نماز کی تفسیر

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محسن قرائتی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : نماز کی تفسیر

مؤلف : حجة الاسلام و المسلمین محسن قرائتی

مترجم: سید محمد یامین نقوی

تصحیح: سید نجم الحسن نقوی

نظر ثانی: سیدکمیل اصغر زیدی

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: انتشارات مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

طبع اول : ١٤٢٧ھ، ٢۰۰٦ئ

تعداد : ٣۰۰۰

مطبع : اعتماد


بسم اللہ الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہلبیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہلبیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای محسن قرائتی کی گرانقدر کتاب تفسیر نماز کو فاضل جلیل مولانا سید محمد یامین نقوی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


پیش لفظ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ ربّ العالمین و صلّی الله علی سیدنا و نبینا محمد و آله الطاهرین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین

ہمیں اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ نئے ہجری شمسی سال یعنی ١٣٧٤ھ ش ( بمطابق ٢١مارچ ١٩٩٦ء ) کے آغاز میں ہم حضرت امام رضا ـ کے روضۂ اقدس کے جوار میں مو جود ہیں اور اس کتاب کو جسکااجمالی خاکہ پہلے سے تیار کر چکے تھے اب سال نو کی تحویل کے بعد لکھنا شروع کیا ہے۔

انقلاب اسلامی کے بعد مدرسوں ، یونیورسٹیوں ، فوجی مراکز اور دوسری عمومی جگہوں پر نماز قائم کرنے کے سلسلہ میں جو کوششیں عمل میں آئیں ، ان کے ساتھ میں نے بھی ''اسرار نماز کی ایک جھلک''،''نماز کے ہمراہ'' اور '' نماز کے سلسلہ میں ایک سو چودہ نکتے '' جیسی کتابیں لکھنے کے بعد یہ پکا ارادہ کرلیا تھا کہ اذکار نماز ؛تکبیر ،حمد وسورہ ،رکوع و سجود، تشہد اور سلام کی تفسیر لکھوں گاتاکہ جو بھی ہم اس سلسلہ میں خدا سے کہتے ہیںاسے اچھی طرح سمجھیں اور معرفت و آگاہی کے ساتھ خدا کی عبادت کریں ۔

اصل بحث کو شروع کرنے سے پہلے ''عبادت و عبودیت ''پر ایک سرسری نظر ڈالتے چلیں جو نماز اور تمام واجب عبادتوں کی روح ہے ،تا کہ ہم اپنی زندگی میں اس کے بلند مقام و مرتبہ کو اچھی طرح سمجھ سکیں ۔

محسن قرائتی


پہلا باب

عبادت و عبودیت

عبادت کیا ہے ؟

ہماری تخلیق کا اصل مقصد عبادت ہے ''و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون (١)

ہم لوگ جو بھی کام انجام دیتے ہیں اگر رضائے پروردگار کی خاطر ہو تو وہ عبادت ہے چاہے وہ کام علم حاصل کرنا ، شادی کرنا یالوگوں کی خدمت کرنا ہو اور یااپنی یا معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر ہو ۔ جو چیز کسی کام کو عبادت بناتی ہے وہ انسان کی مقدس نیت ہے جس کو قرآن مجید کی زبان میں ''صبغة الله ''( ٢) کہتے ہیں یعنی جس میں خدائی رنگ و بو پائی جائے ۔

فطرت و عبادت

ہمارے کچھ کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں اور بعض کام فطرت کی بنا پر انجام پاتے ہیں۔ جو کام عادت کی بنا پر ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ کسی اہمیت کے حامل ہوں جیسے ورزش کی عادت اور ممکن ہے وہ کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں ، جیسے سگریٹ پینے کی عادت، لیکن اگر کوئی کام فطری ہو یعنی فطرت اور اس پاک سرشت کی بنا پر ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہر بشر کے اندر ودیعت کی ہے تو ایسا ہر کام اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔عادت پر فطرت کی فوقیت یہ ہے کہ فطرت میں زمان ، مکان، جنسیت، نسل اورسن و سال مؤثر نہیں ہوتے ۔ ہر انسان اس جہت سے کہ انسان ہے فطرت رکھتا ہے جیسے اولاد سے محبت،کسی خاص نسل یازمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنے بچے

____________________

١۔ ذاریات آیہ ٥٦.

٢۔بقرہ آیہ ١٣٨.


کو چاہتا ہے(١) لیکن لباس اور غذا جیسی چیزیں عادات میں شامل ہیں جن میںزمان و مکان کے اختلاف سے تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ بعض جگہوں پر کچھ رسم و رواج مو جودہیں لیکن دوسری جگہ پر وہی رسم و رواج نہیں پائے جاتے ہیں۔

عبادت و پرستش بھی ایک فطری امر ہے اسی لئے جتنی بھی قدیم ، خوبصورت اور مضبوط عمارتیں دیکھنے میں آتی ہیں وہ عبادت گا ہیں ، مسجدیا مندر اور چرچ وغیرہ ہیں یا پھر آتش کدے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ عبادت و پرستش کے انواع و اقسام میں کافی فرق پایا جاتا ہے ۔ ایک طرف تو خود معبود میں فرق ؛ یعنی پتھر ، لکڑی اور بت کی عبادت سے لے کر خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت تک۔ اسی طرح عبادت کے طریقوں میں فرق ہے جیسے ناچنے ، مٹکنے سے لے کر اولیاء اللہ کی انتہائی عمیق و لطیف مناجات تک فرق پایا جاتا ہے ۔

انبیاء کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگوں کے اندر خدا کی عبادت و پرستش کی روح پھو نکیںبلکہ انکا اصل مقصد معبو د سے متعلق تصور اور عبادت کے طریقے کو صحیح کرنا تھا ۔

مساجد ، گرجا گھروں اور مندر وغیرہ کی عمارتوں میں اتنا زیادہ پیسہ لگانا ، اپنے وطن کے پرچم کو مقدس سمجھنا ، اپنی قوم کے بزرگوں اور بڑی شخصیتوں کی قدر کرنا ، لوگوں کے کمالات و فضائل کی تعریف کرنا حتی اچھی چیزوں سے رغبت ہو نایہ سب انسان کے وجود میں روحِ عبادت کے جلوے ہیں ۔

جو لوگ خدا کی عبادت نہیں کرتے ہیں وہ بھی مال و اقتدار یا بیوی ، بچوں،سندا ور ڈگری یا

____________________

١۔ سوال: اگر بچے سے محبت کرنا فطری چیز ہے تو پھر کیوں بعض زمانوں ، جیسے دورجاہلیت میں لو گ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ؟ جواب : فطری مسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں جیسے اولاد سے محبت فطری ہے اسی طرح حفظ آبرو بھی فطری ہے ۔عرب کے جاہل لڑکی، کو ذلت کاباعث سمجھتے تھے چونکہ جنگوں میں عورتیں اسیر ہوتی تھیں اور ان سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا آبرو کے تحفظ کے لئے اپنی لڑکیوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے تھے ۔ دور جانے کی بات نہیں ہے مال اور جان دونوں سے محبت کرنا فطرت ہے لیکن کچھ لوگ مال کو جان پر اور کچھ لوگ جان کو مال پر قربان کر دیتے ہیں لہٰذا لڑکی کو آبرو پر قربان کرنا اولا د سے محبت کی فطرت کے منافی نہیں ہے۔


فکر و قانون اوراپنے مکتب فکر یا اپنی راہ و روش کی پوجا کرتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اس راہ میں اتنا زیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ دل دے بیٹھتے ہیں اور جانفشانی پر تیار رہتے ہیں ۔ اپنی پوری ہستی کو اپنے معبودپر فدا کر دیتے ہیں ۔ خدا کی عبادت انسان کی فطرت کی گہرا ئیوں میں شامل ہے ، چاہے انسان اس سے غافل ہی ہو جیسے مولاناروم کہتے ہیں :

ہمچو میل کو دکان با مادران

سرّمیل خودنداند درلبان

'' انسان اپنی فطرت کی طرف اس طرح رغبت رکھتا ہے جیسے بچہ اپنی ماں سے ، جبکہ اس کا راز وہ نہیں جانتا''۔

خدائے حکیم نے جس رغبت اور چا ہت کو پیکر انسان میں قرار دیا ہے اس کی تکمیل و تشفی کے اسباب و وسائل بھی فراہم کئے ہیں ۔ اگر انسان کو پیاس لگے تواس کے لئے پانی پیدا کیا ، اگر انسان کو بھوک لگے تو غذا بھی موجود ہے ۔ اگر خداوند عالم نے انسان میں جنسی خو اہش کو رکھا تو اس کے لئے شریک حیات کو بھی خلق کیا،اگر خدا نے قوت شامّہ دی تو اس کے لئے اچھی خوشبوئیں بھی پیدا کیں ۔

انسان کے متعددجذبات میں سے ایک گہرا جذبہ یہ ہے کہ وہ لا متناہی چیز سے رغبت رکھتا ہے ، کمال سے عشق کرتا ہے اور بقاء کو دوست رکھتا ہے ۔ اور ان فطری رجحانات کی تکمیل ، خداوند متعال سے رابطہ اور اس کی پرستش کے ذریعہ ہوتی ہے ،نماز و عبادت ؛ کمال کے سر چشمہ انسان کا ارتباط ، محبوب واقعی سے اُنس اور اس کی قدرت لا متناہی میں احساس امنیت کرنا ہے ۔

عبادت کی بنیاد

ایساکون ہے جو خدا کے لا محدود اور نا متنا ہی اوصاف و کمالات کوپہچان لے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے اور خاضع نہ ہو ؟ قرآن مجید واقعات و تاریخ کے ذریعے پروردگار عالم کی قدرت و عظمت کی نشانیوں کو ہمارے لئے بیان کرتا ہے ۔


قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ خدا نے کنواری جناب مریم کوبیٹا عنایت کیا۔ دریائے نیل میں جناب موسیٰ ـ کے لئے راستہ بنایا اور فرعون کو اسی میں غرق کر دیا ۔ اپنے نبیوں کو خالی ہاتھ دنیا کی بڑی طاقتوں پر کامیاب کیا اور ظالموں کی ناک مٹی میں رگڑ دی۔

وہ خدا جس نے بے جان مٹی سے تم کو پیدا کیا موت و زندگی ، عزت و ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ کون ہے جو اپنے ضعف و ناتوانی، اپنے جہل ،اپنی بے چارگی اور اپنے کو متوقع یا غیر متوقع حوادث و خطرات میں دیکھے لیکن نجات دینے والی قدرت کی ضرورت کااحساس نہ کرے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرے ؟!

قرآن کریم جگہ جگہ پر انسان کے ضعف و ناتوانی کا ذکر کرتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : تم پیدائش کے وقت کچھ بھی نہیں جانتے تھے کسی چیز سے آگاہ نہ تھے تم سراپا فقر تھے اور طاقت حاصل ہونے کے بعد پھر اسی ضعف و ناتوانی کی طرف جاؤ گے ۔

تم کو ہر وقت مختلف قسم کے خطرے دھمکی دیتے ہیں ۔ اگر زمین کی حرکت کم ہو جائے رات و دن اپنی جگہ پر رک جائیں تو کون ہے جو ان کی حرکت کو بڑھا دے اور تغییر پیدا کرے؟! اگر سارا پانی زمین کے اندر جذب ہوجائے تو تمہارے لئے چشمہ کا پانی کون بہا کر لائے گا ؟(١)

اگر ہم چاہتے تو اسے کھارا بنا دیتے تو پھر تم ہمارا شکریہ کیوں نہیں ادا کرتے ؟(٢)

اگر ہم چاہیں تو درختوں کو ہمیشہ کے لئے خشک کر دیں ۔(٣)

اگر ہم چاہیں تو زمین ہمیشہ لرزہ براندام و متزلزل رہے ۔(٤)

____________________

١۔ ملک آیہ ٣۰.

٢۔ واقعہ آیہ ٧۰

٣۔ واقعہ آیہ ٦٥.

٤۔سبا آیہ ٩


یہ اور اس کے علاوہ دسیوں نمونے قرآن بیان فرماتا ہے تاکہ انسان کو غفلت سے بیدار کرے ، اس کے تکبر کو توڑ دے اور پیدا کرنے والے کے سامنے عبادت و تذلل پر آمادہ کرے ۔

عبادت کی گہرائی

عبادت ایک ایسا عمل ہے جسکو ظاہراً خضوع کی ایک قسم سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ عمیق ہے ۔

عبادت کا مرکز ہماری روح ہے، عبادت کا سر چشمہ معرفت ہے ،عبادت کی بنیادتوجہ ہے، عبادت کی شروعات تقدس سے ہوتی ہے ،آغاز عبادت تعریف و ستائش سے ہے، عبادت دعا ہے ، عبادت میں التجا و استعانت ہے ، عبادت معبود کے کمالات سے عشق کا نام ہے ۔

عبادت ظاہراً ایک آسان کام ہے لیکن عبادت میں اگر مذکورہ بالا چیزیں نہ ہوں تو انسان سے عبادت نہیں ہو سکتی ۔ عبادت یعنی مادّیت سے رغبت کو ختم کر لینا اور اپنی روح کو پروازعطا کرنا۔ قدموں کو دیکھنے اور سننے والی اشیاء سے آگے رکھنا ۔ عبادت انسان کے عشق کی تکمیل کرتی ہے ،جس میں کبھی حمد و تعریف کے ذریعہ ،کبھی تسبیح و تقدیس کے ذریعہ اور کبھی اپنے قیمتی اوقات میں شکر و اظہار تسلیم کے ساتھ ،پروردگار عالم کے تئیں اپنے ادب و احترام کااظہار مقصودہوتا ہے۔

عبادت سے بے توجہی

حضرت علی ـ ارشاد فرماتے ہیں : اے انسان ! تمہاری آنکھیںاندھی ہوجائیں اگر تم اپنی عمر کے اتنے سال گزارنے کے بعد بھی ( جبکہ تمہارے پاس اتنی استعداد ، قابلیت ، وسا ئل ، عقل ، علم اور وحی احکام الٰہی مو جود ہیں ) حیوانوں کی طرح چراگاہ عالم میں کھاؤ پیواور سو جاؤ ۔(١)

____________________

١۔قرّت اذاً عینه اذا قتدیٰ بعد السنین المتطاوله بالبهیمة الهاملة و السائمة المرعیّة ( نہج البلاغہ مکتوب٤٥ )


جی ہاں ! تمدن ، ٹیکنالوجی ، جدید آلات اور پیشرفت نے زندگی کو سکون بخشا اور یہ رفاہ و آسائش کا تحفہ لائیں لیکن کیاانسان کا کمال دنیا کی راحت بخش چیزوں کے حاصل کرنے میں ہے ؟

اگر ایسا ہی ہے تو پھر جانور ، کھانے پینے ، پوشاک ،گھرا ور جنسی تسکین میں انسان سے بھی آگے ہیں۔

جانور انسانوں سے زیادہ اچھا اوربغیر زحمت کے کھاتے ہیں ۔ ان کو کھا نا پکا نے اور تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ انہیں کپڑے سلنے ، دھلنے اور استری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جانور کسی محنت و مشقت کے بغیر اپنی جنسی خواہش کو پورا کرتے ہیں ۔

کتنے پرندے اور کیڑے مکو ڑے ایسے ہیں جن کے اندر گھر اور گھونسلے بنانے کی مہارت کو دیکھ کر انسان تعجب میں پڑ جاتا ہے ۔ اصولاً کیا یہ ٹیکنالوجی کاارتقاء انسانیت کی ترقی کا سبب بناہے ؟ کیا انفرادی و معاشرتی برائیاں کم ہوگئی ہیں ؟ کیا یہ آسائش ،دل کو سکون بخشتی ہے ؟

بہرحال اگر انسان کے ہاتھ کو معصوم او رعادل رہبر کے ہاتھ میں نہ دیا جائے تو انسانیت پر ظلم ہوگا اگر انسان کا دل پروردگار سے وابستہ نہ ہو تو انسانیت کے مقام و منزلت کی توہین ہوگی ۔


رضائے الٰہی محور عبادت ہے

جس طرح سے آسمانی کرات اور کرہ ارضی مختلف ( وضعی و انتقالی ) حرکات کے باوجود ہمیشہ ایک ثابت مدار رکھتے ہیں اسی طرح عبادت بھی ہے اپنی مختلف شکلوںکے با وجود ایک ثابت مدار رکھتی ہے اور وہ رضائے الہی ہے ۔ اگرچہ زمان و مکان اور انفرادی و اجتماعی شرائط اس مدار میں انجام پانے والی حرکتوں کو معین کرتے ہیں ۔ جیسے سفر میں چار رکعتی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے اور بیماری میں نماز پڑھنے کی شکل بدل جاتی ہے لیکن دو رکعتی یا قصر نماز ، نماز ہے یہ بھی یاد خداا ور رضائے پروردگار کو انجام دینے کے لئے ہوتی ہے ۔''واقم الصلاة لذکری'' (١)

عبادت کا جذبہ

عبادت روح کی غذا ہے ۔ سب سے اچھی غذا وہی ہوتی ہے جو بدن میں جذب ہو جائے (یعنی بدن کے لئے سود مند ثابت ہو ) نیز بہترین عبادت وہ ہے جو روح میں جذب ہو جائے یعنی خوشی اور حضور قلب کے ساتھ انجام پائے ۔ زیادہ کھانا اچھی بات نہیں ہے بلکہ سود مند غذا کھانا ضروری ہے ۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،جابر بن عبد اللہ انصاری سے ارشاد فرماتے ہیں :

'' انّ هذا الدین لمتین فاوغل فیه برفق و لا تبغض الی نفسک عبادة الله'' ۔(٢)

خدا کا دین مستحکم و استوار ہے اس کی نسبت نرم رویہ اختیار کرو ۔(لہٰذا جس وقت روحی اعتبار سے آمادہ نہ ہو اس وقت عبادت کو اپنے اوپر بوجھ نہ بناؤ )کہ تمہارا نفس اللہ کی عبادت سے نفرت کرنے لگے ۔

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دوسری حدیث میں ہے :

'' طوبیٰ لمن عشق العبادة و عانقها '' (٣)

وہ شخص خوشحال ہے جو عبادت سے عشق کرتا ہے اور اپنے محبوب کی طرح عبادت کو گلے لگاتا ہے۔

____________________

١۔ طہٰ آیہ ١٤.

٢۔ بحار الانوار جلد ٧١ صفحہ ٢١٢.

٣۔ بحارالانوار جلد ٧١ صفحہ ٢١٢


عبادت میں اعتدال

عبادت و پرستش اسی وقت باقی رہ سکتی ہے جب انسان اس کے بجا لانے میں اعتدال سے کام لے ،لہذا حدیث کی کتابوں میں بعض روایات '' باب الاقتصاد فی العبادة'' (عبادت میں میانہ روی کا باب)کے نام سے نقل ہوئی ہیں ۔(١)

انسان اس وقت سالم ہے کہ جب اس کے تمام اعضاء و جوارح متناسب ہوں ، اگر حدّ معمول سے اعضاء چھوٹے یا بڑے ہوں تو وہ ناقص الخلقت کے زمرہ میں آئے گا ۔ اسی طرح انسان عبادت اور معنوی کاموں میں بھی نظم و ضبط پیدا کرے ۔ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لوگوں نے بتایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت میں سے کچھ لوگ عبادت کی خاطر اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ کر مسجد میں آگئے ہیں ۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا یہ میری راہ و روش نہیں ہے ہم خود اپنی بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور گھر میں رہتے ہیں جو شخص بھی ہمارے راستہ سے ہٹ کر عمل کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(٢)

امام جعفر صادق ـ ایک مسلمان کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کا پڑوسی عیسائی تھا یہ عیسائی مسلمان ہوگیا اس مسلمان نے اس تازہ مسلمان کو صبح ،سحر کے وقت جگایا اور اس کو مسجد لایا ۔ اس سے کہا کہ نماز شب پڑھو اس نے نماز شب پڑھی اس کے بعد صبح ہوگئی جب صبح ہوگئی تو کہا کہ نماز صبح پڑھو ۔ اس کے بعد سورج نکلنے تک دعائیں پڑھیں اور سورج نکلنے کے بعد نماز ظہر تک قرآن پڑھا اسی طرح اس مسلمان نے اس بے چارے تازہ مسلمان کو ٢٤ گھنٹے تک مسجد میں پھنسائے رکھا ۔ اب نماز پڑھو ،اب دعا پڑھو، اب قرآن پڑھو ۔ یہ عیسائی جب گھر واپس گیا تو اسلام سے منحرف ہوگیا

____________________

١۔ کافی ج ٢ ص ٨٦. ٢۔ کافی جلد ٥ صفحہ ٤٩٦.


اور اس کے بعد دوبارہ مسجد میں قدم نہیں رکھا ۔(١)

جی ہاں ! عبادت میں اس طرح کی افراط و تفریط لوگوں کو عبادت سے دور کردیتی ہے۔

شہید مطہری نقل کرتے ہیں کہ : عمرو عاص کے دو بیٹے تھے ایک حضرت علی ـ کا چاہنے والا تھا اور ایک معاویہ کا طرفدار ہوگیا ۔ ایک روز رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمرو عاص کے نیک بیٹے (عبداللہ ) سے فرمایا : ہم نے سنا ہے کہ تم راتیں عبادت میں گزارتے ہو اور دنوں کو روزہ رکھتے ہو ، اس نے کہا جی ہاں یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہم کو یہ روش قبول نہیں ۔(٢)

دوسری روایت میں آیا ہے:

'' انّ للقلوب اقبالا و ادبارا '' (٣)

انسان کی روح لگاؤ اور فرار دونوں رکھتی ہے ۔ جس وقت روح متوجہ اور متمایل ہو اس وقت اس سے فائدہ اٹھاؤ اور جس وقت آمادہ نہ ہو اس کے اوپر دباؤ نہ ڈالو ۔ اس سے خود بخود بر عکس عمل وجود میں آتا ہے ۔

اسلام نے تاکید کی ہے کہ اپنے اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کرو ان چار حصوں میں سے ایک حصہ کو تفریح و لذت میں گزارو ۔ اگر اس طریقہ پر عمل کرو گے تو دوسرے کاموں کے لئے نشاط حاصل ہوگا ۔(٤)

وہ یہودی جو چھٹی اور آرام کے دن مچھلی کے شکار کے لئے جاتے تھے قرآن مجید نے ان کو زیادتی کرنے والوں میں سے یاد کیا ہے ۔

____________________

١۔ سیری در سیرہ ٔنبوی صفحہ ٢١٣.

٢۔ طہارت روح صفحہ ١٢٢.

٣۔ بحار الانوار جلد ٧٨ صفحہ ٣٥٧، کافی ج ٢ ص ٨٦

٤۔ بحار الانوار جلد ١٤ صفحہ ٤١


(و لقد علمنا الذین اعتدوا منکم ف السبت )(١)

تم ان لوگوں کو بھی جانتے ہو جنہوں نے ہفتہ کے معاملہ میں زیادتی سے کام لیا تو ہم نے حکم دے دیا کہ اب ذلّت کے ساتھ بندر بن جائیں ۔

بہرحال عبادت میں نشاط و آمادگی ایک اصل ہے جو اعتدال و میانہ روی کی رعایت کرنے سے حاصل ہوتی ہے ۔

عبادت میں انتظامی صلاحیت

صرف معاشرتی ، اقتصادی اور سیاسی مسائل میں ہی انتظامی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ عبادت کے تمام کاموں میں بھی اس کی ضرورت ہے ۔

انتظامی صلاحیت میں جو چیزیں آتی ہیں وہ ہیں ، منصوبہ بندی ، طریقہ ٔکار ، تجربہ کار افراد کا انتخاب ، نظم و ضبط ، نظارت ، کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور تمام چیزوں پر کنٹرول رکھنا وغیرہ ۔ عبادت میں بھی انہیں اصولوں کی رعایت کی جائے تاکہ رشد و کمال کا باعث بنے ۔

نماز ایک معین منصوبے کے ما تحت ہے جو تکبیر سے شروع ہوتی ہے اور سلام پر ختم ہوتی ہے اس کی رکعتوں اور رکوع و سجود کی تعداد بھی مشخص ہے ، نماز کے اوقات مخصوص ہیں اور اس کی سمت، قبلہ کی طرف ہے ۔

صرف یہ منصوبہ اور خاکہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے پڑھنے اور انجام دینے کے لئے امام جماعت کا انتخاب بھی ضروری ہے جو ہر طریقہ سے کامل ہو اور معاشرے کو پہچانتا ہو ۔ امام جماعت، آداب ، اخلاق ، پاکیزگی ، نماز میں نشاط اور مسجد میں آنے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے اور

____________________

١۔سورہ بقرہ ٦٥


انھیں اس کی ترغیب دلائے ۔ جماعت کی صفوں میں نظم و نسق اور امام جماعت کی اقتداء کی رعایت ہونی چاہئے ۔ بہر حال ایک کامل انتظامی صلاحیت کی ضرورت ہے تاکہ نماز بہترین طریقے سے انجام پائے۔

عبادت؛ شب و روز کا دواخانہ ہے

ہر شخص ہر وقت ہر حالت میں پہلے سے وقت لئے بغیر اور بلا واسطہ پروردگار عالم سے رابطہ قائم کر سکتا ہے ، اگرچہ مخصوص اوقات میں جیسے سحر کے وقت ، جمعہ کے روز ، سورج ڈوبتے وقت ، نماز جمعہ کے خطبے ختم ہونے کے بعد ، بارش کے وقت یا شب قدر میں دعا ما نگنے اورعبادت کر نے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتاہے ۔ لیکن دعا و مناجات کا کوئی وقت مخصوص نہیں ہے ۔

عبادت ہرحال میں غفلت اور بھول چوک اور گناہوں کی دوا ہے

(اقم الصلاة لذکر )(١)

اللہ کا ذکر اور عبادت دل کو آرام و اطمینان پہنچاتے ہیں اوران سے دل کا اضطراب اورپریشانی ختم ہوجاتی ہے

(الا بذکر الله تطمئن القلوب )(٢)

عبادت سکون کا باعث ہے

آپ بڑے بڑے سرکش ، سرمایہ داروں اور صاحبان علم و صنعت کو پہچانتے ہیں لیکن کیا ان سب کے یہاں قلبی سکون کا سراغ ملتا ہے ؟ !

____________________

١۔ طہ ۔ آیہ ١٤

٢۔ رعد آیہ ٢٨.


کیا اہل مغرب کے پاس روحانی ا ور نفسیاتی سکون موجود ہے ؟

کیا قدرت و صنعت اور مال و ثروت آج کے انسان کو صلح و دوستی اوردلی اطمینان و سکون عطا کرسکے ہیں ؟ لیکن خدا کی عبادت و اطاعت سے خدا کے اولیاء کو ایسی کیفیت و حالت حاصل ہوتی ہے کہ کسی بھی حالت میں یہ لوگ مضطرب او رپریشان نہیں ہوتے ۔ یہاں پر مناسب ہے کہ انقلاب اسلامی کے عظیم الشان قائد امام خمینی کے دو واقعے نقل کردیں :

شاہ ایران کے بھاگنے کے بعد اگرچہ شاہ کا بے اختیار نوکر شاہ پور بختیار حکومت کر رہا تھا ، پھر بھی امام خمینی نے یہ فیصلہ کیا کہ ١٥ سال کی جلا وطنی کے بعد اپنے ملک ( ایران ) واپس جائیں ۔ نامہ نگاروں نے آپ سے ہوائی جہاز میں سوال کیا : آپ اس وقت کیا محسوس کر رہے ہیں ؟ امام خمینی نے جواب دیا کچھ بھی نہیں ( یعنی آپ کو ہر اعتبار سے اطمینان تھا ) جبکہ اس وقت ان کے لاکھوں ایرانی عاشقان کی جان کو در پیش خطر ہ کی وجہ سے پریشان تھے مگرامام خمینی بہت اطمینان کے ساتھ ہوائی جہاز کے اندر عبادت و دعا میں مشغول تھے ۔ یہ اطمینان قلب صرف خدا کی یاد سے حاصل ہوتا ہے ۔

دوسرا واقعہ جس کو امام خمینی کے صاحبزادے جناب الحاج سید احمد خمینی سے سنا ہے وہ یہ ہے کہ جس روز شاہ ، ایران سے بھاگا اس روز پیرس میں دسیوںنا مہ نگار اور فوٹو گرافر، ان کی قیام گاہ پر آئے تاکہ اس مسئلہ میں امام کی بات کو دنیا میں پھیلائیں ۔ امام خمینی نے کرسی پر بیٹھ کر چند کلمے کہے پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ : کیا نماز ظہر کا وقت ہوگیا ہے ؟ ہم نے کہا جی ہاں ۔ امام خمینی نے فوراً اپنی بات منقطع کی اور اوّل وقت نماز کے لئے کرسی سے اتر آئے ۔ سارے لوگ پریشان ہوگئے کہ کیا بات ہوگئی ۔ ہم نے کہا کہ امام خمینی نماز کواوّل وقت پڑھتے ہیں۔


جو کچھ بھی امام خمینی نے پیرس میں انجام دیا وہ ایک درس تھا جو انہوں نے اپنے امام حضرت علی رضا ـ سے سیکھا تھا ۔ تاریخ میں ہے کہ صابئین (ستارہ پرست )جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے ۔ ان کا ایک عالم بہت مغرور و متعصب تھا ۔ جب بھی وہ امام رضا ـ سے بات چیت کرتا تھاتو کسی بات کو قبول نہیں کرتا تھا ۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ بحث میں امام نے اس کی فکر کا اس طرح سے قلع قمع کیا کہ اس نے کہا کہ اس وقت میرا دل کچھ نرم ہوا اور تمہاری دلیلوں کو قبول کرتا ہوں۔ اسی اثناء میں اذان کی آواز آئی ۔ امام نماز پڑھنے کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ آپ کے دوستوں نے کافی اصرار کیا کہ اگر تھوڑی دیر اس سے آپ اور بات چیت کرلیں تو وہ اور اس کے ساتھی سب مسلمان ہو جائیں گے ۔ امام نے فرمایا اوّل وقت کی نماز اس صابئی کی بحث سے بہتر ہے ۔ اگر وہ لیاقت رکھتا ہے تو نماز کے بعد بھی حق قبول کرسکتا ہے ۔ اس صابئی عالم نے جب یہ ایمانی پختگی اور حق سے عشق دیکھا تو اور زیادہ آپ پر فریفتہ ہوگیا ۔(١)

عبادت کا ما حصل

عبادت ؛ نصرت و الطاف الہی کے حصول کا ذریعہ ہے :

(واعبد ربک حتی یاتیک الیقین )(٢ )

اس قدر عبادت کرو کہ درجہ ٔ یقین پر فائز ہوجاؤ ۔

حضرت موسیٰ ـ آسمانی کتاب توریت کو حاصل کرنے کے لئے چالیس رات دن کوہِ طور پر مناجات میں مشغول رہے اور پیغمبر گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی کو حاصل کرنے کے لئے ایک طولانی مدت تک غار حرا میں عبادت کرتے رہے ۔ روایتوں میں آیا ہے : ''مَن اخلص العبادة لله اربعین صباحا ظهرت ینابیع الحکمةمن قلبه علی لسانه'' (٣)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٤٩ صفحہ ١٧٥.

٢۔ حجر آیہ ٩٩

٣۔ بحار الانوار جلد ٥٣ صفحہ ٣٢٦.


جو شخص بھی چالیس رات دن اپنے تمام کاموں کو عبادت و خلوص کا رنگ دے تو پروردگار عالم حکمت کے چشمے اس کے دل اورزبان پر جاری کر دیتا ہے ۔

جی ہاں خلوص دل سے عبادت وہ یونیورسٹی ہے جو چالیس روز کے اندر تعلیم سے فارغ ہونے و الوں کو ایسا حکیم بناتی ہے جو حکمت کو الٰہی سر چشمہ سے حاصل کرکے اسے دوسروں کی طرف منتقل کرتے رہتے ہیں ۔

ایمان و عبادت کا ایک دوسرے میں اثر

جس طرح سے ایمان انسان کو عبادت کی طرف کھینچتا ہے عبادت بھی ایمان کو عمیق بنانے میں مؤثر ہے جیسا کہ درخت کی جڑیںپتوں کو کھانا اور پانی پہنچاتی ہیں اور پتے جڑوں کی طرف گرمی اور نور منتقل کرتے ہیں ۔

ہاں عبادت جتنی اچھی اور زیادہ ہوگی، معبود سے انسان کی محبت و انس بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

قرآن مجید میں عبادت کا فلسفہ

قرآن کی نظر میں نماز کا فلسفہ یاد خدا ہے

(اقم الصلاة لذکر )(١)

اور خدا کا ذکر دلوں کے سکون کا باعث ہے

(الا بذکر الله تطمئن القلوب )(٢)

اور قلبی سکون کا نتیجہ عالم ملکوت میں پرواز ہے

____________________

١۔ طہ ١٤.

٢۔ رعد ٢٨.


(یا ایتها النفس المطمئنة ارجع الی ربّک )(١)

دوسرے مقام پر قرآن نے عبادت کی وجہ شکر پروردگار قرار دیا ہے۔

( أعبدوا ربّکم الذ خلقکم )(٢)

اپنے پروردگار کی عبادت کرو کہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے ۔

(فلیعبدوا ربّ هذا البیت الذ اطعمهم من جوع و آمَنَهم من خوف )(٣)

پس اس گھر(خانہ کعبہ ) کے پروردگار کی عبادت کریں کہ اس نے انہیں بھوک و پیاس سے نجات دی ۔

بعض آیتوں میں یہ اشارہ ہے کہ نماز تربیت کا کام کرتی ہے ۔

(انّ الصلاة تنهیٰ عن الفحشاء و المنکر )(٤)

بیشک نماز برائیوں اور منکرات سے روکتی ہے ۔

نماز پڑھنے والا مجبور ہے کہ نماز کے صحیح اور قبول ہونے کے لئے کچھ دینی احکام کی رعایت کرے ۔ یہی رعایت سبب بنتی ہے کہ انسان گناہ اور برائیوں سے دور رہے ۔ ظاہر ہے کہ جو سفید کپڑا پہنے ہوگا وہ فطری طور پر گندی اور آلودہ جگہ پر نہیں بیٹھے گا۔

قرآن مجید نماز کی تاکید کرنے کے بعد فرماتا ہے :

(ان الحسنات یذهبن السیّئات )(٥)

بیشک اچھے کام گناہوں کو ختم کردیتے ہیں ۔

پس اس لحاظ سے نماز گزشتہ گناہوں سے ایک عملی توبہ ہے اور پروردگار عالم اس آیت کے ذریعہ گنہگاروں کو امید دلا تا ہے کہ اگر اچھے کام ، جیسے نماز و عبادات بجا لاؤ گے تو خدا تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا ۔

____________________

١۔فجر ٢٨

٢۔ نساء ١.

٣۔ قریش ٢.

٤۔ عنکبوت ٤٥.

٥۔ ہود١١٤.


نماز؛ امام علی ـ کی زبانی

حضرت علی ـ نے متعدد بار نہج البلاغہ میں نماز اور یاد خدا کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے جو کتاب '' نماز در نہج البلاغہ '' میں موجود ہے ۔ کچھ جملے جو عبادت اور ذکر و یاد خدا کا فلسفہ بتاتے ہیں اور ان کا سب سے اہم مصداق نماز ہے انھیں ہم یہاں پر حضرت علی ـ سے نقل کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں :''انّ الله جعل الذکر جلائً للقلوب تسمع به بعد الوقَرة و تبصر به بعد العشوة '' (١)

پروردگار نے اپنے ذکر اور اپنی یاد کو روحوں کا صیقل قرار دیا ہے ( یعنی روح پر ذکر خدا کے ذریعہ صیقل ہوتی ہے ) تاکہ کم سننے والے کان سننے لگیں اور بند آنکھیں دیکھنے لگیں۔

اس کے بعد آپ نماز کی برکتوں کے بارے میں فرماتے ہیں : '' قد حفت بھم الملائکة و نزلت علیھم السکینة و فتحت لھم ابواب السماء و اعدت لھم مقاعد الکرامات '' عبادت کرنے والوں کو فرشتے گھیر لیتے ہیں ان کے اوپر سکون نازل ہوتا ہے آسمان کے دروازے ان کے لئے کھلتے ہیں اور ان کے لئے اچھی جگہ تیار کی جاتی ہے ۔

آپ ایک دوسرے خطبہ میں فرماتے ہیں : ''و انها لتحت الذنوب حت الورق و

____________________

١۔ نہج البلاغہ خطبہ ٢٢٢.


تطلقها اطلاق الرَّبَق ''(١)

نماز گناہوں کو سوکھے پتوں کی طرح گرادیتی ہے اور انسان کی گردن کو گناہ کی رسی سے آزاد کر دیتی ہے ۔ اس کے بعد آپ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حسین تشبیہ نقل کرتے ہیں کہ نماز ایک پانی کی نہرکی طرح ہے۔ انسان اس میں ہر روز پانچ مرتبہ اپنے کو پاک کرتا ہے، دھوتا ہے ، کیا اس کے بعد بھی گندگی باقی رہے گی ؟

نہج البلاغہ خطبہ نمبر ١٩٦ میں تکبر و سرکشی اور ظلم جیسے اخلاقی مفاسد کا ذکر کرنے کے بعد آپ فرماتے ہیں : ان تمام برائیوں کی دوا نماز ، روزہ اور زکات ہے ۔ اس کے بعد آپ نے نماز کے اثرات کا یوں ذکر کیا ہے : ''تسکینا لاطرافهم تخشیعا لابصارهم ، تذلیلا لنفوسهم ، تخفیضا لقلوبهم ، ازالة للخیلاء عنهم ان اوحشتهم الوحشة آنسهم ذکرک ''نماز انسان کے پورے وجود کو سکون بخشتی ہے ، آنکھوں کو خاشع و خاضع کرتی ہے ، سرکش نفوس کو رام کرتی ہے ، دلوں کو نرم کرتی ہے ، غرور و تکبر کو ختم کرتی ہے ، وحشت و اضطراب اور تنہائی میں ( اے خدا تیری یاد ) انس و الفت کا سبب بنتی ہے ۔

البتہ واضح ہے کہ سارے لوگ نماز کے ان فوائد سے استفادہ نہیں کرسکتے بلکہ ان تمام فوائد کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نماز اور یاد خدا کو دوست رکھتے ہیں اور ایسے عاشق ہیں کہ اس کو پوری دنیا کے عوض میں بھی نہیں چھوڑ سکتے ۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ خطبہ ١٩٩


عبودیت و بندگی کے اثرات و برکات

١۔ احساس سر بلندی اور افتخار

امام زین العابدین ـ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں: ''الٰه کفیٰ ب عزّا انْ اکون لک عبدا ''(١)

پروردگارا ! میری عزت و افتخار کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں ۔

اس سے بڑا کون سا افتخار ہوگا کہ انسان اپنے خالق سے کلام کرے اور خالق انسان کے کلام کو سنے اور قبول بھی کرلے ۔

اس حقیر دنیا میں ! اگر انسان کا مخاطب کوئی بڑا آدمی یا کوئی معروف دانشمند ہو تو انسان اس سے بات کرنے کے بعدغرور کا احساس کرتا ہے یا یہ کہ ہم کسی وقت فلاں کے شاگرد تھے اس سے اپنی بڑائی جتاتا ہے ۔

٢۔ احساس قدرت

جس وقت بچے کا ہاتھ اپنے قوی اور مہربان باپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ قدرت و طاقت کا احساس کرتا ہے لیکن اگر اکیلا ہو تو ہر وقت خوف محسوس کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اسے اذیت پہنچائے۔

جس وقت انسان خدا سے متصل ہو جاتا ہے ، دنیا کی طاقتوں ، طاغوتوں اور متکبرین کے سامنے قدرت و طاقت کا احساس کرتا ہے ۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٧٧ صفحہ ٤۰٢.


٣۔ احساس عزت

عزت کے معنی : جس میں کسی کا اثر اور نفوذ نہ ہو ۔ انبیاء کے مکتب میں تمام عزتوں کا مالک خدا ہی ہے کیونکہ تمام قدرتوں کا مالک وہی ہے ۔ اسی وجہ سے وہ لوگ جو غیر خدا کی تلاش میں ہیں قرآن حکیم ان پر تنقید کرتا ہے ! کیا غیر خدا سے عزت چاہتے ہو؟(١)

یہ طبیعی ہے کہ عزیز مطلق اور تمام قدرتوں سے بالاتر قدرت سے اتصال ، انسان کو عزت بخشتا ہے ۔ اسی وجہ سے '' اللہ اکبر '' جیسے کلمات ، طاغوت کو انسان کے نزدیک حقیر و ذلیل اور انسان کو اس کے مقابلہ میں عزیز کرتے ہیں۔

لہٰذا قرآن کریم ہم کو حکم دیتا ہے کہ سختی و مشکلات میں نماز و عبادت کے ذریعہ قدرت و قوت حاصل کرو ۔

(و استعینوا بالصبر و الصلوٰة )(٢)

اولیائے خدا بھی حساس مواقع پر نماز کے ذریعہ اپنے کو تقویت دیتے تھے ۔ نو محرم کو عصر کے وقت یزیدی لشکر نے امام حسین ـ کے خیام پر حملہ کیا تو امام نے فرمایا کہ ایک رات جنگ میں تاخیر کرو ، ہم نماز کو زیادہ دوست رکھتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آج کی شب ، صبح تک خدا کی عبادت میں بسر کریں ۔(٣)

خدا کے صالح بندے فقط نماز واجب کو ہی نہیں چاہتے بلکہ مستحب نمازوں سے بھی محبت رکھتے ہیں ۔نافلہ نماز ، نماز سے عشق کی پہچان ہے ۔ ممکن ہے انسان واجب نماز کو خدا کے ڈر سے

____________________

١۔ نساء ١٣٩.

٢۔ بقرہ ٤٥

٣۔ مقتل الشمس صفحہ ١٧٩.


