ثواب الاعمال

مؤلف: شیخ صدوق علیہ الرحمہ
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


ثواب الاعمال

مصنّف؛ شیخ صدوق علیہ الرحمہ

مترجم؛ سید محمد نجفی


بسم الله الرحمن الرحیم

تمام حمد خدائے یکتا کیساتھ مخصوص ہے۔ جو ہمیشہ سے تھا اور ہوگا ۔ اس کیلئے اندازہ و انتہا کا تصور ممکن نہیں ، اسے اونگھ اور نیند نہیں آتی ، اسکا وجود آغاز اور بقاء انتہا نہیں رکھتی ۔ اپنی مخلوق پر اپنے وجود کیساتھ اور ان کی پیدائش پر اپنے ازلی ہونے کیساتھ کی دلالت کرتا ہے۔ کسی شبیہ کے بغیر مخلوق کو با شباہت پیدا کرنے کیلئے راہنمائی کا محتاج نہیں ہے۔ اسکی نشانیاں اسکی قدرت پر گواہ ہیں۔ اسکی ذات کی توصیف ممکن نہیں۔ آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں۔ فکر اسکی ذات کو پا نہیں سکتی۔ کوئی اسکا مانند و مثل نہیں۔ وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ تجھ یکتا کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اور تیرا کوئی شریک نہیں ، تو وہ ہے جس نے اطاعت پر ثواب اور معصیت پر عقاب کا وعدہ کیا ہے۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تیرے عبد اور رسول ہیں۔ اور تونے انہیں روشن ، محکم اور قوی کتاب دے کر بھیجا ہے۔ اس کتاب میں باطل کسی طرف سے بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ اور یہ حکیم و حمید کی نازل کردہ کتاب ہے ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب(علیہ السلام) اور ان کے پاک (امام) فرزند (علیھم السلام) وحی الہی کے منقطع ہونے کے بعد ، الله کی مخلوق پر الله کی حجت ہیں ۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ انکی پیروی اور اتباع کرنے والے موالی اور شیعہ صراط مستقیم پر ہیں۔ اور فقط یہی حقیقی مؤمن ہیں۔ لہذا جو انکی مخالفت کرے ،اور انکی راہ سے دور ہو ، ان کے احکام پر عمل پیرا نہ ہو اور ان کے نقش قدم پر عمل نہ کرے، تو وہ را ہ راست سے منحرف ہے اور صراط مستقیم سے بھٹک چکا ہے ۔

بارگاہ خداوندی میں فقط یہی خواہش ہے کہ الله ہمیں ائمہ اطہار (علیھم السلام) کے دین ، مودت اور محبت پر ثابت قدم رکھے۔ اور ہدایت کے بعد ہمارے دلوں کو کج نہ فرمائے۔ اور اپنی بخشش ہمارے شامل حال فرمائے یقینا (فقط ) وہی بخشنے والا ہے ۔

مؤلف کتاب شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی ، عرض گزار ہے کہ اس کتاب کی تألیف کا سبب حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اُس حدیث پر عمل کرنا ہے، جس میں آپ نے فرمایا: نیک کاموں کی تلقین کرنے والا اسے انجام دینے والوں کی مانند ہے۔ اور میں نے اس کتاب کا نام ثواب الاعمال رکھا ہے اور میری خواہش ہے کہ خدا مجھے اس کے ثواب سے محروم نہ فرمائے کیونکہ اس کتاب کی تصنیف کا مقصد فقط اور فقط پاک و پاکیزہ ذات کی رضا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ میں اپنی زحمت کا ثمر فقط اسی ذات سے چاہتا ہوں۔ خداوند متعال کے علاوہ کوئی قوت و طاقت نہیں رکھتا ، وہی ہمارے لئے کافی اوربہترین وکیل ہے ۔

لا الہ الا الله کہنے کا ثواب:

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا کہ خداوند متعال نے حضرت موسی بن عمران سے فرمایا اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں اور ان کے در میان موجود تمام چیزوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور لا الہ الا الله کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو لا الہ الا الله والا حصہ جھکتا ہوا نظر آئے گا۔

( ۲) حضرت رسول خدا نے فرمایا دو چیزیں دو چیزوں کی عامل ہیں ، کوئی مرتے وقت یہ گواہی دے کہ الله کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تو جنت میں داخل ہو گا اور اگر کوئی مرتے وقت کسی کو خدا کا شریک قرار دے تو جہنم میں جائے گا۔

( ۳) حضرت رسول خدا نے فرمایا اپنے مردوں کو لا الہ الا الله کی تلقین کرو۔ کیونکہ اس سے گناہ ختم ہوتے ہیں۔ کسی نے پو چھا کہ اگر کوئی یہ کلمات اپنی زندگی میں پڑھتا ہے تو اسکا کیا اجر ہے ؟ فرمایا یہ ذکر ہر حال میں گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، تباہ کردیتا ہے، بربادکردیتاہے، لاالہ الاالله توزندگی،موت،اوردوبارہ اٹھائے جانے کے وقت انسان کا مونس ومددگا ر ہے۔ حضرت رسول خدا نے مزیدفرما یا کہ حضرت جبرائیل نے کہا۔ اے محمد تم ان لوگوں کو دوبارہ اٹھا ئے جا نے کے وقت دیکھو گے ۔ جو لاالہ الاالله اورالله اکبر کی ندا دیا کرتے تھے ۔انکے چہرے سفید ہونگے۔ اور وہ لوگ روسیاہ ہوں گے جوکہتے تھے تمہارے لئے ہلاکت ہو ہم تو برباد ہوگئے ۔

( ۴) حضرت رسول خدا نے فرمایا۔ جنت کی قیمت لا الہ الا الله ہے ۔

( ۵) حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔

جو شخص لا الہ الا الله کہتا ہے۔ جنت میں اس کے لئے خوشبوداراور سفید زمین میں سرخ رنگ کا یاقوت کا درخت لگایا جاتا ہے ۔جو شہد سے شیرین، برف سے سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ۔اور اس کے پھل باکرہ لڑکیوں کے پستانوں کی طرح ہیں کہ جو ستر پردوں میں بھی نمایاں رہتے ہیں ۔

( ۶) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ۔

کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ دوسری چیز اس کی ہم وزن نہ ہو ۔ مگر الله کہ اسکا کوئی ہم وزن نہیں ، اور لا الہ الا الله کا ہم وزن بھی کوئی نہیں ہے اور الله کے خوف سے بہنے والے آنسو کے لئے تووزن کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ جسکا ایک آنسو اس کے چہرے پرجاری ہو جائے تو وہ کبھی نادار اور ذلیل نہ ہوگا۔

( ۷) حضرت امیر المؤمنین فرماتے ہیں۔

کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو لا الہ الا الله کہے اور اسکے درجات بلند نہ ہوں ، وہ تو ہر بلندی کو عبور کرتا چلا جائے گا۔اس کے کسی گناہ کے متعلق باز پرس نہیں ہو گی۔ اور اس کے گناہ مٹادیئے جائیں گے اور اسے گناہوں کی تعدا د کے برابر نیکیاں عطا کی جائیں گی اوروہ راضی ہو جائے گا۔

( ۸) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

لاالہ الاالله کی گواہی سے زیادہ کوئی ثواب نہیں ہے۔ کیونکہ الله تعالی نے اسکا ہم پلہ کسی چیز کو نہیں بنایا اور کوئی بھی اس معاملے میں الله کیساتھ شریک نہیں ہے ۔

( ۹) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں۔

آج تک میں اور مجھ سے پہلے والے لوگوں نے لا الہ الاالله کی مثل کوئی چیز نہیں کہی ۔

( ۱۰) حضرت امام جعفر صادق اپنے آباو اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا فرمایا۔

بہترین عبادت لا الہ الا الله ہے ۔

( ۱۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں۔

لا الہ الاالله کہنے والے ہر مؤمن کے نامہ اعمال سے گناہ مٹادیئے جاتے ہیں ، اور اس کے گناہوں کی تعداد میں نیکیاں عطا کی جاتی ہیں ۔

( ۱۲) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں۔

لاالہ الاالله کہنا جنت کی قیمت ہے ۔

( ۱۳) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں ۔

کثرت سے تہلیل( لاالہ الاالله )اور تکبیر(الله اکبر) کہا کرو۔ کیونکہ الله کے نزدیک تکبیر اور تہلیل سے زیادہ پسندیدہ کوئی چیز نہیں ہے۔

سو مرتبہ لاالہ الاالله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں۔

سو مرتبہ لا الہ الاالله کہنے والے کا عمل تمام لوگوں کے اعمال سے برتر ہے۔ مگر یہ کہ کوئی سو مرتبہ سے زیادہ لا الہ الاالله کہے۔

( ۲) حضرت امام جعفرصادق فرماتے ہیں ۔

جو شخص سو نے کیلئے بستر پر جانے سے پہلے سو مرتبہ لا الہ الا الله کہے تو الله جنت میں اسکے لئے گھر بنائے گا۔ اور جو بستر پر جانے سے پہلے سو مرتبہ استغفر الله کہے تو اس کے گناہ اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے درختوں سے (سوکھے) پتے گرجاتے ہیں۔

لا الہ الاالله وَحدَہُ وَحدَہُ وَحدَہُ کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)فرماتے ہیں ۔

حضرت جبرائیل ، رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اگر آپ کی امت میں کوئی شخص لا الہ الاالله وحدہ وحدہ وحدہ کہے گا تو وہ خوش بخت ہوگا۔

خلوص کیساتھ لاالہ الاالله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو خلوص کیساتھ لاالہ الاالله کہے گا وہ جنت میں جائے گا اور خلوص سے لاالہ الاالله کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو الله نے اس کیلئے حرام قرار دیا ہے ، اس سے رکا رہے۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں کہ صفا اور مروہ کے درمیان حضرت جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا ، آپ کی امت میں سے جو بھی خلوص کیساتھ لاالہ الاالله کہے گا وہ جنت میں جائے گا۔

( ۳) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں ۔جو خلوص کیساتھ لاالہ الاالله کہے گا ، داخلِ بہشت ہو گا اور خلوص سے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ الله نے جس چیز کواس کیلئے حرام قرار دیا ہے اس سے دور رہے۔

( ۴) حذیفہ کہتے ہیں کہ باقاعدگی سے لاالہ الاالله کہنے سے لوگوں پر الله کا غضب نہیں ہو گا۔ لیکن یہ اسوقت تک ہے جب دین کی سلامتی کو دنیا کے نقص پر اہمیت دیں ۔لیکن اگر دین کے نقص کو دنیا کی سلامتی پر اہمیت دیں تو انہیں کہا جائے گا کہ تم نے اپنا رخ دنیا کی طرف موڑ لیا ہے، مزید کہا جائے گا۔ یہ جھوٹ بولتے ہیں اور سچے نہیں ہیں ۔

بلند آواز سے لاالہ الاالله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت پیامبر گرامی قدرنے فرمایا۔ بلند آواز سے لاالہ الاالله کہنے والا آزادہے۔ اور اپنے گنا ہوں کو پاؤں سے اس طرح روندتا ہے، جسطرح درخت کے پتے درخت کے نیچے گرتے ہیں۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں۔ الله کے نزدیک کائنات کے ہر کلام سے لاالہ الاالله جیسا کلمہ محبوب

ترین کلمہ ہے۔ جو شخص بھی لاالہ الاالله کہتا ہے ۔اسکے گناہ قدموں میں اسطرح جھڑتے ہیں جیسے درخت کے نیچے درخت کے پتے۔

( ۳) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں۔ وہی شخص متکبر اور جبر کرنے والا ہے، جو لا الہ الا الله نہیں کہتا۔

لاالہ الاالله کو اس کی شرائط کے مطابق کہنے کا ثواب

( ۱) جب حضرت امام رضا (علیہ السلام) نیشاپور پہنچے ، آپ نے مامون کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا تو آپ کے ارد گرد اصحابِ حدیث جمع ہوگئے اور کہا اے فرزند رسول آپ ہمارے ہاں سے کوچ فرما رہے ہیں اور آپ نے کوئی حدیث بھی نہیں سنائی جس سے ہم استفادہ کر سکیں۔ حضرت کجاوے میں تشریف فرماتھے اپنا سر کجاوے سے باہر نکال کر فرمایا۔ میں نے اپنے بابا حضرت موسی ابن جعفر (علیہ السلام)سے سنا ہے وہ فرماتے تھے میں نے اپنے والد بزرگوار حضرت جعفرابن محمد سے سنا ہے اور انہوں نے اپنے پدر جان حضرت محمد ابن علی (علیہ السلام) سے اور انہوں نے اپنے بابا حضرت علی ابن حسین سے اور انہوں نے اپنے والد محترم حضرت حسین ابن علی سے سنا ہے اور انہوں نے اپنے والدبزرگوار حضرت علی ابن ابی طا لب (علیہ السلام) کویہ فرما تے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا انہوں نے فرمایا۔ میں نے جبرائیل کویہ کہتے ہوئے سنا اور اس نے خدائے عزوجل سے سنا ۔ الله نے فرمایا لاالہ الاالله میری پناہ گاہ ہے، جو میری پناہ گاہ میں داخل ہو گا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا۔

لاالہ الاالله کی گواہی کی قبولیت کا ثواب

( ۱) ایک دن حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنے اصحاب میں تشریف فرما تھے۔ اور ان میں حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)بھی موجود تھے ۔آپ نے فرمایا۔ جو لاالہ الاالله کہے گا،وہ جنت میں داخل ہو گا۔ وہاں بیٹھے ہوئے دو صحابیوں نے کہا ہم بھی لاالہ الاالله کہتے ہیں۔

حضرت نے فرمایا ۔لاالہ الاالله کی گواہی تو صرف اس (حضرت علی (علیہ السلام)) اور اسکے شیعوں کی قبول ہو گی۔ ان سے خداوند متعال نے عہدوپیمان لے رکھا ہے۔

ان دونوں نے دوبارہ کہا۔ ہم بھی لاالہ الاالله کہتے ہیں۔ اس وقت حضرت رسول خدا نے اپنا ہاتھ حضرت علی (علیہ السلام) کے سر پر رکھ کر فرمایا (لاالہ الاالله کی قبولیت) کی نشانی یہ ہے کہ اس سے کئے ہوئے عہدو پیمان نہ تو ڑنا ، اسکی جگہ پر نہ بیٹھنا اور اسکی بات کو نہ جھٹلانا۔

سو مرتبہ لاالہ الاالله الملک کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں

جو لاالہ الاالله الملک الحق المبین کا سومرتبہ ورد کرے گا تو خدائے عزیز و غالب اسے فقر سے پناہ دے گا ، وحشت قبر کو ختم کرے گا اور اس کو بے نیاز بنا دے گا اور وہ دروازہ جنت پر دستک دینے والا ہو گا۔

بغیر تعجب کے لاالہ الاالله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)فرماتے ہیں

جو تعجب کئے بغیر لاالہ الاالله کہے گا تو الله تعالی اس (ورد) سے پرندہ پیدا کرے گا ، وہ قیامت تک اس کے سر پر سایہ کئے رہے گا ۔اور لاالہ الاالله کہنے والے کا تذکرہ کرتا رہے گا۔

اشھد ان لاالہ الاالله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص ہر روزاَٴشهَدُ اَن لاَ اِلهَ اِلاّ الله وَحدَهُ لاَشَریکَ لَه إلهاً وَاحِداً اَحَداً صَمَداً لَم یَتَّخِذ صَاحِبَةً وَلاَوَلَدَاً کا ورد کرے گا تو الله تعالی اسکے لئے پینتالیس لاکھ نیکیاں لکھے گا اور پنتالیس لاکھ گناہ مٹائے گا اور اسکے پنتالیس لاکھ درجات بلند کرے گا ۔گویا اس نے ایک دن میں بارہ مرتبہ قرآن ختم کیا ہے۔ اور الله اسکے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔

ہر روز تیس مرتبہ لاالہ الاالله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)اپنے والد سے اور وہ اپنے والدین سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ہر روز تیس مرتبہ لاالہ الاالله الحق المبین کہے گا تو اسے ثروت دی جائے گی ،اسکا فقر دور کیا جائے گا اور وہ دروازہِ بہشت پر دق الباب کرنے والا ہو گا۔

تسبیحات اربعہ کو زیادہ کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایاسُبحَانَ اللهَ وَالحَمدُ للهِ وَلاَاِلَهٰ اِلاَّ الله وَ الله اَکبَر زیادہ کہا کرو ۔ کیونکہ قیامت والے دن یہ ذکر اس حالت میں آئے گا کہ کچھ (فرشتے) آگے ، کچھ پیچھے اور کچھ سب کے پیچھے چل رہے ہونگے اور یہ (کلمات) اسکے باقیات الصالحات ہونگے۔

لاالہ الاالله حقاً حقاً کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد بزگوار سے اور وہ اپنے والدین محترم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ہر روز پندرہ مرتبہلااله الاالله حقاً حقاً ، لااله الاالله إیماناً و تصدیقاً ، لا اله الاالله عبودیةً ورقاً کہے گا تو الله تعالی اس چہرے کی طرف متوجہ ہوگا اور اس سے اپنا رخ نہیں پھیرے گا۔ یہاں تک کہ یہ جنت میں داخل ہوگا۔

تسبیح کا ثواب

دعا کو ماشاء الله پر ختم کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص بھی دعا کرے اور آخر میںماشاء الله لاحول ولاقوة الا بالله کہے تو اسکی حاجت پوری ہوگی۔

ہر روز سات بار الحمدللہ علی کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص ہر روز سات مرتبہ ثواب الاعمال

اَ لحَمدُ لله عَلیٰ کُلِّ نِعمَةٍ کانَت اَوهی کائِنَةٌ کہے تو وہ گذشتہ اور آئندہ کا شکریہ ادا کرچکا ہے ۔

خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد کی رسالت کی گواہی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص صرف لاالہ الاالله کی گواہی تو دے لیکن محمد رسول الله کی گواہی نہ دے تو اسے دس نیکیاں ملیں گی لیکن جو لاالہ الاالله کے ساتھ ساتھ محمد رسول الله کی گواہی بھی دے تو اسے ایک لاکھ نیکیاں دی جائیں گی ۔

( ۲) سھیل بن سعد انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول خدا سے اس آیتوَمَا کُنتَ بِجَانِبِ الطّورِ اِذ نَادَینَا کا معنی پوچھا تو حضرت نے فرمایا خداوند متعال نے مخلوق کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے درخت کے سو کھے پتے پر لکھا اور اسے عرش پر لٹکا دیا اور پھر ندادی ، اے امتِ محمد میری رحمت غضب سے پہلے ہے ۔میں تمھارے سوال سے پہلے عطا کرتا ہوں ، طلب مغفرت سے پہلے معاف کردیتا ہوں ۔تم میں سے جو شخص بھی مجھ سے ملاقات کرے گا اور گواہی دے گا کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہ تھا اور محمد میرا عبداور فرستادہ ہیں تو میں اپنی رحمت کیساتھ اسے جنت میں داخل کرونگا۔

سو مرتبہ ، تکبیر، تسبیح، تحمید اور تہلیل کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام)نے فرمایا ۔کچھ غُرباء حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوکر عرض کرنے لگے ، یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ثروتمندوں کے پاس مال ودولت ہے جس سے غلام آزاد کرسکتے ہیں لیکن ہم خالی ہاتھ ہیں ۔ ان کے پاس پیسے ہیں لہذا وہ حج پر جاسکتے ہیں لیکن ہم نہیں جاسکتے ۔ ان کے پاس اس قدر مال ہے کہ صدقہ دے سکیں لیکن ہم خالی ہاتھ ہیں ۔ ان کے پاس اتنا کچھ ہے کہ اسلحہ خرید کر جہاد کر سکیں ، ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔ جو شخص سو مرتبہ تکبیر (الله اکبر ) کہے تو یہ سو غلام آزاد کرنے سے برتر ہے ۔جو سو مرتبہ تسبیح (سبحان الله ) کہے تو یہ حج پر سو اونٹ لے جانے سے بڑھکر ہے ۔ جو شخص سو مرتبہ تمحید (الحمد لله) کہے تو یہ میدان جنگ میں زین ، رکاب اور جنگی ہتھیاروں سے لیس ایک سو گھوڑے لے جانے سے زیادہ بڑا کام ہے ۔ اور جو شخص سو مرتبہ لاالہ الاالله کہے تو اسکا عمل تمام لوگوں کے اعمال سے برتر ہے مگر یہ کہ جو سو مرتبہ سے زیادہ کہے۔ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جب اس حدیث کا ثروتمند لوگوں کو علم ہوا تو وہ لوگ بھی یہی کچھ بجالائے۔ غرباء دوبارہ بارگاہ رسالت میں آکر عرض کرنے لگے ، اے رسول خدا آپ نے جو کچھ فرمایا تھا اسکا ثروتمندوں کو بھی علم ہو گیا ہے وہ لوگ بھی یہ اعمال بجا لاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا یہ خدا کا احسان ہے خدا جسے چاہتا ہے احسان مند بناتا ہے اور الله صاحب فضل اور عظمت والا ہے ۔

تسبیحات اربعہ کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے ہیں ۔خدا کی ڈھال اٹھا لو۔ کہنے لگے اب ہمارا کوئی دشمن تو نہیں ہے ڈھا ل کس لئے اٹھائیں ؟ حضرت نے فرمایا نہیں ، جہنم کے مقابلے کیلئے اٹھاؤ اور کہوسُبحَانَ اللهِ وَالحَمد لله وَ لاَ اِلَهٰ اِلاَّالله وَالله اَکبَر ۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا سبحان الله والحمد لله ولاالہ الاالله والله اکبر کا کثرت سے ورد کیا کرو کیونکہ یہ ذکر قیامت والے دن اس عظمت کیساتھ آئے گا کہ کچھ فرشتے آگے، کچھ پیچھے اور کچھ اس گروہ کی اتباع کر رہے ہوں گے اور یہ کلمات انسان کے باقی رہنے والے صالح اعمال ہیں ۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص سبحان الله کہے گا تو الله اسکے لئے بہشت میں ایک درخت کاشت کرے گا اور جو الحمد لله کہے گا الله اس کلمہ کی خاطر اس کیلئے جنت میں درخت لگائے گا (اسی طرح)جو لاالہ الاالله کہے گا الله اسکے لئے بھی اس کلمہ کی وجہ سے فردوس برین میں درخت اگائے گا اور جو شخص الله اکبر کا ورد کرے گا اسکے لئے بھی الله جنت میں درخت کاشت کرے گا ۔اس وقت ایک قریشی نے کہا یا رسول الله پھر تو جنت میں ہمارے بہت درخت ہونگے ! فرمایا جی ہاں لیکن خیال رکھنا کہیں آگ نہ بھیج بیٹھنا کہ سب جل جائیں یہی وجہ ہے کہ خداوندمتعال نے فرما یا الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال بر باد نہ کرو(سورہ محمد آیت ۳۳) ۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

ایک دن حضرت رسول خدا نے اپنے اصحاب سے فر مایا کیا تمھیں علم ہے کہ اگر تمھارے کپڑے اور برتن ایک جگہ جمع کر دیئے جائیں اور انہیں ایک دوسرے کے او پر رکھ دیا جائے تو یہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں ، عرض کی ، نہیں۔ حضرت نے فرمایا کیا چاہتے ہو کہ تمھیں ایک ایسی چیز کے متعلق بتاؤں جس کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان پر ہوں۔ کہنے لگے یقینا ہم جاننا چاہیں گے۔حضرت رسول خدا نے فرمایا تم میں سے جو بھی فریضہ نمازوں کی ادائیگی کے بعد تیس مرتبہ سبحان الله و الحمد لله ولاالہ الاالله والله اکبر (اس جملے کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان پر ہیں )کہے گا تو یہ جملے اسے دیوار کے نیچے آکر مرنے، غرق ہونے، کنویں میں گرنے ، درندوں کے چیر پھاڑنے، مرگ بد اور یہ اس دن انسان پر گرنے والے ناگوار آسمانی حادثے سے محفوظ رکھتے ہیں اور یہ جملے باقیات الصالحات ہیں۔

سبحان الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخصسُبحَانَ اللهِ وَبِحَمدِهِ سُبحَانَ اللهِ العَظِیم وَ بِحَمدِه کہے گا الله تعالی اسے تین ہزار نیکیاں عطا کریگا ، تین ہزار درجات بلند کرے گا اور الله اس جملے کا قیامت والے دن پرندہ بنائے گا جو خدا کی تسبیح کرے گا اور اس تسبیح کا ثواب اس شخص کے لئے ہوگا۔

تعجب کے بغیر تسبیح کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص تعجب کے بغیر سبحان الله کہے گا تو الله تعالی اس کلمہ کے عوض ایک پرندہ خلق کرے گا جسکی دو زبانیں اور پر ہونگے وہ تسبیح کرنے والوں کے درمیان اس کی طرف سے قیامت تک الله کی تسبیح کرتا رہے گا الحمد لله ولاالہ الاالله و الله اکبر کی بھی یہی عظمت ہے ۔

سو مرتبہ سبحان الله کہنے کا ثواب

( ۱) یونس بن یعقوب کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا ، (اے فرزند رسول ) جو سو مرتبہ سبحان الله کہے تو کیا اسکا خدا کو زیادہ یا د کرنے والے لوگوں میں شمار ہوگا ؟ فرمایا جی ہاں ۔

الحمد لله کما هو اهله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جواَلحَمد للهِ کَمٰاهُوَ اَهلُه کہے تو لکھنے والے آسمانی (فرشتے) اسکا ثواب لکھنے سے قاصر ہونگے ، راوی کہتا ہے ثواب لکھنے سے کیوں قاصر ہیں ، حضرت نے فرمایا (چونکہ وہ اسکا ثواب نہیں جانتے لہذا بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں ) پروردگارا ہمیں غیب کا علم نہیں ہے تو خدا فرمائے گا جس طرح میرا بندہ کہہ رہا ہے تم اسے لکھ دو ، اسکا ثواب میرے ذمہ ہے ۔

صبح و شام چار مرتبہ الحمد لله رب العالمین کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص ہر صبح الحمد لله رب العالمین کہے تو بلا تردید اس نے اس روز کا شکر ادا کر دیا ہے اور جو را ت کے وقت کہے گا تو وہ اس رات کا شکر بجا لانے والا ہوگا۔

تمجید خداکا ثواب

( ۱) زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام محمد باقر کی خدمت میں عرض کی کہ خداس کس عمل کو زیادہ پسند کرتا ہے؟ فرمایااپنی تمجید کو۔

تمجید خداوندی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ ہر شب و روز تین بار اپنی تمجید کرتا ہے جو خدا کی طرح اسکی تمجید بجالائے گا ، اگر وہ بدبخت ہے تو خوش بخت ہو جائے گا ، میں نے عرض کی ، آقا وہ تمجید کس طرح ہے فرمایا تم یہ کہوأنتَ الله ُ لاَإلَهَ اِلّا أنتَ رَبُّ العَالَمِینَ أَنت الله ُ لَاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ الرّحمنٰ الرَّحیِم أَنت الله ُ َ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ اَلعَلِی الکَبِیر أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ مَالِکِ یَومِ الدّین أَنتَ الله ُ لَاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ اَلغَفُورُ الرَّحیم أَنت الله ُ لَاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ اَلعَزِیزُ الحَکیم أَنتَ الله ُ لَاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ مِنکَ بَدءُ کُلِ شَئٍ وَ اِلیکَ یَعُود أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ لَم تَزَل وَلاَ تَزَالُ أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ خَالقُ الخَیرِ والشَّر أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ خَالِقُ الجَنَّةِ و النَّار أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ الأحَدُ الصَمَد لَم یَلِد وَ لَم یُولد وَ لَم یَکُن لَه کُفُواً اَحَد أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ اَلمَلِکُ القُدُوس السَّلاَم المُؤمنُ المُهیْمِنُ اَلعَزِیزُ الجَباّر المتَکبّر سُبحان اللهِ عَمَّا یُشرِکُون أنت الله الخَالِقُ البَارِیٴُ المُصوِّرُ لَک الاَ سمَاء ُ الحُسنٰی یُسَبِّحُ لَکَ مَا فِی السَمٰاوَاتِ وَالَارضِ و أَنتَ العَزِیزُ الحَکیم أَنتَ الله ُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ أنتَ اَلکَبِیرُ وَ الکِبرِیٰاء ُ رِدَاؤکَ ۔

عاقل کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں اگر خدا چاہے تو عاقل کی انتہا اور خاتمہ بہشت ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں عاقل دین دار ہے اور جو دین دار ہو گا ، بہشت میں جائے

گا۔

دس خصلتوں کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں دس چیزیں ایسی ہیں اگر انسان ان کیساتھ خدا سے ملاقات کرے تو بہشت میں جائے گا (وہ دس چیزیں درج ذیل ہیں) اس بات کی گواہی کہ خداکے علاوہ کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد الله کے رسول ہیں اور اس چیز کا اقرار جو (حضرت محمد)الله کی طرف سے لائے ہیں ، نماز کا قیام ، ادائیگی زکات، رمضان کے روزے ، بیت الله کا حج ، اولیاء خدا کی ولایت کا اقرا ر، دشمنان خدا سے برأت اور ہرنشہ آور چیز سے اجتناب۔

وجود خدا، پیامبری حضرت محمد ، امامت حضرت علی کے اقرار اور واجبات کی انجام دہی کا ثواب

( ۱) مفصل بن عمر کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں الله تعالیٰ نے مؤمن کیلئے ایک چیز کی ضمانت دی ہے ، میں نے عرض کی ، آقا کس چیز کی ضمانت دی ہے؟ حضرت نے فرمایا الله تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت دی ہے اگر کوئی خدا کی ربوبیت ، ، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت ، حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کا اقرار کرے ، واجب کئے گئے فرائض بجالائے تو الله انہیں ہمیشہ اپنے جوار میں رکھے گا اور ان سے پوشیدہ نہیں ہو گا میں نے عرض کی خدا کی قسم یہ کرم انسانوں جیسا نہیں ہے اس وقت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا اعمال کم بجالاؤ اور زیادہ نعمتیں حاصل کرو۔


ثواب الاعمال ۱

بیت الخلاء میں جاتے وقت بسم الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد اور وہ حضرت امیر المؤمنین سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جب بھی پیشاب و غیرہ کرنے کیلئے برھنہ ہونے لگو تو بسم الله کہو ، تو فارغ ہونے تک شیطان اپنی آنکھیں بند رکھتا ہے۔

وضو کرتے وقت خدا کا نام لینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو وضو کرتے وقت خدا کا نام لے گا تو اسکا تمام بدن پاک ہو جائے گا اور ایسا کرنا دو وضوؤں کے درمیان اسکے گناہ کا کفارہ ہوگا اور اگر کوئی وضو کرتے وقت الله کا نام نہ لے تو فقط اعضاء وضو والا جسم کا حصہ پاک ہوگا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص وضو کرتے وقت خدا کا نام زبان پر جاری کر یگا تو گویا اس نے غسل کیا ہے۔

حضرت امیر المؤمنین کی طرح وضو کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ایک دن حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) محمد ابن حنفیہ کیساتھ تشریف فرماتھے آپ نے فرمایا محمد میرے لئے پانی کا برتن لے آؤ تا کہ میں نماز کیلئے وضو کروں ، جب محمد ابن حنفیہ پانی کا برتن لائے تو آپ نے اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لیکر بائیں ہاتھ پر ڈالا اور پھر فرمایابِسمِ الله وَالحَمدُ للهِ الّذِی جَعَلَ المَاءَ طَهُوراً وَلَم یَجعَلهُ نَجساً پھر آپ نے اس جگہ کو دھو یا اور فرمایااَلَّلهُمّ حَصِّن فَرَجِی وَ اَعِفَّه،وَاستُرعَورَتِی وَحَرِّمنِی عَلیَ النَّار پھر آپ نے کلی کی اور فرمایااَلَّلهُمّ لَقِّنِی حُجَّتِی یَومَ اَلقَاکَ وَ اَطلِق لِسانیِ بِذکرِک پھر ناک میں پانی ڈالتے ہوئے فرمایااَلَّلهُمّ لاَ تُحَرِّم عَلیّٰ رِیحَ الجَنَّةِ وَاجعَلنِی مِمَّن یَشُمُّ رِیحَهٰا و رُوحَهَا وَ رِیحَا نَهٰا و طِیبَهَا ، راوی کہتا ہے پھر آپ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا اور فرمایااَلَّلهُمّ بَیّض وَجهیِ یَومَ تَسوَّدُ فیهِ الوُجوهُ وَ لاَ تُسوِّد وَجهیِ یَومَ تَبیَضُّ فِیهِ الوُجوهُ پھر آپ نے دایاں ہاتھ دھوتے وقت فرمایااَلَّلهُمَّ اَعطِنِی کِتَابی بِیَمِینِی وَ الخلُدَ فیِ الجِنَانِ بَیَسارِی وَ حَاسِبنیِ حِسَاباً یَسِیراً پھر بایاں ہاتھ دھویا اورفرمایااَلَّلهُمّ لاتُعطِنِی کِتَابی بِشِمٰالِی وَلاَ مِن وراء ِ ظَهرِی وَ لاَ تجعَلهٰا مَغلُولَةً اِلیٰ عُنُقِی وَ اعُوذُبِکَ مِن مُقَطِعَاتِ الَنَیرَانِ پھر آپ نے سر کا مسح کیا اور فرمایااَللَّهُمَّ غَشِّنِی بِرَحمَتِک وَ بَرکَاتِکَ وَ عَفوِکَ اور پھر پاؤں کا مسح کرتے ہوئے فر ما یااَللَّهُمَّ ثَبِّتنِی عَلیٰ الصِّرَاطِ یُومَ تَزِلُّ فِیهِ الاَقدَامِ وَ اجعَل سَعیِی فِی مَا یُرضِیکَ عَنِّی یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ اسوقت آپ نے اپنا چہرہ محمد ابن حنفیہ کی طرف کیا اور فرمایا اے محمد جو میری طرح وضو کرے گا اور یہ دعائیں پڑھے گا تو الله تعالیٰ استعمال ہونے والے پانی کے ہر قطرے کی تعداد میں فرشتے پیدا کرے گا جو قیامت تک الله تعالیٰ کی تسبیح تقدیس اور کبر یائی کرتے رہیں گے اور خدا انکے اس عمل کا ثواب و ضو کرنے والے کو عطا کرے گا۔

تولیے سے اعضاء وضو کے صاف کرنے یا نہ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو وضو کے بعد تو لیے و غیرہ سے اعضاء وضو صاف کرے گا اسے ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو وضو کے بعد کسی چیز سے خشک نہیں کرے گا اور اعضاء وضو خود بخود خشک ہو جائیں تو اسے تیس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔

نماز مغرب اور صبح کے وضو کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص نماز مغرب کیلئے وضو کریگا تو یہ وضو اسکے گذشتہ دن کے گناہوں کا کفارہ ہوگا مگر یہ کہ گناہ کبیرہ ہو اور جو نماز صبح کیلئے وضو کریگا تو یہ اسکے گذشتہ رات کے گناہوں کا کفارہ ہو گا مگر یہ کہ گناہ کبیرہ ہو۔

وضو کرتے وقت آنکھیں کھلی رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

وضو کرتے وقت آنکھیں کھلی رکھا کرو شاید ایسا کرنے سے تم جہنم کی آگ دیکھنے سے بچ جاؤ۔

دوبارہ (تجدید) وضو کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں

نماز عشاء کیلئے تجدید وضو، لا و الله اور بلیٰ والله (نہیں خدا کی قسم ، ہاں خدا کی قسم ) جیسی قسموں کے گناہ کو مٹا دیتا ہے۔

( ۲) حضرت امام صادق(علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو نماز کے علاوہ تجدید وضو کرتا ہے تو الله تعالیٰ استغفار کے بغیر ہی اسکے گناہوں کی معافی کی تجدید کردیتا ہے۔

مسواک کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

مسواک کرنے کی بارہ خاصیتں ہیں ، سنت پیغمبر ہے ، منہ کو صاف رکھتا ہے آنکھوں کو نورانیت ملتی ہے خدا راضی ہوتا ہے دانت سفید ہوتے ہیں ، دانتوں کو خراب ہونے سے محفوظ رکھتا ہے ، جبڑا مضبوط کرتا ہے، کھانے کی بھوگ لگتی ہے ، بلغم دور کرتا ہے ،حافظہ زیادہ ہوتا ہے ، نیکیاں دگنی ہوتی ہیں اور ملائکہ خوش ہوتے ہیں۔

( ۲) حضرت جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)نے فرمایا :

اگر لوگوں کو مسواک کرنے کے فوائد کا علم ہوتا تو وہ بستر میں بھی مسواک کرتے۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں

مسواک کرنے سے بلغم جاتا رہتا ہے اورعقل زیادہ ہوتی ہے ۔

احترام مسجد میں آب دہان منہ میں لے جانا

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا

جو شخص تعظیم مسجد کے حق کا لحاظ کرتے ہوئے آب دہان (تھوک) منہ میں لیجاتا ہے ،خدا دھان کو اسکے بدن کی سلامتی کا عامل قرار دے گا اور اس کے جسم کو کوئی آسیب نہیں پہنچے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص مسجد میں تھوک نہ پھینکے اور گلے میں لے جائے تو اسے جو بیماری بھی ہوگی وہ (جلد) تندرست ہو جائے گا۔

سوتے وقت وضو کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص باو وضو ہو کر بستر پر جائے تو رات کو جتنی دیر تک سورہا ہے اسکا بستر مسجد کی طرح عبادت گاہ ہوگا۔

زیادہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص کثرت سے کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے تو اس سے بخشش کا سامان ہو گا اور شیطان سے نفرت ہوگی۔

کپڑا باندھ کر حمام جانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص کوئی کپڑا باندھ کر (دھوتی وغیرہ) حمام جائے گا تو الله تعالیٰ اسے اپنے حجاب سے باحجاب رکھے گا۔

کسی مؤمن کی شرم گاہ نہ دیکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص حمام میں جائے اور مؤمن بھائی کی شرم گاہ نہ دیکھے تو الله تعالیٰ اسے جہنم کے کھولتے ہوئے پانی سے محفوظ رکھے گا۔

خطمی سے سرد ھونے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

خطمی سے سرد ھوناسردرد ، بیزاری اور فقر سے نجات کا موجب ہے اور سر کو خشکی سے محفوظ رکھتا ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں

خطمی سے سردھونا فقر کی دوری کا سبب ہے اس سے روزی بڑھتی ہے اور مزید فرمایا یہ (امراض و غیرہ کا ) تعویذ ہے۔

( ۳) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں

خطمی سے سردھونا رزق زیادہ کرنے کا بہترین عمل ہے۔

بیری کے پتوں (سدر) سے سر دھونے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

حضرت رسول خدا بیری کے پتوں سے سر دھوتے ہوئے فرمایا کرتے تھے اپنے سر کو بیری کے پتوں سے دھویا کرو کیونکہ تمام مقرب فرشتے اور پیامبران گرامی اسے مقدس جانتے ہیں جو شخص بیر کے پتوں سے سر دھوئے گا خدا ستر دن تک شیطانی وسو سوں کو اس سے دور رکھے گا ، جس شخص سے خداوند متعال ستر دن تک و سوسہ شیطانی کو دور رکھے وہ گناہ نہیں کرتا اور جوگناہ نہ کرے وہ جنت میں جائے گا۔

( ۲) عیسیٰ بن عبدالله علوی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت بیان کرتے ہیں۔

کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جب غمگین ہوتے تو حضرت جبرائیل آکر کہتے اپنے سر کو بیری کے پتوں سے دھو لیجیئے۔

خضاب کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس اطلاع پہنچی کہ آپ کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے اپنی داڑھیوں کو زرد رنگ کا خضاب کیا ہے حضرت نے فرمایا : یہ اسلامی خضاب ہے میں ان لوگوں سے ملنا چاہتا ہوں حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں میں ان کے پاس گیا اور انہیں حضرت کے فرمان سے آگاہ کیا۔ وہ لوگ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے جب حضرت نے انہیں دیکھا تو فرمایا یہ اسلامی خضاب ہے ، حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب انہوں نے یہ بات سنی تو خضاب کی طرف زیادہ راغب ہوئے اور انہوں نے اپنی داڑھیوں کو سرخ رنگ کا خضاب کیا جب حضرت تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا یہ خضابِ ایمان ہے مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں انہیں دیکھوں حضرت امیر المؤمنین کہتے ہیں میں ان کے پاس گیا اور حضرت کے فرمان سے آگاہ کیا وہ لوگ حضرت کی خدمت میں شرفیاب ہوئے۔ حضرت نے انہیں دیکھتے ہوئے فرمایایہ خضابِ ایمان ہے انہوں نے اس فرمان کو سننے کے بعد مرتے دم تک اس پر عمل جاری رکھا ۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

خدا کے نزدیک محبوب ترین خضاب گہرا سیاہ رنگ کا ہے۔

( ۳) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

خضاب کے لئے ایک درہم خرچ کرنا الله کی راہ میں سو درہم خرچ کرنے سے بر تر ہے ، خضاب کی چودہ خصوصیات ہیں ۔ کانوں سے ہوا کو روکتا ہے ، آنکھوں کی بینائی بہتر کرتا ہے ، ناک کی جڑ کو نرم کرتا ہے ، منہ سے خوشبو آتی ہے ، جبڑے محکم اور مضبوط ہوتے ہیں ۔ بغلوں کی بدبو ختم ہوجاتی ہے، و سوسہ شیطانی کم ہوتا ہے ، فرشتوں کی خوشحالی ، مؤمنوں کے لئے بشارت اور کافروں کی سختی کا باعث ہے ۔ یہ زینت ، خوشبو اور قبر کی سختی سے دوری کا مو جب ہے ، اور خضاب کی وجہ سے منکر و نکیر حیاء کریں گے ۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

مہندی انسان سے بدبو کو دور کرتی ہے، آبرو اور عزت میں اضافہ کرتی ہے منہ کو خوشبو دار بناتی ہے اور اولاد کو نیکو کار بناتی ہے۔ مزید فرمایا جو شخص نورہ استعمال کرنے کے بعد سر سے پاؤں تک مہندی لگائے تو اس سے فقر دور ہو جائے گا۔

( ۵) حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں

سیاہ رنگ کا خضاب عورتوں کی زینت اور دشمنوں کی خواری کا موجب ہے ۔

( ۶) حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا

جو شخص نورہ استعمال کرے اور بدن کو مہندی سے خضاب کرے تو دوسری دفعہ ان چیزوں کے استعمال تک الله اسے تین چیزوں سے محفوظ رکھے گا ۔ جزام ، برص اور خارش جیسی بیماریاں ۔

نورہ استعمال کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا

نورہ تعویذ ہے اور جسم کو پاک و صاف کرتا ہے۔

سر میں کنگھی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

سر میں کنگھی کرنے سے وباء دور ہوتی ہے، روزی زیادہ ہوتی ہے اور جماع میں کثرت ہوتی ہے۔

داڑھی میں ستر مرتبہ کنگھی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص ایک ایک کرکے گنتے ہوئے ستر مرتبہ داڑھی میں کنگھی کرے تو چالیس دن تک شیطان اسکے نزدیک نہیں آئے گا۔

سرمہ لگانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

سرمہ بصارت کو جلاء بخشتا ہے ، اشکوں کو روکتا ہے اور بال اگاتا ہے۔

( ۲) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو الله اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہے ، وہ سرمہ لگائے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

رات کو سوتے وقت سرمہ لگانے سے آنکھوں سے پانی بہنا بند ہو جائے گا۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں

سرمہ لگانے سے بال اگتے ہیں ، اشک خشک ہوتے ہیں ، تھوک گاڑھی ہوتی ہے اور بصارت کو جلاء ملتی ہے۔

بال کٹوانے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ مجھے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا

سر کے بال کٹواؤ تا کہ حشرات ریز ، جوئیں اور کثافت کم ہو ، بال کٹوانے سے گردن موٹی ہوتی ہے اور آنکھوں کو جلاء ملتی ہے۔

ناخن کاٹنے اور مونچھیں چھوٹی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔

جو شخص جمعہ والے دن ناخن اتارے گا الله تعالیٰ اسکی انگلیوں سے تکلیف کو نکال دے گا اور دوا کو داخل کرے گا۔

( ۲) حضرت رسول خدا نے فرمایا

جو ہفتہ یا جمعرات کو ناخن کاٹے گا اور مونچھیں چھوٹی کرے گا اسے داڑھ اور آنکھ درد سے معافی ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نے فرمایا

جو ایک کے علاوہ باقی ناخن جمعرات کو اتارے اور اس ایک کو جمعہ کیلئے چھوڑدے تو الله اسے فقر سے دور رکھے گا۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ناخن اتارنا بڑی تکلیفوں میں رکاوٹ اور رزق میں اضافے کا سبب ہے ۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جمعہ کے دن ناخن اتار نا انسان کو جزام ،برص اور اندھے پن سے نجات دیتا ہے اگر ناخن نہ بھی اتارنے ہوں تو کوئی چیز پھیر لے ۔

( ۶) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص جمعہ والے دن ناخن اور مونچھیں کاٹتے ہوئے یہ کہے بِسمِ اللهِ وَ بِاللهِ وِ عِلٰی مِلَّةِ رَسُولِ الله۔ تو اسے ہر بال اور ناخن کی تعدا د میں حضرت اسماعیل کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔

اس کتاب کے مؤلف جناب ابو جعفر بن علی (شیخ صدوق ) کہتے ہیں کہ میرے والد رحمة الله کی مجھے ایک نصیحت یہ تھی کہ بیٹا اپنے ناخن کاٹو اور مونچھیں چھوٹی کرواؤ دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناخن کاٹنا شروع کرو اور جب بھی یہ دو کام کرنے لگو تو یہ دعا پڑھا کرو بِسم الله و بِا للهِ و عَلیٰ مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ بیٹا جو یہ عمل بجالائے گا تو خدا اسے ہر ناخن اور بال کی تعداد میں غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا اور اسے موت کے علاوہ کسی بیماری میں مبتلا نہیں کریگا۔

سفید جوتے پہننے کا ثواب

( ۱) سدیر سیر فی کہتا ہے میں سفید جوتا پہن کر حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا تو حضرت نے مجھے فرمایا اے سدیر یہ کیسا جوتا ہے ؟ کیا عمداً پہنا ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ میں آپ پر قربان جاؤں ۔ نہیں (ویسے ہی پہنا ہے ) حضرت نے فرمایا جو شخص سفید جوتا خرید نے کے ارادے سے بازار جائے اور جوتا خرید لائے تو جوتا پرانا ہونے تک اسے ایسا مال ملتا ہے جسکا اسے گمان تک نہیں ہے۔

ابو نعیم کہتا ہے کہ مجھے سدیر نے بتایا کہ میرا یہ جوتا ابھی پرانا نہیں ہوا تھا مجھے ایسی جگہ سے سو دینار ملے جسکا مجھے گمان تک نہ تھا۔

زرد رنگ کا جوتا پہننے کا ثواب

( ۱) حنان بن سدیر کہتا ہے کہ میں سیاہ جوتا پہن کر حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کو گیا۔

حضرت نے فرمایا۔

سیاہ جوتا کیوں پہن رکھا ہے ؟ کیا اس کے مضرات سے واقف نہیں ہو ؟ میں نے عرض کی ، اسکا کیا ضرر ہے ؟ فرمایا یہ بینائی اور مردانہ قوت کم کرتا ہے۔ اور یہ غم و غصہ کا موجب ہے۔ مزید یہ کہ یہ جبار لوگوں کا لباس ہے۔ زرد جوتا پہن اور اسکے فوائد سے بہرہ مند ہو۔ عرض کی ، اسکے کیا فوائد ہیں ؟ فرمایا بینائی اور مردانہ قوت میں اضافہ کرتا ہے ، غم و غصہ کو ختم کرتا ہے۔ اور پیامبران گرامی قدر کے لباس کا حصّہ ہے۔

جوتا پہننے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جوتا پہننے سے بینائی بڑھتی ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو ہمیشہ جوتا پہنتا ہے وہ جزام میں مبتلا نہیں ہوگا۔ راوی کہتا ہے میں نے پوچھا گرمیوں میں یا سردیوں میں ؟ فرمایا اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (خواہ کوئی موسم بھی ہو جوتا پہنے)

نیا لباس کاٹتے وقت (انا انزلناہ) کی تلاوت کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص نیا کپڑا کاٹنے لگے تو پہلے چھتیس مرتبہ سورہ قدر کی تلاوت کرے جبتَنَزَّلُ المَلاَئِکَةُ پر پہنچے تو کپڑے پر پانی کا ہلکا سا چھڑکاؤکرے۔ پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ دعا مانگےاَلحَمدُللهِ الَّذِی رَزَقنِی مَا اَُتَجمَّلُ بِه فیِ النّاسِ وَ اُٴوَارِی بِه عَورَتِی وَأُصَلِّی فِیه لِربَّی وَ اَحمَدُ اللهَ اس کپڑے کے پرانے ہونے تک ہمیشہ کھانے پینے کی چیزوں میں وسعت رہے گی۔

آئینہ دیکھتے وقت خدا کی زیادہ ستائش کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا خدائے بزرگ نے جنت کو ان نوجوان کیلئے قرار دیا ہے جو زیادہ آئینہ دیکھے اور کثرت سے خدا کی حمد اور ستائش بجالائے۔

کسی یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھ کر مندرجہ ذیل ذکر کی تلاوت کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد اور وہ اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہودی، عیسائی، مجوسی یا کسی غیر مسلم کو دیکھ کر یہ کہےاَلحَمدُ للهِ ِ الّذِی فَضَّلنِی عَلَیکَ بِالاسلَام دِیناً وَ بِالقُرآنِ کِتَاباً و بِمُحَمدٍ نَبِیاً وَبِعَلیٍّ امَاماً وَ بالمُؤمِنِینَ ۱خوَاناً وَ بِالکَعبَةِ قِبلَةً تو خدا پڑھنے والے کو ان لوگوں کیساتھ جہنم میں جمع نہیں کرے گا ۔

کامل وضو ، عمرہ، نماز اور ادائے زکات کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) اپنے والد حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔ جو شخص کامل وضو کرے۔ عمدگی سے نماز بجالائے۔ اپنے مال کی زکات ادا کرے ، غصے اور زبان پر کنٹرول رکھے ، اپنے گناہوں سے استغفار کرے ، اپنے نبی کی اہلبیت کا خیر خواہ رہے۔ تو اسکے ایمان کے تمام حقائق کامل ہونگے۔ اور اسکے لئے جنت کے دروازے کھلے ہونگے۔

رَضِیتُ بِالله رَبّاً کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں جو شخصرَضِیتُ بِالله رَبّاً،وَبِالاِسلاَمِ دِیناً وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَ بِأهلِ بَیتِهِ أَولِیأء ً کہے تو قیامت والے دن الله کا حق ہے کہ اسے راضی کرے ۔

شب و روز کی دعا کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں کیا چاہتے ہو کہ میں تمھیں ایسا اسلحہ دوں جس سے تمھارا رزق زیادہ ہو اور تم دشمنوں کے شر سے محفوظ رہ سکو ۔کہنے لگے ، جی ہاں (یارسول الله) ، حضرت نے فرمایا ہر شب وروز دعا مانگا کرو۔ کیونکہ دعا مؤمن کا اسلحہ ہے۔

مسجد جانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ تورات میں لکھا ہے کہ زمین پر میرے گھر مساجد ہیں۔ خوش قسمت ہے وہ عبد جو اپنے گھر وضو کرکے میرے گھر میری زیارت کے لئے آتا ہے جان لو !زیارت کروانے والے کیلئے زائر کی تکریم کرنا ضروری ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے۔ جان لو ! تاریکی میں مساجد کی طرف جانے والوں کو قیامت والے دن درخشاں نور کی بشارت اور خوشخبری ہے۔

مسجد میں رفت وآمد کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین فرماتے ہیں جو مساجد میں رفت و آمد رکھتے ہیں۔ وہ آٹھ چیزوں میں سے (کم از کم) ایک چیز کو (ضرور) حاصل کرینگے۔ راہ خدا میں کسی بھائی سے استفادہ یا بہت زیادہ علم کا حصول ،یا محکم نشانی کا ظہور یا اس رحمت کا ملنا جسکا انتظار تھا یا نابود ی سے بچانے والی گفتگو کا حصول یا ہدایت کرنے والے کلام کی سماعت یا خوف کی وجہ سے ترک گناہ ، یا شرم کی وجہ سے گناہ سے دوری۔

پیدل مسجد جانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص مسجد میں پیدل جائے گا تو جب بھی وہ اپنا پاؤں خشک و تر جگہ پر رکھے گا تو اس زمین سے لیکر ساتوں زمین تک سب اس کے لئے خدا کی تسبیح و تقدیس بجا لائیں

گے۔

قرآنی گفتگو اور مسجد کے گھر ہونے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے اور وہ اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جس کی گفتگو قرآن ہوگی اور گھر مسجد ہو گا تو خدا جنت میں اسکے لئے گھر بنائے گا۔

وضو کرکے مسجد جانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

تورات میں لکھا ہے کہ زمین پر میرے گھر مساجد ہیں۔ خوش قسمت ہے وہ عبد جو اپنے گھر وضو کرکے میرے گھر میری زیارت کے لئے آئے جان لو !زیارت کروانے والے کیلئے زائر کی تکریم کرنا ضروری ہے۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں۔

جان لو الله کا فرمان ہے کہ زمین پر میرے گھر مساجد ہیں جسطرح ستارے اہل زمین کیلئے نور افشانی کرتے ہیں اسی طرح مساجد اہل آسمان کیلئے نور افشانی کرتی ہیں۔ جان لو! وہ خوش قسمت ہیں جنکے گھر مساجد ہیں۔ اور یہ بھی جان لو کہ جو عبد ِ خدا اپنے گھر سے وضو کرکے میرے گھر میری زیارت کیلئے آتا ہے و ہ خوشحال ہے۔ اس بات کی طرف بھی متوجہ رہو کہ زیارت کروانے والے پر زائر کی تعظیم ضروری ہے۔ متوجہ رہو کہ تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر جانے والے کیلئے قیامت والے دن درخشاں نور کی بشارت ہے۔

( ۳) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔جب اہل زمین گناہ میں مشغول ہوتے ہیں۔ یا غلط اور بُرے کام کرتے ہیں۔ تو الله تعالیٰ بدون استثناء اہل زمین کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ لیکن جب بوڑھوں کو نماز کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اور بچوں کو قرآن پڑھنا سیکھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اسے ان پر رحم آجاتا ہے اور غذاب کو مؤخر کر دیتا ہے۔

اول وقت میں پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں اے اَبان! جو پنجگانہ واجب نمازوں کو ادا کرتا ہے اور ان کے اوقات کا خیال رکھتا ہے (یعنی اول وقت میں پڑھتا ہے) وہ قیامت والے دن الله کا اس حالت میں دیدار کریگا کہ اس کے پاس عہدو پیمان ہو گا جس کی وجہ سے خدا اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص نمازوں کو وقت پرنہیں پڑھتا تھا تو خدا کی مرضی ہے چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے معاف کردے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ایک دن حضرت رسول خدا مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ کے چند اصحاب بھی مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا۔ کیا جانتے ہو تمہارے پروردگار نے تمھیں کیا فرمایا ہے ؟ تمھارے رب نے فرمایا ہے جو شخص پنجگانہ واجب نمازوں کی ادائیگی کرے اور ان کے اوقات کا خیال رکھے تو وہ قیامت والے دن اس حالت میں میرا دیدار کرے گا کہ اس کا مجھ پر عہد وپیمان ہوگا۔ میں اس عہد کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرونگا اور جو انہیں بروقت بجانہ لائے گا اور اوقات نماز کا خیال نہیں رکھے گا تو پھر یہ مجھ پر ہے کہ میں اسے عذاب دوں یا اسکی مغفرت کروں۔

نافلہ نمازوں کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نافلہ نمازیں ہر مؤمن کیلئے مایہ تقرب ہیں۔

مسجد میں چراغ جلانے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں جو الله کی کسی مسجد میں چراغ جلا ئے گا تو حاملان عرش اور خداکے

فرشتے اسوقت تک اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے جب تک اس چراغ سے مسجد کو روشنی میسر ہوتی رہے گی۔

نماز کی حالت میں آب دہن (تھوک ) کو منہ میں رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص الله تعالیٰ کی جلالت اور بزرگی کی خاطر نماز کی حالت میں اگر تھوک آ جائے تو تھوک کو منہ میں رکھتا ہے۔ تو خداوند متعال مرنے تک اسے صحت و سلامتی دے گا۔

مسجدالحرام میں نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا مسجد الحرام میں پڑھی گئی ایک نماز کسی دوسری مسجد میں پڑھی جانے والی نماز سے ایک لاکھ گنا زیادہ ثواب رکھتی ہے۔

مسجدنبوی میں نماز کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا خدا کے نزدیک دوسری تمام مساجد کی نسبت میری مسجد میں نماز پڑھنا دس ہزار نمازوں کے برابر ہے مگر مسجد الحرام میں پڑھی گئی ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ثواب رکھتی ہے ۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے درمیان نماز کا ثواب

( ۱) حسن بن علی و شاء کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے پوچھا کیا مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں نماز کا ثواب ایک جیسا ہے ؟ فرمایا جی ہاں اور ان دونوں کے درمیان پڑھی گئی نماز دوسری جگہوں کی نسبت دوہزار نمازوں کے برابر ہے۔

