دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

مؤلف: محمد مهدی آصفی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


دعا عند اهل بيت(جلد دوم)

محمد مهدی آصفی

مترجم: سيد ضرغام حيدر نقوی


دعا ميں خدا سے کيا مانگنا چا ہئے اور کيا نہيں مانگنا چاہئے

اس مقام پر دعا ء کے سلسلہ ميں دو اہم سوال در پيش ہيں:

١۔ہميں دعا کر تے وقت خدا سے کن چيزوں کو مانگنا چاہئے ؟

٢۔اور دعا ميں خداوندعالم سے کن چيزوں کا سوال نہيں کرنا چاہئے ؟

١۔دعا ميں خدا سے کيا مانگنا چاہئے ؟

ہم پہلے سوال سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہيں کہ دعا کرتے وقت الله سے کو نسی چيزیں مانگنا سزوار ہے؟

بيشک بندے کا الله کی بارگاہ ميں اپنی حاجت پيش کرنا دعا کہلاتا ہے۔ بند ے کی ضرورت اور حاجت کی کوئی انتہا نہيں ہے جيسا کہ خداوندعالم کے غنی سلطان اور کرم کی کوئی انتہا نہيں ہے ۔

دونوں لامتناہی چيزوں کے جمع ہونے کو دعا کہا جاتا ہے ۔

یعنی بندے کی ضرورت کی کوئی انتہا نہيں ہے اور خداوندعالم کے غنی اور کریم ہو نے کی کوئی انتہا نہيں ہے اس کے ملک کے خزانے ختم نہيں ہوتے، اسکی سلطنت اوراس کی طاقت کی کوئی حد نہيں، اس کے جودو کرم کی کوئی انتہا نہيں، اسی طرح بندے کی حاجت وضرورت کمزوری اور کوتا ہی کی کوئی انتہا نہيں ہے ان تمام باتوں کے مد نظر ہم کو یہ سمجهناچاہئے کہ ہم دعا ميںخداوندعالم سے کيا طلب کریں ؟


١۔دعا ميں محمد وآل محمد (ص) پر صلوات

دعا ميں سب سے اہم نقطہ خداوندعالم کی حمد وثنا کے بعد مسلمانوں کے امور کے اولياء محمد و آل محمد پر صلوات بهيجنا ہے ۔

اور اسلامی روایات ميں اس صلوات پربہت زیادہ زور دیا گيا ہے جس کا سبب واضح وروشن ہے بيشک الله تبارک وتعالیٰ نے دعا کو مسلمانوں اور اور ان کے اوليا ء کے درميان ایک دوسرے سے رابطہ کا وسيلہ قرار دیا ہے اور وہ ولا ومحبت کی رسی کو بڑی مضبوطی کے ساته پکڑے رہيں جس کو الله نے مسلمانوں کےلئے معصوم قرار دیا ہے صلوات، ان نفسی رابطو ں ميں سے سب سے اہم سبب کا نام ہے بيشک محبت کے حلقے (کڑیاں)الله اور اس کے بندوں کے درميان ملی ہو ئی ہيں اور رسول الله اور اہل بيت عليہم السلام کی محبت ان کی سب سے اہم کڑیا ں ہيں ۔

رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے محبت الله کی محبت کی کڑی ميں واقع ہے اہل بيت عليہم السلام کی محبت رسول الله (ص)کی محبت کی کڑی ميں واقع ہے اس محبت کی تا کيد اور تعميق خداوند عالم کی محبت کی تاکيد کا جزء ہے نيز خداوند عالم کی محبت کی تعميق کا جزء ہے یہ معرفت کا ایسا وسيع باب ہے جس کو اس مقام پر تفصيل سے بيان نہيں کيا جا سکتا اور اس سلسلہ ميں ہم کما حقہ گفتگو نہيںکر سکتے ہيںشاید خداوند عالم ہم کو کسی اور مقام پر اسلا می ثقافت اور اسلامی امت کی تکوین کے سلسلہ ميں اس اہم اور حساس نقطہ کے سلسلہ ميں گفتگو کی تو فيق عنایت فر ما ئے ۔

اس مطلب پر اسلامی روایات ميں بہت زور دیا گيا ہے ۔ہم اس مو ضوع سے متعلق بعض روایا ت کو ذیل ميں بيان کر رہے ہيں ۔


اور ان ميں سب سے عظيم خدا وند عالم کا یہ فر مان ہے :

( اِنَّ الله ٰ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَْ عَلیَ النَّبِی یَااَیُّهَاالَّذِینَْ آمَنُواْصَلُّواعَلَيهِْ وَسَلِّمُواْتَسلِْيمْاً ) (۱)

“بيشک الله اور اس کے ملا ئکہ رسول پر صلوات بهيجتے ہيں تو اے صاحبان ایمان تم بهی ان پر صلوات بهيجتے رہو اور سلام کرتے رہو ” حضرت رسول خدا (ص)سے مروی ہے :الصلاة عليّ نورعلی الصراط (۲)

“مجه پر صلوات بهيجنا پل صراط کےلئے نور ہے” یہ بهی رسول اسلام (ص) کا ہی قول ہے:انّ ابخل الناس مَنْ ذُکرت عنده،ولم یصلّ عليّ (۳)

“سب سے بخيل انسان وہ ہے جس کے پاس ميرا تذکرہ کيا جائے اور وہ مجه پر صلوات نہ بهيجے ”

عبد الله بن نعيم سے مروی ہے کہ ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کی خدمت ميں عرض کيا جب ميں گهر ميں داخل ہو تا ہوں تو ميں اپنے پاس محمد وآل محمد پر صلوات بهيجنے کے علاوہ کوئی اور دعا نہيں پاتا تو آپ نے فرمایا :آگاہ ہو جاؤ اس سے افضل اور کوئی چيز نہيں ہو سکتی ہے ”حضرت امام باقر اور امام صادق عليہما السلام سے مروی ہے:اثقل مایُوزن في الميزان یوم القيامة الصلاة علیٰ محمّد وآل محمّد “قيامت کے دن ميزان ميں سب سے زیادہ وزنی چيز محمد وآل محمد پر ” صلوات ہو گی(۴)

حضرت امير المو منين عليہ السلام نہج البلا غہ ميں ارشاد فرما تے ہيں :اذاکانَ لکَ اِل یٰ الله سُبحَْانَهُ حَاجَة فَابدَْابِْمَسا لَةِ الصَّلَاةِ عَل یٰ رَسُولِْهِ ثُمَّ سَل حَاجَتُکَ؛فَاِنَّ الله ٰ اَکرَْمُ مِن اَن یُسالَ حَاجَتَينِْ ،فَيَقضْ یٰ اِحدَْاهُمَاوَیَمنَْعُ الاُْخرْ یٰ (۵)

“جب تم خداوندعالم سے کوئی حاجت طلب کرو تو پہلے محمد وآل محمد پر صلوات بهيجو اس کے بعد اس سے سوال کرو بيشک خداوندعالم سب سے زیادہ کریم ہے کہ اس سے دو حاجتيں طلب کی جائيں اور وہ ان ميں سے ایک کو پورا کردے اور دوسری کو پورا نہ کرے ” انبياء ومرسلين اور ان کے اوصيا ء کی دعا ئيں اسی طرح کی دعائيں ہيں ۔

عام طور پر تمام انبياء عليہم السلام اور ان کے اوصيا ء پر صلوات وسلام وارد ہو تے ہيں یا اہل بيت عليہم السلام سے ماثورہ دعاؤں ميں مشخص ومعين اور نام بنام ان پر صلوات وسلام وارد ہوئے ہيں اور ان ميں وارد ہو نے والی ایک دعا (عمل ام داؤد )ہے جو رجب کے مہينہ ميں ایام بيض کے سلسلہ ميں وارد ہو ئی ہے اور وہ امام جعفر صادق عليہ السلام سے منقول ہے ۔

____________________

۱ سورئہ احزاب آیت/ ۵۶ ۔ ۲ کنز العمال حدیث / ٢١۴٩ ۔ ۳ کنز العمال حدیث/ ٢١۴۴ ۔ ۴ بحارالانوار جلد ٧١ ۔صفحہ/ ٣٧۴ ۔ ۵ نہج البلاغہ حکمت ٣۶١ ۔


محمد وآل محمد (ص)پر صلوات بهيجنے کے چند نمونے صحيفه سجادیه ميں امام زین العابد ین عليه السلام فرما تے هيں : ربِّ صلِّ علی محمّد وآل محمّد،المنتجب،المصطفیٰ المکرّم،المقرّب افضل صلواتک وبارک عليه اتَمّ برکا تک،وترحّم عليه امتع رحماتک

ربِّ صلِّ علی محمّد وآله صلاة زاکية لاتکون صلاة ازکیٰ منها و صلِّ عليه صلاة ناميةلاتکون صلاةانمیٰ منهاوصلِّ عليه صلاةراضية لاتکون صلاة فوقهاربِّ صلِّ علی محمّد صلوة تُرضيه وتزید علی رضاه وصلِّ عليه صلاة تُرضيک وتزید علی رضاک وصلِّ عليه صلاة لانرضیٰ له الَّابها ولاتریٰ غيره لهااهلا ربِّ صلِّ علیٰ محمّد وآله صلاةتنتظم صلوات ملائکتک وانبيائک ورسلک واهل طاعتک

“خدایا محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما جو منتخب ،پسندیدہ ،محترم اور مقرب ہيں۔ اپنی بہترین رحمت اور ان پر برکتيں نازل فر ما اپنی تمام ترین برکات ،اور ان پر مہربانی فرما اپنی مفيد ترین مہربانی خدایا محمد وآل محمد پر وہ پاکيزہ صلوات نہ ہو اور وہ مسلسل بڑهنے والی رحمت جس سے زیادہ بڑهنے والی کو ئی رحمت نہ ہو ۔ان پروہ پسندیدہ صلوات نازل فرماجس سے بالا تر کو ئی صلوات نہ ہو ۔خدایا محمد وآل محمد پر وہ صلوات نازل فر ما جس سے انهيں راضی کر دے اور ان کی رضامندی ميں اضافہ کر دے اپنے پيغمبر پر وہ صلوات نازل فر ما جو تجهے راضی کر دے اور تيری رضا ميں اضافہ کر دے ۔ان پر وہ صلوات نازل فر ما جس کے علا وہ ان کے لئے کسی صلوات سے تو راضی نہ ہو اور اس کا ان کے علاوہ کو ئی اہل نہ سمجهتا ہو ۔۔۔خدایا محمد وآل محمد پر وہ صلوات نازل فر ما جو تيرے ملا ئکہ ،انبياء و مر سلين اور اطا عت گذاروں کی صلوات کو سميٹ لے ”


٢۔مومنين کےلئے دعا

خداوندعالم کی حمد وثنااور محمد وآل محمد انبياء اور ان کے اوصياء پر درودو سلام بهيجنے کے بعد سب سے اہم چيز مومنين کےلئے دعا کرنا ہے یہ دعا ،دعا کے اہم شعبوں ميں سے ہے اس لئے کہ مومنين کے لئے دعا کرنا اس روئے زمين پرہميشہ پوری تاریخ ميں ایک مسلمان کوپوری امت مسلمہ سے جو ڑے رہی ہے جس طرح محمد وآل محمد پر صلوات خداوندعالم کی طرف سے نازل ہو نے والی ولایت کی رسی کے ذریعہ جو ڑے رہی ہے۔

اس رابط کو دعا ایک طرف فردا ور امت کے درميان جوڑتی ہے اور ان سے رابطہ قائم کرنے والے تمام افراد کے درميان اس رابطہ کو جوڑتی ہے یہ رابطہ سب سے بہترین وافضل رابطہ ہے اس لئے کہ اس علاقہ وتعلق سے انسان الله کی بارگاہ ميں جاتا ہے اور یہ تعلق ولگاؤ اس کو ہميشہ خدا سے جوڑے رہتا ہے اور وہ خدا کے علاوہ کسی اور کو نہيں پہچانتا اور یہ الله کی دعوت پرلبيک کہنا ہے ۔یہ دعا دو طریقہ سے ہو تی ہے :عام دعا کسی شخص کو معين اور نام لئے بغير دعا کرنا ۔

دوسرے نام بنام اور مشخص ومعين کرنے کے بعد دعا کرنا ۔ اور ہم انشاء الله ان دونوں قسموں کے متعلق بحث کریں گے :

١۔عام مومنين کےلئے دعا

اس طرح کی دعا کو الله دوست رکهتا ہے ، اس کو اسی طرح مستجاب کرتا ہے خدا وند عالم اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ بعض دعاکو قبول کرے اور بعض دعا کورد کردے۔

دعا کا یہ طریقہ عام مومنين کےلئے ہے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور طول تاریخ ميں روئے زمين پرامت مسلمہ کے ایک ہونے کی نشاندہی کرتاہے اور ہمارے تعلقات کو اس خاندان سے زیادہ مضبوط ومحکم کرتا ہے ۔

ہماری زندگی ميں دعا کے دو کردار ہيں : پہلا کردار یہ ہے کہ ہم الله سے رابطہ قائم کرتے ہيں ۔

دوسرا کردار یہ ہے کہ طول تاریخ ميں روئے زمين پر ایمان لانے والی امت مسلمہ سے ہمارا رابطہ ہوتا ہے ۔


دعا کے اس بليغ طریقہ پر اسلامی روایات ميں بہت زیادہ زور دیا گيا ہے اور یہ وارد ہو ا ہے کہ خدا وند عالم دعا کرنے والے کو اس کی بزم ميں حاضر ہونے والے تمام مومنين کی تعداد کے مطابق نيک ثواب دیتا ہے ،اس دعا ميں شامل ہونے والے ہر مومن کی اس وقت شفاعت ہوگی جب خدا اپنے نيک بندوں کو گناہگار بندوں کی شفاعت کرنے کی اجازت دے گا ۔

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے کہ رسول الله (ص)نے فرمایا :

مامن مومن دعا للمومنين والمومنات إلَّاردّاللّٰه عليه مثل الذي دعا لهم به من کلّ مومن ومومنة ،مضی مِنْ اوّل الدهراو هوآت الیٰ یوم القيامة وانّ العبد ليومر به الیٰ النار یوم القيامة فيسحب،فيقول المومنون والمومنات:یاربّ هٰذا الذيکان یدعوالنافشفعنافيه،فيشفعّهم اللّٰه عزَّوجلَّ، فينجو (١)

“جو مو من بهی زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کےلئے دعا کرے گا خداوند عالم اس کيلئے ہر مو من و مو منہ کے بدلے خلقت آدم سے قيامت تک نيکی لکھے گا ۔

بيشک قيامت کے دن ایک انسان کو دوزخ ميں ڈالے جانے کا حکم دیا جا ئيگا تو اس کو کهينچا جا ئيگا اس وقت مو من و مو منات کہيں گے یہ وہی شخص ہے جو ہمارے لئے دعا کرتا تھا لہٰذا ہم کو اس کے سلسلہ ميں شفيع قرار دے تو خداوند عالم ا ن کو شفيع قرار دے گا جس کے نتيجہ ميں وہ شخص نجات پا جائيگا ” امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :

مَنْ قال کلّ یوم خمسا و عشرین مرة :اللهم اغفرللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات کتب الله له بعددکل مومن وضیٰ وبعددکل مومن ومومنة بقي الیٰ یوم القيامة حسنة ومحا عنه سيئة ورفع له درجة ( ٢)

“جس نے ایک دن ميں پچيس مرتبہاللهم اغفرللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات کہا ،تو خدا وند عالم ہرگز شتہ اور قيامت تک آنے والے مومن اور

____________________

۴،حدیث / ١)اصول کا فی / ۵٣۵ ،آمالی طوسی جلد ٢صفحہ ٩۵ ،وسا ئل الشيعہ جلد ١١۵١ ) ٨٨٨٩ ۔ /

١١۵١ ،حدیث ٨٨٩١ ۔ / ٢)ثواب الاعمال صفحہ ٨٨ ؛وسائل الشيعہ جلد ۴ )


مومنہ کی تعداد کے مطابق اس کےلئے حسنات لکھے گا اور اس کی برائيوں کو محو کردے گا اور اس کا درجہ بلند کرے گا ”

ابو الحسن حضرت علی عليہ السلام سے مروی ہے :مَنْ دعالإخوانه من المومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات وکّل الله به عن کل مومن ملکا یدعو له (١)

“جس نے مومنين ومومنات اور مسلمين ومسلمات کےلئے دعا کی تو خداوندعالم ہر مومن پر ایک ملک کو معين فرما ئے گا جو اس کےلئے دعا کر ے گا ” ابو الحسن الر ضا عليہ السلام سے مروی ہے :

مامن مومن ید عوللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات، الاحياء منهم والاموات،الَّاکتب اللّٰهُ لهُ بکُلِّ مومن ومومنة حسنة،منذ بعث اللّٰه آدم الیٰ ان تقوم الساعة (٢)

“جو مو من بهی زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کيلئے دعا کرے گا خداوند عالم اس کيلئے ہر مو من اور مو منہ کے بدلہ خلقت آدم سے قيامت تک ایک نيکی لکھے گا ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے اپنے آباؤاجدا دسے اور انهوں نے حضرت رسول خدا (ص)سے نقل کيا ہے :مامن مومن اومومنة ،مضیٰ من اوّل الدهر،او هوآت الیٰ یوم القيامة،الَّا وهم شفعاء لمن یقول فی دعائه:اللهم اغفرللمومنين والمومنات، وان العبدليومر به الی النار یوم القيامة،فيُسحب فيقول المومنين والمومنات :

____________________

١١۵٢ ،حدیث ٨٨٩٣ ۔ / ١)وسائل الشيعہ جلد ۴ )

١١۵٢ ،حدیث / ٨٨٩۴ ۔ / ٢)وسائل الشيعہ جلد ۴ )


یاربَّنا هذاالذي کان یدعولنافشفّعنافيه فيشفّعهم الله ،فينجو ( ١)

“جو مو من مرد یا مو من عورت زمانہ کے آغاز سے گذر چکے ہيں یا قيامت تک آنے والے ہيں وہ اس شخص کی شفاعت کرنے والے ہيں جو یہ دعا کرے :خدایا مو منين و مو منات کو بخش دے اور قيامت کے دن انسان کو دو زخ ميں ڈالے جانے کا حکم دیا جا ئيگا تو اس وقت مو منين و مو منات کہيں گے پروردگار عالم یہ ہمارے لئے دعا کيا کرتا تھا لہٰذا اس کے سلسلہ ميں ہم کو شفيع قرار دے تو خدا وند عالم ان کو شفيع قرار دے گا جس کے نتيجہ ميں وہ شخص نجات پا جا ئے گا ”

ابو الحسن الر ضا عليہ السلام سے مروی ہے:

مامن مومن یدعو للمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات، الاحياء منهم والاموات،الَّا رد اللّٰهُ عليه من کُلِّ مومن ومومنة حسنة،منذ بعث اللّٰه آدم الیٰ ان تقوم الساعة ( ٢)

“جو شخص زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کےلئے دعا کرتا ہے تو خداوند عالم خداوند عالم اس کيلئے ہر مو من اور مو منہ کے بدلہ خلقت آدم سے قيامت تک ایک نيکی لکھے گا ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے اپنے آبا واجداد سے انهوں نے حضرت رسول خدا (ص)سے نقل کيا ہے :

مامن عبد دعاء للمومنين والمومنات الاّردّالله عليه مثل الذي دعا لهم من کلّ مومن ومومنة،مضیٰ من اوّل الدهر،او هوآت الیٰ یوم القيامة،وان العبد ليومر به الی الناریوم القيامة،فيُسحب فيقول المومنين والمومنات:یاربّناهذاالذی

____________________

١)امالی صدوق صفحہ ٢٧٣ ؛بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٨۵ ۔ )

٢)ثواب الاعمال صفحہ / ۴۶ ا،بحا رالانوارجلد ٩٣ /صفحہ ٣٩۶ ۔ )


کان یدعولنا فشفّعنافيه فيشفّعهم الله ، فينجومن النار ( ١)

“جو مو من مرد یا مو من عورت زمانہ کے آغاز سے گذر چکا ہے یا قيامت تک آنے والا ہے وہ اس شخص کی شفاعت کرنے والا ہے جو یہ دعا کرے :خدایا مو منين و مو منات کو بخش دے اور قيامت کے دن اس انسان کو دو زخ ميں ڈالے جانے کا حکم دیا جا ئيگا تو اس وقت مو منين و مو منات کہيں گے پروردگار عالم یہ ہمارے لئے دعا کيا کرتا تھا لہٰذا اس کے سلسلہ ميں ہم کو شفيع قرار دے تو خدا وند عالم ان کو شفيع قرار دے گا جس کے نتيجہ ميں وہ شخص نجات پا جا ئے گا ”

امام جعفر صادق رسول خدا سے نقل فرماتے ہيں :

اذا دعا احدکم فليعمَّ فإنّه اوجب للدعاء ( ٢)

“جب دعا مانگو تو سب کيلئے دعا مانگو کيونکہ اس طرح دعا ضرور قبول ہو تی ہے ”

ابو عبد الله الصادق عليہ السلام سے مروی ہے : جب انسان کہتا ہے :اللهم إغفرللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات الاحياء منهم وجميع الاموات ردّ الله عليه بعدد مامضی ومَنْ بقي من کلّ انسان دعوة ( ٣)

“پروردگار تمام زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کو بخش دے تو خداوند عالم اس کے گذشتہ اور آئندہ انسانوں کی تعداد کے برابر نيکی لکه دیتا ہے ”

____________________

١)ثواب الاعمال صفحہ / ۴٧ ا،بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ/ ٣٨۶ ۔ )

٢)ثواب الا عمال صفحہ / ١۴٧ ۔بحار الا نوار جلد ٩٢ صفحہ/ ٣٨۶ ۔ )

٣)فلاح السائل صفحہ / ۴٣ ۔بحار النوار جلد ٩٣ صفحہ/ ٣٨٧ ۔ )


عمومی دعا کے کچه نمونے

ہم ذیل ميں اہل بيت عليہم السلام سے ماثورہ دعا ؤں ميں عام دعا کے

سلسلہ ميں کچه نمونے پيش کرتے ہيں :

اللهم اغنِْ کُلَّ فَقِيرٍْاللهم اشبِْع کُلَّ جَائِعٍ ،اللهم اکسُْ کُلَّ عُریَْانٍ اللهم اقضِْ دَیْنَ مِنْ کُلِّ مَدِیْنٍ اللهم فَرِّجْ عَنْ کُلِّ مَکْرُوْبٍ اللهم رُدَّ کُلَّ غَرِیْبٍ اللهم فُکَّ کُلَّ اَسِيرٍْاللهم اَصلِْح کُلِّ فَاسِدٍ مِن اُمُورِْالمُْسلِْمِينَْ،اللهم اشفِْ کُلَّ مَرِیضٍْ، اللهم سُدَّ فَقَرنَْا بِغِنَاکَ،اللهم غَيِّرسُْوءَْ حَالَنَا بِحُسنِْ حَالِکَ،وَصَلَّ الله ٰ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَْ

“خدا یا تو ہر فقير کو غنی بنادے، خدایا تو ہر بهوکے کو سيرکردے، خدایا توہر برہنہ کو لباس پہنا،خدایا تو ہرقرضدار کا قرض ادا کر دے، خدایاہر غمگين کے غم کو دور کر،خدایاہر مسافر کو اس کے وطن پہنچا دے، خدایاہر اسير کو آزاد کر ،خدایامسلمانوں کے جملہ فاسد امور کی اصلاح فر ما، خدایاہر مریض کو شفا عطا کر، خدایاہمارے فقر کو اپنی مالداری سے درست کردے ،خدایاہماری بد حالی کو خوش حالی سے بدل دے، خدا یا ہمارے قرض کو ادا کر دے اور ہمارے فقر کو مالداری سے تبدیل کر دے اور محمد اور ان کی آل پاک پر صلوات بهيج”

ان ہی نمونوں ميں سے ہے :

اللهم وتفضّل علی فقراء المومنين والمومنات بالغنیٰ والثروة،وعلیٰ مرضی المومنين والمومنات بالشفاء والصحة ،وعلیٰ احياء المومنين والمومنات باللطف والکرامة وعلیٰ اموات المومنين والمومنات بالمغفرة والرحمة وعلیٰ مسافرالمومنين والمومنات بالردّ الیٰ اوطانهم سالمين غانمين برحمتک یاارحم الراحمين وَصَلَّ اللّٰهُ عَلیٰ سيدنامُحَمَّدٍخاتم النبيين وعترته الطَّاهِرِیْنَ

“خدایامو منين اور مومنات فقراء کو اپنے فضل سے دولت و ثروت عطا کر ، بيمار مو منين او ر مومنات کو شفا و صحت عطا کر ، زندہ مو منين اور مو منات پر لطف و کرم فرما،مردہ مو منين ومو منات پر بخشش و رحمت عطا فرما ،اپنی رحمت سے مسافرمومنين و مومنات کو ان کے وطن ميں صحيح و سالم واپس لوڻااور ہما رے سيد و سردار محمد خا تم النبيين اور ان کی آل پاک پردرود وسلام ہو”

صحيفہ سجادیہ ميں امام زین العا بدین عليہ السلام فرماتے ہيں :


اللهم وصلّ علیٰ التابعين منایومنا هذا الیٰ یو م الدین وعلی ازواجهم وعلیٰ ذرِّیاتهم وعلیٰ مَنْ اطاعک منهم صلواةً تعصمهم بها من معصيتک وتفسح لهم فی ریاض جنتک وتمنعهم بها من کيد الشيطان وتعينهم بها علیٰ مااستعانوک عليه من برّ وتقيهم طوارق الليل والنهار الاّ طارقا یطرق بخيرٍ

“خدایاان تمام تا بعين پر آج کے دن سے قيامت کے دن تک مسلسل رحمتيں نا زل کر تے رہنااور ان کی ازواج اور اولا د پر بهی بلکہ ان کے تمام اطاعت گذاروں پر بهی وہ صلوات و رحمت جس کے بعد تو انهيں اپنی معصيت سے بچا لے اور ان کےلئے باغات جنت کی وسعت عطا فر ما دے اور انهيں شيطان کے مکر سے بچا لے اور جس نيکی پر امداد مانگيں ان کی امداد کر دے اور رات اور دن کے نا زل ہو نے والے حوادث سے محفوظ بنا دے ۔علاوہ اس حادثہ کے جو خير کا پيغام ليکر آئے ”

سرحدوں کے محا فظوں کے حق ميں دعا

اللهم صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ،وَحَصِّن ثُغُورَْالمُْسلِْمِينَْ بِعِزَّتِکَ وَاَیَّدحُْمَاتُهَا بِقُوَّتِکَ وَاَسبِْغ عَطَایَاهُم مِن جِدَتکَ اللهم صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَکَثِّرعِْدَّتَهُم وَاشحَْذاَْسلِْحَتَهُم وَاحرُْس حَوزَْتَهُم وَامنَْع حَومَْتَهُم وَاَلِّف جَمعَْهُم وَدَبِّراَْمرَْهُم وَوَاتِر بَينَْ مِيَرِهِم وَتَوَحَّد بِکِفَایَةِ مُونِهِم وَاعضُْدهُْم بِالنَّصرِْوَاَعِنهُْم بِالصَّبرِْوَالطُْف لَهُم فِي المَْکرِْ

اللهم صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَعَرِّفهُْم مَایَجهَْلُونَْ وَعَلِّمهُم مَالَایَعلَْمُونَْ وَ بَصِّرهُْم مَالَایُبصِْرُونَْ

“خدا یا محمد اور آل محمد پر رحمت نا زل فر ما اور اپنے غلبہ کے ذریعہ مسلمانوں کی سر حدوں کی محا فظت فر ما اور اپنی قوت کے سہارے محا فظين حدود کی تا ئيد فر ما اور اپنے کرم سے ان کے عطایا کو مکمل بنا دے خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجا ہدوں کی تعداد ميں اضافہ فر ما ان کے اسلحوں کو تيز و تند بنا دے ان کے مر کزی مقا مات کی حفاظت فر ما ،ان کے حدود و اطراف کی حراست فر ما ان کے اجتماع انس و الفت پيدا کر ان کے امور کی تدبير فر ما ان کی رسد کے و سائل کو متواتر بنا دے اور تو تن تنہا ان کی تمام ضروریات کے لئے کا فی ہو جا اپنی نصرت سے ان کے با زووں کو قوی بنا دے اور جو ہر صبر کے ذریعہ ان کی امداد فرما اور باریک تدبيروں کا علم عطا فرما ۔

خدا یا محمد اور آل محمد پر رحمت نا زل فر مااور مسلمانوں کو ان تمام چيزوں سے با خبر کر دے جن سے وہ نا واقف ہيں اور وہ تمام با تيں بتا دے جنهيں نہيں جا نتے ہيں اور وہ سارے منا ظر دکهلا دے جنهيں آنکهيں نہيں دیکه سکتی ہيں ” صحيفہ سجادیہ ميں ایک اور مقام پرامام زین العا بد ین عليہ السلام فرماتے ہيں :


اللهم وایّمامسلم اهمّه امرالاسلام واحزنه تحزب اهل الشرک عليهم فنویٰ غزواً او همّ بجهاد فقعد به ضعف اوابطات به فاقة اواخرّه عنه حادث او عرض له دون ارادته مٰانع فاکتب اسمه فی العابدین واوجب له ثواب المجاهدین واجعله فی نظام الشهدٰآ ء والصالحين

“خدا یااور جس مسلمان کے دل ميں اسلام کا درد ہوا ور وہ اہل شرک کی گروہ بندی سے رنجيدہ ہوکرجہاد کاارادہ کر ے اور مقابلہ پر آمادہ ہوجائے ليکن کمزوری اسے بڻها دے یا فاقہ اسے روک دے یا کوئی حادثہ درميان ميں حائل ہوجائے اور اس کے ارادہ کی راہ ميں کوئی مانع پيش آجائے تو اس کا نام بهی عبادت گزاروں ميں لکه دینا اور اسے بهی مجاہدین کا ثواب عطا فرمادینا اور شہداء وصالحين کی فہرست ميں اس کا نام بهی درج کردینا ”

دعا مجاہدین الرساليين صحيفہ سجادیہ ميں امام زین العابدین فرماتے ہيں :اللهم وَاَیُّمَامُسلِْمٍ خَلَفَ غَازِیاً اومُْرَابِطاًفِي دَارِهِ اَوتَْعَهَّدَخَالِفِيهِْ فِی غَيبِْتِهِ اَواَْعَانَهُ بِطَائِفَةٍ مِن مَالِهِ،وَاَمَدَّهُ بِعِتَادٍ،اَو رَع یٰ لَهُ مِن وَّرَائِهِ حُرمَْةً فَ اٰ جِرلَْهُ مِثلَْ اجرِْهِ وَزنْاً بِوَزنٍْ،وَمِثلْاًبِمِثلٍْ

“اور خدایا جو مرد مسلمان کسی غازی یا سرحد کے سپاہی کے گهر کی ذمہ داری لے لے اور اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے یا اپنے مال سے اس کی مدد کرے یا جنگ کے آلات و ابزار سے اس کی کمک کرے یا پس غيبت اس کی حُر مت کا تحفظ کرے تو اسے بهی اسی جيسا اجر عطا کر ناتا کہ دونوں کا وزن ایک جيسا ہو ”

قرآن کریم ميں دعا کے تين صيغے

قرآن کریم ميں دعا کےلئے تين صيغے آئے ہيں :

١۔ایک انسان کا خود اپنے لئے دعا کرنا ۔

٢۔کسی دوسرے کےلئے دعا کرنا ۔

٣۔کچه افراد کا مل جل کر تمام مومنين کےلئے دعا کرنا ۔

دعا کے سلسلہ ميں ہم ذیل ميں ان تينوں گروہوں کے بارے ميں بيان کرتے ہيں تاکہ مو منين کےلئے دعا کرنے ميں ہم قرآن کے اسلوب سے واقف ہو سکيں:


١۔ اپنے لئے دعا

دعا کا یہ مشہور ومعرف طریقہ ہے ہم قرآن کریم ميں انبياء عليہم السلام اور صالحين کی زبانی اس طرح دعا کرنے کے بہت سے نمونوں کا مشاہدہ کرتے ہيں یا خدا کے وہ اپنے بندے جن کو الله نے اس طرح دعا کرنے کی تعليم دی ہے اس سلسلہ ميں قرآن کریم فرماتا ہے :

رَبِّ قَدآتَيتَْنِی مِنَ المُْلکِْ وعَلَّمتَْنِی مِن تَاوِیلِْ الاْحَادِیثِْ فَاطِرَ السَّ مٰوَاتِ وَالاَْرضِْ اَنتَْ وَلِیِّ فِی الدُّنيَْاوَالآْخِرَةِ تَوَفَّنِی مُسلِْماً وَاَلحِْقنِْی بِالصَّالِحِينَْ ( ١)

“پروردگار تو نے مجھے ملک بهی عطاکيا اور خوابوں کی تعبير کا علم بهی دیا تو زمين وآسمان کا پيدا کرنے والاہے اور دنيا وآخرت ميں ميراوالی اور سرپرست ہے مجھے دنيا سے فرمانبردارہی اڻهانا اور صالحين سے ملحق کردینا ”

رَبِّ اَدخِْلنِْی مُدخَْلَ صِدقٍْ وَاخرِْجنِْی مُخرَْجَ صِدقٍْ وَاجعَْل لِی مِن لَّدُنکَْ سُلطَْاناً نَصِيرْاً ( ٢)

“اور یہ کہئے کہ پروردگار مجھے اچهی طرح سے آبادی ميں داخل کر اور بہترین انداز سے باہر نکال اور ميرے لئے ایک طاقت قرار دیدے جو ميری مدد گار ثابت ہو ۔

رَبِّ اشرَْح لِی صَدرِی وَیَسِّرلِْی اَمرِْی وَاحلُْل عُقدَْةً مِن لِّسَانِی یَفقَْهُواْ قَولِْی (٣) “موسیٰ نے عرض کی پروردگار ميرے سينے کو کشادہ کردے اور ميرا کام ميرے لئے آسان کردے اور ميری زبان سے لکنت کی گرہ کهول دے تا کہ لوگ ميری بات اچهی طرح سمجهيں ”

رَبِّ تٰ لاَذَرنْی فَردَْاً وَانْتَْ خَيرُْال اْٰورِثينَ (۴)

____________________

١)سورئہ یوسف آیت/ ١٠١ ۔ )

٢)سورئہ اسراء آیت/ ٨٠ ۔ )

٣)سورئہ طہ آیت/ ٢۵ ۔ ٢٨ ۔ )

۴)سورئہ انبياء آیت/ ٨٩ ۔ )


“پروردگار مجھے اکيلا نہ چهوڑدینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے۔ر َبَّ انزِْلنْی مُنزَْلاًمُ اٰبرَکاً وَانتَْ خَيرُْالمُْنزِْلينَ ( ١)

“اور یہ کہنا کہ پوردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ توبہترین اتارنے والا ہے ۔َبِّ اعُوذُبِکَّ مِن هَمَ اٰزتِ الشَّ اٰيطينِ وَاعُوذُ بِکَ رَبِّ ان یَحضُْرُونِ ( ٢)

“اور کہئے کہ پروردگار ميں شيطانوں کے وسوسوں سے تيری پناہ چاہتا ہوں اور اس بات سے پنا ہ ما نگتا ہوں کہ شياطين مير ے پاس آجائيں ”

رَبِّ هَب لی حُکمَْاًوَالحِْقنْی بِالصاٰلِّحينَ وَاجعَْل لی لِ سٰانَ صِدقٍْ فیِ الآْخِرینَ (وَاجعَْلنْی مِن وَرَثةِجَنّةِالنَّعيمِ ( ٣)

“خدا یا مجھے علم وحکمت عطا فرمااور مجھے صالحين کے ساته ملحق کردے اور آئندہ آنے والی نسلوں ميں ميرا ذکر خير قائم رکه اور مجھے بهی نعمت کے باغ (بہشت)کے وارثوں ميں قراردے”

٢۔ دوسروں کےلئے دعا !

دوسرا طریقہ جس کے سلسلہ ميں قرآنی نمونے اور شواہد موجود ہيں ۔ خدا فرماتا ہے :وَقُل رَبِّ ارحَْمهُْ مٰاکَ مٰارَبّ اٰينی صَغيراً ( ۴)

“پرور دگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فر ما جس طرح کے انهوں نے بچپنے ميں مجھے پالا ہے ”

____________________

١)سورئہ مومنون آیت/ ٢٩ ۔ )

٢)سورئہ مومنون آیت/ ٩٧،٩٨ ۔ )

٣)سورئہ شعراء اآیت/ ٨٣ ۔ ٨۵ ۔ )

۴)سورئہ اسراء آیت/ ٢۴ ۔ )


ملة العرش کی مومنين کے لئے دعا:رَبَّ اٰنوَسِعتَْ کُلَّ شَی ءِ رَحمَْة وَعِلمَْاً فَاغفِْرلِْلَّذینٍ اٰتبُواواتَّبَعوُاسَبيلَکَ وَقِهِم عَذابَ الجَْحيمِ رَبَّ اٰنوَادخِْلهُْم جَناٰتِّ عَدنٍْ الَّتی وَعَدتَْهُم وَمَن صَلَحَ مِن آ اٰبئِهم وَاز اْٰوجِهِم وَذُرِّ اٰیتِهِم اِنَّکَ انتَْ العّْزیزُالحَْکيمُ وَقِهِمَ السَيِّ اٰئتِ وَمَن تَقِ السَّيِّ اٰئتِ یَومَْئِذٍ فَقَد رحِمتَْهُ وَ لٰذِکَ هُوَالفَْوزُْ العَْظيمُ ( ١)

“خدایا تيری رحمت اور تيرا علم ہر شے پر محيط ہے لہٰذا ان لوگوں کو بخش دے جنهوں نے تو بہ کی ہے اور تيرے راستہ کا اتباع کيا ہے اور انهيں جہنم سے بچا لے ،پروردگار انهيں اور انکے باپ دادا ازواج اور اولاد ميں سے جو نيک اور صالح افراد ہيں انکو ہميشہ رہنے والے باغات ميں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ کيا ہے کہ بيشک تو سب پر غالب اور صاحب حکمت ہے ،اور انهيں برائيوں سے محفوظ فرما کہ آج جن لوگوں کو تونے برائيوں سے بچاليا گویا انهيں پر رحم کيا ہے اور یہ بہت بڑی کا ميابی ہے ”

٣۔اجتماعی دعا

قرآن کریم کا یہ سب سے مشہور طریقہ ہے اور قرآن کریم کی اکثر دعا ئيں اسی طرح کی ہيں اس سلسلہ ميں قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے :

اِهدِْنَاالصِّراطَ المُْستَْقيمَ صِ اٰرطَ الَّذینَ اَنعَْمتَْ عَلَيهِم غيرِالمَْغضُْوبِْ عَلَيهِْم وَلاَالضاٰلِّّينَْ (٢) ہم سيدهے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تونے نعمتيں نازل کی ہيں ان کا راستہ نہيں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہيں ”

____________________

١)سورئہ غافر آیت/ ٧۔ ٩ )

٢) سورئہ حمد آیت ۶۔ ٧۔ )


رَبَّ اٰنتَقَبَّل مِناٰاِّنَّکَ اَنتَْ السّميعُ العَْليِمُ ( ١)

“اور دل ميں یہ دعا تهی کہ پروردگار ہماری محنت کو قبول فرمالے کہ تو بہترین سننے والا ہے ”

رَبَّنَاء تِاٰنَا فِی الدُّنيَْاحََسَنَةًوَفِی الآْخِرَةِحَسَنَةًوَقِنَاعَذَابَ النَّارِ ( ٢)

“پروردگار ہميں دنيا ميں بهی نيکی عطا فرما اور آخرت ميں بهی اور ہم کو عذاب جہنم سے محفوظ فرما”

رَبَّ اٰنافرِْغ عَلي اْٰنصَبرَْاًوَثَبِّت اق اْٰ دمَ اٰنوَانصُْر اْٰنعَلی القَْومِ ال اْٰ کفِرینَ ( ٣)

“خدایا ہميں بے پناہ صبر عطا فرما ہمارے قدموں کو ثبات دے اور ہميں کافروں کے مقابلہ ميں نصرت عطا فرما”

رَبَّ اٰنلَاتُواخِذنَْااِن نَسِينَْااَواَْخطَْانَارَبَّنَاوَلَاتَحَمِّل عَلَينَْااِصرْاًکَمَاحَمَلتَْهُ عَلیَ الَّذِینَْ مِن قَبلِْنَارَبَّنَاوَلَاتُحَمِّلنَْامَالَاطَاقَةَلَنَابِهِ وَاعفُْ عَنَّاوَاغفِْرلَْنَا وَارحَْمنَْااَنتَْ مَولَْانَا فَانصُْرنَْاعَلیَ القَْومِْ الکَْافِرِینَْ ( ۴)

“پروردگار ہم جو کچه بهول جائيں یا ہم سے غلطی ہوجائے اسکا ہم سے مواخذہ نہ کرنا خدایا ہم پر ویسا بوجه نہ ڈالنا جيسا پہلے والی امتوں پر ڈالاگيا ہے پروردگار ہم پر وہ بارنہ ڈالنا جس کی ہم ميں طاقت نہ ہوہميں معاف کردینا ہميں بخش دیناہم پر رحم کرنا تو ہمارا مولا اور مالک ہے اب کافروں کے مقابلہ ميں ہماری مدد فرما”رَبَّ اٰنلَاتُزِغ قُلُوبَْنَابَعدَْاِذهَْدَیتَْنَاوَهَب لَنَامِن لَّدُنکَْ رَحمَْةًاِنَّکَ اَنتْ

____________________

١)سورئہ بقرہ آیت ١٢٧ )

٢)سورئہ بقرہ آیت ٢٠١ )

٣)سورئہ بقرہ آیت ٢۵٠ ۔ )

۴)سورئہ بقرہ آیت ٢٨۶ ۔ )


اَلْوَهَّابُ ( ١)

“ان کا کہنا ہے کہ پروردگار جب تونے ہميں ہدایت دے دی ہے تو اب ہمارے دلوں ميں کجی نہ پيدا ہونے پائے اور ہميں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے ”

رَبَّ اٰناِنَّنَاسَمِعنَْامُنَادِیاًیُنَادِی لِلاِْیمَْانِ ان آمِنُواْبِرَبِّکُم فَآمَنَّارَبَّنَافَاغفِْرلَْنَا ذُنُوبَْنَاوَکَفِّرعَْنَّاسَيِّئَاتِنَاوَتَوَفَّنَامَعَ الاَْبرَْارِ رَبَّنَاوَآتِنَامَا وَعَدتَْنَاعَل یٰ رُسُلِکَ وَلَا تُخزِْنَا یَومَْ القِْيَامَةِ اِنَّکَ لَاتُخلِْفُ المِْيعَْادَ ( ٢)

“پروردگار ہم نے اس منادی کو سناجو ایمان کی آواز لگارہاتها کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے پروردگاراب ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری برائيوں کی پردہ پوشی فرما اور ہميں نيک بندوں کے ساته محشور فرما پروردگار جو تو نے اپنے رسول سے وعدہ کيا ہے اسے عطا فرما اور روز قيامت ہميں رسوا نہ کرنا کہ تو وعدہ کے خلاف نہيں کرتا”

( رَبَّنا اٰٴَفرِْغ عَليناْٰصَبرْاً وَتَوَفَّنَا مُسلِْمِينَْ ) ( ٣)

“خدایا ہم پر صبر کی بارش فرما اور ہميں مسلمان دنيا سے اڻهانا”( رَبَّ اٰنآمَنَّافَاغفِْرلَْنَاوَارحَْمنَْاوَاَنتَْ خَيرٌْالرَّاحِمِينَْ ) ( ۴)

“پروردگار ہم ایمان لائے ہيں لہٰذا ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہم پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے ”’

( رَبَّ اٰناصرِف عَنَّاعَذَابَ جَهَنَّمَ اِنَّ عَذَابَهَاکَانَ غَرَاماً ) (۵)

____________________

١)سورئہ آل عمران آیت ٨۔ )

٢)سورئہ آل عمران آیت ١٩٣ ۔ ١٩۴ )

٣)سورئہ اعراف آیت / ١٢۶ ۔ )

۴)سورئہ مو منون آیتِ ١٠٩ ۔ )

۵)سورئہ فرقان آیت/ ۶۵ ۔ )


“پروردگار ہم سے عذاب جہنم کو پهيردے کہ اس کا عذاب بہت سخت اور پائيدار ہے ”( رَبَّنَااَتمِْم لَنَانُورَْنَا وَاغفِْرلَْنَااِنَّکَ عَل یٰ کُلِّ شَیءٍْ قَدِیرٌْ ) ( ١)

“خدایا ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہميں بخش دے کہ تو یقينا ہر شے پر قدرت رکهنے والا ہے ”

دعا کے تيسر ے طریقہ کی تشریح وتفسير

دونوں قسموں ميں مومنين کےلئے دعا کی گئی ہے مگر دعا کی دوسری قسم ميں ایک فرد کا تمام انسانوں کےلئے دعا کر نا بيان کيا گيا ہے اور تيسر ی قسم ميں اجتماعی اعتبارسے دعا کرنے کو بيان کيا ہے اور ہم دعا کے اسی تيسرے طریقہ کے سلسلہ ميں بحث کرتے ہيں :

١۔جميع (تمام )افراد کےلئے دعا کرنا یعنی انسان صرف اپنے لئے دعا نہيںکرتا بلکہ وہ سب کےلئے دعا کرتا ہے اور کبهی کبهی تنہا انسان کی دعا اس کےلئے مفيد نہيں ہوتی جيسا کہ اگر کسی امت پر بلاومصيبت نازل ہو تو یہ فرد بهی انهےں ميں شامل ہو تا ہے یہاں تک کہ دوسرے افراد جو ظلم ميں کسی کے شریک نہيں ہو تے ان پر بهی بلا نازل ہو جاتی ہے :

( وَاتَّقُواْفِتنَْةً لَاتُصِيبَْنَّ الَّذِینَْ ظَلَمُواْ مِنکُْم خَاصَّةً ) (٢)

“اور اس فتنہ سے بچو جو صرف ظالمين کو پہنچنے والا نہيں ہے ” ایسے موقع پر انسان کو سب کےلئے دعا اور استغفار کرنا چاہئے ۔لہٰذا جب پروردگار عالم سب سے عذاب اڻها ئے گا تو اس انسان سے بهی اڻها ئے گا ۔( رَبَّنَااکشِْف عَنَّاالعَْذَابَ اِنَّامُومِْنُونَْ ) (٣)

____________________

١)سورئہ تحریم آیت/ ٨۔ )

٢)سورئہ انفال آیت/ ٢۵ ۔ )

٣)سورئہ دخان آیت/ ١٢ )


“تب سب کہيں گے کہ پروردگار اس عذاب کو ہم سے دور کردے ہم ایمان لے آنے والے ہيں ”

٢۔کبهی کبهی دعا کر نے والا تمام مو منين کا قائم مقام بن کر دعا کرتا ہے اور جب اس طرح کی دعا کی جاتی ہے تو اکثر کلمہ “ربنا”استعما ل کرتا ہے گویا دعا کرنے والے کا قائم مقام بن کرسب کےلئے دعا کرتا ہے اور جن کےلئے دعا کرتاہے ان سے اپنے نفس کو الگ نہيں کرتا جس طرح دعا کی دوسری قسم ميں ہے ،وہ(دعا کرنے والا )سب کا قائم مقام بن کران سب کےلئے دعا کرتا ہے، اپنے نفس کو خود انهيں لو گوں ميں شامل کرتا ہے جن کےلئے وہ دعا کر رہاہے یہی دعا بارگاہ خداوندميں قبوليت کے زیادہ نزدیک ہوتی ہے ۔

خداوند عالم یا تو سب کی دعا کو رد کردے گا یا بعض انسانوں کےلئے قبول کرے گا اور بعض انسانوں کےلئے قبول نہيں کرے گا یا سب کےلئے دعا قبول کر ے گا ۔

خداوندعالم سب سے زیادہ کریم ہے وہ کہاں سب کی دعاؤں کو رد کرے۔ بعض کےلئے اس کی دعا قبول کر لينا یہ اس کی شان کریمی نہيں ہے ۔ یہيں سے یہ تيسرا فرضيہ کہ خداوندعالم سب کے حق ميں دعا مستجاب کرتا ہے معين ہوجاتا ہے۔

دعا کی اس قسم ميں انسان سب کی طرف سے الله تک پيغام پہنچا تاہے الله کو سب کی طرف سے مخاطب کر کے کہتا ہے (ربنا )سب کا قائم مقام بنتا ہے اور سب کا پيغام الله تک پہنچاتاہے۔

عمدہ بات یہ ہے کہ ہم ميں سے ہر ایک انسان دوسروں کا نمائندہ بن کر سب کا پيغام خداتک پہنچا نے کےلئے اپنے نفس کو پيش کرتا ہے لہٰذا ہم ميں سے ہر ایک لوگوں کا پيغام دعا کے ذریعہ پہنچاتاہے جس طرح پروردگار عالم اپنا پيغام لوگوں تک پہنچاتاہے اسی طرح لوگ اپنی حاجتوں کو خداوندعالم کی بارگاہ ميں پہنچاتے ہيں۔


یہاں پر ہر انسان تمام انسانوں کا پيغام پہنچا نے والا ہے اور تمام انسانوں کا قائم مقام بنتا ہے ۔یہ بڑی تعجب خيز بات ہے کہ جب ہم اس دنيا ميں زندگی بسر کرتے ہيں تو بازاروں اور سڑکوں ميں ہم ميں سے ہر ایک، ایک دوسرے کےلئے رکا وڻيں کهڑی کرتے ہيں اور بعض کو بعض سے جدا کرتے ہيں اور ہم ميں سے ہر ایک پر ایک دو سرے کے کچه حقوق ہو تے ہيںجو نہ تو واپس کئے جا سکتے ہيں اور نہ ہی ان کو چهوڑا جا سکتا ہے ،انسان اپنی ذات کو ہی سب کے سامنے مثالی کردار بنا کر پيش کرتا ہے ،وہ بذات خود دوسروں کا قائم مقام بننا چا ہتا ہے ،وہ دو سروں کا قائم مقام بهی اسی وقت بنتا ہے جب تک دو سرا اس کو صاف طور پر سب کے سامنے اپنا قائم مقام نہ بنا ئے ليکن جب ہم نماز اور دعا کر تے ہيں تو یہ سب باتيں ختم ہو جا تی ہيں ، ہم ميں سے کو ئی بهی اپنے نفس کو دو سروں سے جدا نہيں سمجهتا ،گویا کہ ہم ميں سے ہر ایک سب کا قائم مقام بن جاتا ہے اور یہ تمثيل کاطریقہ سب سے بہترین اور عمدہ طریقہ ہے (یعنی تمام انسانوں کا تمام انسانوں کا قائم مقام بننا اور سب کی نطق ،ندا اور دعا ميں رب العالمين کی بارگاہ ميں سب کی نيابت کرنا )۔

اس سے بهی اچهی وبہتر بات یہ ہے کہ خداوندعالم سب کی طرف سے سب کی اس تمثيل نيابت اور رسالت کو قبول کر تا ہے ،وہ اس کو رد نہيں کرتا اور نہ ہی انکار کر تا ہے ،وہ دعا کر نے والے کو اس حالت ميں سب کا قائم مقام بننے کےلئے قوت عطا کرتا ہے ،جب ہم ميں سے کوئی اپنی نماز ميں( اِهدِْنَاالصِّرَاطَ المُْستَْقِيمَْ ) “ہم کو سيدهے راستہ پر گا مزن رکه”( ۱ ) کہتا ہے توگویا سب نے مل کر سب کےلئے دعا کی اور الله سے ہدایت طلب کی ہے ۔

اور اس حالت ميں دعا کی قدرو قيمت معلوم ہو جا تی ہے ۔

بيشک ہم ميں سے ہر نماز ميں ہرایک کی دعا سب کےلئے سب کی دعا کی طاقت رکهتی ہے۔ ایسی حالت ميں دعا کرنا خداوندعالم کی بارگاہ ميں رحم کی درخواست کرنا بہت بلند طاقت کاحامل ہے۔

____________________

١) سورئہ حمد آیت ۶۔ )


اس سے بهی اہم اوردلچسپ بات یہ ہے کہ ان دعاؤں ميں مسلمان ہر دن الله سے متعدد مرتبہ یہ درخواست کر تا ہے :

( اِهدِْنَاالصِّرَاطَ المُْستَْقِيمَْ ) ( ١)

“ہم کو سيدهے راستہ پر گا مزن رکه” بيشک تمام افراد مل کر تمام انسانو ں کے قائم مقام بنتے ہيں ، ریا ضی کے حساب سے یہ دعا کے عجائب وغرائب ميں شمار ہو تا ہے ، دعا ميں سب ،سب کےلئے مجسم شکل ميں بن کر سب کے قائم مقام ہو جا تے ہيں ،ہم دو بارہ پھر دعا کی قدر وقيمت کے سلسلہ ميں غور وفکر کر تے ہيں ۔ اس اعتبار سے کہ تمام مو منين کيلئے دعا کی جارہی ہے لہٰذا دعا کی بڑی اہميت ہے یہ عام مومنين کيلئے دعا کرنا خداوند عالم کے نزدیک بڑی اہميت بڑها دیتا ہے ۔

دعا کر نے والا شخص (ذاتی )طور پر پروردگار عالم سے دعانہيں کر تا بلکہ وہ تو تمام لو گوںکی دعاؤں کو خدا کی بارگاہ ميں پيش کرتا ہے وہ سب کا قائم مقام بنتاہے اورخداوندعالم اس بندے سے اس کے سب کا قائم مقام ہو نے کی نيابت قبول کرتا ہے ،وہ ان کو الله کی بارگاہ ميں مجسم بنا کر پيش کرتا ہے اور خداوند عالم اس بندہ سے اِس تمثيل اور دو سروں کی نيابت کو قبول کرتا ہے ۔

مومنين بعض افراد کے دو سرے بعض افراد سے تمثيل و تشبيہ دینے کو قبول کرتے ہيں اور یہاں پر تمثيل و تشبيہ سے مراد فرد کا الله کی بارگاہ ميں دعویٰ پيش کرنا نہيں ہے بلکہ یہ حقيقی تشبيہ ہے جس کو پروردگار عالم قبول کرتا ہے اور جو افراد الله کی بارگاہ ميںکسی دو سرے فر د کی نيابت کرتے ہيں یہ تمثيل و تشبيہ شرعی ہے اور خدا وند عالم کی بارگاہ ميں مقبول ہے ۔

اس صورت ميں دعا سب کی دعاؤں کی طاقت رکهتی ہے جب ہم ميں سے کو ئی شخص الله کی

____________________

١)سورئہ حمد آیت/ ۶۔ )


بارگاہ ميں دعا کر تے ہوئے کہتا ہے :( اِهدِْنَاالصِّرَاطَ المُْستَْقِيمَْ ) (١ ) “ہم کو سيدهے راستہ پر گا مزن رکه”

گو یا سب نے مل کر خدا سے دعا کی ،اس درجہ اور طاقت وقوت کی حامل دعا کو ہر مسلمان ہر روز نماز ميں خداوندعالم سے کرتاہے اور سب کا قائم مقام بن کر سب کيلئے دعا کرتا ہے ۔

ہر دن لوگ الله کی بارگاہ ميں ہميشہ اسی طرح گڑگڑا تے ہيں اور دسيوں مرتبہ اس سے رحم وعطو فت کی درخواست کيا کرتے ہيں۔

سب سے زیادہ تعجب خيز بات یہ ہے کہ جس پر وردگار کو ہم روزانہ دسيوں مرتبہ پکار تے ہيں اسی نے ہم کو ہدایت کی تعليم دی ہے اور یہ بهی سکهایا ہے کہ ہم اس سے تمام لوگوں کی ہدایت طلب کریں اسی نے ہم کو یہ تعليم دی ہے کہ اس دعا ميں سب کی نيابت کریں اور وہ ہماری نيابت کو قبول کرتا ہے ۔

کيا ان تمام باتوں کے باوجود بهی خداوندعالم کا ہماری دعا کے قبول نہ کر نے کا امکان ہے؟ ہر گز نہيں۔

____________________

١)سورئہ فا تحہ آیت ۶۔ )


ب۔صرف مومنين کيلئے دعا

جس طرح اسلامی روایات ميں عام مومنين کيلئے دعا کرنا وارد ہوا ہے اسی طرح مخصوص مومنين کا نام ليکران کيلئے دعا کرنا وارد ہوا ہے ۔

دعاکے اس رنگ ميں الگ ہی نکهار ہے اوردعا کرنے والے کے نفس ميں اس نکہت اور اثر کے علاوہ بهی ایک اثرہے جو عموميت کےلئے تھا کيونکہ دعا کا یہ رنگ ان منفی اثرات کو ختم کر دیتا ہے جو کبهی دو طرفہ اور افراد کے اجتماعی تعلّقات پر سایہ فگن ہو جاتے ہيں اور کبهی مو منين کی جماعتوں پر اثرانداز ہو جاتے ہيں کيونکہ جب مو من خداوند عالم سے اپنے مو من بهائيوں کا نام ليکر رحمت ومغفر ت کی

دعا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو دوست رکهتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ حسد اور نفرت وغيرہ دور ہوجاتے ہيں جن کو وہ ان کی طرف سے کبهی اپنے اندر محسوس کرتا ہے ۔

اس وقت دعا کی تين حالتيں ہوتی ہيں ؟

١۔دعا کرنے والا الله سے لو لگا تا ہے ۔

٢۔ دعا کرنے والا روئے زمين پر بسنے والی امت مسلمہ اور طول تاریخ کا جائزہ ليتے ہو ئے دونوں سے رابطہ رکهتا ہے ۔

٣۔وہ اپنے برادران اوررشتہ داروں سے رابطہ پيدا کرتا ہے اور یہ اس کی زندگی کابہت ہی وسيع ميدان ہے ۔


سلامی روایات ميں نام ليکر دعا کر نے کو بڑی ا ہميت دی گئی ہے ۔ ہم ذیل ميں ان عناوین کے متعلق واردہونے والی روایات کے نمونے بيان کر رہے ہيں :

ا۔غائب مومنين کيلئے دعا

حضرت امام محمدباقر عليہ السلام سے مروی ہے :( دعاء المرء لاخيه بظهرالغيب یدرالرزق،و یدفع المکروه ) ( ١)

“انسان کے غائب مومنين کيلئے دعا کرنے سے رزق ميں کشاد گی ہو تی ہے اور بلائيں مشکليں دورہوتی ہيں ”

حضرت امام محمدباقر عليہ السلام سے مروی ہے:( اوشک دعوة واسرع اجابة دعاء المرء لاخيه بظهر الغيب ) (٢)

____________________

۴،حدیث / ٨٨۶٧ ۔ / ١)اصول کا فی / ۴٣۵ ،وسا ئل الشيعہ جلد ١١۴۵ )

٢)اصول کا فی / ۴٣۵ ۔ )


“ انسان کی غائب شخص کيلئے کی جانے والی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ”

ابو خالد قما ط سے مروی ہے کہ امام محمد باقرعليہ السلام نے فرما یاہے :اسرع الدعاء نجحاللاجابة دعاء الاخ لاخيه بظهرالغيب یبدا بالدعاء لاخيه فيقول له ملک موکّل به:آمين ولک مثلاه ( ١)

“غائب شخص کيلئے کی جانے والی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے جب انسان اپنے غائب بهائی کيلئے دعا کرنا شروع کرتاہے تو دعا کر نے والے کا موکل فرشتہ اس کی دعا کے بعد آمين کہتا ہے اور کہتا ہے تمہارے لئے بهی ایسا ہی ہوگا” سکونی نے حضرت امام جعفر صادق سے اور آپ نے حضرت رسول خدا (ص)سے نقل کيا ہے:

ليس شی ء اسرع اجابة من دعوة غائب لغائب ( ٢)

“غائب شخص کی غائب شخص کيلئے دعا جتنی جلدی قبول ہوتی ہے کو ئی چيز اُتنی جلدی قبول نہيں ہوتی ہے ”

جعفر بن محمد الصادق عليہ السلام نے اپنے آباؤاجداد سے اور انهوں نے نبی صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے نقل کيا ہے :

یاعلی اربعة لاتردلهم دعوة :امام عادل،والوالد لولده ،والرجل یدعو لاخيه بظهرالغيب،والمظلوم یقول اللّٰه عزّوجلّ:وعزّتی وجلالی لانتصرنّ لک ولو بعد حين ( ٣)

“اے علی ،چار آدميوں کی دعا کبهی ردنہيں ہوتی ہے :امام عادل ،باپ کا اپنے بيڻے کيلئے دعا

____________________

١)اصول کا فی / ۴٣۵ ۔ )

۴،حدیث / ٨٨٧ ۔ / ٢)وسا ئل الشيعہ جلد ١١۴۶ )

٣)خصال صدوق جلد ١صفحہ/ ٩٢ اور فقيہ جلد ۵ صفحہ/ ۵٢ ۔ )


کرنا ،انسان کا اپنے غائب بهائی ،اور مظلوم کيلئے دعاکرنا ،الله عزوجل فرماتا ہے ميری عزت وجلال کی قسم ميں تمہاری مدد ضرور کرو نگا اگرچہ کچه مدت کے بعد ہی کيوں نہ کروں ”

رسول خدا (ص)سے مروی ہے:

مَنْ دعا لمومن بظهرالغيب قال الملک :فلک بمثل ذلک ( ١)

“جو انسان کسی غائب مومن شخص کيلئے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے تمہارے لئے بهی ایسا ہی ہوگا ”

حمران بن اعين سے مروی ہے :

ميں نے حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کی خدمت بابرکت ميں عرض کيا :مجھے کچه نصيحت فرمایئے تو آپ نے فرمایا :

اوصيک بتقوی اللّٰه وایاک والمزاح فانه یذهب بهيبة الرجل وماء وجهه،وعليک بالدعا لاخوانک بظهر الغيب؛فانّه یهيل الرزق یقولهاثلاثاً ( ٢)

“الله کا تقویٰ اختيار کرو ،مذاق کر نے سے پر ہيزکرو اس لئے کہ اس سے انسان کی ہيبت اور اس کے چہر ے کی رونق ختم ہوجاتی ہے اور تم اپنے غائب بهائی کيلئے دعا کرو چو نکہ اس طرح رزق ميں وسعت ہوتی ہے ”آپ نے ان جملوں کوتين مرتبہ دُہرایا ”

معاو یہ بن عمار نے امام جعفرصادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے:الدعاء لاخيه بظهرالغيب یسوق الیٰ الداعي الرزق،ویصرف عنه البلاء،ویقول الملک:ولک مثل ذلک (٣)

____________________

۔ ١)امالی طوسی جلد ٢ صفحہ / ٩۵ ۔بحار الانوار جلد ٩٣ ۔صفحہ/ ٣٨۴ ۔ )

٢)السر ائر صفحہ/ ۴٨۴ ۔بحار الانوار جلد ٩٣ صفحہ / ٣٨٧ ۔ )

٣)امالی طوسی ج ٢ص ٢٩٠ ،بحار الانوار ج ٩٣ ص ٣٢٧ )


“اپنے کسی غير حاضر بهائی کيلئے دعا کرنا رزق کی طرف دعوت دیناہے ،اس سے بلائيں دور ہوتی ہيں اور فرشتہ کہتا ہے :تمہار ے لئے بهی ایسا ہی ہے ”

ب:چاليس مومنوں کيلئے دعا

اسلامی روایات ميں نام بنام چاليس مومنوں کيلئے اورانهيں اپنے نفس پر مقدم کر کے دعا کر نے پر بہت زیادہ زور دیاگيا ہے ۔

علی بن ابراہيم نے اپنے پدر بزگوار سے اور انهوں نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے:مَنْ قدّم في دعائه اربعين من المومنين،ثم دعا لنفسه استجيب له ( ١)

“جو انسان اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے چاليس مومنوں کےلئے دعا کرتا ہے اسکی دعا مستجاب ہوتی ہے”

عمر بن یزید سے مروی ہے کہ ميں نے امام جعفرصادق عليہ السلام کو یہ فرماتے سنا ہے:

مَنْ قدّم اربعين رجلا من إخوانه قبل انْ یدعولنفسه استجيب له فيهم و فی نفسه ( ٢)

“جس نے اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے اپنے چاليس بهائيوں کےلئے دعا کی تو پروردگار عالم اس کی دعا ان کے اور خود اس کے حق ميں قبول کرتا ہے”

ج:دعاميں دوسروں کوترجيح دینا

ابو عبيدہ نے ثویر سے نقل کيا ہے کہ ميں نے علی بن الحسين عليہ السلام کو یہ فرماتے سنا ہے: انّ الملائکة اذاسمعواالمومن یدعولاخيہ المومن بظہرالغيب،او

____________________

۴،حدیث / ٨٨٩٨ ۔ / ٩٣ ؛وسا ئل الشيعہ جلد ١١۵۴ / ١)المجالس صفحہ ٢٧٣ ؛بحا رالانوار جلد ٣٨۴ )

۴،حدیث / ٨٨٩٨ ۔ / ٢)المجالس صفحہ ٢٧٣ ؛الامالی صفحہ ٢٧٣ ؛وسا ئل الشيعہ جلد ١١۵۴ )


یذکره بخير،قالوا:نعم الاخ انت لاخيک،تدعوله بالخير،وهوغائب عنک وتذکره بخير،قد اعطاک اللّٰه عزّوجلّ مثلَي ماسالت له،واثنیٰ عليک مثلي ما اثنيت عليه،ولک الفضل عليه ( ١)

“جب فرشتے کسی مومن کواپنے غير حاضر بهائی کےلئے دعا کرتے ہوئے یا اسکو اچهائی سے یاد کرتے ہوئے دیکهتے ہيں تو وہ کہتے ہيں:ہاں وہ تمہارا بهائی ہے تم اس کيلئے خير کی دعا کرو ،وہ تمہارے پاس نہيں ہے تم اسکو خير کے ساته یاد کرو خداوند عالم تم کو اسی کے مثل عطا کرے گا جو تم نے اس کيلئے خدا سے مانگا ہے ویسی ہی تعریف تمہاری ہے جو تعریف تم نے اس کےلئے کی ہے اور تمہارے لئے فضل ہے۔

یونس بن عبدالرحمن نے عبدالله بن جندب سے نقل کيا ہے:الداعی لاخيه المومن بظهرالغيب ینادیٰ من عنان السماء:لک بکل واحدة مائةالف ( ٢)

“ ميں نے ابو الحسن موسی عليہ السلام کو یہ فرماتے سناہے:غير حاضر مومن کےلئے دعا کرنے والے کو عنانِ سماء سے آوازآتی ہے:تمہارے لئے ایک دعا کے عوض ایک لاکه دعائيں ہيں ”

ابن ابو عميس نے زید نرسی سے نقل کيا ہے: “کنت مع معاویة بن وهب فی الموقف وهویدعو،فتفقدت دعاء ه فما رایته یدعو لنفسه بحرف،ورایته یدعولرجل رجل من الآفاق ویُسمّيهم،ویُسمّي آباء هم حتّی افاض الناس ۔

____________________

۴،حدیث / ١)اصول کا فی / ۵٣۵ ،بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣٨٧ ،وسا ئل الشيعہ جلد ١١۴٩ ) ٨٨٨٢ ۔ /

٢)رجال کشی صفحہ ٣۶١ ۔ )


فقلت له :یاعمّ لقدرایت عجباً ! قال:وماالذي اعجبک ممارایت؟

قلت:ایثارک اخوانک علی نفسک فی مثل هذاالموضع،وتفقدک رجلاّرجلاً

فقال لي:لاتعجب من هٰذایابن اخي،فاني سمعت مولي وهویقول من دعالاخيه بظهرالغيب ناداه ملک من السماء الدنيا:یاعبد اللّٰه ،لک مائة الف وضعف ممّادعوت ”الخ ( ١)

“ميں موقف(حج)ميں معاویہ بن وہب کے ساته تھا وہ اپنے علاوہ سب کےلئے دعا کر رہے تھے اپنے لئے دعاکاایک بهی فقرہ نہيں کہہ رہے تھے اورآفاق ميں سے ایک ایک شخص اور ان کے آباؤ اجداد کا نام لے لے کر ان کےلئے دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سب کوچ کر گئے ۔

ميں نے ان کی خدمت عرض کيا:اے چچا ميں نے بڑی عجيب چيز دیکهی انهوں نے کہا: تم نے کيا عجيب چيز دیکهی؟

ميں نے عرض کيا :اس طرح کے مقام پر آپ کا اپنے نفس کو چهوڑکر دوسرے برادران کے لئے دعا کرنا یہاں تک کہ ان ميں سے ایک ایک کرکے سب چلے گئے۔ انهوں نے مجه سے کہا:اے برادرزادہ اس بات سے متعجب نہ ہوميں نے اپنے مولاکو یہ فرماتے سنا ہے:۔۔۔جس نے اپنے غير حاضر بهائی کيلئے دعا کی تو آسمان کے فرشتے اس کو آواز دیتے ہيں جو کچه تم نے اس کيلئے دعا کی ہے تمہارے لئے اس کے ایک لاکه برابر ہے ”

حضرت امام حسين بن علی عليہ السلام نے اپنے بهائی حضرت امام حسن سے نقل کيا ہے :

رایت امي فاطمة قامت فی محرابها ليلة جمعتها،فلم تزل راکعة،ساجدة

____________________

١)عدة الداعی صفحہ / ١٢٩ ،بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣٨٧ ،وسا ئل الشيعہ جلد ) ۴،حدیث / ٨٨٨۵ ۔ /١١۴٩


حتیّٰ اتضح عمود الصبح،وسمعتها تدعوللمومنين والمومنات،وتسمّيهم وتُکثرالدعاء لهم ولاتدعولنفسهابشيٴ فقلت لها:یااُماه:لم لاتدعين لنفسک،کما تدعين لغيرک ؟ فقالت:یابُنّي،الجارثم الدار ( ١)

“ميں نے اپنی مادر گرامی کو شب جمعہ ساری رات محراب عبادت ميں رکوع وسجود کرتے دیکها یہاں تک کہ صبح نمودار ہو جا تی تهی اور آپ مومنين اور مو منات کا نام لے ليکر بہت زیادہ دعا ئيں کيا کر تی تهيں اور اپنے لئے کوئی دعا نہيں کر تی تهيں ۔ميں نے آپ کی خد مت مبارک ميں عرض کيا :اے مادر گرامی آپ اپنے لئے ایسی دعا کيوں نہيں کرتيں جيسی دوسروں کيلئے کر تی ہيں ؟

تو آپ نے فرمایا :اے ميرے فرزند ،پہلے ہمسایہ اور پھر گهروالے ہيں’ ’ ابو ناتانہ نے حضرت علی عليہ السلام سے اور انهوں نے اپنے پدربزگوار سے نقل کيا ہے:

رایت عبد اللّٰه بن جندب فی الموقف فلم ارموقفاً احسن من موقفه،ما زال مادّاً یدیه الی السماء ودموعه تسيل علی خدیه حتّیٰ تبلغ الارض فلماصدر الناس قلت له:یاابامحمّد،مارایت موقفاً احسن من موقفک !قال:واللّٰه مادعوت الّا لاخواني،وذلک انّ اباالحسن مو سیٰ بن جعفر اخبرنيانّه مَن دعالاخيه بظهرالغيب نُودي من العرش:ولک مائة الف ضعف فکرهت ان ادع مائة الف ضعف مضمونة لواحدة لاادري تستجاب ام لا( ٢)

“ميں نے عبد الله بن حندب کو موقف حج ميں دیکها اور اس سے بہترميں نے کسی کا موقف

____________________

١)علل الشر ائع صفحہ / ٧١ ۔ )

٢)امالی صدوق صفحہ ٢٧٣ ؛بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٨۴ ۔ )


نہيں دیکها آپ مسلسل اپنے ہاتهوں کو آسمان کی طرف اڻها ئے ہوئے تھے اور آپ کی آنکهوں سے آنسوں آپ کے رخساوں سے بہہ کر زمين پر ڻپک رہے تھے ،جب سب ہٹ گئے تو ميںنے ان سے عرض کيا: اے ابو محمد ،ميں نے آپ کے موقف سے بہتر کوئی موقف نہيں دیکها!انهوں نے کہا :ميں صرف اپنے بهائيوں کےلئے دعا کر رہا تھا اسی وقت ابوالحسن مو سیٰ بن جعفر نے مجهکو خبردی ہے کہ جو اپنے غير حاضر بهائی کيلئے دعا کرتا ہے تو اس کوعرش سے ندادی جاتی ہے: تمہارے لئے اس کے ایک لا که برابر ہے :لہٰذا مجه کو یہ نا گوار گذرا کہ اس ایک نيکی کی خاطر ایک لاکه ضما نت شدہ نيکيو ں کو ترک کردوں جس کے بارے ميں مجھے نہيں معلوم کہ وہ قبول بهی ہو گی یا نہيں ”

عبد الله بن سنان سے مروی ہے :ميں عبد الله بن جندب کے پاس سے گزرا تو ميں نے آپ کو صفا (پہاڑی کے نام )پر کهڑے دیکها اور دوسرے ایک سن رسيدہ آدمی کو دعا ميں یہ کہتے سنا: کہ خداےافلاںفلاں کوبخش دے جن کی تعداد کو ميں شمار نہ کر سکا ۔

جب وہ نماز کا سلام تمام کرچکے تو ميں نے ان سے عرض کيا :ميں نے آپ سے بہتر کسی کا موقف نہيں دیکها ليکن ميں نے آپ ميں ایک قابل اعتراض بات دیکهی ہے۔انهوں نے کہا کيا دیکها ؟ميں نے ان سے کہا :آپ اپنے بہت سے برادران کےلئے دعا کرتے ہيں ليکن ميں نے آپ کواپنے لئے دعا کرتے نہيں دیکها تو عبد الله بن جندب نے کہا :اے عبدالله ميں نے امام جعفر صادق کو یہ فرماتے سنا ہے:مَن دعالاخيه المومن بظهرالغيب نودي من عنان السماء:لک یاهذا مثل ماسالت في اخيک مائة الف ضعف فلم احبّ ان اترُک مائه الف ضفع مضمونة بواحدة لاادری اتستجاب ام لا (١)

____________________

١)فلاح السائل صفحہ/ ۴٣ ،بحا رالانوار جلد ٩٣ صفحہ/ ٣٩٠ ۔ ٣٩١ ۔ )


“جس نے اپنے غير حاضر مو من بهائی کےلئے دعاکی تو اس کو آسمان سے ندا دی جاتی ہے ، جو کچه تم نے اپنے مومن بهائی کےلئے سوال کيا ہے تمہارے لئے اس کے ایک لاکه برابر ہے لہٰذا مجه کو یہ نا گوار گذرا کہ اس ایک نيکی کی خاطر ایک لاکه ضما نت شدہ نيکيو ں کو ترک کردوں جس کے بارے ميں مجھے نہيں معلوم کہ وہ قبول بهی ہو گی یا نہيں ”

ابن عمير نے اپنے بعض اصحاب سے نقل کيا ہے کہ :“کان عيسیٰ بن اعين اذاحجّ فصارالی الموقف اقبل علیٰ الدعاء لاخوانه حتّیٰ یفيض الناس،فقيل له:تنفق مالک،وتتعب بدنک،حتّیٰ اذاصرت الی الموضع الذي تبث فيه الحوائج الی الله اقبلت علی الدعاء لاخوانک،وتترک نفسک فقال:انني علیٰ یقين من دعاء الملک لي وشک من ا لدعاء لنفسي( ١)

“ جب عيسیٰ بن اعين حج کرتے وقت موقف پر پہنچے تو انهوں نے اپنے برادران کےلئے دعا کرنا شروع کيا یہاں تک کہ سب لو گ چلے گئے۔ ان سے سوال کيا گيا :آپ نے مال خرچ کيا ، مشقتيں برداشت کيں اور آپ نے دوسرے برادران کےلئے دعا ئيںکيں اور اپنے لئے کو ئی دعا نہيں کی تو انهوں نے کہا :مجه کو یقين ہے کہ فرشتہ ميرے لئے دعا کرتا ہے اور مجھے خود اپنے نفس کےلئے دعا کرنے ميں شک ہے ”

ابراہيم بن ابی البلاد (یا عبدالله بن جندب )سے مروی ہے : “قال کنت في الموقف فلماافضت لقيت ابراهيم بن شعيب،فسلّمت

____________________

١)الاختصاص صفحہ ۶٨ ، بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٩٢ ۔ )


عليه،وکان مصاباً باحدیٰ عينيه واذاعينه الصحيحة حمراء کانّهاعلقة دم ،فقلتله:قد اصيت باحدیٰ عينيک ،وانامشفق لک علی الاخریٰ فلوقصرت عن البکاء قليلاً قال :لاوالله یاابامحمّد ،مادعوت لنفسي اليوم بدعوة ؟

فقلت :فلمن دعوت ؟

قال:دعوت لاخوانی:سمعت اباعبدالله عليّه السلام یقول:مَن دعا لاخيه بظهرالغيب،وکّل الله به ملکاً یقول:ولک مثلاه فاردت ان اکون انماادعو لاخواني ویکون الملک یدعولي لاني في شک من دعائي لنفسي،ولست في شک من دعاء الملک لي( ١)

“جب ميں موقف ميں تھا تو ميری ابراہيم بن شعيب سے ملاقات ہوئی ميں نے ان کو سلام کيا تو ان کی ایک آنکه پر مصيبت کے آثار نمایاں تھے اور ان کی صحيح آنکه اتنی سرخ تهی گو یا خون کا ڻکڑا ہوتو ميں نے ان سے کہا :تمہاری ایک آنکه خراب ہو گئی ہے لہٰذا ميں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کم گریہ کریں اور دوسری آنکه کی خير منائيں ۔

انهوں نے کہا:اے ابو محمد خدا کی قسم آج ميں نے اپنی ذات کيلئے ایک بهی دعا نہيں کی ہے ميں نے کہا :تو آپ نے کس کيلئے دعا کی ہے ؟

انهوں نے کہا :ميں نے اپنے برادران کيلئے دعا کی ہے :کيونکہ ميں نے امام جعفر صادق کو فرماتے سنا ہے :جس نے اپنے غائب (غير حاضر )مومن بهائی کيلئے دعا کی توخداوند عالم اس پر ایک ایسے فرشتہ کو معين فرما دیتا ہے جو یہ کہتا ہے :تمہار ے لئے بهی ایسا ہی ہے ۔ميں نے اسی مقصد واراد ہ سے اپنے برادران کيلئے دعا کی ہے اور فرشتہ ميرے لئے دعا کرتا ہے مجھے اس سلسلہ ميں کوئی شک ہی نہيں ہے حالانکہ مجهکو اپنی ذات کيلئے دعا کر نے ميں شک ہے ”

____________________

١)الاختصاص صفحہ ٨۴ ، بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٩٢ ۔ )


٣۔والدین کےلئے دعا !

