بِشَیْءٍ مِنَ الذُّنوبِ “[۱۴]

”جس وقت مومن بندہ توبہ نصوح (یعنی خالص توبہ) کرتا ہے تو خدا اس سے محبت کرنے لگتا ہے، لہٰذا وہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔

میں نے عرض کیا: خدا کس طرح اس کی پردہ پوشی کرتا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: گناھوں کے لکھنے والے فرشتوں کو بھلا دیتا ہے، لہٰذا جب وہ خدا سے ملاقات کرے گا تو کوئی بھی چیز اس کے خلاف گواھی دینے والی نہیں ہوگی“۔

تفسیر ”منہج الصادقین “ میں منقول ہے: جب روز قیامت برپا ہوگا، ایک بندے کو خدا کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، اس وقت حکم ہوگا: ایک قبہ (بلند جگہ) بنایا جائے اور اس پر اس بندے کو لایا جائے۔ اس کے بعد خدا وندعالم اس سے خطاب فرمائے گا: اے میرے بندے! تو نے میری نعمتوں کو گناھوں میں خرچ کیا، اور جیسے جیسے میں نعمتوں میں اضافہ کرتا چلا گیا تو بھی گناھوں میں اضافہ کرتا رھا۔ اس وقت اس بندے کا سر شرمندگی کی وجہ سے جھگ جائے گا۔

اس وقت خطاب ہو گا: اے میرے بندے اپنے سر کو اوپر اٹھالے، جس وقت تو گناہ کرتا تھا میں تیرے گناھوں کو معاف کردیتا تھا۔

اس وقت ایک دوسرے بندے کو لائے جائے گا اس پر بھی لعنت و ملامت کی جائے گا، اس کا سر بھی شرمندگی سے جھک جائے گا اور رونے لگے گا، اس وقت خطاب ہوگا: اے میرے بندے، جس وقت تو گناہ کرتا تھا اور ہنستا تھا تجھے میں نے اس وقت شرمندہ نہ کیا، آج جبکہ تو گناہ بھی نہیں کررھا ہے اور گریہ و زاری کررھا ہے، کس طرح تجھے عذاب کروں، اور تجھے رسوا کروں؟ (جا) میں نے تجھے بخش دیا اور جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی!!

برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے والا

خداوندعالم کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جب انسان اپنے گناھوں سے توبہ کرلیتا ہے، اور ایمان سے مزین ہوکر اعمال صالحہ بجالاتا ہے تو خداوندعالم اس کے گناھوں کو حسنات سے اور برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔

چنانچہ ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللهُ سَیِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ۔“[۱۵]

” علاوہ اس کے جوشخص توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل بھی کرے کہ پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کردے گا“۔

( وَاقِمِ الصَّلَوٰةَ طَرَفَیِ النَّهارِ وَزُلَفاً مِنَ الَّیْلِ انَّ الحَسَناتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئٰاتِ ) ۔۔۔ “[۱۶]

”اور پیغمبر آپ دن کے دونوں حصوں میں اور رات گئے نماز قائم کریں کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں ۔۔“۔۔

برائیوں کے نیکیوں میں بدل جانے کے سلسلہ میں اسلامی منابع میں بہت سے اھم مطالب ہیں جن میں سے بعض فلسفی ، بعض عرفانی، بعض ذوقی اور بعض روایتی پھلو رکھتی ہیں۔ اگرچہ ان کو بیان کرنا چاہئے تھا لیکن اس کتاب کے صفحات اجازت نہیں دیتے۔

صاحب ”تفسیر نمونہ“ (حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی دام ظلہ) کہتے ہیں: برائیوں کے نیکیوں میں بدل جانے کے سلسلہ میں چند تفسیریں ہیں جن میں سے ہر ایک کو قبول کیا جاسکتا ہے۔

۱ ۔ جس وقت انسان توبہ کرتا ہے، اور خداپراپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، تو اس کے پورے وجود میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے، اور اسی اندرونی انقلاب کی بنا پربرائیاںنیکیوں میں بدل جاتی ہیں؛ اگر اس نے کسی کو قتل کیا ہے، تو پھر وہ آئندہ مظلوموں کے دفاع اور ظالم سے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے، اور اگر زنا کار تھا اس کے بعد عفیف اور پاکدامن بن جاتا ہے، اور یہ اندرونی انقلاب ؛ ایمان او رتوبہ کے زیر سایہ پیدا ہوتا ہے۔

۲ ۔ اگر انسان توبہ کرتا ہے تو خداوندعالم اپنے لطف و کرم اور انعام کے تحت اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دیتا ہے، جیسا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے جناب ابوذر نے روایت کی ہے: جب روز قیامت بعض لوگوں کو محشر میں حاضر کیا جائے گا، حکم خدا ہوگا کہ (اس شخص کے) گناھان صغیرہ کو دکھادیا جائے اور گناھان کبیرہ کو چھپالیا جائے۔ اس سے کھا جائے گا: تو نے فلاں وقت فلاں گناہ صغیرہ انجام دیا تھا، اور وہ اس کو قبول کرے گا، لیکن گناھان کبیرہ کی وجہ سے اس کے دل میں خوف وھراس سے لرزہ رھے گا۔

اس موقع پر خداوندعالم اپنے لطف و کرم کی بنا پر حکم دے گا کہ اس کی برائیوں کے بدلے نیکیاں لکھ دی جائیں۔

اس وقت وہ بندہ عرض کرے گا: پروردگارا ! میں نے بہت بڑے بڑے گناہ بھی انجام دئے تھے، لیکن اب ان کو نہیں دیکھ رھا ہوں۔ جناب ابوذر کہتے ہیں کہ اس وقت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مسکرائے او رآپ کے دندان مبارک ظاھر ہوئے اور اس کے بعد درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:

” ۔۔۔( فَاوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللهُ سَیِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ) ۔۔۔“[۱۷]

”پروردگار اس کی کی برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کردے گا“۔

۳ ۔ برائیوں سے مراد؛ خود وہ برائیاں نہ ہوںجن کو انسان انجام دیتا ہو، بلکہ ان کے برے آثار مراد ہوں جو انسان کے جسم و روح میں رچ بس جاتے ہیں، جس وقت انسان توبہ کرتا ہے، اور اپنے ایمان کو مستحکم کرتا ہے تو برائیوں کے برے آثار اس کے جسم و روح سے دھل جاتے ہیں اور نیک آثار میں تبدیل ہوجاتے ہیں،برائیوں کے حسنات اور نیکیوںمیں بدل جانے کا یھی مطلب ہے۔[۱۸]

لاٰالٰهَ الاَّ انْتَ سُبْحٰانَکَ وَبِحَمْدِکَ

” تو وحدہ لا شریک ،پاکیزہ صفات اور قابل حمد ہے“۔

کلمہ ”توحید“ یعنی ”لا إلہَ إلّاانْتَ“ کو تھلیل کھا جاتا ہے اور” سبحانک“ سے مراد تسبیح ہے اور ”بحمدک“ سے مراد حمد خدا ہے۔

جو شخص اپنی زبان سے تسبیح و تھلیل کرتا ہے ،دل کی گھرائیوں سے سچے دل سے اس کا اقرار کرتا ہے ،اس میں اخلاص سے کام لیتا ہے ، نیز عملی میدان میں دوسرے معبود کی نفی کرتا ہے توایسا ہی شخص موحّد اور خدا پرست ہے نیز خداوندعالم کی امان میں ہے، اور اس پر دنیا و آخرت کی ذلت یقیناً حرام ہے، ایسا ہی شخص روز قیامت جنت الفردوس کا ساکن اور محبوب خدا ہے، نیز انبیاء علیھم السلام، صدیقین اور شھدائے کرام کی ہمنشینی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انسان کے اندر تھلیل کی حقیقت اس وقت جلوہ نما ہوتی ہے جب وہ قرآن و اہل بیت علیھم السلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خداوندعالم کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عُلیاکی معرفت حاصل کرلے،اور اپنے دامن کو گناھوں کی کثافت و گندگی سے محفوظ رکھے اور خداوندعالم کے واجب کردہ وظائف کو صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ انجام دے نیز حتی الامکان خلق خدا کی خدمت میںکوشاں رھے۔

جی ہاں! اگر انسان اس راستہ کو اپناتے ہوئے آگے بڑھے تو اس کے پورے وجود سے یہ آواز نکلے گی:

الاٰ کُلُّ شَیءٍ مَا خَلَا الله بَاطِلٌ

وَ کُلُّ نَعِیْمٍ لٰا مُحَالَةَ زَائِلٌ

”یقینا آگاہ ہوجاؤ کہ خدا کے علاوہ ہر چیز باطل ہے، اور لامحالہ ہر نعمت کا زوال ہے“۔

جب انسان دل کی آنکھوں سے اپنے پروردگار عالم کے نور پُر جمال کا مشاھدہ کرتا ہے تو اس کے بدن کا ہر عضو یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے:

”لا إلهَ إلّااللهُ “ ،”لا موثرَّ فی الوجود الا الله“، ”لا حول و لا قوة الا بالله“

کیا واقعاً اس کائنات میں خدا کے علاوہ کوئی خدا ہے جس کی بارگاہ میں اپنا سر تسلیم خم کیا جائے، یا اس سے روزی طلب کی جائے ،اپنی مشکل کشائی کی درخواست کی جائے، اور اس سے گناھوں کی بخشش اور برائیوں کے چھپانے کی التجاء کی جائے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دعائے کمیل کے اس حصہ میں خداوندعالم کی تسبیح و تھلیل اور مدح و ثنا کی گئی ہے، کیونکہ دعا کرنے والا اپنی ذلت و بے چارگی اور فقر و محتاجگی نیز گناھوں کے اقرار کے بعد اس کی بارگاہ میں یہ عرض کرتا ہے: میں نے اپنے گناھوں کو بخشنے والا یا ان کو چھپانے والا کسی کو نہیں پایا، چونکہ دعا کرنے والا یہ جانتا ہے کہ یہ کام خداوندعالم ہی کا ہے، اوردوسرا کوئی بھی ان امور کو انجام نہیں دے سکتا۔ لہٰذااس موقع پر ”لا الہ الا انت“، ”سبحانک“ اور ”بحمدک“ کھنا بہت مناسب ہے۔

جنت کی قیمت

جو شخص معرفت و خلوص کے ساتھ اپنے پروردگار کی تسبیح و تھلیل کرے ،عملی طور پر دوسرے معبود کا انکار کرے ، نیزخداوندعالم کے علاوہ کسی غیر کی اطاعت نہ کرے، صرف اسی کی عبادت و پرستش کرے اور اسی کے سامنے اپنا سرتسلیم خم کرے، تودر حقیقت اس کا یہ قدم جنت کی قیمت ادا کرنا ہے اور خداوندعالم کے ہر عذاب سے محفوظ ہونے کے لئے اس کے قلعہ میں داخلہ ملنا ہے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء و اجداد کے حوالہ سے پیغمبر اسلام :(ص) سے نقل کیا ہے کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

لا إلهَ إلّااللهُ حِصْنی فَمَنْ دَخَلَ حِصنی امِنَ مِنْ عَذابی “[۱۹]

”کلمہ توحید ”لا إلہَ إلّااللهُ “ میرا قلعہ ہے، لہٰذا جو شخص بھی اس قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے نجات پاگیا“۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

مَا جَزَاءُ مَن انْعَمَ الله عَزَّ وَجَلَّ عَلَیهِ بِالتَّوحیدِ إِلَّاالجَنّةَ“[ ۲۰]

”جس شخص کو خداوندعالم نے” نعمت توحید“ سے نوازا ہے اس کی جزا بھشت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے“۔

(جو شخص خدا وندعالم کی توحید کو صدق دل سے قبول کرتا ہو اور اس کو عملی طور پر ثابت کرتا ہو تو اس کا مقام جنت ہے۔)

اسی طرح آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

مَنْ مَاتَ وَهُوَ یَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ حَقٌّ دَخَلَ الجَنَّةَ “[۲۱]

”جس شخص کو اس حالت میںموت آئے کہ خدا کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہو تو اس کا مقام بھشت ہے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

”قَوْلُ لَا إِلهَ اِلاَّ اللهُ ثَمَنُ الجَنَّةِ “[۲۲]

”لا الٰہ الّٰا الله“کھنا جنت کی قیمت ہے۔

اسی طرح امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

مَنْ قَالَ لَا إِلٰه إِلاَّ اللهُ مُخْلِصاً دَخَلَ الجَنَّةَ،وَإِخلاصُهُ انْ تَحْجُزَهُ لَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ عَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ “[۲۳]

”جس شخص نے خلوص کے ساتھ ”لَا إِلٰہ إِلاَّ اللهُ “ کھا وہ بھشت میں داخل ہوگیا، ”لَا إِلٰہ إِلاَّ اللهُ “کا اخلاص کے ساتھ کھنے سے مراد انسان کی خدا کی حرام کردہ چیزوں سے باز رھنا ہے“۔

ایک شخص حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر مذکورہ حدیث کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے، وہ شخص امام علیہ السلام کے پاس سے اٹھ کر چل پڑا جب وہ آپ کے دولت کدہ سے باھر نکل گیا،تو آپ نے فرمایااس شخص کو واپس بلاؤ، اس کے بعد فرمایا: کہ اس کلمہ ”لَا إِلٰہ إِلاَّ اللهُ “ کے شرائط ہیں اور ہم اس کے شرائط میں سے ہیں۔(کیونکہ ہم خدا کی طرف سے امامت کے لئے منتخب ہوئے ہیں اور ہماری اطاعت تمام امور میں واجب ہے)[۲۴]

بھر حال انسان کے لئے راہ نجات صرف اور صرف توحید (خدا) اور اس کے شرائط ہیں؛ یعنی: جب انسان خدا کی معرفت حاصل کرلے اوراس کو یہ یقین حاصل ہوجائے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور یہ تمام موجودات اس کی مِلک ہے اور اسی کا عطا کردہ رزق کھاتے ہیں،نیز انبیاء علیھم السلام کی نبوت ، ائمہ اطھار علیھم السلام کی امامت اور قرآن پر ایمان رکھے ، اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارے تو ایسا انسان راہ نجات پر یقیناھے۔

لہٰذا اگر انسان توحید کا اقرار کرتے ہوئے کوئی نیک کام کرے تو اس کا وہ عمل قابل قبول ہوگااور اگر اس سے غفلت کی وجہ سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو شرمندگی کے ساتھ توبہ کرنے پر اس کا گناہ معاف ہوجائے گا، لیکن اگر کوئی شخص خدا وندعالم پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو اس کا کوئی بھی عمل قابل قبول نہ ہوگا اور اس کا چھوٹا سے چھوٹا گناہ بھی نہیں بخشا جائے گا۔

اگر مسلمان اپنے گناھان کبیرہ کی وجہ سے عذاب قیامت میں مبتلا ہوگا تو اسی توحید کی وجہ سے اسے نجات حاصل ہوگی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں بہت سی اھم روایات معتبر و مستند کتابوں میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے ہم نمونہ کے طور پر ایک حدیث نقل کرتے ہیں:

حضرت پیغمبر اکرمنے جناب جبرئیل سے فرمایا:

” (اے جبرئیل)دوزخ کے صفات بیان کرو۔ جناب جبرئیل نے دوزخ کی ایک ایک صفت کو بیان کرنا شروع کیا یھاں تک کہ (دوزخ کے )پھلے طبقہ کی بات آئی، اس وقت جناب جبرئیل خاموش ہوگئے، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: اس طبقہ میں کون لوگ رھیں گے؟ جواب دیا: اس طبقہ کا عذاب سب سے آسان ہے، اور اس طبقہ میں آپ کی امت کے گناھگار رھیں گے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: کیا میری امت کے لوگ (بھی) دوزخ میں جائیں گے؟ اس وقت جناب جبرئیل نے کھا:( جی ہاں) اس میں آپ کی امت کے وہ لوگ جائیں گے جو گناہ کبیرہ سے آلودہ ہوں گے اور بغیر توبہ کئے اس دنیا سے چلے گئے ہوںگے“۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) رونے لگے اور تین دن تک روتے رھے،یھاں تک کہ چوتھے روز حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا آپ کی زیارت کے لئے تشریف لائیں، اور جب آپ نے دیکھا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) خاک پر منھ رکھے گریہ کررھے ہیں اور آنسووں سے مٹی گیلی ہوگئی ہے! تو جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے عرض کیا: بابا جان واقعہ کیا ہے؟ (آپ اس قدر کیوں گریہ فرمارھے ہیں؟ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: جناب جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کے گناھگار دوزخ کے پھلے طبقہ میں رھیں گے، لہٰذا میں گریہ کررھا ہوں! جناب فاطمہ(ع) نے فرمایا: کیا آپ نے جبرئیل امین سے سوال کیا ہے کہ کس طرح آپ کے امتیوں کو دوزخ میں لے جایا جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں ، مردوں کے بال اور عورتوں کے گیسو پکڑ کر جھنم کی طرف کھینچا جائے گا، چنانچہ جب وہ لوگ دوزخ کے قریب پھنچادئے جائیں گے اور وہ دوزخ کے داروغہ کو دیکھےں گے تو چلائیں گے اور داروغہ جھنم سے التماس کریں گے کہ ہمیں اپنے حال پر رونے کی اجازت دیدے، اس وقت داروغہ دوزخ اجازت دے گا، چنانچہ وہ لوگ اس قدر گریہ کریں گے کہ آنسووں کے بجائے خون کے آنسو بھائیں گے، اس وقت داروغہ جھنم آواز دے گا: کیا اچھا ہوتا کہ تم لوگ اس وقت گریہ کرنے کے بجائے دنیا میں گریہ کرتے اور روز قیامت کے خوف سے آنسو بھاتے!!

اس کے بعد داروغہ ان کو جھنم میں ڈال دے گا، یہ لوگ دوزخ میں پھنچتے ہی ”لا الہ الاّ الله“ کا نعرہ بلند کریں گے، (اس وقت) آگ ان سے دور ہوجائے گی، داروغہ جھنم آوازدے گا، اے آگ ان کو پکڑلے، آگ آواز دے گی: میں کس طرح ان کو پکڑوں حالانکہ یہ لوگ اپنی زبان پر ”لا الہ الاّ الله“جاری کررھے ہیں۔ اس کے بعد پھر داروغہ جھنم آواز دے گا اے آگ ان کو پکڑلے، اس وقت آواز قدرت آئے گی کہ ان کے چھروں کو نہ جلانا کیونکہ انھوں نے میرے سامنے سجدہ کیا ہے، اور ان کے دلوں کو بھی نہ جلانا کیونکہ انھوںنے ماہ مبارک (رمضان) میں پیاس کی شدت برداشت کی ہے۔ اور جب تک حکم خدا ہوگا یہ لوگ جھنم میں رھیں گے۔ اس وقت جبرئیل کو حکم ہوگا: ان گناھگار امتیوں کا حال معلوم کرو،اس وقت داروغہ جھنم پردہ ہٹائے گا ، تو وہ جناب جبرئیل کو خوبصورت شکل میں دیکھیں گے،اور سوال کریں گے: یہ کون اتنی اچھی شکل میں ہے؟ جواب دیا جائے گا: یہ جناب جبرئیل ہیں جو دنیا میں حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی طرف وحی لے کر نازل ہوتے تھے، جیسے ہی یہ لوگ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اسم گرامی سنےں گے ایک نعرہ بلند کریں گے کہ ہماری طرف سے حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو سلام پھنچانا اور کھنا کہ آپ کے امتی دوزخ میں گرفتار ہیں!

جب جناب جبرئیل یہ خبرآنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پاس لے کر جائیں گے، تو آنحضرت یہ خبر سن کر بارگاہ الٰھی میں سجدہ ریز ہوجائیں گے اور عرض کریں گے (پالنے والے) تونے میرے امتیوں کو دوزخ میں ڈال دیا اب ان کو میرے حوالہ کردے، اس وقت آواز قدرت آئے گی کہ ہم نے ان کو آپ کے حوالہ کردیا۔ اس وقت رسول خدا ان لوگوں کو جھنم سے نکال لیں گے، اور چونکہ یہ لوگ جل کر کوئلہ کی مانند ہوجائیں گے ،لہٰذاان کو ”چشمہ حیات“ پر لے جایا جائے گا، اور جس وقت اس چشمہ سے شربت پئیں گے اور اس کو اپنے اوپر ڈالیں گے توان کی ظاھری اور اندرونی غلاظت دور ہوجائے گی، اور وہ پاک و پاکیزہ بن جائیں گے، اور ان کی پیشانی پر یہ تحریر ابھر آئے گی:

”عتقاء الرحمان من النار

”یہ خدائے رحمن کی طرف سے جھنم سے آزاد شدہ ہیں“

چنانچہ جب یہ لوگ جنت میں پھنچ جائےں گے تو اہل بھشت ان لوگوں کا ایک دوسرے سے تعارف کرائیں گے کہ یہ لوگ دوزخی تھے اور اب نجات پاگئے ہیں!

اس وقت وہ لوگ کھیں گے: پالنے والے تو نے ہمیں اپنی رحمت میں لے لیا ہے اور بھشت میں داخل کردیا ہے اس تحریر کو ہماری پیشانیوں سے ہٹادے۔ ان کی یہ دعا قبول ہوجائے گی، اور وہ تحریر ان کی پیشانی سے مٹ جائے گی“۔

حمدو تسبیح

تسبیح کا مطلب خداوندعالم کی ذات کو ہر نقص و عیب سے پاک و پاکیزہ ماننا ہے، دراصل خداوندعالم کے بے نھایت کمالات کے اقرار کا نام تسبیح ہے۔

طلحہ بن عبید اللہ کہتا ہے: میں نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے ”سبحان اللہ“ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”سبحان للہ“ کی تفسیر یہ ہے کہ خداوندعالم کو ہر نقص و عیب سے پاک سمجھا جائے۔[۲۵]

حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے ”سبحان اللہ“ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: خدا وندعالم کے جلال کو بزرگ شمار کرنا اور اس کو ہر طرح کے شرک سے پاک و پاکیزہ جاننا، لہٰذا جس وقت انسان (اخلاص و یقین کے ساتھ) ”سبحان اللہ“ کہتا ہے تو تمام فرشتے اس پر درودبھیجتے ہیں۔[۲۶]

قرآن مجید میں بہت سی آیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دنیا کی تمام چیزیں خداوندعالم کی تسبیح کرتی ہیں:

”۔۔۔( وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَکِنْ لاَتَفْقَهُونَ تَسْبِیحَهُمْ ) ۔۔۔“[۲۷]

”اور جو کچھ ان(زمین وآسمان) کے درمیان ہے سب اس کی تسبیح کررھے ہیںاور کوئی شئے ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہویہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو“۔

دعا کمیل کے اس حصہ میں خداوندعالم کی تسبیح شاید اسی وجہ سے ہو : چونکہ دعا کرنے والا انسان گزشتہ فقرات میں اپنی خطا و غلطی اور گناہ کا اقرار کر چکا ہوتا ہے، جو خدا اور اس کے درمیان دوری اور تاریکی کے اسباب تھے، اور وہ انسان خدا کی تسبیح و تقدیس اورحمد وثناء کے ذریعہ ظلمت و تاریکی سے نجات حاصل کرسکتا ہے، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ دعا کرنے والا روتے ہوئے صدق دل اور خلوص کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں یوں عرض کرے: ”سبحانک و بحمدک“ تاکہ جناب یونس علیہ السلام کی طرح اسے تاریکی سے نجات مل جائے اور خدا کی قربت حاصل ہوجائے۔

جی ہاں! جب جناب یونس علیہ السلام شب کی تاریکی، دریا کی تاریکی اور شکم ماھی کی تاریکی میں گرفتار ہوئے تو کہتے ہیں:

”۔۔۔( فَنادَیٰ فِی الظُّلُماتِ ان لَا إِلهَ إِلاَّ انْتَ سُبْحانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَ نَجَّیْنَاهُ مِنَ الغَمِّ وَ کَذٰالِکَ نُنجِی المُو مِنینَ ) ۔“[۲۸]

”پھر تاریکیوںمیںجاکر آوازدی کہ پروردگارا! تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوںمیںسے تھا ،تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انھیں غم سے نجات دلا دی کہ ہم اسی طرح صاحبان ایمان کو نجات دلاتے رہتے ہیں“۔

صاحب تفسیر ”منہج الصادقین“ اس آیت کی تفسیر میں حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

مَا مِنْ مَکْرُوبٍ یَدْعُو بِهذا الدُّعاءِ إِلاَّ اسْتُجِیبَ لَهُ “[۲۹]

”کوئی بھی پریشان حال ایسا نھیںجو یہ دعا پڑھے اور مستجاب نہ ہو“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام جناب امیر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں: اعمال کی ترازو تسبیح کے ذریعہ ثواب سے بھر جاتی ہے“۔[۳۰]

علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ اپنی عظیم الشان کتاب ”بحار الانوار“ میں حمد پروردگار کے سلسلہ میں ایک اھم روایت اس طرح نقل کرتے ہیں:

”کَانَ رَسولُ اللهِ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) إِذَا وَرَدَ عَلَیهِ امْرٌ یَسرُّهُ قَالَ:الحَمْدُ لِلّٰهِ عَلی هَذِهِ النّعْمَةِوَإِذَا وَرَدَ عَلَیهِ امْرٌ یَغْتَمُّ بِهِ، قَالَ:الحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی کُلِّ حَالٍ “[۳۱]

”جس وقت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سامنے کوئی خوش حال کرنے والا واقعہ پیش آتا تھا تو آنحضرت فرماتے تھے: ”الحَمْدُ لِلّٰهِ عَلی هَذِهِ النّعْمَة “ اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کیا کرتے تھے اور اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آتا تھا جس سے آپ کو رنج پھنچتا تھا تو آپ فرماتے تھے:”الحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی کُلِّ حَالٍ “ الٰھی ہر حال میں تیرا شکر ہے“۔

ظَلَمْتُ نَفْسي،وَتَجَرَّاتُ بِجَهْلي،وَسَکَنْتُ الٰی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لي، وَ مَنِّکَ عَلَيَّ ۔“

” خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔اپنی جھالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بیٹھاھوں کہ تونے مجھے ہمیشہ یا د رکھا ہے اور ہمیشہ احسان فرمایا ہے“۔

اپنے اوپرظلم

حالانکہ میں نے اپنے غور و فکر اوراس کائنات کی حیرت انگیز چیزوں کو دیکھنے اور علماء و دانشوروں کی باتوں کو سننے او ران کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد تجھے ایک لازمی حد تک پہچان لیا ہے،لیکن تیری طرف رجوع نہیں کیا، اور تیرے حکیمانہ احکام کی اطاعت نہیں کی ،نیز تیری رضا کو اھمیت نہیں دی اور اپنے سر کو تیرے سامنے نہیں جھکایا تیری عبادت میں اپنا سر کو خاک پر نہیں رکھا اورتیرے سامنے اپنی جھولی نہیں پھیلائی ہے، المختصر اپنے تمام ہی امور میں تجھ سے غفلت کی، لہٰذا یہ وہ ستم تھا جسے میں نے اپنے اوپر ہمیشہ روا رکھا اور یہ میں نے بہت بڑا ظلم اپنے اوپر کیا ہے۔

حالانکہ میںنے علماء کی زبان اور تاریخ کے مطالعہ کے بعد تیرے انبیاء(ع)کو پہچان لیا اور یہ معلوم ہوگیا کہ وہ تیری راہ کی ہدایت کرنے والے،انسانیت کے لئے دلسوز اور مھربان ہیں اور ان کا انسان کی سعادت و خوشبختی کے علاوہ کوئی مقصد نھیں، صرف انسانیت کو گمراھی اور شیطانی و سوسوں سے نجات دلانا چاہتے ہیں ان کے امر و نھی باحکمت اور انسانیت کے لئے مفید ہوتے ہیں، اور چونکہ میں مسلمان ہوںلہٰذا میں نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی معرفت ضروری حد تک حاصل کرلی، لیکن پھر بھی میں نے انبیاء(ع)سے روگردانی کی، اپنی زندگی میں دوسروں کے دروازے پر گیااور غیروں کی تہذیب کو اپنایا، اورتیرے انبیاء علیھم السلام کی زحمتوں کی قدر نہ کی، ان کے وجود جیسی نعمت کا شکر ادا نہ کیااپنی منحوس زندگی پر بھروسہ کیاجو نور نبوت سے خالی تھی اورگمراھی و ضلالت کی راہ پر چلتا رھا،یہ ستم میں نے اپنے ہی اوپر ڈھایاھے اور یہ عظیم ظلم اپنے ہی نفس پر کیا ہے!!

حالانکہ میں مجالس و محافل اور دینی کتابوں کے مطالعہ سے کافی حد تک معارف الٰھی اور تعلیمات قرآن سے آشناھوگیا ہوں، نیز مجھے اس حقیقت کا علم ہوگیا ہے کہ یہ قرآن جس کو تو نے اپنے پیغمبرمحمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر نازل کیا ، تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور یہ ایک کامل ترین کتاب ہے جس میں مکمل اورمفیدمطالب سمائے ہوئے ہےں،اور ایک ایسی کتاب ہے جو حکیمانہ احکامات، اھم معارف، محکم آیات، استوار قواعد و ضوابط اور جھنجھوڑنے والے موعظوں پر مشتمل ہے، گویا قرآن ایک بلند ترین اور زیبا ترین دستور العمل ہے، لیکن میں نے اس سے منھ موڑ لیااور اس کی آیات کو چھوڑ دیااس کے حقائق سے دوری اختیار کی، اس پر عمل کرنے میں غفلت کی ،اس سے دور رہ کر زندگی بسر کی۔ یہ ستم میں نے اپنے ہی اوپر کیا ہے اور یہ عظیم ظلم اپنے ہی نفس پر کیا ہے!!

حالانکہ مختلف قسم کے وسائل کی مدد سے ائمہ طاھرین علیھم السلام کو پہچان لیااور یہ معلوم ہوگیا کہ یہ حضرات بندوں میں تیری حجت ہیں، تیرے راستہ کی ہدایت کرنے والے کامل انسان ہیں، نیز پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے بعد ان کو ولایت و رھبری کے عنوان سے پہچنوایا ہے، تاکہ لوگوں کی ہدایت و رھنمائی کریں، نیز انھوں نے دین اسلام کے حقائق کی تعلیم دی اور حق و باطل کو پہچنوایا، اور قرآن مجید کی تفسیر بتائی جبکہ ان پر دشمنوں نے بہت ظلم اور بڑے بڑے مصائب ڈھائے غرض ہر ایک کو کسی نہ کسی طریقہ سے شھید کیا؛ لیکن ان حضرات نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، اور انسانی ہدایت سے ہاتھ نہیں کھینچا، بلکہ احکام الٰھی ، حلال و حرام اور دینی فرائض کو ہر ممکن صورت میں بیان کرتے رھے، جس کو ان کے اصحاب نے چارسو کتابوں میں جمع کیا، تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم دریائے معرفت سے سیراب ہوسکیں، لیکن میں نے ان تمام حقائق کو نظر انداز کردیا، او رائمہ طاھرین علیھم السلام کی اطاعت نہ کی اورفیض ہدایت کے ان مراکز سے منھ موڑکر گمراہ ہوگیایا ،سیدھے راستہ پر چلنے کے بجائے ٹیڑھے راستہ کا انتخاب کیا اور میں اپنی ہوا و ہوس کا شکار ہوگیا اور اس پر بضدرھا، خدا و آخرت سے بے خبر استاد وں سے تعلیم حاصل کی اور ان جاہل و گمراہ لوگوں(جن کی ضلالت و گمراھی پوری دنیا پھیلی ہوئی ہے؛) کو عظیم الشان ائمہ پر ترجیح دی ۔ یہ ستم میں نے اپنے اوپر کیا ہے اورمیں نے اپنے نفس پر یہ عظیم ظلم کیا ہے!!

حالانکہ میں جانتا تھا کہ ”نہج البلاغہ“ جیسی عظیم الشان کتاب ؛جس میں حضرت علی علیہ السلام کے بے کراں دریائے علم کا ایک قطرہ ہے جس میں ہدایت کا بے بھا خزانہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو خیر و سعادت اور پاک و پاکیزہ زندگی کی ہدایت ملتی ہے، جس میں خطبوں، خطوط اورحکمت آمیز کلمات کا موجیں مارتا ہوا الٰھی معرفت کا سمندر ہے ، جس کی اھمیت کے لئے یھی کافی ہے کہ اس کو ”تحت کلام الخالق فوق کلام المخلوق“ جیسا لقب دیا گیا ہے۔

حالانکہ میں جانتا تھا کہ ”صحیفہ سجادیہ“ جس میں امام عاشقین، مولائے عابدین سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ۵۴ دعاؤں میں انسان کے تمام وظائف اور ذمہ داریوں کو دعا کی زبان میں بیان فرمایا ہے، جس کے بارے میںائمہ طاھرین علیھم السلام نے توجہ دلائی ہے۔

حالانکہ میں جانتا تھا کہ احکام الٰھی، حلال و حرام اور اسلامی معارف و اخلاقی مسائل، ”اصول کافی“، ”تہذیب“، ”استبصار“، ”من لایحضرہ الفقیہ“، ”تحف العقول“،”روضة الواعظین“،”وافی“،”شافی“، ”بحارالانوار“، ”وسائل الشیعہ“، ”روضة المتقین“، ”جامع احادیث شیعہ“ اور دوسری ہزاروں کتابوں میں موجود ہیں، لیکن میں نے اپنی آخرت کو سنوار نے کے لئے ان کتابوں کو پڑھنے کی زحمت نہیں کی، ان کے مطالعہ کے بجائے بےھودہ رسالوں، اخباروں اور دین مخالف مضامین ، اور گھٹیا قسم کی کتابوں کے مطالعہ میں لگا رھا، اور اپنی زندگی کے بہترین شب و روز کو یوں ہی گزار دیا جس سے میں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ یہ ستم میں نے اپنے ہی اوپر کیا ہے اور یہ عظیم ظلم اپنے ہی نفس پر کیا ہے!!

نادانی کی وجہ سے گناھوں پر جرائت و جسارت

چونکہ میں نے علم و آگاھی حاصل نہیں کی اور دینی تعلیمات سے محروم رھا اور حق و حقانیت سے بے خبر رہتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرتا رھااور اپنی پُر طلاطم زندگی کو جھالت کی کشتی پر سوار کیا جس کی وجہ سے میں گناھوں کے دلدل میں پھنستا ہی چلا گیا۔

اورجھالت و نادانی کے سبب اپنی آخرت سے غافل ہوگیا اور حقائق کو سمجھنے سے قاصر رھا، جس کے انجام کے بارے میں نہیں سوچا، اور اپنے اعمال کے حساب و کتاب کی فکر نہیں کی، پل صراط اورجنت و جھنم کی پروا نہیں کی، لہٰذا میں نے تیری مخالفت کی اور مختلف گناھوں سے آلودہ ہوگیا، آخر کار اپنی نادانی کی بنا پر گناھوں کے سلسلے میں تیرے سامنے جرائت اور جسارت کی اور ادب واخلاقی متانت کے خلاف قدم اٹھایا!!

گناھوں کا اقرار

پالنے والے! جس وقت میںرحم مادر میں تھا، اس وقت سے لے کر اب تک تیرے لطف و کرم میرے شامل حال رھے۔یہ تیرا احسان و کرم ہی تو تھا جس نے ایک نجس نطفہ کو کامل انسان بنادیامیرے لئے ضروری اعضاوجوارح عطا کئے، عقل و خرد سے نوازا، دل و جان عطا کئے، گوشت، ہڈّی، نسیں، مغز،خون، سلول، تنفسی نظام آنکھیں، کان ،ھونٹ اورعقل و ہوش عطا کیا، اس کے بعد مجھے دنیا میں بھیجنے کے لئے میری والدہ کے جسم میں طاقت دی تاکہ صحیح و سالم دنیا میں آسکوں، اس کے بعد دودھ سے بھرے پستان مادر سے میرے جسم کی ضرورت پوری کی، پیار بھری آغوش مادر اور محبت سے مالا مال قلب پد ر معین کیا ، آھستہ آھستہ غذا اورتیرے محافظین خصوصاً والدین کی حفاظت میں پروان چڑھا ، اور جھاں تک پھنچنا تھا مجھے پھنچادیا، اس کے بعد میری زندگی کے لئے مختلف اسباب فراھم کئے، وغیرہ وغیرہ۔

پالنے والے! تو نے مجھ پر اب تک یہ تمام لطف و احسان کئے لیکن میں مغرور ہوگیا اور یہ سوچنے لگا کہ اگر میں گناہ بھی کرتا رھوں تو تیرا لطف و کرم پھر بھی میرے شامل حال رھے گا، اور کسی طرح کا کوئی عذاب نہیں ملے گا حالانکہ گزشتہ نعمتوں کے پیش نظر مجھے غرور نہیں کرنا چاہئے تھا اور گناھوں کی وادی میں قدم نہیں رکھنا چاہئے تھا۔

اور اب تیرے لطف و کرم سے میںخواب غفلت سے تھوڑا بیدار ہوا ہوں، اور اپنی تاریک زندگی اور ظلمت کی حالت سے آگاہ ہوا ہوں، اپنے تمام وجود سے تیرے دروازے پر آیا ہوں او رآہ وبکا ، اشک ریزی کے ساتھ ؛ اپنے گناھوں کا اقرار کرتا ہوں اور اعتراف کرتا ہوں کہ: ”ظلمتُ نفسی“ (یعنی میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا) اور یہ بھی جانتا ہوں کہ میرا یہ اقرار و اعتراف در حقیقت گناھوں کا اقرار ہے اور ایک طرح سے توبہ اور سبب نجات ہے، جیسا کہ یہ بات قرآنی آیات، انبیاء و ائمہ علیھم السلام کی تعلیمات میں موجود ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:

وَاللهِ مَا یَنْجُو مِنَ الذَّنْبِ إَلاَّ مَنْ اَقَرَّ بِهِ “[۳۲]

”خدا کی قسم! انسان راہ نجات حاصل نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ گناھوں کا اقرار و اعتراف کرے“۔

نیز حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ہی سے یہ روایت بھی ہے:

لَا وَاللهِ مَا ارادَ اللهُ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ خَصْلَتَیْنِ:اَنْ یُقِرُّوا لَهُ بِالنِّعَمِ فَیَزِیدَهُم،وَبِالذُّنُوبِ فَیَغْفِرَها لَهُمْ “[۳۳]

”خدا کی قسم! خدا، اپنے بندوں سے دو چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا، ایک تو اپنی نعمتوں کا اقرار، تاکہ ان میں اضافہ کرے، اوردوسرے گناھوں پر اعتراف، تاکہ وہ ان کو بخش دے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

المُقِرُّ بِالذَّنْبِ تائِبٌ “[۳۴]

”اپنے گناھوں کا اقرار و اعتراف کرنے والا،توبہ کرنے والا شمار ہوگا“۔

نیز آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے:

شافِعُ المُذْنِبِ إِقْرارُهُ وَتَوْبَتُهُ اعْتِذارُهُ “[۳۵]

”گناھگار کی شفاعت کرنے والا خود اس کا اقرار کرنا ہے، او راس کی توبہ عذر خواھی ہے“۔

کتاب ”تذکرة الاولیاء“ میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے:

”جس گناہ کی ابتداء خوف و وحشت کے ساتھ اور اس کا آخر عذر خواھی کے ساتھ ہو، تو اس عمل سے بندہ خدا سے نزدیک ہوجاتا ہے، اورجس اطاعت کی ابتداء خود بینی اور اس کی انتھا خود پسندی ہو توایسی اطاعت انسان کو خدا سے دور کردیتی ہے!“

ایک جوان گناھگار کا اقرار

منصور بن عمّار کہتے ہیں: ایک روز رات کے وقت میں گھر سے باھر نکلا جب ایک گھر کے نزدیک پھنچا تو مجھے دروازے سے ایک جوان کے راز و نیاز اور مناجات کی آواز سنائی دی ، میں نے غور سے سنا تووہ بارگاہ رب العزت میں اس طرح مناجات کررھا تھا:

”پالنے والے! میں جب گناہ کرتا تھا تو تیری مخالفت اور نافرمانی کے قصد سے نہیں بلکہ میرا نفس مجھ پر مسلط تھا اور شیطان نے مجھے دھوکا دیاتھا، جس کے نتیجہ میں،میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہوگیا اور اب میں تیرے عذاب کا مستحق ہوگیا ہوں“۔

جب میں نے ان کلمات کو سنا تو اپنے سر کو دروازے پر دے مارا او رقرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کی:

”ٰیاایُّهَا الَّذِینَ ء امَنُوا قُوٓا انْفُسَکُمْ وَاهْلِیکُمْ نَاراً وَقودُهَا النَّاسُ وَالحِجارَةُ عَلَیْهَا مَلَائِکَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لَا یَعْصُونَ اللّٰهَ ما امَرَهُم وَ یَفْعَلونَ مَا یُومَرونَ ۔“[۳۶]

”(اے) ایمان لانے والو! اپنے نفس اور اپنے اہل کو اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تند و تیز ہیںاو رخدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے او رجو حکم دیا جا تا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں“۔

جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو اس جوان کے مزید رونے اور چلانے کی آوازسنائی دی ، اور میں نے وھاں سے اپنی راہ لی۔

دوسرے روزجب میں اسی گھر کے پاس سے گزرا تو وھاں پر ایک بُڑھیا کو دیکھا جو زار و قطار رورھی ہے اور فریاد کررھی ہے کہ ہائے میرا بیٹا!! جو راتوں کو خوف خدا سے رویا کرتا تھا کل رات جب وہ مناجات میں مشغول تھا تو کوئی شخص دروازے پر آیا اور اس نے عذاب الٰھی سے متعلق ایک آیت پڑھی ، جس کو سن کر اس کی ایک چیخ نکلی اور روتے روتے مرگیا۔

میں نے کھا: اماں جان! وہ آیت میں نے ہی پڑھی تھی جس کے سبب اس کی روح عالَم بقا کی طرف پرواز کرگئی، کیا مجھے اجازت ہے کہ اس کو غسل ( و کفن )دوں؟اس نے اجازت دی، جیسے ہی میں نے اس کے اوپر سے کپڑا ہٹایاتو دیکھا اس کی گردن پر ایک اورکپڑا ہے جیسے ہی میںنے اس کپڑے کو ہٹایا تو دیکھا کہ اس کے سینہ پر ہرے رنگ سے لکھا ہوا ہے:

”ھم نے اس بندے کو آبِ توبہ سے غسل دیدیا ہے!“[۳۷]

توبہ کرنے والے گناھگار کا انجام

عبد الواحد بن زید ،ایک گناھگار، فاسق و فاجر اور بدکار شخص تھا، ایک روزوہ یوسف بن حسین نامی عابد و زاھد کی مجلس وعظ میں پھنچ گیا، دیکھا کہ وہ عابد و زاھد اس قول کے بارے میں بیان کررھے تھے:

دَعَاهُم بِلُطْفِهِ کَانَّهُ مُحْتَاجٌ إلِیْهِمْ ۔“

”خداوندعالم اپنے گناھگار بندوں کو اپنے خاص لطف و کرم سے اس طرح دعوت دیتا ہے کہ گویا وہ بندوں کا محتاج ہے“۔

عبد الواحد نے جیسے ہی یہ کلام سنا، اس نے اپنے کپڑے اتارے اور روتا چلاتا قبرستان کی طرف چل پڑا۔ اسی رات یوسف بن حسین نامی اس عابد و زاھدنے عالم خواب میں دیکھا کہ خدا آواز دے رھا ہے:

ادرک الشاب التائب

”اس گناھوں سے توبہ کرنے والے جوان کو درک کرو“۔

یعنی اسے مغفرت و بخشش کی بشارت دیدو۔ عابد اس کی عظمت کو پہچاننے کے لئے تین دن کے بعد قبرستان میں گیا، تو دیکھاکہ وہ اپنا سرزمین پر رکھے مناجات او رگریہ و زاری میں مشغول ہے۔ پھر جب اس نے عابد کو اپنے پاس دیکھا تو کھا: آپ کو میرے پاس بھیجے ہوئے تین دن گزر گئے ہیں اور آپ اب آرھے ہیں؟! یہ کہتے ہی اس کی روح پرواز کرگئی۔!!

”اللّٰهُمَّ مَوْلاٰيَ کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَهُ،وَکَمْ مِنْ فٰادِحٍ مِنَ الْبَلآٰءِ اقَلْتَهُ،

وَکَمْ مِنْ عِثٰارٍ وَقَیْتَهُ،وَکَمْ مِنْ مَکْرُوهٍ دَفَعْتَهُ،وَکَمْ مِنْ ثَنٰاءٍ جَمیلٍ لَسْتُ اهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ“

”خدایا میرے کتنے ہی عیب ہیںجنھیں تونے چھپا دیا ہے اور کتنی ہی عظیم بلائیں ہیں جن سے تونے بچایا ہے۔کتنی ٹھوکریں ہیں جن سے تونے سنبھالا ہے اور کتنی برائیاں ہیں جنھیں تونے ٹالا ہے۔کتنی ہی اچھی تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نہیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ہے“۔

لفظ’ ’ مَوْلاٰيَ “کے ذکر میں کیا لذت ہے وہ بھی ایک محتاج کی زبان پرگریہ وزاری کی حالت میں،رات کے سناٹے میں خصوصاًشب جمعہ میں،یقینا اس طرح کی لذت اس دنیا میں نہیں پائی جاتی اور شاید اسی وجہ سے جناب موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا ہے:”إنَّ لِی فِی کَشْکُوْلِ الْفَقْرِ مَا لَیْسَ فِی خَزَانَتِکَ

”(پالنے والے)میرے فقر و نیازمندی کے کشکول میں ایسی چیز ہے جو تیرے کسی بھی خزانہ میں نہیں پائی جاتی ہے“۔

آواز قدرت آئی کہ اے موسیٰ وہ کیا ہے؟ جناب موسی علیہ السلام نے عرض ک: تیرے مثل ایک خدا میرے کشکول میںھے۔[۳۸]

اپنے بندوں کی برائی، بدی اور عیوب کو چھپانا خداوندعالم کی بہت بڑی نعمتوںاور اس کے عظیم احسانات میں سے ایک ہے۔ جب خداوندعالم اپنے بندے کی برائی کو دوسروںسے چھپاتا ہے اورلوگوں کے سامنے اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے، تو پھر یقینی طور پر قیامت کے روز بھی وہ اپنے گناھگار مومن اور توبہ کرنے والے بندوں پر خاص توجہ کرے گا، چنانچہ حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ارشاد ہے:

مَا سَتَرَ عَلَی عَبدٍ فِی الدُّنیَا إِلاَّ سَتَرَ عَلَیهِ فِی الآخِرَةِ “[۳۹]

”کسی بندے کی کوئی بھی برائی اس دنیا میں نہیں چھپائی گئی مگر یہ کہ روز قیامت بھی اس کو چھپایا جائے گا“ ( یعنی جس گناہ کو خدا اس دنیا میں چھپاتا ہے اس کو روز قیامت بھی چھپائے گا“)

خداوندعالم کے ستّار العیوب ہونے کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے ماثور ہ دعاؤں میں وسیع پیمانہ پراشارہ ہوا ہے، جو گناھگاربندوں کے لئے ایک بشارت ہے : خداوندعالم اپنے بندے کی عزت و آبرو پائمال نہیں کرے گا، اس کی برائیوں کو چھپائے گا، اور کسی ایک کو بھی اپنے بندوں کے گناھوں سے مطلع نہیں کرے گا۔

نمونہ کے طور پرھم یھاں ایک اھم روایت نقل کرتے ہیں جس کو ابن فھد حلّی مرحوم نے اپنے کتاب ”عدة الداعی“ کے آخر میں نقل کیا ہے:

ابن فھد روایت کرتے ہیں : جبرئیل امین پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر یہ دعا لے کر نازل ہوئے جبکہ جبرئیل مسکراتے ہوئے بشارت دینے کی حالت میں تھے۔ آکر کھا: اے محمد ! تم پر سلام ہو، آنحضرت نے فرمایا: اے جبرئیل تم پر بھی سلام ہو، اس کے بعد جناب جبرئیل نے کھا: پروردگار عالم نے آپ کی خدمت میں تحفہ بھیجا ہے۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے سوال کیا وہ کیا ہے؟ تو جبرئیل نے عرض کیا: وہ آسمانی خزانوں کے چند کلمات ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم نے آسمانوں کو بلندی عطا کی ہے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: وہ کلمات کیا ہےں؟ تو جناب جبرئیل نے کھا:

یَا مَنْ اظْهَرَ الْجَمِیْلَ وَ سَتَرَ الْقَبِیْحَ، یَا مَنْ لَمْ یُواخِذَ بِالْجَرِیْرَةِ وَلَمْ یَهْتِکِ السِّتْرَ، یَا عَظِیْمَ الْعَفْوِ یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ، یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْویٰ َومُنْتَهیٰ کُلِّ شَکْویٰ، یَا کَرِیْمَ الصَّفْحِ، یَا عَظِیْمَ الْمَّنِّ، یَا مُبْتَدِا بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقَاقِهَا، یَا رَبَّنَا یَا سَیِّدَنَا یَا مَوْلاٰنَا یَا غَایَةَ رَغْبَتِنَا، اسْئَلُکَ یَا اللهُ انْ لاٰتُشَوِّهَ خَلْقِی بِالنَّارِ

”اے وہ جس نے نیکیوں کو ظاھر کیا اور برائیوں کی پردہ پوشی کی، اے وہ جس نے میرے گناھوں پر عذاب نہیں کیا، اور حرمت کے پردہ کو چاک نہیں کیا، اے وہ جس کا عفو عظیم ہے، جس کی بخشش بہترین ہے اور جس کی مغفرت وسیع ہے، اے وہ جو اپنی رحمت کے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے، اے ہر راز کے مالک اور ہر شکایت کی حدآخر،اے گناھوں سے درگزرکرنے والے کریم، اے وہ جس کی نعمت عظیم ہے اے وہ جس نے مجھے مستحق نعمت ہونے سے پھلے مجھ پر نعمتوں کی بارش کی، اے میرے پروردگار! اے میرے مولا! اے میرے شوق و رغبت کی غایت، اے میرے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے جسم کو آتش جھنم میں نہ جلا“۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے جبرئیل سے فرمایا:ان کلمات کا ثواب کیا ہے؟ تو جبرئیل نے کھا: ہیھات! ہیھات! ان کلمات کے ثواب کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اگر ساتوں آسمان و زمین کے فرشتہ مل کر روز قیامت تک اس دعا کے ہزار اجزاء میں سے ایک جز ء کا حساب لگانا چاھیں تو نہیں لگاسکتے۔

جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا مَنْ لَمْ یُواخِذَ بِالْجَرِیْرَةِ وَلَمْ یَهْتِکِ السِّتْرَ “،تو خدا اس کے گناھوں کو چھپالیتا ہے، دنیا میں اس پر رحمت نازل کرتا ہے، آخرت میں اس کی پریشانیوں کو دور کردے گا، اوراس کو دنیا و آخرت میں ہزار پردوں سے ڈھانپ دے گا۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے: ”یَا مَنْ لَمْ یُواخِذِ بِالْجَرِیْرَةِ وَلَمْ یَهْتِکِ السِّتْرِ “تو خداوندعالم روز قیامت اس کا حساب نہیں لے گا، اور جب (دوسروں کے) پرد ہ اٹھائے جائیں گے تو اس وقت اس کاپردہ نہیں اٹھایا جائے گا۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے: ”یَا عَظِیْمَ الْعَفْوَ “تو خداوندعالم اس کے تمام گناھوں کو معاف کردیتا ہے چاھے وہ کفِ دریا کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے: ”یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ“تو خدا وندعالم اس کے گناھان کبیرہ جیسے چوری ،شراب خوری وغیرہ کو بخش دیتا ہے اور دنیا کے خوف و ہراس سے نجات عطا کرتاھے۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے: ”یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ “تو خداوندعالم اس رحمت کے ستّر دروازے کھول دیتا ہے، اور بندہ مرتے وقت تک رحمت خداکے زیر سایہ رہتا ہے۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ، “تو خداوندعالم اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:” یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْویٰ َومُنْتَھیٰ کُلِّ شَکْویٰ،“تو خدا وندعالم اس کو ہر مصیبت اور بلاء چاھے وہ اس پر نازل ہوئی ہو ں یا نہ، چاھے وہ سالم ہو یا بیمار، قیامت تک ثواب عطا کرتا رھے گا۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا کَرِیْمَ الصَّفْحِ، یَا عَظِیْمَ الْمَّنِّ ، “تو خداوندعالم اس کی آرزوںکو اپنی تمام خلائق کے برابر عطا کرتا ہے۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا مُبْتَدِا بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقَاقِهَا ،“تو خداوندعالم اس کو اس شخص کے جیسا ثواب عطا کرتا ہے جو خدا کی نعمتوں کا شکرگز ار ہوتا ہے۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا رَبَّنَا یَا سَیِّدَنَا “ تو خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو! گواہ رھنا کہ میں نے اس کو بخش دیا، اور اس کو تمام مخلوقات کی تعداد کے برابرچاھے وہ جنت میں ہوں یا دوزخ میں، یاساتوں زمین و آسمان میں، یا چاند و سورج اور ستاروں، یا بارش کے قطرے، تمام پھاڑھوں یا ذرات زمین ، یا کرسی و غیرہ کے برابر اجر و ثواب دیا!!

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا مَوْلاٰنَا “تو خداوندعالم اس کے دل کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”یَا غَایَةَ رَغْبَتِنَا،“ تو خداوندعالم روز قیامت اس کو تمام مخلوقات کی خواھشات کے برابر عطا کرے گا۔

اور جس وقت بندہ کہتا ہے:”اسْئَلُکَ یَا اللهُ انْلاٰتُشَوِّهَخَلْقِی بِالنَّارِ ،“تو اس وقت خداوندعالم فرماتا ہے: میرا بندہ آتش جھنم سے آزادی چاہتا ہے،اے فرشتو! گواہ رھنا میں نے اس کو، اس کے ماں باپ، بھائیوں اور اہل و اولاد اور اس کے پڑوسیوں کو آتش جھنم سے آازد کردیا ہے، اور اس شخص کو ایک ہزار لوگوں کی شفاعت کا حق دیا ہے جن پر جھنم واجب ہوچکی ہے،اور ان سب کو آتش جھنم سے امان دیدی ہے۔

اس کے بعد جناب جبرئیل عرض کرتے ہیں: اے پیغمبرخدا! ان کلمات کو متقی اور پرھیزگار لوگوں کو تعلیم دیجئے، لیکن منافقین کو ان کی تعلیم مت دیجئے گا،دعا کرنے والے کے لئے یہ دعا مستجاب ہے، اور یہ دعائے اہل بیت المعمور ہے جب وہ اس کا طواف کریں۔[۴۰]

قارئین کرام! اس بات پر توجہ رکھنا ضروری ہے کہ مذکورہ دعا کا عظیم ثواب سن کر تعجب نہیں کرنا چاہئے اور اس کو حقیقت سے دور نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ خدا وندعالم کا لطف و کرم اور اس کی رحمت بے نھایت اور اس کے خزانے تمام ہونے والے نہیں ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام ”کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَهُ “پڑھتے وقت بارگاہ الٰھی میں عرض کرتے ہیں: تو نے کتنی خطرناک بلائیں مجھ سے دور کیں (جیسے زلزلہ، طوفان، سیلاب، صاعقہ، آتش سوزی، تصادم، آسمانی بلائیں، قحطی، مھنگائی، سخت مصائب، عزیزوں کا داغ وغیرہ وغیرہ)۔ اور مجھے بہت سے لغزشوں سے محفوظ کیا، (اگر ان لغزشوں سے دوچار ہوجاتا تو میرا ایمان ختم ہوجاتا، میرے اخلاق کا شجرہ طیبہ جل اٹھتا، میرے نیک اعمال تباہ و برباد ہوجاتے، مخلوقات میں میری آبرو ختم ہوجاتی وغیرہ وغیرہ) اگر میں ان لغزشوں میں گرفتار ہوجاتا تو میری زندگی کا چین و سکون اٹھ جاتااور پریشانی و اضطراب میں غرق ہوجاتا، میری آنکھوں سے نیند اڑجاتی، میرے دل و جان میں تنگی اور سختی پیدا ہوجاتی،(تو نے ان تمام پریشانیوں کو مجھ سے دور کیا،حالانکہ میرا نامہ اعمال گناھوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن )تو نے لوگوں کے سامنے (مثلاً ماں باپ، بھائی بھن اور رشتہ داروں کے درمیان) میری بہت زیادہ تعریف اور نیکیاں پھیلادیں، اور ان کے سامنے مجھے ایسا آبرومند اور صاحب عزت بنادیا(کہ وہ مجھے سب سے اچھا سمجھتے ہیں اور میری مدح و ثنا کرتے ہیں) حالانکہ میں اس چیز کا اہل نہیں تھا!!

اللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَافْرَطَ بيسُوٓءُ حٰالي،وَقَصُرَتْ بياعْمٰالِی،وَقَعَدَتْ بِياغْلاٰلِي ،“‘

” خدایا میری مصیبت عظیم ہے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ہوئی ہے ۔میرے اعمال میں کوتاھی ہے۔مجھے کمزوریوں کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ہے“۔

یہ فقرات اس معنی کی نشاندھی کررھے ہیں : گناھوں کا بیمار، معصیت کا اسیر اورمادی تعلقات کی وجہ سے نھایت پریشان ؛ ماھر طبیب اور حکیم و قادر و توانا کے حضور پھنچ گیا ہے۔ ایسا مھربان طبیب جس نے اپنی رحمت و محبت کی بنا پر خود بیمار کو دعوت دی ہے تاکہ اسے شفا بخش معجون کھلائے، اس کے درد کا علاج کرے اور اس کو مادی پریشانیوں اور سختیوں سے نجات دے۔

بلاء کے معنی

صاحبان کرامت ،اہل دل اور علماء عرفان نے ”اللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَافْرَطَ “ میں لفظ ”بلاء“ کے معنی بیان کرتے ہوئے درج ذیل حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے:

۱ ۔ گناہ و معصیت

علماء عرفان فرماتے ہیں:”بلاء“ سے مراد گناہ و معصیت ہے جو سب سے بڑی بلاء اور سب سے بڑی بیماری ہے۔ گناہ ایک ایسی خطرناک بیماری ہے کہ اگر انسان توبہ کرکے خدا کی طرف نہ پلٹے اوراعمال صالحہ بجالاکر ان کا تدارک اورعلاج نہ کرے تو اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے اور جب انسان کادل مرجاتا ہے تو پھر خدا اور روز قیامت سے اس کا رابطہ ٹوٹ جاتا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ جب انسان کا خدا اور روز قیامت سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے تو انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بد بخت ہوجاتا ہے اور رحمت الٰھی سے محروم ہوجاتا ہے۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام ”توبہ کرنے والوں کی مناجات“ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:

امَاتَ قَلْبِی عَظِیْمُ جِنَایَتِی

”میرے عظیم ظلم و جنایت نے (جو میرے گناہ ہیں) میرے دل کو مردہ کردیا ہے“۔

جناب ابوذر سے سوال کیا گیا:

کس بیماری میں مبتلا ہو؟

جواب دیا: اپنے گناھوں کی بیماری میں گرفتار ہوں۔

ایک اھم سوال و جواب

امین اسلام مرحوم طبرسی اپنی عظیم الشان تفسیر ”مجمع البیان“ میںسورہ واقعہ کی تفسیر کے مقدمہ میں روایت بیان فرماتے ہیں: عثمان بن عفان، عبد اللہ بن مسعود کی مرض الموت کے وقت عیادت کے لئے جاتے ہیں، اور عبد اللہ سے سوال کرتے ہیں: آپ کس چیز سے پریشان ہیں؟ تو انھوں نے کھا: اپنے گناھوں سے۔ سوال کیا کس چیز کی طلب ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: رحمت پروردگار کاطالب ہوں۔ پوچھاکیا کسی طبیب کو بلاؤں؟ تو جواب دیا: طبیب نے مجھے مزید بیمار کردیا ہے، کھا کہ کیا بیت المال سے تمھارا حق دیدوں،فرمایا: جس وقت اس کی ضرورت تھی تو تم نے نہ دیا اور اب جبکہ اس کی ضرورت نہیں ہے دینے کے لئے تیار ہو! کھا : کچھ پیش کئے دیتا ہوں تاکہ تمھاری بچیوں کے کام آسکے، توفرمایا: میری لڑکیوں کو بھی اس کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ میں نے ان سے کہہ رکھا ہے کہ سورہ واقعہ کو پڑھتی رھا کریں، کیونکہ میں نے رسو ل خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے سنا ہے کہ جو شخص ہر شب سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا،تو ہر گزوہ فقرو فاقہ میں نہ رھے گا۔

اُویس قرنی سے گفتگو

عطّار ”تذکرة الاولیاء“ میں ہرم بن حیان سے روایت کرتے ہیں : ہرم کہتا ہے کہ میں نے جس وقت اویس قرنی کی شفاعت کے بارے میں سنا تو ان کی ملاقات کے لئے بے قرار ہوا ،اورکوفہ کی طرف روانہ ہوا اور ان کو تلاش کرنے لگا، یھاں تک کہ ان کو ڈھونڈ لیا، دیکھا کہ وضو فرما رھے ہیں، مجھے دیکھتے ہی فرمایا: اے ابن حیان!تم یھاںکیوں آئے ہو؟کھا: آپ سے قربت حاصل کرنے کے لئے، اویس قرنی نے جواب دیا: میں ہر گز یہ گمان نہیں کرتا کہ جو شخص خدا سے قربت رکھتا ہو وہ اس کے علاوہ کسی غیر سے انس حاصل کرے، میں نے کھا: آپ مجھے نصیحت فرمائیں۔ ( اویس قرنی نے نصیحت کرنا شروع کی:)

”اے حیان کے بیٹے جب سونے کے لئے بستر پر جاؤ تو موت کو تکیہ کے نیچے تصور کرو، اور جب اٹھو تو موت کو اپنے اردگرد تصور کرو۔ اے ابن حیان! یہ نہ دیکھو کہ گناہ چھوٹے ہیں یا کم، بلکہ خداوندعالم کی کبریائی کو مد نظر رکھو کہ کس عظیم خدا کی مخالفت کررھے ہو، کیونکہ اگر گناہ کو سُبک سمجھ رھے ہو تو تم نے خدا کو بھی سُبک سمجھ لیا ہے!!

۲ ۔ مقام قرب سے دوری

فرماتے ہیں: ”بلاء“ سے مراد خداوندعالم کے مقام قرب سے دور ہونا ہے، وہ بلند مقام جو ایمان، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، وہ مقام جس کی وجہ سے انسان خداوندعالم کی خوشی و خوشنودی کوحاصل کرلیتا ہے، نیز اسی مقام کی بنا پر انسان روز قیامت انبیاء، صدیقین اور شھداء و صالحین کا ہم نشین قرار پائے گا۔

جو لوگ اس عظیم مقام سے ہمیشہ دوررہتے ہیں آخر کار ان کے اندر سے انسانیت اور آدمیت، ایمان و عمل صالح اور نیک کردار کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جھاں پر شیطانوں، چوپایوں اور وحشی جانوروں کی جگہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے کہ جھاں پر انسان ظلم و ستم، فسق و فجوراور گناہ و معصیت کے علاوہ انجام ہی نہیں دیتا!!

لیکن جو افراد مقام قرب کی طرف ہمیشہ قدم بڑھاتے ہیںوہ خداوندعالم کے خاص لطف و کرم سے فیضیاب ہوتے ہیں، جس کے سبب مکمل خوشی اور شوق و رغبت کے ساتھ عبادت الٰھی اور خدمت خلق میں مشغول رہتے ہیںاور ہمیشہ نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔

یہ افراد ہمیشہ اس معنوی تحریک میں ہمہ تن مشغول رہتے ہیں اور مخلصانہ بندگی کے علاوہ کوئی اور مشغلہ نہیں رکھتے، نیز معشوق کے دیدار کے علاوہ کسی چیز کی خواھش نہیں رکھتے۔

ان حضرات کا دل ہمیشہ بارگاہ الٰھی سے فیضیاب ہوتا رہتا ہے اور پھر انسان کے سارے وجود میں اس کا اثر پھنچتا رہتا ہے۔

حضرت یوسف قرب الٰھی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اورفیض الٰھی کو حاصل کرتے ہوئے اپنے چھوٹے سے مکان کو مسجد اور مکان عبادت میں تبدیل کرتے ہیں، اور اپنے راستہ میں خواب کے عالم میں آئندہ زمانے کی طرف پرواز کرتے ہیںاور اپنے بلند مقام و عظمت کا مشاھدہ کرتے ہیں، وہ کنویں کی گھرائی کو اپنے معشوق سے راز و نیاز کا بہترین مکان قرار دیتے ہیں، اور عزیز مصر کے محل کو (جو زلیخاکی پسپائی و بد بختی کی جگہ تھی) اپنے لئے تقویٰ و پرھیزگاری کی معراج کا محل بناتے ہیں، زندان مصر کو اپنے لئے عبادتگاہ اور دوسروں کی ہدایت کا مرکز قرار دیتے ہیں، خزانہ کی ذمہ داری ، امانت داری کا مرکز اور عزیز مصر کے عھدہ کو بندگان خدا کی خدمت کا مقام قرار دیتے ہیں اور ان تمام چیزوں کے ذریعہ خداوندعالم کے مقام قرب کو حاصل کرلیتے ہیں۔

۳ ۔ جھل و نادانی

علمائے ربّانی کہتے ہیں کہ ” بلاء “ سے مراد جھل و نادانی ہے جو تمام ہی بلاؤں اور بدبختیوں کا سرچشمہ اور ابدی شقاوت کا مرکز ہے۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام ”جھل اور جاہل “ کے سلسلہ میں چند حدیث بیان فرماتے ہیں:

الجَهْلُ داءٌ وَعَیاءٌ “[۴۱]

”جھل بیماری اور ناتوانی ہے“۔

الجَهْلُ اَدْوَا الدَّاءِ “[۴۲]

”جھل و نادانی سب سے بڑی بیماری ہے“۔

الجَهْلُ مُمیتُ الاحْیاءِ وَمُخَلِّدُ الشَّقاءِ “[۴۳]

”جھل زندگی کو تباہ کرنے والا اور ہمیشگی شقاوت و بدبختی کا باعث ہے“۔

الجَاهِلُ لَا یَعْرِفُ تَقْصِیرَهُ وَلَا یَقبلُ مِنَ النَّصِیحِ لَهُ “[۴۴]

”جاہل اپنی غلطی کو نہیں پہچانتا اور دوسروں کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا“۔

الجَاهِلُ مَیِّتٌ وَاِنْ کَانَ حَیّاً “[۴۵]

”جاہل مردہ ہے اگرچہ (بظاھر) زندہ ہے“۔

الجَاهِلُ صَخْرَةٌ لَا یَنْفَجِرُ مَاوها،وَشَجَرَةٌ لَا یَخْضَرُّ عُودُها،وَارْضُ لَا یَظْهَرُ عُشْبُهَا “[۴۶]

”جاہل ایک ایسا کوہ سنگ ہے جس سے پانی نہیں نکلتا، اور ایک ایسا درخت ہے جس کی شاخیں ہری نہیں ہوتیں، اور ایسی زمین ہے جھاں پر گھاس نہیں اُگتی“۔

حضرت علی علیہ السلام اپنی ایک دعا میں بارگاہ ربّ العزت میں عرض کرتے ہیں:

انَا الجَاهِلُ عَصَیْتُکَ بِجِهْلِی،وَارْتَکَبتُ الذُّنُوبَ بَجَهْلِی،وَسَهَوتُ عَنْ ذِکْرِکَ بِجِهْلِی،وَرَکَنْتُ إِلَی الدُّنْیَا بِجِهْلِی “[۴۷]

”میں وہ جاہل ہوں جس نے اپنے جھل کی بنا پر نافرمانی کی، اور اسی جھل کی بنا پر گناھوں کا مرتکب ہوا، اسی جھل کی بنا پر تجھے بھول گیا اور اسی جھل کی بنا پر دنیا سے رغبت پیدا کی“۔

بد حالی

بد حالی سے مراد اخلاقی برائیاں اور حالات کے نشیب و فراز ہیں جو خطرناک اور تباہ کن بیماریوں میں سے ایک ہے،علماء اہل بصیرت کی نظر میں یہ سب سے سخت اور سب سے بڑا پردہ ہے جس کی وجہ سے انسان حقائق اور الٰھی لطف و کرم اور خوشنودی پروردگار،راہ مستقیم پر چلنے اور قرآن و حدیث کے معنی سمجھنے سے محروم ہوجاتا ہے ،اور خداوندعالم کی بارگاہ سے دور ہوجاتا ہے!

کَلّا اِنَّهُم عَن رَبِّهِم یَوْمَئِذٍ لَمَحجُوبونَ ۔“[۴۸]

”یاد رکھو انھیں روز قیامت پروردگار کی رحمت سے محجوب کردیا جائے گا“۔

خداوندعالم نے جس قدر برے صفات سے دوری کرنے اور نیک کردار اپنانے پر توجہ دی ہے،دوسری کسی چیز پر اتنی تاکید نہیں کی ہے۔ خداوندعالم نے قرآن مجید میں گیارہ قسمیںکھانے کے بعداہل تزکیہ کی کامیابی اور برے صفات والوں کی ناکامی کو بیان کیا ہے:

قَد افْلَحَ مَنْ زَکَّاهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ۔“[۴۹]

”بیشک وہ کامیاب ہوگیاجس نے نفس کو پاکیزہ بنا لیا اور وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا ہے“۔

بد حالی کی نشانیوں میں سے؛ چشم باطن کا اندھاپن، حقائق سے دوری،خدااور رسولکی باتوں کو سننے کے لئے بھراپن اور خداوندعالم کی رحمت کی خوشبو کو سونگھنے کے لئے قوہ شامہ میںخلل پیدا ہونا ہے:

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

خَصلَتَانِ لَا تَجْتَمِعانِ فِی مُومِنٍ:البُخلُ وَسُوءُ الخُلْقِ “[۵۰]

”دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتیں، ایک بخل اور دوسری بد اخلاقی“۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

لَا وَحْشَةَ اوْ حَشُ مِن سُوءِ الخُلْقِ “[۵۱]

”اخلاقی برائی سے ڈراؤنی کوئی چیز نہیں ہے“۔

نیز آپ ہی کا ارشاد ہے:

سُوءُ الخُلْقِ شَرُّ قَرینٍ “[۵۲]

”بد خلقی بد ترین ہم نشین ہے“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ العَبْدَ لَیَبْلُغُ مِنْ سُوءِ خُلقِهِ اسْفَلَ دَرَکِ جَهَنَّمَ “[۵۳]

”بے شک انسان اپنے برے اخلاق کی وجہ سے جھنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ڈالا جائے گا“۔

عمل میں کوتاھی

اگر انسان سعادت مندی کا خواھش مند ہے، اور روحانی کمالات اور بھشت کا طالب ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ قرآنی تعلیمات اور احادیث اہل بیت علیھم السلام کے مطابق عمل انجام دے۔ نیز شوق اور خلوص کے ساتھ کمر ہمت باندھے، تاکہ اپنے اعمال کی وجہ سے سعادت اُخروی، کمالات معنوی اور بھشت کے داخلہ کی قدرت حاصل کرسکے۔

انسان کے اعمال، اگر لباس معرفت سے برھنہ ہوں، رضائے الٰھی کے مطابق نہ ہوں، ان میں شوق و ہمت نہ ہو، سستی او رکاہل ی کاسایہ ان پر ہو، خلوص کا نور ان پر جلوہ گر نہ ہو، اعمال کرنے والا؛ حق الناس، بخل، حسد، طمع، تکبراور غرور و نخوت سے آزاد نہ ہو تو پھر یہ اعمال کس طرح انسان کو ساحل نجات تک پھنچا سکتے ہیں اور اس کو ہلاکت سے بچا سکتے ہیں؟

حضرت علی علیہ السلام حالانکہ معنوی دولت سے مالا مال تھے، اپنی شب کی مناجات میں خداوندعالم کی بارگاہ میں گریہ و زاری کے عالم میں عرض کرتے ہیں:

آه مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وَبُعْدِ السَّفَرِ وَوَحْشَةِ الطَّریقِ !“[۵۴]

”ھائے زاد راہ کی قلت ، طولانی سفر اور راہ کے خوف و خطر سے“۔

کبھی کبھی ضروری ہے کہ اولیاء اللہ کی عبادت کی تشریح کے سلسلہ میں گرانقدر کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تاکہ ان کے شوق عبادت اور اخلاص عمل کو دیکھ کر ہمارے اندر بھی شوق و جذبہ پیدا ہو، شاید اس طرح سے ہمارے دل میں نور کی چمک پیدا ہو اور ہماراضمیر جاگ جائے،ھمارے قدم خلوص کے ساتھ اٹھےںتاکہ منزل مقصود تک پھنچ جائیں اور معنوی حیات کی لذت کو حاصل کرسکیں۔

شھید راہ حق قاضی نور الله شوشتری اپنی کتاب ”مجالس المومنین“ میں بیان کرتے ہیں: جناب اویس قرنی نماز شب پڑھتے وقت کہتے تھے: یہ رکوع کی رات ہے،چلو اس رات کو رکوع کی حالت میںگزاردوں،دوسری رات میں کہتے تھے: یہ سجدہ کی رات ہے، چلو اس رات کو سجدہ کی حالت میں بسر کردوں! کسی نے ان سے کھا: اے اویس قرنی! تم میں اتنی لمبی رات کو عبادت کی طاقت کھاں سے آتی ہے؟

اویس قرنی جواب دیتے تھے: یہ رات کھاں طولانی ہیں، اے کاش یہ رات تا ابد رہتی تو میں اس کو سجدہ میں بسر کردیتا!!