مسجد کوفہ میں نماز کا ثواب

( ۱) ابو بصیر کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے یہ سنا ، آپ فرما رہے تھے مسجد تو مسجد کوفہ ہے۔ اس میں ایک ہزار نبی اور ایک ہزار وصی نے نماز پڑھی ہے۔ اس مسجد میں حضرت نوح کے زمانے میں زمین سے پانی نکلا اور اِن کی کشتی بھی اس مسجد میں بنائی گئی۔ اس کی دائیں طرف خشنودی خدا ہے۔ اسکے وسط میں باغ بہشت کا ایک باغ ہے۔ اور اسکی بائیں طرف مکر ہے۔ میں نے پوچھا مکر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا مکر یعنی شیطان کے گھر۔

( ۲) محمد بن سنان کہتے ہیں میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے یہ فرماتے ہوئے سنا۔ مسجد کوفہ کی ایک فرادیٰ نماز دوسری مسجدوں کی ستر با جماعت نمازوں سے افضل ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

مسجد کوفہ کی ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزارنمازوں کے برابر ہے ۔

بیت المقدس ، جامع مسجد ، مسجد قبیلہ اور مسجد بازار میں نماز کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجدا د سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا۔

بیت المقدس کی ایک نماز ،ہزار نمازوں کے برابر ہے جامع مسجد کی ایک نماز ایک سو نمازوں کے برابر ہے قبیلے کے مسجد کی ایک نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے اور بازار کی مسجد میں اداکی گئی ایک نماز بارہ نمازوں کے برابر ہے انسان کی گھر میں اداکی گئی ایک نماز فقط ایک نماز ہی ہے۔

مسجد میں جھاڑو کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے مروی ہے ۔

حضرت رسول خدا نے فرمایا جو جمعرات یا شب جمعہ مسجد میں جھاڑو کرے۔ اور آنکھ میں ڈالے گئے سرمہ کی مقدار مٹی صاف کرے تو الله تعالیٰ اسکی مغفرت کریگا۔


ثواب الاعمال ۲

اذان کہنے والوں کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں قیامت والے دن لوگوں میں بلند ترین گردن والے (صاحب عزت ) مؤذن ہونگے۔

سات سال تک اذان کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص سات سال تک خدا سے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے اَذان کہے گا تو جب قیامت والے دن آئے گا ۔ تو اسکا کوئی گناہ نہ ہوگا۔

کسی مسلمان شہر میں ایک سال تک اذان کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جو کسی مسلمان آبادی والے شہر میں ایک سال تک اذان کہے تو وہ بہشت میں جائے گا۔

تکرار اذان کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص مؤذن سےاَشهَدُاَن لاَاِلَهَ الِاّ الله وَاَشهَدُاَنَّ مُحَمَّدُاً رَسُولُ الله کہتے ہوئے سنے اور پھراس کلام کی تصدیق کرے اور خدا سے ثواب و پاداش لینے کی خاطر کہےوَاَنَا اَشهَدُاَن لاَاِلَهِ الله وَاَنَّ مُحَمَّدُاً رَسُولُ الله ِ أکتَفِی بِهِمٰاعَن کُلِّ من اَبیٰ و جَحَدَ وَ أُعیِنَ بِهِمَامَن اَقَرَّ وَ شَهِدَ تو خداوند متعال اسے اقرار نہ کرنے اور گواہی نہ دینے والے کی تعداد اور اقرا ر کرنے اور گواہی دینے والوں کی تعداد کے برابر مغفرت کرے گا۔

خدا سے ثواب کی نیت سے دس سال تک اذان کہنا

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص خدا سے پاداش چاہتے ہوئے دس سال تک اذان کہے گا تو خداوند متعال آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہوں اور آوازوں کی تعداد کے برابر اسکی مغفرت کرے۔ گا ہر خشک و تر اسکی آواز سنکر ، اس کی تصدیق کرے گا۔ اور جو شخص مسجد کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے گا تو اسے بھی ثواب کا ایک حصہ ملے گا اور اسکی آواز کیساتھ نماز پڑھنے والے ہر شخص کو بھی ایک نیکی دی جائے گی۔

اذان و اقامت کے درمیان مؤذن کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا اذان و اقامت کے درمیان مؤذن کا ثواب الله کی راہ میں خون سے لت پت شھید کے برابر ہے ، حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں ، یا رسول الله اس طرح تو سب لوگ اذان و اقامت کہیں گے حضرت نے فرمایا نہیں ایک زمانہ آئے گا اس میں فقط کمزور اور نادار لوگوں کو ہی اقامت و اذان کی ذمہ داری سونپی جائیگی لہذا ان نادار لوگوں کے گوشت پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے۔

اذان و اقامت کیساتھ نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص اذان واقامت کیساتھ نماز پڑھے گا تو اسکے پیچھے فرشتے صف بستہ نماز پڑھیں گے اور ان صفوں کی اطراف دیکھی نہ جاسکیں گی نیز جو اقامت کیساتھ نماز پڑھے گا تو اسکی اقتداء میں ایک فرشتہ نماز پڑھے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو اذان واقامت کیساتھ نماز پڑھتا ہے تو فرشتوں کی دو

صفیں اسکی اقتداء میں نماز پڑھتی ہیں جو شخص فقط اقامت کہتا ہے (اذان نہیں کہتا) تو اسکی اقتداء میں فرشتوں کی ایک صف نماز پڑھتی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی کہ ایک صف کتنی لمبی ہوگی؟ فرمایا سب سے چھوٹی صف مشرق سے مغرب تک اور طولانی ترین صف زمین سے آسمان تک ہوگی۔

مستحبی نماز کی ہر رکعت میں سورہ اخلاص ، قدر اور آیت الکرسی پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو مستحب نماز میں قل ہو الله احد ، انا انزلناہ فی لیلة القدر اور آیت الکرسی کی تلاوت کریگا تو خدا اسکے عمل کو بہترین اعمال سے قرار دے گا مگر جو اس جیسا یا اس سے زیادہ یہی عمل بجالا چکا ہو۔

قنوت کی فضیلت اور ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اجداد سے اور وہ جناب ابوذر سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا۔ دنیا میں جسکا قنوت جتنا طولانی ہوگا تو توقف کی جگہ پر قیامت والے دن اسکا سکون طولانی تر ہوگا۔

کامل رکوع کا ثواب

( ۱) سعید بن جناح کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کے گھر موجود تھا۔ حضرت نے کسی کے سوال کے بغیر فرمایا۔ جو شخص اپنا رکوع کامل طور پر بجالائے گا تو اس کی قبر میں وحشت داخل نہ ہوسکے گی۔

ایک سجدہ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ایک مرتبہ سجدہ کرے گا تو اسکا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اور ایک درجہ بلند کردیا جائے گا۔

سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا سجدہ کرتے وقت ہاتھ کی ہتھیلیوں کو اس امید کیساتھ زمین پر رکھو کہ قیامت والے دن زنجیر نہ پہنائی جائے۔

طولانی سجدے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا جب کوئی بندہ خدا لمبا اور طولانی سجدہ کرے اور اسے کوئی نہ دیکھے تو شیطان کہتا ہے ہائے افسوس انہوں نے اطاعت کی جبکہ میں نے نافرمانی کی لوگوں نے سجدے کیے اور میں نے انکار کیا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرما تے ہیں خدا کیساتھ بندے کی نزدیک ترین حالت ، حالت سجدہ ہے۔

رکوع ، سجدہ اور قیام کی حالت میں درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص اپنے رکوع ، سجدے اور قیام میںاَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّدٍ کہے تو الله تعالیٰ اسے اسکے رکوع ، سجدے اور قیام کی مثل ایک اور ثواب عطا کرتا ہے۔

سجدہ شکر کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو مومن نماز کے علاوہ بھی نعمتوں کے شکر یے کے لئے سجدہ شکر بجا لائے گا تو خدا اس کے لئے دس نیکیاں لکھے گا اور دس گناہ مٹائے گا۔ اور بہشت میں اس کے دس درجات بلند کرے گا۔

نماز کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔ جب بھی کسی نماز کا وقت ہوتا ہے تو ایک فرشتہ لوگوں میں آکر ندا دیتا ہے اے لوگو!کھڑے ہو جاؤ ۔ تم نے اپنی پشت پر جو آگ جلا رکھی ہے اسے نماز سے بجھا ڈالو۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب تم نے واجب نماز پڑھنی ہے تو اسے اسکے وقت میں ادا کرو۔ وگرنہ خوف ہوگا کہ اسے انجام دینے کی توفیق ہی نہ مل سکے ۔ نماز پڑھتے وقت سجدہ گاہ پر نگاہ رکھو۔ اگر تمھیں علم ہوکہ تمہارے دائیں بائیں کوئی ہے تو تم کتنی عمدگی کیساتھ نماز ادا کرتے ہو(جبکہ اب تمہارے سامنے خدا موجود ہے)۔ جان لووہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ رہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں نمازی کی تین خصلتیں ہیں جب کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے سر پر آسمان کی وسعتوں سے نیکیاں اترتی ہیں فرشتے اس کے پاؤں کے نیچے سے لیکر آسمان کی وسعتوں تک اسکا احاطہ کیے رہتے ہیں۔ ایک فرشتہ ندا دیتا ہے اے نماز گزار ! اگر تجھے علم ہوتا کہ تم کس سے مناجات کر رہے ہو تو ہمیشہ نماز پڑہتے ۔

صبح اول وقت نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ صبح کی نماز کا بہترین وقت کونسا ہے ؟ فرمایا طلوع فجر کیونکہ الله نے فرمایا ہےاِنَّ قُرآَنَ الفَجرِ کَانَ مَشهُوداً یعنی صبح اور شام کے فرشتے نماز فجر کو ملاحظہ کرتے ہیں۔ جو شخص طلوع فجر کے وقت نماز پڑھے گا تو یہ نماز دو مرتبہ لکھی جائے گی ، ایک مرتبہ رات کے فرشتے اور ایک مرتبہ صبح کے فرشتے اس نماز کو لکھیں گے ۔

اول وقت کی آخری وقت پر برتری

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں مؤمن کیلئے اول وقت کی آخر وقت پر فضیلت اولاد اور مال سے بہتر ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں اول وقت کی آخری وقت پر برتری دنیا پر آخرت کی برتری کی مانند ہے۔

اول وقت میں واجب نمازوں کی ادائیگی کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

اگر واجب نمازوں کو اول وقت میں آداب اور شرائط کیساتھ پڑھا جائے تو جس طرح جب الاس درخت کی ٹہنی توڑی جائے تو اس سے عمدہ خوشبو نکلتی ہے اس طرح اس نماز سے اس سے بھی عمدہ خوشبو آتی ہے۔ لہذا تم پر ضروری ہے کہ اول وقت میں نماز ادا کرو ۔

سفر میں قصر نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) حضرت رسول خدا سے روایت کرتے ہیں کہ تم میں نیک لوگ وہی ہیں جو سفر میں آدھی نماز پڑھتے ہیں اور روزہ نہیں رکھتے ۔

مسافر کیلئے نماز جمعہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تم میں سے جو مسافر بھی رغبت اور محبت کی وجہ سے نماز جمعہ بجالائے تو الله تعالیٰ اسے ایک سو غیر مسافر کی نماز جمعہ کا ثواب عطا کرے گا۔

باجماعت نماز کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

با جماعت نماز کی فرادیٰ نماز پرتئیس درجے فضیلت ہے اور یہ ایک نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے ۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جو شخص با جماعت نماز ایمان اور خدا سے ثواب کی نیت سے بجالائے گا تو اسکے اعمال ابتداء سے لکھنا شروع ہونگے (کیونکہ اسکے سابقہ تمام گناہ ختم ہوگئے ہیں لہذا پھر ابتداء سے اعمال لکھے جائیں گے)۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا ۔

تم میں سے جو بھی روز جمعہ کو درک کرے تو وہ عبادت کے علاوہ کوئی اور کا م انجام نہ دے کیونکہ اس دن لوگوں کی مغفرت ہوتی ہے اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔

نماز کیلئے اٹھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

ہمارے شیعوں میں کوئی شخص نماز کیلئے نہیں اٹھتا مگر یہ کہ اس کے ارد گرد اسکے مخالفین کی تعداد کے برابر فرشتے آجاتے ہیں اور اسکی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کیلئے نماز ختم ہونے تک دعا کرتے ہیں۔

جمعہ کی عصر کے بعد حضرت محمد اور انکی آل پر درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب تم جمعہ کے دن نماز عصر پڑھ لو تو اس طرح درود بھیجواَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّدٍاَلاَؤصِیَاءِ المَرضِیِِّینَ بِاَفضَلِ صَلوَاتِکَ وَ بَارِک عَلَیهِم بِاَفضَلِ بَرَکَاَتِکَ وَالسَّلامُ عَلَیهِم وَعَلیٰ اَروَاحِهِم وَاَجسَادِهِم وَرَحمَةُ الله ِ وَبَرَکاتُه جو شخص نماز کے بعد اس طرح درود بھیجے گا خدا اس کیلئے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اسکے ایک لاکھ گناہ مٹائے گا اسی درود کی برکت سے ایک لاکھ حاجتیں پوری کرے گا اور ایک لاکھ درجات بلند کرے گا۔

نماز جمعہ کے بعد ایک مرتبہ حمد ، سات مرتبہ سورہ توحیداور معوذّتین ، آیت الکرسی ، آیت سخر اور سورہ برأت کی آخری آیت پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص نماز جمعہ کے سلام کے بعد ایک مرتبہ سورہ حمد اور سات مرتبہ سورہ توحید اور سورہ قل اعوذ برب الفلق ، اور قل اعوذ برب الناس اور ایک مرتبہ آیت الکرسی ، آیت سخر اور سورہ برأت کی آخری آیت پڑھے گاتو یہ اس جمعے سے اگلے جمعے تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔

اسی مورد میں ایک اور ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے آباء و اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا ۔جو شخص نماز جمعہ کے بعد ایک مرتبہ سورہ حمد اور سات مرتبہ سورہ قل اعوذ برب الفلق ، پھر ایک مرتبہ حمد اور سات مرتبہ قل ھوالله احد ، پھر ایک مرتبہ حمد اور سات مرتبہ قل اعوذ برب الناس پڑھے گا تو اس پر کوئی آفت نہیں آئے گی اور وہ کسی فتنہ میں نہیں پڑے گا اور اگر اس کے بعد کہےاَللَّهُم ّ اجعَلنِی مِن أَهلِ الجَنَةِ الَّتِی حَشوهَا بَرَکَة وَ عُمَّارُ هَا المَلاَئِکَةُ مَعَ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَاَبِینَا إبرَاهِیمَ تو الله تعالیٰ اسے دارالسلام (بہشت) میں حضرت محمد اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کیساتھ رکھے گا۔

نماز کی طرف قدم بڑھانے اور قرآن سیکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین فرماتے ہیں ۔جب اہل زمین گناہ میں مشغول ہوتے ہیں یا غلط اور بُرے کام کرتے ہیں تو الله تعالیٰ بدون استثناء اہل زمین کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن جب بوڑھوں کو نماز کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اور بچوں کو قرآن پڑھنا سیکھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اسے ان پر رحم آجاتا ہے اور غذاب کو مؤخر کر دیتا ہے۔

صابر ، نابینا اور موالی اہلبیت کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص صابر اور نابینا ہے اور خدا سے پاداش کا امیدوار ہے اور آل محمد کا موالی ہے تو وہ قیامت والے دن اسطرح الله سے ملاقات کریگا کہ اس کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہوگا۔

( ۲) روایت کی گئی ہے کہ خدا کسی بندے کی دونوں یا ایک آنکھ نہیں لیتا مگر یہ کہ اسکے گناہ کے متعلق کوئی سوال نہ ہوگا۔

دو رکعت مستحبی نماز پڑھنے ، ایک درہم صدقہ دینے اور ایک دن روزہ رکھنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا

سستی چھوڑو ، تمھارا پروردگار رحیم ہے تمھارے تھوڑے عمل کا بھی شکر گذار ہے جو شخص خدا کی خوشنودی کی خاطر دو رکعت مستحب نماز بجالاتا ہے تو الله اسکے بدلے میں جنت میں داخل کرے گا اور جو الله کی رضا چاہتے ہوئے ایک درہم صدقہ دے گا تو خدا اسکی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو الله کی رضا او رخوشنودی کی خاطر ایک روزہ رکھے گا تو خدا اسے اس روزے کے بدلے اسے واردِ بہشت کرے گا۔

ماہ رمضان کے جمعوں کی دوسرے جمعوں پر برتری

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں

یقینا ماہ رمضان کے جمعے باقی جمعوں پر فوقیت رکھتے ہیں جس طرح حضرت رسول خدا دوسرے رسولوں سے برتر ہیں اس طرح ماہ رمضان تمام مہینوں سے برتر ہے۔

عطر لگانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص عطر لگا کر نماز پڑھے گا تو اس کی نماز عطر نہ لگا کر پڑھنے والے شخص کی ستر رکعت سے برتر ہے۔

شادی شدہ شخص کی نماز کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

شادی شدہ شخص کی دو رکعت نماز کنوارے کی ستر رکعت نماز سے برتر ہے۔

چار رکعت نماز کی ہر رکعت میں پچاس مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سناکہ جو شخص چار رکعت نماز بجالائے اور اسکی ہر رکعت میں پچاس مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو نمازکے سلام سے پہلے ہی جتنے گناہ اسکے اور الله کے درمیان تھے سب معاف کردئے جائیں گے ۔

نماز جعفر بن ابی طالب پڑھنے کاثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے پوچھا کہ جوشخص نماز جعفر طیار پڑھتا ہے اسکا کیا ثواب ہے؟ حضرت نے فرمایا اگر اسکے گناہ ریت کے ذرات اور دریاکی موجوں جتنے بھی ہوں تو خدا اسے معاف کردے گا۔ راوی کہتا ہے کہ یہ سب ثواب ہمارے لئے ہے؟ فرمایا اور کس کے لئے ہے ! یہ ثواب تمھارے ساتھ ہی مخصوص ہے ، راوی نے پوچھا اس نماز میں کونسا سورہ پڑھوں؟ فرمایاإذَا زُلزِلَت،إذَا جَاء َ نَصرُ الله ، إنَا اَنزَلنَاهُ فِی لَیلَةِالقَدر اور قُل هُوَ الله ُ اَحَد پڑھو۔

نماز شب پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ مؤمن کا شرف نماز شب اور مؤمن کی عزت لوگوں سے سوال نہ کرنے میں ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں نماز شب پڑھا کرو۔ یہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سنت ، تم سے پہلے والے صالحین کی عادت ہے نیزتمھارے جسموں سے بیماریاں دور کرتی ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں نماز شب چہرے کو نورانی کرتی ہے ، نماز شب عمدہ خوشبو دیتی ہے اور نماز شب رزق میں وسعت دیتی ہے ۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جیسا کہ الله تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں“ بے شک آخر شب میں انسان جو آٹھ رکعت نماز پڑھتا ہے وہ آخرت کی زینت ہے

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت بیان ہوئی ہے کہ ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں آکر اپنی حاجت بیان کی۔ قریب تھا کہ وہ اپنی گر سنگی کی شکایت کرے۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا ۔ نماز شب پڑھتے ہو ؟ کہا جی ہاں۔ حضرت نے اسکی طرف رخ کیا اور فرمایا وہ شخص جھوٹا ہے جو نماز شب پڑھتا ہو اور دن میں بھوکا رہتا ہو۔ کیونکہ الله تعالیٰ نے دن کے رزق کی نماز شب میں ضمانت دی ہے۔

( ۶) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا نماز شب سلامتی بدن، رضا پروردگار، اخلاق انبیاء سے متمسک اور رحمت خداوند ی کی طلب ہے۔

( ۷) راوی کہتا ہے کہ میں نے ان سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ ممکن ہے کہ عبد خدا نصف شب بیدار ہو اور نیند کی شدت کی وجہ سے اسکی ٹھوڑی سینے کے ساتھ لگ رہی ہو (یعنی سردی کی وجہ سے اکھٹا ہو کر سویا ہواہو) اور وہ بستر پر دائیں بائیں پلٹ رہا ہو اس حالت میں بدون شک و تردید الله تعالیٰ زمین و آسمان کے رحمت کے دروازوں کو حکم دیتا ہے کہ اس شخص کیلئے کھل جاؤ پھر فرشتوں سے کہتا ہے میرے بندے کو دیکھو میرے تقرب کی خاطر اس عمل کو بجالانے کیلئے کتنی سختیوں کو برداشت کر رہا ہے کہ جو میں نے اس پر واجب بھی نہیں کی ایسا شخص مجھ سے تین چیزوں کا امیدوار ہو سکتا ہے ، اسکے گناہوں کو معاف کردوں۔ دوبارہ تو بہ کرنا اسے نصیب کروں۔ یا اسکے رزق میں اضافہ کروں۔ میں بھی تم تمام فرشتوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ یہ سب کچھ اسے عطا کروں گا۔

( ۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نماز شب چہرے کو حسین ، اخلاق کو عمدہ ، جسم کو معطر ، رزق کو زیادہ۔ قرض کو ادا ، غموں کو دور اور بینائی کو جلاء بخشتی ہے ۔

( ۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ ممکن ہے ایک شخص جھوٹ بول کر رزق سے محروم ہو جائے میں نے عرض کی کس طرح رزق سے محروم ہوتا ہے ؟ فرمایا پہلے تو نماز شب سے محروم ہوتا ہے اور جب نماز شب سے محروم ہوتا ہے تو پھر رزق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

( ۱۰) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جن گھروں میں رات کو نماز شب کیساتھ ساتھ قرآن مجید کی تلاوت بھی ہوتی ہے تو یہ گھر اہل آسمان کو اس طرح منور کرتے ہیں جس طرح ستارے اہل زمین پر نور افشانی کرتے ہیں۔

( ۱۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) الله تعالیٰ کے اس فرمان کہ بے شک نیکیاں گناهوں کو ختم کردیتی هیں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں مؤمن کی رات کو اداکی گئی نماز (شب) اس کے دن میں کئے ہوئے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔

قرآن کیساتھ شب بیداری کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امیرا لمؤمنین سے تلاوت قرآن کیساتھ شب بیداری کا ثواب پوچھا تو حضرت نے اسے فرمایا۔ اس شخص کیلئے بشارت ہے جو فقط رات کے دسویں حصے میں الله سے ثواب چاہتے ہوئے خلوص کیساتھ نماز پڑھے تو الله تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے عبد کیلئے اس رات اگنے والے تمام دانوں، پتوں ، درختوں کلیوں، خوشوں اور چراگاہوں کی تعداد میں حسنات لکھ لو۔ جو شخص رات کا نواں حصہ نماز میں گزار دے الله اسے دس مستجاب دعائیں عطا کرتا ہے اور قیامت والے دن اس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال عطا کرے گا۔ اور جو رات کے آٹھویں حصّے کو نماز میں گزارے تو خداوند متعا ل اسے صابر اور نیک نیت شھید کا ثواب عطا کرے گا۔ اور خاندان کے متعلق اسکی شفاعت کو قبول کرے گا۔ جو اس رات کا ساتواں حصّہ نماز میں گزارتا ہے تو اٹھائے جانے والے دن قبرسے اس حالت میں باہر آئے گا کہ اسکا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہو گا اور جو لوگ اس کی امان میں ہیں ان کیساتھ پُل صراط سے گزرے گا۔ جو رات کا چھٹا حصّہ نماز میں گزارے تو وہ توبہ کرنے والوں میں شمار ہوگا اور اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ اور جو رات کا پانچواں حصّہ نماز میں گزارے تو اسے حضرت ابراہیم کے مقبرے میں جگہ ملے گی۔ جو شخص رات کا چوتھا حصّہ نماز میں گزارے تو وہ کامیاب لوگوں میں پہلے نمبر پر ہوگا۔ یہاں تک کہ تیز ہواکی طرح پل صراط سے گزر کر حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائے گا۔ جو ایک تہائی رات نماز میں گزارے تو جس فرشتے سے بھی ملاقات کرے گا وہ کہے گا۔ کاش میرا بھی الله کے نزدیک یہ مقام ہوتا۔ اور اسے کہا جائے گا جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ۔ جو آدھی رات نماز یں پڑھتا رہے اگر اسے ستر ہزار مرتبہ پوری زمین سونے سے بھر کر عطا کی جائے تو وہ بھی اسکی جزاء کے مساوی نہیں ہوسکتی۔ اس کے اس عمل کا ثواب تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ستر غلام آزاد کرنے سے بڑھکر ہے جو دو تہائی شب نماز پڑھتا رہے تو اسے ریت کے ذرّات کے برابر نیکیاں دی جائیں گیں اور اس میں کمتریں نیکی کا وزن احد پہاڑ کے دس برابر ہے۔ جو شخص پوری رات نماز میں گزارے اور ساتھ ساتھ ذکر ، رکوع ،سجدے اور کتاب خدا ئے عزوجل کی تلاوت میں مشغول رہے تو اسے بہت عظیم اجر دیا جائے گا۔ سب سے کمترین اجر یہ ہے یہ اُس روز کی طرح گناہوں سے پاک ہو جائے گا جس دن اسے ماں نے جنا تھا۔ الله کی تمام مخلوق کی تعداد کے برابر اسے نیکیاں اور درجات دیئے جائیں گے اسکی قبر ہمیشہ نورانی رہے گی۔

گناہ اور حسد اسکے دل سے اکھاڑ پھینکے جائیں گئے۔ اسے قبر کے عذاب سے پناہ دی جائے گی۔ اسے جہنم سے برأت عطا کی جائے گی۔ یہ آمنین ( جو کہ اسکی امان میں تھے) کیساتھ اٹھا یا جائے گا۔ اس وقت الله تبارک و تعالیٰ ملائکہ سے کہے گا۔ اے میرے ملائکہ ! میرے بندے کو دیکھو۔ یہ میری رضا چاہنے کیلئے شب بیداری کیا کرتا تھا۔ اسے فردوس میں سکونت دو ۔ فردوس میں ایک لاکھ شہر ہیں ہر شہر میں آنکھوں کی لذت اور نفس کی بھوک مٹانے کی ہر چیز موجود ہے ، تمھارے دل میں یہ بات نہ سما سکے گی کہ میں اسے مزید تقرب اور تعظیم دینے پر آمادہ ہوں۔

یہ سمجھتے ہوئے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص دو رکعت نماز یہ جانتے ہوئے پڑھے کہ میں اِن میں کیاپڑھ رہا ہوں تو جب نماز کا سلام دے گا تو اسکے اور خدا کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا اور خدا سب گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

تفکر کیساتھ دورکعت نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)فرماتے ہیں غور وفکر کیساتھ اداکی گئی دو رکعت نماز، پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

غفلت کی ساعت میں دورکعت نافلہ نماز کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے اور وہ اپنے آباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔ غفلت کی ساعتوں میں دو رکعت نماز نافلہ ادا کرو خواہ یہ نماز سادہ ہی کیوں نہ ہو ؟ یہ دارِ کرامت (بہشت) تک پہنچادے گی کسی نے پوچھا یا رسول الله ساعتِ غفلت کون سی ہے ؟ فرمایا مغرب اور عشاء کے درمیان۔

دو جمعوں کے درمیان پانچ سو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ جو شخص دو جمعوں کے درمیان پانچ سو رکعت نماز پڑھے تو وہ جس چیز کی بھی خواہش کرے گا ، خدا کی بارگاہ میں قبول ہوگی۔

نماز صبح کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) اپنے والد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ جو شخص نماز صبح کے بعد گیارہ مرتبہقُل هُوَ الله ُ اَحَدٌ کی تلاوت کرے گا۔ تو اس دن کوئی گناہ انجام نہیں دے گا اگر چہ شیطان ہی کیوں نہ چاہے۔

تعقیبات نماز کا ثواب

( ۱) حضرت امام حسین (علیہ السلام) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت بیان کرتے ہیں ۔

جو مسلمان نماز صبح ادا کرنے والی جگہ پر بیٹھ کر طلوع شمس تک الله کا ذکر کرتا رہے تو اسے بیت الله کے حاجیوں کی مثل اجر وثواب ملے گا اور اسکی بخشش ہوگی۔ اور اگر دوسری نماز کے وقت تک وہاں بیٹھا رہے اور دو یا چار رکعت نماز بھی بجالائے تو خدا اسکے گذشتہ گناہ معاف کر دیگا اور اسکا اجر خانہ خدا کا حج کرنے والے شخص کے برابر ہوگا ۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد تعقیبات بجالائے اور کسی سے بات نہ کرے اور دو رکعت نماز بجالائے تو اس نماز کو علیین میں لکھا جائے گا اور اگر چار رکعت نماز بجالائے تو اسکے لئے پاکیزہ حج لکھا جائے گا۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ خداوند متعال نے فرمایا۔

اے اولاد آدم ! نماز صبح اور عصر کے بعد ایک ایک گھنٹہ میرا ذکر کیا کرو۔ تا کہ میں تمھاری اہم حاجتیں بر لاؤں۔


ثواب الاعمال ۳

زکات جدا کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو مکمل طور اپنے مال سے زکات جدا کرکے اس کے مقام پر رکھے گا تو اس سے یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ اس نے کس لیے مال جمع کیا تھا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے ورایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جب بھی الله کسی بندے کو نیکی دینا چاہتا ہے تو بہشت کے خزانہ دار فرشتے کو اس کے پاس بھیجتا ہے وہ اسکے سینے پر ہاتھ پھیرتا ہے اور اسے زکات ادا کرنے کی سخاوت نصیب ہوتی ہے۔ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) اپنی وصیت میں ارشاد فرماتے ہیں خدا را۔ خدارا۔ زکات کی طرف متوجہ رہو ۔ کیونکہ زکات تمھارے پر وردگار کے غضب کو خاموش کر دیتی ہے۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا۔ اپنے اموال کی زکات کیساتھ حفاظت کرو۔ اپنے بیماروں کا صدقہ سے مداوا کرو۔ زکات ادا نہ کرنے والے کا مال خشکی یا تری میں ضائع ہو سکتا ہے ۔

حج و عمرہ کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔

بے شک الله تعالیٰ حاجی ، اسکے گھر والوں ، رشتہ داروں اور جسکے لیئے حاجی استغفار کرے ، کو ماہ ذی الحجہ کے باقی ماندہ دنوں ، محرم ، صفر ، ربیع الاول اور ربیع الثانی کے پہلے دس دنوں میں کئے گئے گناہوں کو معاف کردے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو لوگوں کے دیکھا وے کے بغیر صرف الله کی رضا کی خاطر حج ادا کرے گا تو یقینا خدا اسے معاف کردے گا۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا ۔حج اور عمرہ بجالاؤ۔ تا کہ تمھارے جسم صحیح و سالم رہیں ۔ رزق میں وسعت ہو۔ تمھارے ایمان کی اصلاح ہوا ور حج سے لوگوں اور اپنے گھر والوں کے اخراجات حاصل کرو۔

( ۴) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا۔

میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہر سال حج پر جاؤں یا اپنے خاندان میں سے کسی کو حج پر بھیجوں حضرت نے فرمایا۔ کیا تم نے یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اگر تم ایسا کرو گے تو تمھیں یقین ہو نا چاہیے کہ تمھیں کثیر مال ملے گا۔ ( بہر حال) تجھے مال کثیر کی بشارت ہو۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

بے شک جب حاجی لوازم سفر مہیا کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور ابھی اس نے کوئی چیز بھی خرید نہیں کی ہوتی ، الله اسکے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس گناہ مٹا دیتا ہے اور دس درجات بلند کردیتا ہے۔ جب وہ شتر (سواری) پر سوار ہو نے کا ارادہ کرے گا۔ ابھی قدم نہیں اٹھائے گا اور سوار نہیں ہو گا اسے مندرجہ بالا اجر و ثواب کی مثل ثواب عطا ہوگا۔ جب خانہ خدا کا طواف کریگا تو اسکے گناہ ختم ہو جائیں۔ گے جب صفا اور مروا کے درمیان سعی کرے گا تو اپنے گناہوں سے پاک ہو جائے گا۔ جب عرفات میں وقوف کریگا اسکے گناہ محو ہو جائیں گے۔ جب جمرات پر رمی کریگا تو سب گناہ مٹ جائیں گے۔ اسی طرح حضرت رسول خدا نے باقی تمام اعمال حج بیان کیئے کہ یہ سب اعمال اسکے گناہ ختم کردیں گے پھر فرمایا تم حاجی کی قدر و منزلت تک کہاں پہنچ سکتے ہو؟۔

( ۶) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا ۔

جب حاجی مکہ میں داخل ہوتا ہے تو خدا دو فرشتوں کو اسکے طواف ، نماز اور سعی کے وقت محافظ قرار دیتا ہے۔ جب وہ عرفہ میں توقف کریگا تو اسکے دائیں کندھے پر ہاتھ مارکر کہاجائے گا تمھارے گذشتہ گناہ ختم ہوگئے ہیں۔ اب دیکھو آئندہ کس طرح (زندگی) کرو گے؟

( ۷) ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) سے کہا کہ جہاد مشکل تھا ، اس لئے آپ نے نہیں کیا اور حج آسان عمل ہے اس لئے بجالا رہے۔ ہیں حضرت ٹیک لگا کر بیٹھے تھے ، آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا تجھ پر افسوس ہے۔ حجة الوداع کے موقع پر حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا فرمان تیرے کانوں تک نہیں پہنچا !!؟ بیشک حضرت نے غروب آفتاب کے وقت جناب بلال سے فرمایا تھا لوگوں سے کہو ، خاموش ہو جائیں۔ جب لوگ خاموش ہوگئے تو حضرت نے فرمایا آج کے دن کو خداوند متعال نے تمھارے لئے بابرکت بنایاہے ،اس نے تمھارے نیک لوگوں کومعاف کردیا ہے تمھارے نیک لوگوں کی ، بدکا روں کے حق میں شفاعت قبول ہوگی ۔چلے جاؤ ،تم بخش دئیے گئے ہو اور تم نے اپنے بدکار وں کیلئے الله کی رضا اورخوشنودی حاصل کرلی ہے ۔

( ۸) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا جب حضرت رسول خدا نے عرفات کی طرف کوچ کیا تو ایک اعرابی نے بیابان میں آپکی زیارت کی اور عرض کیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں حج کی ادائیگی کیلئے آیا ہوں لیکن کوئی مشکل پیش آگئی ہے جسکی وجہ سے حج نہیں کرسکتا میں مالدار ہوں مجھے حکم فرمائیں میں کوئی ایسا کام کروں جس کی وجہ سے مجھے حج کا ثواب مل جائے حضرت نے ابو قبیس پہاڑ کی طرف دیکھکر فرمایا اگر تمھارے پاس ابو قبیس پہاڑ کے برابر سرخ سونا ہوا اور اسے تو الله کی راہ میں خرچ کر دیتا تو تب بھی حج کے برابر ثواب حاصل نہ کر سکتا ۔

( ۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں کہ حج سے و آپس آنے والے تین طرح کے ہیں۔ بعض آتش جہنم سے نجات حاصل کرلیتے ہیں ، بعض اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوجاتے ہیں جس طرح ماں کے جننے والے دن پاک تھے اور بعض لوگ اپنے خاندان اور مال کی حفاظت کرلیتے ہیں۔ یہ حاجی کو حاصل ہونے والے کمتر ین فوائد ہیں ۔

( ۱۰) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا حج بجالانا ، دس غلام آزاد کرنے سے بڑھکر ہے اسی طرح آپ گنتے رہے کہ اعمال حج کو ستر غلام آزاد کرنے سے برتر قرار دیا اور فرمایا طواف اور اسکی دو رکعت نماز ایک غلام آزاد کرنے سے بڑھکر ہے۔

( ۱۱) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ الله تبارک و تعالیٰ نے مکہ کے ارد گرد ایک سو بیس رحمتیں قرار دی ہیں اِن میں ساٹھ طواف کرنے والوں کیلئے ہیں اور چالیس نماز گزاروں کیلے ہیں جبکہ بیس رحمتیں دیکھنے والوں کیلئے ہیں

( ۱۲) ایک شخص حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے حاضر ہوا تو حضرت نے پوچھا حج سے آرہے ہو ؟ عرض کی جی ہاں فرمایا ! جانتے ہو حاجی کا کتنا ثواب ہے ؟ عرض کی ، میں آپ پر فدا ہو جاؤں نہیں جانتا حضرت نے فرمایا ہر شخص حج کیلئے انکساری کیساتھ مکہ میں داخل ہو جب مسجد الحرام میں جائے تو خوف خدا سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے اور خانہ کعبہ کا طواف کرے اور دو رکعت نماز پڑھے الله تعالیٰ اسکے لئے ستر ہزار نیکیاں لکھے گا اور اس کے ستر ہزار گناہ مٹائے گا ستر ہزار درجات بلند کریگا ، ستر ہزار حاجتیں پور ی کرے گا اور دس ہزار درہم قیمت والے ستر غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔

( ۱۳) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں اے اسحاق ! جو خانہ کعبہ کا ایک طواف کرتا ہے تو الله تعالیٰ اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے ایک ہزا رگناہ مٹا دیتا ہے اور ایک ہزار درجات بلند کرتا ہے اور بہشت میں اسکے لئے ایک ہزار درخت لگائے گا اور اسے ایک ہزار غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا یہاں تک کہ جب وہ اپنا سینہ کعبہ کی دیوار کیساتھ چسپاں کرے گا تو الله اسکے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا اور اس سے کہا جائے گا جس سے بھی چاہتے ہو بہشت میں چلے جاؤ ۔راوی کہتا ہے میں آپ پر قربان جاؤں کیا یہ سب اجر و ثواب طواف کرنے والے کا ہے ؟ فرمایا جی ہاں کیا چاہتے ہو اس سے بڑھکر ثواب بتاؤں؟ عرض کی جی ہاں فرمایا جو شخص کسی مؤمن کی ایک حاجت پوری کرے گا تو الله اسے طواف، طواف ، طواف (دس مرتبہ کہا) کا اجر وثواب عطا کرے گا۔

( ۱۴) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں حج ہمارے کمزور اور نادار شیعوں کا جہاد ہے ۔

( ۱۵) راوی کہتاہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ خدا ہم حاجیوں کیساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ فرمایا خدا کی قسم کسی استثناء کے بغیر سب حاجیوں کو معاف کر دے گا۔

( ۱۶) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حج دو قسم کا ہے الله کیلئے حج ،لوگوں کیلئے حج۔ جو شخص الله کیلئے حج کرے گا تو اسکا ثواب بھی الله پر ہے اور وہ اسے روز قیامت جنت عطا کرے گا اور جو لوگوں کیلئے حج کرے گا اسکا اجر لوگوں کی گردن پر ہے ۔

( ۱۷) راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلا م کو فرماتے ہوئے سنا جو فقط الله کی خاطر حج بجالائے اس کے عمل میں دکھا وانہ ہو تو یقینا خدا اسے معاف کردے گا۔

حاجی کا دیدار اور اس سے مصافحے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص حاجی کا دیدار کرے اور اس سے مصافحہ کرے تو گو یا اس نے حجر الاسود کو لمس کیا (بوسہ دیا)ہے۔

حج کے متعلق ایک اور حدیث

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین نے اپنی وفات کے وقت اپنے فرزند حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے فرمایا۔ میں نے اس ناقہ (اونٹنی) پر بیس حج ادا کئے ہیں۔ اور اسے کبھی تازیانہ تک نہیں مارا۔ جب یہ مرے تو اسے زمین میں دفن کر دینا تاکہ درندے اسکا گوشت نہ کھائیں کیونکہ میں نے حضرت رسول خدا سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی اونٹ ایسا نہیں ہے جو سات حجوں میں مقام عرفہ پر توقف نہ کرے مگر خدا ان اونٹوں کوبہشتی اور اسکی نسل کو مبارک قرار دیتا ہے۔ جب یہ اوٹنی مری تو حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے گڑھا کھود کر اسے دفن کردیا ۔

روزے رکھنے والے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔ روزہ دار الله کی عبادت میں رہتا ہے ، خواہ بستر پر ہی کیوں نہ سویا رہے البتہ اسوقت تک عبادت میں ہوتا ہے جبتک کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ و اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا روزہ دار کی نیند عبادت اور سانس تسبیح ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ، روزہ دار کی نیند عبادت ، خاموشی تسبیح ، عمل مقبول اور دعا مستجاب ہے۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں روزہ دار کے منہ سے آنے والی بد بو خدا کے نزدیک مشک سے افضل ہے۔

( ۵) حضرت امام موسی کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ ظہر کے وقت قیلولہ کرو (سوجاؤ) کیونکہ الله تعالیٰ نیند میں روزہ دار کو کھلاتا پلاتا ہے۔

روزے کی حالت میں ناسزا سننے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو انسان روزے کی حالت میں ناسزا سنکر یہ کہے کہ میں روزے سے ہوں ، تجھ پر سلام ہو تو الله تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے میرے عبد نے اس بندے کے شر سے روزے کے ساتھ پناہ اور مدد مانگی ہے تم اسے جہنم سے پناہ دیکر جنت میں داخل کرنا۔

راہ خدا میں ایک روزے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں جو شخص الله کی راہ میں ایک روزہ رکھے گا وہ ایک سال تک روزے رکھنے والے شخص کی مانند ہے۔

گرمیوں کے ایک دن کے روزے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص ایک دن گرمیوں میں روزہ رکھے اور بہت زیاد تشنگی محسوس کرے تو الله تعالیٰ ایک ہزار فرشتوں کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے کہ جاؤ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرو اور اسے خوشخبری سناؤ جب وہ روزہ افطار کرنے لگتاہے تو الله فرماتاہے تیری روح اور خوشبو کتنی عمدہ ہے اے ملائکہ گواہ رہنا ، میں نے اسے معاف کردیا ہے۔

ایک دن کے مستحبی روزے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جو شخص ایک دن مستحبی روزہ رکھے گا الله تعالیٰ اسے بہشت میں داخل کرے گا۔

آخری عمر میں ایک مستحبی روزے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جس کی زندگی کا آخری عمل ایک دن کا روزہ ہو تو وہ (سیدھا) جنت میں جائے گا۔

دن کے ابتدائی حصّے میں روزے کی حالت میں عطر لگانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص دن کے ابتدائی حصّے میں روزے کی حالت میں عطر لگائے گا تو اسکی عقل زائل نہ ہوگی ۔

کھانے والوں میں روزہ دارکی موجود گی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی روایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جو روزہ دار کھانا کھانے والوں کے درمیان موجود ہو تو اسکے اعضاء تسبیح پڑھتے ہیں ، اور ملائکہ اس پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور ان کا درود و سلام مغفرت ہے۔

رجب کے روزے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت نوح جب پہلی رجب کو کشتی میں سوار ہوئے تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ آج روزہ رکھیں اور فرمایاجو شخص آج کے دن روزہ رکھے گا جہنم ایک سال کی مسافت تک دور ہو جائے گی جو شخص سات دن تک روزہ رکھے گا اس پر جہنم کے ساتوں دروازے بند ہو جائیں گے اور جو آٹھ دن روزے رکھے گا اس پر جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے اور جو شخص پندرہ روزے رکھے گا اسے اسکے مسائل کاحل عطا کیا جائے گا جو اس سے زیادہ روزے رکھے گا الله اسے زیادہ اجر وثواب عطا کرے گا

( ۲) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں رجب جنت کی نہر ہے جو دودھ سے سفید اور شہد سے زیادہ شیرین ہے جو شخص ماہ رجب کا ایک روزہ رکھے گا الله اسے اسی نہر سے سیراب کرے گا۔

( ۳) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں رجب عظیم مہینہ ہے الله اس میں نیکیاں دوگنی کردیتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔ جو شخص رجب میں ایک روزہ رکھے گا تو جہنم ایک سو سال کی مسافت تک دور ہوجائے گی اور جو تین دن روزے رکھے گا اس پر جنت واجب ہوگی۔

( ۴) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں جان لو ما ہ رجب الله کاأصم ہے یہ عظیم مہینہ ہے اس مہینے کوأصم اس لئے کہتے ہیں کیونکہ الله کے نزدیک تکریم اور فضائل کے لحاظ سے کوئی مہینہ اس جیسا نہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کی تعظیم کی جاتی تھی۔ جب اسلام آیا تو اس نے بھی اس تعظیم اور فضیلت میں اضافہ کیا جان لو رجب الله کا مہینہ اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے جان لو جو ایمان اور الله سے جزا کی نیت سے ایک دن رجب کا روزہ رکھے گا اس نے الله کی بہت زیادہ رضا و خوشنودی حاصل کی ہے اور اسکا روزہ اس دن کے (الله کے) غضب کو ختم کردیگا اس پر جہنم کا ایک دروازہ بند ہو جائے گا۔ جو شخص پوری زمین کو سونے سے بھر کر (صدقہ کے طور پر) دے دے تو خلوص سے رکھا ہوا یہ روزہ اس سے بھی افضل ہو گا نیکیوں کے علاوہ دنیا کی کوئی چیز اسکے اجر و ثواب کی تکمیل نہیں کرسکتی۔ جو نہی رات ہوگی اس کی دس دعائیں مستجاب ہونگیں اگر وہ دنیا وی زندگی کیلئے کوئی دعا مانگے گا تو الله اسے مستجاب کرے گا جو اس کے دوستوں ، محبوں اور برگزیدہ لوگوں نے اس کیلئے دعا مانگی تھی تو الله اس کے لئے خیر کثیر ذخیرہ فرمائے گا جو شخص رجب میں دو روزے رکھے گا تو زمین و آسمان میں رہنے والی کوئی مخلوق بھی الله کے نزدیک آپکی عظمت کی توصیف نہیں کر سکتی اور اسے اِن صادق اور سچے لوگوں کا سا اجر و ثواب ملے گا جنہوں نے پوری زندگی (خواہ کتنی ہی طولانی کیوں نہ ہو)جھوٹ نہ بولا ہو قیامت والے دن انہی کی طرح ہونگے اور اس دن جتنے لوگوں کی صادقین شفاعت کریں گے اتنے لوگوں کی یہ بھی شفاعت کرے گا اور انہی کیساتھ محشور ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو کر انکے دوست بن جائے گا۔ جو رجب کے تین روزے رکھے گا تو الله اسکے اور جہنم کے درمیان خندق یا پردہ حائل کردے گا کہ جسکا طول ستر سالہ مسافت کے برابر ہو گا اور افطار کے وقت الله کہے گا مجھ پر تیرا حق واجب ہو گیا ہے اور میری محبت اور ولایت تجھ پر لازم ہو گئی ہے اے میرے فرشتو ! میں تمھیں گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں میں نے اس کے اول سے آخر تک تمام گناہ معاف کردیئے ہیں۔ جو شخص ما ہ رجب میں چار دن روزہ رکھے گا اسے جنون، جزام ، برص فتنہ دجال اور عذاب قبر میں گرفتاری جیسی تمام بلاؤوں سے چھٹکا را ملے گا اور اسے توبہ کرکے لوٹنے والے عقلاء کا اجر و ثواب ملے گا اور اسے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دے کر عابدین کی پہلی صف میں کھڑا کیا جائے گا۔ جو شخص ماہ رجب میں پانچ دن روزے رکھے گا تو قیامت والے دن اسے راضی کر نا الله کے ذمہ ہے اور قیامت والے دن جب اٹھے گا تو اسکا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح ہو گا اس کے لئے ریت کے ذرّات کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھی جائیں گی اور بغیر حساب جنت میں لیجایا جائے گا اور اسے کہا جائے گا تو جو چاہتا ہے خدا سے مانگ لے اور جو ما ہ رجب میں چھ روزے رکھے گا تو جب قبر سے نکلے گا تو اسکا چہرہ سورج سے زیادہ سفیدہوگا اور اسے اس نور کے علاوہ بھی نور عطا کیا جائے گا جو قیامت والے دن تمام اہل محشر کو منور کرے گا اور اس دن اسے امان یافتہ لوگوں سے اٹھایا جائے گا اور یہ پل صراط سے بغیر حساب و کتاب گزر جائے گا اور اسکے والدین کی نافرمانی اور قطع رحم جیسے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ جو رجب میں سات دن روزہ رکھے گا تو الله تعالیٰ جہنم کے ساتوں دروازوں کو اس کے ایک ایک روزے کے بدلے میں اس پر بند کردے گا اور اس کے جسم کو جہنم کی آگ پر حرام قرار دے گا۔ جو رجب میں آٹھ روزے رکھے گا الله ہر ہر روزے کے بدلے جنت کے آٹھوں دروازے اس پر کھول دے گا اور کہے گا جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ‘ جس سے چاہو (جنت میں) داخل ہو جاؤ۔ جو رجب میں نو روزے رکھے گا وہ لا الہ الاالله کی ندا کرتے ہوئے قبر سے نکلے گا جنت کی علاوہ اسے کوئی چیز دیکھائی نہ دے گی اور جب قبر سے نکلے گا تو اسکے چہرے کا نور اہل محشر کو درخشاں کرے گا یہاں تک کہ اسے کہا جائے گا (یعنی لوگوں کا خیال ہوگا) یہ برگزیدہ پیغمبر ہے اسوقت اسے عطا ہونے والی کمترین چیز بغیر حساب جنت میں داخل ہونا ہے۔ جو ماہ رجب میں دس روزے رکھے گا تو خدا اسے درخشان مروارید اور یاقوت سے مزّین دو سبز پر عطا کرے گا جس کے ذریعے یہ ہوا کی طرح پل صراط سے پرواز کرتا ہوا جنت میں داخل ہو جائے گا اور اسکا شمار مقّربِ خدا اور عادل لوگوں میں ہوگا۔ گویا اس نے سو سال تک الله سے اجر و ثواب چاہتے ہوئے نمازیں پڑھیں اور صبر کیا ہے ۔جو ماہ رجب میں گیارہ روزے رکھے گا تو قیامت والے دن الله کی بارگاہ میں اس سے افضل کوئی نہ ہو گا مگر جس نے اس کی طرح یا اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں۔ جو ماہ رجب میں بارہ روزے رکھے گا تو اسے قیامت والے دن سندس اور استبرق کے دو سبز لباس پہنائے جائیں گے۔ اگر ان لباسوں میں سے ایک کو دنیا میں لیجا یا جائے تو یقینی طور پر مشرق سے مغرب تک نور افشانی کرے اور پوری دنیا مشک سے زیادہ خوشبودار ہو جائے ۔ جو ماہ رجب میں تیرہ روزے رکھے گا تو قیامت والے دن اسکے لئے عرش کے سائے کے نیچے غذا اور کھانے کا دستر خوان لگایا جائے گا جسکی وسعت اس دنیا کے ستر برابر ہے اس پر بڑے مروارید اور یاقوت کی سینیاں رکھی جائیں گئیں ہر سینی میں ستر ہزار قسم کی غذا ہوگی جسکی خوشبو اور رنگ ایک دوسرے سے جدا جدا ہوگی وہ اس دستر خوان سے کھانا تناول کرے گا جبکہ دوسرے لوگ بڑی مشکل حالات میں گرفتار ہونگے جو شخص ماہ رجب میں چودہ روزے رکھے گا تو الله اسے ثواب کے طور پر بڑے مروارید اور یاقوت سے بنے ہوئے محل عطا کرے گا جسے نہ آنکھوں نے دیکھا ہے اور نہ کانوں نے سنا ہے اور نہ وہ انسانی ذہن میں آیا ہے۔ جو رجب میں پندرہ روزے رکھے گا تو وہ قیامت والے دن امان یافتہ لوگوں کی جگہ پر کھڑا ہوگا جس فرشتے ، رسول اور پیغمبر کا وہاں سے گزر ہو گا وہ کہے گا تجھے مبارک ہو کہ تم امان یافتہ ، مقرب ،شریف ، سعادتمند ، خوش و خرم اور بہشتوں کے ساکن ہو۔ جو رجب میں سولہ دن روزے رکھے گا تو وہ نور کی سواریوں پر سوار ہونے والے پہلے لوگوں میں سے ہوگا جس میں یہ جنتوں سے دار رحمان تک پرواز کرے گا جو رجب میں سترہ روزے رکھے گا تو قیامت والے دن اسکے لئے پل صراط پر ستر ہزار نور کے چراغ رکھے جائیں گے یہاں تک کہ وہ ان چراغوں کی روشنی میں پل صراط سے گزرتا ہوا جنت میں داخل ہو جائے گا اور فرشتے مرحبا اور سلام کے ورد کیساتھ اسکا استقبال کریں گے۔ جو رجب میں اٹھاراں روزے رکھے گا تو بہشت جاوید میں گنبد ابراہیم کے اندر درّا ور یاقوت کے تختوں پر اس کیلئے جگہ تنگ ہوجائیگی جو رجب میں اُنیس روزے رکھے گا الله تعالیٰ بہشت میں حضرت آدم اور حضرت ابراہیم کے محل کے مقابل تازہ مروارید سے اسکا محل بنائے گا یہ انہیں سلام کرے گا اور وہ بھی اسکی بزرگی اور حق کی ادائیگی کیلئے اسے سلام کریں گے اور اس کے ہر روزے کے بدلے میں ہزار سال کے روزے کا ثواب لکھا جائے گا۔جو رجب میں بیس روزے رکھے گا تو گو یا اس نے بیس ہزار سال الله کی عبادت کی ہے ۔ جو رجب میں اکیس روزے رکھے گا تو قیامت کے دن اسے ربیعہ اور مضر قبیلوں کی تعداد کے برابر خطا کاروں اور گناہگاروں کی شفاعت نصیب ہوگی۔ جو رجب میں بائیس روزے رکھے گا تو آسمان سے منادی ندادے گا اے الله کے دوست تجھے بشارت ہو تیری الله کے نزدیک بڑی تکریم ہے تو انبیاء ، صدیق ، شہداء اور صالحین جیسے لوگوں کا دوست ہے جن پر الله نے انعام و اکرام کیا ہے اور یہ تمہارے بہترین رفقاء ہیں۔ جور جب میں تیئس دن روزے رکھے گا تو آسمان سے ندا بلند ہو گی اے بندہ خدا تو خوش قسمت ہے تونے زحمت کم اٹھائی ہے اور تجھے زیادہ نعمتوں سے نواز ا گیا ہے۔ تجھے مبارک ہو تجھ سے پردہ ہٹا دیا گیا ہے ، تیرے کریم پروردگار کی طرف سے تجھے بہت بڑا ثواب نصیب ہوا ہے تو دار السلام میں حضرت خلیل کا ہمسایہ ہے۔ جو ماہ رجب میں چوبیس روزے رکھے گا تو موت کا فرشتہ ایک نوجوان کی شکل میں اس کے پاس آئے گا جو عمدہ دیباج کا سبز لباس پہن کر جنت کے سبز گھوڑے پر سوار ہو گا اسکے ہاتھ مشک سے خوشبوتر سبز ریشم اور بہشتی شراب سے لبریز سنہری جام ہوگا جو جان کنی کے وقت اسے پلائے گا اور اس پر موت کی سختیوں کو آسان کرے گا پھر اسکی روح کو سبز ریشم میں رکھے گا تو اس سے اتنی عمدہ خوشبو اٹھے گی کہ ساتوں آسمانوں کے ساکنین اس سے معطر ہونگے وہ حوض پیامبر اسلام پر پہنچنے تک قبر میں بھی سیراب ہو گا اور اٹھتے وقت بھی سیراب ہوگا۔ جو شخص رجب میں پچیس روزے رکھے تو جب قبر سے اٹھے گا تو اسے ستر ہزار فرشتے تلقین کریں گے کہ جن کے ہاتھوں میں در اور یاقوت کی چھتریاں ہونگیں ، ان کے پاس زیورات اور عمدہ لباس ہونگے وہ کہیں گے اے محبوب خدا جلدی سے پروردگار کی طرف چلو تو وہ ان مقرب لوگوں (جن کیساتھ الله راضی ہے اور وہ الله سے راضی ہیں ) کیساتھ سب سے پہلے بہشت میں جائے گا (یقینا)یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ جو شخص رجب میں چھبیس روزے رکھے گا تو الله تعالیٰ اس کے لیے عرش کے سائے میں در اور یاقوت کے سو محل بنائے گا ہر محل کے سامنے بہشتی حریر کا سرخ خیمہ ہو گا جب لوگ حساب و کتاب میں مشغول ہونگے یہ سکون و آرام سے یہاں رہ رہا ہوگا۔ جو شخص رجب کے ستائیس روزے رکھے گا تو الله تعالیٰ چار سو سالہ مسافت کے برابر اسکی قبر کو وسعت دے گا اور یہ سب کی سب مسافت عنبر اور مشک سے معطر ہو گی۔ جو رجب میں اٹھائیس روزے رکھے گا خدا اسکے اور جہنم کے آگ کے درمیان نو خندقوں کا فاصلہ ڈال دیگا اور ایک خندق کی چوڑائی زمین اور آسمان کے درمیان پانچ سو سالہ مسافت کے فاصلے جتنی ہوگی۔ جو رجب میں انتیس دن روزے رکھے گا تو خدا اسے معاف کردے گا خواہ اس نے کسی ظالم کے کہنے پر تمام لوگوں کے دس فیصد مال پر قبضہ کرلیا ہو یا ایسی عورت ہو جس نے ستر مرتبہ بے عفتی کروائی ہو اگر وہ عورت ان روزوں سے الله کی خوشنودی اور جہنم سے رہائی حاصل کرنا چاہے تو خدا حتماً اسے معاف کردے گا اور جو ماہ رجب میں تیس دن روزے رکھتا ہے تو اس کے لیئے منادی ندا دیتا ہے اے عبد خدا تیرے گذشتہ گناہ معاف کردیئے گئے ہیں اب نئے سرے سے عمل شروع کر۔ الله اسے ساری بہشتیں عطا کرے گا ہر جنت میں سونے کے چالیس ہزار شہر اس کے ہونگے اور ہر شہر میں چالیس محل اور ہر محل میں چالیس چالیس ہزار گھر اور ہر گھر میں چالیس چالیس ہزار دسترخوان ہر دسترخوان پر چالیس چالیس ہزار کاسے سے اور ہر کاسے میں چالیس چالیس ہزار قسم کی کھانے پینے کی اشیاء موجود ہوں گی اور ان کے رنگ اور بو بھی جدا جدا ہو گی ہر گھر میں چالیس چالیس ہزار سونے کے تخت ہونگے اور ان تختوں کی وسعت دو ہزار ضرب دو ہزار ہاتھ ہیں ہر تخت پر کنواری حورالعین بیٹھی ہو گی جس کی پیشانی پر تین لاکھ نورانی زلفیں ہونگیں ہر زلف کو ایک ہزارہزار چھوٹی خدمتگار کنیزوں نے اٹھا رکھا ہو گا اور وہ اسے مشک اور عنبر سے معطر کر رہی ہونگیں تا کہ ماہ رجب میں روزے رکھنے والا اس کے پاس آئے یہ سب کچھ اس شخص کیلئے ہے جو رجب کا پورا مہینہ روزے رکھے۔کہا گیا یا رسول الله اگر جو کمزوری یا کسی اور علت یا حیض کی وجہ سے رجب میں سارے روزے رکھنے سے عاجز ہو وہ کیا عمل بجالا ئے کہ اسے بھی ان جیسا اجرو ثواب مل سکے۔ فرمایا یہ لوگ صدقہ کے طور پر ہر روز مساکین کو روٹی دیں مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ ہر روز صدقہ دیں تو جو کچھ میں نے کہا ہے اس سے زیادہ ملے گا زمین اور آسمان پر رہنے والی تمام مخلوق جمع ہو کر جنتوں میں اسے ملنے والے فضائل اور درجات کے دسویں حصّے کے اجر وثواب کا بھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ۔کہا گیا یا رسول الله جو شخص یہ صدقہ دینے پر بھی قادر نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ کہ ان صفات کو پالے فرمایا ما ہ رجب میں تیس دن تک ہر روز سو مرتبہ خدا کی یہ تسبیح پڑھےسُبحَانَ إلاَ لَهِ الجَلِیل سُبحَان مَن لاَ یَنبَغِی التَّسبِیحُ اِلاَّ لَه‘ سُبحَانَ الأعَزِّ الأکرَم سُبحَانَ مَن لَبِسَ العِزَّ وَ هُوَ لَه‘ اَهلٌ