والدین کے ساته نيکی کرنا ان کے حق ميں دعاکرنا ہے اور نيز ان کے ساته احسان کرنے کے بہت زیادہ مصادیق ہيں۔

انسان اُن کی طرف سے صدقہ د ے ،ان کی طرف سے حج بجا لائے ،ان کی نماز یں ادا کر ے ،ان کيلئے دعا کرے وغير ہ وغيرہ ۔

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :

مایمنع الرجل منکم ان یبرّ والدیه حيين اوميتين یصلي عنهما،و یتصدق عنهما،ویصوم عنهما ،فيکون الذي صنع لهما،وله مثل ذالک،فيزیده اللّٰه عزَّوجلَّ ببرِّه (وصلته )خيراً کثيراً

“تم ميں سے ہر انسان کو اپنے والدین کے ساته نيکی کرنا چاہئے چا ہے وہ زندہ ہوں یا مردہ ان کی نماز یں اداکر ے ،ان کی طرف سے صدقہ دے، حج بجالائے اور ان کے روز ے رکهے پس جو کچه وہ ان کيلئے کرے گا ویسا ہی اس کيلئے ہو گا الله عزوجل اس کی نيکيوں اور صلہ ميں بہت زیادہ اضافہ کرے گا ”


حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے ہی مروی ہے :

کان ابی یقول:خمس دعوات لایحجبن عن الرّب تبارک وتعالیٰ : ١ دعوة الامام المقسط

٢۔و دعوة المظلوم،یقول اللّٰه عزّوجلّ :لانتقمن لک ولوبعد حين ۴ ودعوة الوالد الصالح لولده

( ۵ ۔ودعوة المومن لاخيه بظهرالغيب،فيقول:ولک مثلاه ۔(١) “ميرے والد بزرگوار کا فرمان ہے :پانچ دعائيں ایسی ہيں جن کے مابين الله سے کوئی حجاب نہيں :

١۔عادل امام کی دعا ۔

٢۔مظلوم کی دعا ،الله عزوجل کہتا ہے :ميں تيرا انتقام ضرور لوں گا اگر چہ کچه مدت کے بعد ہی کيوں نہ لوں۔

٣۔نيک اولاد کی اپنے والدین کيلئے دعا ۔

۴ نيک باپ کا اپنے فرزند کيلئے دعا کرنا ۔

۵ ۔مومن کا اپنے غائب (غير حاضر )بهائی کيلئے دعا کرنا ،اس سے کہا جاتا ہے :تمہارے لئے بهی اس کے مثل ہے” والدین کےلئے دعا کر نے کے سلسلہ ميں صحيفہ سجادیہ ميں دعا وارد ہوئی ہے :

اللهم صَلِّ عل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَذُرِّیَّتِهِ وَاخصُْص اَبَوَيَّ بِاَفضَْلِ مَاخَصَصتَْ بِهِ آبَاءَ عِبَادِکَ المُْومِْنِينَْ وَاُمَّهَاتِهِم یَااَرحَْمَ الرَّاحِمِينَْ اللهم لَاتُنسِْنِي ذِکرَْهُمَافِي اَدبَْارِصَلَوَاتِي کلّ آن وَفِي اِناًمِن آنَاءِ لَيلِْي وَفِي کُلِّ سَاعَةٍ مِن سَاعَاتِ نَهَارِي اللهم صَلِّ عل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاغفِْر لِي بِدُعَائِي لَهُمَاواَغفِْرلَْهُمَابِبِرِّهِمَا بِي مَغفِْرَةً حتماً وَارضَْ عَنهُْمَابِشَفَاعَتِي لَهُمَارِضیً عَزمْاًوَبَلِّغهُْمَابِالکَْرَامَةِ مَوَاطِنَ السَّلَامَةِ اللهم وَاِن سَبَقَت مَغفِْرَتِکَ لَهُمَافَشَفِّعهُْمَافِيَّ وَاِن سَبَقَت مَغفِْرَتَکَ لِي فَشَفِّعنِْي فِيهِْمَاحَتی نَجتَْمِعَ بِرَا فَتِکَ فِی دَارِ کَرَامَتِکَ وَمَحَلِّ مَغفِْرَتِکَ وَرَحمَْتِکَ

____________________

۴،حدیث / ٨٨٩۵ ۔ / ١)وسا ئل الشيعہ جلد ١١۵٣ )


“خدایا محمد وآل محمد پر رحمت نا زل فرما اور ميرے والدین کو وہ بہترین نعمت عطا فرما جو تو نے اپنے بندگان مو منين ميں کسی والدین کو بهی عطا فر ما ئی ہے اے سب سے زیادہ رحم کر نے والے ، خدا یا ! مجھے ان کی یاد سے غافل نہ ہو نے دینا نہ نمازوں کے بعد اورنہ رات کے لمحات ميں اور نہ دن کی ساعات ميں ،خدایا! محمد وآل محمد پر رحمت نا زل فرما اور ميری دعا ئے خير کے سبب انهيں بخش دے اور ميرے ساته ان کی نيکيوں کے بدلہ ان کی حتمی مغفرت فرما اور ميری گذارش کی بنا پر ان سے مکمل طور پر راضی ہو جا اور اپنی کرا مت کی بنا پر انهيں بہترین سلا متی کی منزل تک پہنچا دے ،اور خدایا! اگر تو انهيں پہلے بخش چکا ہے تو اب انهيں ميرے حق ميں شفيع بنا دے اور اگر ميری بخشش پہلے ہو جا ئے تو مجھے ان کے حق ميں سفارش کا حق عطا کردینا کہ ہم سب ایک کرامت کی منزل اور مغفرت و رحمت کے محل ميں جمع ہو جا ئيں ”

۴ ۔اپنی ذات کيلئے دعا !

یہ دعا کی منزلوں ميں سے آخری منزل ہے پہلی منزل نہيں ہے ۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ اسلام انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ دنياوی زند گی ميں اپنے معيشتی امو ر ميں نيز دو سروں کے ساته معا ملہ کرنے کے سلسلہ ميں ناچيز سمجھے اور دو سروں کو خود پر ترجيح دے جس طرح اسلام انسان سے یہی مطالبہ دعا کے سلسلہ ميں بهی کرتا ہے ۔

ليکن انسان کو خداوندعالم کی بارگاہ ميں دعا کرتے وقت اپنے نفس کو فراموش نہيں کرنا چاہئے۔ ہم کو اپنی ذات کيلئے الله سے کيا سوال کرنا چاہئے ؟ اور ہميں کيسے دعا کر نا چا ہئے ؟

ہم اس سلسلہ ميں انشا ء الله عنقریب بحث کریں گے ۔


١لف۔ ہر لازم چيز کےلئے دعا !

ہم کو خدا وند عالم سے اپنی ضروریات کی وہ تمام چيزیں طلب کرنی چا ہئيںجو ہماری دنيا و آخرت کےلئے اہم ہيں۔ ہم کو اس سے ہر برائی اور شر سے اپنی دنيا و آخرت ميں دور رہنے کا سوال کرنا چا ہئے بيشک خير کی تمام کنجياں اور اس کے اسباب خدا وند عالم کے پاس ہيں کو ئی چيز اس کے ارادے کے متحقق ہو نے ميں ما نع نہيں ہو سکتی ہے ،نہ ہی کو ئی چيز اس کو عا جز کر سکتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے بندوں پر خير اور رحمت کرنے ميں بخل کر تا ہے ۔

جب خدا وند عالم کسی چيز کے عطا کرنے اور دعا مستجاب کرنے ميں کو ئی بخل نہيں کرتا ہے تو یہ کتنی بری بات ہے کہ انسان الله سے سوال اور دعا کرنے ميں بخل سے کام لے ۔

حدیث قدسی ميں آیا ہے :

لوانّ اوّلکم وآخرکم وحيّکم وميّتکم اجتمعوا فتمنّیٰ کلّ واحد ما بلغت امنيّته فاعطيته،لم ینقص ذلک من ملکي ( ١)

“اگر تمہارے پہلے اور آخری ،مردہ اور زندہ جمع ہو کر مجه سے اپنی اپنی آرزو بيان کریں تو ميں ہر ایک کی آرزو پوری کرونگا اور ميری ملکيت ميں کو ئی کمی نہيں آئيگی ”

رسول خدا (ص) سے مروی ہے کہ حدیث قدسی ميں آیا ہے :

لوانّ اهل سبع سماوات وارضين سالوني جميعاً،واعطيت کلّ واحد منهم مسالته مانقص ذلک من ملک وکيف ینقص ملک انا قيّمه ( ٢)

“اگر سا توں زمين اور آسمان والے مل کر مجه سے سوال کریں تو ميں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق عطا کرونگا اور ميری ملکيت ميں کو ئی کمی نہيں آ ئيگی اور کمی آئے بهی کيسے جب ميں نے ہی خود اس کو خلق کيا ہے ”

____________________

١)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٢٩٣ ۔ )

٢)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٠٣ ۔ )


رسول خدا (ص) سے مروی حدیث ميں آیا ہے :سلوا الله واجزلوا؛فانّه لایتعاظمه شيءٌ (۱) “خداوند عالم سے مانگو اور زیادہ مانگو چو نکہ اس کے سامنے کو ئی چيز بڑی نہيں ہے ”

روایت کی گئی ہے :

لاتستکثروا شيئاًمماتطلبون؛فماعندالله اکثر

“اپنی دعا ؤں ميں کسی چيز کو زیادہ مت سمجهو چونکہ خداوند عالم کے نزدیک جو کچه بهی ہے زیادہ ہے ”

اہل بيت عليہم السلام سے مروی روایا ت ميں دعا ميں ہر خير کی طلب اور ہر برائی سے دور رہنے کےلئے خدا وند عالم سے سوال کرنا عام طور پر بيان ہو ا ہے ۔ ہم ذیل ميں بعض نمونے بيان کر رہے ہيں :

رجب المرجب کے مہينہ ميں نماز کے بعد یہ دعا پڑهنا وارد ہوا ہے :یَامَن یُعطِْي الکَْثِيرَْبِالقَْلِيلِْ یَامَن یُعطِْي مَن سَالَهُ یَامَن یُعطِْي مَن لَم یَسالهُْ وَمَن لَم یَعرِْفهُْ تَحَنُّنَامِنهُْ وَرَحمَْةً اَعطِْنِي بِمَسٴْلَتِي اِیَّاکَ جَمِيعََ خَيرِْالدُّنيَْاوَجَمِيعَْ خَيرِْ الآخِرَةِ وَاصرِْف عَنِّي بِمَسئَْلَتِي اِیَّاکَ جَمِيعَْ شَرِّالدُّنيَْاوَشَرِّالآخِرَةِفَاِنَّهُ غَيرُْ مَنقُْوصٍْ مَااَعطَْيتَْ وزدني مِن فَضلِْکَ یَاکَرِیمُْ

“اے وہ خدا جو کم کے مقابلہ ميں زیادہ عطا کرتا ہے،اے وہ خدا جو سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے دونوں کو عطا کرتا ہے اور جو اس کو نہ پہچانے ،ميرے سوال کرنے کی بنا پر مجه کو بهی اپنی رحمت ولطف سے عطا کر، دنيا کی کل نيکی اور آخرت کی تمام نيکياں، ميرے سوال کے مطابق مجه کوعطاکردے اوردنيا وآخرت کی تما م برائياں مجه سے دور فر مادے کيونکہ تيری عطا

____________________

١)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٠٢ ۔ )


ميں نقص نہيں ہے اور ميرے لئے اپنے فضل کو زیادہ کر اے کریم! ”

اللهم انّي اسالک مفاتح الخير وخواتمه وسوابغه وفوائده وبرکاته ومابلغ علمه علمي وماقصرعن احصائه حفظي

یَامَن هُوَفِي عُلُوِّهِ قَرِیبٌْ،یَامَن هُوَفِي قُربِْهِ لَطِيفٌْ صَلِّ عل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ محمّد اللهم اِنِّي اَسئَْلُکَ لِدِینِْي وَدُنيَْاي وَآخِرَتِي مِنَ الخَْيرِْکُلِّهِ وَاَعُوذُْ بِکَ مِنَ الشّرِّکُلِّهِ

“خدایا ميں تجه سے خير کی کنجياں ،عاقبت بخير ،نعمتيں ،فوائد برکات نيز جس کا علم مجھے نہيں ہوسکا ہے اور جس چيز کا احاطہ کرنے سے ميری یادداشت قاصر ہے سب کا سوال کرتاہوں”

اے وہ خدا جو اپنی بر تری ميں قریب ہے اے وہ خد ا جو اپنے قرب ميں لطيف ہے درود ورحمت ہو محمد وآل محمد پر، اے خدا ميں تجه سے اپنے دین ،دنيا اور آخرت ميں خير کی دعا کرتا ہوں اور تمام برا ئيوں سے پناہ چا ہتا ہوں ”وَاَدخِْلنِْی فِی کُلِّ خَيرٍْ اَدخَْلتَْ مُحَمَّداًوَآلَ مُحَمَّدٍوَاَخرِْجنِْي مِن کُلِّ اَخرَْجتَْ مِنهُْ مَُحَمَّداًوَآلَ مُحَمَّد

“اے ميرے مو لا مجه کو ہر اس نيکی ميں داخل کردے جس ميں تونے محمد وآل محمد کو داخل کيا ہے اور مجه کو ہر اس برائی سے نکال دے جس سے تو نے محمد وآل محمد کو نکال دیا ہے ”

وَاکفِْنِي مَااَهَمَّنِي مِن اَمرِْدُنيَْايَ وَآخِرَتِي

“اور مجه کودنيا وآخرت کے ان امور سے محفوظ رکه جو ميرے لئے دشواری کا سبب ہيں ”

اللهم لَاتَدَع لِي ذَنبْاًاِلَّاغَفَرتَْهُ وَلَاهَمّاًاِلَّافَرَّجتَْهُ وَلَاسُقمْاًاِلَّاشَفَيتَْهُ وَلَا عَيبْاًاِلَّاسَتَرتَْهُ وَلَارِزقْاًاِلَّابَسَطتَْهُ وَلَاخَوفْاًاِلَّاآمَنتَْهُ وَلَاسُوءْ اًاِلَّاصَرَفتَْهُ وَلَاحَاجَةً هِيَ لَکَ رِضاًوَلِیَ فِيهَْاصَلَاحٌ اِلَّاقَضَيتَْهَایَااَرحَْمَ الرَّاحِمِينَْ

“خدایا ! ميرے لئے کو ئی گناہ نہ چهوڑ مگر تو اس کو بخش دے اور نہ کسی غم کو مگر اس کوخو شی سے بدل دے اور نہ کسی مرض کو مگر یہ کہ تو شفا دیدے اور نہ کسی عيب کو مگر اس کو چهپا دے نہ کسی رزق کو مگر اسے زیادہ کر دے اور نہ کسی خوف کو مگر اس سے امان دیدے اور نہ کسی برائی کو مگر اسے دور کردے اور نہ کسی حاجت کوجس ميں تيری رضا اور جس ميں ميرے لئے صلاح ہو مگر تو اس کو پورا کردے اے سب سے بڑے رحم کرنے والے ”


یَامَن بِيَدِهِ مَقَادِیرَْالدُّنيَْاوَالآْخِرَة وَبِيَدِه مَقَادِیرْالنَّصرِْوَالخُْذلَْان، وَبِيَدِه مَقَادِیرْالغِن یٰ وَالفَْقرْوَبِيَدِه مَقَادِیرْالخَيرْوَالشّرّ،صَلِّ عل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ محمد، وَبَارِک لِي فِي دِینِْي الَّذِي هُوَمِلَاکُ اَمرِْي وَدُنيَْايَ اَلَّتِي فِيهَْامَعِيشَْتِي،ْوَآخِرَتِي اَلَّتِي اِلَيهَْامُنقَْلِبِي وَبَارِک لِي فِي جَمِيعِْ اُمُورِْي ْ اَعُوذُْبِکَ مِن شَرِّالمَْحيَْا وَالمَْمَاتِ، وَاَعُوذُْبِکَ مِن مَکَارِهِ الدُّنيَْاوَالآْخِرَةِ

“اے وہ ذات جس کے اختيار ميں دنيا و آخرت کے اندازے ہيں کا ميابی اور شکست کے اندازے ہيں مالداری اور غربت کا اختيار ہے محمد وآل محمد پر درود بهيج اور مجھے ميری اس دنيا ميں برکت دے جو ميرے امر کا معيار ہے اور اسی دنيا ميں برکت دے جس ميں ميری روزی ہے اور اس آخرت ميں برکت دے جہاں مجھے جانا ہے ميرے تمام امور ميں برکت دے ۔۔۔ميں زندگی اور موت کے شر سے تيری پناہ مانگتا ہوں اور دنيا وآخرت کی نا گواریوں سے تيری پناہ مانگتا ہوں ”

اسالُک بنور وجهک الذي اشرقت به السماوات وانکشفت به الظلمات وصلح عليه امرالاولين والاخرین ان تصلي علی محمّدوآل محمّد وان تصلح لي شاني کلّه ولاتکلني الي نفسی طرفة عين ابداً

“ميں تجه سے تيری ذات کے اس نور کے صدقہ ميں سوال کرتا ہوں جس کے ذریعہ آسمان چمکے تا ریکيا ںچهٹ گئيں اور اس پر آنے والوں اور گذر جانے والوں کا معاملہ درست ہوا تو محمد وآل محمد پر درود بهيج اور یہ کہ تو ميرے لئے ميرے پورے معاملہ کو درست کر دے اور مجه کو ایک لمحہ کيلئے بهی ميرے نفس کے حوالہ نہ کر ”

سحری سے متعلق دعا ميں امام زین العا بدین عليہ السلام فر ما تے ہيں :

اکفِْنِي المُْهِمَّ کُلَّهُ،وَاقضِْ لِی بِالحُْسنْ یٰ،وَبَارِک فِي جَمِيعِْ اُمُورِْي وَاقضِْ لِي جَمِيعَْ حَوَائِجِی اللهم یَسِّرلِْي مَااَخَافُ تَعسِْيرَْهُ فانّ تيسيرمااخاف تعسيره عليک یسيروسهّل لي مااخاف حزونته ونفّس عني مااخاف ضيقه وکفَّ عني مااخاف غمّه واصرف عنی مااخاف بليّته

“اور ہما رے تمام اہم امور کے لئے کافی ہو جا اور انجام بخير کر اور مجه کو بر کت دے تمام امور ميں اور ميری تمام حا جتوں کو پورا کر خدا یا !ميرے لئے آسان کر جس کی سختی سے ميں ڈرتا ہوں اس کا آسان کرنا تيرے لئے بہت سہل ہے اور سہل بنا دے اس کو جس کی دشواری سے ميں خو ف زدہ ہوں اور جس کی تنگی سے ميں خوفزدہ ہوں ا س ميں کشا دگی عطا کر اور جس کے غم سے خوف زدہ ہوں اس کو روک دے اور جس کی مصيبت سے ميں خوف زدہ ہوں اس کو مجه سے دور کر دے ”


اور دعاء الا سحارميں آیا ہے:

وَهب لي رحمة واسعةجامعةاطلب بهاخيرالدنياوالآخرة “اور مجه کو وسيع اور کامل رحمت عطا کر جس سے ميں دنيا و آخرت کی نيکياں حاصل کرسکوں ”

ب۔بڑی حا جتيں چھوٹی حاجتوں پر پردہ نہ ڈال دیں

کبهی کبهی ہم ميں سے بعض افراد اپنی چھوٹی چھوٹی حاجتوں کو خداوندعالم سے مانگنے کو عيب سمجهتے ہيں ليکن انسان کو پروردگار عالم سے مختلف چيزوں کے متعلق سوال کر نا چاہئے چاہے حاجت کتنی ہی چھوٹی کيوں نہ ہو خدا سے سوال کر نے ميں کوئی عيب نہيں سمجهنا چاہئے ۔

بندہ پروردگار عالم سے اپنی تمام حاجتوں اورکمزوریوں کوچهپاتاہے ليکن ہماری تمام حاجتيں، ہمارانقص یہاں تک کہ جن حاجتوں کو ہم خدا کے علاوہ کسی اور کے سامنے پيش کرنے سے بهی شرمند ہ ہوتے ہيں وہ ان سب سے آگا ہ ہے ۔ خداوندعالم سے بڑی بڑی حاجتوں اور سوالات کر نے سے چھوٹی چھوٹی حاجتوں پرپردہ ڈالنا سزاوار نہيں ہے ۔

خداوندعالم اپنے بندے سے اس کی چھوٹی بڑی تمام حاجتوں ميں اس سے رابطہ برقرار رکهنے کو پسندکرتاہے یہاں تک کہ وہ اس سے ہميشہ رابطہ رکهنا چا ہتا ہے اور یہ جاودانہ رابطہ اس وقت تک بر قرار نہيں رہ سکتا جب تک بند ہ خداوندعالم سے اپنی چھوٹی بڑی تمام حاجتوں کا سوال نہ کرے ۔

رسول الله (ص) سے مروی ہے :

سلوا اللّٰه عزّوجلّ مابدا لکم من حوائجکم حتّی شسع النعل،فانّه انْ لم یيسره لم یتيسر

“تم اپنی تمام حا جتيں یہاں تک کہ جو تے کے تسمہ کوبهی خدا سے مانگو چونکہ اگر اس کوخدانہيں دیگا تو نہيں ملے گا ”

یہ بهی رسول اسلام (ص)سے مروی ہے :

ليسال احدکم ربّه حاجاته کلّها،حتّیٰ یساله شسع نعله اذا انقطع (١) “تم ميں سے ہر ایک کو خدا وند عالم سے اپنی تمام حاجتيں طلب کرنا چا ہئيں یہاں تک کہ اگر تمہارے جو تے کا تسمہ ڻوٹ جا ئے تو اس کو بهی خدا سے مانگنا چا ہئے ”

____________________

١)مکارم الاخلاق صفحہ ٣١٢ ،بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٢٩۵ ۔ )


اور یہ بهی رسول اسلام (ص) سے مروی ہے :

لاتعجزوا عن الدعاء فانّه لم یهلک احدٌ مع الدعاء،وليسا ل احدُکم ربّه حتّیٰ یساله شسع نعله اذا انقطع ،واسالوا اللّٰه مِنْ فضله ؛فانّه یحبّ انْ یسال ( ١)

“تم دعا کرنے سے عا جز نہ ہو نا ؛چو نکہ دعا کے ساته کو ئی ہلا ک نہيں ہوا ،تم ميں سے ہر ایک کو خدا وند عالم سے سوال کرنا چا ہئے یہاں تک کہ اگر تمہارے جو تے کا تسمہ بهی ڻوٹ جا ئے تو بهی اسی سے مانگنا چا ہئے اور تم الله سے اس کے فضل کا سوال کرو چونکہ خدا وند عالم اس چيز کو دو ست رکهتا ہے کہ اس سے سوال کيا جا ئے ”

سيف تمار سے مروی ہے کہ ميں نے حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام کو یہ فرماتے سُنا ہے :

عليکم بالدعاء؛فانّکم لاتتقربون بمثله،ولاتترکواصغيرة لصغرها انْ تسالوها،فانّ صاحب الصغائرهوصاحب الکبائر ( ٢)

“تم پر دعا کرنا ضروری ہے چونکہ تم دعا کے مانند کسی اور چيز سے خدا وند عالم کے قریب نہيں ہو سکتے اور چھوٹی چيزوں کے بارے ميں اس کے چهوڻے ہو نے کی وجہ سے اس کے متعلق سوال کرنا نہ چهوڑ دو اس لئے کہ جو چھوٹی چيزوں کا مالک ہے وہی بڑی چيزوں کا مالک ہے ”

حدیث قدسی ميں آیاہے :

یاموسیٰ سلني کلّ ماتحتاج اليه،حتّیٰ علف شاتک وملح عجينک ( ٣)

“اے موسیٰ مجه سے ہر چيز کا سوال کر و یہاں تک کہ اپنی بکریوں کے چارے اور اپنے آڻے کے نمک کيلئے بهی مجه سے سوال کرو ”

____________________

١)بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣٠٠ ۔ )

۴،حدیث / ٢)بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٢٩٣ ،المجالس صفحہ ١٩ ،وسا ئل الشيعہ جلد ١٠٩٠ ) ٨۶٣۵ اصول کا فی / ۵ ١ ۶ /

٣)عدة الداعی صفحہ ٩٨ ۔ )


دعا کے سلسلہ ميں ان چيزوں پر زور دینے سے ہماری مراد یہ نہيں ہے کہ انسان دعا کر نے کی وجہ سے عمل ميں سستی کر ے بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ جو عمل انجام دے رہا ہے اس تکيہ نہ کرے اور اس عمل کے سلسلہ ميں اس کی اميد و آرزو خداوند عالم کی ذات سے ہو ۔

دوسرے یہ کہ انسان اپنے تمام لوا زمات دعا انجام دیتے وقت اپنی حا جتوں اور خدا کے درميان رابطہ بر قرار رکهے ۔

مذکورہ دونوں چيزوں کایہ تقاضا ہے کہ انسان الله سے اپنی تمام حا جتےں طلب کر ے یہاں تک کہ جو تے کا تسمہ ،اپنے حيوان کےلئے چارہ اور آڻے کےلئے نمک کا بهی اسی سے سوال کرے، جيساکہ حدیث قدسی ميں آیا ہے ۔

ج: خدا وندعالم کی بارگاہ ميں بڑی نعمتوں کا سوال کر نا چا ہئے

جہاں ہم پرورد کار عا لم سے ہر چيز ما نگتے ہيں وہيں پر ہميں اس سے بڑی نعمتوں کا سوال کر نا چا ہئے

جس طرح ہميں پروردگا ر عالم سے چھوٹی چھوٹی چيزیں مانگنے ميں ندامت نہيں ہونی چاہئے جيسے حيوان کے لئے چارہ ،جوتے کا تسمہ اور آڻے کے لئے نمک اسی طرح ہميں اس سے بڑی بڑی نعمتوں کا سوال کرنا چا ہئے چاہے وہ کتنی ہی بڑی و عظيم کيوں نہ ہو ۔


ربيعہ بن کعب سے مروی ہے :

قال لي ذات یوم رسول اللّٰه (ص):یاربيعة خدمتني سبع سنين،افلا تسالنی حاجة ؟فقلت یارسول اللّٰه امهلني حتّیٰ افکر فلمّااصبحت ودخلت عليه قال لي: یاربيعة هات حاجتک ،فقلت:تسا ل اللّٰه ان یدخلني معک الجنة،فقال لی:مَنْ علّمک هذا ؟فقلت :یارسول اللّٰه ماعلّمني احد لکن فکرّت في نفسي وقلت:انْ سالتهُ مالاً کان الیٰ نفاد،وان سالته عمرا طویلاواولاداً کان عاقبتهم الموت قال ربيعة :فنکس راسه (ص)ساعة ثم قال:افعل ذلک،فاعنّي بکثرة السجود قال وسمعته یقول:ستکون بعدي فتنة،فاذاکان ذلک فالتزمواعلي بن ابي طالب ( ١)

“مجه سے ایک روز رسول خدا (ص)نے فرمایا اے ربيعہ تم سات سال سے مير ی خدمت کررہے ہو کيا مجه سے کسی چيز کا سوال نہيں کروگے۔ ميں نے عرض کيا :یا رسول الله (ص)مجھے غور وفکر کرنے کی مہلت د یئجے ۔جب ميں اگلے روز صبح کے وقت آنحضرت (ص) کی خدمت بابرکت ميں پہنچا تو آپ نے فرمایا :ا ے ربيعہ مجه سے اپنی حاجت بيان کرو ۔ ميں نے عرض کيا :خداسے دعا فرماد یجئے کہ وہ مجهکو آپ کے ساته جنت ميں داخل کرے ۔

آپ نے مجه سے فرمایا :تم کو یہ کس نے سکها یا ہے ؟ ميں نے عرض کيا :یا رسول الله (ص)یہ مجھے کسی نے نہيں سکها یا ميں نے بذات خود غوروفکر کيا کہ اگر ميں آپ سے مال کا سوال کرو ں تو وہ ختم ہو جا یگا ،اگر ميں آپ سے اپنی طولانی عمر اور اولاد کا سوال کروں تو یقينا ایک دن موت ضرور آئيگی ۔

ربيعہ کا کہنا ہے کہ آپ نے کچه دیر تو قف کر نے کے بعد فرمایا: خدا ایسا ہی کرے ،لہٰذاتم بہت زیادہ (سجدے )عبادت کيا کرو ۔

ربيعہ کہتے ہيں ميں نے آپ کو یہ فرما تے سُنا ہے :عنقریب ميرے بعد فتنہ بپا ہوگا اور جب ایسا ہو جا ئے تو تم پر علی بن ابی طالب عليہ السلام کی اطاعت کرنا واجب ہے ”

____________________

١)بحاالانوار جلد ٩٣ ۔صفحہ ٣٢٧ ۔ )


حضرت امير المو منين عليہ السلام سے مروی ہے :

کان النبی (ص)اذا سّئل شيئا فاذا اراد ان یفعله قال:نعم واذا اراد ان لا یفعل سکت،وکان لا یقول لشيٴلا فاتاه اعرابي فساله فسکت ،ثم ساله فسکت، ثم ساله فسکت فقال (ص) کهيئة المسترسل:ماشئت یااعرابي؟فقلنا:الآن یسال الجنّة،فقال الاعرابی:اسالک ناقة ورحلها وزاداً قال:لک ذلک،ثم قال (ص):کم بين مسالة الاعرابي وعجوز بنی اسرائيل؟ثم قال:انّ موسیٰ لمّا اُمران یقطع البحرفانتهیٰ اليه وضربت وجوه الدواب رجعت،فقال موسیٰ:یاربّ مالي؟ قال:یاموسیٰ انّک عند قبریوسف فاحمل عظامه،وقد استویٰ القبر بالارض،فسال مو سیٰ قومه:هل یدري احد منکم این هو؟قالوا:عجوزلعلّها تعلم،فقال لها:هل تعلمين؟قالت:نعم،قال:فدليناعليه ،قالت:لاواللّٰه حتّی تُعطيني مااسئلک،قال:ذلک لک،قالت:فإنی اسالک ان اکون معک فی الدرجة الّتي تکون فی الجنّة،قال:سلي الجنّة قالت:لاواللّٰه الّا ان اکون معک،فجعل موسیٰ یراود فاوحیٰ اللّٰه اليه:ان اعطها ذلک:فإنّها لاتنقصک،فاعطَاهاودلّته علی القبر( ١)

“جب پيغمبر اکرم (ص)سے کسی چيز کے متعلق سوال کيا جاتاتها تواگر آپ کا اراد ہ اس فعل کے انجام کے متعلق ہو تا تھا تو آپ فرما تے تھے :ہاں اور اگر آپ کا ارادہ اس کے انجام نہ دینے کا ہوتا تھا تو آپ ساکت رہتے تھے ۔

اور آپ کسی بهی چيز کے سلسلہ ميں“ نہيں” نہيں فرماتے تھے ،ایک اعرابی نے آپ کی

____________________

۔ ١)بحا الا نوار جلد ٩٣ صفحہ/ ٣٢٧ ۔ )


خدمت ميں حاضر ہوکرسوال کيا تو آپ خاموش رہے ،اس نے پھر سوال کيا تو آپ پھر خاموش رہے، پھر اس نے سوال کيا ،آپ پھر خاموش رہے،توآپ نے فرمایا : اے اعرابی تو کيا چاہتا ہے ؟ہم لوگوں نے کہا کہ اب یہ جنت کے سلسلہ ميں سوال کرے گا ۔

اعرابی نے کہا :ميں آپ سے ناقہ، سواری اور زادراہ چاہتا ہوں ۔

آپ نے فرمایا :ہاں تجه کو عطا کيا جائيگا ،پهر آپ نے فرمایا :اس اعرابی اور اس بنی اسرائيل کی بڑهيا کے درميان کتنا فرق ہے ؟ پهرفرمایا:جب موسیٰ کو دریا پار کرنے کا حکم ملا اور آپ دریا کے کنارے پہونچ گئے تو مو سیٰ نے جانوروں کو آگے بڑهانا چاہا ليکن جانور واپس آگئے ۔

جناب مو سیٰ عليہ السلام نے عرض کيا پالنے والے ميرے لئے کيا فرمان ہے؟ فرمایا :اے مو سیٰ تم حضرت یوسف عليہ السلام کی قبر کے پاس ہواو ر ان کی ہڈیوں کو اڻها لو جبکہ قبر زمين کے برابر ہو چکی تهی ۔ جناب موسیٰ نے اپنی قوم سے سوال کيا :کياتم ميں سے کوئی جانتا ہے ؟ قوم نے کہا:ایک بڑهيا ہے شاید وہ جانتی ہے ؟

بڑهيا سے سوال کيا :کيا تم جانتی ہو؟

اس نے جواب دیا :ہاں آپ نے فرمایا :تو ہميں بتاؤ کہاں ہے ؟ بڑهيا نے کہا :خدا کی قسم ميں اس وقت تک قبر کا پتہ نہيں بتاؤنگی جب تک آپ ميرے سوال کا جواب نہيں دیں گے۔

آپ نے فرمایا :جو تم مانگو گی وہی دیا جائيگا ، اس نے کہا :ميں جنت ميں آپ کے ساته اسی درجہ ميں رہوں جس ميں آپ رہيں گے ۔

آپ نے فرمایا:ہاں تم جنت ميں رہوگی اس نے کہا:نہيں خدا کی قسم ميں جب تک آپ کے ساته نہيں رہوں گی حضرت مو سیٰ عليہ السلام نے فر مایا :تم جنت کا سوال کرو۔تو بڑهيا نے کہا :ميں اس سے کم پر راضی نہيں ہوں ۔ جناب موسیٰ عليہ السلام کچه پس و پيش کرنے لگے تو الله نے آپ پر وحی نازل فرمائی :اگر آپ اس کو عطا کردیں گے توجنت ميںکمی نہيں آئيگی تو آپ نے اس کو عطا کردی اور اس نے قبر کا نشان بتا یا ”


د۔دعا کرکے سب کچه تدبير الٰہی کے حوالہ کردینا

دعا ميں خداوندعالم سے یہ طلب کرنا کہ وہ اپنی تدبير کے ذریعہ ہم کو اپنی تدبير سے بے نياز کردے اور اپنی رحمت و حکمت کو ہمارے امر کا ولی بنا دے اور ہمارے نفسوں پر کسی چيز کو مو کول نہ کرے ،دعا ء عرفہ ميں حضرت امام حسين عليہ السلام فرما تے ہيں :

اَغنِْنِي بِتَدبِْيرِْکَ لِي عَن تَدبِْيرِْي،ْوَبِاِختِْيَارِکَ عَن اِختِْيَارِي

“ميرے خدا مجه کو اپنی تدبير کے ذریعہ ميری تدبير سے بے نياز کر اور اپنے اختيار کے مقابلہ ميں ميرے اختيار سے بے نياز کر ”

اور منا جات شعبانيہ ميں آیاہے :وَتَوَلِّ مِن اَمرِْي مَااَنتَْ اَهلُْهُ

“خدایا !جس چيز کا تو اہل ہے ميرے امر ميں سے اس کا تو ذمہ دار ہوگا ”

یہ بهی وارد ہوا ہے :حَسبِْي عَن سُوالِي عِلمْه بِحَالِي (١) “ميرے سوال کرنے سے اس کا ميرے حال سے واقف ہونا ہی کافی ہے”

مروی ہے :جب نمرود نے حضرت ابراہيم عليہ السلام کو آگ ميں ڈالنے کا حکم دیا تو جبرئيل عليہ السلام نے آپ کی خدمت ميں حاضر ہو کر عرض کيا :کيا آپ کی کوئی حاجت ہے ؟آپ نے فرمایا: ہاں ميری حاجت تو ہے ليکن تجه سے نہيں ،حَسبِْیَ الله ،وَنِعمَْ الوَْکِيلْ

اس کے بعد ميکائل نے عرض کيا :اگر آپ کا اراد ہ آگ کو بجها نے کا ہے تو ميں آگ کو

____________________

١)بحارالانوار جلد ٧١ صفحہ ١۵۵ ۔ )


بجها دوں گا چونکہ بارش اور پانی کا خزانہ مير ے اختيار ميں ہے۔ آپ نے فرمایا :مير ا ایسا کوئی ارادہ نہيں ہے ۔

اس کے بعد ہوا کے فرشتہ نے آکر عرض کيا :اگر آپ چاہيں تو ميں آگ کو اڑادو ں آپ نے فرمایا :ميرا ایساکوئی اراد ہ نہيں ہے ۔

جبرئيل نے کہا :تو پھر الله سے اپنی حاجت طلب کيجئے آپ نے فرمایا:خداوندعالم کوميرے حالات کا علم ہے ”( ١)

اس کا مطلب دعا سے منع کرنا نہيں ہے بلکہ اس کا مطلب بندہ کا تدبير ميں اپنے امر کو الله کے حوالہ کر دینا ہے ۔

اس کو ہر امر ميں الله کی طرف تفویض سے تعبير کيا جاتا ہے اور سختيوں اور بلاوں ميں الله کی تقدیر ،قضا ،حکمت اور تدبير پر اعتماد رکهنا ہے ۔ حضرت امام حسين عليہ السلام دعا ئے عرفہ ميں فرماتے ہيں :

ا هٰلِي اِنَّ اِختِْلَافِ تَدبِْيرْکَ وَ سُرعَْةَ طَوَاءَ مَقَا دِیرِْکَ مَنعْا عِبَادِکَ العَْارِفِينَْ بِکَ عَنِ السَّکُونِْ اِل یٰ عَطَاءٍ وَاليَْاسُ مِنکَْ فِی بَلَا ءٍ

“ميرے معبود! بيشک تيری تدبير کی تبدیلی اور تيرے مقدارات کے سریع تغيرات نے تيرے عارف بندوں کوپر سکون عطا اور مصيبت ميں نا اميد ہونے سے روک دیا ہے ”

امام عليہ السلام فرماتے ہيں بيشک تير ے عارف بند ے کسی عطا پر راضی نہيں ہوتے وہ عطا چا ہے کتنی ہی بڑی کيوں نہ ہو اور کسی مصيبت ميں تجه سے مایوس نہيں ہو تے وہ بلا کتنی ہی بڑی کيوں نہ ہو کيونکہ ان کو معلوم ہے کہ تيرے احکام اور بندوں کے سلسلہ ميں فيصلہ بہت جلد ہوتا ہے نيز ایک

____________________

١)بحارالانوار جلد ٧١ صفحہ ١۵۵ ۔ )


حالت سے دو سری حالت کی جا نب تيری تدبير بدلتی رہتی ہے لہٰذا تيرے بندے عطا اور روزی پرمطمئن نہيں ہوتے اور تيری رحمت سے کسی مصيبت ميں مایوس نہيں ہوتے البتہ تيری رحمت پر مطمئن رہتے ہيں اور تيرے فضل سے مایوس نہيں ہو تے ہيں ”

امام حسين کے اسی مفہوم کی، قرآن کریم کی یہ آیت براہ راست عکاسی کررہی ہے:

لِکَيلْاَ تَاسَواْ عَل یٰ مَافَاتَکُم وَلاَتَفرَْحُواْبِمَاآتَاکُم ( ١)

“یہ تقدیر اس لئے ہے کہ جوتمہارے ہاته سے نکل جا ئے اس کا افسوس نہ کرو اور جب خدا تم کو کوئی چيز(نعمت)عطاکرے تو اس پر نہ اترایاکرو ” امير المو منين عليہ السلام فرماتے ہيں :زہد قرآن کے ان دو کلموں ميں ہے :

لِکَيلْاَ تَاسَواْ عَل یٰ مَافَاتَکُم وَلاَتَفرَْحُواْبِمَاآتَاکُم ( ٢)

“یہ تقدیر اس لئے ہے کہ جو تمہارے ہاته سے نکل جا ئے اس کا افسوس نہ کرواور اور جب خدا تم کو کوئی چيز(نعمت)عطاکرے تو اس پر نہ اترایاکرو ” جب خدا وند عالم نے بندوں کو اس کے قضا و قدر پر اعتماد اور اپنے تمام امور کو خد ا پر واگذار کرنے کی توفيق عطا کر دی ہے ۔۔۔تو بندہ اس وقت خوشی اور غم ميں الله کے قضا و قدر پرسکون محسوس کرتا صرف اس کی عطاپرنہيں، اور نہ ہی وہ مصيبتوں ميں ما یوس ہو تا ہے ۔

ماثورہ دعاؤں ميں اس معنی پر بہت زیادہ زور دیا گيا ہے مشہور ومعروف زیارت امين الله ميں آیا ہے :

اللهم فَاجعَْل نَفسِْي مُطمَْئِنَّةً بِقَدرِْکَ رَا ضِيَةً بِقَضَائِکَ،مَولِْعَةً

____________________

١)سورہ حدید آیت/ ٢٣ ۔ )

٢)سورہ حدید آیت/ ٢٣ ۔ )


بِذکرْکَ وَدُعَائِکَ صَابِرَةً عِندَْ نُزُولِْ بَلَا ئِکَ شَاکِرَةً لِفَوَاضِلِ نِعمَْائِکَ

“خدایا! ميرے نفس کو اپنے قدر پر مطمئن اور اپنے قضا پرراضی کردے، اپنے ذکر و دعا کا شيدائی بنا دے اور اپنے خالص اور برگزیدہ اولياء کا محبت کرنے والا بنا دے اور اپنے آسمان و زمين ميں محبوب کردے اور اپنی بلا کے نزول پر صابر اور اپنی بہترین نعمتوں پر شاکر بنا دے اپنی تمام نعمتوں کا یاد کرنے والا ” حضرت امام زین العابدین علی بن الحسين عليہما السلام دعا ميں فرماتے ہيں :

وَالهَْمنَْاالاِْنقِْيَادَ لَمَّااَورَْدَت عَلَينَْامِن مَشِيَّتِکَ حَتیّٰ لَانَحبُّْ تَاخِيرُْمَا (عَجَّلَت،ْوَلَاتَعجِْيلَْ مَااَخَّرَت وَلَانَکرَْهُ مَااَحبَْبتَْ وَلَانَتَخَيَّرمَاکَرِهتُْ ( ١)

“ہميں اس مشيت کی اطاعت کا الہام عطا فر ما جو تونے ہم پر وارد کی ہے تا کہ جو چيز جلدی سامنے آجا ئے ہم اس کی تا خير کے خواہاں نہ ہوں اور جو چيز دیر ميں آئے اس کی عجلت کے طلبگار نہ ہوں تيری محبوب اشياء کو مکروہ نہ سمجهيں اور تيری نا پسندیدہ چيزوں کو اختيار نہ کرليں ”

دعا کے ایک اور مقام پر فرماتے ہيں :

وطيب بقضائک نفسي ووسّع بمواقع حکمک صدري ووهب لي الثقة لاُقرمعها بانّ قَضَائک لم یجرالَّا بالْخَيْرِة ( ٢)

“اور ميرے نفس کو اپنے فيصلہ سے مطمئن کردے اور ميرے سينہ کو اپنے فيصلوں کےلئے کشادہ بنا دے مجھے یہ اطمينان عطا فر ما دے کہ ميں اس امر کااقرار کروں کہ تيرا فيصلہ ہميشہ خير ہی کے ساته جاری ہو تا ہے۔

دعا ء صباح ميں حضرت امير المو منين عليہ السلام فرما تے ہيں :

____________________

١)صحيفہ سجا دیہ دعا / ٣٣ ۔ )

٢)صحيفہ سجا دیہ دعا / ٣۵ ۔ )


الهي هذهِ ازمة نفسي عقلتهابعقال مشيئتک ( ١)

“خدایا! یہ ميرے نفس کی مہار ہے جس کو مر ضی اور مشيت کے رسّی سے مستحکم باندها ہے ”

ه۔خداوند عالم سے ذات خدا کو طلب کرنا

دعا ميںسب سے زیادہ لطف اوراس کی جلالت یہ ہے کہ انسان دعا ميں الله سے نہ دنيا طلب کرے اور نہ آخرت طلب کرے بلکہ وہ خدا سے اس کے وجہ کریم کا مطالبہ کرے ،اس کی مرضی ، ملاقات ،اس سے قربت ،اس تک رسائی ،اس کی محبت ،اس سے انسيت ،اور اس تک پہنچنے کی تشویق کا مطالبہ کرے حضرت فاطمہ صدیقہ طاہرہ نے دعا ميں ملک الموت کے خداوند عالم کے امر سے ان کی روح پاک قبض کرنے سے پہلے اس کی جانب سے ایسے رزق کا مطالبہ کياجس سے ان کا سينہ ڻھنڈا ہو جائے اور ان کا نفس خوش ہو جائے ،آپ نے دعاميں یوں عرض کيا :پروردگارا تيری طرف سے بشارت ہو نی چا ہئے تيرے علاوہ کسی اور کی طرف سے نہيں ،اس سے ميرا دل ڻھنڈا ہو گيا، ميرا نفس خوش ہو گيا ،ميری آنکهيں ڻھندی ہو گئيں اور ميرا چہرہ باغ باغ ہو گيا ۔۔۔اور ميرا دل مطمئن ہو گيا اور اس سے ميرا پورا جسم خوش ہو گيا ”( ٢)

حضرت امام حسين عليہ السلام دعائے عرفہ ميں فرما تے ہيں :منک اطلبْ الوصول اليک

“تجه ہی سے تجه تک پہنچنے کا مطالبہ کرتا ہوں ”

حضرت امير المو منين عليہ السلام دعا ء صباح ميں فرماتے ہيں :اَنتَْ غَایَةُ مَطلُْوبِْی وَمُنَایَ

“اور تو ہی ميرا آخری مطلوب ہے اور دنيا اور آخرت ميں ميری اميد ہے ”

____________________

١)دعا ء صباح ۔ )

٢)فلا ح السائل ۔ )


پندرہ مناجات ميں سے مناجات “محبين ”ميں امام زین العا بدین عليہ السلام فرماتے ہيں:اِ هٰلِي مَن ذَا لَّذِی ذَاقَ حَلاَوةَ مَحَبَّتِکَ فَرَامَ مِنکَْ بَدَلاًوَمَن ذَاالَّذِي اَنِسَ بِقُربِْکَ فَابتَْغ یٰ عَنکَْ حِوَلاً

“خدایا وہ کون شخص ہے جس نے تيری محبت کی مڻهاس کو چکها ہو اور تيرے علاوہ کا خواہش مند ہو اور وہ کون شخص ہے جس نے تيری قربت کا انس پایا ہو اور ایک لمحہ کے لئے بهی اس سے روگردانی کرے ’پندرہ مناجات ميں سے مناجات مرید ین ميں امام زین العابدین عليہ السلام فرماتے ہيں:اِ هٰلِي فَاسلُْک بِنَا سُبُلَ الوُْصُولِْ اِلَيکَْ وَسَيِّرنَْا فِي اَقرَْبِ الطُّرُقِ لِلوُْفُودِْ عَلَيکَْ “خدایا! ہم کو اپنی طرف پہنچنے کے راستوں پر چلا دے اور ہم کو تيری طرف پہنچنے والے قریب ترین راستہ سے لے چل ،ہمارے اوپر دور کو قریب کردے ” مناجات متو سلين ميں فرماتے ہيں :

وَاجعَْلنِْي مِن صَفوَْتِکَ اَلَّذِینَْ اَقرَْرتَْ اَعيُْنَهُم بِالنَّظَرِاِلَيکَْ یَومَْ لِقَائِکَ ” “اور مجه کو ان منتخب بندوں ميں قرار دے جن کی آنکهوں کو روز ملاقات اپنے دیدار سے خنکی عطا کی ہے ”

دعا عرفہ ميں امام حسين عليہ السلام فرما تے ہيں : اَطلُْبنِْي بِرَحمَْتِکَ حَتّ یٰ اَصِلَ اِلَيکَْ

“ميرے معبود مجه کو اپنے درِرحمت پر طلب کر، تا کہ ميں تجه سے مل جاوں”

حضرت امير المو منين عليہ السلام دعا ئے کميل ميں فر ما تے ہيں :وَاستَْشفِْعُ بِکَ اِل یٰ نَفسِْکَ وَهَب لِيَ الجِْدَّ فِی خَشيَْتِکَ وَالدَّوَامَ فِي الاِْتِّصَالِ بِخِدمَْتِکَ وَادنُْوَمِنکَْ دُنُّوَالمُْخلِْصِينَْ وَاجتَْمِعَ فِی جَوَارِکَ مَعَ المُْومِْنِينَْ

“اور تيری ہی ذات کو اپنا سفارشی بناتا ہوں ،اور تومجه کو خوف و خشيت ميں کو شش کی توفيق عطا کر نيز تيری خدمت کے لگاتار انجام دینے کی ۔۔۔اور تيری بارگاہ ميں خلوص رکهنے والوں کا سا قرب حا صل ہو ،اور تيری بارگا ہ ميں مو منين کے ساته جمع ہو جا ؤں ”

مناجات محبين ميں امام زین العا بدین عليہ السلام فرماتے ہيں :اِ هٰلِي فَاجعَْلنَْامِمَّن هَيَّمتَْ قَلبَْهُ لِاِرَادَتِکَ وَاجتَْبَيتَْهُ لِمُشَاهَدَتِکَ وَ اَخلَْيتَْ وَجهَْهُ لَکَ وَفَرَّغتَْ فُوادَهُ لِحُبِّکَ وَرَغَّبتَْهُ فِيمَْاعِندَْکَ وَقَطَعتَْ عَنهُْ کُلَّ شَی ءٍ یَقطَْعُهُ عَنکَْ

“خدایا!تو مجه کو ان لوگوں ميں سے قرار دے جس کے دل کو اپنے ارادہ کا مسکن بنایا ہو اور جس کو تو نے اپنے مشاہدہ کے لئے منتحب کيا ہو اور جس کے چہرے کو اپنے لئے خالی کر ليا ہے اور جس کے دل کو اپنی محبت کے لئے فارغ کرليا ہے اور جس کو اس چيز کی رغبت دی ہے جو تيرے پاس ہے اور جس سے ہر اس چيز کو دور کر دیا ہے جوتجه سے دور کر تی ہے ”


ب۔جوچيز یں دعا ميں سزاوار نہيں ہيں

اب ہم ان چيزوں کے سلسلہ ميں بحث کریں گے جو دعا ميں نہيں ہونا چاہئيں اور ہم ان سب چيزوں کو قرآن اور حدیث کی روشنی ميں بيان کریں گے جو مندرجہ ذیل ہيں :

١۔کائنات اور حيات بشری ميں الله کی عام سنتوں کے خلاف دعا کرنا

حضرت نوح عليہ السلام نے اپنے بيڻے کی شفاعت اور اس کے پانی ميں غرق ہو نے سے بچانے کيلئے خداوند عالم کے وعدہ کے مطابق کہ وہ ان کے اہل کو نجات دے گا خدا سے دعا کی ليکن خداوندعالم نے اپنے بندے اور اپنے نبی نوح عليہ السلام کی دعا قبول نہيں کی اور ان کی دعا کو رد فرما یا :انه ليس من اهلک اے نوح یہ تمہارے اہل سے نہيں ہے ”اور ان کو پھر اس کے مثل کبهی دعا نہ کرنے کی نصيحت فرمائی۔

وَنَادَ یٰ نُوحُْ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابنِْی مِن اَهلِْی وَ اِنَّ وَعَدَ کَ الحَْقُّ وَاَنتَْ اَحکَْمُ الحَْاکِمِينَْ قَا لَ یَانُوحُْ اِنَّهُ لَيسَْ مِن اَهلِْکَ اِنَّهُ عَمَلٌغَيرُْصَا لِحٍ فَلَا تَسالنِْ مَا لَيسَْ لَکَ بِهِ عِلمٌْ اِنِّی اَعِظُکَ ا تَکُونَْ مِنَ الجَْاهِلِينَْ قَالِ رَبِّ اِنِّی اعُوذُْبِکَ اَن اَسئَْلَکَ مَالَيسَْ بِهِ عِلمٌْ وِاِلَّاتَغفِْرلِْی وَتَرحَْمنِْی اکُن مِنَ الخَْا سِرِینَْ ( ١)

“اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار ميرا فرزند ميرے اہل ميں سے ہے اور تيرا وعدہ اہل کو بچا نے کا بر حق ہے اور تو بہترین فيصلہ کرنے والا ہے ،ارشاد ہوا کہ نوح یہ تمہارے اہل سے نہيں ہے یہ عمل غير صالح ہے لہٰذا مجه سے اس چيز کے بارے ميں سوال نہ کرو جس کا تمہيں علم نہيں ہے ميں تمہيں نصيحت کرتا ہوں کہ تمہارا شمار جا ہلوں ميں نہ ہو جا ئے نوح نے کہا کہ خدایا !ميں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ اس چيز کا سوال کروں جس کا علم نہ ہو اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے گا اور مجه پر رحم نہ کرے گا تو ميں خسارہ اڻهانے والوں ميں ہو جا ؤں گا ” حضرت نوح عليہ السلام کوخداوندعالم سے اپنے اہل وعيال کی نجات کا سوال کرنے کا حق تھا ليکن جوان کے اہل سے نہ ہو اس کو غرق ہو نے سے نجات دلانے کے سلسلہ ميں سوال کرنے کا کوئی حق نہيں تھا ۔

ان کا بيڻا ان کے اہل ميں نہيں تھا یہ الله کا حکم ہے اور حضرت نوح عليہ السلام کو پروردگار عالم کے قوانين اور احکام کی خلاف ورزی کرنے کا حق نہيں ہے ۔ ذرا حضرت نو ح عليہ السلام کے جواب پر غور وفکر کيجئے ۔

دعا ميں الله کی سنتوں کے امر کو سمجهنا ضروری ہے دعا کا کام ان سنتوں کوتوڑنا اور ان سے تجاوز

____________________

١)سورئہ ہودآیت ۴۵ سے ۴٧ ۔ )


کرنا نہيں ہے بلکہ دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ بندہ خدا وند عالم کی سنتوں اور اس کے قوانين کے دائرہ ميں رہ کرخداوند عالم سے سوال کرے ۔بيشک الله کی سنتيں ہميشہ الله کے ارادہ تکوینی کومجسم کرتی ہيں ،اور دعا کی شان الله کے ارادہ کے زیر سایہ ہے نہ اس سے تجا وز کرتی ہے اور نہ ہی اس کی حدود کو پارکر تی ہے ۔

خداوندعالم فرماتا ہے :

وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ الله تَبدِْیلْاً ( ١)

“اور تم خدا کی سنت ميں ہر گز تبدیلی نہيں پا ؤ گے ” نظام کا ئنات الله کے اس ارادہ کی مجسم شکل ہے جس کے بغير کا ئنات کا نظا م درست نہيں رہ سکتا ہے ،بندہ کےلئے اس کی تبدیلی کےلئے دعا کر نا صحيح نہيں ہے بيشک دعا بندوں کےلئے الله کی رحمت کے دروازوں ميں سے ایک دروازہ ہے ؛اور الله کا ارادہ ہميشہ اس کی رحمت کے مطابق ہو تا ہے اور بندہ کے لئے اس ميں تغير و تبدل کی دعا کرنا صحيح نہيں ہے ۔

ایک سنت دوسری سنت سے مختلف نہيں ہو سکتی ہے ،ہر سنت الله کے ارادہ کو مجسم کرتی ہے اور الله کا ارادہ اس کی اس رحمت اور حکمت کو مجسم کرتا ہے جس سے بلند نہ کو ئی رحمت ہے اور نہ حکمت ہے۔چا ہے وہ تکوینی سنتيں ہوں یا تاریخی اور اجتماعی سنتيں ہوں ۔

یہ الله کی سنت ہے جو لوگ بعض دوسر ے لوگوں سے اپنے دین ودنيا کے سلسلہ ميں سوال کيا کرتے ہيں اور انسان کا الله سے اور ایک دوسرے سے بے نياز رہنے کا سوال کرنا صحيح نہيں ہے چونکہ اس طرح کی دعا کرنابا لکل الله کی سنت اور اس کے ارادہ کے خلاف ہے ۔

حدیث ميں حضرت امير المو منين عليہ السلام فرما تے ہيں :

اللهم لاتحوجني الیٰ احد من خلقک

____________________

١)سورئہ فا طر آیت/ ۴٣ ۔ )


“خدا یا مجه کو اپنی مخلوق ميں سے کسی کا محتاج نہ بنا” رسول الله (ص)نے فرمایا :اس طرح مت کہو چونکہ ہر انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے :

حضرت علی عليہ السلام نے عرض کيا :پهر ميں کيسے کہوں یا رسول الله ؟ رسول الله (ص) نے فرمایا :

اللهم لاتحوجني إلی شرارخلقک ( ١)

“پروردگارا !مجھے اپنی شریر مخلوق ميں سے کسی کا محتاج نہ کرنا ” شعيب نے حضرت ابو عبد الله عليہ السلام سے نقل کياہے کہ آپ سے عرض کيا گيا:

ادعُ الله یغنيني عن خلقه قال:انّ اللّٰه قسّم رزق مَن شاء علیٰ یدی مَن شاء،ولکن اسال اللّٰه ان یغنيک عن الحاجة التي تضطرک الیٰ لئام خلقه( ٢)

“ آپ یہ دعا فرما دیجئے کہ خدا مجه کو مخلوق سے بے نياز کر دے آپ نے فرمایا :اللهنے رزق کو کسی نہ کسی کے ذریعہ تقسيم کيا ہے لہٰذا تم خداوندعالم سے یہ دعا کرو کہ خدا مجهکو بر ے لوگوں کے سامنے اپنی حاجت بيان کرنے پر مجبور نہ کرے ”

دعا کے اس طریقہ سے دعا کر نے ميں ہم یہ دیکهتے ہيں کہ اسلامی روایات ميں دعا ئيں کرنے کا ایک واقعی محدود دائر ہ ہے اور غير واقعی اور خيالی دائروں سے دعا خارج ہے ۔

حضرت امير المو منين عليہ السلام سے مروی ہے :

انه ساله شيخ من الشام :اي دعوة اضلّ؟فقال:“الداعي بمالایکون(٣)

آپ سے شام کے ایک بزرگ نے سوال کيا :سب سے زیادہ گمراہ کُن کو نسی دعا ہے؟

____________________

١)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ/ ٣٢۵ ۔ )

١١٧ حدیث صفحہ / ٨٩۴۶ ۔ : ٢)اصول کافی صفحہ / ۴٣٨ ،وسائل اشيعہ جلد ۴ )

٣)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ/ ٣٢۴ ۔ )


آپ نے فرمایا :“نہ ہو نے والی چيز کيلئے دعاکرنا ”

حيات بشری ميں نہ ہو نے والی چيز الله کی متعارف سنتوں کے دائرہ حدود سے خارج ہے ان ميں واقعی و حقيقی طور پر کو ئی تفکر نہيں کيا جا سکتا ہے ۔

عدةالداعی ميں امير المو منين سے مر وی ہے :

مَن سال فوق قدره استحق الحرمان ( ١)

“جس نے اپنی مقدار سے زیادہ سوال کيا وہ اس سے محروم ہو نے کا مستحق ہے ”

ہمارے عقيدے کے مطابق (فوق قدرہ )کے ذریعہ ان چيزوں کے بارے ميں سوال کيا جاتا ہے جن کو حقيقی طور پر طلب نہيں کيا جاتاہے ۔

٢۔حل نہ ہونے والی چيزوں کيلئے دعا کرنا

جس طرح نہ ہونے والی چيزوں کے بارے ميں سوال اور دعا نہيں کرنا چاہئے اسی طرح حلال نہ ہونے والی چيزوں کيلئے دعا کرنا بهی سزا وار نہيں ہے اور یہ دونوں ایک ہی باب سے ہيں پہلی بات الله کے ارادئہ تکو ینيہ سے خارج ہے اور دوسری بات الله کے تشریعی ارادہ سے خارج ہے ۔

الله تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :

اِن تَستَْغفِْرلَْهُم سَبعِْينَْ مَرَّةً فَلَن یَغفِْرَالله لَهُم ( ٢)

“اگر ستر مرتبہ بهی استغفار کریں گے تو خدا انهيں بخشنے والا نہيں ہے ” امير المومنين عليہ السلام فرماتے ہيں :

لاتسال مالایکون ومالایحلّ ( ٣)

“نہ ہو نے والی اور غير حلال چيزوں کے متعلق سوال نہ کرو”

____________________

١)بحارالا نوار جلد ٩٣ صفحہ / ٣٢٧ حدیث/ ١١ ۔)

(٢)سورئہ توبہ آیت/ ٨٠ ۔

٣)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ/ ٣٢۴ ۔ )


٣۔دوسروں کی نعمتوں کے زوال کی تمنا کرنا

انسان کا الله سے یہ دعا کرنا کہ وہ دوسروں کی نعمتوں کو مجھے دیدے تو ایسی دعا کرنا جائز نہيں ہے :خداوند عالم فرماتا ہے :

( وَلَا تَتَمَنَّواْمَافَضَّلَ الله بِهِ بَعضَْکُم عَل یٰ بَعضٍْ ) ( ١)

“اور خبر دار جو خدا نے بعض افراد کو بعض سے کچه زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرنا ”

انسان کا الله سے نعمتوں کی آرزو کرنے ميں کو ئی حرج نہيں ہے اور اس کے اس آرزو کرنے ميں بهی کوئی حرج نہيں ہے کہ جس طرح دوسروں کو نعمت دی ہے ہم کو بهی بلکہ دوسروں سے زیادہ ہم پر فضل وکرم کرے ليکن خدا وند عالم اپنے بندوں سے اس چيز کو پسند نہيں کرتا کہ جن بندوں کو اس نے نعمت دی ہے وہ ان نعمتوں کو دیرتک ڻکڻکی باندهے دیکهتا رہے ۔

خدا وندعالم فرماتا ہے :

( وَلَاتَمُدَّ نَّ عَينَْيکَْ اِل یٰ مَامَتَّعنَْابِهِ اَزوَْاجاً مِنهُْم زَهرَْةَالحَْ وٰيةِالدُّنيَْا ) ( ٢)

“اور خبر دار ہم نے ان ميں سے بعض لوگوں کو دنيا کی اس ذرا سی زندگی کی رونق سے مالا مال کر دیا ہے اس کی طرف آپ آنکه اڻها کر بهی نہ دیکهيں ” خداوندعالم اس بات کو بهی دوست نہيں رکهتا ہے کہ انسان دوسروں کی نعمتوں کو اپنی طرف منتقل کرنے کی آرزو کرے۔بيشک اس طرح کی تمنا کر نے کا مطلب دوسروں سے نعمت چهيننا ہے اور خداوند عالم اس چيز کو اپنے بندوں سے پسند نہيں کرتا ہے ،یہ تو تنگ نظری اور اپنی حيثيت سے زیادہ تمنا اور آرزو کرنا ہے جس کو الله تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے با لکل پسند نہيں کرتا ہے بيشک الله کی سلطنت و

____________________

١)سورئہ نسا ء آیت/ ٣٢ ۔ )

٢)سورئہ طہ آیت/ ١٣١ ۔ )


با دشاہت وسيع ہے ،ا س کے خزانے ختم ہو نے والے نہيں ہيں ،اس کے ملک کی کو ئی حد نہيں ہے اور انسان کے الله سے ہر چيز کا سوال کرنے ميں کو ئی حرج نہيں ہے ہاں، یہ تمنا و آرزو کرسکتا ہے کہ خدا اس کو دوسروں سے بہتر رزق عطا فر ما ئے ۔دعا ميں وارد ہوا ہے :

اللهم آثرنیْ ولاتوثرعليّ احداً

“خدایا مجه کو منتخب فرما مجه پر کسی کو ترجيح نہ دے ”وَاجعَْلنِْي مِن اَفضَْلِ عِبَادِکَ نَصِيبْاًعِندَْک،ْوَاَقرَْبِهِم مَنزِْلَةً مِنکَْ وَاَخَصِّهِم زُلفَْةً لَدَیکَْ

“اور مجھے ان بندوں ميں قرار دے جو حصہ پانے ميں تيرے نزدیک سب سے اچهے ہوں اور تيرے قرب ميں بڑی منزلت رکهتے ہوں ”

ا ن تمام چيزوں کے خدا وند عالم سے ما نگنے ميں کو ئی حرج نہيں ہے اور الله بهی ان تمام چيزوں کو دو ست رکهتا ہے ،اور ہما رے پرور دگار کو اس چيز کا ارادہ کرنے کی ضرورت نہيں ہے کہ جب وہ اپنے کسی بندہ کو کو ئی نعمت عطا کر نے کا ارادہ کرے تو وہ اس بندہ سے چهين کر کسی دو سرے بندہ کو عطا کردے ۔

عبدالرحمان بن ابی نجران سے مروی ہے کہ :حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے الله کے اس قول( وَلَا تَتَمَنَّواْمَافَضَّلَ الله بِهِ بَعضَْکُم عَل یٰ بَعضٍْ ) (١) “اور خبر دار جو خدا نے بعض افراد کو بعض سے کچه زیادہ دیا ہے ”کے سلسلہ ميں سوال کيا گيا تو آپ نے فرمایا:

لایتمنی الرجل امراة الرجل ولاابنته ولکن یتمنّی مثلها ( ٢)

“انسان کو کسی کی عورت یا اس کی بيڻی کی تمنا نہيں کرنی چا ہئے بلکہ اسکے مثل کی تمنا کرناچا ہئے ’

____________________

١)سورئہ نسا ء آیت/ ٣٢ ۔ )

٢)تفسير عياشی صفحہ ٢٣٩ ۔ )


۴ ۔مصلحت کے خلاف دعا کرنا

انسان کا اپنی مصلحت کے خلاف دعا کرنا سزاوار نہيں ہے ،جب انسان دعا کے نفع اور نقصان سے جاہل ہوتا ہے ليکن الله اس کو جانتا ہے خدا وند عالم دعا کو کسی دوسری نعمت کے ذریعہ مستجاب کرتا ہے یا بلا دور کردیتا ہے یا جب تک اس دعا ميں نفع دیکها ہے اس کے مستجاب کرنے ميں تا خير کردیتا ہے ،دعا افتتاح ميں وارد ہوا ہے:

ا سالُکَ مُستَْانِساً لَاخَائِفاًوَلَاوَجِلاً ،مُدِلّاًعَلَيکَْ فِيمَْاقَصَدتُْ فِيهِْ اِلَيکَْ ،فَاِن اَبطَْاعَنِّي عَتَبتَْ بِجَهلِْي عَلَيکَْ، وَلَعَلَّ الَّذِي اَبطَْاعَنِّی هُوَخَيرٌْلِي لِعِلمِْکَ بِعَاقِبَة الاُْمُورِْ فَلَم ارِمَولْیً کَرِیمْاًاَصبِْرُعَل یٰ عَبدٍْ لَئِيمٍْ مِنکَْ عَلَيَّ یَارَبِّ

“اور انس و رغبت کے ساته بلا خوف وخطر اور ہيبت کے تجه سے سوال کرتا ہوں جس کا بهی ميں نے تيری جانب ارادہ کيا ہے اگر تو نے ميری حا جت کے پورا کرنے ميں دیر کی تو جہالت سے ميں نے عتاب کيا اور شاید کہ جس کی تا خير کی ہے وہ ميرے لئے بہتر ہو کيو نکہ تو امور کے انجام کاجا ننے والا ہے ميں نے نہيں دیکها کسی کریم مالک کو جولئيم بندہ پر تجه سے زیادہ صبر کرنے والا ہو ” دعا ميں اس طرح کے حالات ميں انسان کو الله سے دعا کر نا چاہئے اپنے تمام امور اسکے حوا لہ کردینا چاہئے ،جب بندہ اپنی دعا کے قبول ہو نے ميں دیر دیکهے یا اسکی دعا مستجاب نہ ہو رہی ہو تو اسے الله سے ناراض نہيں ہو نا چا ہئے ليکن کبهی کبهی انسان خدا وند عالم سے ان چيزو ں کا سوال کرتا ہے جو اس کےلئے مضر ہو تی ہيں ،کبهی کبهی وہ خير طلب کرنے کی طرح شر(برائی ) طلب کرتا ہے اور اپنے لئے نقصان دہ چيزوں کےلئے جلدی کيا کرتا ہے ۔

خداوندعالم فرما تا ہے :

وَیَدَعُ الاِْنسَْانُ بِالشَّرِّدُعَاءَ هُ بِالخَْيرِْوَکَانَ الاِْنسَْانُ عَجُولْاً (١)

____________________

١)اسرا آیت/ ١١ ۔ )


“اور انسان کبهی کبهی اپنے حق ميں بهلا ئی کی طرح برائی کی دعا ما نگنے لگتا ہے اور انسان تو بڑا جلد باز ہے ”

حضرت صالح عليہ السلام نے اپنی قوم سے مخا طب ہو کر فرمایا :قَالَ یَاقَومِْ لِمَ تَستَْعجِْلُونَْ بِالسَّيِّئَةِ قَبلَْ الحَْسَنَةِ ( ١)

“صالح نے کہا کہ قوم والو آخر بهلا ئی سے پہلے برا ئی کی جلدی کيوں کر رہے ہو ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : اپنی نجات کے راستوں کو پہچانو کہ کہيں تم اس ميں وہ دعا نہ کر بيڻهو جو تمہاری ہلا کت کا باعث بن جا ئےں اور تم اس کو اپنے لئے نجات کا باعث سمجهتے رہو خداوندعالم فرما تا ہے :

وَیَدَعُ الاِْنسَْانُ بِالشَّرِّدُعَاءَ هُ بِالخَْيرِْوَکَانَ الاِْنسَْانُ عَجُولْاً (٢) “اور انسان کبهی کبهی اپنے حق ميں بهلا ئی کی طرح برائی کی دعا ما نگنے لگتا ہے اور انسان تو بڑا جلد باز ہے ”

۵ ۔فتنہ سے پنا ہ مانگنا

فتنہ سے پناہ مانگنا صحيح نہيں ہے چو نکہ انسان کی زوجہ ،اولاد اور اس کا مال فتنہ ہيں اور نہ ہی انسان کا اپنے اہل و عيال اور ما ل کے لئے الله کی پناہ ما نگنا صحيح ہے ليکن انسان کا گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ چا ہنا صحيح ہے ۔

حضرت امير المو منين عليہ السلام سے مروی ہے :

لایقولَنّ احدکم:اللهم انّي اعوذ بک من الفتنة؛لانّه ليس من احد إلاٰ

____________________

١)سورئہ نمل آیت/ ۴۶ ۔ )

٢)بحا رالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٢٢ ؛سورئہ اسر ١آیت/ ١١ ۔ )


وهومشتمل علیٰ فتنة،ولکن من استعاذ فليستعذمن مضلاّت الفتن؛فانّ الله یقو ل :( وَاعلَْمُواْاَنَّمااَموَْالَکُم وَاَولَْادَکُم فِتنَْةٌ ) ( ١)

“تم ميں سے کو ئی ایک بهی یہ نہ کہے کہ ميں فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں چونکہ تم ميں سے ہر ایک فتنہ گرہے ليکن تم فتنوں کی گمراہی سے پناہ مانگواور خداوند عالم اس سلسلہ ميں فرماتا ہے :

“اور جان لو !کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہيں ” ابو الحسن الثالث عليہ السلام نے اپنے آبا ؤو اجد اد عليہم السلام سے نقل کيا ہے :ہم نے امير المو منين عليہ السلام سے ایک شخص کو یہ کہتے سُنا :

