یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
دعا عند اهل بيت
(جلد اول)
محمد مهدی آصفی
مترجم: سيد ضرغام حيدر نقوی
دعا کی تعریف
دعا یعنی بندے کا خدا سے اپنی حا جتيں طلب کرنا ۔ دعا کی اس تعریف کی اگر تحليل کی جا ئے تو اس کے مندرجہ ذیل چار رکن ہيں :
١۔مدعو:خدا وند تبارک و تعالیٰ۔
٢۔داعی :بندہ۔
٣۔دعا :بندے کا خدا سے ما نگنا۔
۴ ۔مدعو لہ:وہ حا جت اور ضرورت جو بندہ خدا وند قدوس سے طلب کر تا ہے ۔
ہم ذیل ميں ان چاروں ارکان کی وضاحت کر رہے ہيں :
١۔مدعو :
یعنی دعا ميں جس کو پکارا جاتا ہے وہ خدا وند قدوس کی ذات ہے :
١۔خداوند قدوس غنی مطلق ہے جو آسمان اورزمين کا مالک ہے جيسا کہ ارشاد ہو تا ہے :
( الَم تَعلَْم اَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلکُْ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرضِْ ) (۱)
“کيا تم نہيں جا نتے کہ آسمان و زمين کی حکو مت صرف الله کےلئے ہے ”( وَ لِلَّهِ مُلکُْ السَّمَاواتِ وَالاَْرضِْ وَمَابينَْهُمَایَخلُْقُ مَایَشَا ءُ ) (۲)
“اور الله ہی کےلئے زمين و آسمان اور ان کے درميان کی کل حکو مت ہے ” ٢۔خداوند عالم کا خزانہ جود و عطا سے ختم نہيں ہو تا :( اِنَّ هذََٰالرزقْنَامَالَهُ مِن نِفَاد ) (۳)
“یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہو نے والا نہيں ہے ”سورئہ ص آیت / ۵۴ ۔( کُلّاًنُمِدُّ هٰولَاءِ وَ هٰولَاءِ مِن عَطَاءِ رَبِّکَ وَمَاکَانَ عَطَاءُ رَبِّکَ مَحظُْوراً ) (۴)
“ہم آپ کے پر ور دگار کی عطا و بخشش سے اِن کی اور اُن سب کی مدد کر تے ہيں اور آپ کے پر ور دگار کی عطا کسی پر بند نہيں ہے ” اور دعا ئے افتتاح ميں وارد ہو ا ہے :“لَاتَزِیدُْهُ کَثرَْة العَطَاءِ اِلَّاجُودْاًوَکَرَماً ” “اور عطا کی کثرت سوائے جود و کرم کے اور کچه زیا دہ نہيں کر تی ”
____________________
۱ سورئہ بقرہ آیت/ ١٠٧ ۔
۲ سورئہ ما ئدہ آیت/ ١٧ ۔
۳ سورئہ ص آیت ۵۴ ۔
۴ سورئہ اسرا ء آیت ٢٠ ۔
٣۔وہ اپنی ساحت و کبریا ئی ميں کو ئی بخل نہيں کر تا ،کسی چيز کے عطا کر نے سے اس کی ملکيت کا دائرہ تنگ نہيں ہو تا ،وہ اپنے بندو ں پر اپنی مر ضی سے جو جو د و کرم کرے اس سے اس کی ملکيت ميں کو ئی کمی نہيں آتی اور وہ بندوں کی حا جتوں کو قبول کر نے ميں کوئی دریغ نہيں کرتا ۔
اگر کو ئی بندہ اس کو پکا رے تو وہ دعا کو مستجاب کر نے ميں کسی چهوڻے بڑے کا لحاظ نہيں کرتاہے چونکہ خود اسی کا فر مان ہے :( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) “مجه سے دعا کروميں قبول کرونگا”مگر یہ کہ خود بندہ دعا مستجا ب کرانے کی صلا حيت نہ رکهتا ہو ۔چو نکہ بندہ اس با ت سے آگاہ نہيں ہو تا کہ کو نسی دعا قبول ہو نی چا ہئے اور کو نسی دعا قبول نہيں ہو نی چا ہئے فقط خدا وند عالم اس چيز سے واقف ہے کہ بندے کےلئے کونسی دعاقبوليت کی صلاحيت رکهتی ہے اور کو نسی قبوليت کی صلا حيت نہيں رکهتی جيساکہ دعا ئے افتتاح ميں آیا ہے :
وَلَعَلَّ الَّذِی اَبطَْاعَنّی هُوَخَيرٌْلِی لِعِلمِْکَ بِعَاقِبَةِ الاُْمُورِْ،فَلَم اَرَمَولْیً کَرِیمْاًاَصبِْرعَْلَ یٰ عَبدٍْلَئِيمٍْ مِنکَْ عَلَيَّ
“حالانکہ توجانتا ہے کہ ميرے لئے خير اس تاخير ميں ہے اس لئے کہ تو امور کے انجا م سے باخبرہے ميں نے تيرے جيساکریم مولا نہيں دیکها ہے جو مجه جيسے ذليل بندے کوبرداشت کرسکے ”
٢۔داعی :(دعا کر نے والا )
بندہ ہر چيز کا محتاج ہے یہا ں تک کہ اپنی حفا ظت کر نے ميں بهی وہ الله کا محتا ج ہے ارشاد ہو تا ہے :
( یَٰایُّهَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَی اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَالْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ) (۱)
“انسانوں تم سب الله کی بارگاہ کے فقير ہو اور الله صاحب دو لت اور قابل حمد و ثنا ہے ”( وَاللَّهُ الغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ ) (۲)
“خدا سب سے بے نياز ہے اور تم سب اس کے فقير اور محتاج ہو ” انسان کے پاس اپنے فقر سے بہتر اور کو ئی چيز نہيں ہے جو اس کی بار گاہ ميں پيش کر سکے۔ اور الله کی بارگاہ ميں اپنے کو فقير بنا کر پيش کر نے سے اس کی رحمتوں کا نزول ہو تا ہے۔
اور جتنا بهی انسان الله کی بارگاہ کا فقير رہے گا اتنا ہی الله کی رحمت سے قریب رہے گا اور اگر وہ تکبر کر ے گا اور اپنی حا جت و ضرورت کو اس کے سا منے یش نہيں کر ے گا اتنا ہی وہ رحمت خدا سے دور ہو تا جا ئے گا ۔
٣۔ دعا :(طلب ،چا ہت، مانگنا)
انسان جتنا بهی گڑ گڑا کر دعا ما نگے گا اتنا ہی وہ رحمت خدا سے قریب ہو تا جا ئے گا ۔انسا ن کے مضطر ہو نے کی سب سے ادنیٰ منزل یہ ہے کہ وہ اپنے تمام اختيارات کا مالک خدا کو سمجهے یعنی خدا کے علا وہ کو ئی اس کی دعا قبول نہيں کر سکتا ہے اور مضطر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس دو سرا کو ئی اختيار نہ رہے یعنی اگر کو ئی اختيار ہے تو وہ صرف اور صرف خدا کا اختيار ہے اور اس کے علا وہ کو ئی اختيار نہيں ہے جب ایسا ہوگا تو انسان اپنے کو الله کی بارگاہ ميں نہایت مضطر محسوس کرے گا ۔۔۔اور اسی وقت انسان الله کی رحمت سے بہت زیادہ قریب ہو گا:
۶( ا مّنَّ یُّجِيبُْ المُْضطَْرَّاِذَادَعَاهُ وَیَکشِْفُ السُّوءَْ ) (۳)
“بهلا وہ کو ن ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کوآوازدیتا ہے اور اس کی مصيبت کو دور کر دیتا ہے ”
____________________
۱ سورئہ فاطر آیت/ ١۵
۲ سورئہ محمد آیت ٣٨ ۔
۳ سورئہ النمل آیت ۶٢ ۔
مضطر کی دعا اور الله کی طرف سے اس کی قبوليت کے درميان کو ئی فاصلہ نہيں ہے اور دعا ميں اس اضطرار اورچاہت کا مطلب خدا کے علاوہ دنيا اور ما فيہا سے قطع تعلق کر لينا اور صرف اور صرف اسی سے لو لگاناہے اس کے علا وہ غيرخدا سے طلب ا ور دعا نہيںہو سکتی ہے ۔اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ دعا انسان کو کو شش اور عمل کر نے سے بے نياز کر دیتی ہے ،جس طرح کوشش اور عمل، دعا کر نے والے کو الله سے دعا کرنے سے بے نياز نہيں کر تے ہيں۔
۴ ۔مد عوّلہ (جس کے لئے یاجو طلب کيا جا ئے )
انسا ن کو خدا وند قدوس سے اپنی چهو ڻی سے چهو ڻی اور بڑی سے بڑی تمام جا جتيں طلب کر نا چاہئيں خدا اس کی حا جتوں کو پورا کر نے سے عا جز نہيں ہو تا اور نہ اس کے ملک و سلطنت ميں کو ئی کمی آتی ہے ،اور نہ ہی بخل اس کی ساحتِ کبریا ئی سے ساز گار ہے ۔
انسا ن کےلئے خدا وند عالم سے اپنی چهو ڻی سے چهوڻی حاجت طلب کر نے ميں بهی کو ئی حرج نہيں ہے (یہاں تک کہ وہ اپنے لئے جوتی ،جانوروں کےلئے چارا اور اپنے آڻے کےلئے نمک بهی ما نگ سکتا ہے ) جيسا کہ روایت ميں وارد ہوا ہے کہ خدا وند عالم چهوڻی بڑی حا جتوں کو پورا کر کے اپنے بندے کو ہميشہ اپنے سے لو لگانے کو دوست رکهتا ہے ۔نہ چهوڻی دعا ئيں، اور نہ ہی بڑی حاجتيں ہو نے کی وجہ سے خداوند عالم اپنے اور بندوں کے درميان پردہ ڈالتا ہے ۔خدا وند عالم تو ہميشہ اپنے بندوں کی چهو ڻی اور بڑی تمام حاجتوں کو پورا کر تا ہے اور اپنے بندے کے دل کو ہر حال ميں اپنی طرف متوجہ کرنا چا ہتا ہے ۔
انسان اور خدا کے درميان دعا اور حاجت کے مثل کوئی چيز واسطہ نہيں بن سکتی ہے ۔دعا کے یہی چار ارکان ہيں ۔
دعاکی قدر و قيمت
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُْونِْی اَستَْجِب لَکُم اِ نَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ (۱)
“اور تمہا رے پر ور دگار کا ارشاد ہے مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقيناً جو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”
دعا یعنی بندے کا اپنے کو الله کے سامنے پيش کرنا اور یہی پيش کرنا ہی روح عبادت ہے اور عبادت انسان کی غرض خلقت ہے۔ یہی تينوں باتيں ہما ری دعاوں کی قدر وقيمت کو مجسم کر تی ہيں ،دعا کی حقيقت کو واضح کر ہيں ،ہم اپنی بحث کا آغاز تيسری بات سے کر تے ہيں اس کے بعد دوسرے مطلب کو بيان کر نے کے بعد پهر پہلی بات بيان کریں گے ۔
قرآن کریم نے صاف طور پر یہ بيان کيا ہے کہ انسان کی پيدائش کا مقصد عبادت ہے خداوند عالم کا ارشاد ہے :
( وَمَاخَلَقتُْ الجِْنَّ وَالاِْنسَْ اِلَّالِيَعبُْدُونِْ ) (۲)
“اور ميں نے جن و انس کو نہيں پيدا کيا مگراپنی عبادت کے لئے ” اسی آخری نقطہ کی دین اسلام ميں بڑی اہميت ہے ۔ اور عبادت کی قدروقيمت یہ ہے کہ یہ انسان کو اسکے رب سے مربوط کر دیتی ہے ۔
عبادت ميں الله سے قصد قربت اس کے محقق ہو نے کےلئے اصلی اور جوہری امر ہے اور بغير جو ہر کے عبا دت ،عبادت نہيں ہے ،عبادت اصل ميں الله کی طرف حرکت ہے،اپنے کو الله کی بارگاہ ميں پيش کر نا ہے۔ اور یہ دوسری حقيقت پہلی حقيقت کی وضا حت کر تی ہے ۔
اور پہلی حقيقت انسان کا الله کی طرف متوجہ ہونا الله سے براہ راست مستحکم رابطہ ہے ۔۔اور عبادات ميں دعا کے علاوہ کو ئی عبادت ایسی نہيں ہے جو اس سے زیادہ انسان کو الله سے قریب کرسکتی ہو سيف تمار سے مر وی ہے :ميں نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کو یہ فر ما تے سنا ہے:
____________________
۱ سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔
۲ سورئہ ذاریات آیت ۵۶ ۔
عليکم بالدعاء فانکم لاتتقربون بمثله (۱)
“تم دعا کيا کرو خدا سے قریب کر نے ميں اس سے بہتر کو ئی چيز نہيں ہے” جب بهی انسان کی حا جت الله کی طرف عظيم ہوگی اور وہ الله کا زیادہ محتاج ہوگا اور اس کی طرف وہ زیادہ مضطرہوگاتووہ اتناہی دعاکے ذریعہ الله کی طرف زیادہ متوجہ ہوگا۔انسان کے اندر الله کی نسبت زیادہ محتاجی کا احساس اور اس کی طرف زیادہ مضطر ہو نے اور دعا کے ذریعہ اس کی بارگاہ ميں ہو نے کے درميان رابطہ طبيعی ہے ۔بيشک ضرورت اور اضطرار کے وقت انسان الله کی پناہ ما نگتا ہے جتنی زیادہ ضرورت ہو گی اتنا ہی انسان الله کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے بر عکس بهی ایسا ہی ہے یعنی جتنا انسان اپنے کو بے نياز محسوس کرے گا خدا سے دور ہو تا جا ئيگا۔الله تعالیٰ فر ماتا ہے :
( کَلَّااِنَّ الِانسَْانَ لَيَطغْیٰ اَنْ رَّ اٰهُ اسْتَغْنیٰ ) (۲)
“بيشک انسان سر کشی کرتا ہے جب وہ اپنے کو بے نياز خيال کرتا ہے ” بيشک انسان جتنا اپنے کو غنی سمجهتا ہے اتنا ہی وہ الله سے روگردانی کرتا ہے اور سرکشی کرتا ہے اور جتنا اپنے کو فقير محسوس کرتا ہے اتنا ہی الله سے لو لگاتا ہے ۔قرآن کی تعبير بہت دقيق ہے :ان رَأىهٰاُ استَْغنْیٰ انسان الله سے بے نياز نہيں ہو سکتا بلکہ انسان الله کا محتاج ہے :
( یَااَیُّهاالنَّاسُ اَنْتُمْ الْفُقَرَاءُ اِلَی اللهِ وَاللهُ هُوَالْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ) (۳)
“انسانوں تم سب الله کی بارگاہ کے فقير ہو اور الله صاحب دو لت اور قابل حمد و ثنا ہے ”ليکن انسان اپنے کو مستغنی سمجهتا ہے ،انسان کا غرور صرف خيالی ہے ۔جب انسان اپنے کو الله سے بے نياز دیکهتا ہے تو اس سے روگردانی کر تا ہے اور سرکش ہوجاتا ہے ۔جب اس کو نقصان پہنچتا ہے اور الله کی طرف اپنے مضطر ہو نے کا احساس کر تا ہے تو پلٹ جاتا ہے اور خدا کے سا منے سر جهکا دیتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ الله کے سامنے سر جهکا دینے کا نام حقيقت دعا ہے ۔جو الله سے دعا کر تا ہے اور اس کے سا منے گڑگڑاتا ہے تو الله بهی اس کی دعا قبول کر تا ہے ۔الله کی طرف متوجہ ہونا اور اس سے لو لگانا ہی دعا کی حقيقت، اسکا جوہر اور اس کی قيمت ہے۔قرآن کریم ميں خدا کی بارگاہ ميں حاضری کے چار مرحلے خدا وند عالم نے اپنی بارگاہ ميں حاضری کےلئے اپنے بندوں کے سامنے چار راستے رکهے ہيں جن ميں دعا سب سے اہم راستہ ہے ان چاروں راستوں کا قر آن و سنت ميں تذکرہ ہے ۔
____________________
۱ بحار الا نوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩٣ ۔
۲ سورئہ علق آیت ۶۔ ٧۔
۳ سورئہ فاطر آیت ١۵ ۔
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :انسان کے لئے چار چيزیں انجام دینا اس کے حق ميں مفيد ہے اور اس ميں اس کا کو ئی نقصان نہيں ہے :ایک ایمان اور دوسرے شکر ،خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے :( مَایَفعَْلٌ اللهُ بِعَذَابِکُم اِن شَکَرتُْم وَآمَنتُْم ) (۱) “خدا تم پر عذاب کر کے کيا کرے گا اگر تم اس کے شکر گزار اور صاحب ایمان بن جا و”تيسرے استغفار خداوند عالم ارشاد فر ماتا ہے( وَمَاکَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُم وَاَنتَْ فِيهِْم وَمَاکَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُم وَهُم یَستَْغفِْرُونَْ (۲)
“حا لانکہ الله ان پر اس وقت تک عذاب نہيں کرے گا جب تک “پيغمبر ”آپ ان کے درميان ہيں اور خدا ان پر عذاب کر نے والا نہيں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کر نے والے ہو جا ئيں ”چوتهے دعا، خدا وند عالم کا ارشاد ہے :( قُل مَایَعبَْوابِکُم رَبِّی لَولَْادُعَاوکُم ) (۳)
“پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعا ئيں نہ ہو تيں تو پرور دگار تمہاری پروا ہ بهی نہ کرتا ”معاویہ بن وہب نے حضرت امام جعفر صادق سے نقل کيا ہے کہ آپ نے فرمایاہے:“یامعاویة !من اُعطیَ ثلاثة لم یُحرم ثلاثة:من اُعطی الدعاء اُعطی الاجابة،ومن اُعطی الشکراُعطی الزیادة،ومن اُعطی التوکل اُعطی الکفایة :فانّ اللّٰه تعالیٰ یقول فی کتابه:وَمَن یَّتَوَکَّل عَلی اللهِ فَهُوَحَسبُْه (۴)
ویقول :( لَئِن شَکَرتُْم لَازِیدَْ نَّکُم ) ۵ویقول :( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) (۶)
“اے معا ویہ !جس کو تين چيزیں عطا کی گئيں وہ تين چيزوں سے محروم نہيں ہوگا :جس کو دعا عطا کی گئی وہ قبول بهی کی جا ئيگی ،جس کو شکر عطا کيا گيا اس کے رزق ميں برکت بهی ہو گی اور جس کو توکل عطا کيا گيا وہ اس کے لئے کا فی ہو گا اس لئے کہ خدا وند عالم قر آن کریم ميں ارشاد فر ماتا ہے :( وَمَن یَّتَوَکَّل عَلی اللهِ فَهُوَحَسبُْه ) “اور جو خدا پر بهروسہ کر ے گا خدا اس کے لئے کا فی ہے ”( لَئِن شَکَرتُْم لَاَزِیدَْ نَّکُم ) “اگر تم ہمارا شکریہ ادا کروگے تو ہم نعمتوں ميں اضافہ کر دیں گے”( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) “اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے مجه سے دعا کرو ميں قبول کروں گا ” عبد الله بن وليد وصافی نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ آپ کا فرمان ہے :“ثلاث لایضرمعهن شیٴ:الدعاء عند الکربات،والاستغفارعندالذنب،و ” الشکرعندالنعمة (۷)
“تين چيزوں کے ساته کوئی چيزضرر نہيں پہنچا سکتی ہے :بے چينی ميں دعا کرنا ،گناہ کے وقت استغفار کرنا اور نعمت کے وقت خدا کا شکر ادا کرنا ”
____________________
۱ سورئہ نساء آیت ١۴٧ ۔۲ سورئہ انفال آیت ٣٣ ۔۳ سورئہ فرقان آیت ٧٧ ،بحار الا نوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩١ ۔۴ سورئہ طلاق آیت/ ٣۔۵ سورئہ ابراہيم آیت/ ٧۔
۶ سورئہ غافر آیت/ ۶٠ ،خصال صدوق جلد ١ صفحہ ۵٠ ،المحاسن للبرقی صفحہ ٣،الکافی جلد ٢ صفحہ ۶۵ ۔۷ امالی شيخ طوسی صفحہ ١٢٧ ۔
الله سے لو لگانے کے یہی ذرائع ہيں اور الله سے لو لگانے کے بہت زیادہ ذرائع ہيں جيسے توبہ، خوف و خشيت ،الله سے محبت اور شوق ،اميد ،شکر اور استغفار وغيرہ۔
انسان پر الله سے لو لگانے کے لئے اس طرح کے مختلف راستوں کااختيار کرنا ضروری ہے اور اسلام خدا سے رابطہ رکهنے کے لئے صرف ایک راستہ ہی کو کافی نہيں جانتاہے ۔
خدا سے رابطہ کرنے اور اس کی بارگاہ ميں اپنے کو پيش کر نے کا سب سے اہم وسيلہ دعا ہے
کيونکہ فقر اور نياز مندوں سے زیادہ اور کو ئی چيز انسان کو خدا کی طرف نہيں پہونچا سکتی ہے
پس دعا خدا وند عالم سے رابطے اور لو لگا نے کا سب سے وسيع باب ہے ۔ حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام فر ما تے ہيں :
الحمدللهالذی اُنادیه کلماشئت لحاجتي واخلوبه حيث شئت لسّري بغيرشفيع فيقضي لي حاجتي
“تمام تعریفيں اس خدا کےلئے ہيں جس کو ميں آواز دیتا ہوں جب اپنی حا جتيں چا ہتا ہوں اور جس کے ساته خلوت کرتا ہوں جب جب اپنے لئے کو ئی رازدار چا ہتا ہوں یعنی سفارش کرنے والے کی حاجت کو پوری کرتا ہے ”
دعا ،روح عبادت ہے
دعا عبادت کی روح ہے ؛انسان کی خلقت کی غرض عبادت ہے ؛اور عبادت کر نے کی غرض ۔خدا وند عالم سے شدید رابطہ کرنا ہے ؛اوریہ رابطہ دعا کے ذریعہ ہی محقق ہوتا ہے اور اس کے وسائل وسيع اور قوی ہوتے ہيں : حضرت رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم فرماتے ہيں :الدعاء مخ العبادة ؛ولایهلک مع الدعاء احد (۱)
دعا عبادت کی روح ہے اور دعا کر نے سے کو ئی بهی ہلاک نہيں ہوتا ہے ” اور یہ بهی رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم ہی کا فر مان ہے :افزعواالی اللّٰه فی حوائجکم،والجاوااليه فی ملمّاتکم،وتضرّعوا اليه،وادعوه؛فإنّ الدعاء مخ العبادة ومامن مومن یدعوااللّٰه الّااستجاب،فإمّاان یُعجّله له فی الدنيااویُوجّل له فی الآخرة ،واِمّاان یُکفّرعنه من ذنوبه بقدرمادعا؛ما لم یدع بماثم (۲)
تم خدا کی بارگاہ ميں اپنی حا جتوں کو نالہ و فریاد کے ذریعہ پيش کرو، مشکلوں ميں اسی کی پناہ مانگو،اس کے سامنے گڑگڑاو،اسی سے دعا کرو، بيشک دعا عبادت کی روح ہے اور کسی مومن نے دعا نہيں کی مگر یہ کہ اس کی دعا ضرور قبول ہو ئی ،یا تو اسکی دنيا ہی ميں جلدی دعا قبول کر ليتا ہے یا اس کو آخرت ميں قبول کرے گا،یا بندہ جتنی دعاکرتاہے اتنی مقدارميںہی اسکے گناہوں کوختم کردیتا ہے۔
گویا روایت ہم کو خدا وند عالم سے دعا کرنے اور ہم کو اس کی بارگاہ ميں پيش ہو نے کا طریقہ سکهاتی ہيں ۔
ان فقرات :( افزعواالی الله فی حوائجکم ) “اپنی حا جتيں خدا کی بارگاہ ميں پيش کرو ”( والجاوااليه فی ملمّاتکم ) “مشکلوں ميں اسی کی پناہ مانگو”( وتضرّعوااليه ) “اسی کی بارگاہ ميں گڑگڑاو”کے سلسلہ ميں غور وفکر کریں ۔ اور دوسری روایت ميں حضرت رسول خدا فر ماتے ہيں :الدعاء سلاح المومن وعمادالدین (۳)
“دعا مو من کا ہتهيار اور دین کا ستون ہے ”
بيشک دعا دین کا ستون ہے اور اس کا مطلب الله کی طرف حرکت کرنا ہے اور الله کی بارگاہ ميں اپنے کو پيش کرنے کا نام دعا ہے ۔
____________________
۱ بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٠٠ ۔
۲ بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٠٢ ۔
۳ بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٨٨ ۔
اور جب اپنے کو خدا وند عالم کی بارگاہ ميں پيش کر نے کا نام دعا ہے تو دعا خدا وندعالم کے نزدیک سب سے محبوب اور سب سے اکرم چيز ہے ۔حضرت رسول خدا (ص) فرما تے ہيں :مامن شی ء اکرم علیٰ اللّٰه تعالیٰ من الدعاء (۱)
“خدا وند عالم کے نزدیک سب سے اکرم چيز دعا ہے ” حنان بن سدیر اپنے پدر بزرگوار سے نقل کرتے ہيں کہ ميں نے حضرت امام محمد باقر کی خدمت اقدس ميں عرض کيا :“ای العبادةافضل؟فقال:“مامن شیٴ احبّ الیٰ اللّٰه من ان یُسال ویُطلب ” مماعنده،ومااحدابغض الیٰ اللّٰه عزّوجلّ ممن یستکبرعن عبادته ولایسال مما عنده (۲)
“کونسی عبادت سب سے افضل ہے ؟تو آپ (امام )نے فرمایا: خدا وند عالم کے نزدیک سب سے اہم چيز یہ ہے کہ اس سے سوال کيا جائے اور خدا وند عالم کے نزدیک سب سے مبغوض شخص وہ ہے جو عبادت کرنے پر غرور کرتا ہے اور خداوند عالم سے کچه طلب نہيں کرتا ”بده کے دن پڑهی جانے والی دعا ميں حضرت امير المو منين عليہ السلام فر ما تے ہيں :
الحمدللهالذی مرضاته فی الطلب اليه،والتماس مالدیه وسخطه فی ترک الالحاح فی المسالة عليه (۳)
دعا ء کميل ميں فر ما تے ہيں :
“فَاِنَّکَ قَضَيتَْ عَ لٰی عِبَادِکَ بِعِبَادَتِکَ وَاَمَرتَْهُم بِدُعَائِکَ وَضَمِنتَْ لَهُمُ الِاجَابَة،فَاِلَيکَْ یَارَبِّ نَصَبتُْ وَجهِْی وَاِلَيکَْ یَارَبِّ مَدَدتُْ یَدِی ۔ْ۔۔”
“اس لئے کہ تو نے اپنے بندوں کے با رے ميں طے کيا ہے کہ وہ تيری عبادت کریں اور تو نے اپنے سے دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور تو اس کے قبول کرنے کا ضامن ہے پس اے خدا !ميں نے تيری ہی طرف لو لگا ئی ہے اور اے پروردگار تيری ہی جانب اپنے ہاته پهيلائے ہيں ”
دعا سے رو گردانی ، خدا وندعالم سے روگردانی ہے خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُْونِْی استَْجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ )
۴
“اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقيناً جو ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”اس آیہ کریمہ ميں عبادت سے استکبار کرنا دعا سے روگردانی کرنا ہے ،پس سياق آیت کر نے کی دعوت دے رہا ہے ۔خداوند عالم فر ماتا ہے :( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) “مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا” اور اس کے بعد فوراً فرماتا ہے :( اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ ) (۵)
“اور یقيناجو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”۔
____________________
۱ مکارم الاخلاق صفحہ / ٣١١ ۔۲ مکارم الاخلاق صفحہ ٣١١ ۔اور محاسن بر قی صفحہ ٢٩٢ ۔۳ دعا یوم الاربعاء۔۴ سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔۵ سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔
اس آیہ کریمہ ميں دعا سے اعراض کرنا عبادت نہ کرنے کے مترادف ہے اس لئے کہ یہ الله سے روگردانی کرنا ہے ۔اور اس آیت کی تفسير ميں یہی معنی حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کئے گئے ہيں : هی والله العبادة،هی والله العبادة “خدا کی قسم یہی عبا دت ہے ،خدا کی قسم یہی عبا دت ہے ”۔ حماد بن عيسیٰ نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : “( انّ الدعاء هوالعبادة؛انّ اللّٰه عزّوجلّ یقول: اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ ) (۱) “بيشک دعا سے مراد عبادت ہے اور خداوند عالم فرماتا ہے : اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ “اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقيناً جولوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”اور الله کے نزدیک دعا اور دعا کی مقدار کے علاوہ انسان کی کو ئی قيمت و ارزش نہيں ہے اور خدا وند عالم اپنے بندے کی اتنی ہی پروا ہ کرتا ہے جتنی وہ دعا کرتا ہے اور اس کو قبول کرتا ہے :( قُل مَایَعبَْوابِکُم رَبِّی لَولَْادُعَاوکُم ) (۲) “پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائيں نہ ہو تيں تو پرور دگار تمہاری پر وا بهی نہ کرتا ”بيشک دعا خداوند عالم کی بارگاہ ميں اپنے کو پيش کر نے کے مساوی ہے جيسا کہ دعا سے اعراض(منه موڑنا) کرنا الله سے اعراض کرنا ہے ۔ اور جو الله سے منه مو ڑتا ہے تو خدا وند عالم بهی اس کی پرواہ نہيں کرتا ،اور نہ ہی الله کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قيمت ہے ۔حضرت امام باقر عليہ السلام ایک حدیث ميں فرماتے ہيں :ومااحد ابغض الی اللهعزّوجلّ ممن یستکبرعن عبادته،ولایسال ما عنده ۳حضرت رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :لتسالنَّ الله اوليغضبنّ عليکم،انّللهعبادایعملون فيعطيهم ،وآخرین یسالُونه صادقين فيعطيهم ثم یجمعهُم فی الجنة،فيقول الذین عملوا:ربناعملنا فاعطيتنا،فبمااعطيت هولاء؟فيقول:هولاء عبادي اعطيتکم اجورکم ولم التکم من اعمالکم شيئا،وسالني هولاء فاعطيتهم واغنيتهم،وهوفضلي اوتيه مَنْ اشاء (۴) بيشک الله اپنے بندے کی دعا کا مشتاق ہے جب بندہ خداوند عالم کی بارگاہ ميں دعا کےلئے حاضرہوتا ہے تو الله اس سے محبت کرتا ہے ۔اور جب بندہ الله سے روگردانی کرتا ہے تو خدا بهی اسے پسندنہيں کرتا ہے ۔کبهی کبهی خدا وند عالم اپنے مومن بندے کی دعا مستجاب کرنے ميں اس لئے دیر لگا دیتا ہے تاکہ وہ دیر تک اس کی بارگاہ ميں کهڑا رہے اوراس سے دعا کرکے گڑگڑاتا رہے۔کيونکہ اسے اپنے بندے کا گڑگڑانابهی پسند ہے اسی لئے وہ دعا اور مناجات کا مشتاق رہتا ہے ۔عالم آل محمد یعنی امام رضا عليہ السلام سے مروی ہے :انّ اللّٰه عزّوجلّ ليوخّراجابة المومن شوقاًالیٰ دعائه ویقول:صوتاً احبّ ان اسمعه ویعجّل إجابة دعاء المنافق،ویقول:صوتاً اکره سماعه (۵)
____________________
۱ وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٨٣ ۔۲ سورئہ فرقان آیت/ ۶٠۳ وسائل الشيعہ جلد ۴ :صفحہ ١٠٨۴ ،حدیث ٨۶٠۴ ۔۴ وسا ئل الشيعہ جلد ۴ :صفحہ ١٠٨۴ حدیث ٨۶٠٩ ۔۵ بحارالانوار جلد ٩٧ صفحہ ٢٩۶ ۔
“خداوند عالم مومن کی دعا کے شوق ميں اس کی دعاکودیر سے مستجاب کرتاہے اور کہتا ہے : مجهے یہ آواز پسندہے اورمنافق کی دعاجلدقبول کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ مجهے اس کی آواز پسند نہيں ” حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :اکثروا من ان تدعوااللّٰه،فإنّ اللّٰه یحبّ من عباده المومنين ان یدعوه، وقد وعد عباده المومنين الاستجابة (۱) “تم خدا وند عالم سے بہت زیادہ دعائيں کرو بيشک الله کویہ پسند ہے کہ اس کے مومن بندے اس سے دعائيں کریں اور اس نے اپنے مومن بندوں کی دعا قبول کر نے کا وعدہ کيا ہے”حضرت امير المومنين عليہ السلام سے مروی ہے :احبّ الاعمال إلیٰ اللّٰه عزّوجلّ فی الارض:الدعاء (۲) “زمين پر الله کا سب سے پسندیدہ عمل:دعا ہے ” حضرت امام محمدباقر عليہ السلام سے مروی ہے :إنّ المومن یسال اللّٰه عزّوجلّ حاجة فيوخرعنه تعجيل اجابته حّباً لصوته واستماع نحيبه (۳) “بيشک جب کوئی مو من الله عز و جل سے کو ئی سوال کرتا ہے تو خدا وندعالم اس مومن کی دعا کی قبوليت ميں اس کی آوازکو دوست رکهنے اور سننے کی خاطرتاخير کرتا ہے ”حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :انّ العبد ليد عوفيقول الله عزّوجلّ للملکين:قداستجبت له،ولکن احبسوه بحاجته،فانّی اُحبّ ان اسمع صوته،وانّ العبدليدعوفيقول الله تبارک وتعالیٰ:عجلوا له حاجته فانی ابغض صوته (۴) “جب ایک بندہ خدا وند عز وجل سے دعا مانگتا ہے تو خداوند عالم دو فرشتوں سے کہتا ہے: ميں نے اس کی دعا قبول کر لی ہے ليکن تم اس کواس کی حاجت کے ساته قيد کرلو ،چونکہ مجهے اس کی آواز پسند ہے ،اور جب ایک بندہ دعا کرتا ہے تو خداوندعالم کہتا ہے :اس کی حاجت روا ئی ميں جلدی کرو چونکہ مجهے اس کی آواز پسندنہيں ہے ”حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :انّ العبد الولی لله ليدعوالله عزّوجلّ فی الامرینوبه،فيُقال للملک الموکل به:اقض لعبدي حاجته،ولاتُعجّلهافانّي اشتهی ان اسمع صوته ونداء ه وانّ العبدالعدولله عزّوجلّ یدعوالله عزّوجلّ فی الامرینوبه،فيُقال للملک الموکل به:اقض حاجته، و عجّلها فانّي اکره ان اسمع صوته وندائه (۵) “الله کو دوست رکهنے والا بندہ دعا کرتے وقت الله کو اپنے امر ميں اپنا نائب بنا دیتا ہے تو خدا وندعالم اس بندے پر موکل فرشتو ں سے کہتا ہے :ميرے اس بندے کی حاجت قبول کرلو مگر اسے پوری کرنے ميں ابهی جلدی نہ کرنا چونکہ ميں اس کی آواز سننے کو دوست رکهتا ہوں اورجب الله کا دشمن بندہ الله سے دعا کرتے وقت اس کو اپنے کسی کام ميں اپنا نائب بنانا چاہتا ہے تو خدا وند عالم اس بندے پر مو کل فرشتوں سے کہتا ہے اس کی حاجت کو پورا کرنے ميں جلدی کرو اس لئے کہ ميں اس کی آواز سننا پسندنہيں کرتا ہوں ”خداوند عالم کو ہر گز یہ پسند نہيں ہے کہ اس کے بندے ایک دوسرے سے سوال کریں بلکہ اگروہ اپنی عزت نفس کا خيال رکهتے ہوئے دوسروں کے سامنے ہاته نہ پهيلائيں تواس کو یہی پسند ہے ليکن الله تبارک و تعالیٰ اپنی بارگاہ ميں مومنين
____________________
۱ وسائل الشيعہ جلد ۴:صفحہ ١٠٨۶ ،حدیث ٨۶١۶ ۔۲ وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١٠٨٩ ،حدیث ٨۶٣٩ ۔۳ قرب الاسناد صفحہ ١٧١ ،اصول کافی صفحہ ۵٢۶ ۔۴ وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١١٢ ،حدیث ٨٧٣١ ،اصول کافی جلد ٢،صفحہ ۵٢۶ ۔۵ اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵٢٧ ،وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١١٢ ،حدیث ٨٧٣٢ ۔
کے سوال کوپسندکرتا ہے اور اپنے سامنے ان کے گریہ و زاری اور دعا کرنے کو پسند کرتا ہے ۔
حضرت رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم فرماتے ہيں :انّ الله احبّ شيئاًلنفسه وابغضه لخلقه،ابغض لخلقه المسالة،واحبّ لنفسه ان یُسال،وليس شیء احبّ الیٰ الله عزّوجلّ من ان یُسال،فلایستحي احدکم من ان یسال الله من فضله،ولوشسع نعل (۱)
“خدا وند عالم ایک چيز اپنے لئے پسندکرتا ہے ليکن اس کو مخلوق کےلئے پسند نہيں کرتا ،وہ اپنے لئے اس بات کو دوست رکهتا ہے کہ اس سے سوال کيا جائے اور الله کے نزدیک اس سے سوال کر نے کے علا وہ کوئی چيز محبوب نہيں ہے پس تم ميں سے کو ئی الله سے اس کے فضل کاسوال کرنے ميں شرم نہ کرے اگر چہ وہ جو تے کے تسمے کے بارے ميں ہی کيوں نہ ہو ” حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :
انّ اللّٰه یحبّ العبد ان یطلب اليه في الجرم العظيم،ویبغض العبد ان یستخفّ بالجرم اليسير (١ “الله بندے کی اس بات کو پسندکرتا ہے کہ وہ اس کو بڑے جرم ميں پکارے اور اس بات سے ناراض ہو تا ہے کہ وہ اس کو چهوڻے جرم ميں نہ پکارے”
محمد بن عجلان سے مروی ہے کہ :اصابتني فاقة شدیدة واضاقة،ولاصدیق لمضيق ولزمني دینٌ ثقيل وعظيم ،یلحّ في المطالبة،فتوجّهت نحودارالحسن بن زیدوهویومئذاميرالمدینةلمعرفة کانت بينی وبينه،وشعربذلک من حالي محمد بن عبد اللّٰه بن علي بن الحسين عليه السلام،وکان بينی وبينه قدیم معرفة،فلقينی فی الطریق فاخذ بيدي وقال:قد بلغني ماانت بسبيله،فمن تومّل لکشف مانزل بک؟ قلت:الحسن بن زیدفقال اذن لایقضي حاجتک،ولاتسعف بطلبتک، فعليک بمن یقدرعلی ذلک،وهواجودالاجودین،فالتمس ماتومّله من قبله،فإنّي سمعت ابن عمي جعفربن محمد یُحدّث عن ابيه،عن جده،عن ابيه الحسين بن
____________________
١)المحا سن للبرقی صفحہ ٢٩٣ ،بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٢٩٢ ۔ )
علي،عن ابيه علي بن ابيطالب عليه السلام عن النبي ص)قال:اوحیٰ اللّٰه الیٰ بعض انبيائه فی بعض وحيه:وعزّتي وجلالي لاقطعن امل کل آمل امّل غيري بالإیاس،ولاکسونّه ثوب المذلّة فی الناس،ولابعدنّه من فَرَجِي وفضلی،ایامل عبدي فی الشدائدغيري والشدائدبيدي؟ویرجو سواي واناالغني الجواد؟بيدي مفاتيح الابواب وهی مغلقة،وبابي مفتوح لمن دعاني الم تعلمواانّ من دهاه نائبة لم یملک کشفهاعنه غيری،فمالی اراه یامله معرضا عني وقد اعطيته بجودي وکرمي مالم یسالني؟ فاعْرَضَ عني،ولم یسالني،وسال فی نائبته غيري،وانااللّٰه ابتدیٴ بالعطية قبل المسالة
افاُسال فلا اجُوَد؟کلّااليس الجود والکرم لي ؟اليس الدنياوالآخرة بيدي؟فلوانّ اهل سبع سماوات وارضين سالوني جميعاواعطيت کل واحد منهم مسالته مانقص ذلک من ملکي مثل جناح البعوضة،وکيف ینقص مُلْک اناقيّمه فيابوسا لمن عصاني،ولم یراقبني فقلت له:یابن رسول اللّٰه،اعدعليّهذاالحدیث،فاعاده ثلاثاً،فقلت:لا واللّٰه ماسالت احدا بعدهاحاجة فمالبث ان جاءَ ني اللّٰه برزق من عنده(۱) “
ميں شدید فقر و فاقه کی زندگی گزار رها تها، ميری تنگدستی کو دور کرنے والا بهی کو ئی ميرا ساتهی نهيں تها اور مجه پر دین کی اطاعت بڑی مشکل هو گئی تهی اور ميں اپنی ضروریات زندگی کےلئے چيخ اور چلارها
____________________
١)بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ / ٣٠٣ ۔ ٣٠۴ ۔ ) ۱ فرو ع الکافی جلد ١ صفحہ ١٩۶ ،من لا یحضر ہ الفقيہ جلد ١ صفحہ ٢٣ ۔
تهاتو ميں نے اس وقت اپنا وظيفہ معلوم کر نے کے لئے حسن بن زید (جو اس وقت مدینہ کے امير وحاکم تهے) کے گهر کا رخ کيا اور ان تک ميرے حالات کی خبر ميرے قدیمی ہمنشين محمد بن عبد الله بن علی بن الحسين عليہ السلام نے پہنچا ئی ،ميری ان سے راستہ ميں ملاقات ہوئی تو انهوں نے ميرا ہاته پکڑکر کہا :مجه کو تمہا رے حالات کے بارے ميں خبر ملی ہے ميں تمہا رے بارے ميں نا زل ہو نے والی مشکلات کے بارے ميں سوچ رہا ہوں ؟
ميں نے کہا :حسن بن زید ،اس نے کہا تمہاری حاجت پوری نہيں ہوگی اور تم اپنے مقصد تک نہيں پہنچ سکتے تم ایسے شخص کے پاس جا ؤ جو تمہاری حاجت روائی کی قدرت رکهتا ہے اور تمام سخا وت کرنے والوں سے زیادہ سخی ہے اپنی مشکلات کےلئے ان کے پاس جاؤ اس لئے کہ ميں نے سنا ہے کہ ميرے چچازاد بها ئی جعفر بن محمد عليہما السلام نے اپنے والد کے ذریعہ اپنے جد سے پهر ان کے والد سے حسين بن علی عليہما السلام سے انهوں نے اپنے والد علی بن ابی طالب عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ پيغمبر اکرم صلی الله عليہ وآلہ وسلم نے فر مایا ہے :خداوند عالم نے اپنے بعض انبياء عليہم السلام کی طرف وحی نا زل کی کہ مجهے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ميں ہر اس شخص کی اميد ما یو سی ميں بدل دو نگا جو ميرے علا وہ کسی اور سے اميد لگا ئے گا ،اسے ذلت کا لباس پہنا ؤں گا اور اسے اپنے فضل و کرم سے دور کر دونگا ۔کيا ميرا بندہ مشکلات ميںميرے علاوہ کسی اور سے اميد کرتا ہے حالانکہ ميں غنی جواد ہوں؟ تمام ابواب کی کنجی ميرے ہاته ميں ہے حالانکہ تمام دروازے بند ہيں اور مجه سے دعا کرنے والے کےلئے ميرا دروازہ کهلا ہوا ہے ۔
کيا تم نہيں جانتے کہ جس کو کو ئی مشکل پيش آئے اس کی مشکل کو ميرے علا وہ کو ئی اور دور نہيں کر سکتاتو ميں اس کو غير سے اميد رکهتے ہوئے اور خود سے رو گردانی کرتے ہو ئے دیکهتا ہوں جبکہ ميں نے اپنی سخا وت اور کرم کے ذریعہ وہ چيزیں عطا کی ہيں جن کا اس نے مجه سے مطالبہ نہيں کيا ہے ؟ ليکن اس نے مجه سے رو گردانی کی اور طلب نہيں کيا بلکہ اپنی مشکل ميں دو سروں سے ما نگا جبکہ ميں ایسا خدا ہوں جو ما نگنے سے پہلے ہی دیدیتا ہوں۔
توکياایسا ہو سکتا ہے کہ مجه سے سوال کيا جائے اور ميں جود و کرم نہ کروں ؟ایساہر گز نہيں ہو سکتا۔کيا جود و کرم ميرے نہيں ہيں ؟کيا دنيا اور آخرت ميرے ہاته ميں نہيں ہيں ؟اگرسات زمين اور آسمان کے لوگ سب مل کر مجه سے سوال کریں اور ميں ہر ایک کی ضرورت کے مطابق اس کو عطا کردوں تو بهی ميری ملکيت ميں ایک مچهرکے پَر کے برابر بهی کمی نہيں آئيگی اور کيسے کمی آبهی سکتی ہے جس کا ذمہ دار ميں ہوں ،لہٰذا ميری مخالفت کرنے والے اور مجه سے نہ ڈرنے والے پر افسوس ہے ۔
را وی کہتا ہے کہ ميں نے امام عليہ السلام کی خدمت ميں عرض کيا : اے فرزند رسول اس حدیث کی ميرے لئے تکرارفر ما دیجئے تو آپ نے اس حدیث کی تين مرتبہ تکرار فر ما ئی ۔
ميں نے عرض کيا :خدا کی قسم آج کے بعد کسی سے کو ئی سوال نہيں کروں گا تو کچه ہی دیر گذری تهی کہ خدا وند عالم نے مجه کو اپنی جا نب سے رزق عطا فر مایا ”
استجابت دعا
دعا توفيق اور استجا بت کے حصار ميں دعا دو طرف سے الله کی رحمت سے گهری ہوئی ہو تی ہے :الله کی طرف سے توفيق اور دعا کی قبوليت ۔بندے کی دعا الله کی دی ہو ئی توفيق کے علا وہ قبول نہيں ہو تی ہے الله اپنے بندہ کو دعا کر نے کی تو فيق کارزق عطاکرتاہے چونکہ بندہ اس توفيق کے بغير الله کی بارگاہ ميں دعاپيش کرنے ميں کامياب نہيں ہو سکتا لہٰذادعا سے پہلے اس توفيق کا ہو نا ضروری ہے اور جب بندہ خدا سے دعا کر تا ہے تو الله اس کی دعا قبول کرتا ہے :
( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ )
“مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا ”
تو پہلے الله سے دعا کرنے کی توفيق لازم ہوتی ہے اورپهر دعا بارگاہ معبودميں قبول ہو تی ہے۔یہ دونوں چيزیں دعاکا احا طہ کئے ہو ئے ہيں ،یہ دونوں الله کی رحمت کے دروازے ہيں جو بندے کےلئے اس کے دعا کرنے سے پہلے اور دعا کرنے کے بعد کهلے رہتے ہيں ۔حضرت رسول خدا سے مروی ہے :
____________________
١)سورئہ مو من آیت/ ۶٠ ۔ )
(مَنْ فُتح له منکم باب الدعاء فتحت له ابواب الرحمة (۱) “تم ميں سے جس شخص کےلئے دعا کا دروازہ کهل جا ئے اس کےلئے ابواب رحمت کهل جا تے ہيں ”
حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام سے مروی ہے : فذکروک بمنّک وشکروک
جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہے تو یہ الله کی عصمت اور اس کے فضل کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے وہ (خدا )بندہ کے شکر کا مستحق ہے اور امام زین العا بدین عليہ السلام ہی منا جات خمس عشرہ ميں فر ما تے ہيں :
فَاِنَّابِکَ وَلَکَ وَلَاوَسِيلَْةَ لَنَااِلَيکَْ اِلَّااَنتَْ
“ہم تيری وجہ سے ہيں اور تيرے لئے ہيں اور ہما رے پاس تيرے علاوہ تيرے پاس آنے کا کو ئی ذریعہ نہيں ہے ”
بندہ اپنے پروردگار کو اس کے احسان و فضل کی بناپر ہی یاد کرتا ہے (پہلے خدا وند عالم کا فضل و کرم ہو تا ہے پهر بندہ خدا کو یا د کرتا ہے)،بندے کےلئے الله تک پہنچنے کےلئے اس کے فضل اور رحمت کا ہی وسيلہ ہے ،جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کر تا ہے تو اس کے فضل سے ہی یاد کرتا ہے ،جب دعا کرتا ہے تو یہ اس کی دی ہو ئی توفيق ہی سے دعا کرتا ہے اور جب اس کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اسی کی دی ہو ئی رحمت کی وجہ سے ہی اس کا شکر ادا کرتا ہے ۔حضرت امام حسين عليہ السلام دعا ئے عر فہ ميں فر ما تے ہيں:
لَم یَمنَْعُکَ جَهلِْي وَجُراتِي عَلَيکَْ اَن دَلَلتَْنِي اِل یٰ مَایُقَرِّبُنِي اِلَيکَْ وَوَفَّقتَْنِي لِمَایُزلِْفُنِي لَدَیکَْ
“تو ميری جہا لت اور ميری جرات نے تجه کو ميری رہنما ئی کرنے سے نہيں روکا ،اس چيز کی
____________________
١)در منثور کے نقل کے مطابق الميزان جلد ٢ صفحہ / ۴٢ ۔ )
طرف جو مجه کو تجه سے قریب کر دے اور تو نے مجه کو تو فيق دی اس امر کی جا نب کہ جو مجه کو تجه سے قرب عطا کرے ” دعا کےلئے سب سے نازک چيز دعا کی توفيق ہو نا ہے ،بندہ کو خدا وند عالم سے یہ دعا کرنا چا ہئے کہ خداوند عالم اس کو دعا کرنے کی توفيق عطا کرے ۔صحيفہ سجا دیہ کی دعا و ں ميں حضرت امام زین العابدین عليہ السلام فر ما تے ہيں :
وَاْعمُْرلَْيلِْي بِاَیقَْاضِي فِيهِْ لِعِبَادَتِکَ ،وَاِنزَْالِ حَوَائِجِي بِکَ (١) “اورمير ی راتوں کو عبا دت کےلئے شب بيداری اور تنہا ئی ميں تہجد اور سب سے الگ ہو کر تجه سے لو لگا نے اور اپنی حا جتوں کو تيرے سا منے پيش کر نے کےلئے آباد رکهنا ” حضرت امام جعفر صا دق ، الله سے دعا کی توفيق طلب کرتے ہوئے عرض کر تے ہيں :
فَاعِنِّي عَل یٰ طَاعَتِکَ وَوَفَقّنِْي لِمَااَوجَْبتَْ عَلَيَّ مِن کُلِّ مَایُرضِْيکَْ فَاِنِّي لَم اَرَاَحَداًبَلَغَ شَيئْاًمِن طَا عَتِکَ اِلَّابِنِعمَْتِکَ عَلَيهِْ قَبلَْ طَاعَتِهِ،فَاَنعَْم عَلَيَّ بِنِعمَْةٍاَنَالَ بِهَارِضوَْانُکَ ( ٢)
“پس اپنی اطاعت پر ميری مدد کر اور مجهے اپنی ادائيگی کی توفيق دے اس طرح کہ تو مجه سے راضی ہوجائے ميں نے کسی کو نہيں دیکها جو تيری اطاعت تک پہونچاہو مگر اطاعت سے پہلے تيری ہی نعمت توفيق کے ذریعہ لہٰذا مجه پر نعمت نازل کرجن کے ذریعہ ميں تيری خو شنودی حاصل کرسکوں” حضرت امام علی بن الحسين عليہ السلام فر ما تے ہيں :
اَللَّهُمّ اجعَْلنِْي اَصُولَْ بِکَ عِندَْالض وَاَسالُکَ عِندَْ الحَْاجَةِ وَاَتَضَرَّعُ اِلَيکَْ عِندَْ المَْسکَْنَةِ وَلَاتَفتِْنِّي بِالاِْستِْعَانَةِ بِغَيرِْکَ اِذَااضطُْرِرتُْ (٣)
____________________
١)صحيفہ سجا دیہ دعا / ۴٧ ۔
(٢) بحا ر الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٢٠ ۔ )
٣)صحيفہ سجادیہ دعا / ٢٠ ۔ )
“پروردگار !مجهے ایسا بنا دے کہ ضرورت کے وقت تيرے ذریعہ حملہ کروں اور حا جتکے مو قع پر تجه سے سوال کروں ،مسکينی ميں تيری بارگاہ ميں گڑگڑاؤں اور مجهے ایسی آزما ئش ميں نہ ڈال دینا کہ مجبوری ميں تيرے غير سے مدد ما نگنے لگوں ”
قبوليت دعاکی دو جزائيں
بندہ کی دعا قبول ہونے کی اہميت خداوند عالم کے یہاں دو جہتوںسے ہے ایک جہت سے نہيں ہے اوران ميں سے ایک جہت دوسری جہت سےزیادہ عظيم ہے کم اہميت کا مطلب یہ ہے کہ انسان سوال کے ذریعہ اس مطلب کا اظہار کرے جس کے ذریعہ انسان الله سے صرف دنيا یاصرف آخرت یاان دونوں کو ایک ساته طلب کرتا ہے۔بيش قيمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا وند عالم بنفس نفيس بندہ کی دعا کا جواب دے تو اس کا مطلب خدا وند عالم کا اپنے بندہ کی دعا قبول کرنا ہی ہے کيونکہ جتنی مرتبہ بهی خداوند عالم قبول کرے گا اتنی ہی مرتبہ گویا بندہ کی طرف توجہ کرے گا ۔
دنيا کی ہر چيزکی قيمت اور حد ہوتی ہے ليکن خداوند قدوس کا اپنے بندہ کی طرف متوجہ ہونے کے لئے نہ کوئی حساب ہے اور نہ کو ئی حدہے۔ ليکن جب بندہ پر خدا کی خاص عنایت ہوتی ہے تو اس وقت بندہ کی سعادت کی کوئی حد نہيں ہوتی اور اس سعادت سے بلندکوئی اور سعادت نہيں ہوتی جس کو الله اپنے بندوں ميں سے بعض بندوں سے مخصوص کردیتاہے اور اسکی دعا قبول کرکے یہ نشاندہی کراتا ہے کہ جس چيز کا بندہ نے خدا سے سوال کيا ہے وہ کتنی قيمتی اور اہم ہے۔حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے منقول ہے