( ۵) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں الله تعالیٰ نے رجب کی تین راتیں گزرنے کے بعد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو (مبعوث فرمایا لہذا اس دن(تین رجب ) کا روزہ ستر سال کے روزوں کی طرح ہے سعد بن عبد الله کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کے مطابق یہاں کا تب سے غلطی ہوگی ہے اصل عبارت اس طرح تھی کہ ماہ رجب ختم ہونے سے تین راتیں پہلے مبعوث فرمایا (یعنی ستائیس رجب )۔


شعبان و رمضان کے روزوں کا ثواب

شعبان کے روزے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص شعبان کا روزہ رکھے گا تو یہ روزہ اسے ہر عیب ، عار اور غصّے سے پاک کردے گا۔ ابو حمزہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت سے پوچھا عیب اور عار سے کیا مراد ہے؟ فرمایا خدا کی نافرمانی کی قسم اور نذر ، میں نے پوچھا غصے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا غضب اور غصے میں قسم کھا نا اور پھر تو بہ کرکے پشیمان ہونا ۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس ماہ شعبان کے روزے کے متعلق گفتگو چل نکلی آپ نے فرمایا اس روزے کی یہ اور وہ فضیلت ہے اور اس میں یہ ، یہ ثواب ہے یہاں تک کہ اگر کوئی محترم شخص کا خون کر بیٹھتا ہے تواگر ( توبہ کے طور پر ) شعبان کا روزہ رکھے گا تویہ اسکے لئے مفید ہو گا اور اسے معاف کر دیا جائے گا۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص ماہ شعبان اور رمضان کے پے در پے روزے رکھے تو خدا کی قسم بارگاہ خداوندی میں یہ روزے اسکی تو بہ (شمار) ہوگی۔

( ۴) راوی کہتاہے میں نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلا م کو فرما تے ہوئے سنا۔کہ جوشخص شعبان کے پہلے دن روزہ رکھے گاتو حتماًا س پر جنت واجب ہو جائے گی۔اور جو شخص دو روزے رکھے گا توالله تعالیٰ دنیا میں ہرروز و شب اس پر نظر (کرم) کرے گا اورجنت میں بھی اس پر نظر (کرم) رکھے گا جو تین دن روزے رکھے گا تو اسے جنت کے عرش پر ہر روز(دل کی آنکھوں سے) الله کی زیارت نصیب ہو گی۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا شعبان میرا اور رمضان الله کا مہینہ ہے اور یہ غرباء کی بہار ہے الله تعالیٰ نے عید الاضحی (قربان) مساکین کے گوشت کھانے کے لئے بنائی ہے ، لہذا تم قربانی کر کے انہیں گوشت دو ۔

( ۶) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خدا کی قسم۔ شعبان اور رمضان کے روزے بارگاہ خداوندی میں توبہ ہیں۔

( ۷) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میرے والد کی عادت تھی کہ ما ہ شعبان اور رمضان کے درمیان ایک دن (روزہ نہ رکھکر ) فاصلہ ڈالتے تھے لیکن حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) دونوں مہینے متواتر روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے ان دونوں مہینوں میں متواتر روزے رکھنا بارگاہ خداوندی میں توبہ ہے اور فرماتے یہ دونوں خدا کے مہینے اِس اور یہ دونوں پہلے اور بعد والے دو دو مہینوں کے گناہوں کا کفارہ ہیں

( ۸) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا ماہ شعبان اور رمضان میں متواتر روزے رکھتے لیکن لوگوں کو متصل روزہ رکھنے سے منع فرماتے یہ دونوں خدا کے مہینے ہیں اوراس کے لئے اس مہینوں کے بعد اور پہلے والے مہینوں کا کفارہ ہیں۔

( ۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ازواج رسول الله کی گردن پر اگر کوئی واجب روزہ ہوتا تو وہ اسے شعبان تک اس چیز سے ڈرتے ہوئے مؤخر کر چھوڑ تیں کہیں حضرت کی ضروریات سے مانع نہ ہوجائیں جو نہی شعبان ہوتا تو یہ روزے رکھتیں اور حضرت بھی روزے رکھتے نیز حضرت فرماتے شعبان میرا مہینہ ہے ۔

( ۱۰) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)سے پوچھا کیا آپ کے آباو اجداد میں کوئی ماہ شعبان کے روزے رکھتا تھا ؟ فرمایا جی ہاں ہمارے بہترین جدّ حضرت رسول خدا شعبان کے روزے رکھتے تھے۔

( ۱۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے ماہ شعبان کے متعلق پوچھا کیا آپ کے آباو اجداد نے کبھی یہ روزے رکھے ہیں فرمایا ہمارے بہترین جد حضرت رسول خدا شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔

( ۱۲) حضرت رسول خدا سے رجب کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا تمھیں ما ہ شعبان کے روزوں کی فکر کیوں نہیں ہے ؟ ۔

( ۱۳) اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا اتنے روزے رکھتے کہ لوگ کہتے کہ آپ ہمیشہ روزے سے ہوتے ہیں اور کبھی روزہ نہ رکھتے تو لوگ کہتے اب آپ روزے نہ رکھیں گے۔ راوی کہتا ہے میں نے پوچھا کہ کوئی ایسا مہینہ ہے جس میں حضرت بہت روزے رکھتے ہوں لیکن کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہ رکھتے ہوں۔ فرمایا جی ہاں ، پوچھا کس مہینے میں ؟ کہا شعبان میں۔ شعبان جو کہ رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے لوگ اس سے غافل ہیں حالانکہ اس مہینے میں تمام اعمال پروردگار عالم کی بارگاہ میں جاتے ہیں میری خواہش ہے کہ جب میرے اعمال اوپر جائیں تو میں روزے سے ہوں۔

( ۱۴) حضرت رسول خدا سے پوچھا گیا کہ کونسے روزے افضل ہیں ؟ فرما یا ما ہ رمضان کی تعظیم میں شعبان کے روزے افضل ہیں ۔

( ۱۵) راوی کہتا ہے کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں پورے روزے نہ رکھتے فقط اسے رمضان کیساتھ متصل فرماتے ۔

( ۱۶) ابن عباس کہتے ہیں حضرت رسول خدا کے اصحاب آپ کی بارگاہ میں ماہ شعبان کے فضائل کے متعلق گفتگو فرما رہے تھے۔ حضرت نے فرمایا۔ یہ شریف مہینہ ہے۔ اور میرا مہینہ ہے حاملان عرش اسے بزرگ سمجھتے ہیں اور اسکی قدر جانتے ہیں ۔ اس مہنیے میں ما ہ رمضان کیلئے مؤمنین کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور بہشتوں کو سجایا جاتا ہے۔ اسے شعبان بھی اسی لیئے ہی کہا جاتا ہے کہ اسمیں مؤمنین کا رزق زیادہ ہوتا ہے۔ اس مہینے کے اعمال ستر مرتبہ دوگنے ہوتے ہیں۔ بدیاں ختم ہو جاتی ہیں ، گناہ مٹ جاتے ہیں ، حسنات قبول ہوتی ہیں ، الله اپنے بندوں پر فخر و مباھات کرتا ہے۔ اور اپنے عرش سے روزہ داروں اور عبادت گزاروں کو دیکھتا ہے اور ان کی وجہ سے اپنے عرش کے حاملین پر فخرو مباھات کرتا ہے اسوقت حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں یا رسول الله میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں۔ ماہ شعبان کے روزے کے کچھ فضائل بیان فرمائیں تا کہ ہم اس ماہ کے روزے اور عبادت کی طرف زیادہ راغب ہوں اور خدا تعالیٰ کیلئے شب بیداری کریں ۔

حضرت نے فرمایا۔

جو شخص شعبان میں ایک روزہ رکھے گا تو خداوند متعال اسکے لئے ستر نیکیاں لکھے گا اور ہر نیکی ایک سال کی عبادت کے برابر ہوگی۔

جو شعبان میں دو روزے رکھے گا اسکے ہلاکت میں ڈالنے والے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔

جو شعبان کے تین روزے رکھے گا تو بہشتوں میں اس کے در اور یاقوت سے ستر درجات بلند ہونگے ،

جو شعبان کے چار روزے رکھے تو اسکا رزق وسیع ہو گا ۔

جو شعبان کے پانچ روزے رکھے وہ لوگوں میں محبوب ہوگا ۔

جو شعبان کے چھ روزے رکھے تو الله اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کرے گا۔

جو شعبان کے سات روزے رکھے تو وہ شیطان اور اسکے لشکر کے وسوسوں اور چکروں سے محفوظ ہوگا ۔

جو شعبان میں آٹھ روزے رکھے گا تو وہ دنیا سے پیاسا نہیں جائے گا اور اسے پاک حوض سے سیراب کیا جائے گا ۔

جو شعبان کے نو روزے رکھے تو سوال وجواب کے وقت منکر اور نکیر اس پر مہربان ہونگے ۔

جو شعبان کے دس روزے رکھے تو اس کی قبر ستر ضرب (ستر ہاتھ) وسیع ہو جائے گی۔

جو شعبان کے گیارہ روزے رکھے تو اس کی قبر کو گیارہ منارہ نور منور کریں گے۔

جو شعبان کے بارہ روزے رکھے تو صور پھونکنے کے دن تک ہر روز ستر ہزار فرشتے قبر میں اسکی زیارت کریں گے۔

جو شعبان کے تیرہ روزے رکھے ساتوں آسمانوں کے فرشتے اسکے لئے استغفار کریں گے ۔

جو شعبان کے چودہ روزے رکھے تمام درندے ، چوپا ہے ، حتی دریا میں مچھلیوں تک کو الھام ہو گا کہ اسکے لئے استغفار کریں۔

جو شعبان کے پندرہ روزے رکھے رَبّ العزّت ندادیتا ہے کہ مجھے اپنی عزت کی قسم تجھے جہنم میں نہیں جلاؤں گا ۔

جو شعبان کے سولہ روزے رکھے توآگ کے ستر دریا اس پر بجھا دیئے جائیں گے ۔

جو شعبان کے سترہ روزے رکھے جہنم کے تمام دروازے اس پر بند کر دیئے جائیں گے۔

جو شعبان کے اٹھاراں روزے رکھے جنت کے تمام دروازے اس پر کھول دیئے جائیں گے۔

جو شعبان کے انیس روزے رکھے تو بہشت میں اسے در اور یاقوت کے بنے ہوئے ستر ہزار محل عطا کیے جائیں گے۔

جو شعبان کے بیس روزے رکھے تو ستر ہزار حور العین کے ساتھ اسکی تزویج ہو گی۔

جو شعبان کے اکیس روزے رکھے فرشتے اسے خوش آمدید کہیں گے اور اپنے پر اسکے جسم پر ملیں گے۔

جو شعبان کے بائیس روزے رکھے تو اسے سندس اور استبرق کے ستر ہزار لباس پہنائے جائیں گے۔

جو شعبان کے تیئس روزے رکھے قبر سے نکلتے وقت اسے نورانی چوپا ہے پر سوار کراکے جنت کی سیر کرائے جائے گی۔

جو شعبان کے چوبیس روزے رکھے وہ ستر ہزار اہل توحید کی شفاعت کرے گا۔

جو شعبان کے پچیس روزے رکھے اسے نفاق سے بیزاری عطا کی جائے گی۔

جو شعبان کے چھبیس روزے رکھے الله اسے پل صراط سے گزر نے کا پر مٹ عطا کرے گا۔

جو شعبان کے ستائیس روزے رکھے الله اس کے لئے جہنم سے رہائی کا حکم لکھے گا۔

جو شعبان کے اٹھائیس روزے رکھے اسکا چہرہ درخشان ہوگا اور اس کے چہرے سے نور بر سے گا۔

جو شعبان کے انتیس روزے رکھے اسے الله تعالیٰ رضوان نصیب کرے گا۔

جو شعبان کے تیس روزے رکھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) عرش کے سامنے کھڑے ہو کر ندا دیں گے اے شخص نئے سرے سے اعمال شروع کر تیرے گذشتہ گناہ معاف کردئیے گئے ہیں۔ الله جل شانہ فرمائے گا اگر تیرے گناہوں کی تعداد آسمان کے ستاروں ، بارش کے قطروں ، درختوں کے پتوں ، ریت کے ذرّوں ، شبنم کے قطروں اور دنیا کے دنوں کے برابر بھی ہوں تو تب بھی تجھے معاف کردوں گا۔ ماہ شعبان کے روزے رکھنے کے عوض اتنی مغفرت اور ثواب الله کی بارگاہ میں کوئی زیادہ نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں یہ سب ماہ شعبان ہی کا ثواب ہے۔

ماہ رمضان کی فضیلت اور روزے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں اے جابر جسے ماہ رمضان نصیب ہو اور وہ دن میں روزہ اور رات کے ایک حصّے میں الله کی عبارت کرے ، اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرے ، آنکھوں کو حرام سے بچائے اور کسی کو آزار نہ پہنچائے تو وہ ماں سے متولد ہونے والے دن کی طرح گناہوں سے پاک ہو گا جناب جابر کہتے ہیں میں قربان جاؤں۔ کتنی عمدہ حدیث ہے۔ حضرت نے فرمایا ( یہ بھی دیکھوکہ ) اسکی شرائط کتنی سخت ہیں۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا جب ماہ رمضان کا چاند دیکھتے تو قبلہ رخ ہو کر یہ دعا مانگتےاَللَّهُمّ أَهِلَّهُ عَلَینَا بالاَمنِ وَالایمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَ الاسلاَمِ وَ العَافِیَةَ المُجَلَّلَةِ وَ الرِّزْقِ الوَاسِعِ وَدَفعِ الأسقَامِ وَ تِلاَ وَةِ القُرآنِ والعَونِ عَلَی الصَّلَوةِ وَالقِیَا مِ اَللَّهُمَّ سَلِّمنَا لِشَهرِ رَمَضَانَ و وَسَلَّمه‘ لَنَا و تَسَلَّمْهُ مِنَّا حَتّٰی یَنقَضِیَ شَهرُ رَمَضَانَ وَقَدغَفَرتَ لَنَا پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا اے مسلمانو! جب رمضان کا چاند نظر آئے تو مردود شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے آسمان ،جنت اور ر حمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔ الله کے پاس کچھ آزاد کرنے والے لوگ ہیں جنھیں ہر افطاری کے وقت آزاد کیا جاتا ہے ہر رات منادی ندا دیتا ہے کوئی سائل اور بخشش چاہنے والا ہے ؟ پروردگارا ہر خرچ کرنے والے کو عوض عطا فرما اور ہر بخیل کے مال کو تلف فرمایہاں تک کہ ماہ شوال کا چاند ظاہر ہوتا ہے تو مؤمنین کو ندا دی جاتی ہے ۔ صبح خیزی کرنے والو ، اپنے انعام۔ لینے کیلئے نکلو، آج یوم انعام ہے پھر حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ انعام درہم و دینار نہ ہونگے۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب حضرت رسول خدا عرفات سے لوٹے اور منٰی کی طرف روانہ ہوئے تومسجد میں تشریف لے گئے۔ لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو کر شب قدر کے متعلق سوال کرنے لگے۔ حضرت نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور حمد وثنا کے بعد فرمایا۔ تم میں سے جو بھی مجھ سے شب قدر کے متعلق سوال کرے گا تو میں اسے جواب دونگا اور اس سے کچھ بھی پنھان نہیں کرونگا۔ اے لوگو جان لو جِسے صحت و سلامتی کیساتھ ماہ رمضان نصیب ہو وہ دن میں روزے رکھے اور رات کا ایک حصّہ عبادت میں گزارے۔ اپنی نماز کی حفاظت کرے۔ نماز جمعہ او رعید بجالائے تو اس نے یقینا شب قدر درک کرلی ہے اور اپنے پروردگار کے انعام کا مستحق ٹھہرا ہے۔ راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا انہوں نے ایسے انعامات حاصل کئے ہیں جو انسانوں کے انعامات کی مثل نہیں ہیں ۔

( ۴) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ رمضان نزدیک تھا اور شعبان کے تین دن باقی تھے ، حضرت رسول خدا نے جناب بلال سے فرمایا لوگوں کو بلاؤ جب لوگ آگئے تو حضرت منبر پر تشریف لے گئے حمد وثنا الہی کے بعد فرمایا تم پر آنے والا مہینہ ، تمام مہینوں کا سردارہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس میں جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جو اس مہینے کو پا کر بھی نہ بخشا جائے تو الله اسے دور کر دیتا ہے اسی طرح جِسے ماں باپ نصیب ہوں اوروہ بخشش نہ کر اسکے تو اسے بھی الله دور کردیتا ہے جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر صلوات نہ بھیجے تو اس کی بخشش ممکن نہیں اور الله اسے بھی خود سے دور کردیتا ہے۔

( ۵) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب ماہ رمضان آیاحضرت رسول خدا (خطبہ دینے کیلئے ) کھڑے ہوئے حمد و ثنا الہی کے بعد ارشاد فرمایا اے لوگو الله نے تمہاری دشمنوں (جنات میں سے) سے حفاظت فرمائی ہے اور الله کا فرمان ہے مجهے پکارو میں تمهیں جواب دونگا دعا کی قبولیت کا تمھیں وعدہ دیا ہے جان لو ہر راندہ شیطان پر سات فرشتوں کو مقرر کیا گیا ہے تا کہ اس ما ہ کے اختتام تک کوئی شیطان تم پر مسلط نہ ہو سکے جان لو ، رمضان کی پہلی رات سے ہی آسمان کے دروزاے کھول دیئے جاتے ہیں جان لو اس میں کی گئی دعا مقبول ہے۔

( ۶) راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔ یقینا ماہ رمضان کی ہر رات بارگاہ خداوندی میں جہنم کی آگ سے رہائی حاصل کرنے والے بہت لوگ ہیں البتہ جو نشے والی چیز سے افطا ر کریگا وہ آزادنہ ہوگا ماہ رمضان کی آخری رات گذشتہ تمام راتوں میں آزاد کیے گئے لوگوں کی تعداد میں آزاد ہونگے۔

( ۷) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے شعبان کے آخری جمعہ لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے حمد و ثنا ء الہی کے بعد فرمایا اے لوگو عنقریب ایک مہینہ آنے والا ہے جسکی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے وہ ماہ رمضان ہے اس میں الله نے تم پر روزے فرض کیئے ہیں اس مہینے میں ایک رات مستحبی نمازوں کیساتھ الله کی گئی عبادت باقی مہینوں کی ستر راتوں کی مستحبی نماز کے برابر ہے اس مہینے میں ادا کئے گئے مستحبی اعمال اور نیک کا م باقی مہینوں کے واجبات انجام دینے کی مانند ہیں اس ماہ میں الله کا ایک فرض بجالا نے والا دوسرے مہینوں کے ستر واجبات بجالانے والے کے برابر ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مواسات (مدد کرنے) کا مہینہ ہے ، یہ وہ مہینہ ہے جس میں الله مؤمنین کا رزق بڑھاتا ہے جو اس مہینے میں روزہ دار مؤمن کو افطاری دے گا تو الله اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا اور اسکے گذشتہ گناہ معاف کرے گا۔ کہا گیا یا رسول الله ہم سب میں روزہ افطار کرانے کی طاقت نہیں ہے۔ حضرت نے فرمایا الله کریم ہے وہ یہ ثواب اسے بھی عطا کرتا ہے جو روزہ دار کو افطار کرنے کیلئے تھوڑا دودھ یا ایک گلاس شربت یا چند کجھور کے دانے سے زیادہ دینے پر قادر نہیں ہے جو اس مہینے غلاموں کیساتھ نرمی کرے گا تو الله تعالیٰ اسکے حساب و کتاب میں نرمی کرے گا یہ ایسا مہینہ ہے جسکی ابتداء رحمت ، و سط مغفرت اور آخر دعاؤوں کی قبولیت اور جہنم سے آزادی ہے چار خصلتیں ایسی ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہوسکتے دو چیزوں سے تم خدا کو راضی کروگے اور دوسری دونوں سے بھی تم کبھی بے نیاز نہیں ہوسکتے جن دوچیزوں سے تم خدا کو راضی کروگے وہ اس بات کی گواہی ہے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں رسول خداہوں اور وہ دوچیزیں جن سے تم کبھی بے نیاز نہیں ہوسکتے وہ یہ ہیں کہ تم اپنی حاجتوں اور بہشت کو خدا سے چاہو اور الله سے عافیت اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔

( ۸) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں رمضان نزدیک تھا ، شعبان کے تین دن باقی تھے ، حضرت رسول خدا نے جناب بلال سے فرمایا لوگوں کو بلاؤ جب لوگ اکھٹے ہو گئے تو حضرت منبر پر تشریف لے گئے حمد وثنا الہی کے بعد فرمایا تم پر آنے والا مہینہ ، (تمام ) مہینوں کا سردارہے اس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس میں جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جو اس مہینے کو پا کر بھی نہ بخشا جائے تو الله اسے دور کر دیتا ہے اسی طرح جسے ماں باپ نصیب ہوں اوروہ بخشش نہ کر اسکے تو اسے بھی الله دور کردیتا ہے جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر صلوات نہ بھیجے تو اس کی بخشش ممکن نہیں اور الله اسے بھی خود سے دور کردیتا ہے۔

( ۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ایک طویل حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں کہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں ،شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ، مؤمنین کے اعمال قبول ہوتے ہیں رمضان عمدہ مہینہ ہے حضرت رسول خدا کے زمانے میں اسے ماہ مرزوق (روزی دیئے جانے والا مہینہ) کہتے تھے۔

( ۱۰) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ماہ رمضان کی راتوں میں جہنم کی آگ سے آزادی الله کے ذمہ ہے مگر یہ کہ جو نشے والی چیز سے افطار کرے ، کینہ رکھے یا صاحب شاہین ہو راوی کہتا ہے میں نے پوچھا کونسی چیز صاحب شاہین ہے فرمایا شطرنج ۔

( ۱۱) راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے پوچھا کہ الله نے فرمایا ہے میں نے اسے (قرآن) مبارک رات میں نازل کیا هے تو مبارک رات کونسی ہے ؟ حضرت نے فرمایا وہ شب قدر ہے جو ہر سال فقط ما ہ رمضان کی آخری دس راتوں میں آتی ہے شب قدر میں ہی قرآن نازل ہوا الله کا فرمان ہے اس رات تمام چیزیں حکمت الهی سے معین و مشخص هوں گی اسی ایک رات میں ہر خیر و شر اطاعت و معصیت ، تولد و مرگ اور رزق و غیرہ ایک سال تک کیلئے معین ہو جاتا ہے جو کچھ ملنا ہے اسی رات ہی طے ہوگا اور اس میں الله کی مشیت ہے میں نے عرض کی شب قدر هزار مهینوں سے بهتر هے اس سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اس مہینے کے اعمال صالح جیسے نماز ، زکات اور دوسری نیکیاں ان ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہیں جن میں شب قدر نہ ہو اگر الله تعالیٰ مؤمنین کے ثواب کو دگنا نہ کرتا تو انہیں یہ ثواب حاصل نہ ہوتا لیکن الله تعالی نے ان کیلئے نیکیاں دگنی کردی ہیں ۔

( ۱۲) سعید بن جبیر کہتا ہے میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ اس شخص کا کیا اجر وثواب ہے جو رمضان میں روزے رکھے اور ماہ رمضان کے حق کو پہچانے ؟ فرمایا ابن جبیر آمادہ ہو جا تا کہ میں تجھے ایسی حدیث سناؤں جو تیرے کانوں نے نہیں سنی اور نہ تیرے دل سے گزری ہے پوچھے گئے سوال کے متعلق اپنے ذہن کو خالی کر لو جو تم نے سوال کیا ہے یہ اولین و آخرین کا علم ہے۔ سعید بن جبیر کہتا ہے میں وہاں سے چلا گیا اور اگلی صبح آمادہ ہو کر طلو ع فجر کے وقت ابن عباس کے پاس پہنچ گیا میں نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد اسے حدیث والی بات یاد دلائی اس نے میری طرف رخ کرکے کہا جو میں کہنا چاہتا ہوں اسے غور سے سنو میں نے حضرت رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمھیں علم ہوتا کہ ماہ رمضان میں تمھارے لئے کتنا ثواب ہے تو تم الله کا مزید شکر کرتے۔ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو الله تعالیٰ میری امت کے تمام ظاہر اور پوشیدہ گناہ معاف کردیتا ہے اور دو لاکھ درجات بلند کرتا ہے اور بہشت میں پچاس شہر تعمیر کرتا ہے۔ دوسرے دن الله تمھارے اٹھائے گئے ہر قدم کے بدلے میں ایک سال کی عبادت ، ایک پیغمبر کا ثواب اور ایک سال کے روزے لکھتا ہے۔

تیسرے دن تمہارے جسم کے ہر بال کے بدلے میں بہشت کے اندر سفید درّوں سے مزیّن گنبد بناتا ہے کہ جسکے اوپر اور نیچے بارہ ہزار نورانی گھر ہوں گے اور ہر گھر میں بارہ ہزار تخت ہونگے اور ہر تخت پر حور بیٹھی ہوگی ہر روز ہزار فرشتے ہاتھوں میں ھدیہ لیے تمھارے پاس آئیں گے۔

چوتھے دن الله بہشت جاوید میں ستر ہزار محل تمھیں عطا کرے گا کہ ہر محل میں ستر ہزار گھر ، ہر گھر میں پچاس ہزار تخت اور ہر تخت پر حور بیٹھی ہوگی اور ہر حور کے سامنے ہزار چھوٹی کنیزیں کھڑی ہونگیں اور ان کے لباس دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہونگے۔

پانچویں دن الله جنت مأوی میں تمھیں ایک ہزار شہر عطا کرے گا ، ہر شہر میں ستر ہزار گھر ، ہر گھر میں ستر ہزار دسترخوان اور ہر دسترخوان پر ستر ہزار کا سے اور ہر کاسے میں ساٹھ ہزار قسم کی غذا ہوگی اور ہر غذ ایک دوسرے سے مختلف ہوگی ۔

چھٹے دن الله تمھیں دارالسلام میں ایک لاکھ شہر عطا کرے گا ، ہر شہر میں ایک لاکھ گھر ، ہر گھر میں ایک لاکھ سونے کے تخت ہونگے جنکا طول ستر ہزار ہاتھ ہوگا ہر تخت پر حور العین تمھاری بیوی کے طور پر بیٹھی ہوگی جس کے پیشانی پر در اور یاقوت سے مزیّن تیس ہزار دلفیں ہونگیں اور ہر دلف کو ایک سو کنیزوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔

ساتویں دن الله تعالی جنت نعیم میں تمھیں چالیس ہزار شہید اور چالیس ہزار صدیق کا اجروثواب عطا کرے گا۔

آٹھویں دن الله تمھیں ساٹھ ہزار عابد اور ساٹھ ہزار زاہد کے عمل کے مثل اجر وثواب عطا کرے گا ۔

نویں دن الله جو اجر و ثواب ایک ہزار عالم ایک ہزار اعتکاف میں بیٹھنے والے اور ایک ہزار جنگجو کو دیتا ہے ، تمھیں نصیب کرے گا ۔

دسویں دن الله تمھاری ستر ہزار حاجتیں بر لائے گا سورج ، چاند، ستارے ،چوپائے ، پرندے ، تمام پتھر ، پھول ، ہر خشک و تر ، مچھلیاں ، دریا اور درختوں کے پتے تمھارے لئے استغفار کریں گے۔

گیارہواں دن تمھارے لئے چار حج اور چار عمروں کا ثواب لکھے گا اور حج ایسا ہوگا جو پیغمبر کیساتھ اور عمرہ ایسا ہوگا جو کسی شہید یا صدیق کیساتھ ادا کیا گیا ہو۔

بارہواں دن تمھارے گناہوں کو حسنات میں بدل دے گا ور تمھاری نیکیوں کو دو برابر کردیگا اور ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا ۔

اور تیر ہویں دن الله اہل مکہ اور مدینہ کی عبادت کی مثل ثواب دے گا اور تمھیں مکہ اور مدینہ کے درمیان ہر پتھر اور مٹی کی تعداد میں شفاعت نصیب کریگا ۔

اور چودہویں دن گویا تمھیں حضرت آدم اور نوح اور انکے بعد حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور انکے بعد حضرت داود اور سلمان کی ملاقات کا شرف ہوا ہو اور تم نے ہر پیغمبرکیساتھ دو سو سال تک خدا کی عبادت کی ہو۔

پندرہویں دن تمھاری دنیا و آخرت کی ہر حاجت پور ی کریگا جو کچھ حضرت ایوب کو دیا تھا، تمھیں بھی عطا کرے گا ، تمھاری دعائیں مستجاب کریگا ، حاملین عرش تمھارے لیے استغفار کریں گے اور قیامت والے دن چالیس نور عطا کرے گا جو دس دس ہوکر تمھارے دائیں ، بائیں ، آگے پیچھے ، رہیں گے ۔

سولہویں دن جب تم قبر سے نکلو گے تو تمھیں ساٹھ لباس عطا کرے گا تا کہ تم انہیں پہنو۔ تمھیں سواری کیلئے ناقہ ملے گا اور الله تمھارے لئے ابر رحمت بھیجے گا جو اس دن کی گرمی میں تجھ پر سایہ کئے رکھے گا۔

اور جب ستر ہواں دن آئے گا الله فرمائے گا یقینا میں نے انہیں اور ان کے والدین کو معاف کر دیا ہے اور الله ان سے قیامت کی سختیاں اٹھالے گا۔

جب اٹھارواں دن آئے گا تو الله تعالیٰ حضرت جبرائیل ، مکائیل ، اسرافیل ، حاملین عرش، کرسی اور کروبین کو حکم دیگا کہ اگلے سال تک امت محمد کیلئے استغفار کریں اور الله تمھیں قیامت والے دن اہل بدر کا ثواب عطا کرے گا۔

جب انیس واں دن ہوگا تو زمین وآسمان کے تمام ملائکہ ہر روز تمھاری قبروں کی زیارت کیلئے الله سے اجازت لیکر آئیں گے اور ہر فرشتے کے پاس ہدیہ اور شربت بھی ہوگا۔

جب بیسواں دن ہوگا تو خدا تمھارے لئے ستر ہزار فرشتے بھیجے گا کہ تمھیں را ندے ہوئے شیطان کے شر سے بچائیں اور وہ ہر دن کے روزے کو سوسال کے روزے کے برابر لکھیں گے الله تمھارے اور جہنم کے درمیان خندق بنادے گا تمھارے لئے تورات ، زبور ، انجیل اور فرقان کی تلاوت کرنے والوں کا ثواب لکھے گا تمھارے لئے حضرت جبرائیل کے ہر پر کی تعداد کے برابر ایک سال کی عبادت لکھے گا عرش اور کرسی کی تسبیح کا ثواب بھی تمھیں عطا کرے گاقرآن کی ہر آیت کی تعداد کے برابر حور العین عطا کرے گا اکیسویں دن الله تعالیٰ تمھاری قبروں میں ایک ہزار فرسخ تک وسعت عطا کرے گا اور تم سے قبر کی تاریکی اور وحشت کو دور کریگا تمھاری قبور کو شہدا ء کی قبریں بنائے گا اور تمھارے چہروں کو حضرت یوسف بن یعقوب کے چہرے جیسا بنائے گا ۔ بائیسویں دن خدا تمھارے پاس ملک الموت کو اس طرح بیھجے گا جس طرح انبیاء کے پاس بھیجتا ہے اور تم سے منکر و نکیر کا خوف اٹھا لے گا دنیا کے غم اور عذاب قبر کو تم سے دور کریگا ۔ تیئسویں دن تم پل صراط سے انبیاء ، صدقاء ، شہداء اور صالحین کیساتھ گزرو گے (تمھیں اس چیز کا ثواب ملے گا گویا) تم نے میری امت کے ہریتیم کو کھانا اور ہر عریان کو لباس عطا کیا ہے چوبیسویں دن تم میں سے ہر شخص دنیا سے اس وقت تک نہیں جائے گا جبتک جنت میں اپنا مکان نہ دیکھ لے تم میں سے ہر شخص کو ایک ہزار مریض اور اس بے وطن کا ثواب عطا کیا جائے گا جو الله کی اطاعت کرتے ہوئے وطن سے نکلا ہو اور تمھیں حضرت اسماعیل کی اولاد سے ایک ہزار غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔ پچیسویں دن خدا تمھارے لئے عرش کے نیچے ایک ہزار سبز گنبد تعمیر کرے گا اور ہر گنبد کے سِرے پر ایک نور کا خیمہ ہو گا الله تعالیٰ کہے گا اے امتِ محمد میں تمھارا پرودگار ہوں اور تم میرے غلام اور کنیزیں ہو میرے عرش کے سایہ میں بنائے گئے گنبدوں میں بیٹھو۔ کھاؤ پیو۔ تمھیں مبارک ہو۔ تمھارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن و ملال اے امت محمد مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم میں تمھیں جنت میں ضرور بھیجو نگا تم پر اولین و آخرین (امتیں) تعجب کریں گی تم میں سے ہر ایک کو ایک ہزار نورانی تاج عطا کرونگا تم میں سے ہر شخص کو نور سے خلق کئے گئے ناقہ پر سوار کرونگا جس کی لگا میں نور کی ہونگیں جس پر سونے کے ایک ہزار حلقے ہونگے ہر حلقے پر ایک فرشتہ کھڑا ہوگا جسکے ہاتھ میں نور کا ستون ہوگا یہاں تک کہ تمھیں بغیر حساب وکتاب جنت میں داخل کروں گا جب چھبیسواں کا دن ہوگا الله تم پر نظر رحمت کریگا قتل اور اموال کے علاوہ تمھارے سب گناہ معاف کریگا اور ہر روز ستر مرتبہ تمھارے گھر کو غیبت جھوٹ اور تہمت سے پاک کریگا جب ستائیسویں کا دن ہوگا تو تمھیں تمام مؤمنین و مؤمنات کی نصرت ومدد اور ستر ہزار عریان لوگوں کو لباس پہنانے میدان جنگ میں ایک ہزار جنگجو کی خدمت ، اور انبیاء پر خداکی نازل کردہ ہر کتاب کا تلاوت کا ثواب عطا کریگا آٹھائیسویں دن الله تعالیٰ اسکے لئے بہشت جاوید میں نور کے ایک لاکھ گھر بنائے گا اور الله تمھیں جنت مأوی میں چاندی کے ایک لاکھ گھر عطا کرئے گا اور جنت نعیم میں خالص عنبر کے ایک لاکھ گھر عطا کریگا اور جنت فردوس میں ایک لاکھ شہر عطا کرے گا اور ہر شہر میں ایک ہزار حجرے ہونگے اور الله جنت خلدمیں مشک کے ایک لاکھ منبر عطا کریگا ہر منبر کے وسط میں ایک ہزار زعفران کے گھر ہونگے اور ہر گھر میں ایک ہزار دُر اور یاقوت کے تخت ہونگے اور ہرتخت پرحور العین زوجہ بنکر بیٹھی ہوگی اور جب انتیسویں کا دن آئے گا ایک لاکھ محلے عطا کرے گا ہر محلے کے وسط میں درخشان قبہ ہوگا ہر قبہ میں سفید کا فور کا تخت ہوگا ہر تخت پر ایک ہزار سبز سندس کے فرش ہونگے ہر فرش پر حوریں بیٹھی ہونگیں ان کے پاس ستر ہزار عمدہ لباس ہونگے انکی پیشانی پر اسی ہزار در اور یاقوت سے مزین زلفیں ہونگیں۔

جب تیس دن مکمل ہونگے تو الله تعالیٰ ہر گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ایک ہزار شہید اور ایک ہزار صدیق کا اور پچاس سالہ عبادت کا ثواب لکھے گا ہر روزے کے لئے دو ہزار کے روزوں کا ثواب لکھے گا دریائے نیل جو کچھ اگاتا ہے اسکی تعداد میں درجات بلند کرے گا جہنم سے نجات ، پل صراط سے گزرنے کا پر مٹ ، اور عذاب سے امن عطا کریگا جنت کا ریان نامی دروازہ (کہ جو قیامت تک نہیں کھلے گا لیکن اسے) حضرت محمد کی امت کی روزہ دار خواتین و حضرات کیلئے کھول دیا جائے گا پھر جنت کا خازن فرشتہ ندادے گا جس کی اس ماہ رمضان میں مغفرت نہ ہوسکی تو پھر کس مہینے میں اسکی مغفرت ہوگی!؟ اور بزرگ و بر تر خدا کے علاوہ کسی کے پاس کوئی طاقت وقوت نہیں ہے ۔

( ۱۳) حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا کا طریقہ کا ریہ رہا ہے کہ جو نہی رمضان کا مہینہ آتا تو آپ ہر قیدی کو آزاد اور ہر سائل کو (مال) عطا فرماتے۔

ذی الحجہ کے اعمال کا ثواب

ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی دعا کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں ہرروز یہ با برکت دعا پڑھا کرتے تھے خلیل راوی کہتا ہے کہ میں نے اس سے سنا کہ امیر المؤمنین فرمایا کرتے تھے۔ جو شخص اس عشرے میں ہر روز اس دعا ؛لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ اللَّیَالِی وَالدُّهُورِ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ اَموَاجِ البُحُورِ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ و رَحمَتُه خَیرمِمّا یَجمَعُونَ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ الشَّوکِ وَ الشَّجَرِ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ الشَّعرِ وَ الوَبَر،لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ الحَجَرِ وَالمَدَرِ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ لَمحِ العُیُونِ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ فِی اللَّیلِ اِذاعَسعَسَ وَ فِی الصُّبحِ اِذاتَنَفّسَ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ عَدَدَ الرِّیاحِ فَی البَرَارِی وَالصُّخُورِ،لا اِلهَ اِلا اللّهُ مِنَ الیَومِ اِلی یَومٍ یُنفَخُ فِی الصُّورِ ۔کی دس مرتبہ تلاوت کرے گا تو الله تعالیٰ ہر تہلیل (لاالہ الاالله) کے مقابلہ میں بہشت کے اندر در اور یاقوت کا ایک درجہ عطا کریگا ہر درجہ کے درمیان سریع اور تیز سواری کیساتھ ایک سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ہر درجے پر ایک شہر ہے جسمیں ایک جوہر کا قصر ہے ان شہروں میں سے ہر شہر دوسرے سے جدا نہیں ہے ان تمام میں چار دیواریاں ، قلعے، بالاخانے ، گھر ، فرش ، بیویاں، تخت ، حور العین، دستر خوان: خدمتگار ، نہریں ، درخت ، زیورات اور لباس موجود ہیں کوئی وصف کرنے والا اس کی توصیف نہیں کرسکتا جب قبر سے نکلے گا تو اسکا ہر بال نور افشانی کریگا اور ستر ہزار فرشتے اسکے ارد گرد جمع ہو جائیں گے کچھ آگے ، کچھ دائیں ، کچھ بائیں اس کیساتھ چلتے ہو ئے باب جنت پہنچیں گے جب یہ جنت میں داخل ہوگا تو یہ سب فرشتے پیچھے کھڑے ہونگے اور یہ آگے ہوگا یہاں تک کہ اس شہر تک پہنچیں گے جسکا ظاہر سرخ یاقوت کا اور باطن سبز زبر جد کا ہوگا الله کی پیدا کردہ مختلف انواع و اقسام کی بہشتی چیزیں اس میں موجود ہونگی جب یہاں پہنچیں گے تو کہا جائے گا اے حبیب خدا جانتے ہو کہ یہ کونسا شہر ہے اور اسمیں کیا کیا ہے ؟ کہے گا ہم نہیں جانتے اور آپ کون ہیں ؟ وہ کہیں گے ہم فرشتے ہیں جب تم نے دنیا میں لا الہ الا الله کہا تھا تو ہم نے تمھیں دیکھاتھا یہ شہر تمام لوازمات کیساتھ تمھارا ہے تجھے الله تعالیٰ کی طرف سے اس سے بڑھکر ثواب ملے گا یہاں تک کہ تو دارالسلام میں ، جوار خدا میں ملاحظہ کرے گا کہ الله نے تجھے کیا عطا کیا ہے تم دیکھنا یہ عطا کبھی منقطع نہ ہوگی خلیل کہتا ہے کثرت سے اس ذکر کی تلاوت کرو تا کہ تمھیں زیادہ ثواب مل سکے۔

ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں روزے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ ایک شخص اہل غنا سے تھا جب اس نے ذی الحجہ کی پہلی کے رات کا چاند دیکھا اور صبح روزہ رکھ لیا یہ خبر حضرت رسول خدا تک پہنچی ، آپ نے کسی کو بھیجا کہ اسے بلا لاؤ جب وہ آیا تو حضرت نے فرمایا اس دن تم نے روزہ کیوں رکھا ہے ؟ کہنے لگا یا رسول الله میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آجکل ایام مشعر اور حج ہیں ۔شاید خدا مجھے بھی ان کی دعاؤں میں شریک کرلے حضرت نے فرمایا جس جس دن تم نے روزہ رکھا ہے تجھے ہر روزے کے بدلے میں ، ایک سو غلام کو آزاد کرنے ، ایک سو اونٹیوں کی قربانی اور ایک سو گھوڑوں پر الله کی راہ میں بار اٹھانے کا ثواب ملے گا جب یوم ترویہ (آٹھ ذی الحجہ ) آئے گا تو پھر تجھے ایک روزے کے بدلے ہزار غلام آزاد کرنے ، ہزار اونٹوں کی قربانی اور ہزار گھوڑوں پر الله کی راہ میں باراٹھانے کا ثواب ملے گا اور عرفہ والے دن ایک روزے کے بدلے میں دو ہزار غلام آزاد کرنے ، دو ہزار اونٹوں کی قربانی اور دو ہزار گھوڑوں پر الله کی راہ میں بار اٹھانے کا ثواب عطا ہوگا نیز یہ تمھاری زندگی کی ابتدائی ساٹھ سال اور آخری ساٹھ سالہ گناہوں کا کفارہ بھی ہوگا۔

( ۲) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں پہلے دن روزہ رکھے گا تو الله تعالیٰ اسکے لئے اَسی( ۸۰) مہینے کے روزے لکھے گا اگر نو دن روزے رکھے گا تو الله اسکے لئے ایک زمانے کے روزوں کا ثواب لکھے گا۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں روز ترویہ کا روزہ ایک سالہ گناہوں کا کفارہ ہے اور روز عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔

عید غدیر کے روزے کا ثواب

( ۱) حسن بن راشد کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی میں آپ پر قربان جاؤں۔ آیا مسلمانوں کی دو عیدوں (فطر اور قربان) کے علاوہ بھی کوئی عید ہے ؟ فرمایا ، ہاں اے حسن وہ عید ان دونوں سے عظیم اور شرف والی ہے راوی کہتا ہے میں نے پوچھا وہ کس دن ہے ؟ فرمایا جس دن حضرت علی (علیہ السلام) کو لوگوں کا پیشوا بنایا گیا میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں ، یہ کس دن ہے ؟ فرمایا دن گزرتے رہتے ہیں اور وہ اٹھارہ ذی الحجہ کا دن تھا میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں اس دن ہماری کیا ذمہ داری ہے ؟ فرمایا اے حسن اس دن روزہ رکھو اور حضرت محمد اور انکی اہلبیت علیہم السلام پر کثرت سے درود بھیجو اور جن لوگوں نے ان پر ظلم کیا اور انکے حق کے منکر بنے، ان سے بیزاری اختیار کرو انبیاء اپنے و صیوں کو حکم دیا کرتے تھے ، جس دن وصی بنائے گئے ہو اس دن عید مناؤ میں نے عرض کی کہ ہم میں سے جو اس دن روزہ رکھے گا اسے کتنا ثواب ہوگا فرمایا اسے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا اسی طرح ستائیس رجب کا روزہ بھی ترک نہ کرو اسی دن حضرت رسول خدا پیغمبری کیلئے مبعوث ہوئے اس دن کے روزے کا ثواب بھی ساٹھ ماہ کے روزوں کی مانند ہے ۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی کہ کیا مسلمانوں کی دو عیدوں اور جمعہ کے علاوہ بھی کوئی عید ہے ؟ فرمایا جی ہاں ان سے بڑی عید بھی ہے جس دن امیر المؤمنین (علیہ السلام) خلافت کیلئے معین ہوئے اور حضرت رسول خدا نے غدیر خم میں انکی ولایت کو خواتین و حضرات کی گردن پر رکھا اس دن بجالا یا جانے والا عمل اسی مہینوں کے عمل کے مساوی ہے اس دن (مسلمانوں کو ) چاہئے کہ کثرت سے ذکر خدا کریں اور حضرت رسول خدا پر بہت زیادہ درود و سلام بھیجیں اور اس دن انسان اپنے اہل و عیال کو زیادہ خرچہ دے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ عید غدیر خم کا روزہ ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔

شوال و ذی قعدہ کے اعمال کا ثواب

شب عید مستحبی عبادت کا ثواب

(۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت رسول خدا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے اور وہ حضرت اسرافیل سے نقل کرتے ہیں کہ خداوند متعال نے فرمایا جو عید فطر کی رات دس رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور دس مرتبہ توحید کی تلاوت کرے اور سجدہ اور رکوع میں کہے سُبحَانَ اللهِ وَالحَمدُللهِ ِ وَلاَاِلَهٰ اِلاَّ الله وَ الله اَکبَرپھر ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھے نماز کے بعد ہزار مرتبہ اَستَغفِرُ الله َ وَ اَتُوبُ اِلَیهِکہے پھر سجدے میں جاکر کہے یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ یَا ذَالجَلاَلِ وَ الاِکرَامِ یاَ رَحمٰنَ الدُّنیَا وَ الاَخِرَةِ وَرَحِیمَهُمَا یَا اَکرَمَ الاَکرَمِینَ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِین یَا اِلَهَ الَاوَّلِینَ والاخِرِینَ اِغفِرلِی ذُنُوبِی وَتَقَبَّل صَومِی وَصَلَاتِی وَقِیَامِی

مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے بر حق نبی بنایاہے وہ سجدہ سے سر اٹھانے سے پہلے ہی معاف کر دیا جائے گا اسکا ماہ رمضان قبول ہوگا اسکے سب گناہ ختم ہوجائیں گے اگر چہ وہ ایسے ستر گناہوں کا مرتکب ہوا ہو جو تمام لوگوں کے گناہوں سے بڑھکر ہوں میں نے کہا اے جبرائیل کیا صرف اسی ایک شخص کا ماہ رمضان قبول ہوگا یا دنیا کے تمام لوگوں کا۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اے محمد مجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے بر حق نبی مبعوث کیا اس شخص کی کرامت اور الله کے نزدیک عظیم منزلت کا تقاضا یہ ہے کہ اسکا اور دوسرے لوگوں کا ماہ رمضان قبول ہو نیز مشرق و مغرب کے درمیان رہنے والے توحید پرستوں کی نمازیں اور روزے قبول ہونگے انکے گناہ معاف ہونگے ، دعائیں مستجاب ہونگیں پھر کہا مجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے برحق نبی مبعوث کیا جو شخص بھی نماز پڑھے گا اور یہ استغفار کرے گا تو اسکی نماز ، روزہ اور قیام قبول کرے گا اسے معاف اور اسکی دعائیں مستجاب کرے گا کیونکہ الله تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے اپنے پروردگار سے مغفرت چاہو اور گناہ سے توبہ کرو مزید فرمایا جو شخص نا مناسب کام کرتے ہیں یا خود پر ستم کرتے ہیں الله کو یاد کرو اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرو گناہ معاف کرنے والی ذات فقط پروردگار دو عالم ہے مزید فرمایا الله سے مغفرت چاہو بیشک الله بخشنے اور رحم کرنے والے ہے ایک اور جگہ فرمایا اس سے مغفرت چاہو

کیونکہ وہی توبہ قبول کرنے والا ہے یہ خاص طور پر میرے اور میری امت کے خواتین و حضرات کیلئے ہدیہ ہے یہ ہدیہ مجھ سے پہلے والے انبیاء اور غیر انبیاء میں سے کسی کو نہیں ملا ۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں جو شخص بھی عید کی رات چھ رکعت نماز ادا کریگا تو وہ اپنے تمام گھر والوں کی شفاعت کرسکے گا خواہ وہ لوگ پکے جہنمی ہی کیوں نہ ہوں میں نے عرض کی یا رسول الله گناہگاروں کی شفاعت کیوں قبول ہوگی ؟ فرمایا نیک لوگوں کو تو شفاعت کی ضرورت ہی نہیں ہے ، شفاعت تو ہرگناہگار کیلئے ہے۔

محمد بن حسین (شیخ صدوق مؤلف کتاب ) فرماتے ہیں ہر رکعت میں پانچ مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کی جائے ۔

عید فطر کی رات شب بیداری کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

جو عید رات شب بیداری کریگا تو دلوں کے مرنے والے دن اسکا دل زندہ رہے گا ۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

جو عید رات اور پندرہ شعبان کی رات جاگتا رہے گا تو دلوں کے مرنے والے دن اسکا دل نہیں مرے گا ۔

ماہ رمضان کے روزے کوصدقے کے ساتھ ختم کرنے اور باغسل مصلّے پر جانے کاثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں ۔جو ماہ رمضان میں روزہ رکھے صدقہ دینے کیساتھ روزے کا اختتام کرے اور باغسل مصلّے پر جائے تو جب مصلّے سے اٹھے گا تو اسے معاف کردیا گیا ہوگا۔

عید فطر کو باجماعت نماز کے بعد چار رکعت نماز پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں۔

جو شخص عید کی با جماعت نماز پڑھنے کے بعد چار رکعت نماز پڑھے جسکی پہلی رکعت میں سورہ اعلیٰ پڑھے تو گویا اس نے الله کی نازل کی گئی تمام کتابوں کی تلاوت کی ہے اگر دوسری رکعت میں سورہ شمس پڑھے تو جس جس چیز پر سورج چمکتا ہے اسکی تعداد کے برابر اسے ثواب ملے گا اگر تیسری رکعت میں سورہ ضُحیٰ پڑھے تو اسے تمام مساکین کو کھانے کھلانے، انہیں خوشولگانے اور صاف ستھرا کرنے کا ثواب ملے گا اگر چوتھی رکعت میں دس مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو خدا اسکے گذشتہ اور آنے والے پچاس سالوں کے گناہ معاف کردے گا ۔

جناب ابو جعفر محمد بن علی مؤلف کتاب کہتے ہیں یہ ثواب اس شخص کیلئے ہے جس نے تقیّہ کرتے ہوئے دوسرے مذہب کے پیش امام کی اقتداء میں نماز پڑھی ہو پھر ان چار رکعتوں کو عید کے عنوان سے پڑھے اور اس نماز کو شمار نہ کرے۔ اور اگر امام الله کی طرف سے نصب کردہ ہو جسکی اطاعت انسانوں پر واجب ہے یہ انکی اقتداء میں نما زعید پڑھے تو زوال تک کوئی اور نماز نہیں پڑھ سکتا اور اگر موافق مذہب پیش امام کے پیچھے نماز عید پڑھے (جسکی اطاعت واجب نہیں) تو اس صورت میں بھی زوال تک کسی نماز کے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسے یہ معلوم ہونا چاہیئے نماز عیدین امام کی اقتداء میں ہی ادا ہو سکتی ہیں اگر کوئی تنہا (بغیر جماعت کے) عید نماز پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھ سکتا ہے مندرجہ ذیل روایات اسکی تصدیق کرتی ہیں ۔

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جوشخص نماز عید (باجماعت) ادا نہیں کرسکا تو اس پر کوئی نماز اور قضا نہیں ہے ۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں عید فطر اور قربان کی نماز فقط امام کی اقتداء میں ہے اگر کوئی تنہا پڑھنا چاہتا ہے تو کوئی حرج نہیں ۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

عید فطر اور قربان کی نماز فقط امام کی اقتداء میں ہے ۔

( ۴) راوی کہتاہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ عید فطر اور قربان سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز ہے فرمایا۔

نہ پہلے ہے نہ بعد میں ۔

( ۵) راوی کہتاہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عید فطر اور عید قربان کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا۔ ان دونوں کیلئے اذان و اقامت نہیں ہے اور ان دو رکعتوں کے علاوہ پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں ۔

( ۶) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

نماز عید فطرو قربان دو رکعت ہے اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں ۔

( ۷) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

عید فطر اور قربان کی نماز کیلئے اذان و اقامت نہیں ہے ، ان کی اذان سورج کا طلوع ہونا ہے جونہی سورج طلوع کرے لوگ نماز کیلئے گھر سے نکلیں ان دونوں سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں جو شخص امام کی اقتداء میں نماز نہ پڑھے اس پر کوئی اور نماز نہیں اور قضاء بھی واجب نہیں ہے ۔

پچیس ذیقعد کے روزے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ جوانی کے عالم میں میں نے اپنے والد کیساتھ پچیس ذیقعد کی رات حضرت امام رضا (علیہ السلام) کے پاس کھانا کھایا تو وھاں حضرت نے فرمایا۔

حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ بن مریم پچیس ذیقعد کی شب متولد ہوئے اور اسی رات کعبہ کے نیچے زمین بچھائی گئی اسکی ایک اورخصوصیت یہ بھی ہے کہ جسکا کسی نے تذکرہ نہیں کیا کہ جو اس دن روزہ رکھے گا گویا اس نے ساٹھ سال روزے رکھے ہیں۔

پانی سے روزہ افطار کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

پانی سے روزہ افطار کرنا ، دل کے گناہ دھو ڈالتاہے ۔

ہر ماہ پہلی جمعرات ، درمیانی بدھ اور آخری جمعرات روزہ رکھنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سنا۔ حضرت رسول خدا کا طریقہ کار یہ تھا جب روزے رکھتے تو اتنے (زیادہ) رکھتے کہ لوگ کہتے آپ کبھی روزے ترک نہیں کرتے بعض اوقات کافی دیر روزے نہ رکھتے کہ لوگ کہتے آپ روزے ہی نہیں رکھتے ایک مدت بعد آپ اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لائے ایک دن چھوڑ کر روزے رکھتے پھر کچھ مدت بعد آپ ہر اتوار اور جمعرات کو روزہ رکھتے کچھ مدت بعد پھر طریقہ کا ر میں تبدیلی لائے ہر مہینے ، پہلی جمعرات ، درمیانی بدھ اور آخری جمعرات (تین دن) روزہ رکھتے اور فرماتے یہ ایک دھر اور زمانے کے برابر روزے ہیں حضرت فرماتے ہیں کہ میرے والد فرمایا کرتے تھے میرے نزدیک اس شخص سے بڑھکر کسی پر زیادہ غضب نہ ہوگا جو کہے کہ حضرت رسول خدا تو اس طرح اور اُس طرح کیا کرتے تھے لیکن خدا مجھے میری نماز میں سعی اور کوشش کی وجہ سے عذاب نہ دے گا گویا وہ کہناچاہتا ہے کہ نا توانی اور عاجزی کی وجہ سے حضرت کوئی فضیلت ترک کر بیٹھے ہیں (تبھی نماز کے علاوہ اور نیک کام بھی کرتے ہیں )۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا ماہ صبر (رمضان) اور ہر مہینے کے تین روزے سینے میں پیدا ہونے والے وسوسے دور کرتے ہیں ہر مہینے کے تین روزے تو پورے زمانے کے روزے ہیں الله اپنی کتاب میں فرماتا ہے جو ایک نیکی انجام دے گا اسے دس برابر ثواب ملے گا

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے پوچھا کس طرح ایک ماہ کے روزوں کا ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے فرمایا ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کیساتھ۔ کیونکہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے جو ایک نیکی انجام دے گا اسے دس برابر ثواب ملے گا مہینے میں تین روزے ایک دھر اور زمانے کے روزے ہیں ۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خداسے دو جمعراتوں اور انکے درمیانی بدھ کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا جہاں تک جمعرات کا تعلق ہے اس دن اعمال پیش ہوتے ہیں اور بدھ اس لحاظ سے کہ اس دن جہنم خلق کی گئی اس دن کا روزہ جہنم کی ڈھا ل ہے ۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے بدھ کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا حضرت علی(علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے الله تعالیٰ نے جہنم بدھ والے دن خلق کی ۔وہ اس دن کے روزے کو محبوب جانتا ہے تاکہ لوگ جہنم کی آگ سے پناہ مانگیں ۔