اللهم اِنِّی اَعُوذُْبِکَ مِنَ الفِْتنَْةِ

“اے پروردگار ميں تجه سے فتنوں سے پناہ ما نگتا ہوں ” امام عليہ السلام نے فرما یا :ميں یہ دیکهتا ہوں کہ تم اپنے مال اپنی اولاد سے پناہ ما نگ رہے ہو چونکہ خداوندعالم فرما تا ہے :

( وَاعلَْمُواْاَنَّمااَموَْالَکُم وَاَولَْادَکُم فِتنَْةٌ ) ( ٣)

“تمہا رے اموال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے صرف امتحان کا ذریعہ ہيں ” ليکن یہ کہو :

اللهم انّي اعوذ بک من مضلاّت الفتن ( ۴)

“اے پروردگار ميں تجه سے گمراہ کر نے والے فتنوں سے پناہ ما نگتا ہوں ”

____________________

١)سورئہ انفال آیت/ ٢٨ ۔ )

٢)نہج البلاغہ القسم الثانی : ١۶٢ ۔ )

٣)سورئہ تغا بن آیت/ ١۵ ۔ )

۴)امالی طوسی جلد ٢ صفحہ/ ١٩٣ ؛بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ/ ٣٢۵ ۔ )


۶ ۔مومنين کے لئے بد دعا کر نا

دعا کی اہميت اور اس کی غرض و غایت ميں سے ایک چيز مسلمان خاندانوں کے مابين را بطہ کا محکم کرنا اور ان کے درميا ن سے غلط فہميوں اورجهگڑوں کو دور کرنا ہے جو عام طور سے دنياوی زندگی ميں مزاحمت کا سبب ہو تے ہيں ،غائب شخص کےلئے دعا کرنا اس رابطہ کا سب سے بہترین سبب ہے جو زندگی کے مائل ہو نے کو پيش کرتا ہے ،البتہ اس کے برعکس ایسے حالات جو تعلقات ميں منفی صورت حال پيداکرتے ہيں ان حالات ميں پروردگار عالم دعا کرنے کو دوست نہيں رکهتا ہے ۔

خدا وندعالم مومنين کے ایک دوسرے کی موجودگی ميں دعا کرنے دعا کے ذریعہ ایک ایک دوسرے پر ایثار و فدا کاری کرنے اور دعا کرنے والے کے دوسرے کی حاجتوں اور ان کے اسماء کو اپنے نفس پر مقدم کرنے کو دوست رکهتا ہے ۔

خدا وند عالم دعا ميں اپنے دوسرے بهائی کی نعمتوں کے زائل وختم ہو نے کی دعا کرنے کو پسند نہيں کرتا ہے ،جيسا کہ ہم ابهی بيان کرچکے ہيں ۔

اور نہ ہی خدا وند عالم دعا ميں کسی انسان کے اپنے مومن بهائی کے خلاف دعا کرنے کو پسند کرتا ہے ، اگر چہ اس نے اس کو تکليف یا اس پر ظلم ہی کيوں نہ کيا ہو اگر وہ اس کا ایمانی بهائی ہو اور ظلم کرکے ایمانی برادری کے دائرہ سے خارج نہ ہوا ہو )اور نہ ہی خدا وند عالم اس چيز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے ایک دوسرے کو برا ئی کے ساته یا دکریں ۔

دعوات را وندی ميں ہے کہ توریت ميں آیا ہے کہ خدا وند عالم اپنے بندے سے فرماتاہے:


انّک متیٰ ظلمت تدعوني علیٰ عبد من عبيدي من اجل انّه ظلمک فلک من عبيدي من یدعوعليک من اجل انّک ظلمته فان شئت اجبتک و اجبته منک،وان شئت اخرتکما الیٰ یوم القيامة ( ١)

“خداوند عالم اپنے بندہ سے خطاب کرتا ہے کہ جب تجه پر ظلم کيا جاتا ہے تو تو اس ظلم کی وجہ سے اس کے خلاف بد دعا کرتاہے تو تجهے یہ بهی معلوم ہونا چاہئے کہ کچه بندے ایسے بهی ہيں کہ جن پر تم نے ظلم کيا ہے اور وہ تيرے لئے بددعا کرتے ہيں تو اگر ميری مرضی ہو تی ہے تو ميں تيری دعا قبول کرليتا ہوں اور اس بندے کی دعابهی تيرے حق ميں قبول کرليتا ہوں ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :اذا ظلم الرجل فظلّ یدعوعلیٰ صاحبه،قال اللّٰه عزّوجلّ:انّ ها هناآخر یدعو عليک یزعم انّک ظلمته،فان شئت اجبتک واجبت عليک وان شئت اخّرتکما فيوسعکماعفوي ( ٢)

“جب کو ئی انسان پر ظلم کرتا ہے اور وہ بد دعا کرتا ہے تو خداوند عالم فر ماتا ہے کہ کل جب تم کسی پر ظلم کروگے تو وہ تمہارے لئے بد دعا کرے گا پس اگر چا ہو تو ميں دونوں کی بد دعا قبول کرلونگا اور اگر چاہو تو ميں اس کو قيامت تک کےلئے ڻال دونگا ”

ہشام بن سالم سے مروی ہے کہ ميں نے حضرت امام جعفر صادق کو یہ فرماتے سنا ہے :

انّ العبد ليکون مظلوما فلایزال یدعوحتّیٰ یکون ظالماً (٣) “جب کو ئی مظلوم بد دعا کرتا ہے تو وہ ظالم ہو جاتا ہے ” حضرت علی بن الحسين عليہ السلام سے مروی ہے :

____________________

١)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ/ ٣٢۶ ۔ )

٢)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ / ١١٧٧ ،حدیث ٨٩٧٢ ؛امالی الصدوق صفحہ / ١٩١ ۔ )

٣)اصول کا فی صفحہ ۴٣٨ ؛عقاب الاعمال صفحہ ۴١ ،وسائل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ) ١١۶۴ ،حدیث ٨٩٢۶ ۔


ان الملائکة اذاسمعواالمومن یذکراخاه بسوء ویدعوعليه قالوا له:بئس الاخ انت لاخيک کفّ ایّهاالمستّرعلیٰ ذنوبه وعورته،واربع علیٰ نفسک،و احمداللّٰه الَّذي سترعليک،واعلم اَّن اللّٰه عزّوجلّ اعلم بعبده منک ( ١)

“جب ملا ئکہ سنتے ہيں کہ مو من اپنے کسی بها ئی کی برا ئی اور اس کےلئے بد دعا کر رہا ہے تو کہتے ہيں کہ تو بہت برا بها ئی ہے اے وہ شخص جس کے گناہ کی خداوند عالم نے پردہ پو شی کر رکهی ہے تو اپنی زبان کو قابو ميں رکه اس خدا کی تعریف کر جس نے تيرے گناہ کی پردہ پوشی کی ہے اور تجهے معلوم ہونا چا ہئے کہ خداوند عالم کو تيرے مقابلہ ميں اپنے بندے کے بارے ميں زیادہ علم ہے ”

بيشک الله تبارک وتعالےٰ“ السلام ”ہے ،سلام اسی کی طرف پلڻتا ہے ،ذات خدا سلا متی سے برخوردار ہے، سلامتی اسی کی طرف پلڻتی ہے ،سلا متی اسی کی جا نب سے ہے ،اس کا دربار، سلا متی کا دربار ہے ۔جب ہم سلام و سلا متی سے بهرے دلوں سے خداوند عالم کی با رگاہ ميں حا ضر ہو ں گے ، ایک دو سرے کيلئے دعا کریں گے ،اور ہم ميںسے بعض دو سرے بعض افراد کيلئے رحمت کا سوال کریں گے ،اور ہم ميں سے بعض کی دعائيں الله کی رحمت نازل ہو نے ميں مو ثر ہوں گی تو ہم پر جو الله کی رحمت نازل ہو گی وہ سب کو شامل ہو گی ،بيشک خداوند عالم کی رحمت محبت اور سلامتی کے مقامات پر نا زل ہو تی ہے ،جو قلوب مو منين سے محبت و مسالمت کرتے ہيں ،ہمارے اعمال ،نمازیں ،دعا ئيں ، اور قلوب الله تبارک و تعالیٰ کی طرف بلندہوتے ہيں کلم طيب(پاکيزہ کلمات ) اور کلم طيب (پاکيزہ کلمات ) سے زندہ قلوب الله تبارک و تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہيں :اِلَيهِْ یَصعَْدُالکَْلِمُ الطَّيِّبُ وَالعَْمَلُ الصَّالِحُ یَرفَْعَهُ (٢)

____________________

١)اصول کا فی صفحہ ۵٣۵ ،وسائل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١١۶۴ ،حدیث / ٨٩٢٧ ۔ )

٢)سورئہ فا طر آیت/ ١٠ ۔ )


“پاکيزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہو تے ہيں اور عمل صالح انهيں بلند کرتا ہے ”

جب ہم الله تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ ميں ایسے ڻيڑهے اورکينہ بهر ے دل جن ميں محبت وسلامتی نہ ہواُن کے ساته کهڑے ہو کر ایک دوسرے مومن کے خلاف دعا کریں گے تو ہم سے خدا کی تمام نعمتيں منقطع ہو جا ئينگی ،اور اس کا ئنات ميں خدا کی وسيع رحمت ہم پر نازل نہيں ہو گی ،اور ہمارے اعمال، نماز یں، دعائيں اور قلوب الله تک نہيں پہنچ پائيں گے ۔

بيشک محبت سے لبریز اور محبت سے زندہ دلوں کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہو تی ہے اور مو منين سے بلائيں اور عذاب دور ہو تا ہے اس کے برخلاف (مومنوں کے )مخالف اور دشمن دلوں کے ذریعہ ان سے الله کی رحمت دور ہو تی ہے اور ان کے لئے بلائيں اور عذاب کو نزدیک کرتی ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے اپنے آبا ؤاجدا دسے اور انهوں نے حضرت رسول خدا سے نقل کيا ہے :

انّ اللّٰه تبارک وتعالیٰ إذا رای اهل قریة قد اسرفوا في المعاصي وفيهم ثلاثة نفرمن المومنين،ناداهم جلّ جلاله:یااهل معاصيتی،لولا فيکم من المومنين المتحاببين بجلا لي العامرین بصلاتهم ارضي ومساجدي المستغفرین بالاسحار خوفاً مني لانزلت بکم العذاب ( ١)

“بيشک جب الله تعالیٰ نے ایک قریہ کے لوگوں کو معصيت ميں زندگی بسر کرتے دیکها حالانکہ ان کے مابين صرف تين افراد مو من تھے تو پروردگار عالم کی طرف سے ندا آئی :اے گناہ کرنے والو!اگر تمہارے درميان محبت سے بهرے دل نہ ہو تے جو اپنی نمازوں کے ذریعہ ميری زمين کو آباد رکهتے ہيں اور مسجدوں ميںسحر کے وقت ميرے خوف کی وجہ سے استغفار کيا کرتے ہيںتو ميں تم پر عذاب نازل کردیتا ”

____________________

١)بحا رالانوار جلد ٧۴ صفحہ ٣٩٠ ۔ )


جميل بن دراج نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے :مَن فضّل الرجل عند اللّٰه محبّته لاخوانه،ومن عرّفه اللّٰه محبّة اخوانه احبّه اللّٰه ومَن احبّه اللّٰه اوفاه اجره یوم القيامة ( ١)

“الله کے نزدیک وہ شخص با فضيلت ہے جو اپنے بها ئيوں سے محبت کرتا ہے اور جس کو خدا وند عالم اس کے بها ئيوں کی محبت سے آشنا کردیتا ہے اس کو دو ست رکهتا ہے اور جس کو دو ست رکهتا ہے اس کو قيامت کے دن پورا اجر دیگا ” حضرت رسول خدا (ص)سے مروی ہے :

لاتزال امتی بخيرماتحابوا،وادّو الامانة،وآتواالزکاة،وسياتي علیٰ امتي زمان تخبث فيه سرائرهم،وتحسن فيه علانيتهم ان یعمّهم اللّٰه ببلاء فيدعونه دعاء الغریق فلایستجاب لهم ( ٢)

“ميری امت اس وقت تک نيک رہے گی جب تک اس کے افراد ایک دوسرے سے محبت کرتے رہيں ،امانت ادا کرتے رہيں ،زکات دیتے رہيں ،مير ی امت پر ایک ایسا زمانہ آئيگا جب ان کے باطن برے ہوں گے اور ان کا ظاہر اچها ہوگا اور اگر خدا وند عالم ان کو کسی مصيبت ميں مبتلا کرے گا اور وہ ڈوبتے شخص کے مثل بهی دعا ما نگيں گے تو بهی ان کی دعا قبول نہ ہو گی ”

محبت بهرے دلوں سے خداکی رحمت نازل ہو تی ہے

حضرت امام جعفر دق عليہ السلام سے مروی ہے :

انّ المومنين اذاالتقيا فتصافحا انزل اللّٰه تعالیٰ الرحمة عليهما،فکانت

____________________

١)ثواب الاعمال صفحہ/ ۴٨ ؛بحارالانوار جلد ٧۴ صفحہ / ٣٩٧ ۔ )

٢)عدة الداعی صفحہ ١٣۵ ،بحارالانوار جلد ٧۴ صفحہ / ۴٠٠ ۔ )


تسعة وتسعين لاشدّهماحبّالصاحبه،فاذا تواقفاغمرتهماالرحمة،واذاقعدایتحدثان قالت الحفظة بعضهالبعض:اعتزلوا بنا فلعل لهماسرّا وقد ستراللّٰه عليهما

“بيشک جب مو منين ایک دوسرے سے گلے ملتے ہيں مصافحہ کرتے ہيں تو خداوند عالم ان دونوں پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے ان ميں سے ننانوے رحمتيں اس شخص کيلئے ہيں جو ان ميں اپنے دوسرے بهائی سے زیادہ محبت رکهتا ہے اور جب ان ميں توافق ہو جاتا ہے تو دونوں کو رحمت خدا گهير ليتی ہے اور جب وہ دونوں گفتگو کرنے کيلئے بيڻهتے ہيں تو نا مہ اعمال لکهنے والے فرشتہ کہتے ہيں کہ ان دونوں سے دور ہو جاؤ چونکہ یہ راز کی باتيں کررہے ہيں اور خداوند عالم نے ان کی پردہ پوشی کی ہے ”

اسحاق بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : “انّ المو منين اذااعتنقاغمرتهماالرحمة فاذاالتزما لایریدان عرضاً من اعراض الدنياقيل لهما:مغفور لکما فاستانفا؛فاذااقبلا علی المساء لة قالت الملا ئکة بعضها لبعض:تنحّواعنهما؛فانّ لهماسرّا قد ستراللّٰه عليهما قال اسحق :فقلت:جعلت فداک،ویکتب عليهمالفظهماوقد قال اللّٰه تعالیٰ ( مَایَلفِْظُ مِن قَولٍْ اِلّالَدَیهِْ رَقِيبٌْ عَتِيدٌْ ) (١) ؟قال فتنفس ابوعبد اللّٰه الصعداء ثم بکی و قال:یااسحق ،انّ اللّٰه تعالیٰ انماامرالملائکة ان تعتزل المومنين اذا التقيااجلالاً لهما،وان کانت الملائکة لاتکتب لفظهما،ولاتعرف کلاهما،فانه یعرفه ویحفظه عليهماعالم السر واخفیٰ( ٢)

“بيشک جب مومنين ایک دوسرے سے گلے ملتے ہيں اور مصافحہ کرتے ہيں توان دونوں کو رحمت گهير ليتی ہے جب وہ بے لوث انداز ميں ایک دو سرے سے چمٹ جاتے ہيں تو ان سے کہا جاتا

____________________

١)سورہ ق آیت/ ١٨ ۔ )

٢)معالم الزلفیٰ للمحدث البحرانی صفحہ / ٣۴ ۔ )


ہے کہ تمہارے سب گنا ہ بخش دئے گئے لہٰذا اب شروع سے نيک عمل انجام دو ،جب وہ ایک دو سرے سے کچه چيز دریافت کرنے کی جا نب بڑهتے ہيں تو فرشتے ایک دو سرے سے کہتے ہيں ان دونوں سے دور ہو جاؤ کيونکہ یہ راز کی بات کر رہے ہيں اور خداوند عالم نے ان کی پردہ پوشی کی ہے ۔

اسحاق کا کہنا ہے کہ ميں نے آپ کی خدمت اقدس ميں عرض کيا :ميری جان آپ پر فدا ہو کيا ان دو نوں کے الفاظ لکھے جاتے ہيں جبکہ خداوند عالم فر ماتا ہے مو من جوبهی بات کرتا ہے اس کے پاس ایک نگراں فرشتہ مو جود ہوتا ہے اس وقت حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے فر مایا :اے اسحاق خداوند عالم نے فرشتوں کو مو منين سے ان کے ملاقات کے وقت جدا رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے تا کہ ان مو منين کی تعظيم کرسکے اور فرشتے اگر چہ ان کے الفاظ نہيں لکهتے اور ان کے کلا م کو نہيں پہچانتے ليکن خداوند عالم تو پہچانتا ہی ہے جو راز اور مخفی باتوں کا جاننے والا ہے ”


مومنين کے ساته ملاوٹ کرنے سے الله کاغضب نازل ہوتا ہے

اس موضوع سے جو چيز متعلق ہو تی ہے اور دعا وصاحب دعا کے درميان حائل ہو تی ہے وہ مومنين کيلئے فریب ودهو کہ کا مخفی رکهنا ہے ۔ حضرت رسول خدا (ص)سے مروی ہے :

من بات وفی قلبه غش لاخيه المسلم بات فی سخط اللّٰه ،واصبح کذلک وهوفی سخط اللّٰه حتّیٰ یتوب ویرجع،واین مات کذلک مات علی غيردین الاسلام ( ١)

“جو ساری رات عبادت ميں بسر کرے اور وہ اپنے دل ميں ایسا اردہ کرے جس کے ذریعہ مومن بهائی فریب کها جائيں تو وہ پوری رات الله کے غضب و ناراضگی ميں بسر کرتا ہے اور یہی اس

____________________

١)الوسائل جلد ٢۵ صفحہ ٢٠۴ ۔ )


کے بعد والے دن کا حال ہے یعنی الله کے غضب ميں پورا دن گزارتا ہے یہاں تک کہ وہ الله سے توبہ کرے اور اپنی اصلی حالت پر آجا ئے اور اگر وہ اسی کينہ و بغض کی حالت ميں مر جائے تو وہ دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر مرے گا ”

مومنين سے سو ء ظن قبوليت عمل کی راہ ميں رکاوٹ

جس طرح سے باطن ميں برائی چهپائے رکهنے کی وجہ سے عمل خداوند عالم تک نہيں پہنچتاہے

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :

لایقبل اللّٰه من مومن عملاًوهومضمرعلیٰ اخيه المومن سوء اً “الله تبار ک وتعالیٰ اس مومن کے عمل کو قبول نہيں کرتا جو اپنے مومن بهائی سے اپنے دل ميں برائی رکهے ہوئے ہو ” خداوندعالم مومنين سے بغض رکهنے والوں پر اپنا کر م نہيں فرماتا حضرت امير المو منين عليہ السلام حضرت رسول خدا (ص)سے نقل فرما تے ہيں :

شرارالناس مَن یبغض المومنين وتبغضه قلوبهم،المشّاوون بالنميمة المفرقون بين الاحبة،اُولئک لاینظراللّٰه اليهم،ولایزکّيهم یوم القيامة ( ١)

“لوگوں ميں سب سے شریر لوگ وہ ہيں جو اپنے مو من برادرا ن سے بغض رکهتے ہيں اور مسلسل چغلی کرتے رہتے ہيں دوستوں کے درميان تفرقہ ڈالتے ہيںخداوند عالم قيامت کے دن ان کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہيں دیکهے گا ”۔

____________________

١)وسائل جلد ٢۵ صفحہ / ٢٠۴ ۔ )


اہل بيت عليہم السلام کی دعاؤں ميں حبّ خدا الله سے لو لگا نا

قُل اِن کَانَ آبَاءُ کُم وَاَبنَْاوکُم وَاِخوَْانُکُم وَاَزوَْاجُکُم وَعَشِيرَْتُکُم وَاَموَْالٌ اقتَْرَفتُْمُوهَْاوَتِجَارَةً تَخشَْونَْ کَ سٰادَ هٰاوَمَ سٰاکِنَ تَرضَْونَْ هٰااَحَبُّ اِلَيکُْم مِنَ الله وَرَسُولِْهِ وجِ هٰادٍ (فِی سَبِيلِْهِ فَتَرَبَّصُواْحَتّ یٰ یَاتِیَ الله بِامرِْهِ وَالله یٰ لاَهدِْی القَْومَْ الفَْاسِقِينَْ ( ١)

“پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ دادا ،اولاد ،برادرن ،ازواج ،عشيرہ وقبيلہ اور وہ اموال حنهيں تم نے جمع کيا ہے اور وہ تجارت جس کے خسارہ کی طرف سے فکر مند رہتے ہو اور وہ مکانات جنهيں پسند کرتے ہو تمہاری نگا ہ ميں الله ،اس کے رسول اور راہ خدا ميں جہاد سے زیادہ محبوب ہيں تو وقت کا انتظار کرو یہاں تک کہ امر الٰہی آجا ئے اور الله فاسق قوم کی ہدایت نہيں کرتا ہے ”

صحيح صورت ميںخداوندعالم سے ایک دوسرے سے ہما ہنگ اور تمام سازگار عناصر کے ذریعہ ہی لولگا ئی جاسکتی ہے اوریہی چند چيزیں مجمو عی طور پر الله سے لولگا نے کے صحيح طریقہ معين کرتی ہيں ۔

اسلامی روایات ميں ایک ہی عنصر جيسے خوف یا رجاء (اميد )یا محبت یا خشوع کی بنياد پر الله سے لولگا نے کو منع کيا گيا ہے ۔جو عناصر خداوندعالم سے مجموعی اور وسيعی طور پر رابطہ کو تشکيل دیتے ہيں

____________________

١)سورئہ توبہ آیت/ ٢۴ ۔ )


ان کا آیات، روایات اور دعاؤں ميں تفصيلی طور پر ذکر کيا گيا ہے جيسے اميد، خوف، تضرع، خشوع، تذلل، ترس،محبت، شوق، اُنس، انا بہ، ایک دوسرے سے کنارہ کشی، استغفار، استعاذ ہ، استرحام، انقطاع، تمجيد، حمد، رغبت رهبت، طاعت ،عبودیت، ذکر،فقراور اعتصام ہيں ۔

حضرت امام زین العا بدین بن حسين عليہ السلام سے دعا ميں وارد ہو اہے :اللهم اني اسالک انْ تملا قلبی حباًوخشيةمنک وتصدیقاًلک وایمانابک وفرقاًمنک وشوقاً اليک ( ١)

“پرور دگارا ! ميں تيری بارگاہ ميں دست بہ دعا ہوں کہ ميرے دل کو اپنی محبت سے لبریز فر مادے ،ميں تجه سے خوف کها ؤں ،تيری تصدیق کروں ،تجه پر ایمان رکهوں اور تجه سے فرق کروں اور تيری طرف شوق سے رغبت کروں ” ان تمام عناصرکے ذریعہ خداوندعالم سے خاص طریقہ سے لو لگا ئی جاتی ہے اور ان عنصروں ميں سے ہر عنصر الله کی رحمت اور معرفت کے ابواب ميں سے ہر باب کيلئے ایک کنجی ہے ۔

استر حام الله کی رحمت کی کنجی ہے اور استغفار مغفرت کی کنجی ہے ۔

ان عنصروں ميں سے ہر عنصر بذات خود الله سے لولگا نے کا ایک طریقہ ہے شوق محبت اور انسيت اللهتک پہنچنے کا ایک طریقہ ہے ،خوف اور رهبت اللهتک پہنچنے کا دوسرا طریقہ ہے خشوع اللهتک پہنچنے کاتيسرا طریقہ ہے ۔دعا اور تمنا اللهتک رسائی کا ایک اورطریقہ ہے ۔

انسان کيلئے الله تک رسائی کی خاطر مختلف طریقوں سے حرکت کرنا ضروری ہے اس کو ایک ہی طریقہ پر اکتفا ء نہيں کرنا چاہئے کيو نکہ ہر طریقہ کا ایک خاص ذوق کمال اور ثمر ہوتا ہے جو دوسرے طریقہ ميں نہيں پایاجاتاہے ۔

____________________

١)بحا رالانوار جلد ٩٨ صفحہ ٩٢ ۔ )


اس بنياد پر اسلام اللهتک رسائی کے متعدد طریقوں کو بيان کرتاہے یہ ایک وسيع بحث ہے جس کو ہم اِس وقت بيان کر نے سے قاصر ہيں ۔

الله کی محبت

الله تعالیٰ کی محبت ان تمام عناصر سے افضل اور قوی ترہے ،یہ انسان کو الله سے لولگا نے کيلئے آمادہ کرتی ہے اور الله سے اس کے رابطہ کو محکم ومضبوط کرتی ہے ۔

محبت کے علاوہ کسی اور طریقہ ميں اتنا محکم اور بليغ رابطہ خدا اور بندے کے درميان نہيں پایا جاتا ہے خدا وند عالم سے یہ رابطہ اسلامی روایات ميں بيان ہوا

ہے جن ميں سے ہم بعض روایات کا تذکرہ کررہے ہيں :

روایات ميں آیا ہے کہ الله تعالیٰ نے حضرت داؤ دکی طرف وحی کی :یاداود ذکري للذاکرین وجنتي للمطيعين وحبي للمشتاقين وانا خاصة للمحبين ( ١)

“اے داود ذاکرین کےلئے ميرا ذکر کرو ،ميری جنت اطاعت کرنے والوں کےلئے ہے اور ميری محبت مشتاقين کےلئے ہے اور ميں محبت کرنے والوں کےلئے مخصوص ہوں ”

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :الحبّ افضل من الخوف

“محبت ،خوف سے افضل ہے ”( ٢)

محمد بن یعقوب کلينی نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے :

العبّاد ثلا ثة:قوم عبدوا اللّٰه عزّوجلّ خوفاًفتلک عبادة العبيد،وقوم

____________________

١)بحا الانوار جلد ٩٨ صفحہ ٢٢۶ ۔ )

٢)بحار الا نوار جلد ٧٨ ۔صفحہ ٢٢۶ ۔ )


عبدوا اللّٰه تبارک وتعالیٰ طلب الثواب،فتلک عبادة التجار،وقوم عبدوا اللّٰه عزّوجلّ (حبّاً،فتلک عبادةالاحرار،وهي افضل عبادة ( ١)

“عبادت تين طرح سے کی جاتی ہے یا عبادت کرنے والے تين طریقہ سے عبادت کر تے ہيں ایک قوم نے الله کے خوف سے عبادت کی جس کو غلاموں کی عبادت کہاجاتا ہے ،ایک قوم نے اللهتبارک وتعا لیٰ کی طلب ثواب کی خاطر عبادت کی جس کو تاجروں کی عبادت کہاجاتا ہے اور ایک قوم نے اللهعزوجل سے محبت کی خاطر عبادت کی جس کو احرار(آزاد لوگوں) کی عبادت کہاجاتاہے اور یہی سب سے افضل عبادت ہے”۔

جناب کلينی نے رسول اسلام (ص)سے نقل کيا ہے :

افضل الناس مَن عشق العبادة،فعانقها،واحبّهابقلبه،وباشرهابجسده، وتفرّغ لها،فهولایبالي علیٰ مااصبح من الدنيا علی عسرام یسر ( ٢)

“لوگوں ميں سب سے افضل شخص وہ ہے جس نے عبادت سے عشق کرتے ہوئے اس سے معانقہ کيا ،اس کو اپنے دل سے دوست رکهااور اپنے اعضاء و جوارح سے اس سے وابستہ رہے ، اس کو پرواہ نہيں رہتی کہ اس کا اگلا دن خوشی سے گزرے گا یا غم کے ساته گذرے گا ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :

نجویٰ العارفين تدورعلیٰ ثلاثة اصول:الخوف،والرجاء والحبّ فالخوف فرع العلم،والرجاء فرع اليقين،والحبّ فرع المعرفة فدليل الخوف الهرب،ودليل الرجاء الطلب،ودليل الحبّ ایثارالمحبوب،علیٰ

____________________

١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ٨۴ ۔ )

٢) اصول کافی جلد ٢صفحہ ٢٨٣ ۔ )


ماسواه فاذا تحقق العلم فی الصدرخاف،واذاصحّ الخوف هرب،واذاهرب نجاواذا اشرق نوراليقين فی القلب شاهد الفضل واذاتمکن من رویة الفضل رجا، واذا وجد حلاوة الرجاء طلب،واذاوُفّق للطلب وجد واذا تجلّیٰ ضياء المعرفة فی الفواد هاج ریح المحبة،واذاهاج ریح المحبة استانس ظلال المحبوب،وآثرالمحبوب علیٰ ماسواه،وباشر اوامره ومثال هذه الاصول الثلاثة کالحرم والمسجدوالکعبة،فمن دخل الحرم امن من الخلق،ومن دخل المسجد امنت جوارحه ان یستعملهافيالمعصية،ومَن دخل الکعبة امن قلبه من ان یشغله بغيرذکراللّٰه( ١)

“عارفوں کی مناجات تين اصول پر گردش کرتی ہے :خوف ،اميد اور محبت ۔خوف علم کی شاخ ہے ،اميد یقين کی شاخ ہے اور محبت معرفت کی شاخ ہے خوف کی دليل ہر ب (فرار اختيار کرنا) ہے ،اميد کی دليل طلب ہے اور محبت کی دليل محبوب کو دوسروں پر تر جيح دینا ہے ،جب سينہ ميں علم متحقق ہوجاتا ہے تو خوف ہوتا ہے اور جب صحيح طریقہ سے خوف پيداہوتاہے توفراروجود ميں اتاہے اورجب فراروجودميں اجاتاہے توانسان نجات پا جاتا ہے ،جب دل ميں یقين کا نور چمک اڻهتا ہے تو عارف انسان فضل کا مشا ہدہ کرتا ہے اور جب فضل دیکه ليتا ہے تو اميد وار ہو جاتا ہے ،جب اميد کی شرینی محسوس کر ليتا ہے تو طلب کرنے لگتا ہے اور جب طلب کی تو فيق ہو جا تی ہے تو اس کو حا صل کرليتا ہے ،جب دل ميں معرفت کی ضياء روشن ہو جا تی ہے تو محبت کی ہوا چل جا تی ہے اور جب محبت کی ہوا چل جا تی ہے تو محبوب کے سا یہ ميں ہی سکون محسوس ہوتا ہے اور محبوب کے علاوہ انسان ہر چيز سے لا پرواہ ہو جاتاہے اور براہ راست اپنے محبوب کا تابع فرمان ہو جاتا ہے ۔ان تين اصول کی مثال حرم

____________________

١)مصباح الشریعہ صفحہ ٢۔ ٣۔ )


مسجداور کعبہ جيسی ہے جو حرم ميں داخل ہو جاتا ہے وہ مخلوق سے محفوظ ہو جاتا ہے ،جو مسجد ميں داخل ہوتا ہے اس کے اعضاء و جوارح معصيت ميں استعمال ہو نے سے محفوظ ہو جا تے ہيں جو کعبہ ميں داخل ہو جاتا ہے اس کا دل یاد خدا کے علا وہ کسی اور چيز ميں مشغول ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے ”

حضرت رسول خدا (ص)سے مروی ہے:

بکی شعيب من حبّ الله عزّوجلّ حتّیٰ عمي اوحیٰ الله اليه: یاشعيب،ان یکن هذاخوفاًمن النار،فقداجرتک،وان یکن شوقاالی الجنة فقد ابحتک فقال:الهي وسيدي،انت تعلم انی مابکيت خوفامن نارک،ولاشوقاالی جنتک،ولکن عقدحبک علی قلبی،فلست اصبرا واراک،فاوحی الله جلّ جلاله اليه:امااذاکان هذاهکذافمن اجل هذاساخدمک کليمي موسی بن عمران( ١)

“ الله سے محبت کی وجہ سے گریہ کرتے کرتے حضرت شعيب عليہ السلام کی آنکهوں سے نور چلا گيا ۔تو اللهنے حضرت شعيب عليہ السلام پر وحی کی :اے شعيب اگر یہ گریہ وزار ی دوزخ کے خوف سے ہے تو ميں نے تم کو اجردیا اور اگر جنت کے شوق کی وجہ سے ہے تو ميں نے تمہارے لئے جنت کو مباح کيا ۔

جناب شعيب عليہ السلام نے عرض کيا :اے ميرے الله اور اے ميرے سيد وسردار تو جانتا ہے کہ ميں نہ تو دوزخ کے خوف سے گریہ کررہاہوں اور نہ جنت کے شوق ولالچ ميں ليکن ميرے دل ميں تيری محبت ہے اللهنے وحی کی اے شعيب! اگر ایسا ہے تو ميں عنقریب تمہاری خدمت کيلئے اپنے کليم موسیٰ بن عمران کو بهيجو ں گا ”

حضرت ادریس عليہ السلام کے صحيفہ ميں آیا ہے :

____________________

١)بحارالانوار جلد ١٢ صفحہ ٣٨٠ ۔ )


طوبیٰ لقوم عبدوني حبّاً،واتخذوني الٰهاًوربّاً،سهرواالليل،ودابواالنهار طلباًلوجهي من غيررهبة ولارغبة،ولالنار،ولاجنّة،بل للمحبّة الصحيحة،والارادة الصریحة والانقطاع عن الکل اليَّ ( ١)

“اس قوم کيلئے بشارت ہے جس نے مير ی محبت ميں مير ی عبادت کی ہے ،وہ راتوں کو جا گتے ہيں اور دن ميں بغير کسی رغبت اور خوف کے ، نہ ان کو دوزخ کا خوف ہے اور نہ جنت کا لالچ ہے بلکہ صحيح محبت اور پاک وصاف اراد ہ اور ہر چيز سے بے نياز ہو کر مجه سے لولگا تے ہيں ۔

اور دعا کے سلسلہ ميں حضرت امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں :عميت عين لاتراک عليهارقيباًوخسرت صفقةعبدلم تجعل له من حبّک نصيباً (٢)

“وہ آنکه اندهی ہے جوخود پر تجه کونگران نہ سمجھے ،اور اس انسان کا معاملہ گهاڻے ميں ہے جس کےلئے تو اپنی محبت کا حصہ نہ قرار دے ”

ایمان اور محبت

اسلامی روایات ميں وارد ہوا ہے بيشک ایمان محبت ہے ۔ حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے مروی ہے :الایمان حبّ وبغض “ایمان محبت اور بغض ہے ”(٣ )

فضيل بن یسار سے مروی ہے :

____________________

١)بحار الا نوار جلد ٩۵ صفحہ ۴۶٧ ۔ )

٢)بحار الا نوار جلد ٩٨ صفحہ / ٢٢۶ ۔ )

٣)بحار الانو ار جلد ٧٨ صفحہ / ١٧۵ ۔ )


سالت اباعبد اللّٰه عليه السلام عن الحبّ والبغض،امن الایمان هو؟ فقال: وهل الایمان الّاالحبّ والبغض ؟ ( ١)

“ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے محبت اور بغض کے بارے ميں سوال کيا کہ کيا دونوں ایمان ميں سے ہيں ؟ آپ نے فرمایا :کيا محبت اور بعض کے علاوہ ایمان ہو سکتا ہے ؟

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے :

هل الدین الّاالحبّ؟انّ اللّٰه عزّوجلّ یقول : (٣) ( قل ان کنتم تحبّون الله فاتبعوني یحببکم الله ) ( ٢)

“کيا دین محبت کے علاوہ ہے ؟بيشک خداوندعالم فرماتا ہے : قل ان کنتم تحبّون اللهفاتبعوني یحببکم الله

“اے پيغمبر کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ الله سے محبت کرتے ہو تو ميری پيروی کرو خدا بهی تم سے محبت کرے گا ”

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے مروی ہے:الدین هوالحبّ والحبّ هوالدین ( ۴)

“دین محبت ہے اور محبت دین ہے”

____________________

١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ١٢۵ ۔ )

٢)سورئہ آل عمرا ن آیت/ ٣١ ۔ )

٣)بحارالانوار جلد ۶٩ صفحہ / ٢٣٧ )

۴)نور اثقلين جلد ۵ صفحہ/ ٢٨۵ ۔ )


محبت کی لذت

عبادت اگرچہ محبت ،شوق اور حسرت ودردکے ذریعہ ہو تی ہے اور اس سے بڑهکر کو ئی لذت وحلاوت نہيں ہے ۔

حضرت امام زین العابد ین عليہ السلام جنهوں نے الله کی محبت اور اس کے ذائقہ اور حلاوت کا مزہ چکها ہے وہ فرماتے ہيں :

الهي مااطيب طعم حبّک ومااعذب شرب قُربک ( ١)

“پروردگار تيری محبت کے ذائقہ سے اچها کو ئی ذائقہ نہيں ہے اور تيری قُربت سے گوارا کو ئی چيز گوارا نہيں ہے ”

یہ حلاوت اور لذت، اوليا ء الله کے دلوں ميں پائی جاتی ہے یہ عارضی لذت نہيں ہے جو ایک وقت ميں ہو اور دوسرے وقت ميں ختم ہوجائے بلکہ یہ دائمی لذت ہے جب کسی بندہ کے دل ميں الله سے محبت کی لذت مستقر ہو جاتی ہے تو اس کا دل الله کی محبت سے زندہ ہو جاتا ہے اور جو دل الله کی محبت سے زندہ ہوجائے خداوند وعالم اس پرعذاب نازل نہيں کرتا اور الله کی محبت اس کے دل ميں گهرکر جاتی ہے ۔

حضرت امير المو منين عليہ السلام فرما تے ہيں :

الهي وعزّتک وجلالک لقد احببتک محبةاستقرّت حلاوتهافي قلبي وماتنعقدضمائرموحّدیک علیٰ انک تبغضُ محبيک ( ٢)

“خدایا! تجه کو تيرے عزت و جلال کی قسم تيری محبت کی مڻهاس ميرے دل ميں گهر کر گئی ہے

____________________

١)بحار الانو ار جلد ٩٨ صفحہ / ٢۶ ۔ )

٢)مناجات اهل البيت صفحہ ٩۶ ۔ ٩٧ ۔ )


اور تيرے مو حدین کے ذہن ميں یہ خيال بهی نہيں گذرتا کہ تو ان سے نفرت کرتا ہے ”

الله کی محبت کی اسی مستقر اور ثابت حالت کے بارے ميں حضرت امام علی بن الحسين فرماتے ہيں :

فوعزّتک یاسيدي لوانتهرتني مابرحت من بابک ولاکففت عن تملّقک لماانتهیٰ الي من المعرفةبجودک وکرمک ( ١)

“ تيری عزت کی قسم! اے ميرے مالک اگر مجه کو اپنی بارگاہ سے نکال دے گا تو ميں اس دروازے سے نہ جا ونگا اور نہ تيری خوشامد سے باز رہونگا اس لئے تيرے جود و کرم کو مکمل طور پر پہچان ليا ہے ”

محبت کے گہر ے اور دل ميں مستقر ہو نے کی سب سے بليغ تعبير یہی ہے کہ وہ محبت دائمی ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر مولا اپنے غلام کو ذبح بهی کردے تو بهی وہ محبت اس کے دل سے زائل نہيں ہو سکتی اور جس غلام کے دل ميں اس کے مو لا کی محبت ثابت اور مستقر ہوگئی وہ اپنے غلام کو کبهی قتل نہيں کر سکتا ہے ۔

جب انسان الله سے محبت کے ذائقہ اور اس سے انسيت کی قوت سے آشنا ہوجاتا ہے تو اس پر کوئی اور چيز اثر نہيں کر سکتی حضرت امام زین العا بدین،

امام المحبين عليہ السلام فرما تے ہيں :

مَن ذاالذي ذاق حلاوة محبّتک فرام عنک بدلا؟ومن ذاالذي انس بقربک فابتغیٰ عنک حولا ( ٢)

“وہ کو ن شخص ہے جس نے تيری محبت کی مڻهاس کو چکها ہو اور تيرے بدل کا خواہش مند ہو اور وہ کون شخص ہے جس نے تيری قربت کا انس پایا ہو اور ایک لمحہ کے لئے بهی تجه سے رو گردانی کرے ”

____________________

١)بحا رالانوارجلد ٩٨ صفحہ / ٨۵ ۔ )

٢)بحا رالانوار جلد ٩۴ صفحہ / ١۴٨ ۔ )


لوگوں کا مسالک اور مذاہب ميں تقسيم ہونا الله سے محبت کی لذت سے محروم ہونا ہے جو لوگ اپنی زندگی ميں الله سے محبت کی معرفت حاصل کر ليتے ہيں وہ اس کے بعد اپنی زندگی ميں کسی دوسری چيز کی جستجو نہيں کر تے ہيں ۔

حضرت امام حسين بن علی عليہ السلام فرماتے ہيں :

ماذاوجد من فقدک؟وماالذي فقدمن وجدک ؟

“ جس نے تجه کو کهو دیا اس نے کيا پایا ؟اور جس نے تجه کو پاليا اس نے کيا کهو یا”( ١)

حضرت علی بن الحسين زین العا بدین عليہ السلام الله سے محبت کی لذت کے علاوہ محبت سے استغفار کرتے ہيں ،الله کے علاوہ کسی دوسرے ذکر ميں مشغول ہو نے سے استغفار کرتے ہيں اور الله کی قربت کے علاوہ کسی دوسری خوشی سے استغفار کرتے ہيں ،اس اعتبار سے نہيں کہ خداوندعالم نے اس کو اپنے بندوں پر حرام قرار دیاہے بلکہ اس لئے کہ وہ محبت دل کو الله سے منصرف کر دیتی ہے اور انسان الله کے علاوہ کسی دوسرے سے لو لگا نے لگتا ہے اگر چہ بہت کم مدت کيلئے ہی کيوں نہ ہو ليکن جس دل کو الله سے محبت کی معرفت ہو گئی ہے وہ دل الله سے منصرف نہيں ہو تا ہے ۔

اوليا ئے خدا کی زند گی ميں ہر چيز اور ہر کوشش الله سے دائمی محبت، الله کا ذکر اور اس کی اطاعت کے ذریعہ ہی آتی ہے اس کے علاوہ ہر چيز الله کی یاد سے منصرف کرتی ہے اور ہم الله سے استغفار کر تے ہيں ۔

امام عليہ السلام فر ما تے ہيں :

واستغفرک من کل لذة بغيرذکرک ومِن کلّ راحة بغيراُنسک،ومن کل سرور بغيرقربک،ومن کلّ شغلٍ بغيرطاعتک (٢)

____________________

١)بحار الانوار جلد ٩٨ صفحہ / ٢٢۶ ۔ )

٢)بحار الانوار جلد ٩۴ صفحہ / ١۵١ ۔ )


“اور ميں تيری یاد سے خالی ہر لذت ،تيرے انس سے خالی ہر آرام ،تيرے قرب سے خالی ہر خو شی ،اور تيری اطاعت سے خالی ہر مشغوليت سے استغفار کرتا ہوں ”

محبت کے ذریعہ عمل کی تلافی

محبت عمل سے جدا نہيں ہے محبت انسان کے عمل ،حر کت اور جد و جہد کی علا مت ہے ليکن محبت ،عمل کا جبران کر تی ہے اور جس شخص نے عمل کرنے ميں کو ئی کو تا ہی کی ہے اس کی شفاعت کر تی ہے وہ الله کے نز دیک شفيع ومشفع ہے ۔

حضرت امام علی بن الحسين عليہ السلام ماہ رمضان ميں سحری کی ایک دعا ميں جو ابو حمزہ ثما لی سے مر وی ہے اور بڑی عظيم دعا ميں شما ر ہو تی ہے فرما تے ہيں :

معرفتي یامولاي دليلي عليک وحبي لک شفيعي اليک وانا واثق من دليلي بدلالتک ومن شفيعي الیٰ شفاعتک ( ١)

“اے ميرے آقا ميری معرفت نے ميری،تيری جانب راہنما ئی کی ہے اور تجه سے ميری محبت تيری بارگاہ ميں ميرے لئے شفيع قرار پا ئيگی اور ميں اپنے رہنما پر بهروسہ کئے ہوئے ہوں نيز مجھے اپنے شفيع پر اعتماد ہے ” معرفت اور محبت بہترین رہنما اور شفيع ہيں لہٰذا وہ انسان ضائع نہيں ہوسکتا جس کی الله کی طرف رہنمائی کرنے والی ذات اسکی معرفت ہے اور وہ بندہ مقصد تک پہنچنے ميں پيچهے نہيں رہ سکتا جس کی خداوند عالم کے سامنے شفاعت کرنے والی ذات محبت ہے ۔

حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام فر ما تے ہيں :الٰهي انّک تعلم انّي وان لم تدم الطاعة منّي فعلاجزما فقددامت محبّة وعزما

____________________

١)بحا ر الانوار جلد ٩٨ صفحہ ٨٢ ۔ )


“خدایا تو جانتا ہے کہ ميں اگرچہ تيری مسلسل اطاعت نہ کرسکا پھر بهی تجه سے مسلسل محبت کرتا ہوں ”

یہ امام عليہ السلام کے کلا م ميں سے ایک لطيف و دقيق مطلب کی طرف اشارہ ہے بيشک کبهی کبهی اطاعت انسان کو قصور وار ڻهہرا تی ہے اور وہ الله کی اطاعت پر اعتماد کر نے پر متمکن نہيں ہو تا ہے ليکن الله سے محبت کر نے والے انسانوں کے یقين و جزم ميں شک کی کو ئی راہ نہيں ہے اور جس بندے کے دل ميں الله کی محبت گهر کر جا تی ہے اس ميں شک آہی نہيں سکتا ۔بندہ بذات خود ہی اطاعت ميں کو تا ہی کر تا ہے اور وہ ان چيزوں کا مرتکب ہو تا ہے جن کو خدا وند عالم پسند نہيں کر تا اور نہ ہی اپنی معصيت کرنے کو دو ست رکهتا ہے ليکن اس کےلئے یہ امکان نہيں ہے کہ (بندہ اطاعت ميں کو تا ہی کرے اور معصيت کا ارتکاب کرے )اطاعت کو نا پسند کرے اور معصيت کو دوست رکهے ۔

بيشک کبهی اعضا و جوارح معصيت کی طرف پهسل جاتے ہيں ،ان ميں شيطان اور خو ا ہشات نفسانی داخل ہو جا تے ہيں اور اعضاء و جوارح الله کی اطاعت کرنے ميں کو تا ہی کر نے لگتے ہيں ليکن الله کے نيک و صالح بندوں کے دلوں ميں الله کی محبت ،اس کی اطاعت سے محبت اور اس کی معصيت کے نا پسند ہو نے کے علا وہ اور کچه داخل ہی نہيں ہو سکتا ہے ۔

ایک دعا ميں آیا ہے :

الٰهي احبّ طاعتک وانْ قصرت عنهاواکره معصيتک وانْ رکبتها فتفضل عليّ بالجنّة (١)

____________________

١)بحا رالانوار جلد ٩۴ صفحہ ١٠١ ۔ )


“خدایا! ميں تيری اطاعت کرنا چا ہتا ہوں اگر چہ ميں نے اس سلسلہ ميں کو تا ہی کی ہے اور مجھے تيری معصيت کرنا نا گوار ہے اگر چہ ميں تيری معصيت کاارتکاب کر چکا ہوں لہٰذا مجه کو بہشت کرامت فرما ”

جوارح اور جوانح کے درميان یہی فرق ہے بيشک جوارح کبهی جوانح سے ملحق ہو نے سے کوتاہی کر تے ہيں اور کبهی جوانح اپنے پروردگار کی محبت ميں مکمل طور پر خاضع وخاشع ہو جا تے ہيں اور جوارح ایسا کرنے سے کوتاہی کر تے ہيں ليکن جب دل پاک وپاکيزہ اور خالص ہو جاتاہے تو جوارح اسکی اطاعت کرنے کيلئے نا چار ہوتے ہيں اور ہمارے لئے جوارح اور جوانح کی مطلوب چيز کا نافذکرنا ضروری ہے اور ہم جوارح اور جوانح کے درميان کے اس فا صلہ کو اخلاص قلب کے ذریعہ ختم کر سکتے ہيں

محبت انسان کو عذاب سے بچاتی ہے

جب انسان گناہوں کے ذریعہ الله کی نظروں سے گرجاتا ہے اور انسان کو الله کے عذاب اور عقاب کيلئے پيش کيا جاتا ہے تو محبت ا نسان کو الله کے عذاب اور عقاب سے نجات دلاتی ہے ۔

حضرت علی بن الحسين زین العا بدین عليہ السلام منا جات ميں فرماتے ہيں:

الهي انّ ذنوبي قداخافتني ومحبّني لک قد اجارتني ( ١)

“خدایا! ميرے گناہوں نے مجھے ڈرادیا ہے اور تجه سے ميری محبت نے مجھے پناہ دے رکهی ہے ”

____________________

١)بحار الانو ار جلد ٩۵ صفحہ/ ٩٩ ۔ )


محبت کے درجات اور اس کے طریقے

بندوں کے دلو ں ميں محبت کے درجے اور مراحل ہوتے ہيں :

یعنی دل ميں اتنی کم محبت ہو تی ہے کہ محبت کر نے والے کو اصلا اس محبت کا احساس ہی نہيں ہوتا ہے۔

ایک محبت ایسی ہو تی ہے جس سے بند ے کا دل اس طرح پُر ہو جاتا ہے کہ انسان کے دل ميں کوئی ایسی جگہ باقی نہيں رہ جاتی جس سے انسان لہو و لعب ميں مشغول ہو اور الله کا ذکر نہ کرے ۔

اور ایک محبت ایسی ہوتی ہے کہ انسان الله کے ذکر ،اس سے مناجات کر نے اور اس کی بارگاہ ميں کهڑے ہونے ميں مہنمک ہو جاتا ہے اور وہ ذکر ،دعا ،نماز اور فی سبيل الله عمل کر نے اور اس کے سامنے کهڑے ہو کر نماز پڑهنے سے سيراب نہيں ہوتا ہے۔

ایک دعا ميں حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرما تے ہيں : سيّدی انامن حبّک جائع لااشبع ،وانامن حبک ظماٰن لااُرویٰ واشوقاہ الیٰ مَن یراني ولااراہ

“ميرے آقا و سردار ميں تيری محبت کا بهو کا ہوں کہ سير نہيں ہوسکتا ،اور تيری محبت کا اتنا پياسا ہوں کہ سيراب نہيں ہو سکتااور ميں کسی ذات کے دیدار کا مشتاق ہوںليکن وہ مجھے اپنا دیدار نہيں کراتا ”

حضر ت امام علی بن الحسين زین العابدین مناجات ميں فرماتے ہيں :

وغُلتی لایبردهاالاّوصلُک ولوعتی لایطفئوهاالَّالقاءُ ک وشوقی اليک لایُبُلُّهُ الاالنَّظَرُاِلَيکَْ ( ١)

“اور ميری حرارت اشتياق کو تيرے وصال کے علاوہ کو ئی اور چيزڻھنڈا نہيں کرسکتی اور ميرے شعلہ شوق کو تيری ملاقات کے علاوہ کو ئی اور چيز بجها نہيں سکتی اور ميرے شوق کو تر نہيں کر سکتا ہے مگر تيری طرف نظر کرنا ”

____________________

١)بحارالانوار جلد ٩۴ صفحہ ١۴٩ ۔ )


الله کی محبت ميں والہانہ پن بهی ہے ،زیارت امين ميں آیا ہے :اللهم انّ قلوب المخبتين اليک والهة ( ١)

“ تيرے سامنے تواضع کرنے والوں کے دل مشتاق ہيں ” حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام سے دعا ميں مروی ہے :

الهی بک هامت القلوب الوالهة فلا تطمئنّ القلوب الابذکراک ولا تسکن النفوس الاعند رویاک ( ٢)

“خدایا !محبت بهرے دل تجه ہی سے وابستہ ہيں ۔۔۔ دل تيرے ذکر کے بغير مطمئن نہيں ہو تے اور نفسوں کو تيرے دیدار کے بغير سکون نہيں ملتا ” ان والهہ اور ہائمہ قلوب کی یہ خاصيت ہے کہ ان کو الله کے ذکر کے بغير سکون و اطمينان نہيں ہو تا۔

ہم کو محبت کی آخری حد کا سبق اميرالمو منين علی بن ابی طالب عليہ السلام کی اس دعا کے کلمات ميں ملتا ہے جس کی آپ نے کميل بن زیادہ نخعی کو تعليم دی تهی جو دعاء کميل کے نام سے مشہور ہے:

فهبني یاسيّدي ومولاي وربي صبرت علیٰ عذابک فکيف اصبرعلیٰ فراقک ،وهبني صبرت علی حرنارک فکيف اصبرعن النظر الیٰ کرامتک ام کيف اسکن فی النار ورجائي عفوک؟ !( ٣)

“تو اے ميرے خدا!ميرے پروردگار !ميرے آقا!ميرے سردار! پھر یہ بهی طے ہے کہ

____________________

١)مفاتيح الجنان دعا ء ابو حمزہ ثمالی۔ )

٢)بحار ا لا نو ار جلد صفحہ/ ١۵١ ۔ )

٣)مفا تيح الجنان دعائے کميل ۔ )


اگر ميں تيرے عذاب پر صبر بهی کر لوں تو تيرے فراق پر صبر نہيںکر سکتا۔اگر آتش جہنم کی گرمی برداشت بهی کر لوں تو تيری کرامت نہ دیکهنے کو برداشت نہيں کر سکتا ۔بهلا یہ کيسے ممکن ہے کہ ميں تيری معافی کی اميدرکهوں اورپهرميں آتش جہنم ميںجلادیاجاوں ”

یہ بندہ کی توجہ کو مبذول کر نے کے بہت ہی پاک وپاکيز ہ اور سچے نمونے ہيں یعنی بندہ اپنے مولا وآقا کی طرف سے جہنم کے عذاب پر تو صبر کر سکتا ہے ليکن وہ اسکی جدائی اور غضب پر کيسے صبر کرسکتا ہے ؟! کبهی محب اپنے مولا کے عقاب کو برداشت کرتاہے ليکن اس کے غضب کو برداشت نہيں کرتا کبهی وہ سب سے سخت عذاب دوزخ کو تو برداشت کر ليتا ہے ليکن مولا وآقا کے فراق کو برداشت نہيں کرپا تا ہے ۔

جہنم کی آگ بندہ کا ڻهکانا کيسے ہو سکتی ہے حا لانکہ بندہ اپنے مولا وآقا سے مہربانی وعطوفت اور جہنم سے نجات دینے کی اميدر کهتا ہے ؟ محبت اور رجاء واميد یہ دونو ں چيزیں بند ے کے دل سے جدُا نہيں ہوسکتی ہيں (حالا نکہ اس کو الله کے غضب کی وجہ سے جہنم کی بهڻی ميں جهو نک دیا جاتا ہے )اس عظيم وجليل دعا کی یہ پاک و پا کيزہ صورتيں ہيں ۔ کبهی بندہ اپنے مولا سے محبت کر تا ہے اور اس کا مولا و آقا اس کو اپنی نعمت اور فضل سے نوازتا ہے یہ محبت کی تاکيد کا ہی اثر ہے ليکن وہ محبت جس کو بندے کے دل سے جدا کر نے اور جدا نہ کرنے سے اس کی محبت ميں کو ئی اضافہ نہ ہوتاہو تواس کو بندے کے مولا وآقا کے عذاب جہنم ميں جهونک دیاجا ئيگا ۔

امام زین العا بدین نے جس دعا ء سحر کی ابو حمزہ ثمالی کو تعليم دی تهی اس ميں فرماتے ہيں :


فوعزّتک لوانتهرتني مابرحت من بابک ولاکففت عن تملّقک لما اُلهم قلبي من المعرفة بکرمک وسعة رحمتک الی مَن یذهب العبد الاّ الی مولاه؟ والی مَن یلتجی المخلوق الاّالی خالقه ؟!الهي لوقرنتني بالاصفاد،ومنعتني سيبک من بين الاشهاد،ودللت علیٰ فضائحي عيون العباد،وامرت بي الی النار وحلت بيني وبين الابرارماقطعتُ رجائي منک،وماصرفتُ تاميلي للعفوعنک، ولاخرج حبّک من قلبي ( ١)

“تيری عزت کی قسم !اگرتو مجه کو جهڑک بهی دے گا تو ہم تيرے دروازے سے کہيں جا ئيں گے نہيں اور تجه سے آس نہيں توڑیں گے ہمارے دل کو تيرے کرم کا یقين ہے اور ہميشہ تيری وسيع رحمت پر اعتماد ہے ميرے مالک بندہ اپنے مالک کوچهوڑکرکدهر جا ئے اور مخلوق خالق کے ماسوا کس کی پناہ لے!ميرے معبود اگر تو مجه کو زنجير وں ميںجکڑ بهی دے گا اور مجمع عام ميں عطا سے انکاربهی کر دیگا اور لوگوں کو ہمارے عيوب سے آگاہ بهی کردیگا اور ہم کو جہنم کا حکم بهی دیدیگا اور اپنے نيک بندوں سے الگ بهی کر دیگا تو بهی ميں اميد کوتجه سے منقطع نہيں کرونگا اور جو تيری معافی سے آس نہيں توڑونگا اور تيری محبت کو دل سے نہ نکالونگا ”

یہ بات ذہن نشين کرليجئے کہ یہی محبت سچی محبت ،اميد،آرزو ،اور پاک صاف محبت ہے یہ بندہ کے دل سے کبهی نکل نہيں سکتی چاہے مولا اس کو زنجيروں ميں ہی کيوں نہ جکڑ دے اور اس کولوگوں کے سامنے رسوا ہی کيوں نہ کرے ۔

ہم محبت اور رجاء کی ان بہترین صورتوں کو قارئين کرام کی خدمت ميں پيش کرتے ہيں جن کو مولائے کائنات نے جليل القدر دعا کميل ميں بيان فرمایاہے :

____________________

١)دعا ابو حمزہ ثمالی ۔ )


ن تَرَکتَْنِي نَاطِقاً لَاَضِجَّنَّ اَلَيکَْ بَينَْ فَبِعِزَّتِکَ یَاسَيِّدي وَمَولَْاي اُقسِْمُ صَادِقاً لَا اَهلِْهَاضَجِيجَْ الآْمِلِينَْ وَلاصرُْخَنَّ صُرَاخَ المُْستَْصرِْخِينَْ وَلَابکِْيَنَّ عَلَيکَْ بُکَاءَ الفَْاقِدِینَْ وَلَاُنَادِیَنَّکَ اَینَْ کُنتَْ یَاوَلِيَّ المُْومِْنِينَْ یَاغَایَةَ آمَالِ العَْارِفِينَْ یَاغَيَاثَ المُْثستَغِيثِْينَْ یَاحَبِيبَْ قُلُوبِْ الصَّادِقِينَْ وَ یَااِ هٰلَ العَْا لَمِينَْ

اَفَتُرَاکَ سُبحَْانَکَ یَااِ هٰلِي وَبِحَمدِْکَ تَسمَْعُ فِيهَْاصَوتَْ عَبدٍْمُسلِْمٍ سُجِنَ فِيهَْابِمُخَالَفَتِهِ وَذَاقَ طَعمَْ عَذَاِبهاَبِمَعصِْيَتِهِ وَحُبِسَ بَينَْ اَطبَْاقِهَابِجُرمِْهِ وَجَرِیرَْتِهِ وَهُوَیَضِجُّ اِلَيکَْ ضجٍيجَ مُُومِّلٍ لرَحمَْتِکَ وَی اْٰندیکَ بِلِ سٰانِ اهلِْ تَوحْيدِکَ وَیَتَوَسَّلُ اِلَيکَْ بِرُبُوبِيَّتِکَ یاٰمَولْايَ فَکَيفَْ یَب قْٰی فِی الْعَ اٰ ذبِ وَهُوَ یَرجُْو اٰ مسَلَفَ مِن حِلمِْکَ اَم کَيفَْ تُولِمُهُ الناٰرُّوَهُوَیَامُْلُ فَضلَْکَ وَرَحمَْتَکَ ام کَيفَْ یُحرِْقُهُ لَهيبُ هٰاوَاَنتَْ تَسمَْعُ صَوتَْه وَتَر یٰ مَ اٰ کنَهُ اَم کَيفَْ یَشتَْمِل عَلَيهِْ زَفيرُ هٰا وَاَنتَْ تَعلَْمُ ضَعفَْهُ اَم کَيفَْ یَتَقَلقَْلُ بَينَْ اَط بْٰقٰاِ هٰاوَاَنتَْ تَعلَْمُ صِدقَْهُ اَم کَيفَْ تَزجُْرُهُ ز اٰبنِيَتُ هٰاوَهُوَیُ اٰندیکَ ی رَٰابَّهُ اَم کَيفَْ یَرجُْو فَضلَْکَ فی عِتقِْهِ مِن هْٰا فَتَترُْکُهُ في هٰاهَي هْٰاتَ اٰ م اٰ ذلِکَ الظَّنُّ بِکَ وَلَاالمَْعرْوُفُ مِن فَضلِْکَ وَ اٰلمُشبِْهٌ لِ مٰا عٰامَلتَْ بِهِ المُْوَحِّدینَ مِن بِرِّکَ وَاِح سْٰانِکَ ( ١)

“تيری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے ميری گویائی کو باقی رکها تو ميں اہل جہنم کے درميان بهی اميدواروں کی طرح فریاد کروں گااور فریادیوں کی طرح نالہ و شيون کروں گااور “عزیز گم کردہ ”کی طرح تيری دوری پر آہ وبکا کروں گا اور تو جہاں بهی ہوگا تجهے آوازدوں گا کہ تو مومنين کا سرپرست، عارفين کا مرکز اميد،فریادیوں کا فریادرس ،صادقين کا محبوب اور عالمين کا معبودہے ۔

____________________

١)مفاتيح الجنان دعاء کميل۔ )


اے ميرے پاکيزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کيا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم ميں گرفتار اور معصيت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکهنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درميان کروڻيں بدلنے والا بنادے اور پھر یہ دیکهے کہ وہ اميد وار رحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحيد کی طرح پکارنے والا ،ربوبيت کے وسيلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز نہيں سنتا ہے۔

خدایا تيرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب ميں رہے گا اور تيرے فضل وکرم سے اميدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جہنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رہا ہو اور اس کی منزل کو دیکه رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپيٹ ميں ليں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکه رہا ہوگا۔وہ جہنم کے طبقات ميں کس طرح کروڻيں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جهڑکيں گے جبکہ وہ تجهے آواز دے رہا ہوگا اور تو اسے جہنم ميں کس طرح چهوڑ دے گا جب کہ وہ تيرے فضل و کرم کا اميدوار ہوگا ،ہر گز تيرے بارے ميں یہ خيال اور تيرے احسانات کا یہ انداز نہيں ہے تونے جس طرح اہل توحيد کے ساته نيک برتاو کيا ہے اس کی کوئی مثال نہيں ہے۔ميں تویقين کے ساته کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق ميں عذاب کا فيصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوہميشہ جہنم ميں رکهنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس ميں کسی کا ڻهکانا اور مقام نہ ہوتا”


ہمارے ایک دوست نے ہم سے کہا :شجاعت حضرت علی عليہ السلام کی اصلی خصلت ہے اور یہ خصلت ان سے جدا نہيں ہوسکتی یہاں تک کہ آپ رب العالمين کی بارگاہ ميں اس شہامت کے ساته دعا کرتے ہيں۔آپ نے جناب کميل کوجو دعا تعليم فرمائی تهی اس ميں اس بات کی تعليم دی ہے کہ جب گناہکار بندہ یہ خيال کرتا ہے کہ وہ آگ کے جنگل ميں پهنس گيا ہے اور چاروں طرف سے اسکو آگ نے گهير لياہے تو وہ اس وقت نہ توخاموش رہ سکتا ہے نہ کسی جگہ پر اسکو سکون ملتا ہے اور نہ ہی عذاب اور عقوبت کے لئے تسليم ہوسکتا ہے اور یہی حال اس شخص کا ہے جس پر عذاب کا ہورہاہو اور آگ کے شعلے اس کو ڈرا رہے ہوں تو وہ روتا ہے چلاتا ہے افسوس کرتا ہے اور آواز بلند کرتا ہے ۔

قارئين! کيا آپ نے ملاحظہ نہيں فرمایا کہ اس حالت کی دعاميں کس طرح تعبير کی گئی ہے؟

ن تَرَکتَْني نَاطِقاً لَاَضِجَّنَّ اَلَيکَْ بَينَْ فَبِعِزَّتِکَ یَاسَيِّدي وَمَولَْاي اُقسِْمُ صَادِقاً لَا اَهلِْهَاضَجِيجَْ الآْمِلِينَْ وَلاصرُْخَنَّ صُرَاخَ المُْصتَْسرِْخِينَْ وَلَابکِْيَنَّ عَلَيکَْ بُکَاءَ الفَْاقِدِینَْ وَلَاُنَادِیَنَّکَ اَینَْ کُنتَْ یَاوَلِیَّ المُْومِْنِينْ

ہم نے عرض کيا :تم نے مولائے کائنات کے کلام کو صحيح طور پر نہيں سمجها ۔اگر مولائے کائنات یہ بيان فرماتے جوتم نے خيا ل کيا ہے تو اس خطاب کے مقدمہ ميںلوتَرَکتَْنِی نَاطِقاً نہ فرماتے ليکن ميں اس مقام پر حضرت علی عليہ السلام کی فطری حالت کا احساس کررہا ہوں جو آپ نے ان کلمات ميں الله کی بارگاہ ميں حاضر ہوکر فرمایا ہے کہ انسان الله کی بارگاہ ميں اس شير خوار بچہ کے مانند ہے جو دنيا ميں اپنی ماں کی عطوفت ،مہربانی ،رحمت اور محبت کے علاوہ کوئی پناہگاہ نہيں رکهتا ہے جب بهی اسکوکوئی امرلاحق ہوتا ہے یاکوئی نقصان پہنچتا ہے تو وہ دوڑکر اپنی ماں کی آغوش ميں چلاجاتا ہے اسی سے فریاد کرتا ہے اور جب وہ کسی مخالفت کا مرتکب ہوتا ہے اور اسکی ماں اسکو کوئی سزادینا چاہتی ہے اور وہ اپنی ماں کی سزا سے بچ کر کسی اور پناہگاہ ميں جانا چاہتا ہے تو اسکے پاس اسکی ماں کے علاوہ کوئی اور پناہگاہ ہوتی ہی نہيں ہے لہٰذا اسکے لئے اسی سے فریاد کرناضروری ہو تا ہے اسی طرح اگر کوئی دوسرا شخص اسکو اذیت و تکليف دیتا ہے تو اسکے پاس اسکی ماں کے علاوہ کوئی اور پناہگاہ نہيں ہوتی ہے۔


یہی حال مولائے کائنات کا اس دعا ميں ہے آپ نے اپنے عظيم قلب سے اس دعا کی تعليم فرمائی :الله سے پناہ مانگو ،اس سے فریاد کرو اور اسکے علاوہ کسی اور کو اپنا ملجاوماوی نہ بناؤ۔

فقط خداوند تبارک وتعالی یکتا اسکا ملجاوماوی ہے جس کے علا وہ وہ کسی کو پہچانتا ہی نہيں ہے جب بندہ یہ خيال کرتا ہے کہ خداوند عالم کا عذاب اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے( ١)

کيا خداوند تبارک وتعالیٰ اسکا ملجاوماویٰ نہيں ہے؟تو پھر کيوں اس خدا سے استغاثہ کرنے ميں تردد کرتا ہے؟

امام زین العابدین عليہ السلام مناجات ميں اسی معنی کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتے ہيں:

فان طردتنی مِن بابک فبمن الوذ؟وان ردّدتنی عن جنابک فبمن اعوذ؟الهي هل یرجع العبدالابق الَّاالٰی مولاه؟ام هل یجيره من سخطه احد سواه ( ٢)

“پس اگر تو مجه کو اپنے در وازے سے ہڻا دے گا تو ميں کس کی پناہ لونگا اور اگر تو نے مجه کو اپنی درگاہ سے لو ڻا دیا تو کس کی پناہ ميں رہونگا کيا فراری (بها گا ہوا)غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے پاس پلڻتا ہے یا اس کو آقا کی ناراضگی سے خود آقا کے علاوہ کوئی اور بچاتا ہے ”

اور آپ نے ابوحمزہ ثمالی کو جو دعا کی تعليم فرمائی تهی اس ميں آ پ فرماتے ہيں :وانایاسيدي عائذ بفضلک هارب منک اليک (٣) “اور ميں تيرے فضل کی پناہ چا ہنے والا ہوں اور تجه سے بهاگ کر تيری طرف آنے والا ہوں۔

____________________

١)یہاں ہم خود مو لا علی کے کلمات سے مذکورہ مطالب کو اخذ کر رہے ہيں اگر مو لائے کا ) ئنات سے یہ کلمات صادر نہ ہوئے ہوتے تو اس طرح مو لائے کا ئنات اور خداوند عالم کے درميان رابطہ کے سلسلہ ميں گفتگو کی ہم جرات نہيں کر سکتے ہيں ۔

٢)بحاالانوار جلد ٩۴ ص ۴٢ ا۔ )

٣)بحار الانوار جلد ٩٨ ص ٨۴ ۔ )


اسی دعا ميں حضرت امام زین العابدین عليہ السلام فر ما تے ہيں :الیٰ مَن یذ هب العبد إِلا إِلیٰ مولاه والی مَن یذهب المخلوق الاا لیٰ خالقه (١)

“کياغلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے پاس جا سکتا ہے اور کيا مخلوق اپنے خالق کے علاوہ کسی اور کے پاس جا تی ہے ” بندہ کے خدا وند عالم سے لو لگا نے کے سلسلہ ميں بندہ کا الله سے الله کی طرف بهاگ کر جانا یہ بہت دقيق معانی اوربلند افکار ہيں حضرت علی عليہ السلام نے بندہ کے الله سے لو لگا نے کی جومنظر کشی فر ما ئی ہے یہ محبت اور رجا و اميد کے سب سے زیادہ دقيق اورلطيف مشاعر ہيں اور محبت کرنے والوں کے دلوں ميں سچے دل سے گهر کرتی ہيں ۔

حضرت علی عليہ السلام نے دعا کے اس فقرے ميں استغاثہ کر تے وقت شعراء کا طریقہ اختيار نہيں فرمایا ہے بلکہ دعا کے اس مرحلہ کو پوار کيا ہے آپ خدا کی بار گاہ ميں اپنے احساس اور شعور کی تعبير کرنے ميں بالکل سچے ہيں ۔ یہ ممکن ہی نہيں ہے کہ ہمارے، الله کی رحمت اور اسکے فضل کی معرفت رکهتے ہوئے بهی خدا اپنے بندہ سے رجا اور محبت ميں سچے اور پاک وصاف احساس کواس بندہ کی محبت اور اسکی اميد کو رد فرما دے ۔

حضرت علی عليہ السلام فرماتے ہيں :

فَکَيفَْ یَب قْٰی فِی الْعَ اٰ ذبِ وَهُوَیَرجُْو اٰ مسَلَفَ مِن حِلمِْکَ اَم کَيفَْ تُولِمُهُ الناٰرُّوَهُوَیَامُْلُ فَضلَْکَ وَرَحمَْتَکَ ام کَيفَْ یُحرِْقُهُ لَهيبُ هٰاوَاَنتَْ تَسمَْعُ صَوتَْه وَتَر یٰ

____________________

١) بحاالانوار جلد ٩٨ صفحہ / ٨٨ ۔ )


مَ اٰ کنَهُ اَم کَيفَْ یَشتَْمِل عَلَيهِْ زَفيرُ هٰاوَاَنتَْ تَعلَْمُ ضَعفَْهُ اَم کَيفَْ یَتَقَلقَْلُ بَينَْ اَط بْٰقٰاِ هٰاوَاَنتَْ تَعلَْمُ صِدقَْهُ اَم کَيفَْ تَزجُْرُهُ ز اٰبنِيَتُ هٰاوَهُوَیُ اٰندیکَ ی رَٰابَّهُ

“خدایا تيرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب ميں رہے گا اور تيرے فضل وکرم سے اميدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جہنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رہا ہو اور اس کی منزل کو دیکه رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپيٹ ميں ليں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکه رہا ہوگا۔وہ جہنم کے طبقات ميں کس طرح کروڻيں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جهڑکيں گے جبکہ وہ تجهے آواز دے رہا ہوگا ”

کيا یہ ممکن ہے کہ خداوند عالم بندہ کی گردن ميں اگ کا طوق ڈالدے ،اسکو اس ميں جلائے حالانکہ وہ خدا کو پکاررہا ہوا پنے کئے پر پچهتا رہاہو اور اپنی زبان سے اس کی وحدانيت کا اقرار کررہاہو ؟

ہما ری زندگی ميں جو کچه اس کا حلم و فضل گذر چکا ہم اس کی مطلق اور قطعی و یقينی طور پر نفی کرتے ہيں ليکن حضرت علی عليہ السلام خدا وند عالم کے حلم و فضل پر اس کے فضل سے اسطرح استدلال فر ماتے ہيں :وَهُوَیَرجُْو اٰ مسَلَفَ مِن حِلمِْکَ امام عليہ السلام قضيہ کے دو نوں طرف یعنی خدا وند عالم کے بندہ سے رابطہ برقرار رکهنے اور بندہ کے خداوند عالم سے لو لگا نے ميں قاطع اور صاف صاف طور پر بيان فر ما تے ہيں۔


جس طرح اس کو یقين ہے کہ اگر بندہ کو جہنم ميں بهی ڈالدیاجائيگا تو اس کی محبت اور اميد اس سے جدا نہيں ہوسکتی ہے اور ہرگز خداوندعالم کے علاوہ اس کا کوئی ملجاوماویٰ نہيں ہوسکتا ہے اسی طرح اس کو بهی یقين ہے کہ خداوندعالم سچی محبت اور اميد کو بندے کے دل سے ختم نہيں کرتا ہے ۔ اس جزم ،قاطعيت اور صاف گوئی کے متعلق مولائے کائنات کے کلام ميں غور فرمائيں :

هيهات ماذلک الظّنُ بکَ وَلَاالمَْعرُْوفُْ مِن فَضلِْکَ وَلَامُشبِْهٌلِّمَا عَامَلتَْ بِهِ المُْوَحِّدِینَْ مِن بِرِّکَ وَاِحسَْانِکَ فَبِاليَْقِينِْ اَقطَْعُ لَولَْامَاحَکَمتَْ بِهِ مِن تَعذِْیبِْ جَاحِدِیکَْ وَقَضَيتَْ بِهِ مِن اِخلَْادِ مُعَانِدِیکَْ لَجَعَلتَْ النَّارَکُلَّهَا بَردْاً وَسَلَاماًوَمَاکَانَ لِاَحَدٍ فِيهَْامَقَرّاًوَلَامُقَاماً (ا)