زنجیر اور بیڑی

علمائے عرفان دعا کے اس فقرہ: ”وَقَعَدَتْ بِياغْلاٰلِي،“کی وضاحت میں بیان کرتے ہیں کہ یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ ”اغلال“ سے مراد گناہ کبیرہ ہوں جن کی وجہ سے انسان زمین گیر (اوراپاہج) ہوجاتا ہے، جوا طاعت و عبادت میں مانع ہوجاتے ہیں، اور فیض الٰھی سے محرومیت کے سبب انسان کنویں میں گرجاتا ہے۔ اس بات کے ثبوت پرحضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک اھم روایت بھی ہے جس میں کسی شخص نے آکر سوال کیاکہ مولا! میں نماز شب پڑھتا تھا، لیکن ایک مدت سے نماز شب پڑھنے کی توفیق چھن گئی ہے، ! تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

انْتَ رَجُلٌ قَدْ قَیَّدَتْکَ ذُنُوبُکَ “[۵۵]

”تیرے گناھوں نے تیرے پیر میںزنجیر ڈال دی ہے (اور تجھے راتوں میں عبادت کرنے سے روک دیا ہے، اور تجھے اپاہج کردیا ہے)

نیز یہ بھی احتمال ہے کہ ”اغلال“ سے دنیاوی اور مادی امور سے بہت زیادہ لگاؤمراد ہو جس کی وجہ سے انسان معنوی کمالات اور نیک کام کرنے سے رُک جاتا ہے۔

نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وہ بے ہودہ کام مردا ہوں جن کے نتیجہ میں انسان حقیقی مقصد سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

مِن حُسْنِ إِسلامِ المَرْءِ تَرکُهُ مَا لَا یَعْنِیهِ “[۵۶]

”ایک مسلم مرد کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ خود کو بے کار اور بے ہودہ امور سے روکے رکھے“۔

وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِی بُعْدُ امَلِی ۔“

” اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے۔“

طولانی آرزوئیں

امید اور آرزو وہ نعمت ہے جس کو خداوندعالم نے انسانی وجود میں قرار دیا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعہ نیک کاموں میں مشغول رھے اور ان کے اچھے منافع و نتائج کی امید پر جیتا رھے۔ اگر یہ عظیم نعمت نہ ہوتی تو پھر کوئی انسان کسی کام میں مشغول نہ ہوتا، کسی کام میں دل نہ لگتا اور کسی طرح کی سعی و کوشش نہ کرتا۔

ایک روایت میں منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بیابان میں بیٹھے ہوئے تھے ، انھوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی کھیتی کرنے میں لگاھوا ہے، جناب عیسیٰ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئے اور عرض کیا: پالنے والے! اس کے دل سے آرزوں کو ختم کردے! جناب عیسیٰ کی دعا قبول ہوئی تو دیکھا کہ اس بوڑھے نے بیلچہ زمین پر رکھ دیا اوروھیں پر سوگیا، اور گھنٹوں تک اسی طرح سوتا رھا، جناب عیسیٰ نے پھر دعا کی کہ خدایا! اس کی آرزو کو واپس پلٹادے، (دعا قبول ہوئی تو) وہ بوڑھا اٹھا اورپھلے کی طرح اپنے کامیں لگ گیا۔[۵۷]

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

”میری امت کے لئے آرزو رحمت ہے، اگر آرزو نہ ہوتو پھر کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلاتی، اور کوئی کسان کسی درخت کو نہ لگاتا“۔[۵۸]

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں:خدایا! آرزوں میں جو حقیقی ترین آروزھے وہ عطا کر۔

اَسْالُکَ مِنَ الآمَالِ اوفَقُها “[۵۹]

”خدایا!میں تجھ سے سب سے بہتر آروز کی درخواست کرتا ہوں“۔

انسان کی نیک آروزئیں جیسے علم کے بلند درجات کی آروز، اخلاقی کمالات کی آرزو، سعادت دنیا و آخرت کی آرزو، اطاعت خدا اور خدمت خلق کی آروزاسی طرح باقیات الصالحات کی آرزو جیسے مساجد، مدرسے، امام بارگاہ، لائیبریریاں، ہاسپٹل، راستے وغیرہ بنانے کی آرزو، یہ وہ آرزوھیں جن کے ذریعہ انسان کے ایمان اور بلند ہمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

لیکن اگر یہ آرزوئیں اور تمنائیں صرف دنیاوی اور مادی چیزوں سے متعلق ہوں اور حد سے زیادہ ان کا شیدائی ہو، اس حد تک کہ انسان کا چین و سکون چھن جائے، انسان میں حرص و لالچ اور بخل پیدا ہوجائے، حقوق الناس پامال ہونے لگے اور انسان میں خودپسندی اور غرور آجائے ، تو یہ وہ آرزوئیںھیں جو ناپسند، باطل اور ناحق ہیںاور یہ وہ شیطانی صفات ہیں، جن کی وجہ سے انسان خدا اور قیامت کو بھول جاتا ہے ، اور خدا کی اطاعت و بندگی سے محروم ہوجاتا ہے۔

اس سلسلہ میں اہل بیت علیھم السلام سے منقول روایات میں بہت سے اھم نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، لہٰذا ہر مومن کا فریضہ ہے کہ وہ ان چیزوں پر توجہ کرے (اور ان پر عمل بھی کرے ۔)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

الَامَلُ کَالسَّرَابٍ یَغِرُّ مَن رَآهُ وَیُخْلِفُ مِنْ رَجَاهُ “[۶۰]

”(باطل و ناحق) آرزو،سراب کی مانند ہوتی ہےں کہ جو بھی اس کو دیکھتا ہے وہ دھوکا کھا جاتا ہے اور جو اس پر امید رکھے اس کی امید خاک میں مل جاتی ہے“۔

اَلامَلُ خَادِعٌ غَارٌّ ضَارٌّ “[۶۱]

”آرزوایک دھوکا دینے والی اور نقصان دہ چیز ہوتی ہیں“۔

الامَانِیُّ تُعْمِی عُیونَ البَصَائِرِ “[۶۲]

”آرزو ، انسان کی بصیرت کو اندھا کردیتی ہے“۔

الامَلُ سُلْطَانُ الشَّیاطِینِ عَلَی قُلوبِ الغَافِلینَ “[۶۳]

”آرزو، غافل لوگوں کے دلوں پر شیطانی حکمراں ہے“۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا سے مناجات کرتے ہوئے آواز سنتے ہیں کہ:

یَا مُوسَی!لَا تُطَوِّلْ فِی الدُّنْیَا امَلَکَ فَیَقْسُوَ قَلْبُکَ،وَالقاسِی القلبِ مِنّی بَعیدٌ “[۶۴]

”اے موسیٰ! دنیا میں اپنی آرزؤں کو نہ بڑھاؤ کیونکہ آرزوئیں تمھارے قلب کو سخت کردیں گی اورجو شخص سنگ دل ہوجاتا ہے وہ مجھ سے دور ہوجاتا ہے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام دعائے عرفہ میں بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں:

اعوذُ بِکَ مِن دُنیا تَمْنَعُ خَیرَ الآخرَةِ، وَمِنْ حَیاةٍ تَمْنَعُ خَیرَالمَمَاتِ،وَمِن امَلٍ یَمْنَعُ خَیْرَ العَمَلِ “[۶۵]

”پالنے والے! میں تجھ سے پناہ مانگتاھوں اس دنیا کے بارے میں جو بہترین آخرت سے روک دیتی ہے، اور اس زندگی سے جو بہترین (طریقہ سے)مرنے سے روک دیتی ہے، اور ان آرزؤں سے جو بہترین عمل سے روک دیتی ہیں“۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

مَنْ ایْقَنَ انَّهُ یُفَارِقُ الاحْبَابَ وَیَسْکُنُ التُّرابَ وَیُواجِهُ الحِسَابَ وَیَسْتَغْنِی عَمّا خَلَّفَ وَیَفْتَقِرُ إِلَی مَا قَدَّمَ،کاَنَ حَرِیّاً بِقِصَرِ الامَلِ وَطُولِ العَمَلِ “[۶۶]

”جس شخص کو اس بات کا یقین ہے کہ (ایک روز یہ )موت دوستوں سے جدا کردے گی، اور مٹی کا گھر بنادے گی اور کل خداوندعالم کی بارگا ہ میں سارا حساب و کتاب دینا ہے اور جو چیزیں چھوڑکر جارھا ہے ان سے بے نیازھوگیا ہے اور جن چیزوں کو پھلے بھیج چکا ہے ان کی ضرورت ہے،تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی آرزوںکو مختصر اورتلاش و جستجو کو زیادہ کرے“۔

لمبی لمبی آرزوں کی وجہ سے بعض اوقات انسان کوایسے ناقابل جبران نقصانات سے دوچار ہوناپڑتا ہے، جن کے ذریعہ انسان ہلاکت کے گڑھے میں گرپڑتا ہے اور خداوندعالم کے لطف و کرم سے محروم ہوجاتا ہے۔

انسان، پیدائش کے وقت ایک آمادہ کھیت کی طرح ہوتا ہے؛ اور جب تک اس کی یہ قابلیت باقی رہتی ہے تو فیض الٰھی کی بارش سے ایمان، اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کے گل کھل اٹھتے ہیں ، لیکن اگر یہ صلاحیت و قابلیت غرور ، تکبر اور غفلت و حرص خصوصاً لمبی لمبی آرزؤںکی وجہ سے کھودے تو وہ بنجر زمین میں تبدیل ہوجاتا ہے،اور اس میں اخلاق حسنہ کے پھول اور عمل صالح کا شجرنھیں اگ پاتا۔

وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِی خَبُثَ لاَیَخْرُجُ إِلاَّ نَکِدًا ۔۔۔“[۶۷]

”اور پاکیزہ زمین کا سبزہ بھی اس کے پروردگار کے حکم سے خوب نکلتا ہے اور جو زمین خبیث ہوتی ہے اس کا سبزہ بھی خراب نکلتا ہے“۔

لمبی لمبی آرزوئیں جو مکڑی کے جالے اور ریشم کے کیڑے کی مانند انسان کے تمام باطن کو گھیر لیتی ہیں اور اس سے غور و فکر کی طاقت کو چھین لیتی ہیںاس وقت انسان حقائق کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے اور خدا و قیامت کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔

یقیناً انسان اپنی اس چند روزہ زندگی میں (لمبی لمبی ) آرزوں اور خیالات میں ڈوب جاتا ہے، اور ہر وقت آرزوں کے اس سراب میں اپنی امیدوں کو حاصل کرنے کے لئے، بے حساب مال و دولت اور دنیا بھر کے ساز و سامان اکٹھا کرنے میںھی اپنی پوری زندگی صرف کردیتا ہے اور اپنی تمام تر توجھات کو دنیاوی امورمیں مصروف کرلیتا ہے ،پھر ایسا انسان کس وقت خدا کو یاد کرپائے گا، اور نیک اعمال انجام دینے کے لئے وہ کس وقت فرصت پائے گا ، اور اپنی اصلاح اور گزشتہ گناھوں کی تلافی کے لئے کب وقت نکال پائے گا۔!!

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ایک بہت اھم روایت میں بیان فرماتے ہیں:

اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخافَ عَلَیْکُم خَصْلَتَانِ اِتِّباعُ الهَوَی وَطُولُ الامَلِ ،امَّا اِتِّباعُ الهَوَی ،فَیَصُدُّ عَنِ الحَقِّ، وَامَّا طُولُ الا مَلِ، فَیُنْسِی الآخِرَةَ “[۶۸]

”میں تمھارے بارے میں دو خصلتوں سے ڈرتا ہوں: ایک ہوائے نفس کی پیروی سے دوسرے لمبی لمبی آرزوں سے کیونکہ ہوائے نفس کی پیروی آدمی کو حق قبول کرنے سے روکتی ہے، اور لمبی لمبی آرزوئیں آخرت کی یاد کو بھلادیتی ہیں۔

ان خطرناک زنجیروں اور تباہ کنندہ بیڑیوں سے رھائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم گزشہ افراد کے حالات کو دیکھیں، دینی پروگراموں میں شرکت کریں، تاریخی کتابوں کی ورق گردانی کریںاور قرآن و اہل بیت علیھم السلام کی احادیث پر دقت کریں، نیز قبرستانوں میں جائیں قبروں کے درمیان سے گزریںاور قبر میں سوئے ہوئے مردوں کے حالات کے بارے میں غور و فکر کریں، یہ تمام چیزیں ان زنجیروں اور بیڑیوں سے نجات دے سکتی ہیں۔

جی ہاں! جس وقت انسان کے دل میں آرزوں کا سیلاب اٹھ رھا ہو اور بے جا خواھشات کا طوفان جان و دل میں ٹھاٹیں مار رھا ہو تو پھر انسان دنیا و آخرت کے حقیقی فائدوں، زندگی کے حقیقی منافع اور عقل و فکر جیسی بے بھا اشیاء کو کھو بیٹھتا ہے۔

ایک عجیب و غریب حکایت

”عطّار نیشاپوری“ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز ”حسن بصری“کسی جگہ چلے جارھے تھے، راستہ میں ”دجلہ“سے گزرنا تھا کشتی کے انتظار میںکھڑا تھا، اچانک دیکھا کہ ”حبیب اعجمی“ (جو بہت بڑے عابد و زاھد تھے) چلے آرھے ہیں، انھوں نے کھا: آپ یھاں کیوں کھڑے ہوئے ہیں؟ جواب دیا کہ میں کشتی کے انتظار میں ہوں، حبیب نے کھا : اے استاد میں نے آپ سے تعلیم حاصل کی اور اسی کے دوران آپ سے یہ بات بھی سیکھی ہے :

”لوگوں سے حسد اور لمبی لمبی آرزؤں کو دل سے نکال دو، یھاں تک کہ دنیا (کے حصول )کی آگ تمھارے اندر خاموش ہوجائے، اس وقت (خداوندعالم اس مقام پر پھنچادے گا کہ) پانی پر پیر رکھتے ہوئے اس سے گزر جاؤ گے“۔

یہ کہہ کر حبیب نے پانی پر چلنا شروع کر دیا اور دریا کے اس طرف پھنچ گئے؛ یہ دیکھتے ہی حسن بصری بے ہوش ہوگئے، اور جب ہوش آیا تو لوگوں نے ان سے پوچھا:

”تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ جواب دیا کہ اس شخص نے مجھ سے علم حاصل کیا اور آج مجھے ملامت کرتا ہوا پانی سے گزر گیا، اگر کل روز قیامت آواز قدرت آئے کہ پل صراط سے گزر جاؤ اور میں اسی طریقہ سے رہ جاؤں توپھر کیا ہوگا!!۔

اس کے بعد حبیب سے سوال کیا آپ اس عظیم مقام تک پھنچے ہو؟ تو انھوں نے جواب دیا: اے حسن! میں دل کو سفید کرتا ہوں اور تم کاغذ کو سیاہ کرتے ہو!! اس وقت حسن بصری نے کھا:

عِلْمِی یَنْفَعُ غَیْرِیْ وَ لم یَنْفَعْنِی ۔“

”میرا علم دوسروں کو فائدہ پھنچاتا ہے اور میں اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا“۔

وَخَدَعَتْنِی الدُّنِّیٰا بِغُرُورِهٰا ۔“

” اور دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے“

دنیا کی اچھائیوں اور برائیوں نیز اس کے مکر و فریب کو نفسانی حالات اور انسانی تفکرات کی ترازو میں تولنا چاہئے جو شخص اپنے نفس کا اسیر ہو اور اس پر بے ہودہ خیالات کا غلبہ ہو، نیز تکبر، غرور، طمع و لالچ اور بخل جیسی بری عادتوں میں غرق ہو ، اور خدا و قیامت سے غافل ہواسی طرح وہ انبیاء کی نبوت اور ائمہ علیھم السلام کی امامت سے بے خبر ہو ، دنیاوی زرق و برق مال و منال اورمقام و ریاست سے دھوکا کھائے ہوئے ہو اور یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ یھی چیزیں بنیادی اور اصل ہیں ان کے علاوہ سب چیزیں بے حقیقت ہیںاور اپنی پوری زندگی انھیں کے لئے خرچ کردے،ایسا انسان موت کے وقت جب ان مادی نعمتوں کے چھوڑنے کا وقت آتا ہے تو بےدار ہوتا ہے، تب اسے یہ سب چیزیںبے حقیقت نظر آتی ہیںاور جن چیزوں کے لئے دن رات محنت کرتا تھا اور اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتا تھا وہ سب ایک دھوکا دکھائی دینے لگتی ہےںاور اس وقت وہ ایمان اور عمل صالح کی دولت سے خالی ہاتھ نظرآتا ہے اور اس دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے ۔

تاریخ کے فرعون اور قارون پیدائش کے وقت سے فرعون و قارون نہیں تھے، بلکہ ان کے غلط تفکرات اور خواھش نفسانی نے ان کو فرعون اور قارون بنا دیاتھا۔

لیکن اگر انسان ہوائے نفس کی گندگی سے پاک ہو ، ناپاک خیالات سے دور ہو، اخلاقی برائیوں کا طوفان اس کے دل میں نہ اٹھتا ہواور خداورسول ، ائمہ(ع) اور قیامت کی معرفت رکھتا ہوتو وہ اس دنیا کو آخرت کے سنوارنے اور اعمال صالحہ بجالانے کا وسیلہ سمجھتا ہے اور اپنی تمام زندگی کوانھیں حقائق کوحاصل کرنے میں صرف کردیتا ہے۔

حضرات ائمہ معصومین اور انبیاء علیھم السلام بھی انسان تھے لیکن اس دنیا کے زرق و برق اور مادی امور میں گرفتار نہیں ہوئے اور امور دنیا سے دھوکا نہیں کھائے۔

وہ اہل بصیرت علماء جو دل کی آنکھ سے تمام چیزوں کی حقیقت کا مشاھدہ کرتے ہیں، ان حضرات نے لوگوں کو پند و نصیحت کی ہے تاکہ ان کے دل بیدار ہوجائیں ہمیں ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ۔

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: میں باغ فدک کے ایک حصے میں بیلچہ سے کام کررھا تھا (وہ فدک جو جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا سے مخصوص تھا) اچانک ایک عورت کو دیکھا، جو شریف اور بزرگوار دکھائی دے رھی تھی مجھے محسوس ہوا کہ یہ ”ثنّیہ بنت عامر جمحی“ھے، جو قریش کی عورتوں میں حسن و جمال سے مشھور تھی۔

مجھے دیکھ کر وہ کھنے لگی : کہ: اے ابن ابی طالب! کیا مجھ سے شادی کروگے؟ اگر آپ چاھیں تو میں تیار ہوں، اس صورت میں، میں تمھاری مددگار ثابت ہوں گی، اور اپنی معاشی زندگی کے لئے آپ کو اس طرح کا کام نہیں کرنا پڑے گا، میں زمین کے خزانوں سے با خبر کردوں گی اور ایسے مواقع فراھم کروں گی کہ دنیا میں بادشاہ بن جائیں گے۔

میں نے کھا: تو کون ہے جو میں تجھ سے شادی کروں؟

اس نے جواب دیا: میں دنیاھوں۔

میں نے کھا: جا، میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کر، جا میں نے تجھے تین بار طلاق دی جس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔[۶۹]

قارئین کرام ! جو شخص دنیاوی امور اور اس کے زرق و برق میں کھوگیا گویا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہلاک ہوگیا، اور اس نے دنیا سے صحیح فائدہ نہ اٹھاکر اپنی آخرت کو تباہ کرلیا لیکن اگر کوئی شخص اس دنیا سے بے رغبت ہو تو ایسا شخص آخرت کے ابدی فائدوں اور خوشنودی خدا کے خزانہ سے مالا مال ہوجاتا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”مَنْ زَهِدَ فِی الدُّنْیَا اثبَتَ اللهُ الحِکمَةَ فِی قَلْبِهِ ،وَانطَقَ بِهَا لِسانَهُ، وَ بَصَّرَهُ عُیوبَ الدُّنْیَا وَ داءَ ها وَ دَواءَ ها ،وَ اخرَجَهُ مِنَ الدُّنْیَا سَاِلماً اِلَی دارِ السَّلامِ “[۷۰]

”جو شخص دنیا سے اعراض کرے او ر اس سے بے رغبتی دکھائے، تو خداوندعالم اس کے دل میں حکمت کو قائم کردیتا ہے، اور اس کی زبان پر حکمت کے کلمات جاری کردیتا ہے، اور اس کے دل کی آنکھوں کو دنیاوی عیوب، بیماری اوراس سے شفا کی طرف کھول دیتا ہے، اور اس کو دنیا سے صحیح وسالم اور بے عیب نکال کر دار السلام کی طرف لے جاتا ہے“۔

جناب لقمان حکیم اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:

یا ُبنَیَّ! اِنَّ الدُّنْیاَ بَحْرٌ عَمیقٌ ،قَدْ غَرِقَ فِیهَا عَالَمٌ کَثیرٌ،فَلْتَکُنْ سَفِینَتُکَ فیهَا تَقْوَی اللّٰهِ ،وَحَشْوُهَا الإیمَانَ،وَ شِراعُهَا التَّوَکُّلَ ،وَ قَیِّمُهَاالعَقْلَ،وَدَلِیلُهَا العِلْمَ،وَ سُکّانُهَا الصَّبرَ “[۷۱]

” بیٹا! یہ دنیا ایک گھرا سمندر ہے، جس میں بہت سے غرق ہوچکے ہیں، لہٰذا اس میں تقویٰ الٰھی کی کشتی بناؤ، اور اس میں ایمان (وعمل صالح) کو رکھو، اس کے بادبان کو توکل خدا قرار دو اور عقل کو اس کا ناخدابناؤاور علم و معرفت کا اس میں چراغ جلاو اور صبر و استقامت کو اس کی سواری قرار دو“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

”کُن فِی الدُّنْیَا کَانَّکَ غَرِیبٌ اوْ کَانَّکَ عابِرٌ سَبیلٍ،وَعِدَّ نَفسَکَ فِی اصحَابِ القُبورِ “[۷۲]

”دنیا میں مسافر کی طرح رھو، یا اس دنیا میں گزرنے والے ہو، تم اپنے کو اہل قبور میں شمار کرو“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے تھے:

یَابْنَ جُنْدَبٍ! اِنْ احْبَبْتَ انْ تُجَاوِرَ الجَلیلِ فِی دَارِهِ، وَتَسْکُنَ الفِردَوْسَ فِی جَوَارِهِ فَلْتَهُنْ عَلَیْکَ الدُّنْیَا “[۷۳]

”اے جندب کے بیٹے ! اگر تم یہ چاہتے ہو کہ آخرت میں خداوند عالم کے پڑوسی قرار پاؤ اور اس کے نزدیک جنت الفردوس میں مسکن قرار دو، تو تم دنیا کو کوئی اھمیت نہ دو“۔

قرآن مجید کی آیات اور اہل بیت علیھم السلام کی روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اگر دنیا کو نیک کام کرنے اور اعمال صالحہ بجالانے کا وسیلہ قرار دیا گیا اور اس دنیا کے ذریعہ آخرت کو آباد کیا گیا تو یقینایہ دنیا ایک باارزش اور قیمتی چیز ہے، لیکن اگر اس دنیا کو ظلم و ستم اور گناہ ومعصیت کی جگہ قرار دیا گیا جس کی وجہ سے انسان کی آخرت تباہ ہوجاتی ہے تو یہ دنیا ناپسندیدہ اور بے ارزش ہے غرض یہ کہ دنیا کی خوبی اور برائی انسان کے عقائد وحالات کے لحاظ سے ہوتی ہیں، اگر انسان اس دنیا میں رہ ایمان، عمل صالح اور بلند اخلاق کو اپنا شعار بنائے تو واقعاً یہ دنیا انسان کے لئے سو فی صد مفید ہے، لیکن اگر اس دنیا میں ر ہ کر کفر و شرک ، گناہ و معصیت اور ناشکر ی و بداخلاقی میں گرفتار ہوجائے تو پھر یھی دنیا انسان کے لئے سو فی صد نقصان دہ ہے۔

قارئین کرام! انسان کے دنیا سے رابطہ رکھے بغیر دنیا کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے، لہٰذا دنیا کے بارے میں گفتگو اسی رابطہ کی جاسکتی ہے اور اس کی اچھائیوں اور برائیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔اس دنیا کے لگاؤ کی بنا پر انسانی فکر وشعور میں جو خلل واقع ہو تا ہے اسی وجہ سے اس کو مکر و فریب کا مرکز کھا جاتا ہے۔دنیا کی برائیاں ایسی ہیںکہ گویاوہ ایک مکان میں جمع ہوگئی ہیں جس کی کنجی خود اسی دنیا کی محبت ہے۔

اس دنیا میں آنا آسان ہے، لیکن اس سے صحیح و سالم چلے جانا بہت مشکل ہے،اگر آخرت مٹی کے برتن کی طرح ہوتی لیکن ہمیشہ رھنے والی ا ور یہ دنیا سونے کے برتن کی طرح ہوتی لیکن فانی توبھی دنیا کی نسبت آخرت کے بارے میںزیادہ رغبت ہونا چاہئے تھی اور جب معاملہ ہی الٹا ہو یعنی آخرت سونے کے برتن کی طرح اور باقی رھنے والی اور دنیا مٹی کے برتن کی طرح اور فانی تو پھر توآخرت کی طرف اور بھی زیادہ رغبت ہونا چائیے ۔

ابو حازم مکّی کہتے تھے: تمھیں دنیا سے بچنا چاہئے، کیونکہ مجھ تک یہ بات پھنچی ہے کہ روز قیامت بندہ کو حساب و کتاب کے لئے لایا جائے گا اور خدا کی طرف سے منادی ندا دے گا کہ یہ وہ بندہ ہے جس نے خدا کی سُبک کردہ چیزوں کو اھمیت دی ہے ا ور جس چیز کو خدا نے ناپسند فرمایا تھا اس نے اس کو دوست اور پسندیدہ قرار دیا ہے ۔

وَنَفْسی بِجِنٰایَتِهٰاوَمِطٰالی ۔“

”اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ہے۔“

نفس، ایک ایسی چیز ہے جس کی حقیقت کو سمجھنا یا بہت مشکل یا ناممکن ہے؛ لیکن اس کے آثار کی شناخت قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

اگر نفس کی تربیت و تذکیہ نہ کیا جائے تو نافرمانی اور ہواو ہوس کا شکار ہوجائے گا اور پھر اس کے ذریعہ کوئی بھی گناہ انجام دینا بہت آسان ہوجائے گا۔

”ھوا“ کے لغوی معنی :” راستہ کے انتخاب میں اوپر سے نیچے اور ہلاکت کی طرف گرنے۔“کے ہیں، جس کے معنی یہ ہوںگے کہ ”مادی یا معنوی امور سے بہت زیادہ محبت رکھنا“۔

”ھوس“ کے لغوی معنی: ”ٹوٹنا، فساد اور حیرت وپریشانی میں سرگراں ہونے“ کے ہیں۔

نفسیات کے لحاظ سے”ھوس“ کے معنی: ”اضطراب کی حالت میں کسی سلسلہ میں کوئی قدم اٹھانا جس کی بنا پر ہوس باز کو کسی طرح کا کوئی آرام نصیب نہ ہو، جیسے: حبّ، بغض، کینہ، خشم اور نفرت“۔

جو شخص ہر وقت اپنی ہوس کا شکار ہوتا ہے اسے ”بو الھوس“ اور ”دم دمی“ کھا جاتا ہے، بو الھوس اور بے قرار میں کمال کی طرف ایک قدم اٹھانے کی بھی طاقت نہیں ہوتی ہے۔

کمال و بلندی کی طرف حرکت کرنے کی شرط یہ ہے کہ انسان چین و سکون سے ہولیکن جب انسان ہوس کاشکار ہوجاتا ہے تو وہ پریشان رہتا ہے اوراس کی عقل کام نہیں کرتی۔

بچوں پر ہوس کی حکومت ہوتی ہے لہٰذا ان کی دیکھ بھال ضروری ہے تاکہ ان میں ہوس ہمیشہ کے لئے اپنی جگہ نہ بنالے اور وہ ہوس باز نہ بن جائیں۔

اسی طرح عورت پر بھی فطری لحاظ سے ہوس کا غلبہ ہوتا ہے، اور چھوٹی سے چھوٹی چیزپر نظر رکھتی ہے،اور (عورت کو )ھونا بھی ایسا ہی چاہئے، کیونکہ اس کی خلقت کی حکمت کی بنا پر گھر کے اندر کی ذمہ داری اسی پر ہوتی ہے، لہٰذا اس کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف متوجہ رھنا چاہئے، اور عورت حسد کی وجہ سے زیادہ پریشان ہوتی ہے،پس اس سرکش خواھش کوتعلیم و تربیت اور عقل کی اطاعت کے ذریعہ ختم کیا جانا چاہئے۔

عام طور پر جب ہوس کو آزاد کردیا جاتا ہے یعنی جب ہوس پر عقل کی لگام نہیں ہوتی تو یہ شھوت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور جب خود اپنی عقل یا دوسروں کی عقل کے ذریعہ اس پر کنٹرول نہ کیا جائے تو حد سے آگے بڑھ جاتی ہے یھاں تک کہ مرض او رجنون کی حد تک پھنچ جاتی ہے!!

بعض انسانوں میںاس مرض اور جنون کو حرص ، لالچ اور جاہ طلبی کی صورت میں اچھے طریقہ سے دیکھا جاسکتا ہے، آپ حضرات دیکھےں کہ وہ لوگ کس طریقہ سے اندھے او رگونگے بن جاتے ہیں اور اپنے مقصد تک پھنچنے کے لئے کسی بھی طرح کے ظلم و ستم اوربرائی سے باز نہیں آتے، یھاں تک کہ اسلام کے مسلّم اصول کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں،اور یھی نہیں بلکہ وطن فروش اور دشمن کے غلام بننا پسند کرلیتے ہیں۔

اس طرح کے لوگوں سے دوستی اور عھدو پیمان کی کوئی توقع نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ ان کا معشوق ایک ہوتا ہے جس پر تمام چیزوں یھاں تک کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی قربان کردیتے ہیں!!

ایسے لوگوں کے نزدیک وھی دوست اور مقرب ہوتا ہے جو ان کے برے مقاصد تک پھنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے ، اور یہ لوگ دلی طور پر متقی افراد سے بیزار ہوتے ہیں۔

قارئین کرام! جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ہوس؛ شھوت میں اور شھوت؛ جنون میں بدل جاتی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شھوت کے مقابلہ میں اپنی عقل کھوبیٹھتے ہیں، دیوانہ وھی ہوتا ہے جو اپنی عقل سے کام نھیںلے سکتا ہے، اور مریض وھی ہوتا ہے جو اپنے مرض کے مقابلہ میں مغلوب ہوجاتا ہے۔

جاہ طلبی کی خواھش، دوسری شھوتوں سے زیادہ شدید ہوتی ہے، دنیا نے اس شھوت کی بنا پر بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے، اس سلسلہ میں تاریخ کے خونین واقعات شاھد ہیں، باپ نے اپنی اولاد، بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کو قتل کرڈالا ہے، اور اولاد نے بھی اپنے ماں باپ کے خون سے ہاتھ لال کئے ہیں!!

البتہ نفس کی پیروی کی ممانعت اور خواھش نفسانی کی پیروی سے رکاوٹ اسی صورت میں ہے جب انسان کا نفس بری چیزوں کی طرف رغبت رکھتا ہو اور حیوانی خواھشات لئے ہوئے ہو، نہ یہ کہ تمام خواھشات نفسانی کو پامال کردیا جائے، اور اسی غلط فھمی میں خودکشی کرلے، جیسا کہ بعض ارباب سلوک نے یھی سمجھتے ہوئے اس پر عمل بھی کیا ہے۔

علماء اور بزرگوں نے نفس اور نفسانیت کی جو اس قدر مذمت کی ہے اور خواھشات نفسانی کی پیروی سے ڈرایا ہے، ان کا مطلب بری خواھشات سے پرھیز کرنا ہے، اور چونکہ عام طور پر خواھشات نفسانی برائیوں کے سلسلہ میں ہوتی ہیں اسی وجہ سے مطلق طو رپر نفس کی مذمت کی ہے، جیسا کہ مثال مشھور ہے کہ ”بہ مرگ گرفتہ اند کہ بہ تب راضی شویم۔“(موت سے نجات ملنے پر بخار پر راضی ہوں) اسی وجہ سے اپنی تقریروں اور وعظ و نصیحت میں امید سے زیادہ ڈرایا ہے، ورنہ تو ہماری خواھشات اور رغبت تو تمام چیزوں میں انفرادی اور اجتماعی طور پر پائی جاتی ہے، یہ خواھشات انسان کی فطرت میں مختلف شکلوں میں پائی جاتی ہے،اس فطرت کو حکمت الٰھی نے ہمارے وجود میں ہمارے محفوظ رھنے اور کمال کی منزلوں کو طے کرنے لئے ودیعت کیا ہے۔

لہٰذا اس خودی کو خدا اور قیامت پر ایمان کے ذریعہ، انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی اطاعت اور احکامات شرعیہ پر عمل کرنے کے ذریعہ نیز حقوق الناس کی رعایت کے ذریعہ قابو میں کیا جاسکتا ہے،البتہ خودی خود خواھی کی منزل تک نہ پھنچائے، بلکہ ہم خواھشات کی پیروی اس حد اعتدال سے کریں کہ شھوت اور جنون کی منزل تک نہ پھنچ جائےں، اور خود غرض اور صرف اپنے ہی فائدے کی فکر میںنہ لگے رھےں۔

قارئین کرام! یہ خود غرضی جیسی بری صفت جس میں بھی پائی جاتی ہے تو پھلے مرحلہ میںخود اسی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور اس کے بعد معاشرہ اور سماج کے لئے ضرر رساں واقع ہوتی ہے، مثال کے طور پر غصہ خودخواھی کے لئے ایک لازمہ ہے لیکن خشم و غصہ کو صرف اپنی جان و مال اور عزت و ناموس اورحق و حقیقت نیز وطن کے دفاع کے لئے بروئے کار لائے، نہ یہ کہ کمزور اور اپنے ماتحت لوگوں پر برس بڑے، بہت زیادہ غصہ کرنا حیوانیت کی نشانی ہے، اور غصہ نہ کرنا بے پروائی اور بے غیرتی کی نشانی ہے۔ (لہٰذا اس سلسلہ میں انسان سوچ سمجھ کر قدم بڑھائے)

آزادی ، زندگی کا ایک بہترین پھل اور کمال ارادہ کی شرط ہے، کیونکہ اگر انسان آزاد ہو تو پھر وہ دوسروں کی مرضی پر نہیں چلے گا، لیکن توجہ رھے کہ یہ آزدای جو فطری چیز ہے اپنی حد اعتدال میں باقی رھے اور اس پر عقل و شعور کی حکومت ہو، کیونکہ آزادی کی افراط انسان کو طغیان اور سرکشی کی منزلوں تک پھنچادیتی ہے اور آزادی میں تفریط (کمی) ہونا اپنے کو ظلم و ستم کے حوالہ کرنا ہے۔

حبّ مال کی خواھش اچھی ہے لیکن جب تک بخل، حقوق الناس کی پامالی ،جوا، سٹہ، چوری اور دھوکا دھڑی وغیرہ کی منزل تک نہ پھنچے۔

دوسروں سے تعلقات برقرار کرنانیک کام ہے لیکن اس میں بھی میانہ روی اختیار کی جائے، ایسا نہ ہو کہ خود اپنے اوپر یا اپنے گھر والوں کے اوپر ظلم و ستم کا باعث بن جائے۔

حسن معاشرت، اور دوسروں کو خوشحال کرنا اچھا کام ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ اس ہنسی مذاق سے کسی کی توھین ہوجائے۔ دوستوں کے اچھے صفات کا ذکر کرناان کو شوق دلانا صحیح ہے لیکن یہ کام چاپلوسی کی منزل تک نہ پھنچ جائے۔[۷۴]

قارئین کرام! گزشتہ مطالب کے پیش نظر اگر نفس کی تربیت نہ ہو اور اخلاق اسلامی سے آراستہ نہ ہو تو پھر اس کے نقصانات اور خیانت کو اچھی طرح سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اوصاف نفس

قرآن مجید میں نفس کے چند صفات ذکر کئے گئے ہیں، جو انسان میں واقعیات اور دینی و اخلاقی حقائق سے بے توجھی کے نتیجہ میں ظاھر ہوتے ہیں:

۱ ۔ نفس امّارہ۔ ۲ ۔ نفس دسّائی۔ ۳ ۔ نفس سفھی ۔ ۴ ۔ نفس تسویلی۔ ۵ ۔ نفس رھینہ ای۔ ۶ ۔ نفس ہوائی۔ ۷ ۔ نفس حسرتی۔

ان تمام اوصاف کو بیان کرنے والی آیات حسب ذیل ہیں:

”۔۔۔إِنَّ النَّفْسَ لَامَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی ۔۔۔“[۷۵]

”نفس بھر حال برائیوں کا حکم دینے والا ہے“۔

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسَّا هَا ۔“[۷۶]

” اور وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا ہے“۔

وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِیمَ إِلاَّ مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ ۔۔۔“[۷۷]

”اور کون ہے جو ملت ابراھیم سے اعراض کرے مگر یہ کہ اپنے ہی کو بے وقوف بنائے“۔

”۔۔۔قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ انفُسُکُم ۔۔۔“[۷۸]

”(یعقوب نے)کھا کہ یہ بات صرف تمھارے دل نے گھڑی ہے “۔

”کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَهِینَةٌ ۔ “[۷۹]

”ھر نفس اپنے اعمال میںگرفتار ہے“۔

وَا مَا مَنْ خَافَ مَقامَ رَبِّهِ وِ نَهَیٰ النَّفْسَ عَنِ الهَوَیٰ فَاِنَّ الجَنَّةَ هِیَ المَاوَیٰ ۔“[۸۰]

”اور جس نے رب کی بارگاہ میںحاضری کا خوف پیداکیا ہے اور اپنے نفس کو خواھشات سے روکا ہے تو جنت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے“۔

انْ تَقُولَ نَفْسٌ یَاحَسْرَتَا عَلَی مَا فَرَّطْتُ فِی جَنْبِ اللهِ ۔“[۸۱]

”پھر تم میں سے کوئی نفس یہ کھنے لگے گا کہ ہائے افسوس میں نے خدا کے حق میں بڑی کوتاھی کی ہے“۔

شیخ بھائی اپنی عظیم الشان کتاب ”اربعین“ میں تحریر فرماتے ہیں:روایات کی روشنی میں ”نفس“ سے مراد حیوانی طاقت جیسے شھوت ،غیظ و غضب اور غصہ ہے۔

غزالی اپنی کتاب ”مدارج القدس“ میں ایک جملہ میں اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

یُطلق النفسُ علی الجامعِ للصِّفاتِ المَذْمومةِ المُضَادَّةِ لِلْقِوَی العَقْلِیَّةِ ۔“

”نفس ان تمام برے صفات پر اطلاق ہوتا ہے جو عقل کے مخالف ہو“۔

حکمائے الٰھی کہتے ہیں:”جھاد بالنفس“ کو جھاد بالنفس اس لئے کھا جاتا ہے کہ اس نفس کا بدن سے تعلق ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس نفس سے درندگی اور شیطانی صفات پیدا ہوتے ہیں، ورنہ تو ان چیزوں کے علاوہ نفس میں عقل اورفرشتوں کے صفات پائے جاتے ہیں، اور اپنی خلقت کے اعتبارسے نفس کے ذریعہ خدا کی عبادت کی جاتی ہے، اور اسی کے ذریعہ بھشت کو حاصل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا نفس کے برے صفات سے جھاد کیا جائے تاکہ انسان کو سکون حاصل ہوسکے اور وہ حیوانوں کے شر سے محفوظ رہ سکے، ورنہ تو اس گھر میں ہمیشہ ایک طوفان اور جنگ و جدل برپا رہتاھے!

ایران کے مشھورشاعر مرحوم سعدی کہتے ہیں:ایک شخص سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، جس میں آنحضرت نے ارشادفرمایا تھا کہ:

اعدَی عَدُوِّکَ نَفْسُکَ الَّتِی بَیْنَ جَنْبَیْکَ “[۸۲]

”تیرا سب سے بڑا دشمن (خود تیرا )نفس ہے، جو تیرے ہی پھلو میں موجود ہے“۔

چنانچہ اس نے جواب دیا: کیونکہ اگر کسی بھی دشمن کے ساتھ احسان کرو گے وہ تمھارا دوست بن جائے گا، سوائے نفس کے کیونکہ جتنا اس کے ساتھ جتنا احسان کرو گے جس قدر اس کی پیروی کرو گے اور اس کا کھنا مانوگے تو وہ اتنی ہی مخالفت اور دشمنی زیادہ کرے گا۔!!

قارئین کرام ! یہ ایک حقیقت ہے کہ ہوائے نفس کی پیروی کرنے والے (چونکہ عقل سے کام نہیں لیتے، لہٰذا) پاگل اور دیوانے ہوجاتے ہیں۔

جناب بھلول سے سوال کیا گیا: شھر میں دیوانوں (اور پاگلوں) کی تعداد کتنی ہوگی؟ تو انھوں نے جواب دیا:

ان کا شمار کرنا مشکل ہے، عقلاء کے بارے میں پوچھو تومیں بتا سکتا ہوں۔

اصلاح نفس کے سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام کا نظریہ

حضرت علی علیہ السلام جو ہر چیزکے بارے میں مکمل بصیرت رکھتے تھے اور ان کے تمام رموز سے آگاہ تھے، آپ نے اصلاح نفس کے لئے چند چیزوں کی رھنمائی کی ہے، جن کوایک عظیم الشان شیعہ عالم دین علامہ آمدی نے اپنی گرانقدر کتاب ”غرر الحکم“ میں بیان کیا ہے:

اَذِا رَغِبتَ فِی صَلاحٍ فَعَلَیْکَ بِالاِقْتِصادِ وَ القُنوعِ وَالتَّقَلُّلِ “[۸۳]

”جس وقت تم اپنے نفس کی اصلاح کرنا چاھو تو میانہ روی اور قناعت کو اپنا شعار بناؤ، اور تھوڑی سی دنیا پر اکتفاء کرو“۔

صَلاحُ النَّفْسِ مُجاهَدَةُ الهَوَی “[۸۴]

”نفس کی اصلاح کے لئے ہوائے نفس سے جھاد کرناھوگا جس کے سبب نفس پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔

سَبَبُ صَلاحِ النَّفْسِ العُزُوفُ عَنِ الدُّنْیَا “[۸۵]

”اصلاح نفس کا طریقہ خود کو دنیا سے دور رکھنا ہے“۔

دَواءُ النَّفْسِ الصَّوُم عَنِ الهَوَی “[۸۶]

”نفس کا علاج اس کے بے حساب و کتاب خواھشات سے اجنتاب کیا جانا ہے“۔

سَبَبُ صَلاحِ النَّفْسِ الوَرَعُ “[۸۷]

”گناھوں سے دوری، اصلاح نفس کا سبب ہے“۔

اِنَّ تَقْوَی اللّٰهِ دَواءُ دَاءِ قُلوبِکُم وَ طَهُورِ دَنَسِ انْفُسِکُم “[۸۸]

”تقویٰ الٰھی تمھارے دلوں کی بیماریوں کی دوا اور نفسانی گندگی کو پاک کرنے والا ہے“۔

آفَةُ النَّفْسِ الوَلَهُ بِالدُّنْیَا “[۸۹]

”دنیا کا عشق وبائے جان ہے“۔

رَاسُ الآفَاتِ الوَلَهُ بِاللَّذَّاتِ [۹۰]

”ناجائز لذات کا شیدائی ہونا تمام مفاسد کی جڑ(اور بنیاد) ہے“۔

طُوبَی لِمَنْ عَصَی فِرْعَوْنَ هَوَاهُ وَاطَاعَ مُوْسیٰ عَقْلِهِ “۔

”خوشا نصیب اس شخص کا جو اپنے نفس کے فرعون کی مخالفت کرے اور اپنی عقل کے موسیٰ کی اطاعت کرے“۔

لیکن ان روحانی اور ملکوتی فقرات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر شخص کے اندر (یعنی اس عالم صغیر میں) ایک موسی اور ایک فرعون ہوتا ہے، لہٰذا اگر حضرت موسیٰ کے کمال کو اختیار کرنا چاھے تو اپنے نفس کے فرعون کی مخالفت کرنا ہوگی، ورنہ تو پھر فرعون کی طرح دریائے ہلاکت میں غرق ہونا ہوگا، لیکن اگر اپنی عقل کے موسیٰ کی اطاعت کی توانسان پھر جناب موسیٰ کی طرح پروردگار کی رحمت خاص کا حق دار اور خاص مومنین میں شمار ہوگا۔

ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

سَلاَمٌ عَلَی مُوسَی وَهَارُونَ ۔“[۹۱]

”سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر“۔

إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِینَ ۔“[۹۲]

”بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میںسے تھے“۔

جو شخص اپنی عقل کے موسیٰ کی پیروی کرے تو پھرآسمانوںمیںجناب موسیٰ کا ہم پرواز ہوجائے گا، لہٰذا خوشا

نصیب ہے وہ شخص جو اپنے نفس کے فرعون کی مخالفت اور اپنی عقل کے موسیٰ کی اطاعت کرے۔

طَهِّرُوا انْفُسَکُم مِن دَنَسِ الشَّهَواتِ تُدرِکُوا رَفِیعَ الدَّرَجاتِ “[۹۳]

”اپنے نفس کو حرام شھوتوں اور کثافتوں سے پاک کرو، تاکہ معنوی بلند درجات تک پھنچ جاؤ“۔

جی ہاں، اگر کوئی شخص بلند مقامات اور معنوی درجات حاصل کرنا چاھے، اور اس دنیا کے تنگ پنجرے سے حکمت و معرفت کے باغوںکی طرف پرواز کرنا چاھے، تو پھر نفس کو گندگی، کثافتوں اور حیوانی شھوات سے پاک کرنا پڑے گا، اور اپنی روح کو ظاھری لذت کے شوق سے طیب و طاھر کرنا پڑے گا تاکہ شھوات سے خالی ہوکر فرشتوں کے صفات سے آراستہ ہوجائے بلکہ فرشتوں سے بھی بلند ہوجائے۔[۹۴]

حکمائے الٰھی فرماتے ہیں: انسان درج ذیل چار طریقوں سے اپنے نفس کا تذکیہ کرسکتے ہیں: ۱ ۔ بے ادب لوگوں سے ادب سیکھے۔ ۲ ۔ اہل ادب حضرات کی صحبت اور ہم نشینی اختیار کرے۔ ۳ ۔ اپنے دوستوں سے اپنے عیوب کے بارے میں سوال کرے۔ ۴ ۔اپنے بارے میں دشمنوں سے سنے ہوئے عیوب کو دور کرے۔[۹۵]

شرح و مطالی(ٹال مٹول)

توبہ اور برائیوں کی اصلاح،قیامت کے لئے زاد راہ کی فراھمی، اعمال صالحہ اور کار خیر کی انجام دھی، نیز گناہ اور معصیت سے دوری، اور حکمت و معرفت کے حصول کے لئے برسوںسے ”آج کل“ کررھا ہوں لیکن اپنے وعدہ پر وفادار نہیں ہوں، اور آج کل کے اس وعدہ نے مجھے دھوکا دیا ہے اور نیک کردار اپنانے سے روک دیا ہے۔

لہٰذا تجھ سے درخواست ہے کہ مجھے مستحکم ارادہ اور وفائے عھد کی قدرت اور آج کل کھنے سے نجات عطا فرما، کیونکہ یہ عدم استقلالی آخر کار مجھے سخت خسارے اور نقصان میں مبتلا کردے گی، اور تیری رحمت اور بخشش سے محروم کردے گی، نیز مجھے (نیک) بندوں کی صف سے خارج اور نافرمانوں اور گروہ شیطان میں شامل کردے گی۔

” یٰاسَیَّدِي،فَاسْالُکَ بِعِزَّتِکَ انْ لاٰ یَحْجُبَ عَنْکَ دُعٰائِي سُوٓءُ عَمَلِي و َفِعٰالِي،

” میرے آقا و مولا!تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاوں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں۔“

اے میرے مھربان خدا! میرے برے اعمال اور میرے افعال کی برائی کو اپنی بارگاہ میں دعا قبول نہ ہونے اور باب استجابت کے بند ہونے کا سبب نہ قرار دے۔

باب استجابت کے بند ہونے کی وجہ

گناہ و معصیت ایک ایسا حجاب ہے کہ اگر انسان توبہ نہ کرے تو خدا کی بے انتھارحمت، عظیم لطف و کرم اور قبول دعا سے محروم ہوجاتا ہے۔ برے اعمال کی برائی کے سبب ہے کہ انسان دعا کی حالت کھوبیٹھتا ہے، اور خدائے مھربان کی بارگاہ میں دعا کرنے سے محروم ہوجاتا ہے، اور اگر دعا کی توفیق ہو بھی جائے تو وہ باب اجابت سے نہیں ٹکراتی ہے ۔

باب اجابت کا بند ہوجانا، اور دعاکرنے والے کی دعا قبول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے مولاکی بارگاہ میںبے وقعت اور مردود ہے۔

ایک زاھد و عارف سے نقل ہوا ہے: میرے لئے میں دعا کرنے سے محروم ہوجانا تو میرے لئے دعا قبول ہونے سے محروم کئے جانے سے سخت ہے۔

دعا کے اس حصے میں دعا کرنے والا شخص خدا وندعالم کی بارگاہ میں اس کی عزت کے توسل سے اسی سے درخواست کرتا ہے :

”اے میرے مولا و آقا ! میرے برے اعمال اور گناھوں کو دعا قبول ہونے میں مانع نہ ہونے دے، تاکہ اعمال کی برائی مجھے دعا کرنے سے نہ روک پائے، اور میں تیرے در پر سوالی بنا بیٹھا رھوں اور تو بھی اپنی رحمت سے میری دعا کو قبول فرما۔

ایک روایت میںمنقول ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے چند اصحاب کے ساتھ ایک راستہ سے گزررھے تھے راستہ میں ایک جوان کو دیکھا کہ دیوار پر سر رکھے اپنی دعا قبول ہونے کے لئے خدا کو اس کی عزت کی قسم دے رھا ہے، تو آپ نے اس کو دیکھ کر فرمایا: ”اس قسم کے ذریعہ اس جوان کی دعا ضرور قبول ہوگی“۔

جی ہاں! خدائے مھربان و قادرموثر چیزوں کے اثرکو ختم کرنے، اور بند راستوں کو اپنے بندے کے لئے کھول دےنے کی قدرت رکھتا ہے۔ خدا وہ ہے جو جناب ابراھیم کو بچانے کے لئے آگ سے جلانے کی طاقت چھین لیتا ہے، اسی طرح جناب اسماعیل کو بچانے کے لئے تیز چاقو کے اثر کو ختم کردیتا ہے، وھی خدادعا قبول نہ ہونے میں گناہ کے اثر کو ختم کرسکتا ہے، اور اپنے بندے کی حاجتوں کو پورا کرنے اور اس کو منزل مقصود تک پھنچانے میں مدد کرسکتا ہے۔

وَلاٰ تَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنْ سِرِّي

” اور میں اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاوں ۔“

پردہ پوشی

قارئین کرام ! ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ خداوندعالم کا علم ہر خشک و تر اور ہر ظاھر و باطن اور ہر ذرہ ذرہ پر احاطہ کئے ہوئے ہے، اس کے یھاں بے توجھی اور غفلت نہیں ہوتی ہے۔ وہ ماضی اور آئندہ کے تمام حوادثات اور حالات سے باخبر ہے، اس کے سامنے ماضی اور حال سبھی حاضر ہیں۔ اس کے سامنے لوگوں کی خلوت بھی ظاھر ہے، اور چاھے کھیں بھی چھپ کر کوئی کام کریں تو خدااس کو دیکھتا ہے۔ اگر وہ ہمارے گناھوں کو ماں باپ اوربیوی بچوں کے سامنے ظاھر کردے تو ہماری ساری آبرو خاک میںمل جائے گی،اگر یہ سب لوگ ہمارے مخفی گناھوں سے آگاہ ہوجائیں تو وہ اپنے پاس سے دور بھگادیں گے، اور ہماری کسی بات کا جواب دینے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔

دعاکرنے والا دعا کے اس حصہ میں اپنے گریہ و زاری اور خواھش و درخواست کے ذریعہ اپنی آبرو کی حفاظت چاہتا ہے اور ستّار العیوب سے درخواست کرتا ہے کہ اس کو مخفی گناھوں کی بنا پر جس کو فقط وھی جانتا ہے؛ رسوا اور ذلیل نہ کرے۔

جو شخص ان عظیم فقروں کے ذریعہ بارگاہ الٰھی میں راز و نیازکررھا ہو اس کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ خداوندعالم اپنے گناھگاربندے کو توبہ کرنے کے بعد ذلیل اور رسوا نہیں کرتا، اس کا ستّار العیوب ہونا اس حدتک ہے کہ بندوں کے حساب و کتاب کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ خداوندعالم خود ان کا حساب و کتاب کرے گا، یھاں تک کہ اپنے محبوب پیغمبر جو اپنی امت پر بہت زیادہ روف اور مھربان ہیں، ان کے سامنے بھی بندوں کے گناھوں کو ظاھر نہیں کیا جائے گا تاکہ بندہ، رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سامنے شرمندہ ہو۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام دعائے ابو حمزہ ثمالی میں خداوندعالم کے بعض صفات کا اس طرح تذکرہ فرماتے ہیں:

سَتَّارُ الْعُیُوْبْ، غَفَّارُ الذُّنُوبْ، تَسْتُرُ الذَّنْبَ بِکَرَمِکَ وَ تُوخِّرُ الْعُقُوبَةَ بِحِلْمِکَ “۔

”برائیوں کو چھپانے والے، گناھوں کو بخشنے والے، مخفی چیزوں کو بھی جاننے والے، تو گناھوں کو اپنے کرم سے چھپاتا ہے اور اس کی سزا کو بردباری کی بنا پر تاخیر میں ڈال دیتا ہے“۔

خدا کے بعض بندے ، حالانکہ محدود وجود رکھتے ہیں ، دوسروں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی اس قدر طاقت رکھتے ہیں کہ ان کے حیرت انگیز واقعات سن کر انسان تعجب کرنے لگتا ہے، لیکن وہ خدا جس کا وجود بے نھایت اور لامحدود ہے تو پھر اس کی پردہ پوشی کا کیا عالم ہوگا؟!

جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے جناب یوسف سے اپنے بھائیوں کے ظلم و ستم کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے صرف یہ جواب سنا:

عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۔۔۔“[۹۶]

”اللہ نے گذشتہ معاملات کو معاف کردیاھے“۔

پردہ پوشی کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ

ابو عبد الرحمن،حاتم بن یوسف اصمّ جو خراسان کے بزرگواروں اور کم نظیرصاحب علم و تقویٰ افراد میں سے تھے؛ ان کے بارے میں لکھا ہے:

ان کی شھرت ”اصم“[۹۷] کے نام سے اس وجہ سے تھی کہ ایک عورت کوئی مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ان کے پاس آئی ،گفتگو کے دوران اس عورت کی ریح خارج ہوگئی، اس وقت وہ عورت بہت شرمندہ اور خجالت زدہ ہوگئی، حاتم نے اپنے کان کی طرف اشارہ کیا یعنی میں کم سنتا ہوں ذرا زور سے بولو، وہ عورت بہت خوش ہوئی اور اس وجہ سے خدا کا شکر ادا کرنے لگی کہ ایک عالم دین کے سامنے اس کی عزت و آبرو بچ گئی، اس واقعہ کے بعد جس سے کوئی بھی باخبر نہیں تھا ان کا نام حاتم اصم مشھور ہوگیا، اور جب تک وہ عورت زندہ رھی انھوں نے اسی طرح (یعنی بھروں کی طرح) زندگی بسر کی ، جب وہ اس دنیا سے چلے گئے توکسی بزرگوار نے ان کو خواب میں دیکھا ان سے سوال کیا:

مَا فَعَلَ اللّٰهُ بِکَ

” خدا نے تمھارے ساتھ کیسے سلوک کیا“۔

تو انھوں نے کھا: چونکہ میں نے ایک سنی ہوئی بات کو اَن سنی کردی تھی، لہٰذا اس نے میرے (برے) اعمال اور تمام سنی ہوئی باتوں پر قلم عفو پھیر دیا ہے۔

وَلاٰ تُعٰاجِلْني بِالْعُقُوبَةِ عَلٰی مٰا عَمِلْتُهُ فيخَلَوٰاتي مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَاسٰائَتِي،وَدَوٰامِ تَفْریطيوَجَهٰالَتِي،وَکَثْرَةِ شَهَوٰاتيوَغَفْلَتِي ۔“

”اور میں نے تنھا ئیوں میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی سزا فی الفور نہ ملنے پائے، چاھے وہ غلطیاں بد عملی کی شکل میں ہو ں یا بے ادبی کی شکل میں،مسلسل کوتاھی ہو یا جھالت یا کثرت خواھشات و غفلت“۔

اسلامی تعلیمات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اگرخداوند عالم سزا اور عقوبت میںجلدی کرتا تو زمین پر چلنے والا کوئی بھی انسان یا حیوان باقی نہ رہتا۔ لیکن خداوندعالم نے اپنی رحمت کی بنا پر اپنے بندوں کے عذاب اور سزا میں جلدی نہیں کی ہے، اور اُس نے بندوں کو یہ فرصت اس لئے عطا کی ہے کہ گناھگار اس فرصت کو غنیمت جان کر خدا کے ساتھ اپنا رابطہ صحیح کرلیں اور اپنے گناھوںسے سچی توبہ کریں تاکہ ان کے گناھوں کے آثار ختم ہوجائیں اور اپنی گزشتہ برائیوں کی اصلاح کرلےں، اور ترک شدہ واجبات کی ادائیگی کریں۔

بندوں کی سزا میں وہ اس لئے جلدی نہیں کرتا کہ اگر اس کی نسل سے کوئی مومن پیدا ہونے والا ہوتا ہے تو یہ سزا اس کی پیدائش میں مانع نہ ہوجائے۔

یا بچوں کے گریہ و زاری ،یا مومنین کی خلوص کے ساتھ دعاوں، یا پھر عابدوں اور زاھدوں کاراتوں میں رونے کی بنا پر عذاب اور سزا میں تاخیر ہوتی ہے؛ یا توبہ کے ذریعہ وہ عذاب ٹل جاتا ہے، اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو پھر خدا کو عذاب کرنے میںجلدی کرنے سے کوئی مانع نہیں ہوسکتا۔

بھر حال اس کے نظام کے تحت گناھگار کی بے توجھی کی بنا پر عذاب میں جلدی کرنا پایاجاتا ہے لہٰذا اس عذاب کی عجلت کو دعا گریہ و زاری اور توبہ کے ذریعہ سے روکا جاسکتا ہے، جیسا کہ قوم یونس نے عذاب کے وقت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ اور گریہ وزاری کی جس کی وجہ سے عذاب ٹل گیا۔

قارئین کرام ! اس اھم نکتہ کی طرف بھی توجہ فرمائیںکہ کبھی کبھی اس دنیا میں عذاب الٰھی ، قحط سالی، آسمانی بلائيں ، مھنگائی، ایک دوسرے پر عدم اعتماد اور آخر کار انسان کے باطن کےمسخ ہونے کی صورت میں ظاھر ہوتا ہے۔

باطن کے مسخ ہونے کی نشانی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے منقول روایت میں بیان ہوئی جوآنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب فرماتے ہوئے بیان فرمائی ہے:

یَاعَلِیُّ اِنَّ القَوْمَ سَیُفْتَنُونَ (بَعْدِی) بِامْوَالِهِمْ،وَ یَمُنُّونَ بِدِینِهِمْ عَلَی رَبِّهِمْ،وَ یَتَمَنَّوْنَ رَحْمَتَهُ،وَ یَامَنُونَ سَطْوَتَهُ،وَ یَسْتَحِلُّونَ حَرَامَهُ بِالشُّبُهَاتِ الکَاذِبَةِ وَالْاهْوَاءِ السَّاهِیَةِ،فَیَسْتَحِلُّونَ الخَمْرَ بِالنَّبِیذِ وَ السُّحْتَ بِالهَدِیَّةِ،وَالرِّبَا بِالْبَیْعِ “[۹۸]

”یا علی!میری امت کا میرے بعد مال و دولت کے ذریعہ امتحان لیا جائے گا، یہ لوگ اپنے دین کو خدا کے اوپر ایک احسان سمجھتے ہیں، اور خدا کی رحمت کے متمنی رہتے ہیں، اور اپنے کو عذاب الٰھی سے محفوظ گردانتے ہیں، او راپنے جھوٹے اعتراضات اور فراموشی پیدا کرنےوالے خواھشات نفسانی سے اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں، یہ لوگ شراب کو آب انگور یا آب خرما کہہ کر پیتے ہیں، اور مالِ حرام کو ہدیہ اور تحفہ کا نام دے کر حلال جانتے ہیں اور سود کو خرید و فروخت کا نام دے کر حلال سمجھتے ہیں“۔

واقعاً اگر انسان کا باطن گناھوں اور شیطانی وسوسوں کے ذریعہ مسخ نہ ہوتا تو پھر کس طرح خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال گردانتے، اور شراب، مال حرام اور سود کو اپنے لئے حلال سمجھتے؟ یہ تمام چیزیں انسان کے باطن کےمسخ ہونے کی نشانی ہےں کیونکہ باطن کا مسخ ہونا درحقیقت عذاب الٰھی کی ایک قسم ہے؛

جیسا کہ ظاھری طور پر بنی اسرائیل کی نافرمان قوم کے لئے ایسا ہوا بھی ہے اور اس قوم کے گناھگار لوگ خدا کے عذاب آور خطاب سے مخاطب ہوئے ہیں۔

ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

”۔۔۔( کُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِینَ ) ۔“[۹۹]

”(تو ہم نے حکم دیدیاکہ)اب ذلت کے ساتھ بندر بن جائیں“۔

امام علیہ السلام مذکورہ جملوںاور ”مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَاسٰائَتِي“ کے بعد چار چیزوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:

۱ ۔ تفریط۔

۲ ۔ جھل۔

۳ ۔ شھوت۔

۴ ۔ غفلت۔

تفریط :

یھاں پر”تفریط “ سے مراد خداوندعالم کی اطاعت و بندگی اور مخلوق خدا کی خدمت میں کوتاھی کرنا ہے۔

اسلامی تعلیمات میںتفریط سے پرھیز پر زور دیا گیاھے، اور تفریط کو خطرناک نقصان کا باعث اور فیوضات الٰھی سے محرومی کا سبب قرار دیا ہے۔

اس سلسلہ میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام بہت سی اھم روایات بیان فرماتے ہیں:

التَفْرِیطُ مُصِیبَةُ القَادِرِ “[۱۰۰]

”کوتاھی کرنا ،ایک بہت بڑی مصیبت اور بلاء ہے“۔

ثَمَرَةُ التَّفْرِیطِ النَّدامَةُ ،وَ ثَمَرَةُ الحَزْمِ السَّلَامَةُ “[۱۰۱]

”کوتاھی کرنے کا نتیجہ : پشیمانی، اور دور اندیشی کا نتیجہ: سلامتی ہے“۔

الجَنَّةُ غَایَةُ السَّابِقینَ ،وَالنَّارُ غَایَةُ المُفَرِّطِینَ “[۱۰۲]

”بھشت ، سابقین کا سرانجام ہے اور جھنم کوتاھی کرنے والوں کا انجام کار ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَنْ فَرَّطَ تَوَرَّطَ “[۱۰۳]

”کوتاھی کرنے والا شخص سخت پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے“۔

جھل:

حقائق کے سلسلہ میں جھل و نادانی اور امور دنیا و آخرت، نیز وظائف شرعی اور حقوق الناس سے بے خبر ہونا بہت خطرناک بیماری ہے کہ اگر انسان علم و معرفت کے ذریعہ اس بیماری کا علاج نہ کرے توپھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدبختی اور رسوائی نیز ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا ہوگا۔ قارئین کرام ! جھل و نادانی سے متعلق روایات ہم ”تَجَرَّاتُ بِجَہْلِی“ کی شرح میں بیان کرچکے ہیں (دوبارہ مطالعہ فرمائیں)

شھوت:

شھوت کے معنی : ”کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے اس میں بہت زیادہ لگاؤ اور رغبت کا اظھار کرنے کے ہیں“، اگر یہ رغبت اور شدید لگاؤ کسی ناپسند اورحرام کام کے بارے میں ہو تو اس کی بنا پر انسان گناہ اور معصیت کے گڑھے میں گرپڑتا ہے اور آخر کار انسان کی عقل و روح کا خون ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا و آخرت میں عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔

شھوت میں ہیجان پیدا کرنے والا سبب ، دنیا سے بے انتھا عشق و محبت ہے جو شیطانی وسوسوں، برے لوگوں کی صحبت اور خدا سے بے توجھی کے نتیجہ میں ایک درخت کی طرح رشد و نمو کرتی ہے جس پر شھوت کی شاخیں نکلتی ہیں اور شجر ملعونہ[۱۰۴] میں تبدیل ہوجاتی ہیں، جس کا پھل گناھوں کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا، جس کو کھاکر انسان خدا و

”اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے اور ہم لوگوں کوڈراتے رہتے ہیںلیکن ان کی سرکشی بڑھتی ہی جارھی ہے“۔

رسول سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، اور اس کے نتیجہ میں رحمت خدا سے محروم ہوجاتا ہے، اوردنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا مستحق ہوجاتا ہے نیز جھنم اس کا ٹھکانہ بن جاتا ہے۔

یہ خطرناک درخت جھنم کے درختوں خصوصاً درخت ”زقّوم“ کاایک نمونہ ہے جو وعظ و نصیحت ، خدا پر توجہ، توبہ، عاقبت کے بارے میں غور و فکر اور حوادث زمان سے عبرت حاصل کئے بغیر جڑ سے نہیں اکھڑسکتا ہے۔

علمائے دین فرماتے ہیں: اس خطرناک درخت کی سات شاخیں ہیں جو بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہیں، جن کی بنا پر انسان گناھوں اور برائیوںمیں مبتلا ہوجاتا ہے، شاخوں کے نام اس طرح ہیں:

۱ ۔ جاہ طلبی کی خواھش۔

۲ ۔ مال و دولت اور مُلک و منال کی خواھش۔

۳ ۔ بڑے بڑے محل اور عمارتیں بنانے کی خواھش۔

۴ ۔ خوبصورت اور ناز برادر حوروں جیسی عورتوں سے مباشرت کرنے کی شھوت۔

۵ ۔ لذیذ سے لذیذ کھانوں اور مست کنندہ چیزوں کو کھانے کی خواھش۔

۶ ۔ ریشمی، رنگ برنگے اور فاخرہ لباس پھننے کی خواھش۔

۷ ۔ گناھگاروں، فاسق و فاجر لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست کرنے کی خواھش۔

یہ سات شھوتیں انسان کے اندر خواہ نخواہ درج ذیل سات شیطانی صفات پیدا کردیتی ہیں:

۱ ۔ تکبر۔

۲ ۔ ریاکاری اور خود نمائی۔

۳ ۔بعض و حسد ۔

۴ ۔حرص و طمع

۵ ۔بخل۔

۶ ۔ظلم و ستم۔

۷ ۔غیظ و غضب۔

ان ساتوں شھوتوں اور ضرر رساں صفات(جن کی وجہ سے انسان دوزخی بن جاتا ہے)؛ کی تشریح کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔

محبت دنیا کے کنویں میں گرنے والے اورشھوات کی تاریکی میں غرق ہونے والوں کے سامنے موت کا پیغام آتا ہے تو بیدار ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ واقعاً بہت زیادہ نقصان میں ہیں، اور سمجھ جاتے ہیں کہ اس چند روزہ پریشان حال زندگی کے بدلے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عاقبت خراب ہوگئی ہے !!

ایک بد بخت شاہزادہ

محبت دنیاکے کنویں میں گرنے والوں اور شھوتوں کی تاریکی میں غرق ہونے والوںکا حال اس شہزادہ کی طرح ہوتا ہے کہ جب بادشاہ نے اپنے بیٹے کی شادی کرنا چاھی، اور ایک شریف خاندان سے پری جیسی خوبصورت لڑکی سے نکاح کردیا۔

جب شادی کی تیاریاں مکمل ہوگئیں، تو سب خواص و عوام نے اپنے اپنے لحاظ سے تحائف پیش کئے، بادشاہ نے بھی اپنے خزانہ کو غریبوں، محتاجوں حتی کہ مالداروں کے لئے قربان کردیا، سب لوگ خوش و خرم تھے،سبھی جاننے والے اور نہ جاننے والے شادی میں جمع تھے اور اس عجیب و غریب شادی کے سازو سامان کو دیکھ کر حیرت زدہ تھے۔

حور مانند دلھن کو اپنے تمام تر زیورات سے سجا کر ڈولی میں بٹھایا گیا، لیکن اس وقت دولھا غائب تھا، اس کو تلاش کیا جانے لگا، لیکن آخر کار وہ نہ ملا، کیونکہ اس رات میں دولھا نے بہت زیادہ شراب پی تھی جس کی بنا پر مدھوش تھا ، اسی وجہ سے سب لوگوں سے پیچھے رہ گیا اوربے بسی کے عالم میں گلیوں و کوچوں میں گھومتا ہوا مجوسیوں کے مردہ خانہ تک پھوچ گیا، مجوسی اپنے رسم و رواج کے مطابق مردوں کو وھاں رکھ کر ان کے لئے شمعیں روشن کرتے تھے، شراب کے نتیجہ میں مدھوشی کی بنا پر وہ شہزادہ مردہ خانہ کو حجلہ عروسی سمجھ بیٹھا، اور اس کے اندر جاکر دیکھا تو ایک بوڑھی عورت کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔

اس شہزادہ نے اس مردہ بوڑھی عورت کو اپنی شھوت اور رغبت کاشکار کیا اور صبح تک مشغول رھا۔

لیکن جب صبح ہوئی، نسیم سحری نے اس کو بے ہوشی اور مستی سے بیدار کیا تو اس نے اپنے کو اس بھیانک سرداب اور مردہ بوڑھی عورت کے پاس پایا، اس کی حالت غیر ہوگئی قریب تھا کہ ہلاک ہوجائے، شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے زمین میں دھنسا جارھا تھا۔ سوچ رھا تھا کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اس کے اس شرمناک فعل سے آگاہ ہوجائے اور قیامت تک کے لئے اس کا دامن داغ دار ہوجائے، اچانک دیکھا کہ بادشاہ کے نوکر اور خادم پھنچ گئے، اور انھوں نے اس منظر کا مشاھدہ کیا!!