( ۶) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے یہ روایت سنی ہے کہ حضرت رسول خدا اتنے روزے رکھتے کہ لوگ کہتے آپ کبھی روزہ ترک نہیں کرتے ، اور کبھی اِتنی مدت نہ رکھتے کہ لوگ

کہتے آپ روزے نہیں رکھتے پھر آپ حضرت داود (علیہ السلام) کی طرح ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے جب آپ کی وفات ہوئی تو ( ہر ماہ میں رکھے جانیوالے تین روزوں میں سے ایک ) روزے میں تھے فرمایا یہ زمانے کے برابر ہیں اس سے سینے میں پیدا ہونے والا وسوسہ جاتا رہتا ہے راوی کہتا ہے میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں یہ کونسے دن ہیں ؟ فرمایا ہر مہینے کی پہلی جمعرات پہلے عشرے کے بعدو الا بدھ ، اور آخری جمعرات میں نے کہا ان ایام میں کیوں ہیں ؟ فرمایا ہم سے پہلے والی امتوں پر ان ایام میں عذاب نازل ہوتا تھا۔لہذا حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان ایام میں روزہ رکھتے بہر حال یہ ایام خوف ہیں ۔

( ۷) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا بدھ کا روزہ کیوں ہے ؟ فرمایا کیونکہ جہنم بدھ والے دن خلق کی گئی تھی ۔

( ۸) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا روزے میں سنت کیا ہے ؟ فرمایا ہر ماہ تین دن (پہلے عشرے کی جمعرات ، دوسرے عشرے کا بدھ اور تیسرے عشرے کی جمعرات) راوی کہتاہے میں نے عرض کی کیا یہ سنت روزے کے متعلق ہے ؟ فرمایا جی ہاں۔

( ۹) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام باقر (علیہ السلام) یا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض گزار ہوا ! کیا ہر مہینے کے تین روزوں کو میں گرمیوں کے بجائے سردیوں تک مؤخر کر سکتا ہوں کیونکہ ، اسمیں مجھے آسانی دیکھائی دیتی ہے فرمایا جی ہاں لیکن اسکی تعداد فراموش نہ کرنا۔

( ۱۰) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق کی خدمت عرض کی ، مولا گرمیوں میں روزہ رکھنا ، میرے لئے مشکل ہے کیونکہ مجھے سردرد کی شکایت ہونے لگتی ہے فرمایا جو میں کرتا ہوں تم بھی کرو میں جب مسافرت پر جاتا ہوں تو ایک مُد(تین کلو) غذا اپنے گھر والوں کو صدقہ کیلئے دیکر جاتا ہوں۔

روزے کے بدلے ایک درہم صدقے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ ہر مہینے تین روزے رکھنا میرے لئے مشکل ہیں اگر میں ہر روزے کے بدلے ایک درہم صدقہ دے دوں تو کیا یہ کافی ہے؟ فرمایا ایک درہم صدقہ ایک دن کے روزے سے بہتر ہے ۔

کسی مؤمن بھائی کے گھر روزہ افطار کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ

مؤمن بھائی کے گھر روزہ افطار کرنا تیرے روزے کے مقابلے میں ستر یا نوے گنا (زیادہ ثواب رکھتا) ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) جو روزے کی حالت میں کسی مومن بھائی کے گھر جائے اور اس کے پاس افطاری کرے اور ا پنے روزے کے متعلق نہ بتائے تاکہ اس پر احسان ہو۔ اور خدا اسکے لئے ایک سال کے روزے کا ثواب لکھے گا۔


معصومین علیھم السلام کی زیارت کا ثواب

حضرت رسول خدا ، حضرت علی (علیہ السلام) ، حضرت امام حسن (علیہ السلام) ، حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور دوسرے ائمہ (علیھم السلام)کی زیارت کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ

حضرت امام حسن (علیہ السلام) نے حضرت رسول خدا سے پوچھا بابا جان آپ کی زیارت کرنے والے کاکیا ثواب ہے؟ آ پ نے فرمایا جو میری ، تیرے والد ، تیری یا تیرے بھائی کی زیارت کر یگا تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ قیامت والے دن اس کی زیارت کروں اور اسے گناہوں سے چھٹکارا دلاؤں۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے آباء اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے حضرت رسول خدا سے پوچھا باباجان ہماری زیارت کرنے والے کا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا جو شخص میری ،تیرے باپ کی تیرے بھائی کی اور تیری زندگی میں یا زندگی کے بعد زیارت کریگا تو یہ مجھ پر ہے کہ قیامت کے دن اسکی زیارت کروں اور اسے گناہوں سے چھٹکارا دلا کر جنت میں داخل کروں۔

امام حسین (علیہ السلام) کی شھادت اور اہل بیت (علیھم السلام)کے مصائب پر گریہ کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا جس شخص کی آنکھوں سے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی خاطر اشک جاری ہو کر رخساروں پر گریں تو الله تعالیٰ اسکے عوض (جنت کے ) بالا خانہ میں جگہ عطا کرے گا جہاں یہ سالہا سال سکونت اختیار کرے گا اس دنیا میں ہمارے دشمنوں کی طرف سے ہمیں ہونے والی اذیت پر جو مؤمن روئے گا اور اسکے آنسو رخساروں پر جاری ہونگے تو الله تعالیٰ بہشت میں مقام صدق پر اسے جگہ عنایت فرمائے گا جو مؤمن ہماری خاطر تکلیف برداشت کرے اور ہماری راہ میں دیکھنے والی مصیبت کی وجہ سے اسکا دل غمگین ہوا ہو ، آنکھیں روئی ہوں، اشک رخساروں پر پہنچے ہوں تو الله اذیتوں کو اسکے چہرے سے دور کرے گا اور قیامت والے دن اپنی سختی اور عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے متعلق شعرکہنے اور گریہ کرنے، رلانے اور رونے کی شکل بنانے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلا م نے مجھے فرمایا ، ابو ہارون حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے متعلق شعر سناؤ۔ میں نے چند اشعار پڑھے۔ فرمایا اس طرح مجھے سناؤ جیسا سنایا جاتا ہے۔ یعنی رقّت کیساتھ سناؤ میں نے پڑھا ۔

اُمرُر عَلیٰ جَدَثِ الحُسَینِ فقل لأعظُمِهِ اَلزَکِیَّةِ

(جب حسین کی قبر سے گزرو تو اسکی پاک ہڈیوں سے کہو)

تو حضرت بہت روئے اس وقت فرمایا اور پڑھو میں نے ایک مرثیہ اور پڑھا تو حضرت بہت روئے میں نے پس پردہ (بھی) رونے کی آواز سنی جب میں شعر پڑھ چکا تو فر مایا اے ابو ہارون جو حسین کے شعر پڑھکر روئے اور دس بندوں کو رُلائے تو الله سب کو جنت دے گا جو امام حسین کے شعر پڑھکر خود بھی روئے اور پانچ آدمیوں کو بھی رلائے تو سب کو بھی جنت ملے گی جو شخص مولا حسین کے شعر پڑھکر روئے اور ایک آدمی کو رلائے تو دونوں پر جنت واجب ہوگی جو کسی کے سامنے ذکر حسین بیان کرے اور اسکی آنکھ سے مکھی کے پر کے برابر اشک جاری ہوں اس کا ثواب الله تعالیٰ کے ذمہ ہیں اور الله اسے جنت دیئے بغیر راضی نہ ہوگا۔

( ۲) ابو عمارہ کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا ابو عمارہ مجھے حضرت امام حسین کے متعلق شعر سناؤ۔میں نے شعر پڑھے آپنے گریہ کیا۔ میں نے پھر پڑھے گریہ کیا خدا کی قسم میں پڑھتا رہا آپ روتے رہے یہاں تک کہ آپکے گریہ کی آواز گھر سے باہر سنائی دینے لگی اسوقت مجھے فرمایا ابو عمارہ جو امام حسین کے متعلق اشعار پڑھکر پچاس لوگوں کو رلائے تو جنت اسکی ہے جو شعر پڑھے اور چالیس آدمی رو پڑیں انکے لیے بھی جنت ہے اور تیس لوگوں کو رلائے ان کیلئے جنت ہے جو اشعار پڑھکر بیس آدمیوں کو رلائے اسے بھی جنت ملے گی جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے لئے اشعار پڑھکر دس آدمیوں کو رلائے ، انہیں بھی جنت ملے گی اور جو حضرت امام حسین کے متعلق اشعار پڑھکر صرف ایک آدمی کو رلائے اسے بھی جنت ملے گی اور جو تنہا امام حسین کے متعلق اشعار پڑھ کر رو دے اسے بھی جنت ملے گی اور جو حضرت امام حسین کے متعلق اشعار پڑھ کر رونے کی شکل بنائے تو اسے بھی جنت ملے گی ۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے متعلق ایک شعر پڑھ کر روئے اور دس لوگوں کو رلائے تو ان کیلئے بہشت ہے ۔ جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے متعلق ایک شعر پڑھ کر روئے اور نو لوگوں کو رلائے تو ان کیلئے بہشت ہے ۔ آپ مسلسل کہتے گئے اور یہاں تک پہنچے کہ جو شخص حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے متعلق شعر کہہ کر خود روئے (راوی کہتا ہے کہ میر اخیال ہے یہ بھی فرمایا) یا رونے والی شکل بنائے تو اسکے لئے جنت ہے۔

حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

جو دریائے فرات کے کنارے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے قبر کی زیارت کی وہ اس شخص کی مانند ہے جو الله سے عرش پر زیارت کرتا ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو امام حسین (علیہ السلام) کے حق کی شناخت کیساتھ زیارت کو جائے تو الله تعالیٰ اس زیارت کو اعلیٰ علیین میں لکھتا ہے ۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو امام حسین (علیہ السلام) کے حق کی شناخت کیساتھ زیارت کو جائے تو اسکا یہ عمل علیین میں لکھا جائے گا۔

( ۴) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

جو امام حسین (علیہ السلام) کے حق کی شناخت کیساتھ زیارت کو جائے تو خداوند متعال اسکے اول سے آخر تک تمام گناہ معاف کرے گا ۔

( ۵) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض گزار ہوا۔

مولا لوگ کہتے ہیں کہ جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کریگا تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو حج وعمرہ بجالایا ہو ؟ فرمایاخدا کی قسم جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے زیارت کرے گا تو الله اسکے اول سے آخر تک کے تمام گناہ معاف کردے گا۔

( ۶) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔جو حضرت امام حسین کے حق ، احترام اور ولایت کو پہچانتے ہوئے دریائے فرات کے کنارے زیارت کرے گا تو اس کا کمترین ثواب یہ ہے کہ خدا اسکے اول سے آخر تک کے تمام گناہ معاف کردے گا۔

( ۷) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے حق کی معرفت کیساتھ زیارت کریگا تو الله اول سے آخر تک کے تمام گناہ معاف کردے گا۔

( ۸) کسی شیعہ نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے پوچھا حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کا کتنا ثواب ہے ؟ فرمایا ایک عمرے کے برابر۔

( ۹) ابو سعید مدائنی کہتے ہیں کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا اور میں نے عرض کی آپ پر قربان جاؤں کیا میں حضرت امام حسین کی زیارت کیلئے جاؤں ؟ فرمایا ہاں ابو سعید فرزند رسول کی قبر کی زیارت کو جاؤ کہ وہ نیک لوگوں میں نیک ترین ، پاکیزہ لوگوں میں پاک تر اور نیکو کاروں میں نیک ترین ہیں جب تم انکی زیارت کرو گے تو الله تعالیٰ تمھیں بائیس عمروں کا ثواب عطا کرے گا۔

( ۱۰) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا قبر امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کا ثواب ایک قبول شدہ عمرہ کے برابر ہے ۔

( ۱۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے پوچھا آپ حضرت امام حسین کی زیارت کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ حضرت نے مجھے فرمایا تم اسکے متعلق کیا کہتے ہو ؟ میں نے عرض کی کہ بعض ایک حج اور بعض ایک عمرے کا ثواب کہتے ہیں فرمایا ایک مقبول عمرے کا ثواب ہے۔

( ۱۲) راوی کہتا ہے کہ میری موجودگی میں ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ قبر امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کرنے والے کا کیا ثواب ہے فرمایا الله تعالیٰ نے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر پر چار ہزار فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہے یہ غبار آلود پریشان بالوں کیساتھ قیامت تک حضرت پر گریہ کرتے رہیں گے میں نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپکے والد سے روایت بیان ہوئی ہے کہ حضرت کی زیارت کا ثواب حج کے برابر ہے فرمایا جی ہاں ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب ہے یہاں تک کہ دس حج اور عمرہ کا ثواب کہا ۔

( ۱۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے حق کو پہچان کر زیارت کریگا تو الله تعالیٰ اسے اس شخص کا ثوا ب عطاکرے گا جس نے ایک ہزار غلام آزادکیئے ہوں اور الله کی راہ میں ایک ہزار جنگی ہتھیاروں سے پس زین دار گھوڑوں سے استفادہ کیا ہو۔

( ۱۴) ابو سعید مدائنی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی میں آپ پر قربان جاؤں کیا میں حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کو جاؤں فرمایا ہاں ، دختر رسول کے بیٹے کی قبر کی زیارت کو جاؤ کہ جو نیک لوگوں میں نیک ترین پاکیزہ لوگوں میں پاک تر اور نیکو کاروں میں نیک تر تھے جب تو اسکی زیارت کریگا تو الله تیرے لئے پچیس غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھے گا ۔

( ۱۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا بے شک چا ر ہزار فرشتے پریشان اور غبار آلودبالوں کیساتھ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر پر قیامت تک کیلئے گریہ کررہے ہیں ان کے سردار فرشتے کا نام منصور ہے جو شخص بھی زیارت کیلئے جاتا ہے یہ اسکا استقبال کرتا ہے یہ سب فرشتے جب تک یہ زندہ ہے اس سے جدا نہ ہونگے اگر بیمار پڑجائے گا تو اسکی عیادت کریں گے اگر مرے گا تو اسکی نماز جنازہ پڑھیں گے اور مرنے کے بعد اسکے لئے استغفار کریں گے۔

( ۱۶) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں الله تعالیٰ نے ستر ہزار پریشان اور غبار آلود بالوں والے فرشتوں کی ذمہ داری لگائی ہے کہ ہر روز حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر پر صلوات بھیجیں جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے آتا ہے یہ اسکے لئے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں پروردگارا یہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے زائرین ہیں ان کے لئے یہ اور وہ کر۔

( ۱۷) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق سے فرماتے ہوئے سنا خدا وند متعال نے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر پر چار ہزار فرشتوں کی ذمہ داری لگائی ہے کی قیامت تک قبر حسین (علیہ السلام) پر گریہ کرتے رہیں جنکے بال پریشان اور غبار آلود ہیں جو حضرت کے حق کو پہچانتے ہوئے زیارت کرے گا یہ فرشتے وطن واپس جانے تک اس کے ساتھ ساتھ چلیں گے جب بیمار ہوگا تو صبح و شام اسکی عیادت کریں گے جب مرے گا تو اسکے جنازے میں شریک ہونگے اور قیامت تک اسکے لئے استغفار کرتے رہیں گے۔

( ۱۸) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ چار ہزار پریشان بال اور غبار آلود فرشتے قیامت تک حضرت امام حسین (علیہ السلام) پر گریہ کرتے ہیں جو بھی ان کے پاس آتا ہے اسکا استقبال کرتے ہیں ، وہ اس وقت تک واپس لوٹتا نہیں جب تک یہ اس کے ساتھ نہ چلیں کوئی مریض نہیں ہوتا مگر یہ اسکی عیادت کرتے ہیں کوئی مرتا نہیں مگر اسکے جنازے میں حاضری دیتے ہیں ۔

( ۱۹) ابو الجارود کہتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے مجھ سے پوچھا تمھارے گھر سے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے مزار تک کتنا فاصلہ ہے؟ میں نے کہا اگر سواری پر جاؤں تو ایک دن لگتا ہے اور اگر پیدل جاؤں تو ایک دن سے کچھ زیادہ لگتا ہے فرمایا آیا ہر جمعہ زیارت کیلئے جاتے ہو میں نے عرض کیا نہیں جب وقت ملتا ہے چلا جاتا ہوں فرمایا تو کتنا جفا کار ہے اگر ہمارے قریب ہوتا تو ہم اسے اپنے لیے ہجرت کا مقام قرار دیتے یعنی ہم اسکی طرف ہجرت کرلیتے۔

( ۲۰) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہماری ولایت مختلف شہروں کے لوگوں کو پیش کی گئی لیکن کسی نے بھی اہل کوفہ کی طرح ہمیں تسلیم نہیں کیا اور یہ اسلئے ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کا مزار مقدس وہاں ہے اور ان کے نزدیک ایک اور قبر بھی ہے یعنی قبر حضرت امام حسین (علیہ السلام) جو بھی ان کی زیارت کو آئے اور قبر کے پاس دو یا چار رکعت نماز پڑھے اور خدا سے اپنی حاجت طلب کرے تو فوراً خدا اسے بر لائے گا بیشک ہرروز ایک ہزار فرشتے قبر کے اطراف کو گھیرتے ہیں ۔

( ۲۱) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں جب بھی حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کرنا چاہو تو غمگین ، حزن سے نڈھال ،کھلے بال ،غبار آلود چہرے بھوکے اور پیاسے زیارت پر جاؤ کیونکہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) جب شہید ہوئے تو آپ غمگین ،اور حزن و ملال سے نڈھال تھے آپ کے بال غبار آلود اور پریشان تھے اور آپ بھوکے پیاسے تھے۔ پہلے اپنی حاجات طلب کرو پھر وہاں سے لَوٹ آؤ۔ اسے اپنا وطن نہ بناؤ۔

( ۲۲) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے پوچھا کیا تم حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کیلئے جاتے ہو عرض کی ہاں پھر پوچھا زیارت پر جاتے وقت زاد راہ (نیاز) بھی ساتھ لیجاتے ہو میں نے عرض کی جی ہاں فرمایا اگر تم اپنے والدین کی قبروں پر جاؤ تو ایسانہیں کرو گے پھر میں نے عرض کیا پھر ہم کیا کھائیں فرمایا روٹی اور دودھ۔

( ۲۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں مجھے اطلاع ملی ہے بعض لوگ جب حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کو جاتے ہیں تو اپنے ساتھ سفرہ (نیاز) لیجاتے ہیں جس میں حلوا (سادہ اور کجھور کا حلوا وغیرہ) ہوتا ہے لیکن اپنے محبوبوں کی قبروں پر جاتے وقت نہیں لے جاتے۔

( ۲۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو مؤمن حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت انکے حق کو پہچان کر عید کے علاوہ کسی دن کرے گا تو اسے مقبول بیس حج اور بیس مقبول عمروں کا ثواب ملے گا اور حضرت رسول خدا یا امام عادل کیساتھ ملکر کیئے جانے والی بیس جنگوں کا ثواب ملے گا۔

( ۲۵) بشیر دہان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کی بسا اوقات حج پر نہیں جاسکتا اگر روز عرفہ قبر حسین (علیہ السلام) پر چلا جاؤں تو کیسا ہے ؟ فرمایا اے بشیر بہت اچھا ہے۔ جو شخص امام حسین کے حق کی معرفت کیساتھ ، عید کے دن کے علاوہ قبر کی زیارت کرے تو اسکے لئے بیس مقبول حج اور بیس مقبول عمرے اور پیغمبر مرسل یا امام عادل کی ہمراہی میں بیس جنگیں لکھی جائیں گئیں ۔ اور جو عید والے دن زیارت کو جائے تو ایک سو حج اور ایک سو عمرے اور پیغمبر مرسل یا امام عادل کی ہمراہی میں ایک سو جنگیں لکھی جائیں گی اور عرفہ کے دن اسکے حق کو پہچانتے ہوئے زیارت کو جائے تو ایک ہزار حج اور ہزار مقبول عمرے اور پیغمبر مرسل یا امام عادل کی ہمراہی میں ایک ہزار جنگیں لکھی جائیں گی ۔ میں نے عرض کی کہ میں عرفات میں وقوف کے ثواب کو کس طرح حاصل کرسکتا ہوں؟ جضرت نے مجھے غضبناک نگا ہوں سے دیکھ کر فرمایا اے بشیر جب کوئی مؤمن یوم عرفہ امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کو جانے لگے تو پہلے دریائے فرات میں غسل کرے پھر زیارت کو جائے تو اسکے ہر قدم پر مناسک کیساتھ ایک حج کا ثواب ملے گا راوی کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا مگر حضرت نے اتنا فرمایا تھا ایک جنگ اور عمرے کا ثواب بھی لکھا جائے گا۔

( ۲۶) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ، حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) ، اور حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ہے جو عرفہ کے دن حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کریگا تو الله تعالیٰ اسے تسکین قلب کیساتھ واپس لوٹائے گا۔

( ۲۷) علی بن اسباط کہتا ہے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں خداوند متعال یوم عرفہ کی عصر سے پہلے قبر حسین (علیہ السلام) کے زائرین کو دیکھتا ہے میں نے کہا کیا ان سے پہلے عرفات میں موجود لوگوں کو بھی دیکھتا ہے! ؟ فرما یا جی ہاں میں نے کہا کیوں ؟ حضرت نے فرمایا ان میں کچھ زناکی پیدادار اولادیں موجود ہوتی ہیں لیکن اب ان میں کوئی بھی اولاد زنا ( متولد ) نہیں ہوگا۔

( ۲۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ یوم عرفہ اہل عرفات سے پہلے قبر حسین (علیہ السلام) کے زائرین پر تجلّی کرتا ہے ان کی حاجتیں بر لاتا ہے ، انکے گناہ معاف کرتا ہے ان کے مسائل میں انکی شفاعت کرتا ہے پھر اہل عرفات پر تجلّی کرتا ہے اور انہیں بھی یہ سب کچھ عطا کرتا ہے ۔

( ۲۹) عبد الله بن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کی میں آپ پر قربان جاؤں امام حسین (علیہ السلام) کے زائر کا کم سے کم کتنا ثواب ہے ؟ فرمایا عبدالله سب سے کم یہ ہے کہ اسکے گھر لوٹنے تک الله اسکی اور اسکے مال کی حفاظت کرتا ہے اور قیامت والے دن اس سے بھی زیادہ الله کی حفاظت میں ہوگا۔

( ۳۰) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے زائر کے گناہ اسکے گھر میں پل کی طرح ہیں جس طرح تم جب پل سے عبور کرتے ہو تو تمہارے پیچھے رہ جاتی ہے اس طرح جب زائر زیارت کیلئے جاتے ہیں تو گناہ سے عبور کر جاتا ہے ( اسکے گناہ ختم ہو جاتے ہیں)۔

( ۳۱) حسین بن ثویر کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھے فرمایا اسے حسین جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے مرقد کی زیارت کا قصد کرتے ہوئے گھر سے نکلے وہ جتنا بھی چلے گا الله ہر قدم پر ایک نیکی لکھے گا ایک گناہ مٹائے گا اگر وہ سوار ہے تو الله سواری کے ہر قدم پر نیکی لکھے گا اور گناہ مٹائے گا یہاں تک کہ وہ کربلا پہنچ جائے گا تو الله تعالیٰ اسے فلاح اور نجات پانے والوں میں لکھے گا اور جب وہ اعمال زیارت بجالائے گا تو الله اسے کامیاب لوگوں میں لکھے گا جب وہ واپسی کا ارادہ کریگا تو ایک فرشتہ آکر کہے گا حضرت رسول خدا نے تجھے سلام کہا ہے اور فرمایا ہے تمہارے گذشتہ گناہ معاف ہوگئے ہیں اب نئے سرے سے عمل شروع کر۔

( ۳۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جب کوئی شخص حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کیلئے گھر سے نکلے اور اپنے خاندان کو الوداع کرنے کے بعد پہلا قدم رکھے گا اسکے گناہ معاف ہو جائیں گے اور قبر حسین (علیہ السلام) تک جو نہی مسلسل قدم اٹھا تا جائے گا پاک سے پاک تر ہوتا جائے گا جب مزار مقدس پر پہنچ جائے گا تو خدا اس سے مناجات کرتے ہوئے فرمائے گا میرے بندے مجھ سے مانگ میں تجھے عطا کرونگا مجھے پکار میں تجھے جواب دونگا مجھ سے طلب کر میں پوری کرونگا اپنی حاجات کا مجھ سے سوال کر میں بر لاؤں گا راوی کہتا ہے حضرت نے فرمایا یہ الله پر ہے کہ اس نے جو کچھ خرچ کیا ہے اسے عطا کرے ۔

( ۳۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

یقینا الله تعالیٰ نے ہی قبر امام حسین (علیہ السلام) پر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہے جب کوئی زیارت پر جانا چاہتا ہے تو الله اسکے گناہ فرشتوں کو دے دیتا ہے جب یہ پہلا قدم اٹھاتا ہے تو فرشتے اسکے گناہ مٹا دیتے ہیں جب یہ دوسرا قدم اٹھاتا ہے تو اسکی نیکیاں دوگنی ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے پھر فرشتے اسکے ارد گرد آکر اسے مقدس بناتے ہیں اور ملائکہ آسمان پر ندا دیتے ہیں کہ اے فرشتو! حبیبِ خدا کے زوّار کو پاک کردو اور جب زائرین غسل کرتے ہیں تو انہیں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں اے مہمان خدا ، تجھے بہشت میں میری رفاقت کی بشارت ہو پھر حضرت علی (علیہ السلام) ندا دیں گے میں دنیا و آخرت میں تیری حاجات اور تجھ سے بلاوؤں کے دور ہونے کا ضامن ہوں اور پھر سب فرشتے اس کے دائیں بائیں حلقہ بناکر اسے اسکے خاندان تک چھوڑ آئیں گے ۔

( ۳۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت بیس حج کے برابر (بلکہ ) بیس حج سے افضل ہے ۔

( ۳۵) ابو سعید مدائنی کہتے ہیں میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کو گیا اور ان سے عرض گزار ہوا میں آپ پر فدا جاؤں کیا میں حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کو جاؤں ؟ فرمایا ہاں سعید تم حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند کی زیارت کو جاؤ کہ جو نیکوں میں نیک ترین پاکوں میں پاکتر اور نیکو کاروں میں نیک تر تھے جب تم زیارت کرو گے تو الله تعالیٰ تجھے پچیس حجوں کا ثواب عنایت کرے گا۔

( ۳۶) شھاب کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے پوچھا اے شہاب تونے کتنی دفعہ حج ادا کیا ہے ؟ میں نے عرض کی انیس بار۔ فرمایا ایک اور حج بھی بجالا تا کہ بیس ہو جائیں تا کہ تجھے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی ایک زیارت کا ثواب بھی مل جائے۔

( ۳۷) حذیفہ بن منصور کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے پوچھا کتنی مرتبہ حج ادا کرچکے ہو؟میں نے کہا انیس مرتبہ فرمایا اگر اکیس مرتبہ حج بجالاؤ تو یقینا اس شخص کی طرح ہو جاؤ گے جو حضرت امام حسین ابن علی (علیھم السلام) کی ایک مرتبہ زیارت کر چکا ہو۔

( ۳۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے حق کی معرفت کیساتھ ایک مرتبہ زیارت کریگا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو سو مرتبہ پیغمبر اسلام کیساتھ حج بجالا یا ہو ۔

( ۳۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کرے تو الله تعالیٰ اسکے لئے اسی قبول شدہ حج لکھے گا۔

( ۴۰) موسیٰ بن قاسم حضرمی کہتے ہیں کہ منصور دوانیقی کی حکومت کے آغاز میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نجف تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا موسیٰ شاہراہ پر جاؤ ، راستہ میں کہیں رکنا اور دیکھنا ایک شخص جلد ہی قادسیہ سے تیری طرف آئے گا جب تیرے پاس پہنچے تو اس سے کہنا اولاد رسول خداسے ایک شخص تجھے ملنا چاہتا ہے وہ تیرے ساتھ ہی میرے پاس آئے گا راوی کہتا ہے میں گیا اور انتظار کرنے لگا بہت گرمی تھی میں نے اتنی دیر انتظار کیا کہ قریب تھا کہ میں امام کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے لوٹ آؤں اچانک مجھے اونٹ پر سوار شخص کی مانند کوئی نظر آیا میں مسلسل اسکی طرف دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ میرے نزدیک آیا میں نے اس سے کہا اے شخص یہاں اولاد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں فلاں نے تمھیں بلایا ہے انہوں نے ہی مجھے تیرے متعلق بتایا تھا۔ اس نے کہا۔ مجھے ان کے پاس لے جا۔ جب ہم خیمہ کے پاس پہنچے تو اس نے اونٹ کوبیٹھایا جضرت نے اسے اندر آنے کا کہا تو وہ اعرابی اندر آگیا میں خیمے کے دروازے پر آکر انکی گفتگو سننے لگا اور میں انہیں دیکھ نہیں رہا تھا۔ حضرت نے اس سے فرما یا تم کہاں سے آئے ہو کہا یمن کی کسی دور ترین جگہ سے فرمایا تم (یمن میں فلاں جگہ کے رہنے والے ہو کہا جی ہاں میں فلاں جگہ پر رہتا ہوں فرمایا اس طرف کیوں آئے ہو ؟ کہا حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے حضرت نے پوچھا تجھے زیارت کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے ؟ کہا مجھے اور کوئی کام نہیں ہے میں تو فقط اسلئے آیا ہوں کہ وہاں نماز پڑھوں زیارت کروں ان پر درود و سلام بھیجوں اور اپنے گھر لوٹ جاؤں فرمایا تجھے حضرت کی زیارت کا کیا فائدہ ہوگا؟ کہا میرا عقیدہ ہے کہ ان کی زیارت میرے ، میرے گھر والوں ، بیٹوں ، اموال اور میری زندگی کے لئے باعثِ برکت ہے اور اس سے ہماری حاجتیں پوری ہوتی ہیں حضرت نے فرمایا اے یمنی بھائی کیا چاہتے ہو کہ میں تجھے اور فضائل بھی بتاؤں کہا اے فرزند رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بتائیے فرمایا حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت ایک اُس مقبول ، اور پاکیزہ حج کے برابر ہے جو حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ہمراہی میں ادا کیا جائے اس نے تعجب کیساتھ حضرت کو دیکھا تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم یہ تو ان دو مقبول و پاکیزہ حجوں کے برابر ہے جو حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ہمراہی میں ادا کیئے جائیں اس نے پھر تعجب کیا حضرت مسلسل زیادہ ثواب بیان کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کیساتھ اداکیئے گئے تیس مقبول ، اور پاکیزہ حجوں کے برابر ہے۔

( ۴۱) راوی کہتا ہے میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کیساتھ تھا ہمارے نزدیک سے چند خچر سوار گزرے حضرت نے پوچھا یہ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ میں نے عرض کی شھداء کی قبور پر فرمایا یہ شہید اور غریب (حضرت امام حسین (علیہ السلام)) کی قبر کی زیارت کو کیوں نہیں جاتے ؟ اہل عراق کے ایک شخص نے پوچھا کیا ان کی زیارت واجب ہے؟ فرمایا ان کی زیارت حج، عمرہ ، عمرہ ، حج یہاں تک کہ بیس حجوں اور بیس عمروں سے بہتر ہے پھر فرمایا سب کے سب مقبول و مبرور حج اور عمرے ہوں تب زیارت کے برابر ہیں۔ راوی کہتا ہے خدا کی قسم ہمارے اٹھنے سے پہلے ایک شخص آکر حضرت سے کہنے لگا میں نے انیس حج کیئے ہیں آپ الله سے دعا کریں تا کہ بیس پورے ہو جائیں فرما یا کیا تم نے حضرت امام حسین (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کی ہے ؟ کہنے لگا نہیں فرمایا انکی زیارت بیس حجوں سے بہتر ہے۔

( ۴۲ ) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا یقینا حضرت امام حسین کی قبر کی جگہ باعث احترام اور معروف ہے اگر کوئی معرفت کیساتھ وہاں پناہ لے تو اسے پناہ ملے گی میں نے عرض کی میں آپ پر قربان جاؤں مجھے اس جگہ کے متعلق بتائیں کہ کتنی ہے ؟ فرمایا آج انکی قبر مشخص ہے اس قبر کے سر ، پاؤں ، دائیں ، بائیں ہر طرف سے پچیس ہاتھ کا فاصلہ، مقام قبر، ہے ۔

( ۴۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا ہے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کا مقام، دفن ہونے والے دن سے جنت کے باغوں میں ایک باغ ہے اور پھر فرمایا حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر بہشت کے گلستانوں میں ایک گلستان ہے۔

( ۴۴) معاویہ بن وہب نے کہا: ایک موقع پر میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مصلے پر مشغول عبادت دیکھا‘ میں وہاں بیٹھا رہا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ کو اپنے پروردگار سے راز و نیاز فرماتے ہوئے سنا کہ اے پروردگار! تو نے ہمیں اپنی طرف سے خاص بزرگیاں عطا فرمائیں اور ہمیں یہ وعدہ دیا کہ ہم شفاعت کریں گے۔ ہمیں علوم نبوت دیے اور پیغمبروں کا وارث بنایا اور ہماری آمد پر سابقہ امت کا دور ختم کر دیا تو نے ہمیں پیغمبر اکرم کا وصی بنایا اور گزشتہ و آئندہ کا علم بخشا اور لوگوں کے دل ہماری طرف مائل کر دیے میرے بھائیوں اور ہمارے جدّ امام حسین(علیہ السلام) کے زائروں کو بخش دے اور ان لوگوں کو بھی بخش دے جو اپنا مال صرف کر کے اور اپنے شہروں کو چھوڑ کر حضرت کی زیارت کو آئے ہیں وہ ہم سے نیکی طلب کرنے۔ تجھ سے ثواب حاصل کرنے، ہم سے متصل ہونے، تیرے پیغمبر کوخوشنود کرنے اور ہمارے حکم کی اطاعت کرنے آئے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے اس عمل میں تیرے پیغمبر کو راضی و خوش کرناچاہتے تھے۔ اے اللہ! تو ہی اس کے بدلے میں انہیں ہماری خوشنودی عطا فرما‘ دن اور رات میں ان کی حفاظت کر‘ ان کے خاندان اور اولاد کا نگہبان رہنا کہ جن کو وہ اپنے وطن میں چھوڑ آئے ہیں‘ ان کی اعانت کر ہر جابر و دشمن ناتواں و توانا اور جن وانس کے شرکو ان سے دور رکھ۔ ان کو اس سے کہیں زیادہ عطا فرما جس کی وہ تجھ سے امید رکھتے ہیں ‘ جب وہ اپنے وطن‘ اپنے خاندان اور اپنی اولاد کو ہماری خاطر چھوڑ کر آ رہے تھے تو ہمارے دشمن ان کو طعن و ملامت کر رہے تھے۔ خدایا جب وہ ہماری طرف آ رہے تھے تو ان کی ملامت پر وہ ہماری طرف آنے سے رکے نہیں ہیں‘ خدایا! انکے چہروں پر رحم فرما جن کو سفر میں سورج کی گرمی نے متغیر کر دیا‘ ان رخساروں پر رحم فرما جو قبر حسین(علیہ السلام) پر ملے جا رہے تھے۔ ان آنکھوں پر رحم فرما جو ہمارے مصائب پر رو رہی ہیں‘ ان دلوں پر رحم فرما جو ہماری مصیبتوں پر رنج و غم ظاہر کر رہے ہیں اور ہمارے دکھ میں دکھی ہیں اور ان آہوں اور چیخوں پر رحم فرما جو ہماری مصیبتوں پر بلند ہوتی ہیں۔ خدایا! میں ان کے جسموں اور جانوں کو تیرے حوالے کر رہا ہوں کہ تو انہیں اس وقت حوض کوثر سے سیراب کر جب لوگ پیاسے ہوں گے‘ آپ بار بار سجدے کی حالت میں یہی دعا کرتے رہے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ جو دعا آپ فرما رہے تھے اگر یہ دعا اس شخص کیلئے بھی کی جائے جو اللہ تعالیٰ کو نہ جانتا ہو تو بھی میرا گمان ہے کہ جہنم کی آگ اسے نہ چھوئے گی۔ قسم بخدا اس وقت میں نے آرزو کی کاش میں نے بھی امام حسین(علیہ السلام) کی زیارت کی ہوتی اور حج پرنہ گیا ہوتا اس پر آپ نے فرمایا کہ تم حضرت کے روضہ اطہر کے نزدیک ہی رہتے ہو۔ پس تمہیں ان کی زیارت کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اے معاویہ ابن وھب! تم آنجناب کی زیارت ترک نہ کیا کرو۔ تب میں نے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں!میں نہیں جانتا تھا کہ آنحضرت کی زیارت کی فضلیت اس قدر ہے‘ آپ نے فرمایا کہ اے معاویہ! جو لوگ امام حسین(علیہ السلام) کے زائرین کے لیے زمین میں دعا کرتے ہیں ان سے کہیں زیادہ مخلوق ہے جو آسمان میں ان کے لیے دعا کرتی ہے ۔ اے معاویہ! زیارت امام حسین(علیہ السلام) کو کسی خوف کی وجہ سے ترک نہ کیا کرو۔ کیونکہ جو شخص کسی کے خوف کی وجہ سے آپ کی زیارت ترک کرے گا اسے اس قدر حسرت اور شرمندگی ہو گی کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش میں ہمیشہ آپ کے روضہ پر رہتا اور وہیں دفن ہوتا۔ کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ حق تعالیٰ تجھ کو ان لوگوں کے درمیان دیکھے جن کے لیے حضرت رسول خدا دعا کر رہے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو کہ جن سے روز قیامت فرشتے مصافحہ کریں‘ کیا تم نہیں چاہتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو کہ‘ جو قیامت میں آئیں تو ان کے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا آیا تم نہیں چاہتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو کہ جن سے حضرت رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) قیامت کے دن مصافحہ کریں گے۔

( ۴۵ ) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا کہ زمین وآسمان پر کوئی ایسا فرشتہ نہیں ہے جو الله سے اجازت لے کر حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کو نہ جائے مسلسل فرشتوں کا ایک گروہ زیارت کیلئے نیچے آتا ہے اور نیچے سے ایک گروہ اوپر جاتا ہے۔

( ۴۶ ) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سنا خدا کی کوئی مخلوق فرشتوں سے زیادہ نہیں ہے اور ہر رات ستر ہزار فرشتے زمین پر آتے ہیں اور ساری رات خانہ کعبہ کا طواف کرتے رہتے ہیں طلوع فجر کے وقت حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مطہر پر آکر سلامی دیتے ہیں پھر حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی قبر پر سلام کرتے ہیں اور پھر حضرت امام حسن (علیہ السلام) کی قبر پر سلام کرتے ہیں اور آخر میں حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر پر آکر سلام کرتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے آسمان پر چلے جاتے ہیں اور پھر ستر ہزار فرشتے دن کے وقت زمین پر آتے ہیں سارا دن کعبہ کا طواف کرتے رہتے ہیں اور غروب آفتاب کے وقت حضرت رسول خدا کی قبر پر آکر سلام کرتے ہیں پھر حضرت امیر المؤمنین کی قبر پر آکر سلام کرتے ہیں پھر حضرت امام حسن کے قبر پر آکر سلام کرتے ہیں اور پھر حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کا سلام کرتے ہیں اور سورج غروب ہونے سے پہلے آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔

( ۴۷ ) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت امام حسین ابن علی (علیہ السلام) کی قبرسے ساتویں آسمان تک فرشتوں کی آمد و رفت کا محل ہے۔

( ۴۸ ) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت امام حسین ابن علی (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کرو ان پر جفا، نہ کرو کیونکہ وہ سید شہداء اور نوجوانان جنت کے سردار ہیں ۔

( ۴۹ ) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مدینے میں پوچھا شہداء کی قبریں کہاں ہیں ؟ فرمایا کیا تیرے نزدیک حضرت امام حسین (علیہ السلام) شہداء میں سے افضل ترین نہیں ہیں ؟مجھے اس ذات کی قسم جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے حضرت کی قبر کے ارد گرد چار ہزار ملائکہ سر میں خاک ڈال کر قیامت تک گریہ کرتے رہیں گے۔

( ۵۰ ) ام سعید حمسیہ کہتی ہیں کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی بارگاہ میں حاضر تھی کہ میں نے کسی کو کرائے پر خچر لانے کیلئے بھیجا تا کہ شہداء کی قبروں کی زیارت پر جاؤں حضرت نے فرمایا سیدالشھداء کی زیارت کیلئے کیوں نہیں جاتی ؟ میں نے عرض کی آپ پر قربان جاؤں سید الشھداء کون ہیں ؟ فرمایا سید الشھداء حضرت امام حسین (علیہ السلام) ہیں کہنے لگی جو ان کی زیارت کریگا اسکا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا ایک حج اور ایک عمرہ اور ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا ان فضائل کے تین برابر ثواب ہے۔

( ۵۱) ام سعید حمسیہ کہتی ہیں کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھی میری کنیزنے آکر کہامیں (چوپایا) سواری لے آئی ہوں ۔

حضرت نے فرمایا یہ سواری کس لئے ہے ؟ کہاں جار ہی ہو؟ میں نے کہا شہداء کی قبروں کی زیارت پر جارہی ہوں۔ حضرت نے فرمایا مجھے تعجب ہے تم اہل عراق دور دراز کا سفر کرکے شہداء کی قبروں کی زیارت کیلئے تو آتے ہو لیکن سید الشھداء کی زیارت کو نہیں جاتے ! تم انکی زیارت کو کیوں نہیں جاتے ؟ میں نے پوچھا سید الشھداء کون ہیں ؟ فرمایا حضرت امام حسین (علیہ السلام) میں نے کہا میں عورت ہوں ! فرمایا کوئی فرق نہیں پڑتا تم جیسی دوسری عورتیں بھی زیارت کو جایا کریں میں نے کہا ان کی زیارت کا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا یہ زیارت ایک حج ، ایک عمرہ ، دو مہینے مسجد الحرام میں اعتکاف اور دو مہینوں کے روزوں کے برابر ہے۔

( ۵۲ ) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے فرمایا میں شہید اشک ہوں غم و اندوہ کی حالت میں شہید کیاگیاہوں ۔جو میری زیارت کیلئے غم و اندوہ کیساتھ آئے گا الله اسے اپنے اہل و عیال کی طرف خوشحال اور مسرور لوٹائے۔

ائمہ علیہم السلام کے مزاروں کی زیارت کا ثواب

( ۱) راوی کہتاہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی جو ائمہ اطہار میں سے کسی امام کی زیارت کرے تو اسکا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا اسے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کا ثواب ملے گا میں نے پوچھا جو حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کرے اسکا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کا ثواب ۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جواد (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی کہ جو حضرت امام رضا (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کریگا اسکا کیا ثواب ہے؟ فرمایا خدا کی قسم اسکی پاداش جنت ہے۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام رضا (علیہ السلام) کے خط میں یہ عبارت تھی ۔ میرے شیعوں سے کہو الله کے نزدیک میری زیارت ہزار حج کے برابر ہے راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جواد (علیہ السلام) سے پوچھا ہزار حج !!؟ فرمایا جی ہاں خدا کی قسم جو انکے حق کی معرفت کیساتھ انکی زیارت کریگا تو یہ دس لاکھ حج کے برابر ہے اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو ہم سے کسی ایک کی زیارت کرے گا تو گویا اس نے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کی ہے۔

حضرت معصومہ قم کی زیارت کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے پوچھا کہ حضرت فاطمہ بنت حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی زیارت کا کیا ثواب ہے؟ فرمایا انکی زیارت کرنے والے کیلئے جنت ہے۔

ری میں حضرت عبدالعظیم کی زیارت کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ اہلیان ری سے ایک شخص حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی زیارت کیلئے گیا تھا وہ کہنے لگا کہ جب میں حضرت کی زیارت کیلئے گیا تو حضرت نے فرمایا کہاں سے آرہے ہو میں نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے فرمایا اگر تم شہر ری میں حضرت عبدالعظیم کی قبر کی زیارت کروگے تو گو یا تم نے حضرت امام حسین بن علی کی زیارت کی ہے۔

جو اہلبیت اطہار (علیھم السلام)کی زیارت اور صلے پر قادر نہ ہو وہ اہلبیت (علیھم السلام)کے کسی نیک موالی کی زیارت کرے اور صلہ دے

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو ہم سے نیکی کرنے پر قادر نہیں ہے وہ ہمارے محبّوں اور موالیوں کیساتھ نیکی کرے اسے ہمارے ساتھ نیکی کرنے کا ثواب ملے گا اور جو شخص ہماری زیارت پر قدرت نہیں رکھتا تو ہمارے کسی نیک محب اور موالی کی زیارت کرے تو اسے ہماری زیارت کا ثواب ملے گا۔

امام (علیہ السلام) کیساتھ نیکی کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ خدا کی اس آیت جو الله کیلئے قرض حسنہ دے گا تو الله (اسکے مال کو) کئی گناہ بڑھا دے گا سے کیا مراد ہے ؟

فرمایا اس سے مراد امام (علیہ السلام) کیساتھ نیکی کرنا ہے۔

راوی کہتا ہے میرے والد کہتے ہیں کہ اس جیسی ایک اور روایت بھی بیا ن ہوئی ہے۔

اہل قرآن کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔

پیغمبروں اور رسولوں کے بعد اہل قرآن کے درجات بلند ہیں اہل قرآن کو ضعیف نہ سمجھو اور ان کے حقوق کو کم نہ سمجھو انکا خدا کے نزدیک بلند مقام ہے۔

مکہ میں قرآن ختم کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو مکہ میں ایک جمعے سے دوسرے جمعے کے دوران یا اس سے کم یا زیادہ وقت میں قرآن مجید ختم کرے اور جمعہ والے دن تلاوت کا اختتام کرے تو اس کے دنیامیں آنے کے پہلے جمعہ سے لے کر آخری جمعہ تک کی تمام نیکیاں اس کے لئے لکھے گا او راگر جمعہ کے علاوہ کسی ا ور دن قرآن ختم کرے تب بھی یہی ثواب ہوگا۔

مشکل یا آسانی سے قرآن یاد کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ جو مشکل سے قرآن یاد کرے گا اسے دو نیکیاں ملیں گی اور جو آسانی سے قرآن یاد کرے گا وہ نیک لوگوں کے ساتھ ہوگا۔

جوان مؤمن کے قرآن پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب کوئی جوان مؤمن قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے تو قرآن اسکے گوشت اورخون میں مخلوط ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی اسے نیک اور مکرم فرشتوں کے ساتھ قرار دے گااور قیامت والے دن قرآن مجید آتش جہنم کے سامنے ڈھال ہوگا اس دن قرآن کہے گا مجھ پر عمل کرنے والوں کے علاوہ ہر عمل کرنے والے نے اپنا انجام پالیا ہے خدا تو انہیں بہترین انعامات سے نواز ۔ خدا قاری کو دو بہشتی لباس پہنائے گا اور اس کے سر پر تاج کرامت رکھے گا خدا قرآن کو مخاطب کرکے فرمائے گا اب راضی ہو قرآن کہے گا میں اس سے بھی بہتر جزء کا خواہشمند ہوں اب خدا دائیں طرف سے امن اور بائیں طرف سے ہمیشہ کی جنت عطا کرے گا پھر یہ بہشت میں داخل ہوگا اور بہشت میں اسے کہا جائے گا ایک ایک آیت کی تلاوت کرتے جاؤ تمھارے مزید درجات بلند ہوتے جائیں گے۔ اب قرآن کو مخاطب کرکے کہا جائے گا تمھاری آرزوئیں پوری ہوئی ہیں اب راضی ہو ؟ قرآن کہے ، جی ہاں پروردگار۔ امام فرماتے ہیں جو بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کرے اور اس کا پابند رہے گاتو الله تبارک و تعالیٰ اسے دو بار یہی اجر عطا فرمائے گا۔

نماز یا غیر نماز میں کھڑے یا بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو نماز میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھے خدا اس کے ہر حرف کے بدلے میں ایک سو نیکیاں عطا کرے گا اور جو نماز میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرے گا الله اسے ہر حرف کے بدلے میں پچاس نیکیاں دے گا اور جو نماز کے علاوہ قرآن مجید کی تلاوت کرے گا تو الله اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا کرے گا۔

نماز میں قرآن مجید کی ایک سو سے پانچ سو آیات کی تلاوت کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو نماز شب میں ایک سو آیات پڑھے گا تو الله اس کے لیئے ایک رات کی نماز لکھے گا اور جو نماز شب کے علاوہ رات کو دو سو آیات کی تلاوت کرے گا تو الله تعالیٰ لو ح محفوظ پر نیکیوں کا ایک قنطار لکھے گا ہر قنطار بارہ سو او قیہ کا ہوتا ہے اور ہر اوقیہ احد پہاڑ سے بڑا ہے۔

حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

کہ حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والا بزرگ فرشتوں کا ہم نشین ہے۔

دقت سے حفظِ قرآن اور سونے سے پہلے ایک سورہ کی تلاوت

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو حافظہ کی کمی کی وجہ سے مشقت اور سختی سے قرآن مجید کو حفظ کرنے کی سعی کرتا ہے ، اس کے دو اجر ہیں اور مزید فرمایابازار میں کا روبار کرنے والے تمھارے تاجر بھائی ایسا کیوں نہیں کرتے کہ جب گھر لوٹ آئیں اور سونے سے پہلے ایک سورہ کی تلاوت کرلیں تا کہ ان کے لئے ہر ہر آیت کے بدلے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ محو کردئے جائیں۔

آنے اور کوچ کرنے والے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے سوال ہوا کہ یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)بہترین انسان کون ہے ؟ حضرت نے فرمایا آنے اورکوچ کرنے والا پوچھا گیا آنے اور کوچ کرنے والا کون ہے ؟ فرمایا شروع کرنے اور ختم کرنے والا۔ جو قرآن کو شروع کرے اور پھر ختم کرے تو خدا کے نزدیک اسکی دعا مقبول ہے۔

قاری قرآن کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں قرآن کی تلاوت کرنے والا غنی ہے اس کے بعد اسے کوئی فقر لاحق نہیں ہوگا اور تلاوت نہ کرنے والاغنی نہیں ہے۔

دیکھ کر قرآن پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو دیکھ کرقرآن مجید کی تلاوت کرے گا اسکی انکھیں قوی ہونگیں اور اگر اس کے ماں باپ کافر بھی ہوں تب بھی انکا عذاب کم ہوجائے گا۔

( ۲) حضرت پیامبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں شیطان کیلئے دیکھ کر قرآن پڑھنے کی نسبت کوئی چیز زیادہ سخت نہیں ہے۔

گھر میں قرآن رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت نقل کرتے ہیں کہ میرے والدنے فرمایاگھر میں قرآن کا ہونا مجھے بہت اچھا لگتا ہے تا اس وجہ سے خدا شیطان کو گھر سے دور رکھتا ہے۔

دس سے ایک ہزار آیات کی رات میں تلاوت کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔ جو شخص رات کو دس آیات کی تلاوت کرتا ہے وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا۔ او رجو پچاس آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اسکا شمار ذاکروں (یاد کرنے والوں) میں ہوگا۔ اور جو ایک سو آیتوں کی تلاوت کرے گا وہ قنوت کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔ اور دو سو آیتوں کی تلاوت کرنے والا خاشعین میں سے ہوگا اور جو تین سو آیات کی تلاوت کرے گا، اسکا کامیاب لوگوں میں شمار ہوگا اور پانچ سو آیتوں کی تلاوت کرنے والا مجتھدین میں لکھا جائے گا اور ایک ہزار آیتوں کی تلاوت کرنے والے کیلئے ایک قنطار ثواب لکھا جائے گااور ہر قنطار پندرہ ہزار سو نے کے مثقال کا ہے اور ہر مثقال چوبیس قیراط کا ہے اور سب سے چھوٹا قیراط کوہ احد کے برابر ہے جبکہ سب سے بڑا قیراط زمین و آسمان کی درمیانی و سعت کے برابر ہے۔

بہار قرآن کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں

ہرچیز کی بہار ہے اور بہار قرآن ماہ رمضان ہے ۔

قرآن مجید کی ایک سو آیات پڑھکرسات مرتبہ یا الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص قرآن مجید کی کہیں سے بھی سو آیتوں کی تلاوت کرنے کے بعد سات مرتبہ یا الله کہے گا تو اگر وہ صخرہ نامی پتھر کو بد دعا کرے گا تو انشاالله وہ بھی اکھڑآئے گا۔

سورہ حمد پڑھنے کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

خداوند متعال کا اسم اعظم ام الکتاب یعنی سورہ حمد میں ہے۔

سورہ بقرہ و آل عمرا ن پڑھنے کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص سورہ بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرے گا تو یہ دونوں سورتیں قیامت والے دن ابر یا سائبان کی طرح اس پر سایہ کئے رکھیں گی۔

سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات، آیت الکرسی اور اسکے بعد والی دو آیات اور اس سورہ کی آخری تین آیات کی تلاوت کا ثواب

حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔

جو سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات، آیت الکرسی اور اسکے بعد والی دو آیات، اور اس سورہ کی آخری تین آیات کی تلاوت کرے گا تو وہ خود اور اسکا مال ہر آفت سے بچا رہے گا۔ شیطان اس سے دور ہوگا اور وہ کبھی قرآن کو فراموش نہیں کرے گا۔

ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت آیت الکرسی پڑھنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔

جو سوتے وقت آیت الکرسی کی تلاوت کرے گا انشااللہ اسے فالج ہونے کا خوف نہیں ہوگا اور جو اسے ہر نماز کے بعد پڑھے گا کوئی زھر اسے کوئی آسیب نہیں پہنچا سکے گا۔

ہر جمعہ کو سورہ نساء پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص ہر جمعہ والے دن سورہ نساء کی تلاوت کرے گا وہ فشار قبر سے محفوظ رہے گا۔

سورہ مائدہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص ہر جمعرات کو سورہ مائدہ کی تلاوت کرے گا اسکا ایمان لباسِ ظلم نہیں پہنے گا اور وہ کبھی بھی شرک نہیں کرے گا۔

سورہ انعام پڑھنے کا ثواب

( ۱) جناب ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ جو ہر رات سورہ انعام کی تلاوت کرے تو وہ قیامت والے دن امن میں ہوگا اور اپنی آنکھوں سے کبھی بھی جہنم کی آگ نہیں دیکھے گا۔

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ سورہ انعام اکٹھا نازل ہوا۔ نازل ہونے کے وقت ستر ہزار فرشتے اس پر نگران تھے اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا۔ لہذا اسے بہت بزرگ سورہ سمجھو اور اسکی تکریم کرو اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اسمیں کیا ہے؟ تو کبھی اسے ترک نہ کرتے۔

سورہ اعراف پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو شخص ہر ماہ میں ایک مرتبہ سورہ اعراف کی تلاوت کرے گا تو وہ قیامت والے دن ان لوگوں میں سے ہوگا جن کیلئے خوف و حزن نہیں ہے اور جو اسکی ہر جمعہ تلاوت کرے گا تو وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنکا قیامت والے دن کوئی حساب و کتاب نہیں ہوگا۔ آگاہ رہو! قرآن کے محکمات میں سے ایک محکم اسی سورہ میں بھی موجود ہے اور وہی قیامت والے دن تلاوت کرنے والے کی گواہی دے گا۔

سورہ انفال و توبہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو سورہ انفال اور توبہ کی ہر ماہ تلاوت کرے گا تو وہ کبھی بھی نفاق میں مبتلا نہ ہوگا اور امیرالمومنین کے شیعوں میں سے ہوگا۔

سورہ یونس پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو ہر دو یا تین ماہ میں ایک مرتبہ سورہ یونس کی تلاوت کرے گا تو اسے یہ خوف نہیں ہوگا کہ میں جاہل ہوں(بلکہ) قیامت والے دن وہ مقربین سے ہوگا۔

سورہ ہود پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔ جو شخص ہر جمعہ سورہ ہود کی تلاوت کرے گا تو خداوند متعال قیامت والے دن اسے پیغمبروں کے گروہ میں محشور کریگا اور اس دن اسے بیگناہ سمجھا جائے گا۔

سورہ یوسف پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ یوسف کی ہر روز یا ہر شب تلاوت کریگا تو اللہ تعالی قیامت والے دن اسے حضرت یوسف کے جمال کی مانند خوبصورتی میں اٹھائے گا اور قیامت والے دن اسے کوئی خوف نہ ہوگا اور وہ خدا کے صالح بندوں میں سے ہوگا اور مزید فرمایا کہ یہ سورہ تورات میں بھی نازل ہوا ہے۔

سورہ رعد پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ رعد کی بہت زیادہ تلاوت کرے گا تو خدا اسے کبھی بھی صاعقہ( ) میں مبتلا نہ کرے گا خواہ وہ دشمن اہلبیت (علیھم السلام) ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ مومن ہو تو اسے بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا اور اگر وہ اپنے خاندان اور جان پہچان لوگوں کی شفاعت کرے گا تو اس کی شفاعت قبول ہوگی۔

سورہ ابراہیم و حجر پڑھنے کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص جمعہ والے دن سورہ ابراہیم اور حجر کی دو رکعتوں میں تلاوت کرے گا وہ کبھی بھی فقر، دیوانگی اور مصیبت سے دوچار نہیں ہوگا۔