پڑھتا ہو لیکن مستحب نمازوں میں کو ئی ڈرا ور خوف نہیں ہوتا بلکہ اس میں عشق خدا ہوتا ہے ۔

ہاں اگر کوئی کسی کو چاہتا ہے تو اس کا دل یہ بھی چاہتا ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ ہم کلام ہو ، اس سے جدا ہونا نہیں چاہتا ۔ پس یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان یہ دعویٰ کرے کہ وہ خدا کو دوست رکھتا ہے لیکن اس سے بات کرنے کی تمنا نہ کرے۔

البتہ نافلہ نماز سے بے دلی بلاوجہ نہیں ہے بلکہ روایتوں کے مطابق رات دن کے گناہ نماز شب اور نافلہ صبح کی توفیق سلب کر لیتے ہیں ۔(١)

بہرحال جو شخص نوافل نہیں پڑھتا ہے وہ ایسی کوئی فضیلت نہیں رکھتا جس سے خداوند عالم کے فضل وکرم کی امید رکھے ، چونکہ جو خود صالح ہوتا ہے وہ مصلح کا انتظار کرتا ہے ۔

نافلہ نمازیں واجب نمازوں کے نقا ئص کو پورا کرتی ہیں ۔(٢)

ایک شخص نے امام ـ سے سوال کیا کہ نماز میں ہمارا ذہن حاضر نہیں رہتا اور ہم نماز کی برکتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ، ہم کیا کریں ؟ امام ـ نے فرمایا : واجب نماز کے بعد نافلہ نماز بھی پڑھا کرو۔ نافلہ ، واجب نماز کے نقا ئص کو پورا کرتی ہیں اور یہ نماز کی قبولیت کا سبب بنتی ہیں ۔

نماز کے انہیں آثار و برکات کی وجہ سے اولیائے اللہ نہ صرف نماز واجب بلکہ مستحبی نمازوں پر بھی زیادہ توجہ رکھتے تھے اور جو چیز بھی اس کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہے اور معنوی تکامل نیزروحی پرواز میں مانع ہوتی ہے ، اس سے پرہیز کرتے تھے، جیسے زیادہ کھانا ، زیادہ بات کرنا ، زیادہ سونا ، لقمۂ حرام کھانا ، لہو و لعب میں مصروف ہونا یاجو چیز بھی انسان کو عبادت کے لطف سے رو کے اور نماز کو اس کے اوپر بوجھ بنائے ۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے :

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٣ صفحہ ١٧٩.

٢۔ تفسیر اطیب البیان جلد ١ صفحہ ١٦١.


(و انّها لکبیرةا ِلا علی الخاشعین )(١)

بیشک نماز سنگین ہے لیکن خدا کے سامنے خشوع کرنے والوں پر نہیں ۔

٤۔ تربیت کا سبب

اگرچہ نماز ایک روحی اور معنوی ربط ہے اور اس کا مقصد خدا کو یاد کرنا ہے لیکن اسلام چاہتا ہے کہ اس روح کو تربیتی نظام کے سانچے میں ڈھال دے، اسی لئے نماز کے لئے کافی شرائط رکھے گئے ہیں یعنی نماز کے صحیح ہونے کے شرائط ، اس کے قبول ہونے کی شرطیں اس کے کمال کے شرائط ، جیسے جسم و لباس کا پاک ہونا ، قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہونا ، کلمات کا صحیح تلفظ کرنا ، نمازی کی جگہ اور لباس کا مباح ہونا ۔ یہ سب نماز کے صحیح ہونے کے شرائط ہیں ان کا تعلق نمازی کے جسم سے ہے نہ کہ اس کی روح سے ۔

اسلام نے عباد ت کو ایسے لباس میں ضروری قرار دیا تاکہ مسلمانوں کو صفائی و نظافت ، استقلال اور دوسروں کے حقوق کی رعایت کا درس دے جس طرح توجہ ، حضور قلب ، معصوم اماموں کی رہبری کو قبول کرنا ، مالی واجبات کی ادائیگی جیسے خمس و زکات ، یہ نماز کے قبول ہونے کی شرطیں ہیں ۔ نماز کا اوّل وقت ادا کرنا ، مسجد میں اور جماعت سے پڑھنا ، صاف ستھرے اور عطر لگے ہوئے کپڑے پہننا ، دانتوں کو صاف کر کے نماز پڑھنا ، صفوں کی ترتیب کی رعایت کرنا اور اس جیسی بہت سی چیزوں کی رعایت کرنا یہ کمال نماز کے شرائط ہیں ۔ ان شرائط میں غورکرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر ایک شرط انسانوں کی تربیت میں بہتر ین کردار کی حامل ہے ۔

ہم نماز میں جس طرف بھی رخ کرلیں اللہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہیں قرآن مجید کہتا ہے:

____________________

١۔ بقرہ ٤٥.


(فأینما تُولّوا فثَمّ وجه الله )(١)

لیکن قبلہ کو اس لئے معین کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ اسلامی سماج کا ایک جہت رکھنا ضروری ہے اور اس سے وحدت و بھائی چارگی کا درس ملتا ہے ۔ لہذا حکم دیا گیا کہ سب لوگ ایک طرف رخ کر کے کھڑے ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ایک سمت جس کا حکم ہوا کیوں وہ صرف کعبہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کعبہ وہ پہلا مرکز ہے جو عبادت کے لئے بنایا گیاہے

(انّ اول بیت وضع للناس للذی ببکة مبارکاً )(٢)

دوسری طرف پوری تاریخ میں اس کے بنانے اور تعمیر کرنے والے انبیا ء رہے ہیں لہذا کعبہ کی طرف رخ کرنا تاریخی طور پردین سے ایک طرح کا رشتہ جوڑنا ہے ۔ دوسری طرف کعبہ استقلال کا راز ہے اس لئے کہ جب مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے اوپر احسان جتاتے تھے اور کہتے تھے کہ تم لوگ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہو پس تم لوگ استقلال نہیں رکھتے ۔ قرآن کریم کافی واضح الفاظ میں فرماتا ہے :

(لئلا یکون للناس علیکم حجة )(٣)

ہم نے کعبہ کو تمہارا قبلہ قرار دیا ہے تاکہ لوگ تم پر حجت نہ رکھیں ۔ خلاصہ یہ کہ قبلہ استقلال ، وحدت و ہمدلی کا راز ہے ۔ یہ نماز کے تربیتی درس ہیں ۔

٥۔ ارواح کا احضار

آج کل دنیا میں '' Hypnotism '' اور احضار روح کے بازار نے رونق حاصل کر رکھی

____________________

١۔ بقرہ ١١٥.

٢۔ آل عمران ٩٦.

٣۔ بقرہ ١٥۰.


ہے ۔ لیکن یہاں پر یہ بحث ہمارا مقصد نہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ نماز کے ذریعہ سے اپنی بھاگی ہوئی روح کو خالق کے سامنے پیش کرکے اور اس کلاس کے فراری کو درس میں حاضر کریں ۔

نماز کی برکتوں میں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ نماز سرکش و فراری روح کو خدائے تعالیٰ کے حضور حاضر کرتی ہے ۔ امام زین العابدین ـ مناجات الشاکین میں پروردگار کی بارگاہ میں اپنے نفس کا یوں گلہ کر رہے ہیں :

'' خدا وندا ! ہم اپنے نفس کا تجھ سے گلہ و شکوہ کرتے ہیں یہ نفس ہویٰ و ہوس کی طرف رغبت رکھتا ہے اور حق سے بھاگتا ہے ۔'' یہی نفس ہے جو گناہ کو انسان کے سامنے شیرین و آسان بنا کر پیش کرتا ہے اور اس کی اس طرح توجیہ کرتا ہے کہ بعد میں توبہ کر لینا ، سبھی لوگ یہ کام کرتے ہیں ۔ نفس ، بچے کے کھیل کی طرح ہے اگر اس کا باپ اس کی مخالفت نہ کرے بچہ اپنے ہاتھ کو باپ کے ہاتھ سے چھڑا کر جدھر دل چاہے چلا جاتا ہے اور ہر گھڑی اس کے لئے خطرہ رہتا ہے ۔ اس نفس کے کنٹرول کا بہترین راستہ یہ ہے کہ انسان چند بار اس کو خدا وند عالم کی بارگاہ میں حاضر کرے اور غفلت کا خاتمہ کرے تاکہ مادیات کے سمندر میں اسے غرق ہونے سے نجات دلاسکے ۔


عالم ہستی پر اختیار

نماز کی برکتوں میں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ، قدم با قدم عالم ہستی پر تسلط پیدا کر لیتا ہے ۔

پہلا قدم: قرآن فرماتا ہے کہ تقویٰ انسان کو نورانیت و بصیرت دیتا ہے یعنی انسان کو ایسی روشنی عطا کرتا ہے کہ وہ حق و باطل کو پہچان سکے (انْ تتقوا الله یجعل لکم فرقانا )(١)

____________________

١۔ انفال ٢٩.


دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے (یجعل لکم نورا )(١) پس تقویٰ جس میں سب سے اہم چیز خدا کی بندگی و نماز ہے یہ نورانیت و بصیرت کے حصول کی طرف ایک قدم ہے ۔

دوسرا قدم : جن لوگوں نے اللہ کی ہدایت کو قبول کر لیا اور حق کے محور پرآگئے ہیں پروردگار ان کی ہدایت کو زیادہ کر دیتا ہے (والذین اهتدوا زادهم هدی )(٢) ان کی ہدایت رکتی نہیں ہے بلکہ وہ تسلیم و بندگی کی وجہ سے ہمیشہ تقرب اور تر قی کی منزلوں میں ہیں اور ان کے وجود کی شعاعیں اور تیز ہوجاتی ہیں ۔

تیسرا قدم : یہ لوگ چونکہ خدا کے راستے میں زحمت و مشقت برداشت کرتے ہیں پروردگار ان لوگوں کے لئے کمال تک پہنچنے کے تمام راستے کھول دیتا ہے (و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا )(٣)

چوتھا قدم : جس وقت ان لوگوں کو شیطان چھونا بھی چا ہتا ہے تویہ فوراً سمجھ جاتے ہیں اور خدا سے طلب استغفار کرتے ہیں (اذا مسهم طائف من الشیطان تذکروا )(٤)

پانچواں قدم : خود سازی کرنے اور فحشاء و منکرات سے دور رہنے کا بہترین عامل نماز ہے:(انّ الصلاة تنهیٰ عن الفحشاء و المنکر )(٥)

ان اقدامات کے بعد انسان اپنے نفس پر تسلط حاصل کر لیتا ہے، نفس کو کنٹرول کرتا ہے، کسی

وسوسہ اور لغزش کا شکار نہیں ہوتا بلکہ جب کبھی وسوسہ اور بیرونی طاغوت کا دباؤ بڑھ جاتا ہے تو نماز اور

____________________

١۔ حدید ٢٨.

٢۔ محمد ٢٧.

٣۔ عنکبوت ٦٩.

٤۔ اعراف ٢۰١.

٥۔ بقرہ ٤٥.


صبر کے ذریعہ مدد حاصل کرتا ہے : (واستعینوا بالصبر و الصلوٰة )(١)

چھٹا قدم : تقویٰ رکھنے والے افراد جن کا وجود نور الہی سے روشن ہو جاتا ہے وہ ہر نماز میں ایک قدم آگے بڑھتے ہیں ، اس لئے کہ نماز تکرار نہیں بلکہ معراج ہے ۔ ایک سیڑھی کے سارے زینے ایک جیسے ہیں لیکن سیڑھی کا ہر زینہ انسان کو اوپر کی طرف پہنچاتا ہے ۔ جیسے کہ کوئی شخص کنواں کھود تا ہے کہ بظاہر وہ ایک کام کی تکرار کرتا ہے ، مستقل پھاوڑا چلاتا رہتا ہے لیکن حقیقت میں ہر پھاوڑا مارنے کے بعد وہ مزید گہرائی کی طرف جاتا ہے۔

نماز کی رکعتیں ظاہراً تکراری چیز ہیں لیکن یہ کمال کی بلندیوں پر جانے کے زینے ہیں اور ایمان و معرفت کی گہرائی ہیں ۔

نماز پڑھنے والا ہرگز راضی نہیں ہوتا کہ اس کی عمر شیطان کی چراگاہ اور اس کی ٹھوکروں میں رہے۔

امام زین العابدین ـ دعا ئے'' مکارم الاخلاق '' میں خداوند عالم سے اس طرح سوال کرتے ہیں :

''خداوندا ! اگر ہماری عمر شیطان کی چراگاہ ہے تو اس کو ختم کر دے ۔ ''

صرف شیطان ہی نہیں کبھی کبھی وہم وخیال بھی انسان کی روح کو پامال کرتے ہیں اور انسان کو حق و حقیقت سے غافل کردیتے ہیں ۔

جی ہاں ! رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سوتے وقت بھی بیدار رہتے تھے اور ہم لوگ بیداری ، حتی نماز کی حالت میں بھی سوتے رہتے ہیں اور ہماری روح شیطان اوروہم و خیال کا کھلو نا بنی ہو ئی ہے ۔

____________________

١۔ عنکبوت ٤٥.


بقول مولاناروم :

گفت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہ عینای َ ینام

لاینام القلب عن ربّ الانام

چشم تو بیدار و دل رفتہ بہ خواب

چشم من خفتہ دلم در فتح باب

''رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : کہ ہماری آنکھیں سو رہی ہیں لیکن ہمارا دل خدا کی یا د سے غافل نہیں ہے ۔ لیکن تمہاری آنکھیں کھلی ہیں اور تمہار دل سو رہا ہے ، ہماری آنکھیں بند ہیں اور دل خدا کی یاد میں بیدار ہے''۔ مولانا روم ایک اور مقام پر کہتے ہیں :

گفت پیغمبر کہ دل ہمچوں پری است

در بیابانی اسیر صرصری است

باد پر راہر طرف راند گزاف

گہ چپ و گہ راست با صد اختلاف

''پیامبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد ہے کہ دل ایسے پتےّ کی مانند ہے جو بیابان میں ہواکے دوش پر ہے یہ ہوا اسے ہر طرف اڑائے پھرتی ہے کبھی دائیں اور کبھی بائیں اڑا دیتی ہے ''۔

یہ نفس اگر کنٹرول نہ کیا جا ئے تو ہر گھڑی انسان کو فساد کی طرف کھینچتا ہے (انّ النفس لأمارة بالسوء الا ما رحم رب )(١)

اسی وجہ سے قرآن مجید جنت کو ان سے مخصوص قرار دیتا ہے جو لوگ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ دل میں بھی برتری حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور فکر فساد سے دور رہتے ہیں۔(٢) بہشت ان کاملجأ و ماویٰ ہے جو اپنے نفس کو ہوس سے روکتے ہیں ۔(٣)

اولیائے خدا اپنے افکار و خیا لات کے اوپر حاکم ہیں نہ کہ ان کے محکوم ۔ یہ لوگ خدا کی عبادت کی وجہ سے اس طرح اپنے نفس پر مسلط ہیں کہ وہ اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ حتی وسوسہ ان کے دل میں داخل ہوجائے۔

____________________

١۔ یوسف ٥٣.

٢۔ قصص ٨٣.

٣۔ نازعات ٤١.


من چو مرغ او جم اندیشہ مگس

کی بود بر من مگس را دسترس

یعنی میں ایک پر ندے کی طرح ہوں اور مکھی سے فکر و خیالات کے بلندیاں بھلا مکھی کے لئے مجھ تک رسا ئی کہا ممکن ہے ۔

انسان جب نور خدا اور معرفت و آگاہی حاصل کرلیتا ہے اور عارفانہ و عاشقانہ نماز کے ذریعہ اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور روح کو رضائے الہی کی سمت میں لگاکر اپنے نفس پر مسلط ہو جاتا ہے تو اس کے بعد عالم ہستی پر بھی حاکم ہو جاتا ہے ۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ خدائی کام انجام دیتا ہے ۔

انبیاء کے معجزات یہی ہیں کہ یہ لوگ عالم ہستی میں تصرف کا اختیار اور کائنات پر تسلط رکھتے ہیں جو چاہیں اللہ کے حکم سے انجام دیتے ہیں ۔ ''العبودیة جوهرة کنهها الربوبیة '' یعنی خالص عبادت ایک ایساجوہر ہے جس کی حقیقت ربوبیت ہے ۔ اس کا مطلب اسی عالم ہستی پر تسلط ہے جوخدائے تعالیٰ کی بندگی سے حاصل ہوتا ہے ۔

حدیث میں ہے کہ پروردگار فرماتا ہے :انسان مستحب کاموں کے ذریعہ قدم باقدم مجھ سے نزدیک ہوتا ہے یہاں تک کہ میرا محبوب ہو جاتا ہے اور جس وقت وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس وقت میں اس کی آنکھیں ، اسکے کان ، اس کی زبان اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں ۔ اس کی ساری حرکات خدائی ہو جاتی ہیں اور پھر وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ ابراہیم خلیل ـ کی طرح کہتا ہے :

(انّ صلات و نسک و محیا و ممات ﷲ ربّ العالمین )(١)

میری نماز و عبادت ، موت و حیات تمام کی تمام عالمین کے پروردگار کے لئے ہیں۔

اس کے بعدجب بھی وہ دعا یاسوال کرے گا تو ہم قبول کریں گے ۔(٢)

____________________

١۔ انعام ١٦٢.

٢۔ بحار الانوار جلد ٧۰ صفحہ ٢٢


تصویر نماز

نماز کے بارے میں جتنا بھی لکھا اور پڑھا جائے پھر بھی اس کا حق ادا نہیں ہوگا ۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ دین کا ستون ،اسلام کا پر چم ، تمام ادیان و انبیاء کی یادگار ، تمام اعمال کی قبولیت کا محور چند جملوں میں بیان ہوجائے ؟

٭ نماز ہر صبح و شام کا عمل ہے ۔ صبح کا سب سے پہلا واجب کام نماز اورشام کا آخری واجب نماز ہے یعنی ہر روز کا آغاز و انجام خدائے تعالیٰ کی یاد کے ساتھ ہے اور خدا کے لئے ہے ۔

٭ سفر میں ہویا وطن میں ، زمین پر ہو یا ہوا میں ، فقیری میں ہو یا امیری میں ، ہر جگہ نماز کا راز یہ ہے کہ تم جہاں بھی ہو اور جو کچھ بھی ہو خدا کے مطیع رہو نہ غیر خدا کے ۔

٭ نماز مسلمانوں کی وہ عملی آئیڈیالوجی ہے جس میں وہ اپنے عقائد و افکار، اپنی چاہت اور اپنا آئیڈیل بیان کرتے ہیں ۔

٭ نماز؛ اقدار کو استحکام عطا کرنا اور سماج کی ہر فرد کی شخصیت کو مجروح ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اگر کسی مکان کا تعمیری مسالہ اور سامان کمزور ہو تو وہ مکان گر جاتا ہے ۔

٭ نماز کی اذان، توحید کا وہ بگل ہے جو اسلام کی متفرق فو ج کو ایک صف اور ایک پرچم تلے جمع ہونے کی دعوت دیتا ہے اور ان سب کو امام عادل کے پیچھے کھڑا کر دیتا ہے ۔

٭ امام جماعت ایک ہوتا ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پوری قوم کا امام بھی ایک ہو تاکہ معاشرے کے امور میں مرکزیت رہے۔


٭ امام جماعت نماز میں ضعیف ترین لوگوں کی رعایت کرے تاکہ اس کے لئے یہ درس ہو کہ معاشرتی امور کا فیصلہ کرتے وقت بھی محروم طبقات کی رعایت کی جائے ۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز کی حالت میں کسی بچہ کے رونے کی آواز سنی تو نماز کو جلدی تمام کردیا تاکہ اگر اس کی ماں نماز جماعت میں شریک ہو تو وہ اپنے بچہ کو چپ کرلے ۔(١)

٭ انسان کی تخلیق کے بعد سب سے پہلا حکم سجدہ کا تھاجو فرشتوں کو دیا گیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔(٢)

٭ زمین کاسب سے پہلا ٹکڑا ( مکہ و کعبہ ) جو پانی سے باہر آیا اور خشکی بنا وہ عبادت کی جگہ قرار پایا ۔(٣)

٭ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سب سے پہلا کام تعمیرِ مسجد تھا ۔

٭ نماز ،امر بالمعروف بھی ہے اور نہی عن المنکربھی۔ ہم ہر روز اذان اور اقامت میں کہتے ہیں : '' حّ علی الصلاة ، حّعلی الفلاح ، حّعلی خیر العمل '' اور یہ جملا ت کہنا اعلیٰ ترین معروف یعنی نماز کا حکم ہے ۔

دوسری طرف نماز انسان کو تمام برائیوں سے روکتی ہے : (انّ الصلاة تنهیٰ عن الفحشاء و المنکر )(٤)

نماز ایک ایسی حرکت ہے جو آگاہی او رشناختِ خدا سے پیدا ہوتی ہے ۔ خداوند عالم کی ایسی شناخت کہ جس میں ہم اس کے حکم سے ، اس کے لئے اور اس کے اُنس میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے قرآن کریم نے مستی(٥) ا ورسستی(٦) کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے تاکہ جو کچھ بھی ہم نماز میں کہیں وہ توجہ اور آگاہی کے ساتھ ہو ۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٨ صفحہ ٤١ و ٩٣

٢۔ بقرہ ٣٤.

٣۔ آل عمران ٩٦

٤۔ عنکبوت ٤٥

٥۔ نساء ٤٣

٦۔ نساء ١٤٢.


٭ نماز آگاہی دیتی ہے ۔ ہر ہفتہ ،جمعہ کے روز نماز جمعہ قائم ہوتی ہے اور نماز جمعہ سے پہلے دو خطبے پڑھے جاتے ہیں ۔ یہ دو خطبے دو رکعت نماز کی جگہ پر ہیں یعنی نماز کا جزء ہیں ۔ اورامام رضا کے ارشاد کے مطابق یہ خطبے اس طرح پڑھے جائیں کہ ان میں دنیا کے مسائل بیان ہوں۔(١)

دونوں خطبوں کو سننا اس کے بعد نماز پڑھنا یعنی عالمی مسائل سے آگاہ ہونا اور اس کے بعد نماز پڑھنا ۔

نماز انانیت سے نکل کرخدائے تعالیٰ کی طرف پرواز کرنا ہے ۔ قرآن مجید فرماتا ہے :

(و مَن یخرج من بیته مهاجرا الی الله و رسوله ثم یدرکه الموت فقد وقع اجره علی الله )(٢)

جو شخص خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہجرت کے لئے اپنے گھر سے نکلے اور اس کو موت آجائے تو اس کا اجر خدا پر ہے ۔

امام خمینی فرماتے ہیں: خانہ ٔدل سے خدا کی طرف ہجرت کرنا بھی اس آیت کا ایک مصداق ہے، خود پسندی ، خود خواہی او رخود بینی سے خدا پرستی ا ور خدا خواہی کی طرف ہجرت ،سب سے بڑی ہجرت ہے ۔(٣)

٭ نماز کی منزلت اسم اعظم جیسی ہے بلکہ خود نماز اسم اعظم ہے ۔

٭ نماز میںخدائے تعالیٰ کی عزت اور بندہ کی ذلت کابیان ہے اور یہ سب سے بڑا مقام ہے۔

٭ نماز پرچم اسلام ہے ''عَلَمُ الاسلام الصلوٰة ''(٤)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٩ صفحہ ٢۰١

٢۔ ء نساء ١۰۰.

٣۔ اسرار الصلاة صفحہ ١٢

٤۔ کنز العمال حدیث ١٨٨٧۰


جس طرح کو ئی جھنڈا اور پرچم نشانی ہو تاہے اسی طرح نماز بھی مسلمان کی نشانی اور پہچان ہے ۔ جس طرح پرچم لائق احترام ہے ، پرچم کی توہین ایک قوم او رملک کی توہین ہے اسی طرح نماز کی توہین اور اس سے بے توجہی پورے دین سے بے توجہی ہے ۔ جس طرح پرچم کے لہرانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سیاست زندہ ہے ، اورقدرت و طاقت باقی ہے اسی طرح نماز کے قیام میں بھی یہی چیز پائی جاتی ہے ۔

نماز اور قرآن

کچھ جگہوںپر قرآن کریم و نماز کا ایک ساتھ ذکر ہوا ہے ، جیسے

(یتلون کتاب الله و اقاموا الصلاة )(١)

قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ۔

دوسری جگہ پر ارشاد ہوتا ہے

(یُمَسّکون با لکتاب و اقاموا الصلاة )(٢)

قرآن سے تمسک کرتے ہیں اور نمازقائم کرتے ہیں ۔

کبھی قرآن مجیدا ور نماز کے لئے ایک ہی صفت بیان ہوئی ہے جیسا کہ کلمہ ذکر قرآن کے لئے بھی کہا گیا ہے (انا نحن نزّلنا الذکر )(٣) ہم نے ذکر کو نازل کیا ہے ۔

اور اسی صفت کو نماز کا فلسفہ بھی قرار دیا ہے (اقم الصلاة لذکر )(٤) نماز کو ہماری یاد کے لئے قائم کرو۔

____________________

١۔ فاطر ٢٩

٢۔ اعراف ١٧۰.

٣۔ حجر ٩

٤۔ طہٰ ١٤


عجیب بات تو یہ ہے کہ کبھی لفظ نماز کہ بجائے قرآن کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے (انّ قرآن الفجر کان مشہوداً )(١) کہا یہی جاتا ہے کہ '' قرآن الفجر '' سے مراد نماز صبح ہے ، اس سے اہم بات یہ ہے کہ نماز میں قرآن کوحمد و سورہ کی شکل میں پڑھنا واجبات نماز میں سے ہے ۔ نماز کا تذکرہ قرآن کریم کے اکثر سوروں میں موجود ہے جیسے قرآن کے سب سے بڑے سورے، سورئہ بقرہ اور سب سے چھوٹے سورہ کوثر میں نماز کا ذکر موجود ہے۔

نماز اور قصاص

صرف دین اسلام میں نہیں بلکہ تمام ادیان الٰہی میں قصاص کا حکم موجود ہے اور قصاص گناہ کے مطابق ہوتا ہے ۔ جیسے اگر کسی کا کان کاٹا ہے تو اس کی سزا میں بھی کان ہی کاٹا جائے۔ اگر کسی نے دانت توڑا ہے تو اس کا بھی دانت توڑا جائے تاکہ عدالت قائم ہو ۔

انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چور کا ہاتھ کا ٹ دیا جا ئے البتہ اس کی ہتھیلی باقی رہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے:

(و انّ المساجد لله )(٢) مساجد ( سجدہ کی جگہیں ) خدا کے لئے ہیں ۔

چونکہ سجدہ کے وقت ہاتھ کی ہتھیلی زمین پر رکھنا واجب ہے لہذا چور کی سزا میں نماز او رسجدہ کے مسئلہ پر توجہ رہے اور اس کی ہتھیلی نہ کاٹی جائے تاکہ حق عبادت حتی چور کے لئے بھی محفوظ رہے ۔ ؟

عبادت و امامت

عبادت کی اہمیت اس وقت ہوتی ہے جب وہ سطحی نہ ہو بلکہ آسمانی رہبر اور اس کی

____________________

١۔ اسرائ٧٨.

٢۔ جن ١٨


ولایت کی پہچان اور اپنے مخصوص آداب نیزخشوع کے ساتھ ہو ۔

حضرت علی ـ کچھ خشک مقدس نماز پڑھنے والوں میں پھنس گئے تھے جو تاریخ میں مارقین و خوارج کے نام سے مشہور ہیں ، جن کی پیشانیوں پر زیادہ اور طویل سجدوںکی وجہ سے گھٹّے پڑے ہوئے تھے لیکن یہی لوگ حضرت علی ـ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے اوپر تلوار کھینچ لی ، روایت میں آیا ہے کہ جب امام زمانہ ـ ظہور کریں گے اس وقت کچھ سجدہ کرنے والے آپ کی مخالفت کریں گے ۔

یہ گمان ہرگز نہ ہو کہ وہ لوگ جو امام حسین ـ کو شہید کرنے کے لئے آئے تھے وہ نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ وہ لوگ نمازجما عت پڑھا تے تھے ۔ خود یزیدا ور معاویہ بھی پیش نماز تھے۔

جی ہاں! اگر عبادت جہالت کے ساتھ ہو توانسان ، محراب عبادت میں عالمین کے سب سے بڑے عابد کو قتل کرنے کو سب سے بڑی عبادت سمجھنے لگتا ہے اور قصد قربت کے ساتھ شبِ قدر میں حضرت علی کو شہید کرنے کے لئے جاتا ہے ۔

صرف نماز ہی نہیں بلکہ ساری عبادتیں رہبر حق کی معر فت اور اس کی اطاعت کے ساتھ ہونی چاہئیں لہٰذا روایتوں میں آیا ہے کہ خداوند عالم نے حج کو واجب کیا تاکہ لوگ خانہ کعبہ کے گرد جمع ہوں اور اس اجتماع کے مقام پر معصوم اماموں سے را بطہ قا ئم کریں ، لیکن آج کل لا کھوں لو گ خانۂ کعبہ کے گرد جمع ہو تے ہیں مگر الٰہی رہبر سے تمسک نہ ہونے کی بنا پر ایک دوسرے سے جدا رہتے ہیں۔ مرکز وحدت اور اقتصادی خزانوں اور تجارتی منڈیوںکے مالک ہونے کے باوجود مٹھی بھر یہودیوں کے ہاتھوں ذلیل ہیں ۔

وا قعاًاسلام ایک ایسا مجموعہ ہے جس کو ٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا جا سکتا ۔ ولایت کو قبول کئے بغیر نماز قبول نہیں ، زکات ادا کئے بغیر نماز قبول نہیں، جس طرح انفاق بھی بغیر نماز کے قبول نہیں ہے۔

اسلام کے احکام بدن کے اعضاء کی طرح ہیں کہ ایک عضو دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا ۔ آنکھ کان کا کام نہیں انجام دے سکتی اور کان ہاتھ کا کام نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح اسلام میں نماز پڑھنا زکات کی جگہ نہیں لے سکتا یا نماز و زکات خدا کی راہ میں جہاد کی جگہ پُر نہیں کر سکتے بلکہ ان سب کے مجموعے کا نام اسلام ہے ۔


نماز اور رہبری

اگر الٰہی رہبر کے ذریعہ نماز قائم ہو تو ظلم وجور کا تختہ پلٹ جائے گا ۔ امام رضا ـ کی نمازِ عید اس ہیبت و عظمت سے شروع ہوئی کہ ظالم حکومت لرز اٹھی اور ظالم سمجھ گئے کہ اگر یہ نماز پڑھا دی گئی تو بنی عباس کی حکومت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا ۔ لہذا مامون نے حکم دیا کہ امام کو راستہ ہی سے واپس بلا لیں ۔

آج کل کے مسلمانوں کی نماز میں کوئی اثر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے کچھ حصہ پر عمل ہوتا ہے اور کچھ پر نہیں ۔ قرآن کریم فرماتا ہے

(واقیموا الصلاة و آتوا الزکاة و اطیعوا الرسول )(١)

نماز پڑھو زکات دو اور رسول کی اطاعت کرو ۔

لیکن آج کل بعض لوگ نماز پڑھتے ہیں اور زکات نہیں دیتے اور بعض لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں زکات بھی دیتے ہیں لیکن کفار کی حاکمیت قبول کئے ہوئے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں خدا پر ایمان رکھتے ہیں لیکن طاغوت سے دوری اختیار نہیں کرتے ہیں اور یہ ایمان ناقص ہے ۔جبکہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :

____________________

١۔ نور ٥٦


(فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن بالله فقد استمسک بالعروة الوثقی )(١)

''اب جو شخص بھی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کی مضبوط رسی سے متمسک ہوگیا ''یعنی طاغوت سے دوری بھی لازم ہے اور خدا پر ایمان بھی ۔ لیکن آج کل مسلمانوں نے طاغوت و کفر سے برائت کو فراموش کر دیا ہے لہذا جو لوگ طاغوت کے گرد گھومتے ہیں قرآن مجید ان کے بارے میں فرماتا ہے : وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ۔

(أ لم تر الی الذین یزعمون أنّهم آمنوا )(٢)

عبادت کے درجات

اگر آپ کسی بچے سے یہ سوال کریں کہ تم اپنے ماں باپ کو کس لئے چاہتے ہو ؟

وہ کہتا ہے : اس لئے کہ وہ ہمارے لئے مٹھائی ،کپڑے اور جوتے خریدتے ہیں ۔ لیکن اگر یہی سوال کسی جوان سے کریں کہ اپنے والدین کو کس لئے چاہتے ہو ؟

تو وہ کہے گا اس لئے کہ والدین ہماری حیثیت و مقام کی علامت ہیں، وہ ہمارے مربی اور ہمارے دل سوز ہیں۔

اگر بچہ سمجھ دار اور بالغ ہو جائے تواس کے لئے والدین سے اُنسیت اور محبت زیادہ لذت بخش ہوتی ہے۔ پھر وہ جوتے اورکپڑوں کی فکر میں نہیں رہتا بلکہ اس سے زیادہ والدین کی خدمت کو قرب و کمال کا وسیلہ سمجھتا ہے اور مادیات سے بالاتر فکر کرتا ہے ۔

____________________

١۔ بقرہ ٢٥٦.

٢۔ نساء ٦۰


اللہ کی عبادت بھی اسی طرح ہے کہ ہر شخص اپنی دلیل اور سوچ کے مطابق خدا کی عبادت کرتا ہے ۔ مختصر یہ کہ عبادت کے بھی چند مرحلے ہیں۔

پہلا قدم : بعض لوگ خدا کی نعمت کی خاطر اس کی عبادت کرتے ہیں تاکہ اس کا شکر بجا لائیں جیسا کہ قرآن مجید عام انسانوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے :

(فلیعبدواربّ هذاالبیت الذ اطعمهم من جوع وآمنهم من خوف )(١ )

لہٰذا انھیں چاہئے کہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں سیر کیا ہے اور خوف سے محفوظ رکھا ہے ۔

پہلی منزل کی عبادت جس کو ہم عبادت ِ شکر کہتے ہیں۔ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس بچہ کی محبت جو اپنے والدین کو چاکلیٹ ، بستہ اور جوتا خریدنے کی وجہ سے چاہتا ہے ۔

دوسرا قدم : اس منزل میں انسان نماز کے اثرات اور اس کی برکات کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتا ہے اس کی پوری توجہ نماز کے روحانی و معنوی اثرات پر ہوتی ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے :

(انّ الصلاة تنهیٰ عن الفحشاء و المنکر )(٢)

بیشک نماز انسان کو گناہ اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔

اس مرحلہ کی عبادت کو عبادت ِ رُشد و ترقی کہتے ہیں ۔ اس طرح کی عبادت اس جوان کی طرح ہے جو اپنے والدین کو اس لئے چاہتا ہے کہ وہ لوگ اس کے معلم اور اس کی تربیت کرنے والے ہیں اور انحرافات و خطرات سے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اسی لئے وہ ان کا احترام کرتا ہے ۔

____________________

١۔ قریش ٣ و٤.

٢۔ عنکبوت ٤٥


تیسرا قدم : یہ پہلی منزلوں سے بالاتر ہے یہ منزل ایسی ہے کہ خداوند عالم حضرت موسیٰ ـ سے فرماتا ہے :

(ا قم الصلاة لذکری )(١)

ہم کو یاد کرنے کے لئے نماز پڑھو ۔

جناب موسیٰ کھانے اور پانی کے لئے نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہی گناہ اور غلط باتوں سے بچنے کے لئے نماز پڑھتے تھے۔ اس لئے کہ وہ اصولاً شکم پرستی اور برائیوںسے دور تھے۔ وہ اولو االعزم پیغمبر تھے ۔ وہ نماز کو خدا کی محبت اور اس کے لئے پڑھتے تھے ۔

اولیائے خدا کے یہاںخدا سے انس و محبت ہی عبادت کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔

جی ہاں ! یہ بچے ہوتے ہیں جو کسی پروگرام میں سب سے آگے بزرگوں کے پاس اس لئے آ بیٹھتے ہیں تاکہ ان کی خاطر داری اچھی طرح ہو لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو بزرگوں کے پاس معنوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں انہیں اپنی خاطر داری سے مطلب نہیں ہوتا ۔ ان کے لئے علماء اورعقل مند وں سے محبت ہی قابل قدر ہے ۔

چوتھا قدم : یہ منزل عبادت کی سب سے اہم اور اعلیٰ ترین منزل ہے ۔یہ عبادت ؛ شکر و رُشد اور محبت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ قرب خدا کے لئے ہے ۔ تقرب الہی کے سلسلے میں قرآن مجید میں چار آیتیں ہیں ۔ جو شخص ان آیتوں کو پڑھ لے اس پر سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے ،ان میں سے ایک آیت میں آیا ہے کہ تقرب ،عبادت سے حاصل ہوتا ہے خدا فرماتا ہے :

(و اسجد و اقترب )(٢)

سجدہ کرو اوراس کی قربت حاصل کرو ۔

بہرحال عبادت کے کچھ درجات اور مراتب ہیںجن میںلوگوںکے ایمان اور معرفت کے درجات کی بنا پر فرق ہوتا رہتاہے ۔

____________________

١۔ طہٰ ١٤

٢۔ سورہ علق آخری آیت.


تصویر عبادت

٭ عبادت و بندگی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو معراج پر پہنچایا :

(سبحان الذ أسریٰ بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ )(١)

پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا ۔

٭ عبادت فرشتوں کے نزول کا پیش خیمہ ہے

(نزّلنٰا علی عبدنا )(٢)

ہم نے اپنے بندے پر ( فرشتوں کے ذریعہ ) وحی نازل کی ۔

٭ عبادت انسان کی دعا مستجاب کرتی ہے اس لئے کہ نماز خدا سے عہد و پیمان ہے(٣) اور جو بھی پیمان خدا کو وفا کرے گاتوخدائے تعالیٰ بھی اس کے پیمان پر وفادار ہے۔

(أوفوا بعهد اوف بعهدکم )(٤)

____________________

١۔ اسرائ١.

٢۔ بقرہ ٢٣

٣۔ا لم ا عهد الیکم یا بن آدم انْ لا تعبدوا الشیطان انّه لکم عدو مبین و انْ اعبدون هٰذا صراط مستقیم '' یس ٦۰ ، ٦١ ٤۔ بقرہ٤۰


عبادت کے بغیر انسان جمادات اور پتھر سے بھی بدتر ہے اس لئے کہ قرآن مجید فرماتا ہے :

(و انّ من الحجارة لما یهبط من خشیة الله )(١)

اللہ کے خوف سے بعض پتھر زمین پر گر جاتے ہیں لیکن بعض انسان خالق دنیا و آخرت کے سامنے اپنی گردن تک نہیں جھکاتے ۔

عبادت انسان کے ارادہ ا ور اسکی شخصیت کی پہچان ہے چونکہ انسان چاہتوںاور تمایلات کے درمیان ہے لہٰذا اگر وہ خواہشات اور جذبات سے منہ موڑ لے اور خداکی طرف چلا جائے تو اہمیت رکھتا ہے ۔ ورنہ فرشتے شہوت و غضب نہیں رکھتے اورہمیشہ عبادت میں مشغول رہتے ہیں ۔

٭ عبادت زمین کے گمنام لوگوں کو آسمان کے مشہور ترین لوگ بنا دیتی ہے ۔

٭ عبادت انسان کے وجود کے چھوٹے سے جزیرے کو عالم ہستی کے سرچشمہ سے ملا دیتی ہے۔

٭ عبادت ، یعنی پوری کائنات پر اوپر سے ایک نظر ۔

٭ عبادت یعنی انسان کے اندر چھپی ہوئی عرفانی اورروحانی استعدادوں کی نشو و نما ۔

٭ عبادت ایسی قدر ہے جس کو انسان اپنے ارادہ و اختیار سے حاصل کرتا ہے بر خلاف خاندانی اقدار یا اندرونی استعداد کے ،جو اختیاری و اکتسابی نہیں ہیں ۔

٭ عبادت خدا سے کئے ہوئے عہد و پیمان کو تازہ کرنا اورروحانی زندگی کو زندہ رکھنا ہے ۔

٭ عبادت ، گناہ کے لئے رکاوٹ اور اس کے اثرات کو ختم کر دیتی ہے ۔ وہ خدا کی یاد اور اس کا ذکر ہے جو گناہ سے روکتا ہے نہ فقط گناہ کا علم۔

٭ عبادت ، روح کے خالی ظرف کو یاد خدا سے پرُ کرنا ہے۔ اگر یہ ظرف غیر خدا سے پر ہو تو گوہر انسانیت پر ظلم ہے ۔

____________________

١۔ بقرہ ٧٤.


٭ عبادت ، اس خاکِ زمین کو اتنی اہمیت دیتی ہے کہ اس زمین میں طہارت کے بغیر داخلہ ممکن نہیں جیسے مسجد ، کعبہ اور بیت المقدس ۔

٭ عبادت و بندگی ٔخدا، خود ایک قدر ہے اگرچہ ہماری دعا و حاجات پوری نہ بھی ہوں ۔

٭ عبادت خوشی میں بھی ہے اور غمی میں بھی ۔ جہاں پر خدا ؛ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کوثر عطا کر رہا ہے وہاں نماز کی بھی تاکید کر رہا ہے :

(انّا اعطیناک الکوثر فصلِّ لرِبک )(١)

ہم نے تم کوخیر کثیر عطا کیا پس خدا کی عبادت (نماز) بجا لاؤ ۔

اسی طرح مشکلات میں بھی نماز کی تاکید کی گئی ہے :

(و استعینوا بالصبر و الصلاة )(٢)

مشکل کشا نمازیں

اسلام تاکید کرتا ہے کہ جس وقت کوئی حاجت یا مشکل پیش آئے تو مخصوص نمازوں کو پڑھ کر اپنی مشکلوں کو حل کرو ۔ یہاں پر مناسب ہے کہ ان مخصوص نمازوں میں سے ایک نمونہ آپ کے سامنے پیش کردیں :

نماز جعفر طیّار

جناب جعفر طیار حضرت علی ـ کے بھائی ہیں ۔جنھوں نے حبشہ میں اپنی ہجرت کے دوران اپنے مناسب استدلال و کردار سے نجاشی اور ایک کثیر تعداد کے دلوں کو اسلام کی طرف

____________________

١۔کوثر١.

٢۔ بقرہ٤٥.