“ہر گز تيرے بارے ميں یہ خيال اور تيرے احسانات کا یہ انداز نہيں ہے ۔تونے جس طرح اہل توحيد کے ساته نيک برتاو کيا ہے اس کی کوئی مثال نہيں ہے۔ميں تویقين کے ساته کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق ميں عذاب کا فيصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوہميشہ جہنم ميں رکهنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس ميں کسی کا ڻهکانا اور مقام نہ ہوتا” یہ جزم ویقين جو بندہ خداوندعالم سے لولگانے ميں رکهتا ہے یہ بلند مرتبہ ہے اور مو لا کا اپنے بند ے سے تعلق رکهنا یہ مرتبہ پائين ہے ۔ہم ان دونوں باتوں کا مو لائے کا ئنات کے دو سرے کلام ميں مشاہدہ کرتے ہيں جہاں پر آپ نے اپنی مشہور مناجات ميں خداوند عالم کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

الهي وعزّتک وجلالک لقداحببتک محبّة استقرّت حلاوتها في قلبي،وماتنعقدضمائرموحّدیک علیٰ انک تبغض محبيک ( ٢)

“خدایا !تجه کو تيرے عزت و جلال کی قسم تيری محبت کی مڻهاس ميرے دل ميں گهر کر گئی ہے اور تيرے مو حدین کے ذہن ميں یہ خيال بهی نہيں گذرتا کہ تو ان سے نفرت کرتا ہے ”

حضرت امام علی بن الحسين عليہ السلام کی مناجات ميں آیا ہے :الهي نفس اعززتهابتوحيدک کيف تذ لّهابمهانة هجرانک وضمير

____________________

١)مفاتيح الجنان دعائے کميل ۔ )

٢)مناجات اہل البيت صفحہ ۶٨ ۔ ۶٩ ۔ )


انعقد علیٰ مودّتک کيف تحرقه بحرارة نيرانک ( ١)

“اے خدا جس نفس کو تونے اپنی توحيد سے عزت دی ہے اسے کيسے اپنے فراق کی ذلت سے ذليل کرے گا اور جس نے عشق و محبت کی گرہ با ندهی ہے اس کو اپنی آگ کی حرارت سے کيسے جلا ئے گا ” حضرت سجاد عليہ السلام ابو حمزہ ثمالی کو تعليم دینے والی دعا ميں فرماتے ہيں :

افتراک یاربّ تخلف ظنوننااوتخيّب آمالنا؟کلّا یاکریم ،فليس هٰذا ظننابک،ولا هٰذاطمعنافيک یاربّ اِنَّ لَنَافِيکَْ اَمَلاًطَوِیلْاً کَثِيرْاً،اِنَّ لَنَافِيکَْ رَجَاءً عَظِيمْاً ۔۔۔( ٢)

“اور تو یقيناہمارے ےقين کوجهوڻا نہيں کرے گااور ہماری اميد کو نااميدنہيں کرے گا ؟ہر گز نہيں کریم تيرے بارے ميں یہ بد گمانی نہيں ہے ہم تجه سے بہت اميد رکهتے ہيں اور بہت کچه اميد لگائے بيڻهے ہيں ”

____________________

١)بحار الانوار جلد ٩۴ صفحہ ١۴٣ ۔ )

٢)مفا تيح الجنان دعائے ابو حمزہ ثما لی ۔ )


محبت ميں انسيت اور شوق کی حالت

محبت کا اظہار دو طرح سے ہوتا ہے ۔کبهی محبت شوق کی صورت ميں ظا ہر ہو تی ہے اور کبهی محبت کسی سے انسيت کی صورت ميں ظاہر ہو تی ہے اور ان دونوں حا لتوں کو محبت سے تعبير کيا جا تا ہے مگر دونوں ميں یہ فرق ہے کہ بندے کے اندر شوق کی حالت اس وقت زور پکڑ تی ہے جب وہ اپنے محب سے دور ہو تا ہے اور انس کی حالت اس وقت زور پکڑتی ہے جب وہ اپنے حبيب کے پا س موجود ہوتاہے۔

یہ دونوں حالتيں بندے کے قلب پر اس وقت طاری ہو تی ہيں جب وہ الله سے لو لگاتا ہے بيشک خدا وند عالم کبهی بندے پر دور سے تجلی کرتا ہے اور کبهی نزدیک سے تجلی کرتا ہے:

اَلَّذِی بَعُدَ فَلَایُر یٰ وَقَرُبَ فَشَهَدَ النَّجوْ یٰ (١) “جو اتنا دور ہے کہ دکهائی نہيں دیتا ہے اور اتنا قریب ہے کہ ہر راز کا گواہ ہے ”

جب وہ بندے پر دور سے تجلی کرتا ہے تو بندے ميں شوق کی حالت پيدا ہو تی ہے اور جب وہ بندے پر قریب سے تجلی کرتا ہے اور بندہ اپنے مو لا کی بارگاہ ميں حا ضر ہو نے کا احساس کرتا ہے :

وَهُوَمَعَکُم اَینَْ مَاکُنتُْم ( ٢)

“وہ تمہا رے ساته ہے تم جہاں بهی رہو ”

( وَنَحنُْ اَقرَْبُ مِن حَبلِْ الوَْرِیدِْ ) ( ٣)

“اور ہم اس کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہيں ”

( وَاِذَاسَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیبٌْ ) ( ۴)

“اور اے پيغمبر اگر ميرے بندے تم سے ميرے بارے ميں سوال کریں تو ميں ان سے قریب ہوں ”تو بندہ ميں انسيت کی حالت پيدا ہو تی ہے ۔

دعا ئے افتتاح ميں ان دو نوں حالتوں کی امام حجت المہدی عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف سے دقيق طور پر عکا سی کی گئی ہے :

____________________

١) مفا تيح الجنان دعائے ابو حمزہ ثمالی ۔ )٢)سورئہ حدید آیت/ ۴۔ )

٣)سورئہ ق آیت/ ۶ا۔ )۴)سورئہ بقرہ آیت/ ٨۶ ا۔ )


اَلحَْمدُْ لِلهِّٰ الَّذِی لَایُهتَْکُ حِجَابُهُ وَلَایُغلَْقُ بَابُهُ (١) “ساری حمداس خدا کے لئے جس کا حجاب نور اڻهایا نہيں جاسکتا ہے اور اس کا دروازہ کرم بند نہيں ہوسکتا ہے ”

حجاب کی بهی دو قسميں ہيں :حجاب ظلمت اور حجاب نور ۔کبهی انسان گهپ اندهيرے کی وجہ سے کچه دیکه نہيں پاتا یعنی گهڻا ڻوپ اندهيرا اس کے دیکهنے ميں مانع ہو تا ہے اس کو حجاب ظلمت اور تاریکی کہا جاتا ہے ۔ کبهی انسان انتہا ئی رو شنی اور نورکی وجہ سے کچه دیکه نہيں پاتا ہے جس طرح انسان وسط ميںکسی رکا وٹ و حائل ہو نے والی چيز کے بغير سورج کی طرف نہيں دیکه سکتا ہے یہ سورج کی انتہا ئی روشنی کی وجہ سے ہے اسی کو حجاب نور کہا جا تا ہے ۔

“دنيا سے محبت ”،برائيوں کی مقار نت اور “مَا یُرین القلب ”انسان کے الله سے لو لگا نے ميں حجاب ظلمت شمار ہو تے ہيں ۔

انسان کے الله سے لو لگا نے کےلئے حجاب نور دو سری چيز ہے، حجاب نور وہ حجاب ہے جو کبهی نہيں چهڻتا ہے ۔جيسا کہ حضرت مہدی عجل الله تعا لیٰ فر جہ الشریف نے اس دعا ميں فر مایا ہے ۔

یہ وہ حجاب ہے جو بندوں کے دلوں ميں شوق و اشتياق زیادہ کرتا ہے حضرت امام زین العا بدین اپنی منا جات ميں الله سے لو لگا نے کے شوق و اشتياق کو یوں بيان فر ما تے ہيں :

وَغُلَّتِي لَایُبَرِّدُهَااِلَّاوَصلُْکَ وَلَوعَْتي لَایُطفِْيهَْا اِلَّالِقَاوکَ وَشَوقِْي اِلَيکَْ لَایَبُلُّهُ اِلَّاالنَّظَرُ اِل یٰ وَجهِْکَ وَقَرَارِي لَایُقِرُّدُونَْ دُنُوِّي مِنکَْ وَلَهفَْتِي لَایَرُدُّهَا اِلَّارَوحُْکَ وَسُقمِْي لَایَشفِْيهِْ اِلَّاطِبُّکَ وَغَمِّي لَایُزِیلُْهُ اِلَّاقُربُْکَ وَجُرحِي

____________________

١)مفا تيح الجنان دعا ئے افتتاح ۔ )


لَایُبرِْئُهُ اِلَّاصَفحُْکَ وَرینَْ قَلبِْی لَایَجلُْوهُْ اِلَّاعَفوُْکَ فَيَامُنتَْه یٰ اَمَلِ الآمِلِينَْ، وَیَاغَایَةَ سُولِْ السَّائِلِينَْ وَیَااَقصْ یٰ طَلَبَةِ الطَّالِبِينَْ وَیَااَعلْ یٰ رَغبَْة الرَّاغِبِينَْ وَیَاوَلِیَّ الصَّالِحِينَْ وَیَااَمَانَ الخَْائِفِينَْ،وَیَامُجِيبَْ دَعوَْةِ المُْضطَْرِّینَْ وَیَاذُخرَْالمُْعدِْمِينَْ وَیَاکَنزَْالبَْائِسِينَْ ( ١)

“اور ميرے اشتياق کی حرارت کو تيرے وصال کے علا وہ کو ئی اورچيزڻھنڈا نہيں کر سکتی اور ميرے شعلہ شوق کو تيری ملاقات کے علاوہ کو ئی چيز بجها نہيں سکتی اور ميرے شوق کو تر نہيں کرسکتا ہے مگر تيری طرف نظر کر نا ميرا دل تيرے قرب کے علا وہ قرار نہيں پاتا ہے اور ميری حسرت کو تيری رحمت کے سوا کو ئی زائل نہيں کر تا اور ميرے درد کو تيرے علا ج کے سوا کو ئی شفا نہيں دیتا ہے اور ميرے غم کو تيرے قرب کے سوا کو ئی زا ئل نہيں کرتا اور ميرے زخم کو تيری چشم پو شی کے علا وہ کو ئی ڻهيک نہيں کرتا اور ميرے دل کے زنگ کو تيری معا فی کی علا وہ کو ئی جِلا نہيں دیتا ۔۔۔اے اميد واروں کی اميد کی انتہا اے سوال کرنے والوں کے منتہاء مقصود ،اے طلب کرنے والوں کے بلند ترین مطلوب اے رغبت رکهنے والوں کی بلند ترین آرزو ،اے نيکوں کے ولی اے خوف رکهنے والوں کے امان دینے والے اور اے مضطر کی دعا قبول کرنے والے اور اے بينواوں کے ہمنوا اور اے بيچا روں کے لئے اميدکا خزانہ ”

اس تجلی کے با لمقابل تجلی کا ایک اور طریقہ ہے اور وہ اپنے اور بندوں کے درميان دروازہ بند کئے ہو ئے بغير تجلی کرنا ہے وہ ان کی مناجات کو سنتا ہے ،وہ ان کی شہ رگ گردن سے بهی زیادہ ان سے قریب ہے ، یحول بين المرء و قلبہ ، اس سے بندوں کے دلوں ميں آنے والی کو ئی بهی چيز مخفی نہيں ہے ،بندہ خود کو اپنے آقا کی بارگاہ ميں حاضر پاتا ہے وہ اپنے آقا کی کو ئی بهی مخالفت اور معصيت کرنے سے ڈر تا ہے ،اس کے ذکر و یاد سے مانوس ہو تا ہے ،اپنی مناجات اور دعا ميں ثابت

____________________

١)بحا رالانوار جلد ٩۴ صفحہ ۵٠ ا۔ )


قدم رہتا ہے ،منا جات کوطول دیتا ہے ،خدا کا ذکر اور اس کو یاد کرتا ہے اور اس کے سامنے ڻهہر تا ہے ۔

حدیث قد سی ميں آیا ہے کہ پر ور دگار عالم رات کی تاریکی ميں اپنی بارگاہ ميں اپنے بعض انبيا ء کور کو ع وسجو د سے متصف کرتا ہے جبکہ لوگ گہری نيند ميں سوئے ہو ئے ہوتے ہيں :

ولوتراهم وهم یقيمون لي في الدجیٰ ،وقد مثلت نفسی بين اعنيهم یخاطبوني،وقد جللت عن المشاهدة ویکلّموني وقد عززت عن الحضور (١) “اگرتم ان کو رات کی تاریکی ميں دیکهو گے تو وہ حالت قيام ميں ہونگے وہ ميرے وجود کا مشاہدہ کرتے ہيں اور مجه سے مخاطب ہوتے ہيں اور گفتگو کر تے ہيں درحاليکہ ميں ان سے غائب ہوں’ ’

بندہ خدا کی بارگاہ ميں حاضر ہو نے سے نہيں اکتا تا اور نہ ہی وقت گذرنے کا احساس کرتا ہے ۔کياآپ نے یہ مشاہدہ نہيں کيا کہ جب انسان اپنے کسی ایسے دوست کے پاس جاتا ہے جس سے اس کو بہت زیادہ محبت ہو تی ہے تو وہ نہ اس کے پاس جانے سے اکتاتا ہے اور نہ ہی اس کو اپنے وقت گذرنے کا احساس ہوتا ہے ؟

تو پھر انسان، الله کی بارگاہ ميں حاضر ہو نے سے کيسے اکتا ئے گا ؟ جبکہ پر وردگار عالم اس کی بات سنتا ہے ،اس کو دیکهتا ہے اس کے خطاب اور کلام کو سنتا ہے اور وہ اس کے ساته ہے۔

وَهُوَمَعَکُم اَینَْ مَاکُنتُْم (٢) “تم جہاں کہيں ہو وہ تمہارے ساته ہے ”

الله کے ذکر سے اس کو اطمينان وسکون حاصل ہو تا ہے :( الابذکرالله تطمئنُّ القلوبُ ) (٣)

____________________

١) لقا ء الله صفحہ / ١٠١ ۔ )

٢)سورئہ حدید آیت/ ۴۔ )

٣)سورہ رعدآیت/ ٢٨ ۔ )


“اور آگاہ ہو جا ؤ کہ اطمينان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے ” امام مہدی عجل الله تعا لیٰ فر جہ الشریف مشہو رو معروف دعا ئے افتتاح ميں فر ما تے ہيں :

فصرت ادعوک آمناواسالک مستانساً،لاخائفاًولاوجلا،مدّلاعليک فيماقصدت فيه اليک ( ١)

“تو اب ميں بڑے اطمينان کے ساته تجهے پکاررہاہوں اوربڑے انس کے ساته تجه سے سوال کررہا ہوںنہ خوفزدہ ہوں نہ لرزاں ہوں اپنے ارادوں ميںتجه سے اصرارکررہاہوں ”

بيشک یہ حالت الله سے اُنس اور اس سے اطمينان کی وجہ سے پيداہوتی ہے، الله سے مدد اور امن کا احساس ایسی کيفيت ہے جو الله کی بارگاہ ميں حاضری ،اس کی قُربت اور معيت سے وجودميں آتی ہے اوریہ بندہ کی الله سے لولگا نے کی سب سے افضل حالت ہے ليکن ہر چيز کی الله سے لولگا نے کی مثال نہيں دی جاسکتی ہے بلکہ اس سے حالت شوق کا ملاہوا ہونا ضرور ی ہے یہاں تک کہ اس حالت کوکامل متوازن اور منظم ہونا چاہئے ۔

اولياء الله اور اس کے نيک بندوں کی عبادت اور ان کے الله سے لو لگا نے کے سلسلہ ميں یہ دو اہم حالتيں ہيں کبهی ان کی عبادت اور الله سے لو لگا نے ميں شوق اور ہم و غم غالب رہتا ہے اور کبهی ان کی عبادت اور الله سے لولگا نے ميں اُنس ،سکون واطمينان غالب رہتا ہے کبهی ایسا ہوتا ہے اور کبهی ویسا ہوتا ہے یہی سب سے افضل حالتيں ہيں اور الله سے لولگا نے ميں نظم وانس کی حالت سے بہت قریب ہيں ۔

حما دبن حبيب عطار کوفی سے مروی ہے :ہم حا جيوں کا قافلہ اپنا رخت سفر بانده کر نکلا تو ہم رات کے وقت “زبالہ ”(عراق سے حا جيوں کے راستہ ميں آنے والا مقام)نامی جگہ پر پہنچے تو کا لی

____________________

١)مفا تيح الجنان دعاء افتتاح ۔ )


آندهی آئی اور ميں قافلہ سے بچهڑگيا اور بقيہ رات اسی جنگل و بيابان ميں گذری جب ميں ایک چڻيل ميدان پر پہنچا جب رات آئی تو ميں نے ایک درخت کے نيچے قيام کيا اور جب گهپ اندهيرا چها گيا تو ميرے پاس ایک نوجوان آیا جو سفيد لباس پہنے ہوئے تھا ، اس کے منه سے مسک کی خو شبو آرہی تهی ميں نے سوچا:یہ کو ئی الله کا ولی ہے ۔

ميںکچه ڈرا کہ یہ شخص کيا چا ہتا ہے ،وہ ایک جگہ پر پہنچا اور نماز کےلئے تياری کرنے لگا ،پهر جب وہ نماز کےلئے کهڑا ہو نے لگا تو اس کی زبان پر یہ کلمات جا ری تھے :

یامَن احازکل شيءٍ ملکوتاوقهرکل شيءٍ جبروتا،اولِج قلبي فرح الاقبال عليک والحقني بميدان المطيعين لک

“اے وہ کہ جو ہر چيز پر محيط ہے اور غالب ہے ميرے دل ميں ہر مناجات کی خوشی ڈالدے اور اپنے اطاعت گذار بندوں ميں شمار فرما ” اس کے بعد وہ نماز ميں مشغول ہوگيا ۔۔۔

جب اندهيرا چهٹ گيا تو اس کی زبان پر یہ کلمات جا ری تھے :

یامَن قصد ه الطالبون فاصابوه مرشدا،وامّه الخائفون فوجوده متفضّلا و لجااليه العابدون فوجدوه نوالا متیٰ وجد راحة مَن نصب لغيرک بدنه ومتیٰ فرح مَن قصد سواک بنيته الهي قد تقشع الظلام ولم اقض من خد متک وطراً، ولامن حاضّ مناجاتک مدراً،صلِّ الله علیٰ محمّد وآله،وافعل بي اولی الامرین بک یاارحم الراحمين

“اے وہ ذات جس کا حقيقت کے طالبوں نے قصد کيا تو اس کو رہنما پایا اور خائفين نے اس کو اپنا پيشوا قرار دیا تو اس کو سخی پایا ،عابدین نے اس کو اپنی پناہ گاہ قرار دیا تو اس کو آسان پناہ گاہ پایا وہ شخص کيسے آرام پاسکتا ہے جو تيرے علاوہ کسی اور کےلئے خود کو خستہ کرے اوروہ کب خوش ہو سکتا ہے جو اپنے باطن ميں تيرے علا وہ کسی اور کا قصد کرے۔ خدایا! تا ریکياں چهٹ گئيں ليکن ميں تيری ذرہ برابر خدمت نہ کر سکا اور نہ ذرہ برابر تجه سے مناجات کرسکا ،محمد وآل محمد پر درور بهيج اور دو سروں کے ساته وہ سلوک کر جو تيرے لئے زیادہ سزاوار ہے اے ارحم الراحمين ”


ميں نے خيال کيا کہ کہيں یہ شخص دنيا سے نہ گذر جا ئے اور اس کا اثر مجه تک پہنچے تو ميں نے اس سے کہا :آپ سے رنج و تعب کيسے دور ہوا اور آپ کو ایسا شوق شدید اور لذت و رغبت کس نے عطا کی ہے ۔۔۔آپ کون ہيں ؟تو انهوں نے مجه سے فرمایا :ميں علی بن الحسين بن علی بن ابو طالب ہوں ۔(ا) اصمعی سے مروی ہے :ميں رات ميں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو ميں نے دیکها ایک خوبصورت جوان کعبہ کے پر دے کو ہا تهوں ميں تھا مے ہوئے کہہ رہا ہے :

نامت العيون وعلت النجوم وانت الملک الحي القيوم،غلّقت الملوک ابوابها،واقامت عليهاحرّاسها،وبابک مفتوح للسائلين ،جئتک لتنظر اليَّ برحمتک یاارحم الراحمينَ

“آنکهيں محو خواب ہيں ستارے نکل آئے ہيں اور تو حی و قيوم بادشاہ ہے ،بادشاہوں کے دروازے بند ہيں اور ان پر پہرے دار کهڑے ہيں جبکہ حاجتمندوں کےلئے تيرا دروازہ کهلا ہوا ہے ميں تيرے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تو مجه پر اپنی نظر رحمت ڈال دے ”

پهر اس کے بعد زبان پر یہ اشعارجاری کئے :یامَن یُجيب دعاالمضطرّفي الظلم یاکاشف الضرّوالبلویٰ مع السقم

____________________

١)بحار الانوار جلد ۴۶ صفحہ ٧٧ ۔ ٧٨ ۔ )


“اے وہ ہستی جو تاریکيوں ميں مجبور شخص کی دعا قبول کرتی ہے اے وہ ہستی جو ہماری پریشانی اور بلا کو دور کرنے والی ہے ”

قد نام وفدک حول البيت قاطبة وانت وحد ک یاقيوم لم تنم “خا نہ کعبہ کے ارد گرد تيری تمام مخلوق سو گئی جبکہ اے قيوم !تو نہيں سویا”

ادعوک ربّ دعاءً قد امرت بها فارحم بکائي بحقِّ البيت والحرم “پرور دگارا !تيرے حکم کے مطابق ميں تجهے پکاررہا ہوں لہٰذا خا نہ کعبہ اور حرم کے واسطے ميرے گریہ پر لطف نازل فرما ”

ان کان عفوک لایرجوه ذوسرف فمن یجودعلی العاصين بالنعم “اگر چہ زیادہ روی کرنے والا تيری معافی کا اميدوار نہ ہو تو گنا ہگاروں پر نعمتوں کی بارش کون کرے گا ”

جب ميں نے تحقيقات کی تو، معلوم ہوا کہ آپ امام زین العا بدین عليہ السلام ہيں ۔( ١)

طاؤو س فقيہ سے مروی ہے :

رایته یطوف من العشاء الیٰ السحرویتعبّدفلمالم یراحداًرمق السماء بطرفه وقال:الهي غارت نجوم سماواتک ،وهجعت عيون انامک،وابوابک مفتحات للسائلين،جئتک لتغفرلي وترحمني وتریني وجه جدی محمّد (ص)فی عرصات القيامة”

“ميں نے آپ کو عشاء کے وقت سے ليکر سحر تک خانہ کعبہ کا طواف اور عبادت کر تے دیکها

____________________

١)بحارالانوار جلد ۴۶ صفحہ ٨٠ ۔ ٨١ ۔ )


جب وهاں پر کوئی دکها ئی نه دیا تو آپ نے آسمان کی طرف دیکه کر فرمایا : ثم بکیٰ وقالوعزّتک وجلالک مااردت بمعصيتي مخالفتک، وما عصيتک اذ عصيتک وانا بک شاک ولابنکالک جاهل،ولالعقوبتک متعرض،ولکن سوّلت لي نفسي واعانني علیٰ ذالک سترک المرخیٰ به علیَّ،فالآن من عذابک من یستنقذني ؟وبحبل من اعتصم ان قطعت حبلک عني؟فواسواتاه غداًمن الوقوف بين یدیک ،اذاقيل للمخفّيْنَ جُوزوا،وللمثقلين حطّوا،امع المخفين،اجوز ؟ام مع المثقلين احط؟ویلي کلما طال عمري کثرت خطایاي ولم اتب،اماآن لی ان استحيي من ربّي”؟

ثم بکیٰ وانشایقول:

اتحرقني بالناریاغایة المنیٰ فاین رجا ئي ثم این محبّتي اتيت باعمال قباح رزیّة ومافي الوریٰ خلق جنیٰ کجنایتي ثم بکیٰ وقال:

سبحانک تُعصي کانّک لاتریٰ،وتحلم کانّک لم تُعصَ تتودّدالیٰ خلقک بحسن الصنيع کانّ بک الحاجة اليهم،وانت یاسيدي الغنی عنهم

ثمَّ خرَّالی الارض ساجداً قال:فدنوت منه وشِلت براسه ووضعته علیٰ رکبتي وبکيت حتّیٰ جرت دموعي علیٰ خدِّه،فاستویٰ جالساًوقال:من الّذي اشغلني عن ذکرربّی؟فقلت:اناطاووس یابن رسول الله ماهذاالجزع والفزع؟ونحن یلزمناان نفعل مثل هذاونحن عاصون جانون ابوک الحسين بن عليّ وامّک فاطمةالزهراء،وجدُّک رسول الله (ص) قال:فالتقت اليَّ و قال:هيهات هيهات یاطاووس دع عنّی حدیث ابي واُمّي وجدِّي خلق الله الجنّة لمن اطاعه واحسن،ولوکان عبداًحبشيّاً،وخلق النارلمن عصاه ولوکان ولداً قرشيّاً اماسمعت قوله تعالیٰ:


( فّاِ اٰ ذنُفِخَ فِی الصُّورِفّ اٰ لان سْٰابَ بَينَْهُم یَومَْئِذٍوَ لاٰ ( یَتَ سٰاءَ لُونَ ) (١) والله لاینفعک غداًالّاتَقْدِمَةٌتقدِّمهامن عمل صالح( ٢)

“معبود تيرے آسمان کے ستارے غروب کرچکے ہيں تيری مخلوق کی آنکهيں بند ہيں جبکہ حا جتمندوں کےلئے تيرے دروازے کهلے ہيں ميں تجه سے رحمت اور مغفرت کا خواہاں اور عر صہ قيامت ميں اپنے جد محمد صلی الله عليہ وآلہ وسلم کے دیدار کی آرزو ليکر آیا ہوں ”

پهر آپ نے گریہ کرتے ہوئے فر مایا :

“تجه کو اپنی عزت و جلال کی قسم، ميں نے گناہ کے ذریعہ تيری مخالفت کا ارادہ نہيں کيا اور ميں نے جو تيری مخالفت کی ہے وہ اس حالت ميں مخالفت نہيں کی ہے کہ مجه کو تيری ذات ميں شک رہا ہو اور ميں تيرے عذاب سے نا واقف رہا ہوں نيز تيری سزا کی طرف بڑهنے والا ہوں بلکہ ميرے نفس نے ميرے لئے امور کو مزین کردیا اور سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ تو نے ميری پردہ پوشی کی تو اب مجه کو تيرے عذاب سے کون بچا ئے گا ؟نيز اگر تو مجه سے اپنی ریسمان کو تو ڑلے تو ميں کس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑوں ؟کل تيرے سامنے کهڑاہونا ميرے لئے کتنا رسوا ئی کا سبب ہوگا جب ہلکے بوجه والوں سے آگے بڑه جا نے کيلئے کہا جائيگا اور زیادہ بوجه والوں سے کہا جائيگا کہ اتر جا ؤ ؟کيا ميں ہلکے بوجه والوں کے ساته گذر جا ؤنگا یا زیادہ بوجه والوں کے ساته گر جا ؤنگا ؟کتنا افسوس ہے کہ جتنی ميری عمر بڑه رہی ہے مجه سے غلطياں زیادہ سرزدہو رہی ہيںجبکہ ميں نے ابهی تو بہ بهی نہيں کی ہے ؟کيا ابهی تک وہ وقت نہيں آیا کہ ميں اپنے پروردگار سے تو بہ کروں؟

پهر آپ نے روکر اس مفہوم کے یہ اشعار کہنا شروع کئے :

____________________

١)سورئہ آل عمران آیت / ١٩٠ ۔ )

٢)بحارالانوار جلد ۴۶ صفحہ ا ٨ ۔ ٨٢ ۔ )


اتحرقنی بالناریاغایة المنیٰ فاین رجا ئی ثم این محبتی “اے آرزؤوں کی انتہا کيا تو مجه کو آگ ميں جلا ئيگا توميری اميد اور محبت کہاں گئی ؟

اتيت باعمال قباح رزیّة ومافی الوریٰ خلق جنیٰ کجنایتی “ميں برے کام کرکے آیا ہوں اور ميری طرح کسی نے جرم نہيں کيا ہے ” پھر آپ نے روکر فرمایا :

تو پاک و منزہ ہے تيری نا فرمانی کی جا تی ہے گویا تو نہيں دیکهتا اور تو برداشت کرتا ہے گو یا تيری نا فرما نی نہيں کی گئی ہے ،تو اپنی مخلوقات سے اچهے کام کے ذریعہ محبت کرتا ہے گویا تجه کو ان کی ضرورت ہے جبکہ اے ميرے آقا تو اس سے بے نياز ہے ۔

پهر آپ سجدے ميں گر پڑے ۔طاؤس فقيہ کا کہنا ہے کہ ميں ان کے نزدیک گيا اور ان کا سر اڻها کر اپنے زانوپر رکها اور اتنا رویا کہ ميرے آنسو ان کے رخسار پر بہنے لگے ۔امام عليہ السلام اڻه کر بيڻه گئے اور فرمایا :کس نے مجه کو ميرے رب کی یاد سے روک دیا ؟ميں نے عرض کيا اے فرزند رسول (ص) ميں طاؤس ہوں یہ بيتابی کس لئے ہے ؟ایسا تو ہميں کر نا چا ہئے درانحاليکہ ہم گنا ہگار اور مجرم ہيں۔آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام حسين عليہ السلام ہيں ،مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام الله عليہا ہيں جد بزرگوار پيغمبر خدا (ص) ہيں ۔طاؤس کہتے ہيں کہ پھر ميری طرف متوجہ ہوتے ہو ئے فرمایا: اے طاؤس ہر گز ہر گز مجه سے ميرے والدین اور جد بزرگوار کی گفتگو مت کرو خدا وند عالم نے بہشت اطاعت گذار اور نيک افراد کےلئے خلق کی ہے چا ہے وہ حبشی غلام ہی کيوں نہ ہو ،اور دوزخ گناہگار کيلئے خلق کی ہے چا ہے وہ قریشی ہی کيوں نہ ہو ؟کيا تم نے خداوند عالم کا یہ فرمان نہيں سنا ہے :( فَاِذَانُفِخَ فِی الصُّورِْفَلَااَنسَْابَ بَينَْهُم یَومَْئِذٍوَلَایَتَسَاءَ لُونَْ ) (١)

____________________

١)سورئہ مومنون آیت/ ١٠١ ۔ )


“پهر جب صور پهونکا جائيگا تو نہ رشتہ داریاں ہوں گی اور نہ آپس ميں کو ئی ایک دو سرے کے حالات پو چهے گا ”

خدا کی قسم کل تمهيں وہی نيک عمل فا ئدہ پہنچا ئے گاجس کو تم پہلے سے بجالا چکے ہوگے ”

حبہّ عرنی سے مروی ہے :

“بينااناو“نوف”نائمين فی رحبةالقصر،اذنحن بامرالمومنين فی بقيةمن الليل،واضعاًیده علیٰ الحائط شبه الواله،وهویقول: اِنَّ فی خَلقِْ السَّ مٰا اٰوتِ وَ الْارضِ ثم جعل یقراهذه الآیات،ویمرشبه الطائرعقله فقال:اراقد یاحبةام رامق؟ قلت:رامق،هذاانت تعمل هذاالعمل فکيف نحن؟!

فارخیٰ عينه فبکی،ثم قال لي:یاحبةانّ للهموقفاًولنابين یدیه موقف،فلا یخفیٰ عليه شیء من اعمالنا،یاحبةانّ الله اقرب اليک واليَّ من حبل الورید،یاحبة انّه لن یحجبني ولاایاک عن الله شیء ثم قال:اراقدانت یانوف؟ قال:لایااميرالمومنين ماانابراقد،ولقداطلت بکائی هذه الليلة ثم وعظهماوذکرهما،وقال في اواخره:فکونوامن الله علیٰ حذرفقدانذرتکماثم جعل یمرّوهویقول:

ليت شعري في غفلاتی امعرض انت عني ام ناظراليَّ وليت شعری فی طول منامي وقلةشکري في نعمک عليّ ماحالي؟

قال:فوالله مازال فی هذه الحالةحتّیٰ طلع الفجر”(ا)

____________________

١)فلاح السائل لابن طاؤس صفحہ ٢۶۶ ۔ )


ميں اور نوف قصر کی کشادہ زمين پر سورہے تھے کہ اتنے ميں مو لا ئے کا ئنات رات کے آخری حصہ ميں حيران شخص کی طرح دیوار پر ہاته رکه کر کہہ رہے تھے :

( اِ نَّ فِی خَلقِْ السَّ مٰا اٰوتِ وَالاَْرضِْ ) “بيشک زمين و آسمان کی خلقت ۔۔۔”اور ایک حيران و پریشان پرندہ کی طرح چلے جارہے تھے ؟پهر آپ نے فرمایا :اے نوف سو رہے ہو یا جاگ رہے ہو ؟ ميں نے عرض کيا :جاگ رہا ہوں ۔جب آپ ایسا کہہ رہے ہيں تو ہمارا کيا حال ہو گا ؟!

پهر آپ نے آنکهيں نيچی کرکے گریہ فرمایا اس کے بعد مجه سے فرمایا :بيشک خدا کاایک مو قف ہے اور ہمارا ایک مو قف ہے لہٰذا ہمارا اس پر کو ئی عمل مخفی نہيں رہتا ۔اے حبہ! خداوند عالم ہم سے اور تم سے شہ رگ گردن سے بهی زیادہ قریب ہے ۔اے حبہ مجه کواور تم کو خداوند عالم سے کو ئی چيز نہيں رو ک سکتی ہے ۔پهر آپ نے فرمایا :اے نوف سو رہے ہو ؟ ميں نے عرض کيا :نہيں امير المو منين ميں بيدار ہوں ،کيونکہ اس شب ميں آپ نے بہت زیادہ گریہ فر مایا ۔پهر آپ نے نوف اور حبہ کو نصيحت فر مائی اور یاد دہانی کرائی ،اور آخر ميں فرمایا :خدا سے ڈرتے رہو ميں نے تم کو ڈرادیا ۔پهر آپ یہ کہہ کر گذرنے لگے :

“کاش مجه کو اپنی غفلتوں کی حالتوں ميں معلوم ہوتا کہ اے خدا تو مجه سے بے تو جہی کر رہا ہے یا ميری طرف نظر کرم کئے ہوئے ہے ،کاش مجه کو اپنی طولا نی نيند کی حالت ميں نيز نعمتوں کے سلسلہ ميں کم شکری کے وقت معلوم ہوتا کہ ميری کيا حالت ہے ۔

خدا کی قسم آپ طلوع فجر تک اسی حالت ميں رہے ”

اہل بيت عليہم السلام سے وارد ہو نے والی دعا ئيں اور مناجات ميں خاص طور سے وہ پندرہ مناجات جن کو علامہ مجلسی نے بحارالا نوار ميں حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام سے نقل فرمایا ہے اُنس اور شوق کی حامل ہيں ۔ ہمارے لئے اہل بيت عليہم السلام کی ميراث (دعاؤں )ميں ان صورتوں اور معانی کا لازوال خزانہ موجود ہے جبکہ اہل بيت عليہم السلام کے علاوہ کسی اور کے پاس اس طرح کا ذخيرہ بہت کم پایا جاتا ہے ہم اس محبت کو ختم کرنے سے پہلے بعض صورتوں کو ذیل ميں بيان کر رہے ہيں :

الٰهي من ذاالذي ذاق حلاوة محبتک فرام منک بدلاومن ذالذي انس بقربک فا بتغیٰ عنک حولا ؟

الهي فاجعلناممن اصطفيته لقربک وولایتک واخلصته لودک و محبّتک،وشوقته الیٰ لقائک،ورضّيته بقضائک،ومنحته النظرالیٰ وجهک،و حبوته برضاک،واعذ ته من حُجرک وقلا ک،وبوّاته مقعد الصدق في جوارک،وخصصته بمعرفتک،واهّلته لعبادتک،وهيّمت قلبه لارادتک واجتبيته لمشاهدتک،واخليت وجهه لک،وفرّغت فئواده لحبک،ورغّبته فيما عندک،والهمته ذکرک،واوزعته شکرک،وشغلته بطاعتک،وصيّرته من صالحی بریتک،واخترته لمناجاتک،وقطعت عنه کل شئی یقطعه عنک


اللهم اجعلناممّن دابهم الارتياح اليک والحنين ودهرهم الزفرة والانين،جباههم ساجدة لعظمتک،وعيونهم ساهرة لخدمتک،ودموعهم سائلة من خشيتک وقلوبهم متعلقة بمحبتک،وافئدتهم منخلعة من مهابتک یامن انوارقد سه لابصارمحبيه رائقة وسبحات وجهه لقلوب عارفيه شائقة،ویامنیٰ قلوب المشتاقين،ویاغایة آمال المحبّين اسالک حبّک وحبّ من یحبّک،وحبّ کلّ عمل یوصلني الی قربک،وان تجعلک احبّ الیَّّّ مماسواک وان تجعل حبی ایاّک قائداًالی رضوانک وشوقي اليک ذائداًعن عصيانک،وامنن بالنظراليک عليّ وانظربعين الودوالعطف اليََّ،ولاتصرف عني وجهک (ا)

“خدایا! وہ کون ہے جس کو تيری محبت کا مزہ مل گياہے ہو اوراس کے بعدبهی تيرا بدل تلاش کر رہا ہے اور وہ کون ہے جو تيرے انس سے مانوس ہوگيا اور اس کے بعد تجه سے ہڻناچاہتاہے ؟

خدایا !ہميں ان لوگوں ميں قراردے جن کو قرب اوراپنی محبت کےلئے منتخب کيا ہے اور دوستی کےلئے خالص قراردیا ہے اپنی ملاقات کا مشتاق بنایا ہے اپنے فيصلہ سے راضی کيا ہے اور اپنی طرف نظرکرنے کی توفيق عنایت کی ہے اپنی رضاکاتحفہ دیا ہے اپنے فراق اور ناراضگی سے بچایاہے اور اپنے ہمسایہ ميں بہترین جگہ عنایت کی ہے اپنی معرفت سے مخصوص کيا ہے اور اپنی عبادت کا اہل بنایا ہے اپنی چاہت کے لئے ان کے دلوں کو گرویدہ کر لياہے اور اپنے مشاہدہ کےلئے انهيںچُن ليا ہے اپنی طرف توجہ کی یکسوئی عنایت کی ہے اور اپنی محبت کےلئے ان کے دلوںکو خالی کر ليا ہے اپنے ثواب کے لئے راغب بنایا ہے اور اپنے ذکر کا الہام کيا ہے اپنے شکر کی توفيق دی ہے اور اپنی اطاعت کے لئے مشغول کيا ہے اپنے نيک بندوں ميں قرار دیا ہے اور اپنی منا جات کےلئے چُن ليا ہے اور ہراس چيز سے الگ کر دیا ہے جو بندے کو تجه سے الگ کرسکے۔ خدا یا !مجھے ان لوگوں ميں قرار دے جن کا طریقہ تيری طرف توجہ اور اشتياق ہے اور ان کی زندگی عاشقانہ نا لہ وآہ سے پُر ہيں اور پيشانياں تيرے سجدہ ميںجهکی ہوئی ہيں اور آنکهيں تيری خدمت ميں بيدار ہيں ان کے آنسو تيرے خوف سے رواں ہيں اوران کے دل تيری محبت سے وابستہ ہيں۔ ان کے قلوب تيرے خوف سے دنيا سے الگ ہوگئے ہيں اے وہ کہ جس کے انوار قدسيہ چاہنے والوں کی نگاہوں کےلئے روشن ہيں اور اس کی ذات کی تجلّياں عارفين کے دلوں کےلئے نمایاں ہيں اے مشتاقين کے دلوں کی آرزو اوراے چاہنے والوں کی آرزو کی انتہا ميں تجه سے تيری اورتيرے چاہنے

____________________

١)بحارالانوار جلد ۶۴ صفحہ/ ۴٨ ا ۔ )


والوںکی،اور ہر نيک عمل کی محبت چاہتا ہوں جو مجه کو تيرے قرب تک پہونچادے اور تجهے ساری کائنات سے محبوب بنادے اور اس کے بعد تواسی رضا کو اپنی رضا تک پہنچانے کا ذریعہ ہے اور اسی شوق کو اپنی معصيت سے بچنے کاوسيلہ بنا دینا، مجه پریہ احسان کر کہ ميری نگاہ تيری طرف رہے اور توخودمجھے عطوفت کی نگاہ سے دیکهتارہے اور اپنے منه کو مجه سے موڑنہ لينا”

دعا ء کے یہ فقرے محبت ، شوق اور اُنس کا بيکراں خزانہ ہيں ہم دعاکے ان فقروں پر کو ئی حاشيہ نہيں لگانا چا ہتے اور ہر گز ہمارے اندر اتنی استطاعت بهی نہيں ہے جوان دعاؤں کے فقروں کو اور خوبصورت بناکر بيان کریں اور ہم اتنی صلاحيت واستعداد کے مالک بهی نہيں ہيں کہ الله سے دعا محبت اور ادب پر کو ئی حاشيہ لگا سکيں ۔

سب سے پہلے ہماری نظر دعا کے ان فقروں پر مرکوز ہو جاتی ہے جن کے ذریعہ امام نے اپنے رب کو پکارا ہے :

یامنیٰ قلوب المشتاقين ویاغایة آمال المحبّين ۔یامن انوارقدسه لابصارمحبيه رائقة وسبحات وجهه لقلوب عارفيه شائقة “ اے وہ کہ جس کے انوار قدسيہ چاہنے والوں کی نگاہوں کےلئے روشن ہيں اور اس کی ذات کی تجلّياں عارفين کے دلوں کےلئے نمایاں ہيں اے مشتاقين کے دلوں کی آرزو ” اس دعا ميں امام عليہ السلام نے تين باتيں بيان فرمائی ہيں اور بندہ اپنے پروردگار سے ان ہی تين عظيم چيزوں کو طلب کرتا ہے ۔

ا۔آپ نے سب سے پہلے الله سے دعا فرمائی کہ وہ ان نفس کا انتخاب فرمائے اُن کے نفس (قلب )کو اپنی محبت کےلئے خالص کردے ،جن چيزوں کا وہ مالک ہے ان کی طرف رغبت دلائے ،ان کے دل کو اپنی محبت ميں مشغول کردے ،جو چيزیں اس نے خود سے منقطع کی ہيں اُن سے بهی منقطع کردے اور جو چيزیں خود سے دور کی ہيں ان سے بهی دورفرما دے ۔

امام عليہ السلام نے خداوندعالم سے جو کچه طلب فرمایاہے اس پر گا مزن ہو نے کيلئے سب سے پہلے اس چيز کا ہونا ضروری ہے اور اس کے آغاز وابتداء کے بغير انسان الله سے ملاقات کر نے کےلئے اس مشکل راستہ پر گامزن نہيں ہوسکتا اور وجہ الله کاہر بنی اور صدیق بآسانی مشاہدہ کر سکتا ہے ۔

اگر چہ وجہ الله پر نظر کر نا رزق ہے اور اللهاپنے بندوں ميں سے جس کو چاہتا ہے یہ رزق عطا کرنے کےلئے منتخب کر ليتا ہے لہٰذا بندے کےلئے الله کے رزق کو حاصل کر کے اس کی کنجياں حاصل کرنا ضروری ہے جب خداوندعالم اپنے بندہ کو رزق عطا کر تا ہے تو اس کو اس رزق کے درواز ے اور کنجياں بهی عطاکر دیتا ہے اور اس کے اسباب مہيا کر دیتا ہے ۔


کچه لوگ اللهتعالیٰ سے بغير درواز ے اور کنجيوں کے رزق طلب کرتے ہيں وہ الله کواس کی ان سنتوں اور قوانين کے خلاف پکارتے ہيں جن کو اس نے اپنے بندوں کو عطا کيا ہے۔

انسان کو جن دروازوں سے خداوندعالم سے ملاقات اور وجہہ کریم کا مشاہدہ کرنے کےلئے اقدام کرنا چاہئے وہ مندرجہ ذیل ہيں: ا۔دل کو ہر طرح کے گناہ رنج وغم اور دنيا سے لولگا نے سے پرہيز کرنا چاہئے جس کو علما ء تخليہ کہتے ہيں (یعنی دل کو ہر طرح کے رنج وغم اور الله کے علاوہ کسی اور سے لولگا نے سے خالی ہونا چاہئے )

امام عليہ السلام فرما تے ہيں :

واجعلناممن اخلصته لودّک ومحبّتک،واخليت وجهه لک، وفرّغت فواده لحبّک،وقطعت عنه کل شي ءٍ یقطعه عنک

“خدایا! ہم کوان لوگوں ميں سے قرار دے جن کو اپنی محبت اور مودت کےلئے خالص کيا ہے اور اپنی طرف توجہ کی یکسوئی عطاکی ہے اور اپنی محبت کےلئے ان کے دلوںکوخالی کر ليا ہے اور ہر اس چيز سے الگ کر دیا ہے جو بندہ کو تجه سے الگ کرسکے ”

منفی پہلو کے اعتبار سے ابتداء ميںيہ پہلا مرحلہ ہے۔ علماء کے قول کے مطابق ابتداء ميں دوسرا مرحلہالتحليه التخليه کے بالمقا بل ہے یہ وہ ایجابی مطلب ہے جس کو امام عليہ السلام نے مندرجہ ذیل فقروں ميں خداوندعالم سے طلب فرمایا ہے :

رضّيته بقضائک،وحبوته برضاک وخصصته بمعرفتک،واهّلته لعبادتک،ورغّبته فيما عندک ،والهمته ذکرک،واوزعته شکرک،وشغلته بطاعتک،وصيّرته من صالحي بریتک،واخترته لمناجاتک

واجعلناجباههم ساجدة لعظمتک،وعيونهم ساهرة فی خدمتک،و دموعهم سائلة من خشيتک،وافئدتهم منخلعة من رهبتک “

اپنے فيصلہ سے راضی کيا ہے اور اپنی طرف نظرکرنے کی توفيق عنایت کی ہے اپنی رضاکاتحفہ دیا ہے اپنے فراق اور ناراضگی سے بچایاہے اور اپنے ہمسایہ ميں بہترین جگہ عنایت کی ہے اپنی معرفت سے مخصوص کيا ہے اور اپنی عبادت کا اہل بنایا ہے اپنی چاہت کے لئے ان کے دلوں کو گرویدہ کر لياہے اور اپنے مشاہدہ کےلئے انهيں چُن ليا ہے”

“اور پيشانياں تيرے سجدہ ميںجهکی ہوئی ہيں اور آنکهيں تيری خدمت ميں بيدار ہيں ان کے آنسو تيرے خوف سے رواں ہيں اوران کے دل تيری محبت سے وابستہ ہيں”


ان دونوں باتوں سے گفتگو کا آغاز الله سے لو لگا نے کی کنجی ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر انسان کے گا مزن رہنے کی غرض الله سے ملاقات ،اس کے وجہہ کریم اور جمال و جلال کا مشا ہدہ کرنا ہے ۔ ٢۔دوسرا مرحلہ بهی پہلے مرحلہ پر مترتب ہے اور یہ الله سے ملاقات کر نے کا درميانی راستہ ہے ۔اور اسکے بغير انسان الله تک نہيں پہنچ سکتا اور اسکے قرب و جوار تک نہيں پہونچ سکتا ہے۔

( فِی مَقعَْدِ صِدقٍْ عِندَْمَلِيکٍْ مُقتَْدِرِ ) (۱) “اس پاکيزہ مقام پر جو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ ميں ہے ” انسان کو اس مقصد تک پہنچا نے والی سواری جس کی ہر نبی ،ولی ،صدیق اور شہيد نے تمنّا کی ہے وہ محبت الله سے انس اور الله سے شوق ملاقات ہے محبت شوق اور انس کے بغير انسان الله کے بتا ئے ہوئے اس بلندمرتبہ تک ترقی کرنا ممکن نہيں ہے ۔

محبت شوق اور اُنس، الله کے رزق ہيں بيشک الله اپنا رزق بندوں ميں سے جس بندہ کا چاہے انتخاب کرکے عطاکر سکتاہے ليکن جن مقدمات کو امام نے ذکر کيا ہے ہم ان مقدمات کو اس مناجات کے فقروں ميں الگ الگ مشاہدہ کر تے ہيں ۔ امام عليہ السلام بڑے ہی اصرار کے ساته ان چيزوں کو خدا سے طلب کرتے ہيں اور مختلف وسيلوں اور تعبيروں سے خداسے متوسّل ہوتے ہيں آپ عمدہ جملوں سے خداوند عالم کو پکا رتے ہيں : یا منیٰ قلوب المشتا قين ویاغایة آمال المحبين

“ اے مشتاقين کے دلوں کی آرزو اوراے چاہنے والوں کی آرزو کی انتہا ” پھر آپ الله کی محبت ،خدا جس کو دوست رکهتا ہے اس کی محبت اور ہر اس عمل کی محبت مانگتے ہيں جو بندہ کو الله کے قرب و جوار تک پہنچا تا ہے ۔ ہم براہ راست امام عليہ السلام کے کلمات ميں غور و فکر کرتے ہيں اس لئے کہ حاشيہ پردازی ہما رے براہ راست آفاق ميں محبت کے سلسلہ ميں غور و فکر کرنے کے لمحات واوقات کو تباہ و برباد کردے گی جس محبت کو امام عليہ السلام نے ہما رے لئے اس دعا ميں پيش کيا ہے :

____________________

١)سورئہ قمر آیت ۵۵ )


اسْا لُکَ حبّکَ وَحبَ مَن یحبّکَ،وحبّ کل عمل یوصلني الیٰ قربک،وان تجعلک احبّ اليَّ مماسواک،وان تجعل حبي ایاک قائِداً الیٰ رضوانکَ،وشوقي اليک ذائدا عن عصيانک وامنن بالنظراليک عليَّ وانظر بعين الود والعطف اليولا تصرف عنِّي وجهک

اور آپ نے فرمایا :واجعلناممن شوّقته الیٰ لقائک ،واعذته من هجرک وقلاک وهيمت قلبه لارادتک

اس کے بعد آپ نے فرمایا :

اللهم اجعلناممّن دابهم الارتياج اليک والحنين ،ودهرههم الزفرة والانين قلوبهم متعلقة بمحبّتک،و افئد تهم منخلعة من مهابتکَ

ان جملوں کو مندرجہ ذیل چار چيزوں ميں اختصار کے ساته بيان کيا جاتا ہے :

ا۔ہم اس کے ہجر و فراق سے پناہ چاہتے ہيں ۔

٢۔ہم کو اپنی محبت اور مودّت کا رزق عطا کر۔

٣۔ہم کو اپنے سے مانوس ہو نے کا رزق عطا کر۔

۴ ۔ہم کو اپنی ملا قات کا شوق عطا کر۔

امام عليہ السلام نے “ا نس اور شوق ”کو اس مختصر سے جملہ ميں سمو دیا ہے :

واجعلنا ممن دابهم الارتياح اليک والحنين

الله سے خوش ہو نا اس کی طرف راغب ہو نے کے علا وہ ہے اور ان دو نوں چيزوں کو امام عليہ السلام نے الله سے طلب کيا ہے ۔ارتياح (خو ش ہو نا )وہ انسيت ہے جو ملا قات سے پيدا ہو تی ہے اور رغبت وہ شوق ہے جو انسان کو الله سے ملاقات کر نے کےلئے اُکساتا ہے ۔

٣۔اس عظيم و بزرگ دعا ميں الله سے لو لگانے کے لئے سواری، سب سے عظيم آخری مقصد جس کو انبياء عليہم السلام اور صدیقين نے بهی طلب فرمایا ہے وہ خدا وند عالم کے وجہ کا دیدار کرنا ہے ،اس مقصد تک وہی افراد پہنچ سکتے ہيں جن کو خدا وندذ عالم نے اپنے قرب و جوا ر کےلئے منتخب فرمایا ہے ۔ امام عليہ السلام فر ما تے ہيں :


وَاجعَْلنَْامِمَّن مَنحَْتَهُ النَّظَرَاِل یٰ وَجهِْکَ وَبَوَّاتَهُ مَقعَْدَالصِّدقَْ فِي جَوَا رِکَ وَاجتَْبَيتَْهُ لِمُشَاهَدَتِکَ وَامنُْن بِالنَّظَرِ اِلَيکَْ عَليَّ

“اور ہم کو ان لوگوں ميں قرار دے جن کواپنی طرف نظر کرنے کی توفيق عنایت کی ہے اور اپنے ہمسایہ ميں بہترین جگہ عنایت کی ہے اور اپنے مشاہدہ کے لئے انهيں چُن لياہے ۔۔۔اور مجه پر یہ احسان کرکہ ميری نگاہ تيری طرف رہے ” انسان اپنے پروردگار کے وجہ کا دیدار اور اس کے جلا ل و جمال کا قریب سے مشا ہدہ کرنے کی آرزو رکهتا ہے ،اس کے قرب و جوار ميں بيڻھنے کی خو اہش و تمنا رکهتا ہے اور اپنے پروردگار سے شراباً طہورا سے سيراب ہو نا چا ہتا ہے ۔

دوسری صورت

حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام کی دعا ؤ ں ميں شوق اور انس و محبت کی دوسری صورت پریوں روشنی ڈالی گئی ہے :

اِ هٰلی فَاسلُْک بِنَاسُبُلُ الوَْصُولِْ اِلَيکَْ وَسَيِّرنَْافِی اَقرَْبِ الطُّرُقِ لِلوَْفُودْ عَلَيکَْ قَرِّب عَلَينَْا البَْعِيدَْ وَسَهِّل عَلَينَْاالعَْسِيرَْالشَّدِیدَْ وَاَلحِْقنَْابِعِبَادِکَ الَّذِینَْ هُم بِا لبِْدَارِاِلَيکَْ یُسَارِعُونَْ وَبَابَکَ علَی الدَّوَامِ یَطرُْقُونَْ وَ اِیَّاکَ فِی اللَّيلِْ وَالنَّهَارِیَعبُْدُونَْ وَهُم مِن هَيبَْتِکَ مُشفِْقُونَْ

الَّذِینَْ صَفَّيتَْ لَهُمُْ المَْشَارِبَ وَبَلَّغتَْهُمُ الرَّغَائِبَ وَاَنجَْحتَْ لَهُمُ المَْطَالِبَ وَقَضَيتَْ لَهُم مِن فَضلِْکَ المَْآرِبَ وَمَلَات لَهُم ضَمَائِرَهُم مِن حُبِّکَ وَرَوَّیتَْهُم مِن صَافِي شِربِْکَ فَبِکَ اِل یٰ لَذِیذِْ مُنَاجَاتِکَ وَصَلُواْوَمِنکَْ اَقصْ یٰ مَقَاصِدِهِم حَصَّلُواْفَيَامَن هُوَعَل یٰ المُْقبِْلِينَْ عَلَيهِْ مُقبِْلٌ

وَبِالعَْطفِْ عَلَيهِْم عَائِدٌ مُفضِْلٌ وَبِالغَْا فِلِينَْ عَن ذِکرِْهِ رَحِيمٌْ رَوفٌ وَبِجَذبِْهِم ال یٰ بَابِهِ وَدُودٌْعَطُوفٌْ اَسئَْلُکَ اَن تَجعَْلَنِي مِن اَوفَْرِهِم مِنکَْ حَظّاًوَ اَعلَْاهُم عِندَْکَ مَنزِْلاً وَاَجزَْلِهِم مِن وُدِّکَ قِسمْاًوَاَفضَْلِهِم فِی مَعرَْفَتِکَ نَصِيبْاً فَقَد اِنقَْطَعَت اِلَيکَْ هِمَّتِي وَانصَْرَفَت نَحوَْکَ رَغبَْتِي فَاَنتَْ لَاغَيرُْکَ مُرَادِي وَلَکَ لَاسِوَاکَ سَهرِْي وَ سُهَادِي وَلِقَاوکَ قُرَّةَ عَينِْي وَوَصلُْکَ مُن یٰ نَفسْي وَاِلَيکَْ شَوقِْي وَفِي مَحَبَّتِکَ وَلَهِي وَاِل یٰ هَوَاکَ صَبَابَتي وَرِضَاکَ بُغيَْتِي ورُئيَْتُکَ حَاجَتِي وَجَوَارُکَ طَلَبِي وَ قُربُْکَ غَایَةُ سُولِْي وَفِي مُنَاجَاتِکَ رَوحِْيوَرَاحَتي وَعِندَْکَ دَوَاءُ عِلَّتِي وَشِفَاءُ غُلَّتِي وَبَردُْلَوعَْتي وَکَشفُْ کُربَْتِي فَکُن اَنِيسِْي فِی وَحشَْتي وَمُقِيلَْ عَثرَْتِي وَغَافِر زَلَّتِي وَقَابِلَ تَوبَْتِيوَمُجِيبَْ دَعوَْتِي وَوَلِّيَ عِصمَْتي وَمُغنِْيَ


فَاقَتِي وَلَاتَقطَْعنِْي عَنکَْ وَلَاتُبعِْد نِي مِنکَْ یَانَعِيمِْي وَجَنَّتِي وَیَا دُنيَْايَ وَآخِرَتِي ( ١)

“خدا یا!ہم کو اپنی طرف پہنچنے کے راستوں کی ہدایت فرما دے اور ہميں اپنی بارگاہ ميں حاضری کے قریب ترین راستہ پر چلادے ،ہر دور کو قریب ، ہرسخت اور مشکل کو آسان بنا دے اور ہميں ان بندوں سے ملا دے جو تيزی کے ساته تيری طرف بڑهنے والے ہيں اورہميشہ تيرے درکرم کو کهڻکهڻانے والے ہيں اور دن رات تيری ہی عبادت کر تے ہيں اور تيری ہی ہيبت سے خوفزدہ رہتے ہيںجن کے لئے تو نے چشمے صاف کردئے ہيں اور ان کو اميدوں تک پہنچا دیاہے اور ان کے مطالب کو پورا کردیاہے اور اپنے فضل سے ان کی حا جتوں کو مکمل کردیاہے اپنی محبت سے ان کے دلوں کو بهر دیاہے اور اپنے صاف چشمہ سے انهيں سيراب کردیاہے وہ تيرے ہی ذریعہ تيری لذیذ مناجات تک پہنچے ہيں اور تيرے ہی ذریعہ انهوں نے اپنے بلندترین مقاصد کو حا صل کيا ہے اے وہ خدا جو اپنی طرف آنے والوں کااستقبال کرتا ہے اور ان پرمسلسل مہر بانی کرتاہے اپنی یاد سے غافل رہنے والوں پربهی مہربان رہتا ہے اور انهيں محبت کے ساته اپنے در وازے کی طرف کهينچ ليتا ہے خدایا ميرا سوال یہ ہے کہ ميرے اپنی بہترین نعمت کاسب سے زیادہ حصہ قرار دے اور بہترین منزل کا مالک بنا دے اور اپنی محبت کاعظيم ترین حصہ عطا فرمادے اور اپنی معرفت کا بلند ترین مرتبہ دیدے چونکہ ميری ہمت تيری ہی طرف ہے فقط تو ميری مراد ہے اور تيرے ہی لئے ميں راتوں کو جاگتاہوں کسی اور کےلئے نہيں تيری ملاقات ميری آنکهوںکی ڻھنڈک ہے اور تيرا وصال ميرے نفس کی اميد ہے اور تيری جانب ميرا شوق ہے اور تيری ہی محبت ميں ميری بے قراری ہے تيری ہی خواہش کی طرف ميری توجہ ہے اور تيری ہی رضا ميری آرزوہے تيری ہی ملاقات ميری حا جت ہے اور تيرا ہی ہمسایہ ميرا مطلوب ہے تيرا قرب ميرے سوالات کی انتہا ہے اور تيری منا جات ميں ميری راحت ا ور سکون ہے تيرے پاس ميرے مرض کی دواہے اورميری تشنگی کا علاج ہے

،غم کی بيقراری کی ڻھنڈک، رنج و غم کی دوری تيرے ہی ذمہ ہے ، تو ميری وحشت ميں ميرا انيس لغزشوں ميں کا سنبهالنے والا اور خطاؤں کومعاف کرنے والا اور ميری تو بہ کو قبول کرنے والا اورميری دعاکا قبول کرنے والا ،ميری حفاظت کا ذمہ دار فاقہ ميں غنی بنانے والاہے مجھے اپنے سے الگ نہ کرنا اپنی بارگاہ سے دور نہ کرنا اے ميری نعمت، اے ميری جنت اے ميری دنيا و آخرت ” یہ منا جات کا نہا یت ہی بزرگ ڻکڑا ہے اور دعا کے آداب ميں سے بہت ہی عمدہ طریقہ ہے ، اہل بيت عليہم السلام کے عمدہ و بہترین کلمات ميں سے ایک بہترین کلمہ ہے :دعا ،تضرع اور محبت کے سلسلہ ميں ،اور یہ بہت زیادہ غور و فکر کا مستحق ہے۔

____________________

١)بحا رالانوار جلد ٩۴ صفحہ ۴٨ ا۔ )


ہم اس مناجات ميں بيان کی گئی حب الٰہی کی بعض صورتوں اور افکار پر صرصری نظر ڈالتے ہيں :

حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام مناجات کے آغاز ميں پروردگار عالم سے سہارے کی تمنا کرتے ہيں کہ اے خدا ہم کو اپنی طرف پہنچنے والے راستوں پر چلا دے ۔اس پوری دعا کا خلاصہ یہی جملے ہيں اور دعا کے سب سے اہم مطالب ہيں اس دعا ميں حضرت امام زین العابدین خدا سے دنيا اور آخرت کی دعا نہيں ما نگتے ہيں بلکہ آپ خدا سے اپنے سے شر عی محبت کا مطالبہ فر ما تے ہيں ، اس کا قرب ،اس تک رسائی اور اس کا جوار طلب کرتے ہيں اور اپنا ڻهکانا انبياء عليہم السلام ،شہدا ء اور صدیقين کے ساته طلب کرتے ہيں ۔

امام عليہ السلام فر ما تے ہيں :اِ هٰلی فَاسلُْک بِنَاسُبُلُ الوَْصُولِْ اِلَيکَْ ،آپ نے واحد صيغہ“سبيل الْوَصُوْل الَيْکَ ”نہيں فر ما یاہے بلکہ آپ نے “سُبُلُ الْوَصُوْل”جمع کا صيغہ استعمال فر ما یا ہے چو نکہ خدا وند عالم تک رسائی کا راستہ ایک ہی ہے متعدد راستے نہيں ہيں اور قرآن کریم نے بهی واحد “صراط ”راستہ کا تذکرہ کيا ہے :( اِهدِْنَاالصِّرَاطَ المُْستَْقِيمَْ صِرَاطَ الَّذِینَْ اَنعَْمتَْ عَلَيهِْم غَيرِْالمَْغضُْوبِْ عَلَيهِْم وَلَاالضَّالِينَْ ) (١) “ہميں سيدهے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتيں نازل کی ہيں ان کا راستہ نہيں جن پر عضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہيں ”

آیت:( وَالله یَهدِْی مَن یَّشَاءُ اِل یٰ صِرَاطٍ مُستَْقِيمٍْ ) (٢)

____________________

١)سورئہ فا تحہ آیت/ ۶۔ ٧۔ )

٢)سورئہ بقرہ آیت/ ٣ا ٢۔ )


“ اور الله جس کو چاہتا ہے صراط مستقيم کی ہدایت دے دیتا ہے ” اور آیت:وَیَهدِْیهِْم اِل یٰ صِرَاطٍ مُستَْقِيمٍْ ( ١)

“اور انهيں صراط مستقيم کی ہدایت کرتا ہے ” اور آیت:

وَاجتَْبَينَْاهُم وَهَدَینَْاهُم اِل یٰ صِرَاطٍ مُستَْقِيمٍْ (٢) “انهيں بهی منتخب کيا اور سب کو سيدهے راستے کی ہدایت کردی” ليکن “سبيل ”جمع کے صيغہ کے ساته قرآن کریم ميں حق اور باطل کے سلسلہ ميں بہت زیادہ استعمال ہوا ہے خداوند عالم کا ارشاد ہے :( یَهدِْی بِهِ الله مَنِ اتَّبَعَ رِضوَْانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ ) ( ٣)

“جس کے ذریعہ خدا اپنی خشنودی کا اتباع کرنے والوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے ”

آیت:( لَاتَتَّبِعُواْالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُم عَن سَبِيلِْهِ ) ( ۴)

“اور دوسرے راستوں کے پيچهے نہ جا ؤ کہ راہ خدا سے الگ ہو جا ؤ گے ” آیت:( وَمَالَنَااَلَّانَتَوَکَّلَ عل یٰ الله وَقَدهَْدَانَاسُبُلَنَا ) ( ۵)

“اور ہم کيوں نہ الله پر بهروسہ کریں جب کہ اسی نے ہميں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے ”

____________________

١)سورئہ ما ئدہ آیت/ ۶ا۔ )

٢)سورئہ انعام آیت/ ٨٧ ۔ )

٣)سورئہ ما ئدہ آیت/ ۶ا۔ )

۴)سورئہ انعام آیت/ ۵٣ ا۔ )

۵)سورئہ ابرا ہيم آیت/ ٢ا۔ )


آیت:( وَالَّذِینَْ جَاهِدُواْفِينَْالَنَهدِْیَنَّهُم سُبُلَنَاوَاِنَّ الله لَمََعَ المُْحسِْنِينَْ ) ( ١)

“اور جن لوگوں نے ہمارے حق ميں جہاد کيا ہے ہم انہيں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقينا الله حسن عمل والوں کے ساته ہے ” الله نے انسانوں کے چلنے کےلئے متعدد را ستے بنا ئے ہيں جن پر وہ الله تک رسائی کےلئے گا مزن ہو تے ہيں اور علما ء کے درميان یہ مشہور ہے :

اِنَّ الطّرق الیٰ الله بعددانفاس الخلا ئق

“خدا وند عالم کی طرف جانے والے راستے اتنے ہی ہيں جتنی مخلوقات کے سانس کی تعداد ہے ”

یہ تمام راستے الله تک پہنچنے والے صراط مستقيم کے ما تحت جا ری ہو تے ہيں ليکن خداوند عالم نے ہر انسان کےلئے ایک طریقہ قرار دیا ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے رب کی معرفت حا صل کرتا ہے اور خدا تک پہنچنے کےلئے اس پر گا مزن ہو تا ہے ۔

کچه لوگ علم اور عقل کے راستہ کے ذریعہ خدا تک رسا ئی حا صل کر تے ہيں ،کچه لوگ اور دل کے ذریعہ خدا تک پہنچتے ہيں اور کچه لوگ الله کے ساته معاملات اور تجا رت کے ذریعہ اس کی معرفت حا صل کر سکتے ہيں اور سب سے افضل و بہتر طریقہ یہی ہے کہ انسان براہ راست خدا وند عالم سے معا ملہ کرے اور اس کی عطا و بخشش اخذ کرے ۔اس سلسلہ ميں خدا وند عالم کا ارشاد ہے :( یَاَیُّهَاالَّذِینَْ آمَنُواْهَل اَدُلُّکُم عَل یٰ تِجَارَةٍ تُنجِْيکُْم مِن عَذَابٍ اَلِيمٍْ ) ( ٢)

“ایمان والو کيا تمهيں ایسی تجارت کی طرف رہنما ئی کروں جو تمهيں درد ناک عذاب سے بچا لے ”

____________________

١)سورئہ عنکبوت آیت/ ۶٩ ۔ )

٢)سورئہ صف آیت/ ٠ا۔ )


اور خدا وند عالم کا یہ فر مان ہے :( وَمِن النَّاسِ مَن یَّشرِْی نَفسَْهُ ابتِْغَاءَ مَرضَْاتِ الله وَالله رَوفٌ بِالعِْبَادِ ) ( ٢)

“اور لوگوں ميں وہ بهی ہيں جو اپنے نفس کو مر ضی پروردگار کےلئے بيچ ڈالتے ہيں اور الله اپنے بندوں پر بڑا مہر بان ہے ”

حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام خدا وند عالم سے اس تک پہنچنے کے متعدد راستے طلب کر تے ہيں ۔جب انسان خدا وند عالم تک رسا ئی کی خا طر متعددراستے طے کرے گا تو اس کا خدا کے قرب و جوار تک پہنچنا زیادہ قوی و بليغ ہو گا ۔

اس کے بعد حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام پروردگار عالم سے اُس کے اُن صالحين بندوں سے ملحق ہو نے کی خو ا ہش کرتے ہيں جو الله سے لو لگا نے ميں دو سروں سے سبقت کرتے ہيں اور رات دن الله کی عبادت اور اطاعت ميں مشغول رہتے ہيں ۔

الله تک رسا ئی کا راستہ بہت دشوار ہے اس طریقہ کی قرآن کریم نے “ذات الشو کة ”کے نام سے تعبير کی ہے ۔بہت سے لوگ ہيں جو اس طریقہ کی بڑے عزم و صدق و صفا سے سير کا آغاز کرتے ہيں ليکن وہ آدها راستہ طے کرنے کے بعد ڈنوا ڈول (بہک )ہو جا تے ہيں ۔

اس کے بعد حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام خدا سے یوں سوال کرتے ہيں کہ اے خدا مجه کو اپنی قربت عطا کر ، اس مشکل سفر ميں ميرے راستہ کو آسان کر ،مجھے گذشتہ صا لحين سے ملحق فر ما چونکہ اولياء اورخار دار راستہ کو طے کرنے کےلئے صالحين کی معيت اور مصاحبت سب کے دلوں کو محکم کر دیتی ہے اور راستہ تک پہچانے کےلئے ان کے عزم و ارادہ ميں اضافہ کر تی ہے ۔ بيشک الله تک رسا ئی بہت مشکل ہے جب کچه صالحين بندے اس راستہ کو طے کرتے ہيں تو

____________________

٢)سورئہ بقرہ آیت/ ٢٠٧ ۔ )


وہ ایک دو سرے سے تمسک اختيار کرتے ہيں ،حق اور صبر کی وصيت کرتے ہيں ۔اسی طرح ان کے لئے “ذات الشوکہ ”راستہ طے کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔

حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام اس مشکل اور طویل راستہ کو طے کر نے اور صالحين کے تقرب اور ان سے ملحق ہو نے کےلئے فر ما تے ہيں :

وَسَيَّرنَْافِی اَقرَْبِ الطُّرُقِ لِلوَْفُودِْعَلَيکَْ قَرِّب عَلَينَْاالبَْعِيدْوَسَهِّل عَلَينَْا العَْسِيرْالشَّدِیدْ،وَاَلحَْقنَْابِعِبَادِکَ الَّذِینَْ هُم بِالبَْدَارِاِلَيکَْ یُسَارِعُونَْ وَبَابُکَ عل یٰ الدَّوَامِ یَطرُقُونَْ وَاِیَّاکَ بِاللَّيلِْ وَالنَّهَارِیَعبُْدُونَْ

“خدا یا ہميں اپنی بارگاہ ميں حاضری کے قریب ترین راستہ پر چلادے ،ہر دور کو قریب ، ہرسخت اور مشکل کو آسان بنا دے اور ہميں ان بندوں سے ملا دے جو تيزی کے ساته تيری طرف بڑهنے والے ہيں اورہميشہ تيرے درکرم کو کهڻکهڻانے والے ہيں اور دن رات تيری ہی عبادت کر تے ہيں ”


دلوں ميں پيدا ہونے والے شکوک

حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام صالحين کی صفات بيان فر ما تے ہيں جن سے آپ ملحق ہو نے کےلئے الله سے سوال کرتے ہيں اور ان کو ایسی عظيم صفت سے متصف کرتے ہيں جس کے بارے ميں بہت زیادہ تفکر اور غور و فکر کی ضرورت ہے :

صَفَّيتَْ لَهُمُْ المَْشَارِبَ وَبَلَّغتَْهُمُ الرَّغَائِبَ وَمَلَات لَهُم ضَمَائِرَهُم مِن حُبِّکَ وَرَوَّیتَْهُم مِن صَافِی شِربِْک

“جن کے لئے تو نے چشمے صاف کردئے ہيں اور ان کو اميدوں تک پہنچا دیاہے۔۔۔ اپنی محبت سے ان کے دلوں کو بهر دیاہے اور اپنے صاف چشمہ سے انهيں سيراب کردیاہے ”

یہ کونسی صاف ،شفاف ا ورپاکيزہ شراب ہے جس سے ان کا پروردگار انهيں دنيا ميں سيراب کریگا ؟اور وہ کونساظرف ہے جن کو الله نے اپنی محبت سے پُر کردیا ہے ؟

بيشک وہ پاک وپاکيزہ اور صاف وشفّاف شراب ،محبت ،یقين ،اخلاص اور معرفت ہے اور ظرف دل ہے ۔

خداوندعالم نے انسان کو معرفت ،یقين اور محبت کےلئے بہت سے ظروف کا رزق عطا کيا ہے ليکن ۔قلب ۔دل ۔ان سب ميں اعظم ہے ۔

جب خداوندعالم کسی بندہ کو منتخب کر ليتا ہے تو اس کے دل کو پاک وپاکيزہ اور صاف وشفاف شراب سے سيراب کردیتاہے تو اس کا عمل رفتار وگفتار اور اس کی عطا وبخشش بهی اس شراب کے مثل پاک وپاکيزہ اور صاف وشفاف ہوگی ۔ بيشک دل کی واردات اور صادرات ميں مشا بہت اور سخنيت پائی جاتی ہے جب دل کی واردات پاک صاف خالص اور گوارا ہيں تو دل کی صادرات بهی اسی کے مشابہ ہونگی تو پھر بندہ کا فعل گفتار ،نظریات اخلاق موقف اور اس کی عطا وبخشش صاف اور گوارا ہوگی جب دل کی واردا ت گندی یا کثافت سے مخلوط ہوگی جن کو شياطين اپنے دوستوں کو بتایا کر تے ہيں تو لامحالہ دل کی صادرات کذب ونفاق ،خبث نفس اور اللهورسول سے روگردانی کے مشابہ ہو گی ۔ رسول اسلام (ص) سے مروی ہے کہ :

انّ في القلب لمّتين :لمّة من الملک،وایعادبالخيروتصدیق بالحق،ولمّة من العدو:ایعادبالشرّوتکذیب للحق فمن وجد ذالک فليعلم انه من اللّٰه،ومن وجد الآخرفليتعوّذ باللّٰه من الشيطان ثمَّ قرا اَلشَّيطَْانُ یَعِدُکُمُ الفَْقرَْوَیَامُرُکُم بِالفَْحشَْاءِ وَالله یَعِدُکُم مَغفِْرَةً مِنهُْ وَفَضلْاً (١)

____________________

١) سورئہ بقرہ آیت/ ٢۶٨ )


اور حق کی تصدیق کے لئے ہو تی ہے جبکہ دو سری حالت دشمن کی جانب سے ہو تی ہے جو برا ئی کے وعدے اور حق کی تکذیب کی شکل ميں ظاہر ہو تی ہے جس کو پہلی حالت مل جائے اس کو معلوم ہو نا چا ہئے کہ یہ خداوند عالم کی جانب سے ہے اور جس کو دوسری حالت ملے اس کو شيطان سے الله کی پناہ مانگنا چاہئے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