سورہ نحل پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص ہر ماہ سورہ نحل کی تلاوت کرے گا تو وہ جرمانہ دینے اور ستر قسم کی بلاوں سے محفوظ رہے گا ان میں کمترین دیوانگی، جزام اور برص ہے۔ اور اسکا ٹھکانہ بہشت کے درمیان جنت عدن میں ہوگا۔

سورہ بنی اسرائیل پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو ہر شب جمعہ سورہ بنی اسرائیل کی تلاوت کرے گا تو جبتک وہ حضرت قائمعجل الله تعالیٰ فرجه الشریف کی زیارت سے مشرف نہ ہوگا اور ان کے اصحاب سے نہ ہوگا، نہیں مرے گا۔

سورہ کھف پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جوقُل انّما انا بَشَر ٌ مِثلُکُم سے آخر سورہ تک کی تلاوت کرے گا تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ اسکے بستر سے لے کر خانہ کعبہ تک نور پیدا کرے گا اور اگر وہ اہل مکہ سے ہوا تو اسکا نور بیت المقدس تک ہوگا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو ہر جمعہ سورہ کھف کی تلاوت کرے گا تو وہ شھید کی موت مرے گا اور شھدا، کیساتھ اٹھے گا اور قیامت والے دن شھداء کے ہمراہ ہوگا۔

سورہ مریم پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو ہمیشگی کیساتھ سورہ مریم کی تلاوت کرتا رہے جبتک اپنی جان، مال اور اولاد سے بے نیاز نہیں ہوجائے گا، نہیں مرے گا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب میں ہوگا اور نیز سلیمان بن داود کی دنیاوی بادشاہت کی مثل اسے آخرت میں ملک اور بادشاہت سے نوازا جائے گا۔

سورہ طٰہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔سورہ طٰہ کی تلاوت ترک نہ کرو کیونکہ خدا اس سورہ اور اسکے قاری سے محبت رکھتا ہے، جو اسکی باقاعدگی سے تلاوت کرے گا تو قیامت والے دن خدا اسکا نامہ اعمال اسکے دائیں ہاتھ میں دے گا اور مسلمان ہوتے ہوئے جو اعمال انجام دے چکا ہے اسکا محاسبہ نہ ہو گا اور آخرت میں اتنا اجر ملے گا کہ وہ راضی ہوجائے گا۔

سورہ انبیاء پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص سورہ انبیاء کی چاہت کے ساتھ تلاوت کرے تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جو ناز و نعمت سے بھر پور جنتوں میں انبیاء کا ہمنشین ہے۔ اور اپنی زندگی میں لوگوں کی آنکھ کا تارا ہوگا۔

سورہ حج پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو ہر تین دن میں ایک مرتبہ سورہ حج کی تلاوت کرے گا وہ ایک سال گزرنے سے پہلے حج پر جائے گا اور اگر سفر حج میں مرگیا جو جنت میں داخل ہوگا۔ راوی کہتا ہے کہ اگر ہمارے مخالفوں میں سے تھا تو پھر؟ حضرت نے فرمایا اس کا کچھ عذاب کم ہوجائے گا۔

سورہ مومنین پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص سورہ مومنین کی تلاوت کرے گا خدا اسکا خاتمہ سعادت پر کرے گا اور جو ہر جمعہ باقاعدگی سے اسکی تلاوت کریگا تو فردوس اعلیٰ میں اسکی منزل پیغمبروں اور رسولوں کیساتھ ہوگی۔

سورہ نور پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔سورہ نور کی تلاوت سے اپنے مال، جان اور خواتین کی حفاظت کرو۔ جو اسکی ہر دن یا رات میں باقاعدگی سے تلاوت کریگا تو اسکے مرنے تک اسکے خاندان کا کوئی فرد بھی زنا نہیں کرے گا اور جب وہ مرے گا تو قبر تک ستر ہزار فرشتے اسکی تشیع جنازہ کریں گے اور قبر میں داخل کرنے تک اسکے لئے دعا اور اللہ سے استغفار کرتے رہیں گے۔

سورہ فرقان پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔اے ابن عمار سورہ ”تَبارَکَ الّذِی نَزَّلَ الفُرقانَ عَلی عَبدِہِ“ کی تلاوت ترک نہ کرنا جو بھی ہر رات اسکی تلاوت کرے گا خدا اسے کوئی عذاب نہ دے گا اور اسکا محاسبہ نہ ہوگا اور اسکی منزل فردوس اعلیٰ میں ہوگی۔

سورہ نمل، شعراء و قصص پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ طواسین(نمل، شعراء،قصص) کی شب جمعہ تلاوت کرے گا تو وہ اولیاء اللہ سے ہوگا اور اللہ کی پناہ میں امن سے ہوگا اور کبھی بھی ناداری کا شکار نہ ہوگا اور آخرت میں اپنی خواہش سے زیادہ جنت کا حقدار ٹھہرے گا اور اللہ تعالیٰ ایک سو حورالعین کیساتھ اس کی تزویج کرے گا۔

سورہ عنکبوت اور روم پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔اے ابا محمد، خدا کی قسم جو تئیسویں ماہ رمضان کی رات کو سورہ عنکبوت اور روم کی تلاوت کرے گا، وہ اہل بہشت سے ہوگا، میں کسی کا استثناء نہیں کرتا۔ خدا اس قسم کا مجھ پر کوئی گناہ نہیں لکھے گا، ان دونوں سورتوں کی اللہ کی نزدیک بہت قدر و منزلت ہے۔

سورہ لقمان پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو ہر شب سورہ لقمان کی تلاوت کرے گا تو اس رات خدا فرشتوں کو نگہبان بنائے گا کہ صبح تک ابلیس اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت کریں۔ اور اگر دن میں اسکی تلاوت کرے تو رات تک ابلیس اور اسکے لشکر سے اسکی حفاظت کریں گے۔

سورہ سجدہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو ہر جمعہ سورہ سجدہ کی تلاوت کرے تو خدا اسکا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دے گا اور اسکے اعمال کا محاسبہ نہ ہوگا اور وہ حضرت محمد اور آپ کی اہل بیت کے رفقاء میں سے ہوگا۔

سورہ احزاب پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو سورہ احزاب کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرے گا تو قیامت والے دن حضرت محمد اور ان کی ازواج کے جوار میں ہوگا، سورہ احزاب میں قریش اور غیر قریش کی بعض خواتین اور مردوں کی رسوائی ہے اے ابن سنان اسی سورہ احزاب نے قریشی خواتین کو رسوا کیا۔

سورہ سبا و فاطر پڑھنے کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔اگر کوئی سورہ سبا اور فاطر کی رات کو تلاوت کرے تو اس رات خدا اسکی حفاظت اورنگہداری کریگا اور اگر ان سورتوں کو دن میں تلاوت کیا جائے تو اس دن کسی قسم کی ناگواری نہیں دیکھے گا اور خدا اسے اتنی زیادہ دنیا و آخرت میں خیر اور بھلائی دے گا کہ اس نے کبھی اسکا سوچا تک نہیں ہوگا اور آرزو تک نہ کی ہوگی۔

سورہ یاسین پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔ ہر چیز کا ایک قلب ہوتا ہے اور قلبِ قرآن یاسین ہے۔ جو سونے سے پہلے یا دن کے کسی حصّہ میں اسکی تلاوت کرے گا تو اس دن محفوظ رہے گا اور خداسے روزی پائے گا اور جو رات کو سونے سے پہلے اسکی تلاوت کریگا تو خداوند متعال ستر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائے گا کہ اسکی شیطان کے شر اور ہر آفت سے حفاظت کی جائے۔ اگر اگلے دن مرجائے تو خدا اسے بہشت میں داخل کرے گا اور تیس ہزار فرشتے غسل دیتے وقت وہاں موجود ہونگے اور اس کیلئے استغفار کریں گے اور دعائے مغفرت کیساتھ قبر تک تشییع جنازہ میں شریک ہونگے اور جب اسے قبر میں داخل کیا جائے گا تو پہلے فرشتے قبر میں داخل ہوکر عبادت کریں گے اور اس عبادت کاثواب اس کے لئے ہوگا اور تا حدِ نگاہ اسکی قبر کو وسعت عطا فرمائے گا اور وہ فشارِ قبر سے امن میں رہے گا اور اس کی قبر سے لیکر آسمان تک درخشان نور اس وقت تک باقی رہے گا جبتک خدا اسے قبر سے نکال نہیں لیتا۔ اور جب اسے قبر سے نکالیں تو اس کے ساتھ فرشتے گفتگو کریں گے اسکا چہرہ خوشحال ہوگا اور وہ اسے ہر مقام پر مژدہ خیر سنائیں گے یہاں تک کہ پلِ صراط اور میزان کو عبور کرے گا اور اسے خدا کے اتنا نزدیک لے جائیں گے کہ مقرب فرشتوں اور مرسل انبیاء کے علاوہ کوئی خدا کے اتنا نزدیک نہ ہوگا۔ وہ پیغمبروں کی ہمراہی میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہوگا جبکہ دوسرے لوگ غمگین، پریشان اور بیتاب ہونگے اسے کوئی غم، پریشانی اور مشکل نہ ہوگی۔ اس وقت خداوند متعال اسے فرمائے گا تو جس کی چاہے شفاعت کر۔ میں تیری شفاعت قبول کرونگا اور مانگ جو مانگنا چاہتا ہے تجھے عطا کروں۔ وہ جو چاہے گا اسے ملے گا اور جس کی شفاعت کرے گا قبول ہوگی حالانکہ بعض لوگوں کا محاسبہ ہو رہا ہوگا۔ انہیں روکا گیا ہوگاوہ ذلیل ہو رہے ہونگے مگر اسکے لئے کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا، کوئی نہیں روکے گا اور اس کے لئے کسی قسم کی ذلت نہ ہوگی اپنے کسی بھی غلط کام پر بدبختی کا سامنا نہیں کرے گا اور نامہ  اعمال کھول کر اسے دیا جائے گا اور جب خدا کی بارگاہ سے نیچے آئے گا تو لوگ اسے دیکھ کر سبحان اللہ کا ورد کرتے ہوئے کہیں گے اس عبد خدا کی کوئی خطا نہ تھی اور اسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رفاقت نصیب ہوئی ہے۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو اپنی زندگی میں ایک مرتبہ سورہ یاسین کی تلاوت کرے گا تو خداوند متعال زمین، آخرت اور آسمان کی ہر مخلوق کے حساب سے اسکی دوہزار نیکیاں لکھے گا اور دو ہزار گناہ محو کردے گا اور وہ فقر، مالی نقصان دیوار کے نیچے آکر مرنے، بیچارگی، دیوانگی، جزام، وسوسے اور ہر نقصان، دہ بیماری سے محفوظ رہے گا اور خدا موت کی سختیوں اور خوف کو آسان کردے گا اور خود اسکی روح قبض کرے گا اور اس کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنکی زندگی میں وسعت، ملاقاتِ خداکے وقت فرحت و خوشی، اور آخرت میں ثواب الہی پر راضی ہونے کی خود خدا نے ضمانت دی ہے اور خدا زمین و آسمان پر موجود تمام فرشتوں سے فرمائے گا میں فلاں شخص سے راضی ہوں تو تم سب اس کے لئے استغفار کرو۔

سورہ صافات پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

جو شخص ہر جمعہ سورہ صافات کی تلاوت کرے گا وہ ہر آفت سے محفوظ ہوگا اور دنیاوی زندگی کی ہر مشکل اس سے دور ہوگی اور دنیا کے تمام لوگوں کے رزق کی نسبت بہترین رزق اس کا مقدر ہوگا، اس کے مال، اولاد اور جسم پر اللہ تعالیٰ کسی راندہ شیطان اور جابر سلطان کا کوئی ظلم نہیں ہونے دے گا اگر اس دن یا رات کو مرجائے تو خدا اسے شھید اٹھائے گا اور اسے شھادت(کی موت) نصیب کریگا اور اسے شھداء کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا۔

سورہ ص پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو ہر شب جمعہ سورہ’ص“ کی تلاوت کرے گا تو اسے اس قدر دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہوگی جو انبیاء مرسل اور مقرب فرشتوں کے علاوہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ خدا اسے اور اس کے خاندا ن کے افراد کو (جس فرد کو بھی وہ چاہے گا خواہ اسکا خدمتگذار ہی کیوں نہ ہو) بہشت میں داخل کرے گا۔ اگر چہ وہ اسکے خاندان سے یا ان افراد سے نہ ہو جس کی یہ شفاعت کرسکتا ہے۔

سورہ زمر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص سورہ زمر کی تلاوت کرے اور تلاوت کو زبان پر آسان سمجھے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت کا شرف عطا فرمائے گا اور مال، خاندان اور اقوام کے بغیر ہی اسے عزیز سمجھے گا اور ہر دیکھنے والی آنکھ میں اس کے لئے بزرگی عطا فرمائے گا اور اسکے جسم کو آگ پر حرام قرار دے گا بہشت میں اسکے لئے ہزار شہر تعمیر کروائے گا ہر شہر میں ایک ہزار محل ہونگے اور محل میں ایک سو حورالعین ہونگیں۔ اسکے علاوہ دو چشمے عمومی، دو چشمے درختوں کے نیچے اور دو سرسبز و خرم چشمے جاری کرے گا اور حور العین کو باپردہ رکھے گا۔ اسی طرح مختلف قسم کی نعمتیں اور میوے عطا کرے گا ہر میوہ دو قسم کا ہوگا(ایک دنیاوی قسم کا اور دوسرا اخروی قسم کا ہوگا۔

سورہ حم مومن پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ حم مومن کی ہر رات تلاوت کرے گا تو خدا اس کے ابتداء سے آخر تک کے تمام گناہ بخش دے گا اور اسے باتقویٰ بنائے گا اور اس کی آخرت کو دنیا سے بہتر بنائے گا۔

سورہ حم سجدہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص سورہ حم سجدہ کی تلاوت کرے گا تو قیامت والے دن اسکے لئے یہ سورہ خوشحالی کا موجب بنے گا اور یہ سورہ اسکے لئے ایسا نور ہوگا جو تا حد نگاہ دیکھا جاسکے گا وہ اس دنیا میں عمدہ زندگی کا مالک ہوگا اور دوسروں کیلئے اس کی آرزو کرنے والا ہوگا۔

سورہ حم عسق پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ حم عسق کی باقاعدگی سے تلاوت کرے گا تو اللہ تعالیٰ جب قیامت والے دن اسے اٹھائے گا تو اسکا چہرہ برف کی طرح سفید اور سورج کی طرح درخشاں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہوگا خدا فرمائے گا میرا بندہ حم عسق کی باقاعدگی سے تلاوت کرتا تھا اور اسکے ثواب کو نہیں جانتا تھا، اگر یہ جانتا ہوتا کہ یہ کیا ہے؟ اور کسقدر ثواب کا حامل ہے تو کبھی بھی اسکی تلاوت سے تنگ نہ آتا۔لیکن میں تجھے اس کے جزا اور ثواب پر پہنچاتا ہوں، اللہ فرمائے گا اسے جنت میں لے جاو، سرخ یاقوت سے بنا ہوا محل اسکا ہے جس کے دروازے، سیڑھیاں اور اسکا بالائی حصہ بھی سرخ یاقوت کا ہے اسکا باہر والا حصّہ اندر سے اور اندر والا حصّہ باہر سے دیکھا جاسکتا ہے اسکے لئے ایک ہزار غلام بچے ہونگے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے اور کنیزیں ہونگیں اور اسی طرح اس کی خدمت کرتی رہیں گی خدا نے(قرآن میں) ان کی توصیف بیان کی ہے۔

سورہ زخرف پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو ہمیشہ سورہ حم زخرف کی تلاوت کرے گا، خدا اپنے حضور پیش ہونے تک اسکی قبر کو زہریلے حشرات اور حیوانات کیساتھ ساتھ فشار قبر سے محفوظ رکھے گا یہاں تک کہ یہ سورہ اللہ تعالی کے حضور میں حاضر ہوگا اور اسے اللہ کے حکم سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔

سورہ دخان پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جوسور ہ دخان کی واجب اور مستحب نمازوں میں تلاوت کرے گا تو قیامت والے دن اللہ اسے امان یافتہ لوگوں میں محشور کرے گا۔اور اپنے عرش کے نیچے اس پر سایہ فگن ہو گا۔اس کے حساب میں آسانی کرے گا اور اس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دے گا۔

سورہ جاثیہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔ سورہ جاثیہ کی تلاوت کرنے کا ثواب یہ ہے کہ اس سورہ کی تلاوت کرنے والا کبھی بھی جہنم کو نہیں دیکھے گا اور جہنم کا شور و غوغا اسے نہیں سنایا جائے گا اور اسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ہمراہی نصیب ہوگی۔

سورہ احقاف پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔ جو ہر رات یا ہر جمعہ سورہ احقاف کی تلاوت کرے گا تو خدا اسے دنیاوی زندگی میں ترس و خوف میں مبتلا نہ کرے گا اور قیامت میں بھی ہر خوف سے امن میں ہوگا۔ انشائاللہ

سورحم پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔سورہ ھای حم قرآن کی عمدہ خوشبو ہیں۔ جب بھی ان کی تلاوت کرو تو خدا کی بہت زیادہ حمد وثنا اور شکر ادا کرو۔ جب بھی کوئی ان کی تلاوت کرتا ہے تو اس کے منہ سے مشک اور عنبر سے زیادہ خوشبو آتی ہے اس وقت خداوند متعال اسکی تلاوت کرنے والے قاری، اسکے ہمسائے، دوست، آشنا اور تمام قریبی لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور قیامت والے دن عرش، کرسی اور مقرب فرشتے اس کے لئے استغفار کریں گے۔

سورہ محمد پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو شخص سورہ محمد کی تلاوت کریگا اسے کبھی بھی ریب اور شک کا سامنا نہ کرنا پڑے گااور وہ کبھی بھی اپنے دین پر شک نہ کرے گا ۔خدا کبھی بھی اسے فقر اور سلطان(پادشاہ) کے خوف میں مبتلا نہیں کرے گا اور مرنے تک ہمیشہ کیلئے شک اور کفر سے محفوظ رہے گا اور جب مرجائے گا تو خدا ایک ہزار فرشتوں سے کہے گا کہ اسکی قبر میں جا کر نماز پڑھو اور اس نماز کا ثواب اسے ملے گا اور یہ فرشتے خدا کے نزدیک جائے أمن تک اسکی راہنمائی کریں گے اور یہ اللہ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی امان میں ہوگا۔

سورہ فتح پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ سورہ فتح کی تلاوت سے اپنے مال، خواتین اور لونڈیوں کی حفاظت کرو۔ جو اسکی باقاعدگی سے تلاوت کرے گا تو اس کے لئے ایک منادی قیامت والے دن ندا کرے گا جیسے پوری مخلوق سنے گی کہ تم مخلص بندوں سے ہو اور کہا جائے گا کہ اسے صالحین کیساتھ ملحق کرو، اور نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں لے جاو، اور کافور کی مانند ٹھنڈا مہر شدہ جام پلاو۔

سورہ حجرات پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جوشب و روز سورہ حجرات کی تلاوت کرے گا وہ حضرت محمد کے زائرین سے ہوگا۔

سورہ ق پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو واجب اور نافلہ نمازوں میں باقاعدگی کیساتھ سورہ ق کی تلاوت کرے گا تو اللہ اسکے رزق میں وسعت عطا فرمائے گا اور اسکا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیگا اور اس کا آسان حساب و کتاب لے گا۔

سورہ ذاریات پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ ذاریات کو رات یا دن میں پڑھے گا تو اللہ تعالی اسکے امورِ زندگی کی اصلاح کرے گا اور اسے وسیع رزق دے گا اور اس کی قبر کو ایک چراغ کیساتھ نورانی کریگا جو قیامت تک نہیں بھجے گا۔

سورہ طور پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اور حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو سورہ طور کی تلاوت کرے خدا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی دے گا۔

سورہ نجم پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو شخص ہر شب و روز باقاعدگی سے سورہ نجم کی تلاوت کرے گا وہ لوگوں کے درمیان پسندیدہ زندگی گزارے گا اور لوگوں میں مغفور(بخشا ہوا) اور محبوب ہوگا۔

سورہ قمر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ قمر کی تلاوت کرے گا اللہ اسے بہشت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ پر سوار کرکے قبر سے نکالے گا۔

سورہ رحمن پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔سورہ رحمن ہمیشہ پڑھا کرو اور اسکی تلاوت ترک نہ کرو کیونکہ منافق کے دل میں اسکی کوئی جگہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ اسے ایک خوبصورت اور خوشبو سے مزین انسان کی شکل میں لائے گا اور یہ خدا کے اتنا نزدیک ہوگا کہ کوئی اس جتنا خدا کے قریب نہ ہوگا اس سے سوال ہوگا کہ دنیاوی زندگی میں کون تیری ہمیشہ اور باقاعدگی سے تلاوت کرتا تھا۔ یہ جواب دیگا، پروردگارا، فلاں اور فلاں، تو ان کے چہرے سفید کردیئے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ جس کی چاہتے ہو شفاعت کرو۔ وہ بے حدو حساب لوگوں کی شفاعت کریں گے۔ یہاں تک کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا کہ جس کی یہ شفاعت کرنا چاہتے تھے اور پھر ان سب سے کہا جائے گا جاو، جنت میں داخل ہوجاو اور جہاں چاہو سکونت اختیار کرو۔

( ۲) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو سورہ رحمن کی تلاوت کرے اور جب بھی(فَبِأَیِّ اَلَاءِ رَبِّکُماٰ تُکَذِّباٰنِ ) پر پہنچے اور یہ کہے”لَا بِشیءٍ مِن اَلائِکَ رَبِّ اُکَذِّبُ “ اور رات کو تلاوت کرے اور مرجائے تو شھید کی موت مرا ہے اور اگر دن میں تلاوت کرے اور مرجائے تب بھی شھید کی موت مرا ہے۔

سورہ واقعہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو ہر شب جمعہ سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا تو اللہ اس سے محبت کرے گا اور اسکی محبت کو تمام لوگوں کے دلوں میں جگہ دے گا۔ اور اسے بدبختی، فقر، ناداری اور دنیا کی آفات میں سے کسی آفت میں دوچار نہیں کرے گا اور وہ حضرت امیرالمومنین کے رفقاء سے ہوگا۔ یہ سورہ فقط حضرت امیرالمومنین کیساتھ مخصوص ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک و سھیم نہیں ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص بہشت اور اسکے اوصاف کا مشتاق ہے وہ سورہ واقعہ کی تلاوت کرے اور جو جہنم کے اوصاف جاننا چاہتا ہے وہ سورہ لقمان کی تلاوت کرے۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو رات کو سونے سے پہلے باقاعدگی سے سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا تو اسکی خدا سے اس حالت میں ملاقات ہوگی کہ اسکا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوگا۔

سورہ حدید و مجادلہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو شخص ہمیشہ واجب نماز میں سورہ حدید اور مجادلہ کی تلاوت کرے گا تو خدا مرنے تک اسے کسی عذاب میں مبتلا نہ کرے گا، وہ اور اسکا خاندان کسی مشکل میں گرفتار نہ ہوگا اور اسکا بدن صحیح و سالم اور بے عیب ہوگا۔

سورہ حشر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو شخص سورہ حشر کی تلاوت کرے گا تو کوئی جنت، جہنم، عرش، کرسی، حجاب، آسمان، زمین، فضاء، ہوا، پرندہ، درخت، پہاڑ، سورج، چاند اور فرشتہ ایسا نہیں ہوگا جو اس کے لئے درود نہ بھیجے اور اسکے لئے استغفار نہ کرے، اگر وہ اسی دن یا رات کو مرجائے تو شھید کی موت مرا ہے۔

سورہ ممتحنہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ ممتحنہ کی تلاوت کرے گا خدا اسکے دل کو ایمان کیلئے خالص کردے گا اور وہ چشمِ روشن کا مالک ہوگا، گرفتارِ فقر نہ ہوگا وہ اور اس کی اولاد مجنون و دیوانہ نہیں ہوگی۔

سورہ صف پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو سورہ صف کی تلاوت کرے اور واجب و مستحب نماز میں باقاعدگی سے پڑھے تو خدا اسے فرشتوں اور مرسل پیغمبروں کی صف میں قرار دے گا۔

سورہ جمعہ، منافقین اور اعلی پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ہمارے شیعوں پر واجب ہے کہ ہرشب جمعہ سورہ جمعہ اور اعلیٰ کی تلاوت کریں اور جمعہ کی نماز ظہر میں سورہ جمعہ اور منافقین پڑھیں۔ جو یہ عمل بجا لائے گاگویا وہ عملِ رسول بجا لانے والا ہے، اس عمل کی جزا اور ثواب یہ ہے کہ خدا اسے جنت عطا فرمائے گا۔

سورہ تغابن پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو واجب نماز میں سورہ تغابن کی تلاوت کرے گا تو یہ سورہ قیامت والے دن اسکی شفاعت کرے گا اور جس کی شھادت مقبول ہو اسکے نزدیک عادل شاہد ہوگا اور یہ سورہ جنت میں پہنچنے تک اس سے جدا نہ ہوگا۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو شخص سونے سے پہلے تمام مسبحات(وہ سورتیں جو تسبیح پروردگار سے شروع ہوتی ہیں) کی تلاوت کرے گا جبتک حضرت قائم آل محمد کو درک نہیں کرے گا، نہیں مرے گا اور اگر مرجائے اسے جوار ِحضرت رسول خدا نصیب ہوگا۔

سورہ طلاق و تحریم پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نماز میں سورہ طلاق اور تحریم پڑھے گا تو خدا اسے روزِ قیامت کے خوف اور حزن سے پناہ دے گا اور وہ جہنم سے معاف شدہ ہوگا، ان سورتوں کی تلاوت اور محافظت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگا کیونکہ یہ دونوں سورتیں حضرت رسول اعظم کے ساتھ خاص ہیں ۔

سورہ ملک پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو سونے سے پہلے واجب نماز میں سورہ ملک کی تلاوت کرے گا وہ صبح تک اللہ کی امان میں ہوگا نیز قیامت والے دن بھی جب تک جنت میں داخل نہ ہوگا اللہ کی امان میں ہوگا۔

سورہ قلم پڑھنے کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو واجب، مستحب نماز میں سورہ قلم پڑھے گا خدا ہمیشہ کیلئے اسے فقر سے نجات دے گا اور جب مرے گا تو اسے عذابِ قبر سے پناہ دے گا۔

سورہ حاقہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔سورہ حاقہ کی کثرت سے تلاوت کرو۔ اسے واجب اور مستحب نمازوں میں پڑھنا اللہ اور رسول پر ایمان رکھنا ہے یہ سورہ حضرت امیرالمومنین اور معاویہ کے متعلق نازل ہوا ہے۔ اس سورہ کا قاری خدا سے ملاقات کے دن تک اپنے دین پرباقی رہے گا۔

سورہ معارج پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

سورہ معارج کی کثرت سے تلاوت کرو کیونکہ قیامت والے دن خدا زیادہ پڑھنے والے سے گناہوں کے متعلق سوال نہ کرے گا اور بہشت میں حضرت محمد اور اہل بیت کیساتھ سکونت عطا کرے گا۔

سورہ نوح پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور قاری قرآن ہے وہ سورہ نوح کی تلاوت ترک نہ کرے۔ جوشخص صبر اور اللہ سے جزا چاہتے ہوئے واجب اور مستحب نمازوں میں اسے پڑھے گا تو اللہ اسے نیک لوگوں کیساتھ گھر عطاکرے گا۔ اور اس کی اپنی جنت کے علاوہ تین اور بہشتیں عطا کرے گا اور دو سو حور العین اور چار ہزار دوسری عورتوں کو اسکی بیویاں بنائے گا۔

سورہ جن پڑھنے کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو سورہ جن کی اپنی زندگی میں کثرت سے تلاوت کرتا ہے تو وہ آشوب چشم، جادو اور مکر جن سے محفوظ رہے گا اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ہمراہ ہوگا اور کہے گا پروردگارا مجھے حضرت محمد کی ہمراہی کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔

سورہ مزمل پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو نماز عشاء یا آخر شب میں سورہ مزمل کی تلاوت کرتا ہے تو شب و روز سورہ مزمل کے ہمراہ اسکی گواہی دیں گے اور خداوند متعال اسے پاک و پاکیزہ زندگی اور موت عطا کریگا۔

سورہ مدثر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو واجب نماز میں سورہ مدثر پڑھے گا تو یہ خدا کے ذمہ ہے کہ اسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ہمراہ اسی مقام پر رکھے اور انشاء اللہ وہ دنیاوی زندگی میں کسی مشکل میں گرفتار نہ ہوگا۔

سورہ قیامت پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو سورہ قیامت کو باقاعدگی سے پڑھتا رہے اور اس پر عمل کرتا رہے تو خدا اسے خوبصورت شکل کیساتھ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ قبر سے نکالے گا ۔اسے خوشخبری اور بشارت دی جائے گی اور وہ ہنستے ہوئے پل صراط اور میزان سے گزرجائے گا۔

سورہ انسان پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو ہر جمعرات کی صبح سورہ انسان کی تلاوت کرے گا تو خدا اسے آٹھ سو کنواری اور چار ہزار سابقہ شادی شدہ حورالعین سے اسکی تزویج کرے گا نیز ایک اور عمدہ حورالعین بھی اسے عطا کرے گا۔ اور اسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ہمراہی بھی نصیب ہوگی۔

سورہ مرسلات، نباء اور نازعات پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ مرسلات کی تلاوت کرے گا تو اللہ اسکے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے درمیان آشنائی پیدا فرمائے گا۔ اور جو ہر روز باقاعدگی سے سورہ نباء کی تلاوت کرے گا انشاء اللہ اسے ایک سال کے اندر اندر خانہ کعبہ کی زیارت نصیب ہوگی۔ اور جو سورہ نازعات کی تلاوت کرے گا وہ سیراب ہوکر مرے گا اور سیراب اٹھایا جائے گا نیز سیراب ہوکر جنت میں داخل ہوگا۔

سورہ عبس و تکویر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔جو سورہ عبس اور تکویر کی تلاوت کرے گا تو وہ خدا کے زیر سایہ ہوگا اور دوسروں کی خیانت سے محفوظ رہے گا اور وہ ظلِ خدا اور کرامتِ خدا(کا حقدار) ہوگا اور جنت میں جائے گا۔ اگر خداوند متعال چاہے تو یہ اس کی ذات کیلئے کوئی بڑا کام نہیں ہے۔

سورہ انفطار اور انشقاق پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔جو ہمیشہ واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ انفطار اور انشقاق کو پڑھے گا خدا اسکے اور اسکی حاجتوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ڈالے گاخدا اور اس کے درمیان کوئی مانع نہ ہوگا(اسے قرب خداوندی نصیب ہوگا) اور لوگوں کے حساب و کتاب فراغت پانے تک اللہ اس پر نظر کرم فرمائے گا۔

سورہ مطففین پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نماز میں سورہ مطففین کو پڑھے گا خدا قیامت والے دن اسے آگ سے محفوظ رکھے گا۔ نہ آگ اسے دیکھے گی اور نہ وہ آگ کو۔ وہ جہنم کے پل کو عبور نہیں کرے گا اور قیامت والے دن اسکا محاسبہ نہ ہوگا۔

سورہ بروج پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نماز میں سورہ بروج کو پڑھے گا، (کیونکہ یہ پیغمبروں کا سورہ ہے لہذا) اسکا حشر پیغمبروں، رسولوں اور صالحین کیساتھ ہوگا۔

سورہ طلاق پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نمازوں میں سورہ طلاق پڑھے گا اسکی اللہ کے نزدیک مقام و منزلت ہوگی اور جنت میں انبیاء اور ان کے اصحاب کی رفاقت نصیب ہوگی۔

سورہ اعلی پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں۔جو واجب یا مستحب نماز میں سورہ اعلیٰ کی تلاوت کرے گا، انشاء اللہ قیامت والے دن اسے کہا جائے گا کہ جس دروازے سے تمھارا جی چاہے جنت میں داخل ہوجاو۔

سورہ غاشیہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو واجب یا مستحب نماز میں سورہ غاشیہ کی باقاعدگی سے تلاوت کرے گا تو خدا اسے دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت سے ڈھانپے گا اور قیامت والے دن اسے جہنم کی آگ سے امان دے گا۔

سورہ فجر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ سورہ فجر کو واجب اور مستحب نمازوں میں پڑھو۔ یہ حضرت امام حسین ابن علی (علیھم السلام) کا سورہ ہے جو اس کی تلاوت کرے گا وہ قیامت والے دن جنت میں حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے مقام پر ہوگا، بیشک خدا عزیز و حکیم ہے۔

سورہ بلد پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نماز میں سورہ بلد پڑھے گا وہ دنیا میں ایک صالح انسان، اور آخرت میں اس عنوان سے کہ اسکی خدا کے نزدیک بڑی منزلت ہے، پہچانا جائیگا۔ اور قیامت والے دن پیغمبروں، شھیدوں اور نیک لوگوں (صالحین) کا دوست سمجھا جائے گا۔

سورہ شمس، لیل، ضحی اور الم نشرح پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص دن یا رات کو سورہ شمس، لیل، ضحی اور الم نشرح کی کثرت سے تلاوت کرے گا تو کائنات کی ہر چیز اسکے لئے گواہی دے گی یہاں تک کہ اسکے بال، جلد، گوشت، خون، رگیں،اعصاب، ہڈیاں اور روئے زمین پر موجود تمام چھوٹے چھوٹے ذرات بھی گواہی دیں گے خدا فرمائے گا میں نے اپنے عبد کے حوالہ سے تمھاری گواہی قبول کرلی ہے اور اسے کافی سمجھا ہے۔ اسے میری بہشتوں میں لے جاو، اسے اختیار ہے جس بہشت کا چاہے انتخاب کرے اور اسے میرے احسان کے بغیر ہی سب کچھ دو۔ فقط میری رحمت اور فضل کے حوالہ سے اس پر عنایت کرو، خوشگواری تو میرے بندے کی خوشگواری ہے۔

سورہ تین پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو اپنی واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ تین پڑھے گا ان شاء اللہ اسے اسکی خواہش کے مطابق جنت ملے گی۔

سورہ علق پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو دن یا رات کو سورہ علق کی تلاوت کرے اور پھر اسی دن یا رات مرجائے تو وہ شھید کی موت مرا ہے۔ خدا اسے شھید اٹھائے گا اور شھید زندہ کرے گا اور یہ اس شخص کی مانند ہوگا جو حضرت رسول خدا کیساتھ راہِ خدا میں تلوار چلاتا رہا ہو۔

سورہ قدر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو سورہ قدر کی بلند آواز میں تلاوت کرے گاوہ راہِ خدا میں تلوار اٹھانے والے شخص کی طرح ہے اور جو اسے آہستہ آواز میں پڑھے گا وہ راہِ خدا میں خون میں لت پت شخص کی مثل ہے۔ جو دس مرتبہ اس کی تلاوت کرے گا خدا اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ بخش دے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو اپنی کسی واجب نماز میں سورہ قدر پڑھے گا تو ایک منادی ندا دے گا اے عبد! خدا نے تیرے گذشتہ گناہ معاف کردیئے ہیں اب نئے سرے سے عمل شروع کرو۔

سورہ بیّنہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص سورہ بیّنہ کی تلاوت کرے گا وہ شرک سے دور ہوگا اور دین محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)میں داخل ہوگا، اللہ اسے مومن اٹھائے گا، اس سے آسان حساب لے گا۔

سورہ زلزلہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔سورہ زلزلہ کی تلاوت سے نہ اُکتا جو اسے مستحب نمازوں میں پڑھے گا تو خدا کبھی بھی اسے زلزلہ جیسی آفت میں مبتلا نہیں کرے گا جس سے اس کی موت واقع ہو۔ اسی طرح گرج دار بجلی اور دنیاوی آفات میں سے کسی آفت میں بھی مبتلا نہیں کرے گا۔ جب مرے گا اسے جنت جانے کا حکم دیا جائے گا، پروردگار عالم فرمائے گا، میں نے تجھ پر بہشت حلال کی ہے، جہاں چاہتے ہو سکونت اختیار کرو، یہاں کوئی منع کرنے والا اور دور(بھگانے) والا نہیں ہے۔

سورہ عادیات پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سورہ عادیات کی باقاعدگی کیساتھ تلاوت کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن خاص طور پر اسے حضرت امیر المومنین کیساتھ محشور کرے گا اور وہ حضرت امیر کا ہم حجرہ اور دوستوں میں سے ہوگا۔

سورہ قارعہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو کثرت سے سورہ قارعہ کی تلاوت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسکی دجال کے فتنے پر عمل کرنے سے حفاظت کرے گا ۔اور انشاء اللہ اسے قیامت والے دن جہنم کی پیپ سے محفوظ رکھے گا۔

سورہ تکاثر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نماز میں سورہ تکاثر کی تلاوت کرے گا اللہ اسکا اجر و ثواب ایک سو شہیدوں کے برابر قرار دے گا اور جو اسے مستحب نمازوں میں پڑھے گا اسے پچاس شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا اور انشاء اللہ واجب نماز میں فرشتوں کی چالیس صفیں اس کیساتھ نماز پڑھیں گیں۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو سوتے وقت سورہ تکاثر کی تلاوت کرے گا وہ قبر کے عذاب سے امن میں ہوگا۔

سورہ عصر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو مستحب نمازوں میں سورہ عصر کی تلاوت کرے گا تو خدا قیامت والے دن اسے درخشاں، خنداں اور خوشحال چہرے کیساتھ اٹھائے گا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔

سورہ ہمزہ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نمازوں میں سورہ ہمزہ کی تلاوت کرے گا خدا اس سے فقر کو دور کرے گا، رزق کے دروازے کھولے گا اور اس سے بری موت دفع کرے گا۔

سورہ فیل اور سورہ قریش پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب نمازوں میں سورہ فیل کی تلاوت کرے گا تو تمام دشت، پہاڑ اور مٹی گواہی دیں گے یہ نمازی ہے اور قیامت والے دن منادی ندا دے گا کہ تم نے میرے عبد کے متعلق سچ کہا ہے، میں اس کے متعلق تمھاری گواہی قبول کرتا ہوں۔ اسی گواہی کے سبب اسے جنت میں داخل کرو اور اسکا محاسبہ نہ کرو کیونکہ میں اسے اور اس کے عمل کو محبوب جانتا ہوں۔

( ۲) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو سورہ قریش کی کثرت سے تلاوت کرے گا اللہ قیامت والے دن اسے جنت کی سواریوں میں سے ایک سواری پربٹھائے گا۔ تاکہ وہ قیامت میں نور کے دسترخوان پر بیٹھے ۔

صاحب کتاب کہتے ہیں واجب نماز کی رکعت میں سورہ فیل اور قریش کی اکٹھی تلاوت کرنا چاہیئے کیونکہ یہ دونوں ایک سورہ شمار ہوتے ہیں۔ لہذا واجب نماز میں ان میں سے کسی ایک سورہ کو جداگانہ طور پر پڑھنا کافی نہیں ہے۔

سورہ ماعون پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ ماعون کی تلاوت کرے گا تو ان لوگوں میں سے ہوگا الله جن کی نماز اور روزہ قبول کرتا ہے اور اسکے دنیاوی زندگی میں انجام دیئے جانے والے کاموں کا محاسبہ نہ ہوگا۔

سورہ کوثر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ کوثر کی تلاوت کرے گا۔ اللہ اسے قیامت والے دن جام کو ثر عطا کرے گا اور اس کی طوبیٰ کے درخت کے نیچے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کیساتھ نشست ہوگی۔

سورہ کافرون اور سورہ توحید پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔جو کسی واجب نماز میں سورہ کافرون اور توحید کی تلاوت کرے گا تو اللہ اسے، اسکے والدین اور اولاد کو معاف کردے گا، اگر وہ شقی ہوا تو دیوان اشقیاء سے اسکا نام مٹا کر سعداء کے دیوان میں لکھا جائے گا اللہ اسے سعید اور زندہ کرے گا اسے شھید کی موت عطا کرے گا اور شھید اٹھائے گا۔

سورہ نصر پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو واجب یا مستحب نماز میں سورہ نصر پڑھے گا تو خدا اسے تمام دشمنوں پر کامیابی عطا کرے گا اور جب قیامت والے دن آئے گا تو اس کیساتھ بولنے والی کتاب ہوگی۔ اور جب اللہ اسے قبر سے باہر نکالے گا تو اس میں جہنم کے پل، آگ اور جہنم کی خوفناک آوازوں کا امان نامہ موجود ہوگا۔ جس سے بھی اس کی ملاقات ہوگی وہ اسے خیر اور بھلائی کی بشارت اور خوشخبری دے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور دنیا میں اسباب خیر کے اتنے دروازے کھولے جائیں گے کہ جس کا یہ تصور تک نہیں کرسکتا اور جس کی اس نے کبھی آرزو تک نہ کی ہوگی۔

سورہ مسد پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جب بھی سورہ مسد کی تلاوت کرو تو ابولہب کو بددعا ضرور کرنا کیونکہ یہ ایسا جھوٹا ہے کہ رسول خدا اور جو کچھ اللہ کی طرف سے رسول پر نازل ہونے والی وحی کی تکذیب کیا کرتا تھا۔

سورہ توحید پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو ہرروز پنجگانہ نماز تو پڑھتا ہو لیکن سورہ توحید کی تلاوت نہ کرتا ہو تو اسے کہا جائے گا اے بندہ خدا تو نمازی نہیں ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو جمعہ والے دن سورہ توحید کی تلاوت نہ کرے اور مرجائے تو وہ ابولہب کے دین پر مرا ہے۔

( ۳) حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو شخص کسی بیماری یا پریشانی میں ہو اور سورہ توحید کی تلاوت نہ کرے اور اسی بیماری یا پریشانی میں مرجائے تو وہ جہنمی ہے۔

( ۴) حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسکے لئے ضروری ہے کہ واجب نماز میں سورہ توحید کی تلاوت کرے۔ جو یہ کام کرے گا تو الله اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرمائے گا اور اسے، اسکے والدین اور اولاد کی مغفرت کرے گا۔

( ۵) حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔جو سوتے وقت سو مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت کرے تو خدا اسکے پچاس سالہ گناہ بخش دے گا۔

( ۶) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے والد نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے سعد بن معاذ کی نماز

جنازہ پڑھائی اور فرمایا حضرت جبرائیل کے ہمراہ نوے ہزار فرشتوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ہے۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا آپ لوگ اس کی نماز جنازہ میں کیوں شریک ہوئے ہو؟ حضرت جبرائیل نے کہا، معاذ اٹھتے، بیٹھتے، سوار پیادہ اور آمد ورفت کے وقت سورہ توحید کی تلاوت کیا کرتا تھا۔

( ۷) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔جو اپنے بستر پر سوتے وقت گیارہ مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کرے توخدا اسکے گھر کے ساتھ ساتھ اطراف میں موجود دوسرے گھروں کی حفاظت کرتا ہے۔

( ۸) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امیرالمومنین کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔جو نماز صبح کے بعد گیارہ مرتبہ ”قل ہو اللہ احد“ پڑھے تو اس دن وہ گناہ نہیں کرے گا خواہ شیطان جتنی چاہے کوشش کرے اور اس طرح وہ ذلیل و خوار ہوگا۔

( ۹) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا۔

جو ظالم کی ملاقات سے پہلے سورہ توحید کی تلاوت کرے تو خدا آگے، پیچھے، دائیں، بائیں (غرض ہر طرف) سے اسکا دفاع کرے گاا ور ظالم کی طرف سے پہنچنے والے شر کے درمیان رکاوٹ پیدا کردے گا۔ اور اسے اس ظالم سے خیر نصیب کرے گا۔ مزید فرمایا جب کسی چیز سے خائف ہوجاو تو قرآن مجید کی کوئی سی سو آیات کی تلاوت کرو اور پھر(آخر میں) تین مرتبہ کہو خدایا اس بلاء اور مصیبت کو مجھ سے دور فرما۔

( ۱۰) حفص بن غیاث کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے کسی شخص کو فرماتے ہوئے سناکہ آیا تجھے دنیا میں زندہ رہنا پسند ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ حضرت نے پوچھا کیوں؟ اس نے جواب دیا کیوں کہ میں سورہ توحید کی تلاوت کرتا ہوں۔کچھ دیر بعد حضرت نے فرمایا اے حفص۔اگر ہمارے محبوں اور شیعوں میں سے کوئی مرجائے اور وہ اچھی طرح قرآن پڑھنا نہ جانتا ہو تو قبر میں اسے قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ خدا اسکو بلند درجات عطا کرے جان لو کہ بہشت کے درجات قرآنی آیات کی تعداد کے برابر ہیں۔ وہاں قاریِ قرآن سے کہا جاتا ہے قرآن پڑھو اور اگلے درجے میں جاو۔

سورہ ناس اور سورہ فلق پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو نماز ”وتر“ میں سورہ ناس، فلق اور توحید کی تلاوت کرتا ہے تو اسے کہا جائے گا اے بندہ خدا تجھے بشارت ہو اللہ تعالی نے تیری نماز وتر قبول کرلی ہے۔


ثواب الاعمال ۵

کبیرہ گناہوں سے اجتناب کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے اس آیت کا معنی پوچھا جن کبیره گناهوں سے روکا گیا هے اگر تم ان سے اجتناب کرو گے تو الله تمهارے گناه ختم کردیگا فرمایا اگر کوئی مؤمن ان گناہوں سے اجتناب کرے جنکے ارتکاب پر الله جہنم میں ڈالے گا تو الله انکے گناہوں کو ختم کرکے نیک جگہ (بہشت) میں داخل کریگا۔ سات بڑے گناہ ایسے ہیں جو انسان کو جہنمی بناتے ہیں شخص محترم کا قتل ، والدین کی نافرمانی ، سود خوری ، اسلامی ملک میں آنے کے بعد واپس جانا ، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا ، مال یتیم کھانا ، اور میدان جہاد سے فرار ۔

( ۲) حضرت امام رضا (علیہ السلام) درج ذیل آیت کے معنیٰ کے متعلق فرماتے ہیں

جن کبیرہ گناہوں سے روکا گیا ہے اگر تم ان سے اجتناب کرو گے تو الله تمھارے گناہ ختم کریگا جو مؤمن ان گناہوں سے اجتناب اور پرہیز کریگا جنکے ارتکاب پر الله نے جہنم کا وعدہ کررکھا ہے تو الله اسکے گناہوں کو ختم کردیگا۔

گناہ سے پشیمانی اور توبہ کاثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

خدا نے حضرت داؤد پیغمبر کی طرف وحی کی ۔اے داؤد اگر کوئی مؤمن بندہ گناہ کرتا ہے اور پھر پشیمان ہو کر گناہ سے توبہ کرتا ہے اور اسے میرے سامنے اس گناہ کا تذکرہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے تو میں اسے معاف کرونگا لکھنے والے فرشتوں کو یہ گناہ بُھلا دونگا اور اس گناہ کو نیکی میں بدل دونگا مجھے اسکی پروا نہیں ہے کیونکہ میں بہت زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔

الله کی عظمت کی خاطر قرض دار کو چھوڑ دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جو کوئی کسی قرض دار کو حاکم کے پاس لیجائے اور اسے علم ہو کہ اس نے جھوٹی قسم کھا لینی ہے۔ اور خدا کی عظمت کی خاطر اسے چھوڑ دے تو الله تعالیٰ اسے مقام حضرت ابراہیم خلیل کے علاوہ کوئی دوسرا مقام دینے پر راضی نہ ہوگا۔

اچھا استاد ہونے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

اچھے استاد کیلئے زمین پر چلنے والے جانور ، سمندر کی مچھلیاں اور زمین و آسمان پر رہنے والی ہر بڑی چھوٹی مخلوق استغفار کرتی ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

ایک عالم ایک ہزار عابدوں اور ایک ہزار زاہدوں سے بہتر ہے اور جس عالم کے علم سے لوگ استفادہ کریں وہ ستر ہزار عابدوں سے بہتر ہے۔

طالب علم کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔

جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ پر چلے تو الله اسے جنت کی راہ پر چلائے گا۔ طالب علم کی رضا کی خاطر فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں زمین و آسمان کی ہر مخلوق حتی دریاؤں کی مچھلیاں بھی طالب علم کیلئے استغفار کرتی ہیں۔ عالم کو عابد پر اسقدر فضیلت حاصل ہے جس طرح چودھوں کے چاند کی ستاروں پر۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کی وراثت درہم و دینار کے بجائے علم ہوتی ہے جس نے (اس وارثت سے ) کچھ پایا اس نے بہت کچھ حاصل کیا۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

کسی بھی طالب علم کا شب و روز اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ رحمت خداوندی میں داخل نہ ہوجائے۔ اسے فرشتے ندا دیتے ہیں مرحبا اے زائر خدا جس راہ کے راہی بنے ہو یہ جنت کا راستہ ہے۔

اہل دین کیساتھ بیٹھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

اہل دین کیساتھ بیٹھنے والوں کیلئے دنیا اور آخرت کا شرف ہے۔

ثواب سننے کے بعد عمل کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

اگر کوئی یہ سنکر عمل کرے کہ فلاں عملِ خیر کا اتنا ثواب ہے تو اسے وہ ثوا ب ملے گا۔ اگر چہ حضرت رسول خدا نے خاص طور پر اس چیز کے ثواب کی مقدار کے متعلق کچھ ارشاد نہ فرمایا ہو۔

ایسی حق بات کہنے کا ثواب جس پر لوگ عمل کریں

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص حق بات کہے اور لوگ اس پر عمل کریں تو بات کہنے والے کو بھی عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص گمراہ کرنے والی بات کرے اور لوگ اس پر عمل کریں تو اسے بھی عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا۔

اچھی سنت زندہ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله کے بندوں میں جو ایک اچھی سنت زندہ کرے تو اسے عمل کرنے والوں کی مثل اجر وثواب ملے گا اور عمل کرنیوالوں کا ثواب بھی کم نہ ہوگا اور خدا کی بندوں میں جو غلط رسم ایجاد کریگا تو اسے عمل کرنے والوں کی مثل گناہ ملے گا جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہوں سے بھی کوئی چیز کم نہ ہوگی۔

علم کے مطابق عمل کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے علم کے مطابق عمل کرے گا تو یہ عمل نہ جاننے والی چیزوں کیلئے کفایت کریگا۔

یتیم کی پناہ ، کمزور پر رحم ، والدین پر مہربانی اور غلاموں کیساتھ اچھے سلوک کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں چارکاموں کو انجام دینے والے کیلئے الله جنت میں گھر بناتا ہے جو یتیم کو پناہ دے، کمزور پر رحم کرے ، والدین کیساتھ مہربانی اور شفقت سے پیش آئے اور غلاموں کیساتھ پیار و محبت کا سلوک کرے۔

لوگوں کی آبرو عزت کی حفاظت اور غصے پر کنٹرول کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو لوگوں کی آبرو ریزی نہیں کریگا تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اس پر عذاب نہیں کریگا اور جو لوگوں پر غضبناک نہیں ہوگا تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اسکے گناہوں سے چشم پوشی کریگا۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

جو اپنے غضب وغصّے پر کنٹرول کریگا توالله اسکے عیب پوشیدہ رکھے گا۔

عادل پیشوا، سچے تاجر اور اطاعت گزار بوڑھے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

تین قسم کے لوگوں کو الله حساب کے بغیر جنت میں داخل کریگا۔ عادل پیشوا۔ سچا تاجر اور اپنی زندگی الله کی اطاعت میں گزارنے والا بوڑھا شخص۔

پرانے گناہ کیلئے نئی نیکی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

اپنے نفس کو دھوکہ نہ دے کیونکہ تو اپنے عمل کی سزا و جزاء خود دیکھ لے گا۔ اپنے دن کو ایسے ویسے ضائع نہ کر کیونکہ تیرے ساتھ موجود فرشتے تیرے عمل کو لکھ لیتے ہیں۔ میں نے نئی نیکی کی پرانے گناہ پر تأثیر سے جلد کوئی تاثیر نہیں دیکھی۔ عمل خیر کو چھوٹا نہ سمجھ کیونکہ کل تو دیکھ لے گا کہ یہ تجھے سرور و خوشی بخشے گا۔ کسی شر کو بھی چھوٹا نہ سمجھ کیونکہ کل دیکھ لے گا کہ یہی تجھے اذیت دے گا اور ارشاد رب العزت ہے یقینا نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں اور یہ یاد کرنے والوں کے لئے (بہت بڑی ) یا د آوری ہے۔

چالیس حدیثیں یاد کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا اپنے دینی معاملات میں جس چیز کی احتیاج ہے ، اسکے متعلق میری امت میں جو چالیس حدیثیں یاد کریگا تو قیامت والے دن الله سے فقیہ او رعالم اٹھائے گا۔

ترک گناہ کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا وہ گریہ کررہے تھے۔ فرمایا تم کیوں رو رہے ہو انہوں نے کہا ہم اپنے گناہوں پر آنسو بہار ہے ہیں۔ فرمایا اگر یہ گناہ ترک کردیں تو انہیں معاف کردیا جائے گا۔

مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرا جو بندہ نیکی کیساتھ میرے پاس آئے گا تو میں اس پر اپنی جنت مباح کردونگا حضرت داؤد نے پوچھا وہ کون سے نیکی ہے ؟ فرمایا جب میرے بندے کے پاس کوئی مؤمن آئے تو یہ اسے خوشحال کرے خواہ کجھور کے ایک دانے سے ہی خوشحال کیوں نہ کرے۔ حضرت داؤد نے عرض کی پروردگارا جس نے تجھے پہچان لیا تو وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ اپنی امید تجھ سے نہ توڑے۔

تقوی ، زہد اور نماز میں خدا کی طرف توجہ کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ الله تعالیٰ جس مؤمن کو دنیا میں تقوی اور زہد عطا کرتا ہے میں اسکے لئے جنت کا امیدوار ہوں (یعنی دنیا میں تقویٰ اختیار کرنے والا جنتی ہے) پھر فرمایا مجھے یہ بات محبوب ہے کہ مؤمن واجب نماز میں اپنا دل الله کی طرف متوجہ رکھے اور دنیا کا فکر مند نہ ہو کیونکہ جو مؤمن بھی (واجب نماز میں ) اپنے دل کو الله کی طرف متوجہ رکھے گا توالله بھی اس کی طرف رخ (رحمت) کریگا اور مؤمنین کے دلوں کی محبت کو اسکی طرف پھیر دے گا اور پھر خود بھی اس سے محبت کریگا۔

مؤمن کی پریشانی دور کرنے ، تنگدستی میں نرمی سے پیش آنے ، عیب چھپانے اور مدد کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جومؤمن کسی مؤمن کی پریشانی اور مشکل کو دور کریگا تو الله تعالیٰ اس سے دنیا و آخرت کی ستر پریشانیاں اور مشکلیں دور کریگا جو کسی غریب مؤمن کیساتھ نرمی برتے گا توالله تعالیٰ اسکی دنیا و آخرت کی حاجات میں نرمی برتے گا جو شخص کسی مؤمن کے اس عیب کو چھپائے جس سے یہ خوف کھاتا ہے تو خداوند متعال اس کے وہ ستر عیب چھپائے گا جس سے یہ ڈرتا ہے جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن بھائی کی مدد کرتا ہے تو الله اسکی مددکرتا ہے اس وعظ و نصیحت سے استفادہ کرو اور نیکی کی طرف رغبت رکھو۔

مؤمن کوکھانا کھلانے ، پانی پلانے اورلباس پہنانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جومؤمن ماہ رمضان کی کسی رات میں ، مؤمن بھائی کو کھانا کھلائے گا تو الله تعالیٰ اسے تیس مؤمن غلام آزاد کرنے والے کا ثواب عطا کریگا اور اسی عمل کی وجہ سے الله تعالی کی بارگاہ میں اس کی دعائیں مستجاب ہونگیں۔

( ۲) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں جو کسی بھوکے مؤمن کو کھانا کھلائے تو الله تعالیٰ اسے جنت کے میوے کھانے کو عنایت کرے گا جو کسی پیاسے مؤمن کو پانی پلائے گا تو الله تعالیٰ اسے جنت کے مختوم شربت سے سیراب کریگا اور جو کسی مؤمن کو لباس پہنائے تو الله تعالیٰ اسے شباب خضر (سبز کپڑے ) زیب تن کرنا نصیب کریگا۔

راہ خدا میں مؤمن کو کھانا کھلانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو کسی مؤمن بھائی کو الله کی خاطر کھانا کھلائے گا تو اسے اس شخص کا ثواب ملے گا جو فئام لوگوں کو کھانا کھلائے راوی کہتا ہے میں نے پوچھا فئام کیا ہے ؟ فرمایا ایک لاکھ افراد۔

تین مؤمنوں کو کھانا کھلانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو تین مؤمنین کو کھانا کھلائے گا تو الله اسے تین بہشتوں جنت فردوس ، جنت عدن اور جنت طوبی میں کھانا عطا فرمائے گا طوبی جنت عدن کا ایک درخت ہے جس کو خود خدا نے کا شت کیا ہے۔

مؤمن کو سیر کرکے کھانا کھلانے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کائنات میں الله کے علاوہ ، کوئی مخلوق بھی (خواہ مقرب فرشتے ہوں یا نبی مرسل) الله کی کی طرف سے آخرت میں ملنے والے اس ثواب کو نہیں جانتی جو ایک مسلمان کو سیر کر کے کھانا کھلانے کا ہے۔ معاف کئے جانے کا ایک عمل بھوکے مسلمان کو کھاناکھلانا ہے ، راو ی کہتا ہے کہ پھر امام نے اس آیت کی تلاوت کی یا قحط اور گرسنگی کے دن رشتہ دار یتیم اور خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا

چار مسلمانوں کو سیر کرکے کھانا کھلانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو چار گرسنہ مسلمانوں کو سیر کرکے کھانا کھلائے گا خدا اس کو حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔

بھوکے مومن کوپیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو گرسنہ مسلمان کو سیر کرکے کھانا کھلائے گا خدا بہشت میں اسکے لئے ایسا دستر خوان بچھائے گا کہ اس سے تمام جن وانس (ثقلین) سیر ہوکر اٹھیں گے۔

مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔

جو الله کی خاطر مسلمان غلام کو آزاد کریگا تو الله تعالیٰ اس غلام کے ہر ہر اعضاء کے بدلے اسکے اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزاد کریگا۔

الله کی خاطر نیک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

جو الله کی خاطر کسی نیک اور صالح غلام کو آزاد کریگا تو الله تعالیٰ اس غلام کے ہر ہر اعضاء کے بدلے ، آزاد کرنے والے کے جسم کے اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزادی دیگا۔

مؤمن غلام کو آزاد کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔

جو کسی مؤمن غلام کو آزاد کریگا تو الله ہر عضو کے بدلے میں اسکے اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزادی دیگا اور اگر وہ کنیز ہو تو بھی الله ہردو عضو کے بدلے اسکے ایک عضو کو جہنم کی آگ سے آزادی دیگا کیونکہ عورت کے اعضاء مرد کا نصف ہیں (مثلاً دیت) وراثت وغیرہ۔

مؤمن کو قرض دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جو کسی مؤمن کو قرض دے اور واپسی تک منتظر رہے تو اسکا مال پاکیزہ رہے گا اور قرض کی واپسی تک وہ ملائکہ کے درود و سلام میں رہے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔

جو مسلمان الله کی خاطر کسی دوسرے مسلمان کو قرض دے تو قرض کی و اپسی تک الله اسکے مال کو صدقہ شمار کرکے اس کا ثواب عطا کرتا ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔

قرض کا ثواب اٹھاراں گُنا ہے اگر یہ مرجائے تو یہ مال زکات شمار ہوگا۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔

میں ویسے دینے کے بجائے قرض دینا پسند کرتا ہوں نیز فرمایا جو ایک مدّت کیلئے قرض دیتا ہے لیکن معین وقت پر ادا نہیں ہوتا تو جتنے دن اوپر ہوتے جائیں گے ہر روز ایک دینار صدقہ دینے کا ثواب ملتا رہے گا۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

مجھے ہزار درہم ایک مرتبہ صدقہ کے طور پر دینے کے بجائے دو مرتبہ قرض پر دینا زیادہ پسند ہے نیز جیسا کہ قرض دار کیلئے قدرت رکھتے ہوئے تأخیر کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس پر سختی کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

صدقہ دینے کاثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا ایک عابد شخص نے اسی سال الله کی عبادت کی پھر اسے ایک عورت پسند آئی اور اس نے اس سے نزدیکی کرلی جب اپنا کام کر بیٹھا تو جب ملک الموت آیا تو وہ شخص گونگا ہو گیا اسی لمحے ایک سائل آگیا اس نے اشارے سے کہا کہ میری جیب میں جو روٹی کا ٹکڑا ہے ، اسے لے لے حالانکہ الله تعالیٰ نے اسکا اسی سالہ عمل زنا کی وجہ سے ختم کردیا تھا لیکن اسے ایک روٹی کے ٹکڑے کے عوض معاف کردیا گیا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرے والد کا فرمان ہے کہ قیامت والے دن سب سے پہلے جس چیز کا ثواب ملے گا وہ پانی کو صدقے کے طور پر دینا ہے۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس موجود تھا وہاں بیماری کا تذکرہ ہوا تو فرمایا اپنی بیماریوں کا صدقے سے علاج کرو۔ تم اپنی غذا سے ایک دن کی غذا صدقے پر کیوں نہیں دیتے؟ جب ملک الموت کو کسی کی روح قبض کرنے کا حکم ملتا ہے کہ فلاں کی روح قبض کرو لیکن جب یہ صدقہ دے دیتا ہے تو ملک الموت کو کہا جاتا ہے کہ اسکی روح قبض کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے ایک شخص سے فرمایا آج تم نے روزہ رکھا تھا۔ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا کیا کسی مریض کی عیادت کی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا آیا کسی تشیع جنازہ میں گئے تھے ؟ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا کسی غریب کو کھانا کھلایا تھا ؟ کہا نہیں فرمایا اپنے اہل وعیال کے پاس چلے جاؤ اور انکا بوسہ لو تو یہ تیری طرف سے ان کیلئے صدقہ ہوگا۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ غصہ کھائے بغیر کسی بہرے کو بات سمجھانا بھی ایک عمدہ صدقہ ہے۔

( ۶) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں متواتر چند سال شدید قحط پڑا ایک خاتون نے روٹی کا ایک لقمہ کھانے کیلئے منہ میں رکھا ۔کسی سائل نے صدا دی کہ اے کنیزِ خدامجھے بھوک ! لگی ہے اس عورت نے خودسے کہا کہ مجھے صدقہ دینا چاہیئے روٹی کا لقمہ منہ سے نکال کر اُسے دے دیا اس عورت کا ایک چھوٹا سا بیٹا تھا جو صحراء میں لکڑیاں جمع کرنے گیا ہوا تھا بھیڑ یا آیا اور بچے کو اٹھا کرلے گیا ماں بھیڑیے کے پیچھے بھا گی اس وقت الله تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو بھیجا اور اس نے بچے کو بھیڑیے کے منہ سے نکال کر اسکی ماں کو دے دیا اور حضرت جبرائیل نے کہا اے کنیزِ خدا اس لقمے (جو تو نے سائل کو دیا تھا ) کے بدلے اس لقمے ( جو بھیڑیے کے منہ سے نکالا گیا ہے ) پر راضی ہے ۔

( ۷) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص رات یا دن میں صدقہ دیتا ہو (خواہ دن یا رات ) تو الله اس سے غم ، درندوں اور بری موت کو دور رکھتا ہے۔

( ۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا صدقہ بری موت سے بچاتا ہے ۔

( ۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

مؤمن کے سایہ کے علاوہ قیامت کی زمین آگ ہے بیشک اسکا صدقہ ہی اسکا سائبان ہوگا۔

( ۱۰) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے پوچھا گیاکہ مالدار آدمی کے لئے مال کا صدقہ دینا افضل ہے یا غلام خرید کر (آزاد کرنا) فرمایا۔

مجھے صدقہ دینا زیادہ پسند ہے۔

( ۱۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ نیکی اور صدقہ فقر کو دور کرتا ہے، عمر بڑھا تا ہے اور صدقہ دینے اور نیکی کرنے والے سے ستر قسم کی بری موت دور ہوتی ہے ۔

( ۱۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا۔

میں نے ایک دن ایک دینار صدقہ دیا تو حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا اے علی (علیہ السلام) کیا نہیں جانتے ! مؤمن ابھی اپنے ہاتھ سے صدقہ نہیں دے پاتامگر یہ کہ ستر شیطانوں کو گردن کو رہا کیا جاتا ہے ۔ وہ سب ملکر کہتے ہیں تم ایسا نہ کرو۔ یہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے الله کے ہاتھ میں آتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی کیا تم نہیں جانتے کہ الله ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقے لیتا ہے بیشک الله بہت زیادہ توبہ قبول کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔

( ۱۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ایک غلام آزاد کرنے کے بجائے حج ادا کروں پھر آپ ایک ایک گنتے ہوئے دس غلام آزاد کرنے تک پہنچے اور پھر دس دس گنتے ہوئے ستر غلام آزاد کرنے کا فرمایا اس طرح مزید فرمایا کہ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں ایک مسلمان گھرانے کی سر پرستی کرتے ہوئے انہیں کھانا کھلاؤں لباس پہناؤں اور انکی عزت و آبرو کی حفاظت کروں بجائے اس کے کہ میں ایک حج ادا کروں پھر آپ ایک ایک گنتے ہوئے دس تک پہنچے اور پھر دس دس گنتے ہوئے ستر حج تک پہنچے ( یعنی ستر حج کے بجائے ایک خاندان کی سر پرستی زیادہ پسند ہے )۔

( ۱۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

اگراسی افراد ملکر کوئی اچھا کام کریں تو کسی کا ثواب کم ہوئے بغیر سب کو جدا گانہ ثواب ملے گا۔

( ۱۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

بے نیازی کی حالت میں ادا کیئے جانے والا صدقہ افضل صدقہ ہے ۔

( ۱۶) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) یا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کونسا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا۔ تھوڑے مال کا صدقہ۔ کیا تم نے الله کا یہ فرمان نہیں سنا کہ دوسروں کو خود پر مقدم رکھو اگر چہ خود بھی اس کے محتاج ہو۔ کیا اب تم نے اسکی فصیلت ملاحظہ کرلی ہے؟۔

( ۱۷) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

ہاتھ سے صدقہ دینا بری موت ،اور ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے اور ستر شیطانوں کے دھان کھل جاتے ہیں اور وہ سب کہتے ہیں تم یہ کام نہ کرو۔

( ۱۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا سے پوچھا گیا کہ کونسا صدقہ بہتر ہے ۔

فرمایا

دشمن رشتہ دار کو صدقہ دینا بہتر ہے۔

( ۱۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو ماہ رمضان میں صدقہ دے گا تو الله تعالیٰ اس سے ستر بلائیں دور کرے گا ۔

( ۲۰) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ جو لوگ دروازے پر مانگنے آتے ہیں کیا انہیں صدقہ دیا جائے یا ان کے بجائے قریبی دشتہ داروں کو دیا جائے ؟

فرمایا۔

قریبی رشتہ داروں کو دو ، اس کا زیادہ ثواب ہے۔

( ۲۱) راوی کہتا ہے کہ

حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام)یوم عرفہ کسی سائل کو خالی واپس نہ پلٹاتے تھے۔

( ۲۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جمعہ والے دن خیر و شر (دونوں) کی اجر و سزا برابر ہوتی ہے ۔

( ۲۳) ایک سائل جمعرات کی شب حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)کے پاس آیا آپ نے اسے وآپس بھیج دیا اور پھر اہل مجلس کی طرف دیکھکر فرمایا۔

میرے پاس اتنا موجود تھا کہ میں اسے صدقہ کے طور پر دے دیتا لیکن جمعہ والے دن ادا کیئے جانے والا صدقہ کئی گنا ہوتا ہے۔

پنھان صدقہ دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)روایت کرتے ہیں کہ حضرت زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا چھپا کر صدقہ دینا الله کے غضب کو ختم کر دیتا ہے۔

آشکار صدقہ دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں واضح طور پر دیا جانے والا صدقہ ستر بلاؤں کو دور کرتا ہے اور پوشیدہ طور دیا جانے والا صدقہ الله کے غضب کو ختم کرتا ہے۔

رات کے وقت صدقہ دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رات کو دیا جانے والا صدقہ بُری موت اور ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے ۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا رات کا صدقہ الله کے غضب کو ختم کرتا ہے۔

دن میں دیئے جانے والے صدقے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ دن میں دیئے جانے والا صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح پانی نمک کو ۔ رات کا صدقہ الله کے غضب کو ختم کرتا ہے۔

( ۲) معّلی بن خنیس کہتے ہیں کہ ایک رات حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) بارش میں گھر سے نکلے میں ان کے پیچھے چل دیا راستے میں حضرت کے ہاتھ سے ایک چیز گری۔ آپ نے بسم الله پڑھ کر کہا پروردگارا میری گمشدہ چیز مجھے لوٹا دے۔ میں ان کے پاس گیا اور سلام کیا آپ نے فرمایا کیا تم معلی ہو ! میں نے کہا جی ہاں۔ میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، فرمایا زمین پر ہاتھ پھیر کر دیکھو اگر کوئی چیز ملے تو مجھے بتا نا میں نے جب ڈھونڈ نکالا دیکھا تو روٹیوں کی تھیلی ہے میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں میں اسے اٹھا لیتا ہوں فرمایا میں اسے اٹھا نے کیلئے تجھ سے زیادہ سزاوار ہوں لیکن تم میرے ساتھ آؤ ہم دونوں ملکر بنی ساعدہ کے سائبان کی طرف گئے وہاں کچھ لوگ سو رہے تھے حضرت نے سب کے بستر کیساتھ ایک یا دو روٹیاں رکھیں و اپس آتے ہوئے میں نے حضرت سے عرض کی کیا یہ مذہب حقّہ کیساتھ تعلق رکھتے ہیں ؟ فرمایا اگر مذہب حقّہ پر ہوتے تو نمک بھی ساتھ لیجاتا الله کی کوئی مخلوق ایسی نہیں جسے کوئی ذخیرہ کرنے والا نہ ہو مگر صدقہ یہ فقط الله کے ہاتھ میں ہے مزید فرمایا میرے والد جب صدقہ دیتے تو پہلے سائل کے ہاتھ میں رکھتے اور پھر اسکے ہاتھ سے لیکر اسے بوسے دیتے اور اسکی خوشبو سونگھتے اور پھر سائل کو لوٹا دیتے ایسا اسلئے کرتے تھے کیونکہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے الله کے ہاتھ میں آتا ہے مزید فرمایا مجھے اچھا لگتا ہے کہ جو کچھ الله کے ہاتھ میں پہنچا ہے میرے ہاتھ بھی آئے کیونکہ صدقہ الله کے ہاتھ میں پہنچنے کے بعد سائل کے ہاتھ آتا ہے اسی طرح تاریکی میں صدقہ دینا ، الله کے غضب اور کبیرہ (بڑے) گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور حساب کو آسان بناتا ہے اور دن کا صدقہ مال اور زندگی میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا جب دریا کے ساحل سے گزر ہوا تھا تو انہوں نے اپنا کھانا دریا میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت آپ کے ایک حواری نے کہا اے روح الله ،اے کلمة الله آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ یہ تو آپ کا کھانا تھا ؟ فرمایا میں نے ایسا اسیلئے کیا ہے تا کہ اسے سمندر کے جانور کھائیں۔ اور اس کا الله کی بارگاہ میں بہت ثواب ہے۔

صدقہ دینے والے کو دعا کرنے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا۔ جب کوئی شخص کسی ناتواں مسکین کو صدقہ دے اور مسکین اسے دعائیں دے تو اسی لمحے دعا مستجاب ہوگی۔

مقروض کو مہلت دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمدباقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

قیامت والے دن کچھ لوگ عرش کے سائے میں منور چہروں اور نورانی لباس زیب تن کیئے ہونگے نوارنی کرسیوں پربیٹھے ہونگے تو لوگ انہیں دیکھکر کہیں گے کیا یہ پیغمبر ہیں !!؟

منادی عرش کے نیچے سے ندادے گا یہ پیغمبر نہیں ہیں۔ لوگ کہیں گے یہ شہداء ہیں !!؟ پھر منادی عرش کے نیچے سے ندا دے گا یہ شہداء نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ مومنوں کیساتھ نرمی برتے تھے اور تنگدست مقروض کو مہلت دیا کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ جب قرض ادا کرنے پر قادر ہونا ، ادا کردینا ۔

قرض معاف کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی۔

عبدالرحمن بن سیابہ نے ایک شخص سے کچھ پیسے لینے تھے اور وہ مر گیا تھا ہم نے اس سے بات کی کہ مقروض کا قرض معاف کردے ، لیکن وہ نہ مانا۔

حضرت نے فرمایا اس پر افسوس ہے کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ معاف کرنے والے ہر درہم کا دس برابر اجر ملے گا۔ اب معاف نہ کرنے کی صورت میں اسے ایک درہم کا ایک درہم ہی ملے گا۔

مسلمان بھائی کی عزت و آبرو کی حفاظت کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جو اپنے مسلمان بھائی کی عزت و آبرو کی حفاظت کریگا اس پر حتماً جنت واجب ہے۔

مؤمن بھائی کی حاجات کی بر آوری مشکلات کی دوری ، ظلم کے خلاف مدد، حاجت کے وقت تعاون، پیاسے کی سیرابی ، بھوک میں کھلانے کپڑے پہنانے ، سوار کرانے ، کفایت کرنے، کفن دینے ، شادی کرنے اوربیمارکی عیادت کرنے کا ثواب۔

( ۱) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ مومن بھائی کی حاجت پوری کرنے والا گویا ا لله کی حاجت سے آغاز کرتا ہے تو الله تعالیٰ اس کام کے بدلے اسکی ایک سو حاجتیں پوری کریگا جن میں ایک جنت ہے۔ جو کسی مؤمن بھائی کی مشکلات کو دور کریگا تو الله قیامت والے دن اسکی مشکلات کو دور کریگا خواہ کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ جو کسی ظالم کے خلاف مؤمن بھائی کی مدد کریگا تو الله تعالیٰ قدموں کے لڑکھڑانے سے اسکی مدد کریگا تا کہ وہ پل صراط سے عبور کرسکے۔ جو کسی کی حاجت روائی کرنے کی کوشش کریگا یہاں تک کہ اسکی آرزو پوری ہو جائے اور وہ خوش ہوجائے تو گویا اس نے حضرت رسول خدا کو خوشحال کیا ہے۔ جو کسی پیاسے کو سیراب کریگا تو الله تعالیٰ اسے شربت مختوم (منہ بند) سے سیراب کریگا۔ جو کسی بھوکے کو کھاناکھلائے تو الله اسے جنت کے میوے کھلائے گا۔ جو کسی بے لباس کو لباس پہنائے گاتوالله اسے استبرق اور حریر کے لباس عطا کریگا۔ جو بے لباس کے علاوہ کسی کو لباس پہنائے گا تو جب تک وہ ان کپڑوں کو پہنے رکھے گا اوراسکا ایک دھاگہ بھی باقی رہے گا تو یہ الله کی کفالت میں ہوگا۔ جو کسی کی آبرو کی حفاظت کرے گا اور اسکی مدد کرے گا تو الله قیامت والے دنولدان مخلدین ہمیشہ جنت میں رہنے والے بچے سے اسکی خدمت کروائے گا جو کسی کو اپنی سواری پر بٹھائے گاتو اللہ قیامت والے دن اس کو ایک بہشتی اونٹ پر موقف پر لائے گا جسے دیکھکر فرشتے فخر و مباحات کریں گے۔ جو مرنے کے بعد مؤمن بھائی کو کفن پہنائے گا گویا جس دن ماں سے متولد ہوا تھا مرتے دم تک اس کو پہنا ہوا ہے۔ جو شخص کسی کی محبت کرنے اور تسکین قلب عطا کرنے والی بیوی سے شادی کرائے گا تو الله تعالیٰ اسے قبر میں اہل وعیال کو مانوس کرنے والا خوب صورت چہرہ عطا کریگا۔ جو بیماری میں کسی مومن کی عیادت کریگا تو فرشتے اسکے ارد گرد جمع ہو کر اسکے لئے دعا کریں گے یہاں تک کہ وہ عیادت سے واپس آجائے پھر فرشتے اس سے کہیں گے تو پاگ ہو گیا ہے تجھے پاکیزہ جنت مبارک ہو۔ خدا کی قسم میں کسی کی حاجت روائی کو عظمت والے مہینوں میں ، اعتکاف میں بیٹھکر مسلسل دو ماہ روزے رکھنے سے زیادہ محبوب سمجھتا ہوں۔

مؤمن بھائی کی زیارت ، مصافحہ اور گلے ملنے کا ثواب

( ۱) اسحاق بن عمار کہتے ہیں جب میں کوفہ میں تھا تو بہت سے مؤمنین مجھے ملنے آئے۔ مجھے شہرت پسند نہ تھی۔ خاص طور پر شیعہ ہونے کے لحاظ سے شہرت پسند نہ تھی۔ لہذا میں نے اپنے نوکر سے کہا جو مجھے ملنے آئے تم کہہ دینا کہ میں نہیں ہوں۔ اسی سال حج پر گیا تو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا۔ ان کا برتاؤ پہلے کی طرح نہ تھا بلکہ آپ ناراض ہوئے۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا جاؤں آپ کا رویّہ سخت کیوں ہے۔ فرمایا چونکہ تو مومنین کیساتھ نامناسب برتاؤ رکھتا ہے۔ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں میں شہرت سے خائف تھا وگرنہ خدا جانتا ہے مجھے ان سے کتنی محبت ہے ؟فرمایا اسحاق مؤمنین کی زیارت سے چہرے پر ملال نہ لایا کر۔ جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن سے ملتے وقت مرحبا کہتا ہے تو الله تعالیٰ قیامت تک اس کے لئے مرحبا لکھ لیتا ہے۔ جب وہ مصافحہ کرتا ہے تو الله تعالیٰ ان کی انگلیوں کے درمیان ایک سور حمتیں نازل کرتا ہے ان میں ننانوے اپنے دوست سے زیادہ محبت کرنے والوں کیلئے ہیں۔ اس کی دوست سے زیادہ محبت اور توجہ کی وجہ سے الله تعالیٰ اس کی طرف رخ فرمائے گا۔ اور جب مؤمنین آپس میں گلے ملتے ہیں تو الله کی رحمت میں ڈوب جاتے ہیں اور جب یہ الله کی خاطر ، (نہ کہ دنیاوی ہدف و مقصد کی خاطر)ایک دوسرے کے پاس کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں کہا جائے گا الله نے تمھیں معاف کردیا گیا ہے لہذا اپنا عمل نئے سِرے سے شروع کرو۔ جب یہ ایک دوسرے سے احوال پرسی کرتے ہیں تو فرشتے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ان سے دور ہو جائیں ان کے کچھ راز ہیں جنہیں الله نے بھی چھپارکھا ہے۔ میں نے عرض کی آپ پر فدا جاؤں وہ ہماری گفتگو کیوں نہیں لکھتے جبکہ الله نے فرمایا ہے (انسان)کوئی لفظ نہیں کہتا مگر نگہبان اسکے سامنے آمادہ ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے کہ فرزند رسول خدا نے سرد آہ لی پھر اتنا گریہ کیا کہ ریش مبارک آنسوؤں سے بھیگ گئی۔ اور فرمایا اے اسحاق الله تعالیٰ ملائکہ کو اسلئے ندا دیتا تا کہ انہیں ملاقات کے وقت مؤمنین سے مخفی کر دے اور ملائکہ اسکی گفتگو نہیں لکھتے اور نہ ہی اسکی گفتگو سے آگاہ ہوتے ہیں انکی گفتگو کو فقط عالم سرو اخفاء کا نگہبان (خدا)ہی جانتا ہے۔ اے اسحاق خدا سے اس طرح ڈرو گو یا اسے تم دیکھ رہے ہو کیونکہ اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تو ، تمھیں قطعی طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ خیال کرے کہ وہ تجھے نہیں دیکھتا تو ، تو کافر ہوگا اور اگر یہ عقیدہ ہے کہ الله تجھے دیکھ رہا ہے اور تم اپنے گناہوں کو دوسری مخلوق سے پنھان کرو اور الله کے سامنے آشکار کرو تو پھر تم نے اس کو انتہائی کم دیکھنے والوں میں شمار کرکیا ہے ۔

مؤمن کی نصرت ومدد کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو کسی مظلوم مؤمن کی مدد کریگا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھنے اور مسجدالحرام میں اعتکاف بیٹھنے والوں سے افضل ہے اور جو کسی مؤمن بھائی کی نصرت پر قادر ہو اور اس کی مدد کرے تو الله تعالیٰ اسکی دنیا و آخرت میں نصرت کریگا۔ جو کسی مؤمن کی نصرت پر قدرت رکھنے کے باوجود اسکی مدد نہ کرے تو الله بھی دنیا و آخرت میں اسکی مدد نہ کرے گا۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کسی کے سامنے مؤمن بھائی کی غیبت ہو رہی ہو اور وہ اسکا دفاع کرتے ہوئے اسکی مدد کرے تو الله دنیا و آخرت میں اسکی مدد کریگا اور جس کے سامنے مؤمن کی غیبت ہو اور وہ اسکی مدد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی اسکا دفاع اور مدد نہ کرے تو الله تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں حقیر سمجھے گا۔

لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں دو دینار صدقہ دینے کے بجائے دو دوستوں میں صلح کروانا زیادہ محبوب رکھتا ہوں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میں ایک سال کے نماز روزوں سے بڑھکر دو دوستوں میں صلح کرانے کو پسند کرتا ہوں۔

مسلمان کی فریاد پر پہنچنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔

جو کسی مسلمان کی فریاد کو پہنچ کر اسے غم و غصّہ اور پریشانی سے نجات دلائے تو الله اسکے لئے دس نیکیاں لکھتا ہے ، دس درجات بلند کرتا ہے ،دس غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرتا ہے ، دس مشکلیں دور کرتا ہے اور قیامت والے دن دس شفاعتیں نصیب کرتا ہے۔

گفتگو میں کسی مسلمان کی تکریم کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جو گفتگو میں کسی مسلمان کی تکریم کریگا تو الله اس سے لطف و محبت کریگا ، اسکی پریشانیاں دور کریگا اور جب تک ایسا کرتا رہے گا تو وہ رحمت خداوندی کے سایہ میں رہے گا۔

مشکلات میں مسلمان بھائی کی فریاد کو پہنچنے اور اسکی حاجات میں تعاون کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔

جو مشکلات کے وقت کسی مؤمن بھائی کی فریاد کو پہنچے اور اسکی مشکلات کو دور کرے اسکی حاجتیں پوری کرنے میں اسکے ساتھ تعاون کرے تو اس عمل کے بدلے میں اس پر الله کی بہتر رحمتیں ہونگیں ان میں سے ایک رحمت کیساتھ خدا اسکی زندگی کی اصلاح کریگا اور باقی اکہتر رحمتیں قیامت کے خوف اور وحشت کیلئے ذخیرہ کر دے گا۔

مؤمن کی پریشانی دور کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

جو کسی مؤمن کی پریشانی دور کریگا الله اس سے آخرت کی پریشانی دور کریگا اور اسے سکون قلب کیساتھ قبر سے نکالے گا۔ جو بھوک میں کسی مسلمان کو کھانا کھلائے گا تو اسے جنت کے پھل کھانے نصیب کریگا ۔

اور جو کسی پیاسے کو پانی پلائے گا تو الله اسے شراب مختوم (مندبند) سے سیراب کریگا۔

مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو کسی مؤمن کو خوش کریگا تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اسے خوشحال کرے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ جو بھی پسند ہو خدا سے مانگو کیونکہ دنیا میں تجھے محبان خدا کو خوشحال رکھنا پسند تھا۔

لہذا تیری جو تمنا ہے وہ عطا کریگا اور الله جنت کی اتنی نعمتیں عطا کرے گا جو تیرے خواب و خیال میں بھی نہیں ہیں۔

ایک مؤمن خاندان کو خوشحال کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔

جو کسی مؤمن گھر انے کو خوشیاں نصیب کرتا ہے تو الله تعالیٰ ا ن خوشیوں سے ایک مخلوق پیدا کرے گا جسے قیامت والے دن اس جگہ لایا جائے گا۔

جہاں اسے کوئی مشکل اور پریشانی لاحق ہوگی اور وہ اسے کہے گی اے محبوب خدا نہ گھبرا۔ یہ کہے گا الله تجھ پر رحمت نازل کرے تم کون ہو ؟ اگر پور ی دنیابھی میرے پاس ہوتی تو وہ تیرے مقابلے میں کچھ نہ تھی یہ کہے گی میں وہ خوشی ہوں جو تم نے فلاں خاندان اور گھرانے کو عطاکی تھی۔

مؤمن بھائی کو خوشیاں دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله جب کسی مؤمن کو قبر سے اٹھائے گا تو اس کیساتھ ساتھ اسکی شبیہ کو بھی قبر سے نکالے گا جو اسکے آگے آگے ہوگی۔ جہاں بھی مؤمن قیامت کی کسی وحشت کو دیکھے گا تو یہ شبیہ اور مثال اس سے کہے گی غمگین نہ ہو خوف نہ کھا الله کی طرف سے تجھے تکریم اور خوشحالی کی بشارت ہو اور یہ اسے الله کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک مسلسل خوشخبریاں دیتی رہے گی۔ اس سے آسان حساب و کتاب ہوگا اور اسے جنت میں جانے کا حکم دیا جائے گا اور شبیہ اس کے آگے آگے ہوگی۔ مؤمن اس سے کہے گا الله تجھ پر رحمت کرے تو میرے ساتھ میری قبر میں تھی ، میرے ساتھ قبر سے باہر آنے والی کتنی اچھی چیز ہے کہ جب سے میں نے تجھے دیکھا ہے تو مسلسل مجھے عظمت اور خوشخبریاں دیئے جارہی ہے بتاؤ تو سہی ، کون ہو تم ؟ وہ جواب دے گی میں وہی خوشی ہو جو تم نے مؤمن بھائی کو عطاکی تھی الله نے مجھے اسی سے پیدا کیا ہے تا کہ میں تجھے خوشخبریاں دوں۔

مؤمن کو اتنا صدقہ دینے کا ثواب کہ جس سے وہ سیر ہوجائے

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان شخص کو اتنا صدقہ دینا کہ جس سے وہ سیر ہو سکے یہ مجھے ایک أفق افراد کو کھانا کھلانے سے زیادہ محبوب ہے راوی نے پوچھا أفق سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگ۔

مؤمن کو مٹھائی کھلانے کا ثواب

( ۱) داؤد رقی کہتے ہیں کہ میری بیوی رباب نے بتایا کہ ایک دن میں کجھور کا حلوہ تیارکرکے امام جعفر صادق کی خدمت میں لے گئی آپ نے خود بھی تناول فرمایا اور اپنے اصحاب کو بھی دیا اور میں نے ان سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی مؤمن کو مٹھائی کا ایک لقمہ کھلائے گا تو الله اس سے روز قیامت کی تلخی دور کریگا۔

مؤمن کا جھوٹا پینے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ معصوم نے فرمایا ۔

جو کسی مؤمن کا جھوٹا تبرک سمجھ کر پیئے گا تو الله تعالیٰ ان دونوں کیلئے ایک فرشتہ خلق کریگا جو قیامت تک ان کے لئے استغفار کرتا رہے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

مؤمن کے جھوٹے میں ستر بیماریوں کی شفاء ہے۔

مؤمن پر لطف کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔

جو الله کی خاطر اپنے بھائی سے کسی قسم کا لطف و محبت کرے گا تو الله بہشتی خدمتگاروں کو اسکی خدمت پر مأمور کریگا۔

الله کی خاطر مؤمن سے استفادہ کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔

جو الله کی خاطر کسی بھائی سے استفادہ کرے تو الله اسے جنت کے ایک گھر سے استفادہ کر نا نصیب کریگا۔

مؤمن کو خوشحال کرنے کی خاطر ملنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں ۔

جو مؤمن کی خوشحالی کیلئے اس سے ملاقات کرے گا تو الله اسے قیامت والے دن خوشحال کریگا اور جو کسی مؤمن کی ناراحتی کیلئے اس سے ملنے جائے تو الله تعالیٰ قیامت والے دن اسے ناراحت کریگا۔

مسلمان کو عطر لگانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو کسی مسلمان کو عطر لگائے گا تو قیامت والے دن الله تعالیٰ اسکے ہر بال کے بدلے میں نور عطا کریگا۔

ایک دوسرے کیساتھ خدا کی خاطر محبت کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا ۔

الله کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے قیامت کے دن نور کے منبروں پر بیٹھے ہونگے انکے چہرے اور جسم منور ہونگے نیز منبروں کا نور ہر چیز کو منور کررہا ہوگا اور لوگ انہیں الله کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کے عنوان سے پہچانتے ہونگے ۔

کسی وادی میں داخل ہوتے وقت ذکر خدا کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔

جو شخص کسی وادی میں جائے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر ذکرِ خدا اور دعا کرے الله تعالیٰ پوری وادی کو نیکیوں سے بھر دیگا خواہ اس میں کوئی بڑا ہو یا چھوٹا۔

سوتے وقت اِنَّ الله یُمسِک السَمٰواتِ پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) اپنے آباؤاجداد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔

جو سوتے وقت درج ذیل آیت کی تلاوت کریگا تو اسکا گھر (کبھی)خراب نہ ہوگاإنَّ الله یُمْسِک السَّمَوٰاتِ وَالْأرضَ أَنْ تَزُولاَ وَلَئِنْ زَاَلتَا إنْ اَمْسَکَهُمَا مِنْ أحْدٍ مِنْ بَعْدِهِ إنّهُ کَانَ حَلیماً غَفُوراً ۔

اذان صبح اوراذان مغرب کے وقت درج ذیل دعا پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو صبح یا مغرب کی اذان سننے کے بعد درج ذیل دعا پڑھے اور اس دن یارات کو مرجائے تو توبہ کرکے مرا ہےاَللَّهُمّ إنّی اَسْئَلُکَ بِإقْبَالِ نهَارِک وَ أدْبَارِ لَیْلِک وَحُضُورِ صَلَوا تِک وَ اَصْوَاتِ دُعَائِک أنْ تَتُوبَ عَلَیَّ إنَّکَ أنْتَ التَّوابُ الرّحِیمُ

یہ جانتے ہوئے الله سے دعا مانگنے کا ثواب کہ الله نفع اور ضرر کی قدرت رکھتا ہے

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔ جو شخص مجھ سے یہ جان کر سؤال کرے کہ صرف میں ہی ضرّر اور نفع دے سکتا ہوں تو میں اسکی دعائیں مستجاب کرونگا۔

سوتے وقت درج ذیل دعا پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو سوتے وقت تین مرتبہاَلْحَمْدُللهِ الّذِی عَلاَ فَقَهَرَ وَ الْحَمْدُ للهِ ِ الّذِی بَطَنَ فَخَبَرَ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِی مَلَک فَقَدَر وَالْحَمْدُ لله الّذِی یُحْیِی الْمُوتٰی وَ یُمِیْتُ الْاَحْیَاءَ وَ هُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیرٍ پڑھے گا تو ماں کے بطن سے پیدا ہونے والے دن کی طرح گناہوں سے پاک ہو جائے گا۔

مسلمان بھائی کے لئے اسکی عدم موجودگی میں دعا کرنے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو کسی مسلمان بھائی کے پشت پیچھے دعا کریگا تو یہ اس کے رزق میں وسعت لائے گا۔ اس سے بلائیں دور ہونگیں اور دعا کرنے والے سے فرشتے کہیں گے جو کچھ تو نے اپنے بھائی کیلئے چاہا ہے تجھے اس کے دو برابر عطا ہوگا۔

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی محبت اور ان پر درود وسلام بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر درود پانی کے آگ کو ختم کرنے سے زیادہ جلدی گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور حضرت پر سلام کرنا چند غلاموں کو آزاد کرنے سے بہتر ہے نیز حضرت سے محبت، جانیں فدا کرنے اور الله کی راہ میں تلوار چلانے سے بڑھکر ہے ۔

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایک مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جب بھی حضرت کا تذکرہ ہو تو کثرت سے ان پر درود بھیجو۔ جو حضرت پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو خدا فرشتوں کی ایک ہزار صف میں ایک ہزار مرتبہ اس پر صلوات بھجے گااور الله کی پیدا کردہ کائنات کی ہر چیز اس پر الله اور ملائکہ کے درود کی خاطر اس پر درود بھیجے گی جاہل مغرور سے اللہ اور رسول بیزار ہیں،لہذا جاہل اور مغرورکے علاوہ کوئی بھی حضرت پر درود بھیجنے سے نہیں کتراتا۔

بحق محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کہہ کر الله سے مانگنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ انسان ستر خریف تک جہنم میں رہے گا اور ہر خریف سترسال کا ہوگا لیکن جب وہ کہے گا پروردگارا محمد و اہل بیت محمد کے حق کے واسطہ مجھ پر رحم فرما تو الله حضرت جبرائیل پر وحی کریگا کہ نیچے جاکر میرے بندے کو آگ سے نجات دو۔ حضرت جبرائیل کہیں گے پروردگارا میں کس طرح آگ میں اتروں ؟ تو الله فرمائے گا کہ میں نے اسے حکم دیا ہے تجھ پر ٹھنڈی ہو جائے اور تجھے کوئی ضرّر نہ پہنچائے حضرت جبرائیل کہیں گے پروردگارا مجھے بتا تیرا بندہ کہاں ہے ؟الله فرمائے گا وہ سجّیل جیسے آگ کے کنویں میں ہے حضرت جبرائیل وہاں جاکر اسے آگ سے نکالیں گے۔ الله پوچھے گا میرے بندے کتنا عرصہ جہنم میں رہے ہو۔ وہ کہے گا پروردگارا اس کا شمار میرے بس میں نہیں۔ الله فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی قسم اگر اس طرح سؤال نہ کرتا تو میں تجھے جہنم کی ذلت و خواری میں ہی رکھتا لیکن چونکہ میں نے اپنے اوپر ضروری قرار دے رکھا ہے کہ جو بندہ محمد و اہل بیت محمد کے حق کا واسطہ دیکر سوال کریگا تو میرے اور اسکے درمیان جتنے گناہ ہونگے معاف کردونگا۔ آج میں نے تیرے بھی سب گناہ معاف کردئیے ہیں۔


ثواب الاعمال ۶

پیامبر اسلام پر درودبھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

قیامت والے دن میں اعمال کے ترازو (میزان) کے پاس ہونگا جس کے گناہ اسکی نیکیوں پر بھاری ہونگے تو اس شخص نے مجھ پر جو درود و سلام بھیجے تھے وہ ترازو میں رکھ کر اس کو سنگین تر کرونگا۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کی۔

جب میں خانہ خدا میں داخل ہو ا تو حضرت پر درود کے علاوہ مجھے کوئی دعا یا د نہیں آرہی تھی ؟ فرمایا خدا کے گھر کسی نے بھی تجھ سے بہتر عمل انجام نہیں دیا۔

( ۳) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جبتک محمد و آل محمد پر درود نہ بھیجا جائے تو کوئی دعا آسمان تک نہیں پہنچ سکتی۔

فجر کے بعد محمد وآل محمد پر سو مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا ۔

کیا چاہتے ہو کہ تجھے کوئی چیز کی تعلیم دوں کہ جس سے تیرا چہرہ جہنم کی حرارت سے محفوظ رہے میں نے عرض کی۔ جی ہاں۔

فرمایا۔ (نماز) فجر کے بعد سو مرتبہ کہا کرو

اَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّدٍ

تا کہ الله تعالیٰ تیرے چہرے کو جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے ۔

محمد و آل محمد پر درود بھجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میں نے آسمانی صحیفے میں پڑھا ہے جو محمد وآل محمد پر درود بھیجے گا تو الله اس کے لئے ایک سو نیکیاں لکھے گا اور جو شخص کہےاَللَّهُمّ صَل عَلیٰ مُحَمْدٍ وَ أهْلِ بَیْتِهْ تو الله اسکے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھے گا۔

روز جمعہ حضرت پر سو مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جو روز جمعہ مجھ پر سور بار درود بھیجے گا خداوند متعال اسکی دنیا اور آخرت میں تیس تیس یعنی، ساٹھ حاجتیں پوری کریگا۔

بعد از نماز صبح اور مغرب إنَّ الله کہنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔

نماز صبح اور مغرب کے بعد کسی سے بات کرنے اور مصلے سے اٹھنے سے پہلے جو یہ پڑھے گا

إنَّ الله وَ مَلاٰئِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلیٰ النَّبِیْ یٰا أَیُّها الّذِینَ اَمَنُوا صَلّواُ علیه وَ سَلِّمُوا تَسْلِیما اَللّهُمَ صَلِّ علیٰ مُحَمّدٍ النَّبِی وَ ذُرِّیَّتِهِ

تو الله تعالیٰ اسکی ایک سو حاجتیں پوری کریگا جسمیں سے ستر دنیا میں اور تیس آخرت میں پوری ہونگیں میں نے عرض کی الله ، فرشتوں اور مؤمنین کے درود سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ، خدا کا درود نزول رحمت ہے فرشتوں کا درود حضرت کی مدح و ثنا ہے اور مؤمنین کا درود حضرت کیلئے دعا ہے حضرت رسول خدا اور انکی آل پر درود بھیجنے کا ایک راز اس دعا میں ہے

اَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدفِی الْأوَّلِینَ ، وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّد فِی الْأَخِرِیْنَ اَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدفِی الْمَلاءِ الأعْلٰی وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد فِی الْمُرْسَلِیْنَ اَللّهّمَّ اعْطِ مُحَمّداً الوَسِیْلَةَ وَ الشَّرَفَ وَ الْفَضِیلَةَ وَ الدَّرَجَةَ الْکَبِیرةَ اَللَّهُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍوَلَمْ اَرَه فَلَا تَحْرِمْنِی یَوْمَ القِیَامِهِ رُؤیَتَهُ وارْزُقْنيصُحْبَته وَ تَوَ فَّنِی عَلیٰ مِلَّتِهِ واَسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَباً رَویّاً سَائغاً هَنِیئًا لاَ اظمَأ بَعْدَه اَبَداً إنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیءِ قَدِیر اللَّهُمَّ کَمَا آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَ لَمْ ارَه فَعَرِفْنِی فِی الجِنَانِ وَجْهَهُ اَلَّلهُمَّ بَلّغْ رُوْحَ مُحَمَّدٍ عَنّیِ تَحِیْةً کَثیرَةً وَ سَلاَ ماً

جوشخص ہر روز صبح شام تین مرتبہ درود بھیجے گا اسکے گناہ ختم اور خطا ئیں معاف ہو جائیں گے۔ ہمیشہ خوشحال رہے گا۔ دعائیں مستجاب ہونگیں۔ آرزوئیں پوری ہونگیں۔ رزق زیادہ ہوگا۔ دشمن کے مقابلے میں مدد ہوگی۔ خیر کے اسباب مہیا ہونگے اور اعلی بہشتوں میں انبیاء کی رفاقت نصیب ہوگی۔

ایک تہائی یا آدھی یا پوری دعا پیغمبر کیساتھ مختص کرنے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ۔ ایک شخص حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میں نے اپنی ایک تہائی دعا آپ کیساتھ مختص کی ہے فرمایا تیرے لئے بھلائی ہو پھر کہا میں نے اپنی آدھی دعا کو آپ کیساتھ مختص کیا ہے فرمایا اچھا کام کیا ہے پھر کہا اگر میں اپنی پوری دعا آپ کے ساتھ مختص کرتا ہوں فرمایا الله تیری دنیا وآخرت کی تمام حاجتیں بر لائے گا۔ اس وقت ایک مرد نے عرض کی الله آپ کو دین میں موفق رکھے ایک شخص کس طرح اپنی دعا حضرت کیساتھ مختص کرسکتا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نے فرمایا خدا سے کچھ مانگنے سے پہلے محمد و آل محمد پر درود بھیجے۔

حضرت پر درود بھیجنے کے بعد اہل بیت پر درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں ۔ایک دن حضرت رسول خدا نے حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے فرمایا کیا میں تجھے ایک خوشخبری سناؤں؟ عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہی تو ہمیشہ ہر خیر کی خوشخبری سناتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا جبرائیل نے تعجب کے ساتھ تھوڑی دیر پہلے مجھے بتایا ہے کہ جو مجھ (محمد) پر درود بھیجنے کے بعد میرے اہلبیت پر درود بھیجے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں فرشتے اس پر ستر درود بھیجتے ہیں یقینا اسکے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑجاتے ہیں اس وقت الله فرماتا ہے میرے بندے تیری دعا مستجاب ہے اور تو سعادتمند ہے۔ اے میرے فرشتوں تم نے اس پر ستر درود بھیجے اور میں اس پر سات سو رحمتیں نازل کرونگا۔

حضرت نے مزید فرمایا ۔

اگر کوئی مجھ پر تو درود بھیجے اور اہل بیت پر نہ بھیجے تو گو یا اس درود اور آسمان کے درمیان ستر حجاب ہیں۔ خداوند متعال اسے فرماتا ہے تیرے لئے کوئی جواب اور سعادتمندی نہیں۔ اے فرشتو اس کی دعا اوپر نہ لے جانا مگر یہ کہ حضرت کیساتھ عترت اور اہل بیت پر بھی درود بھیجے۔ حضرت نے مزید فرمایا جبتک یہ میرے ساتھ ، میری اہل بیت کو ملحق نہیں کرتا تو اسکی دعا ہمیشہ حجابوں میں رہ جائے گی۔

جمعہ کے دن نماز کے بعد حضرت اور انکے اوصیاء پر درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) راوی نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا۔ جمعہ کے دن بہترین عمل کونسا ہے ؟ فرمایا نماز عصر کے بعد محمد و آل محمد پر سو مرتبہ درود بھیجنا اگر اس سے زیادہ درود بھیجا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) یا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے ۔

کہ نماز جمعہ کے بعد یہ صلوات پڑھیں

اَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍاَلْاَ وْصِیاءِ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ وَبارِکْ عَلَیْهِمْ بأفْضَلِ بَرَکاتکَ وَالسَّلاَمُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَعَلٰی اَرْواحِهِمْ وَ اَجْسَادِهِمْ وَ رَ حْمَةُاللهِ وِ بَرَکَاتُه

تا کہ خداوند متعال تیرے لئے ایک لاکھ نیکیاں لکھے او رتیرے ایک لاکھ گناہ مٹادے اور ایک لاکھ حاجتیں پوری کرے اور تیرے ایک لاکھ درجات بلند کرے ۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس موجودتھا ایک شخص نے کہااَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَهْل بَیْتِ مُحَمَّدٍ حضرت نے فرمایا تم نے اس صلوات میں ہمارا تذکرہ نہیں کیا کیونکہ تجھے علم نہیں ہے کہ اہل بیت تو فقط پنج تن آلِ عبا ہیں !! اس نے پوچھا ہم کس طرح درود بھیجیں فرمایا اس طرح کہا کرو۔اَللَّهُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآَلِ مُحَمَّدٍ تا کہ ہم اور ہمارے شیعہ بھی اس صلوات میں شامل ہوں۔

ایک دن میں سو مرتبہرَبِّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِه کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو ایک دن میں سو مرتبہرَبِّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِه کہے گا تو الله اسکی ایک سو حاجتیں پوری کریگا۔ تیس کا تعلق اس دنیا سے ہوگا اور ستر آخرت سے متعلق ہونگیں۔

بلند آواز سے حضرت پر درود بھیجنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا بلند آواز سے درود بھیجا کرو ، اس سے نفاق جاتا رہتا ہے ۔

نماز صبح کے بعد سومرتبہ سبحان الله اور ہر نماز کے بعد اَلَّلھُمَّ اِھْدِنی کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ شبیہ ھذلی نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں آکر عرض کی یا رسول الله میں بوڑھا اورسن رسیدہ آدمی ہوں اب جسم میں اتنی جان نہیں رہی کہ میں پہلے کی طرح نماز ، روزہ، حج اور جھاد جیسے اعمال بجا لاؤں یا رسول الله مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے الله مجھے فائدہ دے یا رسول الله میرے ساتھ تخفیف کیجئے حضرت نے فرمایا اپنی بات پھر دہرا اس نے تین مرتبہ اپنی بات کا تکرار کیا تو حضرت نے فرمایا تیرے اردگرد کے تمام درختوں اور زمینوں نے تیری رحمت کی خاطر گر یہ کیا ہے بہر حال جب تم صبح کی نماز سے فارغ ہو جاؤ تو دس مرتبہ یہ دعا پڑھا کروسُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم وَ بِحَمْدِه وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ اِلاَّ بِاللهِ الْعَلِیّ الْعَظِیم الله تعالی تجھے اس دعا کی بدولت اندھے پن ، جنون ، جزام ، فقر اور دیوار کے نیچے دب کرمرنے سے محفوظ رکھے گا۔ اس نے کہا یارسول الله یہ تو دنیا کیلئے تھا آخرت کیلئے کیا کروں۔ فرمایا ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرواللَّهُمَّ أهْدِنیِ مِنْ عِنْدِک وَ أفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ وَانْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَحمَتِکَ وأنْزِل عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اس نے ان دستورات کو ہاتھ میں پکڑا اور وہ چل دیا حضرت رسول خدا نے فرمایا اگر وہ قیامت والے دن آئے او راس نے ہر نماز کے بعد عمداً اس دعا کو ترک نہ کیا ہو تو الله اسکے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دے گا پھر یہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہوجائے گا۔

خوف ، میلان اور غضب کے وقت نفس پر کنڑول کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو خوف ، میلان اور غضب کے وقت نفس پر کنڑول رکھے گا تو خدا اس کے جسم کو آگ پر حرام قرار دے گا۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مدد کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خدا کی مخلوق ہیں۔ان دونوں کے ساتھ تعاون کرنے والا اللہ کے ساتھ تعاون کرنے والا ہے۔اور ان کو دھوکہ دینے والا اللہ کو دھوکہ دینے والا ہے۔ اور خدا اس کو ذلیل کرے گا۔

سورہ زمر کی آخری آیات سنکر رونے یا رونے کی شکل بنانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے انصار کے جوانوں کے پاس آکر فرمایا میں تمھیں ایک چیز سنانا چاہتا ہوں جو اسے سن کر روئے گا ، اسے جنت ملے گی پھر آپ نے سورہ زمر کی آخری آیات کی تلاوت کیوَ سِیْقَ الَّذِینَ کَفَرُوا اِلیٰ جَهَنَّمَ زُمَراً تا آخر سوره تو ایک جوان کے علاوہ سب روئے اس نے کہا یا رسول الله میں نے رونے کی شکل تو بنائی ہے لیکن میری آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوسکے۔ حضرت نے فرمایا میں ان آیات کی دو بارہ تلاوت کرتا ہوں جو رونے والی شکل بنائے گا اسے بھی جنت ملے گی۔ آپ نے دوبارہ تلاوت فرمائی تو اس جوان کے علاوہ سب روئے لیکن اس نے رونے کی شکل بنائی اور سب کے سب جنت میں داخل ہوئے۔

اجتماعی دعا کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب بھی چار آدمی کسی بات پر متفق ہو کر دعا کریں گے تو ان کے متفرق ہونے سے پہلے دعا قبول ہوگی۔

پوشیدہ دعا کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک شخص کیلئے پوشیدہ طور پر دعا ستر علانیہ دعاؤں کے برابر ہے۔

سحری کے وقت دعا کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

کہ الله تعالیٰ مؤمنین کی ہر دعا کو محبوب جانتا ہے میں تمھیں سحری سے طلوع شمس کے وقت دعا کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ ان اوقات میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں باد رحمت چلتی ہے۔ رزق تقسیم ہوتا ہے۔ اور بڑی بڑی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔

مؤمنین ومؤمنات کیلئے دعا کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو کسی مؤمن بھائی کیلئے دعا کرتاہے تو الله تعالیٰ ہر مؤمن کے بدلے ایک فرشتے کو اس کے لئے دعا کرنے پر مأمور کرتا ہے ۔

( ۲) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو مؤمن کسی زندہ یا مردہ مسلمان مؤمن یامؤمنہ کیلئے دعا کرے گا تو الله تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لیکر قیامت تک تمام مؤمنین ومؤمنات کی تعدادکے برابر اسکے لئے نیکیاں لکھے گا۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

جو ہر روزپچیس مرتبہ

اَللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِلْمُوْٰمِنیْنَ وَ المْؤمِنَات وَ الْمُسْلِمِیْنَ واَلْمُسْلِمَات

کہے گا تو خداوند متعال دنیا سے جانے اور قیامت تک پیدا ہونے والے مؤمنین کے تعداد کے برابر اس کے لئے نیکیاں لکھے گا اس کے گناہ مٹائے گا او ردرجات بلند کریگا ۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)اپنے آباؤاجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جو شخص کسی مؤمن یا مؤمنہ کیلئے کوئی دعا کریگا تو الله تعالیٰ دنیا سے جانے والے اور قیامت تک پیدا ہونے والے مؤمنین کی تعداد کے برابر یہی دعا اسکے لئے قبول فرمائے گا۔

جب حکم ملے گا کہ اس بندے کو جہنم میں لے جایا جائے تو مؤمنین و مؤمنات کہیں گے پروردگارا اسی نے ہمارے لئے دعا کی تھی ہم اس کیلئے سفارش کرتے ہیں الله انکی شفاعت کا سنکر اسے جہنم کی آگ سے نجات عطا کرے گا۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔

جب بھی تم میں سے کوئی دعا مانگناچاہے تو سب کیلئے دعا کرے کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔

لاحول ولا قوّةکہنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو

لاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّ بِالله ِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

کہے گا تو الله تعالیٰ اسکی وجہ سے اسے ستر بلاؤؤں سے دور رکھے گا ان میں سب سے کم ترین گُھٹ کر مرنا ہے۔

ہر روز لاحول ولا کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

کہ جو شخص ہر روز سو مرتبہ

لاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّ بِالله ِ

کہے گا تو الله اس سے ستر مصیبتیں دور کریگا کہ سب سے کمترین غم و حزن ہے۔

گھرسے نکلتے وقت بسم الله و لاحول ولا کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں۔

کہ جوشخص گھر سے نکلتے وقت بِسم الله کہے گا تو دو فرشتے کہیں گے تجھے ہدایت نصیب ہو اگر وہ کہے لاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّ بِالله ِ توکہتے ہیں تو حفاظت میں ہے ۔

اور اگرتَوَکَّلْتُ عَلیٰ اللهِ کہے تو کہتے ہیں تو بے نیاز ہوگیا ہے اس وقت شیطان کہتا ہے کہ میں کس طرح ایک ہدایت یا فتہ ، حفاظت شدہ اور بے نیاز بندے کو گمراہ کروں۔

رات کو سو تکبیریں کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو غروب کے وقت سوتکبیریں کہے گا وہ ایک سو غلام آزاد کرنے والے شخص کی مانند ہے۔

تسبیح حضرت فاطمة الزہرا ء کا ثواب

( ۱) ابو ہارون مکفوف کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا۔

اے ابو ہارون!