:“لقد دعوت اللّٰه مرة فاستجاب،ونسيت الحاجة،لانّ استجابته بإقباله علیٰ عبده عند دعوته اعظم واجل مما یرید منه العبد،ولوکانت الجنة ونعيمهاالابد ولکن لایعقل ذلک الّاالعالمون،المحبون،العابدون،العارفون، صفوة اللّٰه وخاصته ”(١) “ميں نے ایک مرتبہ خدا وند عالم سے دعا کی اور اس نے قبول کرلی تو ميں اپنی حا جت ہی کو بهول گيا اس لئے کہ اس کا دعا کی قبوليت کے ذریعہ بندہ کی طرف توجہ کرنا بندہ کی حاجت کے مقابلہ ميں بہت عظيم ہے چا ہے وہ صاحب حا جت اور اس کی ابدی نعمتوں سے متعلق ہی کيو ں نہ ہو ليکن اس بات کو صرف خداوند عالم کے علماء ،محبين ،عابدین ،عرفاء اور اس کے مخصوص بندے ہی سمجه سکتے ہيں ”پس دعا اور استجابت دونوں الله اور بندہ کے مابين ایک تعلق ولگاؤ ہے یعنی سب سے افضل و اشرف تعلق ہے۔ الله اور اسکے بندوں کے درميان اس سے افضل کونسا تعلق ولگاؤ ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کے حضور ميں اپنی حاجت پيش کرے اللهاس کو قبول کرے اور اس سے مخصوص قراردے۔ اس تعلق کی لذت اور نشوونما اور بندہ پر خداوند عالم کی توفيق وعنایات ميں اسی وقت مزہ ہے جب انسان اپنی مناجات،ذکر اور دعاکو خداسے مخصوص کردےہم(مولف)کہتے ہيں الله سے اس تعلق ولگاؤ کی لذت یہ بندہ پر الله کی عنایت ہے کہ بندہ اس طرح خداوند عالم کی یاد ميںغرق ہوجاتاہے کہ انسان خداکی بارگاہ ميں اپنی حا جتيں پيش کرنے ميں مشغول ہوجاتا ہے ۔ اور کون لذت اس لذت کے مقابل ہوسکتی ہے ؟اور کونسی دولت خداوند عالم کے حضور ميں پيش ہونے،اس سے ملاقات ،مناجات اور اسکا تذکرہ کرنے اور اسکے جلال وجمال ميں منہمک ہونے کے مانند ہوسکتی ہے اور دعاکرنے کےلئے الله کے سامنے کهڑے ہونا یہ خدا کے سامنے حاضر
____________________
١)مصباح الشریعة صفحہ / ١۴ ۔ ١۵ ؛بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣٢٣ ۔ )
ہونے اس سے ملاقات ،مناجات اور اسکو یاد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
ایک عارف کا کہناہے:الله کے حضور ميں الله کے علاوہ کسی اورسے کوئی سوال کرناالله کے نزد یک بہت برا ہے اور خدا کے علاوہ اس کے جلال اور جمال ميں منہمک ہوجاناہے۔
رسول خدا (ص) سے مروی ہے کہ حدیث قدسی ميں آیاہے:
(“من شغله ذکري عن مسالتي اعطيته افضل مااعطی السائلين ”( ۱) جو شخص مجه سے کوئی سوال کرے گاتوميں اس کوسوال سے زیادہ عطاکرونگا ”
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے:
“وانّ العبد لتکون له الحاجة الی اللّٰه فيبدابالثناء علی اللّٰه والصلاة علی محمد وآله حتّی ینسیٰ حاجته فيقضيهامن غيران یساله ایاها ”( ٢) “اگر بندہ ،خداسے کوئی حاجت رکهتا ہواور وہ خداوند عالم سے اپنی حاجت کی ابتداء اس کی حمدوثنا اور محمد وآل محمد پر صلوات بهيج کر کرے اور اسی دوران وہ اپنی حاجت بهول جائے تو اس سے پہلے کہ وہ خداوند عالم سے حاجت کا سوال کرے وہ اس کی حاجت پوری کردے گا ”
مناجات محبين ميں حضرت امام زین العابدین عليہ السلام سے مروی ہے : ۔۔۔اِجعَْلنَْامِمَّن هَيَّمتَْ قَلبَْهُ لِاِرَادَتِکَ وَاجتَْبَيتَْهُ لِمُشَاهَدَتِکَ ،وَاَخلَْيتَْ وَجهَْهُ لَکَ وَفَرَّغتَْ فُوادَهُ لِحُبِّکَ وَرَغَّبتَْهُ فِيمَْاعِندَْکَ وَقَطَعتَْ عَنهُْ کُلَّ شَيءٍْ یَقطَْعُهُ عَنکَْ (٣ ) “ہم کو ان ميں سے قر ار دے کہ جن کے دلوں کو اپنی چاہت کے لئے گرویدہ کرليا ہے اور
____________________
١)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٢٣ ۔ )
٢)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣١٢ ۔ )
٣)مناجات محبين۔ )
اپنے مشاہدے کےلئے انهيںچن ليا ہے اپنی طرف توجہ کی یکسوئی عنایت کی ہے اور اپنی محبت کے لئے ان کے دلوںکو خا لی کر ليا ہے اور اپنے ثواب کے لئے راغب بنا یا ہے ۔۔۔اور ہر اس چيز سے الگ کر دیا ہے جو بندہ کو تجه سے الگ کرسکے ”
دعا اور استجابت دعا کا رابطہ
خداوند عالم ارشاد فرماتاہے:
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُْونِْی اَستَْجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ ( ١)
“اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقيناً جو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”
دعا قبول ہونے کے درميان کيا رابطہ ہے؟
استجابت کيسے تمام ہوتی ہے؟
ہم اس فصل ميں ان ہی دو سوالات سے متعلق بحث کریں گے۔
بيشک خداوند عالم کی طرف سے دعا استجابت کے الٰہی سنتوں اور قوانين کے ذریعہ انجام پاتی ہے جيسا کہ تمام افعال ميں خدا کا یہی طریقہ رائج ہے۔ منفعل ہونا خداکی ذات ميں نہيں ہے جيسا کہ ہم انسانوں کی فطرت ہے کہ کبهی ہم غصہ ہوتے ہيں ،کبهی خوشحال ہوتے ہيں،کبهی غصہ ہو تے ہيں ،کبهی خوش ہو تے ہيں ،کبهی چُست رہتے ہيں اور کبهی ملول و رنجيدہ رہتے ہيں ۔ اور خداوند عالم کے افعال ایک طرح کے قانون ا ور سنت ہيں ان ميں خوشی یا غصہ کاکوئی دخل
____________________
١)سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔ )
نہيں ہوتا تمام سنتيں اور قوانين الٰہيہ اپنی جگہ پر ثابت ہيں ۔ایسا نہيں ہے کہ خداوند عالم خوش ہوگا تو دعا قبول کرے گا اور ناراض ہوگاتو دعاقبول نہيں کرے گا ۔ یہ تمام الٰہی سنتيں افق غيب(مڻافيزیکی )ميں اس طرح جاری ہوتی ہيں جس طرح فيزیکس، کيميا،اور ميکانيک ميں بغير کسی فرق کے جاری ہوتی ہيں۔( لَن تَجِدَلِسُنَّةِاللهِتَبدِْیلْاً ) ( ١)
“تم خدا کی سنت ميں ہر گز تبدیلی نہيں پا و گے ”( لَن تَجِدَلِسُنَّةِ اللهِ تَحوِْیلْاً ) ( ٢)
“ہر گز خدا کے طریقہ کار ميں کو ئی تغير نہيں ہو سکتا ہے ”
دعاقبول ہونے ميں الله کی سنت کيا ہے؟
دعا ،رحمت کی کنجی ہے
دعا اور استجابت کے درميان رابطہ کے سلسلہ ميں نصوص اسلاميہ ميں دعا اجابت کی کليد کے عنوان سے تعبير کی گئی ہے اور یہی کلمہ دعااور استجابت کے درميان رابطہ کی نوعيت کو معين ومشخص کرتاہے۔
حضرت علی عليہ السلام سے مروی ہے :
(الدعاء مفتاح الرحمة (٣ ) “دعاکليد رحمت ہے”
____________________
(١)سورئہ احزاب(۶٢ )
٢)سورئہ فاطرآیت/ ۴٣ ۔ )
(٣)بحار جلد ٩٣ صفحہ ٣٠٠ )
اور امام امير المومنين علی بن ابی طالب عليہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن عليہ السلام کو وصيت فرمائی:
ثم جعل فی یدک مفاتيح خزائنه بمااذن فيه من مسالته فمتٰی شئت (استفتحت بالدعاء ابواب خزائنه ( ١)
“تمہارے ہاتهوں ميں اپنے خزانوں کی کليد قرار دی پس جب تم چاہو تو اس دعاکے ذریعہ خزانوں کے دروازے کهول سکتے ہو”
دعا اور استجابت کے درميان رابطہ کی واضح و روشن تعبير “فمتی شئت استفتحت بالدعاء ابواب خزائنہ”ہے۔
پس معلوم ہواکہ جس کليد سے ہم الله کی رحمت کے خزانوں کو کهول سکتے ہيں وہ دعا ہے۔
اور ا لله کی رحمت کے خزانے کبهی ختم نہيں ہوتے ليکن ایسا بهی نہيں ہے کہ تمام لوگ الله کی رحمت کے خزانوں کے مالک بن جائيں اور ایسا بهی نہيں ہے کہ تمام لوگ آسانی سے الله کی رحمت کے خزانوں کو حاصل کرسکيں۔
امام جعفر صادق عليہ السلام سے خداوند عالم کے قول:
( مَایَفتَْحِ اللهُ لِلنَّا سِ مِن رَحمَْةٍ فَلَامُمسِْکَ لَهَا ) ( ٢)
“الله انسا نوں کےلئے جو رحمت کا دروازہ کهول دے اس کا کو ئی روکنے والا (نہيں ہے ”کے بارے ميںروایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا:وہ دعاہے۔(٣ بيشک دعا وہ کليد ہے جس کے ذریعہ خداوند عالم لوگو ں کےلئے اپنی رحمت کے دروازوں کو کهول
____________________
١)بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩٩ )
٢)سورئہ فا طر آیت / ١۔ )
٣)بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩٩ ۔ )
دیتا ہے اور اس کليد کو خداوند عالم نے اپنے بندوں کے ہاتهوں ميں قرار دیا ہے۔ رسول الله (ص)سے مروی ہے کہ:“من فتح له من الدعاء منکم فتحت له ابواب الاجابة ”( ١)
“تم ميں سے جس شخص کےلئے باب دعا کهل جائے تو اس کے لئے اجابت کے دروازے کهل جاتے ہيں ”
اللهتبارک وتعالیٰ جو دعا کے ذریعہ بندے کے لئے دروازے کهول دیتا ہے وہ اس کے لئے ابواب اجابت بهی کهول دیتاہے۔
حضرت امير المومنين عليہ السلام سے مروی ہے:
“من قرع باب اللّٰه سبحانه فتح له ”( ٢) “جو الله کے دروازے کو کهڻکهڻاتاہے تو الله اس کےلئے دروازہ کهول دیتا ہے” اور امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے:
“اکثرمن الدعاء،فانه مفتاح کل رحمة،ونجاح کل حاجة،ولاینال ماعند اللّٰه الابالدعاء،وليس باب یکثرقرعه الایوشک انْ یُفتح لصاحبه ”(٣ ) “زیادہ دعا کرو اس لئے کہ دعا ہر رحمت کی کنجی ہے۔ہر حاجت کی کاميابی ہے اور الله کے پاس جو کچه ہے اس کو دعا کے علاوہ کسی اور چيز سے حاصل نہيں کيا جاسکتا اور ایسا کوئی دروازہ نہيں جس کو بہت زیادہ کهڻکهڻایا جائے اور وہ کهڻکهڻانے والے کے لئے نہ کهلے”
____________________
١)کنزالعمال حدیث نمبر/ ٣١۵۶ ۔ )
٢)غررالحکم حدیث / ٨٢٩٢ ۔ )
٣)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٢٩۵ ،وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١٠٨۶ حدیث/ ٨۶١۶ ۔ )
اور حضرت اميرالمومنين عليہ السلام سے مروی ہے:
“الدعاء مفاتيح النجاح،ومقاليدالفلاح،وخيرالدعاء ماصدرعن صدر نقي وقلب تقي ”( ١)
“دعا کاميابی کی کليد اوررستگاری کے ہار ہيں اور سب سے اچهی دعاوہ ہوتی ہے جو پاک وصاف اورپرہيزگار دل سے کی جاتی ہے”
ر سو ل ١للهصلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مر و ی ہے کہ : “الاادلّکم علی سلاح ینجيکم من اعدائکم،ویدرّارزاقکم ؟ قالوا:بلیٰ، قال:تدعون ربّکم بالليل والنهار،فانّ سلاح المومن الدعاء ”( ٢)
“آگاہ ہو جاوکيا ميں تمہاری اس اسلحہ کی طرف را ہنمائی کروں جو تم کو تمہارے دشمنوں سے محفوظ رکهے اور تمہارا رزق چلتا رہے ؟توانهو ں نے کہا : ہا ں آپ نے فر ما یا :خدا وند عا لم کو رات دن پکارو اس لئے کہ دعا مو من کا اسلحہ ہے”
عمل اور دعا الله کی رحمت کی دو کنجيا ں
الله نے ہما رے ہا تهو ںميں کنجيا ں قرار د ی ہيں جن کے ذر یعہ ہم الله کی رحمت کے خز انو ںکے دروازے کهول سکتے ہيں اور ان کے ذر یعہ ہم الله کا رزق اور اس کا فضل طلب کر سکتے ہيں اور وہ دو نو ں کنجيا ں عمل اور دعا ہيں اور ان ميں سے ایک دو سر ے سے بے نيا زنہيں ہو سکتی ۔ عمل، دعا سے بے نيا زنہيںہے یعنی انسان کےلئے عمل کے بغير دعا پر اکتفا کر لينا کافی نہيں ہے
رسول الله (ص) نے جناب ابوذر سے وصيت کرتے ہو ئے فرمایا :
____________________
١)وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١٠٩۴ حدیث ٨۶۵٧ ،اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵١٧ ۔ )
٢)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٩۵ ،حدیث ٨۶۵٨ ۔ )
“یااباذرمَثَلُ الذي یدعوبغيرعمل کمثل الذي یرمي بغيروتر ”(١) “اے ابوذر بغير عمل کے دعا کرنے والا اسی طرح ہے جس طرح ایک انسان بغير کمان کے تير پهينکے ”
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے : “ثلاثة ترود عليهم دعوتهم:رجل جلس فی بيته وقال:یاربِّ ارزقني، فيُقال له:الم اجعل لک السبيل الیٰ طلب الرزق ؟” ( ٢)
“تين آدميوں کی دعائيں واپس پلڻادی جاتی ہيں : ان ميں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے گهر ميںبيڻها رہے اور یہ کہے : اے پرور دگارمجهے رزق عطا کر تو اس کو جواب دیا جاتاہے : کيا ميں نے تمہارے لئے طلب رزق کا را ستہ مقررنہيں کيا ؟۔۔۔” اور انسان کےلئے دعا کے بغير عمل پر اکتفا کر لينا بهی صحيح نہيں ہے ۔ رسول اللهصلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :
“إنّ للهعباداًیعملون فيعطيهم،وآخرین یسالونه صادقين فيعطيهم،ثم یجمعهم فی الجنةفيقول الذین عملوا:ربّنا،عملنافاعطيتنا،فبمااعطيت هولاء؟ فيقول:هولاء عبادي،اعطيتکم اجورکم ولم التکم من اعمالکم شيئاً،وسالني هولاء فاعطيتهم واغنيتهم،وهوفضلي اُوتيه مَنْ اشاء ”( ٣)
“بيشک الله کے کچه ایسے بندے ہ یں جو عمل کرتے ہيں اور خدا انکو عطا کرتا ہے اوردوسرے
____________________
١) وسا ئل شيعہ ابواب دعا باب ٣٢ حدیث ٣ ۔ )
٢)وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ابواب الدعا باب ۵٠ ح ٣ ۔ )
٣) وسائل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٨۴ حدیث / ٨۶٠٩ ۔ )
بندے ہيں جو صدق دل سے سوال کر تے ہيں اور خدا وند عالم ان کو بهی عطا کر تاہے پهرجب ان کوجنت ميں جمع کيا جا ئيگا تو عمل کرنے والے بندے کہيں گے : اے ہمارے پالنے والے ہم نے عمل کيا تو تو نے ہم کو عطا کيا ليکن ان کو کيوں عطا کيا گيا جواب ملے گا یہ ميرے بندے ہيں ميں نے تم کو تمہارا اجر دیا ہے اور تمہارے اعمال ميں سے کچه کم نہيں کيا ہے اور ان لوگوں نے مجه سے سوال کيا ميں نے ان کو دیا اور ان کو بے نياز کردیا اور یہ ميرا فضل ہے ميں جس کو چا ہتا ہوں عطا کرتا ہوں ”
اگر انسان عمل کرنے سے عاجز ہو تو الله نے اس کی تلافی کےلئے دعا قرار دی تا کہ انسان اپنے نفس پر اعتماد کرے ،جو کچه حول و قوہ الٰہی کے ذریعہ عطا کيا گيا ہے اورجو کچه اس نے عمل کے ذریعہ قائم کيا ہے اس کے فریب ميں نہ آئے ۔ معلو م ہو ا کہ عمل اور دعا دو نوں سب سے عظيم دو کنجياں ہيں جن دو نوں کے ذریعہ انسان پر الله کی رحمت کے دروازے کهلتے ہيں ۔
ا ب ہم عمل اور اس کے رحمت سے رابطہ کے مابين اور اس کے با لمقا بل دعا اور ا لله کی رحمت کے خزا نوں کے ما بين رابطہ اور عمل سے دعا کے رابطہ کے بارے ميں بحث کریں گے چونکہ یہ روابط ہی اسلام کے ابتدائی اور اصلی مسائل ہيں۔
الله تعالیٰ نے اپنے بندوں کو “عمل اور دعا”دونوں چيزیں ایک ساته عطا کی ہيں۔اسکا مطلب یہ ہے کہ اللهتعالیٰ نے اپنے بندوں کو وہی سب کچه عطا کيا“جو ان کے پاس ہے”۔“وہ سب کچه نہيں جو ان کے پاس نہيںہے”اور ان کے پاس ان کی کوششيں اور ان کے اعمال ہيں۔وہ اپنی کوشش سے جو کچه الله کے سامنے پيش کرتے ہيں اور اپنے نفوس اور اموال سے خرچ کرتے ہيں وہ عمل ہے ،اور جو کچه ان کے پاس نہيں ہے وہ ان کا فقر،اور الله کا محتاج ہونا ہے اور الله کے سامنے اپنے فقير اور محتاج ہونے کا اقرار کرنا ہے۔
انسانی حيات ميں یہ دونوں الله کی رحمت کو نازل کرنے کی کنجياں ہيں،جسے وہ اپنی کوشش عمل،نفس اور مال کے ذریعہ الله سے حاصل کرتا ہے اور الله کے حضور ميں اپنی حاجت ،فقر اور مجبور ی کو دکهلاتاہے۔
دعااور عمل کے درميان رابطہ
ہمارا دعا کو الله کی سنتوں سے جدا سمجهنا صحيح نہيں ہے بيشک اللهنے کائنات ميں اپنے بندوں کے لئے ان کی حاجتوں کی خاطرسنتوں کو قرار دیا ہے۔اور لوگوں کا اپنی تمام حاجتوں اور متعلقات ميں ان سنتوں کو مہمل شمار کرناحرمت نہيں ہے۔
دعا ان سنتوںکا بدل قرار نہيں دی جاسکتی یہ الٰہی سنتيں انسان کو دعاسے بے نياز نہيں کرتی ہيں(یعنی ان سنتوں کو دعاؤں کا بدل قرار نہيں دیا جاسکتاہے۔)
یہ نکتہ اسلامی ربانی ثقافت ميں ایک بہت لطيف نکتہ ہے،لہٰذا فلّاح(کا شتکار ) کےلئے زمين کهودنااس ميںپانی دینا،زمين کی فصل ميں رکاوٹ بننے والی اضافی چيزوں کو دور کرنا، زراعت کی حفاظت کرنا اور مزرعہ سے نقصان دہ چيزوں کو دور کرنے کےلئے دعا کردینا ہی کا فی نہيں ہے ۔بيشک ایسی دعا قبول نہيں ہو تی ہے اور ایسی دعائيں امام جعفر صادق عليہ السلام کے اس قول کا مصداق ہيں :الداعي بلاعمل کالرامي بلاوتر “ عمل کے بغير دعا کرنے والابغير کمان کے تير پهينکنے والے کے ما نند ہے ۔ جس طرح بيمار اگر حکيم اور دوا کو بيکار سمجهنے لگے تو اس کی دعا قبول نہيں ہو تی ہے اور یہ دعا قبول ہی کيسے ہو جس ميں انسان الله کی سنتوں سے منه مو ڑلے ۔لہٰذا الٰہی سنتوں کے بغير دعا قبول نہيں ہو سکتی ہے ۔بيشک اپنے بندوں کی دعاوں کو قبول کرنے والا فطری طور پر ان سنتوں کا خالق ہے وہ وہی خدا ہے جس نے اپنے بندوں کو ان سنتوں کو جا ری کرنے کا حکم دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ تم اپنا رزق اور اپنی حا جتيں ان سنتوں کے ذریعہ حاصل کرو اور خدا وند عالم فر ماتا ہے :
(( هُوَالَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الاَْرضَْ ذَلُولْاًفَامشُْواْفِی مَنَاکِبِهَا وَکُلُواْمِن رِزقِْهِ ) ۔۔۔( ١)
“اسی نے تمہا رے لئے زمين کو نرم بنا دیا ہے کہ اس کے اطراف ميں چلو اور رزق خدا تلاش کرو ۔۔۔”
اور خدا وند عالم کا یہ فرمان ہے :
(( فَانتَْشِرُواْفِی الاَْرضِْ وَابتَْغُواْمِن فَضلِْ اللهِ ) ( ٢)
“پس زمين ميں منتشر ہو جا ؤ اور فضل خدا کو تلاش کرو ”
جس طرح دعا عمل کا قائم مقام نہيں ہو سکتی اسی طرح عمل دعا کا قائم مقام نہيں ہو سکتا بيشک اس کا ئنات کی کنجی الله کے پاس ہے ،دعا کے ذریعہ الله اپنے بندوں کووہ رزق عطا کرتا ہے جس کو وہ عمل کے ذریعہ حا صل نہيں کر سکتے اور دعا کے ذریعہ فطری اسباب سے اپنے بندوں کووہ کا ميابی عطا کرتا ہے جس پر وہ عمل کے ذریعہ قادر نہيں ہو سکتے ہيں ۔
انسان کےلئے رزق کی خاطر فطری اسباب کے مہيا کرنے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ انسان فطری اسباب کے ذریعہ الله سے دعا ،سوال اور ما نگنے سے بے نياز ہو جا ئے ۔
بيشک الله تبارک و تعالیٰ باسط ،قابض،معطی ،نافع ،ضار،محيی و مہلک،معزّ و مذل،رافع اور واضع(یعنی بلندی اور پستی عطا کرنے والا )ہے ،دنيائے ہستی کی کنجياں اسی کے ہاته ميں ہيں کو ئی چيزاس کے امر ميں مانع نہيں ہو سکتی ،اس دنيا کی کو ئی بهی چيز اس کے امر و سلطنت سے با ہر نہيں ہو سکتی اس دنيائے ہستی کی ہر طاقت و قوت ،سلطنت ،نفع پہنچانے والی اورنقصان دہ چيز اس کے امر،
____________________
١)سورئہ ملک آیت/ ۵ا۔ )٢)سورئہ جمعہ آیت/ ٩۔ )
حکم اور سلطنت کے تابع ہے اور خدا کی سلطنت و ارادہ کے علا وہ اس دنيا ميں کسی چيز کا وجود مستقل نہيں ہے یہا ں تک کہ انسان بهی الله سے دعا ،طلب اور
سوال کے ذریعہ معا ملہ کر نے سے بے نياز نہيں ہے
ہم الله کی تسبيح کرتے ہيں اور یہودیوں کے اس قول :
(( ید الله مغلولة ) ( ١)
“خدا کے ہاته بندهے ہو ئے ہيں ”سے اس کو منزہ قرار دیتے ہيں اور وہ کہتے ہيں جو قرآن کہتا ہے :
(( بَل یَدَاهُ مَبسُْوطَْتَانِ ) ( ٢)
“بلکہ اس کے دونوں ہاته کهلے ہو ئے ہيں ”
ہم اپنے تمام معا ملات خدا سے وابستہ قراردیتے ہيں ہم خدا کے ساته معاملہ کر نے اور جن سنتوں کو اللهنے بندوں کے لئے رزق کا وسيلہ قرار دیا ہے ان کے مابين جدائی کے قائل نہيں ہيں اور ہمارا یہ بهی عقيدہ ہے کہ یہ تمام طاقتيں اور روشيں خداوند عالم کے ارادہ مشيت اور سلطنت کے طول ميں ہم کو فائدہ یا نقصان پہنچاتی ہيںيہ خداوند عالم کے ارادہ اور سلطان کے عرض ميں نہيں ہيں اور نہ ارادہ و سلطان سے جدا ہيں ۔
ہم اپنے چهوڻے بڑے تمام امور ميں الله کی رحمت،فضل اور حکمت سے یہی لولگاتے ہيں اور ہم اپنی زندگی ميں الله کے ارادے اسکی توفيق اوراسکے فضل سے ہی لولگاتے ہيں ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ ميں الله کے محتاج ہيں اور پوری زندگی ميں اسکے فضل و رحمت ،حمایت،توفيق اور ہدایت کے محتاج ہيں اور ہم دعاکرتے ہيں کہ وہ ہمارے امور کااستحکام ان کی ،تائيد،ہدایت،توفيق کا سرپرست
____________________
١)سورئہ ما ئدہ آیت / ۶۴ ۔ )
٢)سورئہ ما ئدہ آیت/ ۶٣ ۔ )
ہے۔ہم خدا وند عالم کی ذات کریمہ سے اس بات کی پناہ چا ہتے ہيں کہ وہ ایک لمحہ کيلئے بهی ہم کو ہمارے حال پر چهوڑدے خداسے ہم یہ چاہتے ہيں کہ وہ خود ہی ہماری حاجتيں پوری کرے اور ہم کو کسی غير کا محتاج نہ بنائے ۔
اس دعا کا یہ مطلب نہيں ہے کہ انسان اپنی حاجتوں کو لوگوں سے مخفی رکهے جبکہ اس کا ئنات ميں فطری اسباب مو جود ہيں بشرطيکہ انسان خداوند عالم سے دعا کرے بلکہ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ انسان خداوند عالم سے یہ دعا کرے کہ خداوند عالم غير سے اس کی حاجت کو، اپنی حاجت کے طول ميں قرار دے ۔غير پر اس کے اعتماد کو اپنے اعتماد کے طول ميں قرار دے غير سے معاملہ کرنے کو خود سے معاملہ کرنے کے طول ميں قرار نہ دے اور نہ جدا قرار دے چنا نچہ یہ کائنات تمام کی تمام ایسے اسباب پر مشتمل ہے جو خداوند عالم کے تابع ہيں اور خداوند عالم نے ان کو مخلوق کا تابع قرار دیا ہے ۔
ان اسباب کے ساته معاملہ کرنا ان کو اخذ کرنا ،ان پر اعتماد کرنا خداوند عالم کے ساته معاملہ کرنے ،خدا سے اخذ کرنے ،خدا پر اعتماد کرنے کے طول ميں ہے نيز اس توحيد کا جزء ہے جس کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے وہ نہ خدا کے ساته ہے اور نہ خدا وند عالم سے جدا ہے ۔
اس روش کی بنا ء پر ہم کہتے ہيں کہ انسان کا فریضہ ہے کہ ہر چيز ميں خداوند عالم کو پکارے ،ہر چيز کو خدا وند عالم سے طلب کرے چاہے چهوڻی ہو یا بڑی ،روڻی(کهانا) ،آڻے کے نمک اور جانوروں کی گهاس سے ليکر جنگ کے ميدانوں ميں دشمنوں پر کا ميابی تک ہر چيز خداوند عالم سے مانگے۔اپنی حاجتوں اور دعاؤں ميں سے کسی چيز ميں غير خدا کا سہارا نہ لے اور اس بات سے خدا وند عالم کی پناہ مانگے کہ وہ اس کو کسی چهوڻی یا بڑی چيز ميں اس کے حال پر چهوڑدے ۔
فعلی طور پر ہمارا یہ عقيدہ ہے کہ ہم اس عام فضاء ميں ہر چيز کے سلسلہ ميں الله سے لولگائيں، ہر چيز الله سے طلب کریں ۔۔۔ یہ بات اس چيز سے کوئی منافات نہيں رکهتی کہ انسان جس کو اللهنے پيدا کيا اور اس دنياميں کچه چيزیں اسکے لئے مسخر کردی ہيں اور وہ اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ مریض ہونے کی حالت ميں الله سے شفامانگتا ہے پهر ان اسباب شفاء اور علاج کوعلم طب اور دوا ميں ڈهونڈهتا جواس نے اِن ميں قرار دئے ہيں۔
بلکہ ہم تو یہ عقيدہ رکهتے ہيں کہ اگر انسان تمام چيزوں کو چهوڑکر اور اس دنيا ميں الله کی سنتوں کو بروئے کار نہ لاکر الله سے دعا کرتا ہے تو اسکی دعا قبول نہيںہوتی اور وہ اس تير چلانے والے کے مانند ہے جو بغير کمان کے تير پهينکتاہے۔ یہ دقيق ، پاک و صاف اسلامی ثقافت ہم کو الله سے رابطہ رکهنے اور اس کا ئنات ميں الله کی سنتوں کے ساته ہما ہنگی رکهنے کی دعوت دیتی ہے ۔
ہم اس بات سے یہ نتيجہ اخذ کرتے ہيں کہ ائمہ عليہم السلام سے وارد ہونے والی دعائيں الله سے طلب کرنے کا ذخيرہ ہيں اور بندہ خدا کے علاوہ کسی اور سے کوئی حاجت نہ رکهے،اپنے نفس پر اعتماد نہ کرے،اپنی رسی کوالله کی ریسمان سے ملا دے اور ہر اس چيز سے منقطع ہو جا ئے جو اس کو خداسے منقطع کردیتی ہے۔
امام زین العا بدین عليہ السلام دعاميں فر ما تے ہيں:وَ لَاتَکِلنِْی اِل یٰ خَلقِْکَ بَل تَفَرَّد بِحَاجَتِي،ْوَتَوَلَّ کِفَایَتِي،ْوَانظُْر اِلّيَّ، وَانظُْر لِي فِی جَمِيعِْ اُمُورِْي (١) “اور مجهے اپنی مخلوقات کے حوالہ نہ کر دینا تو تن تنہا ميری حاجت روا کرنا ،اور ميرے لئے کا فی ہو جانا ،اور ميری طرف نگاہ رکهنا ،اور ميرے تمام امور پر اپنی نظریں رکهنا ”
حضرت ا مام حسين عليہ السلام دعا ئے عر فہ ميں فرماتے ہيں:
____________________
١)صحيفہ کاملہ سجا دیہ دعا نمبر ٢٢ ۔ )
اللَّهُمَّ مَااَخَافَ فَاکفِْنِي وَمَااَحذَْرَفَقِنِي،ْوَفِی نَفسِْي وَدِینِْي فَاحرِْسنِْي،ْوَفِی سَفَرِي فَاحفَْظنِْي،ْوَفِی اَهلِْي وَمَالِي فَاخلُْفنِْي،ْوَفِيمَْارَزَقتَْنِی فَبَارِکَ لِي وَفِی نَفسِْي فَذَلِّلنِْي،ْوَفِي اَعيُْنِ النَّاسِ فَعَظِّمنِْي وَمِن شَرِّالجِْنِّ وَالاِْنسِْ فَسَلِّمنِْي،ْوَبِذَنُوبِْي فَلَاتَفضَْحنِْي،ْوَبِسَرِیرَْتِي فَلَا تُخزِْنِي،ْوَبِعَمَلِي فَلَاتَبتِْلنِْي،ْوَنِعَمِکَ فَلَاتَسلُْبنِْي وَاِل یٰ غَيرِْکَ فَلَا تَکِلنِْي ( ١)
“ خدایاجس چيزکامجهے خوف ہے اس کےلئے کفایت فرما اور جس چيز سے پرہيزکرتا ہوں اس سے بچا لے اور ميرے نفس اور ميرے دین ميںميری حراست فرما اور ميرے سفر ميں ميری حفاظت فرما اور ميرے اہل اور مال کی کمی پوری فرما اور جو رزق مجه کو دیا ہے اس ميں برکت عطافرما مجهے خود ميرے نزدیک ذليل بنادے اور مجه کو لوگوں کی نگاہ ميں صاحب عزت قرار دے اور جن وانس کے شر سے محفوظ رکهنا اورگنا ہوں کی وجہ سے مجهے رسوا نہ کرنا ميرے اسرارکوبے نقاب نہ فرمانااور ميرے اعمال ميںمجهے مبتلا نہ کرنا اور جونعمتيں دیدی ہيں انهيںواپس نہ لينااور مجه کو اپنے علاوہ کسی اور کے حوالہ نہ کرنا” اب ہم دعا اور دعا قبول ہو نے کے درميان رابطہ کو بيان کر تے ہيں ۔
دعا اوراستجا بت دعاکے درميان را بطہ
حاجت اور فقر کی طرف متوجہ ہونا ایک رازہے جسکے ذریعہ ہم دعا اور استجابت دعا کے درميان رابطہ کو کشف کر تے ہيں ،اور یہ سمجهتے ہيں کہ دعا رحمت کی کنجی کيسے ہے اور دعا سے الله کی رحمت کيسے نا زل ہو تی ہے ۔ بيشک ہر دعا فقرکی طرف متوجہ ہو نے کے درجہ کومجسم کر دیتی ہے اورالله کی طرف حاجت کے مرتبہ کومعين ومشخص کرتی ہے۔ انسان جتنا زیادہ الله کی بارگاہ ميں اپنی حاجت پيش کرے گا اتنی ہی اس کی دعا قبوليت سے زیادہ قریب ہوگی اور الله کی رحمت انسان سے بہت زیادہ
____________________
١)دعا عرفہ امام حسين عليہ السلام ۔ )
قریب ہو جائيگی ۔ الله اپنی رحمت کے نازل کرنے ميں کو ئی بخل نہيں کرتا بلکہ الله کی رحمت بندوں کی سرشت و طينت کے اعتبار سے مختلف طریقوں سے نازل ہو تی ہے ۔
یہ تعجب خيز بات ہے کہ حاجت اور فقر ،اور حاجت اور فقر کی طرف متو جہ ہو نا یہ انسان کا ظرف ہے جسکے ذریعہ وہ الله کی رحمت کو حاصل کرتا ہے ۔ اور جتنا زیادہ انسان اپنے فقر کی طرف متو جہ اور الله کی با رگاہ ميں دادو فریاد کرے گا اتنا ہی زیادہ اس کا ظرف الله کی رحمت حاصل کر نے کےلئے وسيع ہو جا ئيگا ۔
الله تعالیٰ انسان کو اس کی ضرورت کے مطا بق عطا کر تا ہے اور ہر انسان اپنے ظرف کے مطابق ہی الله کی رحمت کو پاتا ہے اور جس کا ظرف زیادہ وسيع ہو گا الله کی رحمت کا حصہ بهی اس کے لئے اتنا ہی زیادہ ہو گا اب ہم دعا کو مختصر تين کلموں ميں بيان کر تے ہيں :
١۔فقر کی ضرورت ۔
٢۔فقر سے آگاہی ۔
٣۔حا جت طلب کرنا ،اس کو وسيع کر نا اور الله کے حضور ميں پيش کرنا ۔ تيسرا کلمہ دوسر ے کلمہ سے جدا ہے اور دوسرا کلمہ پہلے کلمہ سے جدا بيشک ضرور ت اور ہے اور ضرورت سے با خبر ہو نا اورہے ۔ کبهی انسان ہر چيز کا الله سے اظہار نہيں کرتا۔
اور کبهی انسان ضرور ت سے متعلق الله کا محتاج ہو تا ہے ليکن وہ اپنی ضرور ت کو الله کی بار گا ہ ميں پيش کرنا اچها نہيں سمجهتا اور الله سے ما نگنے ، سوال کر نے اور دعا کر نے کو اچها نہيں سمجهتا ہے ۔
ليکن جب تک یہ تينوں کلمے ایک سا ته جمع نہيں ہو ں گے اس وقت تک دعا متحقق نہيں ہو سکتی ۔ یہاں پر ضرور ت، فلسفی اعتبار سے ہے صرف حادث ہو نے کے اعتبار سے ضرور ت نہيں ہے جيسے ایک عما رت کی تعمير کے لئے انجينئر اور معما روں کی ضرور ت ہو تی ہے عمارت حادث اور باقی رہنے کی محتاج ہے جس طرح جب تک بجلی کا سوئچ آن رہيگااس وقت تک بلب روشن رہے گا اور جيسے ہی سوئچ آف ہو گا ویسے ہی بلب کی روشنی بهی ختم ہو جائيگی ۔
حدوث اور بقاء کے اعتبار سے انسان بهی اسی طرح الله کا محتاج ہے،انسان کا وجود ،اسکا چلنا پهرنا اور اسکی زندگی سب الله سے مربوط ہيں ہر صورت ميں ہر حال ميں وہ الله کا محتاج ہے ۔
خداوند عالم فرماتاہے:
( یاایُّهَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلیٰ اللهِ وَاللهُ هُوَالْغَنِيُّ الْحَمید ) “(١ انسانوں تم سب الله کی بارگاہ کے فقير ہو اور الله صاحب دولت اور قابل حمد و ثنا ہے ”
ضرورت اور فقر دونوں ہی سے انسان پر اسکے ظرف کے اعتبار سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ خواہ انسان ان دونوں کو الله کے حضور ميں پيش کرے یا پيش نہ کرے ليکن ضرورت و فقر کا الله کی بارگاہ ميں پيش کرنا اور اس سے کهل کر مانگنا الله کی رحمت کو جذب کرنے کےلئے زیادہ قوی ہے۔
اب ہم فقر اور فقر کے الله کی رحمت سے رابطہ، فقر سے آگاہی اور اسکو الله کی بارگاہ ميں پيش کرنے سے پہلے اور اس سے آگاہی اور الله کی بارگاہ ميں پيش کرنے کے بعد کے متعلق گفتگو کرتے ہيں:
حاجت سے باخبر ہونے سے پہلے اور الله کی بارگاہ ميں پيش کرنے سے پہلے حاجت :
الله کی بارگاہ ميں حاجت پيش کرنا حاجت کی ضرورت کے مطابق رحمت نازل کرتا ہے یہاں تک کہ اگرچہ حاجت سے باخبر ہونے اور الله کی بارگاہ ميں پيش کرنے سے پہلے ہی کيوں نہ ہو
____________________
١)سورئہ فاطر آیت/ ۵ا۔ )
اسکی مثال اس سوکهی زمين کے مانند ہے جو پانی کو جذب کرليتی ہے اور چوس ليتی ہے۔
جس طرح الله سے غرور وتکبر کرنا اس سخت زمين کے مانند ہے جس پر پانی ڈالا جائے تو وہ اس کواپنے سے دور کردیتی ہے۔یعنی اپنے اندر جذب نہيں کرتی ہے۔اسی طرح الله کی عبادت اور دعا نہ کرنے والوں پر الله کی رحمت نازل نہيں ہوتی اور ان کو کچه نہيں ملتا ہے۔
بيشک فقر اور رحمت کے درميان تکوینی تعلق ہے ان دونوں ميں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے،الله سے فقر انسان کو اسکی رحمت سے قریب کرتا ہے اور الله کی رحمت ضرور ت اور فقر کے مقامات کو تلاش کرتی ہے جس طرح بچہ کی کمزوری اور اسکی ضرورت کے درميان مہربان ماں اور اسکی عطوفت کا رابطہ ہے ان ميں سے ہر ایک،ایک دوسرے کو چاہتا ہے بچہ کی کمزوری، مہربان ماں کو تلاش کرتی ہے اور مہربان ماں اور اسکی رحمت و عطوفت دونوں بچہ کی کمزوریوں کو تلاش کرتی ہيں۔
بلکہ ممکنات کے دائرہ حدود ميں ان دونوں ميں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے بچہ کی کمزوری کی رعایت کرنے ميں ماں کی ضرورت بچہ کو مہربان ماں کی ضرورت سے کم نہيں ہے۔
اسی طرح عالم تعليم دینے کی خاطر جاہل کو ڈهونڈهتا ہے جس طرح جاہل کچه سيکهنے کی خاطر عالم کی تلاش ميں رہتا ہے۔عالم کی جاہل کو تعليم دینے کی ضرورت جاہل کی عالم سے تعليم حاصل کرنے کی ضرورت سے کم نہيں ہے۔ حکيم مریضوں کا علاج کرناچاہتا ہے اور مریضوں کا علاج کرنے کی خاطر وہ اپنی ڈگری کا اعلان کرتا ہے جس طرح مریض حکيم کی تلاش ميں رہتا ہے حکيم کو مریض کی ضرورت مریض کو حکيم کی ضرورت سے کم نہيں ہے۔ طاقتور،کمزور کی مدد کر نے کی تلاش ميں رہتا ہے جس طرح کمزور اس تلاش ميں رہتا ہے کہ طاقتور ميری مدد کرے ،بيشک طاقتور کی کمزور کی مدد کر نے کی ضرورت ،کمزور کی طاقتور سے اپنی حمایت و مدد کی ضرورت سے کم نہيں ہے ۔
بيشک تمام چيزوں ميں یہ الله کی سنت ہے۔
یہی حال الله کی رحمت اور بندوں کی ضرورت کا ہے جس طرح ضرورت و حاجت رحمت طلب کرتی ہے اسی طرح رحمت، فقر اورضرورت کی تلاش ميں رہتی ہے اور خداوند سبحان حاجت و ضرورت سے منزہ ہے اور وہ محتاج نہيں ہے ليکن الله کی رحمت حاجت وضرورت کے مقامات کی تلاش ميں رہتی ہے۔
بخل سے کام لينا الله کے شایان شان نہيں ہے اوراس کی رحمت کے مرتبوں ميں اختلاف بندے کی ضرورت وحاجت کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔
زمين سے اگنے والے دانہ کو گرمی،روشنی،پانی اور ہواکی ضرورت ہے تو اللهنے اسکے لئے حرارت ،نور،پانی اور ہوا کی مقدار معين فرمائی ليکن تکوین کی زبان ميں اس حاجت و ضرورت کو طلب اور سوال کہا جاتا ہے۔
خداوند عالم فرماتا ہے:
(یَسالُهُ مَن فِی السَّ مٰواتِ وَالاَرضِْ کُلَّ یَومٍْ هُوَ فِی شَان ) ( ١)
“آسمان و زمين ميں جو کچه بهی ہے سب اسی سے سوال کر تے ہيں اور وہ ہر روز ایک نئی شان والا ہے ”
بيشک جب شير خوار بچہ کو سخت پياس لگتی ہے اور وہ بذات خود کسی چيز کے ذریعہ اسکا اظہار کرنے کی صلاحيت نہيں رکهتا تو خداوندعالم نے اسکورونے اور چيخنے کی تعليم دی اور اسکے ماں باپ کے دل کو اس کے لئے مہربان کردیا تاکہ وہ اس کی دیکه بهال کریں اور اس کو سيراب کریں ۔
____________________
١)سورئہ رحمن آیت/ ٢٩ ۔ )
شير خوار بچہ کی بهوک و پياس الله کی رحمت اور اسکی مہربانی کو بغير کسی طلب و دعاکے نازل کرتی ہيں۔مریض جب اپنے دردوالم کا احساس کرتا ہے تو اسکے ذریعہ بهی الله کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
جب ہم الله کی معصيت و نافرمانی کرتے ہيں اور گناہوں کے مرتکب ہوتے ہيں تو ہم الله سے اپنے گناہوں اور نافرمانيوں کی بخشش و مغفرت اپنے سوال اور دعا کے ذریعہ چاہتے ہيں اور کبهی کبهی بغير سوال اور دعا کے بهی مغفرت حاصل ہو جاتی ہے،جب بندہ اپنے مو لا کی سر کشی نہ کرے ، قسی القلب نہ ہو اور رحمت خدا سے دور نہ کيا گيا ہوخداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :
( قُل یَاعِبَادِيَ الَّذِینَْ اسرَْفُواْعَ لٰی اَنفُْسِهِم لَاتَقنَْطُواْمِن رَّحمَْةِاللهِّٰ اِنَّ اللهَّٰ ( یَغفِْرُالذُّنُوبَْ جَمِيعْاًاِنَّهُ هُوَالغَْفُورُْالرَّحِيمُْ ) ( ١)
“پيغمبر آپ پيغام پہنچا دیجئے کہ اے ميرے بندوجنهوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے ما یو س نہ ہونا الله تمام گنا ہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقيناً بہت زیادہ بخشنے والا اور مہر بان ہے ”
کتنے ایسے بهوکے فقير ہيں جن کو خداوند عالم بغير سوال اور دعا کے رزق عطا کرتا ہے۔
کتنے ایسے مجبور و ناچار ہيں جو سمندر کی لہروں ميں آجاتے ہيں یا غرق ہونے والے ہوتے ہيں یا تلوارکی دهار کے نيچے آجاتے ہيں یا آگ کے اندر گهرجاتے ہيں اور بغير سوال ودعا کے خدا ان کوبچاليتا ہے اور ان پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔ کتنے ایسے پياسے ہيں جواپنی جان دینے کے قریب ہو تے ہيں ليکن الله کی رحمت بغير کسی سوال و طلب کے ان کو موت سے نجات دیتی ہے ۔
____________________
۔ ١)سورئہ زمرآیت ۵٣ )
کتنے ایسے انسان ہيں جن کو خطروں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ خطروں سے دو کمان کے فا صلہ پر تهے جبکہ ان کو کبهی معلوم تها اور کبهی نہيں معلوم تها اس وقت خداوند عالم کی پردہ پو شی نے آکر ان کو نجات دی ۔
کتنے ایسے انسان ہيں جن پرزندگی کے راستے بند ہو جاتے ہيں ليکن خداوند عالم ان کے لئے ہزار راستے کهول دیتا ہے اور یہ سب کچه بغير کسی سوال و دعا اور طلب کے ہوتا ہے۔
کتنے ایسے شير خوار بچے ہيں جن کے شامل حال خداوند عالم کی رحمت (ہوتی ہے جبکہ وہ الله سے نہ کوئی سوال کرتے ہيں اور نہ دعا کرتے ہيں ۔(١ دعاء افتتاح ميں وارد ہواہے:
فکم یاالٰهي من کربة قدفرّجتها،وهموم قدکشفتها،وعثرة قداقلتها، ورحمةقدنشرتهاوحلقةبلاء قدفککتها
“اے ميرے خداتو نے کتنے ہی غمو ں کو دور کيا ہے کتنے ہی مصيبتوں کو ختم کيا ہے اور کتنی ہی لغزشوں کو معاف کر دیا ہے اور رحمت کو پهيلا دیا ہے اور بلاؤں کی زنجيروں کو کهول دیا ہے ” ایام رجب کی دعاوں ميں وارد ہواہے:
____________________
١)اس کا مطلب یہ نہيں کہ لوگ زلزلہ ميں عما رتوں کے نيچے نہيں مرتے یا آگ لگنے کی ) صورت ميں نہيں جلتے ، سمندروں کی گہرا ئيوں ميں نہيں مرتے ،کو ئی انسان بيما ری اور درد سے نہيں مرتا ،کو ئی شير خوار بچہ نہيں مرتا چنانچہ خدا وند عالم نے اپنی رحمت و حکمت کی وجہ سے اس کا ئنات کو بہراکر دیا ہے تو جب حکمت الٰہی انسان یاحيوان یا نباتات ميں کسی اہم چيز کے وقوع کا تقاضا کر تی ہے تو اس کا مطلب یہ نہيں ہوتا کہ ہم خداوند عالم کے فضل اور صفات حسنیٰ کے دو سرے رخ یعنی رحمت کا انکار کر دیں ۔کچه لوگ ایسے ہو تے ہيں جو بلا اور پریشانی ميں حکمت اور روش خدا کے تا بع ہو تے ہيں وہ آسانی اور مشکل نيز زند گی کے سخت لمحات ميں رحمت الٰہی کا احساس نہيں کرتے، کچه لوگ ایسے ہو تے ہيں جو اپنی زند گی کے سخت اضطراری لمحات ميں خدا وند عالم کی رحمت واسعہ سے آشنا نہيں ہو تے ہيں۔
یامن یعطي مَن ساله،یامَن یعطي مَن لم یساله ومَن لم یعرفه تحننا منه ورحمة
“اے وہ خدا جو اسے عطا کرتا ہے جو اس سے سوال کرتا ہے اے وہ جو اسے عطا کرتا ہے جو اس سے سوال نہ کرے اور جو اس کو نہ پہچانے اپنی رحمت و لطف سے مجه کو عطا کر ”
اور مناجات رجبيہ ميں آیا ہے:
ولکن عفوک قبل عملنا
“اور ليکن تيرا عفو ہمارے عمل سے پہلے سے ہے ” بيشک الله کی بخشش کو ہمارے گناہوں کی ضرورت ہے۔
حاجت اور فقر کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
ہم اس سلسلہ ميں ایک مشہور و معروف رومی عارف کے اشعار ميں سے ایک شعر کا ترجمہ ذکر کرتے ہيں:
رومی عارف کا کہنا ہے:پانی نہ مانگو اور اتنی پياس مانگو کہ تمہارے چاروں طرف پانی کے چشمے پهوٹ جائيں۔
الله کی رحمت اور الله کے بندوں کی حاجت و ضرورت کے مابين رابطہ کی طرف حضرت علی عليہ السلام کی مناجات ميں اشارہ کيا گيا ہے:
موليی یامولاي،انت المولیٰ واناالعبد،وهل یرحم العبدَ اِلّاالْمَوْلیٰ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ المَْالِکُ وَاَنَاالمَْملُْوکُْ وَهَل یَرحَْمُ المَْملُْوکَْ اِلَّا المَْالِکُ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ العَْزِیزُْ وَاَنَا الذَّلِيلُْ وَهَل یَرحَْمُ الذَّلِيلَْ اِلَّاالعَْزِیزُْ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ الخَْالِقُ وَاَنَاالمَْخلُْوقُْ وَهَل یَرحَْمُ المَْخلُْوقُْ اِلّا الخَْالِقُ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايُ اَنتَْ القَْوِیُّ وَاَنَاالضَّعِيفُْ وَهَل یَرحَْمُ الضَّعِيفَْ اِلَّاالقَْوِيُ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ الغَْنِيُّ وَاَنَاالفَقِيرُْوَهَل یَرحَْمُ الفَْقِيرَْاِلَّاالغَْنِي ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ المُْعطِْي وَاَنَاالسَّا ئِلُ وَهَل یَرحَْمُ السَّائِلَ اِلَّاالمُْعطِْي؟ْ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ الحَْيُّ وَاَنَاالمَْيِّتُ وَهَل یَرحَْمُ المَْيِّتَ اِلَّاالحَْيُّ؟
“اے ميرے مو لا اے ميرے مو لا تو مولا ہے اور ميں بندہ ہوں اور بندے پر مو لا کے علاوہ اور کون رحم کرے گا ؟
اے ميرے مو لا اے ميرے مولا تو مالک ہے اور ميں مملوک ہوں اور مملوک پر مالک کے سوا کون رحم کرے گا ؟
مو لا اے ميرے مولا تو عزت و اقتدار والا ہے اور ميں ذلت و رسوائی والا اور ذليل پر عزت والے کے علاوہ اور کون رحم کرے گا ؟
اے ميرے مو لا اے ميرے مو لا تو خالق ہے اور ميں مخلوق ہوں اور مخلوق پر خالق کے سوا کون رحم کرے گا ؟
اے ميرے مو لا اے ميرے مو لا تو عظيم ہے اور ميں حقير ہوں اور حقير پر سوائے عظيم کے کون رحم کرے گا ؟
مو لا اے ميرے مو لا تو طاقتور ہے اور ميں کمزور ہوں اور کمزور پر طاقتور کے علا وہ اور کون رحم کرے گا ؟
مو لا اے ميرے مو لا تو مالدار ہے اور ميں محتاج ہوں اور محتاج پر ما لدار کے علاوہ اور کون رحم کرے گا ؟
مو لا اے ميرے مو لا تو عطا کرنے والا ہے اور ميں سائل ہوں اور سائل پر سوائے عطا کرنے والے کے اور کون رحم کرے گا ؟ ميرے مو لا اے ميرے مولا تو زندہ ہے اور ميں مردہ ہوں اور مردہ پر سوائے زندہ کے اور کون رحم کرے گا ؟
ضرورت سے پہلے دعا کرنا
جس حاجت و فقر کی طرف انسان متوجہ ہو تا ہے اور اس کو الله کی بارگاہ ميں پيش کرتا ہے ، اس سے دعا کرتا ہے اور اس سے طلب کرتا ہے (وہ فقر کی طرف متوجہ ہو نے کے بعد دعا کرنا ہے )۔
ضرورت سے با خبرہونے اور طلب سے متصل ضرورت کے ذریعہ الله کی رحمت زیادہ نازل ہو تی ہے اس حاجت و ضرورت کی نسبت جو دعا سے متصل نہيں ہو تی ہے ۔
دونوں کے ذریعہ الله کی رحمت نا زل ہو تی ہے ليکن حاجت جب طلب اور دعا سے متصل ہوتی ہے تو الله کی رحمت کو زیادہ جذب کرتی ہے اور الله کی رحمت غير کی نسبت اس کو زیادہ جواب دیتی ہے۔ اور اسی حاجت کی طرف سورہ نمل کی اس آیت کریمہ ميں اشارہ کيا گيا ہے :
(( امّنُ یُجِيبُْ المُْضطَْرَّاِذَادَعَاهُ وَیَکشِْفُ السُّوءَْ ) (١ “بهلا وہ کون ہے جو مضطر کی آواز کو سنتا ہے جب وہ آواز دیتا ہے اور اس کی مصيبت کو دور کر دیتا ہے ”
آیہ کریمہ ميں دوباتوںپر زیادہ توجہ دی گئی ہے اضطرار اوردعا (المُْضطَْرَّاِذَادَعَاهُ ) ( ٢)
اور ان دو نوںيعنی اضطرار اور دعاميں سے ہرایک رحمت کو جذب کرتا ہے جب اضطرار اور
____________________
١)سورئہ نمل آیت/ ۶٢ ۔ )
٢)سورئہ نمل آیت/ ۶٢ ۔ )
دعا دو نوں جمع ہو جا ئيں تو رحمت کا نازل ہو نا ضروری ہے ۔ اسلام ميں الله تبارک و تعالیٰ سے دعا اور سوال کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گيا ہے اور ا س کی رحمت کو حاصل کر نے کےلئے اس کی بار گا ہ ميں اپنی حاجتوں کو پيش کر نے اور اس کے سا منے اپنی حاجت کی تشریح کر نے پربهی زور دیاگيا ہے ۔
اسلامی نصوص ميں حاجت برآوری کو دعا سے مربوط قراردیا گياہے: (( وَقَالَ رَبّکم اُدعُْونِْي اَستَْجِب لَکُم ) ( ١)
“اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کروميں قبول کرونگا” اور قرآن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ الله کے نزدیک اس کے بندے کی قدر و قيمت اس بندے کی دعا کے ذریعہ ہی ہے :
(( قُل مَایَعبَْوابِکُم رَبِّي لَولْادُعَاوکُم ) ( ٢)
“پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہا ری دعا ئيں نہ ہو تيں تو پرور دگار تمہاری پروا بهی نہ کرتا ”
قرآن کریم نے تو اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر کو ئی دعا سے منحرف ہو تا ہے تو وہ الله کی عبا دت کر نے سے اکڑنے والا قرار دیاجاتا ہے :( اُدعْوني اَستَْجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِي سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ )
“مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقينا جو لوگ ميری عبا دت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں دا خل ہو ں گے ”
____________________
١)سورئہ مومن آیت/ ۶٠ ۔ )
٢)سورئہ فرقان آیت/ ٧٧ ۔ )
٣)سورئہ مومن آیت/ ۶٠ ۔ )
دعا اور استجابت کے درميان رابطہ کے سلسلہ ميں تين قوا نين اب ہما را سوال یہ ہے کہ جب حا جت و ضر ورت دعا کے ساته ہو تی ہے تو رحمت کے نزو ل ميںتيزی کيسے آ جا تی ہے اور دعا و ا ستجا بت کے در ميان رابطہ کی شدت اور اس پر زیادہ زور دینے کی کيا وجہ ہے ؟ در حقيقت ہم نے اس فصل کا آغاز اسی سوال کا جواب دینے اور دعا وا ستجا بت کے درميان رابطہ کی تحليل کر نے کےلئے کيا ہے ۔
اس سوال کا جواب یہ ہے : دعا کے ذریعہ الله کی رحمت نا زل ہو نے کے تين قوانين ہيں:
١۔الله کی رحمت اور فقر و حاجت کے درميان رابطہ ؛ ہم اس قانون کو پہلے وضاحت کے ساته بيان کرچکے ہيں لہٰذا اب اس کو دوبارہ نہيں دُہرائيں گے اور دعا کی ہر حالت، حاجت اور فقر ميں الله کی رحمت کی متضمن ہوتی ہے اور یہ الله کی رحمتوں کی منزلوں ميں سے پہلی منزل ہے ۔
٢۔فقر اور حاجت ميں الله کی رحمت سے آگاہ ہوجانے کے بعد رابطہ۔ آگاہ ہوجانے کے بعد ضرورت اور آگاہ ہو نے سے پہلے ضرورت کے مابين فرق ہے ۔
ان ميں سے ہر ایک حا جت و ضرو رت ہے اور ہر ایک سے الله کی رحمت مجذوب ہو تی ہے اور نازل ہوتی ہے ليکن ان ميں سے ایک با خبر ہو نے سے پہلے اور ایک فقر و حا جت سے با خبر ہو جا نے کے بعد ہے ۔
جس حاجت وضرورت سے انسان با خبر نہيں ہو تا اس ميں وہ الله کا محتاج ہو تا ہے اور وہ اپنی حا جتوںکو الله کی بارگاہ ميں پيش نہيں کرتا بلکہ کبهی کبهی تو وہ الله کو پہچا نتا بهی نہيں۔
ليکن فقر وضرور ت سے آگا ہ انسا ن اپنی ضرور توں اور حا جتوں کو ا لله با ر گا ہ ميں پيش کر تا ہے اور یہ با خبر ہو نا ہی اس کے الله سے محتاجی کو تا ریکی سے نکا ل کر با خبر ہو نے تک پہنچادیتا ہے حا لا نکہ حا جت و ضرورت سے ناسمجه و بے خبرانسان تا ریکی ميںگهر جا تا ہے اور وہ اس کو سمجه بهی نہيں پا تا ۔
ليکن وہ فقير و محتاج جو اپنی حاجتو ں کو الله کی بار گاہ ميں پيش کر تا ہے وہ الله کی رحمت اور اس کا فضل چا ہتا ہے حا لا نکہ اپنی ضرو رتو ں سے نا آگاہ فقير اپنی حا جتو ں کو الله کی با ر گاہ ميں پيش نہيںکر تاہے
گو یا حا جتو ں سے با خبر انسا ن حا جت وضرور ت کی حا لت سے صحيح معنوں ميں دو چار ہو تا ہے اور ضرورت جتنی زیا دہ ہو گی اتنا ہی الله کی رحمت کو قبو ل کر نے کےلئے نفس وسيع ہو گا اور ہم پہلے یہ بيان کر چکے ہيں کہ الله کی رحمت کے خزانو ںميں نہ بخل ہے اور نہ مجبوری ۔ہا ں الله کی رحمت کو قبو ل کر نے کےلئے لو گو ں کے ظروف مختلف ہو تے ہيں ۔جس انسان کا ظرف بہت زیا دہ بڑا ہو گا الله کی رحمت ميں اس کا حصہ اتنا ہی زیا دہ ہو گا اور ظر ف سے مراد یہا ں پر ضرورت ہے یعنی جس ضرور ت کی کو ئی اہميت ہو اور انسان اپنی ضرورت کو الله کی با ر گاہ ميں پيش کر ے۔
ایک خطا کا ر مجرم کےلئے جب سو لی کا حکم صادر کيا جاتا ہے تو وہ اس سے با خبر ہو تا ہے ۔وہ عوام الناس اور حکا م کے دلو ں کواپنی طرف اس جرم سے زیا دہ معطوف کرتا ہے جو اپنے لئے سو لی کا حکم نا فذکر انا چا ہتا ہے اور اس کو یہ بهی نہيں معلو م کہ اسے کہا ں جا ناہے ۔سولی کا حکم صا در ہو نے کے متعلق دونوں برابر کا علم رکهتے ہيں۔ہاں وہ مجرم جواپنے جرم کا معتر ف اور اپنی سزاسے واقف ہے وہ دو سروں کے مقابلہ ميں لوگوں سے زیادہ رحمت کا خو استگار ہوتا ہے کيونکہ ایسا شخص جرم اور سزا کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتا ہے جبکہ دو سرے افراد جرم اور سزا کی طرف اتنا متوجہ نہيں ہو تے ۔
بارگاہ خداميں احساس نيازمندی کی علامتيں
باخبر ضرورت کو دعاؤں کے ذریعہ الله کی بارگاہ ميںپيش کرنے کی چند نشانياں اور علامتيں ہيں۔جتنا زیادہ انسان اپنی ضرورتوں کو الله کی بارگاہ ميں پيش کرتا ہے اتنا ہی یہ نشانياں اسکی دعاؤں ميں واضح ہوتی ہيں۔ ان نشانيوں ميں سے اہم نشانياں :دعاميں خشوع،خضوع،رونا گڑگڑانا ،الله کی بارگاہ ميں حاضر ہونا اور اپنی مجبوری کا اظہار کرنا ہيں۔
اسلامی نصوص ميں دعاؤں ميں ان تمام حالتوں اور نشانيوں پر زور دیا گيا ہے،اور دعا ء کی قبوليت ميں ان باتوں پر زور دیا گيا ہے۔
حقيقت ميں یہ علامتيں دعا ميں دوسرے اور تيسرے سبب پر توجہ دینے کو کشف کرتی ہيں۔وہ دونوں سبب ضرورتوں کی اطلاع ہونااور سوال کرنا ہے اور جتنا ہی انسان دعاميں خضوع وخشوع کرے گا اتنی ہی اسکی طلب وچاہت ميں شدّت ہوگی اور انسان اپنی حاجتوں کو الله کی بارگاہ ميں پيش کرے گا۔
ان حالتوںميں دعا قبول ہونے کے یہی دواسباب ہيں ان حالات اور ان کی طرف رغبت کو قرآن کریم ميں بيان کيا گيا ہے جن ميں سے کچه اسباب کو ہم ذیل ميں بيان کر رہے ہيں:
(خداوند عالم کا ارشاد ہے: ١:( تَدعُْونَْهُ تَضَرُّعاً وَخُفيَْةً ) ( ١)
“جسے تم گڑگڑاکر اور خفيہ طریقہ سے آواز دیتے ہو ”
(٢:( وَادعُْوهُْ خَوفْاًوَطَمَعاًاِنَّ رَحمَْةَ اللهِ قَرِیبٌْمِنَ المُْحسِْنِينَْ ) ( ٢)
“اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اور اميد وار بن کر دعا کرو کہ اس کی رحمت صا حبان حسن عمل سے قریب تر ہے ”
تضّر ع اورخوف یہ دو نوں حا لتيں انسان کو الله کی بار گا ہ ميں اپنی ضرور توں کو پيش کر نے کے بارے ميں زور دیتی ہيں ۔
اور طمع وہ حا لت ہے جو انسان کو اس چيز کی ر غبت دلاتی ہے کہ جو کچه الله کے پاس ہے بندہ اس کو حاصل کرے ۔
خفيہ(رازدارانہ )طور پر دعا کرنا انسان کو الله کی بارگاہ ميں حا ضری دینے پر آمادہ کرتا ہے
٣۔( وَذَاالنُّونِْ اِذذَْهَبَ مُغَاضِباًفَظَنَّ اَن لَّن نَقدِْرَعَلَيهِْ فَنَاد یٰفٰ ی الظُّلُمَاتِ اَن لاَاِ هٰلَ اِلاَّاَنتَْ سُبحَْانَکَ اِنِّی کُنتُْ مِنَ الظَّالِمِييْنَ فَاستَْجَبنَْالَهُ وَنَجَّينَْاهُ مِنَ الغَْمِّ وَکَذَلِکَ نُنجِْی المُْومِْنِينَْ ) (٣)
____________________
١)سو رہ انعام آیت ۶٣ ۔ )
٢)سورئہ اعراف آیت/ ۵۶ ۔ )
٣)سور ہ انبياء آیت ٨٧ ۔ ٨٨ ۔ )
“اور یونس کو یاد کرو جب وہ غصہ ميں آکر چلے اور یہ خيال کيا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پهر تا ریکيوں ميں جا کر آواز دی کہ پرور دگار تيرے علا وہ کو ئی خدا نہيں ہے تو پاک و بے نياز ہے اور ميں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں ميں سے تها ۔تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرليا اور انهيں غم سے نجات دلا دی کہ ہم اسی طرح صاحبان ایمان کو نجات دلا تے رہتے ہيں ”
اس آیت ميں بندہ کی طرف سے خداوند عالم کی بارگاہ ميں ظلم کا اعتراف اور اقرار ہے :
(( سُبحَْانَکَ اِنِّي کُنتُْ مِنَ الظَّالِمِييْنَ ) ۔( ١)
“پرور دگار تيرے علا وہ کو ئی خدا نہيں ہے تو پاک و بے نياز ہے اور ميں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں ميں سے تها”
ظلم کا اقرار کر نا ظلم سے با خبر ہو نا ہے اور اس سے گناہگارانسان اپنے نفس ميں استغفار کا بہت زیادہ احساس کر تا ہے اور جتنا ہی انسان اپنے ظلم اور گناہ سے با خبر ہو گا اتنا ہی وہ الله سے استغفار کر نے کے لئے زیادہ مضطر و بے چين ہو گا ۔
( ۴:( وَیَدعُْونَْنَارَغَباًوَرَهبْاًوَکَانُواْلَناَخَاشِعِينَْ ) ( ٢)
“اور رغبت اور خوف کے عالم ميں ہم کو پکارنے والے تهے ” رغبت ، خوف اور خشو ع وہ نفسانی حالات ہيں جو اپنی حا جتوں سے با خبر انسان کو اپنی حا جتوں کو الله کی بار گاہ ميں پيش کر نے پر زور دیتی ہيں ۔ انسان الله کے عذاب سے خوف کهاتاہے اور الله کے رزق اور ثواب سے اس کو رغبت ہو تی ہے ۔
(۵:( اَمَن یُّجِيبُْ المُْضطَْرَّاِذَادَعَاهُ وَ یَکشِْفُ السُّوءَْ ) (٣)
____________________
١)سورئہ انبياء آیت ٨٧ ۔ )
٢)سورہ انبياء آیت ٩٠ ۔ )
٣)سورئہ نمل آیت ۶٢ ۔ )
اضطرار وہ نفسا نی حالت ہے جو انسان کے اپنی حا جتيں الله کی بارگاہ ميں پيش کرنے پر زور دیتی ہے اور انسان کا اپنی ضرورتوں سے با خبر ہو نا الله کے علاوہ دوسرے تمام وسيلوں سے دور کرتا ہے (یعنی صرف الله ہی نجات دے سکتا ہے )۔ ( ۶ ۔:( یَدعُْونَْ رَبَّهُم خَوفْاًوَطَمَعاً ) ( ١)
“اور وہ اپنے پروردگار کو خوف اور طمع کی بنياد پر پکارتے رہتے ہيں ” اپنی حا جتوں سے با خبر انسان جتنا زیادہ الله کی بارگاہ ميں اپنی مجبوری و لا چا ری کا اظہار کرے گا خدا وند عالم اسی سوال اور حاجت کے مطابق اس کو عطا کر ے گا خداوند عالم کا ارشاد ہے :
(( وَادعُْوهُْ خَوفْاًوَطَمَعاًاِنّ رَحمَْة اللهّٰ قَرِیبٌْ مِنَ المُْحسِْنِينَْ ) (٢ “اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اور اميد وار بن کر دعا کرو کہ اس کی رحمت صا حبان حسن عمل سے قریب تر ہے ”
الله کی رحمت بندے سے اتنی ہی قریب ہو گی جتنا وہ اپنے نفس ميں الله کے عذاب سے خوف کها ئے گا اور الله کے احسان کی طمع کرے گا ۔ انسان کے نفس ميں جتنا زیادہ خوف ہو گا اتنی ہی اس کے نفس ميں تڑپ پيدا ہو گی، الله کی بار گاہ ميں اس کی دعا استجابت سے زیادہ قریب ہو گی اور الله کے رزق و ثواب کے لئے جتنی طمع انسان کے اندر ہوگی تو اتنی ہی زیادہ الله کی بارگاہ ميں اس کی دعا قبول ہو نے کے نزدیک ہو گی ۔ ٣۔دعا اور استجابت دعا کے درميان رابطہ اور یہ بالکل واضح وروشن قانون ہے جس کو انسان
____________________
١)سورئہ سجدہ آیت / ١۶ ۔ )
٢)سورئہ اعراف آیت ۵۵ ۔ )
بذات خود فطری طورپر سمجه سکتا ہے اور آیہ کریمہ اسی چيز کو بيان کرتی ہے: (( اُدْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) ( ١)
بيشک ہر دعا قبول ہوتی ہے اور خداوند عالم اس فرمان کا یہی مطلب ہے :( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) اور یہ فطری و واضح قانون ہے جس کو انسان کی فطرت تسليم کرتی ہے اور یہ عام قانون ہے ليکن اگر کوئی دعا قبول ہونے کے درميان رکاوٹ پيدا ہوجائے تو دوسری بات ہے۔
دوطرح کی چيزیں دعا قبول ہونے ميں رکاوٹ ڈالتی ہيں: ١۔مسئول عنہ جس سے سوال کيا جائے اس کی طرف سے کچه رکاوڻيں پيدا ہوجاتی ہيں۔
٢۔سائل(سوال کرنے والے)کی طرف سے کچه رکاوڻيں پيدا ہوجاتی ہيں۔ مسئول (جس سے سوال کيا جائے )کی طرف سے آڑے آنے والی رکاوڻيں جيسے دعا قبول کرنے سے عاجز ہوجائے ،دعا قبول کرنے ميں بخل کرنے لگے ۔
کبهی بذات خودسائل کی طرف سے رکاوڻيں پيدا ہوجاتی ہيں جيسے دعا قبول کرنا بندہ کے مفادميں نہ ہو اور بندہ اس سے جاہل ہو اور اللهاسکو جانتا ہے۔ پہلی قسم کی رکاوڻيں الله کی سلطنت کے شایان شان نہيں ہيں چونکہ خداوند عالم بادشاہ مطلق ہے وہ کسی چيز سے عاجز نہيں ہے اور نہ ہی کوئی چيز اس سے فوت ہوتی ہے،نہ ہی کوئی چيز اسکی سلطنت و قدرت سے باہر ہوسکتی ہے،نہ ہی اسکے جودوکرم کی کوئی انتہا ہے ،نہ اسکے خزانہ ميں کوئی کمی آتی ہے اور کثرت عطا اس کے جودوکرم سے ہی ہوتی ہے۔ پس معلوم ہواکہ دعا کے قبول ہونے ميں پہلی قسم کی رکاوڻوں کے تصور کرنے کا امکان ہی نہيں ہے ۔
____________________
١)سورئہ مومن آیت / ۶٠ ۔ )
ليکن سائل کی طرف سے دعا قبول نہ ہونے دینے والی رکاوڻوں کا امکان پایا جاتا ہے اورسب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خداوند عالم بہت سے بند وں کی دعا کو قبول کرنے ميں تاخير کرتا ہے ليکن وہ ایسا اپنے عاجز ہوجانے یا نجيل ہوجانے کی وجہ سے نہيں کرتا بلکہ وہ اپنے علم کی بناء پر یہ جانتا ہے کہ اس بندے کے لئے دعا کا دیر سے قبول کرنا بہتر ہے اور سب اس بات پر بهی متفق ہيں کہ اس صورت ميں دعاکا قبول ہونا بندے کےلئے مضر ہے اور خدا بندے کی دعا قبول نہيں کرتا ليکن اس دعا کے بدلہ ميں اسکو دنيا ميںبہت زیادہ خير عطا کردیتا ہے اور اسکے گناہوں کو بخش دیتاہے یا اسکے درجات بلند کردیتا ہے۔یا اسکو یہ سب چيزیںعطا کردیتا ہے۔ پہلے ہم پہلی قسم کے موانع سے متعلق بحث کریں گے،اسکے بعد
دوسری قسم کے موانع کے سلسلہ ميں بحث کریں اسکے بعد دعا اور اجابت کے درميا ن رابطہ کے سلسلہ پر روشنی ڈاليں گے۔
پہلی قسم کے موانع دعا
پہلی قسم کے موانع (رکاوڻوں)کا کوئی وجود ہی نہيں ہے جيسا کہ ہم الله کی سلطنت کے متعلق عرض کرچکے ہيں کہ خدا کی سلطنت مطلق ہے وہ کسی چيز سے عاجز نہيں ہوتا،کوئی چيز اس سے چهوٹ نہيں سکتی،اسکی سلطنت اور قدرت کی کوئی حد نہيں ہے،کائنات ميں ہر چيز اسکی سلطنت اور قدرت کےلئے خاضع ہے اور جب وہ کہہ دیتا ہے تو کوئی چيز اسکے ارادے اور امر سے سرپيچی نہيں کرسکتی ہے:
(( وَاِذَاقَض یٰ اَمرْاً فَاِنَّمَایَقُولُْ لَهُ کُن فَيَکُونُْ ) (١ “اور جب کسی امر کا فيصلہ کر ليتا ہے تو صرف کن کہتا ہے اور وہ چيز ہو جا
تی ہے ”
(( اِنَّمَاقَولُْنَالِشَيءٍْ اِذَااَرَدنَْاهُ اَن نَقُولَْ لَهُ کُن فَيَکُونُْ ) (٢)
____________________
١)سورئہ بقرہ آیت ١١٧ ۔ )
٢)سورئہ نحل آیت ۴٠ ۔ )
“ہم جس چيز کا ارادہ کرليتے ہيں اس سے فقط اتنا کہتے ہيں کہ ہو جا اور وہ ہو جا تی ہے ”
(( اِنَّمَااَمرُْهُ اِذَااَرَادَ شَيئْاًاَن یَقُولَْ لَهُ کُن فَيَکُونُْ ) ( ١)
“اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شئی کے بارے ميں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ہو جا اور وہ شئی ہو جا تی ہے ”
کائنات ميں کوئی بهی چيز اسکی سلطنت اور قدرت سے باہر نہيں ہوسکتی ہے:
(( وَالاَْرضُْ جَمِيعْاًقَبَضتُْهُ یَومَْ القِْيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطوِْیَّاتٌ بِيَمِينِْهِ ) ( ٢)
“جبکہ روز قيا مت تمام زمين اس کی مڻهی ميں ہو گی اور سارے آسمان اسی کے ہاته ميں لپڻے ہو ئے ہو ں گے ”
(( اِنَّ اللهَعَل یٰ کُلِّ شَي ءٍ قَدِیرٌْ ) (٣) “ اور یقيناً الله ہر شی پر قدرت رکهنے والا ہے ”
خداوند عالم کا امر (حکم)کسی چيز پر موقوف نہيں ہے،نہ ہی کسی چيز پر متعلق ہے۔
(( وَمَااَمرُْالسَّاعَةِ اِلَّاکَلَمحِْ البَْصَرِاَوهُْوَاَقرَْبُ اِنَّ اللهَعَل یٰ کُلِّ شَيءٍْ قَدِیرٌْ ) ( ۴)
“اور قيا مت کا حکم تو صرف ایک پلک جهپکنے کے برابر یا اس سے بهی قریب تر ہے اور یقيناً الله ہر شی پر قدرت رکهنے والا ہے ” یہ آیت خداوند عالم کی سلطنت و قدرت کے وسيع ہونے اور اسکے حکم اور امر کے نافذ ہونے کو بيان کرتی ہے۔
____________________
١)سورئہ یس آیت/ ٨٢ ۔ )
٢)سورئہ زمر آیت/ ۶٧ ۔ )
٣)سورئہ آل عمران آیت/ ١۶۵ ۔ )
۴)سورئہ نحل آیت ٧٧ ۔ )
بخل اسکی ساحت کبریائی کے شایان شان نہيں ہے خداوند عالم ایسا جواد و سخی ہے جسکی سخاوت اور کرم کی کوئی حد نہيں ہے۔
(( رَبَّنَاوَسِعَت کُلَّ شي ءٍ رَحمَْةً وَعِلمْاً ) ( ١)
“خدا یا تيری رحمت اور تيرا علم ہر شی پر محيط ہے ”
(( فَاِن کَذَّبُوکَْ فَقُل رَّبُّکُم ذُورَْحمَْةٍوَاسِعَةٍ ) ( ٢)
“پهر اگر یہ لوگ آپ کو جهڻلا ئيں تو کہہ دیجئے کہ تمہارا پرور دگار بڑی وسيع رحمت والا ہے ”
خداوند عالم کی عطا وبخشش دائمی ہے منقطع ہونے والی نہيں ہے ۔
(( کَلاَّ نُمِدُّ هٰو لاَءِ وَ هٰولَاءِ مِن عَطَاءِ رَبِّکَ وَمَاکَانَ عَطَاءُ رَبِّکَ مَحظُْورْاً ) ( ٣)
“ہم آپ کے پروردگار کی عطا و بخشش سے اِن کی اور اُن کی سب کی مدد کرتے ہيں اور آپ کے پرور دگا ر کی عطا کسی پر بند نہيں ہے ”
(( وَاَمَّاالَّذِینَْ سُعِدُواْفَفِی الجَْنَّةِ عَطَاءً غَيرَْمَجذُْوذٍْ ) ( ۴)
“اور جو لوگ نيک بخت ہيں وہ جنت ميں ہو ں گے ۔۔۔یہ خدا کی ایک عطا ہے جو ختم ہو نے والی نہيں ہے ”
جب خداوند عالم رحمت نازل کرنے کا ارادہ کرليتا ہے تو اس ميں کوئی رکاوٹ نہيں آسکتی ہے:
( مَایَفتَْحِ اللهُلِلنَّاسِ مِن رَّحمَْةٍ فَلَامُْمسِْکَ لَهَاوَمَایُمسِْک فَلاَمُرسِْلَ لَهُ مِن بَعدِْهِ ) (۵)
____________________
۔ ١)سورئہ غافر آیت ٧۔ )
٢)سورئہ انعام آیت ١۴٧ ۔ )
٣)سورئہ اسراء آیت ٢٠ ۔ )
۴)سورئہ ہود آیت ١٠٨ ۔ )
۵)سورئہ فاطرآیت/ ٢۔ )
“الله انسانوں کے لئے جو رحمت کا دروازہ کهول دے اس کا کو ئی روکنے والا نہيں ہے اور جس کو روک دے اس کا کو ئی بهيجنے والا نہيں ہے ” الله کی رحمت کے خزانے کبهی ختم نہيں ہوتے:
(( وَلله ِخَزَائِنُ السَّ مٰاوَاتِ وَالاَْرضِْ ) ( ١)
“حالانکہ آسمان و زمين کے تمام خزا نے الله ہی کے لئے ہيں ” (( وَاِن مِن شَی ءٍ اِلاَّعِندَْنَاخَزَائِنُهُ وَمَانُنَزِّلُهُ اِلاَّبِقَدَرٍمَعلُْومٍْ ) ( ٢)
“اور کو ئی شے ایسی نہيں ہے جس کے ہما رے پاس خزا نے نہ ہوں اور ہم ہر شے کو ایک معين مقدار ميں ميں ہی نا زل کرتے ہيں ”
خداوند عالم جو رزق اپنے بندوں کو عطا کردیتا ہے اس سے الله کی رحمت کے خزانے ختم نہيں ہوتے وہ اپنے جودوکرم سے زیاد ہ عطا نہيں کرتا۔
دعاافتتاح ميں آیا ہے:
اَلحَْمدُْللهِالفَْاشِي فِی الخَْلقِْ اَمرُْهُ وَحَمدُْهُاَلبَْاسِطِ بِالجُْودِْ یَدَهُ الَّذِي لَا تَنقُْصُ خَزَائِنُهُ وَلَاتَزِیدُْهُ کَثرَْةُالعَْطَاءِ اِلَّاجُودْاً وَکَرَماً
“حمد اس خدا کے لئے ہے جس کا امر اور حمد مخلوق ميں نا فذ ہے ۔۔۔اور جس کا ہاته بخشش کے لئے کشا دہ ہے جس کے خزا نے ميں کو ئی کمی نہيں ہو تی اور عطا کی کثرت اس ميں سوائے جود و کرم کے اور کچه زیا دہ نہيں کر تی ” علامہ شریف رضی کی روایت کے مطابق حضرت علی عليہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن سے یہ وصيت فرمائی :
____________________
١)سورئہ منافقون آیت ٧۔ )
٢)سورئہ حجر آیت ٢١ ۔ )
إ علمْ انّ الذي بيده خزائن السماوات والارض قد اذن لک في الدعاء وتکفّل لک بالاجابة،وامرک انْ تساله ليعطيک،وتسترحمه ليرحمک،ولم یجعل بينک وبينه من یحجبک عنه،ولم یلجئک الی مَن یشفع لک اليه،ولم یمنعک ان اسات من التوبة،ولم یعاجلک بالنقمة،ولم یفضحک حيث الفضيحة،ولم یشددعليک فی قبول الانابة،ولم یناقشک بالجریمة،ولم یویسک من الرحمة،بل جعل نزوعک عن الذنب حسنة،وحسب سيئتک واحدة،وحسب حسنتک عشرا،وفتح لک باب المتاب وب الاستعتاب
فاذانادیته سمع نداء ک واذا ناجيته علم نجواک،فافضيت اليه بحاجتک،وابثثته ذات نفسک،وشکوت اليه همومک،واستکشفته کروبک، واستعنته علی امورک،وسالته من خزائن رحمته مالایقدرعلی اعطائهاغيره،من زیادة الاعماروصحة الابدان، وسعة الارزاق
ثم جعل فی یدک مفاتيح خزائنه بمااذن لک فيه من مسالته،فمتی شئت استفتحت بالدعاء ابواب النعمة،واستمطرت شآبيب رحمته،فلا یقنطنّک ابطاء اجابته،فان (العطيه علی قدر النيه( ١)
“جا ن لو !جس کے قبضہ قدرت ميں آسمان و زمين کے خز ا نے ہيں اس نے تمهيں سوال کر نے کی اجا زت دے رکهی ہے ،اور قبول کرنے کی ذمہ دار ی لی ہے اور تم کو مانگنے کا حکم دیا ہے تا کہ وہ دے ،اس سے رحم کی درخوا ست کرو تا کہ وہ تم پر رحم کرے ،اس نے اپنے اور تمہا رے درميان دربان نہيں کهڑے کئے جو تمهيں رو کتے ہوں ،نہ تمهيں اس پر مجبور کيا ہے کہ تم کسی کو اس کے یہاں
____________________
۔ ١)نہج البلاغہ ،قسم الرسائل والکتب ،الکتاب: ٣١ ۔ )
سفارش کے لئے لا ؤ تب ہی کام لو اور تم نے گناہ کئے ہوں ،اس نے تمہارے لئے تو بہ کی گنجا ئش ختم نہيں کی ہے ،نہ سزا دینے ميں جلدی کی ہے اور نہ تو بہ و انابت کے بعد وہ کبهی طعنہ دیتا ہے (کہ تم نے پہلے یہ کيا تها ،وہ کيا تها )نہ اس نے تمهيں ایسے مو قعوں پر رسوا کيا جہاں تمهيں رسوا ہی ہو نا چا ہئے تها اور نہ ہی اس نے تو بہ قبول کرنے ميں (سخت شرطيں لگا کر )تمہارے ساته سخت گيری کی ہے نہ ہی گناہ کے بارے ميں تم سے سختی کے ساته جرح کرتا ہے اور نہ اپنی رحمت سے مایوس کرتا ہے بلکہ اس نے گناہ سے کنا رہ کشی کو بهی ایک نيکی قرار دیا ہے اور برا ئی ایک ہو تو اسے ایک (برائی ) اور نيکی ایک ہو تو اسے دس نيکيوں کے برابر قرار دیا ہے اس نے تو بہ کے دروازہ کهول رکها ہے ۔
جب بهی تم اس کو پکارتے ہو وہ تمہاری سنتا ہے اور جب بهی راز و نياز کرتے ہو ئے اس سے کچه کہو تو وہ جان ليتا ہے ،تم اسی سے مرا دیں مانگتے ہو ،اور اسی کے سامنے دل کے راز و بهيد کهو لتے ہو، اسی سے اپنے دکه درد کا رونا رو تے ہو اور مصيبتوں سے نکا لنے کی التجا کرتے ہو اور اپنے کا موں ميں مدد کے خو استگار ہو اور اس کی رحمت کے خزا نوں سے وہ چيزیں طلب کرتے ہو جن کے دینے پر اور کو ئی قدرت نہيں رکهتا جيسے عمروں ميں درازی ،جسمانی صحت و توانائی اور رزق ميں وسعت ۔
اور اس نے تمہارے ہاته ميں اپنے خزانوںکو کهو لنے والی کنجياں دیدی ہيں اس طرح کے تمهيں اپنی بارگاہ ميں سوال کرنے کا طریقہ بتایا اس طرح جب تم چا ہو اس کی رحمت کے دروازوں کو کهلوالو،اس کی رحمت کے جها لوں کو بر سالو،ہاں بعض اوقات اگر دعا قبول ہو نے ميں دیر ہو جا ئے تو اس سے نا اميد نہ ہو جا واس لئے کہ عطيہ نيت کے مطابق ہو تا ہے ”
اور حدیث قدسی ميں آیا ہے :
یاعبادي کلکم ضال الّامَن هدیته،فاسالوني الهدی اهدکم وکلکم فقيرالامَن اغنيته ،فاسالوني الغنیٰ ارزقکم وکلکم مُذْنِب اِلَّا مَنْ عَافَيْتَهُ،فَاسْالُوْنِيْ الْمَغْفِرَة اغفرلکمولوانّ اولکم وآخرکم وحيّکم وميتکم اجتمعوافيتمنیّٰ کل واحد مابلغت امنيته، فاعطيته لم یتبين ذلک فی ملکي فاذااردت شيئافانّما اقول له کن فيکون ( ١)
“بندو تم سب بهڻکے ہو ئے ہو مگر جس کو ميں را ستہ دکها دوں لہٰذا مجه سے ہدایت طلب کرو تا کہ ميں تمہاری ہدایت کردوں اور تم سب فقير ہو مگر جس کو ميں بے نياز کردوں لہٰذا مجه سے بے نيازی طلب کرو تا کہ ميں تم کو رو زی عطا کروں تم سب گنا ہگار ہو مگر جس کو ميں عا فيت عطا کروں لہٰذا مجه سے بخشش طلب کرو تا کہ ميں تمهيں بخش دوں اگر تمہارا پہلا ،آخری ،زندہ، مردہ سب اکڻهے ہو کر مجه سے اپنی مرادیں ما نگيں اور ميں ان کی مرا دیں پوری کر دوں تو اس سے ميری حکو مت کو کو ئی ضرر نہ پہنچے گا اس لئے کہ جب ميں کسی چيز کا ارادہ کرتا ہوں تو ميں اس سے کہتا ہوں ہو جا، تو وہ ہو جا تی ہے ”
موانع (رکا و ڻوں)کی دوسری قسم
دعا قبول ہو نے ميں رکا وٹ ڈالنے والے دوسری قسم کے موانع بہت زیادہ ہيں ۔
کبهی کبهی دعا کاقبول ہو ناسائل کے لئے مضر ہو تا ہے ليکن سائل کو اس کا علم نہيں ہو تا ہے اورالله اس کے حق ميں اس دعا کے مفيد یا مضر ہو نے سے واقف ہے ۔
کبهی کبهی دعا کا جلدی قبول ہو نا بهی مضرہو تاہے اور خدا وند عالم جا نتا ہے کہ بندہ کےلئے اس دعا کو قبول کر نے ميں تا خير کر نا اس کے حق ميںبہتر اور بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔لہٰذا خدا وند عالم اس کی دعا کو قبول کر نے ميں تا خير کر تا ہے ۔
جيساکہ ہم دعا افتتاح ميں پڑهتے ہيں :
فَصِرتُْ اَدعُْوکَْ مٰاِناًوَاَسالُکَ مُستَْانِساًلاَخَائِفاًوَلَاوَجِلاً مُدِلّاً عَلَيکَْ فِيمَْاقَصَدتُْ فِيهِْ اِلَيکَْ فَاِ ن اَبطَْاَعَنِّي عَتَبتُْ بِجَهلِْي عَلَيکَْ وَلَعَلَّ الَّذِی اَبطَْاعَنِّي هُوَخَيرٌْلِي لِعِلمِْکَ بِعَاقِبَةِ الاُْمُورِْ
____________________
١) تفسير امام ١٩ ۔ ٢٠ ،بحار الا نوار جلد ٩٢ صفحہ ٢٩٣ ۔ )
“تو ميں مطمئن ہو کر تجه کو پکارنے لگااور انس و رغبت کے ساته بلا خوف و خطر اور ہيبت کے تجه سے سوال کرتا ہوں جس کا بهی ميں نے تيری جا نب ارادہ کيا ہے اگر تو نے ميری حا جت کے پورا کرنے ميں دیر کی تو ميں نے جہا لت سے عتاب کيا اور شاید کہ جس کی تا خير کی ہے وہ ميرے لئے بہتر ہو کيونکہ تو امور کے انجام کا جا ننے والا ہے ”
کبهی خدا وند عالم بند ے کی دعا قبول کر نے ميں اس لئے تا خير کر تا ہے تا کہ وہ مسلسل الله کے سامنے گر یہ و زاری کر تا رہے کيونکہ خدا وند عالم اپنے سا منے بندے کے گر یہ و زاری کر نے کو پسندکرتا ہے ، حدیث قدسی ميں آیا ہے :یاموسیٰ اني لست بغافل عن خلقي ولکن احّ ان تسمع ملا ئکتي ضجيج الدعاء من عبادي ( ١)
“اے مو سیٰ ميں اپنی مخلوق سے غا فل نہيں ہوں ليکن ميں یہ دو ست رکهتا ہوں کہ ميرے ملا ئکہ ميرے بندوں کی گڑگڑاکر دعا کر نے کی آواز کو سنتے رہيں ”
امام جعفر صاق عليہ السلام سے مر وی ہے :ان العبد ليدعوفيقول الله عزّوجل للملکين قداستجبت له،ولکن احسبوه بجاجته فاني احبّ ان اسمع صوته وانّ العبد ليدعوفيقول الله تبارک و تعالیٰ:عجّلواله حاجته فاني ابغض صوته ( ٢)
“انسان دعا کرتا ہے تو خدا دو فرشتوں سے کہتا ہے کہ ميں نے اس کی دعا قبول کرلی ليکن ابهی اس کی حاجت پوری مت کرو کيونکہ ميں اس کی آواز سنناہوں تووہ مجهے اچهی لگتی ہے اور کبهی کو ئی
____________________
۔ ١)عد ة الداعی )
٢)وسائل الشيعہ کتاب الصلو ة ابواب الدعا باب ٢١ حدیث ٣۔ )
انسان دعا کرتا ہے تو خدا کہتا ہے کہ اس کی مراد جلدی پو ری کرو کيونکہ مجهے اس کی آواز اچهی نہيں لگتی ہے ”
اگردعاکی قبوليت بندے کے حق ميں مضرہوتی ہے تو خداوندعالم مطلق طور پر اس کی دعا کو لغو نہيں قر ار دیتا بلکہ اس کو بند ے کے گنا ہوں کے کفا ر ہ ميں بدل دیتا ہے ،اس کی بخشش کر تا ہے یا کچه وقفہ کے بعد اس کو دنيا ميں جلد ہی رزق عطا کر تا رہتا ہے یا جنت ميں اس کے در جا ت بلند کر دیتا ہے۔
اورہم مذکورہ دو نو ں حا لتو ں،تبدیل اور تا خير کے متعلق رسو ل خدا (ص)اور امير الو منين عليہ السلام سے مروی تين حد یثيںذیل ميں نقل کر رہے ہيں ۔
دعا کی قبو ليت ميں تاخير یا تبد یلی
رسو ل الله (ص)سے مروی ہے :
مامِن مسلم دعااللّٰه سبحانه دعوة ليس فيهاقطيعة رحم ولااثم ،الّااعطاه اللّٰه احد یٰ خصال ثلا ثة:امّاان یُعجّل دعوته،واماان یوخّرله،وامّاان یدفع عنه من السوء مثلها قالوا:یارسول اللّٰه ،اذن نُکثِرقال:“اکثروا ”۔( ١)
“جو مسلمان بهی خداوندعالم سے ایسی دعا ما نگتا ہے جس ميں رشتہ داروں سے رابطہ ختم کرنے یا کسی گناہ کا مطالبہ نہيں ہوتا توخداوند عالم اس کو تين صفات ميں سے کو ئی ایک صفت عطا کر دیتا ہے یا اس کی دعا جلد قبول کرليتا ہے یاتا خير سے قبول کرتا ہے یا اس سے کو ئی بلا دور کردیتا ہے لوگوں نے عرض کی یا رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم پهر تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے ۔
آپ نے فرمایا :ہاں بہت زیادہ دعاکياکرو۔
رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :
____________________
۔ ١)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٨۶ حدیث ٨۶١٧ ۔ )
الدعاء مخ العبادة،ومامِن مومن یدعواللّٰه الّااستجاب له،اِمّاان یعجّل له فی الدنيا،اویوجّل له فی الآخرة،واماان یُکفّرمن ذنوبه بقدرمادعا مالم یدع بماثم (١)
“دعا عبادت کی روح و جان ہے اور کو ئی ایسا مومن نہيں ہے جسکی دعا اللهقبول نہ کرتا ہو یاتو اس دعا کو دنيا ميں جلدی قبول کر ليتا ہے یا اس کے مستجاب ہو نے ميں آخرت تک تا خير کر دیتا ہے یاجتنی وہ دعا کرتا ہے خدا اس کو اس بندے کے گنا ہو ں کا کفارہ قرار دیتا ہے ”
حضرت امير المو منين عليہ السلام نے اپنے فر زند امام حسن کو وصيت کر تے ہو ئے فرمایا :
فَلاَیُقَنِّطَنَّکَ اِبطَْاءُ اِجَابَتِهِ فَاِنَّ العَْطِيَّةَ عَل یٰ قَدرِْالنِّيَّةِ وَرُبَمَااُخِّرَت عَنکَْ الِاجَابَةُ لِيَکُونَْ لٰذِکَ اَعظَْمَ لِاَجرِْالسَّائِلِ وَاجزَْلَ لِعَطَاءِ الآمِلَ وَرُبَمَاسَالتَْ الشَّيءَ فَلَاتُوتَاهُ وَاُوتِْيَتَ خَيرْاً مِنهُْ عَاجِلاً اَوآْجلاً اوصُْرِفَ عَنکَْ لِمَاهُوَخَيرٌْلَکَ فَلِرُبَّ اَمرٍْقَد طَلَبتَْهُ فِيهِْ هَلَاکُ دِینِْکَ لَواُْوتِْيتَْهُ فَلتَْکُن مَسالتُکَ فِيمَْایَبقْ یٰ لَکَ جَمَالُهُ وَیَنفْ یٰ عَنکَْ وَبَالُهُ وَالمَْالُ لَایَبقْ یٰ لَکَ وَلَاتَبقْ یٰ لَهُ ( ٢)
“ہاں بعض اوقات قبو ليت ميں دیر ہو تو،اس سے نا اميد نہ ہو اس لئے کہ عطيہ نيت کے مطابق ہو تا ہے اور اکثر قبو ليت ميں اس لئے دیر کی جا تی ہے کہ سا ئل کے اجر ميں اور اضافہ ہو اور اميدوار کو عطيے اور زیادہ مليں اور کبهی یہ بهی ہو تا ہے کہ تم ایک چيز ما نگتے ہو اور وہ حا صل نہيں ہو تی مگر دنيا یا آخرت ميں اس سے بہتر چيز تمهيں مل جا تی ہے یا تمہا رے کسی مفاد کے پيش نظر تمهيں اس سے محروم کردیا جاتا ہے اس لئے کہ تم کبهی ایسی چيزیں بهی طلب کر ليتے ہو کہ اگر تمهيں دیدی جا ئيں ،تو تمہارا دین تباہ ہو جا ئے لہٰذا تمهيں بس وہ چيزیں طلب کرنا چا ہئے جس کا جمال پا ئيدار
____________________
١)وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ،ابواب الدعا باب ١۵ ۔جلد ۴ صفحہ ١٠٨۶ حدیث ٨۶١٨ ۔ )
٢)نہج البلاغہ قسم الر سائل و الکتب ، الکتاب /ا ٣۔ )
ہو اور جسکا وبال تمہارے سر نہ پڑنے والا ہو رہا دنيا کا مال ،تو یہ نہ تمہارے لئے رہے گا اور نہ تم اس کےلئے رہو گے ”
ہم ان تينوں روایات کو جمع کر نے کے بعد دعا مستجاب ہو نے کی پانچ حالتوں کا مشاہدہ کرتے ہيں :
١۔(عجلت)خدا وند عالم کی بارگاہ ميں بندے کی دعا کا جلدی مستجا ب ہو نا ٢۔(مدت ) جس حا جت کےلئے بندے نے الله سے دعا کی ہے اس کو مستجاب کر نے ميں وقت لگا نا ۔
٣۔(عوض)(تبدیلی)دعا کو تبدیل کر کے مستجاب کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے والے سے اس دعا کے بدلہ برا ئيوں کو دور کر تاہے جس کے قبو ل ہو نے ميںفی الحال کو ئی مصلحت نہيں ہوتی ہے ۔
۴ ۔جس دعا کو قبول کر نے ميں کو ئی مصلحت نہ ہو الله اس کے بدلے دعا کر نے وا لے کو آخرت ميں بلند در جا ت عطا کر تا ہے ۔
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :
(والله مصيّردعاء المومنين یوم القيامةلهم عملایزیدهم فی الجنة (١)
“خداوند عالم بروز قيامت مو منين کی دعا کو ان کے حق ميں ایسے عمل ميں بدل دیگا جس سے جنت ميں ان کا مرتبہ بلند ہو تا رہے گا ” دوسری حدیث ميں امام محمد باقر عليہ السلام فر ما تے ہيں :واللّٰه مااخّراللّٰه عزّوجلّ عن المومنين مایطلبون من هٰذه الدنياخيرلهم عمَّاعجّل لهم منها (٢)
____________________
٠٨۶ ا،حدیث/ ۵ا ٨۶ ۔ / ١)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ )
٢)قرب الاسناد صفحہ ١٧١ ۔اصول کا فی صفحہ ۵٢۶ ۔ )
“خدا کی قسم مو منين جو کچه اس دنيا ميں خدا سے طلب کر تے ہيں اُس ميں اِس دنيا ميں عطا کر دینے سے ان کےلئے تا خير کر نا بہتر ہے” ۵ ۔(تبدیل)جب دعا کو قبول کرنا بندے کی مصلحت کے خلاف ہو تا ہے تو خدا وند عالم اس کی دعا مستجاب کر تے وقت اس کی دعا کو اس کے گنا ہوں اور برا (ئيوں کا کفارہ قرار دیتا ہے۔( ١)
اور کبهی کبهی ان کو تبد یل نہ کر نا اور مدّت معين کر نا دو حا لتو ںميں دعا مستجاب ہو نے ميں وقت در کار ہو نا اور اس کو معين قر ار دینے کے وقت دعا کر نے والے کی مصلحت کےلئے ہو تا ہے ۔کبهی کبهی یہ نظا م کی مصلحت کےلئے ہو تا ہے جو سا ئل اوردو سر ے افر اد کو بهی شا مل ہو تا ہے دعا مستجا ب ہو نے یاجلدی دعا مستجا ب ہو جا نے سے نظا م ميں خلل واقع ہو تا ہے جس کو اللهنے خا ص انسا ن یا عام دنيا کےلئے معين فرمایا ہے ۔
جبدعا عمل ميں تبد یل ہو جاتی ہے
دعا اور عمل دونو ں الگ الگ مقولہ ہيں اور ان ميں سے ہر ایک رحمت کے نا زل ہو نے کا سبب ہے بيشک عمل سے الله کی رحمت اسی طرح نا زل ہو تی ہے جس طرح دعا سے الله کی رحمت نازل ہو تی ہے خد اوند عا لم فر ما تا ہے : (( وَقُل اعمَْلُواْ فَسَيَریَ اللهُ عَمَلَکُم وَرَسُولُْهُ ) ( ٢)
“اور پيغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو الله ، رسول اور صاحبان ایمان دیکه رہے ہيں”
____________________
١)ان پانچوں باتوں ميں سے آخری تين با تيں صرف بندے کی دعا کو ملغیٰ قرار دینے سے ) مخصوص ہيں خدا وند عالم اپنے بندے کی دعا قبو ل کر نے کے ساته ساته اس کی دعا کو اس کے گنا ہوںکا کفا رہ قرار دتيا ہے اس سے برائيا ں دور کر دتيا ہے اور آخرت ميں بلند درجات عطا کر تا ہے ۔
٢)۔سور ئہ تو بہ آیت ١٠۵ ۔ )
(( فَمَن یَّعمَْل مِثقَْالَ ذَرَّةٍ خَيرْاً یَرَهُ ) ( ١)
“پهر جس شخص نے ذرہ برابر نيکی کی ہے وہ اسے دیکهے گا ” (اسی طر ح دعا رحمت کی کنجی ہے: اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ( ٢)
ليکن ایسا نہيں ہے کہ انسان جوکچه سوال کرے وہ اِس دنياکے عام نظام ميں ممکن بهی ہو،بلکہ کبهی کبهی انسان الله سے ایسی دعاکرتاہے جواس دنياکے عام نظام (قضا و قدر )ميں ممکن نہيں ہوتی لہٰذا اس کی دعا مستجاب نہيں ہو تی۔
کبهی کبهی دعا کے مستجاب ہو نے یا دعا کے جلدی مستجاب ہو نے ميں صاحب دعا کےلئے کو ئی مصلحت نہيں ہو تی ، تو انسان دعاميں اتنی جد وجہدو کو شش کيوںکر تا ہے ؟
جواب : بيشک دعا بذات خو دعمل اور عبا دت ميں تبدیل ہوجاتی ہے جس سے الله کی رحمت نا زل ہو تی ہے ۔
لہٰذا (قضا و قدر )مصلحت دعا کے موانع ميں سے نہيں ہيں ۔ بيشک الله تبارک و تعالیٰ اگرچہ اپنے بندے کی دعا قبول نہيں کر تا ہے بلکہ بندے کی دعا تو خود اسی کے عمل اور عبادت پر مو قوف ہے اور اسی کے مطابق اس کو دنيا اور آخرت ميں جزایا سزا دی جا ئيگی ۔
اسلامی رو ایات ميں اس دقيق معنی کی طرف اشارہ کيا گيا ہے کہ دعا عمل ميں تبدیل ہو جاتی ہے۔
حما د بن عيسیٰ نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : (سمعته یقول:ادع،ولاتقل قدفرغ من الامر٣)فان الدعاء هوالعبادة (۴)
____________________
١)سور ئہ الزلزلہ آیت/ ٧۔
(٢) سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔ )
٣)یعنی یہ امر خداوند عالم کے قضاء وقدر ميں ہے جس سے تجا وز کرنا ممکن نہيں ہے اور ) دعا کے ذریعہ اس کو تبدیل نہيں کيا جا سکتاہے ”
(۴) وسائل الشيعہ صفحہ ٩٢ ۔حدیث ٨۶۴٣ ، اصول کافی صفحہ ۵١۶ )
ميں نے آپ کو یہ فرما تے سنا ہے : دعا کرو اور یہ نہ کہو کہ خدا کا حکم تمام ہو گيا ہے بيشک دعا عبادت ہے
“یعنی یہ امر الله کے قضا و قدر ميں ہے اور دعا کے ذر یعہ اسکو آگے پيچهے کردینا ممکن نہيں ہے ۔
اور دو سری حدیث ميں امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے : “ادعه،ولاتقل قدفرغ من الامر،فانّ الدعاء هوالعبادة انّ اللّٰه عزّوجلّ یقول: اِنَّ ٢) الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینْ ( ١)
“خدا کو پکار و یہ نہ کہو کہ خدا کا امر(حکم ) تمام ہو گيا ہے بيشک دعا عبادت ہے خداوند عالم فرماتا ہے :
( اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ ) “اور یقينا جو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”
دعا کی قبو ليت اور دعا کے در ميان رابطہ
ہم یہ بيان کر چکے ہيں کہ مطلق طورپرپہلی قسم کے موا نع خدا وندعالم کی کبر یائی کے شایان شان نہيںہيںليکن دوسری قسم کے موانع حقيقی ہيں اوربندوںکی زندگی اوردعاوں ميں پائے جاتے ہيں اسی لئے کبهی کبهی خداوندعالم دعا مستجاب کرنے ميںمدت معين کردیتا ہے اور کبهی مستجاب کر کے اس کو دوسر ی چيز سے بد ل دیتا ہے ۔
اور ان دو نو ں حالتو ں (حالت تاخير اور حالت تبدیل)کے علا وہ دعا کا مستجاب ہونا ضروری ہے اس کا منبع قطعی فطری حکم ہے اور یہ اس وقت ہو تا ہے جب سا ئل ،مسئول (جس سے
____________________
٢)سورئہ مو من آیت/ ۶٠ ۔ ) ١٠٩٢ حدیث ٨۶۴٠ ، اصول کا فی : فرو ع کا فی جلد ١سطر ٩۴ ۔ : ٣)وسائل الشيعہ ۴ )
سو ال کيا جا رہاہے )کا محتاج ہوتاہے اور مسئول سائل کی حا جت قبول کرنے پرقادر (ہوتا ہے اور اپنی مخلوق کے ساته بخل سے کام نہيں ليتاہے۔( ١)
(١۔( اَمَّن یُجِيبُْ المُْضطَْرَّاِذَادَعَاهُ وَیَکشِْفُ السُّوءْ ) ( ٢)
“بهلا وہ کو ن ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آوازدیتا ہے اور اس کی مصيبت کو دور کر دیتا ہے ”
لہٰذا جو شخص مجبور ہو اور اپنی بلا دور ہونے کے سلسلہ ميں دعا کے قبول ہونے کاشدید محتاج ہو اس کو فقط دعا کرنے کی ضرورت ہو تی ہے جب وہ خداوند عالم کو پکارتا ہے تو خداوند عالم اس کی دعا قبول کر کے اس سے بلا کو دور فر ما دیتا ہے ۔
جب وہ خدا سے دعا کرتا ہے تو خدا اس کی دعا مستجاب کر تا ہے اور اس کے لئے برائيوں کو واضح کردیتا ہے ۔
٢( : وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُْونِْي اَستَْجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی ( سَيَدخُْلُونَْ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ ) ( ٣)
“اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کروميں قبول کرونگا اور یقينا جو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”
____________________
١)اس رابطہ کے ضروری ہونے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ اللهپر یہ امر واجب ہو گيا ہے بلکہ خود ) قرآن کریم اس یقينی اور ضروری رابطہ پر اس طر ح زور دیتا ہے : اس نے اپنے او پر رحمت لکه لی ہے :
(فَقُل سَلَامٌ عَلَيکُْم کَتَبَ رَبّکُم عَ لٰی نَفسِْهِ الرَّحمَْة (سور ہ انعام آیت/ ۵۴ “پس ان سے سلام عليکم کہئے تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرار دے لی ہے ”
٢)سورہ نمل آیت ۶٢ ۔ )
٣)سورئہ مو من آیت ۶٠ ۔ )
یہ آیت کریمہ دعا اور استجابتِ دعا کے درميان رابطہ کو صاف طور پر واضح کر رہی ہے:
( ا دْعُوْنِیْ اسْتَجِبْ لَکُمْ ) (١) “مجه سے دعا کروميں قبول کرونگا ” (( وَاُجِيبُْ دَعوَْةَ الدَّاعِ اِذَادَعَانِ ) ( ٢)
“پکار نے والے کی آواز سنتا ہوں جب بهی پکارتا ہے ” ان آیات ميں دعا اور اس کے مستجاب ہو نے کا رابطہ صاف اور واضح ہے ، اور اس ميں کو ئی شک و شبہہ ہی نہيں ہے کہ خدا وند عالم ہر دعا کو قبول کر تا ہے ليکن اگر دعا قبول کر نا بندہ کے حق ميں مضر ہو یا اس عام نظام کے خلا ف ہو جس کا بند ہ خود جز ء شمار ہو تا ہے ،اور ان آیات ميں دعا کے مستجاب ہو نے کی کو ئی شرط نہيں ہے اور نہ ہی کسی چيز پر معلّق ہے ۔
جن شرطوں کو ہم عنقریب بيان کر ےں گے وہ حقيقت ميں دعا کے محقق ہو نے کےلئے ضروری ہو تی ہيں یا بذات خو د دعا کر نے وا لے کی مصلحت کےلئے ہو تے ہيں اور اگر یہ دو نوں نہ ہوں تو پهر یا تو دعا کا اثر کم ہو جا تا ہے یا ختم ہو جا تا ہے ۔
معلوم ہو ا کہ دعا اور استجا بت کے در ميان ایسا رابطہ ہے جس کے بدلنے کا کو ئی امکان ہی نہيں ہے اور ایسا مطلق تعلق ہے جو کسی سے متعلق نہيں ہو تا مگر کو ئی ایسی شرط ہو جس کی تا کيد کی گئی ہو یا وہ دعا کی حالت کا اثبات (کر تی ہو جيسے خداوند عالم فرماتاہے:( اِذَادَعَاهُ وَیَکشِْفُ السُّوءَْ ) ( ٣)
“جب وہ اس کوآوازدیتا ہے تووہ اس کی مصيبت کو دور کر دیتا ہے ” شر یعت اسلا ميہ ميں احا دیث نبی اور احا دیث اہل بيت عليہم السلام ميں دعا اور دعا کے مستجا ب ہو نے کے در ميان اس رابطہ پر زور دیا گيا ہے ۔ حدیث قد سی ميں آیا ہے:
____________________
١)سورئہ مو من آیت / ۶٠ ۔ )
٢)سورہ بقرہ آیت ١٨۶ ۔ )
٣)سورئہ نمل آیت ۶٢ ۔ )
(یاعيسیٰ إني اسمع السامعين استجيب للداعين اذادعونی (١ “اے عيسیٰ ميں اسمع السامعين (سننے والوں ميں سب سے زیادہ سننے والا) ہوں دعا کر نے والے جب دعا کرتے ہيں تو ميں ان کی دعا مستجاب کرتا ہوں ” رسو ل الله (ص) سے مروی ہے :
مامن عبدیسلک وادیافيبسط کفّيه فيذکرالله ویدعوالَّاملاالله ذلک الوادي (حسنات فليعظم ذلک الوادي اوليصغر ( ٢)
“جو بندہ بهی کسی وادی کو طے کرتا ہے اور دونوں ہاتهوں کو پهيلا کر خداوند عالم کو یاد کرتا ہے اور دعا کرتا ہے تو خداوند عالم اس وادی کو نيکيوں سے بهر دیتا ہے چاہے وہ وادی بڑی ہو یا چهوڻی ”
اور امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے : (لوا نَّ عبداًسدَّ فَاهُ،لم یسال لم یعط شيئاًفسل تعط ( ٣)
“اگر بند ہ اپنا منه بند رکهے اور وہ خدا سے سوال نہ کر ے تو اس کو کچه عطا نہيں کيا جا ئيگا ، لہٰذا سوال کرو خدا عطا کر ے گا” “ميسر بن عبدالعزیز نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : (“یاميسرإنّه ليس من باب یُقْرع إلّایُوشک انْ یُفتح لصاحبه ( ۴ “ اے ميسر! اگر کسی در وا زے کو کهڻکهڻا یا جا ئے تو وہ عنقریب کهڻکهڻانے والے کےلئے کهل جا تا ہے ۔
____________________
١) اصو ل کا فی ۔ )
٢)ثواب الا عمال صفحہ ١٣٧ ۔ )
٣)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٨۴ ، حدیث ٨۶٠۶ ۔ )
۴)وسا ئل الشيعہ ۴ : صفحہ ١٠٨۵ ح ٨۶١١ ۔ )
حضرت امير المو منين عليہ السلام کا فر مان ہے : (متیٰ تُکثرقرع البابُ یفتح لک ( ١)
“جب دروازہ پہ زیادہ دستک دی جا ئيگی تو کهل جائيگا ” حضرت رسول الله (ص)نے حضرت علی عليہ السلام سے فرمایا: (یاعلياوصيک بالدعاء فانّ معه الاجابة ( ٢)
“اے علی ميںتم کو دعا کر نے کی سفارش کرتاہوں بيشک اگر دعا کی جائے تو ضرور مستجاب ہوگی”
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :
(اذااُلهم احدکم الدعاء عند البلاء فاعلمواانّ البلاء قصير (٣ “جب تم ميںسے کسی کومصيبت کے وقت دعا کرنے کا الہام ہوجا ئے تو جان لو کہ مصيبت چهوڻی ہے ”