( اَلشَّيطَْانُ یَعِدُکُمُ الفَْقرَْوَیَامُرُکُم بِالفَْحشَْاءِ وَالله یَعِدُکُم مَغفِْرَةً مِنهُْ وَفَضلْاً ) (١) “شيطان تم سے فقيری کا وعدہ کرتا ہے اور تمهيں برائيوں کا حکم دیتا ہے اور خدا مغفرت اور فضل و احسان کا وعدہ کر تا ہے”

فرشتہ والی حالت یہ دل کی طرف ربّانی واردات ہے اور شيطان کی حالت یہ دل کی طرف شيطانی واردات ہے۔

کيا تم نے شہدکی مکهی کا مشاہدہ نہيں کيا جو پهولوں سے رس چُوستی ہے لوگوں کےلئے ميڻها شہد مہيا کرتی ہے اس ميں لوگوں کےلئے شفاء ہے لہٰذاجب وہ کثيف جگہوں سے اپنی غذا مہيا کرے گی تواس کا بهی ویسا ہی اثر ہوگا ۔

خداوندعالم اپنے خليل ابراہيم اسحاق اور یعقوب عليم السلام سے فرما تا ہے:

( وَاذکُرعِْبَادَنَااِبرَْاهِيمَْ وَاِسحَْاقَ وَیَعقُْوبَْ اُولِی الاَیدِْی وَ ا لاَْبصَْارِ اِنَّااَخلَْصنَْاهُم بِخَالِصَةٍ ذِکرَْی الدَّارِوَاِنَّهُم عِندَْنَالِمِنَ المُْصطَْفَينَْ الاَْخيَْارِ ) (٢ ) “اوراے پيغمبر ہمارے بندے ابراہيم اسحاق اور یعقوب کا ذکر کيجئے جو صاحبان قوت اور

____________________

١)تفسير الميزان جلد ٢صفحہ ۴٠۴ ۔ )

٢)سورئہ ص آیت ۴۵ ۔ ۴٧ ۔ )


صاحبان بصيرت تھے ہم نے ان کو آخرت کی یا د کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا اور وہ ہما رے نزدیک منتخب اور نيک بندوں ميں سے تھے ” یہ عظيم صفت جو الله نے ان جليل القدر انبياء عليہم السلام کو عطا کی ہے وہ قوت اور بصيرت ہے ایدی اور ابصار یہ اس خالص شراب کا نتيجہ ہے جو الله نے ان کو عطا کی ہے :

( اِنَّااَخلَْصنَْاهُم بِخَالِصَةٍ ذِکرَْی الدَّارِ ) ( ١)

“ہم نے ان کو آخرت کی یا د کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا ” اگر خداوندعالم نے ان کو اس خالص ذکری الدار سے مزیّن نہ فرمایا ہوتا تو وہ (ان کےلئے نہ قوت ہوتی اور نہ بصيرت ۔( ٢)

اگر انسان پاک و صاف اور اچهے اعمال انجام دیتا ہے تو اس کےلئے پاک و شفاف غذا نوش کرنا ضروری ہے اور انسان کا دل وہی واپس کرتا ہے جو کچه وہ اخذ کرتا ہے ۔

اصل اختيار

ہم قلب و دل کی واردات اور صادرات اور ان کے ما بين مشا بہت اور سنخيت کو بيان کرنے کے بعد یہ بتا دینا ضروری سمجهتے ہيں :یہ گفتار اصل اختيار سے کو ئی منا فات نہيں رکهتی ہے جو متعدد قرآنی

____________________

١)سورئہ ص آیت/ ۴۶ ۔ )

٢)اس مقام پر قلب کی واردات اور صادرات کے ما بين جدلی تعلق ہے اگر دل ) کی واردات اچهی ہو ں گی اس کے بر عکس بهی صحيح ہے یعنی جب انسان نيک اعمال انجام دیتا ہے تو خدا وند عالم اس کو منتخب کر ليتا ہے اور جب انسان برے کام انجام دیتا ہے تو خدا وند عالم اس سے پاک و صاف خالص شراب سے پردہ کر ليتا ہے اور اس کو خود اسی کے حال پر چهوڑ دیتا ہے اور وہ اسی طرح کهاتاپيتا ہے جس طرح شيطان اور خو اہشات نفسانی اس کی رہنما ئی کرتے ہيں اور لوگ شيطان اور خو اہشات نفسانی کے دسترخوان سے غذا نوش کرتے ہيں ۔


مفا ہيم اور افکار کی بنياد ہے ۔اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ دل ایک خا لی ظرف ہے جو کچه خير وشر اس ميں ڈالا جاتا ہے اسی کو واپس کرتاہے بلکہ دل ایسا ظرف ہے جو کچه اس ميں ڈالا جاتا ہے اس کو اخذ کرليتا ہے اور حق کو باطل اور خير کو شر سے جدا کرتا ہے ۔

افکار اسلامی اصولوں ميں سے یہ ایک اصل ہے اس اصل کی بنياد “وعا القلب ” ہے اور اسی “اختيار ” پر اسلام کے متعدد مسا ئل ،اصول اور قضایا مو قوف ہيں ۔

اسلامی روایات ميں وارد ہوا ہے کہ انسانی حيات ميں دل کے کردار کی بہت زیادہ تا کيد کی گئی ہے کہ وہ حق و باطل کو جدا کرنے پر قادر ہے۔ روایت ميں آیا ہے کہ حضرت دا و د نے اپنے پروردگار سے یوں منا جات کی ہے :

الٰهي لکل ملک خزانة،فاین خزائنک؟فقال جلّ جلاله:لی خزانة اعظم من العرش،واوسع من الکرسي،واطيب مِن الجنّة،وازین من الملکوت، ارضهاالمعرفة،وسماء وهاالایمان،وشمسهاالشوق،وقمرهاالمحية ،و نجومها الخواطر، و سحابها العقل،ومطرهاالرحمة،وشجرهاالطاعة،وثمرها الحکمة،ولهااربعة ارکان: التوکّل والتفکير،والاُنسُ والذکرولهااربعة ابواب: العلم والحکمة والصبروالرضا الاوهي القلب (١)

“اے ميرے پروردگار ہر ملک کا خزانہ ہو تا ہے تو تيرا خزانہ کہا ں ہے ؟پروردگار عالم نے فرمایا : ميرا خزانہ عرش اعظم ہے ،کر سی سے وسيع ہے ،جنت سے زیادہ پاکيزہ ہے ،ملکوت سے زیادہ مزین ہے زمين اس کی معرفت ہے ،آسمان اس کا ایمان ہے ،سورج اس کا شوق ہے، قمر اس کی محبت

____________________

١)بحارالانوارجلد ١۵ صفحہ ٣٩ ۔ )


ہے، ستا رے اس کے خيالات ہيں ،عقل اس کے بادل ہيں با رش اس کی رحمت ہے ،طاقت اس کا درخت ہے ،حکمت اس کا پهل ہے ،اسکے چار رکن ہيں :توکل، تفکر ،انس اور ذکر ۔اس کے چار دروازے ہيں :علم ، حکمت ،صبر اور رضا ۔۔۔آگاہ ہو جاؤ وہی دل ہے ”

روایت (جيسا کہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے )سوال اور جواب کی صورت ميں رمزی طور پر گفتگو کرتی ہے اور اسلامی روایات ميں یہ مشہور و معروف لغت ہے

۔روایت ميں ہے کہ خدانے حضرت مو سیٰ سے فر مایا : “یاموسیٰ جرّد قلبک لحبّي،فاني جعلت قلبک ميدان حبي،وبسطت في قلبک ارضاً من معرفتي،وبنيت في قلبک شمساًمن شوقي،وامضيت في قلبک قمراًمن محبتي،وجعلت في قلبک عيناًمن التفکّروادرت في قلبک ریحاًمن توفيقي، وامطرت في قلبک مطراًمن تفضّلي،وزرعت في قلبک زرعاًمن صدقي،وانبت في قلبک اشجاراًمن طاعتي،ووضعت في قلبک جبالاًمن یقيني ( ١)

“اے مو سیٰ اپنے دل کو ميری محبت کے لئے خالی کر دو ،کيونکہ ميں نے تمہارے دل کو اپنی محبت کا ميدان قرار دیا ہے، اور تمہارے دل ميں اپنی معرفت کی کچه زمين ایجاد کی ہے ،اور تمہارے دل ميں اپنے شوق کاسورج تعمير کيا ہے تمہارے دل ميں اپنی محبت کا چاند بنایا ہے ،تمہارے دل ميں فکر کی آنکه بنا ئی ہے تمہارے دل ميں اپنی تو فيق کی ہوا چلا ئی ہے تمہارے دل ميں اپنے فضل کی بارش کی ہے تمہارے دل ميں اپنی سچا ئی کی کهيتی کی ہے تمہارے دل ميں اپنی اطاعت کے درخت اُگا ئے ہيں تمہارے دل ميں اپنے یقين کے پہاڑ رکهے ہيں ”

____________________

١)بحارالانوارجلد ١۵ صفحہ ٣٩ ۔ )


اس روایت ميں بهی راز دارانہ گفتگو کی گئی ہے اور دونوں روایات دل کےلئے حق کو باطل اور ہدایت کو ضلالت و گمرا ہی سے جدا کرنے کےلئے واعی کی شرح کر رہی ہيں ۔

ہم پھر مناجات کا رخ کرتے ہيں اس کے بعد امام عليہ السلام خدا وند عالم کو اس لطيف و رقيق انداز ميں پکا رتے ہيں :

فَيَامَن هُوَعَل یٰ المُْقبِْلِينَْ عَلَيهِْ مُقبِْلٌ،وَ بِالعَْطفِْ عَلَيهِْم عَائِدٌ مُفضِْلٌ،وَبِا الغَْافِلِينَْ عَن ذِکرِْهِ رَحِيمٌْ رَءُ وفٌ،وَبِجَذبِْهِم اِل یٰ بَابِهِ وَدُودٌْعَطُوفٌْ

“ اے وہ خدا جو اپنی طرف آنے والوں کااستقبال کرتا ہے اور ان پرمسلسل مہر بانی کرتاہے اپنی یاد سے غافل رہنے والوں پربهی مہربان رہتا ہے اور انهيں محبت کے ساته اپنے در وازے کی طرف کهينچ ليتا ہے ”

اس مناجات ميں دو باتيں شامل ہيں :

بيشک پروردگار عالم اس بندے کا استقبال کرتا ہے جو اس کی خدا ئی کا اقرار کرتا ہے اور اس پر اپنا فضل و کرم کرتا ہے ۔

خدا وند عالم اپنے سے غفلت کرنے والے بندوں پرمہربانی و عطوفت کرتا ہے اور ربانی جذبات کے ذریعہ ان سے غفلت دور کردیتا ہے ۔

اس کے بعد امام عليہ السلام الله سے اس طرح منا جات کرتے ہيں :اَسئَْلُکَ اَن تَجعَْلَني مِن اَوفَْرِهِم مِنکَْ حَظّاًوَاَعلَْاهُم عِندَْکَ مَنزِْلاً وَاَجزَْلِهِم مِن وُدِّکَ قِسمْاًوَاَفضَْلِهِم فِي مَعرَْفَتِکَ نَصِيبْاً “ خدایا ميرا سوال یہ ہے کہ ميرے لئے اپنی بہترین نعمت کاسب سے زیادہ حصہ قرار دے اور بہترین منزل کا مالک بنا دے اور اپنی محبت کاعظيم ترین حصہ عطا فرمادے اور اپنی معرفت کا بلند ترین مرتبہ دیدے ”


دعا کے اس فقرہ سے ذہن ميں یہ سوال پيدا ہو تا ہے :اس جملہ سے پہلے توامام عليہ السلام خدا وند عالم سے یہ درخواست کر رہے تھے کہ مجه کو ان سے ملحق کردے اور اب یہ تمنا و آرزو کر رہے ہيں کہ اپنے پاس سے ميرے زیادہ فضل اور بلند ترین مقام و منزلت قرار دے ،اب اس سوال کو پہلے سوال سے کيسے ملایا جا سکتا ہے ؟

دعا ميں اور دعا کرتے وقت امام عليہ السلام کے نفس ميں کو نسی چيز مو جزن ہو رہی تهی کہ امام عليہ السلام نے صالحين سے ملحق ہو نے کی دعا کرنے سے پہلے ان پر اپنی سبقت اور امامت کی دعا فر ما ئی ؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اس سوال کی تشریح ضروری ہے اور یہ دعا کے اسرار ميں سے ایک راز ہے ۔خداوند عالم نے ہم کو یہ تعليم دی ہے کہ ہم اس سے دعا کرنے سے فرار اختيار نہ کریں ،دعا کرنے ميں بخل سے کام نہ ليں ،جب ہمار ا مو لا کریم ہے ،جب مسئول (جس سے سوال کيا جا رہا ہے )کریم ہے تو اس سے سوال کرنے ميں بخل سے کام لينا بہت بری بات ہے ،جس کی رحمت کے خزانوں کی کو ئی انتہا نہيں ہے ،جو ختم ہو نے والے نہيں ہيں اور اس کی کثرت عطا سے صرف اس کا جود و کرم ہی زیادہ ہو تا ہے ۔(ا)

خدا وند عالم نے ہم کو “عباد الر حمن ”کے آداب و اخلاق ميں یہ تعليم دی ہے کہ ہم خدا وند عالم

____________________

١)دعا ئے افتتاح ميں آیا ہے : )


اَلحَْمدُْ لِلهِّٰ الفَْا شِی فِی الخَْلقِْ اَمرُْهُ وَحَمدُْ هُ الظَّاهِرِ بِالکَْرَمِ مَجدُْهُ البَْاسِطِ بِالجُْودِْ یَدَهُ اَلَّذِی لَاتَنقُْصُ خَزَائِنُهُ وَلَاتَزِیدُْهُ کَثرَْةُ العَْطَاءِ اِلَّاجُودْاًوَکَرَماًاِنَّهُ هُوَالعَْزِیزُْالوَْهَّابُ “ساری حمد اس خدا کےلئے ہے جس کا امر اوراس کی حمد مخلوقات ميں نمایاں ہے اور جس کی بزرگی اس کے کرم کے ذریعہ نمایاں ہے،اور اس کے دونوں ہاته بخشش کےلئے کهلے ہوئے ہيں ،اس کے خزانوں ميں کمی نہيں ہے ،اور کثرت عطا اس کے یہاں سوائے جود و کرم کے کسی بات کااضافہ نہيں ہو تا ہے”

سے یہ سوال کریں کہ وہ ہم کو متقين کا امام قرار دے:وَاجعَْلنَْالِلمُْتَّقِينَْ اِمَاماً ( ١)

“اور ہم کو متقين کا امام قرار دے ” ہم معصوم عليہم السلام سے وارد ہو نے والی دعا ؤں ميں یہ او لو االعزمی والا جملہ بہت زیادہ پڑها کر تے ہيں : آثَرنِی وَلَاتُوثِّرعَْلَیَّ اَحَداً “مجه کو ترجيح دے اور مجه پر کسی کو ترجيح نہ دے ”

دعائے قاع اور قمہ

دعاؤں کی دو قسميں ہيں ایک ميں بندہ کے مقام اور ان برا ئيوں اور گناہوں کو مجسم کياجا تا ہے جن سے انسان مرکب ہے جس کو عربی ميں قاع کے نام سے یاد کيا گياہے دوسری قسم ميںخداوند عالم کے سلسلہ ميں انسان کے شوق اور رجحان کو مجسم کياجاتاہے اور خدا وند عالم کے جود و کرم وسخاوت اور اس کی رحمت کے خزا نوں کی کو ئی حدنہيں ہے اس کوعربی ميں قمہ کہا جاتاہے ۔ حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام دعائے اسحا ر ميں دونوںکے ما بين اسی نفسی فا صلہ کو بيان فر ما تے ہيں :

اِذَارَایتُْ مَولَْي ذُنُوبْي فَزَعتُْ،وَاِذَارَایتَْ کَرَمَکَ طَمَعتُْ

“جب ميں اپنے گنا ہوں کو دیکهتا ہوں تو ڈرجاتا ہوں اور جب ميں تيرے کرم کو دیکهتا ہوں تو پُراميدہوجاتا ہوں ”

اور اسی دعا ميں آپ فر ما تے ہيں :عَظُمَ یَاسَيَّدِي اَمَلِي وَسَاءَ عَمَلِي فَاَعطِْنِي مِن عَفوِْکَ بِمِقدَْارِعَمَلِي وَلَاتُواخِذنِْي بِاسوَْءِ عَمَلي

____________________

١)سورئہ فر قان آیت/ ٧۴ )


“اے ميرے مالک ميری اميدیں عظيم ہيں اور ميرے اعمال بدترین ہيں مجھے اپنے عفوکرم سے بقدراميد دیدے اور ميرے بد ترین اعمال کا محاسبہ نہ فرما ” حضرت امير المو منين علی بن ابی طالب عليہ السلام نے جو دعا کميل بن زیاد نخعی کو تعليم فر ما ئی تهی اس ميں آپ نے قاع سے ہی آغاز فر ما یا ہے :

اللهم اغفِْر لِيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تَهتَْکُ العِْصَمَ اللهم اغفِْرلِْيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تُنزِْلُ النِّقَمَ اللهم اغفِْرلِْيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تُغَيِّرُالنِّعَمَ اللهم اغفِْرلِْيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تَحبِْسُ الدُّعَاءَ اللهم اغفِْرلِْيَ الذُّنُوبَْ الَّتِي تُنزِْلُ البَْلَاءَ اللهم اغفِْرلِْي کُلَّ ذَنبٍْ اَذنَْبتُْهُ وَکُلَّ خَطِيئَْةٍ اَخطَْاتُهَااللهم اِنِّي اَتَقَرَّبُ اِلَيکَْ بِذکرِْکَ وَاَستَْشفِْعُ بِکَ اِل یٰ نَفسِْکَ وَاَسئَْلُکَ بِجُودِْکَ اَن تُدنِْيَنِي مِن قُربِْکَ وَاَن تُوزِْعَني شُکرَْکَ وَاَن تُلهِْمَنِي ذِکرَْکَ اللهم اِنِّي اسئَْلُکَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُتَذَ لِّلٍ خَا شِعٍ اَن تُسَامِحَنِي وَتَرحَْمَنِي وَتَجعَْلَنِي بِقِسمِْکَ رَاضِياًقَانِعاًوَفِی جَمِيعِْ الاَْحوَْالِ مُتَوَاضِعاًاللهم وَاَسئَْلکَ سُئَوالَ مَنِ اشتَْدَّت فَاَقَتُهُ وَاَنزَْلَ بِکَ عِندَْ الشَّدَائِدِحَاجَتَهُ وَعَظُمَ فِيمَْاعِندَْکَ رَغبَْتُهُ اللهم عَظُمَ سُلطَْانُکَ وَعَلَامَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکرُْکَ وَظَهَرَاَمرُْکَ وَغَلَبَ قَهرُْکَ وَجَرَت قُدرَْتُکَ وَلَایُمکِْنُ الفِْرَارُمِن حُکُومَْتِکَ اللهم لَا اَجِدُلِذُنُوبِْي غَافِراًوَلَالِقَبَائِحِي سَاتِراًوَلَالِشيءٍ مِن عَمَلِي القَْبِيحِْ بِالحَْسَنِ مُبَدِّلاً غَيرَْکَ لَااِ هٰلَ اِلَّااَنتَْ سُبحَْانَکَ وَبِحَمدِْکَ ظَلَمتُْ نَفسِْي وَتَجَرّاتُْ بِجَهلِْي وَسَکَنتُْ اِ لٰ ی قَدِیمِْ ذِکرِْکَ لِي وَمَنِّکَ عَلَیَّ اللهم مَولَْايَ کَم مِن قَبِيحٍْ سَتَرتَْهوَکَم مِن فَادِحٍ مِنَ البَْلَاءِ اَقَلتَْهُ وَکَم مِن عِثَارِوَقَيتَْهُ وَکَم مِن مَکرُْوهٍْ دَفَعتَْه وَکَم مِن ثَنَاءٍ جَمِيلٍْ لَستُْ اَهلْاً لَهُ نّشَرتَْهُ اللهم عَظُمَ بَلَائِي وَاَفرَْطَ بِي سُوءُْ حَالِي وَقَصُرَت بِي اَعمَْالِي وَقَعَدَت بِي اَغلَْالِي وَحَبَسَنِي عَن نَفعِْي بُعدُْ اَمَلِي وَخَدَعَتنِْي الدُّنيَْابِغُرُورِْهَاوَنَفسِْي بِجِنَایَتِهَاوَمِطَالِي یَاسَيِّدِي فَاسئَْلُکَ بِعِزَّتِکَ اَن لَایَحجُْبَ عَنکَْ دُعَائِي سُوءُْ عَمَلِي وَفِعَالِي وَلَاتَفضَْحَني بِخَفِيِّ مَااطَّلَعتَْ عَلَيهِْ مِن سِرِّي


“خدایا ميرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بڻہ لگادیتے ہيں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہيں،ا ن گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغير کر دیا کرتے ہيں ،ان گناہوں کو بخش دے جو دعاوں کو تيری بارگاہ تک پہنچنے سے روک دیتے ہيں،خدایا ميرے ان گناہوں کو بخش دے جن سے بلا ئيں نازل ہوتی ہيںخدایا ميرے تمام گناہوں اور ميری تمام خطاؤں کو بخش دے خدایا ميں تيری یاد کے ذریعہ تجه سے قریب ہو رہا ہوں اور تيری ذات کو تيری بارگاہ ميں شفيع بنا رہا ہوںتيرے کرم کے سہارے ميرا یہ سوال ہے کہ مجھے اپنے سے قریب بنا لے اور اپنے شکر کی توفيق عطا فرمااور اپنے ذکر کا الہام کرا مت فر ما خدایا! ميں نہایت درجہ خشوع خضوع اور ذلت کے ساته یہ سوال کر رہا ہوں کہ ميرے ساته مہربانی فرما مجه پر رحم کر اور جو کچه مقدر ميں ہے مجھے اسی پر قانع بنا دے ، مجھے ہر حال ميں تواضع اور فروتنی کی توفيق عطا فرما،خدایا ! ميرا سوال اس بے نوا جيسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں اور جس نے اپنی حا جتيں تيرے سا منے رکه دی ہوں اور جس کی رغبت تيری بارگاہ ميں عظيم ہو ،خدایا! تيری سلطنت عظيم،تيری منزلت بلند،تيری تدبير مخفی،تيرا امی ظاہر،تيرا قہر غالب ، اور تيری قدرت نافذ ہے اور تيری حکومت سے فرار نا ممکن ہے ۔۔۔خدایا ميرے گناہوں کے لئے بخشنے والا۔ميرے عيوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا ، ميرے قبيح اعمال کو نيکيوں ميں تبدیل کرنے والا تيرے علاوہ کوئی نہيں ہے۔۔خدایا ميں نے اپنے نفس پر ظلم کيا ہے،اپنی جہالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بيڻها ہوں کہ تونے مجھے ہميشہ یا د رکها ہے

اور ہميشہ احسان فرمایا ہے ۔۔۔خدایا ميری مصيبت عظيم ہے ۔ميری بدحالی حد سے آگے بڑهی ہوئی ہے ۔ميرے اعمال ميں کوتاہی ہے ۔ مجھے کمزوریوں کی زنجيروں نے جکڑکر بڻها دیا ہے اور مجھے دور دراز اميدوں نے فوائد سے روک دیا ہے، دنيا نے دهوکہ ميں مبتلا رکها ہے اور نفس نے خيانت اور ڻال مڻول ميں مبتلا رکها ہے ۔۔۔ميرے آقا و مولا!تجهے تيری عزت کا واسطہ ۔ميری دعاوں کو ميری بد اعمالياں روکنے نہ پائيں اور ميں اپنے مخفی عيوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاوں ” یہ قاع عبودیت اور اس پر محيط برائيوں کا مخزن ہے۔ پھر دعا کے آخر ميں ہم محبت کی اس بلندی تک پہونچتے ہيں جو بندہ کی آرزو اور الله کی وسيع رحمت کے

سایہ ميں اس کی عظيم آرزو کومجسم کرتی ہے :


وَهَب لِیَ الجِْدَّ فِی خَشيَْتِکَ وَالدَّوَامَ فِی الاِتِّصَالِ بِخِدمَْتِکَ حَتّ یٰ اَسرَْحَ اِلَيکَْ فِی مَيَادِینِْ السَّابِقِينَْ وَاُسرِْعَ اِلَيکَْ فِی البَْارِزِینَْ واشتَْاقَ اِل یٰ قُربِْکَ فِی المُْشتَْاقِينَْ وَادنُْوَمِنکَْ دُنُوَّالمُْخلِْصِينَْ وَاَخَافَکَ مَخَافَةَ المُْوقِْنِينَْ وَاجتَْمِعَ فِی جَوَارِکَ مَعَ المُْومِْنِينَْ اللهم وَمَن اَرَادَنِی بِسُوءٍ فَاَرِدهُْ وَمَن کَادَنِی فَکِدهُْ وَاجعَْلنِْی مِن اَحسَْنِ عَبِيدِْکَ نَصِيبْاًعِندَْکَ وَاَقرَْبِهِم مَنزِْلَةً مِنکَْ وَاَخَصِّهِم زُلفَْةً لَدَیکَْ فَاِنَّهُ لَایُنَالُ ذَلِکَ اِلَّابِفَظلِْکَ ( ١)

“اپنا خوف پيدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تيری طرف سابقين کے ساته آگے بڑهوں اور تيز رفتار افراد کے ساته قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقين کے درميان تيرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصين کی طرح تيری قربت اختيار کروں ۔۔۔خدایا جو بهی کوئی ميرے لئے برائی چاہے یا ميرے ساته کوئی چال چلے تو اسے ویساہی بدلہ دینا اور مجھے بہترین

____________________

١)دعا ئے کميل )


حصہ پانے والا ،قریب ترین منزلت رکهنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تيرے جود وکرم کے بغير نہيں ہو سکتا ” ہم ابو حمزہ ثما لی سے حضرت امام زین العا بدین عليہ السلام سے مروی ماہ رمضان المبارک کی دعائے اسحار ميں “قاع ”اور “قمّہ ”کے مابين بہت زیادہ فا صلہ کا مشا ہدہ کرتے ہيں اس دعا ميں امام عليہ السلام “قاع ” سے شروع فر ماتے ہيں :

وَمَااَنَایَارَبِّ وَمَاخَطَرِی هَبنِْی بِفَضلِْکَ وَتَصَدَّقَ عَلَیَّ بِعَفوِْکَ اَی رَبِّ جَلِّلنِْی بِسِترِْکَ وَاعفُْ عَن تَوبِْيخِْی بِکَرَمِ وَجهِْکَ

“اے ميرے خدا ميں کيا اور ميری اوقات کيا ؟ تومجه کو اپنے فضل وکرم و مغفرت سے بخش دے اے ميرے خدا اپنی پردہ پوشی سے مجھے عزت دے اوراپنے کرم سے ميری تنبيہ کونظرانداز گنا ہ فرمادے ”

فَلَاتُحرِْقنِْي بِالنَّارِوَاَنتَْ مَوضِْعُ اَمَلِي وَلَاتُسکِْنِّي الهَْاوِیَةَ فَاِنَّکَ قُرَّةُ عَينِي ْ اِرحَْم فِي هٰذِهِ الدُّنيَْاغُربَْتِي وَعِندَْ المَْوتَْ کُربَْتِي وَفِي القَْبرِْوَحدَْتِي وَفِي اللَّحدِْوَحشَْتِي وَاِذَانُشِرَت فِي الحِْسَابِ بَينَْ یَدَیکَْ ذُلَّ مَوقِْفِي وَاغفِْرلِْي مَاخَفِيَ عَل یٰ الاْ دَٰٴمِيِّينَْ مِن عَمَلِي وَاَدِم لِی مَابِهِ سَتَرتَْنِي وَارحَْمنْي صَرِیعْاًعَل یٰ الفِْرَاشِ تُقَلِّبُنِي اَیدِْي اَحِبَّتِي وَتُفَضَّل عَلَيَّ مَمدُْودْاًعَل یٰ المُْغتَْسَلِ یُقَلِّبُنِي صَالِحُ جِيرَْتِي وَتَحَنَّن عَلَیَّ مَحمُْولْاًقَد تَنَاوُلَ الاَْقرِْبَاءُ اَطرَْا فَ جَنَازَتِي وَجُد عَلَيَّ مَنقُْولْاًقَدنَْزَلتُْ بِکَ وَحِيدْاً فِی حُفرَْتِي

“تو مجه کو ایسے حالات ميں جہنم ميں جلانہ د ینا اورقعر جہنم ميںڈال نہ دینا کيونکہ تو ہماری آنکهوں کی ڻھنڈک ہے۔۔۔ اس دنيا ميں ميری غربت اور موت کے وقت ميرے کرب ،قبرميں ميری تنہائی اور لحد ميں ميری وحشت اور وقت حساب ميری ذلت پر رحم کرنا ،اور ميرے تمام گناہوں کو معاف کر دےنا جن کی لوگوں کواطلاع بهی نہيں ہے اور اس پردہ داری کو برقراررکهنا۔ پروردگار!اس وقت ميرے حال پر رحم کرنا جب ميںبستر مرگ پر ہوں اور احباب کروڻيںبدلوارہے ہوں اس وقت رحم کرنا جب ميں تختہ غسل پرہوں اور ہمسایہ کے نيک افراد مجه کو غسل دے رہے ہوں اس وقت رحم کرنا جب تابوت ميں اقرباء کے کاندهوںپرسوار ہوں اس وقت مہربانی کرنا جب ميں تنہا قبر ميں وارد ہوں ”


اس کے بعد امام عليہ السلام مر حلہ او لواالعزمی اور قمہ دعا کے سلسلہ ميں فر ما تے ہيں :

اللهم اِنِّي اَسالُکَ مِن خَيرِْمَاسَالَکَ مِنهُْ عِبَادُکَ الصَّالِحُونَْ یَاخَيرَْمَن سُئِلَ وَاَجوَْدَمَن اَعطْ یٰ اَعطِْنِي سُولِْي فِي نَفسِْي وَاَهلِْي وَوَلَدِي،ْوَارغَْدعَْيشِْي،ْ وَاَظهِْرمُْرُوَّتِي،ْوَاَصلِْح جَمِيعَْ اَحوَْالِي،ْوَاجعَْلنِْي اَطَلتَْ عُمرُْهُ وَحَسَّنتَْ عَمَلَهُ وَاَتمَْمتَْ عَلَيهِْ نِعمَْتَکَ وَرَضِيتَْ عَنهُْ وَاَحيَْيتَْهُ حَ وٰيةً طَيِّبَةً اللهم خَصَّنِي بِخَاصَّةِ ذِکرِْکَ وَاجعَْلنِْي مِن اَوفَْرِعِبَادَکَ نَصِيبْاًعِندَْکَ فِي کُلِّ خَيرٍْاَنزَْلتَْهُ وَتُنزِْلُهُ

“اے خدا ميں تجه سے وہ سب کچه مانگ رہا ہوں جو بندگان صالحين نے مانگا ہے کہ تو بہترین مسئول اور سخی ترین عطا کرنے والا ہے ميری د عا کو ميرے نفس، ميرے اہل و عيال ،ميرے والدین ،ميری اولاد،متعلقين اور برا دران سب کے با رے ميں قبول فرما، ميری زندگی کو خو شگوار بنا مروت کو واضح فرماکر ميرے تمام حالات کی اصلاح فرما مجھے طولا نی عمر،نيک عمل،کامل نعمت اور پسندیدہ بندوں کی مصاحبت عطا فرما ۔۔۔خدا یا! مجھے اپنے ذکر خاص سے مخصوص کردے ۔۔اور ميرے لئے اپنے بندوں ميں ہر نيکی ميں جس کو تو نے نا زل کيا ہے اور جس کو تو نا زل کرتا ہے سب سے زیادہ حصہ قرار دے ’

اس “قاع ”سے “قمہ ”تک کے سفر کو انسان کے الله تک سفر کی تعبير سے یاد کيا گيا ہے یہ سواری آرزو ، اميد اور اولواالعزمی ہے جب انسان کی آرزو ،رجاء (اميد)اور او لواالعزمی الله سے ہو تو اس سفر کی کو ئی حد نہيں ہے ۔


تين وسيلے

حضرت علی بن الحسين زین العابدین عليہ السلام تين چيزوں کوخداوند عالم تک پہنچنے کا وسيلہ قرار دیتے ہيں اور الله نے ہم کو اس تک پہنچنے کےلئے وسيلے تلاش کرنے کا حکم دیاہے ارشادخداوندعالم ہے :( یَااَیُّهَاالَّذِینَْ آمَنُواْاتَّقُواْالله وَابتَْغُواْاِلَيهِْ الوَْسِيلَْة ) ( ١)

“اے ایمان والو الله سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسيلہ تلاش کرو ”( اُو ئِٰلکَ الَّذِینَْ یَدعُْونَْ یَبتَْغُونَْ اِ لٰ ی رَبِّهِمُ الوَْسِيلَْةَ ) ( ٢)

“یہ جن کو خدا سمجه کر پکارتے ہيں وہ خود ہی اپنے پروردگار کے لئے وسيلہ تلاش کر رہے ہيں ”

جن وسائل سے امام عليہ السلام اس سفر ميں متوسل ہوئے ہيں وہ حاجت سوال اور محبت ہيں امام عليہ السلام کا کيا کہنا آپ دعا کی کتنی بہترین تعليم دینے والے ہيں ۔ وہ یہ جانتے ہيں کہ اُنهيں الله سے کياطلب کرنا چاہئے ،اور کيسے طلب کرنا چاہئے اور الله کی رحمت کے مواقع کہاں ہيں :

پہلا وسيلہ :حاجت

حاجت بذات خودالله کی رحمت کی ایک منزل ہے بيشک خداوندعالم کریم ہے وہ اپنی مخلوق یہاں تک کہ حيوان اور نباتات پر ان کی ضرورت کے مطابق بغير کسی سوال کے اپنی رحمت نازل کر تا ہے اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ خداسے طلب اور سوال نہيں کرنا چاہئے اس لئے کہ حاجت کے پہلوميں سوال اور طلب الله کی رحمت کے دروازوں ميں سے ایک دوسرا دروازہ ہے ۔جب لوگ پياس کا احساس کر تے ہيں تو خداوندعالم ان کو سيراب کرتا ہے جب ان کو بهوک لگتی ہے تو خداوندعالم

____________________

١)سورئہ مائدہ آیت / ٣۵ ۔ )

٢)سورئہ اسراء آیت ۵٧ ۔ )


انکو کها نا دیتا ہے اور جب وہ برہنہ ہو تے ہيں تو خداوندعالم ان کو کپڑا عطا کر تا ہے :( وَاِذَامَرِضتُْ فَهُوَیَشفِْينِْ ) ( ١)

“اور جب بيمار ہو جاتا ہوں تو وہی شفا بهی دیتا ہے ” یہاں تک کہ اگر ان کو خداکی معرفت نہ ہو وہ یہ بهی نہ جانتے ہوں کہ کيسے الله سے دعا کرنا چاہئے اور اس سے کيا طلب کرنا چاہئے :یامَن یُعطي من سئاله یامن یعطي من لم یساله ومَن لم یعرفه تحنُّنامنه ورحمة ( ٢)

“اے وہ خدا جو اپنے تمام سائلوںکودیتا ہے اے وہ خدا جو اسے بهی دیتا ہے جو سوال نہيں کرتاہے بلکہ اسے پہچا نتابهی نہيں ہے ” ہم حضرت امير المومنين علی بن ابی طالب کی مناجات ميں الله کی رحمت نازل کرنے کے لئے اس عمدہ اور رباّنی نکتہ کی طرف متوجہ ہوتے ہيں :

مولايَ یامولاي انت المولیٰ واناالعبد،وهل یرحم العبدالاالمولیٰ مولايَ یامولاي انت المالک واناالمملوک،وهل یرحم المملوک الاالمالک مولایَ یامولایَ انت العزیزواناالذليل وهل یرحم الذليل الاالعزیزمولايَ یامولاي انت الخالق واناالمخلوق،وهل یرحم المخلوق الاالخالق مولايَ یامولايَ انت العظيم واناالحقير،وهل یرحم الحقيرالاالعظيم،مولايَ یامولايَ انت القوي واناالضعيف،وهل یرحم الضعيف الاالقوی مولايَ یامولايَ انت الغنيّ واناالفقير،وهل یرحم الفقيرالاالغنيّ مولايَ یامولايانت المعطي واناالسائل،

____________________

١)شعراء آیت / ٨٠ ۔ )

٢)رجب کے مہينہ کی دعائيں ۔ )


وهل یرحم السائل الاالمعطي،مولايَ یامولاي انت الحي واناالميت،وهل یرحم الميت الاالحي مولايَ یامولايَ انت الباقي واناالفاني،وهل یرحم الفاني الاالباقي مولايَ یامولايَ انت الدائم واناالزائل،وهل یرحم الزائل الاالدائم مولايَ یامولاي انت الرازق واناالمرزوق،وهل یرحم المرزوق الاالرازق مولايَ یامولايَ انت الجوادواناالبخيل وهل یرحم البخيل الاالجواد مولايَ یامولاي انت المعافي واناالمتلیٰ،وهل یرحم المبتلیٰ الاالمعافي مولايَ یامولايَ انت الکبير واناالصغير،وهل یرحم الصغيرالّاالکبير مولايَ یامولايانت الهادی وانا الضال،وهل یرحم الضال الاالهادی مولايَ یامولايَ انت الغفوروانا المذنب،وهل یرحم المذنب الاالغفور مولايَ یامولايَ انت الغالب واناالمغلوب، وهل یرحم المغلوب الاالغالب مولايَ یامولايَ انت الرب واناالمربوب،وهل یرحم المربوب الاالرب مولايَ یامولايَ انت المتکبرواناالخاشع،وهل یرحم الخاشع الاالمتکبر مولايَ یامولاي ارحمنی برحمتک،وارض عنی بجودک و کرمک وفضلک یاذاالجودوالاحسان، والطول والامتنان (ا)

“اے ميرے مو لا تو مو لا ہے اور ميںتيرا بندہ۔ اب بندہ پر مو لا کے علا وہ کون رحم کرے گا۔ اے ميرے مو لا اے ميرے مالک تومالک ہے اور ميں مملوک اور مملوک پرمالک کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ ميرے مو لا اے ميرے مولا توعزیزہے ا ور ميں ذليل ہوں اور ذليل پر عزیز کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ ميرے مو لا اے ميرے مو لاتوخالق ہے اور ميں مخلوق ہوں اور مخلوق پر خالق کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ ميرے مو لا اے ميرے مو لا توعظيم ہے اور ميں حقير ہوں اور حقير پر عظيم کے علاوہ

____________________

١)مفاتح الجنان اعمال مسجد کوفہ مناجت اميرالمو منين عليہ السلام ۔ )


کون رحم کرے گا ۔ ميرے مو لا اے ميرے مو لا توقوی ہے اور ميں کمزور ہوں اور کمزور پر طاقتور کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توغنی ہے اور ميں فقير ہوں اور فقير پر غنی کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ ميرے مو لا اے ميرے مو لا تومعطی ہے اور ميں سائل ہوں اور سائل پر معطی کے علاوہ کون رحم کرے گا۔اے ميرے مو لا ميرے مو لا تو زندہ ہے اور ميں مرنے والا ہوں اور مر نے والے پر زندہ کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ ميرے مو لا ميرے مو لا تو باقی ہے اور ميں فانی ہوں اور فانی پر باقی کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ اے ميرے مو لا ميرے مو لا توہميشہ رہنے والا ہے اور ميں مڻنے والا ہوں اور مڻنے والے پر رہنے والے کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا ميرے مو لا تورازق ہے اور ميں محتاج رزق ہوں اور محتاج پر رازق کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توجواد ہے اور ميں بخيل ہوں اور بخيل پر جواد کے علاوہ کون رحم کرے گا ؟ميرے مو لااے ميرے مو لا توعافيت دینے والا ہے اور ميں مبتلا ہوں اور درد بتلاپر عافيت دینے والے کے علاوہ کون رحم کرسکتاہے۔

ميرے مو لا اے ميرے مو لا توکبير ہے اور ميں صغيرہوں اور صغير پر کبيرکے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توہادی ہے اور ميں گمرا ہ ہوں اور گمراہ پر ہادی کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا تورحمن ہے اور ميں قابل رحم ہوں اور قابل رحم پر رحمان کے علاوہ کون رحم کرے گا۔ ميرے مو لا اے ميرے مو لا توبادشاہ ہے اور ميں منزل امتحان ميں ہوں اور ایسے بندئہ امتحان پر بادشاہ کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توراہنما ہے اور ميں سر گرداں ہوں اور کيا سر گرداں پر راہنما کے علاوہ اور کو ن رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توبخشنے والا ہے اور ميں گناہگار ہوں اور گنا ہگار پر بخشنے والے کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توغالب ہے اور ميں مغلوب ہوں اور مغلوب پر غالب کے علاوہ اور کو ن رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا تورب ہے اور ميں مربوب ہوں اور پرورش پانے والے رب


کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لا توصاحب کبریا ئی ہے اور ميںبندئہ ذليل ہوں اوربندئہ ذليل پرخدائے کبير کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ميرے مو لا اے ميرے مو لاتو اپنی رحمت سے مجه پر رحم فرما اور اپنے جود و کرم و فضل سے مجه سے راضی ہو جا اے صاحب جود و احسان اور اے صاحب کرم و امتنان ” حضرت اميرالمو منين عليہ السلام اس بہترین مناجات کے ان جملوں ميں اللهتبارک وتعالیٰ سے اپنی حاجت اور فقرکےلئے متوسل ہوتے ہيں اور بندہ کی حاجت اور اس کے فقرکو الله کی رحمت نازل ہونے کا موردقرار دیتے ہيں ۔

بيشک مخلوق الله کی رحمت نازل کرانا چاہتی ہے حقير عظيم کی رحمت نازل کرانا چاہتا ہے ضعيف قوی کی فقير غنی کی مرزوق رازق کی،مبتلامعافی کی، گمراہ ہادی کی ،گنا ہگار غفورکی ،حيران وسرگردان، دليل اور مغلوب غالب کی رحمت کی رحمت نازل ہونے کے خواستگارہيں۔

یہ الله کی تکوینی سنتيں ہيں اور الله کی سنتوں ميں ہرگز تبدیلی نہيں آسکتی جب حاجت اور فقر ہو گا تو ان موقفوں کےلئے الله کی رحمت اور فضل ہوگا جس طرح پا نی نيچی جگہ پر گرتا ہے الله کی رحمت حاجت وضرورت کے مقام پر نازل ہوتی ہے الله کریم وجوادہے اور کریم حاجت وضرورت کے مقامات کی رعایت کرتاہے اور اپنی رحمت اس سے مخصوص کردیتا ہے ۔

حضرت امام زین العابدین عليہ السلام دعائے سحرميں جس کو آپ نے ابو حمزہ ثمالی کو تعليم فرمایا تھا ميں فرما تے ہيں :اعطني فقري،وارحمني لضعفي یعنی آپ نے فقر اور ضعف کو وسيلہ قرار دیا ہے اور انهيں کے ذریعہ آپ الله کی رحمت سے متوسّل ہو تے ہيں ۔

یہ فطری بات ہے کہ اس کلا م کو مطلق قرار دینا ممکن نہيں ہے اور ایک ہی طریقہ ميں منحصر نہيں کيا جا سکتا ہے بيشک الله کی رحمت نازل ہونے کے دوسرے اسباب بهی ہيں اور دوسرے موانع و رکاوڻيں بهی ہيں جن سے الله کی رحمت نازل نہيں ہوتی اور الله کی سنتوں ميں مبتلاہونے کا سبب بهی ہيں ۔ ہمارا یہ کہنا ہے :بيشک حاجت اور فقر کی وجہ سے الله کی رحمت نازل ہوتی ہے تو ہمارے لئے اس گفتار کو اس الٰہی نظام کے مطابق اور اس کے دائرہ ميںرہنا چاہئے اور یہ معرفت کا وسيع باب ہے جس کو ہم اس وقت چهيڑنا نہيں چاہتے ہيںعنقریب ہم توفيق پروردگار کے ذریعہ اس حقيقت کی مناسب یا ضروری تشریح کریں گے ۔


ہم قرآن کریم ميں بہت سے ایسے نمونے دیکهتے ہيں جن ميں حاجت اور فقر کو پيش کيا گيا ہے اور ان کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہوئی ہے اور اللهنے ان کو قبوليت کے درجہ تک پہنچایا ہے حاجت بهی اُسی طرح قبول ہوتی ہے جس طرح سے دعا اور سوال قبول ہوتے ہيں بيشک خداوندعالم کی بارگاہ ميں اپنی حاجت پيش کرنا بهی دعا کی ایک قسم ہے ان نمو نوں کو قرآن کریم نے الله کے صالحين بندوں کی زبانی نقل کيا ہے ۔

ا۔ عبد صالح حضرت ایوب عليہ السلام کا خداوندعالم کی بارگاہ ميں سختيوں اور مشکلات کے وقت اپنی حاجت پيش کرنا ۔

( وَاَیُّوبَ اِذنَْاد یٰ رَبَّهُ اَنِّی مَسَنِّیَ الضُُّرُّوَاَنتَْ اَرحَْمُ الرَّاحِمِينَْ فَاستَْجَبنَْا لَهُ فَکَشَفنَْامَابِهِ مِن ضُرٍّوَآتَينَْاهُ اَهلَْهُ وَمِثلَْهُم مَعَهُم رَحمَْةًمِن عِندِْنَاوَذِکرْ یٰ لِلعَْابدِینَْ ) (ا)

“اور ایوب کو یاد کرو جب انهوں نے اپنے پروردگار کو پکاراکہ مجھے بيماری نے چهوليا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرليا اور ان کی بيماری کو دور کردیا اور انهيں ان کے اہل وعيال دیدئے اور ویسے ہی اور بهی دیدئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تهی اور یہ

____________________

١)سورئہ انبياء آیت / ٨٣ ۔ ٨۴ ۔ )


عبادت گذار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے ” قرآن کریم اس فقرہ ميں کوئی بهی دعا نہيں کی گئی ہے جس کی قرآن کریم نے اس امتحان دینے والے صالح بندہ کی زبانی نقل کيا ہے ليکن خداوندعالم نے فرمایا ہے :

( فاستجبناله فکشفنامابه ضُرّ ) ( ١)

“ تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرليا اور ان کی بيماری کو دور کردیا ” گویا حاجت اور فقر کا خدا کی بارگاہ ميں پيش کرنا دعا کی ایک قسم ہے ۔ ٢۔عبد صالح ذوالنون نے اپنے فقر وحاجت اور اپنے نفس پر ظلم کرنے کو خدا کی بارگاہ ميں پيش کيا جب آپ سمندرميں شکم ماہی کے گهپ اندهيرے ميں تھے :

( وَذَاالنُّونِْ اِذذَْهَبَ مُغَاضِباًفَظَنَّ اَن لَن نَّقدِْرَعَلَيهِْ فَنَا دٰی فِی الظُّلُ مٰاتِ اَن لَااِ هٰلَ اِلَّااَنتَْ سُبحَْانَکَ اِنِّی کُنتُْ مِنَ الظَّالِمِينَْ فَاستَْجَبنَْالَهُ وَنَجَّينَْاهُ مِنَ الغَْمِّ وَ کَ لٰ ذِکَ نُنجِْی المُْومِْنِينَْ ) ( ٢)

“ اور یونس کو یاد کرو کہ جب وہ غصہ ميں آکرچلے اور یہ خيال کيا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکيوں ميں جاکر آوازدی کہ پروردگار تيرے علاوہ کوئی خدا نہيں ہے تو پاک وبے نياز ہے اور ميں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں ميں سے تهاتو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرليااور انهيں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان ایمان کو نجات دلاتے رہتے ہيں ”

اس طرح کی استجابت طلب کےلئے نہيں ہے یہ حاجت اور فقر کےلئے ہے (عبد صالح ذوالنون نے اس کلمہ :( سُبحَْانَکَ اِنِّی کُنتُْ مِنَ الظَّالِمِينَْ ) (٣)

____________________

١)سورئہ انبياء آیت ٨۴ ۔ )

٢)سورئہ انبياء آیت / ٨٧ ۔ ٨٨ ۔ )

٣)سورئہ انبياء آیت ٨٨ ۔ )


“ اور ميں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں ميں سے تها”کے علاوہ اور کچه نہيں کہا خدوندعالم نے اس کو قبول کيا اور ان کو غم سے نجات دی :( فَاستَْجَبنَْالَهُ ( وَنَجَّينَْاهُ مِنَ الغَْمِّ ) ( ١)

“تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرليااور انهيں غم سے نجات دلادی ” ٣۔ ہم کوقرآن کریم ميں الله،موسیٰ بن عمران اور ان کے بهائی ہارون کا یہ کلمہ بهی ملتا ہے جب انهوں نے فرعون تک اپنی رسالت کا پيغام پہنچا نے کےلئے الله سے دعاکی :

اِذهَْبَااِل یٰ فِرعَْونَْ اِنَّهُ طَغ یٰ فَقُولَْالَهُ قَولًْالَيِّناًلَعَلَّهُ یَتَذَکَّرُاَویَْخ شْٰی قَالَارَبَّنَااِنَّنَانَخَافُ اَن یَّفرُْطَ عَلَينَْااَواَْن یَّط غْٰی ( ٢)

“تم دونوں فر عون کی طرف جا ؤ کہ وہ سر کش ہو گيا ہے ،اس سے نر می سے بات کر نا شاید وہ نصيحت قبول کر لے یا خو فزدہ ہو جا ئے ،ان دونوں نے کہا کہ پر ور دگار ہميں یہ خوف ہے کہ کہيں وہہم پر زیا دتی نہ کرے یا اور سر کش نہ ہو جا ئے ”

ان دونوں نے الله سے فرعون اور اس کی بادشاہت کے مقابلہ ميں خداسے اپنی حمایت اور مدد کی درخواست نہيں کی اور نہ ہی اپنی ضرورت کےلئے امن وامان کی درخواست کی ہے بلکہ انهوں نے اپنی کمزوری، فرعون کی عوام الناس پر گرفت ،فرعون کی طاقت اور اس کی سرکشی کا تذکرہ کيا:

( اِنَّنَانَخَافُ اَن یَّفرُْطَ عَلَينَْااَواَْن یَّط غْٰیٰ )

“ان دونوں نے کہا کہ پر ور دگار ہميں یہ خوف ہے کہ کہيں وہ ہم پر زیا دتی نہ کرے یاوہ سر کش نہ ہو جا ئے ”

اللهنے ان کی اس درخواست کو مستجاب کرتے ہوئے ان کی حمایت اور تائيد ميں فرمایا :

____________________

١)سورئہ انبياء آیت ٨٧ ۔ )

٢)سورئہ طہ آیت ۴٣ ۔ ۴۵ ۔ )


( قَالَ لَاتَخَافَااِنَّنِی مَعَکُمَااَسمَْعُ وَاَر یٰ ) ( ١)

“ارشاد ہوا تم ڈرو نہيں ميں تمہارے ساته ہوں سب کچه سن بهی رہا ہوں اور دیکه بهی رہا ہوں”

۴ ۔چوتها نمونہ عبد صالح حضرت نوح عليہ السلام کا وہ کلمہ ہے جو آپ نے اپنے بيڻے کوطوفان ميں غرق ہونے سے بچانے کی خاطر الله کی بارگاہ ميں پيش کياتها :

وَنَادَ یٰ نُوحُْ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابنِْی مِن اَهلِْی وَ اِنَّ وَعَدَ کَ الحَْقُّ وَاَنتَْ اَحکَْمُ (الحَْاکِمِينَْ( ٢)

“اور نوح نے اپنے پروردگارکو پکاراکہ پروردگارميرا فرزندميرے اہل ميں سے ہے اور تيرا وعدہ اہل کو بچانے کا برحق ہے اور تو بہترین فيصلہ کرنے والا ہے ” بہر حال حاجت اور فقرکے وقت بهی الله کی رحمت نازل ہوتی ہے یہاں تک کہ حيوانات اورنباتات کی ضرورتوں اور فقر کےلئے بهی الله کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ جب پياس لگتی ہے توالله ان کو سيراب کرتا ہے اور جب بهوک لگتی ہے تو اللهان کو سيرکرتا ہے اور کهانا کهلاتا ہے یہ معرفت کا بہت وسيع وعریض باب ہے اور ہم اس کے ایک پہلو کو رحاب القرآن کے سلسلہ کی کتاب شرح الصدر ميں بيان کر چکے ہيں ۔

دوسرا وسيلہ :دعا

یہ الله کی رحمت کی کنجيوں ميں سے ایک کنجی ہے خداوندعالم فرماتا ہے :

ادعونی استجب لکم (٣)

____________________

١)سورئہ طہ آیت / ۴۶ ۔ )

٢)سورئہ ہودآیت/ ۴۵ ۔ )

٣)سورئہ غافر آیت ۶٠ ۔ )


“مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا” (اور خدا کا فرمان ہے:( قُل مَایَعبَْوابِکُم رَبِّي لَولَْادُعَاوکُم ) ( ١)

“پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعا ئيں نہ ہو تيں تو پرور دگار تمہاری پروا ہ بهی نہ کرتا ”

تيسرا وسيلہ :محبت

بيشک بندہ محبت کے ذریعہ الله کی رحمت نازل کراتاہے جو کسی دوسرے امرکے ذریعہ نازل نہيں ہوتی ہے

اب ہم ان تينوں وسيلوں کے سلسلہ ميں تفکر کرتے ہيں جن کو امام نے خداوندعالم تک رسائی کےلئے اپنا وسيلہ قراردیا ہے ۔رِضَاکَ بُغيَْتِي وَرُو یَتِکَ حَاجَتي وَعِندَْکَ دَوَاءُ عِلَّتِي وَشِفَاءُ غُلَّتِي وَبَردُْلَوعَْتِي وَکَشفُْ کُربَْتِي ( ٢)

“تيری ہی رضا ميرا آرزو ہے اور تيراہی دیدار ميری حا جت ہے اور تےرا ہی ہمسایہ ميرا مظلوب ہے تيرے پاس ميرے مرض کی دواہے اور ميری تشنگی کا علاج ہے غم کی بے قراری کی ڻھنڈک، رنج و غم کی دوری تيرے ہی ذمہ ہے ”یہ وسيلہ حاجت وفقر ہے ۔

جوارک طلبي وقربک غایة سو لي فکن انيسي في وحشتي ومقيل عثرتي وغافرزلّتي وقابل توبتي،ومجيب دعوتي ،وولي عصمتي ومغني فاقتي

“ اور تےرا ہی ہمسایہ ميرا مظلوب ہے اور تيرا قرب ميرے سوالات کی انتہا ہے ۔۔۔پس تو ميری وحشت ميں ميرا انيس، ہوجا لغزشوں ميں سنبهالنے والا خطاؤںکو معاف کرنے والا اور ميری

____________________

١)سورئہ فرقان آیت ٧٧ ۔ )

٢)مناجات مریدین )


توبہ کوقبول کرنے والا ،ميری دعا کاقبول کرنے والا ،ميری حفاظت کا ذمہ داراور فاقہ ميں غنی بنانے والاہے ”یہ وسيلہ دعا ہے ۔فانت لاغيرک مرادي،ولک لالسواک سهري وسهادي،ولقاء ک قرّة عيني ووصلک منیٰ نفسي واليک شوقي ،وفی محبّتک ولهي والی هواک صبابتي “فقط تو ميری مراد ہے اور تيرے ہی لئے ميں راتوں کو جاگتاہوں کسی اور کے لئے نہيں ۔ اور تيری ملاقات ميری آنکهوں کی ڻھنڈک ہے اور تيرا وصال ميرے نفس کی اميد ہے اورتيری جانب ميرا شوق ہے اور تيری ہی محبت ميں ميری بيقراری ہے تيری ہی خواہش کی طرف ميری توجہ ہے ”یہ وسيلہ محبت ہے۔ اب ہم امام کے کلام کے اس فقرہ کے بارے ميں غوروفکر کرتے ہيں اور یہ دعا کا عمدہ جملہ ہے بيشک فن اور ادب کے مانند دعا کے عمد ہ وبہترین درجہ ہيں امام عليہ السلام فرماتے ہيں:

فقدانقطعت اليک همتي وانصرفت نحوک رغبتي،فانت لاغيرک مرادی،ولک لاسواک سهری وسها دی ولقا ء ک قره عينی

“اس لئے کہ ميری ہمت تيری ہی طرف ہے اور ميری رغبت تيری ہی بارگاہ کی طرف ہے فقط تو ميری مراد ہے اور تيرے ہی لئے ميں راتوں کو جاگتا ہوںکسی اور کے لئے نہيں تيری ملاقات ميری آنکهوں کی ڻنهڈک ہے ” جو چيز“انقطاع ”ميں ہے وہ “تعلق”ميں نہيں ہے امام عليہ السلام نے فرمایا ہے:

فقدتعلقت بک همتي نہيں فرمایا ہے بيشک الله سے لولگانا دوسروں سے لولگانے کو منع نہيں کرتا ہے ۔جب بندہ خدا سے لولگانے ميں صادق ہے اور یہ کہتا ہے :

فقدانقطعت اليک همتي بيشک “انقطاع”ایجابی اور سلبی دونوں معنی کا متضمن ہے ۔ پس انقطاع“من الخلق الی الله”،انقطاع“الی الله”اس جملہ کے ایجابی معنی ہيں جن کاامام نے قصد فرمایا ہے۔

بيشک محبت ميں اخلاص فصل اور وصل ہے فصل یعنی الله کے علاوہ دوسروں سے فاصلہ و دوری اختيار کرنا ،الله اورا لله نے جن کی محبت کا حکم دیا ہے ان سے وصل (ملنا)ہے اور یہ دونوں ایک قضيہ کے دو رخ ہيں۔


جب محبت خالص اور پاک وصاف ہوتی ہے تو وہ دو باتوں کی متضمن ہوتی ہے:محبت و برائت ،اور وصل وفصل وانقطاع من الخلق “الی الله”ہے۔ یہی معنی دوسرے جملے “وانصرفت اليک رغبتی”کے بهی ہيں۔

انصراف الی الله سے “اعراض ”اور “اقبال”دونوں مراد ہيں ۔اعراض یعنی الله کے علاوہ دوسروں سے روگردانی کرنا اور “اقبال ”سے مراد الله ا ور الله نے جس سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ان کی بارگاہ ميں حاضر ہونا ہے ۔

پهراس حقيقت کےلئے تيسری تاکيد جو ان سب ميں بليغ ہے ،اس ميں محبت اور انصراف الی الله کے معنی کو شامل ہے اور خدا کے علاوہ دوسروں سے منقطع ہونا ہے:

فانت لاغيرک مرادي ولک لالسواک سهوي وسهادي “سهو”اور“ سهاد ”نيند کے برعکس ہيں سہر یعنی محبت کی وجہ سے رات ميں نماز یںپڑهنا ۔ سهاد:بيداری کی ایک قسم ہے اور یہ حالت انسان کو اپنے کسی اہم کام ميں مشغول ہونے کے وقت پيش آتی ہے جس سے اس کی نيند اڑجاتی ہے اور انسان الله سے لولگانے کا مشتاق ہوتا ہے۔

یہ دونوں محبت کی حالتےں ایک دوسرے کے مثل ہيں :انس اور شوق ۔بندہ کا الله کے ذکر سے مانوس ہونا ،اور الله کا بندہ کے پاس اس طرح حاضر ہونا کہ بندہ اپنی دعا،ذکر، مناجات اور نماز ميں خدا کے حاضر ہونے کا احساس کرتا ہے اور الله سے ملاقات کا مشتاق ہوتا ہے۔

محب الله کی بارگاہ ميں ان دونوں باتوں کو سمجه کر حاضر ہوتا ہے تو یہ دونوں حالتےں اسکی نيند اڑا دیتی ہيں اس کوبيدار کر دیتی ہيں جب لوگ گہری نيند ميں سوجاتے ہيں اور نيند کی وجہ سے اپنے احساس بيداری اور شعور کو کهو بيڻهتے ہيں ۔

بيشک نيند ایک ضرورت ہے تمام لوگ اس سے اپنا حصہ اخذ کرتے ہيں جس طرح وہ کهانے پينے سے اپنی ضرورتےں پوری کرتے ہيں چاہے وہ لوگ صالح و نيک ہوں یا برے ہوں ۔یہاں تک کہ انبياء اور صدیقين بهی سوتے تھے ۔ ليکن ایک شخص جوضرورت بهر سوتا ہے جس طرح وہ کهانے پينے سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو شخص نيند کے سامنے سر تسليم خم کردیتا ہے اور نيند اس پر غالب آجاتی ہے ان دونوں آدميوں کے درميان فرق ہے۔ اولياء الله نيند کے سامنے سر تسليم خم نہيں کرتے ہيںبيشک نيند ان کی ضرورت ہے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس سے اپنا حصہ اخذ کرتے ہيں ۔رسول الله (ص)بهی خداوند عالم کی بارگاہ ميں حاضر ہونے کے بعد ہی سوتے تھے اور آپ کا فرمان تھا کہ ميرے سر کے پاس وضو کاپانی رکه دیناتاکہ ميں خدا کی بارگاہ ميں حاضری دے سکوں۔


جب آپ کےلئے نرم اور آرام وہ بستر بچهایا جاتا تھا تو آپ اسکو اڻهانے کا حکم دیدتے تھے اس لئے کہ کہيں ان پر نيندغالب نہ آجائے ۔

آپ سخت چڻائی پر آرام فرماتے تھے یہاں تا کہ چڻائی ان کے پہلوپر اثر انداز ہو اور آپ پر نيند غالب نہ آجائے۔

خداوند عالم نے رات ميں مناجات ،ذکر اور اپنے تقرب کے وہ خزانے قرار دئے ہيں جو دن ميں نہيں قرار دئے ہيں۔ان کی طرح رات کے لئے بهی افراد ہيں جو رات ميں نماز ےں پڑهتے ہيں جب لوگ سوجاتے ہيں ،جب لوگ سستی ميں پڑے رہتے ہيں تو یہ ہشاش بشاش ہو تے ہيں۔ جب لوگ اپنے بستروں پر گہری نيند ميں سوئے رہتے ہيں۔تو یہ الله سے ملاقات کرکے عروج پر پہنچتے ہيں ۔

رات کےلئے بهی دولت ہے جس طرح دن کےلئے دولت ہے ،رات ميں بهی دن کی طرح خزانے ہيں۔عوام الناس دن کی دولت ،اسکے خزانے کو پہچانتے ہيں ليکن بہت کم لوگ ہيں جو رات کی دولت اور اسکے خزانے کی قيمت سے واقف ہيں اور جب انسان رات اور دن کی دولت سے ایک ساته بہرہ مند ہوتا ہے تو اسے انصاف پسند،متوازن اور راشد کہاجاتا ہے ۔

رسول الله ایک ساته دونوں سے بہرہ مندہوتے تھے اور بالکل متوازن طورپر دونوں کو اخذ کئے ہوئے تھے ۔آپ نے رات سے محبت،اخلاص اور ذکر اخذ کيااور دن سے طاقت، حکومت اور مال اخذ کيا تاکہ دین کی دعوت اور اسکے محکم ومضبوط ہونے پر متمکن ہوجائيں اور رات ميں آپ معين وقت پر عبادت کيلئے اڻهتے تھے اور رسالت جيسے ثقيل وسنگين عہدے کو اڻهانے پر متمکن تھے :

یَااَیُّهَاالمُْزِّ مِّل قُمِ اللَّيلَْ اِلَّاقَلِيلْاً نِصفَْهُ اَوِنقُْص مِنهُْ قَلِيلْاً اَوزِْد عَلَيهِْ وَرَتِّلِ القُْرآْنَ تَرتِْيلْاً اِنَّاسَنُلقِْی عَلَيکَْ قَولْاًثَقِيلْاً اِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيلِْ هِیَ اَشَدُّوَطاًْوَّاَقوَْمُ قِيلْاً اِنَّ لَکَ فِی النَّهَارِ سَبحْاً طَوِیلْاً ( ١)

“اے ميرے چادر لپيڻنے والے رات کو اڻهو مگر ذرا کم آدهی رات یا اس سے بهی کچه کم کردو یا کچه زیادہ کرو اور قرآن کو ڻهہر ڻهہر کر با قا عدہ پڑهو ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگين حکم نا زل کرنے والے ہيں بيشک رات کا اڻھنا نفس کی پامالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے یقيناً آپ کے لئے دن ميں بہت سے مشغوليات ہيں ”

____________________

١)سورئہ مزمل آیت / ١۔ ٧۔ )


اور ہمارے لئے اس مقام پر رات اور اسکے رجال کے سلسلہ ميں حدیث قدسی سے ایک روایت کا نقل کرنا بہتر ہے۔

روایت ميں آیا ہے کہ خداوند عالم نے بعض صدیقين پر وحی نازل کی ہے:

انلي عبادمن عبادي یحبّونی فاحبّهم ویشتاقون الی واشتاق اليهم و یذکروني واذکرهم وینظرون اليَّ وانظراليهم وان حذوت طریقهم احببتُک وان عدلت منهم مقتّک قال:یاربّ وماعلا متهم ؟قال:یراعون الظلال بالنهارکمایراعي الراعي الشفيق غنمه،ویحنّون الیٰ غروب الشمس کمایحنّ الطيرالیٰ وکره عند الغروب،فاذاجنّهم الليل واختلط الظلام ،وفرشت الفرش،ونصبت الا سرة وخلا کلّ حبيب بحبيبه نصبوااليّ اقدامهم وافترشواليّ وجوههم،وناجونی بکلامي،وعلقوااليّ بانغامي فمن صارخ وباک ،وَمتاوَّهٍ شاکٍ،ومن قائم وقاعد وراکع وساجد بعيني مایتحملون من اجلي،وبسمعي مایشکون من حبّي اول مااعطيهم ثلاث:

١ اقذف من نوري في قلوبهم فيخبرون عنّي کمااخبرعنهم

٢ والثانية:لوکانت السماوات والارض فی موازینهم لاستقللتهالهم

٣ والثالثة:اُقبل بوجهي اليهم،افتریٰ من اقبلت بوجهی عليه یعلم احد (مااریداعطيه ؟( ١)

“ميرے کچه بندے مجه سے محبت کرتے ہيں اور ميں ان سے محبت کرتا ہوں ،وہ ميرے مشتاق ہيں اور ميں ان کا مشتاق ہوں وہ ميرا ذکر کرتے ہيں ميں ان ذکر کرتا ہوں وہ مجھے دیکهتے

____________________

١)لقاء الله ص ٠۴ ا۔ )


ہيں اور ميں ان کو دیکهتا ہوں اگر تم بهی انهيں کا طریقہ اپناؤ گے تو ميں تم سے بهی محبت کرونگا اور اگر اس سے رو گردانی کروگے تو تم سے ناراض ہو جاؤنگا ۔سوال کيا گيا پروردگار عالم ان کی پہچان کيا ہے؟ آواز آئی کہ وہ دن ميں اپنے سایہ تک کی اس طرح مراعات کرتے ہيں کہ جيسے کو ئی مہربان چوپان اپنے گلّہ کی ،اور وہ غروب شمس کے اسی طرح مشتاق رہتے ہيں جيسے پرندہ غروب کے وقت اپنے آشيانہ ميں پہنچنے کے مشتاق رہتے ہيں پس جب رات ہو تی ہے اور ہر طرف اندهيرا چها جاتا ہے بستر بچه جاتے ہيں پلنگ بچهادئے جا تے ہيں ہر حبيب اپنے محبوب کے پاس خلوت ميں چلا جاتا ہے تو وہ اپنے قدم ميری طرف بڑها دیتے ہيں ميری طرف اپنے رخ کر ليتے ہيں ميرے کلام کے ذریعہ مجه سے مناجات کرتے ہيں نيز منظوم کلام کے ذریعہ ميری طرف متوجہ ہو جاتے ہيں تو کتنے ہيں جو چيخ چيخ کر روتے ہيں ،کتنے ہيں جو آہ اور شکوہ کرتے ہيں ،کتنے ہيں جو کهڑے رہتے ہيں ،کتنے ہيں جو بيڻهے رہتے ہيں ،رکوع کرتے رہتے ہيں سجدہ کرتے رہتے ہيں ميں دیکهنا چا ہتا ہوں کہ وہ ميری خاطر کيا کيا برداشت کرتے رہتے ہيں ميں سنتا رہتا ہوں جو وہ ميری ميری محبت کی خاطر پيش آنے والی مشکلات کا شکوہ کرتے ہيں ميں سب سے پہلے ان کو تين چيزیں عطا کرونگا :

١۔ميں ان کے دلوں ميں اپنا نور ڈال دونگا تو وہ ميرے بارے ميں اسی طرح بتائيں گے جيسے ميں ان کے با رے ميں بتا ؤنگا ۔

٢۔اگر آسمان و زمين ان کی ترازؤوں ميں ہو تو ميں ان کے لئے آسمان و زمين کا وزن بهی کم کر دونگا۔

٣۔ميں ان کی طرف توجہ کرونگا اور جس کی طرف ميں اپنا رخ کرلوں تو کسی کو کيا معلوم ميں اسے کيا دیدونگا ”

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے مروی ہے:


کان ممااوحیٰ الله تعالی الی موسی بن عمران:کذّب مَن زعم انه یحبّني فاذاجنّه الليل نام عنّي،یابن عمران،لورایت الذین یقومون لي في الدجیٰ وقد مثلت نفسيبين اعينهم،یخاطبوني وقدجللت عن المشاهدة،ویکلموني وقد عززت عن الحضور یابن عمران،هب لي من عينک الدموع،ومن قلبک الخشوع،ثم ادعني في ظلمة اللَّيالي تجدني قریبامجيبا ( ١)

“خداوند عالم نے حضرت مو سیٰ بن عمران سے کہا کہ :جو شخص رات ميں مجه سے راز و نياز نہيں کرتا وہ ميرا محب نہيں ،فرزند عمران اگر تم ان افراد کو دیکهوگے کہ جو تاریکی شب ميں ميری بارگاہ ميں آتے ہيں اور ميں ان کی آنکهوں کے سامنے ہوتا ہوں تووہ مجه سے مخاطب ہوتے ہيں جبکہ ميں نظر نہيں آتا ہوں تو وہ مجه سے کلام کرتے ہيں حالانکہ ميں ان کے سامنے حاضر نہيں ہوتا ،اے فرزند عمران اپنی آنکهوں سے اشک گریاں اور دل سے خشوع مجھے ہدیہ کرو پھر مجھے تا ریکی شب ميں پکارو تو مجھے اپنے قریب اور اپنی دعا کا قبول کرنے والا پاؤگے ” نہج البلاغہ کے خطبہ متقين ميں امير المومنين علی بن ابی طالب رات کی تاریکی ميں مناجات کرنے والے اولياء الله کی پر وردگار عالم کی بارگاہ ميں حاضری کے حالات کی اس طرح عکاسی فرماتے ہيں:

امااللَّيلُْ فَصَافُّونَْ اَقدَْامَهُم،ْتَالِينَْ لاجزَْاءِ القُْرآْنِ یُرَتِّلُونَهَاتَرتِْيلْاً، یُحَزِّنُونُْ بِهِ اَنفُْسَهُم وَیَستَْثِيرُْونَْ بِهِ دَوَاءَ دَائِهِم فَاِذَامَرُّواْبِآیَةٍ فِيهَْاتَشوِْیقٌْ رَکَنُواْاِلَيهَْا طَمَعاًوَتَظَلَّعَت نُفُوسُْهُم اِلَيهَْاشَوقْاًوَظَنُّواْاَنَّهَانُصُبُ اَعيُْنِهِم وَاِذَامَرُّوابِآیَةٍ فِيهَْا تَخوِْیفٌْ اَصغَْواْاِلَيهَْامَسَامِعَ قُلُوبِْهِم وَظَنُّواْاَنَّ زَفِيرَْجَهَنَّمَ وَشَهِيقَْهَافِي اُصُولِْ ذَٰاانِهِم فَهُم

____________________

١)لقاء الله صفحہ/ ٠ا۔ )


حَانُونَْ عَل یٰ اَوسَْاطِهِم مُفتَْرِشُونَْ لِجِبَاهِهِم وَاَکُفِّهِم وَرُکَبِهِم وَاَطرَْافِ اَقدَْامِهِم یَطَلِّبُونَْ ال یٰ الله ٰ تَعَال یٰ فِي فِکَاکِ رِقَابِهِم وَاَمَّاالنَّهَارُفَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ قَد بَرَاهُمُ الخَْوفُْ بَریَْ القِْدَاحِ ۔۔۔( ١)

“رات ہو تی ہے تو اپنے پيروں پر کهڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ڻهہر ڻهہر کر تلا وت کرتے ہيں جس سے اپنے دلوں ميں غم و اندوہ تا زہ کرتے ہيں اور اپنے مر ض کا چارہ ڈهونڈهتے ہيں جب کسی ایسی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس ميں جنت کی تر غيب دلا ئی گئی ہو ،تو اس کی طمع ميں ادهر جهک پڑتے ہيں اور اس کے اشتياق ميں ان کے دل بے تابانہ کهينچتے ہيں اور یہ خيال کر تے ہيں کہ وہ (پر کيف )منظر ان کی نظروں کے سامنے ہے اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی نظر پڑتی ہے جس ميں (جہنم سے )ڈرایا گيا ہو تو اس کی جا نب دل کے کا نوں کو جهکا دیتے ہيں اور یہ گمان کرتے ہيں کہ دوزخ کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چيخ پکار اُن کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے ،وہ (رکوع )اپنی کمریںجهکا ئے اور (سجدہ ميں )اپنی پيشانياں ہتهيلياں گهڻنے اور پيروں کے کنا رے (انگوڻهے) زمين پر بچها ئے ہو ئے الله سے گلو خلا صی کے لئے التجائيں کرتے ہيں ۔

دن ہوتا ہے تو وہ دانشمند عالم ،نيکوکار اور پرہيز گار نظر آتے ہيں ۔۔۔”

____________________

١)نہج البلاغہ خطبہ ٣٠٣ ۔ )


الله سے ملاقات کے شوق کی ایک اور حالت

الله سے ملاقات کرنے کے شوق کی ایک اور صورت کا حضرت امام زین العابدین عليہ السلام کی مناجات ميں مشاہدہ کيا جاسکتا ہے جس ميں آپ فرماتے ہيں:

اِ هٰلي فَاجعَْلنَْامِنَ الَّذِینَْ تَرَسَّخَت اَشجَْا رُالشَّوقِْ اِلَيکَْ فِي حَدَائِقِ صُدُورِْهِم وَاَخَذَت لَوعَْتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوبِْهِم فَهُم اِل یٰ اَوکَْارِالاَْفکَْارِیَاوُونَْ وَفِي رِیَاضِ القُْربِْ وَالمُْکَاشَفَةِ یَرتَْعُونَْ وَمِن حَيَاضِ المَْحَبَّةِ بِکَاسِ المُْلَاطَفَةِ یَکرَْعُونَْ وَشَرَایِعَ المُْ صٰا اٰفتِ یَرِدُونَْ قَدکُْشِفَ الغِْطَاءُ عَن اَبصَْارِهِم وَانجَْلَت ظُلمَْتُ الرَّیبِْ عَن عَقَائِدِهِم وَضَمَائِرِهِم وَانتَْفَجَت مُخَالَجَةُ الشَّکِّ عَن قُلُوبِْهِم وَسَرَائِرِهِم وَانشَْرَحَت بِتَحقِْيقِْ المَْعرِْفَةِ صُدُورُْهُم وَعَلَت لبِسَبقِْ السَّعَادَةِ فِی الزّهادة وَهِمَمُهُم وَعَذُبَ فِی مَعِينِْ المُْعَامَلَةِ شِربُْهُم وَطَابَ فِي مَجلِْسِ الاُْنسِْ سِرُّهُم وَاَمِنَ فِي مَوَاطِنِ المَْخَافَةِ سِربُْهُم وَاطمَْانَّت بِالرُّجُوعِْ اِل یٰ رَبِّ الاَْربَْابِ اَنفُْسُهُم وَتَيَقَّنَت بِالفَْوزِْوَالفَْلَاَحِ اَروَْاحُهُم وَقَرَّت بِالنَّظَرِاِل یٰ مَحبُْوبِْهِم اَعيُْنُهُم وَاستَْقَرَّبِاِدرَْاکِ السَّولِ وَنَيلِْ المَْامُولِْ قَرَارُهُم وَرَبِحَت فِي بَيعِْ الدُّنيَْابِالآْخِرَةِ تِجَارَتُهُم اِ هٰلِي مَااَلَذَّ خَوَاطِرَالاِْلهَْامِ بِذکرِْکَ عَل یٰ القُْلُوبِْ وَمَااَحلْ یٰ المَْسِيرَْ اِلَيکَْ بِالاَْوهَْامِ فِي مَسَالِکِ الغُْيُوبِْ وَمَااَطيَْبَ طَعمُْ حُبِّکَ وَمَااَعذَْبَ شِربَْ قُربِْکَ فَاَعِذنَْامِن طَردِْکَ وَاِبعَْادِکَ وَاجعَْلنَْامِن اَخصِّ عَارِفِيکَْ وَاَصلِْح عِبَادَکَ وَاَصدَْقِ طَائِعِيکَْ وَاَخلَْصِ (عُبَّادِک ( ١)

“خدا یا !ہم کو ان لوگوں ميں قرار دے جن کے دلوں کے باغات ميںتيرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہيں اور تيری محبت کے سوز و گداز نے جن کے دلوں پر قبضہ کر ليا ہے وہ فی الحال آشيانہ افکار ميں پناہ لئے ہو ئے ہيں اور ریاض قرب اور مکاشفات ميں گردش کر رہے ہيںتيری محبت کے حوض سے سيراب ہو رہے ہيں اور تيرے اخلاص کے گهاٹ پر وارد ہو رہے ہيں ان کی نگاہو ں سے پردے اڻهادئے گئے ہيں اور ان کے دل و ضمير سے شکوک کی تاریکياںزائل ہو گئی ہيں ان کے عقائد سے شک و شبہ کی تاریکی محو ہو گئی ہے اورتحقيقی معرفت سے ان کے سينے کشادہ ہو گئے ہيں اور سعادت

____________________

١)مفاتيح الجنان مناجات عارفين۔ )


حاصل کرنے کے لئے زہد کی راہ ميں ان کی ہمتيں بلند ہو گئی ہيں اورا طاعت کے ذریعہ سے ان کا چشمہ شيریں ہو گياہے مجلس انس ميں ان کاباطن پاکيزہ ہو گيا ہے اورمحل خوف ميں ان کا راستہ محفوظ ہوگيا ہے وہ مطمئن ہيںکہ ان کے دل رب العالمين کی طرف راجع ہيں اور ان کی روحوںکو کاميابی اور فلاح کایقين ہے اور ان کی آنکهوں کومحبوب کے دیدار سے خنکی حاصل ہو گئی ہے اور ان کے دلوں کو اورمدعاکے حصول سے سکون مل گيا ہے دنيا کو آخرت کے عوض بيچنے ميں ان کی تجارت کامياب ہو گئی ہے خدایا !دلوں کےلئے تيرے ذکر کا الہام کس قدر لذیذ ہے اور تيری بارگاہ کی طرف آنے ميں ہر خيال کس قدر حلاوت کا احساس کرتا ہے۔ تيری محبت کا ذائقہ کتنا پاکيزہ ہے اور تيرے قُر ب کاچشمہ کس قدرشيریں ہے ہميں اپنی دوری سے بچالے اور اپنے مخصوص عارفوں اوراپنے صالح بندوں ميں سے سچے اطاعت گذار اور خالص عبادت گذاروں ميں قرار دےنا ” ہم اس مقام پراہل بيت عليہم السلام کی دعا اور مناجات توقف نہيں

کرناچاہتے ليکن ہم امام علی بن الحسين عليہ السلام کی مناجات کے اس جملہ کے بارے ميں کچه غوروفکر کرنا چاہتے ہيں جس جملہ سے آپ نے مناجات کا آغاز فرمایا ہے:

اِ هٰلِي فَاجعَْلنَْامِنَ الَّذِینَْ تَرَسَّخَت اَشجَْارُالشَّوقِْ اِلَيکَْ فِی حَدَائِقِ صُدُورِْهِم وَاَخَذَت لَوعَْتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوبِْهِم

“خدا یا! ہم کو ان لوگوں ميں قرار دے جن کے دلوں کے باغات ميںتيرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہيں اور تيری محبت کے سوز و گداز نے جن کے دلوں پر قبضہ کر ليا ہے ”

بيشک اولياء الله کےلئے جيساکہ امام عليہ السلام کے کلام سے ظاہر ہوتاہے خوبصورت باغ،طيب وطاہر ہيں اور عوام الناس سے مختلف طرح کی چيزیں صادر ہوتی ہيں:


کچه لوگوںکے دلوں سے مکاتب اور علمی مدرسے وجود ميں آتے ہيں اور علم خير اور نور ہے بشرطيکہ الله سے ملاقات کا شوق باقی رہے بعض لوگوں کے سينہ تجارت گاہ ،بينک اور مال و دولت کے مخزن ہوتے ہيں جن کی تعداد بہت زیادہ ہو تی ہے اور شمارش کے نقشے ہو تے ہيں اور فائدہ و نقصان کے مقام ہو تے ہيں مال اور تجارت اچهے ہيں ليکن اس شرط کے ساته کہ یہ کام اسکے دل کو مشغول نہ کردے اور ایسا رنج وغم نہ ہو جو اس سے جدا نہ ہوسکتا ہوکچه لوگوں کے دل ایسی زمين ہوتے ہيںجس ميںببول کے درخت،جنگل(اندرائن جوکڑواہونے ميںضرب المثل ہے ) زہریلے ، کينہ مال پر لڑائی جهگڑا ، بادشاہت اور دوسروں کےلئے کيد ومکر ہوا کرتے ہيں،اور کچه افراد کے صدور (قلوب)کهيلنے کودنے والے افعال پر ہوتے ہيں دنيا وسيع پيمانہ پر ایک گروہ کےلئے لہو ولعب ہے ۔

لوگوں ميں سے کچه لوگوں کا دل دو ڻکڑوں ميں تقسيم کيا گيا ہے:ایک حصہ زہر،کينہ ،مکروکيد سے پر ہے اور دوسرا حصہ لہو ولعب سے لبریز ہے۔جب پہلے حصہ کا راحت وآرام چهن جاتا ہے تو وہ دوسرے حصہ سے پناہ مانگتا ہے اور لہو ولعب سے مدد چاہتا ہے تاکہ وہ نفس کو پہلے حصہ کے عذاب سے نجات دلا سکے۔

ليکن اولياء الله کے سينے اس شوق کے باغ(جيسا کہ امام زین العابدین عليہ السلام نے فرمایا ہے)کے سلسلہ ميںبارونق اور طيب وطاہر ميوے ہوتے ہيں کبهی ان ميں شوق کے درخت جڑ پکڑ جاتے ہيں اور اس ميں اپنی شاخيں پهيلادیتے ہيں ۔الله سے ملاقات کا شوق ایسا امر نہيں ہے کہ اگر اس پر خواہشات نفسانی غالب آجائے یا دنيااپنے کو زیب وزینت کے ساته اسکے سامنے پيش کردے تو وہ شوق ملاقات ختم ہوجائے ،اور جب صاحب دنيا کےلئے دنيا تنگ ہوجاتی ہے اور وہ مشکلوں ميں گهرجاتا ہے نہ تو اس شوق ميں کوئی کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کے اوراق (پتّے)مرجهاتے ہيں۔

بيشک جب الله سے شوق ملاقات کے اشجار ان دلوں ميں اپنی جڑ محکم و مضبوط کر ليتے ہيں تو تمام مشکلوں کے باوجود ہميشہ ہرے بهرے اور پهل دیتے رہتے ہيں۔


الله سے ملاقات کرنے کے شوق کی حالت روح کے ہلکے ہونے کی حالت ہے اور یہ حالت سنگينی اور دنيا پر اعتما د کرنے کی حالت کے برعکس ہے جس کے سلسلہ ميں قرآن کریم ميں گفتگو کی گئی ہے:

مَالَکُم اِذَاقِيلَْ لَکُم انفِْرُواْفِی سَبِيلِْ الله اَثَّاقَلتُْم اِلَی الاَْرضِْ اَرَضِيتُْم بِالحَْيَاةِالدُّنيَْامِنَ الآخِرَةِ ( ١)

“جب تم سے کہا گياکہ راہ خدا ميں جہاد کےلئے نکلو تو تم زمين سے چپک کر رہ گئے کيا تم آخرت کے بدلے زندگا نی دنيا سے راضی ہو گئے ہو” بيشک جب انسان دنيا سے لولگاتا ہے ،اسی سے راضی ہوتاہے اور اس پر اعتماد وبهروسہ کرليتا

ہے تو اسکا نفس بهاری اور ڈهيلا ہوجاتا ہے اور جب اسکا نفس(٢) دنيا سے آزاد ہوجاتا ہے تو ہلکا ہوجاتا ہے اور الله کی محبت اور اس سے شوق ملاقات کو جذب کرتا ہے۔

ہم اہل بيت سے ماثورہ دعاؤں کے بارے ميں روایات کی روشنی ميں محبت، شوق اور انس کی بحث کا اختتام کرتے ہيں اور اب “محبت خدا ”کی بحث کا آغاز کرتے ہيں ۔

الله کےلئے خالص محبت

یہ مقولہ توحيد حب کے مقولہ سے بلند ہے بيشک توحيد حب الله کی محبت کے علاوہ دوسری محبتوں کی نفی نہيں کرتی ہے ليکن الله کی محبت کو دوسری محبتوں پر غلبہ دیتی ہے پس الله کی محبت حاکم اور غالب ہے :

( وَالَّذِینَْ آمَنُواْاَشَدُّحُبالله ) ( ٣)

“ایمان والوں کی تمام تر محبت خدا سے ہو تی ہے ”

____________________

١)سورئہ توبہ آیت ٣٨ ۔ ) ٢)دنيا سے آزاد ہونے کا مطلب اس کو ترک کردینا نہيں ہے رسول خدا (ص) بهی دنيا سے ) آزاد تھے ليکن پھر بهی اپنی دعوت کے سلسلہ ميں دنيا کا سہاراليتے تھے ”

٣)سورئہ بقرہ آیت ۶۵ ا۔ )


یہ ایمان کی شرطوں ميں سے ایک شرط اور توحيد کی شقوں ميں سے ایک شق ہے۔

ليکن الله سے خالص محبت،الله کے علاوہ دوسروں سے کی جانے والی محبت کی نفی کرتی ہے ليکن اگر محبت خدا(الحب لله،البغض لله)کے ساته باقی رہے ۔یہ ایمان اور توحيد کی شان ميں سے نہيں ہے ،ليکن صدیقين اور ان کے مقامات کی شان ہے۔

بيشک خداوند عالم اپنے اولياء اور نيک بندوں کے دلوں کو اپنی محبت کے علاوہ دوسروں کی محبت سے خالی کرنے پر متمکن کردیتا ہے ۔

حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :

القلب حرم اللّٰه فلا تسکن حرم اللّٰه غيراللّٰه (١) “دل الله کا حرم ہے اور الله کے حرم ميں الله کے علاوہ کوئی اور نہيں رہ سکتا ہے”

یہ دل کی مخصوص صفت ہے چونکہ اعضاء وجوارح انسان کی زندگی ميں مختلف قسم کے کام انجام دیتے ہيں جن کو خداوند عالم نے اس کےلئے مباح قرار دیا ہے اور ان کو بجالانے کی اجازت دی ہے ليکن دل الله کا حرم ہے اور اس ميں الله کے علاوہ دوسرے کی محبت کا حلول کرنا سزاوار نہيں ہے۔

روایت ميں دل کی حرم سے تعبير کرنے کے متعلق نہایت ہی دقيق نکتہ ہے بيشک حرم کا علاقہ امن وامان کاعلاقہ ہے اور اسکا دروازہ ہراجنبی آدمی کےلئے بند رہتا ہے اور اس ميں رہنے والوں کو کوئی ڈروخوف نہيں ہوتا اور نہ ہی اس ميںکوئی اجنبی داخل ہوسکتا ہے اسی طرح دل الله کا امن وامان والا علاقہ ہے اس ميں الله کی محبت کے علاوہ کسی اورکی محبت داخل نہيں ہوسکتی اور اس ميں الله کی محبت کو کوئی برائی یا خوف پيش نہيں آسکتا ہے۔

صدیقين اور اولياء الله سے خالص محبت کرنے والے بندے ہيں الله کی محبت اور دوسروں

____________________

١) بحار الانوار جلد ٧٠ صفحہ/ ٢۵ ۔ )


کی محبت کو ایک ساته جمع نہيں کيا جاسکتا ہاں الله کی محبت کے زیر سایہ تو دوسروں کی محبت ہوسکتی ہے ۔

ہم مندرجہ ذیل حضرت امام زین العابدین عليہ السلام کی مناجات ميں محبت کی سوزش اور محبت ميں صدق اخلاص دیکهتے ہيں :

سَيَّدِي اِلَيکَْ رَغبَْتِی،ْوَاِلَيکَْ رَهبَْتِی،ْوَاِليَْکَ تَامِيلِْي وَقَد سَاقَنِي اِلَيکْ اَمَلِي وَعَلَيکَْ یَاوَاحِدِي عَکَفَت هِمَّتِي وَفِيمَْاعِندَْکَ انبَْسَطَت رَغبَْتِي وَلَکَ خَالِص رَجَائِي وَخَوفِْي وَبِکَ اَنِسَت مَحَبَّتي وَاِلَيکَْ اَلقَْيتُْ بِيَدي وَبِحَبلِْ طَاعَتِکَ مَدَدتُْ رَهبَْتِي یَامَولَْايَ بِذِکرِْکَ عَاشَ قَلبِْي وَبِمُنَاجَاتِکَ بَرَّدتُْ اَمَلَ الخَْوفِْ عَنِّي ْ ( ١)

“ميرے مالک ميری تيری ہی طرف رغبت ہے اور تجهی سے خوف تجهی سے اميد رکهتا ہے،اور تيری ہی طرف اميد کهينچ کر لے جاتی ہے ، ميری ہمت تيری ہی جناب ميںڻهہرگئی ہے اور تيری نعمتوں کی طرف ميری رغبت پهيل گئی ہے خالص اميداورخوف تيری ہی ذات سے وابستہ ہے محبت تجهی سے مانوس ہے اور ہاته تيری ہی طرف بڑهایا ہے اور اپنے خوف کوتيری ہی ریسمان ہدایت سے ملا دیا ہے خدایاميرادل تيری ذات سے زندہ ہے اور ميرادرد خوف تيری مناجات سے ڻهہراہے ” امام عليہ السلام مناجات کے اس ڻکڑے ميں اپنی رغبت ،رهبت ،اور آرزو تمام چيزوں کو الله سے مربوط کرتے ہيں اور خدا کی عطا کردہ ہمت کے ذریعہ ان سب کے پابند تھے آپ خالص طورپر خدا سے اميد رکهتے تھے اور اسی سے خوف کهاتے تھے ۔

رسول خدا (ص)سے مروی ہے :

احبّواالله من کلّ قلوبکم (٢)

____________________

١) دعائے ابو حمزہ ثمالی ۔ )

٢)کنز العمال جلد ٧۴ صفحہ/ ۴۴ ۔ )


“تم الله سے اپنے پورے دلوں کے ساته دو ستی کرو ” اور حضرت امام زین العابدین عليہ السلام سے مروی دعا ميں آیا ہے:اللهم انّي اسالک ان تملاقلبي حبّالک وخشية منک،وتصدیقالک وایمانابک وفرقاًمنک وشوقااليک ( ١)

“بار الٰہا ميں تجه سے سوال کرتا ہوں کہ تو ميرے دل کو اپنی محبت ،خوف ،تصدیق ایمان اور اپنے شوق سے لبریز فر ما دے ” اگر الله سے محبت اور اس سے شوق ملاقات سے بندہ کا دل لبریز ہوجائے تو پھر اس ميں الله سے محبت کے علا وہ کسی دوسرے سے محبت کی کو ئی خالی جگہ ہی باقی نہيں رہ جاتی مگر یہ کہ محبت اس خدا کی محبت کے طول ميں اور اسی کی محبت کے نتيجہ پرکہ محبت بهی درحقيقت الله کی محبت ہے اور اسی شوق کا نتيجہ ہے۔

ماہ رمضان کے آجانے پر حضرت امام صادق عليہ السلام کی دعاکا ایک حصہ یہ ہے :

صلّ عل یٰ مُحَمَّدٍوَآل مُحَمَّدٍوَاشغَْل قَلبِْی بِعَظِيمِْ شَانِکَ،وَاَرسَْلَ مُحَبَّتَکَ اِلَيهِْ حَتّ یٰ اَلقَْاکَ وَاَودَْاجِي تَشخَْبُ دَماً ( ٢)

“خدایا! محمد وآل محمد پر درود بهيج اپنی شان کی عظمت کے صدقہ ميں ميرے دل کو اپنی یاد ميں مصروف رکه ميرے دل ميں اپنی محبت ڈال دے تاکہ ميں تجه سے خون ميں غلطاں حالت ميں ملاقات کروں ” اس کا مطلب خداوند عالم کيلئے خالص محبت کرنا ہے چونکہ خدا کی محبت دل کو مصروف کرنے

والا کام ہے اور اس سے جدا نہ ہو نے والا امر ہے ۔

____________________

١)بحارالانوار جلد ٩٨ صفحہ/ ٨٩ ۔ )

٢)بحا ر الانوار جلد ٩٧ صفحہ ٣٣۴ ۔ )


بندہ سے متعلق خداوند عالم کی حميت

بيشک الله اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور محبت کی ایک خصوصيت غيرت ہے وہ غيور بندوں کے دلوں ميں ہوتی ہے بندے الله سے خالص محبت کریں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے سے محبت نہ کریں اور بندوں کو اپنے دل ميں دوسروں کی محبت داخل کرنے کی اجازت نہيں ہے ۔ روایت ميں آیا ہے کہ موسیٰ بن عمران عليہ السلام نے اپنے رب سے وادی مقدس ميں مناجات کرتے ہوئے عرض کيا اے پروردگار :اني اخلصت لک المحبّة منيّ وغسلت قلبي ممّن سواک (ا)

“ميں صرف تيرا مخلص ہوں اور تيرے علاوہ کسی اور سے محبت نہيں کرتا”اور مجھے اپنے اہل وعيال سے شدید محبت ہے خداوندعالم نے فرمایا ۔اگر تم مجه سے خالص محبت کرتے ہوتو اپنے اہل وعيال کی محبت اپنے دل سے الگ کردو ” الله کی اپنے بندے پر یہ مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندے کے دل سے غيرکی محبت کو زائل کر دیتا ہے اور جب خداوند عالم اپنے بندے کو اپنے علاوہ کسی اور سے محبت کرتے ہوئے پاتاہے تو اس کی محبت کو بندے سے سلب کردیتا ہے یہاں تک کہ بندہ کا دل اس کی محبت کےلئے خالص ہوجاتاہے اور حضرت امام حسين عليہ السلام سے مروی دعا ميں آیاہے :

انت الذي ازلت الاغيارعن قلوب احبّّائک حتیٰ لم یحبّواسواک ماذا وجد مَن فقدک وماالذی فقد مَن وجدک لقدخاب من رضي دونک بدلا(٢ ) “تونے اپنے محبوں کے دلوں سے غيروں کی محبت کو اس حد تک دور کردیا کہ وہ تيرے علاوہ

____________________

١)بحارالانوار جلد ٨٣ صفحہ ٢٣۶ ۔ )

٢)بحارا لانوارجلد ٩٨ صفحہ ٢٢۶ ۔ )


کسی سے محبت ہی نہيں کرتے ۔جس نے تجهے کهو دیا اس نے کيا پایا ؟اور جس نے تجهے پاليا اس نے کيا کهویا ؟جو شخص تيرے علاوہ کسی اور سے راضی ہوا وہ نا مراد رہا ”

ہمارے لئے اس سلسلہ ميں اس تربيت کرنے والی خاتون کا واقعہ نقل کرنابہتر ہے جس کو شيخ حسن البنانے اپنی کتاب “مذاکرات الدعوة والداعية ”ميں نقل کيا ہے۔ حسن البنّاکہتے ہيں :شيخ سلبی (مصرکے علم عرفان اور اخلاق کی بڑی شخصيت)کو خداوندعالم نے ان کی آخری عمرميں ایک بيڻی عطاکی شيخ اس سے بہت زیادہ محبت کر تے تھے یہاں تک کہ آپ اس سے جدا نہيں ہوتے تھے وہ جوں جوں جوان اور بڑی ہو رہی تهی شيخ کی اس سے محبت ميں اضافہ ہوتا جا رہا تھا شيخ بنّا نے اپنے کچه ساتهيوں کے ہمراہ ایک شب پيغمبر اکرم کی شب ولا دت شيخ شلبی کے گهر کے نزدیک ایک خوشی کی محفل سے لوڻنے کے بعد شيخ شلبی سے ملا قات کی جب وہ چلنے لگے تو شيخ نے مسکرا کر کہا :انشاء الله کل تم مجه سے اس حال ميں ملاقات کروگے کہ جب ہم روحيہ کو دفن کرینگے ۔ روحيہ ان کی وہی اکلو تی بيڻی تهی جو شادی کے گيارہ سال بعد خداوند عالم نے ان کو عطا کی تهی اور جس سے آپ کام کرتے وقت بهی جدا نہيں ہوتے تھے اب وہ جوان ہو چکی تهی اس کا نام روحيہ اس لئے رکها تھا کيونکہ وہ ان کےلئے روح کی طرح تهی ۔

بنّا کہتے ہيں کہ : ہم نے اُن سے رو تے ہوئے سوال کيا کہ اس کا انتقال کب ہوا ؟شيخ نے شلبی نے کہا آج مغرب سے کچه دیر پہلے ۔ہم نے عرض کيا :تو آپ نے ہم کو کيوں نہيں بتایا تا کہ ہم دو سرے گهر سے تشيع کی جماعت کے ساته نکلتے ۔؟شيخ نے کہا : کيا ہوا ؟ہمارا رنج و غم کم ہو گيا غم خو شی ميں بدل گيا ۔کيا تم کو اس سے بڑی نعمت چا ہئے تهی ؟

گفتگو شيخ کے صوفيانہ درس ميں تبدیل ہو گئی اور وہ اپنی بيڻی کی وفات کی وجہ یہ بيان کرنے لگے کہ خداوند عالم ان کے دل پر غيرت سے کام لينا چاہتا تھا کيونکہ خداوند عالم کو اپنے نيک بندوں کے دلوں کے سلسلہ ميں اسی بات سے غيرت آتی ہے کہ وہ کسی دو سرے سے وابستہ ہوں یا کسی دوسرے کی طرف متوجہ ہوں ۔انهوں نے حضرت ابراہيم عليہ السلام کی مثال پيش کی جن کا دل اسماعيل عليہ السلام ميں لگ گيا تھا تو خداوند عالم نے ان کو اسما عيل کو ذبح کرنے کا حکم دیدیا اور حضرت یعقوب عليہ السلام جن کا دل حضرت یوسف عليہ السلام ميں لگ گيا تھا تو خداوند عالم نے حضرت یوسف کو کئی سال تک دور رکها اس لئے انسان کے دل کو خداوند عالم کے علاوہ کسی اور سے وابستہ نہيں ہو نا چا ہئے ورنہ وہ محبت کے دعوے ميں جهوڻا ہوگا ۔


پهر انهوں نے فضيل بن عياض کا قصہ چهيڑا جب انهوں نے اپنی بيڻی کے ہاته کا بوسہ ليا تو بيڻی نے کہا بابا کيا آپ مجھے بہت زیادہ دوست رکهتے ہيں ؟تو فضيل نے کہا : ہاں ۔بيڻی نے کہا : خدا کی قسم ميں آج سے پہلے آپ کو جهوڻا نہيں سمجهتی تهی ۔فضيل نے کہا :کيسے اور ميں نے کيوں جهوٹ بولا؟بيڻی نے کہا کہ : ميں سوچتی تهی کہ آپ خداوند عالم کے ساته اپنی اس حالت کی بنا پر خدا کے ساته کسی کو دو ست نہيں رکهتے ہوں گے ۔تو فضيل نے رو کر کہا کہ :اے ميرے مو لا اور آقا چهوڻے بچوں نے بهی تيرے بندے کی ریا کاری کوظاہر کردیا ۔ایسی باتوں کے ذریعہ شيخ شلبی ہم سے روحيہ کے غم کو دور کرنا چا ہتے تھے اور اس کی مصيبت کے دردو الم سے ہو نے والے غم کوہم سے برطرف کرنا چا ہتے تھے ہم نے ان کو خدا حافظ کہا اور اگلے دن صبح کے وقت روحيہ کو دفن کردیا گيا ہم نے گریہ و زاری کی کو ئی آواز نہ سنی بلکہ صرف صبر و تسليم و رضا کے مناظرکا مشا ہدہ کيا ۔


الله کےلئے اور الله کے بارے ميں محبت

اب ہم مندرجہ ذیل سوال کا جواب بيان کریں گے الله کےلئے خالص محبت کے یہ معنی فطرت انسان کے خلاف ہيں چونکہ اللهنے انسان کو متعدد چيزوں سے محبت اور متعدد چيزوں سے کراہت کرنے والی فطرت د ے کرخلق کيا ہے اوراس معنی ميں الله سے خالص محبت کرنے کا مطلب یہ ہے انسان کی اس فطرت کے خلاف محافظت کرے جس فطرت پر اللهنے اس کو خلق کيا ہے ؟

جواب :الله سے خالص محبت کرنے کا مقصد انسانی فطرت کا انکار کر نا نہيں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چيزوں سے اللهمحبت کرتاہے اور جن چيزوں کو ناپسند کرتاہے ان کی محبت اور کراہت کی توجيہ کرنا ہے لہٰذا پر وردگار عالم اپنے بندے اور کليم حضرت موسیٰ بن عمران سے ان کے اہل کی محبت ان کے دل سے نکلوانا نہيںچاہتا ہے بلکہ خداوندعالم یہ چاہتاہے کہ ان کے اہل وعيال کی محبت خداوندعالم کی محبت کے زیرسایہ ہو اور ہر محبت کےلئے بندے کے دل ميں وہی ایک منبع ومصدر ہونا چاہئے دوسرے لفظو ں ميں :بيشک پر وردگار عالم اپنے بندے اور کليم موسیٰ بن عمران سے یہ چاہتا ہے کہ ہر محبت کو الله کی محبت کے منبع اور مصدرسے مر بوط ہونا چاہئے اس وقت بندے کی اپنے اہل وعيال سے محبت تعظيم کےلئے ہوگی یہی اس کا دقيق مطلب ہے اور تربيت کا بہترین اور عمدہ طریقہ ہے اور اسی طریقہ تک صرف اسی کی رسائی ہو سکتی ہے جس کو اللهنے اپنی محبت کےلئے مخصوص کرليا ہے اور اس کو منتخب کرليا ہے بيشک رسول الله (ص)لوگوں ميں سب سے زیادہ پاک وپاکيزہ اور طيب وطاہرتھے آپ کا فرمان ہے ميں دنيا کی تين چيزوں سے محبت کرتاہوں :عورت خوشبو اور ميری آنکهوں کی ڻھنڈ ک (نمازہے ۔( ١)

بيشک یہ وہ محبت ہے جو الله کی محبت کے زیرسایہ جاری رہتی ہے اور ان تينوں ميں رسول خدا سب سے زیادہ نمازسے محبت کر تے تھے اس لئے کہ نمازان کی آنکهوں کی ڻھنڈک ہے بيشک نماز سے رسول الله (ص)کی محبت الله کی محبت کے زیرسایہ جاری تهی ۔پس الله سے محبت کرنے ميں انسان کی فطرت ميں کوئی خلل واقع نہيں ہوتا ہے جس فطرت پر الله نے انسان کو خلق کياہے ۔بلکہ جدید معيار و ملاک کے ذریعہ حيات انسانی ميں محبت اور عداوت کے نقشہ کو اسی نظام کے تحت کرنا ہے جس کو اسلام نے بيان کيا ہے ۔

انسان کی فطری محبت خود اسکے مقام پر باقی ہے ليکن جدید طریقہ کی وجہ سے الله کی تعظيم وتکریم کرنا ہے ۔

____________________

١)الخصال صفحہ / ١۶۵ ۔ )


اس بنياد پر الله کےلئے محبت اور الله کے سلسلہ ميں محبت کی قيمت کےلئے اسلامی روایات ميں بہت زیادہ زور دیا گيا ہے۔

حضرت امير المومنين علی بن ابی طالب عليہ السلام سے مروی ہے :المحبّةللهاقرب نسب ( ١)

“خدا سے محبت سب سے نزدیکی رشتہ داری ہے ”

اور حضرت علی عليہ السلام کا ہی فرمان ہے :المحبّةفي الله آکد من وشيج الرحم ( ٢)

“خدا سے محبت خو نی رشتہ داری سے بهی زیادہ مضبوط ہے ”

یہ تعبير بہت دقيق ہے اور ایک اہم فکر کی طلبگار ہے ۔بيشک لوگوں کے اپنی زندگی ميں بہت گہری رشتہ داری اور تعلقات ہوتے ہيں ۔ان تمام تعلقات ميں رشتہ داری کے تعلقات بہت زیادہ معتبر ہيں ،اور الله تعالی کی محبت کی رشتہ داروں کی محبت سے زیادہ محبت کی تاکيد کی گئی ہے جب انسان اپنی محبت اور تعلقات رشتہ داری کے ذریعہ قائم کرلے۔اسی محبت سے اور عداوت کی وجہ سے رشتہ داری کا مل اور ناقص ہوگی۔

رشتہ داروں کی محبت پر اس لئے زیادہ زور دیا گيا ہے کہ جب الله کے علاوہ کسی اور سے محبت ہوگی تو اس محبت ميں تغير وتبدل ہوگا اور خلل واقع ہوگا ۔

اسی وجہ سے بعض لوگوں کے تاثرات دوسرے بعض لوگوں سے مختلف ہوتے ہيں ليکن جب انسان اپنے بهائی سے الله کےلئے محبت کرے گا تو وہ بہت زیادہ قوی محبت ہوگی اور یہ محبت مختلف اور ایک دوسرے کےلئے متضاد محبت سے کہيں زیادہ موثر ہوگی ۔

____________________

١)ميزان الحکمة جلد ٢ص ٢٢٣ ۔ )

٢)ميزان الحکمةجلد ٢صفحہ/ ٢٣٣ ۔ )


الله کےلئے خالص محبت صرف انسان کے فطری تعلقات کی نفی نہيں کرتی بلکہ انسان پر اس بات پر زور دیتی ہے اور اس کے ذہن ميں یہ بات راسخ کرتی ہے کہ اس محبت کو ایک بڑے منبع کے تحت منظم کرے جس کو ہر صدیق اور ولی خدانے منظم و مرتب کيا ہے ۔ پس الله کے نزدیک لوگوں ميں وہ شخص زیادہ افضل ہوگا جو اپنے بهائی سے الله کی محبت کے زیر سایہ محبت کرے ۔حضرت امام

جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :

ماالتقی مومنان قط الاکان افضلهمااشدّهماحبّالاخيه (١) “مو من جب بهی آپس ميں مليں گے تو ان ميں وہ افضل ہو گا جو اپنے بهائی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہو ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کا ہی فرمان ہے :انّ المتحابين فی اللّٰه یوم القيامة علی منابرمن نور،قد اضاء نوراجسادهم ونورمنابرهم کلّ شیٴ حتی یُعرفوابه،فيُقال:هولاء المتحابّون فِيْ اللّٰه ( ٢)

“الله کی محبت ميں فنا ہوجانے والے قيامت کے دن نور کے منبروں پر ہو ں گے ان کے اجساد اور ان کے منبروں کے نور کی روشنی سے ہر چيزروشن ہو گی یہاں تک کہ ان کا تعارف بهی اسی نور کے ذریعہ ہوگا ۔پس کہا جائيگا :یہ لوگ الله کی محبت ميں فناء فی الله ہوگئے ہيں ”

روایت کی گئی ہے کہ پروردگار عالم نے موسیٰ بن عمران عليہ السلام سے کہا :

هل عملت لي عملاً ؟قال:صلّيت لک وصمت،وتصدّقت وذکرت لک،فقال اللّٰه تبارک وتعالیٰ:امّا الصلاة فلک برهان،والصوم جُنّة،والصدقة قدظلّ،والذکرنور،فاي عمل عملت لی؟قال موسیٰ:دلّنی علی العمل الذي هو

____________________

١)بحار الانوار جلد ٧۴ ص ٣٩٨ )

٢)بحار الانوار جلد ٧۴ ص ٣٩٩ ۔ )


لک قال:یاموسیٰ،هل واليت لي وليّاوهل عادیت لي عدوّاًقطّ؟فعلم موسیٰ انّ افضل الاعمال الحبّ فی اللّٰه والبغض في اللّٰه ( ١)

“کيا تم نے ميرے لئے کوئی عمل انجام دیا ہے ؟حضرت موسیٰ عليہ السلام نے عرض کيا :

ميںنے تيرے لئے نماز پڑهی ہے، روزہ رکهاہے ،صدقہ دیاہے اور تجه کو یاد کيا ہے پروردگار عالم نے فرمایا :نماز تمہارے لئے دليل ہے ،روزہ سپر ہے صدقہ سایہ اور ذکر نور ہے پس تم نے ميرے لئے کونسا عمل انجام دیا ہے ؟حضرت موسیٰ نے عرض کيا :ہر وہ چيز جس پر عمل کا اطلاق ہوتا ہے وہ تيرے لئے ہے خداوندعالم نے فرمایا :کيا تم نے کسی کو ميرے لئے ولی بنایااور کيا تم نے کسی کو ميرا دشمن بنایا ہرگز؟تو موسیٰ کو یہ معلوم ہوگيا کہ سب سے افضل عمل الله کی محبت اور بغض ميں فنا ہوجانا ہے”

حدیث بہت دقيق ہے نماز کےلئے امکان ہے کہ انسان اسکو الله کی محبت کے عنوان سے پيش کرے یا ممکن ہے نماز کو اپنے لئے جنت ميں دليل کے عنوان سے پيش کرے ۔روزہ کو ممکن ہے انسان الله کی محبت کےلئے مقدم کرے اور ممکن ہے اسکو اپنے لئے جہنم کی آگ سے سپر قرار دے ليکن اولياء الله کی محبت اور الله کے دشمنوں سے برائت الله کی محبت کے بغير نہيں ہوسکتی ہے ۔

محبت کا پہلا سر چشمہ

ہم الله کی محبت کےلئے کہاں سے سيراب ہوں؟ہماری اس بحث ميں یہ سوال بہت اہم ہے ۔ جب ہم الله کی محبت کی قيمت سے متعارف ہوگئے تو ہمارے لئے اس چيز سے متعارف ہونا بهی ضروری ہے کہ ہم اس محبت کو کہاں سے اخذ کریں اور اسکا سرچشمہ و منبع کيا ہے ؟

اس سوال کا مجمل جواب یہ ہے کہ اس محبت کا سرچشمہ ابتدا وانتہاء الله تبارک وتعالیٰ ہے۔ اس مجمل جواب کی تفصيل بيان کرنا ضروری ہے اور تفصيل یہ ہے :

____________________

١) بحارالانوار جلد ۶٩ ص ٢۵٣ ۔ )


ا۔الله اپنے بندوں کو دوست رکهتا ہے

بيشک الله اپنے بندوں کو دوست رکهتا ہے ،ان کو رزق دیتا ہے ،ان کو کپڑا پہناتا ہے ، ان کو بے انتہا مال ودولت عطا کرتا ہے ،ان کو معاف کرتا ہے ،ان کی توبہ قبول کرتا ہے ،ان کو سيدها راستہ دکهاتا ہے ،ان کو توفيق عطا کرتا ہے ،ان کو اپنے صراط مستقيم کی طرف ہدایت کرتا ہے ،ان کو اپنی رعایاکا ولی بنا تا ہے اور ان پر فضيلت دیتا ہے ،ان سے برائی اور شر کو دور کرتا ہے یہ سب محبت کی نشانياں ہيں۔

٢۔ان کو اپنی محبت والفت عطا کرتا ہے

الله کی بندوں کےلئے یہ محبت ہے کہ وہ ان (بندوں)سے محبت کرتا ہے اور ان کو اپنی محبت کا رزق عطا کرتا ہے ۔محبت کا یہ حکم بڑا عجيب و غریب ہے بيشک محبت کا دینے والا وہ خداہے جو اپنے بندوں سے محبت سے ملاقات کرتا ہے ان کو جذبہ عطا کرتا ہے پھر اس جذبہ کے ذریعہ ان کو مجذوب کرتا ہے ۔ ہم یہ مشاہدہ کرچکے ہيں کہ ماثورہ روایات اور دعاؤں ميں اس مطلب کی طرف متعدد مرتبہ ارشارہ کياگياہے حضرت امام زین العابدین عليہ السلام بارہوےں مناجات ميں فرماتے ہيں :

اِ هٰلِي فَاجعَْلنَْامِنَ الَّذِینَْ تَرَسَّخَت اَشجَْا رُالشَّوقِْ اِلَيکَْ فِي حَدَائِقِ صُدُورِْهِم وَاَخَذَت لَوعَْتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوبِْهِم “خدا یا !ہميں ان لوگوں ميں قرار دے جن کے دلوں کے باغات ميںتيرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہيں اور تيری محبت کے سوز وگدازنے جن کے دلوں پرقبضہ کر ليا ہے ”

ہم اس دعا کی پہلے شرح بيان کرچکے ہيں ۔

چودهویں مناجات ميں آیا ہے :اَسالُکَ اَن تَجعَْلَ عَلَينَْاوَاقِيَةًتُنجِْينَْا مِنَ الهَْلَ اٰ کتِ،وَتُجَنِّبُنَامِنَ الآْ اٰفتِ،وَ تُکِنُّنَامِن دَواهِي المُْصي اٰبتِ،وَاَن تُنزِْلَ عَلَي اْٰنمِن سَکينَتِکَ،وَاَن تُغَشِّيَ وُجُوهَ اٰنبِاَن اْٰورِمَحَبَّتِکَ،وَاَن تُووِیَ اٰناِ لٰ ی شَدیدِرُکنِْکَ،وَاَن تَحوِْیَ اٰنفَي اَک اْٰنفِ عِصمَْتِکَ،بِرَافَتِکَ وَرَحمَْتِکَ اٰیاَرحَْمَ الراٰحِّمينَْ


“ ہمارے لئے وہ تحفظ قراردےدے جو ہميں ہلاکتوں سے بچا لے اور آفتوں سے محفوظ کرکے مصيبتوں سے اپنی پناہ ميںرکهے ۔ ہم پر اپنا سکون نازل کردے اور ہمارے چہر وںپر اپنی محبت کی تابانيوں کا غلبہ کردے۔ ہم کو اپنے مستحکم رکن کی پناہ ميں لے لے اور ہم کو اپنی مہربانيوںکی عصمت کے زیرسایہ محفوظ بنادے” پندرهویں مناجات (زاہدین )ميں آیا ہے :

اِ هٰلِي فَزَهِّد اْٰنفي هٰاوَسَلِّم اْٰنفي هٰا،وَ سَلِّم اْٰنمِن هْٰابِتَوفْيقِکَ وَ عِصمَْتِکَ،وَانْزَع عَناٰجَّ لاٰبيبَ مُ خٰالَفَتِکَ،وَتَولَّ اُمُورَ اٰن بِحُسنِْ کِ اٰ فیَتِکَ،وَاَجمِْل صِ اٰلتِ اٰنمِن فَيضِْ مَ اٰوهِبِکَ،وَاَغرِْسفِْي اَفئِْدَتِ اٰناَش جْٰارَمَحَبَّتِکَ وَاَتمِْم لَ اٰناَن اْٰورَمَعرِْفَتِکَ،وَاَذِق اْٰنحَ اٰلوَةَعَفوِْکَ وَلَذَّةَمَغفِْرَتِکَ،وَاَقرِْراَْعيُْنَ اٰنیَومَْ لِ اٰ قئِکَ بِرُویَتِکَ،وَاَخرِْج حُبَّ الدُّن اْٰيمِن قُلوُبِ اٰنکَ مٰافَعَلتَْ بِالصاٰلِّحينَ مِن صَفوَْتِکَ،وَالاَْب اْٰررِمِن خٰاصَّتِکَ بِرَحمَْتِکَ اٰیاَرحَْمَ الراٰحِّمينَ

“خدا یا ہم کو اس دنياميں زہد عطا فرما اور اس کے شرسے محفوظ فرما اپنی توفيق اور عصمت کے ذریعہ ہم سے اپنی مخالفت کے لباس اتر وادے اور ہمارے امور کا تو ہی ذمہ دار بن کر ان کی بہترین کفایت فرمااپنی وسيع رحمت سے مزید عطافرمااور اپنے بہترین عطایا سے ہمارے ساته اچهے اچهے برتاو کرنا اور ہمارے دلوں ميں اشجار محبت بڻها دے اور ہمارے لئے انوار معرفت کو مکمل کردے اور ہميں اپنی معافی کی حلاوت عطا فرمااور ہميں مغفرت کی لذت سے آشنابنا دے ہماری آنکهوں کوروز قيامت اپنے دیدار سے ڻھنڈاکر دےنا اور ہمارے دلوں سے دنيا کی محبت نکال دےنا جيسے تونے اپنے نيک اور منتخب اورتمام مخلوقات ميں نيک کردار لوگوں کے ساته سلوک کيا ہے اور اپنی رحمت کے سہارے اے ارحم الراحمين ” آخر ميں ہم اس مطلب کی تکميل کےلئے سيد ابن طاوؤس کی نقل کی ہوئی روز عرفہ پڑهی جانے والی امام حسين عليہ السلام کی دعا نقل کررہے ہيں :


کيف یستدل عليک بماهو فی وجوده مفتقر اليک اَیَکُوْنُ لِغَيْرِکَ مِنَ الظُّهُورِْمَالَيسَْ لَکَ حَتی یَکُونَْ هُوَالمُْظهِْرَلَکَ مَت یٰ غِبتَْ حَتّ یٰ تَحتَْاجَ اِل یٰ دَلِيلٍْ یَدُلُّ عَلَيکَْ وَمَت یٰ بَعُدَت حَتی تَکُونَْ الآثَارُهِیٍ الَّتِی تُوصِْلُ اِلَيکَْ عَمِيَت عَينٌْ لَاتَرَاکَ عَلَيهَْارَقِيبْاًوَخَسِرَت صَفقَْتُهُ عَبدٍْ لَم تَجعَْل لَّهُ مِن حُبِّکَ نَصِيبْا فَاهدِْنِی بِنُورِْکَ اِلَيکَْ،وَاَقِمنِْی بِصِدقِْ العُْبُودِْیَّةِ بَينَْ یَدَیکَْ وَصُنَّی بِسِترِْکَ المَْصُونِْ وَاسلُْک بِی مَسلَْکَ اَهلَْ الجَْذبِْ،اِ هٰلِی اَغنِْنِی بِتَدبِْيرِْکَ لِی عَن تَدبِْيرِْی،ْوَبِاِختِْيَارِکَ عَن اِختِْيَارِی وَاَوقِْفنِْی عَن مَرَاکِزِ اِضطِْرَارِی انتَْ الَّذِی اَشرَْقَتَ الاَْنوَْارَ فِی قُلُوبِْ اولِْيَائِکَ حَتیّٰ عَرَفُوکَْ وَوَحَّدُوکَْ وَاَنتَْ الَّذِی ازَلتَْ الاَْغيَْارَعَن قُلُوبِْ اَحِبَّائِکَ حَتّ یٰ لَم یُحِبُّواسِوَاکَ وَلَم یَلجَْوااِل یٰ غَيرِْکَ اَنتَْ المُْونِْسُ لَهُم حَيثُْ اَوحَْشتَْهُمُ العَْوَالِمُ وَاَنتَْ الَّذِی هَدَیتَْهُم حَيثُْ اِستِْبَانَت لَهُمُ المَْعَالِمُ مَاذَاوَجَدَمَن فَقَدَکَ ؟وَمَاالَّذِی فَقَدَ مَن وَجَدَک ؟لَقَد خَابَ مَن رَضِیَ دُونَْکَ بَدَلاً،وَلَقَدخَْسِرَمَن بَغ یٰ عَنکَْ مُتَحَوِّلاً کَيفَْ یُرجْ یٰ سِوَاکَ وَاَنتَْ مَاقَطَعتَْ الاِْحسَْانَ؟وَکَيفَْ یُطلَْبُ مِن غَيرِْکَ وَاَنتَْ مَابَدَّلتَْ عَادَةَ الاِْمتِْنَانِ ؟یَامَن اَذَاقَ اَحِبَّائَهُ حَلَاوَةَ المُْوَانَسَةَ فَقَامُواْبَينَْ یَدَیهِْ مُتَمَلِّقِينَْ وَیَامَن اَلبَْسَ اَولِْيَائَهُ مَلَبَسَ هَيبَْتِهِ فَقَامُواْبَينَْ یَدَیهِْ مُستَْغفِْرِینَْ اِ هٰلِی اَطلُْبنِْی بِرَحمَْتِکَ حَتّ یٰ اَصِلَ اِلَيکَْ،وَاجذُْبنِْی بِمَنِّکَ حَتّ یٰ اَقبَْلَ عَلَيکَْ (١)

____________________

١)بحارالانوار ج ٩٨ ص ٢٢۶ ۔ )


“ميں ان چيز وںکو کس طرح راہنمابناوںجو خود ہی اپنے جود ميںتيری محتاج ہيں کيا تيرے کسی شی کوتجه سے بهی زیادہ ظہورحاصل ہے کہ وہ دليل بن کر تجه کو ظاہر کرسکے تو کب ہم سے غائب رہا ہے کہ تيرے لے کسی دليل اور راہنمائی کی ضرورت ہو ،اور کب ہم سے دور رہا ہے کہ آثار تيری بارگاہ تک پہنچا نے کا ذریعہ بنيں وہ آنکهيں اندهی ہيں جو تجهے اپنا نگراں نہيںسمجه رہی ہيں اور وہ بندہ اپنے معاملات حيات ميں سخت خسارہ ميں ہے جسے تيری محبت کاکوئی حصہ نہيں ملا ۔۔۔تو اپنی طرف اپنے نور سے ميری ہدایت فرما، اور مجه کو اپنی سچی بندگی کے ساته اپنی بارگاہ ميںحاضری کی سعادت کرامت فرما ۔۔۔اور اپنے محفوظ پردوں سے ميری حفاظت فرما ۔۔۔اور جذب و کشش رکهنے والوں کے مسلک پر چلنے کی توفيق عطا فرما اپنی تدبير کے ذریعہ مجھے ميری تدبير سے بے نياز کردے اوراپنے اختيار کے ذریعہ ميرے اختيار اورانتخاب سے مستغنی بنا دے

اوراضطرارواضطراب کے مواقع کی اطلاع اورآگاہی عطافرما۔۔۔تو ہی وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں ميں انوارالوہيت کی روشنی پيدا کر دی تووہ تجهے پہچان گئے اور تيری وحدانيت کا اقرار کرنے لگے اور توہی وہ ہے جس نے اپنے محبوں کے دلوں سے اغيار کو نکال کرباہرکردیا تواب تيرے علا وہ کسی کے چاہنے والے نہيں ہيں، اور کسی کی پناہ نہيں مانگتے تو نے اس وقت ان کا سمان فراہم کياجب سارے عالم سبب وحشت بنے ہو ئے تھے اور تو نے ان کی اس طرح ہدایت کی کہ سارے راستے روشن ہو گئے پروردگارجس نے تجه کو کهو دیا اس نے کياپایا؟اور جس نے تجه کو پاليا اس نے کيا کهویا؟جو تيرے بدل پر راضی ہوگياوہ نا مراد ہوگيا،اور جس نے تجه سے رو گردانی کی وہ گهاڻے ميں رہا ،تيرے علاوہ غيرسے اميد کيوں کی جائے جبکہ تونے احسان کاسلسلہ روکانہيں اور تيرے علاوہ دوسرے سے مانگا ہی کيوں جا ئے جبکہ تيرے فضل و کرم کی عادت ميں فرق نہيں ایا ہے وہ پرور دگارجس نے اپنے دو ستوں کو انس و محبت کی حلاوت کا مزہ چکها دیاہے تو اس کی بارگاہ ميں ہاته پهيلائے کهڑے ہوئے ہيں اور اپنے اولياء کو ہيبت کا لباس پہنا دیاہے تو اس کے سامنے استغفار کرنے کے لئے استادہ ہيں۔۔۔ميرے معبود مجه کو اپنی رحمت سے طلب کر لے تا کہ ميں تيری بارگاہ تک پہونچ جا ؤں اور مجھے اپنے احسان کے سہارے اپنی طرف کهينچ لے تا کہ ميں تيری طرف متوجہ ہوجاؤں ”


٣۔بندوں سے خداوندعالم کا اظہاردوستی

خداوندعالم اپنے بندوں سے دوستی کا اظہار کرتا ہے اور بندوں کو اپنی ذات سے محبت کرانے کےلئے نعمتوں سے مالامال کردیتا ہے بيشک پروردگار عالم دلوں پر نعمت اس لئے نازل کرتاہے کہ خداوندعالم نے جن پر نعمت نازل کی ہے وہ الله کو دوست رکهيں ۔

حضرت امام زین العابدین عليہ السلام سے دعائے سحر ميں آیا ہے :تَتَحَبَّبُ اِلَينَْابِالنِّعَمِ وَنُعَارِضُکَ بِالذُّنُوبِْ خَيرُْکَ اِلَينَْانَازِلٌ وَشَرُنَا اِلَيکَْ صَاعِدٌ وَلَم یَزَل وَلَایَزَالُ مَلَکٌ کَرِیمٌْ یَاتِْيکَْ عَنَّابِعَمَلٍ قَبِيحٍْ فَلَا یَمنَْعُکَ لٰذِکَ مِن اَن تَحُوطَْنَابِرَحمَْتِکَ وَتَتَفَضَّل عَلَينَْابِآلَائِکَ فَسُبحَْانَکَ مَااَحلَْمَکَ وَاَعظَْمَکَ وَاَکرَْمَکَ مُبدِْئاًوَمُعِيدْ اً (١)

“تو نعمتيں دے کرہم سے محبت کرتا ہے اور ہم گناہ کر کے اس کا مقابلہ کرتے ہيں تيراخيربرابر ہما ری طرف آرہا ہے اور ہما راشر برابر تيری طرف جارہا ہے فرشتہ برابر تيری بارگاہ ميں ہماری بد اعماليوں کادفتر لے کر حاضر ہوتاہے ليکن اس کے باوجود تيری نعمتوں ميںکمی نہيں اتی اورتو برابر فضل و کرم کر رہاہے تو پاک پاکيزہ ہے تو تجه جيسا حليم عظيم اور کریم کون ہے ابتدا اور انتہا ميں تيرے نام پاکيزہ ہيں ”

الله کا اپنے بندے پر نعمت فضل ،بهلائی عفواور ستر (عيب پوشی)نازل کرنے اور بندہ کی طرف سے الله کی طرف سے جوبرائی اور شر صعود کرتا ہے ان دونوںکے درميان مقائسہ سے اس بات

____________________

١)بحارالانوار جلد ٩٨ صفحہ ٨۵ ۔ )


کا پتہ چلتا ہے کہ بندہ اپنے مولا سے شرمندہ ہے ،وہ الله کی طرف سے اس محبت اور دوستی کا روگردانی اور دشمنی کے ذریعہ جواب دیتا ہے ۔ انسان کتنا شقی اور بدبخت ہے کہ الله کی محبت اوردوستی کا جواب ردگردانی اور دشمنی سے دیتا ہے ۔

امام زمانہ حضرت حجة عليہ السلام کے دعاء افتتاح ميں ان کلمات کے سلسلہ ميں غوروفکر کریں

اِنَّکَ تَدعُْونِْی فَاوَلِّي عَنکَْ وَتَتَحَبَّبُ اِلَيَّ فَاَتَبَغَّضُ اِلَيکَْ،وَتَتَوَدَّدُاِلَيَّ فَلاَاَقبَْلُ مِنکَْ،کَانَّ لِیَ التَّطَوُّلَ عَلَيکَْ،فَلَم یَمنَْعُکَ لٰذِکَ مِنَ الرَّحمَْةِلِي وَ الاِحسَْانِ اِلَيَّ وَالتُّفَضُّلِ عَليَّ ( ١)

“اے پروردگار بيشک تو نے مجه کو دعوت دی اور ميں نے تجه سے رو گر دانی کی اور تونے محبت کی اور ميں نے تجه سے بغض و عناد رکها اور توميرے ساته دو ستی کرتا ہے تو ميں اس کو قبول نہيں کرتا ہوں گویا کہ ميرا تيرے اوپر حق ہے اور اس کے باوجود اس نے تجه کو ميرے اوپر احسا ن کر نے اور فضل کر نے سے نہيں رو کا ”

خيرک الينانازل وشَرُّنَااِلَيکَْ صَاعِدٌ ( ٢)

“تيراخيربرابر ہما ری طرف آرہا ہے اور ہما راشر برابر تيری طرف جارہا ہے”

____________________

١)مفاتيح الجنان دعائے افتتاح ۔ )

٢)بحارالانوار جلد ٨ا صفحہ ٨۵ ۔ )


اہل بيت عليہم السلام کی ميراث ميں دعاؤں کے مصادر

ہمارے پاس ائمہ اہل بيت عليہم السلام کی احادیث ميں مناجات اور دعاؤں کاصاف شفاّف اور طيب و طاہر دولت کا بہت بڑا ذخيرہ موجود ہے ۔

اصحاب ائمہ عليہم السلام اور تدوین حدیث کا اہتمام

ائمہ عليہم السلام اپنے اصحاب سے دعاؤں کے سلسلہ ميں جو کچه وصيت فرماتے تھے تووہ ان کو لکهنے کے بڑے پابند تھے ۔

سيد رضی الدین علی بن طاوؤس نے کتاب مہج الدعوات ميں امام مو سیٰ بن جعفر سے منسوب دعا ئے جوشن صغير کو نقل کرتے وقت یہ تحریر کياہے کہ امام کاظم عليہ السلام کے صحابی ابو وصاح محمدبن عبدالله بن زید النهشلی نے اپنے والد بزگوار عبدالله بن زید سے نقل کيا ہے کہ عبد الله بن زید کا کہنا ہے کہ ابوالحسن کاظم کے اہل بيت عليہم السلام اور ان کے شيعوں کی ایک خاص جماعت تهی جو مجلس ميں اپنے ساته غلاف ميں بڑی نرم و نازک آبنوس کی تختياں ليکرحاضرہو اکر تے تھے جب بهی آپ اپنی زبان اقدس سے کو ئی کلمہ ادا فر ما تے تھے یا کو ئی فتویٰ صادر فرما تے تھے تو وہ قوم جو کچه سنا کرتی تهی اس کو لکه ليا کرتی تهی۔اسی بنياد پر عبدالله نے کہا کہ ہم نے آپ کو دعا ميں یہ فر ما تے سناہے اور اس

____________________

(ا)مہج الدعوات مولف سيد رضی الدین علی بن طاؤس ۔


سلسلہ ميں مشہور و معروف دعا “جو شن صغير” مو سیٰ بن جعفر عليہ السلام سے ذکر فرمائی ہے۔

حدیث کے سلسلہ ميں(اصول اربعماة) چا رسو اصول

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کے اصحاب نے آپ کی احا دیث کی تدوین چارسو کتابوں ميں کی ہے جو اصول اربعمات کے نا م سے مشہور ہو ئيں۔شيخ امين الاسلام طبر سی (متوفی ۵۴ ٨ ئه )نے اعلام الوریٰ ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ آپ کے چار ہزار اہل علم شاگرد مشہور تھے اور آپ نے ان کے جوابات ميں مسائل کے سلسلہ ميں چار سو کتابيں تحریر کيں جن کو اصول اربعماة کہا جاتاہے اور اصحاب اصول کا طریقہ کار ائمہ عليہم السلام سے سنی جا نے والی تمام چيزوں کو لکهنا اور تدوین کرنا تھا ۔

شيخ بہا ئی کتاب الشمسين ميں تحریر کرتے ہيں :“ہما رے بزرگان سے یہ بات ہم تک پہنچی ہے کہ اصحاب اصول کی یہ عادت تهی کہ وہ جب بهی کسی امام سے کو ئی حدیث سنتے تھے تو وہ اس حدیث کو اپنے اصول ميں درج کرنے کےلئے سبقت کرتے تھے کہ ہم کہيں دنوں کے گذر نے کے ساته ساته اس پوری حدیث یا بعض حصہ کو فر اموش نہ کر دیں ”اس لئے یہ اصول اصحاب کی طرف سے مورد وثوق تھے جب وہ ان سے کو ئی روایت نقل کرتے تھے تو اس کے صحيح ہو نے کا حکم لگا تے تھے اور اس پر اعتماد کرتے تھے ۔

جناب محقق داماداصول اربعمات نقل کرنے کے بعد انتيسویں نمبر پر ذکر کرتے ہيں :یہ با ت جان لينی چا ہئے کہ معتمد اصول مصححہ کو اخذ کرنا روایت کو صحيح قرار دینے کا ایک رکن ہے ”۔

ائمہ عليہم السلام کے اصحاب کی بڑی تعداد نے اصول کی کتابت کے سلسلہ ميں کہا ہے کہ ان اصول کا پورا کرنا اور ان اصول سے مکمل طور پر استفادہ کرنا ممکن نہيں ہے جناب شيخ طو سی اپنی کتاب فہرست کی ابتدا ميں تحریر فر ما تے ہيں :

ہم ان اصول کے مکمل ہو نے کی ضمانت نہيں لے سکتے چونکہ ہمارے اصحاب کی تصانيف اور ان کے اصول اکثر شہروں ميں منتشر ہو نے کی وجہ سے صحيح طور پر ضبط نہ ہو سکے ليکن ہاں کتاب الذریعہ ميں آقائے بزرگ طہرانی کے قول کے مطابق ان کی تعداد چار سو سے کم نہيں ہے۔


محقق داماداپنے مذکورہ تلخيص نمبرميں تحریر کرتے ہيں :یہ مشہور ہے کہ اصول اربعمات حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کے شا گردوں کے ذریعہ تحریر کئے گئے ہيں جبکہ ان کے جلسوں ميں شریک ہو نے اور ان سے روایت نقل کرنے والے راویوں کی تعدادتقریباً چار ہزار ہے اور ان کی کتابيں اور تصنيفات بہت زیادہ ہيں ليکن ان ميں سے قابل اعتماد یہی چار سو اصول ہيں ”

ميراث اہل بيت عليہم السلام اور طغرل بيگ کی آتش زنی

اہل بيت عليہم السلام کی ميراث ميں سے یہ اصول متعدد طا ئفوں کے پاس تھے ان ہی ميں سے دعا ؤں کی کتابيں بهی تهيں جو کتا بوں کے اس مخزن کے جلنے کی وجہ سے تلف ہو گئيں تهيں جس کو وزیر ابو نصر سابور بن ارد شير (شيعہ وزیر جس کو بہاء الدولہ نے وزارت دی تهی )نے وقف کيا تھا یہ اس دور ميں کتابوں کا سب سے بڑا مخرن شمار کيا جاتا تها۔یا قوت حموی نے معجم البلدان جلد ٢صفحہ/ ٣ ۴ ٢ پر مادہ بين سورین ميں کہا ہے کہ : بيشک بين السورین کرخ بغداد ميں آبادی کے لحاظ سے سب سے اچها محلہ تھا ”اس ميں کتابوں کا مخزن تھا جس کو ابو نصرسابور بن ارد شير وزیرکو بہا ء الدولہ بو یہی کے وزیر نے وقف کيا تھا ،دنيا ميں اس سے اچهی کتابيں کہيں نہيں تهيں تمام کتابےں معتبر ائمہ اور ان کے محرز اصول کے تحت تحریر کی گئی تهيں جب محلہ کرخ کو جلایا گياتواس ميںيہ تمام کتابيں جل کر راکه ہوگئيں اورانهيں کتابوں ميں جن کو طغرل بيگ نے جلایا اہل بيت عليہم السلام سے ماثورہ دعاؤں کی کتابيں بهی تهيں۔

محقق،طہرانی کتاب یا قوت ميں، حموی کے کلام کو نقل کرنے کے بعد لکهتے ہيں :“ ہم کو اس بات کا گمان ہے کہ بغداد کے محلہ کرخ ميں شيعوں کےلئے وقف کی گئی اس لا ئبریری کی کچه کتابيں وہی دعا ئی اصول ہيں جن کو ائمہ کے قدیم اصحاب نے ائمہ سے نقل کيا ہے اور بزرگان رجال نے ان سے ہر ایک کی سوانح عمری ميں صاف صاف کہا ہے کہ یہ کتابيں انهيں کی ہيں اس کو کتاب ادعيہ بهی کہا ہے نيز اس کتاب کے اس کے مو لف سے نقل کرنے کی روش کو بهی ذکر کيا (ہے ”( ١)


اہل بيت عليہم السلام کی محفوظ رہ جانے والی ميراث

ان اصول کی کچه کتابےں شيخ الطائفہ ،شيخ ابو جعفر طوسی کی کتاب “التہذیب”اور الاستبصار مولف کے پاس تهيں۔اس وقت بغداد ميں امهات اصول کے نام سے بهرے ہوئے دو کتاب خانہ تھے ان ميں سے ایک کتابخانہ سابور تھا جس کے بانی شيعہ علماء تھے جو بغداد ميں کرخ کی طرف بنایا گيا تھا اوردوسرا کتابخانہ ان کے استاد محترم شریف مرتضیٰ کا تھا جس ميں اسّی ہزار کتابيں تهيں وہ کتابيں ابن ادریس حلی کے زمانہ تک باقی رہيں جن ميں سے “مستطرفات السرائر”کا استخراج کيا گيا۔

دعاؤںکے کچه مصادر کا تلف ہونے سے محفوظ رہنا

محقق بزرگ طہرانی کتاب الذریعہ ميں تحریر کرتے ہيں :منجملہ دعائی اصول جو شاپور کتاب خانہ ميں یا خاص عناوین کے تحت موجود تھے یا قوت حموی کی تشریح کے مطابق سب کے سب جل کر راکه ہوگئے ليکن ان ميں سے جو کچه شخصی طورپر دوسروں کے پاس موجود تھے ، وہ محفوظ رہ گئے ادعيہ ، اذکار اور زیارتوں کے مطالب ہم تک اسی طرح پہنچے ہيں جس طرح ان اصول ميں مندرج تھے چونکہ کتاب خانہ کے جلائے جانے سے چندسال پہلے متعدد علماء اعلام نے ادعيہ ، اعمال اور زیارتوں کی کتابيں تاليف کی تهيں اور جوکچه ان کتابوں ميں دعاؤں کے اصول موجود تھے ان کو اخذ کرليا تھا ۔

ان اصول سے تاليف کی گئيں کتابيں کتاب خانہ کے جلائے جانے سے پہلے اسی طرح موجود تهيں اور آج بهی موجود ہيں ،جيسے کتاب دعا مولف شيخ کامل الزیارات۔مولف قولویہ متوفی ٣ ۶ ٠ ئه ق،کتاب الدعا والمزار مولف شيخ صدوق متوفی ٣٨١ ئه، کتاب المزار مولف شيخ مفيد متوفی ٢ ا ۴ ء قاور کتاب روضةالعابدین مولف کراجکی متوفی ۴۴ ٩ ئه ق۔ کلينی متوفی ٣٢٩ ئه ق۔ کتاب

____________________

١)الذریعہ جلد ٨ صفحہ ١٧۴ ۔ )


کتاب مصباح المتہجد کے ذریعہ محفوظ رہنے والی دعائےں

وہ دعائيہ مصادر جو ان قدیمی اصول سے اخذ کئے گئے ہيں ان ميں سے کتاب مصباح المتہجد ہے جو شيخ الطائفہ طوسی متوفی ۴۶ ٠ ئه ق )کی تاليف ہے آپ نے ۴ ٠٨ ء ه ق ميں عراق آنے کے بعد ان قدیم اصول کو اخذ کيا جو کتابخانہ شاہ پور اور کتاب خانہ شریف مرتضی کے ماتحت موجود تھے آپ نے احادیث احکام کے سلسلہ ميں تہذیب الاحکام اور اسبتصار تاليف کی اور دعا واعمال کے متعلق مصباح المتہجدنام کی کتاب تحریرکی ہے اور اس ميں ان ہی مقدار ميں ان اصول کو تحریر کيا ہے جن کو عبّاد متہجدین سے آسانی سے اخذ کرسکےں۔

سيد ابن طاؤوس تک پہنچنے والے دعاؤں کے کچه مصادر

دعاؤں کے کچه وہ مصادر جو ساتویں ہجری تک کرخ ميں شاپور کتاب خانہ کے جل جانے سے بچ گئے اور وہ سيد رضی الدین ابن طاؤوس متوفی ۶۶۴ ئه ق کے ہاتهوں ميں آئے ۔

وہ اپنی کتاب کشف المحجہ جس کو اپنے فرزندکيلئے تاليف کيا تھا اسکی بياليسيوں فصل ميں اس طرح تحریر کرتے ہيں : خداوند بزرگ و تعالیٰ نے ميرے سامنے تمہارے لئے متعددکتابيں لکهنے کا موقع فراہم کيا ۔۔۔اور الله نے ميرے لئے (“دعوات ”کی ساڻه جلدوں سے زیادہ جلدیں لکهنے کا موقع فراہم کيا ۔(١) جب سيد ابن طاؤوس نے کتاب مهج الدعوات تحریر کی تو آپ کے پاس دعاؤں کی ستّرسے زیادہ کتابےں موجود تهيں۔

____________________

١)کشف المحجہ ثمرةالمہجہ مولف ابن طاؤوس۔ )


آپ کتابِ مہج الدعوات کے آخر ميں اس طرح تحریر فرماتے ہيں :یہ ميری زندگی کی آخری کتاب ہے۔۔۔

سيد ابن طاؤوس اپنی زندگی کی آخری کتاب اليقين ميں تحریرکرتے ہيں کہ ميں نے اپنی زندگی کی اس آخری کتاب کو اس وقت تحریر کيا ہے جب ميرے پاس (دعاؤں کی ستّرسے زیادہ کتابيں موجود تهيں۔(١)

سيد ابن طاؤوس کے پاس حدیث اور دعا کے پندرہ سو مصادر

جب سيد نے دعا کے سلسلہ ميں اپنی بڑی کتاب “اقبال”تحریر کی توشہيد کے اپنے مجموعہ ميں جبعی کے نقل کے مطابق ان کے پاس ان کی اپنی پندرہ سو کتابےں موجود تهيں اور یہ ۶۵ ٠ ئه ق کی بات ہے جب سيد رضی الدین ابن طاؤوس کتاب اقبال لکه کر فارغ ہوئے ۔

شہيد تحریرکرتے ہيں ۶۵ ٠ ئه ق ميں آپ کی ملکيت ميں چه سو پچاس (کتابيں تهيں۔( ٢)

سيد ابن طاؤوس کی ادعيہ اور اذکار کے سلسلہ ميں پندرہ کتابےں سيد ابن طاووس اپنی کتاب “فلاح السائل ”ميں تحریر کرتے ہيں کہ ميں نے جب دعاوں کے سلسلہ ميں اپنے جد شيخ ابو جعفر طوسی کی کتاب“المصباح الکبير ”پڑهی تو ہم کو اس ميں بہت سے اہم مطالب نظر آئے جن کو شيخ طوسی نے اپنی کتاب ميں ملحق نہيں فر ما یا تھا لہٰذا ہم نے کتاب“المصباح الکبير ”پر پندرہ جلدوں ميں “تتمات مصباح المتہجد و مهمات فی صلاح المتعبد ” نامی کتاب مستدرک تحریر کی ہے ۔وہ کتاب فلاح السائل کے مقدمہ ميں تحریر کرتے ہيں :

ہم نے الله کی مدد سے چند جلد کتابيں مرتب و منظم کی ہيں جن کو اہم اور تتمہ کے عنوان سے شمار کيا جاتا ہے ۔

____________________

١)الذریعہ جلد ٢ص ٢۶۵ ۔ )

٢)الذریعہ جلد ٢ص ٢۶۴ ۔ ٢۶۵ ۔ )


پہلی جلد :جس کا نام “فلاح السائل ”ہے جو رات اور دن کے اعمال کے سلسلہ ميں ہے اور اس کی دو جلدیں ہيں ۔

تيسری جلد :اس کتاب کا نام “زهرة الربيع فی ادعية الاسابيع ”۔

چو تهی جلد :اس کتاب کا نام جمال الاسبوع بکمال العمل المشروع”۔

پانچویں جلد :اس کتاب کا نام “الدروع الواقية من الاخطار ”۔

چهڻی جلد :اس کتاب کا نام “المضمار للسباق واللحاق ”۔

ساتویں جلد:اس کتاب کا نام “السالک المحتاج الیٰ معرفة منا سک الحجاج ”۔

آڻهویں اور نویں جلد :ان دونوں کتابوں کا نام “الاقبال بالاعمال الحسنة فيما نذکرہ ممایعمل ميقاتاواحداًکل سنة ”۔

دسویں جلد :اس کتاب کا نام السعادات بالعبادات التی ليس لهاوقت محتوم و معلوم فی الروایات بل وقتهابحسب الحا دثات المقتضية والادوات المتعلقة بها جب ہم الله کے فضل وکرم سے ان کتابوں کو لکه کر فارغ ہو ئے تو ہم کو محسوس ہوا کہ ہم سے پہلے اس طرح کے علوم سے پرُ کتابيں کسی نے نہيں لکهيں اور یہ انسان کی ضروریات ميں سے ہے کہ انسان مرنے سے پہلے جزاکے طور پراپنی عبادات کو قبول کرانے اور قيامت ميں سرخرو ہونے کی استعدادکا ارادہ رکهتا ہے :

پہلا حصہ :“فلاح السائل ونجاح السائل فی عمل یوم و ليلة”۔ دوسرا حصہ : “زهرة الربيع فی ادعية الاسابيع ”۔

تيسرا حصہ :کتاب الرجوع فی زیارات وزیادات صلوات ودعوات الاسبوع فی الليل والنهار ۔

چو تھا حصہ :“الاقبال ”وہ اعمال حسنة جن کو انسان ہر سال ميں ایک مرتبہ انجام دیتا ہے ۔


پانچواں حصہ :“اسرار الصلوات وانوار الدعوات ” اگر پروردگار نے مجھے اس کی تاليف کی مہلت دی تو ميں اس کو پوری زندگی ميں محفوظ رکهوں گا مگر یہ کہ خداوند عالم ایسے شخص کو اذن دے جس کو ميری وفات سے قبل اس ميں تصرف (کر نے کا حق حاصل ہو ”(١ )

سيد ابن طاووس سے متاخر دعا ؤں کے مصادر

آقا بزرگ محقق تہرانی تحریر کرتے ہيں :پهر علماء نے سيد بن طاووس کی مدون کتابوں ميں ان ادعيہ و اذکار کا اضافہ کياجو ائمہ عليہم السلام سے منسوب تھے اور جو پرانی دعاؤں کی کتابوں ميں درج تھے اور وہ کتابيں سيد ابن طاووس کے پاس مو جود نہيں تهيں اور وہ جلنے ،غرق ہو نے، زميں بوس ہو نے اور دیمک کے کهانے سے محفوظ رہ گئيں تهيں یہاں تک کہ وہ ہم تک پہونچيں ،تو ہم نے ان دعاؤں کو ان کی دعا کی کتابوں ميں درج کردیا ۔

ان افراد ميں سے شيخ سعيد محمد بن مکی ہيں جو ٧٨ ۶ ئه ميں شہيد ہو ئے ؛

شيخ جمال السالکين موجودہ کتاب “المزار ”کے مو لف ہيں، ابو العباس احمد بن فہد حلی مو لف کتاب “عدة الداعی ”اور کتاب “التحصين فی صفات العارفين ”متو فیٰ ٨ ۴ ١ ئه ۔

شيخ تقی الدین ابراہيم الکفعميمتوفیٰ ٩٠ ۵ ئه ،انهوں نے کتاب “جنة الامان الواقيہ ”،“بلد الامين ”،محا سبة النفس اور ائمہ عليہم السلام سے دوسری تمام ماثورہ دعائيں اور اذکار تحریرکئے ہيں انهوں کتاب “الجنة ”کے شروع ميں یہ تحریر کيا ہے کہ یہ کتاب معتمد اور صحيح السند کتابوں سے اخذ شدہ مطالب سے تحریر کی گئی ہے اور کتاب “الجنة ”اور “البلد ”کے دوسو سے زیادہ مصادر شمار

____________________

١)فلا ح السا ئل صفحہ / ٧۔ ٩ طبع ١٣٧٢ ئه شمسی ۔ )


کئے ہيں اور ان ميں اصل متن کتاب کو بهی نقل کيا ہے اور ان ميں اکثر دعاوں کی قدیم کتابيں ہيں:

جيسے کتاب “روضة العابدین ”مو لف کراجکی ،متوفیٰ ۴۴ ٩ ئه ۔

کتاب “مفتاح الفلاح مولف شيخ بہا ئی متوفیٰ ١٠٣١ ئه ۔

کتاب “خلا صة الاذکار مولف محدث فيض کا شانی متوفیٰ ١٠٩١ ئه۔

اور علا مہ مجلسی متوفیٰ ١١١١ ئه ۔انهوں نے عربی زبان ميں بحار الانوار

تحریر کی ہے اور “زاد المعاد ” ، “تحفة الزائر ”،مقباح المصابيح ”، ربيع الاسابيع ”اور (مفاتح الغيب ”فارسی زبا ن ميںتحریر کی ہيں۔(١)

____________________

١٧٩ ۔ ١٨٠ ۔ / ١)الذریعہ الیٰ تصانيف الشيعہ جلد ٨ )


دعااور قضا و قدر

دعااورقضاء و قدرخدا وند عالم نے ہر چيز کےلئے قضا و قدر قرار دیا ہے اور انسان ان دونوں سے کسی صورت ميں نہيں بچ سکتا ہے وہ خدا وند عالم کا حتمی و یقينی ارادہ ہے تو دعا کے مو قع پر انسان کيا کرے ؟