جس طرح ہم لوگ اپنے بچوں کونماز کی تلقین کرتے ہیں اسی طرح تسبیح حضرت زہراء پڑھنے کا حکم بھی دیتے ہیں تم بھی ہمیشہ یہ تسبیح پڑھاکروکیونکہ اسے نہ پڑھنے والا شخص بدبخت ہے۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو تسبیح حضرت زہرا پڑھنے کے بعد بخشش طلب کرے اسے معاف کردیا جائے گا یہ تسبیح زبان سے تو سو مرتبہ پڑھی جاتی ہے لیکن میزان الہی میں ایک ہزار کے برابر ہے اس تسبیح سے شیطان دور ہوتا ہے اور رحمن راضی ہوتا ہے۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

مجھے ہر نماز کے بعد اس تسبیح کا پڑھنا ہر روز ہزار رکعت نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

واجب نماز ختم کرکے اٹھنے سے پہلے جو تسبیح حضرت زہرا پڑھے تو الله اسے معاف کردے گا اس تسبیح کواَلله ُ اَکْبَرُ سے شروع کیا جائے۔

خاموشی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب تک بندہ مؤمن خاموش ہے اسوقت تک وہ نیک لوگوں میں شمار ہے لیکن جب بولتا ہے تو پھر یا نیکوں میں ہوگا یا بدوں میں۔

استغفار کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں ۔

ہر مرض کی دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو سوتے وقت سو مرتبہ استغفار کرے تو اسکے گناہ درخت کے (سوکھے) پتوں کی طرح جھڑ جائیں گے اور صبح اس کا کوئی گناہ نہ ہوگا۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے سنا کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

میرا تم میں موجود ہونا اور تمھارا استغفار کرنا عذاب سے بچاؤ کا محکم قلعہ ہے اب بڑی پناہ تو اس دنیا سے جاچکی ہے باقی ہمارے پاس استغفار ہے بہت زیادہ استغفار کیاکرو کیونکہ اس سے گناہ ختم ہو جاتے ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ کافرمان ہے جب تک تو ان کے درمیان ہے الله ان پر عذاب نہ کرے گا اور استغفار کرنے والوں کو بھی الله عذاب میں مبتلاء نہیں کریگا ۔

( ۴) راوی کہتا ہے۔

میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کے پاس خط لکھا کہ مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیجیئے جسے کرنے سے میں دنیا و آخرت میں آپ کیساتھ رہوں۔

حضرت نے اپنے ہاتھ سے جواب لکھا۔

إِنّا اَنْزَلْنَاہُ کثرت سے پڑھا کرو اور تمھاری زبان استغفار کرنا ترک نہ کرے۔

( ۵) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اپنے آبااؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

وہ شخص قیامت والے دن خوش قسمت ہے جس کے نامہ اعمال میں ہر گناہ کے نیچے أَسْتَغْفِرُالله موجود ہو۔

ماہ شعبان میں ہر روز ستر مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب

( ۱) جو شخص ماہ شعبان میں ہر روز ستر مرتبہ یہ کہےاَسْتَغْفِرُ الله َ الّذِی لاَ اِلهَ اِلِاَّ هُوَ الرَّحمنُ الرَّحیِم اَلْحَیُّ الْقَیُّومُ وَ اتُوبُ اِلَیْهِ تو اس شخص کا نام افق مبین میں لکھا جائے گا میں نے عرض کی افق مبین کیاہے ؟ فرمایا عرش کے سامنے ایک بہت بڑا دشت و صحرا ہے جسمیں نہریں جاری ہیں اور اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر ثواب کے پیالے ہیں یعنی بہت زیادہ ثواب ہے۔

نماز صبح کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو نماز صبح کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے تو خدا اسے معاف کردیتا ہے خواہ اس دن اس سے ستر ہزار گناہ ہی کیوں نہ سر زد ہوئے ہوں اور جس نے ستر ہزار گناہوں سے زیادہ گناہ کئے ہیں تو پھر اسکی خیر نہیں۔

خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد کی رسالت کی گواہی ، مصیبت کے وقت انا لله و انا الیہ راجعون ، اچھی خبر کے وقت الحمدلله اور ارتکاب گناہ کے وقت استغفر الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ چار کام کرتا ہوتو وہ خدا کے بہت بڑے نور کا مستحق قرار پائے گا ۔اور اس امر کا محافظ یہ ہے کہ الله کے علاوہ کوئی معبود نہیں اورمیں اس کا رسول ہوں۔ نیز مصیبت کے وقتإنَّا لِلَّهِ وَإنَّا اِلَیْهِ رَاجعُونَ کہتا ہو جب اسے اچھی خبر ملے تو اَلحَمدُللهِ کہے اورجب کوئی گناہ کر بیٹھے تواَسْتَغْفِرُ اللهَ وَ أَتُوْبُ اِلَیْهِ کہے ۔

جلد ثواب حاصل ہونے والے کام

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا جلد حاصل ہونے والے ثواب میں ایک کام نیکی ہے اور جلد عقاب ہونیوالے کاموں میں ظلم ہے عیب کے حوالہ سے ایک شخص کیلئے عیب لگاتے وقت یہی بات کافی ہے کہ اسے دوسروں میں تو عیب نظر آتا ہے اور اپنی ذات کیلئے وہ اندھا بنا بیٹھا ہے یا لوگوں کو تو سرزنش کررہا ہے لیکن خود اسے ترک نہیں کرتا یا اپنے ہم نشینوں کو لایعنی (فضول) باتوں سے اذیت دیتا رہتا ہے۔

صبح و شام تین مرتبہ سبحان الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو رات ہوتے ہی تین مرتبہ کہے

فَسُبْحَانَ الله ِ حِیْنَ تُمْسُونَ وحِیْنَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمَوٰاتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیّاً وَ حِیْنَ تُظْهِرُونَ

تو اس رات کی تمام نیکیاں اس نے حاصل کرلی ہیں اور تمام شر کو دور کر لیا ہے اور جو صبح کے وقت بھی ان آیات کی تلاوت کرے گا تو اسے اس دن کی تمام نیکیاں حاصل ہونگیں اور اس دن کے تمام شر اس سے دور ہونگے۔

دنیا میں زہد و تقویٰ کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص روزی کمانے میں شر مندگی محسوس نہیں کرتا اور زندگی کے اخراجات پورے کرلیتا ہے تو وہ خود آسودہ حال ہے اور اچھے عیال کا مالک ہے اور جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے تو الله اسکے دل کو حکمت (علم) سے منور کرتا ہے اسکی زبان کو گویا بناتا ہے دنیا وی عیب ، بیماریاں اور انکے علاجوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے صحیح و سالم اس دنیا سے دار السلام (جنت) کی طرف لیجاتا ہے۔

دن و رات کے ابتدائی اور آخری حصّے میں عمل خیر انجام دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا بتحقیق دن اور رات کے ابتدائی حصّے میں ایک فرشتہ صحیفہ لیکر اتر تا ہے اور انسان کے اعمال لکھتا ہے لہذا دن اور رات کے ابتدائی حصّے میں عمل خیر انجام دو تو انشاء الله الله تعالیٰ ان کے درمیانی اوقات میں بھی تمھیں معاف کردے گا کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے مجھے یاد کرو تا کہ میں تمھیں یاد کروں مزید فرماتا ہے الله کا ذکر تو بہت بڑا ہے

خوف خدا میں رونے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

ہر چیز کا وزن اور پیمانہ ہوا کرتا ہے مگر آنسو کہ اس کا ایک قطرہ آگ کے سمندر کو بجھا دیتا ہے جس کی آنکھیں پُر اشک ہوں تو اس کے چہرے کو کبھی فقر اور ذلت کا سامنانہ کرنا پڑے گا ۔

اور جب اشک جاری ہوں تو الله اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دیتا ہے اگر چہ ایک شخص گریہ کر رہا ہو لیکن الله پوری امت پر رحمت کرتا ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا ۔وہ خوش قسمت چہرہ ہے جسکی طرف الله نظر کرم فرمائے اور وہ خوف خدا میں اپنے ان گناہوں پر رُو رہا ہو جس کی خدا کے علاوہ کسی کو خبر تک نہ ہو۔

اپنی خواہشات پر رضا خداوندی کو مقّدم کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتاہے کہ میں نے حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا ۔

الله نے فرمایا مجھے اپنی عزت ، عظمت جلالت ، خوبصورتی ، توانائی اور اپنے مقام کی بلندی کی قسم جو شخص میری رضاکو اپنی خواہش پر مقّدم کرتا ہے تو میں اسکی آخرت کا ہدف پورا کرونگا ، اسکے دل کو بے نیاز قرار دونگا اسکے املاک اسکی کفایت کریں گے ، زمین و آسمان اسکے رزق کے ضامن ہونگے نہ چاہنے کے باوجود اسے دنیا (کی دولت ) نصیب ہوگی۔

صبح و شام جسکا اصلی ہدف آخرت ہو، اس کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نقل فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جسکا صبح و شام اصلی اور بڑا ہدف آخرت ہو تو الله اس کے دل کو بے نیاز کردیگا اور زندگی کے سامان میسر ہونگے۔ تکمیل رزق سے پہلے دنیا سے نہ جائے گا اور جسکا صبح و شام بڑا مقصد دنیا ہوگا تو الله اسکی آنکھوں میں بھوک رکھ دے گا اسکے امور زندگی ہمیشہ بکھرے رہیں گے اور اُسے وہی ملے گا جو اسکی قسمت ہوگی۔

احسان کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔

جب کوئی مؤمن احسان کرتاہے تو الله اسکے ہر نیک عمل کو سات سو گنا کردیتا ہے اور یہ الله کے اس فرمان کے مطابق ہے الله جسکے لئے جتنا چاہے اتنا زیادہ کردیتا ہے

اللہ کی خاطرمحبت ،عداوت،عطا اور محروم کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

ایمان کی ایک محکم ترین نشانی یہ ہے کہ انسان اللہ کی خاطر محبت کرے اور اللہ کے لئے بغض رکھے اور اللہ کی خاطر عطاکرے اور اللہ کے لئے محروم رکھے۔

گناہ سے پشیمانی اور استغفار کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جو شب وروز چالیس گناہ کبیرہ انجام دے اور پھر پشیمان ہوکر یہ کہےاَسْتَغْفِرُاللهَ الّذِیْ لاَ اِلَهَ اِلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ بَدِیعُ السَّمَوَاتِ وَالْأرْضِ ذالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَام وَ أَسْئَلُهُ أنْ یَتُوبَ عَلَیَّ تو الله اسکے گناہ معاف کر دے گا اور جو ہر روز چالیس کبیرہ گناہوں سے زیادہ گناہ انجام دے تو اسکی خیر نہیں۔

غریب الوطن مؤمن کی موت کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ کوئی ایسا مؤمن نہیں جو دیار غربت میں رخت سفر باندھ لے اوراس پر کوئی اشک بہانے والا نہ ہوتو جن زمین کے ٹکڑوں پر وہ عبادت کیا کرتا تھا ، اور جو کپڑے وہ پہنا کرتا تھا ، اسکے لئے گریہ کنا ں ہونگے اور اسکے ساتھ ساتھ آسمان کے وہ دروازے جن سے اسکے اعمال اوپر گئے تھے وہ گریہ کر رہے ہونگے اور مؤکل فرشتے اس پر اشک بہائیں گے۔

مؤمن کیساتھ بھلائی کرنے والے کافر کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل کے ایک مؤمن کا ہمسایہ کا فر تھا اور وہ مؤمن کیساتھ اچھا سلوک کیا کرتا تھا اور دنیا میں اچھے کام کرتا تھا جب کافر مرا تو الله تعالیٰ نے جہنم میں اسکے لئے مٹی کا گھر بنایا تا کہ جہنم کی تپش سے محفوظ رہے اور اسے جہنم کے علاوہ کسی اور جگہ سے رزق مہیا کیا اور اسے کہا گیا کہ تمھیں یہ آسانی دنیا میں مؤمن ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کی وجہ سے دی گئی ہے۔

مؤمن بھائی سے نیکی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کسی دوسرے مؤمن بھائی سے نیکی کرنے والا حضرت رسول خدا سے نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔

دودھ کے لئے بھیڑ بکریاں پالنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا جس گھر میں دودھ دینے والی بھیڑ یا بکری ہوگی اس گھر کے رہنے والے مقدس اور با برکت ہونگے اور اگر دو بکریاں پالے گا تو پھر اس دن میں دو بار تقدیس و تبریک پیش کی جائے گی کسی صحابی نے پوچھا ! ان کی تقدیس کیسے ہوگی ؟ فرمایا ہر روز صبح و شام ایک فرشتہ اسکے نزدیک کھڑا ہو کر کہے گا تم مقدس ہو گئے ہو ، تمھیں تبریک پیش کرتے ہیں تم خود بھی پاک ہوگئے ہو اور تمھاری غذا بھی پاک ہے میں نے عرض کی کہ اس کا کیا معنی ہے کہ تم مقدس ہو گئے ہو ؟ فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ تمھیں پاک کردیا گیا ہے۔

نماز ، زکات ، نیکی اور صبر کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جب مؤمن اپنی قبر میں جاتا ہے تو اسکے دائیں نماز اور بائیں زکات ہوتی ہے اس پر نیکی کا سایہ ہوتا ہے اور کچھ فاصلے پر صبر بھی موجود ہوتا ہے جب سوال و جواب کرنے والے دونوں فرشتے قبر میں داخل ہوتے ہیں تو صبر نماز ، زکات اور نیکی سے کہتا ہے اپنے دوست کی حفاظت کرو اگر تمھارے لئے ممکن نہ ہو تو پھر میں کوشش کرتا ہوں۔

خدا کی خاطر آل محمد سے محبت اور انکے دشمنوں سے بغض رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص الله کی خاطر ہم سے محبت اور ہمارے دشمنوں سے عدوات رکھتا ہو (نہ کہ دنیا وی امور ہمارے دشمنوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر عداوات رکھے) اور مرجائے اور اس نے دریا کے قطروں کی تعداد کے برابر بھی گناہ کئے ہوں تب بھی خدا اسے معاف کر دے گا۔

ایک سال تک نماز و ترکے قیام میں ستر مرتبہ استغفر الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو شخص ایک سال تک نماز و ترکے قیام میں ستر مرتبہاَسْتَغْفِرُ الله َ وَ اتُوبُ إلَیْهِ کہے گا تو الله تعالیٰ اسے سحری کے وقت استغفار کرنے والوں میں شمار کرے گا اور الله پر اسکی بخشش ضروری ہوجائے گی۔

خدا کیلئے مؤمن بھائی کو سلام کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک فرشتے کا کسی دروازے کے نزدیگ کھڑے شخص کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتے نے پوچھا اے بندہ خدا یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ کہا یہاں میرا مؤمن بھائی رہتا ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے سلام کرلوں۔ فرشتے نے پوچھا کیا یہ تیرا قریبی رشتہ دار ہے ؟ یا تجھے اسے سے کوئی کام ہے ؟ کہا نہیں یہ نہ تو میرا قریبی رشتہ دار ہے اور نہ مجھے اسکی احتیاج ہے بلکہ یہ تو فقط میرا مسلمان بھائی ہے کہ میں اسکے احترام کیلئے یہاں آیا ہوں اور میں نے خود پر ضروری قرار دیا ہے کہ پروردگار دو جہاں کی رضا کی خاطر اسے سلام کروں فرشتے نے کہا الله نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے وہ تجھے سلام کہہ رہا ہے او راس نے فرمایا ہے( اے میرے عبد!)تیری مراد صرف میں تھا اور تو نے میرا دیدار کیا ہے ، میں نے تجھ پر جنت کو واجب قرار دیا ہے اور اپنے غضب سے تجھے بخشش عطا کی ہے تجھے جہنم کی آگ سے نجات نصیب ہو۔

مؤمن کی توبہ نصوح کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی توبہ نصوح کرتا ہے تو الله اس سے محبت کرتا ہے اور اسکے دنیا وی و اخروی گناہ مخفی کردیتا ہے راوی کہتا ہے کہ الله گناہوں کو کس طرح مخفی کرتا ہے فرمایا گناہ لکھنے والے دونوں فرشتوں کو الله بھلا دیتا ہے اور اسکے اعضاء وجوارح کی طرف وحی کرتا ہے کہ اسکے گناہ کو مخفی رکھنا اسی طرح زمین کے جس جس حصے پر یہ گناہ کا مرتکب ہوا تھا اسے بھی وحی کرتا ہے کہ اسکے گناہوں کو چھپائے رکھنا لہذا جب یہ دربار خداوندی میں حاضر ہوگا تو کائنات کی کوئی چیز بھی ایسی نہ ہوگی جو اسکے چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے خلاف گواہی دے سکے۔

توقع نہ رکھنے، خوش اخلاقی ، نرم روی ، اور آسان روی کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا کیا میں تمھیں بتاؤں کہ جہنم کن کن لوگوں پر حرام ہوگی، عرض کی ، جی ہاں یا رسول الله فرمایا توقع نہ رکھنے والے ، خوش اخلاق ، نرمی برتنے والے اور آسان روی سے پیش آنے والوں پر جہنم حرام ہوگی۔

خوف ِ خدا میں متقربین کے رونے ،محارم خداسے بچتے ہوئے خدا کی عبادت کرنے اور دنیا میں زہد کو زینت قرار دینے والوں کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کو ہ طورپر جو نجات عطا کی تھی ، وہ ان چیزوں میں سے تھی کہ الله نے فرمایا اے موسیٰ متقربین میں سے میرے خوف میں گریہ کرنے والے کی طرح کسی کوتقرب نصیب نہیں ہوتا ۔عبادت گذاروں میں میرے حرام سے بچتے ہوئے عبادت کرنے والے کی مثل کوئی نہیں ۔ اورمجھے زینت دینے والوں میں دنیا کے زاہد جیسا کوئی نہیں ہے کیونکہ زاھد خود کو اس چیزسے مزین نہیں کرتے جس سے بے نیاز ہیں ۔ حضرت نے فرما یا کہ حضرت موسیٰ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی اے کریموں سے بڑھکر کریم ذات ان لوگوں کا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا اے موسیٰ میرے خوف سے گریہ کرکے تقرب حاصل کرنے والے میرے ان بہترین دوستوں کیساتھ ہونگے جہاں کوئی دوسرا نہ جاسکے گا اور میرے محارم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے میری عبادت کرنے والوں سے مجھے حیاء آتی ہے کہ میں ان کے اعمال کی تفتیش کروں اور جو دنیا کے زہد کیساتھ میرا تقرب حاصل کرتے ہیں انہیں ہر قسم کی بہشت عطا کرونگا کہ وہ جہاں چاہیں رہیں۔

مؤمن سے نیکی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں قیامت والے دن تم میں سے ایک مؤمن کا ایسے شخص کے نزدیک گزر ہوگا جس کے ساتھ اس کی دنیا میں شناسائی تھی اور اسے جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا اور ایک فرشتہ اس ڈیوٹی پر مأمور ہوگا وہ اس سے کہے گا میری فریاد رسی کرو میں نے دنیا میں تیرے ساتھ نیکی اور حاجت روائی کی تھی کیا آج اس کا بدلہ دے سکتے ہو ؟ اس وقت مؤمن اس فرشتے سے کہے گا اسے چھوڑ دو الله مؤمن کی خواہش سنکر فرشتے سے کہے گا مؤمن کا کہا مانو اور اسے چھوڑ دو۔

الله کیلئے حُسن ظن کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں آخری بندے کو جہنم میں لیجانے کا حکم دیا جائیگا تو وہ رخ موڑ کر پیچھے دیکھے گا خد اکہے گا اسے روکو جب اسے خدا کے حضور پیش کیا جائے گا تو خدا پوچھے گا تم رخ موڑ موڑ کر کیوں دیکھ رہے تھے ؟ وہ عرض کریگا پروردگارا تیرے متعلق مجھے یہ گمان تک نہ تھا ! خدا کہے گا اے میرے عبد میرے متعلق تیرا کیا گمان تھا ؟ وہ کہے گا خدا یا مجھے یہ گمان تھا کہ تو میری خطاؤں سے درگزر فرمائیگا اپنی جنت کو میرا مسکن بنائے گا خدا کہے گا اے میرے فرشتو ! مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم ،نعمتوں اور بلند مرتبوں کی قسم اس نے پوری زندگی مجھ پر اس طرح کا اچھا گمان نہیں کیا اگر پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی مجھ پر حسن ظن کرلیتا تو یہ جہنم کے خوف سے محفوظ رہتا اسکی دروغگوئی مان لو اور اسے جنت میں لے جاؤ اس وقت حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا جو بندہ خدا کے متعلق حسن ظن رکھے گا تو الله اسکے گمان کے مطابق جزا دے گا اور جو سؤ ظن کرے گا تو اسکے ساتھ اسی طرح کا سلوک ہوگا الله کے اس فرمان کا بھی یہی معنیٰ ہے کہ یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے پروردگار کے متعلق کیا تھا اور یہ تمھارا ہی ارادہ تھا لہذا اب تم ہی گھاٹے والوں میں سے ہو۔

اپنے اندر نصائح خداوندی پیدا کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص بھی اپنے اندر نصائح خداوندی کو پیدا کریگا اسے دو فائدے حاصل ہونگے یعنی اسے قانع کنندہ رزق اور نجات دھندہ رضائے خداوندی حاصل ہوگی۔

عقیق کی انگوٹھی پہننے کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔

انگلی میں عقیق کی انگوٹھی پہننے والا محتاج نہ ہوگا اور اچھے طریقے سے اسکی حاجت روائی ہوگی۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ

حاکم نے آل ِ حضرت ابی طالب (علیہ السلام) میں سے ایک شخص کو ظلم و زیادتی کرنے کی وجہ سے گرفتا ر کرکے لانے کا حکم دیا راستہ میں اسکی حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا۔ اس کے لئے عقیق کی انگوٹھی لے جائی جائے اور عقیق کی انگوٹھی اس تک پہنچائی جائے۔ اسی وجہ سے اسے حاکم کی طرف سے کسی ظلم و تعدی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

( ۳) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے ایک شخص کو دیکھا جسے کوڑے لگائے گئے تھے فرمایا۔

انگشتر عقیق کہاں ہے ؟ اگر اس کے پاس ہوتی تو اسے کوڑے نہ لگتے۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا۔

عقیق سفر میں حرز ہے۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین سے روایت کرتے ہیں ۔

عقیق کی انگوٹھی ہاتھ میں رکھا کرو تا کہ الله تمھیں برکت دے اور تم مصیبت و بلا سے أمن میں رہو۔

( ۶) ایک شخص نے حضرت رسول خدا سے رہزنوں کی شکایت کی آپ نے فرمایا۔

تیرے پاس عقیق کی انگوٹھی کیوں نہ تھی ؟ کیونکہ عقیق انسان کی ہر بلاء سے حفاظت کرتا ہے ۔

( ۷) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جوشخص اپنے ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی پہنے گا تو جبتک اسکے ہاتھ میں ہے مسلسل خوبیاں اور اچھائیاں دیکھتا رہے گا اور ہمیشہ خداوند متعال کی حفاظت میں ہوگا۔

( ۸) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ۔

جو شخصمُحَمَّدٌ نَبِیّ الله ِ وَ عَلیٌِّ وَلِیّ اللهِ کے نقش والی انگوٹھی بنا کر پہنے تو الله تعالیٰ اسے مرگ بد سے محفوظ رکھے گا اور وہ فطرت کے مطابق ہی مرے گا۔

( ۹) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

بارگاہ خداوندی میں (دعا کی خاطر ) اٹھنے والوں ہاتھوں میں عقیق والے ہاتھ سے بڑھکر کوئی ہاتھ خدا کو زیادہ پسند نہیں ہے۔

( ۱۰) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص عقیق کیساتھ رزق حاصل کرنا چاہے تو وہ کثیر سھم پائے گا۔

( ۱۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے فرمایا۔

جب خدا نے حضرت موسیٰ بن عمران کو پیدا کیا اور طور سینا پہاڑ پر اس سے تکلم فرمایا اور پھر زمین پر نظر کرم کی۔ اور اپنے چہرے کے نور سے عقیق کو خلق کیا ۔اس وقت فرمایا !

مجھے اپنی ذات کی قسم ! میں نے خود پر لازم قرار دیا ہے کہ جس ہتھیلی میں عقیق ہوگا اور وہ ولایت علی رکھتا ہوگا میں اسے کبھی عذاب نہیں دونگا۔

فیروزے کے انگوٹھی پہننے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا

جس ہاتھ میں فیروزے کے انگوٹھی ہوگی وہ کبھی محتاج نہ ہوگا۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی زیارت کیلئے گیا میں نے حضرت کے ہاتھ میں فیروزے کی انگوٹھی دیکھی جس پر الله الملک کا نقش تھا میں دیکھتا ہی رہ گیا ۔

آپ نے فرمایا۔

تم اس پتھر کو اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ؟ اس پتھر کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جنت سے حضرت رسول خدا کے لئے ہدیہ کے طور پر لائے تھے انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کو عطا کیا فرمایا۔ جانتے ہو اس کا کیانام ہے ؟ عرض کی فیروزہ فرمایا یہ اس کا فارسی نا م ہے۔ کیا اس کا عربی نام بھی جانتے ہو ؟ عرض کی نہیں۔ فرمایا اس کا عربی نا م ظفر (کامیابی) ہے۔


ثواب الاعمال ۷

جزع یمنی پہننے کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جزع یمنی کی انگوٹھی ہاتھ میں پہنا کرو اس سے راندے ہوئے شیطانوں کا مکر جاتا رہتا ہے۔

زمرد کی انگوٹھی پہننے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ ایک دن حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے کسی صحیفے سے پڑھکر بتایا ۔

زمرد کی انگوٹھی میں آسانیاں ہی آسانیاں ہیں اسکے پہننے والے کیلئے کوئی مشکل اور تنگی نہیں۔ اور میں نے اس بات کو لکھ لیا۔

یاقوت کی انگوٹھی پہننے کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا ۔

یاقوت کی انگوٹھی پہنو اس سے فقر ختم ہو جاتا ہے ۔

بلور کی انگوٹھی پہننے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

بلور ایک بہترین نگینہ ہے۔

انکساری کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا۔

ابن آدم کے ہر فرد کی پیشانی فرشتے کے ہاتھ میں ہے جب وہ تکبر کرتا ہے تو اسکی پیشانی جھکا کر کہتا ہے انکساری کر خدا تجھے ذلیل کرے اور اگر انکساری کرے تو اسکی پیشانی پکڑ کر کہتا ہے اپنا سر اونچا رکھ الله کے ہاں تیری رفعت وعظمت ہے اور الله کے سامنے انکساری کرنے کی وجہ سے تو ذلیل نہ ہوگا۔

خوف خدا میں رونے ،محارم خدا سے بچنے اور الله کی راہ میں شب بیداری کرنے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

قیامت والے دن تین آنکھوں یعنی خوف خدا میں رونے والی آنکھ ، الله کی خاطر شب بیداری کرنیوالی آنکھ اور الله کے محار م سے کنارہ کشی کرنے والی آنکھ کے علاوہ سب رو رہی ہونگیں۔

( ۲) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں

اس چہرے پر نظر کرم کرنا کتنا اچھا لگتا ہے جسکی آنکھیں اپنے اس گناہ پر خوف خدا سے گریہ کر رہی ہوں جس گناہ کی کسی کو خبر تک نہیں۔

ان دیکھے وعدے کی خاطر خواہشات نفسانی کو ترک کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا

خوش قسمت ہے وہ شخص جو آج کی شھوات اور خواہشات کو ان دیکھے وعدے کی خاطر ترک کرتا ہے۔

الله کی خاطر محبت، مسجدوں کی تعمیر او راستغفار سحر کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا

الله جب اہل زمین کو عذاب دینے کا رادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے کہ اگر میری خاطر آپس میں محبت کرنے والے ، مسجدیں بنانے والے اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے نہ ہوتے تو میں یقینا اہل زمین پر عذاب نازل کرتا ۔

اس شخص کا ثواب جسکا دیکھنا عبرت ، خاموشی فکر اور گفتگو ذکر ہو اپنی خطاؤں پر روتا ہو اور لوگ اس کے شر سے (بھی) محفوظ ہوں۔

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایاتمام نیکیاں تین خصلتوں دیکھنا ، خاموشی اور گفتگو میں پوشیدہ ہیں جس کے دیکھنے میں عبرت نہ ہو وہ فضول ہے اور جو خاموشی غورو فکر کا سر چشمہ نہ ہو وہ غفلت ہو ا کرتی ہے اور جو گفتگو ذکر (خدا)سے عاری ہو وہ لغو ہے، خوش قسمت ہے وہ شخص جسکا دیکھنا عبرت ، خاموشی فکر او رگفتگو ذکر ہو اور وہ اپنی خطاؤں پر آنسو بہاتا ہو اور لوگ اسکے شر سے محفوظ ہوں۔

خاموشی اور خانہ خدا میں چل کر جانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ الله کی عبادت میں کوئی چیز بھی خاموشی اور خانہ خدا میں پیدل چل کر جانے سے بڑھکر نہیں ہے ۔

( ۲) علی ابن مہزیار حضرت معصوم (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ امام (علیہ السلام) نے فرمایا (عنقریب) لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا جسمیں خیر و عافیت دس چیزوں میں منحصر ہوگی نو چیزیں لوگوں سے کنارہ کشی اور ایک خاموشی اختیار کرنا ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جبتک مسلمان شخص خاموش ہے اسکے لئے نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی لیکن جونہی گفتگو کریگا تو پھر نیکی لکھی جائے گی یا گناہ ۔

اپنے لباس اور جوتے کو پیوند لگانے اور اپنا بار اٹھانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص اپنے کپڑوں کو پیوند لگائے ، اپنا جوتا گانٹھے اور اپنا بار خود اٹھائے تو وہ تکبّر سے دور رہتا ہے۔

سچ بولنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص سچ بولتا ہے، سب سے پہلے الله اسکی تصّدیق کرتا ہے اور وہ شخص خود کو صادق سمجھنے لگتا ہے اور جو جھوٹ بولتا ہے تو تب بھی سب سے پہلے خد ا اسکی تکذیب کرتا ہے اور وہ شخص خود کو بھی جھوٹا جانتا ہے۔

نیکی اور برائی کو چھپا کر انجام دینے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ چھپا کر کیا جانے والا نیک کام ستر کاموں کے برابر ہے اور ظاہر بظاہر گناہ کرنے والے کی مدد نہ کی جائے گی ہاں جو پوشیدہ گناہ کرے گا اسکی مغفرت ہو سکتی ہے۔

اس شخص کا ثواب جو یہ جانتے ہوئے گناہ کرے کہ خدا چاہے تو عذاب میں مبتلا کردے چاہے تو معاف کردے

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایاکہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو شخص یہ جانتے ہوئے گناہ کرے کہ مجھ(خدا) کو اختیار ہے کہ چاہوں تو معاف کردوں اور چاہوں تو عذاب کروں ، تو میں اسے معاف کردونگا۔

توبہ کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو توبہ کرے الله اسے معاف کردے گا اسکے اعضاءِ بدن کو حکم ملے گا کہ اس کے گناہ پوشیدہ رکھو اور زمین کے ٹکڑوں کو حکم ملے گا اسکے گناہوں کو چھپاؤ اور اعمال لکھنے والے فرشتوں سے کہا جائے گا اس کے گناہ کو بھول جاؤ۔

( ۲) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا

جو شخص اپنے مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو خدا اسے معاف کردے گا پھر فرمایا سال زیادہ ہے جو ایک ماہ پہلے توبہ کرے وہ بھی معاف کردیا جائے گا پھر فرمایا ایک مہینہ بھی زیادہ ہے جو مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کرے ، بخش دیا جائے گا پھر فرمایا ایک دن بھی زیادہ ہے جو جان کنی کے وقت بھی اگر توبہ کرلے تو خدا اسے معاف کردے گا۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا۔

جس طرح الله جسے چاہتا ہے اپنی مخلوق میں وسیع رزق عطا کرتا ہے اسی طرح ہر صبح رات کے گناہگار کیلئے رحمت خدا وندی پھیلی ہوتی ہے کہ یہ توبہ کرے اور میں اسے معاف کروں اور غروب آفتاب کے وقت دن کے گناہگار کیلئے رحمت خداوندی منتظر ہوتی ہے کہ یہ توبہ کرے اور بخشا جائے۔

انگوٹھی پر ماشاء الله لکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

کہ جو شخص اپنے انگوٹھی پرمَاشاءَ الله ُ لَا قُوّةَ اِلاَّ بِالله أسْتَغْفِرُ الله لکھے گا تو وہ برباد کرنے والے فقر سے محفوظ رہے گا۔

پھل وغیرہ دیکھ کر اسکی چاہت کرنا اور قوّت خرید نہ رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے کسی محب سے پوچھتے ہیں

کہ کیا بازار میں کچھ ایسے پھل وغیرہ بھی ہیں جو تجھے پسند ہوں اور تجھے انکی خواہش ہو ؟ اس نے عرض کی جی ہاں۔ فرمایا جس چیز کو دیکھو کہ قوّت خرید سے باہر ہے تو صبر کرو تجھے اسکے بدلے میں ایک نیکی ملے گی ۔

حلال کمائی کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں

عبادت کے ستر اجزاء ہیں اور ان میں افضل ترین حلال کمائی ہے۔

لوگوں کی ضروریات دور کرنے کیلئے دنیا داری کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

اپنی عزت و آبرو اور قرض کی ادائیگی کیلئے مال حلال جمع نہ کرنے والے کیلئے بہتری نہیں ہے ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص لوگوں کی ضروریات اور ہمسائے پر لطف کیلئے دنیا داری کریگا تو وہ چودہویں کے چاند جیسے روشن چہرے کیساتھ الله سے ملاقات کرے گا۔

خوش اخلاقی کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت ام سلمہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں عرض گزار ہوئیں۔

میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ایک عورت نے ایک مرد کے مرنے کے بعد دوسرے سے شادی کرلی ہے۔ اب دونوں مرچکے ہیں اور جنتی ہیں یہ عورت جنت میں کس کی بیوی بنے گی؟ حضرت نے فرمایا جو خوش اخلاق تر اور اہل و عیال کیساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا یہ اسکی بیوی ہوگی پھر فرمایا اے ام سلمہ اچھا اخلاق دنیا و آخرت کی نیکیاں عطا کرتا ہے۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا

الله کی مخلوق میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو خوش اخلاق ہو مگر یہ کہ الله کو حیاء آتی ہے کہ اس کا گوشت جہنم کا لقمہ بنے۔

اس شخص کا ثواب جسکا ہم و غم آخرت ہو اور وہ اپنے باطن کی اصلاح چاہتا ہو اور اپنے اور خدا کے درمیان (بھی) اصلاح کا طالب ہو

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا کہ فقھاء او رحکماء کا یہ طریقہ کا ر رہا ہے کہ جب بھی ایک دوسرے کیساتھ خط و کتابت کرتے تو تین چیزوں کی نصیحت کیا کرتے کوئی چوتھی چیز نہ تھی یعنی جس کا ہم و غم آخرت ہے خدا اسکی دنیاوی ضروریات بر لاتا ہے جو اپنے باطن کی اصلاح کریگا خدا اسکے ظاہر کی اصلاح کردے گااور جو بینی وبین الله اپنی اصلاح کرلے تو خدا اس کے اور لوگوں کے درمیان اِصلاح کریگا۔

اپنے نفس سے مقاومت کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کے بجائے اپنے نفس سے مقاومت اور دشمنی رکھے گا تو خدا اسے قیامت کے دن کی وحشت سے امن میں رکھے گا۔

نعمتوں پر خدا کی حمد وثنا کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا کہ اگر الله نے اپنے عبد کو بڑی سے بڑی نعمت سے نوازا ہے اور وہ اس نعمت پر خدا کی حمد و ثنا بجالاتا ہے تو یہ حمد و ثنا اس نعمت سے زیادہ افضل ، بزرگ اور باوزن ہے۔

کھانے اور بغیر کسی چیز کے ملنے پر شکر ادا کرنے والے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ کھانے پر شکر ادا کرنے والا روزہ رکھنے والے کے مساوی ہے اور جو کسی چیز کے ملنے کے بغیر ہی شکر ادا کرے تو اسکے لئے صبر کرنے والے کا اجر و ثواب ہے۔

نیکی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا فرماتے ہیں کہ دنیا میں نیکی کرنے والا آخرت میں نیکی کرنے والے کی مانند ہے پوچھا گیا یا رسول الله یہ کیسے ممکن ہے ؟ فرمایا یہ الله کی رحمت سے معاف کیا جائے گا اسکی نیکیاں لوگوں کو دی جائیں گی پھر انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا لہذا یہ دنیا و آخرت دونوں جگہ نیکی کرنے والا ہوگا۔

خدائی چیزوں میں رغبت کا ثواب

( ۱) ایک شخص رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے بجا لانے سے آسمان پر الله اور زمین پر لوگ مجھے محبوب جاننے لگیں۔ حضرت نے فرمایا خدائی چیزوں میں رغبت رکھو تا کہ الله تجھے محبوب جانے اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے کنارہ کشی رکھو تا کہ لوگ تجھے محبوب جانیں۔

زبان کی حفاظت کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) اپنے والد (علیہ السلام) سے اور وہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا مؤمن کی نجات اپنی زبان کی حفاظت میں ہے اور حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) بھی فرماتے ہیں کہ جو اپنی زبان کی حفاظت کرے گا تو الله اسکے عیب پوشیدہ رکھے گا۔

کتمانِ َفقر کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا یاعلی (علیہ السلام) خداوند متعال نے غربت کو اپنی مخلوق میں امانت کے طور پر رکھا ہے۔ جو اسے پوشیدہ رکھے گا وہ شب بیداری کرنے والے روزہ دار کی مانند ہوگا اور جو اپنی غربت کا اظہار ایسے شخص کے پاس کرے جو اسکی حاجت روائی پر قادر ہے اور وہ اسکی حاجت بر نہ لائے تو یہ حاجت لے جانے والے کو قتل کرنے کی مانند ہے یہ شخص تلوار اور نیزے سے قتل نہیں ہوا بلکہ دل پر زخم کھانے سے مارا گیا ہے۔

فقراء اور ان سے نیکی کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب قیامت کا دن ہو گا تو الله تعالیٰ منادی کو حکم دے گا اور وہ ندا کرے گا کہ فقراء کہاں ہیں؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے انہیں جنت میں جانے کا حکم دیاجائے گا اور وہ باب جنت پر لائے جائیں گے ان سے کہا جائے گا کیا حساب و کتاب سے پہلے ہی جنت جانا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کیا ہمیں کوئی چیز دی تھی کہ اب اس کا حساب چاہتے ہو ؟ اس وقت خداوند متعال فرمائے گا میرے بندوں تم سچ کہہ رہے ہو میں نے تمھیں رسوا کرنے کیلئے فقر نہیں دیا تھا بلکہ آج کیلئے تمھیں فقر دیا تھا پھر ان سے کہا جائے گا دیکھو ! لوگوں میں جاکر دیکھو جس نے بھی تم سے نیکی کی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے چلو۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا اے مسکینو خوشحال ہو جاؤ۔ تمھارے دلوں کو خدا کی رضا عطا کی گئی ہے خدا تمھیں تمہارے فقر کی پاداش عطا کرے گا اگر تم میں فقر نہ ہوتا تو تمہارے لئے کوئی پاداش و ثواب نہ تھا۔

مشکلات میں ہاتھ نہ پھیلانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

خدا اپنے اس نیک اور پرہیزگار بندے پر رحم کرے جو مشکلات میں ہاتھ نہ پھیلا تا تھا حالانکہ دنیا میں اس کی ذلت ہوتی تھی اور حاجتیں پوری نہیں ہوتیں تھیں۔

مصافحہ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کا ثواب مجاہد کے اجرو ثواب کی مانند ہے۔

کھانا کھاتے وقتبسم الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا۔

جو شخص کھانا کھاتے وقت الله کا نام لے گا تو اس سے کبھی (کھانے جیسی) اس نعمت کا سؤال وجواب نہ ہوگا۔

بھوکے کو سیر کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص بھوکے کو سیر کرے گا الله تعالیٰ اسکے لئے جنت میں نہر جاری کرے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو شخص بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا اس پر جنت واجب ہے۔

پانی سے لذّت لینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

جو دنیا میں پانی کو لذّت بخش سمجھے گا، الله اسے جنت کی شراب کی لذّت عطا کرے گا۔

جمعہ کے دن صدقہ دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں

میرے والد کے پاس مال کم تھا اور اخراجات زیادہ تھے پھر بھی ہر جمعہ کو ایک دینار صدقہ دیا کرتے اور فرمایا کرتے تھے۔ جمعہ کے دن صدقہ کا ثواب دگنا ہے کیونکہ جمعہ باقی دنوں سے افضل ہے۔

غمگین لوگوں کی مدد کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا

جو اپنے پیاسے اور غمگین بھائی کی مشکلات میں مدد کرے گا اور اسکی مشکلات دور کرے گا اور حاجتوں کی بر آوری میں تعاون کرے گا تو اسے قیامت کی وحشت اور خوف سے بچاؤ کیلئے بہتر ( ۷۲) رحمتیں عطا کی جائیں گئیں۔

بھائیوں سے محبت و الفت کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)فرماتے ہیں

خدا کے نزدیک کسی شخص کی فضیلت بھائیوں سے محبت کرنا ہے۔ الله نے بھائیوں کی محبت ان کے دل میں ڈالی ہے۔ ویسے ہی الله اس سے محبت کرتا ہے اور قیامت والے دن اس کا پورا پورا اجر عطا کرے گا۔

جس پر الله راضی ہے اسکی آرزو رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے اباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا

جس چیز پر الله راضی ہے، جو اسکی آرزو رکھے گا تو وہ اس وقت تک دنیا سے نہ جائے گا جب تک اس کی آرزو پوری نہیں کردی جاتی۔

مسلمان کی ملاقات کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا

جو شخص کسی مسلمان بھائی کی ملاقات کیلئے جائے گا اسے الله تعالیٰ ندا دے گا اے زیارت و ملاقات کرنیوالے تو بھی پاک ہو گیا ہے اور تیری پاداش بھی پاکیزہ جنت ہے۔

گھر تعمیر کرنے کے بعد جانور ذبح کرکے مساکین کو کھلانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نیا گھر تعمیر کرے اور پھر صحت مند جانور ذبح کرکے اس کا گوشت مساکین کو کھلائے اور یہ دعا پڑھےاَللَّهُمّ ادْحَر عَنِّی مَرْدَةَ اْلجِنِّ وَالْإنْسِ وَالشَّیَاطِیْنَ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْ بِنَائی تو جو خواہش رکھتا ہوگا ، وہ پوری ہوگی۔

نیکی میں تعاون کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق اپنے آباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا الله نیکی کے کام میں بیٹے کیساتھ تعاون کرنے والے باپ پر رحمت کرتا ہے۔ ایک ہمسایہ دوسرے ہمسائے کے نیکی کے کاموں میں تعاون کرے تو اس پر (بھی) رحمت کرتا ہے اور اگر ایک دوست دوسرے دوست کی مدد کرتا ہے تو الله اس پر رحمت کرتا ہے اسی طرح اگر ایک ہمدم اور قریبی ساتھی دوسرے ساتھی کی نیکی کے کاموں میں نصرت کرتا ہے تو الله اس پر بھی رحمت نازل کرتا ہے اس طرح اگر کوئی شخص اپنے مالک کی نیکی کے کاموں میں مدد کرے تو الله اس پر بھی رحمت کرتا ہے۔

میانہ روی سے خرچ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں میانہ روی الله کی پسندیدہ چیز ہے اور اسراف ناپسندیدہ حتی کہ تھوڑی سی کجھور کی گٹھلی اور بچا ہوا پانی ہی کیوں نہ ہو۔

ہاتھ میں تلخ عصا لے کرسفر پر جانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم نے اپنے اباواجداد سے اور انہوں نے حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص عصا ہاتھ میں لیکر سفر پر جائے اور اس آیت کی تلاوت کر رہا ہووَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْیَنَ سے لیکراَلله عَلیٰ مَا نَقُوُلُ وَ کِیْلٌ تک تو جبتک گھر نہیں لوٹ آئے گا تو خدا اسے ہر درندے ، چور ، ظالم اور زہریلے جانور سے محفوظ رکھے گا نیز حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ایسا کرنے سے فقر جاتا رہتا ہے اور شیطان دور ہوتا ہے پھر فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) اتنے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر وحشت طاری ہو گی اور انہوں نے بیماری کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے شکایت کی۔ حضرت جبرائیل نے ان سے کہا تلخ بادام کی ایک شاخ لیکر اپنے سینے پر رکھو انہوں نے ایسا ہی کیا تو خدا نے انہیں وحشت سے نجات عطا فرمائی ۔ حضرت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مزید فرمایا جو چاہتا ہے کہ اسکی مسافت کم ہو اور فاصلے سمٹ جائیں وہ تلخ بادام کا عصا ہاتھ میں رکھے۔

عمامہ پہن کر گھر سے نکلنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں کہ میری ضمانت ہے جو شخص عمامہ پہن کر گھر سے نکلے وہ اپنے گھر والوں کے پاس صحیح و سالم لوٹ آئے گا۔

( ۲) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام)ارشاد فرماتے ہیں کہ میں ضمانت دیتا ہوں جو شخص عمامہ پہن کر اسکی تحت الحنک بنا کر گھر سے مسافرت پر جائے گا وہ چوری ، غرق ہونے اور جل کر مرنے سے محفوظ رہے گا۔

ذکر اہل بیت (علیھم السلام) سن کر آنسو بہانے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اپنی مجالس میں ہمارے متعلق بھی گفتگو کرتے ہو ؟ میں نے عرض کی آپ پر قربان جاؤں۔ جی ہاں فرمایا مجھے وہ مجالس پسند ہیں جن میں ہمارے احکام کو زندہ کیا جاتا ہے ہمارا تذکرہ کرنے والا یا جس کے پاس ہمارا تذکرہ کیا جا رہا ہو اگر اسکی آنکھوں سے مکھی کے پروں کے برابر آنسو نکل پڑیں تو خدا اس کے گناہ معاف کردیتا ہے خواہ وہ گناہ دریا کی وسعت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔

محبت اہل بیت (علیھم السلام) کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ہم اہل بیت (علیھم السلام)سے محبت کرنے والوں کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح ہوا کی وجہ سے درختوں کے خشک پتے۔

کسی مسلمان کی ایک حاجت پوری کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو بھی کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کریگا تو اسے خدا ندا دے گا کہ تیرا ثواب میرے ذمہ ہے اور تجھے بہشت میں بھیجنے سے کم پر میں راضی نہ ہوں گا۔

مؤمن بھائی سے مصافحہ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)ارشاد فرماتے ہیں بے شک جو شخص خدا کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہے وہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عظمت و منزلت سے بھی آگاہ نہیں ہے اور جو حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قدر و منزلت سے آگاہی نہیں رکھتا اسے مؤمن کی عظمت سے بھی آگاہی نہیں ہے جب کوئی کسی مؤمن بھائی کو دیکھتاہے اور اس سے ہاتھ ملاتا ہے توجب تک یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے ان کے چہرے سے گناہ اس طرح جھڑتے رہتے جس طرح تیز آندھی سے درختوں کے پتے۔

نعمت ملنے پر خدا کی حمد و ثنا کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں اے ابو اسحاق ! الله اپنے بندے کو جب نعمت سے نواز تا ہے اور اسے دل سے اس نعمت کی معرفت ہو جاتی ہے اور وہ واضح طور پر خدا کی حمد و ثناء بجالا تا ہے تو جو نہی یہ نعمت ختم ہوگی خدا اس سے بڑھکر نعمتیں عطا کرنے کا حکم صادر کرے گا۔

چالیس سے نوے سال کا سن پانے کاثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرما تے ہوئے سنا کہ جب انسان چالیس سال کا ہو جاتا ہے توالله تعالیٰ اسے دیوانگی جذام اور برص جیسی تین بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور جب پچاس سال کا ہوتا ہے تو الله اسکے حساب میں تخفیف کردیتا ہے اور جب زندگی کے ساٹھ سال گزار بیٹھتا ہے تو خدا اسے اپنی طرف لوٹنا نصیب کرتاہے جب ستر سال تک زندگی کی منزلیں لے کر بیٹھتا ہے تواہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں جب اسی سال تک پہنچتا ہے تو خدا حکم دیتا ہے کہ اس کے اچھے کام لکھے جائیں اور گناہ نہ لکھے جائیں اور جب نوے سال کا ہو جا تاہے تو الله اسکے کے پہلے اور بعد کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے اور اسے اپنی زمین پراسیرِ خدا کے عنوان سے لکھ دیتا ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

بے شک الله ستر سالہ شخص کی تکریم کرتا ہے اور اسی سالہ شخص کا حیاء کرتا ہے ۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

الله کو حیاء محسوس ہوتی ہے کہ اسی سالہ شخص کو عذاب دے اور مزید فرمایا قیامت والے دن ایک بوڑھے شخص کو نامہ اعمال ہاتھ میں دیکر لایا جائے گا اور لوگ اس بدی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھیں گے اور وہ عرض کرے گا خدا یا کیا مجھے بھی آگ میں جھونکا جائے گا ؟ خدائے جبار فرمائے گا اے عمر رسیدہ شخص تم دنیا میں میرے حضور نمازیں پڑھتے رہے ہو مجھے حیاء آتی ہے کہ تجھے جہنم میں ڈالوں (پھر حکم ملے گا) اسے جنت میں لے جایا جائے۔

عمر رسیدہ شخص کی فضیلت کو جانتے ہوئے احترام کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں۔

جو شخص عمر رسیدہ شخص کی عظمت و فضیلت کو جانتا ہو اور اسکی بزرگ سنی کا احترام کرتا ہو تو خدا اسے قیامت کی وحشت سے نجات عطا کرے گا۔ مزید فرمایا الله کی بزرگی اور جلالت کے قائل ہونے کا ایک طریقہ عمر رسیدہ شخص کا احترام اور تعظیم کرنا ہے ۔

امامِ عادل کی ہمراہی میں فی سبیل الله جہاد کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق اپنے والد اور وہ اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایک خبر سنائی جس سے میری آنکھوں کو سکون اور دل کو فرحت ملی ہے۔اس نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اگر تیری امت کا ایک فر د راہ خدا میں کسی غزوہ اور جنگ میں شریک ہوگا تو آسمان سے برسنے والا ہر قطرہ قیامت والے دن پیش آنی والی مشکل میں اسکی شھادت دے گا۔

( ۲) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جنت کے دروازوں میں ایک کوباب المجاھدین کہا جاتا ہے لوگ ابھی انتظار میں کھڑے ہوں گے لیکن یہ دروازہ کھلا ہو گا او رمجاہد اپنی تلواریں گردن میں لٹکائے اس میں داخل ہو رہے ہونگے اور فرشتے انہیں خوش آمدید او رمرحبا کہہ رہے ہونگے لیکن جو جہاد سے کنارہ کشی اختیار کریں گے خدا انہیں دنیا میں ذلت او رفقر جبکہ آخرت میں بربادی اور نابودی کا لباس پہنا ئے گا بے شک خداوند متعال نے میری امت کی گھوڑوں کی ٹاپوں اور نیزے کی انیوں میں عظمت و عزت رکھی ہے

( ۳) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں جو شخص غازی کا خط (اسکی منزل تک) پہنچائے گا وہ غلام آزاد کرنے والے شخص کی مانند ہے اور اس جہاد کے ثواب میں اس کا شریک ہے۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا غازیوں کے گھوڑے بہشتی گھوڑے ہیں۔

( ۵) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا تمام بھلائیاں تلوار اور اسکے سائے میں ہیں۔ تلوار کے علاوہ کوئی چیز لوگوں کی اصلاح نہیں کرسکتی۔ تلوار ہی جنت و جہنم کی کنجی ہے۔

گھوڑے کا خیال رکھنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سناکہ جو عقیق (نجیب الطرفین) گھوڑے کا خیال رکھے گا ہر روز اسکے تین گناہ مٹادیئے جائیں گے اور اسکے لئے اکیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو ہجین گھوڑے (نر عربی اور مادہ غیر عربی) کا خیال رکھے گا ہر روز اسکے دو گناہ مٹادیئے جائیں گیاور اسکے لئے سات نیکیاں لکھی جائیں گئیں جو برذون گھوڑے کو اپنی ضروریات اور دشمن سے بچاؤ کیلئے رکھے گا ہر روز اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گااور اسکے لئے چھ نیکیاں لکھی جائیں گئیں۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا قیامت تک کے لئے نیکی گھوڑے کی پیشانیوں پر بندھی ہوئی ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اگر تم چار پائے خرید کرو گے تو اس کا فائدہ تمھیں ہوگا اور اس کا رزق خدا کے ذمے ہوگا۔

( ۴) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سناکہ جو الله کیلئے اس گھوڑے کی پرورش کرتا ہے جس کا ماتھا مکمل طور پر سفید ہے یا اس کا ایک ٹکڑا سفید ہے (اور مجھے بہت پسند ہے کہ گھوڑے کی پیشانی کیساتھ ساتھ اسکے ہاتھ پاؤں بھی سفید ہوں)جب تک ایسا گھوڑا اس کے گھر میں ہے تو اس کے گھر میں فقر نہیں آسکتا اور جبتک یہ گھوڑا اسکی ملکیت میں ہے اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے گی راوی کہتاہے کہ میں نے یہ فرماتے ہوئے بھی سناکہ جو شخص دشمن کو خائف کرنے یا باربرداری کرنے کیلئے گھوڑا رکھتا ہے تو جبتک وہ اس گھوڑے کا مالک ہے مسلسل اسکی مدد ہوتی رہے گی اور اسکے گھر میں فقر بھی داخل نہ ہو سکے گا۔

( ۵) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو اپنے یاکسی اور کے گھر سے نکلتے وقت ایسا گھوڑا دیکھے جس کی پیشانی ، زانو اور پاؤں پر سفید نشان ہو ( اور اگر سفیدی پیشانی سے ناک تک ہو تو بہت ہی بہتر ہے )تو اس دن اسے خوشحالی ہی خوشحالی دیکھنا نصیب ہوگی اور اگر یہ کسی کام پر جار ہا ہو اور استے میں ایسا گھوڑا دیکھ لے تو الله اس کا کام اور حاجت پوری کردے گا۔

سوار ہوتے وقتبسم الله پڑھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص چوپائے پر سوار ہوتے وقت بسم الله پڑھتا ہے تو ایک فرشتہ اسکے پیچھے سوار ہو جاتا ہے اور سواری سے اتر نے تک اسکی حفاظت کرتا رہتا ہے لیکن اگر وہ سوار ہوتے وقت بسم الله نہ پڑھے تو شیطان ساتھ سوار ہو جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ غناء کرو اگر وہ کہے کہ میں نہیں جانتا تو اس سے کہتا ہے کہ کوئی خواہش کرو اور وہ اترنے تک مسلسل مختلف خواہشات کرتا چلا جاتا ہے حضرت نے نیز فرمایا جو شخص سوار ہوتے وقت کہےبِسْمِ الله ِ وَ لَاحَوْلَ وَلَاقُوّة اِلَّا بِالله ِ اَلْحَمْدُ للهِ ِ الّذِی هَدَانَالِهَذَا وَ سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَ مَا کُنَّا لَهُ مُقْرِنِیْنَ تو یہ خود اور اس کی سواری منزل مقصود پہنچنے تک محفوظ رہیں گے۔

چوپا ئے کے متعلق روایت

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو چوپا یاپانچ دفعہ مواقفِ حج پر جائے تو وہ جنتی شتر کی مانند ہے۔

بخار کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا بخار موت کا جاسوس اور زمین پر الله کا قید خانہ ہے تیز بخار ہونا جہنم سے ہے اور مؤمن کیلئے آگ کا ایک حصّہ ہے۔

( ۲) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ بخار اچھی بیماری ہے اس سے ہر عضو کو مصیبت و بلا کا ایک حصّہ ملتا ہے اسمیں مبتلا نہ ہونے میں بھلائی نہیں۔

( ۳) معصوم (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جب کوئی مؤمن ایک مرتبہ بخار میں مبتلا ہوتا ہے تو اسکے گناہ پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں اس کے لئے بستر پر رونا تسبیح اور کراہنا تھلیل ہے لوٹنا پوٹنا الله کی راہ میں تلوار چلانے والے کی مانند ہے اور اگر یہ اپنے بھائیوں اور دوستوں کیساتھ ملکر عبادت خدا بجا لائے تو معاف کر دیا جائے گا ۔اگر وہ توبہ کرے تو کتنا خوش قسمت ہے اور اگر توبہ توڑ ڈالے تو اس پر تُف ہے بہر حال ہمیں اسکی خیریت و عافیت زیادہ محبوب ہے۔

پوری رات کے بخار کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

ایک رات کا بخار ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اسی وجہ سے کہ اس کا درد بدن میں ایک سال تک باقی رہتا ہے۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

ایک رات کا بخار گذشتہ اور آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے۔

ایک رات بیماری کو عمدگی سے برداشت کرنے اور خدا کا شکر بجالانے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سنا۔

جو ایک رات مریض رہ کر خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کے بعد خدا کا شکر بجالائے تو یہ اسکے ساٹھ سالوں کا کفارہ ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے برداشت کرنے کا معنیٰ پوچھا تو حضرت نے فرمایا اس بیماری پر صبر کرے۔

بیماری کا ثواب

( ۱) حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں

بیماری مؤمن کی تطہیر کرتی ہے اور اسکے لئے رحمت ہے اور کافر کیلئے شکنجہ ہے اور لعنت ہے اس وقت تک مؤمن بیمار رہتا ہے جبتک اس کے سب گناہ نہ مٹ جائیں۔

ایک رات کے سردرد کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

ایک رات کا سردرد گناہ کبیرہ کے علاوہ سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔

مریض کا ثواب

( ۱) حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔

مریض کے چار ثواب ہیں اس سے قلم تکلیف اٹھالی جاتی ہے ، خدا فرشتے کوحکم دیتا ہے کہ تندرستی کے وقت جو اچھے اعمال بجالاتا تھا اسے بیماری کی حالت میں دوبارہ لکھو بیماری اسکے تمام اعضاء میں جاکر اسکے گناہوں نکال باہر کرتی ہے اگر دنیا سے چلا جائے تو معاف شدہ ہو کر مرے گا اگر زندہ رہے تو تب بھی گناہوں سے معاف ہو کر زندہ رہے گا۔

( ۲) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں ۔

جب کوئی مسلمان بیمار ہوتا ہے تو خداوندمتعال تندرستی میں بجالانے والے اچھے اعمال بیماری میں بھی لکھتا ہے اور درخت کے پتوں کی طرح اسکے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو الله کیلئے کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو مریض عیادت کرنے والے کیلئے جو دعا بھی کرے گا وہ قبول ہوگی۔

بچے کی بیماری کا ثواب

( ۱) حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) بچے کی بیماری کے متعلق فرماتے ہیں کہ بچے کی بیماری والدین کے گناہوں کا کفارہ ہے۔

عیادت مریض ، غسل میّت، تشییع جنازہ ، جوان بیٹے کی موت پر ماں کو پرسہ دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں مناجات کرتے ہوئے عرض کی پروردگارا مجھے مریض کی عیادت کرنے والے کے ثواب سے آگاہ فرما؟ خدا نے فرمایا میں ایک فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اسکی قبر میں محشر تک عبادت کرتے رہو۔ پھر حضرت موسیٰ نے عرض کی پروردگارا میّت کو غسل دینے والوں کا کیا ثواب ہے؟ فرمایا میں اسکے گناہوں کو دھوڈالوں گا گویا یہ ماں سے متولد ہونے والے دن کی طرح ہو جائے گا عرض کی خدا یا تشییع جنازہ کرنے والوں کا کیا ثواب ہے؟ فرمایا اپنے ملائکہ میں سے پرچم دار ملائکہ کی ذمہ داری لگاؤں گا کہ قبر سے محشر تک اسکی تشییع کریں عرض کی یا الله جس ماں کا بیٹا مرگیا ہو اس کو تعزیت کرنے والوں کا کیا ثواب ہے ؟ فرمایا جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا اسے میرا سایہ نصیب ہوگا۔

جمعرات زوال سے جمعہ زوال تک مرنے والوں کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

جو شخص جمعرات کو زوال سے لیکر جمعہ والے دن زوال کے وقت کے درمیان داعی أجل کو لبیک کہہ جائے تو الله اسے فشارقبر سے پناہ عطا فرمائے گا۔

میّت کو قبلہ رخ کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) اپنے والد سے اوروہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اولاد عبدالمطلب میں سے ایک شخص کے پاس گئے وہ مرنے کی حالت میں تھا اور قبلہ رخ نہ تھا حضرت نے فرمایا اسے قبلہ رخ کرو کیونکہ جب تم اسے قبلہ رخ کرو گے تو روح قبض ہونے تک فرشتے اور خدا اسے دیکھتے رہیں گے۔

تلقین میّت کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا اپنے مردوں کولَا اِلَهَ اِلاَّ الله ُ کی تلقین کرو جس کا آخری کلاملَا اِلَهَ اِلاَّ الله ُ ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

مؤمن کی میّت کو غسل دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن کو غسل دے اور اس کا رخ تبدیل کرتے وقت کہے

اَللَّهُمَّ هَذَاَ بَدَنُ عَبْدِک الْمُؤْمِنِ وَ قَدْ اَخْرَجْتَ رُوْحَهُ مِنْهُ وَ فَرَّقْتَ بَیْنَهُمَا فَعَفْوَکَ عَفْوَکْ

توگناہ کبیر ہ کے علاوہ خدا اسکے ایک سال کے تمام گناہ معاف کردے گا ۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ جو مؤمن کی میت کو غسل دے گا ۔اور اس متعلق امانت داری کرے گا۔ خد اسکے تمام گناہ معاف کر دے گا سوال کیا گیا کہ وہ کس طرح امانت ادا کرنے والا ہے ؟ فرمایا جو کچھ بدن پر دیکھے دوسروں سے نہ کہے۔