قارئین کرام ! یہ ہے محبت دنیا کے کنویں اور شھوت کے گڑھے میںغرق ہونے والے لوگوں کا حشر، کہ آخرت کی دلھن کو دنیا کی مستی اور شھوت پرستی اور وہ بھی بد صورت مردہ بوڑھی عورت سے ؛ بدل لیتے ہیں۔!!

حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

طُوبَی لِمَنْ تَرَکَ شَهْوَةً حَاضِرَةً لَمَوْعُودٍ لَمْ یَرَهُ “[۱۰۵]

”خوش نصیب ہے وہ شخص جو نادیدہ جنت کے بدلے دنیا کی شھوتوںکو ترک کرے “۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا-:

حُفَّتِ الجَنَّةُ بِالْمَکَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ “ [۱۰۶]

”بھشت عبادت و بندگی سے احاطہ شدہ ہے اور جھنم شھوات سے محاصرہ شدہ ہے“۔

ایک شخص حضرت امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں آکر کہتا ہے: میری عبادت ضعیف اور روزہ کی تعداد کم ہوگئی ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ حلال روزی کے علاوہ کوئی چیز نہ کھاؤں۔ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: کونسا عمل حرام خوری ،اور شھوات سے دوری کرنے سے بہتر ہے؟[۱۰۷]

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

اکْثَرُمَا تَلِجُ بِهِ امَّتِی النَّارَ الاجْوَفَانِ :البَطْنُ وَ الفَرْجُ “[۱۰۸]

” میری امت کے جھنم میں جانے والوں میں سب سے زیادہ شکم پرست اور شھوت پرست ہوں گے۔

غفلت

غفلت، یعنی: ہر اس چیز سے بے خبر رھنا جس پر زیادہ توجہ رکھنا چاہئے۔

دنیاوی امور اور سرگرمی میں حد سے زیادہ مشغول رھنا، صبح و شام دنیا کو حاصل کرنے کے لئے دوڑنا اور ہواوھوس کا شکار ہونا یہ تمام چیزیں خدا، قیامت ، بندگی، اطاعت او ردینداری سے غفلت کا نتیجہ ہےں۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام اپنے کلام بلاغت میں غفلت کے نقصانات اور خسارے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

الغَفْلَةُ اضَرُّ الاعْدَاءِ “[۱۰۹]

”غفلت سب سے زیادہ خطرناک دشمن ہے“۔

وَیْلٌ لِمَنْ غَلَبَتْ عَلَیْهِ الغَفْلَةُ فَنَسِیَ الرِّحْلَةَ وَلَمْ یَسْتَعِدَّ “[۱۱۰]

””وائے ہو اس شخص پر جو غفلت کا شکار ہوجائے، جس کے تحت آخرت کے سفر کو بھول جاتا ہے اور اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتا“۔

مَنْ غَلَبَتْ عَلَیْهِ الغَفْلَةُ مَاتَ قَلْبُهُ “[۱۱۱]

”جس شخص پر غفلت کا غلبہ ہوجائے تو اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے“۔

دَوَامُ الغَفْلَةِ یُعْمِی البَصِیرَةَ “[۱۱۲]

”ھمیشہ غفلت میںرھنے سے چشم باطن نابینا ہوجاتی ہے“۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کا ارشاد ہے:

الغَفْلَةُ تَرکُکَ المَسْجِدَ وَ طَاعَتُکَ المُفْسِدَ “[۱۱۳]

”مسجد کو ترک کرنا اور مفسد کا اطاعت کرنا غفلت ہے“۔

وَکْنِ اللّٰهُمَّ بِعِزَّتِکَ لي فی کُلِّ الْاحْوٰالِ رَؤُوفاً،وَعَلَيَّ في جَمیعِ الْاُمُورِ عَطُوفاً ۔“

”خدایا مجھ پرھر حال میں مھربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما“۔

خداوند عالم کی رحمت و مھربانی اس قدر زیادہ ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا عالم اگرچہ تمام ہی علوم کا مالک کیوں نہ ہو ؛اس کی تشریح نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم اور احادیث معصومین علیھم لسلام میں غور و فکر کے بعد صرف اس کی رحمت کے ایک گوشہ کو دیکھا جاسکتا ہے؛ اس کے لطف و کرم اور مھربانی کو سمجھنے کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ان اعضاء کو دیکھا جائے جھاں سے لطف و مھربانی کا سر چشمہ ہے۔

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مروی ہے: میں نے خدا سے چند چیزوں کی درخواست کی، جن میں سے ایک یہ تھی: پالنے والے میری امت کا حساب میرے حوالے کردے۔ آواز آئی: اے میرے حبیب اگرچہ میں نے تمھیں”رحمةٌ للعالمین“ بنایا ہے لیکن ”ارحمُ الراحمین“ صرف میری ہی ذات ہے،اگرآپ کو ان لوگوں کی بعض خطاؤں اور گناھوں کا علم ہوجائے تو آپ ان سے بیزار ہوجائیں گے، چھوڑئے لہٰذا صرف مجھے ان کے گناھوں سے آگاہ رھنے دیں۔

اے میرے حبیب! ان کا حساب اس طرح کروں گا کہ آپ بھی ان کے برے اعمال سے آگاہ نہ ہوں گے، لہٰذا جب ان کے گناھوں کو آپ سے چھپاؤں گا، جبکہ آپ دونوں عالم کے لئے رحمت ہیں، تو پھر دوسروں سے بطریق اولیٰ ان کے گناھوں کو چھپاؤں گا۔

اے میرے حبیب اگر آپ ان کے اوپر نبوت کی مھربانی رکھتے ہیں تو میں ان پر رحمت خدائی رکھتا ہوں۔ اور آپ ان کے پیغمبر ہیں تو میں ان کا خدا ہوں۔ اگر آپ آج ان کو دیکھ رھے ہیں تو میں ہمیشہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہوںاورنظر رکھوں گا۔

گناھگار اور عفو الٰھی

شیخ بھائی تحریر کرتے ہیں: میں نے ایک قابل اعتماد شخص سے سنا کہ ایک گناھگار اس دنیا سے چل بسا، اس کی بیوی نے اس کے غسل و کفن اور دفن کے لئے لوگوں سے مدد چاھی، لیکن وہ لوگ اس کے گناھوں سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ کوئی بھی اس کے جنازہ میں شریک نہ ہوا، مجبوراً اس عورت نے کسی مزدور کو بلایا اور اس سے کھا کہ اس کو شھر کی مسجد میں لے جاؤ، شاید مومنین اس کے جنازہ میں شریک ہوجائیں،لیکن کوئی بھی اس کام کے لئے حاضر نہیں ہوا،! اس کے بعد وہ عورت اس مزدور کے ساتھ جنگل کی طرف روانہ ہوئی تاکہ اس کو غسل و کفن اور نماز کے بغیر ہی دفن کردے۔

جیسے ہی اس جنگل میں پھنچی، وھاں ایک زاھد اور عابد کو دیکھا جواپنی پوری زندگی عبادت میںمشغول تھا، اور اس علاقہ میں ”زاھداور متقی“ کے نام سے مشھور تھا۔ جیسے ہی اس نے جنازہ کو دیکھا اپنی عبادتگاہ سے باھر نکلا، تاکہ اس کے جنازہ میں شرکت کرے، جس وقت علاقہ والوں نے اس کو دیکھا کہ وہ اس کے جنازہ میں شرکت کررھا ہے وہ بھی اس کے جنازہ میں شریک ہونے کے لئے آگئے۔

علاقہ والوں نے اس عابد و زاھد سے اس کے جنازہ میں شرکت کی وجہ پوچھی ، تو اس نے جواب دیا: مجھ سے عالم خواب میں کھا گیا کہ کل اپنی عبادتگاہ سے نکل کر فلاں جگہ پر جاؤ اور وھاں ایک جنازہ لایا جائے گا، جس کے ساتھ صرف ایک عورت ہوگی، اس کی نماز جنازہ پڑھنا، کیونکہ اس کی بخشش ہوگئی ہے۔

یہ سن کر لوگوں کو بہت تعجب ہوا ، اور دریائے تعجب میں غرق ہوگئے، اس عابد و زاھدنے اس کی زوجہ کو بلایا اور اس کے حالات معلوم کئے، اس بیوہ نے کھا: اکثر اوقات گناھوں میں ملوث رہتا تھا۔ اس عابد نے سوال کیا: کیا اس نے کبھی کوئی کار خیر (بھی) انجام دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! میرا شوھر تین کار خیر انجام دیتا تھا:

۱ ۔ ہر روز گناہ کرنے کے بعد اپنے لباس کو بدلتا تھا اور وضو کرکے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔

۲ ۔ اس کا گھر کبھی بھی یتیم سے خالی نہیں رہتا تھا، اور اپنے بچوں سے زیادہ یتیم پر احسان کرتا تھا۔

۳ ۔ رات کے وقت جب بھی بیدار ہوتا تھا روتا تھا اور کہتا تھا: پالنے والے! اپنے اس گناھگار بندے کو دوزخ کے کس طبقہ میں رکھے گا؟!

عبد اللہ مبارک کا غلام

عطّار نیشاپوری کہتے ہیں: عبد اللہ مبارک کا ایک غلام تھا، جس سے یہ معاھدہ تھا کہ کام کرکے اپنی قیمت ادا کردو ، تاکہ میں تمھیں آزاد کردوں۔ ایک روز عبد اللہ سے کسی نے آکر کھا: تمھارا غلام رات کو قبرستان میں جاتا ہے اور قبر کھول کر مردوں کا کفن نکالتا ہے اور اس کو بازار میں بیچ کر درھم و دینار تمھیں لاکر دیتا ہے!!

عبد اللہ نے جیسے ہی یہ خبر سنی، بہت ناراض ہوئے، ایک رات چھپ کر غلام کے پیچھے پیچھے چل دئے، یھاں تک کہ قبرستان میں پھنچ گئے، دیکھا کہ غلام ایک قبر میں داخل ہوا، اور وہ ایک بوسیدہ لباس پھنے تھا او راپنی گردن میں زنجیر ڈالے تھا اس عالم میں وہ تمام تر خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ الٰھی میں راز و نیاز اور مناجات و دعا اور گریہ و زاری میں مشغول ہوگیا۔

عبد اللہ نے اس کو دیکھا تو آھستہ آھستہ وہ بھی رونے لگے۔ چنانچہ وہ غلام سحرکے وقت تک مناجات اور دعا میں مشغول رھا، سحر کے وقت قبر سے نکلا اور شھر کی طرف چل دیا، اور راستہ کی پھلی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے وارد ہوا، نماز صبح پڑھنے کے بعد کھا: اے میرے حقیقی مولا! رات دن میں بدل گئی، اب بھی میرا مجازی مولا مجھ سے درھم و دینار کا طالب ہے۔ خدا یا! تو ہی لاچارلوگوں کے لئے چارہ ساز ہے، اور فقیروں اور مفلسوں کا سرمایہ بھی توھی ہے۔ چنانچہ اس وقت ایک نور چمکا اور اس غلام کے ہاتھ میں سونے کے دیناردیدئے گئے۔

جب عبد اللہ نے یہ ماجرا دیکھا تو بے ساختہ ،اس کے پاس گئے اور اس کو اپنے سینے سے لگالیا اور کھا:

”ایسے غلام پر ہزار جانیں قربان ہوں، اے کاش تو میرا آقا ہوتا اور میں تیرا غلام!!“

غلام نے جیسے ہی ان حالات کو دیکھا تو کھا: پالنے والے! اب تک میرے راز سے کوئی آگاہ نھیںتھا، اب جبکہ میرا راز فاش ہوگیا ہے تو اب مجھے زندگی نہیں چاہئے پالنے والے! تو مجھے اپنے پاس بلالے، ابھی وہ دعا اور مناجات ہی کررھا تھا، کہ عبد اللہ کی آغوش میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا!

عبد اللہ نے اس کو اسی پرانے لباس میں دفن کردیا، اسی رات میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو خواب میں دیکھا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے ساتھ براق پر سوار ہیں اور اس کی طرف چلے آرھے ہیں، اور جب عبد اللہ کے نزدیک پھنچے تو کھا: اے عبد اللہ کیوں تم نے ہمارے اس محبوب اور دوست کو پرانے لباس میں دفن کردیا؟!!

جی ہاں، خداوندعالم تمام ہی حالات اور تمام ہی امور میں اپنے بندوں پر مختلف صورتوں میں لطف و کرم کرتا ہے، اور اپنے بندوں کو خصوصاً دعا و مناجات اور توبہ کے وقت خاص لطف و کرم سے نوازتا ہے۔

الٰهي وَرَبّي مَنْ لي غَیْرُکَ،اسْالُهُ کَشْفَ ضُرّي، وَالنَّظَرَ فيامْرِي

”خدایا! پروردگارا! میرے پاس تیرے علاوہ کون ہے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرماسکے“۔

اے میرے معبود ! اے میرے پروردگار! میرے لئے تیرے علاوہ فیض وکرم کا چشمہ کون ہے؟ لہٰذا سختیوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے، جسم و روح کی بیماریوں سے نجات کے لئے اور دنیا و آخرت کی زندگی پر لطف و کرم کرنے کے لئے تیری ہی بارگاہ اقدس میں درخواست کرتا ہے۔

اے میرے مولا و آقا! کیا کوئی ایسا توانا اور صاحب قدرت ہے جو میری مشکلات کو دور کرسکے، اور اپنے لطف و کرم کی بارش کرے، جس کے وجود میں بخل نہ پایا جاتا ہو، اور مجھ پر لطف و کرم اور احسان کرنے میںکوئی چیز رکاوٹ نہ بنے؟!! صرف تیری ہی ذات تمام کمالات کی حامل اور ہر عیب سے پاک و پاکیزہ ہے۔

پالنے والے! میں تیرے علاوہ جس کی پناہ تلاش کروں اور اپنی حاجت روائی اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے درخواست کروں، یا تو مجھ پر مھربان اور دلسوز نہیں ہے یا اس کام کے کرنے پر وہ قادر نہیں ہے، اور مجبور و لاچار ہے، یا بخل سے کام لیتا ہے، یا تیری مشیت اور تیرا ارادہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہے؛

لہٰذا وہ میری مشکل کو حل نہیں کرسکتا، لہٰذا مجھ پر واجب اور ضروری ہے کہ تیرے دروازے پر جھولی پھیلاؤں اور مخلوق سے بیزار ہوجاؤں، مکمل طور پر تیرے اوپر اعتماد اور بھروسہ کروں، اوراپنا کاسہ گدائی تیرے ہی سامنے پھیلاؤں،غیروںخصوصاً دوستوں اور رشتہ داروں سے ناامید ہوکر صرف تیری ہی ذات سے امیدوار رھوں، تیری ہی ذات بابرکت سے تواضع، انکساری اور ذلت طلب کروں، کہ ہر نقصان کومجھ سے دور فرمااور تمام پریشانیوں کی سختی کو دور فرما، اور میری بری صفات اور برے حالات کو دور کردے، اور مجھے ہر ظاھری و باطنی سختیوں سے نجات بخش دے، ہرجسمی اور روحانی بیماری کو مجھ سے دور فرما، اور ہر آسیب اور آفت کو میری زندگی سے دور فرمادے۔

جی ہاں! انسان کو چاہئے کہ دریا میں غرق ہونے والے کی طرح بے سھارا ہوکر صرف رحمت خدا کے ساحل کا امیدوار ہو، خدا کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرے تاکہ اس کی دعامخلوق سے منقطع ہوکر باب اجابت سے ٹکرائے۔ جیسا کہ خداوندعالم نے حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) سے فرمایا ہے:

یَاعیسَی! اُدْعُنِی دُعاءَ الغَرِیقِ الَّذِی لَیْسَ لَهُ مُغِیثٌ “[۱۱۴]

”اے عیسیٰ! مجھے اس طرح پکارو جیسے غرق ہونے والے کو کوئی بچانے والا نہ ہو“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اِذَا ارادَ احَدُکُم انْ لَایَسالَ رَبَّهُ شَیْئاً اِلَّا اعْطاهُ فَلْیَیْاسْ مِنَ النَّاسِ کُلِّهِم وَلَایَکُونَ لَهُ رَجاءٌ اِلاَّ عِنْدَ اللّٰهِ،فَاِذَا عَلِمَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَالِکَ مِنْ قَلْبِهِ لَمْ یَسْالِ اللّٰهَ شَیْئاًاِلاَّ اعْطاهُ “[۱۱۵]

”جب بھی تم سے کوئی یہ چاھے کہ خدا اس کی درخواست کو ردّ نہ کرے، تو تمام لوگوں سے مایوس ہوجائے اور خدا کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھے، کیونکہ جب خداوندعالم بندہ کی اس حالت کو دیکھتا ہے تو بندہ جو چاہتا ہے اس کو عطا کردیتا ہے“۔

جو شخص بھی اپنی زبان پر ان فقرات کو جاری کرے: ”یا الٰھی وسیدی، اے میرے معبود! “ تو اپنے دل سے معبود حقیقی کے علاوہ دوسروں کی امید کو دل سے نکال دینا ضروری ہے، اور دنیا کے مال و دولت، عھد ہ اور مقام اور دنیا کی دوسری ظاھری چیزوں کو نعمت اور وسیلہ تصور کرے کہ خداوندعالم نے اس کی زندگی کے لئے وسائل فراھم کئے ہیں، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی معبود یا حاکم کے عنوان سے انتخاب کرنے سے بہت زیادہ پرھیزکرے، کیونکہ اگرخدا کے علاوہ کسی بھی چیز کو معبود کے عنوان سے اختیار کرے تو (گویا) اس نے شرک کیا ہے، اور کسی بھی مشرک کی دعا قبول نہیں ہوگی۔

جو شخص کہتا ہے: ”رَبّی“ اے میرے مالک اور پالنے والے!تو اس کو چاہئے کہ ظاھری و باطنی فرعون جیسے معبود کی عبودیت سے دل کو آزاد کرے اور صرف الٰھی رنگ اختیار کرے، کیونکہ اگر کوئی شخص باطل ارباب کی پیروی کرے اور ان کے رنگ کو اپنائے اگرچہ وہ مضطر اور پریشان ہوکر دعا کرے،لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔

جی ہاں! کوئی بھی مخلوق اس پروردگار کے اجازت کے بغیر ذرہ برابر بھی کسی کو فائدہ نہیں پھنچا سکتی، لہٰذا دوسروں سے مایوس ہوکر خدائے رحمن کی رحمت پر امید رکھے، کیونکہ جو شخص اس طرح خدا کی اطاعت کرے گا، وہ بلند مقام پر پھنچ جائے گا، اور پھر دنیا وآخرت میں کسی بھی چیز کی کمی نہ ہوگی،اور اگر خدا اس کے ساتھ نہیں ہے یعنی وہ خدا کا مطیع و فرمانبردار بندہ نہیں ہے تو پھر دنیا وآخرت دونوں ہی میں خسارہ ہے۔

خدا کے عاشق بندے، جو خدا اور اس کی مخلوقات کی معرفت رکھتے ہیں (اور جانتے ہیں کہ مخلوقات میں اتنی طاقت نہیں ہے اس کی مشکلات کو حل کرسکے، اور نہ ہی اس دنیا کی چکی کسی غیر کے ارادہ و اختیار سے چل رھی ہے،)؛ وہ ہمیشہ اپنے محبوب اور معشوق حقیقی کی نسبت وجد اور نشاط میں ہوتے ہیں، اور زندگی کے تمام مراحل میں اپنے معبود سے راضی اور خوشحال رہتے ہیںنیز اپنی مشکلات کو حل کرنے کے لئے اس کے علاوہ کسی غیر کو حلّال مشکلات نہیں سمجھتے، اسی وجہ سے اس خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:

الٰهيوَرَبّيمَنْ لي غَیْرُکَ،اسْالُهُ کَشْفَ ضُرّي،وَالنَّظَرَ فيامْرِي “۔

اور جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرح عاشقانہ بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں:

إلٰهِی اِنَّ لِی فِی کَشْکُوْلِ الْفَقْرِ مَا لَیْسَ فِی خَزَانَتِکَ

”پالنے والے! میرے کشکول گدائی میں ایسی چیز ہے جو تیرے خزانہ میں (بھی) نہیں ہے“۔

آواز آئی : (اے موسیٰ!) تمھارے کشکول گدائی میں کیا چیز ہے جو میرے خزانہ قدرت میں نہیں ہے، تو (جناب موسیٰ نے) عرض کیا: میرے خزانہ میں تجھ جیسا خدا ہے جو تیرے پاس نہیں ہے“۔[۱۱۶]

ایک ماں بیٹے کا واقعہ

ایک عارف و زاھد سے مروی ہے: ایک ماں نے اپنے نوجوان بیٹے کو اس کی نافرمانی اور نصیحت قبول نہ کرنے کی وجہ سے گھر سے نکال دیا اور اس سے کھا: جا، تو میرا بیٹا نہیں ہے، وہ باھر چلا گیا اور گھنٹوں تک بچوں کے ساتھ کھیلتا رھا یھاں تک کہ مغرب کا وقت آگیا، سب بچے اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ جب اس نے دیکھا کہ سب دوستوں نے اسے تنھا چھوڑدیا ہے اور کسی نے بھی وفا داری نہیں کی، اپنے گھر پلٹ آیا، گھر کا دروازہ بند ملا، دروازہ کھٹکھٹانے لگا، اور گریہ و زاری کے ساتھ ماں سے کہتا تھا کہ ماں دروازہ کھول دے، لیکن ماں نے دروازہ نہ کھولا۔ ادھر سے ایک عالم بزگوار کا گزر ہوا اس نوجوان کو اس حالت میں دیکھ کر رحم آیا، دروازہ کھٹکھٹایا اور اس کی ماں سے اس کی شفاعت و سفارش کی، تاکہ اس کو گھر میں آنے کی اجازت دیدے۔

چنانچہ اس عالم کی سفارش سن کر اس کی ماں نے کھا: حضور آپ کی شفاعت کو قبول کرتی ہوں، لیکن شرط یہ ہے آپ مجھے ایک تحریر لکھ کر دیں کہ اگر اس نے دوبارہ میری مخالفت کی اور میری باتوں کو نہ سنا تو اس کو دوبارہ گھر سے نکال دوں گی اور پھر آنے نہ دوںگی، اور پھر مجھے یہ ماں کھنے کا بھی حقدار نہ ہوگا۔ اس عالم نے اسی مضمون کی ایک تحریر اس کو لکھ کر دی، اور آخر کار اس طرح ماں بیٹے دونوں میںصلح ہوگئی۔

چند روز کے بعد اس عالم کا دوبارہ وھاں سے گزر ہوا، دیکھا تو وہ نوجوان دوبارہ اسی طریقہ سے نالہ و فریاد کر رھا ہے، اور کہہ رھا ہے: اے ماں جو چاھے کرلے لیکن دروازہ کھول دے، اور مجھے اندر بلالے۔ لیکن ماں نے دروازہ نہ کھولااور کھا: میں دروازہ نہیں کھولوں گی، تجھے اندر آنے نہیں دوں گی۔

وہ عالم کہتے ہیں: کہ میں یہ ماجرا دیکھ کر وھیں کھیںبیٹھ گیا کہ آخر کار دیکھوں کہ ہوتا کیا ہے؟ دیکھا کہ وہ نوجوان روتے روتے زمین پر گرپڑا اور بے ہوش ہوگیا، ناگھاں اس کی ماں، جو دروازے کی اوٹ سے دیکھ رھی تھی، اس کی ممتا جوش میں آئی، دروازہ کھولا اور اپنے بچے کو آغوش میں اٹھایا، پیار کیا اور کھنے لگی: اے میرے نور نظر! اٹھ جا، آ گھر میں چلتے ہیں، میں تجھے گھر آنے سے جو روک رھی تھی کوئی دشمنی نہیں تھی بلکہ میں تو یہ چاہتی تھی کہ تو گناہ اور مخالفت سے باز آجا، اور مطیع و اطاعت گزار بن جا۔

قارئین کرام! اگر گریہ و زاری کے وقت بھی ہمیں یہ احساس ہو کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوئی ہے تو ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس نوجوان کی طرح مکرر بارگاہ خداوندی میں گڑگڑائیں تاکہ اس کی رحمت کو جوش آجائے، تاکہ اس کی محبت، رحمت اور مغفرت ہمارے شامل حال ہوجائے۔

خداوندعالم کی ذات اقدس اگر انسان کے امور پر نظر کرے تو چونکہ اس کی رحمت اور لطف و کرم بے انتھا اور عظیم ہے تو انسان کے حالات کی اصلاح ہوجاتی ہے ، اس کے دردکا علاج ہوجاتا ہے اور اس کا ظاھری اور باطنی فقر ختم ہوجاتا ہے۔

کارگر نظر

محمود غزنوی جس نے ایک مختصر مدت تک حکومت کی ہے، اس کی زندگی کے بارے میں ملتا ہے: ایک روز دریا کے کنارے سے اس کاگزر ہوا، دیکھا کہ ایک نوجوان رنجیدہ خاطر حزن و ملال کے ساتھ دریا میں جال ڈالے ہوئے بیٹھا ہے۔

بادشاہ نے اس کی پریشانی معلوم کی تو اس نے جواب دیا: میں کیوں رنجیدہ خاطر اور پریشان نہ ہوں، میں اور میرے سات بھائی یتیم ہیں اور ہماری ماں بہت بوڑھی ہے، باپ کے مرنے کے بعد سے گھر کا سارا خرچ میں ہی چلاتا ہوں،اپنے خرچ کے لئے ہر روز دریا سے مچھلی پکڑنے کے لئے آتاھوں، کبھی ایک مچھلی کا شکار کرتا ہوں اور کبھی دو مچھلیاں جال میں پھنستی ہیں، جس سے بمشکل اس یتیم گھر کا خرچ چلتا ہے، محمود غزنوی نے کھا: کیا تم مجھے بھی اپنے شکار میں شریک کرسکتے ہو؟ وہ جوان راضی ہوگیا، بادشاہ نے کھا: اپنے شریک کے نام سے جال دریا میں ڈالو اور باھر نکالو، چنانچہ اس جوان نے تھوڑی دیر بعد جال کو کھینچنا شروع کیا تو اس کو نہیں کھینچ سکا، بادشاہ کے ہمراہ افراد نے اس کی مدد کی اور جال باھر نکالا تو دیکھا کہ اس میں بہت سی مچھلیاں ہیں۔

بادشاہ واپس آگیا، دوسرے روز اپنے شریک کو دربار میں بلا بھیجا، اور جب وہ محمود غزنوی کے دربار میں پھنچا تو بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بٹھایا، اس کی احوال پرسی کی اوراس کی دلجوئی کی۔ لیکن یہ دیکھ کر درباریوں نے کھنا شروع کیا: بادشاہ سلامت! یہ ایک غریب اور نادارانسان ہے، اس کو شاھی مسند پر نہیں بٹھانا چاہئے؛ یہ سن کر بادشاہ نے کھا: کچھ بھی ہو، ہے تو ہمارا شریک، لہٰذا جو بھی ہمارے پاس ہے، اس سے یہ بھی فائدہ اٹھاسکتا ہے۔

جی ہاں! اگر ایک چار دن والا غیر حقیقی بادشاہ ایک لاچار انسان کو اس طرح سے رشد ترقی کی منزل تک پھنچا سکتا ہے، اور اس کی پریشانیوں کو ختم کرسکتا ہے، تو بادشاہ حقیقی اور مالک الملک ،جس کے کمالات اور صفات بے نھایت ہےں اس کے لطف و کرم کا خزانہ بے نھایت ہے، اگر کوئی اس کی بارگاہ میں اپنی پریشانیوں اور مادی و معنو ی ضرورتوں کو پیش کرے تو کیاخداوندعالم اس کی مرادپوری نہیں کرے گا؟!

خداوندعالم کی نظر رحمت ایسی نظر ہے جس نے حضرت نوح اور ان کے ہمراہ مومنین کو اس عظیم طوفان سے نجات دی،جناب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں خشک عصا کو اژدھا بنا کر فرعون کی ہیبت کو ختم کردیا، بنی اسرائیل کو موجیں مارتے ہوئے سمندر سے ساحل نجات تک پھنچادیتا ہے، حضرت ایوب علیہ السلام کو مصیبتوں کے پھاڑوں سے نجات عطا کی، اور جناب یوسف علیہ السلام کو اندھیرے کنویں سے نکال کر بادشاہ مصر بنادیا، و۔۔۔۔

حاتم اصمّ کی حیرت کُن داستان

حاتم اصمّ اپنے زمانے کے ایک مشھورعابد و زاھد تھے، اپنے علمی اور روحانی مقام کے بعد بھی گھر یلو خرچ کے لئے پریشانی اٹھاتے تھے، لیکن خدا وندعالم پر بے انتھا توکل اور بھروسہ رکھتے تھے۔

ایک رات کا واقعہ ہے کہ کچھ دوست اور رفقاء بیٹھے ہوئے تھے، حج اور زیارت کی گفتگو ہونے لگی، ان کے دل میں بھی حج و زیارات کا شوق ہوا،وہ سر زمین وحی جس پر حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنی پیشانی خاک پر رکھی اور خداوندعالم کی عبادت کی ، اس کی زیارت کے لئے ان کا دل بے چین ہوگیا، اور ان کے دل میں تمناؤں کا سمندر امنڈ آیا۔

گھر میں آئے تو اپنی زوجہ اور بچوں سے کھنے لگے اگر تم لوگ راضی ہو ںتو میں خانہ محبوب (خانہ کعبہ)کی زیارت کے لئے چلاجاؤں اور وھاں پر تم لوگوں کے لئے بھی دعا کروں۔ یہ سن کر ان کی زوجہ بولی: اس حالت میں جبکہ تنگدستی میں زندگی بسر کررھے ہیں آپ کس طرح حج کے لئے جارھے ہیں؟ حج تومالدار لوگوں پر واجب ہے ، اسی طرح ان کے صاحبزادہ نے بھی اپنی ماں کی باتوں کی تائید کی، لیکن ان کی چھوٹی لڑکی نے کھا: کیا پریشانی ہے کہ اگر ہم اپنے باپ کو سفر حج کی اجازت دیدیں؟ جانے دیجئے، ہمارا رزق کا ذمہ دار تو خدا ہے، باپ فقط اس میں وسیلہ ہیں، خداوندقادر ہماری روزی کسی دوسرے طریقہ سے پھنچاسکتا ہے۔ اس ہوشیاربچی کی یہ بات سن کر سب لوگ حقیقت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو حج خانہ کعبہ کی اجازت دیدی، اور کھا: ہمارے لئے بھی خانہ خدا میں دعا کرنا۔

حاتم صاحب بہت خوش ہوئے، اور انھوں نے سفر کی تیاری شروع کردی، اور کاروان حج کے ساتھ روانہ حج ہوگئے۔ جب پڑوسیوں کو یہ معلوم ہوا کہ حاتم صاحب حج کے لئے چلے گئے ہیں تو اس لڑکی کے پاس آکر اس کی ملامت کرنے لگے، کہ کیوں تم نے اپنے باپ کو حج کی اجازت دیدی؟! جبکہ تمھاری حالت اچھی نہیں ہے، اور پھر اس سفر میں کئی مھینے لگ جاتے ہیں،اب تم ہی بتاؤ تمھارا خرچ کس طرح چلے گا؟

ان کی بیوی نے بھی اس بچی سے کھا کہ اگر تو چپ رہتی تو ہم ان کو حج کی اجازت نہ دیتے!

بچی بہت زیادہ رنجیدہ خاطر ہوگئی اور غم و اندوہ کی وجہ سے اس کی معصوم آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اور اس نے دست دعا بلند کردئے، اور کھا: پالنے والے! یہ لوگ تیرے احسان وکرم کے عادی ہوگئے ہیں، اور ہمیشہ تیری نعمتوں سے بھرہ مند ہوتے ہیں، ان کو شرمندہ نہ کر اور مجھے بھی ان کے سامنے شرمندہ نہ کر۔

سب لوگ تعجب کررھے تھے کہ ان کے لئے کھانے پینا کا سامان کون لائے گا، اچانک حاکم شھر جو شکار کرکرکے واپس لوٹ رھا تھا اور پیاس سے برا حال تھا، اس نے پانی کی تلاش میں اپنے خادموں کو بھیجا تاکہ اس کے لئے پانی کی کوئی سبیل کریں۔

چنانچہ وہ لوگ حاتم کے دروازے پر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، حاتم کی زوجہ دروازے پر آکر کہتی ہے کہ تم کون لوگ ہو اور کیا کام ہے؟ انھوں نے کھا: تمھارے دروازہ پر حاکم آیا ہے اور پیاسا ہے پانی پینا چاہتا ہے۔ زوجہ نے تعجب سے آسمان کی طرف دیکھ کر کھا: پالنے والے! کل ہم لوگ بھوکے ہی سوگئے تھے اور آج ہمارے دروازے پر حاکم پانی مانگ رھا ہے!!

اس کے بعد مٹی کے کٹورے میں پانی بھر کر اس کو پیش کیا اور کھا کہ معاف کرنا ہمارے پاس مٹی کے ہی برتن ہیں۔

امیر نے اپنے ساتھیوں سے کھا: یہ کس کا گھر ہے؟ کھا: حاتم اصم کا، جو بہت ہی زیادہ عابد و زاھد انسان ہیں اور اس وقت حج کے لئے گئے ہوئے ہیں، ادھر ان کے بال بچے پریشانی کی زندگی بسرکر رھے ہیں۔ حاکم نے کھا: ہم نے ان سے پانی مانگ کر ان کو زحمت میں ڈال دیا ہے، یہ ہماری شان کے خلاف ہے کہ ایسے غریب لوگوں کو زحمت میں ڈالیں۔

یہ کہہ کر اس نے اپنا سونے کا کمر بند (پٹکا) نکالا اور ان کے مکان کی طرف ڈال دیا اور اپنے ساتھیوں سے کھا: جو بھی مجھے چاہتا ہے، اپنے کمربند کو یھاں ڈال دے، چنانچہ یہ سن کر سب نے اپنا اپنا کمر بند نکال کر ان کے حوالے کردیا، اور واپس لوٹتے وقت حاکم نے ان سے کھا: خدا رحمت کرے تم لوگوں پر، میں ابھی وزیر کو بھیجتا ہوں تاکہ ان کمربندوں کی قیمت لاکر تمھیں دیدے اور یہ کمر بند لے جائے، کچھ ہی دیر بعد وزیر آیا او ران کی قیمت ادا کرکے کمربندوں کو لے گیا!!

جیسے ہی اس لڑکی نے اس ماجرے کو دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، لڑکی کو روتے دیکھ کر سب کھنے لگے، روتی کیوں ہو؟ یہ تو خوشی کا موقع ہے، کیونکہ خداوندعالم نے تم پر اتنا لطف و کرم کیا اور ہماری بھی آنکھیں کھول دی ہیں۔ یہ سن کر وہ لڑکی بولی: میں تو اس وجہ سے رو رھی ہوں کہ کل رات ہم لوگ بھوکے سوئے تھے اور آج مخلوق خدا نے ہم پر ایک نظر کرم کیا اور ہمیں بے نیاز کردیا، لہٰذا اگر خداوندمھربان کسی پر ایک نظر کرلے تو اس کی نظر کیا کرے گی؟!

اس کے بعد اس لڑکی نے اس طرح اپنے باپ کے لئے دعا کی: پالنے والے! جیسا تو نے ہمارے ساتھ احسان کیا اور ہماری مشکل کو آسان فرمایاھے ہمارے باپ کو بھی مشکلوں سے نجات دے اور ان کے سفر کو آسان فرما۔

ادھر حاتم اصم اپنے قافلہ کے ساتھ سفر کررھے تھے، نہ سواری تھی اور نہ زیادہ خرچ، لیکن جو لوگ ان کو پہچانتے تھے راستے میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔

ایک رات اچانک امیر کارواں کے بہت شدید درد اٹھا، کارواں میں موجود طبیب نے اس کو لاعلاج کہہ دیا، اس موقع پر رئیس قافلہ نے کھا: کیا کوئی ہمارے قافلہ میں ایسا شخص ہے جس کی دعا اثر کر جائے، لوگوں نے بتایا : ہاں!حاتم اصم موجود ہیں، امیر کارواں نے کھا: جلد اس کو میرے پاس بلالاؤ شاید ان کی دعا کچھ اثر کرجائے، یہ سن کر اس کے ساتھی دوڑے دوڑے حاتم کے پاس آئے اور ان کو لے کر امیر کے پاس پھنچے،حاتم نے سلام کیا، امیر کارواں کے سرھانے کھڑے ہوکر اس کی شفاکے لئے دعا کی، اور ان کی دعا کی برکت سے امیر کو شفا مل گئی، جس کے بعد امیر کارواں نے ان کو بہت نوازا اور کھا: ان کو ایک سواری دی جائے، اور ان کے آنے جانے کا تمام خرچ ہمارے ذمہ ہے۔

حاتم نے امیر کارواں کا شکریہ ادا کیا اور اس رات میں ایک مخصوص حالت میں خداوندعالم کے ساتھ راز و نیاز کیا، جب بستر پر سوئے تو عالم خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رھا ہے:

”اے حاتم! جو شخص اپنے کاموں کو ہمارے اوپر چھوڑ دیتا ہے اور ہم پر بھروسہ کرتا ہے، ہم بھی اس کو تنھا نہیں چھوڑتے اور اس پر اپنے لطف و کرم کی بارش کردیتے ہیں، اے حاتم! تم اپنے اہل و عیال کی طرف سے بھی فکر مند نہ رھنا ہم نے ان پر بھی اپنا خاص لطف وکرم کیا۔ حاتم جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے،خداوندعالم کا شکر ادا کیا اور خداوندعالم کے اس لطف و کرم سے حیرت زدہ ہوگئے۔

جس وقت وہ سفر سے لوٹے، ان کے اہل و عیال ان کے استقبال کے لئے آئے اور سب لوگ خوش و خرم تھے، لیکن حاتم سب سے زیادہ اپنی بچی سے پیار کرتے ہیں، اس کو آغوش میں لیتے ہیں اور چومتے ہیں اور کہتے ہیں: ایسا ہوسکتا ہے کہ ظاھراً چھوٹے بچے ہوں لیکن اندر سے بہت بزرگ افراد ہوں، خدا عمر کے لحاظ سے اپنے بندوں پر نظر نہیں کرتا بلکہ ان کی معرفت کے لحاظ سے نظر رحمت کرتا ہے، لہٰذا خداوندعالم کی معرفت اور اس پر اعتماد رکھنا چاہئے، کیونکہ جو شخص بھی اس پر توکل اور بھروسہ کرتا ہے وہ اس کو تنھا نہیں چھوڑتا ہے“۔[۱۱۷]

نظرکیمیا اثر

فاضل بزرگوار سید جعفر مزارعی روایت کرتے ہیں: حوزہ علمیہ نجف اشرف میں ایک طالب علم معاشی زندگی کے لحاظ سے بہت زیادہ پریشان تھا۔ ایک روز اس حالت کی شکایت کرنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام کے حرم میں مشرف ہوا ، اور عرض کیا: آپ کے روضہ مبارک پر اس قدر فانوس اورقندیلیں لگی ہوئی ہیں، ہمارے پاس کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں!!

رات ہوئی تو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ فر مارھے ہیں: اگر نجف میں میرے پڑوسی بنے رھنا چاہتے ہوں تو یھی طلبگی نان و نمک ہے، اور اگر اچھی زندگی چاہتے ہو، تو ”حیدر آباد دکھن“ (ھندوستان ) فلاں شخص کے مکان پر جاؤ اور جب مالک مکان نکل کر آئے تو صاحب مکان سے کھنا:

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند

خواب سے بیدار ہوا تو پھر حرم میں گیا اور عرض کی ، میں یھاں پریشان ہوں اور آپ مجھے ہندوستان بھیج رھے ہیں!!

دوسری رات پھر حضرت علی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور کھا: بات وھی ہے جو ہم نے کھی ہے، اگر ہمارے پڑوس میں اس طرح زندگی نہیں گزارسکتے تو ہندوستان جاؤاور فلاں راجہ کو تلاش کرکے اس سے کھو:

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند

خواب سے بیدار ہوا، صبح ہوتے ہی اپنی کتابیں اور سامان جمع کیا اور سب کو بیچ دیا تاکہ ہندوستان جانے کا زاد راہ جمع کرے، بعض دوسرے صاحبان حیثیت نے بھی اس کی مدد کی اور یہ طالب علم حیدر آباد میں اس راجہ کی تلاش میں چل دیا، جب لوگوں نے اس سیدھے سادھے طالب علم کو راجہ کی تلاش میں دیکھا تو بہت تعجب کیا۔

لیکن آخر کار تلاش کرتے کرتے اس راجہ کے مکان پر پھنچ گیا، جب اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کھول کر ایک شخص باھر آیا جیسے ہی اس شخص کو دیکھا تو اس سے کھا:

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند

یہ سنتے ہی راجہ صاحب نے اپنے نوکروں سے کھا: مولانا صاحب کو فلاں کمرے کی طرف لے کر چلو، تھوڑا آرام کرنے کے بعد ان کونھلا دھلاکر بہترین قیمتی کپڑے پھنائے گئے۔

بہترین مھمان داری ہورھی تھی، دوسرے روز دیکھا کہ شھر کے بڑے بڑے لوگ اور علماء کرام تشریف لارھے ہیں، اور سب ایک ہال میں جمع ہورھے ہیں، مولانا صاحب نے اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھا: کیا پروگرام ہے؟ تو اس نے بتایا: راجہ صاحب کی لڑکی کا عقد ہے، مولانا صاحب نے دل ہی دل میں کھا: جب سے اس مکان پر آیا ہوں ، تمام عیش و آرام کے وسائل موجود ہیں۔

جب محفل سج گئی، راجہ صاحب اس ہال میں تشریف لائے، ان کے احترام میں سب لوگ کھڑے ہوگئے، اور وہ اپنی مخصوص جگہ پر آکر تشریف فرما ہوگئے۔

اس وقت راجہ صاحب نے اہل محفل کی طرف مخاطب کرکے کھا: بھائیوں میں نے اپنی آدھی ملکیت، (پیسہ، محل،زمین اورباغات وغیرہ) نجف اشرف سے آنے والے ان مولانا کو ہدیہ کردی، اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ میری دو ہی لڑکیاں ہیں ان میں سے جو زیادہ خوبصورت ہے اس کے ساتھ ان کاعقد کرتا ہوں، اور موجود علماء کرام سے خطاب کیا، آپ لوگوں میں سے کوئی ایک عقد پڑھنے کے لئے تیار ہوجائے۔

نکاح پڑھ دیا گیا،اس وقت مولانا صاحب کو بہت تعجب ہوا، اور اس واقعہ کی تفصیل کے بارے میں سوال کیا؟

راجہ صاحب نے کھا: میں نے چند سال پھلے سے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ایک شعر کھا ہے، لیکن اس پر مصرعہ نہیں لگاسکا، میں نے ہندوستانی فارسی شعراء سے بھی مدد مانگی، لیکن وہ بھی کوئی ڈھنگ کا مصرعہ نہ لگاسکے، ایرانی شعراء کی طرف بھی رجوع کیا، وہ بھی دل کو نہ بھایا، میں نے دل میں سوچا، میرا شعر حضرت علی علیہ السلام کی نظر کیمیا اثر میں مقبول نہیں ہے ، لہٰذا میں نے نذر کی کہ اگر کوئی اس شعر پر اچھامصرعہ لگادے تو میں اس کو اپنی آدھی دولت بخش دوں گااور اپنی لڑکی کا نکاح کردوں گا، مولانا صاحب! آپ نے میرے شعر پر مصرعہ لگادیا، میں نے دیکھا کہ واقعاً یہ مصرعہ ہر لحاظ سے بہت عمدہ اورھم آھنگ ہے، مولانا صاحب نے کھا: پھلا مصرعہ کیا تھا؟ راجہ نے جواب میں یہ مصرعہ پڑھا:

بہ ذرّہ، گر نظر لطف بوتراب کند

مولانا صاحب کہتے ہیں: یہ دوسرا مصرعہ میرا نہیں ہے، بلکہ حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب کا ہے، اس وقت راجہ نے سجدہ شکر ادا کیا اور کھا:

بہ ذرّہ، گر نظر لطف بوتراب کند

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند

قارئین کرام! جب حضرت علی علیہ السلام کی کیمیا اثر نظر کے صدقہ میں ایک نیازمند اور پریشان حال کی مشکلات اس طرح بدل سکتی ہے تو اگر خداوند مھربان اپنے بندے پر نظر رحمت کرلے تو کیا حال ہوگا؟

____________________

[۱] سورہ شوریٰ آیت ۱۱۔(ترجمہ : اس کے مانند کوئی شئے نہیں ہے)

[۲] سورہ اعراف آیت ۱۸۲۔”ھم نے انھیں عنقریب اس طرح لپیٹ لیں گے کہ انھیں معلوم بھی نہ ھوگا۔

[۳] نفحات اللیل:۸۱۔

[۴] بحار الانوار ج۷۵، ص ۱۲۶، باب ۲۰ حدیث ۷۔

[۵] سورہ یوسف آیت ۸۷۔

[۶] سورہ زمر آیت ۵۳۔

[۷] سورہ نساء آیت ۲۳۔

[۸] سورہ نساء آیت۲۵۔

[۹] سورہ مائدہ آیت ۳۹۔

[۱۰] سورہ انفال آیت ۶۹۔

[۱۱] تحف العقول:۱۸؛میزان الحکمہ :۶۳۸۲،التوبہ،حدیث۲۱۲۶۔

[۱۲] نہج البلاغہ، حکمت نمبر ۴۳۵۔

[۱۳] بحارالانوار :ج۶ ص۲۸،باب۲۰،حدیث۳۲۔

[۱۴] کافی ،ج۲ص۴۳۰،باب توبہ، حدیث۱؛بحارالانوار :ج۶ ص۲۸،باب۲۰،حدیث۳۱۔

[۱۵] سورہ فرقان آیت ۷۰۔

[۱۶] سورہ ھود آیت ۱۱۴۔

[۱۷] سورہ فرقان آیت ۷۰۔ تفسیر نور الثقلین ج۴ص ۳۳۔

[۱۸] تفسیر نمونہ ج۱۵، ص ۱۶۰۔

[۱۹] توحید صدوق:۲۴؛بحارالانوار :ج۳ ص۵،باب۱،حدیث۱۴۔

[۲۰] توحید صدوق:۲۲؛بحارالانوار :ج۳ ص۵،باب۱،حدیث۱۲۔

[۲۱] توحید صدوق:۲۹؛بحارالانوار :ج۳ ص۹،باب۱،حدیث۲۰۔

[۲۲] توحید صدوق:۲۱؛وسائل الشیعہ:ج۷ ص۲۱۰،باب۴۴،حدیث۹۱۴۰۔

[۲۳] توحید صدوق:۲۷؛بحارالانوار :ج۹۰ ص۱۹۷،باب۵،حدیث۲۱۔

[۲۴] بحا ر الانوار ،ج۳ ص ۱۳، باب ۱ حدیث ۲۸ ؛ مستدرک الوسائل، ج۵ ص ۳۵۹ باب ۳۶ حدیث ۶۰۸۳۔

[۲۵] میزان الحکمہ :ج۲۳۶۲۵،التسبیح، حدیث ۸۲۴۰۔

[۲۶] معانی الاخبار ۹ حدیث ۳؛میزان الحکمہ :ج۲۳۶۲۵،التسبیح، حدیث ۸۲۴۱۔

[۲۷] سورہ اسراء آیت ۴۴۔

[۲۸] سورہ انبیاء آیت ۸۷۔۸۸۔

[۲۹] ۔انیس اللیل:۲۲۶۔

[۳۰] انیس اللیل:۲۲۷۔

[۳۱] بحارالانوار :ج۶۸ ص۳۳،باب۶۱،حدیث۱۴۔

[۳۲] بحارالانوار :ج۶ ص۳۶،باب۲۰،حدیث۵۶۔

[۳۳] کافی ،ج۲ص۴۲۶،باب الاعتراف بالذنوب، حدیث۲؛میزان الحکمہ :ج۲ص۶۴۲،التوبہ، حدیث۲۱۵۳۔

[۳۴] مستدرک الوسائل :ج۱۲ص۱۱۶،باب ۸۲،حدیث۱۳۶۷۱؛ میزان الحکمہ :ج۲ص۶۴۴،التوبہ، حدیث۲۱۵۵۔

[۳۵] غررالحکم:۱۹۵،حدیث۳۸۱۱؛میزان الحکمہ :ج۲ص۶۴۴،التوبہ، حدیث۲۱۵۶۔

[۳۶] سورہ تحریم آیت ۶

[۳۷] انیس اللیل ص ۲۳۳۔

[۳۸] انیس اللیل ص ۲۳۹۔

[۳۹] مجموعہ ورّام:ج۱ص۱۸۹۔

[۴۰] عدة الداعی: ص۳۳۷۔

[۴۱] غررالحکم:۷۳،حدیث۱۰۹۴؛میزان الحکمہ: ج۲ص۸۶۸، الجھل، حدیث۲۷۹۸۔

[۴۲] غررالحکم:۷۳،حدیث۱۰۹۵؛میزان الحکمہ :ج۲ص۸۶۸،الجھل، حدیث۲۷۹۹۔

[۴۳] غررالحکم:۷۵،حدیث۱۱۶۴؛میزان الحکمہ :ج۲ص۸۶۸،الجھل، حدیث۲۸۰۲۔

[۴۴] غررالحکم:۷۵،حدیث۱۱۵۲؛میزان الحکمہ :ج۲ص۸۷۰،الجھل، حدیث۲۸۱۷۔

[۴۵] غررالحکم:۷۵،حدیث۱۱۶۳؛میزان الحکمہ :ج۲ص۸۷۰،الجھل، حدیث۲۸۱۸۔

[۴۶] غررالحکم:۷۴،حدیث۱۱۲۳؛میزان الحکمہ:ج۲ص۸۷۰،الجھل، حدیث۲۸۲۲۔

[۴۷] بحارالانوار :ج۹۴ ص۲۱۹،الیوم التاسع والعشرون۔

[۴۸] سورہ مطففین آیت ۱۵۔

[۴۹] سورہ شمس آیت ۹،۱۰۔

[۵۰] شرح نہج البلاغہ:ج۶ص۳۳۷؛میزان الحکمہ :۱۵۳۶۴،الخلق، حدیث۵۰۹۷۔

[۵۱] غررالحکم:۲۶۵،حدیث۵۷۲۲؛میزان الحکمہ :۱۵۳۶۴،الخلق، حدیث۵۰۹۸۔

[۵۲] غررالحکم:۲۶۴،حدیث ۵۶۹۷؛میزان الحکمہ :ج۱۵۳۶،الخلق، حدیث۵۰۸۹۔

[۵۳] ۔محجّةالبیضاء، ج۵،ص۹۳،کتاب ریاضة النفس ،میزان الحکمة ۴ ۱۵۳۶ الخلق، حدیث ۵۱۰۱۔

[۵۴] المناقب:ج۲ص۳۰۱،فصل فی السابقة بالزھد؛عدة الداعی ص۲۰۹؛ بحارالانوار ج۸۴ ص ۱۵۶،باب۶،حدیث۴۱۔

[۵۵] کافی ،ج۳ص۴۵۰،باب صلاة النوافل،حدیث ۳۴۔

[۵۶] بحارالانوار :ج۱ص ۱۵۰،باب۴،علامات العقل۔

[۵۷] میزان الحکمہ :۱۸۴۱، الامل، حدیث ۶۷۵۔

[۵۸] بحارالانوار :ج۷۴ص ۱۷۵،باب۷،حدیث۸۔

[۵۹] بحارالانوار :ج۹۱ص ۱۵۵،باب۳۲،حدیث۲۲۔

[۶۰] غررالحکم:۳۱۲،حدیث ۷۲۰۷؛میزان الحکمہ :۱۸۶۱، الامل، حدیث۶۸۳۔

[۶۱] غررالحکم:۳۱۳،حدیث ۷۲۴۵؛میزان الحکمہ :۱۸۶۱،الامل، حدیث۶۸۴۔

[۶۲] غررالحکم:۶۵،حدیث ۸۶۰؛میزان الحکمہ :۱۸۶۱،الامل، حدیث۶۸۵۔

[۶۳] غررالحکم:۳۱۲،حدیث ۷۲۰۶؛میزان الحکمہ :۱۸۶۱،الامل، حدیث۶۸۶۔

[۶۴] کافی ،ج۲ص۳۲۹،باب القسوة،حدیث۱؛میزان الحکمہ :۱۸۸۱،الامل، حدیث ۸ ۷۱۔

[۶۵] اقبال:ص۳۹۰،میزان الحکمہ :۱۸۶۱،الامل، حدیث۶۹۔

[۶۶] بحارالانوار :ج۷۰ ص۱۶۷،باب۱۲۸،حدیث۳۱۔

[۶۷] سورہ اعراف آیت ۵۸۔

[۶۸] کافی :۵۸۸ ،حدیث ۲۱؛بحار الانوار :۲ ۱۰۶ ،باب ۱۵،حدیث ۲۔

[۶۹] بحارالانوار ج ۷۰ص ۸۴، باب ۱۲۳، حدیث ۴۷۔

[۷۰] وسائل الشیعہ:۱۰۱۶،باب ۶۲،حدیث ۲۱۸۲۷۔

[۷۱] کافی:۱ ۱۵ ،کتاب العقل و الجھل ،حدیث ۱۲۔

[۷۲] بحار الانوار:۹۹۷۰،باب ۱۲۲،حدیث ۸۶۔

[۷۳] تحف العقول :۳۰۳؛بحار الانوار :۲۸۱۷۵،باب ۲۴،حدیث ۱۔

[۷۴] علم الاخلاق ص ۱۰۱۔

[۷۵] سورہ یوسف آیت ۵۳۔

[۷۶] سورہ شمس آیت ۱۰۔

[۷۷] سورہ بقرة آیت ۱۳۰۔

[۷۸] سورہ یوسف آیت ۱۸۔

[۷۹] سورہ مدثر آیت ۳۸۔

[۸۰] سورہ نازعات آیت ۴۰ و۴۱۔

[۸۱] سورہ زمر آیت ۵۶۔

[۸۲] عدة الداعی :۳۱۴؛بحار الانوار :۶۴۶۷،باب ۴۵،حدیث ۱۔

[۸۳] غرر الحکم :۲۳۷،اصلاح النفس ،حدیث ۴۷۶۶۔

[۸۴] غرر الحکم :۲۴۱،مخالفة الھوی،حدیث ۴۸۸۱۔

[۸۵] غرر الحکم :۱۳۶،الدنیا آفة النفس ،حدیث ۲۳۸۶۔

[۸۶] غرر الحکم :۲۳۵،مراقبة النفس،حدیث ۴۷۱۸۔

[۸۷] غرر الحکم :صلاح الدین بھما ۔۔۔،حدیث ۵۹۱۲۔

[۸۸] نہج البلاغہ:۳۱۲،خطبہ نمبر ۱۹۸، من خطبة لہ(ع)یبنّہ علی احاطة علم الله۔۔۔۔۔

[۸۹] غرر الحکم :۱۳۶،الدنیا آفة النفس ،حدیث ۲۳۸۵۔

[۹۰] غرر الحکم :۳۰۳،ذم اللذات ،حدیث ۶۹۲۳۔

[۹۱] سورہ صافات آیت ۱۲۰۔

[۹۲] سورہ صافات آیت ۱۲۲۔

[۹۳] غرر الحکم :۳۴۰،تھذیب النفس ،حدیث ۴۸۵۱۔

[۹۴] حکمت الٰھی ص ۳۹۸تا ۳۹۹۔

[۹۵] نفس اور اس کے اچھے برے حالات کے بارے میں مذکورہ کتاب(حکمت الٰھی) میں تفصیل کے ساتھ مطالب بیان کئے گئے ھیں، قارئین کرام! مزید آگاھی کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

[۹۶] سورہ مائدہ آیت ۹۵۔

[۹۷] بھرہ، کم سننے والا۔

[۹۸] نھج البلاغہ :۱۵۶،ومن کلام لہ(ع)اھل بصرة سے خطاب۔۔۔؛ بحار الانوار :۱۰۰ص۵۶،باب ۴،حدیث ۳۲۔

[۹۹] سورہ بقرة آیت ۶۵۔

[۱۰۰] غرر الحکم :۴۷۹۔متفرقات اجتماعی،حدیث ۱۱۰۰۹۔

[۱۰۱] نہج البلاغہ:حکمت ۱۸۱۔

[۱۰۲] نہج البلاغہ:۲۲۱،خطبہ ی۱۷۵، ومن خبطة لہ(ع)یحث الناس علی التقوی۔

[۱۰۳] تحف العقول :۳۵۶۔

[۱۰۴] شجرہ ملعونہ کے معنی ”لعنت کیا ھوا درخت “ھے ، جس کا ذکر قرآن مجید (سورہ اسراء آیت ۶۰) میں ھوا ہے، ارشاد ھوتا ہے:

وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی ارَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا یَزِیدُهُمْ إِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیرًا ۔“

[۱۰۵] امالی مفید:۵۱،مجلس ششم،حدیث ۱۸۔

[۱۰۶] بحار الانوار :۷۲۶۸،باب ۶۲۔

[۱۰۷] بحارالانوار :۲۶۹۶۸،باب۷۷،حدیث۴۔

[۱۰۸] بحارالانوار :۲۶۹۶۸،باب۷۷،حدیث۵۔

[۱۰۹] غررالحکم :۲۶۵، حدیث۵۷۴۴؛میزان الحکمة : ۴۳۶۲۹،الغفلة، حدیث ۱۵۱۳۵۔

[۱۱۰] غررالحکم :۱۴۶، حدیث ۲۶۵۶؛ میزان الحکمة :۴۳۶۲۹،الغفلة، حدیث ۱۵۱۴۳۔

[۱۱۱] غررالحکم :۲۶۶،حدیث۵۷۶۵؛میزان الحکمة :۴۳۷۲۹،الغفلة، حدیث ۱۵۲۰۷۔

[۱۱۲] غررالحکم :۲۶۶،حدیث۵۷۶۲؛میزان الحکمة :۴۳۷۲۹،الغفلة، حدیث ۱۵۲۰۸۔

[۱۱۳] بحار الانوار:۱۱۴۷۵،باب۱۹،حدیث۱۰؛میزان الحکمة:۴۳۷۲۹،الغفلة ،حدیث ۱۵۲۰۳۔

[۱۱۴] بحار الانوار:۲۹۵۱۴،باب ۲۱۔

[۱۱۵] کافی:۱۴۸۲،باب الاستغناء عن الناس ،حدیث ۲۔

[۱۱۶] نفحات اللیل ص ۱۰۹۔

[۱۱۷] انیس اللیل ص ۲۹۲۔


”الٰهي وَمَوْلاٰيَ اجْرَیْتَ عَلَيّحُکْماً ا تَّبَعْتُ فیهِ هَویٰ نَفْسي، وَلَمْ احْتَرِسْ فیهِ مِنْ تَزْیینِ عَدُوِّي،فَغَرَّنِي بِمٰااهْویٰ وَاسْعَدَهُ عَلٰی ذٰلِکَ الْقَضٰٓاءُ فَتَجٰاوَزْتُ بِمٰاجَریٰ عَلَيَّ مِنْ ذٰلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،وَخٰالَفْتُ بَعْضَ اوٰامِرِکَ“

”خدایا مولایا۔تونے مجھ پر احکام نافذ کئے اور میں نے خواھش نفس کا اتباع کیا اور اس با ت کی پرواہ نہ کی کہ دشمن (شیطان)مجھے فریب دے رھا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خواھش کے سھارے مجھے دھوکہ دیا

اور میرے مقدر نے بھی اس کا سا تھ دےدیا اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا “۔

وظائف اور ذمہ داریاں

خداوندعالم جن چیزوں کے ذریعہ انسان کی زندگی کو سنوارنا چاہتا ہے، جیسے صحیح عقائد جن کی جگہ قلب ہے، اخلاق حسنہ جن کی جگہ نفس اور باطن انسان ہے،اور اعمال صالحہ، جن کو اعضاء و جوارح سے انجام دیا جاتا ہے، انھیں تمام چیزوں کو وظائف اور ذمہ داریاں کھاجاتا ہے، اور یہ چیزیں خدا کی ربوبیت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت و احسان کے جلوے ہیںاور یہ انسان کی دنیا وآخرت کی بھلائی کے پیش نظر قرار دی گئی ہیں۔

بے شک اگر خداوندعالم کی طرف سے معین کردہ وظائف پر خلوص نیت اور عشق و محبت کے ساتھ عمل کیا جائے چاھے کسی بھی حالت میں انجام دئے جائیں انسان کمال اور سعادت کی منزلوں پر فائز ہوجائے گا، رضائے الٰھی اس کے شامل حال ہوگی، الیاء اللہ بھی اس سے خوش ہوں گے،اس کی زندگی طیب و طاھر ہوجائے گی، اور آخرت میں خدا کے لطف وکرم کے زیر سایہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انبیاء، صدیقین، شھداء اور صالحین کے ساتھ قرار پائے گا۔

خدا کی اطاعت اور اس کی فرمانبردای میں مانع ہونے والی چیزھوائے نفس ہے، جس کے معنی انسانی خواھشات کا بے لگام ہوجانا ہے، اور جب انسان ان خواھشوں کا شکار ہوجاتا ہے تو دنیاوی زرق و برق کو دیکھ کر ان میں غرق ہوجاتا ہے اور پھر گناھوں میں ڈوب جاتا ہے،

اور اپنی تمام تر طاقت کو انھیں کے لئے خرچ کرتا ہے، اگرچہ دوسروں پر ظلم و ستم اور ان کے حقوق کو پائمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے، اور اپنے اندر موجود شیطنت کی وجہ سے ایسے امور کی طرف دعوت دیتا ہے کہ نہ اسے اصول اعتقاد کی خبر رہتی ہے اور نہ ہی اخلاقی کردارکی، اور پھر یھاں تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ نہ اپنے اوپر رحم کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں پر،

اور ایک خطرناک حیوان کی طرح حقائق اور واقعیات کو نادیدہ کرتے ہوئے زندگی کو تباہ کرڈالتا ہے، یھاں تک کہ موت آکر اس کا گلا دبالیتی ہے، اور اس کی گندگی اور کثافت سے دنیا کو پاک کردیتی ہے۔

اگر رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ایک بہت اھم روایت کے ضمن میں فرمایا ہے:

اعدَی عَدُوِّکَ نَفسُک الَّتِی بَیْنَ جَنْبَیْکَ “[۱]

”(خبردار!) تمھارا سب سے بڑادشمن ؛ تمھارے دو پھلو وںکے درمیان موجود تمھارا مادّی نفس ہے“۔

تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان حق ہے اور نفس کے سلسلہ میں ایک بہت اھم چیلنج ہے۔

جی ہاں! نفس امّارہ، اور جس چیز کو قرآن کریم کی زبان میں ہوائے (نفس )سے تعبیر کیا گیا ہے، یہ انسان کاسب سے خطرناک دشمن ہے، کیونکہ انسان اسی ہوائے نفس کی بنا پر اپنی دنیا و آخرت کو تباہ کرڈالتا ہے، اور یھی ہوائے نفس ہوتی ہے جو انسان کو تمام برائیوں میں غرق کردیتی ہے اور ہر نیکی سے روک دیتی ہے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے : کسی شخص نے مجھ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کو جمع کرنے والی صفت کے بارے میں سوال کیا، تو میں نے کھا: اپنے نفس کی مخالفت کرو۔[۲]

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

افْضَلُ الجِهادِ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ الَّتِی بَیْنَ جَنْبَیْهِ “[۳]

سب سے بڑا جھاد ؛”جھاد بالنفس“ ہے۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حضرت علی علیہ السلام سے فرماتے تھے:

یَاعَلِیُّ افْضَلُ الجِهادِ مَنْ اصْبَحَ لَایَهُمُّ بِظُلْمِ احَدٍ “[۴]

”یا علی! سب سے بڑا جھادیہ ہے کہ انسان صبح اٹھے تو کسی پر ظلم و ستم کا ارادہ نہ رکھتا ہو“۔

اگر انسان ہوائے نفس کا شکار ہوجائے، یعنی اپنی بے حساب شھوت کے ذریعہ خداوندعالم کی مخالفت کرے تو ہوائے نفس اس کو قیدی بنا کر دھوکہ میں ڈال دیتی ہے، اور یاد خدا، یاد قیامت ، موقع حساب و کتاب ، وقت موت اور خدا کے واجب کردہ وظائف اور ذمہ داریوں کو بھلا دیتی ہے، اور اس وقت قضائے الٰھی جو اس سلسلہ میں انسان انسان کی آزادی اور اس کا اختیارھے اس دھوکا دھڑی میں غدّار دشمن کی مدد کرتی ہے، اور انسان کو اس آزادی اور اختیار سے ناجائز فائدہ اٹھانے پر مجبور کردیتی ہے، اور خداوندعالم کی اطاعت اور وظائف پر عمل کرنے کے بجائے، ظلم و ستم او ردوسروں پر تجاوز کرنے لگتا ہے، اورانسان خداوندعالم کی معین کردہ حدود اور دیگر اصول سے تجاوز کرتا ہے، اور خداوندعالم کے سعادت بخش احکام کی مخالفت کرتا ہے۔

فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَيَّ فيجَمیعِ ذٰلِکَ،وَلاٰحُجَّةَ لِي فِیمٰاجَریٰ عَلَيَّ فیهِ قَضٰاوکَ،وَالْزَمَنِيحُکْمُکَ وَبَلٰاوکَ ،“

”بھر حال اس معاملہ میں میرے ذمہ تیری حمد بجالانا ضروری ہے اور اب تیری حجت ہر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ہے اور میرے پاس تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نہیں ہے “۔

انسان پر خدا کی حجتیں

انسان کے پاس ایسی کوئی حجت نہیں ہے جو دنیا میں اپنی ضلالت وگمراھی، کجی اور انحراف اور گناہ و معصیت کے سلسلہ میں خدا کی بارگاہ میں پیش کرسکے۔

مثلاً اگرانسان کھے: میں طاقت و قدرت نہیں رکھتا تھا، تو یہ تو بہت بڑا جھوٹ ہے، چونکہ اس کا بدن صحیح و سالم تھا، مختلف نعمتوں سے نوازا گیا تھا لہٰذا اپنے وظائف کو انجام دینے پر قدرت رکھتا تھا۔

اور اگرانسان کھے: عقل سے محروم تھا، یہ بھی بہت بڑا جھوٹ ہے،چونکہ اگر عقل سے محروم ہوتا تو کس طرح اپنے دنیا میں کاروبار، تجارت اور دوسرے امور انجام دیتا تھا؟!

اور اگرانسان کھے: اگر میری ہدایت کے لئے خدا کی طرف سے کوئی نبی، امام یا کتاب ہدایت کا انتظام ہوتا تو میں ان کی پیروی کرتا؛ تو پھر اس کے جواب میں کھا جائے گا: ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے گئے، بارہ معصوم امام ہدایت کے لئے معین کئے گئے، لیکن تجھے کیا ہوگیا تھا تو نے اپنے دنیاوی مسائل کو حل کرنے کے لئے ہر ممکن سعی و کوشش کی ، لیکن ہدایت کے سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا؟!

اور اگر انسان کھے: ہدایت کے لئے کوئی عالم دین، کتاب ہدایت اور معنویت سے آباد مسجد کا انتظام نہ تھا، تو کھا جائے گا: یہ جھوٹ او رتھمت ہے، کیونکہ ہماری ہدایت کی آواز ہر طرف سے آرھی تھی لیکن تیرا تکبر، خودپسندی اور ہوائے نفسانی ”صد ائے ہدایت“ سننے میں مانع ہوئی اور تو نے حق کی پیروی نہیں کی ہے!