جذب کیا اور براعظم افریقہ میں اسلام کے بانی بنے ۔اور جنگ موتہ میں اپنے دونوں ہاتھ راہ خدا میں دے دیئے ۔ خداوند عالم نے ان دونوں ہاتھوں کی جگہ آپ کو جنت میں دو پر عطا کئے اسی وجہ سے آپ جعفر طیّار کے نام سے مشہور ہوگئے ( طیّار یعنی اڑنے والا ) ۔

جس وقت جعفر حبشہ سے واپس آئے تو رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا :کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک قیمتی ہدیہ دیدوں ؟ لوگوں نے خیال کیا کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو سونا یا چاندی یا کوئی دوسری قیمتی چیز عطا کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی خیال سے سب لوگ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گرد جمع ہوگئے تاکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہدیہ دیکھیں ۔ لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ہم تم کوایک نماز ہدیہ کر رہے ہیں اگر ہر روز اس کو پڑھو گے تو دنیا اور دنیا میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے اور اگر ہر روز یا ہر جمعہ یا ہر ماہ یا ہر سال بجا لاؤ تو پر وردگار دو نمازوں کے بیچ کے سارے گناہ ( ولو دو نمازوں میں ایک سال کا فاصلہ ہو ) بخش دے گا۔(١)

امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ جس وقت بھی کوئی مشکل یا حاجت پیش آئے تو نماز جعفر طیّار پڑھنے کے بعد دعا کرو انشاء اللہ دعا مستجاب ہوگی ۔

یہ نماز شیعہ اور سنی دونوں کے یہاں معتبر سندوں سے نقل ہوئی ہے اور اس کا نام '' اکثیر اعظم'' و '' کبریت احمر'' پڑ گیا(٢)

اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ مفاتیح الجنان کے شروع میں روز جمعہ کے اعمال میں ائمہ معصومین کی نمازوں کے بعد موجود ہے ۔ البتہ یہ ان دسیوں نمازوں میں سے ایک ہے جو مشکلات کو دورکرنے کے لئے وارد ہوئی ہیں ۔ حال ہی میں ایک کتاب ، مستحبی نمازوں کے عنوان سے نشر ہوئی ہے۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ١٨ صفحہ ٤٢١.

٢۔ بحار الانوار جلد ٩١ باب فضل صلاة جعفر


جس میں تقریباً ٣٥۰ مستحبی نمازوں کو ان کے نام اوران کے پڑھنے کے طریقہ کے ساتھ جمع کیا گیا ہے ۔ اتنی قسم کی نمازیں اور ہر مناسبت سے متعلق ایک نماز یہ خود نماز کی ایک اہمیت ہے ۔

نماز کا تقدس

نماز کا تقدس اتنا زیادہ ہے کہ بعض دینی مراسم کے وقت جیسے قسم یا گواہی دینے سے پہلے نماز پڑھی جائے اس کے بعد قسم کھائی جائے یا گواہی دی جائے ۔

قرآن مجید سورئہ مائدہ آیت ١۰٦ میں فرماتا ہے :

جس وقت کوئی سفر میں بیمار ہو جائے اور موت کے قریب پہنچ جائے تو دو مسلمان یا غیر مسلم افراد کو اپنی وصیت پر گواہ بناؤ اور یہ گواہی نماز کے بعد انجام پائے یعنی یہ دو لوگ نماز پڑھنے کے بعد قسم کھا کر کہیں کہ فلاں مسلمان نے سفر میں یہ وصیت کی ہے ۔

آج کل رواج ہے کہ قسم کھانے کی رسم قرآن مجید کو سامنے اور اس پر ہاتھ رکھ کر انجام پاتی ہے لیکن خود قرآن کریم اس بارے میں فرماتاہے کہ شرعی قسم کے مراسم نماز کے بعد انجام دیئے جائیں ۔


جامعیّت ِ نماز

پروردگار عالم نے کائنات کی خلقت اوراپنی شریعت کے احکام بنانے میں عالی ترین اور کامل ترین امور کو استعمال کیا ہے جیسے ماں کا دودھ ایسا بنایا ہے کہ بچہ کو جتنے وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ماں کے دودھ میں جمع کر دیئے ہیں ۔

اسی طرح انسان کی خلقت کو اگر دیکھیں تو جو بھی کائنات میں موجود ہے انسان کے اندر ان ساری چیزوں کو جمع کیا ہے ۔

اگر کائنات میں بجلی کی کڑک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو انسان میں چیخ و پکار ہے ۔

اگر کائنات میں گھاس پھوس اور درخت ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو انسان میں بالوں کی نمو ہے ۔

اگر کائنات میں دریا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تو انسان کے اندر موٹی اور باریک رگیں ہیں ۔

اگر کائنات میں میٹھا و کھارا پانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تو انسان میں کھارے آنسو اور میٹھا لعاب دہن ہے ۔

اگر کائنات میں دھاتیں کثرت سے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو انسان میں کثرت سے صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔

اس شعر میں جس کی نسبت حضرت علی ـ کی طرف دی جاتی ہے ، آپ فرماتے ہیں :

اتزعم أنّک جرم صغیر و فیک انطویٰ العالم الاکبر

'' اے انسان تو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا وجود ہے جب کہ اتنی بڑی دنیا تیرے اندر چھپی ہوئی ہے ۔ ''

نماز بھی خدا کی ہنر نمائی کا کرشمہ ہے کہ پروردگار نے تمام اقدار و کمالات کو اس کے اندر جمع کردیا ہے ۔ کون سا ایسا کمال ہے جو کمال توہو مگر وہ نماز میں نہ پایا جاتا ہو ؟ !

خدا کی یاد ایک بیش قیمت شے ہے اور فقط اسی کے ذریعہ دلوں کو سکون و آرام حاصل ہوتا ہے اور نماز یاد خدا ہے ( اللہ اکبر ! )

یاد قیامت ایک بیش قیمت شے ہے جو گناہ و فساد سے روکتی ہے اور نماز ''یوم الدین ''کو یاد دلانے والی ہے ۔

انبیاء و شہداء و صالحین کا راستہ ایک بیش قیمت شے ہے اور ہم نماز میں خدا سے کہتے ہیں کہ ہمیں ''صراط الذین انعمت علیهم '' پر قرار دے ۔


ظالم اور گمراہوں سے نفرت و برائت کا اعلان اس جملہ '' غیر المغضوب علیھم و لا الضآلین '' کے ذریعہ کرتے ہیں ۔

عدالت جو تمام اقدار سے بالاتر ہے امام جماعت کی شرطوں میں سے ہے ۔ نماز میں امام جماعت کی پیروی ایک قابل قدر معاشرتی قانون ہے ۔ یعنی ہمیں خود سری اور خود روی کے بجائے ایک عادل رہبر کا تابع ہونا چاہئے ۔

امام جماعت کا انتخاب ہمیشہ تمام اقدار پر توجہ کے ساتھ ہو :جیسے سب سے زیادہ عادل ہو ، سب سے زیادہ فقیہ ہو ، سب سے زیادہ فصیح ہو وغیرہ ۔

قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہونا بہت سی اقدار کی یاد آوری ہے ، مکہ ؛ حضرت بلال کی شکنجہ گاہ ، حضرت اسماعیل ـ کی قربان گاہ ، حضرت علی بن ابیطالب ـ کی جائے ولادت ، قیام مہدی کا مرکز ، حضرت ابرہیم ـ کی امتحان گاہ اور تمام انبیاء و اولیاء کی عبادت گاہ ہے ۔

نماز میں جو کچھ بھی ہے تحرک ہے ہر صبح و شام ، رکوع و سجود اور قیام میں ، مسجد و جامع مسجد کی طرف جانے میں ہر جگہ حرکت ہی حرکت ہے ، پس خاموش اور گوشہ نشین نہ بنو بلکہ ہمیشہ متحرک رہو اور کوشش میں لگے رہو لیکن یہ تمام حرکتیں خدا کے لئے اور اسی کی طرف ہوں ۔

نماز میں انسان کی روح و جان کی دھول صاف ہوتی ہے ۔ نماز غرور و تکبر کی دھول کو صاف کر دیتی ہے ، اس لئے کہ انسان رات دن میں دسیوں مرتبہ اپنے بدن کے سب سے اعلیٰ مقام (پیشانی) کو زمین پر رگڑتا ہے ۔ خاک پر سجدہ پتھر پرسجدہ کرنے سے بہتر ہے اس لئے کہ پیشانی کو خاک پر رگڑنے میں اظہار ذلت زیادہ ہے ۔

زمین ،یا جو چیززمین پر اگتی ہے اس پر سجدہ کرو اس شرط کے ساتھ کہ وہ چیز کھائی نہ جاتی ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ پیٹ کی فکر میں ان پر گر پڑو۔


پاک زمین پر سجدہ کرو اس لئے کہ ناپاکی کے ذریعہ پاکیزگی کے سرچشمہ تک نہیں پہنچ سکتے۔

خوف خدا سے رونا ایک قیمتی چیزہے اور قرآن مجید نے گریہ و زاری کے ساتھ کئے جانے والے سجدہ کی تعریف کی ہے :

(سُجّداً و بُکیاً )(١)

نماز وہ الٰہی راستہ ہے جو پیدائش سے لیکر موت تک ہمارے لئے بنایا گیا ہے ۔

جب بچہ پیدا ہو تو اس کے داہنے اور بائیں کان میں اذان و اقامت کہو جو نماز کی تاکید ہے ''حّ علی الصلاة '' اور جب مرجائے تو نماز میت پڑھ کر دفن کرو ( یعنی پیدائش کے وقت اذان و اقامت اور مرنے پر نماز ) نیز ساری زندگی عبادت و پرستش خدا میں گزارو ''و اعبد ربّک حتی یأتیک الیقین ''(٢)

نماز ، انسان اورکائنات کا پیوند ہے ۔ نماز کا وقت جاننے کے لئے خصوصاً صبح اور ظہر میں ضروری ہے کہ سورج کو دیکھو ۔ ( جس سے نماز کا وقت پتہ چلے ) قبلہ معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ستاروں کو دیکھو ۔ مہینہ کے متبرک ایام کی مستحبی نمازوں کو پڑھنے کے لئے چاند کی حرکت پر دھیان رکھو۔ وضو و غسل کے لئے پانی اور تیمم کے لئے خاک کی طرف متوجہ ہو۔

نماز اور چاند ، سورج ، ستارے ،پانی اور مٹی کے درمیان موجود یہ رابطہ کس کی منصوبہ بندی اور کس صانع حکیم کی حکمت ہے ؟

اسی طرح دین کے دوسرے واجبات بھی کسی نہ کسی طرح نماز میں موجود ہیں ۔

نماز پڑھنے والا روزہ دار کی طرح کھانے پینے اور تسکین شہوت کا حق نہیں رکھتا ۔

____________________

١۔ مریم ٥٨.

٢۔ حجر ٩٩


نماز پڑھنے والے کے لئے ، حج کرنے والے کی طرح کعبہ اور قبلہ محور ہے ۔

نماز پڑھنے والا جہاد کرنے والے کی طرح ہے ۔ لیکن جہاد اکبر جو جہاد بالنفس ہے۔

خود نماز سب سے بڑا امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ۔

ہجر ت ،دین میں سب سے بڑی اقدار میں سے ہے اور حضرت ابراہیم ـ نے نماز کے لئے ہجرت کی، اپنی بیوی اوربچہ کو کعبہ کے پاس چھوڑ دیا اور کہا :

(ربّنا ان اسکنت من ذریت بوادٍ غیر ذی زرع ربّنا لیقیموا الصلاة )(١)

پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نماز قائم کریں ۔

قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ـ یہ نہیں کہتے کہ میں نے حج کے لئے ہجرت کی بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ نماز قائم کرنے کے لئے ہجرت کی ہے ۔

بہرحال پروردگار نے تمام اقدار اور کمالات کو نماز میں ، نماز کے ساتھ اور نماز کے لئے قرار دیا ہے ۔

اگر زینت و صفائی اچھی چیز ہے تو اسلام نماز کے لئے اس کی تاکید کرتا ہے :

(خذوا زینتکم عند کل مسجد )(٢)

مسجدوں میں جانے کے لئے اپنے کو مزین کرو ،صاف ستھرے اورپاک و پاکیزہ کپڑے پہن کر ، عطر لگا کر مسجد میں جاؤ ۔

عورتوںکے لئے حکم ہواکہ نمازمیںاپنے زیور پہنے رہیںاوراپنے زیورسے اپنی

____________________

١۔ ابراہیم ٣٧.

۲۔ اعراف ٣١


زینت کریں ۔(١)

حتی مسواک پر بھی توجہ دی گئی ہے ۔ روایتوں میں آیا ہے مسواک کرکے پڑھی جانے والی نماز بغیر مسواک کی ٧۰ نمازوں کے برابر ہے(٢) اور فرمایا پیاز و لہسن کھا کر مسجد میں نہ جاؤ(٣) تاکہ تمہارے منہ کی بد بو دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائے اور لوگ مسجد سے نہ بھاگیں ۔

بہرحال یہ اسلام کی نماز ہے اور یہ ہماری نماز ہے ۔ یا تو پڑھتے ہی نہیں اور یا بے توجہی سے اور غلط پڑھتے ہیں ۔ یا بغیر جماعت کے پڑھتے ہیں یا آخر ی وقت میں پڑھتے ہیں ۔

وہ مسجدیں جن کے خادم کسی وقت ابراہیم ـ و زکریا ـ تھے حضرت مریم کی ماں نے یہ نذر کی تھی کہ ہمارا بچہ مسجد کا خادم ہوگا، لیکن آج کل مسجدوں کے خادم زیادہ تر وہ ہوتے ہیںجو کوئی کام نہ کر سکتے ہوں یعنی بوڑھے ، مریض ، فقیر ، جاہل اور کبھی بد اخلاق ہوتے ہیں۔ کیوں امام رضا ـ کے روضہ کی گرد و خاک صاف کرنا باعث فخر ہے ؟ کیا خدا کے گھر کی صفائی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ؟

کیوں ہماری مسجدیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو بھی اس میں داخل ہو غم و اندوہ و سستی اس کو جکڑ لے ؟ ! کیا مسجد عزا خانہ ہے ؟! یا مسجد ہمیشہ مجلس اور فاتحہ خوانی کے لئے ہے جو مسجد کے دروازے پر ہمیشہ کالا کپڑا لگا رہتا ہے ؟

البتہ الحمد للہ چند سال سے مسجدوں کے سلسلے میں بیداری پیدا ہوئی ہے ۔ کافی ایسی مسجدیں ہیں جن میں کتابخانہ ، صندوق قرض الحسنہ اور دوسرے رفاہی امور پائے جاتے ہیں۔

کتنی اچھی ہے وہ حدیث جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن تین چیزیں لوگوں کی

شکایت کریں گی۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨۰ صفحہ ١٨٨.

٢۔ بحار الانوار جلد ٧٣ صفحہ ١٣٣.

٣۔ رسالہء امام خمینی مسئلہ ٩١٥.


پہلے :وہ عالم کہ جس کی طرف لوگ رجوع نہیں کرتے ہیں ۔

دوسرے:وہ قرآن کریم جو گھر میں ہو اور اس کی تلاوت نہ ہو ۔

تیسرے : وہ مسجد جس کی طرف سے لوگ بے توجہ ہوں۔(١)

مسجد کے بارے میںاہم باتیں تو بہت ہیں بلکہ ابھی حال ہی میں ایک کتاب '' سیمای مسجد'' کے نام سے دو جلدوں میں چھپی ہے جو اسلامی معاشرے میں مسجد کی اہمیت اور اس کے مقام کو روشن کرتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ مسجد ، صدر اسلام میں فیصلوں اور مشورے کے لئے مسلمانوں کے جمع ہونے کی جگہ تھی ، علم و دانش حاصل کرنے کی جگہ تھی ، مجاہدین کی چھاؤنی تھی ، فقراء اور بیماروں کی مشکلات کے حل کا مرکز تھی ، ظالم حکومتوں کے خلاف قیام کرنے اور ان کے اوپر اعتراض آمیز خطبوں کا مرکز تھی ۔

مسجد کا یہی وہ اعلیٰ مقام تھا جس کی بنا پر پوری تاریخ میں مسلمانوں نے اس کے لئے بہترین فن معماری سے کام لیا اور مسجد کے اخراجات کے لئے کافی اموال وقف کئے تاکہ مسجد ہمیشہ آباد اور خود مختار رہے۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٢ صفحہ ٤١.


دوسرا باب

نیت

نیت: نماز کا سب سے پہلا رکن ہے ۔

نیت: یعنی ہم یہ جان لیں کہ کیا کر رہے ہیں ، کیا کہہ رہے ہیں ، کس کے لئے کر رہے ہیں اور کیا کام انجام دے رہے ہیں ۔

ہر کام کی اہمیت اس کی نیت اور قصد کی وجہ سے ہے نہ کہ صرف عمل ۔ لہٰذا اگر کوئی نظم و ضبط کی حفاظت کے خیال اور قانون کے احترام کی خاطر چوراہے کی لال لائٹ ( Red light ) پر ٹھہرے اور کوئی پولیس اور جرمانہ کے ڈر سے رکے ، تو ان دونوں میں بیحد فرق ہے ۔ تمام عبادتوں میں خصوصاً نماز میں نیت کا ایک خاص مقام ہے ۔ اصولی طورپر وہ چیز جو کسی کام کو عبادت بناتی ہے ، نیت الٰہی ہے، کہ اگر وہ نیت نہ ہو تو وہ کام ظاہراً چاہے جتنا بھی اچھا ہو لیکن عبادت کہے جانے کے لائق نہیں ہے ۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام اس بارے میں فرماتے ہیں : '' انّما الاعمال بالنیات ''(١) تمام کام قصد و نیت کی وجہ سے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور نیت پر تولے جاتے ہیں ۔

جی ہاں ! کسی کام کے مادّی یا معنوی ہونے کا انحصار نیت اور مقصد کے تفاوت پر ہے ۔

خالص نیت

خالص نیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان فقط خدا کے لئے کام کرے اور اس کے دل و جان کی گہرائی میں خدا کی خوشنودی ہو ، خدا ہی اس کے مدّ نظر ہو اور وہ لوگوں سے اس کے صلہ اور شکریہ کا منتظر نہ ہو ۔(٢)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٧۰ صفحہ ٢١۰

٢۔ سورۂ انسان ٩


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت نے تین روز لگا تار یتیم و اسیر اور فقیر کو جو روٹیاں دیں ، مادّی لحاظ سے ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی لیکن چونکہ نیت خالصانہ تھی لہذاخدائے تعالیٰ نے اس کے عوض میں ایک سورہ نازل فرما دیا(١)

اس سلسلے میں عطار نیشاپوری کہتے ہیں

گذشتہ زین جھان ، وصف سنانش

گذشتہ ز آن جھان ، وصف سہ نانش

ہم تاریخ میں پڑھتے رہتے ہیں کہ ایک شخص جو محاذ جنگ میں قتل ہوگیاتھا لوگ اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ شہید ہوگیا ہے لیکن حضرت نے فرمایا کہ وہ '' قتیل الحمار ''' ہے ۔ یعنی گدھے کی راہ میں قتل ہوا ۔ لوگوں نے تعجب کیا۔ تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : جنگ میں اس کے آنے کا مقصد خدا نہیں تھا بلکہ اس نے دیکھا کہ دشمن کافی اچھے گدھے پر سوار ہے اوراس نے اپنے آپ سے کہا کہ چلتے ہیں اس کو قتل کر دیں گے اور اس کا گدھا مال غنیمت میں لے جائیں گے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا بلکہ اس کافر نے ہی اس مسلمان کو قتل کر دیا لہٰذایہ '' قتیل الحمار '' گدھے کی راہ میں قتل ہواہے ۔(٢)

نیت کا خالص کرنا بہت نازک اور مشکل کام ہے ۔ کبھی خدا کے علاوہ دوسری فکریں انسان کے دماغ میں اس طرح نفوذ کرتی ہیں کہ وہ خودبھی ان سے بے خبر رہتا ہے ۔ لہذا روایت میں آیا ہے کہ ریا و شرک رات کے اندھیرے میں کالے پتھر پر کالی چیونٹی کی حرکت سے زیادہ دقیق و آہستہ ہے(٣) بہت سے لوگ اپنے خیال میں تو قربت خدا کا قصد کرتے ہیں لیکن حالات کے نشیب و فراز کے وقت پتہ چلتا ہے کہ ان کی نیت سو فیصد خالص نہیں ہے ۔

____________________

١۔ سورئہ دہر.

٢۔ محجة البیضاء جلد ٨ صفحہ ١۰٤.

٣۔ بحار الانوار جلد ٧٢ صفحہ ٩٣.


علامہ شہید مطہری کے بقول : نیت یعنی خود شناسی ۔ عبادت کی قدر و قیمت معرفت و آگاہی سے ہے ۔حتی کہ روایتوں میں وارد ہوا ہے :

''نیة المؤمن خیر من عمله ''(١)

مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔

جس طرح سے جسم و روح کے موازنہ میںروح، جسم سے زیادہ اہم ہے اور انسان کی انسانیت اس کی روح کی وجہ سے ہے ، نیت و عمل کے موازنہ میں بھی، نیت، عمل سے اہم ہے اس لئے کہ نیت روحِ عمل ہے ۔ نیت اتنی اہم ہے کہ اگر انسان عمل خیر کو انجام نہ دے سکے لیکن کار خیر کی نیت رکھتا ہو کہ مثلاً فلاں کام کو کرے گا تو بھی خدا اس کو اجر دے گا ۔(٢)

قصد قربت

قصد قربت یعنی بارگاہ پروردگار سے قرب ۔ مثلاً جب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص حکومت کے فلاں بڑے عہدہ دار سے بہت نزدیک ہے تو سورج کی روشنی کی طرح واضح ہے کہ اس کا مطلب مکانی اور جسمانی قربت نہیں ہوتی ورنہ اس کے نوکر اور خدمت کرنے والے سب سے زیادہ اس کے نزدیک ہوتے ہیں ۔لہٰذا اس سے مکانی اور جسمانی قربت مراد نہیں ہے بلکہ معنوی ، مقام ومرتبہ اور اُنس کی قربت مراد لی جاتی ہے ۔

پروردگار عالم کی خوشنودی کے لئے کسی کام کو انجام دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا وند عالم کے اوپر ہمارے کاموں کا اثر پڑتا ہے اور ان کاموں کی وجہ سے اس کی حالت بدل جائے، اس صورت وہ محل حوادث (جس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے)ہو جائے گا بلکہ خدائے تعالیٰ سے قربت کا مطلب یعنی وجود کے زینہ سے روح کا بلندی پر جانا ہے جس کے نتیجے میں انسان عالم ہستی

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٧۰ صفحہ ٢١۰.

٢۔ محجة البیضاء جلد ٨ صفحہ ١۰٤.


میں تسلط اور نفوذ حاصل کرتا ہے یعنی سرچشمہ ہستی سے نزدیک ہوتا ہے اور اس کو اپنے دل کے اندر محسوس کرتاہے۔

جس طرح سے وجود کے مراتب ؛ جمادات ، نباتات، حیوانات اور انسانوں میں مختلف ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے درمیان قرب خداوند کے مراتب بھی مختلف ہیں ۔ انسان میںاتنی صلاحیت و استعداد ہے کہ وہ خدا سے اتنا قرب حاصل کر لے کہ اس کی بارگاہ کے مقرب ترین لوگوں میں قرار پاجائے اور زمین پر اس کا خلیفہ بن جائے ۔

قربت کے قصد سے انجام پانے والی عبادت ، انسان کو نورانی اور کامل تر بنا دیتی ہے اور اس کے وجود کی ظرفیت بڑھ جاتی ہے ۔ اس سلسلہ میں ساری عبادتیں خصوصاً مستحبی نمازیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں ۔ حدیث شریف میں آیا ہے :

''لا یزال العبد یتقرب الّ بالنوافل ''(١)

انسان مستحبی نمازوں کے ذریعہ خدا وند عالم سے قریب ہوتا ہے ۔ واجب نمازیں ممکن ہیں دوزخ کے ڈر سے یا خدا کے خوف سے پڑھی جائیں لیکن نافلہ نمازیں عشق کی نشانی اور معبود سے انس و محبت کی پہچان ہیں ۔

تقرب الٰہی کے درجات

قرآن مجید میں لفظ '' درجات'' متعدد بار ذکر ہوا ہے اور مختلف تعبیروں کے ساتھ استعمال ہوا ہے ۔اور اس میں کافی لطیف نکتے پائے جاتے ہیں ۔ بعض کے لئے فرماتا ہے:

(لهم درجات )(٢)

ان کے لئے درجات ہیں ۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٧٥ صفحہ ١٥٥.

٢۔ انفال ٤.


بعض کے لئے ارشاد ہوتا ہے:

(هم درجات )(١)

وہ لوگ خود درجات ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ اگر کسی مجلس میں بزرگ شخصیات پیچھے بیٹھیں تو وہ جگہ صدر مجلس سے زیادہ بلند ہو جاتی ہے ۔ یعنی درجہ و مقام انکو بلند نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ خود اس درجہ کومقام بخشنے والے ہیں ۔

یہ معنوی درجہ بندی صرف انسانوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ مراتب کا سلسلہ فرشتوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ جیسے جناب جبرئیل کے لئے قرآن کریم فرماتا ہے :

(مطاعٍ ثم امین )(٢)

یعنی دوسرے فرشتے ان کی اطاعت کرتے ہیں ۔

بہرحال خدا وند عالم کی اطاعت کے اعتبار سے تمام انسانوں کے مراتب فرق رکھتے ہیں ۔

١) کبھی انسان صرف مطیع ہے لیکن خدا کی رضا کے لئے نہیں ۔

٢) کبھی انسان اطاعت کے علاوہ خدا کا محب ہے یعنی خدائے تعالیٰ سے عشق و محبت کی بنیاد پر اطاعت کرتا ہے ۔

٣) کبھی انسان اطاعت و محبت سے بالا تر کامل معرفت کے ساتھ اطاعت کرتا ہے اور جو کچھ دیکھتا ہے فقط خدا کو دیکھتا ہے ۔ حضرت علی ـ ارشاد فرماتے ہیں :

ما رأیت شیئا الا و رأیت الله قبله و بعده و معه ''(١)

____________________

١۔ آل عمران ١٦٣. ۱۔ تکویر ٢١

۲۔ تماشاگہ راز صفحہ ١١٤.


خدا کو خدا کے لئے یاد کریں

کہتے ہیں کہ محمود غزنوی اپنے درباریوں کی وفاداری کو آزمانے کے لئے ایک قافلہ لیکر چلا ۔ قافلہ کے ساتھ جواہرات سے بھرا ایک صندوق اونٹ پر لادا گیا ۔ اس صندو ق میں تالا نہیں لگایا گیا تھا ۔ راستے میں جب ایک درّہ پر پہنچے تو اس نے صندوق سے لدے اونٹ کو بھڑکا دیا تو صندوق پہاڑ کے درّے میں جا گرا اور سارے جواہرات بکھر گئے ۔ سلطان نے کہا جوموتی جس کے ہاتھ لگ جائے وہ اسی کا ہے ۔ سارے درباریوں نے سلطان کو چھوڑ دیا اور جواہرات کے چکر میں دوڑ پڑے اسی وقت دیکھا کہ اَیاز جواہرات کو چھوڑ کر سلطان کے پاس آیا ۔ سلطان نے کہا تم کیوں جواہرات کو چھوڑ کر ہمارے پاس چلے آئے ہو؟

اَیاز نے جواب دیا :

منم در قفای تو می تاختم

ز خدمت بہ نعمت نپرداختم

ہم تمہارے پیچھے دیکھ رہے تھے لوگوں نے تمہارا ساتھ چھوڑا مگر ہم نے نعمت کے بدلے خدمت انجام دی ۔

مولاناروم اس واقعہ کے نتیجہ کو اس طرح پیش کرتے ہیں :

اگر از دوست چشمت بہ احسان اوست

تو در بند خویشی نہ در بند دوست

خلاف طریقت بود کاولیائ

تمنّا کنند از خدا جز خدا


یعنی اگر تمہاری نگاہیں اپنے دوست کے کرم اور احسان پر ہوں تو تم اپنی (ہوس)کی قید میں ہو نہ کہ دوست کی محبت کی قید میں،یہ راہ طریقت کے سراسر خلاف ہے کہ اولیائے خدا اس سے اس کی ذات کے علاوہ کسی اور چیز کی تمناکریں۔

جو لوگ خدا کو اپنے لئے یاد کرتے ہیں یا صرف مشکلات میں اس کی طرف رخ کرتے ہیں اس کے علاوہ خدا کو فراموش کر دیتے ہیں حتی بعض اوقات خدا کا انکار بھی کردیتے ہیں ؛ قرآن مجید نے ایسے افراد کی شدت سے مذمت کی ہے ۔ارشاد ہوتا ہے :

(فاذا رکبوا فی الفلک دعوا الله مخلصین له الدین فلما نجّا هم الی البر اذا هم یشرکون )(١)

جس وقت کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور کشتی غرق ہونے لگتی ہے تو بڑے خلوص سے خدا کو پکارتے ہیں لیکن جیسے ہی خشکی میں قدم رکھتے ہیں تومشرک ہو جاتے ہیں ۔

بہرحال جو کام بھی اپنے لئے کیا جائے وہ نفس پرستی ہے ۔ اگر لوگوں کے لئے کیا جائے وہ بت پرستی ہے ۔ اگر خدا اور مخلوق کے لئے ہو وہ دوگانہ پرستی ہے ۔اور اپنا اور مخلوق کا کام خدا کے لئے انجام دینا یہ خدا پرستی ہے ۔ ہم حضرت علی کی مناجات میں پڑھتے ہیں: ''اله ما عبدتک خوفا من نارک و لا طمعا فی جنتک بل وجدتک اهلا للعبادة فعبدتک ''(٢)

خداوندا ! میری عبادت نہ دوزخ کے ڈر سے اور نہ جنت کی لالچ سے ہے بلکہ میری عبادت اس لئے ہے کہ میںنے تجھ کو عبادت و بندگی کے لائق سمجھا لہٰذا میں تیری عبادت کرتا ہوں ۔

ہاں ! یہ تاجر ہیںجو فائدہ کی وجہ سے کام کرتے ہیں اور یہ غلام ہیں جو ڈر کی بنا پرکام کرتے ہیں ،مگر آزاد لوگ خدا کے شکر کے لئے اور اس کی نعمتوں کی وجہ سے اس کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ معصومین کے کلمات میں آیا ہے :

____________________

١۔ عنکبوت ٦٥.

٢۔ بحار الانوار جلد ٧ صفحہ ١٨٦.


''انّ قوما عبدوا الله رغبة فتلک عبادة التجار و انّ قوما عبدوا الله رهبة فتلک عبادة العبید و انّ قوما عبدوا الله شکرا فتلک عبادة الاحرار ''(١)

بقول حافظ :

در ضمیر ما نمی گنجد بغیر از دوست کس

ھر دو عالم را بہ دشمن دِہ کہ ما را دوست بس

''ہمارا ضمیر دوست کے علاوہ کسی اور کو قبول نہیں کرتا ۔ دونوں جہاں دشمن کو دے دو ہم کو تو صرف اس کی دوستی ہی کافی ہے ''۔ دنیاوی اور مادّی عشق میں انسان معشوق کو اپنے لئے چاہتا ہے اور معنوی عشق میں انسان اپنے کو معشوق کے لئے چاہتا ہے ۔ حضرت علی ـ دعائے کمیل میں فرماتے ہیں : '' و اجعل قلب بحبک متیما '' پروردگارا میرے قلب کو اپنی محبت سے بھر دے ۔ ''

تقرب الٰہی کے حصول کا راستہ

تقرب الٰہی کے حصول اور قصد قربت کے دو راستے ہیں : ١) پروردگار کی عظمت و مقام کو پہچاننا۔ ٢) خداوند متعال کے علاوہ ہرچیز کی بے اعتباری اور کھوکھلے پن کو جاننا۔

قرآن مجید ہمیشہ خدا کے الطاف اور اس کی نعمتوں کو بیان کرتا ہے تاکہ انسان کو اس کا محب بنائے ۔ اس کی صفتوں کا ذکر ، اس کی خلقت ، اس کی مادّی اور معنوی امداد ، اس کے علاوہ بہت سی چھوٹی اور بڑی نعمتوں کاتذکرہ یہ سب اس لئے ہیں کہ خدا سے ہمارے عشق ومحبت کو زیادہ کریں ۔

دوسری طرف کافی آیتوں میں خدا کے علاوہ بقیہ تمام چیزوں کے ضعف اوران کی بے مائیگی کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے '' خدا کے علاوہ نہ کوئی عزت رکھتا ہے اور نہ قدرت ، اگر سارے

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٤١ صفحہ ١٤.


لوگ جمع ہوجائیں اور چاہیں کہ ایک مکھی خلق کریں تو نہیں کر سکتے'' ! ۔ خدا کے علاوہ کون ایسا ہے جو پریشان و درماندہ لوگوں کی فریاد کا جواب دے ؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ہم کسی دوسرے کو خدا کے ساتھ لا کر کھڑا کردیں اور اس کو خدا کا ہم پلّہ اور برابر قرار دیدیں ؟

ایک واقعہ

عالم تشیع کے ایک مرجع تقلید ، حضرت آیة اللہ العظمیٰ آقا ئے بروجردی تھے ۔ آپ محرم کے زمانے میں اپنے گھر پر مجلس عزا کراتے تھے ۔ ابھی ایام عزا ہی تھے کہ بیمار ہوگئے لہذا اپنے خصوصی کمرے میں لیٹے لیٹے مجلس کی آواز سن رہے تھے۔ مجلس میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک نے بلند آواز میں کہا کہ : امام زمانہ ـ اور آیة اللہ بروجردی کی سلامتی کے لئے صلوات پڑھیں ''

اتنے میں لوگوں نے دیکھا کہ آیة اللہ العظمیٰ بروجردی اپنے عصا سے دروازے کو پیٹ رہے ہیں ان کے قریب والے لوگ فوراً اندر گئے اور پوچھا۔ کیا کوئی حکم ہے ؟ مرجع بزرگوار نے فرمایا : کیوں ہمارے نام کو امام زمانہ ـ کے ساتھ لیا ؟ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ہمارے نام کو امام ـ کے نام کے ساتھ لو اور دونوں کے لئے صلوات پڑھو۔(١)

یہ دینی مرجع جو نائب امام زمانہ ـ ہیں راضی نہیں ہوئے کہ ان کا نام معصومین کے نام کے ساتھ لیا جائے لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جواتنی کج فہمی اور بد تہذیبی کا شکار ہیں کہ ضعیف اور حقیر مخلوق جو سراپا محتاج و نیاز مند ہے ،اس کو خدائے قادر مطلق کے ساتھ لا کھڑا کرتے ہیں گویا وہ لوگ دونوں کو ایک جیسا سمجھتے ہیں ۔

____________________

١۔ اس واقعہ کو آیة اللہ صافی مد ظلہ نے نقل فرمایا ہے


کیفیت یا مقدار؟

اسلام نے کام کی کیفیت پر زیادہ زور دیا ہے کہ کام کیسا ہے اس کا مقصد و ارادہ کیسا ہے ۔

قرآن اچھے عمل کی تعریف کرتا ہے نہ کہ زیادہ عمل کی ، ارشاد ہوتا ہے :

(لیبلوکم ایکم احسن عملاً )(١)

خدا تم کو امتحان میں مبتلا کرتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ تم میں سے کون ہے جو بہترین عمل بجا لاتا ہے ؟

حضرت علی ـ نے نماز کی حالت میں فقیر کو انگوٹھی دی ۔ آپ کے اس اچھے عمل پر قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی ۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی تھی کہ وہ انگوٹھی بہت قیمتی تھی یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس انگوٹھی کی قیمت شامات اور سوریہ کے ٹیکس کے برابر تھی ، جب کہ اتنی قیمتی انگوٹھی علی علیہ السلام کے زہد سے اور حضرت علی ـ کی عدالت سے بھی سازگار نہیں ہے کہ آپ اتنی قیمتی انگوٹھی اپنے ہاتھ میں رکھیں جب کہ کتنے ہی فقیروں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت (انّما ولیکم الله و رسوله و الذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة و یؤتون الزکاة و هم راکعون )(٢)

کا نزول عمل کی کیفیت کی بنا پر ہے ، اس کی مقدار اور قیمتی ہونے کی بناپر نہیں۔ آپ کے عمل میں نیک قصد اور اخلاص تھا، نہ اس لئے کہ انگوٹھی کا وزن زیادہ تھا یا اس کی قیمت زیادہ تھی ۔

____________________

١۔ ہود ٧.

٢۔ مائدہ ٥٥.


یادگار واقعہ

بہلول نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد بنا رہے ہیں اور ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد خدا کی ہے ۔ بہلول نے ایک پتھر پر لکھا کہ '' اس مسجد کے بانی بہلول ہیں '' ۔ پھر اس پتھر کو رات میں صدر دروازے پر لے جاکر نصب کر دیا ۔ دوسرے روز صبح جب مزدور کام کرنے آئے اور اس پتھر کو جس پر بہلول کا نام لکھا تھا دیکھا تو ہارون رشید سے جا کر ماجرا بیان کیا ۔ ہارون رشید نے بہلول کو بلوایا اور پوچھا کہ : '' مسجد ہم بنا رہے ہیں تم نے اسے اپنے نام کیوں کر لیا ؟ ''

بہلول نے کہا کہ اگر تم خدا کے لئے مسجد بنا رہے ہو تو اس پر میرا نام رہنے دو اس لئے کہ خدا جانتا ہے کہ اس کا بنوانے والا کون ہے ؟۔ خدا اجر و ثواب دینے میں دھوکہ نہیں کھاتا ۔ اگر یہ مسجد خدا کے لئے ہے تو چاہے ہمارا نام ہو یا تمہارا نام ہو یہ کوئی اہم بات نہیں ہے ۔

بہلول نے اپنے اس کام سے اس کو سمجھا دیا کہ اس کی نیت قربت کی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد شہرت اور نام و نمود ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن مجید کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دیتا ہے کہ جودیکھنے میں پانی ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے ۔

(و الذین کفروا اعمالهم کسراب بقیعة یحسبه الظمآن مائً )(١)

'' جن لوگوں نے کفر اختیار کر لیا ان کے اعمال اس ریت کی مانند ہیں جو چٹیل میدان میں ہو اور پیاسا اسے دیکھ کراسے پانی تصور کرے ۔ ''

اصولاً اسلام اس عمل کو صالح سمجھتا ہے کہ جس کے چاروں عناصر ترکیبی نیک اور صحیح ہوں ۔ یعنی عمل ، جذبۂ محرکہ ، وسیلہ اور روش ۔

____________________

١۔ نور ٣٩


قصد قربت ، کام کے آغاز میں ہی ضروری نہیں ہے بلکہ کام کے آخر تک قصد قربت باقی رہناضروری ہے ورنہ عمل باطل ہے ۔ اگر ہوائی جہاز کا انجن ایک منٹ کے لئے بھی خراب ہو جائے تو اس کا گرنا حتمی ہے ۔ اسی طرح نیت میں شرک و ریا حتی اگر ایک لحظہ کے لئے بھی ہو ں پورے عمل کو نابود کر دیتے ہیں ۔

ایک واقعہ

ایک ہوائی جہاز کے اڑنے کا وقت نزدیک تھامگر اس کے سب مسافروںکو اتار دیا گیا۔ گھنٹوں اس کی اڑان میں دیر ہوگئی ۔ ہم نے اس کی تاخیر کی وجہ دریافت کی ۔ لوگوں نے بتایا کہ جہاز میں ایک چوہا چلا گیا ہے ۔ ہم نے کہا کہ اتنی تاخیر ایک چوہے کی وجہ سے ! کہا، ہاں اس لئے کہ ممکن ہے یہی چوہا کسی تار کو کاٹ دے اور جہاز کا کنٹرول سسٹم خراب ہوجائے اور کوئی حادثہ پیش آجائے۔

بہت سے نیک کام جو خدا کی طرف انسان کی پرواز کا سبب بنتے ہیں ۔ ممکن ہے کسی ایک روحی مرض کی بناء پر انسان کو نہ صرف بلندیوں پر جانے سے روک دیں بلکہ ممکن ہے کہ انسان کے سقوط کا سبب بن جائیں۔

نیت ؛کام کو اہمیت دیتی ہے

فرض کریں ایک شخص نے دوسرے انسان کو ظلم وتجاوز کی نیت سے قتل کر ڈالا بعد میں معلوم ہوا کہ قتل ہونے والا انسان بھی ظالم و جابر تھا اس کو پھانسی دینا ضروری تھا ۔ یہاں پر اگر چہ قتل کرنے والے کا کام مفید اور اچھا تھا لیکن پھر بھی لوگ اس قاتل کی تعریف نہیں کریں گے کیونکہ قتل کرنے والے کی نیت ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا تھی اور وہ ''مفسد فی الارض '' (فسادی انسان)کو قتل کرنے کی نیت نہیں رکھتا تھا ۔


پس ایک کام کامفید ہونا اس بات کے لئے کافی نہیں کہ وہ عمل صالح بھی ہو بلکہ اس کے لئے عمل کے ساتھ ساتھ پاک نیت اور پاک قصد کی بھی ضرورت ہے ۔

قرآن مجید ہر جگہ پر ہر کام میں قصد قربت پر زور دیتا ہے ، چاہے خمس و زکات و خیرات مالی ہو اور چاہے دشمن سے جنگ و جہاد ہو ، قرآن کریم ہمیشہ ان کلمات : (ف سبیل الله )(١) (لوجه الله )(٢) (ابتغاء مرضات الله )(٣) پر انحصار کرتا ہے ۔ یہ قصد قربت کی اہمیت کی علامت ہے ۔

جو لوگ مدرسہ ، اسپتال ، راستہ یا ہاسٹل تعمیر کرتے ہیں یا اس کے علاوہ دوسرے مفید کام کرتے ہیں اگر قصد الٰہی نہ ہو تو انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، اس لئے کہ ایسے کاموں سے انھیںخود کوئی فائدہ نہیں ہوتا اگرچہ دوسرے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

قرآن مجید ہمیشہ عمل صالح کوجو ایمان کے ساتھ لاتا ہے ۔جیسا ارشاد ہے :

(الذین آمنوا و عملوا الصالحات )

یا دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے :

(مَن عمل صالحاً من ذکر او انثیٰ و هو مؤمن )(٤)

اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں صرف فعل کا اچھا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ فعل انجام دینے والے کی نیت کا اچھا ہونا بھی ضروری ہے ۔

____________________

١۔ بقرہ ١٩۰.

٢۔ انسان ٩.

٣۔ بقرہ ٢۰٧.

٤۔ نحل ٩٧.