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے: (لاواللّٰه لایلحّ عبدٌعلیٰ اللّٰه عزّوجلّ الّااستجاب اللّٰه له ( ۴)
“خداکی قسم بندہ خداوند عالم کی بارگاہ ميں نہيں گڑگڑاتا مگر یہ کہ خدا اسکی دعا مستجاب کرتا ہے”
اسلامی روایات ميں دعا اور دعاکی مقبوليت کے درميان رابطہ کے یقينی اور مطلق ہونے پر
____________________
١)وسا ئل الشيعہ ۴ : صفحہ ١٠٨۵ ح ٨۶١٣ ۔ )
٢) وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ابواب الدعا باب ٢ حدیث ١٨ ۔ )
٣)وسائل الشيعہ جلد ۴ص ١٠٨٧ حدیث ٨۶٢۴ ۔ )
۴)اصول کافی کتاب الدعا باب الالحاح فی الدعاء حدیث ۵۔ )
زور دیا گيا ہے اور یہ واضح ہے کہ جب بندہ خداوند عالم سے دعاکرتا ہے تو خداکو اسکی دعا رد کرنے سے حيا آتی ہے۔
حدیث قدسی ميں آیا ہے:
ماانصفنی عبدي،یدعوني فاستحيي انْ اردّه،ویعصيني ولایستحيي مني (١)
“ميرے بندے نے ميرے ساته انصاف نہيں کيا چونکہ جب وہ مجه سے دعا کرتا ہے تو مجهے اسکی دعا رد کرنے ميں حيا آتی ہے ليکن جب وہ ميری معصيت کرتا ہے تومجه سے کوئی حيا نہيں کرتا ”
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے:
(ماابرزعبد یده الی اللّٰه العزیزالجبارالّااستحييٰ اللّٰه عزّوجلّ انْ یردّها ( ٢)
“بندہ خداوند عالم کی بارگاہ ميں ہاتهوں کو بلند کرتا ہے توخداکوا سکی دعا رد کرنے سے حيا آتی ہے’
حدیث قدسی ميں آیا ہے:من احدث وَتوضاوصلیّٰ ودعاني فلم اُجبه فيما یسال عن امردینه ودنياه فقدجفوته ولست بربٍّ جافٍ ( ٣)
“جس شخص سے حدث صادر ہو اور وہ وضو کرکے نماز پڑهے پهر مجه سے دعا مانگے ليکن ميں اس کی دینی اور دنيا وی حاجت پوری نہ کروں تو ميں نے اس پر جفا کی جبکہ ميں جفا کرنے والا پرور دگار نہيں ہوں ”
____________________
١)ارشاد القلوب للدیملی۔ )
٢)عدةالدامی وسائل الشيعہ کتاب الصلاةابواب الدعا باب ۴حدیث ١۔ )
٣)ارشاد القلوب للدیلمی۔ )
امير المومنين عليہ السلام سے مروی ہے: (ماکان اللّٰه ليفتح باب الدعاء،ویغلق عليه باب الاجابة ( ١)
“ایسا نہيں ہے کہ خدا وند عالم بندہ پر باب دعا تو کهول دے اوراس پر باب اجا بت کو بند رکهے ”
اور امير المومنين عليہ السلام سے ہی مروی ہے : (من اُعطي الدعاء لم یُحرم الاجابة ( ٢)
“جس کو دعا عطا کی گئی اسکو دعا کے مستجاب ہونے سے محروم نہيں کيا گيا”
آخر ی دو روایتوں ميں اہم اور بلند درجہ کی طرف متوجہ کيا گيا ہے بيشک اللهتعالیٰ کریم اور وفیّ ہے جب اس نے دعا کا دروازہ کهول دیا تو یہ ممکن ہی نہيں کہ وہ دعا مستجاب ہو نے کے دروازہ کوبند کردے ۔ جب خداوندعالم نے بندہ کو دعا کر نے کی توفيق عطا کردی تو یہ ممکن ہی نہيں کہ وہ اس کی دعامستجاب نہ کرے۔
رسول الله (ص)سے مروی ہے :
مافُتح لاحد باب دعاء الّافتح اللّٰه له فيه باب اجابة،فاذافُتح لاحدکم باب دعاء فليجهد فانّ اللّٰه لایمل ( ٣)
“خداوند عالم نے کسی کےلئے دعا کا دروازہ نہيںکهولا ہے مگر یہ کہ اسکے لئے اسکی دعا کے قبول ہونے کا دروازہ بهی کهول دیا ہے ۔جب تم ميں سے کسی ایک کےلئے باب اجابت کهل جائے تو اسکو کوشش کرنا چاہئے بيشک خدا کسی کو ملول نہيں کرتا”
____________________
١٠٨٧ ۔حدیث ٨۶٢۴ ۔ : ١)وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ابواب الدعا باب ٢حدیث ١٢ اور ۴ )
٢)وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ابواب الدعا باب ٢اور ۴ صفحہ ١٠٨۶ ۔حدیث ٨۶٢٢ ۔ )
١٠٨٧ حدیث/ ٨۶٢۴ ۔ / ٣)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
یہ الله کی رحمت نازل ہونے کی تيسری منزل ہے۔اللهم سمعناوشهدناوآمنّا
“خدایا ہم نے سنا اور گواہی دی اور ایمان لائے ” رحمت نازل ہو نے کی تين منزليں
جناب ہاجرہ اور اسمعيل عليہما السلام اور ابو الانبياء حضرت ابراہيم عليہ السلام کے قصہ ميں ہم تينوں منزلوں کایکجا طور پر مشاہدہ کرسکتے ہيں: ١۔فقر وحاجت
٢۔دعا اور سوال
٣۔سعی اور کوشش
جب ابو الانبياء حضرت ابراہيم عليہ السلام کو خداوند عالم نے ان کی زوجہ جناب ہاجرہ کے ساته بے آب و گياہ وادی(چڻيل ميدان )ميں بهيجا اور انهوں نے وہاں ہاجرہ کے ساته ان کے فرزند شير خوار جناب اسمعيل کو چهوڑاتویہ دعا کی:
( رَبَّنَااِنِّی اَسکَْنتُْ مِن ذُرِّیَّتِی بِوَادٍغَيرِْذِی زَرعٍْ عِندَْ بَيتِْکَ المُْحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُْواالصَّلاَ ( ةَ فَاجعَْل اَفئِْدَةً مِنَ النَّاسِ تَهوِْی اِلَيهِْم وَارزُْقهُْم مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُم یَشکُْرُونَْ ) (١ “پروردگار ميں نے اپنی ذریت ميں سے بعض کو تيرے محترم مکان کے قریب بے آب و گياہ وادی ميں چهوڑ دیا ہے تا کہ نما زیں قا ئم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مو ڑ دے اور انهيں پهلوں کا رزق عطا فر ما تا کہ وہ تيرے شکر گزار بندے بن جا ئيں ”
____________________
١۔سورئہ ابراہيم آیت/ ٣٧ ۔
اس کے بعد حضرت ابراہيم عليہ السلام خداوند قدوس کے حکم کی تعميل کےلئے گئے ۔جناب ہاجر ہ اور طفل شير خوار کو اس بے آب و گياہ وادی ميں چهوڑدیااور ان کے پاس پانی کاذخيرہ ختم ہوگيا، بچہ پرپياس کا غلبہ ہوا ،جناب ہاجرہ نے چاروں طرف پانی ڈهونڈها ليکن پانی کا کوئی نام ونشان نہ ملا،بچہ چيخنے،چلانے اورہاته پير مارنے لگا۔آپ کی والدہ ادهر ادهر دوڑلگانے لگيں،کبهی صفا پہاڑی پر جا تيں اور دور دراز تک پانی دیکهتيں اسکے بعد نيچے اتر آتيں اوردوڑتی ہوئيںمروہ پہاڑی پر پانی کی تلاش ميں جاتيں،اور خداوند عالم سے اپنے اور بچہ کےلئے اس بے آب و گياہ وادی ميں پانی کا سوال کر تيں اور بچہ بيت حرام کے نزدیک چيختا چلاتا اور ہاته پير ماررہاتها۔
الله نے بچہ کے قدموں کے نيچے پانی کا چشمہ جاری کيا، ماں پانی کی طرف دو ڑی تا کہ اپنے شير خوار بچہ کو سيراب کر سکے اور پانی کو ضائع ہو نے سے بچا سکے لہٰذا انهوں نے پا نی سے کہا زم زم یعنی ڻهہر ڻهہرکہ وہ اس کےلئے ایک حوض بنارہی تهيں ۔
یہ عجيب وغریب منظر رحمت کے نازل ہونے کا سبب بنا، خداوند عالم نے بے آب وگياہ وادی ميں چشمہ زم زم جاری کيا اور اسکو اس مبارک زمين پر متعدد برکتوں کا مصدر قرار دیا ۔
خداوند عالم نے اس عمل کو اعمال حج کا جزء قرار دیا اور اسکو سب سے اشرف فرائض ميں قرار دیا۔
اس منظر کا کيا راز ہے؟اور اسکو اصل دین ميں داخل کرنے اور حج کے احکام ميں ثبت کرنے کا اتنا اہتمام کيوں کيا گيا؟ وہ موثر اور طاقت ورسبب کيا ہے جسکی وجہ سے خداوند عالم نے اس منظر کی قوت سے رحمت نازل کی اور تاریخ ميں آنے والے تمام موحدوں کےلئے بہت زیادہ برکتوں کا مبدا قرار دیا ؟
پس اس منظر ميں ایک خاص راز ہے جس کےلئے اس بے آب و گياہ وادی ميں الله کی رحمت نازل ہو نے کی استدعا کی گئی ہے ، اس رحمت کے ہميشہ باقی رہنے کی استدعا کی گئی ہے ، اس کو متعدد برکتوں کےلئے مصدر اور مبدا قرار دیا گيا ہے اور یہ استد عا کی گئی ہے کہ خدا وند عالم اس کو اپنے بيت حرام کے نزدیک موحدین کی آنے والی نسلوں کے لئے اسی طرح قائم و دائم رکهے ۔
ہمارا(مولف)عقيدہ ہے کہ(خداوند عالم اس منظر کے تمام اسرار کو جانتا ہے)ایسے منظر شاذونادر ہی ہوتے ہيں جن ميں الله کی رحمت نازل ہونے کے تينوں پہلو جمع ہوجاتے ہيں اور ہر ایک سے رحمت نازل ہوتی ہے۔
پہلی منزل :حاجت وضرورت ہے جویہاںپر پياس ہے جو شير خوار بچہ کےلئے نقصان دہ تهی اور حاجت و ضرورت کا الله کی بارگاہ ميں پيش کرنا الله کی رحمت نازل ہونے کا ایک پہلو ہے۔
جب ضرورت صاحب ضرورت کےلئے زیادہ نقصان دہ ہوگی تووہ الله کی رحمت سے زیادہ قریب ہوگا۔اسی لئے ہم یہ مشاہدہ کرتے ہيں کہ جب شيرخوار بچوں کےلئے دکه درد ،یا بهوک یاپياس یا سردی یا گرمی بہت زیادہ مضر ہوجاتی ہے جسکو وہ برداشت نہيں کرسکتے تو وہ ان بزرگوںکے ذریعہ جو ان تمام چيزوں کو برداشت کرسکتے ہيں الله کی رحمت سے قریب ہوجاتے ہيں۔چونکہ دوسروں کے مقابلہ ميں ان کےلئے اس حاجت کا نقصان زیادہ ہے ۔
معلوم ہواکہ حاجت ان کے غيروں کے علاوہ خود ان کےلئے بہت زیادہ مضر ہے۔
دعا ميں وارد ہوا ہے :“اَللَّهُمَّ اَعطِْنِي لِفَقرِْي ”ْ صرف الله کی بارگاہ ميں اپنی حاجت پيش کر نے سے الله کی رحمت نازل ہوتی ہے اور جب بهی الله کی بارگاہ ميں پيش ہونے والی حاجت جتنی عظيم ہوگی اتنا ہی وہ الله کی رحمت کے نزول کا باعث ہوگی۔
بيشک الله کی بارگاہ ميں اپنی حاجت پيش کرنا انسان کو الله کی رحمت سے قریب کردیتا ہے چاہے انسان الله کی بارگاہ ميں اپنی حاجت سے باخبر ہوکر پيش کر ے یا نہ کرے اگر انسان اپنی حاجتوں سے باخبر ہوکران کو الله کی بارگاہ ميں پيش کرتا ہے تو الله کی رحمت نازل کرانے ميں اسکی قدروقيمت بڑه جاتی ہے۔جس کو ہم بيان کرچکے ہيں۔
ليکن اس ميں یہ شرط پائی جاتی ہے کہ انسان اپنی حاجت ميں تحریف نہ کرے یعنی انسان یہ تصور کرے کہ اسکو مال کی ضرورت ہے یا حطام دنيا(دنيوی چيزیں) کی ضرورت ہے لہٰذابندگان خدا کی طرف حاجت پيش نہ کرے ۔
نيز یہ شرط بهی ہے کہ انسان اپنی ضرورت کو اس کی جگہ سے نہ ہڻائے اور یہ تصور نہ کرنے لگے کہ یہ دو لت یا سر مایہ دنيا کی ضرورت خداوند عالم کے کچه بندوں کی ضرورت کی بنا پر ہے اس کے بجا ئے کہ وہ فقر کو خداوند عالم کی طرف نياز مندی پر حمل کرے ۔
اِس حاجت اور اُس حاجت ميں فرق ہے۔جس حاجت سے الله کی رحمت نازل ہوتی ہے وہ الله کی بارگاہ ميں حاجت پيش کرنا ہے اور جب انسان اس ضرورت کو الله کی بارگاہ ميں پيش کرنے کے بجائے الله کے بندوں کی خدمت ميں پيش کرتا ہے تو اسکے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہونے کی قدروقيمت ختم ہوجاتی ہے اور لوگوں کی اکثر حاجتيں اسی قسم کی ہيں۔
اس منظر ميں بچہ کاپياس کی شدت سے چيخناچلانا گر یہ وزاری کرنا الله کی رحمت نازل کرنے ميں بڑا موثر ہے ۔
خداوند عالم کی طرف نياز مندی کے منا ظر ميں خداوند عالم کی رحمت کا سبب بننے والا اثر اور رقت آور منظر اس بچہ کے منظر سے زیادہ نہيں جو پياس سے جهلس رہا ہو اور اس کی ماں کو اس کيلئے پا نی نہ مل رہاہو۔ الله کی رحمت کا اس منظر ميں دوسرا پہلوسعی ہے ،یہ رزق کےلئے شرط ہے،بغير سعی و کوشش کے رزق نہيں ہے اور اللهتعالی نے سعی اور حرکت کو انسان کی زندگی ميں رزق کی کنجی قرار دیا ہے۔
جب فقرکا سبب انسان سے عزم ،قوت،ارادہ،حرکت اور نشاط چاہتا ہے اور جتنی انسان ميں حرکت و سعی اور عزم ہوگا اتنا ہی اللهاس کو اپنی رحمت سے رزق عطا کریگا۔
جب جناب ہاجرہ کے پاس پانی ختم ہوگيااورحضرت اسماعيل پر پياس کا غلبہ ہوا تو جناب ہاجرہ نے پانی تلاش کيا اور اسی پانی کی تلاش ميں آپ کبهی صفاپہاڑی پرجاتيں اور دور تک نظر دوڑاتيں اور پهر صفا سے اترکر مروہ پہاڑی پر جاتيں اور دور تک نظر دوڑاتيں اسی طرح آپ جب صفا اور مروہ دونوں پہاڑیوںپر گئيں توآپ کو کہيں پانی کا نام ونشان نہيں دکهائی دیا توآپ مایوس نہيں ہوئيں اور اس عمل کی تکرار کرتی رہيں اور صفاومروہ کے درميان دوڑلگا تی رہيںيہا ں تک کہ آپ نے ان کے در ميان سات چکر لگا ئے ۔
اگر یہ آرزو اور اميد نہ ہو تی تو ان کی سعی پہلے ہی چکر ميں ختم ہو جا تی ليکن پانی کی اميد نے ان دونوں کے دلوں کو زندہ رکها اور اسی شوق ميں وہ سعی کی تکرار کرتی رہيں یہاں تک کہ الله نے ان کے اس امر کو آسان کيا اور جناب اسماعيل کے قدموں کے نيچے چشمہ جا ری فرمادیا ليکن اس مقام پر آرزو اور اميد الله کی ذات سے ہے ان کی سعی ميں نہيں ہے اگر آرزو واميد ان کی سعی ميں ہو تی تو ان کی یہ آرزوو اميد پہلے یا دو سر ے چکر ميں ہی ختم ہو جا تی ۔
الله تبا رک وتعا لیٰ نے اس سعی اور اس حر کت کو رزق کے لئے شر ط قراردیا، انسان پر اپنی رحمت کا نز ول قراردیااور الله اپنے بند وں کو رزق دیتا ہے اور ان پر اپنی رحمت نازل کر تا ہے ليکن خد ا و ند عا لم نے انسان کی سعی اور حر کت کواپنے رزق اور رحمت کی کنجی قراردیاہے ۔
الله کی رحمت کےلئے اس منظر ميں تيسر اپہلو جناب اسمعيل کی والد ہ کی دعا ہے ان کا الله سے لو لگانا اوراس بے آب و گياہ وادی ميں پانی کی تلاش ميں الله سے گڑگڑاکردعاکرناہے۔
جتنا انسان الله سے دعا کرتے وقت اپنے کو اس کی یاد ميں غرق کردیگا اتنا ہی وہ الله کی رحمت سے قریب ہو گا ۔
ہميں نہيں معلو م کہ اس نيک وصا لح خا تو ن نے اس وقت اور اس واد ی ميں الله کی یاد ميں منہمک ہو نے والی کس حا لت کا انتخاب کيا جبکہ ان کے پاس نہ کو ئی انسان تها اور نہ حيوان ،صرف ایک پيا سا شير خوار اپنی پياس سے تڑپ رہا تها گو یا وہ اپنی آخر ی سانسيں لے رہا تها۔
اس وقت اس خاتون نے خداوند عالم سے اس طرح دعا کی کہ ملا ئکہ نے ان کےلئے گڑگڑ ا کر دعا کرنا شروع کردی اور اپنی آوازوں کو ان کی آواز، اور اپنی دعا وں کو ان کی دعا وں سے ملا دیا ۔
اگر تمام انسان الله کی یاد ميں اسی طرح منہمک ہو جا ئيں اور خدا کے علاوہ سب سے ہٹ کر صرف اس کی بارگاہ سے لو لگا ئيں تو اُن پرزمين و آسمان سے رزق کی بارش ہو گی ۔
(( لَاَکَلُواْمِن فَوقِْهِم وَمِن تَحتْ اَرجُْلِهِم ) (١ “تو وہ ہر طرح سے الله کی رحمت سے مالا مال ہو ں گے ” اگر تمام لوگ خداوند عالم کی طرف اس طرح متوجہ ہو جا تے تو وہ آسمان و زمين کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتے اور رحمت الٰہی ان کے شامل حال ہو تی ۔ اے مادر گرامی آپ پر الله کا سلام !اے اسماعيل کی مادر گرامی آپ پر اسماعيل کی اولاد کا سلام جس کو الله نے نور ،ہدایت ،ایمان، نبوت عطا کی ہے اور ان کی ہدایت اور نور سے ہدایت پانے والے ہيں ۔اگر آپ اس حجاز کی سخت گرمی ميں اس بے آب و گياہ وادی ميں تنہا نہ ہوتيں،اور صفا و مروہ کی پہاڑیوںکے درميان اس مشکل مو قع پر آپ خداوند قدوس سے اس طرح لو نہ لگاتيں اور آپ دونوں پر خداوند عالم کی رحمت نازل نہ ہو تی اور اگر وہ رحمت نہ ہو تی تو آپ الله سے اس طرح لو نہ لگاتيں تو آپ کی صفا و مروہ کے درميان سعی حج ميں شعائر الله ميں قرار نہ دی جا تی۔
____________________
١۔سورئہ مائدہ آیت/ ۶۶ ۔
( اِنّ الصَّفَاوَالمَْروَْةَ مِن شَعَائِرَاللهِ فَمَن حَجَّ البَْيتَْ اوِاعتَْمَرَفَلَاجُنَاحَ عَلَيهِْ اَن یَطَّوَّفَ بِهِمَاوَمَن تَطَوَّعَ خَيرْاً فَاِنَّ اللهَ شَاکِرٌ عَلِيمٌْ ) ( ١)
“بيشک صفا و مروہ دو نوں پہا ڑیاں الله کی نشانيوں ميں ہيں لہٰذا جو شخص بهی حج یا عمرہ کرے اس کےلئے کو ئی حرج نہيں ہے کہ ان دونوں پہا ڑیوں کا چکر لگا ئے اور جو مزید خير کرے گا خدا اس کے عمل کا قدر دان اور اس سے خوب واقف ہے ”
اے مادر گرامی! الله نے اپنی یا د ميں اس وقت آپ کے انہماک کو دامن تاریخ ميں ثبت کر دیا پانی کی تلاش ميں آپ کی سعی اور آپ کے بچہ اسما عيل کی چيخ وپکار کے تذکر ہ کو تاریخ ميں لکه دیا تا کہ آپ کے بعد آنے والی نسلو ں کو یہ معلو م ہو جائے کہ الله کی رحمت کيسے نازل ہو تی ہے اور الله کی رحمت کےلئے کيسے خشوع وخضو ع کياجاتا ہے ؟
الله کی رحمت وسيع ہے اس ميں نہ کسی طرح کا بخل ہے نہ نقص اور نہ ہی وہ عا جز ہے ليکن لوگ اس کی رحمت کے نازل ہو نے کے مقامات کو نہيں جا نتے نہ ہی اس سے اچهی طرح پيش آتے ہيں اور نہ ہی اس سے استفا دہ کرتے ہيں ۔
آپ نے ہم کو یہ تعليم دی کہ الله کی رحمت کو کيسے نازل کرائيں اور الله کی رحمت کے ساته کيسے پيش آئيں اور اے بی بی ہم نے آپ سے رحمت کی کنجياں حاصل کی ہيں ۔
اگر ہم نے آپ کی ان کنجيوں کی حفاظت نہ کی جن کو آپ نے اپنے فرزندارجمند جناب اسمٰعيل کے سپرد کيا ،اسمٰعيل کے بعد یہ کنجيا ں اسمٰعيل کی اولاد کو وراثت ميں مليں اور ہم کو آپ کے بيڻے حضرت محمد مصطفے صلی الله عليہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ميراث ميںمليں تو ہم آپ سے معذرت خواہ ہيں کہ ہم نے انبيا ء عليہم السلام کی ميراث اور ان کی وراثت کو ضا ئع وبرباد کردیاہے ۔ ہم نے اپنے جد ابراہيم سے الله کی وحدانيت کا اقرار کر نے کی تعليم حاصل کی اور ہم نے
اپنی ماں جناب ہاجرہ سے الله سے سوال کرنے کا طریقہ سيکهاہے ۔ اگر ہم خواہشات نفسانی اور طاغوت وسر کشی ميں پهنس گئے تو ہم نے اِس کو بهی ضا ئع کيا اور اُس کو بهی ضائع وبربادکردیاہے۔ اے الله ہم نے اپنے جد ابراہيم اور اپنی جدہ جناب ہاجرہ کی جس ميراث کو ضائع وبرباد کر دیا اس پر تجه سے مدد چا ہتے ہيں ۔ہم کو ان کے خا ندان ميں قراردے لہٰذااے پروردگار اس ميراث کی بازیابی کے سلسلہ ميں ہماری مدد فر ما ،جو ہم نے ضا ئع کردی ہے اور ہم کو ان کے پيرووںميں قرار دے اور پروردگارا ہم کو اس گهر سے اولاد ابراہيم اور اولاد عمران سے مت نکالنا ۔
( اِنَّ اللهَ اصطَْ فٰی آدَمَ وَنُوحْاًوَآلَ اِبرَْاهِيمَْ وَآلَ عِمرَْانَ عَلَی العَْالَمِينَْ ذُرِّیَةً بَعضُْهَامِن ( بَعضٍْ وَاللهُ سَمِيعٌْ عَلِيمٌْ ) (١ “الله نے آدم نوح اور آل ابراہيم اور آل عمران کو منتخب کرليا ہے یہ ایک نسل ہے جس ميں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور الله سب کی سننے والا اور جا ننے والا ہے ”
( رَبَّنَاوَاجعَْلنَْامُسلِْمَينِْ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَااُمَّةً مُسلِْمَةً وَاَرِنَامَنَاسَکِنَاوَتُب عَلَينَْااِنَّکَ اَنتَْ ( التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ) ( ٢)
“پرور دگار ہم دونوںکو اپنا مسلمان اور فر ماں بر دار قرار دیدے اور ہما ری اولا د ميں بهی ایک فر مانبر دار پيدا کر ۔ہميں ہما رے منا سک دکهلا دے اور ہما ری تو بہ قبول فر ما کہ تو بہترین تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے ” جناب اسما عيل کی مادر گرامی نے اس دن اور اس وادی ميں تمام اسباب خيراخذ کئے
____________________
١۔سورئہ آل عمران آیت/ ٣٣ ۔ ٣۴ ۔
٢۔سورئہ بقر ہ آیت ١٢٨ ۔
جن کو سعی ،دعا اور حاجت کہاجاتاہے ۔
بيشک ہماری اس مادر گرامی نے پانی کی تلاش ميں سعی کی کبهی آپ صفا پہا ڑی پر پانی کی تلاش ميں جاتيں اور مروہ پہاڑی پرپانی کی تلاش ميں جا تيںخداوند عالم اپنے بندوںکی سعی اور عمل کو دوست رکهتا ہے اور اس نے انهيں رزق کی اہم شرطيں قراردیا ہے۔
ليکن شرط یہ ہے کہ اس طرح سعی کرے کہ خدا کی یاد ميں منہک ہو جائے اور اسی حالت ميں خدا سے لولگائے ،دعا کر ے ، تاریخ انسانيت ميں ایسی مثاليں بہت ہی کم نظرآتی ہيں ۔
سعی و کو شش خدا وند عالم کی راہ ميں رکا وٹ نہيں بنتی اور انسان کو اس سے الگ نہيں کر دیتی اور صرف خداوند عالم سے وابستگی بهی انسان کی سعی و کو شش کی راہ ميں حا ئل نہيں ہو تی جناب ہاجرہ کی پانی کےلئے کو شش ایک عورت کی قوت امکان کی آخری منزل تهی ۔
آج یہ ہمارے حج کے مناسک ميں سے ہے اور ہم ان دو نوںپہا ڑوں کے در ميان بغير کسی زحمت ،تکليف غم اور رنج کے سات چکر لگا تے ہيں سعی کر تے ہيں جس کی بنا پر ہم تهک جا تے ہيں مشقت ميں مبتلا ہو جا تے ہيں ۔
اس بزرگ بی بی نے اس سعی کی اس بے آب و گياہ وا دی ميںبنياد رکهی جب بچہ کی پيا س پور ے عروج پر تهی اور پياساشير خواراپنی آخری سا نسيں لے رہا تها ليکن اس کے با وجود پانی کی تلاش ميں اس سعی کو بڑی ہمت اور عزم وا ردہ کے ساته قائم کيا ۔
اس کے با وجوداس سعی کے دوران ایک منٹ بهی آپ خدا کی یا دسے غافل نہ ہو ئيں یہ پوری سعی یاد الٰہی کے ساته تهی نہ یہ یاد خدا ميں رکا وٹ تهی اور نہ سعی و کو شش ميں مانع! گو یا کوشش صرف خدا وند عالم سے وابستہ تهی اور خداوند عالم سے وابستگی سعی و کو شش کے ساته تهی ہم ميں سے اس پر کون قدرت رکه سکتا ہے ؟
ملا ئکہ اس روز اس منظر کو دیکهتے رہے اور تعجب کر تے ر ہے کہ آ پ نے الله سے کيسے لو لگائی؟ اور آپ نے پانی کی تلاش ميں اس طرح کيسے سعی کی ہے؟ اور آپ نے سعی اور الله سے اس طرح لو لگانے کو ایک ساته کيسے جمع کردیا ؟الله کی بار گاہ ميں کيسے تضرع کيا کہ وہ آپ کی دعا اور سعی مستجاب کر ے اور آپ کی سعی اور دعا سے الله رحمت نازل کرے اورالله کی رحمت اتنی قریب ہو جائے کہ آسمان کے طبق زمين پر اتر جائيں ۔
اس دن دعا اور عمل صالح زمين سے آسمان پر پہونچے اور رحمت کے ستون آسمان سے زمين پر نازل ہوئے اور ملا ئکہ نے اس بے مثال واحد منظر کا نظار ہ کياتو الله کی بار گاہ ميں تضرع کرنے لگے اور وہ چيز رونما ہوئی جو ان کے دل ودماغ ميںبهی نہيں آئی تهی کہ شير خوار بچہ کے قدموں کے نيچے سے صا ف وشفاف اورگوارا پانی کا چشمہ ابل پڑا۔
پا ک وپاکيزہ ہے خداوند عالم اور تمام تعریفيں اسی کے لئے ہيں اس نے ہاجرہ کی سعی اور دعا کو قبول فر مایا ليکن سعی کی بنا پر نہيں بلکہ اس شير خوار بچہ کے قدموں تلے جو اپنے ہاته پيروں کو اس دن کی پياس کی بنا پر پڻخ ر ہا تها تا کہ خداوند عالم ہاجرہ کو بتا سکے کہ خدا ہی نے ان کو یہ ڻهنڈا اور گوارا پانی اس تپتی دهوپ ميں عنایت فر مایا ہے خود ہاجرہ نے اپنی سعی کے ذریعہ اس کو پيدا نہيں کيا ہے اگر چہ ہا جرہ کےلئے سعی و کو شش کرنا ضروری تها تا کہ خداوند عالم ان کو زمزم عطا فر ما تا۔
الله نے (زمرم )کو شير خوار بچہ کے قدموں کے نيچے جاری کيا ۔اپنے بيت حرام کو اسی وادی ميں قائم کيا ،زمزم ميں برکت عطا کی اور ہميشہ آنے والی نسلوں کے تمام حاجيوں کےلئے اسے سيرابی کاذریعہ قراردیا ۔اس دعا اور سعی کا تاریخ ميں تذکرہ ثبت کردیا اس کو مناسک حج کی ایک نشانی قراردیا جس کو حجاج ہرسال انجام دیا کرتے ہيں جس کو مدت سے ان کی والد ہ محترم جناب ہاجرہ اور ان (انسانوں )کے پدر بزرگوار ابراہيم وا سما عيل نے ان کے لئے مہيا کيا ۔ اس وادی ميں اس دن الله کی رحمت نازل ہو نے کے تين اسباب ،حاجت ،سعی اور دعا جمع ہو ئے ۔حاجت یعنی ضعف اور فاقہ کا انتہا ئی درجہ ،سعی اپنے آخری و حوصلہ کے مطابق اور دعا انقطاع اوراضطرار کے اعتبار سے ہے ۔
ہم ہر سال حج ميں اس منظر کی یاد کو تاز ہ و زندہ کر تے ہيں جس کی حضرت اسما عيل کی والدہ نے ہم کو تعليم دی ہے کہ ہم الله کی رحمت کيسے طلب کر یں ،کيسے اس کے فضل ورحمت کو نازل کرائيں اور ہم اس کی معرفت کيسے حاصل کریں اور اس کی بارگاہ ميں کيسے پيش آئیں ۔
دعا کے آداب اور اس کی شرطيں
ہمارے بعض علماء نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ:راوی کہتاہے کہ ميں نے آپ کی خدمت ميں عرض کيا ؟الله کی کتاب ميں دوایسی آیات ہيں جن کی ميں تاویل نہيں جا نتا ؟ آپ نے فرما یا وہ کو نسی دو آیات ہيں ؟ ميں نے عرض کيا :
( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) (١) “مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا ” ميں دعا کرتا ہوں ليکن مستجاب نہيں ہوتی ۔آپ نے مجه سے فرمایا :تم نے الله پربہتان باندها ،کيا الله نے جو وعد ہ کيا ہے وہ اس کی مخالفت کرے گا ؟ ميں نے عرض کيا :نہيں
آپ نے فرما یا: پهر کيا مطلب ہے؟ ميں نے عرض کيا :ميں نہيں جانتاہوں۔
آپ نے فرمایادوسری آیت کو نسی ہے؟
(ميں نے عرض کياالله کایہ قول :( وَمَااَنفَْقتُْم مِن شَیءٍ فَهُوَیُخلِْفُهُ ) (٢)
____________________
١۔سورئہ مو من آیت ۶٠ ۔
٢۔سورئہ سبا آیت/ ٣٩ ۔
“ميں انفاق کر تا ہوں ليکن اس کا کوئی نتيجہ نہيں دیکهتا ہوں ” آپ نے فرمایا :کيا ہونا چاہئے ؟
ميں نے عرض کيا :ميں نہيں جانتا ۔
آپ نے فرمایا :ليکن ميں تم کو باخبر کرونگا انشاء الله، آگاہ ہو جاؤجو کچه خداوند عالم نے تم کو حکم دیا ہے اگر تم اس کی اطاعت کروگے اور اس کے بعد اس سے دعا کروگے تو وہ تمہاری دعا مستجاب کر ے گا ليکن اگر تم اس کے حکم کی مخالفت کروگے اور اس کی معصيت (نافرمانی )کر وگے تو وہ تمہارا کوئی جواب نہيں دے گا ۔
ليکن رہی تمہاری یہ بات کہ تم انفاق کر تے ہو اور اس کا کو ئی نتيجہ تمہارے سامنے نہيں آتا توآگاہ ہو جاؤ کہ اگر تم نے مال اس کے حلال طریقہ سے کسب کيا پهر اس کو اسی کے حق ميں خرچ کردیا ہے تو کسی بند ے نے کوئی درہم خرچ نہيں کيا مگر یہ کہ الله نے اس کو اس کابدلہ عطا کيا اگر تم اس کو دعا کے ذریعہ پکارو گے تو وہ تمہاری دعا ضرور مستجاب کر ےگا اگر چہ تم نے گناہ ہی کيوں نہ کيا ہو ۔
ميں نے عرض کيا :جہت دعا سے کيا مراد ہے ؟آپ نے فرمایا :جب تم نے فریضہ اداکيا تو تم نے الله کی تمجيد وتعریف وتعظيم کی اور جتنی تم ميں قدرت تهی تم نے اس کی مدح کی اور جتنا ممکن ہو نبی پر زیادہ صلوات بهيجتے رہو،ان کی تبليغ رسالت کی گواہی دو ،اپنے اوپر نا زل ہو نے والی مصيبتوں اور ملنے والی نعمتوں کی بنا پرنبی پر درود بهيجو ،اپنے پاس اس کی نعمتوں کا تذکرہ کيا ،اور جتنا تم سے ہو سکا تم نے اس پر الله کی حمد وثنا کی اور اس کا شکر ادا کيا ،پهر ایک ایک کر کے اپنے تمام گنا ہوں کا اعترف واقرار کيا ، یا ان ميں سے جو گناہ تمہار ے یا د آگئے اس کا اقرار کيا ،اور جو مخفی رہ گئے ان کا مجمل طور پر اقرار کيا ،پس تم نے تمام گناہوں کی الله سے توبہ کی اور یہ نيت کی کہ اسکے بعد پهر گناہ نہيں کرونگا ،اور ميں الله سے ندامت ،صدق نيت اور خوف ورجا ء سے استغفار کرتا ہوں ،اور اس طرح کہو :
اللّهمّ انّي اعتذراليک مِن ذنوبي واستغفرک واتوب اليک فاعني علیٰ طاعتک ووفقنی لمااوجبت عليَّ من کلّ مایُرضيک،فاني لم اراحداًبلغ شيئاًمِن طاعتک الابنعمتک عليه قبل طاعتک،فانعم عليّ بنعمة انال بها رضوانک والجنّة ( ١)
“پروردگا ر ميں اپنے گناہوں کی تجه سے معذرت چاہتاہوں ،تجه سے استغفار کرتاہوں اور توبہ کرتاہوں ،اپنی طاعت پر ميری مدد کر ،جن چيزوں سے تو راضی ہوتا ہے اور وہ تونے مجه پر واجب کی ہيں مجهے ان کے ادا کرنے کی توفيق عطا کر ،ميں نے کسی شخص کو نہيں دیکها کہ اس کے اطاعت کر نے سے پہلے تيری نعمتيں اس کو عطا ہو گئيں پس مجه پر وہ نعمتيں نازل کر جن کے ذریعہ ميں تيری رضا اور جنت تک پہنچ جاؤں ،،
اس کے بعد سوال کروہم اميد کرتے ہيں تم نا مراد نہيں رہو گے انشاء الله ۔ آداب دعا کے سلسلہ ميں حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے:
احفظ آداب الدعاء،وانظرمَن تدعو،وکيف تدعو،ولماذا تدعو،وحقق عظمةالله وکبریائه،وعاین فی قلبک علمه بمافي ضميرک واطّلاعه علیٰ سرّک،ومایکن فيه من الحق والباطل،واعرف طرق نجاتک وهلاکک کی لاتدعواللهبشي ء فيه هلاکک وانت تظن فيه نجاتک قال الله عزوجل: وَیَدعُْ الِان سْٰانُ بِالشَّرِّدُ عٰاء هُ بِالخَْيرِْ وَ اٰ کنَ الِان سْٰانُ عَجُولاً (٢)
وتفکّرماذاتسال،ولماذاتسال
والدعاء استجابةالکل منک للحق،وتذویب المهجةفي مشاهدةالربّ،وترک الاختيارجميعاً،وتسليم الامورکلهاظاهراًوباطناًالی الله
____________________
١۔بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣١٩ ،فلاح السائل صفحہ ٣٨ ۔ ٣٩ ،عدة الداعی صفحہ ١۶ ۔
٢۔سورئہ اسراء آیت ١١ ۔
فان لم تات بشروط الدعاء فلاتنتظرالاجابة،فانّه یعلم السرّ واخفیٰ،فلعلک تدعوبشي ء قد علم من سرّک خلاف ذلک ( ١)
آداب دعا کی حفاظت کرو ،یہ دیکهو کہ کس سے مانگ رہے ہو ،کس طرح مانگ رہے ہو اور کيوں مانگ رہے ہو ، خداوند عالم کی عظمت و بزر گی پر نظر رکهوجو کچه تمہار ے دلوں ميں علم ہے اور جن رازوں سے تم واقف ہو اسکے ذریعہ اپنے دل کا معائنہ کر و اور یہ دیکهو کہ کس ميں ہلا کت ہے اور کس ميں نجات ہے تا کہ ہلاکت کا مطالبہ نہ کر بيڻهو ، اپنی نجات اور ہلاکت کے راستوںکو پہچانو کہ کہيں تم ایسی دعا نہ کر بيڻهو جس ميں تمہاری ہلاکت ہورہی ہو اور تم اس سے اپنی نجات کا گمان کر رہے ہو ۔
اورخداوند عالم فرماتا ہے :
( وَیَدَعُ الاِْنسَْانُ بِالشَّرِّدُعَاءَ هُ بِالخَْيرِْ وَکَانَ الاِْنسَْانُ عَجُولْاً ) (٢ ( “اور انسان کبهی کبهی اپنے حق ميں بهلا ئی کی طرح برا ئی کی دعا ما نگنے لگتا ہے کہ انسان بہت جلد باز واقع ہو ا ہے ” جو کچه مانگ رہے ہو اس کے متعلق اور کيوں مانگ رہے ہو اس کے سلسلہ ميں فکر کرو ۔
دعا یعنی تمہارا حق کو مکمل طور پر قبول کرنا، تمہارا اپنے پروردگار کے دیدار ميں اپنے کوپگهلا دینااپنے تمام اختيارات خداوند عالم کے حوالے کردینا اور اپنے تمام ظاہری اور باطنی امور اسی کے حوالے کردینا۔
اگر تم دعا کو اس کی تمام شرطوں کے ساته انجام نہيں دو گے تو اس کے مستجاب ہو نے کا بهی انتظار نہ کرنا بيشک خداوند عالم تمام رازوں اور پوشيدہ چيزوں سے آگا ہ ہے ،شاید تم ایسی چيز کے بارے ميں دعا کر بيڻهو جسکو وہ تمہار ی بهلائی کے خلاف جانتا ہو ”
____________________
١)بحار الا نوا ر جلد : ٩٠ صفحہ ٣٢٢ ۔ )
٢)سورئہ اسراء آیت/ ١١ ۔ )
یہ روایت دعا کے مستجاب ہو نے اور دعا کے آداب کی شرطوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ہم اس فصل ميںسب سے پہلے دعا کے مستجا ب ہو نے کی شرطوں کو بيان کریں گے اس کے بعد اگر شروط و آداب کی تقسيم ميں بعض مشکلات سامنے نہ آئيں تو آداب دعا کے متعلق بحث کر یں گے۔ ہم اس فصل ميں سب سے پہلے دعا قبول ہونے کی شرطوں کے سلسلہ ميں بحث کرنا چا ہتے ہيں پهر آداب دعا کے سلسلہ ميں گفتگو کریں گے اگرچہ شرطوں کو آداب دعا سے جدا کرناہمارے لئے مشکل ہے لہٰذاہم نے شرائط و آداب کو ایک ساته بيان کرنا بہتر سمجها ہے ۔
ہم ذیل ميں سرسر ی طور پر شریعت اسلاميہ کی روشنی ميں دعا کے آداب اور اس کی شرطوں کو بيان کر رہے ہيں ۔
١۔الله کی معرفت
دعا مستجاب ہو نے کی شرطوں ميں سے سب سے اہم شرط الله کی معرفت ہے اور اس کی مطلق قدرت وسلطنت پر ایمان رکهنا کہ اس کا بندہ جو کچه اس سے چاہتا ہے وہ ضرور حاصل ہو گا ۔
در منثور ميں معا ذ بن جبل نے رسول الله (ص) سے یہ راویت نقل کی ہے : (لوعرفتم الله حق معرفته،لزالت لدعائکم الجبا ل (١ “اگر تم الله کی معرفت ا س کے حق کے ساته حاصل کرو تو تمہار ی دعا ئيں پہاڑوں کو بهی ان کی جگہ سے ہڻادےںگی ”
تفسير عياشی ميں خداوند عالم کے اس فرمان:( فليستجيبوالی وليومنوا ( بي ) ( ٢)
“لہٰذا مجه سے طلب قبوليت کریں اور مجه ہی پر اعتماد رکهيں ”کے متعلق امام جعفر صادق سے
____________________
١)الميزان جلد ٢ صفحہ ۴٣ ۔ )
٢)سورئہ بقرہ آیت/ ١٨۶ ۔ )
روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا :
(یعلمون انی اقدران اعطيهم مایسالونی ( ١)
“وہ (بند ے )جانتے ہيں کہ جو کچه وہ مجه سے سوال کریں گے ميں ان کووہ عطا کر دونگا”
طبر سی نے مجمع البيان ميں مندرجہ بالا آیت کی تفسير ميں امام جعفر (صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ : وليومنوابی( ٢)
“ اور مجه ہی پر اعتماد رکهيں ”
یعنی یہ بات با لکل متحقق ہے کہ جو کچه وہ سوال کریں گے ميں وہ ان کو عطا کر نے پر قادر ہوں:
(( لَعَلَّهُم یُرشِْدُونَْ ) ( ٣)
“شاید اس طرح راہ راست پر آجا ئيں ” امام جعفر صادق عليہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت فر ما ئی:
(( اَمَّن یُجِيبُْ المُْضطَْرَّاِذَادَعَاهُ ) (۴)
“بهلا وہ کو ن ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آوازدیتا ہے ”فسئل مالناندعو،ولایستجاب لنا؟فقال لانّکم تدعون مالاتعرفون و تسالون مالاتفهمون (۵)
____________________
١)الميزان جلد ٢صفحہ ۴٣ ۔ )
٢)سورئہ بقرہ آیت/ ١٨۶ ۔ )
٣)سورئہ بقرہ آیت ١٨۶ ۔ )
۴) سورہ نمل آیت/ ۶٢ ۔ )
۵)الصافی صفحہ ۵٧ (طبع حجریہ ۔ایران )سورئہ بقرہ آیت نمبر ٨۶ کی تفسير ميں ہے۔ )
آپ سے سوال کيا گيا :ہم دعا کرتے ہيںليکن ہماری دعا مستجاب نہيں ہو تی ،آپ نے فرما یا : تم ان چيزوں کی دعا کرتے ہو جن کی تمهيں معرفت نہيں ہے اور وہ سوالات کرتے ہو جن کو تمسمجهتے نہيں ہو ۔
اس حدیث ميں دعا مستجاب ہو نے کے باب ميں اس بات پر زور دیا گيا ہے کہ سائل کواپنے سوال اور جس سے سوال کر رہا ہے ان سے با خبر ہو نا چاہئے ۔
امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ رسول الله نے فرمایا کہ الله تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :جس نے مجه سے سوال کيا اور وہ یہ جانتا ہے کہ نفع و نقصان ميری طرف سے ہے توميں اس کی دعا قبول کرونگا
امام علی بن الحسين زین ا لعابدین عليہ ا لسلام کی مناجات ميں آیا ہے :
تمدّحت بالغناء عن خلقک وانت اهل الغنیٰ عنهم،ونسبتهم الی الفقروهم اهل الفقراليک،فمن حاول سدّ خلّته من عندک،ورام صرف الفقر عن نفسه بک،فقدطلب حاجته فی مظانهاواتٰی طلبته من وجهها (١)
“تو نے اپنی تعریف یہ کی ہے کہ تو مخلوقات سے بے نياز ہے اور اس بے نيازی کا اہل ہے اور تو نے مخلوقات کو فقر کی طرف نسبت دی ہے کہ وہ واقعا تيرے محتاج ہيں لہٰذا جو شخص بهی اپنی حا جت کو تيری بارگاہ سے پورا کرانا چا ہتا ہے اور اپنے نفس سے فقر کو تيرے ذریعہ دور کرنا چا ہتا ہے اُس نے حاجت کو اس کی منزل سے طلب کيا ہے اور مقصد تک صحيح رخ سے آیا ہے ” حضرت اميرالمو منين عليہ السلام منا جات ميں ارشاد فرما تے ہيں :سبحان الذی یتوکّل کلّ مومن عليه ویضطرکلّ جاحداليه،ولایستغني احدٌ الابفضل مالدیه (٢)
____________________
١)صحيفہ کاملہ سجادیہ دعا : ١٣ ۔ )
٢)بلد امين صفحہ ٩۶ ۔ )
“پاک و پاکيزہ ہے وہ ذات جس پر ہر مو من توکل کر تا ہے اور جس کے سامنے ہر انکار کر نے والا اپنے کو مضطر محسوس کر تا ہے اور کو ئی بهی اس کے فضل کے بغير بے نياز نہيں ہو سکتا ہے ”
حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام صحيفہ کا ملہ سجادیہ کی دعا نمبر ٧ميں فرما تے ہيں :
اَصبَْحنَْافِی قَبضَْتِکَ یَحوِْینَْامُلکُْکَ وَسُلطَْانُکَ وَتَضُمُّنَامَشِيَّتُکَ وَنَتَصَرَّفُ عَن اَمرِْکَ وَنَتَقَلَّبُ فِی تَدبِْيرِْکَ لَيسَْ لَنَامِنَ الاَْمرِْاِلَّامَاقَضَيتَْ وَمِنَ الخَْيرِْاِلَّامَااَعطَْيتَْ
“اور ہم بهی تيرے ہی قبضہ ميں ہيں تيرا اقتدار تيری سا ری سلطنت ہما رے سارے وجود پر حا وی ہے اور تيری مشيت ہميں اپنے دا من ميں لئے ہو ئے ہے ۔ہم تيرے ہی حکم سے تصرف کرتے ہيں اورتيری ہی تدبير سے کر وڻيں بدلتے ہيں ہمار ا حصہ معا ملا ت ميں اتنا ہی ہے جس کا تو نے فيصلہ کر دیا ہے اور خير بهی وہی ہے جو تو نے عطا کردیا ہے ”
اور صحيفہ علویہ ميں ہے:“مَن ذالذی یضارک ویغالبک اویمتنع منک او ینجومِن قدرکَ ”“کون تم کو نقصان پہنچاتا ہے اور کون تمہار امقابلہ کرتا ہے یا وہ تم سے اجتناب کرتا ہے یا تيری قدر و قضا سے فرار کر تا ہے ” یہ معرفت ہی تو ہے کہ دعا کرنے والایہ جا نتا ہے کہ الله اس سے قریب ہے ا ور ہر شئے اس سے بہت قریب ہے ،وہ اس(بندے)کے نفس ميں ہو نے والے وسواس سے بهی با خبر ہے وہ اس کے نفس سے اس کی شہ رگ حيات سے بهی زیا دہ قریب ہے وہ اس کے اور اس کے نفس کے در ميان حائل ہے خدا وند عالم کا ار (شادہے :( وَاِذَاسَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیبٌْ ) ( ١)
“اور اے پيغمبر اگر ميرے بندے تم سے ميرے بارے ميں سوال کریں تو ميں ان سے قریب ہوں ”
____________________
١)سورئہ بقرہ آیت/ ٨۶ ا۔ )
(( وَنَحنُْ اَقرَْبُ مِن حَبلِْ الوَْرِیدِْ ) ( ١)
“اور ہم تواس کی شہرگ سے بهی زیادہ قریب ہيں ”
(( اِنَّ اللهَّٰ یَحُولُْ بَينَْ المَْرءِْ وَقَلبِْهِ ) ( ٢)
“بيشک خدا انسان اور اس کے دل کے درميان حا ئل ہو جاتا ہے ” حضرت امير المو منين عليہ السلام دعا ميں ار شاد فرما تے ہيں :اتقرب اليک بسعة رحمتک التي وسعت کلّ شی ء وقد تریٰ یاربّ مکاني و تطلع علیٰ ضميري وتعلم سري ولایخفیٰ عليک امري وانت اقرب اليَّ من حبل الورید ( ٣)
“ميں تيری اس وسيع رحمت سے قریب ہو نا چا ہتا ہو ں جوہر چيز کا احا طہ کئے ہو ئے ہے ،تو ميرے مکان سے بخوبی آگاہ ہے ،ميرے ضميرسے با خبر ہے ،ميرے رازوں کو جانتا ہے ،ميرا کوئی امر تجه سے پو شيدہ نہيں اور تو مير ی شہ رگ حيات سے زیا دہ مجه سے قریب ہے ”
جمعہ کے دن کی دعا ميں آپ ارشاد فرماتے ہيں :
لااله الاالله المجيب لمن ناداه باخفض صوته،السميع لمن ناجاه لاغمض سرّه،الرووف بمن رجاه لتفریج همّه القریب ممّن دعاه لتنفيس کربه وغمّه ( ۴ “ کو ئی خدا نہيں ہے سوائے الله کے جو اپنے بندے کی ہلکی سی آواز کا بهی جواب دیتا ہے وہ
____________________
١)سورئہ ق آیت/ ۶ا۔ )
٢)سورئہ انفال آیت/ ٢۴ ۔ )
٣)البلد الامين صفحہ ٩۶ ۔ )
۴)البلد الامين صفحہ ٩٣ ۔ )
اس کی آواز کو بهی سنتا ہے جو اس کو اپنے راز کو پوشيدہ رکه کر اسے پکا رتا ہے اس شخص پر مہر بان ہے جواپنی مشکل دور کرنے ميں خداوند عالم سے لو لگاتا ہے اس شخص سے قریب ہے جو اپنے غم کے دورہونے کے سلسلہ ميں اس سے دعا کرتا ہے ”
امام عليہ السلام ایک خطبہ ميں ارشاد فرماتے ہيں :سبق في العلوّفلاشي ءٍ اعلامنه،وقرب فی الدنوفلا شئی اقرب منه،فلا استعلا وه باعده عن شي ءٍ من خلقه ولاقربه ساواهم فی المکان به ( ١)
“وہ اتنا بلند و بر تر ہے کہ کو ئی چيز اس سے بلند نہيں ہو سکتی اور اتنا قریب سے قریب تر ہے کہ کو ئی شے اس سے قریب نہيں ہے اور نہ اس کی بلندی نے اسے مخلوقات سے دور کردیا ہے اور نہ اس کے قرب نے اُسے دو سروں کی سطح پر لا کر اُن کے برابر کر دیا ہے ”
٢۔الله سے حسن ظن
الله سے حسن ظن رکهنا الله کی معرفت کے پہلوؤں ميں سے ایک پہلوہے ، الله اپنےبندو ںکو اتنا ہی عطا کر تاہے جتنا وہ الله سے حسن ظن رکهتے ہيں اور اس کی رحمت اور کرم کی وسعت کا یقين رکهتے ہيں ۔
حدیث قدسی ميں آیا ہے :
(اناعند ظن عبدي بيّ ،فلایظُنُّ بِيّ الا خيراً ( ٢)
“ميں اپنے سلسلہ ميں اپنے بندے کے ظن و گمان کے مطابق اس کی حا جت پوری کرتا ہوں اس سے قریب ہوں لہٰذا وہ ميرے بارے ميں خير کے علا وہ کو ئی ظن و گمان نہ رکهے ”
____________________
١)نہج البلا غہ خطبہ ۴٩ )
٢)الميزان جلد ٢صفحہ ٣٧ ۔ )
رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :ادعواالله وانتم موقنون بالاجابة
“الله سے دعا مستجاب ہو نے کے یقين کے ساته دعا کرو ” الله تبارک وتعالیٰ نے جناب مو سیٰ کو وحی کی : (مادعوتني ورجو تني فاني سامع لک ( ١)
“اے موسیٰ جو کچه مجه سے دعا کرتے ہو اور مجه سے اميد رکهتے ہو ميں اس کو تمہار ی خاطر سنتا ہوں ”
امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :
(اذا دعوت فاقبل بقلبک وظنّ حاجتک بالباب (٢ “جب دعا کرو تو اپنے دل کو خداوند عالم کی طرف متوجہ کرو اور اپنی حا جت کو قبوليت کے دروازے پر سمجهو ”
اور یہ بهی آپ ہی کا فرمان ہے : (فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم اسْتَيْقِن الاجابة ( ٣)
“جب دعا کرو تو اپنے دل کو خداوند عالم کی طرف متوجہ کرو اور اجابت کا یقين رکهو ”
اس کے با لمقابل الله کی رحمت اور دعا کے مستجاب ہو نے سے ما یوس ہو جانا ہے یہ الله کی رحمت سے دور ہو جانے کاایک سبب ہے کبهی کبهی انسان الله سے دعا کر تا ہے تو خداوند عالم اس کی دعا مستجاب کر نے ميں تا خير کرتا ہے اور اس وقت تک تا خير کرتا ہے جب تک وہ اس کی مصلحت کے مطابق
____________________
١)وسائل اشيعہ جلد ۴ صفحہ ١١٠۵ ،،حدیث ٨٧٠٣ ۔ )
٢)اصول کا فی صفحہ ۵١٩ ،اور وسائل اشيعہ جلد ۴ صفحہ ١١٠۵ حدیث ۔ ٨٧٠٠ )
٣)اصول کا فی باب الا قبال علی الد عا ۔ )
نہ ہو جائے ليکن انسان اس کی معرفت نہيں رکهتا اور الله اس کو جانتا ہے لہٰذا انسان الله سے سوء ظن کر بيڻهتا ہے اور الله کی رحمت سے نا اميد ہو جاتا ہے یہی نا اميد ی الله کی رحمت ميں مانع ہو تی ہے۔
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلا م سے مروی ہے :
“لایزال العبد بخير و رجاء ورحمة من اللّٰه عزّوجلّ،مالم یستعجل، فيقنط،ویترک الدعاء،وقيل له:کيف یستعجل ؟قال:یقول:قد دعوت منذکذا وکذاومااریٰ الاجابة ”( ١)
“انسان اس وقت تک نيکی کی اميد اور رحمت الٰہی ميں رہتا ہے جب تک وہ جلدی بازی نہ کرے اوربندہ جلدبازی کر نے کے نتيجہ ميں مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرناچهو ڑدیتا ہے ۔امام سے سوال کيا گيا بند ہ کی جلد بازی کرنے کا کيا مطلب ہے ؟ فرمایا وہ کہتا ہے :ميں یہ دعا مانگ رہا ہوں ليکن قبول نہيں ہو رہی ہے” احمد بن محمد بن ابی نصر سے مروی ہے کہ ميں نے ابو الحسن کی خدمت اقدس ميں عرض کيا:
“جُعلت فداک إني قد سالت اللّٰه الحاجة منذ کذا وکذا سنة،وقددخل قلبي من ابطائهاشيٴٌ،فقال:یااحمد،ایاک والشيطان ان یکون له عليک سبيل حتّیٰ یقنطکاخبرني عنک لوانّي قلت لک قولاکنت تثق به منيفقلت له :جعلت فداک،اذالم اثق بقولک فبمن اثق،وانت حجة اللّٰه علیٰ خلقه؟قال فکن باللّٰه اوثق،فإنّک علیٰ موعد من اللّٰه عزّوجلّاليس اللّٰه یقولوَاِذَاسَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیبٌْاُجِيبُْ دَعوَْةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (٢) وقال:لَاتَقنَْطُواْ مِنْ
____________________
١)اصول کا فی صفحہ ۵٢٧ )اور وسائل اشيعہ جلد ۴ صفحہ ١١٠٧ حدیث ٨٧١١ ۔ )
٢)سورئہ بقرہ آیت/ ٨۶ ا۔ )
رَّحمَْةِاللهِ (١) وقال:وَاللهُ یَعِدُکُم مَغفِْرَةً مِنهُْ وَفَضلْاً (٢) فکن باللّٰه اوثق منک بغيره ولاتجعلوافی انفسکم الاخيراًفانه لغفور لکم ”( ٣)