قارئین کرام! مذکورہ حقائق کے پیش نظر خداوندعالم کی طرف سے دنیا و آخرت میں انسان کو محکوم کرنے کے لئے حجت کا دروازہ کھلا ہے، اور انسان کے لئے اپنا عذر پیش کرنے اور عذاب الٰھی سے بچنے کے لئے کوئی بھی بھانہ اور عذر قابل قبول نہیں ہے۔

اس واضح اور آشکار حقیقت(انسان پر خدا کی حجت حکم فرما ہے ، اور وہ عذاب الٰھی کا مستحق ہے) خدا کے پیش نظر ہم صرف ایک اھم روایت نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں، جو اسلامی معتبر کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔

حمید بن زیاد نے حسن بن محمد کَندی سے اور انھوں نے احمد بن حسن میثمی سے، انھوں نے ابان بن عثمان سے اور انھوں نے عبد الاعلی سے روایت کی ہے :

سَمِعْتُ اباعَبدِ اللّٰهِ علیه السلام یَقولُ:یُوتَی بِالْمَراةِ الحَسناءِ یَوْمَ القِیامَةِ الَّتِی قَدِ افْتُتِنَتْ فِی حُسْنِها فَتَقولُ:یَارَبِّ حَسَّنْتَ خَلْقِی حَتَّی لَقِیتُ مَا لَقِیتُ؛فَیُجاءُ بِمَریَمَ علیها السلام فَیُقالُ:انْتِ احْسَنُ اوْهٰذِهِ؟ قَدْحَسَّنَّاهَا فَلَمْ تُفْتَتَنْ،وَ یُجاءُ بالرَّجُلِ الحَسَنِ الَّذِی قَدْ افْتُتِنَ فِی حُسْنِهِ فَیَقولُ:یَارَبِّ حَسَّنْتَ خَلْقِی حَتّی لَقِیتُ مِنَ النِّساءِ مَا لَقِیتُ فَیُجاءُ بِیُوسُفَ علیه السلام فَیُقالُ:انْتَ احْسَنُ اوْ هٰذَا؟قَدْ حَسَّنَّاهُ فَلَمْ یُفْتَتَنْ وَ یُجاءُ بِصاحِبِ البَلاَءِ الَّذِی قَدْ اصَابَتْهُ الفِتْنَةُ فِی بَلَائِهِ فَیَقُولُ :یَارَبِّ شَدَّدْتَ عَلَیَّ البَلَاءَ حَتَّی افْتُتِنْتُ فَیُوتَی بِایّوبَ علیه السلام ، فیقال:ابَلِیَّتُکَ اشَدُّ اوْ بَلِیَّةُ هٰذَا؟فَقَدْ ابْتُلِیَ فَلَمْ یُفْتَتَنْ “[۵]

”میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: روز قیامت ایک حسین و جمیل عورت کو لایا جائے گا جس نے اپنے حسن و جمال کی وجہ سے دنیا میں گناہ ومعصیت کو اپنا شعار بنایا، تو وہ اپنی بے گناھی ثابت کرنے کے لئے کھے گی: پالنے والے! تو نے مجھے خوبصورت پیدا کیا لہٰذا میں اپنے حسن و جمال کی بنا پر گناھوں کی مرتکب ہوگئی، اس وقت جناب مریم (سلام اللہ علیھا) کو لایا جائے گا، اور کھا جائے گا: تو زیادہ خوبصورت ہے یا یہ خاتون باعظمت؟ ہم نے اس کو بہت زیادہ خوبصورت خلق فرمایا لیکن پھر بھی انھوں نے اپنے کو محفوظ رکھا، اور برائیوں سے دور رھیں۔

اور پھر ایک خوبصورت مرد کو لایا جائے گاوہ بھی اپنی خوبصورتی کی بنا پر گناھوں میں غرق رھا ، وہ بھی کھے گا: پالنے والے ! تو نے مجھے خوبصورت پیدا کیا ، جس کی بنا پر میں نامحرم عورتوں کے ساتھ گناھوں میں ملوث رھا۔ اس وقت جناب یوسف (علیہ السلام) کو لایا جائے گا، اور کھا جائے گا: تو زیادہ خوبصورت ہے یا یا عظیم انسان، ہم نے انھیں بھی بہت خوبصورت پیدا کیا لیکن انھوں نے بھی اپنے آپ کو گناھوں سے محفوظ رکھااور فتنہ و فساد میں غرق نہ ہوئے۔

اس کے بعد ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا، جو بلاء اور مصیبتوں میںگرفتار رہ چکا تھا اور اسی وجہ سے اس نے اپنے کو گناھوں میں غرق کرلیا تھا، وہ بھی عرض کرے گا: پالنے والے! چونکہ تونے مجھے مصیبتوں اور بلاؤں میں گرفتار کردیا تھا جس سے میرا حوصلہ اور استقامت جاتی رھی اور میں گناھوں میں غرق ہوگیا، اس وقت جناب ایوب (علیہ السلام) کو لایا جائے گااور کھا جائے گا: تمھاری مصیبتیں زیادہ ہیں یا اس عظیم انسان کی ، یہ بھی مصیبتوں میں گھرے لیکن انھوں اپنے آپ کو محفوظ رکھا اور فتنہ وفساد کے گڑھے میں نہ گرے“۔

وَقَدْ اتَیْتُکَ یٰاالٰهِي بَعْدَ تَقْصیرِي وَاسْرٰافِيعَلٰی نَفْسِي،مُعْتَذِراًنٰادِماً مُنْکَسِراًمُسْتِقیلًا مُسْتَغْفِراً مُنیباًمُقِرّاً مُذْعِناًمُعْتَرِفاً،لاٰاجِدُ مَفَرّاًمِمّٰا کٰانَ مِنّي،وَلاٰمَفْزَعاًاتَوَجَّهُ الَیْهِ فيامْرِي غَیْرَ قَبُولِکَ عُذْرِي،وَادخٰالِکَ ایّٰايَ في سَعَةِ رَحْمَتِکَ ۔“

”اب میں ان تمام کوتاھیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ہو رھاھوں کہ میرے پاس ان گناھوں سے بھاگنے کے لئے کوئی جائے فرار نہیں ہے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تواپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے “۔

عاشقانہ راز و نیاز اور مناجات

دعائے کمیل کے اس حصے میں حضرت علی علیہ السلام نے ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے جن کی وجہ سے خدا کی رحمت اور بخشش شامل حال ہوتی ہے، جیسے:اپنی عبادت کو ناقص تصور کرنا، اپنے آپ کو شھوت پرست قرار دینا، شرمندگی کے ساتھ معذرت خواھی کرنا، دل شکستہ سے بخشش کی درخواست کرنا، خدا کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس سے توبہ کرنا، گناھوں کا اعتراف کرنا اور خدا کی پناھگاہ کے علاوہ کسی دوسری پناھگاہ کا تصور ذھن سے نکال دینا۔

یہ آہ وبکا، گریہ و زاری اور توبہ و اقرار ؛ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو خداوندعالم اپنے گناھگار بندے اور توبہ کرنے والے سے سننے کو دوست رکھتا ہے۔ مروی ہے کہ :ایک صاحب جو عرفان و معرفت حاصل کرنا چاہتے تھے ،کسی ولی اللہ کے پاس گئے اور کھا: میں خدا کی بارگاہ میں حاضری دینا چاہتا ہوں اور اس کے حضور میں مشرف ہونا چاہتا ہوں، آپ بتائیں کہ ربّ ودود ، خدائے غفور اورمالک الملک کے لئے کیا تحفہ لے کر جاؤں؟ کیونکہ خالی ہاتھ جانا اس کی شان کے خلاف ہے۔چنانچہ اس ولی اللہ اور عاشق خدا نے کھا: وھاں وہ چیز تحفہ لے کر جاؤ جو وھاں نہ ہو، وھاں پر تمام کمالات: علم، حلم، قدرت، رحمت، مشیت، لطف، کرامت، صدق، عدالت، سطوت اورھیبت موجود ہے، لیکن وھاں یہ چیزیں نہیں ہیں: سوز دل، بہتے ہوئے آنسو، آہ و بکاراور تضرع و انکساری۔

جی ہاں! خداوندعالم، توبہ کرنے والے گناھگار اور ہر طرف سے مایوس و مغلوب بندہ کی آواز سننے کو بہت زیادہ پسند کرتاھے، اور یہ بات قابل انکار نہیں ہے کہ ہرمعشوق اپنے عاشق کی آواز اور التماس کو سننا چاہتا ہے، جیسا کہ ہر عاشق اپنے محبوب کی نظر التفات اور توجہ کا منتظر رہتا ہے نیز اس کے تقاضوں کوپورا کرنا چاہتا ہے۔

یوسف و زلیخا

بعض علماء کرام نے نقل کیا ہے: زلیخا نے اپنی قدرت سے ناجائز فائدہ اٹھاکر اپنے کو تھمت سے بری الذمہ کرنے کے لئے حضرت یوسف(ع) کو زندان میں تو ڈلوادیا، لیکن اپنی بے انتھا محبت اوردلسوز عشق کی تاب نہ لاسکی ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھ گئی کہ یوسف(ع) کے ایمان و تقویٰ کی بنا پر جناب یوسف سے وصال تو ممکن نہیں ہے،لہٰذا کم از کم محبوب کی آواز ہی سن لے، اور اس کے نالہ و فریاد کی آواز ہی کو سن لے، چنانچہ اس نے اپنے ایک غلام کو ساتھ لیا، اور زندان میں گئی، اس غلام سے کھا کہ یوسف کو تازیانے مارو، لیکن جیسے ہی غلام نے جناب یوسف کے حسن و جمال اور الٰھی ہیبت کو دیکھا تو ان کو تازیانے لگانے کی ہمت نہ کرسکا، ادھر اسے زلیخا کا بھی خوف تھا، اس نے جناب یوسف کو موٹے موٹے کپڑے پھنائے اور ان کے اوپر سے تازیانہ مارنے شروع کئے، تاکہ جناب یوسف کو اذیت نہ ہو۔

زلیخا بہت دیر تک انتظار کرتی رھی لیکن اپنے محبوب کی آواز نہ سن سکی، غلام سے کھا: زور سے مارو، اس وقت غلام نے جناب یوسف سے کھا: کھیں زلیخا مجھے زور سے نہ مارنے کی سزا نہ دینے لگے،آپ ان کپڑوں کو اتار دیجئے اور مجھے معاف کیجئے گا، جناب یوسف نے اپنی بزرگواری کے تحت اس بات کو قبول کرلیا، جیسے ہی آپ کے بدن پر تازیانے پڑے تو آہ ونالہ کی آواز بلند ہوئی جس سے زلیخا جیسی عاشق کے دل کو سکون ملا۔

چون زلیخا ز او شنید این بار آہ

گفت بس کین آہ بود از جایگاہ

پیش از ین آن آہ ہا ناچیز بود

آہ این باری زجای تیز بود

گر یود در ماتمی صد نوحہ گر

آہ صاحب درد را باشد اثر

قوم یونس(ع)

جس وقت قوم یونس کو یہ معلوم ہوا کہ یونس اس بستی سے چلے گئے ہیں اور انھوں نے عذاب الٰھی کے آثاردیکھ لئے تو ان کو یقین ہوگیا کہ اس عذاب سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ خداوندعالم کی بارگاہ میں توبہ او رگریہ و زاری اور اپنے گناھوں کا اعتراف ہے۔ چنانچہ سب چھوٹے بڑے، پیر و جوان اور مرد عورتیں پرانے لباس پھن کر پابرھنہ بیابان کی طرف چل دئے۔ مرد ایک طرف عورتیں دوسری طرف ، شیر خوار بچوں کو ان کی ماؤں سے الگ کردیا گیااور سب مل کر خدا کی بارگاہ میںگریہ و زاری کرنے لگے اور روروکر اس کی بارگاہ میں توبہ کرنے لگے۔

یھاں تک کہ حیوانات بھی نالہ و فریاد کرنے لگے، کلمہ توحید ان کی زبان پر جاری ہوا، دلسوز نالہ و فریاد اور محبت کے ساتھ توبہ اور پشیمانی کا اظھار کیا، شرک و معصیت اورنافرمانی سے باز آگئے، ان میں سے ایک گروہ نے پکار کر کھا: پالنے والے! یونس نے کھا تھا کہ غلاموں کو آزاد کردو تاکہ ثواب کے مستحق قرار پاؤ، اور جھاں بھی تمھیں کوئی شخص مشکلات اور پریشانی میں دکھائی دے اس کی مدد کرو، پالنے والے! اس وقت یہ غلام تیری بارگاہ میں بے چارہ ہیںتیرے علاوہ ہمارا کوئی فریادرس نہیں ہے لہٰذاھماری مدد فرما۔

چنانچہ جب اس قوم کا راز و نیاز اور سوز و گریہ اور مناجات، بارگاہ الٰھی میں قبول ہوئی تو ان کو نجات مل گئی، عذاب کا بادل چھٹ گیا، اور رحمت خدا کی گھٹا چھاگئی، سب کی توبہ قبول ہوگئی اور سب خوش وخرم شھر میں واپس آگئے، اور اپنے کاروبار اور زندگی میں مشغول ہوگئے۔ بھر حال خداوندعالم کی طرف توجہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں گناھوں کا اقرار کرنا، اپنی بے چارگی کا اعلان کرنا اور خدا سے طلبِ بخشش کرنا ، حقیقی توبہ کے مقدمات ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم کا لطف و کرم شامل ہوتا ہے۔

”اللّٰهُمَّ فَاقُبَلْ عُذْري،وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي،وَفُکَّنِيمِنْ شَدِّوَثٰاقِي،

یٰارَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي،وَرِقَّةَ جِلْدي،وَدِقَّةَ عَظْمي،

یٰامَنْ بَدَاخَلْقِيوَذِکْرِي وَتَرْبِیَتِيوَبِرِّيوَتَغْذِیَتيهَبْني

لِابْتِدٰاءِ کَرَمِکَ وَسٰالِفِ بِرِّکَ بي“

”لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما ۔میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔

مجھے شدید قید وبند سے نجات عطا فرما۔پروردگار میرے بدن کی کمزوری،

میری جلد کی نرمی اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما،اے میرے پیداکرنے والے ۔

اے میرے تربیت دینے والے! اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ

احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرمادے“۔

محبوب کا دربار

دعا کے اس حصہ میں عارف عاشق ،تائب صادق اور بہترین مناجات کرنے والااحساس کرتا ہے کہ خداوندعالم کی رحمت اور لطف و کرم کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، اور ہمارا محبوب خدا ہمارے راز و نیاز سننے کے لئے تیار ہے؛ لہٰذا عرض کرتا ہے:

میرے عذرر کو قبول فرما، جو میری نادانی اور جھالت ہے، لڑکپن اور گناہ ہیں، میں ہوائے نفس کا قیدی ہوں اور میرا ارادہ ضعیف اور کمزور ہے، لیکن اب چونکہ تیری بارگاہ میں توبہ کی توفیق حاصل ہوگئی ہے، اور جھالت کے اندھیرے سے نکل آیا ہوں اور میری جوانی کا نشہ ختم ہوگیا ہے، ایک حد تک نفس پرستی سے چھٹکارا مل گیا ہے، اورگناھوں کے ترک کرنے اور تیری اطاعت کرنے پرمیرا ارادہ محکم ہوگیا ہے، لہٰذا میں نے گناھوں سے دوری اختیار کی ہے اور شیطان و ہوائے نفس سے دور بھاگ کرتیری بارگاہ میںحاضر ہوا ہوں، لہٰذا اپنے لطف وکرم اور عنایت سے میری گزشتہ برائیوں اور مفاسد کی اصلاح فرمادے۔

پالنے والے! میرے برے حالات کی سختی، خود غرضی، حرص، حسد ،بخل، طمع ریاکاری، خودنمائی اور دوسرے برے صفات کی وجہ سے ہیں، اگر یہ بدحالی میرے اندر باقی رھی تو ایک خطرناک بیماری اور ناسور میں بدل جائی گی، جو مجھے ہلاک کردے گی، جس کے علاج کے لئے کوئی راستہ باقی نہ بچے گا، لہٰذا میرے اس حال پر رحم فرما، اور اگر تیری رحمت میرے شامل حال ہوگئی تو میری بری حالت اچھی حالت میں بدل جائے گی، اورمیں اخلاق حسنہ سے مزین ہوجاؤں گا، تیرے کرم کے زیر سایہ میرا تکبر؛ تواضع میں، حرص؛ قناعت میں، حسد؛ رشک میں، بخل؛ جود و سخاوت میں، لالچ؛ رضایت میں اور ریاکاری؛ اخلاص میں بدل جائے گی۔

پالنے والے! میرے اعضاء و جوارح ، عقل و خرد، دل و جان ،ھاتھ پیر اور قلب و روح پر شیطان اور ہوائے نفس کی زنجیروں نے قبضہ کرلیا ہے، مجھے عبادت و طاعت اور کار خیر سے روکتے ہیں، او رتیری بارگاہ میں آنے سے میرے قدموں کو روک لیتے ہیں۔ پالنے والے! اب جبکہ تیری عطا کردہ توفیق کے سبب دل سے آہ و فغاں کررھا ہوں، آنکھوں سے ندامت اور حسرت کے آنسو بھارھا ہوں،تیری بارگاہ میں فریاد کررھا ہوں، اور تیرے حضور میں ان تمام زنجیروں سے رھائی کا طالب ہوں، پالنے والے!میرے اوپر اپنی رحمت اور لطف وکرم کا سایہ فرمادے، اور میرے ہاتھوں اور پاؤں سے شیطانی اور ہوائے نفس کی زنجیروں کو کھول دے، اور مجھے مکمل طریقہ سے آزاد بنادے، اور اس ذلت و روسوائی سے نکال دے۔

اگر آج جبکہ میں اس دنیا میں ہوں تیری رحمت میری فریاد کو نہ پھنچے اور مجھے ان زنجیروں کی سختیوں اور شیطانی وسوسوں اور ہوائے نفس کی تکلیفوں اور برے اخلاق نیز فرعونی اور قارونی حالات سے نجات نہ دی تو کل روز قیامت مجھے ان زنجیروں میں گرفتار ہونا پڑے گا، جن کے بارے میں قرآن مجید نے خبر دی ہے، کہ وہ زنجیریں کفار، مشرکین اور مجرمین کے ہاتھ پیروں میںڈالی جائےں گی اور ان کو جھنم کی طرف کھینچا جائے گا:

( إِنَّا اعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ سَلَاسِلَاْ وَاغْلاٰلاً وَسَعِیرًا ) ۔“[۶]

”بے شک ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں طوق اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کا انتظام کیا ہے“۔

( خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِیمَ صَلُّوهُ. ثُمَّ فِی سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوهُ. إِنَّهُ کَانَ لاَیُؤْمِنُ بِاللهِ الْعَظِیم ) ۔“[۷]

”اب اسے پکڑلو اور گرفتار کرلو۔پھر اسے جھنم میں جھونک دو۔پھر ایک ستر گز کی رسی میں اسے جکڑ لو۔یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا“۔

اگر آج تونے مجھے ان زنجیروں اور قید و بند سے آزاد نہ کیاتو پھر ایک دن وہ بھی آئے گا کہ میری آزادی کے لئے کوئی بھی راستہ باقی نہیں رھے گا۔

قارئین کرام! جو افراد ان زنجیروں اور قید و بند سے آزاد ہیں، تووہ لوگ بڑے ہی شوق و اطمینان کے ساتھ خداوندعالم کی عبادت و اطاعت اور اعمال صالحہ میں مشغول ہوجاتے ہیں،اور اپنی عمر کے آخری روز ندائے”( ارْجِعِیٓ اِلَیٰ رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً ) “[۸]سن کر اپنے معشوق کی طرف پرواز کرنے کے لئے اپنے پروں کو پھیلاتے ہیں، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آغوش رحمت میں پھنچ جاتے ہیں۔

لیکن وہ لوگ جوان قید و بند اور زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں،وہ خدا کی اطاعت و بندگی اور نیک کام کی طرف قدم نہیں اٹھاسکتے، یہ لوگ اس چند روزہ دنیا میں شیطان کے قیدی اور ہوائے نفس کے اسیر ہوتے ہیںاور اپنی عمر کے آخری حصے میں بہت زیادہ حسرت و ناامیدی اور سخت پریشانی میں اپنی جان دیتے ہیں اور احساس کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی تمام ہستی کو نابود کرلیا ہے اور ایسے لاچار ہوگئے ہیں کہ مال و دولت بھی ان کے کام نہیں آسکتے، ان کی روح آگ کی زنجیروں میں بندھی ہوئے دوزخ کی طرف کھینچی جارھی ہوگی!!

مرگ ہارون الرشید کا عجیب و غریب واقعہ

جس وقت خراسان میں ہارون الرشید کی بیماری بہت زیادہ بڑھ گئی، اس نے حکم دیا”طوس“ سے فلاںطبیب کو بلایا جائے، اور اس نے اپنا پیشاب ایک شیشی میں کیا، اور دوسرے لوگوں کا پیشاب بھی شیشی میں کرکے اس کے پاس بھیجا تاکہ پیشاب کے ذریعہ بیماری کا پتہ لگاسکے، طبیب نے ان شیشیوں کو چیک کیا اور ایک شیشی کو دیکھ کر کھا: جس شخص کا یہ پیشاب ہے اس سے کہہ دو کہ وصیت کرنے کے لئے آمادہ ہوجائے، چونکہ اس کی طاقت جواب دے چکی ہے، اور اس کے بدن کی بنیاد ڈھیر ہوچکی ہے۔ جیسے ہی ہارون الرشید نے یہ خبر سنی تو اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا اور درج ذیل رباعی پڑھنے لگا:

ان الطبیب بطبه و دوائه

لا یستطیع دفاع نحب قد اتی

ما للطبیب یموت بالداء الذی

قد کان یبرء مثله فیما مضی

”طبیب اپنی طبابت اور دواؤں کے ساتھ آنے والی موت کا علاج کرنے پر قادر نہیں ہے، کیونکہ اگر قدرت رکھتا ہوتا تو جو جس بیماری کا وہ خود علاج کرچکا ہے اسی بیماری میں کیوں مرجاتا ہے“۔؟!

اسی وقت اس کو خبر دی گئی کہ اس کی موت کی خبر پھیل چکی ہے، چنانچہ اس خبر کو جھوٹی ثابت کرنے کے لئے ایک گاڑی پر سوار ہوا تاکہ اپنے آپ کو دکھائے کہ میں ابھی زندہ ہوں، لیکن جیسے ہی گاڑی پر بیٹھا حیوان کا پیر مڑگیا، تو اس وقت اس نے کھا: مجھے اتاردو، خبر پھیلانے والے سچ کہہ رھے ہیں، اور اس کے بعد اپنے لئے کفن منگوایا، اور ایک شخص کی طرف مخاطب ہوکر کھا: یھیں میرے بستر کے پاس میری قبر بناؤ، اور جب اس کی قبر تیار ہوگی، قبر کو دیکھ کر ان آیات کو پڑھا:

( مَا اغْنَی عَنِّی مَالِیَ هَلَکَ عَنِّی سُلْطَانِیه ) ۔“[۹]

”میرا مال بھی میرے کام نہ آیااور میری حکومت بھی برباد ہوگئی“۔

میں ایک ایسا مجرم ہوں جس کا کام تمام ہوچکا ہے، اور اس حقیقت کو اقرار کرتا ہوں:میرے مال و دولت نے مجھے عذاب خدا سے ذرہ برابر بھی نہ بچایا، اور آج جب میری مشکل کا وقت ہے تو انھوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا،اور نہ صرف یہ کہ مال و دولت نے میرا ساتھ نہیں دیا اور میری مشکل کو حل نہ کیا، بلکہ میری قدرت اور سلطنت بھی نابود ہوگئی اور میرے ہاتھوں سے جاتی رھے۔[۱۰]ے میرے خدا! روز قیامت کی زنجیروں اور قید وبند کے پیش نظر میرے جسم کی ناتوانی اور کمزوری، میری نازک کھال اور نرم ہڈیوں پر حم فرما، کہ اگر گناھوں کی یہ زنجیریں مجھے باندھے رھےں گیں، تو کل روز قیامت آگ کی زنجیریں میرے جسم، میرے تمام اعضاء و جوارح پر بندھی ہوں گی، اورمیں اپنے جسم کی ناتوانی، کمزوری، ہڈی اور کھال کی نرمی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان زنجیروں میں بندھا رھوں گا، اور دوزخ کے طبقات میں جلتا رھوں گا، اور پھر کبھی مجھے موت بھی نہیں آئے گی!!

دقیق حساب و کتاب

قارئین کرام! ہم بھی اس شخص کی طرح جس کا نام توبہ تھا، اور شیخ بھائی کے قول کے مطابق اپنے نفس کا حساب و کتاب کیا کرتا تھا، روز و شب اپنا حساب و کتاب کریں۔اس شخص کی ساٹھ سال کی عمر تھی، اس نے اپنی عمر کا دنوں میں حساب لگایا،تو” ۲۱۶۰۰ “ دن ہوئے، تواس نے ایک چیخ ماری اورکھا: وائے بر من اگرھر روز میں نے کم سے کم ایک گناہ بھی کیا ہو تو ” ۲۱۶۰۰“ گناھوں کا مرتکب ہوا، کس طرح ان گناھوں کے ساتھ خدا سے ملاقات کے لئے جاؤں؟ یہ کہہ کر زمین پر گرا، اور اس دنیا سے چل بسا۔[۱۱]

پالنے والے! اے میرے غفور رحیم خدا! میں جیسا بھی ہوں، ہوں تو تیرا بندہ، تیرا خلق شدہ ہوں، تیری قدرت کے زیر سایہ ہوں، تیرے ارادے اور مرضی کا محکوم ہوں، کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے، اے وہ خدا جس نے مٹی سے میری خلقت کا آغاز کیا، اس کے بعد نطفہ سے، اس کے بعد علقہ بنایا، اس کے بعد مضغہ بنایا،یعنی جس وقت میں کچھ بھی نہیں تھا، مجھ پر توجہ کی اور لطف وکرم کیا مجھے یاد رکھا، مجھے خلق فرمایا، اور اس کے بعد میری مادی و معنوی تربیت کا انتظام کیا، مجھ پر لطف و کرم کی بارش کی، مختلف نعمتوں اوربہترین غذاؤں سے نوازا، اب میں نھایت خشوع و خضوع اور تواضع و انکساری کے ساتھ تیری بارگاہ میں درخواست کرتا ہوں کہ اسی گزشتہ کرم اور پھلے کی طرح احسان کے ذریعہ مجھے بخش دے،اور میرے گناھوں سے درگزر فرما، اور دنیا و آخرت کے عذاب سے رھائی عنایت فرما۔ (آمین یا رب العالمین)

”یٰاالٰهِي وَسَیَّدِي وَرَبِّي،اتُرٰاکَ مُعَذِّبِي بِنٰارِکَ بَعْدَ تَوْحیدِکَ،

وَبَعْدَمَاانْطَویٰ عَلَیْهِ قَلْبِيمِنْ مَعْرِفَتِکَ،وَلَهِجَ بِهِ لِسٰانِيمِنْ ذِکْرِکَ،

وَاعْتَقَدَهُ ضَمیرِي مِنْ حُبِّکَ،وَبَعْدَصِدْقِ اعْتِرٰافيوَدُعٰائيخٰاضِعاً

لِرُبُوبِیَّتِکَ“

”پروردگار!کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدہ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے، یا میرے دل میں اپنے معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابر تیری محبت جاگزیں رھی ہے۔میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ہوں “۔

نھیں، تیری ذات مقدس کی قسم! انبیاء اور ائمہ علیھم السلام، عارفین، عاشقین، عابدین، زاھدین اور توبہ کرنے والوں میں سے کوئی بھی تجھے ایسا نہیں مانتا کہ ان تمام حقائق اور معرفت کے بعد جو خود تیری توفیق سے مجھے حاصل ہوئے ہیں، مجھے آتش جھنم میںجلائے گا، بلکہ تجھے تو ایسا جانتے ہیں کہ مجھے قیامت کے روز اپنے لطف و کرم کے زیر سایہ رکھے گا، اور اپنی رحمت کا سھارا دے گا، میری برائیوں سے چشم پوشی کرے گا، اور اپنی بھشت میں مجھے جگہ دے گا، اور اپنے اولیاء کے ساتھ محشور کرے گا۔

توحید

جو شخص بھی قرآنی آیات اور روایات و احادیث، خصوصاً اللہ تعالیٰ کے بارے میں احادیث کو علماء سے سنا ہے اور آفرینش مخلوق میں غور و فکر کرنے اور اس جھان ہستی پر دقت کرنے نیز نظام خلقت میں اندیشہ کرنے سے خداوندعالم اور اس کے صفات کی معرفت حاصل کی ہے، وہ عقلی اور عملی طور پر اس کے علاوہ ہر معبود کو باطل اور اس کے علاوہ ہر مالک کو ہالک (یعنی ہلاک کرنے والا) جانتا ہے، اپنی زبان اور دل بلکہ اپنے وجود کے ہر ہر ذرہ سے کلمہ طیبہ ”لا الٰہ الا اللّٰہ“ کا اقرا رکرتا ہے، تو اس کا دل ”خانہ توحید“ ہے اور اس کا عمل ہر بت کی نفی کرتا ہے، اور ایسا ہی شخص شرعی اصطلاح میں ”موحّد“ کھا جاتا ہے۔ تمام انبیاء اور پیغمبروں کی دعوت اسی ”توحید“ کی طرف ہوتی تھی۔

سبھی انبیاء علیھم السلام تمام لوگوں کی اسی توحید کی دعوت کرتے تھے اوراسی کی یکتائی اور اکیلے ہونے پر ایمان رکھنے کی تبلیغ کرتے تھے؛ جیسا کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات سے بھی نتیجہ یھی نکلتا ہے کہ تمام انبیاء علیھم السلام کی دعوت ”توحید عملی“کا پھلو رکھتی تھی، اور غیر الٰھی نظام کو مردود جانتے تھے۔

”اعتقاد توحید“کے معنی و مفھوم یہ ہےں کہ انسان فکری لحاظ سے اپنے کو شرک و بت پرستی سے پاک رکھے، اس سلسلہ میں وہ مشرکین جو خدا کے لئے شریک کے قائل ہیںاسی طرح وہ لوگ جو ”خیر و شر“ کو ”یزدان اور اھریمن“ کی طرف سے جانتے ہیں، یا کسی میں خدا کے حلول کے قائل ہیں یا مختلف ارباب کے قائل ہیں، اسی طرح وہ افراد جو خدا کو مرکب شمار کرتے ہیں جیسے نصاریٰ، نیز فرقہ ”مجسمہ“ جو خدا وندعالم کے جسم کا قائل ہے، جن میںھمارے زمانہ میںجاہل ترین فرقہ ”وھابیت“ ہے۔

اسی طرح توحید کے عملی میدان میں جو اسی عقیدہ توحید کی ایک قسم ہے جو چیز اھمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ کہ صرف ایک خدا کی عبادت کی جائے اور اس کے علاوہ کسی غیر کی اطاعت سے پرھیز کیا جائے ان میں سے پھلا کام یعنی ”صرف ایک خدا کی عبادت“؛ خدا کی صحیح معرفت، اس کے بارے میں مستحکم عقیدہ اور اس پر پائیدار رھنے سے حاصل ہوتا ہے اور دوسرا یعنی ”غیر کی اطاعت سے پرھیز“ باطل کے غلط عقائد و نظریات سے پرھیز کی بنا پر اس لئے کہ باطل کے یھی کھوکھلے عقائد انسان کو غیر خدا کی عبادت و اطاعت پر آمادہ کرتے ہیں۔

اس عملی پھلو ( جو خدا ئے واحد و یکتاکی اطاعت و بندگی ہے) کی طرف آسمانی کتابوں اور انبیاء الٰھی نے دعوت دی ہے، چونکہ شرک فعلی اور عملی ”قولی شرک“ کی طرح عقیدہ شرک کی واضح نشانی ہے، اسی وجہ سے انبیاء علیھم السلام نے ”شرک عملی“ پر بہت توجہ دلائی ہے۔ اسی وجہ سے ”توحید عملی“ انسانی زندگی ، انسانی خاصیتوں کے ظھور اور غلامی کی زندگی سے نجات کے لئے بہت موثر ہے، اور جھوٹے خداؤں اورارباب کی اطاعت کی قدرت کو ختم کردیتی ہے،(یعنی اگر انسان” توحید عملی“کو دل و جان سے قبول کرتا ہو تو پھر وہ کسی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔)

انبیاء علیھم السلام کی یہ کوشش رھی ہے کہ معاشرہ کو اس قسم کے شرک کو بھی پاک کیا جائے، اور انسانیت کو آزادی اور انسانی شرافت سے سرفراز کیا جائے۔ اور اپنے زمانہ کے فرعون اور ظالم و جابر حاکموں کے سامنے سر نہ جھکائیں، اگرچہ اس قسم کے لوگوں نے ہمیشہ توحید کا شدت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، لیکن انبیاء علیھم السلام نے ہر موقع پر ”شرک عملی“ سے بھی پرھیز کی دعوت دی ہے۔

شرک عملی کے اثر کی دوسری علت یہ تھی کہ بعض نااہل لوگوں نے مستکبروں کی عبادت و پرستش کی عادت ڈال دی تھی جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِذَا قِیلَ لَهُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ اللهُ یَسْتَکْبِرُونَ ) ۔“[۱۲]

” ان سے جب کھا جاتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نھیںھے تو اکڑ جاتے تھے“۔

کیونکہ انسان کو غلام بنانے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے والوں کے لئے یہ کلمہ ایک بہت بڑا چیلنچ ہے، چونکہ عقیدہ توحید اور زبان سے کلمہ توحید کا اقرار کرنے کی وجہ سے مستکبرین کا ”واجب الاطاعة“ھونا خطرہ میں پڑجاتا ہے، اور ان کا حکم، جاہ و جلال او ران کے امتیازات مٹی میں مل جاتے ہیں[۱۳]

اس بنا پر خداوندعالم کی توحید کا عقیدہ اور یہ عقیدہ کہ اس کی ذات مقدس کی کوئی شبیہ، مانند اور شریک نہیں ہے، اس کی ذات عین صفات ہیں، اور وھی تمام چیزوں پر حاکم ہے، موت و حیات، ظاھر و باطن، ملک و ملکوت، غیب و شھود، پیداکرنے والا، مارنے والا، اس دنیا میں انقلاب برپاکرنے والا المختصر یہ کہ تمام کی تمام چیزیں اسی کے دست قدرت میں ہےں، دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا جائے: جس خدا کی معرفت انبیاء، ائمہ اور قرآن نے بیان کی ہے، اورزندگی کے تمام امور میں اس کے احکام کی اطاعت، ہر بت، بت پرست اور بت تراش کی نفی کرنااور ہر شیطان و طاغوت اور طاغوت خواھی کے ماحول کی نفی کرنا؛ھی ”توحید محض“ اور ”محض توحید“ ہے؛ کہ جو شخص دل و جان سے اس حقیقت کوقبول کرے، اور ”لا الہ الاالله“، ”لااثر فی الوجود الا الله“، اور ”لاحول و لا قوة الا بالله“ کا نعرہ بلند کرے،تو ایسا ہی شخص حقیقی موحّد (یعنی یکتا پرست)، واقعی مومن اور صراط مستقیم پر چلنے والا ہے۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ذات مبارک جو اپنے دل کی آنکھوں سے حقائق کی حقیقتوں کا مشاھدہ فرماتے تھے، ”نہج البلاغہ“ کے مختلف خطبوں میں معرفت خدا کے بارے میں اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے:

اول الدین معرفته ۔۔۔“۔[۱۴]

”دین کی ابتداء اس کی معرفت ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے، تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد صفات کی نفی ہے،کہ صفت کا مفھوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے کوئی الگ شئے ہے اور موصوف کا مفھوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جداگانہ کوئی ذات ہے۔ اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اور اجزاء کا عقیدہ صرف جھالت ہے معرفت نہیں ہے، اور جو بے معرفت ہوگیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اور جس نے اس کی طرف اشار ہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا، اور جس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی کا ایک شمار کرلیا(جو سراسر خلاف توحید ذات ہے)۔

جس نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دیدیا، اور جس نے یہ کھا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اس نے نیچے کا علاقہ خالی کرالیا، اس کی ہستی حادث نہیں ہے او راس کا وجود عدم کی تایکیوں سے نہیں نکلا۔ وہ ہر شئے کے ساتھ ہے لیکن مل کر نھیں، اور ہر شئے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنا پر نھیں، وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا۔ وہ اپنی ذات میں بالکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پاکر انس محسوس کرے اور کھوکر پریشان ہوجانے کا احساس کرے۔۔۔“۔

اسی طرح ایک دوسر ے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

فاللهَ اللهَ ایُّهَاالنَّاسُ ۔۔۔۔“[۱۵]

”لوگو! اللہ کو یاد رکھو اور اس سے ڈرتے رھو اس کتاب کے بارے میں جس کا تم کو محافظ بنایا گیا ہے اور ان حقوق کے بارے میں جن کا تم کو امانت دار قرار دیا گیا ہے، اس لئے کہ اس نے تم کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے اور نہ مھمل چھوڑدیا ہے اور نہ کسی جھالت اور تاریکی میں رکھا ہے، تمھارے لئے آثار کو بیان کردیا ہے۔ اعمال کو بتادیا ہے، اور مدت حیات کو لکھ دیا ہے۔ وہ کتاب نازل کردی ہے جس میں ہر شئے کا بیان پایا جاتا ہے اور ایک مدت تک اپنے پیغمبر کو تمھارے درمیان رکھ چکا ہے۔ یھاں تک کہ تمھارے لئے اپنے اس دین کو کامل کردیا ہے جسے اس نے پسندیدہ قرار دیا ہے اور تمھارے لئے پیغمبر کی زبان سے ان تمام اعمال کو پھنچا دیا ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے یا جن سے نفرت کرتا ہے، اپنے اوامر و نواھی کو بتادیا ہے، اور دلائل تمھارے سامنے رکھ دئے ہیں، اور حجت تمام کردی ہے، اور ڈرانے دھمکانے کا انتظام کردیا ہے، اور عذاب کے آنے سے پھلے ہی ہوشیار کردیا ہے، لہٰذا اب جتنے دن باقی رہ گئے ہیں انھیں میں تدارک کرلو اور اپنے نفس کو صبر پر آمادہ کرلو کہ یہ دن ایام غفلت کے مقابلہ میں بہت تھوڑے ہیں جب تم نے موعظہ سننے کا بھی موقع نہیں نکالا۔ خبردار! اپنے نفس کو آزاد مت چھوڑدو ورنہ یہ آزادی تم کو ظالموں کے راستہ پر لے جائے گی، اور اس کے ساتھ نرمی نہ برتو ورنہ یہ تمھیں مصیبتوں میں جھونک دے گا۔۔۔“۔

جو شخص عقیدہ توحید کو قرآن کریم، انبیاء، ائمہ علیھم السلام اور اولیاء اللہ سے حاصل کرے، اور اپنے واجبات پر عمل کرے، گناھوں اور معصیت سے دوری کرے اور اپنی زندگی سے خدا کے علاوہ دوسرے معبود کی نفی کرے؛ تو ایسا شخص موحّد(یکتا پرست) کھلانے کاحقدار ہے، اور اپنے اس اعتقاد توحید کی خاطر اور توحید کے مبنیٰ پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے یقینا وہ نجات یافتہ ہے اور خداوندعالم سے اس جزا کی بنا پراجر کریم، رزق بے حساب اور رحمت واسعہ سے مالامال ہوگا۔

قَالَ رَسولُ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): ”خَیْرُالعِبَادَةِ قَوْلُ لاَاِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ “[۱۶]

”حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشادھے: ”لاَاِلہَ اِلاَّ اللّٰہُ “ کھنابہترین عبادت ہے۔

قَالَ رَسولُ اللّٰهِ(ص): ”مَنْ مَاتَ وَلَا یُشْرِکْ بِاللّٰهِ شَیْئاً اَحْسَنَ اَوْ اساءَ دَخَلَ الجَنَّةَ “[۱۷]

”حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے: جو شخص اس حال میں مرجائے کہ اس نے کسی چیز کوخدا کا شریک قرار نہ دیا ہو ، چاھے اس نے نیکی کی ہو یا نہ کی ہو (برائیوں کی بخشش کے بعد) بھشت میں داخل ہوجائے گا“۔

عَن ابی جَعْفَرٍ (علیه السلام):مَا مِن شَیْءٍ اعْظَمُ ثَواباً مِن شَهَادَةِ انْ لَااِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ؛لِانَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَایَعْدِلُهُ شَیْءٌ وَلَا یَشْرَکُهُ فِی الامْرِ اَحَدٌ “[۱۸]

”حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لاَاِلہَ اِلاَّ اللّٰہُ “کی شھادت دینے کا ثواب ہر چیز سے بڑھ کرھے، کیونکہ کوئی بھی چیز خداوندعالم کے برابر نہیں ہے، اور کوئی بھی اس کے ساتھ خدائی میں شریک نہیں ہے“۔

”قَالَ اَبو عَبدِ اللّٰهِ (علیه السلام):اِنَّ اللّٰهَ تَبَارَکَ وَتَعَالی حَرَّمَ اجْسادَ المُوَحِّدِینَ عَلَی النَّارِ “[۱۹]

”امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: بے شک خداوندعالم نے موحّد (یکتا پرست)کے جسم کو آتش جھنم پر حرام قرار دیا ہے“۔

قَالَ اَبوعَبدِ اللّٰهِ (علیه السلام):قَوْلُ لَا اِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ ثَمَنُ الجَنَّةِ“[ ۲۰]

”نیز آپ کا فرمان ہے: ”لاَاِلہَ اِلاَّ اللّٰہُ “ کھناجنت کی قیمت ہے“۔

”قَالَ رَسولُ اللّٰهِ(ص): اِنَّ لَا اِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ کَلِمةٌ عَظِیمَةٌ کَرِیمَةٌ عَلَی اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ ،مَنْ قَالَها مُخْلِصاً اسْتَوْجَبَ الجَنَّةَ،وَمَنْ قَالَها کَاذِباً عَصَمَتْ مَالُهُ وَدَمُهُ وَکاَنَ مَصیرُهُ اِلَی النَّارِ“ [۲۱]

”حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:کلمہ ”لاَاِلہَ اِلاَّ اللّٰہُ “ خدا کے نزدیک ایک بااھمیت کلمہ ہے،جو شخص خلوص کے ساتھ اس کا اقرار کرے وہ جنت کا حقدار ہوتا ہے، اور اگر کوئی اس کو صرف زبان سے (جھوٹ)کھے تو (بھی) اس کی جان و مال محفوظ ہے، لیکن اس کا ٹھکانہ جھنم ہے“۔

”قَالَ رَسولُ اللّٰهِ(ص):وَالَّذِی بَعَثَنِی بِالْحَقِّ بَشِیراً لَا یُعَذِّبُ اللّٰهُ بِالنَّارِ مُوَحِّداً ابَداً “[۲۲]

”نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے: قسم اس پروردگار کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا بناکر مبعوث کیا خداوندعالم کسی بھی موحد (یکتاپرست) کو آتش جھنم میں عذاب نہیں کرے گا“۔

ان تمام باتوں کے مدّنظر:

اے خدائے مھربان! اے عاشق اہل توحید! کوئی بھی تجھے ایسا نہیں مانتا کہ اگر میں تیری توحید واقعی کا خالصانہ طور پر اقرار کروں اور تیری معرفت و شناخت کے ساتھ اپنے دل میں ہمیشہ ایمان رکھوں، اور میری زبان پر توحید کاکلمہ جاری ہو اور میرے باطن میں تیرا عشق موجود رھے، اور کیا تیری یکتائی کے سچے اقرارکے بعدتیری ربوبیت کے مقابلہ میں میر ی تواضع کے بعد (بھی)تو مجھے عذاب میں مبتلا کرے گا؟!

”هَیْهٰاتَ،انْتَ اکْرَمُ مِنْ انْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَهُ،اوْ تُبْعِدَ مَنْ ادْنَیْتَهُ،

اوْتُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَهُ،اوْتُسَلِّمَ الَی الْبَلاٰءِ مَنْ کَفَیْتَهُ وَرَحِمْتَهُ“

”اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے تونے پالا ہے اسے برباد بھی کردے، جسے تونے قریب کیا ہے اسے دور کردے۔جسے تونے پناہ دی ہے اسے راندہ درگاہ بنادے اور جس پر تونے مھربانی کی ہے اسے بلاوں “۔

ربوبیت کے جلوے

ھمارے مھربان خدا نے انسان کی ابتدائے آفرینش سے مرتے دم تک کے لئے دو طرح کی تربیت کے اسباب فراھم کئے ہیں:

الف۔ مادّی تربیت۔

ب۔ معنوی تربیت۔

الف۔ مادی تربیت۔

مادی تربیت کے اسباب بے شمار نعمتیں ہیں جن سے یا تو انسان خود اپنے اختیار سے بھرہ مند ہوتا ہے جیسے کھانا، پینا اور سانس لینا وغیرہ، یا خداوندعالم کے ارادہ سے اس کے مادّی رشد و تکامل کے لئے موثر ہوتا ہے جیسے انسان کی تعجب خیز طاقت جو بدن میں مختلف مادّوں کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔

سورہ یونس میں مختصر طور پر اس مطلب کی طرف اشارہ ہوتا ہے:

( قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْارْضِ امَّنْ یَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْابْصَارَ وَمَنْ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ وَمَنْ یُدَبِّرُ الْامْرَ فَسَیَقُولُونَ اللهُ فَقُلْ افَلاَتَتَّقُونَ ) ۔“[۲۳]

” پیغمبر ذرا ان سے پوچھئے کہ تمھیں زمین و آسمان سے کون رزق دیتا ہے اور کون تمھاری سماعت و بصارت کا مالک ہے اور کون مردہ سے زند ہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور کون سارے امور کی تدبیر کرتا ہے تو یہ سب یھی کھےں گے:”اللہ“تو آپ کہئے کہ اس سے کیوں نہیں ڈرتے“۔

ھم بدن کے اعضاء میں سے ایک عضو کی تشریح کرنے اور تمام حقائق کو سمجھنے سے عاجز ہیں اور اس کے شکر و سپاس سے ناتوان ہیں تو تمام بدن اور تمام اعضاء بدن نیز ان کے درمیان موجود ہم آھنگی اور نظم و ضبط کو کیسے سمجھ پائیں گے ، اسی طرح ان اعضائے بدن کے باھر کی دنیا سے رابطہ کو بھی اچھی اس مطلب کو سمجھنے سے ہم قاصر ہیں۔

بدن کے عصبی خلیوں کی تعداد جو تقریباً ۱۵ ارب ہیں،اوراس مشکل نظام کو دیکھتے ہوئے اقرار کرنا چاہئے جیسا کہ پروفیسر ”اشٹن بوخ“نے کھا ہے کہ اس طرح کے نظام اور مشین کو بنانے کے لئے ایک الکٹرونک ماھر کو چالیس ہزار سال کا وقت درکار ہے!!

( یُخْرِجُ الحَیَّ ) ۔۔۔“ انسان کو نطفہ سے اور نطفہ کو مٹی سے خلق کیا ہے، اسی طرح حیوان کو انڈوں سے اور نباتات کو تخم سے پیدا کیا ہے۔

وہ ذات کون ہے جو اس د نیا کے تعجب آور نظام کو چلاتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں تمام ہی لوگوں کی فطرت اور عقل یھی جواب دیگی: ”خدا“۔ تو پھر ان سے کہئے کہ پھر اس کے ساتھ شرک و کفر کیوں کرتے ہو؟! اور اس کے امر و نھی کی مخالفت سے پرھیز کیوں نہیں کرتے؟!

ب۔ معنوی تربیت کے اسباب:

عقل، فطرت، وجدان، نبوت، امامت، کتب آسمانی بالخصوص قرآن کریم جن کو خداوندعالم نے ہدایت اور تربیت کے اسباب قرار دیا ہے اور انسان کو آزادی و اختیار دیا ہے، تاکہ اس آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سعی و کوشش کرے اور اس کی بہترین تربیت ہوسکے، تاکہ خداوندعالم کا لطف و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو اور خدا کی معرفت کے نتیجہ میںاس کی بھشت میں داخل ہوجائے۔

حضرت امیر المومنین دعائے کمیل کے اس حصہ میں خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: جو شخص مختلف مادّی اور معنوی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک حد تک خدا کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اور اس کی ربوبیت و تربیت کے جلووں کو قبول کرلیتا ہے، جس کو خداوندعالم نے اپنے قرب کی بارگاہ اور فضائے رحمت میں پناہ دی ہے، تو بہت بہت بعید ہے کہ تو اس کو تباہ و برباد کرے اور اس کو برائیوں اور فساد کے حوالے کردے، اور چونکہ خدا نے پناہ دی ہے لہٰذا اب مجھے کیسے بھگادے گا؟!حالانکہ تو نے ہی مجھ پر فضل وکرم کیا اور اپنے رحمت کے زیر سایہ قرار دیا، تو کیا مجھے بلاء و مصیبت اور سختیوں کی خطرناک موجوں کو حوالے کردے گا؟!

تو اس قدر مھربان اور اس قدر کریم و بزرگوار ہے کہ جب انسان بہت سے گناھوں میں ملوث ہوجاتا ہے، اس موقع پر خطاب کرتا ہے:

نَادَیتُمُونِی فَلَبَّیتُکُم سَالتُمونِی فَاعطَیتُکُم،بَارَزتُمُونِی فَامهَلتُکُم ،تَرَکتُمُونِی فَرَعیتُکُم، عَصَیتُمُونِی فَسَتَرتُکُم ،فَاِن رَجَعتُم اِلیَّ قَبِلتُکُم ،وَاِن ادبَرتُم عَنِّی انتَظَرتُکُم،انَا اجوَدُ الاجوَدِینَ وَاکرَمُ الاکرَمِینَ وَارحَمُ الرَّاحِمِینَ “[۲۴]

”(اے میرے بندو!) تم نے مجھے پکارا میں نے جواب دیا، تم نے مجھ سے طلب کیا تو میں نے عطا کیا، میری مخالفت کی تو میں نے تھیں (توبہ کی) مھلت دی، تم نے مجھے چھوڑ دیا میں نے تمھاری رعایت کی، تم نے میری معصیت کی میں نے تمھاری پردہ پوشی کی، اگر اب بھی میری طرف پلٹ کر آجاؤ تو میں تمھیں قبول کرلوں گا، اور اگر مجھ سے منھ موڑ لیا تو میں تمھارا انتظار کرتا رھوں گا، میں سب سے زیادہ بخشنے والا اور سب سے زیادہ کریم و مھربان ہوں“۔

جناب موسیٰ (ع)اور قارن

علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے علی بن ابراھیم قمی سے اس طرح روایت کی ہے: جب قارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو جھٹلایا، اور زکوٰة دینے سے انکار کردیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تھمت لگائی ، تو حضرت موسیٰ نے پروردگار عالم کی خدمت میں شکایت کی، اس وقت آواز قدرت آئی: میں نے زمین و آسمان کو حکم دیدیا ہے کہ تیری اطاعت کریں، جو حکم بھی دینا چاھو دے سکتے ہو، (وہ اطاعت کریں گے)

جناب موسیٰ علیہ السلام قارون کے محل کی طرف روانہ ہوئے، جبکہ قارون نے اپنے خادموں کو حکم دیا تھا کہ موسیٰ کے لئے دروازہ نہ کھولنا، جس وقت جناب موسیٰ قارون کے محل پر پھنچے تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے، جناب موسیٰ نے دروازے کی طرف اشارہ کیا تو تمام دروازے کھل گئے۔ جیسے قارون کی نگاہ جناب موسیٰ پر پڑی فوراً سمجھ گیا کہ موسیٰ عذاب کے ساتھ وارد ہوئے ہیں، تو اس نے کھا: اے موسیٰ! تمھیں ہمارے درمیان موجود رشتہ داری کا واسطہ ، مجھ پر رحم کرو، اس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام نے کھا: اے پسر لاوی! مجھ سے بات نہ کر کیونکہ اب یہ تیری باتیں کوئی فائدہ نہیں دےں گی۔ اس وقت زمین کو حکم دیا: قارون کو نگل جا! فوراً پورا قصر اور جو اس میں موجود تھا، زمین میں دھنستا چلا گیا، قارون نے ایک بار پھر روتے ہوئے جناب موسیٰ کو رشتہ داری کا واسطہ دیا ، لیکن جناب موسیٰ نے جواب دیا: اے پسر لاوی! مجھ سے بات نہ کر۔ قارون نے بہت زیادہ استغاثہ کیا لیکن جناب موسیٰ علیہ السلام جو اس نا اہل کی حرکتوں سے رنجیدہ تھے؛ انھوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ (اور وہ زمین میں دھنستا چلا گیا)

قارون کی ہلاکت کے بعد جب جناب موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے، تو اس وقت خداوندعالم نے فرمایا: اے موسیٰ! قارون اور اس کی قوم نے تم سے استغاثہ اور فریاد کی لیکن آپ نے نہ سنی، مجھے میری عزت و جلالت کی قسم ! اگر(اس موقع پر بھی) وہ مجھ سے فریاد کرتا مجھ سے مدد مانگتا تو میں اس کی فریاد رسی کرتا، لیکن چونکہ اس نے تم سے فریاد کی اور تم سے توسل کیا لہٰذا اس کو تمھارے حوالے چھوڑ دیا!!

حق تعالیٰ گفت: قارون زار زار

خواند ای موسیٰ تو را ہفتاد بار

تو ندادی ہیچ بار او را جواب

گر بہ زاری یک رھم کردی خطاب

گر تو او را آفریدہ بودہ ای

در عذابش آرمیدہ بودہ ای

آنکہ بر بی رحمتان رحمت کند

اہل رحمت را ولی نعمت کند[۲۵]

(ترجمہ :خداوندعالم نے جناب موسیٰ سے کھا: اے موسیٰ ! تمھیں قارون نے روتے ہوئے ۷۰ مرتبہ پکارا۔

لیکن تم نے اس کی ایک مرتبہ بھی نہیں سنی، اس کے رونے اور چلانے کیسے تمھیں رحم نہ آیا۔

اگر تم نے اسے پیدا کیا ہوتا تو اس کو عذاب اور سزا کس طرح دیتے!!

جو شخص دوسروں پر رحم کرے اس پر خداوندعالم رحم کرتا ہے)

ماں اور عاق شدہ بیٹا

”تفسیر نیشاپوری“میں بیان ہوا ہے: حضرت رسول اکرم (ص)کے زمانہ میں ایک جوان کا آخری وقت آن پھنچا۔ آنحضرت سے درخواست کی گئی کہ اس جوان کی عیادت فرمائیں۔ چنانچہ آنحضرت اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، دیکھا تو اس کی زبان ”شھادتین“ کی گواھی دینے کے لئے بند ہے!

آنحضرت نے سوال کیا: کیا یہ جوان تارک نماز ہے؟ لوگوں نے کھا نھیں۔

فرمایا: کیا زکوٰة نہیں دیتا تھا؟ لوگوںنے کھا: دیتا تھا۔

فرمایا: کیا باپ نے اسے عاق کیاھے؟ لوگوں نے کھا نھیں۔

فرمایا: کیا ماں کا عاق شدہ ہے۔ تو لوگوں نے جواب دیا: ہاں یا رسول اللہ۔

فرمایا: اس کی ماں کو بلایا جائے، اور جب وہ آگئی تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس سے بیٹے کو معاف کرنے کے لئے کھا۔

ماں نے کھا: میں کس طرح اس کو معاف کردوں، اس نے میری صورت پر طمانچہ مارا ہے،اور میری آنکھ خراب کردی ہے۔

اس وقت آنحضرت نے کھا: آگ لائی جائے، تو اس کی ماں نے فوراً سوال کیا: آگ کا کیا کیجئے گا؟ تو آنحضرت نے فرمایا: اس جوان کو سزائے اعمال تک پھنچایا جائے گا، اور اس کو جلایا جائے گا!

یہ سن کر ماں پکار اٹھی: میںاس کو جلانے پر ہرگز راضی نہیں ہوں ،کیونکہ میں نے اس کو نوماہ اپنے شکم میں رکھا ہے، اور اپنی جان کی بازی لگاکر اس کی تربیت کی ہے، اور دوسال تک دودھ پلایا ہے،سالوں تک یہ میرے پاس رھا ہے، اگر اس کو جلانے کی بات ہے تو میں اس کو معاف کئے دیتی ہوں، تاکہ وہ جلنے سے بچ جائے۔

قارئین کرام! جب مجازی تربیت کرنے والی ماں اس بات پر راضی نہیں ہے کہ اس کاگناھگار بیٹا آگ میں جلایا جائے، تو پھر حقیقی پالنے والا جس نے انسان کے ہر نقص اور کمی کو دور کرکے اسے منزل کمال تک پھنچایا، اگر وہ جھالت ونادانی اور ارادہ کی کمزوری کے تحت لغزشوں سے دوچار ہوجائے کیا وہ اپنے بندے کو آگ میں جلانے پر راضی ہوسکتا ہے ؟

هَیْهٰاتَ،انْتَ اکْرَمُ مِنْ انْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَهُ “۔

حق نمک

”ایک روایت ہے : ”یزید بن مھلب“ کا شھر خراسان کے ایک بزرگوار بنام ”وکیع“ پر کچھ قرض تھا، اس نے اس وکیع کے نمائندہ سے اپنا قرض لینے کے لئے ایک شخص کو بھیجا، چنانچہ اس شخص نے وکیع کے نمائندہ پر سختی کی اور اس کو اذیت دی۔

ایک روز یزید بن مھلب کا نمائندہ، وکیع کے نمائندہ کو یزید بن مھلب کے پاس لے گیا تاکہ قرض ادا کرنے کے لئے مزید فرصت طلب کرے؛ اس وقت کھانے کے لئے دسترخوان بچھایا گیا، یزیدبن مھلب کے نمائندہ نے وکیع کے نمائندہ سے کھا:

اٹھو اور یھاں سے باھر نکل جاؤ۔ اس وقت وکیع کے نمائندہ نے کھا: چاھے میرے ہاتھ پیر توڑ ڈالو لیکن جب تک یھاں کھانا نہ کھالوں نہیں اٹھوں گا، اور کھانا کھانا شروع کردیا، کھانا کھانے کے بعد اس نے یزید بن مھلب سے مھلت مانگی، تو یزید بن مھلب نے اپنے نمائندہ سے کھا: اب وکیع کے نمائندہ سے قرض کا مطالبہ نہ کرنا، چونکہ اس نے ہمارے دسترخوان سے کھانا کھایا ہے اور ہمارا نمک چکھ لیا ہے، ہماری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ اب اس کو اذیت دی جائے“۔

قارئین کرام ! یقینا وہ بندہ جس نے اپنے کریم مولا اللہ تعالیٰ کا مادی او رمعنوی نمک کھایا ہے تو اس کا لطف وکرم اور رحمت و بزرگواری اس کو عذاب میں جلانے کا اقتضاء نہیں کرتی ہے۔

میزبان پر مھمان کا حق

ارباب تاریخ نے لکھا ہے: ”معن بن زائدہ“ جو ایک بڑا سردار تھا؛ اس کے پاس کسی جگہ سے تین سو قیدی لائے گئے۔ معن نے ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیدیا۔ اسیروں کے درمیان سے ایک نوجوان جو ابھی سن بلوغ تک نھیںپھنچا تھا اس نے کھا:

اے امیر! تجھے خدا کا واسطہ ، جب تک ہمیں تھوڑا تھوڑا پانی نہ پلادے اس وقت تک ہمیں قتل نہ کر۔ معن نے کھا: سب کو پانی پلادو۔ جب اسیروں نے پانی پی لیا، تو اس نوجوان نے کھا: اے امیر! اب ہم تیرے مھمان ہوگئے ہیں، اور مھمانوازی کرنا شرافت وبزرگی کی نشانی ہے۔ چنانچہ اس وقت معن نے کھا: تو نے سچ کھا، اور اسی موقع پر سب کو آزاد کرنے کا حکم صادر کردیا۔

جی ہاں! جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے بیان کیا ہے، بہت زیادہ بعید ہے کہ وہ خدائے مھربان جس نے بندوں کو اپنے دسترخوان سے مادّی اور معنوی نعمتیں کھلائی ہیں ؛ وہ ان کو عذاب میں بھی مبتلا کرے گا۔!!

”وَلَیْتَ شِعْري یٰاسَیِّدي وَالٰهي وَمَوْلٰايَ اتُسَلِّطُ النّٰارَعَلٰی وُجُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ سٰاجِدَةً،وَعَلٰی الْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحیدِکَ صٰادِقَةً، وَبِشُکْرِکَ مٰادِحَةً،وَعَلٰی قُلُوبٍ اعْتَرَفَتْ بِالٰهِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً، وَعَلٰی ضَمٰائِرَحَوَتْ

مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتّٰی صٰارَتْ خٰاشِعَةً،وَ عَلٰی جَوٰارِحَ سَعَتْ الٰی اوْطٰانِ

تَعَبُّدِکَ طٰائِعَةً،وَاشٰارَتْ بِاسْتِغْفٰارِکَ مُذ ْعِنَةً مٰاهٰکَذَاالظَّنُّ بِکَ،وَلاٰاُخْبِرْنٰابِفَضْلِکَ عَنْکَ یٰاکَریمُ،یٰارَبِّ“

”میرے سردار ۔میرے خدامیرے مولا ! کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چھرے تیرے سامنے سجدہ ریز رھے ہیں ان پر بھی توآگ کو مسلط کردے گا۔اور جو زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رھی ہیں اور تیری حمد وثنا کرتی رھی ہیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی کا اقرار ہے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ہیں کہ تیرے سامنے خاضع وخاشع ہیں یا جو اعضاء و جوارح تیرے مراکز عبادت کی طرف ہنسی خوشی سبقت کرنے والے ہیں اور تیرے استغفا ر کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ہیں ؛ ان پر بھی تو عذاب کرے گا!!ھر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نہیں ہے اور نہ تیرے فضل وکرم کے بارے میں ایسی کو ئی اطلاع ملی ہے، یا کریم و یا رب“۔

مکمل عبادت

تمام عبادتوں میںجس عبادت کو جامع اور کامل عبادت کھا جاسکتا ہے وہ صرف نماز ہے، نمازی ؛ نماز کے ذریعہ اپنے مکمل خضوع و خشوع اور تواضع و انکساری کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوتا ہے، نماز کے ذریعہ خدا کی توحید اور اس کی یکتائی کا اقرار کرتا ہے، نمازی اسی نماز کے ذریعہ خداوندعالم کی بارگاہ میں اس کی نعمتوں کاشکریہ اداکرتا ہے۔ اور معرفت کی بنیاد پر اس کی خدائی کا اعتراف کرتا ہے، اور نمازی کے اعضاء و جوارح اس کے ارادہ کے تحت مکمل شوق کے ساتھ مساجد، خانہ کعبہ اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور ائمہ معصومین کے روضوں پر حاضری دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ،وہ اہل معرفت جنھوں نے خدا کو ،خود اپنے وجودکو اور اپنی غرض خلقت کو ایک حد تک پہچان لیا ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہےں، خلوت و بزم، سکون اور پریشانی کے عالم میں اسی کی یکتائی کا اقرار کرتے ہےں، زبان حال اور زبان مقال سے اس کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہےں، اپنے نورانی دل اورمستحکم قلب میں تحقیق و معرفت کی بنیاد پر اس کی الوھیت کا اقرار کرتے ہےں، اس کی معرفت سے مملو باطن سے اس کی درگاہ باعظمت میں خضوع کرتے ہےں اور اس کی رضاء اور خوشنودی کو حاصل کرنے کے لئے اپنے اعضاء و جوارح سے مساجد و عبادت گاھوں میں جاتا ہے۔

یہ افراد کس طرح خداوندعالم کی نسبت بدگمان ہوسکتے ہیں؟ اور کیوں اس سے حسن ظن نہ رکھیں؟ کس نبی و پیغمبر، کس امام اور کس آسمانی کتاب نے یہ بیان کیا ہے کہ خدا ایسے بندوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا،اور ایسے چھروں، زبانوں، دلوںاور اعضاء و جوارح کو آتش جھنم میں جلائے گا؟!

اس طرح کے افراد کو انبیاء، ائمہ علیھم السلام اور آسمانی کتابوںنے خبر دی ہے کہ مومنین، اعمال صالحہ انجام دینے والے اور بہترین کردار سے آراستہ افراد اگرچہ کھیں کھیں ان کے قدموں میں لغزش پیدا ہوگئی ہو لیکن وہ ان کو توبہ اور مغفرت کے ذریعہ جبران کردیتے ہیں، وہ لوگ ہرگز آتش جھنم اور فراق محبوب کی آگ میں نہیں جلائے جائیں گے۔

قارئین کرام! اب ہم یھاں پر جامع ترین عبادت یعنی نماز کے بارے میں کچھ احادیث نقل کرتے ہیں اور خداوندعالم کی بارگاہ میں بصد عاجزی کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ ہم سب کو اس کے تمام شرائط خصوصاً خلوص کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمیں عذاب سے نجات مل سکے۔(آمین یا رب العالمین)

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے نماز کے سلسلے میں درج ذیل احادیث بیان ہوئی ہیں:

الصَّلاةُ مِن شَرایِعِ الدِّینِ،وَفِیهَا مَرضَاةُ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ،وَهِیَ مِنْهَاجُ الانْبِیاءِ “[۲۶]

”نمازدینی قانون ہے اس میں پروردگار عالم کی خوشنودی ہے اور نماز انبیاء علیھم السلام کا راستہ ہے“۔

جَعَلَ اللَّهُ جَلَّ ثَناوهُ قُرَّةَ عَیْنِی فِی الصَّلاةِ ،وَحَبَّبَ اِلَیَّ الصَّلاةَ کَمَا حَبَّبَ اِلَی الجائِعِ الطَّعَامَ،وَاِلَی الظَّمآنِ المآءَ، وَاِنَّ الجائِعَ اِذَااکَلَ شَبِعَ ،وَاِنَّ الظَّمآنَ اِذَا شَرِبَ رَوِیَ،وَانا لا اشْبَعُ مِن الصَّلاةِ “[۲۷]

”وہ خداوند عالم ، جس کی بڑی تعریفیں ہیں؛ اس نے نماز کو میری آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے، اور اس نے میرے لئے نماز کو محبوب قرار دیا ہے، جیسا کہ بھوکے کے لئے کھانا اور پیاسے کے لئے پانی محبوب ہوتا ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ جب بھوکا کھانا کھالیتا ہے اور پیاسا پانی پی لیتا ہے تو سیر ہوجاتا ہے، لیکن میں نماز سے سیر نہیں ہوتا“۔

اِذَا قُمتَ اِلَی الصَّلاةِ وَ تَوَجَّهتَ وَقَرَاتَ امَّ الکِتابِ وَمَا تَیَسَّرَ مِنَ السُّوَرِ ثُمَّ رَکَعتَ فَاتمَمتَ رُکُوعَها وَ سُجودَها وَ تَشَهَّدتَ وَسَلَّمتَ ،غُفِرَلَکَ کُلُّ ذَنْبٍ فیمَا بَینَکَ وَ بَیْنَ الصَّلاةِ الَّتِی قَدَّمتَها اِلی الصَّلاةِ المُوخَّرَةِ “[۲۸]

”جب تم نماز کے لئے تیارھو،اور قبلہ کی طرف رخ کرلو اور سورہ حمد و دوسرا سورہ پڑھ چکو، اس کے بعد رکوع و سجدہ کیا اور رکوع و سجدے بجالاکر تشھد و سلام پڑھ چکو، تو اس نماز اور دوسری نماز کے درمیان تمھارے گناہ بخش دئے جائیں گے“۔

اسی طرح حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے نماز کے متعلق درج ذیل احادیث منقول ہوئی ہیں:

الصَّلاةُ تَستَنْزِلُ الرَّحْمَةَ “[۲۹]

”نماز کے ذریعہ رحمتیں نازل ہوتی ہیں“۔

الصَّلاةُ قُربَانُ کُلِّ تِقیٍّ “[۳۰]

”نماز ، ہر پرھیزگار شخص کو خدا سے نزدیک کرنے والی ہے“۔

اوصِیکُم بِالصَّلاةِ وَحِفْظِهَا،فَاِنَّها خَیْرُ العَمَلِ وَهِیَ عَمُودُ دِینِکُم “[۳۱]

”میں تم کو نماز قائم کرنے واور اس کی حفاظت کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ نماز بہترین عمل اور دین کا ستون ہے“۔

اِنَّ الِانسانَ اِذَا کَانَ فِی الصَّلاةِ فَاِنَّ جَسَدَهُ وَثِیَابَهُ وَکُلَّ شَیْءٍ حَولَهُ یُسَّبِّحُ “[۳۲]

”جب انسان نماز کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کے جسم و لباس اور جو چیز بھی اس کے اطراف میں موجود ہوتی ہے، وہ تسبیح پرودرگار کرتی ہے“۔

یَاکُمیلُ!لَیسَ الشَّانُ ان تُصَلِّیَ وَتَصُومَ وَ تَتَصَدَّقَ،اِنَّما الشَّانُ ان تَکُونَ الصَّلاةُ فُعِلَت بِقَلبٍ نَقِیٍّ،وَعَمَلٍ عِندَاللّٰهِ مَرضِیٍّ،وَخُشوعٍ سَوِیٍ “[۳۳]

”اے کمیل! نماز پڑھ لینا یا روزہ رکھ لینا اور صدقہ دینا کافی نہیں ہے، بلکہ نماز پاک دل سے پڑھی جائے اور اور کسی بھی کام کو خوشنودی خدا کے لئے انجام دیا جائے، اور خدا کے سامنے (ھر حال میں) خشوع و خضوع کے ساتھ رھا جائے“۔

نماز کے دنیاوی و اُخروی فائدوں کو حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم کے بعد شیعہ معتبر کتابوں جیسے: ”کتب اربعہ“، ”وسائل الشیعہ“ وغیرہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

خدا سے حسن ظن رکھنا

حقیقت میںجو انسان ایک حد تک ایمان، عمل صالح اور اخلاق سے مزین ہواور انھیں چیزوں میں اپنی عمر کو تمام کرنا چاہتاھو، تو اس کوخداوندعالم کے لطف وکرم اور حمت و مغفرت کی نسبت حسن ظن رکھنا چاہئے؛ یعنی: اسے چاہئے کہ روز قیامت عذاب کے خوف کے ساتھ ساتھ اپنے کو یہ بشارت بھی دے کہ اس کا مولائے حقیقی ، وقت موت، عالم برزخ اور قیامت کے دن اس کے ساتھ لطف و کرم سے کام لے گا،اور اس کے گناھوں کو بخش دے گا، اور اس کے دینی کاموں کو قبول کرے گا، نیز اس کے لئے بھشت کے دروازے کھول دے گا، اور اپنے اولیاء کے ساتھ محشور کرے گا“۔

حضرات ائمہ معصومین علیھم السلام سے منقول روایت میں حسن ظن کو نیک کاموں کا نتیجہ بتایا گیا ہے:

قَالَ عَلِیٌّ علیه السلام: حُسنُ الظَّنِ ان تُخْلِصَ العَمَلَ، وَ تَرجُوَ مِنَ اللّٰهِ اَنْ یَعْفُوَعَنِ الزَّلَلِ “[۳۴]

”حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:(خدا سے) حسن ظن یہ ہے کہ اپنے نیک کاموں میں خلوص نیت سے کام لو اور خدا سے اپنے گناھوں کی بخشش و مغفرت کی امید رکھو“۔

عَن الصَّادِقِ علیه السلام:حُسنُ الظَّنِ بِاللّٰهِ ان لَا َترجُوَ اِلاَّ اللّٰهَ وَلا تَخافَ اِلاَّ ذَنبَکَ “[۳۵]

”حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا سے حسن ظن یہ ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی غیر سے امید نہ رکھے،اور اپنے گناھوں کے علاوہ کسی اور چیز سے نہ ڈرے“۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حسن ظن کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:

وَالَّذِی لَااِلهَ اِلاَّ هُو ،لَا یَحُسنُ ظَنُّ عَبدٍ مُومِنٍ بِاللّٰهِ اِلاَّ کَانَ اللّٰهُ عِندَ ظَنِّ عَبْدِهِ المُومِنِ؛لِانَّ اللّٰهَ کَریمٌ بِیَدِهِ الخَیرَاتُ ، یَسْتَحیِی ان یکونَ عَبدُهُ المُومِنُ قَد احْسَنَ بِهِ الظَّنَّ ثُمَّ یُخلِفُ ظَنَّهُ وَرَجاهُ، فَاحسِنُوا بِاللّٰهِ الظَّنَّ وَارْغَبُو اِلَیْهِ “[۳۶]

”قسم اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے،کسی بھی بندہ مومن کا گمان خدا کی نسبت نیک نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ گمان کرنے والا بندہ خدا پر ایمان رکھتا ہو،اس لئے خداوندعالم کریم ہے اور تمام خوبیاںاسی کے دست قدرت میں ہےں، کیونکہ جب بندہ مومن خدا سے نیک گمان کرتا ہے تو خدا کو شرم محسوس ہوتی ہے کہ اس کے نیک گمان سے خلاف ورزی کرے، پس خداسے نیک گمان کرو اور اس کے مشتاق رھو“۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

لَایَمُوتَنَّ احَدُکُم حَتَّی یَحْسُنَ ظَنُّهُ بِا للّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؛فَاِنَّ حُسنَ الظَّنِّ بِاللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَمَنُ الجَنَّةِ “[۳۷]

”تم سے کوئی شخص اس دنیا سے نہیں جاتا مگر یہ کہ خدا سے حسن ظن رکھتا ہو، چونکہ خدا وندعالم سے حسن ظن رکھنا، بھشت کی قیمت ہے“۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

حُسنُ الظَنِّ بِاللّٰهِ مِن عَبادَةِ اللّٰهِ “[۳۸]

”خداوندعالم پر حسن ظن رکھنا، اس کی عبادت ہے“۔

”وَانْتَ تَعْلَمُ ضَعْفيعَنْ قَلیلٍ مِنْ بَلاٰءِ الدُّنْیٰاوَعُقُوبٰاتِهٰا،وَمٰا

یَجْرِي فیهٰامِنَ الْمَکٰارِهِ عَلٰی اهْلِهٰا،عَلٰی انَّ ذٰلِکَ بَلاٰءٌ

وَمَکْرُوهٌ قَلیلٌ مَکْثُهُ،یَسیرٌبَقٰائُهُ،قَصِیرٌمُدْتُهُ،فَکَیْفَ احْتِمٰالِي

لِبَلاٰءِ الْآخِرَةِ ، وَجَلیلِ وُقُوعِ الْمَکٰارِهِ فیهٰا،وَهُوَبَلاٰءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ،

وَیَدُومُ مَقٰامَهُ،وَلاٰیُخَفَّفُ عَنْ اهْلِهِ،لِانَّهُ لاٰیَکُونُ الاّٰ عَنْ غَضَبِکَ

وَانْتِقٰامِکَ ، وَسَخَطِکَ،وَهٰذٰا مٰالاٰتَقُومُ لَهُ السَّمٰاوٰاتُ وَالْاَرْضُ،

یٰا سَیِّدِي،فَکَیْفَ لي وَانٰاعَبْدُکَ الضَّعیفُ الذَّلیلُ

الْحَقیرُ الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ“

” پروردگار اتو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نہیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں ناقابل تحمل ہیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ہے۔

تو میں ان آخرت کی بلاوں کو کس طرح برداشت کروں گا جن کی سختیاں عظیم،جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ہے۔جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اس لئے کہ یہ بلائیں تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کی تاب زمین وآسمان نہیں لاسکتے، تو میں ایک بندہ ضعیف و ذلیل و حقیر ومسکین وبے چارہ کیا حیثیت رکھتا ہوں؟!