دو واقعات

١) بلال پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے مؤذن تھے یہ ''اشهد ان لا اله لاَّ الله '' میں '' شین '' کے بجائے '' سین '' کہتے تھے اس لئے کہ ان کی زبان لکنت کرتی تھی ۔ لوگ اس کو عیب سمجھتے تھے ۔ لیکن رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ : بلال کی سین خدا کے نزدیک شین ہے ۔(١) اگرچہ ظاہری طور پر یہ عمل ناقص ہے لیکن قصد قربت اور حسن نیت کی بنا پر اجر کا حامل ہے۔

٢) عبد اللہ بن مکتوم نابینا تھے اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہت مخلص اورآپ کے چاہنے والے اصحاب میں تھے ۔ ایک دن رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کچھ لوگوں سے گفتگو میں مشغول تھے ۔ اسی اثناء میں عبد اللہ بن مکتوم وہاںآئے ۔ عبد اللہ چونکہ نابینا تھے یہ لوگوں کو دیکھ نہیں سکتے تھے لہذا بلند آواز میں بات کرنے لگے ۔ انہیں لوگوں میں سے ایک شخص نے انھیں نفرت بھری نگاہ سے دیکھا اورناراض ہوگیا ۔ اس اظہار نفرت اور ہنسنے سے عبد اللہ پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا کیونکہ وہ نابینا تھے ۔ لیکن اس نفرت کرنے کی وجہ سے قرآن مجید کا ایک پورا سورہ نازل ہوا اور دس آیتوں میںاس مذاق اڑانے والے کو ڈانٹا (عبس و تولی ان جائَ ه الاعمیٰ و ما یدریک لعله یزکیٰ )(٢)

پس کسی عمل کا مفید یا مضر ہونا معیار نہیں ہے کہ دوسروں سے اس کو تولا جائے اور کہا جائے کہ یہ عمل دوسروں کے لئے فائدہ مند ہے یا مضر ہے اور یہ کہ اگر یہ عمل دوسروں کو فائدہ دینے والا ہے تو وہ عمل صالح ہے اور اگر مضر ہے تو عمل غیر صالح ہے ۔ بلکہ عمل اوراس عمل کو انجام دینے والے کے درمیان یہ رابطہ دیکھا جائے کہ اس نے اس کو کس مقصد کے تحت انجام دیا ہے ؟یعنی خود عمل ،

____________________

١۔ مستدرک الوسائل حدیث ٤٦٩٦.

٢۔ سورہء عبس آیت ١ سے ١۰ تک.


چاہے دوسروں کے لئے مفیدیا مضر نہ ہو، مگر اس عمل کی نوعیت کیا ہے ؟یہ دیکھا جائے گا۔

جی ہاں ! انبیاء کے مکتب میں اخلاق کی ذاتی اہمیت ہے نہ کہ عرضی ، جیسے کوئی گاہک کو اپنی طرف کھینچنے ، پیداوار کو زیادہ کرنے اور لوگوں کو اپنے قریب جمع کرنے والا کرتا ہے ۔

سورئہ '' عبس'' میں اس پر بات تنقید ہوئی کہ کیوں نابینا سے نفرت کی اوراس کا مذاق اڑایا ؟ چاہے کہ نابینا تم کو نہیں دیکھتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی مؤمن کا مذاق اڑانا ( چاہے وہ نہ دیکھے )یہ ذاتا ایک بُری اور قبیح چیزہے۔

بہرحال قصد قربت یعنی تمام کاموں کو الہی معیار پر انجام دینا اورعمل میں سیاسی و سماجی رد عمل اور دوسروں کی خوشامد کا پہلو نہ ہو ۔

قصد قربت : یعنی عمل کو خدا کے لئے انجام دو لوگوں کی قیل و قال سے نہ ڈرو۔

قرآن مجید حقیقی مومنین کے لئے فرماتا ہے :

(یجاهدون ف سبیل الله و لا یخافون لومة لائمٍ )(١)

خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور لوگوں کی ملامت سے نہیں ڈرتے ۔

قصد قربت : یعنی حق کہو خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرو ۔جیسا قرآن مجید الٰہی اور دینی تبلیغ کرنے والوں کی یوںتعریف کرتا ہے :

(الذین یبلغون رسالات الله و یخشونه و لا یخشون احداً الا الله )(٢)

''وہ لوگ اللہ کے پیغام کو پہونچاتے ہیں اور دل میں اس کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ''۔

____________________

١۔ مائدہ ٥٤.

٢۔ احزاب ٣٩.


سرگزشت

ایک روز میں امام رضا ـ کے روضہ میں دعا و زیارت میں مشغول تھا ۔اور اس وقت میرے اوپر ایک خاص حالت طاری تھی ۔ ایک زائر بھی میرے پہلو میں آکر بیٹھ گیا ۔ چونکہ ٹیلی ویژن پر شب جمعہ میرا پروگرام آتا ہے ، اس کی وجہ سے وہ مجھے پہچان گیا ۔ اس نے کچھ رقم مجھے دینا چاہی اور کہا کہ قرائتی صاحب ! یہ کسی فقیر کو دے دیجئے گا ۔ میں نے کہا کہ میں بھی تمہاری طرح زائر ہوں۔ میں مشہد میں فقیر وںکو نہیں پہچانتا ۔ تم خود ہی کسی فقیر کو دے دو ۔

تھوڑی دیر گزری ، اس نے پھر اپنی اسی بات کی تکرار کی ۔ میں نے دوبارہ وہی جواب دیا اور دعا پڑھنے میں مشغول ہوگیا ۔ تیسری بار پھر اس نے اپنی بات کی تکرار کی ۔ میں ناراض ہوگیا اور کہا کہ تم ٢۰ تومان کی وجہ سے میری توجہ تین بار دعاسے ہٹا چکے ہو۔ مہربانی کر کے خلل اندازی نہ کرو اورجاؤ تم خود ہی یہ رقم کسی فقیر کو دے دو ۔ اس نے کہا کہ قرائتی صاحب ! یہ ٢۰ تومان نہیں بلکہ ١۰۰۰ تومان ہیں ۔

میں جو ابھی تک یہ سوچ رہا تھا کہ وہ شخص فقیر کے لئے ایک ٢۰ تومان کا نوٹ دے رہا ہے ۔ میں نے تھوڑی دیر فکر کی تو میرا غصہ کافور ہوگیا ۔ میں نے کہا کہ یہاں پر ایک ادارہ ہے جو یتیم بچوں کی مدد کرتا ہے ۔ اس نے کہا کہ آپ خود اختیار رکھتے ہیں ، جہاں مصلحت سمجھیں وہاں خرچ کردیں ۔ اس نے یہ کہہ کر رقم میرے حوالے کی اور چلا گیا ۔

میں نے دعا کی کتاب کو ایک طرف رکھا اور گہری فکر میں ڈوب گیا کہ اگر یہ خدا کے لئے ہے تو ٢۰ تومان اور ١۰۰۰ میں فرق کیا ہے ؟ پھر میںمتوجہ ہوا کہ یہ واقعہ میری آزمائش کے لئے تھا تاکہ مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ قصد قربت ابھی میرے اندر پیدانہیں ہوا ہے ۔

اخلاص کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ انسان کسی کام کی مقدار ، افراد ، جگہ ، کام کی نوعیت و شرائط ، لوگ جانیں یا نہ جانیں ، حمایت کریں یا نہ کریں ، اس میں آمدنی ہو یا نہ ہو ، جیسی چیز وں کے در میان کو ئی فرق نہ کریں بلکہ فقط رضائے الہی ان کے مدنظر ہو ۔


البتہ انسان دوستی اور کسی کام کو لوگوں کے لئے انجام دینا خود پرستی سے بہتر ہے لیکن اس کا مقصد رضائے الٰہی نہ ہو تو خدا کے نزدیک اس کی کو ئی اہمیت نہیں ہے ۔

بقول شہید مطہری قصد قربت ذاتی اوراصلی شرط ہے نہ قراردادی و اعتباری ، یہ شرط تخلیقی ہے نہ تشریفی ۔(١) اگر مکہ جانے کی شرط مکہ کے راستے کو طے کرنا ہے تو یہ شرط طبیعی و ذاتی ہے نہ کہ قراردادی۔قرب الہٰی تک پہنچنے کی شرط قصد قربت ہے۔ یہ شرط بھی ذاتی اوراصلی ہے ۔

پاک نیت کے اثرات و برکات

آیات و روایات کی روشنی میں پاک نیت کے اثرات اور برکتیں کافی ہیں جن کو خلاصہ کے طور پر پیش کرتے ہیں :

١) جس کی نیت اچھی ہو اس کے رزق میں فراوانی ہوتی ہے ۔(٢)

غالبا اس حدیث کا مطلب یہ ہو کہ اچھی نیت کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ اس کا کردار اور

سلوک اچھا ہوگا ۔ لہذا لوگ اس کی طرف زیادہ جذب ہونگے اور وہ جو بھی کام کرے گا وہ رونق پائے گا اس طرح اس کی آمدنی بھی زیادہ ہوگی ۔

٢ ) حسن نیت سے انسان کی توفیقات میں اضافہ ہوتا ہے ، زندگی پاک و خوشگوار ہوتی ہے اور انسان کے دوست زیادہ ہوتے ہیں(٣)

____________________

١۔ ولاہا و ولایت ہا٢٩۰ سے ٢٩٣ تک

٢۔ وسائل جلد ١ صفحہ ٣٩

٣۔ غرر الحکم


٣) حسن نیت سے انسان کی عمر طولانی ہوتی ہے ۔ روایتوں میں آیا ہے جس نے حج تمام کر لیا اوروہ اپنے وطن جاتے وقت یہ نیت کر لے کہ اگلے سال بھی آ کر حج کرے گا ، پروردگار اس ارادہ کی بناپر اس کی عمر طولانی کر دیتا ہے ۔(١)

٤) اچھی نیت انسان کی پچھلی کمیوں کو پورا کردیتی ہے ۔ حضرت علی ـ ارشاد فرماتے ہیں : اگر گنہگار حسن نیت سے توبہ کرے تو خداوند عالم نے جو بھی اس کے گناہ کی سزا کے بدلے میں اس سے لیا تھا اسے واپس کر دیتا ہے اور اس کے کاموں میں جو بھی مشکل در پیش ہو اس کی اصلاح کر دیتا ہے۔

٥) پروردگار کار خیر کی نیت پر ، کار خیر کی جزا عنایت کرتا ہے چا ہے انسان اس کام کے انجام دینے میں کامیاب نہ ہو پائے ۔ نیت اگر سچی ہو تو کام انجام نہ پانے کی صورت میں بھی وہ عمل شمارہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ روایت میں بھی موجود ہے کہ اگر مومن یہ کہے کہ اگرخداوسائل فراہم کرتا تو ہم یہ کرتے وہ کرتے اور یہ سچی آرزو ہو تو جن نیک کاموں کی اس نے نیت کی ہے پروردگار اسے ان کی جزا دے گا(٢) یہاں تک کہ اگر کوئی مخلصانہ طور پر شہادت کی نیت کرے اور خدا سے شہادت کی دعا کرے توخدا اس کو شہیدوں کے درجات عنایت فرمائے گا چاہے وہ اپنے بستر پر ہی کیوں نہ دنیا سے جائے ۔(٣)

خدا کا یہی لطف کیا کم ہے کہ وہ صرف نیت پر اس کام کی جزاا ور ثواب دیدیتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی گناہ کی نیت کرے تو جب تک گناہ انجام نہ دے اس وقت تک اس کی سزا نہیں ملتی۔(٤)

____________________

١۔ وسائل جلد ٨ صفحہ ١۰٧

٢۔ وسائل جلد ١ صفحہ ٤۰.

٣۔ بحار الانوار جلد ٧۰ صفحہ ٢۰١.

٤۔ وسائل جلد ١ صفحہ ٤۰.


٦) پاک نیت سے انسان کی زندگی کے مادّی ترین کام اس کے لئے قربت خدا کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اسی طرح معنوی ترین کام جیسے سجدہ و گریہ اگر ریا کاری کے سا تھ ہوں تو خدا سے دوری کا سبب بنتے ہیں ۔

روایتوں میں آیا ہے کہ جس طرح جسم ،روح کی وجہ سے پائیدار ہے اسی طرح دین سچی نیت

سبب استوار ہے(١) پاک دل ا و رحسن نیت خدا کے بہترین خزانوں میں سے ہے اور نیت جتنی اچھی ہوتی ہے اس خزانہ کی قدر و قیمت اتنی ہی زیادہ ہو جاتی ہے(٢) نیت اور مصمم قصد و ارادہ انسان کی جسمانی قوت کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔

امام جعفر صادق ـ نے فرمایا :

پروردگار، روز قیامت لوگوں کو ان کی نیتوں کی بنیاد پر محشور کرے گا(٣) جس کا مقصد صرف فریضہ کی ادا ئیگی ہو اس کے لئے کام کی نوعیت اور اس کا نتیجہ اہم نہیں ہے ۔

جیسا کہ قرآن مجید ارشاد فرما رہا ہے :

(و مَن یقاتل ف سبیل الله فیُقتل او یغلب فسوف نؤتیه اجرا عظیما )(٤)

اور جو بھی راہ خدا میں جہاد کرے گا وہ قتل ہو جائے یا غالب آجائے دونوں صورتوں میں ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے ۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٧٨ صفحہ ٣١٢

٢۔ غرر الحکم

٣۔ قصار الجمل

٤۔ نساء ٧٤.


جو چیز اہم ہے وہ خدا کی راہ میں جہاد ہے لیکن اس کا نتیجہ ہار ہو یا جیت اس سے خدا کے اجر و ثواب پر اثر نہیں پڑتا ، دوسری جگہ پر قرآن مجید فرماتا ہے :

(و مَن یخرج من بیته مهاجرا الی الله و رسوله ثم یدرکه الموت فقد وقع اجره علی الله )(١)

اور جو اپنے گھر سے خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہجرت کے ارادے سے نکلے گا اس کے بعد اسے موت بھی آجائے گی تو اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے ۔

اس آیت سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ اگر انسان خدا کی خاطر گھر سے نکلے تو چا ہے اپنے مقصد تک نہ پہنچ پائے لیکن وہ اجر رکھتا ہے ۔ کیو نکہ اہم چیز عمل کی نیت ہے نہ خود عمل۔ اہم خدا کی راہ میں قدم بڑھانا ہے نہ کہ مقصد تک پہنچنا ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوذر غفاری سے فرمایا :

کار خیر کا ارادہ کیا کرو چا ہے اس کے بجا لانے کی توفیق حاصل نہ ہو کیونکہ یہ نیک کام کا ارادہ ہی تمہیںغافل لوگوں کے زمرے سے باہر نکالتا ہے(٢)

ایک دوسری حدیث میں آیا ہے :

جو کام نیت الٰہی کے ساتھ ہو وہ کام بڑا ہے اگرچہ سادہ ا ور چھوٹا ہی کیوں نہ ہو ۔(٣)

جس طرح کوئی اہم کام اگر صحیح نیت کے ساتھ نہ ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ پیغمبر گرامیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ : میری امت کے اکثر شہید اپنے بستر پر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور کتنے زیادہ ہیں وہ لوگ جو محاذ جنگ میں قتل ہوتے ہیں لیکن خدا ان کی نیت سے آگاہ ہے ۔(٤)

____________________

١۔ نساء ١۰۰.

٢۔ وسائل جلد ١ صفحہ ٨٧۔

٣۔ وسائل جلد ١ صفحہ ٣٩. ٤۔ محجة البیضاء جلد ٨ صفحہ ١۰٣.


رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ تبوک کے موقع پر فرمایا :

جو لوگ مدینہ میں ہیں اورہمارے ساتھ جنگ میں شرکت کی آرزو رکھتے ہیں وہ اپنی اس نیت کی بنا پر اس جنگ کے ثواب میں ہمارے ساتھ ہیں ۔(١)

ایک دوسری روایت میں پڑھتے ہیں : جو شخص نماز شب کے لئے بیدار ہو نے کی نیت سے اپنے بستر پر لیٹے اگر نماز شب کے لئے بیدار نہ ہو پائے توخداوند عالم اس کے سونے کو صدقہ اور اس کی سانسوں کو تسبیح ( کے برابر ) قرار دیتا ہے اور نماز شب کا ثواب اس کے لئے لکھا جاتا ہے ۔(٢)

بلا وجہ ہمیں یہ تاکیدنہیں کی گئی ہے حتی سونے اور کھانے پینے میں بھی نیک مقصد پر نگاہ رکھیں۔(٣) اگر کسی شخص کو خدا کی خاطر چاہو اور یہ خیال کرو کہ اچھا انسان ہے اگرچہ وہ دوزخی ہو لیکن تم کو اس کا اجر ملے گا ۔(٤)

عمل پر نیت کی برتری

کسی بھی کام کی نیت اس کام کے او پرجو برتری رکھتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے کام کے انجام دینے میں ریا کاری یا خود نمائی داخل ہو جائے لیکن نیت چونکہ قلب سے تعلق رکھتی ہے اس کا کوئی ظاہری اثر نہیں ہوتا لہذا نیت میں ریا کاری اور دکھاوے کی گنجائش نہیں ہے ۔

عمل پرنیت کی دوسری برتری یہ ہے کہ نیت ہمیشہ اور ہر مقام پر ممکن ہے نیز اس کے لئے کسی خاص شرط کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن کسی کام کو انجام دینے کے لئے متعدد ضروریات اور بہت سے وسائل کی ضرورت پڑتی ہے ۔

____________________

١۔ محجة البیضاء جلد ٨ صفحہ ١۰٤۔

٢۔ بحار الانوار جلد ٧۰ صفحہ ٢۰٦.

٣۔ وسائل جلد ١ صفحہ ٣٥.

٤۔ محجة البیضاء جلد ٤ صفحہ ٣٧٤.


علم حدیث میں کچھ روایتیں ''روایات مَن بلغ ۔۔۔ '' کے نام سے مشہورہیں ۔ اس قسم کی روایتیں کہتی ہیں کہ اگر کسی نے یہ روایت سنی کہ فلاں کام میں ثواب ہے اور اس شخص نے اس کام کو انجام دیا تو پروردگار اس کو اس کام کا اجر دے گا چاہے وہ روایت صحیح نہ ہو ، اس لئے کہ اس نے اس حدیث پرجو عمل کیا ہے اسے اس نے حسن نیت سے انجام دیا ہے۔

نیت کے درجات

١) کبھی خدا کے غضب کا ڈر اور کبھی اس کے لطف و کرم کی لالچ انسان کو عمل کرنے کے لئے آگے بڑھاتی ہے ، جیسا کہ اس بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے :

(اُدعوه خوفا ً و طمعا ً )(١)

خدا کو ہر حال میں یاد کرو چاہے وہ ڈر کا موقع ہو اور چاہے امید کا اور دوسری جگہ پر ارشاد ہوتا ہے :

(یدعوننا رغبا و رهبا )(٢)

ہم کو امید یا خوف کی حالت میں یاد کرتے ہیں ۔

٢) اس سے بالاتر مرحلہ وہ ہے کہ انسان اسکے الطاف کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کام کرے چاہے اللہ کی طرف سے اس کام میں ثواب یا عذاب نہ ہو ۔ جیسے حضرت علی فرماتے ہیں :

'' لو لم یتوعد الله علی معصیته لکان یجب الا یعصیٰ شکرا لنعمته '' (٣)

اگر پروردگار نے گناہوں پر عذاب کی دھمکی نہ دی ہوتی تب بھی انسان پر ضروری تھا کہ اس کی نعمتوں کے شکر کی وجہ سے اس کی نافرمانی نہ کرے ۔

____________________

١۔ اعراف ٥٦.

٢۔ انبیاء ٩۰.

٣۔ نہج البلاغہ حکمت ٢٩۰.


٣) ان سب سے بلند مرحلہ، خدا کی قربت ہے کہ انسان جنت کی امید اور دوزخ کے ڈر کے بغیر خدا کی عبادت کرے ۔ اس لئے کہ صرف خدا کو عبادت و بندگی کے لائق سمجھتا ہے ۔

٤) اس سے بڑا مرحلہ یہ ہے کہ خدا کا عشق انسان کو ہر کام پر آمادہ کردے ۔ جیسے حضرت علی لقائے الٰہی اور موت سے اپنے عشق کو ایک شیر خوار بچے کی اپنی ماں کے پستان سے رغبت سے زیادہ سمجھتے ہیں ۔(١)

حضرت قاسم بن امام حسن مجتبیٰ ـ کربلا میں فرماتے ہیں :

''میرے لئے خدا کی راہ میں موت شہد سے زیادہ شیرین ہے ۔ ''

سزا کے مسائل میں نیت کا اثر

اسلام نے سزا کے مسئلوں میں بھی قصد و نیت کا حساب و کتاب الگ رکھا ہے ۔ اس سلسلے میں دو مثالوں کی طرف اشارہ کریں گے :

١) مسئلہ قتل : اگر کوئی شخص عمداً و قصداً کسی کو قتل کر دے اس کا حساب اس شخص سے جدا ہے جو بغیر قصد کے کسی قتل کا سبب بنے ۔اور ان دونوں کا حکم بھی ایک دوسرے سے الگ ہے ۔(٢)

٢) قرآن مجید قسم کے بارے میں فرماتا ہے :

(لا یؤاخذکم الله با للغو ف ایمانکم )(٣)

خدا تمہاری لغو اور غیر ارادی قَسموں کا مواخذہ نہیں کرتا ۔

لہٰذا اگر کوئی قسم کھائے اوراس نے اس کا قصد و ارادہ نہ کیا تو ایسی قسم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

____________________

١۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٥.

٢۔ نساء ٩٢.

٣۔ بقرہ ٢٢٥.


معرفت ؛ قصد قربت کا پیش خیمہ ہے

قصدِ قربت اور پاک نیت تک پہنچنے کا بہترین راستہ معرفت اور پہچان ہے ۔

اگرہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگوں کے نزدیک محبوبیت حاصل کرنا خدا کے ہاتھ میں ہے ۔(١)

اگرہمیں یہ معلوم ہوکہ عزت و قدرت صرف اسی کے ہاتھ میں ہے ۔(٢)

اگرہمیں یہ معلوم ہو کہ ہمارا فائدہ و نقصان کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔(٣)

اگر ہمیں معلوم ہو کہ خدا کے لئے عمل بجا لانے سے کبھی دو گنا ، کبھی دس گنااور کبھی ستّر گنا اجر و ثواب ملتا ہے تو اس کے غیر کے لئے کوئی کام نہ کریں گے ۔

اگرہمیں یہ معلوم ہو کہ معاشرے میں اونچے مقام پر پہونچ جانے میں کوئی عظمت نہیں ، اس لئے کہ کالا دھواں بھی اونچائی کی طرف جاتا ہے ۔

اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگوں کی نظرا ور توجہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ، اس لئے کہ ایک ہاتھی سڑک پر چلتا ہے تو اس کو بھی سب دیکھتے ہیں ۔

اگر ریاکاری کے خطرات ا ور رسوائی پر توجہ رکھیں ۔

اگرہمیں یہ معلوم ہو کہ ایک ایسا بھی دن آئے گا جب کوئی ایک دوسرے کی فریاد کو نہیں پہنچے گا صرف وہ لوگ نجات پائیں گے جو قلب سلیم رکھتے ہوں گے ۔(٤)

اگر ہمیںیہ معلوم ہوکہ ہم اپنی غلط نیت سے کتنے قیمتی اقدار اور امور کو کھو بیٹھتے ہیں تو اپنے آپ کو قصد قربت اور خالص نیت کے ساتھ عمل کرنے پر آمادہ کریں گے ۔

____________________

١۔ ابراہیم ٣٧. ٢۔ بقرہ١٦٥.

٣۔ مناجات شعبانیہ

٤۔ شعراء ٨٩


غلط نیت کے اثرات

نیت کی بحث کے خاتمہ پر اس کی آفتوں کے بارے میں بھی اشارہ کرتے چلیں جیسا کہ سالم نیت کی برکتوں کے بارے میں بھی اشارہ کر چکے ہیں ۔

١) دعا کا قبول نہ ہونا : امام سجاد ـ فرماتے ہیں : بری نیت دعا قبول نہ ہونے کا سبب ہے۔(١)

اگرنیت خدا کے لئے نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ وہ اس کام کو الٰہی رنگ و عبادت سے دور کرتی ہے بلکہ اگر نیت خراب ہو تو وہ انسان کو خطروں سے بھی دو چار کرتی ہے ۔ امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص قرض لے اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کو ادا نہیں کرے گاتو وہ چور کے برابر ہے۔(٢)

اسی طرح اگر کوئی شادی کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ مہر نہ دے گاتو خدا کے نزدیک وہ زنا کرنے والے کے برابر ہے ۔(٣)

٢) رزق سے محرومیت : امام صادق ـ ارشاد فرماتے ہیں : اگر مومن گناہ کی نیت کرے توپروردگار اس کو رزق سے محروم کردیتا ہے ۔

اس حدیث کی حقیقی مثال ایک باغ کا قصہ ہے جو قرآن میں آیا ہے ۔ قرآن میں سورہ قلم آیت ١٦ سے ٣۰ تک کچھ لوگوں کا واقعہ ہے جن لوگوں کے پاس ایک باغ تھا انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کے پھل چننے کے لئے رات میں جائیں تاکہ فقیروں کو خبر نہ ہو اور ان کو کچھ نہ دینا پڑے ۔ سحر کے

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٧۰ صفحہ ٣٧٥۔

٢۔ وسائل جلد ١٢ صفحہ ٨٦۔

٣۔ وسائل جلد ١٥ صفحہ ٢٢۔


وقت جب وہ باغ میں پہنچے تو دیکھا کہ وہ جل کر راکھ ہوچکا ہے ۔ پہلے ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ شاید وہ راستہ بھٹک گئے ہیں ۔ لیکن ان میں سے ایک شخص جو دوسروں کی نسبت زیادہ عقل مند تھا اس نے کہا : کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ ایسی نیت نہ کرو ۔ تم لوگوں نے فقیروں کو اس سے محروم کرنے کی نیت کی تو خدا نے تم کو ہی اس سے محروم کر دیا ۔ قرآن کریم کے اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی خدا ،نیت کی بنیاد پر ہم لوگوں کو سزا دیتا ہے(١)

اگرچہ یہ بات ایک کلی قاعدہ نہیں ہے ۔

٣) بری نیت شقاوت کا سبب بنتی ہے ۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں :

''مِن الشقاء فساد النیة ''(٢)

بری نیت سنگدلی کی علامت ہے ۔

٤) زندگی میں برکت ختم ہو جاتی ہے ۔ حضرت علی ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :

''عند فساد النیة ترتفع البرکة ''(٣)

جس کی نیت سالم نہیں ہوتی خدا اس سے برکت چھین لیتا ہے اور وہ خدا کی نعمتوں سے اچھی طرح فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔

کہا جاتا ہے کہ کسی سے کہا گیا کہ تمہارے فلاں اچھے کام کی بنا پر تمہاری تین دعائیں قبول ہوں گی ۔ وہ شخص خوش ہوگیا اس نے کہا خدایا ہماری بیوی کو دنیا کی خوبصورت ترین عورت بنادے ۔ اس کی بیوی حَسین ہوگئی ۔ لیکن اس سے اس کی زندگی تلخ ہوگئی ۔ اس لئے کہ اس نے دیکھا کہ سارے لوگ اس کی بیوی پرفریفتہ ہوگئے ہیں ۔ اس نے اپنی دوسری دعا سے فائدہ اٹھایا اور کہا کہ خدایا میری بیوی کو بدصورت ترین عورت کر دے ۔ اس کی دعا قبول ہوگئی ۔ لیکن ایسی عورت کے ساتھ زندگی گذارنا مشکل تھا ۔ لہٰذا اس نے اپنی تیسری دعا سے کام چلایا اور کہا خدایا میری بیوی کو پہلے کی طرح کر دے۔ دعا قبول ہوگئی ۔ اس کی بیوی اپنی پہلی حالت پر پلٹ گئی ۔ اس نے اپنی تینوں دعاؤں کو استعمال کر ڈالا لیکن نتیجہ میں کچھ ہاتھ نہ لگا ۔ یہ ہے برکت کے اٹھ جانے کا مطلب کہ انسان وسائل ہوتے ہوئے بھی ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔

____________________

١۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا ، میں نے ایک جنگی مجروح کو دیکھا جو ویل چئر wheel chair پر بیٹھا ہوا تھا ۔میں اسکے نزدیک گیا ۔ اسکا ماتھا چوما ۔ وہ میرے عطر کی خوشبو کو سمجھ گیا اور مجھ سے کہا '' عطر کی شیشی ہم کو دیدو '' میں نے کہا : '' میں تمہارے لئے عطر خرید کر لاؤں گا یہ شیشی میرے لئے رہنے دو ۔ بہرحال عطر کی شیشی اس کو نہیں دی ۔ اس سے رخصت ہوا ۔ تھوڑی دیر بعد استنجاء کرنے گیا ۔ وہ عطر کی شیشی لیٹرین کے اندر گر گئی ۔ یکبارگی متوجہ ہوا کہ یہ سزا اس کنجوسی کی وجہ سے ملی ہے اسی جگہ پر اپنے اوپر رونے لگا ۔جی ہاں قیامت کے دن یہ پشیمانی و حسرت ہوگی کہ خدا کے لئے کیوں نہ کوئی کام انجام دیا !

٢۔ غرر الحکم حدیث نمبر ١٦١۰.٣۔ غرر الحکم حدیث نمبر ١٦١٥.


تیسرا باب

تکبیرة الاحرام

اللہ اکبر

حجاج کرام کے اوپر سب سے پہلا واجب '' لبیک'' کہنا ہے ۔ اس کلمہ کو اپنی زبان سے ادا کرکے وہ اعمال حج میں داخل ہوتے ہیں اور کچھ چیزیں ان پر حرام ہو جاتی ہیں ۔

نماز بھی '' اللہ اکبر '' کہنے سے شروع ہوتی ہے اور نماز پڑھنے والے پر بھی کچھ چیزیں تکبیر کہتے ہی حرام ہو جاتی ہیں ۔ جیسے کھانا ، پینا ، گفتگو کرنا ، اسی لئے نماز کی پہلی تکبیر کو تکبیرة الاحرام کہتے ہیں ۔حاجی حضرات پورے راستہ ہر بلندی یا پستی پر پہونچتے وقت اورہر نشیب و فراز پر '' لبیک '' کی تکرار کرتے ہیں اور یہ تکرار مستحب ہے۔ نماز پڑھنے والے کے لئے بھی اٹھتے بیٹھتے یا جھکتے وقت مستحب ہے کہ ''اللہ اکبر '' کی تکرار کرے ۔ اللہ اکبر صبح کا سب سے پہلا واجب کلمہ ہے ۔

تکبیر سب سے پہلا کلمہ ہے جس کو ہر مسلمان بچہ پیدا ہوتے ہی اذان و اقامت کے عنوان سے سنتا ہے اور یہ آخری کلمہ ہے جو مسلمان کی میت پر نماز میت میں پڑھا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اسے قبر میں لٹایا جاتا ہے ۔

صرف یہ ایک ایسا ذکر ہے جو نماز میں واجب بھی ہے اور نماز کا رکن بھی ہے ۔

یہ مسلمانوں کے ترانے یعنی اذان کا سب سے پہلا جملہ ہے ۔

یہ ایک ایسا ذکر ہے جو نماز سے پہلے اور نماز کے دوران اور تعقیبات میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے ۔ اس طرح کہ ایک مسلمان ایک دن میں صرف پانچ وقت کی ( واجب ) نمازوں میں تقریبا ً ٣٦۰ مرتبہ اس کی تکرار کرتا ہے ۔

جس کی تفصیل یہ ہے :

١) پانچ وقت کی نمازوں کے لئے پانچ مرتبہ اذان کہے اور ہر اذان میں ٦ مرتبہ '' اللہ اکبر '' کہے ( کل ٣۰ مرتبہ )

٢) پانچ وقت کی نمازوں کو اقامت سے شروع کرے اور ہر اقامت میں ٤ مرتبہ '' اللہ اکبر '' کہا جاتا ہے ( کل ٢۰ مرتبہ )

٣ )پانچ وقت کی ہر نماز میں تکبیرة الاحرام سے پہلے چھ تکبیریں مستحب ہیں اور ساتویں تکبیر وہی تکبیرة الاحرام ہے جو واجب ہے ( کل ٣۰ مرتبہ )


٤) نماز کے شروع میں تکبیرة الاحرام کے طور پر پانچ نمازوں کی٥ تکبیریں ۔

٥) ١٧ رکعتوں میں ہر رکوع سے پہلے ایک تکبیر ( کل ١٧ تکبیریں )

٦) ١٧ رکعتوںمیں ہر رکعت میں دو سجدہ ہیں ہر سجدے میں دو تکبیریں ہیں ۔ ایک سجدہ سے پہلے اور ایک سجدہ کے بعد (کل ٦٨ تکبیریں )

٧) ہر نماز میں ایک قنوت ہے ہر قنوت سے پہلے ایک تکبیر مستحب ہے ( کل ٥ تکبیریں)

٨) ہر نماز پنجگانہ کے آخر میں ٣ تکبیریں مستحب ہیں ۔ ( کل ١٥ تکبیریں )

٩) ہر نماز کے بعد تسبیح حضرت زہرا کے عنوان سے ٣٤ مرتبہ تکبیر کہتے ہیں ۔ (کل ١٧۰ تکبیریں )

لیکن افسوس ہے کہ ہم نے پوری زندگی میں ایک بار بھی توجہ کے ساتھ '' اللہ اکبر '' نہیں کہا۔

اگر انسان مکمل ایمان اور پوری توجہ کے ساتھ ہر روز ٣٦۰ مرتبہ سے زیادہ کہے کہ : اللہ سب سے بڑا ہے ۔تو پھر اس کے بعد دنیا کی کسی قدرت ، سپر پاور اور سازش سے نہیں ڈرے گا۔


دوسری نمازوں میں تکبیر

عید فطر و عید قربان کی صرف نماز ہی میں نہیںبلکہ ان نمازوں سے پہلے اور نمازوں کے بعد بھی تمام دعاؤںمیں تکبیریں ہیں ۔

نماز آیات میں ٥ رکوع ہیں اور ہر رکوع کے لئے تکبیر وارد ہوئی ہے ۔ نماز میت میںتو ٥ تکبیریں رکن نماز ہیں ۔

نماز میں کس طرح سے تکبیر کہیں ؟

اسلام نے ہر کام کے لئے کچھ آداب اور اصول بیان کئے ہیں ۔ '' اللہ اکبر'' کہتے وقت بھی کچھ آداب کی رعایت ہونی چاہئے ۔ ان میں سے بعض یہ ہیں :

١) نماز میں تکبیر کہتے وقت دونوں ہاتھ کان تک بلند کریں ، اس طرح سے کہ ہاتھ جب کان تک پہنچیں تو تکبیر ختم ہو جانی چاہئے ۔ امام رضا ـ نے فرمایا : ہاتھوں کی حرکت؛ حضور قلب اور خدا کی طرف توجہ میں اثر انداز ہوتی ہے ۔(١)

٢ ) ہاتھ کی انگلیاں تکبیر کے وقت آپس میں چپکی ہوئی ہوں اور اوپر کی طرف اٹھیں ۔

٣) ہاتھوں کی ہتھیلیاں قبلہ کی طرف ہوں ۔

روایتوں میں تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنے کو نماز کی زینت کہا گیا ہے ۔(٢)

تکبیر کے معانی

اللہ اکبر : یعنی خدا تمام حسی ، ذہنی ، ملکی اور ملکوتی موجودات سے بڑا ہے ۔

اللہ اکبر : یعنی خدا اس سے بزرگ وبرتر ہے کہ کوئی اسکی تعریف کرسکے ۔

____________________

١۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٧٢٧.

٢۔ بحار جلد ٨٤ صفحہ٣٥١.


ای برتر از خیال و قیاس و گمان و وھم

و زھر چہ گفتہ ایم و شنیدیم و خواندہ ایم

مجلس تمام گشت و بہ پایان رسید عمر

ما ھمچنان در اول وصف تو ماندہ ایم

یعنی خدا ہر خیال و قیاس اور گمان سے بڑا ہے ۔نیز ہم نے جو بھی کہا ، سنا اور پڑھا ،وہ ان سب سے بھی بڑا ہے،مجلس ختم ہوگئی اور عمر بھی آخر کو پہنچی لیکن خدا کی تعریف کی ابھی شروعات ہی ہے۔

امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ جس وقت تکبیر کہو ،تو خدا کے علاوہ تمام چیزیں تمہاری نظر میں چھوٹی ہوجانی چاہئیں ۔(١) ایسا نہ ہو کہ انسان منہ سے تکبیر کہے اور دل کسی اور سے لگا ہو۔ ایسا کرنے والا جھوٹا اور بہانے باز ہے اسی وجہ سے خدا اپنے ذکر کی لذت اس سے چھین لیتا ہے ۔

تکبیر ، اسلامی تمدن میں

نہ فقط نماز بلکہ بہت سارے حساس مقامات پر اللہ اکبر کہنا وارد ہوا ہے ۔ لہذا صدر اسلام میں مسلمان ہر سختی اور خوشی کے موقعہ پر تکبیر کہتے تھے ۔ ہم ان میں سے چند واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

١) جنگ خندق میں ، خندق کھودتے وقت مسلمانوں کے سامنے ایک مضبوط پتھر آیا جس کدال ( گینتی) سے پتھر توڑ رہے تھے وہ خود ٹوٹ گیا لیکن پتھر نہیں ٹوٹا، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشریف لائے۔ آپ نے ایک ہی مرتبہ میں پتھر کو توڑ دیا ۔ مسلمانوں نے ایک ساتھ تکبیر کہی اور اس جگہ پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے فرمایا کہ : میں نے اس پتھر سے اٹھنے والی چنگاریوں میں روم و ایران کے قلعوں کو

____________________

١۔ سر الصلاة صفحہ ٢٨.


گرتے ہوئے دیکھا ہے۔(١)

٢) جنگ صفین میں حضرت علی ـ جب کسی کو قتل کرتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ۔ مسلمان آپ کی تکبیروں کوگن کر پتہ لگاتے تھے کہ آپ نے کتنے دشمنوں کو قتل کیا ہے ۔(٢)

٣) جس رات حضرت فاطمہ زہرا کو حضرت علی بن ابی طالب ـ کے گھر لے جا رہے تھے تو تکبیر کہتے ہوئے ستر ہزارفرشتے زمین پر نازل ہوئے ۔(٣)

٤) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب فاطمہ بنت اسد کے جنازے پر چالیس تکبیریں(٤) اور اپنے چچا حضرت حمزہ کے جنازے پر ستر تکبیریں کہیں۔(٥)

٥) حج کے اعمال میں مستحب ہے کہ شیطان کو کنکریاں مارتے وقت ہر کنکری پھینکتے ہوئے تکبیر کہی جائے ۔(٦)

٦) حضرت زہرا کی تسبیح میں ، جس کا ثواب ہزار رکعت مستحبی نماز وںکے برابر ہے ، ٣٤ مرتبہ تکبیر آئی ہے ۔(٧)

٧) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب پیدا ہوئے تو سب سے پہلا کلمہ جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان مبارک پر آیا وہ اللہ اکبر تھا ۔(٨)

٨) جس روز مسلمانوں کے ہاتھوں مکہ فتح ہوا ، رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسجد الحرام میں داخل ہوئے ، حجر اسود کی طرف اشارہ کیا اور تکبیر کہی ،آپ کے ہمراہ مسلمانوں نے بھی بلند آواز میں ایسی تکبیر کہی کہ مشرکین کے دل دہل گئے ۔(٩)

____________________

١۔ بحار جلد ٢۰ صفحہ ١٩.

٢۔ بحار جلد ٣٢ صفحہ ٦۰.

٣۔ بحار الانوار جلد ٤٣ صفحہ ١۰٤.

٤۔ بحار جلد ٣٥ صفحہ ٧۰.

٥۔ بحار الانوار جلد ٢۰ صفحہ ٦٣.

٦۔ بحار الانوار جلد ١١ صفحہ ١٦٨.

٧۔ بحار الانوار جلد ١٥ صفحہ ٢٦٨.

٨۔ بحار الانوار جلد ١٥ صفحہ ٢٧٣.

٩۔ تفسیر نمونہ جلد ٢٧ صفحہ ٤۰٧


٩) روایتوں میں ہے کہ جس وقت کوئی تعجب آور چیز دکھائی دے تو تکبیر کہو(١)

١۰ ) جنگ اُحد میں کفار کی فوج کے ایک پہلوان نے اپنا مدّ مقابل چاہا ۔ حضرت علی ـ آگے بڑھے اوراسے ایسی ضربت ماری کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تمام مسلمانوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی۔(٢)

١١) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی ـ سے فرمایا : ہر وقت چاند یا آئینہ دیکھو یا کوئی مشکل پیش آئے تو تین مرتبہ تکبیر کہو ۔(٣)

١٢) امام سجاد ـ کے بیٹے جناب زید نے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف قیام کیا تو ان کا نعرہ ہی اللہ اکبر تھا ۔(٤)

١٣) جنگ بدر میں رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن کے سرداروں میں سے نوفل نام کے ایک سردار کی ہلاکت کے انتظار میں تھے، اتنے میں خبر پہنچی کہ حضرت علی ـ نے اس کو قتل کر دیا ۔ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تکبیر کہی ۔(٥)

١٤) جس وقت حضرت علی ـ حضرت زہرا سے شادی کے سلسلے میں تشریف لائے تو رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : ٹھہرو ہم اپنی بیٹی فاطمہ کے سامنے اس مسئلہ کو رکھیں۔ لیکن حضرت زہرا خاموش رہیںاور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کچھ نہ کہا ۔تو پیغمبر گرامیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ''اللہ اکبر سکوتھا اقرارھا ''(٦)

١٥) خوارج سے جنگ میں جب ان کا سپہ سالار ہلاک ہوا تو حضرت علی ـ نے تکبیر کہی

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٩٢ صفحہ ١٢٧.

٢۔ بحار الانوار جلد ٢۰ صفحہ ١٢٦.

٣۔ بحار الانوار جلد ٩٢ صفحہ ١٢٧.

٤۔ کتاب زید بن علی ـ صفحہ ١٨٦.

٥۔ بحار الانوار جلد ١٩ صفحہ ٢٨١.

٦۔ بحار جلد ٤٣ صفحہ ٩٣.