“ميری جان آپ پر فدا ہو ميں پرور دگار سے ایک سال تک اپنی فلاں فلاں حاجتيں مانگتا رہا اب مير ے دل ميں ان کے قبول نہ ہو نے کے سلسلہ ميں خدشہ آگيا ہے :آپ نے فرمایا :اے احمد شيطان سے بچو! اس لئے کہ وہ تمہيں مایوسی کے راستہ پر لگادے گا :مجهے ثبوت دو کہ اگر ميں تمہيں کچه بتاؤ ں تو تم اس پر اعتماد کروگے :ميں نے عرض کيا :ميری جان آپ پر فدا ہو اگر ميں آپ کے فرمان پر اعتماد نہيں کرونگا تو پهر کس کے فرمان پر اعتماد پر کرونگا اور آپ تو مخلوق پر الله کی حجت ہيں ؟آپ نے فرمایا :الله پر سب سے زیادہ اعتماد رکهو چونکہ خداوند عالم نے تم سے وعدہ کيا ہے ”کيا پر ورد گار عالم نے نہيں فرمایا :
( وَاِذَاسَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیبٌْاُجِيبُْ دَعوَْةَ الدَّاعِ اِذَادَعَانِ )
“اور اے پيغمبر اگر ميرے بندے تم سے ميرے بارے ميں سوال کریں تو ميں ان سے قریب ہوں پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بهی پکارتا ہے ” اور یہ فرمان :( لَاتَقنَْطُواْمِن رَّحمَْةِ اللهِ ) “رحمت خدا سے ما یوس نہ ہو نا ” اور یہ فرمان :( وَاللهُ یَعِدُکُم مَغفِْرَةً مِنهُْ وَفَضلْاً )
“اور خدا مغفرت اورفضل و احسان کا وعدہ کرتا ہے ” لہٰذا تم سب سے زیادہ الله پر اعتماد کرو اور اپنے نفس ميں خير کے علاوہ اور کچه نہ قرار دو بيشک الله تمہار ے لئے غفور ہے ۔
____________________
١)سورئہ زمر آیت/ ۵٣ ۔ )
٢)سورئہ بقرہ آیت/ ٢۶٨ ۔ )
٣)قرب الا سنا د صفحہ/ ١٧١ ۔ )
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :انّ العبد اذا عجل فقام لحاجته یعني انصرف عن الدعاء ولم یطل في الدعاء،والوقوف بين یدي اللّٰه طالباًللحاجة)یقول اللهٰ عزّوجلّ:امایعلم عبديانّي انااللّٰه الّذي اقضي الحوائج ( ١)
“بندہ جب جلد بازی کرتا ہے تو وہ اپنی حاجت کےلئے قيام (یعنی دعا کر نے سے منصرف ہو جاتا ہے زیادہ دیر تک دعا نہيں مانگتا اور الله کی بارگاہ ميںحاجت روائی کےلئے کهڑا ہو جاتا ہے ) کر ليتا ہے ۔ پرور دگار فرماتا ہے :کيا ميرا بندہ نہيں جانتا بيشک ميں خداہوں جو حاجتوں کو پورا کرنے والا ہوں ؟” ہشام بن سالم نے امام جعفرصادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ آپ نے فرمایا :
(کان بين قول اللّٰه عزّوجلّ : قَداُْجِيبَْت دَعوَْتُکُمَا (٢ خداوند عالم کے قول :قَداُْجِيبَْت دَعوَْتُکُمَا اور فرعون کی تنبيہ کے درميان (چاليس سال کا فاصلہ ہے”( ٣)
اسحاق بن عمار سے مروی ہے :قلت لابي عبداللّٰه عليه السلام:یستجاب للرجل الدعاء ثم یوخّر ؟ قال:نعم،عشرین سنة ( ۴)
“ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کی خدمت اقدس ميں عرض کيا : ميری جان آپ پر فدا ہوکيا بند ے کی دعا مستجاب ہو نے ميں تا خير ہو سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا :ہاں بيس سال تاخير ہو سکتی ہے ”
____________________
١)وسائل اشيعہ صفحہ / ١١٠۶ حدیث ٨٧٠٩ ۔ )
٢)سورئہ یونس آیت / ٨٨ ۔ )
٣)اصول کافی جلد ٢صفحہ/ ۵۶٢ ۔ )
۴)اصول کافی جلد ٢صفحہ/ ۵۶٢ ۔ )
٣۔ الله کی بار گاہ ميں اضطرار
دعا ميں انسان کےلئے الله کی پناہ مانگنا ضروری ہے چونکہ مضطر خداوند عالم کے علاوہ کسی کو اس لا ئق نہيں پاتا جس سے اميد لگا ئے اور اپنی حا جتوں کےلئے اس پر بهروسہ رکهے ۔
جب انسان الله اور الله کے علاوہ اس کے بندوں ميں سے کسی سے اپنی اميد لگا ئے رہتا ہے تو اس کو خدا وندعالم سے جس طرح لو لگا نی چاہئے تهی اس نے اس کا حق ادا نہيں کيا اور اپنے نفس ميں الله سے مضطر ہو نے کی حالت نہيں پيداکی حالانکہ دعا کے مستجاب ہو نے کی بنياد ی شرط وہی ہے ۔ حضرت امير المو منين عليہ السلام نے محمد بن حنفيہ کو وصيت کرتے وقت (فر مایا :وبالإخلاص یکون الخلاص فاذااشتدَالفزع فالی الله المفزع ( ١)
“انسان اخلاص کے ذریعہ ہی چهڻکارا حاصل کرتا ہے جب زیادہ شدت و اضطراب و گهبراہٹ ہو گی تو انسان الله سے خو ف کهائے گا ” مجبوری کی حالت ميں انسان کی تمام اميد یں ہر ایک سے منقطع ہو جاتی ہيں اور صرف الله کی بارگاہ ميں گڑگڑاتا ہے اور خدا کے علاوہ وہ کسی اور سے اميد نہيں رکهتا
روایت کی گئی ہے کہ الله نے حضرت عيسیٰ عليہ السلام پر وحی نازل کی :ادعني دعاء الحزین الغریق ليس له مغيث،یاعيسیٰ!سلنی ولا تسال (غيري،فيحسن منک الدعاء،ومنيّ الاجابة ( ٢)
“اے عيسیٰ جس کا کو ئی فریاد رس نہ ہو اس کی طرح گڑگڑاکر محزون ور نجيدہ ہو کر مجه سے دعا
____________________
١)وسائل اشيعہ جلد ۴ صفحہ/ ١١٢١ حدیث ٨٧۶۴ ۔ )
٢)وسائل اشيعہ جلد ۴ :صفحہ نمبر ١١٧۴ حدیث ٨٩۵٨ ۔ )
مانگو،ميرے علاوہ کسی اور سے دعا نہ ما نگو جومجه سے اچهی دعا مانگے گا تو ميں ضرور مستجاب کرونگا”
اميرالمو منين حضرت علی عليہ السلام الله سے مناجات کر تے ہو ئے فرما تے ہيں :الٰهي ليس تشبه مسالتي مسالة السائلين لاَنّ السائل اذا مُنع امتنع عن السوال،وانالاغناء بي عمّاسالتک علیٰ کل حال،الٰهي اِرضَ عني،فان لم ترضِ فاعف عني،فقدیعفوالسيدعن عبده وهوعنه غيرراضٍ الٰهي کيف ادعوک وانا انا؟وکيف ایْاس منک وانت انت ؟ ) ۱)
“پرور دگار ميرا مسئلہ سا ئلوں کے سوالوں جيسا کب ہو سکتا ہے چو نکہ سا ئل کو جب منع کر دیا جاتا ہے تو وہ سوال کر نے سے رک جاتا ہے اور ميں تجه سے بے نياز نہيں ہوں مجهے تو ہر حال ميں تجه سے سوال کرنا ہی ہے ،خدا یا مجه سے را ضی ہو جا ،اگر تو مجه سے راضی نہيں ہوتا تو مجه کو معاف فر ما دے، کيونکہ آقا اپنے غلام کو راضی نہ ہو نے کی صورت ميں بهی معاف کر دیتا ہے ،پرور دگار ميں تجه سے کيسے دعا کروں حا لانکہ ميں ميں ہوں ؟اور تجه سے کيسے ما یوس ہوں حا لانکہ تو تو ہے ؟”
اسی کو حالت اضطرار کہا جاتا ہے جس ميں بندہ الله کے علاوہ کسی اور کوپناہ گاہ نہيں سمجهتا اور اپنی حاجتوں کو الله کی بارگاہ ميں پيش کر تا ہے ۔ جيسا کہ ہم یہ بيان کر چکے ہيں کہ حالت اضطرار الله کی یاد ميں غرق ہو جانا ہے جب بندہ اس بات سے با خبر ہوتا ہے کہ وہ الله کی بار گاہ ميں اپنی حاجت پيش کر نے پر مضطر ہے اور الله کے علاوہ اس کا کو ئی اور نہيں ہے جس کی بارگاہ ميں وہ اپنی حاجت پيش کر سکے تو وہ اسی کی یاد ميں غرق ہو جاتا ہے اور الله کے علاوہ کسی اور سے لو نہيں لگا تا وہ الله کی ہی یاد ميں منہمک رہتا ہے اور اس کے علاوہ کسی کی یادميں منہمک نہيں ہو تا ہے ۔
____________________
١)البلد الامين صفحہ ٣١۶ ۔ )
حضرت امام زین العابد ین عليہ السلام دعا ميں فرما تے ہيں : (وَاجعَْلنِْی مِمَّن یَدعُْوکَْ مُخلِْصاً فِی الرَّخَاءِ دُعَاءُ المُْضطَْرِّینَْ لَکَ ( ١)
“مجهے ان لوگوں ميں قرار دے جو سکون کے لمحات ميں اس خلوص سے دعا کرتے ہيں جس طرح پریشانی کے اوقات ميں مضطر لوگ دعا کرتے ہيں ” ایک اور مقام پر آپ فرما تے ہيں :
اَللَّهُمَّ اِنِّی اَخلَْصتُْ بِاِنقِْطَاعِي اِلَيکَْ وَاَقبَْلتُْ بِکُلِّي عَلَيکَْ وَصَرَفتُْ وَجهِْي عَمَّن یَّحتَْاجُ اِل یٰ رِفدِْکَ وَقَلَبتُْ مَسالَتِي عَمَّن لَم یَستَْغنِْ عَن فَضلِْکَ وَرَایتُْ اَنَّ طَلَبَ المُْحتَْاجِ اِل یٰ المُْحتَْاجِ سَفهٌْ مِن رَایِْهِ وَضَلَّةٌ مِن عَقلِْهِ ( ٢)
“خدا یا ميں مکمل اخلاص کے ساته تيری طرف آرہا ہوں اور پور ے وجود کے ساته تيری طرف متوجہ ہوں ميں نے اپنا رخ ان تمام لوگوں سے مو ڑليا ہے جو خود ہی تيری عطا کے محتا ج ہيں اور اپنے سوال کو ان کی طرف سے ہڻا ليا ہے جو خود بهی تيرے فضل و کرم سے بے نياز نہيں ہيں اور ميں نے یہ اندازہ کرليا ہے کہ محتاج کا محتاج سے ما نگنا فکر کی نا دانی اور عقل کی گمرا ہی ہے ” ان باتو ں پر زور دینے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ انسان وہ مادی وسائل واسباب جن کو الله نے لو گوں کی حاجتوں کو پورا کر نے کا وسيلہ قرادیا ہے ان کا سہار انہ لے جبکہ الله نے ان کا سہارا لينے کا حکم دیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله نے ان اسباب کو اپنی مشيت وارادہ ميں دائمی قراردیا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلا م سے مروی ہے :
واذا اراد احدکم ان لایسال ربّه شيئاالّااعطاه فليياس من الناس کلهم،
____________________
١)صحيفہ کا ملہ سجادیہ دعا ٢٢ ۔ )
٢)صحيفہ کاملہ سجادیہ دعا ٢٨ ۔ )
ولایکون له رجاء الَّاعنداللهعزَّوجلَّ،فاِذَاعلِمَ الله ذٰلک من قلبه لم یساله شيئاالَّا اعطاه (١)
“جب تم ميں سے کو ئی ایک یہ ارادہ کرے کہ ان کا پروردگار ان کو عطا کرنے کے علا وہ ان سے کسی چيز کاسوال نہيں کر تا ہے اور وہ الله کے علا وہ کسی اور سے کو ئی اميد و آرزو نہيں رکهتا ہے ،جب پروردگار عالم اس کے دل کی اس حالت سے آگاہ ہو جاتا ہے تو وہ (خدا)اس (بندہ )کو عطا کرنے کے علا وہ کو ئی سوال نہيں کرتا ہے ”
۴ ۔انهيں راستوں سے جاناجو خدا نے بتائے ہيں
الله کی بارگاہ ميں دعا کر تے وقت فروتنی کر نا اور یہ فروتنی اُن ہی طریقوں سے کی جائے جن کا الله نے حکم دیا ہے ۔
روایت کی گئی ہے کہ بنی اسرائيل کے ایک شخص نے چاليس رات الله کی عبادت کی اور پهر الله سے دعا کی اور وہ مستجاب نہ ہو سکی تو اس نے عيسیٰ بن مریم عليہا السلام سے گلہ شکوہ کيا۔
حضرت عيسیٰ بن مریم عليہما السلام نے خداوند عالم سے اس کے متعلق سوال کيا تو پروردگار عالم نے فرمایا:
(“یاعيسیٰ !انّه دعاني،وفي قلبه شک منک ”(٢ “اے عيسیٰ اس نے مجه سے دعا کی ليکن اس کے دل ميں تمہار ے متعلق شک تها ”
____________________
١)تفسير صافی : ۵٨ ،طبع الحجریة ۔ایران ،اصول کا فی : ٣٨٢ ،وسا ئل الشيعہ جلد ۴ ) ١١٧۴ ،حدیث ٨٩۵۶ ۔ /
٢)کلمة الله حدیث ٣٧١ ۔ )
۵ ۔خداوند عالم کی طرف پوری قلبی توجہ
دعا قبول ہو نے کی سب سے اہم شرط یہی ہے بيشک دعا کی حقيقت یہی ہے کہ انسان اپنے دل کو خدا کے سامنے جهکا دے اگر انسان کا دل الله کے علاوہ دنيا کے مشاغل ميں سے کسی ایک کی طرف لگا ہوا ہو تو انسان دعا کی حقيقت کو محقق نہيں کرسکتا ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے: (انّ الله عزوجلّ لایقبل دعاءً بظهرقلب ساهٍ ( ١)
“بيشک خدا وند عالم بهلا دینے والے دل کی دعا قبول نہيں کرتا ” آپ کا ہی فرمان ہے :
(فاذادعوت اقبِل بقلبک ثم استيقن الاجابة ( ٢)
“جب تم دعا کرو تو پہلے دل کو خداوند عالم کی طرف متوجہ کرو پهر اس کے مستجاب ہو نے کا یقين کرو ” اور یہ بهی آ پ ہی کا فرمان ہے کہ (امير المو منين عليہ السلام )نے فرمایا : (لایقبل اللّٰه عزّوجلّ دعاء قلب لاهٍ ( ٣)
“خدالہو ولعب ميں مشغول دل کی دعا قبول نہيں کرتا ہے ” حدیث قدسی ميں آیا ہے :
(یاموسیٰ ادعني بالقلب النقي واللسان الصادق ( ۴)
“اے مو سی مجه سے پاک وصاف دل اور سچی زبان سے دعا کرو ” رسول الله (ص)نے حضرت علی عليہ السلام سے وصيت ميں فرمایا :
____________________
١)اصول کافی باب الاقبال علی الدعاء۔ )
٢)اصول کافی باب الاقبال علی الدعاء حدیث ١۔ )
٣)اصول کافی باب الاقبال علی الد عا ح ٢۔ )
۴)بحارلاانو ار جلد ٩٣ صفحہ ٣۴ ۔ )
لایقبل اللّٰهّ دُعاء قلب ساهٍ (١) “الله سہوکر نے والے دل کی دعا قبول نہيں کر تا ”
سليمان بن عمر وسے مروی ہے کہ ميں نے امام جعفرصادق عليہ السلام کو یہ فرما تے سنا ہے:
انّ الله عزوجلّ لایستجيب دعاء بظهرقلب ساه فاذا دعوت اقبِل بقلبک ثم استيقن الاجابة ( ٢)
“خدا وند عالم ظا ہری طور پر فراموش کار قلب کی دعا قبول نہيں کر تا ،پہلے دعا کو اپنے دل کے سامنے پيش کرو پهر اس کے قبول ہو نے کا یقين کرو ” اور یہ بهی امام جعفر صادق عليہ السلام کا فر مان ہے :
(انّ اللّٰه عزّوجلّ لَایستجيب دعاء بظهرقلب قاس ( ٣)
“بيشک خداوند عالم قسی القلب کی دعا قبول نہيں کرتا ”
دعا ميں الله کے سامنے اپنے دل کا جهکانا ضروری ہے اور اپنے کو الله کے حضور ميں پيش کرنا ہے لہوولعب ،سہو اور قساوت یہ تينوں چيزیں انسان کو الله کے سامنے دل جهکا نے سے روک دیتی ہيں
ہم ماثور ہ دعاؤں ميں پڑهتے ہيںکہ دعا کر نے والا خداکے سامنے دعا کی حالت ميں آئے اور ایسا نہ ہو کہ اس کے دل اور زبان الگ الگ چيزوں ميں مشغول ہو ں وہ زبان سے تو دعا کرر ہا ہو ليکن اس آدمی کا دل دنيا وی کا موں ميں مشغول ہو ۔ عارف فقيہ شيخ جودا ملکی تبریز ی اپنی کتاب (المراقبات )ميں تحریر کرتے ہيں :جان لو جب تک تمہاری روح اور تمہارا دل صفات دعا سے متصف نہ ہو اس وقت تک تمہاری دعا قبول نہيں ہو سکتی
____________________
١)من لا یحضرہ الفقيہ جلد ٢ صفحہ ٣٣٩ ۔ )
١١٠۵ ،حدیث ٨٧٠۵ ۔ / ٢)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
١١٠۶ ،حدیث ٨٧٠٧ ۔ / ٣)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
اور صفات دعا سے متصف ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ دعا تمہار ے راز،روح اور دل سے جاری ہو،
مثال کے طور پر جب تم یہ کہو “ارجوک لکل خير”ميں تجه سے ہرخير و اچهائی کی اميد رکهتا ہوں۔تو تم کو اپنے باطن،روح اور دل سے الله سے اميد کر نا چا ہئے اور ان ميں سے ہر ایک کے کچه آثار ہوتے ہيں اور ان آثار کا تمہارے اعمال سے اظہار ہونا چاہئے تو جس کے با طن اور حقيقت ميں آرزو محقق ہو جا ئے تو گویا وہ مجسم آرزو ہو جا ئے گا اور یہ جس کی روح ميں ہو تو گو یا اس کی زندگی آرزو کے ذریعہ ہوگی ،جو اپنے قلب کے ذریعہ آرزو مند ہو گا تو قصد و اختيار سے صادر ہو نے والے اس کے اعمال آرزو کے ہمراہ ہوں گے لہٰذا اس بات سے ڈرو کہ تمہارے معا ملات ميں کچه آرزو نہ پا ئی جا ئے اس کو اپنے اعمال ميں آزماؤ ۔یہ دیکهو کہ کيا تم کو اپنی حرکات ميں آرزو کا اثر یعنی طلب نظر آرہا ہے یا نہيں ؟کيا تم نے معصوم عليہ السلام کا قول نہيں سنا :“مَن رَجَاشَيئْاًطَلَبَہُ ”“جو شخص کسی چيز کی آرزو رکهتا ہے اس کو طلب کرتا ہے ”اور یہ حقيقت بهی ہے کيونکہ تم دنيوی امور ميں آرزو مند اہل دنيا کے حالات ميں اس مطلب کو دیکهو گے کہ جب وہ کسی شخص یا شئے سے کسی خير کی اميد کرتے ہيں تو وہ اپنی اميد کی مقدار بهر اس شخص سے اس کو طلب کرتے ہيں کيا آپ نہيں دیکهتے کہ تا جر اپنی تجارت سے جدا نہيں ہوتا ،ہنر مند اپنے ہنر سے چپکا رہتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تجارت اور پيشہ ميں بهلا ئی کی اميد کرتے ہيں اسی طرح ہر جماعت اپنی مراد کو اس چيز ميں تلاش کرتی ہے جس ميں ان کو اميد ہو تی ہے اور جب تک ان کو مل نہيں جاتا جدا نہيں ہو تے ،مگر جنت اور آخرت کا اميد وار اور فضل و کرامت الٰہی کا اميد وار ۔صفات کے یہ آثار ایسے نہيں ہيں جن کا خدا وند عالم نے حکم لگایا ہواور آپ روش الٰہی ميں کو ئی تبدیلی نہيں دیکهيں گے ليکن گڑ بڑی دعوے کی حقيقت سے مشتبہ ہونے ميں پيش آتی ہے ورنہ جب ذرّہ برابر اميد نظر آتی ہے تو اس کے پاس اتنی ہی طلب ہو تی ہے اور اسی طرح الیٰ آخر اس مطلب کو اخذ کر ليجئے ۔
آرزو ہی کی طرح تسبيح ،تہليل،تحميد ،تضرع ،استکانت ،خوف ،استغفار اور تو بہ جيسے مطالب دعا ہيں کيونکہ ان ميں سے ہر ایک کی کچه حقيقتيں اور دعوے ہيں چنا نچہ حقيقت کا اثر تخلف پذیر نہيں ہوتا ہے ۔
۶ ۔دل پر خضوع اور رقت طاری کرنا
جب انسان اپنی دعا مستجاب کر انے کا ارادہ کر ے تو اس کےلئے قلب پر رقت طاری کرنا ضروری ہے اور انسان اپنے دل پر رقت طاری کر نے کی کو شش کر ے اس لئے کہ جب دل پر رقت طاری ہو جاتی ہے تو وہ صاف وشفاف ہو جاتاہے، الله اور اس بند ے کے درميان سے مانع ہو نے والی چيزیں ہٹ جاتی ہيں اور بند ہ الله سے قریب ہو جاتاہے ۔
دعا اور سوال کر نے کے طریقوں ميں دل پر رقت طاری ہو ناموثر ہے اور روایات ميں دعا کر تے وقت اپنے کو اسکی بارگاہ ميں ذليل وخوار کر کے پيش کر نا وارد ہو اہے ۔ احمد بن فہدحلی نے کتاب (عدةالداعی )ميں نقل کيا ہے :
اَنّ رسول اللّٰه صلی اللّٰه عليه وآله وسلم اذاابتهل ودعاکان کمایستطعم المسکين (١)
“جب رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم گریہ وزاری فر ماتے تهے تو آپ کی وہی حالت ہو تی تهی جو مسکين کی کهاناطلب کرتے وقت ہو تی ہے ” روایت کی گئی ہے کہ جب الله نے جناب مو سیٰ عليہ السلام پروحی نازل فرمائی :الق کفيک ذُلّابين یديّ کفعل العُبيدالمستصرخ الی سيّده،فاذا فعلت ذالک رحمت،وانااکرم الاکرمين القادرین (٢)
____________________
١)عدة الداعی صفحہ / ١٣٩ ،والجالس للمفيد صفحہ/ ٢٢ ۔ )
٢)عد ةالد اعی صفحہ / ١٣٩ ۔ )
“مير ے سامنے تم اُس ذليل وخوار غلام کی طرح آؤ جو اپنے آقا کے سامنے بالکل ذليل وخوار ہو تا ہے اس لئے کہ جب وہ غلام ایسا کر تا ہے تو آقا اس پر رحم کر تا ہے اور ميں سب سے زیادہ اکر ام کرنے اور قدرت رکهنے والا ہوں ” محمد بن مسلم سے مروی ہے کہ امام محمد باقر عليہ السلام سے خداوند عالم کے اس فرمان :
(فَمَااستَْکَانُواْ لِرَبِّهِم وَمَایَتَضَرَّعُونَْ ( ١)
“پس وہ اپنی سر کشی پر اڑے رہيں گے اور گمراہ ہی ہو تے جا ئيں گے ”کے متعلق سوال کيا تو آپ نے فرمایا :
سالت اباجعفرعليہ السلام عن قول اللّٰہ عزّوجلّ:فَمَااستَْکَانُواْلِرَبِّهِم وَمَایَتَضَرَّعُونَْ فقال عليه السلام:الاستکانة هي الخضوع،والتضرع،هورفع اليدین والتضرع بهما ( ٢)
“ استکانت سے مراد خضوع اور تضرع سے مراد دونوں ہا تهوں کو بلند کر کے خدا کی بارگاہ ميں گڑگڑانا”
دعا ميں اس طرح کے طریقوں کا مقصد لو گوں کےلئے واضح نہيں ہے ،شک کرنے والے لوگ، لو گوں کو دعا کے طریقوں ميں شک کر نے والا بناد یتے ہيں ۔ہم دونوں ہاتهوں کو آسمان کی طرف اڻها کر کيوں دعا کر یں ؟ کيا الله آسمان کی طرف ہے جو ہم آسمان کی طرف ہاتهوں کو بلند کریں؟ ائمہ اہل بيت عليہم السلام نے ان کےلئے یہ بيان فرمادیا ہے کہ الله ہر جگہ ہے ليکن دعا کے اس طریقہ کو ہم نے الله کے سامنے خضوع وخشوع کرنے سے اخذ کيا ہے اور یہ علامت ونشانی دل پررقت طاری ہو نے اور سختی کو دور کر نے اور الله کے سامنے خضوع وخشوع پيش آنے ميں مو ثر ہے۔
____________________
١)سورہ مومنون آیت / ٧۶ ۔ )
٢)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ٣۴٨ ۔ )
طبر سی نے کتاب احتجاج ميں اباقرہ سے نقل کيا ہے کہ ميں نے امام رضا عليہ السلام کی خدمت ميں عرض کيا :
مابالکم اذا دعوتم رفعتم ایدیکم الیٰ السماء؟قال ابوالحسن عليه السلام: إِنّ اللّٰه استعبدخلقه بضروب من العبادةواستعبدخلقه عندالدعاء والطلب والتضرع ببسط الایدي ورفعهاالیٰ السماء لحال الاستکانة،علامة العبودیةوالتذلل له ( ١)
“کيا وجہ ہے کہ آپ دعا کرتے وقت ہاتهوں کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہيں ؟ابو الحسن عليہ السلام نے فرمایا :خداوند عالم نے بندوں کو عبادت کے کئی طریقہ بتلائے ہيں اور اس نے اپنی مخلوق کو دعا ،تضرع اور طلب کر تے وقت ہاتهوں کوآسمان کی طرف بلند کرکے خشوع کی حالت کی تعليم دی ہے اور یہ خدا کی عبودیت اور خشوع وخضوع کی علامت ہے ”
رقت طاری ہو نے کے اوقات ميںرحمت نازل ہوتی ہے ۔انسان الله سے دعا کر تے وقت اس وقت کو غنيمت شمار کر ے اس لئے کہ ان اوقات ميں خداوند عالم کی بے حساب رحمت نازل ہو تی ہے ،نہ یہ کہ خدا کی رحمت نازل ہو نے کا کوئی وقت محدود اور مخصوص ہے بلکہ الله کی رحمت کے استقبال کر نے کا وقت محدود اور اس کی خاص حالت ہے اور وہ حالت رقت کا طاری ہو نا ہے جب انسان کے دل پر رقت طاری ہو تی ہے تو اس کےلئے رحمت کا استقبال کر نا ممکن ہے ۔ رسول الله (ص) سے مروی ہے :
(اغتنمواالدعاء عند الرقة فإِنّها رحمة ( ٢)
“رقت طاری ہو نے کے وقت کو اپنے لئے غنيمت سمجهو اس لئے کہ یہ رحمت ہے ”
____________________
١١٠١ حدیث ٨۶٨٧ ۔ : ١)اصول کافی صفحہ ۵٢٢ ۔ وسائل اشيعہ جلد ۴ )
٢)بحار الانوا ر جلد ٩٣ صفحہ ٣١٣ ۔ )
ابو بصير حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کر تے ہيں کہ آپ نے فرمایا :
(اذا رقّ احدکم فليدع؛فاِنّ القلب لایرقّ حتیٰ یخلص (١ “جب تم ميں سے کسی ایک پر رقت طاری ہو جا ئے تو اسے دعا کر نا چاہئے اس لئے کہ جب تک دل ميں اخلاص نہ ہو اس وقت تک اس پر رقت طاری نہيں ہو سکتی ”
امام جعفر صادق عليہ السلام فر ماتے ہيں : (اذااقشعرّجلدک ودمعت عيناک،فدونک دونک فقد قصد قصدک ( ٢)
“جب تمہاری جلد کے رونگڻے کهڑے ہو جا ئيں اور تمہاری آنکهوں سے آنسو جاری ہو جا ئيں تو اس حالت کو ضرور غنيمت سمجهو کيونکہ تمہاری یاد کی برآوری نزدیک ہو چکی ہے ”
حدیث بہت دقيق ہے ،بيشک دعا مستجاب ہو نے کےلئے دعا کر نے والے کی حالت کا براہ راست رابط ہے ،جب دل پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور اس ميں خشوع آجاتا ہے تودعا کرنے والا دعا کے مستجا ب ہو نے کے بہت قریب ہو جاتا ہے اس کے بر خلاف جب دعا کرنے والا قسی القلب ہو جاتا ہے تو اس کی دعا مستجاب ہو نے سے بہت دور ہو جاتی ہے ۔
اسلامی نصوص ميں وارد ہو ا ہے کہ نفس کے انکسا ر اور دل پر رقت طاری ہو نے کے وقت سے استفادہ کر نا چا ہئے اس لئے کہ انسان اس دنيا کے مصائب کو الله سے دعا اور سوال کر کے آسان کر ليتا ہے ۔
یہی او قات انسان کو الله کی بارگاہ ميں جهکنے اور اس کی رحمت کا استقبال کرنے کےلئے زیادہ آمادہ کر تے ہيں ،اس کا راز یہ ہے کہ انسان خود پر طاری ہو نے وا لی رقت کے بغير خدا کے سا منے جهکنے اور رحمت کا استقبال کر نے کےلئے متمکن نہيں ہو تا ہے،جو انسان الله کی با رگاہ ميں جهکنا اور دعا کرنا چاہتا ہے اس کےلئے دعا ميں رقت کا طاری کرنا ضروری ہے ۔
____________________
١١٢٠ ۔حدیث صفحہ ٨٧۶١ ، اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵٢١ ۔ : ١)وسائل اشيعہ جلد ۴ )
٢)وسائل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١١۴١ ،حدیث/ ٨٧۶٣ ۔ )
اسحاق بن عمار سے مروی ہے :ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کی خدمت اقدس ميں عرض کيا :
ادعوافاشتهی البکاء،ولایجيئني،وربّماذکرت بعض مَنْ مات مِنْ اهلي فارقّ وابکي،فهل یجوزذالک؟فقال:نعم،فتذکّرفاذا رققت فابکِ،وادع ربک تبارک وتعالیٰ ( ١)
“ميں دعا کرتا ہوں اور رونا چاہتا ہوں ليکن مجهے رو نا نہيں آتا ليکن جب اپنے مرنے والے رشتہ داروں کو یاد کرتا ہوں تو گریہ کرنے لگتا ہوں کيا یہ جا ئز ہے امام عليہ السلام نے فر مایا :ہاں تم ان کو یاد کرو اور جب رقت پيدا ہو جائے تو گریہ کرو اور خداوند عالم سے دعا کرو ”
سعد بن یسارسے مروی ہے کہ ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کی خدمت ميں عرض کيا :
(إِنّی اتباکي في الدعاء،وليس لي بکاءقال:نعم ( ٢)
“ميں دعا کر تے وقت دوسر وں کو رُلا دیتا ہو ں ليکن خود نہيں روتا ۔ توآپ نے فرمایا :ہاںيعنی بہت اچهی بات ہے ”
ابو حمز ہ سے مروی ہے کہ امام جعفرصادق عليہ السلام نے ابو بصير سے فرمایا:
إِنْ خفت امراً یکون اوحاجة تریدها،فابداباللّٰه فمجّده،واثن عليه کما هواهله،وصلّ علیٰ النبي وسل حاجتک،وتباک إِنَّابي کان یقول:
____________________
١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ / ۵٢٣ ۔وسائل الشيعہ جلد ۴ صفح ١١٢٢ ١ حدیث ٨٧۶٧ ۔ )
٢)وسائل اشيعہ جلد ۴ صفحہ ١١٢٢ حدیث ٨٧۶ ١ ۔اصول کا فی جلد ٢ صفحہ ۵٢٣ ۔ )
(إِنّ اقرب مایکون العبد من الربّ عزّوجلّ وهوساجد باکٍ ( ١)
“اگر تم پر کو ئی امر (بات )مخفی ہو یا تمہار ی کو ئی حاجت ہو اور تم حاجت روائی چاہتے ہو تو تم اس کی ابتد ا ء الله کی تمجيد سے کرو ،خدا کی ایسی حمد وثنا کرو جس کا وہ اہل ہے ،نبی پر صلوات بهيجو اور حاجت پيش کرو اور گریہ وزاری کرو ۔۔۔بيشک ميرے والد بزرگو ار فرمایا کرتے تهے :بيشک پرور دگار عالم کے سب سے زیادہ نز دیک وہ شخص ہے جو گر یہ وزاری کی حالت ميں سجدہ ریز ہو ”
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سجدوں ميں یہ ذکر فرماتے تهے :سجدوجهي الذليل لوجهک العزیز،سجدوجهي البالي لوجهک الدائم الباقي،سجدوجهي الفقيرلوجهک الغنيسجدوجهي وسمعي وبصري ولحمي ودمي وجلدي وعظمي ومااقلت الارض منّي للهربّ العالمين ( ٢)
“ميں اپنے حقير چہرہ کے ذریعہ تيری مقتدر ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوا ميں نے اپنے بو سيدہ چہرہ کے ذریعہ تيری بے نياز ذات کے سامنے سجدہ کيا ميں نے اپنے چہرے ،کان ،آنکه ، گو شت ،خون ،کهال ،ہڈی اور ان چيزوں کے ذریعہ تمام جہان کے پالنے والے خدا کے سامنے سجدہ کيا جن کا بار زمين پر ہے ”
٧۔مشکلات اور راحت و آرام ميں ہميشہ دعا کرنا
اسلامی روایات ميں ہميشہ آسانی کے وقت دعا کر نے کو پریشانی کے وقت دعا کر نے پر مقدم رکهنے پر زور دیا گيا ہے ۔
حضرت رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :
____________________
١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ۵٢۴ ،و سائل الشيعہ جلد ۴:١١٢٢ ،حدیث ٨٧٧٠ ۔ )
٢)البلد الا مين صفحہ / ٣٣١ ۔ )
(تعرّف الی الله في الرخاء یعرفک في الشدّة ( ١)
“تم آسانی کے وقت الله کو پہچانو (الله کا تعارف کراؤ )وہ تمہارا سختی کے وقت خيال رکهے گا (یعنی تمہاری مشکل آسان کردیگا )”
حضرت امام صادق عليہ السلام سے مروی ہے :مَنْ تقدّم في الدعاء استجيب له اذا نزل البلاء،وقيل:صوت معروف، ولم یحجب عن السماء،ومن لم یتقدم فی الدعاء لم یستجيب له اذانزل البلاء، وقالت الملا ئکة :ذاالصوت لانعرفه ( ٢)
“جس شخص پر مصيبتيں پڑرہی ہوں اور پهر بهی دعا کو مقدم رکهے یعنی دعا کر تا رہے تو اسکی دعا مستجاب ہو تی ہے ،اور کہاگيا ہے کہ اسکی ایک مشخص ومعين آواز ہو تی ہے جس ميں آسمان بهی مانع نہيں ہو تے ہيں اور جو آسانی کے وقت دعا مقدم نہيں کر تا تو بلائيں نازل ہوتے وقت اس کی دعا قبول نہيں ہو تی اور ملائکہ کہتے ہيں :ہم اس آواز سے آشنا نہيں ہيں ”
حضرت امام صادق عليہ السلام سے مروی ہے : (إنّ الدعاء في الرخاء یستخرج الحوائج في البلاء ( ٣)
“آسانی کے وقت دعا کرنا مصيبتوں ميں حاجتوں کو روا کرتا ہے ” امام جعفر صادق عليہ السلام کا ہی فرمان ہے :
(مَنْ سرّ ه ان یُستجاب له في الشدّة فليکثرالدعاء فی الرخاء ( ۴ “ اگر کوئی سختيوں ميں اپنی دعا قبول کرانا چاہتا ہے تو اس کو آسانی کے اوقات ميں بہت زیادہ دعائيں کرناچاہئے”
____________________
۔ ١)وسائل الشيعہ جلد ۴:١٠٩٧ حدیث ٨۶٧٢ ۔ )
١٠٩۶ ،حدیث / ٨۶۶۴ ۔ / ٢)وسائل اشيعہ جلد ۴ )
١٠٩۶ ،حدیث / ٨۶۶۵ ۔ : ٣)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
۴)وسائل الشيعہ جلد ۴۔ ١٠٩۶ ،حدیث / ٨۶۶٠ ۔ )
اور آپ ہی کا فرمان ہے :کان جدي یقول:تقدّموا في الدعاء، فإنّ العبد اذاکان دعّاءً فنزل به البلاء فدعا، قيل: صوت معروف واذالم یکن دعّاءً، یقول: فنزل به البلاء، قيل:این کنت قبل اليوم ؟ (١)
“مير ے جد فرمایاکرتے تهے:دعا ميں پيش قدمی کرو بيشک جب بندہ بہت زیادہ دعا کر تا ہے اور اس پر مصيبتيں ڻوٹ پڑتی ہيں تو بهی دعا کر تا ہے ،تو اس کو ندا دی جا تی ہے یہ جا نی پہچا نی آواز ہے اور جب وہ زیادہ دعا نہيں کرتا اور اس پر بلائيں نازل ہو نے لگيں تو اس سے کہا جاتا ہے :اس سے پہلے تم کہاں تهے ؟”
یہ روایات بہت ہی دقيق و لطيف معنی کی طرف اشارہ کرتی ہيں بيشک دعا کا مطلب اپنے کو الله کی بار گاہ ميں جهکا دینا دعا کا پُر معنی اور دعا کو مستجاب ہونے کے نزدیک کرتا ہے اور جتنا زیادہ انسان الله کی بارگاہ ميں جهکتا ہے اتناہی اس کی دعا قبول ہو تی ہے ۔
جب انسان مکمل طور سے خدا کی بارگاہ ميںخلوص دل سے اپنے کو جهکا دے اور بالکل خدا ہی سے لو لگائے تو اس وقت دعا اور دعا مستجاب ہو نے کے در ميان کوئی رکاوٹ نہيں رہتی اور جتنا خدا کی بار گاہ ميں جهکے گا اتنا ہی اس کی دعا مستجاب ہو گی ،خداکی بارگاہ ميں جهکنا اور اس کے سامنے خشوع وخضوع سے پيش آناانسان کو زیادہ دعا کرنے کےلئے آما دہ کر تا ہے ۔
انسان کی زند گی کا کوئی بهی عمل ہو اس کی شان یہی ہو نی چاہئے اور انسان جتنی زیادہ دعا کر ے گا اتنا ہی اس کا دل الله کی بارگاہ ميں جهکے گا اور اس کا دل الله کی اطاعت کر نے کےلئے آمادہ ہو گا۔
____________________
١)وسائل الشيعہ جلد ۴۔ ١٠٩۶ ،حدیث / ٨۶۶٧ ۔ )
پس جب انسان پر مصيبت پڑے گی اور اس کا دل مصيبت نازل ہو تے وقت الله کا مطيع ہو گا اور فوری طور پر خدا کی طرف متوجہ ہوگا تواسکی دعا استجابت کے قریب ہوگی اور اس دن اسکی دعا اور استجابت کے درميان کوئی چيز حائل نہيں ہوگی۔
فضل بن عباس سے مروی ہے :قال لي رسول اللّٰه ص):احفظ اللّٰه یحفظک احفظ الله تجده امامکتعرّف الی اللّٰه في الرخاء یعرفک في الشدّة ( ١)
“مجه سے رسول الله (ص)نے فرمایا:الله کو یاد کرو وہ تمہاری حفاظت کرے گا،الله کو یاد کرو وہ تمہاری حفاظت کرے گا ،الله کو یاد کرو تو تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے تم آسانيوں ميں خدا کا تعارف کراؤ وہ تمہارا سختيوں ميں تعارف کرائيگا ” حضرت علی بن الحسين عليہما السلام سے مروی ہے :لم ارَ مثل التقدم في الدعاء،فانّ العبد ليس تحضره الاجابة في کلّ ساعة ( ٢)
“دعا کو مقدم کر نے سے زیادہ ميں کسی چيز کو نہيں سمجهتا اس لئے کہ بندہ کی دعا ہر وقت قبول نہيں ہوتی ہے”
جناب ابو ذر سے مروی ہے :قال رسول اللّٰه ص):یااباذرتعرّف الیٰ اللّٰه فی الرخاء یعرفک في الشّدة،فإذاسالت فاسال اللّٰه،واذا استعنت فاستعن باللّٰه (٣)
____________________
۔ ١)من لایحضر ہ الفقيہ جلد ٢۔صفحہ / ٣۵٨ ۔
(٢) ارشاد مفيدصفحہ / ٢٧٧ ۔ )
٣)وسائل اشيعہ جلد ۴صفحہ / ١٠٩٨ ،عدة الداعی لابن فہد حلی صفحہ / ١٢٧ ۔ )
“رسول خدا (ص)نے مجه سے فرمایا:اے ابوذر تم آسانيو ںميں الله کی معرفت حاصل کرو تو وہ تمہارا سختيوں ميں تعارف کرائيگا اور جب تمهيں کوئی سوال در پيش ہو تو الله سے سوال کرو اور جب کسی مددکی ضرورت پڑے تو الله سے مدد مانگو ”
حضرت ابو جعفر عليہ السلام سے مروی ہے:ینبغي للمومن انْ یکون دعائه في الرخاء نحواًمن دعائه في الشدّة، ليس اذااعطی فتر،فلا تملّ الدعاء فإنّه من الله عزّوجل بمکانَّ ( ١)
“مومن کو سختی اور آسانی دو نوں ميں ایک ہی طریقہ سے دعا کرنا چاہئے ایسا نہيں ہو نا چا ہئے کہ نعمت ملنے کی صورت ميں دعا ميں سستی پيدا ہو جا ئے لہٰذا دعا کرنے سے مت تهکو کيونکہ دعا کا خداوند عالم کے نزدیک درجہ ہے ”
٨۔ عہد خداکووفاکرے
تفسير قمی ميں حضرت امام جعفر صادق علسيہ السلام سے مروی ہے : إان الله تعالیٰ یقول:اُدْعُوْنِیْ اسْتَجِبْ لَکُمْ(٢) وإانّ ندعوہ فلایستجاب لنا
(فقال: لانکم لاتوفون بعهد الله وإان اللهيقول: ( افوا بهعدی اوفِ بعهدکم ) ٣ واللهلووفيتم للهلوفیٰ لکم ( ۴)
آپ سے سوال کيا گيا کہ خداوند عالم فر ما تا ہے :( اُدْعُوْنِیْ اسْتَجِبْ لَکُمْ ) “ تم مجه
____________________
١)وسائل اشيعہ جلد ۴صفحہ / ١١١١ حدیث/ ٨٧٢٩ ۔ )
٢)سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔ )
٣)سورئہ بقرہ آیت ۴٠ ۔ )
۴)تفسير الصافی :ص ۵٧ (ط حجریة)تفسير آیت ١٨۶ از سورئہ بقرہ۔ )
سے دعا کرو ميں پوری کرو نگا ”ہم دعا کرتے ہيں ليکن قبول نہيں ہو تی ہے ۔آپ نے فرمایا :تم الله کے عہد کو پورا نہيں کرتے ہو اور الله فرماتا ہے :
( اَوفُْواْبِعَهدِْی اُوفِ بِعَهدِْکُم )
“تم مير ے عہد کو پورا کرو ميں تمہار ے عہد کو پورا کرو نگا ”
٩۔ دعا اورعمل کا ساته
دعا قبول ہو نے کی شرطوں ميں سے ایک شرط یہ ہے کہ دعا عمل سے متصل ہونی چاہئے، بغير عمل کے دعا کسی کو فائدہ نہيں پہنچا تی ہے اور عمل دعا سے بے نياز نہيں کر سکتا ہے ۔
اس ميں دو باتيں ہيں:پہلی بات یہ ہے کہ:دعا عمل کے بغير نہيں ہو سکتی ہے
رسول خدا (ص) نے جناب ابوذر سے فرمایا :
یااباذرمثل الّذي یدعوبغيرعمل کمثل الذي یرمي بغير وتر (١) “اے ابوذر عمل کے بغير دعا کر نے والا اس تير چلانے والے شخص کے مانند ہے جو بغيرکمان کے تير پهنک رہا ہو ”
عمر بن یزید سے مروی ہے :ميں نے حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام کی خدمت اقدس ميں عرض کياکہ ایک شخص کہتا ہے :
لاقعدنّ فی بيتي،ولاصلينّ ولاصومنّ،ولاعبدنّ ربّي،فامّا رزقي فسياتيني،فقال:هذااحد الثلاثةالّذین لایستجاب لهم ( ٢)
“ميں اپنے گهر ميں بيڻهوں گا ،نماز پڑهو نگا ،روز ے رکهوں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت
____________________
١)وسا ئل الشيعہ کتاب الصلا ة۔ابواب دعا باب ٣٢ ح ٣۔ )
٢)وسائل الشيعہ جلد ١١ ۴:۶٠ ۔حدیث / ٨٩١٣ ۔ )
کرونگا اور مجهے بغير کام کئے رزق بهی ملے گا ” آپ نے فرمایا :یہ ان تين افراد ميں سے ہے جن کی دعا قبول نہيں ہوتی ” امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :
(الداعي بلاعمل کالرامي بلا وتر (١ “بغيرعمل دعا کر نے والا اس تير چلا نے والے کے مثل ہے جو بغير کمان کے تير چلا رہاہے”
آپ ہی کا فرمان ہے :ثلا ثة ترد عليهم دعوتهم : رجل جلس فی بيته وقال:یارب ارزقني،فيُقال له :الم اجعل لک سبيلاً الیٰ طلب الرزق ۔۔۔( ٢)
“تين طرح کے لوگوں کی دعا رد کردی جاتی ہے : ایک وہ شخص ہے جو اپنے گهر ميں بيڻه کر کہے :اے پروردگار مجهے رزق عطا کرتو اس کو جواب دیا جاتا ہے :کيا ميں نے تمہارے رزق طلب کر نے کےلئے کوئی راستہ معين نہيں کيا ہے۔۔۔ ”
اگر کوئی باپ اپنے بيڻے کی اصلاح اور ہدایت کےلئے خدا سے دعا کر ے ليکن وہ اس کی تربيت کا کوئی اہتمام نہ کرے تو اس کی دعا قبول نہيں ہو گی ،اور یہ دعا ان چيزوں ميں سے ہے جو اس کے مستجاب ہو نے ميں رکاوٹ ڈالتی ہے اسی طرح اگر کوئی مریض ڈاکڻرسے مراجعہ کئے بغير اپنے مرض سے چهڻکارے کی خاطر خدا سے دعا کرتا ہے اور دوا نہيں کهاتاہے اور شفاء کےلئے دوسری لازمی چيزوں کو بروئے کار نہيں لاتاہے تو یہ دعا کے مستجاب ہو نے ميں مانع ہے ۔
____________________
١)وسائل الشيعہ جلد ١١ ۴:٧۵ ۔حدیث ٨٩۶۵ ۔ )
١١٧۵ ،حدیث ۔ ٨٩۶۵ ۔ / ٢)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
دوسری بات یہ ہے کہ عمل دعا سے بے نياز نہيں ہے عمل کے بغير دعا نہيں ہو سکتی ۔
حضرت رسول خدا (ص) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :یدخل الجنة رجلان کانایعملان عملاًواحداً،فيریٰ احدهماصاحبه فوقه فيقول:یارب بم اعطيته وکان عملناواحداً ؟ فيقول اللّٰه تعالیٰ:سالني ولم تسالني ثم قال:اسالوا اللّٰه من فضله،واجزلوا فانّه لایتعاظمه شي ء( ١)
“جنت ميں ایسے دومرد داخل ہو ںگے جن کا عمل ایک ہی ہو گا ليکن ان ميں ایک اپنے کو دوسرے سے برتر دیکهے گا تو ایک کہے گا : پروردگار اس کو مجه سے زیادہ کيوں عطا کيا جبکہ ہم دونو ں نے ایک ہی عمل انجام دیا تها ۔
پروردگار عالم جواب دیگا :اُس نے مجه سے سوال کيا ،ليکن تم نے سوال نہيں کيا ۔
پهر فرمایا :الله کے فضل سے سوال کرو اور اسکے علاوہ کوئی اور چيز اسکے نزدیک بڑی نہيں ہے ” یہ بهی رسول خدا (ص) کا ہی فرمان ہے : إنّ لله تعالیٰ عباداً یعملون فيعطيهم،وآخرین یسالون صادقين فيعطيهم ثم یجمعهم في الجنة،فيقول الذین عملوا:ربّنا عملنا فاعطيتنا،فبمااعطيت هٰولاء؟ فيقول:هٰولاء عبادي اعطيتکم اجورکم ولم التکم من اعمالکم شيئاً،و سالني هٰولاء فاعطيتهم واغنيتهم،وهوفضلي اوتيه مَنْ اشاء ( ٢)
“بيشک جن بندوں نے اس کی عبادت عمل کے ساته کی خداوند عالم نے ان کو عطا کيا ،اور
____________________
۔ ١)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ نمبر ١٠٨۴ ۔حدیث/ ٨۶٠٨ ۔ )
٢)وسائل الشيعہ ۴:١٠٨۴ ۔حدیث/ ٨۶٠٩ ۔ )
دوسروں نے صدق دل سے سوال کياتو ان کو بهی عطا کيا پهر ان سب کو اس نے جنت ميں داخل کر دیا تو عمل کرنے والے کہيں گے :پروردگار ہم نے عمل کيا تو تو نے ہم کو عطا کيا ليکن تو نے ان کو کيوں عطا کيا، جبکہ انهوں نے عمل نہيں کيا ؟ پروردگار کہے گا :اے مير ے بندو!ميں نے تم کو تمہارے عمل کی اجرت عطاکی ،ليکن رہا تمہارا یہ سوال کہ ان کو کيوں عطا کيا ان کو غنی کيوں کيا ؟وہ تو ميرا فضل ہے جس پر ہو جائے ”
١٠ ۔ سنت الٰہی ميں کوئی تبدیلی نہيں ہو تی
دعا کا مطلب فطرت ،کائنات ،معاشرہ اور تاریخ ميں شگاف ڈا لنا نہيں ہے اور الله کی سنتوں ميں کوئی تغير وتبدل نہيں ہو سکتا۔
دعا کرنے والے کو دعا ميں ان چيزوں کا سوال نہيں کر نا چاہيے جو معاشرہ ے ،تاریخ اور یا عالم فطرت وکائنا ت یا شریعت الٰہيہ کے خلاف ہو ں۔ حضرت امير المو منين عليہ السلام سے سوال کيا گيا :
ايّدعوة اضلّ ؟ قال:الداعي بمالایکون ( ١)
“کو ن سی دعا سب سے زیادہ گمر اہ کرنے والی ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہ ہو نے والی چيز کے بارے ميں سوال کرنا ” حضرت امير المو منين عليہ السلام سے مروی ہے :
ویاصاحب الدعا لاتسال مالایکون ومالایحل “اے دعا کر نے والے جو چيز نہ ہو نے والی ہو اور جو چيز محال ہو اس کے بار ے ميں سوال نہ کر۔
____________________
١)بحار انوار جلد ٩٣ ۔صفحہ / ٣٢۴ ۔ )
اورمالایکون جو چيز نہ ہو نے والی ہو یعنی معا شرے، تاریخ یا فطرت ،کا ئنات ميں سنت الہٰی ميں تغير وتبد ل کی دعاکرنا ۔
اورمالایحل حلال نہ ہوں ،یعنی انسانی حيات ميں الله کے نظام شریعت کی مخالفت کرنا ۔اس سلسلہ ميں خدا وند عالم فرماتا ہے :
(اِن تَستَْغفِْرلَْهُم سَبعِْينَْ مَرَّةً فَلَن یَّغفِْرَاللهُ لَهُم (١ “اگر ستر مر تبہ بهی استغفار کریں گے تو خدا انهيں بخشنے والا نہيں ہے ”
١١ ۔ گنا ہوں سے اجتناب
دعا مستجاب ہو نے کی ایک شرط گنا ہوں سے اجتناب اور ان کی طرف توجہ کرنا ہے ،بيشک دعاکا جو ہر اپنے کو خدا کی بارگاہ ميں پيش کرنا ہے ،کيسے انسان الله کی معصيت کرنے کی تمرین کرتا ہے اس کے امر اور حکم سے رو گردانی کرتا ہے ،الله کی بارگاہ ميں توبہ نہيں کرتا اور اپنے کو الله کی بارگاہ ميں کيسے پيش کرے ؟
محمد بن مسلم امام محمد باقر عليہ السلام سے نقل کر تے ہيں :انّ العبد یسال اللّٰه تعالیٰ الحاجة ،فيکون من شانه قضاوهاالیٰ اجلٍ قریب،اوالیٰ وقت بطي ءٍ،فيذنب العبد ذنباً،فيقول اللّٰه تعالیٰ للملک :لاتقض حاجته،واحرمه ایّاها،فانّه تعرّض لسخطي واستوجب الحرمان منّي ( ٢)
“جب بند ہ الله سے اپنی حاجت طلب کرتا ہے توپر وردگار عالم کی شان یہ ہے کہ اس کی حاجت کو کچه مدت کے بعد پورا کر ے یا کچه تا خير سے پورا کرے تو بندہ گناہ کر نے لگتا ہے پروردگار عالم فرشتہ سے کہتا ہے :اس کی حاجت پوری نہ کرنا، اس کو محروم اور دور رکهنا وہ مجه سے سختی کے ساته پيش
____________________
١)سورئہ توبہ آیت/ ٨ ٠ ۔ )
٢)اصول کا فی جلد ٢صفحہ/ ۴۴٠ ۔ )
آیالہٰذا وہ مجه سے محروم ہو نے کا سبب بنا” حضرت رسول خدا (ص) سے مروی ہے :مرّموسیٰ برجل وهوساجد،فانصرف من حاجته وهوساجد،فقال عليه السلام :لوکانت حاجتک بيدي لقضيتها لک،فاوحیٰ اللّٰه اليه،یاموسیٰ لوسجد حتی ینقطع عنقه ماقبلته مااستجبت له)حتیٰ یتحوّل عمّا اکره الیٰ مااحبّ ( ١)
“ایک مرتبہ مو سیٰ عليہ السلام ایک سجدہ کر نے والے کے پاس سے گزر ے ،وہ جب سجدہ ميں اپنی حاجت طلب کر کے اڻها تو جناب مو سیٰ نے فرمایا :تم اپنی حاجت مجه سے بيان کرو ميں پورا کرونگا ،الله نے وحی نازل کی اے مو سیٰ یہ بندہ اگر اتنے سجدے کرے کہ اسکی گردن بهی سجدہ کی حالت ميں کٹ جائے تو بهی اس کی دعا مستجاب نہيں ہو گی جب تک وہ اس ناپسند گناہ کو ترک نہ کرے”
١٢ ۔ اجتماعی طور پر دعا کرنا اور مومنين کا آمين کہنا
اسلامی روایات ميں مومنين کے ایک ساته جمع ہو کر دعا کرنے پر بہت زور دیا گيا ہے :
مومنين کے الله کی بار گاہ ميں ایک ساته جمع ہو نے پر الله نے ہميشہ ان پر رحمت نازل کی ہے۔ مو منين نے اجتماع نہيں کيا اور الله ان کے اس اجتماع سے را ضی نہيں ہوا مگر یہ کہ ان کا اجتماع الله کی رحمت سے بہت زیادہ قریب ہے اور ان پر الله کی رحمت اور فضل کی منا زل ميں سے ہے ۔
ابن خالد سے مروی ہے کہ امام جعفرصادق عليہ السلام نے فرما یا :مامِنْ رهط اربعين رجلاً اجتمعوا ودعوااللّٰه عزّوجلّ فی امرالّا استجاب لهم،فان لم یکونوااربعين فاربعة یدعون اللّٰه عزّوجلّ عشرمرّات الّااستجاب اللّٰه لهم فانّ لم یکونوااربعة فواحد یدعوااللّٰه اربعين مرّة،فيستجيب اللّٰه العزیزالجبّار لهم (١)
____________________
١)عد ةالداعی صفحہ / ١٢۵ ۔ )
“ کوئی ایسا گروہ نہيں ہے کہ اگرچاليس آدمی جمع ہو کر الله سے دعا کریں تو خدا ان کی دعا قبول کرے گا اگر چاليس آدمی جمع نہ ہو سکيں تو چار آدمی جمع ہو کر دس مر تبہ دعا کریں تو خدا ان کی دعا مستجاب کرے گا ،اور اگر چارآدمی جمع نہ ہو سکيں تو ایک آدمی چاليس مرتبہ دعا کرے تو خداوند عزیز و جباراس کی دعا قبول کرے گا ”
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مر وی ہے : (کان ابي اذا حزنه امر دعاالنساء والصبيان ثمّ دعا وامّنوا ( ٢)
“ميرے پدر بزرگوار جب محزون ہو تے تو مجهے اور عورتوں کو جمع کرتے پهر دعا کرتے اور ان سے آمين کہلواتے ”
١٣ ۔آزادانہ طورپر ،کسی تکلف کے بغير د عا
انسان کےلئے خدا وند عالم سے آزادانہ اور کسی تکلف کے بغير دعا کرناسب سے بہترین چيز ہے بيشک دعا کی حقيقت بهی یہی ہے کہ وہ الله سے سوال کرتے وقت گریہ و زاری کرے گڑگڑاکر دعا ما نگے کسی طرح کاکوئی تکلف نہ کرے روایات ميں وارد ہو نے والی دعا ئيں پڑهے اور دعا کرنے والا کسی طرح بهی دعا کر تے وقت اس حالت کو نہ چهو ڑے اس لئے کہ انسان الله سے گڑاگڑا گر دعا کر تے وقت اپنے نفس ميں اس چيز کا احساس کرتا ہے جس کا وہ روایات ميں وارد ہو نے والی دعا ؤں کو پڑهتے وقت احساس نہيں کر تے ہيں۔