دنیا و آخرت کی بلائیں

دنیا کی بلائیں اور مصیبتیں آخرت کی کی بلاؤں اور مصیبتوں سے چند لحاظ سے فرق رکھتی ہیں، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

اول: دنیا کی مصیبتیں اور بلائیں جیسے طوفان، زلزلہ، سیلاب، خشک سالی، قحطی، مھنگائی اور انسانی بیماریاںکم نقصان دہ اور کم مدت کے لئے ہوتی ہیں، لیکن آخرت کی بلائیں اور مصیبتیں عرصہ دراز کے لئے اور جاودانہ ہوتی ہیں۔

دوم: کبھی بلائیں انسان کے لئے امتحان کا پھلو رکھتی ہیں ، جن پرانسان کو صبر و ضبط سے کام لینا چاہئے تاکہ اس صبر کی وجہ سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوجائے، اور خدا کی طرف سے عظیم ثواب کا مستحق بن جائے، نیز رضائے الٰھی حاصل ہوجائے، جیسا کہ انبیاء علیھم السلام نے اپنی قوم کے آزارو اذیت پر صبر کیا ہے، صبر و استقامت کی مثال جناب آسیہ، مومن آل فرعون، حبیب نجّار اور راہ خدا کے دیگر مجاھدین نے پیش کی ہے، لیکن آخرت کی بلائیں اور مصیبتیں صرف اور صرف گناہ و معصیت اور خدا کے نافرمانی کی سزا کا پھلورکھتی ہیں۔

اور یہ کہ آخرت کی بلائیں و مصیبتیں امتحان و آزمائش کا پھلو نہیں رکھتی، بلکہ انجام دئے ہوئے اعمال کی سزا ہوتی ہیں، اور ان پر سزا کا تصور بھی نہیں پایا جاتا، اور بفرض محال اگر کسی نے اس عذاب اور سزا پر صبر کر بھی لیا تو اس کا کوئی اجر و ثواب نہیں ہوگا!!

قرآن مجید میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر انسان خدا و رسول کی اطاعت میں صبر و استقامت کا اظھار کرے اور گناھوں کے مقابلہ میں صبر سے کام لے تو اس کو خدا وندعالم کی معیت (یعنی ہمراھی)حاصل ہوجاتی ہے۔

چنانچہ ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

”۔۔۔( وَاصْبِرُوا اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِینَ ) ۔“[۳۹]

”اور صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “۔

قرآن مجید نے صابرین کو بشارت دی ہے اور ان کو خدا کی صلوات و رحمت اور مغفرت کا مستحق قرار دیا ہے۔[۴۰]

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

الصَّبرُ ثَلاثةٌ:صَبرٌ عِندَ المُصِیبَةِ ،وَصَبرٌ عَلَی الطَّاعَةِ، وَصَبرٌعَنِ المَعْصِیَةِ “۔[۴۱]

”صبر ، تین طرح کا ہوتا ہے: مصیبت کے وقت صبر،( خدا و رسول کی)اطاعت پر صبر اور گناہ و معصیت کے مقابلہ میں صبر“۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے صابرین کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے: صابرین وہ لوگ ہیں جو خدا (و رسول) کی اطاعت اور گناہ و معصیت پر صبر کریں، حلال طریقہ سے رزق و روزی حاصل کریں، حد اعتدال میں رہ کر راہ خدا میں خرچ کریں،اور اپنے خرچ سے باقی ماندہ مال و دولت کو آخرت کے لئے بھیج دیں، اس وقت صابرین کامیاب وکامران ہیں۔[۴۲]

عذاب برزخ اور قیامت

قرآن مجید کی بہت سی آیات خصوصاً تیسویں پارے کی آیات برزخ اور قیامت کے مختلف عذاب کے بارے میں اشارہ کرتی ہیں، اسی طرح بہت سی روایات میں بھی اس عذاب کے بارے میں بیان موجود ہے۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام دشمنان خدا کے بارے میں فرماتے ہیں:

”۔۔۔ اور جو شخص دشمن خدا ہوگا، اس پر ایک ایسا بدترین شکل کا فرشتہ جس کے بدن سے بدترین بدبو آرھی ہوگی؛ وہ اس سے آکر کھے گا: تجھے بشارت ہو بہت زیادہ کھولتے ہوئے پانی پینے کی اور جھنم میں داخل ہونے کی۔ دشمن خدا اپنے غسل دینے والے اور جنازہ اٹھانے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے، ان کو قسم دے کر کھے گا: مجھے قبر کے حوالے نہ کرو، لیکن جب اس کو قبر کے حوالے کردیا جائے گا، تو دو فرشتے سوال کرنے کے لئے اس پر وارد ہونگے اور اس کا کفن ہٹاکر اس سے کھیں گے: تیرا خدا کون ہے، تیرا دین کیا ہے؟ او رتیرے پیغمبر کون ہیں۔ تو جواب دے گا: میں کچھ نہیں جانتا، دو فرشتے کھیں گے:تو نہیں جانتا ۔ پس اس کی زبان باھر نکلواکر اس پر کوڑے لگائیں گے، اور اس طرح ماریں گے جس سے ہر جاندار چیز خوف و وحشت زدہ ہوجائے، جن و انس اس کی آواز کو نہیں سنتے۔اس وقت یھی فرشتے اس کی قبر سے جھنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیں گے، اور اس سے کھیں گے: اسی بدترین حالت میں لیٹا رہ، اور اس کو اس طرح فشار قبر دیں گے کہ اس کا مغز اس کے ناخن اور گوشت کے ذریعہ باھر نکلے گا، اور خداوندعالم اس پر زمین کے سب سے خطرناک سانپ اور بچھو کو مسلط کردے گا، اور وہ قیامت تک اس کو اسی طرح اذیت دیتے رھیں گے۔[۴۳]

اسی طرح شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے عذاب دوزخ کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے درج ذیل روایت نقل کی ہے:

”اہل جھنم دردناک عذاب کی سختیوں سے کتّوں اور بھیڑیوں کی طرح فریاد کریں گے، وھاں پر کسی کو موت نہیں آئے گی، ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہیں ہوگی، وھاں انھیں ہمیشہ بھوک و پیاس لگتی رھے گی، ان کی آنکھیں کمزور اور ان میں روشنی کم ہوگی،گونگے، بھرے اور اندھے ہوں گے، ان کے چھرے سیاہ ہوں گے، پشیمان ، مطرود اور غضب پروردگار میں مبتلا ہوں گے،ان پر کسی طرح کا رحم نہیں کیا جائے گا، اور ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی،دوزخ ان کو جلائے گا اور ان کے پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ہوگا، علاوہ براین ان کے پینے کے لئے ایک بہت بدبودار اور زھر سے بدتر چیز ہوگی، ان پر آگ کے کوڑے برسائے جائیں گے، اور بڑے بڑے ہتھوڑوں سے ٹھوکا جائے گا، غضب کے فرشتے ان پر (ذرابھی) رحم نہیں کریں گے، ان کے چھرے جھلسے ہوئے ہوں گے، اور وہ لوگ شیطان کے ہم نشین ہوں گے،ان کو طوق و زنجیروں میں باندھا جائے گا، اگر وہ دعا (بھی) کریں گے تو قبول نہیں ہوگی، اگر ان کی کوئی حاجت ہوگی تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، یہ ہے حال اہل جھنم کا ![۴۴]

علی بن ابراھیم قمی اپنی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

ایک روز جناب رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تشریف فرماتھے، کہ فرشتہ وحی جناب جبرئیل امین غمگین اور حزن و ملال کے عالم میں نازل ہوئے، ان کا چھرہ متغیر تھا، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے سوال کیا: اے جبرئیل ! حزن و ملال کی وجہ کیا ہے؟ توجناب جبرئیل نے کھا: میں کیسے پریشان اور ملول نہ ہوں، آج خداوندعالم نے ”منافیخ دوزخ“ کو معین کیا ہے، آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ”منافیخ دوزخ“ کیا ہیں؟

جبرئیل نے کھا: خداوندعالم نے آتش جھنم کو حکم دیا کہ ہزار سال تک جلے تاکہ سرخ ہوجائے، اس کے بعد دوسرا حکم دیا کہ ہزار سال تک جلے تاکہ سفید ہوجائے، اس کے بعد حکم دیا کہ ہزار سال جلے تاکہ سیاہ ہوجائے اور وہ سیاہ و تاریک مادہ بغیر روشنی کے ہے، اگر اس کی زنجیر کے ستّر ذراع کے حلقہ کو زمین پر رکھ دیا جائے تو ساری دنیا پگھل جائے گی، اور اگر ”زقّوم و ضریع“کا ایک قطرہ دنیا کے پانی میں ملادیا جائے تو تمام اہل زمین اس کی بدبو سے مرجائیں گے۔

اس وقت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور جبرئیل بہت روئے، یھاں تک کہ خداوندعالم نے ایک فرشتہ بھیجا کہ آپ کا پروردگار آپ پرسلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے: اگر (تمھاری امت) گناھوں کی مرتکب ہوئی تو اس کو اس عذاب سے محفوظ کردیا ہے۔[۴۵]

بدکاروں اور دشمنان خدا کو ایسی جگہ رکھا جائے گا کہ ہر طرف سے تنگی ہوگی اس کے راستے تاریک اور اس کی ہلاکت کے مراکز نامعلوم ہوں گے،اور ان کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی جھنم میں ٹھکانہ ہوگا، اس کا شربت کھولتا ہوا پانی، اور ان کا مکان ”جحیم“ ہوگا، آگ کے شعلے اور اس کی لپٹیں گھیرے ہوں گی، ان کی آرزو موت ہوگی (لیکن موت کھاں؟!!) ان کی آزادی کا کوئی راستہ نہ ہوگا، ان کے پیروں کو ان کی پیشانی کے ساتھ باندھ دیا جاکے گا اور ان کے چھرے گناھوں کی تاریکی سے سیاہ ہوں گے، اور وھاں چلّاتے ہوں گے: اے داروغہ جھنم! ہم بے حال ہوچکے ہیں، داروغہ جھنم! زنجیروں نے ہمیں جکڑدیا ہے، اور ہماری کھال جلی جارھی ہے، لہٰذا ہمیں یھاں سے باھر نکال دے، کہ پھر کبھی گناہ نہیں کریں گے، اس وقت آگ کے شُعلے آواز دیں گے: یھاں سے تمھارا بھاگنا ممکن نہیں ہے، اب امان ملنے کی کوئی صورت نہیں ہے، یھاں سے باھر نکلنے کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہے، دور ہوجاؤ اور بکواس بند کرو، اگر تمھیں یھاں سے چھٹکارا مل بھی جائے تو تم پھر اسی طرح گناھوں میں ملوث رھوگے۔

اس موقع پر اہل دوزخ اپنی رھائی سے ناامید ہوجائیں گے، دنیا میں عبادت خدا کے سلسلہ میں کی ہوئی تقصیر کے بارے میں افسوس کریں گے، لیکن وہ پشیمانی ان کو نجات نہیں دے گی، اور ان کا غم و اندوہ سودمند ثابت نہیں ہوگا، ہاتھ پیر بندھے ہوئے ان کو زمین پر پھینک دیا جائے گا، اوپر ،نیچے، دائیں اور بائیں ہر طرف سے آگ ہی آگ ہوگی، ان کا کھانا آگ، پینا آگ، کپڑے آگ اور ان کا بستر بھی آگ ہی کا ہوگا۔

ان کو بھڑکتے ہوئے انگاروں، بدبودار گندے کپڑوں اورخطرناک گرز اور بھاری بھاری زنجیروں میں رکھا جائے گا، اور وہ چیخ رھے ہوں گے فریاد کریں گے اور موت کی تمنا کریں گے، لیکن جب بھی موت طلب کریں گے ان کے سر کے اوپر کھولتا ہوا پانی ڈالدیا جائے گا، اور آگ کے گرز مارے جائےں گے، ان کے منھ سے خون اور پیپ باھر نکلے گی، اور ان کا جگر پیاس کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا، ان کی آنکھیں باھر نکل آئیں گی، ان کے چھروں کی کھال اتر جائے گی، درد و تکلیف کی وجہ سے ان کے بال گرجائیںگے، جب ان کی کھال جل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری نئی کھال پیدا ہوجائے گی،ان کی ہڈیوں کا گوشت اتر جائے گا، ان کی آنکھیں اندھی، زبان گونگی اور ان کے کان بھرے ہوجائےں گے۔[۴۶]

قارئین کرام! آئیے خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:

پرورگارا! ان دردناک عذاب ،سختی اور پریشانیوں کو برداشت کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے، ہم تو تیرے ضعیف، کمزور، ذلیل، حقیر اور مسکین بندے ہیں!

اگر چہ میری عبادت کامل نہیں ہے، اور گناہ بھی کم نہیں ہے لیکن دل و جان سے تیرا عاشق ہوں۔ انبیاء(ع)اور ائمہ علیھم السلام کو دوست رکھتاھوں اور تیری عبادت و بندگی سے دورنھیں ہوں، میرا مشغلہ گناہ کرنا نہیں ہے، میرا کام خطا و عصیان نہیں ہے۔ اگر میرے گناہ زیادہ ہیں صرف ہوائے نفس اور شھوت کی وجہ سے ہیں، میں تیری کامل اور خالص عبادت انجام دینا چاہتا ہوں، میں تو یہ چاہتا ہوں کے میرا دامن ہر گناہ سے پاک ہو، میں شیطان اور طاغوت سے بیزار ہوں، ہوائے نفس کی شرارت سے نالاں ہوں۔ تیرے فراق کا مریض اور تیرے وصال کا بھوکا ہوں۔ پالنے والے ! مجھے معاف کردے، اور میری مدد فرما، مجھے میرے گناھوں سے چھٹکارا دے اور عبادت و بندگی میں مشغول کردے، مجھے آتش جھنم سے امان دیدے اورمیرے لئے بھشت کے دروازے کھول دے۔(آمین)

یٰاالٰهي وَرَبّي وَسَیِّدي وَمَوْلاٰيَ،لِايِّ الْاُمُورِالَیْکَ اشْکُو،وَلِمٰامِنْهٰااضِجُّ وَابْکی،لِالیمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِهِ،امْ لِطُولِ الْبَلاٰءِ وَ مُدَّتِهِ،فَلَئِنْ صَیَّرْتَنيلِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ اعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَیْنی وَ بَیْنَ اهْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ احِبّٰائِکَ وَاوْلِیٰائِکَ،فَهَبْنِِي یٰاالٰهي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ وَرَبِّي،صَبَرْتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکَیْفَ اصْبِرُعَلٰی فِرٰاقِکَ،وَهَبْنِي صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نٰارِکَ فَکَیْفَ اصْبِرُ عَنِ النَّظَرِالٰی کَرٰامَتِکَ،امْ کَیْفَ اسْکُنُ فِی النّٰارِ وَرَجٰائِي عَفْوُکَ “۔

”اے میرے خدا! پروردگارا! میرے سردار! میرے مولا! میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تونے ان سزاوں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اہل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احباء اور اولیاء کے درمیان جدائی ڈال دی۔ تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نھیںکر سکتا۔اگر آتش جھنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو برداشت نہیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جھنم میں جلادیا جاوں ۔

محبوب سے شکایت

مولائے عاشقین حضرت امیر المومنین علیہ السلام دعا کے اس حصے ”لِايِّ الْاُمُورِالَیْکَ اشْکُو“میں اپنے محبوب کی بارگاہ میں اپنی پریشانیوں اور بلاؤں کی شکایت کرتے ہوئے گریہ و زاری کرتے ہیں؟

چنانچہ آپ اس شکایت میں کہتے ہیں: میں اپنی مشکلات، رنج و غم اور بلاؤں کو دور کرنے کے لئے تیرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانتا۔ سبھی تیرے محتاج اور تیرے سامنے جھولی پھیلائے ہوئے ہیں، سبھی تیرے سامنے ناتواں اور کمزور ہیں، ان کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا کسی ضعیف او رکمزور سی مشکل کے حل کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

تمام مشکلات کو حل کرنے کی کُنجی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔

تمام دردوں اور بلاؤں کا علاج تیرے ایک اشارہ سے ہوجاتا ہے۔

تو ہی وہ ذات ہے جو اہل مشکل کی مشکل کشائی کرتا ہے اور رنج و غم میں گرفتار لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے۔

تو ہی وہ ذات ہے جس کی بارگاہ میں صدیقہ طاھرہ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا برسات کے موسم کی طرح آنسو بھاتی ہوئی کہتی تھیں:

”پالنے والے!

(تیری بارگاہ سے کچھ چیزوں کی سوالی ہوں اور تو ہی ان کو عنایت کرسکتا ہے) تجھ سے ہدایت، تقویٰ، عفت، بے نیازی اور ایسے عمل کی توفیق چاہتی ہوںجس سے تو راضی و خوشنود ہوجائے۔

پالنے والے! ہمارے کمزوروں کو طاقت، غریبوں کو مال و دولت اور ہمارے جاہل وں کو علم و حلم کی دولت عطا فرما۔

پالنے والے! محمد و آل محمد پررحمت نازل فرما، اور ہمیں شکر، اپنی یاد، عبادت اور اطاعت پر مدد فرما، تجھے تیری مھربانی کا واسطہ، اے ارحم الراحمین“۔[۴۷]

توھی وہ ہے جس کے سامنے توحید کے علمبردار حضرت ابراھیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے دست دعا بلند کردئے اور نھایت خشوع و خضوع سے حقائق کی درخواست کی جن کو صرف تو ہی عطا کرسکتا ہے:

”پالنے والے!

کعبہ کے بنانے کو ہم سے قبول فرما، کیونکہ تو ہی (ھماری دعاؤں کا)سننے والا اور (ھمارے اخلاص سے)آگاہ ہے۔

”پالنے والے!

تو ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بندہ بنااور اور ہماری ذریت و اولاد کو بھی اپنا فرمانبردار بنااو رھم کو ہمارے حج کی جگہ دکھادے او رھماری توبہ کو قبول کرلے، کیونکہ تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔

پروردگارا

! مکہ والوں میں انھی میں سے ایک رسول کو بھیج جو ان کے سامنے تیری آیات کی تلاوت کرے آسمانی کتابیں اور حکمت کی باتیں سکھائے، اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے ، بے شک توھی غالب اور صاحب تدبیر ہے“۔[۴۸]

”پالنے والے! تو ہی وہ ہے جس کے حضور میں نوح جیسا اولو االعزم پیغمبر اپنی قوم کے نو سو پچاس برس آزار و اذیت برداشت کرتا رھا تیرے لئے، اس کے بعد تیری بارگاہ میں شکایت کی اور تونے اپنی قدرت کا مزا چکھادیا اور ان پر دردناک عذاب نازل کیااور ان سب کو نیست و نابود کردیا اور جناب نوح اور آپ کے مومن ساتھیوں کو عذاب سے نجات بخشی۔

تو ہی وہ ہے جس نے جنگ بدر میں مسلمانوں کی قلیل تعداد (دشمن کے ایک سوم حصہ)کے ذریعہ دشمن کی یقینی فتح کو شکست سے بدل دیا اور مومنین کو پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی دعا کے ذریعہ دشمنوں پر فتحیاب کردیا۔

اب میں بلاء و مصائب اور پریشانیوں کی تیری بارگاہ میں شکایت کرتا ہوں۔

”پالنے والے!

تو ہی وہ ہے جو ایک نظر (رحمت) کے ذریعہ میری ساری پریشانیاںدور کردیتا ہے اور میرے لئے سکون اور اطمینان کے اسباب مھیا کردیتا ہے۔

”پالنے والے!

تو ہی وہ ذات ہے جس کے حضور میں ہر پیغمبر، امام،مومن،تائب اور پریشان حال نے اپنی شکایت پیش کی اور تیری بارگاہ میں گریہ و زاری کی تو تونے ہی اس کو پناہ دی، تسلی دیتے ہوئے اس کی پریشانیوں کو ختم کیا اور اس کے چین و سکون کے اسباب فراھم کئے۔

کون ایسا دردمند ہے جو تیری بارگاہ میں آیا ہو اور تو نے اس کے درد کا علاج نہ کیا ہو؟ کون ایسا محتاج ہوگا جو تیرے در پر سوالی بن کر آئے اور تو نے اس کی ضرورت کو پورانہ کیا ہو؟ کون ایسا حاجت مند ہوگا جو تیری چوکھٹ پر اپنی حاجت لے کر آیا ہو اور تو نے اس کو ناامید کیا ہو؟

کون ایسا غریب و فقیر ہوگا جو تیرے در پر آیا ہو اور تو نے اس پر اپنے فضل وکرم کی بارش نہ کی ہو؟ کون ایسا دعا کرنے والا ہوگا جس نے تجھ سے دعا کی ہو اور تو نے اس کو قبول نہ کیا ہو؟

کون ایسا پریشان حال ہوگا جو تیرے درِ رحمت پر آیا ہو اور تو نے اس کی مشکل کو حل نہ فرما یاھو؟ کون ایسا توبہ کرنے والا ہوگا جس نے تیری بارگاہ میں رو رو کر توبہ کی ہو اور تو نے اس کی توبہ کو قبول نہ کیا ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔

گریہ و زاری

رونا اور آنسو بھانا، خداوندعالم کی عظیم نعمتوں میں سے ہے، رونا تواضع و انکساری کی نشانی اور باطن کی پاکیزگی کی علامت ہے۔

قرآن کریم نے گریہ و زاری، آہ و فغاں اور آنسوؤں کو مرد مومن اور خدا وندعالم کے عاشق و عارف کی نشانی قرار دی ہے۔[۴۹]

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

اُوصِیکَ یَا عَلِیُّ فِی نَفْسِکَ بِخِصالٍ فَاحْفَظْها، اللّهُمَّ اعِنْهُوَ الرَّابِعَةُ البُکاءُ لِلّٰهِ یُبنٰی لَکَ بِکُلِّ دَمْعَةٍ بَیتٌ فِی الجَنَّةِ “[۵۰]

”یا علی! تمھیں چند چیزوں کی خصلت کے بارے میں سفارش کرتا ہوں، ان کی حفاظت کرنا، خدایا! اس کی مدد فرما۔۔۔۔ان میں سے چوتھی خصلت خدا کے لئے رونا ہے، جس کے ایک آنسو پر جنت میں تمھارے لئے ایک گھر بن جائے گا“۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

طُوبَی لِصُورَةٍ نَظَرَ اللّٰهُ اِلَیهَا تَبکِی عَلی ذَنْبِ مِنْ خَشیَةِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ،لَمْ یَطَّلِعْ عَلَی ذالکَ الذَّنبِ غَیرُهُ “[۵۱]

”خوشا نصیب اس صورت کے کہ جس پر خدا ایک نظر کرلے اور وہ گناھوں پر خدا سے ڈرتا ہو اور وہ بھی اس گناہ پر جس کو خدا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا“۔

نیز آپ ہی کا فرمان ہے:

( وَلاَعَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا اتَوْکَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَاجِدُ مَا احْمِلُکُمْ عَلَیْهِ تَوَلَّوا وَاعْیُنُهُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ حَزَنًا الاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ ) ۔“ (سورہ توبہ آیت ۹۲)

”اور ان پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو آپ کے پاس آئے کہ انھیں بھی سواری پر لے لیجئے اور آپ ہی نے کہہ دیا کہ ہمارے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے اور وہ آپ کے پاس سے اس عالم میں پلٹے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انھیں اس بات کا رنج تھاکہ ان کے پاس راہ خدا میںخرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے“۔

وَمَنْ ذَرَفَتْ عَینَاهُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ کاَنَ لَهُ بِکُلِّ قَطْرِةٍ مِن دُمُوعِهِ مِثْلُ جَبَلِ احُدٍ یَکُونُ فِی میزانِهِ مِنَ الاجرِ “[۵۲]

”جس شخص کی آنکھیں خوف خدا میں آنسو بھائےں تو اس کے ہر آنسو کی جزا اس کے عمل کی ترازو میں کوہ احدکے ہم پلہ ہو“۔

نیز آپ نے فرمایا:

مَن خَرَجَ مِن عَینَیهِ مِثلُ الذُّبابِ مِنَ الدَّمعِ مِن خَشْیَةِ اللّٰهِ آمَنَهُ اللّٰهُ بِهِ یَوْمَ الفَزَعِ الاکبَرِ“[ ۵۳]

”اگرخوف خدا سے کسی شخص کی آنکھ سے پرِکاہ کے برابر بھی آنسو نکل آئے تو خداوندعالم اس کو روز قیامت کے عذاب سے امان دیدے گا“۔

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

بُکاءُ العُیُونِ وَ خَشیَةُ القُلوبِ مِن رَحمَةِ اللّٰهِ تَعالی ذِکْرُهُ ،فَاِذا وَجَدتُمُوهَا فَاغْتَنِمُوا الدُّعاءَ “[۵۴]

”آنکھ کے آنسو اوردلوں میں خوف ؛ خدا کی رحمت ہے، جب یہ دونوں چیزیں حاصل ہوجائیں تو دعا کو غنیمت جانو کیونکہ خوف و گریہ کے ساتھ دعا مستجاب ہوتی ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَا مِن شَیْءٍ اِلاَّ وَلَهُ کَیلٌاو وَزنٌ اِلاَّ الدُّموعَ،فَاِنَّ القَطرَةَ مِنهَا تُطْفِیٴُ بِحاراً مِن نَارٍ،وَاِذَا اغْرَوْرَقَتِ الْعَینُ بِمائِها لَم یَرْهَق وَجْهَه قَتَرٌوَلاَذِلَّةٌ،فَاِذَا فاضَت حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَی النَّارِ،وَلَوْانّ باکیاً بَکٰی فِی امَّةٍ لَرُحِمُوا “[۵۵]

”تمام چیزوں کے لئے ایک پیمانہ موجود ہے سوائے آنسوؤں کے،کہ آنسوؤں کا ایک قطرہ دریائے آتش کو خاموش کردیتا ہے، جس وقت آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں تو رونے والے شخص کو کوئی سختی اور پریشانی نہیں پھنچتی،اور اگر آنکھ سے آنسو بہہ نکلیں تو خدا وندعالم اس پر آتش جھنم کو حرام کردیتا ہے،اور اگر کسی بھی امت کا کوئی شخص آنسو بھائے تو اس پوری امت پر رحم کیا جائے گا“۔

یحیٰ بن معاذ کہتے ہیں: جو شخص خواب میں اپنے کوروتا ہوا دیکھے تو وہ شخص جاگتے ہوئے شاد و خرم ہوگا، زندگانی دنیا خواب کی طرح ہے اور آخرت بیداری کا عالم، لہٰذا دنیا میں گریہ کرو تاکہ آخرت میں شاد و خرمّ رھو۔

دوستوں کی جدائی

اگر کوئی شخص انبیاء، پیغمبر ، ائمہ علیھم السلام اور اولیاء الٰھی کو دوست رکھنے والا ہو اور اس کی تمام تر کوششیں ان کا وصال اور دیدار ہو، اورقیامت میں ان کے دیدار کا شیدائی ہو اور ان بزرگواروں کی ہمنشینی سے سرفراز ہونا چاہتا ہو، لیکن خداوندعالم بعض گناھوں کے سبب ان کے اور اس کے درمیان جدائی ڈال دے اور ان کی ہم نشینی کے بجائے ان کے دشمنوں کے ساتھ قرار دیدے تو در حقیقت اس کے لئے یہ ایک سخت عذاب ہوگا، جو عذاب دوزخ اور آتش جھنم سے زیادہ سخت ہوگا۔

دوست اور محبوب کی جدائی کا صدمہ بچھڑے یار سے پوچھئے لیکن اگر کسی نے محبوب کی جدائی کا درد نہ دیکھا ہو اس کے سامنے درد یار کا بیان بے معنی ہے!

فراق محبوب کا مزہ ، جناب آدم علیہ ا لسلام نے برداشت کیا ہے کہ ”درخت ممنوعہ“ کے نزدیک جانے سے اپنے اس عظیم مقام کو کھودیا اور فرشتوں کی ہم نشینی اور بھشت میں زندگی بسر کرنے سے محروم ہوگئے!

درد فراق کو جناب ایوب علیہ السلام نے چکھا ہے، جنھوں نے امتحان پرودگار کی خاطر اپنے اہل و عیال، مال و دولت اور جسم کی صحت و سلامت سب کو قربان کردیا۔

فراق محبوب کا مزہ ،جناب یونس علیہ السلام نے چکھا جو اس عظیم دنیا کی وسیع فضا سے محروم ہوکر شکم ماھی میں گرفتار ہوگئے۔

فراق محبوب کا مزہ ،جناب یعقوب علیہ السلام نے چکھا ہے جنھوں اپنے محبوب (بیٹے جناب یوسف) کے فراق میں اس قدر گریہ کیا کہ آنکھوں کی بینائی جاتی رھی۔

فراق محبوب کا مزہ ،جناب یوسف علیہ السلام نے چکھا ہے جو یعقوب(ع)جیسے شفیق باپ سے دور ہوگئے اور چاہ کنعان میں جاپھونچے۔

لیکن خداوند مھربان نے جناب آدم کے درد فراق کاآدم کی توبہ کے ذریعہ علاج کیا، اسی طرح جناب ایوب(ع) کے درد فراق کا ان کے گم شدہ اہل و عیال اور مال کو واپس کرکے علاج کیا، اور یونس(ع) کو کا شکم ماھی سے نجات دیکر علاج کیا ہے، اسی طرح یعقوب و یوسف کو ایک دوسرے سے ملاکر ان کا درد کا علاج کیا ہے۔

اے درد فراق میں بے قرار افراد کے علاج کرنے والے! ہم تیرے بندے ہیں اور تیرے انبیاء، ائمہ(ع)اوراولیاء کے چاھنے والے ہیں ہمیں قیامت کے دن ان کے فراق و جدائی میں مبتلا نہ کرنا، ان کے فراق کے عذاب اور عذاب جھنم سے نجات دیدے، بالفرض اگر ہم تیرے عذاب پر صبر بھی کریں اور اپنے انبیاء، ائمہ اور اولیاء ہم نشینی سے محروم کردے لیکن تیری جدائی اور دوری پر کس طرح صبر کا یارا ہوگا؟!!

اہل کرامت کے مقام کی آرزو

پالنے والے! بالفرض اگر میں نے تیری آگ کی حرارت کا مقابلہ کربھی لیا، لیکن جیسا کہ تو اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم سے کیسے چشم پوشی کرسکتا ہوں؟

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ: ”خداوندعالم نے کسی کو نہیں پیدا کیا مگر یہ کہ اس کا جنت و جھنم میں مقام مقرر فرمادیاھے۔ جب اہل بھشت، بھشت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تواہل بھشت ایک آواز سنیں گے کہ اہل دوزخ کی طرف دیکھو، اس وقت جھنمیوں کے ٹھکانے دکھائے جائیں گے اور کھا جائے گا کہ اگر تم لوگ بھی خدا کی معصیت اور نافرمانی کرتے تو اسی (جھنم )میں داخل کئے جاتے۔ چنانچہ اس عذاب سے نجات ملنے پر اس قدر خوشحال ہوں گے کہ اگر بھشت میں موت ہوتی تو وہ مرجاتے۔

اس وقت منادی اہل جھنم سے کھے گاکہ اپنے اوپر کی طرف نگاہ کرو، جب وہ لوگ جنت میںان کے لئے مقرر کردہ اپنے مقام دیکھیں گے تو ان سے کھا جائے گا کہ تم خدا کی اطاعت و بندگی کرتے تو اس مقام تک پھنچ جاتے، چنانچہ یہ سن کر ان کی اس قدر حالت غیر ہوجائے گی کہ اگر جھنم میں موت ہوتی تو وہ مرجاتے“۔

پالنے والے! جیسا کہ تو اپنےنیکبندوں پر لطف وکرم کرے گا کیا میں اس کو دیکھ کر اس سے چشم پوشی کرلوں اور اس کی آرزو نہ کروں؟!

عفو و بخشش کی امید

اے میرے مولا! میں کس طرح جھنم میں آرام سے رہ سکتا ہوں حالانکہ میری ساری امید تیرے عفو و بخشش کے اوپر ہے، وہ عفو وبخشش جس کا قرآن مجید میں ،پشیمان گناھگاروں کو وعدہ دیا گیا ہے؟

پالنے والے! بہت سے مواقع پر بے چارے اور پریشان حال لوگ دوسروں سے لَو لگائے ہیں اور ان سے لطف و کرم اور عفو و بخشش کی امید رکھتے ہیں لیکن وہ محروم نہیں ہوتے، تو جن لوگوں نے تجھ سے لَو لگائی ہو اور تیرے عفو و بخشش کو سھارا بنایا ہو تو تو ان کو کیسے ناامید کرسکتا ہے۔

مرحوم عطّار اپنی کتاب ”الٰھی نامہ“ میں روایت کرتے ہیں: ایک بدکار، فاسق و فاجر اور رناچنے والی عورت مکہ میں رہتی تھی اور شھر کے ناچ گانے کے پروگراموں میں شرکت کیا کرتی تھی، اور اپنی اداؤں کے ذریعہ پروگرام کو گرم کئے رکھتی تھی۔رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ہجرت کے بعدجب اس عورت کا حسن و جمال ختم ہوگیا اور اس کی آواز جاتی رھی اس کا یہ دھنداٹھنڈا ہوگیا اور فقر و فاقہ میں گرفتار ہوگئی، مشکلات اور پریشانی کی وجہ سے مدینہ میں آئی اور رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی، چنانچہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس سے سوال کیا کس غرض سے مدینہ آئی ہے؟ کیا دنیاوی تجارت کے لئے آئی ہے یا اُخروی تجارت کے لئے؟ اس نے کھا: نہ دنیا کے لئے اور نہ آخرت کے لئے، بلکہ میں نے آپ کے جود و کرم اور بخشش کے بارے میں سنا ہے لہٰذا آپ سے امیدیں لے کر اس شھر میں آئی ہوں؟ پیغمبر اکرم اس کی بات سے بہت خوش ہوئے او راپنی ردا اس کو عنایت کردی، اور اصحاب سے مخاطب ہوکر فرمایا: تم میں سے جو شخص استطاعت رکھتا ہے اس کے لحاظ سے اس عورت کی مدد کرو۔

جی ہاں، ایک بدکار عورت تیرے بندے اور پیغمبر (جو تیرے بے نھایت لطف و کرم کا مظھر ہیں)کے جود و کرم کی امید میں مدینہ آئی اور بہت سا مال ودولت لے کر واپس گئی، کیا ممکن ہے کہ میں تیرے عفو و بخشش اور لطف و احسان کی امید پر تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تیرے رحم و کرم کی بارگاہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ جاؤں۔؟!!

فَبِعِزَّتِکَ یٰا سَیِّدي وَمَوْلٰايَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَني نٰاطِقاً،لَاضِجَّنَّ الَیْکَ بَیْنَ اهْلِهٰاضَجیجَ الْآمِلینَ، وَلَاصْرُخَنَّ الَیْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخینَ،وَلَابْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکٰاءَ الْفٰاقِدینَ، وَلَاُنٰادِیَنَّکَ ایْنَ کُنْتَ یٰاوَلِيَّ الْمُومِنینَ، یٰاغٰایَةَ آمٰالِ الْعٰارِفینَ،یٰا غِیٰاثَ الْمُسْتَغیثینَ، یٰاحَبیبَ قُلُوبِ الصّٰادِقینَ،وَیٰا الٰهَ الْعٰالَمینَ “۔

”تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جھنم کے درمیان بھی امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ”عزیز گم کردہ“ کی طرح تیری دوری پر آہ وبکا کروں گا اور تو جھاں بھی ہوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس ۔صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ہے“۔

قارئین کرام ! دعا کے اس حصے میں گزشتہ کی طرح صدق دل سے توبہ ،مناجات، راز و نیازاور دعا کرنے والا اپنے محبوب کی بارگاہ میں اس کی نظر رحمت کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے حاضر ہوتا ہے، اور اس فرض کے بعد کہ اس کو جھنم کا مستحق قرار دیا گیا ہے،اس کو جھنم سے نجات کا پروانہ عطا کردے۔

درحقیقت اگر کوئی شخص عذاب میں گرفتار ہو اور عذاب سے بھی سخت اپنے محبوب کے فراق اور اس کی جدائی کے غم میں گرفتار ہو اس کی حالت کیا ہوگی؟

کس درد مند کی آہ و فغاں اس سے زیادہ دلسوز ہوسکتی ہے جس نے اپنے محبوب و معشوق کھودیا ہو؟

کہتے ہیں : ایک ماں اپنے بیٹے کی قبر پر زار زار گریہ کررھی تھی، وھاں سے ایک عابد و عارف کا گزر ہوا ، اس عورت کی حالت زار دیکھ کر کھا: خوشا نصیب، اس ماں پر جو یہ جانتی ہے کہ وہ اپنے کس گوھر کو اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھی ہے!!

طفل می گرید چو راہ خانہ را گم می کند

چون نگریم من کہ صاحب خانہ را گم کرداہ ام [۵۶]

”بچہ گھر کے گم ہونے پر گریہ کرتا ہے تو میں نے صاحب خانہ کو گم کردیا ہے لہٰذا میرا رونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے“۔

واقعاً قیامت کاکیا عجیب و غریب منظر ہوگا، لوگوں کے لئے وہ دن کیساعجیب و غریب ہوگا؛ خوشانصیب ہیں وہ لوگ جو اس دن رحمت خدا کے مستحق قرار پائیں گے اور رضائے الٰھی حاصل کرکے عذاب جھنم سے نجات حاصل کریں گے۔

کیا اچھا ہوگا کہ موت کا پیغام آنے سے پھلے پھلے اور ہمارے نامہ اعمال پر تالے لگانے سے قبل ہم اپنے آپ کو قرآن مجید کے سامنے پیش کریں تاکہ اس کے بیانات کی روشنی میں اپنی حالت سے مزید واقف ہوجائیں۔

ھارون اور بھلول

ھارون رشید حج سے واپس آکر کوفہ میں ٹھھرا، ایک روز راستہ سے چلا جارھا تھا، راستے میں بھلول نے اس کو نام لے کر تین دفعہ پکارا: ہارون،ھارون،ھارون، اس نے تعجب کیا کہ کون ہے جو مجھے نام لے کر پکار رھا ہے؟ کھنےوالوں نے کھا: بھلول دیوانہ، اس نے محمل کا پردہ اٹھایا اور بھلول سے کھا: مجھے پہچانتے ہو؟ کھا: ہاں، کھا میں کون ہوں؟ کھا کہ تو وھی ہے کہ اگر کسی نے مشرق میں ظلم کیا ہو اور تو مغرب میں ہو تو قیامت کے دن کا مالک تجھ سے باز پرس کرے گا، یہ سن کر ہارون رونے لگا اور کھا: بھلول میری حالت کو کس طرح پاتے ہو؟ تو بھلول نے جواب دیا: اپنے کو قرآن مجید کے سامنے پیش کر:

( اِنَّ الابْرَارَ لَفِی نَعِیمٍ وَاِنَّ الفُجَّارَ لَفِی جَحِیمٍ ) ۔“[۵۷]

” بیشک نیک لوگ نعمتوں میںھوںگے۔اور بدکار افراد جھنم میں ہوں گے“۔

کھا: ہماری سعی و کوشش کا کیاھوگا؟ تو بھلول نے کھا:

”۔۔۔ إ( ِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِینَ ) ۔“[۵۸]

” خدا صرف صاحبان تقویٰ کے اعمال کو قبول کرتا ہے“۔

کھا: پیغمبر سے ہماری رشتہ داری کا کیاھوگا؟ تو بھلول نے کھا:

( فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلاَانسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَلاَیَتَسَائَلُونَ ) ۔“[۵۹]

” پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ رشتہ داریاں ہوں گی اور نہ آپس میں کوئی ایک دوسرے کے حالات پوچھے گا“۔

کھا: رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شفاعت کام نہ آئے گی؟ تو بھلول نے کھا:

( یَوْمَئِذٍ لٰا َتنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلاَّ مَنْ اذِنَ لَهُ الرَّحْمَانُ وَرَضِیَ لَهُ قَوْلاً ) (۔“[۶۰]

” اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے ان کے جنھیں خدا نے اجازت دےدی ہو اور وہ ان کی بات سے راضی ہو“۔

کھا: اے بھلول کیا تمھاری کوئی حاجت ہے؟ بھلول نے کھا: میرے گناھوں کو معاف کردے اور بھشت میں داخل کردے۔ تو ہارون نے کھا: مجھ میں اتنی قدرت نہیں کہ میں یہ کام انجام دے سکوں،لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ مقروض ہیں، کیا میں آپ کا قرض ادا کردوں؟ تو بھلول نے کھا: قرض کو قرض کے ذریعہ ادا نہیں کیا جاتا، جو کچھ تیرے پاس ہے وہ لوگوں کا مال ہے لہٰذا تم ان سب کے مقروض ہو، لہٰذا تم پر ان کا مال ان کو واپس کردینا واجب ہے۔

ھارون نے کھا: کیا آپ کے لئے کوئی خدمت گزار معین کردوں کہ آخر عمر تک آپ کی خدمت کرتا رھے؟

بھلول نے کھا: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اسی کا رزق کھاتا ہوں، کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ خدا تمھیں یاد کئے ہوئے ہے اور مجھے بھول گیا ہے!

گنج زر گر نبود گنج قناعت باقی است

آن کہ آن داد بہ شاھان بہ گدایان این داد [۶۱]

”اگر زرو سیم کا خزانہ نہیں ہے تو قناعت کا خزانہ باقی ہے، (خدا) نے اس کو بادشاھوں تو دیا ہے تو (قناعت) فقیروں کو دی ہے۔

افَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ یٰاالٰهي وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فیهٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فیهٰا بِمُخٰالَفَتِهِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِهٰا بِمَعْصِیَتِهِ ،وَحُبِسَ بَیْنَ اطْبٰاقِهٰا بِجُرْمِهِ وَجَریرَتِهِ وَهُوَ یَضِجُّ الَیْکَ ضَجیجَ مُومِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَیُنٰادیکَ بِلِسٰانِ اهْلِ تَوْحیدِکَ،وَیَتَوَسَّلُ الَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ “۔

”اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جھنم میں گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جھنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار ِرحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا ، ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز نہیں سنتا ہے“۔

صاحب یقین ،متقی اور پرھیزگار افراد جب قرآن مجید اور احادیث میں دوزخ کے اوصاف کو پڑھتے ہیں توان کے بدن میں لرزہ پیدا ہوتا ہے، ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل میں خوف و وحشت طاری ہوجاتی ہے اور مبھوت ہوکر رہ جاتے ہیں، اپنے دل و جان سے اس ہولناک عالم سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں، واجبات کو ادا کرنے اور محرّمات کو ترک کرنے کے لئے مزید کوشش کرتے ہیں یھاں تک کہ کبھی کبھی تو اسی عالم میں اپنی جان بھی قربان کر بیٹھتے ہیں!!

سلمان اور خوف زدہ جوان

شیخ مفید علیہ الرحمہ ابن عمیر کے واسطہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں: سلمان کوفہ کے بازارسے گزر رھے تھے ، دیکھا کہ ایک جوان زمین پر پڑا ہوا ہے اور لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہیں، (سوال کرنے پر)جناب سلمان کوبتایا گیا کہ یہ جوان غش کھاکر گرپڑا ہے، کچھ دعائیں پڑھ دیجئے تاکہ اس کو ہوش آجائے، جیسے ہی سلمان اس کے سرھانے پھنچے تو اس جوان نے کھا: اے سلمان! جو کچھ میرے بارے میں ان لوگوں نے کھا وہ صحیح نہیں ہے؛ میں جب اس بازار سے گزر رھا تھا تو لوھار کو ہتھوڑے کے ذریعہ لوھے کو مارتے دیکھا تو مجھے قرآن مجید کی یہ آیت یاد آگئی:

( وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِیدٍ ) ۔“[۶۲]

” اور ان کے لئے لوھے کے گرز مھیا کئے گئے ہیں“۔

عذاب خدا کے خوف کی وجہ سے میری عقل پریشان ہوگئی، سلمان نے اس جوان سے کھا: واقعاً تم ایک عظیم انسان ہو آج سے تم میرے (دینی) بھائی ہو، اور ان دونوں کے درمیان دوستی اور رفاقت پیدا ہوگئی، ایک روز جوان مریض ہوا،اس کی زندگی کے آخری لمحات تھے، سلمان اس کے سرھانے پھنچے ، سلمان نے کھا: اے ملک الموت! میرے بھائی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، جواب آیا: میں ہر مومن کے ساتھ حسن سلوک کرتاھوں۔[۶۳]

ایک خاتون عذاب کی آیت سن کر بے ہوش گئی

عالم عالیقدر ملا فتح اللہ کاشانی تفسیر ”منہج الصادقین“ میں روایت کرتے ہیں: ایک روز رسول خدا مسجد میں نماز پڑھ رھے تھے، سورہ حمد کی تلاوت کے بعد سورہ حجر کی تلاوت فرمارھے تھے، جب اس آیت پر پھنچے:

( وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اجْمَعِینَ لَهَا سَبْعَةُ ابْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ ) ۔“[۶۴]

” اور جھنم ایسے تمام لوگوں کی آخری وعدہ گاہ ہے۔اس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لئے ایک حصہ تقسیم کیاگیا ہے “۔

ایک اعرابی عورت جو رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ نماز پڑھ رھی تھی، اس نے ان دونوں آیات کوسن کرایک چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئی، رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) جب نماز سے فارغ ہوئے اور اس کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ا کے لئے پانی لے کر آؤ، پانی چھڑکنے سے اس کو ہوش آیا۔

چنانچہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس عورت سے فرمایا: کیوں تیری یہ حالت غیر ہوئی؟ اس نے کھا: یا رسول اللہ! جب آپ کو نماز پڑھتے دیکھا تو آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کا شوق دل میں پیدا ہوا ، لیکن جیسے ہی آپ نے ان دو آیات کی تلاوت کی تو میں سن کر تاب نہ لاسکی اور بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑی، اس کے بعد اس عورت نے کھا:افسوس کہ میرے بدن کا ہر حصہ دوزخ کے ساتوں دروازوں میں تقسیم ہوگا۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ایسا نہیں ہے، بلکہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ بدکاروں کے ہر گروہ کو اس کے گناہ کے لحاظ سے دوزخ کے دروازوں سے داخل کیا جائے گا۔ اس وقت اس عورت نے کھا: یا رسول اللہ میرے پاس سات غلاموں کے علاوہ کچھ نہیں ہے آپ گواہ رھنا کہ جھنم کے ہر دروازہ سے نجات کے لئے ساتوں غلاموں کو راہ خدا میں آزاد کرتی ہوں۔

چنانچہ جناب جبرئیل نازل ہوئے اور کھا: یا رسول اللہ! اس عورت کو بشارت دیدیجئے کہ خداوندعالم نے جھنم کے ساتوں دروازوں کو تجھ پر حرام قرار دیدیا ہے، اور تیرے لئے بھشت کے دروازوں کو کھول دیا ہے۔

حدیث قدسی میں بیان ہوا ہے:

اے فرزند آدم ! میں اس جھنم کوخلق نہیں کیا مگر کافر، بخیل ، غیبت کرنے والے، عاق پدر، عاق مادر، زکوٰة نہ دینے والے، سود لینے والے، زنا کرنے والے، (مال) حرام جمع کرنے والے، قرآن کو بھول جانے والے اور اپنے پڑوسیوں کو آزار و اذیت دینے والوں کے لئے۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کرےں ، ایمان لے آئےں اور عمل صالح انجام دےں۔

اے میرے بندو! خود اپنے اوپر رحم کرو، کیونکہ تمھارے جسم کمزور، سفر طولانی، وزن زیادہ، (بال سے زیادہ)باریک راستہ، دہکتی ہوئی آگ، اسرافیل کی ندا اور رب العالمین کی قضاوت در پیش ہے۔[۶۵]

بہترین وخوبصورت نصیحت

ایک شخص سفر پر جانا چاہتا تھا، حاتم اصمّ سے کھا: آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے، تو حاتم نے کھا:

اگر دوستی چاہتے ہو تو تمھارے لئے خدا کی دوستی کافی ہے۔

اگر ساتھی چاہتے ہو تو تمھارے لئے کرام الکاتبین (یعنی نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے) کافی ہیں۔

اگر عبرت چاہتے ہو تو تمھارے لئے یہ دنیا عبرت کے لئے کافی ہے۔

اگر مونس و ہمدم چاہتے ہو تو تمھارے لئے قرآن کریم کافی ہے۔

اگر کام چاہتے ہو تو عبادت تمھارے لئے کافی ہے۔

اگر نصیحت چاہتے ہو تو موت تمھارے لئے کافی ہے۔

اگر یہ چیزیں تمھارے لئے کافی ہوگئیں تو پھر دوزخ سے نجات مل جائے گی۔

قارئین کرام! (اگر خدا توفیق دے گا) تو خدا کی ربوبیت سے توسّل کی شرح ”یاربّ یاربّ یاربّ “ کے ذیل میں بیان کی جائے گی۔(انشاء اللہ)

”یٰامَوْلاٰيَ،فَکَیْفَ یَبْقٰی فِي الْعَذٰابِ وَهُوَیَرْجُوْمٰاسَلَفَ

مِنْ حِلْمِکَ،امْ کَیْفَ تُولِمُهُ النّٰارُوَهُوَیَامُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،

امْ کَیْفَ یُحْرِقُهُ لَهیبُهٰاوَانْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَرٰی مَکٰانَهُ،امْ

کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ زَفیرُهٰاوَانْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ،امْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ

اطْبٰاقِهٰا وَانْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ،امْ کَیْفَ تَزْجُرُهُ زَبٰانِیَتُهٰاوَهُوَ

یُنٰادیکَ یٰارَبَّهُ،امْ کَیْفَ یَرْجُوفَضْلَکَ فيعِتْقِهِ

مِنْهٰافَتَتْرُکُهُ فیهٰا“

”خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رھے گا اور

تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جھنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔

جھنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رھا ہو اور اس کی منزل کو دیکھ رھا ہو،جھنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رھا ہوگا۔وہ جھنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جھنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے آواز دے رھا ہوگا اور تو اسے جھنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوگا۔“

خداوندعالم کا لطف و کرم اور رحمت

قرآن کریم اور احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ: خدا وندعالم اپنے تمام بندوں پر لطف و کرم اور احسان کرتا ہے، اسی وجہ سے اس نے اپنے بندوں کو مادی اور معنوی نعمتوں سے نوازا ہے،اس نے اپنے بندوں کو نعمت عطا کرنے میں کسی طرح کے بخل سے کام نہیں لیا ہے اور نہ ہی اُس سے کام لے گا۔

یہ تو بعض انسان ہیں جو مادی اور معنوی نعمتوں کے حصول میں سستی اور کاہل ی سے کام لیتے ہیں، اور خدا کے لطف و کرم اور احسان سے خود منھ موڑلیتے ہیں، اور خود بخود محرومیت کے کنویں میں گر پڑتے ہیں، اور خدا کی تمام تر نعمتوں سے مستفید ہونے کی لیاقت کو ختم کرلیتے ہیں۔

جو شخص بھی چاھے وہ جائز طریقہ سے کوشش کرکے خداوندعالم کی نعمتوں کو حاصل کرسکتا ہے بغیر کسی ممانعت کے، اور اپنی خالصانہ سعی و کوشش کے ذریعہ اور اپنے صحیح ایمان و اعتقاد کے ذریعہ خداوندعالم کی معنوی عنایات تک پھنچ سکتا ہے، اور دنیا و آخرت میں خدا کی خصوصی رحمت اس کے شامل حال ہوگی جس کے جلوے دنیاوی زندگی اور بھشت بریں میں ملاحظہ کرے گا۔ خدا وندعالم کے لطف و کرم اور احسان کے حیرت انگیز جلوے یہ ہیں کہ: خداوندعالم تھوڑے سے نیک کام پر بہت زیادہ اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔

جناب سلیمان(ع) اور ایک دیھاتی

خداوندعالم کے منتخب رسول جناب سلیمان اپنے تمام تر شاھی شان و شوکت کے ساتھ ایک راستہ سے چلے جارھے تھے، راستہ میں ایک دیھاتی بھی سفر کررھا تھا، اس نے جناب سلیمان(ع) کو دیکھ کر کھا: پالنے والے! جناب داود کے بیٹے سلیمان کو کیا بادشاہت اور سلطنت عطا کی ہے، ہوا نے اس آواز کو جناب سلیمان تک پھنچادیا، حضرت سلیمان(ع) اس آواز کو سن کر اس کے پاس آئے او رکھا: جس چیز کی طاقت اورذمہ داری کو پورا کرنے کی قدرت تم میں نہیں ہے اس کی آرزو نہ کرو؛ اگر خداوندعالم تیری ایک تسبیح کو قبول کرلے تو سلیمان کی حکومت سے بہتر ہے، کیونکہ تسبیح کا ثواب باقی رہ جائے گا اور سلیمان کی حکومت فناھوجائے گی!![۶۶]

مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمہ اپنی گرانقدر کتاب ”ثواب الاعمال“ میں ایک بہت اھم روایت نقل کرتے ہیں:

عَن اِسماعِیلَ بنِ یَسارٍ قَالَ:سَمِعْتُ ابا عبدِ اللّٰهِ علیه السلام یَقُولُ:اِیّاکُم وَالکَسَلُ اِنَّ رَبَّکُم رحیمٌ یَشْکُرُ القَلیلَ،اِنَّ الرَّجُلَ لیُصلِّی الرَّکْعَتَیْنِ تَطَوُّعاً یُرِیدُ بِهِما وَجْهَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ فَیُدخِلُهُ اللّٰهُ بِهِما الجَنَّةَ، وَاِنَّهُ لِیَتَصَدَّقُ بِالدِّرْهَمِ تَطَوُّعاً یُرِیدُ بِهِ وَجهَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ فَیُدْخِلُهُ اللّٰهُ بِهِ الجَنَّةَ،وَاِنَّهُ لَیَصُومُ الیَوْمَ تَطَوُّعاً یُرِیدُ بِهِ وَجهَ اللّٰهِ فَیُدْخِلُهُ اللّٰهُ بِهِ الجَنَّةَ!!“ [۶۷]

”اسماعیل بن یسار کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سناھے: سستی اور کاہل ی سے پرھیز کرو، کیونکہ تمھارا پروردگار مھربان ہے، تھوڑے عمل پر بھی اجر کثیر عطا فرماتا ہے؛ جو شخص دو رکعت مستحب نماز پڑھے اور اس کا قصد رضائے پروردگار کا حصول ہو تو خداوندعالم اس کو ان دورکعت کے بدلے بھشت میں داخل کردے گا۔ اور اگر اپنی مرضی سے صدقہ دے اور اس صدقہ سے بھی رضائے الٰھی کا قصد ہو تو خداوندعالم اس کی وجہ سے اس کو بھشت میں داخل فرمادے گا، او راگر اپنی مرضی سے کسی ایک روز(مستحب) روزہ رکھے جبکہ خوشنودی پروردگار اس کے پیش نظر ہو تو خداوندعالم اسی ایک روزہ کے سبب بھشت میں جگہ عنایت فرمادے گا!!،،

امیر المومنین علیہ السلام حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت نقل کرتے ہیں:

مَا مِنْ شَیءٍ اکْرَمُ عَلَی اللهِ مِنْ ابنِ آدمَ، قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللهِ! وَلاٰ الْمَلاٰئِکَةِ؟ قَالَ: الْمَلاٰئِکَةُ مَجْبُورُوْنَ بِمَنْزِلَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ “۔

”خداوندعالم کی نظر میں انسانوں سے قیمتی کوئی مخلوق نہیں ہے، لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ (ص)! کیا فرشتوں سے بھی بہتر ہیں؟ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: فرشتے چاند وسورج کی طرح عبادت اور دوسرے امور پر مجبور ہیں“۔

یہ انسان ہی تو ہے جوصاحب اختیا ر اور نعمت آزادی سے بھرہ مند ہے وہ جب بھی ان خدا داد نعمتوں کواطاعت الٰھی میں بروئے کار لائے تو خداوندعالم ایسی خاص رحمت و کرم اور بے نھایت لطف و کرم سے نوازے گا۔

ایک بہت اھم حدیث

”قاَلَ النَّبِیُّ (صلی الله علیه و آله و سلم) الصَّلاةُ عَمودُ الدِّینِ وَفِیهَا عَشرُ خِصالٍ:زَینُ الوَجهِ،وَنُورُالقَلبِ،وَراحَةُ البَدَنِ،وَانسُ القُبورِ،وَمُنزِلُ الرَّحْمَةِ،وَمِصباحُ السَّمآءِ، وَ ثِقْلُ المیزانِ، وَمَرضاةُ الرَّبِّ،وَثَمَنُ الجَنَّةِ،وَحِجابٌ مِنَ النَّارِ،وَمَن اقامَها فَقَد اقامَ الدّینَ، وَمَن تَرَکَها فَقَد هَدَمَ الدّینَ “[۶۸]

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے: نماز دین کا ستون ہے اور اس میں دس صفات پائے جاتے ہیں: چھرہ نورانی، دل میں روشنی، جسم میں راحت و سکون، مونس قبر، رحمت نازل کرنے والی، آسمان کا چراغ، روز قیامت اعمال کی ترازو میں وزن کا سبب، خوشنودی پروردگار، جنت کی قیمت اور آتش دوزخ میں رکاوٹ ہے، جو شخص نمازپڑھتا ہے (گویا) اس نے دین کو قائم کیا اور جو شخص نماز نہ پڑھتا ہو (گویا) اس نے دین کو نابود کردیا“۔

واقعاً تعجب کی بات ہے کہ خداوندکریم نے دو رکعت نماز پڑھنے والے کے لئے کیا کیا ثواب اور آثار قرار دئے ہیں!! جبکہ دو رکعت نماز پڑھنا کسی کے لئے باعث زحمت و مشقت بھی نہیں ہے۔

نیز آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے:

ما مِن صَلاةٍ یَحْضُرُ وَقتُها اِلاَّ نَادَی مَلَکٌ بَیْنَ یَدَیِ النَّاسِ:ایُّهَاالنَّاسُ! قُومُوا اِلَی نِیرانِکُمُ الَّتِی اَوْقَدْتُمُوهَا عَلَی ظُهُورِکُم فَاطْفِوهَا بِصَلاَ تِکُم “[۶۹]

”کسی بھی نماز کا وقت نہیں آتامگر یہ کہ ایک فرشتہ ان کے سامنے آکر اعلان کرتا ہے:اے لوگو! (اپنے گناھوں کے ذریعہ) جس آگ کو روشن کیا ہے، قیام کرو اور اس کو نماز کے ذریعہ خاموش کردو“۔

امام صادق اورایک وحشت زدہ قافلہ

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں : امام صادق علیہ السلام ایک قافلہ کے ساتھ ایک بیابان سے گزر رھے تھے۔ اہل قافلہ کو خبردار کیا گیا کہ راستے میں چور بیٹھے ہوئے ہیں۔ اہل قافلہ اس خبر کو سن کر پریشان اور لرزہ براندام ہوگئے۔ اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا ہوا؟ تو لوگوں نے بتایا کہ ہمارے پاس (بہت) مال و دولت ہے اگر و ہ لٹ گیا تو کیا ہوگا؟! کیا آپ ہمارے مال کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں تاکہ چور آپ کو دیکھ کر وہ مال آپ سے نہ لوٹیں۔ آپ نے فرمایا: تمھیں کیا خبر شاید وہ ہمیں ہی لوٹنا چاہتے ہوں؟ تو پھر اپنے مال کو میرے حوالے کرکے کیوں ضایع کرنا چاہتے ہو، اس وقت لوگوں نے کھا: تو پھر کیا کریں کیا مال کو زمین میں دفن کردیا جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ایسا نہ کرو کیونکہ اس طرح تو مال یونھی برباد ہوجائے گاھوسکتا ہے کہ کوئی اس مال کو نکال لے یا پھر دوبارہ اس جگہ کو تلاش نہ کرسکو۔ اہل قافلہ نے پھر کھا کہ تو آپ ہی بتائےے کیاکریں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کو کسی کے پاس امانت رکھ دو، تاکہ وہ اس کی حفاظت کرتا رھے ، اور اس میں اضافہ کرتا رھے، او رایک درھم کو اس دنیا سے بزرگ تر کردے اور پھر وہ تمھیں واپس لوٹادے، اور اس مال کو تمھارے ضرورت سے زیادہ عطا کرے!!

سب لوگوں نے کھا: وہ کون ہے؟ تب امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ہے”ربّ العالمین“ ہے۔ لوگوں نے کھا: کس طرح اس کے پاس امانت رکھیں؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: غریب اور فقیر لوگوں میں صدقہ دیدو۔ سب نے کھا: ہمارے درمیان کوئی غریب یا فقیر نہیں ہے جس کو صدقہ دیدیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اس مال کے ایک تھائی صدقہ دینے کی نیت کرلو تاکہ خداوندعالم چوروں کی غارت گری سے محفوظ رکھے، سب نے کھا: ہم نے نیت کرلی۔ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:

فَانْتُمْ فِی امَانِ الله فَامْضُوْا “۔

”پس (اب) تم خدا کی امان میں ہو لہٰذا راستہ چل پڑو“۔

جس وقت قافلہ چل پڑا راستہ میں چوروں کا گروہ سامنے دکھائی پڑا، اہل قافلہ ڈرنے لگے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: (اب) تم کیوں ڈررھے ہو؟ تم لوگ تو خدا کی امان میں ہو۔ چور آگے بڑھے اور امام علیہ السلام کے ہاتھوں کو چومنے لگے اور کھا: ہم نے کل رات خواب میں رسول اللہ کو دیکھا ہے جس میں آنحضرتنے فرمایا: کہ تم لوگ اپنے کو آپ کی خدمت میں پھنچنواؤ۔ لہٰذا اب ہم آپ کی خدمت میں ہیں تاکہ آپ اور آپ کے قافلہ والوں کوچوروں کے شر سے محفوظ رکھیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تمھاری کوئی ضرورت نہیں ہے جس نے تم لوگوں کے شر کو ہم سے دور کیا ہے وہ دوسرے دشمنوں کے شر کو ہم سے دور کرے گا۔ اہل قافلہ صحیح و سالم شھر میں پھنچ گئے؛ سب نے ایک سوم مال غریبوں میں تقسیم کیا، ان کی تجارت میں بہت زیادہ برکت ہوئی، ہر ایک درھم کے دس درھم بن گئے، سب لوگوں نے تعجب سے کھا:واقعاً کیا برکت ہے؟

امام صادق علیہ السلام نے اس موقع پر فرمایا:

”اب جبکہ تمھیں خدا سے معاملہ کرنے کی برکت معلوم ہوگئی ہے تو تم اس کام کو آگے بڑھانا“۔[۷۰]

اولیاء الٰھی کا لطف و کرم

حضرت امیر المومنین علیہ السلام جس وقت صفین کے علاقے میں پھنچے، تو معاویہ نے ہر طرف سے پانی بند کردیا تھا، تاکہ امام علیہ السلام کا لشکر پیاس کی شدت سے زیادہ نہ لڑسکے۔ امام علیہ السلام نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی سرپرستی میں کچھ لوگوں کو حکم دیا کہ پانی کا راستہ کھول دو، حضرت امام حسین(ع)نے چند لوگوں کے ساتھ مل کر حملہ کیا اور پانی تک پھنچ گئے، معاویہ کی طرف سے پانی پر معین شدہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، اور پانی پر فرزندان توحید کا قبضہ ہوگیا۔ بعض لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کو مشورہ دیا کہ اب آپ بھی معاویہ کے لشکر پر پانی بند کردیں۔ تو آپ نے فرمایا: قسم بخدا ہم یہ کام ہر گز نہیں کریں گے۔ اس کے بعد آپ نے معاویہ کے پاس اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا تاکہ اپنے لشکر کے سقاؤں کو بھیج کر ضرورت بھر کا پانی بھروالے!!

امام رضا علیہ السلام کا ایک عجیب خط

بزنطی جوشیعہ دانشمند راوی اور امام رضا علیہ السلام کے معتبر او رمطمئن صحابی بیان کرتے ہیں: میں نے اس خط کو پڑھا ہے جو امام رضا علیہ السلام نے خراسان سے حضرت امام جواد (محمد تقی) علیہ السلام کو مدینہ بھیجا تھا، جس میں تحریر تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ جب آپ بیت الشرف سے باھر نکلتے ہیں اور سواری پر سوار ہوتے ہیں تو خادمین آپ کو چھوٹے دروازے سے باھر نکالتے ہیں، یہ ان کا بخل ہے تاکہ آپ کا خیر دوسروں تک نہ پھنچے،میں بعنوان پدر اور امام تم سے یہ چاہتاھوں کہ بڑے دروازے سے رفت و آمد کیا کرو، اور رفت و آمد کے وقت اپنے پاس درھم و دنیار رکھ لیا کرو تاکہ اگر کسی نے تم سے سوال کیا تو اس کو عطا کردو، اگر تمھارے چچا تم سے سوال کریں تو ان کو پچاس دینار سے کم نہ دینا، اور زیادہ دینے میں خود مختار ہو، اور اگر تمھاری پھوپھیاں تم سے سوال کریں تو ۲۵ درھم سے کم نہیں دیں اگر زیادہ دینا چاھیں تو تمھیں اختیار ہے۔ میری آرزو ہے کہ خدا تم کو بلند مرتبہ پر فائز کرے، لہٰذا راہ خدا میں انفاق کرو ،اور خدا کی طرف سے تنگدسی سے نہ ڈرو![۷۱]

قارئین کرام! جب بندوں پر اولیاء الٰھی اپنے لطف و کرم کی بارش اس طرح کرتے ہیں تو پھر خدائے رحمن کا لطف وکرم اور اس کی رحمت کا کیا حال ہوگا؟!

خداوندعالم کے بے نھایت اسی لطف و کرم اور رحمت کے پیش نظر حضرت امیر المومنین علیہ السلام دعا کے اس حصہ میں یہ فقرہ کھنے کے بعد کہ: ”افتراک سبحانک یا الٰھی“کیا کوئی تجھے اس طرح جانتا ہے کہ اپنے مسلمان بندہ کو کچھ مخالفت کی وجہ سے جھنم میں ڈال کر اس کی آواز کو سنے۔۔۔۔؟ نھیں، نھیں، کوئی بھی اہل معرفت تجھے اس طرح سے نہیں پہچانتا، بلکہ ”ھیھات ماذلک الظن بک۔۔۔“۔

”هَیْهَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ فَضْلِکَ،

وَلامُشْبِهٌ لِمٰاعٰامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاحْسٰانِکَ

فَبِا لْیَقینِ اقْطَعُ لَوْلاٰ مٰا حَکَمْتَ بِهِ مِنْ تَعْذیبِ

جٰاحِدیکَ،وَقَضَیْتَ بِهِ مِنْ اخْلاٰدِ مُعٰانِدیکَ لَجَعَلْتَ

النّٰارَکُلَّهٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِاحَدٍ فیهٰامَقَرّاًوَلاٰمُقٰاماً،لٰکِنَّکَ

تَقَدَّسَتْ اسْمٰاوکَ اقْسَمْتَ انْ تَمْلَاهٰامِنَ الْکٰافِرینَ مِنَ

الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ اجْمَعینَ،وَ انْ تُخَلِّدَ فیهٰاالْمُعٰانِدینَ،

وَانْتَ جَلَّ ثَنٰاوکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ

بِالْانْعٰامِ مُتَکَرِّماً،افَمَنْ کٰانَ مُومِناًکَمَنْ

کٰانَ فٰاسِقاً لاٰیَسْتَوُوْنَ“

” ہر گز تیرے بارے میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نہیں ہے ۔

تونے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاو کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔

میں تویقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوھمیشہ جھنم میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جھنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔

لیکن تونے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ہے کہ جھنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا اور معاندین کو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رکھے گا۔

اور تونے ابتداھی سے یہ کہہ دیا ہے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ”مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے“۔

آغوش مھر و محبت

انبیاء، ائمہ معصومین علیھم السلام اور اولیاء الٰھی نیز عبادت گذار بندے ، خدا وندعالم کے بارے میں یہ گمان نہیں رکھتے کہ خداوندمھربان ان پر عذاب نازل کرے گا۔ وہ خدا جس نے قرآن کریم میں خود اپنے آپ کوسب سے زیادہ مھربان اور سب سے زیادہ رحم و کریم، غفور و رحیم، عزیز و ودود، ملک و قدّوس ، لطیف و صاحب فضل اور توبہ قبول کرنے والے کے نام سے تعارف کرایا ہے۔

عذاب قیامت کا اہل ایمان سے کوئی رابطہ نہیں ہے، عذاب خدا تو انکار حق اور خدا سے دشمنی کا نتیجہ ہے۔ عذاب آخرت متکبرین ، مغرورین اور گناھگاروں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ عذاب آخرت گناھوں اور آلودگیوں کا نتیجہ ہے۔ عذاب آخرت کو انسانی کارخانے نے وجود بخشا ہے اگر وہ اس کو پیدا نہ کرتا تو کوئی بھی اس کو وجود عطا نہیں کرسکتا تھا۔

جو شخص منکر اور معاند (دشمن) نہیں ہے اور اس کے دل میں توحید، ایمان اورعشق و محبت کا چراغ روشن ہے اور ایک حد تک اخلاق حسنہ اور عمل شائستہ سے مزین ہو تو پھر وہ عذاب میں کس طرح اور کیوں مبتلا ہو؟!

اس کا سامنا تو ایک مقدس، مھربان اور کریم ذات سے ہے، وھی جس نے ہر گناھگار کو توبہ کے لئے دعوت دی ہے تاکہ اس کو بخش دے، اور ہر روز (دنیا کے مصائب سے) ہارے ہوئے انسان کو آواز دیتا ہے تاکہ اس کو نجات دیدے، اور ہر دردمند کو دعوت دیتا ہے تاکہ اس کا علاج کردے۔

ایک شخص نے کسی عارف سے سوال کیا: میرا دامن گناھوں سے آلودہ ہے، کیا تمھارا گمان ہے کہ مجھے وھاں (قیامت) میں قبول کرلیا جائے؟ چنانچہ اس شخص کی بات سن کر اس عارف نے کھا: وائے ہو تم پر! خدا اپنے سے منھ موڑنے والوں اور پشت کرنے والوں کو حق و حقیقت کی دعوت دیتا ہے، کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص خود اس کے دروازے پر التجا کررھا ہو اس کو اپنے دروازے سے دور بھگادے؟!!