چند بچوں کی موت کے بعد (بھی) خدا سے پاداش کی امید رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جس کے چند بچے فوت ہوجائیں اور اسے امید ہو کے خدا اسکے بدلے ثواب دے گا تو یہ بچے خدا کے حکم سے جہنم کی آگ کے سامنے اس کے لئے ڈھال بن جائیں گے۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے ہی مر جائیں یا کسی خاتون کے تین بچے اس دنیا سے چلے جائیں تو یہ بچے جہنم کے آگ کے سامنے ڈھال بن جائیں گے۔

( ۳) حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ جس ماں باپ کے تین بچے اس دنیا سے چلے جائیں تو خدا ان والدین کو اپنے فضل و رحمت سے بہشت میں داخل کرے گا۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جس شخص کا ایک بچہ دنیا سے کوچ کر جائے تو یہ زندہ رہنے والے ستر بچوں سے بہتر ہے اور وہ بچہ حضرت امام زمانعج کو درک کرے گا۔

جنازے کو کندھا دینے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جو شخص جنازے کو کندھا دے گا خدا اس کے پچیس گناہ کبیرہ معاف کردے گا اور اگر وہ جنازے کی چاروں اطراف کندھا دے تو وہ گناہوں سے پاک ہو جائے گا۔

اچھاکفن انتخاب کرنے اور درست کفن پہنانے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اپنے مُردوں کیلئے اچھے کفن کا انتظام کرو اور اچھی طرح کفن پہناؤ کیونکہ کفن ہی ان کی زینت ہے۔

مؤمن کیلئے فشار قبر کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے اور وہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ۔

مؤمن کیلئے فشار قبر اسکی ضائع کردہ نعمتوں کا کفارہ ہے۔

اہل بیت (علیھم السلام) کا موالی بن کر ثواب کی امید رکھتے ہوئے خدا سے ملاقات کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نابینا شخص اپنی نابینائی پر خدا سے ثواب کی امید رکھتا ہو اور محب اہل بیت(علیھم السلام) ہو تو جب خدا سے ملاقات کرے گا تو اس کا کوئی گناہ نہ ہوگا۔

( ۲) نیز روایت ہوتی ہے کہ الله نے جس مؤمن کو ایک یا دونوں آنکھوں سے محروم رکھا ہے اس سے گناہوں کے متعلق کوئی سوال نہ کیاجائے گا۔

مصیبت کے وقتلَا اِلهَ اِلاّ الله کہنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جو مؤمن اس دنیا میں کوئی مصیبت دیکھے اور اس مصیبت کے وقتلَا اِلهَ اِلَّا لله کہے تو خدا اسکے ان کبیرہ گناہوں کے علاوہ جن پر جہنم واجب تھی تمام گناہ معاف کر دے گا۔ مزید فرمایا جب بھی آئندہ تم پر کوئی مصیبت آئے تولَا اِلهَ اِلَّا الله کہا کرو اور الله کی حمد و ثنا کیا کرو تو الله تعالیٰ پہلی دفعہلَا اِلهَ اِلَّا الله کہنے اور دوسری دفعہ کہنے کے درمیان ہونے والے تمام گناہ (سوائے گناہ کبیرہ) معاف کر دے گا۔

( ۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب مصیبت کے وقتلَا اِلهَ اِلَّا الله کہنے کا الہام ہو اس پر جنت واجب ہے۔

صبر کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اس ملازم اورگھر والوں کے حنظل (کڑتُمّا) سے تلخ روّیے پر صبر و تحمل کر رہا ہوں بہر حال جو شخص صبر و تحمل کا دامن تھامے رکھے تو وہ شب بیداری کرنے والے روزہ دار اور اس شہید کی مانند ہے جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بارگاہ میں تلوار چلائی ہو ۔

( ۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے فرماتے ہوئے سناجو شخص کسی مصیبت پر صبر کرے گا تو خدا اسکی عزت میں اضافہ فرمائے گا اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور انکی اہل بیت (علیھم السلام) کیساتھ جنت میں داخل کرے گا۔

تعزیت کرنے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا تعزیت کہنا جنت جانے کا ذریعہ ہے۔

( ۲) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا غمگین شخص کو تعزیت پیش کرنے والے کو (قیامت میں) پہننے کیلئے عمدہ لباس دیا جائے گا۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے ایک شخص سے اسکے بیٹے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں تم اس بزرگ ہستی کے اسوہ حسنہ کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ اس نے کہا میرا بیٹا گنہگار تھا حضرت نے فرمایا اس کے سامنے تین چیزیں موجود ہیں ، انشاء الله تعالیٰ ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی ضائع نہ کرے گا۔ یعنی اس بات کی گواہی کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں رحمت خداوندی اور شفاعتِ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے شامل حال ہے۔

( ۴) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا۔ جو کسی مصیبت زدہ شخص کو تعزیت کرے گا اسے مصیبت زدہ شخص کے برابر اجر و ثواب ملے گا اور مصیبت زدہ کے ثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔

مؤمن کی قبر کی زیارت کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے۔

میں اور ابراہیم بن ہاشم ایک قبرستان میں گئے ابراہیم ایک قبر پر قبلہ رخ بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھوں کو قبر پر رکھ کر سات مرتبہاِنَّا اَنْزَلْنَاهُ پڑھی اور کہا کہ صاحب قبر جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع نے ایک حدیث بیان کی تھی کہ جو کسی مؤمن کی قبر کی زیارت کرے اور پھر اس پر سات مرتبہاِنَّا اَنْزَلْنَاهُ پڑھے تو اس شخص اور صاحب قبر کی بخشش خدا کے ذمہ ہے۔


ثواب الاعمال ۸

یتیم کے سر پردست ِشفقت رکھنے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ۔

جو مؤمن یا مؤمنہ کسی یتیم پر رحم کرتے ہوئے دست شفقت رکھے گا تو خدا اسے قیامت والے دن ہر بال کے مقابلے میں نور عطا فرمائے گا۔

( ۳) حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرمایا۔

جو شخص اپنی سخت دلی سے پریشان ہے ، وہ یتیم کے سر پر لطف و محبت کرتے ہوئے دست شفقت رکھے تو الله کے حکم سے وہ نرم دل ہو جائے گا اور یہ یتیم کا حق بھی ہے ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اسے اپنے بھائیوں کی محفل میں بٹھائے اور اس کے سر پر دست شفقت رکھے تو نرم دل ہو جائے گا اور وہ جو نہی یہ عمل بجالائے گا تو خدا تعالیٰ کے حکم سے اس کا دل نرم ہو جائے گا۔

گریہ کرنے والے یتیم کو چپ کروانے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں بے شک جب یتیم گریہ کرتا ہے تو عرش الہی لرزنے لگتا ہے اورخدا تبارک تعالیٰ فرماتا ہے کس نے میرے اس بندہ کورلایا ہے جسکے والدین کو میں نے اسکی کمسنی میں ہی اٹھالیا تھا مجھے اپنی عزت وجلالت کی قسم اسے چپ کروانے والے پر میں اپنی جنت واجب قرار دونگا۔

مرنے کے بعد مؤمن کا ثواب اور مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب

( ۱) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا وہاں مؤمن کا تذکرہ چل نکلا آپ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے ابوالفضل کیا چاہتے ہو کہ تمھیں بتاؤں الله کے نزدیک مؤمن کا کیا مقام ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا جب الله کسی مؤمن کی روح قبض کرتا ہے تو دو فرشتے آسمان پر جاکر بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں خدا یا تیرا فلاں بندہ اچھا انسان تھا ، تیری اطاعت میں جلدی اور نافرمانی میں کوتاہی و سستی کرتا تھا اب جبکہ تم نے اس کی روح قبض کرلی ہے ہمارے لئے اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ خدا ان سے فرمائے گا دنیا میں چلے جاؤ اور میرے بندے کی قبر کے پاس بیٹھ کر تحمید ، تسبیح ، تہلیل او ر تکبیر کرتے رہو قبر سے نکالنے تک اس عمل کا ثواب میرے بندے کیلئے لکھتے جاؤ اس وقت حضرت نے فرمایا کیا چاہتے ہو اس سے زیادہ فضائل بیان کروں میں نے عرض کی جی ہاں فرمایا جب الله اس مؤمن کو قبر سے نکالے گا تو اسکی شبیہ اور مثل بھی قبر سے نکلے گی اور وہ اسکے آگے آگے ہو گی جب بھی مؤمن قیامت کی ہولناکی کا ملاحظہ کرے گا یہ شبیہ اسے کہے گی نہ ڈر غمگین نہ ہو اور اسے خوشحالی اور کرامت خداوندی کی بشارت دے گی اور خدا کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک مسلسل خوشی اور کرم خداوندی کی بشارت دیتی چلی جائے گی۔

اس سے آسان حساب و کتاب لیا جائے گا اور اسے جنت جانے کا حکم ملے گا یہ مثال اور شبیہ اس کے آگے آگے ہوگی مؤمن اسے کہے گا تو کتنی اچھی ہے کہ تجھے میری قبر سے نکالا گیا ہے اور تو مسلسل مجھے خوشی اور کرمِ خدا کی بشارت دے رہی ہے ، میں سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا چلا آرہا ہوں تم ہو کون؟ وہ مثال کہے گی میں وہی خوشحالی ہوں جو تم نے دنیا میں اپنے مؤمن بھائی کو عطا کی تھی الله نے تجھے خوشخبریاں سنانے کیلئے مجھے پیدا فرمایا ہے۔

اولاد سے محبت کرنے کاثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یقینا الله اس شخص پر رحم کرے گا جسے اپنی اولاد سے شدید محبت ہے۔

اپنے اہل وعیال کے لئے تخفے تحائف لینے اور اپنی بیٹی اور بیٹے کوخوشحال کرنے کا ثواب

( ۱) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جوشخص بازار جاکر تحفہ خریدے اور اپنے اہل وعیال کو دے تو یہ ضرورت مندوں کی ایک قوم کو صدقہ دینے والوں کی طرح ہے پہلے بیٹیوں کو اور پھر بیٹوں کو (تحفہ) دیا کرو جو شخص اپنی بیٹی کو خوشحال کرتاہے گویا اس نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کیا ہے اور اپنے بیٹوں کو خوشحال کرنے والا خوف خدا میں رونے والوں کی مانند ہے اور جو خوف خدا میں روئے الله اسے نعمتوں بھری بہشت میں داخل کرتا ہے۔

بیٹیوں کا باپ ہونے کا ثواب

( ۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بیٹیاں حسنات (نیکیاں ) اور بیٹے نعمت ہیں نیکیوں (حسنات) کا ثواب ملے گا اور نعمتوں کا حساب وکتاب دینا ہوگا۔

( ۲) حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو حضرت فاطمة الزہراء کی ولادت کی خوشخبری سنائی گی۔ حضرت نے اپنے اصحاب کے چہروں پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو فرمایا تمھیں کیا ہوگیاہے؟ یہ خوشبو ہے جس سے میں لطف اندوز ہو رہا ہوں اور اس کا رزق (بھی تو ) خداوند متعال کے ذمہ ہے۔

( ۳) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر تھا اسے صاحب اولاد ہونے کی اطلاع دی گئی اس کا رنگ متغّیر ہو گیا حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے پوچھا ، تمھیں کیا ہو گیا ہے ؟ اس نے کہا ، چھوڑیں حضور۔ فرمایا بتاؤ۔ عرض گزار ہوا کہ جب میں گھر سے نکلا تو میری بیوی کو درد زِہ ہو رہا تھا اب اطلاع ملی ہے کہ اس نے بیٹی جَنّی ہے حضرت نے اسے فرمایا اس کا بوجھ تو زمین نے اٹھانا ہے ، آسمان نے اس پر سائبان بننا ہے ، اس کا رزق خدا کے ذمہ ہے اور وہ خوشبو ہے جسے تم سونگھو گے ۔ پھر آپ نے اصحاب کی طرف دیکھ کر فرمایا جسکی ایک بیٹی ہے وہ پریشان ہے جسکی دو بیٹیاں ہیں اسکی فریاد رسی کرو جس کے ہاں تین بیٹیاں ہیں اس سے جہاد اور ہر سخت تکلیف معاف ہے اس پر کوئی تکلیف و سختی نہیں اور جس کی چار بیٹیاں ہیں الله کے بندوں اسکی مدد کرو اس کو قرض دو اور اس پر رحم کرو۔

( ۴) راوی حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) یا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو الله اس بچی کی طرف ایک فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اپنے پروں کو اس کے سر و سینہ پر ملتے ہوئے کہو یہ کمزور ی سے خلق ہوئی ہے اس کے اخراجات اٹھانے والے کیساتھ کے ساتھ قیامت والے دن تعاون کیا جائے گا۔

کتاب ثواب الاعمال یعنی نسیم بہشت کا اردو ترجمہ بندہ حقیر کے ہاتھوں حضرت ثامن الائمہ کے حرم مطہر میں اختتام کو پہنچا ۔

الحمد لله رب العالمین وصلی الله علی محمد وآلہ الطیبین الطاہرین۔

سید محمدنجفی ابن حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی دام ظلہ

ذی الحجہ ۱۴۲۲


عرض مترجم

زیر نظر کتاب یا اس کے مؤلف کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے۔ چوتھی صدی کے اوائل لکھی جانی والی اس کتاب کا شمار اصول روائی کی معتبر ترین کتب میں ہوتا ہے ۔ علامہ مجلسی کے بقول شیخ صدوق (علیہ الرحمہ) کی کتابوں کی شہرت کتب اربعہ کے نزدیک نزدیک ہے ۔ اس کتاب میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اچھے اعمال کی جزاء اور برے اعمال کی سزا بیان کی ہے۔ یہ کتاب اسلامی احکام ، حلال اور حرام کا معتبر ترین انسیکلوپیڈیا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا دانشمند یا ادیب ہو ،جو کسی موضوع پر قلم تو اٹھائے ، اوروہ اس کتاب کا محتاج نہ ہو۔

آپ تفاسیرکا مطالعہ کریں۔ (تفسیر صافی، تفسیر مجمع البیان، تفسیر نور الثقلین غرض) چوتھی صدی کے بعد لکھی جانے والے تقریباً ہر تفسیر نے اس کتاب سے ضرور استفادہ کیا ہے۔ اسی طرح عقائد، اخلاقیات اور دوسرے موضوع پر قلم اٹھانے والے علماء کو اس کتاب کی احتیاج رہی ہے۔اس کتاب کی تألیف کی وجہ بیان کرتے ہوئے شیخ صدوق(علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ نیک اعمال کی طرف راہنمائی کرنے والا، انہیں بجالانے والے کی طرح ہے۔ لہذا ہم نے بھی ثواب کی امید اور یقین پر اس کتاب کو اردو زبان میں منتقل کر دیا ہے تاکہ اردو دان طبقہ اس کتاب کے فیض سے بہرہ مند ہوسکے۔ قاری کو بھی ثواب ملے اور ہم بھی اس سے حصّہ پائیں۔

اس کتاب میں کلی طور پر ۱۱۱۹ احادیث بیان کی گئی ہیں اور انہیں مجموعی طور پر ۵۲۰ عنوانات کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔اگر جداگانہ دیکھا جائے تو ثواب الاعمال کے طور پر ۳۸۹ عنوانات کے تحت ۷۸۸ احادیث مذکور ہوئی ہیں جبکہ عقاب الاعمال کے لحاظ سے ۱۳۱ عنوانات کے ذیل میں ائمہ اطہار (علیھم السلام) کے ۳۳۱ فرامین بیان ہوئے ہیں ۔

اس کتا ب میں اردو ترجمے کیساتھ ساتھ مکمل عربی عبارت بھی دی جارہی ہے اور عربی عبارت کو اعراب سے مزّین بھی کردیا گیا ہے تا کہ اس سے ہر خاص و عام استفادہ کرسکے۔اردو ترجمے میں روایات کی سند بیان نہیں کی گئی کیونکہ عموماً حدیث کی سند کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ۔ بہر حال محققین حضرات اس سلسلے میں عربی عبارت ملاحظہ فرمائیں،وہاں مکمل سند مذکور ہے۔ البتہ سند میں سے ائمہ اطہار (علیھم السلام) کے اسمائے مبارک کا اردو ترجمہ میں بھی تبرک کے طور پر ذکر موجود ہے۔بہر حال شیخ صدوق کے نام سے مشہور شخصیت جناب محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی ۳۰۵ ہجری قمری میں قم جیسے علم و اجتھاد کے مرکز میں پیدا ہوئی۔

شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی پیدائش کے حوالے جناب شیخ طوسی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کے والد محترم نے اپنی چچا زاد سے شادی کی اور حضرت امام زمانعج کی خدمت میں جناب ابو القاسم حسین بن روح کے واسطے سے دعا کی درخواست کی کہ خدا مجھے صالح اور فقیہ اولاد عطا فرمائے۔کچھ عرصے بعد حضرت امام زمانعج کا جواب موصول ہوا جس کی عبارت یہ تھی۔ اس بیوی سے تیری اولاد نہیں ہے ۔ لیکن بہت جلد دیلمی کنیز سے تیری شادی ہوگی۔ اس سے تیرے دو بیٹے ہونگے۔ اور دونوں فقیہ ہونگے۔

شیخ صدوق علیہ الرحمہ خود بھی اپنی کتاب کمال الدین میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔جب بھی جعفر بن محمد بن علی الاسود سے میری ملاقات ہوتی اور وہ مجھے استاد کے سامنے زانو ادب طے کرتا ہوا دیکھتے تو فرماتے ۔ تیرا علم دین میں میلان اور اشتیاق تعجب کا باعث نہیں ہے ، تو پیدا جو امام زمانعج کی دعا سے ہوا ہے۔

جہاں آپ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ امام زمانہ کی دعاؤں سے متولد ہوئے ، وہاں یہ خصوصیت بھی ہے کہ آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا۔ آپ کے والد محترم جناب علی بن حسین بن بابویہ کا شمار قم کے برجستہ ترین علماء و فقہاء میں ہوتا تھا بلکہ اس زمانہ میں ہدایت و مرجعیت کا پرچم آپ کے والد کے دوش پر تھا انہوں نے تجارت کیساتھ ساتھ تدریس اور تبلیغ احکام کا بیڑا بھی اٹھا رکھا تھا۔شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے آپ کو عصر ائمہ (علیھم السلام) کے نزدیک ترین زمانے میں زندگی کرنا نصیب ہوئی ۔ بیس بائیس سال کی عمر تک اپنے والد محترم اور دوسرے بزرگ قمی علماء سے کسب فیض فرماتے رہے۔والد صاحب کی وفات کے بعد علوم آل محمد کی ترویج اور نشرو اشاعت کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر آگئی اور آپ نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی۔

جناب شیخ طوسی آپ کے متعلق فرماتے ہیں کہ آپ جلیل القدر عالم اور حافظ حدیث تھے۔ آپ بے نظیر شخصیت کے مالک تھے اور تقریباً تین سو کے قریب کتابوں کے مؤلف بھی تھے۔علامہ بحرینی آپ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمارے تقریباً تمام علماء مثلاً جناب علامہ مختلف میں، جناب شہید شرح ارشاد میں اور جناب سید محقق داماد اپنی کتابوں میں آپ کی مرسلہ روایات کو بھی صحیح شمار کیا کرتے تھے، بلکہ ان پر عمل کرتے تھے حتی کہ جس طرح ابن عمیر کی مرسلہ روایات قابل قبول تھیں۔ اسی طرح شیخ صدوق کی روایات بھی قابل قبول تھیں۔

اساتید:۔

( ۱) علی بن حسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی (آپ کے والد محترم)

( ۲) محمد بن حسن بن احمد ولید

( ۳) حمزہ بن محمد بن احمد بن جعفر بن محمد بن زید بن حضرت علی (علیہ السلام)

( ۴) ابوالحسن ، محمد بن قاسم

( ۵) ابو محمد، قاسم بن محمد استر آبادی

( ۶) ابو محمد ، عبدوس بن علی

( ۷) محمد بن علی استر آبادی

شاگردان

( ۱) حسین بن علی بن موسیٰ بن بابویہ (بھائی)

( ۲) شیخ مفید علیہ رحمہ

( ۳) حسن بن حسین بن علی (بھتیجا)

( ۴) علی بن احمد بن عباس ( نجاشی کے والد محترم)

( ۵) ابو القاسم علی بن محمد بن علی خزاز

( ۶) ابن غضائری ابو عبدالله حسین بن عبید الله

( ۷) شیخ جلیل ابو الحسن جعفر بن حسین

( ۸) شیخ ابو جعفر محمد بن احمد بن عباس بن فاحز

( ۹) ابو زکریا محمد بن سلیمان حمدانی

( ۱۰) شیخ ابو البرکات ، علی بن حسن خوزی

تالفات

آپ کی تألیفات کے حوالے سے اشارہ ہو چکا ہے کہ شیخ طوسی نے فرمایا کہ آپ نے تین سو سے زیادہ کتابیں تألیف فرمائی ہیں۔ اگر چہ آپ کی تمام کتابیں گرانبھا گوہر ، تابناک موتی اور علم کا گنجینہ ہیں۔ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگالیں کہ تیرہ سو سال گزرنے کے باوجود آپ کی کتابیں آج بھی ہر کتابخانے ، عالم دین ، عوام ، طالب علم غرض ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کی ضرورت بنی ہوئی ہیں۔ نہ تو فقہاء کے سینے انہیں یاد کرنے سے اکتائے ہیں اور نہ نوجواں کے ذہن ۔ نہ ان کی رونق ختم ہوئی ہے نہ ان کی ارزش و قیمت۔ ان کی چاشنی اور اہمیت پہلے دن کی طرح باقی ہے۔ آپ کی بعض تألیفات درج ذیل ہیں۔

( ۱) من لایحضرہ الفقیہ

( ۲) مدینة العلم

( ۳) کمال الدین و تمام النعمة

( ۴) توحید

( ۵) خصال

( ۶) معانی الاخبار ( ۷) عیون اخبار رضا (علیہ السلام)

( ۸) أمالی شیخ صدوق

( ۹) المقنعہ فی الفقہ

( ۱۰) الھدایة فی الخیر۔

آخر کار ۳۸۱ ہجری کا وہ دن بھی آیا جب خاندان اہلبیت (علیھم السلام) کے حقیقی موالی نے اس فانی دنیا سے رخت سفر باندھ لیا اور تمام شیعیان جہان نے موت العَالِم موت العَالَم کے مفہوم کو حقیقی معنوں میں ملاحظہ کیا۔

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ

سید محمد نجفی۔قم


فہرست

لا الہ الا الله کہنے کا ثواب: ۵

سو مرتبہ لاالہ الاالله کہنے کا ثواب ۶

لا الہ الاالله وَحدَہُ وَحدَہُ وَحدَہُ کہنے کا ثواب ۷

خلوص کیساتھ لاالہ الاالله کہنے کا ثواب ۷

بلند آواز سے لاالہ الاالله کہنے کا ثواب ۷

لاالہ الاالله کو اس کی شرائط کے مطابق کہنے کا ثواب ۸

لاالہ الاالله کی گواہی کی قبولیت کا ثواب ۸

سو مرتبہ لاالہ الاالله الملک کہنے کا ثواب ۸

بغیر تعجب کے لاالہ الاالله کہنے کا ثواب ۹

اشھد ان لاالہ الاالله کہنے کا ثواب ۹

ہر روز تیس مرتبہ لاالہ الاالله کہنے کا ثواب ۹

تسبیحات اربعہ کو زیادہ کہنے کا ثواب ۹

لاالہ الاالله حقاً حقاً کہنے کا ثواب ۱۰

تسبیح کا ثواب ۱۰

دعا کو ماشاء الله پر ختم کرنے کا ثواب ۱۰

ہر روز سات بار الحمدللہ علی کہنے کا ثواب ۱۰

خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد کی رسالت کی گواہی کا ثواب ۱۰

سو مرتبہ ، تکبیر، تسبیح، تحمید اور تہلیل کہنے کا ثواب ۱۱

تسبیحات اربعہ کا ثواب ۱۱


سبحان الله کہنے کا ثواب ۱۲

تعجب کے بغیر تسبیح کا ثواب ۱۲

سو مرتبہ سبحان الله کہنے کا ثواب ۱۳

الحمد لله کما هو اهله کہنے کا ثواب ۱۳

صبح و شام چار مرتبہ الحمد لله رب العالمین کہنے کا ثواب ۱۳

تمجید خداکا ثواب ۱۳

تمجید خداوندی کا ثواب ۱۳

عاقل کا ثواب ۱۴

دس خصلتوں کا ثواب ۱۴

وجود خدا، پیامبری حضرت محمد ، امامت حضرت علی کے اقرار اور واجبات کی انجام دہی کا ثواب ۱۴

ثواب الاعمال ۱ ۱۵

بیت الخلاء میں جاتے وقت بسم الله کہنے کا ثواب ۱۵

وضو کرتے وقت خدا کا نام لینے کا ثواب ۱۵

حضرت امیر المؤمنین کی طرح وضو کرنے کا ثواب ۱۵

تولیے سے اعضاء وضو کے صاف کرنے یا نہ کرنے کا ثواب ۱۶

نماز مغرب اور صبح کے وضو کا ثواب ۱۶

وضو کرتے وقت آنکھیں کھلی رکھنے کا ثواب ۱۶

دوبارہ (تجدید) وضو کا ثواب ۱۶

مسواک کرنے کا ثواب ۱۷

احترام مسجد میں آب دہان منہ میں لے جانا ۱۷


سوتے وقت وضو کرنے کا ثواب ۱۷

زیادہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ثواب ۱۸

کپڑا باندھ کر حمام جانے کا ثواب ۱۸

کسی مؤمن کی شرم گاہ نہ دیکھنے کا ثواب ۱۸

خطمی سے سرد ھونے کا ثواب ۱۸

بیری کے پتوں (سدر) سے سر دھونے کا ثواب ۱۸

خضاب کرنے کا ثواب ۱۹

نورہ استعمال کرنے کا ثواب ۲۰

سر میں کنگھی کرنے کا ثواب ۲۰

داڑھی میں ستر مرتبہ کنگھی کرنے کا ثواب ۲۰

سرمہ لگانے کا ثواب ۲۱

بال کٹوانے کا ثواب ۲۱

ناخن کاٹنے اور مونچھیں چھوٹی کرنے کا ثواب ۲۱

سفید جوتے پہننے کا ثواب ۲۲

زرد رنگ کا جوتا پہننے کا ثواب ۲۲

جوتا پہننے کا ثواب ۲۳

نیا لباس کاٹتے وقت (انا انزلناہ) کی تلاوت کا ثواب ۲۳

آئینہ دیکھتے وقت خدا کی زیادہ ستائش کرنے کا ثواب ۲۳

کامل وضو ، عمرہ، نماز اور ادائے زکات کا ثواب ۲۴

رَضِیتُ بِالله رَبّاً کہنے کا ثواب ۲۴


شب و روز کی دعا کا ثواب ۲۴

مسجد جانے کا ثواب ۲۴

مسجد میں رفت وآمد کا ثواب ۲۵

پیدل مسجد جانے کا ثواب ۲۵

قرآنی گفتگو اور مسجد کے گھر ہونے کا ثواب ۲۵

وضو کرکے مسجد جانے کا ثواب ۲۵

اول وقت میں پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کا ثواب ۲۶

نافلہ نمازوں کا ثواب ۲۶

مسجد میں چراغ جلانے کا ثواب ۲۶

نماز کی حالت میں آب دہن (تھوک ) کو منہ میں رکھنے کا ثواب ۲۷

مسجدالحرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ۲۷

مسجدنبوی میں نماز کا ثواب ۲۷

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے درمیان نماز کا ثواب ۲۷

مسجد کوفہ میں نماز کا ثواب ۲۷

بیت المقدس ، جامع مسجد ، مسجد قبیلہ اور مسجد بازار میں نماز کا ثواب ۲۸

مسجد میں جھاڑو کرنے کا ثواب ۲۸

ثواب الاعمال ۲ ۲۹

اذان کہنے والوں کا ثواب ۲۹

سات سال تک اذان کہنے کا ثواب ۲۹

کسی مسلمان شہر میں ایک سال تک اذان کہنے کا ثواب ۲۹


تکرار اذان کا ثواب ۲۹

خدا سے ثواب کی نیت سے دس سال تک اذان کہنا ۳۰

اذان و اقامت کے درمیان مؤذن کا ثواب ۳۰

اذان و اقامت کیساتھ نماز پڑھنے کا ثواب ۳۰

مستحبی نماز کی ہر رکعت میں سورہ اخلاص ، قدر اور آیت الکرسی پڑھنے کا ثواب ۳۱

قنوت کی فضیلت اور ثواب ۳۱

کامل رکوع کا ثواب ۳۱

ایک سجدہ کرنے کا ثواب ۳۱

سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے کا ثواب ۳۱

طولانی سجدے کا ثواب ۳۱

رکوع ، سجدہ اور قیام کی حالت میں درود بھیجنے کا ثواب ۳۲

سجدہ شکر کا ثواب ۳۲

نماز کا ثواب ۳۲

صبح اول وقت نماز پڑھنے کا ثواب ۳۳

اول وقت کی آخری وقت پر برتری ۳۳

اول وقت میں واجب نمازوں کی ادائیگی کا ثواب ۳۳

سفر میں قصر نماز پڑھنے کا ثواب ۳۳

مسافر کیلئے نماز جمعہ پڑھنے کا ثواب ۳۴

باجماعت نماز کا ثواب ۳۴

نماز کیلئے اٹھنے کا ثواب ۳۴


جمعہ کی عصر کے بعد حضرت محمد اور انکی آل پر درود بھیجنے کا ثواب ۳۴

اسی مورد میں ایک اور ثواب ۳۵

نماز کی طرف قدم بڑھانے اور قرآن سیکھنے کا ثواب ۳۵

صابر ، نابینا اور موالی اہلبیت کا ثواب ۳۵

دو رکعت مستحبی نماز پڑھنے ، ایک درہم صدقہ دینے اور ایک دن روزہ رکھنے کا ثواب ۳۶

ماہ رمضان کے جمعوں کی دوسرے جمعوں پر برتری ۳۶

عطر لگانے کا ثواب ۳۶

شادی شدہ شخص کی نماز کاثواب ۳۶

چار رکعت نماز کی ہر رکعت میں پچاس مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کا ثواب ۳۷

نماز جعفر بن ابی طالب پڑھنے کاثواب ۳۷

نماز شب پڑھنے کا ثواب ۳۷

قرآن کیساتھ شب بیداری کا ثواب ۳۸

یہ سمجھتے ہوئے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ۳۹

تفکر کیساتھ دورکعت نماز پڑھنے کا ثواب ۴۰

غفلت کی ساعت میں دورکعت نافلہ نماز کا ثواب ۴۰

دو جمعوں کے درمیان پانچ سو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ۴۰

نماز صبح کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کا ثواب ۴۰

تعقیبات نماز کا ثواب ۴۰

ثواب الاعمال ۳ ۴۲

زکات جدا کرنے کا ثواب ۴۲


حج و عمرہ کا ثواب ۴۲

( ۱) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ۴۲

حاجی کا دیدار اور اس سے مصافحے کا ثواب ۴۵

حج کے متعلق ایک اور حدیث ۴۵

روزے رکھنے والے کا ثواب ۴۵

روزے کی حالت میں ناسزا سننے کاثواب ۴۶

راہ خدا میں ایک روزے کا ثواب ۴۶

گرمیوں کے ایک دن کے روزے کا ثواب ۴۶

ایک دن کے مستحبی روزے کا ثواب ۴۷

آخری عمر میں ایک مستحبی روزے کا ثواب ۴۷

دن کے ابتدائی حصّے میں روزے کی حالت میں عطر لگانے کا ثواب ۴۷

کھانے والوں میں روزہ دارکی موجود گی کا ثواب ۴۷

رجب کے روزے کا ثواب ۴۷

شعبان و رمضان کے روزوں کا ثواب ۵۲

شعبان کے روزے کا ثواب ۵۲

ماہ رمضان کی فضیلت اور روزے کا ثواب ۵۵

ذی الحجہ کے اعمال کا ثواب ۶۲

ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی دعا کا ثواب ۶۲

ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں روزے کا ثواب ۶۳

عید غدیر کے روزے کا ثواب ۶۳


شوال و ذی قعدہ کے اعمال کا ثواب ۶۴

شب عید مستحبی عبادت کا ثواب ۶۴

عید فطر کی رات شب بیداری کا ثواب ۶۵

عید فطر کو باجماعت نماز کے بعد چار رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ۶۵

پچیس ذیقعد کے روزے کا ثواب ۶۷

پانی سے روزہ افطار کرنے کا ثواب ۶۷

ہر ماہ پہلی جمعرات ، درمیانی بدھ اور آخری جمعرات روزہ رکھنے کا ثواب ۶۷

روزے کے بدلے ایک درہم صدقے کا ثواب ۶۹

کسی مؤمن بھائی کے گھر روزہ افطار کرنے کا ثواب ۶۹

معصومین علیھم السلام کی زیارت کا ثواب ۷۰

حضرت رسول خدا ، حضرت علی (علیہ السلام) ، حضرت امام حسن (علیہ السلام) ، حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور دوسرے ائمہ (علیھم السلام)کی زیارت کا ثواب ۷۰

امام حسین (علیہ السلام) کی شھادت اور اہل بیت (علیھم السلام)کے مصائب پر گریہ کا ثواب ۷۰

حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے متعلق شعرکہنے اور گریہ کرنے، رلانے اور رونے کی شکل بنانے کا ثواب ۷۰

حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کا ثواب ۷۲

ائمہ علیہم السلام کے مزاروں کی زیارت کا ثواب ۸۲

حضرت معصومہ قم کی زیارت کا ثواب ۸۲

ری میں حضرت عبدالعظیم کی زیارت کا ثواب ۸۲

امام (علیہ السلام) کیساتھ نیکی کرنے کا ثواب ۸۳

مکہ میں قرآن ختم کرنے کا ثواب ۸۳


مشکل یا آسانی سے قرآن یاد کرنے کا ثواب ۸۳

جوان مؤمن کے قرآن پڑھنے کا ثواب ۸۴

نماز یا غیر نماز میں کھڑے یا بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کا ثواب ۸۴

نماز میں قرآن مجید کی ایک سو سے پانچ سو آیات کی تلاوت کرنے کا ثواب ۸۴

حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والے کا ثواب ۸۵

دقت سے حفظِ قرآن اور سونے سے پہلے ایک سورہ کی تلاوت ۸۵

آنے اور کوچ کرنے والے کا ثواب ۸۵

قاری قرآن کا ثواب ۸۵

دیکھ کر قرآن پڑھنے کا ثواب ۸۵

گھر میں قرآن رکھنے کا ثواب ۸۶

دس سے ایک ہزار آیات کی رات میں تلاوت کرنے کا ثواب ۸۶

بہار قرآن کا ثواب ۸۶

قرآن مجید کی ایک سو آیات پڑھکرسات مرتبہ یا الله کہنے کا ثواب ۸۶

سورہ حمد پڑھنے کا ثواب ۸۷

سورہ بقرہ و آل عمرا ن پڑھنے کا ثواب ۸۷

ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت آیت الکرسی پڑھنے کا ثواب ۸۷

ہر جمعہ کو سورہ نساء پڑھنے کا ثواب ۸۸

سورہ مائدہ پڑھنے کا ثواب ۸۸

سورہ انعام پڑھنے کا ثواب ۸۸

سورہ اعراف پڑھنے کا ثواب ۸۸


سورہ انفال و توبہ پڑھنے کا ثواب ۸۸

سورہ یونس پڑھنے کا ثواب ۸۹

سورہ ہود پڑھنے کا ثواب ۸۹

سورہ یوسف پڑھنے کا ثواب ۸۹

سورہ رعد پڑھنے کا ثواب ۸۹

سورہ ابراہیم و حجر پڑھنے کا ثواب ۸۹

سورہ نحل پڑھنے کا ثواب ۹۰

سورہ بنی اسرائیل پڑھنے کا ثواب ۹۰

سورہ کھف پڑھنے کا ثواب ۹۰

سورہ مریم پڑھنے کا ثواب ۹۰

سورہ طٰہ پڑھنے کا ثواب ۹۱

سورہ انبیاء پڑھنے کا ثواب ۹۱

سورہ حج پڑھنے کا ثواب ۹۱

سورہ مومنین پڑھنے کا ثواب ۹۱

سورہ نور پڑھنے کا ثواب ۹۱

سورہ فرقان پڑھنے کا ثواب ۹۲

سورہ نمل، شعراء و قصص پڑھنے کا ثواب ۹۲

سورہ عنکبوت اور روم پڑھنے کا ثواب ۹۲

سورہ لقمان پڑھنے کا ثواب ۹۲

سورہ سجدہ پڑھنے کا ثواب ۹۲


سورہ احزاب پڑھنے کا ثواب ۹۳

سورہ سبا و فاطر پڑھنے کا ثواب ۹۳

سورہ یاسین پڑھنے کا ثواب ۹۳

سورہ صافات پڑھنے کا ثواب ۹۴

سورہ ص پڑھنے کا ثواب ۹۴

سورہ زمر پڑھنے کا ثواب ۹۵

سورہ حم مومن پڑھنے کا ثواب ۹۵

سورہ حم سجدہ پڑھنے کا ثواب ۹۵

سورہ حم عسق پڑھنے کا ثواب ۹۶

سورہ زخرف پڑھنے کا ثواب ۹۶

سورہ دخان پڑھنے کا ثواب ۹۶

سورہ جاثیہ پڑھنے کا ثواب ۹۶

سورہ احقاف پڑھنے کا ثواب ۹۷

سورحم پڑھنے کا ثواب ۹۷

سورہ محمد پڑھنے کا ثواب ۹۷

سورہ فتح پڑھنے کا ثواب ۹۷

سورہ حجرات پڑھنے کا ثواب ۹۸

سورہ ق پڑھنے کا ثواب ۹۸

سورہ ذاریات پڑھنے کا ثواب ۹۸

سورہ طور پڑھنے کا ثواب ۹۸


سورہ نجم پڑھنے کا ثواب ۹۸

سورہ قمر پڑھنے کا ثواب ۹۸

سورہ رحمن پڑھنے کا ثواب ۹۹

سورہ واقعہ پڑھنے کا ثواب ۹۹

سورہ حدید و مجادلہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۰

سورہ حشر پڑھنے کا ثواب ۱۰۰

سورہ ممتحنہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۰

سورہ صف پڑھنے کا ثواب ۱۰۰

سورہ جمعہ، منافقین اور اعلی پڑھنے کا ثواب ۱۰۱

سورہ تغابن پڑھنے کا ثواب ۱۰۱

سورہ طلاق و تحریم پڑھنے کا ثواب ۱۰۱

سورہ ملک پڑھنے کا ثواب ۱۰۱

سورہ قلم پڑھنے کا ثواب ۱۰۲

سورہ حاقہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۲

سورہ معارج پڑھنے کا ثواب ۱۰۲

سورہ نوح پڑھنے کا ثواب ۱۰۲

سورہ جن پڑھنے کا ثواب ۱۰۲

سورہ مزمل پڑھنے کا ثواب ۱۰۳

سورہ مدثر پڑھنے کا ثواب ۱۰۳

سورہ قیامت پڑھنے کا ثواب ۱۰۳


سورہ انسان پڑھنے کا ثواب ۱۰۳

سورہ مرسلات، نباء اور نازعات پڑھنے کا ثواب ۱۰۴

سورہ عبس و تکویر پڑھنے کا ثواب ۱۰۴

سورہ انفطار اور انشقاق پڑھنے کا ثواب ۱۰۴

سورہ مطففین پڑھنے کا ثواب ۱۰۴

سورہ بروج پڑھنے کا ثواب ۱۰۵

سورہ طلاق پڑھنے کا ثواب ۱۰۵

سورہ اعلی پڑھنے کا ثواب ۱۰۵

سورہ غاشیہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۵

سورہ فجر پڑھنے کا ثواب ۱۰۵

سورہ بلد پڑھنے کا ثواب ۱۰۶

سورہ شمس، لیل، ضحی اور الم نشرح پڑھنے کا ثواب ۱۰۶

سورہ تین پڑھنے کا ثواب ۱۰۶

سورہ علق پڑھنے کا ثواب ۱۰۶

سورہ قدر پڑھنے کا ثواب ۱۰۷

سورہ بیّنہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۷

سورہ زلزلہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۷

سورہ عادیات پڑھنے کا ثواب ۱۰۷

سورہ قارعہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۸

سورہ تکاثر پڑھنے کا ثواب ۱۰۸


سورہ عصر پڑھنے کا ثواب ۱۰۸

سورہ ہمزہ پڑھنے کا ثواب ۱۰۸

سورہ فیل اور سورہ قریش پڑھنے کا ثواب ۱۰۸

سورہ ماعون پڑھنے کا ثواب ۱۰۹

سورہ کوثر پڑھنے کا ثواب ۱۰۹

سورہ کافرون اور سورہ توحید پڑھنے کا ثواب ۱۰۹

سورہ نصر پڑھنے کا ثواب ۱۱۰

سورہ مسد پڑھنے کا ثواب ۱۱۰

سورہ توحید پڑھنے کا ثواب ۱۱۰

سورہ ناس اور سورہ فلق پڑھنے کا ثواب ۱۱۱

ثواب الاعمال ۵ ۱۱۲

کبیرہ گناہوں سے اجتناب کا ثواب ۱۱۲

گناہ سے پشیمانی اور توبہ کاثواب ۱۱۲

الله کی عظمت کی خاطر قرض دار کو چھوڑ دینے کا ثواب ۱۱۲

اچھا استاد ہونے کا ثواب ۱۱۳

طالب علم کاثواب ۱۱۳

اہل دین کیساتھ بیٹھنے کا ثواب ۱۱۳

ثواب سننے کے بعد عمل کرنے کا ثواب ۱۱۳

ایسی حق بات کہنے کا ثواب جس پر لوگ عمل کریں ۱۱۴

اچھی سنت زندہ کرنے کا ثواب ۱۱۴


علم کے مطابق عمل کرنے کا ثواب ۱۱۴

یتیم کی پناہ ، کمزور پر رحم ، والدین پر مہربانی اور غلاموں کیساتھ اچھے سلوک کا ثواب ۱۱۴

لوگوں کی آبرو عزت کی حفاظت اور غصے پر کنٹرول کا ثواب ۱۱۴

عادل پیشوا، سچے تاجر اور اطاعت گزار بوڑھے کا ثواب ۱۱۵

پرانے گناہ کیلئے نئی نیکی کا ثواب ۱۱۵

چالیس حدیثیں یاد کرنے کا ثواب ۱۱۵

ترک گناہ کا ثواب ۱۱۶

مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب ۱۱۶

تقوی ، زہد اور نماز میں خدا کی طرف توجہ کا ثواب ۱۱۶

مؤمن کی پریشانی دور کرنے ، تنگدستی میں نرمی سے پیش آنے ، عیب چھپانے اور مدد کرنے کا ثواب ۱۱۶

مؤمن کوکھانا کھلانے ، پانی پلانے اورلباس پہنانے کا ثواب ۱۱۷

راہ خدا میں مؤمن کو کھانا کھلانے کا ثواب ۱۱۷

تین مؤمنوں کو کھانا کھلانے کا ثواب ۱۱۷

مؤمن کو سیر کرکے کھانا کھلانے کاثواب ۱۱۷

چار مسلمانوں کو سیر کرکے کھانا کھلانے کا ثواب ۱۱۸

بھوکے مومن کوپیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا ثواب ۱۱۸

مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب ۱۱۸

الله کی خاطر نیک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ۱۱۸

مؤمن غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ۱۱۸

مؤمن کو قرض دینے کا ثواب ۱۱۹


صدقہ دینے کاثواب ۱۱۹

پنھان صدقہ دینے کا ثواب ۱۲۲

آشکار صدقہ دینے کا ثواب ۱۲۳

رات کے وقت صدقہ دینے کا ثواب ۱۲۳

دن میں دیئے جانے والے صدقے کا ثواب ۱۲۳

صدقہ دینے والے کو دعا کرنے کاثواب ۱۲۴

مقروض کو مہلت دینے کا ثواب ۱۲۴

قرض معاف کرنے کا ثواب ۱۲۴

مسلمان بھائی کی عزت و آبرو کی حفاظت کا ثواب ۱۲۵

مؤمن بھائی کی زیارت ، مصافحہ اور گلے ملنے کا ثواب ۱۲۶

مؤمن کی نصرت ومدد کا ثواب ۱۲۶

لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب ۱۲۷

مسلمان کی فریاد پر پہنچنے کا ثواب ۱۲۷

گفتگو میں کسی مسلمان کی تکریم کرنے کا ثواب ۱۲۷

مشکلات میں مسلمان بھائی کی فریاد کو پہنچنے اور اسکی حاجات میں تعاون کرنے کا ثواب ۱۲۷

مؤمن کی پریشانی دور کرنے کا ثواب ۱۲۸

مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب ۱۲۸

ایک مؤمن خاندان کو خوشحال کرنے کا ثواب ۱۲۸

مؤمن بھائی کو خوشیاں دینے کا ثواب ۱۲۹

مؤمن کو اتنا صدقہ دینے کا ثواب کہ جس سے وہ سیر ہوجائے ۱۲۹


مؤمن کو مٹھائی کھلانے کا ثواب ۱۲۹

مؤمن کا جھوٹا پینے کا ثواب ۱۲۹

مؤمن پر لطف کرنے کا ثواب ۱۳۰

الله کی خاطر مؤمن سے استفادہ کرنے کا ثواب ۱۳۰

مؤمن کو خوشحال کرنے کی خاطر ملنے کا ثواب ۱۳۰

مسلمان کو عطر لگانے کا ثواب ۱۳۰

ایک دوسرے کیساتھ خدا کی خاطر محبت کا ثواب ۱۳۰

کسی وادی میں داخل ہوتے وقت ذکر خدا کا ثواب ۱۳۱

سوتے وقت اِنَّ الله یُمسِک السَمٰواتِ پڑھنے کا ثواب ۱۳۱

سوتے وقت درج ذیل دعا پڑھنے کا ثواب ۱۳۲

مسلمان بھائی کے لئے اسکی عدم موجودگی میں دعا کرنے کاثواب ۱۳۲

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی محبت اور ان پر درود وسلام بھیجنے کا ثواب ۱۳۲

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایک مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب ۱۳۲

بحق محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کہہ کر الله سے مانگنے کا ثواب ۱۳۳

ثواب الاعمال ۶ ۱۳۴

پیامبر اسلام پر درودبھیجنے کا ثواب ۱۳۴

فجر کے بعد محمد وآل محمد پر سو مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب ۱۳۴

محمد و آل محمد پر درود بھجنے کا ثواب ۱۳۴

روز جمعہ حضرت پر سو مرتبہ درود بھیجنے کا ثواب ۱۳۵

بعد از نماز صبح اور مغرب إنَّ الله کہنے کا ثواب ۱۳۵


ایک تہائی یا آدھی یا پوری دعا پیغمبر کیساتھ مختص کرنے کاثواب ۱۳۵

حضرت پر درود بھیجنے کے بعد اہل بیت پر درود بھیجنے کا ثواب ۱۳۶

جمعہ کے دن نماز کے بعد حضرت اور انکے اوصیاء پر درود بھیجنے کا ثواب ۱۳۶

ایک دن میں سو مرتبہ رَبِّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِه کہنے کا ثواب ۱۳۷

بلند آواز سے حضرت پر درود بھیجنے کا ثواب ۱۳۷

نماز صبح کے بعد سومرتبہ سبحان الله اور ہر نماز کے بعد اَلَّلھُمَّ اِھْدِنی کہنے کا ثواب ۱۳۷

خوف ، میلان اور غضب کے وقت نفس پر کنڑول کاثواب ۱۳۸

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مدد کرنے کا ثواب ۱۳۸

سورہ زمر کی آخری آیات سنکر رونے یا رونے کی شکل بنانے کا ثواب ۱۳۸

اجتماعی دعا کاثواب ۱۳۹

پوشیدہ دعا کا ثواب ۱۳۹

سحری کے وقت دعا کا ثواب ۱۳۹

مؤمنین ومؤمنات کیلئے دعا کرنے کا ثواب ۱۳۹

لاحول ولا قوّةکہنے کا ثواب ۱۴۰

ہر روز لاحول ولا کہنے کا ثواب ۱۴۰

گھرسے نکلتے وقت بسم الله و لاحول ولا کہنے کا ثواب ۱۴۰

رات کو سو تکبیریں کہنے کا ثواب ۱۴۱

تسبیح حضرت فاطمة الزہرا ء کا ثواب ۱۴۱

خاموشی کا ثواب ۱۴۱

استغفار کرنے کا ثواب ۱۴۲


ماہ شعبان میں ہر روز ستر مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب ۱۴۲

نماز صبح کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب ۱۴۳

جلد ثواب حاصل ہونے والے کام ۱۴۳

صبح و شام تین مرتبہ سبحان الله کہنے کا ثواب ۱۴۳

دنیا میں زہد و تقویٰ کا ثواب ۱۴۳

دن و رات کے ابتدائی اور آخری حصّے میں عمل خیر انجام دینے کا ثواب ۱۴۴

خوف خدا میں رونے کا ثواب ۱۴۴

اپنی خواہشات پر رضا خداوندی کو مقّدم کرنے کا ثواب ۱۴۴

صبح و شام جسکا اصلی ہدف آخرت ہو، اس کا ثواب ۱۴۵

احسان کرنے کا ثواب ۱۴۵

اللہ کی خاطرمحبت ،عداوت،عطا اور محروم کرنے کا ثواب ۱۴۵

گناہ سے پشیمانی اور استغفار کا ثواب ۱۴۵

غریب الوطن مؤمن کی موت کا ثواب ۱۴۶

مؤمن کیساتھ بھلائی کرنے والے کافر کا ثواب ۱۴۶

مؤمن بھائی سے نیکی کرنے کا ثواب ۱۴۶

دودھ کے لئے بھیڑ بکریاں پالنے کا ثواب ۱۴۶

نماز ، زکات ، نیکی اور صبر کا ثواب ۱۴۷

خدا کی خاطر آل محمد سے محبت اور انکے دشمنوں سے بغض رکھنے کا ثواب ۱۴۷

ایک سال تک نماز و ترکے قیام میں ستر مرتبہ استغفر الله کہنے کا ثواب ۱۴۷

خدا کیلئے مؤمن بھائی کو سلام کرنے کا ثواب ۱۴۷


مؤمن کی توبہ نصوح کا ثواب ۱۴۸

توقع نہ رکھنے، خوش اخلاقی ، نرم روی ، اور آسان روی کا ثواب ۱۴۸

مؤمن سے نیکی کرنے کا ثواب ۱۴۹

الله کیلئے حُسن ظن کا ثواب ۱۴۹

اپنے اندر نصائح خداوندی پیدا کرنے کا ثواب ۱۵۰

عقیق کی انگوٹھی پہننے کا ثواب ۱۵۰

فیروزے کے انگوٹھی پہننے کا ثواب ۱۵۱

ثواب الاعمال ۷ ۱۵۲

جزع یمنی پہننے کا ثواب ۱۵۲

زمرد کی انگوٹھی پہننے کا ثواب ۱۵۲

یاقوت کی انگوٹھی پہننے کا ثواب ۱۵۲

بلور کی انگوٹھی پہننے کا ثواب ۱۵۲

انکساری کا ثواب ۱۵۲

خوف خدا میں رونے ،محارم خدا سے بچنے اور الله کی راہ میں شب بیداری کرنے کاثواب ۱۵۳

ان دیکھے وعدے کی خاطر خواہشات نفسانی کو ترک کرنے کا ثواب ۱۵۳

الله کی خاطر محبت، مسجدوں کی تعمیر او راستغفار سحر کا ثواب ۱۵۳

خاموشی اور خانہ خدا میں چل کر جانے کا ثواب ۱۵۴

اپنے لباس اور جوتے کو پیوند لگانے اور اپنا بار اٹھانے کا ثواب ۱۵۴

سچ بولنے کا ثواب ۱۵۴

نیکی اور برائی کو چھپا کر انجام دینے کا ثواب ۱۵۵


توبہ کا ثواب ۱۵۵

انگوٹھی پر ماشاء الله لکھنے کا ثواب ۱۵۵

حلال کمائی کا ثواب ۱۵۶

لوگوں کی ضروریات دور کرنے کیلئے دنیا داری کا ثواب ۱۵۶

خوش اخلاقی کا ثواب ۱۵۶

اپنے نفس سے مقاومت کرنے کا ثواب ۱۵۷

نعمتوں پر خدا کی حمد وثنا کا ثواب ۱۵۷

کھانے اور بغیر کسی چیز کے ملنے پر شکر ادا کرنے والے کا ثواب ۱۵۷

نیکی کرنے کا ثواب ۱۵۸

خدائی چیزوں میں رغبت کا ثواب ۱۵۸

زبان کی حفاظت کا ثواب ۱۵۸

کتمانِ َفقر کا ثواب ۱۵۸

فقراء اور ان سے نیکی کرنے کا ثواب ۱۵۹

مشکلات میں ہاتھ نہ پھیلانے کا ثواب ۱۵۹

مصافحہ کرنے کا ثواب ۱۵۹

کھانا کھاتے وقت بسم الله کہنے کا ثواب ۱۵۹

بھوکے کو سیر کرنے کا ثواب ۱۶۰

پانی سے لذّت لینے کا ثواب ۱۶۰

جمعہ کے دن صدقہ دینے کا ثواب ۱۶۰

غمگین لوگوں کی مدد کا ثواب ۱۶۰


بھائیوں سے محبت و الفت کرنے کا ثواب ۱۶۰

جس پر الله راضی ہے اسکی آرزو رکھنے کا ثواب ۱۶۱

مسلمان کی ملاقات کا ثواب ۱۶۱

گھر تعمیر کرنے کے بعد جانور ذبح کرکے مساکین کو کھلانے کا ثواب ۱۶۱

نیکی میں تعاون کا ثواب ۱۶۱

میانہ روی سے خرچ کرنے کا ثواب ۱۶۲

ہاتھ میں تلخ عصا لے کرسفر پر جانے کا ثواب ۱۶۲

عمامہ پہن کر گھر سے نکلنے کا ثواب ۱۶۲

ذکر اہل بیت (علیھم السلام) سن کر آنسو بہانے کا ثواب ۱۶۳

محبت اہل بیت (علیھم السلام) کا ثواب ۱۶۳

کسی مسلمان کی ایک حاجت پوری کرنے کا ثواب ۱۶۳

مؤمن بھائی سے مصافحہ کرنے کا ثواب ۱۶۳

نعمت ملنے پر خدا کی حمد و ثنا کرنے کا ثواب ۱۶۴

چالیس سے نوے سال کا سن پانے کاثواب ۱۶۴

عمر رسیدہ شخص کی فضیلت کو جانتے ہوئے احترام کرنے کا ثواب ۱۶۴

امامِ عادل کی ہمراہی میں فی سبیل الله جہاد کا ثواب ۱۶۵

گھوڑے کا خیال رکھنے کا ثواب ۱۶۵

سوار ہوتے وقت بسم الله پڑھنے کا ثواب ۱۶۶

چوپا ئے کے متعلق روایت ۱۶۷

بخار کا ثواب ۱۶۷


پوری رات کے بخار کا ثواب ۱۶۷

ایک رات بیماری کو عمدگی سے برداشت کرنے اور خدا کا شکر بجالانے کا ثواب ۱۶۸

بیماری کا ثواب ۱۶۸

ایک رات کے سردرد کا ثواب ۱۶۸

مریض کا ثواب ۱۶۸

بچے کی بیماری کا ثواب ۱۶۹

عیادت مریض ، غسل میّت، تشییع جنازہ ، جوان بیٹے کی موت پر ماں کو پرسہ دینے کا ثواب ۱۶۹

جمعرات زوال سے جمعہ زوال تک مرنے والوں کا ثواب ۱۶۹

میّت کو قبلہ رخ کرنے کا ثواب ۱۶۹

تلقین میّت کا ثواب ۱۷۰

مؤمن کی میّت کو غسل دینے کا ثواب ۱۷۰

چند بچوں کی موت کے بعد (بھی) خدا سے پاداش کی امید رکھنے کا ثواب ۱۷۰

جنازے کو کندھا دینے کا ثواب ۱۷۱

اچھاکفن انتخاب کرنے اور درست کفن پہنانے کا ثواب ۱۷۱

مؤمن کیلئے فشار قبر کا ثواب ۱۷۱

اہل بیت (علیھم السلام) کا موالی بن کر ثواب کی امید رکھتے ہوئے خدا سے ملاقات کا ثواب ۱۷۱

مصیبت کے وقت لَا اِلهَ اِلاّ الله کہنے کا ثواب ۱۷۲

صبر کرنے کا ثواب ۱۷۲

تعزیت کرنے کاثواب ۱۷۲

مؤمن کی قبر کی زیارت کا ثواب ۱۷۳


ثواب الاعمال ۸ ۱۷۴

یتیم کے سر پردست ِشفقت رکھنے کا ثواب ۱۷۴

گریہ کرنے والے یتیم کو چپ کروانے کا ثواب ۱۷۴

مرنے کے بعد مؤمن کا ثواب اور مؤمن کو خوشحال کرنے کا ثواب ۱۷۴

اولاد سے محبت کرنے کاثواب ۱۷۵

اپنے اہل وعیال کے لئے تخفے تحائف لینے اور اپنی بیٹی اور بیٹے کوخوشحال کرنے کا ثواب ۱۷۵

بیٹیوں کا باپ ہونے کا ثواب ۱۷۵

عرض مترجم ۱۷۷

اساتید:۔ ۱۷۸

شاگردان ۱۷۹

تالفات ۱۷۹

ثواب الاعمال

ثواب الاعمال

مؤلف: شیخ صدوق علیہ الرحمہ
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 38