کيا جس چيز سے مشيت الٰہی اور اس کا علم یقينی طور پر متعلق ہو گياہو کيا دعا اس کو بدل سکتی ہے ؟

اور جب دعاميں اتنا اثر ہے کہ وہ قضا و قدر الٰہی ميں رد و بدل کر سکتی ہے تو یہ کيسے ہو سکتا ہے ؟

اس سوال کے جواب کےلئے قضا و قدر کی بحث کاچهيڑنا لا زم و ضروری ہے ۔۔۔اگر چہ ہم اس بحث کو چهيڑنے سے دعا کی بحث سے دور ہو کر فلسفہ کی بحث ميں دا خل ہو جا ئيں گے لہٰذا ہم اپنی ضرورت کے مطابق اس سوال سے متعلق بحث کو مختصر طور پربيان کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہيں ۔

تا ریخ اور کا ئنات ميں قا نو ن عليت

تاریخ اور کا ئنات کی حرکت کے مطابق یقينی اور عام طور پر بغير کسی استثنا ء کے قانون عليت جا ری و ساری ہے ۔

( للهِ مُلکُْ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرضِْ یَخلُْقُ مَایَشَا ءُ ) (١)

____________________

١)سورئہ شوریٰ آیت/ ۴٩ ۔ )


“بيشک آسمان و زمين کا اختيار صرف الله کے ہاتهوں ميں ہے وہ جو کچه چا ہتا ہے پيدا کرتا ہے ’

( اِنَّ الله یَفعَْلُ مَایُرِیدُْ ) ( ١)

“الله جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے ”

( اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَایُرِیدُْ ) ( ٢)

“بيشک تمہارا پروردگا ر جو بهی چا ہے کرسکتا ہے ”

( اِنَّمَاقَولُْنَالِشَیءٍْ اِذَااَرَدنَْاهُ اَن نَقُولَْ لَهُ کُن فَيَکُونُْ ) ( ٣)

“ہم جس چيز کا ارادہ کرليتے ہيں اس سے فقط اتنا کہتے ہيں کہ ہو جا پھر وہ ہو جا تی ہے ”

( وَلَوشَْاءَ ال لٰ هُ لَذَهَبَ بِسَمعِْهِم وَاَبصَْارِهِم ) ( ۴)

“خدا چا ہے تو ان کی سماعت و بصارت کو بهی ختم کر سکتا ہے ”( وَال لٰ هُ یَختَْصُّ بِرَحمَْتِهِ مَن یَّشَا ءُ ) ( ۵)

“الله جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کر ليتا ہے ”

( یَرزَْقُ مَن یَّشَاءُ بِغَيرِْحِسَابٍ ) ( ۶)

“وہ جسے چاہتا ہے رزق بے حساب عطا کر دیتا ہے ”

____________________

١)سورئہ حج آیت/ ۴ا۔ )

٢)سورئہ هود آیت/ ٠٧ ا۔ )

٣)سورئہ نحل آیت/ ۴٠ ۔ )

۴)سورئہ بقرہ آیت / ٢٠ ۔ )

۵)سورئہ بقرہ آیت/ ٠۵ ا۔ )

۶)سورئہ آل عمران آیت/ ٣٧ ۔ )


( وَالله یُوتِْی مُلکَْهُ مَن یَّشَاءُ ) ( ١)

“اور الله جسے چاہتا ہے اپنا ملک دیدیتا ہے ”

( قُلِ الله ُّٰمَّ مَالِک المُْلکْ مَن تَشَاءُ وَتَنزَْعُ المُْلکَْ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّمَن تَشَاءُ وَتُذِلّ ( مَن تَشَاءُ بِيَدِکَ الخَْيرَْاِنَّکَ عَل یٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیرٌْ ) ( ٢)

“پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ خدا تو صاحب اقتدار ہے جس کو چاہتا ہے اقتدار دیتاہے اور جسے چا ہتا ہے سلب کرليتا ہے ۔جس کو چا ہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چا ہتا ہے ذليل کرتا ہے سارا خير تيرے ہاته ميں ہے اور تو ہی ہر شی پر قادر ہے ”

( اِن یَّشَایُذهِْبکُْم اَیُّهَاالنَّاسُ وَیَاتِ بِآخَرِینَْ ) ( ٣)

“وہ چاہے تو سب کو اڻها لے جا ئے اور دو سرے لوگوں کو لے آئے ” یہ آیات اور ان آیات کے مانند آیات قرآن کریم ميں بہت زیادہ مو جود ہيں اور ان آیات سے یہ صاف طور پر وا ضح ہے کہ الله تبارک و تعا لیٰ کا ئنات پر سلطان مطلق ہے اس کی کو ئی حد و حدود نہيں ہے اس کو کو ئی چيز عا جز نہيں کر سکتی اور نہ کو ئی چيز اس کےلئے ما نع ہو سکتی ہے ۔

وہ ہرچيز پر قا در ہے وہ جو چا ہتا ہے کر تا ہے وہ جو بهی چا ہے کر سکتا ہے ،اس سے کسی چيز کے بارے ميں سوال نہيں کيا جا ئے گا اور اُن سے سوال کيا جا ئيگا اور اس کو کو ئی چيز عا جز نہيں کر سکتی ہے ۔

یہود یوں کا یہ نظریہ ہے کہ خدا وند عالم کا ارادہ اس عام نظام عليت کا محکوم ہے جو کائنات اور تا ریخ پر حکم کر تا ہے ،اور خداوند عالم (یہودیوں کی نظر ميں )کائنات اور تا ریخ کو خلق کر نے کے بعد ان پر با دشاہت نہيں رکهتا ہے ۔

____________________

١)سورئہ بقرہ آیت/ ٢۴٧ ۔ )

٢)سورئہ آل عمران آیت/ ٢۶ ۔ )

٣)سورئہ نساء آیت/ ٣٣ ا۔ )


قرآن کریم اس بارے ميں فر ماتا ہے :

( وَقَالَتِ اليَْهُودُْیَدُال لٰ هِ مَغلُْولَْةٌ غُلَّت اَیدِْیهِْم وَلُعِنُواْبِمَاقَالُواْبَل یَدَاهُ مَبسُْوطَْتَانِ ) ( ١)

“اور یہو دی کہتے ہيں کہ خدا کے ہاته بندهے ہو ئے ہيں جبکہ اصل ميں انهيں کے ہاته بندهے ہو ئے ہيں اور یہ اپنے قول کی بنا پر ملعون ہيں اور خدا کے دونوں ہاته کهلے ہو ئے ہيں ”

ہم نے جوکچه بيان کياہے اس ميں کو ئی شک نہيں ہے اور اس بارے ميں قرآن کریم صاف طور پر بيان کر رہا ہے اور یہود یوں نے جو کچه کہا ہے اس کا باطل ہونا خود بخود ظاہر ہے۔

____________________

١)سورئہ ما ئدہ آیت/ ۶۴ ۔ )


خدا وند عالم کے ارادہ کا قا نون عليت سے رابطہ

ہم اس قدرت اور حکومت کی رو شنی ميں جس کو قرآن کریم نے الٰہی ارادہ کے تحت کائنات، تا ریخ اور معا شرہ ميں مقرر کيا ہے تو فطری طور پر یہ سوال ذہن ميں آتا ہے کہ قانون عليت سے خدا کا کيا رابطہ ہے ؟

کيا یہ تعطيل ہے ؟یعنی الٰہی ارادہ قانون عليت کو معطل کر دیتا ہے جب خدا وند عالم اس کاارادہ کرنا چا ہے ۔

اس کا جواب بغير کسی شک و شبہ کے نفی ميں ہے ۔

الله نے علت کو خلق کيا ہے اور اس کے علاوہ کسی نے علت کی تخليق نہيں کی ہے ،علت کا خلق کرنا عليت کو با لضرورہ خلق کر نے کے برابر ہے ۔جس طرح اس نے آگ کو پيدا کيا اسی طرح اس ميں حرارت کو بهی پيدا کيا اور آگ کو (حرارت کے بغير پيدا کرنا زوج کو زوجيت(۱)

____________________

۱)اس ميں بہت کم فرق ہے پہلا وجو د کےلئے ضروری ہے اور دوسرا ما هيت کےلئے لا زم ) ہے ۔


کے بغير پيدا کرنے کے مانند ہے ۔یہ ممکن ہی نہيں ہے کہ الله آگ کو اس کے بغير پيدا کرے کہ وہ حرارت کےلئے علت ہوہاں وہ آگ کے علاوہ اس کو ایسی چيز ميں تو تبدیل کر سکتا ہے جو آگ کے مشابہ ہے ۔پس اس قول کا مطلب یہ نہيں ہے کہ کا ئنات اور تا ریخ پر ارادئہ الٰہيہ کے حاکم ہو نے سے قانون عليت کا معطل ہو جانا ہے ۔ پس ارادئہ الٰہيہ اور قانون عليت ميں کيا رابطہ ہے ؟

ارادئہ الٰہيہ قانون عليت پر بنفس نفيس قانون کی طرح حاکم ہے

قرآن کر یم نے اس علاقہ و رابطہ کی متعدد مقامات پرو ضاحت کی ہے اور بيان فرمایا ہے کہ الله تعالیٰ حاکم مطلق ہے اور اسے اس قانون پر خوداس قانون کے با لکل اپنی جگہ پر باقی رہتے ہوئے مطلق تسلط حاصل ہے قرآن الله کے ارادہ کو معطل نہيں کرتا جيسا یہودیوں نے کہا ہے اور نہ نظام علت کو معطل کرتا ہے جيسا کہ اشاعرہ نے کہا ہے بلکہ یہ تو اس کا ئنات اور اس قانون پر الله کی حاکميت کو مقرر کرتا ہے جب وہ کسی قوم پر نعمت نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس قوم پرہواؤ ں کو رحمت کی بشارت کےلئے رواں دواں کرتا ہے :

( هُوَ الَّذِی اَرسَْلَ الرِّیَاحَ بُشرْاً بَينَْ یَدَیهِْ رَحمَْتِهِ ) ( ١)

“اور وہی وہ ہے جس نے ہوا ؤں کو رحمت کی بشارت کے لئے رواں کر دیا ہے”

( الله الَّذِی اَرسَْلَ الرِّیَاحَ فَتُثِيرُْسَحَاباً ) ( ٢)

“الله وہی ہے جس نے ہوا ؤں کو بهيجا تو وہ بادلوں کو منتشر کر تی ہيں ”

( وَاَرسَْلنَْا الرِّیَاح لَوَا قِحَ فَا نزَْلنَْا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ) (٣)

____________________

١)سورئہ فر قان آیت/ ۴٨ ۔ )

٢)سورئہ فاطر آیت/ ٩۔ )

٣)سورئہ حجرآیت/ ٢٢ ۔ )


“اور ہم نے ہواؤں کو بادلوں کا بوجه اڻها نے والا بنا کر چلا یا ہے پھر آسمان سے پا نی برسایا ہے ’

پاک و پاکيزہ ہے وہ ذات جو بادلوں کا بوجه اڻهانے والی ہواؤں کو بهيج کر آسمان سے پانی برساتا ہے اور جب وہ کسی قوم کو اپنی رحمت کی بشارت دینا چا ہتا ہے تو وہ اس پر ہواؤں کو رحمت کی بشارت دینے کے لئے رواں کرتا ہے تا کہ وہ بادلوں کو ليجا ئيں اور ان پر آسمان سے پانی برسائے تا کہ ان کی زمين ہری بهری ہو جا ئے جس ميں الله نے اپنی رحمت ودیعت کی ہے ۔

الله جس پر اپنی نعمتيں نازل کرناچا ہتا ہے اپنی نعمت کے ان ہی اسباب کے ذریعہ نعمتيں نازل کرتا ہے جس طرح وہ جب کسی قوم سے اس کے برے عمل کی وجہ سے انتقام لينا چا ہتا ہے عذاب کے اسباب کے ذریعہ انتقام ليتا ہے خدا وند عالم آل فرعون کی تنبيہ کے سلسلہ ميں ارشاد فر ماتا ہے :

( وَلَقَد اَخَذ اْٰنآلَ فِرعَْونَْ بِالسَّنينَ وَنَقصٍْ مِن اَ لثَّمَ اٰرتِ لَعَلَّهُم یَذَّکَّرُونَْ ) ( ١)

“اور ہم نے آل فر عون کو قحط اور ثمرات کی کمی کی گرفت ميں لے ليا کہ وہ شاید اسی طرح نصيحت حاصل کر سکيں ”

آل فرعون کے عذاب اور ان کی تنبيہ کا اختتام قحط اور خشک سالی پر ہوا اور“ سنون”سنة” کی جمع ہے جس کا مطلب قحط اور خشک سالی ہے ۔

جب خداوند عالم کسی قوم پر نعمت نازل کرنا چا ہتا ہے تو اسباب نعمت کے ذریعہ اس پر نعمت نا زل کرتا ہے اور اسباب نعمت سے ہوا اور بادل ہيں ۔جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنا چا ہتا ہے تو اسباب عذاب کے ذریعہ اس پر عذاب نا زل کرتا ہے اور اسباب عذاب ميں سے قحط اور بہت کم بارش ہو نا ہے ۔

قانون تسبيب

قانو ن تسبيب سے مراد یہ ہے کہ خداوند عالم جس چيز کو چا ہتا ہے اس کو اخذ کرليتاہے اور

____________________

١) سورئہ اعراف آیت/ ١٣٠ ۔ )


جس چيز ميں چا ہتا ہے اپنی مشيت کے اسباب متحقق کر دیتا ہے قرآن کریم ميں اس مطلب کے سلسلہ ميں بہت زیادہ شواہد مو جود ہيں خداوند عالم فر ماتا ہے :

( فَمَن یُرِدِالله اَن یَهدِْیَهُ یَشرَْح صَدرَْهُ لِلاِْسلْاَمِ وَمَن یُرِدَاَن یُّظِلَّهُ یَجعَْل صَدرَْهُ ضَيِّقاًحَرجاًکَاَنَّمَایَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ ) ( ١)

“پس خدا جسے ہدایت دینا چا ہتا ہے اس کے سينہ کو اسلام کے لئے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہی ميں چهوڑنا چا ہتا ہے اس کے سينہ کو ایسا تنگ اور دشوار گذار بنا دیتا ہے جيسے آسمان کی طرف بلند ہو رہا ہو وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسلط کر دیتا ہے ”

اور جس مطلب کا ہم اوپر تذکرہ کر چکے ہيں اس مطلب کو یہ آیت مکمل طور پر واضح کر رہی ہے بيشک خدا وند عالم کسی قوم کی اس کے اعمال کے ذریعہ ہدایت یااس کو گمرا ہ کر نے کا ارادہ رکهتا ہے تو اگر ہدایت کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب فراہم کردیتا ہے یا ان کا سينہ اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جب وہ کسی قوم کو گمراہ کرنا چا ہتا ہے تو اس کے محقق ہو نے کے اسباب فراہم کرتا ہے اور اس قوم کے سينہ کو تنگ بنا دیتا ہے اور فرماتا ہے :

( وَاِذَااَرَدنَْااَن نُّهلِْکَ قَریَْةً اَمَرَنَامُترَْفِيهَْافَفَسَقُواْفِيهَْافَحَقَّ عَلَيهَْاالقَْولُْ فَدَمَّر َاهَاتَدمِْيرْاً ) ( ٢)

“اور ہم نے جب بهی کسی قریہ کو ہلاک کر نا چاہا تو اس کے ثروتمندوں پر احکام نافذ کردئے اور انهوں نے ان کی نا فرمانی کی تو ہماری بات ثابت ہو گئی اور ہم نے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا ”

جب خدا وند عالم کسی معاشرہ کو (ان کے اعمال کے سبب )ہلاک کرنا چا ہتا ہے تو تو اسی سبب

____________________

١)سورئہ انعام آیت/ ١٢۵ ۔ )

٢)سورئہ اسراء آیت / ١۶ ۔ )


کا انتخاب کرتا ہے جو اس کے فاسد ہو نے کا سبب ہوتا ہے تو وہ اس کو آرام ميں ڈال دیتا ہے اور یہ آرام آہستہ آہستہ ان کے فسق ونافرمانی کا سبب ہو جاتا ہے پھر خدا وند عالم ان پر اپنا عذاب نازل کردیتا ہے ۔خدا وند عالم فر ماتا ہے :

( وَتَوَدُّونَْ اَنَّ غَيرَْذَاتِ الشَّوکَْةِ تَکُونُْ لَکُم وَیُرِیدُْ الله اَن یُحِقَّ بِکَلِمَاتِهِ وَیَقطَْع دَابِرَالکَافِرِینَْ ) ( ١)

“اور تم چا ہتے تھے کہ وہ طاقت والا گروہ نہ ہو اور الله اپنے کلمات کے ذریعہ حق کو ثابت کر نا چا ہتا ہے اور کفار کے سلسلہ کو منقطع کر دینا چا ہتا ہے ” جب خدا وند عالم رسول اسلام (ص) کے ساته ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں کے لئے حقانيت کو ثابت کرنا چاہتا ہے تو جاہ و حشم اور شان و شوکت کے اسباب فراہم کردیتا ہے۔

جيسا کہ پرور دگار عالم نے ذات شوکت کے طریقہ کو مسلمانوں کے تکامل کا سبب قرار دیا ہے اور زمين پر لوگوں کے لئے ان کو قيموم اور ان کا امام قرار دیا ہے اسی طرح خداوند عالم نے لوگوں کے ہلاک کرنے کے لئے آزمائش و امتحان و آرام قرار دیا ہے ۔خداوند عالم فرماتا ہے :

( فَلاَتُعجِْبکَْ اَموَْالُهُم وَلَا اَولْاَدُهُم اِنَّمَایُرِیدُْالله لِيُعَذِّبَهُم بِهَافِی الحَْ اٰيةِ الدُّنيَْا وَتَزهَْقَ اَنفُْسُهُم وَهُم کَافِرُونَْ ) ( ٢)

“تمہيں ان کے اموال و اولاد حيرت ميں نہ ڈال دیں بس الله کا ارادہ یہی ہے کہ انهيںکے ذریعہ ان پر زندگانی دنيا ميں عذاب کرے اور حالت کفر ہی ميں ان کی جان نکل جا ئے ”

خداوند عالم نے ان کے اموال اور اولاد کو ان کے عذاب اور ہلاکت کا سبب قرار دیا ہے

____________________

١)سورئہ الا نفال آیت/ ٧۔ )

٢)سورئہ توبہ آیت/ ۵۵ ۔ )


قانون توفيق

قانون توفيق قانون تسبيب سے قریب ہے یعنی خداوند عالم بندہ کے ذریعہ اسباب خير کو نافذ کرا دیتا ہے جب خداوند عالم کسی مریض کو شفا دینے کا ارادہ کرتا ہے تو ایک ایسے طبيب کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اس بندہ کے مرض کی علت کو پہچانتا ہے اور وہ دوائيں فراہم کردیتا ہے جس سے وہ مریض کا علاج کرتا ہے ۔

جب کسی بندہ کے خير کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اسباب ہدایت اور خير کی طرف ہدایت کردیتا ہے ، جب کسی بندہ کو رزق دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے اسباب رزق فراہم کردیتا ہے اور جب اس کے خلاف ارادہ کرتا ہے تو اسباب رزق کے مابين پردے حائل کردیتا ہے ۔

کائنات ميں سلطان مطلق الله کا ارادہ

ہر چيز الله کے ہاته ميں ہے اور وہ اس کی حکمت اور بادشاہت کے سامنے خاضع ہے :

( مَایَفتَْحِ الله لِلنَّاسِ مِن رَحمَْةٍ فَلاَ مُمسِْکَ لَهَاوَمَایُمسِْکَ فَلاَمُرسِْلَ لَهُ مِن بَعدِْهِ وَهُوَالعَْزِیزُْالحَْکِيمُْ ) ( ١)

“الله انسانوں کے لئے جو رحمت کا دروازہ کهول دے اس کا کوئی روکنے والا نہيں ہے اور جس کو روک دے اس کا کو ئی بهيجنے والا نہيں ہے وہ ہر شے پر غالب اور صاحب حکمت ہے ”

( اِنَّ الله ٰ بَالِغُ اَمرِْهِ ) ( ٢)

“بيشک خدا اپنے حکم کا پہنچانے والا ہے ”( اِن یَنصُْرکُْمُ الله ٰ فَلَاغَالِبَ لَکُم وَاِن یَخذُْلَکُم فَمَن ذَاالَّذِی یَنصُْرکُْم )

____________________

١)سورئہ فاطر آیت/ ٢۔ )

٢)سورئہ طلاق آیت/ ٣۔ )


( من بَعدِْهِ ) ( ١)

“الله تمہاری مدد کرے گا تو کو ئی تم پر غالب نہيں آسکتا اور وہ تمہيں چهوڑدے گا تو اس کے بعد کون مدد کرے گا ”

( وَاِذَا اَرَادَ الله ٰ بِقَومٍْ سُوءًْ فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَالَهمُْ مِن دُونِْه مِن اٰولٍ ) (٢) “اور جب خدا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کر ليتا ہے تو کو ئی ڻال نہيں سکتا ہے اور نہ اس کے علا وہ کو ئی کسی کا والی و سر پرست ہے ”

( اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَایُرِیدُْ ) ( ٣)

“بيشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کر ہی کے رہتا ہے ”

( اِنَّ الله ٰ یَفعَْلُ مَایُرِیدُْ ) ( ۴)

“الله جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے ”

( اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُومِنُ الْمُهَيْمِنُ ) ( ۵)

“وہ بادشاہ ،پاکيزہ صفات ،بے عيب ،امان دینے والا ،نگرانی کرنے والاہے ”

خداوند عالم کے ارادہ اور قانون عليت کے مابين رابطہ

الله کے ارادہ اور قانون عليت کے مابين حتمی نظریہ فيصلہ کن قول یہ ہے کہ قانون عليت کائنات ميں یقينی اور عام طور پر نافذ ہو تا ہے ۔

____________________

١)سورئہ آل عمران آیت/ ١۶٠ ۔ )

٢)سورئہ رعد آیت / ١١ ۔ )

٣)سورئہ ہود آیت/ ١٠٧ ۔ )

۴)سورئہ حج آیت/ ١۴ ۔ )

۵)سورئہ حشر آیت ٢٣ ۔ )


مگر یہ قانون الله کی مشيئت کے سامنے محکوم ہے حاکم نہيں ہے اور الله کا ارادہ اس پر حاکم ہے الله کے ارادہ کے حاکم ہو نے کا مطلب اس قانون کوملغیٰ اور معطل قرار دینا نہيں ہے اور کيسے خدا اس قانون کوملغیٰ قرار دے سکتا ہے جبکہ اسی نے اس کو خلق فرمایا ہے ليکن خداوند عالم ان اسباب ميں سے جس کو چا ہتا ہے مڻا دیتا ہے اور جن کو چاہتا ہے قائم و دائم رکهتا ہے اور اس کائنات ميں جيسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اسباب عزت کے ذریعہ عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسباب ذلت کے ذریعہ ذليل کرتا ہے ۔

اس بنا پر یہ انسان کے بس کی بات نہيں ہے کہ وہ اسباب و علل کے ذریعہ کائنات اور تاریخ کے مستقبل کا مطالعہ کرسکے چونکہ ہر امرميں الله کی مشيئت کا دخل ہے لہٰذا یہ اسباب و علل جس طرح الله چا ہتا ہے اسی طرح متغير ہو جا تے ہيں۔ کبهی طاقتور اور کمزور لشکر ایک دوسرے سے ڻکراتے ہيں جب ہم ميں سے کو ئی ایک ان دونوں کے مستقبل کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ یہی خبر دیتا ہے کہ طاقتور لشکر کو فتح نصيب ہو گی اور کمزور لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا مگرجب خداوند عالم چهوڻے گروہ کوبڑے لشکر پر غالب کرنا چاہتاہے تو ایسے اسباب فراہم کر دیتا جن کا گمان بهی نہيں ہوتاہے وہ بڑے گروہ کے دلوں ميں رعب و خوف پيدا کردیتا ہے اور چهوڻے گروہ کے دلوں ميں طاقت اور عزم و ارادہ کو محکم کردیتا ہے اور اس چھوٹی جماعت کے کارنامہ کو مضبوط کر دیتا ہے ليکن بڑے گروہ کے اس فعل کو مضبوط نہيں کرتا (یعنی ان کے دلوں ميں خوف و رعب اسی طرح باقی رہتا ہے )اور بڑی جماعت کوعسکری غلطيوں ميں مبتلاکر دیتا ہے اور چهوڻے گروہ کو مضبوط ومحکم کر دیتا ہے اور امور کو اسی کے مطابق انجام دیتا ہے :فتنصرالفئة القليلة علی الفئة الکثيرة اذاشاء الله


“پس چهوڻے گروہ کو بڑے گروہ پر کامياب کردیتا ہے جب وہ چا ہتا ہے ”

چهوڻے اور بڑے گروہ کے جنگ کے راستہ کو ایک نہيں قرار دیتا جيسا کہ الله پر ایمان نہ لانے والے افراد گمان کرتے ہيں ،اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ کثرت اسباب مدد ميں سے نہيں ہے اور اقليت اسباب شکست ميں سے نہيں ہے ۔بيشک ہمارا یہ کہنا ہے کہ مدد کے دوسرے اسباب بهی ہيں اسی طرح شکست کے بهی دوسرے اسباب ہيں ،جب خداوند عالم کسی چهوڻے گروہ کی مدد کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کےلئے فتح کے اسباب مہيا کردیتا ہے اور یہ اس کے قبضہ قدرت ميں ہے اور جب کسی بڑے گروہ کو شکست سے دو چار کرنا چا ہتا ہے تو اس کے اسباب فراہم کردیتا ہے اور یہ بهی اسی کے قبضہ قدرت ميں ہے :

( قَالَ الَّذِینَْ یَظُنُّونَْ اَنَّهُم مُلاَقُواْالله کَم مِن فِئَةٍ قَلِيلَْةٍ غَلَبَت فِئَةًکَثِيرَْةًبِاِذنِْ الله ( وَالله مَعَ الصَّابِرِینَْ ) ( ١)

“اور ایک جماعت جس نے خدا سے ملاقات کر نے کا خيال کيا تھا کہا کہ اکثر چهوڻے چهوڻے گروہ بڑی بڑی جماعتوں پر حکم خدا سے غالب آجا تے ہيں اور الله صبر کرنے والوں کے ساته ہے ”

تکوین (موجودات )ميں بداء

کائنات ميں بداء کا مطلب یہ ہے :کائنات اور تاریخ ميں جو حادثات رونما ہو نے والے ہيں ان کے راستہ کو بدل دینا ۔اگر قانو ن عليت لوگوں کی زندگی پر حاکم ہو تا تو بہت سے مقامات ایسے آئے ہيں جہاں پر انسان پستی کے گڑهے ميں گرنے والا تھا تو اس مو قع پر مشيت الٰہی نے بڑه کر اس کو سہارا دیا اور پستی کے گڑهے ميں گرنے سے اس کو نجات دی ۔۔۔ جو قانون عليت کی حرکت کے خلاف ہے ۔اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ یہ قانون ملغیٰ (بے کار ) ہے اور اس کی کو ئی حيثيت نہيں ہے

____________________

١)سورئہ بقرہ آیت ٢۴٩ ۔ )


بلکہ خداوند عالم کی جانب سے یہ قانون محکوم ہے اوراس کے محکوم ہونے کے وہ نتائج ہيں جو لوگوں کی سمجه کے خلاف ہيں اور لوگ ان کو اسباب و مسببات اور علل و معلولات کا تسلسل کہتے ہيں ۔

قانون عليت ميں یہ تحکم الٰہی جو لوگوں کو چونکا دیتا ہے اور ان کے حسابات ميں تغير و تبدل کردیتا ہے اسے بداء کہا جاتا ہے جو اہل بيت عليہم السلام سے وارد ہو نے والی بہت سی روایات ميں بيان کيا گيا ہے ۔

“بداء ”کے ذریعہ کائنات ،تاریخ اور معاشرہ ميں تغير واقع ہو جاتا ہے وہ حادثات واقع ہو جاتے ہيں جن کو انسان شمار نہيں کر سکتا ،لوگوں کی توقع کے خلاف مدد ہو جا تی ہے ،وہ لوگ شکست کها جاتے ہيں جو کبهی شکست کے بارے ميں سوچ بهی نہيں سکتے تھے ،کمزور باشاہ بن جاتا ہے اور بادشاہ ذليل ہو جاتے ہيں ۔


محو اور اثبات

محو اور اثبات کے معنی ميں بداء کے یہی معنی قرآن کریم ميں بيان ہو ئے ہيں :

( یَمحُْوالله مَایَشَاءُ وَیُثبِْتُ وَعِندَْهُ اُمُّ الکِْتَابِ ) (١) “الله جس چيز کو چاہتا ہے مڻا دیتا ہے یا بر قرار رکهتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے ”

“اُمّ الکتاب ”سے مراد الله تعالیٰ کا علم ہے جس کو روایات کی زبان ميں “لوح محفوظ ”سے تعبير کی گئی ہے جس ميں محو اور تغيير واقع نہيں ہو تا اور نہ ہی خدا وند عالم ایسا ہے کہ وہ پہلے ایک چيز سے نا آگاہ ہو اور بعد ميں اس کو اس چيز کا علم حاصل ہو ۔

شيخ صدوق نے کتاب “ اکمال الدین ”ميں ابو بصير اور سماعة سے اور انهوں نے امام جعفرصادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے :

____________________

١)سورئہ رعد آیت/ ٣٩ ۔ )


من زعم انّ اللّٰه عزّوجلّ یبدوله في شي ءٍ لم یعلمه امس فابرووامنه (١) “جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ الله عز و جل کےلئے ایسی چيز کا علم حاصل ہو تا ہے جس کو وہ کل نہيں جانتا تهاتو اسے ہم سے برائت کرناچا ہئے ” محو “ کتاب تکوین ” ميں تو جاری ہو سکتا ہے ليکن “اُمُّ الکتاب ”جو خداوند عالم کا علم ہے اس ميں جا ری نہيں ہو سکتا ہے ۔

خداوند عالم کا علم ثابت ہے اس ميں کسی قسم کی رد و بدل اور تغير وتبدل واقع نہيں ہو سکتا ہے اور تغير و تبدل کائنات ،مجتمع اور تاریخ ميں ان اسباب کے ذریعہ واقع ہو تا ہے جن کو خداوند عالم نے ان کےلئے فراہم کر رکها ہے ۔عياشی نے ابن سنان سے اور انهوں نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے :

انَّ اللّٰه یقدِّم مایشاء ویوخرمایشاء،ویمحومایشاء ویثبت مایشاء وعنده امّ الکتاب وقال فکل امریریده اللّٰه فهو فِيْ علمه قبل ان یصنعه ليس شي ء یبدوله الّاوقدکان فِيْ علمه، انّ اللّٰه لایبدوله من جهل ( ٢)

بيشک خداوند عالم جس چيز کو چا ہتا ہے مقدم کر دیتا ہے اور جس چيز کو چا ہتا ہے مو خر کردیتا ہے جس چيز کو چاہتا ہے مڻا دیتا ہے اور جس چيز کو چاہتا ہے ثابت (برقرار ) رکهتا ہے اس کے پاس اُمّ الکتاب ہے اور ہر وہ امر جس کا خداوند عالم ارادہ کرتا ہے وہ اس سے پہلے کہ اس چيز کو موجود کرے اس کے علم ميں ہے کو ئی ایسی چيز نہيں ہے جس کی وہ ابتدا کرے وہ اس کے علم ميں نہ ہو ،بيشک خداوندعالم کسی چيز کی ابتدا کرنے سے نا آگاہ نہيں ہے ”

____________________

١)بحار الانوار جلد ۴ صفحہ ١١١ ۔ )

٢)بحار الانوار جلد ۴ صفحہ ١٢١ ۔ )


عمار بن مو سیٰ نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : “جب حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سےیمحوالله کے سلسلہ ميں سوال کيا گيا تو آپ نے فرمایا:

اِنَّ ذلک الکتاب کتاب یمحواللّٰه مایشاء ویثبت،فمن ذلک یَرُدُّ الدعاء القضاء وذالک الدعاء مکتوب عليه الّذي یُرَدُّبه القضاء حتّٰی اذاصارالیٰ اُمِّ الکتاب لم یغن الدعاء فيه شيئاً ( ١)

“بيشک وہ کتاب ایسی کتاب ہے جس ميں سے الله جو چاہتا ہے اس کو مڻا دیتا ہے اور جس چيز کو چاہتا ہے برقرار رکهتا ہے جو شخص دعا کے ذریعہ قضا کو رد کرنا چاہتا ہے تو وہ دعا خداوند عالم کے پاس لکهی ہو ئی ہے جس کے ذریعہ سے قضا ڻل جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ ام الکتاب تک پہنچتی ہے تو دعا اس ميں کچه نہيں کرسکتی ہے ”

خداوند عالم کائنات کے نظام ميں قانون عليت کے ذریعہ جس چيز کو چاہتا ہے ثابت رکهتا ہے اور جس چيز کو چاہتا ہے مڻا دیتا ہے ۔کبهی ایک معين و مشخص مرض صاحب مرض کی طبيعی اسباب کے ذریعہ مو ت کا سبب ہو تا ہے تو خداوند عالم اس کو اپنے اذن و امر سے اس کےلئے بر قرار رکهتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو مڻا دیتا ہے اور صاحب مرض کی شفا ء کے اسباب فراہم کردیتا ہے ۔اسباب کے معطل کرنے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ تکوین ميں توقانون محو جاری ہو جاتا ہے ليکن ام الکتاب ميں نہ محو جاری ہو تا ہے نہ کو ئی تغير وتبدل ہو تا ہے اور نہ ہی خداوند عالم کسی چيز سے ناآگاہ ہو نے کے بعد اس کا عالم ہوتا ہے۔

کتاب تکوین ميں یہ محو اسباب و مسببات کے نظام کےلئے خدا وند عالم کی “حکمت ”اور “رحمت ’ کی بنا پر جاری ہو تے ہيں ۔جب خداوند عالم کی “حکمت ”اور “رحمت ’ کائنات اورمعاشرہ ميں کسی چيز

____________________

١)بحارالانوار )


کے حادث ہو نے کا تقاضا کرتی ہے تو خداوند عالم اس کے اسباب فراہم کردیتا ہے اور جو کچه کائنات اورمعاشرہ ميں ہو تا ہے اس کو مڻا دیتا ہے اگر الله تعالیٰ کی مشيت، اسباب اور مسببات کے نظام کی باعث نہ ہو ۔یہ نظام “محو ”اور “اثبات ”کی حالت ميں الله تعالیٰ کے امر کا خاضع ہے ،الله تعالیٰ کی بادشاہت اس پر نافذ ہے ۔جب خدا وند عالم اپنے اذن اور امر سے اس کا اثبات چاہتا ہے تو وہ ثابت رہتا ہے اور جب الله اس ميں تغير تبدل اور اس کو مڻانا چاہتا ہے تو وہ اس کے حکم اور بادشاہت سے بدل جاتے ہيں ۔

“بداء ”پر ایمان کی تردید

ہميت کے اعتبار سے بداء پر ایمان رکهنا خداوند عالم پر ایمان رکهنے کے بعد آتا ہے ؛ بداء کے انکار کرنے کا مطلب کائنات اور معاشرہ کی حرکت اور اس کی دیکه بهال کرنے سے خداوندعالم کے ارادہ کو معزول کرنا اور نظام عليت و سببيت ميں الله کے ارادہ کو محکوم کرنا ہے جيسا کہ یہود کہتے ہيں :

( یَدُالله مَغلُْولَْةٌ ) ( ١)

“خدا کے ہاته بندهے ہو ئے ہيں ”

بلکہ ہمارا قول یہ ہے :

( بَل یَدَاهُ مَبسُْوطَْتَانِ ) ( ٢)

“بلکہ خدا کے دونوں ہاته کهلے ہو ئے ہيں ”

خداوند عالم کی بادشاہت کی کو ئی انتہا نہيں ہے اس کا ہاته پوری کائنات اور معاشرہ پر پهيلاہوا ہے ۔

الله تبارک و تعالیٰ پر مسلمان انسان کے عقيدہ رکهنے کی یہ پہلی پناہ گاہ ہے اور دوسری پناہ گاہ

____________________

١) سورئہ مائد ہ آیت ۶۴ ۔ )

٢) سورئہ مائد ہ آیت ۶۴ ۔ )


الله تعالیٰ سے رابطہ رکهنا ہے ۔بيشک الله تعالیٰ پر ایمان نظام ميں اسباب و مسببات ميں ہر حال ميں جو تغير و تبدل ہوتا ہے وہ اس کی دسترس ميں ہے بندہ اپنی تمام حاجتوں ميں اسی سے پناہ چاہتا ہے اور اکثر انسان کو جو چيز الله سے متمسک کرتی ہے وہ حاجتوں اور رنج و غم کے وقت خداوند عالم سے دعا کرنے کا وقت ہے ۔

جب انسان الله تعالیٰ کے قضا اور قدر ميں تغير و تبدل کی کو ئی سبيل نظر نہيں آتی اور وہ حادثوں کے واقع ہونے کے وقت دعا کرنے ميں کو ئی فائدہ نہيں دیکهتا تو انسان اپنی حاجت اور اہم کام کے وقت خداوند عالم سے پناہ نہيں مانگتا ہے ۔الله کی پناہ تو وہ لوگ مانگتے ہيں جن کا یہ عقيدہ ہے کہ الله تعالیٰ کی دو قضا ہيں خداوندعالم کی ایک قضا وہ ہے جو ام الکتاب ميں لکهی گئی ہے جس ميں تغير و تبدل کا کو ئی امکان ہی نہيں ہے ۔دوسری قضا وہ ہے جس ميں جب الله چا ہتا ہے تو تغير و تبدل واقع ہو جاتا ہے تو اس وقت بندے اپنی حاجتوں اور دعاوں کے قبول ہو نے کے لئے اس کی پناہ ماگتے ہيں ۔

دعا اور بداء

جوامور اسباب و حوادث کی رفتاربدلنے ميں خداوند عالم کے ارادہ کے دخل انداز ہو نے کا سبب ہوتے ہيں وہ بہت زیادہ ہيں جيسے ایمان اور تقویٰ، خداوند عالم ارشاد فر ماتا ہے :

( وَلَواَْنَّ اَهلَْ القُْر یٰ آمَنُواْوَاتَّقُواْلَفَتَحنَْاعَلَيهِْم بَرَکَات مِنَ السَّمَاء ) ( ١)

“اور اگراہل قریة ایمان لے آتے اور تقویٰ اختيار کرليتے تو ہم ان کےلئے زمين و آسمان کی برکتوں کے دروازے کهول دیتے ”

شکر :

( لَئِن شَکَرتُْم لَازِیدَْنَّکُم ) (٢)

____________________

١)سورئہ اعراف آیت/ ٩۶ ۔ )

٢)سورئہ ابراہيم آیت/ ٧۔ )


“اگر تم ہمارا شکریہ ادا کروگے تو ہم نعمتوں ميں اضافہ کر دیں گے ” استغفارکے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے :

( وَمَاکَانَ الله لِيُعَذِّبَهُم وَاَنتَْ فِيهِْم وَمَاکَانَ الله مُعَذِّبَهُم وَهُم یَستَْغفِْرُونَْ ) (١) “حالانکہ الله ان پر اس وقت تک عذاب نہيں نازل کرے گا جب تک “پيغمبر ”آپ ان کے درميان ہيں اور خدا ان پر عذاب کرنے والا نہيں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کرنے والے ہو جا ئيں’

دعا اور ندا کے سلسلہ ميں خداوند عالم فرماتا ہے :

( وَنُوحْاًاِذ اْٰند یٰ مِن قَبلُْ فَاستَْجَبنَْالَهُ فَنَجَّينَْاهُ وَاَهلَْهُ مِنَ الکَْربِْ العَْظِيمِْ ) (٢ “اور نوح کو یاد کرو جب انهوں نے پہلے ہی ہم کو آواز دی اور ہم نے ان کی گزارش قبول کر لی اور انهيں اور ان کے اہل کوبہت بڑے کرب سے نجات دلادی ”( وَاَیُّوبَْ اِذنَْاد یٰ رَبَّهُ اِنِّی مَسَّنیَْ الضُّرُّوَاَنتَْ اَرحَْمُ الرَّاحِمِينَْ فَاستَْجَبنَْالَهُ فَکَشَفنَْامَابِهِ مِن ضُرٍّوَآتَينَْاهُ اَهلَْهُ وَمِثلَْهُم مَعَهُم رَحمَْةً مِن عِندِْنَاوَذِکرْ یٰ لِلعَْابِدِینْ ) ( ٣)

“اور ایوب کو یاد کرو جب انهوں نے اپنے پرور دگار کو پکارا کہ مجھے بيماری نے چهو ليا ہے اور تو بہترین رحم کر نے والا ہے تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرليا اور ان کی بيماری کو دور کر دیا اور انهيں ان کے اہل و عيال دیدئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تهی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہا نی ہے ”

____________________

١)سورئہ انفال آیت/ ٣٣ ۔ )

٢)سورئہ انبياء آیت/ ٧۶ ۔ )

٣)سورئہ انبياء آیت / ٨٣ ۔ ٨۴ ۔ )


( وَذَاالنُّونِْ اِذذَْهَبَ مُغَاضِبًافَظَنَّ اَن لَن نَقدِْرَعَلَيهِْ فَنَاد یٰ فِی الظُّلُمَاتِ اَن لَا اِ هٰلَ اَلَّااَنتَْ سُبحَْانَکَ اِنِّی کُنتُْ مِنَ الظَّالِمِينَْ فَاستَْجَبنَْالَهُ وَنَجَّينَْاهُ مِنَ الغَْمِّ وَکَ لٰ ذِکَ نُنجِْی المُومِْنِينَْ ) ( ١)

“اور یونس کو یاد کرو کہ جب وہ غصہ ميں آکر چلے اور یہ خيال کيا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہيں کریں گے اور پھر تاریکيوں ميں جا کر آواز دی کہ پرور دگار تيرے علا وہ کو ئی خدا نہيں ہے تو پاک و بے نياز ہے اور ميں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں ميں سے تھا ،تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کر ليا اور انهيں غم سے نجات دلادی اور ہم اسی طرح صاحبان ایمان کو نجات دلا تے رہتے ہيں ”

مطلق طور پرپوری کائنات کا نظام خدا وند عالم کے قبضہ قدرت ميں ہے کائنات ميں کو ئی ایسی چيز نہيں ہے جو اس کی سلطنت کو محدود کرے اور اس کو عاجز کردے ۔یہ بادشاہت اس کے ذاتی اسباب کے ذریعہ جاری رہتی ہے اور اس کا مطلب اسباب و مسببات کو معطل کرنا نہيں ہے خدا وند عالم اس نظام کائنات ميں اپنی بادشاہت ،حکم اور امر سے جس چيز کو چاہتا ہے مڻا دیتا ہے اور اپنے اذن سے جس چيز کو چاہتا ہے برقرار رکهتا ہے یہ محو اور اثبات فقط کتاب تکوین ميں جاری ہوتا ہے اور “ اُم الکتاب’ ميں ایسا نہيں ہے ۔ خداوند عالم تکوین ميں اپنی حکمت اور رحمت سے کسی چيز کو محو کرتا ہے اور اس محو کرنے کو ہی بداء کہا جاتا ہے جواہل بيت عليہم السلام سے مروی متعدد روایات ميں ایا ہے اور خداوند عالم متعدد اسباب کے ذریعہ بداء کو جا ری کرتا ہے، جيسے استغفار ،تقویٰ ،ایمان ،شکر اور دعا وغير ہ

دعا بداء کے اہم اسباب ميں سے ہے :( اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) (٢ ) “اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کروميں قبول کرونگا ”

____________________

١)سورئہ ا نبياء آیت/ ٨٨ ۔ )

٢)سورئہ مومن آیت/ ۶٠ ۔ )


زیارت کے توحيدی اور سياسی پہلو

تاریخ ميں خاندان توحيد

قرآن کریم ميں ایک ہی خاندان توحيد کا تذکرہ ہوا ہے اس خاندان کے رائد(چلانے والے)اور پدر ابراہيم خليل الرحمن عليہ السلام تھے خدا فرماتا ہے :

( هُوَاجتَْ اٰبکُم وَمَاجَعَلَ عَلَيکُْم فِی الدِّینِْ مِن حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِيکُْم اِبرَْاهِيمَْ هُوَ سَمَّاکُم المُْسلِْمِينَْ مِن قَبلُْ وَفِی هٰذَالِيَکُونَْ الرَّسُولُْ شَهِيدْاًعَلَيکُْم وَتَکُونُْواْشُهدَْاءَ عَلیَ النَّاسِ ) ( ١)

“۔۔۔اس نے تم کو منتخب کيا ہے اور دین ميں کو ئی زحمت نہيں قرار دی ہے ۔یہی تمہارے بابا ابراهيم کا دین ہے اس نے تمہارا نام پہلے بهی اور اس قرآن ميں بهی مسلم اور اطاعت گذار رکها ہے تا کہ رسول تمہارے اوپر گواہ رہے اور تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو ۔۔۔”

اس خاندان کی آخری کڑی حضرت رسول الله خاتم الانبياء تھے ،آپ ہی پر رسالت کا خاتمہ ہوا،یہی خاندان شجرہ طيبہ ہے ،اسکی شاخيں پهيلی ہوئی ہيں ۔اسکی شاخيں مبارک ،پهل پاک وپاکيزہ ہيں تاریخ ميں مستمر ہيں اورقرآن کریم کے بيان کے مطابق ایک ہيں :

____________________

١)سورئہ حج آیت / ٧٨ ۔ )


( اِنَّ هٰذِهِ اُمَّتُکُم اُمَّةًوَاحِدَةً وَاَنَارَبُّکُم فَاعبُْدُونَْ ) ( ١)

“بيشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین اسلام ہے اور ميں تم سب کا پروردگار ہوں لہٰذا ميری ہی عبادت کرو ”

( وَاِنَّ هٰذِهِ اُمَّتُکُم اُمَّةًوَاحِدَةً وَاَنَارَبُّکُم فَاتَّقُونَْ ) ( ٢)

“اور تمہارا سب کا دین ایک دین ہے اور ميں ہی سب کا پرور دگار ہوں لہٰذا بس مجه سے ڈرو”

قرآن کریم نے اس خاندان کی وحدت ویکپارچگی کے گوشت وپوست اور اجزاء کے مابين علاقہ وتعلق کو محکم ومضبوط کيا ہے اور اس خاندان کے درميان گہرا تعلق پيدا کيا ہے ۔

یہ اہتمام اسلامی تربيت کی راہ اس خاندان کے اتحاد نيز اس خاندان کی طرف منسوب وحی کی گہرائی کے تعلق کوبيان کر نے کے لئے ہے اور اس خاندان کے رموز اور صالح افرادکو منظر عام پرلانا لوگوں کی زندگی کےلئے نمونہ ہيں ۔

اسی طرح یہ اہتمام نسل در نسل اس خاندان ميں توحيد کی وراثت اس کی ارزش کو باقی رہنے اور اس خاندان کی تمام نسلوں اور اس خاندان کی کڑیوں کے مابين رابطہ کو مضبوط کرنے کے لئے ہے ۔

اس خاندان کی نسلوں کے در ميان رابطہ اور تسلسل

قرآن کریم نے اس خاندان کی نسلوں کے درميان رابطہ اور تعلق کو کتنی اہميت دی ہے اس سلسلہ ميں ہم مندرجہ ذیل آیات ذکر کررہے ہيں : ا۔اس خاندان کے درميان ایک دو سرے کی شناخت ،اس خاندان کے نيک ارکان کا

____________________

١)سورئہ انبياء آیت/ ٩٢ ۔ )

٢)سورئہ مومنون آیت ۵٢ ۔ )


تذکرہ، ان کے اسماء کی تعظيم ،ان کا تذکرہ کرکے ان کو مشہور کرنا قرآن کریم ميں اس امرکا بڑا اہتمام کيا گيا ہے ہم اس اہتمام کے شواہد ذیل ميں پيش کررہے ہيں :

( وَاذکُْرفِْی الکِْتَابِ مَریَْمَ اِذِانتَْبَذَت مِن اَهلِْهَامَکَانًاشَرقِْيا ) (١) “اوراے

پيغمبر اپنی کتاب ميں مریم کویاد کرو کہ جب وہ اپنے گهر والوں سے الگ مشرقی سمت کی طرف چلی گئيں”

( وَاذکُْرفِْی الکِْتَابِ اِبرَْاهِيمَْ اِنَّهُ کَانَ صِدِّیقْاً نَبِيا ) ( ٢)

“اور کتاب خدا ميں ابراہيم کا تذکرہ کرو کہ وہ ایک صدیق پيغمبر تھے ”

( وَاذکُْرفِْی الکِْتَابِ مُو سْٰی اِنَّهُ کَانَ مُخلِْصاًوَکَانَ رَسُولْاًنَبِيا ) ( ٣)

“اور اپنی کتاب ميں مو سیٰ کا تذکرہ کرو کہ وہ ميرے مخلص بندے اور رسول و نبی تھے ”

( وَاذکُْرفِْی الکِْتَابِ اِسمَْاعِيلَْ اِنَّهُ کَانَ صَادِقَ الوَْعدِْ ) ( ۴)

“اور اپنی کتاب ميں اسماعيل کا تذکرہ کرو کہ وہ وعدے کے سچے تھے ”

( و اذکُْرفِْی الکِْتَاب اِدرِْیسَْ اِنَّهُ کَانَ صِدِّیقْاً نَبِيا ) ( ۵)

“اور اپنی کتاب ميں ادریس کا بهی تذکرہ کروکہ وہ بہت زیادہ سچے پيغمبر تھے ”

( وَاذکُْرعَْبدَْنَادَاوُدَذَاالاَْیدِْ ) ( ۶)

“اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کریں جو صاحب طاقت بهی تھے ”

____________________

١)سورئہ مریم آیت/ ١۶ ۔ )

٢)سورئہ مریم آیت۔ ۴١ ۔ )

٣)سورئہ مریم آیت/ ۵١ ۔ )

۴)سورئہ مریم آیت/ ۵۴ ۔ )

۵)سورئہ مریم آیت/ ۵۶ ۔ )

۶)سورئہ ص آیت/ ١٧ ۔ )


( وَاذکُْر عَبدَْنَااَیُّوبَْ اِذنَْاد یٰ رَبَّهُ اِنِّی مَسَّنیِْ الشَّيطَْانُ بِنُصبٍْ وَعَذابٍ ) ( ١)

“اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انهوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شيطان نے مجھے بڑی تکليف اور اذیت پہنچائی ہے ”

( وَاذکُْرعِْبَادَنَااِبرَْاهِيمَْ وَاِسحَْاقَ وَیَعقُْوبَْ اُولِْی الاَیدِْی وَالاَبصَْارِاِنَّا اَخلَْصنَْاهُم بِخَالِصَةٍ ذِکرَْی الدَّارِ ) ( ٢)

“اور پيغمبرہمارے بندے ابراہيم ،اسحاق ،اور یعقوب کا ذکر کيجئے جو صاحبان قوت اور صاحبان بصيرت تھے ۔ہم نے ان کو آخرت کی یاد کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا ”

( وَاذکُْراِْسمَْاعِيلَْ وَاليَْسَعَ وَذَاالکِْفلِْ وَکُلُّ مِنَ الاَْخيَْارِ ) ( ٣)

“اور اسماعيل اور اليسع اور ذوالکفل کو بهی یاد کيجئے اور یہ سب نيک بندے تھے ”

٢۔صلح و سلامتی کی بنياد پر اس خاندان کی کڑیوں کے مابين رابطہ ایجاد کرنا ،اس خاندان کی نسلوں سے حسد اور کينہ دور کرنا زمانہ حال کو ما ضی سے مربوط کرنا اولاد کو باپ داداؤں سے ملحق کرنا خلف کو صلح کی بنياد پر اسی خاندان کے سلف صالح سے ملحق کرنا اور صلح وسلامتی کا رابطہ اس خاندان کے درميان سب سے بہترین اور بر جستہ رابطہ ہے ۔خداوند عالم فرماتا ہے :

( وَتَرَکنَْاعَلَيهِْ فِی الآخِرِینَْ سَلاَمٌ عَ لٰی نُوحٍْ فِی العَْالَمِينَْ اِنَّاکَذَلِکَ نَجزِْی المُْحسِْنِينَْ اِنَّهُ مِن عِبَادِنَاالمُْومِْنِينَْ ) (۴)

____________________

١)سورئہ ص آیت/ ۴١ ۔ )

٢)سورئہ ص آیت ۴۵ ۔ ۴۶ ۔ )

٣)سورئہ ص آیت / ۴٨ ۔ )

۴)سورئہ الصافات آیت/ ٧٨ ۔ ٨١ ۔ )


“اور ان کے تذکرے کو آنے والی نسلوں ميں برقرار رکها ۔ساری خدائی ميں نوح پر ہمارا سلام ،ہم اسی طرح نيک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہيں وہ ہمارے ایماندار بندوں ميں سے تھے ”

( وَتَرَکنَْاعَلَيهِْ فِی الآخِرِینَْ سَلاَمٌ عَل یٰ اِبرَْاهِيمَْ ) ( ١)

“اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکها ہے ۔سلام ہو ابراہيم پر ”

( وَتَرَکنَْاعَلَيهِْ فِی الآخِرِینَْ سَلاَمٌ عَ لٰی مُوسْ یٰ وَهَارُونَْ ) ( ٢)

“اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکها ہے ۔سلام ہوموسیٰ اور ہارون پر ”

( وَتَرَکنَْاعَلَيهِْ فِی الآخِرِینَْ سَلاَمٌ عَل یٰ ال اٰیسِينَْ ) ( ٣)

“اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکها ہے ۔سلام ہوآل یاسين پر ”

( وَسَلاَمٌ عَلیَ المُْرسَْلِينَْ وَالحَْمدُْللهِرَبِّ ال اْٰ علَمِينَْ ) ( ۴)

“اور ہمارا سلام تمام مرسلين پر ہے اور ساری تعریف اس الله کےلئے ہے جو عالمين کا پروردگار ہے ’

اور صلح وسلا متی کے رابطہ کا تقاضا، رہنما کا ایک ہونا ،مقصد کا ایک ہونا، راستہ کا ایک ہونا ،اس غرض و مقصد تک پہنچنے کے سلسلہ ميں وسيلہ کا ایک ہونا، روش کا ایک ہونا نيز رفتار اور نظریہ کا ایک ہونا ہے ۔

ا ور اس مجموعی وحدت کے علاوہ صلح و دو ستی کے اورکوئی معنی نہيں ہيں ۔

٣۔اس خاندان کی نسل در نسل ميں ميراث کا رابطہ ہے خلف صالح اپنے سلف سے توحيدکی ارزشوں اورتوحيد کی طرف دعوت دینے کو ميراث ميں پاتاہے ۔

____________________

١)سورئہ الصافات آیت/ ١٠٨ ۔ ١٠٩ ۔ )

٢)سورئہ الصافات آیت/ ١١٩ ۔ ١٢٠ )

٣)سورئہ الصافات آیت/ ١٣٠ ۔ )

۴)سورئہ الصافات آیت/ ١٨١ ۔ ١٨٢ )


خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :

( ثُمَّ اَورَْثنَْاالکِْتَابَ الَّذِینَْ اصطَْفَينَْامِن عِبَادِنَا ) ( ١)

“پهر ہم نے اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو قرار دیا جنهيں اپنے بندوں ميں سے چُن ليا”

( وَلَقَدآْتَينَْامُوسْ یٰ الهُْد یٰ وَاَورَْثنَْا بَنِی اِسرَْائِيلَْ الکِْتَابَ ) ( ٢)

“اور یقينا ہم نے مو سیٰ کو ہدایت عطا کی اور بنی اسرائيل کو کتاب کا وارث بنایا ہے ”

( وَالَّذِینَْ عَل یٰ صَلاَتِهِم یُحَافِظُونَْ اُو ئِٰلکَ هُمُ الوَْارِثُونَْ ) ( ٣)

“اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہيں در حقيقت یہ وہی وارثان جنت ہيں ”

( وَالَّذِینَْ یُمَسِّکُونَْ بِالکِْتَابِ وَاَقَامُواالصَّلاَةَ اِنَّالاَنُضِيعُْ اَجرَْ المُْصلِْحِينَْ ) ( ۴)

“اور جو لوگ کتاب سے تمسک کر تے ہيں اور انهوں نے نماز قائم کی ہے تو ہم صالح اور نيک کردار لوگوں کے اجر کو ضائع نہيں کرتے ہيں ” اسی رابطہ کی وجہ سے خلف(فرزند)سلف سے توحيد کی ارزشوں کوحاصل کرتا ہے ،تا کہ ان ارزشوں کواپنے بعد والی نسلوں تک منتقل کر سکے۔ ۴ ۔اس خاندان کا اسلام سے گہرا رابطہ ہے خداوند عالم نے ہر موحد کےلئے اس خاندان کے رائد(قائد)حضرت ابراہيم عليہ السلام کو باپ کہا ہے اور ان کو جناب ابراہيم کے فرزند قرار دیاہے ۔

( هُوَاجتَْ اٰبکُم وَمَاجَعَلَ عَلَيکُْم فِی الدِّینِْ مِن حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِيکُْم اِبرَْاهِيمَْ هُوَ )

____________________

١)سورئہ فاطر آیت/ ٣٢ ۔ )

٢)سورئہ غافر آیت/ ۵٣ ۔ )

٣)سورئہ مومنون آیت/ ٩۔ ١٠ ۔ )

۴)سورئہ اعراف آیت/ ١٧٠ ۔ )


( سَمَّاکُم المُْسلِْمِينَْ مِن قَبلُْ وَفِی هٰذَالِيَکُونَْ الرَّسُولُْ شَهِيدْاً عَلَيکُْم وَتَکُونُْواْشُهدَْاءَ عَلیَ النَّاسِ ) ( ١)

“۔۔۔اس نے تم کو منتخب کيا ہے اور دین ميں کو ئی زحمت نہيں قرار دی ہے ۔یہی تمہارے باپ ابراہيم کا دین ہے اس نے تمہارا نام پہلے بهی اور اس قرآن ميں بهی مسلم اور اطاعت گذار رکها ہے تا کہ رسول تمہارے اوپر گواہ رہے اور تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو ۔۔۔”

۵ ۔خداوند عالم نے اس خاندان کی تمام نسلوں کو اسی خاندان کے گذشتہ اور موجودہ انبياء ، مرسلين صالحين اور صدیقين کی اقتداء کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد خداوند قدوس ہے :

( وَلَقَدکَْانَ لَکُم فِی رَسُولِْ الله اُسوَْةٌ حَسَنَةٌ ) ( ٢)

“مسلمانو!تمہارے واسطے تو خودرسول الله کا(خندق ميں بيڻھنا)ایک اچها نمونہ تھا ”

( قَدکَْانَت لَکُم اُسوَْةٌ حَسَنَةٌ فِی اِبرَْاهِيمَْ وَالَّذِینَْ مَعَهُ ) ( ٣)

“تمہارے لئے بہترین نمونہ عمل ابراہيم اور ان کے ساتهيوں ميں ہے ”

( لَقَدکَْانَ لَکُم فِيهِْم اُسوَْةٌ حَسَنَةٌ لِمَن کَانَ یَرجُْواْالله ٰ ) ( ۴)

“مسلمانو!ان لوگوں (کے افعال )تمہارے واسطے جو خدااور روز آخرت کی اميد رکهتا ہے اچها نمونہ ہے ”

قرآن کریم انبيائے الٰہی اور اس کے اوليائے صالحين کی کچه تعداد بيان کرنے کے بعد ان

____________________

١)سورئہ حج آیت / ٧٨ ۔ )

٢)سورئہ احزاب آیت/ ٢١ ۔ )

٣)سورئہ ممتحنہ آیت / ۶۔ )

۴)سورئہ ممتحنہ آیت/ ۶ )


کی اقتداکرنے کا حکم دیتا ہے۔خداوند عالم نے ان کو جو نورکا رزق عطا کيا ہے اس سے ہدایت اور اقتباس کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے :

( وَتِلکَْ حُجَّتُنَاآتَينَْاهَااِبرَْاهِيمَْ عَ لٰی قَومِْهِ نَرفَْعُ دَرَجَاتٍ مَن نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّکَ حَکِيمٌْ عَلِيمٌْ وَوَهَبنَْالَهُ اِسحَْاقَ وَیَعقُْوبَْ کُلاهَدَینَْاوَنُوحْاًهَدَینَْامِن قَبلُْ وَمِن ذُرِّیَّتِهِ دَاوُدَوَسُلَيمَْانَ وَاَیُّوبَْ وَیُوسُْفَ وَمُوسْ یٰ وَ هٰارُونَْ وَکَ لٰ ذِکَ نَجزِْی المُْحسِْنِينَْ وَزَکَرِیاٰوَّیَحيْ یٰ وَعِيسْ یٰ وَاِل اْٰيسَ کُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَْ وَاِس مْٰاعِيلَْ وَاليَْسَعَ وَیُونُْسَ وَلُوطْاًوَکُلا فَضَّلنَْاعَلَی ال اْٰ علَمِينَْ وَمِن آبَائِهِم وَذُرِیَّاتِهِم وَاِخوَْانِهِم وَاجتَْبَينَْاهُم وَهَدَینَْاهُم اِ لٰ ی صِرَاطٍ مُستَْقِيمٍْ اُو ئِْٰلکَ الَّذِینَْ هَدَی الله فَبِهُدَاهُمُ اقتَْدِهِ ) ( ١)

“یہ ہما ری دليل ہے جسے ہم نے ابراہيم کو ان کی قوم کے مقابلہ ميں عطا کيا اور ہم جس کو چا ہتے ہيں اس کے درجات کو بلند کردیتے ہيں ۔بيشک تمہارا پروردگار صاحب حکمت بهی ہے اور با خبر بهی ہے اور ہم نے ابراہيم کواسحاق و یعقوب دئے اور سب کو ہدایت بهی دی اور اس کے پہلے نوح کو ہدایت دی اور پھر ابراہيم کی اولاد ميں داؤد ،سليمان،ایوب،یوسف،موسیٰ اور ہارون قرار دئے اور ہم اسی طرح نيک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہيں ۔اور زکریا یحيیٰ ،عيسیٰ اور الياس کو بهی رکها جو سب کے سب نيک کرداروں ميں تھے ۔اور اسماعيل ،اليسع ،یونس اور لوط بهی بنا ئے اور سب کو عالمين سے بہتر اور افضل بنایا ۔اور پھر ان کے باپ دادا ،اولاد اور برادری ميں سے اور خود انهيں بهی منتخب کيا اور سب کو سيدهے راستہ کی ہدایت کردی ہے۔۔۔یہی وہ لوگ ہيں جنهيں الله نے ہدایت دی ہے لہٰذا آپ بهی اسی ہدایت کے راستہ پر چليں ”

____________________

١)سورئہ انعام آیت / ٨٣ ۔ ٩٠ ۔ )


۶ ۔دعا کا رابطہ: آنے والی نسل کا گذشتہ نسل کےلئے دعا کرنا، خلف اور سلف کے درميان سب سے بہتر اور محکم رابطہ ہے ۔ موجودہ نسل کا گذشتہ افراد کی سابق الایمان ہونے کی گواہی دینا ہے اور الله سے ان کی مغفرت اور رحمت کےلئے دعا کرنا ہے :

( وَالَّذِینَْ جَاوومِْن بَعدِْهِم،ْیَقُولُْونَْ رَبَّنَااغفِْرلَْنَاوَلِاِخوَْانِنَاالَّذِینَْ سَبَقُونَْا بِالاِْیمَْانِ،وَلاَتَجعَْل فِی قُلُوبِْنَاغِلا لِلَّذِینَْ آمَنُواْ رَبَّنَااِنَّکَ رَوفٌ رَحِيمٌْ ) ( ١)

“اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور ان کا کہنا یہ ہے کہ خدایا ہميں معاف کردے اور ہمارے ان بها ئيوں کو بهی جنهوں نے ایمان ميں ہم پر سبقت کی ہے اور ہمارے دلوں ميں صاحبان ایمان کے لئے کسی طرح کا کينہ نہ قرار دینا کہ تو بڑا مہربا ن اور رحم کرنے والا ہے ”

معلوم ہوا سلف صالح سے رابطہ برقرار ر

کهنا تربيت کے لحاظ سے اس دین کے راستہ کا اصل جزء ہے ۔ نسلوںکے درميان با ہمی رابطہ کے سلسلہ ميں قرآن کریم کی ایسی ممتاز ثقافت مو جود ہے جس کے ذریعہ قر آن کریم مو منين کو ایسے مسلمان خاندان کے درميان نسليں گذرجا نے کے با وجود ارتباط کی دعوت دیتا ہے یہ رابطہ عہد ابراہيم سے بلکہ حضرت نوح کے زمانہ سے ليکر آج تک برقرار ہے ۔ جبکہ انبيائے عظام ميں اولواالعزم پيغمبر بهی ہيں جيسے موسیٰ بن عمران ،عيسیٰ بن مریم عليہما السلام اورانهيں ميں آخری نبی پيغمبر خدا ہيں ۔ یہ با ہمی رابطہ اس خاندان توحيد کی سب سے اہم خصوصيت ہے ۔

____________________

١)سورئہ حشر آیت / ١٠ ۔ )


زیارت

اس بات سے واقفيت کے بعدکہ تمام نسلوں ميں ميراث، تسالم، محبت اورملاقات کا رابطہ

اس دین کی خصوصيات ميں سے ہے ۔۔ ہم کویہ بهی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ وسائل کيا ہيں جن کی وجہ سے یہ رابطہ پيدا ہوتا ہے اور گذشتہ نسلوں کے لئے مو جودہ نسل کے احساسات کا پتہ چلتا ہے ۔۔۔یہ وسائل اس مقصد تک پہنچنے کےلئے اسلامی تربيتی پہلوکی راہ ہموارکرنے ميں موثر شمار ہوتے ہيں ۔

انبياء عليہم السلام اور ان کے خلفاء ،اوليائے الٰہی اور الله کے صالح بندوں کی قبروں کی زیارت کرنا ،ان پر سلام بهيجنا، ان کےلئے دعاکر نا ،ان کےلئے نماز قائم کرنا، زکواة ادا کرنااور امر بالمعروف کر نے کی گواہی دینا مو منين کی نسلوں کے درميان اس ملاقات اوررابطہ کے اہم اسباب ہيں ۔

ان زیارتوں ميںجن سے مومنين اولياء الله اور مومنين کی قبروں کی زیارت نيز اس سے متصل سلام و دعا و شہادت کے ذریعہ مانوس ہو تے ہيں مو منين کی اس جماعت کے سلسلہ ميں اپنے احساسات بيان کرتے ہيں جو ان سے پہلے ایمان لا چکے ،نمازیں قائم کرچکے ،امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کرچکے ،ان سے پہلے تو حيد کی جانب دعوت کے پيغام کيلئے قيام کرچکے خداکی جانب ان کےلئے راستہ ہموار کرچکے لوگوں کو خداوند عالم کا عبادت گذار بنا چکے ان سے پہلے لوگوں کے درميان کلمہ تو حيد کو بلند کرچکے ہيں ۔

اس احسان کےلئے زیارت کو وفا سے تعبير کيا گياہے یعنی اولاد کا اپنے آبا واجداد سے وفاداری کا اظہار کرنااس دوررائدميں توحيد ،نماز قائم کرنے اور زکات ادا کرنے کی جانب دعوت دینے کيلئے گواہی کی ضرورت ہے اور زیارت کا مطلب ہی فرزندوں کاآباو واجداد کے سلسلہ ميں اور مو جودہ نسل کا گذشتگان کےلئے گواہی دینا ہے۔

زیارت ميں صلح وسلامتی اور محبت سے مراد گذشتہ نسلوں سے رابطہ برقرار رکهنا ہے اور حقيقت ميں ملاقات، رابطہ اور ایک دوسرے پر رحم ،صالحين کی پيروی ان کی یاد سے متعلق ذکر الٰہی کو مجسم کرتا ہے ۔


مومنين اپنی زندگی ميں فطری طور پر انبياء صالحين بلکہ تمام مومنين کی قبروں سے مانوس ہو تے ہيں اور رسول خدا (ص)کے اصحاب، اُحد کے شہيدوں اور حمزہ عليہ السلام کی قبر کی زیارت کيا کر تے تھے جيسا کہ صحيح روایات ميں وارد ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله عليہا رسول الله (ص) جناب حمزہ عليہ السلام کی قبر کی زیارت کر نا ضروری سمجهتی تهيں اور یہ زیارتيں اکثر نماز، دعا، ذکر اور الله کی بارگاہ ميں حاضر ی کے ساته انجام پاتی ہيں اور ماثور ہ زیارات ميں یہ تمام باتيں ذکر ہوئی ہيں ۔

تعجب ہے بعض اسلامی مذا ہب مسلمانوں کو انبياء ائمہ المسلمين اور صالحين کی قبروں کی زیارت کر نے اور ان کی قبروں کے نزدیک دعا اور نماز پڑهنے سے منع کر تے ہيں اور اسلام کی اس عمومی روش سے اپنے کو الگ قرار دیتے ہيں جو صالحين کی قبروں کی زیارت کر نے جاتے ہيں ان کو قبروں کے نزدیک دعا نماز اور ذکر کر نے سے منع کر تے ہيں اور اس فعل کو الله کے با رے ميں شرک سے تعبير کرتے ہيں ۔

ہم اس کاسبب تو نہيں جا نتے ہيں البتہ یہ کہہ سکتے ہيں کہ انهوں نے اسلام کے ظا ہری امر اور مفاہيم نيز ان اقدار کو اچهی طرح نہيں سمجها ہے جو زیارات کے سلسلہ ميں بيان کی گئی ہيں ۔

اور ہم یہ بهی نہيں جانتے کہ یہ برائی کس طرح کی برا ئی ہے جس سے مسلمانوں نے نہيںروکا جبکہ نصف صدی سے بڑی شدت کے ساته مسلمانوںکو اس چيز سے منع کياجارہا ہے ۔

یا تو ہم نصف صدی سے سختی سے روکنے والوں کو غلطی سے متہم کریں۔

یا ہم ان پر توحيد اور شرک کو صحيح نہ سمجهنے کا الزام لگائيں یعنی ان دونوں باتوں کو صحيح طریقہ سے درک نہيں کرپائيں ہيں ۔

خداوند عالم سب کو راہ راست کی ہدایت فر مائے اور اپنے صراط مستقيم پر اپنی خوشنودی کی جانب ہماری دستگيری فر مائے ۔


زیارتوں کی عبارات ميں آنے والے معانی و مفاہيم کا جا ئزہ

رسول خدا اور ائمہ معصو مين عليہم السلام کی زیارت کے سلسلہ ميں اہل بيت سے وارد ہونے والی روایات ميں ہم افکار کے مختلف نہج پاتے ہيں ہم ان ميں سے ذیل ميں دونمونے ذکر کر رہے ہيں :

پہلا نہج :وہ افکار جن کا امام اور امت کے درميان سياسی تعلق ہوتا ہے ۔ دوسرا نہج :وہ افکار جن کا زائر اور امام کے درميان ذاتی تعلق ہوتا ہے ۔ ہم عنقریب ان دونوں طریقوں کے سلسلہ ميں زیارتوں ميں واردہونے والے مضامين بيان کریں گے ۔

زیارتوں ميں سياسی اور انقلابی پہلو

١۔زیارت کا عام سياسی دائرہ سے رابطہ

اہل بيت عليہم السلام سے زیارتوں کے سلسلہ ميں وارد ہونے والی روایات ميں عقيدتی اور سياسی قضيہ کا بہت وسيع ميدان ہے اور سياسی قضيہ سے ہماری مراد رسول اسلام (ص) کے بعد امامت اور ولایت کا مسئلہ ہے اور یہ وہ معتبر وسيلہ ہے جو بنی اميہ اوربنی عباس کے دور ميںنيزاس کے بعدبهی سياست دور ميں ا سلام کے اصل راستہ سے منحرف ہوجانے کے بعدجاری وساری رہا ہے۔ اسلامی حکومتوں پر ایسے افراد نے بهی حکومت کی ہے جواسلام اور عالم اسلام کی نظر ميں قابل اطمينان نہيں تھے انهوں نے اسلام اور مسلما نوں کو بہت نقصان پہنچایا اہل بيت عليہم السلام نے اپنے دورکی اس طرح کی حکومتوں کا مقابلہ کيا ۔

اموی اور عباسی، مضبوط حکومتوں سے ڻکراتے رہنے کی بنا پرشيعہ ادب اور ثقافت ميں واضح آثار رونما ہوئے اور اسی وقت سے اہل بيت عليہم السلام کی اتباع کر نے والے شيعوں کو رافضہ کے نام سے پہچا نا جانے لگا چونکہ انهوں نے بنی اميہ اور بنی عباس کے خلفا کی ولایت کا انکار کيا تھا ۔


شيعی سياسی فکر اور شيعی سياسی ادب کواس وقت سے رفض کا رنگ دیا گيا جب معاویہ نے حضرت امام حسن عليہ السلام سے مختلف بہانوں اور مکاریوں سے حکومت لی اور یہ رنگ بنی عباس کی حکومت کے اختتام تک باقی رہا۔ اس سياسی جنگ اور سياسی معارضہ کی اہل بيت عليہم السلام سے وارد ہونے والی دعاؤں ميں واضح طور پر عکاسی کی گئی ہے خاص طورسے امام اميرالمومنين علی بن ابی طالب عليہ السلام اور حضرت امام حسين عليہ السلام کی زیارت ميں چو نکہ ان دونوں اماموں کا دور تاریخ اسلام ميں مقابلہ اور ڻکراؤ کاسب سے سخت دور تھا ۔

اور شاید اسی سبب کو حضرت امير المو منين علی بن ابی طالب عليہ السلام اور آپ کے فر زند ارجمند حضرت امام حسين عليہ السلام سے مروی زیارتوں ميں کثرت کے ساته ذکر کيا گيا ہے ۔

اور ان دونوں اماموں سے واردہونے والی زیارتوں کادوسرے تمام ائمہ سے وارد ہو نے والی زیارتوں سے مقدار اور کيفيت ميں فرق ہے ۔

اس سياسی قضيہ کاخلاصہ زیا رتوں ميں بيان ہواہے جيسا کہ ہم نے اس کا شہادت اور مو قف کے عنوان ميںتذکرہ کيا ہے جن ميں پہلاشہادت کے بارے ميں ہے اور دوسرا سياست کے متعلق ہے۔ ہم موقف کو شہادت کے بعد بيان کریں گے ۔

بيشک سياسی موقف ہر جنگ اور اختلاف کے مو قع پر قضاوت کے دا ئرہ کا خلاصہ ہوتا ہے قضاوت حق دو جهگڑاکرنے وا لو ں کے در ميان قا طع حکم کانام ہے، اس وقت اس حکم کی رو شنی ميں جس کو قضاوت معين کرتی ہے اس سے سياسی موقف معين ہو تا ہے ۔

ایسے ميں سب سے انصاف کرنے والاخود انسان کا ضمير ہوتا ہے وہ انصاف جس کو خدا نے انسان کی فطرت ميں ودیعت کيا ہے ۔