مرحوم ابن فھد حلی اپنی کتاب ”عدة الداعی“ میں روایت کرتے ہیں: جس وقت خداوندعالم نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیجا، تاکہ اس کو (گناھوں سے )ڈرائےں، تو خداوندعالم نے فرمایا: فرعون سے کھو کہ میں غضب و عذاب کی نسبت، عفو و بخشش،گناھگاروں کے مقابلہ میں بردباری اور فقیروں کی دعاؤں قبول کرنے میں جلدی کرتا ہوں۔

گناھوں کے مقابلہ میں حضرت ابراھیم کی بے قراری

درج ذیل آیہ شریفہ:

( وَکَذَلِکَ نُرِی إِبْرَاهِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِینَ ) ۔“[۷۲]

”اور اسی طرح ہم ابراھیم کو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہوجائیں“۔

کے ذیل میں علمائے تفسیر نے لکھا ہے:

جس وقت خداوندعالم نے جناب ابراھیم علیہ السلام کی آنکھیں زمین و آسمان کے حقائق پر کھول دیں اور ان کی آنکھوں سے تمام حجابات اٹھادئے ، اور انھوں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا، اس کا مشاھدہ کیاتو ایک عورت اور مرد کو زنا کرتے دیکھا، آپ نے ان پر نفرین و لعنت کی ، چنانچہ وہ دونوں وھیں ہلاک ہوگئے، اس کے بعد پھر دو عورت و مرد کو اسی حالت میں دیکھا، ان کے لئے بھی نفرین کی تو وہ بھی ہلاک ہوگئے ، اس کے بعد ایک مرد و عورت کو پھر اسی حالت میں دیکھا، جناب ابراھیم نفرین کرنا ہی چاہتے تھے کہ وحی الٰھی نازل ہوئی: اے ابراھیم! میرے بندوں اور کنیزوں پر نفرین نہ کرو، بے شک میں بخشنے والا، مھربان، بردبار اور جبّار ہوں، میرے بندوں کے گناہ مجھے نقصان نہیں پھنچاسکتے، جیسا کہ بندوں کی اطاعت (بھی)مجھے کوئی فائدہ نہیں پھنچاتی ہے۔

میں اپنے بندوں کے ساتھ تین کاموں میں سے ایک انجام دوں گا: یا وہ توبہ کرلیں گے اور میں ان کی توبہ قبول کرلوں گا، ان کے گناھوں کو بخش دوں گا اور ان کے عیوب چھپادوں گا، یا ان سے اپنے عذاب کو د ور رکھوں گا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کی نسل سے مومن اولاد پیدا ہوں گی،لہٰذا ان کے ناشکرے والدین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتا ہوں تاکہ ان کے صلب سے مومن اولاد پیدا ہوجائیں، اور جب ان کے ذریعہ مومن اولاد پیدا ہوجاتی ہے تو اگر ان کے والدین نے توبہ نہیں کی تو ان کو عذاب میں مبتلاکردیتا ہوں۔ لیکن اگر دونوں گزشتہ باتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو ، تو ان کے لئے آخرت میں ایسا درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے اور وہ اس سے کھیں زیادہ بزرگ ہے جتنا آپ ان کے لئے چاہتے ہیں۔

اے ابراھیم! میرے بندوں کو میرے حوالہ چھوڑدو، کیونکہ میں بردبار، دانا، حکیم اور جبّار ہوں، اپنے علم و دانائی کی بنا پر ان کی زندگی کی تدبیر کرتا ہوں، اور ان کے سلسلہ میں اپنی قضا وقدر کو جاری کرتا ہوں۔[۷۳]

تعجب آور حقیقت

کتاب با عظمت ”علم الیقین“ محدث بزرگ،فلسفی، حکیم اور عارف کم نظیر حضرت علامہ فیض کاشانی نے بیان کیا ہے:

ایک شخص کو قیامت میں حاضر کیا جائے گا ،اس کے گناھوں کا پلہ نیکیوں کے مقابلہ میں بھاری ہوگا، اس کے لئے جھنم کا حکم صادر ہوجائے گا، اس وقت خدا کی طرف سے جناب جبرئیل کو حکم ہوگا کہ میرے اس بندے کے پاس جاؤ اور اس سے سوال کرو کہ کیا دنیا میں کسی عالم کے پاس بیٹھتے تھے تاکہ وہ تمھاری شفاعت کرے، وہ گناھگار کھے گا: نھیں،خطاب ہوگا: کیا کسی عالم کے دسترخوان پر کھانا کھایا ہے؟ وہ کھے گا: نھیں، خطاب ہوگا: کیا کسی عالم کی جگہ پر بیٹھے ہو؟ گناھگار کھے گا: نھیں، اس سے کھا جائے گا: کیا کسی عالم کے ہمنام ہو؟کھے گا: نھیں، سوال ہوگا: کیا تمھارے کوئی ایسا دوست ہے جو عالم کا دوست ہو؟ اس موقع پر وہ کھے گا: ہاں۔ خطاب ہوگا: اے جبرئیل! میرے اس بندہ کو اپنے بے نھایت لطف و کرم کی بدولت بخش دیا، اس کے ساتھ نوازش کرو، اور اس کو جنت میں داخل کردو۔

جناب داؤد کے ہم عصر ایک جوان پر خدا کا لطف و کرم

شیخ صدوق علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں: ایک جوان حضرت داؤد علیہ السلام کی محفل میں شرکت کیا کرتا تھا،وہ جوان بہت کمزور اور پتلا دبلا تھا، زیادہ تر چپ چاپ رھا کرتا تھا۔

ایک روز ملک الموت جناب داؤد علیہ السلام کے پاس آئے، درآنحالیکہ اس جوان کو مخصوص طریقہ سے دیکھ رھے تھے، جناب داؤد نے کھا: اس پر نظر رکھے ہوئے ہو؟ اس نے کھا: جی ہاں، مجھے حکم ہے کہ سات روز کے بعد اس کی روح قبض کرلوں۔جناب داؤد علیہ السلام کو اس جوان پر رحم آیا اور اس سے کھا: اے جوان کیا تمھاری زوجہ ہے؟اس نے کھا: میں نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے۔

جناب داود علیہ السلام نے کھا: فلاں صاحب عظمت شخص کے پاس جاؤ اور اس سے کھو کہ جناب داود علیہ السلام نے کھا ہے کہ اپنی لڑکی کی مجھ سےشادی کردو، اور مقدمات فراھم کرلو تاکہ آج ہی رات میں یہ شادی ہوجائے۔ اس کے بعد جناب داود علیہ السلام نے اس جوان کو کافی پیسہ دیاتاکہ اس کے ذریعہ ضروری سامان خرید لے او رکھا: سات دن کے بعد میرے پاس آنا۔

وہ جوان گیا اور شادی کے سات دن بعد حضرت داود علیہ السلام کے پاس آیا، انھوں نے اس کے حالات پوچھے تو اس نے کھا: میرا حال آپ سے بہتر ہے، حضرت داود علیہ السلام اس کی روح قبض ہونے کے منتظر تھے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، فرمایا: جاؤ او ردوبارہ سات دن کے بعد میرے پاس واپس آنا۔

وہ جوان واپس چلا گیا، اور پھر سات دن کے بعد واپس آیا، پھر بھی اس کی موت نہیں آئی، آپ نے پھر ایک بار اس کو کھا: جا ؤاور سات دن کے بعد پھر آنا، وہ گیا اور سات دن کے بعد پھر واپس آگیا، اس روز ملک الموت پھر آگئے، تو حضرت داود علیہ السلام نے ملک الموت سے کھا: کیا تم نے نہیں کھا تھا کہ اس جوان کو سات دن کے بعد مرنا ہے؟ ملک الموت نے کھا: کھا تھا۔ حضرت داود علیہ السلام نے کھا: تو کیا وجہ ہے اس کو تین ہفتہ گذر گئے ہیں لیکن تم نے اس کی روح قبض نہ کی؟! ملک الموت نے کھا: اے داود، خداوندعالم نے اس جوان پر تمھارے رحم آنے کی بنا پر اس پر رحم کردیا اور اس کی عمر تیس سال بڑھادی ہے۔[۷۴]

قارئین کرام! خداوندعالم ، اگر کوئی انسان تھوڑا ساھاتھ پھیلائے تو اس کی طرف اپنے رحمت کی بارش کردیتا ہے، اور اس کو ہر طرف سے اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے۔

اسیر کی آزادی کے لئے پانچ صفات

ایک بہت اھم حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

چند اسیروں کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں لایا گیا، آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ایک شخص کے علاوہ سب کو قتل کرنے کا حکم دیدیا، اس نے تعجب سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا: آپ نے میری آزادی کا فرمان صادر کیا ہے؟ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: جبرئیل امین نے مجھے خبر دی ہے کہ تیرے اندر پانچ صفات ہیں جن کو خدا دوست رکھتا ہے:

الغَیْرَةُ الشَّدِیْدَةُ عَلٰی حَرَمِکَ، وَالسَّخَاءُ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَصِدْقُ الْلِسَانِ، وَالشُّجَاعَةُ “۔

”اپنے محرموں کے بارے میں بہت زیادہ غیرت، سخاوت، اخلاق حسنہ، زبان میں سچائی، اور شجاعت“۔

چنانچہ وہ شخص اس عجیب واقعہ کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا، اور آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ جھاد کیا اور جام شھادت نوش کیا!![۷۵]

غلام اہل توحید

حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک خطاکار غلام کو تازیانے مارنے کا حکم دیا۔

اس غلام نے کھا: اے فرزند رسول! آپ اس کو تازیانہ مارنے کا حکم دیتے ہیں جس کا شفاعت کرنے والا آپ کے علاوہ کوئی نھیں، آپ کا فضل و کرم اور احسان کھاں ہے؟ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کو رھا کردو۔

اس موقع پر اس غلام نے کھا: آپ نے مجھے رھا نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے رھا کرایا ہے جس نے میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: پروردگار کعبہ کی قسم! یہ غلام اہل توحید ہے، اس نے خدا کے ساتھ کسی غیر خدا کو شریک نہیں کیا ہے!

ھاں! اہل توحید کے ساتھ فضل و کرم کے علاوہ معاملہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی ایسا ہوگا۔جو شخص خدا کی وحدانیت کی گواھی دے اور ایک حد تک خداکی مرضی کے مطابق عمل کرے، تو ایسا شخص خدا وندعالم کے بے کراں لطف و کرم سے نوازا جائے گا۔

حضرت یوسف(ع) کی بے گناھی کی گواھی دینے والے کا انجام

قرآن مجید کی بعض تفاسیر میں منقول ہے: جب حضرت یوسف(ع)مصر کی مسند حکومت پر جلوہ افروز ہوئے، تو انھوں نے سوچا کہ اپنی حکومت کے لئے ایک وزیر کی ضرورت ہے، تاکہ معاشرہ کی اصلاح اور تربیت کا بندو بست کرے، اور ان کے ساتھ عدل و محبت کا سلوک کرے۔

اس وقت جناب جبرئیل امین نازل ہوئے او رکھا:

خدا فرماتا ہے کہ تمھیں ایک وزیر کی ضرورت ہے، جناب یوسف(ع) نے کھا: میں بھی یھی سوچ رھا ہوں، لیکن اس منصب کے لئے مناسب شخص کے بارے میں علم نہیں ہے؟

جبرئیل نے فرمایا:

کل جب آپ حکومت کے دروازے سے باھر نکلیں تو جو شخص سب سے پھلے آپ سے ملاقات کرے وھی اس عھدہ کا حقدار ہے، چنانچہ جب دوسرے روز حضرت یوسف باھر نکلے تو سب سے پھلے ایسا شخص ملا، جو بہت کمزور اور دبلا پتلا اور اچھی شکل والا نہ تھااور اپنی پیٹھ پر ایندھن لادے ہوئے ہے، جناب یوسف نے خود سے کھا:

یہ شخص وزارت کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور چاھا کہ اس سے منھ پھیر کر چلے جائیں، لیکن جناب جبرئیل نازل ہوئے اور کھا:

اس کو مت چھوڑئےے اور اس کو اپنی وزارت کے لئے انتخاب کرلیجئے، کیونکہ اس کا آپ پر احسان ہے، یھی وہ شخص ہے جس نے عزیز مصر کے دربار میں آپ کی سچائی کی گواھی دی تھی، اس میں آپ کی وزارت کا عھدہ سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔

قارئین کرام! جب خداوندعالم حضرت یوسف کی پاکیزگی کی صحیح گواھی دینے والے کو جناب یوسف کا وزیر بنادیا، تو اگر کوئی شخص پوری عمر اس کی وحدانیت کی گواھی دے تو اس کے ساتھ کیا کرے گا؟!!

جی ہاں، خدائے رحمن و مھربان کا لطف وکرم اوراس کا احسان کوئی ایسی شئے نہیں ہے جو کسی کی سمجھ میںآسکے، اس مقام پر عقلمندوں کی عقل اور خردمندوں کی خرد اور ہوشیاروں کے ہوش اُڑجاتے ہیں، اور کسی میں بھی ان حقائق کو کما حقہ سمجھنے کی طاقت نہیں ہے۔

” الٰهي وَسَیِّدِي،فَاسْالُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي قَدَّرْتَهٰا،وَبِالْقَضِیَّةِ الَّتي حَتَمْتَهٰاوَحَکَمْتَهٰا،وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْهِ اجْرَیْتَهٰا،انْ تَهَبَ

لِي فِي هٰذِهِ اللَّیْلَةِ وَفي هٰذِهِ السّٰاعَةِ کُلَّ

جُرْمٍ اجْرَمْتُهُ،وَکُلَّ ذَنْبٍ اذْنَبْتُهُ،وَکُلَّ قَبیحٍ اسْرَرْتُهُ،

وَکُلَّ جَهَلٍ عَمِلْتُهُ،کَتَمْتُهُ اوْاعْلَنْتُهُ،

اخْفَیْتُهُ اوْ اظْهَرْتُهُ“

” تو خدایا ۔مولایا۔میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت

اور ہر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر تجھ سے سوال کرتاھوں

کہ مجھے اِسی رات میں اور اِسی وقت معاف کردے۔ میرے سارے جرائم،

سارے گناہ اور ساری ظاھری اور باطنی برائیاں اور ساری جھالتیں جن پر میں

نے خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان، چھپا کر یا ظاھر کر کے عمل کیا ہے“۔

قارئین کرام ! دعا کے ابتدائی حصہ میں ”اللّٰھم اغفر لی الذنوب اللتی۔۔۔“ کے جملات میں گناہ اور اس کے آثار کے بارے میں تفصیل کے ساتھ شرح دی جاچکی ہے، دوبارہ شرح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام دعا کے اس حصہ میں خلوت اورجلوت میں ہونے والے گناھوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں اور خدا وندعالم کی بارگاہ میں ان کی بخشش کی دعا فرماتے ہیں۔

جی ہاں، شب جمعہ ، راز و نیاز کا وقت اور مناجات و توبہ کے لمحات ہیں، چشم پُرنم اور نالہ و زاری کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں، تاکہ تو میرے تمام گناھوں کو بخش دے، اور اس رات میں میرے اوپر رحمت و عنایت اور کرامت و مغفرت کے دروازے کھول دے۔(آمین)

آمد بہ درت امیدواری

کو را بہ جز از تو نیست یاری

محنت زداہ ای نیازمندی

خجلت زدہ ای گناھگاری

از یار جدا افتاد عمری

و ز دوست بماندہ روزگاری

شاید ز در تو بازگردد

نومید چنین امیدواری

بخشای ز لطف بر ”عراقی“ کو ماندہ کنون و زینھاری

تیرے دروازے پر ایک امیدوار شخص آیاھے کہ تیرے علاوہ اس کا کوئی ناصر و مددگار نہیں ہے۔

یہ گناھگار، شرمندہ ،پریشان حال اور نیاز مند ہے۔

ایک مدت تک اپنے محبوب (خدا) سے دور رھا اور اپنے دوست سے بے مروتی کی ہے۔

تیرے در سے خالی ہاتھ اور ناامید شاھد ہی پلٹے

”عراقی“ پر اپنا خاص لطف و کرم فرما تاکہ وہ بے یار و مددگار نہ رھے۔

” وَکُلَّ سَیِّئَةٍ امَرْتَ بِاثْبٰاتِهاَ الْکِرٰامَ الْکٰاتِبینَ،اَلَّذینَ

وَکَّلْتَهُمْ بِحِفْظِ مٰایَکُونُ مِنِّي،وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداً

عَلَیَّ مَعَ جَوٰارِحِي،وَکُنْتَ انْتَ الرَّقیبَ عَلَیَّ

مِنْ وَرٰائِهِمْ،وَالشّٰاهِدَ لِمٰاخَفِيَ عَنْهُمْ،وَبِرَحْمَتِکَ اخْفَیْتَهُ،

وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَهُ،وَانْ تُوَفِّرَحَظّي مِنْ کُلِّ خَیْرٍانْزَلْتَهُ ،

اوْاحْسٰانٍ فَضَّلْتَهُ،اوْ بِرٍّ نَشَرْتَهُ،اوْرِزْقٍ بَسَطْتَهُ،اوْذَنْبٍ

تَغْفِرُهُ،اوْخَطَاءٍ تَسْتُرُهُ“

” اور میری تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ہے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ہے اور میرے اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کررھا ہے اور جوان سے مخفی رہ جائے اس کا گواہ ہے سب کو معاف فرمادے۔یہ تو تیری رحمت ہے کہ تونے انھیں چھپا دیا ہے اور اپنے فضل وکرم سے ان عیوب پر پردہ ڈال دیا ہے۔میرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے ہر خیر و احسان اور نشر ہونے والی ہرنیکی ۔ھر وسیع رزق۔ھر بخشے ہوئے گناہ۔ عیوب کی ہر پردہ پوشی میں سے میرا وافر حصہ قرار دے“۔

کرام الکاتبین اور انسان کے اعضاء وجوارح

کرام الکاتبین (فرشتوں)کے ذریعہ انسان کے تمام اعمال کا لکھا جانا اور ان کے ساتھ انسانی کردار پر اعضاء وجوارح کا گواھی دینا، یہ وہ حقیقت ہے جس پر قرآنی آیات اور روایات معصومین علیھم السلام دلالت کرتی ہیں۔

( وَاِنَّ عَلَیْکُم لَحَافِظینَ کِراماً کَاتِبینَ یَعْلَمونَ مَا تَفْعَلونَ ) ۔“[۷۶]

”اور یقینا تمھارے سروں پر نگھبان مقرر ہیں۔جو باعزت لکھنے والے ہیں“۔

( حَتَّی إِذَا مَا جَائُوهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَابْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ .وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوا انطَقَنَا اللهُ الَّذِی انطَقَ کُلَّ شَیْءٍ ) ۔۔۔“[۷۷]

”یھاں تک کہ جب سب جھنم کے پاس آئےں گے تو ان کے کان ان کی آنکھیں اور جلد (کھال) ان کے اعمال کے بارے میں ان کے خلاف گواھی دیں گے۔ اور وہ اپنے اعضاء سے کھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیسے شھادت دیدی تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اسی خدا نے گویا بنایا ہے جس نے سب کو گویائی عطا کی ہے۔۔۔“۔

( ” یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ الْسِنَتُهُمْ وَایْدِیهِمْ وَارْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔“[۷۸]

”قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں سب گواھی دیں گے کہ یہ کیا کررھے تھے “۔

( ”الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی افْوَاهِهِمْ وَتُکَلِّمُنَا ایْدِیهِمْ وَتَشْهَدُ ارْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔“[۷۹]

”آج ہم ان کے منھ پر مھر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے پاؤں گواھی دیں گے کہ یہ کیسے اعمال انجام دیا کرتے تھے“۔

( مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْهِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ ) ۔“[۸۰]

”وہ کوئی بات منھ سے نہیں نکالتا مگر یہ کہ ایک نگھبان اس کے پاس موجود رہتا ہے“۔

کرام الکاتبین ، رقیب و عتید ، انسان کی زبان،کان، ہاتھ اور پیر کے علاوہ زمین پر انسان کے اعمال کی گواھی دے گی،اور انسان کی سعی و کوشش کے بارے میں خبر دے گی، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اخْبَارَهَا بِانَّ رَبَّکَ اوْحَیٰ لَها ) ۔“[۸۱]

”اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی کہ تمھارے پروردگار نے اسے اشارہ کیا ہے “۔

اسی طرح خدا و رسول اور ائمہ علیھم السلام بھی انسان کے اعمال کو دیکھتے ہیں اور روز قیامت ان کے خلاف گواھی دیں گے، جیسا کہ سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔“[۸۲]

”اور پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رھو کہ تمھارے عمل کو اللہ رسول اور صاحبان ایمان سب دیکھ رھے ہیںاور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشھادہ کی طرف پلٹا دئے جاؤگے اور وہ تمھیں تمھارے اعمال سے باخبر کرے گا“۔

البتہ اس طرح کی آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گواھوں کی گواھی، کفار، معاندین (دشمن خدا و رسول) اور خدا و رسول کی مخالفت کرنے والے اور ماھر مجرمین کے خلاف ہوگی، کیونکہ مومنین اور توبہ کرنے والوں پر روز قیامت خداوندعالم کی رحمت نازل ہوگی، اور ان کے نامہ اعمال کسی غیر کے سامنےپیش نہ ہوں گے، اور خداوندمھربان گواھوں کی یاد داشت کو بھلا دے گا ، اور ان کی عزت و آبرو کو محفوظ رکھے گا۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَن تَابَ اللّٰهُ عَلَیهِ،امِرَتْ جَوَارِحُهُ انْ تَسْتُرَ عَلَیهِ،وَبِقاعُ الارضِ انْ تَکْتُمَ عَلَیهِ،وَانسِیَتِ الحفَظَةُ ماکَانَتْ تَکتُبُ عَلَیهِ “[۸۳]

”جو شخص خدا کی بارگاہ میں توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے تو اس کے اعضاء و جوارح کوحکم ہوگا کہ اس کے گناھوں کو چھپادیں، اور زمین کے حصوں کو حکم دے گا کہ اس کے گناھوں کو چھپالیںاور جو کچھ بھی نامہ اعمال لکھنے والوں نے لکھا ہے ان کو بھی بھلادیں۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

اِذا تَابَ العَبدُ المُومنُ تَوْبةً نَصوحاً احَبَّهُ اللّٰهُ فَسَتَرَ عَلَیهِ فِی الدُّنیا وَ الٓاخِرةِ، قُلتُ وَ کَیْفَ یَسْتُرُ عَلَیْهِ؟قَالَ:یُنْسِی مَلَکَیْهِ ماَ کَتَبا علیه مِنِ الذُّنوبِفَیَلْقَی اللّٰهَ حِینَ یَلقَاهُ وَلیسَ شَیْءٌ یَشْهَدُ عَلَیهِ بِشَیْءٍ مِن الذُّنُوبِ “[۸۴]

”جب کوئی بندہ مومن خالص توبہ کرتا ہے تو خداوندعالم اس سے محبت کرنے لگتا ہے، اور دنیا و آخرت میں اس کے گناھوں کو چھپالیتا ہے۔ معاویہ بن وھب کہتے ہیں کہ (خداوندعالم) کس طرح اس کے گناھوں کو چھپالیتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کے گناھوں کو لکھنے والے فرشتوں کو بھلا دیتا ہے، پس وہ روز قیامت اس حال میں خدا سے ملاقات کرے گا کہ کوئی بھی اس کے خلاف گواھی دینے والا نہ ہوگا“۔

”یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ، یٰاالٰهيوَ سَیِّدِي وَمَوْلٰايَوَمٰالَکَ

رِقّی،یٰامَنْ بِیَدِهِ نٰاصِیَتِي،یٰاعَلیماً بِضُرِّي

وَمَسْکَنَتي،یٰاخَبیراً بِفَقْرِي وَ فٰاقَتِي یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ،

اسْالُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ،وَاعْظَمِ صِفٰاتِکَ وَاسْمٰائِکَ،

انْ تَجْعَلَ اوْقٰاتِي مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّهٰارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً،

وَبِخِدْمَتِکَ مَوْصُولَةً، وَاعْمٰاليعِنْدَکَ مَقْبُولَةً،

حَتّٰی تَکُونَ اعْمٰاليوَاوْرٰادِي کُلُّهٰاوِرْداً وَاحِداً،وَحٰالِي

في خِدْمَتِکَ سَرْمَداً یٰاسَیِّدِي یَامَنْ عَلَیْهِ مُعَوَّلِي،

یٰا مَنْ الَیْهِ شَکَوْتُ احْوٰالي،یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ“

”اے میرے رب ۔اے میرے رب۔اے میرے رب۔اے میرے مولا اور آقا! اے میری بندگی کے مالک۔اے میرے مقدر کے صاحب اختیار۔ اے میری پریشانی اور بے نوائی کے جاننے والے۔ اے میرے فقر و فاقہ کی اطلاع رکھنے والے! اے میرے پروردگار۔ اے میرے رب۔اے میرے رب! تجھے تیری قدوسیت ۔تیرے حق اور تیرے عظیم ترین اسماء وصفات کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتاھوں کہ دن اور رات میں جملہ اوقات اپنی یاد سے معمور کردے۔اپنی خدمت کی مسلسل توفیق عطا فرما۔میرے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول قرار دے تاکہ میرے جملہ اعمال اور جملہ اوراد (یعنی ورد کی جمع) سب تیرے لئے ہوں اور میرے حالات ہمیشہ تیری خدمت کے لئے وقف رھیں۔ میرے مولا۔میرے مالک! جس پر میرا اعتماد ہے اور جس سے میں اپنے حالات کی فریاد کرتا ہوں۔ اے رب۔اے رب۔اے رب!“

اسم اعظم

عرفاء اور اولیاء الٰھی کے ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے: لفظ مبارک ”ربّ“ جس کے معنی: مالک، پالنے والے اور صاحب اختیار کے ہیں جو اپنی مخلوق کی بے لوث تربیت کرتا ہے، یہ لفظ ”اسم اعظم“ ہے، جس کے ذریعہ انسان پر رحمت خدا نازل ہوتی ہے، اور اس کی پریشانیاںدور ہوجاتی ہیں، بلکہ اس کے گناہ اور خطائیں بخش دی جاتی ہیں گویا اس کے گناہ آب مغفرت سے دھل کر صاف ستھرے ہوجاتے ہیں۔

تمام انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی دعا، مناجات اور مشکلات و پریشانی کے وقت اسی نام سے متوسل ہونے کی علت یھی ہو سکتی ہے کہ لفظ ”ربّ“ کو اسم اعظم جانتے تھے۔

حضرت آدم و حوا علیھما السلام نے توبہ کے وقت عرض کیا:

( رَبَّنَا ظَلَمْنَا انفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ۔“[۸۵]

”پروردگار ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے“۔

جناب نوح نے نو سو پچاس برس تک کفار و مشرکین کے ظلم و ستم سھنے اور ہدایت سے پریشان ہوکر بارگاہ الٰھی میں عرض کرتے ہیں:

”۔۔۔( رَبِّ لاَتَذَرْ عَلَی الْارْضِ مِنْ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا ) ۔“[۸۶]

”(اور نوح نے کھا)پروردگارا! اس زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑنا“۔

حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنی دعا اور مناجات میں فرماتے تھے:

( رَبِّ هَبْ لِی حُکْمًا وَالْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ ) ۔“[۸۷]

”خدایا !مجھے علم و حکمت عطا فرما اور مجھے صالحین کے ساتھ ملحق کردے“۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نیاز اور احتیاج کے وقت عرض کرتے تھے:

”۔۔۔رَبِّ إِنِّی لِمَا انزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ ۔“[۸۸]

”عرض کی پروردگار یقینا میںاس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف بھیج دے“۔

حضرت سلیمان علیہ السلام مغفرت اور بے نظیر حکومت کی درخواست کرتے تھے:

”۔۔۔( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَهَبْ لِی مُلْکًا لاَیَنْبَغِی لِاحَدٍ مِنْ بَعْدِی ) ۔۔۔“[۸۹]

”پروردگارا!مجھے معاف فرما اور ایک ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزا وار نہ ہو“۔

حضرت زکریا علیہ السلام اپنے لئے بیٹے کی درخواست ان الفاظ میں کرتے ہیں:

”۔۔۔( رَبِّ لَا تَذَرْنِی فَرْداً وَ انْتَ خَیْرُ الوَارِثِینَ ) ۔“[۹۰]

”پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑدینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے“۔

حضرت یوسف علیہ السلام شکر گزاری اور اپنی حاجتوں کی برآری کے لئے عرض کرتے ہیں:

( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَاوِیلِ الْاحَادِیثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ انْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَالْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ ) ۔“[۹۱]

”پروردگار تو نے مجھے ملک بھی عطا کیا ہے اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا ،تو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور دنیا و آخرت میں میرا ولی اور سرپرست ہے مجھے دنیا سے فرما نبردار اٹھانا اور صالحین سے ملحق کردینا“

جناب ایّوب علیہ السلام بھی پریشانیوں کے عالم میں دست بہ دعا ہوتے ہیں:

”۔( وَایُّوْبَ إِذْ نَادَیٰ رَبَّهُ انِّی مَسَّنِیَ الضُّرُّوَانْتَ ارحَمُ الرَّاحِمِین ) ۔“[۹۲]

”اور ایوب کو یاد کرو جب انھوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھو لیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے“۔

اسی طرح پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا:

( وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَانْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِین ) ۔“[۹۳]

”اور پیغمبر آپ کہئے کہ پروردگار میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم کر کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے“۔

صالحین اور مومنین ، جب زمین و آسمان کی خلقت میں غور و فکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں:

”۔۔۔( رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ) ۔۔۔“[۹۴]

”خدایا !تو نے یہ سب بیکار نہیں پیدا کیا ہے“۔

وہ ابلیس جو نھایت تکبر اور عصیان کی حالت میں تھا، خدا سے روز قیامت تک کی مھلت اسی نام کے ذریعہ طلب کی :

( قَالَ انظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ۔“[۹۵]

”اس نے کھا پھر مجھے قیامت تک کی مھلت دیدے“۔

خدا کی بارگاہ کا مردود شیطان (بھی)خدا کو اس نام سے پکارتا ہے تو اس کو قیامت تک کی مھلت مل گئی۔

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے منقول ہے کہ جو شخص خداوندعالم کو ”یاربّ“ کہہ کر پکارے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔

اسی طرح منقول ہے کہ جب کوئی بندہ مومن خدا کو ایک بار اس نام سے پکارتا ہے اور کہتا ہے:”یاربّ“ تو خدا اس کے جواب میں کہتا ہے: ”لبیک“ اور جب بندہ مومن خدا کو اس نام سے دوسری اور تیسری بار پکارتا ہے تو خدا کہتا ہے: مانگ تیری کیا حاجت ہے، تاکہ تیری حاجت پوری کردوں۔[۹۶]

مقبول اعمال

تمام انبیاء، ائمہ معصومین علیھم السلام اور اولیاء الٰھی ہمیشہ بارگاہ رب العزت میں یہ دعا کرتے تھے: اے خدائے مھربان! ہمارے اعمال کو قبول فرما، اور ہمارے ساتھ لطف وکرم کا معاملہ فرما۔

یہ تمام بزگوار حضرات اس حقیقت سے آگاہ تھے: اگر کوئی شخص عمل انجام نہیں دے گا توکل روز قیامت اس کی جزا بھی نہیں ملے گی، اور اگر کسی شخص نے عمل انجام دئے ہیں لیکن عمل کے لئے ضروری شرائط جیسے ایمان اور اخلاص نہ ہو،تو بھی خدا کی رحمت سے محروم رھے گا۔لہٰذا عمل کو اس کے تمام شرائط کے ساتھ انجام دینا بہت زیادہ اھمیت کا حامل ہے، اور جب انسان شائستہ طریقہ سے اعمال انجام دے ، تو خداوندعالم کی بارگاہ میں اس کے قبول ہونے کی دعا کرے: ”وَاعْمٰالي عِنْدَکَ مَقْبُولَةً“۔

قرآن و حدیث میں اس بات کی بہت تاکید کی گئی ہے: وہ عمل قابل قبول ہے جس کا انجام دینے والا صاحب ایمان ہو اور خدا کی خوشنودی کے لئے ہو اور اس کے احکام وفرامین کے مطابق ہو۔

جاننا چاہئے کہ مومن کے ہی اعمال قبول ہوتے ہیں اور مومن ہی کے گناہ بخشے جائیں گے۔ کافر اور معاند (دشمن خدا و رسول) کے اعمال قبول نہیں ہوں گے چاھے وہ عمل کتنا ہی عظیم اور اھم ہو، او ران کا چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی قابل بخشش نہیں ہوتا۔

عمل کی اھمیت،اس کے حالات اور اس کے ثواب کے بارے میں بہت سی اھم روایات معتبر کتابوں میں بیان ہوئی ہیں، جن میں چند ایک کی طرف اشارہ کیا جارھا ہے:

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

الشَّرفُ عِندَ اللّٰهِ سُبحانَهُ بِحُسنِ الاعمَالِ لا بِحُسنِ الاقوَالِ “[۹۷]

” خدا کے نزدیک شرف اور بزرگواری اچھے اعمال کے سبب ہے، اچھی باتوں کے ذریعہ نھیں“۔

العَمَلُ شِعارُ المُومِنِ “[۹۸]

”عمل مومن کا شعار ہے“۔

المُداوَمَةَ المُداوَمَةَ!فَاِنَّ اللّٰهَ لَم یَجْعَل لِعَمَل المُو مِنینَ غَایَةً اِلاَّ المَوتَ “[۹۹]

”ھمیشہ اعمال صالحہ انجام دیتے رھو ،ھمیشہ اعمال صالحہ انجام دیتے رھو کیونکہ خداوندعالم نے مومن کے عمل کرنے کے لئے موت کے علاوہ اورکوئی حدقرار نہیں دی ہے “۔

اعلَی الاعمَالِ اِخلاصُ الإیمانِ وَ صِدْقُ الوَرَعِ وَالإیقَان “[۱۰۰]

”بہترین اعمال؛ ایمان میں اخلاص اور تقویٰ ویقین میں صداقت ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

دَعَا اللّٰهُ النَّاسَ فِی الدُّنیا بِآبائِهِم لِیَتَعَارَفُوا، وفِی الٓاخِرَةِ بِاعْمالِهِم لِیُجَازَوُا “[۱۰۱]

”خداوندعالم دنیا میں انسانوں کو ان کے باپ کے ناموں سے پکارتا ہے ،تاکہ ایک دوسرے کی پہچان ہوسکے، لیکن آخرت میں ان کے اعمال کے ذریعہ پکارے گا تاکہ ان کو جزا یا سزا دی جاسکے“۔ اس کے بعد فرمایا:

یَا ایُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا، یَا ایُّهَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “، حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

افضَلُ الاعمَالِ اِیمَانٌ بِاللّٰهِ وَتَصدیقٌ بِه وَجِهادٌ فِی سَبیلِ اللّٰهِ وَحَجُّ مَبرورٌ، وَاهوَنُ عَلیکَ مِن ذَالکَ اِطعامُ الطَّعامِ وَلِینُ الکَلامِ وَالسَّماحَةُ وَحُسنُ الخُلقِ، وَاهوَنَ عَلیکَ مِن ذَالکَ انْ لاٰ تَتَّهِمَ اللّٰهَ فِی شَیْءٍ قَضاهُ اللّٰهُ عَلَیکَ “[۱۰۲]

”سب سے بہتر ین اعمال، خدا پر ایمان اور اس کی تصدیق ہے، راہ خدا میں جھاد اور قبول شدہ حج ہے، ان سے کم درجہ فقیروں کو کھانا کھلانا، گفتگو میں نرم لہجہ اختیار کرنا اور خوش اخلاق ہونا ہے، اس سے کم یہ ہے کہ قضا قدر الٰھی میں چون و چرا کرکے اس پر بہتان نہ باندھو“۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

سَیّدُ الاعمَالِ ثَلاثُ خِصالٍ :اِنصافُکَ النَّاسَ مِن نَفسِکَ،وَمُواسَاتُکَ الاخُ فِی اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ،وَذِکرُ اللّٰهِ تَعالی عَلی کُلِّ حالٍ “[۱۰۳]

”تین خصلتیں اعمال کی سردار ہیں: اپنے ساتھ انصاف کرنا، دینی بھائیوں کی امداد کرنااور ہر حال میں یاد خدا کرتے رھنا“۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

فَطُوبَی لِمَن اخلَصَ للّٰهِ عَمَلَهُ وَعِلمَه وَحُبَّه وَ بُغضَه وَاخذَه وَتَرکَه وَکَلامَه وَصَمتَه وَفِعلَه وَقَولَه “[۱۰۴]

”لائق مبارکبادھے وہ شخص جس کا علم و عمل، دوستی و دشمنی، لین دین، گفتگو اور سکوت اختیار کرنااور رفتار وگفتار خالص خدا کے لئے ہو“۔

حضرت رسول خدا (ص) جناب ابوذر سے وصیت فرماتے ہیں:

کُن بِالعَمَلِ بِالتَّقوَی اشدَّ اهتِمَاماً مِنکَ بِالعَمَلِ ؛فَاِنَّهُ لَایَقِلُّ عَمَلٌ بِالتَّقوَی،وَکَیفَ یَقِلُّ عَمَلٌ یُتَقَبَّل، یَقُولُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ :”اِنَّما یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ المُتَّقینَ ۔“[۱۰۵]

”عمل سے زیادہ تقویٰ الٰھی کااہتمام کرو، کیونکہ تقویٰ کے ساتھ کوئی بھی عمل قلیل نہیں ہے، کیونکہ جو عمل قبول ہوجائے وہ کم نہیں ہے، خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے: ”ھم صرف متقین کے (اعمال) قبول کرتے ہیں“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

اِنَّکَ لَن یُتَقَبَّلُ مِن عَمَلِکَ اِلاَّ مَا اخلَصتَ فِیهِ “[۱۰۶]

”یقینا تمھارے وھی اعمال قبول ہوں گے جن میں اخلاص پایا جاتا ہوگا“۔

بھر حال صاحب ایمان اور اہل یقین نیز پرھیزگارافراد کا عمل قابل قبول ہے، اعمال کے قبول ہونے کی اھمیت اس قدر زیادہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَن قَبِلَ اللّٰهُ مِنْهُ صَلاةً وَاحِدَةً لَم یُعَذِّبْهُوَمَن قَبِلَ مِنْهُ حَسَنَةً لَم یُعَذِّبْهُ “[۱۰۷]

”جس شخص کی ایک نماز بارگاہ الٰھی میں قبول ہوجائے تو وہ اس پرعذاب نہیں کرے گا، اسی طرح اگر کسی انسان سے ایک نیک کام قبول کرلیا گیاتو اس کو بھی عذاب نہیں ہوگا“۔

”مَن قَبِلَ اللّٰهُ مِنْهُ حَسَنَةً وَاحِدَةً لَم یَعَذِّبْهُ ابَداً وَدَخَلَ الجَنَّةَ“ [۱۰۸]

”جس شخص کا ایک نیک عمل بارگاہ الٰھی میں قبول ہوجائے تو اس پر عذاب نہیں ہو گا، اور اس کو بھشت میں داخل کیا جائے گا“۔

پالنے والے! ہم کو اعمال صالحہ بجالانے میں سستی اور کاہل ی سے محفوظ فرما، اور اپنی عبادت پر ہمارے کوششوں میں اضافہ فرما، اور ہمارے دل کو مکمل طور پر بیداری عنایت کردے!۔

____________________

[۱] بحار الانوار :۶۲۶۷،باب ۴۵،حدیث ۱۔

[۲] سفینة البحار ج۸ ص ۲۹۸۔

[۳] وسا یل الشیعہ:۱۶۳۱۵،باب ۱،حدیث۲۰۲۱۶۔

[۴] وسا یل الشیعہ:۱۶۲۱۵،باب ۱،حدیث۲۰۲۱۴۔

[۵]کافی:۲۲۸۸،حدیث یاجوج ماجوج،حدیث ۲۹۱؛بحار الانوار:۲۸۵۷،باب ۱۳،حدیث۳۔

[۶] سورہ انسان(دھر)آیت ۴۔

[۷] سورہ حاقہ آیت۳۰تا۳۳۔

[۸] سورہ فجر آیت ۲۸(اے نفس مطمئن اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔)

[۹] سورہ حاقہ آیت۲۸۔۲۹۔

[۱۰] تفسیر نمونہ ج ۲۴ ص ۴۶۴۔

[۱۱] تفسیر نمونہ، ج ۲۴ ص ۴۶۵۔

[۱۲] سورہ صافات آیت ۳۵۔

[۱۳] الٰھیات در نہج البلاغہ، ۱۲۹۔

[۱۴] نہج البلاغہ، خطبہ اول ، (ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی مرحوم ص ۲۷)

[۱۵] نہج البلاغہ، خطبہ۸۶، (ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی مرحوم ص ۱۵۱)

[۱۶] کافی:۵۰۶۲باب تسبیح ،حدیث ۵؛توحید صدوق:۱۸،باب ثواب الموحدین ،حدیث ۲۔

[۱۷] توحید صدوق:۱۹،باب ثواب الموحدین والعارفین،حدیث ۵۔

[۱۸] توحید صدوق:۱۹،باب ثواب الموحدین ،حدیث ۳۔

[۱۹] توحید صدوق:۲۰،باب ثواب الموحدین ،حدیث ۷۔

[۲۰] توحید صدوق:۲۱،باب ثواب الموحدین ،حدیث ۱۳۔

[۲۱] توحید صدوق:۲۳،باب ثواب الموحدین ،حدیث ۱۸۔

[۲۲] توحید صدوق:۲۹،باب ثواب الموحدین ،حدیث ۳۱۔

[۲۳] سوره یونس، آیت ۳۱.

[۲۴] تفسیر کشف الاسرار:۳۷۴۳۔

[۲۵] عطار نیشاپوری، منطق الطیر ،حکایت موسی و قارون۔

[۲۶] خصال :۵۲۲۲،حدیث ۱۱؛میزان الحکمة:۳۰۹۲۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۲۸۔

[۲۷] مکارم الاخلاق:۴۶۱،الفصل الخامس؛میزان الحکمة:۷ ۳۰۹۲، الصلاة ،حدیث ۱۰۵۳۵۔

[۲۸] مالی صدوق:۵۴۹،حدیث ۲۲؛میزان الحکمة:۳۰۹۶۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۵۶۔

[۲۹] غررالحکم:۱۷۵،حدیث۳۳۴۱،میزان الحکمة:۳۰۹۲۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۳۲۔

[۳۰] خصال:۶۲۰۲؛میزان الحکمة:۳۰۹۴۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۳۷۔

[۳۱] امالی طوسی:۵۲۲،حدیث۱۱۵۷؛میزان الحکمة:۳۰۹۴۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۴۳۔

[۳۲] علل الشرایع:۳۳۶۲،باب ۳۳،حدیث۲؛میزان الحکمة:۳۱۰۴۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۸۵۔

[۳۳] تحف العقول :۱۷۴۔وصیة لکمیل بن زیاد ،میزان الحکمة:۳۱۰۶۷،الصلاة ،حدیث ۱۰۵۹۲۔

[۳۴] غرر الحکم:۸۳،حدیث ۱۳۲۷؛میزان الحکمة:۳۴۰۲۷،الظن،حدیث ۱۱۵۹۰۔

[۳۵] کافی:۲ص۷۲،باب حسن الظن،حدیث۴،میزان الحکمة:۳۴۰۲۷، الظن،حدیث۱۱۵۸۹۔

[۳۶] کافی:۷۱۲،باب حسن الظن،حدیث۲:میزان الحکمة:۳۴۰۰۷،الظن ،حدیث ۱۱۵۸۲۔

[۳۷] امالی شیخ طوسی:۳۷۹،حدیث۸۱۴؛میزان الحکمة:۳۴۰۰۷،الظن ،حدیث ۱۱۵۸۲۔

[۳۸] میزان الحکمة:۳۴۰۰۷،الظن ،حدیث ۱۱۵۸۴۔

[۳۹] سورہ انفال آیت ۴۶۔

[۴۰] وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ۔الَّذِینَ إِذَا اصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔“(سورہ بقرہ آیات ۱۵۵تا۱۵۶)

”۔۔۔اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدے جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ھیں“۔

[۴۱] کافی:۹۱۲،باب الصبر،حدیث۱۵۔

[۴۲] مکارم الاخلاق، ص ۴۴۶، الفصل الرابع فی موعظة رسول الله (ص) ؛ مستدرک الوسائل ج۱۱ص۲۶۱۔

[۴۳] تفسير قمي، جلد اول، ص ۳۷۰، ولوج النکرین فی القبر؛ محجۀ الیضاء، جلد۸، ص ۳۰۴، کتاب ذکر الموت و مابعده، بحار الانوار، جلد ۶، ص ۲۲۴، باب ۸، حدیث ۲۶.

[۴۴] امالی شیخ صدوق، مجلس ۸۲ حدیث ۱۴۔ محجة البضاء: ۸ص ۳۶۰، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، بحار الانوار ج ۸ص ۲۸۱، باب ۲۴ حدیث ۲۔

[۴۵] تفسیر قمی، ج۲ ص ۸۱، ذیل آیہ:”کلما ارادوا ان یخرجوا منھا۔۔۔“، محجة البضاء: ۸ص ۳۶۱، کتاب ذکر الموت ومابعدہ۔

[۴۶] محجة البضاء: ۸ص ۳۵۴، کتاب ذکر الموت، القول فی صفة جھنم۔

[۴۷] بحار الانوار ج۸۷ص ۳۳۸، باب ۹ حدیث ۵۳”یوم الخمیس“

[۴۸] سورہ بقرہ آیت ۱۲۷تا ۱۲۹۔” و اذ یرفع ابراھیم۔۔۔“[۴۹] ”وَإِذَا سَمِعُوا مَا انزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی اعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنْ الْحَقِّ ۔۔۔“ (سورہ مائدہ آیت ۸۳۔)”اور جب اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل ھوا ہے تو تم دیکھتے ھو کہ ان کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ھو جاتے ہے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا ہے۔۔۔“۔

[۵۰] بحار الانوار :۳۹۱۶۶،باب۳۸،حدیث۶۸؛میزان الحکمة:۵۳۶۲،البکاء ،حدیث ۱۸۲۹۔

[۵۱] جامع الاخبار:۹۷،الفصل الرابع و الخمسون؛میزان الحکمة:۵۳۶۲،البکاء ،حدیث ۱۸۳۰۔

[۵۲] امالی صدوق:۴۳۱،المجلس السادس و الستون ؛میزان الحکمة:۵۳۶۲،البکاء ،حدیث ۱۸۳۱۔

[۵۳] بحار الانوار:۳۳۶۹۰:باب۱۹،حدیث۳۰؛میزان الحکمة: ۵۳۶۲،البکاء ،حدیث ۱۸۳۴۔

[۵۴] مکارم الاخلاق؛۳۱۷،فی البکاء،میزان الحکمة:۵۳۶۲،البکاء،حدیث ۱۸۳۵۔

[۵۵] بحار الانوار : ۹۰ ۳۳۱، باب ۱۹ حدیث ۴۱؛ میزان الحکمة:۵۳۶۲،البکاء،حدیث ۱۸۴۱۔

[۵۶] صائب تبریزی ، دیوان اشعار شمارہ ۴۹۰۔

[۵۷] سورہ انفطار آیت ۱۳،۱۴۔

[۵۸] سورہ مائدہ آیت ۲۷۔

[۵۹] سورہ مومنون آیت ۱۰۱۔

[۶۰] سورہ طہ آیت ۱۰۹۔

[۶۱] حافظ شیرازی، دیوان اشعار شمارہ ۱۱۲۔

[۶۲] سورہ حج آیت ۲۱۔

[۶۳] امالی شیخ مفید ص ۱۳۶، مجلس ۱۳، حدیث ۴، بحار الانوار ج ۲۲ص ۳۸۵، باب ۱۱، حدیث ۲۷۔

[۶۴] سورہ حجر آیت ۴۳۔۴۴۔

[۶۵] کلمة الله ۔

[۶۶] ربیع الآثار ۔

[۶۷] ثواب الاعما ل:۳۹؛بحار الانوار :۲۵۳۹۳،باب۳۰،حدیث۱۹۔

[۶۸] مواعظ عددیہ :۳۷۱۔

[۶۹] من لایحضرہ الفقیہ:۲۰۸۱،باب فضل الصلاة،حدیث ۶۲۴۔

[۷۰] عیون اخبار الرضا ج۲ص ۴ باب ۳۰ حدیث۹؛ بحار الانوار :۹۳ ۱۲۰،باب۱۴،حدیث۲۳۔

[۷۱] عیون اخبار الرضا ج۲ص ۸، حدیث۲۰۔

[۷۲] سورہ انعام آیت ۷۵۔

[۷۳] تفسیر برھان ذیل آیہ ۷۵ سورہ انعام ، حدیث ۹۔

[۷۴] بحار الانوار ج۴ ص ۱۱۱، باب ۳حدیث ۳۱۔

[۷۵] وسائل الشیعہ، ج۲ص۱۵۵، حدیث ۲۵۲۹۱؛ بحار الانوار ج۶۸ص ۳۷۴، باب ۹۲ حدیث ۲۵۔

[۷۶] سورہ انفطار آیت ۱۰تا۱۲۔

[۷۷] سورہ فصلت آیت ۲۰تا۲۱۔

[۷۸] سورہ نور آیت ۲۴۔

[۷۹] سورہ یس آیت ۶۵۔

[۸۰] سورہ ق آیت ۱۸۔

[۸۱] سورہ زلزال آیت۴تا۵۔

[۸۲] سورہ توبہ آیت ۱۰۵۔

[۸۳] ثواب الاعمال:۱۷۹،باب۲۰،ثواب التوبة۔

[۸۴] بحار الانوار :۲۸۶،باب۲۰،حدیث۳۱۔

[۸۵] سورہ اعراف آیت ۲۳۔

[۸۶] سورہ نوح آیت ۲۶۔

[۸۷] سورہ شعراء آیت ۸۳۔

[۸۸] سورہ قصص آیت ۲۴۔

[۸۹] سورہ ص آیت ۳۵۔

[۹۰] سورہ انبیاء آیت ۸۹۔

[۹۱] سورہ یوسف آیت ۱۰۱۔

[۹۲] سورہ انبیاء آیت ۸۳۔

[۹۳] سورہ مو منون آیت ۱۱۸۔

[۹۴] سورہ آل عمران آیت۱۹۱۔

[۹۵] سورہ اعراف آیت ۱۴۔

[۹۶] مستدرک الوسائل ج۵ ص ۲۲۰، باب ۳۱ حدیث ۵۷۳۸، اصول کافی ج۲ ص ۵۲۰ ،باب من قال یا رب۔۔۔؛ وسائل الشیعہ ج۷ص ۲۸۵ باب ۳۲، مستدرک الوسائل ج۵ ص ۲۱۹ باب ۳۱؛ بحار الانوار ج۹۰ص ۲۳۳ باب ۱۲ و غیرہ میں اس سلسلہ کی بہت سی روایات بیان ھوئی ھیں۔

[۹۷] غررالحکم:۱۵۳،لاینفع قول بغیر العمل،حدیث۲۸۳۸؛میزان الحکمة: ۴۰۵۰۹، العمل، حدیث ۱۴۲۶۰۔

[۹۸] غررالحکم :۱۵۱،حدیث۲۷۷۷؛میزان الحکمة ۹:۴۰۵،النحل ،حدیث۱۴۲۶۴۔

[۹۹] مستدرک الوسائل :۱۳۰۱،باب۱۹،حدیث۱۷۷؛میزان الحکمة: ۴۰۶۰۹، العمل، حدیث۱۴۲۹۲۔

[۱۰۰] غرراحکم :۱۵۵،الاخلاص فی العمل وآثارہ،حدیث۲۸۹۹۔

[۱۰۱] بحا ر الانوار:۲۰۸۷۸،باب۲۳،حدیث۷۲۔

[۱۰۲] کنز العمّال :۴۳۶۳۹؛میزان الحکمة :۴۰۶۶۹،العمل،(۱)،حدیث۱۴۲۲۔

[۱۰۳] مشکاة الانوار:۵۵،الفصل الخامس عشر؛میزان الحکمة :۴۰۶۴۹،العمل،(۱)،حدیث۱۴۳۲۶۔

[۱۰۴] تحف العقول:۹۱؛بحار الانوار:۲۴۱۷۴،باب ۹،حدیث۱۔

[۱۰۵] بحار الانوار:۸۸۷۴،باب۴؛ میزان الحکمة:۴۰۶۶۹،العمل،حدیث۱۴۳۳۳۔

[۱۰۶] غررالحکم:۱۵۵،حدیث۲۹۱۳؛میزان الحکمة: ۴۰۶۶۹، العمل، حدیث۱۴۳۳۵۔

[۱۰۷] کافی :۲۶۶۳،باب فضل الصلاة ،حدیث۱۱؛میزان الحکمة: ۹ ۴۰۷۰، العمل، حدیث۱۴۳۵۰۔

[۱۰۸] مجموعہ ورّام:۸۶۲؛میزان الحکمة:۴۰۷۰۹،العمل ،حدیث۱۴۳۵۱۔


”قَوِّعَلٰی خِدْمَتِکَ جَوٰارِحِي،وَاشْدُدْ عَلَی الْعَزیمَةِ

جَوٰانِحِي،وَهَبْ لِيَ الْجِدَّ في خَشْیَتِکَ،وَالدَّوٰامَ

فِي الْاتِّصٰالِ بِخِدْمَتِکَ،حَتّٰی اسْرَحَ الَیْکَ فيمَیٰادینِ

السّٰابِقینَ،وَ اسْرِعَ الَیْکَ فِي الْبٰارِزینَ،وَاشْتٰاقَ الٰی

قُرْبِکَ فِي الْمُشْتٰاقینَ، وَادْنُوَ مِنْکَ دُنُوَّالْمُخْلِصینَ،

وَاخٰافَکَ مَخٰافَةَ الْمُوقِنینَ،وَ اجْتَمِعَ فِي جِوٰارِکَ

مَعَ الْمُو مِنینَ“

” اپنی خدمت کے لئے میرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے میرے ارادہ دل کو مستحکم بنادے۔اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے بڑھوں اور تیز رفتار افراد کے ساتھ قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصین کی طرح تیری قربت اختیار کروں۔صاحبان یقین کی طرح تیرا خوف پیدا کروں اور مومنین کے ساتھ تیرے جوار میں حاضری دوں“۔

توانائی کی درخواست

عارف عاشق، حقیقی مناجات کرنے والے اور معلم معرفت حضرت امیر المومنین علیہ السلام دعا کے ان فقروں کو زمزمہ کرتے وقت اپنے اوپر رحمت خدا کے کھلے دروازے اور اپنے محبوب کی طرف سے دعا قبول ہونے کا راستہ ہموار دیکھ کر اپنی اھم اھم دعاؤں کو بارگاہ رب العزت میں پیش کرتے ہیں جو سوفی صد معنوی ہوتی ہیں، کیونکہ ان چیزوں کی درخواست سے انسان کمال کی اعلیٰ منزل تک پھنچ جاتا ہے، اور یہ تمام چیزیں دعا کرنے والے کی خدا کی نسبت عرفان،معرفت اور شناخت پر دلالت کرتی ہیں۔

خداوندمنان کی بارگاہ میں دعا ہے کہ میرے اعضاء و جوارح کو اپنی خدمت جو در واقع خالصانہ عبادت اور مکمل بندگی ہے، اور مومن بندوں کی خدمت جو حقیقت میں خدا کی خدمت ہے، کے لئے مضبوط او رقوی بنادے۔

جس وقت یہ معنوی قدرت اور روحانی طاقت خداوندعالم کی طرف سے عابد و زاھد کے ساتھ شامل ہوجاتی ہے تو پھر اس کو عبادت خدا اور خدمت خَلق میں بہت مزہ آتا ہے۔

خدا کی خاص نعمتوں کے حصول کے لئے چند شرائط

اہل ایمان اور عبادت گذار بندہ اگر چاھے کہ خداوندعالم کی خاص نعمتیں اس کے شامل حال ہوں تو درج ذیل نکات پر توجہ کرنا نھایت ضروری ہے:

۱ ۔ ایسے لوگوں کی بزم سے دوری اختیار کرنا جوتقویٰ کے سلسلہ میں لاؤ ابالی ہوں، اور ایمان و تقویٰ کو حاصل کرنے کے لئے کوشش بھی نہ کرتے ہوں۔ دوسری طرف اولیاء اللہ اور علمائے ربانی اور عرفاء کہ جنھوں نے اللہ کی طرف سیر و سلوک کے مراحل کو ایک حدتک طے کرلیا ہے، ان کے ساتھ ہم نشینی کرنا۔

۲ ۔ شبہ ناک لقمہ سے اجتناب کرنا، حرام روزی کھانا تو درکنار وہ تو بہت ہی زیادہ خطرناک ہے، اسی طرح ان لوگوں کی مھمانی میں نہ جانا جونامعلوم کس کس طرح اپنا مال و دولت اکٹھا کرتے ہیں۔

۳ ۔ اپنے باطن کو اخلاقی برائیوں ، نفسانی خباثت اور حیوانی شھوتوں سے پاک و پاکیزہ کرنا، اور ان کو اخلاق حسنہ اور معنوی حقائق سے آراستہ کرنا۔

۴ ۔ پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے پرھیز کرنا کیونکہ اس چیز کے ذریعہ شیطانی وسوسوں کا راستہ کھل جاتا ہے اور الٰھی الھام اور آسمانی درک کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔

۵ ۔ بہت زیادہ سونے اور بہت زیادہ آرام کرنے سے اجتناب کرنا، جس کی وجہ سے انسان اطاعت الٰھی کے سلسلہ میں سستی محسوس کرنے لگتا ہے اور روح انسانیت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔

بے دین لوگوں کے ساتھ ہم نشینی، لقمہ حرام کھانا، اخلاقی پستی اور شکم پروری میں مبتلاھوجانا نیز زیادہ سونے اور بہت زیادہ آرام طلب ہونے کے سلسلہ میں اسلامی معتبر کتابوں میں بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

زندگی اور زندگی بسر کرنے والا

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

اوحَشُ الوَحشَةِ قَرینُ السُّوءِ “[۱]

”سب سے زیادہ خطرناک بُرادوست اور ساتھی ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

اِحذَرْ مُجَالَسةَ قَرینِ السّوءِ،فَاِنَّهُ یُهلِکُ مُقارِنَهُ وَیُردِی مُصاحِبَهُ “[۲]

”برے دوست کی ہم نشینی سے پرھیز کرو، کیونکہ وہ اپنے دوست کو بھی ہلاک کردے گا اور اس کومادی و معنوی لحاظ سے نابود کردے گا“۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

اِیّاکَ وَمُصَاحَبَةَ الشَّریرِ فَاِنَّهُ کاَلسَّیفِ المَسْلُولِ یَحسنُ مَنظَرُهُ وَ یَقبَحُ اثَرُهُ “[۳]

”شریر لوگوں کی صحبت سے دور رھو کیونکہ وہ ایک تیز تلوار کی طرح ہے جو دیکھنے میں اچھی لگتی ہے لیکن اس کا نتیجہ برا ہوتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اِحذَرْ مِنَ النَّاسِ ثَلاثَةً:الخائِنَ وَالظَّلومَ وَالنَّمامَ،لِانَّ مَن خَانَ لَکَ خَانَکَ،وَمَن ظَلَمَ لَکَ سَیَظْلِمُکَ وَمَن نَمَّ اِلَیکَ سَیَنُمُّ عَلَیکَ “[۴]

”تین لوگوں کی دوستی اور صحبت سے پرھیز کرو: ۱ ۔ خائن۔ ۲ ۔ ظالم۔ ۳ ۔ چغل خور؛ کیونکہ اگر کسی نے تمھارے فائدہ کے لئے خیانت کی ہے تو دوسرے دن تمھارے نقصان کے لئے بھی خیانت کرسکتا ہے، اور کوئی تمھاری خاطر دوسروں پر ظلم کرسکتا ہے تو تم پربھی ظلم کرے گا،اگر کوئی تمھارے سامنے دوسروں کی چغل خوری کرے (اور تم سنتے رھو) تو وہ دوسروں کے سامنے تمھاری چغل خوری کرنے میں دریغ نہ کرے گا“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

صَاحِبِ الحُکَمَاءَ وَجالِسِ الحُلَمَاءَ وَاعرِض عَنِ الدُّنیَا تسکن جَنَّةَ المَاوَی “[۵]

”صاحبان حکمت کے ساتھ ہم صحبت بنو، بردبار لوگوں کے پاس بیٹھو اور دنیا سے منھ موڑلو، جس کے نتیجہ میں جنت الماویٰ میں اپنی جگہ بنالو“۔

حرام روزی

اس سلسلہ میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں:

مَن اکَلَ لُقمَةً مِن حَرامٍ لَم تُقبَل لَهُ صَلاةٌ اربَعینَ لَیلةً “[۶]

”جو شخص مال حرام سے ایک لقمہ کھائے اس کی چالیس رات کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی“۔

اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ الجَنَّةَ جَسَداً غُذِّیَ بِحَرامٍ “[۷]

”بے شک خداوندعالم نے اس جسم پر جنت حرام کی ہے جس میں مال حرام بھرا گیا ہو“۔

اِذَا وَقَعَتِ اللُّقمِةُ مِن حَرامٍ فِی جَوفِ العَبدِ لَعَنَهُ کُلُّ مَلَکِ فِی السَّماواتِ وَالارضِ “[۸]

”جس وقت کسی انسان کے شکم میں لقمہ حرام چلاجائے تو زمین و آسمان کے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں“۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا اصابَ مَالاً مِن حَرامٍ لَم یُقبَل مِنهُ حَجٌّ وَلاعُمرَةٌ وَلاَ صِلَةُ رَحِمٍ ۔۔۔[۹]

”جب انسان مالِ حرام حاصل کرلےتا ہے تو اس کا حج و عمرہ اور صلہ رحم قبول نہیں ہوتا“۔

اخلاقی برائیاں

حضرت امام سجاد علیہ السلام صحیفہ (سجادیہ) کی دعا نمبر ۸ میں بہت سی اخلاقی برائیوں کو بیان کرتے ہیں اور ان سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں: ”لالچ میں زیادتی، نظر میں سختی، حسد پر عملی اقدام، قناعت کی کمی، اخلاق کی بدی، شھوت میں افراط (زیادتی)،تعصب میں جاہل وں کا اتباع، شدت پسندی پر اصرار، ہوائے نفس کی پیروی، ہدایت کی مخالفت، خواب غفلت، اپنی طاقت سے زیادہ کسی چیز میں کوشش، حق پر باطل کو ترجیج دینا، گناھوں پر اصرار، گناھوں کو سبک سمجھنا، اطاعت کو زیادہ سمجھنا، مال و دولت پر فخر و مباھات کرنا، غریبوں اور محتاجوں کو ذلیل سمجھنا، اپنے ماتحت لوگوں کے حق میں کوتاھی کرنا، نیکی کرنے والوں کی احسان فراموشی کرنا، ظالم کی مدد کرنا اور مظلوم کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا وغیرہ وغیرہ۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے کھا گیا: فلاں عورت دن میں روزہ رکھتی ہے اور راتوں کو نمازیں پڑھتی ہے لیکن وہ بد اخلاق ہے، اپنے پڑوسیوں کو بُرا بھلا کہتی ہے۔ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: اس میں خیر نہیں پایا جاتا، وہ جھنمی ہے۔[۱۰]

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے تھے:

اِنَّ سُوءَ الخُلُقِ لَیُفسِدُ العَمَلَ کَمَا یُفسِدُ الخَلُّ العَسَلَ “[۱۱]

”بد خلقی سے انسان کے اعمال تباہ ہوجاتے ہیں، جیسا کہ سرکہ شھد کو خراب کردیتا ہے“۔

شکم پروری

شکم پروری (زیادہ کھانا کھانے) کے سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”۔۔۔مَن کَثُرَ طُعامَهُ سَقُم بَطنُهُ وَقَسا قَلبُهُ “[۱۲]

”جو شخص زیادہ کھانا کھائے گا اس کا جسم بیمار ہوجائے گا اور اس کا دل سخت ہوجائے گا“۔

مَنْ کَثُرَ اکلُه قَلَّت صِحَّتُهُ وَثَقُلَتْ عَلی نَفسِهِ مُونَتُه “[۱۳]

”جو شخص پُر خوری کرے گا اس کی صحت خراب ہوجائے گی اور اخراجات بڑھ جائیں گے“۔

کَثْرَةُ الاکلِ مِنَ الشَّرَهِ ،وَالشَّرَهُ شَرُّ العُیُوبِ “[۱۴]

”پُرخوری (بے جا)رغبت کی نشانی ہے، اور (بے جا )رغبت سب سے بڑا عیب ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

لَیسَ شَیْءٌ اضَرَ لِقَلبِ المُومِنِ مِن کَثْرَةِ الاکلِ،وَهِیَ مُورِثَةٌ لِشَیئَینِ: قَسْوَةِ القَلبِ وَهَیَجانِ الشَّهوَةِ “[۱۵]

”مومن کے دل کے لئے سب سے خطرناک چیز پُرخوری ہے، زیادہ کھانا کھانے سے انسان سنگ دل ہوجاتا ہے اور اس کی شھوت میں طغیان پیدا ہوجاتا ہے“۔

زیادہ سونا

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ:جناب موسیٰ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: (اے پالنے والے) اپنے بندوں میں سب سے زیادہ کس سے دشمنی رکھتا ہے؟ آواز آئی: جو شخص رات بھر اپنے بستر پر مردے کی طرح پڑا رھے، اور دن میں بے ہودگی اور وقت گزرانی میں مشغول رھے“۔[۱۶]

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے: جناب سلیمان کی ماں نے ان سے کھا: رات میں زیادہ نہ سونا چاہئے کیونکہ زیادہ سونے سے کل روز قیامت اس کا ہاتھ خالی ہوگا۔[۱۷]

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

بِئْسَ الغَریمُ النَّومُ ؛یُفنِی قَصیرَ العُمرِوَیُفَوِّتُ کَثیرَالاجرِ “[۱۸]

”(زیادہ)سوناایک بہت بڑا دشمن ہے، جس سے عمر کم ہوجاتی ہے اور زیادہ ثواب کو بھی ختم کردیتا ہے“۔

اسلام کی نظر میں ناپسند زندگی سے اجتناب، لقمہ حرام سے پرھیز، اخلاقی برائیوں سے دوری، زیادہ سونے اور زیادہ کھانے سے پرھیز سے عبادت خدا کے لئے انسانی بدن قوی ہوجاتا ہے، اور اسی کے پیش نظر انسان کی آنکھ میں اتنی طاقت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ صرف حق اور جس کو حق پسند کرتا ہے؛ دیکھتی ہے، اسی طرح کان صرف اور صرف خداو رسول اور ائمہ علیھم السلام نیز اولیاء اللہ کی باتوں کو سنتا ہے، اسی طرح اس کی زبان سے حق و انصاف کی باتیں نکلتی ہیں، ہاتھ نیک کاموںکی طرف ہی اٹھے گا، صرف حلال روزی ہی کھائے گا،شھوت کو حلال طریقہ سے بروئے کار لائے گا، اس کے قدم راہ حق میں اٹھےں گے، مسجد امامبارگاہ کی طرف چلیں گے، المختصر وہ دل و جان سے عبادت خدا اور

عبادت حق

عبادت و بندگی کی اھمیت ہمارے لئے (پوری طرح) قابل فھم نہیں ہے چونکہ ہم اس دنیا میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔اسی طرح دوسری چیزوں کے دروازے ہمارے لئے تا قیامت بند ہیں، (ایک معمولی انسان ان کو سمجھ نہیں سکتا)

خداوندعالم کی عبادت و بندگی انسانی رشد و کمال اور معنوی حیات نیز بھشت کے حصول کے لئے ضروری ہے۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حق عبادت و بندگی کے سلسلے میں بیان فرماتے ہیں:

افضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ العِبادَةَ فَعَانَقَها وَاحَبَّها بِقَلبِهِ وَباشَرَها بِجَسَدِهِ وَ تَفَرَّغَ لَها فَهُولَا یُبالِی عَلَی مااصْبَحَ مِنَ الدُّنیا عَلی عُسرٍ ام عَلی یُسْرٍ “[۱۹]

”لوگوں میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو عبادت کا شیدائی ہو، ہر حال میں عبادت خدا کرتا رھے، اور دل میں عبادت سے لگاؤ ہو ، بدن کے ذریعہ بجالائے، اور عبادت کے لئے دوسرے کاموں سے فرصت حاصل کرے اور دنیاوی زندگی سختیوں اور آسانیوں میں گزرنے کا کوئی خوف نہ ہو“۔

یَقولُ رَبُّکُم :یَابنَ آدَمَ ،تَفَرَّغْ لِعِبادَتِی املَا قَلبَکَ غِنًی وَاَمْلَا یَدَیکَ رِزقاً،یَابنَ آدَمَ لا تَباعَد مِنِّی فَاملا قَلبَکَ فَقراً وَ امْلا یَدَیکَ شُغلاً “[۲۰]

”تمھارا پروردگار فرماتا ہے: اے اولاد آدم! میری عبادت کے لئے ہر کام سے فرصت نکالو، تاکہ تمھارے دل کو بے نیاز بنادوں اور تمھارے ہاتھوں کو روزی سے بھر دوں؛ اے اولاد آدم! مجھ سے دور نہ ہونا ورنہ تم محتاج ہوجاؤگے اور دوسرے کاموں میں مشغولیت بڑھ جائے گی“۔

(خداوندعالم نے) شب معراج فرمایا:اے احمد! جانتے ہو کہ انسان کب میری عبادت کرسکتا ہے؟

عرض کیا: نھیں، تو خداوندعالم نے فرمایا: جب انسان میں سات صفات پیدا ہوجائیں: ایسا تقویٰ جو اسے گناھوں سے دور رکھے، غیر مفید باتوں پر سکوت اختیار کرنا، ایسا خوف جس سے ہر روز اس کے رونے میں اضافہ ہو، خلوت میں مجھ سے حیا کرنے سے پرھیز کرے، وہ کھانا کھائے جس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، دنیا سے میری دشمنی کی خاطر دشمنی رکھے، نیک افراد سے میری دوستی کی بنا پر دوستی کرے۔[۲۱]

منقول ہے کہ خداوندعالم نے بعض آسمانی کتابوں میں فرمایا:

اے اولاد آدم! میں وہ زندہ ہوں جس کے لئے موت نہیں ہے، میرے احکامات میں میری اطاعت کرو تاکہ تمھیں بھی ایسی زندگی عطا کردوں جس کے بعد موت نہ ہو۔

اے اولاد آدم! میں جس چیز کو ”کُن“ (ھوجا) کہہ دیتا ہوں وہ فوراً ہوجاتی ہے، تم میری اطاعت و بندگی کرو ، تمھیں بھی ایسا ہی بنادوں گا کہ جب تم کسی چیز کے بارے میں کھو گے تو وہ ہوجائے گی۔[۲۲]

بعض روایات میں درج ذیل حقائق کو بہترین عبادت شمار کیا گیا ہے۔

معرفت خدا اور اس کے سامنے خشوع و خضوع کرنا، خدااور اس کی قدرت میں غور و فکر کرنا، ”لا الہ الا الله“ اور ”لا حول ولا قوة الاّ بالله“کھنا، اخلاص سے کام لینا، عفت نفس، زھد ، غور و فکر کرنا، مومن کے حق کی ادائیگی، سکوت، حج، روزہ، دعا، محرمات سے دوری کرنا، مخفی طور پر بندگی کرنا، خضوع و خشوع، واجبات کی ادائیگی، طلب حلال، نرم لہجہ اختیار کرنا اور اہل بیت علیھم السلام کی محبت و ولایت۔

خدمتِ خَلق

احادیث قدسیہ اور دیگر روایات میں مومنین کو اس قدر اھمیت دی گئی ہے کہ مومن کے احترام کوخدا کا احترام شمار کیا گیا ہے، اور ان کی توھین کو خدا کی توھین قرار دیا گیا ہے۔

حضرت رسول خدا ،جبرئیل کے واسطہ سے خداوندعالم کا قول نقل کرتے ہیں:

مَن اهَانَ لِی وَلِیّاً فَقَدْ بارَزَنِی بِالْمُحَارَبَةِ“[ ۲۳]

”جو شخص میرے مومن بندوں کی اھانت کرے تو اس نے خدا سے جنگ کی تیاری کی ہے“۔

اسی وجہ سے مومنین کی خدمت کو خدا کی عبادت و بندگی کا عنوان دیا گیا؛ کیونکہ مومنین کی خدمت خدا کی خدمت ہے“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ارشاد ہے:

مَن قَضی لِاخِیهِ المُومِنِ حَاجَةً،کاَنَ کَمَنْ عَبَدَ اللّٰهَ دَهرَهُ “[۲۴]

”جو شخص اپنے برادر مومن کی حاجتوں کو پورا کرے تو گویا اس نے پوری زندگی خدا کی عبادت کی ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَن قَضَی لِاخِیهِ المُومِنِ حَاجةً قَضَی اللّٰهُ عَزَّوَ جَلَّ لَهُ یَومَ القِیامَةِ مِائَةَ الفِ حاجَةٍ مِن ذالک اوَّلُها الجَنَّةُ “[۲۵]

”جو شخص کسی بندہ مومن کی ایک حاجت کوپورا کرے تو خداوندعالم روز قیامت اس کی ایک لاکھ ایسی حاجتوں کو پورا کرے گا جن میں سے پھلی بھشت ہے“۔

نیز امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:

اِنَّ العبدَ لَیَمشِی فِی حَاجَةِ اخِیهِ المُومِنِ فَیُوکِّلُ اللّٰهُ عَزَّوَ جَلَّ بِهِ مَلَکَیْنِ وَاحِدٌ عن یمینِه وَ آخَرُ عَن شَمالِهِ یَستَغْفِرَانِ لَهُ رَبَّهُ وَ یَدعُوانِ لَهُ بِقضَاءِ حَاجَتِهِ “[۲۶]

”جب کوئی انسان اپنے برادر مومن کی حاجت روائی کے لئے قدم بڑھائے تو خداوند عز و جل دوفرشتوں کواس پر معین کرتا ہے، ایک داھنی طرف دوسرا بائیں طرف، اور وہ دونوں فرشے خداوندعالم سے اس شخص کے لئے طلب مغفرت کرتے ہیں اور اس کی حاجت روائی کے لئے دعا کرتے ہیں“۔