اس لئے دعا کر تے وقت انسان کو اپنے نفس ميں اس حالت کا خيال رکهنا چاہئے کہ الله سے گڑاگڑا کر اور گریہ وزار ی کر کے دعا مانگنے ميں کسی تکلف سے کام نہ لے ۔کبهی کبهی ائمہ معصو مين
____________________
١)اصول کافی جلد ٢صفحہ / ۵٢۵ ۔ )
٢)اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵٣۵ ،وسائل الشيعہ جلد ۴:١١۴۴ حدیث/ ٨٨۶٣ ۔ )
دعا کرنے والے کوبے تکلف ہو کر دعا کرنے کی تلقين فرماتے تهے روایات ميں وارد ہو نے والی دعاؤں کے ذریعہ نہيں، اسلئے کہ کہيں ماثور ہ دعاؤں کے ذریعہ دل کی یہ بے تکلفی ختم نہ ہو جائے ۔
زرارہ سے مروی ہے کہ ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کی خدمت ميں عرض کيا :
(علّمنی دعاءً فقال :انّ افضل الدعاء ماجریٰ علیٰ لسانک (١ “مجه کو دعا کی تعليم دیجئے۔
آپ نے فرمایا :سب سے افضل وہ دعا ہے جو تمہار ی زبان پرجاری ہو تی ہے”
١ ۴ ۔نفس کو دعا، حمد وثنا ئے الٰہی،استغفار اور صلوات پڑهنے کےلئے آمادہ کرنا
دعا یعنی خودکو الله کی بار گاہ ميں پيش کر نا اور خود کو اس کی بارگاہ ميں پيش کر نے کےلئے حضور نفس کا ہو نا ضروری ہے ۔حضور نفس کی ابتد ا ء حمد وثنا ئے الٰہی سے کرے ،اس کی نعمتوں اور فضل وکرم کا شکرادا کرے ،الله کے حضور ميں اپنے گناہوں سے استغفار کر ے ،رسول اور اہل بيت رسول پر صلوات بهيجے دعا کےلئے حضور نفس کے یہی طریقے ہيں اور انسان اپنے خدا کی بارگاہ ميں حاضر کر نے اور اس سے سوال کرنے کيلئے اپنے نفس کو آمادہ کرے ،اکثر دعاؤں کے مقدمہ ميں حمدوثنا ئے الٰہی ،شکر، استغفار اور محمد وآل محمد پر صلوات بهيجنا وارد ہو ا ہے ۔
عيص بن قاسم سے مرو ی ہے کہ ابو عبد الله عليہ السلام نے فرمایا : جب بهی تم ميں سے کوئی ایک خدا سے حا جت طلب کرنا چاہے تو اس کو سب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد وثنا کرنا چاہئے جب تم اپنی حاجتيں خدا سے طلب کرو تو الله کی تعریف و تمجيد کرو،اور اس کی حمد و ثنا کرتے ہو ئے اس طرح کہو : یااجود مَنْ اعطیٰ،ویاخيرمن سُئل ویاارحم مَنْ استُرحم،یااحد،
____________________
١)الامان من الاخطار لابن طاؤ س صفحہ ٣۔ )
یاصمد،یامن لم یلدولم یولد،ولم یکن له کفوااحد،یامن لم یتخذصاحبةولاولداً یامن یفعل مایشاء،ویُحکم مایریدُویقضي مااُحب،یامن یحول بين المرء وقلبه،یامن هوبالمنظرالاعلیٰ،یامن ليس کمثله شيء یاسميع یابصير ”
اور الله عزوجل کے اسماء کی زیا دہ تکرار کرو چونکہ خدا کے اسماء بہت ہيں اور محمد آل محمد پر صلوات بهيجو اور کہواللَّهم اوسع عليّ من رزقک الحلا ل ما اکفّ به وجهي،واودي به عنيعن )امانتي،واصل به رحمي،ویکون عونا لي في الحج والعمرة اور یہ بهی نقل کيا ہے کہ :
“انّ رجلاً دخل المسجد فصلّی رکعتين ثم سال اللّٰه عزّوجلّ وصلّی علی النبی ص)فقال رسول اللّٰه عجّل العبد ربه ،وجاء آخر فصلّیٰ رکعتين،ثم اثنیٰ علی اللّٰه عزّوجل،ّوصلّیٰ علیٰ النبي ص)،فقال رسول اللّٰه ص) سل تعط ( ١)
“ایک شخص مسجد ميں آیا اور اس نے دورکعت نماز پڑهنے کے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کی ،تو رسول الله (ص)نے فرمایا :اس نے اپنے رب کی عباد ت کرنے ميں جلد ی کی ہے :اور دوسرا شخص مسجد ميں آیا اس نے دورکعت نماز پڑهنے کے بعد خدا کی حمد وثنا کی ،نبی (ص)پر صلوات بهيجی تو رسول الله (ص) نے فرمایا :سوال کرو تا کہ تم کو عطا کيا جا ئے”
ابو کہمس نے حضرت امام جعفرصاد ق عليہ السلام سے نقل کيا ہے :دخل رجل المسجد فابتدا قبل الثناء علی اللّٰه والصّلاة علی النبي فقال النبيعجّل العبد ربّه ثمّ دخل آخر فصلّیٰ،واثنیٰ علی اللّٰه عزّوجل،ّ
____________________
١)اصول کا فی جلد ٢صفحہ ۵٢۴ ۔وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١٢۶ حدیث/ ٨٧٨۶ ۔ )
(فصلّیٰ علیٰ رسول اللّٰه ص)،فقال رسول اللّٰه سل تعطه ( ١)
“ایک شخص مسجد ميں داخل ہو ا تو اس نے الله کی حمد وثنا اور نبی پر صلوات بهيجنے سے پہلے نماز پڑهنا شروع کی تو رسول الله (ص) نے فرمایا: اس بند ے نے اپنے رب کی عبادت کرنے ميں جلد بازی سے کام ليا ہے ،پهر دوسرا شخص مسجد ميں داخل ہو ا اس نے نماز پڑهی اور خدا کی حمد وثنا کی اور رسول (ص)پر صلوات بهيجی تو رسول الله (ص) نے فرمایا :سوال کر تا کہ تجهکو عطا کيا جائے ”
صفوان جمال نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ آپ نے فرمایا:
کلّ دعاء یُدعیٰ اللّٰه عزّوجلّ به محجوب عن السماء حتّی یصلیٰ علی محمّد وآل محمّد ( ٢)
“الله سے کی جانے والی دعا اس وقت تک آسمان کے پردوں سے اوپر نہيں جاتی جب تک محمد وآل محمد پر صلوات نہ بهيجی جائے ’ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :
(لایزال الدعاء محجوباًعن السماء حتّی یصلیٰ علی محمّد وآل محمّد (٣ “جب تک محمد وآل محمد پر صلوات نہ بهيجی جائے دعاآسمان کے پردوںسے اوپر نہيں جاسکتی ہے”
١ ۵ ۔خداسے اس کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ دعا کرنا
بيشک الله تبارک و تعالی اس بات کو پسندکرتا ہے کہ اس کے بند ے اس کو اس کے اسما ئے حسنیٰ کے ذریعہ پکاریں:
____________________
١)وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١٢٧ حدیث / ٨٧٨٨ ۔اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵٢۵ ۔ )
٢)اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵٢٨ ،وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١٣۵ حدیث ٨٨٢۶ ۔ ) ١١٣٧ حدیث ٨٨ ٣٧ ۔ : ٣)مجالس مفيدصفحہ ۶ ٠ ، وسائل الشيعہ جلد ۴ )
(قُلِ ادْعُوْااللهَ اَوِادْعُوْاالرَّحْمٰنَ اَیَّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الاسْمَاءُ الْحُسْنٰی ( ١)
“آپ کہہ دیجئے کہ الله کہہ کر پکا رو یا رحمن کہہ کر پکا رو جس طرح بهی پکارو گے اس کے تمام نام بہترین ہيں ”
الله کے اسما ئے حسنیٰ ميں سے ہر ایک اسم اسکی رحمت اور فضل کے ابواب ميں سے ایک باب کی کنجی ہے ۔
شریعت اسلاميہ کی متعدد روایات ميں پرور دگار عالم کو اس کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ دعا کرنے پربہت زیادہ زوردیا گيا ہے ،اور متعدد روایات ميں وارد ہوا ہے جب مومن الله کو اس کے اسمائے حسنٰی کے ذریعہ دس مرتبہ پکار تا ہے تو الله اس کی آواز پر لبيک کہتا ہے ۔ امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے : (من قال یااللّٰه عشرمرّات قيل له:لبيک ماحاجتک ( ٢)
“جس نے دس مرتبہ یا الله کہا تو اس کو ندا دی جا تی ہے بولو تمہار ی کيا حاجت ہے ؟”
ابو بصير نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : (من قال یااللّٰه عشرمرّات قيل له:لبيک ماحاجتک؟ ( ٣)
“جب بندہ سجد ے کی حالت ميں دس مرتبہ یاالله ،یارباہُ،یاسيد اہ ،کہتا ہے تو پر ورد گار اس کی دعا کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہے : لبيک اے ميرے بندے بتا تير ی کيا حاجت ہے ؟”
عبد الله بن جعفر نے قرب الا سناد ميں مسعد ہ بن صدقہ سے نقل کيا ہے :
____________________
١)سورئہ اسرا ء آیت ١١٠ ۔ )
١١٣٠ ،حدیث/ ٨٧٩٨ ۔ / ٢)اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵۴١ ۔وسائل الشيعہ جلد ۴ )
٣)وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١٣١ ۔حدیث/ ٨٨٠٢ ۔ )
قل عشرمرّات یااللّٰه یااللّٰه فانّه لم یقله احدٌ مِنْ المومنين قط الّاقال له الربّ تبارک وتعالیٰ:لبيک یاعبدي سل حاجتک ( ١)
“دس مرتبہ یاالله یا الله کہو ،جب بهی کو ئی مو من الله کو دس مرتبہ پکار تا ہے تو خداوند عالم اس سے کہتا ہے :لبيک مير ے بند ے بتا تير ی کيا حاجت ہے ؟” حضرت علی بن الحسين عليہ السلام سے مروی ہے : رسول خدا (ص)نے ایک شخص کو یاارحم الراحمين کہتے سناتوآپ نے اس شخص کا شانہ پکڑکر فرمایا:هٰذا ارحم الراحمين قد استقبلک بوجهه سل حاجتک ”یہ ارحم الراحمين ہے (جس نے مکمل طور پر تمہاری طرف توجہ کی ہے ”(٢
١ ۶ ۔اپنی حاجتيں الله کے سامنے پيش کرو
پروردگار عالم جانتا ہے کہ ہم کيا چاہتے ہيں اور ہمارا کيا ارادہ ہے، وہ ہمارے سوال سے بے نياز ہے ليکن خداوند عالم اپنی بارگاہ ميں ہماری حاجتيں پيش کرنے کوپسندکرتا ہے۔
کبهی کبهی کوئی بندہ ایسا ہوتا ہے جو اپنے کو خدا سے بے نياز سمجهتا ہے یہاں تک کہ نہ اس سے سوال کرتا ہے اور نہ ہی اس کی بارگاہ ميں ہاته بلند کرتا ہے۔
بيشک جب انسان خدا کے سامنے اپنی حاجتيں پيش کرتا ہے تو وہ بندہ اس سے قریب ہوتا ہے، اس سے لو لگاتا ہے،اس سے مانوس ہوتا ہے،وہ اپنے کو خدا کا محتاج ہو نے کا احساس کرتا ہے اور خداوند عالم ان تمام چيزوں کو دوست رکهتا ہے۔ جب ہم اپنے تمام امور ميں الله سے دعا کر تے ہيں تو خداوند عالم کو یہ اچها لگتا ہے کہ ہم اس
____________________
١)قرب الا سناد جلد ٢،وسائل الشيعہ جلد ۴:١١٣٢ ،حدیث/ ٨٨٠٩ ۔ )
١١٣٢ ،حدیث / ٨٨١۵ ۔ / ٢)محا سبة النفس : ١۴٨ ،وسا ئل الشيعہ جلد ۴ )
سے تفصيل کے ساته دعا کریں اختصار کے ساته دعا نہ کریں ۔ حضرت امام جعفر صادق عليہ االسلام سے مروی ہے:
انّ اللّٰه تعالیٰ یعلم مایرید العبد اذا دعاه،ولکن یُحبّ ان یبث اليه الحوائج،فاذادعوت فسمّ حاجاتک ( ١)
“بيشک جب بندہ خداوند عالم سے دعا کرتا ہے تو خدا جانتا ہے کہ بندہ کيا چاہتا ہے ليکن وہ یہ چاہتا ہے کہ بند ہ اس کے سامنے نام بنام اپنی حاجتيں بيان کرے پس جب تم اس سے دعا کرو تو نام بنام اپنی حاجتيں بيان کرو”
١٧ ۔دعاميں اصرار
دعا ميں بہت زیادہ اصرار کرنے سے بندے کے خدا پر گہرے اعتماد اور خدا سے اپنی اميدیں رکهنے اور گہرے تعلقات کا پتہ چلتا ہے، انسان کا جتنازیادہ اللهپر اعتماد ہوگا اتنا ہی وہ دعا ميں اصرار کرے گا،اسکے برعکس جب انسان کا اللهپر کم اعتماد ہوتا ہے تو جب اسکی دعا قبول نہيں ہوتی تو وہ دعا کرنا چهوڑدیتا ہے اور مایوس ہوجاتا ہے۔
جس طرح دعا ميں اصرار کرنے سے اللهپر اعتماد اور اس سے گہرے تعلقات کا پتہ چلتا ہے اسی طرح دعا ميں اصرار کرنے سے اللهپر زیادہ اعتماد اور اس سے گہرا لگاؤ پيدا ہوجاتا ہے۔
جتنا انسان کا اللهپر اعتماد اور اس سے لگاؤ ہوگا اتنا ہی وہ الله سے قریب ہوگا۔ اسلامی روایات ميں متعدد مرتبہ دعا ميں اصرار کرنے اور کسی بهی حال ميں دعا کے مستجاب نہ ہونے سے مایوس نہ ہونے پر زور دیا گيا ہے۔ رسول الله (ص)سے مروی ہے :
____________________
١)اصول کافی جلد ٢صفحہ ۵٢٠ ،وسائل الشيعہ جلد ۴،ص ١٠٩١ حدیث ٨۶۴٢ ۔ )
(انّ اللّٰه یُحبّ الملحّينَ في الدعاء ( ١)
“خداوندعالم دعاميں بہت زیادہ اصرار کرنے والوں کو دوست رکهتا ہے” یہ بهی آپ ہی کا فرمان ہے کہ:
(انّ اللّٰه یُحبّ السائل اللحوح (٢ “خداوندعالم زیادہ اصرارکرنے والے سائل کودوست رکهتاہے ” امير المومنين عليہ السلام سے مروی ہے:
(الدعاء ترس المومن ومتیٰ تکثر قرع الباب یُفتح لک (٣ “دعا مومن کی سپر ہے اور جب بهی وہ بہت زیادہ دروازہ کهڻکهڻائے گا تو وہ کهل جائےگا”
امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے:الدعاء یردّ القضاء بعد مااُبرم ابراماً فاکثرمن الدعاء فانّه مفتاح کلّ رحمة ونجاح کلّ حاجة ولاینال ماعند الله عزّوجل ا لاّبالدعاء وانّه ليس باب یُکثرقرعه ا لا اوشک انْ یفتح لصاحبه ( ۴)
“محکم و مضبوط دعا سے قضا ڻل جا تی ہے، دعائےںبہت زیادہ کرو یہ ہر رحمت کی کنجی ہے۔ہر حاجت و ضرورت کی کاميابی کا سرچشمہ ہيں اور الله کے پاس جو کچه ہے وہ دعا کے علاوہ کسی اور چيز سے حاصل نہيں کيا جاسکتا ہے،اور جب بهی کسی دروازے کو زیادہ کهڻکهڻایا جاتا ہے تو وہ کهڻکهڻانے والے کےلئے کهل جاتا ہے”
____________________
١)بحار الانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣٠٠ ۔ )
٢)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ / ٣٧۴ ۔ )
۴حدیث/ ٨۶١٢ ۔ / ٣)وسائل الشيعہ جلد ١٠٨۵ )
۴حدیث/ ٨۶١۶ ۔ / ۴)وسائل الشيعہ جلد ١٠٨۶ )
حضرت امام محمد باقرعليہ السلام سے مروی ہے:انّ الله کره الحاح الناس بعضهم علیٰ بعض فی المسالة واحبَّ ذلک لنفسه (١)
“خداوندعالم بعض بندوںکوبعض دوسرے بندوں کے سامنے گڑگڑانے اور خوشامد کرنے کو ناپسند کرتا ہے اور اپنی بارگاہ ميں اصرار کرنے کو دوست رکهتا ہے”
حضرت علی عليہ السلام سے مروی ہے: (فالحح عليه في المسالة یفتح لک ابواب الرحمة (٢ “تم کسی مسئلہ ميں اس(الله)سے اصرار کرو تو وہ تمہارے لئے رحمت کے دروازے کهول دیگا”
وليد بن عقبہ ہجری سے مروی ہے ميں نے امام محمد باقر عليہ السلام کو یہ فرماتے سنا ہے:
(واللّٰه لایلحّ عبد مومن علیٰ اللّٰه فی حاجته الّاقضاها له (٣ “خدا کی قسم کوئی بندہ اپنی دعا ميں خدا سے خوشامدنہيں کرتا مگر یہ کہ خدا اسکی دعا مستجاب کرتا ہے”
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام حضرت امام رضا عليہ السلام سے نقل فرماتے ہيں:
رحم الله عبداً طلب من الله عزّ وجلّ حاجة فالحّ في الدعاء استجيب له او لم یستجب ثم تلا هذه الآ یة وَادعُْواْ رَبِّی عَس یٰ اَن لَااَکُونَْ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِيّاً “خداوند عالم رحم کرے اس بندے پر جو اپنی دعا ميں اصرار اور خوشامدکرتا ہے،اسکی دعا مستجاب کرے یا مستجاب نہ کرے پهر اس آیت کی تلاوت فرمائی :
____________________
١)بحارالانوارجلد ٩۴ ص ٣٧۴ ۔ )
٢)بحار الانوارجلد ٧٧ صفحہ/ ٢٠۵ ۔ )
٣)اصول کافی صفحہ/ ۵٢٠ ۔ )
(وَادعُْواْرَبِّی عَس یٰ اَن لَااَکُونَْ بِدُعَاءِ رَبِّی شَقِيّاً ۔( ١)
“اور اپنے رب کو آواز دو نگا کہ اس طرح ميں اپنے پرور دگار کی عبادت سے محروم نہيں رہو نگا ”
حضرت امام باقر عليہ السلام سے مروی ہے:سل حاجتک والح في الطلب فانّ الله یحبّ إلحاح الملحّين من عباده المومنين ( ٢)
حضرت امام صادق عليہ السلام سے مروی ہے کہ :سل حاجتک والحّ فی الطلب فإنّ الله یُحبّ إلحاح الملحّين من عباده المومنين ( ٣)
“خدا کی قسم کسی بندے نے الله سے دعا کرنے ميںخوشامدنہيں کی مگر یہ کہ خدا نے اسکی دعا مستجاب فرمائی”
١٨ ۔ایک دو سرے کے لئے دعا کرنا
اس سلسلہ ميں عنقریب اس کتاب کی آئندہ آنے والی بحث“ دعا کے سلسلہ ميں کو نسی چيزیں سزا وار ہيں اور کو نسی چيزیں سزا وار نہيں ہيں ”بيان کریں گے ،اب ہم یہاں پر صرف اتنی ہی بحث کریں گے جو دعا کے آداب اور اس کی شرطوں سے متعلق ہے ۔پس جب انسان الله سے دو سروں کےلئے دعا ما نگتا ہے اور اپنے اور اس دوست کے درميان سے کينہ و نفرت دور کر دیتا ہے تو خدا وند عالم اس کےلئے دروازہ کهول دیتا ہے ۔بيشک مو منين کا ایک دو سرے سے محبت ،عطوفت اور مہر بانی کرنا دعا کرنے
____________________
١)سورئہ مریم آیت/ ۴٨ ۔ )
٢)اصول کافی جلد ٢ص ۵٢٠ ۔ )
٣)قرب الاسنادص ۵٢٠ ۔ )
والے اور جس کےلئے دعا کی جا رہی ہے اس کےلئے الله کی رحمت کی کنجيوں ميں سے ہے ۔
دعا کرنے والے کے سلسلہ ميں معا ویہ بن عمار نے اامام جعفرصادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے :
الدعاء لاخيک بظهرالغيب یسوق الی الد اعي الرزق ویصرف عنه البلاء ویقول الملک ولک مثل ذلک ( ١)
“تمہا ری نظروں سے پو شيدہ بهائی کےلئے تمہارے دعا کرنے سے تمہارے رزق ميں برکت ہو تی ہے ،دعا کرنے والے سے بلائيں دور ہو تی ہيں اور فرشتہ کہتا ہے : تمہا رے لئے بهی ایسا ہی ہے جو تم نے دو سروں کےلئے دعا کی ہے (یعنی خدا وند عالم تمہارے رزق ميں بهی برکت کر دے گا ” رسول الله (ص) سے مروی ہے :
(مَنْ دعا لمومن بظهرالغيب قال الملک فلک مثل ذلک (٢ “جو نظروں سے پو شيدہ مو من کےلئے دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے :تمہا رے لئے بهی ایسا ہی ہے ا س لئے کہ تم نے دو سرے کےلئے دعا کی ہے” امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :
(دعاء المرء لاخيه بظهرالغيب یدرّ الرزق وید فع المکروه (٣ “انسان کا اپنے غائب مومن بها ئی کےلئے دعا کرنے سے اس کے رزق ميں برکت ہوتی ہے اور اس سے بلائيں دور ہو تی ہيں ” ابن خا لد قمّاط سے مروی ہے کہ حضرت امام باقر عليہ السلام نے فرمایا ہے :
اسرع الدعاء نجحاً للإجابة دعاء الاخ لاخيه بظهرالغيب یبدا بالدعاء
____________________
١)امالی طوسی جلد ٢ صفحہ ٢٩٠ ،بحا ر الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٨٧ ۔ )
٢)امالی طوسی جلد ٢ صفحہ ٢٩٠ ،بحا ر الانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٨۴ ۔ )
٣)اصول کا فی جلد ٢صفحہ ۴٣۵ ،وسائل الشيعہ جلد ۴:١١۴۵ ،حدیث ٨٨۶٧ ۔ )
(لاخيه فيقول له ملک موکّل به آمين ولک مثلا ه ( ١)
“سب سے جلدی وہ دعا مستجاب ہو تی ہے جو کسی بها ئی کےلئے اس کی غير مو جود گی ميں کی جا تی ہے دعا کی ابتدا ميں پہلے دو سرے کےلئے دعا کرنا شروع کرو تو اس کا موکل فرشتہ آمين کہتا ہے اور تمہا رے لئے بهی ایسا ہی ہے ”
اور جس کےلئے دعا کی جا رہی ہے اس کے سلسلہ ميں روایت نقل کی گئی ہے کہ:
ادعني علیٰ لسان لم تعصني به قال:یارب،انّیٰ لی بذلک ؟قال:اُدعني علیٰ لسان غيرک ( ٢)
الله تعالیٰ نے مو سیٰ بن عمران سے کہا :مجهے اس زبان سے پکار وجس زبان سے تم نے گناہ نہ کئے ہوں ۔
موسیٰ بن عمران نے عرض کيا : پالنے والے کيا ميں ایسا کرسکتا ہوں؟ پروردگار نے فرمایا :مجه سے کسی دوسرے کےلئے دعا کرو”
١٩ ۔رحمت الٰہی نازل ہوتے وقت دعا
انسان پردعا کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہوتی ہے : دعا کے سب سے بہترین اوقات وہ اوقات ہيں جن ميں رحمت نازل ہوتی ہے ،انسان الله کی رحمت سے قریب ہو جاتا ہے ۔
رحمت نازل ہو نے کے بہت زیادہ اوقات ہيں : قرآن کی تلاوت کرتے وقت ، اذان کے وقت ،بارش کے وقت ، جنگ کے دوران شہيد ہوتے وقت ۔
یہ آخری وقت سب سے افضل وقت ہے چونکہ اس ميں زمين والوں کےلئے الله کی رحمت کے
____________________
١)اصول کا فی صفحہ ۴٣۵ ،وسائل الشيعہ جلد ۴:١١۴۵ ،حدیث ٨٨۶٧ ۔ )
٢)بجارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣۴٢ ،عدةالداعی صفحہ/ ١٢٨ ۔ ) دروازے کهل جاتے ہيں ۔
سکونی نے امام جعفرصادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ حضرت اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمایا:
اغتنمواالدعاء عند اربع :عند قراء ة القرآن،وعندالاذان،وعند نزول الغيث،وعند التقاء الصفين للشهادة ( ١)
“ چار موقعوں پر دعا کر نا غنيمت شمار کرو :قرآن کی تلاوت کرتے وقت ،اذان کے وقت بارش ہو تے وقت اور جنگ کے دوران شہيد ہوتے وقت ” حضرت امير المومنين عليہ السلام سے مروی ہے :
اغتنمواالدعاء عند خمسة مواطن:عند قراء ة القرآن،وعند الاذان، وعند نزول الغيث،وعند التقاء الصفين للشهادة ،وعند دعوة المظلوم ،فإنّهاليس لهاحجاب دون العرش ( ٢)
“پانچ مقا مات پر دعا کرنا غنميت سمجهو : تلاوت قرآن کے وقت ،بار ش ہوتے وقت ، جنگ ميں شہادت کےلئے لڑتے وقت اور مظلوم کےلئے دعا کرتے وقت ان پانچو ں وقتوں ميں دعا کرنے ميں عرش الٰہی کے علاوہ کو ئی حجاب نہيں ہے ” حضرت امير المو منين عليہ السلام کا ہی فرمان ہے :
مَنْ قرا مائة آیة من القرآن،من ايّ القرآن شاء ثم قال:یاالله سبع مرات فلودعا علی الصخرة لقلعهاإنْ شاء الله ( ٣)
“اگر کوئی شخص کسی جگہ سے بهی قرآن کی سو آیات کی تلاوت کرنے کے بعد سو مرتبہ یا الله
____________________
١صول کافی جلد ٢صفحہ ۵٢١ ،وسائل الشيعہ جلد ۴صفحہ ١١١۴ ،حدیث / ٨٧٣٩ ۔ (١ )
١١١۵ ،حدیث/ ٨٧۴٢ ۔ : ٢)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
٣)ثواب الاعمال الصدوق صفحہ ۵٨ ۔ )
کہے اور وہ پہاڑکےلئے دعا کرے تو پہاڑ بهی اپنی جگہ سے ہٹ جا ئے انشا ء الله ” امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :
کان ا بی اذاطلب الحاجة طلبهاعند زوال الشمس،فاذا اراد ذلک قدّم شيئاًفتصدق به وشم شيئاًمن طيب،وراح الی المسجدودعا في حاجته بما شاء الله ( ١)
“ ميرے والد بزر گوار زوال کے وقت اپنی حاجت طلب کرتے تهے ،جب آپ حاجت طلب کرنے کا ارادہ فرماتے تو پہلے صدقہ دیتے خوشبو لگاتے مسجد جاتے اور الله سے اپنی حاجتيں طلب فرماتے ”
٢٠ ۔آدهی رات کے وقت دعا
رات ميں تنہا ئی ميں اپنے کو خدا کی بارگاہ ميں پيش کرنے کا عظيم اثر ہے ، الله کی رحمت انسان کی طرف متوجہ ہوتی ہے ،انسان رات کے آخر ی حصہ ميں اپنے نفس کو خدا کی طرف متوجہ ہونے کے علاوہ اور کچه نہيں پاتا ، رات کے آخری حصہ ميں انسان خدا کی رحمت کا استقبال کرنے کےلئے آمادہ ہوجاتا ہے اور خدا وند عالم نے رات کے آخری حصہ ميں وہ رحمتيں اور بر کتيں قرار دی ہيں جو دن اور رات کے دوسرے حصوں ميں نہيں قرار دی ہيں ۔
اور اسلامی روایات ميں غور و فکر کرنے والے کےلئے اس ميں کو ئی شک کی گنجائش ہی نہيں ہے کہ تمام وقت برابر نہيں ہيں ۔اس کے علاوہ بهی بہت زیادہ اوقات ہيں جن ميں انسان پر الله کی رحمت کے دروازے کهلتے ہيں ، بہت سے اوقات ہيں جن ميں انسان پر الله کی رحمت نازل ہوتی ہے البتہ یہ اوقات بہت ہی افضل ہيں اور رات کے آخری حصہ ميں الله کی رحمت زیادہ نازل ہوتی ہے ۔
خدا وند عالم کا ارشاد ہے :
یَااَیُّهَاالمُْزِّ مِّل قُمِ اللَّيلَْ اِلَّاقَلِيلْاً نِصفَْهُ اَوِنقُْص مِنهُْ قَلِيلْاً اَوزِْدعَْلَيهْ وَرَتِّلِ القُْرآْنَ تَرتِْيلْاًاِنَّاسَنُلقِْی عَلَيکَْ قَولْاًثَقِيلْاً اِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيلِْ هِیَ اَشَدُّ وَطاًْوَّاَقوَْمُ قِيلْاً ( ١)
“اے ميرے چادر لپيڻنے والے رات کو اڻهو مگر ذرا کم آدهی رات یا اس سے بهی کچه کم کردو یا کچه زیادہ کرو اور قرآن کو ڻهہر ڻهہر کر با قا عدہ پڑهو ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگين حکم نا زل کرنے والے ہيں بيشک رات کا اڻهنا نفس کی پامالی کےلئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے ”
مفضل بن عمر ونے امام جعفرصادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : “کان فيماناجیٰ الله به موسیٰ بن عمران انْ قال له:یابن عمران،کذّب مَنْ زعم انّه یحبني،فاذاجنّة الليل نام عنّي،اليس کل محبّ یحبّ خلوةحبيبه ؟هاانا یابن عمران مطّلع علیٰ احبائي،اذاجنّهم الليل حوّلت ابصارهم فی قلوبهم ومثلت عقوبتي بين اعينهم ،یخاطبوني عن المشاهدة،ویکلموني عن الحضور یابن عمران،هبّ لي من قلبک الخشوع،ومن بدنک الخضوع،ومن عينيک الدموع،وادعني فی الظلمات فانّک تجدني قریباًمجيباً ”( ٢)
“جب موسیٰ بن عمران نے الله سے منا جات کی تو الله نے فرمایا :اے موسیٰ جو شخص یہ گمان کرے کہ وہ مجه سے محبت کرتا ہے تو تم اس کی تکذیب کرو ، جب رات کی تاریکی چها جاتی ہے تو وہ سو جاتا ہے کيا ہر محبوب اپنے حبيب سے تنہائی ميں ملنا نہيں چاہتا ؟ آگاہ ہو جاو اے ابن عمران ميں اپنے دوستوں کو بخوبی جانتا ہوں جب رات کی تا ریکی چها جا تی ہے توميں ان کی آنکهوںکوان کے دلوں کی طرف پهير دیتا ہوں اپنی عقوبت کو ان کی نظروں ميں مجسم کر دیتا ہوںوہ دیکهنے کے بجا ئے مجه سے خطاب کر تے ہيں اور حاضر ہو نے کے بجا ئے مجه سے ڈرتے ہيں۔
اے ابن عمران تم اپنے دل سے خشوع ، اپنے بدن سے خضوع اور اپنی آنکهوں کے
____________________
١)سورئہ مزمل آیت / ١۔ ۶۔ )
١١۴٢۵ حدیث ٨٧٨١ ۔ : ٢)مجالس المفيد صفحہ ٢١۴ ، وسائل الشيعہ جلد ۴ )
آنسوؤں کو ميرے لئے ہبہ کردو اور تاریکيوں ميں مجهے پکارو پس تم مجهے اپنے سے قریب اور دعا قبول کرنے والا پاؤ گے ”
اس روایت ميں کئی باتيں غور طلب ہيں ليکن ہم بحث کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے ان سے قطع نظر کرتے ہيں ۔شب اوليائے الٰہی کےلئے آتی ہے اور ان کو زند گا نی اور اس کی مصروفيات سے رو ک دیتی ہے گو یا شب انسان کو ان مصروفيات دنيا کے درميان سے جدا کر دیتی ہے جو اس کو خداوند عالم کی طرف متوجہ ہو نے سے روک دیتے ہيں اور یہ رات کی تنہا ئی کی فرصت ہو تی ہے جس ميں انسان کے سامنے ذات الٰہی کسی رکا وٹ کے بغير سا منے ہو تی ہے اور وہ اس خلوت ميں خدا وند عالم سے لو لگاتا ہے ۔
جو یہ گمان کر تاہے کہ وہ الله کو دوست رکهتا ہے ليکن جب رات چها جا تی ہو تو انسان جس کو دو ست رکهتا ہے اس کے حضور ميں مناجات اور تضرع کرنے کے بجا ئے سوجا ئے تو وہ شخص جهوڻا ہے کيا ہر حبيب اپنے محبوب کی خلوت کو پسند نہيں کرتا ؟
جب تا ریکی شب چها جا تی ہے اور ہم زندگی کے مشکلات سے فارغ ہو جا تے ہيں تو ہماری دن ميںپراکندہ ہو جانے والی قوت بصارت اور سما عت یکجا ہو جا تی ہے اور باہر سے اندر کی طرف چلی جا تی ہے دل ميں زند گی کی زحمت سے اس دل کے اندر چلی جا تی ہے جو انسانی زند گی ميں بصيرت و نور کا سرچشمہ ہے اس وقت ہما ری بکهری ہو ئی بصيرت اکڻهی ہو جا تی ہے اور باہر سے اندر کی طرف چلی جا تی ہے اور خداوند عالم اس وقت قلب انسا نی کےلئے بصيرت و نور کے دروازے کهول دیتا ہے اس جملہ “اذاجنّهم الليل حوَّلت ابصارهم فی قلوبهم ”کا یہی مطلب ہے اس وقت انسان خود کو خداوند عالم کی بارگاہ ميں حا ضر پاتا ہے اور غضب و رحمت الٰہی کو اپنے سا منے مجسم دیکهتا ہے تو جب وہ خداوند عالم سے مخا طب ہوتا ہے تو مشاہدہ اور حا ضری کی بنا پر مخا طب ہوتا ہے دور ی اور غير حا ضری کی بنا پر نہيں اور اس فقرہ “یخاطبوني عن المشا ہدة ”کا یہی مطلب ہے اور جب وہ خداوند عالم سے بات کرتا ہے تو خداوند عالم کو حا ضر سمجه کر بات کرتا ہے غائب سمجه کر بات نہيں کرتا ہے اور اس فقرہ “یکلمونی عن الحضور”کا یہی مطلب ہے ۔ اس کی نظروں ميں عقوبت اور عذاب الٰہی مجسم ہو جاتا ہے اور اس فقرہ “مثّلت عقوبتي بين اعينهم”کا یہی مطلب ہے حبيب کی مو جود گی کی انسيت نيز ان کی نظروں ميں مجسم عقوبت کا خوف نيند کا سکون چهين ليتا ہے اور بهلا وہ کيسے سو سکتا ہے جو خود کو رات کی خلوت ميں اپنے حبيب کے سامنے پا ئے ؟اور اس کوکيسے اونگه آ سکتی ہے جبکہ وہ اپنی نظروں ميں عذاب الٰہی کو مجسم دیکه رہا ہو؟
یہ حالت یعنی قوت بصارت کے خارج سے اندرکی جا نب چلے جا نااور دن ميں پرا گندہ ہو نے کے بعد رات ميں اکڻها ہو جا نے کا فطری نتيجہ ہے ۔
حضرت اميرالمومنين عليہ السلام اپنے معروف خطبہ متقين ميں فرماتے ہيں :اَمَّااللَّيلُْ فَصَافُّونَْ اَقدَْامَهُم ،تَالِينَْ لِاَجزَْاءِ القُْرآْنِ یُرَتِّلُونَْهُا تَرتِْيلْاً، یُحَزِّنُونَْ بِهِ اَنفُْسَهُم وَیَستَْثِيرُْونَْ بِهِ دَوَاءَ دَائِهِمْفَاِذَا مَرُّواْبِ یَٰاةٍ فِيهَْا تَشوِْیقٌْ رَکَنُواْ اِلَيهَْاطَمَعاًوَتَطَلَّعَت نُفُوسُْهُم اِلَيهَْا شَوقْاً،وَظَنُّوا اَنَّهَا نُصُبُ اَعيُْنِهِمْوَاِذَامَرُّواْبِ یَٰاةٍ فِيهَْا تَخوِْیفٌْ اَصغَْواْاِلَيهَْامَسَامِعَ قُلُوبِْهِم وَظَنُّواْاَنَّ زَفِيرْجَهَنَّمَ وَشَهِيقَْهَافِی اُصُولِْ ذَٰاانِهِم، فَهُم حَانُونَْ عَل یٰ اَوسَْاطِهِم مُفتَْرِشُونَْ لِجِبَاهِهِم وَاَکُفِّهِم وَرُکَبِهِم وَاَطرَْافِ اَقدَْامِهِم یَطَلِّبُونَْ اِلیَ اللهِّٰ تَعَال یٰ فِی فَکَاکِ رِقَابِهِم وَاَمَّاالنَّهَارُفَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ اَبرَْارٌاَتقِْيَاء ( ١)
“رات ہو تی ہے تو اپنے پيروں پر کهڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ڻهہر ڻهہرکر تلا وت کرتے ہيں جس سے اپنے دلوں ميں غم و اندوہ تا زہ کرتے ہيں اور اپنے مرض کا چارہ ڈهونڈهتے ہيں جب کسی ایسی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس ميں جنت کی ترغيب دلا ئی گئی ہو ،تو اس کی طمع ميں اس طرف جهک پڑتے ہيں اور اس کے اشتياق ميں ان کے دل بے تا بانہ کهنچتے ہيں اور یہ خيال کرتے ہيں کہ وہ (پر کيف )منظر ان کی نظروں کے سا منے ہے اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی
نظر پڑتی ہے کہ جس ميں (جہنم )سے ڈرایا گيا ہو تو اس کی جا نب دل کے کانوں کو جهکا دیتے ہيں اور یہ گمان کرتے ہيں کہ جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چيخ و پکار ان کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے ،وُہ (رکوع ) ميں اپنی کمریں جهکا ئے اور (سجدہ ميں اپنی پيشانياں ہتهيلياں گهڻنے اور پيروں کے کنا رے (انگوڻهے) زمين پر بچها ئے ہو ئے ہيں اور الله سے گلوئے خلا صی کے لئے التجا ئيں کرتے ہيں ۔دن ہو تا ہے تو وہ دانشمند عالم ،نيکو کار اور پرہيز کار نظر آتے ہيں ”
نہج البلاغہ ميں ہی حضرت امير المو منين عليہ السلام نوف بکا لی سے رات کی تعریف یوں بيان فر ما تے ہيں :یَانُوفْ اِنَّ دَاودع)قَامَ فِی مِثلِْ هٰذِالسَّاعَةِ مِنَ اللَّيلْ،فَقَالَ:اِنَّهَا سَاعَةٌ لَایَدعُْو فِيهَْا عَبدٌْ اِلَّااستُْجِيبَْ لَهُ ( ١)
“اے نوف بيشک داود عليہ السلام رات کے اس حصہ ميں عبادت کے لئے کهڑے ہو تے تهے ،پهر فرمایا :یہ وہ وقت ہے کہ جس ميں دعا کرنے والے کی دعا ضرور مستجاب ہو تی ہے ”
حضرت رسول الله (ص) سے مروی ہےاذاکان آخرالليل یقول الله عزّوجلّ:هل من داع فاُجيبه ؟وهل من سائل فاُعطيه سوله ؟وهل من مستغفرفاغفرله ؟ هل من تائب فاتوب عليه
“جب رات کا آخری حصہ آتا ہے تو الله عزوجل کہتا ہے: ہے کوئی دعا کر نے والا جس کی دعا قبول کی جا ئے ؟ہے کوئی سوال کرنے والا جس کواس کے سوال کا جواب دیا جائے ؟ہے کو ئی استغفار کرنے والا کہ اس کی بخشش کرو ں ؟ ہے کوئی تو بہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کرو ں ؟ ۔
____________________
١)نہج البلاغہ دو سری قسم صفحہ ١۶۵ ۔ )
٢١ ۔دعا کے بعد ہاتهوں کو چہرے اور سرپر پهيرنا
امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :ماابرزعبد یده الی الله العزیزالجبارالااستحياالله عزّوجلّ ان یردّها صفراً،حتیٰ یجعل فيهامن فضل رحمته مایشاء،فاذا دعا احدکم فلایردّ یده حتّیٰ یمسح علیٰ وجهه وراسه ( ١)
“کو ئی بندہ اپنے ہاته خدائے عزیز و جبار کے سامنے نہيں پهيلا تا مگر یہ کہ خداوند عالم اس کو خالی ہاته واپس کرنے پر حيا محسوس کرتا ہے اور اپنے فضل و رحمت سے جو کچه چاہتا ہے اس کے ہاته پر رکه دیتا ہے لہٰذا تم ميں سے کو ئی دعا کرے اور اپنے ہاته ہڻائے تو وہ اپنے ہاتهوں کو چہرے پر مل لے ”
____________________
١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ٣۴٢ ؛من لا یحضر ہ الفقيہ جلد ١ صفحہ ١٠٧ ؛بحارالانوار جلد ) ٩٣ صفحہ ٣٠٧ ۔
موانع اوررکا وڻيں
کو نسی چيزیں دعا کے الله تک پہنچنے ميں مانع ہوتی ہيں ؟ اس بحث ميں ہم اس سوال کا جواب پيش کریں گے انشاءَ الله ۔
بيشک دعا کے بارے ميں جيسا کہ کہا گياہے کہ دعا وہ قرآن صاعد ہے جو الله کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن کے بالمقابل ہے ۔نازل ہونے والے قرآن ميں عبودیت ،بندہ کوصرف خود کو خدا کی بارگاہ ميں پيش کرنے اور صرف اسی سے لولگا نے کی دعوت دی گئی ہے اور قرآن صاعد ميں اس دعوت پر لبيک کہی گئی ہے۔
ليکن یہاں پر کچه ایسے موانع ہيں جو دعاؤں کو الله کی بارگاہ ميں پہنچنے سے روک دیتے ہيں اور الله کی بارگاہ ميں ان دعاؤں کے پہنچنے سے روکنے والے اہم موانع گنا ہ اور معصيتں ہيں دعا ء کميل ميں واردہوا ہے :اَللَّهُمَّ اغفِْرلِْیَ الذُّنُوبَْ الَّتِی تَحبِْسُ الدُّعَاءَ
“خدا یا ميرے ان تمام گنا ہوں کو بخش دے جو دعا ؤں کو قبول ہو نے سے روک دیتے ہيں ”
اور اسی دعا ء کميل ميں آیاہے :فَاسالُکَ بِعِزَّتِکَ اَن لَا یَحجُْبَ عَنکَْ دُعَائِی سُوءُْ عَمَلِی “ميں تجه سے سوال کرتا ہوں تيری عزت کے واسطے سے کہ ميری بد عملی ميری دعا کو پہنچنے سے نہ روکے ”
ہم عنقریب ان موانع (رکاوڻوں )کی تحليل کریںگے انشاء الله :
گناہ بارگاہ خدا کی راہ ميں ایک رکاوٹ
حيات انسان ميں گناہوں کے دواثر ہوتے ہيں :
١۔گناہ انسان اور خداوند عالم کے درميان حائل ہوجاتے ہيں ،انسان خدا سے منقطع ہوجاتا ہے اس کےلئے اپنے کو خدا کی بارگاہ ميں پيش کرنے اور اس سے لولگا نے کا امکان ہی نہيں رہتا ،اور نہ ہی اس کےلئے دعا کرنا ممکن ہوتا ہے بيشک دعاکا مطلب اپنے کو خدا وند عالم کی بارگاہ ميں پيش کرنا ہے ۔ جب گناہ ،گناہ کرنے والے کو خدا تک پہنچا نے ميں مانع ہوجاتے ہيں تو اس کی دعا ميں بهی مانع ہوجاتے ہيں ۔
٢۔گناہ دعا کو الله تک پہنچنے سے روک دیتے ہيں ،چونکہ جب دعا الله تک پہنچتی ہے تو خدا اس کو مستجاب کرتا ہے ،یہ خدا کے شایان شان نہيں کہ جب کسی بند ے کی دعا اس تک پہنچے تو وہ عاجز ہو جائے یا بخل سے کام لے ،بيشک دعا کی عاجز ی یہ ہے کہ وہ خدا تک نہيں پہنچتی ہے :کبهی کبهی گنا ہ انسان کو دعا کرنے سے مقيد کردیتے ہيں اور کبهی کبهی دعا کو الله تک پہنچنے ميں مقيد کردیتے ہيں ۔
ہم ذیل ميں اس مطلب کی وضاحت کررہے ہيں :
اخذ اور عطا ميں دل کادوہرا کردار
بيشک قلب ایک طرف تو خدا وند عالم سے رابطہ کےلئے ضروری چيزیں اخذ کرتا ہے اور اس سے ملاقات کرتا ہے ،اور دوسری طرف ان چيزوں کو عطا کرتا ہے جيسے حملہ آور قلب جو خون کو پهينکنے واپس لا نے اور لوگوں کے درميان سے اکڻها کرنے کا کام دیتا ہے۔
جب دل ميں انسان کو ملا نے اور خدا وند عالم سے مر بوط کرنے کی صلا حيت ختم ہو جا ئے تو گویا اس نے اپنی ساری اہميت کهو دی اور اس کو کو ئی فائدہ نہيں ہوا جيسے وہ دل جو پوری طرح حملہ آور ہے۔
دل اس لينے دینے ميں ایک طرف توخداوند عالم کی جانب سے ہدایت ،نو رانيت اور آگا ہی حاصل کرتاہے اور دو سری طرف انسان کو اس کی حرکات و گفتار اور مو قف عمل ميں یہ ہدایت اور نو رانيت عطا کرتے ہيں پہلی شق (الله سے ملاقات اور اخذ کرنا )کے سلسلہ ميں خداوندعالم فرماتاہے :
( وَقَالَ الَّذِینَْ کَفَرُواْلَولَْانُزِّلَ عَلَيهِْ القُْرآْنُ جُملَْةًوَاحِدَةً کَ لٰ ذِکَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُوادَکَ ( وَرَتَّلنَْاهُ تَرتِْيلْاً ) (١ “اور کافر یہ بهی کہتے ہيں کہ آخر اِن پر یہ قرآن ایک دفعہ کل کا کل کيوں نہيں نازل ہوگيا۔ہم اسی طرح تدریجا نازل کرتے ہيں تاکہ تمہارے دل کو مطمئن کرسکيں اور ہم نے اسے ڻهہر ڻهہر کر نازل کيا ہے ” تو قرآن رسول کے قلب مبارک پرایک دم اور آہستہ آہستہ نا زل ہو تا تها اور دلوں کو تقویت بخشتا تها نيزیہ دل اس سے نو رانيت اور ہدایت حا صل کرتے تهے ۔ خداوندعالم کا ارشاد ہے :
( اَلله نَزَّلَ اَحسَْنَ الحَْدِیثِْ کِتَاباًمُتَشَابِهاً مَثَانِیَ تَقشَْعِرُّ مِنهُْ جُلُودُْ الَّذِینْ یَخشَْونَْ ( رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِ لٰی ذِکْرِاللهِّٰ ) ( ٢)
“الله نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل ميں نازل کيا ہے جس کی آیتيں آپس ميں ملتی
____________________
١)سورئہ فرقان آیت ٣٢ ۔ )
٢)سورئہ زمر آیت ٢٣ ۔ )
جلتی ہيں اور بار بار دُہرائی گئی ہيں کہ ان سے خوف خدا رکهنے والوں کے رونگڻے کهڑے ہو جاتے ہيں اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کےلئے نرم ہو جاتے ہيں”
قلوب، قرآن سے خشوع وخضوع اخذ کرتے ہيں ،نرم ہو جاتے ہيں خدا کی ہدایت اور اس نور کے ساته رابطہ پيدا کرتے ہيں جس کو خداوند عالم نے بندوں کی طرف بهيجا ہے کيونکہ قرآن خداوند عالم کی طرف سے ہدایت اور ایسا نور ہے جس کو خداوند عالم نے بندوں کی جانب بهيجا ہے نيز یہ قرآن خداوند عالم کا برہان اور مخلوق پر حجت ہے ۔
خدا وند عالم کا ارشاد ہے : (( یَاایُّهَاالنَّاسُ قَدجَْآءَ کُم بُرهَْانٌ مِن رَبِّکُم وَاَنزَْلنَْااِلَيکُْم نُورْاً مُبِينْاً ) ( ١)
“اے انسانو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے برہان آچکا ہے اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور بهی نازل کردیا ہے ”
یہ نور اور ہدایت مو منين اور متقين لوگوں کے دلو ں سے مخصوص ہے وہ اس نور کو اخذ کرتے ہيں اور اس سے متاثر ہوتے ہيں :
(( هَذَابَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدیً وَمَوعِْظَةًلِلمُْتَّقِينَْ ) ( ٢)
“یہ عام انسانوں کےلئے ایک بيان حقائق ہے اور صاحبان تقویٰ کےلئے ہدایت اور نصيحت ہے’
(( هٰذَابَصَائِرُمِن رَبِّکُم وَهُدیً وَرَحمَْةٌلِقَومٍْ یُومِْنُونَْ ) ( ٣)
“یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے دلائل ہدایت اور صاحبان ایمان کےلئے رحمت کی حيثيت رکهتاہے ”
____________________
(١) نساء آیت/ ١٧۴ )
٢)سورئہ آ ل عمران آیت/ ١٣٨ ۔ )
٣)سورئہ اعراف آیت/ ٢٠٣ ۔ )
دل کےلئے یہ پہلا دور ہے جو الله سے ہدایت ،نور ،بصيرت اور بر ہان حاصل کرتے ہيں اور جو کچه الله نے اپنے بندوں کےلئے نور اور ہدایت نازل کيا ہے ان سے مخصوص ہوتا ہے ۔
دلوں کےلئے دوسرامرحلہ تو سعہ اور عطا
اس مرحلہ ميں قلوب ایسے نور اور ہدایت کو پهيلاتے ہيں جو ان کو خداوند عالم کی جا نب سے ملا ہوتا ہے اوریہ قلوب انسان کی حر کت ،گفتار ،مو قف ،روابط اور اقدامات کو نور عطا کرتے ہيں اس وقت انسان نو رالٰہی اور ہدایت الٰہی کے ذریعہ آگے بڑهتا ہے نور خدا اور ہدایت خدا سے تکلم کرتا ہے نور خدا اور ہدایت کے ذریعہ اپنامو قف معين کرکے لوگوں کے درميان چلتا ہے ۔
(( اَوَمَن کَانَ مَيتْاً فَاحيَْينَْاهُ وَجَعَلنَْا لَهُ نُورْاً یَمشِْی بِهِ فِی النَّاسِ ) ( ١)
“کيا جو شخص مُردہ تها پهر ہم نے اسے زندہ کيااور اس کےلئے ایک نور قرار دیاجس کے سہارے وہ لوگوں کے درميان چلتا ہے ”
( یَااَیُّهَاالَّذِ ینَْ آمَنُوااتَّقُوااللهَ وَآمِنُواْبِرَسُولِْهِ یُوتِْکُم کِفلَْينِْ مِن رَحمَْتِهِ وَیَجعَْل لَکُم ( نُورْاً تَمشُْونَْ بِهِ وَیَغفِْرلَْکُم وَاللهُ غَفُورٌْرَّحِيمٌْ ) ( ٢)
“ایمان والو الله سے ڈرو اور رسول پر واقعی ایمان لے آؤ تا کہ خدا تمهيں اپنی رحمت کے دہرے حصے عطا کردے اور تمہارے لئے ایسا نور قرار دیدے جس کی روشنی ميں چل سکو اور تمهيں بخش دے اور الله بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے ”
یہ نور جس کے ذریعہ مومنين کا ایک دوسرے سے رابط برقرار رہتا ہے ،اس کے ذریعہ سے وہ لوگوں کی صفوں ميں گهوما کرتے ہيں ،ان کی سياست ،یاتجارت یاحيات انسانی کے دوسرے تمام
____________________
١)سورئہ انعام آیت/ ١٢٢ ۔ )
٢)سورئہ حدیدآیت/ ٢٨ ۔ )
کا موں ميں لگے رہتے ہيں یہ خداوندعالم کا وہ نور ہے جس کو الله نے اپنے بندوں کےلئے بهيجا ہے :
(( وَمَن لم یَجعَْلِ اللهُ لَهُ نُورْاً فَمَالَهُ مِن نُورٍْ ) (١ “اور جس کےلئے خدا نور قرار نہ دے اس کے لئے کو ئی نور نہيں ہے ” یہ وہ نور ہے جو الله کی طرف سے قلب ميں ودیعت کيا جاتا ہے پهر اس کے ذریعہ دل، انسان کی بينائی ،سماعت اور اس کے اعضا وجوارح کی طرف متوجہ ہو تا ہے ۔
اس اخذ اور عطا ميں دل کا کردار درميانی ہوتاہے نور الله کی طرف سے آتا ہے اور اس کے ذریعہ انسان اپنا راستہ ،اپنی تحریک ،کلام اور موقف اختيار کرتا ہے ۔ یہ دل کے صحيح و سالم ہو نے کی علا مت ہے اور وہ قرآن کو صحيح طریقہ سے اخذ کرتا ہے ،اور اسکو عطا کرتا ہے جس طرح سرسبز زمين نور ،ہوا اور پانی کو اخذ کر تی ہے اور طيب و طا ہر پهل دیتی ہے۔
حضرت امرالمومنين عليہ السلام قرآن کی صفت کے سلسلہ ميں فرماتے ہيں:( کتاب الله تبصرون به وتنطقون به وتسمعون به )
“یہ الله کی کتاب ہے جس کے ذریعہ تمهيں سجها ئی دیتا ہے اور تمہاری زبان ميں گو یا ئی آتی ہے اور (حق کی آواز )سنتے ہو ” جب دل صحيح وسالم نہ ہو تو اس ميں الله سے لولگانے کی خاصيت مفقود ہو جاتی ہے اور وہ الله کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن کا استقبال کرنے پر متمکن نہيں ہو تا۔
جب دل ميں الله کی طرف سے نازل ہو نے والے قرآن کا استقبال کر نے کی قدرت نہ ہو گی تو وہ نماز اور دعا کے ذریعہ قرآن صاعد کو الله تک پہنچا نے پر قادر نہيں ہو سکے گا ۔
____________________
١)سورئہ نورآیت/ ۴٠ ۔ )
اس حالت کو انغلاق قلب(دل کا بند ہوجانا) کہا جاتا ہے خداوند عالم فرماتا ہے: (( صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لاَیَرْجِعُوْنَ ) ( ١)
“یہ سب بہرے ،گونگے ،اور اندهے ہو گئے ہيں اور اب پلٹ کر آنے والے نہيں ہيں ”
بہرااور اندها نور کا استقبال کرنے کی استطاعت نہيں رکهتا ہے اسی طرح جو بولنے کی طاقت نہ رکهتا ہو اس کو فطری طور پر گو نگا کہاجاتا ہے ۔
پروردگار عالم بنی اسرائيل سے فرماتا ہے :
(( ثُمَّ قَسَت قُلُو بُکُم مِن بَعدِْ لٰذِکَ فَهِیَ کَالحِْجَارَةِاَواَْشَدُّ قَسوَْةً ) (٢ “پهر تمہارے دل سخت ہو گئے جيسے پتهر یا اس سے بهی کچه زیادہ سخت ”
بيشک پتهر، نور ،ہو ااور پانی کا استقبال کرنے پر متمکن نہيں ہوتا ہے اور نور ،ہو ااور پانی ميں سے جو کچه بهی اس پر گرتا ہے اس کو واپس کردیتا ہے اور یہ فطری بات ہے کہ وہ ثمر دینے کی استطاعت نہيں رکهتا ہے ،بلکہ ثمر تو وہ زمين دیتی ہے جس ميں نور ،ہوا اور پانی جذب کرنے کی صلاحيت ہوتی ہے اسی طرح جب دل صحيح وسالم نہيں ہوتا تو وہ نور کا استقبال نہيں کرتا اور نہ ہی نور سے استفادہ کرپاتا ہے اسی کومکمل انغلاق کی حالت کہاجاتا ہے اور وہ حالت (دل کا مرجانا )جس ميں دل ہر طرح کی حياتی چيز سے بے بہر ہ ہوجاتا ہے یعنی زندہ دل کی طرح اس ميں کسی چيز کو لينے یادینے کی طاقت باقی نہيں رہ جاتی اور جس دل ميں یہ خاصيت نہ پائی جاتی ہو وہ زندگی کا ہی خاتمہ کردیتا ہے۔ خداوندعالم دل کے مردہ ہو جانے کے متعلق فرماتا ہے :