اور سجدہ کیا اور تمام لوگوں نے تکبیر کہی ۔(١)

١٦) یہودیوں کا ایک گروہ مسلمان ہوا ۔ ان لوگوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا کہ سابقہ انبیائ کے جانشین تھے آپ کا وصی کون ہے ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی '' ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں '' ۔(٢)

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ مسجد کی طرف چلیں ۔ جس وقت آپ مسجد میں داخل ہوئے ، توآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیکھا کہ ایک فقیر ہے جو خوشحال ہے اور حضرت علی ـ نے رکوع کی حالت میں اس کو انگوٹھی دی ہے ۔ اس وقت رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تکبیر کہی ۔(٣)

١٧) ائمہ ٪ کے روضہ میں داخل ہوتے وقت تکبیر کہنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ چنانچہ ہم زیارت جامعہ پڑھنے سے پہلے تین مرحلوں میں ١۰۰ مرتبہ تکبیر پڑھتے ہیں ۔ مرحوم مجلسی کے بقول ان تکبیروں کے پڑھنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ائمہ ٪ کے سلسلے میں زیارت جامعہ کے جملوں سے تم غلو میں نہ پڑ جاؤ ۔(٤)

١٨) حضرت علی ـ اپنے فیصلوں میں جب مجرم کا پتہ لگا لیتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ۔(٥)

١٩) میثم تمار جو حضرت علی ـ کی محبت میں ابن زیاد کے حکم سے سولی پر چڑھائے گئے اور نیزے سے ان پر حملہ کیا گیا، شہادت کے وقت جناب میثم کے منہ سے خون نکل رہا تھا اوروہ تکبیر کہہ رہے تھے ۔(٦)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٤١ صفحہ ٣٤١.

٢۔ مائدہ ٥٥.

٣۔ بحار الانوار جلد ٣٥ صفحہ ١٨٣.

٤ بحار الانوار جلد ١٦ صفحہ ٩٩

٥۔ بحار الانوار جلد ٤۰ صفحہ ٢٦۰

٦۔ بحار الانوار جلد ٤٢ صفحہ ١٢٥.


٢۰) شب ِ معراج پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر آسمان سے گزرتے وقت تکبیر کہہ رہے تھے۔(١)

٢١) حضرت جبرئیل رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس تھے ، حضرت علی ـ داخل ہوئے۔ جبرئیل نے کہا : اے محمد ! اس خدا کی قسم جس نے آپ کو پیغمبری کے لئے منتخب کیا ، علی ـ کو آسمانوں کے لوگ زمین کے لوگوں سے زیادہ پہچانتے ہیں ۔ جس وقت علی ـ جنگوں میں تکبیر کہتے ہیں ہم فرشتے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہتے ہیں ۔(٢)

٢٢) جنگ خیبر میں جس وقت مسلمان قلعہ کے اندر داخل ہوئے ،تو وہ ایسی تکبیر یںکہہ رہے تھے کہ یہودی بھاگ کھڑے ہوئے ۔(٣)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٦ صفحہ ٢۰٧.

٢۔ بحار الانوار جلد ٣٩ صفحہ ٩٨.

٣۔ پیامبری و حکومت صفحہ ١٤٦.


چوتھا باب

سورئہ حمد

تکبیرة الاحرام کہنے کے بعد سورئہ حمد پڑھنا ضروری ہے اور اگر نماز میں یہ سورہ نہ پڑھا جائے تو نماز باطل ہے '' لا صلاة الا بفاتحة الکتاب ''(١)

اس سورہ کا دوسرا نام فاتحة الکتاب ہے اس لئے کہ قرآن کریم اسی سورہ سے شروع ہوتا ہے۔ اس سورہ میں سات آیتیں ہیں ۔(٢) جابر بن عبد اللہ انصاری کی روایت کے مطابق رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے: قرآن کے سوروں میں سب سے بہترین سورہ ،سورۂ حمد ہے۔(٣)

صرف سورئہ حمد ایک ایسا سورہ ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ ہر روز کم از کم دس مرتبہ اپنی پنجگانہ نمازوں میں اس کو پڑھے ۔ اس سورہ کی اہمیت میں اتنا کافی ہے کہ روایتوں میں آیا ہے اگر سترّ مرتبہ اس کو مردہ پر پڑھو اور وہ زندہ ہو جائے تو تعجب نہ کرنا ۔(٤)

اس سورہ کا نام فاتحة الکتاب رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں تمام آیتوں کو جمع کر کے کتاب کی شکل دی گئی ہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے اس سورہ کو کتاب کے شروع میں رکھا گیا ہے ۔ سورۂ مبارکۂ حمد کی آیتیں ، خدا اور اس کے صفات ، قیامت ، راہ حق پر چلنے کی درخواست ؛ خدا وند عالم کی حاکمیت و ربوبیت کے قبول کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ اسی طرح ہم اس سورہ میں اولیائے خدا کے راستے پر چلنے کا شوق ، اور گمراہوں نیز جن پر غضب الٰہی

____________________

١۔ مستدرک الوسائل حدیث ٤٣٦٥. ٢۔ سات کا عدد : آسمان سات ہیں ، ہفتہ کے دن سات ہیں ، اسی طرح طواف، صفا اور مروہ کے درمیان سعی (کے چکر)،نیز شیطان کو جو کنکریاں ماری جاتی ہیں ان سب کی تعدادسات ہے۔

٣۔ تفسیر کنز الدقائق

٤۔ بحار الانوار جلد ٩٢ صفحہ ٢٥٧.


نازل ہوا ان سب سے نفرت و بیزاری کو ظاہر کرتے ہیں ۔

سورئہ حمد شفاء کا ذریعہ ہے ، جسمانی درد کی بھی شفاء اور روحانی بیماریوں کی بھی شفائ۔ مرحوم علامہ امینی نے اس موضوع پراپنی کتاب '' تفسیر فاتحة الکتاب '' میں کافی روایتیں نقل کی ہیں ۔

سورئہ حمد میں تربیت کے سبق

١) انسان سورئہ حمد میں( بسم الله ) کہنے کے بعد غیر خدا سے امید ختم کر دیتا ہے ۔

٢) ( ربّ العالمین)و (مالک یوم الدین) کہنے والا ،خداکا بندہ اور مملوک و مربوب ہونے کا احساس کرتا ہے ۔

٣) انسان کلمۂ (ربّ العالمین ) سے اپنے اور عالم ہستی کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے ۔

٤) (الرحمن الرحیم ) سے اپنے کو اس کے وسیع لطف کے سایہ میں دیکھتا ہے ۔

٥) (مالک یوم الدین ) سے قیامت سے غافل نہیں رہتا ہے ۔

٦) (ایاک نعبد ) سے خود خواہی و شہرت طلبی سے دور ہو جاتا ہے ۔

٧) (ایاک نستعین ) سے خدا کے علاوہ دوسروں سے مدد حاصل کرنے کی فکرمیں نہیں پڑتا ۔

٨) (انعمت علیهم ) کے بعد یہ سمجھ جاتا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم اس کے ہاتھ میں ہے لہذا حسد سے الگ رہناچاہیئے کہ حسد کرنے والا خدا کی روزی کی تقسیم پر راضی نہیں ہے ۔

٩) انسان (اهدنا الصراط المستقیم ) کہہ کر راہِ حق پر چلنے کی درخواست کرتا ہے۔

١۰) انسان (صراط الذین انعمت علیهم ) کے ذریعہ خدا کے پیروکاروں سے دلبستگی اور ہم دلی کا اعلان کرتا ہے ۔

١١ ) اور آخر میں (غیر المغضوب علیهم و لا الضآلین ) سے باطل او راہل باطل سے نفرت و بیزاری کرتا ہے ۔


بسم الله الرحمن الرحیم

مختلف قوموں اور لوگوں کے درمیان یہ رسم ہے کہ لوگ اپنے اہم کاموں کو اپنے ان بزرگوں کے نام سے شروع کرتے ہیں ، جن کا وہ احترام کرتے ہیں اور ان سے رغبت رکھتے ہیں ، تاکہ وہ کام مبارک و با برکت ہو جائے اور بخوبی انجام تک پہنچے ۔

البتہ ہر شخص اپنے صحیح یا غلط عقیدہ کے تحت عمل کرتا ہے ۔ بعض لوگ بت یا طاغوت کے نام سے اور بعض لوگ خدا کے نام سے اور اولیائے خدا کے ہاتھوں سے اپنے کام کو شروع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ آج کل رسم ہوگئی ہے کہ اہم عمارت کی بنیاد کے لئے پہلا پھاؤڑا کوئی اہم شخص مارتا ہے(۱) ۔ جنگ خندق میں خندق کو کھودنے کے لئے سب سے پہلا پھاؤڑا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زمین پر مارا تھا ۔

بسم اللہ :سے اللہ کی کتاب کا آغاز ہوتا ہے ۔

بسم اللہ : صرف قرآن کریم کے شروع میں ہی نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں کے شروع میں تھا۔

بسم اللہ : تمام انبیاء کے اعمال کی شروعات ہے ۔ جس وقت جناب نوح ـ کی کشتی طوفان کی موجوں کے درمیان چلی تو حضرت نوح نے اپنے ساتھیوں سے کہا سوار ہو جاؤ (بسم الله مجریٰها و مرسیٰها )(٢) کشتی کا چلنا اور رکنا خدا کے نام سے ہے ۔

____________________

١۔ یہ ایران کی رسم ہے جبکہ ہمارے یہاں اس کے بجائے عمارت کا سنگ بنیاد رکھوایا جاتا ہے.(مترجم)

٢۔ ہود٤١.


حضرت سلیمان ـ نے جب ملکہ ٔسبا کو خدا کی طرف دعوت دی تو اپنے خط کو (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) کے جملہ سے شروع کیا ۔

حضرت علی ـ نے فرمایا کہ ( بسم اللہ ) برکت کی بنیاد ہے ۔ اگر اس کو نہ کہا جائے تو کام کی عاقبت بخیر نہیں ہوتی ۔(١)

اسی طرح ایک شخص ( بسم اللہ ) لکھ رہا تھا آپ نے فرمایا '' جودّھا '' اس کو خوبصورت طریقہ سے لکھو ۔(٢)

ہر کام شروع کرنے سے پہلے ( بسم اللہ ) کہنے کی تاکید کی گئی ہے ۔جیسے کھانا، سونا ، سواری پر سوار ہونا ، نکاح و ہمبستری اور اس کے علاوہ دوسرے تمام کام حتی اگر جانور کو بغیر ( بسم اللہ) کے ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے ۔ یہ اس بات کا راز ہے کہ توحید پرست انسان کی خوراک الٰہی مقصد رکھتی ہو ۔

کیوں ہر کام کو ( بسم اللہ ) سے شروع کریں ؟

جس طرح سے ایک کارخانہ کی بنی ہوئی چیزوں پر اس کی ایک مخصوص علامت '' ٹریڈ مارک'' ہوتی ہے مثلاً چینی کے برتن بنانے والا کارخانہ تمام برتنوں پر اپنا نشان لگاتا ہے ،چاہے چھوٹے برتن ہوں یا بڑے یا ہر ملک اپنا مخصوص جھنڈا رکھتا ہے جو گورنمنٹ کی عمارتوں، پولیس اسٹیشنوں اور فوجی مراکز پر لہراتا ہے ۔ یہ جھنڈا پانی کے جہاز پر بھی ہوتا ہے اور سرکاری میزوں پر بھی۔

اسی طرح خدا کا نام اور اس کی یاد بھی ہر مسلمان کی علامت ہے اور جملہ ٔ(بسم الله )

____________________

١۔ بحار جلد ٧٦ صفحہ ٣٨٥.

٢۔ کنز العمال حدیث ٢٩٥٥٨.


مسلمان کی علامت اور پہچان ہے اور ہر کام چاہے وہ چھوٹاہویا بڑا، ہر جگہ چاہے وہ مسجد ہو یا فیکٹری ، ہر وقت چا ہے صبح ہو یا شام یہ مبارک کلام ہر مسلمان کی زبان پر جاری ہے ۔

اسی لئے ہم حدیث میں پڑھتے ہیں کہ ( بسم اللہ ) کو فراموش نہ کرو حتی ایک شعر لکھنے میں بھی اور جو شخص پہلی بار بچہ کو ( بسم اللہ ) سکھا تا ہے اس کے ثواب کے سلسلے میں بھی کافی حدیثیں وارد ہوئی ہیں ۔(١)

کیا( بسم اللہ الرحمن الرحیم ) سورئہ حمد کا جز اور ایک مستقل آیت ہے ؟ اگر چہ بعض لوگوں نے ( بسم اللہ ) کو سورہ کا جز نہیں سمجھا یا نماز میں اس کو ترک کیا ہے لیکن مسلمانوں نے ان پر اعتراض کیا جیسا کہ ایک روز معاویہ نے نماز میں ( بسم اللہ )کو نہیں پڑھا تو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا '' اسرقت ام نسیت؟ '' تم نے آیت کی چوری کی ہے یا بھول گئے ہو؟(٢)

فخر رازی نے اپنی تفسیر میں ١٦ دلیلیں پیش کی ہیں کہ ( بسم اللہ ) سورئہ حمد کا جز ہے ۔ آلوسی بھی اپنی تفسیر میں یہی نظر یہ رکھتے ہیں ۔ امام احمد بن حنبل اپنی مستدرک میں لکھتے ہیں کہ (بسم اللہ) سورئہ حمد کا جز ہے ۔

اہل بیت رسول اللہ جنکا دور اہل سنت کے فقہی اماموںسے سو سال پہلے شروع ہوا ہے، جو راہِ خدا میں شہید ہوگئے اور قرآن میں ان کی عصمت و طہارت کی تصریح ہوئی ہے ان کا نظریہ ،یہ ہے کہ جملہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) ایک مستقل آیت اور سورہ کا جز ہے ۔

ائمہ معصومین ٪ ہمیشہ یہ اصرار کرتے تھے کہ نماز میں ( بسم اللہ ) بلند آواز میں کہی جائے۔ امام محمد باقر ـ نے ان لوگوں کے بارے میں جو نماز میں ( بسم اللہ ) نہیں پڑھتے

____________________

١۔ تفسیر برہان جلد ١ صفحہ ٤٣.

٢۔ مستدرک حاکم جلد ٣ صفحہ ٢٣٣.


تھے یا اسے سورہ کا جز نہیں سمجھتے تھے ارشاد فرمایا ''سرقوا اکرم آیة '' (١) انہوں نے قرآن کریم کی بہترین آیت کی چوری کی ہے۔

علامہ شہید مطہری نے سورئہ حمد کی تفسیر میں ابن عباس ، عاصم ، کسائی ، ابن عمر، ابن زبیر ، عطاء ، طاؤوس، فخر رازی اور سیوطی کے نام ان لوگوں کی فہرست میںذکرکئے ہیں جو ( بسم اللہ ) کو سورہ کا جز سمجھتے ہیں ۔ البتہ سورۂ برائت ( سورۂ توبہ ) کی ابتدا میں (بسم اللہ ) نہیں آئی ہے ۔

حضرت علی ـ کے ارشاد کے مطابق اس لئے نہیں آئی کہ (بسم اللہ ) امان و رحمت کا کلمہ ہے جومشرکین سے اعلان برائت میں مناسب نہیں ہے۔

بسم اللہ : رنگ الہی کی پہچان ہے اور ہمارے توحیدی انداز کا بیان ہے ۔

بسم اللہ :توحید کی علامت ہے اور دوسروں کا نا م کفر کی علامت ہے اور خدا کے نام کے ساتھ کسی اورکا نام بھی ہو تو یہ شرک کی علامت ہے ۔ نہ تو خدا کے نام کے ساتھ دوسرے کا نام پکارو اور نہ ہی خدا کے نام کے بجائے کسی دوسرے کا نام لو ۔ ( سبح اسم ربک ) کے یہی معنی ہیں کہ حتی خدا کا نام بھی ہر شرک سے پاک رہے ۔

بسم اللہ :بقاء و دوام کی علامت ہے جس میں خدا کا نام نہ پایا جائے وہ فنا ہونے والا ہے۔(٢)

بسم اللہ :خدا سے عشق اور اس پر توکل کا راز ہے ۔

بسم اللہ :تکبر سے دوری کی علامت ہے اور خدا کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار ہے ۔

بسم اللہ : اپنے کاموں کو خدا کے نام کے ذریعے محفوظ کرلینے کا راز ہے ۔

____________________

١۔ مسند احمد جلد ٣ صفحہ ١٧٧ ، و جلد ٤ صفحہ ٨٥.

٢۔ (کلّ شیئٍ هالک الاَّ وجهه ) قصص ٨٨.


بسم اللہ :اپنے کاموں کو تقدس بخشنے کا راز ہے ۔

بسم اللہ :خدا کا ذکر اور اس کو ہمیشہ یاد کرنے کا راز ہے کہ خدایا ! ہم تجھے کسی بھی حال میں فراموش نہیں کریں گے ۔

بسم اللہ :انسان کے ہدف و مقصد کو بیان کرنے والی آیت ہے کہ پروردگارا ! تو ہی میرا مقصود ہے، میرا مقصد نہ لوگ ہیں ، نہ دنیا اور نہ ہوس ہے ۔

بسم اللہ :یعنی صرف اور صرف اسی سے مدد چاہتے ہیں نہ دوسروں سے ۔

بسم اللہ :یہ بیان کرتی ہے کہ سورہ کے مطالب و مفاہیم بارگاہ حق تعالیٰ ا ور مظہر رحمت سے نازل ہوئے ہیں ۔

لفظ اللہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ لفظ اللہ '' الہٰ '' سے نکلا ہے اس کے معنی '' عبد '' ہیں اور اللہ یعنی وہ معبود واقعی اور وہ ہستیجو تمام کمالات کی حامل ہو لیکن بعض نے کہا ہے کہ لفظ اللہ '' وَلَہ '' سے نکلا ہے یعنی دل دے بیٹھنا ، عشق ، حیرت ۔ پس اس لحاظ سے اللہ! یعنی ایسی مقدسذات کہ جس کی جاذبیت نے سب کو متحیر اور اپنا فریفتہ کر لیا ہو ۔

اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ کلمہ '' خدا '' یا '' خداوند'' اللہ کا کامل ترجمہ نہیں ہے اس لئے کہ خدا اصل میں '' خود آی '' تھا جس کا استعمال فلسفہ میں واجب الوجود کی بحث میں کیا جاتا ہے اور کلمہ ''خداوند '' کے معنی'' صاحب ''ہے ۔ جیسا کہ ادبیاتِ فارسی میں کہتے ہیں '' خداوند خانہ '' یعنی صاحب خانہ۔

یہ بات واضح ہے کہ صاحب یا واجب الوجود '' اللہ '' کے کامل معنیٰ نہیں ہیں بلکہ '' اللہ '' یعنی ایک ایسی ذات جو عشق و عبادت کے لائق ہو اس لئے کہ اس میں سارے کمالات پائے جاتے ہیں۔

قرآن مجید میں خدا کے تقریبا ً سو نام آئے ہیں ان میں سے '' اللہ '' سب سے جامع ہے ۔ اصولی طور پر خدا کے سارے نام اس کی ایک صفت کی طرف اشارہ کرتے ہیں نہ یہ کہ وہ خدا کے لئے کوئی پہچان یاعلامت ہوں ۔


جبکہ انسانوں کے نام مختلف قسم کے ہو تے ہیں بعض نام صرف پہچان کے طور پر ہیں جن میں اس لفظ کے معنیٰ پر نظر نہیں ہوتی اور نہ ہی نام کے معنیٰ اور اس شخص کے صفات میں کوئی مطابقت پائی جاتی ہے بلکہ کبھی نام ،صاحب نام کی صفات سے بالکل مختلف ہوتا ہے ، جیسے زیادہ جھوٹ بولنے والے شخص کا نام صادق ہو۔

لیکن اس کے برعکس کبھی نام اس فرد کی صفت بھی ہو تا ہے جو اس کے صفات و کمالات کی طرف اشارہ کرتا ہے جیسے سچے انسان کا نام صادق ہو۔

مثال کے طور پرکچھ نام صرف گھڑی کے الارم کی طرح ہیں جو وقت کے آنے کی پہچان ہیں۔ لیکن بعض نام مؤذن کی آواز کی طرح ہیں جو پہچان بھی ہے اور معنی دار بھی ۔

قرآن ارشاد فرماتا ہے :

(و لله الاسماء الحسنیٰ )

اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں ۔(١)

روایتوں میں خدا کے٩٩ نام آئے ہیں جن کو اسمائے حسنیٰ کہا جاتا ہے ۔روایتوں میں ہے کہ جو شخص بھی خدا کو ان ناموں سے پکارے گااس کی دعا قبول ہوگی ۔(٢) دعائے جوشن کبیر میں ہم خدا

کو ایک ہزار اوصاف کے ساتھ پکارتے ہیں ۔

____________________

١۔ اعراف ١٨۰.

٢۔ تفسیر نمونہ جلد ٧ آیہ ٢٧.


اللہ کے بعد دو کلموں ( رحمن) اور ( رحیم ) کا آنا اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے کام کو لطف و رحمت الہی سے شروع کرے اور یہ جان لے کہ تمام امیدوں اور رحمت کا سرچشمہ خدائے تعالیٰ ہے ۔

اپنے کام کو رحمت کے الفاظ سے شروع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کی سنت لطف اور رحمت ہے اور مناسب یہی ہے کہ انسان اس کی رحمت کے سرچشمہ سے مدد حاصل کرے ۔

رحمن ؛ خدا کا مخصوص نام ہے اس لئے کہ صرف اس کی رحمت وسیع و عریض او رہمیشہ رہنے والی ہے۔ دوسروں کے یہاں یا تو رحمت نہیں ہے یا اس میں وسعت نہیں ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو اس کے عوض دنیاوی یا اخروی جزا کا امیدوار ہوتا ہے ۔ جیسے ہم گا ئے کو اسی لئے گھاس دیتے ہیں تاکہ اس کا دودھ دوہیں ۔

لفظ '' الرحمن '' اور '' الرحیم '' کے سلسلہ میں (الرحمن الرحیم ) کی آیت کے ذیل میں مزیدگفتگو کریں گے ۔


الحمد للہ

حمد ، مدح ، شکر کے کلمات ولو ظاہراً ایک ہی معنیٰ میں ہیں لیکن ہر ایک کا استعمال خاص جگہ پر ہوتا ہے ۔ جیسے لفظ مدح کے معنیٰ تعریف کے ہیں چاہے سچی تعریف ہو اور چاہے ناحق اور چاپلوسی کی وجہ سے تعریف ہو ۔ یہ تعریف چاہے کسی کے کمالات کی خاطر ہو یا ڈر اور لالچ کی بنا پر سامنے والے کو دھوکہ دینے کی وجہ سے یا چرب زبانی کی وجہ سے ہو۔

لفظ شکر کے معنیٰ اس خیر و نیکی کے مقابلہ میں شکریہ ادا کرنا ہے جو دوسروں سے انسان تک پہنچی ہے ۔ لیکن لفظ '' حمد '' میں تعریف و شکر کے علاوہ دوسرے معانی بھی پوشیدہ ہیں اور وہ معانی عبادت ا ور پرستش کے ہیں ۔یعنی ایسا شکرا ور تعریف جو عبادت کی حد تک پہنچے وہ حمد ہے پس مد ح و شکر دوسروں کے لئے جائز ہے لیکن حمد فقط خدا سے مخصوص ہے اس لئے کہ عبادت فقط خدا سے مخصوص ہے ۔

اگر چہ ( الحمد للہ ) کے بعد خدا کی چار صفتیں آئی ہیں ۔رب العالمین ، الرحمن ، الرحیم ، مالک یوم الدین ۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ انسان خدا کی عظمت و الطاف کی خاطر ہمیشہ اس کی حمد کرے ۔ لیکن ان سب سے پہلے '' للہ '' آیا ہے یعنی حمد صرف خدا کے لئے ہے ۔ اگر فرض کریں کہ خدا کی یہ صفتیں حمد کے ساتھ نہ بھی آئی ہوتیں تو بھی حمد، اللہ ہی کے لئے ہے کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے ۔


ربّ العالمین

خدا ہر چیز کا پروردگار ہے ۔ جو چیزیں بھی زمین و آسمان کے درمیان ہیں خدا ان سب کا پروردگار ہے۔

(ربّ السمٰوات و الارض و ما بینهما )(١) و (هو ربّ کل شیٔ )(٢)

حضرت علی ـ عالمین کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

'' من الجمادات و الحیوانات '' یعنی وہ جمادات و حیوانات ، جاندار و بے جان سب کا پروردگار ہے ۔

اگرچہ کبھی قرآن میں ( عالمین )سے انسان مراد ہیں ۔ لیکن بیشتر جگہوں پر عالم یعنی مخلوقات اور عالمین کے معنیٰ تمام مخلوقات ہیں ۔ اس آیت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ تمام عالم ہستی

____________________

١۔ مریم ٦٥.

٢۔ انعام ١٦٤.


کا پروردگار ہے ۔ لہٰذازمانہ ٔ جاہلیت یا دوسری قوموں میں جویہ عقیدہ رائج تھا کہ ہر موجود کے لئے ایک الگ خدا ''ربّ النوع'' ہے یہ ایک باطل فکر ہے ۔ خدا وند عالم نے ہر موجود کی خلقت کے بعد اسکی ترقی و تکامل کا راستہ معین کر دیا ہے اور الہی تربیت ہی اس کی ہدایت کا راستہ ہے ۔ (ربّنا الذ اعطیٰ کل شیئٍ خلقه ثم هدیٰ )(١) ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کے مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے ۔

اللہ وہ ہے جس نے شہد کی مکھی کویہ سکھایا کہ پھول سے کیسے شہد نکالے ، چیونٹی کو سکھایا کہ سردی کے لئے میں کیسے اپنی غذا ذخیرہ کرے اور انسان کے بدن کو ایسا بنایا کہ خود بخود خون بنائے ۔ ہاں ایسا خدا شکر و ستائش کے لائق ہے انسان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جمال و کمال کی تعریف اور نعمت و احسان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔خداوند عالم اپنے کمال و جمال کی وجہ سے تعریف کے لائق اور نعمت و احسان کی وجہ سے شکر کا حقدارہے ۔

البتہ خدا کے شکر کے ساتھ مخلوق کا شکر ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر شرط یہ ہے کہ خدا کے حکم سے ہو اور اس کے راستے سے ہٹ کر نہ ہو ۔ اگرچہ حقیقت تو یہ ہے کہ جو شخص بھی جس زبان میں بھی جس طریقے سے بھی دوسروں کی تعریف کرتا ہے وہ در حقیقت اس کے خالق اور سرچشمہ کی حمد کرتا ہے ۔

(ربّ العالمین ) یعنی خدا اور مخلوقات کے درمیان کا رابطہ مضبوط اور دائمی رابطہ ہے ۔

(ربّ العالمین ) یعنی ترقی و تربیت کا امکان سب کے لئے موجود ہے ۔ فقط اچھے لوگ ہی نہیں بلکہ برے لوگ بھی خدا کی نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں: (کُلَّا نمد هولاء و هولاء )(٢)

____________________

١۔ طہٰ ٥۰.

٢۔ اسراء ٢۰.


خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے : کہ ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ہر ایک کے لئے میدان فراہم ہے تاکہ وہ اپنے مقصد تک پہنچ سکے ۔

لیکن چونکہ دنیا رکاوٹوں ا ور مزاحمت کی جگہ ہے لہٰذا طبیعی ہے کہ ہر شخص اپنی تمام آرزؤں تک نہیں پہنچ سکتا ۔

(ربّ العالمین )یعنی خداوند ہر چیز کا مالک بھی ہے اور ان کا پا لنے والا بھی ۔ لفظ ''ربّ '' کی اصل یا '' ربی '' ہے جس کے معنیٰ رُشد و تربیت ہیں۔ یا یہ لفظ '' ربّ'' سے لیا گیا ہے جس کے معنیٰ صاحب کے ہیں ۔ یعنیٰ خدا وند متعال دنیا کا صاحب بھی ہے اور اس کی تربیت کرنے اور اسے پالنے والا بھی۔(له الخلق و الامر تبارک الله ربّ العالمین )(١)

اسی کے لئے خلق بھی ہے اور امر بھی وہ نہایت ہی صاحب برکت اللہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے ۔

روایتوں کے مطابق کلمہ ( الحمد للہ ربّ العالمین ) خدا کی نعمتوں کا بہترین شکریہ ہے لہٰذا تاکید کی گئی ہے کہ ہر دعا سے پہلے خدا وند متعال کی حمد کرو ،ورنہ دعا ادھوری ہے ۔

نہ صرف دعا و مناجات سے پہلے بلکہ اہل بہشت ہر کام کے آخر میں بھی اسی ذکرکی تکرار کرتے ہیں : (و آخر دعواهم انِ الحمد لله ربّ العالمین )(٢)

الرحمن الرحیم

ان دو کلموں کا ترجمہ ''بخشنے والا مہربان ''،کامل اورجامع ترجمہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ علامہ شہید مطہری کے بقول بخشنے والا مہربان ؛ جواد و رؤف کا ترجمہ ہے نہ کہ رحمن و رحیم کا ۔ حقیقت یہ ہے

____________________

١۔اعراف ٥٤.

٢۔ یونس ١۰.


کہ فارسی حتی اردومیں ان دونوں لفظوں کا ترجمہ یا اس کا ہم معنی لفظ موجود نہیں ہے ۔

گرچہ '' رحمن '' و ''رحیم '' یہ دونوں لفظ '' رحمة '' سے ماخوذ ہیں ، لیکن رحمن ، اللہ کی اس وسیع رحمت کو کہا جاتا ہے جو ابتدائی رحمت ہے اور جو تمام انسانوں کے لئے ہے ۔ لیکن رحیم ایسی رحمت ہے جو نیک لوگوں کے اچھے اعمال کے نتیجہ و جزا میں صرف انھیںپر نازل ہوتی ہے ۔ لہذا امام جعفر صادق ـ کے ارشاد کے مطابق خدا وند عالم تمام مخلو قات کے لئے ''رحمن ''ہے لیکن صرف مو منین کے لئے ''رحیم ''ہے (کتب علی نفسه الرحمة ) (١) اس کی کتاب؟اورپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں ہی عالم ہستی کے لئے رحمت ہیں : (رحمة للعالمین )(٢)

اس کا نظام تعلیم تربیت رحمت کی بنیاد پر استوار ہے اس کی سزا و عذاب معلم کی چھڑی کی طرح تربیت کے لئے لازمی اور ضروری ہے ۔ گناہوں کی بخشش،اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنا اور ان کے عیوب کو چھپانا ،پچھلی کمیو ں کی تلافی کے لئے فرصت دینا اس کی وسیع رحمت کے جلوے ہیں ۔

در حقیقت عالم ہستی اس کی رحمت کا جلوہ ہے ۔ اس کی طرف سے ہر موجود کو جو بھی پہنچتا ہے اس کا لطف و رحمت ہے ۔ لہذا قرآن کریم کی ساری سورتیں(بسم الله الرحمن الرحیم ) سے شروع ہوتی ہیں ۔

رب العالمین کے سا تھ الر حمن الر حیم یعنی تر بیت الٰہی کی بنیاد رحمت و کرم ہے جس طرح اس کی تعلیم بھی رحم و کرم پر استوار ہے ۔

(الرحمن علم القرآن )(٣) یعنی مہربان خدا نے انسان کو قرآن کی تعلیم دی ہے ۔

یہ ہم انسانوں کے لئے ایک درس ہے کہ استاد اور تربیت دینے والا ہمیشہ مہربان و رحیم ہوناچاہئے ۔

____________________

١۔ انعام ١٢.

٢۔ انبیاء ١۰٧

٣۔ الرحمن ٢.


مالک یوم الدین

وہ روز جزا ( قیامت ) کا مالک ہے ۔ خدا مالک بھی ہے اور مَلِک بھی۔ عالم ہستی؛ اس کی مالکیت کے تحت مِلک ہے اور مُلک اس کی حکومت و سلطنت کے تحت ہے ۔ اس کی مالکیت بہت وسیع ہے جس میں ساری چیزیں شامل ہیں حتی حکومت بھی اس کی مالکیت کے تحت ہے:

(قل اللّٰهم مالک الملک )(١)

جیسا کہ انسان بھی اپنے اعضائے بدن کا مالک بھی ہے اور ان کا حاکم و فرمانروا بھی ۔

خداوند عالم کی مالکیت حقیقی ہے نہ کہ اعتباری ، فرضی اور بنا ئو ٹی ۔ خدا دنیا کا بھی مالک ہے اور آخرت کا بھی ۔ لیکن چونکہ انسان دنیا میں خود کو اشیاء اورامور کا مالک سمجھتا ہے لہٰذا ان کے اصل مالک ( خدا ) سے غافل ہو جاتا ہے ۔ البتہ اس روز جب تمام اسباب منقطع اور نسبتیں مفقود ہو جائیں گی اور زبانوں پر مہر لگ جائے گی اس وقت خدا کی مالکیت کا اچھی طرح احساس کرے گا اور اس کی سمجھ میں آجائے گاایسے شخص سے خطاب ہوگا (لمن الملک الیوم )آج حکومت کس کی ہے؟ اور جب اس کی آنکھیں کھلیں گی تووہ کہے گا (لله الواحد القهار )(٢)

نمازی ہر نماز میں جویہ کہتا ہے خدا (مالک یوم الدین )ہے اس سے ہمیشہ معاد و قیامت یاد رہتی ہے اور وہ ہرکام کرنے سے پہلے حساب و کتاب اور روز جزا کی فکر کرتا ہے ۔

____________________

١۔ آل عمران ٢٦.

٢۔ مؤمن ١٦.


لفظ دین

کلمۂ دین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے :

١) شریعت و قانون الہی : جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :

(انّ الدین عند الله الاسلام )(١)

دین ؛ اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے ۔

٢) عمل و اطاعت : جیسا کہ قرآن فرماتا ہے (لله الدین الخالص )(٢) دین خالص ( عمل خالص ) خدا کے لئے ہے ۔

٣) حساب و جزا : جیسا کہ آیۂ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے (مالک یوم الدین ) قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ( یوم الدین )ہے ۔ یعنی جزا و سزا کا دن ۔ چنانچہ قرآن مجید قیامت کا انکار کرنے والوں کی بات نقل کر رہا ہے کہ (یسئلون ایان یوم الدین )(٣) یہ پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کا دن کب آئے گا؟

دوسری جگہ پر اسی دن کے تعارف میں فرماتا ہے : (ثم ما ادریٰک ما یوم الدین یوم لا تملک نفس لنفس شیئا و الامر یومئذ لله )(٤)

پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا (قیامت)کا دن کیسا ہے ؟ ! اس دن کوئی کسی کے بارے میں کسی قسم کا اختیار نہ رکھتا ہوگا اور سارا اختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہوگا ۔

(مالک یوم الدین )ایک طرح کی دھمکی ہے کہ اے نماز پڑھنے والو ابھی سے کل کی فکر میں رہو ۔ کل کا دن (لا ینفع مال و لا بنون )ہے(٥) جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا ۔

____________________

١۔ آل عمران ١٩.

٢۔ زمر ٣.

٣۔ ذاریات ١٢.

٤۔ انفطار ١٩.

٥۔شعراء ٨٨


ایسا کل کہ (لن تنفعکم ارحامکم )(١) یقینا تمہارے قرابت دار اور تمہاری اولاد روزِ قیامت کام آنے والی نہیں ہے ۔ وہ ایسا کل ہے کہ جس میں نہ زبان کو عذر پیش کرنے کی اجازت ملے گی اور نہ فکر کو تدبیر کرنے کی ، صرف ایک چیز کارساز و چارہ ساز ہوگی اور وہ ہے لطف خدا ۔

(الرحمن الرحیم ) کو (مالک یوم الدین )کے ہمراہ قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ڈر اور امید ایک ساتھ ہوں ۔ تشویق و تنبیہ ایک ساتھ ہو ۔

جب کہ قرآن کر یم ایک دوسری آیت میں ارشاد فرماتا ہے

(نبیٔ عباد انّ انَا الغفور الرحیم و انّ عذاب هو العذاب الالیم )(٢)

میرے بندوں کو خبر کر دو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں اور میرا عذاب بھی بڑا درد ناک ہے ۔

دوسری آیت میں قرآن مجید خدا کو اس طرح سے پہچنوا رہا ہے

(قابل التوب شدید العقاب )(٣)

یعنی خداوند عالم توبہ کا قبول کرنے والا بھی ہے شدید عذاب کرنے والا بھی ہے ۔

بہر حال (الرحمن الرحیم ) امید دینے والا ہے اور (مالک یوم الدین ) ڈرانے والا جملہ ہے ۔ مسلمان کو چاہیئے کہ ڈر اور امید کے درمیان رہے تاکہ نہ تو غرور پیدا ہو اور نہ ہی رحمت الہی سے مایوسی ۔

____________________

١۔ ممتحنہ ٣.

٢۔ حجر ٤٩ ، ٥۰.

٣۔ غافر ٣.


ایاک نعبد و ایاک نستعین

پروردگار! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ (ایاک نعبد ) یعنی صرف تیرے بندے ہیں ، دوسروں کے بندے نہیں ۔ اس جملہ کے دو رخ ہیں ۔ ایک اس کی بندگی کا اقرار ، دوسرے غیروں کی بندگی سے انکار ۔

جی ہاں ! کامل مکتب ؛ خدا کے ایمان کے ساتھ طاغوت سے بھی انکار کرتا ہے اور جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں لیکن طاغوت کی حکمرانی بھی قبول کرتے ہیں وہ لوگ آدھے مسلمان ہیں اور شاید مسلمان ہی نہیں ہیں ۔ خداوند عالم پر ایمان اور اس کے ساتھ طاغوت سے انکار یعنی ایک مسلمان قیدی شرک کے، بھنور میں پھنسنے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یگانگت و قدرت کے مرکز میں پناہ حاصل کرے ۔

لہٰذا نماز پڑھنے والا نماز میں صرف اپنے کو نہیں دیکھتاکہ اپنی فکر میں رہے بلکہ تمام توحید پرستوں کی نمائندگی میں بات کرتا ہے کہ : خدایا ! میں تنہا اس قابل نہیں کہ تیری عبادت کی لیاقت رکھتا اسی لئے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ آیا ہوں اور ہم سب تیری ہی عبادت کریں گے نہ فقط میں ،بلکہ ہم سب لوگ تجھ سے مدد چاہتے ہیں ۔اسی بنا پر اصل میں نماز کوجماعت سے پڑھنا چاہیئے اور فرادیٰ نماز ،توجماعت قائم نہ ہونے پر ہے ۔

اس سے پہلی والی آیتوں نے ہم کو توحید نظری اور خدا کی صحیح شناخت کرائی اور یہ آیت توحید عبادی و عملی کوبیان کر رہی ہے یعنی نہ صرف یہ کہ خدا کو ایک جانو بلکہ عمل میں بھی صرف ایک کی عبادت کرو اور یگانہ پرست رہو ۔


تم کیوں رحمن و رحیم ، ربّ اور مالک خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی غلامی اختیار کرتے ہو؟! صرف خدا کے بندے رہو نہ مشرق و مغرب کے اور نہ مال و طاقت کے بندے اور نہ ہی طاغوت کے۔ حتی صالح و نیک لوگوں کی اطاعت و بندگی کا بھی تمہیں حق حاصل نہیں ، مگریہ کہ جب خدا اجازت یا حکم دے ۔ چنانچہ اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں فرماتا ہے (مَن یطع الرسول فقد اطاع الله )(١) '' جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کی اس نے خدا کی پیروی کی '' ۔ چنانچہ اگر والدین کی اطاعت کریں اس لئے کہ اس نے حکم دیا ہے تو یہ حقیقت میں خدا کی اطاعت ہے ۔

انسان کو چاہیئے کہ اپنی عقل کی بنا پر فقط خدا کی بندگی قبول کرے ، اس لئے کہ ہم انسان ؛ کمال کے عاشق ہیں اور ترقی و تربیت کے محتاج ،اور خداوند عالم میں تو تمام کمالات پائے جاتے ہیں اور وہ تمام مخلوقات کا ربّ ہے ۔

اگر ہم مہر و محبت کے ضرورت مند ہیں تو وہ رحمن و رحیم ہے ۔

اگر آئندہ کے بارے میں فکر مند ہوں تو وہ صاحب اختیار ہے اور اس دن کا مالک ہے پھر کیوں دوسروں کی طرف جائیں اور ان سے مدد چاہیں ؟ !۔

(ایاک نعبد ) یعنی لوگوں کے ساتھ ہیں لیکن تیرے علاوہ کسی اور کو نہیں چاہتے اور نہ مسلمانوں کے سماج اور معاشرے سے الگ ہوئے ہیںکہ تیری مخلوق کو بھول جائیں اور نہ ہی معاشرے میں ڈوب گئے کہ تجھ خالق کو چھوڑ دیں بلکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی طرف جانے والا راستہ مخلوق کے درمیان سے گزرتا ہے ۔

(ایاک نستعین ) یعنی اگرچہ وہ اسباب اور وسائل جو تو نے دنیا میں قرار دیئے ہیں ، ہم ان کواستعمال کرتے ہیں لیکن یہ جانتے ہیںکہ ہر وسیلہ کا اثر اور سبب کا مؤثرہونا تیرے ہاتھ میں ہے ۔ تو سب کو با اثر یا بے اثر کرنے والا ہے ۔ تو ہر چیز کو سبب بنانے والا ہے اور تو ہی اس کے اثر کو ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ تیرا ارادہ تمام قوانین پر حاکم ہے اور کا ئنات تیرے ارادے کے سامنے محکوم و مجبور ہے ۔

(ایاک نعبد ) یعنی صرف تو عبادت کے لائق ہے اور ہم ڈر اور لالچ کی وجہ سے نہیں

____________________

١۔ نساء ٨۰.