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سوال کیا گیا کہ خدا کے نزدیک کونسا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ایک مردمسلمان کو خوش کرنا، عرض کیا: مسلمان کو کس طرح خوشحال کیا جائے؟ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلانا، اس کے رنج و غم کو دور کرنا اور اس کے قرض کی ادائیگی میں مدد کرنا۔[۲۷]

امام صادق علیہ السلام خداوندعالم کا قول نقل کیا ہے:

الخَلْقُ عیالی فَاحَبُّهُم اَلَیَّ الطَفَهُم بِهِم،وَاسعَاهُم فِی حَوَائِجِهِم “[۲۸]

”تمام مرد و زن میرے نان خور ہیں(یعنی میرے دسترخوان پر مھمان ہےں)ان میں سے میرے نزدیک وہ شخص زیادہ محبوب ہے جو زیادہ مھربان ہو، اور ان کی حاجت روائی میں زیادہ کوشش کرتا ہے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام خدمت خدا کے لئے اپنے اعضاء و جوارح کی طاقت و قدرت کا سوال کرنے کے بعد اپنے دل کے استحکام اور اس خدمت کے لئے عزم و اراد ہ کے طالب ہیں،اور اس کے خوف و خشیت میں کوشش اور خداوندعالم کی پیھم خدمت کرنے کی اسی سے درخواست کرتے ہیں، تاکہ ہمیشہ اس کی عبادت و خدمت میں مشغول رھیں اورخدا سے درخواست کرتے ہیں کہ سبقت کرنے والوں کے میدان میں تیرے حضور میں آنے کے لئے آگے بڑھتارھوں اور تیری خدمت میں پھنچنے کے لئے جلدی کرنے والوں میںتیزرھوں اور مجھے تیرا قرب حاصل کرنے کا شوق رکھنے والوں کا شوق ہو اور تیری بارگاہ میں خلوص رکھنے والوں کا ساقرب حاصل ہواور تجھ پر یقین رکھنے والوں کا ساخوف مل جائے اور تیری بارگاہ میں مومنین کے ساتھ میں بھی جمع ہوجاؤں۔

یقین

فلیسوف کبیر عارف خبیر صاحب تفسیر” المیزان“ علامہ طباطبائی مرحوم یقین کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یقین، وہ دانش اور علم ہے جس میں کسی طرح کا شک اور غلطی کا احتمال تک نہ پایا جائے۔[۲۹] (مثلاً انسان ظھر کے وقت یہ یقین رکھتا ہے کہ اس وقت دن ہے، اور رات کے اندھیرے میں یقین رکھتا ہے کہ اب رات ہے اور اپنے اوپر یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ ایک زندہ اور صاحب آثار و صفات ہے)

اسی طرح یقین کے تین درجے بیان کئے ہیں: علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین ۔

ایک مثال کے ذریعہ تینوں کے درمیان فرق واضح ہوجائے گا:

اگرکسی مکان سے دھویں کو دیکھ کر آگ کے بارے میں یقین کرلے تو علم الیقین ہے اور اگر اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لے تو عین الیقین ہے اور اگر اس آگ میں چلا جائے تو حق الیقین ہے۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں: اہل یقین کے چھ صفات ہوتے ہیں: خدا پر یقین ہوتا ہے، اور وہ بھی ایسا یقین جو حق الیقینی ہو، لہٰذا اس پر اس یقین کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں؛ یقین رکھتے ہیں کہ موت برحق ہے، لہٰذا اس کے آثار سے خوف زدہ رہتے ہیں؛یہ یقین رکھتے ہوں کہ مرنے کے بعد ان کو اٹھایا جانا برحق ہے، لہٰذا وہ قیامت کی ذلت و رسوائی سے ڈرتے ہیں؛ یقین رکھتے ہیں کہ بھشت حق ہے، لہٰذا اس میں جانے کے لئے مشتاق رہتے ہیں؛ یقین رکھتے ہیں دوزخ حق ہے، لہٰذا اس سے نجات کی کوشش کرتے ہیں؛ یقین رکھتے ہیں کہ حساب و کتاب حق ہے، لہٰذا وہ اپنا حساب و کتاب کرتے رہتے ہیں تاکہ اس سخت حساب میں گرفتار نہ ہوں۔[۳۰]

یقین کے ان تینوں درجات کو قرآن و حدیث اہل بیت علیھم السلام کے ذریعہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے، اگر کوئی یقین کے ان دونوں مرکز (قرآن و اہل بیت علیھم السلام) سے یقین کی منزل تک نہ پھنچے تو وہ پھر کسی بھی چیز کے ذریعہ یقین کی منزل تک نہیں پھنچ سکتا۔

قرآن کریم کے ذریعہ یقین حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ: پھلے قرآنی آیات پر غور وفکر کرکے اس کی حقانیت اور اس کے وحی ہونے کا یقین کریں، اور اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ قرآن فرماتا ہے: ”اگر اس کتاب (قرآن) کے بارے میں شک ہو تو ایک(ھی) سورہ اس کے مثل لے آؤ“۔[۳۱]

دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے: (اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تمام جن و انس مل کر اس قرآن کی مثل لاناچاھو تو نہیں لاسکتے، اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں“۔[۳۲]

ان دونوں آیات کے پیش نظر انسان کو یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ کتاب (قرآن) خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی ہے، اس کے بعد انسان پورے قرآن پر یقین حاصل کرلے گا اور اس میں موجود تمام باتو ںکا یقین حاصل کرلے گا، اسی طرح اہل بیت علیھم السلام کی تعلیمات جو قرآن کی توضیح اور تفسیر ہے؛ پر یقین حاصل ہوجائے گا، اور آخر کار انسان اہل یقین کے دائرہ میں شامل ہوجائے گا۔

”اللّٰهُمَّ وَمَنْ ارٰادَنِي بِسُوءٍ فَارِدْهُ وَمَنْ کٰادَنِيفَکِدْهُ،

وَاجْعَلْنِيمِنْ احْسَنِ عَبیدِکَ نَصِیباً عِنْدَکَ،وَاقْرَبِهِمْ

مَنْزِلَةً مِنْکَ،وَاخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَیْکَ،فَانَّهُ لاٰیُنٰالُ

ذٰلِکَ الاّٰبِفَضْلِکَ،وَجُدْلِي بِجُودِکَ،وَاعْطِفْ عَلَيَّ

بِمَجْدِکَ،وَاحْفَظْنِي بِرَحْمَتِک“

”خدایا جو بھی کوئی میرے لئے برائی چاھے یا میرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویساھی بدلہ دینا اور مجھے بہترین حصہ پانے والا ،قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تیرے جود وکرم کے بغیر نہیں ہو سکتا،خدایا میرے اوپرکرم فرما۔اپنی بزرگی سے، رحمت نازل فرما اپنی رحمت سے میرا تحفظ فرما“۔

وہ دشمن جو انسانیت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیںوہ شیطان، ہوائے نفس اور پست و ذلیل ہم نشین ہےں یھی انسان کے ساتھ مکر و فریب کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی دشمنی، اغوا کرنا، وسوسہ ڈالنا اور ان کا مکر وفریب اس حد تک خطرناک ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ان دشمنوں کو شکست دینے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرتے ہیں۔

گزشتہ صفحات میں شیطان، ہوائے نفس اور پست و ذلیل ہم صحبت کے بارے میں تفصیل بیان ہوچکی ہے۔

اگر انسان خداوندعالم سے زیادہ بھرہ مند ہونے اور اس کے قرب کے سب سے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے نیز اس کی بارگاہ میں مقرب ترین فرد قرار پانا چاھے تو اس کے لئے واجب اور ضروری ہے کہ یقین و اخلاص کے ساتھ ایمان رکھے، قابل قبول اعمال، نیک کردار اور تقویٰ الٰھی؛(جس کے ذریعہ انسان گناھوں سے محفوظ رہتا ہے)؛ اختیار کرے ، کیا خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد نہیں فرمایا:

”۔۔۔( إِنَّ اکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللهِ اتْقَاکُمْ ) ۔۔۔“[۳۳]

”۔۔۔بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وھی ہے جو زیادہ پرھیزگار ہے۔۔۔“۔

تقویٰ الٰھی جو انسان کی دنیا و آخرت میں سعادت و خوش بختی کا ضامن ہے؛ اس کے تین مرحلہ ذکر کئے گئے ہیں: عام تقویٰ،خاصتقویٰ، اخص تقویٰ۔

عام تقویٰ: یعنی واجبات کو انجام دینا اور حرام چیزوں سے پرھیز کرنا۔

خاص تقویٰ: یعنی مکروھات بلکہ مباح چیزوں (ضرورت کے علاوہ) سے پرھیز کرنا۔

اخص تقویٰ: یعنی ہر اس چیز سے پرھیز کرنا جو یاد خدا میں رکاوٹ بنے۔

خواجہ نظام الملک اور باتقویٰ شخصیت

کتب تواریخ میں خواجہ کی سوانح عمری میں درج ہے کہ: ایک روز خواجہ کی ملاقات ایک باتقویٰ اور پرھیزگار شخص سے ہوتی ہے، اس سے کھا: مجھ سے کوئی چیز طلب کرو تو میں تمھیں عطا کروں؛ کیونکہ میں غنی اور صاحب مال ہوں، یہ سن کر اس متقی شخص نے کھا: میں خدا کے علاوہ کسی اور سے کچھ نہیں مانگتا، غیر خدا سے کوئی سوال کرنا تو واقعاً کم ظرفی ہے۔

خلاف طریقت بود کاولیا

تمناکنند از خدا جز خدا

جب میں خدا سے اس کے علاوہ کچھ طلب نہیں کرتا تو آپ سے کیسے کچھ طلب کرسکتا ہوں؟

اس وقت خواجہ نے اس سے کھا: اگر تم مجھ سے کوئی چیز طلب نہیں کرسکتے تو میں آپ سے کوئی چیز طلب کروں، اس متقی شخصیت نے کھا: تمھاری کیا حاجت ہے؟ تو خواجہ نے کھا: جس وقت تم یاد خدا میں ہو اس وقت مجھے بھی یاد کرلینا، یہ سن کر اس متقی شخص نے کھا: جب میں یاد خدا میں ہوتا ہوں تو اپنے آپ کوبھول جاتا ہوں ، تو بھلا تجھے کیسے یاد کرسکتا ہوں؟!![۳۴]

اے صاحب عزت و شرافت! اے مالک عظمت و کرامت! اے تمام صفات کمال کے مالک! ان تمام صفات کا ملازمہ یہ ہے کہ تو محبت و مھربانی کرے، اور اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے بندوں پر بخشش و عطا کے دروازے کھول دے، لہٰذا اے میرے معبود! میرے اوپر اپنی نظر لطف فرما، اگر اپنے لطف و کرم کی نظر مجھ پر فرمائے گا تو اپنی محبت و مھربانی سے دریغ نہیں کرے گا، اور آخر کار یہ تیرے نادار بھکاری تیری عطا و بخشش سے بے نیاز ہوجائے گا: ”وَاعْطِفْ عَلَیَّ بِمَجْدِکَ“۔

احمد خضرویہ اور ایک چور

خدا کے خاص بندے جو خدا کے اخلاق و اطوار سے مزین ہوتے ہیں وہ اسی اخلاق سے دوسرے کے ساتھ پیش آتے ہیں، درحقیقت ان کی رفتار و گفتار اخلاق الٰھی کا ایک جلوہ ہوتی ہے۔

منقول ہے کہ احمد خضرویہ کے گھر میں ایک چور آگیا، لیکن اس کو لے جانے کے لئے کوئی خاص چیز نظر نہ آئی، جب وہ خالی ہاتھ واپس جانے لگا توشیخ احمد صاحب کی بزرگواری اور محبت نے گوارا نہ کیا کہ وہ خالی ہاتھ ان کے گھر سے واپس جائے، اسے آواز دی اور کھا: اے چور! مجھے یہ گوارہ نہیں ہے کہ تو میرے یھاں سے خالی ہاتھ واپس لوٹے!! کنویں سے پانی نکالو، غسل توبہ کرو اور وضو کرکے نماز، توبہ اور استغفار کرو، شاید خداوندعالم کوئی انتظام کردے تاکہ تم خالی ہاتھ نہ جاؤ، (چنانچہ اس چور نے ایسا ہی کیا) اور جب صبح نمودار ہوئی توکوئی بزرگوار سو اشرفی شیخ کو ہدیہ دے گیا، شیخ نے وہ سو اشرفی اس چور کو دی اور کھا: یہ تمھاری ایک شب کی خالصانہ عبادت و توبہ کا ظاھری ثواب ہے۔ یہ دیکھ چور کی حالت بدل گئی، اور اپنے تمام گناھوں سے توبہ کی اور خدا کا نیک بندہ بن گیا۔

”وَاجْعَلْ لِسٰانِي بِذِکْرِکَ لَهِجاً،وَقَلْبِي بِحُبِّکَ مُتَیَّماً،

وَمُنَّ عَلَيَّ بِحُسْنِ اجٰابَتِکَ،وَاقِلْنِي عَثْرَتِي، وَاغْفِرْ زَلَّتِي،

فَانَّکَ قَضَیْتَ عَلٰی عِبٰادِکَ بِعِبٰادَتِکَ،وَامَرْتَهُمْ بِدُعٰائِکَ،

وَضَمِنْتَ لَهُمُ الْاجٰابَةَ، فَالَیْکَ یٰارَبِّ نَصَبْتُ وَجْهِي،

وَالَیْکَ یٰارَبِّ مَدَدْتُ یَدِي،فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِيدُعٰائِي،

وَبَلِّغْنِي مُنٰايَ، وَلاٰتَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجٰائِي،وَاکْفِنِي

شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ اعْدٰائِي“

”اورمیری زبا ن کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔میرے دل کو اپنی محبت کا عاشق بنادے اور مجھ پر بہترین قبولیت کے ساتھ احسان فرما۔میری لغزشوں سے در گذرفرما۔تونے اپنے بندوں پر عبادت فرض کی ہے۔ انھیں دعا کا حکم دیا ہے اوران سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے،اب میں تیری طرف رخ کئے ہوئے ہوں اور تیری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے ہوں ۔تیری عزت کا واسطہ میری دعا قبول فرما، مجھے میری مراد تک پھنچادے۔ اپنے فضل وکرم سے میری امیدوں کو منقطع نہ فرمانا۔ مجھے تمام دشمنان جن وانس کے شر سے محفوظ فرمانا“۔

زبان

خداوندعالم کی عظیم نعمتوں میں سے زبان بھی ایک عظیم نعمت ہے؛ اور اگر زبان وہ ہو جس کے ذریعہ حق بات کھی جائے اور اپنے مافی الضمیر کو ادا کرے اور(الٰھی) اھداف و مقاصد کو دوسروں تک پھنچائے۔

جس طرح زبان کے نیکیاں اور حسنات ہوسکتے ہیں اسی طرح زبان کے ذریعہ برائیاں اور بدی بھی بہت زیادہ ہیں، یھاں تک کہ اس سلسلہ میں علماء کہتے ہیں:

اللسان جِرمةٌ صغیرةٌ و جُرمُهُ عظیمٌ “ (زبان اگرچہ چھوٹی ہوتی ہے لیکن اس کے گناہ بڑے بڑے ہوتے ہیں۔)

زبان کے سلسلہ میں محدث بزگوار صاحب فلسفہ و حکمت اور عاشق عارف ملا محسن فیض کاشانیاپنی کتاب ”محجة البیضا“ میں فرماتے ہیں: زبان کے ذریعہ تقریباً بیس گناہ کبیرہ ہوتے ہیں: جیسے غیبت، تھمت، سخن چینی،چغلی ، دوسروں کا مسخرہ کرنا، افواھیں پھیلانا، جھوٹ، لوگوں کو ذلیل کرنا وغیرہ وغیرہ۔[۳۵]

قرآن مجید نے بھی زبان کھولنے کے لئے صرف دس چیزوں کی اجازت دی ہے۔ اگر انسان کی زبان انھیں دس باتوں کے لئے کھلتی ہے تو گویا وہ خدا کی عبادت کرتی ہے اور اگر ان دس باتوں کے علاوہ کسی اور چیز کے لئے کھلتی ہے تو وہ گناھوں سے آلودہ ہے، در حقیقت شیطان کی بندگی کرتی ہے، اور وہ دس باتیں درج ذیل ہیں:۔

۱ ۔ قول حسن۔

۲ ۔ قول احسن۔

۳ ۔ قول عدل۔

۴-قول صدق۔

۵ ۔ قول کریم۔

۶ ۔ قول نرم۔

۷ ۔ قول محکم۔

۸ ۔قول سدید ۔[۳۶]

۹ ۔ قول معروف۔

۱۰ ۔ قول بلیغ۔

قول حسن، عوام الناس کے ساتھ خوش زبانی ہے

قول احسن، لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دینا ہے۔[۳۷]

قول عدل، خدا ئی عدالت میں شھادت اور گواھی دینا ہے۔[۳۸]

قول صدق، سچی بات کھنا اور معاشرہ کے گذرے ہوئے اور موجود مومنین ذکر خیر کرنا۔[۳۹]

قول کریم، ماں باپ سے گفتگو کرنا۔[۴۰]

قول لیّن، امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے وقت گفتگو کرنا۔[۴۱]

قول ایمان، خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی رسالت کا اقرار ہے۔[۴۲]

قول سدید، ہر شرائط اور ہر حالات میں حق بات کھنا ہے۔[۴۳]

قول معروف، یتیموں اور بیواؤں کے ساتھ گفتگو کرناھے۔[۴۴]

قول بلیغ، موثر اور واضح گفتگو کرنا ہےجو موعظہ، حکمت اور برھان کے ساتھ ہو۔[۴۵]

انسان ان دس طرح کی باتوں کے ذریعہ ایسی تجارت میں مشغول رھے کہ جس کا فائدہ صرف خداوندعالم ہی جانتا ہے۔ انھیں دس باتوں کی شرح کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔ ہم یھاں پر صرف قول احسن کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دی جاتی ہے، اور باقی باتوں کی تفصیل الگ کتاب کے لئے چھوڑے دیتے ہےں۔

جب رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حضرت علی علیہ السلام کو یمن کے لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا تو ان سے فرمایا:

یا علی! کسی سے بھی اس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک اس کو حق کی دعوت نہ دیدو۔

”وَایْمُ اللّٰهِ لانْ یَهْدِیَ اللّٰهُ عَلَی یَدَیْکَ رَجُلاً خَیرٌ لَکَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْهِ الشَّمسُ وَ غَرَبَتْ ۔۔۔“[۴۶]

”خدا کی قسم! اگر خدا نے تمھارے ذریعہ کسی ایک انسان کی ہدایت فرمادی تو یہ آپ کے لئے زمین و آسمان کی تمام چیزوں سے بہتر ہے“۔

زبان کے ذریعہ نماز پڑھی جاتی ہے تو یہ ذکر خدا ہے، قرآن زبان کے ذریعہ پڑھا جاتا ہے تو یہ بھی ذکر خدا ہے، اہل بیت علیھم السلام سے ماثور دعائیں اور مخصوص زمان و مکان میں پڑھی جاتی ہیں وہ بھی ذکر خدا ہیں، مذکورہ بالا دس طرح کی باتیں کرنا وہ بھی ذکر خدا ہیں، اور ان سب سے بہتر و بالاتر اور بہت زیادہ ثواب رکھنے والی چیز کسی گمراہ کی دین خدا کی طرف ہدایت کرناھے۔

بدکار عو رت کی بخشش

ثقة الاسلام شیخ کلینی اپنی کتاب ”روضہ کافی“ جو اس عظیم کتاب کا آخری حصہ ہے، حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں: ایک عابد و زاھد بہت زیادہ عبادت کرتا تھا جس سے شیطان کی کمر ٹوٹ چکی تھی، ایک روز اپنے لشکر کو ساتھ لایا اور ان سے کھا: تم میں کون ایسا ہے جو اس شخص کو عابد سے منحرف کردے؟ کسی نے کچھ بتایا کسی نے کچھ، لیکن شیطان کو ان کا حربہ پسند نہ آیا،آخر کار ایک نے کھا: میں اس کو نمازی کے لباس میں جاکر گمراہ کرتا ہوں، شیطان نے اس کی بات کوپسند کیا اور اس کو بہکانے کے لئے بھیج دیا!!

شیطان کا وہ کارندہ اس عابد کی عبادتگاہ میں آیا اور بڑے زور و شور سے عبادت کرنے لگا، یھاں تک کہ اس عابد کو سوال کرنے تک کی فرصت نہ دی تاکہ وہ اس طرح کی عبادت کا راز پوچھے، عابد انتظار کرتا رھا تاکہ کوئی فرصت ملے اور اس سے اس انداز کی عبادت کا حال دریافت کرے، موقع غنیمت جان کر اس نے سوال کرھی دیا ، تو اس نے جواب دیا: میں نے گناہ کئے اور پشیمان ہوگیا، گناھوں سے پشیمانی نے مجھے عبادت سے اس قدر لگاؤ پیدا کردیا ہے کہ میں کبھی بھی عبادت سے تھکتا نہیں ہے، اور نہ ہی میری امنگ ختم ہوتی!!

اس عابد نے اس بات پر غور کئے بغیر کہ اگر وہ گناہ کرتے وقت ہی مرجائے تو کیا ہوگا؟ اس سے راھنمائی کی درخواست کی۔ شیطان کے اس کارندے نے اس سے کھا کہ اس شھر کی فلاں عورت بدکاری میں بہت زیادہ مشھور ہے، اس کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ عابد اس عورت کی طرف روانہ ہوگئے، اس عورت نے جیسے ہی اس نورانی شخص کو اس محلہ میں دیکھا تو بہت تعجب کیا ، اور سوچا کہ اس سیدھے سادے عابد کو کسی نے دھوکہ دیا ہے، چنانچہ اس سے کھا: اے عابد! انسان کبھی بھی گناہ کے ذریعہ ، مقام عبادت اور مقام قرب خدا تک نہیں پھنچ سکتا، جس شخص نے بھی تمھیں اس کام کی راھنمائی کی ہے، اس کا مقصد تمھیں گمراہ کرنا تھا، گناہ ؛تنزل اور سقوط کا باعث ہے ، ترقی اور صعود کا باعث نہیں ہے، جاؤ اپنی عبادت گاہ میں جاؤ اس کام کے شوق دلانے والے کو نہیں پاؤگے،جاؤ اگر اس کو وھاںنہ پایا،تو یقین کرلینا کہ وہ شیطان تھا۔

چنانچہ وہ عابد خواب غفلت سے چونکا اور واپس پلٹا، جیسے ہی وھاں پھونچا تو اس شیطان کو نہ پایا۔ بہت خوش ہوئے کہ اس عورت نے اس کو گناہ سے بچالیا، اتفاق سے اسی رات اس عورت کا انتقال ہوگیا۔ خداوندعالم نے اس زمانہ کے پیغمبر کو حکم دیا کہ لوگوں کے ساتھ اس عورت کے جنازہ میں شریک ہو کیونکہ میں نے اپنے ایک بندہ کی ہدایت کی خاطر اس عورت کے تمام گناہ بخش دئے ہیں، اور اس کو معاف کردیا ہے، اور اس کو اپنی رحمت و بخشش میں داخل کرلیا ہے۔

استجابت دعا کی ضمانت

اگرچہ قرآن مجید نے فرمایا ہے:

( وَإِذَا سَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ اجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِی ) “[۴۷]

”اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کرےں تو میں ان سے قریب ہوں پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے“۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ فرمایا ہے:

”۔۔۔( ادْعُونِی اسْتَجِبْ لَکُمْ ) ۔۔۔۔“[۴۸]

”۔۔۔مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کرو ں گا۔۔۔“۔

لیکن اس حقیقت پر بھی توجہ کرنا ضروری ہے کہ استجابت دعا کی ضمانت ہر دعا کے لئے نہیں ہے، بلکہ اس دعا کے لئے ہے جس دعا کا کرنے والے اور خود دعا میں تمام شرائط پائے جائیں، جن کا تذکرہ قرآن وحدیث میں ملتا ہے۔

ممکن ہے کوئی شخص گریہ و زاری کے ساتھ خدا سے یہ دعا کرے کہ ساری دنیا کا مال و دولت مجھے مل جائے،اور قیامت تک کے لئے میری عمر میں اضافہ ہوجائے، اور میری شکل و صورت کو جناب یوسف(ع) سے بھی خوبصورت قرار دیدے، میری آواز لحن داؤد سے بھی بہتر بنادے، میری شجاعت حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے بھی زیادہ کردے، اور مجھے پوری دنیا کی حکومت مل جائے، اور تمام لوگوں کو میرے حوالے کردے، تاکہ میں ان کے لئے خیر و شر کی درخواست کو قبول کروں!!

اس طرح کی دعاؤں میں دعا کرنے والے اور خود دعا کے ضروری شرائط نہیں پائے جاتے، توخداوندعالم کی طرف ایسی دعا کے مستجاب ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

عرفاء ، زاھدین و عابدین اور صاحب کمال جن میں دعا کے ضروری شرائط پائے جاتے ہیں اور ان کی دعائیں بھی دنیا و آخرت کی مصلحتوں کی بنا پر ہوتی ہے۔ اگر دعا کرنے والے کی دعااس دنیا میں قبول ہوجاتی ہے تو خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور اگر ان کی دعا اس دنیا میں قبول نہ ہو تو ان کو ذرا بھی ملال نہیں ہوتا بلکہ صبر و ضبط سے کام لیتے ہیں، اور منتظر رہتے ہیں کہ قبول ہونے کا وقت پھنچ جائے (تاکہ اس موقع پر وہ دعا قبول ہوجائے)۔

روایات میں منقول ہے: دعا انبیاء(ع)اور مومنین کا اسلحہ ہے۔دعا کے ذریعہ یقینی موت بھی ٹل جاتی ہے، اور دعامقدر کو پلٹادیتی ہے ، دعا کے ذریعہ انسان کی بلائیں دور ہوجاتی ہےں اور ہر درد و مصیبت سے شفا مل جاتی ہے۔

اہل بیت علیھم السلام کی احادیث میں دعا اور دعا کرنے والے کی شرائط اس طرح بیان کئے گئے ہیں:

دعا میں اخلاص، اور اس چیز کی معرفت رکھنا کہ تمام چیزیں اس کے قبضہ قدرت میں ہیں، اپنے واجبات پر عمل کرنا، اپنے دل کو پاک و صاف رکھنا، سچی زبان، حلال روزی کھانا، حقوق الناس کی ادائیگی، حضور قلب، رقت قلب، دعا کے شروع میں ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“پڑھنا،محمد و آل محمد پر صلوات بھیجنا، گناھوں کا اقرار کرنا، رونا گڑگڑانا، زمین پر پیشانی رکھنا، دورکعت نماز پڑھنا، دعا قبول ہونے پر یقین رکھنا، دوسروں کے لئے اپنے سے پھلے دعا کرنا، نامناسب دعاؤں سے پرھیز کرنا، مجموعی طور پر دعا کرنا،خلوت میں دعا کرنا اور دعا کے مستجاب ہونے کی امید رکھنا۔

جس وقت دعا کرنے والے میں دعا کرنے کے شرائط جمع ہوجائیں اور دعا کے شرائط کی بھی رعایت کی جائے تو یقینا ایسی دعا ضرور قبول ہوگی۔

تین گرفتاروں کی دعا

”جابر جعفی“ حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام صادق علیھما السلام کے زمانہ کے معتبر روایوں میں سے تھے حضرت رسول اکرمسے روایت کرتے ہیں: تین مسافر سفر کرتے ہوئے ایک پھاڑ کی غار میں پھنچے، وھاں پر عبادت میں مشغول ہوگئے ، اچانک ایک پتھر اوپر سے لڑھکا ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ دروازہ بند کرنے کے لئے بنایا گیا اور اس نے دروازہ بند کردیا، ان کے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہ دیا!

چنانچہ وہ لوگ ایک دوسرے سے کھنے لگے: خدا کی قسم یھاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، مگر یہ کہ خدا ہی کوئی لطف و کرم کرے ، کوئی نیک کام کریں خلوص کے ساتھ دعا کریں اور اپنے گناھوں سے توبہ کریں۔

ان میں سے پھلا شخص کہتا ہے: پالنے والے! تو(تو جانتا ہے)کہ میں ایک خوبصورت عورت کا عاشق ہوگیا بہت زیادہ مال و دولت اس کو دیا تاکہ وہ میرے ساتھ آئے، لیکن جونھی اس کے پاس گیا، دوزخ کی یاد آگئی جس کے نتیجہ میں اس سے الگ ہوگیا؛ پالنے والے ! اسی عمل کا واسطہ ہم سے یہ مصیبت دور فرما اور ہمارے لئے نجات کا سامان فراھم کردے ، دیکھا تو وہ پتھر توڑا سا کھسک گیا۔

دوسرے نے کھا: پالنے والے! تو جانتا ہے کہ ایک روز میں زرعی کام کے لئے کچھ مزدور لایا، آدھا درھم ان کی مزدوری معین کی، غروب کے وقت ان میں سے ایک نے کھا: میں نے دو مزدورں کے برابر کام کیا ہے لہٰذا مجھے ایک درھم دیجئے، میں نے نہیں دیا، وہ مجھ سے ناراض ہوکر چلا گیا، میں نے اس آدھے درھم کا زمین میں بیج ڈالدیا، اور اس سال بہت برکت ہوئی۔ ایک روز وہ مزدور آیا اور اس نے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا، تو میں نے اس کو اٹھارہ ہزار درھم دئے جو میں زراعت سے حاصل کئے تھے، اور چند سال تک اس کو رکھے رکھا تھا، اور یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے انجام دیا تھا، تجھے اسی کام کا واسطہ ہم کو نجات دیدے۔ چنانچہ وہ پتھر تھوڑا اور کھسک گیا۔

تیسرے نے کھا: پالنے والے! (تو جانتا ہے) ایک روز میرے ماں باپ سورھے تھے میں ان کے لئے کسی ظرف میں دودھ لے کر گیا، میں نے سوچا کہ اگر وہ دودھ کا ظرف اگر زمین پر رکھ دوں تو کھیں اٹھ نہ جائے، اور میں نے ان کو خود نہیں اٹھایا بلکہ وہ دودھ کا ظرف لئے کھڑارھا تاکہ وہ خود بیدار ہوں۔ تو تو جانتا ہے کہ میں نے وہ کام وہ زحمت صرف تیرے لئے اٹھائی تھی، پالنے والے ہمیں اسی کام کے صدقہ میں اس سے نجات دیدے۔ چنانچہ اس شخص کی دعا سے پتھر او رکھسکا اور یہ تینوں اس غار سے باھر نکل آئے۔[۴۹]

ایک گمنام غلامِ سیاہ کی دعا

منقول ہے کہ بنی اسرائیل کے زمانہ میں سات سال تک قحط پڑا، ستر ہزار لوگ دعا کی بارش کے لئے جنگل میںآئے تاکہ ان کی برکت سے باران رحمت نازل ہوجائے۔ آواز قدرت آئی:

اے موسیٰ! ان سے کہہ دو کہ میں تمھاری دعا کیسے قبول کرلوں در حالیکہ تم لوگ گناھوں میں غرق ہو، اور تمھارے باطن میں خباثت بھری ہوئی ہے۔ مجھے پکاررھے ہیں حالانکہ مجھ پر یقین نہیں رکھتے، اور میرے انتقام سے خوف امن میں نہیں ہیں۔ میرے بندوں میں سے ایک بندہ کو بلاؤ جس کا نام ”بُرخ“ ہے،تاکہ وہ دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں۔

جناب موسیٰ علیہ السلام ”بُرخ“ کی تلاش میں نکلے، لیکن وہ نہ مل سکا، یھاں تک کہ ایک روز راستہ سے چلے جارھے تھے، ایک سیاہ فام غلام کو دیکھا جس کی پیشانی پر سجدوں کے نشانات تھے اور اپنی گردن میں کوئی چیز ڈالے ہوئے ہے، جناب موسیٰ علیہ السلام نے احساس کیا کہ یھی وہ ”بُرخ“ ہے، آگے بڑھے اس کو سلام کیا اور اس سے نام معلوم کیا۔ اس نے کھا: میرا نام ”بُرخ“ ہے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے کھا:

ایک مدت سے تمھاری تلاش کررھا ہوں، آؤ اور ہمارے لئے باران رحمت کی دعا کرو۔

چنانچہ ”بُرخ“ ایک بیابان کی طرف نکلے اور خدا سے یوں مناجات کرنے لگے:

پالنے والے! اپنے بندوں پربارش کا بند کردینا تیرے کاموں میں سے نھیں، تیری بارگاہ میں بخل کا بھی کوئی وجود نہیں ہے، کیا تیرا لطف و کرم ناقص ہوگیا ہے یا تیری ہوا نے اطاعت سے مخالفت کی ہے یا تیرے خزانے ختم ہوگئے ہیں، یا گناھگاروں پر تیرے خشم میں جوش آگیا ہے، کیا تو خطاکاروں کی خلقت سے پھلے غفّار اور بخشنے والا نہیں تھا؟! چنانچہ سب نے دیکھا کہ وہ اسی طرح مناجات کرتا رھا یھاں تک کہ بارش ہونے لگی اور ایسی بارش ہوئی کہ بنی اسرائیل سیراب ہوگئے۔[۵۰]

امام سجاد علیہ ا لسلام کے غلام کی دعا

سعید بن مسیب مدینہ منورہ کے بزرگ فقھاء میں سے تھے اور حضرت امام سجاد اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیھما السلام نے آپ کی تعریف فرمائی ہے ۔

عبد الملک مروان نے مدینہ میں اپنا ایک ایلچی بھیجا تاکہ سعید کی لڑکی سے جو حسن و جمال اور صورت و سیرت میں بہت نیک تھی؛رشتہ طلب کرے، سعید نے مدینہ کے گورنر سے کھا میں ہر گز اپنی لڑکی کی شادی ملک کے بادشاہ وقت سے نہیں کروں گا!!۔

ایک روز انھوں نے اپنے شاگروں میں سے کسی اےک سے کھا: کئی روز سے آپ درس میںنھیں آرھے ہیں؟ تو اس نے کھا: میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے، جس کی بنا پر درس میں شرکت نہیں کرپایا ہوں۔ سعید نے کھا: ایک دوسری شادی کرلو۔ تو اس نے کھا: میرے پاس مال دنیا میں سے دو درھم سے زیادہ نہیں ہے۔ انھوں نے کھا: کیا میری لڑکی سے شادی کرو گے؟ اس نے کھا: جیسا آپ حکم کریں۔ چنانچہ استاد نے اس کا نکاح اپنی لڑکی سے کردیا۔

سعید چالیس سال سے کسی کے دروازے پر نہیں گئے تھے، شاگرد کہتا ہے: ایک روز شام کا وقت تھا، دق الباب ہوا ، میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا استاد ہیں، اور اپنے ساتھ اس لڑکی کو لے کر آئیں ہیں ، لڑکی کو میرے حوالے کیا اور واپس چلے گئے۔ میں نے اس لڑکی سے سوال کیا: تو اس نے بتایا میں ”حافظ قرآن“ ہوں، اس نے مھرکے بارے میں سوال کیا: تو اس لڑکی نے کھا:

جِهادُ المَراةِ حُسْنُ التَّبَعُّلِ “[۵۱]

”عورت کا جھاد بہتر شوھر داری ہے“۔

جناب سعید تقویٰ و پرھیزگاری اور فضل و کرم کی اس عظیم منزل پر فائز تھے، کہتے ہیں: ایک سال مدینہ میں قحط پڑگیا اور بارشیں کم ہونے لگیں، لوگوں نے نماز و دعا پڑھنا شروع کی، میں بھی ان کے ساتھ گیالیکن اس مجمع میں کسی کی دعا قبول نہ ہوئی، ایک غلام کو دیکھا کہ ایک بلند مقام پر عبادت کررھا ہے اور اپنا سر سجدے میں رکھے ہوئے دعا کررھا ہے اس کی دعا قبول ہوئی اور بہت زیادہ بارش ہونے لگی۔ میں اس کے پیچھے چل دیا دیکھا تو وہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا، میں بھی امام کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ سے اس غلام کو طلب کیا، امام علیہ السلام نے فرمایا: سب غلام جمع ہوجائیں، جب سب جمع ہوگئے تو میں نے اس سیاہ فام غلام کونھیں دیکھا، میں نے کھا: جس کو میں چاہتا ہوں وہ ان میں موجود نہیں ہے، اس وقت کھا گیا: صرف اصطبل والا غلام نہیں آیا ہے، امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کو بھی بلایا جائے، جب وہ آیا تو وھی تھا جس کو میںچاہتا تھا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے غلام! میں نے تجھے سعید کو بخش دیا۔ یہ سن کر غلام بہت زیادہ رونے لگا، اور کھا: اے سعید! مجھے امام زین العابدین سے جدا نہ کر۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ بہت زیادہ رورھا ہے ، میں نے اپنا ارادہ ترک کردیا، اور امام کے مکان سے واپس آگیا، میرے آنے کے بعد جب اس کا راز فاش ہوگیا تو اس نے اپنا سر سجدے میں رکھا، اور خدا سے ملاقات کی آرزو کی، اسی وقت اس کی دعا پوری ہوگئی ، امام علیہ السلام نے مجھ سے کھلوایا کہ اس کی تشیع جنازہ میں شرکت کے لئے آجاؤ۔

دعائے امام حسین علیہ السلام

”مناقب“ ابن شھر آشوب عظیم الشان کتاب ”تہذیب شیخ طوسی“سے روایت نقل کرتے ہیں:

ایک عورت خانہ کعبہ کا طواف کرنے میں مشغول تھی، ایک مرد بھی اسی ردیف میں طواف کررھا تھا۔ اس مرد نے بری نیت سے اس عورت کی طرف ہاتھ بڑھایا؛اس کا ہاتھ عورت کے جسم پر چپک گیا، دونوں کا طواف قطع ہوا، وھاں مامور خادموں نے ان دونوں کو امیر مکہ کے پاس پھنچادیا،یہ دیکھ کر اس نے اس عجیب و غریب واقعہ کو دیکھ کر علماء کو فتوے کے لئے بلایا۔ چنانچہ سب نے کھا کہ اس مرد نے خانہ کعبہ کے نزدیک بہت بڑی خیانت کی ہے لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، ان میں سے ایک شخص نے کھا: اس کا ہاتھ کاٹنے سے پھلے امام حسین(ع) کا نظریہ بھی معلوم کرلیں۔ جس وقت امام حسین علیہ السلام کو خبر ملی آپ خانہ کعبہ کی طرف تشریف لائے۔ اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور بارگاہ رب العزت میں گریہ و زاری کی او ردعا کی اس مرد کا ہاتھ اس عورت سے الگ ہوجائے، (اور آپ کی دعا کی وجہ سے اس مرد کا ہاتھ الگ ہوگیا) لوگوں نے کھا: اس پر جرمانہ کیا جائے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: جب خداوندعالم نے اس کو بخش دیا تو تم کیا چاہتے ہو؟[۵۲]

آدھی رات میں ایک زندانی کی دعا

”عبد اللہ بن طاھر“ کی حکومت کے زمانہ میں راستوں اور سڑکوں پر نا امنی پھیل گئی اور لوگوں کا گزرنا مشکل ہوگیا۔ امیر عبد اللہ نے بعض لوگوں کو سڑکوںپر تعینات کیا تاکہ راستہ چلنے والوں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ ایک راستہ سے دس چوری کی واردات میں ملوث لوگوںکو پکڑ کر دار الحکومت کی طرف بھیج دیا گیا، لیکن ان میں سے ایک رات کے وقت بھاگ نکلا۔ داروغہ نے سوچاکہ شاید امیر عبد اللہ بن طاھر یہ سوچے کہ اس نے رشوت لے کر اس کو بھاگنے کا موقع دیدیا ہے، لہٰذا اس کے بدلے میں اسی کو سز ا ہوگی، روئی دُھننے والے کو جو اپنی زندگی اسی کام سے چلاتا تھا اور ایک شھر سے دوسرے شھر میں جاکر یہ کام کیا کرتا تھا، اس بے گناہ کو پکڑ لیا اور چوروں کی تعدا پوری کرنے کے لئے ان میں شامل کردیا، ان دس چوروں کو امیر عبد اللہ بن طاھر کے پاس حاضر کیا گیا، اس نے حکم دیا کہ ان سب کو قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔

ایک رات پولیس کا ایک سپاھی قیدخانہ آیا اور دو چوروں کو پھانسی دینے کے لئے لے گیا، اس موقع پر اس روئی دُھننے والے نے کھا: میرے بچے سوچ رھے ہوں گے کہ میں کسی جگہ کام کے لئے رک گیا ہوں لیکن ان کو کیا خبر ظالموں نے مجھے بے گناہ پکڑ کر چوری کے الزام میں قیدخانہ میں ڈال دیا ہے۔ اسی رات کے وقت اٹھا دو رکعت نماز پڑھی اور سرسجدہ میں رکھ کر بارگاہ الٰھی میں راز و نیاز اور دعا کرنے لگا۔

اسی رات میں عبد اللہ بن طاھر نے خواب دیکھا کہ اس کا تخت چار بار زمین پر گرا، اٹھا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر سوگیا، ایک بار پھر اس نے خواب میںدیکھا کہ چار سانپ اس پر حملہ کررھے ہیں اور اس کے تخت کونیچے گرادیا ہے؛ بیدا رھوا، اپنے خادموں کو بلایااورکھا: کسی مظلوم نے اس وقت بارگاہ الٰھی میں شکایت کی ہے اس کو تلاش کیا جائے، بہت زیادہ تلاش کرنے کے بعد قیدخانہ میں پھنچے تو اس روئی دُھننے والے کو عجیب و غریب عالم میں دیکھا اس کو امیر کے پاس لایا گیا، اس نے سارا واقعہ بیان کیا، جب معاملہ واضح ہوگیا تو امیر عبد اللہ نے حکم دیا کہ اس دُھونے کو دس ہزار دینار سے نوازا جائے، اور اس سے کھا: میری تم سے تین خواھشیں ہیں: ۱ ۔ مجھے معاف کردو۔ ۲ ۔ اس تحفے کو قبول کرلو۔ ۳ ۔ جب بھی کوئی حاجت ہو تو میرے پاس چلے آنا، تاکہ تمھاری حاجت روائی کردوں۔

اس دُھونے نے کھا: میں آپ کی تین خواھشوں میں سے دو کو قبول کئے لیتا ہوں، آپ کو معاف کرتا ہوں اور اس تحفہ کو قبول کرتا ہوں، لیکن تیسری خواھش کو ہرگز قبول نہیں کرسکتا؛ کیونکہ یہ واقعاً بڑی بیوقوفی ہوگی کہ اس بارگاہ کو چھوڑدوں جس نے میرے نالہ و فریاد کے ذریعہ تیری حکومت کی چولیں ہلادیں اور ایک ضعیف و کمزور کی بارگاہ میں اپنا سر تسلیم خم کرلوں!!

پالنے والے! تیری بارگاہ میں میری التجا ہے کہ میرے گناھوں سے درگزر فر ما، اور توفیق دے کہ آئندہ میں گناھوں سے دور رھوں، اور تیری عبادت خلوص کے ساتھ انجام دوں، اور میرے اعضاء و جوارح کو طاقت دے تاکہ میں تیری اور تیرے بندوں کی خدمت کرسکوں، میرے دل کو اپنے عشق سے مالا مال کردے، میری روحی اور فکری بیماریوں کا علاج فرما، آخرت میں اپنے محبوب بندوں کی شفاعت اور ان کی ہم نشینی میرے نصیب میں لکھ دے۔ اے میرے محبوب اور میری تمام امید! یھی میری آرزو ہے، لہٰذا میری تمناؤں کو پورا کردے اور میری امید کو مایوسی میں تبدیل نہ کر، اے صاحب فضل و کرم۔

منقول ہے کہ ایک شخص حالت احتضار میںتھا، رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس سے کھا: اپنے آپ کو کس حالت میں پاتے ہو؟ تو اس نے کھا: یا رسول اللہ (ص)اپنے گناھوں سے خوف زدہ ہوں اور خدا کی رحمت کا امیدوار ہوں۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: یہ چیز کسی کے دل میں جمع نہیں ہوگی مگر یہ کہ خداوندعالم جس سے وہ خوف رکھتا ہو اس سے محفوظ کردے گا اورجس چیز کی امید رکھتا ہوگا اس کو پوری کردے گا۔

پالنے والے! تیری بارگاہ میںمیری بے جا آرزو نہیں ہے اور تیری بارگاہ میںبے جا آرزوئیں نہیں ہےں۔ تو نے خود قرآن مجید میں اپنے کو غفّار و غفور و شکور و کریم اور ارحم الراحمین و دیگر صفات سے تعارف کرایاھے۔ میں اگرچہ اپنے گناھوں کی نسبت خوف زدہ ہوں لیکن پھر بھی تیرے فضل و کرم کا امید وار ہوں۔ اگر دعائے کمیل کے ساتھ تیری بارگاہ میں آیا ہوں تو اس میں بھی تیرا لطف و کرم اور بزرگی سبب بنی ہے کہ میں تیری خدمت میں حاضر ہوں۔ میں اس بات کا یقین رکھتا ہوں کہ تیرے درسے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ نہیں جاتا، تیری بارگاہ میں کسی کو مایوس نہیں کیا جاتا، اس دروازے سے کسی کو بھگایا نہیں جاتا۔

پالنے والے! تو نے حر بن یزید ریاحی کو ان عظیم گناھوں کے باوجود، فرعون کی بیوی کو ایمان لانے کے بعد فضیل بن عیاض کو توبہ کرنے کے بعد اور اسی طرح ہزارھا دوسرے گناھگاروں کوان کی توبہ کے بعد بخش دیا اور ان کو اجر و ثواب سے نوازا؛ لہٰذا میں کس طرح تیری بارگاہ سے ناامید ہوکر پلٹ جاؤں، حالانکہ تو نے خود قرآن مجید میں مایوسی کو کفر کے برابر مانا ہے![۵۳]

باران رحمت

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے آباء و اجدا سے نقل کرتے ہیں: اہل کوفہ حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارش نہ ہونے کی شکایت کی، اور عرض کیا: ہمارے لئے خدا سے بارش کی دعا فرمائےے۔ چنانچہ آپ نے امام حسین علیہ السلام سے فرمایا: خدا سے بارش کی دعا کرو۔ امام حسین علیہ السلام نے خدا کی حمد و ثنا کی اور رسول خدا پر درود بھیجا اور خدا کی بارگاہ میں عرض کیا: اے خیر و برکت نازل کرنے والے! ہمارے لئے باران رحمت نازل فرما، تاکہ تیرے بندوں کو مشکلات سے نجات مل جائے، اور مردہ زمینیں زندہ ہوجائیں، آمین یا رب العالمین۔

جیسے ہی امام حسین علیہ السلام کی دعا ختم ہوئی اچانک بارش شروع ہوگئی، اور اتنی بارش ہوئی کہ اطراف کوفہ کے رھنے والے بعض لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کھا: اتنی بارش ہورھی ہے کہ پانی کی موجیں سیلاب میں تبدیل ہوا چاہتی ہیں۔[۵۴]

پالنے والے! تونے کوفہ والوں کے لئے اپنے خاص بندے کی دعا کے صدقہ میں باران رحمت سے سیراب کردیا، ہمارے اوپر بھی رحمت و مغفرت کی بارش فرما، تاکہ ہمارے گناھوں کی گندگی اور کثافت ہمارے نامہ اعمال سے دُھل جائے اور ہمیں گناھوں کے بوجھ سے نجات عطا فرما، اور معنویت کا اوڑھنا اور عبادت و بندگی کے درخت سے ہمارے وجود کی سر زمین میں جان ڈال دے،کیونکہ ہم تیری امید پر ہی تیری بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں، عذر خواھی اور توبہ کرتے ہوئے تیری چوکھٹ پر سر جھکائے ہوئے ہیں اور تیرے در پر جھولی پھیلائے ہوئے ہیں اور اپنی حاجتوں کو تیرے ہی حضور میں لے کر آئے ہیں، اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اپنے لطف و کرم کی بدولت ہمیں بخش دے گا۔

کرم کی امید

ایک جوان ایک گلی سے گزر رھا تھا، ایک درخت پر ایک شکار کو دیکھا اور اس پر ایک تیرچلایا، وہ تیر اس پرندہ کو نہیں لگا بلکہ اس سے گزر کر باغ کے مالک کے لڑکے کو جالگا، اور وہ مرگیا،باغ کے اطراف سے ہی بعض لوگوں کو پکڑلیا گیا اور آپس میں جھگڑا ہونے لگا، وہ جوان بھی وھاں پھنچا، اور سوال کیا واقعہ کیا ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ یہ لڑکا کسی شکاری کے تیر سے مرگیا ہے، اس نے کھا: تیر اٹھا کر لایا جائے تاکہ میں اس کو دیکھ کر فیصلہ کروں۔ تیر لایا گیا تو اس جوان نے کھا: اگر میں فیصلہ کروں تو کیا تم ان لوگوں کو چھوڑدوگے؟ تو اس باغ کے مالک نے کھا: جی ہاں۔ تب اس جوان نے کھا: یہ تیر میں نے شکار کے لئے چلایا تھا لیکن اس جوان کو جا لگا، میں اس کا قاتل ہوں، جو بھی کرنا چاھو میں حاضر ہوں۔ اس لڑکے کے غم زدہ باپ نے کھا: اے جوان جب مجھے تیری غلطی کے بارے میں علم ہوگیا ہے تو پھر تیرا اعتراف و اقرار کیا معنی رکھتا ہے؟ تو اس جوان نے کھا: تمھارے کرم کی امید، کہ اگر میں اقرار کرلوںتو تم مجھے معاف کردوگے۔ یہ سن کر اس باپ نے اس جوان کو معاف کردیا۔[۵۵]

اے اکرم الاکرمین! اب ہم تیرے بے نھایت کرم کے امیدوار ہیں تواضع و انکساری کے ساتھ اپنے گناھوں کا اقرار کرتے ہیں اور اپنی معصیت اور غلط کاموں کا اعتراف کرتے ہیں۔(لہٰذا تو بھی ہمارے گناھوں کو بخش دے۔)

”یٰا سَریعَ الرِّضٰا،اغْفِرْ لِمَنْ لاٰیَمْلِکُ الَّا الدُّعٰاءَ،فَانَّکَ فَعّٰالٌ

لِمٰا تَشٰاءُ،یٰا مَنِ اسْمُهُ دَوٰاءٌ،وَذِکْرُهُ شِفٰاءٌ،وَطٰاعَتُهُ غِنیً ارْحَم

ْ مَنْ رَاسُ مٰالِهِ الرَّجٰاءُ،وَسِلاٰحُهُ الْبُکٰاءُ،یٰا سٰابِغَ النِّعَمِ،یٰادٰافِعَ

النِّقَمِ،یٰا نُورَالْمُسْتَوْ حِشینَ فِي الظُّلَمِ ،یٰا عٰالِماً لاٰ یُعَلَّمُ،صَلِّ

عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَافْعَلْ بِي مٰاانْتَ اهْلُهُ،وَ

صَلَّی اللّٰه عَلٰی رَسُولِهِ وَالْائِمَّةِ الْمَیٰامینَ

مِنْ آلِهِ ،وَسَلَّمَ تَسْلیماً کَثیراً“

”اے بہت جلد راضی ہوجانے والے! اس بندہ کو بخش دے جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نہیں ہے کہ توھی ہر شے کا صاحب اختیار ہے۔ اے وہ پروردگار جس کانام دوا،جس کی یاد شفا اور جس کی اطاعت مالداری ہے، اس بندہ پر رحم فرماجس کا سرمایہ فقط امیداور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے، اے کامل نعمتیں دینے والے ۔ اے مصیبتوں کو رفع کرنے والے اور تاریکیوں میں وحشت زدوں کو روشنی دینے والے ۔محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور میرے ساتھ وہ برتاو کر جس کا تواہل ہے۔اپنے رسول اور ان کی مبارک ”آل ائمہ معصومین(ع)“پر صلوات و سلام فراوان نازل فرما “۔

آسمانی اور ملکوتی حقائق

اس بندے سے خدا کا بہت جلد راضی ہوجانا جس پر خدا ناراض ہوگیا ہو اور اس کی بارگاہ سے دھتکار دیا گیا ہو اور اس توبہ و انابہ اور دعا کے ذریعہ اس کی بارگاہ میں متوسل ہوا ہو ، اس کی وجہ خداوندکریم کی بے نھایت رافت و مھربانی اور اس کا لطف و کرم ہے۔ اسی وجہ سے اگر کوئی شخص اپنی پوری زندگی گناھوں میں غرق رھا ہو اور کوئی رات بھی ایسی نہ گزری ہو جس میں گناہ نہ کیا ہو، صرف ایک پشیمانی ، شرمندگی اور توبہ کے ذریعہ اس کو بخش دیتا ہے اور اس کے تمام گناھوں سے چشم پوشی کرلیتا ہے، او راس کے قلیل عمل ہی کو قبول کرلیتا ہے اور اس کو اپنی خاص رحمت میں شامل کرلیتا ہے!

اسی وجہ سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام ”یا سریعَ الرضا“ کے فقرے کے بعد بارگاہ الٰھی میں عرض کرتے ہیں: پالنے والے اس کو بخش دے جس کے پاس دعا کے علاوہ کچھ نہیں ہے؛ کیونکہ حقیقی دعا او رگریہ و زاری ؛ فقر و نداری، ذلت و مسکنت اور بے چارگی پر دلالت کرتی ہیں اور یہ کہ دعا کرنے والے کے پاس طاعت و عبادت اور خیرات کا ذخیرہ نہیں ہے جس کے بل بوتے پر مستحق رحمت ہوں، اپنے سے نفع و نقصان کو دور نہیں کرسکتا اور دعا و زاری کے ساتھ جو تیری بارگاہ میں حاضر ہوں یہ بھی تیری ہی توفیق اور لطف کے سبب ہے، درحقیقت یہ دعا اور گریہ و زاری تیری ہی رحمت کا ایک جلوہ ہے، کہ اگر تو مجھ پر نظر لطف نہ کرتا تو میں تیری بارگاہ میں حاضر نہ ہوتا اور میں تیری بارگاہ میں دعا کے لئے زبان نہ کھولتا، دل و جان سے تیری طرف متوجہ نہ ہوتا، اور اپنی آنکھوں سے آنسو نہ بھاتا۔

ایسا بندہ تیری رحمت و مغفرت اور محبت اور تیری چاہت کا سزاوار ہے، اور اگر تضرع و انکساری اور آہ وفغاں کے ساتھ تیری ہی بارگاہ میں عرض کیا جائے:

”کریم لوگ فقیر اور نادار سے نہیں پوچھتے کہ کیا لائے ہو بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر اس سے سوال کرتے ہیں کہ تمھیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے“۔؟

اور یہ بھی کھاجائے: پالنے والے جیسا کہ تو نے فرمایا ہے کہ تم میری طرف ایک قدم بڑھاؤ؛ میںتمھاری طرف دس قدم بڑھاؤںگا، اے میرے مھربان مولا و آقا! میں تو اس قدر لاچار و مضطر ہوں اور ایسا زمین گیرھوں کہ تیری طرف ایک قدم بڑھانے کی بھی طاقت نہیں رکھتا، اے میرے مولا! میں غریب و نادار اور ہوائے نفس کا اسیراورشیطانی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں کہ میری طرف توھی ایک قدم اوربڑھادے اور ان سے نجات دیدے تاکہ تیری رحمت و مغفرت میرے شامل حال ہوجائے۔

اے اکرم الاکرمین !(اے کریموں کے کریم!) کہتے ہیں: تیرے عاشق بندے نے جناب سلمان فارسی کے کفن پر یہ اشعار لکھے:

وَ فَدْتُ عَلَی الکَریمِ بِغَیرِ زَادٍ

مِنَ الحَسَناتِ وَالقَلبِ السَّلِیمِ

وَحَملُ الزّادِ اقبَحُ کُلّ شَیءٍ

اِذَاکاَنَ الوُفُودُ عَلَی الکَرِیمِ [۵۶]

(خالی ہاتھ، اور نیکیوں سے خالی کشکول اور مریض دل کے ساتھ کریم کے یھاں مھمان ہوا ہوں،اور کریم کے یھاں مھمانی میں جاتے وقت کھانا پینا لے کر جانابہت زیادہ قبیح ہے۔)

پالنے والے! میں تو تیری بارگاہ میں خالی ہاتھ آیا ہوں اور میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تیری شان کے مطابق ہو، اس محتاج فقیر کو اپنے خزانہ کرم سے اس قدر نوازدے کہ تمام گناہ بخش دئے جائیں، اور اس کے بدن پر آتش دوزخ حرام ہوجائے اور جنت الفردوس کا دروازہ کھل جائے اور سعادت دنیا و آخرت وتیری مرضی و خوشنودی حاصل ہوجائے۔

اے وہ ذات پاک! جو ہر کام کو جب چاہتی ہے اپنی حکمت و مصلحت اور عدل و انصاف اور رحمت کی بنا پر انجام دے لیتی ہے،اور جس کام کو انجام دیتی ہے کسی کو چون چرا کرنے کا حق نہیں ہے۔

اے وہ ذات! جس کا نام ہمارے درد کی دوا ہے،اس مقام پر علماء عرفان اور اہل حقیقت بزرگوں نے بہت سے اھم مطالب بیان کئے ہیں، ان میں سے بعض کا کھنا ہے: شاید اس نام سے مراد یھی الفاظ ہوں کہ جن کی برکت اور خواص بہت زیادہ ہیں، جن میں سے ایک اثر یہ ہے کہ جب دعا کرنے والا عاشق اپنے محبوب کو اس کے اسماء حسنیٰ اور دیگر ناموں سے پکارتا ہے تو اس کا محبوب اپنے بہترین نام کو دیکھ کر اپنے دوست کو جواب دیتا ہے۔

( وَلِلَّهِ الْاسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوهُ بِهَا ) ۔“[۵۷]

”اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہےں لہٰذا اسے انھیں کے ذریعہ پکارو“۔

جس وقت ایک محتاج بندہ اس کے سامنے دست دعا دراز کرے اس امید میں کہ رحمت خدا اس پر نازل ہوگی، دلسوز انداز میں اپنی پاک زبان سے چاھے خلوت ہو چاھے بزم، چاھے دوستوں کے درمیان ہو یا تنھائی کا عالم ہو، فریاد کرتا ہے:” یا الله“،” یا رحمن“،” یا کریم“، ”یا ربّ“، ”یا ارحم الراحمین“،تو پھر محال ہے کہ خدائے مھربان جیسا کریم خدا اس کی دعا کو مستجاب نہ کرے۔

روایت میں منقول ہے: ”اسماء اور نام الٰھی“ سے امام معصوم، ولی کامل اور جامع صفات انسان مراد ہے، جو اسماء کے معنی و مفھوم کے مکمل طور پر جلوہ گاہ ہیںکہ جب کوئی درد مند اور روحانی و باطنی بیماریوں میںمبتلا ہوجاتا ہے اس کے ذریعہ علاج ہوتا ہے۔

جی ہاں! انسانِ کامل(نبی اور امام) کے وسیلہ سے ہی انسان کو ہدایت اور سعادت کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور شرک و کفر و نفاق اور اخلاق و عمل کی بیماری سے نجات مل جاتی ہے۔

انسانِ کامل ”اسم اعظم“ھے جو اس کائنات کی چکی میں محور کا کام کرتا ہے جیسا کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں منقول ہے:

وَهو الذِی بِبَقَائهِ بَقِیْتِ الدُّنیا، وَ بِیُمْنِهِ رُزِقَ الوَرَی، وَ بِوَجُوْدِهِ ثَبَتَتِ الٴَارْضُ وَ السَّمَاءُ “۔

”دنیا ان کے وجود کی برکت سے باقی ہے اور انسانوں کی روزی انھیں کی برکت سے بندوں تک پھنچتی ہے اور زمین و آسمان اسی کی ذات بابرکت کے وجود سے باقی ہےں“۔

بھر حال عاشق، اپنے معشوق کے نام اور وجہ تسمیہ(یعنی وجہ اسم گذاری)سے آگا ہی رکھتا ہے اور اسی کے نام کے وسیلہ سے اس کی بارگاہ میں مشرف ہوتا ہے،او راپنے دردو پریشانی کا اسی کی نظر لطف سے علاج کرتا ہے، اور اس کے معشوق کا نام لینے اور اس کا نام سننے سے بہتر اس دنیا کی کوئی چیز اس کے لئے لذت بخش نہیں ہے۔

روایت میںمنقول ہے کہ جناب ابراھیم خلیل خدا کے پاس بہت ساری گوسفند تھےں ، بعض فرشتوں نے یہ گمان کیا کہ ان کی دوستی اور مال و دولت کی دوستی میں کوئی رابطہ ہے۔ خداوندعالم نے ان کو متوجہ کرنے کے لئے جناب جبرئیل امین کو ایک بلندی پر بھیجا تاکہ اس طرح خدا کو پکارے:”سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلاٰئِکَةِ وَالرُّوْحِ“۔

حضرت ابراھیم نے جیسے ہی اپنے محبوب کا نام سنا تو بے تاب ہوگئے اور زبان حال سے کھنے لگے:

این مطرب از کجاست کہ برگفت نام دوست

تا جام و جامہ بذل کنم بر پیام دوست

(یہ آواز کھاں سے آرھی ہے یہ تو میرے محبوب کو پکارا جارھا ہے، میں اپنے محبوب کے پیام پر جان قربان کردوںگا۔) آواز کے سھارے اس بلندی کی طرف دوڑے لیکن کوئی نہیں ملا، آپ نے آواز دی : اے بہترین شیرین زبان والے! اگر ایک بار اور میرے معشوق کا نام اپنی زبان پر جاری کردے تو میں اپنی آدھی بھیڑ بکریاں تجھے دیدوں، یہ سن کر جناب جبرئیل نے ایک بار اور ”سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلاٰئِکَةِ وَالرُّوْحِ“زبان پرجاری کیا، جناب خلیل شدت اشتیاق سے وجد میں آگئے، اور جب عام حالت پر پلٹے تو آواز دی : اگر ایک بار اور میرے محبوب کا نام زبان پر جاری کردے تو میں تمھیںساری بھیڑ بکریاں بخش دوں گا،جناب جبرائیل نے ایک بار اور ”سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلاٰئِکَةِ وَالرُّوْحِ“ کھا، اس بار جناب خلیل اللہ نے اپنے محبوب کا نام سنا،تو ایک فریاد بلند کی اور کھا: اب میرے پاس کچھ نہیں جس کو اپنے محبوب کے نام پر نثار کروں آ اور میرے وجود کا مالک ہوجا!!