____________________
١)سورئہ بقرہ ١٨ ۔ )
٢)سورئہ بقرہ ٧۴ ۔ )
(( اِنَّ اللهَ یُسمِْعُ مَن یَّشَاءُ وَمَااَنتَْ بِمُسمِْعٍ مَن فِی القُبُورْ ) (١ “الله جس کو چا ہتا ہے اپنی بات سنا دیتا ہے اور آپ انهيں نہيںسنا سکتے جو قبروں کے اندر رہنے والے ہيں ”
(اور یہ فرمان خدا :( اِنَّکَ لاَتُسمِْعُ المَْو تْٰ ی وَلاتُسمِْعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ ) (٢ “آپ مُردوں کواور بہروں کو اپنی آواز نہيں سنا سکتے ہيں اگر وہ منه پهير کر بهاگ کهڑے ہوں ”
خدا وند عالم یہ فر ما تا ہے : (( وَسَوَائٌعَلَيهِْم انذَْرتَْهُم اَم لَم تُنذِْرهُْم لاَیُومِْنُونَْ ) (٣ “اور ان کےلئے سب برابر ہے آپ انهيں ڈرائيں یا نہ ڈرائيں یہ ایمان لانے والے نہيں ہيں ”
آوازاور انداز ميں کوئی عجزو کمی نہيں ہے بلکہ یہ ميت کی کمی اور عاجزی ہے کہ وہ کسی چيز کو سننے کی قابليت نہيں رکهتی ہے ۔ دل کی اسی حالت کواس (دل) کا مرجانا ،بند ہو جانا اور الله سے منقطع ہو جا نا کہا جاتا ہے ۔
اس قطع تعلق اوردل کے بند ہوجانے کی کيا وجہ ہے ؟
دلوں کے منجمد ہونے کے اسباب
اسلامی روایات ميں دلو ں کے منغلق ہو نے اور ان کے الله سے منقطع ہو جانے کے دواہم اسباب پر زور دیا گيا ہے :
____________________
١)سورئہ فاطرآیت/ ٢٢ ۔ )
٢)سورئہ نمل آیت / ٨٠ ۔ )
٣)سورئہ یس آیت/ ١٠ ۔ )
١۔الله کی آیات سے اعراض روگردانی اور ان کی تکذیب ۔
٢۔گناہوں اور معصتيوں کا ارتکاب۔
خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے :
(( وَالَّذِینَْ کَذَّبُواْبِآیَاتِنَاصُمٌّ وَبُکمٌْ فِی الظُّلُ مٰاتِ ) ( ١)
“اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ بہرے گونگے تاریکيوں ميں پڑے ہوئے ہيں ”
اس آیہ کریمہ ميں الله کی آیات کی تکذیب، لوگوں کی زند گی ميں تاریکيو ںکے بس جانے اور ان کے گونگے ہوجانے کا سبب ہے ۔ خدا وند عالم فرماتا ہے:
(( وَاِذَاتُت لْٰی عَلَيهِْ آیَاتُنَا وَلیّٰ مُستَْکبِْراً کَان لَّم یَسمَْعهَْاکَانَّ فِی اُذُنَيهِْ وَقرْاً ) ( ٢)
“اور جب اس کے سامنے آیاتِ الٰہيہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو اکڑکر منه پهير ليتا ہے جيسے اس نے کچه سنا ہی نہيں ہے اور جيسے اس کے کان ميں بہرا پن ہے ”
ہم اس آیہ کریمہ ميں الله کی آیات سے رو گردانی ان سے استکبار کے درميان ایک متبادل تعلق کامشاہدہ کرتے ہيں۔
اسی پہلے سبب کو اعراض و روگردانی کہا جاتا ہے ۔
اور دوسرے سبب(گناہ )کے سلسلہ ميں خداوند عالم فرماتا ہے :
____________________
١)سورئہ انعام آیت / ٣٩ ۔ )
٢)سورئہ لقمان آیت / ٧۔ )
(( کَلاَّبَل رَانَ عَ لٰی قُلُوبِْهِم مَّاکَانُواْیَکسِْبُونَْ ) ( ١)
“نہيں نہيں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ لگ گيا ہے” آیہ کریمہ ميں صاف طور پر یہ واضح کردیا گيا ہے کہ جن گناہوں کو انسان کسب کرتا ہے وہ دل کو زنگ آلود کردیتے ہيں جن کی وجہ سے دل پر پردہ پڑجاتا ہے اور وہ الله سے منقطع ہو جاتا ہے۔
گناہوں سے دلوں کااُلٹ جانا
انسان جب بار بار گناہ کرتا ہے یہاں تک کہ اس کا دل خدا سے منقطع ہو جاتا ہے اور جب دل خدا سے منقطع ہو جاتا ہے تو وہ برعکس (پلٹ جانا )ہوجاتا ہے گو یا او پر کا حصہ نيچے اور نيچے کا حصہ اوپر ہوجاتا ہے اور اس کے تمام خصو صيات ختم ہو جاتے ہيں ۔
امام جعفرصادق عليہ السلام سے مرو ی ہے :
کان ابي یقول:مامن شيٴ افسد للقلب من خطيئته،انّ القلب ليواقع الخطيئة،فلاتزال به حتّیٰ تغلب عليه،فيصيراعلاه اسفله ( ٢)
“ميرے والد بزرگوار کا فرمایا کرتے تهے : انسان کی خطا و غلطی کے علاوہ کوئی چيز انسان کے دل کو خراب نہيں کرسکتی ،بيشک اگر دل خطا کر جائے تو وہ اس پر ہميشہ کےلئے غالب آجاتی ہے یہاں تک کہ دل کا او پر والا حصہ نيچے اور نيچے کا حصہ او پر آجاتا ہے ”
اور یہ بهی امام جعفرصادق عليہ السلام کا فرمان ہے :
اذااذنب الرجل خرج في قلبه نکتة سوداء،فان تاب انمحت،وان زاد زادت ،حتّیٰ تغلب علیٰ قلبه،فلایفلح بعدهاابداً (٣)
____________________
١)سورئہ مطففين آیت/ ١۴ ۔ )
٢)بحا ر الانوار جلد ٧٣ صفحہ/ ۴١٢ ۔ )
٣)بحار الا نوارجلد ٧٣ صفحہ ٣٢٧ ۔ )
“ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل ميں ایک سياہ نقطہ پيدا ہو جاتا ہے اگروہ تو بہ کرليتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے ، اور اگر زیادہ گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بهی بڑ هتا جاتا ہے یہاں تک کہ پور ے دل پر غالب آجاتا ہے اور پهر کبهی وہ اس (دل )پر کا ميابی نہيں پا سکتا ہے ”
گناہوں کے ذریعہ انسان کے دل سے حلاوت ذکر کا خاتمہ
الله کے ذکر کےلئے مومنوں کے دلوں ميں حلاوت پانی جاتی ہے ، اس حلاوت و شيرینی سے بلند تر کو ئی حلاوت نہيں ہے ، ليکن جب انسان خداوند عالم سے روگردانی کر ليتا ہے تو وہ حلاوت بهی ختم ہو جاتی ہے اور اس کا حلاوت ذکر کا ذائقہ چکهنے والوں ميں شمار نہيں کيا جاتا ہے جيسے بيمار انسان جو اپنی تند رستی کهو بيڻهتا ہے تو اس کی قوت ذائقہ بهی مفقود ہوجاتی ہے نہ یہ کہ کها نے والی چيزوں کا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے ، بلکہ مریض کی قوت ذائقہ مفقود ہو جاتی ہے اسی طرح جب دل خدا سے پهر جاتے ہيں تو ان سے الله کے ذکر کی حلاوت ختم ہو جاتی ہے اور ان کی نظر ميں الله کے ذکر کی کوئی حلاوت وجاذبيت نہيں رہ جاتی ہے جيسے وہ بيمار جو اپنی سلا متی و صحت و تندرستی سے محروم ہو جاتا ہے جس کے نتيجہ ميںوہ لذیذ چيزوں کی لذت کهو بيڻهتا ہے اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ لذیذ چيزوں ميں لذت نہيں رہی ہے بلکہ انسان کو ان کی اشتہا و خواہش نہيں رہی ہے اسی طرح جب قلوب اپنا اعتدال کهو بيڻهتے ہيں تو ان کے درميان سے خداوند عالم کی یاد کی شيرینی کا ذائقہ ختم ہو جاتا ہے اور خداوند عالم کی یاد اور تذکرہ کےلئے ان ميں کو ئی حلاوت وجذابيت باقی نہيں رہ جا تی ہے ۔
حدیث ميں آیا ہے :
اِنَّ اللهَّٰ اَوحْ یٰ اِل یٰ دَاود اَن اَدن یٰ مَاانَا صَانعٌ بِعبدٍ غَيرَْعَامِلٍ بِعِلمِْهِ مِن سَبعِْينَْ عَقُوبَْة بَاطِنِيَّةٍ ان اَنزْع مِن قَلبِْهِ حَلَاوَةَ ذِکرِْي (١)
____________________
١)دار السلام مو لف شيخ نوری جلد ٣ صفحہ ٢٠٠ ۔ )
“خداوند عالم نے جناب داؤد کو وحی کی کہ اپنے علم پر عمل نہ کرنے والے بندہ کو ستر باطنی سزاؤں ميں سے سب سے کم سزا یہ دیتاہوںکہ ميں اس کے دل سے اپنے ذکر کی حلاوت ختم کردیتاہوں ”
ایک شخص نے حضرت امير المو منين عليہ السلام کی خدمت ميں حاضر ہو کر عرض کيا :
یااميرالمومنين،إني قدحرمت الصلاة بالليل فقال عليه السلام :انت رجل قد قيدتک ذنوبک ( ١)
“اے امير المو منين ایسا لگتا ہے کہ جيسے نماز شب مجه پر حرام ہو گئی ہے ”
آپ نے فرمایا :تو ایسا شخص ہے کہ تيرے گناہوں نے تجه کو اپنی گرفت ميں لے ليا ہے ”
حضر ت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :
انّ الرجل یذنب الذنب،فيحرم صلاة الليل،وانّ العمل السيّیٴ اسرع في صاحبه من السکين في اللحم ( ٢)
“جب انسان گناہو ں پر گناہ کئے چلاجاتا ہے تو اس پر نماز شب حرام ہوجاتی ہے اور براعمل انسان کے اندر گوشت ميں چهری سے کہيں زیادہ تيز اثر کرتا ہے ”
دعاؤں کو روک دینے والے گناہ
براہ راست گناہوں کے انجام دینے سے انسان کا دل الله سے منقطع ہوجاتاہے اور جب انسان کا دل الله سے منقطع ہو جاتاہے تو نہ اس ميں کسی چيز کو اخذ کرنے کی صلاحيت باقی رہ جاتی ہے اور نہ ہی اس کو کوئی چيز عطا کی جاتی ہے
____________________
١)علل اشر ائع جلد ٢ صفحہ / ۵١ ۔ )
٢)اصول کا فی ٢صفحہ / ٢٧٢ ۔ )
جب انسان الله کی طرف سے نازل ہو نے والے قرآن کا استقبال کرتاہے تو (دعا) انسان کو الله تک پہنچاتی ہے ،اور جب انسان الله کے نازل کئے جانے والے قرآن سے منقطع ہو جاتا ہے تو وہ ضروری طور پر قرآن صاعد سے بهی منقطع ہوجاتاہے ۔اس کی دعا محبوس (قيد )ہوجاتی ہے اور وہ اس پر کامياب نہيں ہوپاتایہاں تک کہ اگر وہ خدا کی بارگاہ ميں بہت زیادہ گڑگڑائے یاپافشاری کرے ،اصرارکرے تب بهی خدا اس کی دعا کو اوپر پہنچنے سے روک دیتا ہے اور اس کی دعا مستجاب نہيں ہوتی ہے ۔
حضرت علی عليہ السلام سے مروی ہے :المعصية تمنع الاجابة
“گناہ دعا کے مستجاب ہونے ميں مانع ہوتے ہيں” ایک شخص نے حضرت علی عليہ السلام سے خداوندعالم کے اس قولادعونی استجب لکم کے سلسلہ ميں سوال کيا :
مالنا ندعو فلایُستجاب لنا؟قال:فاي دعاء یُستجاب لکم،وقد سددتم ابوابه وطرقه،فاتقوااللّٰه واصلحوااعمالکم،واخلصوا سرائرکم ،وامروا بالمعروف،وانهواعن المنکر،فيستجيب اللّٰه معکم ( ١)
“ کيا وجہ ہے کہ ہم خداوندعالم سے دعا کرتے ہيں ليکن ہماری دعا مستجاب نہيں ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہار ی دعا کيسے مستجاب ہو جب تم نے اس کے دروازوں اور راستوں کو بند کردیا ہے پس تم الله کا تقویٰ اختيار کرو ،نيک اعمال انجام دو ،اپنے اسرار کو پاکيز ہ کرو ،امربا لمعروف کرو ،نہی عن النکر انجام دو تو خدا تمہاری دعا قبول کرے گا ”
____________________
١)بحارالانور جلد ٩٣ /صفحہ ٣٧۶ ۔ )
حضرت علی بن الحسين زین العابدین عليہ السلام سے مروی ہے : (والذنوب التی تردّ الدعاء،وتُظلم الهواء عقوق الوالدین ( ١)
“جوگناہ دعاؤں کو رد کر دیتے ہيں اور فضا کو تاریک کر دیتے ہيں ان سے مراد والدین سے سر کشی کرنا ہے ”
دوسری روایت ميں آیاہے :
والذنوب التی تردّالدعاء:سوء النية وخبث السریرة،والنفاق، وترک التصدیق بالاجابة،وتاخيرالصلوات المفروضات حتّیٰ تذهب اوقاتها،وترک التقرب الیٰ اللّه عزّ وجلّ بالبرّ والصدقة،واستعمال البذاء والفحش فی القول (٢ “دعاؤں کو مستجاب ہونے سے روک دینے والے گناہ یہ ہيں :بُری نيت ،خُبث باطنی، نفاق واجب صدقہ نہ دینا،واجب نمازوں کے اداکرنے ميں اتنی تاخير کرنا کہ نماز کا وقت ہی ختم ہوجائے، نيکی اور صدقہ دینے کے ذریعہ الله سے قربت حاصل کرنے کو چهوڑدینا اور گفتگوميں گاليا ں دینا ”
حضرت مام محمدباقر عليہ السلام سے مروی ہے :
انّ العبد یسا ل اللّٰه الحاجة،فيکون من شانه قضاوها الیٰ اجل قریب،في ذنب العبد ذنباً،فيقول اللّٰه تبارک وتعالیٰ للملک:لاتقض حاجته،واحرمه ایاها،فإنهّ تعرض لسخطي واستوجب الحرمان مني ( ٣)
“جب بندہ خداوندعالم سے اپنی حاجت طلب کر تاہے تو خدا کی شان دعا کو پورا کر دینا ہے مگر بندہ گناہ کرليتا ہے جسکی وجہ سے دعاقبول نہيں ہوتی، خداوندعالم فرشتہ سے کہتا ہے :اس کی حاجت روانہ کرنا ،اس کو اس کی حاجت سے محروم رکهنا ،وہ مجهکو نا خشنود کرتا ہے جسکی وجہ سے وہ مجه سے محروم ہوا ہے ”
____________________
۔ ١)معانی الاخبار صفحہ / ٢٧٠ ۔ )
٢)معانی الاخبار صفحہ / ٢٧١ ۔ )
٣)اصول کا فی جلد ٣صفحہ ٣٧٣ ۔ )
قبوليت اعمال کے موانع
اسلامی روایات ميں (اعمال کے بلند ہو نے ميں رکاوٹ ڈالنے والے موانع )اور (الله کی بارگاہ ميں اعمال پہنچا نے کے اسباب )کاتذکرہ موجود ہے :
ان دونوں چيزوں کا انسان کے عمل سے براہ رست تعلق ہے مگر یہ کہ (موانع) اعمال کے الله کی بارگاہ تک پہنچنے ميں رکاوٹ ڈالتے ہيں ،اور (اسباب ) اعمال کو الله کی بارگاہ ميں پہنچنے ميں مددگار ہوتے ہيں :
ہم ذیل ميں (موانع )کے متعلق اسلامی روایات ميں وارد ہو نے والے ایک نمونہ کا تذکرہ کریں گے اور اسباب کے سلسلہ ميں بهی ایک ہی نمونہ کا تذکرہ کریں گے اور اس مسئلہ کی اسلامی ثقافت وتربيت ميں زیادہ اہميت ہونے کی غرض سے اسکی تفصيل وتشریح ایک مناسب موقع کےلئے چهوڑدیتے ہيں ۔
صعود اعمال کے موانع (اسباب)
شيخ ابو جعفر محمد بن احمد بن علی قمی ساکن ری نے اپنی کتاب “المنبیُ عن زهد النبی” عبدالواحد سے اور انهوں نے معاذ بن جبل سے نقل کيا ہے :ان کا کہنا ہے کہ ميں نے عرض کيا: ميرے لئے ایک ایسی حدیث بيان فر ما دیجئے جس کو آپ نے رسول اکر م (ص) سے سنا ہو اور حفظ کيا ہو انهوں نے کہا ڻهيک ہے پهر معاذ نے گریہ کرتے ہو ئے فر مایا :ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوںتو اس وقت مجه سے یہ حدیث نقل فر ما ئی جب ميں ان کے پاس کهڑا ہوا تها:
“بينا نسيراذ رفع بصره الی السماء فقال:الحمدلله الذي یقضي في خلقه مااحبّ،ثم قال:یامعاذ،قلت:لبيک یارسول اللّٰه وسيد المومينن قال: یا معاذ،قلت، لبيک یارسول الله امام الخيرونبي الرحمة فقال:احدثک شيئاًماحدّث به نبي امته ان حفظته نفعک عيشک،وان سمعته ولم تحفظه انقطعت حجتک عند اللّٰه،ثم قال:انّ اللّٰه خلق سبع املاک قبل ان یخلق السماوات فجعل فی کل سماء ملکاًقدجللها بعظمته،وجعل علیٰ کل باب من ابواب السماوات ملکاًبواباً،فتکتب الحفظة عمل العبد من حين یصبح الیٰ حين یمسي،ثم ترتفع الحفظة بعمله وله نورکنور الشمس حتّی اذابلغ سماء الدنيا فتزکيه وتکثره فيقول الملک:قفوا واضربوابهذاالعمل وجه صاحبه،اناملک الغيبة،فمن اغتاب لاادع عمله یجاوزني الیٰ غيري،امرني بذالک ربي
قال :ثم تجیٴ الحفظة من الغد ومعهم عمل صالح،فتمّر به فتزکيه و تکثره حتّی تبلغ السماء الثانية،فيقول الملک الذي فيالسماء الثانية:قفوا واضربواهذ االعمل وجه صاحبه انّما اراد بهذاعرض الدنيا،اناصاحب الدنيا، لاادع عمله یتجاوزني الیٰ غيري قال:ثم تصعد الحفظة بعمل العبدمبتهجابصدقة وصلاة فتعجب به الحفظة،وتجاوز به الیٰ السماء الثالثة،فيقول الملک:قفوا واضربوا هذاالعمل وجه صاحبه وظهره،اناملک صاحب الکبر،فيقول:انه عمل وتکبرّعلی الناس في مجالسهم؛امرني ربي ان لاادع عمله یتجاوزني الیٰ غيري
قال:وتصعد الحفظة بعمل العبد یزهرکالکوکب الدري في السماء،له دوي بالتسبيح والصوم والحج ،فتمّر به الی السماء الرابعة فيقول له الملک:قفوا واضربوا بهذا العمل وجه صاحبه وبطنه،اناملک العُجب،انه کان یعجب بنفسه انه عمل وادخل نفسه العُجب،امرني ربّي ان لاادع عمله یتجاوز ني الی غيري
قال وتصعد الحفظة بعمل العبدکالعروس المزفوفة الی اهلها،فتمرّ به الی ملک السماء الخامسة بالجهاد والصلاة والصدقة )مابين الصلاتين،ولذلک العمل رنين کرنين الابل وعليه ضوء کضوء الشمس،فيقول الملک:قفوا انا ملک الحسد،واضربوابهذ االعمل وجه صاحبه،واحملوه علیٰ عاتقه،انه کان یحسد مَنْ یتعلم اویعمل لله بطاعته،واذا رایٰ لاحد فضلافي العمل والعبادة حسده ووقع فيه،فيحمله علیٰ عاتقه ویلعنه عمله قال:وتصعد الحفظة بعمل العبد من صلاة وزکاة وحج وعمرة، فيتجاوزون به الی السماء السادسة،فيقول الملک:قفوا اناصاحب الرحمة واضربوابهذاالعمل وجه صاحبه،واطمسواعينيه لانّ صاحبه لم یرحم شيئاًاذا اصاب عبداًمن عبادالله ذنب للاخرة اوضرّ في الدنياشمت به،امرني به ربي ان لاادع عمله یجاوزني
قال وتصعد الحفظةبعمل العبد بفقه واجتهاد وورع وله صوت کالرعد، وضوء کضوء البرق،ومعه ثلاثة آلاف ملک،فتمرّبه الی ملک السماء السابعة، فيقول الملک:قفوا واضربوا بهذاالعمل وجه صاحبه اناملک الحجاب احجب کل عمل ليس لله،انّّه ارادرفعة عندالقُوّاد،وذکراً في المجالس وصيتاًفي المدائن، امرني ربي ان لاادع عمله یتجاوزني الی غيري مالم یکن الله خالصاً
قال:وتصعد الحفظة بعمل العبد مبتهجاً به من صلاة وزکاة وصيام وحج وعُمرة وحسن الخلق وصمت وذکرکثير ،تشيعه ملائکة السماوات والملائکة السبعة بجماعتهم،فيطئاُون الحجب کلّها حتیٰ یقوموابين یدیه سبحانه،فيشهدوا له بعمل ودعاء فيقول:انتم حفظة عمل عبدي،وانا رقيب علیٰ مافي نفسه انه لم یردنی بهذا العملوعليه لعنتي فيقول الملائکة:عليه لعنتک ولعنتنا قال :ثم بکیٰٰ معاذقال:قلت:یارسول الله،ماا عمل واخلص فيه ؟قال:اقتد بنبيک یامعاذفي اليقين قال:قلت انت رسول الله وانامعاذ قال:وان کان فی عملک تقصير یامعاذ فاقطع لسانک عن اخوانک وعن حملة القرآن،ولتکن ذنوبک عليک لا تحملهاعلیٰ اخوانک،ولاتزک نفسک بتذ ميم اخوانک،ولاترفع نفسک بوضع اخوانک،ولاتراء بعملک،ولاتدخل من الدنيافي الآخرة،ولا تفحش في مجلسک لکي یحذروک لسوء خلقک ولاتناج مع رجل وانت مع آخر،ولا تعظم علی الناس فتنقطع عنک خيرات الدنيا،ولاتمزق الناس فتمزقک کلاب اهل النار،قال الله تعالیٰ: وَالنا شِّٰ طٰاتِ نَشطْْاًً(١) افتدری ماالناشطات ؟انها کلاب اهل النار تنشط اللحم واعظم قلت:ومن یطيق هذه الخصال ؟قال:یامعاذ، انه یسير علیٰ من یسّره الله تعالیٰ عليه قال:ومارایت معاذاً یکثرتلاوة القرآن کما یکثر تلاوة (هذاالحدیث( ٢)
“انهوں نے فرمایا :ہم راستہ چلے جا رہے تهے تو انهوں نے اپنی آنکه آسمان کی طرف اڻها تے ہو ئے فر مایا :تمام تعریفيں اس خدائے وحدہ لا شریک کےلئے ہيں وہ اپنی مخلوق ميں جو چا ہتا ہے وہ فيصلہ کرتا ہے۔پهر انهوں نے کہا :اے معاذ ۔
____________________
١)سورئہ نازعات آیت/ ٢۔ )
٢)ہم نے یہ طویل حدیث کتاب عدة الداعی کے صفحہ ٢٢٨ ۔ ٢٣٠ سے نقل کی ہے ،اور اس ) کتاب ميں اس حدیث کے حاشيہ ميں تحریر ہے کہ :سليمان بن خالد سے مروی ہے کہ ميں نے ابا عبد الله عليہ السلام سے خداوند عالم کے اس قول : وَقَدِمنَْااِل یٰ مَاعَمِلُواْمِن عَمَلٍ فَجَعَلنَْاہُ هَبَاءً مَنثُْوراً سورئہ فرقا ن آیت / ٢٣ “پهر ہم انکے اعمال کی طرف توجہ کریں گے اور سب کو اڑتے ہوئے خاک کے ذروں کے مانند بنا دیں گے ”کے سلسلہ ميں سوال کيا تو آپ نے فرمایا : خداکی قسم اگر انکے اعمال قباطی سے بهی زیادہ سفيد(بہت زیادہ نورانی )رہے ہوں گے ليکن جب ان کے سامنے کسی حرام چيز کو پيش کيا جاتاتها تو اسکو ترک نہيں کرتے تهے ”مرآة العقول ميں آیا ہے :مذکورہ مطلب ميں اس بات کی دلالت ہے کہ کهلم کهلا گناہ کر نے سے نيکياں ختم ہو جاتی ہيں اور احباط کا مطلب یہ ہے کہ اچها ئيوں پر ثواب نہ ملنا اسکے بالمقابل تکفير ہے یعنی کسی برائی پر عذاب نہ ملنا ۔
ميں نے کہا :لبيک یارسول الله (ص)اور مو منين کے سردار ۔فرمایا : اے معاذ ميں نے عرض کيا :لبيک یا رسول الله خير کے امام اور نبی رحمت ،انهوں نے کہا ميں تم سے ایک حدیث نقل کر رہا ہوں جيسی کسی نبی نے اپنی امت سے نقل نے کی ہو اگر تم اس کو حفظ کروگے تو زندگی ميں مستفيد ہو گے اگر سن کر حفظ نہيں کروگے تو تم پرخداوند عالم کی حجت تمام ہو جا ئے گی ۔پهر انهوں نے کہا کہ خداوند عالم نے آسمانوں کی خلقت سے پہلے سات فر شتے خلق کئے تو ہر اس آسمان ميں ایک فرشتہ معين کيا جس کو اپنی عظمت کے ذریعہ مکرم فر مایاآسمانوں کے ہر در وازے پر ایک نگہبان فر شتہ معين فر مایا تووہ انسان کے اعمال نا مہ ميں اس بندہ کا صبح سے شام تک کا عمل لکهتے ہيں پهر یہ لکهنے والے فرشتے اس کے اعمال نا مہ کو ليکر اوپر جا تے ہيں اس کی روشنی دهوپ کے مانند ہو تی ہے یہاں تک کہ جب وہ آسمان دنيا پر پہنچتا ہے تو فرشتے اس کے عمل کو پاک و صاف و شفاف اور زیادہ کر دیتے ہيں تو فرشتہ کہتا ہے :ڻهہرو اور اس عمل کو صاحب عمل کے منه پر ما ردو ميں غيبت کا فرشتہ ہوں جو غيبت کرتا ہے ميں اس کے عمل کو اپنے علاوہ کسی دو سرے تک نہيں پہنچنے دوںگا ميرے پرور دگار نے مجهے یہ حکم دیا ہے۔ رسول اکر م (ص) نے فرمایا : اگلے دن یہ نا مہ اعمال ،عمل صالح کے ساته تزکيہ اور زیادہ ہو نے کی صورت ميں دو سرے آسمان تک پہنچتا ہے ،تو دو سرے آسمان والا نگہبان فرشتہ کہتا ہے :ڻهہرو
اور اس عمل کو صاحب عمل کے منه پر ماردو چونکہ اس نے اس عمل کے ذریعہ اپنے کو دنيا کے سامنے پيش کر نے کی کو شش کی ہے اور ميں صاحب دنيا ہوں لہٰذا ميں اس عمل کو اپنے علاوہ کسی دو سرے تک نہيں جا نے دو نگا ۔ فرمایا :پهر وہ لکهنے والے اس نامہ اعمال کو صدقہ اور نماز سے پُر،خو شی خو شی اوپر ليجا تے ہيں اور وہ تيسرے آسمان سے عبور کر جاتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے :ڻهہرو اور اس عمل کو صا حب عمل کے منه اور پيڻه پر مار دوميں صاحب کبر کا فر شتہ ہوں وہ کہے گا :اس نے اس عمل کے ذریعہ لوگوں کی مجلسوںميں بيڻه کر تکبر کيا ميرے پروردگار نے مجهے یہ حکم دیا ہے کہ ميں اس عمل کو اپنے علاوہ کسی دوسرے تک نہ پہنچنے دوں ۔
فرمایا :یہ نا مہ اعمال بندہ کے اس عمل کی وجہ سے جس ميں تسبيح ،روزہ اور حج ہو گا ان کے ذریعہ آسمان ميں کوکب دری کی طرح روشن ہو کر چوتهے آسمان سے گذر جا ئيگا تو فرشتہ ا س سے کہے گا : اس عمل کو صاحب عمل کے منه اور پيٹ پر ماردو ،ميں عُجب کا فرشتہ ہوں وہ اپنے نفس ميں اس عمل کے ذریعہ عجب کرتا تها اور اس کے نفس ميں عُجب داخل ہو گيا ہے ؛ميرے پرور دگارنے مجهے یہ حکم دیا ہے کہ یہ عمل ميرے علاوہ کسی اور تک نہ پہنچنے پائے ۔ فرمایا :یہ نا مہ اعمال بندہ کے عمل کے ذریعہ اپنے شوہر کے گهر کی طرف جانے والی دُلہن کے مانند جہاد ،نماز اوردونمازوں کے درميان دئے جا نے والے صدقہ سے پانچویں آسمان سے گذر جائيگا یہ اونٹ کی طرح آواز بلند کررہا ہوگا اور آفتاب کی طرح روشن ہوگا ،پس فرشتہ کہے گا: ڻهہرو ميں حسد کا فرشتہ ہوں اور اس عمل کو صاحب عمل کے منه پر مار دو اور اس کے کاندهوں پر رکه دو ؛یہ طالب علم اور الله کی اطاعت کرنے والے سے حسد کرتا تها اور جب بهی یہ عمل اور عبادت ميں کسی اور کو اپنے سے برتر دیکهتا تها تو اس سے حسد کرتا تها لہٰذا اس عمل کو اسی کے کاندهوں پر رکه دو اور اس کا عمل اس پر لعنت کریگا ۔
فرمایا :وہ نا مہ اعمال نماز ،زکات ،حج اور عمرہ کے ذریعہ چهڻے آسمان سے گذر جا ئيگا تو فرشتہ کہے گا :ڻهہرو ميں صاحب رحمت ہوں اس عمل کو صاحب عمل کے منه پر ماردو اور اس کی آنکهوں کو بے نور کردو چونکہ اس شخص نے ذرہ برابر رحم نہيں کياجب الله کا کو ئی بندہ اُخروی گناہ یا دنيوی مصيبت ميں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کی شماتت کی جا تی ہے ۔
فرمایا :یہ نا مہ اعمال بندہ کے فقہ ،اجتہاد اور ورع و پرہيزگاری کے ذریعہ جو بجلی کی طرح کڑک رہا ہوگا ،برق کی طرح اس کی روشنی ہو گی اور اس کے تين ہزار فرشتے ہوں گے یہ ساتویں آسمان سے گذر جائيگا تو فرشتہ کہے گا :ڻهہرو اس عمل کو صاحب عمل کے منه پر ماردو ميں حجاب کا فرشتہ ہوں اس نے جو عمل الله کيلئے نہيں تها اس کو چهپایا؛اس نے رہنماؤں کی نظر ميں بلندمرتبہ ،نشستوں ميں اپنے تذکرہ اور شہروں ميں اپنی شہرت کی تمنّا کی تهی ،ميرے پروردگار نے مجه کو حکم دیا ہے کہ جو عمل خالص الله کے لئے نہ ہو اس کو ميں اپنے علاوہ کسی دوسرے تک نہ جانے دوں ۔
فرمایا :یہ نا مہ اعمال بندہ کے عمل کے ذریعہ خو شی خوشی جس ميں نماز ،زکات ،روزے ،حج، عمرہ ،حُسن خلق ،صمت و وقاراور ذکر کثير ہوگا آگے بڑهے گا جس کے ساته آسمان و زمين کے ملا ئکہ ہو ں گے جوتمام پردوں کو رونده دیتے ہيںيہاں تک کہ پروردگار عالم کے سامنے جا کهڑے ہوں گے اور وہ سب اس بندہ کے اس عمل اور دعا کی گو اہی دیں گے پس پروردگار آواز دے گا :تم نے ميرے بندہ کا یہ نا مہ اعمال لکها ہے اور ميں بذات خود اس کا دیکهنے والا ہوں ۔اس عمل کو ميرے پاس نہ لاؤ اس پر ميری لعنت ہے ۔تو ملا ئکہ کہيںگے :اس پر تيری اور ہم سب کی لعنت ہے ۔
فرما یا :پهر معاذ گریہ کرنے لگے ۔
معاذ نے کہا ميں نے رسول الله (ص) کی خدمت ميں عرض کيا :ميں کيسے خالص عمل انجام دوں ؟
فرمایا : اے معاذ تم یقين ميں اپنے نبی اکرم (ص) کی اقتدا کرو ۔ معاذ نے عرض کيا :یا رسول الله (ص) آپ رسول خدا ہيں اور ميں معاذ ہوں ۔ فرمایا :اگر تمہارے عمل ميں کو ئی کو تا ہی ہے تو تم اپنے برادران کی غيبت کرنے سے پرہيز کرو قرآن کے حاملين کے سلسلہ ميں اپنی زبان بند رکهو تمہارے گناہوں کا بوجه تمہارے بها ئيوں پر نہيں پڑنا چا ہئے ،اپنے بها ئيوں کی برائی کرکے خود کو بہتر مت سمجهو ،اپنے بهائيوں کی تو ہين کرکے خود کو بلند مرتبہ مت سمجهو، ریاکاری نہ کرو،دنياکے ذریعہ آخرت ميں داخل نہ ہواگر تم کسی سے سرگو شی کر رہے ہو تو دوسرے شخص کے ساته اسی حال ميں سر گوشی مت کرو ،لوگوں پر بوجه مت بنو کہ تم سے دنيا کی بهلا ئياں رو گردانی کر جا ئيں ،لوگوں ميں تفرقہ نہ پيدا کرو ورنہ جہنم کے کتّے تم کو پاش پاش کرڈاليں گے خداوند عالم کا فرمان ہے : وَالنّاشِطَاتِ نَشطْاً “اور آسانی سے کهول دینے والے ہيں” کيا تم جانتے ہو کہ ناشطات کيا ہے ؟یہ جہنم کے کتّے ہيں جو گوشت اور ہڈیوں کو کها جاتے ہيں ۔
معاذ نے عرض کيا :ان خصلتوں کی کس ميں طاقت ہے ؟
فرمایا :اے معاذیہ اس شخص کيلئے بہت آسان ہيں جن کيلئے خداوند عالم ان کو آسان کردیاہے
فرمایا :ميں نے معاذ کو اتنی زیادہ قرآن کی تلا وت کرتے نہيں دیکها جتنی وہ اس حدیث کی تلاوت کرتے تهے ”
اعمال کو الله تک پہنچا نے والے اسباب
موانع کے بالمقابل کچه ایسے اسباب ہيں کہ جب اعمال الله کی بارگاہ تک پہنچنے سے عاجز ہو جاتے ہيں تووہ اسباب جو انسان کے اعمال کو الله کی بارگاہ تک پہنچا تے ہيں اور یہ اسباب ،موانع کے بالمقابل ہيں :ان اسباب کا روایت نبوی ميں تذکرہ مو جود ہے جن کو ہم علامہ مجلسی کی نقل روایت کے مطابق جس کو انهوں نے امالی شيخ صدوق سے بحارالانوار ميں نقل کيا ہے بيان کرتے ہيں : شيخ صدوق نے (امالی )ميں سعيد بن مسيب سے انهوں نے عبد الر حمن بن سمرہ سے نقل کيا ہے :(ہم ایک دن رسول الله (ص)کی خدمت بابر کت ميں حاضر تهے کہ آپ نے فرمایا :
فقال:اني رایت البارحة عجائب ،قال:فقلنا:یارسول الله، ومار ایت ؟ حدَّثنا به فداک انفسناواهلوناواولادنا ؟فقال:رایت رجلاً من اُمتي وقد اتاه ملک الموت ليقبض روحه،فجاء ه برّه بوالدیه فمنعه منه
ورایت رجلاًمن اُمتي قد بسط عليه عذاب القبر،فجاءَ ه وضو وه فمنعه منه ورایت رجلاًمن اُمتي قداحتوشته الشياطين،فجاءَ ه ذکرُاللهعزّوجلّ فنجّاه من بينهم
ورا یت رجلاًمن اُمتي والنبيّون حلقاًکلمااتیٰ حلقة طردوه،فجاءَ ه اغتساله من الجنابة فاخذبيده فاجلسه الی جنبهم
ورا یت رجلاً من اُمتي بين یدیه ظلمة ومن خلفه ظلمة وعن یمينه ظلمة وعن شماله ظلمة ومن تحته ظلمة مستنقعاًفي الظلمة،فجاءَ ه حجه وعمرته فاخرجاه من الظلمة وادخلاه النور
ورا یت رجلاً من اُمتي یُکلّم المُومنين فلایُکلمونه،فجاءَ ه صلته للرحم فقال:یامعشرالمومنين،کلّموه فانّه کان واصلاً لرحمه،فکلمه المومنون وصافحوه وکان معهم
ورا یت رجلاً من اُمتي تقی وجهه النيران و شررها بيده ووجهه،فجاء ته صدقته فکانت ظلّاً علیٰ راسه وستراً علیٰ وجهه
ورا یت رجلاً من اُمتي قد اخذ ته الزبانية من کل مکان فجاء ه امره بالمعروف ونهيه عن المنکر فخلّصَاه من بينهم وجعلاه مع ملائکة الرحمة
ورا یت رجلاً من اُمتي جاثياًعلیٰ رکبتيه بينه و بين رحمة اللّٰه حجاب فجاء ه حسن خلقه فاخذ بيده فادخله فی رحمة اللّٰه
ورا یت رجلاً من اُمتی قد هوت صحيفته قبل شماله فجاءَ ه خوفه من اللّٰه عزّ وجلّ فاخذ صحيفته فجعلها فی یمينه
ورا یت رجلاً من اُمتي قد خفت مو ازینه،فجاءَ ه افراطه فثقلوا مو ازینه ورا یت رجلاً من اُمتي قائماً علیٰ شفيرجهنم،فجاءَ ه رجاءَ ه فی اللّٰه عزّو جلّ فاستنقذه بذالک
ورا یت رجلاً من اُمتي قد هویٰ في النارفجاءَ تْه دموعه التي بکیٰ من خشية اللّٰه فاستخرجته من ذلک
ورا یت رجلاً من اُمتي علیٰ الصراط یرتعدکما ترتعدالسعفة فی یوم ریح عاصف فجاءَ ه حسن ظنه باللّٰه فسکن رعدته ومضیٰ علی الصراط ورایت رجلاً من اُمتي علیٰ الصراط یزحف احياناًویحبواحياناًویتعلق احياناًفجاءَ تْه صلاته عليه فاقامته علیٰ قدميه ومضیٰ علیٰ الصراط
ورا یت رجلاً من اُمتي انتهیٰ الیٰ ابواب الجنة کلماانتهیٰ الیٰ باب اُغلق دونه،فجاء ته شهادة ان لا الٰه الّا اللّٰه صادقاًبها،ففتحت له الابواب و دخل الجنة”١ “
ميں نے متعدد عجائبات کا مشاہد ہ کيا ہے ميں نے عرض کيا: یا رسول الله آپ نے کن کن عجائبات کا مشاہدہ فرمایا؟ ميری جان آپ پر فدا ہو ذراان عجائبات کی ہمارے اور ہماری اولاد کےلئے تفسير تو فرما دیجيے؟ آپ نے فرمایا :ميں نے اپنی امت ميں سے ایک شخص کو دیکها کہ ملک الموت اس کی روح قبض کر نے کےلئے آیا ہے تو وہ فرشتہ اس (شخص )کی اپنے والدین کے ساته نيکيوں کی وجہ سے اس کی روح قبض نہ کر سکا ۔
ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکها جس کو شيا طين نے ڈرا رکها تها تو الله عزوجل کے تذکرہ نے اس کو ان شياطين سے نجات دلائی ۔ ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے پياسے شخص کو دیکها کہ جب بهی وہ پانی کے حوض پر پانی پينے کی غرض سے پہنچتا تها تو اس کو پانی پينے نہيں دیاجاتا تها تو ماہ رمضان کے روزوں نے آکر اس کو سيراب کيا گيا ۔
____________________
١)بحار الا نوار جلد ٧ صفحہ/ ٢٩٠ ۔ ٢٩١ ۔ )
ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکها کہ انبياء عليہم السلام حلقہ ، حلقہ بنائے ہوئے بيڻهے ہيں تو جب بهی یہ شخص حلقہ کے پاس پہنچتا تها تو اس کو نزدیک آنے سے منع کردیا جاتا تها ،ليکن جب وہ غسل جنابت کرکے آیا تو انهوں نے اس کا ہاته پکڑ کراپنے پہلو ميں بيڻهایا ۔
ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے شخص کو دیکها جسکے آگے پيچهے ،دائيں، بائيں اور اس کے نيچے کی طرف تاریکی ہی تاریکی تهی اور وہ اس تاریکی کے سبب جانکنی کے عالم ميں تها تو اس کے انجام دئے ہوئے حج وعمر ہ نے آکر اس کی جان بچائی اور تاریکی سے نکال کر روشنی ميں داخل کيا ۔ ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکها کہ مومنين سے کلام کر تا ہے ليکن مو منين اس سے بات نہيں کر تے ہيں ۔تو اس شخص کے صلہ رحم نے کہا اے مومنواس سے کلام کرو کيو نکہ اس نے صلہ رحم انجام دیاہے تو مومنوں نے اس سے کلام کيا ،مصافحہ کيا گو یا کہ وہ ان کے ساته تها ۔ ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکها جس کے ہاته اور چہرہ آگ کی سوزش سے جل رہے تهے تو اس کے دئے ہو ئے صدقہ نے اس کے سر پر آکر سایہ کيا اور اس کے چہرے کو چهپاليا۔
ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکها جس کی ہر جگہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تهے تو اس کے کئے ہوئے امر با لمعروف اور نہی عن المنکر نے اس کو ان شعلوں سے نجات دلائی اور اس کے لئے رحمت کے فرشتہ مقررفرمائے ۔ ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے شخص کو دیکها جو گهڻنيوں کے بهل چل رہا تها اور اس کے اور الله کی رحمت کے درميان پر دے حائل ہو گئے تهے تو اس کے حسن خلق نے اس کا ہاته پکڑ کر الله کی رحمت ميں داخل کيا ۔
ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے شخص کو دیکها جس کا نامہ اعمال اس کے بائيں ہاته ميں تها تو الله کے خوف نے اس کا وہ نا مہ اعمال اس کے بائيں ہاته سے ليکر اس کے دائيں ہاته ميں دیدیا ۔
ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے شخص کو دیکها جس کے اعمال کا پلڑ ا بہت ہلکا تها تو اس کے دوسروں کو سيراب کرنے نے اس کو وزنی بنایا ۔ ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو جہنم کے پاس کهڑے دیکها تو الله تعالیٰ سے اميد نے اس کو جہنم سے نجات دلائی ۔ ميں نے اپنی امت کے ایک شخص کو جہنم کی آگ ميں جلتے دیکها تو اس کے وہ آنسو جو الله کے خوف کی وجہ سے اس کی آنکهوں سے جاری ہوئے تهے انهوں نے اس کو جہنم کی آگ سے نکالا ۔
ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے شخص کو صراط پر دیکها جو سخت آندهيوں ميں خرمہ کے درخت کی شاخ کی طرح ہل رہا تها تو اس کے الله سے حسن ظن نے اس کو ہلنے سے روکا اور وہ صراط سے گذر گيا ۔
ميں نے اپنی امت ميں سے پل صراط پر ایک ایسے شخص کو دیکها جو آگے بڑهنے کےلئے اپنے چاروں ہاته پير مار رہا تها اور کبهی اپنے کو کهينچے جارہاتها اور کبهی اس پر لڻک رہا تها تو اس کی نماز نے آکر اس کے قدموں پر کهڑ اکيا اور پل صراط سے گذارا ۔
ميں نے اپنی امت کے ایک ایسے شخص کو دیکها جس پر جنت کے تمام دروازے بند ہو گئے تهے تو اس کی اشهدا ن لا الٰہ الاالله کی گواہی نے اس کی تصدیق کی تو اس کےلئے جنت کے دروازے کهل گئے اور وہ جنت ميں چلا گيا ۔
جن چيزوں کوالله سے دعا کرتے وقت انجام دینا چاہئے
اب ہم ان (وسائل )اسباب کے سلسلہ ميں گفتگو کرتے ہيں جن کو دعا کرتے وقت انجام دنيا چاہئے ۔
پروردگار عالم کافرمان ہے کہ ہم اس سے وسيلہ کے ذریعہ دعا کریں : ارشاد خدا وند عالم ہے :
(( اُو ئِٰلکَ الَّذِینَْ یَدعُْونَْ یَبتَْغُونَْ اِل یٰ رَبِّهِمُ الوَْسِيلَْةَ ) ( ١)
“ یہ جن کو خدا سمجه کر پکارتے ہيں وہ خود ہی اپنے پروردگار کے لئے وسيلہ تلاش (کر رہے ہيں ”( یَااَیُّهَاالَّذِینَْ آمَنُواْاتَّقُواْاللهَ وَابتَْغُواْاِلَيهِْ الوَْسِيلَْةَ ) ( ٢)
“اے ایمان والو الله سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسيلہ تلاش کرو ” خداوندعالم نے یہ وسائل ان بندوں کےلئے قرار دئے ہيں جن کے اعمال اور دعا ئيں الله کی رحمت تک پہنچنے سے عاجز ہيں اور وہ (خدا )ارحم الراحمين ہے ۔
خداوندعالم فرماتا ہے :
____________________
١)سورئہ اسرا آیت/ ۵٧ ۔ )
٢)سورئہ مائدہ آیت/ ٣۵ ۔ )
(( اِلَيهِْ یَصعَْدُ الکَْلِمُ الطَّيِّبُ وَالعَْمَلُ الصَّالِحُ یَرفَْعُهُ ) ( ١)
“پاکيزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہو تے ہيں اور عمل صالح انهيں بلند کرتا ہے ”
بيشک انسانی حيات ميں کلمہ طيب اور عمل صالح ہے ۔ کل( م الطيّب ) سے مراد انسان کا الله پر ایمان رکهنا ،اخلاص ، اُس (خدا ) پر اعتماد رکهنا ، اس سے اميد رکهنا ، اس سے دعا کر نا اور اس کی با رگاہ ميں گڑ گڑا نا اور گر یہ و زاری کر نا ہے ۔
عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعہ سے انسان کی انسا نيت قا ئم ہو تی ہے اور وہ ایمان ، اخلاص ، اعتماد اور اميد ہے ۔
اور( کلم الطيب ) “خوشگوار گفتگو ”قرآن کی تصریح کی رو سے خدا وند عالم کی جا نب چلی جا تی ہے ليکن قرآن ہی کی صراحت کی بنا پر اس خو شگوار گفتگو کو خداوند عالم کی جا نب نيک عمل ہی لے جاتا ہے ۔
اگر عمل صالح نہ ہو تو( کلم الطيب ) الله تک نہيں پہنچ سکتا ، کبهی کبهی ایسا ہو تا ہے کہ (عمل صالح ) عا جز اور کمز ور ہو تا ہے اور اس ميں( کلم الطيب ) کو الله تک پہنچا نے کی طا قت و قدر ت نہيں ہو تی لہٰذا ایسی صورت ميں نہ تو انسان کی دعا الله تک پہنچتی ہے اور نہ ہی اس کی دعا مستجاب ہو تی ہے ۔ الله نے انسان کی زندگی ميں اس کے ہاتهوں ميں کچه ایسے وسائل دید ئے ہيں جن کے ذریعہ وہ خدا وند عالم تک پہنچ سکتا ہے اگر یہ وسائل واسباب نہ ہوں تو انسان کےلئے اس کی دعا اور فریادکے الله تک پہنچنے کا کو ئی امکان ہی نہيں ہے۔ یہی وہ وسائل واسباب ہيں جن کی طرف قرآن کریم نے بهی اشارہ فرمایا ہے۔ ان ہی وسائل ميں سے رسول الله کا اپنی امت کے لئے دعا اور استغفار کرناہے ۔ خداوندعالم کا ارشاد ہے :
( وَلَواَْنَّهُم اِذظَْلَمُواْاَنفُْسَهُم جَاءُ وکَْ فَاستَْغفِْرُواْاللهَ وَاستَْغفَْرَلَهُمُ الرَّسُولُْ ( لَوَجَدُواْاللهَّٰ تَوَّابًا رَحِيمْاً ) ( ١)
“اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کيا تها تو آپ کے پاس آتے اور خود بهی اپنے گنا ہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بهی ان کے حق ميں استغفار کرتے تو خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ” قرآن کریم کی یہ آیت صاف طورپر یہ بيان کرتی ہے کہ رسول الله (ص)کا مومنين کے لئے استغفار کرنا ان وسائل ميں سے ہے جن ميں پروردگار عالم اپنے بندوں کو اس چيز کی رغبت دلاتا ہے جو دعا اور استغفار ميں ان کےلئے وسيلہ قرار پائے ۔
جو کچه رسول اسلام (ص)کےلئے ان کی حيات طيبہ ميں کہا جاتا ہے کہ انهوں نے مومنين کےلئے خدا سے استغفار کياہے وہ وفات کے بعد استغفار نہيں کرسکتے نہيں ایسا کچه نہيں ہے بلکہ رسول الله (ص)تو وفات کے بعد بهی زندہ ہيں اور اپنے پروردگا ر کی طرف سے رزق پاتے ہيں ۔
رسول خدا (ص) اور اہل بيت عليم السلام سے تو سل کرنا
اسلامی روایات ميں رسول خدا (ص)اور اہل بيت عليہم السلام سے تو سل کےلئے بہت زیادہ زور دیا گيا ہے ۔
داؤ وبرقی سے مروی ہے :“إِنِّي کنت اسمع اباعبد اللّٰه عليه السلام اکثرمایلحّ في الدعاء علی اللّٰه بحقّ الخمسة،یعني رسول اللّٰه،و اميرالمومنين، و فاطمة ، والحسن ، والحسين ”(٢)
____________________
١)سورئہ نساء آیت/ ۶۴ ۔ )
١١٣٩ ،حدیث / ٨٨۴۴ ۔ / ١)وسائل الشيعہ جلد ۴ )
“ ميں نے ابو عبد الله عليہ السلام کو دعا ميں اکثر پنجتن پاک کے وسيلہ سے دعا کرتے دیکها ہے یعنی رسول الله، امير المو منين ، فاطمہ ،حسن اور حسين عليہم السلام ”
سما عہ سے مرو ی ہے :مجه سے ابو الحسن عليہ السلام نے فرمایا :اے سماعہ جب تمهيں خداوند عالم سے کو ئی سوال درپيش ہو تو اس طرح کہو :اللهم انّي اسالک بحقّ محمّد وعلی فانّ لهماعندک شاناًمن الشان وقدراًمن القدر،وبحقّ ذلک القدران تُصلّيَ علیٰ محمّد وآل محمّد وان تفعل بي کذا وکذ ا (١)
“پروردگارا ميں تجه کو محمد اور علی کا واسطہ دیکر سوال کرتا ہوں جن کا تيرے نزدیک بلند و بالا مقام ہے اور اسی عظمت کے پيش نظر تو محمد وآل محمد پر درود بهيج اور ميرے لئے ایسا ایسا انجام دے ”
دعا ئے کميل کے ذریعہ الله تک رسائی کے وسائل
ہم دعا ء کميل ميں ان وسائل کا مشاہد ہ کر تے ہيں جن کے ذریعہ سے امير المو منين دعا ميں خداوندعالم سے متوسل ہو ئے ہيں ۔
یہ وسائل دعا کے دوسر ے حصہ ميں بيان ہوئے ہيں جن کو امير المو منين عليہ السلام نے خداوند عالم سے دعا اور حاجتوں کو پيش کر نے سے پہلے مد نظر رکها ہے۔ اس دعا ئے شریف ميں بيان فرمایا ہے ان کو بيان کرنے سے پہلے ہم اس دعا ء کميل کا مختصرسا خا کہ بيان کر تے ہيں ،اور جن بلند افکارپر یہ دعا مشتمل ہے ان کو بيان کریں گے نيز اس کی بهی وضاحت کریںگے کہ آپ نے اس دعا ميں ان بلند افکار کے مابين کن طریقوں سے استفادہ فر مایا ہے ۔
کيونکہ ائمہ سے منقول مشہور ادعيہ کی ہر عبارت کے معين افکاراورمنظم اسلوب نيزدعا کے آغاز اوراختتام کی مخصوص روش ہے ۔
____________________
١)عدةالدا عی صفحہ / ٣٨ ۔ )
معروف ادعيہ ميں سے ہر دعا کی ایک مخصوص شکل ہے ان کيفيات کے مطالعہ سے ہميں یہ استفادہ ہوتا ہے کہ دعا کی روش نيز خداوند عالم سے منا جات کر نے کا طریقہ کيا ہے ۔
ہر دعا کےلئے بلند وبا لا اور بنيادی فکر ہے ،افکار کا مجمو عہ اسی فکر سے پرورش پاتا ہے ،یہ بنيادی مطلب ہے اور دو سرے مطالب کا مجموعہ اسی اساسی مطلب سے پرورش پاتا ہے ،سوال کر نے کا طریقہ اور سوال کرنے اور ختم کرنے کے اسلوب و طریقوں کو بتا تا ہے ۔
اگر علما نے اس مسئلہ کو بطور کا فی و وافی بيان کيا ہو تا تو اس سے مفيد نتا ئج کا اخراج کرتے ۔
اب ہم دعا ئے کميل کے سلسلہ ميں اس کے بنيادی افکار اور کيفيت کے متعلق بيان کرتے ہيں:
دعا کميل کی عام تقسيم
دعا ء کميل مومنين کے درميان بڑی مشہور ومعروف ہے جس کو مومنين ہر شب جمعہ کو پڑها کر تے ہيں ،اور اس کو کبهی تنہااورکبهی ایک ساته مل کر بهی پڑها کر تے ہيں ۔
یہ دعا حضرت امير المو منين عليہ السلام سے منسوب ہے جو آپ نے کميل بن زیاد نخعی کو تعليم فرما ئی تهی اسی طرح یہ دعا ایک نسل کے بعد دوسری نسل ميں مومنين تک پہنچتی رہی ہے ۔
یہ دعا عبودیت ، فروتنی و انکساری کے مفا ہيم کے لحاظ سے بيش بہا خزانہ نيز زندہ اشکال ميں تضرع ،فریاد خوا ہی نيز توبہ اورانابہ کا مو جيں مارتا سمندر ہے ۔ ہم اس دعا ء ميں بيان شدہ تمام مطالب ومفاہيم کی تشریح کرنا نہيں چاہتے چونکہ یہ طولا نی بحثيں ہيں انشاء الله اگر موقع ملا ،قسمت نے ساته دیا اور اسباب بهی پيد ا ہو گئے تو ضرور ان مطالب کی تشر یح کریں گے۔
ليکن اب ہم صرف اس دعا کی کيفيت کی وضاحت کرتے ہيں یہ دعا تين مخصوص مرحلوں پر مشتمل ہے اور ہر مرحلہ آنے والے مرحلہ ميں شمار ہوتا ہے ان تمام باتوں کی اساس وبنياد دعا کی کيفيت سے درک ہو تی ہے یہ ہمارے دعا پڑهنے ،اس ميں بيان ہو نے والے مفا ہيم و افکار کے سلسلہ ميں غور و فکر کرنے اور ان سے متاثر ہو نے ميں ہماری بہت زیادہ مدد کرتے ہيں۔ شاید پرورد گار عالم اس جہدو کو شش کو ان مومنين کےلئے نفع بخش اور مفيد قراردے جنهوں نے اس دعا کو پڑهنے کی اپنی عادت بنا لی ہے ۔
تصميم دعا کی فکر
جيسا کہ ہم بيان کر چکے ہيں کہ یہ دعا تين مرحلوں پر مشتمل ہے: پہلا مرحلہ :جو دعا کے شروع کرنے کے حکم ميںہے جس ميں دعا کرنے والا الله کی بارگاہ ميں کهڑاہوکر دعا کرتا ہے ۔گڑاگڑا تا ہے اور خدا سے مانگتا ہے ،چونکہ گناہ انسان اور الله کے درميان حائل ہوکر دعا کو مقيد کر دیتے ہيں اور اگر بندہ خدا کے سامنے کهڑے ہوکر دعا کرنے کا موقف اپنا تا ہے تو اس کےلئے اس پہلے مرحلہ کی رعایت کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔
اس مرحلہ (ابتدائے دعا)ميں الله سے مانگنے، طلب کرنے کے طریقہ کی ابتداء بيان کرتے ہيں ان ميں سے ایک الله سے مغفرت طلب کرنا ہے:اَللَّهُمَّ اغفِْرلِْيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تَهتِْکُ العِْصَمَ اَللَّهُمَّ اغفِْرلِْيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تُنزِْلُ النِّقَمَ ۔۔۔