بلکہ عشق و محبت کی وجہ سے تیری عبادت کرتے ہیں کون سا محبوب تیرے علاوہ ہم سے نزدیک تر اور مہربان تر ہے ؟

(ایاک نعبد و ایاک نستعین )یعنی نہ تو جبر اور نہ ہی تفویض ۔ کیونکہ ہم '' نعبد '' کہتے ہیں پس اختیار کے مالک ہیں اور چونکہ '' نستعین '' کہتے ہیں پس محتاج ہیں اور تمام امور ہمارے اختیار میں نہیںہیں۔

(ایاک نعبد و ایاک نستعین ) یعنی نماز کو جماعت سے پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ایک صف میں بھائی چارگی اور انسانیت کے ساتھ متحد ہیں ۔

(ایاک نعبد ) یعنی خدایا تجھ کو ہم اپنے اوپر حاضر و ناظر سمجھتے ہیں ۔ اسی لئے کہتے ہیں ( ایاک ) اور وہ بندے جو تجھے حاضر و ناظر سمجھتے ہیں وہ جلدی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

ہم سورۂ حمد کے شروع میں خدا سے غائبانہ باتیں کر رہے تھے لیکن یہاں پر اس کے سامنے اور براہ راست منزل خطاب میں پہنچتے ہیں ۔ پہلے خدا کی صفات سے آگاہ ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ خود اس تک پہنچتے ہیں اور وہ بھی صرف ایک مرتبہ نہیں چونکہ محبوب سے گفتگو شیریں ہوتی ہے اس لئے لفظ (ایاک) کی تکرار کرتے ہیں ۔


خدایا ! اگر چہ عبادت ہم کررہے ہیںلیکن عبادت کرنے میں بھی تیری مدد کے حاجتمند ہیں :

(و ما کنا لنهتد لولا انْ هدٰنا الله )(١)

اور اگر اس ( خدا ) کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم یہاں تک آنے کا راستہ نہیں پا سکتے تھے۔

اگرچہ ہم صرف اسی سے مدد چاہتے ہیں لیکن دوسروں سے مدد حاصل کرنا اگر اس کی مرضی سے ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ بالکل اس طرح جیسے انسان اپنی استعداد ، طاقت اور فکر سے مدد لیتا

ہے یہ وحدانیت کے خلاف نہیں ہے خدائے تعالیٰ نے خود ہم کو حکم دیا ہے (تعاونوا ) اس لئے کہ زندگی مدد کے بغیرممکن نہیں ہے۔

حضرت علی ـ نے ایک شخص سے (جو یہ دعا کر رہا تھا کہ خدایا ہم کو لوگوں کا محتاج نہ کر نا) فرمایا : یہ بات صحیح نہیں ہے بلکہ یہ کہو خدایا ہم کو برے لوگوں کا محتاج نہ کر نا، اس لئے کہ زندگی بغیر مدد اور تعاون کے ممکن نہیںہے ۔

سچے دل سے (ایاک نعبد )کہنے والے میں تکبر و غرور اور خود پسندی نہیں رہتی اور وہ خدا کے حکم کے آگے خاضع اور اس کی اطاعت کرنے والا ہے ۔ وہ یہ جانتا ہے کہ خدا وند متعال نے کیو نکہ بہت زیادہ اس پر لطف کیا ہے لہٰذا آخری حد تک اپنے کو حقیر بنا کے اس کی بارگاہ میں پیش کرے جیسے مجسم غلام اپنے مطلق آقا کے سامنے کھڑا ہو اور نہایت خضوع کے ساتھ کہے کہ : ہم تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا مولا و آقا ۔ تیرے علاوہ ہمارا کوئی نہیں لیکن تیرے لئے ہمارے علاوہ بہت ہیں ۔ تجھ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں بلکہ ہم سراپا تیرے لطف و کرم کے محتاج ہیں لہٰذاضروری ہے کہ ہم تجھ ہی سے مدد مانگیں ۔

____________________

١۔اعراف ٤٣.


اھدنا الصراط المستقیم

خداوندا !ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت فرما ۔ کاروان ہستی خداوند عالم کی طرف رواں دواں ہے ۔ (الیه المصیر )(١) اور انسان بھی کوشش اور حرکت میں ہے (انک کادح الی ربک )(٢) اور ہر حرکت میں صرف ایک راستہ سیدھا ہوتا ہے باقی راستے منحرف کرنے والے ہوتے ہیں، اسلام نے اس حرکت کے لئے راستہ بھی معین کیا اور راستہ دکھانے والا بھی ، جہاں جانا

____________________

١۔ مائدہ ١٨.

٢۔ انشقاق ٦


ہے اس کو بھی مشخص کیا اور آگے بڑھنے کا وسیلہ بھی انسان کے اختیار میں دیدیاالبتہ یہ ہم خودطے کریں کہ ہمیں کس راستہ پر جانا ہے۔

پروردگار عالم نے انسان کی فطرت میں ترقی و کمال اور حق طلبی کی چاہت کو راسخ کر دیا ہے اگر یہ چاہت و کشش انبیاء کی تعلیمات کے سائے میں پروان چڑھے تو خداوند عالم کی خاص عنایت کا باعث ہوگی (و الذین اهتدوا زادهم هدیً )(١) اور جن لوگوں نے ہدایت حاصل کر لی خدا نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا اور ان کو مزید تقویٰ عنایت فرما دیا ۔ ''

قرآن کریم دو طرح کی ہدایت بیان کرتا ہے ایک ہدایت ِ تکوینی جیسے شہد کی مکھی کی ہدایت کہ پھولوں سے کیسے رس چوسے اور شہد بنائے اور دوسری ہدایت تشریعی ہے جو انسانوں سے مخصوص ہے ۔ یہی ہدایت انبیاء الٰہی کی رہنمائی ہے ۔

صراط مستقیم کونسا راستہ ہے ؟

لفظ صراط، قرآن مجید میں ٤۰ بار سے زیادہ آیا ہے ۔ اس کے معنی : ہموار ، وسیع ، روشن اور چوڑے راستہ کے ہیں ۔ انسان کی زندگی میں متعددراستے موجود ہیں، جن میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔

اپنی ہوس کا راستہ ، لوگوں کی ہوس کا راستہ ، طاغوت کا راستہ ، قومی اور نسلی تعصبات کی وجہ سے اپنے اسلاف کا راستہ ، شیطانی وسوسوں کا راستہ ، غیر مجرّب راستہ اور بالآخر خدا اور اولیائے خدا کا راستہ۔

فطری بات ہے کہ خداوند متعال پر اعتقاد رکھنے والا انسان اتنے راستوں میں سے صرف خدا اور اولیائے خدا کے راستہ کا انتخاب کرتا ہے ۔ اس لئے کہ اس راستہ میںایسی خصوصیتیں مو جود

____________________

١۔ محمد ١٧.


ہیں جو دوسرے راستوں میں نہیں پائی جاتی ہیں۔

٭ یہ سیدھا راستہ ہے جودو نقطوں کے درمیان سب سے چھوٹا راستہ ہے ۔ لہذا مقصد تک پہنچنے کے لئے یہی راستہ سب سے نزدیک راستہ ہے ۔

٭ اللہ کا راستہ ثابت ہے ۔ دوسرے راستے، اپنی یا دوسروں کی ہویٰ و ہوس کی خاطر بدلتے رہتے ہیں ۔

٭ سیدھا راستہ ایک سے زیادہ نہیں ہے اس لئے کہ دو نقطوں کے درمیان صرف ایک سیدھی لکیر ہوتی ہے ۔ لیکن دوسرے راستے زیادہ ہیں ۔

٭ دوسرے راستوں کے بر خلاف مطمئن او ربے خطر راستہ ہے کیو نکہ ان میں انسان ہمیشہ پھسلنے کے خطرے سے دوچار ہتاہے ۔

٭ ایسا راستہ ہے جو انسان کو مقصد یعنی رضائے خدا تک پہنچاتا ہے اس میں شکست اور نا کامی کا وجود نہیں پایا جاتا ۔

٭ سیدھا راستہ ، خدا کا راستہ ہے (انّ رب علی صراط مستقیم )(١)

٭ سید ھا راستہ انبیاء کا راستہ ہے(انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم )(٢ )

٭ سید ھا راستہ ، خدا کی بندگی کا راستہ ہے (و ان اعبدون هذا صراط مستقیم )(٣)

٭ سید ھا راستہ ، خدا پر توکل و انحصار ہے (و مَن یعتصم بالله فقد هُد الی صراط مستقیم )(٤)

انسان کو چاہیئے کہ راستہ کے انتخاب میں بھی خدا سے مدد مانگے اور اس پر چلنے اور باقی

____________________

١۔ ہود ٥٦.

٢۔ یٰس ٣، ٤

٣۔ یٰس ٦١.

٤۔ آل عمران ١۰١


رہنے میں بھی ۔ جیسے بلب کو جلنے کے لئے ہر وقت ٹرانسفارمر سے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہذا صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ خاصان خدا کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہر نماز میں صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی دعا خدا سے کریں ۔ نہ صرف نماز کی حالت میں بلکہ ہر حال میں اور ہر کام میں ، چاہے کسی کام کا انتخاب ہو یا کسی دوست کا انتخاب ، شادی کا مسئلہ ہو یا حصول علم کا ، ہمیشہ خدا سے چاہیں کہ ہم کو صراط مستقیم پر قرار دے ۔

اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ عقا ئد میں تو انسان کی فکر صحیح ہولیکن عمل میں لغزش پیدا ہو جائے یا اس کے برعکس ۔

٭ صراط مستقیم اعتدال اور میانہ روی کا راستہ ہے ۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں :

'الیمین و الشمال مضلة و الطریق الوسطیٰ هی الجادة ''(١)

یعنی دائیں بائیں انحراف ہے اور سعادت کا راستہ درمیانی ہے ۔

٭ صراط مستقیم یعنی ہر قسم کی افراط و تفریط سے دوری ، نہ تو حق سے انکار اور نہ حق میں غلو ، نہ جبر اور نہ تفویض، نہ فرد اصل ہے اور نہ سماج سب کچھ ہے ، نہ فقط عقل اور ذہن و خیال اور نہ فقط عمل ، نہ دنیا پرستی اور نہ آخرت سے دوری ، نہ حق سے غفلت اور نہ خلق سے غفلت ، نہ فقط عقل اور نہ فقط جذبات ، نہ پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینا اور نہ شہوتوں میں غرق رہنا، نہ کنجوسی اور نہ اسراف ، نہ حسد اور نہ ہی چاپلوسی ، اور نہ ڈرا ور نہ ہی با لکل بے باکی وغیرہ وغیرہ ۔

بلکہ عقیدہ ہو یا فکر وعمل ہو اور یا کردار ، ہر جگہ میانہ روی کا راستہ منتخب کریں ۔

سیدھے راستہ پر چلنے کے لئے ہمیشہ خدا سے مدد مانگیں اس لئے کہ یہ راستہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے اور ہر وقت گرنے کا خطرہ لاحق ہے ۔ جو شخص یہ چاہتا ہے

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٧ صفحہ ٣.


کہ صراط قیامت کو پار کرلے وہ پہلے دنیا میں اللہ کے سید ھے راستہ سے منحرف نہ ہو ۔ چاہے وہ انحراف فکری ہو یا عملی اور یا اخلاقی انحراف ہو۔

کو ئی جبر کا قائل ہو جاتا ہے اور سارے کاموں کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے گویا انسان بے ارادہ اور بے اختیار ہے اور وہ اپنی عاقبت میں کوئی اثر نہیں رکھتا اور دوسرا اپنے ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے ۔ جو دل چاہے وہ کرتا ہے خدا کے ہاتھ میں کچھ نہیں جانتا ۔ ایک آسمانی رہبروں کو عام لوگوں کی طرح سمجھتا ہے اور دوسرا ان کوخدا کے برابر بلند کرتا ہے اور حضرت مسیح ـ کو خدا کا بیٹا بلکہ خدا ہی سمجھتا ہے۔

ایک اولیائے خدا کی زیارت اور ان سے توسل کو شرک جانتا ہے دوسرا حتی درخت اور دیوار سے بھی متوسل ہوتا ہے ۔ ایک بے جا غیرت کی بنا پر اجازت نہیں دیتا کہ اس کی بیوی گھر سے باہر نکلے ۔ دوسرا بے غیرتی کی بنا پر اپنی بیوی کو بے پردہ کوچہ و بازار میں بھیجتا ہے ۔ یہ سب خدا کے سیدھے راستہ سے انحراف ہے ۔ خدا ارشاد فرماتا ہے : آپ کہہ دیجیئے کہ میرے پروردگار نے مجھے سیدھے راستہ کی ہدایت دی ہے جو ایک مضبوط دین ہے (قل انن هدیٰن رب الی صراط مستقیم دینا قیما )(١)

دوسری جگہ پر ارشاد فرماتا ہے کہ : ہم نے تم کو درمیانی امت قرار دیا ہے تا کہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو (جعلنا کم امة وسطا لتکونوا شهداء علی الناس )(٢)

روایتوں میں آیا ہے کہ ائمہ معصومین ٪ فرماتے ہیں کہ مستقیم راستہ ہم ہیں ۔یعنی صراط مستقیم کے حقیقی اور عملی نمونے اور اس راستہ پر چلنے کیلئے آسمانی رہبرہمارے لئے نمو نہ ٔ عمل ہیں۔

____________________

١۔ انعام ١٦١.

٢۔ بقرہ ١٤٣.


انہوں نے اپنے اقوال میں زندگی کے تمام مسائل جیسے کام کاج ،تفریح ،تعلیم، تنقید، انفاق ، محبت ، غصہ اور صلح کے مواقع پرہم کو اعتدال اور میانہ روی کی تاکید فرمائی ہے ۔ اصول کافی کے باب ''الاقتصاد ف العبادات '' میں یہ احکام و تاکیدات آئی ہیں ۔

ہم یہاں پر ان آیات اور روایات کے کچھ نمونے جن میںاعتدال کی تاکید اور افراط و تفریط سے منع کیا گیا ہے ،پیش کر رہے ہیں :

(کلوا و اشربوا و لا تسرفوا )(١) کھاؤ اور پیولیکن اسراف نہ کرو ۔

(لا تجعل یدک مغلولة الی عنقک و لا تبسطها کل البسط )(٢) اور خبردار ! اپنے ہاتھوں کو گردنوں سے بندھا ہوا قرار نہ دو اور نہ بالکل پھیلا دو ۔ یعنی انفاق میں نہ تو ہاتھ بند رکھو اور نہ ہی اتنا خرچ کروکہ خود بھی محتاج ہو جاؤ ۔

(الذین اذا انفقوا لم یسرفوا و لم یقتروا و کان بین ذالک قواما )(٣) اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اوسط درجہ کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔

(لا تجهر بصلوتک و لا تخافت بها و ابتغ بین ذلک سبیلا )(٤) اور اپنی نمازوں کو نہ چلّا کر پڑھو اور نہ بہت آہستہ آہستہ بلکہ دونوں کا درمیانی راستہ نکالو ۔

(و الذین معه اشدآء علی الکفار رحمآء بینهم )(٥) اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میں انتہائی رحم دل ہیں ۔

____________________

١۔ اسراء ٢٩

٢۔ فرقان ٦٧.

٣۔ اسراء ١١۰

٤۔ فتح ٢٩

٥۔ اعراف ٣١.


(اقیموا الصلاة و آتوا الزکاة )(١) نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو ۔ یعنی اللہ سے بھی رابطہ رکھو اور مخلوق سے بھی مربوط رہو ۔

(الذین آمنوا و عملوا الصالحات )(٢) اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ۔ یعنی ایمان اورقلبی یقین کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی ہو ۔

اگرچہ قرآن فرماتا ہے (و بالوالدین احسانا )(٣) اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو لیکن دوسری جگہ پر ارشاد فرماتا ہے : '' اگر تم کو خدا کے راستہ سے روکیں تو انکی اطاعت کرنا جائز نہیں '' (فلا تطعهما )(٤)

حق بیانی سے نہ تمہاری دوستیاں تم کو روکیں (شهداء لله ولو علی انفسکم )(٥) اور نہ تمہاری دشمنیاں تم کو عدالت سے دور کریں (و لا یجر منکم شنئان قوم علی ان لا تعدلوا )(٦)

امام حسین ـ شبِ عاشور خدا سے مناجات بھی کر رہے تھے اور شمشیر بھی تیز کر رہے تھے ۔

حاجی حضرات روز عرفہ اورشبِ عید قربان دعا پڑھتے ہیں اور عید قربان کے روز ضروری ہے کہ قربان گاہ میں جاکر قربانی اور خون دینے کے مزہ سے آگاہ ہوں ۔

مختصر یہ کہ دین اسلام کا صرف ایک ہی رخ نہیں ہے کہ کسی ایک پہلو پر توجہ کی جائے اور دوسرے پہلو کو فراموش کردیا جائے بلکہ اس نے انسانی وجودکے تمام پہلووںپر اعتدال ا ور میانہ روی کے ساتھ توجہ کی ہے ۔

____________________

١۔ بقرہ ٤٣.

٢۔ بقرہ ٨٢

٣۔ بقرہ ٨٣.

٤۔ عنکبوت ٨

٥۔نساء ١٣٥.

٦۔ مائدہ ٨.


صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم و لاالضآلین

''جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کیں ہیں ،ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں ''۔

نماز پڑھنے والا صراط مستقیم کی درخواست کے ساتھ خدا سے چاہتا ہے کہ اس کو اسی راستہ کی ہدایت کرے جو اللہ کی نعمت پانے والوں کا راستہ ہے ۔

قرآن کریم سورۂ نساء کی ٦٩ ویں آیت اور سورۂ مریم کی ٥٨ ویں آیت میں ایسے لوگوں کا تعارف کراتا ہے ۔

یہاں پر ہم سورۂ نساء کی ٦٩ ویں آیت کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراتے ہیں (و من یطع اللہ و الرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین و الصدیقین و الشھداء و الصالحین و حسن اولئک رفیقاً ) اور جو بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر خدا نے نعمتیں نازل کیں ہیں ۔ یہ لوگ انبیاء ،صدیقین ، شہدا، اور صالحین ہیں اور یہی بہترین رفقاء ہیں ۔

پس اسی بناء پر نماز پڑھنے والا خدا سے یہ چاہتا ہے کہ اس کو انبیاء و شہداء اور صالحین کے راستہ پر قرار دے ۔ ان نیک او رپاک لوگوں کے راستہ پر چلنے کی آرزو انسان کو کجروی او ربے راہ روی کے خطرہ سے محفوظ رکھتی ہے ،اور اس سے ان لوگوں کی یاد نماز پڑھنے والوں کے ذہن میں مستقل زندہ رہتی ہے ۔

گمراہ اور جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ کون لوگ ہیں ؟

قرآن مجید میں فرعون ، قارون ، ابولہب اور عاد و ثمود اور بنی اسرائیل جیسی اقوام کو ان لوگوںکے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے جن پر قہر الٰہی نازل ہو ا ہے ۔ ہم ہر نماز میں خداوند متعال سے یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے عقیدہ اور اخلاق و عمل میں ان لوگوں اور ان قوموں کی طرح نہ ہوں جن پر اللہ کا قہر نازل ہوا ہے ۔


بنی اسرائیل ، جن کی داستان اور حالات و رسومات کو قرآن مجید میں زیادہ بیان کیا گیا ہے ، یہ لو گ ایک وقت اپنے زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے ۔ خدا وند عالم ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے (فضلتکم علی العالمین )(١) ہم نے تم کو عالمین پر فضیلت دی ۔ لیکن اتنی فضیلت و برتری کے بعد بھی ان کے غلط کردار و عمل کی وجہ سے خدا وند عالم نے ان پر اپناغضب نازل کردیا ۔ قرآن اس بارے میں فرماتا ہے : (وبائ و بغضب من الله )(٢) ان کی اس عاقبت و انجام کی تبدیلی ان کے عمل و کردار کی تبدیلی کی وجہ سے تھی۔

یہودی علماء نے توریت کے آسمانی احکام میں تحریف کر دی(یحرفون الکلم )(٣) ان کے تاجروں اور ثروت مندوں نے سود خوری اور حرام خوری شروع کردی(و اخذهم الربائ )(٤) اور پوری قوم نے ڈر اور جان بچانے کی خاطر جہاد اور لڑائی سے منہ موڑ لیا اور حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم اور تمہارا خدا جنگ کرنے کے لئے جاؤ ہم یہیں بیٹھے ہیں (فاذهب انت و ربک فقاتلا انا هیٰهنا قاعدون )(٥)

یہی فکری و عملی انحراف باعث بنا کہ خدا نے ان کو عزت کی بلندی سے ذلّت کی کھائی میں پھینک دیا اور ہمیشہ کے لئے شرمندگی سے ان کی گردنوں کو جھکا دیا ۔ پس ہر نماز میں خدا سے یہی دعا کریں کہ آسمانی کتاب کی تحریف کرنے والوں میں سے نہ ہوں اور نہ ہی سود کھانے والوں اور نہ

____________________

١۔بقرہ ٤٧.

٢۔ بقرہ ٦١.

٣۔ مائدہ ١٣.

٤۔ نساء ١٦١.

٥۔ مائدہ ٢٤.


جنگ و جہاد سے بھاگنے والوں میں سے ہوں اور نہ گمراہوں میں سے ہوں اور نہ ان لوگوں میں سے جو راستہ بھٹکنے والے کی طرح پریشان حال اور سرگردانی میں مبتلا ہیں اور ہر وقت کسی مقصد کے بغیر کسی بھی طرف چل دیتے ہیں ۔ یہ لوگ حالات کے ساتھ بد لتے رہتے ہیں اورخود اپنے اوپر اختیار نہیں رکھتے ہیں ۔

(ضآلین ) نہ تو (انعمت علیهم ) کی طرح ہیں جو انبیاء اور نیک لوگوں کے راستہ پر ہوں اور نہ ہی (المغضوب علیهم ) کی طرح ہیں جو دین خدا کے مقابلہ میں سینہ تان کر جنگ کرتے ہیں بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو لا پر واہ ، بے درد او رآرام طلب ہیں اور جانوروں کی طرح صرف پیٹ اور شہوت کی فکر میں ہیں ۔ حق و باطل سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ۔ ان کے لئے کچھ فرق نہیں کہ پیغمبران پر حاکم ہوں یا طاغوت اور سرکش ۔ اہم یہ ہے کہ ان کے لئے دنیاوی عیش و آرام ہو ، چاہے جو بھی حکومت کرے ۔ ایسے لوگ گمراہ ہیں اس لئے کہ انہوں نے اپنا راستہ معین نہیں کیا ۔

یہ آیت مکمل طور سے تولّا اور تبرّا کی مصداق ہے ۔

نماز پڑھنے والا سورہ کے آخر میں شہداء اور صالح لوگوں سے اپنے عشق و محبت اور تولّا کا اظہار کرتا ہے اور تاریخ کے گمراہوں اور جن پرغضب ِ خدا نازل ہواہے ان سے برائت اور دوری اختیار کرتا ہے ۔ گمراہوں اور قہر کا نشانہ بننے والوں سے ہر نماز میں اظہار نفرت ہی اسلامی معاشرے کو ایسے لوگوں کی حکومت کے مقابلہ میں مضبوط اور پائدار بناتا ہے۔ قرآن مجید تاکید فرماتا ہے : (لا تتولوا قوما غضب الله علیهم )(١) خبر دار اس قوم سے ہرگز دوستی نہ کرنا جس پر خدا نے غضب نازل کیا ہے ۔ ''

____________________

١۔ ممتحنہ ١٣.


پانچواں باب

سورئہ توحید

سورئہ توحید کی فضیلت

نماز میں سورئہ حمد کے بعد قرآن مجید کا کوئی دوسرا سورہ پڑھنا ضروری ہے ،البتہ نماز پڑھنے والے کو اختیار ہے کہ کوئی بھی سورہ پڑھے ، مگر ان چار سوروں کے علاوہ جن میں سجدہ واجب ہے ۔ لیکن تمام سوروں کے درمیان سورئہ توحید کو فوقیت حاصل ہے ،لہذا روایتوں میں تاکید ہوئی ہے کہ رات دن کی نمازوں میںکم از کم کسی ایک رکعت میں اس سورہ کو پڑھو تاکہ واقعی نماز پڑھنے والوں میں قرار پاؤ۔(١)

یہ سورہ ایک تہائی قرآن بلکہ ایک تہائی توریت و زبور اور انجیل کے برابر اہمیت رکھتا ہے ، نہ صرف نماز میں بلکہ اگر اسے نماز کے بعد بھی تعقیبات نماز کے عنوان سے پڑھا جائے تو خداوند عالم انسان کو دنیا و آخرت کی خیر مرحمت فرماتا ہے ۔اگرچہ یہ سورہ چھوٹاہے لیکن اس کے معنی اور اس مضمون بہت بلندہے ۔ جیسا کہ امام سجاد نے فرمایا ہے چونکہ خدا جانتا تھا کہ آئندہ زمانوں میں دقیق اورعمیق لوگ پیدا ہوں گے لہذا اس نے اس سورہ کو اور سورئہ حدید کی ابتدائی آیتوں کو نازل کیا ہے ۔

صرف نماز ہی میں اس سورہ کی تلاوت کرنے کی تاکید نہیں کی گئی ہے بلکہ اس کی بار بار تلاوت کرنے سے ظالموں کا شر کم ہوتا ہے اور حوادث و خطرات سے انسان کا گھر محفوظ رہتا ہے ۔

سعد بن معاذ ، رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لشکر کے سرداروں میں سے

____________________

١۔ اس سورہ کی اہمیت و فضیلت کی روایتیں تفسیر برہان میں ذکر ہوئی ہیں ۔ ہم یہاں پر صرف ان روایتوں کے چند گوشوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں


تھے جو مدینہ کے قبرستان بقیع میں دفن ہیں ۔ ان کی تشییع جنازہ میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پا برہنہ شرکت کی اور فرمایا : نوے ہزار فرشتے آسمان سے سعد کی تشییع جنازہ کے لئے آئے ہیں۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت جبرئیل ـ سے پوچھا تم اور اتنے فرشتے سعد بن معاذ کی تشییع جنازہ کے لئے کیوں نازل ہوئے ہیں ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ جناب جبرئیل ـ نے کہا وہ اٹھتے ، بیٹھے ، سوار اور پیدل ہر حال میں سورئہ (قل ہو اللہ احد )کی تلاوت کرتے تھے ۔

اس کی شان نزول یہ ہے کہ یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکوں نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خدا کے بارے میں یہ مطالبہ کیا کہ آ پ اپنے خدا کو پہچنوائیے۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے جواب میں اس سورہ کی تلاوت کی، یہ سورہ گویا خدائے تعالیٰ کا شناختی کارڈ ہے ۔

قل ہو اللہ احد

'' اے رسول ! کہہ دیجئے کہ خدا ایک ہے ''۔

توحید تمام آسمانی ادیان کی بنیادا ور اصل ہے اور انبیاء اس لئے آئے ہیںتاکہ شرک اور کفر و بت پرستی کے اثرات کو درمیان سے ہٹا دیں اور لوگوں کو ایک خدا کی طرف دعوت دیں ۔

توحید : انبیاء کی تعلیمات کی روح و جان ہے ۔ نہ صرف عقائد بلکہ احکام و اخلاق بھی توحید کے محور پر قائم ہیں ۔

توحید : ایمان اور کفر کے درمیان حد فاصل ہے ۔ بغیر توحید کے ایمان کے قلعہ میں داخل ہونا ممکن نہیں ''قولوا لا اله الا الله تفلحوا ''(١) اور ''لا اله الا الله حصن فمن دخل حصن امن من عذاب ''(٢)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ١٨ صفحہ ٢۰٢

٢۔ بحار الانوار جلد ٣ صفحہ ١٣.


اس سورہ میں خالص ترین توحیدی عقائد ہیں ۔ اسی لئے اس کو سورئہ اخلاص بھی کہتے ہیں ۔ یہ سورہ عیسائیوں کے عقیدئہ تثلیث ( تین خداؤں ) کو ردّ کرتا ہے ۔ یہودیوں کے شرک اور جاہل عربوں کے عقیدہ کو بھی ردّ کرتا ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاںکہتے تھے ۔

توحید : یعنی خدا کے لئے ساتھی اور شریک قرار دینے سے اپنے عمل اور فکر کو خالص کرنا تاکہ فکر میں شرک اور عمل میں دکھاوانہ آئے بلکہ ارادہ اور مقصد صرف خدا کے لئے ہو اور خود عمل بھی الہی و خدائی ہو ۔

(قل هو الله احد ) وہ یکتا ہے جس کا دوسرا کوئی نہیں ، کوئی اس کی طرح اور اس جیسا نہیں ۔ اس کا جز اور عضو نہیں ۔

(قل هو الله احد ) وہ ایسا معبود ہے جو ہر لحاظ سے منفرد ہے لہٰذا بشر اس کی ذات کو سمجھنے سے عاجز ہے ۔

اس کی یکتائی اور وحدانیت کی دلیل یہ ہے کہ اگر دوسرا خدا ہوتا تو وہ بھی پیغمبروں کو بھیجتا تاکہ اس کو بھی لوگ پہچانیں اور اس کی اطاعت کریں ۔

اس کی وحدانیت کی دلیل یہ ہے کہ تمام انسان خطرے کے وقت صرف ایک مرکز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ صرف ایک مرکز ہے جو مشکلات میں انسان کو امید دیتا ہے ۔

اس کی یکتائی کی دلیل زمین و آسمان ، عالم ہستی اور انسان کے درمیان ہم آہنگی کا ہونا ہے اور یہ کہ تمام مخلوقات کے درمیان گہرا اور منظم رابطہ ہے ۔

اگر آپ ایک تصویر بنانے کے لئے کچھ مصوروں سے کہیں مثلاً ایک سے کہیں کہ مرغ کا سر بنائے دوسرا اس کا بدن اور تیسرا اس کی دم اور اس کے پیر بنائے جس وقت ان تینوں تصویروں کو ایک ساتھ جمع کریں گے تو اس کے سر اور دھڑ کے درمیان تناسب نہیں ہوگا۔ ایک چیز بڑی دوسری چھوٹی ، ایک خوبصورت اور ایک بد صورت ۔


جی ہاں ! سورج ، چاند ، زمین ، پانی ، ہوا ، مٹی ، پہاڑ ، صحرا ، دریا ان سب کا انسان کی ضرورت کے مطابق ہم آہنگ ہونا خداکی یکتائی و وحدانیت کی دلیل ہے ۔ انسان آکسیجن لیتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ چھوڑتا ہے ۔ درخت کاربن ڈائی آکسائڈ لیتے ہیں اور آکسیجن چھوڑتے ہیں تاکہ انسان اور دوسری زندہ مخلوق کی ضرورت پوری ہو اور یہ ہم آہنگی انسان اور درخت کی زندگی کا راز ہے ۔

وہ ( خدا ) نو مولو د بچے کی ضروریات کو والدین کی محبت سے پوری کرتا ہے ۔ دن کی تھکاوٹ کو رات کی نیند سے دور کرتا ہے ۔ آنکھوں کے پانی کو کھارا اور منہ کے پانی کو میٹھا خلق کیا تاکہ ایک سفید رگوں سے بنی آنکھ کو نمک کے پانی سے دھوئے اور ایک کھانے کو چبانے اور ہضم کرنے کے لئے آمادہ کرے ۔ نو مولود کو پھونکنے کے بجائے چوسنا سکھایا اور اس کے پیدا ہونے سے پہلے ماں کے سینے میں دودھ پیدا کیا ۔ بعض پرند وںکی غذا مگرمچھ کے دانتوں کے درمیان قرار دی اور تمام جانوروں کارزق اچھی طرح فراہم کیا ۔

ایک بدو عرب نے جنگ جمل میں حضرت علی ـ سے توحید کے معنی پوچھے ۔ دوسرے فوجیوں نے اس پر اعتراض کیا کہ اس سوال کے پوچھنے کا یہ وقت نہیں ہے !لیکن حضرت نے اس جنگ کے ہنگامہ میں اس کو توحید کے معنی اوراس کی تفسیر بتائی اور فرمایا: ہم اسی معنی کی وجہ سے مخالفین سے جنگ کر رہے ہیں ۔(١) جی ہاں پوری تاریخ میں پیروان حق کی جنگ اسی توحید کے پرچم کو بلند کرنے کے لئے تھی ۔

____________________

١۔ تفسیر نور الثقلین جلد ٥ صفحہ ٧۰٩.


اللہ الصمد

'' اللہ بے نیاز ہے ''۔

'' صمد '' : یعنی جس میں کوئی نفوذ نہ کر سکے ۔ جس میں خلل واقع نہ ہو جو متغیر نہ ہو ۔

وہ صمد ہے :پس مادہ نہیں ہے اور نہ ہی مادہ سے ہے ۔ اس لئے کہ ہر مادی چیز میں زمانہ گزرنے کے ساتھ خلل اور تغیر پیدا ہوتا ہے لہذا وہ نہ تو جسم رکھتا ہے جسے آنکھوں سے دیکھا جاسکے اور نہ ہی قوت جاذبہ کی طرح ہے کہ جو دکھائی نہیں دیتی لیکن مادی خاصیت رکھتی ہے ۔

وہ صمد ہے : جسکی قدرت میں کوئی نفوذ نہیں کر سکتا مگراس کا ارادہ ہر چیز میں نافذ و جاری ہے۔

وہ صمد ہے : اس کی عزت میں خلل واقع نہیں ہوتا اور تمام عزتیں اسی سے ہیں ۔ جو بھی عزت و قدرت رکھتا ہے وہ اسی کی دی ہوئی ہے اور وہ کسی شخص یا کسی چیز کا محتاج نہیں لیکن ساری چیزیں اس کی محتاج ہیں ۔

وہ صمد ہے : اس کی ہستی کامل و اکمل ہے بلکہ مکمل کمال ہے ۔ اس میں تمام کمالات ،کمال کی آخری بلندی کے ساتھ موجود ہیں ۔ تمام موجودات، کمال تک پہنچنے کے لئے اس کی نظرِ لطف و کرم کے محتاج ہیں لیکن وہ کسی موجود کا محتاج نہیں وہ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا ۔ اس کا حکم تمام حکموں کے اوپر اس کا ارادہ تمام ارادوں پر حاکم ہے ۔ اس کو نہ سونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کام کے انجام دینے میں کسی مدد یا مددگار کا محتاج ہے ۔

وہ صمد ہے : ایک جملہ میں : سب اس کے نیاز مند ہیں ۔


لم یلد و لم یولد

'' اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ والد ''۔

وہ موجودات کا خالق ہے نہ کہ ان کو جنم دینے والا ۔ اس کا کام جننا نہیں ہے کہ وہ اپنے جیسے کووجود میں لائے بلکہ وہ عدم سے وجود میں لانے والا ہے ، ماں جس بچہ کو پیدا کرتی ہے وہ بچہ اسی کی جنس سے اوراسی کی طرح یعنی انسان ہوتا ہے لیکن خدا کے لئے مثل و شبیہ کا امکان نہیں کہ خدا اسکو پیدا کرے یا خودکسی سے پیدا ہو (لیس کمثله شیئٍ )(١)

یہ جملہ عیسائیوں کے عقیدہ کے مقابلہ میں ہے جو حضرت عیسیٰ ـ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور انکے لئے خدا کی طرح خدائی کے قائل ہیں ۔ اسی طرح یہ آیت مشرکوں کے عقیدہ کے مقابلہ میں بھی ہے کہ وہ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاںکہتے تھے اور آیت یہ بتاتی ہے کہ خدا نے کسی بچہ کو جنم ہی نہیں دیا جو لڑکا ہوتا یا لڑکی ہوتی۔

وہ کسی سے پیدا نہیں ہو ا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اس سے پہلے یا اس سے برتر ہو ۔

اس کا وجود پھول سے پھل اوربیج سے درخت کے نکلنے کی طرح نہیں ہے یا بادل سے پانی یا لکڑی سے آگ نکلنے کی طرح نہیں ہے ۔ یا منہ سے بات اور یا قلم سے تحریر کے نکلنے کی طرح نہیں ہے ۔ یا پھول سے خوشبو یا کھانے سے مزہ نکلنے کی طرح نہیں ہے ۔ یا عقل سے فکر یا دل سے سمجھ یا آگ سے گرمی یا برف سے سردی کے نکلنے کی طرح نہیں ہے ۔ وہ ہے لیکن کسی چیز اور کسی شخص سے مشابہ نہیں ہے ۔ نہ وہ کسی چیز میں ہے اور نہ اس میں کوئی چیز ۔ چیزوں سے اس کا رابطہ باپ اور بیٹے کی طرح نہیں ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا رابطہ ہے ۔

____________________

١۔ شوریٰ ١١.


و لم یکن لہ کفواً احد

'' اور نہ اس کا کوئی کفو اور نہ کوئی ہمسرہے ''۔

وجود ، کمال اور افعال میں کوئی اس کے جیسا نہیں ۔ وہ احد ہے اور کوئی اس کے ہم پلہ نہیں ۔ وہ اکیلا ہے بیوی اور بچے نہیں رکھتا ۔ وہ اپنا مثل نہیں رکھتا کہ جو اس کا شریک اور اس کا معاون و مددگار ہو ۔

پھرانسان یہ کیسے ہمت کرتا ہے کہ اس کی مخلوق کو اس کا شریک جانے اور اس کے حق میں اتنے بڑے ظلم کا مرتکب ہو (ان الشرک لظلم عظیم )(١)

اے نماز پڑھنے والو ! نہ اس نعمت میں جو خدا کی طرف سے تم کو ملتی ہے ، کسی کو اس کا شریک سمجھو اور نہ اس کام میں جس کو تم انجام دے رہے ہو ، خدا کے علاوہ کسی کو مد نظر رکھو ۔ کیوں کسی ایسے کی نظر کرم کی فکر میں ہو جو تمہارے جیسا ضعیف و محتاج ہے؟! ۔

خدا کی توجہ اور عنایت کو حاصل کرنے کی کوشش میں رہو ۔ کوئی اس کی طرح نہیں ہے نہ وہ ضعیف ہے اور نہ محتاج ۔

سورہ کے آخر میں ہم اسکے بلند مفا ہیم کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔

(قل هو الله احد ) وہ تن تنہا ہے ۔ ذات میں بھی اور صفات میں بھی ۔ پس معبود ہونے کی لیاقت رکھنے میں بھی وہ یکتا و یگانہ ہے ۔

(الله الصمد ) صرف وہ بے نیاز ہے اور بقیہ سب اس کے نیاز مند ہیں اور وہ اپنی بے نیازی میں بھی یکتا ہے ۔

____________________

١۔ لقمان ١٣


(لم یلد ) اس نے کسی کو جنم نہیں دیا کہ شبیہ و نظیر رکھتا ہو ۔

(ولم یولد ) وہ ازلی و ابدی ہے ، حادث نہیں ہے کہ کسی چیز سے پیدا ہوا ہو ۔

(ولم یکن له کفواً احد ) اور اس کا کوئی کفو اور نظیر نہیں ہے اور نہ شبیہ ہے نہ شریک۔

یہ سورہ ؛ خدا کی ذات اقدس سے شرک ، خرافات ، اوہام ، منحرف عقائد کی تمام جڑوں اور بنیاد وں کی نفی کرتا ہے اور ہمارے لئے خالص اور پاک توحید پیش کرتا ہے ۔

روایتوں کے مطابق اس سورہ کی تمام آیتیں ایک دوسرے کی تفسیر ہیں ۔(١)

پہلا مرحلہ : ( قل ہو ) کہو وہ ہمارا خدا ہے ۔

وہ جو بشر کی عقل اور فکر سے بالا اور آنکھوں سے غائب و پوشیدہ ہے ۔ اس مرحلہ میں تمام توجہ اس کی ذات پرہے نہ کہ اس کی صفات پر ۔ خود اس کی ذات محبوب اور معبود ہونے کے لئے کافی ہے ۔ حضرت علی ـ فرماتے ہیں''و کمال الاخلاص نف الصفات عنه '' (٢) اخلاص کامل یہ ہے کہ اس کی صفتوں پر توجہ کئے بغیر اس کی ذات کو دیکھو ۔ خدا کی عبادت ،خدا کے لئے کرو ، نہ اس لئے کہ اس نے تم کو فراواں نعمتیں دی ہیں ۔

دوسرا مرحلہ : ( قل ہو )وہ اللہ ہے ، ایسا معبود ہے جس میں تمام کمالات پائے جاتے ہیں ۔

اس مرحلے میں ذات و صفات ایک ساتھ آئے ہیں ۔ '' اللہ '' ایسی ذات ہے جس میں تمام نیک صفات پائی جاتی ہیں ، اسی لئے وہ عبادت کی شائستگی رکھتا ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے :

____________________

١۔ تفسیر نور الثقلین جلد ٥ صفحہ ٧١٤

٢۔ نہج البلاغہ خطبہ توحید


(و للّٰه الاسماء الحسنیٰ فادعوه بها )(١)

تمام اچھے نام اور اچھی صفتیں اس کے لئے ہیں پس اس کو انہیں ناموں سے یاد کرو ۔

خدا کو اس کے صفات کے ذریعہ سے پہچاننا دوسرے مرحلہ میں ہے '' اللّٰہ '' ان تمام صفتوں کا مجموعہ ہے ۔

صفات کے ذریعہ سے خدا کی طرف توجہ ایسا راستہ ہے جو دعاؤں میں ، خصوصا دعائے جوشن کبیر میں جلوہ گر ہے ۔ ہم اس میں خدا وند متعال کو ہزار صفتوں سے یاد کرتے ہیں ۔

تیسرا مرحلہ : ( احد ) وہ یکتا ہے اور یکتائی میں یگانہ وبے مثال ہے ۔

اس مرحلہ میں توحید ِ ذات و صفات پیش ہو رہی ہے ۔ اس کی ذات بھی یگانہ و بے مثل ہے اور اس کی صفتیں بھی بے مثل و بے نظیر ہیں ۔ اس کی ذات و صفات ایک ہیں نہ یہ کہ اس کی صفتیں اس کی ذات سے الگ ہوں ۔

وہ ایسا واحد ہے جس کا دوسرا و تیسرا نہیں ، '' واحد '' اور '' احد '' میں فرق ہے ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ''کو ئی ایک بھی نہیں آیا''یعنی کو ئی نہیں آیا '' لیکن اگر کہیں کہ ''ایک نہیں آیا''یعنی ہو سکتا ہے کہ دویا اس سے زیادہ لو گ آگئے ہوں۔ قرآن حکیم فرماتا ہے کہ وہ '' احد '' ہے نہ کہ '' واحد '' ۔ وہ یکتا ہے نہ کہ ایک جس کا دوسرا اور تیسرا بھی ممکن ہے ۔

چوتھا مرحلہ : ( اللّٰہ الصمد ) خدا بے نیاز ہے ۔

اس مرحلہ میں بے نیازی جو خدا کی ذات و صفات کا محور ہے جو خدا کی سب سے اہم صفت کے عنوان سے بیان ہو رہی ہے وہ بھی خبر کی صورت میں نہیں جو فرمائے : (اللّٰه صمد )

____________________

١۔ اعراف ١٨۰۔


بلکہ اللہ کے لئے مستقل اور دائمی صفت کی صورت میں ہے ۔ لہذا لفظ اللہ کی تکرار ہوئی (الله الصمد )

وہ یکتا ہے لیکن بے نیاز ۔ اس کے علاوہ بہت ہیں لیکن سراسر نیاز مند اور تمام نیاز مندوں کی

نظریں صرف اسی بے نیاز کی طرف ہیں ۔

پانچواں مرحلہ : (لم یلد و لم یولد و لم یکن له کفواً احد )

روایتوں کے مطابق یہ مرحلہ (الله الصمد ) کی تفسیر ہے ۔ وہ بے نیاز ہے نہ اولاد کی ضرورت رکھتا ہے کہ اس کو پیدا کرے ۔ نہ ماں باپ کا محتاج ہے جو اسے پیدا کریں نہ اسے بیوی اور نظیر و معاون کی ضرورت ہے جو اس کے کاموں میں اس کی مدد کرے ۔

اگر وہ پیدا ہو تو ازلی نہیں ہے اور اگر پیدا کرے تو ابدی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ کمی و ضعف کی طرف جائے گا اور اگر اپنی طرح اور اپنے جیسا کوئی مثل رکھتا ہو تو بے مقابل اور بغیر رقیب کے نہیں اور خدا ان تمام امور سے پاک و منزہ ہے (سبحان الله عما یشرکون )(١)

____________________

١۔ طور ٤٣۔


چھٹا باب

رکوع اور سجدے

رکوع

ارکان نماز میں سے ایک رکن ، رکوع ہے بھولے سے یا جان بوجھ کر اگر رکن میں کمی یا زیادتی ہوجائے تو نماز باطل ہے لفظ '' رکعت '' جو نماز کے حصوں کی گنتی کے لئے بولا جاتا ہے وہ اسی لفظِ رکوع سے بنا ہے ۔قبیلہ ٔبنی ثقیف نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ نماز میں رکوع و سجود نہ ہوں اور وہ یہ کہتے تھے کہ جھکنا ہمارے لئے ننگ و عارہے ۔ تو آیت نازل ہوئی :

(و اذا قیل لهم ارکعوا لا یرکعون )(١)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تورکو ع نہیں کرتے ہیں(٢)

دوسرے لوگ اپنی طرح کے انسانوں کے سامنے جھکتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں لیکن آپ صرف اپنے خالق کے سامنے خم ہوں اور اسی کی تعظیم کریں ۔ جیسا کہ جب یہ آیت (فسبّح باسم ربک العظیم )(٣) نازل ہوئی توپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیا کہ رکوع میں خدا کی تعظیم کرو اور رکوع میں اس ذکر ''سبحان رب العظیم و بحمده ''(٤) کو کہو ۔

ہم روایتوں میں پڑھتے ہیں کہ رکوع خدا کے سا منے ادب کی علا مت اور پہچان ہے اور سجود قرب خدا کی پہچان ۔لہٰذا جب تک ہم اچھی طرح اس کا ادب اور احترام نہ کریں اس کی قربت کے

____________________

١۔ مرسلات ٤٨.