اے میرے مولا و آقا ! اے میرے محبوب! جس کا سرمایہ امید، اور ساز و سامان گریہ و زاری ہو، اس بندہ پر رحم کر تاکہ تیری رحمت کی بدولت ہر طرح کی ناداری سے نجات مل جائے اور تیرا نام اس کے درد کی دوا بن جائے تیری یاد اس کے درد کے لئے شفابن جائے اور تیری عبادت اس کی توانگری کا باعث بن جائے۔

” یا الله“، ”یا ربّ“،”یا کریم“، ” یا حبیب“،”یاانیس“،”یا مونس“،”یا اکرم الاکرمین“،”یا ارحم الراحمین“، ”یا سابغ النعم“، ”یا دافع القنم“، ”یا نور المستوحشین فی الظلم“ ، ”یا عالماً لایعلم“،صلّ علی محمد و آل محمد“۔

پایان شرح دعائے کمیل

۲۵ شوال ، مطابق روز شھادت امام برحق مصحف ناطق حضرت امام صادق علیہ السلام

مطابق ۱۰۱۰ ۱۳۸۱ ھ ش۔


فھرست آیات

آیات - - سورہ - - صفحہ

۱”( إِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَة ) “ سورہ آل عمران آیت ۳۲ ۔

۲ ” ۔۔۔( رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ) ۔۔۔“ سورہ آل عمران آیت ۱۹۱ ۔

۳”( فَنَجْعَل لَعْنَةَ اللّهِ عَلَی الْکاَذِبِیْنَ ) “ سورہ آل عمران آیت ۶۱ ۔

۴”( لِلَّذِینَ احْسَنُوا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اجْرٌ ) ۔۔۔۔ سورہ آل عمران آیت ۱۷۲ ۔

۵” ۔۔۔( وَاللّهُ یُحِبُّ الْمُحسِنینَ ) “ سورہ آل عمران آیت ۱۳۴ ۔

۶”( وَسَارِعُوا إِلَی مَغْفِرَةٍ مِنْ ) ۔۔۔ سورہ آل عمران آیت ۱۳۳ ۔

۷ ۔”( وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ امَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی ) ۔۔۔ سورہ آل عمران آیت ۱۰۴ ۔

۸”( وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ ) ۔۔۔ سورہ آل عمران آیت ۱۸۹ ۔

۹”( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی ) ۔۔۔ سورہ ابراھیم آیت ۳۹ ۔

۱۰”( وَلَئِنْ کَفَرتُم انَّ عَذابِی لَشَدیدٌ ) ۔۔۔ سورہ ابراھیم آیت ۷ ۔

۱۱ ”( یَفْعَلُ اللهُ مَا یَشَاءُ ) “ ۔۔۔۔ سورہ ابراھیم، آیت ۲۷ ۔

۱۲ ”( قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ) “ سورہ اخلاص آیت ۱

۱۳( إِنْ احْسَنتُمْ احْسَنتُمْ لِانفُسِکُمْ ) ۔۔۔ سورہ اسراء آیت ۷

۱۴”( اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ ) ۔۔۔۔ سورہ اسراء آیت ۳۰ ۔

۱۵”( قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ ) ۔۔۔ سورہ اسراء آیت ۸۸

۱۶” ۔۔۔( وَإِن مِّن شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ ) ۔۔۔ سورہ اسراء آیت ۴۴ ۔

۱۷”( وَاوْفُوا بِالْعَهْدِ انَّ الْعَهْدَ کاَنَ ) ۔۔۔ سورہ اسراء آیت ۳۴ ۔

۱۸”( رَبَّنَا ظَلَمْنَا انفُسَنَا وَإِن لَّم ) ۔۔۔ سورہ اعراف آیت ۲۳ ۔

۱۹( سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَیْثُ ) ۔۔۔۔ سورہ اعراف آیت ۱۸۲

۲۰”( قَالَ انظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ۔“۔۔۔۔ سورہ اعراف آیت ۱۴ ۔

۲۱”( وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ ) ۔۔۔ سورہ اعراف آیت ۵۸ ۔

۲۲”( وَالَّذِینَ یُمَسِّکُونَ بِالْکِتَابِ ) ۔۔۔ سورہ اعراف آیت ۱۷۰

۲۳” ۔۔۔( وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ) ۔۔۔ سورہ اعراف آیت ۱۵۶ ۔

۲۴”( وَلِلَّهِ الْاسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوهُ بِهَا ) ۔“ سورہ اعراف آیت ۱۸۰ ۔

۲۵”( انِّی مَسَّنِیَ الضُّرُّوَانْتَ ارحَمُ الرَّاحِمِینَ ) سورہ انبیاء آیت ۸۳ ۔

۲۶” ۔۔۔( رَبِّ لَا تَذَرْنِی فَرْداً وَ انْتَ خَیْرُ ) ۔۔۔ سورہ انبیاء آیت ۸۹ ۔

۲۷” ۔۔۔( فَنادَیٰ فِی الظُّلُماتِ ان لاَّ ) ۔۔۔ سورہ انبیا ء آیت ۸۷ ۔ ۸۸ ۔

۲۸” ۔۔۔( وَان کاَنَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِن خَرْدَلٍ ) ۔۔۔ سورہ انبیاء آیت ۴۷ ۔

۲۹”( إِنَّا اعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ سَلَاسِلَاْ وَا ) ۔۔۔ سورہ انسان(دھر)آیت ۴ ۔

۳۰”( إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ امْشَاجٍ ) ۔۔۔ سورہ دھر آیت ۲ ۔

۳۱” ۔۔۔( فَقُل رَّبُّکُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ ) ۔۔۔ سورہ انعام آیت ۱۴۷ ۔

۳۲” و( َإِذَا جَائَکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ ) ۔۔۔ سورہ انعام آیت ۵۴ ۔

۳۳”( وَکَذَلِکَ نُرِی إِبْرَاهِیمَ مَلَکُوتَ ) ۔۔۔ سورہ انعام آیت ۷۵ ۔

۳۴”( وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ م ) ۔۔۔ سورہ انعام آیت ۸۹ ۔

۳۵” ۔۔۔( وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفورٌ رَحیمٌ ) ۔۔۔ سورہ انفال آیت ۶۹ ۔

۳۶” ۔۔۔( وَاصْبِرُوا اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِینَ ) ۔ سورہ انفال آیت ۴۶ ۔

۳۷( إِنَّ الابْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ) ۔۔۔ سورہ انفطار آیت ۱۳ ، ۱۴ ۔

۳۸”( وَاِنَّ عَلَیْکُم لَحَافِظینَ کِراماً ) ۔۔۔ سورہ انفطار آیت ۱۰ تا ۱۲ ۔

۳۹”( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ هَاجَرُوا ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۲۱۸ ۔

۴۰”( اشَدُّ حُبّاً لله ) “ سورہ بقرہ آیت ۱۶۵ ۔

۴۱”( إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) “ بقرہ آیت ۱۷۳،۱۸۲،۱۹۲،۱۹۹ ، مائدہ ۹۳ ۔

۴۱ ”( انَّ اللهَ غَفُورٌ حَلِیمٌ ) “ سورہ بقرہ آیت ۲۳۵ ۔

۴۲”( الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۲۷ ۔

۴۳” ۔۔۔( کُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِینَ ) ۔“ سورہ بقرة آیت ۶۵ ۔

۴۴”( وَإِذَا سَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۱۸۶ ۔

۴۵ ”( وَإِذَا سَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۱۸۶ ۔

۴۶”( وَإِذَا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قَالُوا ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۱۴ ۔

۴۷”( وَإِنْ کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۲۳

۴۸”( وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ) “ سورہ بقرہ آیت ۱۰۵ ۔

۴۹”( وَاللهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ یَشَاءُ ) “ سورہ بقرہ آیت ۱۰۵ ۔

۵۰”ِ( وَاللهُ یَدْعُو إِلَی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ ) “ سورہ بقرہ آیت ۲۲۱ ۔

۵۱”( وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِیمَ إِلاَّ ) ۔۔۔ سورہ بقرة آیت ۱۳۰ ۔

۵۲”( یَسْالُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِر ) ۔۔۔ سورہ بقرہ آیت ۲۱۹ ۔

۵۳”( وَاللهُ رَووفٌ بِالْعِبَادِ ) “ سورہ بقرہ آیات ۲۰۷ ۔

۵۴”( ارْجِعِیٓ اِلَیٰ رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً ) “ سورہ فجر آیت ۲۸ ۔

۵۵”ٰ( یاایُّهَا الَّذِینَ ء امَنُوا قُوٓا انْفُسَکُمْ ) ۔۔۔ سورہ تحریم آیت ۶ ۔

۵۶”( لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمُدُ ) “ سورہ تغابن آیت اول

۵۷”( إِنَّ اللهَ لٰایُضِیعُ اجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔“ سورہ توبہ آیت ۱۲۰

۵۸”( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ ) ۔۔۔ سورہ توبہ آیت ۷۱

۵۹ ”( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ ) ۔۔۔ سورہ توبہ آیت ۷۱ ۔

۶۰ ”( وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ ) ۔۔۔ سورہ توبہ آیت ۱۰۵ ۔

۶۱”( خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِیمَ ) ۔۔۔ سورہ حاقہ آیت ۳۰ تا ۳۳ ۔

۶۲”( مَا اغْنَی عَنِّی مَالِیَ هَلَک ) ۔۔۔ سورہ حاقہ آیت ۲۸ ۔ ۲۹ ۔

۶۳”( وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِیدٍ ) ۔“ سورہ حج آیت ۲۱ ۔

۶۴”( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۔۔۔ سورہ حجر آیت ۹ ۔

۶۵”( وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اجْمَعِینَ ) سورہ حجر آیت ۴۳ ۔ ۴۴

۶۶” ۔۔۔( وَاخْفِضْ جَناحَکَ لِلْمُو مِنینَ ) “ سورہ حجر آیت ۸۸ ۔

۶۷” ۔۔۔( إِنَّ اکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللهِ اتْقَاکُمْ ) ۔۔۔“ سورہ حجرات آیت ۱۳ ۔

۶۸”( یاَ ایُّهَا الَّذِینَ ء اَمنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیراً ) ۔۔۔ سور ہ حجرات آیت ۱۲ ۔

۶۹” إ( ِنَّ الْمُصَّدِّقِینَ وَالْمُصَّدِّقَات ) ۔۔۔ سورہ حدید آیت ۱۸ ۔

۷۰”( سَابِقُوا إِلَی مَغْفِرَةٍ مِن رَّبِّکُمْ وَجَنَّةٍ ) ۔۔۔ سورہ حدید آیت ۲۱ ۔

۷۱”( لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ یُحْیِ ) ۔۔۔ سورہ حدید آیت ۲ ۔

۷۲”( یَاایُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَآمِنُوا ) ۔۔۔ سورہ حدید آیت ۲۸ ۔

۷۳”( هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِیٴُ الْمُصَوِّرُ لَهُ ) ۔۔۔ سورہ حشر آیت ۲۴ ۔

۷۴” ۔۔۔( وَیَخافُونَ سُوٓءَ الحِسابِ ) “ سورہ رعد آیت ۲۱ ۔

۷۵”( یَمْحُواْ اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ ) ۔“ سورہ رعد آیت ۳۹ ۔

۷۶”( لِلَّهِ الْامْرُ مِن قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ ) ۔۔۔ سورہ روم آیت ۴ ۔

۷۷”( یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اخْبَارَهَا بِانَّ رَبَّکَ ) ۔۔۔ سورہ زلزال آیت ۴ تا ۵ ۔

۷۸”( انَّ اللّهَ لا یَهْدِی مَنْ هُوَ کاَذِبٌ کُفَّارٌ ) “ سورہ زمر آیت ۳ ۔

۷۹” ۔۔۔( الَیْسَ فِی جَهَنَّمَ مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِینَ ) ۔ سورہ زمر آیت ۶۰ ۔

۸۰”( انْ تَقُولَ نَفْسٌ یَاحَسْرَتَا عَلَی مَا فَرَّطْتُ ) سورہ زمر آیت ۵۶ ۔

۸۱”( قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ اسْرَفُوا عَلَی انْفُسِهِمْ ) سورہ زمر آیت ۵۳ ۔

۸۲”( قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ اسْرَفُوا عَلَی انْفُسِهِمْ ) سورہ زمر آیت ۵۳ ۔

۸۳” ۔۔۔( لاٰ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ ) ۔۔۔“ سورہ زمر آیت ۵۳ ۔

۸۴ ” ۔۔۔( لاٰ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ ) ۔۔۔“ سورہ زمر آیت ۵۳ ۔

۸۵”( یَخْلُقُکُمْ فِی بُطُونِ امَّهَاتِکُمْ خَلْقًا مِنْ ) ۔۔۔ سورہ زمر آیت ۶ ۔

۸۶” ۔۔۔( وَقَلِیْلٌ مِن عِبَادِیَ الشَّکورُ ) “ سورہ سبا آیت ۱۳ ۔

۸۷”( یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْارْضِ وَمَا یَخْرُجُ ) سورہ سبا آیت ۲ ۔

۸۸”( ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِینٍ ) ۔ سورہ سجدہ آیت ۸ ۔

۸۹”( رَبِّ هَبْ لِی حُکْمًا وَالْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ ) سورہ شعراء آیت ۸۳ ۔

۹۰”( قَد افْلَحَ مَن زَکَّاهَا وَ قَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ) ۔ سورہ شمس آیت ۹،۱۰ ۔

۹۱”( وَ قَدْ خَابَ مَن دَسَّا هَا ) ۔“ سورہ شمس آیت ۱۰ ۔

۹۲”( لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ وَهُوَ السَّمِیعُ البَصِیرُ ) ۔ سورہ شوری آیت ۱۱ ۔

۹۳”( وَلَوْبَسَطَ اللّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِی ) ۔۔۔ سورہ شوریٰ آیت ۲۷ ۔

۹۴”( وَمَا اصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا ) ۔۔۔ سورہ شوری آیت ۳۰ ۔

۹۵” ۔۔۔( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَهَبْ لِی مُلْکًا لاَ ) ۔۔۔ سورہ ص آیت ۳۵ ۔

۹۶”( إِذَا قِیلَ لَهُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ اللهُ یَسْتَکْبِرُونَ ) ۔“ سورہ صافات آیت ۳۵ ۔

۹۷” إ( ِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِینَ ) ۔“ سورہ صافات آیت ۱۲۲ ۔

۹۸”( سَلاَمٌ عَلَی مُوسَی وَهَارُونَ ) ۔“ سورہ صافات آیت ۱۲۰ ۔

۹۹”( یَوْمَئِذٍ لاَتَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلاَّ مَنْ ) “ سورہ طہ آیت ۱۰۹ ۔

۱۰۰”( خَلَقَ الإنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ) “ سورہ علق آیت ۲ ۔

۱۰۱”( إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَی عَنْ الْفَحْشَاءِ وَ ) ۔۔۔ سورہ عنکبوت آیت ۴۵ ۔

۱۰۲” ۔۔۔( ادْعُونِی اسْتَجِبْ لَکُمْ ) ۔۔۔۔“ سورہ غافر آیت ۶۰ ۔

۱۰۳”( وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی اسْتَجِبْ ) ۔۔۔ سورہ غافر(مومن)آیت ۶۰ ۔

۱۰۴”( فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعاً ) ۔“ سورہ فاطر آیت ۱۰ ۔

۱۰۵”( وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات ) ۔۔۔ سورہ فاطر آیت ۷ ۔

۱۰۶”( یَاایُّهَا النَّاسُ انْتُمْ الْفُقَرَاءُ إِلَی اللهِ و ) ۔۔۔ سورہ فاطر آیت ۱۵ ۔

۱۰۷”( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ ) ۔۔۔ سورہ فتح آیت ۲۹ ۔

۱۰۸”( وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْارْض ) ۔۔۔ سورہ فتح آیت ۱۴ ۔

۱۰۹”( إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا ) ۔۔۔ سورہ فرقان آیت ۷۰ ۔

۱۱۰” ۔۔۔( فَاوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللهُ سَیِّئَاتِهِمْ ) ۔۔۔ سورہ فرقان آیت ۷۰ ۔

۱۱۱ ”( قُلْ مَا یَعْبَا بِکُمْ رَبِّی لَوْلاَدُعَاؤُکُمْ ) ۔ سوہ فرقان آیت ۷۷ ۔

۱۱۲( ” وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنْ الْمَاءِ بَشَرًا ) ۔ سورہ فرقان آیت ۵۴ ۔

۱۱۳( ” إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) ۔۔۔ سورہ فصلت آیت ۸ ۔

۱۱۴”( ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَهِیَ دُخَانٌ ) ۔۔۔“ سورہ فصلت آیت ۱۱ ۔

۱۱۵”( حَتَّی إِذَا مَا جَائُوهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ ) ۔۔۔ سورہ فصلت آیت ۲۰ تا ۲۱ ۔

۱۱۶”( مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْهِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ ) ۔“ سورہ ق آیت ۱۸ ۔

۱۱۷ ”( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا ) ۔۔۔ سورہ ق آیت ۱۶ ۔

۱۱۸”( انَّ قَارونَ کانَ مِن قَوْمِ موسَیٰ فَبَغَیٰ ) سورہ قصص آیت ۷۶ ۔

۱۱۹”( اوْلَئِکَ یُؤْتَوْنَ اجْرَهُمْ مَرَّتَیْنِ بِمَا ) ۔۔۔ سورہ قصص آیت ۵۴ ۔

۱۲۰”( تِلْکَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُهَا ) ۔۔۔ سورہ قصص آیت ۸۳ ۔

۱۲۱” ۔۔۔( رَبِّ إِنِّی لِمَا انزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ ) سورہ قصص آیت ۲۴ ۔

۱۲۲” إ( ِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) ۔۔۔ سورہ کہف آیت ۳۰ ۔

۱۲۳ ”( مَا اشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ و ) ۔۔۔ سورہ کہف آیت ۵۱ ۔

۱۲۴ ”( إِنَّا انزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُورٌ ) “ سورہ مائدہ آیت ۴۴ ۔

۱۲۵”( تِلْکَ الدَّارُ الاخِرَةُ ) ۔۔۔“ سورہ قصص آیت ۸۳

۱۲۶”( عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ) ۔۔۔“ سورہ مائدہ آیت ۹۵ ۔

۱۲۷( ” فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاصْلَحَ ) ۔۔۔ سورہ مائدہ آیت ۳۹ ۔

۱۲۸”( قَدْ جَاءَ کُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِین ) ۔ سورہ مائدہ آیت ۱۵ ۔

۱۲۹”( وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا ) ۔۔۔ سورہ مائدہ آیت ۹ ۔

۱۳۰ ”( وَ لِلّٰهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی ) ۔۔۔ سورہ مائدہ آیت ۱۸ ۔

۱۳۱”( یَاا یُّهَا الَّذِیْنَ ء امَنُوا اوْفُوا بِالْعُقُودِ ) ۔“ سورہ مائدہ آیت اول۔

۱۳۲”( فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّینَ الَّذِینَ هُم عَن ) ۔۔۔ سورہ ماعون آیت ۴ ۔ ۶ ۔

۱۳۳”( کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَهِینَةٌ ) ۔۔۔ سورہ مدثر آیت ۳۸ ۔ ۴۸ ۔

۱۳۴”( یا اخْتَ هارُونَ ما کاَنَ ابُوکِ امْرَا ) ۔۔۔ سورہ مریم آیت ۲۸ ۔

۱۳۵”( کَلّا اِنَّهُم عَن رَبِّهِم یَوْمَئِذٍ لَمَحجُوبونَ ) ۔ سورہ مطففین آیت ۱۵ ۔

۱۳۶”( وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ ) .۔۔۔ سورہ مطففین آیت ۱ ۔ ۷ ۔

۱۳۷” ۔۔۔( لاَتَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُم ) ۔۔۔ سورہ ممتحنہ آیت ۱ ۔

۱۳۸”( وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ او ) ۔۔۔ سورہ غافر(مومن) آیت ۴۰ ۔

۱۳۹”( ثُمَّ انشَانَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ ) ۔۔۔ سورہ مومنون آیت ۱۴ ۔

۱۴۰”( فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلاَانسَابَ ) ۔۔۔ سورہ مومنون آیت ۱۰۱ ۔

۱۴۱”( وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَانْتَ خَیْرُ ) ۔۔۔ سورہ مو منون آیت ۱۱۸ ۔

۱۴۲”( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ ) ۔۔۔ سورہ مومنون آیت ۱۲ ۔

۱۴۳”( وَا مَا مَنْ خَافَ مَقامَ رَبِّهِ وِ نَهَیٰ ) ۔۔۔ سورہ نازعات آیت ۴۰ و ۴۱ ۔

۱۴۴” ا( ِٕنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ) “ سورہ نجم آیت ۳۲ ۔

۱۴۵” ۔۔۔( انَّهُ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِینَ ) “ سورہ نحل آیت ۲۳ ۔

۱۴۶” ۔۔۔( انَّهُ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِینَ ) “ سورہ نحل آیت ۲۳ ۔

۱۴۷” ۔۔۔( فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِینَ ) “ سورہ نحل آیت ۲۹ ۔

۱۴۸”( فَلَنُحْیَیَّنَهُ حَیَوٰةً طَیِّبَةً ) ۔ “ سورہ نحل آیت ۹۷

۱۴۹”( فِیْهِ شَفَاءٌ لِلنّٰاسِ ) “ سورہ نحل آیت ۶۹ ۔

۱۵۰”( وَاوْفُو ا بِعَهْدِ اللّٰهِ اذَا عَاهَدتُمْ ) ۔۔۔“ سورہ نحل آیت ۹۱ ۔

۱۵۱”( وَاللهُ اخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ امَّهَاتِکُمْ ) ۔ سورہ نحل آیت ۷۸ ۔

۱۵۲”( وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ) “ سورہ نحل آیت ۱۹ ۔

۱۵۳( ” إِنَّ الَّذِینَ یَاکُلُونَ امْوَالَ الْیَتَامَی ) ۔۔۔ سورہ نساء آیت ۱۰ ۔

۱۵۴” ا( ِٕنَّ اللهَ کَانَ تَوَّابًا رَحِیمًا ) “ سورہ نساء آیت ۱۶ ۔

۱۵۵” ا( ِٕنَّ اللهَ کَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ) ۔“ سورہ نساء آیت ۴۳ ۔

۱۵۶” ا( ِٕنَّ اللهَ کَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ) ۔“ سورہ نساء آیت ۴۳ ۔

۱۵۷”( إِنَّ اللهَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔“ سورہ نساء آیت ۲۳ ۔

۱۵۸ ” إ( ِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ ) ۔۔۔ سورہ نساء آیت ۳۱ ۔

۱۵۹”( الَّذِینَ یَبْخَلُونَ وَیَامُرُونَ النَّاسَ ) ۔۔۔ سورہ نساء آیت ۳۷ ۔

۱۶۰”( فَامَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَاعْتَصَمُوا ) ۔۔۔ سورہ نساء آیت ۱۷۵ ۔

۱۶۱”ْ( وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔“ سورہ نساء آیت ۲۵ ۔

۱۶۲”( وَمَنْ یُهَاجِرْ فِی سَبِیلِ اللهِ یَجِدْ فِی ) ۔۔۔ سورہ نساء آیت ۱۰۰ ۔

۱۶۳” ۔۔۔( رَبِّ لاَتَذَرْ عَلَی الْارْضِ مِنْ ) ۔۔۔ سورہ نوح آیت ۲۶ ۔

۱۶۴”( وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ) ۔۔۔ سورہ نوح آیت ۱۶ ۔

۱۶۵ ”( وَقَدْ خَلَقَکُمْ اطْوَارًا ) ۔“ سورہ نوح آیت ۱۴ ۔

۱۶۶”( رِجَالٌ لاَتُلْهِیهِمْ تِجَارَةٌ وَلاَبَیْعٌ عَنْ ) ۔۔۔ سورہ نور آیت ۳۷ ۔

۱۶۷”( یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ الْسِنَتُهُمْ وَایْدِیهِمْ ) ۔۔۔ سورہ نور آیت ۲۴ ۔

۱۶۸”( وَاقِمِ الصَّلَوٰةَ طَرَفَیِ النَّهارِ وَزُلَفاً مِنَ ) ۔۔۔ سورہ ہود آیت ۱۱۴ ۔

۱۶۹”( وَمَا مِن دآبَّةٍ فِی الارْضِ اِلاَّ عَلَی اللّٰه ) سورہ ہود، آیت ۶ ۔

۱۷۰”( الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی افْوَاهِهِمْ وَتُکَلِّمُنَا ) ۔۔۔ سورہ یس آیت ۶۵ ۔

۱۷۱” ۔۔۔إ( ِنَّ النَّفْسَ لَامَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا ) ۔۔۔ سورہ یوسف آیت ۵۳ ۔

۱۷۲” ۔۔۔( لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ ) ۔۔۔ سورہ یوسف آیت ۸۷ ۔

۱۷۳”( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِی ) ۔۔۔ سورہ یوسف آیت ۱۰۱ ۔

۱۷۴” ۔۔۔( قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ انفُسُکُم ) ۔۔۔“ سورہ یوسف آیت ۱۸ ۔

۱۷۵”( وَلاَتَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ إِنَّهُ لاَیَیْئَسُ ) ۔۔۔ سورہ یوسف آیت ۸۷ ۔

۱۷۶ ”( وَهُوَ ارْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) “ سورہ یوسف آیت ۶۴ ۔

۱۷۷”( قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ ) و۔۔۔ سورہ یونس آیت ۳۱ ۔


فھرست احادیث

ابْلَغُ مَا تُسْتَدَرُّ بِهِ الرَّحْمَةُ انْ تُضْمِرَ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلاماِحذَرْمُجَالَسةَ قَرینِ السّوءِ،فَاِنَّهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اِحذَرْ مِنَ النَّاسِ ثَلاثَةً:الخائِنَ ۔۔۔۔ حضرت صادق علیہ السلام

إِذَا الْتَبَسَتْ عَلَیْکُمُ الْفِتَن ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

إِذَا تَابَ العَبْدُ المُومِنُ تَوبَةً نَصوحاً ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِذَا تَابَ العَبْدُ المُومِنُ تَوبَةً نَصوحاً ۔۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

اِذَا ارادَ احَدُکُم انْ لَایَسالَ رَبَّهُ شَیْئاً ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِذَا ارَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَیْراً فَاذْنَبَ ذَنْباً ۔۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

اَذِا رَغِبتَ فِی صَلاحِ نفسک ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اِذَا وَقَعَتِ اللُّقمِةُ مِن حَرامٍ فِی جَوف ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إرْ حَمْ نَفْسَکَ وَارْحَمْ خَلْقَ اللّهِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

إِرْضَ بِما قَسَمَ اللهُ لَکَ تَکُنْ غَنِیّاً“ حضرت امام صادق علیہ السلام

اَسْالُکَ مِنَ الآمَالِ اوفَقُ ( ه ) ا “۔۔۔ حضرت امام زین العابدین( ع)

إِسْتَحْیِ مِنَ اللَّهِ کَمَا تَسْتَحْیِی ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

اِسْتِعمالُ الامَانَةِ یَزِیدُ فِی الزِّرْقِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

إسمَحْ یُسمَحْ لَکَ “ حضرت رسول خدا (ص)

إِعْلَمُوا انَّهُ مَنِ اشْتَاقَ إِلَی الجَنَّةِ ۔۔۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام

افضَلُ الاعمَالِ اِیمَانٌ بِاللّٰه ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

افضَلُ العِبادَةِ الدُّعاءُ “۔۔۔ حضرت امام محمد باقر( ع)

افضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ ۔۔۔ حضرت رسول اکرم(ص)

آفَةُ الدِّینِ الحَسَدُ وَالعُجْبُ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

آفَةُ النَّفْسِ الوَلَهُ بِالدُّنْیَا “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

إقنَعْ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَکَ “۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

الامَانِیُّ تُعْمِی عُیونَ البَصَائِرِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اَلامَلُ خَادِعٌ غَارٌّ ضَارٌّ“ حضرت علی علیہ السلام

الامَلُ سُلْطَانُ الشَّیاطِینِ عَلَی ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الَامَلُ کَالسَّرَابِ یَغِرُّ مَن رَآه ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

إلٰ ( ه ) ی ! رَضاً بِقَضَائِکَ، صَبْراً ۔۔۔ حضرت امام حسین علیہ السلام

امَا تَ قَلبِی عَظیمُ جِنایَتی حضر ت امام سجاد علیہ السلام

امَّا عَلّامةُ التّائِبِ فَاربَعَةٌ: حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخافُ عَلَیْکُم ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ الِانسانَ اِذَا کَانَ فِی الصَّلاة ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

إِنَّ الَّذِی یَطْلُبُ مِنْ فَضْلٍ یَکُفُّ ۔۔۔ حضرت امام رضا علیہ السلام

إِنْتَقِمْ مِن حِرْصِکَ بِالْقُنوعِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اِنَّ تَقْوَی اللّٰهِ دَواءُ دَاءِ قُلوبِکُم ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

إِنَّ التَّواضُعَ یَزِیدُ صَاحِبَهُ رِفْعَةً ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إَنَّ الحَسَدَ یَا کُلُ الإِیمَانَ کَمَا ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إنَّ الدُّعاءَ ( ه ) ُو العِبادَةُ “ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا اصابَ مَالاً مِن ۔۔۔ حضرت امام محمد باقر (ع)

انّ الرَّجُلَ یُذنِبُ الذَّنبَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِن ارَدتَ انْ تَقَرَّ عَیْنُکَ وَتَنالَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِنَّ الرِّفْقَ لَمْ یُوضَعْ عَلی شَیْءٍ إِلَّا زَانَهُ “۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

انَّ اسْرَعَ الْخَیرِ ثَوَاباً البِرُّ وَان ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ سُوءَ الخُلُقِ لَیُفسِدُ العَمَلَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِنَّ العَبْدَ إِذا تَخَلَّی بِسَیِّدِهِ فِی ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ العَبْدَ لَیَبْلُغُ مِنْ سُوءِ خُلقِه ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ الْعَبْدَ لَیَدْعُو فَیَقُوْلُ اللهُ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

اِنَّ العبدَ لَیَمشِی فِی حَاجَةِ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِنَّ العَبْدَ لَیُومَرُ بِهِ إِلَی النَّارِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ اعْظَمَ المَثوبَةِ مَثوبَةُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

إِنَّ افْضَلَ النَّاسِ عَبْداً مَن ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ فِی جَهَنَّمَ لَوَادِیاً لِلْمُتُکَبِّرِیْنَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِنْ کاَنَ الَخَلفُ مِنَ اللهَ عَزَّ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِنَّ اکْثَرَ خَطَایَا ابْنِ آدَم ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّکَ لَن یُتَقَبَّلَ مِن ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اِنَّ لَا اِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ کَلِمةٌ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ لِلّٰهِ تَعَالی مائَةَ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ لِلّهِ عَزَّ وَجَلَّ اِثْنَی ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

اِنَّ اللّٰهَ تَبَارَکَ وَتَعَالی حَرَّم ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِنَّ اللهَ تَعالیَ یَقولُ لِلْمَلائِکَة ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ الجَنَّةَ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ یَومَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ اللهَ یَقولُ:لا یَزَالُ عَبدٌ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

إِنَّ مِنَ الغِرَّةِ بِاللهِ ان یُصِرّ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اوحَشُ الوَحشَةِ قَرینُ السُّوءِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

اوصِیکُم بِالصَّلاةِ وَحِفْظِهَا ،۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

آه مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وَبُعْدِ السَّفَرِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

آیاتُ القُرآنِ خَزَائِنُ فَکُلَّمَا ۔۔۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام

اِیّاکُم وَالکَسَلُ اِنَّ رَبَّکُم ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

إِیَّاکَ وَعَدوَاةَ الرِّجالِ ؛ حضرت امام صادق علیہ السلام

اِیّاکَ وَمُصَاحَبَةَ الشَّریرِ فَاِنَّهُ ۔۔۔ حضرت امام محمد تقی (ع)

بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْداً هُمَزَةً لُمَزَة ۔۔۔ حضرت امام محمد باقر (ع)

بِئْسَ الغَریمُ النَّومُ ؛یُفنِی قَصیرَ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

بِالعَفْوِ تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ“ حضرت علی علیہ السلام

البَخِیلُ مَنْ بَخِلَ بِمَا افْتَرَضَ ۔۔۔ حضرت امام موسیٰ کاظم (ع)

البَذَاءُ مِنَ الجَفَاءُ وفی النار ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

بُکاءُ العُیُونِ وَ خَشیَةُ القُلوبِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

تَخَلَّقُوا بِاخلاقِ اللهِ“ حضرت رسول خدا(ص)

تَعَرَّضْ لِلرَّحْمَةِ وَعَفْوِ اللهِ ۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام

تَعَرَّضُوا لِرَحْمَةِ اللهِ بِمَا ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

التَفْرِیطُ مُصِیبَةُ القَادِرِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

التَواضُعُ انْ تَرضَی مِنَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

ثَلاثٌ مَن لَم یَکُنَّ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

ثَلٰثٌ مَن کُنَّ فِیْهِ کَانَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

ثَمَرَةُ التَّفْرِیطِ النَّدامَةُ ،۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

ثَمَرَةُ العَقْلِ مُدَارَاةُ النَّاسِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

ثَمَنُ الجَنَّةِ العَمَلُ الصَّالِحُ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

ثَوابُ الجِ ( ه ) ادِ اعْظَمُ الثَّوابِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

ثَوابُ الصَّبرِ اعْلَی الثَّوابِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

ثَوابُ عَمَلِکُم افْضَلُ مِن ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الجَاهِلُ صَخْرَةٌ لَا یَنْفَجِرُ مَاوها، حضرت علی علیہ السلام

الجَاهِلُ لَا یَعْرِفُ تَقْصِیرَهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الجَاهِلُ مَیِّتٌ وَاِنْ کَانَ حَیّاً “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

جَعَلَ اللَّهُ جَلَّ ثَناوهُ قُرَّةَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الجَنَّةُ غَایَةُ السَّابِقینَ ،وَالنَّار ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

وَایْمُ اللّٰهِ لانْ یَ ( ه ) ْدِیَ اللّٰهُ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الجَهْلُ اَدْوَا الدَّاءِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الجَهْلُ داءٌ وَعَیاءٌ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الجَهْلُ مُمیتُ الاحْیاءِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اَحَبُّ الاعْمَالِ إلَی اللهِ ۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام

حَرَّمْتُ الجَنَّةَ عَلَی المَنَّانِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

حُسْنُ الخُلُقِ یَزِیُد فِی الرِّزْقِ“ حضرت امام صادق علیہ السلام

حُسنُ الظَّنِ ان تُخْلِصَ العَمَلَ ،۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

حُسنُ الظَّنِ بِاللّٰهِ ان لَا َترجُوَ اِلاَّ اللّٰهَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

حُسنُ الظَنِّ بِاللّٰهِ مِن عَبادَةِ اللّٰهِ “۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

احْسَنَ العَدْلِ نُصْرَةُ المَظْلُومِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

حُفَّتِ الجَنَّةُ بِالْمَکَارِهِ وَحُفَّتِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

اَلْحَیَاءُ مِنَ الإِیمَانِ وَالإِیمَانُ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

خَصْلَتَانِ لَاتَجْتَمِعَانِ فِی مُسْلِمٍ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

خَصْلَتَانِ لَاتَجْتَمِعَانِ فِی مومن ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الخَلْقُ عیالی فَاحَبُّ ( ه ) ُم اَلَیَّ الطَفَ ( ه ) ُم ۔۔۔ اللہ عزّوجلّ(حدیث قدسی)

خَیْرُالعِبَادَةِ قَوْلُ لاَاِلهَ اِلاَّ اللّٰهُ “۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

دَارِ النَّاسَ تَسْتَمْتِعْ بِإخائِهِم ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

دَعَا اللّٰهُ النَّاسَ فِی الدُّنیا بِآبائِ ( ه ) ِم ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

الدُّعاءُ مُخُّ العِِبادَةِ “۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الدُّعاءُ مَفاتِیحُ النِّجَاحِ ،۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام

دُمْ عَلَی الطَّهَارَةِ یُوَسَّعْ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

دَوَامُ الغَفْلَةِ یُعْمِی البَصِیرَةَ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

دَواءُ النَّفْسِ الصَّوُم عَنِ ال ( ه ) َوَی “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اَلرَّاحِمُونَ یَرْحَمُهُمُ اللهُ إِرْحَمُوا ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

رَاسُ الجَ ( ه ) لِ مُعَاداةُ النَّاسِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الرّاضِی لاَیَسْخَطُ عَلی سَیِّدِهِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

رَاسُ الآفَاتِ الوَلَهُ بِاللَّذَّاتِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

رِباطُ یَوْمٍ فِی سَبِیلِ اللهِ خَیْرٌ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

رَحِمَ اللهُ امْرُءً سَهْلَ الْبَیْعِ ،۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

رَحْمَةُ الضُّعَفاءِ تَسْتَنْزِلُ الرَّحْمَةَ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

رَایْتُ الخَیْرَ کُلَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ فِی ۔۔۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام

سَبَبُ صَلاحِ النَّفْسِ العُزُوفُ عَنِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

سَبَبُ صَلاحِ النَّفْسِ الوَرَعُ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

سِتَّةٌ لاَتَکونُ فِی المُومِنِ:العُسْرُ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

سُکرُ الغَفْلَةِ وَالغُرورِ ابْعَدُ إِفَاقَةً ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

سُوءُ الخُلْقِ شَرُّ قَرینٍ حضرت علی علیہ السلام

سَیّدُ الاعمَالِ ثَلاثُ خِصالٍ :۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

شافِعُ المُذْنِبِ إِقْرارُهُ وَتَوْبَتُهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

شَرُّ الرِّوَایَةِ روایَةُ الکِذبِ “۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الشَّرفُ عِندَ اللّٰهِ سُبحانَهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

شُکْرُ النِعْمَةِ اِجْتِنَابُ الْمَحَارِمِ “ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

صَاحِبِ الحُکَمَاءَ وَجالِسِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الصَّبرُ ثَلاثةٌ:صَبرٌ عِندَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الصِّدقُ امَانَةٌ وَالکِذْبُ خِیَانَةٌ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الصَّدَقَةُ تَمْنَعُ سَبعِینَ نَوعاً مِن ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

صَلاحُ النَّفْسِ مُجا ( ه ) َدَةُ ال ( ه ) َوَی “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الصَّلاةُ تَستَنْزِلُ الرَّحْمَةَ“ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الصَّلاةُ عَمودُ الدِّینِ وَفِی ( ه ) َا ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الصَّلاةُ قُربَانُ کُلِّ تِقیٍّ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الصَّلاةُ مِن شَرایِعِ الدِّینِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

طَلَبُ الحَلاَلِ الجِ ( ه ) ادُ حضرت رسول خدا (ص)

طَلَبُ الحَلَالِ فَریضَةٌ بَعْدَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

طَلَبُ الحَلَالِ فَریضَةٌ عَلَی ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الطَّمَعُ سَجِیَّةٌ سَیِّئَةٌ “۔۔۔ حضرت امام علی نقی(غ)

طُوبَی لِصُورَةٍ نَظَرَ اللّٰهُ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

طُوبَی لِمَنْ تَرَکَ شَ ( ه ) ْوَةً ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

طُوبَی لِمَنْ عَصَی فِرْعَوْنَ هَوَاهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

العِبَادَةُ عَشرَةُ اجْزاءٍ تِسْعَةُ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

عَبدِی! اطِعنِی حَتَّی الله عزّو جلّ (حدیث قدسی)

اعدَی عَدُوِّکَ نَفْسُکَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

العِزُّ رِدَاءُ اللهِ وَالْکِبْرُ إِزَارُهُ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

عَشرٌ مَن لَقِیَ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ ۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام

اعلَی الاعمَالِ اِخلاصُ الإیمانِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

عَلَیْکَ بِالتَّواضُعِ فَإِنَّهُ مِن اعْظَمِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

عَلَیکَ بِالدُّعاءِ؛فَإنَّ فیهِ شِفاءً ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

عَلَیْکَ بِالدُّعَاءِ لإِخْوانِکَ بِظَهْر ۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام

العَمَلُ شِعارُ المُومِنِ “۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

اعوذُ بِکَ مِن دُنیا تَمْنَعُ خَیرَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

الغَفْلَةُ تَرکُکَ المَسْجِدَ وَ ۔۔۔ حضرت امام حسین علیہ السلام

اغنَی النَّاسِ مَن لَمْ یَکُنْ لِلْحِرص ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

الغَیْرَةُ الشَّدِیْدَةُ عَلٰی حَرَمِکَ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

الفَاجِرُ الرَّاجِی لِرَحْمَةِ اللهِ تَعالَی ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

فَإِذَا الْتَبَسَتْ عَلَیْکُمُ الفِتَنُ کَقِطَعِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

فَإذا نَزَلَ البَلاءُ فَعَلَیکُم بِالدُّعاء ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

فَجَعَلَ اللهُ الِایمَانَ تَط ( ه ) یراً ۔۔۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا

فَطُوبَی لِمَن اخلَصَ للّٰهِ عَمَلَهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

قَد نَابَذَنِی مَن اذَلَّ عَبدِیَ المُومِنَ “ حضرت رسول خدا (ص)

اقْرَبُ ما یَکونُ العَبدُ اِلَی الکُفْرِ حضرت امام باقر و امام صادق(ع)

اقَلُّ النَّاسِ مُرُوَّةً مَن کاَنَ کاَذِباً ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

قَوْلُ لَا إِلهَ اِلاَّ اللهُ ثَمَنُ الجَنَّةِ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

قِیامُ اللَّیلِ مَصَحَّةُ البَدَنِ وَرِضَی ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

کانَ ابی علیه ا لسلام إذا احْزَنَهُ امر ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

اکْثَرُمَا تَلِجُ بِهِ امَّتِی النَّارَ الاجْوَفَانِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

کَثْرَةُ الاکلِ مِنَ الشَّرَهِ ،وَالشَّرَهُ شَرّ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

کَلامُ الْمُتَّقِیْنَ بِمَنْزِلَةِ الوَحیِ مِنَ السَّمآء ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

اکَلَ علِیُّ مِن تَمْرٍدَقَلٍ ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

کُلّ امرٍ ذِی بالٍ لا یُذکَرُ بِسمِ اللهِ فِیهِ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

کُن بِالعَمَلِ بِالتَّقوَی اشدَّ ا ( ه ) تِمَاماً ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

کُن فِی الدُّنْیَا کَانَّکَ غَرِیبٌ اوْ کَانَّکَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

کُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَلِلْمُظْلُومِ عَوْناً ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

کَیْفَ یَسْتَطِیعُ عَلی صَلاحِ نَفْسِهِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

کَیْفَ یَکونُ المُومِنُ مُومِناً وَهُو ۔۔۔ امام حسن علیہ السلام

لا إلهَ إلّااللهُ حِصْنی فَمَنْ دَخَلَ ۔۔۔ امام رضا علیہ السلام

الاَانَبِّئُکُمْ بِاکْبَرِالکَبَائِرِ؟ قُلْنَا ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

لَاتَدَابَرُوا وَلَاتَبَاغَضُوا وَلَا ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لاتَغْتَرَّنَّ بِاللهِ وَلاتَغْتَرَّنَّ بِصَلاحِکَ ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لاَسُوءَ اسْوَءُ مِنَ الکِذْبِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

الاَ مَن تَعَلَّمَ القُرآنَ وَعَلَّمَهُ ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

الا وَإِنَّ لِلّٰهِ اوانِیَ فِی ارْضِهِ ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لَا وَحْشَةَ اوْ حَشُ مِن الْعُجُبً شوء ۔۔ ضرت علی علیہ السلام

لَا وَاللهِ مَا ارادَ اللهُ مِنَ النَّاسِ ۔۔۔ امام محمد باقر علیہ السلام

لا یَجتَمِعُ اربَعونَ رَجُلاً فی ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لَایَجِدُ عَبدٌ طَعْمَ الإِیمَانِ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

لا یَدْخُلُ الجَنَّةَ مَنْ فِی قَلْبِهِ ۔۔۔ مام محمد باقر علیہ السلام

لایُرَدُّ دُعاءٌ اوَّلُهُ ”بِسْمِ اللّٰهِ ۔۔۔ مام کاظم علیہ السلام

لَا یَزَالُ المُومِنُ الَّذِی یَذکُرُ ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لَایَمُوتَنَّ احَدُکُم حَتَّی ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

لَا یَنْبَغِی لِلْمُومِنِ انْ یَجْلِسَ ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

لَتَامُرُنَّ بِالمَعروفِ وَلَتَنْهَوُنَّ ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لَوکاَنَ الرِّفْقُ خَلْقاً یُرَی مَا ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

لَوْ مَاتَ مَنْ بَیْنَ المَشْرِقِ وَ ۔۔۔ مام سجاد علیہ السلام

اللّهُ تَعالیَ ارحَمُ بِعَبْدِهِ المُومنِ رسول خدا (ص)

لَیسَ شَیْءٌ اضَرَ لِقَلبِ ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

لِی مَعَ اللهِ وَقْتٌ لَا یَسَعُنِی ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

مَااجتَمَعَ اربَعَةٌ قَطُّ عَلی امرٍ ۔۔۔ مام صادق علیہ السلام

مَا جَزَاءُ مَن انْعَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ۔۔۔ حضرت رسول خدا (ص)

مَا رَایْتُ شَیْئاً اِلَّا وَرَایْتُ اللهَ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مَا سَتَرَ عَلَی عَبدٍ فِی الدُّنیَا إِلا ۔۔۔ حضرت رسول اکرم (ص)

مَا کَادَ جِبرئیلُ یَاتِینِی إِلاَّ قَال ۔۔۔ حضرت رسول اکرم (ص)

مَالِی لاَ ارَی عَلَیْکُم حَلَاوَةَ العِبَادَة ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَا مِن احدٍ دَهَمَهُ امرٌ ۔۔۔۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام

مَا مِن شیءٍ افضَلُ عِندَاللّهِ ۔۔۔۔۔ امام باقرعلیہ السلام

مَا مِن شَیْءٍ اِلاَّ وَلَهُ کَیلٌاو ۔۔۔۔ ضرت امام صادق علیہ السلام

مَا مِن شَیْءٍ اعْظَمُ ثَواباً ۔۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

ما مِن صَلاةٍ یَحْضُرُ وَقتُ ( ه ) ا ۔۔۔ ضرت رسول خدا(ص)

مَا مِنْ مَکْرُوبٍ یَدْعُو بِهذا ۔۔۔ ضرت رسول خدا (ص)

مُدَارَاةُ الرِّجَالِ مِن افْضَلِ الاْ ٴَعْمالِ “۔۔۔ ضرت علی علیہ السلام

یَا مُوسیٰ !اشْکُرنِی حَقَّ شُکْرِی ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

المُداوَمَةَ المُداوَمَةَ!فَاِنَّ اللّٰه ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

امَرَنِی رَبِّی بِمُدَارَاةِ النَّاسِ ،۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

امرُهُ قَضاءٌ وَحِکْمَةٌ،وَرِضاهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مُعاداةُ الرِّجَالِ مِنْ شِیَمِ الجُهّالِ “ حضرت علی علیہ السلام

مَعْرِفَتِی بِالنُّورانِیَّةِ مَعْرِفَةُ الله “ حضرت علی علیہ السلام

المُقِرُّ بِالذَّنْبِ تائِبٌ “ حضرت علی علیہ السلام

مَن ا ( ه ) َانَ لِی وَلِیّاً فَقَدْ بارَزَنِی بِالْمُحَارَبَةِ “ حضرت پیغمبر اکرم(ص)

مَنْ ایْقَنَ انَّهُ یُفَارِقُ الاحْبَابَ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مَن تَابَ تاب اللّٰهُ عَلَیهِ، حضرت علی علیہ السلام

مَن تَابَ الله تاب اللّٰهُ عَلَیهِ ،۔۔۔ ضرت رسول خد ا ا(ص)

مَن تَقَرَّبَ إِلَیَّ شِبْراً تَقَرَّبْتُ إِلَیْهِ ۔۔۔ اللہ جل جلالہ(حدیث قدسی)

مَنْ تَنَزَّهَ عَن حُرُماتِ اللهِ سارَعَ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مِن حُسْنِ إِسلامِ المَرْءِ تَرکُ ۔۔۔ حضرت رسول اکرم(ص)

مَنْ حَسَّنَ بِرَّهُ اهْلَ بَیْتِهِ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ اخَذَ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَالِمِ کاَنَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَن خَرَجَ مِن عَینَیهِ مِثلُ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَن دَخَلَهُ العُجبُ هَلَکَ “ حضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ ارَادَ ان یَعِیشَ حُرّاً ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مَن رَآنِی فَقَدْ رَای الحَقَّ “ حضرت رسول خدا(ص)

مَنْ رَضِیَ مِنَ اللهِ بِمَا قَسَمَ لَهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مَنْ زَ ( ه ) ِدَ فِی الدُّنْیَا اثبَتَ اللهُ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ اصْبَحَ لَایَهْتَمُّ بِامُورِ المُسْلِمِینَ ۔۔۔ ضرت رسول خدا(ص)

مَن عَامَلَ النَّاسَ وَلَمْ یَظْلِمْهُم ،۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

مِنْ عَلامَاتِ النِّفَاقِ :قَسَاوَةُ القَلْبِ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ غَلَبَتْ عَلَیْهِ الغَفْلَةُ مَاتَ قَلْبُهُ“ حضرت امیر المومنین(ع)

مَنْ فَرَّطَ تَوَرَّطَ “ ضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ قَالَ لَا إِلٰه إِلاَّ اللهُ مُخْلِصاً دَخَلَ ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

مَن قَبِلَ اللّٰهُ مِنْهُ صَلاةً وَاحِدَةً ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

مَن قَضَی لِاخِیهِ المُومِنِ حَاجةً ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

مَن قَضی لِاخِیهِ المُومِنِ حَاجَةً ،۔۔۔ حضرت رسول اکرم(ص)

مَن قَعَدَ عِنْدَ سَبَّابٍ لِاوْلِیَاءِ اللهِ ۔۔۔ حضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ قَنَعَ بِمَا رَزَقَهُ اللهُ ۔۔۔ مام صادق علیہ السلام

مَن کَانَ یُومِنُ بِاللهِ وَالْیُومِ الآخِر ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مَنْ کَثُرَاکلُه قَلَّت صَحَّتُهُ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

مَن کَثُرَ طُعامَهُ سَقُم بَطنُهُ ۔۔۔ ضرت علی علیہ السلام

مَن اکَلَ لُقمَةً مِن حَرامٍ لَم تُقبَل ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَنْ اکَلَ مِن کَدِّ یَدِهِ کاَنَ یَومَ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَنْ لَمْ یَرْضَ بِمَا قَسَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ۔۔۔ ضرت امام صادق علیہ السلام

مَنْ مَاتَ وَلَا یُشْرِکْ بِاللّٰهِ شَیْئاً ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَنْ مَاتَ وَهُوَ یَعْلَمُ اِنَّ اللّٰهَ حَقُّ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَنْ انْظَرَ مُعْسِراً اوتَرَکَ مُعَاجَلَتَهُ ۔۔۔ حضرت رسول خدا(ص)

مَن اهَانَ لِی وَلِیّاً فَقَد ارْصَدَ ۔۔۔ ضرت رسول خدا(ص)

مُواسَاةُ الاخِ فِی اللهِ عَزَّوَ ۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

النَّائِمُ بِمَکَّةَ کاَلْمُجْتَهِدِ ۔۔۔ حضرت امام باقر علیہ السلام

انَا الجَاهِلُ عَصَیْتُکَ بِجِهْلِی ۔۔۔۔ ضرت علی علیہ السلام

انَا مَلِکٌ حَیٌّ لَاامُوتُ ابَداً،عَبدِی ۔۔۔ للہ جل جلالہ(حدیث قدسی)

انْتَ رَجُلٌ قَدْ قَیَّدَتْکَ ۔۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

وَالَّذِی بَعَثَنِی بِالْحَقِّ بَشِیراً لَا یُعَذِّبُ ۔۔۔ ضرت رسول اکرم (ص)

وَالَّذِی لَااِلهَ اِلاَّ هُو ،لَا یَحُسنُ ۔۔۔۔ حضرت رسول اکرم (ص)

اوحَی اللهُ عَزَّوَجَلَّ الَی نَبیٍّ ۔۔۔۔ حضرت امام رضا علیہ السلام

وَقَدَّرَ الارْزاقَ فَکَثَّرَها وَقَلَّلَها ۔۔۔۔ ضرت علی علیہ السلام

وَآنِسْنا بِالذِّکْرِ الخَفِیِّ وَ ۔۔۔۔ ضرت امام باقر علیہ السلام

وَلَوْ حَرَصْتُ انَا وَالعادُّونَ مِن ۔۔۔ ضرت امام حسین علیہ السلام

وَمَنْ ذَرَفَتْ عَینَاهُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰه ۔۔۔ حضرت رسول اکرم (ص)

وَیْلٌ لِمَنْ غَلَبَتْ عَلَیْهِ الغَفْلَةُ فَنَسِیَ ۔۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام

یَابْنَ جُنْدَبٍ! اِنْ احْبَبْتَ انْ تُجَاوِرَ ۔۔۔ امام صادق علیہ السلام

یَاعَلِیُّ اِنَّ القَوْمَ سَیُفْتَنُونَ ۔۔۔۔ ضرت رسول اکرم(ص)

یَا عَلِیُّ انْهَاکَ عَن ثَلاثِ ۔۔۔۔ ضرت رسول اکرم(ص)

یَاعَلِیُّ افْضَلُ الجِهادِ مَنْ اصْبَحَ ۔۔۔ حضرت رسول اکرم(ص)

یَاکُمیلُ!لَیسَ الشَّانُ ان تُصَلِّیَ ۔۔۔۔ حضرت امیر المومنین ()

یَا مَعْشَرَ مَن اسْلَمَ ِبلِسَانِهِ وَلَمْ یُخْلِصِ ۔۔۔ حضرت رسول اکرم(ص)

الیَاسُ مِن رَوحِ اللهِ اشدُّ بَرداً حضرت امام صادق علیہ السلام

یَقولُ رَبُّکُم :یَابنَ آدَمَ ،تَفَرَّغْ ۔۔۔۔ ضرت رسول اکرم(ص)

یَقولُ اللهُ یَومَ القِیَامَةِ:اخْرِجُوا مِنَ النَّارِ ۔۔۔ حضرت رسول اکرم(ص)

ایَکُونُ ِلغَیرِکَ مِنَ الظُّهورِما لَیسَ ۔۔۔۔ ضرت امام حسین علیہ السلام


فھرست منابع و مآخذ

۱ ۔ ختصاص، شیخ مفید، کنگرہ شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ ھ ۔ ق۔

۲ ۔ ربعین، شیخ بھائی۔

۳ ۔ رشاد ، شیخ مفید، کنگرہ شیخ مفید ، قم ، ۱۴۱۳ ھ ق۔

۴ ۔ ستبصار،شیخ طوسی ،دارالکتب الاسلامیہ ،تھران ، ۱۳۹۰ ھ ق۔

۵ ۔ سرار الآیات،صدر المتالھین ۔

۶ ۔ اسفار،صدر المتالھین ۔

۷ ۔ اسلام وھیئت،سید ہبةالدین شھرستانی۔

۸ ۔ افق دانش، ترجمہ مقالات خارجی۔

۹ ۔ اقبال الاعمال،سید ابن طاووس،دار الکتب الاسلامیہ،تھران، ۱۳۶۷ ھ ق۔

۱۰ ۔ الستین الجامع۔

۱۱ ۔ المیزان ،علامہ طباطبائی۔

۱۲ ۔ الٰھی نامہ،عطارنیشاپوری۔

۱۳ ۔ امالی،شیخ صدوق، کتابخانہ اسلامیہ ، ۱۳۶۲ ۔

۱۴ ۔ امالی، شیخ طوسی، دار الثقافہ،قم، ۱۴۱۳ ھ ق۔

۱۵ ۔ امالی،شیخ مفید، کنگرہ شیخ مفید ،قم ، ۱۴۱۳ ھ ق ۔

۱۶ ۔ انجیل برنابا۔

۱۷ ۔ انیس اللیل، آیت اللہ شیخ محمد رضا کلباسی ،روح ،سوم۔

۱۸ ۔ بحارالانوار،علامہ مجلسی،الوفاء ،بیروت، ۱۴۰۴ ھ ق۔

۱۹ ۔ بحر الحقایق،تفسیر سورہ یوسف۔

۲۰ ۔ بحر المعارف،ملا عبدالصمد ہمدانی ۔

۲۱ ۔ بلدالامین،ابراھیم بن علی عاملی کفعمی،چاپ سنگی۔

۲۳ ۔ بوستان،سعدی شیرازی۔

۲۴ ۔ تحف العقول،حسن بن شعبہ حرانی،جامعہ مدرسین،قم، ۱۴۰۴ ھ ق۔

۲۵ ۔ تذکرہ،ابن جوزی۔

۲۶ ۔ تذکرة الاولیاء،عطارنیشاپوری۔

۲۷ ۔ تفسیر ابوالفتوح،ابوالفتوح رازی۔

۲۸ ۔ تفسیربرھان،سیدھاشم بحرانی۔

۲۹ ۔ تفسیر روح البیان،اسماعیل حقی بروسوی۔

۳۰ ۔ تفسیرصافی،فیض کاشانی،الاعلمی،بیروت۔

۳۱ ۔ تفسیرعیاشی،عیاشی،مکتبةالعلمیة الاسلامیة۔

۳۲ ۔ تفسیرفاتحةالکتاب،یکی ازعلمای عصر فیض کاشانی،انجمن حکمت وفلسفہ ایران۔

۳۳ ۔ تفسیرقمی،علی بن ابراھیم قمی،الاعلمی،بیروت۔

۳۴ ۔ تفسیرکشف الاسرار،میبدی۔

۳۵ ۔ تفسیرمعین،ھویدی۔

۳۶ ۔ تفسیرنمونہ،مکارم شیرازی،دارالکتب الاسلامیہ ۔

۳۷ ۔ تفسیرنورالثقلین،حویزی،اسماعیلیان۔

۳۸ ۔ تفسیرنیشاپوری،نیشاپوری۔

۳۹ ۔ توحید،شیخ صدوق،حیدری،اول۔

۴۰ ۔ توریت۔

۴۱ ۔ تہذیب،شیخ طوسی،دار الکتب الاسلامیہ،تھران، ۱۳۶۵ ۔

۴۲ ۔ ثواب الاعمال،شیخ صدوق،شر یف رضی،قم، ۱۳۶۴ ۔

۴۳ ۔ جامع احادیث شیعہ ،آیت اللہ بروجردی۔

۴۴ ۔ جامع الاخبار،تاج الدین شعیری،رضی،قم، ۱۳۶۳ ۔

۴۵ ۔ حکمت متعالیہ،صدر المتالھین۔

۴۶ ۔ دانستنیھای جھان علم،ترجمہ احمد آرام۔

۴۷ ۔ دعوات،قطب الدین رواندی،مدرسہ امام مھدی(عج)،قم، ۱۴۰۷ ھ ق۔

۴۸ ۔ دیوان اسرار،حاج ملاھادی سبزواری۔

۴۹ ۔ دیوان اشعار،الٰھی قمشہ ای۔

۵۰ ۔ دیوان اشعار،سنائی غزنویی۔

۵۱ ۔ دیوان اشعار،عطار نیشاپوری۔

۵۲ ۔ دیوان اشعار،ھاتف اصفھانی۔

۵۳ ۔ دیوان حافظ۔

۵۴ ۔ دیوان سعدی شیرازی۔

۵۵ ۔ دیوان شمس،مولوی۔

۵۶ ۔ دیوان فیض کاشانی۔

۵۷ ۔ دیوان ہمای شیرازی۔

۵۸ ۔ ربیع الآثار،آیت اللہ حاج شیخ علی اکبر برھان۔

۵۹ ۔ رجال کشی،محمد بن عمر کشی،دانشگاہ مشھد، ۱۳۴۸ ۔

۶۰ ۔ رسائل،سیدمرتضی،سیدالشھداء،اول۔

۶۱ ۔ روضة المتقین،محمد تقی مجلسی۔

۶۲ ۔ روضة المذنبین،احمد جام۔

۶۳ ۔ روضة الواعظین،محمد بن حسن فتال نیشاپوری،رضی،قم۔

۶۴ ۔ زاد المعاد،علامہ مجلسی۔

۶۵ ۔ زبور۔

۶۶ ۔ زینةالمجالس،قاضی نور اللہ شوشتری۔

۶۷ ۔ سفینةالبحار،حاج شیخ عباس قمی۔

۶۸ ۔ شافی ،فیض کاشانی۔

۶۹ ۔ شرح صحیفہ،سید نعمت اللہ جزائری۔

۷۰ ۔ صافی،فیض کاشانی۔

۷۲ ۔ صحیفہ سجادیہ۔

۷۳ ۔ عدة الداعی،ابن فھد حلی،دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ ھ ق۔

۷۴ ۔ عرشیہ،صدر المتالھین۔

۷۵ ۔ علل الشرائع،شیخ صدوق،مکتبة الداوری،قم۔

۷۶ ۔ علم اخلاق،دکتر مھدی بامداد۔

۷۷ ۔ علم الیقین،فیض کاشانی۔

۷۸ ۔ عوالی اللآلی،ابن ابی جمھور احسائی،سیدالشھداء،قم، ۱۴۰۵ ہ ق ۔

۷۹ ۔ عیون اخبار الرضا،شیخ صدوق،جھان، ۱۳۷۸ ۔

۸۰ ۔ غرر الحکم،عبد الواحد بن محمد تمیمی آمدی،دفتر تبلیغات،قم، ۱۳۶۶ ۔

۸۱ ۔ فرھاد وشیرین،وحشی بافقی۔

۸۲ ۔ قصص الانبیاء،ثعلبی۔

۸۳ ۔ قلب سلیم ،شھید دستغیب۔

۸۴ ۔ کافی،ثقة الاسلام کلینی، دار الکتب الاسلامیہ ،تھران، ۱۳۶۵ ۔

۸۵ ۔ کشف الاسرار،میبدی۔

۸۶ ۔ کلمة اللہ،سید حسن شیرازی۔

۸۷ ۔ کنز العمال،علی المتقی الھندی،التراث الاسلامی ،بیروت ، ۱۳۸۹ ہ ق۔

۸۸ ۔ گذشتہ وآئندہ جھان ،بی آزار شیرازی،بعثت،سوم۔

۸۹ ۔ گزیدہ ہفت او رنگ،جامی۔

۹۰ ۔ گناھان کبیرہ،شھید دستغیب۔

۹۱ ۔ مثنوی معنوی،مولوی۔

۹۲ ۔ مجالس المؤمنین،قاضی نور اللہ شوشتری۔

۹۳ ۔ مجمع البیان،طبرسی،دار الاحیاء التراث العربی ،بیروت۔

۹۴ ۔ مجموعہ ورّام،ورام بن ابی فراس، مکتبة الفقیہ،قم۔

۹۵ ۔ محجةالبیضاء،فیض کاشانی ،دفتر انتشارات اسلامی۔

۹۶ ۔ مدارج القدس،غزالی۔

۹۷ ۔ مستدرکات علم الرجال،حاج شیخ علی نمازی شاھرودی،حیدریہ،تھران۔

۹۸ ۔ مستدرک الوسائل ،محدث نوری،آل البیت ،قم، ۱۴۰۸ ۔

۹۹ ۔ مشکاة الانوار ،ابوالفضل علی طبرسی ،حیدریہ ، نجف ، ۱۳۸۵ ھ ق۔

۱۰۰ ۔ مصباح،ابراھیم بن علی عاملی کفعمی۔ رضی ،قم ، ۱۴۰۵ ھ ق۔

۱۰۱ ۔ مصباح الشریعہ،امام صادق،الاعلمی للمطبوعات ، ۱۴۰۰ ہ ق۔

۱۰۲ ۔ معانی الاخبار،شیخ صدوق ،جامعہ مدرسین قم ، ۱۳۶۱ ۔

۱۰۳ ۔ مفاتیح الغیب،صدر المتالھین،خواندنیھا ،اول۔

۱۰۴ ۔ مقنعہ،شیخ مفید،کنگرہ شیخ مفید ،قم، ۴۱۳ ۱ ھ ق۔

۱۰۵ ۔ مکارم الاخلاق،رضی الدین حسن بن فضل طبرسی،شریف رضی،قم۔

۱۰۶ ۔ منازل الآخرہ،حاج شیخ عباس قمی۔

۱۰۷ ۔ مناقب آل ابی طالب،ابن شھر آشوب،مطبعة العلمیہ ، قم۔

۱۰۸ ۔ منطق الطیر ،عطار نیشاپوری۔

۱۰۹ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،شیخ صدوق ،جامعہ مدرسین ،قم، ۱۴۱۳ ہ ق۔

۱۱۰ ۔ منہج الصادقین،ملا فتح اللہ کاشانی۔

۱۱۱ ۔ مواعظ العددیہ، مشکینی۔

۱۱۲ ۔ میزان الحکمہ”مترجم“محمدی ری شھری،دارالحدیث،دوم ، ۱۳۷۹ ۔

۱۱۳ ۔ نشانہ ہائی ازاو،سید رضاصدر ،بعثت ،اول۔

۱۱۴ ۔ نفحات اللیل،آیت اللہ شیخ محمد رضاکلباسی۔

۱۱۵ ۔ نہج البلاغہ۔

۱۱۶ ۔ نیایش امام حسین(ع) در بیابان عرفات،علامہ جعفری۔

۱۱۷ ۔ وافی،فیض کاشانی ۔

۱۱۸ ۔ وسائل الشیعہ،شیخ حر عاملی ،آل البیت ،قم، ۱۴۰۹

____________________

[۱] بحار الانوار:۶۶۶۷۱،باب۱۰،حدیث۳۲۔

[۲] غررالحکم :۴۳۱،ذم قرین السوء،حدیث۹۸۱۶۔

[۳] بحار الانوار :۱۹۸۷۱،باب۱۴۔

[۴] تحف العقول:۳۱۶۔

[۵] غررالحکم :۴۳۰،صاحب الحکماء و العلماء ۔حدیث۹۷۸۹۔

[۶] میزان الحکمة :۱۱۲۴۳،الحرام،حدیث۱۳۶۶۰۔

[۷] مجموعہ ورام:۶۱۱،باب العتاب ،میزان الحکمة: ۱۱۲۴۳۔ الحرام ،حدیث۱۳۶۶۱۔

[۸] بحار الانوار :۱۲۱۰۰،باب۱،حدیث۵۲؛میزان الحکمة :۱۱۲۴۳، الحرام، حدیث ۱۳۶۶۳۔

[۹] امالی طوسی:۶۸۰،مجلس ۳۷،حدیث۱۴۴۷۔

[۱۰] بحار الانوار:۳۹۴۶۸،باب۹۲،ذیل حدیث۶۳۔

[۱۱] کافی:۳۲۱۲،باب سوء الخلق،حدیث۱۔

[۱۲] بحار الانوار:۳۳۸۶۳،باب۵،حدیث۳۵۔

[۱۳] غررالحکم :۳۶۰،الفصل الرابع البطنة و آثارھا :۸۱۶۸۔

[۱۴] غررالحکم :۳۶۱،الفصل الرابع البطنة و آثارھا :۸۱۷۸۔

[۱۵] مستدر ک الوسائل:۲۱۱۱۶،باب۱،حدیث۱۹۶۲۷۔

[۱۶] میزان الحکمة: ۱۳ ۶۵۵۰، النوم، حدیث ۲۰۹۱۷۔

[۱۷] خصال شیخ صدوق ، ج۱ ص ۲۸،میزان الحکمة: ۱۳ ۶۵۵۰، النوم، حدیث ۲۰۹۱۵۔

[۱۸] غررالحکم :۱۵۹،حدیث۳۰۳۰؛میزان الحکمة:۶۵۵۰۱۳،النوم، حدیث۲۰۹۲۴۔

خدمت خلق میں مشغول رھے گا۔

[۱۹] کافی:۸۳۲،باب العبادة ،حدیث۳۔

[۲۰] کنزل العمال :۴۳۶۱۴؛میزان الحکمة :۳۴۱۲۷،العبادة ،حدیث۱۱۶۰۸۔

[۲۱]مستد رک الوسائل ج۹ ص ۱۹، باب استحباب الصمت، حدیث ۱۰۰۸۵۔

[۲۲] مستد رک الوسائل ج۹ ص ۱۹، باب وجوب طاعه الله، حدیث ۱۲۹۲۸

[۲۳] بحار الانوار:۱۶۶۷،باب۴۳،حدیث۸۔

[۲۴] امالی طوسی:۴۸۱،حدیث۱۰۵۱؛میزان الحکمة: ۳ ۱۳۱۸، الحاجة ،حدیث۴۴۶۱۔

[۲۵] کافی:۱۹۲۲،باب قضاء حاجة المومن ،حدیث۱۔

[۲۶] وسائل الشیعہ:۳۵۹۱۶،باب استحباب قضاء حاجة المومن، حدیث۲۱۷۵۸۔

[۲۷] میزان الحکمة ۹۵۲۲ المحبة (۲) حدیث ۳۱۲۶۔

[۲۸] کافی:۱۹۹۲،باب السعي فی حاجة المومن ،حدیث۱۰۔

[۲۹] تفسیر المیزان ج۱۹ص ۱۴۰۔

[۳۰] تحف العقول ص ۲۰۔

[۳۱] ”وَإِنْ کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَاتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِہ۔“

[۳۲] ” قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتْ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی انْ یَاتُوا بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لاَیَاتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیرًا۔“

[۳۳] سورہ حجرات آیت ۱۳۔

[۳۴] نفحات اللیل ص ۲۳۰۔

[۳۵] محجة البیضاء ج۶ص۱۹۰، کتاب آفات اللسان۔

[۳۶] سورہ بقرہ آیت ۸۳۔

[۳۷] سورہ فصلت، آیت۳۳ ۔

[۳۸] سورہ انعام آیت ۱۵۲ ۔

[۳۹] سورہ شعراء آیت ۸۴۔

[۴۰] سورہ اسراء آیت ۲۳۔

[۴۱] سورہ طٰہٰ، آیت ۴۳۔

[۴۲] سورہ بقرہ آیت ۱۳۶۔

[۴۳] سورہ نساء آیت ۹۔

[۴۴] سورہ نساء آیت ۵۔

[۴۵] سورہ نساء آیت ۶۳۔

[۴۶] کافی:۲۸۵،باب وصیة الرسول(ص)،حدیث۴۔

[۴۷] سورہ بقرہ آیت ۱۸۶۔

[۴۸] سورہ غافر آیت ۶۰۔

[۴۹] نور الثقلین، ج۳ ص ۲۴۹۔

[۵۰] انیس اللیل ص ۴۵۳۔

[۵۱] کافی:۹۵،باب جھاد الرجل و المراة،حدیث۱۔

[۵۲] مناقب ابن شھر آشوب ج۴ ص ۵۱۔

[۵۳] سورہ یوسف آیت ۸۷۔

[۵۴] بحار الانوار ج ۴۴ص۱۸۷، باب ۲۵، حدیث ۶۔

[۵۵] روضة المذنبین ص ۱۷۰۔

[۵۶] انیس اللیل :۵۳۰۔

[۵۷] سورہ اعراف آیت ۱۸۰۔


فہرست

عرض مترجم ۴

عرض مولف ۶

دعائے کمیل کا متن ۷

دعا کی اھمیت ۱۷

دعا ،قرآن کی روشنی میں ۱۸

دعا کی اھمیت احادیث کی روشنی میں ۲۰

ایک ساتھ مل کر دعا کرنے کی اھمیت ۲۲

ناامیدی اور مایوسی کفار سے مخصوص ہے ۲۴

دعا کے شرائط ۲۵

شب جمعہ ۲۶

کمیل بن زیاد نخعی ۲۷

دعاء کمیل ۲۸

”بِسْمِ اللّٰہِ“ کے کچھ دل چسپ نکات ۳۱

جھان ہستی ۳۹

انسان کائنات کاسب سے شریف مھمان ۴۲

انسانی زندگی کے مراحل: ۴۳

پھلا مرحلہ : خاک ۴۳

دوسرا مرحلہ: پانی ۴۴

تیسرا مرحلہ: علق ۴۴


چوتھا مرحلہ: ناچیز پانی سے پیدائش ۴۵

پانچواں مرحلہ: امشاج ”انڈے کا خلیہ“ ۴۶

چھٹا مرحلہ: جنین کی صورت اختیار کرنا ۴۶

ساتواں مرحلہ: تین پردوں میں بچہ کا لپٹا ہونا: ۴۷

ٹھواں مرحلہ: روح کا پھونکا جانا ۴۷

نواں مرحلہ: پیدائش ۴۸

رحمت خدا کے عجیب وغریب جلوے ۴۹

تنفسی نظام ( Respiratoy System ) ۵۰

کھال: ۵۱

بدن کا دفاعی نظام ۵۱

گھاس اور ان کے تعجب خیز فوائد ۵۲

زندگی میں حیوانات اور حشرات کا کردار ۵۴

ھدایت ،بے مثل نعمت ۵۶

رحمت خدا ۵۷

رحمت کے سلسلہ میں احادیث ۵۸

رحمت کے بارے میں واقعات ۵۹

جناب عیسیٰ (ع) اور گناھگار ۵۹

ایک گناھگار جوان ۶۱

مستجاب دعا ۶۱

خدائے کریم کی بارگاہ میں حاضری ۶۲


توبہ کے بعد توبہ ۶۳

دعا کے ذریعہ گمراھی سے نجات ۶۳

بد بختوں کی فھرست سے نام کاٹ کر نیک بختوں کے فھرست میں لکھا گیا ۶۴

خدائے مھربان کے ذریعہ نقص کا پورا ہونا ۷۳

سورج کی خرچ شدہ طاقت کا جبران ۷۳

دریائے خزر کے جزر و مد[۱] کا جبران ۷۴

پھلوں کے نقص کو دور کرنا ۷۵

فعل سے اس کے فاعل کی پہچان ۷۶

چند عالم کی خلقت ۷۷

آسمان پر لٹکی ہوئی قندیلیں اور منظومہ شمسی ۷۸

بے شمار سورج ۷۸

آیات و روایات میں نور کے معنی ۸۴

گناہ ۸۶

نمک کھاکر نمک دان توڑدینے والی حکایت ۸۷

گناھوں کے برے آثار ۹۰

شراب خوری: ۹۲

قمار بازی (جوا کھیلنا) ۹۴

لوگوں کے ہنسانے کے لئے بے ہودہ کام انجام دینا ۹۴

دوسروں کے عیوب بیان کرنا ۹۵

گناہ سے متھم افراد کے ساتھ ہمنشینی ۹۶


جن گناھوں کے ذریعہ بلائیں نازل ہوتی ہیں: ۹۸

بغی: ۹۸

حقوق الناس کا پامال کرنا ۹۹

بندگان خدا کا مذاق اڑانا ۹۹

عھد و پیمان توڑنا ۱۰۰

کھلم کھلا گناہ کرنا ۱۰۲

ایک با ایمان عورت کی حیا اور خوف ۱۰۳

جھوٹ: ۱۰۳

دل سوز اور صاحب حزن و ملال کی فریاد پر بے توجھی کرنا ۱۰۷

مظلوم کی مدد نہ کرنا ۱۰۸

امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا ترک کرنا ۱۰۹

فانی دنیاکے کھنڈر ۱۱۲

قرآن ۱۱۵

پیغمبر(ص) اور اہل بیت علیھم السلام ۱۱۷

گناھوں کا بخشنے والا ۱۲۲

برائیوں کو چھپانے والا ۱۲۴

برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے والا ۱۲۵

جنت کی قیمت ۱۲۸

حمدو تسبیح ۱۳۱

اپنے اوپرظلم ۱۳۳


نادانی کی وجہ سے گناھوں پر جرائت و جسارت ۱۳۵

گناھوں کا اقرار ۱۳۵

ایک جوان گناھگار کا اقرار ۱۳۶

توبہ کرنے والے گناھگار کا انجام ۱۳۷

بلاء کے معنی ۱۴۲

۱ ۔ گناہ و معصیت ۱۴۲

ایک اھم سوال و جواب ۱۴۲

اُویس قرنی سے گفتگو ۱۴۳

۲ ۔ مقام قرب سے دوری ۱۴۳

۳ ۔ جھل و نادانی ۱۴۴

بد حالی ۱۴۵

عمل میں کوتاھی ۱۴۶

زنجیر اور بیڑی ۱۴۷

طولانی آرزوئیں ۱۴۸

ایک عجیب و غریب حکایت ۱۵۱

اوصاف نفس ۱۵۸

اصلاح نفس کے سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام کا نظریہ ۱۵۹

شرح و مطالی(ٹال مٹول) ۱۶۱

باب استجابت کے بند ہونے کی وجہ ۱۶۲

پردہ پوشی ۱۶۳


پردہ پوشی کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ ۱۶۴

تفریط : ۱۶۶

جھل: ۱۶۷

شھوت: ۱۶۷

ایک بد بخت شاہزادہ ۱۶۹

غفلت ۱۷۰

گناھگار اور عفو الٰھی ۱۷۱

عبد اللہ مبارک کا غلام ۱۷۲

ایک ماں بیٹے کا واقعہ ۱۷۵

کارگر نظر ۱۷۶

حاتم اصمّ کی حیرت کُن داستان ۱۷۷

نظرکیمیا اثر ۱۸۰

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند ۱۸۰

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند ۱۸۱

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند ۱۸۱

بہ ذرّہ، گر نظر لطف بوتراب کند ۱۸۲

وظائف اور ذمہ داریاں ۱۸۹

انسان پر خدا کی حجتیں ۱۹۱

عاشقانہ راز و نیاز اور مناجات ۱۹۳

یوسف و زلیخا ۱۹۳


قوم یونس(ع) ۱۹۴

محبوب کا دربار ۱۹۵

مرگ ہارون الرشید کا عجیب و غریب واقعہ ۱۹۷

دقیق حساب و کتاب ۱۹۸

توحید ۱۹۹

ان تمام باتوں کے مدّنظر: ۲۰۴

ربوبیت کے جلوے ۲۰۴

الف۔ مادی تربیت۔ ۲۰۴

ب۔ معنوی تربیت کے اسباب: ۲۰۵

جناب موسیٰ (ع)اور قارن ۲۰۶

ماں اور عاق شدہ بیٹا ۲۰۷

حق نمک ۲۰۸

میزبان پر مھمان کا حق ۲۰۹

مکمل عبادت ۲۱۰

خدا سے حسن ظن رکھنا ۲۱۲

دنیا و آخرت کی بلائیں ۲۱۳

عذاب برزخ اور قیامت ۲۱۴

محبوب سے شکایت ۲۱۸

گریہ و زاری ۲۲۰

دوستوں کی جدائی ۲۲۱


اہل کرامت کے مقام کی آرزو ۲۲۲

عفو و بخشش کی امید ۲۲۳

ھارون اور بھلول ۲۲۵

سلمان اور خوف زدہ جوان ۲۲۷

ایک خاتون عذاب کی آیت سن کر بے ہوش گئی ۲۲۷

بہترین وخوبصورت نصیحت ۲۲۸

خداوندعالم کا لطف و کرم اور رحمت ۲۲۹

جناب سلیمان(ع) اور ایک دیھاتی ۲۳۰

ایک بہت اھم حدیث ۲۳۱

امام صادق اورایک وحشت زدہ قافلہ ۲۳۲

اولیاء الٰھی کا لطف و کرم ۲۳۳

امام رضا علیہ السلام کا ایک عجیب خط ۲۳۳

آغوش مھر و محبت ۲۳۵

گناھوں کے مقابلہ میں حضرت ابراھیم کی بے قراری ۲۳۶

تعجب آور حقیقت ۲۳۶

جناب داؤد کے ہم عصر ایک جوان پر خدا کا لطف و کرم ۲۳۷

اسیر کی آزادی کے لئے پانچ صفات ۲۳۸

غلام اہل توحید ۲۳۸

حضرت یوسف(ع) کی بے گناھی کی گواھی دینے والے کا انجام ۲۳۹

کرام الکاتبین اور انسان کے اعضاء وجوارح ۲۴۲


اسم اعظم ۲۴۴

مقبول اعمال ۲۴۶

توانائی کی درخواست ۲۵۵

خدا کی خاص نعمتوں کے حصول کے لئے چند شرائط ۲۵۵

زندگی اور زندگی بسر کرنے والا ۲۵۶

حرام روزی ۲۵۷

اخلاقی برائیاں ۲۵۸

شکم پروری ۲۵۸

زیادہ سونا ۲۵۹

عبادت حق ۲۶۰

خدمتِ خَلق ۲۶۱

یقین ۲۶۲

خواجہ نظام الملک اور باتقویٰ شخصیت ۲۶۵

احمد خضرویہ اور ایک چور ۲۶۵

زبان ۲۶۶

بدکار عو رت کی بخشش ۲۶۸

استجابت دعا کی ضمانت ۲۶۹

تین گرفتاروں کی دعا ۲۷۱

ایک گمنام غلامِ سیاہ کی دعا ۲۷۲

امام سجاد علیہ ا لسلام کے غلام کی دعا ۲۷۲


دعائے امام حسین علیہ السلام ۲۷۳

آدھی رات میں ایک زندانی کی دعا ۲۷۴

باران رحمت ۲۷۶

کرم کی امید ۲۷۶

آسمانی اور ملکوتی حقائق ۲۷۷

فھرست آیات ۲۸۲

فھرست احادیث ۲۹۰

فھرست منابع و مآخذ ۳۰۳

شرح دعائے کمیل

شرح دعائے کمیل

مؤلف: استاد حسین انصاریان
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 23