اسی طرح اس الٰہی محکمہ ميں اہل بيت عليہم السلام کے زائرکو یہ گوا ہی دینی پڑے گی کہ حق اہل بيت عليہم السلام کاحصہ ہے اور انهيں کے ساته ہے ،اور اہل بيت عليہم السلام کے دشمنوں کے خلاف یہ گواہی دے کہ وہ حق سے منحرف اور باطل کی طرف رجحان رکهنے والے تھے ۔ پھر اس گوا ہی کے راستہ پر ولایت ، برا ئت ،رو گردانی و سلام و لعنت کا موقف معين ہوتا ہے اب ہم ذیل ميں شہا دت اور مو قف ميں سے ہر ایک کے سلسلہ ميں اہل بيت عليہم السلام سے منقولہ زیارات کی چند عبارتوں کاتذکرہ کرتے ہيں :


الف:شہادت

مقابلہ کے پہلے مرحلہ ميں رسالت کی گواہی

جناب عمار کی زبانی جنگ کی دو قسميں ہيں ،ایک جنگ جو تنزیل قرآن پر ہوئی جو بدر اور احد ميں ہو ئی تهی اور دوسری جنگ تا ویل قرآن پر ہو ئی جو جمل،صفين اور کربلا ميں ہو ئی تهی یہ دو نوں جنگيں آج تک قا ئم ہيں اور یہ آ خر تک قائم رہيں گی ۔ہم پہلی جنگ کے سلسلہ ميں حضرت رسول خدا (ص) کی زیارت ميں پڑهتے ہيں :

اشهدیارسول الله مع کل شاهدواتحمّلهاعن کلّ جاد:انک قد بلّغت رسالات ربّک،ونصحت لامتک،وجاهدت فی سبيل ربّک،واحتملت الاذیٰ في جنبہ،ودعوت الیٰ سبيلہ بالحکمة والموعظة الحسنة الجميلة،وادّیت الحقّ الذي کان عليک ،وانّک قد روفت بالمومنين وغلظت علیٰ الکافرین، وعبدت اللّٰہ مخلصاًحتیّٰ اتاک اليقين،فبلغ اللّٰہُ بک اشرف محل المکرمين،واعلیٰ منازل المقرّبين،وارفع درجات المسلمين حيث لایلحقک لاحق،ولایفوقک فائق،ولایسبقکَ سابق،ولایطمع فی ادراکک طامع۔” “ميں شہادت دیتاہوں اے خدا کے رسول تمام شاہدوں کے ساته اورتمام منکروں کے مقابلہ ميں کہ آپ نے اپنے پرور دگار کے پيغامات کو پہنچا یا ،اپنی امت کو نصيحت کی، راہ خدا ميں جہاد کيا، اس کی راہ ميں ہر زحمت کو برداشت کيا ،لوگوں کو راہ خدا کی دعوت دی حکمت اور مو عظہ حسنہ کے ساته اوروہ سب کچه ادا کردیا جو آپ کے ذمہ تها، آپ نے مو منين پر مہربانی کی اور کافروںپر سختی کی اور خلوص سے الله کی عبادت کی یہاں تک کہ زندگانی کا خاتمہ ہوگيا خدا آپ کو بزرگ بندوںکی عظيم ترین منزل تک پہونچائے اورآپ کو مقربين کے بلند ترین مرتبہ پرفائزکرے اور مرسلين کے عظيم ترین درجہ تک پہنچادے جہاں تک کو ئی پہونچنے والا نہ پہنچ سکے اور کو ئی اس سے بالاتر نہ جاسکے اور کو ئی اس سے آگے نہ نکل سکے اورکسی ميں اس منزل کوحاصل کرنے کی طمع بهی نہ ہو سکے”

احد کے شہيدوں کی قبروں کی زیارت کے سلسلہ ميں پڑهتے ہيں :

واشهدکم انکم قدجاهدتم فی اللّٰه حقّ جهاده وذببتم عن دین اللّٰه وعن نبيه،وجدتم بانفسکم دونه،واشهد انکم قُتِلْتُمْ علیٰ منهاج رسول اللٰه، فجزاکم اللّٰه عن نبيه وعن الاسلام واهله افضل الجزاء،وعرفناوجوهکم في رضوانه مع النبيين والصدیقين والشهداء والصالحين وحسن اولٰئِکَ رفيقاً

“اور ميں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حضرات نے راہ خدا ميں جہاد کا حق ادا کيا اور دین خدا اور رسول خدا سے دفاع کيا اور اپنی جان قربان کردی اور ميں گو اہی دیتا ہوں کہ آپ لوگ رسول الله کے طریقہ پر دنيا سے گئے خدا آپ کو اپنے پيغمبر اور اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزادے اور ہميں محل رضااور محل اکرام ميں آپ کی زیارت نصيب کرے جہاں آپ انبياء ،صدیقين ، شہداء اور صالحين کے ساته ہوں گے جوبہترین رفقاء ہيں ”


مقابلہ کے دو سرے مر حلہ ميں امام عليہ السلام کی گو اہی

اس گو اہی کو زائر تا ویل قرآن پر جنگ کر کے دا ئرئہ حدود ميں ثبت کرتا ہے ہم ان فقروں کو امام امير المو منين عليہ السلام کی زیارت کے سلسلہ ميں اس طرح پڑهتے ہيں :

اللهم اِنِّیْ اَشْهَدُانّهُ قَدْبلَّغَ عن رسولک ماحمّل ورعیٰ مااستحفظ،وحفظ مااستودع،وحلل حلالک،وحرَّم حرامک،واقام احکامک،و جاهد الناکثين فی سبيلک،والقاسطين فی حکمک،والمارقين عن امرک،صابراً،محتسباًلاتاخذه فيک لومة لائمٍ ”۔

“خدایا ميں گواہی دیتا ہوں کہ امير المو منين نے تيرے رسول کی طرف سے دئے گئے بارکوپہونچا دیا اور اس کی رعایت کی جس کی حفاظت چا ہی گئی اور جو امانت رکهی گئی تهی اس کی حفاظت کی اور تيرے حلال کو حلال اور تيرے حرام کو حرام باقی رکها اور تيرے احکام کو قائم کيا اورنا کثين(طلحہ اور زبير)کے ساته تيری راہ ميں جہاد کيااور قاسطين اور مارقين کے ساته تيرے حکم سے صبر اور تحمل کے ساته جہاد کيااور تيری راہ ميں ملامت کرنے والوں کی ملامت کی کو ئی پرواہ نہيں کی ”

رسول اسلام (ص) کی بعثت کے دن سے مخصوص زیارت ميں اس طرح پڑهتے ہيں :

کنت للمومنين ابارحيماً وعلیٰ الکافرین صباوغلظة وغيظاً،وللمومنين غيثاوخصباوعلما،لم تفلل حجّتک،ولم یزغ قلبک،ولم تضعف بصيرتک ولم تجبن نفسک کنت کالجبل،لاتحرّکه العواصف،ولاتزیله القواصف،کنت کماقال رسول اللّٰه قویافی بدنک،متواضعاًفی نفسک،عظيماًعند اللّٰه،کبيراًفي الارض،جليلاًفي السماء،لم یکن لاحد فيک مهمزولالخلق فيک مطمع ولا لاحد عنک هواده،یوجد الضعيف الذليل عندک قویاعزیزاًحتیّٰ تاخذله بحقه والقوي العزیزعندک ضعيفاًحتیّٰ تاخذ منه الحقّ ”۔ “آپ مومنين کےلئے رحم دل باپ تھے ۔۔۔ آپ کافروں کے لئے سخت عذاب اور درد ناک سزا تھے اور مومنوں کےلئے باران رحمت ہریالی اور علم کی حيثيت سے تھے آپ کی حجت کند نہيں ہو ئی اور آپ کا دل کج نہيں ہوا آپ کی بصيرت کمزور نہيں ہوئی آپ کا نفس ڈرا نہيں آپ اس پہاڑ کے مانند تھے جس کو تيز ہوا ہلا نہيں


سکتی اور آندهياں اس کوہڻا نہيں سکتيں آپ ویسے قوی بدن تھے جيسا کہ رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اور اپنے نفس ميں متواضع تھے اور خدا کے نزدیک عظيم تھے ،زمين ميں کبير تھے اور آسمان ميں جليل تھے آپ کے با رے ميں کسی کے لئے نکتہ چينی کا مقام نہيں ہے اور نہ کسی کہنے والے کےلئے اشارہ ہے اور آپ کے با رے ميں کسی مخلوق کو غلط طمع ہے اور نہ کسی کےلئے بيجا اميد ہے اپ کے نزدیک ہر ضعيف و کمزور و ذليل قوی اور عزیز رہتا ہے یہاں تک کہ آپ اس کےلئے اس کا حق لے ليں اور قوی عزت دار آپ کے نزدیک کمزور ہوتا ہے یہاں تک کہ اپ اس سے حق لے ليں ’

دوسرے مر حلہ ميں تاویل قرآن پر جنگ کرنے کی گواہی

اس کا پہلا حصہ تاویل کے دائرئہ ميں جنگ صفين سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ کربلا سے متعلق ہے اور کربلا ميں اس سلسلہ کی جنگ واضح وآشکار طور پر واقع ہوئی اس ميں قلب سليم رکهنے والے کےلئے کوئی شک وشبہ نہيں ہے اس کا ہروہ شخص گواہ ہے جس کے پاس دل ہے یا جو قوت سماعت کا مالک ہے ۔

اس جنگ ميں امام حسين عليہ السلام اپنے ساته اپنے اہل بيت اور اصحاب ميں سے بہتّرافرادنيز ایسی مو من جماعت کے ساته کهڑے ہوئے جو ميدان کربلا ميں کسی وجہ سے یا بلا وجہ غير حاضر رہے ۔۔۔اور دوسری طرف یزید آل اميہ اور ان کی شامی اور عراقی فوج نے قيام کيا ۔

اس جنگ ميں کسی شک وشبہ کے بغير دونوں طرف کے محاذ اچهی طرح واضح ہو جاتے ہيں چنانچہ امام حسين عليہ السلام نبوت کی ہدایت کے ساته ظاہر ہوتے ہيں اور یزید سر کشوں ،جباروں اور متکبروں کی بری شکلوں ميں ظاہر ہوتا ہے ۔ کربلا ان دونوں جنگوں کے مابين حد فاصل ہے واقعہ کربلا سے ليکر آج تک کسی پر اس جنگ کا امر ومقصد مخفی نہيں رہاہے اور وہ حق وباطل کی شناخت نہ کر سکا ہو مگر الله نے جس کی آنکهوں کا نور چهين ليا اس کے دلو ں اور آنکهوں پر مہر لگادی اور ان کی آنکهوں پر پر دے ڈالدئے ہيں ۔


اس جنگ کے دائرہ حدودميں زائر حضرت امام حسين عليہ السلام فرزند رسول کےلئے نماز قائم کر نے زکات ادا کرنے اور فی سبيل الله جهاد کر نے کی گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد اس جنگ کے پس منظر کو بر قرار رکهتے ہوئے اس سلسلہ کو واقعہ کربلا کے بعد خدا کی طرف سے امامت ولایت اور قيادت سے متصل کر تاہے ہم اس گواہی کے سلسلہ ميں بہت سے فقرے حضرت امام حسين السلام کی زیارت ميں پڑهتے ہيں :اشهدانک قد بلغت عن اللّٰهِ مَاامرک به ولم تخش احدا غيره،وجاهدت فی سبيله،وعبد ته،مخلصاًحتیّٰ اتاک اليقين واشهد انک کلمة التقویٰ،والعروة الوثقیٰ،والحجة علیٰ مَن یبقیٰ واشهد انک عبد الله وامينه،بلّغت ناصحاًوادیت اميناً،وقُتلتَ صدّیقاً،ومضيت علیٰ یقين،لم توثرعمیٰ علیٰ هدیٰ،ولم تُمل من حق الیٰ باطل اشهد انک قد اقمت الصلاة ،وآتيت الزکاة ،وامرت بالمعروف ونهيت عن المنکرواتبعت الرسول وتلوت الکتاب حقّ تلاوته و دعوت الیٰ سبيل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة اشهد انک کنت علیٰ بيّنة من ربک قدبلّغت مااُمرت به وقمت بحقّهِ،وصدّقت مَن قبلک غيرواهن ولا موهن اشهد ان الجهاد معک،وان الحقّ معک واليک وانت اهله و معدنه،و ميراث النبوة عندک ”۔

“اور ميں گواہی دیتا ہوں کہ آ پ نے الله کے اس پيغام کو پہنچایا جس کا اس نے آپ کو حکم دیاتها اور آپ خدا کے علاوہ کسی سے خائف نہيں ہوئے اورآپ نے راہ خدا ميں جہاد کيا اور اس کی خلوص کے ساته عبادت کی یہاں تک کہ آ پ کو موت آگئی ميں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کلمہ تقویٰ اور عروہ وثقیٰ اور اہل دنيا پر حجت ہيں اور ميں گوا ہی دیتا ہوں کہ آپ الله کے بندہ اور اس کے امين ہيں ، آ پ نے ناصحانہ انداز ميں پيغام حق پہنچایا اور امانت کو ادا کيا آپ صدیق شہيد کئے گئے ، اور یقين پر دنيا سے گئے ،ہدایت کے بارے ميں کبهی گمراہی کو ترجيح نہيں دی اورکبهی حق سے باطل کی طرف مائل نہيں ہوئے ميں گواہی دیتا ہوں کہ آ پ نے نماز قائم کی ،اور زکوٰة ادا کی اور نيکيوں کا حکم دیابرائيوں سے روکااور رسول کا اتباع کيا اور قرآن کی تلا وت کی جوتلا وت کاحق تھا اورحکمت اور مو عظہ حسنہ کے ذریعہ اپنے رب کی راہ کی طرف بلایا،ميں گواہی دیتا ہوںکہ آپ اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے اور جو آپ کو حکم دیا گيا تهاآپ نے اسی کو پہنچایا،اس کے حق کے ساته قيام کياجس نے آپ کو قبول کيااس کی آپ نے اس طرح تصدیق کی کہ نہ اس کی کو ئی تو ہين ہواور نہ آپ کی تو ہين ہو ،ميں گوا ہی دیتا ہوں کہ جہاد آپ کے ساته ہے اور حق آپ کی طرف ہے آپ ہی اس کے اہل اور اس کا معدن ہيں ” وارثت کی گواہی


یہی وہ امامت ہے جس کی ہم نے اس زیارت ميں گواہی دی ہے اور وہ امامت حضرت امام حسين عليہ السلام کے بعد آپ کی نسل درنسل باقی رہے گی یہ امامت درميان ميں منقطع ہونے والی نہيں ہے یہ امامت ائمہ توحيد کی امامت ہے جو تاریخ ميں حضرت امام حسين عليہ السلام سے مستقر ہوئی ہے حضرت آدم حضرت نوح اور حضرت ابراہيم سے رسول خدا (ص) حضرت علی اورامام حسن تک پہنچی ہے حضرت امام حسين عليہ السلام اس امامت کی تمام ارزشوں اور ذمہ داریوں کے وارث ہيں :

( انّ الله اصط فٰی آدَمَ وَنُوحْاًوَآلَ اِبرَْهِيمَْ وَآلَ عِمرَْانَ عَل یٰ العَْالَمِينَْ ذُرِّیَّةً بَعضُْهَا مِن بَعضٍْ وَالله ٰ سَمِيعٌْ عَلِيمٌْ ) ( ١)

“الله نے آدم ،نوح اور آل ابراہيم اور آل عمران کو منتخب کرليا ہے یہ ایک نسل ہے جس ميں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور الله سب کی سننے والا اور جا ننے والا ہے ”

حضرت امام حسين عليہ السلام کر بلا ميں اس وارثت کے عہدہ دارتھے :امام حسين عليہ السلام اس عظيم ميراث کو کر بلا تک لے گئے تا کہ لوگ اس کے ذریعہ دليل پيش کریں اس کا دفاع کریں اس

____________________

١)سورئہ آلِ عمران آیت/ ٣٣ ۔ ٣۴ ۔ )


کی مخالفت کر نے والوں سے جنگ کریں یہ بلاغ المبين اسی رسالت کےلئے ہے جس ميراث کو حضرت امام حسين عليہ السلام نے آل ابراہيم اور آل عمران سے پایا تھا ۔

اس معرکہ کے وسط ميں زائر حضرت امام حسين عليہ السلام کےلئے گواہی دیتا ہے:

١۔اس مقام پر واضح طورپر یہ ثابت ہوجا تا ہے کہ حضرت امام حسين عليہ السلام کی یزید سے جنگ اور حضرت ابراہيم عليہ السلام کے نمرود سے مقابلہ اسی طرح حضرت موسیٰ کا فرعون سے ڻکراؤ اور رسول خدا (ص)کی ابو سفيان سے مخالفت نيز حضرت علی کی معاویہ سے جنگ ميں کوئی فرق نہيں ہے۔

٢۔تمام مرحلوں ميں اس جنگ کا محور، روح توحيد ہے ۔

٣۔جو ميراث حضرت امام حسين عليہ السلام کو آل ابراہيم اور آل عمران سے ورثہ ميں ملی جس کےلئے آپ نے کربلا کے ميدان ميں قيام کيا وہ ميراث آپ کے بعد آپ کی ذریت ميں موجود رہی انصار جنهوں نے امام حسين عليہ السلام کا اتباع کيااسی طرح یہ ميراث ان کے تابعين جو آل ابرا ہيم اور آل عمران کی راہ سے ہدایت حاصل کرتے رہے ان ميں باقی رہی۔

ہم صالحين کی وراثت کے سلسلہ ميں حضرت امام حسين عليہ السلام کی شہادت کےلئے زیارت وارثہ کے جملے پڑهتے ہيں :

السلام عليک یاوارث آدم صفوةالله ،السلام عليک یاوارث نوح نبي اللّٰه السلام عليک یاوارث ابراهيم خليل اللّٰه ،السلام عليک یاوارث مو سیٰ کليم اللّٰه،السلام عليک یاوارث عيسیٰ روح اللّٰه،السلام عليک یاوارث محمّدحبيب اللّٰه،السلام عليک یاوارث اميرالمومنين ولي اللّٰه


“سلام آپ پر اے آدم صفی الله کے وارث ،سلام آ پ پراے نوح نبی خدا کے وارث، سلام آپ پر اے ابراہيم خليل خدا کے وارث،سلام آپ پراے مو سیٰ کليم الله کے وارث ،سلام آپ پر اے عيسیٰ روح الله کے وارث ،سلام ہوآ پ پر اے محمدصلی الله عليہ وآلہ حبيب خدامحمدمصطفےٰ کے وارث،سلام ہو آپ پر اے اميرالمو منين ولی الله کے وارث ”

آل ابراہيم اور آل عمران کی اس وراثت کی اگر چہ قرآن کی آیت کے مطابق ایک نسل ذریت کی طرف نسبت دی گئی ہے :

( ذُرِّیَّةً بَعضُْهَامِن بَعضٍْ ) ( ١)

“یہ ایک نسل ہے جس ميں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے ” مگر یہ کہ یہ رسول خدا (ص)اور مو لا ئے کائنات کی جانب فرزندی کی طرف ذریتی انتساب کے عنوان کے علاوہ ایک اور عنوان ہے کيونکہ یہ عنوان براہ راست اس شہادت کے بعد وارد ہوا ہے :

“السلام عليک یابن محمّد المصطفیٰ ،السلام عليک یابن علی المر تضیٰ السلام عليک یابن فاطمة الزهراء السلام یابن خدیجة الکبری ” “سلام آپ پر اے محمد مصطفے کے فرزند سلام آپ پر اے علی مر تضیٰ کے دلبند سلام آپ پر اے فاطمہ زہرا کے لخت جگر سلام آپ پر اے خدیجة الکبریٰ کے فرزند ”

شاہد ومشہود

زیارتوں ميں گواہی سے متعلق روایات ميں شاہد اور مشہود کے درميان کوئی ربط نہيں ہے ان گواہيوں ميں زائر جس کی زیارت کر رہا ہے اس کی گواہی دیتا ہے :

انّک قد اقمت الصلاة وآتيت الزکاة وامرت بالمعروف ونهيت عن المنکروجاهدت في سبيل الله حقّ جهادہ

“بيشک آپ نے نماز قائم کی زکوٰة ادا کی اورنيکيوں کا حکم دیا اور برائيوں سے روکا اور الله کی

____________________

١)سورئہ آل عمران آیت/ ٣۴ ۔ )


راہ ميں جہاد کيا جو جہاد کا حق تھا ” پس زائر شاہد اور جس کی زیارت کر رہا ہے وہ مشہودلہ ہے اور اس کا عکس بهی صحيح ہے

بيشک الله کے انبياء عليہم السلام اس کے رسول اور ان کے اوصياء امتوں پر شاہد ہيں اور رسول الله (ص) ان کے اوصياء اس امت کے شاہد ہيں۔

خدا وند عالم کا ارشاد ہے:( وَیَومَ نبعثُ فی کُلّ اُمّةٍ شهيداًعليهم مِن انفُْسِهِم وَجِئْنٰابک شهيداًعلیٰ هٰولاٰء ) ( ١)

“اور قيامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف انهيں ميں کا ایک گواہ اڻهائيں گے اور پيغمبر آپ کو ان سب کا گواہ بنا کر لے آئيں گے ۔۔۔”

( یَااَیُّهَاالنَّبِیُّ اِنَّااَرسَْلنَْاکَ شَاهِداًوَمُبَشِّراًوَنَذِیرْاً ) ( ٢)

“اے پيغمبر ہم نے آپ کو گواہ،بشارت دینے والا ،عذاب الٰہی سے ڈرانے والا”( کَ لٰ ذِکَ جَعَلنَْاکُم اُمَّةً وَسَطاًلِتَکُونُْواْشُهَدَاءَ عَل یٰ النَّاسِ وَیَکُونَْ الرَّسُولُْ عَلَيکُْم شَهِيدْاً ) (٣)

“اور تحویل قبلہ کی طرح ہم نے تم کو درميانی امت قرار دیا ہے تا کہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو اور پيغمبر تمہا رے اعمال کے گواہ رہيں ” (( وَلِيَعلَْمَ الله الَّذِینَْ آمَنُواْوَیَتَّخَذَمِنکُْم شُهَدَاءَ ) (۴)

____________________

١)سورئہ نحل آیت/ ٨٩ ۔ )

٢)سورئہ احزاب آیت/ ۴۵ ۔ )

٣)سورئہ بقرہ آیت/ ١۴٣ ۔ )

۴)سورئہ آل عمران آیت/ ١۴٠ ۔ )


“تا کہ خدا صاحبان ایمان کو دیکه لے اور تم ميں سے بعض کو شہداء قرار دے اور وہ ظالمين کو دوست نہيں رکهتا ہے ”

( فاو ئِٰلکَ مَعَ الَّذِینَْ اَنعَْمَ الله عَلَيهِْم مِنَ النَّبِيِّينَْ وَالصِّدِّیقِْينَْ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَْ ) ( ١)

“وہ ان لوگوں کے ساته رہے گا جن پر خدا نے نعمتيں نازل کی ہيں انبياء ،صدیقين،شہداء اور صالحين ”

پس زائر ین شاہد کی منزل سے مشہود کی منزل ميں پہونچ جاتے ہيں اسی طرح مشہود لہ جن کے لئے ہم نماز زکات، امر بالمعروف اور جہاد کی گو اہی دیتے ہيں وہ شاہد بن جاتے ہيں ۔

زیارتو ں ميں واردہوا ہے :انتم الصراط الاقوم وشهداء دارالفناء وشفعاء دارالبقاء

اور حضرت اميرالمو منين عليہ السلام کی آڻهویں زیارت ميں آیا ہے :

مضيت للذی کنت عليه شهيداًوشاهداًومشهوداً

“اور جس مقصد پر آپ تھے اسی پر شہيد ہوئے اور شاہد و مشہود ہوئے ”

____________________

١)سورئہ نساء آیت/ ۶٩ ۔ )


ب:الموقف

شہادت کے فيصلہ ميں حکم کا تابع ہے ۔

اور حکم سياست ميں موقف کاتابع ہوتا ہے ۔

مو قف کو واضح و صاف شفاف اورقوی ہونا چاہئے نيز نفس کو قربانی اور فدا کاری کے لئے آمادہ ہو نا چاہئے ۔

اور مسلمانوں کی تاریخ صفين اور کربلا جيسے واقعات ميں ان افراد سے مخصوص نہيں ہے جو اس حادثہ کے زمانہ ميں مو جود تھے بلکہ یہ مو قف خوشنودی ،رضایت ،محبت اور دشمنی کا لحاظ ان افراد کے لئے بهی ہوگا جو اُس حادثہ کے زمانہ ميں موجود نہيں تھے ۔

تاریخ ميں یہ ایام فرقان کی خصوصيات ميںسے ہے جن ميں لوگ دو ممتازمحاذوں ميں تقسيم ہوجا تے ہيں اور ان ميں سے ہر ایک سے اختلاف بر طرف ہوجاتا ہے جس کی بناء پر حق اور باطل کسی شخص پر مخفی نہيں رہ جاتامگر یہ کہ الله نے اس کے دل،کان اور آنکه پر مہر لگا دی ہو ۔

یہ ایام لوگوںکو دو حصوں ميںتقسيم کرتے رہے ہيں اور اُن کو تاریخ ميںخو شنودگی ناراضگی، محبت اور دو ستی کی بنا پردو حصوں ميں تقسيم کرتے رہے ہيں اور تيسرے فریق کو ميدان ميں چهوڑتے رہے ہيں صفين اور کربلا انهيں ميں سے ہے۔

جو شخص بهی دونوںبر سر پيکار فریقوں کو درک کرکے بدر ،صفين اور کربلا کے واقعہ کاجا ئزہ لے وہ یا تو اِس فریق کی طرفدار ی کرے گا اوراس محاذميں داخل ہو جا ئيگا یا دوسرے فریق کی طرفداری کرے گااور دوسرے محاذ ميں داخل ہو جائيگا اس کو ان دونوں ميں سے کسی ایک سے مفر نہيں ہے اور یہی مو قف ہے ۔ خداوندعالم سيد حميری پر رحم کرے جنهوں نے اس تاریخی پہلو کو حق اور باطل کے درميان ہو نے والی جنگ کو اشعار ميں بيان کيا ہے :انی ادین بما دان الوصی به یوم الربيضة من قتل المحلينا وبالذی دان یوم النهر دنت له وصافحت کفه کفی بصفينا تلک الدماء جميعاربّ فی عُنُقی ومثله معه آمين آمينا “ميں جنگ جمل کے دن اسی مو قف کا حامل ہوں جس کو مو لائے کائنات نے اختيار کيا تهایعنی مخالفين کو قتل کرنا ” “اور نہروان کے دن بهی ایسے ہی مو قف کا حامل ہوں اورميرا یہی حال صفين کے سلسلہ ميں ہے ”


“پروردگار وہ سارے خون ميری گردن پر ہيں اور مو لائے کائنات کے ساته ایسے وقائع ميں ہمراہی کےلئے ميں ہميشہ آمين کہتا رہتا ہوں ”

جو کچه صفين اور کربلا کی جنگ ميں رونما ہوا وہ حقيقی اور آمنے سامنے کی جنگ تهی جو مصاحف کے اڻه جانے اور حکمين کے صفين ميں حکم کرنے اور کر بلا ميں حضرت امام حسين عليہ السلام اور ان کے اصحاب کے شہيد ہوجانے سے منقطع نہيں ہوئی بلکہ صفين اور کر بلا کو مخصوص طور پر یاد کيا جانے لگا اس لئے کہ یہ ہمارے نظر یہ کے مطابق تاریخ اسلام ميں حق اور باطل کے درميان فيصلہ کر نے والی جنگيں تين ہيں جنگ بدر ،صفين اور کر بلا تاریخ اسلام ميں ان ہی تينوں کو ایام فرقان کہا جاتا ہے ۔

یہ جنگ آج بهی فریقين کے درميان اسی طرح باقی وساری ہے ۔۔۔یہ تاریخ ہے۔ اگرچہ تاریخ موجود ہ امت کےلئے یہی سياسی اور متمدن تاریخ کی ترکيب شدہ شکل ہے اور ماضی (گزرے ہو ئے زما نہ) اور موجود ہ زمانہ ميں فاصلہ ڈالنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی صحيح ہے ۔چونکہ فرزند اپنے آباء و اجداد سے “مواقع” اور“ مواقف ”ميں ميراث پاتے ہيں ۔موقف سے ہماری مراد تاریخ ميں حادث ہونے والے واقعات ہيں اور واقعہ حادث ہونے کے وقت انسان پر اپنے رفتار وگفتار سے عکس العمل دکها نا واجب ہے اس کو موقف کہا جاتاہے۔تو جب یہ جنگ ثقافتی جنگ تهی اور سمندر کے کسی جزیرہ یا زمين کے کسی ڻکڑے سے مخصوص نہيں تهی تو یہ جنگ یقينا ایک نسل سے دو سری نسل کی طرف منتقل ہوگی ما ضی کو پارہ کر کے حال سے متصل ہو جا ئيگی اور اس کو اولاد اپنے آباء و اجداد سے ميراث ميں پائيگی ایسی صورت ميں مو قف کو موقع سے جدا کرنا ممکن نہ ہوگا جس کی بنا ء پر یہ مواقع مو جودہ نسل کی طرف دونوں بر سر پيکار فریقوں ميں سے ہر ایک کے مو قف کی حمایت کی بناء پرمنتقل ہو جا ئيں گے ۔

یہ ميراث ایک فریق سے مخصوص نہيں ہے بلکہ جس طرح مو اقع و مو اقف سے صالحين کو صالحين کی ميراث ملتی ہے اسی طرح مستکبرین اور ان کی اتباع کرنے والے مستکبرین کے مو اقع اور مواقف کی ميراث پاتے ہيں ۔ہم اہل بيت عليہم السلام سے مروی روایات ميں واضح طور پر مواقف کی ميراث کا مختلف صورتوں ميں زیارتوں ميں مشا ہدہ کرتے ہيں ہم ذیل ميں ان کے کچه نمونے پيش کرتے ہيں : ولایت و برائت


اس کا آشکار نمونہ او لياء الله سے دو ستی اور خدا کے دشمنوں سے دشمنی کرنا ہے اس دو ستی اور دشمنی کا مطلب ان جنگوں اور ڻکراؤ سے خالی ہو نا نہيں ہے بلکہ یہ تو اس کا ایسا جزء ہے جو اِن جنگوں ميںسياسی مو قف سے جدا نہيں ہو سکتا جس کو اسلام نے دو حصوں ميں تقسيم کر دیا ہے ہم دو ستی کے سلسلہ ميں زیارت جا معہ معروفہ ميں پڑهتے ہيں :

اشهد الله واشهدکم انی مومن بکم وبماآمنتم به،کافربعدوکم وبما کفرتم به مستبصربکم وبضلالةمن خالفکم،موال لکم ولاوليائکم مبغض لاعدائکم ومعادٍلهم،سلم لمن سالمکم وحرب لمن حاربکم محقق لماحققتم، مبطل لماابطلتم

“ميں خدا کو اور آپ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ ميں آپ پراور ہر اس چيزپر ایمان رکهتا ہوں جس پر آپ کاایمان ہے ،آپ کے دشمن کا اور جس کا آپ انکار کردیں سب کا منکر ہوں آپ کی شان کو اور آپ کے دشمن کی گمرا ہی کو جانتا ہوں ۔آپ کا اور آپ کے اولياء کا دوست ہوں اور آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور ان سے عداوت رکهتا ہوں اس سے ميری صلح ہے جس سے آپ نے صلح کی ہے اور جس سے آپ کی جنگ ہے اس سے ميری جنگ ہے جسے آپ حق کہيں وہ ميری نظرميں بهی حق ہے اور جس کو آپ باطل کہيں وہ ميری نظرميں بهی باطل ہے ”

زیارت حضرت امام حسين عليہ السلام ميں پڑهتے ہيں :لعن الله امةاسست اساس الظلم والجورعليکم اهل البيت،ولعن الله امة دفعتکم عن مقامکم وازالتکم عن مراتبکم التی رتبکم الله فيها

“خدا یا!اس قوم پر لعنت کرے جس نے آپ کے اہل بيت پرظلم وجورکئے اور اس قوم پرلعنت کرے جس نے آپ کو آپ کے مقام سے ہڻادیا اور اس جگہ سے گرادیا جس منزل پر خدا نے آپ کورکها تھا ” اور

اللهم العن اول ظالم ظلم حقّ محمّدوآل محمّدوآخرتابع له علی ذلک،اللهم العن العصابةالتی جاهدت الحسين وشایعت وتابعت علی قتله اللهم العنهم جميعا

“خدایا !اس پہلے ظالم پر لعنت کر جس نے محمد وآل محمد پر ظلم کيا ہے اور اس کا اتباع کرنے والے ہيں ۔خدایا !اس گروہ پر لعنت کر جس نے حسين سے جنگ کی اورجس نے جنگ پراس سے اتفاق کر ليا اورقتل حسين پرظالموں کی بيعت کرلی ”


زیارت عاشوراء غير معروفہ ميں آیا ہے :

اللهم وهذایوم تجددفيه النقمةوتنزل فيه اللعنةعلی یزیدوعلی آل زیاد وعمربن سعدوالشمر اللهم العنهم والعن مَن رضي بقولهم وفعلهم من اول وآخر لعناًکثيرا واصلهم حرنارک واسکنهم جهنم وساء ت مصيرا،واوجب عليهم وعلی کلّ مَن شایعهم وبایعهم وتابعهم وساعدهم ورضي بفعلهم لعناتک التي لعنت بهاکل ظالم وکل غاصب وکل جاحد،اللهم العن یزیذوآل زیادوبنی مروان جميعا،اللهم وضاعف غضبک وسخطک وعذابک ونقمتک علی اوّل ظالم ظلم اهل بيت نبيک،اللهم والعن جميع الظالمين لهم وانتقم منهم انک ذونقمةمن المجرمين

“خدایا ! یہ وہ دن ہے جب تيرا غضب تازہ ہوتاہے اور تيری طرف سے لعنت کا نزول ہوتا ہے یزید، آل زیاد، عمر بن سعد اور شمر پر۔خدایا ان سب پر لعنت کر اور ان کے قول و فعل پر راضی ہوجانے والوں پر بهی لعنت کر چاہے اولين ميں ہوںيا آخرین ميں سے کثير لعنت فرما اور انهيں آتش جہنم ميں جلادے اور دوزخ ميں ساکن کردے جو بدترین ڻهکانا ہے اور ان کے لئے اور ان کے تمام اتباع اور پيروی کرنے والوں اور ان کے فعل سے راضی ہوجانے والوں کے لئے ان لعنتوںکے دروازے کوکهول دے جوتو نے کسی ظالم ،غاصب ،کافر، مشرک اور شيطان رجيم یا جبار و سرکش پرنازل کی ہے۔ خدا لعنت کرے یزید و آل یزید اور بنی مروان پر خدایا اپنے غضب اپنی ناراضگی اوراپنے عذاب و عقاب کومزید کردے ا س پہلے ظالم پرجس نے اہل بيت پيغمبر پر ظلم کياہے اورپهر ان کے تمام ظالموں پر لعنت کر اور ان سے انتقام لے کہ تو مجرمين سے انتقام لينے والا ہے ”


رضا اور غضب

دو ستی اور دشمنی ميں رضا اور غضب بهی داخل ہے :رضا یعنی جس سے او ليا ء الله راضی ہو تے ہيں غضب جن سے اولياء الله غضب ناک ہوتے ہيں ۔ خوشی اور غضب ،محبت اور عداوت ایمان کی واضح نشانياں ہيں اور ان کے ستون ميں سے ہيں یہ سياسی موقف کےلئے عميق فکر ہے ان دونوں (رضااور غضب) کے بغير سياسی موقف مضمحل اور پائيدار نہيں ہے ۔

یہ وہ رابطہ اور ذاتی ایمان ہے جو سياسی موقف کو عمق ،مقاومت اور استحکام عطا کرتا ہے رضا اور غضب کے سلسلہ ميں زیارت صدیقہ فاطمة الزہرا عليہا السلام ميں آیا ہے :

اشهدالله ورسله وملائکته انيراض عمّن رضيت عنه ساخط علی مَن سخطت عليه،متبرء ممن تبرّئت منه موالٍ لمن واليت معادٍلمَن عادیت مبغض لمن ابغضت،محبّ لمن احبّبت

“ميں الله، رسول اور ملا ئکہ کو گواہ بناکرکہتا ہوں کہ ميں اس شخص سے راضی ہوں جس سے آپ راضی ہيں اورہر اس شخص سے ناراض ہوں جس سے آپ ناراض ہيں ہراس شخص سے بيزارہوں جس سے آپ بيزار ہيں آپ کے چاہنے والوں کا چاہنے والا آپ کے دشمنوںکا دشمن، آپ سے بغض رکهنے والوں کادشمن اورآپ سے محبت کرنے والوںکادوست ہوں ”

اور زیارت کے دوسرے فقر ے ميں آیاہے :

اشهد انی ولی لمن والاک وعدولمن عاداک وحرب لمن حاربک “ميں آپ کے دوستوں کا دوست ہوں اور آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں جو آپ سے جنگ کرنے والے ہيں اس سے ہماری جنگ ہے ”

سلم اور تسليم

موقف کی خصوصيات ميں سے سلم اور تسليم ہے تسليم کا سلم وصلح سے بلند مر تبہ ہے لہٰذا موقف ميں سب سے پہلے مسالحت صلح ہونی چاہئے اور سلم ميں الله ،رسول اور اولياء الله اور اس کے صالحين بندوں کی اتباع کی جا ئے :

( یَااَیُّهَاالَّذِینَْ آمَنُواْادخُْلُواْفِی السِّلمِْ کَافَّةً ) (١)

____________________

١)سورئہ بقرةآیت / ٢٠٨ ۔ )


“ایمان والو تم سب مکمل طریقہ سے اسلام ميں داخل ہو جاؤ ” اس سے چيلنج کو شامل نہ کيا گيا ہو:

( اَلَم یَعلَْمُواْاَنَّهُ مَن یُحَادِدِالله وَرَسُولَْهُ فَاَنَّ لَهُ نَارَجَهَنَّمَ خَالِداًفِيهَْا ) (١) “کيا یہ نہيں جانتے ہيں کہ جو خداو رسول سے مخالفت کرے گا اس کيلئے آتش جہنم ہے اور اسی ميں ہميشہ رہنا ہے ”

نہ الله کے سامنے سرکشی اور استکبار کيا جا ئے :( وَلَاتَطغَْواْفِيهِْ فَيَحِلّ عَلَيکُْم غَضَبِی ) ( ٢)

“اور اس ميں سرکشی اور زیادتی نہ کرو کہ تم پر ميرا غضب نازل ہو جائے ” مخالفت نہ ہو :

( وَاِنَّ الظَّالِمِينَْ لَفِی شِقَاقٍ بَعِيدٍْ ) ( ٣)

“اور ظالمين یقينابہت دور رس نا فر مانی ميں پڑے ہوئے ہيں ” دو سرے مر حلہ ميں اس مو قف کو رسول اور مسلمين کے امور کے سر پرستوں سے تسليم کی اطاعت پر قائم ہو نا چا ہئے صلح اور تسليم ميں سے ہر ایک کو انسان کی نيت ،قلب ،عمل اور رفتار ميں ایک ہی وقت ميں رچ بس جانا چا ہئے صلح ،تسليم اور پيروی دل سے ہو نی چا ہئے اور جب ایسی صورت حال ہواور سياسی مو قف ،نيت ،عمل اور با طن و ظا ہر ميں صلح و تسليم سے متصف ہو تو لو گ اکڻها ہو کر اس مو قف کو اختيار کریں اور اس مو قف کے لوگ اس کے خلاف موقف والوں کے ساته جمع نہيں ہوسکتے ۔ایسی صورت ميں مو من انسان اکيلا ہی ایک امت شمار ہوگا جو امت کا پيغام ليکر قيام کرتا ہے اور وہ امت کی

____________________

١)سورئہ توبةآیت/ ۶٣ ۔ )

٢)سورئہ طہ آیت / ٨١ ۔ )

٣)سورئہ حج آیت ۵٣ ۔ )


طرح پائيدار اور مضبوط ہو گاجيسا کہ ہمارے باپ ابوالانبياء جناب ابراہيم عليہ السلام اکيلے ہی قرآن کی نص کے مطابق ایک امت تھے :

( اِنَّ اِبرَْاهِيمَْ کَانَ اُمَّةً قَانِتاً لِلهِّٰ حَنِيفْاًوَلَم یَکُ مِنَ المُْشرِْکِينَْ ) (١) “بيشک ابراہيم ایک مستقل امت اور الله کے اطاعت گذار اور باطل سے کتراکر چلنے والے تھے اور مشرکين ميں سے نہيں تھے ”

اور صلح و سلا متی کے بغير تاریخ ميں کو ئی مو قف رونما نہيں ہو تا اور اگر ہم مو قف کو صلح و سلا متی سے خالی کردیں تو مو قف کالعدم ہو جائيگا صلح تسليم خدا و رسول اور مسلمانوں کے پيشواؤں کی ہر بيعت کی جان ہے کيونکہ بيعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان خداوند عالم کی عطا کردہ ہر چيز منجملہ محبت، نفرت ، جان ،مال اور اولاد کو یکبارگی خداوند عالم کے ہاتهوں فروخت کردے اوروہ دل خداوند عالم کيلئے ہر چيز سے خالی ہو جا ئے ،پهر اس کے بعد اپنے معا ملہ پر نہ حسرت کرے اور ہی اپنے کام ميں شک کرے کيو نکہ وہ اب ہر چيز خداوند عالم کے ہاتهوں بيچ چکا ہے اور اس کی قيمت لے چکا ہے لہٰذا نہ معا ملہ فسخ کرسکتا ہے اورنہ فسخ کرنے کامطالبہ کرسکتاہے اوریہ سودمندمعاملہ ہے یہ امور مسلمين کے سرپرستوں اور مو منين کے پيشواؤں کے مو قف کی جان ہے جنهوں نے اس سلسلہ ميں اہل بيت عليہم السلام ج(و مسلمانوں کے امام ہيں) کی زیارت ميں انے والی عبارتوں پر غور کریں ۔

رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم کی زیارت ميں آیاہے :

فَقَلبِی لَکُم مُسَلِّمٌ ونصرتي لکم معدةحتّیٰ یحکم الله بدینه فمعکم معکم لامع عدوکم

“ ميرا دل آپ کے سامنے سراپاتسليم ہے اور ميری نصرت آ پ کےلئے حاضر ہے یہاں تک

____________________

١)سورئہ نحل آیت / ١٢٠ ۔ )


کہ پروردگاراپنے دین کا فيصلہ کردے تو ميں اپ کے ساته ہوں آپ کے دشمنوں کے ساته نہيں ”

حضرت امام حسن عليہ السلام کی زیارت ميں واردہوا ہے : لبيک داعي اللهان کان لم یجبک بدني عنداستغاثتک ولساني عند استنصارک قد اجابک قلبي وسمعي وبصري

“ميں نے خداوند عالم کی دعوت پر لبيک کہی اے الله کی طرف بلانے والے اگر چہ ميرے جسم نے آپ کے استغاثہ کے وقت لبيک نہيں کہی اور ميری زبان نے آپ کے طلب نصرت کے وقت جواب نہيں دیا ليکن ميرے دل ،کان اور آنکه نے لبيک کہی ”

زیارت حضرت ابو الفضل العباس :

وقلبي لکم مسلّم وانالکم تابع ونصرتي لکم معدةحتی یحکم الله وهو خيرالحاکمين

“ميرا دل آپ کے سامنے جهکا ہے اور تابع فرمان ہے اور ميں آپ کا تابع ہوں اور ميری مدد آپ کے لئے تيار ہے یہاں تک کہ خدا فيصلہ کردے اور وہ بہترین فيصلہ کرنے والا ہے ”

زیارت حضرت امام حسين عليہ السلام روز اربعين :وقلبي لقلبکم سلم،وامريلامرکم متبع،ونصرتي لکم معدة،حتّیٰ یاذن الله لکم،فمعکم معکم لامع عدوکم

“اور ميرا دل آپ کے سامنے سراپا تسليم ہے اور ميرا امر آپ کے امر کے تابع ہے اور ميری مدد آپ کے لئے تيار ہے یہاں تک کہ الله آپ کو اجا زت دے تو ہم آپ کے ساته ہيں اور آپ کے دشمنوں کے ساته نہيں ہيں ”

یہ معيت جس کو زائر اپنے موقف اور ائمہ مسلمين سے دوستی کے ذریعہ آمادہ وتيار کرتا ہے یہ موقف اور دوستی کی روح ہے ۔ان کی خوشی وغم، صلح وجنگ آسانی عافيت اور سختی ومشکل ميں ساته رہنا دنيا ميں ان کے ساته رہنا انشاء الله آخرت ميں ان کے ساته رہنا ہے ۔


انتقام کےلئے مدد کی دعا

موقف کے مطالبوں ميں سے ایک مطالبہ مدد کےلئے دعا مانگنا ہے ۔جب مو قف کا سر چشمہ سچا دل ہوگا تو انسان الله سے مسلمانوں کے امام اور مسلمانوں کی مددکےلئے ہر وسيلہ سے دعا مانگے گا دعاکے ان وسائل ميں سے ایک وسيلہ الله کی بارگاہ ميں حاضر ہوکر دعا مانگتا ہے اور دعا ان وسائل ميں سے سب سے افضل اور بہترین وسيلہ ہے مگر دعا عمل ،عطا اور قربانی دینے سے مستغنی نہيں ہے ۔

سياسی موقف کے ستون کے لئے اس مضمون کی دعا اہلبيت عليہم السلام سے وارد ہونے والی دعا ؤں ميں ہے اور ہم ذیل ميں اس دعا کے چند نمونے پيش کرتے ہيں :

ہم آل محمد عليہم السلام سے مہدی منتظر عجل الله فرجہ الشریف کی زیارت ميں پڑهتے ہيں :

اللهم انصره وانتصربه لدینک،وانصربه اوليائک،اللهم واظهربه العدل،وایّده بالنصر،وانصرناصریه واخذل خاذليه،واقصم به جبابرةالکفرواقتل الکفاروالمنافقين واملابه الارض عدلاًواظهربه دین نبيک

“خدا یا! اپنے ولی کی نصرت فرما اور ان کے ذریعہ دین کی مددفرما اپنے اولياء اور ان کے اولياء کی مدد فرما ۔۔۔اور ان کے ذریعہ عدل کو ظاہر فرما نااور اپنی نصرت سے ان کی تائيد فرمانا ان کے ناصروں کی مدد کرنا اور ان کو رسوا کرنے والوں کو ذليل کر اور دشمنوں کی کمر توڑدے تمام جابر کافروں کی کمر توڑ دے تمام کفار و منافقين اور تمام ملحدین کوفنا کردے ۔۔۔اور ان کے ذریعہ زمين کو عدل سے بهردے اور ان کے ذریعہ اپنے نبی کے دین کو غالب فرما”


حضرت امام مہدی عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کےلئے دعاؤں کے چندنمونے :

اللهم انّک ایدت دینک في کل اوان بامام اقمته لعبادک ومنارافي بلادک،بعدان اوصلت حبله بحبلک،وجعلته الذریعةالی رضوانک اللهم فاوزع لوليک شکرماانعمت به عليه،واوزعنامثله فيه،وآته مِن لدنک سلطانا نصيرا،وافتح له فتحایسيراًواعنه برکنک الاعز،واشددازره،وقوّعضده وراعه بعينک،واحمه بحفظک،وانصره بملائکتک وامدد،بجندک الاغلب،واقم به کتابک وحدودک وشرائعک وسنن رسولک واحيی به مااماته الظّالمون من معالم دینک،واجل به صداالجورعن طریقک،وابن به الضراء من سبيلک،وازل به الناکبين عن صراطک وامحق به بغاةقصدک عوجاً،والن جانبه لاوليائک،وابسط یده علی اعدائک،وهبّ لنارافته ورحمته وتعطفه وتحنّنه،واجعلناله سامعين مطيعين،وفی رضاه ساعين والی نصرته والمدافعةعنه مکنفين

“بار الٰہا! تو نے اپنے دین کی، ہر زمانہ ميں ایسے امام کے ذریعہ نصرت کی ہے جس کو تو نے اپنے بندوں کےلئے منصوب فر مایا اپنی مملکت ميں منارئہ ہدایت قرار دیا اس کے بعد جبکہ تو نے اس کو اپنی رضا تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا با ر الٰہا لہٰذا اپنے ولی کو اپنے اوپر نا زل ہو نے والی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کی تو فيق عطا فرما اور اس سلسلہ ميں ہم کو بهی شکر ادا کرنے کی توفيق عطا فرما اپنی جانب سے اس امام کو کامياب حکو مت عطا فرما آسانی کے ساته فتح و نصرت عطا فرما اپنے مضبوط ارکان کے ذریعہ اس کی مدد فرما اس کو ہمت دے ،اس کو قوی کر ، اس کی نگرانی کر ،اپنے ملائکہ کے ذریعہ اس کی مددکر، اپنے فاتح لشکر کے ذریعہ ظفریاب کر ،اس کے ذریعہ اپنی کتاب ،حدود شریعت اور اپنے رسول کی سنتوں کو قائم کر ،اس کے ذریعہ اپنے دین کی ان نشانيوں کو زندہ کر جن کو ظالمين نے مردہ کر دیا ہے، اس کے ذریعہ اپنی راہ سے انحراف کی جِلا بخش ،اس کے ذریعہ اپنی تاریک راہ کو رو شن کر ،اس کے ذریعہ اپنی راہ سے دو ری اختيار کرنے والو ں کو نا بود کر ،اس کے ذریعہ تيرا بيجا طور پر قصد کرنے والوں کو فنا کردے ،اس کو اپنے دو ست داروں کےلئے خوش اخلاق کردے اس کو اپنے دشمنوں پر مسلّط کردے اس کی محبت سے ہم کو بہرہ مند فرما ،ہم کو اس کا اطاعت گذار قرار دے اس کی رضا کے سلسلہ ميں کو شش کرنے والا قرار دے اس کی مدد اور دفاع کرنے کے سلسلہ ميں آمادہ کردے ”

نيز زیارت امام صاحب الزمان عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی زیارت ميں پڑهتے ہے :


اللهم انجزلوليک ماوعدته،اللهم اظهرکلمته واعل دعوته وانصره علی عدوه وعدوک،اللهم انصره نصراعزیزاً،وافتح له فتحایسيراً،اللهم واعزّبه الدین بعدالخمول،واطلع به الحق بعدالافول،واجل به الظلمة،واکشف به الغمة، وآمن به البلادواهدبه العباد،اللهم املابه الارض عدلاًوقسطاًکماملئت ظلماًوجوراً

“خدایا!جس کا تونے وعدہ کيا ہے اسے اپنے نبی کيلئے پورا کردے خدایا! اس کے کلمہ کو ظاہر کر دے اور اس کی دعوت کی آواز کو بلند کر اور اس کے اور اپنے دشمن کے مقابلہ ميں اس کی مدد فرما۔۔۔خدایا !اس کی غلبہ عطا کرنے والی مدد سے مدد کر اور اس کو آسانی سے مکمل فتح عطا کر خدایا! اس کے ذریعہ سے گمنامی کے بعد دین کو غلبہ عطا کر اور اس کے ذریعہ حق کو ڈوبنے کے بعد طالع کر اور اس کے ذریعہ سے ظلمت کو نورانيت عطا کر اور اس کے ذریعہ مشکلات کو دور فرمااور خدایا اس کے ذریعہ شہروں کوامن عطا کر اور بندوں کی ہدایت کر خدایا اس کے ذریعہ زمين کو عدل و انصاف سے بهردے جبکہ وہ ظلم و جور سے بهر چکی ہو ”

انتقام اور خون خواہی کےلئے دعا

“انتقام ”اور انتقام کےلئے دعا مانگنا موقف کا جزء ہے حضرت ابراہيم بلکہ حضرت نوح سے ليکر آج تک خاندان توحيد کا ایک ہی موقف ہے ۔ان کا راستہ اور ان کی غرض وغایت ومقصد ایک ہے اور یہ موقف حضرت ابراہيم سے ليکر امام مہدی کے ظہور تک اس طرح باقی رہے گا تا کہ خداوندعالم ان کے ذریعہ اس خون واشک کے فتوحات ،اور مشکلات کی راہ ميں ان کو فتح ونصرت عطا کرے اور خدا ان لوگوں سے جنهوں نے ان کو شہيد کيا ،ان پر ظلم وستم کيا اس راستہ ميں ظلم وستم کر نے والوں کی قيادت کی ،ان کے رہبر ،ان کی نسل اور جنهوں نے الله کے دین سے روکا ان سے انتقام لے ۔

اس خاندان پر سب سے زیادہ ظلم وستم ،مصائب ،پياس قتل وغارت کربلا کے ميدان ميں حضرت امام حسين عليہ السلام اور ان کے اہل بيت عليہم السلام اور اصحاب پر ڈها ئے گئے ۔


ہم خداوند قدوس سے دعا کر تے ہيں کہ وہ ہم کو ان لوگوں سے انتقام لينے والوں ميں سے قراردے جنهوں نے ظلم وستم ڈهائے ،اس روش پر برقرار رہے ،ان کی اتباع کی اور جو ان کے اس فعل پر راضی رہے ۔

اللهم واجعلنامن الطالبين بثاره مع امام عدل تعزّبه الاسلام واهله یاربّ العالمين

“خدایا !ہم کوامام حسين عليہ السلام کے خون کا بدلہ لينے والوں ميں امام عادل (امام زمانہ) کے ساته قرار دے جس کے ذریعہ تو اسلام اور اہل اسلام کو عزت دے گا اے عالمين کے پروردگا ر ” ١۔رسول اسلام (ص)او ران کے اہل بيت عليہم السلام کيلئے دعا ان پر درود اور خداوند عالم کی جانب سے ان کيلئے طلب رحمت :اللهم صلّ علی محمّدوآله صلوات تجزل لهم بهامن نحلک و کرامتک،وتکمل لهم الاشياء من عطایاک ونوافلک،وتوفّرعليهم الحظ من عوائدک وفواضلک

“خدایا !محمد وآل محمد پر ایسے درود بهيج جس کے ذریعہ تو ان کيلئے اپنی بزرگواری اور کرم کو وافر مقدار ميں ان کو عطا کر اور ان کيلئے اپنی بخششيں کامل کر اور ان پر بکثرت اپنی نعمتيں نازل فر ما ”

اللهم صلّ علی محمّدوبارک علی محمّد وآل محمّد،کافضل ماصلّيت وبارکت وترحمت وتحنّنت وسلّمت علی ابراهيم وآل ابراهيم

“خدایا محمد اور آل محمد پر درودبهيج اورمحمد وآل محمدپر برکت نازل فرماجس طرح کہ تو نے صلوات و برکت ورحمت،مہربانی اور سلام ابراہيم اور آل ابراہيم پر قرار دیاہے ،

٢۔رسول کيلئے دعا :رسول اور اہل بيت عليہم السلام کے سلسلہ ميں یہ دعا خدا ان کو اپنے بندوں کيلئے اپنی رحمت تک پہنچنے کا ذریعہ اور شفيع قرار دے اور رسول خدا (ص) کی زیارت ميں آیا ہے :

اللهم اعط محمداً الوسيلةوالشرف والفضيلةوالمنزلةالکریمةاللهم اعط محمّداًاشرف المقام وحباء السلام وشفاعةالاسلام،اللهم الحقنابه غير خزایاولاناکثين ولانادمين


“خدایا !محمد کو وسيلہ ،شرف اور فضيلت اور کریم منزلت عطا فرما خدایا تو محمد کو بہترین مقام اور سلام کا تحفہ اور شفاعت اسلام عطا کر خدایا ہم کو ان سے اس طرح ملا کہ نہ رسوا وذليل ہوں نہ عہد کے توڑنے والے اور نہ شرمندہ ہوں ” اور رسول خدا (ص) کی زیارت ميں آیا ہے :اللهم واعطه الدرجةوالوسيلةمن الجنةوابعثه المقام المحمود،یغبطه به الاوّلون والآخرون

“خدایا !ان کو بلند درجہ عطا کر اور وسيلہ جنت عطا کر اور ان کو مقام محمود پر مبعوث کر کہ ان پر اولين وآخرین غبطہ کریں ” ٣۔رسول خدا (ص)اور ان کے اہل بيت عليہم السلام سے الله کے اذن سے توسل کرنا :

فاجعلني اللهم بمحمّدواهل بيته عندک وجيهاًفی الدنياوالآخرة،یا رسول الله اني اتوجه بک الی الله ربّک وربي ليغفرلي ذنوبي ویتقبل مني عملي ویقضي لي حوائجي فکن لي شفيعاًعندربّک وربي فنعم المسوول المولیٰ ربي و نعم الشفيع انت یامحمّدعليک وعلی اهل بيتک السلام

“بار الٰہا !پس مجه کو محمد اور ان کے اہل بيت کے نزدیک دنيا اور آخرت ميں سرخرو قرار دے یا رسول الله بيشک ميں آپ کے اور اپنے پروردگار کی طرف آپ کے وسيلہ سے متوجہ ہوتا ہوں تا کہ وہ ميرے گناہ بخش دے اور مجه سے ميرا عمل قبول کرے اور ميری حا جتيں پوری کرے ،لہٰذا آپ اپنے اور ميرے پروردگار کے نزدیک ميرے شفيع ہو جا ئيے کيونکہ پرور دگار بہت اچها آقا اور سوال کرنے کے لائق ہے اور اے محمد! آپ بہترین شفيع ہيں آپ پر اور آپ کے اہل بيت پر درود وسلا م ہو ” زیارت ائمہ اہل بقيع عليہم السلام ميں آیا ہے :

وهذامقام مَن اسرف واخطاواستکان،واقرّبماجنیٰ،ورجیٰ بمقامه الخلاص فکونوالی شفعاء فقد وفدت اليکم اذ رغب عنکم اهل الدنياواتخدوا آیات الله هزواًواستکبرواعنها

“آپ کے سامنے وہ شخص کهڑا ہے جس نے زیادتی کی ہے غلطی کی ہے مسکين ہے، اپنے گناہوں کامعترف ہے اور اب نجات کا اميدوارہے ۔۔۔آپ اہل بيت اس کی بارگاہ ميں ميرے شفيع بن جائيں کہ ميں آپ کی بارگاہ ميں اس وقت آیا ہوں جب اہل دنيا آپ سے کنارہ کش ہوگئے اور انهوں نے آیات خدا کا مذاق اڑایا ہے ” رسول خدا (ص) کے چچا حضرت حمزہ عليہ السلام کی زیارت ميں آیا ہے:


اتيتک من شقةطالب فکاک رقبتي من الناروقداوقرت ظهري ذنوبي وآتيت مااسخط ربي ولم اجداحداًافزع اليه خيراًلي منکم اهل بيت الرحمه فکن لي شفيعاً

“ميںبہت دور سے آیا ہوں ميرا مقصد یہ ہے کہ الله ميری گردن کو جہنم سے آزاد کر دے کہ گنا ہوں نے ميری کمرتوڑ دی ہے اور ميں نے وہ کام کئے ہيں جنهوں نے ميرے خدا کوناراض کردیاہے اوراب کو ئی نہيں ہے جس کے سامنے فریاد کروں یاآپ سے بہتر ہوآپ اہل بيت رحمت ہيںلہٰذا روز فقر و فاقہ ميری شفاعت فرمائيں” ۴ ۔الله تبارک و تعالیٰ کی جانب اہل بيت عليہم السلام کی ہمنشينی قيامت ميں ان کی ہمسا ئيگی اور دنيا ميں ان کی ہدایت اور ان کے راستہ پر ثابت قدمی کا سوال کرکے متوجہ ہونااور یہ کہ ہم دنيا ميں انهيں کی طرح زندہ رہيں او ر ہم کو انهيں کی طرح مو ت آئے اورہم آخرت ميں اُن ہی کے گروہ بلکہ ان ہی کے ساته محشور کئے جا ئيں جيسے الله نے مجھے دنياميں ان کی ہدایت اور ان سے محبت کرنے کی توفيق عطا کی ہے ۔

رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم کی زیارت ميں وارد ہوا ہے :اللهم واعوذبکرم وجهک ان تقيمني مقام الخزي والذّل یوم تهتک فيه الاستاروتبدوفيه الاسرار،وترعدفيه الفرائص ویوم الحسرةوالندامة،یوم الآفکة،یوم الآزفة،یوم التغابن،یوم الفصل،یوم الجزاء،یوماًکان مقداره خمسين الف سنة،یوم النفخة،یوم ترجف الراجفة،تتبعهاالرادفة،یوم النشر،یوم العرض، یوم یقوم الناس لربّ العالمين،یوم یفرّالمرء من اخيه وامّه وابيه وصاحبته وبنيه، یوم تشقق الارض واکناف السماء،یوم تاتی کلّ نفس تجادل عن نفسها،یوم یُردون الی الله فيُنبوهم بماعملوا،یوم لایغني مولیٰ عن مولیٰ


“اور ميں تيری کریم ذات کی پناہ ميں آیا ہوں کہ تو مجه کو ذلت و رسوائی کی منزل ميں کهڑانہ کرنااس دن جس دن تمام پردے چاک ہو جا ئيں گے اور تمام راز ظاہر ہو جا ئيں گے اور بندبند کا نپيں گے اور وہ دن حسرت و ندامت کا دن ہوگاوہ دن برائيوں کے کهل جا نے کااور انسان کے خسارہ کا دن ہوگا ،جس دن فيصلہ بهی ہوگا اور جزاء بهی دی جائيگی جو دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، جب صور پهونکا جائيگا جب زمين لرزجائے گی اور اسے مسلسل جهڻکے لگيں،نا مہ اعمال نشر ہوگا ، معاملات پيش ہوں گے اور بندے رب العالمين کے سامنے کهڑے ہوں گے ،جب ہر شخص اپنے بها ئی ،ماں ،باپ، بيوی اور بچوں سے بهاگ رہا ہوگا زمين شق ہو جا ئے گی آسمان پهٹ جائيگااور ہر شخص اپنے سے دفاع کرنے کی کوشش کرےگا ،تمام لوگ الله کی بارگاہ ميں پلڻادئے جا ئيں گے تو اور وہ لوگوںکوان کے ا عمال سے با خبر کریگا جب کوئی دوست کسی کے کام نہ آئے گا ” اور اس کے بعد قيامت کے خوفناک دن ميں رسول خدا (ص) اور الله کے اولياء کی مصاحبت طلب کرنا:

اللهم ارحم موقفي في ذلک اليوم ولاتخزني في ذلک الموقف بما جنيت علی نفسي،واجعل یاربّ في ذلک اليوم مع اولئک منطلقي وفي زمرة محمّداهل بيته محشري واجعل حوضه موردي واعطني کتابي بيميني

“خدایا!اس دن کے مو قف ميں مجه پر رحم کرناآج کے اس مو قف کے طفيل ميںتو مجھے اس مو قف ميں رسوا نہ کرناان زیادتيوںکی بنا پرجو ميں نے اپنے اوپر کی ہيں اور اے خدا اس دن مجھے اور ميری منزل کو اپنے اولياء کے ساته قرار دےنا اور مجھے اپنے پيغمبر اور اہل بيت کے زمرہ ميں محشور کر ناان کے حوض کوثرپر واردکرنا ۔۔۔اور نامہ اعمال داہنے ہاته ميں دینا ” زیارت حضرت ابو الفضل العباس ميں آیا ہے :

فجمع الله بينناوبينک وبين رسوله واوليائه “الله ہميں اور آپ کو اپنے رسول اور اولياء کے ساته بلند ترین منزل ميں قراردے’

بعض زیارات کی نصوص ميں وارد ہوا ہے :وثبّت لي قدم صدق مع الحسين واصحاب الحسين الذین بذلوا مهجهم دون الحسين

“خدایا !مجھے روز قيامت ثبات قدم دینا حسين اور اصحاب حسين کے ساته جنهوں نے تيرے حسين کے سامنے اپنی جانيں قربان کر دی ہيں ” زیارت عاشوراء کے بعد دعاء علقمہ ميں آیا ہے :


اللهم احيني حياة محمّد وذریة محمّدوامتني مماتهم وتوفني علی ملّتهم واحشرني في زمرتهم ولاتفرّق بيني وبينهم طرفةعين ابداًفي الدنيا والآخره

“خدایا !مجه کو محمد اور ان کی ذریت کی حيات اور انهيں کی موت عطا فرما انهيں کی ملت پراڻهانا اور انهيں کے زمرہ ميں محشور کرنا اور ميرے اور ان کے درميان دنيا اور آخرت ميں ایک لحظہ کی جدا ئی نہ ہونے دینا ” زیارت عاشوراغير معروفہ ميں آیا ہے :

اللهم فصلِّ علیٰ محمّدوآل محمّد واجعل محياي محياهم ومماتي مماتهم،ولاتفرّق بيني وبينهم في الدنياوالآخرةانّک سميع الدعاء

“خدایا !محمد آور آل محمد پر رحمت نازل فرمااور ميری زندگی کو ان کی جيسی زندگی اورميری موت کو ان کی جيسی موت بنا دے اور ميرے اور ان کے درميان دنيا اور آخرت ميں جدا ئی نہ ہونے دینا تو دعاؤں کا سننے والا ہے ” زیارت جا معہ ميں آیا ہے :

فثبتني الله ابداًماحييت علی موالاتکم ومحبتکم و،وفقني لطاعتکم،و رزقني شفاعتکم وجعلني من خيارمواليکم التابعين لمادعوتم اليه وجعلني ممن یقتص آثارکم ویسلک ویهتدي بهداکم ویحشرفي زمرتکم،ویکرّفيرجعتکم ویملک في دولتکم،ویشرف في عافيتکم ویمکن في ایامکم وتقرّعينه غدا برویتکم ۔

“الله مجھے تا حيات آپ کی محبت آپ کی موالات اور آپ کے دین پرثابت رکهے آپ کی اطاعت کی تو فيق دے آپ کی شفاعت نصيب کرے اور آپ کے بہترین غلاموں ميں،آپ کی دعوت کااتباع کرنے والوں ميں قرار دے اور ان ميں قرار دے جو آپ کے آثارکا اتباع کریں اور آپ کے راستہ پر چلےں، آپ سے ہدایت حاصل کریں اور قيامت ميں آپ کے ساته محشور ہوں ، آپ کی رجعت ميں واپس ہوں، آپ کی حکومت ميں حاکم بنيں اورآپ کی عافيت کا شرف حاصل کریں اور آپ کے زمانہ ميں اختيار حاصل کریں ”

زیارت حضرت ابوالفضل العباس ميں آیا ہے :فجمع الله بينناوبينک وبين رسوله واوليائه فی منازل المخبتين

“الله ہميں اور آپ کو درميان اپنے رسول اور اولياء کے ساته بلند ترین منزل ميں قراردے’

اس طرح زیارت کرنے والے اور زیارت کئے جانے والے شخص کے درميان رابطہ کامل ہو جاتا ہے یہ دو طرفہ رابطہ ہے جس ميں دعا اور زائر کی جا نب سے زیارت کی جا نے والی ہستی پر درودوسلام، اس ميں خدا وند عالم سے دعا ہے کہ زیارت کئے جانے والی ہستی کی شفاعت اور قيامت ميں اس کی ہمنشينی حاصل ہو یہاں زائر اور جس کی زیارت کی جائے دونوں کے مابين رابط خدا ہے اسی لئے وہ ابتداء اور انتہاء دونوں ہی ميں توجہ کا مرکز ہے ۔


فہرست

دعا ميں خدا سے کيا مانگنا چا ہئے اور کيا نہيں مانگنا چاہئے ۴

١۔دعا ميں خدا سے کيا مانگنا چاہئے ؟ ۴

١۔دعا ميں محمد وآل محمد (ص) پر صلوات ۵

٢۔مومنين کےلئے دعا ۸

١۔عام مومنين کےلئے دعا ۸

عمومی دعا کے کچه نمونے ۱۳

سرحدوں کے محا فظوں کے حق ميں دعا ۱۴

قرآن کریم ميں دعا کے تين صيغے ۱۵

١۔ اپنے لئے دعا ۱۶

٢۔ دوسروں کےلئے دعا ! ۱۷

٣۔اجتماعی دعا ۱۸

دعا کے تيسر ے طریقہ کی تشریح وتفسير ۲۱

ب۔صرف مومنين کيلئے دعا ۲۶

ا۔غائب مومنين کيلئے دعا ۲۷

ب:چاليس مومنوں کيلئے دعا ۳۰

ج:دعاميں دوسروں کوترجيح دینا ۳۰

٣۔والدین کےلئے دعا ! ۳۷

۴ ۔اپنی ذات کيلئے دعا ! ۳۹

١لف۔ ہر لازم چيز کےلئے دعا ! ۴۰


ب۔بڑی حا جتيں چھوٹی حاجتوں پر پردہ نہ ڈال دیں ۴۴

ج: خدا وندعالم کی بارگاہ ميں بڑی نعمتوں کا سوال کر نا چا ہئے ۴۶

د۔دعا کرکے سب کچه تدبير الٰہی کے حوالہ کردینا ۵۰

ه۔خداوند عالم سے ذات خدا کو طلب کرنا ۵۴

ب۔جوچيز یں دعا ميں سزاوار نہيں ہيں ۵۶

١۔کائنات اور حيات بشری ميں الله کی عام سنتوں کے خلاف دعا کرنا ۵۶

٢۔حل نہ ہونے والی چيزوں کيلئے دعا کرنا ۵۹

٣۔دوسروں کی نعمتوں کے زوال کی تمنا کرنا ۶۰

۴ ۔مصلحت کے خلاف دعا کرنا ۶۲

۵ ۔فتنہ سے پنا ہ مانگنا ۶۳

۶ ۔مومنين کے لئے بد دعا کر نا ۶۵

محبت بهرے دلوں سے خداکی رحمت نازل ہو تی ہے ۶۹

مومنين کے ساته ملاوٹ کرنے سے الله کاغضب نازل ہوتا ہے ۷۲

مومنين سے سو ء ظن قبوليت عمل کی راہ ميں رکاوٹ ۷۳

اہل بيت عليہم السلام کی دعاؤں ميں حبّ خدا الله سے لو لگا نا ۷۴

استر حام الله کی رحمت کی کنجی ہے اور استغفار مغفرت کی کنجی ہے ۔ ۷۵

الله کی محبت ۷۶

ایمان اور محبت ۸۰

محبت کی لذت ۸۲

محبت کے ذریعہ عمل کی تلافی ۸۵


محبت انسان کو عذاب سے بچاتی ہے ۸۷

محبت کے درجات اور اس کے طریقے ۸۸

محبت ميں انسيت اور شوق کی حالت ۱۰۰

دوسری صورت ۱۱۸

دلوں ميں پيدا ہونے والے شکوک ۱۲۵

اصل اختيار ۱۲۷

دعائے قاع اور قمہ ۱۳۲

تين وسيلے ۱۳۸

پہلا وسيلہ :حاجت ۱۳۸

دوسرا وسيلہ :دعا ۱۴۶

تيسرا وسيلہ :محبت ۱۴۷

الله سے ملاقات کے شوق کی ایک اور حالت ۱۵۵

الله کےلئے خالص محبت ۱۵۸

بندہ سے متعلق خداوند عالم کی حميت ۱۶۲

الله کےلئے اور الله کے بارے ميں محبت ۱۶۵

محبت کا پہلا سر چشمہ ۱۶۸

ا۔الله اپنے بندوں کو دوست رکهتا ہے ۱۶۹

٢۔ان کو اپنی محبت والفت عطا کرتا ہے ۱۶۹

٣۔بندوں سے خداوندعالم کا اظہاردوستی ۱۷۳

اہل بيت عليہم السلام کی ميراث ميں دعاؤں کے مصادر ۱۷۵


اصحاب ائمہ عليہم السلام اور تدوین حدیث کا اہتمام ۱۷۵

حدیث کے سلسلہ ميں(اصول اربعماة) چا رسو اصول ۱۷۶

ميراث اہل بيت عليہم السلام اور طغرل بيگ کی آتش زنی ۱۷۷

اہل بيت عليہم السلام کی محفوظ رہ جانے والی ميراث ۱۷۸

دعاؤںکے کچه مصادر کا تلف ہونے سے محفوظ رہنا ۱۷۸

کتاب مصباح المتہجد کے ذریعہ محفوظ رہنے والی دعائےں ۱۷۹

سيد ابن طاؤوس تک پہنچنے والے دعاؤں کے کچه مصادر ۱۷۹

سيد ابن طاؤوس کے پاس حدیث اور دعا کے پندرہ سو مصادر ۱۸۰

سيد ابن طاووس سے متاخر دعا ؤں کے مصادر ۱۸۲

دعااور قضا و قدر ۱۸۴

تا ریخ اور کا ئنات ميں قا نو ن عليت ۱۸۴

خدا وند عالم کے ارادہ کا قا نون عليت سے رابطہ ۱۸۸

قانون تسبيب ۱۹۰

قانون توفيق ۱۹۳

کائنات ميں سلطان مطلق الله کا ارادہ ۱۹۳

خداوند عالم کے ارادہ اور قانون عليت کے مابين رابطہ ۱۹۴

تکوین (موجودات )ميں بداء ۱۹۶

محو اور اثبات ۱۹۸

“بداء ”پر ایمان کی تردید ۲۰۱

دعا اور بداء ۲۰۲


شکر : ۲۰۲

زیارت کے توحيدی اور سياسی پہلو ۲۰۵

تاریخ ميں خاندان توحيد ۲۰۵

اس خاندان کی نسلوں کے در ميان رابطہ اور تسلسل ۲۰۶

معلوم ہوا سلف صالح سے رابطہ برقرار ر ۲۱۳

زیارت ۲۱۴

زیارتوں کی عبارات ميں آنے والے معانی و مفاہيم کا جا ئزہ ۲۱۶

زیارتوں ميں سياسی اور انقلابی پہلو ۲۱۶

١۔زیارت کا عام سياسی دائرہ سے رابطہ ۲۱۶

الف:شہادت ۲۱۸

مقابلہ کے پہلے مرحلہ ميں رسالت کی گواہی ۲۱۸

مقابلہ کے دو سرے مر حلہ ميں امام عليہ السلام کی گو اہی ۲۱۹

دوسرے مر حلہ ميں تاویل قرآن پر جنگ کرنے کی گواہی ۲۲۰

شاہد ومشہود ۲۲۴

ب:الموقف ۲۲۷

شہادت کے فيصلہ ميں حکم کا تابع ہے ۔ ۲۲۷

اور حکم سياست ميں موقف کاتابع ہوتا ہے ۔ ۲۲۷

زیارت عاشوراء غير معروفہ ميں آیا ہے : ۲۳۰

رضا اور غضب ۲۳۱

سلم اور تسليم ۲۳۱


زیارت حضرت ابو الفضل العباس : ۲۳۴

انتقام کےلئے مدد کی دعا ۲۳۵

حضرت امام مہدی عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کےلئے دعاؤں کے چندنمونے : ۲۳۶

انتقام اور خون خواہی کےلئے دعا ۲۳۷


دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

مؤلف: محمد مهدی آصفی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 248