٢۔ بحار الانوار جلد ٨٥ صفحہ ١١۰

٣۔ واقعہ ٤٧.

٤۔ جامع الاحادیث جلد ٢ صفحہ ٩٢٢.


لا ئق نہیں ہو سکتے ۔(١)

رکوع، خدا سے توبہ و استغفار اور معذرت خواہی کا راستہ ہے (فاستغفر ربّه و خرّ راکعاً و اناب )(٢)

رکوع کے اثرات

امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں : '' جو شخص اپنے رکوع کو اچھی طرح انجام دے وہ قبر کی وحشت سے امان میں ہے ۔ ''(٣)

ہم خدا کے حضور جتنی دیر تک خم ہوں گے شیطان اور شیطان صفت لو گوں سے مقابلہ کرنے کی اتنی ہی زیادہ قدرت رکھیں گے ۔

امام صادق ـ فرماتے ہیں : '' طویل رکوع اور سجود سے ابلیس غصہ میں آکر کہتا ہے مجھ پر وائے ہو ! یہ لوگ ، ایسی بندگی کی وجہ سے میری اطاعت نہیں کرتے ۔ !!(٤) پروردگار متعال فرشتوں سے کہتا ہے دیکھو ہمارے بندے کس طرح سے ہماری تعظیم کرتے ہیں اور ہمارے سامنے رکوع کرتے ہیں ۔ میں بھی ان لوگوں کو بزرگ کروں گا اور ان لوگوں کو عزت و عظمت بخشوں گا ۔(٥)

امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں :

طولانی رکوع اور سجود عمر کے طولانی ہونے میں مؤثر ہیں ''(٦)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٥ صفحہ ١۰٨.

٢۔ ص ٢٤

٣۔ وسائل جلد صفحہ ٩٢٨.

٤۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٢٨.

٥۔ جامع احادیث جلد ٥ صفحہ ٢۰٣

٦۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٢٨


آداب رکوع

ہم روایتوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکوع میں اپنی کمر کو ایسے کھینچتے تھے اور اسے اس طرح سیدھا رکھتے تھے کہ اگر پانی کا قطرہ کمر پر ڈالا جاتا تو کمر کے بیچ میں ٹھہر جاتا اور کسی طرف نہ بہتا۔(١)

تاکید ہوئی ہے کہ رکوع میں اپنی گردن سید ھی رکھو تاکہ یہ معلوم ہو کہ ہم ایمان لائے ہیں چاہے ہماری گردن اس کی راہ میں چلی جائے ۔(٢)

رکوع کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ مرد اپنی کہنیوں کو پرندوں کے پروں کی طرح پھیلائیں نہ یہ کہ اپنی بغل میں چپکائیں ۔ ہاتھ کی ہتھیلی کو زانو پر رکھیں اور ہاتھ کی انگلیوں کو کھولیں ۔ دونوں پیر برابر ہوں یعنی آگے یا پیچھے نہ ہوں اور دونوں پیروں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ ہو ۔

رکوع کرتے وقت نظر دونوں پیروں کے درمیان ہو اور ذکر رکوع کے بعد رکوع ہی کی حالت میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد علیہم السلام پر صلوات پڑھیں ۔ البتہ ذکر رکوع کے بارے میں تاکید ہے کہ کم از کم تین بار پڑھا جائے ۔(٣)

اولیائے خدا کا رکوع

امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں :

حضرت علی ـ اپنے رکو ع کو اتنا طول دیتے تھے کہ آپ کی پنڈلی سے پسینہ بہنے لگتا

____________________

١۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٤٢

٢۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٤٢.

٣۔ یہ تمام آداب رکوع ،وسائل جلد چہارم میںصفحہ ٩٢۰ سے ٩٤٣ تک آئے ہیں ۔.


تھا۔ ''(١)

خود حضرت علی ـ نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

خدا کے ایسے فرشتے ہیں جوہمیشہ رکوع کی حالت میں رہتے ہیں اورکبھی کھڑے نہیں ہوتے۔

البتہ فرشتوں کے یہاں تھکن اور بھوک نہیں پائی جاتی اسی لئے عارف و عاشق لوگ جب ایسے طولانی رکوع کرتے ہیں تو فرشتے ان کی تعریف و تمجید کرنے لگتے ہیں ۔ یہ اولیائے خدا کی حالت ہے لیکن ہماری حالت کیسی ہے ؟ حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے ، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز کے لئے کھڑا ہوا لیکن رکوع اور سجود کو ادھورا اور جلدی بجا لایا ۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اس نے کوّے کی طرح چونچ ماری اور چلا گیا ۔ اگر وہ اس نماز کے ساتھ دنیا سے چلا جائے تو میرے دین پر نہیں مرے گا ۔(٢)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٥ صفحہ ١١۰.

٢۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٢٢


سجدے

سجدہ کی تاریخ

حضرت آدم ـ کی خلقت کے بعد خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں ۔(۱) ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔ خدا وند متعال نے اس کو اسی نافرمانی کی بنا پر اپنی بارگاہ سے نکال دیا ۔

قرآن مجید نے اس واقعہ کی بار بار تکرار کی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ قرآن کریم کی تکرار

____________________

۱۔ البتہ سجدہ خدا سے مخصوص ہے انسان صرف فرشتوں کا قبلہ قرار پایا


بلا و جہ نہیں ہے گویا کہنا یہ چاہتا ہے کہ اے انسان ! تمام فرشتے تمہاری وجہ سے سجدہ میں گرے ۔ کیوں تم خداوندِ خالق کے سامنے سجدہ نہیں کرتے ؟ اے انسان ! ابلیس تمہارے سجدہ کے انکار کی وجہ سے نکالا گیا تو اب تم خدا کے سجدہ سے انکار کرنے کی صورت میں کیا امید رکھتے ہو ؟ ۔

ابلیس نے تمہارا سجدہ نہیں کیا اور وہ یہ کہتا تھا کہ میں انسان سے افضل ہوں ۔ کیا تم یہ کہہ سکتے ہو ؟ کہ ہم خدا سے افضل ہیں ؟ تم ایک وقت کچھ بھی نہیں تھے اور جب دنیا میں آئے تو تمہارا پورا بدن ضعیف و ناتوان اورعاجز تھا اور آخر میں اسی عاجزی کے ساتھ دنیا سے جاؤ گے ۔ خالق ہستی کے سامنے کس لئے تکبر کرتے ہو ؟!

بہرحال بشر کی خلقت کے بعد سب سے پہلا حکم الٰہی سجدہ کا حکم تھا ۔

سجدہ کی اہمیت

سجدہ : خدا کے سامنے انسان کی بہترین حالت ہے ۔

سجدہ : خدا سے تقرب کا بہترین راستہ ہے (و اسجد و اقترب )(١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وفادار ساتھیوں کی نشانی یہ ہے کہ ان کے چہروں پرسجدہ کے اثرات دکھائی دیں (سیما هم ف وجوههم من اثر السجود )(٢)

سجدہ : انسان کو عالم ہستی کے ہم رکاب اور اس سے ہم آہنگ بنا دیتا ہے اس لئے کہ آسمان و زمین کی تمام موجودات ، ستاروں سے لے کر سبزے تک سب خدا کی بارگاہ میں ساجد و خاضع ہیں (و لله یسجد ما ف السمٰوات و ما ف الارض )(٣) (و النجم و الشجر یسجدان )(٤)

____________________

١۔ یہ سورئہ علق کی آخری آیت ہے یہ ان چار آیتوں میں سے ہے جن کو پڑھنے کی و جہ سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے

٢۔ فتح ٢٩.

٣۔ نحل ٤٩.

٤۔ رحمن ٦


سجدہ : فرشتوں کے ساتھ ہم آہنگی ہے ۔ حضرت علی ـ ارشاد فرماتے ہیں : آسمان کے طبقوں کا کوئی طبقہ ایسا نہیں ہے جس پر فرشتوں کا ایک گروہ سجدے کی حالت میں نہ ہو ۔(١)

سجدہ : عبودیت و بندگی کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے اس لئے کہ انسان اپنا سب سے بلند مقام یعنی پیشانی کو خاک پر رگڑتا ہے اور خدائے عزیز و قادر کے سامنے ذلت و عاجزی کا اظہار کرتا ہے ۔

سجدہ : دنیا کے بلند مرتبہ مردوں اور عورتوں کا سب سے بڑا مقام و مرتبہ ہے ۔ خدا اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سجدے کا حکم دیتا ہے وہ صرف دن میں ہی نہیں بلکہ رات میں بھی۔

(و من اللیل فاسجد له و سبحه لیلا طویلا )(٢) پاک اور عابدہ خاتون حضرت مریم سے خطاب ہوا (یا مریم اقنت لربک و اسجد )(٣)

جو سجدہ رکوع کے بعد ہو وہ اس سے کامل تر و بالا تر مرحلہ ہے اور نماز پڑھنے والے کو خضوع کی آخری بلندی تک پہنچاتا ہے ۔

اسی لئے قرآن کریم میں یہ دونوںمعمولاً ایک دوسرے کے ساتھ ذکر ہو ئے ہیں (یاایها الذین آمنوا ارکعواواسجدوا )(٤)

(تریٰهم رکعاًسجداً )( ٥)

سجدہ : خدا وند عالم کی نشانیوں پر ایمان کی علامت ہے۔

(انما یومن بآیاتنا الذین اذا ذکروا بهاخروا سجداً )(٦)

رات کے سجدے : خدا کے صالح بندوں کی نشانی ہیں (عباد الرحمن و الذین یبیتون لربهم سجدا ً و قیاماً )(٦)

____________________

١۔ نہج البلاغہ خطبہ ٩١

٢۔نسان ٢٦.

٣۔ آل عمران ٤٣.

٤۔ حج ٧٧

٥۔ فتح ٢٩

٦۔ سجدہ ١٥

٧۔ فرقان ٦٤.


سجدہ : نماز کی زینت ہے لہذا اس کو اچھی طرح بجالائیں ۔

امام صادق ـ فرماتے ہیں :

نماز پڑھتے وقت اس کے رکوع و سجود کو اچھی طرح انجام دیاکرو کیو نکہ خدا وند عالم اس کی جزا سات سو گنابلکہ اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے ۔

سجدہ : کی وجہ سے خدا فرشتوں پر افتخارکرتاہے لہذا خدا کی عنایت اس کے ساتھ ہے ۔ یہاں تک کہ ہر سجدہ میں ایک گناہ ختم اور عظیم جزا ( سجدہ کرنے والے کے نام ) لکھی جاتی ہے ۔(١)

حضرت علی ـ نے فرمایا : اگر انسان یہ جان لے کہ سجدہ کے وقت کتنی رحمتوں نے ا سے ڈھانپ رکھا ہے تو وہ کبھی بھی سجدہ سے سر نہ اٹھائے گا ۔(٢) سجدہ: خود خواہی اور غرور کو ختم کر دیتا ہے اور انسان کو تکبر سے نجات دیتا ہے ۔(٣)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : ہم اپنے امتیوں کو قیامت کے روز ان کی پیشانی پر مو جو د سجدہ کے اثرات سے پہچانیں گے ۔(٤) اور وہ زمین جس پر سجدہ ہوا ہے وہ انسان کی عبادت کی گواہی دے گی(٥) اور دنیا میں بھی اس جگہ سے آسمان کی طرف ایک نور جاتا ہے(٦) رکوع کی طرح طولانی سجدے بھی انسان کی نعمت کی بقا اور عمر کے طولانی ہونے کا سبب ہیں ۔(٧)

سجدہ اتنا اہم ہے کہ پروردگار ،حضرت ابراہیم ـ جیسے عظیم الشان پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ مسجد الحرام کو ، طواف ، قیام ، رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک کرو ۔(٨)

____________________

١۔ جامع احادیث جلد ٥ صفحہ ٤٦٦.

٢۔ جامع الاحادیث ج ٥ ص ٤٨٢

٣۔ جامع الاحادیث ج ٥ ص ٤٥٣

٤۔ مسند احمد حنبل جلد ٤ صفحہ ١٨٩

٥۔ جامع الاحادیث جلد ٥ صفحہ ١٨٩.

٦۔ مستدرک الوسائل جلد ٤ صفحہ ٤٨٥

٧۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٢٨

٨۔ بقرہ ١٢٥


سجدہ کی حکمتیں

لوگوں نے امیر المومنین حضرت علی ـ سے سجدہ کی حکمتوں کے بارے میں سوال کیا حضرت نے فرمایا : پہلا سجدہ ، یعنی شروع میں خاک تھا اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے ہو یعنی خاک سے دنیا میں آئے ہو۔ دوسرا سجدہ یعنی دوبارہ خاک میں پلٹ کر جاؤ گے اور اس سے سر اٹھانا یعنی قیامت کے دن قبر سے اٹھو گے اور محشور ہو گے ۔(١)

امام صادق ـ فرماتے ہیں : '' چونکہ سجدہ خدا کے لئے ہے لہذا کھانے اور پینے والی چیزوں پر جو دنیا والوں کی توجہ کی چیز ہے سجدہ نہیں کرنا چاہیئے ۔ سجدہ انسان کو خدا کی طرف متوجہ کرے نہ کہ پیٹ اور لباس یا مادّی چیزوں کی طرف(٢)

ہم حدیث میں پڑھتے ہیںہر کمی و زیادتی یا بے جا کلام یاقیام اور قعود کی بنا پر اس لئے سجد ٔہ سہو کیا جاتا ہے کہ ابلیس نے تمہاری توجہ کو ہٹا دیا اور تمہاری نماز میں خلل ڈال دیا پس نماز کے بعد تم دو سجدئہ سہو بجا لاؤ تاکہ اس کی ناک مٹی میں رگڑ جائے اور وہ جان لے کہ وہ تمہارے اندر جو بھی لغزش پیداکرے گا تم دوبارہ خدا کے سا منے سجدہ کر لوگے(٣)

حضرت علی ـ فرماتے ہیں کہ : سجدہ کا ظاہر ، اخلاص و خشوع کے ساتھ پیشانی کو زمین پر رکھنا ہے لیکن اس کا باطن ، تمام فنا ہونے والی چیزوں سے رشتہ توڑلینا اور عالم آخرت و بقا سے لو لگانا ہے ۔ اسی طرح یہ تکبر ، تعصّب اور دنیا سے ہر قسم کی وابستگی سے رہائی ہے۔

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٨٥ صفحہ ١٣٩

٢۔ الفقیہ جلد ١ صفحہ ٢٧٢.

٣۔ وافی جلد ٨ صفحہ ٩٩٢


آداب سجدہ

روایتوں میں جو آداب سجدہ آئے ہیں ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کر رہے ہیں ۔

رکوع کے بعدسجدہ میں جانے کے لئے زانو وںسے پہلے ہاتھوں کو زمین پر رکھیںاور سجدہ کرتے وقت ہاتھ کانوں کے برابر ہوں ۔ مردوں کی کہنیاں زمین پر نہ چپکیں اور دونوں کہنیاں پروں کی طرح کھلی ہوں ۔ فقط پیشانی ہی نہیں بلکہ ناک بھی زمین پر رکھی جائے ۔ جس وقت نماز پڑھنے والا دو سجدوں کے درمیان بیٹھے تو داہنے پیر کے اوپری حصّہ کو بائیں پیر کے تلوے پر رکھے، اس طرح سے کہ بدن کا وزن بائیں پیر پر ہو اس لئے کہ بایاں باطل کی علامت ہے اور داہنا حق کی علا مت ہے ۔

سجدہ میں واجب ذکر کے علاوہ صلوات پڑھے ، دعا کرے اور خوف خدا سے آنسو بہائے ۔ سجدہ سے اٹھتے وقت تکبیر کہے اور تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو بلند کرے ۔(١)

خاک کربلا

اگرچہ ہر پاک مٹی پر بلکہ ہر پاک پتھر اور لکڑی پر سجدہ جائز اور صحیح ہے لیکن تربت امام حسین (خاک شفا) فضیلت رکھتی ہے ۔ امام صادق ـ خاک کربلا کے علاوہ کسی چیز پر سجدہ نہیں کرتے تھے ۔

خاک کربلا پر سجدہ ؛ ساتوں حجاب پارہ کرتا ہے ، نماز کو بلند کرتا ہے اور اسے قبولیت تک پہنچاتاہے اور نماز پڑھنے والے کو بھی مادّیات کے گڑھے سے باہر نکال کر اسے جہاد اور خون و شہادت سے روشناس کراتا ہے ۔

____________________

١۔ مستدرک الوسائل ج ٤ ص ٤٨٤


خاک حسین ـ پر سجدہ : یعنی امامت و ولایت کے ساتھ نماز ۔

خاک حسین ـ پر سجدہ : یعنی شہادت کے ساتھ نماز ۔

خاک حسین ـ پر سجدہ : یعنی ان لوگوں کی یاد کو عظیم سمجھنا جن لوگوں نے نماز کے لئے اور نماز کی راہ میں خون دیا ۔

خاک حسین ـ پر سجدہ : یعنی ہر روز عاشورہ ہے اور ہر زمین کربلا ہے ۔

خاک حسین ـ پر سجدہ : یعنی ظلم سے مقابلہ کرنے کے لئے سر اور جان دیدولیکن خود کو ذلت کے حوالے نہ کرو ۔

جی ہاں ! مزار حسین ـ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اور جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے ۔ حضرت کے گنبد کے نیچے دعا مستجاب اور اس جگہ پر نماز محبوب و مقبول ہے ۔

اس خاک سے جو تسبیح بنے اگر وہ ہاتھ میں صرف گھومتی رہے تو اس کے لئے '' سبحان اللہ '' کی تسبیح کا ثواب رکھتی ہے چا ہے زبان سے کچھ نہ کہا جائے اور اگر اللہ کے ذکر کے ساتھ تسبیح گھمائی جائے تو ہر ذکر پر ستّر گناثواب ملتا ہے ۔

واضح رہے کہ خاک کربلا کی جواہمیت نقل ہوئی ہے وہ امام حسین ـ کی قبر کے چار میل کے دائرے تک شامل ہے ۔(١)

____________________

١۔ اس بحث کے مطالب ، کتاب کامل الزیارات میں باب نمبر ٨٩ کے بعد آئے ہیں


سجدئہ شکر

سجدہ صرف نماز سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ دوسری جگہ بھی ہوتا ہے ۔ حتی کبھی واجب ہوتا ہے جیسے ان چار آیتوں میں سے کسی ایک کی تلاوت کرنے سے جو سجدہ کا سبب بنتی ہیں ۔

شکر کے طریقوں میں سے ایک طریقہ سجدۂ شکر ہے جس کے لئے بہت تاکید ہوئی ہے ۔

سجدئہ شکر : یعنی خدا کی ختم نہ ہونے والی ان نعمتوں پر شکر جو ہمارے اور ہمارے گھر والوں پر نازل ہوئی ہیں ۔

امام صادق ـ فرماتے ہیں :

جس وقت خدا کی کوئی نعمت یاد آئے اپنی پیشانی کو شکر کے لئے زمین پر رکھو اور اگر لوگ تم کو دیکھ رہے ہیں تو اس نعمت کے احترام میں تھوڑا سا خم ہو جاؤ ۔(١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا گیا کہ آپ اونٹ سے نیچے اترے اور آپ نے پانچ سجدے کئے اور فرمایا : جبرئیل امین میرے اوپر نازل ہوئے اور مجھے پانچ بشارتیں دیں اور میں نے ہر بشارت کے لئے ایک سجدہ کیاہے۔(٢) حضرت علی ـ کبھی سجدئہ شکر میں بیہوش ہو جاتے تھے(٣) اور امام زمانہ ( عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) سے نقل ہوا ہے کہ لازم ترین سنت سجدئہ شکر ہے ۔(٤) سجدئہ شکر میں ہر ذکر اور دعا جائز ہے لیکن '' شکر اًللہ '' اور '' الحمد للہ '' کہنے اور ولایت اہل بیت ٪ کی عظیم نعمت کو یاد کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔(٥) خداوند عالم فرماتا ہے: جو شخص میرے لئے سجدئہ شکر کرے اس کا انعام یہ ہے کہ ہم بھی اس کا شکریہ ادا کریں ۔(٦)

اگرچہ سجدئہ شکر کے لئے کوئی جگہ اور وقت معین نہیں ہے لیکن اس کا بہترین وقت نماز کے بعد ، تعقیبات ِ نماز کے عنوان سے ہے ۔

____________________

١۔ وافی ج ٨ ص ٨٢٥

٢۔ محجة البیضاء جلد ١ صفحہ ٣٤٦.

٣۔ جامع الاحادیث جلد ٥ صفحہ ٤٥٩.

٤۔ جامع الاحادیث جلد ٥ صفحہ ٤٥٣.

٥۔ جامع الاحادیث جلد ٥ صفحہ ٤٦٩.

٦۔ الفقیہ جلد ١ صفحہ ٣٣٤


سجدئہ شکر کی برکتیں

روایات میں سجدئہ شکر کی بر کتیں کافی نقل ہوئی ہیں ۔ ہم اختصار کے طور پر ان کی فہرست ذکر کرتے ہیں ۔

اگر نماز میں کو ئی نقص پیدا ہو جائے اور وہ نوافل سے بر طرف نہ ہو تو سجدئہ شکر اس کو پورا کردیتا ہے ۔ سجدئہ شکر کا نتیجہ خدا کی رضایت ہے ،یہ انسان اور فرشتوں کے درمیان فاصلہ کو ختم کرتا ہے ،سجدہ میں دعا مستجاب ہوتی ہے ،دس صلوات کا ثواب ملتا ہے اور دس بڑے گناہ ختم ہوجاتے ہیں۔

سجدئہ شکر کی فضیلت کے لئے یہی کافی سے ہے کہ خدا وند عالم اس کی وجہ سے فرشتوں پر فخر و مباہات کرتا ہے ۔(١)

اولیائے خدا کے سجدے

امام صادق ـ فرماتے ہیں : حضرت ابراہیم ـ اس لئے خلیل خدابنے تھے کہ وہ خاک پر سجدہ زیادہ کرتے تھے ۔(٢)

جس رات یہ طے پایا کہ حضرت علی ـ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سو جائیں تاکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمنوں کی تیغ سے محفوظ رہیں ۔ حضرت علی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا : ''اگر میں یہ کام انجام دوں تو کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچ جائے گی ؟ '' جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہاں میں جواب دیا تو حضرت علی ـ مسکرائے اور اس توفیق کے شکر میں سجدہ کیا ۔(٣)

____________________

١۔ الفقیہ جلد ١ صفحہ ٣٣١

٢۔ بحار الانوار جلد ٨٥ صفحہ ١٦٣.

٣۔ وافی جلد ٨ صفحہ ٨٨٢


جس وقت مشرکین کے لیڈر، ابوجہل کا کٹا ہوا سر رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سجدئہ شکر بجا لائے۔(١)

امام سجاد ـ ہر نماز کے بعد ، اس کو بجا لانے کے شکر میں ، سجدہ کرتے تھے اور جب آپ سے کو ئی بلا دور ہو جاتی تھی یا آپ دو مسلمانوں کے درمیان مصالحت کراتے تھے تواسی وقت اس کے شکر کے لئے سجدہ کرتے تھے ۔ آپ اپنے سجدوں کو اتنا طول دیتے تھے کہ پسینہ میں ڈوب جاتے تھے۔(٢)

چند نکتے

١) سجدہ کرنے کی جگہ اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ حدیث میں ہے کہ نماز کے بعد سجدہ کرنے کی جگہ پر ہاتھ لگا کر اپنے بدن اور چہرے پر پھیرو تاکہ امراض و آفات اور مشکلات سے محفوظ رہو۔(٣)

٢) کوشش کریں کہ نماز مغرب کے بعد سجدۂ شکر کو فراموش نہ کریں اس میں دعا قبول ہوتی ہے۔(٤)

امام صادق ـ نے فرمایا : جو شخص اذان و اقامت کے درمیان سجدہ کرے اور سجدہ میں کہے کہ '' سجدت ُ لک خاضعا خاشعا ذلیلا '' خدا مؤمنین کے دلوں میں اس کی محبت اور منافقین کے دلوں میں اس کی ہیبت بیٹھادیتا ہے ۔(٥)

٣) سجدہ خدا سے مخصوص ہے اور خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جائز نہیں ہے۔(٦)

____________________

١۔ جامع الاحادیث جلد ٥ صفحہ ٤٧٥.

٢۔ بحار الانوار جلد ٨٥ صفحہ ١٣٧.

٣۔ سفینة البحار

٤۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١۰٥٨.

٥۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٦٣٣.

٦۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩٨٦.


جس وقت مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی توکفار نے کچھ لو گوںکو نجاشی کے پاس بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک میں جگہ نہ دے اور ان کو وہاں سے نکال دے ، اس زمانے کی رسم کے مطابق قریش کا نمائندہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے سجدہ میں گر پڑا لیکن مسلمانوں کا نمائندہ جو حضرت علی ـ کے بھائی جناب جعفر تھے انہوں نے اسے سجدہ نہیں کیا اور کہا کہ ہم خداوند عالم کے علاوہ کسی بھی چیز کے سامنے سجدہ نہیں کرتے ہیں ۔(١)

حضرت یعقوب اور ان کے بیٹوں کا یوسف کے سامنے سجدہ کرنا ، یوسف کو سجدہ نہیں تھا بلکہ وہ سجدہ خدا کے لئے تھا لیکن وصال یوسف کی نعمت ملنے پرخدا کا شکر تھا (وخرّوا له سجدا )(٢ )

____________________

١۔ مسند احمد حنبل جلد ١ صفحہ ٤٦١.

٢۔ یوسف ١۰۰.


ساتواں باب

ذکر تسبیح

سبحان اللہ

نماز پڑھنے والا رکوع اور سجود میں خداوند متعال کی تسبیح کرتا ہے ۔ جس وقت آیت (فسبح باسم ربک العظیم )(١) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : اس حکم کو اپنے رکوع میں قرار دو اور کہو '' سبحان رب العظیم و بحمدہ '' میرا عظیم پروردگار کہ میں نے جس کی تعریف میں لب ہلائے وہ ہر عیب و برائی سے پاک ہے '' اور جب یہ آیت (سبح اسم ربک الاعلی )(٢) نازل ہوئی تو فرمایا اس کو اپنے سجدہ میں قرار دو اور کہو '' سبحان رب الاعلی و بحمدہ '' '' ہم ہمیشہ اپنے پروردگار کی تسبیح و تعریف کرتے ہیں جو سب سے بڑا اور بزرگ و برتر ہے ۔ ''

تسبیح کا مرتبہ

خدا کی تسبیح و تنزیہ ،اسلام کے سارے صحیح عقائد و افکار کی جڑ ہے ۔

توحید : یعنی خدا کو شرک سے پاک سمجھنا (سبحان الله عما یشرکون )(٣)

عدل : یعنی خدا کو ظلم سے پاک سمجھنا (سبحان الله انا کنا ظالمین )(٤)

نبوت و امامت : یعنی خدا کو بے مقصد ،غیر منظم اور لوگوں کو دریائے ہوس میں چھوڑ دینے سے پاک سمجھنا (و ما قدروا الله حق قدره اذ قالوا ما انزل الله علی

____________________

١۔ واقعہ ٧٤

٢۔ اعلیٰ ١

٣۔ طور ٤٣.

٤۔ قلم ٢٩.


بشرٍ من شیئٍ )(١)

وہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا در حالیکہ خدا کو اچھی طرح نہیں پہچانتے ہیں۔

معاد : یعنی خدا کو اس سے پاک سمجھنا کہ اس نے دنیا کو عبث اور باطل خلق کیا ہے اور دنیا کے سر انجام کو نابودی قرار دیا ہے (ربّنا ما خلقت هذا باطلا سبحانک )(٢)

(افحسبتم انما خلقنا کم عبثا و انّکم الینا لا ترجعون )(٣) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاؤ گے ؟ جی ہاں خداوند عالم اس عبث اور بیہودہ امر سے پاک و منزہ ہے ۔

تسبیح خدا : تسبیح خدا فقط عقائد اسلامی کا سرچشمہ نہیں ہے بلکہ بہت سے روحی و معنوی کمالات ِ کا ذریعہ ہے ۔

سبحان اللہ : رضائے الہی کا سرچشمہ ہے ۔ اگرہم اس کو ہر عیب سے پاک سمجھیں تو اس کے مقدّر ات پر راضی ہوں گے اور اس کی حکیمانہ مشیت کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے ۔

سبحان اللہ : توکل کا سرچشمہ ہے ۔ جو ذات ہرمحتاجی سے دور اور ہر ضعف اور عاجزی سے پاک ہو ، اس پر کیسے انحصار اور توکل نہ کریں ؟ (سبحانه هو الغن )(٤)

سبحان اللہ :خدا سے عشق کی نبیاد ہے جو ہر عیب اور نقص سے پا ک ہے وہ انسانوں کا محبوب ہے اور انسان اسی سے والہٰانہ محبت کر تا ہے ۔

سبحان اللہ : خدا کی حمد و ثنا کی ابتداء ہے ۔ ایسی ذات کی ثنا جس تک کوئی بھی برائی

____________________

١۔ انعام ٩١

٢۔ آل عمران ١٩١.

٣۔ مؤمنون ١١٥.

٤ ١۔ یونس ٦٨


اورناپسندیدہ چیز نہ پہنچے ۔ اسی لئے تسبیحات اربعہ میں '' سبحان اللہ '' ' الحمد للہ '' سے پہلے آیا ہے ۔

سبحان اللہ : تمام بشری خرافات و توہمات اوربد عتوں سے نجات کی کنجی ہے (فسبحان الله ربّ العرش عمّا یصفون )(١)

شاید یہی وجوہات ہیں کہ قرآن مجید میں تسبیح الہی کا حکم دوسرے اذکار سے زیادہ آیا ہے ۔ تسبیح کا حکم ١٦ مرتبہ ، استغفار کا حکم ٨ مرتبہ ، ذکر خدا کا حکم ٥ مرتبہ اور تکبیر کا حکم ٢ مرتبہ آیا ہے ۔ وہ بھی ہر حال اور ہر وقت تسبیح کا حکم ہے تاکہ انسان ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہے اور ہمیشہ اس کو ہر عیب اور برائی سے پاک سمجھے ۔

(و سبّح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبها و من آناء اللیل فسبّح و اطراف النهار )(٢)

خوشی اور کامیابی کے موقع پر خدا کی تسبیح کرو (اذا جاء نصر الله و الفتح … فسبح بحمد ربک )(٣)

سختی و مشکلات اور پریشانی میں بھی تسبیح کرو اس لئے کہ تسبیح نجات کا ذریعہ ہے (فلولا انّه کان من المسبحین للبث ف بطنه الی یوم یبعثون )(٤) پھر اگر وہ ( حضرت یونس ) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو روز قیامت تک اسی (مچھلی)کے شکم میں رہ جاتے ۔

ہاں انسان اپنی فراواں حد بند یوں کی بنا پر خدا وند متعال کو ہرگز نہیں پہچان سکتا ۔ لہذا بہتریہی ہے کہ وہ اپنے ضعف کا اقرار کرے اور کہے کہ تو فکر و خیال کی رسائی سے پاک ہے اور جو دوسرے لوگ تیری تعریف کرتے ہیں اس سے بلند و بالاتر ہے (سبحانه و تعالیٰ عمّا

____________________

١۔ انبیاء ٢٢

٢۔ طہٰ ١٣۰.

٣۔ سورہء نصر

٤۔ صافات ١٤٣، ١٤٤.


یقولون علواکبیرا )(١)

صرف اللہ کے مخلص بندے ہیں جو اللہ کی مدد اور رہنمائی کے ذریعہ خدا کو پہچنوا سکتے ہیں (سبحان الله عمّا یصفون الا عباد الله المخلصین )(٢)

تسبیح کا ثواب

امام صادق ـ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ جس وقت کو ئی بندہ (سبحان اللہ)کہتا ہے تو جو چیز بھی عرش الٰہی کے نیچے ہے وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور اس لفظ کے کہنے والے کو دس گناجزا ملتی ہے اور جس وقت (الحمد للہ) کہتا ہے توخدا اسے دنیا کی نعمتیں عطا فرماتاہے تاکہ اسی حالت میںخدا سے ملاقات کرے اور آخرت کی نعمتوںمیں داخل ہو جائے۔(٣ )

____________________

١۔اسراء ٤٣ ٢۔ صافات ١٥٩، ١٦۰.

٣۔ وسائل جلد ٧ صفحہ ١٨٧.


عملی تسبیح

امام صادق ـ نے فرمایا کہ سخت ترین اور اہم ترین کاموں میں سے ایک کام جس کو خدا نے مخلوقات کے اوپر ضروری کیا ہے وہ ذکر کثیر ہے ۔ اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ : ذکر سے مراد (سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا الله و الله اکبر ) نہیں ہے گرچہ یہ بھی اس کا جز ہے لیکن ذکر سے مراد (ذکر الله عند ما احل و حرم ) یعنی کو ئی بھی کام کرتے وقت خدا کو یاد رکھنا ہے ،یعنی اگر خدا کی اطاعت ہے تو اسے انجام دے اور اگر اس کی معصیت ہے تو اس کو انجام نہ دے ۔(۱)

____________________

۱ ۔ کافی جلد ٢ صفحہ ٨۰


تسبیح کی تکرار

ایک شخص امام صادق ـ کے گھر میں داخل ہوا آپ کو رکوع کی حالت میں دیکھا کہ آپ خدا کی تسبیح میں مشغول ہیں اور آپ نے رکوع میں ٦۰ مرتبہ تسبیح کی تکرار کی اور سجدہ میں ٥۰۰ مرتبہ(١)

تسبیح کی تکرار فقط نماز ہی میں نہیں بلکہ اعمال ِ حج میں بھی ہے ۔ حجر اسود پر نگاہ کرتے وقت ، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے وقت اور دوسری جگہوں پر تسبیح کی تکرار کی تاکید کی گئی ہے ۔

جس طرح نماز میں رکوع و سجود کے علاوہ تیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ کی تکرار ہے اورشیعہ سنی روایتوں کے مطابق ، سورئہ کہف آیت نمبر ٤٦ میں باقیات الصالحات سے مراد یہی تسبیحات اربعہ ہیں ۔(٢)

حضرت علی ـ کے ارشاد کے مطابق خانہ کعبہ بناتے وقت حضرت ابراہیم ـ کا ذکر (سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا الله و الله اکبر ) تھا(٣)

ہمارے اسلاف کے تمدّن میں خدا وند عالم کا ذکر

اب یہاں تک بات پہنچ گئی ہے تو بہتر ہے کہ اسلامی تمدن میں ہمارے بزرگوں کے درمیان ذکر خدا کا کیا مقام رہا ہے ، اس پربھی ایک نظر ڈال لیں اور اس کی اہمیت کا پتہ لگائیں ۔

ہمارے مومن ماں باپ تعجب کے وقت کہتے ہیں '' ماشاء اللہ '' '' سبحان اللہ '' گھر کے اندر داخل ہوتے وقت کہتے ہیں '' یا اللہ '' ایک دوسرے سے رخصت ہوتے وقت '' خدا حافظ '' اٹھتے وقت

____________________

١۔ وافی جلد ٢ صفحہ ١۰٧

٢۔ تفسیر المیزان جلد ١٣ صفحہ ٥٤۰

٣۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢۰٧


'' یا علی '' کام کی تھکن دور کرنے کے لئے '' خدا قوت '' خیریت پوچھنے کے جوا ب میں '' الحمد للہ '' کھانا کھانے کے لئے '' بسم اللہ '' اور کھانا کھانے کے بعد دستر خوان کی دعا اور شکر ِ خدا ۔

دادی ، نانی قصہ کہانی کو یہاں سے شروع کرتی تھیں کہ '' کوئی تھا کوئی نہ تھا خدا کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ۔ ''

ظاہر ہے کہ ایسے ماحول اور ایسی آغوش میں تربیت سے ! ہمیشہ اور ہر وقت دلوں میں خدا کی یاد اور زبانوں پر اس کا نام جاری ہو تا رہتاہے ۔ لیکن ہمارے اوپر ایک تاریک دورایسا بھی گزرا ہے کہ جب خدا کے نام کو بھلا دیئے جا نے کے ساتھ ساتھ شہر کے در و دیوار حتی کپڑوں پر اور ہر جگہ مغربی تمدن اور ان کے فلمی ستاروں کی تصویریں تھیں ۔

لیکن انقلاب کے سایہ میں شہروں کے در و دیوار ، سڑکوں اور بورڈوں پر دوبارہ ذکر کی تصویر ابھر کر سا منے آئی ہے ۔

موجودات کی تسبیح

ساری موجودات ، ساتوں آسمان و زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب اس کی تسبیح کرنے والے ہیں(١) چاہے جاندار جیسے پرندے ہوں اور چاہے بے جان ہوں جیسے پہاڑ(٢) نیزبجلی اور چمک(٣) وہ بھی ایسی تسبیح جو شعور اور آگاہی کے سا تھ ہو (کل قد علم صلاته و تسبیحه )(٤)

فرشتوں کی تسبیح اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا آسمانوں پر ایک بالشت جگہ ایسی نہیں ہے جہاں پر فرشتے نماز و تسبیح میں مشغول نہ ہوں ۔(٥)

____________________

١۔ جمعہ ١

٢۔ انبیاء ٧٩.

٣۔ رعد ١٣

٤۔ نور ٤١

٥۔ تفسیر قرطبی جلد ٨ صفحہ ٥٥٨١.


امام صادق ـ فرماتے ہیں : جس وقت حضرت داؤد ـ زبور پڑھتے تھے تو کوئی پہاڑ ، پتھر اور پرندہ ایسا نہیں تھا جو ان کی آواز سے آواز نہ ملاتا ہو ۔(١)

روایتوں میں ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ جانوروں کے منہ پر نہ مارو اس لئے کہ وہ تسبیح پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں ۔(٢)

گر تو را از غیب چشمی باز شد

با تو ذرّات جھان ھمراز شد

نطق آب و نطق خاک و نطق گل

ھست محسوس حواس اھل دل

جملۂ ذرّات عالم در نھان

باتو می گویند روزان و شبان

ما سمیعیم و بصیریم و ھوشیم

با شما نا محرمان ما خاموشیم

ترجمہ : اگر تیری آنکھ عالم غیب کا مشاہدہ کرلے تو اس عالم کے ذرات بھی تیرے ہم راز ہو جائیں گے۔ پانی کی گفتگو ، خاک کی ہم کلامی اور پھولوں کی نطق بیانی اہل دل کے لئے سب کچھ محسوس و روشن ہے ۔ اس کائنات کے ذرے خا مو شی کے سا تھ تجھ سے ہر روز اور ہر شب کہتے ہیں : ہم تو سنتے بھی ہیں ، دیکھتے بھی ہیں اور ہمارے ہوش و حواس قائم ہیں لیکن تم نا محرموں کے سامنے ہم خاموش اورساکت ہیں ۔

چڑیوں کا ایک جھنڈ، امام سجاد ـ کے سامنے سے چیں چیں کرتا ہوا گزرا ۔ آپ اپنے

____________________

١۔ تفسیر نور الثقلین جلد ٣ صفحہ ٤٤٤

٢۔ تفسیر نور الثقلین جلد ٣ ١٦٨.


ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : پرندے ہر صبح خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور اپنے دن کی روزی کے لئے خدا سے دعا کرتے ہیں ۔(١) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا حیوانات کی موت اس وقت ہوتی ہے جب وہ تسبیح خدا کو فراموش کر دیتے ہیں ۔(٢)

بعض لو گوں کا کہنا ہے کہ موجودات کی تسبیح اور سجدے مجازی ہیں نہ حقیقی جس طرح ایک اچھی تصویر ، اس تصویر کے بنانے والے کے بھرپور ذوق اورسلیقہ یاا شعارکا دیوان شاعر کی خوش طبعی کی گواہی دیتا ہے اسی طرح موجودات کی اسرار آمیز خلقت خدا کے علم ، قدرت ، حکمت اور اس کی باریک بینی کی گواہی دیتی ہے اور اس کو ہر عیب اور برائی سے دور قرار دیتی ہے اور یہی موجودات کی تسبیح کے معنی ہیں ۔

جبکہ اول تو اس دعو ے کی کوئی دلیل و شاہد نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ تاویل یاتحلیل وہاں پر ہوتی ہے جہاںظاہری معنیٰ محال اورمشکل ہوں جیسے یہ آیت (ید الله فوق ایدیهم )(٣) ہم بخو بی جانتے ہیں کہ خدا وند متعال کا ہاتھ ہونا محال ہے لہذا کہیں گے ( ید اللہ )سے مراد قدرت الٰہی ہے۔ لیکن صرف اس و جہ سے کہ معانی سمجھ میں نہیں آ تے ہمیں اس کی تاویل کا حق حاصل نہیں ہے ، ہم کیسے تاویل کریں گے ؟جبکہ قرآن کریم خود کہہ رہا ہے :

(و ان من شئٍ الا یسبّح بحمده و لکن لا تفقهون تسبیحهم )(٤) اور

کوئی شئے ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہو یہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو۔

ہم کیسے تاویل کر سکتے ہیں ؟ جبکہ قرآن فرماتا ہے(و ما اوتیتم من العلم الا قلیلا )(٥) اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ۔

____________________

١۔ تفسیر المیزان جلد ١٣ صفحہ ٢۰٦

٢ ۔ تفسیر المیزان جلد ١٣ صفحہ ٢۰٣

٣۔ فتح ١۰

٤۔ اسرائ٤٤

٥۔ اسرائ٨٥


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا علم اگرچہ لا محدود علم کے سر چشمہ سے وابستہ ہے اس کے باوجود قرآن حکیم میں آپ کا یہ قول نقل ہو ا ہے(ان ادری )(١) یعنی میں نہیں جانتا ،تو اگر ہم بھی کہہ دیں کہ ہم نہیں جانتے اور ہم نہیں سمجھتے تو کیا ہو جائے گا ؟

مزے کی بات یہ ہے کہ خدا وند عالم نے ہمارے جہل اورنادانی کا صریحا ً اعلان بھی کردیا (ولکن لا تفقهون تسبیحهم ) لیکن مغرور بشراس بات کے لئے حاضر نہیں ہے کہ عالم ہستی کے وہ اسرار جن میں موجودات کی تسبیح بھی ہے ان کے بارے میں یہ اقرار کرلے کہ ہم نہیں سمجھتے ۔

کیا قرآن مجید واضح طور سے نہیں کہہ رہا ہے کہ ہدہد جب قوم سبا کی خورشید پرستی سے آگاہ ہوا تو اس نے اس کی خبر حضرت سلیمان ـ کو دی اور کہا ملک سبا میں ایک عورت ہے جو اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہے اور اس کی رعیت سورج کی پوجا کرتی ہے ۔(٢)

کہاں ہدہداور کہاں علاقہ کا نام ، عورت کو مرد سے ، شاہ کو رعیت سے ، توحید کو شرک سے جدا کرنا اور انھیں پہچان لینا؟! یہ سب موجودات کے شعور کی نشانیاں ہیں ۔

کیا قرآن مجید نہیں کہتا ہے ایک چیونٹی نے ساری چیونٹیوں سے کہا : '' اپنے اپنے بلوں میں چلی جاؤ ادھر سے حضرت سلیمان ـ کا لشکر گزرنے والا ہے اور ایسا نہ ہو کہ وہ نا سمجھی میں تمہیں روندھ ڈالیں ۔ ''

ان آیتوں میں انسانوں کی حرکت کی پہچان ، ان کا نام ( سلیمان ) ، ان کا پیشہ ( فوجی ) ، ان کا اپنے پیروں کے نیچے توجہ نہ ہونا اور اس چیونٹی کی دوسری چیونٹیوں کے لئے ہمدردی ، یہ ایسے مسائل ہیں جو ہمارے لئے موجودات اور عالم ہستی کے اندر پائے جانے والے شعور اور ان کے سمجھنے

کی طاقت کو بیان کرتے ہیں ۔

اب اگر ہم ان کے شعور کو قبول کرلیں اور نص قرآن کے مطابق اسے قبول کرناضروری ہے تو اس کے بعد موجودات کی تسبیح کے سلسلے میں کسی توجیہ اور تا ویل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔

____________________

١۔ قرآن میں اس جملہ کی چار مرتبہ تکرار ہوئی ان میں سے ایک سورہء انبیاء آیت ١۰٩بھی ہے.

٢۔ نمل ٢٢ ، ٢٧.


آٹھواں باب

قنوت

لغت میں قنوت کے معنیٰ ایسی اطاعت کے ہیں جو خضوع کے ساتھ ہو ۔

جیسا کہ خدا وند عالم حضرت مریم ٭ سے خطاب فرماتا ہے (یا مریم اقنت لربک )(١) لیکن نماز میں قنوت سے مراد وہی دعا ہے جسے ہم ہر نماز کی دوسری رکعت میں پڑھتے ہیں۔

حضرت امام صادق ـ اس آیت (تبتل الیه تبتیلا )(٢) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ( تبتل ) یعنی ہاتھوں کو نماز میں دعا کے لئے بلند کریں ۔(٣)

لغت میں '' تبتل '' کے معنیٰ غیر خدا سے قطع امیدکرنا ہے ۔(٤)

قرآن کریم تاکید فرماتا ہے (ادعوا ربکم تضرعا و خفیة )(٥) تم اپنے رب کو گڑگڑا کر اور خاموشی سے پکارو ۔پروردگار عالم کی بارگاہ میں ہاتھوں کو بلند کر کے دعا کرنا تضرع و زاری کی نشانی ہے(٦) فقیر انسان اپنے ہاتھ کو بے نیاز مطلق کی طرف پھیلاتا ہے ۔ فقط اسی سے مانگتا ہے اس کے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا ۔

اگرچہ نماز میں قنوت مستحب ہے لیکن اس کے اوپر اتنی توجہ دی گئی ہے کہ امام رضا ـ مأمون کو خط میں لکھتے ہیں کہ قنوت رات دن کی ہر نماز میں ایک واجب سنت ہے(٧)

____________________

١۔ آل عمران٤٣

٢۔ مزمل ٨ ۔٨٢ صفحہ١٩٧

٣۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ٩١٢

٤۔ مفردات راغب

٥۔ اعراف ٥٥

٦۔ معانی صدوق صفحہ ٣٦٩.

٧ ۔ بحار الانوار جلد ٨٢۔صفحہ١٩٧.


البتہ اس سے امام کی مراد قنوت کی اہمیت کی و ضا حت ہے ۔ چنانچہ اگر انسان رکوع سے پہلے اس کو بھول جائے تو مستحب ہے کہ رکوع کے بعد اس کی قضا کرے اور اگر سجدہ میں یاد آئے تو سلام کے بعد اس کی قضا کرے ۔

قنوت کے آداب میں آیا ہے کہ ہاتھوں کو چہرے کے برابر تک بلند کریں ۔ ہاتھوں کی ہتھیلی چہرے کے بالکل سامنے اور آسمان کی طرف ہو ۔ دونوں ہاتھوں کو برابر ملائیں اور انگوٹھے کے علاوہ ساری انگلیاں آپس میں چپکی ہوں۔ دعا پڑھتے وقت نظر ہتھیلی پر ہو دعا بلند آواز میں پڑھیں لیکن آواز اتنی بلندنہ ہو کہ امام جماعت کو سنا ئی دے۔(١)

قنوت کی کوئی مخصوص دعا نہیں ہے انسان ہر دعا پڑھ سکتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ دعا عربی میں ہو اپنی زبان میں بھی اپنی حاجت کہی جاسکتی ہے ۔ البتہ یہ واضح رہے کہ قرآن کریم کی دعائیں یا وہ دعائیں جو ائمہ معصومین ٪ اپنے قنوت میں پڑھتے تھے ان کی اپنی فضیلت اور اولویت ہے ۔

مختلف نمازوں کے قنوت

نمازوں میں قنوت کی تعداد ایک جیسی نہیں ہے ۔ پنجگانہ نمازوں میں صرف ہر نماز میں ایک قنوت دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے ہے ۔ لیکن نماز جمعہ دو رکعت ہے اور اس میں دو قنوت ہیں ۔ ایک رکعت اوّل میں رکوع سے پہلے دوسرا دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ہے ۔

نماز عید فطر و عید قربان میں دو رکعت میں ٩ قنوت پڑھے جا تے ہیں ۔پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے ٥ قنوت پے در پے ، اسی طرح دوسری رکعت میں ٤ قنوت ۔

____________________

١۔ توضیح المسائل : قنوت کے مسائل


البتہ ان قنوت کے لئے ایک خاص دعا وارد ہوئی ہیں ۔ حتی نماز آیات جودو رکعت ہے اور اس کی ہررکعت میں ٥ رکوع ہیں ۔ اس میں مستحب ہے کہ دوسرے ، چوتھے ، چھٹے ، آٹھویں اور دسویں رکوع سے پہلے قنوت پڑھا جائے اگر چہ صرف دسویں رکوع سے پہلے ایک قنوت بھی کافی ہے ۔

نماز وتر جو ایک رکعت ہے اورنماز شب کے بعد پڑھی جاتی ہے اس کا قنوت طویل ہے اس قنوت میں کافی دعائیں ہیں جن میں ٧۰ مرتبہ استغفار ،٣۰۰ مرتبہ العفو اور چالیس مؤمنوں کے لئے دعا ہے ۔

نماز استسقاء میں بھی نمازعید کی طرح ہے پہلی رکعت میں ٥ قنوت اور دوسری رکعت میں ٤ قنوت ہیں ۔ بہرحال قنوت کو لمبا پڑھنا مستحب ہے جناب ابوذر نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سی نماز اچھی ہے ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ایسی نماز جس کا قنوت طویل ہو اور جو لمبے قنوت پڑھتا ہے اس کے لئے قیامت میں آسانی ہے ۔(١)

معصومین کے قنوت

ابن مسعود اپنے مسلمان ہونے کی وجہ تین شخصیات : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حضرت علی ـ اور حضرت خدیجہ ٭ کی نماز اور ان کے طولانی قنوت کو سمجھتے ہیں ۔(٢)

زیارت آل یٰس میں حضرت مہدی ( عج)کو سلام کرتے ہو ئے ہم یہ کہتے ہیں:

''السلام علیک حین تصل و تقنت ''

آپ پر سلام ہو جب آپ نماز اور قنوت کے وقت کھڑے ہوتے ہیں ۔

ہر معصوم سے قنوت کی بڑی بڑی دعائیں نقل ہوئی ہیں ، جن کے لکھنے کایہاں امکان نہیں

____________________

(١) بحار ج٨٢صفحہ ٢۰۰.

(٢) بحار ج ٣٨ صفحہ ٢٨۰.


ہے اور اس بات پر تعجب ہے کہ قنوت ، جس کی اتنی برکتیں ہیںوہ اہل سنت کے یہاں سے کیوں ختم ہوگیا ۔ کیا حضرت علی ـ اور خلفاء راشدین نماز میں قنوت نہیں پڑھتے تھے ؟

قنوت میں صرف اپنی اور اپنی حاجت کی فکر میں نہ رہنا چا ہیئے بلکہ حضرت زہرا ٭ سے سبق لینا چا ہئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : ''الجار ثم الدار ''(١) پہلے پڑوسی کی فکر کرو پھر اپنے گھر والوں کی ۔ '' اس لئے کہ خدا وند متعال نے وعدہ کیا ہے کہ جو دوسروں کے لئے دعا کرے گا خدا اس کی بھی حاجت پوری کرے گا ۔

قنوت میں دشمنان ِ دین کے لئے بد دعا کریں اور اسلام و مسلمین کے لئے دعا کریں۔

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے قنوت میں کچھ لو گوں پر ان کے نام اور ان کی خصوصیات کے ساتھ لعنت کرتے تھے ۔

بہرحال تولّااور تبرّا دین کا جز ہی نہیں بلکہ ہمارے دین کی بنیاد ہے۔

''هل الدین لّا الحبّ و البغض'' (٢)

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٤٣ صفحہ ٨١ ۔

٢۔ بحار الانوار جلد ٦٨ صفحہ ٦٣ ۔


نواں باب

تشہد و سلام

تشہد

(اشهد ان لا اله الا الله و اشهد انّ محمدا عبده و رسوله اللهم صل علی محمد و آل محمد )

تشہد واجبات نماز میں سے ہے ۔ یہ دوسری رکعت اور نماز کے آخر میں پڑھا جاتا ہے ۔ تشہد میں ہم خدا وند عالم کی وحدانیت اور حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں ۔ اگرچہ اذان و اقامت میں بارہا اسی چیز کی گواہی دے چکے ہیں لیکن وہ گواہی نماز میں داخل ہونے کے وقت تھی اور یہ گواہی نماز کے اختتام پر ہے ۔

اتنی زیادہ تکرار اس حکمت کی بنا پر ہے کہ انسان غفلت میں جلد ہی مبتلا ہو جاتا ہے اور نعمت عطا کرنے والے کو بھلا دیتا ہے اور یہ جملے اس رسی کی طرح ہیں جو انسان کو حوادث کی موجوں سے نجات دیتی ہے ۔

توحید کا نعرہ

'' لا الہ الا اللہ '' ، تمام انبیاء کا سب سے پہلا نعرہ ہے ۔

'' لا الہ الا اللہ '' وہ گواہی ہے جس کا صاحبانِ علم ، فرشتوں کے ساتھ اقرار کرتے ہیں (شهد الله انه لا اله الا هو و الملائکة و اولوا العلم )(١)

____________________

١۔ آل عمران ١٨


''لا اله الا الله '' ایسا کلمہ ہے کہ ہر مسلمان اسے پیدائش کے وقت سنتا ہے اور مرنے کے بعد ، اس کے ذریعہ اس کی تشییع اور قبر میںسب سے پہلے اسی کی تلقین کی جاتی ہے ۔

''لا اله الا الله '' خدائے تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب ترین کلمہ اور میزان میں سب سے وزنی عمل ہے ۔(١)

''لا اله الا الله '' اللہ کا سب سے مضبوط قلعہ ہے جو بھی اس میں داخل ہوگیاوہ عذاب خدا سے امان میں ہے ''کلمة لا اله الا الله حصن فمن دخل حصنی امن من عذاب'' (٢)

''لا اله الا الله '' ،کفر اور اسلام کی حد فاصل ہے ۔ کافر اس کو کہنے سے اسلام کی امان میں آجاتا ہے ۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم نے ایک ایسے مسلمان پر تنقید کی جس نے دشمن سپاہی کے کلمۂ ''لا اله الا الله '' کہنے پر توجہ نہیں دی تھی اور اس کو قتل کر دیا تھا اور فرمایا اس کلمہ کاا ظہار کرنے کے بعدہر شخص امان میں ہے اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا ۔(٣)

''لا اله الا الله '' قیامت کے روز صراط سے گزرنے کے وقت مسلمانوں کا نعرہ ہے۔(٤)

ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ ابو جہل نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا : کیا ہم ٣٦۰ بتوں کو چھوڑ دیں اور ایک خدا کو مان لیں ؟؟ !! ہم حاضر ہیں کہ ١۰ کلمے کہیں لیکن یہ ایک کلمہ نہ کہیں ۔ لیکن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ : یہی ایک جملہ تم کو عزت اور قدرت بخشے گا اور تم کو تمام امتوں پر فضیلت دے گا ۔(٥)

امام حسین ـ کی دعائے عرفہ اور امام سجاد ـ کے شام والے خطبہ کو دیکھنے سے یہ حقیقت

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ٩٣ باب التھلیل و فضلہ

٢۔ بحار الانوار جلد ٣ صفحہ ١٣

٣۔ آیۂو لا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا '' کی طرف اشارہ ہے سورئہ نساء ٩٤.

٤۔ جامع احادیث جلد ١ صفحہ ١٨٨

٥۔ فرازہای از تاریخ اسلام صفحہ ١١١


واضح ہو جاتی ہے کہ اولیائے خدا نے اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کلمہ کی شہادت دی ہے حتی کہ یہ حضرات زمین اور زمان کو اپنی اس شہادت پر گواہ بناتے تھے ۔

ہم تشہد میں صرف جملہ '' لا الہ الا اللہ '' پر اکتفا نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں ''وحدہ لا شریک لہ '' یعنی کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے ۔ نہ خلقت میں ، نہ اس کو چلانے میں اور نہ قانون بنانے میں (و لم یکن له شریک ف الملک )(١) اللہ کی بندگی اولیائے خدا کا سب سے بڑا افتخار ہے (کفیٰ بی عزا ان اکون لک عبدا )(٢)

خدا وند عالم کی بندگی تمام قیود ، وابستگیوں اور دلچسپیوں سے انسان کی آزادی کے برابر ہے۔ یہ انسان کو ایسی قدرت دیتی ہے کہ انسان کسی بڑی طاقت سے بھی نہیں ڈرتا ہے۔

فرعون کی بیوی صرف اس لئے کہ خدا کی کنیز تھی ،ایسی غیر متزلزل اورٹھوس شخصیت میں تبدیل ہوگئی کہ فرعون کے سکّوں اور زور و زر کااس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اگر چہ فرعون نے سب کو اپنا بندہ بنا رکھا تھا لیکن وہ صرف بندئہ خدا تھی ۔جس کا نتیجہ یہ ہواکہ وہ تاریخ کے تمام مؤمن مرد وںاور عورتوں کے لئے نمونہ بن گئی (ضرب الله مثلا للذین آمنوا امرأة فرعون )(٣)

بہر حال پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عبودیت کی گواہی ان کی رسالت کی گواہی پر مقدم ہے اور خود اس میں متعدددرس اور پیغام ہیں ''اشهد انّ محمدا عبده و رسوله ''

رسالت کی گواہی کے معنیٰ تمام بشری مکاتب فکر کا انکار ہے ۔ اس کے معنیٰ آخری پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کو عالمی اور ہمیشہ رہنے والی رسالت کے طور پر ماننا ہے ،اس کے معنیٰ تمام طاغوتی قوتوں اور سرکشوں کا انکار ہے۔

____________________

١۔ اسراء ١١١

٢۔ بحار الانوار جلد ٧٧ صفحہ ٤۰٢.

٣۔ تحریم ١١


حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی شہادت اورگواہی ایک ایسا عہد ہے جو خدا وند متعال نے تمام پیغمبروں سے لیا ہے ۔ اگر وہ حضرات آپ کی رسالت کو قبول نہ کرتے تو انہیں نبوت نہ ملتی(١) پس اس بنا پر صرف ہم اکیلے ہی '' اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ''نہیں کہتے بلکہ سارے انبیاء اس کا اقرار کرتے تھے۔

حقیقی توحید

آج کل خدا کو ماننے والے اکثر لو گوں کو جس چیز نے جکڑرکھا ہے وہ یہ ہے کہ وہ زبان سے تو '' لا الہ الا اللہ '' کہتے ہیں لیکن عملا اغیار کے پاس جاتے ہیں اور عزت و قدرت کو دوسری جگہ تلاش کرتے ہیں ۔ غیر خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اغیار سے محبت کرتے ہیں ۔

حقیقت میں شرک ، اپنے اوپر ایک بڑا ظلم اور اس ذات مقدس کی شان میں بے ادبی ہے (ان الشرک لظلم عظیم )(٢) اس لئے کہ شریک کا و جوداس کے کاموں میں اس کے ضعف و عاجزی اور اس کی ناتوانی کی علامت اور اس کی شبیہ و مثل کا وجود ہے ۔ اور خدا وند عالم کے بارے میں یہ چیزیں معنیٰ نہیں رکھتیں ہیں ۔

رسالت کی گواہی

'' اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ '' '' ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ''

انبیاء کا سب سے بلند مقام،مقام بندگی ہے بلکہ یہ مقام رسالت و نبوت کا پیش خیمہ ہے

____________________

١۔ آل عمران ٨١ ۔

٢۔ لقمان ١٣ ۔


''عبدہ و رسولہ '' ۔ عبودیت ہی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو معراج پر لے جاتی ہے : (سبحان الذ اسریٰ بعبده )(١) اور آسمانی وحی کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل کرتی ہے : (نزلنا علیٰ عبدنا )(٢)

خدائے تعالیٰ بھی اپنے پیغمبروں کی بندگی کی تعریف کرتا ہے ، حضرت نوح ـ کے بارے میں فرماتا ہے (انه کان عبدا شکورا )(٣) اور حضرت داؤد ـ کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے (نعم العبد )(٤)

انبیاء اور نابغہ و خلّاق انسانوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے اپنی یہ استعداد اور خلّاقیت اپنی تیز ہوشی، اور مسلسل مطالعہ اور مشق کی بنا پر حاصل کی ہے ۔ لیکن انبیاء نے اپنے معجزات کو خداوند عالم کی بندگی کے نتیجے اور لطفِ خدا کے سائے میں حاصل کیا ہے ۔ تمام انبیاء کے بلند مقامات کا سرچشمہ بندگی ہی ہے ۔

پیغمبروں کی عبودیت کا اقرار ، اولیائے خدا کے بارے میں ہم کو ہر قسم کے غلو ، افراط ا ور زیادہ روی سے روکتا ہے تاکہ ہم یہ جان لیںکہ پیغمبر جو سب سے بلند فرد ہیں ، وہ بھی خدا کے بندے ہیں ۔

یہ بات واضح رہے کہ یہ شہادت اور گواہی صداقت اور حقیقت کی بنا پر ہو ورنہ منافقین بھی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے تھے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے : خدا شہادت دیتا ہے اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! تم اس کے رسول ہو لیکن منافقین جھوٹ کہتے ہیں ، اس لئے کہ ان کی گواہی سچی نہیں ہے ۔(٥)

____________________

١۔ اسرائ١

٢۔ بقرہ ٢٣

٣۔اسراء ٣

٤۔ ص ٣۰

٥۔ منافقون ١.


صلوات

اللهم صل علی محمد و آل محمد

توحید و رسالت کی گواہی کے بعدہم حضرت محمدمصطفٰےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر صلوات بھیجتے ہیں ۔

صلوات : پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان سے محبت و مودّت اور وفاداری کی نشانی ہے ۔ قرآن مجید اس کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اجر قرار دیتا ہے ۔(١)

صلوات : روحِ انسان کا زنگ صاف کرنے اور اسے صیقل دینے والی ہے(٢) اور نفاق کو ختم کرنے والی ہے ۔(٣)

صلوات : گناہوں کے محو ہونے کا سبب ہے(٤) آسمان کے دروازے کھلنے کا وسیلہ ہے۔(٥) انسان کے حق میں فرشتوں کی استغفار اور دعاؤں کا سبب ہے ۔(٦) قیامت میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قربت اور ان کی شفاعت حاصل کرنے کا وسیلہ ہے ۔(٧) عاقبت اس کی اچھی ہے جس کا دنیا میں آخری کلام صلوات ہو ۔(٨) خدا پہلے خود صلوات بھیجتا ہے اور پھر ہم کو صلوات بھیجنے کا حکم دیتا

____________________

١۔ شوریٰ ٢٣.

٢۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢١٦

٣۔ کافی جلد ٢ صفحہ ٤٩٢

٤۔ بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ٥٤

٥۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢٢۰

٦۔ مرآة العقول جلد ١٢ صفحہ ١۰٩

٧۔ بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ٦٣

.٨۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢١٦


ہے: (ان الله و ملائکته یصلون علی النب یا أیها الذین آمنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما )(١) بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلوات بھیجتے ہیں تو اے صاحبان ایمان تم بھی ان پر صلوات بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو ۔

اس آیت اور اس سے متعلق روایتوں سے کچھ نکتے حاصل ہوتے ہیں :

١) صلوات : زبانی احترام ہے لیکن اس سے اہم عملی اطاعت ہے ۔ جملۂ : (سلموا تسلیما ) اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔

٢) خدا وند متعال اور فرشتوں کی صلوات دائمی ہے (یصلون )

٣) خداوند عالم کی صلوات کرامت ، فرشتوں کی صلوات رحمت اور انسانوں کی صلوات دعا ہے ۔

٤) روایتوں میں آیا ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ ـ سے خطاب کیا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر صلوات بھیجو اس لئے کہ میںاور فرشتے ان کے اوپر صلوات بھیجتے ہیں ۔(٢)

٥) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : یاد خدا عبادت ہے اور ہماری یاد بھی عبادت ہے ۔ اسی طرح ہمارے جانشین علی بن ابیطالب ـ کی یاد بھی عبادت ہے ۔(٣)

٦) روایتوں میں آیا ہے کہ دعا کی قبولیت کے لئے دعا سے پہلے صلوات بھیجو ۔(٤) نہ تنہا ان کا نام سننے پر صلوات پڑھنا بلکہ ان کا نام لکھنے کے بعدصلوات کو لکھنا بھی ثواب رکھتا ہے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی تحریر میں ہمارے اوپر صلوات بھیجے جب تک ہمارا نام اس تحریر میں رہے گا فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ر ہیںگے ۔(٥)

____________________

١۔ احزاب ٥٥.

٢۔ تفسیر نور الثقلین جلد ٤ صفحہ ٣۰٥

٣۔ بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ٦٩

٤۔ بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ٦٤

٥۔ بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ٧١


صلوات کا طریقہ

اہل سنت کی اہم کتابوں میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہوا ہے کہ صلوات پڑھتے وقت آل محمد کا نام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام کے ساتھ ضرور لیا کروورنہ تمہاری صلوات ابتر اور ناقص ہے ۔(١)

تفسیر در المنثور میں صحیح بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی ، ابی داؤد اور ابن ماجہ (جو اہل سنت کی سب سے اہم کتابیںہیں) نقل ہوا ہے : ایک شخص نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا ہم جانتے ہیں کہ آپ کوسلام کیسے کریں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات کس طرح بھیجیں ؟۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اس طرح سے کہو : ''اللهم صل علی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علیٰ ابراهیم وآل ابراهیم انک حمید مجید ''(٢)

امام شافعی اپنے اشعارمیں اس بات کو یوں کہتے ہیں :

یا اهل بیت رسول الله حبکم

فرض من الله ف القرآن انزله

کفا کم من عظیم القدر انکم

مَن لم یصل علیکم فلا صلواة له(٣)

'' اے اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! تمہاری محبت خدا کی طرف سے قرآن میں فرض ہوئی ہے۔ تمہاری عظمت کے لئے یہی بس ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں تمہارے اوپر صلوات نہ بھیجے تو اس کی نماز باطل ہے ۔ ''

____________________

١۔ تفسیر نمونہ جلد ١٧ صفحہ ٤٢۰کے مطابق۔

٢۔ تفسیر المیزان جلد ١٦ صفحہ ٣٦٥ کے مطابق ، صحیح بخاری جلد ٦ صفحہ ١٥١ ۔

٣۔ الغدیر ۔


جی ہاں ! ہر نماز میں آل محمد ٪ کی یاد اس بات کا راز ہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدان کے اہل بیت٪کے نقش قدم پر چلیں اور دوسروں کے پیچھے نہ جائیں ورنہ ایسے لو گوںکا نام لینا جن کے مشن کو ہمیشہ جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ؛ وہ بھی ہر نماز میں ،ایک عبث کام ہوگا ۔

ایک شخص کعبہ سے چپکا صلوات بھیج رہا تھا لیکن آل محمد ٪ کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ امام صادق ـ نے فرمایا : یہ ہمارے اوپر ظلم ہے ۔(١)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : جو لوگ میری آل کو صلوات سے محروم کریں ، ان تک جنت کی خوشبو نہیں پہنچے گی ۔(٢) چنانچہ وہ مجالس و محافل جن میں خدا کا نام اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد ٪ کی یاد نہ ہو ، قیامت میں حسرت اور افسوس کا باعث ہوں گی ۔(٣)

حقیقت تو یہ ہے کہ روایتوں میں آیا ہے کہ جس وقت خدا کے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کا نام لیا جائے توپہلے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر صلوات بھیجو پھر اس پیغمبر پر صلوات بھیجو۔(٤)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : حقیقی کنجوس وہ ہے جو ہمارا نام سنے اور صلوات نہ بھیجے ۔ ایسا شخص سب سے زیادہ جفا کرنے والا اور سب سے زیادہ بے وفا ہے ۔(٥)

سلام

صلوات کے بعد ہم تین سلام پڑھتے ہیں ۔ ایک رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ، ایک اولیائے خدا پر ، اور ایک مؤمنین اور اپنے مذہب والوں پر ۔

____________________

١۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢١٨

٢۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢١٩

٣۔ کافی جلد ٢ صفحہ ٤٩٧

٤۔ بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ٤٨

٥۔ وسائل جلد ٤ صفحہ ١٢٢۰.


پروردگار اس آیت ( یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما ) میں صلوات کے بعد حکم دیتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کرو ۔لہذا نماز میں ان کے اوپر صلوات بھیجنے کے بعد انھیںسلام کرتے ہیں '' السلام علیک ایّھا النب و رحمة اللہ و برکاتہ ''۔

تکبیرة الاحرام کہتے ہی ہم مخلوق سے جدا ہوگئے اور خالق سے مل گئے اور نماز کے آخر میں سب سے پہلے گلدستہ ٔ موجودات کے سب سے اعلیٰ پھول یعنی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کیا۔ اس کے بعد خدا کے صالح و نیک بندوں کوسلام کیا '' السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین '' اس سلام میں سب انبیاء ،اوصیا ء اور ائمہ معصومین ٪ شامل ہیں۔ خدا بھی اپنے تمام پیغمبروں پر سلام و درود بھیجتا ہے۔

(سلام علی المرسلین )(١) (سلام علی نوح )(٢) (سلام علی ابراهیم )(٣) (سلام علی موسیٰ و هارون )(٤)

سلام سے ، ہم خدا کے صالح بندوں سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں ۔ ایسا رشتہ اور رابطہ جوزمان و مکان سے بالاتر ، پوری تاریخ میں ہر زمانے اور ہر نسل کے پاک اور صالح لوگوں سے جڑاہوا ہے۔

اس کے بعد اپنے مو جودہ دینی بھائیوں اور ساتھی مؤمنین تک پہنچتے ہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے مسلمین کی جماعت میں شرکت کی ہے اور ہمارے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہیں ۔ ان کے اوپر اور ان فرشتوں پر جو مسلمانوں کے درمیان ہیں اور وہ دو فرشتے جو ہمارے اوپر مأمور ہیںسب کو سلام کرتے ہیں ''السلام علیکم و رحمة الله و برکاته''

____________________

١۔ صافات ١٨١

٢۔ صافات ٧٩

٣۔ صافات ١۰٩.

٤۔ صافات ١٢۰.


نماز ،خدا کے نام سے شروع کی اور خلق خدا پر سلام کر کے ختم کردی۔ ان سلاموں میںحفظ مراتب کی رعایت ہوئی ہے ۔ سب سے پہلے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ان کے بعد انبیاء ،اولیاء ، صالحین اور ان کے بعدان کی پیروی کرنے والے مؤمنین ۔

سلام کی تصویر

سلام : خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔

سلام : ایک دوسرے کے لئے اہل جنت کا آداب اور اظہار عقیدت ہے ۔

سلام : جنت میں داخل ہوتے وقت فرشتوں کی تحیت ہے ۔

سلام : پروردگار رحیم کا پیغام ہے ۔

سلام : شبِ قدر کی ضیافت ہے ۔

سلام : ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر سب سے پہلا حق ہے ۔

سلام : ہر بات اور ہر تحریر کی کنجی ہے ۔

سلام : ہر قسم کے ڈر اور شر سے امان نامہ ہے ۔

سلام : سب سے آسان عمل ہے ۔

سلام : تواضع و انکساری کی علامت ہے ۔

سلام : محبت و الفت کا سبب ہے ۔

سلام : صلح و آشتی کا اظہار ہے ۔

سلام : دو افراد کا ایک دوسرے کو سب سے پہلا ہدیہ اور تحفہ ہے ۔

سلام : بندگان خدا کی سلامتی کی آرزو ہے ۔

سلام : عالمی صلح و سلامتی کی دعوت ہے ۔

سلام : نشاط آور اور امید افزا ہے ۔

سلام : پرانی کدورتوں کو برطرف کرنے والا ہے ۔

سلام : اپنی مو جودگی کا اعلان اورداخلے کی اجازت ہے ۔

سلام : کہیں آتے اور جاتے وقت بہترین کلام ہے ۔

سلام : ایسا کلام ہے جو زبان پر ہلکا اور میزان پر وزنی ہے ۔


سلام : معاشرے کی اصلاح کرنے والوں کے لئے راستہ ہموار کرنے والا ہے ۔

سلام : ایسا کلام ہے جس کے مخاطب مردہ اور زندہ سب ہیں ۔

سلام : تعظیم اور تکریم کا باعث ہے ۔

سلام : رضائے الہی کے حصول اور شیطان کے غضب کا سبب ہے ۔

سلام : دلوں میں خوشی داخل کرنے کا وسیلہ ہے ۔

سلام : گناہوں کا کفّارہ اور نیکیوں کو زیادہ کرنے والا ہے ۔

سلام : انس و دوستی کا پیغام لانے والا ہے ۔

سلام : خود خواہی اور تکبر کو دور کرنے کا باعث ہے ۔

سلام : سیرت معبود ہے ۔

سلام : ہر خیر و خوبی کا استقبال ہے ۔

سلام : ایسا کمال ہے جس کو ترک کرنا کنجوسی ، تکبر ، تنہائیوں پر سا ئبان بنا تے ہیں اسی لئے، غصہ اور قطع رحم ہے ۔

سلام : رحمت کا وہ بادل ہے ۔جسے ہم لوگوں کے سرکہتے ہیں '' السلام علیکم '' نہ '' السلام لکم '' ۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم فرماتے ہیں : میںآخر عمر تک بچوں کو سلام کرنا ترک نہیں کروں گا ۔(١) اگرچہ سلام کرنا مستحب ہے اور اس کا جواب واجب ہے لیکن سلام میں پہل کرنے والے کی جزا جواب دینے والے کی جزا سے دسیوں گنا زیادہ ہے ۔

ہم روایتوں میں پڑھتے ہیں کہ سوار پیدل چلنے والوں کو ، کھڑا ہوا بیٹھے ہوئے کو اورآنے والا پہلے سے موجود لوگوں کو سلام کرے ۔(٢) قرآن حکیم فرماتا ہے : جس وقت تم کو سلام کیا جائے یا مبارک بادپیش کی جائے تو اس کاجواب اس سے بھی گرم جوشی اور بہتر طریقہ سے دو (اذا حییتم بتحیة فحیوا باحسن منها )(٣)

و السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

تمت بالخیر

____________________

١۔ بحار الانوار جلد ١٦ صفحہ ٩٨ ۔

٢۔ بحار الانوار جلد ٨٤ صفحہ ٢٧٧ ۔

٣۔ سورئہ نساء آیہ ٨١ ۔


فہرست

حرف اول ۴

پیش لفظ ۷

پہلا باب ۸

عبادت و عبودیت ۸

عبادت کیا ہے ؟ ۸

فطرت و عبادت ۸

عبادت کی بنیاد ۱۰

عبادت کی گہرائی ۱۲

عبادت سے بے توجہی ۱۲

رضائے الٰہی محور عبادت ہے ۱۴

عبادت کا جذبہ ۱۴

عبادت میں اعتدال ۱۵

عبادت میں انتظامی صلاحیت ۱۷

عبادت؛ شب و روز کا دواخانہ ہے ۱۸

عبادت سکون کا باعث ہے ۱۸

کیا اہل مغرب کے پاس روحانی ا ور نفسیاتی سکون موجود ہے ؟ ۱۹

عبادت کا ما حصل ۲۰

ایمان و عبادت کا ایک دوسرے میں اثر ۲۱

قرآن مجید میں عبادت کا فلسفہ ۲۱


نماز؛ امام علی ـ کی زبانی ۲۳

عبودیت و بندگی کے اثرات و برکات ۲۵

١۔ احساس سر بلندی اور افتخار ۲۵

٢۔ احساس قدرت ۲۵

٣۔ احساس عزت ۲۶

٤۔ تربیت کا سبب ۲۸

٥۔ ارواح کا احضار ۲۹

عالم ہستی پر اختیار ۳۱

تصویر نماز ۳۶

نماز اور قرآن ۳۹

نماز اور قصاص ۴۰

عبادت و امامت ۴۰

نماز اور رہبری ۴۲

عبادت کے درجات ۴۳

تصویر عبادت ۴۶

مشکل کشا نمازیں ۴۸

نماز جعفر طیّار ۴۸

نماز کا تقدس ۵۰

جامعیّت ِ نماز ۵۱

دوسرا باب ۵۷


نیت ۵۷

نیت: نماز کا سب سے پہلا رکن ہے ۔ ۵۷

خالص نیت ۵۷

قصد قربت ۵۹

تقرب الٰہی کے درجات ۶۰

خدا کو خدا کے لئے یاد کریں ۶۲

تقرب الٰہی کے حصول کا راستہ ۶۴

ایک واقعہ ۶۵

کیفیت یا مقدار؟ ۶۶

یادگار واقعہ ۶۷

ایک واقعہ ۶۸

نیت ؛کام کو اہمیت دیتی ہے ۶۸

دو واقعات ۷۰

سرگزشت ۷۲

پاک نیت کے اثرات و برکات ۷۳

عمل پر نیت کی برتری ۷۷

نیت کے درجات ۷۸

سزا کے مسائل میں نیت کا اثر ۷۹

معرفت ؛ قصد قربت کا پیش خیمہ ہے ۸۰

غلط نیت کے اثرات ۸۱


تیسرا باب ۸۳

تکبیرة الاحرام ۸۳

اللہ اکبر ۸۳

دوسری نمازوں میں تکبیر ۸۵

نماز میں کس طرح سے تکبیر کہیں ؟ ۸۵

تکبیر کے معانی ۸۵

تکبیر ، اسلامی تمدن میں ۸۶

چوتھا باب ۹۱

سورئہ حمد ۹۱

سورئہ حمد میں تربیت کے سبق ۹۲

کیوں ہر کام کو ( بسم اللہ ) سے شروع کریں ؟ ۹۴

لفظ اللہ ۹۷

الحمد للہ ۱۰۰

ربّ العالمین ۱۰۱

الرحمن الرحیم ۱۰۳

مالک یوم الدین ۱۰۵

لفظ دین ۱۰۶

ایاک نعبد و ایاک نستعین ۱۰۸

اھدنا الصراط المستقیم ۱۱۲

صراط مستقیم کونسا راستہ ہے ؟ ۱۱۳


صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم و لاالضآلین ۱۱۹

گمراہ اور جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ کون لوگ ہیں ؟ ۱۱۹

یہ آیت مکمل طور سے تولّا اور تبرّا کی مصداق ہے ۔ ۱۲۱

پانچواں باب ۱۲۲

سورئہ توحید ۱۲۲

سورئہ توحید کی فضیلت ۱۲۲

قل ہو اللہ احد ۱۲۳

اللہ الصمد ۱۲۶

لم یلد و لم یولد ۱۲۷

و لم یکن لہ کفواً احد ۱۲۸

پہلا مرحلہ : ( قل ہو ) کہو وہ ہمارا خدا ہے ۔ ۱۲۹

دوسرا مرحلہ : ( قل ہو )وہ اللہ ہے ، ایسا معبود ہے جس میں تمام کمالات پائے جاتے ہیں ۔ ۱۲۹

تیسرا مرحلہ : ( احد ) وہ یکتا ہے اور یکتائی میں یگانہ وبے مثال ہے ۔ ۱۳۰

چوتھا مرحلہ : ( اللّٰہ الصمد ) خدا بے نیاز ہے ۔ ۱۳۰

پانچواں مرحلہ : ( لم یلد و لم یولد و لم یکن له کفواً احد ) ۱۳۱

چھٹا باب ۱۳۲

رکوع اور سجدے ۱۳۲

رکوع ۱۳۲

رکوع کے اثرات ۱۳۳

آداب رکوع ۱۳۴


اولیائے خدا کا رکوع ۱۳۴

سجدے ۱۳۶

سجدہ کی تاریخ ۱۳۶

سجدہ کی اہمیت ۱۳۷

سجدہ کی حکمتیں ۱۴۰

آداب سجدہ ۱۴۱

خاک کربلا ۱۴۱

سجدئہ شکر ۱۴۳

سجدئہ شکر کی برکتیں ۱۴۴

اولیائے خدا کے سجدے ۱۴۴

چند نکتے ۱۴۵

ساتواں باب ۱۴۷

ذکر تسبیح ۱۴۷

سبحان اللہ ۱۴۷

تسبیح کا مرتبہ ۱۴۷

تسبیح کا ثواب ۱۵۰

عملی تسبیح ۱۵۱

تسبیح کی تکرار ۱۵۲

ہمارے اسلاف کے تمدّن میں خدا وند عالم کا ذکر ۱۵۲

موجودات کی تسبیح ۱۵۳


آٹھواں باب ۱۵۷

قنوت ۱۵۷

مختلف نمازوں کے قنوت ۱۵۸

معصومین کے قنوت ۱۵۹

نواں باب ۱۶۱

تشہد و سلام ۱۶۱

تشہد ۱۶۱

توحید کا نعرہ ۱۶۱

حقیقی توحید ۱۶۴

رسالت کی گواہی ۱۶۴

صلوات ۱۶۶

صلوات کا طریقہ ۱۶۸

سلام ۱۶۹

سلام کی تصویر ۱۷۱


نماز کی تفسیر

نماز کی تفسیر

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین محسن قرائتی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 179