“خدایا ميرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بڻہ لگادیتے ہيں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہيں ” یہ جملے مغفرت سے متعلق ہيں ۔
اوردوسرے مرحلہ ميں خدا کی یاد ،شکر اور اسکاتقرب طلب کيا گيا ہے:واَسالُکَ بِجُودِْکَ اَن تُدنِْيَنِي مِن قُربِْکَ وَاَن تُوزِْعَنِي شُکرَْکَ وَاَن تُلهِْمَنِي ذِکرَْکَ “تيرے کرم کے سہارے ميرا سوال ہے کہ مجهے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفيق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الہام کرامت فرما” پہلے تو انسان کے لئے خداوند عالم کی بار گاہ ميں دعا کرنے کےلئے کهڑاہونا ضروری ہے۔
جس کے نتيجہ ميں خداوند عالم اسکے گناہوں کو معاف کریگا،اسکے دل سے پردے ہڻا دیگا۔
دوسرے خداوند عالم کا بندے کو اپنے سے قریب ہونے اسکا شکر کرنے اوراس کے دل ميں تذکرہ کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔
یہ دعا ميں وارد ہونے کے ابتدائی فقرے ہيں۔
اسکا دوسرا فقرہ الله کی بارگاہ ميں اپنی ضرورتوں کو پيش کرنا اوراسکی طرف راغب ہوناہے :
اَللَّهُمَّ وَاَسالُکَ سُوالَ مَن اشتَْدَّت فَاَقَتُهُ وَاَنزَْلَ بِکَ عِندَْ الشَّدَائِدِحَاجَتَهُ وَعَظُمَ فِيمَْا عِندَْک رَغبَْتُهُ
“مجهے ہر حال ميں تواضع اور فروتنی کی توفيق عطا فرماخدایا ميرا سوال اس بے نوا جيسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں اور جس نے اپنی حاجتيں تيرے سامنے رکه دی ہوں اور جس کی رغبت تيری بارگاہ ميں عظيم ہو ” الله سے کوئی فرار نہيں کرسکتا اور نہ ہی خدا کے علاوہ بندے کی کوئی اور پناہگاہ ہے۔
یہ دو حقيقتيں ہيں:
الف۔الله سے کوئی مفر نہيں ہے
اَللَّهُمَّ عَظُمَ سُلطَْانُکَ وَعَلَا مَکَانُکَ وَخَفِيَ مَکرُْکَ وَظَهَرَاَمرُْکَ وَ غَلَبَ قَهرُْکَ وَجَرَت قُدرَْتُکَ وَلَایُْمکِْنُ الفِْرَارُ مِن حُکُومَْتِکَ
“خدایا تيری سلطنت عظيم ،تيری منزلت بلند،تيری تدبير مخفی ،تيرا امر ظاہر،تيرا قہر غالب اور تيری قدرت نافذ ہے اور تيری حکومت سے فرار ناممکن ہے ”
ب:الله کے علاوہ کو ئی اور پناہ گاہ نہيں ہے
اَللَّهُمَّ لاَاَجِدُلِذُنُوبِْي غَافِراًوَلَالَِقبَائِحِيسَْاتِراً،وَلَالِشَي ءٍ مِن عَمَلِيَ القَْبِيحِْ بِالحَْسَنِ مُبَدِّلاًغَيرَْکَ لَااِ هٰلَ اِلَّااَنتَْ
“خدایا ميرے گناہوں کے بخشنے والے،ميرے عيوب کی پردہ پوشی کرنے والے، ميرے قبيح اعمال کو نيکيوں ميں تبدیل کرنے والے تيرے علاوہ کوئی خدا نہيں ہے ”
یہ اس ابتدائی مرحلہ کا دوسرا فقرہ ہے اور اس مرحلہ کے تيسرے فقرے ميں حضرت علی انسان کی مایوسی اور اس کی طویل شقاوت کے بارے ميں فرماتے ہيں :
اَللَّهُمَّ عَظُمَ بَلَائِي وَ اَفرَْطَ بِي سُوءُ حَالِي،ْوَقَصُرَت بِي اَعمَْالِي،ْوَقَعَدَت بِي اَغلَْالِي،ْوَحَبَسَنِي عَن نَفعِْي بُعدُْاَمَلِي وَخَدَعَتنِْي الدُّنيَْابِغُرُورِْهَا،وَنَفسِْي بِجِنَایَتِهَاوَمِطَالي یَاسَيِّدي
“خدایا ميری مصيبت عظيم ہے ،ميری بدحالی حد سے آگے بڑهی ہوئی ہے ،ميرے اعمال ميں کوتاہی ہے،مجهے کمزوریوں کی زنجيروں نے جکڑکر بڻها دیا ہے اور مجهے دور درازکی اميدوں نے فوائد سے روک دیا ہے،دنيا نے دهوکہ ميں مبتلا رکها ہے اور نفس نے خيانت اور ڻال مڻول ميں مبتلا رکها ہے اے ميرے سردار” اس بے بسی ،رنج وغم اور شقا وت کے اسباب انسان کا عمل اور اس کی کوششيں ہيںلہٰذا وہ خداوند عالم سے دعا کرے کہ اس کے گنا ہوں کو معاف کردے اور ان گنا ہوں کو اپنے اور دعا کے درميان حا ئل نہ ہونے دے۔
فَاسئَْلُکَ بِعِزَّتِکَ اَن لَایَحجُْبَ عَنکَْ دُعَائي سُوءُْ عَمَلِي وَفِعَالِي وَلَا تَفضَْحنِْي بِخَفِي مَااطَّلَعتَْ عَلَيهِْ مِن سِرِّي وَلَاتُعَاجِلنِْي بِالعُْقُوبَْةِ عَل یٰ مَاعَمِلتُْهُ فِی خَلَوَاتِي مِن سُوءِْ فِعلِْي وَ اِسَائَتِي وَدَوَامِ تَفرِْیطِْي وَجَهَا لَتِي وَکَثرَْةِ شَهوَْاتِي وَغَفلَْتي
“تجهے تيری عزت کا واسطہ ۔ميری دعاوں کو ميری بد اعمالياں روکنے نہ
پائيں اور ميں اپنے مخفی عيوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاوں۔ميں نے تنہا ئيوں ميں جو غلطياں کی ہيں ان کی سزا فی الفور نہ ملنے پائے، چاہے وہ غلطياں بد عملی کی شکل ميں ہو ں یا بے ادبی کی شکل ميں۔مسلسل کوتاہی ہو یا جہالت یا کثرت خواہشات و غفلت ”
اس مرحلہ کے چو تهے فقرے ميں ایک بہت بڑے مطلب کی طرف اشار ہ کيا گيا ہے کہ بندہ کااپنے نقصان اور مایوسی کے وقت خدا کے علاوہ اس کا کو ئی ملجاو ماویٰ نہيں ہے :
اِ هٰلِی مَن لِي غَيرُْکَ اَسالَهُ کَشفَْ ضُرِّي وَالنَّظَرَ فِي اَمرِْي
“خدایا۔پروردگار۔ميرے پاس تيرے علاوہ کون ہے جو ميرے نقصانات کو دور کر سکے اور ميرے معاملات پر توجہ فرماسکے”
اس مرحلہ کے پانچویں فقرے ميں دوباتوں کا اعتراف کيا گيا ہے :
١۔گناہوں کا اعتراف ۔
٢۔اس چيز کا اعتراف کہ بندہ جب الله کے حدودو احکام کی مخالفت کرتاہے اور اپنی خواہشات نفسانی ميں غرق ہوجاتا ہے تو وہ خدا کے سامنے کوئی حجت پيش نہيں کرسکتا ہے۔
اس مرحلہ کے آخری اور چهڻے حصہ ميں بندہ کا اپنے گناہوں ،معصيت ،نا اميدی شقاوت کا اعتراف کرناہے اوریہ اعلان کہ خدا سے کوئی فرار اختيار نہيں کرسکتا اور اسکے علاوہ بندہ کی کوئی پناہگاہ نہيں ہے،اور ا لله سے یہ درخواست کرناکہ وہ بندے سے اس کے برے افعال ،جرم وجرائم کا مواخذہ نہ کرے،الله کے سامنے گریہ و زاری اور اپنے مسکين ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد بندہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے مولا کی بارگاہ ميں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے،اس سے نادم ہے ، انکساری کرتا ہے چونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف فرار نہيں کيا جاسکتا ہے اور وہ اپنے نقصان اور رنج و غم کے وقت الله کے علاوہ کسی اور کے سامنے گڑگڑا نہيں سکتا ہے :
وَقَداَْتَيتُْکَ یَااِ هٰلِي بَعدَْتَقصِْيرْي وَاِسرَْافِي عَ لٰی نَفسِْي مُعتَْذِراًنَادِماً مُنکَْسِراًمُستَْقِيلْاًمُنِيبْاًمُقِرّاًمُذعِْناًمُعتَْرِفاً لَا اجِدُمَفَرّاًمِمَّاکَانَ مِنِّي وَلاَمَفزَْعاًاَتَوَجَّهُ اِلَيهِْ فِی اَمرِْيغَيرَْقَبُولِْکَ عُذرْي وَاِدخَْالِکَ اِیَّايَ فِي سَعَةِ رَحمَْتِکَ
“اب ميں ان تمام کوتاہيوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتيوں کے بعد تيری بارگاہ ميں ندامت انکساری، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساته حاضرہو رہاہوں کہ ميرے پاس ان گناہوں سے بهاگنے کے لئے کوئی جائے فرار نہيں ہے اور تيری قبوليت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہيں ہے۔صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تواپنی رحمت کاملہ ميں داخل کر لے”
اس مقام پر یہ مرحلہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اور اس جملہ وقد اتيتکَ کے ذریعہ انسان خداوندعالم کی بارگا ہ ميں دعا اور تضرع کرنے کااعلان کرتا ہے۔
یہاں سے دعا کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے اس مرحلہ ميں امام عليہ السلام ان وسائل کا تذکر ہ فرماتے ہيں جن کے ذریعہ الله سے متوسل ہوا جاتا ہے اور ہمارے(مولف) نظر یہ کے مطابق وہ چار وسائل ہيں : پہلا وسيلہ: خداوندعالم کا اپنے بندوں پر فضل وکرم ورحمت اور ان سے محبت کرنا ہے :
یَامَن بَدَءَ خَلقِْي وَذِکرِْي وَتَربِْيَتِي وَهَبنِْي لِاِبتِْدَاءِ کَرَمِکَ وَسَالِفِ بِرِّکَ بِي “اے ميرے پيداکرنے والے ۔اے ميرے تربيت دینے والے۔اے نيکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجهے معاف فرمادے ” دوسرا وسيلہ: ہمارا خداوندعالم سے محبت (لو لگا نا )کرنا اور اس کی وحدانيت کا اقرار کرنا ہے:
اَتُرَاکَ مُعَذِّبِي بِنَارِکَ بَعدَْ تَوحِْيدِْ کَ وَبَعدَْ مَاانطَْو یٰ عَلَيہِْ قَلبِْي مِن مَعرَْفَتِکَ وَلَهِجَ بِہِ لِسَانِي مِن ذِکرِْکَ وَاعتَْقَدَہُ ضَمِيرِْي مِن حُبِّکَ وَبَعدَْصِدقِْ اعتِْرَافِي وَدُعَائِي خَاضِعاًلِرَبُوبِْيَّتِکَ “پروردگار!کيا یہ ممکن ہے کہ ميرے عقيدہ توحيد کے بعد بهی تو مجه پر عذاب نازل کرے، یا ميرے دل ميں اپنے معرفت کے باوجود مجهے مورد عذاب قرار دے کہ ميری زبان پر مسلسل تيرا ذکر اور ميرے دل ميں برابر تيری محبت جاگزیں رہی ہے۔ ميں صدق دل سے تيری ربوبيت کے سامنے خاضع ہوں ” تيسرا وسيلہ: ہمارا عذاب کے تحمل کر نے ميں کمزوری کا اعتراف ہے اپنی کهال کی کمزوری اور ہڈیو ں کے ناتواںہونے کا اقرار کرناہے :وَاَنتَْ تَعلَْمُ ضَعفِْيعَن قَلِيلٍْ مِن بَلاَءِ الدُّنيَْاوَعُقوْبَْاتِهَاوَمایَجرِْي فِيهَْامِن المَْکَارِهِ عَل یٰ اَهلِْهَاعَل یٰ اَنَّ لٰذِکَ بَلاَ ءٌ وَمَکرُْوهٌْ قَلِيلٌْ مَکثُْهُ یَسِيرٌْبَقَائُهُ قَصِيرٌْمُدَّتُهُ فَکَيفَْ اِحتِْمَالِي لِبَلاَءِ الآخِرَةِ وَجَلِيلِْ وَقُوعِْ المَْکَارِهِ فِيهَْا اِ هٰلِي وَرَبِّي وَسَيِّدِي لِاَيّ الاُمُورِْاِلَيکَْ اَشکُْووَْلِمَامِنهَْااَضِجُّ وَاَبکِْي لِاَلِيمِْ العَْذَابِ وَشِدَّتِهِ اَم لِطُولِْ البَْلاَءِ وَمُدَّتِهِ
“پروردگار تو جانتا ہے کہ ميں دنيا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نہيں کر سکتا اور ميرے لئے اس کی ناگواریاں ناقابل تحمل ہيں جب کہ یہ بلائيں قليل اور ان کی مدت مختصر ہے۔تو ميں ان آخرت کی بلاوں کو کس طرح برداشت کروں گا جن کی سختياں عظيم ہيں۔۔۔خدایا۔ پروردگارا۔ ميرے سردار۔ميرے مولا! ميں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور گریہ وبکا کروں ،قيامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصيبت اور دراز مدت کے لئے”
چو تها وسيلہ : امام عليہ السلام نے اس دعا ميں بيان فرمایا ہے وہ اس بهاگے ہو ئے غلام کی طرح ہے جس نے اپنے آقا کی نافرمانی کی ہو اور وہ پهر اپنے آقا کی پناہ اور اس کی مدد چاہتا ہو جب اسکے تمام راستہ بند ہو گئے ہوں اور اس کی اپنے مولا کے علاوہ کوئی پنا ہگاہ نہ ہو۔
اس وسيلہ کی امام عليہ السلام ان کلمات ميں عکاسی فرماتے ہيں :ن تَرَکتَْنِي نَاطِقاًلاضِجَّنَّ اَلَيکَْ بَينَْ فَبِعِزَّتِکَ یَاسَيِّدِي وَمَولَْاي اُقسِْمُ صَادِقاً لَا اَهلِْهَاضَجِيجَْ الآْمِلِينَْ وَلاصرُْخَنَّ صُرَاخَ المُْستَْسرِْخِينَْ وَلَابکِْيَنَّ عَلَيکَْ بُکَاءَ الفَْاقِدِینَْ وَلَاُنَادِیَنَّکَ اَینَْ کُنتَْ یَاوَلِيَّ المُْومِْنِينَْ یَاغَایَةَ آمَالِ العَْارِفِينَْ یَاغَيَاثَ المُْستَْغِيثِْينَْ یَاحَبِيبَْ قُلُوبِْ الصَّادِقِينَْ وَ یَااِ هٰلَ العَْالَمِينَْ
“تيری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے ميری گویائی کو باقی رکها تو ميں اہل جہنم کے درميان بهی اميدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شيون کروں گااور “عزیز گم کردہ ”کی طرح تيری دوری پر آہ وبکا کروں گا اور تو جہاں بهی ہوگا تجهے آوازدوں گا کہ تو مومنين کا سرپرست، عارفين کا مرکز اميد،فریادیوں کا فریادرس ۔صادقين کا محبوب اور عالمين کا معبود ہے” یہاں پراس دعا ئے شریفہ کے چار وں وسيلے پيش کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ ختم ہوجاتا ہے جن کے ذریعہ بندہ الله سے دعا اور سوال کرنے کےلئے لو لگاتا ہے ۔
اب ہم اس دعا ئے شریفہ کے تيسر ے مرحلہ کو پيش کر تے ہيں ۔(امام عليہ السلام ان چاروں وسيلوں سے الله سے متوسل ہو نے کے بعد )جس ميں امام عليہ السلام اپنی حاجات ومطالب کو یکے بعد دیگر ے خدا کی بارگاہ ميں پيش کرتے ہيں یہ تمام حاجتيں ایک پست نقطہ یعنی بندہ کی حيثيت اور اس کے عمل سے شروع ہوتی ہيں اور بلندترین نقطہ قمہ یعنی انسان کا اپنے آقا کی رحمت کے سلسلہ ميں وسيع شوق پر ختم ہو تی ہيں ۔
ہم پستی کے مقام پر اس طرح پڑهتے ہيں :
ان تَهَبَ لِيفِي هٰذِه اللَّيلَْةِ وَفِي هٰذِهِ السَّاعَةِ کُلَّ جُرمٍْ اَجرَْمتُْهُ وَکُلَّ ذَنبٍْ اَذنَْبتُْهُ وَکُلَّ قَبِيحٍْ اَسرَْرتُْهُ
“ مجهے اِسی رات ميں اور اِسی وقت معاف کردے ۔ميرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری ظاہری اور باطنی برائياں۔۔۔ ” اور بلند نظری کے سلسلہ ميں ہم اس طرح پڑهتے ہيں :وَاجعَْلنِْي مِن اَحسَْنِ عَبِيدِْکَ نَصِيبْاً عِندَْکَ وَاَقرَْبِهِم مَنزِْلَةً مِنکَْ وَاَخَصِّهِم زُلفَْةً لَّدَیکَْ
“ اور مجهے بہترین حصہ پانے والا ،قریب ترین منزلت رکهنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا ”
اور جن حاجتوں کو امام عليہ السلام نے ان فقروں ميں بيان فرمایا ہے ان کے چار گروہ ہيں ۔
١۔پہلا گروہ :خداوندعالم ہم کو بخش دے اور ہم سے ہمار ے گناہوں کا مواخذ ہ نہ کرے ہماری برایئو ں سے در گذرفرما ہمار ے جرم اور جن برائيوں کا ہم نے ارتکاب کيا ان کو معاف فرما:
ان تَهَبَ لِي فِی هٰذِه اللَّيلَْةِ وَفِي هٰذِهِ السَّاعَةِ کُلَّ جُرمٍْ اَجرَْمتُْهُ وَکُلَّ ذَنبٍْ اَذنَْبتُْهُ وَکُلَّ قَبِيحٍْ اَسرَْرتُْهُ وَکُلَّ جَهلٍْ عَمِلتُْهُ کَتَمتُْهُ اَواَْعلَْنتُْهُ،اَخفَْيتُْهُ اَو اَظهَْرتُْهُ،وَکُلَّ سَيِّئَةٍ اَمَرتَْ بِاِثبَْاتِهاَالکِْرَامَ الکَْاتِبِينَْ الَّذَینَْ وَکَّلتَْهُم بِحِفظِْ مَایَکُونُْ مِنِّي وَجَعَلتَْهُم شَهُودْاًعَلَیَّ مَعَ جَوَارِحي
“ مجهے اِسی رات ميں اور اِسی وقت معاف کردے ۔ميرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری ظاہری اور باطنی برائياں اور ساری جہالتيں جن کو ميں نے خفيہ طریقہ سے یا علی الاعلان چهپاکر یا ظاہر کر کے عمل کيا ہے اور ميری تمام خرابياں جنهيں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبين کو دیا ہے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معين کيا ہے اور ميرے اعضاء و جوارح کے ساته ان کو ميرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے ”
دوسرے گروہ ميں امام علی عليہ السلام الله سے رحمت نازل کرنے کےلئے عرض کرتے ہيں اور خدا سے عرض کرتے ہيں اے پروردگار وہ ہر شان ،ہر رزق اور خير جو تو نازل کرتاہے اس ميں ميرا حصہ قرار دے ۔
وَاَن تُوَفِّرَحَظِّي مِن کُلِّ خَيرٍْاَنزَْلتَْهُ اَوبِْرٍّ نَشَرتَْهُ اَو رِزقٍْ بَسَطَّتَهُ
“ميرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے ہر خير و احسان اور نشر ہونے والی ہرنيکی ،ہر وسيع رزق،ہر بخشے ہوئے گناہ،عيوب کی ہر پردہ پوشی ميں سے ميرا وافر حصہ قرار دے ”
یہ وسيع دعا ان تمام چيزوں کو شامل ہے جو الله کی رحمتوں سے خارج نہيں ہو سکتی ہيں ۔
اس دعاکے تيسرے گروہ ميں طولا نی فقرے ہيں اور اس مطلب کی عکاسی کرتے ہيں کہ امام علی عليہ السلام نے الله سے لو لگانے کا بڑا اہتمام فرمایا ہے ۔ مولائے کائنات خداوند عالم کی بارگاہ ميں عرض کرتے ہيں کہ ميرے اوقات کو اپنے ذکر سے پر کردے اپنی خدمت ميں لگے رہنے کی دهن لگادے ، اپنے (خدا ) سے ڈرتے رہنے کی تو فيق عطا کر ، اپنے سے قریب کر اور اپنے جو ارميں جگہ عطا فرما :
اَسالُکَ اَن تَجعَْلَ اَوقَْاتِي مِنَ اللَّيلِْ وَالنَّهَارِ بِذِکرِْکَ مَعمُْورَْةً وَبِخِدمَْتِکَ مَوصُْولَْةً قَوِّعَل یٰ خِدمَْتِکَ جَوَارِحِي،ْ وَاشدُْدعَْلَی العَْزِیمَْةِ جَوَانِحِي وَهَب لِیَ الجِْدَّفي خَشيَْتِکَ وَالدَّوَامِ فِي الاِْتِّصَالِ بِخِدمَْتِکَ حَتّ یٰ اَسرَْحَ اِلَيکَْ فِي مَيَادِینِْ السَّابِقِينَْ،وَاشتَْاقَ اِ لٰ ی قُربِْکَ فِي المُْشتَْاقِينَْ وَادنُْوَمِنکَْ دُنُوَّالمُْخلِْصِينَْ،وَاَخَافَکَ مَخَافَةَالمُْوقِنِينَْ،وَاجتَْمِعَ فِي جَوَارِکَ مَعَ المُْومِْنِينَْ
“ميں تجه سے سوال کرتاہوںکہ دن اوررات ميں جملہ اوقات اپنی یادسے معمور کرد ے ۔ اپنی خدمت کی مسلسل توفيق عطا فرما۔۔۔اپنی خدمت کے لئے ميرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے ميرے ارادہ دل کو مستحکم بنادے۔اپنا خوف پيدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تيری طرف سابقين کے ساته آگے بڑهوں اور تيز رفتار افراد کے ساته قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقين کے درميان تيرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصين کی طرح تيری قربت اختيار کروں۔
صاحبان یقين کی طرح تيرا خوف پيدا کروں اور مومنين کے ساته تيرے جوار ميں حاضری دوں” ہمارے لئے یہ بتا نا ضروری ہے کہ پہلے اور تيسرے گروہ کے دعا کے تمام فقرے بندے کے الله سے لولگانے کےلئے مخصوص ہيں ليکن پہلے گروہ (قسم) ميں سلبی پہلو اختيار کيا گيا ہے اس ميں انسان الله سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہے ان سے در گذر چاہتا ہے ؛اور تيسرے گروہ (قسم)ميں ایجابی (مثبت)پہلو کو مدنظر رکها گيا ہے اس ميں خدا سے اخلاص ، خوف ، خشيت ،حب اور شوق کی بنياد پر الله سے لولگانے کو کہا گيا ہے ۔
چوتهے گروہ (قسم ) ميں ان مطالب کو مد نظر رکها گيا ہے جن ميں امام نے خداوند عالم سے ظالموں کے مکراوران کے شر سے بچنے کی در خواست کی ہے اور ان کے شر کو خود ان ہی کی طرف پلڻنا نے کو کہا ہے اور ظالموں کے ظلم اور ان کی اذیتوں سے محفوظ رہنے کی در خواست کی ہے :
اَللَّهُمَّ وَمَن اَرَادَنِي بِسُوءٍْ فَاَرِدهُْ،وَمَن کَادَنِي فَکِدهُْ “خدایا !جو بهی کوئی ميرے لئے برائی چاہے یا ميرے ساته کوئی چال چلے تو اسے ویساہی بدلہ دینا ”
وَاکفِْنِي شَرَّالجِْنِّ وَالاِْنسِْ مِن اَعدَْائِي
“اورمجهے تمام دشمنان جن وانس کے شر سے محفوظ فرمانا ” یہ اس دعا شریف کا بہت ہی مختصر اور مفيد خلاصہ ہے ۔ لہٰذا اس اجمال کی تشریح کرنا ضروری ہے ۔
دعا ء کميل کے چار و سيلے
اب ہم دعاء کميل کے چارو سيلوں کے سلسلہ ميں بحث کرتے ہيں اور یہ اس دعا شریف کی دوسری فصل ہے ۔
پہلا وسيلہ
خدا وند عالم نے اپنے بندے پر پہلے ہی اپنا فضل و کرم فرمادیا ہے ۔جب بندہ اپنے عمل و کو شش ميں عاجزہو جاتا ہے اور اس کے اور الله کے درميان پر دے حائل ہوجاتے ہيں تو خدا کا بندے پر فضل اور اس کی رحمت خدا تک پہنچنے کے لئے بندہ کی شافع ہوتی ہے ۔
خدا کا بندے پر سابق فضل اور رحمت نازل کرنا الله کا بندے سے محبت کرنے کی علامت ہے ۔
اور اسی (حب الٰہی)کے ذریعہ بندہ خدا وند عالم کے سامنے اپنی حاجتيں پيش کرتا ہے جب بندہ خدا کی رحمت کا مستحق نہيں ہوتا تو الله کی محبت اس کو اپنی رحمت اور فضل کا اہل بنا دیتی ہے اور اس کو مقام اجابت تک پہنچاتی ہے امام عليہ السلام اس وسيلہ کے بارے ميں فرماتے ہيں :
یَامَن بَدَ ءَ خَلقِْي وَذِکرِْي وَتَربِْيَتِي وَبِرِّي،ْهَبنِْيِلاِبتِْدَاءِ کَرَمِکَ وَسَالِفِ بِرِّکَ بِي
“اے ميرے پيداکرنے والے ،اے ميرے تربيت دینے والے،اے نيکی کرنے والے!
اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجهے معاف فرمادے ” ہماری پيدائش بهی الله سے سوال کرنے سے پہلے نيکی کاذکر، خلق اور تربيت کے ذریعہ ہو ئی جبکہ ہم اس کے مستحق نہيں تهے ۔
جب ہما رے گناہ اور ہماری برائياں الله کی نيکی اور اس کی رحمت کے درميان حا ئل ہو جا تے ہيں تو الله کی محبت ہماری شفاعت کرتی ہے اور ہم کو الله کے روبر واور اسکی رحمت کے مقام پر لاکر کهڑاکردیتی ہے ۔
دوسرا وسيلہ
ہماری خدا سے محبت ، اس کی ہمارے لئے کا مياب محبت کا وسيلہ ہے ۔امام عليہ السلام نے پہلے وسيلہ ميں خدا کی محبت کا ذکر کيا ہے اور اس کے بعد خداوند عالم سے اپنی محبت کو وسيلہ قرار دیا ہے ۔
اس وسيلہ کے سياق ميں ہمارا خدا کی وحدانيت کا اقرار ، اس کی بارگاہ ميں خضوع و خشوع، ہماری نمازیں سجدے ، ذکر ، شهادت (گواہی )، اس کی ربوبيت کا اقرار نيز اس کی عبودیت کا اقرار کرنایہ تمام چيزیں آتی ہيں ۔ ان تمام چيزوں کا مرجع دو ہی چيزیں ہيں :ہمارا اس سے محبت کرنا اور اس کی توحيد کا اقرار کرنا ہے ۔بيشک (حب)اور (توحيد )دونوں ایسے سرمایہ ہيں جن کو الله ردنہيں کرتا ہے اور ہم کو بهی دو نوں چيزوں ميں ایک لحظہ کيلئے بهی کو ئی شک نہيں کرنا چاہئے ۔
امام عليہ السلام اس وسيلہ سے متوسل ہونے کےلئے فرماتے ہيں :اَتُرَاکَ مُعَذِّبِي بِنَارِکَ بَعدَْ تَوحِْيدِْکَ وَبَعدَْ مَاانطَْو یٰ عَلَيهِْ قَلبِْي مِن مَعرَْفَتِکَ وَلَهِجَ بِهِ لِسَانِيمِن ذِکرِْکَ وَاعتَْقَدَهُ ضَمِيرِْي مِن حُبِّکَ وَبَعدَْصِدقِْ اعتِْرَافِيوَدُعَائِي خَاضِعاً لِّرُبُوبِْيِّتِکَ
“کيا یہ ممکن ہے کہ ميرے عقيدہ توحيد کے بعد بهی تو مجه پر عذاب نازل کرے، یا ميرے دل ميں اپنی معرفت کے باوجود مجهے مورد عذاب قرار دے کہ ميری زبان پر مسلسل تيرا ذکر اور ميرے دل ميں برابر تيری محبت جاگزیں رہی ہے۔ميں صدق دل سے تيری ربوبيت کے سامنے خاضع ہوں ’
یہاں پرہم دعا کے اس فقرہ سے متعلق ایک واقعہ نقل کرتے ہيں ۔ کہا جاتا ہے :جب خدا وند عالم نے حضرت یوسف عليہ السلام کو مصر کی حکو مت وسلطنت عطا کی توآپ ایک دن اپنے گهر کے سامنے تخت پر ایک ایسے نيک وصالح بندے کے ساته تشریف فرماتهے جس کو الله نے علم اور نور عطا کياتها ، اسی وقت اس تخت کے پاس سے ایک نوجوان کا گذر ہواتو اس صالح بندے نے حضرت یوسف عليہ السلام سے عرض کيا کہ کياآپ اس جوان کو پہچانتے ہيں؟ آپ نے فرمایا :نہيں تو اس بندے نے عرض کيا :یہ وہی بچہ ہے جس نے آپ کے بری وپاک ہونے کی اس وقت گواہی دی تهی جب عزیز مصر کی زوجہ نے آپ پر الزام لگایا تها ۔
وَشَهِدَشَاهِدٌ مِن اَهلِْهَااِن کَانَ قَمِيصُْهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَت وَهُوَمِنَ الکَْاذِبِينَْ وَاِن کَانَ قَمِيصُْهُ قُدَّمِن دُبُرٍفَکَذَبَت وَهُوَمِنَ الصَّادِقِينَْ ( ١)
“اور اس پر اس کے گهر والوں ميں سے ایک گواہ نے گو اہی بهی دیدی کہ اگر ان کا دامن سا منے سے پهڻا ہے تو وہ سچی ہے اور یہ جهوڻوں ميں سے ہيں اور اگر ان کا کر تا پيچهے سے پهڻا ہے تو وہ جهو ڻی ہے اور یہ سچو ں ميں سے ہيں ”
یہ وہی شير خوا ربچہ ہے جس نے گہوار ے ميں آپ کی گواہی دی تهی اور یہ اب جوان ہوگيا ہے حضرت یوسف عليہ السلام نے اس کو بلا یا ،اپنے پہلو ميں بيڻهایا اور اس کا بہت زیادہ احترام کيا اور وہ عبد صالح حضرت یو سف عليہ السلام کے پاس متعجب ہو کر مسکراتے ہوئے حضرت یوسف کے اس برتاؤکا مشاہد ہ کرتارہا۔ حضرت یوسف عليہ السلام نے اس نيک بندے سے فرمایا۔کيا تم کو ميرے اس جوان کے عزت وکرام کر نے پر تعجب ہو رہاہے ؟ تو اس نے کہا :نہيں ليکن اس جوان کی آپ کے بری الذمہ ہو نے کی گواہی کے علاوہ اور کوئی حيثيت نہيں ہے ،خدا نے اس کو قوت گویائی عطا کی جبکہ اس کی خود اس
____________________
١)سورئہ یو سف آیت/ ٢۶ ۔ ٢٧ ۔ )
ميں کوئی فضيلت نہيں ہے ،اس کے باوجود آپ نے اس کا اتنا زیادہ اکرام کيا اس کو اتنی عزت دی ہے ۔
تو یہ کيسے ممکن ہے کہ کوئی بندہ الله کے سامنے اتنے طولانی سجد ے کرے اور وہ اس کو جہنم کی آگ ميں جلادے ،یا اس بندے کے اس دل کو جلادے جو اس کی محبت سے لبریزہے ،یا اس کی اس زبان کو جلادے جس سے اس نے خدا کو بہت زیادہ یاد کيایا اسکی وحدانيت کی گواہی دی اور اس کی وجہ سے شرک کا انکار کيا ہے ؟
حضرت امام علی عليہ السلام اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں :
وَلَيتَْ شِعرِْي یَاسَيَّدِي وَاِ هٰلِي وَمَولَْائِي اتُسَلِّطُ النَّارَعَل یٰ وُجُوهٍْ خَرَّت لِعَظمَْتِکَ سَاجِدَةً وَعَ لٰی اَلسُْنٍ نَطَقَت بِتَوحِْيدِْکَ صَادِقَةً وَبِشُکرِْکَ مَادِحَةً وَعَل یٰ قُلُوبِْ اعتَْرَفَت بِاِ هٰلِيَّتِکَ مُحَقِّقَةً وَعَ لٰی ضَمَائِرَحَوَت مِنَ العِْلمِْ بِکَ حَتّ یٰ صَارَت خَاشِعَةً وَعَل یٰ جَوَارِحَ سَعَت اِ لٰ ی اَوطَْانِ تَعَبُّدِکَ طَائِعَةً،وَاَشَارَت بِاِ ستِْغفَْارِکَ مُذعِْنَةً مَا هٰکَذَاا لظَّنُّ بِکَ وَلَااُخبِْرنَْابِفَضلِْکَ عَنکَْ یَاکَرِیمُْ
“ميرے سردار ۔ميرے خداميرے مولا ! کاش ميں یہ سوچ بهی سکتا کہ جو چہرے تيرے سامنے سجدہ ریز رہے ہيں ان پر بهی توآگ کو مسلط کردے گااور جو زبانيں صداقت کے ساته حرف توحيد کو جاری کرتی رہی ہيں اور تيری حمد وثنا کرتی رہی ہيں یا جن دلوں کو تحقيق کے ساته تيری خدائی کا اقرار ہے یا جو ضمير تيرے علم سے اس طرح معمور ہيں کہ تيرے سامنے خاضع وخاشع ہيں یا جو اعضاء و جوارح تيرے مراکز عبادت کی طرف ہنسی خوشی سبقت کرنے والے ہيں اور تيرے استغفا ر کو یقين کے ساته اختيار کرنے والے ہيں ؛ان پر بهی تو عذاب کرے گا۔ہر گز تيرے بارے ميں ایسا خيال بهی نہيں ہے اور نہ تيرے فضل وکرم کے بارے ميں ایسی کو ئی اطلاع ملی ہے ”
تيسرا وسيلہ
عذاب برداشت کرنے کے مقابلہ ميں ہمارا کمزور ہو نا ، ہماری کهال کا باریک ہونا ،ہماری ہڈیوں کا کمزور ہونا ،ہم ميں صبر اور قوت برداشت کے مادہ کاکم ہونا ،کمزوری، قوی متين تک پہنچنے ميں ایک کا مياب وسيلہ ہے ،ہر کمزورقوی کو جذب کرنے اور اس کی عطوفت ومحبت کو اخذ کر نے کی خواہش کرتا ہے ۔
بيشک کمزور ميں ایک راز ہے جس کی بنا پراسے ہميشہ قوی کی طلب ہو تی ہے اسی طرح قوی (طاقتور )کو ہميشہ کمزور کی تلاش رہتی ہے یعنی دونوں ميں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کی تلاش رہتی ہے ۔
بيشک شيرخوار اپنی کمزوری کی بناء پر اپنی ماں کی محبت چاہتا ہے جس طرح مادر مہربان کو بچہ کی کمزوری اوراس کی رقت کی چاہت ہو تی ہے ۔ کمزور کا اسلحہ اور وسيلہ بکا اور اميد ہے اميرالمو منين علی عليہ لاسلام اس دعا ء کميل ميں فرماتے ہيں :
یَامَنِ اسمُْهُ دَوَاءٌ،وَذِکرُْهُ شِفَاءٌ وَطَاعَتُهُ غِنیً اِرحَْم مَن رَّاسُ مَالَهُ الرَّجَاءُ وَسِلاَحَهُ البُْکَاءُ
“اے وہ پروردگار جس کانام دوا،جس کی یاد شفا۔۔۔ اس بندہ پر رحم فرماجس کا سرمایہ فقط اميداور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے”
بيشک فقير کا اصل سرما یہ غنی (مالدار )سے اميد رکهناہے ،کمزور کا اسلحہ، قوی کے نزدیک گریہ وزاری کر ناہے ،اوردنيا ميں جو کمزور کے ،قوی وطاقتور سے اور طاقتور کے کمزور سے لو لگا نے کے سلسلہ ميں الله کی سنتوں کو نہيں سمجه پا ئے گا وہ اس دعا ء کميل ميں حضرت علی عليہ السلام کے ان موثر فقروں کو نہيں سمجه پائيگا ۔
حضرت امام علی بن ابی طالب عليہ السلام دوسری مناجات ميں فرماتے ہيں :
انت القوي واناالضعيف وهل یرحم الضعيف الاالقوي
“تو قوی ہے اور ميں کمزور ہوں اور کيا طاقتور کے علاوہ کو ئی کمزور پر رحم کر سکتا ہے ”
امام عليہ السلام اس دعا کميل ميں بندے کی کمزور ی ،اس کی تدبير کی کمی اسکے صبر وتحمل کے جلد ی ختم ہوجانے ،کهال کے رقيق ہو نے اور اسکی ہڈیوںکے رقيق ہونے سے متوسل بہ بارگا ہ خد ا و ند قدوس ہوتے ہيں ۔ امام عليہ السلام فرماتے ہيں :
یَارَبِّ ارحَْم ضَعفَْ بَدَنِي وَرِقَّةَجِلدِْي وَدِقَّةَ عَظمْي “پروردگار ميرے بدن کی کمزوری، ميری جلد کی نرمی اور ميرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما ’
ہم کو دنيا ميں کا نڻا چبهتا ہے ،انگارے سے ہمارا ہاته جل جاتا ہے اور جب ہم کودنيا ميں ہلکی سی بيماری لا حق ہو جاتی ہے تو ہماری نيند اڑجاتی ہے اور ہم بے چين ہو جاتے ہيں ،جبکہ اس تهوڑی سی دیر کی بيماری کو خداوندعالم نے امتحان کے لئے قرار دیا ہے تو ہم اس وقت کيا کریں گے جب ہم درد ناک عذاب کی طرف لے جائے جا ئيںگے اورعذاب کے فرشتوں سے کہا جائيگا :
( خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ ثُمَّ الْجَحِيْمُ صَلُّوْهُ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍذَرْعُهَاسَبْعُوْنَ ذِرَاعاً ( فَاسْلُکُوْهُ ) ( ١)
“اب اسے پکڑو اور گرفتار کرلو ،پهر اسے جہنم ميں جهونک دو ،پهر ستر گز کی ایک رسی ميں اسے جکڑلو ”
امام عليہ السلام فرما تے ہيں :
وَاَنتَْ تَعلَْمُ ضَعفِْيعَن قَلِيلٍْ مِن بَلاَءِ الدُّنيَْاوَعُقوْبَْاتِهَاوَمایَجرِْی فِيهَْا مِن المَْکَارِهِ عَل یٰ اَهلِْهَاعَل یٰ اَنَّ لٰذِکَ بَلاَ ءٌ وَمَکرُْوهٌْ قَلِيلٌْ مَکثُْهُ یَسِيرٌْبَقَائُهُ قَصِيرٌْمُدَّتُهُ
____________________
١)سورئہ الحاقة آیت/ ٣٠،٣١،٣٢ ۔ )
فَکَيفَْ اِحتِْمَالِی لِبَلاَءِ الآخِرَةِ وَجَلِيلِْ وَقُوعِْ المَْکَارِهِ فِيهَْاوَهُوَ بَلَاءٌ تَطُولُْ مُدَّتُهُ وَیَدُومُْ مُقَامُهُ وَلَایُخَفِّفُ عَن اَهلِْهِ لِاَنَّهُ لَایَکُونُْ إِلَّاعَن غَضَبِکَ وَانتِْقَامِکَ وَسَخَطِکَ وَ هٰذَا مَالَاتَقُومُْ لَهُ السَّ مٰواتِ وَالاَْرضَْ یَاسَيِّدِي فَکَيفَْ لِي وَاَنَاعَبدُْکَ الضَّعِيفُْ الذَّلِيلُْ الحَْقِيرُْالمِْسکِْينُْ المُْستَْکِينُْ یَااِ هٰلِي وَرَبِّي وَسَيِّدِی وَمَولْاي
“پروردگار اتو جانتا ہے کہ ميں دنيا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نہيں کر سکتا اور ميرے لئے اس کی ناگواریاں ناقابل تحمل ہيں جب کہ یہ بلائيں قليل اور ان کی مدت مختصر ہے۔تو ميں ان آخرت کی بلاوں کو کس طرح برداشت کروں گا جن کی سختياں عظيم،جن کی مدت طویل اور جن کا قيام دائمی ہے۔جن ميں تخفيف کا بهی کوئی امکان نہيں ہے اس لئے کہ یہ بلائيں تيرے غضب اور انتقام کا نتيجہ ہيں اور ان کی تاب زمين وآسمان نہيں لاسکتے ،تو ميں ایک بندہ ضعيف و ذليل و حقير ومسکين وبے چارہ کيا حيثيت رکهتا ہوںخدایا، پروردگارا، ميرے سردار،ميرے مولا”
چو تها وسيلہ
امام عليہ السلام اس دعا ميں بندہ کے الله سے مضطر ہو نے کو بيان فر ماتے ہيں اورانسان کےلئے اضطرار ایک کا مياب وسيلہ ہے اور اس کی حا جتيں الله کے علاوہ کسی اور کے ذریعہ پوری نہيںہو سکتی ہيں ۔
ہماری اضطرار سے مراد یہ ہے کہ انسان کی حا جتيں الله کے علاوہ کو ئی اورپورا نہيں کر سکتا ہے اور اس کی پنا ہگاہ کے علاوہ کوئی پنا ہگاہ نہيں ہے ،انسان الله کے علاوہ کسی اور جگہ بهاگ کر جاہی نہيں سکتا الله کے علاوہ اس کو کوئی اور پناہگاہ نہيں مل سکتی ہے ۔
چهو ڻابچہ بچپن ميں اپنے ماں باپ کے علاوہ کسی اورکو ایسا نہيں پاتا جو اس کے کام آئے اس کا دفاع کر ے اس کی حاجتيں پوری کرے اس کی ہر خواہش وچاہت پر لبيک کہے اس پر عطوفت کرے لہٰذا وہ اپنے والدین سے مانوس ہوتا ہے وہ اپنے ابهرتے بچپن ميں ان دونوں سے اپنے ہر مطالبہ اور ہر ضرورت کوان کی رحمت رافت شفقت سے پاتا ہے جب بچہ کو کوئی تکليف ہوتی ہے تو ان کو تکليف ہو تی ہے جب اس کو کسی چيز کا خوف ہوتا ہے تو وہ اپنے والدین کی پناہ ميں آجاتا ہے اور ان کے پاس اس کو امن وچين ،رحمت اور شفقت ملتی ہے اس کی ضرورتيں پوری ہو تی ہيں اور جس چيز سے اس کو خوف ہو تا ہے ان سے امان ملتی ہے ۔
جب وہ کبهی ایسا کام انجام دیتا ہے جس ميں وہ ان دونوں کے عقاب کا مستحق ہو تا ہے اور اس کو اپنی جان کا خوف ہو تا ہے تو وہ اپنے دائيں بائيں نظریں ڈالتا ہے تو اس کو کوئی پناہگا ہ نظر نہيں آتی اور نہ ہی وہ ان دونوں سے فرار کر سکتا ہے اور ان کے علاوہ کوئی امن کی جگہ اس کو نظر نہيں آتی تو انهيں کی پنا ہگا ہ ميں چلا جاتا ہے اور اپنے نفسں کو ان کا مطيع وفرمانبردار کہہ کران سے فریاد کرتا ہے حالا نکہ وہ دونوں اس کو مار نے اور مواخذ ہ کرنے کا اراد ہ کرتے ہيں ۔ والدین کو بهی اس طرح کے اکثر مناظردیکهنے کو ملتے ہيں اور بچہ ان کی محبت اور عطو فت کوحاصل کرليتا ہے ۔
امام عليہ السلام اس دعا ئے شریفہ ميں اسی معنی کی طرف اشارہ فر ماتے ہيں کہ آپ ہر مسئلہ ميں الله سے پناہ مانگتے تهے جب آپ پر کو ئی سخت وقت آتاتها،کو ئی مصيبت پڑتی تهی یا کسی مصيبت کا سامنا کرنا پڑتا تها تو آپ الله کی بارگاہ ميں فریاد کرتے تهے اور اسی سے لو لگاتے تهے ليکن پهر بهی آ پ کو اپنی مصيبت کے سلسلہ ميں الله کے علاوہ اور کو ئی پناہگاہ نہيں ملتی تهی امام عليہ السلام انسان کا اسی حالت ميںمشاہدہ کرتے ہيں وہ خداوند عالم کے اسی غضب کے سا منے ہے جس کی رحمت کی اسے اميد ہے اور اس خداوند قدوس کی عقوبت کے سامنے ہے جس کے غضب سے وہ سلا متی چاہتا ہے ۔ بندے کی (جب وہ اپنے کو الله کے عذاب کا مستحق دیکهتا ہے )الله کے علاوہ اور کو ئی پناہگاہ نہيںہے الله کے علاوہ وہ کہيںفرارا ختيار نہيں کرسکتا نہ اس کو خدا کے علا وہ کسی کی حمایت حا صل ہو سکتی ہے اور نہ ہی وہ خدا کے علا وہ کسی اور سے سوال کرسکتا ہے ۔
جب عذاب کے فرشتے اس کو جہنم کی طرف لے جاتے ہيں تو وہ خدا کی بارگاہ ميں گڑگڑا تا ہے اس سے امن وچين طلب کر تا ہے اس سے فریاد کر تا ہے ،اپنے نفس کےلئے اس سے رحمت طلب کرتا ہے جيسے وہ بچہ کہ جب اس کے والدین اس سے ناراض ہو جاتے ہيں تو اس کے پاس ان دونو ں کے علاوہ کسی اور کی طرف فرار کر نے کی کوئی جگہ باقی نہيں رہ جاتی ہے اوروہ ان کے علاوہ وہ کسی کو اپنا مونس ومدد گار نہيں پاتا ہے ۔
ہم امام عليہ السلام سے ان کلمات ميں دقيق ورقيق و شفاف مطالب کو سنتے ہيں جن کو توحيد اور دعا کی روح وجان کہا جاتا ہے :ن تَرَکتَْنِي نَاطِقاً لَاَضِجَّنَّ اَلَيکَْ بَينَْ فَبِعِزَّتِکَ یَاسَيِّدِي وَمَولَْاي اُقسِْمُ صَادِقاً لَا اَهلِْهَاضَجِيجَْ الآْمِلِينَْ وَلاصرُْخَنَّ صُرَاخَ المُْستَْصرِْخِينَْ وَلَابکِْيَنَّ عَلَيکَْ بُکَاءَ الفَْاقِدِینَْ وَلَاُنَادِیَنَّکَ اَینَْ کُنتَْ یَاوَلِيَّ المُْومِْنِينَْ یَاغَایَةَ آمَالِ العَْارِفِينَْ یَاغَيَاثَ المُْستَْغِيثِْينَْ یَاحَبِيبَْ قُلُوبِْ الصَّادِقِينَْ وَ یَااِ هٰلَ العَْا لَمِينَْ
“تيری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے ميری گویائی کو باقی رکها تو ميں اہل جہنم کے درميان بهی اميدواروں کی طرح فریاد کروں گااور فریادیوں کی طرح نالہ و شيون کروں گااور “عزیز گم کردہ ”کی طرح تيری دوری پر آہ وبکا کروں گا اور تو جہاں بهی ہوگا تجهے آوازدوں گا کہ تو مومنين کا سرپرست، عارفين کا مرکز اميد،فریادیوں کا فریادرس،صادقين کے دلوں کا محبوب اور عالمين کا معبود ہے” قضيہ کی یہ پہلی وجہ ہے اور دوسری وجہ بهی پہلی وجہ کی طرح واضح و روشن ہے یعنی خداوند عالم کا اپنے بندہ سے رابطہ ۔
پہلی وجہ کا خلا صہ یہ ہے کہ بندہ جب مضطر ہو تا ہے تو خدا سے ہی لو لگاتا ہے اس کی رحمت اور اس کی امن کی تلاش ميں رہتا ہے ۔
بندہ سے خداوند عالم کے محبت کرنے کا دو سرا رخ اس وقت نظر آتا ہے جب وہ تيز بخار ميں مبتلا ہوتا ہے اور اُس (خدا ) کی رحمت کا طلبگار ہو تا ہے خدا وند عالم سے خود اسی خدا کی طرف فرار کرتا ہے خداوند عالم کی رحمت اور فضل کو اس حال ميں طلب کرتا ہے کہ وہ خداوند عالم کی عقوبت اور انتقام کے سامنے ہوتا ہے ۔
کيا یہ ممکن ہے کہ خداوند تبارک وتعالیٰ ارحم الراحمين ہو نے کے باوجود بندہ کی فریاد سنتا ہو اور اس(بندہ )کو اس کی عقل کی کمی اور جہالت کی وجہ سے اس کا ڻهکانا جہنم بنا دے جبکہ وہ اس سے فریا د کرتا ہے ،اس کا نام ليکر چيختا ہے ،اپنی زبان سے اس کی توحيد کا اقرار کرتا ہے ،اس سے جہنم سے نجات کا سوال کرتا ہے ،اور اسی کی بارگاہ ميں گڑگڑاتا ہے ۔۔۔اور وہ اس کو جہنم کے عذاب ميں ڈال دے اور اس کے شعلے اس کو جلا دیں ،اس کو جہنم کی آواز پریشان کرے ،اس کے طبقوں ميں لوڻتارہے، اس کے شعلے اس کو پریشان کریں جبکہ خداوند عالم جانتا ہے کہ یہ بندہ اس سے محبت کرتا ہے یہ سچ بول رہاہے اس کی توحيد کا اقرار کر رہا ہے اس سے پناہ مانگ رہا ہے اور اسی کا مضطر ہے ۔
پس تم غور سے سنو :
اَفَتُرَاکَ سُبحَْانَکَ یَااِ هلِٰي وَبِحَمدِْکَ تَسمَْعُ فِيهَْاصَوتَْ عَبدٍْمُسلِْمٍ سُجِنَ فِيهَْابِمُخَالَفَتِهِ وَذَاقَ طَعمَْ عَذَاِبهاَبِمَعصِْيَتِهِ وَحُبِسَ بَينَْ اَطبَْاقِهَابِجُرمِْهِ وَجَرِیرَْتِهِ وَهُوَیَضِجُّ یدِکَ وَیَتَوَسَّلُ اِلَيکَْ کَ بِلِ سٰانِ اهلِْ تَوحْ اِلَيکَْ ضجٍيجَ مُُومِّلٍ لرَحمَْتِکَ وَی اْٰندی بِرُبُوبِيَّتِکَ یٰ امَو اْٰلیَ فَکَيفَْ یَب قْٰی فِی الْعَ اٰ ذبِ وَهُوَیَرجْوُ اٰ مسَلَفَ مِن حِلمِْکَ اَم کَيفَْ تُولِمُهُ یبُ هٰاوَاَنتَْ تَسمَْعُ صَوتَْه وَتَر یٰ مَ اٰ کنَهُ اَم الناٰرُّ وَهُوَیَامُْلُ فَضلَْکَ وَرَحمَْتَکَ ام کَيفَْ یُحرِْقُهُ لَه یرُ هٰاوَاَنتَْ تَعلَْمُ ضَعفَْهُ اَم کَيفَْ یَتَقَلقَْلُ بَينَْ اَط بْٰقٰاِ هٰاوَاَنتَْ تَعلَْمُ کَيفَْ یَشتَْمِل عَلَيهِْ زَف ی عِتقِْهِ یکَ ی رَٰابَّهُ اَم کَيفَْ یَرجُْو فَضلَْکَ ف صِدقَْهُ اَم کَيفَْ تَزجُْرُهُ ز اٰبنِيَتُ هٰاوَهُوَیُ اٰند ی هٰاهَي هْٰاتَ اٰ م اٰ ذلِکَ الظَّنُّ بِکَ وَلَاالمَْعرْوُفُ مِن فَضلِْکَ وَ اٰلمُشبِْهٌ مِن هْٰافَتَترُْکُهُ ف ینَ مِن بِرِّکَ وَاِح سْٰانِکَ لِ مٰا عٰامَلتَْ بِهِ المُْوَحِّد
“اے ميرے پاکيزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کيا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم ميں گرفتار اور معصيت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکهنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درميان کروڻيں بدلنے والا بنادے اور پهر یہ دیکهے کہ وہ اميد وار رحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحيد کی طرح پکارنے والا ،ربوبيت کے وسيلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز نہيں سنتا ہے۔
خدایا تيرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب ميں رہے گا اور تيرے فضل وکرم سے اميدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جہنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا،جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رہا ہو اور اس کی منزل کو دیکه رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپيٹ ميں ليں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکه رہا ہوگا،وہ جہنم کے طبقات ميں کس طرح کروڻيں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ،جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جهڑکيں گے جبکہ وہ تجهے آواز دے رہا ہوگا اور تو اسے جہنم ميں کس طرح چهوڑ دے گا جب کہ وہ تيرے فضل و کرم کا اميدوار ہوگا ،ہر گز تيرے بارے ميں یہ خيال اور تيرے احسانات کا یہ انداز نہيں ہے ،تونے جس طرح اہل توحيد کے ساته نيک برتاو کيا ہے اس کی کوئی مثال نہيں ہے”
فہرست
دعا کی تعریف ۴
١۔مدعو : ۵
٢۔داعی :(دعا کر نے والا ) ۷
٣۔ دعا :(طلب ،چا ہت، مانگنا) ۷
۴ ۔مد عوّلہ (جس کے لئے یاجو طلب کيا جا ئے ) ۸
دعاکی قدر و قيمت ۹
دعا ،روح عبادت ہے ۱۳
استجابت دعا ۲۰
قبوليت دعاکی دو جزائيں ۲۳
دعا اور استجابت دعا کا رابطہ ۲۶
دعا قبول ہونے کے درميان کيا رابطہ ہے؟ ۲۶
استجابت کيسے تمام ہوتی ہے؟ ۲۶
دعاقبول ہونے ميں الله کی سنت کيا ہے؟ ۲۷
دعا ،رحمت کی کنجی ہے ۲۷
عمل اور دعا الله کی رحمت کی دو کنجيا ں ۳۰
دعااور عمل کے درميان رابطہ ۳۳
دعا اوراستجا بت دعاکے درميان را بطہ ۳۸
حاجت اور فقر کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ ۴۵
ضرورت سے پہلے دعا کرنا ۴۶
بارگاہ خداميں احساس نيازمندی کی علامتيں ۵۰
پہلی قسم کے موانع دعا ۵۶
موانع (رکا و ڻوں)کی دوسری قسم ۶۲
دعا کی قبو ليت ميں تاخير یا تبد یلی ۶۴
دعا کی قبو ليت اور دعا کے در ميان رابطہ ۶۹
دعا کے آداب اور اس کی شرطيں ۸۵
١۔الله کی معرفت ۸۹
٢۔الله سے حسن ظن ۹۴
٣۔ الله کی بار گاہ ميں اضطرار ۹۹
۴ ۔انهيں راستوں سے جاناجو خدا نے بتائے ہيں ۱۰۲
۵ ۔خداوند عالم کی طرف پوری قلبی توجہ ۱۰۳
۶ ۔دل پر خضوع اور رقت طاری کرنا ۱۰۶
٧۔مشکلات اور راحت و آرام ميں ہميشہ دعا کرنا ۱۱۱
٨۔ عہد خداکووفاکرے ۱۱۵
٩۔ دعا اورعمل کا ساته ۱۱۶
١٠ ۔ سنت الٰہی ميں کوئی تبدیلی نہيں ہو تی ۱۲۰
١١ ۔ گنا ہوں سے اجتناب ۱۲۱
١٢ ۔ اجتماعی طور پر دعا کرنا اور مومنين کا آمين کہنا ۱۲۲
١٣ ۔آزادانہ طورپر ،کسی تکلف کے بغير د عا ۱۲۳
١ ۴ ۔نفس کو دعا، حمد وثنا ئے الٰہی،استغفار اور صلوات پڑهنے کےلئے آمادہ کرنا ۱۲۴
١ ۵ ۔خداسے اس کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ دعا کرنا ۱۲۶
١ ۶ ۔اپنی حاجتيں الله کے سامنے پيش کرو ۱۲۸
١٧ ۔دعاميں اصرار ۱۲۹
١٨ ۔ایک دو سرے کے لئے دعا کرنا ۱۳۲
١٩ ۔رحمت الٰہی نازل ہوتے وقت دعا ۱۳۴
٢٠ ۔آدهی رات کے وقت دعا ۱۳۶
٢١ ۔دعا کے بعد ہاتهوں کو چہرے اور سرپر پهيرنا ۱۴۱
موانع اوررکا وڻيں ۱۴۲
گناہ بارگاہ خدا کی راہ ميں ایک رکاوٹ ۱۴۳
اخذ اور عطا ميں دل کادوہرا کردار ۱۴۳
دلوں کےلئے دوسرامرحلہ تو سعہ اور عطا ۱۴۶
اس قطع تعلق اوردل کے بند ہوجانے کی کيا وجہ ہے ؟ ۱۴۹
دلوں کے منجمد ہونے کے اسباب ۱۴۹
گناہوں سے دلوں کااُلٹ جانا ۱۵۱
گناہوں کے ذریعہ انسان کے دل سے حلاوت ذکر کا خاتمہ ۱۵۳
دعاؤں کو روک دینے والے گناہ ۱۵۴
قبوليت اعمال کے موانع ۱۵۷
صعود اعمال کے موانع (اسباب) ۱۵۷
اعمال کو الله تک پہنچا نے والے اسباب ۱۶۳
جن چيزوں کوالله سے دعا کرتے وقت انجام دینا چاہئے ۱۶۶
رسول خدا (ص) اور اہل بيت عليم السلام سے تو سل کرنا ۱۶۸
دعا ئے کميل کے ذریعہ الله تک رسائی کے وسائل ۱۶۹
دعا کميل کی عام تقسيم ۱۷۰
تصميم دعا کی فکر ۱۷۱
دعا ء کميل کے چار و سيلے ۱۷۹
پہلا وسيلہ ۱۸۰
دوسرا وسيلہ ۱۸۱
تيسرا وسيلہ ۱۸۳
چو تها وسيلہ ۱۸۵
پس تم غور سے سنو : ۱۸۸